البیان فی تفسیر القرآن
گروہ بندی تفسیر قرآن
مصنف آیت اللہ العظمی سید ابوالقاسم الخوئی رح
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


البیان فی تفسیر القرآن

مولف: مرجع المسلمین آیت اللہ العظمیٰ السید ابو القاسم الموسوی الخوئی (رح)

مترجم: محمد شفا نجفی

F-۷/۴ اسلام آباد پاکستان

پوسٹ بکس نمبر ۲۴۰۵فون ۸۲۴۲۷۲


عرض مترجم

بسم الله الرحمن الرحیم

الحمد لله و الصلٰوة علیٰ رسول الله و علیٰ اٰله اٰل الله واللعن الابدی علی اعدائهم اعداء الله

ازل سے حق اور باطل کی جنگ جاری ہے حق کی بالا دستی اور باطل کی شکست قدرتی اور فطری امر ہے۔ باطل کا یہ شیوہ رہا ہے کہ جب تک اس کی قدرت و توانائی ساتھ دے وہ مثبت طریقے سے حق سے نبرد آزما رہتا ہے ارو دلائل کے زور پر حق کو شکست دینے کی کوشش کرتا ہے اور جب مثبت طریقے سے حق کا مقابلہ اور اس کی مزاحمت سے عاجز آجاتا ہے تو اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے منفی طریقہ اپنا لیتاہے اور حق پر بے بنیاد الزامات اور بہتان تراشیوں کا سہار لیتا ہے مگر

( وَيَأْبَى اللَّـهُ إِلَّا أَن يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ ) (۱)

اور خدا اس کے سوا کچھ مانتا ہی نہیں کہ اپنے نور کو پورا کرکے ہی رہے اگر چہ کفار برا مانا کریں۔

____________________

(۱) ۹ : ۳۲


مذہب اسلام بالعموم اور مکتب تشیع بالخصوص اس کلیہ سے مستثنیٰ نہیں۔ جب دشمنان اسلام، اسلام کے حقیقی مظہر (تشیع) کی حقانیت اور اس کے ناقابل تردید اصولوں کے مقابلے کی تاب نہ لا سکے تو اس مکتب کو مختلف الزامات اور تہمتوں کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ کسی نے اس مکتب کے پیروکاروں کو پروردہئ یہود کا نام دیا تو کسی نے انہیں عبد اللہ بن سبا جیسے موہوم شخص کے پیروکار قرار دیا۔ کوئی انہیں منکرِ قرآن قرار دینے لگا تو کوئی ان کے شعائر کی تعظیم کو شرک سمجھنے لگا۔

ایسی صورت میں مدافعین حق کا فرض بنتا ہے کہ اس یلغار کے مقابلے کے لیے میدانِ عمل میں اترآئیں اور حق کی حقانیت کو ثابت کرکے باطل کے ہتھکنڈے کو تارِعنکبوت کی طرح تار تار کردیں۔

اہلِ قلم، دانشمندان اور محققینِ کرام نے اپنے اس فرض کو نبھایا اور اپنی تالیفات و تصنیفات کے ذریعے ان الزامات کا جواب دیا۔

ان تمام مؤلفین او ر مصنفین کی زحمات بذاتِ خود قابلِ قدر و تحسین ہیں۔ مگر مرجعِ جہانِ تشیع زعیمِ حوزہئ علمیہ نجف اشرف علیٰ مشرفھا التحی ۃ و السلام آیۃ اللہ العظمیٰ السید ابو القاسم الموسوی الخوئی دام ظلہ، کی زیرِ نظر کتاب البیان فی تفسیر القرآن کو اپنی جامعیت اور پختگی کے اعتبار سے ان تمام تالیفات کے مقابلے میں وہی نسبت حاصل ہے جو اس کتاب کے مؤلف کو دیگر مؤلفین کے مقابلے میں حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دور حاضر میں جو بھی تفسیر اور علوم قرآن پر قلم اٹھاتا ہے اس کی کتاب میں اس کتاب البیان فی تفسیر القرآن کی کوئی نہ کوئی جھلک ضرور نظر آتی ہے۔


اس علمی سرمایہ کی جامعیت اور امتیاز کے پیشِ نظر جامعہ کے پرنسپل حجۃ الاسلام شیخ محسن علی نجفی نے یہ زریں تجویز پیش کی کہ اس کتاب کا اردو میں ترجمہ کرکے جہاں، اہل تشیع پر عائد الزامات کا جواب دیا جائے وہاں اس ترجمے کے ذریعے علم اور اردو دان اہل مطالعہ کی خدمت کی سعادت بھی حاصل کی جائے ۔ چنانچہ انہوں اس بار گراں کو حقیر کے ناتواں دوش پر رکھ دیا و حملہ الانسان اور آیۃ العظمیٰ السید الخوئی دام ظلہ کے فرزند ارجمند حجۃ الاسلام و المسلمین سید محمد تقی خوئی سے اس کام کی تائید حاصل کرنے کے بعد اس کتاب کے ترجمہ کا آغاز کیا گیا اور حجۃ الاسلام حاج شیخ محسن علی نجفی کے زیر نظر اصل کتاب سے تطبیق کے بعد قارئین کی خدمت میں اسے پیش کیا جا رہا ہے۔

اس علمی شاہکار کے ترجمے کے دوران دقت و تامل میں کوتاہی تو نہیں برتی گئی تاہم ما ابر نفسی. اگر اہل علم، مطالعہ کے بعد کسی اشتباہ کی نشاندہی کریں تو تشکر کے ساتھ آئندہ ایڈیشن میں اس کی اصلاح کی جائے گی ۔

الحمد لله علیٰ منه و توفیه و صل الله علی ممد خیر بریة و علی الاصفیاء من عترته

محمد شفا نجفی


بسم الله الرحمن الرحیم

مقدمہ

حجۃ الاسلام و المسلمین السیدمحمد تقی الخوئی دام مجدہ الشریف

البیان فی تفسیر القرآن

انسان نے اپنی فکری تاریخ کے آغاز سے ہی اپنی حیات کو مقصدیت سے ہمکنار کرنے کی جدوجہد کی ہے۔ چنانچہ بعض لوگوں نے عیش و عشرت، مال و دولت اور مادی آسائشوں کے حصول کو اپنی حیات کامقصد قرار دے دیا۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر انہوں نے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کردیں لیکن نہ صرف وہ لوگ مقصد حیات پانے میں ناکام رہے بلکہ اس مقصد غیر حقیقی تک رسائی حاصل کرنے کی تمام تر کوششوں کو انہوں نے ناپائیدار اور غیر تسلی بخش پایا۔ اس قسم کے مادی نظریات رکھنے والے انسان سے جب مقصد زندگی کے بارے میں سوال ہوتا ہے تو وہ بیساختہ یہ جواب دیتا ہے کہ میں طبیعت کے ہاتھوں میں ایک کھلونا ہوں۔ وہ جب چاہے مجھے مریض کردے، جب اس کی مرضی ہو مجھے صحت مند کردے، دکھ پہنچائے یا سکھ، کامیابکرے یا ناکام بنائے، میں کچھ دیر تڑپتا ہوں، پھر ساکن ہو کر نیست و نابود ہو جاتا ہوں۔ معلوم نہیں میں کیوں آیا تھا؟ کس لیے تڑپایا گیا تھا؟ اور مجھے کیوں ان حالات سے دو چار کیا گیا؟


قرآنی مکتب

اس مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والا انسان خود کو نہ تو طبیعت کے ہاتھوں میں ایک بے مقصد و بے ارادہ کھلونا تصور کرتا ہے نہ ہی اس دور حیات میں رونما ہونے والے نشیب و فراز کے اسرار و حکمت سے ناآشنا ہے۔ اس نظریاتی انسان کے لیے فنا و زوال کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔ جیسا کہ حضرت علی (علیہ السلام) نے فرمایا ہے:خلقتم للبقاء لاللفناء

قرآنی انسان کے نزدیک یہ دنیا ارتقائی منازل طے کرنے کے لیے ایک درسگاہ ہے اور قرآن کتاب درس ہے اور انبیاء و اوصیاء (علیھم السلام) اس انسان کے معلم و مربی ہیں۔ لہذا قرآن کا بنیادی مقصد ایک خاص نظریہ کے مطابق انسان کی تربیت ہے۔ چنانچہ اپنی جگہ یہ مسلمہ امر ہے کہ ارتقاء کے لیے تین چیزیں درکار ہوتی ہیں۔ استعداد، ماحول اور وقت۔ انسان سازی کے اس عمل کے آغاز میں قرآن انسان کو ارتقائی مراحل طے کرنے کے لیے مستعد کرتا ہے اور ایسے ہی مستعد افراد سے مربوط ایک امت کی تشکیل کے بعد ماحول بھی میسر آجاتا ہے۔ اس طرح ایک مدت میں تکامل اور ارتقاء کے تمام ضروری مراحل طے کرلیتا ہے۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

واعلموا انه لیس علی احد بعد القرآن من فاقة و لا لاحد قبل القراٰن من غنی ۔

آگاہ رہو کہ قرآن (کے نظام کو قائم کرنے) کے بعد کوئی شخص محروم نہیں ہوگا اور قرآن سے پہلے کوئی (حقیقی معنی میں) غنی نہیں ہو سکتا۔

لہٰذا قرآن کے بغیر کسی فرد یا قوم کے لیے ارتقائی منازل طے کرکے مقصد تک پہنچنا قطعا ناممکن ہے۔ کیونکہ قرآن وہ سرچشمہئ حیات ہے کہ جس سے سیرابی کے بغیر کشپ انسانیت ہمیشہ ویران ہی رہے گی۔

قرآن اپنے اندر ایسے بے شمار دلائل و شواھد رکھتا ہے جن سے ظاہر ہوتاہے کہ یہ کلام، خدا اور رسولِ خدا(ص) کا ابدی معجزہ ہے۔ قرآن کی گہرائی اور اس کی ظاہری و باطنی، تشریعی اور علمی عظمت اس قدر بلند و بالا ہے کہ کوئی باریک بین اور دور اندیش شخص اس کو اپنے دائرہئ نگاہ میں نہیں لاسکتا۔


کیونکہ قرآنی آفاق لامتناہی ہیں۔ قرآننہ مکانی حدود میں محدود ہے نہ زمانی حدود میں، اسی قرآن پر کسی وقتی چیز کا، خواہ وہ موجودہ انسان ہو یا نزول قرآن کے وقت کا انسانی معاشرہ، اثر دکھائی نہیں دیتا۔ اس کے اندر جو علمی اور فکری خزانے ہیں وہ استخراج اور استفادہ سے کم نہیں ہوتے بلکہ آنے والی ترقی یافتہ نسلوں اور زیادہ با استعدادذہنوں کے لیے شاید اس میں زیادہ علمی و فکری خزانے پوشید ہ ہوں۔ خود قرآن ارشاد فرماتا ہے:

( سَيُرِيكُمْ آيَاتِهِ فَتَعْرِفُونَهَا ۚ)

(النمل : ۹۳)

وہ عنقریب تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا، تب تم انہیں پہچان لوگے۔

اس طرح آنے والے لوگ قرآن پر زیادہ ایمان لائیں گے۔ چنانچہ اس صدی کے غیر مسلم دانشور گذشتہ صدیوں کے غیر مسلموں کی نسبت قرآن کی عظمت کے زیادہ معترف ہےں اور بقول کسے شاید مغرب کا آئندہ مذہب اسلام ہو۔

یہ بات بھی سب کے لیے عیاں ہے کہ رسول کریم نے کسی بشری مکتب میں تعلیم حاصل نہیں کی، آپ کا ماحول و معاشرہ بھی علمی نہ تھا۔ اس سرزمین کی پوری تاریخ میں کوئی علمی مرکز قائم نہ رہا اور وہ معاشرہ اس زمانے کی تہذیب و تمدن سے بھی عاری تھا۔ حتیٰ کہ اس معاشرے کے افراد آداب خورد و نوش سے بھی نابلد تھے۔ ایسے معاشرے کا ایک فرد قرآن کے نام سے موسوم قیامت تک کے لیے پوری انسانیت کی پیشوائی و رہبری کا آئین لے کر اٹھتا ہے۔۔۔!!

وہ معاشرہ جو مفادات اور طبقاتی تفاوت کے سلسلے میں بدترین مثال پیش کررہا تھا، یکایک اس میں ایک فرد پوری انسانیت کی برابری و برادری کی ایک منفرد آواز بلند کرتا ہے۔

وہ معاشرہ ج وظم، نادانی اور نادری کی ظلمات ثلاث میں ڈوبا ہوا تھا، وہ حق و صداقت کا سرچشمہ ئ علم و فکر کا گہوارہ اور علم و فکر کا گہوارہ، حق و صدارت کا سرچشمہ اور عدل و مساوات کا منبع بن جاتا ہے۔


وہ معاشرہ جو وحشیانہ اقدار کا حامل اور پشماندگی کا شکار ہو کر اقوام عالم سے پیچھے ر ہ گیا تھا، اس معاشرے سے اٹھنے والا انقلاب پوری دنیا میں تمدن کے لیے بنیاد بن گیا۔

غرض قرآن نے اس کرہئ ارض کا نظریاتی نقشہ بدل کے رکھ دیا، مظوم انسان کو نویدنجات سنائی، گویا قرآن نے از سرنو ایک نئی دنیا آباد کی۔

اس عظیم کتاب کی اہمتی کا خلاصہ ایک جلد میں بیان کیا جاسکتا ہے: یہ کتاب استعمار اور دشمنان قرآن کے اشاروں پر لکھنے والے اجرتی اہل قلم کے لیے دندان شکن جواب ہے۔ جو اپنی تمام تر شیطانی طاقتوں کو اس کلام اللہ اور انسان ساز دستور کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی راہ میں صرف کرتے ہیں تاکہ سادہ لوح عوام کو گمراہ اور انسانیت کو اس فیض سے محروم رکھا جاسکے۔

مؤلف کتاب کی ذات گرامی کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔ میرے والد گرامی کے تعارف کے لیے بس اتنی بات کا فی ہے کہ وہ ''البیان،، کے مؤلف اور سینکڑوں مجتہدین و محققین کے استاد ہیں، یہ وہ شخصیت ہیں کہ جن کے اکار و نظریات تمام حوزہ ہائے علمیہ و مراکز علمی میں درس و تدریس کا موضوع ہیں اور ان کے شاگردان حوزہ ہائے علیہ کے لیے اساتذہ اور دنیائے تشیع کے لیے مآیہ ناز مفکرّین کا درجہ رکھتے ہیں۔

جامعۃ اہل البیت (علیہم السلام) اسلام آباد پاکستان کے اساتذہ نے حجۃ الاسلام شیخ محسن علی نجفی کی سرپرستی میں اس گوہر گرانبھا کا اردو زبان ترجمہ کرکے اردو بولنے والے طالبان حق پر احسان عظیم کیا ہے۔ میں ان کے اس عمل جلیل کو قابل تحسین سمجھتے ہوئے ان علماء کی کاوشوں کی قدردانی کرتا ہوں اور خدواند عزوجل سے دعا کرتا ہوں کہ وہ سب کو اس دین مقدّس کی خدمت کی توفیق عنایت فرمائے۔

انه ولی التوفیق


بسم الله الرحمن الرحیم

الحمد لله الذی انزل علی عبده الکتاب و لم یجعل له عوجا قیما لینذر باسا شدیدا من لدنه و یبشر المومنین الذین یعملون الالحات ان لهم اجرا حسنا ما کثین فیه ابدا کتاب احکمت آیاته ثم فصلت من لدن حکیم خبیر لا یاتیه الباطل من بین یدیه و لا من خلفه تنزیل من حکیم حمید ذلک الکتاب لا ریب فیه هدی للمتقین نزله روح القدس من ربک بالحق لیثبت الذیب آمنوا و هدی و بشریٰ للمسلمین ما کان حدیثا یفتری و لکن تصدیق الذین بین یدیه و تفصیل کل شیء و هدی و رحمةلقوم یؤمنون و انه لذکر لک و لقومک و سوف تسئلون

و افضل صلوات الله و أکمل تسلیماته علی رسوله الذی أرسله،، بالهدی و دین الحق لیظهره علی الدین کله و لوکره المشرکوں النبی الامی الذی تجدونه مکتوبا عندهم فی التوراة و الا نجیل یامرهم بالمعروف و ینههم عن المنکر

و علی آله،، المصطفین الخیار الذین آمنوا به و عزروه و نصروه و اتبعوا النور الذی انزل معه اولئک هم الصدیقون و الشهداء عند ربهم لهم اجرهم و نورهم رضی الله عنهم و رضوا عنه اولئک حزب الله الا ان حزب الله هم المفلحون

و اللعنةالدائمة علی أعدائهم،، الذیناشتروا الضلالة باهدیٰ فما ربحت تجارتهم و ما کانوا مهتدین یوم یخرجون من الاجداث سراعا کأنهم الی نصب یوفضون خاشعة ابصارهم ترهقهم ذلة ذلک الیوم الذی کانوا یوعدون یوم لا ینفع الظالمین معذرتهم و لهم العنة و لهم سوء الدار

بچپن ہی سے میں قراءت و تلاوت قرآن کرنے، اس عظیم آسمانی کتاب کی مشکلات حل کرنے اور اس کے حقائق و علمی رموز اور اشارے سمجھنے کا انتہائی شوق و شغف رکھتا تھا، جیسا کہ ہر حقیقی مسلمان بلکہ ہر علم دوست اور حقیقت طلبانسان کو چاہیے کہ وہ قرآن سمجھے، اس کے اسرار و رموز کے انکشافات کو خاص اہمیت دے اور اس کے نور سے روشنی حاصل کرے، کیونکہ قرآن مجید و یگانہ کتاب ہے جو انسانی سعادت اور اصلاح معاشرہ کی ضمانت دیتی ہے، قرآن ایسی کتاب ہے جو مستحکم اور وا'ح ہے اور اس کا فائدہ عمومی ہے، یہ ایسی کتاب ہے جو لغت دانوں کے لیے بہت بڑا مرجع، علماء نحو کے لیے واضح و آشکار رہنما، فقیہ اور عالم دین کے لیے بہترین مدرک اور علمی سند، ادیب کے لیے بولتا ہوا شاہد و دلیل، طالبان حکمت کےلئے واعظ اور ہر خطیب کے لیے، مرشد، علماء اخلاق کا مقصود و مطلوب، غرض ہر دانشمند کے لئے اس کے مخصوص فن (مضمون) کا مستحکم پشتیبان اور واضح دلیل و راہنما ہے۔


اجتماعی اور سیاسی علوم، آئین زندگی، انسانی معاشرہ کے جملہمسائل اور معاملات کی سرپرستی کو بہترین اور سادہ طریقے سے قرآن ہی سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ دینی علوم کے مختلف عناوین بھی قرآن ہی کی بنیاد پر قائم ہیں۔ یہ قرآن ہی ہے جس نے جہان آفرینش کے دقیق قوانین و اسرار اور خلقت کے حیرت انگیز رموز پر سے پردہ اٹھایا ہے۔ قرآن دائمی آئین کے لیے ایک زندہ اور دائمی معجزہ، اعلیٰ ترین آسمانی دین کا منظم پروگرام اور شریعت مقدسہ کا اعلیٰ ترین نظام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مجھے بچپن ہی سے کلام مجید کی تلاوت کا انتہائی شوق تھا اور اس کے حقائق و مفاہیم کو سمجھنے اور اس کے اہداف و مقاصد سے آگاہی حاصل کرنے کی کوشش کیا کرتا تھا۔

جب بھی قرآن کے رموز و اسرار میں سے کسی رمز یا راز کو دریافت کرنے میں کامیابی حاصل ہوتی یا اس کی مشکلات میں سے کسی مشکل کو حل کرنے کی توفیق حاصل ہوتی تو تلاوت کلام اور اس کا شوق و شغف زیادہ اور دقیق تر ہو جاتا۔ تلاوت کلام اللہ کا یہی شوق باعث بنا کہ میں کتب تفسیر کی طرف رجوع کروں اور باریک بینی و ٹرف نگاہی سے تحقیق کروں۔ مگر اس منزل پر پہنچ کر ایک حیرت انگیز مسئلے سے دوچار ہونا پڑا۔

قرآن مجید اور اس کے بھیجنے والے کی عظمت کے مقابلے میں انسانی تفسیر اور اس کی فکر حقیر نظر آنے لگی۔ حق تعالیٰ کی عظمت اور بڑائی کے مقابلے میں انسان اپنے آپ کو جتنا بھی حقیر سمجھتا ہے میں اپنے آپ کو اس سے زیادہ حقیر اور ناقص محسوس کرنے لگا مجھے کلام مجید عظیم سے عظیم تر اور اس سے متعلق لکھی جانے والی کتابیں اور تفسیرین حقیر سے حقیر تر نظر آنے لگیں۔

تفسیر کی کتابوں کے مطالعے سے میں اس نتیجے اور حقیقت تک پہنچا کہ بعض حضرات نے اپنی سخت کوششوں کے نتیجے میں کچھ اسرار قرآن کو دریافت کرنے میں کامیابی حاصل کی انہیں علوم قرآن کی کے حقائق کے محتصر سے حصے تک دست رسی حاصل ہوئی ہے اور اسے ایک تکاب کی شکل میں یک جا کرکے اس کانام تفسیر رکھ دیا ہے۔ ان کے خیال میں یہ تفسیر قرآن کی تمام گہراھیوں کا احاطہ اور اس کے تمام اسرار و رموز سے پردہ اٹھانے کے لیے کافی ہے۔


حالانکہ ایسی تفیسر کو جامع تفسیر لکھنا عقلی طور پر محال ہے، یہ کیسے ممکن اور قابل تصور ہے کہ محدود اور ناقص انسان اس کامل کتاب کا احاطہ کرسکے جو ایک لامتناہی ذات کی طرف سے اتاری گئی ہے۔

تاہم علمائے کرام اور مفسرین کی زحمات اور کوششیں قابل ستائش و تحسین ہیں اور فعالیت و علمی جہاد کی وجہ سے وہ عند اللہ ماجور ہیں کیونکہ اس مقدس کتاب الہیٰ نے ان کی دلوں پر نور افشانی کی ہے اور ان کے لیے اپنی ہدایت و راہنمائی کا ایک دروازہ کھول دیا۔ کسی بھی انسان سے (خواہ اس کا مبلغ علم کتنا ہی بلند کیوں نہ ہو) یہ توقع رکھنا بیجا ہے کہ وہ قرآن کے معانی اور اس کے مفاہیم کا مکمل طور پر اور ہر لحاظ سے احاطہ کرسکے، ان مفسرین کرام پر صرف یہی اعتراض ہوسکتا ہے کہ انہوں نے قرآن مجید کے صرف بعض مباحث اور علوم سے بحث کی ہے اور اس کے اکثر اور ایسے اہم حصوں سے غفلت برتی ہے جو قرآن کی عظمت اور واقعیت (حقیقت) کی نشاندہی کرسکتے تھے۔ مثال کے طور پر بعض مفسرین کرام نے صرف ادبی اعتبار سے اورکچھ نے صرف فلسفی نقطہ نگاہ سے قرآن مجید کو مورد تحقیق قرار دیا اور بعض حضرات نے جدید علوم کی روشنی میں قرآن مجید کی تفسیر کی ہے۔ اس کے باوجود سب مفسر یہی تصور کرتے ہی ںکہ قرآن مجید انہیں کے نقطہ نگاہ کے مطابق نازل ہوا ہے، جو نظریہ یہ حضرات رکھتے ہیں، بعض لوگ توف تفسیر لکھتے ہیں لیکن ان کی کتابوں میں تفسیر کی باتیں بہت کم ہی دیکھنے میں آتی ہیں جور کچھ لوگ قرآن کی تفسیر اپنے ذاتی یا ایسے افراد کے افکار کی روشنی میں کرتے ہیں، جن کو خدا نے اپنے بندوں کے لئے حجت نہیں بنایا۔ ان میں سے کوئی تفسیر بھی اشکال (اعتراض) سے خالی نہیں، کیونکہ مفسر کا یہ فرض ہے کہ دوران تفسیر وہی راستہ اختیار کرے جس کی طرف آیت کا رخ ہے اور اسی معنی کا انکشاف کرے جس کی طرف آیت کا شارہ ہے اور اسی مطلب کو واضح کرے جس پر آیت دلالت کرے۔ اپنے ذہنی اختراعات اور ذاتی مضمون (جس میں وہ مہارت رکھتا ہو) کا رنگ دیئے بغیر صرف آیات قرآن کو پیش نظر رکھے اور ان آیات کے اشاروں، راہنمائیوں اورفرمان کی روشنی میں تفسیر کرنے کی جراءت کرے۔ سادہ لفظوں میں یوں کہنا چاہیے کہ قرآنی آیات کی تفسیر اور ان کا ترجمہ آیات ہی کی راہنمائی اور رہبری کے مطابق کیا جانا چاہیے، اپنی ذاتی رائے، عقیدے، فکری کشش اور سلیقہ کے طابق تفسیر و ترجمہ نہیں ہونا چاہیے۔۔۔


صحیح مفسر وہ ہے جو قرآن کے فلسفی مباحث میں ایک حکیم و آگاہ فلاسفر اور اخلاقی مسائل میں ایک مضبوط دانشمند ہو۔ قرآن کے فقہی مسائل کو ایک فقیہ اور محقق کی نگاہ اوراس کے اجتماعی مسائل کو ایک تجربہ کار ماہر اجتماعیات کی نگاہ سے دیکھے۔ غرض قرآن کے ہر علم کی تفسیر اسی علم اور اس کے تقاضوں کے مطابق کرے۔۔۔ مفسر وہ ہے جو اس فن کو عیاں کرے جو آیت میں ہنہاں ہے اور اس ادب کو بیان کرے جو الفاظ آیت میں موجود ہے۔ وہ علم، فن اور مضمون سے متعلق وسیع معلومات رکھتا ہو، اور ہر علم و فن کی اسی علم کی روشنی میں تفسیر کرے اور آگے بڑھے اور اس موضوع پر بیسیوں جلدوں پر مشتمل کتاب مرتب کرے اور اسطرح قرآن کی تفسیر میں ایک بہت بڑا دائرۃ المعارف (انسائیکلو پیڈیا) لکھ دے۔۔۔ انہیں وجوہات کی بنا پر میں نے اپنا فرض سمجھا کہ تفسیر قرآن میں ایسی کتاب لکھوں جو حقیقی تفسیر کے نکات اور خصوصیات پر مشتمل ہو، درگاہ خداوندی میں میری دعا ہے کہ مجھے اس مقدس و بلند آرزو تک پہنچنے اور اس عظیم تمنا کو عملی جامہ پہنانے کی توفیق عنایت فرمائے۔ اس مقدس مشن میں میری مدد فرمائے ارومیری لغزشوں کو نظر انداز فرمائے۔

ہم اس تفسیر میں صرف انہی مباحث اور موضوعات سے بحث کریں گے جن کا تعلق قرآن کے معنی سے ہو اور ان مباحث سے صرف نظر کریں گے جن کا تعلق قرآن کے الفاظ، اس کے اعراب اور ادبی علوم سے ہو۔ اس لیے کہ علماء کرام اور مفسرین عظام نے اس قسم کے مباحث متعدد کتابوں میں بیان فرمائے ہیں اور اس کے لیے مزید کسی کتاب کی ضرورت نہیں رہی۔ ان کتابوںمیں شیخ طوسی کی تفسیر تبیان، طبرسی کی مجمع البیان، اور زمخشری کی تفسیر کشاف قابل ذکر ہیں۔ البتہ اگر کسی مقام پر ضرورت پڑی تو ان ادبی نکات کی طرف ضرور اشارہ کریں گے جن سے مفسرین نے غفلت برتی ہے یا ہماری زیر نظر بحث سے اس کا کوئی خاص ربط و تعلق ہے یا وہ موضوع زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔


اس مقام پر ہم قارئین کرام کی توجہ دو نکتوں کی طرف مبذول کرتے ہیں:

۱۔ اس تفسیر میں ہمارا واحد سہارا اور سند درج ذیل چیزیں ہیں:

الف: آیات قرآنی کے ظواہر۔

ب: قرآن کی محکم اور واضح الدلالت آیات۔

ج: وہ روایات جن کی صحت (تواتر اور کثرت نقل کی وجہ سے مسلم ہو۔

د: وہ احادیث جو صحیح سند کے ذریعے خاندان عترت علیہم السلام سے منقول ہوں۔

ح: وہ فطری عقل جو انحراف اور غلط قسم کی رنگ آمیزیوں سے محفوظ ہو۔ کیونکہ عقل حجت باطنی ہے۔ جس طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کا خاندان گرامی علیہم السلام حجت اور برھان ظاہری ہیں۔

۲۔ ہم اکثر اوقات ایک آیت کی تفسیر کے لیے دوسری آیت کے مفہوم سے استفادہ کریں گے اور قرآن ہی کو اس کے معانی سمجھنے کا ذریعہ اور وسیلہ قرار دیں گے۔۔۔ قرآن کو درک کرنے اور اسے سمجھنے کے لیے قرآن سے مدد اور راہنمائی حاصل کریں گے اس روش (طریقے) اور درک کی دلیل کے طور پر اور تائید کے لیے احادیث ذکر کریں گے۔

مقدمہ میں کچھ اہم امور بیان کئے گئے ہیں جو تفسیر کی مباحث سے مربوط ہیں۔ جن سے تفسیر کے بعض تاریک پہلوؤں پر روشنی پڑسکتی ہے۔ جو تفسیر کے سربستہ رازوں کے انکشاف میں مفسر کے افکار کو روشن اور باریک بین کرسکتے ہیں۔ اصل تفسیر کو شروع کرنے سے پہلے جدا جدا ان مباحث پر تحقیق کروں گا اور اسے مقدمہ تفسیر قرآن قرار دوں گا۔ یہ مقدمہ، قرآن سے متعلق بعض علمی اور عمومی مباحث پر مشتمل ہوگا۔۔۔ مثال کے طور پر عظمت قرآن۔۔۔ اعجاز قرآن۔۔۔ قرآن کا تحریف سے محفوظ ہونا۔۔۔ قرآن میں تناقض کا نہ ہونا۔۔۔ احکام قرآن میں نسخ اور اس قسم کے دیگر مباحث جو ایک صحیح اور ٹھوس علمی تفسیر کی اساس اوربنیاد کی حیثیت رکھتے ہیں۔۔۔ خداوند تعالیٰ سے میری یہ دعا ہے کہ اس راہ میں مجھے زیادہ سے زیادہ توفیق عنایت فرمائے اور اس عمل اور خدمت قرآن کو قبول فرمائے۔انه حمید مجید ۔

مولف کتاب


فضائل قرآن

تلاوت قرآن کے آداب اور اس کا ثواب

تلاوت قرآن کی فضیلت اور اس کا ثواب

گھروں میں تلاوت کے آثار جو روایات میں مذکور ہیں

قرآن میں غور و خوض اور اس کی تفسیر


تلاوت قرآن کے آداب اور اس کا ثواب

جب فضیلت قرآن کی بات آئے تو بہتر ہے کہ انسان توقف اختیار کرے، اپنے آپ کو قرآن کے مقابلے میں حقیر تصور کرے اور اپنی عاجزی اور ناتوانی کا اعتراف کرے، اس لیے کہ بعض اوقات کسی کی مدح میں کچھ کہنے یا لکھنے کی بجائے اپنی عاجزی اور ناتوانی کا اعتراف کرلینا بہتر ہوتا ہے، جو انسان عظمت قرآن کے بارے میں لب کشائی کرنا چاہے بھلا وہ کیا کہہ سکتا ہے؟ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ انسان (جو ایک ممکن اور محدود چیز ہے) لامتناہی ذات کے کلام کی حقیقت کو درک کرسکے اور اپنے مختصر اور محدود ذہن میں اسے جگہ دے سکے۔

انسان میں وہ کون سی طاقت ہے جس کی بدولت وہ اپنے محدود اور ناقص ذہن میں قرآن کی حقیق قدر و قیمت، منزلت اور حیثیت بٹھا سکے اور پھر بیان کرپائے؟ ایک اہل قلم چاہے کتنا ہی مضبوط ہو، اس سلسلے (فضیلت قرآن) میں لکھ ہی کیا سکتا ہے اور ایک خطیب چاہے وہ کتنا ہی شعلہ بیان ہو، زبان سے کیا ادا کرسکتا ہے کیا ایک محدود انسان محدود چیز کے علاوہ بھی کسی کا وصف بیان کرسکتا ہے؟


قرآن کی عظمت کے لےی اتنا کافی ہے کہ یہ خالق متعال کا کلام ہے۔ اس کے مقام و منزلت کے لیے اتنا کافی ہے کہ یہ خاتم الانبیاء (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا معجزہ ہے اور اس کی آیات انسانیت کی ہدایت اور سعادت کی ضمانت دیتی ہیں۔ قرآن ہر زمانے میں زندگی کے ہر شعبے میں انسانوں کی راہنمائی کرتا ہے اور سعادت کی ضمانت دیتا ہے۔ اس حقیقت کو قرآن ہی کی زبان سے سن سکتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے:

( إِنَّ هَـٰذَا الْقُرْآنَ يَهْدِي لِلَّتِي هِيَ أَقْوَمُ ) ۹:۱۷

اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ قرآن اس راہ کی ہدایت کرتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھی ہے۔،،

( كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ ) ۱:۱۴

''(اے رسول یہ قرآن وہ) کتاب ہے جس کو ہم نے تمہارے پاس اس لیے نازل کیا تاکہ تم لوگوں کو ان کے پروردگار کے حکم سے (کفر کی) تاریکی سے (ایمان کی) روشنی میں نکال لاؤ۔ غرض اس کی راہ پر لاؤ جو غالب اور سزا وار حمد ہے۔،،

( هَـٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ ) ۱۳۸:۳

''یہ (جو ہم نے کہا) عام لوگوں کے لیے تو صرف بیان (واقعہ) ہے (مگر) اور پرہیزگاروں کے لیے نصیحت ہے۔،،

اس سلسلے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بھی روایت منقول ہے جس میں آپ (صلعم) فرماتے ہیں:

''کلام خدا کو دوسروں کے کلام پر وہی فوقیت اور فضیلت حاصل ہے جو خود ذات باری تعالیٰ کو باقی مخلوقات پر ہے۔،،(۱)

یہاں پر اس اس حقیقت کا راز کھل کر سامنے آجاتا ہے جس کا میں نے آغاز کلام میں ہی اعتراف کرلیا تھا، یعنی مناسب یہی ہے کہ انسان قرآن کی عظمت اور اس کی فضیلت میں لب کشائی کی جسارت نہ کرے اوراسے ان ہستیوں کے سپرد کردے جو قرآن کے ہم پلہ اور علوم قرآن میں راسخ اور ماہر ہیں۔ کیونکہ یہ حضرات سب سے زیادہ قرآن کی عظمت اوراس کی حقیقت سے آشنا اور آگاہ ہیں۔

____________________

(۱) بحارالانوار ج ۱۹، ص۶، صحیح ترمذی شرح ابن عربی ج۱۱، ص۴۷، ابواب فضائل۔


یہی ہستیاں ہیں جو قرآن کی ارزش (قدر و منزلت) اور صحیح حقیقت کی طرف لوگوں کی رہنمائی فرماتی ہیں۔ یہی ہستیاں فضیلت میں قرآن کی ہمدوش اور ہم پلہ ہیں اور ہدایت و رہبری میں قرآن کی شریک اور معاون و مددگار ہیں۔ ان حضرات کے جد امجد وہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں جنہوں نے قرآن کو انسانیت کے سامنے پیش کیا اور اس کے احکام کی طرف دعوت دی۔۔۔ وہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جو قرآنی تعلیمات اور اس کے حقائق کے ناشر ہیں۔ آپ قرآن سے ان حضرات کا تعلق یوں بیان فرماتے ہیں:

''انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللّٰه و عترتی اهل بیتی و انهما لن یفترقا حتی یردا علی الحوض،، (۱)

''میں تم میں دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری عترت و اہل بیت اوریہ ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہ ہوں گے حتیٰ کہ حوض کوثر پر یہ میرے پاس پہنچیں۔

پس اہل بیت اور عترت پیغمبر ہی ہیں جو قرآن کے رہنما اور اس کی فضیلتوں سے مکمل آگاہ ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہم انہیں کے اقوال پر اکتفاء کریں اور انہیں کے ارشادات سے مستفیض ہوں۔ قرآن کی فضیلت میں بہت سی احادیث ائمہ اطہار سے منقول ہیں، جنہیں مجلسی مرحوم نے کتاب بحارالانوار کی ج ۱۶ میں یکجا فرمایا ہے۔ البتہ ہم صرف چند احادیث پراکتفاء کرتے ہیں۔

حارث ہمدانی فرماتے ہیں:

''میں مسجد میں داخل ہوا تور دیکھاکہ کچھ لوگ بعض (بے فائدہ) باتوں میں الجھے ہوئے ہیں، چنانچہ میں امیر المومنین کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ واقعہ آپ کے سامنے بیان کردیا آپ نے فرمایا: ۔۔۔ واقعاً ایسا ہی ہے؟ ۔۔۔ میں نے عرض

___________________

(۱) ترمذی ۱۳/۲۰۰۔۲۰۱ مناقب اہل بیت، سند حدیث کی تفصیل کے لئے کتاب کے آخر میں ضمیمہ نمبر ۱ کی طرف رجوع فرمائیں۔


کیا، ہاں یا مولا!۔۔۔ آپ نے فرمایا:... اے حارث! میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:عنقریب فتنے برپاہوں گے۔ میں نے عرض کیا مولا!۔۔۔ ان فتنوں سے نجات حاصل کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ آپ نے فرمایا: راہ نجات، کتاب الہی ہے۔ وہی کتاب جس میں گذشتہ اور آنے والی نسلوں کے واقعات اور خبریں اور تم لوگوں کے اختلافی مسائل کے فیصلے موجود ہیں۔ وہی کتاب جو حق کو باطل سے بآسانی تمیز کر سکتی ہے۔ اس میں مذاق اور شوخی کا کوئی پہلو نہیں۔ وہی کتاب جس کو جو جابر و ظالم بادشاہ بھی ترک اور نظر انداز کرے، خدا اس کی کمر توڑ دیتا ہے۔ جو شخص غیر قرآن سے ہدایت حاصل کرنا چاہے خالق اسے گمراہ کر دیتا ہے۔ یہ (قرآن) خدا کی مضبوط رسی اور حکمت آمیز ذکر ہے۔ یہ صراط مستقیم ہے۔ یہ وہ کتاب ہے جسے ہوا و ہوس اور خواہشات نفسانی منحرف نہیں کر سکتیں۔ قرآن کی بدولت زبانیں التباس اور غلطیوں سے محفوظ رہتی ہیں۔ علاء اور دانشور اسے پڑھنے اور اس میں فکر کرنے سے سیر نہیں ہوتے۔ یہ وہ کتاب ہے جسے سن کر جن یہ کہے بغیر نہ رہ سکے کہ ہم نے عجیب و غریب قرآن سنا ہے۔ یہ وہ کتاب ہے کہ جو بھی اس کی زبان میں بولے صادق ہی ہوگا اور جو قرآن کی روشنی میں فیصلے کرے گا یقینا عادل ہوگا، جو قرآن پر عمل کرے وہ ماجور ہوگا، جو قران (احکام قرآن) کی طرف دعوت دے وہ صراط مستقیم کی ہدایت کرتا ہے۔


اس کے بعد امیر المومنین نے حارث ہمدانی سے فرمایا: حارث! اس حدیث کو لے لو اور یاد رکھو۔،،(۱)

اس حدیث شریف میں چند غیر معمولی نکتے ہیںجن میں سے اہم نکتوں کی ہم وضاحت کرتے ہیں۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں:

''فیه نباء من کان قبلکم و خبرمعادکم ۔،، ''قرآن میں گذشتہ اور آئندہ کی خبریں موجود ہیں۔،،

اس جملے کے بارے میں چنداحتمال دیئے جاسکتے ہیں:

۱: اس کا اشارہ عالم برزخ اور روز محشر کی خبروں کی طرف ہو، جس میں نیک اور برے اعمال کامحاسبہ ہوگا، شاید یہ احتمال باقی احتمالات سے زیادہ قوی ہو۔ چنانچہ اس احتمال کی تائید امیر المومنین کے اس خطبے سے بھی ہوتی ہے جس میں آپ فرماتے ہیں:

''اس قرآن میں گذشتگان کی خبریں، تمہارے باہمی اختلافات کے فیصلے اور قیامت کی خبریں موجود ہیں۔،،(۲)

۲: ان غیبی خبروں کی طرف اشارہ ہو جن کی قرآن نے خبر دی ہے اور آئندہ نسلوں میں بھی رونما ہوں گی۔

۳: ان سے مراد گذشتہ امتوں میں رونما ہونے والے واقعات ہوں جو بعینہ اس امت میں بھی رونما ہوں گے۔ گویا یہ حدیث اس آیہ شریفہ کی ہم معنی ہے:

____________________

(۱) سنن دارمی، ج۲، ص۴۳۵، کتاب فضائل القرآن میں بھی اس طرح سے موجود ہے۔ صحیح ترمذی، ج ۱۱، ص ۳۰،باب فضائل قرآن میں بھی معمولی لفظی اختلاف کے ساتھ موجود ہے۔ بحار، ج۹، ص ۷ میں تفسیر عیاشی سے منقول ہے۔

(۲) بحار الانوار، ج ۱۹، ص۶۔


( لَتَرْكَبُنَّ طَبَقًا عَن طَبَقٍ ) ۸۴:۱۹

''کہ تم لوگ ضرور ایک سختی کے بعد دوسری سختی میں پھنسو گے۔ ،،

یا اس حدیث کی ہم معنی ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے منقول ہے آپ فرماتے ہیں:

''لترکبن سنن من قبلکم،، ''تم بھی گذشتہ لوگوں کی غلط اور گمراہ کن سنتیں اور طریقے اپناؤ گے۔،،

پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے فرمایا:

''من ترکه من جبار قصمه الله،، ۔۔۔'' جو ظالم اور جابر بھی قرآن کو ترک کرے گا اوراسے پس پشت ڈالے گا خدا تعالیٰ اس کی کمر توڑ ڈالے گا۔،،

شاید اس جملے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس بات کی ضمانت دے رہے ہیں کہ خدا قرآن کو جابروں اور ظالموں کے ہاتھ اس طرح کھلونا نہیں بننے دے گا جس سے اس کی تلاوت اس پر عمل ترک ہوجائے اور یہ لوگوں کے ہاتھوں سے لے لیا جائے جس طرح دوسری آسمانی کتابوں کے ساتھ یہ سلوک کیا گیا ہے۔ گویا یہ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن (ہمیشہ) تحریف سے محفوظ رہے گا۔ اس پر تفصیلی بحث آئندہ صفحات میں کی جائے گی۔

حدیث کے اس جملے کا مطلب بھی یہی ہے''لا تزیغ به الأهواء،، ۔۔۔'' خواہشات اسے کج (زنگ آلود) نہیں کرسکتیں۔،، یعنی اس کی اصل حقیقت میں تغیر و تبدل نہیں ہو سکتا۔۔۔ قرآن کی اصل حقیقت کے تحفظ کی ضمانت اس لیے دی جارہی ہے کہ قرآن کے خود ساختہ اپنی خواہشات کے مطابق معانی بیان کئے گئے ہیں۔ چنانچہ مخصووص آیات کی تفسیر کے موقع پر اسے مفصل بیان کیاجائے گا انشاء اللہ۔ اس کے علاوہ حدیث شریف میں اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اگر لوگ آپس کے اختلافات اور عقائد و اعمال کی مشکلات میں قرآن کی طرف رجوع کریں تو ان سب کا حل قرآن میں مل جائے گا اور لوگ اسے ایک عادل حاکم اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا پاِئیں گے۔


ہاں! اگر مسلمانوںمیں احکام اور حدود قرآن کا نفاذ ہوتا اور اسکے اشارات کی پیروی کی جاتی تو حق اور اہل حق پہچانے جاتے اور عترت پیغمبر کی معرفت بھی حاصل ہوجاتی جنہیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے قرآن کا ہم پلہ قرار دیا ہے۔(۱) اور یہی وہ ہستیاں ہیں جو آنحضرت کے بعد قرآن کی طرح آپ کا جانشین قرار پائیں، اور اگر مسلمان قرآنی علوم کی روشنی سے نور حاصل کرتے تو ذلت میں مبتلا نہ ہوتے، ان پر ضلالت و گمراہی کی تاریکیاں نہ چھاجاتیں، احکام خدامیں سے کوئی حکم بھی اپنے حقیقی ہدف سے منحرف نہ ہوتا، نہ کوئی شخص راہ راست سے بھٹکتا، نہ کسی کے پائے استقلال میں لغزش آتی، لیکن مسلمانوںنے قرآن کی پس پشت ڈالدیا اور زمانہ جاہلیت کی طرف لوٹ گئے خواہشات نفسانی کی پیروی اور باطل کے جھنڈے تلے پناہ اختیار کی، بلکہ نوبت یہاں تک پہنچی کہ مسلمان ایک دوسرے کو کافر گرداننے لگے اور مسلمان کے قتل، اس کی ہتک حرمت اور اس کے مال کو حلال قرار دینے کو قرب خداوندی کا وسیلہ سمجھنے لگے۔ قرآن کے تروک ہونے کی دلیل اس اختلاف و انتشار سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتی ہے۔

___________________

(۱) حدیث ثقلین کا حوالہ ص ۱۸ میں ذکر کیا گیا۔ بعض روایات میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ ۔۔۔''قرآن اور عترت، رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کے دو جانشین ہیں۔،،


امیر المومنین (علیہ السلام) قرآن کی تعریف میں فرماتے ہیں:

''ثم انزل علیه الکتاب نورا لاتطفا مصابیحه، و سراجا لا یخبو توقده، و بحرا لایدرک قعره، و منهاجا لا یضل نهجه، و شعاعا لایظلم ضوؤه، و فرقانا لا یخمد برهانه، و تبیانا(۱) لا تهدم ارکانه، و شفاء لا تخشی اسقامه، عزا لاتهزم انصاره، و حقا لا تخذل اعوانه، فهو معدن الایمان و بحبوحته، و ینابیع العلم و بحوره، و ریاض العدل و غدرانه، و اثافی الاسلام و بنیانه، و اودیة الحق و غیطانه، و بحر لا ینزفه المنتزفون، و عیون لا ینضبها الماتحون، و مناهل لا یغیضها الواردون، منازل لا یضل نهجها المسافرون، و اعلام لا یعمی عنها السائرون، و آکام لایجوز عنها القاصدون، جعله الله ریّاً لعطش العلمائ، و ربیعا لقلوب الفقهاء و محاجّ لطریق الصلحائ، و دوائً لیس بعده دائ، و نورا لیس معه ظلمة، و حبلاً و ثقیاًعروته، و معقلا منیعا ذروته، رزا لمن تولاه، و سلما لمن دخله، و هدی لمن ائتم به، وعذرا لمن انتحله، و برهانا لمن تکلم به، و شاهدا لمن خاصم به، و فلجا کمن حاج به، و حاملا لمن حمله، و مطیةً لمن اعمله، و آیة لمن توسم و جنة لمن استلأم، و علماً لمن وعی، و حدیثا لمن روی، و حکما لمن قضی،،(۲)

''پھر آپ پرایک ایسی کتاب نازل فرمائی جو (سراپا) نور ہے جس کی قندیلیں گل نہیں ہوتیں، ایسا چراغ ہے جس کی لو خاموش نہیں ہوتی، ایسا دریا ہے جس کی گہرائی تک کسی کی رسائی نہیں اور ایسی راہ ہے جس کی راہ پیمائی بے راہ نہیں کرتی، ایسی کرن ہے جس کی پھوٹ مدہم نہیں پڑتی، وہ (حق و باطل میں) ایسا امتیاز کرنے والی ہے جس کی دلیل کمزور نہیں پڑتی، ایسا کھول کر بیان کرنے والی ہے جس کے ستون منہدم نہیں کئے جاسکتے، و ہسراسر شفا ہے کہ جس کے ہوتے ہوئے روحانی بیماریوں کا کھٹکا نہیں، وہ سرتاسر عزت و غلبہ ہے جس کے یار و مددگار شکست نہیں کھاتے،

____________________

(۱) بحار الانوار میں تبیانا کی بجائے بنیانا ہے۔

(۲)نہج البلاغہ، خطبہ نمبر ۱۹۶۔


وہ (سراپا) حق ہے، جس کے معین و معاون بے سہارا نہیں چھوڑے جاتے، وہ ایمان کا معدن اور مرکز ہے جس سے علم کے چشمے پھوٹتے اور دریا بہتے ہیں، اس میں عدل کے چمن اور انصاف کے حوض ہیں، وہ اسلام کا سنگ بنیاد اور اس کی اساس ہے، حق کی وادی اور اس کا ہموار میدان ہے، وہ ایسا دریا ہے کہ جسے پانی بھرنے والے ختم نہیں کرسکتے، وہ ایسا چشمہ ہے کہ پانی بھرنے والے اسے خشک نہیں کرسکتے، وہ ایسا گھاٹ ہے کہ اس پر اترنے والوں سے اس کا پانی گھٹ نہیں سکتا، وہ ایسی منزل ہے جس کی راہ میں کوئی راہ رو بھٹکتا نہیں، وہ ایسا نشان ہے کہ چلنے والے کی نظر سے اوجھل نہیں ہوتا، وہ ایسا ٹیلہ ہے کہ حق کا قصد کرنے والے اس سے آگے گزر نہیں سکتے، اللہ نے اسے علماء کی تشنگی کے لیے سیرابی، فقہاء کے دلوں کے لیے بہار اور نیکو کاروں کی رہ گزر کے لیے شاہراہ قرار دیا ہے

یہ ایسی دوا ہے جس سے کوئی مرض نہیں رہتا، ایسا نور ہے جس میں تیرگی کا گزر نہیں، ایسی رسی ہے جس کے حلقے مضبوط ہیں، ایسی چوٹی ہے جس کی پناہ گاہ محفوظ ہے، جو اس سے وابستہ رہے اس کے کئے پیغام صلح و امن ہے، جو اس کی پیروی کرے اس کےلئے ہدایت ہے، جو اسے اپنی طرف نسبت دے اس کےلئے حجت ہے، جو اس کی رو سے بات کرے او کے لیے دلیل و برہان ہے، جو اس کی بنیاد پر بحث و مناظرہ کرے اس کے لئے گواہ ہے جو اسے حجت بنا کر پیش کرے اس کے لئے فتح و کامرنی ہے، جو اس کا بار اٹھائے یہ اس کا بوجھ بٹانے والا ہے، جو اسے اپنا دستور العمل بنائے اس کے لئے مرکب (تیز گام) ہے، یہ حقیقت شناس کے لیے ایک واضح نشان ہے، (ضلالت و گمراہی سے ٹکرانے کے لیے) جو مسلح ہو ا س کے لئے سپر ہے، جو اس کی ہدایت کو گرہ میں باندھ لے اس کے لئے علم و دانش ہے، بیان کرنے والے کے لئے بہترین کلام او رفیصلہ کرنے والے کےلئے قطعی حکم ہے۔،،


یہ خطبہ بہت سے اہم نکات پر مشتمل ہے جن سے آگاہی اور ان میں غور و خوض لازمی ہے:

امیر المومنین کے ارشاد''لا یخبو توقده،، ۔۔۔'' قرآن ایسا چراغ ہے جس کی لو خاموش نہیں ہوتی،،۔۔۔ اور خطبے میں اس قسم کے دوسرے جملوں کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے معانی لا متناہی اور ابدی ہیں۔

مثال کے طور پر ایک آیہ کریمہ کسی خاص مقام، شخص یا قوم کے بارے میں نازل ہوئی مگر وہ آیہ اس مقام، شخص اور قوم سے ہی مختص نہیں رہتی بلکہ اس کے معانی عام ہوتے ہیں اور یہ ہر جگہ، ہر شخص اور ہر قوم پر منطبق ہوتی ہے، عیاشی نے اپنی سند سے امام محمد باقر (علیہ السلام) سے آیہ( وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ ) ( ۱۳:۷)،، ۔۔۔(ہر قوم کے لئے ایک ھادی ہوا کرتا ہے) کی تفسیر کے بارے میں روایت کی ہے، آپ نے فرمایا:

'' علی: الهادی، و منا الهادی، فقلت : فانت جعلت فداک الهادی، قال : صدقت ان القرآن حی لایموت، و الآیة حیّة لا تموت، فلو کانت الآیة اذا نزلت فی الاقوام و ماتوا ماتت الآیة لمات القرآن و لکن هی جاریة فی الباقین کما جرت فی الماضین،،

(یعنی) اس آیہ شریفہ میں ہادی سے مراد امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام ہںی اور ہادی ہم ہی میں سے ہوا کرے گا۔ راوی کہتا ہے میں نے کہا: میں آپ پر نثار ہوں کیا آپ بھی ہادی اور اس آیہ شریفہ کے مصداق ہیں؟ ہاں میں بھی اس کا مصداق ہوں، قرآن ہمیشہ زندہ رہے گا، اسے موت نہیں آئے گی اور یہ آیہ و لکل قوم ھاد بھی زندہ ہے اور اسے موت نہیں آسکتی، اگر ایک قوم پر اترنے والی آیت قوم کے مرنے سے مر جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآن کو بھی موت آگئی حالانکہ ایسا نہیں ہو سکتا بلکہ قرآن جس طرح گذشتہ اقوام پر منطبق ہوتا تھا اسی طرح آئندہ آنے والی نسلوں پر بھی منطبق ہوگا۔،،

امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

''ان القرآن حی لم یمت، و انه یجری کما یجری اللیل و النهار، و کما تجری الشمس و القمر، و یجری علی آخرنا کما یجری علی اولنا،،

(یعنی) ''قرآن زندہ و جاوید ہے، اسے موت نہیں آسکتی، دن اور رات کی طرح یہ بھی چلتا رہے گا اور سورج اور چاند کی طرح ہر دور میں ضوفشانی کرتا رہے گا۔،،


اصول کافی میں ہے، جب عمر بن یزید نے امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے آیت کریمہ( وَالَّذِينَ يَصِلُونَ مَا أَمَرَ اللَّـهُ بِهِ أَن يُوصَلَ ) ۱۳:۲۱،، کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا:

'' هذه نزلت فی رحم آل محمد صلی الله علیه و آله و سلم وقد ثم مات اولئک ماتت الآیة لما بقی من القرآن شیئ، و لکن القرآن یجری اوله علی آخره مادامت السماوات و الأرض، ولکل قوم آیة یتلوها هم منها من خیر او شر،،

یہ آیتِ کریمہ ہم آلِ محمد کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن یہی آیہ کریمہ شریفہ تمہارے قریبی رشتہ داروں پر منطبق ہوسکتی ہے، تو ان لوگوں میں سے نہ بن جو ایک خاص مقام اورچیز پرنازل شدہ آیت کو اس مقام اورچیز سے مختص کردیتے ہیں۔

تفسیر فرات میں ہے:

''و لو أن الآیة اذا نزلت فی قوم ثم مات أولئک ماتت الآیة لما بقی من القرآن شیئ، ولکن القرآن یجری أوله علی آخره ما دامت السماوات و الأرض، و کل قومٍ آیة یتلوها هم منها من خیر أو شر،،

''اگر کسی قوم پر کوئی آیت نازل ہو پھر وہ قوم مرجائے اور اس قوم کے ساتھ آیت بھی مرجائے تو قرآن میں سے کچھ بھی باقی نہ رہ جائے مگر ایسا نہیں جب تک آسمان اور زمین موجود ہیں گذشتہ لوگوں کی طرح آئندہ آنے والی نسلوں کے لیےبھی اس کی ہدایت کا سلسلہ جاری رہیگا اور قرآن میں ہر قوم و ملت کے بارے میں ایک آیت موجود ہے جس میں ان کی اچھی یا بری سرنوشت و تقدیر اور انجام کا ذکر ہے۔،،

اس مضمون کی اور بھی متعدد روایات منقول ہیں۔(۱)

____________________

(۱) مرۃ الانوار، ص ۳۔۴


و منها جا لا یضل نهجة ''یعنی قرآن وہ سیدھا راستہ ہے جو اپنے راہرو کو گمراہ نہیں کرتا،،۔ اسے خالق نے اپنی مخلوق کی ہدایت کے لیے نازل فرمایا ہے قرآن ہر اس شخص کو گمراہی سے بچاتا ہے جو اس کی پیروی کرے۔

''و تبیاناً لا تهدم ارکانه،، اس جملے میں دو احتمال ہیں:

الف: پہلا احتمال یہ ہے کہ قرآن کے الفاظ میں کسی قسم کا خلل اور نقص نہیں ہوسکتا ہے، اس احتمال کے مطابق اس جملے میں امیر المومنین اس بات کی طرف اشارہ فرما رہے ہی ںکہ قرآن کریم تحریف سے محفوظ ہے۔

'' وریاض العدل و غدرانه،، (۱) ''اس میں عدل کے چمن اور انصاف کے حوض ہیں۔،، اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ عدالت چاہے عقیدہ کے اعتبار سے ہو یا اخلاق کے اعتبار سے، اس کے تمام پہلو قران میں موجود ہیں۔ پس قرآن عدالت کا محور اوراس کی مختلف جہات کا سنگم ہے۔

و أثا فی الاسلام (۲) ''اسلام کا سنگ بنیاد اور اسکی اساس ہے۔،، اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کو جو استحکام اور اثبات حاصل ہوا ہے وہ قرآن ہی کی بدولت ہے جس طرح دیگ کو استحکام ان پایوں کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے جس کے نیچے رکھے ہوتے ہیں۔

''و أودیة الحق و غیطانه،، '' حق کی وادی اوراس کا ہموار میدان ہے۔،، اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ قرآن حق کا سرچشمہ ہے۔ اس جملے میں قرآن کو وسیع اور پرسکون زرخیز سرزمین سے تشبیہ دی گئی ہے اور حق کو ان نباتات سے تشبیہ دی گئی ہے جو اس سرزمین پر اگی ہوں کیونکہ قرآن ہی حق کا سرچشمہ ہے، قرآن کے علاوہ کہیں اور سے حق نہیں مل سکتا۔

____________________

(۱) ریاض روضہ کی جمعہ ہے یہ اس سرسبز زمین کو کہتے ہیں جس میں سبزہ ہو، غدران جمع ہے غدیر کی اس کا معنی سیلاب کا جمع شدہ پانی ہے۔

( ۲) اثانی جو امانی کے وزن پر ہے، ''اثفیہ،، کی جمع ہے۔ ''اثفیہ،، اس پتھر کو کہا جاتا ہے جس پر دیگچی رکھی جاتی ہے۔

اس جملے سے یہ مطلب بھی لیا جاسکتا ہے کہ جب قرآن کے متلاشی اس کی بلندیوں تک پہنچ جاتے ہیں تو وہاں پہنچ کر رک جاتے ہیں اور آگے بڑھنے کی کوشش نہیں کرتے، اس لیے کہ انہیں مکمل ططور پر اپنی مراد مل جاتی ہے اور وہ منزل مقصود تک پہنچ جاتے ہیں۔


'' وبحر لا ینزفه المنتزفون،، '' وہ ایسا دریا ہے جسے پانی بھرنے والے ختم نہیں کرسکتے،، اس جملے اور اس کے بعدوالے جملوں کا مطلب یہ ہے کہ جو معانیئ قرآن کو سمجھنے کی کوشش کرے وہ اس کی انتہا کو نہیں پہنچ سکتا کیونکہ قرآن کے معانی لامتناہی ہیں بلکہ اس جملے میں اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ ہے کہ قرآن میں کبھی کمی واقع ہو ہی نہیں سکتی، جس طرح چشمے سے پانی نکالنے، پینے یا برتن بھرنے سے پانی کم نہیں ہوتا۔

'' وآکام لا یجوز عنها القاصدون،، ''وہ ایسا ٹیلہ ہے کہ حق کا قصد کرنے والے اس سے آگے نہیں گزر سکتے،،۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ جو محققین اور مفکرین قرآن کی بلندیوں کو سمجھنا چاہتے ہیں وہ کبھی بھی اس کے معانی کی بلندیوں اور چوٹیوں سے تجاوز ن ہیں کرسکتے۔ یہاں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ قران کریم ایسے سربستہ رازوں پر مشتمل ہے جن تک صاحبان فہم کی رسائی نہیں ہوسکتی۔ ہم آئندہ اس حقیقت کو بیان کریں گے۔ انشاء اللہ۔


تلاوت قرآن کی فضیلت اور اس کا ثواب

قرآن وہ آسمانی قانون اور ناموں الٰہی ہے جو لوگوں کی دنیوی اور اخروی سعادت کی ضمانت دیتا ہے، قرآن کی ہر آیت ہدایت کا سرچشمہ اور رحمت و راہنمائی کی کان ہے۔ جو بھی ابدی سعادت اور دین و دنیا کی فلاح و کامیابی کا آرزو مند ہے اسے چاہیے کہ شب و روز قرآن کریم سے عہد و پیمان باندھے، اس کی آیات کریمہ کو اپنے حافظہ میں جگہ دے اور انہیں اپنی فکر اور مزاج میں شامل کرے تاکہ ہمیشہ کی کامیابی اور ختم نہ ہونے والی تجارت کی طرف قدم بڑھاسکے۔

قرآن کی فضیلت میں ائمہ علیہم السلام ارو ان کے جدامجد سے بہت سی روایات منقول ہیں، امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:

'' قال رسول الله صلی الله علیه و آله: من قرأ عشر آیات فی لیلة لم یکتب من الغافلین، و من قرأ خمسین آیة کتب من الذاکرین، و من قرأ مائة آیة کتب من القانتین، و من قرأ مائتی آیة کتب من الخاشعین، و من قرأ ثلثمائة آیة کتب من الفائزین و من قرأ خمسمائة آیة کتب من المجتهدین، و من قرأ ألف آیه کتب له قنطار من تبر،،

''پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا، جو شخص رات کو دس آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام غافلین (جو یاد خدا سے بے بہرہ رہتے ہیں) میں نہیں لکھا جائے گا اور جو شخص پچاس آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام ذاکرین (جو خدا کو یاد کرتے ہیں، حرام و حلال کا خیال رکھتے ہیں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص سو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام قانتین (عبادت گزاروں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص دوسو آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام خاشعین (جو خدا کے سامنے متواضع ہوں) میں لکھا جائے گا اور جو شخص تین سو آیتوں کی تلاوت کرے اور کا نام سعادت مندوں میں لکھا جائے گا، جو شخص پانچ ہزار آیتوں کی تلاوت کرے اس کا نام عبادت اور پرستش خدا کی کوشش کرنے والوں میں لکھا جائے گا اور جو شخص ہزار آیتوں کی تلاوت کرے وہ ایسا ہے جیسے اس نے کثیر مقدار میں سونا راہ خدا میں دے دیا ہو۔،،


امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

''القرآن عهد الله الی خلقه، فقد ینبغی للمرء المسلم أن ینظر فی عهده، و أن یقرأ منه فی کل یوم خمسین آیة،،

''قرآن خدا کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے ایک عہد و میثاق ہے، مسلمان کو چاہےے کہ وہ اپنا عہد نامہ غور سے پڑھے اور روزانہ پچاس آیات کی تلاوت کرے۔،،

آپ نے مزید فرمایا:

'' ما یمنع التاجر منکم المشغول فی سوقه اذا رجع الی منزله أن لا ینام حتی یقرأ سورة من القرآن فیکتب له مکان کل آیة یقرأها عشر حسنات، و یمحی عنه عشر سیأت؟،،

''حب تمہارے تاجر اپنی تجارت اور کاروبار سے فارغ ہو کر گھر واپس لوٹتے ہیں تو سونے سے پہلے ایک سورۃ کی تلاوت سے کونسی چیز ان کے لیے مانع اور رکاوٹ بنتی ہے (کیوں تلاوت نہیں کرتے ) تاکہ ہر آیت کے بدلے ان کے لئے دس نیکیاں لکھی جائیں اور ان کے نامہ ئ اعمال میں سے دس برائیاں مٹا دی جائیں۔،،

اس کے بعد آپ نے فرمایا:

''علیکم بتلاوة القرآن، فان درجات الجنة علی عد آیات القرآن، فاذا کان یوم القیامة یقال لقاری القرآن: اقرأ و ارق، فکلما قرأ آیة رقی درجة،،

''قرآن کی تلاوت ضرور کیا کرو(اس لئے کہ) آیات قرآن کی تعداد کے مطابق جنت کے درجات ہوں گے۔ جب قیامت کا دن ہوگا تو قاری قرآن سے کہا جائے گا قرآن پڑھتے جاؤ اور اپنے درجات بلند کرتے جاؤ پھر ہو جیسے جیسے آیات کی تلاوت کرے گا اس کے درجات بلند ہوں گے۔،،


حدیث کی کتابوں میں علماء کرام نے اس مضمون کی بہت سی روایات کو یکجہا کر دیا ہے، شائقین ان کی طرف رجوع کرسکتے ہیں اور بحار الانوار کی انیسویں جلد میں اس مضمون کی کافی روایات موجود ہیں، ان میں سے بعض روایات کے مطابق قرآن کو دیکھ کر تلاوت کرنا، زبانی اور ازبر تلاوت کرنے سے بہتر ہے۔

ان میں سے ایک حدیث یہ ہے:

اسحاق بن عمار نے امام جعفر صادق کی خدمت میں عرض کی:

''جعلت فداک انی احفظ القرآن عن ظهر قلبی فأقرأه عن ظهر قلبی أفضل أو أنظر فی المصحف قال: فقال لی : لا بل اقرأه و انظر فی المصحف فهو أفضل أما علمت ان النظر فی المصحف عبادة ،،؟ و قال: ''من قرأ القرآن فی المصحف متع ببصره، و خفف عن الدیه و ان کانا کافرین،، (۱)

''میری جان آپ پر نثار ہو، میں نے قرآن حفظ کرلیاہے اور زبانی ہی اس کی تلاوت کرتا ہوں، یہی بہتر ہے یا یہ کہ قرآن دیکھ کے تلاوت کروں؟ آپ نے فرمایا: قرآن دیکھ کر تلاوت کیا کرو یہ بہتر ہے، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ قرآن میں دیکھنا عبادت ہے، جو شخص قرآن میں دیکھ کے اس کی تلاوت کرے اس کی آنکھ مستفید اور مستفیض ہوتی ہے اور اس کے والدین کے عذاب میں کمی کردی جاتی ہے، اگرچہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہوں۔،،

____________________

(۱) اصول کافی۔ کتاب فضل القرآن۔ وسائل طبعۃ عین الدولہ، ج۱، ص ۳۷۰


قرآن میں دیکھ کر تلاوت کرنے کی تاکید و تشویق میں چند اہم نکات ہیں جن کی طرف توجہ ضروری ہے:

i ) قرآن میں دیکھ کر تلاوت کرنے کی تاکید اس لیے کی گئی ہے تاکہ نسخوں کی کثرت کی وجہ سے قرآن ضیاع سے محفوظ رہ سکے۔ کیوں کہ جب قرآن کی زبانی تلاوت پر اکتفاء کی جائے گی تو قرآن کے نسخے متروک ہو جائیں گے اور آہستہ آہستہ کم یاب ہو جائیں گے بلکہ بعیدنہیں کہ بتدریج اس کے آثار تک باقی نہ رہیں۔

ii ) دوسری وجہ یہ ہے کہ قرآن میں دیکھ کر تلاوت کرنے کے بہت سے آثار ہیں جن کی روایات میں تصریح کی گئی ہے مثلاً معصوم نے فرمایا ہے: ''متع ببصرہ،، یعنی۔ یہ بڑا جامع کلمہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن میں دیکھ کر تلاوت کرنا اس بات کا سبب بنتا ہے کہ انسان نابینائی اور آشوب چشم سے محفوظ رہے یا یہ مراد ہوسکتی ہے کہ قرآن میں دیکھ کر تلاوت کرنے سے انسان قرآنی رموز اور اس کے دقیق اور باریک نکات سے باخبر ہو جاتا ہے۔ کیوں کہ جب انسان کی نظر ایسی چیز پر پڑے جو اسے پسند ہو تو اس کا نفس خوشحال ہو جاتا ہے اور اپنی بصارت اور بصیرت میں روشنی محسوس کرتا ہے۔ قرآن کے الفاظ پر جب بھی قاری کی نظر پڑتی ہے اور وہ اس کے علوم و معانی میں فکر کرتا ہے تو علم و آگاہی کی لذت محسوس کرتا ہے اور اس کی رح ہشاش بشاش ہو جاتی ہے۔

iii ) بعص روایات میں گھروں کے اندر قرآن کی تلاوت کی فضیلت بیان کی گئی ہے، اس کا راز قرآن کی تبلیغ و ترویج اور تلاوت قرآن کا چرچا ہے، کیونکہ جب انسان گھر میں قرآن کی تلاوت کرے تو اس کے بیوی بچے بھی قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اس سے یہ عمل عام ہو جاتا ہے لیکن اگر قرآن کی تلاوت کسی خاص مقام پر کی جائے تو اس کا ہر شخص، ہر جگہ شرف حاصل نہیں کرسکتا اور یہ تبلیغ اسلام میں رکاوٹ کا بہت بڑا سبب ہے۔


شاید گھروں میں تلاوت کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ اس سے شعائر الٰہی قائم ہو جاتے ہیں کیونکہ جب صبح و شام گھروں سے تلاوت قرآن کی آواز بلند ہوگی تو سننے والوں کی نظر میں اسلام کی اہمیت بڑھے گی اس لیے کہ جب شہر کے کونے کونے سے تلاوت قرآن کی آواز سنائی دے گی تو سننے والوں پر ایک قسم کا رعب اور ہیبت طاری ہوجائے گی۔

گھروں میں تلاوت کے آثار جو روایات میں مذکورہ ہیں

''ان البیت الذی یقرأ فیه القرآن و یذکر الله تعالی فیه تکثر برکته، و تحضره الملائکة، و تهجره الشیاطین، و یضیئ لأهل السلماء کما یضیئ الکوکب الدری لأهل الأرض، و ان البیت الذی لایقرأ فیه القرآن، و لا یذکره الله تعالیٰ فیه تقل برکته، و تهجره الملائکة و تحضره الشیاطین ۔،، (۱)

''وہ گھر جس میں قرآن کی تلاوت اور ذکر خدا کیا جاتا ہو اس کی برکتوں میں اضافہ ہوتا ہے، اس میں فرشتوں کا نزول ہوتا ہے شیاطین اس گھر کو ترک کردیتے ہیں اور یہ گھر آسمان والوں کو روشن نظر آتے ہیں، جس طرح آسمان کے ستارے اھل زمین کو نور بخشتے ہیں اور وہ گھر جس میں قرآن کی تلاوت نہیں ہوتی اور ذکر خدا نہیں ہوتا اس میں برکت کم ہوتی ہے، فرشتے اسے ترک کردیتے ہیں اور ان میں شیاطین بس جاتے ہیں۔،،

قرآن کی فضیلت اور وہ عزت و تکریم جن سے خداوند، قاری قرآن کو نوازتا ہے روایات میں اتنی ہے کہ جس سے عقلیں حیرت زدہ رہ جاتی ہیں، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

____________________

(۱) اصول کافی، کتاب فضل القرآن


''من قرأ حرفاً من کتاب الله تعالیٰ فله حسنة والحسنة بعشر أمثالها لا أقول آلم حرف و لکن ألف حرف و لام حرف و میم حرف،،

''جو شخص کتاب الٰہی کے ایک حرف کی تلاوت کرے اس کے اعمال میں ایک حسنہ اور نیکی لکھی جاتی ہے اور ہر حسنہ کا دس گنا ثواب ملتا ہے (اس کے بعد آپ نے فرمایا) میں یہ نہیں کہتا کہ ''الم،، (یہ تینوں) ایک حرف ہے بلکہ ''الف،، ایک حرف ہے ''ل،، دوسرا حرف ہے اور ''م،، تیسرا حرف ہے۔،،

اس حدیث کو اہل سنت کے راویوں نے بھی نقل کیا ہے، چنانچہ قرطبی نے اپنی تفسیر(۱) میں ترمذی سے اور اس نے ابن مسعود سے نقل کیا ہے، کلینی رحمہ اللہ نے بھی تقریباً اسی مضمون کی حدیث امام جعفر صادق سے نقل فرمائی ہے۔

اس میدان میں کچھ جھوٹے راوی بھی ہیں جن کی نظر میں شاید فضیلت قرآن کی یہ تمام روایات کم تھیں اس لیے انہوں نے اپنی طرف سے فضیلت قرآن میں کچھ روایات گھڑلیں جن کی نہ تو وحی نازل ہوئی ہے اور نہ ان کا سنت نبوی میں کوئی ذکر ہے۔ ان جھوٹے راویوں میں ابو عصمۃ فرج بن ابی مریم مروزی، محمد بن عکاشہ کرمانی اور احمدبن عبد اللہ جویباری شامل ہیں۔ ابو عصمۃ نے خود اس جعل سازی کا اعتراف کیا ہے۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ تو نے کس طرح عکرمہ کے واسطے سے ابن عباس سے قرآن کے ایک ایک سورے کے بارے میں احادیث نقل کی ہیں، اس (ابو عصمۃ) نے جواب دیا:

''ابی رأیت الناس قد أعرضوا عن القرآن، و اشتغلوا بفقه أبی حنیفة، و مغازی محمد بن اسحق فرضعت هذا الحدیث حسبة،،

''جب میں نے دیکھا کہ لوگ قرآن سے منحرف ہوگئے ہیں اور ابی حنیفہ اور مغازیئ محمد بن اسحاق کی فقہ میں مصروف ہیں تو میں قرآن کی فضیلت میں یہ احادیث قربتہ الی اللہ گھڑلیں۔،،

____________________

(۱) تفسیر قرطبی، ج ۱، ص ۷، و فی الکافی کتاب فضل اقلرآن


ابو عمر و عثمان بن صلاح، ا س حدیث کے بارے میں جو ابی بن کعب کے واسطے سے پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) سے منقول ہے لکھا ہے:

''قد بحث باحث عن مخرجه حتی انتهی الهی من اعترف بأنه و جماعة و ضعوه، و قد أخطأ الواحدی و جماعة من المفسرین حیث أودعوه فی تفاسیرهم،، (۱)

''اس حدیث کے بارے میں جو قرآن کے ہر ہر سورے کے فضائل میں نقل کی گئی ہے جو تحقیق کی گئیوہ اس تنیجہ پر پہنچی ہے کہ اس حدیث کے گھڑنے والے نے اس کے جعلی ہونے کا اعتراف کرلیا ہے (میں نے اپنے کچھ ساتھیوں سے ملک کر اسے گھڑا ہے"

واحدی اور دیگر مفسیرین اپنی تفسیروں میں اس حدیث کو ذکر کرکے غلطی کا شکار ہوئے ہیں۔،،

دیکھئے!ان لوگوں نے کتنی بڑی جراءت کی ہے کہ رسول خد کی طرف حدیث کی جھوٹی نسبت دی ہے اور ستم یہ کہ اس افتراء اور تہمت کو قرب الٰہی کا سبب قرار دیتے ہیں۔

( كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ) ۱۰:۱۲

''جو لوگ زیادتی کرتے ہیں ان کی کارستانیاں یوں ہی انہیں اچھی کرکے دکھائی گئی ہےں۔،،

____________________

(۱) تفسیر قرطبی، ج ۱، ص ۷۸۔۷۹، و فی الکافی کتاب فضل القران


قرآن میں غور و خوض اور اس کی تفسیر

قرآن مجید اور صحیح روایات میں معانیئ قرآن کے سمجھنے اور اس کے مقاصد و اہداف میں کفر کی سخت تاکید کی گئی ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

( أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا ) (۴۷:۲۴)

''تو کیا یہ لو قرآن میں (ذرا بھی) غور نہیں کرتے یا (انکے) دلوں پر تالے (لگے ہوئے) ہیں۔،،

اس آیہ کریمہ میں قرآن میں غور نہ کرنے کی سخت مذمت کی گئی ہے۔ ابن عبّاس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل کیا ہے، آنحضرت نے فرمایا:

''اعربوا القرآن و التمسوا غرائبه،، ۔ ''قرآن کو بلند آواز سے پڑھان کرو اور اس کے عجائبات اورباریکیوں میں غور و خوص کیا کرو۔،،

ابو عبدالرحمن سلمی کہتے ہیں:

''حدثنا من کان یقرئنا من الصحابة انهم کانوا یأخذون من رسول الله ص عشر آیات فلا یأخذون فی العشر الآخری حتی یعلموا ما فی هذه من العلم و العمل،،


''صحابہ کرام جو ہمیں قرآن کی تعلیم دیا کرتے تھے فرماتے تھے ہم رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے قرآن کو دس دس آیتوں کی صورت میں لیتے تھے، جب تک ہم پہلی دس آیتوں کے علمی اور عملی نکات کو حفظ نہیں کرلیتےٍ۔ دوسری دس آیتیں ہمیں نہیں ملتی تھیں۔،،(۱)

عثمان، ابن مسعود اور ابی کہتے ہیں:

''ان رسول الله ۔ص ۔کان یقرئهم العشر فلا یجاوز و نها الی عشر أخری حتی یتعلموا ما فیها من العمل فیعلمهم القرآن و العمل جمیعاً،، (۲)

''رسول خد قرآن کی دس آیتوں کی تعلیم دیتے تھے، ان دس آیتوں سے اس وقت تک تجاوز نہ فرماتے تھے جب تک ان کو سمجھ کر عمل نہ کیا جائے، پس علم قرآن اور عمل بہ قرآن کی تعلیم ایک ساتھ دیتے تھے۔،،

____________________

(۱) بحار الانوار، ج ۱۹، ص ۲۸ باب فضل التدبر فی القرآن

(۲) قرطبی، ج ۱، ص ۳۹


ایک دن امیر المومنین علیہ السلام نے لوگوں کے سامنے جابر بن عبد اللہ انصاری کی تعریف کی تو کسی نے کہا: مولا! آپ (باب علم ہونے کے باوجود) جابر کی تعریف کر رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا:

''تمہیں معلوم نہیں جابر بن عبد اللہ انصاری آیہ کریمہ،( إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَادُّكَ إِلَىٰ مَعَادٍ ۚ ) ۲۸:۸۵

کی تفسیر سمجھتے تھے۔،،(۱)

قرآن کریم میں فکر اور تدبر کرنے کی فضیلت میں بہت سی روایات موجود ہیں۔ چنانچہ بحار الانوار کی ۱۹ جلدوں میں اس مضمون کی بے شمار احادیث موجود ہیں۔ لیےکن یہ ایسی حقیقت ہے جس کے لئے اخبار و روایات میں تتبع اور جستجو کی ضرورت نہیں ہے۔ کیوں کہ قرآن ایسی کتاب ہے جسے خدا نے لوگوں کے لیے دنیا ہی میں ایک مکمل ضابطہئ حیات بنا کر بھیجا ہے۔ جس سے وہ آخرت کی راہ، نور اور روشنی حاصل کرسکتے ہیں اور یہ کام اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک قرآن کے معانی میں تدبر او فکر نہ کیا جائے، یہ ایسی حقیقت ہے جس کا فیصلہ عقل کرتی ہے۔ روایات اور احادیث میں جتنی تاکید ہے وہ اسی حکم عقل کی تائید اور اسی کی طرف راہنمائی کےلئے ہے۔

زہری نے امام زین العابدین (علیہ السلام) سے روایت کی ہے، آپ نے فرمایا:

''آیات القرآن خزائن فکلما فتحت خزینة ینبغی لک أتنظر ما فیها،، (۲)

''قرآن کی آیات خزانے ہےں جب بھی کوئی خزانہ کھولا جائے اس میں موجود موتیوں اور جواہرات کو ضرور دیکھا کرو (تلاش کیا کرو)،،

____________________

(۱) تفسیر القرطبی، ج ۱، ص ۲۶

(۲) اصول الکافی، کتاب فضل القرآن


اعجاز قرآن

٭ اعجاز کے معنی

٭ نبی یا امام معصوم کی نظر میں محال ہونے کی مثال

٭ نبوّت اور اعجاز

٭ معجزہ اور عصری تقاضے

٭ قرآن۔۔۔ایک الہٰی معجزہ

٭ ایک اعتراض اور اس کا جواب

٭ قرآن۔۔۔ایک ابدی معجزہ

٭ قرآن اور معارف

٭ آیات میں ہم آہنگی

٭ قرآن اور نظامِ قانون

٭ قرآن کے معانی میں پختگی

٭ قرآن کی غیب گوئی

٭ قرآن اور اسرارِ خلقت


اعجاز کے معنی

فقہ میں اعجاز کے متعدد معانی بیان کئے گئے ہیں:

i ) کسی چیز کو کھو دینا۔''اعجزه الامر الفلانی،، ۔ یعنی اسنے فلاس چیز کو کھو دیا۔

ii ) کسی دوسرے میں عجز و ناتونی محسوس کرنا۔''اعجزت زیدا،، یعنی میں نے زید کو عاجز اور ناتواں پایا۔

iii ) کسی کو عاجز بنا دینا اس صورت میں عاجز تعجیز کا ہم معنی ہوگا۔''اعجزت زیداً،، یعنی میں زید کو عاجز بنا دیا۔

علمِ کلام کی اصطلاح میں اعجاز کا مطلب یہ ہے کہ کسی الہٰی منصب کا مدعی اپنے مدعا کے اثبات میں طبیعی قوانین کو توڑتے ہوئے ایک کارنامہ انجام دے، جس کی نظیر پیش کرنے سے دوسرے عاجز و بے بس ہوں۔ البتہ یہ معجزہ اس صورت میں مدعی کی صداقت کی دلیل ہوگا جب ا س(مدعی یا معجزہ) کا صادق ہونا ممکن ہو اور اگر علقی طور پر اس (دعویٰ) کا صادق ہونا محال ہو یا ایک نبی صادق یا امام معصوم اس دعویٰ کو محال قرار دے اس صورت میں یہ غیر معمولی کام صداقت کی دلیل نہیں بنے گا اور نہ اصطلاح میں معجزہ کہلائے گا۔ اگرچہ عام انسان ایسا عمل انجام دینے سے قاصر رہے۔

محالِ عقلی کی مثال: کوئی انسان الوہیّت اور خدائی کا دعویٰ کر بیٹھے۔ اس قسم کے دعویٰ کا صادق ہونا عقلاً محال ہے کیوں کہ صحیح اور مستحکم دلیلیں اس کے محال ہونے پر دلالت کرتی ہےں۔


نبی یا امام معصوم کی نظر میں محال ہونے کی مثال

پیغمبراسلام کے بعد کوئی نبوت کا دعویٰ کر بیٹھے۔ اس قسم کا دعویٰ یقیناً کذب ہے اس لیے کہ ائمہ معصومین اور رسول اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کے ذریعے آنحضرت کا خاتم الانبیاء ہونا مسلم الثبوت ہے۔ جب دعویٰ ہی قطعی طور پر باطل اور جھوٹا ہو تو پھر اس شاہد کا کیا فائدہ ہوگا جسے مدعی پیش کرے جب عقل اس مدعا کے محال ہونے کے کا حکم لگا دے یا شریعت اس کے باطل ہونے کی شہادت دے تو پھر خالق پر واجب نہیں کہ اس کے باطل ہونے کو برملا کرے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک انسان کسی الہٰی منصب کا دعویٰ تو کرلیتا ہے اور کوئی خارق العدات (معجزہ نما) کام بھی کر دکھاتا ہے جس سے دوسرے انسان عاجز رہتے ہیں لیکن یہی کام اس کے دعوےٰ کے کذب ہونے کی دلیل بن جاتا ہے۔ مثال کے طور پر مسیلمہ کذّاب نے ایک مرتبہ اپنا لعابِ دھن کنوئیں میں پھینکا جس میں پانی تھوڑا تھا تاکہ اس کا پانی زیادہ ہو جائے لیکن اسمیں جو پانی تھا وہ بھی خشک ہوگیا۔

ایک او واقعے میں اس نے بنی حنیفہ کے کچھ بچوں کو سر پر ہاتھ پھیرا اور بعض کو گھٹی دی (حلق پر ہاتھ پھیرا) اس کے نتیجے میں جن کے سروں پر ہاتھ پھیرا تھا وہ گنجے ہوگئے اور جن کے حلق پر ہاتھ پھیرا تھا ان کو لکنت کا عارضہ ہوگیا۔(۱) جب مدعی اس قسم کا شاہداور دلیل پیش کرے تو خدا کے لیے ضروری نہیں کہ اسے مزید برملا کرے کیوں کہ اس مدعی کا ناکام عمل ہی مدعی کو باطل کرے کے لیے کافی ہے اور اصطلاح میں اسے معجزہ نہیں کہا جاتا۔

____________________

(۱) الکامل ابن اثیر، ج ۲، ص ۱۳۸


اس عمل کو بھی اصطلاح میں معجزہ نہیں کہا جائے گا جس کا مظاہرہ جادو گر اور شعبدہ باز کیا کرتے ہیں یا بعض دقیق اور پیچیدہ علوم نظری کے ماہر انجام دیتے ہیس اگرچہ ایسا عمل انجام دینے سے عام آدمی عاجز ہو، خدا کے لیے ضروری نہیں کہ وہ اس عمل کو کسی اور ذریعے سے باطل قرار دے، جبکہ یہ معلوم ہہے کہ اس کا یہ عمل سحر جیسے دوسرے طبیعی امور کے نتیجے میں انجام پایا ہے۔ اگرچہ یہ انسان کسی الہٰی منصب کا دعویدار ہو اور اس کام کو اس نے اپنی صداقت کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہو، کیونکہ ان پیچیدہ علوم نظری کے خاص قوانین ہوتے ہیں جن سے اس علم کے ماہرین آگاہ ہوا کرتے ہیں اور ان قواعد کی روشنی میں مخصوص نتاء تک پہنچنا ضروری ہوا کرتا ہے، اگرچہ ان قواعد کو نتائج پر منطبق کرنا کافی دقت طلب ہے۔

بنابرایں علم طبّ کے بعض حیرت انگیز قواعد بھی معجزہ سے خارج ہوں گے جن کا تعلق چیزوں کی طبیعتوں اور ان کے خاصیتوں سے ہے اگرچہ طبّ کی یہ عجیب و غریب باتیں عام لوگوں سے مخفی اور پوشیدہ ہوں بلکہ خود ان طبیبوں اور حکیموں پر بھی چیزوں کی خاصیتیں اور ان کے آثار مخفی ہوں۔

اس میں بھی کوئی قباحت نہیں کہ خدا کسی خاص بندے کو کسی خاص چیز کی معرفت عطا فرمائے جو عام لوگوں کی سمجھ سے بالاتر ہو۔

قباحت اس میں ہے کہ خدا کسی جھوٹے شخص کی تائید کرے اور ایسے جھوٹے شخص کے ہاتھ معجزہ ظاہر کرے جو لوگوں کو راہِ راست سے گمراہ کرے۔


نبوّت اور اعجاز

تمام انسانوں کو مکلّف کرنا خدا پر واجب ہے اور یہ بات صحیح عقلی دلائل سے ثابت ہے، کیونکہ انسان اپنی ارتقائی منازل طے کرنے اورابدی سعادت کے حصول اور عظیم منفعت کےلئے تکلیف (فرائض و ذمہ داریوں) کا محتاج ہے۔ اگرخدا انسان کو پابند قرار نہ دے تو اس کی تین وجوہات ہوسکتی ہیں:

i ) خدا نے اپنے بندوں کو اس لیے مکلّف نہیں بنایا کہ خدا نہیں جانتا کہ لوگ ذمہ داری و لائحہ عمل کے محتاج ہیں۔

اس سے جہل لازم آتا ہے جس سے خدا کی ذات پاک و منزہ ہے۔

ii ) خدا نے لوگوں کو اس لیے مکلّف نہیں بنایا کہ وہ انہیں کمال تک پہنچنے سے روکنا چاہتا ہے۔ اس سے بخل لازم آتا ہے اور بخل اس ذات کے لیے محال ہے جو سرچشمہ ئ فیض و سخا ہے۔

iii ) خدا انہیں مکلّف بنانا چاہتا ہے لیکن وہ اس پر قادر نہیں ہے۔ یہ عجز و ناتوانی ہے جو اس قادر و مطلق ذات کے لیے محال ہے۔

بنابریں بشر کو بعض فرائض کا مکلّف بنانا ضروری اور لازمی ہے اور یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ انسان کو مکلّف بنانے کے لیے کسی نہ کسی مبلّغ کی ضرورت ہے جو احکامِ الہٰی کے پوشیدہ اور واضح رموز سے آگاہ کرے:

( لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَيَّ عَن بَيِّنَةٍ ) (۸:۴۲)

''تاکہ جو شخص ہلاک (گمراہ) ہو وہ (حق کی) حجت تمام ہونیکے بعد ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ (ہدایت کی) حجّت تمام ہونیکے بعد زندہ رہے۔،،


یہبھی ایک بدیہی بات ہے کہ سفارتِ الہٰی ایسا عظیم منصب ہے جس کے بہت سے مدعی ہوسکتے ہیں اور بہت سے لوگ اس کے حصول کی خواہش رکھتے ہیں۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ صادق اور کاذب میں تمیز نہ ہوسکے، گمراہ کرنے والے اور ہادی و راہنما میں امتیاز نہ رہے، اس لیے جو بھی اس سفارت کا دعویدار ہو اس کے لئے ضروری ہے ہک ایسا شاہد اور ثبوت پیش کرے جو اس کے اس دعویٰ میں صادق ہونے پر دلالت کرتا ہو اور اس تبلیغ میں اس کے امین ہونے کی ضمانت دے۔ یہ شاہد ان عام اور معمولی افعال اور کارناموں میں سے نہ ہو جنہیں ہر کس و ناکس انجام دے سکتا ہو۔ بنابرایں اس مدعا کی دلیل میں ان کاموں میں منحصر ہوگی جو طبیعی قوانین کو توڑ دیں۔ معجزہ اس لیے مدعی کی صداقت کی دلیل ہوتا ہے کہ یہ معجزہ طبیعی قوانین سے بالاتر ہوتا ہے اور یہ کام اسی سے صادر ہوتا ہے جسے توفیق الہٰی حاصل ہو اور خدا جسے قدرت اور طاقت دے۔

بنابرایں اگر نبوّت کا مدعی اپنے دعویٰ میںجھوٹا ہو تو ایسے معجزے پر اس کو قدرت دینا لوگوں کو جہالت میں ڈالنے اور باطل کی تقوّیت کا باعث ہوگا اور یہ کام خدا کے لیے محال ہے۔

جب اس قسم کا معجزہ کسی مدعی کے ہاتھ پر ظاہر ہو تو یہ معجزہ اس کی صداقت کی دلیل ہوگا اور اس بات کا اظہار ہوگا کہ خداوند متعال اس کی نبوّت پر راضی ہے۔

یہ ایک ایسا قاعدہ کلیّہ ہے جسے تمام عقلاء اس قسم کے اہم کاموں میں تسلیم کرتے ہیں اور اسے کوئی بھی شک و شبہ کی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔


جب کوئی کسی بادشاہ یا صدر کے سفیر ہونے کا دعویٰ کرے یا کوئی شخص ایسے کاموں میں بادشاہ کی نمائندی کا دعویٰ کرے جن کا تعلق عوام سے ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے دعویٰ پر دلیل پیش کرے جس سے اس کی تائید ہو۔ خصوصاً جب لوگ اس کی صداقت میں شک کریں تو اس کی دلیل واضح اور آشکار ہونی چاہےے۔ مثال کے طور پر اگر سفیر لوگوں سے یہ کہے کہ میری صداقت کی دلیل یہ ہے کہ کل کے دن بادشاہ او صدرمملکت مجھے ایسا تحفہ دیگا جیسا وہ دوسرے سفیروں اور نمائندگان کو دیا کرتا ہے اور میری ایسی عزّت اور تکریم کرے گا جیسی دوسرے سفراء او رنمایندگان کی کیا کرتا ہے تو ایسی صورت میں جب سفیر اور لوگوں میں رونما ہونے والے اس اختلاف کا بادشاہ کو علم ہوگا اور اس کے بعد اسی دن اسی تحفے و عزّت و تکریم سے سفیر کو نوازے تو بادشاہ اور صدر مملکت کی طرف سے یہ فعل مدعیئ سفارت کی تصدیق ہوگی جس میں عقلاء کو کوئی شک نہیں ہوگا، کیوں کہ ایک بادشاہ جو رعیت کی مصلحتوں کا محافظ ہوا کرتا ہے اس کے لئے قبیح ہے کہ وہ کاذب مدعی کی تائید و تصدیق کرے۔ کیونکہ وہ لوگوں میں فساد پھیلانا چاہتا ہے، جب یہ کام عام عقلاء کے لیے قبیح ہو تو اس حکیم اور دانا ذات کے لیے بطریقِ اولیٰ اور قبیح ہے اور یہ حقیقت خدا نے اس آیتِ کریمہ میں بیان فرمائی ہے:

( وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ ) (۶۹:۴۴۔۴۶)

''اگر رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) ہماری نسبت کوئی جھوٹ بات بنالاتے تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکڑلیتے پھر ہم ضرور ان کی گردن اڑا دیتے۔،،


اس آیت کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جن کی نبوّت ہم نے ثابت کی ہے اور اس کی تصدیق کے لیے معجزہ ظاہر کیا ہے، آیا ممکن ہے کہ وہ کوئی بات اپنی طرف سے ہماری طرف منسوب کریں۔ اگر وہ ایسا کریں تو ہم ان کا مواءخذہ کریں گے اور ان کی جان لے لیں گے اس کے علاوہ اس قسم کی غلط نسبتوں کو سننے کے بعد خاموشی اختیار کرنا، ان کی تصدیق ہوگی اور شریعت مقدّسہ میں باطل کو شامل کرنے کے مترادف ہوگا۔ بنابرایں جس طرح شریعت کی ابتدائی پیدائش میں اس کی حفاظت ہمارا فرض ہے اسی طرح پیدائش کے بعد بقاء کے مرحلے میں بھی اس کی حفاظت ہمارا فرض ہے۔

معجزے کا کسی مدعی نبوّت کی صداقت پر دلالت کرنا اس بات پر موقوف ہے کہ ہم ےسن و قبح عقلی کے قائل ہوں یعنی اس بات کے قائل ہوں کہ عقل حسن و قبح کو درک کرسکتی ہے۔ لیکن اشاعرہ یہ بات تسلیم نہیں کرتے ان کے نزدیک نبوت کی تصدیق کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔ اس قول کی خرابیوں میں سے ایک خرابی یہی ہے کہ اس سے تصدیق نبوّت کی راہیں مسدود ہو جاتی ہیں۔ کیوں کہ معجزہ اسی صورت میں نبوّشت کی صداقت کی دلیل ہوگا جب عقل کاذب کے ہاتھ پر معجزہ ظاہر ہونے کا قبیح سمجھے، اگر عقل اسے قبیح نہ سمجھے تو پھر کوئی بھی صادق اور کاذب میں تمیز نہ کرسکے گا۔

فضل ابن روز بہان نے اس اشکال و اعتراض کا یہ جواب دیا ہے کہ اگرچہ خدا سے فعل قبیح کا صادر ہونا ممکن ہے یعنی یہ ممکن ہے کہ خدا کاذب کے ہاتھ پر بھی معجزہ ظاہر کرے لیکن اس کی عادت اور سنت یہی رہی ہے کہ معجزہ اسی کے ہاتھ پر ظاہر ہو جو صادق ہو اور کاذب کے ہاتھ پر معجزہ کبھی بھی ظاہر نہیں ہوتا۔

اس سے اشاعرہ کے نزدیک تصدیق نبوّت کی راہیں مسدود نہیں ہوتیں، لیکن اس جواب کی کمزوری ظاہر و آشکار ہے۔


اس لیے کہ اوّلاً یہ عادت خدا اور سنت الہٰی جس کی خبر ''ابن روز بہان،، دے رہا ہے، ان چیزوں میں سے نہیں ہے جو اس سے درک کی جاسکیں، کان سے سنی جاسکیں یا آنکھ سے دیکھی جاسکیں بلکہ عقل ہی کے ذریعے اس کا علم حاصل کیا جاسکتا ہے۔ جب عقل حسن و قبح کا ادراک نہ کرسکے (جس کے اشاعرہ قائل ہیں) توپھر کون جانے کہ خدا کی یہ عادت رہی ہے کہ وہ معجزہ صرف صادقین کے ہاتھ پر دکھاتا ہے۔

ثانیاً، یہ عادت گذشتہ انبیاء کی تصدیق کے بعد ہی ثابت ہوسکتی ہے، جن کے ہاتھ سے معجزے ظاہر ہوئے ہیں، تاکہ ہم یہ جان سکیں کہ خدا کی یہ سنّت رہی ہے کہ وہ صادق کے ہاتھ پر ہی معجزہ ظاہر کرتا ہے لیےکن جو حضرات گذشتہ انبیاء کی نبوّتوں کے منکر ہیں یا انہیں شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، ان کے لیے تو یہ عادت ثابت کرنے کا کوئی طریقہ نہیں ہوگا جس کا ''ابن روز بہان،، مدی ہے اور نہ ہی ان کے لئے معجزہ حجت ہے ہوسکتا ہے۔

ثالثاً، جب عقل کی نظر میں کسی فعل کو انجام دینا اور ترک کرنا مساوی ہو اور اس میں کسی قبح یا حسن کا حکم نہ لگایا جاسکے تو پھر خدا کو اپنی عادت بدلنے میں کون سی چیز مانع ہوگی، جبکہ خدا قادر مطلق ہے اور اس کا کوئی مواخذہ و محاسبہ بھی نہیں کرسکتا۔ بنابرایں اگر خدا کسی کاذب کے ہاتھ پر بھی معجزہ ظاہر کرے تو بھی کوئی مانع نہیں ہونا چاہیے۔

رابعاً، عادت تو ایک ایسی چیز ہے جو کسی عمل کے تکرار کے نتیجے میں حاصل ہوتی ہے اور اس میں عرصہ دراز کی احتیاج ہوتی ہے۔ یہ آخری نبی یا اس سے پہلے انبیاء کے لئے تو معجزہ بن سکتا ہے لیکن ابتدائی نبوّت کے لیے کس طرح معجزہ بن سکتا ہے، جس میں کوئی عادت ہی نہیں بنی تھی۔ ہم آئندہ صفحات پر اشاعرہ کے اقوال ذکر کریں گے اور ان کے باطل پہلو بھی بیان کریں گے۔


معجزہ اور عصری تقاضے

آپ نے دیکھا کہ معجزہ وہ ہوتا ہے جو طبیعی قوانین کو توڑ دے، کسی الہٰی منصب کا مدعی اسے انجام دے اور باقی لوگ اسے انجام دینے سے قاصر ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کوئی معجزہ جس ہنر یا پیشے سے مماثلت رکھا ہو اسی پیشے کے علماء و ماہرین ہی یہ بات سمجھ سکتے ہیں کہ عام لوگ یہ کام انجام دینے سے قاصر ہیں۔ کیونکہ کسی بھی صنعت اور ہنر کی خصوصیات اس کے علماء ہی بہتر سمجھتے ہیں، وہی بتاسکتے ہیں کہ عام لوگ کونسا کام انجام دے سکتے ہیں اور کونسا نہیں یہی وجہ ہے کہ علماء معجزہ کی جلدی تصدیق کرتے ہیں جبکہ اس فن و ہنر کے اصولوں سے آگاہ نہ ہونے کی وجہ سے جاہل کے آگے شک و تردید کے دروازے کھلے رہتے ہیں چنانچہ جب تک اس کا یہ احتمال باقی رہے کہ مدعی نے خاص اصولوں کا سہارا لیا ہوگا جنہیں اہل فن ہی جانتے ہیں اسے بہت دیر تک مدعی کی صداقت پر یقین نہ آئے گا۔

اسی لیے حکمت الہٰی کا یہ تقاضا ہے کہ ہر نبی کو وہی معجزہ دے کر بھیجا جاھے جو اس دور کے مشہور و معروف فن کی مانند اور اس فن کا اس دور میں چرچا بھی ہو، اس طرح کے معجزے کی تصدیق جلدی اورحجت و برہان مضبوط ہوتی ہے۔

حکمت الہٰی کا تقاضا یہی تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عصا اور ید بیضا سے مسلح کیا جاتا کیوں کہ اس زمانے میں سحر کی شہرت زیادہ تھی اور جادوگر کثرت سے تھے، یہی وجہ ہے کہ سب سے پہلے آپ کی تصدیق جادوگروں نے کی۔ جب انہوں نے دیکھا کہ عصائے موسیٰ (علیہ السلام) اژدھے میں تبدیل ہوگیا اور ان کے جعلی اور بے بنیاد سانپوں کو نگلنے کے بعد دوبارہ اپنی اصلی صورت میں آگیا ہے تووہ فوراً سمجھ گئے کہ یہ سحر کے دائرے سے خارج ہے اور یہ یقیناً الہٰی معجزہ ہے۔ چنانچہ انہوں نے فرعون کے دربار میں اس کی دھمکیوں کی پرواہ کئے بغیر اپنے ایمان کا اعلان کردیا۔


حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں یونانی طبّ کو شہرت حاصل تھی، اس دور میں اطباء عجیب و غریب کارنامے انجام دیتے تھے، شام اور فلسطین میں یہ علم بہت زٰادہ مروّج تھا کیونکہ یہ دونوں شہر یونانی استعمار کی زد میں تھے۔ جب خداوند حکیم نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ان علاقوں میںنبی بناکر بھیجا تو حکمت کا یہی تقاضا تھاکہ آپ کی نبوت کی دلیل طب سے مشابہت رکھنے والی ہو۔ چنانچہ آپ مردوں کو زندہ، مادر زاد اندھوں کو بینا اور برص کے مریضوں کو شفایاب کردیتے تھے تاکہ اس زمانے کے لوگ یہ سمجھ سکیں کہ چونکہ یہ عمل انجام دیناعام لوگوں کی قدرت و استطاعت سے باہر ہے اور طبی اصولوں کا بھی اس سے کوئی تعلق نہیں ہے، اس لیے اس میں طبیعت اور مادہ سے بالاتر کسی ذات کی قدرت کار فرما ہے۔

عرب فصاحت و بلاغت میںبہت آگے تھے، فصاحت ان کا طرہ امتیاز تھی، وہ ادب کی آخری منزل پر پہنچے ہوئے تھے۔ ان کے ہاں شعر و شاعری میں مقابلے اور فخر و مباہات کے لیے خصوصی میلے لگتے تھے جہاں اچھاکلام پیش کرنے والوں کو داد تحسین دی جاتی تھی۔ ان کے نزدیک شعر و شاعری کی قدر و منزلت اس قدر زیادہ تھی کہ انہوں نے قدیم اور عمدہ اشعار پر مشتمل سات قصیدے منتخب کئے اور انہیں آبِ زر سے لکھ کر خانہ کعبہ پر لٹکا دیا، اس کے بعد کسی کے عمدہ کلام پر یہ کہا جانے لگا کہ یہ فلاں شاعر کا سنہرا کلام ہے۔ عرب مرد و زن سب اس فن کو اہمیت دیتے تھے اور شعری مقابلوں میں (معروف شاعر) ''نابغہ ذبیانی،، کو جج مقرر کیا جاتا تھا۔ حج کے موقع پر بازار عکاظ میں اس کے لیے چمڑے کا خیمہ نصب کیا جاتا تھا جہاں آکر شعراء اسے اپنا کلام سناتے تاکہ وہ اپنا فیصلہ سنائے۔


ان حالات میں حکمت کا تقاضا یہی تھا کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو بیان اور بلاغت قرآن کا معجزہ دے کر بھیجا جاتا، چنانچہ ایسے ہی کیا گیا۔ یہ عرب نے اس سمجھا اور تصدیق کی کہ یہ کلام خدا ہے اور اس کی بلاغت بشر کی قدرت سے باہر ہے۔ اس حقیقت کا اعتراف ہر اس عرب نے کیا جس میں تعصب نہیں تھا۔

اس حقیقت پر اس روایت سے بھی ر وشنی پڑتی ہے جو ابن سکیت نے امام رضا (علیہ السلام) سے نقل کی ہے۔ ابن سکیت نے امام رضا (علیہ السلام) سے نقل کی ہے۔ ابن سکیت نے امام رضا (علیہ السلام) سے دریافت کیا:

''لماذا بعث الله موسی بن عمران بالعصا، و یده البیضائ، و آلة السحر؟ و بعث عیسیٰ بآلة الطب؟ و بعث محمداً صلی الله علیه و آله وعلی جمیع الأنبیائ بالکلام و الخطب؟

فقال أبو الحسن : ان الله لما بعث موسی کان الغالب علی أهل عصره السحر، فأتاهم من عند الله بما لم یکن فی وسعهم مثله، و ما أبطل به سحرهم، و أثبت به الحجة علیهم، و ان الله بعث عیسیٰ فی وقت قد ظهرت فیه الزمانات، و احجاج الناس الی الطب، فأتاهم من عند الله بما لم یکن عندهم مثله، و بما أحیی لهم الموتی، و أبرأ الأکمه و الأبرص باذن الله، و أثبت به الحجة علهیم

و ان الله بعث محمد فی وقت کان الغالب علی أهل عصره الخطب و الکلام و أظنه قال: الشعر فأتاهم من عند الله من مواعظه و حکمه ما أبطل به قولهم، و أثبت باه الحجة علیهم ،،(۱)

''کیا وجہ ہے کہ خدا نے حضرت موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کو عصا اور ید بیضا، حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو طب اور حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو بیان اور خطابت کامعجزہ دے کر بھیجا؟ آپ نے فرمایا: خدا نے حضرت موسیٰ کو جس وقت نبی بنا کر بھیجا اس وقت سحر اور جادو کا دور دورہ تھا۔ اسی لیے خدا نے حضرت موسیٰ کو اسی نوعیت کا ایسا کمال عطا کرکے بھیجا جس سے عام لوگ عاجز تھے اور ان کے سحر باطل ہوگئے اور آپ کی حجت مکمل ہوگئی۔

____________________

(۱) اصول کافی، کتاب عقل و الجہل۔ الروایۃ ۲۰


جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) مبعوث بر مبعوث برسالت ہوئے تو اس وقت مختلف قسم کی بیماریاں عام تھیں اور لوگ طب کے زیادہ محتاج تھے، چنانچہ خالق نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو وہ طب عطا فرمائی جس کی نظیر لوگوں کے پاس نہ تھی۔ آپ کو ایسا طب عطا فرمایا جس سے آپ باذن اللہ مردوں کو زندہ اور مادر زاد اندھے کو بینا اور برص کے مریضوں کوشفایاب فرماتے تھے۔ جس سے آپ نے ان لوگوں پر اپنی حجت مکمل کی۔ جس وقت خاتم الانبیائ کو نبی بنا کر بٍھیجا گیا اس وقت بیان اور خطابت کی طرف لوگوں کا زیادہ رجحان تھا۔ (میرے خیال میں امام کے کلام میں شعر کا ذکر ہے) خدا نے آنحضرت کو موعظہ اور حکمت آمیز کلام دے کر بھیجا، جس سے ان کے تمام دعوے باطل ہوگئے اور آپ کی حجت پوری ہوگئی۔،،

اگرچہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے پاس قرآن کے علاوہ بھی معجزات تھے جن میں چاند کو دو ٹکڑے کرنا، اژدھے سے کلام کرنا اور سنگریزوں کا آپ کے ہاتھ پر تسبیح پڑھنا شامل ہیں لیکن ان تمام معجزات میں قرآن کی شان اور عظمت زیادہ ہے اور یہ سب سے مضبوط حجت اور دلیل ہے۔ چونکہ عرب طبیعی علوم اور کائنات کے اسرار و رموز سے آشنا نہیں تھے اس لیے وہ ان معجزوں (شق قمر وغیرہ) کو شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور ان کو نامعلوم علل و اسباب کی طرف منسوب کرتے تھے۔ وہ ان اسباب میں سب سے زیادہ احتمال سحر کا دیتے تھے۔ لیکن قرآن کامعجزہ ایسا ہے کہ عرب ا س کی بلاغت اور اعجاز میں شک نہ کرسکے۔اس لیے کہ عرب فنون بلاغت سے مکمل آگاہ تھے اور اس کے اسرار و رموز کو درک کرسکتے تھے۔ اس کے علاوہ شق القمر جیسے دیگر معجزات وقتی تھے جو ہمیشہ کے لیے باقی نہیں رہ سکتے تھے اور بہت جلد ایک تاریخی واقعے میں تبدیل ہوسکتے تھے جنہیں گذشتہ لوگ آئندہ کی نسلوں کے لیے نقل کرتے۔ چنانچہ زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ شک و تردید کی نگاہ سے دیکھے جاتےٍ۔۔۔ مگر قرآن ایک ایسا معجزہ ہے جو ابد تک باقی رہے گا اور ہردور و نسل میں ایک زندہ معجزہ کے طور پر موجود ہے۔

ہم آئندہ ابحاث میں قرآن کے علاوہ دیگر معجزات پر تفصیلی بحث کریں گے اور ان اہل قلم ہم عصروں کا محاسبہ کریں گے جو معجزات کے منکر ہیں۔


قرآن۔۔۔ایک الہٰی معجزہ

دعوتِ اسلام سے آشنا ہر عاقل اور باشعور انسان یقیناً جانتا ہے کہ پیغمبر اسلام نے اقوام عالم کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی اور قرآن مجید کو بطور دلیل پیش فرمایا اور معجزہ قرآن کے ذریعے چیلنج کیا عرب کے تمام فصحاء و بلغاء مل کر اس کی نظیر اور مثل لاکر دکھائیں۔ اس کے بعد آپ نے رعایت دیتے ہوئے قرآن مجید کے دس سوروں کی نظیر و مثل پیش کرنے کا چیلنج دیا۔ پھر مزید رعایت دے کر آپ نے ایک سورہ پیش کرنے کا چیلنج دیا۔

چاہیے تھا کہ عرب، جن میں چوٹی کے فصحاء موجودتھے، آنحضرت کے اس چیلنج کا جواب دیتے اور امکان کی صورت میں قرآن کی نظیر پیش کرکے آنحضرت کا دعویٰ باطل کرتے۔ واقعاً حق تو یہ تھا کہ کم از کم وہ قرآن کے ایک سورہ کا مقابلہ کرتے، بلاغت میں اس کی نظیر پیش کرتے اور اس طرح ہو اس مدعیئ نبوّت کی دلیل کا توڑ فراہم کرتے جس نے اس فن میں ان کو چیلنج کیا، جس میں انہیں کمال حاصل تھا اور جسے وہ اپنا طرہ امتیاز سمجھتے تھے تاکہ تاریخ میں فتح و کامیابی کا سہرا وہ اپنے سر باندھتے اور اپنا نام ہمیشہ کے لیے زندہ کرتے۔ اس طرح ایک معمولی مقابلے کے نتیجے میں بہت سی خونریز جنگوں سے نجات مل جاتی اور بہت سا مال و دوکت بھی بچ جاتا۔ لوگ وطن سے بے وطن نہ ہوتے اور نہ انہیں سختیاں جھیلنی پڑتیں۔

مگر جب عربوں نے قرآن کی بلاغت کا بغور مطالعہ کیا تو انہیں اس کے معجزہ ہونے کا یقین آگیا۔ انہیں معلوم تھا کہ قرآن سے مقابلہ کرنے کی صورت میں انہیں حتمی شکست و ہزیمت سے دوچار ہونا پڑے گا۔ چنانچہ بعض اقوام نے اس داعیِ حق کی تصدیق کی، دعوتِ قرآن کے آگے سرتسلیم خم کیا اور اسلام کا شرف حاصل کرلیا اور کچھ ل وگوں ے عناد اور تعصب کا راستہ اختیار کرتے ہوئے فصاحت و بلاغت کی علمی جنگ پر مسلحانہ جنگ کوترجیح دی اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن وحی الہٰی ہے۔


ایک اعتراض اور اسکا جواب

ایک غیر ملم جاہل یہ دعویٰ کرسکتا ہے کہ عربوں نے قرآن کی نظیر پیش کردی تھی اور انہوں نے قرآن کا مقابلہ کرلیا تھا لیکن زیادہ عرصہ گزرنے کی وجہ سے تاریخ یہ بات ہم تک نہیں پہنچا سکی۔

اس اعتراض کے تین جواب ہیں:

i ) اگر اس قسم کا مقابلہ کرتے ہوئے قرآن کی نظیر پیش کی جاتی تو عرب اپنی محفلوں، اجتماعات اور بازاروں میں اس کا اعلان کرتے، دشمنان اسلام ہر محفل میں اس کے گن گاتے، مناسب موقع پر اس کا ذکر کرتے، ہر آنے والے کو اس کی خبر دیتے، اس کی اس طرح حفاظت کرتے جس طرح ایک مدعی اپنی دلیل و حجت کی حفاظت کیا کرتا ہے اور یہ چیز ان کے لیے اپنے سلف کی ان تواریخ اور زمانہ جاہلیّت کے اشعار سے زیادہ عزیز و قیمتی ہوتی جن سے کتبِ تواریخ اور دیوان بھرے پڑے ہیں۔ مگر قرآن کی نظیر پیش کرنے کا کوئی واقعہ نہ دیکھنے میں آیا اور نہ اس کا ذکر سننے میں آیا۔

ii ) قرآنِ کریم نے عربوں کو ہی چیلنج نہیں کیا، پوری انسانیّت بلکہ تمام جنّ و انس کو یہ چیلنج کیا تھا:

( قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَىٰ أَن يَأْتُوا بِمِثْلِ هَـٰذَا الْقُرْآنِ لَا يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيرًا ) (۱۷:۸۸)

''(اے رسول) تم کہہ دو کہ اگر (ساری دنیا جہان کے) آدمی اورجنّ اس بات پر اکٹھے ہوں کہ اس قرآن کا مثل لے آئیں (غیر ممکن) اس کے برابر نہیں لاسکتے۔ اگرچہ اس کوشش میں ا یک کا ایک مددگار بھی بنے۔،،


تاریخ شاہد ہے کہ نصاریٰ اور دوسرے دشمنان اسلام۔ رسول اسلام ، قرآن کریم اور دین اسلام کو ان کے مقام سے گرانے کے لیے بے تحاشا سرمایہ خرچ کر رہے ہیں اور یہ کام ہر سال بلکہ ہر مہینے ہو رہا ہے۔ اگر قرآنِ کریم کے ایک سورہ کا بھی مقابلہ ممکن ہوتا تو یہ ان کے لیے ایک مضبوط و محکم دلیل ہوتی، وہ اس کی مدد سے جلد اپنی آرزو پوری کرسکتے تھے۔ اتنا سرمایہ خرچ کرنے اور اپنے آپ کو مشقت میں ڈالنے کی انہیں ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی:

( يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّـهِ بِأَفْوَاهِهِمْ وَاللَّـهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ ) ۶۱:۸

''یہ لوگ اپنے منہ سے (پھونک مارکر) خدا کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں، حالانکہ خدا اپنے نور کو پورا کرکے رہے گا، اگرچہ کفّار برا ہی (کیوں نہ) مانیں۔،،

iii ) عام مشاہدہ میں آیا ہے کہ جب کسی شخص کا واسطہ طویل عرصے تک کسی فصیح و بلیغ کلام سے رہا ہو اور ایک مدّت تک اس نے اس کی خدمت کی ہو ہو اس کی مثل یا کم از کم فصاحت و بلاغت میں اس کے قریب قریب اپنا کلام بنانے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔

لیکن قرآن کے مقابلے میں اتنا بھی نہیں کیا گیا کیوں کہ انسان قرآن کو کتنا ہی زیادہ پڑھ لے اور اس کی خصوصیّات پر غور و خوض کرے، وہ اس کی معمولی سی جھلک بھی پیش کرنے سے قاصر رہتا ہے اس سے ہم لازماً اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ قرآن کریم کا اسلوب، تعلیم و تعلّم کے عام اسالیب سے مختلف ہے۔


اگر قرآن کریم رسول اسلام کا اپنا بنایا ہوا کلام ہوتا تو آپ کے خطبوں اور جملوں میں کہیں نہ کہیں قرآن کریم کے اسلوب بیان کا عکس نظر آتا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ آپ کے اقوال کے ایک خاص انداز ہے جو قرآن کریم کے اسلوب سے یکسر مختلف ہے۔

اگر آپ کے کلام میں قرآن کریم کے مشابہ کوئی چیز ہوتی تو وہ مشہور ہوجاتی۔ خصوصاً دشمنان اسلام کی زبانوں اور کتب کے ذریعے، جو ہر طریقے سے اسلام کو کمزور اور بدنام کرنے کے درپے رہتے ہیں۔

اس کے علاوہ عام مروّج بلاغت کی مخصوص حدود ہیں جن سے تجاوز نہیں کیا جاسکتا۔ مثلاً ایک بلیغ عربی شاعر یا نثر نگار ہے، لیکن وہ صرف ایک یا دو پہلوؤں پر بلاغت آمیز کلام پیش کرسکتا ہے۔ مثلاً وہ شجاعت و بہادری کے موضوع پر توبلیغ کلام پیش کرسکتا ہے مگر مدح و تعریف کے موضوع پر ویسا بلیغ کلام پیش کرنے سے قاصر ہے یا مرثیہ کے موضوع پر تو بلیغ کلام پیش کرسکتا ہے لیکن غزل کے عنوان سے ویسا کلام پیش کرنے سے قاصر ہے۔

جبکہ قرآن کریم میں متعدد موضوعات اور مختلف فنون کا ذکر ہے اور تمام موضوعات کو اس انداز سے پیش کیا گیا ہے کہ جس کی نظیر لانے سے دنیا قاصر ہے اور یہ کام بشر کے لئے ناممکن ہے۔


قرآن۔۔۔ایک ابدی معجزہ

اب تک ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کسی نبی کی نبوّت کی تصدیق اور اس پر ایمان لانا اس معجزے پر منحصر ہے جسے نبی اپنے دعوےٰ کے ثبوت کے طور پر پیش کرتا ہے۔

چونکہ گذشتہ انبیاء (علیٍھم السلام) کی نبوّتیں انہی ادوار اور انہی نسلوں کے لیے مختص تھیں اس لیے حکمت کا تقاضا یہی تھا کہ ان معجزوں کی مدّت محدود ہوتی۔ اس لیے کہ وہ معجزات محدود دور نبوست کی نشانی تھی۔ اس زمانے میں بعض لوگ تو خود ان معجزات کا مشاہدہ کرتے اور ان پر حجّت تمام ہو جاتی اور بعض لوگوں کے لیے عینی شاہدان معجزوں کو تواتر سے پیش کرتے جس سے ان پر بھی حجّت تمام ہوجاتی تھی۔

لیکن ایک ابدی شریعت کے لیے شاہد کے طورپر پیش کیے جانے والا معجزہ بھی دائمی ہونا چاہیے کیونکہ اگر معجزہ کی مدّت محدود ہوگی تو آنے والی نسل اس کا مشاہدہ نہ کرسکیں گی اور زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ خبر متواتر کا سلسلہ بھی ختم ہوسکتا ہے جس کے نتیجے میں آئندہ نسلوں کو اس نبوّت کی صداقت کا علم حاصل نہیں ہوسکے گا۔ ایسی صورت میں اگر آنے والی نسلوں کو نبوّت پر ایمان لانے کا مکلّف بنایا جائے تو یہ ایک ناممکن امر کا مکلّف بنانے کے مترادف ہے اور یہ محال و ممتنع ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی محال امر کا مکلّف بنائے۔


پس معلوم ہوا کہ دائمی نبوّت کا معجزہ بھی دائمی ہونا چاہیے اور یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو ایک دائمی اور ابدی معجزہ کی صورت میں بھیجا تاکہ یہ ایک ابدی اور دائمی صداقت کا شاہد بن سکے اور جس طرح یہ گذشتہ لوگوں کے لیے حجّت تھا سای طرح یہ آئندہ نسلوں کے لیے بھی حجّت قرار پائے۔

ہم گذشتہ مباحث سے دو نتیجوں پر پہنچے ہیں:

( i قرآن کریم انبیاء ما سلف (علیہم السلام) کے تمام معجزات اور خود خاتم الانبیاء (ص) کے باقی تمام معجزوں پر فوقیت رکھتا ہے، اس لیے کہ قرآن کریم ہمشیہ کےلئے باقی ہے اور اس کا اعجاز دائمی ہے جسے تمام نسلیں سن سکتی ہیں اور یہ سب کے لیے حجت ہے۔

ii ) گذشتہ شریعتوں کی مدت ختم ہوگئی، کیوں کہ ان کی حجت اور دلیل (معجزہ) بھی ختم ہوچکی ہے جس پر ان شریعتوں کی صداقت مبنی تھی۔(۱)

یہاں پر یہ نکتہ بھی قابل ذکر ہے کہ قرآن کریم کو اس وجہ سے بھی گذشتہ انبیاء کے معجزات پر برتری حاصل ہے کہ قرآن کریم نے انسان کی ہدایت(۲) اور کمال کی آخری منزل تک اس کی رہنمائی کی ضمانت دی ہے۔

____________________

(۱) اسی کتاب کے ضمیمہ نمبر ۴ میں مولف اور ایک یہودی عالم کے درمیان ہونے والا مباحثہ ملاحظہ فرمائیں۔

(۲) وضاحت کے لیے اسی کتاب کا ضمیمہ نمبر۵ ملاحظہ فرمائیں۔


قرآن کریم ہی وہ رہنما ہے جس نے ان عربوں کی ہدایت کی جو ظالم، سرکش، بدترین عادات کے خوگر اور بتوں کے پرستار تھے۔ جو علوم و معارف اور تزکیّہ ئ نفس سے عاری تھے اورداخلی جنگ و جدال اورجاہلیت پر مبنی فخر و مباھات میں مصروف رہتے تھے۔ یہی عرب ایک قلیل مدّت میں ایک ایسی اُمّت بن گئے جس کی ثقافت عظیم اور تاریخ رشن و درخشاں ارو جو انسانی عادادت و اخلاق سے آراستہ ہوچکی ہے؟

تاریخ اسلام اور راہ اسلام میں جام شہادت نوش کرنے والے اصحاب پیغمبر کے حالاتِ زندگی کا اگر کوئی مطالعہ کرے تو اس پر قرآنی ہدایت و رہبری کی عظمت اور اس کے حیرت انگیز اثرات عیاں ہوں گے، اسے معلوم ہوگا کہ قرآن نے ہی انہیں جاہلیت کی پست زندگی سے نکال کر علم و کمال کے بلند مراتب پر فائز کیا اور انہیں ایسے فداکار انسان بنایا جو دین و شریعت کی راہ میں جان کی بازی لگانے سے بھی دریغ نہیں کرتے اور جنہیں اسلام کے مقابلے مںی مال و دولت اور اہل و عیال کی پرواہ نہیں ہوتی۔

جنگ بدر کے آغاز میں مسلمانوں سے مشورہ کے موقع پر جناب مقدار نے رسولِ خد کو جواب دیا وہ اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے فرمایا:

''یا رسول الله امض لما امرک الله فنجن معک، و الله لانقول کما قالت بنو اسرائیل لموسی: اذهب انت و ربک فقباتلا انا ههنا قاعدون، و لکن اذهب انت و ربک فقاتلا انا معکما مقاتلون، فوالذی بعثک بالحق لوسرت بنا الی وبرک الغماد ۔یعنی مدینة الحبشة ۔لجالدنا معک من دونه حتی تبلغه ۔فقال له رسول الله خیراً، و دعا له بخیر،، (۱)

''یا رسول اللہ! خدا نے آپ کو جس مشن کا حکم دیا ہے اسے کرگزریں۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ہم بنی اسرائیل کی مانند نہیں ہےں کہ جنہوں نے جناب موسیٰ سے کہا تھا: ''آپ خودجائیں اور اپنے خدا کی مدد سے جنگ کریں ہم یہیں بیٹھے رہیں گے۔،، لیکن ہم تو یہ کہتے ہیں کہ آپ جائیں اور

___________________

۱) تاریخ طبری، غزوہئ بدر، ج ۲، ص ۱۴۰، طبع دوم۔


اپنے ربّ کی مدد سے جنگ کریں ہم بھی آپ کے ہمراہ جنگ کریں گے۔ قسم اس ذات کی جس نے آپ کو برحق نبی بنا کر بھیجا، اگر آپ ہمیں برک غماد (حبشہ شہر) بھی لے چلیں تو بھی ہم آپ کے ہمراہ جائیںگے، یہاں تک کہ آپ منزل مقصود پر پہنچ جائیں یہ کلام سننے کے بعد رسول اللہ نے جناب مقداد کے لیے دعائے خیر فرمائی۔،،

مسلمانوں میں سے ایک ہے جو اپنے عزم و عقیدہ، حق کو زندہ رکھنے اور باطل کو مٹانے کے لیے جانثاری کااظہار کررہا ہے، خلوص کے ایسے پیکر اور عقیدت مند مسلمانوں میں اور بہت پائے جاتے ہیں۔

ہاں! قرآن حکیم ہی وہ سراپا ہدایت ہے جس نے بت پرستوں کے دلون کو منور کیا جو خانہ جنگی اور جاہلیت کے فخر و مباھات میں الجھے ہوئے تھے اور ان لوگوں کو کفار کے مقابلے میں فولاد کی طرح سخت اور مومنین کے مقابلے میں ابریشم کی طرح نرم (رحمدل) بنایا۔ ان کیایسی تربیت کی کہ یہ اپنے ساتھیوں کو اپنی ذات پر ترجیح دینے لگے۔

اسلام کی بدولت اسّی سال میں مسلمانوں کو اتنے ممالک پر فتح نصیب ہوئی جو دوسروں کو آٹھ سو سال میں بھی نصیب نہیں ہوئی تھی۔ جو شخص اصحاب پیغمبر کی سیرت اور دیگر انبیاء کے اصحاب کی سیرت کا موازنہ کرے وہ سمجھ سکتا ہے کہ اس (فتح) کا ایک الہٰی راز ہے جو اس کتابِ الہٰی میں مضمر ہے، جس نے راسخ عقیدہ اور اصولوں کے ثبات سے دلوں اور روح کو پاکیزگی دی اور نفوس پر نور افشانی کی۔

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور دیگر انبیاء کے اصحاب کی تاریخ بتاتی ہے کہ یہ لوگ سختی کے موقع پر انبیاء کو تنہا چھوڑ دیتے تھے اور جہاں انہیں موت نظر آتی وہاں ان کا ساتھ نہ دیتے تھے، اسی لیے گذشتہ انبیاء اپنے دور کی طاغوتی طاقتوں پر فتح نہ پاسکے تھے بلکہ وہ ان کے خوف سے بیابانوں اور غاروں میں جاکر پناہ لیتے تھے۔ یہ وہ دوسری خاصیت ہے جس کی وجہ سے قرآن کریم کو باقی معجزات پر امتیاز حاصل ہے۔

جب بلاغت میں قرآن کریم کا الہٰی معجزہ ہونا ثابت ہوگیا تو اب یہ حقیقت بھی پوشیدہ نہ رہے کہ قرآن صرف بلاغت کے پہلو سے معجزہ نہیں بلکہ کئی اور جہات سے بھی رسولِ اسلام کی نبوّت کی برہان اور دلیل ہے۔ ہم ان میں بعض جہات کی طرف ذیل میں اشارہ کرتے ہیں:


قرآن اور معارف

قرآن کریم کی متعدد آیات میں اس کی تصریح کی گئی ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) امّی تھے اور آپ نے کسی مکتب میں تعلیم حاصل نہیں کی۔ آپ نے اس کا اعلان اپنی قوم اور قبیلے میں فرمایا، جس میں آپ نے نشوونما پائی تھی۔ مگر کسی نے بھی آپ کے اس دعویٰ کی تردید نہیں کی اور یہ (کسی کا تردید نہ کرنا) آپ کے دعویٰ کی صداقت کی قطعی دلیل ہے۔ آپ نے امّی ہونے کے باوجود قرآن کریم جیسی کتاب پیش کی جس کے معارف و علوم سے فلسفیوں کی عقلیں مبہوت ہیں اور ظہور اسلام سے لے کر آج تک مغربی و مشرقی مفکرّین ان کے سامنے مبہوت نظر آتے ہیں اور قرآنِ کریم قیامت تک مفکرّین کے لیے باعثِ حیرت و استعجاب رہے گا اور یہ اعجاز قرآنِ کریم کا ایک اہم اور عظیم پہلو ہے۔

بالفرض اگر مان بھی لیا جائے کہ آپ امّی نہ تھے بلکہ آپ نے تاریخ، فنون اور دیگر معارف کی تعلیم کسی مکتب میں حاصل کی تھی تو کیا یہ لازمی نہیں ہے کہ آپ نے علوم و فنون اس دور کے ماہرین سے سیکھے ہوں جن میں آپ پھلے پھولے۔ حالانکہ ہمیں معلوم ہے کہ آپ نے ایسے لوگوں میں پرورش پائی جو بُتوں اور اوہام کی پرستش کرتے اور خرافات پر ایمان رکھتے تھے۔ ان کے علاوہ آپ کے کچھ ہم عصر اہلِ کتاب جو اپنے معارف، تاریخ اور احکام، حورات و انجیل سے لیتے تھے اور انہیں وحی و انبیاء کی طرف منسوب کرتے تھے۔

اب اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ آپ نے اپنی تمام تعلیمات اس زمانے کے علماء سے حاصل کی تھیں تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ آپ کے اقوال و تعلیمات میں وہی عقائد چھائے ہونے چاہئیں جو آپ نے اپنے استادوں اور راہنماؤں سے سیکھے ہیں۔ حالانکہ قرآنِ کریم ہر لحاظ سے تورات و انجیل سے مختلف نظر آتا ہے۔


قرآنِ کریم میں موجود حقائق و معارف ان موہومات سے پاک ہیں جن سے (موجودہ) انجیل و تورات اور ان کے دیگر علمی مدارک بھرے پڑے ہیں۔ قرآنِ کریم نے بہت سی آیات میں اللہ تعالیٰ کی ایسی صفات بیان کی ہیں جو اس کی ذات کے لائق ہیں اور اس نے حدوث اور ہر قسم کے عیب و نقص سے اللہ تعالیٰ کو پاک و منزہ قرار دیا ہے، نمونہ کے طور پر چند آیات کا ذکر کرتے ہیں:

۱)( وَقَالُوا اتَّخَذَ اللَّـهُ وَلَدًا ۗ سُبْحَانَهُ ۖ بَل لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ كُلٌّ لَّهُ قَانِتُونَ ) ۲:۱۱۶

''اور (یہود) کہنے لگے کہ خدا اولاد رکھتا ہے۔ حالانکہ وہ (اس بکھیڑے سے) پاک ہے، بلکہ جو کچھ زمین و آسمان میں ہے سب اسی کا ہے اور سب اسی کے فرمانبردار ہیں۔،،

۲)( بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَإِذَا قَضَىٰ أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ ) ۱۱۷

''(وہی) آسمانوں اور زمین کا موجود ہے اور جب کسی کام کا کرنا ٹھان لیتا ہے تو اس کی نسبت صرف کہہ دیتا ہے کہ ہو جا پس وہ (خود بخود) ہو جاتا ہے۔،،

۳)( وَإِلَـٰهُكُمْ إِلَـٰهٌ وَاحِدٌ ۖ لَّا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَـٰنُ الرَّحِيمُ ) ۱۶۳

''اور تمہارا معبود تو (وہی) یکتا خدا ہے۔ اس کے سوال کوئی معبود نہیں جو بڑا مہربان رحم والا ہے۔،،

۴)( اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ۚ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ) : ۲۵۵

''خدا ہی وہ (ذات پاک) ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں (وہ) زندہ ہے (اور) سارے جہاں کا سنبھالنے والا ہے، اس کو نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے (غرض سب کچھ) اسی کا ہے۔،،

۵)( إِنَّ اللَّـهَ لَا يَخْفَىٰ عَلَيْهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ ) (۳:۵)

''بے شک خدا پر کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے (نہ) زمین میں نہ آسمان میں۔،،


۶)( هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الْأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاءُ ۚ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ) ۶

''وہی تو وہ (خدا) ہے جو ماں کے پیٹ میں تمہاری صورت جیسی چاہتا ہے بناتا ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ (وہی ہر چیز پر) غالب (اور) دانا ہے۔،،

۷)( ذَٰلِكُمُ اللَّـهُ رَبُّكُمْ ۖ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوهُ ۚ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ ) ۶:۱۰۲

''وہی اللہ تمہارا پروردگار ہے، اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں وہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے تو اسی کی عبادت کرو اور وہی ہر چیز کا نگہبان ہے۔،،

۸)( لَّا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ ۖ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ ) ۱۰۳

''اس کو آنکھیں دیکھ نہیں سکتیں (نہ دنیا میں نہ آخرت میں) اور وہ (لوگوں کی) نظروں کو خوب دیکھتا ہے۔ وہ بڑا باریک بین خبردار ہے۔،،

۹)( قُلِ اللَّـهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ۖ فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ ) ۱۰:۳۴

''تمہیں کہو کہ خدا ہی بھی پہلے پیدا کرتا ہے پھر وہی دوبارہ زندہ کرتا ہے تو کدھر تم الٹے چلے جارہے ہو۔،،

۱۰)( اللَّـهُ الَّذِي رَفَعَ السَّمَاوَاتِ بِغَيْرِ عَمَدٍ تَرَوْنَهَا ۖ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ۖ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ ۖ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُّسَمًّى ۚ يُدَبِّرُ الْأَمْرَ يُفَصِّلُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُم بِلِقَاءِ رَبِّكُمْ تُوقِنُونَ ) (۱۳:۲)

''خدا وہی تو ہے جس نے آسمانوں کو جنہیں تم دیکھتے ہو بغیر ستون کے اٹھا کھڑا کردیا (پھر عرش کے بنانے) پر آمادہ ہوا سورج اور چاند کو (اپنا) تابعدار بنایا، کہ ہر ایک وقت مقرر تک چلا کرتا ہے۔ وہی (دنیا کے) ہر ایک کام کا انتظام کرتا ہے اور اسی غرض سے کہ تم لوگ اپنے پروردگار کے سامنے حاضر ہونے کا یقین کرو (اپنی) آیتیں تفصیل دار بیان کرتا ہے۔،،


۱۱)( وَهُوَ اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ لَهُ الْحَمْدُ فِي الْأُولَىٰ وَالْآخِرَةِ ۖ وَلَهُ الْحُكْمُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ) (۲۸:۷۰)

''اور وہی خدا ہے، اس کے سواء کوئی قابل پرستش نہیں۔ دنیا اور آخرت میںاسی کی تعریف ہے اور اسی کی حکومت ہے اور تم لوگ (مرنے کے بعد) اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے۔

۱۲)( هُوَ اللَّـهُ الَّذِي لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ ۖ هُوَ الرَّحْمَـٰنُ الرَّحِيمُ ) ۵۹:۲۲

''وہی خدا ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ہی بڑا مہربان نہایت حرم والا ہے۔،،

۱۳ئ)( هُوَ اللَّـهُ الَّذِي لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمومن الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ ۚ سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ ) ۲۳

''وہی وہ خدا ہے جس کے سوال کوئی قابل عبادت نہیں (حقیقی) بادشاہ پاک ذات (ہر عیب سے بری) امن دینے والا نگہبان غالب زبردست بڑائی والا یہ لوگ جس کو (اس کا) شریک ٹھہراتے ہیں اس سے پاک ہے۔،،

۱۴)( هُوَ اللَّـهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ ۖ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ ۚ يُسَبِّحُ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ) ۲۴

'' وہی خدا (تمام چیزوں کا) خالق موجد صورتوں کا بنانے والا اسی کے اچھے اچھے نام ہیں جو چیزیں سارے آسمانوں و زمین میں ہیں سب اسی کی تسبیح کرتی ہیں اور وہی غالب حکمت والا ہے۔،

خالق کائنات کے یہ اوصاف قرآن کریم نے بیان کیے ہیں اور ایسے معارف کا ذکر کیاہے جو مستحکم دلائل اور عقل سلیم سے ہم آہنگ ہیں۔ اب صاحبان عقل خود ہی فیصلہ کرلیں کہ کیا ایک امی انسان، جس نے ایک جاہل معاشرے میں نشو و نما پائی ہے، کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ ایسے بلند پایہ حقائق و معارف پیش کرسکے۔


اس کے علاوہ قرآن کریم نے انبیاء کی وہ صفاتِ حسنہ بیان کی ہیں جو ان کے شایان شان ہیں ہر وہ کمال ان سے منسوب کیا ہے جو نبوّت کے تقدّس کے لیے ضروری اور الہٰی نمائندوں کے لیے سزوار ہے۔ ذیل میں وہ آیات درج کی جاتی ہےں:

۱)( الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ ) (۷:۱۵۷)

''جو لوگ ہمارے نبی امّی پیغمبر کے قدم بقدم چلتے ہیں جس (کی بشارت) کو اپنے ہاں توریت اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں (وہ نبی) جو اچھے کام کا حکم دیتا ہے اور برے کام سے روکتا ہے اور جو پاک و پاکیزہ چیزیں ان پر حلال اور ناپاک گندی چیزیں ان پر حرام کردیتا ہے۔،،

۲)( هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِن كَانُوا مِن قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ) ۶۲:۲

''وہی توہے جس نے جاہلوں میں انہیں میں کا ایک رسول (محمد) بھیجا جو ان کے سامنے اس کی آیتیں پڑھتے اور ان کو پاک کرتے اور ان کو کتاب اور عقل کی باتیں سکھاتے ہیں اگرچہ اس کے پہلے تو یہ لوگ صریحی گمراہی میں (پڑے ہوئے) تھے۔،،

۳)( وَإِنَّ لَكَ لَأَجْرًا غَيْرَ مَمْنُونٍ ) ۶۸:۳

''اور تمہارے واسطے یقیناً وہ اجر ہے جو کبِھی ختم ہی ہہوگا۔،،

۴)( وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ )

''اور بے شک تمہارے اخلاق بڑے (اعلیٰ درجہ کے) ہیں۔،،

۵)( إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَىٰ آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ ) ۳:۳۳

''بے شک اللہ نے آدم اور نوح اور خاندان ابراہیم اور خاندان عمران کو سارے جہان سے برگزیدہ کیا ہے۔،،


۶)( وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَاءٌ مِّمَّا تَعْبُدُونَ ) ۴۳:۲۶

''جب ابراہیم نے اپنے (منہ بولے) باپ (آذر) اور اپنی قوام سے کہا کہ جن چیزوں کو تم لوگ پوجتے ہو میں یقیناً ان سے بیزار ہوں۔،،

۷)( إِلَّا الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ ) : ۲۷

''مگر (اس کی عبارت کرتا ہوں) جس نے مجِھے پیدا کیا تو وہی بہت جلد میری ہدایت کرے گا۔،،

۸)( وَكَذَٰلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ ) ۶:۷۵

''اسی طرح ہم ابراھیم کو سارے آسمان و زمین کی سلطنت (کا انتظام) دکھاتے رہے تاکہ وہ (ہماری) وحدانیت کا یقین کرنے والوں میں ہوجائیں۔،،

۹)( وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ ۚ كُلًّا هَدَيْنَا ۚ وَنُوحًا هَدَيْنَا مِن قَبْلُ ۖ وَمِن ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَىٰ وَهَارُونَ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ) ۸۴

''اور ہم نے ابراہیم کو اسحٰق و یعقوب (سا بیٹا، پوتا) عطا کیا، ہم نے سب کو ہدایت کی، اور ان سے پہلے نوح کی (بھی) ہم ہی نے ہدایت کی اور ان ہی (ابراہیم) کی اولاد سے داؤد، سلیمان و ایوب و یوسف و موسیٰ و ہارون (سب کی ہم نے ہدایت کی) اورنیکو کاروں کو ہم ایسا ہی صلہ عطا فرماتے ہیں۔،،

۱۰)( وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَىٰ وَعِيسَىٰ وَإِلْيَاسَ ۖ كُلٌّ مِّنَ الصَّالِحِينَ ) : ۸۵

''اور زکریا اور یحییٰ و عیسیٰ و الیاس (سب کی ہدایت کی اور یہ) سب (خدا کے) نیک بندوں میں سے ہیں۔،،

۱۱)( وَإِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَيُونُسَ وَلُوطًا ۚ وَكُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعَالَمِينَ ) :۸۶

''اور اسماعیل و یسع و یونس و لوط (کی بھی ہدایت کی) اور سب کو سارے جہان پرفضیلت عطا کی۔،،


۱۲)( وَمِنْ آبَائِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ وَإِخْوَانِهِمْ ۖ وَاجْتَبَيْنَاهُمْ وَهَدَيْنَاهُمْ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ) ۸۷

''اور (صرف) نہیں کہ نہیں (بلکہ) ان کے باپ داداؤں اور ان کی اولاد اور ان کے بھائی بندوں میں سے (بہتوں کو) اور ان کو منتخب کیا اور انہیں سیدھی راہ کی ہدایت کی۔،،

۱۳)( وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ عِلْمًا ۖ وَقَالَا الْحَمْدُ لِلَّـهِ الَّذِي فَضَّلَنَا عَلَىٰ كَثِيرٍ مِّنْ عِبَادِهِ الْمومنينَ ) :۲۷ :۱۵

''اور اس میں شک نہیں کہ ہم نے داؤد اور سلیمان کو علم عطا کیا اور دونوں نے (خوش ہو کر) کہا خدا کا شکر جس نے ہم کو اپنے بہتیرے ایماندار بندوں پر فضیلت دی۔،،

۱۴)( وَاذْكُرْ إِسْمَاعِيلَ وَالْيَسَعَ وَذَا الْكِفْلِ ۖ وَكُلٌّ مِّنَ الْأَخْيَارِ ) ۳۸:۴۸

''اور (اے رسول) اسمٰعیل اور یسع اور ذوالکفعل کو (بھی) یاد کرو اور (یہ) سب نیک بندوں میں سے ہیں۔،،

۱۵)( أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ مِن ذُرِّيَّةِ آدَمَ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ وَمِن ذُرِّيَّةِ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْرَائِيلَ وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَا ۚ إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُ الرَّحْمَـٰنِ خَرُّوا سُجَّدًا وَبُكِيًّا ) ۱۹:۵۸

''یہ انبیاء لوگ جنہیں خدا نے اپنی نعمت دی تھی آدم کی اولاد سے ہیں اور ان کی نسل سے جنہیں ہم نے (طوفان کے وقت) نوح کے ساتھ (کشتی پر) سوار کرلیا تھا اور ابراہیم و یعقوب کی اولاد سے ہیں اور ان لوگوں میں سے ہیں جن کی ہم نے ہدایت کی اور منتخب کیا، جب ان کے سامنے خدا کی نازل کی ہوئی آیتیں پڑھی جاتی ہیں تو سجدہ میں زار و قطار روتے ہوئے گر پڑتے تھے۔،،

انبیاء کی پاکیزگی، تقدّس اور اوصافِ جمیلہ کے بیان پر مشتمل آپ نے قرآن کی یہ آیات ملاحظہ فرمائیں۔


اب دیکھئے کہ تورات و انجیل نے ان انبیاء کرام اور الہٰی نمائندوں کو کن صفات سے یاد کیا اور انہیں کتنا پست مقام دیا ہے۔ نمونہ کے طور پر ذیل میں ان کتابوں کے چند حوالے پیش کئے جاتے ہیں۔

۱۔ تورات، کتاب پیدائش کے باب دوّم اور سوّم میں حضرت آدم و حوا اور ان کے جنت سے نکالے جانے کا قصّہ اس طرح درج ہے:

''خدا نے حضرت آدم کو ہر قسم کا پھل کھانے کی اجازت دی، لیکن خیر و شر کی معرفت کا پھل کھانے سے روک دیا اور فرمایا: جس دن اس (خیر و شر کی معرفت کے) درخت کا پھل کھاؤ گے اسی دن مرجاؤ گے۔ اس کے بعد اللہ تعالی ے حضرت آدم سے ہی ان کی زوجہ حوّا کو خلق فرمایا۔ یہ دونوں بہشت میں برہنہ رہتے تھے، اس لیے کہ وہ خیر و شر کو نہیں سمجھتے تھے۔ پھر سانپ نے آکر اس درخت تک ان کی رہنمائی کی اور انہیں اس درخت کا پھل کھانے پر آمادہ یا اور ان سے کہا: تم اس کے کھانے سے نہی ںمرو گے بلکہ خدا جانتا ہے کہ جب تم اس میں سے کھاؤ گے تو تمہاری آنکھیں کھل جائیں گی اور تم خیر و شر میں تمیز کرنے لگو گے۔ چنانچہ جب انہوں نے اس درخت کا پھل کھایا تو ان کی آنکھیں کھل گئیں اور وہ اپنی برہنگی کی طرف متوجہ ہوئے اور انہوں نے اپنی لنگیاں بنائیں۔ اللہ تعالیٰ جنت میں ٹہل رہا تھا، نے انہیں دیکھ لیا اس کے بعد حضرت آدم اور حوّا چھپ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے آدم کو پکار کر کہا:

آدم! تم کہاں ہو؟ آدم نے کہا: (بات یہ ہے کہ ) میں آپ کی آواز سن کر فوراً چھپ گیا اس لئے کہ میں برہنہ تھا۔ خدا نے فرمایا: تمہیں کس ے سمجھایا کہ تم برہنہ ہو، تم نے اس درخت کا پھل تو نہیں کھالیا؟ جب خدا کو پتہ چلا کہ آدم نے اس درخت کا پھل کھا لیا ہے تو فرمایا: اب آدم مجِھ جیسا بن گیا ہے اور خیر و شر میں تمیز کرسکتا ہے، اب وہ ہاتھ بڑھا کر شجرہئ حیات کا پِھل بھی کھالے گا اس طرح ابد تک زندہ رہے گا۔ چنانچہ خدا نے آدم کو جنّت سے نکال باہر کیا اور جنّت کے مشرق کی طرف شجرہئ حیات پر پہرہ بٹھا دیا۔،،


تورات میں ایک اور جگہ مذکورہ ہے: (کتاب پیدائش کے بارہویں باب میں ایک جگہ مذکور ہے)

''اسی پرانے سانپ کو ابلیس کہا جاتا ہے اور یہ وہی شیطان ہے جو سب کو گمراہ کردیتا ہے۔،،

دیکھا آپ نے؟ ان نام نہاد آسمانی کتب میں کس طرح ذاتِ الہٰی پر بہتان باندھا گیا ہے کہ اس نے آدم سے جھوٹ بولا اور شجرہئ معرفت کے سلسلے میں دھوکہ دہی سے کام لیا۔ خدا کو یہ خوف پیدا ہوگیا تھا کہ آدم کو حیاتِ ابدی حاصل ہوجائے گی اور وہ حاکمیت کے سلسلے میں خدا سے ٹکرا جائے گا اس لیے اس نے آدم کو جنّت سے نکال دیا۔ گویا کہ خدا جسم رکھتا ہے اور وہ جنّت میں چلتا پھرتا ہے۔ خدا کو اس جگہ کا علم نہیں تھا جہاں آدم چھپے ہوئے تھے اور گمراہ کن شیطان نے آدم کو نصیحت کی اور جہالت کی تاریکی سے نکال کر معرفت کے نور کت پہنچایا۔

۲۔ کتاب پیدائش کے بارہویں باب میں ہے:

''حضرت ابراہیم نے فرعون کے سامنے ''سارہ،، کو اپنی بہن ظاہر کیا اور اس کے اپنی بیوی ہونے کو چھپائے رکھا، ''سارہ،، کے حسن و جمال کی وجہ سے فرعون نے اسے حضرت ابراہیم سے لے لیا اور اس کے بدلے حضرت ابراہیم کی مالی مدد کی۔ جس کے بعد حضرت ابراہیم بھیڑ، بکری، گائے، گدھے، اونٹوں، غلام اور کنیزوں کے مالک بن گئے۔ جب فرعون کو معلوم ہوا کہ سارہ حضرت ابراہیم کی بہن نہیں بلکہ بیوی ہیں تو اس نے حضرت ابراہیم سے پوچھا: آپ نے کیوں نہیں بتایا کہ سارہ آپ کی بیوی ہے اور اسے ا پنی بہن کیوں ظاہر کیا؟ جس کی وجہ سے میں ے اسے اپنی بیوی بنالیا۔ یہ کہہ کر فرعوں نے سارہ حضرت ابراہیم کو واپس کردی۔،،


۳۔ کتاب پیدائش کے انیسویں باب میں حضرت لوط اور ان کی بیٹیوں کی داستان اس طرح بیان کی گئی ہے:

''لوط کی بڑی بیٹی نے اپنی چھوٹی بہن سے کہا: ہمارا باپ بوڑھا ہوگیا ہے اور روئے زمین پر ایسا کوئی فرد نہیں ہے جو ہم سے ہمبستری کرے۔ ہم یوں کریں کہ اپنے باپ کو شراب پلائیں اور پھر (اس کے نشے کی حالت میں) اس سے ہم آغوش ہو جائیں تاکہ اپنے باپ سے نسل پیدا کریں۔ چنانچہ انہوں نے اس رات اپنے باپ کو شراب پلائی اور پھر بڑی بیٹی اپنے باپ سے ہم آغوش ہوگئی۔ دوسری رات بھی اسے شراب پلائی اور اس دفعہ چھوٹی بیٹی اپنے باپ سے ہم آغوش ہوئی۔ چنانچہ اپنے باپ سے ان کا حمل ٹھہرا۔ بڑی بیٹی نے ایک بچہ جنا جس کا نام ''موآب،، رکھا گیا جو ''موآبیین،، کا باپ ہے۔ چھوٹی بیٹی نے بھی ایک بچہ جنا جس کا نام ''بن عمّی،، رکھا گیا اور وہ آج تک ''بنی عمون،، کا باپ ہے۔،،

یہ وہ اہانتیں ہیں جن کی نسبت موجودہ تورات نے حضرت لوط نبی اور آپ کی بیٹیوں سے دی ہے، ان کتابوں کو پڑھنے والا ہر شخص اپنی عقل کو حاکم قرار دے اور جو چاہے فیصلہ کرے۔

۴۔ بائبل کتاب پیدائش کے ستائیسویں باب میں ہے:

''حضرت اسحاق نے چاہا کہ اپنے بیٹے ''عیسو،، کو نبوّت کا قلمدان سونپیں، یعقوب نے اسحاق کو دھوکہ دیا اور یہ ظاہر کیا ''عیسو،، وہی ہیں۔ یعقوب نے حضرت اسحاق کو کھانا اور شراب پیش کی۔ اسحاق نے کھانا کھایا اور شراب پی۔ اس طرح کے بار بار کے حیلوں اور دھوکہ بازی سے اسے یہ کامیابی حاصل ہوئی کہ اسحاق نے یعقوب کے حق میں دعا مانگی اور کہا: تو اپنے دوسرے بھائیوں کا سردار بن جا۔ تیری ماں کے بیٹے (تیرے بھائی) تیرے آگے جِھکیں، جو تجھ پر لعنت بھیجے اس پر لعنت ہو اور تجھے دعا دینے والے، برکت پائیں۔ جب ''عیسو،، کو معلوم ہوا کہ اس کے بھائی یعقوب نے دھوکہ بازی سے نبوّت کی برکتیںاس سے چھین لی ہیں تو اس نے اپنے باپ اسحاق سے مخاطب ہو کر کہا: بابا! مجھے بھی نبوّت کی برکتوں سے نوازیں۔


اسحاق نے کہا: تیرے بھائی یعقوب نے مکر و فریب سے تیری برکتیں لے لیں ہیں۔ ''عیسو،، نے کہا: میرے لیے کوئی برکت باقی نہیں ہے؟ اسحاق نے کہا : میں نے اسے تمہارا سردار مقرر کردیا ہے، اس کے تمام بھائیوں کو اس کا غلام بنا دیا ہے اور گندم و شراب کے ذریعے اسے تقویت پہنچائی ہے۔ بیٹے! اب میں تمہارے لیے کیا کرسکتا ہوں۔ ''عیسو،، ، ''اسحاق،، کی بات سُن کر بلند آواز میں رونے لگا۔،،

کیا یہ معقول بات ہے کہ اس طریقے سے نبوّت چھین لی جائے؟ کیا خدا اس قسم کے دھوکہ بازوں اور کاذبوں کو بھی نبوّت دے دیتا ہے اور اس کے حقیقی اہل اور حقداروں کو محروم رکھتا ہے؟ ا س کے علاوہ کیا یعقوب، اسحاق کی مانند خدا کو بھی دھوکہ دینے میں کامیاب ہوگئے؟ کیا خدا اس نبوّت کو یعقوب سے لے کر اس کے صحیح حقداروں کو پلٹانے پر قادر نہیں تھا؟

خدا کی ذات اس قسم کی کمزوریوں سے بالاتر ہے۔ شاید شراب کے نشے میں اس قسم کی بیہودہ باتیں گھڑی گھی ہیں اور شرابنوشی کو حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی طرف نسبت دی گئی ہے۔

۰۵ اصحاح اور بائبل میں ہے: (کتاب پیدائش کے اٹھائیسویں باب میں ہے)

''حضرت یعقوب کے بیٹے ''یہوذا،، نے اپنے بیٹے ''عیر،، کی بیوی ''ثامار،، سے زنا کیا۔ اس سے اس کا حمل ٹھہرا اور اس نے دو بچوں ''فارص،، اور ''زارح،، کو جنم دیا۔،،

اس کے علاوہ انجیل متی کے اصحاح اوّل میں یسوع مسیح کے نسب کا تفیصلاً ذکر کیا گیا ہے۔ اس کی میں حضرت مسیح، سلیمان اور ان کے والد داؤد کو ''فارص،، ، جو ''یہوذا،، کے اپنی بہو ''ثامار،، سے زنا کے نیتجے میں پیدا ہوا، کی نسل سے قرار دیا ہے۔

نعوذ باللہ کہ انبیاء (علیہم السلام) اولاد زنا ہوں، یہ کیونکر ممکن ہے کہ انبیاء پر پنے محرموں سے زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے کا الزام لگایا جائے۔ موجودہ تورات لکھنے والوں کو کوئی پرواہ نہیں تھی کہ وہ کیا لکھ اور کیا کہہ رہے ہیں۔


۶۔ بائبل میں ہے:

''حضرت داؤد نے ایک مومن مجاہد ''اوریا،، کی بیوی سے زنا کیا۔ اس زنا سے اس کا حمل ٹھہرا، داؤد کو رسوائی کا خوف ہوا اور اس نے اس واقعہ پر پردہ ڈالنے اور ''اوریا،، کو تاریکی میں رکھنے کی کوشش کی۔ انہوں نے ''اوریا،، کو حکم دیا کہ گھر جا کر اپنی زوجہ سے ہمبستری کرے۔ ''اوریا،، نے اس سے انکار کردیا اور کہا: آقا! ''یوآب،، اور میرے آقا کے غلام صحراؤں میں ہوں اور میں اپنے گھر جا کر کھانے پینے اور اپنی بیوی کے ساتھ عیاشی میں مصروف رہوں۔ آپ کی زندگی کی قسم! میں ایسا ہرگز نہیں کرسکتا۔ جب داؤد اس طرح اپنے جرم پر پردہ ڈالنے سے مایوس ہوگئے تو انہوں نے ''اوریا،، کو اپنے گھر بلایا اور اسے کھانے کی دعوت دی اور اسے شراب پلا کر مست کردیا۔ دوسرے دن ''داؤد،، نے ''یوآب،، کو لکھا کہ ''اوریا،، کو میدانِ جنگ میں سب سے آگے رکھو اور خود پیچھے ہٹ جاؤ تاکہ یہ مارا جائے۔ ''یوآب،، نے یونہی کیا۔ ''اوریا،، جنگ میں مارا گیا اور اس کی اطلاع داؤد کو دے دی گئی۔ داؤد نے ''اوریا،، کی بیوی کو اپنے گھر بلایا ارو اس کے شوہر کے سوگواری کے دن ختم ہونے کے بعد اس سے شادی کرلی۔،،

انجیل متی کے اصحاح اوّل میں ہے کہ ''سلیمان ابن داؤد،، اسی عورت سے پیدا ہوئے۔

غور کیجئے! اس جعل ساز نے خدا کے سامنے کتنی بڑی جراءت کی ہے۔ خدا کا نبی کجا کیا ایک عام غیرت مند انسان کی طرف بھی اس قسم کے کاموں کی نسبت دی جاسکتی ہے؟ اور انجیل لوقا میں یہ جو لکھا ہے کہ مسیح اپنے باپ داؤد کی کرسی پر بیٹھتا ہے مذکورہ قصّے سے کس طرح مطابق رکھتا ہے؟


۷۔ تورات کے گیارہوں باب میں ہے:

''حضرت سلیمان کی سات سو معزز بیویاں اور تین سو کنیزیں تھیں۔ ان عورتوں نے آپ کو دوسرے خداؤں اوربتوں کی طرف مائل کردیا۔ چنانچہ حضرت سلیمان صید و نیوں کی دیوی ''عشتورث،، اور عمونیوں کی نفرتی ملکوم کی پیروی کرنے لگا اور اللہ کے سامنے اس نے برائی کی حضرت سلیمان کے اس عمل سے ان کا خدا غضبناک ہوگیا اورفرمایا کہ مںی تجھ سے تیری حکومت لے کر تیرے غلام کو دے دیتا ہوں۔،،

اسی تورات میں ہے:

''یوسبہ بادشاہ نے ان اونچے مقاموں پر نجاست ڈلوائی جو یروشلم کے مقابل کوہ الایق کے داہنی طرف تھے، جن کو اسرائیل کے بادشاہ ''سلیمان،، نے صیدونیوں کی دیوی ''عشتورث،، اور موآبیوں کی ''نفرتی کموس،، اور بنی عمون کی نفرتی ملکوم کے لئے بنایا تھا اور اس نے ستونوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور درختوں کو کاٹ ڈالا۔،،

فرض کریں کہ نبی کے لیے معصوم ہونا ضروری نہیں (اگرچہ عقلی دلائل ان کی عصمت پر دلالت کرتے ہیں) لیکن کیاایک نبی کے لیے عقلی طور پر جائز ہے کہ وہ بتوں کی عبادت کرے اور ان کے لیے عالیشان بتکدے تعمیر کرے لیکن لوگوں کو توحید اور خدا کی عبادت کی طرف دعوت دے۔ ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔


۸۔ کتاب ''ہوشع،، کے باب اوّل میں ہے:

''سب سے پہلے خدا نے ''ہوشع،، سے یہ کہا: جاؤ! اور اپنے ایک زانی عورت اور زانی اولاد کا انتخاب کرو۔ کیونکہ یہ زمین زنا کرتے ہوئے اپنے ربّ سے برگشتہ ہوئی تھی، چنانچہ ''ہوشع،، گئے اور اپنے لئے ''جومر بنتو بلایم،، کا انتخاب کیا اس سے حمل ٹھہرا اور اس کے یہاں دو بچے اور ایک بچی پیدا ہوئی۔،،

اسی کتاب ''ہوشع،، کے تیسرے باب میں ہے:

''خدا نے ان سے کہا: جاؤ اور ایک زانی اور آشنا رکھنے والی عورت سے ایسی محبت کرو جیسی رب، بنی اسرائیل سے کرتا ہے۔،،

کیا خدا کے اوامر ایسے ہوا کرتے ہیں کہ وہ اپنے نبی کو زنا اور زانی عورتوں سے محبت کا حکم دے؟ نعوذ باللہ من ذالک، تعجّب اس بات پر ن ہیں کہ لکھنے والے نے ان باتوں کو قبیح نہیں سمجھا۔ ہمیں تعجّب ان ترقی پسند اورمہذب اقوام اور ان علوم کے ماہرین پر ہے جو موجودہ تورات کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس میں موجود خرافات سے آگاہ ہیں۔ وہ کس طرح اس کتاب کے وحیِ الہیٰ اور آسمانی ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ در حقیقت آباؤ اجداد کی اندھی تقلید طبیعت ثانیہ بن جاتی ہے جسے چھوڑ کر حقیقت کی پیروی کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ خدا ہی راہ مستقیم کی ہدایت اور کار خیر کی توفیق دینے والا ہے۔

۹۔ انجیل کے بارہویں، مرقس کے تیسرے اور لوقا کے آٹھویں باب میں ہے:

''حضرت مسیح ایک اجتماع سے خطاب کررہے تھے، اتنے میں آپ کی والدہ اور آپ کے بھائی آئے اور انہوں نے آپ سے ہمکلام ہونے کی خواہش کی۔ مجمع میں سے ایک شخص نے جناب مسیح سے کہا کہ آپ کی والدہ اوربھائی باہر کھڑے ہیں اور آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ آپ نے جواب دیا: یہ میری والدہ اور میرے بھائی کون ہیں؟ اس کے بعد ہاتھ سے اپنے شاگردوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا: میرے بھائی بہن اور ماں وہی ہیں جو آسمان میں موجود باپ کی مشیئت کے مطابق کام کرتے ہیں۔،،


اس کلام کو پڑھیں اور دیکھیں کہ اس میں کتنی خرافات ہیں۔ جناب مسیح اپنی طاہرہ و مطاہرہ والدہ گرامی کو نہ صرف جھڑک دیتے اور اپنے دیدار تک سے محروم رکھتے ہیں بلکہ اپنے شاگردوں کو اپنی والدہ گرامی پر ترجیح دیتے اور اپنے شاگردوں کو افضل سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ وہی شاگرد ہیں جن کے بارے میں حضرت مسیح نے فرمایا تھا:انهم لا ایمان لهم (ان میں ایمان کی بو تک نہیں ہے)۔ جیسا کہ مرقس کے چوتھے باب میں موجود ہے۔

چنانچہ متی کے سترھویں باب میں ہے ''آپ نے شاگردوں کے بارے میں فرمایا کہ ان کے دل میں رائی کے دانہ جتنا بھی ایمان نہیں ہے۔ یہ وہی شاگرد ہیں کہ جب یہودی مسیح پر حملہ آور ہوئے تو آپ نے شاگردوں سے کہا کہ رات میرے ساتھ بیدار رہو تو انہوں نے آپ کے ساتھ بیدار رہنے سے انکار کردیا اور جب یہود نے آپ کو ظاہری طور پر گرفتار کرلیا تو یہ سب آپ کو تنہا چھوڑ کر فرار ہوگئے۔ جیسا کہ انجیل متی کے چھبیسویں باب میں ہے اوران کے علاوہ بھی بہت سی برائیاں ان شاگردوں سے منسوب کی گئی ہیں۔،،

۱۰۔ یوحنا کے دوسرے باب میں ہے:

''جناب مسیح نے شادی کی ایک تقریب میں شرکت کی۔ اس تقریب میں پیش کی جانے والی شراب جب ختم ہوگئی تو آپ نے معجزہ سے شراب کے چھ مٹکے ان کے لیے حاضر کیے۔،،

متی کے گیارہویں اور لوقا کے ساتویں باب میں ہے:

''جناب مسیح شراب خور تھے اور نہ صرف آپ شراب خور تھے بلکہ آپ کثرت سے شراب نوشی کیا کرتے تھے۔،،

حاشا وکلا حضرت مسیح (علیہ السلام) کی ذات اس قسم کے بہتان اور الزامات سے کوسوں دُور ہے۔


تورات میں ہے:

''اللہ تعالیٰ نے جناب ہارون سے کہا، جب آپ کسی اجتماع میں داخل ہوں تو نہ شراب پئیں اور نہ دیگر نشہ آور اشیاء استعمال کریں تاکہ آپ کو موت نہ آجائے اور یہ حکم آپ کی آئندہ نسلوں کے لیے بھی واجب الاتباع ہے تاکہ مقدس و حلال اور نجس و طاہر میں تمیز ہوسکے۔،،

لوقا کے باب اوّل میں یوحنا کی مدح و تعریف میں جملہ آیا ہے:

''وہ خدا کے نزدیک عظیم ہوگا اور شراب و نشہ آور چیزیں استعمال نہیں کرے گا۔،،

اس قسم کے اور دلائل بھی موجود ہیں جو عہد نامہ ئ قدیم و جدید میں بھی شراب کے حرام ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔

موجودہ اور مروجہ کتب عہدین میں موجود کچھ ان خرافات اور بیہودہ باتوں کا ذکر بطور نمونہ کیا گیا۔

اس قسم کی گمراہ کن باتیں جو کسی دلیل سے مطابقت نہیں رکھتیں اور نہ ہی کسی منطق سے ان کا واسلطہ ہے، ہم نے قارئین کے سامنے اس لیے پیش کی ہیں کہ وہ انہیں بغور پڑھیں اور اپنے عقل و وجدان سے فیصلہ کریں کہ کیا یہ ممکن ہے کہ پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کے بارے میں یہ کہا جائے کہ آپ نے اپنے معارف، تعلیمات اور قرآن میں موجود احکام، اس قسم کی خرافات پر مشتمل کتب سے لئے ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اس قسم کی گمراہ کن باتوں اور خرافات پر مشتمل کتب کو وحی آسمانی سے منسوب کیا جائے یہ کتابیں ایسی ہیں جنہوں نے انبیاء کی عظمت و تقدّس کو آلودہ کیا ہے اس کی دلیل وہ داستانیں ہیں جن کا ذکر ہم نے گذشتہ صفحات میں کیا ہے۔ ان کے علاوہ بھی داستانیں ہیں جنہیں ہم اس کتاب میں نقل نہیں کررہے۔(۱)

____________________

(۱)''الهدیٰ الی دین المصطفیٰ و الرحلة المدرسیة یشخنا البلاغی،، اور ہماری کتاب''نفحات الاعجاز،، کو ملاحظہ فرمائیں، ان کتب میں مزید خرافات نقل کی گئی ہیں۔


آیات میں ہم آہنگی

ہر عاقل اور تجربہ کار یہ سمجھتا ہے کہ جب کوئی شخص جھوٹ اور غلط بیانی کی بنیاد پر قانون بناتا یا حوادث و واقعات بیان کرتا ہے تو اس کی باتوں میں خواہ مخواہ تضاد اور اختلاف پایا جاتا ہے، خصوصاً اگر یہ شخص قانون سازی، عمرانیات، عقائد اور اخلاقیات کے دقیق مسائل عرصہ دراز تک بیان کرتا رہے تو لازماً وہ تضاد بیانی کا شکار ہو جاتا ہے کیونکہ ناقص بشر کی طبیعت کا یہ تقاضا ہے کہ اگر کوئی اس کی اصلاح نہ کرے تو وہ ضرور اپنے علم میں تضاد ہو جاتا ہے۔ یہ ضرب المثل مشہور ہے:

دروغ گو را حافظہ نہ باشد۔

قرآن کریم میں مختلف معاملات کا ذکر ہے اور ان پر مفصّل بحث کی گئی ہے۔ چنانچہ الہیات، نبوّت، تعلیم احکام کے بنیادی اصول، سیاسیات اور اخلاقی اصولوں پر بحث کی گئی ہے۔ فلکیات و تاریخ سے متعلّق مسائل، صلح و جنگ کے قوانین، ملک، ستارے اور ہواؤں جیسی آسمانی موجودات اور سمندروں، نباتات اور انسانوںجیسی زمینی موجودات کا اس میں ذکرملتا ہے، ان کے علاوہ مختلف قسم کی مثالوں کا قرآن کریم میں ،کر ہے اور قیامت کی ہولناکیوں کو بیان کیا گیا ہے۔ لیکن ان تمام باتوں میں کسی قسم کا تضاد یا اختلاف نہیں پایا جاتا اور نہ ہی عقل اور عقلاء کے نزدیک ان کا کسی مسلمہ اصول سے اختلاف ہے، بلکہ بعض اوقات ایک ہی واقعہ دو مرتبہ یا کئی مرتبہ دھرایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود اس میں معمولی سا بھی اختلاف نظر نہیں آتا۔


حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصّہ آپ کے سامنے ہے۔ قرآن کریم میںکئی مرتبہ اس کا ذکر کیا گیا ہے اور ہر مرتبہ اس میں کوئی نہ کوئی خصوصیت دکھائی دیتی ہے لیکن اصل مطلب کے اعتبار سے اس میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔

خصوصاً جب آپ اس پہلو پر توجہ دیں کہ قرآن کریم ایک ہی مرتبہ نازل نہیں ہوا بلکہ تھوڑا تھوڑا کرکے اور مختلف واقعات کی مناسبت سے اس کی آیات نازل ہوئی ہیں تو آپ یقین کریں گے قرآن کریم اللہ تعالی کی طرف سے نازل شدہ کلام ہے، اس لیے کہ قرآن کریم کا مختلف مقامات پر ٹکڑے ٹکڑے ہو کر نازل ہونا اس امر کا متقاضی ہے کہ جب اسے جمع کیا جائے تو اس میں ہم آہنگی نہ پائی جائے۔ حالانکہ قرآن کریم کو دیکھتے ہیں کہ جب یہ متفرق اجزاء کی صورت میں نازل ہوا تھا تو معجزہ تھا جب اسے یکجا کردیا گیا تو بھی معجزہ ہے، اعجاز کے اس پہلو کو خود قرآن کی اس آیہ میں بیان کیا گیا ہے:

( أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ ۚ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّـهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا ) ۴:۸۲

''تو کیا یہ لوگ قرآن میں بھی غور نہیں کرتے اور (یہ نہیں خیال کرتے کہ) اگر خدا کے سوا کسی اور کی طرف سے (آیا) ہوتا تو ضرور اس میں بڑا اختلاف پاتے۔،،

اس آیت کریمہ میں قرآن لوگوں کو اس چیز کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہے جسے وہ فطری طور پر محسوس کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جس شخص کا دعویٰ کذب وافتراء پر مبنی ہوتا ہے اس کے کلام میں ضرور تناقض و تضاد ہوتا ہے اور یہ چیز قرآن کریم میںموجود نہیں ہے۔


استدلال کی یہ روش قرآن کریم نے اکثر مواقع پر اختیار کی ہے۔ اس طرح وہ ایک فطری فیصلے کی طرف لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے اور اپنی فطرت کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دیتا ہے اورہدایت کار طریقہ بہترین و کامیاب ہے۔

عربوں نے بھی اسلوب قرآن کی اس استقامت اور ہم آہنگی کو محسوس کرلیا تھا اور ان کے فصحاء و بلغاء کو اس کا یقین تھا۔اس کا ثبوت ولید بن مغیرہ کے وہ کلمات ہیں جو اس نے قرآن کریم کی تعریف میں کہے تھے، جب ابو جہل نے قرآن کریم کے بارے میں کچھ کہنے کے لیے کہا تو اس نے کہا:

فما أقول فیه؟ فو الله ما منکم رجل أعلم فی الأشعار منی و لا أعلم برجزه منی، ولا بقصیده ،ولا بأشعار الجن، والله یشبه یقول شیأاً من هذا، و والله ان لقوله لحلاوة، لیحطم ما تحته، و انه لیعلو ولایعلی

'' میں قرآن کے بارے میں کیا کہوں۔ خدا کی قسم تم جانتے ہو شعر و شاعری، رجز خوانی و قصیدہ خوانی میں میرے پائے کا کوئی آدمی نہیں ہے بلکہ جنات کے کلام اور اشعار کو سمجھنے میں بھی میرے پاے کا کوئی آدمی نہیں۔ مگر خدا کی قسم قرآن جو کچھ کہتا ہے و کسی سے نہیں ملتا۔ خدا کی قسم قرآن کریم میںایک خاص مٹھاس ہے ار اس کے مقابلے میں دوسرے تمام کلام درہم برہم نظر آتے ہیں اور یہ ہمشیہ غالب ریگا اور کبھی مغلوب نہیں ہوسکتا۔،،

ابوجہل نے کہا:

قال أبو جهل: و الله لا یرضی قومک حتی تقول فیه

''خدا کی قسم جب تک تم قرآن کی مذمّت میں کچھ نہ کہو گے تمہاری قوم تم سے ہرگز راضی نہیں ہوسکتی۔،،


ولید نے کہا:

قال الولید: فدعنی حتی افکر فیہ فلما فکر

''مجھے سوچنے دو۔،،

ولید نے سوچ کر کہا:

قال: ھذا سحر یاءثرہ عن غیرہ(۱)

''یہ سحر ہے جسے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) دوسروں سے نقل کررہے ہیں۔،،

بعض روایات میں ہے کہ ولید نے کہا:

''و الله لقد سمعت منه کلاماً ما هو من کلام الانس و من کلام الجن، و ان له لحلاوة، و ان علیه لطلاوة و ان أعلاه لمثر، و ان أسفله لمغدق، و انه لیعلو و لا یعلی علیه، و ما یقول هذا بشر ۔۔۔(۲)

''خدا کی قسم! محمد بن عبد اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے جو کلام سنا ہے وہ نہ کسی انسان کا ہوسکا ہے اور نہ کسی جن کا، اس میں جیب مٹھاس اور تازگی پائی جاتی ہے۔ وہ پر ثمر درخت ہے۔ وہ ریشہ دار کلام ہے۔ وہ ہمشیہ غالب رہے گا اور اس پر کبھی کوئی غلبہ نہیں پاسکتا اور کوئی بشر ایسا کلام پیش نہیں کرسکتا۔،،

اگر آپ یہ حقیقت خود محسوس کرنا چاہتے ہیں تو وحی کی طرف منسوب ان کتابوں کو بغور پڑھیئے، آپ دیکھیں گے کہ ان میں تضاد پایا جاتا ہے، ان کے اسلوب میں اضطراب ہے اور ان کا کلام ثابت و قائم رہنے والا نہیں ہے۔ آپ جب کتب عہدین میں موجود اختلاف و تناقص کو دیکھیں گے تو آپ پر حقیقت آشکار ہو جائے گی اور حق و باطل میں آپ تمیم کرلیں گے۔

____________________

(۱) تفسیر طبری، ج ۲۹، ص ۹۸

(۲) تفسیر القرطبی، ج ۱۹، ص۷۲


ذیل میں انجیل میں موجود کچھ اختلافات بطور نمونہ ذکر کئے جاتے ہیں:

۱۔ انجیل متی کے بارہویں اور لوقا کے گیارہویں باب میں ہے، حضرت مسیح نے فرمایا:

''جو میرے ساتھ نہیں وہ میرے خلاف ہے اور جو میرے ساتھ اجتماع نہیں کرتا وہ بکھر جاتا ہے۔،،

مرقس اور لوقا کے نویں باب میں ہے کہ آپ نے فرمایا:

''جو ہماری مخالفت نہیں کرتا وہ ہمارے ساتھ ہے۔،،

۲۔ متی کے انیسویں، مرقس کے دسویں اور لوقا کے اٹھارھویں باب میں ہے:

''کچھ لوگوں نے جناب مسیح سے کہا: اے صالح معلّم۔ آپ نے فرمایا: مجھے صالح کہہ کر کیوں پکار رہے ہو، صالح صرف ایک ہی ہے اور وہ خدا کی ذات ہے۔،،

یوحنا کے دسویں باب میں ہے کہ آپ نے فرمایا:

''میں صالح چرواھا ہوں۔،،

۳۔ متی کے ستائیسویں باب میں ہے:

''جو دو چور حضرت مسیح کے ساتھ مصلوب کئے گئے تھے وہ حضرت مسیح کو برا بھلا کہتے تھے۔،،

اور لوقا کے ستائیسویں باب میں ہے:

''جن دو گناہ گاروں کو آپ کے ساتھ مصلوب کیا گیا تھا ان میں سے ایک نے حضرت عیسیٰ پر طنز کیا اور کہا: اگر آپ واقعی مسیح ہیں تو اپنے آپ کو اور مجِھے اس دار سے چھٹکارا دلائیں۔ دوسرے نے جواب دیا: تو خدا سے نہیں ڈرتا جبکہ تو اس سزا میں گرفتار بھی ہے۔،،


۴۔ انجیل یوحنا کے پانچویں باب میں ہے کہ مسیح نے فرمایا:

''اگر میں اپنے حق میں گواہی دوں تو میری یہ شہادت برحق نہیں ہوگی۔،،

اسی انجیل کے آٹھویں باب میں ہے کہ حضرت مسیح نے فرمایا:

''اگر میں اپنے لیے گواہی دوں تو میری گواہی برحق ہوگی۔،،

انجیل جو ایک چھوٹی سی کتاب ہے اس میں آپ نے اختلاف و تناقض کے نمونے ملاحظہ فرمائے، میں سمجھتا ہوں کہ جو کوئی تعصب و عناد سے بالاتر ہو کر حق کو سمجھنا چاہتا ہے اس کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔(۱)

_____________________

(۱) تفصیل کے لئے شیخ بلاغی قدس سرّہ، کی کتاب''الهدیٰ و الرحلة المدرسیة،، اور ہماری کتاب''نفحات الاعجاز،، کا مطالعہ فرمائیں۔


قرآن اور نظام قانون

تاریخ دانوں سے پوشیدہ نہیں ہے کہ اسلام سے پہلے اقوام، تعلیمات اور اخلاقیات کے لحاظ سے کس قدر جہالت میں مبتلا اور گئی گزری تھیں۔ ان کی وحشیانہ زندگی ہوتی تھی۔ ان میں ہمیشہ جنگیں ہوتی رہتی تھیں، لوگوں کے دل لوٹ کھسوٹ اور جنگ کی آگ بھڑکانے پر تلے رہتے تھے۔ اس کے علاوہ بہت سی خرافات پر مشتمل عقائد عربوں میں پائے جاتے تھے۔ ان کے پاس نہ ایسا دین تھا جس پر ان کا اجتماع ہوتا اور نہ ایسا نظام تھا جو انہیں یکجا کرسکتا تھا۔ ان کے آباؤ اجداد کی بری عادتیں انہیں دائیں بائیں لے جارہی تھیں اور عرب ممالک میں کثرت سے بت پرست پائے جاتے تھے۔ مختلف قبیلوں اور اقوام کے مخصوص بت اور خدا ہوا کرتے تھے، جن کی وہ پرستش کیا کرتے اور خدا کے سامنے انہیں اپنا شفیع قرار دیتے تھے ۔ وہ بتوں سے اپنی حاجتیں مانگتے اور پانسہ ڈال کر فال لیتے اور قمار بازی پر فخر کرتے تھے۔ سوتیلی ماؤں سے شادیاں رچانا ان کی عادت تھی اور ان کی سب سے بدترین صفت لڑکیوں کو زندگہ دفن کردینا تھی۔

یہ تھیں زمانہ جاہلیّت کے عربوں کی عادات، ان کے خضائل، اور جب محمد عربی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے نور کا ظہور ہوا اور مکہ میں اسلام کا سورج چمکا تو یہی عرب معارف و تعلیمات سے مزیّن اور مکارم اخلاق سے آراستہ ہوگئے۔ بت پرستی کی جگہ توحید، اور جہالت و نادانی کی جگہ علم نے لے لی۔ رذائل اور بری صفات کی جگہ فضائل نے انتشار و اختلاف کی جگہ محبت و


اخوت نے جنم لیا۔ اس کے نتیجے میں یہی عرب ایک امّت بن گئے، پورے عالم پر یہ حکومت کرنے لگے اور پوری دنیا میں انسانیت اور تمدّن کے علمبردار بن گئے۔

دُوری(۱) کاکہنا ہے:

و بعد ظهور الذی جمع قبائل العرب أمّة واحدة، تقصد مقصداً واحداً ظهرت للعیان أمّة کبیرة، مدّت جناح ملکها من نهر تاج اسبانیا الی نهر الجانج فی الهند، و رفعت علی منار الاشارة أعلام التمدن فی أقطار الأرض، أیام کانت اوربا مظلمة بجهالات أهلها فی القرون المتوسطة

''پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے تمام قبائل کو ایک اُمّت میں تبدیل کردیا جس کا ایک ہی مقصد تھا اور وہ بہت جلد ایک بڑی امّت کی شکل اختیار کرگئی جو اسپین کے دریائے ٹیگ سے لے کر ہندوستان کے دریائے گنگاتک حکومت کرنے اور پوری دنیا پر اپنے تمدّن اور انسانیّت کے جھنڈے لہرانے لگی۔ یہ وہ دور تھا جب قرون وسطیٰ میں یورپ جہالت کی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔،،

اس کے بعد کہتے ہیں:

ثم قال: انهم کانوا فی القرون المتوسطة مختصین بالعلوم من بین سائر الأمم، وانقشعت بسببهم سحائب البربریة التی امتدت علی اوربا حین اختل نظامها بفتوحات المتوحشین

''قرون وسطیٰ میں علوم و فنون صرف مسلمانوں کے ہاں پائے جاتے تھے اور انہیں مسلمانوں کے ذریعے ظلم و بربریت کے وہ بادل چھٹ گئے جو یورپ پر چھائے ہوئے تھے۔،،

____________________

(۱) فرانس کا ایک وزیر۔

(۲) صفوۃ العرفان، لمحمد فرید و جدی، ص ۱۱۹۔


یہ تمام عظیم کامیابیاں ا س کتاب کریم کی برکت سے تھیں جس کی نطیر تمام آسمانی کتب میں نہیں ملتی۔ کیونکہ قرآن کریم نے اپنے نظام اور اپنی تعلیمات میں وہ روش اختیار کی ہے جو دلیل و برہان سے ہم آہنگ اور عقل سے مربوط ہے۔ قرآن کریم نے ہمیشہ عدل کا راستہ اختیار کیا اور ہمشیہ افراط و تفریط سے اجتناب برتا ہے۔ چنانچہ سورہ فاتحہ میں آپ دیکھ رہے ہیں کہ خدا کے دربار میں بشر کی زبان سے صراء مستقیم کی دعا کی جارہی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:

( اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ) ۱:۶،،

''ہم کو سیدھی راہ پر ثابت قدم رکھ،،

اگرچہ یہ جملہ محتصر سا ہے لیکن اس کے معانی بہت وسیع ہیں۔ انشاء اللہ سورہ فاتحہ کی تفسیر میں ہم ان کی طرف اشارہ کریں گے۔

قرآن کریم نے عدل و انصاف اور صراطِ مستقیم اختیار کرنے کاحکم دیا ہے ارشاد ہوتا ہے۔

۱۔( إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ ۚ ) ۴:۵۸

''(اے ایمان دارو) خدا تمہیں حکم دیتا ہے کہ لوگوں کی امانتیں امانت رکھنے والوں کے حوالے کر دو اور جب لوگوں کے باہمی جھگڑوں کافیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کرو۔،،

۲۔( اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَىٰ ) ۵ :۸

''(خبردار بلکہ) تم (ہر حال میں) انصاف کرو، یہی پرہیزگاری سے بہت قریب ہے۔،،


۳۔( وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ ) ۶:۱۵۲

''جب بات کہو تو انصاف سے اگرچہ وہ (جسکے تم خلاف کہو) تمہارا عزیز ہی (کیوں نہ) ہو۔،،

۴۔( إِنَّ اللَّـهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَإِيتَاءِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَيَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ وَالْبَغْيِ ۚ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ )

۱۶:۹۰

''اس میں شک نہیں کہ خدا انصاف اور (لوگوں کے ساتھ) نیکی کرنے اور قرابتداروں کو (کچھ) دینے کا حکم کرتا ہے اور بدکاری اور ناشائستہ حرکتوں اور سرکشی کرنے کو منع کرتا ہے (اور) تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم نصیحت حاصل کرو۔،،

قرآن کریم نے عدل و انصاف کا حکم دیا ہے اور اپنی تعلیمات میں اعتدال و میانہ روی اختیار کی ہے، اس نے متعدد مقامات پر بخل اور کنجوسی سے روکا اور لوگوں کو اس کے مفاسد اور انجام سے آگاہ کیا ہے۔

( وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَّهُم ۖ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ ۖ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ وَلِلَّـهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ) ۳:۱۸۰

''اور جن لوگوں کو خدا نے ا پنے فضل (و کرم) سے کچھ دیا ہے (اور پھر) بخل کرتے ہیں وہ ہرگز اس خیال میں نہ رہیں کہ یہ ان کے لیے کچھ بہتر ہوگا بلکہ یہ ان کے حق میں بدتر ہے، کیوں کہ جس (مال) کا بخل کرتے ہیں عنقریب ہی قیامت کے دن اس کا طوق بنا کر ان کے گلے میں پہنایا جائے گا اور سارے آسمانوں اور زمین کی میراث خدا ہی کی ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے خبردار ہے۔،،

اس کے ساتھ ساتھ قرآن کریم نے اسراف اور فضول خرچی سے بھی روکا اور ہے لوگوں کو اس کے مفاسد اور نقصانات سے آگاہ کیا ہے۔


( وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ ) ۶:۱۴۱

''اور خبردار فضول خرچی نہ کرو کیوں کہ وہ (خدا) فضل خرچوں سے ہرگز الفت نہیں رکھتا۔،،

( إنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ ۖ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا ) ۱۷:۲۷

(خبردار) فضول خرچی مت کیا کرو کیونکہ فضول خرچی کرنے والے یقیناً شیاطانوں کے بھائی ہیں۔،،

( وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُولَةً إِلَىٰ عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُومًا مَّحْسُورًا ) ۱۷:۲۹

''اور اپنے ہاتھ کو نہ تو گردن سے بندھا ہوا (بہت تنگ) کرلو (کہ کسی کو کچھ دو ہی نہیں) اور نہ بالکل کھولدو کہ (سب کچھ دے ڈالو اور) آخر تم کو ملامت زدہ حسرت آلودہ یا حسرت بھرا بیٹھنا پڑے۔،،

قرآن کریم نے مصائب پر صبر اور اذیتوں و مشقتوں کو برداشت کرنے کا حکم دیا ہے۔ صابرین کی ان کے صبر کرنے پر تعریف کی ہے اور انہیں ثواب کثیر عطا کرنے کا وعدہ کیا ہے:

( إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ ) ۳۹:۱۰

''صبر کرنے والوں ہی کو تو ان کابھرپور بے حساب بدلے دیا جائے گا۔،،

( وَاللَّـهُ يُحِبُّ الصَّابِرِينَ ) ۳:۱۴۶

''اور ثابت قدم رہنے والوں سے خدا الفت رکھتا ہے۔،،

قرآن کریم نے جہاں صبر کرنے کی تاکید کی ہے وہاں مظلوم سے یہ نہیں کہا کہ وہ ظالم کے سامنے بے بسی کے عالم میں ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جائے بلکہ اسے اجازت دی ہے کہ وہ ظالم سے انتقام لے اور جس طرح کا اس پر ظلم ڈھایا گیا ہے اسی کے مطابق بدلہ لے تاکہ فساد کی جڑ ختم ہو اور عدل کی شریعت وجود میں آجائے۔


( فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ ۚ ) ۲:۱۹۴

''پس جو شخص تم پر زیادتی کرے تو جیسی زیادتی اس نے تم پر کی ہے ویسی ہی زیادتی تم بھی اس پر کرو۔،،

اس کے علاوہ مقتول کے ولی کو ایسے قاتل سے قصاص لینے کی اجازت دی ہے جس نے عمداً قتل کیا ہے۔

( وَمَن قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا فَلَا يُسْرِف فِّي الْقَتْلِ ۖ إِنَّهُ كَانَ مَنصُورًا ) ۱۷:۳۳

''اور جو شخص ناحق مارا جائے تو ہم نے اس کے وارث کو (قاتل پر قصاص کا) قابو دیا ہے تو اسے چاہیے کہ قتل (خون کا بدلہ لینے) میں زیادتی نہ کرے۔،،

قرآن کریم نے اعتدال اور میانہ روی کی راہ اختیار کرنے کا حکم دے کر نظام دنیا و آخرت کو یکجا کردیا ہے نیز دنیا کی اصلاح اور اخری سعادت کی بھی ضمانت دی ہے۔

قرآن کریم وہ عظیم ناموس ہے جسے پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) لے کر آئے تاکہ انسان دنیا و آخرت دونوں کی سعادتوں سے ہمکنار ہو۔

قرآن کریم کی تشریع اور قانون سازی صرف دنیاوی پہلو کے پیش نظر نہیں ہے جس میں آخرت کو نظر انداز کردیا گیا ہو، جیسا کہ موجودہ تورات میں آپ کو یہ چیز نظر آئے گی تورات اتنی بڑی کتاب ہے اس کے باوجود اس میں کوئی ایسا مقام نظر نہیں آتا جہاں آخرت کے وجود کا ذکر ہو اور نہ ہی اس میں اچھے اور برے اعمال کی جزا و سزا کے سلسلے میں آخرت کا کوئی تذکرہ ہے البتہ تورات میں تصریحاً یہ بات ضرور موجود ہے کہ اطاعت کا اثر یہ ہے کہ انسان دنیا میں مستغنی و بے نیاز اور لوگوں کو غلام بنا کر ان پر حاکم ہو جاتا ہے اور معصیت کا اثر یہ ہے کہ انسان اپنے ربّ کی نظر سے گر جاتا ہے، جس کے نتیجے میں موت آجاتی ہے اور اس کا سب مال چھن جاتا ہے۔


ایسا بھی نہیں ہے کہ قرآن کریم کی قانون سازی میں صرف اخروی پہلو کو مدنظر رکھا گیا ہو اور دنیاوی امور کا اس میں کوئی تذکرہ نہ ہو۔ جس طرح کہ انجیل میں ہے۔ انجیل میں صرف اخروی باتیں ہیں اور دنیا کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ صرف قرآن کریم کی شریعت ایسی مکمل شریعت ہے جو کبھی تو مصلحت دنیا کو مد نظر رکھتی ہے اور کبھی مصلحت آخرت اس کے پیش نظر ہوتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:

۱۔( وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ) ۴:۱۳

''اور جو خدا اور رسول کی اطاعت کرے اس کو خدا آخرت میں ایسے (ہرے بھرے) باغوں میں پہنچا دے گا جن کے نیچے نرہیں جاری ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ (چین سے) رہیں گے اور یہی تو بڑی کامیابی ہے۔،،

۲۔( وَمَن يَعْصِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُّهِينٌ ) ۴:۱۴

''اور جس شخص نے خدا اور رسول کی نافرمانی کی اور اس کی حدوں سے گزر گیا تو بس خدا اس کو جہنم میں داخل کرے گا اور وہ اس میں ہمیشہ (اپنا کیا بھگتتا) رہے گا اور اس کے لیے بڑی رسوائی کا عذاب ہے۔،،

۳۔( فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ﴿﴾ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ ) ۹۹:۷-۸

''تو جس شخص نے ذرہ برابر نیکی کی وہ اسے دیکھ لے گا۔ اور جس شخص نے ذرہ برابر بدی کی تو ہے اسے دیکھ لے گا۔،،

۴۔( وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّـهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ ۖ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا ۖ ) ۲۸:۷۷

''اور جو کچھ خدا نے تجھے دے رکھاہے اس میں آخرت کے گھر کی بھی جستجو کر، اور دنیا سے جس قدر تیرا حصّہ ہے مت بھول۔،،


قرآن مجید مزید بہت سی آیات میں لوگوں کو تحصیل علم کی تاکید کرتا ہے اور بہت سی دنیاوی لذتوں کو مباح و جائز قرار دینے کے ساتھ ساتھ تقویٰ اختیار کرنے پر بھی اصرار کرتا ہے۔

۵۔( قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِينَةَ اللَّـهِ الَّتِي أَخْرَجَ لِعِبَادِهِ وَالطَّيِّبَاتِ مِنَ الرِّزْقِ ۚ ) ۷:۳۲

''(اے رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم)) ان سے پوچھو تو کہ جو زینت (کے ساز و سامان) اورکھانے پینے کی صاف ستھری چیزیں خدا نے اپنے بندوں کے واسطے پیدا کی ہیں کس نے حرام کردیں۔،،

قرآن کریم اکثر مقامات پر خدا کی عبادت کرنے، اپنی تشریعی و تکوینی آیات، کائنات اور اپنے نفس پر غور و فکر اور تاءمل کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ ان سب کے ساتھ ساتھ قرآن کریم نے صرف اسی پہلو کو نہیں اپنایا جس سے انسان اپنے ربّ تک پہنچتا ہے بلکہ دوسرے پہلو کابِھی ذکر فرمایا ہے جس کے ذریعے اپنے معاشرے کے دوسرے افراد کے ساتھ مل کر بیٹھا جاسکتا ہے۔ قرآن کریم نے انسان کے لیے خرید و فروخت کو حلال قرار دیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:

( وَأَحَلَّ اللَّـهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ۚ ) ۲:۲۷۵

''حالانکہ بکری کو تو خدا نے حلال کیا اور سُود کو حرام کردیا۔،،

قرآن کریم نے عہد کو پورا کرنے کا حکم دیا ہے:

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ ۚ ) ۵:۱

''اے ایماندارو! (اپنے) اقراروں کو پورا کرو۔،،

اور اسلام نے ازدواج کاحکم دیا جس پر بنی نوعِ انسان کی بقا کا دار مدار ہے:

( وَأَنكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ إِن يَكُونُوا فُقَرَاءَ يُغْنِهِمُ اللَّـهُ مِن فَضْلِهِ ۗ وَاللَّـهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ ) ۲۴:۳۲

''اور (اپنی قوم کی) بے شوہر عورتوں اور اپنے نیکوکار غلاموں اور لونڈیوں کابھی نکاح کردیا کرو۔ اگریہ لوگ محتاج ہوں گے تو خدا اپنے فضل (وکرم) سے انہیں مالدار نہیں بنا دے گا اور خدا تو بڑی گنجائش والا واف کار ہے۔،،


( فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً ) ۴:۳

''اور عورتوں سے اپنی مرضی کے موافق دو دو اور تین تین اور چار چار نکاح کرو، پھر اگر تمہیں اس کا اندیشہ ہو کہ تم (متعدد بیبیوں میں بھی) انصاف نہ کرسکو گے تو ایک ہی پر اکتفا کرو۔،،

انسان کو اپنی زوجہ سے احسان سے پیش آنے، اس کی تمام ضروریات پوری کرنے، والدین اور رشتہ داروں اور تمام مسلمانوں بلکہ پوری انسانیت کے ساتھ احسان کرنے کاحکم دیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:

( وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ) ۴:۱۹

''اور بیبیوں کیساتھ اچھاسلوک کرتے رہو۔،،

( وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ ) ۲:۲۲۸

''اور شریعت کے موافق عورتوں کا (مردوں پر) وہی سب کچھ (حق) ہے جو (مردوں کا) عورتوں پر ہے۔،،

( وَاعْبُدُوا اللَّـهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ مَن كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا ) ۴:۳۶

''اور خدا ہی کی عبادت کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ اورماںباپ اور قرابتداروں اور یتیموں اور محتاجوں اور رشتہ دار، پڑوسیوں اور اجنبی پڑوسیوں اور پہلو میں بیٹھنے والے مصاحبین اور مسافروں اور اپنے زرخرید لونڈی غلام کے ساتھ احسان کرو، بیشک خدا اکڑ کر چلنے والوں اور شیخی باموں کو دوست نہیں رکھتا۔،،


( وَأَحْسِن كَمَا أَحْسَنَ اللَّـهُ إِلَيْكَ ۖ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ ۖ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ ) ۲۸:۷۷

''اور جس طرح خدا نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے تو بھی اوروں کے ساتھ احسان کر اور روئے زمین میں فساد کا خواہاں نہ ہو، اس میں شک نہیں کہ خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔،،

( إِنَّ رَحْمَتَ اللَّـهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ ) ۷:۵۶

''(کیونکہ) نیکی کرنے والوں سے خدا کی رحمت یقیناً قریب ہے۔،،

( وَأَحْسِنُوا ۛ إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ ) ۲:۱۹۵

''اور نیکی کرو، بے شک خدا نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔،،

قرآنی تعلیمات کے یہ چند نمونے ہیں جن میں اعتدال اور میانہ روی کی راہ بتائی گئی ہے۔

قرآن مجید نے امّت کے تمام افراد پر امر بالمعروف و نہی عن المنکر واجب قرار دیا ہے اور اسے کسی خاص گروہ یا افراد سے مخصوص نہیں کیا۔ قرآن کریم نے اسی قانون سازی کے ذریعے اپنی تعلیمات کی ترویج و تبلیغ کے دروازے کھول دیئے اور اس میں زندگی و دوام کی روح پھونک دی ۔ قرآن کریم نے معاشرے کے ہر فرد کو معاشرے کا بلکہ ہر مسلمان تبلیغ احکام کے مکلف ہیں اور احکام دین کی تبلیغ کرنے اور انہیں نافذ کرنے کا فریضہ ان پر عائد کیا گیا ہے کیا آپ نے اس سے زیادہ طاقتور اور مؤثر کوئی دوسرا لشکر دیکھا ہے۔ ہم نے بادشاہوں اور حکام کو دیکھا ہے کہ وہ اپنی فوجی قوت اور آمریت کے بل بوتے پر اپنے ارادوں کو عملی جامہ پہناتے ہیں اور یہ واضح ہے کہ حکام کی فوج اور پولیس ہر وقت اور ہر جگہ لوگوں کے ساتھ نہیں رہ سکتی۔ کتنا فرق ہے لشکر اسلام اور دوسرے حکام کے لشکر میں؟


قرآن کریم کی سب سے بڑی اور اہم تعلیم جو مسلمانوں کی صفوں میں اتفاق و اتحاد پیدا کرسکتی ہے وہ مسلمانوں کے تمام طبقوں میں اخوت و بھائی چارہ قائم کرنے کی ہے، نیز علم و تقویٰ کے علاوہ تمام امتیازات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:

( إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ ۚ ) ۴۹:۱۳

''اس میں شک نہیں کہ خدا کے نزدیک تم سب میں بڑا عزت دار وہی ہے جو بڑا پرہیزگار ہو۔،،

( قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ ۗ ) ۳۹:۹

''(اے رسول) تم پوچھو تو کہ بھلا کہیں جاننے والے اور نہ جاننے والے لوگ برابر ہوسکتے ہیں۔،،

پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) فرماتے ہیں:

ان الله عزوجل أعز بالاسلام من کان فی الجاهلیة ذلیلاً، و أذهب بالاسلام ما کان من نخوة الجاهلیة، و تفاخرها بعشائرها، و باسق أنسابها، فالناس الیوم کلهم أبیضهم و أسودهم، و قرشیهم و عربیهم و عجمیهم من آدم ۔و ان آدم خلقه الله من طین، و ان أحب الناس الی الله عزوجل یوم القیامة أطوعهم له و أتقاهم،، ۔۔۔(۱)

''خالق کائنات نے اسلام کی بدولت اسے عزّت دی جو زمانہ جاہلیّت میں جاہل سمجھا جاتا تھا اور اسلام کے ذریعے زمانہ جاہلیّت میں پائے جانے والے غرور و نخوت کو ختم کردیا۔ حسن نسب اور قبیلے پر کئے جانے والے فخر کو بھی قرآن کریم نے ختم کردیا آج سب لوگ برابر ہیں۔ چاہے وہ سفید ہوں یا سیاہ۔ قریشی ہوں عربی یا عجمی غرض سب کے سب آدمٍ کی اولاد ہیں اور آدم کو خدا نے مٹی سے پیدا کیا اور روز قیامت سب سے زیادہ محبوبِ خدا وہ ہوگا جو سب سے زیادہ پرہیزگار اور متقی ہوگا۔،،

نیز آپ نے فرمایا:

''فضل العالم علی سائر الناس کفضلی علی أدنا کم (۲)

''عالم کو عام لوگوں پر وہی فضیلت ہے جو مجھے تم میں سے ایک معمولی آدمی پر ہے۔،،

____________________

) ۱) فروع کافی، ج ۲، باب ۲۱، ان المومن کفو المومنۃ۔

) ۲) الجامع الصغری بشرح المنادی، ج ۴، ص ۴۳۲۔


اسلام نے حضرت سلمان فارسیؓ کو ان کے کمال ایمان کی وجہ سے دوسروں پر مقدم کیا حتی کہ ان کو اہل بیت میں سے قرار دیا اورسول اللہ کا چچا ابو لہب اپنے کفر کی وجہ سے راندہئ درگاہ قرار دیا۔

آپ دیکھ رہے ہیں کہ پیغمبر اسلام نے کبھی بھی اپنے حسب و نسب پر فخر نہیں کیا اور ہی آپ نے اپنے کسی اور کمال و صفت پر فخر کیا جس کا اس زمانےمیں عام رواج تھا، بلکہ آپ لوگوں کو خدا اور آخرت پرایمان لانے کی دعوت دیا کرتے تھے۔

آپ نے کلمہئ توحید اور توحید کلمہ( ۱ ) کی دعوت دی اور اسی وجہ سے آپ اس قوم پر قابو پانے میں کامیاب ہوگئے جو اپنے حسب و نسب پر فخر کیا کرتی تھی اور جس کے دل نفاق اور اختلافات سے بھرے ہوئے تھے۔ اسلامی تعلیمی اس قوم کی طبیعتوں پر اثر انداز ہوئیں جس سے ان میں موجود کبر و نخوت کا خاتمہ ہوگیا اور شرفا و امراء کو اپنی بیٹیوں کا رشتہ غریب و نادار مسلمانوں سے کرنے میں کوئی عار محسوس نہ ہونے لگا۔( ۲ )

یہ ہے قرآن کی شریعت اور اس کی تعلیمات، جن میں انفرادی و اجتماعی مصلحتوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔ قرآن کریم کے بعض قوانین کا تعلق دنیا سے ہے اور بعض کا آخرت سے اور ان میں دونوں جہانوں کی مصلحتوں کی ضمانت ملتی ہے، ان تمام خصوصیات کو دیکھنے کے بعد بھی کوئی فرد اس شریعت کے لانے اور پیش کرنے والے کی نبوّت میں شک کرسکتا ہے؟ خصوصاً جب وہ اس پہلو کو دیکھے کہ پیغمرب اسلام نے ایک ایسی وحشی قوم میں نشو و نما پائی جس کا اس قسم کی تعلیمات سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔

_____________________

۱) ) باہمی اتحاد و اتفاق (مترجم)۔

۲) ) اس کی ایک مثال زیاد بن لبید ہے جو بنی بیاضہ کے امراء اکابرین میں سے تھا، اس نے ا پنی بیٹی کی شادی جویبر کے ساتھ کردی۔ جویبر ایک پستہ قد اور سیاہ رنگت والا انتہائی محتاج و غریب مسلمان تھا۔ فروع کافی، ج ۲، باب ۲۱، ان المومن کفو المومنۃ۔


قرآن کے معانی میں پختگی

قرآن کریم متعدد موضوعات سے متعرض ہوا ہے اور اس کے مقاصد مختلف اور جدا ہیں جیسا کہ ان کا تعلق الہٰیات و معارف، آغاز خلقت اور معاد، رُوح، ملک، ابلیس اور جن جیسے مافوق طبیعت مفاہیم سے ہے۔ ان کے علاوہ فلکیات، زمین، تاریخ، گذشتہ انبیاء میں سے بعض کے مسائل و معاملات اور گذشتہ انبیاء اور ان کی امّتوں میں رونما ہونے والے واقعات سے ان کی مناسبت ہے۔ نیز ضرب الامثال، احتجاجات اور استدلالات، اخلاقیات، خاندانی حقوق، ریاستی سیاست، اجتماعی و جنگی نظام، قضا و قدر، کسب و اختیار، عبادات و معاملات ، نکاح و طلاق، واجبات اور حدود و قصاص وغیرہ سے یہ متعلق ہیں۔

قرآن کریم نے ان تمام مسائل کو ایسے ٹھوس حقائق کی صورت میں پیش کیا جن میں کسی طرح کے بطلان و تنقید کا گزر تک نہیں ہوسکتا اور کسی بھی باطل کے لیے ان میں گنجائش نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا کمال ہے جس کا مظاہرہ ایک عام بشر سے ہونا محال ہے خصوصاً ایسے شخص سے جس نے ایک ایسی امّت میں پرورش پائی ہو جس کی قسمت میں نہ معارف تھے اور نہ دیگر علوم۔

اسی وجہ سے ہم دیکھتے ہیں کہ علوم النظریہ پر تالیف شدہ کتب میں مذکور نظریات کچھ عرصہ گزرنے کے بعد باطل نظر آتے ہیں کیونکہ علمو النظریہ میں جتنی زیادہ غور و فکر کی جائے اتنے ہی زیادہ اس کے حقائق واضح اور آشکار ہو جاتے ہیں اور پہلوں نے جس نظریہ کو ثابت کیا ہوتا ہے بعد والوں کا نظریہ اس کے برعکس ہوتا ہے اور حقیقت بحث و تمحیص سے جنم لیتی ہے کتنے ہی مباحث ایسے ہیں جنہیں پہلوں نے ادھورا چھوڑا اور بعد میں آنے والوں نے انہیں مکمّل کیا۔ اسی وجہ سے پہلوں کی فلسفہ کی کتب بعد میں آنے والوں کی تنقید کا نشانہ بنتی ہیں۔ یہاں تک کہ پہلے والے جن مسائل کو یقینی برہان سمجھتے تھے بعد میں ان پر ہونے والی بحث و تمحیص کے نتیجہ میں وہ مسائل ادھام شمار ہونے لگے۔

قرآن کریم کو اتنا طویل عرصہ گزرنے، اس کے اغراض و مقاصد مختلف ہونے اور معانی کی رفعت کے باوجوداس میں کوئی بھی مسئلہ ایسا نہیں ہے جو قابل تنقید و قابل اعتراض ہو، سوائے ان چند توہمات کے جن کو کوتاہ فکر افراد اپنے زعم باطل میں تنقید سمجھتے ہیں۔ اس اوہام کا ذکر اور ان کا باطل ہونا ہم بعد میں ثابت کریں گے۔


قرآن کی غیب گوئی

قرآن کریم نے متدد آیات میں بعض ایسے اہم ترین امور کی خبردی ہے جن کا تعلق آیندہ سے تھا۔ ان تمام پیشگوئیوں میں قرآن کریم صادق ثابت ہوا اور کوئی بھی خبر خلاف واقع ثابت نہیں ہوئی، اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ غیب کی خبریں جن کا ذریعہ وحی و نبوّت کے علاوہ کوئی اور نہیں ہوسکتا۔

ان آیات میں غیب کی خبریں دی گئی ہیں:

( وَإِذْ يَعِدُكُمُ اللَّـهُ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَتَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ وَيُرِيدُ اللَّـهُ أَن يُحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكَافِرِينَ ) ۸:۷

''اور (یہ وہ وقت تھا) جب خدا تم سے وعدہ کررہا تھا کہ (کفار مکّہ کی) دو جماعتوں میں سے ایک تمہارے لیے ضروری ہے اور تم یہ چاہتے تھے کہ کمزور جمعات تمہارے ہاتھ لگے (تاکہ بغیر لڑے بھڑے مال غنیمت ہاتھ آجائے) اور خدا یہ چاہتا تھا کہ اپنی باتوں سے حق کو ثابت (قائم) کرے اور کافروں کی جڑ کاٹ ڈالے۔،،

یہ آیت کریمہ جنگ بدر کے موقع پر نازل ہوئی تھی۔ اس میں مومنین کی فتح اور کفّار کی بیخ کنی کا وعدہ کیا گیا ہے جب کہ مومنین تعداد اور وسائل جنگ دونوں لحاظ سے کم تھے۔ یہاں تک کہ مسلمانوں میں سوار صرف جناب مقداد تھے یا آپ کے ساتھ جناب زبیر بن عوام تھے۔ مسلمانوں کے مقابلے میں کفار ہر لحاظ سے طاقتور تھے اور خود قرآن کریم نے ان کی طاقت کو لفظ ''شوکۃ،، سے تعبیر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ مسلمان ان سے خوفزدہ تھے۔ مگر خدا نے چاہا کہ حق باطل پر غالب آجائے خدا نے اپنا وعدہ پورا کیا، کفار کے مقابلے میں مسلمانوں کی نصرت فرمائی اور کفار کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔


( فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ ) ۱۵:۹۴

''پس جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے اسے واضح کرکے سنا دو اور مشرکین کی طرف سے منہ پھیرلو۔،،

( إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ ) :۹۵

جو لوگ تمہاری ہنسی اڑاتے ہیں ہم تمہاری طرف سے ان کے لئے کافی ہیں۔،،

( الَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّـهِ إِلَـٰهًا آخَرَ ۚ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ ) ۹۶

''جو لوگ خدا کے ساتھ دوسرے پروردگار کوشریک ٹھہراتے ہیں تو عنقریب ہی انہیں معلوم ہوجائیگا۔،،

یہ آیات دعوتِ اسلام کے آغاز میں مکّہ میں نازل ہوئیں۔ بزاز اور طبرانی نے ان کی شانِ نزول کے بارے میں انس بن مالک سے یہ روایت نقل کی ہے:

''یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب نبی کریم مکّہ میں کچھ لوگوں کے قریب سے گزرے۔ آپ کے گزرنے کے بعد ان لوگوں نے آپ کی طرف اشارے کئے اورکہا:هذا الذی یزعم انه نبی و معه جبرئیل ''یعنی یہ وہی آدمی ہے جو یہ خیال کرتا ہے کہ میں نبی ہوں اور میرے ساتھ جبرئیل ہے؟،،(۱)

چنانچہ ان آیات کریمہ میں نبی کی دعوت کی کامیابی، نصرتِ الہٰی اور ان لوگوں کی رسوائی کی خبر دی گئی ہے جنہوں نے آپ کی مخالفت کی تھی، آپ کی نبوّت کا مذاق اڑایا تھا اور جو اس دعوت کی حقارت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

یہ خبر اس وقت دی گئی تھی جب کوئی شخص یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ قریش کی یہ طاقت ختم ہو جائے گی، اس کی حکومت کو زوال آجائے گا اور پیغمبر اسلام اس پر غالب آجائیں گے۔

___________________

(۱) جلال الدین سیوطی، ص ۱۳۳، باب نقول۔


اس قسم کی ایک دوسری آیہ میں ارشاد ہوتا ہے:

( هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ ) ۶۱:۹

''وہ وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچے دین کے ساتھ بھیجا تاکہ اسے دوسرے تمام دینوں پر غالب کرے اگرچہ مشرکی برا ہی (کیوں نہ) مانیں۔،،

انہی غیب کی خبروں میں سے ایک ارشاد الہٰی یہ ہے:

( غُلِبَتِ الرُّومُ ) ۳۰:۲

''(یہاں سے) بہت قریب کے ملک میں (نصاریٰ اہل فارس آتش پرستوں سے) ہار گئے۔،،

( فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُم مِّن بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ )

''مگر یہ عنقریب ہی اپنے ہار جانے کے بعد چند سالوں میں پھر (اہل فارس پر) غالب آجائیں گے۔،،

ان آیات میں جو خبر دی گئی ہے وہ دس سال سے کم عرصے میں واقع ہو کر رہی۔ شاہ روم نے شاہ ایران پر غلبہ پالیا اور رومی لشکر سرزمین فارس میں داخل ہوگیا۔

انہی میں سے ایک آیت یہ بھی ہے:

( أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُّنتَصِرٌ ) ۵۴:۴۴

''کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم بہت قوی جماعت ہیں۔،،

( سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ ) :۴۵

''عنقریب ہی یہ جماعت شکست کھائے گی اور یہ لوگ پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔،،


اس آیت میں کفار کی شکست، ان کے تتر بتر ہونے اور ان کا رعب و ہیبت ختم ہو جانے کی خبر دی گئی ہے۔ یہ واقعہ بھی جنگ بدر کا ہے۔ جب ابوجہل نے اپنے گھِوڑے کو ایڑ لگا کر پہلی صف کی طرف بڑھتے ہوئے کہا تھا:

''ہم آج محمد اور آپ کے اصحاب پر فتح حاصل کریں گے۔،،

چنانچہ خدا نے اس کو اور اس کے لشکر کو ہلاک و برباد کردیا، حق کو ثابت اور روشن کیا، مینارہئ حق بلند ہوا اور اس کا بول بالا ہوا، کفار شکست کھا گئے اور مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہوا۔

یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب کوئی یہ تصوّر بھی نہیں کرسکتا تھا کہ صرف تین سو تیرہ افراد اس طاقتور فوج کو شکست دے دیں گے جو سامانِِ جنگ اور تعداد کے لحاظ سے ان سے کئی گنا زیادہ تھی۔ جبکہ ن تین سو تیرہ افراد کے پاس صرف ایک یا دو گھوڑے اور ستّر اونٹ تھے جن پر یہ باری باری سوار ہوتے تھے، ان کے پاس کوئی جنگی قوّت نہیں تھی۔ اس کے باوجود ان کا پلّہ بھاری رہا اور باطل قوّت کا سارا رعب و ہیبت خاک میں مل گیا۔

اگر امر خدا، احکامِ نبوّت، استحکام اور نیّت صادق نہ ہوتی یہ کامیابی ممکن نہ تھی۔ اسی طرح کی ایک اور آیت میں ارشاد ہوتا ہے:

( تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ )( سَيَصْلَىٰ نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ ) :۱۱۱: ۱ و ۳

''ابو لہب کے ہاتھ ٹوٹ جائیں اور وہ خود ستیاناس ہوجائے۔ وہ بہت بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا اور اس کی جو رو بھی جو سر پرایندھن اٹھائے پھرتی ہے۔،،

اس آیت کریمہ میں ابو لہب اور اس کی بیوی کی جہنمی ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ یعنی قرآن کریم یہ پیشگوئی کررہا ہے کہ یہ دونوں زندگی بھر ایمان نہیں لائیں گے اور ہوا بھی اسی طرح کہ یہ دونوں ایمان لائے بغیر ہلاک ہوگئے۔


قرآن اور اسرار خلقت

قرآن کریم نے بہت سی آیات میں طبیعی قوانین اور افلاک وغیرہ کے مسائل بیان کئے ہیں۔ یہ مسائل ایسے ہیں جن کو سمجھنے کا آغاز اسلام سے ہوا اور سوائے وحی الہٰی کے انہیں سمجھنے کا کوئی اور ذریعہ نہیں تھا۔ اگرچہ ان میں سے بعض قوانین کے بارے میں اس دور کے یونانی یا علوم سے آشنا دیگر افراد کچھ معلومات رکھتے تھے۔ لیکن جزیرۃ العرب اس طرح کے علمی ماحول سے بالکل کٹا ہوا تھا۔

قرآن کریم نے جن مسائل کی خبر دی ہے ان میں سے بعض تو ایسے ہیں جو علوم و انکشافات عام ہونے کے بعد ہی حل کئے جاسکے ہیں۔

قرآن کریم میں ایسی خبریں کم نہیں ہیں۔ان مسائل سے متعلق آیات کی تفسیر کے دوران ہم ان مسائل کاذکر کریں گے۔

قرآن کریم نے مسائل کی خبر انتہائی دور اندیشی اور احتیاط کے ساتھ دی ہے اور ان میں سے بعض کی تصریح کی ہے اور جہاں مصلحت صرف اشارہ کرنے میں تھی وہاں اشارہ کرنے پر اکتفا کیا ہے کیونکہ ان میں سے بعض مسائل ایسے تھے جن کو اس زمانے کے لوگوں کی عقلیں ماننے کے لیے تیار نہیں تھیں۔ اس لیے مصلحت اسی میں تھی کہ ان مسائل کی طرف ایسا اشارہ کردیا جائے کہ جب آئندہ دور میں علم ترقی کرے تو یہ واضح ہو کر سامنے آجائیںٍ۔

وہ مسئلہ، جس کا انکشاف آسمانی وحی کے ذریعے ہوا اور جس کی جانب متاءخرین بعد میں متوجّہ ہوئے، اس کی طرف یہ آیہ کریمہ اشارہ کررہی ہے:

( وَأَنبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ شَيْءٍ مَّوْزُونٍ ) ۱۵:۱۹

''اور ہم نے اس میں ہر قسم کی مناسب چیز اُگائی۔،،


موجودہ دور میں جدید تحقیق کے نتیجے میں یہ ثابت ہوگیا ہے کہ نبات کی تمام اقسام مخصوص اجزاء کا مرکّب ہوتی ہیں۔ ان اجزاء میں اتنا باریک اور نازک توازن ہے کہ جسے مشہور اور دقیق انسانی معیاروں پر بھی پرکھا نہیں جاسکتا۔

جن حیرت انگیز اسرار کی طرف وحی الہٰی میں اشارہ کیا گیا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ بعض درخت اور نباتات ایسے ہیں جو ہواؤں کے ذریعے بار آور ہو کر پھل دیتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے:

( وَأَرْسَلْنَا الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ ) ۱۵:۲۲

''اور ہم ہی نے وہ ہواھیں بھیجیں جو بادلوں کو پانی سے بھرے ہوئے ہیں۔،،

گذشتہ مفسرین نے آیہ کریمہ میں سے ''لقاح،، کا ترجمہ ''اٹھانا،، کیا ہے، کیونکہ ''لقاح،، کے معانی میں سے ایک معنی ''اٹھانا،، ہے اور اس آیہ کریمہ کی تفسیر یہ کی ہے کہ ہوائیں بادلوں کو اٹھاتی ہیں یا بادل بارشوں کو اٹھائے ہوئے ہیں۔ لیکن ان معانی کی کوئی اہمیت نہیں ہے خصوصاً یہ نکتہ مدِّ نظر رکھتے ہوئے کہ ہوائیں بادلوں کو اٹھاتی نہیں ہیں بلکہ انہیں دھکیل کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچا دیتی ہےں۔ ماہرین نباتات کے انکشافات کے مطالعہ اور صحیح فکر و نظر سے اس سربستہ اور دقیق راز کا انکشاف ہوتا ہے جسے گذشتہ علماء کے افکار حاصل نہ کرسکے اس آیت میں اس نکتے کی طرف اشارہ ہے کہ درخت اور نباتات کو ''لقاح،، (بارآوری کا عمل) کی ضرورت ہے اوریہ لقاح خوبانی، صنوبر، انار، مالٹا، روئی اور دیگر دانہ دار نباتات میں ہواؤں کے طریقے انجام پاتا ہے۔ اس کی کیفیت یہ ہے کہ جب شگوفوں کے اندر دانے پک جاتے ہیں تو شگوفوں کے اندر موجود کلیاں کھل جاتی ہیں اور ان کے اندر سے زیرہ ہواؤں کے ذریعے اڑ کر مادہ پودے کے پھولوں پر جاگرتا ہے۔


پس خالق متعال نے اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ ازدواج کی سنت حیوانات سے ہی مختص نہیں ہے بلکہ نباتات اور ان کی تمام اقسام میں بھی اس سنت پر عمل ہوتا ہے، ارشاد ہوتا ہے:

( وَمِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ جَعَلَ فِيهَا زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ ۖ ) ۱۳:۳

''اور اس نے ہر طرح کے میووں کی دو دو قسمیں پیدا کیں۔

( سُبْحَانَ الَّذِي خَلَقَ الْأَزْوَاجَ كُلَّهَا مِمَّا تُنبِتُ الْأَرْضُ وَمِنْ أَنفُسِهِمْ وَمِمَّا لَا يَعْلَمُونَ ) ۳۶:۳۶

''وہ (ہر عیب سے) پاک صاف ہے جس نے زمین سے اگنے والی چیزوں اور خود ان لوگوں کے اور ان چیزوں کے جن کی انہیں خبر نہیں سب کے جوڑے پیدا کئے۔،،

جن رازوں کو قرآن کریم نے منکشف کیا ہے ان میں سے ایک حرکت زمین ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:

( الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ مَهْدًا ) ۲۰:۵۳

''وہ ہی ہے جس نے تمہارے (فائدے کے)واسطے زمین کو (گہوارہ) بنایا۔،،

توجہ فرمائیں! یہ آیہ شریفہ کس دلکش انداز میں حرکت کی طرف اشارہ اور اس حقیقت کو بے نقاب کررہی ہے جسے انسان صدیوں سے سمجھ سکا ہے، اس آیہ شریفہ میں زمین کو ''مہد،، (گہوارہ) سے تعبیر کیا جارہا ہے جو شیر خوار بچوں کے لیے استعمال میں لایا جاتا ہے تاکہ اس کی آہستہ اور پرسکون حرکت سے بچہ آرام کی نیند سوجائے۔ کرہئ زمین بھی انسان کے لیے گہوارہ کی مانند جس کی حرکت وضعی اور حرکت انتقالی کے نتیجے میں اس پر بسنے والی مخلوق کو آرام و سکون ملتا ہے، جس طرح گہوارے کی حرکت کے ساتھ ساتھ بچہ پرورش پاتاہے اسی طرح زمین کی روزانہ اورسالانہ حرکت کے نتیجہ میں انسان اور کائنات کی دوسری مخلوقات پرورش پاتی ہیں۔


آپ نے دیکھا کہ اس آیہ کریمہ میں حرکت زمین کی طرف ایک لطیف اشارہ کیا گیا ہے اور بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ زمین کے لئے حرکت کرتی ہے۔ اس لیے کہ یہ آیہ کریمہ ایسے زمانے میں نازل کی گئی جب تمام عقلاء زمین کے ساکن ہونے پر متفق تھے بلکہ اسے مسلمات میں شمار کیا جاتا تھا اور یہ امر قابل شک و تردید نہیں تھا۔(۱)

جن بھیدوں کو قرآن کریم نے چودہ صدیاں قبل آشکارا کیا ان میں سے ایک، ایک اور براعظم کے وجود کا انکشاف ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:

( رَبُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ ) ۵۵:۱۷

''وہی (جاڑے گرمی کے) دونوں مشرقوں کا مالک اور دونوں مغربوں کا (بھی) مالک ہے۔،،

یہ آیہ کریمہ کئی سال تک مفسرّین کی توجہات کا مرکز بنی رہی اور اس کی تفسیر میں مختلف نظریئے قائم کئے گئے۔ بعض مفسرین نے فرمایا، ''مشرقین،، سے مراد شرق شمس اور غرب قمر ہے۔ بعض نے فرمایا ''مشرقین،،سے مراد موسم سرما و گرما کے طلوع و غروب ہیں۔ لیکن ظاہراً ایسا نہیں ہے، بلکہ اس آیہ شریفہ ''مشرقین،، ایک اور برّاعظم کی طرف اشارہ ہے جو کہ دوسری سطح پر ہے، جہاں سورج جب طلوع ہوتا ہے تو دوسری طرف غروب ہوجاتا ہے، اس نظریہ کی دلیل یہ آیہ شریفہ ہے:

( حَتَّىٰ إِذَا جَاءَنَا قَالَ يَا لَيْتَ بَيْنِي وَبَيْنَكَ بُعْدَ الْمَشْرِقَيْنِ فَبِئْسَ الْقَرِينُ ) ۴۳:۳۸

''جب (قیامت میں ) ہمارے پاس آئے گا تو (اپنے ساتھی شیطان سے) کہے گا کاش مجھ میں اور تجھ میں پورے پچھم کافاصلہ ہوتا۔،،

____________________

(۱) ایک ہزار ہجری کے بعدکلیلو نے جرت کرتے ہوئے زمین کی دو حرکتیں ''وضعیہ اور انتقالیہ،، ثابت کیں جس کی وجہ سے اس کی سخت توہین کی گئی اور اس پر اتنا تشدد کیا گیا کہ وہ قریب المرگ ہویا۔ اس کے بعد اس عظیم علمی شخصیت کو طویل عرصہ تک قید میں رکھا گیا، جس کے بعد یورپی سائنس دان چرچ کی قدامت پسندانہ خرافات کے خوف سے اپنی جدید اور عمدہ تحقیق کو پوشیدہ رکھنے لگے جو ان فرسودہ خرافات کے خلاف تھی۔


اس آیہ کریمہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مشرقین کے درمیان فاصلہ ان تمام مسافتوں سے زیادہ ہے جنہیں انسان محسوس کرسکتا ہے اور شرق شمس اور شرق قمر کے درمیان فاصلہ اتنا زیادہ نہےں ہے جو تمام مسافتوں سے زیادہ ہو، اس لیے مشرقین سے مراد مشرق و مغرب کی مسافت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کرہئ ارض کے ایک حصّے کا مغرب، دوسرے حصّے کا مشرق ہے اور اسی صورت میں ''مشرقین،، کا اطلاق صحیح ہوگا۔ بنابراین آیہ کریمہ زمین کے جزء کے موجود ہونے پر دلالت کرتی ہے جس کا انکشاف نزولِ قرآن کے سینکڑوں سال بعد کیا گیا ہے۔

اسی بناء پر قرآنِ کریم میں ''مغرب،، اور ''مشرق،، جہاں واحد کی صورت میں استعمال کئے گئے ہیں، اس سے مراد جنس مشرق اور مغرب ہے۔ جس طرح ''خلق الانسان،، ہے۔ ورنہ انسان ایک نہیں اربوں ہیں۔ جیسا کہ آیتِ شریفہ میں ہے:

( وَلِلَّـهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۚ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّـهِ ۚ ) ۲:۱۱۵

''(ساری زمین) خدا ہی کی ہے (کیا) پورب (کیا) پچھم پس جہاں کہیں (قبلہ کی طرف) رُخ کرلو، وہیں خدا کا سامنا ہے۔،،

اور جہاں ''مشرق،، اور ''مغرب،، کو تثنیہ کی صورت میں استعمال کیا گیا ہے اس سے مراد دوسرا براعظم ہے جو زمین کی دوسری سطح پر ہے۔ جہاں ''مغرب،، اور ''مشرق،، کے لیے جمع کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے اس سے مراد زمین کے مختلف حصے ہیں، جس طرح ان آیات میں ہے:

( وَأَوْرَثْنَا الْقَوْمَ الَّذِينَ كَانُوا يُسْتَضْعَفُونَ مَشَارِقَ الْأَرْضِ وَمَغَارِبَهَا الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا ۖ ) ۷:۱۳۷

''اور جن بے چاروں کو یہ لوگ کمزور سمجھتے تھے انہی کو (ملکِ شام کی) زمین کے پورپ پچھم (سب) کا وارث (و مالک) بنا دیا۔،،


( رَّبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَرَبُّ الْمَشَارِقِ ) ۳۷:۵

''جو سارے آسمان اور زمین کا اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے اور مشرقوں کا پروردگار ہے۔،،

( فَلَا أُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشَارِقِ وَالْمَغَارِبِ إِنَّا لَقَادِرُونَ ) ۷۰:۴۰

''تو میں مشرقوں و مغربوں کی پروردگار کی قسم کھاتا ہوں کہ ہم ضرور اس بات کی قدرت رکھتے ہیں۔،،

ان آیات کریمہ سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ طلوع شمس اور غروب شمس کے مقامات متعدد ہیں اور اس میں زمین کے گول ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، کیونکہ جب سورج کرہئ ارض کے ایک رخ پر طلوع ہوگا تو لامحالہ دوسرے رُخ پر غروب ہوگا۔

یہ مسئلہ واضح ہے، متعدد مشرق و مغرب ثابت کرنے کے لیے کسی زحمت کی ضرورت نہیں ہے، جس میں قرطبی پڑگئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ''مشارق و مغارب،، سے مراد ایامِ سال کے مشرق و مغرب ہیں۔(۱) لیکن اس زحمت کا کوئی جواز نہیں ہے کیونکہ طلوع آفتاب کی کوئی خاص اور معین جگہیں نہیں ہیں جن کی قسم کھائی جائے، بلکہ زمینوں کے حصّے مختلف ہونے کے ساتھ ساتھ ''مشارق،، بھی مختلف ہیں۔ پس معلوم ہو ا کہ ''مشارق،، اور ''مغارب،، سے مراد زمین کے وہ حصّے ہیں

جو زمین کے گول اور متحرک ہونے کی وجہ سے بتدریج سورج کے سامنے آتے رہتے ہیں۔

ائمہ (علیہم السلام) کی روایات، دعائیں اور خطبے بھی زمین کے گول ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ ان میں سے ایک روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

___________________

(۱) یعنی جتنے دن ہوں گے اتنے ہی مشرق و مغرب ہوں گے۔(مترجم)


صحبنی رجل کان یمسی بالمغرب و یغلس بالفجر، و کنت انا اصلی المغرب اذا غربت الشمس، اصلی الفجر اذا استبان الفجر ۔فقال لی الرجل: ما یمنعک ان تصنع مثل ما اصنع؟ فان الشمس تطلع علی قوم قبلنا و تغرب عنا، و هی طالعة علی قوم آحرین بعد ۔فقلت: انما علینا ان نصلی اذا وجبت الشمس عنا و اذا طلع الفجر عندنا، و علی اولئک ان یصلوا اذا غربت الشمس عنهم (۱)

''بعض سفروں میں میرا ایک ہمسفر، نماز مغرب، رات گئے اور نماز صبح، آخر شب(۲) میں پڑھا کرتا تھا، جبکہ میں نماز مغرب، غروب آفتاب اور نماز صبح، طلوع فجر کے فورا بعد پڑھ لیا کرتا تھا۔ اس شخص نے مجھ سے کہا: آپ بھی میری طرح نماز پڑھیئے، بعض لوگوں پر (دوسرے شہروں میں) سورج ہم سے پہلے طلوع ہوجاتا ہے اور اس وقت ہماری طرف غروب ہوتا ہے اور بعض مقامات پر سورج ابھی موجود ہوتا ہے، میں نے اس شخص سے کہا: ہماری شرعی تکلیف یہ ہے کہ جب ہماری طرف سورج غروب ہو تو نماز مغرب پڑھیں اور جب ہمارے یہاں طلوع فجر ہو تو نماز صبح پڑھیں اور دوسرے شہروں کے لوگوں کی شرعی تکلیف یہ ہے کہ وہ اپنے شہروں کے غروب کے مطابق نماز پڑھیں۔،،

اس روایت میں امام کا ہمسفر، زمین گول ہونے کی وجہ سے مشرق و مغرب میں جو تفاوت پیدا ہوتا ہے اس سے اپنے مدعا پر استدلال کررہا تھا امام نے اس کی اس بات سے اتفاق کیا لیکن نماز کے سلسلے میں جو شرعی تکلیف ہے اس کی طرف اسے متوجہ کیا۔

اس قسم کی دوسری روایت میں امام فرماتے ہیں:

انما علیک شرقک و مغربک

''تجھے اپنے مشرق و مغرب کا خیال رکھنا چاہیے،،

اسی طرح امام زین العابدین اپنی صبح و شام کی دعاؤں میں فرماتے ہیں:

و جعل لکل واحد منهما حداً محدوداً، و أمداً ممدوداً، یولج کل واحد منهما فی صاحبه، و یولج

''اور خدا نے ایک خاص اندازے کے مطابق دن اور رات کے لیے ایک معین حد اور خاص مدّت مقرر کی وہ دن

____________________

(۱) الوسائل، ج ۱، ص ۲۳۷، باب ۱۱۶، ان الوقت المغرب غروب شمس۔

(۲) قبل از طلوع فجر (مترجم)

صاحبه فیه بتقدیر منه للعباد (۱)

کو رات میں داخل کرتا ہے اور اسی وقت رات کو دن میں داخل کرتا ہے، اسی اندازے کے مطابق جو اپنے بندوں کے لیے مقرر کیا ہے۔،،

امام اپنے اس شیریں اور دلکش بیان سے زمین گول ہونے کی وضاحت فرمارہے ہیں، چونکہ یہ مطلب اس زمانے کے لوگوں کے ذہنوں سے بہت دور تھا اس لیے آپ نے ایک بلیغ انداز میں اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔

اگر امام یہ بتانا چاہتے کہ کبھی رات گھٹ جاتی ہے اور دن اسی تناسب سے بڑھ جاتا ہے اور کبھی دن گھٹ جاتا ہے اور رات اسی تناسب سے لمبی ہو جاتی ہے، جس کا مشاہدہ عام لوگ بھی کرتے ہیں تو امام صرف پہلے جملے ''یولج کل واحد منھما فی صاحبہ،، پر اکتفاء کرتے اور دوسرے جملے ''یولج صاحبہ فیہ،، کی ضرورت نہ ہوتی اس بناء پر دوسرا جملہ یہ بتانے کے لیے ارشاد فرمایا کہ جب دن کو رات میں داخل کیا جاتا ہے تو اسی وقت رات کو بھی دن میں داخل کیا جاتا ہے اسی طرح جب رات کو دن میں داخل کیا جاتا ہے تو دن کو بھی رات میں داخل کیا جاتا ہے کیونکہ ظاہر کلام سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ دوسرا جملہ پہلے جملے کی حالت بیان کررہا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ امام کی یہ تعبیر زمین کے گول ہونے کے علاوہ اس حقیقت پر بھی دلالت کرتی ہے کہ جب ہمارے یہاں رات کو دن میں داخل کیا جاتا ہے تو اسی وقت دوسرے شہروںمیں دن کو رات میں داخل کیا جاتا ہے اگر امام اس اہم نکتے کی طرف اشارہ نہ فرمانا چاہتے تو اس دوسرے جملے ''و یولج صاحبہ،، کا کوئی فائدہ نہ ہوتا بلکہ یہ معنوی اعتبار سے پہلے جملے کی تکرار ہوتا۔

ہم اس کتاب میں اعجاز قرآن کے انہی مذکورہ پہلوؤں پر اکتفا کرتے ہیں۔ اسی سے ثابت ہو جاتا ہے کہ قرآن کریم وحی الہٰی ہے اور یہ بشر کی طاقت سے باہر ہے۔ اس کے علاوہ قرآن کریم کے وی الہی ہونے کو ثابت کرنے کےلئے یہی دلیل کافی ہے کہ قرآن وہ یگانہ مدرسہ ہے جس کی فارغ التحصیل ذات اقدس حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) ہیں جن کا کلام سمجھنے کے بعد بڑے بڑے دانش مند فخر کرتے ہیں اور جن کے بحر علم سے نامور محققین سیراب ہوتے ہیں۔

____________________

(۱) صحیفہ سجادیہ کامل


نہج البلاغۃ کے خطبات آپ کے سامنے ہیں۔ جب آپ کسی موضوع پر لب کشائی فرماتے تو اس میں کسی اور کے لیے گنجائش باقی نہ رہنے دیتے۔ حتیٰ کہ جن کو آپ کی معرفت نہیںہے وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ آپ نے اپنی ساری عمر اسی موضوع پر تحقیق کرنے میں گزار دی ہوگی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپ کے علوم و معارف وحی الہٰی سے جاملتے ہیں کیونکہ جو آدمی جزیرۃ العرب خاص کر حجاز کی تاریخ سے آگاہ ہے وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ یہ علوم سرچشمہئ وحی سے نہیں لئے گئے۔

نہج البلاغۃ کی تعریف میں یہ جملہ بہترین کہا گیا ہے:

''انه دون کلام الخالق و فوق کلام المخلوق،،

''بیشک یہ کلامِ خالق سے نیچے اور کلامِ مخلوق سے بالاتر ہے۔،،

بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ علی (علیہ السلام) جیسے فصیح و بلیغ اور دریائے علم و عرفان انسان کا اعجاز قرآن کی تصدیق کرنا خود اس کی دلیل ہے کہ قرآن اعجام الہٰی ہے۔ کیونکہ یہ مسلم ہے کہ آپ نے جہالت سے دھوکے میں آکر تصدیق نہیں کی اور یہ ممکن بھی نہیں اس لیے کہ آپ فصاحت و بلاغت کے بادشاہ، تمام اسلامی علوم کا سرچشمہ اور علوم و معارف کا اعلیٰ نمونہ ہیں۔ دوست اور دشمن آپ کی شخصیت اور فضیلت کے معترف ہیں۔

یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ آپ کی تصدیق ظاہری اور سطحی ہو جو دنیاوی منفعت اور جاہ و مال کی خاطر کی گئی ہو، کیونکہ آپ کی ذات مجسمہئ زہد و تقویٰ ہے، جس نے دنیا اور اس کی زینتیں پس پشت ڈال دی تھیں اور مسلمانوں کی حکومت کو اس وقت ٹھکرا دیا تھا جب سیرت شیخین پر چلنے کی شرط لگائی گئی تھی، یہ وہی علی (علیہ السلام) ہیں جنہوں نے معاویہ کے ساتھ اتنی بھی نرمی نہ برتی کہ چند دن اس کے پاس شام کی حکومت رہنے دیتے جبکہ آپ جاتنے تھے کہ اس کو حکومت سے معزول کرنے کا نتیجہ کیا ہوگا۔

لہٰذا ماننا پڑے گا کہ اعجاز قرآن کی یہ تصدیق ایک حقیقی تصدیق تھی جو واقعے کے بالکل مطابق تھی اور جس کی اساس سچا ایمان تھا۔


اعجازِ قُرآن اور اوہام

٭ پہلا اعتراض ۔۔۔ جواب

٭ دوسرا اعتراض ۔۔۔ جواب

٭ تیسرا اعتراض ۔۔۔ جواب

٭ چوتھا اعتراض ۔۔۔ جواب

٭ پانچواں اعتراض ۔۔۔ جواب

٭ چھٹا اعتراض ۔۔۔ جواب

٭ ساتواں اعتراض ۔۔۔ جواب

٭ آٹھواں اعتراض ۔۔۔ جواب

٭ نواں اعتراض ۔۔۔ جواب

٭ قرآن کا مقابلہ


قرآن نے پوری انسانیت کو قرآن کی ایک سورۃ کی مثل لانے کا چلنج کیا۔ مگر کوئی انسان اس کا مقابلہ نہ کرسکا۔ دشمنانِ اسلام و دین کو یہ امر نہایت گراں گزرا اور انہوں نے اپنے خیالی شبہارت کے ذریعے قرآن کریم کو اس کے بلند مقام سے گرانے کی کوشش کی تاکہ وہ اپنے فاسد مذہب کی تائید کرسکیں۔

بہتر ہے کہ ہم ذیل میں وہ شبہات بیان کریں جن پر انہوں نے اپنا وقت ضائع کیا ہے تاکہ ان دشمنان قرآن و اسلام کی علمی سطح سامنے آجائے اور یہ بھی معلوم ہو جائے کہ خواہشات نفسانی انہیں کس طرح گمراہ کن راستوں اور ہلاکتوں کے گڑھے میں پھینکتی ہیں۔

پہلا اعتراض

قرآن کی کچھ باتیں بلاغت کے اعتبار سے معیاری نہیں ہیں کیونکہ وہ عربی قواعد کے خلاف ہیں اور ایسی باتیں معجزہ نہیں ہو سکتیں۔

جواب:

یہ اعتراض دو لحاظ سے باطل ہے:

اولاً: قرآنِ کریم فصحاء و بلغاء عرب کے درمیان نازل ہوا اور ان کو ایک سورۃ تک کے مقابلے کا چیلنج کیا اور یہ بھی اعلان کردیا کہ چاہے سب ملک کر اس کے مقابلے میں آجائیں لیکن قرآن سے مقابلہ کرنا انسانی قدرت سے باہر ہے۔ اگر قرآن میں کلام و قواعدِ عرب کے خلاف کوئی بات ہوتی تو عرب بلغاء جو اسلوب لغت اور اس کی خصوصیات سے آگاہ تھے، فوراً اس کی نشاندھی کرتے، اسے قرآن کے خلاف حجّت و دلیل قرار دیتے اور انہیں زبانوں اور تلواروں سے مقابلہ کرنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ اگر قرآن میں ایسی کوئی بات ہوتی تو تاریخ اسے محفوظ کرلیتی۔ اسے دشمنانِ اسلام تواتر کے ساتھ نقل کرتے اور اس کا چرچا ہوتا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ایسی کسی بات کو خبرِ واحد بھی نقل نہیں کیا گیا۔


ثانیاً: قرآن کریم ایسے دور میں نازل کیا گیا، جب قواعد عربی کا نام و نشان تک نہ تھا۔ ان قواعد و ضوابط کو نزولِ قرآن کے بعد بلغاء کے کلمات کے تتبع اور ان کی ترکیبوں کی جستجو کرکے مرتب کیا گیا اور اسے ایک مستقل علم کی شکل دی گئی۔ بغرض تسلیم اگر قرآن کو وحی الہٰی نہ مانا جائے، جس کا کہ فریق مدعی ہے، تب بھی اس کے بلیغ عربی کلام ہونے میں تو کوئی شک نہیں ہے۔ اس بناء پر قرآن کو قواعدِ عربیہ کا مدرک ہونا چاہیے اور اس کا مرتبہ پیغمبر اسلامؐ کے ہم عصر دوسرے بلغاء کے کلام سے کم نہیں ہونا چاہیے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر عربی گرائمر کے جدید کلیے قرآن کے خلاف ہوں تو یہ جدید کلیوں کے ٹوٹنے کے متراف ہوگا اور ان کی وجہ سے قرآن استعمال پر اعتراض نہیں ہوسکتا۔ اس کے علاوہ یہ اعتراض اس وقت درست ہوتا جب قرآن کی تمام قراءتیں مورد اعتراض عبارت پر متفق ہوتیں۔

انشاء اللہ ہم ثابت کریں گے کہ تمام مشہور قراءتیں قاریوں کے ذاتی اجتہاد کا نتیجہ ہیں اور یہ پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) سے تواتر کے ساتھ منقول نہیں ہیں۔ اس بناء پر ان میں سے کسی پر اگر اعتراض کیا جائے تو یہ صرف اسی قراءت پر اعتراض ہوگا اور اس سے قرآن کی عظمت پر کوئی زد نہیں پڑتی۔


دوسرا اعتراض

کلام بلیغ معجزہ نہیں ہوسکتا، اگرچہ انسان اس کی نظیر پیش نہ کرسکے۔ کیونکہ اس کی بلاغت اور اس کے معجزہ ہونے کے تمام افراد نہیں سمجھ سکتے بلکہ بعض خاص اور محدود افراد سمجھ سکتے ہیں۔

معجزہ وہ ہوسکتا ہے جس کے اعجاز کو تمام انسان سمجھ سکیں، کیونکہ ہر فرد مکلّف ہے کہ وہ صاحب معجزہ کی تصدیق کرے۔

جواب:

پہلے اعتراض کی طرح اس اعتراض کا بھی کوئی وزن نہیں ہے، اس لیے کہ معجزہ کے لیے یہ شرط نہیں ہے کہ تمام لوگ معجزہ کو درک کرسکیں۔ اگر معجزہ کے لیے یہ شرط ہوتی تو کوئی معجزہ معجزہ نہ ہوتا۔ اس لیے کہ اعجاز کو مخصوص لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں جو دوسروں کے نزدیک تواتر سے ثابت ہوتا ہے۔

جیسا کہ ہم نے اس سے قبل بتایا ہے کہ قرآن کو دوسرے معجزات کی نسبت یہ امتیاز حاصل ہے اگرچہ زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ تواتر کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے، لیکن قرآن ایک ایسا ابدی معجزہ ہے جو اس وقت تک باقی رہے گا جب تک عرب قوم باقی ہے بلکہ اس وقت تک باقی رہے گا جب تک ایسا آدمی موجود ہے جو لغت عرب کی خصوصیات سمجھ سکتا ہے، چاہے وہ عرب نہ بھی ہو۔


تیسرا اعتراض

کوئی بھی انسان جو عربی لغت سے آشنائی رکھتا ہو، الفاظ قرآن میں سے کسی کلمہ کی مثل پیش کرسکتا ہے۔ جب ایک کلمے کی مثل لانا ممکن ہے تو پورے قرآن کی مثل بھی پیش کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ مثلوں (یکساں چیزوں) کاحکم ایک ہی ہوا کرتا ہے۔(۱)

جواب:

یہ ایسا اعتراض ہے جو ذکر اور شمار میں لانے کے قابل ہی نہیں۔ کیونکہ کلمات قرآن میں سے ایک کلمہ، بلکہ جملوں میں سے ایک جملہ کے مثل لانے پر بھی قادر ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ پورے قرآن یا ایک سورۃ کی مثل لانے پر بھی قادر ہو، کیونکہ مواد اور مفردات پر قادر ہونے کا لازمہ یہ نہیں کہ ترکیب پر بھی قادر ہو۔

اس لیے ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ چونکہ ہر انسان دو تین ا نٹییں جوڑ سکتا ہے اس لیے وہ پوری عمارت بنانے پر بھی قادر ہے، اسی طرح یہ بھی کہا جاسکتا کہ چونکہ ہر عرب ایک کلمہ مفردات بنانے کی قدرت رکھتا ہے اس لیے وہ خطبے اور قصیدے بھی کہہ سکتا ہے اور یہی شبہ و اعتراض اس کا باعث بنا کہ نظام (نامی شخص) اور اس کے تابعین اعجازِ قرآن کے بارے میں صرفہ(۲) کے قائل ہوگئے اور یہ قول و نظریہ انتہائی ضعیف ہے کیونکہ:

____________________

(۱) اگر یکساں چیزوں میں سے ایک جائز ہے تو دوسری بھی جائز ہوگی اور اگر ایک ناجائز ہے تو دوسری بھی ناجائز ہوگی۔ (مترجم)

(۲) یعنی انسان تو قرآن کی نظیر لانے پر قادر ہے مگر خدا اس میں مانع ہے۔


اولاً: اگر ''صرفہ،، کا مطلب یہ ہو کہ خدا انسان کو قرآن کی نظیر پیش کرنے کی قدرت دے سکتا ہے لیکن خدا نے یہ قدرت کسی کو بھی عطا نہیں کی تو یہ مطلب بذاتِ خود صحیح ہے لیکن یہ صرف قرآن سے مختص نہیں ہے بلکہ ہر معجزہ کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے اور اگر ''صرفہ،، کا مطلب یہ ہو کہ لوگ تو قران کی نظیر پیش کرنے پر قادر ہیں لیکن خدا ان کو مقابلہ کرنے سے روکتا ہے تو اس بُطلان واضح ہے۔ کیونکہ بہت سوں نے قرآن کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے اور انوہں نے اپنی عاجزی کا اعتراف کرلیا۔

ثانیاً: اعجاز قرآن اگر صرفہ کی وجہ سے ہوتا تو قرآن کے اس چیلنج سے قبل عربوں کے کلام میں اس کی نظیر موجود ہونی چاہیے تھی اور اگر اس کی نظیر موجود ہوتی تو خبر متواتر کے ذریعے اسے نقل کیا جاتا کیونکہ اس کے نقل کئے جانے کے عوامل اور مقتضی بہت سے ہیں جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ لوگو ںکے کلام میں کہیں بھی اس کی نظیر موجود نہیں ہے اور نہ ہی اسے نقل کیا گیا ہے۔

اس سے ہم اس نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں کہ قرآن بذات خود ایک معجزہ ہے اور یہ بشر کی طاقت سے باہر ہے۔


چوتھا اعتراض

اگر اعجام قرآن مان بھی لیا جائے پھر بھی نبی اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کی نبوّت ثابت نہیں ہوتی جن پر یہ نازل ہوا ہے، کیونکہ قرآن کے قصّے اور واقعات عہد جدید و قدیم کے قصّوں اور واقعات سے مختلف ہیں جن کا وحی الہٰی ہونا تواتر سے ثابت ہے۔

جواب:

قرآن کی طرف سے عہد جدید و قدیم کی کتب میں موجود خرافات اور بے ہودہ قصّوں ہی کی وجہ سے ان کے وحی الہٰی ہونے میں باقی ماندہ شک بھی دُور ہو جاتا ہے کیونکہ قرآن خرافات، شبہات اور ان باتوں سے پاک ہے جن کی خدا اور

انبیاء (علیہم السلام) کی طرف سے نسبت دینا عقلی طور پر جائز نہیں ہے اس بناء پر قرآن کا کتبِ عہدین کے خلاف ہونا ہی اس کے وحیِ الہٰی ہونے کی دلیل ہے۔ ہم گذشتہ مباحث میں کتبِ عہدین میں موجود خرافات کی طرف اشارہ کرچکے ہیں۔

پانچواں اعتراض

قرآن کریم تضاد کا شکار ہے۔ لہٰذا وحی الہٰی نہیں ہوسکتا ان کے خیال میں یہ تضاد بیانی دو جگہ کی گئی ہے۔

پہلی جگہ: خدا کا یہ فرمان:

( قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ إِلَّا رَمْزًا ۗ ) ۳:۴۱

''ارشاد ہوا کہ تمہاری نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے بات نہ کرسکو گے مگر اشارے سے۔،،

اس آیت کے متضاد ہے:

( قَالَ آيَتُكَ أَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلَاثَ لَيَالٍ سَوِيًّا ) ۱۹:۱۰

''حکم ہوا تمہاری پہچان یہ ہے کہ تم تین رات (دن) برابر لوگوں سے بات نہیں کرسکو گے۔،،


جواب:

کبھی تو ''یوم،، سے مراد دن کی سفیدی ہوتی ہے، جس طرح اس آیت کریمہ میں ہے:

( سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا ) ۶۹:۷

''خدا نے اسے (ہوا کو) سات رات اور آٹھ دن لگاتار ان پر چلایا۔،،

''مقرر کردیا اس کو ان پر سات رات اور آٹھ دن تک لگاتار،،

اور کبھی ''یوم،، سے مراد دن رات کا مجموعہ ہوتا ہے، جس طرح اس آیت میں ہے:

( تَمَتَّعُوا فِي دَارِكُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ) ۱۱ :۶۵

''تب صالح نے کہا اچھا تین دن تک (اور) اپنے اپنے گھر میں فائدہ اٹھالو۔،،

اسی طرح کبھی ''لیل،، سے مراد وہ سارا عرصہ ہوتا ہے جس میں سورج غائب رہتا ہے۔ چنانچہ آیہ میں ہے:

( وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ ) ۹۲:۱

''رات کی قسم جب (سورج) کو چھپالے۔،،

( سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا ) ۶۹:۷

''سات رات اور آٹھ دن لگاتار ان پر ہوا چلائی۔،،

اور کبھی اس سے رات کی تاریکی اور دن دونوں مراد ہوتے ہیں جس طرح اس آیہ میں ہے:

( وَإِذْ وَاعَدْنَا مُوسَىٰ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ) ۲:۵۱

''اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ہم نے موسی سے چالیس راتوں کا وعدہ کیا تھا۔،،


لفظ لیل و نہار ان دونوں معنوں میں کثرت سے استعمال ہوتے ہیں اور مذکورہ ان دونوں آیتوں میں ''یوم،، اور ''لیل،، دوسرے (دن اور رات کے) معنی ہیں استعمال کیے گئے ہیں۔ تضاد کا تو ہم اس صورت میں ہوسکتا تھا جب ''یوم،، اور ''لیل،، پہلے معنی(۱) میں استعمال ہوں۔ یہ سب ایک واضح اور ناقابل انکار حقیقت ہے۔ لیکن بعض توہم پرست قرآن کی عظمت کم کرنے کے خیال سے اس حقیقت کا انکار کرتے ہیں جبکہ ان دونوں کلموں ''یوم،، و ''لیل،، کے استعمال سے انجیل پر جو تضاد بیانی لازم آتی ہے اس سے یہ غافل ہیں یا تغافل سے کام لیتے ہیں۔

انجیل متیٰ کے بارہویں باب میں مذکور ہے:

''مسیح نے خبر دی کہ ان کا جسم تین دن یا تین رات زیر زمین مدفون رہے گا۔،،

جبکہ اسی انجیل متیٰ اور باقی تین انجیلوں کا اتفاق ہے کہ حضرت مسیح روز جمعہ کے آخری کچھ وقت، ہفتہ کی رات اور زمین اور اتوار کی رات، صبح سے پہلے تک زیر زمین رہے۔

انجیلوں کے آخری حصّے کا مطالعہ کری اور پھر انجیل متیٰ کے لکھنے ولوں اور اس کی وحی الہٰی سمجھنے والوں سے پوچھیں کہ تین دن اور تین راتیں کیسے بنتی ہیں؟

مقام حیرت ہے کہ مغربی سائنس دان اور مفکّرین کتب عہدین، جو خرافات اور تضادات سے بھری پڑی ہیں، پر ایمان لاتے ہیں لیکن اس قرآن کریم پر ایمان نہیں لاتے جو بشر کی ہدایت اور دنیا و آخرت میں سبکی سعادت کی ضمانت دیتا ہے۔ لیکن تعصّب ایک ایسی بیماری ہے جس کا کوئی علاج نہیں اور حق کے متلاشی کم ہی ہوتے ہیں۔

____________________

(۱) یوم: دن کی روشنی ۔۔۔ لیل: رات کی تاریکی۔ (مترجم)


دوسری جگہ: قرآن کبھی تو اعمال کی نسبت بندوں کی طرف دیتا ہے اورکہتا ہے کہ بندے اپنے ارادہ و اختیار سے اعمال انجام دیتا ہیں۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:

( فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَمَن شَاءَ فَلْيَكْفُرْ ) ۱۸:۲۹

''بس جو چاہے مانے اور جو چاہے نہ مانے۔،،

اس معنی کی اور بہت سی آیات ہیں جو انسانوں کے اپنے اعمال اور افعال میں خود مختار ہونے پر دلالت کرتی ہیں اور کبھی

یہ افعال کی نسبت خدا کی طرف دیتا ہے اور اسی کو مختار کل قرار دیتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:

( وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ ۚ ) ۷۶:۳۰

''جب تک خدا کو منظور نہ ہو تو لوگ کچھ بھی چاہ نہیں سکتے۔،،

مخالفین قرآن کا گمان یہ ہے کہ اس آیہ کے مطابق بندے اپنے افعال میں مجبور ہیں اور ان کا یہ کہنا ہے کہ یہ ایک واضح تضاد ہے اور ان آیات کی توجیہ و تاویل کرناظاہر قرآن کے خلاف اور دعویٰ بلا دلیل ہے۔

جواب: ہر انسان فطری طور پر یہ سمجھتا ہے کہ بعض افعال اس کی قدرت اور اختیار میں ہیں جنہیں وہ انجام بھی دے سکتا ہے اور ترک بھی کرسکتا ہے۔ یہ ایک فطری حکم اور فیصلہ ہے، اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ ہاں! اگر بیرونی عوامل کی وجہ سے کوئی شک و شبہ پیدا ہوجائے تو دوسری بات ہے۔

چنانچہ تمام عقلاء کا اتفاق ہے کہ برے کاموں پر انسان کی مذمت کی جاتی ہے اور نیک کاموں پر اس کی تعریف کی جاتی ہے۔ یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ انسان اپنے کاموں میں خود مختار ہے اور وہ یہ افعال انجام دینے پر مجبور نہیں ہے۔


مثلاً عقلمند بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ اگرچہ بعض افعال اس کے دائرہئ اختیار میں ہیں چاہے وہ انہیں انجام دے اور چاہے انہیں ترک کردے لیکن ان کے اکثر مقدمات اس کے اختیار سے باہر ہیں۔ مثلاً ان مقدمات میں انسان کا اپنا وجود، زندگی، کسی فعل کو درک کرنا اور اس فعل کا شوق اور اسے چاہنا، اس فعل کا انسانی خواہشات میں سے کسی ایک خواہش سے سازگار ہونا اور اس کے ایجاد پر قادر ہونا۔ یہ امور ان مقدّمات میں شامل ہیں۔ ظاہر ہے اس قسم کے مقدّمات انسان کے اختیار سے خارج ہیں اور ان امور کی موجد اور فاعل حقیقی وہی ذات ہے جو خود انسان کی موجد اور خالق ہے۔

یہ بات اپنے مقام پر مسلم ہے کہ انسان میں موجود ان اشیاء کا خالق انہیں خلق فرمانے کے بعد منعزل اور دست بردار نہیں ہو جاتا بلکہ یہ اشیاء اپنی بقاء کے لیے ہر لمحہ میں اس موثر اور خالق حقیقی کی محتاج ہےں۔

خالق کائنات کی مثال ایک معمار کی سی نہیں ہے کہ وہ اپنی کاریگری سے ایک مرتبہ دیوار بنا دے اور اس کے بعد دیوار اپنے بنانے والے سے بے نیاز ہو جائے اور بنانے والے کے مرنے کے بعد بھی یہ دیوار قائم دائم رہے۔ اور نہ اس مؤلف کی طرح ہے کہ کتاب اپنے وجود میں تو اس کی محتاج ہے لیکن اپنی بقا میں اس سے بے نیاز ہے بلکہ خالق کائنات کی مثال (''و للہ المثل الا علیٰ،، یعنی اگرچہ خدا تمام مثالوں سے بالاتر ہے) اس بجلی کے پاور ہاؤس کی مانند ہے جو روشنی کے لیے مؤثر ہے۔ ظاہر ہے جب تک تاروں کے ذریعے پاور ہاؤس سے کرنٹ نہ ملے روشنی نہیں ہوسکتی اور روشنی، ایک مرتبہ روشنی ملنے کے بعد بھی اپنی بقاء میں لمحہ بہ لمحہ اس کرنٹ اور پاور کی محتاج ہے اور جب بلب کی تار پاور ہاؤس سے جدا ہو جائے تو فوراً اس کی روشنی ختم ہو جاتی ہے گویا کہ روشنی کبھی تھی ہی نہیں۔

اسی طرح پوری کائنات اپنے وجود اور بقاء دونوں میں اپنے موجد اور خالق کی محتاج ہے اور ہر آن و لحظہ اس کی مدد کی نیاز مند ہے اور اس رحمتِ واسعہ سے مستفیض ہوتی رہتی ہے جو ہر چیز کو شامل ہے۔ اس بیان کی روشنی میں یہ معلوم ہوا کہ انسانی اعمال و افعال، جبر و تفویض کا ایک درمیانی راستہ ہے اور انسان جبر و تفویض دونوں سے بہرہ مند ہے۔ کیونکہ اگرچہ انسان فعل و ترک میں خدا داد قدرت سے کام لینے میں خود مختار ہے لیکن جس قدرت و طاقت سے یہ کام انجام پارہا ہے وہ ہر آن اور ہر لمحہ اللہ کی طرف سے مل رہی ہوتی ہے۔


اس بنا پر افعال ایک لحاظ سے بندوں کی طرف منسوب ہوتے ہیں اور دوسرے اعتبار سے خدا کی طرف اور یہ قرآنی آیات اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں یعنی افعال و اعمال میں انسان کے خود مختار ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ان افعال میں قدرت الہٰی کار فرما نہ ہو۔ ہم ذیل میں اس سے ملتی جلتی ایک مثال پیش کریں گے تاکہ ''امر بین الامرین،، کی حقیقت قارئین محترم کے سامنے واضح ہو جائے اس کے شیعہ امامیہ قائل ہیں۔ ائمہ معصومین نے جس کی تصریح فرمائی ہے اورکتابِ الہٰی بھی جس کی طرف اشارہ کررہی ہے۔

فرض کیجئے کسی انسان کا ہاتھ مفلوج ہے اور وہ اسے حرکت نہیں دے سکتا لیکن ایک ڈاکٹر کرنٹ کے ذریعے وہ ہاتھ قابل حرکت بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ یعنی جب ڈاکٹر بجلی کی تار کے ذریعے مریض اپنے ہاتھ کو حرکت نہیں دے سکتا۔ جب جب ڈاکٹر مریض کے ہاتھ کو بجلی دے رہا ہو اور مریض اپنے ہاتھ کو حرکت دینا اور اس سے کام لینا شروع کردے اور ادھر ڈاکٹر بجلی کے ذریے برابر اس کو طاقت پہنچا رہاہو تو اس صورت میں مریض کا اپنے ہاتھ کو حرکت دینا ''امر بین الامرین،، کے مصداق ہے۔ کیونکہ نہ تو اس حرکت کو مستقلاً مریض کی طرف نسبت دی جاسکتی ہے اس لیے کہ جب تک ڈاکٹر قوت نہ پہنچائے مریض اپنے ہاتھ کو حرکت نہیں دے سکتا اور نہ اسے مستقل طور پر ڈاکٹر کی طرف نسبت دی جاسکتی ہے اس لیے کہ اگرچہ طاقت ڈاکٹر کے ذریعے حاصل ہو رہی ہے لیکن ہاتھ میں حرکت مریض کے ارادے کے نتیجے میں وجود میں آئے گی۔

اس بنا پر اس فاعل کو نہ تو فعل پر مجبور کیا گیا ہے چونکہ وہ با ارادہ ہے اور نہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ فعل مکّمل طور پر فاعل کو تفویض کردیا گیا ہے اس لیے کہ مدد اور طاقت تو اسے دوسرے سے ملی ہے۔ فاعل مختار انسانوں سے جتنے بھی کام صادر ہوتے ہیں وہ سب اسی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ سارے افعال انسان کی مشیئت اور اس کے ارادے سے انجام پاتے ہیں لیکن بندے کی مشیئت اور اس کا ارادہ، مشیئت و ارادہئ خدا کی مرہونِ منت ہے۔ قرآن کی آیات بھی اسی مطلب کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ اس طرح یہ جبر کو باطل قرار دیتی ہیں جس کے اکثر اہل سنت قائل ہیں۔ کیونکہ یہ آیات خود مختاری کو ثابت کرتی ہیں اور مکمل تفویض کو بھی باطل قرار دیتی ہےں جس کے بعض اہل سنت قائل ہیں کیونکہ یہ آیات افعال کی نسبت خدا کی طرف دیتی ہیں۔ ان آیات کی تفسیر کے دوران ہم اس بحث کی تفصیل بیان کریں گے۔ اور ان دونوں نظریات ''جبر،، اور ''تفویض،، کو باطل ثابت کریں گے۔


ہم نے اب تک جو کچھ کہا ہے وہ ائمہ اہل بیت (علیہم السلام) کے ارشادات سے مستفاد ہے۔ یہی وہ ہستیاں ہیں جنہیں خالق متعال نے ہر قسم کے رجس اور آلودگی سے پاک و منزہ فرمایا ہے، ان کی بعض روایات کا ہم یہاں ذکر کریں گے۔

راوی کہتا ہے میں نے حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے پوچھا:

قلت: أجبر الله العباد علی المعاصی؟ قال: لا ۔قلت: ففوض الیهم الأمر؟ قال: لا ۔قال: قلت : فماذا؟ قال: لطف من ربک بین ذلک (۱)

''کیا خدا نے اپنے بندوں کو معصیت پر مجبور کیا ہے؟

آپ نے فرمایا: نہیں۔

میں نے کہا: کیا ہر چیز کو ان کے سپرد کردیا ہے؟

آپ نے فرمایا: نہیں۔

میں نے پوچھا: پھر حقیقت حال کیا ہے؟

آپ نے فرمایا: ان دونوں کے درمیان خدا کی طرف سے ایک لطف ہے۔،،

ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا:

لا جبر ولاقدر، و لکن منزلة بینهما (۲)

''نہ جبر اور نہ تفویض بلکہ ان دونوں کے درمیان ایک مرحلہ ہے۔،،

امامیہ اثنا عشری کی کتبِ احادیث میں اس مضمون کی کافی روایات موجود ہیں۔

___________________

(۱) کافی: کتاب التوحید، باب الجبر و القدر و المر بین الامرین۔

(۲) ایضاً۔


چھٹا اعتراض

اعجام قرآن پر چھٹا اعتراض یہ ہے کہ اگر ہر وہ کتاب معجزہ ہے جس کی نظیر لانے سے انسان عاجز ہو تو ہیئت کی کتاب ''اقلیدس،، اور ہندسہ کی کتاب بھی معجزہ نہیں ہوسکتی جس کی نظیر انسان نہ لاسکے۔

جواب:

اولاً: ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ انسان ان دونوں کتابو ںکی نظیر لانے سے عاجز اور قاصر ہے۔ ا س لیے کہ ان کے بعد علم ہیئت اور علم ہندسہ پر ایسی ایسی کتب لکھی جاچکی ہےں جن کا بیان زیادہ وزنی اور سمجھنا آسان ہے۔ بعد کی کتاب کئی اعتبار سے ان دونوں کتابوں پر فوقیت رکھتی ہیں اور ان میں بعض ایسی چیزیں ہیں جن کا ان دونوں کتب میں نام و نشان تک نہیں ہے۔

ثانیاً: ہم نے معجزہ کی کئی شرائط بیان کی ہیں۔ ان میں سے ایک شرط یہ ہے کہ معجزے کو جب پیش کیا جائے تو اسے بطور چیلنج اور اپنے الہٰی منصب کے ثبوت و دلیل میں پیش کیا جائے۔ اس کے علاوہ ایک شرط یہ بھی تھی کہ جو کام بھی بطور معجزہ انجام دیا جائے وہ طبیعی قوانین سے بالاتر ہو۔ یہ دونوں شرائط ان دونوں کتب میں مفقود ہیں۔ اس کی وضاحت ہم اعجاز کی بحث کے شروع میں کرچکے ہیں۔

ساتواں اعتراض

اگر عربوں نے قرآن کا مقابلہ نہیں کیا تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ انسان قرآن کی نظیر لانے سے عاجز و قاصر ہے بلکہ اس کی اور وجوہات ہیں جن کا تعلق اعجاز سے نہیں ہے۔


دعوت اسلام کے معاصر اور ان کے بعد عربوں کی طرف سے قرآن کا مقابلہ نہ کرنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کی حکومت اور ان کا رعب و ہیبت ان کو اس مقابلے سے روکتا تھا اور انہیں اس میں اپنی جان و مال کا خوف تھا۔ خلفاء اربعہ کی حکومت کا دور گزرنے کے بعد جب امویوں کا دور آیا، جن کی خلافتیں دعوتِ اسلامی کے محور پر قائم نھیں تھیں تو قرآن اپنے الفاظ کی متانت اور مضبوطی کی وجہ سے تمام لوگوں میں مانوس ہوچکا تھا اور نسلیں گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ قرآن لوگوں کے ذہنوں میں راسخ ہوتا چلا گیا یہ رسوخ و راثۃً نسلاً بعد نسل منتقل ہوتا گیا، جس کے نتیجے میں اس کے مقابلے سے لوگ دستبردار ہوگئے۔

جواب:

اولاً: قرآن کا چیلنج اور ایک سورہ کے مقابلے کی دعوت دینا اس زمانے کی بات ہے جب پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) مکّہ میں تھے اور اسلام کو ابھی وہ تقویت حاصل نہیں ہوئی تھی اور نہ ملسمانوں کا وہ رعب و دبدبہ تھا جس سے مخالفین پر خوف و ہراس طاری ہو جاتا۔ اس کے باوجود عرب کے فصحاء اور بلغاء قرآن کا مقابلہ نہ کرسکے۔

ثانیاً: خلفاء کے دور حکومت میں ایسا خوف نہیں تھا جس کی وجہ سے کفار اور مخالفین قرآن اپنے کفر اور مسلمانوں سے اپنی عدوات کو ظاہر نہ کرسکیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ جزیرۃ العرب میں مسلمانوں کے درمیان اہل کتاب بڑے سکون و آرام کی زندگی گزارتے تھے۔ ان کو وہی حقوق حاصل تھے جو مسلمانوں کو حاصل تھے۔ ان کے فرائض وہی تھے جو مسلمانوں کے تھے۔ خاص کر حضرت امیر المومنین (علیہ السلام) کے دور حکومت میں جن کی عدالت اور کثرت علم کی گواہی غیر مسلم تک دیتے ہیں۔ اس قسم کے اہل کتاب یا دوسرے کفار اگر قرآن کی مثل و نظیر لانے پر قادر ہوتے تو یقیناً وہ اپنے نظریئے اور ثبوت میں اسے پیش کرتے۔


ثالثاً: بالفرض اگر قرآن کے مقابلے سے انہیں خوف محسوس ہوتا تھا تو یہ خوف کھلے عام مقابلے میں مانع ہونا چاہیے تھا۔ گھروں میں اور بالکل مخفی طور پر قرآن کے مقابلے میں عبارتیں بنانے سے کون سی چیز لکھنے والوں کی راہ میں حائل تھی؟

اگر اس قسم کی کتب یا عبارتیں لکھی گئی ہوتیں تو اس خوف کے زائل ہونے کے بعد ان کو ظاہر کیا جاتا جس طرح کتب عہدلین کی خرافات اور ان کے دین سے متعلق دیگر باتیں آج بھی محفوظ ہیں۔

رابعاً: کوئی بھی کلام ہو، چاہے وہ بلاغت کے بلند ترین مقام پر ہو، انسانی طبیعت کا یہ تقاضا ہے کہ جب وہ بار بار سماعت سے ٹکرائے گا تو اپنے پہلے مقام سے گرجائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ بلیغ سے بلیغ قصیدہ و کلام بھی اگر انسان کے سامنے مکرر پڑھا جائے تو انسان اس سے اکتا جاتا ہے۔ کیونکہ ا س کے مقابلے میں جب کوئی دوسرا قصیدہ اسے سنایا جاتا ہے تو اسے شروع میں یہی محسوس ہوتا ہے کہ دوسرا قصیدہ پہلے قصیدہ سے بہتراور اس میں زیادہ بلاغت ہے اور جب دوسرے قصیدے کو بھی بار بار پڑھا جائے تو ان دونوں میں موجود فرق واضح ہو جاتا ہے۔

یہ قاعدہ صرف کلام ہی سے مختص نہیں ہے بلکہ یہ ہر اس چیز میں جاری ہے جس سے انسان لطف اندوز وہتا ہے اور اس کے حسن و قبح کو درک کرسکتا ہے۔ چاہے اس کا تعلق کھانے پینے یا پہننے کی چیزوں سے ہو یا سنائی دینے والی آواز سے۔

اگر قرآن کریم معجزہ نہ ہوتا تو یہ کلیّہ اس پر بھی لاگو ہوتا اور سننے والوں کے نزدیک اس کا وہ مقام نہ رہتا جو شروع شروع میں اسے حاصل تھا اور زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی فصاحت و بلاغت میںکمی آجانی چاہیے تھی جس کے نتیجے میں قرآن کا مقابلہ آسان ہوجاتا۔


لیکن ہم بالوجدان یہ دیکھ رہے ہیں کہ قرآن کریم کو بار بار پڑھنے اورسننے کے باجود اس کے حسن اور خوبیوں میں اضافہ ہی ہوتا ہے اور اس سے عرفان و یقین حاصل ہوتا ہے اور انسان اس پر ایمان لانے اور اس کی تصدیق کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

قرآن کریم کی یہ خصوصیت اور امتیاز، دوسرے مانوس کلاموں سے بالکل مختلف ہے۔ پس قرآن کا یہ پہلو بھی اس کے معجزہ ہونے کی تائید اور تاکید کرتا ہے اور یہ اس کے اعجاز کے خلاف نہیں ہے جیسا کہ مخالف قرآن و اسلام کا توہم ہے۔

خامساً: بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ کسی کلام کو بار بار پڑھنے سے انسان اس سے مانوس اور اس کے مقابلے سے دستبردار ہوجاتا ہے تو یہ بات صرف مسلمانوں کے بارے میں کہی جاسکتی ہے جو قرآن کی تصدیق کرتے ہیں اسے بار بار سنتے اور اس سے مانوس ہوتے ہیں اور چاہے جس کثرت سے بھی اس کی تلاوت کی جائے اسے رغبت و شوق سے سنتے ہیں۔ لیکن مسلمانوں کو چھوڑ کر دوسرے غیر مسلموں کو اس کے مقابلے سے دستبردار نہیں ہونا چاہیے تھا تاکہ اس مقابلے کو کم از کم غیر مسلم ہی تسلیم کرلیتے۔

آٹھواں اعتراض

تاریخ بتاتی ہے کہ حضرت ابوبکر نے جب قرآن کو جمع کرنا چاہا تو انہوںنے حضرت عمر اور زید بن ثابت کو حکم دیا کہ ومسجد کے دروازے پر بیٹھ جائیں اور ہر وہ عبارت لکھ لائیں جس کے کتاب ہونے کی گواہی دو شاہد دیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن کوئی خارق العادۃ اور غیرمعمولی کلام نہیں ہے۔ اس لیے کہ اگر قرآن کوئی خارق العادۃ اور غیر معمولی کلام ہوتا تو اس کے لیے کسی شہادت و گواہی کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے تھی اور بذات خود اسے ثبت ہونا چاہیے تھا۔


جواب:

اولا: قرآن کی بلاغت اور اس کا اسلوب کلام معجزہ ہے، نہ کہ اس کا ایک ایک کلمہ اور لفظ معجزہ ہے۔ اس بناء پر یہ شک ہوسکتا ہے کہ اس کے مفردات اور کسی کلمہ میں تحریف نہ ہوگئی ہو یا اس میں کمی بیشی کا بھی احتمال ہوسکتا ہے۔ فرض کریں شاہدوں کی شہادت والی راویت اگر صحیح بھی ہے تو وہ اس قسم کے احتمالات کے ازالے کے لیے ہے کہ کہیں قرآن پڑھنے والا غلطی سے یا جان بوجھ کر کسی لفظ یا کلمے میں کمی بیشی نہ کردے۔

اس کے علاوہ اگر قرآن کی ایک سورۃ کی نظیر بشر نہ لا سکے تو وہ ایک آیہ کی مثل و نظیر لانے سے منافات نہیں رکھتا۔ یہ ایک ممکن کام ہے اور آج تک مسلمانوں نے اس کے محال یا ناممکن ہونے کا دعویٰ نہیں کیا اور قرآن نے اپنے چیلنج میں بھی یہ نہیں فرمایا کہ لوگ اس کی ایک آیت کی نظیر و مثل نہیں پیش کرسکتے۔

ثانیاً: جتنی روایات اور اخبار اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ حضرت ابوبکر کے زمانے میں صحابہ میں سے دو شاہدوں کی شہادت سے قرآن جمع کیا جاتا تھا۔ یہ سب خبر واحد ہیں خبر متواتر نہیں اور خبر واحد اس قسم کے واقعات میں حجت اور دلیل نہیں بن سکتی۔

ثالثاً: ان اخبار کے مقابلے میں بہت سی روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ قرآن پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) ہی کے زمانے میں جمع کیا گیا۔ بہت سے اصحاب نے پورا قرآن کریم حفظ کرلیا تھا اور جن حضرات کو قرآن کے بعض سورے اور حصے یاد تھے ان کا تو شمار ہی نہیں ہوسکتا۔


اس کے علاوہ اگر عقلی طور پر انسان ذرا فکر سے کام لے تو اس قسم کی روایات کا کذب ثابت ہو جاتا ہے جن سے مخالفین قرآن تمسک چاہتے ہیں۔

پس قرآن جو مسلمانوں کی ہدایت کا سب سے بڑا ذریعہ اور ان کو بدبختی اور جہالت کی تاریکیوں سے سعادت اور علم کے نور کی طرف لاتا ہے اور مسلمان قرآن کو حد سے زیادہ اہمیت دیتے اور دن رات اس کی تلاوت کرتے تھے، قرآن کو حفظ کرنے اور اس کی صحیح تلاوت کرنے میں فخر محسوس کرتے تھے، اس کی سورتوں اور آیات کو دیکھنا مبارک سمجھتے تھے اور پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) بھی اس بات کی ترغیب دیتے تھے، ان سب باتوں کے باوجود کیا کوئی عقلمند یہ احتمال دے سکتا ہے کہ کسی آیہ یا سورہ کو ثابت کرنے کے لیے دو گواہوں کی ضرورت ہوگی۔ انشاء اللہ ہم آ ئندہ ثابت کریں گے کہ قرآن مجید پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) ہی کے زمانے میں مکمل طور پر جمع کرلیا گیا تھا۔

نواں اعتراض

قرآن کا اسلوب، بلاغت کے مروج اسلوب سے مختلف ہے۔ اس لیے کہ قرآن مجید نے مختلف موضوعات کو باہم مخلوط کردیا ہے۔ مثلاً اگر تاریخ کی بات کررہا ہے تو اچانک وعدہ وعید (بہشت کے وعدوں اور جہنم کے عذاب کی دھمکیوں) میں منتقل ہو جاتا ہے۔ اگر قرآن ابواب میں تقسیم ہوتا اور ہر موضوع کے متعلق جتنی آیات ہیں ان کو یکجا کردیا جاتا تو اس کا فائدہ بہت زیادہ ہوتا اور اس سے استفادہ بھی آسان ہوتا۔

جواب:

قرآن انسانوں کی ہدایت اور ان کو دنیا و آخرت کی سعادتوں سے ہمکنار کرنے کے لیے نازل کیا گیا ہے۔ یہ کوئی تاریخی یافقہ و اخلاق یا اسی قسم کی کوئی اور کتاب نہیں ہے کہ اس کو ان موضوعات کے لحاظ سے مستقل ابواب میں یکجا کیا جاتا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کا اسلوب، مطلوبہ مقصد تک پہنچانے کا نزدیک ترین اسلوب ہے، اس لیے کہ جو انسان قرآن کی بعض سورتوں کی تلاوت کرتا ہے


وہ اسی تلاوت اور قلیل وقت میں، معمولی زحمت کرکے بہت سے اغراض و مقاصد حاصل کرسکتا ہے۔ مثلاً، ایک ہی تلاوت میں وہ توحید و معدا کی طرف متوجہ ہوسکتا ہے۔ گذشتہ لوگوں کے حالات سے آگاہ ہوسکتا ہے اور اس سے عبرت حاصل کرسکتا ہے۔ اخلاق حسنہ کا استفادہ کرسکتا ہے اور دیگر علوم و معارف سے روشناس ہوسکتا ہے ان کے علاوہ اسی تلاوت میں اپنی عبادات اور معاملات سے متعلق کچھ احکام بھی سیکھ سکتا ہے۔

ان تمام خصوصیات کے ساتھ ساتھ قرآن کریم میں نظم کلام کی رعایت بھی کی گئی ہے حسن بیان کا حق ادا کردیا گیا ہے اور مقتضائے حال کا پورا لحاظ رکھا گیا ہے۔

یہ وہ فوائد ہیں جو قرآن کو ابواب میں تقسیم کرنے سے حاصل نہ ہوسکتے۔ کیونکہ اگر اسے ابواب میں تقسیم کیا جاتا تو انسان اپنے مختلف اغراض و مقاصد اسی صورت میں حاصل کرسکتا تھا جب وہ پورے قرآن کی تلاوت کرتا اور عین ممکن ہے کہ کچھ رکاوٹیں پیش آنے کی وجہ سے انسان پورے قرآن کی تلاوت نہ کرپائے اور صرف ایک یا دو ابواب سے مستفید ہوسکے۔

مجھے اپنی زندگی کی قسم حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ باتیں اسلوب قرآن کی خوبیوں میں سے ہیں اس اسلوب کی وجہ سے قرآن کو حسن و جمال ملا ہے۔ اس لیے کہ قرآن کے ایک موضوع سے دوسرے موضوع کی طرف منتقل ہونے کے باوجود ان دونوں موضوعات میں مکمل ربط قائم رہتا ہے۔ گویا اس کے تمام جملے موتی ہیں جنہیں ایک لڑی میں پرودیا گیا ہے۔

لیکن اسلام دشمنی نے معترض کی آنکھ کو اندھا اور کان کو بہرا کردیاہے جس کی وجہ سے وہ جمال کو قبح اوراچھائی کو برائی سمجھتا ہے۔

اس کے علاوہ قرآن مجید میں بعض قصوں کی حسب ضرورت مختلف عبارتوں میں تکرار کی گئی ہے، اگر مکرر بیان کی گئی عبارتوں کو ایک ہی باب میںبیان کردیا جاتا تو قاری کو زیر نظر فائدہ حاصل نہ ہوتا۔


قرآن کا مقابلہ

کتابچہ ''حسن الایجاز،،(۱) کا مصنف اپنے رسالے میں دعویٰ کرتا ہے کہ قرآن کی نظیر پیش کرنا ممکن ہے اور اس نے کچھ ایسے جملے ذکر کئے ہیں جنہیں اس نے قرآن ہی سے لیا ہے اور ان کے بعض الفاظ میں تبدیلی کرکے اپنے زعم باطل میں یہ سمجھاہے کہ وہ قرآن کا مقابلہ کررہا ہے اس طرح اس نے اپنے مبلغ علم اور بلاغت شناسی کاراز فاش کردیا ہے۔

قارئین محترم کی خدمت میں وہ عبارتیں پیش کرکے ہم اس کے وہمی اور خیالی مقابلے کی قلعی کھول دیتے ہیں اور اس کے جملوں میں جو خامیاں پای جاتی ہیں ان کی وضاحت بھی کرتے ہیں۔ ہم اپنی کتاب ''نفحات الاعجاز،، میں بھی ان خیالی مقابلوں کا جواب دے چکے ہیں۔(۲)

اس خیال باف نے سورہ فاتحہ کے مقابلے میں لکھا ہے:

الحمد الرحمن رب الاکوان، الملک الدیان، لک العبادة و بک المستعان، اهدنا صراط الایمان

اپنے زعم باطل میں یہ سمجھتا ہے کہ اس کی یہ عبارت سورۃ فاتحہ کے معانی و مفاہیم ادا کرتی ہے اور اس سے مختصر بھی ہے۔

معلوم نہیں یہ جملے لکھنے والے کو کیا جواب دیا جائے جو علمی اعتبار سے اتنا گیا گزرا ہے کہ وزنی اور ہلکے کلام میں بھی تمیز نہیں کرسکتا۔ کاش اس سے پہلے کہ اس دعویٰ کے ذریعے وہ اپنے آپ کو رسوا کرتا۔ ان عبارتوں کو علمائے نصاریٰ کے سامنے پیش کرتا جو اسلوب کلام اور فنون بلاغت سے آشنائی رکھتے ہیں۔

____________________

(۱) یہ چھوٹا سا کتابچہ ۱۹۱۲ء میں مصر کے شہر بولاق میں ایک اینگلو ارمیکن پریس میں شائع کیا گیا۔

(۲) یہ کتاب رسالہ ''حسن الایجاز،، کی رد میں لکھی گئی جو ۱۳۴۲ھ میں نجف اشرف کے علویہ پریس میں شائع کی گئی۔


اسے اتنا بھی معلوم نہیں کہ کسی بھی کلام کے مقابلے کاطریقہ یہ ہے ک کوئی شاعر یا مضمون نگار اپنے ہی الفاظ، ترکیب اور اسلوب میں ایسا کلام پیش کرے جو مد مقابل کلام کے کسی پہلو اور مقصد سے مطابقت رکھتا ہو۔ مقابلے کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ کلام کی ترکیب اور اسلوب میں اس کلام اور ترکیب کی نقل کی جائے جس سے مقابلہ کیا جارہا ہے اور صرف الفاظ میں رد و بدل کرلیا جائے۔

اسطرح کا مقابلہ تو ہر کلام کا کیا جاسکتا ے اور ایسا مقابلہ پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کے ہم عصر عربوںکے لیے آسان تھا، لیکن چونکہ وہ مقابلے کے صحیح مفہوم اور بلاغت قرآن کے پہلوؤں کو سمجھتے تھے اس لیے مقابلہ نہ کرسکے۔ قران کے معجزہ ہونے کا انہوں نے اعتراف کرلیا اور انہوں نے اس پر ایمان لانا تھا وہ ایمان لے آئے اور جنہوں نے اس کا انکار کرناتھا انہوں نے انکار کردیا۔ اس کی طرف قرآن کریم میں اشارہ ہو رہا ہے:

( فَقَالَ إِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ يُؤْثَرُ ) ۷۴:۲۴

''پھر کہنے لگا یہ تو بس جادو ہے جو (اگلوں سے) چلا آتا ہے۔،،

اس کے علاوہ مذکورہ بالا جملوں کا سورۃ فاتحہ سے موازنہ تک نہیں ہوسکتا جس سے یہ سوال پیدا ہو کہ ان جملوں سے سورۃ فاتحہ کے معانی ادا ہو جاتے ہیں؟

کیا فن بلاغت سے اس کا بے بہرہ ہونا ہی کافی نہیں تھا کہ اس نے لوگوں کے سامنے اپنی خامیوں اور عیبوں کو بھی

ظاہر کردیا؟!! اور''الحمد للرحمٰن،، کا مقایسہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان( الْحَمْدُ لِلَّـهِ ) ۱:۲،، سے کس طرح کیا جاسکتا ہے۔

جبکہ اس جملے میں وہ معانی نہیں پائے جاتے جو مقصود الہٰی ہیں۔ اس لیے کہ لفظ ''اللہ،، علم ہے اور نام ہے اس ذات اقدس کا جو تمام صفات کمال کی جامع ہے۔


ان صفات کمال میں سے ایک صفت، رحمت ہے جس کی طرف ''بسم اللہ، میں اشارہ کیا گیا ہے ''اللہ،، کی بجائے ''رحمٰن،، ذکر کرنے سے باقی صفات کمال پر دلالت نہیں ہوتی جو ذات الہٰی میں مجتمع ہیں اور وہ صفات ایسی ہیں جو بذات خود رحمت کی طرح حمد الہٰی کی موجب ہیں۔

اسی طرح اس کے جملے ''رب الاکوان،، میں بھی اللہ تعالیٰ کے اس فرمان:( رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿﴾ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ ) ۱:۳ کے معنی و مفہوم کا کوئی شمہ نہیں پایا جاتا۔ اس لیے کہ( رَبِّ الْعَالَمِينَ ) اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ عالم طولی وعرضی(۱) ایک نہیں بلکہ متعدد ہیں اور اللہ تعالیٰ ان تمام عالموں کا مالک اور پالنے والا ہے اور اس کی رحمت ان تمام عالموں کو شامل ہے۔ چنانچہ ''رحمن،، کے بعد ''رحیم،، کاذکر بھی اس امر پر دلالت کرتا ہے جس کی وضاحت انشاء اللہ ''سورہ فاتحہ،، کی تفسیر میں کی جائے گی۔

یہ پر مغز معانی کجا اور عبارت ''رب الاکوان،، کجا؟ لفظ ''کون،، کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ ''حدوث،، ''وقوع،، پذیر ''ہوجانا،، اور ''کفالت،،(۲) کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔

یہ سارے معانی مصدری ہیں جن کی طرف لفظ ''رب،، بمعنی مالک و مربی کی اضافت صحیح نہیں ہے۔ البتہ لفظ ''خالق،، کی اضافت ''کون،، کی طرف ہوسکتی ہے، اور ''خالق الاکوان،، کہا جاسکتا ہے۔

____________________

(۱) فلسفیانہ نقطہئ نظر سے عالم کی دوقسمیں ہیں:

i ) عرضی۔

ii ) طولی۔

عالم عرضی سے مراد وہ عالم ہے جس کے افراد میںایک علت اور دوسرا معلول نہ ہو جسے انسان اور حیوانات۔ عالم طولی سے مراد وہ عالم ہے جس کے افراد میں ایک علت اور دوسرا معلول ہو جسے عالم ناسوت (مادہ) جس کی علت عالم ملکوت ہے اور عالم ملکوت جس کی علت عالم لاہوت ہے۔

(۲) ''لسان العرب،، کی طرف رجوع کیجئے۔


اس کے علاوہ لفظ ''اکوان،، عالم موجودات کے تعدد پر دلالت نہیں کرتا جیسے لفظ ''عالمین،، دلالت کرتا ہے اور آیہ کریمہ کے دوسرے پہلو جس میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:( مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ) ۱:۴،، اس سے جو مقصد حاصل ہوتا ہے وہ جملہ ''الملک الدیان،، سے حاصل نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ یہ جملہ اس عالم کے علاوہ کسی اور عالم کے وجود پر دلالت نہیں کرتا جس میں اعمال کی سزا و جزا دی جائے گی اور یہ کہ اس دن کا مالک صرف خدا کی ذات ہے کسی اور کو اس میں تصرف اور اختیا رکا حق نہیں ہوگا۔ سب لوگ اس دن خدا کے حکم کے تحت ہونگے، خدا ہی کے حکم و امر کا نفاذ ہوگا اور اسی کے حکم سے بعض کو بہشت ملے گی اور بعض کو جہنم میں بھیجا جائے گا۔

جبکہ جملہ ''الملک الدیان،، صرف اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ خدا وہ بادشاہ ہے جو اعمال کی سزا و جزا دیتا ہے۔ کتنا فرق ہے اس جملے اور آیہ کریمہ کے معانی میں؟!

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

( إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ) ۱:۵

اس کتابچے کے مصنف نے اس آیہ سے صرف اتنا سمجھا ہے کہ عبادت، خدا کی ہونی چاہیے اور مدد صرف خدا سے لینی چاہیے۔ چنانچہ اپنی اس سمجھ کے مطابق اس نے اللہ تعالیٰ کے مذکورہ فرمان کو اپنے اس قول سے بدل دیا۔''لک العبادة و بک المستعان،، یعنی ''عبادت تیرے لیے ہے اور مدد تمجھ سے ہے۔،، اور اس سے وہ مقصد فوت ہوگیا جو اس آیہ کریمہ کا تھا۔ اس آیہ کریمہ میں اس بات کی تلقین کی گئی ہے کہ مومن، توحید فی العبادۃ کااظہار کرے اس کے علاوہ عبادات اور دیگر افعال میں اپنی احتیاج کابھی اظہار کرے اور یہ اعتراف کرے کہ میں اور دوسرے تمام مومنین غیر اللہ کی عبادت نہیں کرتے اور نہ غیر اللہ سے مدد مانگتے ہیں۔ بھلا یہ نکات اس مصنف کی عبارت میںکہاںمل سکتے ہیں جبکہ اس کی عبارت آیہ مبارکہ سے زیادہ مختصر بھی نہیں ہے؟!


اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

( اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ) ۱:۶

اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہم اس سے ایسے قریبی راستے کی ہدایت طلب کریں جو اپنے چلنے والے کو اعمال خیر، صفات نفسانی اور عقائد جیسے مقاصد تک پہنچائے اور اس راستے کو صرف ایمان کے راستے میں منحصر نہیں فرمایا۔ یہ مطلب مصنف کے جملہ ''اھدنا صراط الایمان،، میں نہیں پایا جاتا۔ اس کے علاوہ اس جملے میں صرف ایمان کے راستے کی ہدایت کے لیے درخواست کی گئی ہے۔ اس میں اس نکتے کی طرف اشارہ نہیں ہے کہ ایمان کا یہ راستہ مستقیم ہے اور وہ اپنے پر چلنے والے کو گمراہ نہیں کرتا۔

اس مصنف نے صرف انہی جملوں کو مثل و نظیر کے طور پر پیش کرکے یہ گمان کرلیا ہے کہ سورہ مبارکہ کے باقی حصے کی ضرورت نہیں ہے ارو یہ بات کا ثبوت ہے کہ وہ اس آیہ کے مفوہم کو نہیں سمجھ سکا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

( صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ) ۱:۷

اس میں حقیت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ راستہ ایک ایسا مستقیم اور سیدھا راستہ ہے کہ اس پر انبیاء(ع) صدیقین، شہداء اور صالحین چلتے ہیں، جن پر اللہ تعالیٰ نے اپنی نعتمیں نازل فرمائیں ہیں، اور اس کے مقابلے میں کچھ ایسے راستے ہیں جو مستقیم نہیں ہیں۔ ان راستوں پر وہ لوگ چلتے ہیں جن پر غضب الہٰی نازل ہوتا ہے، جو حق کے دشمن ہوتے ہیں اور حق آشکار ہونے کے باوجود اس کا انکار کرتے ہںی اور اس راستے پر چلنے والے لوگ ایسے گمراہ ہیں جو اپنی جہالت، جستجو میں کوتاہی اور اپنے آباؤ اجداد کی وراثت میں ملنے والے عقیدہ پر اکتفاء کرنے کی وجہ سے راہ حق سے بھٹک گئے ہیں، جس کے نتیجے میں بغیر کسی ہدایت اور دلیل کے انہوں نے اندھی تقلید کا راستہ اپنالیا ہے۔


جو بھی اس آیہ کریمہ کو تدبّر اور تفکّر کی نگاہ سے پڑِے وہ اس نکتہ کی طرف متوجہ ہوگا کہ اخلاق و عقاید اور دوسرے اعمال میں اولیائے خدا اور اللہ کے مقربین کی اتباع کرنا چاہیے اور ان سرکشوں کی راہ سے اجتناب کرنا چاہیے جن کے اعمال یا جنکے کرتوتوں کے نتیجے میں خدا نے ان پر غضب نازل فرمایا ہو اور جو حق کے واضح ہونے کے باوجود اس کے راستے بھٹک گئے ہیں۔

اہل انصاف بتائیں کہ کیا یہ کوئی معمولی نکتہ ہے جسے اس مصنف نے نظر انداز کردیا اور اس آیہ کو غیر ضروری سمجھ کر اس کی نطیر یا متبادل عبارت کا ذکر نہیں کیا۔

یہ مصنف سورۃ ''کوثر،، کے مقابلے میں یہ عبارت پیش کرتا ہے:

''انا اعطیناک الجواهر فصل لربک و جاهر ولا تعتمد قول ساحر،،

ملاحظہ فرمائیں کہ نظم اور ترکیب میں یہ کس طرح قرآن کی نقل کررہا ہے اور اس کے بعض الفاظ بدل کر لوگوں کو یہ غلط تاثر دے رہا ہے کہ وہ قرآن کا مقابلہ کرنے میںکامیاب ہوگیا ہے، یہ بھی ملاحظہ فرمائیں کہ اس نے اپنی یہ عبارت کس طرح مسلیمہ کذاب کی عبارت سے چوری ی ہے۔ مسیلمہ کذاب کہتا ہے:

''انا اعطیناک الجماهر فصل لربک وهاجرو ان مبغضک رجل کافر،،

مقام حیرت ہے کہ یہ اس توہم کا شکار ہے کہ اگر دو کلام سجع میں ایک دوسرے کے مشابہ ہوں تو یہ بلاغت میں بھی یکساں ہوں گے اور اس نکتے سے غافل ہے کہ خدا کی طرف سے جواہر دیئے جانے لازمہ یہ نہیں ہے کہ نماز قائم کی جائے اور اس کا اعلان کیا جائے،نیز خداکی نعمتیں صرف جواہر ہی نہیں بلکہ اور بھی بہت سی نعمتیں ہیں جو کہ جواہر اور دوسرے مال و دولت سے بڑھ کر ہیں جیسے زندگی ہے، عقل اور ایمان کی نعمت ہے، جب خدا کی اتنی نعمتیں ہیں تو ان تمام کو چھوڑ کر صرف مال ہی کو کیوں نماز کا سبب قرار دیا ہے۔


لیکن جو شخص تبشیری مشینری کے لیے کرائے پر کام کرتا ہو اس کاقبلہ تو مال و دولت ہی ہوگا اور مال ہی اس کا آخری ہدف ہوگا جس کے حصول کی وہ کوشش کرتا ہے اور مال ہی اس کی آخری منزل ہوتی ہے جسے وہ ہر مقصد پر برتر سمجھتا ہے، ضرب المثل ہے:

''وکل اناء بالذی فیه ینفح،،

از کوزہ ہمان تراودکہ دراواست

کوئی اس شخص سے پوچھے کہ جواہر سے کیا مراد ہے جسے اس نے الف، لام کے ساتھ ذکر ککیا ہے۔ اگر جواہر سے مراد کوئی خاص جواہر ہیں تو اس لفظ میں اس کی نشاندہی کے لیے کوئی قرینہ بھی ہونا چاہیے تھا جس سے جواہر کا تعین ہو جاتا، جو کہ موجود نہیں ہے۔

اگر جواہر سے مراد دنیا کے تمام جواہر ہیں (کیونکہ جواہر جمع ہے اور اس پر الف لام موجود ہے اور جب جمع پر الف، لام ہو تو یہ استغراق یعنی تمام افراد پردلالت کرتا ہے) تو یہ سفید جھوٹ ہے۔

اس کے علاوہ اس کے سابقہ دو جموں اور جملہ ''ولا تعتمد قول ساحر،، میں کیا مناسبت ہے؟ اور ساحر سے مراد کون ہے؟ جس پر اعتماد کرنے کا حکم دیا جارہا ہے۔ اگر اس سے مراد کوئی خاص ساحر یا جادوگر ہے اور اس ساحر کے اقوال میں سے کوئی خاص قول مراد ہے تو اس کے لیے کسی قرینہ یا علامت کا ذکر ہونا چاہتے تھاکہ اس ساحر سے مراد فلاں ساحر اور اس کا فلاں قول ہے۔ جبکہ اس جملے میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو کسی خاص ساحر اور کسی خاص قول پر دلالت کرے۔


اگر ساحر سے مراد ہر ساحر ہر قول ہے(کیونکہ نہی کے بعد نکرہ استعمال ہوا ہے جس سے عموم سمجھا جاتا ہے) تو اس سے کلام کا لغو ہونا لازم آتا ہے۔ کیونکہ اس کا کوئی معقول سبب نہیں ہے کہ انسان کسی بھی ساحر کے قول پر اعتماد نہ کرے خواہ اس کی بات روزمرہ کے کسی معمول کے امر سے متعلق ہو اور انسان کو اس کے قول پر اعتماد و اطمینان بھی ہو۔

اور اگر اس کا مقصد یہ ہے کہ ساحر ہونے کی حیثیت سے، اس کی بات پر اعتماد نہ کرو، تو بھی غلط ہے۔ اس لیے کہ ساحر ہونے کی حیثیت سے تو وہ کوئی بات نہیں کرتا، وہ تو اپنے جادو اور حیلوں کے ذریعے لوگوں کو اذیت دیتا ہے۔

سورہ کوثر اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی تھی جو پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کا تمسخر اڑاتا تھا اور آپ(ص) سے کہتا تھا کہ آپ(ص) ''ابتر،، (لاولد) ہیں اور جلد ہی آپ(ص) کانام اور دین مٹ جائے گا۔ اس مطلب کی طرف قرآن کریم میں اشارہ ہو رہا ہے:

( أَمْ يَقُولُونَ شَاعِرٌ نَّتَرَبَّصُ بِهِ رَيْبَ الْمَنُونِ ) ۵۲:۳۰

''کیا (تم کو) یہ لوگ کہتے ہیں کہ (یہ) شاعر ہے (اور) ہم تو اس کے بارے میں زمانے کے حوادث کا انتظار کررہے ہیں۔،،

ان کے اس خیال کے رد میں یہ سورۃ نازل ہوا:

( إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ ) ۱۰۸:۱

''(اے رسول) ہم نے تم کو کوثر عطا کیا۔،،

کوثر سے مراد وہ خیر کثیر ہے جو ہر اعتبار سے خیر ہے۔


دنیا میں خیر کثیر سے مراد رسالت و نبوّت کا شرف، لوگوں کی ہدایت، مسلمانوں کی امامت، انصار و اعوان کی کثرت، دشمنوں پر غلبہ اور جناب سیدہ (سلام اللہ علیہا) کی ذریت سے آپ(ص) کی نسل اور اولاد کی کثرت ہے، جن کی بدولت رہتی دنیا تک آپ(ص) کا نام قائم رہے گا۔

آخرت کا خیر کثیر آپ(ص) کی شفاعت، جنت کے بلند درجات، حوض کوثر جس سے صرف آپ(ص) اور آپ(ص) کے دوست سیراب ہوں گے اور ان کے علاوہ دیگر بہت سی نعمتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرمائی ہیں۔

( فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ )

''پس تم اپنے پروردگار کی نماز پڑھا کرو اور قربانی دیا کرو۔،،

ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کریں اور قربانی دیں۔ نحر سے مراد منیٰ کی قربانی یا عید الاضحیٰ پر دی جانے والی قربای یا نماز میں تکبیرۃ الاحرام کہنے کے دوران ہاتھوں کا گردن تک بلند کرنا یا نماز کے دوران قبلہ رخ ہونا اور متوازن کھڑے ہونا ہے۔ ان میں سے جو معنی مراد لیا جائے مناسب ہے کیونکہ یہ سب اعمال شکر کی صورتیں ہیں۔

( إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ )

''بیشک تمہارا دشمن بے اولاد رہے گا۔،،

آخر میں ارشاد ہوتا ہے کہ آپ لاولد نہیں ہیں بلکہ آپ کا دشمن ابتر و لا ولد ہو جائے گا۔

ان دشمنوں کا انجام آخر یہی ہوا جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے آپ(ص) کو دی تھی۔ ان کا نام و نشان تک مٹ گیا اور دنیا میں ان کا کوئی ذکر خیر باقی نہیں ہے۔ ان کا اس طرح گمنام ہو جانا اس دردناک عذاب اور ابدی رسوائی کے علاوہ ہے جو انہیں نصیب ہوگی۔


کیا یہ سورہ مبارکہ، جس کے معانی عظیم اور بلاغت کامل ہے، ان گئے گزرنے جملوں سے قابل مقایسہ ہے ،جن کو ترتیب سے لکھنے والے نے اپنی قوّت ضائع کی ہے؟ اس نے اپنے خیال میں نظیر پیش کرنے کے لیے قرآن مجید سے مفردات کی نقل کی ہے اور جملوں کے الفاظ اور اسلوب کو مسیلمہ کذاب سے لیا ہے۔ اس طرح اس نے اپنے عناد اور اسلام دشمنی بلکہ کھلم کھلا جہالت کے تقاضوں کو پورا کیا ہے تاکہ بلاغت اور اعجاز میں عظمت قرآن کا مقابلہ کرسکے!

رسُول اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کےدیگر معجزات

تورات و انجیل میں نبوت محمد(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کی بشارت

کسی دانشمند اور محقق کو اس میں شک نہ ہوگا کہ پیغبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کے معجزات میں سے اعظم معجزہ قرآن کریم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کا مقام تمام انبیاء(ع) کے معجزات سے بلند ہے۔ ہم نے گذشتہ مباحث میں اعجاز قرآن کے چند پہلوؤں کاذکر کیا اور یہ بھی واضح کردیا کہ کتاب الہٰی کو باقی معجزات پر برتری حاصل ہے۔ یہاں یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ خاتم الانبیائؐ کا معجزہ صرف قرآن کریم ہی میں منحصر نہیں ہے بلکہ آپ(ص) باقی انبیاء(ع) کے تمام معجزات میں بھی شریک ہیں اور قرآنی معجزہ صرف آپ(ص) سے مختص ہے۔ ہمارے اس دعویٰ کی دو دلیلیں ہیں:

پہلی دلیل: مسلمانوں کی متواتر روایات ہیں جن کے مطابق یہ معجزات رسولل اعظمؐ سے صادر ہوئے اور مختلف مکاتب فکر کے مسلمانوں نے ان معجزات کے موضوع پر بہت کتابیں لکھی ہیں۔ خواہش مند حضرات ان کی طرف رجوع کرسکتے ہیں۔

ان روایات و اخبار کی دو امتیازی خصوصیات ہیں جو باقی انبیاء کے معجزات کے بارے میں اہل کتاب کی روایات میں نہیں ہیں۔

پہلی خصوصیت: ان روایات کا زمانہ ظہور معجزات کے زمانے سے نزدیک ہونا ہے۔ جب کسی چیز واقعہ کا زمانہ نزدیک ہو تو اس کا یقین آسانی سے حاصل ہوسکتا ہے جبکہ واقعہ کا زمانہ اگر دور ہو تو اس کا یقین حاصل کرنا آسان نہیں ہوتا۔


دوسری خصوصیت: راویوں کی کثرت ہے۔ ا س لیے کہ پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کے اصحاب جنہو ں نے اپنی آنکھوں سے ان معجزات کا مشاہدہ کیا ہے ان کی تعداد بنی اسرائیل اور حضرت عیسیٰ پر ایمان لائے تھے اور آپ سے جتنے معجزات منقول ہیں ان کا سلسلہئ سند ان قلیل اور محدود مومنین تک پہنچتا ہے۔ اس کے باوجود اگر حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ کے معجزات کے بارے میں تواتر کا دعویٰ کیا جاسکتا ہے تو خاتم الانبیائؐ کے معجزات کے بارے میں بطریق اولیٰ تواتر کا دعویٰ کیا جاسکتا ہے۔

ہم گذشتہ مباحث میں واضح کرچکے ہیں کہ گذشتہ انبیاء(ع) کے معجزات بعد کے زمانے والوں کے لیے تواتر سے ثابت نہیں ہیں اور اس سلسلے میں تواتر کا دعویٰ کرنا باطل ہوگا۔

دوسری دلیل: آپ(ص) نے گذشتہ انبیاء(ع) کے بہت سے معجزات کی تصدیق و تائید فرمائی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ دعویٰ بھی فرمایا کہ آپ(ص) ان تمام انبیاء(ع) سے افضل بلکہ خاتم الانبیاء ہیں۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ یہ تمام معجزات بدرجہئ اتم آپ(ص) سے بھی صادر ہوں۔ کیونکہ یہ نامعقول ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدممی سے بہتر ہونے کا دعویٰ کرے اور یہ بھی اقرار کرے کہ میں بعض صفات کے لحاظ سے دوسرے سے ناقص ہوں، نیز کیا یہ معقول ہے کہ ایک ڈاکٹر، دوسرے تمام ڈاکٹروں سے زیادہ ماہر ہونے کا دعویٰ کرے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ اعتراف بھی کرے کہ بعض بیماریاں ایسی ہی ںجن کا علاج دوسرے ڈاکٹر تو کرسکتے ہیں لیکن میں نہیں کرسکتی؟! ظاہر ہے عقل کبھی بھی ایسے دعویٰ کی تصدیق نہیں کرے گی۔ اسی لیے بعض جھوٹے مدعیان نبوت نے اعجاز کا انکار کردیا اور وہ گذشتہ انبیاء کے معجزات میں سے کسی معجزے کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں اور ان کی تمام تر کوشش ہوتی ہے کہ ہر اس آیہ کی تاویل و توجیہ کریں جو اعجاز پر دلالت کرے۔ یہ سب انکار اس لیے کیا جاتا ہے کہ کہیں لوگ ان سے بھی اس قسم کے معجزات کا مطالبہ نہ کر بیٹھیں جس سے ان کی عاجزی ظاہر ہو جائے اور یہ رسوا ہو جائیں۔


بعض نادان اور عوام فریبیوں نے لکھا ہے کہ قرآن مجید میں چند ایسی آیات ہیں جن سے سوائے قرآن کریم کے باقی تمام معجزات رسول اعظمؐ کی نفی ہوتی ہے اور آپ(ص) کا واحد معجزہ قرآن کریم ہی ہے اور صرف یہی آپ کی نبوت کی دلیل و حجت ہے ہم ذیل میں وہ آیات ذکر کرتے ہیں جن سے ان لوگوں نے استدلال کنر کی کوشش کی ہے اور اس کے بعد ہم ان کے بطلان کو ثابت کریں گے۔

ان آیات میں سے ایک میں اللہ تعالی کا ارشاد ہوتا ہے:

( وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ ۚ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا ۚ وَمَا نُرْسِلُ بِالْآيَاتِ إِلَّا تَخْوِيفًا ) ۱۷:۵۹

''اور ہمیں معجزات کے بھیجنے سے بجز اس کے اور کوئی وجہ مانع نہیں ہوئی کہ اگلوں نے انہیں جھٹلایا ارو ہم نے قوم ثمود کو (معجزے سے) اونٹی عطا کی جو (ہماری قدرت کی) دکھانے والی تھی ان لوگوں نے اس پر ظلم لیا (یہاں تک کہ مار ڈالا) اور ہم تو معجزے صرف ڈرانے کی غرض سے بھیجا کرتے ہیں۔،،

اس آیہ کریمہ سے ان کے زعم باطل کے مطابق ظاہر ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) قرآن کے علاوہ اور کوئی معجزہ لے کر نہیں آئے اور اس کی وج یہ ہے کہ گذشتہ اقوام نے ان نشانیوں کی تکذیب کی جو ان کی طرف بھیجی گئی تھیں۔

جواب: اس آیہ کریمہ میں جن معجزات کی نفی کی گئی ہے اور جنہیں گذشتہ اقوام نے جھٹلالیا تھا ان سے مراد وہ معجزات ہیں جن کی گذشتہ اقوام نے اپنے انبیاء سے فرمائش کی تھی۔


یہ آیہ کریم آپ(ص) سےہر قسم کے معجزات صادر ہونے کی نفی نہیں کرتی بلکہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ آپ(ص) نے مشرکین کے مطلوبہ معجزات پیش نہیں کئے۔ اس کے چند دلائل ہیں:

۱۔ ''آیات،،، آیت کی جمع ہے۔ جس کے معنی ''نشانی،، کے ہیں اور جمع کے لفظ پ رالف۔ لام موجود ہے۔ ان خصوصیات کے پیش نظر آیہ کے معنی میں تین احتمال دیئے جاسکتے ہیں۔

i ) آیت سے مراد جنس آیت ہو جو آیت کی ہر فرد پر صادق آئے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ قرآن کی یہ آیت ان تمام آیات کی نفی کررہی ہے جو مدعیئ نبوت کی صداقت پر دلالت کرتی ہیں۔ اس سے رسول اعظمؐ کی بعثت کا لغو ہونا لازم آتا ہے اسلئے کہ جب تک آپ(ص) کے دعویٰ کی صداقت کا کوئی ثبوت موجود نہ ہو آپ(ص) کو نبوّت پر فائز کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ بغیر کسی معجزہ کے آپ کی نبوّت کی تصدیق اور آپ کی اتباع لازمی قرار دینا لوگوں پر ایسی ذمہ داری ڈالنا جو ان کے دائرہئ قدرت سے باہر ہے۔

ii ) اس آیہ سے مراد سب نشانیاں ہوں۔ یہ احتمال بھی باطل ہے اس لیے کہ نبی کی صداقت اس پر موقوف نہیں ہوسکتی کہ جتنی بھی آیات و نشانیاں ہوسکتی ہیں، سب پیش کی جائیں اور نہ ہی مطالبہ کرنے والوں نے سب کی سب آیات و نشانیاں پیش کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس بناء پر آیہ کے یہ معنی بھی صحیح نہیں ہونگے۔

iii ) ''الآیات،، سے مراد کچھ مخصوص نشانیاں ہوں جن کا مشرکین مطالبہ کیا کرتے تھے اور آپ(ص) نے ان کا مطالبہ پورا نہیں فرمایا اور یہی احتمال درست ہے۔

۲۔ اگر لوگوں کی تکذیب معجزات بھیجنے میں مانع بن سکتی ہے تو اسے قرآن نازل کرنے میں بھی مانع بننا چاہےے تھا۔ کیونکہ کوئی وجہ نہی ںکہ ان کی تکذیب بعض معجزات کے لیے مانع ہو اور بعض کے لیے نہ ہو۔


گذشتہ مباحث میں ہم ثابت کرچکے ہیں کہ قرآن کریم انبیاء(ع) کے معجزات میں سے سے بڑا معجزہ ہے اور رسول اسلامؐ نے بلا استثناء تمام اقوام کو اس کی نظیر لانے کا چیلنج کیا تھا۔ آپ(ص) نے اسی سے اپنی نبوّت ثابت کی اور یہ چیلنج قیامت تک کے لیے ہے۔ یہ دلیل بھی ثابت کرتی ہے کہ اس آیہ میں نشانیوں کی جو نفی کی گئی ہے وہ تمام معجزات و نشانیوں کے لیے نہیں ہے بلکہ کچھ خاص نشانیوں اور معجزات کے لیے ہے۔

۳۔ آیہ کریمہ واضح طور پر اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اقوام کا ان معجزات کو جھٹلانا معجزات بھیجنے میں رکاوٹ بنتا رہا ہے اور یہ اس کی مصداق ہے کہ کوئی شے اس لیے معدوم ہے اور وجود پذیر نہیں ہوئی کہ اس میں کوئی نہ کوئی مانع موجود ہے۔

ظاہر ہے کہ کسی چیز کے وجود میں کوئی شئے اس وقت مانع ہوسکتی ہے۔ جب اس شے کے وجودکا مقتضی موجود ہو۔ یعنی اگر کسی شئے کا وجود کا مقتضی موجود ہو لیکن مانع کی وجہ سے وہ وجودمیں نہ آسکے تو یہ کہنا درست ہے کہ فلاں چیز اس لیے وجود میں نہیں آئی کہ اس میں مانع موجود تھا۔ گویا کہ مقتضی تو تھا لیکن مانع موجود ہونے کی وجہ سے وجود پذیر نہیں ہوئی اور اگر کسی چیز کا متقضی سرے سے موجدو نہ ہو تو اس کے بارے میں یہ کہنا درست نہیں ہے کہ مانع موجود ہونے کی وجہ سے فلاںچیز وجود ہی میں نہیں آئی۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص لکڑی نہ جلنے کی علت اس کا مرطوب ہونا قرار دے جبکہ جلانے والی آگ ہی موجود نہ ہوتو عقلاء اسے نامعقول سمجھیں گے اور یہ ایسی حقیقت ہے جس میں کسی کے لیے تردد کی گنجائش نہیں ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ معجزات بھیجنے کا مقتضی موجود تھا ورنہ تکذیب کومعجزات نہ بھیجنے کی وجہ قرار نہ دیا جاتا۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معجزات بھیجنے کا مقتضی کیا ہے؟ اس میں چند احتمالات ہوسکتے ہںی:


معجزات بھیجنے کا مقتضی انسانوں کو ہدایت اور رہنمائی ہو یا تمام حجت کے لیے جتنے معجزات کی ضرورت تھی، ان سے زاید کی فرمائش کیا جانا ہو، اگر مقتضی حکمت الہٰی ہوتا تو خاد کی طرف سے ان آیات کا بھیجا جانا ضروری ہوجاتا اور یہ ناممکن ہے کہ کوئی بھی چیز حکمت الہی میں مانع بن سکے۔ کیونکہ چاہے معجزات کی تکذیب کی جائے یا نہ کی جائے خدا کے لیے یہ امر محال ہے کہ وہ حکمت کے منافی کوئی کام انجام دے۔

اسکے علاوہ اگر گذشتہ اقوام کا تکذیب کرنا معجزات میں مانع تھا تو اسے بعثت انبیاء میں بھی مانع بننا چاہےے تھا اور یہ یقیناً باطل اور خلاف فرض ہے۔

پس معلوم ہوا کہ نشانیاں بھیجے جانے کا مقتضی، لوگوں کی تجاویز اور فرمائش کرنا تھا اور یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ یہ لوگ ایسی نشانیوں کی فرمائش کرتے تھے جو امتام حجت کے لیے لازمی معجزات سے زاید تھیں۔ اس لیے کہ اپنے نبی کو نبوت ثابت کرنے کے لئے اتمام حجت کے طور پر ضروری نشانیوں کا بھیجنا خداپر لازم تھا۔ البتہ ضرورت سے زاید نشانیوں کا بھیجنا ابتدائی طور پر ضروری ہے اور نہ منکرین کی خواہش کی خاطر۔ ہاں! اگر مصلحت کا یہ تقاضا ہو کہ دوبارہ یا سہ بارہ حجت قائم کی جائے یا لوگوں کی فرمائش پوری کی جائے تو یہ خدا کے لیے ناممکن ہے۔

بنابراین منکرین رسالت اتمام حجت کے لیے ضروری نشانیوں کے بھیجے جانے اور ان کی تکذیب کے بعد مزید نشانیوں کی فرمائش کر رہ تھے اور گذشتہ اقوام کا تکذیب کرنا فرمائشی نشانیاں بھیجے جانے میں اس لئے مانع بنا کہ ان آیات و نشانیوں کی تکذیب کے نتیجے میں ان پر عذاب نازل ہوتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے یہ ضمانت دی ہے کہ رسول اعظمؐ کے احترام و تعظیم میں اس امت پر دنیاوی عذاب نازل نہیں ہوگا۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے:


( وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ ۚ ) ۸:۳۳

''حالانکہ جب تک تم ان کے درمیان موجود ہو، خدا ان پر عذاب نہیں کرے گا۔،،

مطالبہ شدہ آیات کی تکذیب اس لیے باعث عذاب بنتی ہے کہ اگر کوئی آسمانی معجزہ ابتدائی ہو تو اس کا مقصود صرف نبوّت کا اثبات ہوتا ہے اور اس کی تکذیب کا وہی گنا ہ و عقاب ہوگا جو نبی کو جھٹلانے کا ہوتا ہے۔

لیکن اگر یہ معجزہ الہٰی مکذبین کی فرمائش پرنازل ہو تو اس سے مکذّب کی ضد اور لیچڑ پن کی عکاسی ہوتی ہے جو اس کے تعصب اور دشمنی پر دلالت کرتی ہے اس لیے کہ اگر یہ حق کے متلاشی ہوتے ہو تو پہلی آیت ہی ان کے لیے کافی ہونی چاہیے تھی اور ان کے سامنے حق ثابت ہوجاناچاہتے تھا۔

اس کے علاوہ دوبارہ معجزہ پیش کئے جانے کے مطالبے کامقصد یہ ہے کہ اس شخص نے اپنے آپ کو اس بات کا پابند کرلیا ہے کہ اگر نبی اس کے اس مطالبہ کو پوار کردے تو وہ ضرور اس کی نبوت کی گواہی دے گا اور اس پر ایمان لے آئے گا۔ اب اگر وہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد بھی اس کی تکذیب کرے تو یہ اس نبی، اس فرمائشی معجزے اور اس حق کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ اس کی نبی دعوت دے رہا ہے، اسی لئے اس قسم کے معجزات کو ''آیات تخویف،، کہا جاتا ہے۔ جس طرح اس آیہ کریمہ کے آخر میں ہے۔ ورنہ تمام کی تمام نشانیاں ڈرانے دھمکانے کے لئے نازل نہیں کی گئیں۔ اس لیے کہ بعض معجزات ایسے ہیں جو لوگوں کے لیے باعث رحمت و ہدایت ہیں۔


ان آیات کے شان نزول اور سیاق و سباق سے بھی اس امر کی تائید ہوتی ہے کہ ان سے مراد ''آیات تخویف،، ہیں کیونکہ اس سے پہلے کہ آیہ میں ارشاد اللہ تعالیٰ ہے:

( وَإِن مِّن قَرْيَةٍ إِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيَامَةِ أَوْ مُعَذِّبُوهَا عَذَابًا شَدِيدًا ۚ كَانَ ذَٰلِكَ فِي الْكِتَابِ مَسْطُورًا ) ۱۷:۵۸

''اور کوئی بستی ایسی نہیں ہے مگر روز قیامت سے پہلے ہم اسے تباہ و برباد کرچھوڑیں گے (نافرمانی کی سزا میں) اس پر سخت سے سخت عذاب کریں گے (اور) یہ بات کتاب (لوح محفوظ) میں لکھی جاچکی ہے۔،،

اس آیہ کریمہ میں، جسے مخالفین نے اپنے مدعا کے ثبوت میں پیش کیا ہے، قوم ثمود کی طرف بھیجی گئی نشانی کا ذکر ہے جس کی تکذیب کے بعد ان پر عذاب نازل ہوا یہ واقعہ ''سورہ شعرائ،، میں موجود ہے، چنانچہ اس آیہ کریمہ کا اختتام اس آیہ سے ہوتا ہے:

( وَمَا نُرْسِلُ بِالْآيَاتِ إِلَّا تَخْوِيفًا ) ۱۷:۵۹

''اور ہم تو معجزے صرف ڈرانے کی غرض سے بھیجا کرتے ہیں۔،،

یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ اس آیہ میں جن معجزات کی نفی کی گئی ہے ان سے مراد وہ معجزات ہیں جن کی درخواست مخالفین کیا کرتے تھے اور ان کے بھیجے جانے کے بعد ان پر عذاب نازل ہوتا تھا۔

جب ہم قرآنی آیات کا بغور مطالعہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت مکمل طور پر واضح ہو جاتی ہے کہ مشرکین نبی اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) سے اپنے اوپر عذاب نازل کیے جانے کا مطالبہ کیا کرتے تھے یا وہ ایسے معجزات دیکھنے کی خواہش کرتے جن کی تکذیب سے گذشتہ اقوام پر عذاب نازل کیا گیا تھا۔


ان آیات میں عذاب نازل کرنے کے مطالبہ کا ذکر ہے:

چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

( وَإِذْ قَالُوا اللَّـهُمَّ إِن كَانَ هَـٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ) ۸:۳۲

''اور(اے رسول) وہ وقت یا دکرو جب ان کافروں نے دعائیں کی کہ خداوند اگر (یہ دین اسلام) حق ہے اور تیرے پاس سے (آیا) ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا یا ہم پر کوئی اور درد ناک عذاب نازل فرما۔

( وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ ۚ وَمَا كَانَ اللَّـهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ ) :۳۳

''حالانکہ جب تک تم ان کے درمیان موجود ہو خدا ان پر عذاب نہیںکرے گا اور اللہ ایسا بھی نہیں کہ لوگ تو اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہے ہیں اور خدا ان پر عذاب نازل فرمائے۔

( قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَتَاكُمْ عَذَابُهُ بَيَاتًا أَوْ نَهَارًا مَّاذَا يَسْتَعْجِلُ مِنْهُ الْمُجْرِمُونَ ) ۱۰:۵۰

''(اے رسوال) تم کہہ دو کہ تم سمجھتے ہو کہ اگر اس کا عذاب تم پر رات کو یا دن کو آجائے تو (تم کیا کرو گے) پھر گناہ گار لوگ (آخر) کا ہے کو جلدی کر پھر گناہگار لوگوں کو آخر کاہے کی جدلی ہے۔،،

( وَلَئِنْ أَخَّرْنَا عَنْهُمُ الْعَذَابَ إِلَىٰ أُمَّةٍ مَّعْدُودَةٍ لَّيَقُولُنَّ مَا يَحْبِسُهُ ۗ ) ۱۱:۸

''اور اگر ہم گنتی کے چند دن ان پر عذاب کرنے میں دیر بھی کریں تو یہ لوگ (اپنی شرارت سے) بے تامل ضرور کہنے لگیں گے کہ (ہائیں) عذاب کوکون سی چیز روک رہی ہے۔،،

( وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ ۚ وَلَوْلَا أَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَاءَهُمُ الْعَذَابُ وَلَيَأْتِيَنَّهُم بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ) ۲۹:۵۳

''اور (اے رسول) تم سے لوگ عذاب کے نازل ہونے کی جلدی کرتے ہیں اور اگر (عذاب کا) وقت معین نہ ہو تو یقیناً ان کے پاس اب تک عذاب آجاتا، اور (آخر ایک دن) ان پر اچانک ضرور آپڑے گا اور ان کو خبر بھی نہ ہوگی۔،،


اور ان آیات میں ایسے معجزات کا ذکر ہے جن کی تکذیب کی وجہ سے گذشتہ اقوام پر عذاب نازل کیا گیا، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

( وَإِذَا جَاءَتْهُمْ آيَةٌ قَالُوا لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّـهِ ۘ اللَّـهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُ ۗ سَيُصِيبُ الَّذِينَ أَجْرَمُوا صَغَارٌ عِندَ اللَّـهِ وَعَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا كَانُوا يَمْكُرُونَ ) ۶:۱۲۴

''اور جب ان کے پاس کوئی نشانی (نبی کی تصدیق کے لیے) آتی ہے تو کہتے ہیں جب تک ہم کو خود ویسی چیز (وحی وغیرہ) نہ دی جاے گی جو پیغمبران خدا کو دی گئی ہے اس وقت تک ہم ایمان نہ لائےں گے اور خدا جہاں (جس دل میں) اپنی پیغمبری قرار دیتا ہے اس کی (قابلیت و صلاحیت) کو خوب جانتا ہے جو لوگ (اس جرم کے) مجرم ہیں ان کو عنقریب ان کی مکاّری کی سزا میں خدا کے ہاں بڑی ذلّت اور سخت عذاب ہوگا۔،،

( فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الْأَوَّلُونَ ) ۲۱:۵

''(اور اگر حقیقتاً رسول ہے) تو جس طرح اگلے پیغمبر بھیجے گئے تھے اسی طرح یہ بھی کوئی معجزہ (جیسا ہم کہےں) ہمارے پاس بھلا لائے تو سہی۔،،

( فَلَمَّا جَاءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِندِنَا قَالُوا لَوْلَا أُوتِيَ مِثْلَ مَا أُوتِيَ مُوسَىٰ ۚ أَوَلَمْ يَكْفُرُوا بِمَا أُوتِيَ مُوسَىٰ مِن قَبْلُ ۖ قَالُوا سِحْرَانِ تَظَاهَرَا وَقَالُوا إِنَّا بِكُلٍّ كَافِرُونَ ) ۲۸:۴۸

''پھر جب ہماری بارگاہ سے (دین) حق ان کے پاس پہنچا تو کہنے لگے جیسے (معجزے) موسیٰ کو عطا ہوئے تھے ویسے ہی اس رسول (محمد(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم)) کوکیوں نہیں دیئے گئے کیا جومعجزے اس سے پہلے موسیٰ کو عطا ہوئے تھے ان سے ان لوگوں نے انکار نہ کیا تھا، کفار تو یہ بھی کہہ گزرے کہ یہ دونوں کے دونوں (توریت و قرآن) جادو ہیں کہ باہم ایک دوسرے کے مددگار ہوگئے ہیں اور یہ بھی کہہ چکے کہ ہم سب کے منکر ہیں۔،،


ذیل کی آیات اس بات پر دلالت کرتی ہی ںکہ منکرین اپنی فرمائش پر نامل کردہ معجزات کی تکذیب کی بناء پر عذاب کے مستحق قرار پائے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوتا ہے:

( قَدْ مَكَرَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَأَتَى اللَّـهُ بُنْيَانَهُم مِّنَ الْقَوَاعِدِ فَخَرَّ عَلَيْهِمُ السَّقْفُ مِن فَوْقِهِمْ وَأَتَاهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ ) ۱۶:۲۶

''بیشک جو لوگ ان سے پہلے تھے انہو ںنے بھی مکاریاں کی تھیں تو خدا (کا حکم) ان (کے خیالات کی) عمارت کی جڑ بنیاد کی طرف سے آپڑا (بس پھر کیا تھا) ا س(خیالی عمارت) کی چھت ان پر / ان کے اوپردھم سے گر پڑی (اور سب خیالات ہوا ہوگئے) اور جدہر سے ان پر عذاب آپہنچا اس کی ان کو خبر تک نہ تھی۔،،

( كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَأَتَاهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَيْثُ لَا يَشْعُرُونَ ) ۳۹:۲۵

''جو لوگ ان سے پہلے گزرگئے انہوں نے بھی (پیغمبروں کو) جھٹلای تو ان پر عذاب اس طرح آپہنچا کہ انہیں خبر بھی نہ ہوئی۔،،

قرآن کریم کی بہت سی آیات میں بھی اس امر کی شہادت ملتی ہے کہ یہ لوگ ایسے معجزات کا مطالبہ کررہے تھے جن کی تکذیب کے نتیجہ میں ان پر عذاب نازل ہوتا اور اس آیہ کریمہ کی تفسیر میں شیعہ و سنی سلسلہئ سند کی ایسی روایات موجود ہیں جن سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔


چنانچہ امام محمد باقر (علیہ السلام) فرماتے ہیں:

''أن محمداً ۔۔۔ص ۔۔۔سأله قومه أن یأتی بآیة فنزل جبریل و قال : ان الله یقول: و ما منعنا أنرسل بالآیات الا ان کذب بها الأولون ۔و کنا اذا أرسلنا الی قریش آیة فلم یؤمنوا بها أهلکناهم، وفلذلک أخرنا عن قومک الآیات ۔،، (۱)

''جب پیغمبراکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) سے آپ(ص) کی قوم نے اپنی نبوّت کے ثبوت میں کوئی معجزہ پیش کرنے کا مطالبہ کیا تو جناب جبرئیل نازل ہوئے اور انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ہم نے ان لوگوں کی طرف معجزات اس لیے نہیں بھیجے کہ گذشتہ قوموں نے اس قسم کے معجزات کی تکذیب کی تھی اور اگر ہم قریش کی طرف کوئی معجزہ بھیجیں اور وہ اس پر ایمان نہ لائیں تو گذشتہ اقوام کی طرف ہم ان کو بھی ہلاک کردیں گے اسی لیے ہم نے آپ کی قوم میں معجزات بھیجنے میں تاخیر کی ہے۔،،

ابن عباس سے روایت ہے:

''سأل أهل مکة النبی أن یجعل لهم الصفا ذهباً، و أن ینجی عنهم الجبال فیزرعوا ۔فقیل له: ان شئت أن نستأنی بهم لعلنا نجتی منهم ، و ان شئت أن نؤتیهم الذی سألوا، فان کفروا اهلکوا کما اهلک من قبلهم ۔قال: بل تستأنی بهم فأنزل الله تعالی: و ما منعنا أن نرسل بالآیات ،، (۲)

''اہل مکّہ نے پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) سے مطالبہ کیا کہ آپ(ص) کوہ صفا کو سونے میں تبدیل کریں اور مکّہ کے اردگرد موجود پہاڑوں کو ہٹا دیں تاکہ ہم اس میں کھیتی باڑی کرسکیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغبرؐ کو کہلوایا کہ اگر آپ(ص) چاہیں تو ان پر نشانیاں بھیجنے میں تاخیر کی جائے کہ شاید ان میں سے کوئی مومن مل جائے اور اگر آپ کہیں تو ان کا مطالبہ پورا کردیا جائے اور اپنی نشانیاں نازل کردی جائیں۔ لیکن اگر انہوں نے ان معجزات کی تکذیب کی تو یہ ہلاک کردیئے جائیں گے۔ جس طرح گذشتہ اقوام کو ہلاک کردیا گیا تھا۔ رسول اللہؐ نے فرمایا: پالنے والے! تو انہیں مہلت دے شاید یہ سنبھل جائیں اور ایمان لے آئیں۔ اس موقع پر یہ آیت اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائیں:و ما منعنا ان نرسل بالآیات،،

____________________

(۱) تفسیر طبری، ج ۱۵، ص ۷۴۔

اس سلسلے کی روایات اور بھی ہیں جو ان سے مطلع ہونا چاہیں تو کتب روایات اور تفسیر طبری کی طرف رجوع کرسکتے ہیں۔

منجملہ ان آیات کے جن سے مخالفین، قرآن کے علاوہ باقی معجزات کی نفی پر استدلال کرتے ہیں، یہ آیات کریمہ ہیں:

( وَقَالُوا لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّىٰ تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْأَرْضِ يَنبُوعًا ) ۱۷:۹

''اور (اے رسول) کفار مکّہ نے تم سے کہا کہ جب تک تم ہمارے واسطے زمین سے چشمہ (نہ) بہالوگے ، ہم تم پر ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔،،

( أَوْ تَكُونَ لَكَ جَنَّةٌ مِّن نَّخِيلٍ وَعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْأَنْهَارَ خِلَالَهَا تَفْجِيرًا ) ۱۷:۹۱

''یا (یہ نہیں تو)کھجوروں اور انگوروں کا تمہارا کوئی باغ ہو اس میں تم بیچ بیچ میں نہریں جاری کرکے دکھا دو جیسا تم گمان رکھتے تھے۔،،

( أَوْ تُسْقِطَ السَّمَاءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا أَوْ تَأْتِيَ بِاللَّـهِ وَالْمَلَائِكَةِ قَبِيلًا ) :۹۲

''ہم پر آسمان ہی کے ٹکڑے (ٹکڑے) کرکے گراؤ یا خدا اور فرشتوں کو (اپنے قول کی تصدیق میں ہمارے سامنے) گواہی میں لا کھڑا کرو۔،،

( أَوْ يَكُونَ لَكَ بَيْتٌ مِّن زُخْرُفٍ أَوْ تَرْقَىٰ فِي السَّمَاءِ وَلَن نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتَّىٰ تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَابًا نَّقْرَؤُهُ ۗ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّي هَلْ كُنتُ إِلَّا بَشَرًا رَّسُولًا ) :۹۳

''یا تمہارے (رہنے کے) لئے کوئی طلائی محل سرا ہو یا تم آسمان پر چڑھ جاؤ اور جب تک تم ہم پر (خدا کے ہاں سے ایک) کتاب نہ نازل کرو گے کہ اس خود پڑھ بھی لیں اس وقت تک ہم تمہارے آسمان پر چڑھنے کے بھی قائل نہ ہوں گے (اے رسول) تم کہہ دو کہ سبحان اللہ میں ایک آدمی خدا کے رسول کے سوا آخر اور کیا ہوں (جو یہ بیہودہ باتیں کرتے ہو)۔،،


مخالفین کا طرز استدلال یہ ہے کہ ان آیات کریمہ میں مشرکین نے جو پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کو اپنی نبوت کے ثبوت اور اس کی صداقت پر معجزہ پیش کرنے کی دعوت دی تو آپ(ص) نے اس سے انکار فرماتے ہوئے اپنی عاجزی اور ناتوانی کا اعتراف کیا اور صرف اتنا فرمایا: میں ایک بشر ہوں جس کو رسول بنا کر تمہاری طرف بھیجا گیا ہے۔ بنابراین یہ آیات اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ قرآن کے علاوہ آنحضرت(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) سے اور کوئی معجزہ صادر نہیں ہوا۔

جواب:

اولاً: مخالفین کے پہلے استدلال کے جواب میں، مشرکین کے فرمائشی معجزات کی ہم وضاحت کرچکے ہیں اور یہ ثابت کرچکے ہیں کہ یہ معجزات مشرکین کے فرمائشی تھے جن کو وہ اپنی ضد، تعصب اور دشمنی کی بناء پر پیش کرنے کا آپ(ص) سے مطالبہ کیا کرتے تھے۔ اس کے دو دلائل ہیں:

i ) ان مشرکی نے پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کی تصدیق کوان فرمائشی معجزات میں سے کسی ایک پر منحصر کردیا۔ اگر یہ متعصب اور دشمن حق نہ ہوتے تو ہر اس معجزے پر اکتفاء کرلیتے جو آپ(ص) کی صداقت پر دلالت کرتا ہے۔ علاوہ بریں ان کے ان فرمائشی معجزات میں ایسی کوئی خاص خوبی بھی نہیں تھی جو دوسرے معجزات میں نہ ہو۔


ii ) مشرکین کہتے ہیں:( وَلَن نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتَّىٰ تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتَابًا نَّقْرَؤُهُ ) (یعنی) ''اگر آپ(ص) آسمان کی طرف پرواز کر جائیں پھر بھی ہم ایمان نہیں لائیں گے، جب تک آپ ہم پر کوئی کتاب نازل نہ کریں جسے ہم خود پڑھ سکیں۔،،

اہل انصاف بتائیں کہ آسمان سے ان پر کتاب نازل کرنے میں کیا خصوصیت ہے۔ کیا آپ(ص) کا آسمان کی طرف پرواز کرنا آپ(ص) کی صداقت کے لیے کافی نہ ہوتا اور کیا اس قسم کے غیرمعقول مطالبات، حق سے دشمنی اور سرکشی کا واضح ترین ثبوت نہیں ہیں؟!

ثانیاً: گذشتہ آیات میں مشرکین کے جن فرمائشی معجزات کی نشاندھی کی گئی ہے وہ دو قسم کے ہیں:

i ) بعض معجزات ایسے ہیں جو محال ہیں۔

ii ) بعض معجزات ایسے ہیں جو حضور اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کی صداقت کی دلیل نہیں بن سکتے۔

بالفرض اگر مان بھی لیا جائے کہ ان کے فرمائشی معجزات کا پیش کرنا پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کے لیے ضروری تھا تو بھی اس نوعیت کے فرمائشی معجزات پیش کرنا واجب نہیں تھا۔

اس کی وضاحت یہ ہے کہ آیات میں کل چھ معجزات کا تذکرہ ہے جن کا مطالبہ مشرکین نے رسول اعظمؐ سے کیا تھا۔ ان میں سے تین معجزے ناممکن ہیں اور تین معجزے ناممکن تو نہیں البتہ وہ نبوت کی دلیل نہیں بن سکتے۔(۱)

____________________

(۱) تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں ضمیمہ نمبر ۶۔


تین محال معجزات یہ ہیں:

پہلا: آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو کر زمین پر گر پڑے۔ اس سے ساری زمین کا تہہ و بالا اور اس پر بسنے والوں کا ہلاک ہوجانا لازم آتا ہے۔ یہ کام دنیا کے اختتام پر انجام پائے گا اور اس کی خبر پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے بھی دی ہے۔ جیسا کہ مشرکین کا قول ''کما زعمت،، یعنی ''جیسا کہ آپ کا خیال ہے،، اس پر دلالت کرتا ہے اور یہ بات قرآن کریم میں متعدد مقامات پر مذکور ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

( إِذَا السَّمَاءُ انشَقَّتْ ) ۸۴:۱

''جب آسمان پھٹ جائے گا۔،،

( إِذَا السَّمَاءُ انفَطَرَتْ ) ۸۲:۱

''جب آسمان تڑخ جائے گا۔،،

( إِن نَّشَأْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْأَرْضَ أَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَاءِ ۚ ) ۳۴:۹

''اگر ہم چاہیں تو ان لوگوں کو زمین میں دھنسا دیں یا ان پر آسمان کا کوئی ٹکڑا ہی گرا۔،،

یہ معجزہ اس لیے محال ہے کہ اس کے لیے ایک وقت مقرر ہے اور اس سے پہلے اس کا ظاہر ہونا حکمت الہٰی کے خلاف ہے۔ کیونکہ حکمت الہٰی یہ ہے کہ قیامت تک اس کی مخلوق باقی رہے اور ارتقائی منازل کی طرف ان کی راہنمائی کی جائے، اور یہ محال ہے کہ اللہ تعالیٰ حکمت کے منافی کوئی کام انجام دے۔

دوسرا: خدا کو ان کے سامنے لا کر پیش کیا جائے اور وہ خود اپنی آنکھوں سے اسے دیکھیں۔

ایسا ہونا اس لیے محال ہے کہ ذات خدا کو آنکھوںسے نہیں دیکھا جاسکتا، ورنہ یہ لازم آئے گا کہ وہ کسی سمت و جہت میں محدود ہو اور اس کا اپنا کوئی رنگ اور مخصوص شکل و صورت ہو۔ یہ سب کچھ ذات خدا تعالیٰ کے لئے محال ہے۔


تیسرا: خدا کی طرف سے ان پر کوئی کتاب نازل ہو۔

یہ اس لیے محال ہے کہ یہ لوگ چاہتے تھے کہ خدا اپنے ہاتھ سےکوئی کتاب لکھ کر ان پر نازل فرمائے۔ ان کا مطالبہ یہ نہیں تھا کہ خدا کی طرف سے کوئی بھی کتاب ان پر نازل ہو چاہے وہ خلق و ایجاد ہی کی صورت میں کیوں نہ ہو۔ اس لیے کہ اگر ان کا مقصد یہ ہوتا کہ کسی بھی طریقے سے خدا کی جانب سے کوئی کتاب نازل کی جائے تو اس کتاب کا آسمان سے اتارے جانے کا مطالبہ غیر معقول ہے کیونکہ جو فائدہ و مقصد آسمان سے اترنے والی کتاب میں ہوسکتا تھا وہی فائدہ زمین پر لکھی گئی کتاب میں موجود ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ مشرکین کا یہ مطالنہ ناممکن و محال امر ہے، کیونکہ اس سے خدا کا جسم اور اعضاء و جوارح رکھنا لازم آتا ہے اور خدا کی ذات جسم و جسمانیات سے منزہ ہے۔

وہ تین معجزات جو بذات خود محال تو نہیں البتہ ان سے کسی نبی کی نبوّت ثابت نہیں ہوتی یہ ہیں:

i ) زمین سے چشمہ بہانا۔

ii ) پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کا بہتی ہوئی نہروں پر مشتمل کھجوروں اور انگوروں کے باغات کا مالک ہونا۔

iii ) سونے کا مکان کا مالک ہونا۔

یہ ایسی چیزیں ہیں جن کا دعویٰ نبوّت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے، کیونکہ اکثر اوقات عام لوگوں کے پاس بھی ان میں سے کچھ چیزیں ہوتی ہیں۔ اس کے باوجود وہ نبی نہیں ہوتے بلکہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے پاس یہ تینوں چیزیں ہوتی ہیں لیکن ان کے بارے میںیہ احتمال دینابھی صحیح نہیں ہے کہ وہ مومن ہوں، چہ جائیکہ وہ خدا کا نبی ہو۔

جب ان چیزوں کا دعویٰ نبوّت سے کوئی ربط نہیں ہے اور یہ اس دعویٰ کی دلیل نہ بن سکیں تو انہیں دلیل کے طورپر پیش کرنا عبث اور بیکار ہوگا، جو ایک نبی و حکیم سے صادر نہیں ہوسکتا۔


البتہ یہاں ایک توہم ہوسکتا ہے اور وہ یہ کہ اگر یہ تینوں چیزیں عام اور طبیعی اسباب کے ذریعے وجود پذیر ہوں تو کسی نبوّت کی دلیل نہیں بنتیں۔ لیکن اگر غیر معمولی ذرائع سے ان کو ایجاد کیا جائے تو یقیناً یہ معجزہ کہلائیں گی اور نبی کی نبوّت کی دلیل ہوں گی۔

جواب:

یہ بات بذات خود صحیح ہے لیکن مشرکین کا مطالبہ یہ تھا کہ غیر معمولی ذرائع سے یہ کام انجام پائیں بلکہ ان کا مطالبہ یہ تھا کہ اگر عام ذرائع اور طبیعی اسباب کے ذریعے بھی چشمے بہادیئے جائیں اور باغ وغیرہ کے مالک ہوں تو بھی ان کا مقصد پورا ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ وہ اپنی جگہ یہ بات بہت بعید اور ناممکن سمجھتے تھے کہ خدا کا رسول ایک فقیر اور نادار آدمی ہو اور اس کے پاس کوئی چیزنہ ہو۔

وہ کہا کرتے تھے:

( وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ هَـٰذَا الْقُرْآنُ عَلَىٰ رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْيَتَيْنِ عَظِيمٍ ) ۴۳:۳۱

''اور کہنے لگے یہ قرآن دو بستیوں (مکّہ طائف) میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں نازل کیا گیا۔،،

وہ رسول اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) سے مطالبہ کرتے تھے کہ آپ(ص) کے پاس بہت سا مال ہو اور اس کی دلیل یہ ہے کہ ان کی فرمائش یہ تھی کہ بڑے بڑے باغات اور سونے کے گھر کا مالک صرف نبی کو ہونا چاہیے، کسی اور کو نہیں ہونا چاہیے۔

اگر ان کا مقصد یہ ہوتا کہ یہ چیزیں معجزہ یا غیر معمولی طریقے سے وجود میں آئیں تو پھر اس قید کی ضرورت نہیں تھی کہ نبی ہی ان کامالک ہو اور باغات اور سونے کے گھروں میں کا خاص ذکر کرنے کی ضرورت نہ ہوتی بلکہ انگور کا ایک دانہ یا ایک مثقال سونا ایجاد کرلینا ہی نبوّت کے اثبات کے لیے کافی ہونا چاہیے تھا۔


ان کی اس بات''حتی تفجر لنا من الاءرض ینبوعاً،، (یعنی) ''جب تک آپ(ص) زمین سے چشمہ نہ نکالیں، آپ(ص) پرایمان نہیں لائیں گے،، کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اپنے فائدے کے لیے نبی سے چشمہ نکالنے کا مطالبہ کررہے تھے بلکہ ان کا مقصد یہ تھا کہ آپ(ص) اپنے فائدے اور مالدار ہونے کے لیے ان کی درخواست پر ایک چشمہ بہائیں۔

واضح ہے کہ ان دونوں معنوں میں فرق ہے اور اس فرمائش کے مقابلے میں بھی حضور اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے اپنے عجز و ناتوانی کا اظہار نہیں کیا جیسا کہ ان لوگوں کا خیال ہے بلکہ''سبحان ربی،، کے ذریعے اس حقیقت کی طرف اشارہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اس بات سے منزہ ہے کہ اس کی طرف عجز کو نسبت دی جائے اور وہ ہر ممکن کام پر قدرت رکھتاہے کسی کے روبرو ہونے سے منزہ و بالاتر ہے۔ اس کی ذات اس سے بالاتر ہے کہ مشرکین کی فرمائشیں اس پر مسلط کی جاسکیں اور نبی ایک بشر ہے جو امر خدا کے تابع ہے۔ ہر کام پر اختیار صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے اور اللہ تعالی ہی ہے جو چاہے انجام دیتا ہے جو چاہتا ہے فیصلہ کرتا ہے۔

جن آیات کریمہ سے قرآن کریم کے علاوہ دیگر معجزات کی نفی پر استدلال کیا گیاہے ان میں سے ایک آیہ کریمہ یہ ہے۔

(لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِّن رَّبِّهِ ۖ فَقُلْ إِنَّمَا الْغَيْبُ لِلَّـهِ فَانتَظِرُوا إِنِّي مَعَكُم مِّنَ الْمُنتَظِرِينَ ) ۱۰:۲۰

''اس پیغمبر پر کوئی معجزہ (ہماری ہی خواہش کے موافق) کیوں نہیں نازل کیا گیا تو (اے رسول) تم کہہ دو کہ غیب (دانی) تو صرف خدا کے واسطے خاص ہے تو تم بھی انتظار کرو اور تمہارے ساتھ میں (بھی) یقیناً انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔،،


اس آیہ کے ذریعے معجزات کے منکریوں استدلال کرتے ہیں کہ مشرکین نے رسول اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) سے کسی معجزہ یا نشانی کے پیش کرنے کا مطالبہ کیا۔ آپ(ص) نے کوئی معجزہ دکھانے کی بجائے جواب دیا کہ غیب کی خبر خدا ہی سے مختص ہے۔ رسول اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کا یہ جواب اس بات کی دلیل ہے کہ آپ(ص) کے پاس قرآن کریم کے علاوہ او رکوئی معجزہ نہیں تھا۔

اس ضمن میں کچھ اور آیات بھی ہیں جو معانی کے اعتبار سے اس آیہ کریمہ سے ملتی جلتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

( وَيَقُولُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِّن رَّبِّهِ ۗ إِنَّمَا أَنتَ مُنذِرٌ ۖ وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ ) ۱۳:۷

''اور جو لوگ کافر ہیں کہتے ہیں کہ اس شخص (محمد) پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی (ہماری مرضی کے موافق) کیوں نہیں نازل کی جاتی (اے رسول) تم تو صرف (خوف خدا سے) ڈرانے والے ہو اور ہر قوم کے لیے ایک ہدایت کرنے والا ہے۔،،

( وَقَالُوا لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِّن رَّبِّهِ ۚ قُلْ إِنَّ اللَّـهَ قَادِرٌ عَلَىٰ أَن يُنَزِّلَ آيَةً وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ ) ۶:۳۷

''اور کفار کہتے ہیں کہ (آخر) اس نبی پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی معجزہ کیوں نہیں نازل ہوتا تو تم (ان سے) کہہ دو کہ خدا معجزے کے نازل کرنے پر ضرور قادر ہے مگر ان میں سے اکثر لوگ (خدا کی مصلحتوں کو) نہیں جانتے۔،،


جواب:

اولاً: گذشتہ آیہ کا جو جواب ذکر کیا گیا ہے وہ جواب اس کا بھی بن سکتا ہے ،یعنی مشرکین اور دیگر منکرین آپ(ص) سے یہ نہیں چاہتے تھے کہ آپ(ص) اپنی نبوّت کا کوئی بھی معجزہ پیش کریں بکہ وہ اپنی طرف سے مخصوصی معجزات کی فرمائش کرتے تھے، جن کی طرف قرآن کریم نے بہت سے مقامات پر واضع الفاظ میں اشارہ کیا ےہ ان میں سے ایک مقام یہ ہے، اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

( وَقَالُوا لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ مَلَكٌ ۖ ) ۶:۸

''اور (یہ بھی) کہتے ہیں کہ اس (نبی) پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں نازل کیا گیا۔،،

( وَقَالُوا يَا أَيُّهَا الَّذِي نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ إِنَّكَ لَمَجْنُونٌ ) ۱۵:۶

''(اے رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کفار مکّہ تم سے) کہتے ہیں کہ اے وہ شخص جس کو (یہ سودا ہے) کہ اس پر وحی اور کتاب نازل ہوئی ہے۔،،

( وْ مَا تَأْتِينَا بِالْمَلَائِكَةِ إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ )

''اگر تو اپنے دعوے میں سچا ہے تو فرشتوں کو ہمارے سامنے کیوں نہیں لاکھڑا کرتا۔،،

( وَقَالُوا مَالِ هَـٰذَا الرَّسُولِ يَأْكُلُ الطَّعَامَ وَيَمْشِي فِي الْأَسْوَاقِ ۙ لَوْلَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مَلَكٌ فَيَكُونَ مَعَهُ نَذِيرًا ) ۲۵:۷

''اور ان لوگوں نے (یہ بھی) کہا کہ یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے اس کے پاس فرشتہ کیوں نہیں نازل ہوا تاکہ وہ بھی اس کے ساتھ (خدا کے عذاب سے) ڈرانے والا ہوتا۔،،

( أَوْ يُلْقَىٰ إِلَيْهِ كَنزٌ أَوْ تَكُونُ لَهُ جَنَّةٌ يَأْكُلُ مِنْهَا ۚ وَقَالَ الظَّالِمُونَ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا رَجُلًا مَّسْحُورًا ) : ۸

''یا (کم سے کم) اس کے پاس خزانہ ہی (آسمان سے) گرا دیا جاتا (اور نہیں تو) اس کے پاس کوئی باغ ہی ہوتا تاکہ اس سے کھاتا (پیتا) اوریہ ظالم (کفار مومنوں سے) کہتے ہیں کہ تم لوگ تو پس ایسے آدمی کی پیروی کرتے ہو جس پر جادو کردیا گیا ہے۔،،


ہم اس سے پہلے بیان کرچکے ہیں کہ معجزات دکھانے کی مشرکین کی فرمائش کو پورا کرنا واجب اور ضروری نہیں تھا اور ان آیات سے مراد فرمائشی معجزات ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اگر ان کا مقصد یہ ہوتا کہ آپ(ص) کوئی ایسی نشانی پیش کریں جو آپ(ص) کی صداقت پر دلالت کرتی ہو تو آپ(ص) قرآن کریم، جس کے مقابلے کا چیلنج کئی مقامات پرکیا گیا ہے، کے ذریعے ان کامطالبہ پورا کرسکتے تھے، ہاں! البتہ استدلال کرنے والے نے جن آیات سے استدلال کیاہے اس سے دو باتیں ضرور ظاہر ہوتی ہیں:

i ) آپ(ص) نے صرف قرآن سے مقابلے کا چیلنج تمام لوگوں کو کیا۔ دوسرے معجزات کی نظیر پیش کرنے کا چیلنج نہیں کیا اور حقیقت بھی یہی ہے اس لیے کہ ابدی و دائمی نبوّت کا تقاضا دائمی معجزہ ہی ہوتا ہے۔ ایسا معجزہ قرآن کریم کے علاوہ دوسرا نہیں ہوسکتا اور دوسرے معجزات کا کوئی پہلو دائمی نہیں تھا۔

ii ) معجزہ پیش کرنا نبی اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کے اختیار میں نہیں تھا بلکہ آپ(ص) تو رسول اور معجزے کے اظہار میں حکم خدا کے تابع ہیں اور اس میں کسی کی فرمائش کا بھی دخل نہیں ہے اوریہی چیز تمام انبیاء(ع) کے لیے ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

( وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَن يَأْتِيَ بِآيَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّـهِ ۗ لِكُلِّ أَجَلٍ كِتَابٌ ) ۱۳:۳۸

''اور کسی پیغمبر کی یہ مجال نہ تھی کہ کوئی معجزہ خدا کے اذن کے بغیر لا دکھائے ہر ایک وقت (موعود) کے لیے (ہمارے یہاں) ایک (قسم کی) تحریر (ہوتی) ہے۔،،

( وَمَا كَانَ لِرَسُولٍ أَن يَأْتِيَ بِآيَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّـهِ ۚ فَإِذَا جَاءَ أَمْرُ اللَّـهِ قُضِيَ بِالْحَقِّ وَخَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُونَ ) ۴۰:۷۸

''اور کسی پیغمبر کی یہ مجال نہ تھی کہ خدا کے اختیار دیئے بغیر کوئی معجزہ دکھا سکے پھر جب خدا کا حکم (عذاب) آپہنچا تو ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردیا گیا اور اہل باطل ہی اس وقت گھاٹے میں رہے۔،،


ثانیا: قرآن کریم میں ہی ایسی آیات ہیں جو قرآن کے علاوہ آپ(ص) کے دوسرے معجزات پر دلالت کرتی ہیں۔ ان میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوتا ہے:

( اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ ) ۵۴:۱

''قیامت قریب آگئی اور چاند دو ٹکڑے ہوگیا۔،،

( وَإِن يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ )

اور اگر یہ کفار کو ئی معجزہ دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو بڑا زبردست جادو ہے۔،،

( وَإِذَا جَاءَتْهُمْ آيَةٌ قَالُوا لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّـهِ ۘ ) ۶:۱۲۴

''اور جب ان کے پاس کوئی نشانی (نبی کی تصدیق کے لیے) آتی ہے تو کہتے ہیں، جب تک ہم کو خود ویسی چیز (وحی وغیرہ) نہ دی جائے گی جو پیغمبران خدا کو دی گئی ہے، اس وقت تک توہم ایمان نہ لائیں گے۔،،

ان آیات شریفہ میں ''آیہ،، سے مراد معجزہ ہونے کی دلیل یہ ہے: آیہ کریمہ میں ''رویۃ،، کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی دیکھنے کے ہیں۔ اگر اس سے مراد قرآن کریم کی آیات ہوتیں تو اس کے لئے ''سماع،، کا لفظ استعمال کرنا چاہیے تھا جس کے معنی ''سننے،، کے ہیں، نیز اس مطلب کی تائید، آیہ کریمہ میں شق القمر کا ذکر کئے جانے سے بھی ہوتی ہے۔ تیسرا مؤید یہ ہے کہ آیہ کریمہ می ںاس کے لیے ''آنے،، کا لفظ استعمال کیا گیا ہے ۔ نازل کرنے کا نہیں۔

بلکہ مشرکین کی تعبیر سحر مستمر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آپ(ص) سے بار بار معجزات صادر ہوتے رہتے تھے۔ بفرض تسلیم اگر گذشتہ آیات معجزوں کی نفی پر دلالت بھی کریں تو لامحالہ یہ ان قرآنی آیات کے نزول کے وقت کی بات ہوگی اور ان میں بعد کے زمانے میں معجزات واقع ہونے کی نفی نہیں کی گئی۔


ہماری مذکورہ بحث کا خلاصہ یہ ہے:

۱۔ قرآنی آیات میں سے کوئی بھی قرآن کریم کے علاوہ دوسرے معجزات کی نفی پر دلالت نہیں کرتی بلکہ بعض آیات ان کے وجود پر دلالت کرتی ہیں، جن کی مخالفین نفی کرتے ہیں۔

۲۔ معجزہ دکھانا رسول اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کے اختیار میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔

۳۔ دعویٰ نبوّت میں بس اتنے معجزات دکھانا واجب و لازم ہیں جن سے رسول کی حجت تمام ہوجائے اور رسالت کی تصدیق جن پر موقوف ہو۔ اس سے زیادہ معجزات ظاہر کرنا نہ خدا پر واجب ہے اور نہ رسول پر کہ وہ ہر مطالبہ کرنے والے کے مطالبہ کو پورا کرتے رہیں۔

۴۔ ہر وہ معجزہ جس کے نتیجے میں امت ہلاکت اور عذاب کا شکار ہوتی ہو امت کی فرمائش پر اس معجزے کو پیش کرنا جائز نہیں ہے چاہے امت کے تمام افراد اس کی فرمائش کریں یا بعض۔

۵۔ نبی اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کا ابدی معجزہ، جس کا چیلنج قیامت تک کی نسلوں کو کیا گیا ہے، قرآن کریم ہے۔ اس کے علاوہ دوسرے معجزات، خواہ کتنے ہی ہوں، دائمی و ابدی نہیں ہوسکتے اور اس اعتبار سے نبی اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کے دوسرے معجزات گذشتہ انبیاء(ع) کے معجزات کی مانند ہیں جو وقتی تھے۔


تورات و انجیل میں نبوّت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی بشارت

قرآن کی متعدد آیات میں وضاحت کی گئی ہے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی رسالت کی بشارت دی ہے اور یہ بشارت تورات و انجیل میں مذکورہ ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

( الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الرَّسُولَ النَّبِيَّ الْأُمِّيَّ الَّذِي يَجِدُونَهُ مَكْتُوبًا عِندَهُمْ فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ يَأْمُرُهُم بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَاهُمْ عَنِ الْمُنكَرِ ) ۷:۱۵۷

''جو لوگ ہمارے نبی امی پیغمبر کے قدم بقدم چلتے ہیں جس (کی بشارت) کو اپنے ہاں توریت اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں (وہ نبی) جو اچھے کام کا حکم دیتا ہے اور برے کاموں سے روکتا ہے۔،،

( وَإِذْ قَالَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّـهِ إِلَيْكُم مُّصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِن بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ ۖ ) ۶۱:۶

''اور (یاد کرو) جب مریم کے بیٹے عیسی نے کہا اے بنی اسرائیل میں تمہارے پاس خاد کا بھیجا ہوا (آیا) ہوں (اور) جو کتاب توریت میرے سامنے موجود ہے اس کی تصدیق کرتا ہوں اور ایک پیغمبر جن کا نام احمد ہوگا (اور) میرے بعد آئیں گے، ان کی خوشخبری سناتا ہوں۔،،

چنانچہ آپ(ص) کی زندگی میں اور آپ(ص) کی رحلت کے بعد بھی بہت سے یہودیوں اور نصرانیوں نے آپ(ص) کی نبوّت کی تصدیق کی اور آپ(ص) پر ایمان لائے۔ یہ سب اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ آپ(ص) کی دعوت اسلام کے وقت یہ بشارت تورات و انجیل میں موجود تھی اور اگر تورات و انجیل میں آپ(ص) کی نبوّت کی بشارت موجود نہ ہوتی تو یہی بات یہود و نصاریٰ کی طرف سے قرآن مجید کی تکذیب کے لیے کافی تھی اور وہ دعوت اسلام میں آپ کی تکذیب اور آپ کا شدت سے انکار کرسکتے تھے۔

پس ان میں سے اکثر یہودیوں اور نصرانیوں کا آپ(ص) کی زندگی میں اور آپ(ص) کی رحلت کے بعد بھی اسلام لانا اور آپ(ص) کی دعوت کی تصدیق کرنا اس امر کا قطعی ثبوت ہے کہ یہ بشارت تورات و انجیل میں موجود تھی۔


بنابرایں حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) پرایمان لانے کا لازمی نتیجہ یہی ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر بھی ایمان لایا جائے اور اس کے لیے کسی معجزے کی بھی ضرورت نہیں ہے جو آپ(ص) کی نبوّت کی تصدیق کرے۔

ہاں! ان لوگوں کے لیے معجزے کی ضرورت ہے جو حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) اور ان کی کتب پر ایمان نہ لائے ہوں اور گذشتہ دلائل سے یہ ثابت ہوگیا کہ قرآن مجید نبی اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کی نبوّت کا دائمی معجزہ اور حجت الہٰی ہے اور قرآن مجید کے علاوہ دوسرے معجزات گذشتہ انبیاء(ع) کے معجزات سے زیادہ قابل تصدیق ہیں۔


قاریوں پر ایک نظر

تمہید

٭ ۱۔ عبد اللہ بن عامر دمشقی

٭ ۲۔ ابن کثیر مکّی

٭ ۳۔ عاصم بن بہدلۃ کوفی

٭ ۴۔ ابو عمر و بصری

٭ ۵۔ حمزہ کوفی

٭ ۶۔ نافع مدنی

٭ ۷۔ کسائی کوفی

٭ ۸۔ خلف بن ہشام بزار

٭ ۹۔ یعقوب بن اسحاق

٭ ۱۰۔ یزید بن قعقاع


تمہید

سات مشہور قراءتوں کے بارے میں لوگوں کے درمیان اختلاف رائے ہے۔ علماء اہل سنت میں سے بعض کی یہ رائے ہے کہ سب قراءتیں بطور تواتر پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) سے منقول ہیں۔ بعض لوگ اس قول کو ان کا مشہور قول قرار دیتے ہیں۔ علامہ ''سبکی،، سے تو یہ قول منقول ہے کہ دس قراءتیں متواتر ہیں۔(۱) بعض علماء اہل سنت تو حد سے بڑھ گئے اور اپنے زعم میں یہ کہا کہ جو یہ کہے کہ ان سات قراءتوں میں تواتر لازم نہیں اس کا یہ قول کفر ہے، اور یہ قول مفتی اندلس ''ابو سعید فرج ابن لب،، سے منسوب ہے۔(۲)

امامیہ کے نزدیک یہ قراءتیں متواتر نہیں ہیں۔ بلکہ بعض قراءتیں تو قاری کے ذاتی اجتہاد کا نتیجہ ہیں اور بعض قراءتیں خبر واحد(۳) کے ذریعے منقول ہیں۔ اس قول کو اھل سنت کے بعض علاء نے بھی اختیار کیا ہے اور بعید نہیں کہ یہ قول ان میں بھی مشہور ہو۔ ہمارے نزدیک یہی قول (قراءت کا متواتر نہ ہونا) صحیح ہے۔

اس مطلب کی تحقیق سے قبل دو چیزوں کا ذکر ضروری ہے:

اوّل: مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کا اس بات پر اتفاق ےہ کہ قرآن مجید صرف تواتر(۴) کے ذریعے ہی ثابت ہوسکتا ہے۔ اس پر بہت سے علماء شیعہ و سنی نے یوں استدلال کیا ہے:

قرآن ایسی کتاب ہے جس کے نقل کئے جانے کے عوامل و اسباب زیادہ ہیں۔ اس لیے کہ یہ دین اسلام کی اساس و بنیاد

____________________

(۱) مناھل العرفان، زرقائی، ص ۴۳۳۔

(۲) ایضا، ص ۴۲۸۔

(۳) خبر واحد وہ خبر ہے جس کو نقل کرنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ نہ ہو کہ اس سے یقین حاصل ہوسکے۔

(۴) خبر متواتر وہ خبر ہے جسےنقل کرنے والوں کی اتنی کثرت ہو کہ اس خبر کی صداقت کا یقین ہو جائے۔


کی حیثیت رکھتا ہے۔ مسلمانوں کے نبی کی رسالت پرالہٰی معجزہ ہے اور ہر وہ بات جس کے نقل کیے جانے کے عوامل و اسباب زیادہ ہوں اس کو لازمی طور پر متواتر ہونا چاہیے۔ اس قاعدہ کے تحت جو کلام بھی خبر واحد کے ذریعے نقل کیا جائے گا وہ ہرگز قرآن نہیں ہوسکتا۔

التبہ سیوطی فرماتے ہیں:

قاضی ابوبکر ''انتصار،، میں لکھتے ہیں: ''فقہاء او رمتکلمین کی ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ اگر کوئی آیۃ، خبر واحد، جس کا درجہ خبر مستفیض سے نیچے ہوتا ہے کے ذریعے نقل کی جائے تو اس پر قرآن کا حکم تو جاری ہوگا لیکن اس کا قرآن ہونا یقینی نہیں ہے، مگر اہل حق نے یہ قول پسند کرکے اسے ماننے سے انکار کردیا ہے۔،،(۱)

یہ قول جسے قاضی ابوبکر سے نقل کیا گیا ہے صاف بائل ہے اور اس کی وجہ بھی گزر چکی ہے۔

یعنی نقل قرآن کے عوامل و اسباب وافر مقدار میں ہونے کے باوصف صرف ایک یا دو آدمیوں کے ذریعے نقل ہونا اس خبر کے کذب کی قطعی دلیل ہے۔ چنانچہ اگر ایک یا دو آدمی کسی سربراہ مملکت کے شہر میں آنے کی خبر دیں اور ایسے آدمی کی آمد عام حالات میں لوگوں سے پوشیدہ نہ رہ سکتی ہو تو ایسی خبر کے جھوٹا ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوگا جبکہ اسے دو ہی آدمی نقل کریں۔ جب اس خبر کا جھوٹا ہونا ثابت ہو تو پھر وہ انتظامات کےسے کئے جائیں گے جو ایک سربراہ مملکت کی کسی ملک میں آمد کے موقع پر کئے جاتے ہیں۔

__________________

(۱) الاتقان فی النوع ۲۲۔۲۷، ج ۱، ص ۲۴۳، طبع سوم۔


پس خبر واحد کے ذریعے قرآن کا نقل کیا جانا اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ منقول، کلام الہٰی نہیں ہے اور جب اس کا کذب مسلم ہو تو پھر اس میں موجود احکام پر عمل کیسے ممکن ہے۔

ِبہر کیف مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن اور اس کے کلام الہٰی ہونے کا ثبوت خبر متواتر ہی کے ذریعے مل سکتا ہے۔ نیز اس بیان سے یہ حقیقت بھی عیاں ہوگئی کہ تواتر قرآن اور عدم تواتر قراءت میں کوئی ملازمہ نہیں پایا جاتا۔ کیو نکہ تواتر قرآن اور تواتر لازمی ہونے کے دلائل سے کبھی تواتر قراءت ثابت نہیں ہوتا اور نہ تواتر قراءت کی نفی سے تواتر قرآن پر کوئی زد پڑسکتی ہے۔

اس کی تفصیل قراءت پر ایک نظر کے ذیل میں بیان کی جائے گی۔

ثانی: عدم تواتر قراءت ثابت کرنے کا بہترین طریقہ خود قاریوں کو پہچاننا اوررایوں اور روایت کے طریقے کو سمجھنا ہے۔

مشہور قاری، سات ہیں۔ ان کے ساتھ تین قاری اور ہیں۔ مجموعی طور پر دس قاری بن جاتے ہیں تین قاریوں کا ذکر ان سات کے بعد کیا جائے گا، اب آپ کے سامنے ایک ایک قاری کے حالات زندگی بیان کئے جاتے ہیں۔


۱۔ عبد اللہ بن عامر دمشقی

اس کا نام: عبد اللہ بن عامر دمشقی۔ کنیت ابو عمران اور لقب یحصبی ہے۔ اس نے قرآن مغیرہ بن ابی شہاب سے پڑھا۔ ہیثم بن عمران کا کہنا ہے کہ عبد اللہ بن عامر، ولید بن عبد الملک کے دور میں اہل مسجد کا رئیس ہوا کرتاتھا۔ ا سکے خیال میں اس کا تعلق قبیلہئ حمیر سے تھا اور وہ اس کے نسب کو مخدوش سمجھتا تھا۔

عجلی اور نسائی نے اسے ثقہ لکھا ہے ابوعمرو اور دانی لکھتے ہیں:

بلال بن ابی الدرداء کے بعد عبد اللہ بن عامر کو دمشق کی قضاوت کا عہدہ مل گیا تھا۔ اہل شام نے اسے قراءت اور اس کے اختیار میں اس کو اپنا امام بنالیا تھا۔،،(۱)

ابن جزری کہتا ہے:

''قراءت ابن عامر کی سند میں نو اقوال ہیں ان میں سے صحیح قول یہی ہے کہ اس نے مغیرہ کے پاس پڑھاتھا۔،،

بعض کا کہنا ہے:

''یہ معلوم نہیں کہ ابن عامر نے قراءت کس سے پڑھی۔،،

عبد اللہ ابن عامر ۸ھ میں میں پیدا ہوئے اور ۱۱۸ھ میں انہوں نے وفات پائی۔(۲)

عبد اللہ ابن عامر کے راوی دو ہیں، جنہوں نے کئی واسطوں سے اس کی قراءت کی روایت کی ہے اور یہ راوی ہشام اور ابن ذکوان ہیں۔

ہشام: اس کی کنیت ابن عمارہ اور نہ نصیر بن میسرہ کا فرزند ہے۔ اس نے ایوب بن تمیم سے قراءت سیکھی اور پھر اسے اس کے سامنے تصدیق کے لیے پیش کیا۔

____________________

(۱) تہذیب التہذیب، ج ۵، ص ۲۷۴۔

(۲) طبقات القرائ، ج ۱، ص ۴۰۴۔


یحییٰ بن معین کا کہنا ہے:''یہ ثقہ ہے،،۔ نسائی کا کہنا ہے: ''اس پر اعتبار کرنے میں کوئی حرج نہیں،، اور دار قطنی کا کہنا ہے:''یہ بڑا جلیل القدر اور راست گو انسان تھا۔،،

یہ ۱۵۳ھ میں پیدا ہوا اور ۲۴۵ھ میں اس کا انتقال ہوگیا۔(۱)

آجری، ابی داؤد سے نقل کرتے ہیں:

''ابو ایوب (سلیمان بن عبد الرحمن) ہشام سے بہتر ہے کیونکہ ہشام نے چار سو احادیث نقل کیں جو کہ سب بے بنیاد ہیں۔،،

ابن وارۃ کا کہنا ہے:

''میں نے ایک زمانے میں فیصلہ کرلیا تھا کہ ہشام کی روایتیں بیان نہیں کروں گا، اس لیے کہ وہ حدیث فروش ہے۔،،

صالح بن محمد کہتا ہے:

''ہشام، حدیث نقل کرنےکے پیسے لیتا تھا اور پیشہ لیے بغیر وہ حدیث نقل ہی نہ کرتا تھا۔،،

مروزی کہتا ہے:

''احمد، ہشام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کرتا تھا: وہ متلون المزاج، بے وقعت اور گھٹیا آدمی تھا۔ اس کے بعد اس نے لفظ قرآن کا ایک قصہ اس سے نقل کیا اور اس نے برا منایا اور پھر کہا: جو کوئی اس کی اقتداء میں نماز پڑھے اسے اپنی نماز دوبارہ پڑھنی چاہیے۔،،(۲)

مؤلف: اس بات میں اختلاف ہے کہ کن کن راویوں نے اس سے روایت نقل کی ہے، اس کے لیے ''طبقات القرآئ،، وغیرہ کی طرف رجوع کیا جائے۔

____________________

(۱) طبقات القرائ، ج ۲، ص ۳۵۴۔۳۵۶۔

(۲) تہذیب التہذیب، ج ۱۱، ص۵۲۔۵۴۔


باقی رہا ابن ذکوان: اس کا نام عبد اللہ ابن احمد ابن بشیر ہے۔ کبھی وہ بشیر بن ذکوان بھی کہلاتا ہے، اس نے ایوب بن تمیم سے قراءت سیکھی اور تصدیق کے لیے اسے اس کے سامنے پیش کیا۔

ابو عمرو الحافظ کہتا ہے:

''کسائی جب شام آیا تو ابن ذکوان نے اس سے قراءت سیکھی۔،،

ابن ذکوان ۱۷۳ھ میں روز عاشورہ پیدا ہوا اور ۲۴۲ھ میں اس کا انتقال ہوگیا۔

مؤلف: ہشامکی طرح ذکوان کے ناقلوں کے بارے میں بھی اختلاف ہے کہ کس قسم کے لوگ اس سے قراءت نقل کرتے تھے۔


۲۔ ابن کثیر مکّی

اس کا نام عبد اللہ بن کثیر بن عمر وبن عبد اللہ بن زاذان بن فیروزان بن ہرمز تھا۔ یہ مکّہ کا رہنے والا، قبیلہئ دار سے تعلق رکھتا تھا اور نسلی اعتبار سے یہ ایرانی تھا۔ کتاب الیتسیر کے مطابق اس نے قراءت عبد اللہ بن سائب سے سیکھی اور اسی کے سامنے تصدیق کے لیے پیش کی۔ چنانچہ حافظ ابو عمرو الدانی وغیرہ اسی نظریے کو قطعی اور یقینی سمجھتے ہیں۔

حافظ (ابوالعلاء الہمدانی) کے نزدیک یہ قول ضعیف ہے اور اس کا کہنا ہے: ''یہ قول ہمارے نزدیک مشہور نہیں ہے۔،،

ابن کثیرنے اپنی قراءت کو ''مجاہدین جبیر،، اور ''ابن عباس،، کے غلام ''درباس،، کے سامنے بھی تصدیق کے لیے پیش کیا۔

ابن کثیر ۴۵ھ میں پیدا ہوئے اور ۱۲۰ھ میں وفات پاگئے۔(۱)

علی بن مدینی کہتے ہیں:

''ابن کثیر ثقہ تھے،،۔ ابن سعد کا کہنا ہ: ''یہ موثق آدمی ہیں،،۔ ابو عمرو دانی کہتا ہے: ''اس نے قراءت عبد اللہ بن سائب مخزومی سے سیکھی،،۔ لیکن مشہور یہی ہے کہ اس نے قراءت مجاہد سے سیکھی۔(۲)

عبد اللہ بن کثیر کے روای بھی دو ہیں جنہوں نے کئی واسطوں سے اس کی قراءت نقل کی ہے، یہ بزی اور قنبل ہیں۔

بزی: اس کا نام احمد بن محمد بن عبداللہ بن قاسم بن نافع بن ابی بزہ (بشار) ہے۔ اس کا تعلق ایران کے شہر ہمدان سے تھا۔ یہ سائب بن ابی سائب مخزومی کے ہاتھ پر ایمان لایا۔

ابن جزری کہتے ہیں:

____________________

(۱) طبقات القرائ، ص ۴۴۳۔۴۴۵۔

(۲) تہذیب التہذیب، ج ۵، ص ۳۷۔


''یہ استاد اور محقق تھے اور ان کا حافظہ مضبوط تھا۔،،

یہ ۱۷۰ھ میں پیدا ہوئے اور ۲۵۰ھ میں انتقال کرگئے۔(۱)

بزی نے قراءت، ابوالحسن احمد بن محمد علقمہ جو قواس کے نام سے مشہور تھا، ابو اخریط وہب بن واضح مکّی، ابو القاسم عکرمہ بن سلیمان بن کثیر بن عامر مکّی اور عبد اللہ بن زیاد بن عبد اللہ بن یسار مکّی سے سیکھی۔(۲)

عقیلی کہتا ہے:

''وہ (بزی)ناقابل اعتماد تھا۔،،

ابو حاتم کہتا ہے:

''بزی نقل احادیث میں ضعیف ہے اور اس سے روایات نقل نہیں کرتا۔،،(۳)

مؤلف: دوسرے راویوں کی طرح ان کے بارے میں بھی اختلاف ہے جو بزی سے حدیث بیان کرتے ہیں۔

قنبل: اس کا نام محمد بن عبدالرحمن بن خالد بن محمد تھا۔ اس کی کنیت ''ابو عمرو،، تھی اور یہ قبیلہئ بنو مخزوم سے تعلق رکھتا تھا۔ یہ اسی قبیلے کا آزاد کردہ اور مکّہ کا رہنے والا تھا۔

اس نے قراءت احمد بن محمد بن عون نبال سے سیکھی۔ احمد بن محمد بن عون نبال نے قنبل کو مکّہ میں اپنی جگہ تعینات کیا اور قراءت کی ذمہ داری اسے سوپنی۔ قنبل نے بزی سے بھی قراءت نقل کی ہے۔

____________________

(۱) طبقات القرائ، ج ۱، ص ۱۱۹۔

(۲) النصر فی القرائٰ ت العشر، ج ۱، ص ۱۲۰۔

(۳) لسان المیزان، ج ۱، ص ۲۸۳۔


آخر کار حجاز میں تعلیم قراءت کی ریاست اس کو نصیب ہوئی۔ مکّہ میں پولیس کے محکمے سے بھی منسلک رہا اور ۹۵ھ میں پیدا ہوا اور ۲۹۱ھ میں وفات پائی۔(۴)

یہ ترقی کرتے کرتے پولیس افسر کے عہدے پر پہنچ گیا۔ جس کی وجہ سے اس کی سیرت و کردار داغدار ہوگیا اور عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس کی عادت میں بھی تبدیلی آتی گئی حتیٰ کہ مرنے سے سات سال قبل یہ تعلیم قراءت کا کام بالکل ترک کرچکا تھا۔(۵)

مؤلف: اس کے راوی بھی محل نزاع ہیںکہ یہ کون لوگ تھے۔

۳۔ عاصم بن بہدلہ کوفی

اس کی کنیت، ابو بکر اور نام عاصم بن ابی النجود ہے۔ یہ قبیلہ بنی اسد کا آزاد کردہ اور کوفہ کا رہنے والا تھا۔ اس نے قراءت زربن جیش، ابی عبد الرحمن سلمی اور ابی عمر وشیبانی سے سیکھی اورانہی سے اس کی تصدیق کرائی۔

ابوبکر بن عیاش کہتا ہے:

''عاصم مجھ سے کہا کرتا تھا: مجھے عبد الرحمن سلمیٰ کے سوا کسی او رنے قراءت کا ایک حرف بھی نہیں پڑھایا، میں عبد الرحمن سلمی سے قراءت پڑھتا تھا اور زر کے سامنے پیش کرکے اس سے تائید لیتا تھا۔،،

____________________

۴) طبقات القرائ، ج ۲، ص ۲۰۵۔

۵) لسان المیزان، ج ۵، ص ۲۴۹۔


''حفص،، کہتا ہے:

''عاصم نقل کرتا ہے کہ میں تجھے قراءت کی جو تعلیم بھی دی ہے وہ میں نے عبد الرحمن سلمی سے سیکھی ہے اور اس نے یہ علی ابن ابی طالب (علیہ السلام) سے سیکھی ہے اور ابوبکر بن عیاش کو میں نے جو قراءت سکھائی ہے اس کا استفادہ زر بن جیش سے کیا ہے اور اس (زر بن جیش) نے ابن مسعود سے قراءت سیکھی ہے۔(۱)

ابن سعد کہتا ہے:

''عاصم معتمد تو تھا مگر اپنے بیان میں غلطیاں زیادہ کرتا تھا۔،،

عجلی کا کہنا ہے:

''وہ صاب سنت و قراءت تھا۔ وہ ثقہ اور قاریان قرآن کا پیشوا اور عثمان کے حامیوں سے تھا۔،،

''عاصم قابل اعتماد آدمی تھا۔ لیکن پھر بھی اس کی باتیں تزلزل سے خالی نہ تھیں۔،

ابن علیہ بھی عاصم پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں:

''حدیث کے راویوں اور ناقلین میں عاصم کا نام جو بھی ہو، اس کا حافظہ کمزور تھا۔،،

نسائی کا کہنا ہے:

''عاصم میں کوئی اور خرابی نہیں۔،،

ابن خراش کی نظر میں:

اس کی حدیث ''قابل ردّ و انکار ہے۔،،

عقیلی کا کہنا ہے:

''اس میں حافظہ کی کمزوری کے علاوہ کوئی اور عیب یا خامی ہیں تھی۔،،

____________________

(۱) طبقات القرائ، ج ۱، ص۳۴۸۔


دار قطنی کی رائے ہے:

''اس کا حافظہ قابل اعتراض ہے۔،،

حماد بن سلمہ کا کہنا ہے:

''عاصم زندگی کے آخری ایّام میں کھوٹے کھرے میں تمیز نہیں کرسکتا تھا۔،،

عاصم نے ۱۲۷ھ یا ۱۲۸ھ میں وفات پائی۔(۱)

عاصم بن بہدلہ سے دو آدمیوں حفص اور ابوبکر نے بلاواسطہ قراءت نقل کی ہے۔

حفص: اس کے والد کا نام سلیمان اور تعلق بنی اسد سے تھا، وہ عاصم کا پروردہ تھا۔

ذہبی کا کہنا ہے:

نقل حدیث میں اس کا کوئی حافظہ نہیں تھا۔ لیکن قراءت قرآن کے سلسلے میں یہ قابل اطمینان تھا اور یہ قراءت کو صحیح طرح حفظ کرلیتا تھا۔،،

حفص کہتا ہے:

''سورہ روم کے ایک حرف کے علاوہ قراءت میں کسی اور مقام پر میرا عاصم سے اختلام نہیں ہے اور وہ حرف سورہ روم کی آیت ۳:''الله الذی خلقکم من ضعف،، میں ''ض،، ہے میں اسے پیش کے ساتھ پڑھتا تھا جبکہ عاصم اسے زبر کے ساتھ پڑھتا تھا۔،،

حفص کا سال پیدائش ۹۰ھ اور سال وفات ۱۸۰ھ ہے۔(۲)

____________________

(۱) تہذیب التہذیب، ج ۵، ص ۳۹۔

(۲) طبقات القرائ، ج ۱، ص ۲۵۴۔


ابن ابی حاتم، عبد اللہ سے اور وہ اپنے باپ سے ناقل ہے:

''حفص متروک الحدیث اور ناقابل اعتماد تھا۔،،

عثمان دارمی وغیرہ ابن معین سے نقل کرتے ہیں:

''حفص قابل اعتماد نہیں تھا۔،،

ابن مدینی لکھتے ہیں:

''حفص نقل حدیث میں کمزور اور ناقابل اعتماد ہے، اسی وجہ سے میں عمداً اس سے حدیث نقل نہیں کرتا۔،،

بخاری فرماتے ہیں:

''ماہرین علم رجال نے اسے ترک کردیا ہے۔،،

مسلم کہتے ہیں:

''حفص متروک آدمی ہے۔،،

نسائی اس کے بارے میں کہتے ہیں:

''حفص قابل اعتماد نہیں تھا اور نہ اس کی احادیث لکھی جاتی ہیں۔،،

صالح بن محمد کا کہنا ہے:

''حفص کی حدیثیں لکھنے کے قابل نہیں، کیونکہ اس کی تمام حدیثیں جھوٹی اور بے بنیاد ہیں۔،،

ابن خراش کا کہنا ہے:

حفص جھوٹا اور متروک الحدیث انسان ہے اور اس کا کام ہی احادیث گھڑنا ہے۔،،


ابن حیان کا کہنا ہے:

''حفص حدیثوں کی سند تبدیل کردیتا تھا اور جس حدیث کی سند نہ ہوتی اس کی سند خود ہی بنالیتا تھا۔،،

ابن جوزی کتاب ''موضوعات،، میں عبد الرحمن بن مہدی سے نقل کرتے ہیں کہ وہ حفص کے بارے میں کہا کرتا تھا:

''خدا کی قسم! اس سے کوئی روایت نقل کرنا جائز نہیں ہے۔،،

دار قطنی کا کہنا ہے:

''حفص نقل احادیث میں کمزور ہے۔،،

ساجی کہتا ہے:

''حفص ان افراد میں سے ہے جن کی تمام حدیثیں ختم ہوگئی ہیں اور سوائے چند جھوٹی حدیثوں کے ان کے پاس کچھ نہیں۔،،(۱)

مؤلف: اس کی قراءت کے راویوں کا حال بھی وہی ہے جیسا کہ بیان کیا جاچکا ہے۔ (یعنی یہ مجہول اور گمنام افراد ہیں۔ مترجم)

ابوبکر: اس کا نام شیعہ اور یہ عباس بن سالم حناط کا بیٹھا تھا۔ اس کا تعلق قبیلہ بنی اسد سے ہے اور یہ کوفہ کا رہنے والا تھا۔

اس کے بارے میں ابن جزری کا کہنا ہے:

''اس نے تین مرتبہ اپنی قراءت تصدیق کے لیے عاصم کے سامنے پیش کی، اس کے علاوہ عطا بن سائب اور اسلم منقری کے سامنے بھی اپنی قراءت پیش کی۔ شیعہ نے طویل عمر پائی لیکن انتقال سے سات سال (ایک روایت کے مطابق سات سال سے زیادہ) قبل قراءت سے دستبردار ہوگیا تھا۔ یہ قراءت اور احکام میں پیشوا اور عالم باعمل سمجھا جاتا تھا۔ کبھی تو وہ خود کہا کرتا تھا کہ میں نصف اسلام ہوں۔ وہ سنت کا پیشوا تھا۔ مرتے وقت جب اس کی ہمیشرہ رونے لگی تو اس سے کہنے لگا: تمہارے رونے کی کیا وجہ ہے۔ گھر کے اس کونے کی طرف دیکھو جہاں بیٹھ کر میں نے اٹھارہ ہزار مرتبہ قرآن ختم کیا ہے۔،،

____________________

(۱) تہذیب التہذیب، ج ۲، ص ۴۰۱۔


یہ ۹۵ھ میں پیدا ہوا اور ۱۹۳ھ میں وفات پائی۔ ایک قول کے مطابق ۱۹۴ھ میں وفات پائی۔(۱)

اس کے بارے میں عبد اللہ ابن احمد اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں:

''وہ قابل اعتماد تھے لیکن ان سے غلطیان زیادہ سرزد ہوتی تھیں۔،،

عثمان دارمی اس کے بارے میں کہتے ہیں:

''یہ حدیث کے سلسلے میں کوئی خاص قابل اعتماد نہیں۔،،

ابن ابی حاتم کہتے ہیں میں نے ابوبکر بن عیاش اور ابو الاحوص کے بارے میں اپنے والد سے سوال کیا تو انہوں نے کہا:

''میں ان میں سے کسی کی تائید نہیں کرتا۔،،

ابن سعد کہتا ہے:

'' وہ سچا اور قابل اعتماد تھا۔ وہ احادیث اور کچھ دوسرے علوم سے آشنا ضرور تھا، مگر اس سے غلطیاں زیادہ ہوتی تھیں۔،،

یعقوب بن شیبہ کہتے ہیں:

''اس کی حدیث میں تزلزل پایا جاتا ہے۔،،

ابو نعیم کا کہنا ہے:

____________________

(۱) طبقات القراء ج ۱، ص ۳۲۵۔۳۲۷۔


''ہمارے علماء اور بزرگوں میں ابوبکر سے زیادہ غلطیاں کسی سے بھی سرزد نہیں ہوتی تھیں۔،،

بزاز کہتا ہے:

''ابوبکر کا حافظہ نہیں تھا اور وہ حافظ حدیث نہ تھا۔،،(۱)

۴۔ ابو عمرو بصری

اس کانام زبان بن علا بن عمار مازنی اور یہ بصرہ کا رہنے والا تھا۔ بعض کا خاال ہے کہ یہ نسلاً ایرانی تھا۔ حجاج بن یوسف کے خوف سے فرار ہو کر ابو عمرو اپنے والد کے ہمراہ حجاز آگیا اور مکّہ و مدینہ میں اس نے قراءت سیکھی۔ کوفہ اور بصرہ میں بھی اس نے بہت سے استادوں سے قراءت سیکھی۔ سات مشہور قاریوں میں سے کسی کے بھی اتنے استاد نہ تھے۔

پانچ سو سال تک اہل شام ابن عامر کی قراءت پر عمل کرتے رہے اور بعد میں اس کی قراءت ترک کردی۔ کیونکہ اہل عراق میں سے ایک شخص مسجد اموی میں ابو عمرو کی قراءت کے مطابق قراءت کی تعلیم دیا کرتا تھا اورا س کے درس میں لوگ جمع ہوتے تھے۔ اس کے بعد شام میں ابو عمرو کی قراءت مشہور ہوگئی۔

اصعمی کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے والدابو عمرو کو یہ کہتے سنا ہے:

''میں نے اپنے سے پہلے کسی کو عالم نہیں پایا۔،

___________________

(۱) تہذیب التہذیب، ج ۱۲، ص ۳۵۔۳۷۔


ابوعمرو ۶۸ھ میں پیدا ہوئے اوربہت سے لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ ۱۵۴ھ میں ان کا انتقال ہوا۔(۱)

دوری، ابن معین سے نقل کرتے ہیں:

''ابوعمرو موثق اور قابل اعتماد انسان تھے۔،،

ابو خیثمہ کہتے ہیں:

''ابو عمرو بن علاء او رکوئی اعتراض تو نہیں تھا لیکن وہ حافظ حدیث نہ تھے۔،،

نصر بن علی جھضمی اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ شعبہ نے ان سے کہا:

''ابو عمرو کی قراءت میں دقت اور غور کرو، وہ جس قراءت پر بھی عمل کرے اسے نوٹ کرو۔ کیونکہ وہ مستقبل قریب میں قراءت کا استاد بننے والا ہے۔،،

ابو معاویہ ازہری تہذیب میں نقل کرتے ہیں:

''ابوعمرو قراءت کی اقسام ، الفاظ عرب، عمدہ و نایاب کلام عرب اور فصیح اشعار عرب سے، سب سے زیادہ آشنا تھے۔،،(۲)

ابوعمرو کی قراءت دو راویوں نے یحییٰ بن مبارک کے واسطے سے نقل کی ہے۔ یہ دو راوی ''دوری،، اور ''موسی،، ہیں۔

یحییٰ بن مبارک: ان کے بارے میں ابن جزری کہتے ہیں:

''یہ نحوی قاری، ثقہ اور جلیل القدر عالم تھے۔،،

____________________

(۱) طبقات القرائ، ج ۱، ص ۲۸۸۔۲۹۲۔

(۲) تہذیب التہذیب،ج ۱۲، ص ۱۷۸۔۱۸۰۔


یہ بغداد میں داخل ہوئے اور یزیدی کے نام سے شہرت پائی کیوں کہ یہ خلیفہ مہدی عبّاسی کے ماموں یزید بن منصور حمیری سے زیادہ مانوس تھے اور اسی کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے اور اس کے بیٹوں کی تربیت کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی قراءت ابوعمرو کے سامنے پیش کی اور ابوعمرو نےان کو تعلیم قراءت کے لیے اپنا جانشین مقرر کیا۔ انہوں نے ابوعمرو کے علاوہ حمزہ سے بھی قراءت سیکھی، انہوں نے ابوعمرو، دوری اور ابو شعیب سوسی سے قراءت نقل کی ہے۔ یہ قراءت میں صاحب نظریہ تھے اور بعض مقامات پر بعض حروف میں ابوعمرو سے اختلاف رکھتے تھے۔

ابن مجاہد کا کہنا ہے:

''ابوعمرو کے باقی شاگرد یحییٰ سے بہتر ہیں۔ لیکن اس کے باوجود قراءت میں اس پر اس لیے اعتماد کیا جاتا ہے کہ نقل قراءت کے علاوہ ان کا کوئی اور مشغلہ نہ تھا اور ابوعمرو کے شاگردوں میں سب سے زیادہ حافظہ اسی کا تھا۔،،

انہوں نے ۲۰۲ھ میں ۷۴ سال کی عمر میں مرو میں وفات پائی۔ بعض کا کہنا ہے کہ مرتے وقت ان کی عمر نوے سال سے زیادہ سو سال کے لگ بھگ تھی۔(۱)

دوری: اس کا نام حفص بن عمرو بن عبدالعزیز دوری تھا۔ اس کا تعلق قبیلہ ازد سے تھا اور یہ بغداد کا رہنے والا تھا۔

اس کے بارے میں ابن جزری کا کہنا ہے:

''یہ ایک قابل اعتماد اور جلیل القدر انسان تھے۔ تمام مطالب اور مسائل حفظ کرلیتے تھے، وہ سب سے پہلے انسان ہیں جس نے مختلف قراءتوں کو جمع کیا۔،،

____________________

(۱) طبقات القرائ، ج ۲، ص ۳۷۵۔۳۷۷۔


۲۴۶ھ میں انہوں نے وفات پائی۔(۱)

دارقطنی کا کہنا ہے: ''یہ ضعیف ہیں،،۔ اور عقیلی کا کہنا ہے: ''یہ قابل اعتماد ہیں۔،،(۲)

مؤلف: جنہوں نے دوری سے قراءت نقل کی ہے وہ گذشتہ راویوں کی طرح مجہول الحال ہیں۔

سوسی: اس کانام صالح اور کنیت ابو شعیب تھی۔ اس کے والد کا نام زیاد بن عبد اللہ ہے۔ اس کے بارے میں ابن جزری کا کہنا ہے:

''موسی مسائل حفظ کرتا اور لکھتا اور یہ باوثوق آدمی تھا۔،،

اس نے قراءت ابو محمد یزیدی سے سیکھی اور اسی کو تصدیق کے لیے سنائی اور یہ ابو محمد یزیدی کے اصحاب میں سے تھا۔ ۲۶۱ھ کے آغاز میں اس نے ستر سال کی عمر میں وفات پائی۔(۳)

ابوحاتم کا کہنا ہے:

''یہ راست گو انسان تھا۔،،

نسائی کا کہنا ہے:

''یہ قابل اعتماد تھا۔،،

___________________

(۱) ایضاً،ج ۱، ص ۰۲۵۵

(۲) تہذیب التہذیب،ج ۲، ص۴۰۸۔

(۳) طبقات القرائ، ج ۱، ص ۳۳۲۔


ابن حیان نے بھی اس کو قابل اعتماد قرار دیا ہے اور ابو عمرو دانی کا کہنا ہے:

''نسائی نے قراءت سوسی سے نقل کی ہے۔ مسلم بن قاسم اندلسی نے بلا وجہ اور بغیر کسی دلیل کے اس کو ضعیف قرار دیا ہے۔،،(۱)

مؤلف: اس کی قراءت کے راوی بھی مجہول اور گمنام ہیں۔

۵۔ حمزہ کوفی

یہ حبیب بن عمارۃ بن اسماعیل کا بیٹا اور اس کی کنیت ابو عمارۃ ہے اور یہ کوفہ کا رہنے والا اور قبیلہ بنی تمیم سے تعلق رکھتا تھا اس نے اپنے بچپن میں صحابہ کو درک کرلیا تھا اس نے سلمان بن اعمش اور حمران بن اعین سے قراءت سیکھی اور انہیں کو تصدیق کے لیے سنائی۔

کتاب''الکفایة الکبریٰ و الیتسیر،، میں مذکور ہے کہ اس نے مغیرہ بن مقسم، منصور ادرلیث بن ابی سلیم سے قراءت سیکھی۔ صاحب کتاب ''الیتسیر و المستنیر،، لکھتے ہیں کہ اس نے قراءت میں امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے سیکھی۔ ان کا کہنا ہے:

''حمزہ نے شروع میں قراءت حمران سے سیکھی اور اعمش، ابو اسحاق اور ابن ابی لیلیٰ کو تصدیق کے لئے سنائی اور عاصم و اعمش کے بعد علم قراءت میں امامت اور پیشوائی کا منصب اسی کے سپرد کیا گیا وہ اس فن کا امام، قابل وثوق اور بے نظیر آدمی تھا۔،،

____________________

(۱) تہذیب التہذیب،ج ۴، ص ۳۹۲۔


عبد اللہ عجلی کہتے ہیں کہ ابو حنیفہ نے حمزہ سے مخاطب ہو کر کہا:

''آپ کو دو موضوعات ''قرآن،، اور ''فرائض،،(۱) میں ہم پر بالا دستی حاصل ہے ان میں ہم آپ کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔،،

سفیان ثوری کا کہنا ہے:

''قرآن،، اور ''فرائض،، میں حمزہ کے ہم پایہ کوئی آدمی نہیں ہے۔،،

عبداللہ بن موسیٰ کہتے ہیں:

''حمزۃ کا استاد اعمش جب بھی حمزہ کو دیکھتا تو کہتا: یہ عالم قرآن ہے۔،،

حمزہ ۸۰ھ میں پیدا ہوا اور ۱۵۶ھ میں اس کا انتقال ہوا۔(۲)

ابن معین کہتا ہے۔

''حمزہ باوثوق اور قابل اعتماد ہے۔،،

نسائی کہتا ہے:

''اس (حمزہ) میں کوئی حرج نہیں۔،،

عجلی کا کہنا ہے:

''یہ قابل اعتماد اور نیک انسان تھا۔،،

___________________

(۱) یعنی مسائل میراث (مترجم)

(۲) طبقات القرائ، ج ۱، ص ۲۶۱۔


ابن سعد کا کہنا ہے:

''حمزہ نیک آدمی تھا، اس کے پاس بہت سی احادیث تھیں، یہ ایک سچا انسان تھا اور علم قراءت میں خاص روش کا مالک تھا۔،،

ساجی کہتا ہے:

''حمزہ سچا انسان تھا لیکن اس کا حافظہ اچھا نہیں تھا۔ اس لیے اس کی حدیث میں کوئی پختگی نہیں ہے۔،،

بعض اہل حدیث نے قراءت میں بھی اس پر تنقید کی ہے اور بعض حضرات اس کی قراءت کے مطابق پڑھی گئی نماز کو باطل سمجھتے ہیں۔

ساجی اور ازدی کا کہنا ہے:

اس کی قراءت پر علماء میں چہ میگوئیاں ہوتی ہیں اور وہ ایک مذموم حالت کی طرف اس کی نسبت دیتے ہیں۔،،

اس کے علاوہ ساجی کا کہنا ہے:

''میں نے سلمۃ بن شبیب کو یہ کہتے ہوئے سنا: احمد بن حنبل اس شخص کی اقتداء کرنا پسند نہیں کرتے تھے جو حمزہ کی قراءت پر عمل کرتا ہو۔،،

آجری، احمد بن سنان سے نقل کرتے ہیں:

''یزید بن ہاروں کو حمزہ کی قراءت سے سخت نفرت تھی۔،،

احمد بن سنان کہتے ہیں کہ میں نے ابن مہدی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے:

''اگر مجھ میں قدرت ہوتی تو ان لوگوں کو زدو کوب کرتا جو حمزہ کی قراءت پر عمل کرتے ہیں۔،،

ابوبکر بن عیاش کہتے ہیں:

''حمزہ کی قراءت میرے نزدیک بدعت ہے۔،،


ابن دری کہتا ہے:

''میں چاہتا ہوں کہ کوفہ سے حمزہ کی قراءت کامکمل خاتمہ ہو جائے۔،،(۱)

اس کے دو راوی ہیں جنہوں نے بالواسطہ اس سے قراءت نقل کی ہے اور یہ ''خلف بن ہشام،، اور ''خلاد بن خالد،، ہیں۔

خلف: اس کی کنیت ابو محمد تھی اور اس کا تعلق بنی اسد سے تھا۔ اس کے والد کا نام ہشام بن ثعلب بزاز تھا، جو بغداد کا رہنے والا تھا۔

ابن جزری کہتا ہے:

''خلف دس قاریوں میں سے ایک ہے۔ سلیم کے واسطے سے حمزہ کی قراءت روایت کرنے والوں میں سے یہ ایک ہے۔ اس نے دس سال کی عمر میں قرآن حفظ کرلیا تھا اور تیرہ سال کی عمر میں علم قراءت کی تحصیل میں مشغول ہوگیا اور وہ ثقہ، جلیل القدر، زاہد و عابد اور دانشمند انسان تھا۔،،

ابن اشتہ کا کہنا ہے:

''خلف نے قراءت میں حمزہ کی روش اپنائی لیکن وہ ایک سو بیس مقامات پر حمزہ سے اختلاف رکھتا تھا۔،،

یہ ۱۵۰ھ میں پیدا ہوا اور ۲۲۹ھ میں اس نے وفات پائی۔(۲)

لالکائی کا کہنا ہے:

''عباس دوری سے جب اس داستان کے متعلق پوچھا گیا جو احمد بن جنبل نے خلف کے بارے میں نقل کی ہے تو عباس دوری نے جواب میں کہا: میں نے خود احمد بن حنبل سے یہ داستان نہیں سنی البتہ میرے دوسرے نقل کرتے ہیں کہ احمد بن حنبل کے پاس خلف کا نام لیا گیا اور باتوں باتوں میں یہ بِھی کہا گیا کہ خلف شراب پیتا تھا

____________________

(۱) تہذیب التہذیب، ج ۳، ص۲۷۔

(۲) طبقات القرائ،ج ۱، ص ۲۷۲۔


تو احمد نے کہا: ہمارے نزدیک یہ واقعہ ثابت ہے لیکن اس کے باوجود (واللہ) وہ ہمارے نزدیک قابل اعتماد ہے۔،،

نسائی کہتا ہے:

''خلف بغدادی ہے اور قابل اعتماد آدمی ہے۔،،

دار قطنی کا کہنا ہے:

''خلف کہا کرتا تھا: میں نے اپنی چالیس سال کی نمازیں دوبارہ پڑھی ہیں، کیونکہ اس دوران میں کوفیوں کے مسلک کے مطابق شراب پیتا تھا۔،،

خطیب بغدادی، اپنی تاریخ میں محمد بن حاتم کندی سے نقل کرتے ہیں:

''یحییٰ بن معین سے جب خلف کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے جواب دیا: ''اسے اتنا بھی معلوم نہیں

تھا کہ علم حدیث کیا چیز ہے۔،،(۱)

مؤلف: خلف سے قراءت نقل کرنے والے راویوں کے بارے میں گفتگو بعدمیں کی جاھے گی۔

خلاد بن خالد: ابو عیسیٰ شیبانی کے نام سے مشہور ہے اور یہ کوفہ کا رہنے والا تھا۔ اس کے بارے میں ابن جزری کا کہنا ہے:

''خلاد، علم قراءت میں پیشوا اور قابل اطمینان آدمی ہے اور وہ اس علم کا دانشمند، محقق اور استاد ہے۔،،

اس نے قراءت سلیم سے سیکھی اور تصدیق کے لیے اسی کو سنائی۔ اپنے ساتھیوں میں اس کا حافظہ سب سے تیز تھا اور یہ سب سے زیادہ قابل قدر تھا۔ ۲۲۰ھ میں اس نے وفات پائی۔(۲)

مؤلف: اس کی قراءت کے راوی بھی گذشتہ راویوں کی طرح گمنام اور مجہول الحال ہیں۔

____________________

(۱) تہذیب التہذیب،ج ۳، ص۱۵۲۔

(۲) طبقات القرائ، ج ۱، ص ۲۷۴۔


۶۔ نافع مدنی

اس کا نام نفع بن عبد الرحمن ابی نعیم ہے۔ ابن جزری کہتے ہیں:

''نافع، سات مشہور قاریوں او علماء میں سے ایک ہے۔ یہ باوثوق اور نیک آدمی ہے۔ یہ اصل میں اصفہان کا ہے۔،،

اس نے اہل مدینہ کے تابعین کی ایک جماعت سے قراءت سیکھی اور انہیں کو تصدیق کے لئے سنائی۔

سعید ابن منصور نے کہا کہ میں نے مالک بن انس کو یہ کہتے سنا ہے:

''اہل مدینہ کی قراءت، سنت اور روش پیغمبرؐ ہے۰ اس (مالک بن انس) سے پوچھا گیا: کیا قراءت اہل مدینہ سے مراد، نافع کی قراءت ہے؟ اس نے جواب دیا: ہاں۔،،

عبد اللہ بن احمد حنبل کہتے ہیں:

''میں نے اپنے والد سے پوچھا: آپ کون سی قراءت زیادہ پسند کرتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا: اہل مدینہ کی قراءت۔ میں نے کہا: اگر یہ قراءت میسر نہ ہو تو؟ انہوں نے جواب دیا: عاصم کی قراءت کو۔،

نافع نے ۱۶۹ھ میں وفات پائی۔(۱)

ابو طالب نے احمد بن حنبل سے نقل کیا ہے:

''لوگ قرآن نافع سے سیکھتے تھے لیکن نقل حدیث میں اس کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔،،

دوری نے ابن معین سے نقل کیا ہے:

''نافع قابل اعتماد آدمی تھا۔،،

نسائی کہتا ہے:

''نافع میں کوئی عیب نہیں تھا۔،،

____________________

(۱) طبقات القرائ، ج ۲، ص ۳۳۰۔


ابن حیان نے بھی نافع کو قابل اعتماد افراد میں شمار کیا ہے۔

ساجی کا کہنا ہے:

''نافع راست گو آدمی ہے۔ لیکن احمد اوریحییٰ کی رائے اس کے بارے میں مختلف ہے۔ احمد کہتا ہے: اس کی حثیت قابل قبول نہیں اوریحییٰ کا کہنا ہے: یہ قابل اعتماد ہے۔،،(۱)

نافع کی قراءت دو راویوں ''قانون،، اور ''ورش،، نے بلا واسطہ نقل کی ہے۔

قالون: اس کا نام عیسیٰ اور کنیت ابو موسیٰ ہے اور اس کے والد کا نام میناء ابن وردان ہے اور یہ قبیلہ زہرہ کا آزاد کردہ ہے۔

منقول ہے کہ یہ نافع کاپروردہ تھا۔ قراءت میں اس کی ہوشیاری او زیرکی کی وجہ سے نافع نے اس کا نام ''قالون،، رکھا، کیونکہ رومی لغت میں قالون کا معنی ''عمدہ،، ہے۔

عبد اللہ بن علی کہتے ہیں:

''اسے قانون کالقب اس لیے دیا گیا کہ وہ اصل میں رومی تھا اور اس کا پر دادا رومیوں کا غلام تھا۔،،

اس نے قراءت نافع سے سیکھی اور تصدیق کے لیے اسی کو سنائی۔

ابن ابی حاتم کہتے ہیں:

''اسے قانون کا لقب اس لیے دیا گیا کہ وہ اصل میں رومی تھا اور اس کا پردادا رومیوں کا غلام تھا۔،،

اس نے قراءت نافع سے سیکھی اور تصدیق کے لیے اسی کو سنائی۔

____________________

(۱) تہذیب التہذیب،ج ۱۰، ص ۴۰۷۔


ابن ابی حاتم کہتے ہیں:

''قالون گونگا تھا اور وہ لبوں کے اشاروں سے قرآن پڑھتا اور ہونٹوں کے اشارے سے ہی لوگوں کو قراءت کی اغلاط کی طرف متوجہ کرتی تھا۔،،

یہ ۱۲۰ھ میں پیدا ہوئے اور ۲۲۰ھ میں وفات پاگئے۔(۱)

ابن حجر کہتے ہیں:

''قالون قراءت میں قابل اعتماد اور باوثوق ہے۔ لیکن حدیث کے اعتبار سے اس کی احادیث کسی حد تک قابل درج ہیں۔،،

احمد بن صالح مصری سے قالون کی حدیثوں کے بارے میں پوچھا گیا تو وہ مسکرائے اور کہنے لگے:

''کیا ہر کس و ناکس کی حدیث لکھی جاتی ہے۔،،(۲)

مؤلف: قالون کے راوی بھی دوسرے قاریوں کے راویوں کی طرح گمنام ہیں۔

ورش: اس کا نام عثمان اور اس کے والد کا نام سعید ہے۔

ابن جزری کا کہنا ہے:

''میرے دور میں تعلیم قراءت کی ریاست کا منصب مصر میں ورش کے حوالے کردیا گیا۔ قراءت میں اس کا اپنانظریہ ہے جس میں اس نے نافع سے اختلاف کیا ہے۔ قراءت میں یہ قابل اعتماد ہے اور اس کی باتیں حجت و مدرک کی حیثیت رکھتی ہیں۔،،

یہ ۱۱۰ھ میں مصر میں پیدا ہوئے اور ۱۹۷ھ میں وہیں انتقال کرگئے۔(۳)

مؤلف: اس کی قراءت کے راویوں کا حال بھی گذشتہ راویوں کی طرح ہے۔

____________________

(۱) طبقات القرائ، ج ۱، ص ۶۱۵۔

(۲) لسان المیزان، ج ۴، ص ۴۰۸۔

(۳) طبقات القرائ، ج ۱، ص ۵۰۲۔


۷۔ کسائی کوفی

اس کا نام علی اور یہ کسائی کے نام سے مشہو رتھا۔ اس کے والد کا نام حمزہ ابن عبداللہ بن بہمن بن فیروز ہے اور یہ قبیلہ بنی اسد سے تعلق رکھتا تھا۔ اسے بنی اسد نے آزاد کرایا تھا۔ اس کے آباؤ اجداد ایرانی تھے۔

اس کے بارے میں ابن جزری کا کہنا ہے:

''یہ قراءت کا پیشوا ہے جسے ''حمزہ زیارت،، کے بعد کوفہ میں علم قراءت کی ریاست سونپی گئی۔ اس نے قراءت حمزہ سے سیکھی اور اسی سے اس کی تائیدلی۔ اس نے اپنی قراءت چار مرتبہ حمزہ کو سنائی۔ وہ قراءت میں صرف حمزہ پر اعتماد کرتا تھا۔،،

ابو عبید اپنی کتاب ''القرءات،، میں کہتا ہے:

''قراءت میں کسائی کی روش مخصوص تھی اور حمزہ کی بعض قراءتیں اس نے قبول کیں اور بعض ترک کردیں۔،،

کسائی کی تاریخ وفات میں اختلاف ہے۔ جو تاریخ وفات ہماری نظر میں صحیح ہے اور بعض مؤرخین نے بھی اسے لکھا ہے وہ ۱۸۹ھ ہے۔(۱)

اس نے ''حمزہ زیارت،، سے بطور مذاکرہ اور محمد بن عبدالرحمن بن لیلی، عیسیٰ بن عمرو اعمش اور ابوبکر بن عیاش سے قراءت سیکھی اور انہیں سے حدیث کا درس حاصل کیا۔ ان کے علاوہ سلیمان بن ارقم، امام جعفر صادق (علیہ السلام)، عزرمی اور ابن عیینہ سے بھی قراءت سیکھی۔ اس نے خلیفہ رشید اور پھر اس کے بیٹے امین کو قراءت کی تعلیم دی۔(۲)

''مرزبانی،،، ''ابن اعرابی،، سے نقل کرتا ہے:

''اگرچہ کسائی گناہگار تھا اور ہر وقت شراب پیتا تھا اور بعض دوسرے گناہوں کا بھی علی الاعلان مرتکب ہوتا تھا،

____________________

(۱) طبقات القرائ،ج ۱، ص ۵۳۵۔

(۲) تہذیب التہذیب،ج ۷، ص ۳۱۳۔


اس کے باوجود وہ ایک سچا آدمی، قاری قرآن، مضبوط و تیز حافظہ کا مالک اور عربی زبان کا ماہر تھا۔،،(۱)

کسائی کی قراءت کے دو بلا واسطہ راوی لیث بن خالد اور حفص بن عمر ہیں۔

لیث: اس کی کنیت ابو الحارث تھی، والد کا نام خالد اور یہ بغداد کا رہنے والا تھا۔ اس کے بارے میں ابن جزری کا کہنا ہے:

''یہ ایک معروف، قابل اعتماد، استاد حاذق اور مضبوط حافظے والا انسان ہے اور یہ کسائی کے بڑے شاگردوں میں سے ہے۔،،

اس نے کسائی سے قراءت سیکھی۔ اس کی تاریخ وفات ۲۴۰ھ ہے۔(۲)

مؤلف: اس کے راویوں کی حالت بھی گذشتہ راویوں کی طرح ہے۔

حفص بن عمر دوری کے حالات، عاصم کے حالات کے ضمن میں بیان کیے جاچکے ہیں۔

یہ تھے سات قاری۔ جن کی قراءتوں اور راویوں کے مفصل حالات کا یہاں ذکر کیا گیا۔

قاسم بن فیرہ نے اپنے قصیدہ ''لامیہ،، معروف بہ ''شاطبیہ،، میں سات قاریوں اور ان کے راویوں کے نام نظم کی صورت میں بیان کئے ہیں۔

دس قاریوں میں سے تین قاریوں کے نام یہ ہیں:

خلف ۔ یعقوب اور یزید بن قعقاع۔

____________________

(۱) معجم الادبائ، ج ۵، ص ۱۸۵۔

(۲) طبقات القرائ، ج ۲، ص ۳۴۔


۸۔ خلف بن ہشام بزار

خلف کے حالات، حمزہ کے حالات کے ذیل میں بیان کئے جاچکے ہیں۔ اس کی قراءت کے راوی ''اسحاق،، اور ''ادریس،، ہیں۔

اسحاق: اس کے بارے میں ابن جزری کا کہنا ہے:

''اسحاق کے والد کا نام ابراہیم بن عثمان بن عبد اللہ اور اس کی کنیت ابو یعقوب تھی۔ اصل میں یہ مروز کا باشندہ تھا اور بعد میں اس نے بغداد کو اپنا وطن بنالیا۔یہ خلف کی قراءت کا ناقل، اس کے کتابخانے کا مسؤل اور قابل اعتماد انسان تھا۔،،

اس نے ۲۸۶ھ میں وفات پائی۔(۱)

مؤلف: قراءت اسحاق کے راوی بھی دیگر راویوں کی طرح مجہول الحال ہیں۔

ادریس: اس کے بارے ابن جزری کا کہنا ہے:

''ا سکا نام ادریس اور اس کے والد کا نام عبد الکریم حداد تھا۔ اس کی کنیت ابو الحسن تھی اور یہ بغداد کا رہنے والا تھا، یہ علم قراءت کا امام، مضبوط حافظہ کا مالک اور قابل اطمینان انسان ہے، اس نے قراءت خلف بن ہشام سے سیکھی۔،،

دار قطنی سے جب اس کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا:

''باوثوق بلکہ اس سے بھی بہتر ہے۔،،

اس نے ۲۹۲ء میں وفات پائی۔(۲)

مؤلف: اس کے راوی بھی دوسروں کی طرح مجہول الحال ہیں۔

____________________

(۱) طبقات القرائ، ج ۱، ص ۱۵۵۔

(۲) ایضاً، ج ۱، ص ۱۵۴۔


۹۔ یعقوب بن اسحاق

اس کا نام یعقوب، والد کا نام اسحاق اور اس کی کنیت ابو محمد ہے، یہ قبیلہ حضرمی کا آزاد کردہ اور بصرے کا رہنے والا تھا۔

اس کے بارے میں ابن جزری کا کہنا ہے:

''یہ دس قاریوں میں سے ایک ہے۔،،

یعقوب کا کہنا ہے:

''میں نے سلام سے ڈیڑھ سال اور شہاب بن شرنفۃ مجاشعی سے پانچ دن قراءت سیکھی۔ شہاب نے نو دن مسلمہ نے محارب المحاربی سے اور مسلمۃ نے ابی الاسود دؤلی سے اور اس نے امیر المومنین (علیہ السلام) سے قراءت سیکھی۔،،

اس نے ۲۰۵ھ میں ۸۸ سال کی عمر میں وفات پائی۔(۱)

اس کے بارے میں احمد اور ابو حاتم کا کہنا ہے:

''یہ صادق انسان تھا۔،،

ابن حیان نے بھی اسے قابل اطمینان افراد میں شمار کیا ہے لیکن ابن سعد کا کہنا ہے:

''علمائے رجال کی نظر میں یہ کوئی پایہ کا محقق نہیں ہے۔،،(۲)

اس کی قراءت کے دو راوی ''رویس،، اور ''روح،، ہیں۔

رویس: اس کا نام محمد، والد کا نام متوکل معروف بہ لؤلؤ تھا۔ اس کی کنیت ابو عبد اللہ تھی اور یہ بصرہ کا رہنے والا تھا۔

ابن جزری کا کہنا ہے:

''یہ قراءت میں استاد اور مضبوط حافظہ کا مالک تھا۔ فن قراءت میں اسے خاصی مہارت اور شہرت حاصل تھی۔ اس نے یعقوب حضرمی سے قراءت سیکھی اور تصدیق کے لیے اسی کو سنائی۔،،

____________________

(۱) طبقات القرائ،ج ۲، ص ۳۸۔

(۲) تہذیب التہذیب،ج ۱۱، ص ۳۸۲۔


دانی کا کہنا ہے:

''یہ یعقوب کے ماہر شاگردوں میں سے تھا۔،،

اس سے محمدبن ہارون تمار اور امام ابو عبد اللہ زبیر بن احمد زبیری شافعی نے قراءت نقل کی ہے۔

اس نے ۳۳۸ھ میں وفات پائی۔(۱)

روح: اس کی کنیت ابو الحسن، والد کا نام عبد المومن اور تعلق قبیلہ ھذل سے تھا اور یہ اسی قبیلے کا آزاد کردہ اور بصرے کا رہنے والا تھا، اس کا شمار دانشمندان علم نحو میں ہوتا تھا۔

اس کے بارے میں ابن جزری کا کہنا ہے:

''وہ قراءت میں استاد او رجلیل القدر شخصیت تھا، وہ موثق اور قوی حافظہ کا مالک تھا۔،،

اس نے قراءت یعقوب حضرمی سے سیکھی اور اس کا شمار یعقوب کے نامور شاگردوں میں ہوتا تھا۔ اس نے ۲۳۴ھ یا ۲۳۵ھ میں وفات پائی۔(۲)

مولف: جنہو ں نے اسے قرآن پڑھ کر سنایا ان کی حالت بھی گذشتہ رایوں کی طرح ہے۔

____________________

(۱) طبقات القرائ، ج ۲، ص ۲۳۴۔

(۲) ایضاً، ج ۱، ص ۲۸۵۔


۱۰۔ یزید بن قعقاع

اس کے بارے میں ابن جزری کا کہنا ہے:

''اس کا نام یزید اور والد کا نام قعقاع تھا۔ اس کی کنیت ابو جعفر ہے۔ اس کا تعلق قبیلہ مخزوم سے اور یہ مدینہ کا رہنے والا تھا، وہ اپنے فن میں امام تھا اور اس کا شمار دس مشہور قاریوں اور تابعین میں ہوتا ہے۔ یہ ایک معروف اور جلیل القدر شخصیت ہے۔،،

اس نے عبد اللہ بن عیاش بن ابی ربیعہ، عبد اللہ بن عباس اور ابوھریرہ سے قراءت سیکھی اور انہی کو تصدیق کے لیے سنائی۔

یحییٰ بن معین کہتا ہے:

''ابن قعقاع، قراءت میں اہل مدینہ کاامام تھا اور اسی لیے اس کا نام قاری رکھا گیا، وہ ایک قابل اعتماد انسان تھا لیکن اس نے احادیث کم نقل کی ہیں۔،،

ابن ابی حاتم کا کہنا ہے:

''میں نے اس کے بارے میں اپنے والد سے پوچھا تو انہو ںنے جواب دیا: وہ بیان حدیث میں نیک انسان ہے۔،،

اس نے ۱۳۰ھ میں مدینہ میں وفات پائی۔(۱)

ابو جعفر (ابن قعقاع) کی قراءت کے دو راوی ''عیسیٰ،، اور ''ابن جماز،، ہیں۔

عیسیٰ: اس کے والد کا نام ''وردان،، اور کنیت ابو الحارث تھی۔ یہ مدینہ کا رہنے والا حذاء کے نام سے مشہور تھا۔

ابن جزری کا کہنا ہے:

''عیسیٰ، قراءت کااستاد اور امام تھا۔ یہ راویئ حدیث، محقق، قوی حافظہ رکھنے والا محتاط انسان تھا۔،،

____________________

(۱) طبقات القرائ، ج ۲، ص ۳۸۲۔


اس نے قراءت شروع میں ابو جعفر اور شیبہ سے اور بعد میں نافع سے سیکھی۔

دانی اس کے بارے میں کہتا ہے:

''عیسیٰ، نافع کے پرانے اور جلیل القدر شاگردوں میں سے ہے۔ نقل حدیث اور سند میں یہ نافع کا شریک رہا ہے۔،،

میرے خیال میں عیسیٰ کا سن وفات ۱۶۰ھ ہے۔(۱)

مؤلف: اس کی قراءت کے راوی بھی گذشتہ راویوں کی مانند ہیں۔

ابن جماز: اس کا نام سلیمان اور والد کا نام مسلم بن جماز تھا، اس کی کنیت ابوالربیع تھی۔ یہ قبیلہ زہرہ کا آزاد کردہ تھا اور اس نے مدینہ کو اپنا وطن بنایا۔

ابن جزری کا کہنا ہے:

''یہ قراءت کا استاد اور جلیل القدر ہونے کے ساتھ ساتھ مضبوط حافظہ کا مالک تھا۔،،

کتب ''الکامل،، اور ''المستنیر،، کے مطابق اس نے شروع میں قراءت ابو جعفر اور شیبہ سے سیکھی اور بعد میں تصدیق کے لیے نافع کو سنائی۔ میرے خیال میں اس نے ۱۷۰ھ کے بعد وفات پائی۔(۲)

اب تک جن دس قاریوں اور ان کے راویوں کا ذکر کیاگیا ہے، سوانح نگاروں میں انہیں کی شہرت ہے۔ لیکن ان مذکورہ طریقوں کے علاوہ جن قراءتوں کی روایت کی گئی ہے وہ مدون شکل میں نہیں ہےں۔

ان دس قاریوں کے دیگر راویوں کے بارے میں سوانح نگاروں میں اختلاف پایا جاتا ہے جس کی طرف اس سے قبل اشارہ کیا جاچکا ہے۔ اس لیے اس کا ذکر یہاں نہیں کررہے۔

____________________

(۱) طبقات القرائ، ج ۱، ص ۶۱۶۔

(۲) ایضاً، ج ۱، ص ۳۱۵۔


قراءتوں پر ایک نظر

٭ تواتر قرآن کے منکرین کی تصریح

٭ تواتر قراءت کے دلائل

٭ قراءتیں اور سات اسلوب

٭ حجیت قراءت

٭ نماز میں ان قراءتوں کا پڑھنا جائز ہے


اس سے قبل قاریوں سے متعلق تمہیدی بحث کے دوران قراءت کے تواتر اور عدم تواتر کے بارے میں بعض علمائے کرام کی رائے بیان کی گئی اور اس بات کی طرف اشارہ بھی کیا گیا کہ محققین تواتر قراءت کے منکر ہیں۔ جبکہ تمام مسلمانوں کا قرآن کے تواتر ہونے پر اتفاق ہے۔

اب ہم ذیل میں قراءت کے متواتر نہ ہونے پر چند دلائل پیش کرتے ہیں:

۱۔ راویوں کے حالات زندگی کے مطالعہ اور ان میں تحقیق سے حتماً یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ قراءتیں خبر واحد کے ذریعے نقل کی گئی ہیں خبر متواتر کے ذریعے نہیں۔ چونکہ قاریوں کے حالات زندگی میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے لہذا ان قراءتوں کے تواتر کا دعویٰ درست نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ بعض راویان قراءت کا موثق ہونا بھی ثابت نہیں ہے۔

۲۔ اگر قاریوں کے قراءت حاصل کرنے کے ذرائع اور طریقوں پر غور کیا جائے تو بھی قطعاً یہ ثابت ہوجاتا ے کہ یہ قراءتیں خبر واحد کے ذریعے ان قاریوں تک پہنچی ہیں، خبر متواتر کے ذریعے نہیں۔

۳۔ ہر قراءت کے سلسلہ سند کا قاریوں تک منتہی ہونا تواتر اسناد کو قطع کردیتا ہے اگر چہ ہر طبقہ میں قراءتوں کے قاریوں کا کذب پر اتفاق ممتنع اور محال ہو۔ ا سلیے کہ ہر قاری صرف اپنی قراءت نقل کرتا ہے، جو خبر واحد ہے۔

۴۔ ہر قاری اور اس کے پیروکاروں کا صحت قراءت کے لیے استدلال کرنا اور دوسروں کی قراءت سے اعراض و احتراز اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ ان قراءتوں کا مسند و مدرک قاریوں کا اپنا اجتہاد اور اپنی ذاتی رائے ہے۔ کیوں کہ اگر یہ قراءتیں بطور تواتر پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) سے منقول ہوتیں تو ان کی صحت ثابت کرنے کے لیے کسی دلیل کی ضرورت نہ ہوتی۔

۵۔ بعض علماء و محققین کا بعض روایات قراءت کا انکار کرنا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ یہ قراءت متواتر نہیں کیونکہ اگر یہ قراءتیں متواتر ہوتیں تو ان کا انکار درست نہ ہوتا۔


چنانچہ ابن جریر طبری نے ابن عامر کی قراءت تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور اس نے ان سات مشہور قراءتوں میں سے بعض کو ہدف تنقید قرار دیا ہے۔

بعض علماء نے حمزہ کی قراءت کو بھی مورد اشکار و اعتراض قرار دیا ہے۔ اسی طرح بعض نے ابوعمرو کی اور بعض نے ابن کثیر کی قراءت رد کردی ہے اور بہت سے دانشمندوں نے تو ہر اس قراءت کے تواتر کو مسترد کردیا ہے جس کی وجہ اور منشاء لغت عرب میں موجود نہ ہو اور اس سلسلے میں بعض قاریوں کی خطا و لغزش کا حکم لگایا ہے۔(۱)

حمزہ کے حالات زندگی میں بھی ذکر کیا جاچکا ہے کہ اس (حمزہ) کی قراءت کو حنبلیوں کے امام، احمد بن حنبل، یزید بن ہارون، ابن مہدی(۲) ، ابوبکر بن عیاش اور ابن درید نے تسلیم نہیںکیا۔

زرکشی کہتے ہیں:

''قراءتیں توقیفی(۳) ہیں۔ علماء کی ایک جماعت ،جس میں زمخشری بھی شامل ہیں، نے اسسے اختلاف کیا ہے۔ کیو نکہ ان کا خیال ہے کہ قراءتیں اختیاری ہیں اور ان کا دارو مدار فصحاء کے اختیار و انتخاب اوربلغاء کے اجتہاد پر ہے۔،،

____________________

(۱) معتصم باللہ طاہر بن صالح بن احمدالجزائری کی کتاب ''التبیان،، ص ۱۰۶، طبع ''المنار،،،، ۱۳۳۴ھ۔

(۲) اس کا نام عبدالرحمن بن مہدی ہے ''تہذیب التہدیب، ج ۶، ص ۲۸۰ میں مذکور ہے: احمد بن سنان کہتے ہیں: میں نے علی ابن المدینی کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے: ''عبد الرحمن بن مہدی لوگوں میں سب سے زیادہ عالم ہیں،، اس جملے کو اس نے کئی بار دہرایا۔ خلیلی نے کہا''ابن مہدی امام ہے اس کے مقابلے میں کوئی نہیں ہے،، اس کے بارے میں شافعی کا کہنا ہے کہ میں نے دنیا میں اس کا کوئی مثل و نظیر نہیں دیکھا۔

(۳) یعنی، جو تلفظ رسولؐ نے فرمایا وہی تلفظ ہمیں بھی کرنا چاہیے۔ قاری کو کسی قرت کے انتخاب کا اختیار نہیں ہے۔ (مترجم)


اس کے بعد زرکشی حمزہ کے اس قراءت کو رد کرتے ہیں جس میں ''والارحام،، کو زیر دی گئی ہے۔ ابی زید، اصمعی اور یعقوب حضرمی سے منقول ہے کہ انہوں نے حمزہ کی اس قراءت کو غلط قرار دیا ہے جس میں اس نے ''وما انتم بمصرخی،، میں تشدید کے ساتھ زیر دی ہے نیز انہوں نے ابو عمرو کی اس قراءت کوبھی تسلیم نہیں کیا جس میں اس نے ''یغفرلکم،، میں ''ر،، کو لام میں مدغم کرکے پڑھا ہے اور زجاج کا کہنا ہے: ''اس طرح پڑھنا فاش غلطی ہے۔،،(۱)

تواتر قراءت کے منکرین کی تصریح

اس مقام پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ علم قراءت کے بعض ماہرین کا کلام پیش کیا جائے جس میں انہوں نے قراءت کے متواتر نہ ہونے کی تصریح کی ہے تاکہ حق اپنی بہترین صورت میں ظاہر ہ وجائے۔

۱۔ ابن جزری کہتے ہیں:

''ہر وہ قراءت جو لغتِ عرب کے مطابق ہو، اگرچہ ایک پہلو ہی سے ہو اور عثمانیوں کے قرآنوں میں سے کسی کے مطابق ہو، خواہ اس کا احتمال ہی ہو اور اس کی سند بھی صحیح ہو تو ایسی قراءت صحیح ہوگی اور اس کو رد کرنا جائز نہیں اور اس کا انکار حلال نہیں ہے، بلکہ یہ ان سات اسلوبوں میں سے ایک اسلوب ہوگا جس کے مطابق قرآن نازل ہوا ہے اور واجب ہے کہ لوگ اسے قبول کرلیں چاہے یہ قراءت ان سات مشہور قاریوں میں سے کسی کی ہو یا دس میں سے کسی کی ہو یا ان دس کے علاوہ کسی اور قابل قبول قاری کی ہو لیکن اگر کسی کی قراءت میں ان تین اہم شرائط و ارکان میں سے کوئی ایک مفقود ہو تو وہ قراءت ضعیف، شاذ و نادر اور باطل سمجھی جائے گی چاہے یہ قراءت ان سات قاریوں میں سے کسی کی ہو یا ان سے بڑے کی ہو۔،،

____________________

(۱) التبیان، ص ۸۷۔


متقدمین اور متاخرین میں اہل تحقیق کا صحیح نظریہ یہی ہے۔ اسی کی امام حافظ ابوعمرو عثمان بن سعید دانی نے تصریح کی ہے۔ امام ابو محمد مکی بن ابی طالب نے متعدد مقامات پر اور امام ابو العباس احمد بن عمار المھدوی نے صاف الفاظ میں اسی نظریہ کو بیان کیا ہے۔ امام حافظ ابو القاسم عبد الرحمن بن اسماعیل المعروف ابی شامہ کی تحقیق بھی یہی ہے۔ یہ وہ نظریہ ہے جس پر گذشتہ علماء کا اتفاق ہے اور اس کا کوئی مخالف دیکھنے میں نہیں آتا۔

۲۔ ابو شامہ اپنی کتاب ''المرشد الوجیز،، میں لکھتے ہیں:

''کبھی بھی ہر اس قراءت جو ان سات قاریوں میں سے کسی ایک کی طرف منسوب ہو، سے فریب نہ کھائیں اور اس پر مہر صحت ثبت نہ کریں اور نہ ہی یہ سمجھیں کہ قرآن اسی قراءت کے مطابق نازل ہوا ہے مگر یہ کہ صحت قراءت کے قواعد و ضوابط اس پر منطبق ہوں اور یہ شرائط صحت پر مشتمل ہو تو پھر اس کا ناقل تنہاایک مصنف نہیں ہوگا بلکہ یہ قراءت اجماعی ہوگی۔ کیونکہ دیکھا یہ جاتا ہے کہ صحت کی شرائط موجود ہیں یا نہیں۔ یہ نہیں دیکھا جاتا کہ یہ قراءت کس قاری سے منسوب ہے۔ جتنی قراءتیں بھی ان سات قاریوں یا کسی اور قاری سے منسوب ہیں وہ دو قسم کی ہیں۔

i ) متفق علیہ۔

ii ) شاذ۔

لیکن چونکہ ان سات قاریوں کی شہرت ہے اور ان کی قراءتوں میں صحیح و اجماعی قراءتوں کی کثرت ہے اس لیے دوسروں کی نسبت ان کی قراءتوں پر انسان زیادہ مطمئن ہوتا ہے۔،،(۱)

____________________

(۱) النشر فی القراات العشر، ج ۱، ص ۹۔


۳۔ ابن جزری کہتے ہیں:

''بعض متاخری نے قراءت کی صحت سند پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ اس میں تواتر کو شرط قرار دیا ہے۔ ان حضرات کا خیال ہے کہ قرآن خبر متواتر ہی ثابت ہوتا ہے خبر واحد سے نہیں۔ مخفی نہ رہے کہ یہ قول خالی از اشکال نہیں ہے۔ اس لی ےکہ جب کوئی قراءت تواتر سے ثابت ہو تو پھر باقی دو شرطوں لغت عرب اور عثمانی قرآن سے مطابقت کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ جو اختلافی قراءت بطور تواتر پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) سے منقول ہوگی اس کو تسلیم کرنا لازمی ہوگا اور اس کے قراّ ہونے کا یقین حاصل ہوگا چاہے باقی شرائط اس میں موجود ہوں یا نہ ہوں اور اگر ہر اختلافی قراءت میں تواتر شرط ہو تو بہت ساری اختلافی قراءتیں جو سات مشہور قاریوں سے منقول ہیں باطل ثابت ہوں گی۔ پہلے میں اس نظریئے کی طرف رحجان اور جھکاؤ رکھتا تھا۔ بعد میں میرے نزدیک اس کا بطلان ثابت ہوا اور میں نے ان موجودہ اور گذشتہ علماء کرام کی رائے کو اپنایا جو تواتر شرط نہیں سمجھتے۔،،

۴۔ امام ابو شامہ اپنی کتاب ''المرشد،، میں فرماتے ہیں:

''متاخرین میں سے بعض اساتذہئ قراءت اور ان کے تابعین میں یہ مشہور ہے کہ قرااءات ہفتگانہ (سات قراءتیں) سب کی سب متواتر ہیں یعنی ان سات قاریوں میں سے ہر ایک کی ہر قراءت متواتر ہے۔ متاخرین مزید کہتے ہیں: اس بات کا یقین رکھنا بھی لازمی ہے کہ یہ قراءتیں اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہیں۔ ہم بھی اسی کے قائل ہیں لیکن صرف ان قراءتوں میں جن کی سند نقل میں سب متفق ہوں، تمام فرقوں کا ان پر اتفاق ہو اور ان کا کوئی منکر نہ ہو، جبکہ ان قراءتوں میں اختلافات کثرت سے ہیں اور ان کے منکرین بھی بہت سے ہیں۔ بنابرایں اگر کوئی قراءت تواتر سے ثابت نہیں ہوت تو کم از کم اسے مختلف فیہ بھی نہیں ہونا چاہیے اور اس کا انکار کرنے والے بھی موجود نہیں ہونے چاہیں۔،،(۱)

____________________

(۱) النشر فی القراات العشر،ج ۱، ص ۱۳۔


۵۔ سیوطی فرماتے ہیں:

''قراءت کے موضوع پر سب سے عمدہ کلام اپنے دور کے امام القراء اور استاذ الاساتید ابوالخیر ابن جزری کا ہے۔ وہ اپنی کتاب ''النشر فی القراءات العشر،، میں فرماتے ہیں: ہر وہ قراءت جو لغت عرب اور عثمانی قرآنوں کے کسی نسخے کے مطابق ہو اور اس کی سند صحیح ہو وہ قراءت صحیح سمجھی جائے گی۔،،

اس کے بعد سیوطی فرماتے ہیں:

''میں تو یہ کہوں گا، ابن جزری نے اس باب میں نہایت مضبوط اور مستحکم بات کہی ہے۔،،(۱)

۶۔ ابو شامہ''کتاب البسملة،، میں فرماتے ہیں:

''ہم ان کلمات میں تواتر کے قائل نہیں جن کے بارے میں قاریوں میں اختلاف ہے کہ بلکہ تمام قراءتوں میں بعض متواتر ہیں اور بعض غیر متواتر اوریہ بات اہل انصاف و معرفت اور مختلف قراءتوں پر عبور رکھنے والوں کے لیے واضح ہے۔،،(۲)

۷۔ بعض علماء فرماتے ہیں:

''آج تک اصولیین میں سے کسی نے بھی تصریح نہیں کی کہ قراءتیں متواتر ہیں البتہ بعضوں نے کہا ہے کہ قراءتیں سات مشہور قاریوں سے بطور تواتر ثابت ہیں لیکن کا پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) سے بطور تواتر ثابت ہونااشکال سے خالی نہیں ہے۔ کیونکہ ان قاریوں نے خبر واحد کے ذریعے قراءتوں کو پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) سے منسوب کیا ہے۔،،(۳)

____________________

(۱) الاتقان النوع ۲۲۔۲۷، ج ۱، ص ۱۲۹۔

(۲) التبیان، ص ۱۰۲۔

(۳) التبیان، ص ۱۰۵۔


۸۔ علماء حدیث میں سے بعض متاءخرین کا کہنا ہے:

''کچھ اصولی حضرت قرااءات ہفتگانہ اور بعض حضرات دس قراءتوں کے متواتر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن ان کے پاس کوئی علمی دلیل نہی ںہے۔ اس کے علاوہ قاریوں ہی کی ایک جماعت نے اس بات پر اجماع کا دعویٰ کیا ہے کہ انہی سات قراءتوں میں سے بعض متواتر ہیں اور بعض غیر متواتر (آحاد) ہیں۔ ان قاریوں میں سے کسی نے بھی سات کی سات قراءتوں کے متواتر ہونے کا دعویٰ نہیں کیا چہ جائیکہ دس کی دس قراءتیں متواتر ہوں۔ البتہ بعض علماء اصول تمام قراءتوں کے متواتر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن اہل فن ہی اپنے فن کے بارے میں دوسروں سے زیادہ آگاہ اور آشنا ہوا کرتے ہیں۔(۱)

۹۔ قراءتوں کے بارے میں مکّی کہتے ہیں:

''بعض حضرات صرف ان قراءتوں کو معتبر اور قابل عمل سمجھتے ہیں جن پر نافع اور عاصم متفق ہوں، کیونکہ باقی قراءتوں میں سے ان کی قراءت افضل، سند کے اعتبار سے صحیح اور عربی لغت کے اعتبار سے زیادہ فصیح ہے۔،،(۲)

۱۰۔ جن حضرات نے قرائتوں حتی کہ قرااءات ہفتگانہ کے متواتر نہ ہونے کا اعتراف کیا ہے ان میں شیخ محمد سعید العریان بھی شامل ہے۔ اس نے اپنی ''تعلیقات،، میں اس کا ذکر کیا ہے، یہ فرماتے ہیں:

''تمام کی تمام قراءتیں، حتی کہ قراءات ہفتگانہ بھی شاذ اور نامشہور قراءتوں سے خالی نہیں ہےں۔،،

یہ مزید فرماتے ہیں:

''علماء کرام کے نزدیک موثق سندکے اعتبار سے سب سے زیادہ صحیح قراءت نافع اور عاصم کی ہے اور فصاحت کے دیگر پہلوؤں کے اعتبار سے ابوعمرو اور کسائی کی ہے۔،،(۳)

____________________

(۱) ایضاً، ص ۱۰۶۔

(۲) ایضاً، ص ۹۰۔

(۳) اعجاز القرآن، رافعی، طبع چہارم، ص ۵۲۔۵۳۔


اقوال علماء میں قراءتوں کے متواتر نہ ہونے کا اعتراف کیا گیا ہے کو نقل کرنے میں اب تک ہم نے اختصار سے کام لیا ہے۔ اس کے بعد بھی ہم مزید علماء کرام کے اعترافات نقل کریں گے۔

خدا را ذرا غور فرمائیے! کیا اتنے علماء کرام کی تصریحات کے باوجود بھی قراءتوں کے متواتر ہونے کے دعویٰ کی کوئی وقعت و ارزش باقی رہتی ہے؟

کیا یہ ممکن ہے کہ بغیر کسی دلیل کے صرف تقلید اور بعض افراد کے دعویٰ بلا دلیل کی بنیاد پر تواتر قراءت کو ثابت کیا جائے خصوصاً جب انسان کا وجدان بھی اس قسم کے دعویٰ کی تکذیب کرے؟

مجھے اس سے زیادہ تعجب اندلس کے مفتی پر ہو رہا ہے جس نے ان لوگوں کے کفر کا فتویٰ صادر کردیا جو تواتر قراءت کے منکر ہیں!!!۔

بفرض تسلیم، اگر قراءتیں بالاتفاق متواتر بھی ہوں تب بھی جب تک یہ ضروریات دین میں سے نہ ہوں، ان کا منکر کافر نہیںگردانا جاسکتا۔

فرض کیجئے! اس خیالی تواتر کی وجہ سے قراءت ضروریات دین میں سے قرار پائے تو کیا اس کے انکار سے وہ آدمی بھی کافر ہو جاتا ہے جس کے نزدیک ان کا متواتر ہونا ثابت نہیں ہے؟

اے اللہ! یہ تیری بارگاہ میں جراءت، جسارت، تیری حدود سے تجاوز اور مسلمانوں میں انتشار پھیلانے کے علاوہ کچھ نہیں!!!


تواتر قراءت کے دلائل

جو حضرات قراءت ہفتگانہ کے قائل ہیں انہوں نے اپنے دعویٰ پر چند دلائل پیش کئے ہیں:

۱۔ ان حضرات نے تواتر قراءت پر موجودہ اورگذشتہ علماء کرام کے اجماع کا دعویٰ کیا ہے۔

ہمارے گذشتہ بیانات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ یہ دعویٰ باطل اور بے بنیاد ہے۔ اس کے علاوہ ایک ہی مذہب کے ماننے والوں کے اتفاق سے اجماع وجود میں نہیں آتا جبکہ دوسروں کے مخالفت بھی موجود ہےں۔ انشاء اللہ آئندہ کسی مناسب موقع پر ہم اس کی مزید وضاحت کریں گے۔

۲۔ صحابہ کرام اور ان کے تابعین، قرآن کو جس اہمیت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اس کا تقاضا یہ ہے کہ قرآن کی قراءت متواتر ہو اور یہ ہر مصنف مزاج اور حقیقت طلب انسان کے لیے ایک واضح حقیقت ہے۔

جواب:

اس دلیل سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ خود قرآن متواتر ہے، اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ قراءتوں کی کیفیتیں بھی متواتر ہیں۔ خصوصیاً جب اکثر علمائے قراءت کی قراءتیں ان کے ذاتی اجتہاد یا ایک دو آدمیوں کی نقل پر مبنی ہیں۔ جیسا کہ گذشتہ مباحث میں آپ نے ملاحظہ فرمایا۔

اگر اس دلیل میں یہ قسم موجود نہ ہو تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ تمام کی تمام قراءتیں متواتر ہیں، صرف سات یا دس قراءتوں کے متواتر ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

جیسا کہ ہم بعد میں وضاحت کریں گے کہ قراءتوں کو سات میں منحصر کرنے کا عمل تیسری صدی ہجری میں انجام دیا گیا اور اس سے پہلے اس کا کوئی نام و نشان نہ تھا۔ بنابرایں یا تو تمام کی تمام قراءتوں کو متواتر ہونا چاہیے یا پھر کسی بھی قراءت کو متواتر نہیں ہونا چاہیے۔


پہلا احتمال تو مسلماً باطل ہے اس لیے لامحالہ ماننا پڑے گا کہ دوسرا احتمال و نظریہ صحیح اور قابل قبول ہے۔

۳۔ اگر قرااءات ہفتگانہ متواتر نہ ہوں تو اس سے یہ لازم آئے گا کہ قرآن مجید بھی متواتر نہ ہو اور قرآن کا متواتر نہ ہونا یقیناً باطل ہے جو محتاج بیان نہیں۔ لہذا قراءتوں کا متواتر نہ ہونا بھی باطل ہے۔ قراءتوں کے متواتر نہ ہونے سے قرآن کا متواتر نہ ہونا لازم آتا ہے۔ چونکہ قرآن ہم تک حافظان قرآن اور مشہور و معروف قاریوں کے ذریعے پہنچا ہے اس لیے اگر ان قاریوں کی قراءتیں متواتر ہونگی تو قرآن بھی متواتر ہوگا ورنہ قران بھی متواتر نہیں ہوگا، لہذا لامحالہ ماننا پڑے گا کہ قراءتیں متواتر ہیں۔

جواب:

اولاً:تواتر قرآن کا لازمہ یہ نہیں ہے کہ قراءتیں بھی متواتر ہیں۔ کیونکہ کسی کلمہ کی کیفیت اور ادائیگی میں اختلاف اصل کلمہ پر اتفاق ہونے سے منافات نہیں رکھتا۔ اسی وجہ سے ہم دیکتے ہیں کہ ''متنبی،، کے قصیدوں کے الفاظ میں بعض راویوں کا احتلاف کرنا اس بات کے منافی نہیں ہے کہ اصل قصیدہ بھی اس سے متواتراً ثابت نہ ہو۔ اسی طرح ہجرت رسول اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کی خصوصیات میں راویوں کا اختلاف اصل ہجرت کے متواتر ہونے سے منافات نہیں رکھتا۔

ثانیاً: قاریوں کے ذریعے جو چیز ہم تک پہنچی ہے وہ ان کی قراءتوں کی خصوصیات ہیں اور جہاں تک اصل قرآن کا تعلق ہے وہ مسلمانوں میں تواتر کے ذریعے ہم تک پہنچا اور گذشتہ مسلمانوں سے آنے والے مسلمانوں میں منتقل ہونے سے ثابت ہوا جو کہ ان کے سینوں اور تحریروں میں محفوظ تھھا۔ اصل قران کی نقل میں قاری حضرات کا کوئی دخل نہیں ہے، اسی لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر یہ سات یا دس قاری موجود نہ ہوتے تب بھی قرآن کریم بطور تواتر موجود ہوتا اور کلام مجید کی عظمت و شرف اس سے بالاتر ہے کہ چند گنے چنے افراد کی نقل پر یہ موقوف و منحصر ہو۔


۴۔ اگر قراءتیں متواتر نہ ہوں تو اس سے یہ لازم آئے گا کہ قرآن کے بعض حصے متواتر نہیں ہیں جس طرح ''ملک یوم الدین،، اور ''مالک یوم الدین،، ہے۔ کیونکہ اگر ان میں سے صرف ایک کو متواتر سمجھیں گے تو یہ دعویٰ بلا دلیل ہوگا، جو باطل ہے۔ اس دلیل کو ابن حاجب اور پھر علماء کی ایک جماعت نے اسی کی پیروی میں ذکر کیا ہے۔

جواب:

اولاً: اس دلیل کا تقاضا تو یہ ہے کہ تمام کی تمام قراءتیں متواتر ہوں اور صرف سات قراءتوں کو متواتر قرار دینا دعویٰ بلادلیل ہے جو باطل ہے۔ خصوصاً جب دوسرے قاریوں میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جو ان سات قاریوں سے زیادہ باعظمت اور زیادہ موثق ہیں جس کا بعض حضرات نے اعتراف بھی کی ہے۔

اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ سات مشہور قاری دوسروں سے زیادہ باوثوق اور جہاتِ قراءت کو زیادہ بہتر سمجھتے ہیں تو اس سے بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ان کی قراءتیں متواتر ہیں اور دوسرے قاریوں کی قراءتیں متواتر نہیں ہیں۔

ہاں، یہ بات قابل قبول ہے کہ عمل کے مقام پر ان کی قراءت کو ترجیح دی جائے گی۔ لیکن کسی قراءت کا مقدم سمجھا جانا اور بات ہے اور اس جا متواتر ہونا دوسری بات ہے بلکہ ان دونوں میں مشرق و مغرب کا فاصلہ ہے اور تمام کی تمام قراءتوں کو متواتر قرار دینا مسلماً باطل ہے۔

ثانیاً: قراءتوں میں اختلاف اس چیز کا باعث بنتا ہے کہ قرآن کو غیر قرآن سے تمیز نہ دی جاسکے۔ البتہ یہ ابہام الفاظ قرآن کی ہیئت (شکل و صورت) اور اعراب قرآن کے اعتبار سے پایا جائے گا، یعنی یہ معلوم نہ ہوگا کہ کون سی ہیئت اور اعراب قرآن ہیں اور کون سے نہیں اور یہ اصل قرآن کے متواتر ہوے کے منافی نہیں ہے۔


بنابرایں مادہئ قرآن (مفردات قرآن) متواتر ہے اور صرف اس کی مخصوص شکل و صورت اور اعراب (زبر زیر پیش) مختلف فیہ ہیں اور ان دو یا دو سے زیادہ کیفیتوں اور حالتوں میں سے کوئی نہ کوئی ضرور قرآن ہے اگرچہ ہم اس کیفیت و حالت کوخصوصیت سے نہ جائیں۔

تتمہ

حق یہ ہے کہ قرآن کے متواتر ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ قراءتیں بھی متواتر ہوں۔ چنانچہ اس حقیقت کا ''زرقانی،، نے اعتراف کیا ہے وہ فرماتے ہیں:

''بعض علماء نے سا ت قراءتوں کی تائید و تقویت میں مبالغہ سے کام لیا ہے اور کہا کہ قراءتوں میں تواتر کو ضروری نہ سمجھنا کفر ہے کیونکہ قراءتوں میں تواتر کا انکار قرآن کے متواتر نہ ہونے پر منتج ہوتا ہے (یعنی قراءتوں کے تواتر میں انکار کا نتیجہ تواتر قرآن کا انکار ہے) یہ رائے مفتیئ اندلس استاد ابی سعید فرج بن لب کی طرف منسوب کی جاتی ہے۔ اس نے اپنا نظریہ پیش کرنے کی کافی کوشش کی ہے اور اپنے نظریئے کی تائید میں ایک بڑا سا رسالہ بھی لکھا ہے اور اپنے نظریئے پر ہونے پر والے اشکالات کا جواب دیا ہے۔ مگر اس کی دلیل اس کے مدعا کو ثابت نہیں کرتی، کیونکہ قرااءات ہفتگانہ کے عدم تواتر کے قائل ہونے کا لازمہ یہ نہیں ہے کہ قرآن بھی متواتر نہ ہو۔ اس لیے کہ اصل قرآن اور قرآن کی قراءتوں میں بہت فرق ہے اور عین ممکن ہے کہ قرآن ان سات قراءتوں کے بغیر بھی متواتر ہو یا ان الفاظ میں متواتر ہو جن پر تمام قاریوں کا اتفاق ہے یا اس مقدار میں متواتر ہو کہ جس پر اتنے افراد متفق ہیں جن کے کذب پر متفق ہونے کا خدشہ نہیں ہے۔ چاہے یہ لوگ قاری ہوں یا نہ ہوں۔،،(۱)

بعض علمائے کرام نے فرمایا ہے: ''تواتر قرآن سے قراءتوں کا متواتر ہونا لازم نہیں آتا اور علمائے اصول میں سے کسی نے آج تک اس بات کی تصریح نہیں کی کہ قراءتیں متواتر ہیں اور یہ کہ قرآن کا متواتر ہونا قراءتوں کے متواتر ہونے پر موقوف ہے، البتہ ابن حاجب نے یہ بات کہیں ہے۔،،(۲)

____________________

(۱) مناہل العرفان، ص ۴۲۸۔

(۲) التبیان، ص ۱۰۵۔


زرکشی ''برہان،، میں لکھتے ہیں:

''قرآن اور قراءتیں دو مختلف حقائق ہیں، قرآن وہ وحی الہٰی ہے جو محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر بیان احکام اور اعجاز کی غرض سے نازل ہوا اور قراءتیں وحی کے مختلف تلفظ، لہجہ، لفظی کیفیت مثلاً شد اور جزم وغیرہ سے عبارت ہیں، اکثر علماء کے نزدیک سات قراءتیں متواتر ہیں اور بعض کے نزدیک یہ متواتر نہیں بلکہ مشہور ہیں۔،،

آگے چل کر زرکشی کہتے ہیں:

''بتحقیق یہ قراءتیں سات قاریوں سے متواتر منقول ہیں لیکن ان کا پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) سے متواتر منقول ہونا اشکال سے خالی نہیں ہے کیونکہ جس سلسلہ سند سے یہ روائتیں نقل کی گئی ہیں وہ قراءت کی کتب میں مذکور ہے اور اس میں صرف ایک راوی نے ایک راوی سے نق لکی ہے۔،،(۱)

قراءتیں اور سات اسلوب

کبھی یہ تصور کیا جاتا ہے کہ سات حروف سے مراد سات قراءتیں ہیں۔ اس کے بعد اس بات کے ثبوت میں کہ یہ سات قراءتیں قرآن میں داخل ہیں، ان احادیث و روایات سے تمسک کیا ہے جو یہ کہتی ہیں کہ قرآن سات حروف میں نازل ہوا ہے۔

اس غلط فہمی کی طرف قارئین کرام کی توجہ مبذول کرانا لازمی ہے کہ علماء کرام اور محققین میں سے کوئی بھی اس توہم کا شکار نہیں ہوا۔ اس لیے کہ ہم ان روایات کو تسلیم نہیں کرتے۔ ابھی ہم ان روایات کا ذکر نہیں کرتے آئندہ تفصیل سے بات ان کا ذکرکیں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔

____________________

(۱) الاتقان النوع، ۲۲۔۲۷، ج ۱، ص ۱۳۸۔


اس سلسلے میں ہم شروع میں جزائری کا کلام پیش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے:

''سات قراءتوں کو باقی قراءتوں پر کوئی امتیاز حاصل نہیں تھا۔ یہاں تک کہ ابوبکر احمد بن موسیٰ بن عباس بن مجاہد نے تیسری صدی کے آغاز میں بغداد میں بیٹھ کر مکّہ، مدینہ، کوفہ، بصرہ اور شام کے علماء قراءت میں سے سات قاریوں نافع، عبد اللہ بن کثیر، ابو عمرو بن علائ، عبد اللہ بن عامر، عاصم، حمزہ اور کسائی کا انتخاب کیا۔ اس سے لوگوں کو یہ وہم ہونے لگا کہ یہ سات قراءتیں وہی سات حروف ہیں، حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ بعض علماء نے ان سات عدد قراءتوں کے انتخاب کیا ہے انتہائی نامناسب عمل انجام دیا ہے۔ کیونکہ کم فکر افراد اس غلط فہمی کا شکار ہوگئے کہ روایات میں موجود سات حروف سے مراد سات قراءتیں ہیں۔ اس لیے بہتر یہ تھا کہ سات سے کم یا زیادہ کا

انتخاب کیا جاتا تاکہ لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوتے۔،،

استاد اسماعیل بن ابراہیم بن محمد قراب کتاب شافی میں لکھتے ہیں:

''صرف سات قراءتوں کے انتخاب ان کی تائید کرنے اور دوسری قراءتوں کو باطل قرار دینے کی کوئی دلیل نہی ںہے یہ تو بعض متاخرین کا کارنامہ ہے جن کو سات سے زیادہ قراءتوں کا علم نہ تھا۔ چنانچہ انہوں نے اس موضوع پر ایک کتاب لکھی اور اس کا نام ''کتاب السبعہ،، رکھ دیا اس کتاب کی لوگوں میں تشہیر کی گئی اور یہ سات مشہور قراءتوں کی بنیاد و دلیل قرار پائی۔،،

امام ابو محمد مکّی فرماتے ہیں:

''ائمہ قراءت نے اپنی کتاب میں ستر سے زیادہ ایسے افراد کا ذکر کیا ہے جن کا مرتبہ ان سات مشہور قاریوں سے بلند ہے۔ اس کے باوجود یہ احتمال کیسے دیا جاسکتا ہے کہ ان سات قاریوں کی قراءتیں وہی سات حروف ہیں جن کا ذکر روایات میں ہوا ہے۔ یہ تو حق وحقیقت سے انحراف ہے۔


کیا رسول اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے کسی روایت میں یہ تصریح فرمائی ہے کہ سات حروف سے مراد سات قراءتیں ہیں؟! اگر نہیں تو پھر کس دلیل کی بنیاد پر یہ نظریہ قائم کیا گیا ہے اور جبکہ کسائی ابھی کل یعنی مامون رشید کے دور میں ان سات قاریوں میں شامل کیا گیا ہے اور اس سے پہلے ساتواں قاری یعقوب حضرمی تھا اور ۳۰۰ھ میں ابن مجاہد نے یعقوب حضرمی کی جگہ کسائی کو ان قاریوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔،،(۱)

شرف مرسی کہتے ہیں:

''اکثر عوام کا خیال یہ ہے کہ روایات میں سات حروف سے مراد سات قراءتیں ہیں اور یہ فاش غلطی و جہالت ہے۔،،(۲)

قرطبی کا کہنا ہے:

''داؤدی، ابن ابی سفرۃ اور دیگر ہمارے علمائے کرام کا کہنا ہے کہ سات مشہور قاریوں سے منسوب یہ سات قراءتیں، وہ سات حروف نہیں ہیں جن میں سے کسی کے مطابق بھی قرآن پڑھنے کا اختیار صحابہ کرام کو دیا گیا تھا۔ ابن نحاس اور دیگر علماء کی رائے کے مطابق ان سات قراءتوں کی برگشت تو ایک حرف ہے جس کے مطابق حضرت عثمان نے قرآن جمع کیا تھا اور یہ مشہور قراءتیں علماء قراءت کا اپنا انتحاب ہے۔،،(۳)

ابن جزری اس نظریئے کو با ط ل قرار دیتے ہیں جس کے مطابق جن سات حروف پر قرآن نازل ہوا تھا وہ آج تک برقرار ہیں، وہ فرماتے ہیں:

____________________

(۱) التبیان، ص ۸۲۔

(۲) ایضاً، ص ۶۱۔

(۳) تفسیر قرطبی، ج ۱، ص ۴۲۔


''اس نظریہ کی کمزوری و بے مائیگی کسی سے پوشیدہ نہیں، کیونکہ سات دس اور تیرہ قراءتیں جو آج کل مشہور ہیں وہ ان قراءتوں کے مقابلے میں سمندر کے سامنے قطرہ کی مانند ہیں جو پہلی صدی میں مشہور تھیں۔ کیونکہ ان سات اور ان کے علاوہ دیگر قاریوں نے جن سے قراءتیں اخذ کی ہیں وہ ان گنت ہیں حتی کہ جب تیسری صدی آئی علماء کی مصروفیات زیادہ اور حافظے کم ہوگئے اور کتاب و سنت کے علم کا رواج عام ہوگیا تو بعض علمائے قراءت نے ان قراءتوں کی تدوین شروع کردی جو انہو ںنے گذشتہ علماء قراءت سے حاصل کی تھیں۔ سب سے پہلا بااعتماد امام قراءت جس نے تمام قراءتوں کو ایک کتاب میں جمع کیا وہ ابو عبید القاسم بن سلام تھے۔ میری معلومات کے مطابق انہوں نے سات مشہور قراءتوں سمیت کل پچیس قراءتیں قرار دیں۔ ان کا انتقال ۲۲۴ھ میں ہوا۔ اس کے بعد انطاکیہ کے رہنے والے احمد بن جبیربن محمد کوفی پانچ قراءتوں پر مشتمل ایک کتاب لکھی جو ہر شہر سے ایک قاری پر مشتمل تھی۔ ان کا انتقال ۲۵۸ھ میں ہوا۔ ان کے بعد قالون کے ہم عصر قاضی اسماعل بن اسحاق مالکی نے قراءت پر ایک کتاب لکھی جس میں بیس ائمہ قراءت کی قراءتیں موجود ہیں۔ ان میں سات مشہور قراءتیں بھی شامل ہیں۔ ان کا انتقال ۲۸۲ھ میں ہوا۔ اس کے بعد امام ابو جعفر محمد بن جریر طبری نے ایک مفصل کتاب ''الجامع،، لکھی جو بیس یا اس سے زیادہ ائمہ قراءت کی قراءتوں پر مشتمل ہے۔ انہوں نے ۳۱۰ھ میں وفات پائی۔ طبری کے کچھ ہی عرصہ بعد ابو بکر محمد بن احمد بن عمرو اجونی نے قراءت کے موضوع پر ایک کتاب لکھی جس میں انہوں نے ابوجعفر، جو دس قاریوں میں سے ایک ہے، کو بھی شامل کردیا۔ ان کی وفات ۳۲۴ھ میں ہوئی۔ اس کے بعد ابوبکر احمد بن موسیٰ بن عباس بن مجاہد وہ پہلا قاری ہے، جس نے صرف سات قراءتوں پر اکتفا کیا اور داجونی اور ابن جریر سے بھی اس نے قراءت نقل کی ان کا انتقال ۳۲۴ھ میں ہوا۔،،


ابن جزری نے ان کے علاوہ بھی قراءت کے موضوع پر کتاب لکھنے والوں کا نام لیا ہے اور پھر فرمایا ہے:

''اس باب کو طول دینے کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں بعض جاہلوں کے بارے میں یہ اطلاع ملی ہے کہ وہ صحیح قراءتیں صرف ان سات قراءتوں میں منحصر سمجھتے ہیں اور اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ سات حروف جن کی طرف رسول اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے اشارہ فرمایا تھا یہی سات قراءتیں ہیں بلکہ ان جاہلوں میں سے بعض کا تو غالب خیال یہ ہے کہ صحیح قراءتیں وہی ہیں جو کتب ''الشاطبیہ اور التیسیر،، میں ہیں اور پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کی حدیث:

''انزل القرآن علیٰ سبعة أحرف،،

''قرآن سات حروف میں نازل کیا گیا۔،،

کا اشارہ انہی دو کتب میں موجود قراءتوں کی طر فہے حتی کہ ان میں سے بعض نے ہر اس قراءت کو شاذ و نادر قرار دیا ہے جو ان دونوں کتابوں میں موجود نہ ہو جبکہ حق تو یہ ہے کہ بہت سی ایسی قراءتیں جو ان کتب ''الشاطیبہ اور التیسیر،، اور ان سات قراءتوں میں شامل نہیں ہیں وہ ان کتب میں موجود قراءتوں سے زیادہ صحیح ہیں۔ لوگوں کے اس غلط فہمی کاشکار ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ہے ان لوگوں نے رسول اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کی حدیث: ''انزل القرآن علی سبعۃ اءحرف،، سن رکھی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے سات قراءتوں کا نام بھی سن لیا۔ اس سے یہ شبہ پیدا ہوا کہ سات قراءتیں وہی ہیں جن کا حدیث میں ذکر ہوا ہے۔ اسی لیے گذشتہ ائمہ قراءت نے ابن مجاہد کی اس رائے کو پسند نہیں کیا اور اسے غلط قرار دیا جس کے مطابق قراءتوں کو سات میں منحصر کردیا گیا۔ اسے چاہیے تھا کہ یا تو وہ قراءتوں کو سات سے زیادہ یا ان سے کم بیان کرتایا پھر اپنے مقصد کی صحیح وضاحت کرتا تا کہ عوام غلط فہی کا شکار نہ ہوتے۔،،


اس کے بعد ابن جزری نے ابن عمار مہدوی اور ابو محمد مکی کی عبارتیں نقل کی ہیں جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔(۱)

ابوشامہ فرماتے ہیں:

''ایک قوم کا گمان ہے کہ موجودہ مروج سات قراءتوں کا ہی حدیث میں ذکر ہے۔ یہ گمان تمام اہل علم کے اجماع کے خلاف ہے اور صرف جاہل ہی اس غلط فہمی میں مبتلا ہوسکتا ہے۔،،(۲)

ہمارے ان بیانات سے قارئین کے سامنے یہ حقیقت واضح ہو جانی چاہیے کہ یہ سات قراءتیں نہ رسول اسلامؐ سے اور نہ قاریوں سے بطور تواتر منقول ہیں بفرض تسلیم اگر یہ قراءتیں قاریوں سے بطور تواتر منقول ہیں تو رسول اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) سے یقیناً بطور تواتر منقول نہیں بلکہ خبر واحد کے ذریعے منقول ہیں یا قاریوں کا اپنااجتہاد ہے۔

قراءت سے متعلق دو مقامات پر بحث کی جائے گی:

۱۔ حجیت قراءت

علماء کی ایک جماعت کے نزدیک یہ قراءتیں حجت اور سند ہیں اور ان کے ذریعے حکم شرعی پر استدلال کیا جاسکتا ہے۔ جس طرح حیض والی عورت سے خون بند ہونے کے بعد اور غسل کرنے سے پہلے ہمبستری حرام ہونے پر حفص کے علاوہ باقی کوفی قاریوں کی قراءت:''ولا تقربوا هن حتیٰ یطهرن،، میں ط مشدد سے استدلال کیا گیا ہے۔ جس کا ترجمہ یہ ہے: ''جب تک (تمہاری عورتیں) اپنے آپ کو (غسل کے ذریعے) پاک نہ کرلیں ان کے نزدیک نہ جاؤ۔،،(۳)

___________________

(۱) النشر فی القرات العشر، ج۱، ص ۳۳۔۳۷۔

(۲) الاتقان النوع۔ ۲۲۔۲۷، ج ۱، ص ۱۳۸۔

(۳) ''حفص،، کے علاوہ کوفی قاری اسے ''یطھرن،، پڑھتے ہیں جو باب تفعل ہے اور باب تفعل میں ایک معنی ''اتخاذ،، یعنی مبداء کو اپنانا اور حاصل کرنا ہے۔ اس کی رو سے آیہ شریفہ کا ترجمہ یہی ہوگا کہ جب تک عورت غسل کے ذریعے اپنے آپ کو پاک نہ کرے اس سے ہمبستری جائز نہیں۔ دوسرے قول کے مطابق ''یطھرن،، پڑھا گیا ہے اس کا مطلب یہ ہے: ''اپنی عورتوں کے پاس نہ جاؤ جب تک وہ پاک نہ ہو جائیں،، ظاہر ہے خودبخود تو صرف خون بند ہو جانے سے پی پاک ہوا جاسکتا ہے۔ اس قراءت کی رو سے خون بند ہونے کے بعد اور غسل کرنے سے پہلے بھی اس سے ہمبستری کی جاسکتی ہے۔ (مترجم)

جواب:

لیکن حق یہی ہے کہ قراءتیں حجت نہیں ہیں اور ان کے ذریعے کسی حک شرعی کو ثابت نہیں کیاجاسکتا۔ کیونکہ ہر قاری اشتباہ و غلطی کرسکتا ہے او رمتعدد قاریوں میں سے کسی خاص کی اتباع و پیروی پر ہمارے پاس نہ کوئی عقلی دلیل ہے اور نہ نقلی دلیل اور اس بات پر عقلی و شرعی دلیل قائم ہے کہ غیر علم کی اتباع کرنا جائز نہیں ہے۔ اس کی مزید وضاحت آئندہ کی جائے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔

ہوسکتا ہے ہمارے اس جواب پریہ اعتراض کیا جائے کہ اگرچہ قراءتیں خود متواتر نہیں ہیں لیکن خبر واحد کے ذریعے رسول اسلامؐ سے ضرور منقول ہیں، اس بناء پر وہ دلائل قطعیہ و یقینیہ ان قراءتوں کو شامل ہوں گے جو خبر واحد کے حجت ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ جب یہ دلائل یقینیہ و قطعیہ ان قراءتوں کو شامل ہوں تو پھر ان قراءتوں پر عمل کرنا ورود یا حکومت یا تخصیص(۱) کی بنیاد پر عمل بالظن سے خارج ہو جائے گا (یعنی عمل بالظن نہیں کہلائے گا)۔

جواب:

اولاً: یہ ثابت نہیں کہ یہ قراءتیں روایت کے ذریعے منقول ہیں کہ خبر واحد کی حجیت کے دلائل ان کو بھی شامل ہوں۔ اس لئے یہ احتمال دیا جاسکتا ہے کہ یہ قراءتیں ہر قاری کا اپنا اجتہاد ہوں۔ چنانچہ اس احتمال کی تائید بعض علمائے کرام کے کلام سے بھی ہوتی ہے بلکہ جب قاریوں کے اختلاف کی وجہ و منشاء کو دیکھتے ہیں تو اس احتمال کو مزید تقویت ملتی ہے کیوں کہ اس وقت (حضرت عثمان کے دور حکومت میں) مرکز سے دیگر علاقوں میں بھیجے جانے والے قرآنی نسخوں پر نقطے اور اعراب نہیں ہوتے تھے۔

____________________

(۱) ان معانی اور اصلاحات کی وضاحت ہم اپنے اصول فقہ کے درس کے دوران ''تعادل و ترجیح،، کی بحث میں کرچکے ہیں جو طبع ہوچکا ہے۔


ابن ابی ہاشم کہتے ہیں:

''سات قراءتوں میں اختلاف کا سبب یہ ہے کہ جن علاقوں میں قرآنی نسخے مرکز سے بھیجے جاتے تھے ان علاقوں میں موجود صحابہ کرام سے لوگ قرآن سیکھتے تھے اور یہ نسخے نقطوں اور اعراب سے خالی ہوا کرتے تھے۔ یہ آگے چل کر فرماتے ہیں:

''ان علاقوں کے لوگوں نے اسی قراءت کو اخذ کیا جو انہوں نے اپنے علاقے کے اصحاب سے سیکھی تھی اور اس میں وہ صرف یہ دیکھتے تھے کہ قرآن کے خط کے موافق ہے یا نہیں۔ اگر یہ قرآنی خط کے مخالف ہوتی تو اسے چھوڑ دیتے تھے۔

پس یہیں سے مختلف شہروں کے لوگوں کی قراءتوں میں اختلاف پیدا ہوگیا۔،،(۱)

زرقانی کہتے ہیں:

''صدر اول کے علمائے کرام قرآن کو نقطے اور حرکات دینا صحیح نہیں سمجھتے تھے کیونکہ اس سے قرآن میں تغیر و تبدل

ہونے کا اندیشہ تھا، ان حرکات اور نقطے دینے کے نتیجے میں قرآن کی اصلی شکل و صورت تبدیل ہوسکتی تھی۔ مگر زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں نے محسوس کیا کہ جس مقصد کے لیے حرکات اور نقطے نہیں دیئے گئے اب اسی مقصد کے لیے حرکات اور نقطے دینا لازمی ہوگیا تاکہ کہیں کوئی شخص اپنی مرضی و منشاء کے مطابق کوئی حرکت اور نقطہ دے کر قرآن کو تبدیل نہ کرسکے۔،،(۲)

ثانیاً: ان قراءتوں کے راویوں کا باوثوق ہونا ثابت نہیں ہے اور جب تک ان کا باوثوق ہونا ثابت نہ ہو، خبر واحد کی حجیت کی دلیل ان قراءتوں کو شامل نہ ہوگی۔ چنانچہ قاریوں اور ان کے رایوں کی سوانح حیات سے یہ بات ظاہر ہوچکی ہے۔

____________________

(۲) التبیان، ص ۸۶۔

(۱) مناہل العرفان، ص ۴۰۲، طبع دوم۔


ثالثاً: اگر یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ ان قراءتوں کا مسند اور مدرک وہ روایات ہیں اور یہ بھی مان لیا جائے کہ ان روایات کے راوی موثق ہیں پھر بھی ایک سقم باقی رہ جاتا ہے یہ کہ ہم اجمالی طور پر اتنا ضرور جانتے ہیں کہ ان روایات میں سے بعض یقیناً رسول اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) سے صادر نہیں ہوئیں اور یہ اجمالی علم روایات کے باہمی تعارض اور ٹکراؤ کا باعث بنتا ہے اور بعض روایات سے بعض روایات کی تکذیب ہوتی ہے۔ جس کے نتیجے میں یہ روایات حجت نہیں بنتیں۔

اس کے علاوہ بعض مخصوص روایات کو حجت اور معتبر سمجھنا ترجیح بلا مرجع(۱) ہے جو کہ قبیح ہے۔ لامحالہ کسی نہ کسی مرجح(۲) کو تلاش کرنا پڑے گا، جو روایات کے تعارض اور ٹکراؤ کی صورت میں لازمی ہے او رمرجح کے بغیر ان روایات میں سے کسی روایت کو کسی حکم شرعی کی دلیل قرار دینا جائز نہیں ہے۔

اگر ہم ان روایات کو متواتر سمجھیں تب بھی یہی نتیجہ نکلتا ہے کیوکہ جب دو مختلف قراءتیں رسول اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) سے بطور تواتر منقول ہوں تو اس سے یہ یقین حاصل ہو جاتا ہے کہ دونوں قراءتیں قرآن ہیں جو خدا کی طرف سے نازل ہوئی ہیں اور ان میں سند کے اعتبار سے کوئی تعارض و ٹکراؤ نہیں ہے بلکہ صرف دلالت اور مفہوم کے اعتبار سے ان میں ٹکراؤ ہوگا۔

جب ہمیں اجمالی طور پر یہ علم ہے کہ دنوں ظاہری معنوںمیں سے ایک معنی کا فی الواقع ارادہ نہیں کیا گیا تو اس صورت میں دونوں معانی ساقط اور ناقابل عمل ہو جائیں گے اور کسی اور دلیل لفظی یا عملی کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔ کیو نکہ دونوں دلیلوں کے سند ظنی ہو، یقینی اور قطعی نہ ہو۔ ترجیح اور تخییر کی دلیلیں ان دلائل کو شامل نہیں جن کی سند قطعی ہو۔ اس کی تفصیل علم اصول کی تعادل و ترجیح کی بحث میں مذکور ہے۔

____________________

(۱) بلا وجہ کسی روایت کو دوسری روایت پر ترجیح دینا۔ (مترجم)

(۲) ترجیح دینے کی وجہ (مترجم)۔


۲۔ نماز میں ان قراءتوں کا پڑھنا جائز ہے

اکثر شیعہ و سنی علمائے کرام کی رائے یہی ہے کہ نماز میں ان سات قراءتوں کا پڑھنا جائز ہے بلکہ ان علماء میں سے بہت سوں کے کلام میں اس مسئلہ پر اجماع کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

بعض کی رائے ہے کہ دس قراءتوں میں سے کوئی بھی نماز میں پڑھی جاسکتی ہے اور بعض کا کہنا ہے کہ نماز میں ہر اس قراءت کا پڑھنا جائز ہے جس کے لغت عرب اور عثمانی قرآنوں میں سے کسی کے مطابق ہونے کا احتمال ہو۔ البتہ سند صحیح ہو لیکن ان قراءتوں کی تعداد معین نہیں کی گئی۔

حق تو یہ ہے کہ قاعدہ اولیہ کی رو سے ہر اس قراءت کا پڑھنا جائز نہیں جس کے بارے میں یہ ثابت نہ ہو کہ اسے رسول اسلامؐ یا کسی امام معصوم نے پڑھا ہے۔ کیونکہ نماز میں قرآن کا پڑھنا واجب ہے۔ بنابرایں ایسی چیز کا پڑھنا کافی نہ ہوگا، جس کا قرآن ہونا ثابت نہ ہو اور عقل کا یہ فیصلہ ہے کہ اگر ایک چیز کے واجب ہونے کا یقین ہو تو اس کی ادائیگی کا یقین کرنا لازمی ہے۔ لہذا ضروری ہے کہ یا تو اتنی نمازیں پڑھی جایں جتنی قراءتیں ہیں یا ایک ہی مقام میں اس اختلافی مقام کو مکرر پڑھا جائے تاکہ امتثال یقینی حاصل ہو۔ مثلاً سورۃ فاتحہ میں دونوں اختلافی قراءتیں ''مالک،، اور ''ملک،، کو پڑھے اور باقی ایک سورہ جو حمد کے پڑھنا چاہیے اس میں یا تو ایسا سورہ پڑھیں جس میں کوئی اختلاف نہ ہو یا سورہ فاتحہ کی طرح اختلافی الفاظ کو مکرر پڑھیں۔


(یہ وہ احکام تھے جن کا قاعدہئ اولیہ متقاضی ہے) لیکن جہاں تک ائمہ کے زمانے میں مشہور قراءتوں کے بارے میں شیعوں کے لیے معصومین کی قطعی تقریر(۱) کا تعلق ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ایسی قراءت پر اکتفاء کیا جاسکتا ہے جو معصومین(ع) کے زمانے میں مشہور تھی اور معصومین(ع) نے اسے پڑھنے سے روکا بھی نہیں۔ اس لیے کہ اگر کسی امام(علیہ السلام) نے روکا ہوتا تو اس کی خبر بطور تواتر ہم تک پہنچتی یا کم از کم خبر واحد کے ذریعے ہی پہنچتی۔ بلکہ روایات سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ ائمہ ھدیٰ نے ان قراءتوں کی تصدیق و تائید فرمائی ہے۔ چنانچہ معصوم کا فرمان ہے۔

''اقرأ کما یقرأ الناس،، ۔۔۔''جس طرح دوسرے پڑھتے ہیں تم بھی اسی طرح پڑھو۔،،

''اقروا کما علمتم،، ۔۔۔''جس طرح تمہیں سکھایا جاے اسی طرح پڑھو۔،،(۲)

ان روایات کی موجودگی میں صرف سات یا دس قراءتوں پر اکتفاء کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔ ہاں! ایسی قراءت پر اکتفاء نہیں کیا جاسکتا جو شاذ و نادر ہو، اہلسنت کے نزدیک موثق راویوں کے ذریعے ثابت نہ ہو اور من گھڑت ہو۔

مثال کے طور پر ''ملک یوم الدین،، میں ''ملک،، کے لیے صیغہ ماضی کا ہو اور یوم منصوب ہو۔ یہ شاذ و غیر معروف ہے اور جعلی قراءت کی مثال یہ ہے ۔''انما یخشی الله من عباده العلمائ،، میں لفظ ''اللہ،، پر پیش اور لفظ ''العلمائ،، پر زبر دیا گیا ہے۔ یہ خزاعی کی قراءت ہے جو ابو حنیفہ سے منقول ہے۔

اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ نماز مںی ہر اس قراءت کا پڑھنا جائز ہے جو اہل بیت اطہار (علیہم السلام) کے زمانے میں مشہور تھی۔

____________________

(۱) یعنی کوئی فعل امام(علیہ السلام) کے سامنے انجام دیا جائے اور امام(علیہ السلام) اس سے نہ روکیں۔(مترجم)

(۲) الکافی: باب النو ادر کتاب فضل القرآن۔


کیا قرآن سات حروف پر نازل ہوا؟

٭ روایات کے کمزور پہلو

٭ روایات میں تضاد

٭ سات حروف کی تاویل و توجیہ

٭ قریب المعنی الفاظ

٭ سات ابواب

٭ سات ابواب کا ایک اور معنی

٭ فصیح لغات

٭ قبیلہ ئ مضر کی لغت

٭ قراءتوں میں اختلاف

٭ اختلاف قراءت کا ایک اور معنی

٭ اکائیوں کی کثرت

٭ سات قراءتیں

٭ مختلف لہجے


اہل سنت کی روایات بتاتی ہیں کہ قرآن سات حروف میں نازل کیا گیا ہے۔ بہتر ہے کہ پہلے ان روایات کو بیان کیا جائے اور پھر ان کے بارے میں اپنی تحقیق پیش کی جائے۔

۱۔ طبری نے یونس اور ابی کریب سے انہوں نے ابی شہاب سے اور اس نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ رسول خدا(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے فرمایا:

قال:''أقرأنی جبرئیل علی حرف فراجعته، فلم أزل أستزیده فیزیدنی حتی انتهی الی سبعة أحرف،،

''مجھے جبرئیل نے ایک حرف میں پڑھایا۔ میں نے دوبارہ جبرئیل کی طرف رجوع کیا اور یہ سلسلہ سات حروف تک منتہی ہوا۔،،

اس روایت کومسلم نے حرملہ سے، حرملہ نے ابن وھب سے اور اس نے یونس سے نقل کیا ہے۔(۱) بخاری نے دوسری سند سے یہ روایت بیان کی ہے اور اس کا مضمون ابن برقی اور ابن عباس کے ذریعے نقل کیا ہے۔(۲)

۲۔ ابی کریب نے عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کی سند سے اس نے اپنے جد کی سند سے اور اس نے ابی ابن کعب کی سند سے روایت کی ہے۔ ابیّ کہتا ہے:

''کنت فی المسجد فدخل رجل یصلی فقرأ قراءة أنکرتها علیه، ثم دخل رجل آخر فقرأ قراء ة غیر قراء ة صاحبه، فدخلنا جمیعاً علی رسول الله قال: فقلت یا رسول الله ان هذا قرأ قراء ة أنکرتها علیه، ثم دخل هذا فقرأ قراءة غیر قراءة صاحبه، فامرهما رسول الله(صلّی اللّه علیه وآله وسلّم) فقرأا ، فحسن رسول الله(صلّی اللّه علیه وآله وسلّم) شأهما، فوقع فی نفسی من التکذیب، ولا اذ کنت فی الجاهلیة فلما رأی رسول الله(صلّی اللّه علیه وآله وسلّم) ما غشینی ضرب صدری، ففضت عرقا کأنما أنظر الی الله فرقا فقال لی: یاأبی أرسل الی ان اقرأ القرآن علی حرف، فرددت علیه أن هون علی أمتی، فرد علی فی الثانیة أن اقرأ القرآن علی حرف فرددت علیه أن هون علی أمتی، فرد علی فی الثالثة أن اقرأه علی سبعة أحرف، و لک بکل ردة رددتها مسألة تسألنبها، فقلت: اللهم اغفر لأمتی اللهم اغفر لأمتی، و اخرت الثالثه لیوم یرغب فیه الی الخلق کلهم حتی ابراهیم علیه السلام،،

____________________

(۱)صحیح مسلم باب ان القرآن انزل علی سبعة أحرف ، ج ۲، ص ۲۰۲، طبع محمد علی صبیح، مصر۔

(۲)صحیح البخاری باب انزل القرآن علی سبعة أحرف ،ج ۲، ص ۱۰۰، مطبع عامرہ۔


''میں مسجد رسول میں بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور اس نے نماز پڑھنی شروع کی۔ اس نے ایک ایسی قراءت پڑھی جسے میں نہ جانتا تھا۔ اس اثنا میں دوسرا آدمی مسجد میں داخل ہوا اور اس نے ایک اور قراءت سے نماز شروع کی۔ پھر جب ہم سب نماز پڑھ چکے تو رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ میں نے آپ کی خدمت میں عرض کی کہ اس شخص نے ایسی قراءت سے نمام پڑھی کہ مجھے تعجب ہوا اور دوسرا آیا تو اس نے اس کے علاوہ ایک اور قراءت پڑھی۔ آپ نے ان دونوں کو دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم دیا۔ ان دونوں نے اسی طرح نماز پڑھی جس طرح پہلے پڑھی تھی، آپ نے دونوں کی نماز کو سراہا، اس سے میرے دل میں تکذیب آئی لیکن ایسی تکذیب نہیں جیسی زمانہ جاہلیت میں تھی۔ جب رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے میری یہ کیفیت دیکھی تو میرے سینے پر ہاتھ مارا جس سے میں شرم کے مارے پسینہ سے شرابور ہوگیا اور یوں لگا جیسے میں اللہ کو دیکھ رہا ہوں۔ اس کے بعد پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے فرمایا: اے اُبیّ! مجھے یہ حکم دیا گیا کہ قرآن کو ایک حرف میں پڑھوں۔ میں نے خالق کے دربار میں درخواست کی کہ میری امت پر اس فریضہ کو آسان فرما مجھے دوبارہ یہی حکم ملا کہ قرآن کو ایک حرف میں پڑھوں۔ میں نے پھر وہی درخواست دہرائی۔ اس دفعہ مجھے حکم دیا گیا کہ میری ہر دعا، جو قبول نہیں ہوئی، کے عوض ایک دعا قبول کی جائے گی۔ اس پر میں نے یہ دعا مانگی: پالنے والے! میری امت کو بخش دے۔ پالنے والے! میری اُمّت کو بخش دے اور تیسری دعا کو اس دن کے لیے محفوظ رکھا ہے جس دن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تک میری دعا کے محتاج ہوں گے۔،،

اس روایت کو مُسلم نے بھی معمولی اختلاف کے ساتھ بیان کیا ہے۔(۱) طبری نے بھی ایک اور سند سے معمولی اختلاف کے ساتھ اس کو نقل کیا ہے اور تقریباً اسی مضمون کی یونس بن عبد الاعلیٰ اور محمد بن عبد الاعلیٰ اور محمد بن عبد الاعلیٰ صنعانی کے ذریعے اُبیّ بن کعب سے روایت کی گئی ہے۔

____________________

(۱) صحیح مسلم، ج ۲، ص ۲۰۳۔


۳۔ ابی کریب نے سلیمان بن صرد کی سند سے اُبیّ بن کعب سے روایت کی ہے۔ اُبیّ بن کعب کہتا ہے:

قال: ''رحت الی المسجد فسمعت رجلاً یقرأ فقلت: من أقرأک؟ فقال: رسول الله(صلّی اللّه علیه وآله وسلّم) فانطلقت به الی رسول الله(صلّی اللّه علیه وآله وسلّم) فقلت: استقریئ هذاں، فقرأ فقال: أحسنت قال: فقلت انک أقرأتنی کذا و کذا فقال: وأنت قد أحسنت قال: فقلت قد أحسنت قد أحسنت قال: فضرب بیده علی صدری، ثم قال: اللهم أذهب عن أبیّ الشک قال: ففضت عرقاً و امتلأ جو فی فرقاً ثم قال: ان اللکین أتیانی فقال أحدهما: اقرأ القرآن علی حرف، و قال الآخر: زده قال: فقلت زدنی قال: اقرأه علی حرفین حتی بلغ سبعة أحرف فقال: اقرأ علی سبعة أحرف،،

''میں مسجد میں داخل ہوا تو ایک آدمی کی قراءت سُنی، میں نے اس سے دریافت کیا تمہیں یہ قراءت کس نے پڑھائی ہے، اس نے جواب دیا رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے پڑھائی ہے چنانچہ میں اسے لے کر رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) اس کی قراءت سنیئے۔ اس شخص نے قراءت پڑھی اور سول اللہؐ نے سننے کے بعد فرمایا: عمدہ ہے۔ میں نے کہا: آپ نے تو مجھے اس طرح اور اس طرح قراءت پڑھائی تھی۔ آپ نے فرمایا: یقیناً تمہاری قراءت بہت اچھی ہے میں نے آپ کی نقل اتارتے ہوئے کہا: تمہاری قراءت بھی بہت اچھی ہے۔ آپ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پر مارا اور فرمایا: پالنے والے! اُبیّ کے دل شک دور فرما۔ میں (اُبیّ) خجالت کے مارے پسینے سے شرابور ہو گیا اور میری پورا وجود خوف سے لرزنے لگا۔ پھر آپ نے فرمایا: میرے پاس دو فرشتے نازل ہوئے ان میں سے ایک نے کہا: قرآن کو ایک حرف میں پڑھیئے۔ دوسرے فرشتے نے پہلے سے کہا: اس ایک حرف میں اضافہ کریں۔ میںؐ نے بھی فرشتے سے یہی کہا۔ فرشتے نے کہا: قرآن کو دو حرفوں میں پڑھیئے۔ فرشتہ حروف کی تعداد بڑھاتا گیا یہاں تک کہ فرشتے نے کہا قرآن کو سات حروف میں پڑھیئے۔،،


۴۔ ابو کریب نے عبد الرحمن بن ابی بکرہ کی سند سے اور اس نے اپنے باپ کی سند سے روایت کی ہے۔ ابو کریب کہتا ہے:

قال: ''قال رسول الله(صلّی اللّه علیه وآله وسلّم): قال جبرئیل: اقرأ القرآن علی حرف فقال میکائیل استزده فقال: علی حرفین، حتی بلغ ستة أو سبعة أحرف و الشک من أبی کریب فقال: کهها شاف کاف ما لم تختم آیة عذاب برحمة، أو آیة رحمة بعذاب کقولک: هلم و تعال،،

''پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) فرماتے ہیں: جبرئیل نے کہا قرآن کو ایک حرف میں پڑھیئے۔ میکائیل نے کہا کہ جبرئیل سے درخواست کریں کہ اسے بڑھا دے، میریؐ درخواست پر جبرئیل نے کہا دو حروف میں پڑھیئے۔ اس طرح حروف کو بڑھاتے گئے یہاں تک کہ چھ یا ست تک پہنچ گئے (چھ اور سات میں تردد ابی کریب کی طرف سے ہے) پھر آپ نے فرمایا: ان میں سے جس حرف میں بھی پڑھیں کافی ہے اور سب کا مطلب ایک ہے، جس طرح ''ھلم،، اور ''تعال،، دونوں کا معنی ہے ''آجاؤ،، بشرطیکہ رحمت کی آیہ عذاب میں اور عذاب کی آیہ رحمت میں تبدیل نہ ہو۔،،

۵۔ طبری نے احمد بن منصور کی سند سے اس نے عبد اللہ بن ابی طلحہ سے اس نے اپنے باپ سے اور اس نے اپنے باپ سے روایت بیان کی ہے:

قال: ''قرأ رجل عند عمر بن الخطاب فغیر علیه فقال: لقد قرأت علی رسول الله(صلّی اللّه علیه وآله وسلّم) فلم یغیر علی قال: فاختصما عند النبی فقال: یا رسول الله ألم تقرئنی آیة کذا و کذا؟ قال: بلی، فوقع فی صدر عمر شیئ فعرف النبی ذلک فی وجهه قال: فضرب صدره وقال: أبعد شیطاناً، قالها ثلاثاً ثم قال: یا عمر ان القرآن کله سوائ، ما لم تجعل رحمةً عذاباً و عذاباً رحمة،،

''ایک شخص نے حضرت عمر بن خطاب کے سامنے قرآن پڑھا حضرت عمر بن خطاب نے اس پر اعتراض کیا اور اس کی اصلاح کی کوشش کی۔ اس شحص نے کہا: میں نے پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کے سامنے بھی اسی طرح قراءت پڑھی تھی۔ لیکن آپ نے اعتراض نہیں کیا تھا۔ چنانچہ یہ دونوں فیصلے کے لیے رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔


اس شخص نے کہا: یا رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم)! کیا آپ نے مجھے اس آیہ کی قراءت اس طرح نہیں پڑھائی تھی؟ آپ نے فرمایا: ہاں اسی طرح پڑھائی تھی؟ آپ نے فرمایا: ہاں اسی طرح پڑھائی تھی۔ حضرت عمر کے دل میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے جنہیں رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے حضرت عمر کے چہرے پر نمایاں محسوس فرمایا۔ راوی کہتا ہے: رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے حضرت عمر کے سینے پر ہاتھ مارا اور تین مرتبہ فرمایا: شیطان کو اپنے آپ سے دور رکھو۔ اس کے بعد فرمایا: یہ سب قرآن ایک جیسے ہیں جب تک کسی رحمت کو عذاب میں اور عذاب کو رحمت میں تبدیل نہ کرو۔،،

طبری نے یونس بن عبد الاعلیٰ سے حضرت عمر اور ہشام بن حکیم کا اسی قسم کا ایک واقعہ نقل کیا ہے جس کی سند خود حضرت عمر تک پہنچتی ہے۔

بخاری، مسلم اور ترمذی نے بھی حضرت عمر کا ہشام کے ساتھ ایک واقعہ بیان کیا ہے جس کی سند اور حدیث کے الفاظ کچھ مختلف ہیں۔(۱)

۶۔ طبری نے محمد بن مثنی سے اس نے ابن ابی لیلیٰ سے اور اس نے اُبیّ بن کعب سے روایت کی ہے:

قال: ''فأتاه جبرئیل فقال: ان الله یأمرک أن تقریئ أمّتک القرآن علی حرف فقال: أسأل الله معافاته و مغفرته، و ان أمتی لا تطبق ذلک قال: ثم أتاه الثانیة فقال: ان الله یأمرک أن تقریئ أمتک القرآن علی حرفین فقال: أسأل الله معافاته و مغفرته، و ان أمتی لا تطبق ذلک، ثم جاء الثالثة فقال: ان الله یأمرک أن تقری، امّتک القرآن علی ثلاثة أحرف فقال: أسأل الله معافاته و مغفرته، و ان أمتی لاتطبق ذلک، ثم جاء الرابعة فقال: ان الله یأمرک أن قری، أمّتک القرآن علی سبعة أحرف، فأنما حرف قرأوا علیه فقد أصابوا،،

''رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) قبیلہ بنی غفار کے ہاں تھے، اس وقت جبرئیل نازل ہوئے اور فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنی اُمّت کو ایک حرف میں قرآن پڑھایئے۔ آپ نے فرمایا: اللہ سے مغفرت اور عفو کی درخواست ہے کیونکہ میری امّت اس کی قدرت نہیں رکھتی

____________________

(۱) صحیح مسلم، ج ۲، ص ۲۰۲۔ صحیح بخاری، ج ۳، ص ۹۰ اور ج ۶، ص ۱۰۰،۱۱۱، ج ۸، ص ۵۳۔۲۱۵۔صحیح ترمذی، بشرح ابن العربی باب ما جاء انزل القرآن علی سبعة احرف ، ج ۱۱، ص ۶۰۔


اُبیّ کہتا ہے: جبرئیل دوسری مرتبہ نازل ہوئے اور فرمایا: اپنی اُمّت کو دو حروف میں قرآن پڑھایئے۔ آپ نے فرمایا: اللہ سے مغفرت اور عفو کی درخوات ہے کیونکہ میری امت اس کی قدرت نہیں رکھتی۔ تیسری مرتبہ جبرئیل نازل ہوئے اور فرمایا: اپنی امت کو تین حروف میں قرآن پڑھایئے۔ آپ نے فرمایا: اللہ سے مغفرت اور عفو کی درخواست ہے کیونکہ میری امت اس کی قدرت نہیں رکھتی۔ جبرئیل پھر چوتھی مرتبہ نازل ہوئے اور فرمایا: اپنی امت کو سات حروف میں قرآن پڑھایئے، ان میں سے جس حرف پر بھی وہ قرآن پڑھے صحیح ہے۔،، اس روایت کو مسلم نے اپنی صحیح(۱) میں بیان کیا ہے۔ نیز طبری نے اس روایت کے کچھ حصے احمد بن محمد طوقی سے، اس نے ابن ابی لیلیٰ سے اور اس نے اُبیّ بن کعب سے معمولی اختلاف سے بیان کئے ہیں۔ اس کے علاوہ طبری نے محمد بن مثنیٰ سے اور اس نے ابیّ بن ابی کعب سے روایت کی ہے۔

۷۔ طبری نے ابی کریب سے اس نے زر سے اور اس نے اُبیّ سے نقل کیا ہے:

قال: ''لقی رسول الله صلی الله علیه وآله جبرئیل عند أحجار المرائ ۔فقال: انی بعثت الی أمّة أمیین منهم الغلام و الخادم، و فیهم الشیخ الفانی و العجوز فقال جبرئیل: فلیقرأوا القرآن علی سبعة أحرف،، (۲)

''مقام''مراء احجار،، پر رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے جبرئیل کو دیکھا آپ نے فرمایا میں ایسی ان پڑھ قوم کی طرف بھیجا گیاہوں جس میں غلام، بوڑھے اور عورتیں شامل ہیں۔ جبرئیل نے فرمایا: آپ کی امّت سات حروف میں قرآن پڑھے۔،،

۸۔ طبری نے عمرو بن عثمان عثمانی سے، اس نے مقبری سے اور اس نے ابوہریرہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے فرمایا:

''قال رسول الله(صلّی اللّه علیه وآله وسلّم): ان هذا القران انزل علی سبعة أحرف، فاقرأوا و لاحرج، و لکن لا تختموا طذکر رحمة بعذاب، ولا ذکر عذاب برحمة،،

''قرآن سات حروف میں نازل کیا گیا ہے۔ جس حرف میں چاہو اسے پڑھو، کوئی حرف نہیں۔ لیکن یہ خیال رکھو کہ رحمت کی آیہ کو عذاب کی آیہ میں اور عذاب کی آیہ کو رحمت کی آیہ میں بدل نہ دینا۔،،

___________________

(۱) صحیح مسلم ، ج ۲، ص ۲۰۳۔

(۲) اس روایت کو ترمذی نے بھی معمولی اختلاف کے ساتھ بیان کیا ہے۔ ج ۱۱، ص ۶۲۔


۹۔ طبری نے عبید بن اسباط سے، اس نے ابی سلمہ سے اور اس نے ابوہریرہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے فرمایا:

''قرآن چار حرفوں میں نازل کیا گیا ہے علیم، حکیم، غفور اور رحیم،،۔

اسی قسم کی روایت طبری نے ابی کریب سے اس نے ابی سلمہ سے اور اس نے ابوہریرہ سے نقل کی ہے۔

۱۰۔ طبری سعید بن یحییٰ سے، اس نے عاصم کی سند سے، اس نے زر سے اور اس نے عبداللہ بن مسعود سے روایت کی ہے، عبد اللہ ابن مسعود کہتا ہے:

قال: ''تمارینا فی سورة من القرآن، فقلنا: خمس و ثلاثون، أوست و ثلاثون آیة، قال: فانطلقنا الی رسول الله(صلّی اللّه علیه وآله وسلّم) فوجدنا علیاً یناجیه قال: فقلنا انما اختلفنا فی القراء ة قال: فاحمر وجه رسول الله(صلّی اللّه علیه وآله وسلّم) و قال: انما هلک من کان قبلکم باختلافهم بینهم قال: ثم أسرَّ الی علی شیأا فقال لنا علی: ان رسول الله یأمرکم ان تقرأوا کما علّمتم،،

''قرآن کے کسی سورۃ کے بارے میں ہمارا اختلاف ہوا۔ بعض نے کہا اس کی آیئتیں پینتیس ہیں اور بعض نے کہا چھتیس ہیں۔ چنانچہ ہم رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کی خدمت میں حاضر ہوئے دیکھا کہ آپ حضرت علی(علیہ السلام) سے راز و نیاز میں مشغول ہیں۔ ابن مسعود کہتا ہے کہ ہم نے رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) سے عرض کیا: یا رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم)! قراءت کے بارے میں ہمارا آپس میں اختلاف ہو رہا ہے۔ ہماری بات سن کر آپ کا چہرہ مبارک غصّے سے سرخ ہوگیا آپ نے فرمایا: تم سے پہلے لوگ آپس کے اختلاف کی وجہ سے ہلاکت میں مبتلا ہوگئے

پھر آپ نے آہستہ سے امیر المومنین (علیہ السلام) سے کچھ فرمایا۔ اس کے بعد حضرت علی (علیہ السلام) نے ہم سے کہا: رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) فرماتے ہیں کہ جس طرح تمہیں قرآن پڑھایا گیا ہے اسی طرح پڑھو۔،،(۱)

____________________

(۱) یہ سب روایتیں تفسیر طبری، ج ۱، ص ۹۔۱۵ میں مذکور ہیں۔


۱۱۔ قرطبی نے اُبی داؤد سے اور اس نے اُبیّ بن کعب سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے فرمایا:''یا اُبیّ انی قرأت القرآن ۔فقیل لی: علی حرف أوحرفین ۔فقال الملک الذی معی: قل علی حرفین ۔فقیل لی: علی حرفین أو ثلاثة ۔فقال الملک الذی معی: قل علی ثلاثة، حتی بلغ سبعة أحرف، ثم قال: لیس منها الا شاف کاف، ان قلت سمیعاً، علیماً، عزیزاً، حکیماً، مالم تخلط آیة عذاب برحمة، أو آیة رحمة بعذاب،،

''اے اُبی! میں نے قرآن کی تلاوت کی تو مجھ سے پوچھا گیا: آپ ایک حرف میں قرآن پڑھیں گے یا دو حرف میں؟ میرے ساتھ موجود فرشتے نے کہا: کہیئے دو حرف میں۔ فرشتے نے کہا: کہیئے تین حروف میں۔ اس طرح سات حروف تک سلسلہ جا پہنچا۔ اس کے بعد مجھ سے کہا گیا کہ ان سات حروف میں سے جس میں چاہیں پڑھیں، کافی ہے۔ چاہیں تو سمیعاً پڑھیں یا علیماً یا عزیزاً یا حکیماً پڑھیں البتہ عذاب کی آیہ کو رحمت کی آیہ سے اور رحمت کی آیہ کو عذاب کی آیہ سے خلط ملط نہ کردیں۔،،(۱)

i ۔ ان روایات کے کمزور پہلو

یہ تھیں اس مضمون کی اہم روایات جو اہل سُنّت کے سلسلہئ سند سے منقول ہیں اور یہ سب روایتیں صحیحہ زرارہ کی مخالف ہیں جو حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے مروی ہے، آپ فرماتے ہیں:

''ان القرآن واحد نزل من عند واحد، و لکن الاختلاف یحیئ من قبل الرواة،،

''قرآن ایک ہی ہے اور ایک ہی ذات کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور اختلاف راویوں کے پیدا کردہ ہیں۔،،(۲)

____________________

(۱) تفسیر قرطبی، ج ۱، ص ۴۳۔

(۲) اصول کافی کتاب فضل القرآن، باب نوادر روایت ۱۲۔


فضیل بن یسار نے حضرت ابا عبد اللہ(ع) سے پوچھا: یہ لوگ کہتے ہیں کہ قرآن سات حروف میں نازل ہوا ہے۔ امام(ع) نے فرمایا:

''أبو عبد الله علیه السلام: کذبوا أعداء الله ولکنه نزل علی حرف واحدمن عند الواحد،،

''یہ دشمنان خدا جھوٹ بولتے ہیں۔ قرآن کو صرف ایک حرف میں اور ایک ذات کی طرف سے نازل کیا گیا۔،،(۱)

اسسے پہے بطور اختصار بیان کیا جاچکا ہے کہ دینی معاملات میں رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کے بعد واحد مرجع و مرکز کتابِ خدا اور اہل بیت پیغمبرؐ ہیں جن سے خدا نے ہر قسم کے رجس و ناپاکی کو دور رکھا ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ اس کی مزید وضاحت بعد میں آئے گی۔

ان روایات کی کوئی وقعت نہیں ہے جو اہل بیتؑ کی صحیح روایات کی مخالف ہیں۔ اس لئے دوسری روایات کی سند کے بارے میں کسی بحث کی نوبت نہیں آئی اور روایات اہل بیتؑ کی مخالفت کی وجہ سے ہی وہ روایات ناقابل اعتبار قرار پاتی ہیں اس کے علاوہ بھی ان روایات میں آپس میں تضاد پایا جاتا ہے اور بعض روایات ایسی ہیں جن کے سوال و جواب کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے۔

ii ۔ روایات میں تضاد

تضاد کا ایک نمونہ یہ ہے کہ بعض روایات کے مطابق جبرئیل نے رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کو ایک حرف میں قرآن پڑھایا اور آپ نے مزید حروف کی درخواست کی یہاں تک کہ یہ سلسلہ سات حروف تک منتہی ہوا۔

____________________

(۱) اصول کافی کتاب فضل القرآن، باب نوارد روایت ۱۳۔


اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حروف میں اضافہ تدریجاً ہوا ہے بعض روایات کے مطابق یہ اضافہ ایک ہی نشست میں ہوا اور آپ نے ان میں اضافے کا مطالبہ میکائیل کی ہدایت پر کیا اور جبرئیل نے سات حرف تک اضافہ کردیا اور بعض روایات کے مطابق میکائیل کی رہنمائی اور رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کی درخواست کے بغیر ہی جبرئیل آسمان پر جاتے اور نازل ہوتے تھے حتیٰ کہ سات حروف مکمل ہوئے۔

تضاد کا تیسرا نمونہ یہ ہے کہ بعض روایات کہتی ہیں کہ اُبیّ بن کعب مسجد میں داخل ہوا اور کسی کو اپنی قراءت کے خلاف قرآن پڑھتے سنا اور بعض روایات یہ کہتی ہےں کہ اُبیّ بن کعب پہلے سے مسجد میں موجود تھا اور بعد میں دو آدمیوں نے مسجد میں داخل ہو کر اس کی قراءت کے خلاف قرآن پڑھا۔ اس کے علاوہ ان روایات میں وہ کلام بھی مختلف طریقے سے مذکور ہے جو

آنحضرت(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے اُبیّ سے فرمایا۔

سوال و جواب میں مناسبت نہ ہونے کا نمونہ ابن مسعود کی روایت میں حضرت علی (علیہ السلام) کا یہ فرمانا ہے کہ رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) فرماتے ہیں: جس طرح تمہیں پڑھایا گیا ہے اسی طرح پڑھو۔ یہ جواب سائل کے سوال سے مطابقت نہیں رکھتا کیونکہ ابن مسعود نے آیتوں کی تعدادکے بارے میں پوچھاتھا آیہ کی کیفیت اور قراءت کے بارے میں نہیں۔

ان تمام اشکالات کے علاوہ بھی قرآن کے سات حروف میں نازل ہونے کا کوئی معنی نہیں بنتا اور کوئی صاحب فکر و نظر کسی صحیح نتیجے تک نہیں پہنچ سکتا۔


سات حروف کی تاویل و توجیہ

سات حروف کی تاویل و توجیہ میں چند اقوال ذکر کیے گئے ہیں۔ ذیل میں ہم ان میں سے اہم اقوال اور ان میں موجود سقم اور اشکال بیان کریں گے:

۱۔ قریب المعنی الفاظ

سات حروف کی پہلی توجیہ اور تاویل یہ کی گئی ہے کہ الفاظ مختلف ہیں اور ان کے معانی قریب قریب ہیں، جس طرح عجل اسرع اور اسع ہیں۔ ان تینوں الفاظ کا معنی ہے۔ ''جلدی کرو،، یہ حروف حضرت عثمان کے زمانے تک موجود تھے۔ اس کے بعد حضرت عثمان نے ان حروف کو ایک حرف میں منحصر کردیا اور باقی چھ حروف پر مشتمل قرآنوں کو نذر آتش کرنے کا حکم دے دیا۔

اس تاویل کو طبری اور علماء کی ایک جماعت نے بھی اختیار کیا ہے(۱) قرطبی کا کہنا ہے کہ اکثر اہل علم کا یہی نظریہ ہے(۲) اور ابو عمرو بن عبد البر کی رائے بھی یہی ہے(۳) ۔

اس تاویل پر ابن ابی بکرہ اور ابی داؤد کی روایت کے علاوہ یونس کی روایت سے استدلال کیا جاتا ہے جو ابن شہاب سے منقول ہے، اس میں انہوں نے کہا ہے:

سعید بن المسیب نے مجھے خبر دی ے کہ جس شخص کی طرف خدا نے آیہ کریمہ( إِنَّمَا يُعَلِّمُهُ بَشَرٌ ) ۱۶:۱۰۳

یعنی اس (رسول) کو تو ایک بشر قرآن سکھاتا ہے،، میں نے جس کی طرف اشارہ فرمایا ہے وہ ایک کاتب وحی تھا جو اس لیے شک و شبہ میں مبتلا ہوگیا کہ آپ اس سے آیتوں کے آحر میں سمیع علیم یا عزیز حکیم لکھواتے تھے پھر آپ سے پوچھتا: یا رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم)! عزیز حکیم لکھوں یا سمیع علیم یا عزیز علیم؟ آپ فرماتے: ان

____________________

(۱) تفسیر طبری، ج ۱، ص ۱۵۔

(۲) تفسیر قرطبی، ج ۱، ص ۴۲۔

(۳) التبیان، ص ۳۹۔


میں سے جو بھی لکھو صحیح ہے۔ اس بات سے یہ شخص اس غلط فہمی میں مبتلا ہوگیا کہ محمدؐ نے قرآن میرے سپرد کرد یا ہے، میں جو چہے لکھوں۔،،

نیز یونس کی اس قراءت سے بھی استدلال کیا گیا ہے:''ان ناشئة اللیل هی اشد وطا و اصوب قیلا ۔،، (۱) کچھ لوگوں نے یونس پر اعتراض کیا: اے ابو حمزہ قرآن میں تو ''اقوم،، ہے۔ یونس نے جواب دیا: اقوم اصوب اور اھدی کا معنی ایک ہی ہے۔

اسی طرح ابن مسعود کی قراءت ''ان کانت الا زقیۃ واحدۃ،، سے استدلال کیا گیا ہے۔ اس نے ''ان کانت صیحۃ واحدۃ،، کی بجائے ''ان کانت الا ذقیۃ واحدۃ،، پڑھا ہے۔ اس لیے کہ''صیحة،، اور''زقیة،، کا معنی ایک ہے۔(۱)

اس کے علاوہ طبری کی یہ روایت بھی بطور دلیل پیش کی جاتی ہے۔ طبری نے محمد بن بشار اور ابی السائب اور انہوں نے ہمام سے روایت کی ہے:

''ابو الدرداء ایک شخص کو آیہ کریمہ،( إِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّومِ ﴿﴾ طَعَامُ الْأَثِيمِ ) (۴۴:_۴۴_۴۳) پڑھ رہا تھا اس سے یہ آیہ نہیں پڑھی جارہی تھی اور وہ بار بار بتانے کے باوجوداس شخص سے ''طعام الاثیم،، نہیں پڑھا گیا تو ابو الدرداء نے اس سے کہا کہ اس کی جگہ پڑھو''ان شجرة الزقوم طعام الفاجر،، اس لیے کہ ''اثیم،، اور ''فاجر،، کا معنی ایک ہے۔،،(۲)

اس کے علاوہ اس تاویل کی دلیل میں ان روایات کو پیش کیا جاتا ہے جن میں یہ کہہ کر قراءت میں کافی گنجائش رکھی ہے:

ما لم تختم اٰیة رحمة بعذاب او اٰیة عذاب برحمة (یعنی) قرآن میں اتنی تبدیلی کرسکتے ہو کہ رحمت کی آیہ عذاب کی آیہ میں اور عذاب کی آیہ رحمت کی آیہ میں تبدیل نہ ہوجائے۔

____________________

(۱) تفسیر طبری، ج۱،ص ۱۸۔

(۲) ایضاً، ج ۲۵، ص ۷۸۔ آیہ مبارکہ کی تفسیر کے ذیل میں۔


اس حد بندی کی یہی معنی ہوسکتا ہے کہ سات حروف سے مراد سات کلمات میں سے بعض کو بعض کی جگہ استعمال کرنا ہے۔ البتہ اس سے صرف اس صورت کو مستثنیٰ قرار دیا گیا جس سے رحمت کی کوئی آیہ عذاب کی آیہ میں اور عذاب کی آیہ رحمت کی آیہ میں تبدیل ہوجائے۔ بنابرایں ان روایات میں سے مجمل(۱) روایات کی مبین(۲) روایات پر محمول کرنے کے بعد ان سے وہی معنی مراد لیے جائیں جو ہم نے بیان کئے ہیں۔

مؤلف: سات حروف کے بارے میں جتنی بھی تاویلیں کی گئی ہیں ان میں سے کوئی بھی روایت سے سازگار نہیں، چانچہ اس کے بارے میں آئندہ بیان کیا جائے گا۔ بنابرایں یہ تمام روایات ناقابل قبول ہیں کیونکہ ان کے مفہوم کو اپنانا اور ان پر عمل کرنا ناممکن ہے، اس لیے کہ:

اولا: یہ تاویل، قرآن کے بعض معانی پر منطبق ہوسکتی ہے جس کی سات حروف سے تعبیر ہوسکتی ہو۔ اور یہ بدیہی امر ہے کہ قرآن میں اکثریت ان معانی کی ہے جنہیں مختلف الفاظ سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا تو پھر یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ قرآن ان سات حروف میں نازل ہوا ہے۔

ثانیاً: اگر اس تاویل سے مراد یہ ہو کہ خود رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے بعض الفاظ جن کے معنی ملتے جلتے ہوں، میں تبدیل کرنے کی اجازت دی ے اور گذشتہ روایات کو اس کے ثبوت میں پیش کیا جائے تو یہ احتمال، اس قرآن کی بنیاد کو منہدم کرنے کا باعث بنے گا جو ایک ابدی معجزہ اور پوری انسانیت پر خدا کی طرف سے حجّت ہے، اور کسی بھی عاقل کو اس بات میں شک نہیں ہوگا کہ یہ احتمال حقیقی قرآن کے متروک اور اس کے بے وقعت ہوے کا متقاضی ہے۔

____________________

(۱) ایسا کلام جس کا معنی واضح نہ ہو۔ (مترجم)

(۲) ایسا کلام جس کا معنی واضح ہو۔ (مترجم)


کوئی عاقل یہ سوچ سکتا ہے کہ پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے سورہ یٰس میں موجود آیات کی جگہ ان الفاظ کی تلاوت کی اجازت دی ہو:''یٰس والذکر العظیم، انک لمن الانبیآئ، علی طریق سویّ، انزال الحمید الکریم، التخوف قوماً خوف اسلافهم فهم ساهون ۔

ہم تو کہیں گے ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں جو اسے جائز سمجھتے ہیںاللهمّ ان هٰذا الا بهتان عظیم ، پالنے والے! تو جانتا ہے کہ یہ تیرے رسول پر بہتان عظیم ہے۔ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے:

( قُلْ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أُبَدِّلَهُ مِن تِلْقَاءِ نَفْسِي ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰ إِلَيَّ ۖ) ۱۰:۱۵

''(اے رسول) تم کہہ دو کہ مجھے یہ اختیار نہیں کہ میں اسے اپنے جی سے بدل ڈالوں میں تو بس اسی کا پابند ہوں جو میری طرف وحی کی گئی ہے۔،،

جب رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کو قرآن میں اپنی طرف سے کسی قسم کی تبدیلی کا اختیار نہیں ہے تو آپ دوسروں کو کیسے اس کی اجازت دے سکتے ہیں۔

رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے براء بن عازب کو ایک دعا کی تعلیم فرمائی تھی جس میں یہ جملہ بھی شامل تھا: ''و نبیک الذی ارسلت،، اس کو براء نے ''و رسولک الذی ارسلت،، پڑھا تو آپ نے براء کو ٹوکا اور فرمایا ''نبی،، کی جگہ ''رسول،، مت پڑھو۔(۱)

____________________

(۱) التبیان، ص ۵۸۔


جب دعا کی یہ شان اور اہمیت ہے تو قرآن کی اہمیت کتنی زیادہ ہوگی۔

اگر اس تاویل سے مراد یہ ہو کہ خود رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے سات حروف کے مطابق قرآن پڑھا ہے اور ان روایات کو اس کے ثبوت میں پیش کیا جائے توپھر مدعی کو ان سات حروف کی ٹھیک ٹھیک نشاندہی کرنی چاہیے جن کے مطابق رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے قرآن پڑھا ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی حفاظت کا وعدہ فرمایا ہے:

( إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ) ۱۵:۹

''بیشک ہم ہی نے قرآن نازل کیا اور ہم ہی تو اس کے نگہبان بھی ہیں۔،،

ثالثاً: گذشتہ روایات میں اس بات کی تصریح کی گئی ہے کہ قرآن کو سات حروف میں نازل کرنے کی حکمت، اُمّت کی سہولت اور آسانی ہے، اس لیے کہ اُمّت ایک حرف میں قراءت کی استطاعت نہیں رکھتی اور اسی غرض سے رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے سات حروف تک اضافہ کرنے کی درخواست کی تھی۔

لیکن آپ نے دیکھا کہ قراءتوں میں اختلاف باعث بنا کہ مسلمان ایک دوسرے کو کافر گردانیں، حتیٰ کہ حضرت عثمان نے قراءت کو ایک حرف میں منحصر کردیا اور باقی قرآنوں کو نذر آتش کردیا۔

اس سے ہم درج ذیل نتائج تک پہنچتے ہیں:

۱۔ قراءتوں میں اختلاف اُمّت کے لیے ایک عذاب تھا حضرت عثمان کے دور میں ظاہر ہوا۔ رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) خدا سے ایسی چیز کا مطالبہ کس طرح کرسکتے تھے۔ جس میں اُمّت کا فساد و نقصان ہو اور کیایہ صحیح ہے کہ خدا ایسی درخواست منطور فرمالے؟ جبکہ بہت سی روایات میں اختلاف سے روکا گیا ہے اور اختلاف کو امّت کی ہلاکت کا باعث قرار دیا گیا ہے۔ بعض روایات تو یہاں تک کہتی ہیںکہ جب آپ نے قراءتوں میں اختلاف کی بات سنی تو غصے سے آپ کا چہرہ مبارک سُرخ ہوگیا۔ ان میں س کچھ روایات کا ذکر ہو چکا ہے اور کچھ روایات کا ذکر بعد میں کیا جائے گا۔


۲۔ گذشتہ روایات کا مفہوم یہ تھا کہ نبی اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے فرمایا: میری اُمّت ایک حرف میں قرآن پڑھنے کی استطاعت نہیں رکھتی اور یہ صریحاً جھوٹ ہے۔ عقل اس کو نبی کریمؐ کی طرف نسبت دینے کی اجازت نہیں دیتی۔ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت عثمان کے بعد اُمّت پیغمبر، جس میں مختلف عناصر قبیلے اور مختلف زبانوں والے شامل تھے، قرآن کو ایک حرف میں پڑھنے پر قادر تھی۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا رسول اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کے زمانے میں ایک قراءت پر اتفاق کرنا کوئی مشکل تھا جبکہ اس وقت امّت پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) فصیح عربوں پر مشتمل تھی۔

۳۔ قراءتوں میں اختلاف، جس کی بنیاد پر حضرت عثمان نے قراءتوں کو ایک حرف میں منحصر کیا، خود پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کے زمانے میں بھی تھا۔ آپ نے ہر قاری کی تائید بھی فرمائی تھی اور مسلمانوں کو حکم دیا تھا کہ وہ ان تمام قراءتوں کو تسلیم کرلیں اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی فرما دیا کہ قراءتوں میں اختلاف خدا کی طرف سے رحمت ہے۔

اب حضرت عثمان اور ان کے تابعین کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ رحمت کے دروازے بند کردیں؟ جبکہ رسول اعظمؐ نے قراءت قرآن روکنے سے ممانعت فرمائی تھی۔

مسلمانوں کے پاس کیا جواز تھا کہ وہ رسول اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کے قول کو تو ٹھکرا دیں اور حضرت عثمان کی بات مان کر اس پر عمل کریں؟

کیا مسلمانوں کی نظر میں حضرت عثمان، رحمۃ العالمین سے زیادہ مہربان اور ہمدرد تھے؟

معاذ اللہ کیا حضرت عثمان کے پیش نظر ایسی حکمت اور مصلحت تھی جس سے رسول اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے خبر تھی؟ یا حاشا وکلا حضرت عثمان پر ان حروف کے منسوخ ہونے کی وحی نازل ہوئی تھی؟!


اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ سات حروف سے متعلق روایات کی یہ بدنما تاویل اس قابل نہیں ہے کہ اسے ردّ بھی کیا جائے۔ اسی وجہ سے علمائے اہل سُنّت میں سے متاخرین نے اس تاویل کو ٹھکرا دیا ہے اور ابو جعفر محمد بن سعد ان النحوی اور حافظ جلال الدین سیوطی ان روایات کو مشکل اور متشابہ قرار دینے پر مجبور ہوگئے۔ چنانچہ کہا جاتا ہے کہ ان روایات کا کوئی مفہوم واضح نہیں ہے۔(۱) حالانکہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ ان روایات کا مفہوم واضح ہے اور جو بھی ان روایات کا بنظر غائر مطالعہ کرے، اس کے لیے کوئی شک و تردد باقی نہیں رہتا۔

۲۔ سات ابواب

سات حروف کی تفسیر و تاویل کے سلسلے میں دوسری رائے یہ ہے کہ ان سے مراد سات ابواب ہیں اور قرآن ان سات ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے ان کے عنوان یہ ہیں:

i ۔ آیات زجر (نہی)۔

ii ۔ آیات امر۔

iii ۔ آیات حلال۔

iv ۔ آیات حرام۔

v ۔ آیات محکم۔

vi ۔ آیات متشابہ۔

vii ۔ آیات امثال۔

اس نظریہ پر یونس کی روایت سے استدلال کیا گیا ہے، جسے اس نے ابن مسعود کی سند سے پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) سے نقل کیا ہے۔ آپ نے فرمایا:

____________________ _

(۱) التبیان، ص ۶۱۔


انه قال: ''کان الکتاب الأول نزل من باب واحد علی حرف واحد، و نزل القرآن من سبعة أبواب، و علی سبعة أحرف: زجر، و أمر، و حلال، و حرام، و محکم، و متشابه، و أمثال ۔فأحلّوا حلاله، و حرّموا واعتبروا بأمثاله، و اعملوا بمحکمه، و آمنوا بمتشابهه، و قولوا آمنا به کل من عند ربنا،،

''پہلی آسمانی کتاب کا ایک ہی باب تھا اور وہ ایک ہی حرف پر نازل کی گئی تھی۔ قرآن مجید سات ابواب اور سات حروف میں نازل کیا گیاہے۔ زجر، امر، حلال، حرام، محکم، متشابہ اور امثال۔ حلال خدا کو حلا ل اور حرام خدا کو حرام سجھو، جس چیز کا تمہیں حکم دیا جائے اسے انجام دو اور جس چیز سے تمہیں منع کیا جائے اس سے باز آجاؤ، قرآن کی مثالوں سے عبرت حاصل کرو، محکم آیات پر عمل کرو اور متشابہ آیات پر ایمان لے آؤ اور کہو ہم اس پر ایمان لے آئے یہ سب کچھ ہمارے ربّ کی طرف سے ہے۔،،(۱)

اس نظریہ پر بھی چند اعتراضات ہیں:

۱۔ اس روایت سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ سات حروف، جن میں قرآن نازل ہوا ہے اور ہیں، اور سات ابواب، جن میں قرآن تقسیم ہوا ہے اور ہیں، لہذا اس روایت کو ان مجمل روایات کی تفسیر قرار نہیں دیا جاسکتا۔

۲۔ یہ روایت ابو کریب کی روایت سے متصادم ہے، جو اس نے ابن مسعود سے نقل کی ہے اور جس میں کہا گیا ہے:

ان الله انزل القرآن علی خمسة احرفٍ ۔حلال و حرام و محکم و متشابه و امثال ۔(۲) (یعنی) اللہ نے قرآن کو پانچ حروف ، حلال، حرام، محکم، متشابہ اور امثال میں نازل فرمایا ہے

____________________

(۱) تفسیر طبری، ج ۱، ص ۳۲۔

(۲) ایضاً، ج ۱، ص ۲۴۔


۳۔ اس روایت کا مفہوم مضطرب و متزلزل ہے۔ کیونکہ ''زجر،، اور ''حرام،، ایک چیز ہے، اس طرح چھ ابواب ہو جائیں گے نہ کہ سات۔ اس کے علاوہ قرآن میں اور بہت سے موضوعات کا بھی ذکر ہے جو ان سات ابواب میں شامل نہیں ہیں۔جیسے: مبدائ، معاد، قصّے، احتجاجات ، دلائل اور علوم و معارف ہیں اور اگر اس تاویل کے قائل کا مقصد یہ ہے کہ باقی ماندہ موضوعات بھی محکم و متشابہ می داخل ہیں تو باقی پانچ ابواب، حلال، حرام، امر، زجر اور امثال کو بھی دوسرے موضوعات کی طرح محکم و متشابہ میں داخل ہونا چاہیے تھا۔ اس طرح قرآن دو حروف محکم و متشابہ میں منحصر ہو جاتا۔ اس لیے کہ قرآن میں جو کچھ ہے و محکم یا متشابہ ہے۔

۴۔ سات حروف کی تفسیر، سات ابواب کرنا گذشتہ روایات سے سازگار نہیں کیونکہ گذشتہ روایات میں قرآن کے سات حروف میں نازل ہونے کی وجہ امّت کی سہولت بیان کی گئی ہے۔ اس لیے کہ اُمّت ایک حرف پر قرآن پڑھنے کی قدرت نہیں رکھتی تھی۔

۵۔ بعض گذشتہ روایات اس بات کی تصریح کرتی ہیں کہ سات حروف سے مراد قراءت کی قسمیں ہیں، جن میں قاریوں کا اختلاف ہے۔

فرض کیا اگر اس روایت کا معنی سات ابواب ہیں تب بھی اس ایک روایت کی وجہ سے ان متعدد روایات کے ظاہری معنی سے دستبردار نہیں ہوا جاسکتا اور نہ ہی یہ ایک روایت گذشتہ روایات کے ظاہری معنی کے خلاف کسی معنی کے لیے قرینہ اور علامت بن سکتی ہے۔


۳۔ سات ابواب کا ایک اور معنی

بعض حضرات کا خیال ہے کہ سات حروف سے مراد، امر، زجر، ترغیب، ترھیب، جدل ، قصّے اور مثالیں ہیں۔

اس احتمال پر محمد بن بشارکی روایت سے استدلال کیا گیا ہے جو ابو قلامہ سے منقول ہے، ابو قلامہ کہتا ہے:

''بلغنی أن النبی قال: انزل القرآن علی سبعة أحرف: أمر، وزجر، و ترغیب، و ترهیب، و جدل، و قصص، و مثل،،

''میں نے سنا ہے کہ پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے فرمایا:

قران سات حروف: امر، زجر، ترغیب، ترہیب، جدل، قصّوں اور مثالوں پر نازل کیا گیا ہے۔،،(۱)

گذشتہ تاویل کے جواب سے اس تاویل کا جواب بھی واضح ہے۔

۴۔ فصیح لغات

بعض علماء کرام نے فرمایا ہے کہ سات حروف سے مراد سات فصیح عربی لغات ہیں اور یہ لغتیں قرآن میں مختلف مقامات پر بکھری ہوئی ہیں۔ وہ لغتیں یہ ہےں:

۱۔ لغت قریش۔

۲۔ لغت ہذیل۔

۳۔ لغت ہوازن۔

۴۔ لغت یمن۔

۵۔ لغت کنانہ۔

۶۔ لغت تمیم۔

۷۔ لغت ثقیف۔

____________________

(۱) تفسیر طبری، ج ۱، ص ۲۴۔


یہ قول علماء کی ایک جماعت سے منسو ب ہے۔جس میں بیہقی ابہری اور صاحب قاموس شامل ہیں۔ اس قول کے بھی چند جواب ہیں:

۱۔ گذشتہ روایات نے سات حروف کے معنی و مفہوم کو بیان کردیا ہے۔ اس کے باوجود اس قسم کے معنی مراد لینا مقام و موقع روایت سے سازگار نہیں ہے۔

۲۔ سات حروف سے سات لغات مراد لینا حضرت عمر کی روایت کے منافی ہے، جس میں کہا گیا ہے:''نزل القراٰن بلغة مضر،، (۱) یعنی سارا قرآن قبیلہ مضر کی لغت میں نازل ہوا ہے۔ اس کے علاوہ حضرت عمر نے ابن مسعود کی اس قراءت پر اعتراض کیا جس میں وہ ''حتی حین،، کی بجائے ''عتی حین،، پڑھا کرتا تھا اور انہوں نے اس کی طرف یہ بھی لکھ بھیجا کہ قرآن ھذیل کی لغت میں نازل نہیں ہوا۔ ا سلیے لوگوں کو لغت قریش کے مطابق قرآن پڑھایا گرو، لغت ھذیل کے مطابق نہیں۔(۲)

اسی طرح یہ احتمال حضرت عثمان کی روایت سے سازگار نہیں ہے جس مںی وہ قریش کے تین گروہوں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں: اگر قرآن کے بارے میں زید بن ثابت سے تمہارا اختلاف ہو تو اسے قریشی زبان میں لکھو کیوں کہ قرآن قریش ہی کی زبان میں نازل ہوا ہے۔(۳)

نیز یہ روایت بھی اس قول کے منافی ہے: ''سورۃ فرقان کی قراءت میں حضرت عمر اور ہشام بن حکیم میں اختلاف ہوا۔ جب رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کے پاس جاکر ہشام نے قراءت پڑھی تو آپ نے فرمایا قرآن ایسے ہی نازل ہوا ہے جیسے تو پڑھ رہا ہے۔ اس کے بعد حضرت عمر نے تلاوت کی۔ آپ نے فرمایا: قرآن ایسے ہی نازل ہوا ہے۔ اس کے بعد آپ نے فرمایا: قرآن سات حروف میں نازل کیا گیا ہے۔،،(۴)

____________________

(۱) التبیان، ص ۶۴۔

(۲) ایضاً، ص ۶۵۔

(۳) صحیح بخاری، باب نزل القرآن بلسان قریش، ص ۱۵۶۔

(۴) اس روایت کی طرف گذشتہ صفحات میں اشارہ کیا جاچکا ہے۔

پوشیدہ نہ رہے کہ حضرت عمر اور ہشام دونوں کا تعلق قریش سے تھا۔ اس لیے ان میں اختلاف قراءت کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ اختلاف حروف کی تفسیر اختلاف لغت کی صورت میں کی جائے۔ اس کے علاوہ سات حروف سے سات لغات مراد لینا کوئی عالمانہ بات نہیں ہے اور یہ ایک دعویٰ بلا دلیل ہے۔

۳۔ اگر اس قول کے قائل حضرات کا مقصد یہ ہے کہ قرآن ایسی لغات پر مشتمل ہے جن سے لغت قریش خالی ہے تو اس سے امت کی وہ سہولت ختم ہوجائے گی جس کی خاطر قرآن کو سات حروف میں نازل کیا گیا۔ بلکہ یہ بات خلاف حقیقت اور خلاف واقع ہے کیونکہ لغت قریش کو باقی لغات پر برتری حاصل ہے اور وہ تمام فصیح کلمات جو دوسری لغتوں میں ہیں وہ لغت قریش میں بھی ہیں۔ اسی لیے قریش عربیت کا معیار اور کسوٹی بن گئی ہے اور عربی قواعد کے لیے اسی لغت کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔

اگر ان کا مقصد یہ ہو کہ قرآن کچھ اور لغات پر بھی مشتمل ہے جو لغت قریش سے ملتی جلتی ہیں تو لغات کو سات میں منحصر کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی بلکہ قرآن میں پچاس لغات موجود ہیں۔ چنانچہ ابوبکر واسطتی کہتے ہیں: ''قرآن میں پچاس لغات موجود ہیں۔ مثلاً لغت قریش، ھذیل، کنانہ، خثعم، خزرج، اشعر، نمیر۔۔۔،،(۱)

۵۔ قبیلہ ئ مضر کی لُغت

بعض علمائے کرام کی رائے یہ ہے کہ سات حروف سے مراد قبیلہ مضر کے مختلف خاندانوں کی لغات ہیں جو پورے قرآن میں پھیلی ہوئی ہیں اور وہ لغات یہ ہیں:

لغت قریش، لغت اسد، لغت کنانہ، لغت ھذیل، لغت تمیم، لغت ضبّۃ، اور لغت قیس، اس احتمال پر بھی وہی اعتراضات ہیں جو چوتھے احتمال پر کئے گئے ہیں۔

____________________

(۱)الاتقان، ج ۱، نوع ۳۷، ص ۲۳۰۔


۶۔ قراءتوں میں اختلاف

سات حروف سے مراد قراءت کی قسمیں ہیں۔ چنانچہ بعض ماہرین کا کہنا ہے: ہم نے قرآن کی قراءتوں کی بنظر غائر دیکھا ہے جو کہ سات سے زیادہ نہیں ہیں:

۱۔ بعض قراءتیں ایسی ہیں کہ ان سے حرکت تو بدل جاتی ہے مگر کلمے کا معنی اور صورت نہیں بدلتی جیسے''هن اطهرلکم،، یا''اطهرلکم،، پڑھا جائے۔ یعنی ''ر،، کو پیش اور زبر دیا جائے۔

۲۔ بعض قراءتیں ایسی ہیں کہ جن میں حرکت بدلنے سے کلمہ کا معنی اور صورت بدل جاتی ہے جیسے ''ربّنا باعد بین اسفارنا،، میں ''باعد،، کو صیغہ امر ''باعد،، اور صیغہ ماضی ''باعد،، پڑھا جائے۔

۳۔ ان کی بعض صورتوں میں کلمے کی صورت تو ویسی ہی رہتی ہے مگر حروف کے اختلاف سے معنی بدل جاتے ہیں، جیسے ''ننشرھا،، اور ''ننشزھا،، 'را، اور 'زا، کے ساتھ۔

۴۔ بعض میں صورت تو بدل جاتی ہے لیکن اس کامعنی نہیں بدلتا، جیسے ''کالعھن المنفوش،، اور''کالصوف المنفوش،،۔

۵۔ صورت اور معنی دونوں بدل جاتے ہیں، جیسے ''طلح منضود،، اور ''طلع منضود،،۔

۶۔ ان میں کلمات کو مقدم اور مؤخر کردیا جائے، جیسے ''وجاء ت سکرۃ الموت بالحق،، اور ''وجاء ت سکرۃ الحق بالموت۔،،

۷۔ ان میں کمی بیشی کی جائے، جیسے''تسع و تسعون نعجة انثی،، میں''انثیٰ،، ۔''اما الغلام فکان کافراو کان أبواه مومنین،، میں ''فکان کافرا،، اور ''فان اللہ بعد اکراھھن لھن غفور رحیم۔،، میں ''لھن،، بڑھا دیا گیا ہے۔


جواب:

۱۔ یہ دعویٰ ہی ہے، اس پر کوئی دلیل نہیں ہے اور ان روایات میں جن لوگوں کو مخاطب کیا گیا ہے وہ قراءتوں کے اختلاف کو سمجھتے ہی نہ تھے۔

۲۔ ان سات صورتوں میں معنیٰ کے بدلنے اور نہ بدلنے کی دو صورتیں بنائی گئی ہیں حالانکہ معنی کے بدلنے اور نہ بدلنے سے دو قسمیں نہیں بنتیں۔ کیونکہ معنیٰ کے بدلنے سے لفظ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اس لیے کہ قراءتوں میں اختلاف تلفظ کی بنیاد پر ہے نہ کہ معنی کے۔ لہذا ایسی دو قراءتیں، ایک قراءت ہونی چاہیے نہ کہ دو۔ اس طرح قراءتیں چھ بنتی ہیں نہ کہ سات۔ اسی وجہ سے ''طلح منضود،، اور ''کالعھن المنفوش،، ایک ہی قسم شمار ہوگی۔ دو قسمیں نہیں۔

۳۔ ان قسموں میں لفظ کی صورت کے باقی رہنے جیسے۔ ''ننشزھا۔ ننشرھا،، اور باقی نہ رہنے جیسے ''طلح۔طلع،، کو بھی دو قسمیں قرار دیا گیا ہے حالانکہ یہ بھی دو قسمیں نہیں بلکہ ایک قسم ہے۔ اس لیے کہ اگرچہ کتابت میں ''ننشزھا،، اور ننشرھا،، کی ایک ہی صورت میں لیک تلفظ میں تو مختلف ہے، اس طرح ''طلح،، اور ''طلع،، میں صورت بدلی ہوئی ہے اور ''ننشزھا،، اور ننشرھا،، میں بھی بدلی ہوئی ہے۔ کیونکہ قرآن مکتوب کا نہیں مقرّر (پڑھا جائے) کا نام ہے۔ آسمان سے لفظ نازل ہوا ہے۔ مکتوب ناز نہیں ہوا۔

۴۔ ان سات حروف سے متعلق روایات میں اس بات کی تصریح کی گئی ہے کہ شروع میں قرآن ایک حرف میں نازل کیا گیا اور یہ واضح ہے کہ اس واحد حرف سے مراد مذکورہ اختلاف کی قسموں میں سے کوئی قسم نہیں ہوسکتی۔ لہذا باقی چھ قسمیں بھی ان میں سے نہیں ہونگی۔ بنابرایں سات حروف سے مراد سات قراءتیں نہیں ہوسکتیں۔

۵۔ قرآن کی بہت سی آیات اور کلمات پر تمام قاریوں کا اتفاق ہے اور ان میں کسی کابھی اختلاف نہیں ہے۔ جب اس اتفاقی قراءت کا ان اخلاقی قراءتوں میں اضافہ کریں گے تو مجموعاً آٹھ قراءتیں بنیں گی اور اس کا مطلب یہ ہوگا کہ قرآن آٹھ حروف میں نازل ہوا ہے۔


۶۔ گذشتہ روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ قاریان قرآن، کلمات قرآن میں اختلاف کرتے تھے، جیسا کہ حضرت عمر کے واقعہ سے ظاہر ہے۔ ان کا یہ اختلاف قرآن کے سات حروف میں سے ایک ہی حرف پر تھا۔ اس اختلاف کو ختم کرنے کے لیے رسول اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کو یہ عذر پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے تھی کہ قرآن سات حروف میں نازل ہوا ہے کیا یہ ممکن ہے کہ ان اختلاف کا مطلب ہم یہ لیں کہ جبرئیل نے پہلے قرآن ایک حرف میں نازل کیا پھر دو حرفوں میں اس کے بعد تین میں اور پھر سات حروف میں۔

جزائری نے انصاف سے کام لیا ہے ، وہ فرماتے ہیں: ''اس مسئلے، یعنی سات حروف میں بہت سے اقوال ہیں اور اکثر اقوال حق سے دور ہیں۔،،

ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ اقوال اختیار کرنے والوں کو خبر ہی نہیں کہ سات حروف سے متعلق روایات کس موقع پر بیان کی گئی ہیں، بس جو دل چاہا کہہ دیا۔(۱)

۷۔ اختلاف قراءت کا ایک اور معنی

ان روایات کی تفسیر و تاویل میں ساتواں قول یہ ہے کہ سات حروف سے مراد قراءتوں میں اختلاف ہے جو گذشتہ اختلاف قراءت سے کچھ مختلف ہے۔

____________________

۱) التبیان، ص ۵۹۔


اس قول کو زرقانی نے اختیار کیا ہے جسے ابو الفضل رازی نے لوائح میں نقل کیا ہے۔ زرقانی فرماتے ہیں:

''کوئی بھی کلام ہو، اس میں سات قسم کے اختلافات ہوسکتے ہیں:

۱۔ اسموں کا مفرد، تثنیہ، جمع، مذکر اور مؤنث ہونے کے اعتبار سے،

۲۔ افعال میں تصریف او گردان کے اعتبار سے، جیسے ماضی ، مضارع اور امر ہے،

۳۔ اعراب اورحرکت کے اعتبار سے،

۴۔ کمی بیشی کے اعتبار سے،

۵۔ تقدیم و تاخیر کے اعتبار سے،

۶۔ کلمات کے ردّ و بدل کے لحاظ سے، اور

۷۔ لغتوں اورلہجوں کے اعتبار سے جیسے فتح امامہ ترقیق تفخیم اظہار ادغام وغیرہ ہیں۔،،

جواب:

چھٹی تاویل پر کئے جانے والے اعتراضات میں سے پہلا، چوتھا اور پانچواں اعتراض اس تاویل پر بھی وارد ہوتا ہے ان کے علاوہ اس پر یہ اعتراض بھی آتا ہے کہ اسماء میں۔ افراد تثنیہ کے اعتبار سے۔ اور افعال میں۔ تصریف کے اعتبار سے اختلاف ہیئت کے ذ یل میں آتا ہے۔ اس کو ایک مستقل قسم بنانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اگر اس تقسیم میں چھوٹی چھوٹی خصوصیات کا لحاظ کریں تو تثنیہ، جمع، مذکر، مؤنث، ماضی، مضارع اور امر ان سب کو مستقل قرار دینا پڑے گا پھر اس اختلاف کی قسمیں سات سے تجاوز کرجائیں گی۔ اس کے علاوہ ایک کلمہ میں ادغام، اظہار، روم، اشمام تخفیف اور تسہیل کے بعد بھی ایک ہی کلمہ شمار ہوتا ہے، زیادہ نہیں اور بقول زرقارنی، ابن قتیبہ نے اس بات کی تصریح کی ہے۔(۱)

____________________

(۱) مناہل العرفان، ص ۱۵۴۔


حق تو یہ ہے کہ قراءت مںی جتنے بھی اختلاف ہوسکتے ہیں ان سب کی بازگشت چھ قسموں کی طرف ہے۔

۱۔ ہیئت و صورت میں اختلاف ہو مادہ (حروف) میں نہیں۔ جیسے ''باعد،، ماضی اور ''باعد،، امر یا ''امانٰتھم،، جمع اور ''امانتھم،، مفرد میں۔

۲۔ مادہئ (کلمہ) حروف مختلف ہوں۔ ھیئت اور صورت نہیں، جیسے ''ننشزھا،، اور ''ننشرھا،، میں۔

۳۔ مادہ اور ہیئت دونوںمیں اختلاف ہو۔ جیسے ''عھن،، اور ''صوف،، میں ہے۔

۴۔ اعراب کی وجہ سے جملے کی ہیئت و صورت میں اختلاف ہو۔ جیسے ''ارجلکم،، اور ''ارجلکم،، میں ہے۔

۵۔ تقدیم و تاخیر کے اعتبار سے اختلاف ہو۔ اس کی مثال گزر چکی ہے۔

۶۔ کمی اور بیشی کی وجہ سے اختلاف ہو۔ اس کی مثال بھی گزر چکی ہے۔

۸۔ اکائیوں کی کثرت

سات حروف کی تاویل میں آٹھواں قول یہ ہے کےہ سات حروف سے سات کا عدد مراد نہیں ہے بلکہ اس سے اکائیوں کی کثرت کی طرف اشارہ ہے۔ بنابرایں سات حروف سے مراد حروف کی کثرت ہے۔ جیسا کہ ستر سے دھائیوں کی کثرت مراد لی جاتی ہے۔ ستر کا عدد نہیں۔ اسی طرح سات سو سے سینکڑوں کی کثرت مراد لی جاتی ہے، سات سو کا عدد نہیں۔ یہ قول قاضی عیاض اور اس کے پیروکاروں کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔

جواب:

یہ احتمال گذشتہ روایات کے ظاہری معنی کے خلاف ہے، بلکہ بعض روایات میں اس احتمال کے خلاف تصریح موجود ہے اس کے علاوہ آٹھویں تاویل گذشتہ سات تاویلات سے الگ کوئی مستقل تاویل نہیں ہے، اس لیے کہ اس میں صرف اتنا بتایا گیا ہے کہ سات سے مراد اکائیوں کی کثرت ہے، لیکن حروف کا کوئی معنی بیان نہیں کیا گیا۔ لہذا لا محالہ گذشتہ سات معانی میں سے کوئی معنی مراد ہوگا اور سات معنوں پر جو اعتراضات کئے گئے ہیں وہ اس پر بھی ہوں گے۔


۹۔ سات قراءتیں

سات حروف (موضوع بحث) کی نویں تاویل یہ ہے کہ ان سے مراد سات قراءتیں ہیں۔

جواب:

اگر ان سات قراءتوں سے مراد مشہور سات قراءتیں ہیں تو تواتر قرااءات کی بحث میں اس کا بطلان ثابت کیا جاچکا ہے اور اگر سات قراءتوں سے مراد کوئی سی سات قراءتیں ہیں تو قراءتیں صرف سات نہیں ہیں۔

اس تاویل کی یہ توجیہ بھی صحیح نہیں ہے کہ اگرچہ مجموعی طور پر قرآن میں سات سے زیادہ قراءتیں ہیں لیکن اگر ایک ایک کلمہ کو دیکھاجائے تو اس میں سات سے زیادہ قراءتیں نہیں ہیں۔

یہ توجیہ اس لیے صحیح نہیں ہے کہ اگر ان کلمات سے مراد اکثر کلمات ہوں (یعنی ایسے اکثر کلمات جن میں سات قراءتیں پڑھی جاتی ہیں) تو یہ درست نہیں ہے کیونکہ بہت کم کلمات ایسے ہیں جن میں سات قراءتیں پڑھی جاتی ہیں۔

یہ بھی نہیں ہوسکتا کہ ان سے چند کلمات مراد ہوں کیونکہ قرآن کے کچھ کلمے ایسے ہیں جن میں سات سے زیادہ قراءتیں پڑھی جاتی ہیں۔ مثلاً، ''وعبد الطاغوت،، بائیس طریقوں سے پڑھا گیا ہے اور لفظ ''اُفّ،، کو تیس سے زیادہ طریقوں سے پڑھا گیا ہے۔

ان سب کے علاوہ تاویل کی یہ وجہ سات حروف کی روایات کے شان ورود سے بھی ساز گار نہیں ہے۔

۱۰۔ مختلف لہجے

دسویں تاویل یہ ہے کہ روایات میں سے سات حروف سے مراد ایک ہی لفظ کے مختلف لہجے ہیں۔ اس قول کو رافعی نے اپنی کتاب ''اعجاز القرآن،، میں اختیار کیا ہے۔(۱)

____________________

(۱) اعجاز القرآن، ص ۷۰۔


اس قول کی وضاحت: کلمات کی ادائیگی میں عرب کی ہر قوم و قبیلے کا ایک مخصوص لہجہ ہے۔ اسی لیے ہم عربوں کو سنتے ہیں کہ وہ ایک ہی لفظ مختلف لہجوں میں استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً ،یقول کے ''قاف،، کو عراق کے عرب ''گاف،، سے تلفظ کرتے ہیں اور شامی ''ہمزہ،، سے۔ چونکہ تمام قوموں اور قبیلوں کو ایک ہی لہجے کا پابند بنانا جس سے وہ نامانوس ہوں، ایک قسم کی سختی سے اس لیے عربوں کی سہولت اور آسانی کی خاطر متعدد لہجوں میں ادائیگی کی اجازت دی گئی ہے اور سات کا خصوصیت سے ذکر کرنے کا مقصد صرف قراءتوں کی کثرت کی طرف اشارہ کرنا ہے۔ لہذا قراءتوں کا سات سے زیادہ ہونا سات حروف کی روایات کے منافی نہیں ہے۔

جواب:

اگرچہ یہ تاویل باقی نو تاویلوں کی نسبت بہتر ہے۔ مگر پھر بھی نامکمل اور قابل اشکال ہے۔ کیونکہ:

۱۔ یہ تاویل حضرت عمر اور حضرت عثمان کی روایت سے منافات رکھتی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ قرآن قریش کی لغت میں نازل ہوا ہے اور یہ کہ حضرت عمر نے ابن مسعود کی لغت ہذیل کے مطابق ''حتی حین،، کی بجائے ''عتی حین،، پڑھنےسے منع کردیا تھا۔

۲۔ یہ تاویل حضرت عمر اور ہشام کے اختلاف کے بھی منافی ہے کیونکہ دونوں کا تعلق قریش سے تھا۔

۳۔ یہ تاویل روایت موقع اور شان ورود کے منافی ہے بلکہ بعض روایات میں اس بات کی تصریح کی گئی ہے کہ اختلاف لہجوں یا ادائیگی کی کیفیت کا نہیں ہے بلکہ اصل لفظ کا ہے اور مختلف الفاظ ہی وہ حروف ہیں جن میں قرآن نازل کیا گی اہے۔

۴۔ لفظ ''سات،، سے کثرت مراد لینا، ظاہر روایت کے خلاف ہے بلکہ بعض روایتوں میں موجود صراحت کے خلاف ہے۔

۵۔ اس تاویل کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اب بھی قرآن کا مختلف لہجوں میں پڑھاجانا صحیح ہو۔ حالانکہ یہ بات تمام مسلمانوں کی سیرت کے خلاف ہے اور یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ پہلے تو مختلف لہجوں میں پڑھنا جائز تھا مگر بعد میں یہ بات منسوخ ہوگئی، کیونکہ یہ ایک دعویٰ بلادلیل ہے۔


یہ بھی ممکن کہ مشہور اور ایک لہجے کے مطابق پڑھے جانے پر جو اجماع قطعی و یقینی قائم ہے اس کو نسخ کی دلیل قرار دیا جائے، کیونکہ اس اجماع کا واحد ماءخذ و مدرک یہ ہے کہ قرآن کا مختلف لہجوں میں نازل ہونا ثابت نہیں اور اگر مختلف لہجوں میں قرآن کی قراءت کا جواز ثابت ہو جیسا کہ آخری تاویل میں دعویٰ کیا گیا ہے تو اس اجماع و اتفاق کی بنیاد منہدم ہو جائیگی۔

اس کے علاوہ نسخ کا احتمال اس لیے بھی درست نہیں کہ رسول اسلامؐ کی متعدد بار درخواست پر قرآن سات حروف میں اس غرض سے نازل کیا گیا تاکہ امت کے لئے سہولت رہے۔ اب یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ یہ سہولت نزول قرآن کے کچھ عرصے تک ہی حاصل رہے اور پھر سلب کرلی جائے اور اس پر اجماع علماء بھی قائم ہو جائے؟

یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ امت محمدیؐ پہلے کی نسبت آج کے دور میں زیادہ رعایت و سہولت کی محتاج ہے۔ کیونکہ صدر اسلام میں اسلام کے پیروکاروں کی تعداد کم تھی اور قرآن کے ایک لہجے پر سب کا اتفاق ہوسکتا تھا، لیکن بعد میں یہ کام مشکل ہے۔

سات حروف کے بارے میں اتنے اقوال پر ہی اکتفا کرتے ہیں اور باقی اقوال کا ذکر کرنے اور ان کا جواب دینے سے احتراز کرتے ہیں۔

گذشتہ تمام بحث کاخلاصہ یہ ہے کہ قرآن کا سات حروف میں نازل ہونا کوئی صحیح معنی نہیں رکھتا، لہٰذا ان تمام راویتوں کو جو سات حروف پر دلالت کرتی ہیں رد کرنا ضروری ہے۔ خصوصاً جب معصومین (علیہم السلام) کی احادیث بھی اس کی تکذیب کریں اور یہ ثابت کریں کہ قرآن صرف ایک حرف میں نازل ہوا ہے اور اختلاف رایوں کاایجاد کردہ ہے۔


مسئلہ تحریف قرآن

٭ معنوی تحریف کی تعریف

٭ تحریف کے بارے میں مسلمانوں کا نظریہ

٭ نسخ تلاوت

٭ تحریف، قرآن کی نظر میں

٭ تحریف اور سُنّت

٭ نماز میں سورتوں کی اجازت

٭ خلفاء پر تحریف کا الزام

٭ قائلین تحریف کے شبہات

٭ روایاتِ تحریف

٭ روایات کاحقیقی مفہوم


اس موضوع میں وارد ہونے قبل مناسب ہے کہ کچھ ایسے امور بیان کئے جائیں جن کا اصل مقصد سے تعلق ہے اور مقصد کی تحقیق اور وضاحت کے لیے ان سے بے نیاز نہیں رہا جاسکتا۔

۱۔ معنی تحریف کی تعریف

لفظ تحریف متعدد معنوں میں مشترکہ طور پر استعمال ہوتا ہے۔ ان میں سے بعض معنیٰ میں قرآن میں تحریف بالاتفاق واقع ہوئی ہے اور بعض میں بالاتفاق واقع نہیں ہوئی اور کچھ کے بارے میں اختلاف ہے، اس کی وضاحت کچھ اس طرح سے ہے:(۱)

i ۔ کسی چیز کو اس کے اپنے اصلی مقام سے ہٹا کر کسی دوسرے مقام پر رکھنے کو تحریف کہتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

( مِّنَ الَّذِينَ هَادُوا يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِ ) (۴:۴۶)

''(اے رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم)) یہود سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو باتوں میں ان کے محل و موقع سے ہیر پھیر ڈال دیتے ہیں۔،،

قرآن کریم میں اس معنیٰ میں تحریف واقع ہونے میں کسی کو اختلاف نہیں ہے۔ اس لیے کہ حقیقت قرآن کے معنی مقصود کے خلاف تفسیر کرنے کی کوشش کرنا تحریف ہے اور آپ دیکھتے ہیں کہ اہل بدعت اور فاسد مذاہب کے پیروکار ہمیشہ قرآن کی تعبیر اپنی آراء اور خواہشات کے مطابق کرکے تحریف کے مرتکب ہوئے ہیں اور اس قسم کی تحریف سے شریعت نے بھی

___________________

(۱) ملاحظہ ہو ضمیمہ نمبر۶۔


منع فرمایا ہے اور اس قسم کے لوگوں کی مذمّت کی ہے۔ چنانچہ امام محمد باقر(علیہ السلام) نے سعد الخیر کے نام اپنے ایک خط میں فرمایا:

''وکان من نبذهم الکتاب أن أقاموا حروفه و حرّفوا حدوده، فهم یروونه ولا یرعونه، والجهال یعجبهم حفظهم للروایة، و العلماء یحزنهم ترکهم للرعایة،، (۱)

''قرآن کو پس پشت ڈالنے کا ان کا ایک طریقہ یہ تھا کہ انہوں نے حروف قرآن کو تو قائم رکھا لیکن اس کی حدود میں تحریف کی۔ وہ قرآن کی روایت تو کرتے ہیں لیکن اس کی رعایت نہیں کرتے۔ جہلاء اس کی روایت کے حفظ کو پسند کرتے ہیں اور علماء اس کی رعایت کے ترک سے محزون ہوتے ہیں۔،،

ii ۔ تحریف کا دوسرا معنیٰ یہ ہے کہ اصل قرآن تو محفوظ ہے لیکن اس کے حروف اور حرکات میں کمی و زیادتی ہوئی ہے۔ چنانچہ ہم ثابت کرچکے ہیں کہ ساری قراءتیں متواتر نہیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآن ان قراءتوں میں سے ایک قراءت کے مطابق ہے اور باقی قراءتیں یا زیادتی پر مشتمل ہیں یا ان میں کمی واقع ہوئی ہے۔

iii ۔ تحریف کا ایک معنیٰ یہ لیا جاتا ہے کہ ایک یا دو کلموں کی کمی یا زیادتی ہوئی ہے اور خود اصل قرآن محفوظ ہے۔

اس معنی کے اعتبار سے صدر اسلام اور صحابہ کرام کے دور میں تحریف بنتی ہے اور اس ضمن میں مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہی کافی ہے کہ حضرت عثمان نے متعدد قراءتوں کو جلا دیا تھا اور انہوں نے اپنے والیوں کو حکم دیا تھا کہ وہ ہر اس قرآن کو جلا ڈالیں جو ان کا جمع کردہ نہیں ہے اور یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ قرآن حضرت عثمان کے جمع کردہ قرآن سے مختلف تھے ورنہ انہیں جلانے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ علماء نے وہ مقامات بھی اپنی تحریوں میں بیان کئے ہیں جہاں مختلف قرآنوں میں اختلاف موجود ہے۔ جیسا کہ عبد اللہ بن داؤد سبحستانی نے اپنی کتاب ''کتاب المصاحف،، میں تحریر کیا ہے۔ بنابرایں اس قسم کی تحرف حضرت عثمان کی طرف سے یا دوسرے قرآن لکھنے والوں کی طرف سے یقیناً واقع ہوئی تھی۔

____________________

(۱) الوافی، آخر کتاب الصلوٰۃ، ج ۵، ص ۲۷۴۔


ہم آگے چل کر یہ بات بھی واضح کریں گے کہ حضرت عثمان نے جس قرآن کو جمع کرنے کا اہتمام کیا تھا وہ عیناً وہی قرآن تھا جو مسلمانوںمیں رائج تھا اور حضرت رسول کریمؐ کے زمانے سے دست بہ دست ان تک پہنچا تھا۔ اس لیے تحریف زیادتی و کمی کی صورت میں اگر واقع ہوئی ہے تو ان قرآنوں میں واقع ہوئی تھی جو حضرت عثمان کے زمانے کے بعد ختم ہوگئے تھے اور اس وقت جو قرآن ہمارے ہاتھ میں ہے، اس میں نہ کوئی کمی ہے اور نہ کوئی زیادتی۔

مختصر یہ کہ جو لوگ دیگر اصحاب کے مصاحف متواتر نہ ہونے کے قائل ہیں، جیسا کہ صحیح بھی یہی ہے تو اس معنیٰ میں اگرچہ

تحریف صدر اوّل میں واقع ہوئی تھی لیکن حضرت عثمان کے دور کے بعد اس قسم کی تحریف منقطع ہوگئی اور وہی قرآن ہمارے پاس باقی رہ گیا ج ورسول اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) سے تواتر ثابت ہے۔

جو لوگ تمام قرآنوں کے متواتر ہونے کے قائل ہیں ان کو لامحالہ متنازع فیہ معنیٰ میں تحریف قرآن اور قرآن کے کسی حصّے کے صائع ہونے کا قائل ہونا ہوگا۔ اس سلسلے میں طبری اور دوسرے لوگوں کی تصریح کا ذکر ہوچکا ہے کہ حضرت عثمان نے سات حروف میں سے چھ کو کالعدم کر دیا جس میں قرآن نازل ہوا تھا اور قرآن کو ایک ہی حرف میں منحصر کردیا۔(۱)

iv ۔ قرآنی آیات اور سورتوں میں کمی و زیادتی واقع ہوئی ہو لیکن پھر بھی رسول کریمؐ پر نازل شدہ قرآن محفوظ ہو اور رسول کریمؐ نے بھی مسلمہ طور پر ان آیات کی تلاوت فرمائی ہو۔

مثلاً بسم اللہ کے بارے میں مسلمانوں نے اتفاق کیا ہے کہ رسول کریمؐ نے سورہ براءت کے علاوہ تمام سورتوں سے پہلے بسم اللہ کی تلاوت فرمائی ہے اس کے باوجود علماء اہلسنت کا اختلاف ہے کہ آیا بسم اللہ قرآن کا حصّہ ہے؟

ان میں سے بعض نے یہی نظریہ اختیار کیا ہے کہ بسم اللہ قرآن کا حصہ نہیں ہے۔ بلکہ مالکی نظریہ یہ ہے کہ نماز میں سورۃ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ پڑھنا مکروہ ہے۔ لیکن اگر نمازی اختلاف سے نکلنے کے لیے اس کو پڑھے مکروہ نہیں ہے۔

____________________

(۱) قرآن کے سات حروف میں نازل ہونے کے باب کی طرف رجوع فرمائیں۔


ایک اور جماعت کا کہنا ہے کہ بسم اللہ قرآن کا حصہ ہے۔ شیعوں کے نزدیک مسلم ہے کہ بسم اللہ سوائے سورہ توبہ کے باقی سورتوں کی جزء ہے اور یہ قول بعض علماء اہل سنت نے بھی اختیار کیا ہے چنانچہ اس کی تفصیل سورہ فاتحہ کی تفسیر کے دوران بیان کی جائے گی۔ اس سے یہ بات ثابت ہ وجاتی ہے کہ قرآن میں (مثلاً بسم اللہ ہی کے بارے میں) کمی یا زیادتی واقع ہوئی ہے۔

v ۔ تحریف کا پانچواں معنی یہ ہے کہ جو قرآن اس وقت ہمارے ہاتھ میں ہے اس کا بعض حصہ قرآن نہیں ہے۔

تحریف کی اس قسم کے باطل ہونے پر تمام مسلمانوں کا اجماع ے بلکہ اس کا باطل ہونا بدیہی و آشکار ہے۔

vi ۔ کمی کے اعتبار سے تحریف ہو۔ بایں معنی کہ اس وقت جو قرآن ہمارے ہاتھ میں ہے وہ اس سارے قرآن پر مشتمل نہ ہو جو آسمان سے نازل ہوا ہے بلکہ اس کا بعض حصہ لوگوں کے ہاتھ سے ضائع ہوگیا ہو۔

ا س معنی میں تحریف محل بحث ہے۔ بعض اس تحریف کے قائل ہیں اور بعض منکر ہیں۔

۲۔ تحریف کے بارے میں مسلمانوں کا نظریہ

مسلمانوں میں مشہور قول یہی ہے کہ قرآن میں تحریف واقع نہیں ہوئی اور جو قرآن اس وقت ہمارے ہاتھ میں ہے، وہ وہی مکمل قرآن ہے جو رسول اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) پر نازل ہوا ہے۔ بہت سے علماء اعلام نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ جیسے رئیس المحدثین شیخ صدوق محمد بن بابویہ ہیں۔ انہوں نے فرمایا ہے کہ عقیدہئ عدم تحریف، عقائد امامیہ کا ایک حصہ ہے۔ انہی علماء میں شیخ ابو جعفر محمد بن الحسن الطوقی ہیں، جنہوں نے اپنی تفسیر التبیان میں اس کی تصریح فرمائی ہے اور اس قول کو اپنے محترم استاد سید مرتضیٰ علم الہدیٰ سے نقل فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے عدم تحریف پر علم الہدیٰ کی نہایت مضبوط دلیل بھی نقل کی ہے۔

انہی علماء میں مشہو رمفسر طبرسی بھی شامل ہیں، جنہوں نے اپنی تفسیر مجمع البیان کے مقدمے میں ا س کی تصریح فرمائی ہے۔

انہی علماء میں شیخ الفقہا الشیخ جعفر بھی ہیں جنہوں نے اپنی کتاب ''کشف الغطائ،، میں قرآن پر بحث کے دوران عدم تحریف پر اجماع کا دعویٰ فرمایا ہے۔


انہی علماء میں جلیل القدر علامہ شہشھانی بھی شامل ہیں۔ انہو ںنے اپنی کتاب ''العروۃ الوثقیٰ،، میں قرآن مجید پر بحث کے دوران اسی نظریئے کو اختیار کیا ہے اور اکثر مجتہدین کی طرف اس قول کی نسبت دی ہے۔

مشہور محّدث مولیٰ محسن کاشانی بھی انہی علماء میں سے ہیں۔ انہوں نے اپنی دونو ںکتب(۱) میں اسی قول کو اختیار فرمایا ہے۔

جلیل عالم اور مجاہد شیخ محمد بلاغی بھی انہی علماء میں سے ہیں۔ انہوں نے بھی اپنی تفسیر ''آلاء الرحمن،، میں یہی فرمایا ہے۔

علماء کی ایک جماعت نے بھی عدم تحریف کا قول بہت سے بزرگ علماء سے نقل کیا ہے۔ جیسا کہ شیخ المشایخ شیخ مفید، شیخ بہائی، محقق قاضی نور اللہ اور اس پایہ کے دیگر علماء کرام ہیں۔

یہ کہا جاسکتا ہے کہ شیعہ علماء میں سے جس نے بھی امامت کے موضوع پر کتاب لکھی ہے اور اس سلسلے میں جو ناخوشگوار واقعات تاریخ میں پیش آئے ہیں، ان سب کا ذکر انہوں نے کیا ہے لیکن تحریف قرآن کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔ لہذا اگر ان کا نظریہ تحریف قرآن کا ہوتا تو وہ ضرور اس کا ذکر کرتے۔ اس لیے کہ یہ بات قرآن کو نذر آتش کرنے کے واقعہ سے کہیں زیادہ اہم اور قابل ذکر ہے۔

مختصر یہ کہ علماء محققین میں یہ امر مسلم ہے کہ قرآن میں تحریف نہیں ہوئی۔ البتہ شیعوں میں محدثین کی ایک جماعت اور کچھ علمائے اہل سنت تحریف کے قائل ہیں۔

رافعی کہتے ہیں:

''اہل کلام میں سے کچھ لوگ، جن کو سوائے ظن و تاویل اور ہر امر اور قول میں جدلی اسلوب اختیار کرنے کے اس فن میں دست رسی حاصل نہیں تھی، کہتے ہیں کہ ممکن ہے کہ قرآن میں سے کچھ چیزیں ساقط ہوگئی ہوں۔ یہ بات انہوں نے

____________________

(۱) الوافی، ج ۵، ص ۲۷۴ اور علم الیقین، ص ۱۳۰۔


جمع قرآن کے سلسلے میں واقع ہونے والے حالات سے اخذ کی ہے۔،،(۱)

طبرسی نے ''مجمع البیان،،میں تحریف قرآن کے قول کو سنیوں کے ایک مذہب ''حشویہ،، کی طرف نسبت دی ہے۔

مؤلف: عنقریب آپ کے سامنے یہ بات واضح ہوجائے گی کہ نسخ تلاوت عیناً تحریف ہے۔ بنابرایں نسخ تلاوت کے نظریہ، جو علماء اہل سنت میں مشہور ہے، کا لازمہ ہے کہ تحریف کا نظریہ بھی مشہور ہو (یعنی جس کے نزدیک نسخ تلاوت مشہور ہے اس کے نزدیک تحریف قرآن بھی مشہور ہوناچاہیے)۔

۳۔ نسخ تلاوت

اکثر علماء اہل سنت نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ بعض قرآن کی تلاوت منسوخ ہوگئی ہے اور بعض راویات میں وارد شدہ اس مفہوم: ''اءنہ کان قرآناً علی عھد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو انہوں نے نسخ تلاوت سمجھا ہے۔ پس ہمارے لیے مناسب ہے کہ اس قسم کی روایات کا ذکر کریں تاکہ واضح ہوجائے اس قسم کی روایات کو مان لینا تحریف قرآن کو ماننے کے مترادف ہے:

۱۔ ابن عباس سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے منبر پر فرمایا:

''خدا نے محمدؐ ک وبرحق مبعوث فرمایا اور آپ پر کتاب نازل فرمائی۔ اس کتاب میں آیہ رجم بھی تھی۔ ہم نے اس کی تلاوت کی، ا س کو سمجھا اور اسے یا دیا۔ اسی لیے جب رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے سنگساری فرمائی اس کے بعد ہم نے بھی سنگساری کی۔ مگر مجھے ڈر ہے کہ اس امت پر ایک ایسا وقت آئے گا جب کوئے کہنے والا یہ کہے گا کہ قسم بخدا آیہ رجم قرآن میں نہیں ہے اور اس طرح خدا کا ایک حکم ترک ہو جائے گا او رلوگ گمراہی میں مبتلا ہوجائیں گے، ہاں! حکم رجم، یعنی سنگساری کا حکم قرآن میں ہر اس مرد اور عورت کے لئے معین ہے جو بیوی رکھنے کے باوجود زنا کا مرتکب ہو اور جو آیہ ہم قرآن میں پڑھتے تھے وہ یہ تھی:أن لا ترغبوا عن آبائکم فانه کفر بکم أن ترغبوا عن آبائکم یا وہ اس طرح تھی:ان کفرا بکم ان ترغبوا عن آبائکم ۔(۲)

____________________

(۱) اعجاز القرآن، ص ۴۱۔

(۲) صحیح بخاری، ج ۸، ص ۲۶۔ صحیح مسلم ، ج ۵، ص ۱۱۶۔


سیوطی لکھتے ہیں کہ ابن اشتر نے اپنی کتاب ''مصاحف،، میں لیث بن سعد سے روایت کی ہے:

''سب سے پہلے حضرت ابو بکر نے قرآن جمع کیا اور زید نے ان کے لیے لکھا اور جب حضرت عمر آیہ رجم لے کر آئے تو اس نے اسے نہیں لکھا، اس لیے کہ حضرت عمر اکیلے تھے۔(۱)

مؤلف: آیہ رجم، جس کے بارے میں حضرت عمر کا دعویٰ ہے کہ یہ قرآن کا حصہ ہے اور اسے قبول نہیں کیا گیا، اس کی چند صورتیں روایت ہوئی ہیں اور ان میں سے کچھ یہ ہیں:

i ۔''اذا زنی الشیخ و الشیخه فارجموهما البتة، نکالاً من الله، و الله عزیز حکیم،،

ii ۔''الشیخ و الشیخ ةفارجموهما البتة بما قضیا من اللذة،،

iii ۔''ان الشیخ و الشیخه اذا زنیا فارجموهما ألبتة،،

بہرحال موجودہ قرآن میں ایسی کوئی آیت نہیں ہے جس سے رجم کا حکم نکالا جاسکے۔ پس بنابرایں قرآن کے دو تہائی سے زیادہ حصے ساقط ہوگئے ہیں۔

۲۔ طبرانی نے موثق سند سے حضرت عمر بن الخطاب سے روایت کی ہے:

''قرآن دس لاکھ ستائیس ہزار حروف پر مشتمل ہے۔،،(۲)

جبکہ جو قرآن اس وقت ہمارے ہاتھ میں ہے یہ اس مقدار کے ایک تہائی بھی نہیں ہے۔ پس بنابرایں قرآن کے دو تہائی سے زیادہ حصے ساقط ہوگئے ہیں۔

____________________

(۱) الاتقان، ج ۱، ص ۱۰۱۔

(۲) الاتقان،ج ۱، ص ۱۲۱۔


۳۔ ابن عباس نے حضرت عمر سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:

''اللہ تعالیٰ نے محمدؐ کو بر حق مبعوث فرمایا اور آپ پر کتاب نازل فرمائی۔ اس میں سنگساری کی آیہ بھی تھی۔ رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے سنگساری رفمائی۔ اس کے بعد ہم نے بھی سنگساری کی۔ پھر کہا: ہم اس آیہ کو اسطرح پڑھتے تھے:''ولا ترغبوا عن آبائکم فانه کفر بکم،، یا''ان کفرا بکم ان ترغبوا عن آبائکم،، (۱)

۴۔ نافع روایت کرتا ہے کہ ابن عمر نے کہا:

''تم میں سے شاید کوئی یہ کہے کہ اس نے پورا قرآن پڑھ لیا ہے۔ اسے کیا پتہ کہ یہ پورا قرآن نہیں ہے اور اس کا ایک کثیر حصہ ضائع ہوچکا ہے۔ لہذا اسے یہ کہنا چاہیے کہ اس قرآن کا وہ حصہ اس نے لیا ہے جو موجود ہے۔(۲)

۵۔ عروۃ بن زبیر حضرت عائشہ سے روایت کرتا ہے کہ انہوں نے کہا:

''رسول اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کے زمانے میں سورہ احزاب دو سو آیات پر مشتمل ہوا کرتی تھی لیکن جب حضرت عثمان نے قرآن لکھا تو اس وقت وہی سورے رہ گئے جو اب ہمارے ہاتھ میں موجود ہیں۔،،(۳)

۶۔ ابو یونس کی دختر حمیدہ ناقل ہے:

''میرے والد جو ۸۰ سالہ تھے، حضرت عائشہ کے قرآن سے یہ آیہ پڑھا کرتے تھے:

''ان الله و ملائکته یصلون علی النبی یاأیها الذین آمنوا صلوا علیه و سلموا تسلیما، و علی الذین یصلون الصفوف الأول،، حمیدہ کہتی ہے: قرآن میں حضرت عثمان کے تغیر و تبدل کرنے سے پہلے کی یہ بات ہے۔،،(۴)

____________________

(۱) مسند احمد، ج ۱، ص ۴۸۔

(۲) الاتقان،ج ۲، ص ۴۰۔۴۱۔

(۳) ایضاً۔

(۴) الاتقان، ج ۲، ص ۴۰۔۴۱۔


۷۔ ابوحرب بن ابی اسود اپنے والد سے نقل کرتا ہے:

''ابو موسیٰ اشعری نے بصرہ کے قاریوں کی دعوت کی اور یہ تین سو افراد تھے جو کہ سب کے سب قاری تھے۔ جب یہ لوگ ابو موسیٰ کے گھر میں داخل ہوئے تو ابو موسیٰ نے ان سے کہا: دیکھو! تم بصرہ کے نیک اور قاری حضرات ہو، قرآن کی تلاوت کرو اور لمبی لمبی آرزوئیں نہ رکھو تا کہ تم کہیں قسی القلب نہ ہوجاؤ۔ جس طرح تم سے پہلے کے لوگ قسی القلب ہوگئے تھے۔ہم ایک سورۃ پڑھا کرتے تھے جو طویل اور سخت لہجے کے اعتبار سے سورہ براءت کی مانند تھا، لیکن اب میں اسے بھول چکا ہوں۔ اس میں سے مجھے صرف اتنا یاد ہے:''لو کان لابن آدم و ادیان من مال لابتغی و ادیاً ثالثا ولا یملا جوف ابن دم الا التراب،، اس کے علاوہ ہم ایک اور سورۃ بھی پڑھا کرتے تھے جو ''مسبحات،، کی مانند تھا۔ اسے بھی بھول چکا ہوں اور اس میں سے مجھے صرف اتناد یاد ہے:یا أیها الذین آمنوا لم تقولون ما لا تفعلون، فتکتب شهادة فی أعناقکم فتسألون عنها یوم القیامة ۔،، (۱)

۸۔ زر روایت کرتا ہے کہ اُبیّ ابن کعب نے مجھ سے کہا:

''تم سورۃاحزاب میں کتنی آئتیں پڑھتے ہو؟ میں نے کہا: تہتر آیات۔ اس نے کہا: ایسا نہیں ہے بلکہ اس کی آئتیں سورۃ بقرہ جتنی یا اس سے بھی زیادہ تھیں۔،،(۲)

۹۔ ابن ابی داؤد اور ابن انباری نے ابن شہاب سے روایت کی ہے کہ ابن شہاب نے کہا:

''ہم نے سنا تھا کہ بہت سارا قرآن نازل ہوا تھا لیکن علماء و حافظ قرآن جنگ یمامہ میں قتل ہوگئے جس کی وجہ سے قرآن کا ایک بڑا حصہ لکھا نہ جاسکا اور ضائع ہوگیا۔،،(۳)

۱۰۔ عمرۃ نے حضرت عائشہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:

____________________

(۱) صحیح مسلم، ج ۳، ص ۱۰۰۔

(۲) منتخب کنز العمال باحاشیہ مسند احمد، ج ۲، ص ۴۳۔

(۳) ایضاً، ص ۵۰۔


جو لوگ نسخ تلاوت کے قائل ہیں اگر ان کی مراد یہ ہے کہ خود پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) سے نسخ واقع ہوا ہے تو یہ دلیل کا محتاج ہے۔ اسے ثابت کرنا پڑے گا اور تمام علماء کرام کا اتفاق ہے کہ خبر واحد کے ذریعے نسخ کتاب (قرآن) جائز نہیں ہے۔ چنانچہ علماء کی ایک جماعت نے کتب اصول وغیرہ(۱) میں اس بات کی تصریح کی ہے۔ بلکہ شافعی اوراس کے اکثر پیروکار اور ایسے علماء جو ظاہر قرآن پر عمل کرتے ہیں، خبر متواتر کے ذریعے بھی نسخ کتاب (قرآن) کو جائز نہیں سمجھتے۔

ایک اور نقل کے مطابقاحمد بن جنبل کا بھی یہی عقیدہ ہے۔ بعض علماء ایسے ہیں جو خبر متواتر کے ذریعے نسخ کتاب کو جائز تو سمجھتے ہیں لیکن اس کے وقوع پذیر ہونے کے قائل نہیں ہیں۔(۲)

بنابرایں خبر واحد کی بنیاد پر نسخ کتاب کو رسول اسلامؐ کی طرف منسوب کرنا صحیح نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ نسخ کتاب نسبت رسول کرمؐ کی طرف دینا ان روایات کے منافی بھی ہے جن کے مطابق قرآن کا کچھ حصہ آپ کے بعد ضائع ہوگیا ہے۔

اور اگر مراد یہ ہو کہ نسخ تلاو، رسول کریمؐ کے بعد ان لوگوں سے ہوا ہے جو برسراقتدار تھے تو یہ عیناً تحیرف ہے۔ بنابرایں یہ کہا جاسکتا ے کہ علماء اہل سنت کی اکثریت تحریف کی قائل ہے۔ کیونکہ ان کی اکثریت نسخ تلاوت کی قائل ہے۔ چاہے نسخ تلاوت کے ساتھ آیہ کے حکم کو بھی نسخ کیا گیا ہو یا نہ کیا گیا ہو۔

چنانچہ بعض علماء اہل سنت میں سے ماہرین علم اصول اس مسئلہ میں تردد سے کام لیتے ہیں کہ آیا مجنب کے لیے نسخ شدہ آیات کی تلاوت یا محدث کے لیے انہیں چھونا جائز ہے؟ بعض کے نزدیک نسخ شدہ آیات کو پڑھنا اور چھونا جائز نہیں ہے۔ البتہ! بعض معتزلہ کا یہ نظریہ ہے کہ نسخ تلاوت جائز نہیں ہے۔(۳)

____________________

(۱) الموافقات لابی اسحاق الشاطبی، ج ۳، ص ۱۰۶ طبعۃ المطبعۃ الرحمانیۃ بمصر۔

(۲) الاحکام فی اصول الاحکام للآمدی، ج ۳، ص ۲۱۷۔

(۳) ایضاً، ص ۲۰۱۔۲۰۳۔


مقام تعجب ہے کہ علمائے اہل سنت کی ایک جماعت تحریف کے قول کو کسی بھی سنی عالم کی طرف نسبت دینے پر راضی نہیں ہے۔ حتی کہ آلوسی نے صاحب ''مجع البیان،، طبرسی کی اس بات کی تکذیب کی ہے کہ سنیوں کا ایک فرقہ ''حشویہ،، تحریف کا قائل ہے۔ آلوسی کہتا ہے: ''علماء ال سنت میں سے کوئی بھی تحریف کا قائل نہیں ہے۔،،

اس سے زیادہ تعجب آلوسی کی اس بات پر ہوتا ہے کہ طبرسی تحریف کا انکار کرکے اپنے ہم مسلک دوسرے علمائے شیعہ پر عقیدہئ تحریف جو دھبہ لگا ہے اس کو چھپانہ چاہتا ہے۔(۱) حالانکہ گذشتہ مباحث میں یہ بتا ثابت ہوچکی ہے کہ شیعوں میں مشہور قول یہی ہے اور شیعہ علماء و محققین کا اتفاق ہے کہ تحریف نہیں ہوئی بلکہ مرحوم طبرسی نے اپنی تفسیر ''مجمع البیان،، میں عدم تحریف پر سید مرتضیٰ علم الہٰدی کے طویل کلام اور ان کی محکم دلیل کو بھی نقل فرمایا ہے۔

تحریف، قرآن کی نظر میں

اس تمہیدی بحث کے بعد ہم اصل مطلب کی طرف آتے ہیں:

حق یہی ہے کہ تحریف متنازعہ فیہ معنو ںمیں قرآن میں بالکل واقع نہیں ہوئی ذیل میں ہم عدم تحریف پر دلائل پیش کرتے ہیں۔

( إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ ) ۱۵:۹

''بیشک ہم ہی نے قرآن نازل کیا اور ہم ہی تو اس کے نگہبان بھی ہیں۔،،

یہ آیہ کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ قرآن محفوظ ہے اور کوئی بھی مجرم اس میں کسی قسم کی کمی کرنے یا اس سے کھیلنے کی جسارت نہیں کرسکا۔ البتہ جو حضرات تحریف کے قائل ہیں انہوں نے اس آیہ کی چند تاویلیں کی ہیں:

____________________

(۱) روح المعانی، ج ۱، ص ۲۴۔


i ۔ اس آیہ شریفہ میں ذکر سے مراد خود رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کی ذات ہے اور قرآن میں ذکر، رسول کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:

( قَدْ أَنزَلَ اللَّـهُ إِلَيْكُمْ ذِكْرًا ) ۶۵:۱۰

''خدا نے تمہارے لیے ذکر نازل کیا (اور)

( رَّسُولًا يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِ اللَّـهِ ) :۱۱

''اپنا رسول بھیج دیا ہے جو تمہارے سامنے واضح آیتیں پڑھتا ہے۔،،

بنابرایں مذکورہ آیات کا ترجمہ یہ ہوگا:

''ہم نے رسول بھیجا اور اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔،،

جواب: اس تاویل کا بطلان صاف ظاہر ہے۔ اس لیے کہ دونوں آیات میں ذکر سے مراد قرآن ہے نہ کہ رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کیذات۔ اس لیے کہ ان ایتوں میں ''تنزیل،، اور ''انزال،، کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو قرآن سے مناسبت رکھتے ہیں۔ اگر ذکر سے مراد رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کی ذات ہوتی تو ''انزال،، کی بجائے ''ارسال،، یا ''ارسال،، کے معنی سے ملتا جلتا کوئی دوسرا لفظ استعمال ہوتا۔ اس کے علاوہ اگر دوسری آیہ (۶۵:۱۰) میں یہ احتمال (ذکر بمعنی رسول ) صحیح بھی ہو تو پہلی آیہ (۹۵:۹) میں ذکر بمعنی رسول نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اس سے پہلے یہ آیہ ہے:

( وَقَالُوا يَا أَيُّهَا الَّذِي نُزِّلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ إِنَّكَ لَمَجْنُونٌ ) ۱۵:۶

''(اے رسول کفارمکہ تم سے) کہتے ہیں کہ اے وہ شخص جس کو (یہ سودا ہے) کہ اس پر وحی او رکتاب نازل ہوئی ہے۔ تو تو (اچھا خاصا) سڑی ہے۔،،


اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوسکتا کہ اس آیہ شریفہ میں ذکر بمعنی قرآن ہے اور یہ اس بات کا قرینہ اور موید ہے کہ بعد والی آیہ (آیہ حفظ) میں بھی ذکر سے مراد قرآن ہے۔

ii ۔ دوسری تاویل یہ کی جاتی ہے کہ اس آیہ میں حفظ سے مراد، قرآن کا ہر قسم کے اعتراضات اور تنقیدوں سے محفوظ رہنا ہے اور قرآن کے بلند معانی اور تعلیمات باطل نہیں ہوسکتیں۔

جواب: اس تاویل کا باطل ہونا پہلے سے بھی زیادہ آشکار ہے۔ کیونکہ اگر اعتراض سے مراد یہ ہو کہ قرآن کفار کی تنقیدوں سے محفوظ ہے تو یقیناً یہ باطل ہے۔ ا س لیے کہ کفار کی طرف سے قرآن پر اتنے اعتراضات ہوئے ہیں ک ہجن کا شمار نہیں ہوسکتا۔

اگر اعتراض سے مراد یہ ہو کہ قرآن کی روش و اسلوب اتنا مستحکم و منفرد ہے کہ کوئی معترض اس پر صحیح و بجا اشکار نہیںکرسکتا اور کسی کے شک و تردد سے اس میں کسی قسم کا تزلزل نہیں آسکتا تو یہ بات اپنے مقام پر صحیح ہے لیکن یہ نزول قرآن کے بعد اس کے تحفظ سے مربوط نہیں ہے۔ جیسا کہ آیہ کا مفہوم ہے ۔ کیونکہ قرآن اپنی خصوصیات کے اعتبار سے خود اپنا محافظ ہے اور اس کے لیے وہ کسی دوسرے محافظ کا محتاج نہیں ہے۔ چنانچہ آیہ کا مفہوم بھی یہی ہے کہ نزول قرآن کے بعد اس کا تحفظ اللہ کے ذمے ہے۔

iii ۔ تیسری تاویل یہ کی گئی ہے کہ آیہ کریمہ میں قرآن سے مراد قرآن کے تمام نسخے نہیں بلکہ فی الجملہ کوئی قرآنی نسخہ ہے۔ بنابرایں ممکن ہے آیہ شریفہ اس قرآن کی طرف اشارہ کررہی ہو جو حضرت ولی عصر(ع) کے پاس محفوظ ہے۔

جواب: یہ احتمال تمام احتمالات سے زیادہ ناقابل توجہ ہے۔ کیونکہ اگر قرآن محفوظ ہے تو اسے جن کے لیے نازل کیا گیا ہے۔ یعنی عام لوگوں کے لیے محفوظ رہنا چاہیے۔ صرف امام(ع) کے پاس محفوظ رہنا تو ایسا ہی ہے جیسے لوح محفوظ میں محفوظ ہو یا ایک فرشتے کے پاس محفوظ ہو۔ یہ ایک بے ربط مطلب لگتا ہے اور یہ ایسا ہے کہ جیسے کوئی کہے میں نے آپ کو ایک تحفہ بھیجا ہے اور وہ میرے یا میرے کسی خاص آدمی کے پاس محفوظ ہے۔


یہ قول انتہائی تعجب خیز ہے کہ آیہ کریمہ میں حفظ قرآن سے مراد کسی ایک قرآنی نسخے کی حفاظت ہے، تمام قرآنی نسخوں کی حفاظت نہیں۔ گویا کہ یہ لوگ اس خوش فہمی کا شکار ہیں کہ ذکر سے مراد وہ قرآن ہے جو تحریر میں آجائے یا جس کا تلفظ کیا جائے اور اس کے متعدد نسخے بنے ہوں، حالانکہ ذکر سے مراد یہ نہیں ہے کیونکہ قرآن مکتوب یا قرآن ملفوظ کو کوئی دوام حاصل نہیں ہے۔ بنابرایں آیہ حفظ سے قرآن مکتوب مراد نہیں لیا جاسکتا۔

ذکر سے مراد وہ مطالب، معانی و مفاہیم ہیں جن کو قرآن مکتوب یا قرآن ملفوظ کے ذریعے ادا کیا جائے اور یہی وہ معانی ہیں جو رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) پر نازل کیے گئے ہیں اور اس کی حفاظت کا مطلب یہ ہے کہ خالق نے اس کو مفاد پرست لوگوں کے ہاتھوں کھلونا بننے اور ضائع ہونے نہیں دیا اور عام انسانوں کی اس تک رسائی ہوسکتی ہے۔ یہ ایسا ہے جیسا کہ ہم یہ کہیں کہ فلاں شاعر اور قصیدہ اور کلام محفوظ ہے۔ اس کا مطلن یہی ہوتا ہے کہ یہ کلام محفوظ ہے اور ضائع نہیں ہوا بایں معنی کہ اس تک بہرحال رسائی حاصل ہوسکتی ہے۔

ہاں! اس مقام پر ایک اور شبہ موجود ہے، جس کے ذریعے عدم تحریف پر آیہ کریمہ سے استدلال کو ردّ کیا جاتا ہے۔ اس شبہ کا خلاصہ یہ ہے کہ فریق مخالف جو تحریف کا مدعی ہے وہ اس (زیر بحث) آیہ شریفہ میں بھی تحریف کا احتمال دیتا ہے کیونکہ یہ بھی اس قرآن ہی کا حصہ ہے جس میں تحریف واقع ہوئی ہے بنابرایں جب تک یہ ثابت نہ ہو کہ قرآن میں تحریف واقع نہیں ہوئی اس آیہ شریفہ سے یہ استدلال نہیں کیا جاسکتا۔

اس شبہ کا جواب یہ ہے کہ اس میں وہی لوگ مبتلا ہوسکتے ہیں جنہوں نے عترت پیغمبرؐ ک وخلافت الہٰیہ سے محروم کر دیا(۱) اور انؑ کے اقوال و افعال پر ایمان نہیں لائے۔ ان لوگوں کے پاس اس شبہ کا کوئی حل نہیں ہے۔

____________________

(۱) جی چاہتا ہے یہ عرض کروں: جنہوں نے خلافت الہٰیہ کو عترت پیغمبر(ص) سے محروم کردیا۔(مترجم)


لیکن جو لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ عترت پیغمبرؐ مخلوق پر حجت خدا اور وجوب اطاعت میں قرآن کے ہم پلّہ ہے ان کے نزدیک یہ شبہ بے وزن ہے۔ کیونکہ عترت پیغمبرؐ کا موجودہ قرآن سے استدلال کرنا اور اپنے اصحاب کے استدلال پر راضی ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ موجودہ قرآن حجت اور واجب العمل ہے، اگرچہ کوئی ا س کی تحریف کا قائل ہو۔ البتہ تحریف کی صورت میں کتاب اس وقت حجت ہوگی جب عترت پیغمبرؐ اس کی تائید و تصدیق کرے۔

۲۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

( وَإِنَّهُ لَكِتَابٌ عَزِيزٌ ) (۴۱:۴۱)

''اور یہ قرآن تو یقینی ایک عالی رتبہ کتاب ہے۔،،

( لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهِ ۖ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ ) (:۴۲)

''کہ جھوٹ نہ تو اس کے آگے ہی پھٹک سکتا ہے او رنہ اس کے پیچھے سے اور خوبیوں والے دانا (خدا) کی بارگاہ سے نازل ہوتی ہے۔،،

اس آیہ شریفہ کا مفہوم یہ ہے کہ باطل کی تمام قسمیں قرآن مجید سے دور ہےں۔ ا س لیے کہ جب کسی چیز کے اصل وجود کی نفی کی جائے تو اس کی تمام قسموں اور مصادیق کی نفی ہوجاتی ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ تحریف باطل کی قسموں میں سے ایک قسم ہے۔ لہٰذا یہ قرآن کے نزدیک بھی نہیں جاسکتی۔

اعتراض: ہماری اس دلیل پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ آیہ کریمہ کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کے احکام میںکسی قسم کی تناقض گوئی نہیں ہے اور اس کی کوئی خبر جھوٹی نہیں ہوسکتی، چنانچہ اس تاویل کی تائید میں علی بن ابراہیم قمی کی روایت پیش کی جاتی ےہ جو انہوں نے اپنی تفسیر میں امام باقر(ع) سے روایت کی ہے۔ امام(ع) نے فرمایا:


''لا یاتیه الباطل من قبل التوراة ولا من قبل الانجیل، و الزبور، ولا من خلفه ای لاتیه من بعده کتاب یبطله،،

''نہ تو قرآن تورات، انجیل اور زبور کے ذریعے باطل قرار دیا جاسکتا ہے اور نہ قرآن کے بعد کوئی ایسی کتاب آسکتی ہے جس سے قرآن باطل ہوجائے۔،،

اس کے علاوہ مجمع البیان کی روایت بھی بطور ثبوت پیش کی جاتی ے جو امام محمد باقر اور امام جعفر صادق (علیہما السلام) سے مروی ہے۔ آپ فرماتے ہیں:

''لیس فی اخباره عما مضی باطل، ولا فی اخباره عما یکون فی المستقبل باطل،،

''نہ قرآن کی گذشتہ سے متعلق خبروں میں باطل کا شائبہ ہے اور نہ مستقبل سے متعلق پیشگوئیوں میں۔،،

جواب: اس روایت کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ باطل صرف اسی چیز میں منحثر ہے جس کا روایت میں ذکر ہے تاکہ آیہ شریفہ باطل کی تمام قسموں کی نفی کرسکے۔ خصوصاً جب ہم ان روایات کو دیکھتے ہیں جو یہ کہتی ہےں کہ قرآن کے معانی اور مفاہیم کسی خاص زمان یا مکان سے مختص نہیں بلکہ یہ ہر دور، ہر مکان اور ہر موقع کے لیے ہیں۔ بنابرایں آیہ کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ قرآن ہر دور میں باطل کی تمام اقسام سے منزہ و مبّرا رہا ہے۔ لہذا قرآن کو تحریف سے بھی پاک ہونا چاہیے جو باطل کی ایک اہم اور واضح قسم ہے۔

تحریف کے باطل (جس کی آیہ قرآن سے نفی کرتی ہے) کے ذیل میں آنے کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ آیہ کریمہ میں عزت کو کتاب کی صفت کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور کسی بھی چیز کے عزیز ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں تغیر و تبدل اور ضائع ہونے کا خطرہ نہ ہو۔

پس آیہ کریمہ میں باطل سے صرف تناقض اورکذب مراد لینا کتاب کے عزیز ہونے سے سازگار نہیں۔ کتاب تب ہی عزیز ہوگی جب یہ ہر قسم کے باطل سے پاک و منزہ ہو۔


تحریف اور سنت

۳۔ عدم تحریف کی تیسری دلیل ثقلین (قرآن و عترت) کے بارے میں روایات ہیں۔ وہ ثقلین جن کو رسول اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے اپنے بعد امت میں چھوڑا اور ساتھ ساتھ یہ خبر بھی دی کہ یہ دونوں (قرآن اور عترت) ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر یہ آپ کے پاس جمع ہوں گے اور آپ نے امت کو ان سے متمسک رہنے کا حکم دیا۔

اس مضمون کی روایات کثرت سے موجود ہیں جو فریقین کی مختلف اسناد سے منقول ہیں۔(۱) ان روایات سے عدم تحریف پر دو پہلوؤں سے استدلال کیا جاسکتا ہے۔

i ۔ عقیدہئ تحریف سے یہ لازم آتا ے کہ خدا کی طرف سے نازل شدہ کتاب سے تمسک واجب نہ ہو۔ کیونکہ تحریف کی وجہ سے وہ کتاب تو امت کے ہاتھ سے ضائع ہوگئی جبکہ قیام قیامت تک کتاب الہٰی سے تمسک رکھنا واجب ہے۔ بنابرایں عقیدہئ تحریف یقیناً باطل ہے۔

وضاحت: ان روایات کا مفہوم یہ ہے کہ عترت پیغمبرؐ اور کتاب ہمیشہ ساتھ ساتھ ہیں اور قیامت تک لوگوں میں باقی رہیں گے۔ بنابرایں کسی ایسے انسان کا ہونا ضروری ے جو قرآن کے دوش بدوش رہے اور قرآن کا ہونا بھی ضروری ہے جو عترتؑ کے دوش بدوش رہے۔ یہاں تک کہ حوض کوثر پر یہ رسول اعظمؐ کی خدمت میں حاضر ہوں اور ان دونوں سے تمسک کے نیتجے میں امت گمراہی سے محفوظ رہے جس کی خود رسلو کریمؐ نے اس حدیث میں تصریح فرمائی ہے۔

یہ بھی واضح امر ہے کہ عترتؑ سے تمسک کا مطلب یہ ہے کہ ا سؑ سے محبت کی جائے، جن کاموں کا وہ حکم دے نہیں بجا لایا جائے، جن کاموں سے منع کرے ان سے باز رہا اور اس سے رہنمائی حاصل کی جائے اور یہ ایسا امر ہے جس کے لیے خود امام(ع) سے ملاقات اور بالمشافہ احکام حاصل کرنا ضروری نہیں ہے۔ کیونکہ امام(ع) کے زمان غیب سے پہلے بھی سب لوگوں کے لیے امام(ع) سے ملاقات یا بالمشافہ گفتگو کرنا ممکن نہیں تھا چہ جائیکہ زمان غیبت میں یہ کام ممکن ہو۔

____________________

(۱) ان روایات کے حوالے کی طرف اسی کتاب کے صفحہ ۱۸ میں اشارہ کیا جاچکا ہے۔


یہ کہنا کہ بعض لوگوں کی امام(ع) تک رسائی ضروری ہے۔ یہ ایک بے بنیاد بات اور دعویٰ بلا دلیل ہے اور اس شرط کی کوئی وجہ بھی نظر نہیں آتی۔ پس شیعہ حضرات زمان غیبت میں بھی اپنے ائمہ سے متمسک، ان سے محبت رکھتے اور انؑ کے فرامین کی اطاعت کرتے ہیں۔ تازہ واقعات میں انؑ کی احادیث کے راویوں کی طرف رجوع کرنا بھی ائمہ (ع) کے اوامر و فرامین میں سے ہے۔

لیکن قرآن سے تمسک اسی صورت میں ممکن ہے جب قرآن تک رسائی ہوسکے لہٰذا امت میں قرآن کا ہونا لازمی امر ہے تاکہ وہ اس سے متمسک ہوسکے اور گمراہی کا شکار نہ ہو۔

ہمارے اس بیان سے اس بات کا بطلان بھی ثابت ہوتا ہے کہ قرآن امام زمان(عج) کے پاس موجود اور محفوظ ہے کیونکہ قرآن سے تمسک کے لیے اس کا وجود کافی نہیں ہے اور جب تک یہ ہماری دسترسی میں نہ ہو اس سے تمسک ناممکن ہے۔

اعتراض: اس دلیل پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ حدیث ثقلین تو صرف اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ قرآن کی آیات احکام (فقہی احکام) میں تحریف واقع نہیں ہوئی۔ کیونکہ مسلمانوں کو آیات احکام ہی سے تمسک کا حکم دیا گیا ہے۔ بنابرایں حدیث ثقلین باقی آیات میں تحریف ہونے کی نفی نہیں کرتی۔

جواب: خدا نے تمام قرآن انسانوں کی ہدایت اور ہر لحاظ سے ممکنہ کمال تک رہنمائی کے لیے نازل فرمایا ہے۔ چاہے وہ آیات احکام ہوں یا دوسری آیات اور اس سے قبل ہم فضل قرآن کی بحث میں یہ چیز بیان کرچکے ہیں کہ قرآن ظاہری طور پر تو قصہ لگتا ہے مگر باطن اور حقیقت میں یہ موعظہ اور نصیحت ہے۔ اس کے علاوہ تحریف کے قائل لوگوں کی اکثریت کا دعویٰ یہ ہے کہ تحریف، ولایت اور اسی طرح کے دوسرے موضوعات میں واقع ہوئی ہے جبکہ آیات ولایت کی پیروی و اطاعت کی سخت تاکید کی گئی ہے۔

ظاہر ہے ان آیات (آیات ولایت وغیرہ) کی اطاعت اسی صورت میں واجب ہوگی جب ان کا قرآن ہو نا ثابت ہو۔


ii ۔ عقیدہئ تحریف سے یہ لازم آتا ہے کہ کتاب خدا حجت نہ رہے۔ جب کتاب خدا حجت نہ رہے گی تو اس کے ظاہری معانی پر عمل بھی نہ ہوسکے گا اور کوئی بھی تحریف کا قائل اس وقت تک موجودہ قرآن کی طرف رجوع نہیں کرسکے گا جب تک ائمہ معصومین(ع) اس کی تصدیق نہ کریں۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ قرآن کی طرف رجوع اور اس سے استدلال ائمہ معصومین(ع) کی تائید و تصدیق پر موقوف ہے۔ حالانکہ حدیث ثقلین اور دیگر متواتر روایات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن ایک مستقل مدرک، مرجع اور حجت ہے بلکہ ثقلین میں سے ثقل اکبر ہے۔ اس کی حجیت ثقل اصغر (ائمہ معصومین(ع)) کی حجیت کے تابع نہیں ہے۔

عقیدہ تحریف سے کتاب خدا اس لیے حجت نہیں رہتی کہ جب تحریف کے قائل ہوں گے تو یہ احتمال باقی رہے گا کہ موجودہ قرآن کی کوئی بھی آیت جو کسی مطلب پر دلالت کرتی ہے، ہوسکتا ہے اس کے ساتھ قرآن کا کچھ اور حصہ بھی ملا ہوا تھا جو موجودہ مفہوم کے خلاف تھا مگر تحریف کی وجہ سے وہ حصہ ضائع ہوگیا۔ جب تک یہ احتمال باقی رہے گا قرآن کے ان معانی پر عمل نہیں ہوسکے گا جو موجودہ قرآن سے سمجھے جائیں گے اور اس احتمال کی نفی اصالۃ عدم قرینہ کی وجہ سے بھی نہیں کی جاسکتی ،کیونکہ اس اصل کی دلیل عقلاء کی یہ سیرت ہے کہ وہ کلام سے ظاہر ہونے والے معنی پر عمل کرتے ہیں اور اس معنی کے خلاف کسی قرینہ کے احتمال کو اہمیت نہیں دیتے۔

ہم اصول کی مباحث میں ثابت کرچکے ہیں کہ عقلاء اس سیرت کو اپناتے ہیں جہاں کلام متکلم سے منفصل اور جدا کسی مستقل قرینہ کا احتمال دیاجائے کلام متکلم سے متصل قرینہ کا احتمال ہو اور قرینہ کے ضائع ہونے کی وجہ بھی بیان کے موقع پر متکلم کی غفلت کا احتمال ہو یا سامع استفادہ سے غفلت برتے۔

لیکن اگر قرینہ متصلہ کا احتمال ہو اور اس سے مستفاد نہ ہونے کی وجہ متکلم یا سامع کی غفلت نہ ہو تو عقلاء اس کلام سے ظاہر ہونے والے معانی پر عمل نہیں کرتے۔


مثال کے طور پر اگر کسی انسان کو کسی ایسے شخص کا خط موصول ہوتا ہے جس کی اطاعت ضروری ہو اور اس خط میں ایک گھر خریدنے کا حکم ہے، مگر اس خط کا کچھ حصہ ضائع ہوچکاہے اور احتمال ہے کہ خط کا ضائع شدہ حصہ اس گھر کی کچھ خصوصیات مثلاً وسعت، قیمت اور محل وقوع پر مشتمل تھا، جس کے خریدنے کاحکم دیا گیا ہے تو اس صورت میں عقلاء کبھی بھی اس احتمال کو کالعدم تصور کرکے خط کے باقی مادنہ مندرجات پر عمل نہیں کریں گے اور اس حکم کے امتثال امر کی خاطر جو گھر بھی میسر آجائے اسے نہیں خریدیں گے اور نہ ہی ایسے شخص کو اپنے مولا کافرمانبردار کہا جائے گا۔

شاید ہمارے محترم قارئین کو وہم ہو کہ اس بیان کے مطابق تو فقہ اور استنباط احکام شرعیہ کی بنیاد منہدم ہو جاتی ہے۔ کیونکہ احکام شریعہ کے اہم اور عمدہ دلائل معصومین(ع) کی روایات ہیں۔

ان روایات میں بھی یہ احتمال دیا جاسکتا ہے کہ ممکن ہے کلام معصومین(ع) کے ساتھ قرینہ ملا ہوا تھا جو ہم تک نہیں پہنچ سکا۔ لیکن اگر محترم قارئین معمولی سی بھی توجہ کریں تو یہ شبہ زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکے گا۔ کیونکہ روایات کے سلسلے میں کلام راوی پر اعتماد کیا جاتا ہے بایں معنی کہ اگر کلام میں کوئی قرینہ متصلہ ہوتا تو راوی اس کا ضرور ذکر کرتا۔ راوی کے ذکر نہ کرنے سے یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ قرینہ متصلہ کلام معصومؑ میں بھی نہ تھا۔ یہ احتمال چونکہ کالعدم ہے کہ شاید قرینہ موجود ہو یا راوی سے غفلت سر زد ہوئی ہو۔ اس لیے اس احتمال کو بھی کالعدم تصور کیا جائے گا کہ شاید قرینہ موجود تھا جو راوی کی غفلت کی وجہ سے رہ گیا ہے ۔ اس قاعدے کی رو سے کہ جس چیز کا وجود مشکوک ہو اسے کالعدم فرض کیا جاتا ہے، قرینہ اور راوی کی غفلت دونوں احتمالوں کی نفی کی جائے گی۔

استدلال کے دوسرے پہلو کا نتیجہ نہ نکلا کہ عقیدہئ تحریف سے یہ لازم آتا ہے کہ ظواہر قرآن سے تمسک جائز نہ ہو۔


اس نتیجے تک پہنچنے کے لیے اس بیان کی ضرورت نہیں کہ تحریف کی وجہ سے بعض بلا تعیین آیات کے ظاہری معنی کے درہم برہم ہونے کا اجمالی علمحاصل ہو جاتا ہے یعنی اگرچہ تحریف شدہ آیات کی تعیین نہیں کی گئی لیکن اجمالی طور پر اتنا جان لیتے ہیں کہ کسی نہ کسی آیہ میں تحریف ہوئی ہے جس کی وجہ سے قرآن قابل عمل نہیں رہتا کوینکہ اگر اس بیان کے ذریعے مذکورہ نتیجے تک پہنچنا چاہیں تو اس کا جواب یہ دیا جائے گا:

اولاً قرآن میں تحریف واقع ہونے سے مذکورہ بالا اجمالی علم لازم نہیں آتا۔ ثانیاً یہ اجمالی علم واجب العمل نہیں ہے کیونکہ اجمالی علم اس صورت میں واجب العمل ہوتا ہے جب جس چیز کے واجب ہونے کا احتمال ہے ان سب سے واسطہ پڑے، یعنی سب واجب ہوسکتے ہیں۔

ہماری اس بحث میں ایسا نہیں ہے، اس لیے کہ ان احتمالی تحریف شدہ آیات میں سے کچھ آیات ایسی ہیں جن کا تعلق احکام سے نہیں ہے۔ اس قسم کی آیات کا کوئی عملی اثر نہیں ہوا کرتا۔

بعض اوقات تحریف کے حامی حضرات یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اگرچہ تحریف کی وجہ سے قرآن کی حجیت ختم ہو جاتی ہے لیکن ظواہر قرآن سے ائمہ (ع) کے استدلال اور انؑ کی طرف سے استدلال اصحاب کی تائید سے قرآن کی حجیت بحال ہوجاتی ہے۔

یہ دعویٰ صحیح نہیں ہے اس لیے کہ ائمہ (ع) اپنے استدلال اور استدلال اصحاب کی تائید سے قرآن کی حجیت نہیں بنا رہے بلکہ وہ اس لیے استدلال اور استدلال کی تائید کرتے تھے کہ قرآن کی حجیت پہلے سے بذات خود ثابت تھی۔


نماز میں سورتوں کی اجازت

۴۔ عدم تحریف کی چوتھی دلیل یہ ہے کہ ائمہ (ع) نے واجب نماز کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے بعد کم از کم ایک مکمل سورۃ پڑھنے کا حکم دیا ہے اور نماز آیات میں ایک مکمل سورۃ یا زیادہ کو پانچ حصوں میں تقسیم کرکے ہر رکوع سے پہلے ایک حصہ پڑھنا جائز قرار دیا ہے اور جب سے شریعت میں نماز کااعلان کیا گیا ہے یہ احکام ثابت اور موجود ہیں۔ یہ بھی نہیں کہا جاسکتا کہ ائمہ نے تقیہ کے طور پر یہ احکام بیان فرمائے تھے، کیونکہ اس وقت تقیہ کا کوئی موقع نہیں تھا۔

بنابرایں جو حضرت تحریف کے قائل ہیں وہ ایسے سورے پر اکتفا نہیں کرسکتے جس میں تحریف کا احتمال ہو کیونکہ جس عمل کے واجب ہونے کا یقین ہو اس کی ادائیگی کا یقین حاصل کرنا واجب ہے (اور جس سورۃ میں بھی تحریف کا احتمال ہو اس کو پڑھ کر یہ یقین حاصل نہیں ہوتا کہ واجب ادا ہوگیا ہے، کیونکہ ممکن ہے تحریف شدہ سورۃ پڑھا گیا ہو)۔

کبھی تحریف کے قائل یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ سورۃ فاتحہ کے بعد ایک مکمل سورۃ پڑھنا واجب ہی ہیں ہے، اس لیے کہ کسی بھی سورہ کو پڑھنے کے بعد انسان یہ یقین حاصل نہیں کرسکتا کہ اس نے ایک مکمل سورہ پڑھ لیا ہے۔ جب ایسا یقین حاصل کرنا ممکن نہیں ہے تو واجب بھی نہیں ہے۔ اس لیے کہ خداناممکن کام کی ذمہ داری عائد نہیں کرتا۔

یہ دعویٰ تب درست ہوگا جب قرآن کی تمام سورتوںمیں تحریف کااحتمال ہو۔ لیکن اگر قرآن میں ایسی سورتیں موجود ہیں جن میں تحریف کا احتمال نہ ہو، جیسے سورۃ توحید ہے، تو مکلف پر واجب ہے کہ وہ سورۃ توحید کے علاوہ کوئی اور سورۃ نہ پڑھے۔ اگرچہ ائمہ (ع) نے قرآن سے ہر سورۃ کے پڑھنے کی اجازت دی ہے لیکن تحریف کے قائل اس سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کرسکتے کہ گو تحریف کی وجہ سے ائمہ (ع) کی اجازت سے قبل ہر آیہ پڑھنا جائز نہیں تھا لیکن ائمہ (ع) کی اجازت کے بعد کسی بھی سورہ کو پڑھا جاسکتا ہے۔


یہ نتیجہ اس لیے اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ ائمہ (ع) کی طرف سے ہر سورہ پڑھنے کی اجازت ملنا اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن میں تحریف واقع نہیں ہوئی اگر تحریف واقع ہوئی ہوتی تو اس قسم کی اجازت سے واجب نماز کا بلاوجہ فوت ہونا لازم آتا ہے اوراگر قرآن کے بعض سوروں میں تحریف کا احتمال ہوتا اور باقیوں میں نہ ہوتا تو ائمہ (ع) صرف انہیں سورتوں کو واجب قرار دیتے جن میں تحریف کا احتمال نہ ہو اور یہ تقیہ کے خلاف بھی نہ سمجھا جاتا، جبکہ ہمیں معلوم ہے کہ ائمہ (ع) نے سورۃ توحید اور سورۃ قدر کو ہر نماز میں پڑھنا مستحب قرار دیا ہے۔

ائمہ (ع) کی نظر میں اس بات سے کون سی چیز مانع تھی کہ وہؑ سورہ توحید اور سورہ قدر یا کسی اور ایسے سورہ کو واجب قرار دے دیتے جس میں تحریف کا احتمال نہ ہو۔

مگر یہ کہ تحریف کے قائل یہ کہیں کہ پہلے قرآن سے ایک مکمل سورہ پڑھنا واجب تھا اور بعد میں یہ حکم منسوخ کردیا گیا اور موجودہ قرآن سے ہر سورہ کو پڑھنا جائز قرار دیا گیا۔ لیکن میں نہیں سمجھتا کہ تحریف کے قائل حضرات اس قسم کے نسخ کے قائل ہوں گے کیونکہ رسول اسلامؐ کے بعد یقیناً کوئی نسخ واقع نہیں ہوا اگرچہ نسخ کا ممکن اور محال ہونا متنازع فیہ ہے جو ہماری اس بحث سے خارج ہے۔

خلاصہئ بحث ی ہہے کہ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ ائمہ (ع) نے موجودہ قرآن میں سے کوئی سا بھی سورہ پڑھنے کا حکم دیا ہے جس میں تقیہ کا شائبہ تک نہیں ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کے زمانے میں بھی یہی حکم تھا کہ کوئی سا سورہ پڑھ لیا جائے یا آپ کے زمانے میں کوئی اور حکم تھا اور یہ حکم بعد میں وضع کیا گیا۔

دوسری صورت (یعنی رسول اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کے زمانے میں حکم کوئی اور تھا) تو ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ یہ نسخ ہے جو آنحضرتؐ کے بعد یقیناً واقع نہیں ہوا اگرچہ یہ بذات خود ممکن ہے۔ لامحالہ رسول اسلامؐ کے زمانے میں بھی یہی حکم تھا جو ائمہ اطہار (ع) نے بیان فرمایا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن میں تحریف واقع نہیں ہوئی۔


یہ استدلال صرف نماز سے مختص نہیں ہے بلکہ یہ ہر اس مقام پر ہوسکتا ہے جہاں ائمہ اطہار (ع) نے ایک مکمل سورہ یا آیۃ کو پڑھنے کا حکم دیا ہے۔

خلفاء پر تحریف کا الزام

۵۔ عدم تحریف کی پانچویں دلیل یہ ہے کہ تحریف کے قائل رسول اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کے بعد حضرت ابوبکر اور حضرت عمر پر تحریف کا الزام عائد کرسکتے ہیں یا حضرت عثمان پر یا کسی اور حکمران پر یہ الزام عائد کرسکتے ہیں۔ لیکن یہ تینوں دعوے باطل ہیں۔

حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی طرف سے تحریف اس لیے نہیں ہوسکتی کہ:

i ۔ تحریف جان بوجھ کر نہیں بلکہ غیر اختیاری طورپر اور مکمل قرآن تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے ہوئی ہوگی اس لیے کہ اس سے پہلے قرآن جمع نہیں کیا گیا تھا۔ یا انہوں نے عمداً تحریف کی ہوگی۔

ii ۔ ایسی آیات میں تحریف ہوئی ہوگی جن کا ان کی حکومت سے کوئی تعلق نہ ہو۔

یا

iii ۔ عمداً تحریف کی صورت میں تحریف شدہ آیات ان کی حکومت سے متعلق ہوں گی۔

یہ تینوں احتمالات باطل ہیں۔

i ) مکمل قرآن تک ان کی دست رسی نہ ہونے کا احتمال بالکل بے بنیاد اور باطل ہے۔ کیونکہ پیغمبر اسلامؐ کا قرآن حفظ کرنے اور اس کی تلاوت کرنے کا حکم دینے اور آپ کے زمانے میں اور آپ کی وفات کے بعد صحابہ کرام کا قرآن کو حد سے زیادہ اہمیت دینے سے ہم قطعی طور پر اس نتیجے تک پہنچتے ہیں کہ صحابہ کرام کے پاس قرآن جمع شدہ یا متفرق طور پر، سینوں میں یا کاغذات میں، ضرور محفوظ ہوگا۔


وہ صحابہ کرام جنہوں نے زمانہ جاہلیت کے اشعار اور خطبات کی حفاظت و نگہداری میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا، اس کلام پاک کی حفاظت میں کیسے کوتاہی کرتے جس کی راہ میں انہوں نے اپنی جان تک کی بازی لگا دی، وطن سے جلاوطن ہوناگوارا کیا، بیوی بچوں کی جدائی برادشت کی اور اسی قرآن کی راہ میں ان کٹھن ارو طاقت فرسا مراحل سے گزرے جن سے انہوں نے تاریخ کو سرخ کردیا۔

اس کے باوجود کوئی عاقل یہ احتمال دے سکتا ہے کہ ان حضرات نے قرآن کی حفاظت میںمعمولی سی بھی غفلت اورکوتاہی کی ہوگی جس سے قرآن ضائع ہوگیا اور اس کے ثبوت کے لیے دو عادل گواہوں کی ضرورت پڑی ہو؟

عقلی اور تاریخی اعتبار سے جس طرح قرآن میں اضافہ ہونا قابل قبول نہیں اسی طرح یہ احتمال بھی قابل قبول نہیں۔

اس کے علاوہ حدیث ثقلین بھی اس احتمال کے بطلان پر دلالت کرتی ہے۔ اگر آپ کے زمانے میں قرآن کا کچھ حصہ ضائع ہوگیا ہو تو ''انی تارک فیکم ثقلین کتاب اللہ و عترتی،، کہنا درست نہ ہوتا۔ کیونکہ اس صورت میں سارا نہیں بلکہ کچھ قرآن چھوڑا جارہا ہوتا۔

بعض روایات میں تو اس بات کی تصریح موجود ہے کہ رسول اسلامؐ کے زمانے میں ہی قرآن کی مکمل تدوین اور جمع آوری ہوچکی تھی۔ کیونکہ کسی موضوع سے متعلق متفرق یا سینوں میں محفوظ مطالب کو کتاب نہیں کہا جاسکتا اور ہم آئندہ صفحات میں یہ بحث کریں گے کہ آپ کے زمانے میں قرآن کی جمع آوری کی سعادت کس نے حاصل کی۔

اگر یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ آنحضرتؐ کے زمانے میں مسلمانوں نے جمع قرآن کا کوئی اہتمام نہیں کیا تھا تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن کے حفظ اور تلاوت کو اتنی اہمیت دینے کے باوجود اس کی جمع آوری کو آپ نے اتنی اہمیت کیوں نہ دی جس کی وجہ سے وہ ضائع نہ ہو جائے؟


کیا آپ اس غفلت و کوتاہی کے نتائج سے آگاہ نہ تھے؟

یا وسائل کے فقدان کی وجہ سے قرآن کی جمع آوری پر قادر نہیں تھے؟

ii ) دوسرا یہ احتمال کی شیخین نے عمداً ان آیات میں تحریف کی ہو جن کا ان کی حکومت سے کوئی تعلق نہیں تھا، بذات خود بعید ہے اس لیے کہ اس قسم کی تحریف سے ان کی کوئی غرض وابستہ نہیں ہوسکتی۔ عملی اعتبار سے یقیناً ان سے اس قسم کی تحریف واقع نہیں ہوئی۔

وہ اس طرح کی تحریف کر بھی کس طرح سکتے تھے جبکہ خلافت کی بنیاد ہی سیاست اور دینی معاملات کو اہمیت دینے پر قائم تھی۔ اگر ان سے تحریف ہوئی ہے تو ان کی بیعت سے انکار کرنے والوں نے اپنے احتجاج میں اس کا ذکر کیوں نہیں کیا؟ سعد بن عبادہ اور اس کے ساتھیوں نے اعتراض کے طور پر اس کا ذکر کیوں نہیں کیا اورحضرت امیر المومنین (ع)نے اپنے خطبہئ شقشقیہ اور دیگر خطبات میں جہاں ان کی اور خامیاں بیان فرمائی ہیں، تحریف قرآن کا تذکرہ کیوں نہیں کیا؟

یہ دعویٰ بھی ناممکن اور غیر معقول ہے کہ تحریف کی وجہ سے مسلمانوں نے شیخین پر اعتراض تو کیا ہو لیکن اس کی خبر ہم تک نہ پہنچی ہو۔

iii ) تیسرا یہ احتمال کہ عمداً ان آیات میں تحریف کی ہو جن کا تعلق ان کی حکومت سے تھا، یہ تحریف بھی یقیناً واقع نہیں ہوئی کیونکہ امیر المومنینؑ، آپ کی زوجہئ صدیقہ طاہرہؑ اور آپ کے کچھ اصحابؓ نے خلافت کے سلسلے میں شیخین پر اعتراض کیا، رسول اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) سے مروی روایات کے ذریعے ان کے خلاف دلائل پیش کئے، مہاجرین و انصار کو بھی اس سلسلے میں گواہ کے طور پر پیش کرتے رہے۔ منجملہ ان روایات کے حدیث غدیر کے ذریعے بھی احتجاج کیا گیا۔


مرحوم طبرسی نے کتاب ''احتجاج،، میں حضرت ابوبکر کے خلاف بارہ آدمیوں کے احتجاج کو نقل کیا ہے جنہوں نے حضرت ابوبکر کے سامنے آنحضرتؐ کی نص صریح کو بیان کیا۔

مرحوم مجلسی نے اپنی کتاب''بحار الانوار،، میں ایک مکمل باب کو خلافت سے متعلق امیر المومنین (ع)کے احتجاج و دلائل سے مختص کیا ےہ۔

پس اگر قرآن میں ان کی حکومت اور خلافت سے متعلق کوئی آیہ ہوتی جس میں انہوں نے تحریف کی ہوتی تو اس کا ذکر احتجاج کے طور پر ضرور کیا جانا چاہیے تھا بلکہ خلافت کے موضوع پر باقی دلیلیوں کی نسبت ان آیات کو زیادہ اہمیت حاصل ہونی چاہیے تھی۔ خصوصاً جبکہ خلافت کا معاملہ بقول ان کے جمع قرآن سے پہلے پیش آیاتھا۔

اس کے باوجود صحابہ کرام کی طرف سے ابتدائی خلافت سے لے کر حضرت علیؑ کی خلافت تک تحریف قرآن کا ذکر نہ آنا اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ قرآن میں تحریف نہیں ہوئی۔

باقی رہا یہ احتمال کہ حضرت عثمان نے تحریف کی ہو، یہ پہلے سے بھی زیادہ بعید اور ضعیف ہے ،کیونکہ:

i ۔ حضرت عثمان کے زمانے میں اسلام اتنا پھیل چکا تھا کہ حضرت عثمان قرآن میں سے کچھ کم کرہی نہیں سکتے تھے اور نہ ہی وہ کم کر سکتا تھا جس کا مقام حضرت عثمان سے زیادہ بلند ہوتا۔

ii ۔ اگر یہ تحریف ان آیات میں کی ہوتی جن کا خلافت سے کوئی تعلق نہیں تھا تو اس تحریف کی کوئی وجہ نہیں ہوسکتی اور ان آیات میں بھی یقیناً تحریف نہیں ہوسکتی جن کا تعلق خلافت سے ہوتا۔ اس لیے کہ اگر اس قسم کی کوئی آیہ ہوتی اور وہ حضرت عثمان کے زمانے تک مسلمانوں میں مشہور ہوگئی ہوتی تو خلافت ہی حضرت عثمان تک نہ پہنچتی۔

iii ۔ اگر تحریف قرآن کے مرتکب حضرت عثمان ہوتے تو یہ قائلین حضرت عثمان کے لیے معقول عذر اور بہترین دلیل بنتی اور قائلین کو یہ جواز پیش کرنے کی ضرورت نہ پڑتی کہ حضرت عثمان نے بیت المال کے سلسلے میں سیرت شیخین کی مخالفت کی ہے یا اس کے علاوہ دوسرے احتجاجوں کی ضرورت نہ ہوتی۔


iv ۔ اگر حضرت عثمان نے تحریف کی ہوتی تو حضرت امیر المومنین (ع)کو چاہیے تھا کہ حضرت عثمان کے بعد تحریف شدہ حصے دوبارہ قرآن میں شامل فرما دیتے ،جس طرح قرآن رسول اسلامؐ اور شیخین کے زمانے میں پڑھا جاتا تھا اور آپ کا یہ عمل قابل تنقید نہ ہوتا اپنے ہدف تک پہنچنے میں یہ زیادہ مؤثر ہوتا اور خون حضرت عثمان کے انتقام کے نام پر قیام کرنے والوں کے خلاف یہ ایک مستحکم دلیل بنتا۔ اس کے علاوہ آپ کا یہ عمل اس اقدام سے بھی ہم آہنگ ہوتا جس کے ذریعے آپ نے حضرت عثمان کی عطا کردہ جاگیریں بیت المال میں لوٹانے کا حکم دیا تھا۔ ا سلسلے میں آپ فرماتے ہیں:

''والله لو وجدته قد تزوج به النساء و ملک به الاماء لرددته فان فی العدل سعة، و من ضاق علیه العدل فالجور علیه أضیق،، (۱)

''خدا کی قسم! اگر مجھے کہیں ایسا مال بھی نظر آئے جو عورتوں کے مہر اور کنیزوں کی خریداری پر صرف کیا جاچکا ہو تو اسے بھی واپس پلٹا دوں گا کیونکہ عدل کے تقاضوں کو پورا کرنے میں زیادہ وسعت ہے اور جسے عدل کی صورت میں تنگی محسوس ہو اسے ظلم کی شک میں اور زیادہ تنگی مسحوس ہوگی۔

بیت المال کے بارے میں امیر المومنین (ع)کا مؤقف یہ ہے۔ اب اہل انصاف خود بتائیں کہ اگر قرآن میں تحریف ہوئی ہوتی تو امیر المومنین (ع)کا موقف کیا ہوتا۔

بنابرایں امیر المومنین (ع)کا موجودہ قرآن کی تائید کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس میں کسی قسم کی تحریف نہیں ہوئی۔

جہاں تک ہماری معلومات کا تعلق ہے آج تک کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ خلفائے ثلاثہ کے بعد قرآن میں تحریف ہوئی ہے۔

البتہ بعض تحریفی حضرت کی طرف یہ بات منسوب کی گئی ہے کہ جب حجاج بن یوسف ثقفی نے بنی امیہ کی مدد شروع کی تو اس نے قرآن سے ان آیات کو حذف کرادیا جو بنی امیہ کی مذمت میں نازل ہوئی تھیں اور ان کی جگہ ایسی آیات کا اضافہ کردیا جو قرآن کا حصہ نہیں تھیں۔

____________________

(۱) نہج البلاغہ، خطبہ نمبر ۱۵۔


اس طرح جدید قرآنی نسخے مرتب کرکے مصر، شام، مکّہ، مدینہ اور کوفہ و بصرہ بھجوا دیئے، اور آج کا موجودہ قرآن انہی نسخوں کے مطابق ہے۔ باقی جتنے بھی قرآنی نسخے تھے وہ جمع کروا دیئے گئے اور ایک نسخہ تک باقی نہ رہا۔(۱)

یہ دعویٰ ہذیان اور مجذوب کی بڑ معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ حجاج جو بنی امیہ کے والیوں میں سے ایک والی تھا، اس کی کیا جراءت تھی کہ قرآن میں تحریف کرنے کی جسارت کرتا بلکہ وہ فروع دین میں سے بھی کسی میں رد و بدل کرنے کا مرتکب نہیں ہوسکتا تھا، چہ جائیکہ وہ قرآن میں تحریف کا مرتکب ہوتا جو اساس دین اور سرچشمہئ شریعت ہے۔ اس کی کیا قدرت اورمجال تھی کہ وہ سارے اسلامی ممالک میں پھیلے ہوئے قرآنلوں کی طرف دست تجاوز دراز کرتا۔

اگر اس نے اس جرم کا ارتکاب کیا تھا تو مؤرخین نے اس عظیم المیہ کا ذکر کیوں نہیں کیا اورکیوں اسے اپنی تنقید کا نشانہ نہیں بنایا؟ حالانکہ اس غیر معمولی سانحہ کا تقاضہ تھا کہ یہ تاریخ میں ثبت ہو جاتا۔ جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ نہ تو حجاج کے زمانے میں کسی مسلمان نے اسے نقل کیا ہے اور نہ اس کے دور حکومت کے بعد کسی نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ تمام مسلمانوں نے حجاج کے دور حکومت کے بعد بھی اس سنگین جرم سے چشم پوشی کی ہو۔

فرض کیجیئے حجاج میں یہ قدرت تھی کہ وہ قرآن کے تمام نسخوں کو اکٹھا کرلے اور تمام اسلامی ممالک میں ایک نسخہ بھی باقی نہ رہنے دے۔ لیکن کیا مسلمانوں کے سینوں اور حافظان قرآن کے دلوں سے بھی وہ قرآن کو خارج کرسکتا تھا؟ جبکہ اس وقت مسلمانوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ جسے خدا ہی جانتا ہے۔

اس کے علاوہ اگر قرآن بنی امیہ کے خلاف کوئی آیہ ہوتی تو حجاج سے پہلے معاویہ اسے قرآن سے خارج کرنے کی کوشش کرتا جس کی قدرت و طاقت حجاج سے کئی گنا زیادہ تھی۔ اگر معاویہ اس جرم کا مرتکب ہوتا تو اصحاب امیر المومنین (ع)معاویہ کے خلاف جہاں دوسرے احتجاجات اور دلائل پیش کرتے تھے جو تاریخ، کتب حدیث اور علم کلام میں ثبت ہیں، وہاں تحریف قرآن کے مسئلے

____________________

(۱) مناہل العرفان، ص ۲۵۷۔


کو بھی اٹھاتے۔ حالانکہ تاریخ میں اس کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔

ہمارے گذشتہ بیانات سے یہ حقیقت بھی کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ تحریف کا دعویٰ کرنے والے عقلی بدیہیات کے مخالف اور منکر ہیں۔ ایک ضرب المثل مشہور ہے۔

''حدث الرجل بما لا یلیق فان صدق فهو لیس بعاقل،،

''کسی آدمی سے غیر معقول بات کریں، اگر وہ اس کی تصدیق کرے تو سمجھ لیں کہ وہ عقلمند نہیں ہے۔،،

قائلین تحریف کے شبہات

تحریف کے قائل جن شبہات اور غلط فہمیوں کا سہارا لیتے ہیں ان کا بھی ذکر کرنا اور جواب دینا ضروری ہے:

پہلا شبہ:

تورات اور انجیل میں یقیناً تحریف ہوئی ہے اور شیعہ و سنی روایات متواترہ سے ثابت ہے کہ گذشتہ اقوام میںجو واقعات رونما ہوئے ہیں اس امت میں بھی ضرور واقع ہوں گے۔ چنانچہ شیخ صدوق اپنی کتاب ''اکمال الدین،، میں فرماتے ہیں کہ غیاث بن ابراہیم نے امام صادق(ع) سے اور آپ نے اپنے آباؤ اجداد(ع) سے نقل فرمایا ہے:

''قال رسول الله صلی الله علیه و آله وسلم کل ما کان فی الأمم السالفة، فانه یکون فی هذه الامة مثله حذو النعل بالنعل، و القذه بالقذه،، (۱)

''پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے فرمایا: جو کچھ گذشتہ اُمّتوں میں واقع ہوا ہے، بعینہ موبہ مو اس امت میں بھی واقع ہوگا۔،،

_____________________

(۱) بحار، باب افتراق الامۃ بعد النبی(ص) علی ثلاث و سبعین فرقہ، ج ۸، ص ۴، اس حدیث کے بعض حوالے اہل سنت کی سند سے اسی کتاب میں گزر چکے ہیں۔


اس حدیث کا نتیجہ یہ ہے کہ قرآن میں تحریف ضرور واقع ہوئی ہوگی ورنہ اس حدیث کا معنی صحیح نہ ہوگا۔

جواب:

i ۔ ایسی روایات، جن کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، سب کی سب خبر واحد ہیں جو باعث علم و عمل نہیں ہوسکتیں ان کے متواتر ہونے کا دعویٰ بلا دلیل ہے اور کتب اربعہ (اصول کافی، تہذیب، من لایحضرہ الفقیہ اور استبصار) میں ان کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تورات میں تحریف ہونے اور قرآن میں تحریف ہونے میں کوئی ملازمہ نہیں ہے (تورات میں تحریف ہوئی ہے تو ضروری نہیں کہ قرآن میں بھی تحریف ہو)۔

ii ۔ اگر یہ دلیل درست ہو تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ قرآن میں اضافہ بھی ہوا ہو جس طرح تورات و انجیل میں اضافہ ہوا ہے اور اس کا بطلان واضح ہے۔

iii ۔ گذشتہ امتوں میں بہت سے ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جو اس امت میں رونما نہیں ہوئے۔ مثلاً بچھڑے کی پوجا کرنا، بنی اسرائیل کا چالیس سال سرگداں رہنا، فرعون اور اس کے ساتھیوں کا غرق ہونا، حضرت سلیمانؑ کا جن و انس پر حکومت کرنا، حضرت عیسیٰؑ کو آسمان کی طرف لے جانا، حضرت موسیٰ! کے وحی حضرت ہارونؑ کا حضرت موسیٰؑ سے پہلے وفات پانا، حضرت موسیٰؑ سے نو معجزات رونما ہونا۔ بغیر باپ کے حضرت عیسیٰؑ کی ولادت،گذشتہ اقوام میں سے بہت سی قوموں کا بندروں اور خنزیروں کی صورت میں مسخ ہونا اور اس قسم کے بیشمار واقعات ایسے ہیں جوگذشتہ اقوام میں تو واقع ہوئے ہیں لیکن اس اُمّت میں ان کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔

یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ معصومؑ کی مراد ہو نہیں جو ظاہری طور پر روایات سے سمجھی جاتی ہے۔ لامحالہ ان روایات کا مطلب یہ ہے کہ بعض باتوں میں اس امت کو گذشتہ امتوں سے تشبیہ دی گئی ہے، ہر واقعہ میں نہیں۔


بنابرایں اگرچہ قرآن کا کوئی حصہ کم نہیں کیا گیا لیکن قرآن کے حروف اور الفاظ برقرار رکھتے ہوئے اس کے احکام اور حدود کی پیروی نہ کرنے پر بھی تحریف صادق آتی ہے۔ چنانچہ اس بحث کے آغاز میں مذکورہ روایت کا مفہوم بھی یہی تھا۔ اس کی تائید و تاکید ابو واقدلیثی کی روایت سے بھی ہوتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں:

''خیبر کی طرف جاتے ہوئے رسول اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) مشرکین کے ایک درخت کے قریب سے گزرے جو ''ذات انواط،، کہلاتا تھا، مشرکین اس پر اپنا اسلحہ لٹکاتے تھے، اصحاب پیغمبرؐ نے عرض کیا: یا رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) جسطرح مشرکین کے پاس ''ذات انواط،، ہے ہمارے لیے بھی ایک ''ذات انواط،، کا بندوبست فرمائیں۔ آپ نے فرمایا: سبحان اللہ! یہ اسی طرح جیسے حضرت موسیٰؑ کی قوم نے کہا تھا کہ آپ ہمارے لیے بھی بہت سے خداؤں کا انتظام کریں جس طرح ان کے کئی خدا ہیں۔ قسم بخدا! تم بھی گذشتہ اقوام کی سنت پر عمل کرو گے۔،،(۱)

یہ روایت تصریح کرتی ہے کہ اس امت میں رونما ہونے والے واقعات بعض جہات سے گذشتہ اقوام کے واقعات سے مشابہت رکھتے ہیں، ہر لحاظ سے نہیں۔

iv ۔ اگر یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ یہ روایات سند کے اعتبار سے متواتر ہیں اور ان کا معنی بھی وہی ہے جیسا کہ تحریف کے قائل حضرات کہتے ہی، پھر بھی ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ گذشتہ زمانے میں قرآن میں تحریف ہوئی ہے۔ اس لیے کہ ہوسکتا ہے آئندہ زمانے میں قرآن میں کو ئی کمی بیشی ہونے والی ہو۔ کیوں کہ بخاری کی روایت کے مطابق قیامت تک اس اُمّت کے واقعات گذشتہ اُمّتوں کے واقعات کی مانند رونما ہوتے رہیں گے۔

بنابرایں ان روایات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ صدر اسلام یا خلفاء کے دور میں قرآن میں تحریف واقع ہوئی ہے۔

_____________________

(۱) صحیح ترمذی، باب ''ما جاء لترکبن سنن من کان قبلکم،، ج ۹، ص ۲۶۔


دوسرا شبہ:

تحریف کی دوسری دلیل یہ ہے کہ امیر المومنین (ع)کے پاس موجودہ قرآن کے علاوہ ایک اور قرآن تھا جسے آپ نے لوگوں کے سامنے پیش کیا مگر انہوں نے اسے ماننے سے انکار کردیا۔ یہ قرآن کچھ ایسے حصوں پر مشتمل تھا جو موجودہ قرآن میں نہیں ہیں۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ موجودہ قرآن امیر المومنین (ع)کے پاس موجود قرآن سے کم ہے اور یہی وہ تحریف ہے جس کی نفی و اثبات میں اختلاف ہے اور اس موضوع کی روایات بہت سی ہیں۔

i ۔ ان میں سے ایک روایت میں ہے کہ امیر المومنین (ع)نے مہاجرین اور انصار کی ایک جماعت کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے فرمایا:

''یا طلحة ان کل آیة أنزلها الله تعالیٰ علی محمد صلی الله علیه و آله عندی باملاء رسول الله(صلّی اللّه علیه وآله وسلّم) و خط یدی، و تأویل کل آیة أنزلها الله تعالیٰ علی محمد ؐو کل حلال ،أو حرام، أو حدّ، أو حکم، أو شیء تحتاج الیه الأمة الی یوم القیامة، فهو عندی مکتوب باملاء رسول الله و خط یدی، حتی أرش الحدش ۔۔۔،، (۱)

''اے طلحہ! قرآن کی ہر آیت جو خدا نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل فرمائی، میرے پاس موجود ہے، جس کی املاء رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے لکھوائی اور میں نے اپنے ہاتھ سے لکھی۔ ہر اس آیت کی تاویل جو خدا نے محمدؐ پر نازل فرمائی، ہر حلال، حرام، حد، حکم اور ہر وہ چیز جس کی امت محمدیؐ کو قیامت تک احتیاج ہے میرے پاس رسول خدا(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کی دی ہوئی املاء میں میرے ہاتھ کی لکھی ہوئی موجود ہے۔ حتیٰ کہ اس میں ایک خراش کی حد (سزا) تک کا ذکر موجود ہے۔،،

______________________

(۱) مقدمہ تفسیر ا لبرھان، ص ۲۷، ا س روایت میں یہ تصریح موجود ہے کہ موجودہ قرآن میں جو کچھ ہے وہ سب قرآن ہی ہے۔


ii ۔ امیر المومنین (ع)کا ایک زندیق سے استدلال کے بارے میں ہے:

''أتی بلکتاب کملاً مشتملاً علی التأویل و التنزیل، و المحکم و المتشابه ،و الناسخ و المنسوخ، لم یسقط منه حرف ألف و لا لام فلم یقباوا ذلک،، (۱)

''آپ نے ایک ایسی مکمل کتاب پیش کی جو تاویل و تنزیل، محکم و متشابہ اور ناسخ و منسوخ پر مشتمل تھی اور اس میں سے ایک الف اور لام تک ضائع نہیں ہوا تھا۔ مگر ان لوگوں نے قبول نہیں کیا۔،،

iii ۔ کافی میں جابر کی سند سے امام محمد باقر(ع) سے مروی ہے۔ آپ نے فرمایا:

''ما یستطیع احد ان یدعی ان عنده جمیع القرآن کله، ظاهره و باطنه غیر الاوصیائ،، (۲)

''سوائے اوصیاء کرامؑ کے کوئی انسان یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ قرآن کا ظاہر و باطن غرض سارا قرآن اس کے پاس موجود ہے۔،،

iv ۔ جابر امام محمد باقر(ع) سے روایت کرتے ہیں:

''سمعت اءبا جعفرؑ یقول ما ادّعی اءحد من

''لوگوں میں سے جو بھی قرآن کو اس طرح جمع کرنے کا دعویٰ کرے

الناس أنه جمع القرآن کله کما أنزل الا کذاب، و ما جمعه وحفظه کما نزله الله تعالیٰ الا علی بن ابی طالب و الأئمة من بعده علیهم السلام،، (۳)

جس طرح وہ نازل ہوتا تھا وہ کذاب ہوگا۔ سوائے امیر المومنین (ع)اور باقی ائمہ طاہرین (علیہم السلام) کے کسی نے بھی قرآن کو اس طرح جمع اور محفوظ نہیں کیا جس طرح وہ نازل ہوا تھا۔،،

____________________

(۱) تفسیر صافی المقدمہ السادسہ، ص ۱۱۔

(۲) الوافی، ج ۲، کتاب الحجۃ، باب ۷۶۔ ص ۱۳۰۔

(۳) الوافی، ج ۲، کتاب الحجۃ باب ۷۶، ص ۱۳۰۔


جواب:

اس میں کوئی شک نہیں کہ امیر المومنین (ع)کے پاس ایک ایسا قرآن موجود تھا جو سوروں کی ترتیب کے اعتبار سے موجودہ قرآن سے مختلف تھا۔ جس پر تمام علماء کا اتفاق ہے اور یہ محتاج دلیل نہیں۔ اگرچہ یہ بھی اپنے مقام پر درست ہے کہ امیر المومنین (ع)کا قرآن کچھ ایسی زاید چیزوں پر مشتمل تھا جو موجودہ قرآن میں نہیں ہیں لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ زاید چیزیں قرآن کا حصہ تھیں جو تحریف کی وجہ سے حذف کردی گئی ہیں بلکہ صحیح اور حق یہ ہے کہ ان زاید چیزوں میں کلام کی تفسیر اور اس کی تاویل بیان کی گئی ہے یا مقصود الہٰی کی تشریح کی گئی ہے۔

دراصل اس شبہ یا دلیل کی بنیاد یہ ہے کہ تنزیل سے مراد وہ کلام ہو جو بطور قرآن نازل کیا گیا ہو اور تاویل سے کسی لفظ سے ایسی مراد کا قصد کیا جائے جو ظاہری معنی کے خلاف ہو۔ لیکن یہ دونوں معنی متاخرین کی اصطلاح ہیں۔

لغت میں ان دونوں معنی کا کوئی نام و نشان نہیں ہے تا کہ روایات میں تاویل و تنزیل سے یہ معانی مراد لیے جائیں۔

تاویل جو ''اول،، کا مزید فیہ ہے اس کا معنی رجوع اور برگشت ہے، جیسا کہ کہا جاتا ہے:''اول الحکم الی اهله ای رده الیهم،، (یعنی) ''حکم کو اپنے اہل کی طرف پلٹاؤ،،۔

کبھی تاویل سے انجام کار مراد ہوتا ہے۔ چنانچہ اس آیہ کریمہ میں یہ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے:

( وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ ) ۱۲:۶

''اور (تمہارا پروردگار) تمہیں خوابوں کی تعبیر سکھائے گا۔،،

( نَبِّئْنَا بِتَأْوِيلِهِ ) :۳۶

''ہم کو اس کی تعبیر بتاؤ۔،،

( هَـٰذَا تَأْوِيلُ رُؤْيَايَ ) :۱۰۰

''یہ تعبیر ہے میرے اس خواب کی۔،،


( ذَٰلِكَ تَأْوِيلُ مَا لَمْ تَسْطِع عَّلَيْهِ صَبْرًا ) ۱۸:۸۲

''یہ حقیقت ہے ان واقعات کی جن پر آپ سے صبر نہ ہوسکا۔،،

ان کے علاوہ بھی دوسرے مقامات پر لفظ تاویل انجام کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ بنابرایں تاویل قرآن سے مراد کلام کی بازگشت اور اس کا انجام ہے۔ چاہے یہ ظاہری معنی ہو جسے ہر اہل لغت سمجھ سکتا ہے یا ایک مخفی معنی ہو جسے صرف راسخین فی العلم سمجھتے ہیں۔

تنزیل بھی ثلاثی مزید فیہ ہے جس کی اصل نزول ہے، کبھی تنزیل نازل شدہ چیز کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔

( إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ ) ۵۶:۷۷

''بیشک یہ بڑے رتبے کا قرآن ہے۔،،

( فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ ) : ۷۸

''جو کتاب (لوح) محفوظ میں ہے۔،،

( لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ) : ۷۹

''اس کو بس وہی لوگ چھوتے ہیں جو پاک ہیں۔،،

( تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ ) :۸۰

''سارے جہاں کے پروردگار کی طرف سے (محمدؐ پر) نازل ہوا ہے۔،،

اس بیان کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ خدا کی طرف سے بطور وحی نازل ہونے والی ہر چیز قرآن ہی ہو۔ بنابراین ان روایات سے یہی استفادہ ہوتا ہے کہ حضرت علی (علیہ السلام) کے قرآن میں جو زاید چیزیں تھیں وہ قرآنی آیات کی تفسیر ان میں ان آیات کا انجام بیان کیا گیا ہے۔ یہ روایات ہرگز اس بات پر دلالت نہیں کرتیں کہ یہ زاید چیزیں قرآن کا حصہ تھیں۔


امیر المومنین (ع)کے قرآن میں منافقین کے جو نام مذکور ہیں وہ بھی اسی (تنزیل و تاویل) کے ذی میں آتے ہیں۔ کیونکہ ان منافقین کے نام یقیناً بطور تفسیر ذکر کئے گئے ہیں (اور وہ قرآن کا حصہ نہیں ہےں) اس امر پر وہ قطعی دلائل بھی دلالت کرتے ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کا کوئی بھی حصہ ضائع نہیں ہوا۔ اس کے علاوہ منافقین کے ساتھ پیغمبر اسلام ؐ کا جو برتاؤ تھا اس کا بھی یہ تقاضا نہیں کہ منافقین کے نام قرآن کی صورت میں نازل کیے جاتے کیونکہ آپ کا شیوہ یہ تھا کہ منافقین کو زیادہ سے زیادہ اپنے ساتھ شریک کرتے اور ان کی منافقت، جسے آپ بخوبی جانتے تھے، کو راز میں رکھتے تھے۔ یہ ایسی چیز ہے جو آپ کی سیرت اور حسن اخلاق سے آگاہ آدمی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ان حالات میں یہ کیسے ممکن ہے کہ ان منافقین کے ناموں کی قرآن میں تصریح کردی جائے اور دن رات خود منافقین اور مسلمانوں کو یہ تاکید کی جائے کہ منافقین پر لغت بھیجیں۔ کیا اس قسم کی روش کا احتمال بھی دیا جاسکتا ہے تاکہ اس کی صحت اوربطلان کے بارے میں سوچا جائے اور اس کے اثبات کے لیے ان روایات سے تمسک کیا جائے جن کے مطابق امیر المومنین (ع)اور اپنے دیگر اصحاب کے لیے بعض منافقین کے نام موجود ہیں؟!

البتہ تمام منافقین کو ابو لہب، جو کہ برملا رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) سے دشمنی کا مظاہرہ کرتا تھا اور رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) بھی یہ جانتے تھے کہ یہ مشرک ہی مرے گا، پر قیاس نہیں کیا جاسکتا(۱) ہاں! بعید نہیں کہ رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے امیر المومنین (ع)اور اپنے دیگر اصحاب کے یے بعض منافقین کی نشاندھی فرمائی ہو۔

گذشتہ مباحث کا خلاصہ یہ ہے ہوا کہ اگرچہ مصحف (قرآن) علی (علیہ السلام) میں کچھ زاید چیزیں موجود ہیں مگر یہ اس قرآن کا حصہ نہیں ہیں جس کی تبلیغ کا رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کو حک دیا گیا تھا اور ان زاید چیزوں کو قرآن کا حصہ قرار دینے کی کوئی دلیل ہی نہیں بلکہ یہ نظریہ بذات خود باطل ہے اور اس کے بطلان پر وہ تمام قطعی دلائل دلالت کرتے ہیں جن سے تحریف قرآن کی نفی ہوتی ہے۔

____________________

) ۱) یعنی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اگر قرآن میں ابولہب کا نام آسکتا ہے تو باقی منافقین کے نام کیوں نہیں آسکتے۔ (مترجم)


تیسرا شبہ

تحریف کی تیسری دلیل کے طور پر اہل بیت عصمتؑ کی ان متواتر روایات کو پیش کیا جاتا ہے جو تحریف پر دلالت کرتی ہےں۔

جواب:

یہ روایات متنازع فیہ معنی میں تحریف واقع ہونے پر دلالت نہیں کرتیں۔

وضاحت:

بہت سی روایات سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں،کیونکہ ان میں سے کچھ تو احمد بن محمد سیاری کی کتاب سے منقول ہیں جس کے فاسد المذاہب ہونے پر تمام علمائے رجال کا اتفاق ہے، اس کے علاوہ یہ تناسخ کا بھی قائل تھا۔ کچھ روایات علی بن احمد کوفی سے منقول ہیں جو علمائے رجال کے نزدیک کذاب اور فاسد المذاہب تھا۔

یہ روایات اگرچہ سند کے اعتبار سے ضعیف ہیں لیکن چونکہ کثرت سے ہیں اس لیے اتنا ضرور ثابت ہو جاتا ہے کہ بعض روایات ضرور ائمہ اطہار (ع) سے صادر ہوئی ہیں اور کم از کم اس کا ظن غالب ضرور حاصل ہو جاتا ہے۔

ان میں سے بعض روایات ایسی بھی ہیں جو معتبر طریقوں سے روایت کی گئی ہیں۔ لہٰذا ہر روایت کی سند کے بارے میں بحث کی ضرورت نہیں ہے۔

روایات تحریف

اس مقام پر یہ بحث ضروری ہے کہ ان روایات کا مفہوم ایک دوسرے سے مختلف ہے اور ان سے یکساں اسفادہ نہیں ہوتا، لہذا ہم ذ یل میں ان روایات کے مفاہیم اور خصوصیات بیان کرتے ہیں۔


یہ روایات کئی قسم کی ہیں:

i ۔ پہلی قسم کی روایات وہ ہیں جن میں لفظ تحریف کا ذکر ہے اور اس طرح وہ تحریف پر دلالت کرتی ہیں، ایسی روایتیں بیس ہیں۔ ان میں سے چند کا ذکر ہم یہاں کرتے ہیں اور ان جیسی دیگر روایات کا ذکر نہیں کرتے۔

پہلی روایت: علی بن ابراہیم قمی اپنی سند کے ذریعے ابوذر سے نقل کرتے ہیں:

''لما نزلت هذه الآیة: یوم تبیض وجوه و تسود وجوه، قال رسول الله(صلّی اللّه علیه وآله وسلّم) ترد امتی علی یوم القیامة علی خمس رایات ثم ذکر أن رسول الله صلی الله علیه و آله یسأل الریات عما فعلوا بالثقلین فتقول الرایة الأولی: أما الاکبر فحر فناه، و نبذناه وراء ظهورنا، و أما الأصغر فعادیناه، و أبغضناه، و ظلمناه و تقول الرایة الثانیة أما الأکبر فحر فناه، و مزقناه، و خالفناه، و أما الأصغر فعادیناه و قاتلناه ،،

''جب آیت کریمہ: ''یوم تبیض وجوہ و تسود وجود،، نازل ہوئی تو رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے فرمایا: روز قیامت میری امت پانچ جھنڈے اٹھائے میرے سامنے پیش ہوگی۔ حضرت ابوذر فرماتے ہیں رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) ہر گروہ سے پوچھیں گے: ثم ثقلین کے ساتھ کیا سلوک کرتے رہے؟ پہلا گروہ کہے گا: ہم نے ثقل اکبر (قرآن) میں تحریف کی اور اسے پس پشت ڈال دیا اور ثقل اصغر (عترت پیغمبرؐ) سے بغض و عداوت رکھی اور اس پر ظلم کیا۔ دوسرا گروہ کہے گا: ہم نے ثقل اکبر میں تحریف کی۔ اسے پھاڑا، ٹکڑے ٹکڑے کیا اور اس کی مخالفت کی اور ثقل اصغر سے دشمنی روا رکھی اور اس سے جنگ لڑی۔،،

دوسری روایت: ابن طاؤس اور سید محدث جزائری نے اپنی سندوں سے حسن بن حسن سامری سے ایک طویل حدیث نقل کی ہے جس میں رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے حدود الہٰی سے تجاوز کرنے والے کے بارے میں حذیفہ سے فرمایا:

''انه یضل الناس عن سبیل الله، و یحرف کتبابه، و یغیر سنتی،،

''یہ لوگوں کی راہ خدا سے منحرف، کتاب خدا میں تحریف اور میریؐ سنت کو تبدیل کرتا ہے۔


تیسری روایت: سعد بن عبداللہ قمی نے اپنی سند سے جابر جعفی اور اس نے امام محمد باقر (علیہ السلام) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:

''دعا رسول الله(صلّی اللّه علیه وآله وسلّم) بمنی قال: أیها الناس انی تارک فیکم الثقلین أما ان تمسکتم بهما لن تضلوا کتاب الله و عترتی والکعبة البیت الحرام ثم قال ابوجعفر : اما کتابالله فحرفوا، و أما الکعبة فهدموا، و أما فتقلوا، و کل ودائع الله قد نبذوا و منها قد تبرأوا،،

''رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے منیٰ میں دعا فرمائی اور پھر فرمایا: اے لوگو! میں تم میں دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں جب تک تم ان سے متمسک رہوگے ہرگز گمراہ نہ ہوگے۔ وہ دوگرانقدر چیزیں قرآن اور میری عترتؑ ہیں اور دیکھو! کعبہ، واجب الاحترام ہے۔ اس کے بعد امام(ع) نے فرمایا: لوگوں نے کتاب خدا میں تحریف کی، کعبہ کو گرایا، اور عترت پیغمبرؐ کو شہید کردیا۔ غرض انہوں نے خدا کی تمام امانتوں کو پس پشت ڈال دیا اور ان سے دور ہوگئے۔،،

چوتھی روایت: خصال میں صدوق نے اپنی سند سے جابر سے اور انہوں نے رسول اسلامؐ سے راویت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:

''یجیئ یوم القیامة ثلاثة یشکون: المصحف، و المسجد، العترة یقول المصحف یا رب حرفونی و مزقونی، و یقول المسجد یا رب عطلونی و ضیعونی، و تقول العترة یا رب قتلونا، و ردونا، و شر دونا،،

''تین چیزیں بارگاہ الہی میں شکایت کریں گی: قرآن، مسجد اور عترت پیغمبرؐ قرآن کہے گا: پالنے والے! لوگوں نے مجھ میں تحریف کی اور مجھے پھاڑ ڈالا۔ مسجد کہے گی: مجھے لوگوں نے بے آباد رکھا اور ضائع کردیا اور عترت محمد(ص) کہے گی: یارب! لوگوںنے ہمیں شہید کیا اور جلا وطن کیا۔،،


پانچویں روایت: علی بن سوید کہتے ہیں: میں نے امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) کو ایک خط لکھا جب آپ زندان میں تھے۔ علی بن سوید نے اپنے خط اور امام(ع) کے جواب کا مکمل ذکر کیا ہے، جس میں آپ نے فرمایا:

''کتبت الی أبی الحسن موسیٰ و هو فی الحبس کتابا الی أن ذکر جوابه بتمامه، و فیه سوله اؤتمنوا علی کتاب الله فحرفوه و بدلوه،،

''لوگوں میں کتاب الہٰی بطور امانت چھوڑ دی گئی مگر انہوں نے اس میں تحریف کی اور اسے تبدیل کردیا۔،،

چھٹی روایت: ابن شہر آشوب، اپنی سند سے عبداللہ سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت امام حسین (علیہ السلام) نے روز عاشور اپنے خطبے میں فرمایا:

''انما انتم من طواغیت الامة، و شذاذ الأحزاب، و نبذة الکتاب، و نفئة الشیطان، و عصبة الآثام، و محر فی الکتاب،،

''تم اس امت کے طاغوت، گھٹیا گروہ، قرآن کو پس پشت ڈالنے والے، شیطان کی اولاد، گناہ کے پتلے او رکتاب خدا میں تحریف کرنے والے لوگ ہو۔،،

ساتویں روایت: ابن قولویہ نے کتاب ''کامل الزیارات،، میں جسن بن عطیہ اور اس نے امام صادق(ع) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:

''اذا دخلت الحائر فقل: اللهم العن الذین کذبوا رسلک، وهدموا کعبتک، و حرفوا کتابک،،

''جب تم سید الشہداءؑ کے حرم میں داخل ہو تو کہو: ان لوگوں پر تیری لعنت ہو جنہوں نے تیرے رسولوں کی تکذیب کی، تیرے کعبہ کو منہدم کیا اور تیری کتاب میں تحریف کی۔

آٹھویں روایت: حجال نے قطبہ بن میمون سے اور اس نے عبد الاعلیٰ سے روایت کی ہے کہ امام جعفر صادق(ع) نے فرمایا:

''قال أبو عبدالله(ع) أصحاب العربیة یحرفون کلام الله عزوجل عن مواضعه،،

''عربیت پرست قرآن میں اس کی جگہوں میں تحریف کرتے ہیں۔،،


روایات کا حقیقی مفہوم

اس مضمون کی روایات کا جواب یہ ہے اور آخری روایت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تحریف سے مراد قاریوں کا اختلاف اور قرااءات کے سلسلے مںی ان کا ذاتی اجتہاد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حقیقت اور اصل قرآن تو محفوظ ہے۔ صرف قراءت کی کیفیت میں اختلاف ہے اور تحریف کی بحث کے آغاز میں ہم واضح کرچکے ہیں کہ اس معنی میں قرآن میں یقیناً تحریف ہوئی ہے چونکہ سات کی سات قرااءات متواتر نہیں ہیں بلکہ اگر قرااءات ہفتگانہ متواتر بھی ہوں پھر بھی اس معنی میں قرآن میں تحریف ہوئی ہے اس لیے کہ قرااءات زیادہ ہیں اور یہ سب کی سب ظنی اجتہادات پر مشتمل ہیں جن سے قہری طور پر قراءت کی کیفیت بدل جاتی ہے۔ پس معلوم ہوا کہ اس روایت کا مستدل کے مقصد و مدعا سے کوئی تعلق نہیں۔

جہاں تک باقی روایات کا تعلق ہے ان سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں تحریف سے مراد آیات قرآنی کو غلط معانی پر محمول کرنا ہے۔ جس کا لازمی نتیجہ اہل بیتؑ کے فضائل کا انکار، ان سے دشمنی کرنا اور جنگ لڑنا ہے۔ اس بات کی شہادت اس سے ملتی ہے کہ سید الشہداءؑ کے خطبے میں تحریف کی نسبت آپ کے مقابلے میں آنے والے بنی امیہ کی طرف دی گئی ہے۔

آغاز بحث میں مذکورہ روایت میں امام باقر (علیہ السلام) نے فرمایا ہے:

''و کان من نبذهم الکتاب أنهم أقاموا حروفه، و حرفوا حدوده،،

''ان لوگوں نے کتاب الہٰی کو اس طرح پس پشت ڈال دیا کہ اس کے حروف کو تو برقرار رکھا مگر اس کی حدود میں تحریف کی۔،،

i ۔ ہم یہ بھی بتاچکے ہیں کہ قرآن میں اس معنی (الفاظ قرآن سے غلط معنی اخذ کرنا) میں یقیناً تحریف واقع ہوئی ہے۔ یہ ہمارے محل نزاع سے خارج ہے کیونکہ اگر قرآن میں یہ تحریف واقع نہ ہوئی ہوتی تو عترت پیغمبرؐ کے حقوق محفوظ رہتے، رسول اسلامؐ کا احترام برقرار رہتا اور آہل رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کے حقوق پامال کرکے رسول گرامیؐ کو اذیت نہ دی جاتی۔


ii ۔ دوسری قسم کی روایات وہ ہیں جن کے مطابق قرآنی آیات میں ائمہ ہدیٰؑ کے نام موجود تھے جو تحریف کے نتیجے میں نکال دیئے گئے ہیں اور یہ روایات کثرت سے ہیں۔ان میں چند یہ ہیں:

الف۔ کافی کی روایت ہے جسے محمد بن فضیل نے ابو الحسن موسیٰ ابن جعفر(علیہما السلام) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:

''ولایۃ علی بن ابی طالب مکتوب فی جمیع صحف الانبیاء و لن یبعث اللہ رسولا الا بنبوۃ محمد و ''ولایۃ،، و صیہ۔ صلی اللہ علیہما و آلھما،،

''امیر المومنین (ع)کی ولایت تمام انبیاءؑ کی کتابوں میں لکھی ہوئی ہے اور اللہ تعالیٰ نے کسی بھی رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کو اس وقت تک نہیں بھیجا جب تک اسے خاتم الانبیائؐ کی نبوّت اور آپ کے وصی (علیہ علیہ السلام) کی ولایت سے آگاہ نہیں کیا۔،،

ب۔ عیاشی میں امام صادق(ع) سے راویت ہے کہ آپ نے فرمایا:

''لو قرأ القرآن کما انزل لألفینا مسمین،،

''اگر قرآن کی اسی طرح تلاوت کی جاتی جس طرح اسے نازل کیا گیا تھا تو لوگ ہمیں نام سے پہچانتے۔،،

ج۔ کافی، تفسیر عیاشی میں امام محمد باقر(ع) سے اور کنزالفوائد میں مختلف سندوں سے ابن عباس سے اور تفسیر فرات بن ابراہیم کوفی میں متعدد سندوں سے اصبغ بن نباتہ سے روایت ہے:

''قالوا: قال امیر المومنین (ع)القرآن نزل علی اربعة ارباع، ربع فینا، و ربع فی عدونا، و ربع سنن و امثال، و ربع فرائض و احکام ، و لنا کرائم القرآن،،

''امیر المومنین (ع)نے فرمایا: قرآن چار حصوں میں نازل ہوا ہے۔ اس کا ایک چوتھائی ہمارے دشمنوں کے بارے میں، ایک چوتھائی سیرت اور مثالوں کے بارے میں اور ایک چوتھائی واجبات اور دیگر احکام کے بارے میں ہے اور قرآن کی عزت و کرامت ہماری ذات سے مختص ہے۔،،


د۔ کافی میں امام محمد باقر(ع) سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:

''نزل جبرئیل بهذه الآیة علی محمد هکذا: و ان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فی علی فاتوا سورة من مثله،،

''جبرئیل آنحضرتؐ کی خدمت میں یہ آیت اس طرح لے کر آیا تھا: ''علیؑ کے بارے میں کچھ ہم نے آپ پر نازل کیا ہے اس میں اگر شک ہو تو اس کی مانند ایک سورہ پیش کرکے دکھاؤ۔،،

جواب: بعض چیزوں تفسیر قرآن کے طور پر نازل ہوا کرتی تھیں جو کہ خود قرآن نہیں ہوتی تھیں۔ لہٰذا ان روایات سے بھی یہی مراد ہونی چاہیے کہ اگر قرآن میں ائمہ (ع) کے نام موجود تھے تو بطور تفسیر ہوں گے اور قرآن کا حصہ نہیں ہوں گے۔

اگر ان روایات سے یہ معنی اخذ نہ کئے جائیں تو سرے سے ان روایات کو رد کرنا پڑے گا کیونکہ یہ روایات کتاب و سنت اور ان قطعی دلیلوں کے خلاف ہیں جن سے عدم تحریف ثابت ہوتی ہے۔ روایات متواترہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ روایات کو قرآن و سنت کے مقابلے میں پیش کرنا ضروری ہے اور جو روایت کتاب خدا کے خلاف ہو اس کو ٹھکرا اور دیوار پر مار دینا واجب ہے۔

قرآن میں امیر المومنین (ع)کے نام کی تصریح نہ ہونے کی دلیلوں میں سے ایک دلیل حدیث غدیر ہے۔ کیونکہ حدیث غدیر می اس بات کی تصریح ہے کہ رسول خدا(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے خدا کی طرف سے حکم و تاکید اور اپنےؐ تحفظ کی ضمانت لینے کے بعد امیر المومنین کو اپنا ولی نصب فرمایا۔

اگر قرآن میں امیر المومنین (ع)کا نام موجود ہوتا تو اس تقرری اور مسلمانوں کے اس عظیم اجتماع کے اہتمام کی ضرورت نہ ہوتی اور نہ رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کو کسی قسم کا خطرہ محسوس ہوتا۔


خلاصہ یہ کہ حدیث غدیر کی صحت سے ان روایات کا کذب ثابت ہوتا ہے جو یہ کہتی ہیں کہ ائمہ (ع) کے اسماء قرآن مجید میں موجود ہیں۔ یہ نکتہ خاص کر قابل توجہ ہے کہ حدیث غدیر، حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اسلامؐ کی زندگی کے آخری ایام میں صادر ہوئی تھی جب سارا قرآن نازل ہوچکا اور مسلمانوں میں پھیل گیا تھا اور آخری روایت جو کافی میں نقل کی گئی ہے وہ بذات خود قابل تصدیق نہیں ہے۔

ان سب کے علاوہ جب پیغمبراکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کی نبوت کو ثابت اور قرآن کی مثل لانے کا چیلنج کیا جارہا ہو تو ایسے موقع پر علی (علیہ السلام) کا نام ذکر کرتنا مقتضیٰ حال کے مطابق نہیں ہے اور ان تمام روایات کی معارض کافی کی صحیحہ ابی بصیر ہے۔ ابو بصیر کہتے ہیں: میں نے امام(ع) سے آیہ:

( أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ ) ۴:۵۹ کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا:

''قال: فقال نزلت فی علی بن ابی طالب و الحسن ؑو الحسین ؑفقلت له: ان الناس یقولون فما له لم یسم علیا و أهل بیته فی کتاب الله ۔قال: فقولوا لهم ان رسول الله(صلّی اللّه علیه وآله وسلّم) نزلت علیه الصلاة و لم یسم الله لهم ثلاثا ،و لا أربعاً، حتی کان رسول الله(صلّی اللّه علیه وآله وسلّم) هو الذی فسر لهم ذلک ۔۔۔(۱)

''یہ آیت کریمہ علی ابن ابی طالب، حسن اور حسین(علیہم السلام) کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ میں نے عرض کیا: مولا! لوگ کہتے ہیں کہ خدا نے قرآن میں آپ اور آپ کے اہل بیتؑ کے نام کیوں ذکر نہیں فرمائے؟ آپ نے فرمایا: تم ان لوگوں کو جواب میں کہو کہ خدا نے رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) پر نماز بھی نازل فرمائی ہے، لیکن قرآن میں تین یا چار رکعتوں کاذکر کسی بھی جگہ نہیں ہے بلکہ خود رسول اللہ(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) اس کی تفسیر فرمایا کرتے تھے۔،،

بنابرایں یہ روایت ان تمام روایات پر مقدم ہوگی ارویہ ان روایات کا صحیح مطلب و مقصد بیان کررہی ہے اور

____________________

(۱) الوافی، ج ۲، باب ۳۰، مانص اللہ و رسولہ علیہم، ص ۶۳۔


یہ کہ قرآن میں علیؑ کا نام بطور تفسیر و تنزیل بیان کیا گیا ہے ۔ یہ قرآن کا حصہ نہیں ہے، جس کی تبلیغ کا حکم دیا گیا ہو۔

اس کے علاوہ جنہوں نے حضرت ابوبکر کی بیعت سے انکار کیا تھا انہوں نے اپنے استدلال میں یہ کبھی نہیں کہا کہ حضرت علی(علیہ السلام) کا نام (بطور خلیفہ) قرآن میں موجود ہے۔ اگر آپ کا نام قرآن میں موجود ہوتا تو یہ ان لوگوں کے لئے ایک بہترین دلیل بنتی اور وہ اس کا ذکر ضرور کرتے ۔

اس دلیل کو اس اعتبار سے بھی زیادہ تقویت حاصل ہوتی ہے کہ (مستدل کے زعم میں) جمع قرآن کا مسئلہ، مسئلہ خلافت کے تصفیہ کے کافی عرصہ بعد پیش آیا تھا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن کسی آیہ میں علی (علیہ السلام) کا نام موجود نہیں تپا جس کو حذف کردیا گیا ہو۔

iii ۔ تیسری قسم کی روایات وہ ہیں جن کے مطابق قرآن میں اضافہ اور کمی کی صورت میں تحریف واقع ہوئی ہے اور یہ کہ امت نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے بعد بعض کلمات قرآن کو تبدیل کرکے دوسرے کلمات کو رکھ دیا ہ۔ وہ روایات یہ ہیں:

الف۔ علی بن ابراہیم قمی نے حریز کی سند سے حضرت ابی عبد اللہ امام صادق (علیہ السلام) سے سورہ حمد کی آیہ کو یوں بیان فرمایا ہے:

صراط من أنعمت علیهم غیر المغضوب علیهم و غیر الضالین

ب۔ عیاشی نے ہشام بن سالم سے راویت کی ہے۔ ہشام فرماتے ہیں میں نے حضرت ابو عبداللہ صادق(ع) سے آیہ کریمہ:

( إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَىٰ آدَمَ وَنُوحًا وَآلَ إِبْرَاهِيمَ وَآلَ عِمْرَانَ عَلَى الْعَالَمِينَ ) ۳:۳۳

کی تفسیر پوچھی تو آپ نے فرمایا:

آیہ کریمہ اصل می ''آل ابراہیم و آل محمد علی العالمین،، تھی لوگوں نے ایک اسم کی جگہ دوسرے کو رکھ دیا ہے۔ یعنی لوگوں نے قرآن میں تبدیلی کی ہے اور آل محمد کی جگہ آل عمران رکھ دیا ہے۔


جواب:

ان روایات کی سند ضعیف ہے اور اگر اس سے چشم پوشی بھی کی جائے تو یہ روایات قرآن، سنت اور اجماع مسلمین کے خلاف ہیں جن کے مطابق قرآن میں ایک حرف کی بھی زیادتی نہیں ہوئی ہے، حتیٰ کہ جو حضرات تحریف کے قائل ہیں وہ بھی اس معنی میں تحریف کے قائل نہیں ہیں۔

علماء کی ایک جماعت نے قرآن میں زیادتی و اقع نہ ہونے پر اجماع کا دعویٰ فرمایا ہے اور یہ کہ جو کچھ بھی بین دفتین موجود ہے، سب کا سب قرآن ہے اور ایک لفظ بھی زیادہ نہیں ہے۔ جن حضرات نے اجماع کا دعویٰ فرمایا ہے ان میں شیخ مفید، شیخ طوسی، شیخ بہائی اور دیگر علمائے کرام شامل ہیں۔

اس سے قبل احتجاج طبرسی کی وہ روایت بھی بیان کی جاچکی ہے جس کے مطابق قرآن میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔

iv ۔ چوتھی قسم کی روایات وہ ہیں جن کے مطابق قرآن میں تحریف کمی کی صورت میں واقع ہوئی ہے۔

جواب:

ان روایات کو اس معنی پر حمل کیا جائے گا جس پر مصحف امیر المومنین (ع)میں موجود اضافات کو حمل کیا گیا ہے اور اگر کسی روایت کو اس معنی پر حمل نہ کیا جاسکے تو اسے ٹھکرا دیا جائے گا کیونکہ یہ قرآن و سنت کی مخالف سمجھی جائے گی۔

ہم نے اپنی بحثوں کے دوران اس قسم کی روایات کاایک اور معنی بھی کیا ہے۔ شاید یہ معنی سب سے قریب ہو مگر اختصار کی خاطر اس معنی کے ذکر سے احتراز کیا ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ کسی اور جگہ اس کی طرف اشارہ کیا جائے گا۔

اس قسم کی بعض بلکہ اکثر روایات کی سند ضعیف ہے اور بعض روایات کا تو بذات خود کوئی صحیح معنی نہیں بنتا اور علمائے کرام نے فرمایا ہے کہ یا تو اس قسم کی روایات کی تاویل کرنی چاہےے یا انہیں ٹھکرادینا چاہیے۔


ان علمائے کرام میں سے ایک محقق کلباسی ہیں۔ ان سے منقول ہے:

''وہ تمام روایات اجماع علماء کے خلاف ہیں جو قرآن میں تحریف پر دلالت کرتی ہیں۔،،

آپ مزید فرماتے ہیں:

''اس قول کی کوئی دلیل نہیں کہ موجودہ قرآن میں کسی قسم کی کمی موجود ہے۔ اس لیے کہ اگر اس میں کسی قسم کی کمی واقع ہوئی ہوتی تو یہ مشہور ہوجاتی بلکہ بطور تواتر اس کو نقل کیا جاتا کیونکہ غیر معمولی اور اہم واقعات کا یہی تقاضا ہے کہ انہیں بطور تواتر نقل کیا جائے اور تحریف فی القرآن سے بڑھ کر اور کون سا واقعہ اہم ہوسکتا ہے۔،،

''شارح وافیہ،، محقق بغدادی نے اس بات کی تصریح کی ہے اور اسے محقق کرکی سے نقل فرمایا ہے جنہوں نے اس موضوع پر ایک مستقل رسالہ بھی لکھا ہے۔ محقق کرکی اس رسالہ میں فرماتے ہیں:

''جو روایات بھی قرآن میں کمی واقع ہونے پر دلالت کرتی ہیں یا تو ان کی تاویل کرنی چاہیے یا انہیں ٹھکرا دینا چاہیے، چونکہ جو حدیث بھی قرآن، سنت متواترہ اور اجماع کے خلا ف ہو اور قابل تاویل نہ ہو اسے ٹھکرانا ضروری ہے۔،،

مؤلف: محقق کرکی نے اپنے اس کلام میں اس نکتہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے جس کی طرف اس سے قبل ہم نے اشارہ کیاتھا۔ یعنی روایات متواترہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ جو روایت بھی قرآن کے خلاف ہو اس کو ٹھکرانا لازمی ہے ان متواترہ روایات میں سے ایک روایت یہ ہے:


شیخ صدوق محمد بن علی بن الحسین صحیح سند سے امام جعفر صادق(ع) سے راویت فرماتے ہیں:

''الوقوف عند الشبهة خیر من الاقتحام فی الهلکة، ان علی کل حق حقیقة، و علی کل صواب نوراً، فما وافق کتاب الله فخذوه، و ما خالف کتاب الله فدعوه ۔۔۔،، (۱)

''شک و شبہ کے وقت توقف کرنا ہلاکت میں پڑنے سے بہتر ہے۔ ہر حق کے پیچھے ایک حقیقت ہوا کرتی ہے اور ہر حقیقت کے کچھ آثار ہوتے ہیں۔ جوبات بھی کتاب خدا کے مطابق ہو اسے لے لو اور جو کتاب خدا کے مخالف ہو اسے ترک کردو۔،،

شیخ جلیل سعید بن ھبۃ اللہ قطب راوندی صحیح سند سے امام جعفر صادق(ع) سے روایت فرماتے ہیں:

''اذا ورد علیکم حدیثان مختلفان فاعرضوهما علی کتاب الله، فما وافق کتاب الله فخذوه، و ما خالف کتاب الله فردوه ۔۔۔،، (۲)

''جب تم تک دو مختلف احادیث پہنچیں تو انہیں کتاب خدا کے ذریعے جانچو بایں معنی کہ ان میں سے جو بھی کتاب خدا کے مطابق ہو اسے لے لو اور جو کتاب خدا کے مطابق نہ ہو اسے ٹھکرا دو۔،،

چوتھا شبہ

اس دلیل کے خلاصہ جمع قرآن کی کیفیت او راس کیفیت سے تحریف کا لازم آنا ہے۔ آئندہ آنے والی بحث ''جمع قرآن کے بارے میں نظریات،، میں اس شبہ و دلیل کو باطل ثابت کیا جائے گا۔

____________________

(۱) الوسائل، ج ۳ کتاب القضائ، باب وجوہ الجمع بین الاحادیث المختلفۃ و کیفیۃ العمل بہا، ص ۳۸۰۔

(۲) ایضاً


جمع قرآن کے بارے میں نظریات

جمع قرآن کی روایات

جمع قرآن کی احادیث میں تضادات

قرآن کو مصحف کی صورت میں کب جمع کیا گیا۔

حضرت ابوبکر کے زمانے میں جمع قرآن کی ذمہ داری کس نے لی؟

کیا جمع قرآن کا کام زید کے سپرد کیا گیا تھا؟

کیا حضرت عثمان کے زمانے تک ایسی آیات باقی تھیں، جن کی تدوین نہیں کی گئی؟

جمع قرآن میں حضرت عثمان کا ماخذ و مدرک کیا تھا؟

قرآن جمع کرکے اس کے نسخے دوسرے شہروں میں کس نے بھیجے؟

دو آیتوں کوسورہ براءت کے آخر میں کب ملایا گیا؟

ان دو آیتوں کو کس نے پیش کیا؟

یہ کیسے ثابت ہوا کہ یہ دونوں آیتیں قرآن کا حصّہ ہیں؟

قرآن کی کتابت اور املاء کےلئے حضرت عثمان نے کس کا تقرر کیا؟

روایات جمع قرآن میں تضادات

احادیث جمع قرآن، کتاب الٰہی سے متعارض ہیں

احادیث جمع قرآن حکم عقل کے خلاف ہیں

احادیث جمع قرآن خلاف اجماع ہیں

احادیث جمع قرآن اور قرآن میں زیادتی


جمع قرآن وہ موضوع ہے جسے تحریفی حضرات اپنی دلیل قرار دیتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ جمع قرآن کی کیفیت کا لازمہ (عام حالات میں) قرآن میں تحریف و تغییر ہے۔ اس بحث کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ یہ ثابت کیا جا سکے کہ قرآن ہر قسم کی تحریف اور تغییر سے پاک و منزّہ ہے۔

اس شبہ کا منشاان حضرات کا یہ گمان ہے کہ جب برئ معونہ میں ستر اور جنگ یمامہ میں چار سو قاری قتل ہو گئے تو اس طرح قرآن کے ضائع ہو جانے کا خطرہ پیدا ہوا۔ چنانچہ قرآن کی بقا اور اس کے تحفظ کی خاطر حضرت ابوبکر کے حکم پر حضرت عمر اور زید بن ثابت نے کھجور کی ٹہنیوں، کپڑے کے ٹکڑوں، باریک پتھروں اور دو عادل گواہوں کی گواہی کے بعد لوگوں کے سینوں سے قرآن جمع کرنا شروع کردیا۔

جمع قرآن کی اس کیفیت کی تصریح بہت سی روایات میں کی گئی ہے۔ اس طریقے سے جمع کرنے والا انسان جب غیر معصوم ہو تو عموماً کوئی نہ کوئی چیز، آیہ وغیرہ، رہ جاتی ہے جس تک جمع کرنے والے کی دسترس نہیں ہوتی۔ مثلاً اگر کوئی انسان کسی ایک یا کئی شعراء کا کلام جمع کرنا چاہے جو متفرق اور بکھرا پڑا ہو تو کسی نہ کسی شعر یا بیت کے رہ جانے کا خدشہ باقی رہتا ہے۔ انسانی عادت کے مطابق یہ ایک قطعی اور یقینی امر ہے اور اگر یقین نہ ہو تو اس طرح جمع کرنے سے تخریف کا احتمال ضرور رہتا ہے کیونکہ یہ احتمال باقی رہتا ہے کہ بعض ایسی آیات کی گواہی دو عادل نہ دے سکیں جو پیغمبر اکرم (ص) سے سنی گئی ہوں۔ بنا برایں یقین سے نہیںکہا جا سکتا کہ سارے کا سارا قرآن جمع کرلیا گیا ہے اور اس میں کوئی کمی باقی نہیں رہی۔

جواب

یہ شبہ اس بات پر مبنی ہے کہ جمع قرآن کی کیفیت سے متعلق تمام روایات صحیح ہوں۔ لہٰذا بہتر ہے کہ ہم پہلے ان روایات کو بیان کریں اور اس کے بعد ان پر کئے جانے والے اعتراضات پیش کریں۔


جمع قرآن کی روایات

۱۔ زید بن ثابت سے روایت ہے:

''حضرت ابوبکر نے جنگ یمامہ کے موقع پر مجھے بلوایا، ان کے پاس جانے پر معلوم ہوا کہ حضرت عمر بھی ان کے پاس موجود تھے۔ حضرت ابوبکر نے مجھ سے کہا : عمر میرے پاس آئے ہیں اور انہوں نے کہا کہ یمامہ کے موقع پر قاریان قرآن کثرت سے قتل کردئےے گئے ہیں اور انہیںڈر ہے کہ اور مقامات پر بھی قاریان قرآن کثرت سے قتل کئے جائیں گے اور اس طرح قاریوں کے سینوں میں موجود قرآن ضائع ہو جائیگا اسلئے مصلحت اسی میں ہے کہ میں (حضرت ابوبکر) قرآن کو ایک مستقل کتاب کی صورت میں جمع کرنے کا حکم صادر کروں۔ میں نے (حضرت ابوبکر) جواب میں کہا ہے کہ میں وہ کام کیسے انجام دوں جو رسول اللہ (ص) نے انجام نہیں دیا۔ حضرت عمر نے کہا: قسم بخدا یہ تو ایک کار خیر ہے حضرت عمر بار بار یہی تجویز پیش کرتے رہے، حتیٰ کہ خدا نے میرا سینہ کشادہ فرمایا اور میں بھی حضرت عمر کا ہم رائے ہوگیا،زید کہتے ہیں کہ ابو بکر نے مجھ سے کہا: تم ایک عقلمند، قابل اعتماد اور سچے جوان ہو اور رسول اللہ(ص) کے زمانے میں وحی بھی لکھا کرتے تھے۔ آج بھی تم جمع قرآن کے اس عظیم عمل کو انجام دو زید کہتے ہیں: خدا کی قسم اگر حضرت ابو بکر ایک پہاڑ کو اپنی جگہ سے اٹھانے کا حکم دیتے تو میرے لئے آسان تھا مگر جمع قرآن کا کام مشکل۔ اس لئے میں نے بھی حضرت ابوبکر سے کہا: آپ یہ کام کیسے انجام دینا چاہتے ہیں جو خود رسول اللہ(ص) نے انجام نہیں دیا۔ حضرت ابوبکر نے جواب دیا: یہ ایک اچھا کام ہے۔ حضرت ابوبکر اپنی یہ رائے مکرر بیان کرتے رہے۔ حتیٰ کہ خدا نے مجھے وسعت صدر عطا فرمائی اورم جوبات حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے دل میں تھی وہ میرے دل میں بھی اتر گئی اور میں نے تختوں، کاغذ کے ٹکڑوں اور لوگوں کے سینوں سے قرآن کو جمع کرنا شروع کردیا۔ یہاں تک کہ سورہ توبہ کا آخری حصہ صرف ابی خزیمہ انصاری سے ملا اور و یہ تھا:

( لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمومنينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ ) ۹: ۱۲۸

( فَإِن تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِيَ اللَّـهُ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ ) : ۱۲۹


ان صحیفوں سے جمع شدہ قرآن ایک کتاب کی صورت میں حضرت ابوبکر کے پاس تھا اور انکی وفات کے بعد حضرت عمر کے پاس تھا اور انکی وفات کے بعد ان کی بیٹی حفصہ کے پاس تھا،،

۱۔ ابن شہاب انس بن مالک سے نقل کرتے ہیں:

'' جب حذیفہ بن یمان اہل شام اور اہل عراق کے ہمراہ آرمینیہ اور آذربائیجان کو فتح کرنے میں مصروف تھے تو قرآن کی قراءتوں میں لوگوں کے اختلافات دیکھ کر گھبرا گئے اور اختلاف کا ہو جائیں، کتاب خدا کی خبر لیجئے۔

چنانچہ حضرت عثمان نے حفصہ کہ یہ پیغام بھیجا کہ جمع شدہ قرآن نے ان کی طرف بھیج دے وہ اس کے مزید نسخے بنا کر واپس کردیں گے۔ حفصہ نے قرآن حضرت عثمان کی طرف بھیجا اور زید بن ثابت، میں کوئی اختلاف ہوتو اسے لغت قریش میں لکھو اس لئے کہ قرآن لغت قریش کے مطابق نازل ہوا ہے۔ قرآن کے متعدد نسخے بنا کر اسے واپس حفصہ کے پاس بھیج دیا گیا اور ہر جگہ ایک ایک نسخہ بھیجا گیااور یہ حکم دیا گیا کہ ان نسخوں کے علاوہ جہاں کہیں کوئی قرآن یا اس کا حصہ ملے جلا دیا جائے۔،،

ان شہاب کہتے ہیں:

مجھے خارجہ بن زید بن ثابت نے بتایا کہ اس نے زید بن ثابت کو یہ کہتے سنا ہے : قرآن کے نسخے لکھتے وقت مجھے سورہ احزاب کی ایک آیت نہیں ملی جسے میں رسول اللہ(ص) سے سنا کرتا تھا، چنانچہ تلاش بسیار کے بعد وہ آیہ خزیمہ بن ثابت انصاری کے پاس ملی۔ وہ آیت یہ تھی:

( مِّنَ الْمومنينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّـهَ عَلَيْهِ ۖ فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ ۖ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا ) ۲۳:۳۳

ہم نے اس آیہ کو سورہ ئ احزاب میں شامل کرلیا۔،،

۳۔ ابن ابی شیبہ اپنی سند سے امیر المومنین (ع) سے نقل کرتے ہیں:

''قرآن کی جمع آوری میں سب سے زیادہ ثواب حضرت ابوبکر کو ملے گا کیونکہ حضرت ابوبکر وہ پہلے شخص ہیں۔ جنہوں نے قرآن کو کتاب کی صورت میں جمع کیا۔،،


۴۔ ابن شہاب سالم بن عبداللہ اور خارجہ سے نقل کرتے ہیں:

صحیح بخاری، با جمع القرآن ، ج۶،ص۹۸

صحیح بخاری، ج۶، ص۹۹ ۔ یہ دونوں اور اس کے بعد اکیس تک کی روائتیں منتخب کنز العمال، جو حاشیہ مسند احمد میں ہے، میں مذکور ہیں۔ ج۲، ص۴۳۔۵۲۔

'' حضرت ابوبکر نے قرآن کو چند کاغذوں میں جمع کیا تھا اس کے بعد انہوں نے زید بن ثابت سے کہا کہ ان میں نظرثانی کردے مگر اس نے انکار کردیا۔ حضرت ابوبکر نے اس سلسلے میں حضرت عمر سے مدد طلب کی اور زید بن ثابت نے ان کاغذوں پر نظرثانی کی۔ یہ نسخہ حضرت ابوبکر کی زندگی میں ان کے پاس تھا۔ ان کی وفات کے بعد یہ حضرت عمر کے پاس رہا اور ان کی وفات کے بعد یہ پیغمبر اکرم(ص) کی زوجہ حفصہ کے پاس رہا۔ حضرت عثمان نے حفصہ سے یہ نسخہ طلب کیا مگر وہ نہ مانیں۔ لیکن جب حضرت عثمان نے ان سے یہ وعدہ کیا کہ وہ اس سے مزید نسخے بنا کر اسے واپس کردیں گے تو وہ راضی ہوگئیں اور حضرت عثمان کو یہ نسخہ بھیج دیا۔ حضرت عثمان نے اس کے متعدد نسخے بنا کر اصل واپس بھیج اور آخر تک یہ انہی (حفصہ) کے پاس رہا۔،،

۵۔ ہشام بن عروہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں:

'' جس وقت اہل یمامہ قتل کردئےے گئے۔ حضرت ابوبکر نے حضرت عمر بن خطاب اور زید بن ثابت سے کہا: تم دونوں مسجد کے دروازے پر بیٹھ جاؤ اور جو تمہارے پاس قرآن کا کوئی حصہ لے کر آئے اور تمہیں اس کے قرآن ہونے میں شک ہو اور دو عادل گواہ اس کے قرآن ہونے کی شہادت دیں تو اس کو تحریر کرلو۔ اس لئے مقام یمامہ پر ایسے اصحاب رسول (ص) قتل کردئےے گئے ہیں جنہوں نے قرآن جمع کیا تھا۔،،


۶۔ محمد بن سیرین سے روایت کرتے ہیں:

'' جس وقت حضرت عمر قتل کئے گئے اس وقت قرآن جمع نہیں کیا گیا تھا۔،،

۷۔ حسن روایت کرتے ہیں:

'' ایک مرتبہ حضرت عمر نے قرآن کی کسی آیت کے بارے میں سوال کیا۔ انہیں بتایا گیا کہ وہ آیہ فلاں آدمی کے پاس تھی جو جنگ یمامہ میں قتل کردیا گیا ہے۔ حضرت عمر نے کہا: انا اللہ پھر انہوں نے قرآن جمع کرنے کا حکم دیا۔ با برایں حضرت عمر وہ پہلے آدمی ہیں جنہوں نے قرآن کو ایک کتاب کی صورت میں جمع کیا۔،،

۸۔ یحییٰ بن عبدالرحمن بن حاطب نے روایت کی ہے:

'' حضرت عمر نے قرآن جمع کرنا چاہا۔ وہ لوگوں کے مجمع میں کھڑے ہوگئے اور کہا: جس جس نے قرآن کا کوئی حصہ رسول اسلام (ص) سے سنا ہے وہ اسے میرے سامنے پیش کرے۔ اس وقت قرآن تختوں اورکاغذ کے ٹکڑوں وغیرہ پر لکھا ہوا لوگوں کے پاس موجود تھا اور جب تک دو عادل گواہ شہادت نہ دیتے اسوقت تک حضرت عمر اسے قرآن کے طور پر تسلیم نہ کرتے۔ اس جمع آوری کے دوران حضرت عمل قتل کردئےے گئے ان کے بعد یہ کام حضرت عثمان نے سنبھالا اور اعلان کیا: جس کے پاس قرآن کا کوئی حصہ ہو اسے میرے پاس لے آئے۔ حضرت عثمان بھی قرآن تب تسلیم کرتے تھے جب دو عادل گواہی دیں۔ اسی دوران خزیمہ بن ثابت آئے اور کہا: تم لوگوں نے دو آئتیں چھوڑ دی ہیں ، لوگوں نے کہا: وہ کون سی ہیں؟ میں نے رسول اللہ (ص) سے یہ آیت سنی ہے:


( لَقَد جاءَكُم رَسولٌ مِن أَنفُسِكُم عَزيزٌ عَلَيهِ ما عَنِتُّم حَريصٌ عَلَيكُم بِالمومنينَ رَءوفٌ رَحيمٌ ..)

حضرت عثمان نے کہا: میں بھی شہادت دیتا ہوں کہ یہ دونوں آیتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوئی ہیں۔ مگر ان دونوں کو کس جگہ رکھنا چاہےے؟ خزیمہ نے کہا: اسے اس سورہ کے خاتمے میں شامل کردیں جو آخر میں نازل کیا گیا ہو۔ چنانچہ میں نے سورہ براءت کے آخر میں لکھ دیا۔

۹۔ عبید بن عمیر نے روایت کی ہے:

''حضرت عمر اس وقت تک کسی آیہ کو قرآن میں شامل نہیں کرتے تھے جب تک دو آدمی شہادت نہ دے دیں۔ چنانچہ انصار میں سے ایک آدمی یہ دو آیتیں لے کر آیا:

( لَقَد جاءَكُم رَسولٌ مِن أَنفُسِكُم ..) . الخ

حضرت عمر نے کہا: میں تم سے اس آیہ کریمہ کے بارے میں کوئی گواہی طلب نہیں کروں گا۔ اس لئے کہ رسول اللہ(ص) بھی اسی طرح پڑھا کرتے تھے۔،،

۱۰۔ سیلمان بن ارقم نے حسن، ابن سیرین اور ابن شہاب سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:

'' جب جنگ یمامہ میں قاریان قرآن بڑی تیزی سے قتل کئے گئے حتیٰ کہ چارسو قاری قتل کردئےے گئے تو زید بن ثابت نے حضرت عمر سے کہا : ہمارے دین کا دارومدار قرآن ہے۔ اگر قرآن ضائع ہوگیا تو دین بھی ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا، اس لئے میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ قرآن جمع کرنا شروع کردوں۔ حضرت عمر نے کہا: آپ کچھ انتظار کریں تاکہ میں حضرت ابوبکر سے پوچھ لوں، چنانچہ حضرت عمر ار زید بن ثابت دونوں حضرت ابوبکر کے پاس گئے اور انہیں اس صورت حال سے آگاہ کیا۔ حضرت ابوبکر نے کہا: ابھی جلدی نہ کریں مجھے مسلمانوں سے مشورہ کرلینے دیں، اس کے بعد خطبے میں انہوں نے لوگوں کو اس سے آگاہ کیا: لوگوں نے اس کی تائید کی اور کہا: آپ کا فیصلہ بالکل صحیح ہے۔ یہاں سے قرآن کی جمع آوری شروع ہوگئی اور حضرت ابوبکر نے منادی کرائی کہ جس جس کے پاس قرآن کا کوئی حصہ ہے وہ انہیں لادے۔،،


۱۱۔ خزیمہ بن ثابت نے روایت بیان کی ہے:

میں آیہ ئ شریفہ: لقد جاء کم رسول من انفسکم... لے کر حضرت عمر بن خطاب اور زید بن ثابت کے پاس گیا۔ زید نے کہا: تمہارے ساتھ دوسرا گواہ کون ہے؟ میں نے کہا: مجھے کسی دوسرے گواہ کاعلم نہیں۔ حضرت عمر نے کہا: اس کے ساتھ دوسری گواہی میں دیتا ہوں کہ یہ قرآن کی آیہ ہے۔،،

اس روایت کے علاوہ جتنی روایات منتخب سے نقل کی ہیں وہ سب کنز العمال '' جمع القرآن،، ج ۲ ، ص ۳۶۱ میں موجود ہیں، یہ روایات یحییٰ بن جعدہ سے منقول ہیں۔

۱۲۔ ابو اسحاق نے اپنے بعض اصحاب سے روایت کی ہے:

'' جس وقت حضرت عمر بن خطاب نے قرآن کی جمع آوری کی تو انہوںنے لوگوں سے پوچھا: لوگوں میں سب سے زیادہ فصیح کون ہے، جواب دیا گیا: سعید بن عاص، اس کے بعد پوچھا سب سے اچھی کتابت کس کی ہے؟ جواب میں کہا گیا: زید بن ثابت کی۔ اس پر حضرت عمرنے حکم دیا کہ سعید بن عاص املاء لکھائے اور زید بن ثابت لکھے۔ اس طرح چار قرآن لکھے گئے۔ ان میں سے ایک قرآن کوفہ، دوسرا بصرہ، تیسرا شام اور چوتھا حجاز کی طرف بھیجا گیا۔،،

۱۳۔ عبداللہ بن فضالہ نے روایت بیان کی ہے:

'' جب حضرت عمر قرآن لکھنے لگے تو اپنے اصحاب میں سے چند کو اپنے پاس بٹھا کر ان سے کہا: جب کبھی لغت قرآن میں اختلاف ہو تو اسے لغت مضر کے مطابق لکھا کیونکہ قرآن لغت مضر کے ایک آدمی پرنازل ہوا ہے۔،،


۱۴۔ ابوقلابہ نے روایت کی ہے:

'' حضرت عثمان کے دورخلافت میں کوئی معلم کسی قراءت کے مطابق قرآن پڑھاتا تھا اور کوئی معلم کسی اور قراءت کے مطابق پڑھاتا تھا۔ اس کے نتیجے میں شاگردوں کی قراءتو ں میں اختلاف ہوگیا۔ حتیٰ کہ یہ اختلاف معلمین میں بھی سرایت کرگیا اور بعض نے بعض کو کافر کہنا شروع کردیا۔ اس کی اطلاع حضرت عثمان کو ملی اور انہوں نے اپنے خطاب میں کہا: تم لوگ میرے پاس ہو اور اس کے باوجود قراءت قرآن میں اختلاف رکھتے ہو اور صحیح قراءت نہیں کرتے، تو جو لوگ مجھ سے دور ہیں ان اختلاف اور غلطیاں تو اس سے بھی زیادہ ہوں گی۔ اے اصحاب محمد(ص) فوراً جمع ہو جاؤ اور لوگوں کے لئے رہنما (قرآن) مرتب کردو۔،،

ابوقلابہ، مالک بن انس (ابوبکر بن داؤد کہتے ہیں کہ یہ مالک بن انس، مشہور مالک بن انس کی جد ہے) سے نقل کرتے ہیں:

'' میں ان افراد میں سے تھا جو کاتبوں کو قرآن کی املاء لکھواتے تھے کبھی ایسا ہوتا کہ جب کسی آیہ کے بارے میں اختلاف واقع ہوتا اور کسی ایسے آدمی کا نام لیاجاتا جس نے اس آیہ کو رسول اللہ (ص) سے سنا ہو اور وہ موقع پر حاضر نہ ہوتا تو اس مختلف فیہ آیہ سے قبل اور بعد والی آیات لکھ دی جاتیں اوراختلافی آیت کے لئے جگہ چھوڑدی جاتی حتیٰ کہ وہ شخص، جس جس نے آیت رسول اللہ (ص) سے سنی ہوتی، آجاتا یا پھر کسی آدمی کو اشخص کے پیچھے بھیج دیا جاتا تھا تاکہ اسے بلا لائے اور اس کی رائے کے مطابق قرآن لکھا جائے۔ اس طرح قرآن کی کتاب اختتام تک پہنچی۔ اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہمارے پاس تھا ضائع کردیا ہے لہٰذا اس مرتب شدہ قرآن کے علاوہ تمہارے پاس جو کچھ بھی ہو اسے ضائع کردو۔،،


۱۵۔ مصعب بن سعد نقل کرتے ہیں:

''ایک مرتبہ حضرت عثمان نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: ابھی رسول اللہ (ص) کی وفات کو تیرہ برس سے زیادہ نہیں گزرے اور تم نے قرآن کے بارے میں اختلاف کرنا شروع کر دیا ہے اور یہ کہنا شروع کر دیا ہے کہ ابیی بن کعب کی قرات ایسی ہے اور عبداللہ کی قرات ایسی ہے۔ ایک کہتا ہے تمہاری قرات درست نہیں اور دوسرا کہتا ہے کہ تمہاری قرات درست نہیں۔ خدارا ! تم میں سے جس کے پاس بھی قرآن کی کوئی آیت ہے وہ میرے پاس لے آئے تاکہ قرآن کی صححی جمع آوری کی جا سکے۔ چنانچہ لوگوں نے کاغذ اور چمڑے کے ٹکڑوں ، جن پر قرآن لکھا ہوا تھا ، کو حضرت عثمان کے پاس لانا شروع کر دیا اوراس طرح کافی مقدار میں قرآن جمع ہو گیا اس کے بعد حضرت عثمان نے ان لوگوں ، جو کاغذوں اور چمڑوں پر لکھا ہوا قرآن لائے تھے ، میں سے ایک ایک کو اپنے پاس بلایا اور ہر ایک سے حلیفہ پوچھا کہ اس نے خود رسول اللہ (ص) سے اس آیت کوسنا ہے اور یہ آنحضرت (ص) نے ہی اسے لکھوائی ہے ؟ لوگ اس کا جواب اثبات میں دیتے اس کے بعد حضرت عثمان نے پوچھا تم میں سب سے اچھا کاتب کون ہے ؟ جواب ملا: زید بن ثابت جو کاتب وحی بھی ہیں ۔ پھر پوچھا: تم میں لغت عرب سے زیادہ آشنا کون ہے ؟ لوگوں نے کہا : سعید بن عاص ہے ۔ حضرت عثمان نے حکم دیا کہ سعید قرآن لکھواتا جائے اور زید بن ثابت لکھتا جائے اس طرح کئی قرآن لکھے گئے اورلوگوں میں تقسیم کئے گئے،،۔

مصعب بن سعد کہتے ہیں:

''میں نے بعض اصحاب پیغمبر (ص) کو یہ کہتے سنا ہے کہ بہت اچھا عمل انجام پایا ہے،،۔


۱۶۔ ابو الملیح نے روایت بیان کی ہے:

''جب حضرت عثمان نے قرآن لکھنا چاہا تو فرمایا: قبیلہ بنی ہذیل لکھوائے اور قبیلہ بنی ثقیف لکھے،،

۱۷۔ عبدالاعلیٰ بن عبداللہ بن عبداللہ بن عامر قرشی نے روایت بیان کی ہے:

''جب قرآن مکمل طور پر لکھا گیا تو حضرت عثمان نے کہا : یہ تم نے بہت اچھا کام انجام دیا ہے۔ تاہم ابھی قرآن میں کچھ غلطیاں دیکھ رہا ہوں جنہیں عرب اہل زبان خود ہی درست کر لیں گے،،

۱۸۔ مکرمہ کہتے ہیں:

''جب قرآن جمع کر کے حضرت عثمان کے پاس لایا گیا تو انہیں اس میں کچھ غلطیاں نظر آئیں اور انہوں نے کہا: اگر قرآن لکھوانے والا قبیلہ بنی ہذیل اورل کھنے والا قبیلہ بنی ثقیف سے ہوتا تو یہ غلطیاں نہ ہوتیں،،

۱۹۔ عطاء روایت بیان کرتے ہیں:

''جب حضرت عثمان قرآن کے نسخے مرتب کرنے لگے تو انہوں نے ابی بن کعب کو اپنے پاس بلایا ابیی بن کعب لکھواتا تھا اور زید بن ثابت لکھتا تھا ان کے ساتھ سعید بن عاص بھی تھا جو تصحیح کرتا تھا لہٰذا یہ قرآن ابیی اور زید کی قرات کے مطابق ہے،،۔

۲۰۔ مجاہد نے روایت بیان کی ہے :

''حضرت عثمان نے ابی بن کعب کو قرآن لکھوانے ، زید بن ثابت کو لکھنے اور سعید بن عاص اور عبدالرحمن بن حرث کو تصحیح کرنے کا حکم دیا،،


۲۱۔ زید بن ثابت نے روایت کی ہے:

''ہم قرآن لکھ چکے تو مجھے ایک آیت نہیں ملی جسے میں رسول اللہ (ص) سے سنا کرتا تھا آخر کار یہ آیت مجھے خزیمہ بن ثابت کے پاس سے ملی اور وہ آیت یہ تھی :( مِّنَ الْمومنينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّـهَ عَلَيْهِ ۖ فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ وَمِنْهُم مَّن يَنتَظِرُ ۖ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا ) تک خزیمہ کو ذوالشہادتین کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمض نے اس کی شہادت دو مردوں کی شہادت کے برابر قرار دی تھی،،

۲۲۔ ابن اشتہ نے لیث بن سعد سے نقل کیا ہے:

''سب سے پہلے انسان جس نے قرآن جمع کیا ، حضرت ابوبکر ہیں اور قرآن کے کاتب زید بن ثابت ہیں زید کا طریقہ کار یہ تھا کہ لوگ زید بن ثابت کے پاس آتے مگر جب تک دو عادل کسی آیہ کے قرآن ہونے کے بارے میں شہادت نہ دیتے ، زید اسے نہ لکھتے اور سورہ برات کا آخری حصہ ابی خزیمہ بن ثابت کے علاوہ کسی اور کے پاس نہیں مل سکا اور ابی خزیمہ کے پاس دو عادل گواہ نہ تھے اس کے باوجود حضرت ابوبکر نے کہا : ابی خزیمہ جو کچھ کہتا ہے اسے لکھ لو کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے اس کی شہادت کو دو آدمیوں کی شہادت قرار دیا ہے چنانچہ حضرت ابوبکر کے اس حکم کے مطابق سورۃ برات کے آخری حصے کو لکھا گیا حضرت عمر آیہ رحم لے کر آئے مگر ہم (زید بن ثابت وغیرہ) نے نہیں لکھا کیونکہ وہ اکیلے تھے اور دوسرا کوئی شاید نہیں تھا،،(۱)

یہ وہ اور اہم روایات ہیں جو جمع قرآن کے بارے میں نقل کی گئی ہیں۔ مگر یہ سب روایات احد ہونے کے علاوہ جو مفید یقین نہیں ہیں کئی اعتبار سے قابل اعتراض بھی ہیں۔

____________________

(۱) الاتقان النوع ۱۸ ، ج ۱ ، ص ۱۰۱


۱۔ جمع قرآن کی احادیث میں تضاد

ان احادیث کا آپس میں تضاد ہے اس لئے ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا اس مقام پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ چند سوالات و جوابات کے ضمن میں ان روایات میں موجود تضادات کو بیان کیا جائے:

٭ قرآن کو مصحف کی صورت میں کب جمع کیا گیا۔

دوسری روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن کو حضرت عثمان کے زمانے میں جمع کیا گیا پہلی ، تیسری اور چوتھی روایت کی تصریح اوربعض دیگر روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن حضرت ابوبکر کے زمانے میں جمع کیا گیا اور ساتویں اور بارہویں روایت صراحتاً یہ کہتی ہے کہ قرآن حضرت عمر کے زمانے میں جمع کیا گیا۔

٭ حضرت ابوبکر کے زمانے میں جمع قرآن کی ذمہ داری کس نے لی ؟

پہلی اور بائیسویں روایت یہ کہتی ہے کہ جمع قرآن کی ذمہ داری زید بن ثابت نے لی اور چوتھی روایت یہ کہتی ہے کہ اس کی مسؤلیت حضرت ابوبکر نے ہی قبول کی تھی اور زید کے ذمے صرف اتنا تھا کہ جمع شدہ قرآن پر نظرثانی کرے پانچویں روایت یہ کہتی ہے اور بعض دیگر روایات سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس کے ذمہ دار زید بن ثابت اور حضرت عمر دونوں تھے ۔

٭ کیا جمع قرآن کا کام زید کے سپرد کیا گیا تھا؟

پہلی روایات سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت ابوبکر نے اس کام کو زید کے سپرد کر دیا تھا بلکہ پہلی روایت صراحتاً اس بات پر دلالت کرتی ہے کیونکہ حضرت ابوبکر کا یہ قول : ''تم ایک عقلمند ، قابل اعتماد اور سچے جوان ہو اور رسول اللہ کے زمانے میں وحی بھی لکھا کرتے تھے آج بھی تم جمع قرآن کے اس عظیم عمل کو انجام دو ،، واضح طور پر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حضرت ابوبکر نے جمع قرآن کا کام زید کے ذمے لگایا تھا۔

پانچویں روایت کا مفہوم یہ ہے کہ دو شاہدوں کی شہادت سے قرآن کی کتابت ہو رہی تھی یہاں تک کہ حضرت عمر آیہ رحم لے کر آئے مگر یہ ان سے قبول نہیں کی گئی۔


٭ کیا حضرت عثمان کے زمانے تک ایسی آیات باقی تھیں جن کی تدوین نہیں کی گئی؟

اکثر روایات سے یہی ظاہر ہوتا ہے بلکہ ان کی تصریح یہی ہے کہ حضرت عثمان نے پہلے سے مدون قرآن میں کوئی کمی نہیں کی اور چودہویں روایت صراحتاً یہ کہتی ہے کہ حضرت عثمان نے پہلے سے مدون قرآن میں سے کچھ گھٹا دیا گیا تھا اور مسلمانوں کو بھی اسے مٹانے کا حکم دیا تھا۔

٭ جمع قرآن میں حضرت عثمان کا ماخذ و مدرک کیا تھا؟

دوسری اور چوتھی روایت تصریح کرتی ہے کہ جمع قرآن کے سلسلے میں حضرت عثمان کا مدرک وہ قرآن تھے جنہیں حضرت ابوبکر نے جمع کیاتھا اور آٹھویں ، چودھویں اور پندرہویں روایت کی تصریح یہ ہے کہ حضرت عثمان کا مدرک دو گواہوں کی شہادت اور ان کا یہ قول تھا کہ انہوں نے خود رسول اللہ (ص) سے قرآن سنا ہے۔

٭ حضرت ابوبکر سے جمع قرآن کا مطالبہ کس نے کیا؟

پہلی روایت یہ کہتی ہے کہ جمع قرآن کا مطالبہ حضرت عمر نے کیا اور حضرت ابوبکر نے پہلے انکار کیا لیکن حضرت عمر کے اصرار پر وہ اس پر آمادہ ہو گئے اور زید بن ثابت کو اپنے پاس بلوا کر اس سے جمع قرآن کا مطالبہ کیا زید نے بھی پہلے انکار کیا اور پھر حضرت ابوبکر کے اصرار پر آمادگی ظاہر کی دسویں روایت یہ کہتی ہے کہ زید اور حضرت عمر نے حضرت ابوبکر سے جمع قرآن کا مطالبہ کیا اور حضرت ابوبکر نے دوسرے مسلمانوں سے مشورہ کے بعد اپنی رضا مندی کا اظہار کیا۔

٭قرآن جمع کر کے اس کے نسخے دوسرے شہروں میں کس نے بھیجے؟

دوسری روایت کی تصریح یہ ہے کہ یہ عمل حضرت عثمان نے انجام دیا تھا اور بارہویں روایت کی تصریح یہ ہے کہ یہ عمل حضرت عمر نے انجام دیا۔


٭ دو آئتوں کو سورہ برائت کے آخر میں کب ملایا گیا؟

پہلی ، گیارہویں اور بائیسویں روایت کی تصریح یہ ہے کہ ان دو آئتوں کو حضرت ابوبکر کے زمانے میں سورہ برائت سے ملایا گیا آٹھویں روایت یہ تصریح کرتی ہے اور بعض دوسری روایات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کام حضرت عمر کے دور میں انجام پایا تھا۔

٭ ان دو آئتوں کو کس نے پیش کیا؟

پہلی اور بائیسویں روایت کی تصریح یہ ہے کو ابو خزیمہ نے ان آئتوں کو پیش کیا آٹھویں اور گیارہویںروایت کی تصریح یہ ہے کہ خزیمہ بن ثابت نے ان آئتوں کو پیش کیا تھا اوران دونوں (ابوخزیمہ اور خزیمہ بن ثابت) میں کوئی نسبت نہیں ہے چنانچہ ابن عبدالبر نے یونہی نقل کیا ہے۔(۱)

٭ یہ کیسے ثابت ہوا کہ یہ دونوں آئتیں قرآن کا حصہ ہیں؟

پہلی روایت سے یہ ظاہر ہوتا ہے اور نویں اور بائیسویں روایت کی تصریح بھی یہی ہے کہ ایک آدمی کی شہادت سے ان کا قرآن ہونا ثابت ہوا آٹھویں روایت کے مطابق ایک آدمی کے علاوہ حضرت عثمان کی گواہی سے یہ ثابت کیا گیا اور گیارہویں روایت کی تصریح ہے کہ حضرت عمر اور دوسرے آدمی کی گواہی سے اس کا قرآن ہونا ثابت ہوا۔

٭قرآن کی کتابت اور املاء کے لئے حضرت عثمان نے کس کا تقرر کیا؟

دوسری روایت کی تصریح یہ ہے کہ حضرت عثمان نے زید ، ابن زبیر ، سعید اور عبدالرحمن کو کتابت کا حکم دیا اور پندرہویں روایت کی تصریح یہ ہے کہ حضرت عثمان نے کتابت کیلئے زید بن ثابت کو اور املاء کیلئے سعید کو مقرر کیا سولہویں روایت کی تصریح یہ ہے کہ حضرت عثمان نے کتابت کیلئے ثقیف کو اور املاء کیلئے ہذیل کو معین کیا اٹھارویں روایت کی تصریح یہ ہے کہ کاتب قرآن کا تعلق بنی ثقیف سے نہیں تھا اور نہ املاء لکھوانے والے کا تعلق بنی ہذیل سےتھا۔ انیسویں روایت کی تصریح یہ ہے کہ لکھوانے والا ابیی بن کعب تھا اور زید جو کچھ لکھتے تھے سعید اس کی تصحیح کرتے تھے اور بیسویں روایت کا مفہوم بھی یہی ہے البتہ اس میں تصحیح کرنے والے کا نام عبدالرحمن بن حرث ہے۔

____________________

(۱) تفسیر قرطبی ، ج ۱ ، ص ۵۶

۲۔ روایات جمع قرآن میں تضادات

یہ روایات ان روایات سے متضاد ہیں جن کے مطابق قرآن کریم رسول اللہ (ص) کے زمانے میں ہی لکھا اور جمع کیا گیا تھا چنانچہ علماء کی ایک جماعت ، جن میں ابن شیبہ ، احمد بن حنبل ، ترمذی ، نسائی ، ابن حبان ، حاکم ، بیہقی اور ضیاء مقدسی شامل ہیں ، ابن عباس سے روایت کرتی ہے کہ انہوں نے حضرت عثمان سے کہا:''آپ نے کس وجہ سے سورہ انفال کو ، جو مثانی(۱) میں سے ہے ، سورہ برائت کے ساتھ رکھ دیا ہے جو مین(۲) میں سے ہے اور ان دونوں سورتوں کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم کو ذکر نہیں کیا اور ان دونوں سورتوں کو قرآن کی سات طویل سورتوں کے ساتھ ذکر کر دیا ہے حضرت عثمان نے جواب دیا : بعض اوقات جب رسول اللہ (ص) پر متعدد آیات پر مشتمل سورے نازل ہوتے توآپ (ص) کا تبین وحی کو اپنے پاس بلایا لیتے اور ان سے فرماتے: اس سورے کو فلاں سورے کے ساتھ رکھو ، اور کبھی کبھی جب آپ (ص) پر متعدد آئتیں نازل ہوتیں تو آپ (ص) فرماتے: ان آیات کو فلاں سورے میں شامل کر لو حضرت عثمان کہتے ہیں: سورہ انفال وہ پہلا سورہ ہے جو مدینہ میں نازل ہوا اور سورہ برائت قرآن کا وہ سورہ ہے جو سب سے آخر میں نازل ہوا اس کے علاوہ ان دونوں کے قصے اور واقعات ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اس سے میں یہی سمجھا کہ برائت انفال کا حصہ ہے اور رسول اللہ (ص) نے بھی اپنی وفات سے پہلے یہ بیان نہیں فرمایا کہ برائت انفال کا حصہ ہے کہ نہیں۔ ان وجوہات کی بناء پر میں نے انفال اور برائت کو ملا دیا اور ان دونوں کے درمیان بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں لکھی اور انہیں قرآن کی سات طویل سورتوں میں شامل کر لیا،،(۳) طبرانی اور ابن عساکر ، شعبی سے روایت بیان کرتے ہیں: ''رسول اللہ (ص) کے زمانے میں قرآن کو انصار کے چھ آدمیوں نے جمع کیا ابی بن کعب ، زید بن ثابت ، معاذ بن جبل ، ابودرداء ، سعد بن عبید اور ابو زید ، مجمع بن جاریہ نے بھی دو یا تیس سورتوں کے علاوہ باقی قرآن کو جمع کیا تھا،،(۴)

____________________

(۱) وہ سورتیں جن کی آیات ایک سو سے کم ہوں (ترجم)

(۲) وہ سورتیں جن کا آیات ایک سو یا اس سے زیادہ ہوں (مترجم)

(۳) منتخب کنزالعمال ، ج ۲ ، ص ۲۸

(۴) ایضاً: ج ۲ ، ص ۵۲

قتادہ کی روایت ہے ، وہ کہتے ہیں:

''میں نے انس بن مالک سے پوچھا: رسول اللہ (ص) کے زمانے میں قرآن کس نے جمع کیا ؟ اس نے جواب دیا : قرآن کو چار آدمیوں نے جمع کیا اور ان سب کا تعلق انصار سے تھا جو یہ ہیں : ابی بن کعب ، معاذ بن جبل ، زید بن ثابت اور ابوزید ،،(۱)

مسروق کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن عمر نے عبداللہ بن مسعود کا ذکر کیا اور کہا:

''میرے دل میں ہمیشہ اس کی محبت رہتی ہے ۔ اس لئے کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا: تم لوگ قرآن ، چار

آدمیوں ، عبداللہ بن مسعود ، سالم ، معاذ اور ابی بن کعب سے حاصل کرو،،(۲)

نسائی نے صحیح سند کے ذریعے عبداللہ ابن عمر سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا:

''میں نے قرآن جمع کیا اور ہر رات پورا قرآن ختم کرتا تھا ، جب رسول اللہ (ص) کو یہ خبر ملی تو آپ (ص) نے فرمایا: قرآن مہینے میں ختم کیا کرو،،(۳)

ابن سعد کی وہ روایت بھی عنقریب بیان ہو گی جس کے مطابق ام ورقہ نے بھی قرآن جمع کیا تھا۔

ہو سکتا ہے کہ کسی کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ ان روایات میں جمع قرآن سے مراد سینوں میں قرآن کا جمع کرنا ہو اور کتابی شکل میں مدون قرآن مراد نہ ہو لیکن یہ صرف ایک دعویٰ ہو گا جس کا کوئی ثبوت نہیں ہے اس کے علاوہ جیسا کہ آئندہ بحثوں میں ثابت ہو گا کہ رسول اللہ (ص) کے زمانے میں حافظان قرآن لاتعداد تھے بھلا ان کو چار یا چھ میں کیونکر محدود کیا جاسکتا ہے۔

جو شخص صحابہ کرام اور آپ (ص) کے حالات کا بنظر غائر مطالعہ کرے اسے یہ علم اور یقین حاصل ہو جائے گا کہ قرآن مجید عہد رسول اللہ (ص) میں ہی جمع کر لیا گیا تھا اور یہ کہ قرآن کو جمع کرنے والوں کی تعداد بھی کوئی کم نہیں تھی۔

____________________

(۱) صحیح بخاری ، باب القراء من اصحاب النبی (ص) ، ج۶ ، ص ۲۰۲

(۲) صحیح بخاری ، باب القراء من اصحاب النبی (ص) ، ج ۶ ، ص ۲۰۲

(۳) الاتقان النوع ۲۰ ، ج ۱ ، ص ۱۲۴


باقی رہی بخاری یک وہ روایت جو انس سے نقل کی گئی ہے اور جس میں یہ کہا گیا ہے کہ رسول اللہ (ص) کی وفات تک چار آدمیوں ابودرداء ، معاذ بن جبل ، زید بن ثابت اور ابوزید کے علاوہ کسی اور نے قرآن کو جمع کرنے کی سعادت حاصل نہیں کی یہ روایت متروک اور ناقابل عمل ہے اس لئے کہ یہ ان تمام گزشتہ روایات ، بلکہ خود بخاری کی روایت سے بھی متعارض ہے اس کے علاوہ یہ روایت خودبھی قابل تصدیق نہیں ہے اس لئے کہ یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی راوی رسول اللہ (ص) کی وفات کے موقع پر کثیر تعداد میں اور مختلف شہروں میں منتشر مسلمانوں کا احاطہ اور ان کے حالات معلوم کر سکے تاکہ اس طرح قرآن کو جمع کرنے والے افراد چار میں منحصر ہو جائیں یہ دعویٰ توغیب گوئی اور بغیر علم و یقین کے نظریہ قائم کرنے کے مترادف ہے۔

اس بحث کا حاصل یہ ہے کہ ان تمام روایات کی موجودگی میں اس قول کی تصدیق ممکن نہیں کہ حضرت ابوبکر وہ پہلے شخص ہیں جنہوںنے خلافت سنبھالنے کے بعد قرآن جمع کیا تھا اگر یہ بات صحیح ہے تو پھر حضرت ابوبکر نے عمر اور زید کو یہ حکم کیوں دیا کہ وہ سفید پتھروں ، کھجور کی چھالوں اور لوگوں کے سینوں سے قرآن جمع کریں اور یہ کہ اس قرآن کو عبداللہ ، معاذ اور ابیی سے کیوں حاصل نہیں کیا ؟ ! جبکہ یہ حضرات جمع قرآن کے وقت زندہ تھے اور رسول اللہ (ص) نے ان سے اور سالم سے قرآن حاصل کرنے کا حکم بھی دیا تھا البتہ اس وقت سالم جنگ یمامہ میں قتل کر دیئے گئے تھے اور اس سے قرآن حاصل کرنا ممکن نہیں تھا،،

اس کے علاوہ اس روایت کےمطابق زید خود منجملہ جامعین قرآن میں سے تھا پھر اسے جمع قرآن کے سلسلے میں ادھر ادھر

تلاش کرنے کی کیا ضرورت تھی جبکہ حضرت ابوبکر کے قول کے مطابق یہ ایک عقلمند اور پاکدامن نوجوان تھا۔

ان سب کے علاوہ حدیث ثقلین بھی اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ قرآن رسول اللہ (ص) کے زمانے میں ی جمع کر لیا گیا تھا چنانچہ ہم آگے چل کر اس کی طرف اشارہ کریں گے۔


۳۔ احادیث جمع قرآن ، کتاب الٰہی سے متعارض ہیں۔

جمع قرآن سے متعلق بیان شدہ تمام روایات قرآن کریم سے متعارض ہیں کیونکہ بہت سی آیات کے مطابق قرآن کے سورے ایک دوسرے سے جدا سب لوگوں حتیٰ کہ مشرکین اور اہل کتاب کے پاس موجود تھے اس کی دلیل یہ ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) نے کفار اور مشرکین کو قرآن کی مثل ، دس سورتوں حتیٰ کہ ایک سورہ کی نظیر لانے کا چیلنج کیا تھا اس سے یہ حقیقت ثابت ہوتی ہے کہ قرآن کے سورے لوگوں کے ہاتھ میں موجود تھے ورنہ ان کی نظیر لانے کا چیلنج بے معنی ہوتا۔

اس کے علاوہ قرآن مجید کی بہت سی آیات میں قرآن پر کتاب کا اطلاق کیا گیا ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) کے فرمان: ''انی تارک فیکم ثقلین کتاب اللہ و عترتی،، میں بھی قرآن کریم کو کتاب سے تعبیر کیا گیا ہے۔

یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ قرآن مجید جناب نبی کریم (ص) کے زمانے میں ہی مکمل طور پر لکھا جا چکا تھا اس لئے کہ قرآن کے ان مضامین کو کتاب کہنا ہرگز صحیح نہیں ہے جو لوگوں کے سینوں میں ہوں اور نہ اس کو حقیقتہً کتاب کہا جا سکتا ہے جو باریک پتھروں ، کھجور کی ٹہنیوں اور ہڈیوں پر لکھاہوا ہو ہاں مجازی طور پر اسے کتاب کہا جا سکتا ہے لیکن یہ اس صورت میں صحیح ہو گا جب کلام میں معنیء مجازی پر کوئی قرینہ موجود ہو۔

یہی حیثیت لفظ ''کتاب،، کی ہے کیونکہ حقیقی طور پر کتاب ، مضامین کے مجموعہ کو کہا جاتا ہے اگر یہی مضامین مختلف حصوں میں لکھے اور بکھرے ہوئے ہوں تو انہیں کتاب نہیں کہا جائے گا چہ جائیکہ ان مضامین کو کتاب کہا جائے اور ابھی تحریر میں بھی نہیں لائے گا اور صرف لوگوں کے سینوں میں محفوظ ہیں۔


۴۔ احادیث جمع قرآن حکم عقل کے خلاف ہیں۔

جمع قرآن سے متعلق جو روایات بیان کی گئی ہیں وہ حکم عقل کیخلاف ہیں کیونکہ بذات خود قرآن کی عظمت ، حفظ قرآن اور قرات قرآن کو رسول اللہ (ص) کا اہمیت دینا ، رسول اللہ (ص) جس چیز کو اہمیت دیتے تھے مسلمانوں کا اس کو دل و جان سے قبول کرنا اور اہمیت دینا اور ان تمام اعمال کا بیان شدہ ثواب ، جمع قرآن کے اس طریقہ کار سے ساز گار نہیں جس کا روایت میں ذکر ہے۔

قرآن مجید میں کئی ایسے پہلو ہیں جن کی بنیادپر مسلمانوں کی نگاہ میں قرآن اہمیت کاحامل بن سکتا ہے اور مرد تو بجائے خود یہ عورتوں اوربچوں میں بھی مشہور ہو سکتا ہے اور وہ پہلو یہ ہیں:

۱۔ قرآن کی فصاحت و بلاغت : عرب کلام بلیغ کے حفظ کرنے کو بہت زیادہ اہمیت دیتے تھے اسی وجہ سے وہ زمانہ جاہلیت کے اشعار اور خطبوں کو یاد کر لیتے تھے ایسے عرب ، کلام پاک کو اہمیت کیوں نہ دیتے جس کے چیلنج کا جواب کوئی فصیح و بلیغ شخص اور خطیب بھی نہیں دے سکا اس وقت تمام دنیائے عرب کی توجہ قرآن مجید پر مرکوز تھی مومنین اسے اس لئے حفظ کرتے تھے کہ ان کا اس پر ایمان تھا اور کفار اس کا مقابلہ کرنے اور اس کی حجیت کوباطل ثابت کرنے کیلئے اسے حفظ کرتے تھے۔

۲۔ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ) جن کی اس وقت کرہ ارض کے ایک عظیم خطے پر حکومت تھی اس خواہش کا اظہار کر چکے تھے کہ حتی المقدور قرآن کا تحفظ اور اسے حفظ کیا جائے اور انسانی عادت و طبیعت کا یہ تقاضا ہے کہ جب کوئی سربراہ مملکت کسی کتاب کے تحفظ اور پڑھنے کی خواہش ظاہر کرے تو یہ کتاب ان لوگوں میں فوراً رائج ہو جاتی ہے جو کسی دینی یا دنیوی مفاد کی خاطر اس سربراہ کی خوشنودی چاہتے ہوں۔

۳۔ حافظ قرآن کو لوگوں میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور ہر تاریخ دان بخوبی جانتا ہے کہ اس دور میں حافظان اور قاریان قرآن کا کتنا احترام کیا جاتا تھا یہ خود ایک اہم سبب ہے کہ اس مقصد کیلئے لوگوں نے سارے کا سارا یا مقدور بھر قرآن ضرور حفظ کیا ہو گا۔


۴۔ حفظ اور قرات قرآن کا اجرو ثواب ، جس کا قاری اور حافظ قرآن مستحق قرار پایا ہے ، ایک اہم عامل ہے جو لوگوں میں قرآن کو یاد کرنے اور اس کے تحفظ کا شوق پیدا کر سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ مسلمان عظمت قرآن کو بہت زیادہ اہیمت دیتے تھے قرآن کو اپنے جان و مال اور اولاد سے زیادہ عزیز رکھتے اورا س کی حفاظت کرتے تھے چنانچہ بعض روایات میں ہے کہ کچھ عورتوں نے سارے کا سارا قرآن جمع کر لیا تھا۔

ابن سعد طبقات میں لکھتے ہیں:

''فضل بن وکین نے ہمیں خبر دی کہ ولید بن عبداللہ بن جمیع نے حدیث بیان کی: میری نانی ام ورقہ بنت عبداللہ بن حارث ، جس کی زیارت کیلئے رسول اللہ (ص) جایا کرتے اور اسے شہیدہ کا نام دیتے تھے اور اس نے سارا قرآن جمع کر لیا تھا ، نے حدیث بیان کی: جب رسول اللہ (ص) جنگ بدر کیلئے روانہ ہوئے تو میں نے آپ (ص) سے عرض کیا: یا رسول اللہ (ص) ! اگر اجازت ہو تو میں بھی آپ (ص) کے ساتھ چلوں اور جنگی زخمیوں کا علاج اور تیمارداری کروں، شاید اللہ تعالیٰ مجھے شہادت نصیب فرمائے ؟ آپ (ص) نے فرمایا : خدا نے شہادت تمہاری قسمت میں لکھ دی ہے،،(۱)

قرآن جمع کرنے کے معاملے میں جب عورتوں کا یہ حال ہے تو مردوں کا کیا حال ہو گا یہی وجہ ہے کہ عہد رسول اللہ (ص) کے بہت سے حافظان قرآن کے نام تاریخ میں درج ہیں۔

قرطبی لکھتے ہیں:

_____________________

۱) الاتقان النوع ۲۰ ج ۱ ص ۱۲۵


''جنگ یمامہ کے دن ستر قاری شہید کر دیئے گئے اور عہد نبی اکرم (ص) میں بر معونہ کے مقام پر بھی اتنے ہی قاری شہید کئے گئے ،،(۱)

جمع قرآن سے متعلق گزشتہ صفحات میں پیش کردہ دسویں روایت میں ہے کہ جنگ یمامہ کے دن چار سو قاری شہید کئے گئے۔

بہرحال نبی اکرم (ص) کے قرآن مجید کو انتہائی اہمیت دینے اور خصوصی طور پر متعدد کاتبوں کا اہتمام کرنے سے ، جبکہ قرآن تیس سال میں قسط وار نازل ہوا ہے ، ہمیں یقین حاصل ہو جاتا ہے کہ آپ (ص) نے اپنے زمانے میں ہی جمع قرآن کا حکم دیدیا تھا۔

زید بن ثابت روایت کرتے ہیں:

''ہم رسول اللہ (ص) کے پاس بیٹھ کر ٹکڑوں سے قرآن جمع کیا کرتے تھے،،

حاکم اس حدیث کے ذیل میں فرماتے ہیں:

''یہ حدیث شیخین (بخاری و مسلم) کی شرط کی بنیاد پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اپنی کتاب میں نقل نہیں کیا،،

اس کے بعد فرماتے ہیں:

یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ قرآن مجید رسول اسلام (ص) کے زمانے میں ہی جمع کر لیا گیا تھا،،(۲)

جہاں تک قرآن کے بعد سوروں یا ایک سورہ کے کچھ حصوں کا تعلق ہے ان کو حفظ کرنا تو عام بات تھی اور شاید ہی کوئی مسلمان مرد یا عورت ہو جس نے چند سورتیں یا ایک سورۃ کے کچھ حصہ یاد نہ کئے ہوں۔

____________________

(۱) الاتقان النوع ۲۰ ، ص ۱۲۲ ۔ قرطبی اپنی تفسیر ، ج ۱ ، ص ۵۰ میں لکھتے ہیں: بعض کا کہنا ہے کہ جنگ یمامہ کے دن سات سو قاری شہید کئے گئے۔

(۲) المستدرک ، ج ۲ ، ص ۶۱۱


عبادہ بن صامت روایت کرتے ہیں:

کان رسول الله ۔ص ۔بشغل ، فاذا قدم رجل مهاجر علی رسول الله ۔ص ۔دفعه الی رجل منا یعلمه القرآن ،، (۱)

''بعض اوقات رسول اللہ (ص) کسی کام میں مصروف ہوتے اور مہاجرین میں سے کوئی آپ (ص) کی خدمت میں حاضر ہوتا تو آپ (ص) کی خدمت میں حاضر ہوتا تو آپ (ص) اسے ہم میں سے کسی کے حوالے کر دیتے جو اسے قرآن کی تعلیم دیتا تھا،،

کلیب نے روایت کی ہے:

''کنت مع علی ، ع ۔فسمع فجهم فی المسجد یقراون القرآن ، فقال : طوبی لهولاء ۔۔۔۔۔۔(۲)

''میں علی (علیہ السلام) کے ہمراہ تھا جب آ پ(ع) نے لوگوں کی قرات قرآن کا شور سنا تو فرمایا: ان لوگوں کو بشارت

ہو جو قرات کلام پاک میں مصروف ہیں،،

نیز عبادہ بن صامت سے روایت ہے:

کان الرجل اذا هاجر دفعه النبی ۔ص ۔الی رجل منایعلمه القرآن ، وکانبسمع المسجد رسول الله ۔ص ۔فجة بتلاوة القرآن ، حی امرهم رسول الله ان یخفضوا اصواتهم لئلا یتغالطوا،، (۳)

''جب کوئی نیا مہاجر مدینہ آتا تو نبی اکرم (ص) اسے ہم میں سے کسی کے حوالے کر دیتے جو اسے قرآن کی تعلیم دیتا تھا اس وقت مسجد نبوی (ص) سے قرات قرآن کا ایک شور بلند ہوتا تھا حتیٰ کہ نبی اکرم (ص) کو کہنا پڑا کہ اپنی آوازوں کو آہستہ کریں کہیں شور میں قرآن غلط نہ پڑھا جائے،،

___________________

(۱) مسند احمد ، ج ۵ ، ص ۳۲۴

(۲) کنز العمال ، فضائل القرآن ، طبع ثانی ، ج ۲ ، ص ۱۸۵

(۳) مناہل العرفان ، ص ۳۲۴


یہ حقیقت ہے کہ حفظ قرآن ، اگرچہ قرآن کے بعض حصے سہی ، کارواج مسلمان مرد اور عورتوں میں عام تھا بلکہ بعض اوقات تو کچھ مسلمان عورتیں قرآن کی ایک یا متعدد سورتوں کی تعلیم کو اپنا مہر قرار دیتیں(۱) قرآن کو اتنی زیادہ اہمیت دینے کے باوجود یہ کہنا کیسے ممکن ہے کہ قرآن کی جمع آوری میں خلافت ابوبکر تک تاخیر ہوئی اور جمع قرآن کے سلسلے میں حضرت ابوبکر کو دو گواہوں کی ضرورت محسوس ہوئی جو یہ شہادت دیں کہ ہم نے سورہ یا آیہ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ) سے سنا ہے۔

۵۔ احادیث جمع قرآن خلاف اجماع ہیں۔

یہ سب روایات تمام مسلمانوں کے اس اتفاقی اور اجماعی فیصلے کیخلاف ہیں کہ قرآن صرف تواتر کے ذریعے ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ ان روایات کے مطابق قرآن دو شاہدوں یا ایک ایسے شاہد جس کی گواہی دو کے برابر ہو ، کی شہادت سے ثابت کیا جاتا تھا اس طریقے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ قرآن خبر واحد کے ذریعے بھی ثابت ہو انصاف سے بتائے ! کوئی مسلمان یہ بات ماننے کیلئے تیار ہے ؟ میں نہیں سمجھ سکا کہ دونوں قول کیسے جمع ہو سکتے ہیں کہ قرآن خبر متواتر کے بغیر ثابت نہ ہو سکے اور یہ روایات بھی صحیح ہوں جن کے مطابق قرآن دو شاہدوں کی شہادت سے بھی ثابت ہو جاتا ہے۔

کیا اس بات کے یقین سے کہ قرآن خبر متواتر کے بغیر ثابت نہیں ہوتا ، اس بات کا یقین حاصل نہیں ہوتا کہ یہ ساری کی ساری روایات جھوٹی اور من گھڑت ہیں؟

تعجب تو اس پر ہے کہ ابن حجرجیسے بعض دانشمندوں نے فرمایا ہے کہ ان روایات میں شہادت سے مراد کتابت اور حفظ کرنا ہے(۲) میرے خیال میں جس وجہ سے ابن ح جر نے یہ توجیہ کی ہے وہ ثبوت قرآن کیلئے تواتر کاضروری ہونا ہے بہرحال یہ توجیہہ کئی جہات سے صحیح نہیں ہے:

____________________

(۱) اس حدیث کو شیخان (بخاری و مسلم) ابوداؤد ، ترمذی اور نسائی نے بیان کیا ہے ۔ تاج ، ج ۲ ، ص ۳۳۲

(۲) الاتقان نوع ۱۸ ص ۱۰۰


اولاً: یہ توجیہ جمع قرآن سے متعلق مذکورہ روایات کی تصریحات کیخلاف ہے۔

ثانیاً: اس توجیہ کا لازمہ یہ ہے کہ جب تک یہ کسی کے پاس لکھا ہوا نہ ملے وہ اسے قرآن میں شامل نہیں کرتے تھے جس کا قرآن ہونا تواتر سے ثابت ہوتا اس کا مطلب یہ ہوا کہ انہوں نے اس کو ساقط (ترک ) کر دیا جس کا قرآن ہونا تواتر سے ثابت ہو۔

ثالثاً : جس بات کو لکھنا یا حفظ کرنا مقصود ہو اگر وہ متواترات میں سے ہو تو اسے ل کھنے کی ضرورت نہیں ہوتی اور جب تک متواتر نہ ہو کتابت اور حفظ کرنے سے قرآن ثابت نہیں ہوتا بہرحال کتابت اور حفظ کو جمع قرآن کی شرط قرار دینے کا کوئی فائدہ نہیں۔

خلاصہ کلام یہ کہ ان روایات کو مسترد کرنا ضروری ہے کیونکہ یہ روایات تواتر کے بغیر بھی قرآن کے ثابت ہونے پر دلالت کرتی ہیں جس کے باطل ہونے پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے۔

۶۔ احادیث جمع قرآن اور قرآن میں زیادتی

اگر یہ روایات صحیح ہوں اور ان کے ذریعے قرآن میں کمی کی صورت میں تحریف پر استدلال کیا جائے تو انہی روایات کے ذریعے قرآن میں زیادتی کی صورت میں تحریف پر بھی استدلال کیا جا سکتا ہے کیونکہ ان روایات میں جمع قرآن کی جو کیفیت اور طریقہ بتایا گیا ہے اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ قرآن میں کچھ نہ کچھ اضافہ کر دیا گیا ہو۔

اعتراض:قرآن میں زیادتی کو اس میں نقص اور کمی پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ قرآن کی کسی آیہ یا سورہ کو قرآن سے نکال لینا آسان ہے لیکن قرآن میں کسی آیہ کا اضافہ کرنا مشکل ہے۔ ا س لئے کہ قرآن میں اعجاز کی حد تک فصاحت و بلاغت پائی جاتی ہے اوراس کے پایہ کا کلام بنا کر اسے قرآن میں شامل کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔


جواب: اگرچہ قرآن کے اعجاز اور اس کی بلاغت کا تقاضا یہ ہے کہ ایک سورہ کی مثل و نظیر نہ لائی جا سکے لیکن ایک دو کلموں کی مثل و نظیر تولائی جا سکتی ہے بلکہ اگر مختصر ہو تو ایک آیہ کی مثل بھی لائی جا سکتی ہے اور اگر یہ احتمال نہ ہوتا تو قرآن ثابت کرنے کیلئے دو شاہدوں کی گواہی کی ضرورت نہ پڑتی جس کا گزشتہ روایات میں ذکر ہوا ہے اس لئے کہ جو آیت بھی کسی کی طرف سے پیش کی جاتی وہ خود منہ بولتا ثبوت ہوتی کہ میں قرآن سے ہوں کہ نہیں۔

بنا برایں جو قرآن میں کمی کی صورت میں تحریف کا قائل ہے اسے لامحالہ ماننا پڑے گا کہ قرآن میں زیادتی بھی ہوئی ہے اور یہ اجماع مسلمین کیخلاف ہے۔

گزشتہ مباحث کا خلاصہ یہ ہوا کہ جمع قرآن کو خلفاء کی طرف نسبت دینا محض خیال خام ہے جو کتاب و سنت ، عقل اور اجماع کیخلاف ہے۔

تحریف کو ثابت کرنے کیلئے جمع قرآن کے ذریعے استدلال نہیں کیا جا سکتا ، بفرض تسلیم اگر قرآن کو حضرت ابوبکر نے اپنے دور خلافت میں جمع کیا ہو پھر بھی اس میں شک نہیں کہ جمع قرآن کا جو طریقہ گزشتہ بیان کی گئی روایات میں ذکر کیا گیا ہے ، جھوٹ ہے اور حق یہ ہے کہ قرآن کو مسلمانوں میں تواتر کی بنیاد پر جمع کیا گیا ہے البتہ جو سورے اور آیات لوگوں کے سینوں میں بطور تواتر موجود تھیں جمع کرنے والے نے قرآن کی صورت میں ان کی تدوین کی ہے۔

ہاں ! یہ مسلم ہے کہ حضرت عثمان نے اپنے دور خلافت میں قرآن جمع کیا ہے لیکن حضرت عثمان اس معنی میں جامع قرآن نہیں ہیں کہ انہوں نے سوروں اور آیتوں کو بذات خود جمع کیا ہو بلکہ اس معنی میں جامع قرآن ہیں کہ انہوں نے مسلمانوں کو ایک ہی قرات پر متفق کیا اور باقی قرآنوں کوجو اس قرات سے مختلف تھے جلا دیا اور دوسرے شہروں میں یہ حکمنامہ بھیجا کہ اس نسخے کے علاو باقی نسخے جلا دیئے جائیں اور مسلمانوں کو قرات میں اختلاف کرنے سے روک دیا چنانچہ اس حقیقت کی تصریح بعض دانشمندان اہل سنت نے بھی کی ہے۔


حارث محاسبی کہتے ہیں:

''عام لوگوں میں مشہور ہے کہ قرآن حضرت عثمان نے جمع کیا ہے حالانکہ حقیقت یہ نہیں ہے حضرت عثمان نے صرف لوگوں کو اس ایک قرات پر آمادہ اور متفق کیا تھا جسے حروف قرات میں اہل عراق و شام کے اختلاف کے وقت حضرت عثمان اور کچھ مہاجرین و انصار نے اختیار کیا تھا اور اس سے قبل قرآن ، حروف ہفتگانہ جن میں قرآن نازل ہوا تھا ، کے مطابق پڑھا جاتا تھا ،،(۱)

مولف : جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ حضرت عثمان نے مسلمانوں کو اس ایک قرات پر متفق کیا جو مسلمانوں میں مشہور تھی ، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) سے بطور تواتر انہوں نے سنی تھی اور ان قرات پر پابندی لگا دی جو حروف ہفتگانہ کی بنیادپر پڑھی جاتی تھیں ، جن کا بطلان گزشتہ مباحث میں بیان ہو چکا ہے ، حضرت عثمان کے اس کارنامے پر کسی مسلمان کو اعتراض نہیں کیونکہ قرات میں اختلاف مسلمانوں میں اختلاف کا باعث بن رہا تھا اور اس کا شیرازہ بکھر رہا تھا بلکہ اس اختلاف کی وجہ سے بعض مسلمان بعض کو کافر قرار دے رہے تھے گزشتہ مباحث میں ایسی روایات گزر چکی ہیں جن میں رسول اللہ (ص) نے قرات میں اختلاف سے منع فرمایاہے ہاں ! حضرت عثمان کے جس عمل پر مسلمان اعتراض کرتے ہیںوہ ان کا قرآن کے باقی نسخوں کو جلانا اور مختلف شہروں میں جلانے کا حکم دینا ہے اس عمل پر مسلمانوں کی ایک جماعت نے اعتراض کیا تھا اور حضرت عثمان کا نام حراق المصاحف قرآن سوز رکھ دیا تھا۔

نتیجہ:

ان گزشتہ مباحث سے قارئین محترم کے سامنے واضح ہو گیا کہ تحریف قرآن کی باتیں خرافات اور بیہودہ خیالات ہیں اس قسم کی باتیں ضعیف العقل کر سکتے ہیں یا وہ لوگ کر سکتےہیں جو اس مسئلہ میں کماحقہ ، غور نہیں کرتے یا تحریف کا قائل وہ ہو گا جو اس نظریئے پر فریفتہ ہو ظاہر ہے کسی بھی چیز کی محبت انسان کو اندھا اور بہرا کر دیتی ہے اور وہ نہ حق کی بات کر سکتا ہے اور نہ سن سکتا ہے اس کے برعکس جو شخص عقلمند، منصف مزاج اور متفکرہو گا وہ اس نظریہ کے باطل ہونے میں شک نہیں کر سکتا۔

____________________

(۱) الاتقان نوع ۱۸ ، ج ۱ ، ص ۱۰۳


ظواھر قرآن کی حجیت

٭ ظواہر قرآن کے حجت نہ ہونے کے دلائل

٭ قرآن فہمی کا مختص ہونا

٭ تفسیر بالرائے کی ممانعت

٭ معانی قرآن کی پیچیدگی

٭ خلاف ظاہر کا یقین

٭ متشابہ پر عمل کی ممانعت

٭ قرآن میں تحریف


اس میں کوئی شرک نہیں کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) نے اظہار مافی الضمیر اور افہام و تفہیم کا کوئی خاص طریقہ نہیں اپنایا اور افہام و تفہیم کا وہی طریقہ اپنایا جو آپ (ص) کی قوم می رائج تھا آپ (ص) اپنی قوم کے لئے قرآن لے کرآئے تاکہ وہ اسے سمجھے اور اس کی آیتوں میں غور و فکر کرے قرآن جن کاموں کا حکم دے انہیں بجا لائے اور جن باتوں سے روکے اس سے باز آ جائے قرآن کی متعدد ا یتوں میں اس نکتے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔

( أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا ) (۴۷:۲۴)

''تو کیا یہ لوگ قرآن میں (ذرا بھی ) غور نہیں کرتے یا (ان کے) دلوں پر تالے (لگے ہوئے) ہیں،،

دوسری جگہ ارشادہوتا ہے:

( وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِي هَـٰذَا الْقُرْآنِ مِن كُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ ) ۳۹:۲۷

''اور ہم نے تو اس قرآن میں لوگوں کے (سمجھانے کے) واسطے ہر طرح کی مثل بیان کر دی ہے تااکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں،،

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

( وَإِنَّهُ لَتَنزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ ) ۲۶:۱۹۲

''اور (اے رسول) بیشک یہ (قرآن) ساری خدائی کے پالنے والے (خدا) کا اتارا ہوا ہے،،

( نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ ) : ۱۹۳

''جسے روح الامین (جبرئیل) لے کر نازل ہوئے ہیں،،

( عَلَىٰ قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنذِرِينَ ) : ۱۹۴

''تمہارے دل پر تاکہ تم بھی (اور پیغمبروں کی طرح لوگوں کو عذاب خدا سے) ڈراؤ،،


( بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِينٍ ) : ۱۹۵

''(جسے جبرئیل) صاف عربی زبان میں (لے کر آئے)،،

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

( هَـٰذَا بَيَانٌ لِّلنَّاسِ وَهُدًى وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِينَ ) ۳:۱۳۸

''یہ (جو ہم نے کہا) عام لوگوں کیلئے تو صرف بیان (واقعہ ) ہے (مگر) اور پرہیز گاروں کیلئے نصیحت ہے،،

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

( فَإِنَّمَا يَسَّرْنَاهُ بِلِسَانِكَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ ) ۴۴:۵۸

''تو ہم نے اس قرآن کو تمہاری زبان میں (اس لئے) آسان کر دیا ہے تاکہ یہ لوگ نصیحت پکڑیں،،

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

( وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ ) ۵۴:۱۷

''اور ہم نے تو قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے واسطے آسان کر دیا ہے تو کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے،،

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

( أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ ۚ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّـهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا ) ۴:۸۲

''تو کیا یہ لوگ قرآن میں بھی غور نہیں کرتے اور (یہ نہیں خیال کرتے کہ) اگر خدا کے سوا کسی اور کی طرف سے (آیا ) ہوتا توضرور اس میں بڑا اختلاف پاتے،،

ان کے علاوہ بھی قرآن کی ایسی آیات موجود ہیں جن میں احکام قرآن پر عمل کرنا واجب قرار دیا گیا اور اس کے ظواہر پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے ذیل میں ظواہر قرآن کی حجیت اور عربوں کے قرآن کے معانی کو سمجھنے کے چند دلائل پیش کئے جاتے ہیں۔


۱۔ قرآن کو رسالت کی حجت و دلیل کے طورپر نازل کیا گیا اور نبی اکرم (ص) نے پوری انسانیت کو اس کی ایک سورہ تک کی مثل پیش کرنے کا چیلنج کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ عرب قرآن کے ظاہری معانی سمجھتے تھے اگر قرآن ایک ناقابل حل معمہ ہوتا تو عربوں کو چیلنج کرنا صحیح نہ ہوتا اور ان کے سامنے قرآن معجزہ ہونا ثابت نہ ہوتا کیونکہ جس چیز کو وہ سمجھتے ہی نہ تھے اس کا جواب کیا دیتے اور یہ بات قرآن نازل کرنے کے مقصد اور لوگوں کو دعوت ایمان دینے سے سازگار نہیں بلکہ منافی ہوتی۔

۲۔ بہت سی روایات میں ثقلین ، جنہیں رسول اللہ (ص) اپنے بعد چھو ڑکر گئے ، سے متمسک رہنے کا حکم دیا گیا ہے ظاہر ہے تمسک کا مطلب یہ ہے کہ اس کتاب کو اپنایا جائے اور اس سے جو احکام سمجھےج ائیں ان پر عمل کیا جائے اور ظاہر قرآن کی حجیت اسی کا نام ہے۔

۳۔ روایات متواترہ میں حکم دیا گیا ہے کہ روایات کو قرآن کے سامنے پیش کرو( اس سے مقایسہ کرو) اور پھر جو روایت کتاب خدا کیخلاف ہو اسے باطل سمجھو اور دیوار پر دے مارو وہ جھوٹ پر مبنی ہے اس کو قبول کرنے سے منع کیا گای ہے اور ائمہ (ع) کا فرمان نہیں ہے یہ روایات تصریح کرتی ہیں کہ ظواہر قرآن حجت ہیں اور قرآن کو عام اہل زبان جو فصیح عربی جانتے ہوں سمجھ سکتے ہیں۔

اس قسم کی دوسری روایات میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ صحیح شرائط کو باطل شرائط سے الگ کرنا ہو تو ان کا کتاب خدا سے مقایسہ کرو اور جو کتاب خدا کے خلاف ہو اسے مستردکر دو۔

۴۔ بعض احکام شرعیہ پرائمہ (ع) کا قرآنی آیات سے استدلال کرنا دلیل ہے کہ ظواہر قرآن حجت ہیں:

۱۔ زراہ نے امام صادق (ع) سے پوچھا کہ آپ (ع) نے کہاں سے سمجھا کہ پورے سر کا نہیں بلکہ سر کے ایک حصے کا مسح واجب ہے آپ (ع) نے فرمایا : ''لمکان الباء ،، (یعنی ''وامسحوا برؤوسکم،، میں ''ب،، بعض کا معنی دیتی ے اوریہ بتاتی ہے کہ سر کے کچھ حصے کا مسح واجب ہے)


۲۔امام (علیہ السلام) نے منصور دو انیقی کو چغل خور کی بات پر عمل کرنے سے منع فرمایا اور کہا ''چل خور فاسق ہے،، اس کے بعد دلیل کے طور پر اس آیہ شریفہ کی تلاوت فرمائی:

( إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا ) ۴۹:۶

''اگر کوئی بدکردار تمہارے پاس کوئی خبرلے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو،،

۳۔ ایک شخص نے گانا سننے کی خاطر ، جس کی آواز ہمسائے کے گھر سے آ رہی تھی بیت الخلاء میں دیر لگائی اور اپنی طرف سے یہ عذر پیش کیا کہ میں عمداً گانا سننے یہاں نہیں آیا آپ (ع) نے فرمایا:

''آپ تو نے خدا کا یہ فرمان نہیں سنا،،

( إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَـٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا ) ۱۷:۳۶

''کیونکہ کان اور آنکھ اور دل ان سب کی (قیامت کے دن) یقیناً باز پرس ہونی ہے،،۔

۱۴۔ امام صادق (علیہ السلام) نے اپنے فرزند اسماعیل سے فرمایا:

جب مومنین کی ایک جماعت تیرے پاس آ کر گواہی دے تو اس کی تصدیق کر،،۔

پھر آپ (ع) نے بطور دلیل اس آیہ کریمہ کی تلاوت فرمائی:

( يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمومنينَ ) ۹:۶۱

''جب تک دوسرے مرد سے نکاح نہ کرے،،


۱۵۔ آپ (ع) نے فرمایا:

''تین مرتبہ طلاق شدہ عورت کے حلالہ کیلئے ایک غلام سے عقد کافی ہے ، کیونکہ اس پر بھی ''زوج،، صادق آتا ہے ارشاد خداوندی ہے:

( حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ) ۲:۲۳۰

''جب تک دوسرے مرد سے نکاح نہ کرے،،

۱۶۔ آپ (ع) نے فرمایا۔

جب عورت کو تین طلاقیں دی گئی ہوں وہ عقد منقطع (متعہ) سے حلال نہیں ہو گی ، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

( فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يَتَرَاجَعَا ) ۲:۲۳۰

''ہاں اگر دوسراشوہر (نکاح کے بعد ) اس کو طلاق دے دے تب البتہ ان میاں بی بی پر باہم میل کر لینے میں کچھ گناہ نہیں ہے،،۔

اور متعہ میں طلاق نہیں ہوتی۔

۱۷۔ ایک شخص نے امام صادق (ع) کی خدمت میں آ کر عرض کی:

ٹھوکر لگنے سے میراناخن اتر گیا ہے جس پر پٹی باندھی ہوئی ہے مسح کیسے کروں؟ آپ (ع) نے فرمایا: اس مسئلے اور اس قسم کے دوسرے مسائل کا جواب قرآن سے تلاش کیا جا سکتا ہے ، خدا فرماتا ہے:

( وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ ۚ ) ۲۲:۷۸

''اور امور دین میں تم پر کسی طرح کی سختی نہیں کی،،

پھر آپ (ع) نے فرمایا : اس پٹی کے اوپر مسح کرو،،


۱۸: امام صادق (ع) سے بعض عورتوں کے بارے میں سوال کیا گیا کہ حلال ہیں یا حرام ؟ آپ (ع) نے فرمایا:

''حلال ہیں ، کیونکہ اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

( وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَٰلِكُمْ ) ۴:۲۴

''اور ان عورتوں کے سوا(اور عورتیں) تمہارے لئے جائز ہیں،،

۱۹۔ آپ (ع) نے فرمایا:

''مولا کی اجازت کے بغیر غلام نکاح نہیں کر سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

( عَبْدًا مَّمْلُوكًا لَّا يَقْدِرُ عَلَىٰ شَيْءٍ ) ۱۶:۷۵

''ایک غلام ہے جو دوسرے کی ملک ہے (اور) کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا،،

۲۰۔ آپ (ع) نے بعض حیوانات کے حلال گوشت ہونے کی دلیل کے طور پر اس آیت کی تلاوت فرمائی:

( قُل لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ ) ۶:۱۴۵

''(اے رسولؐ) تم کہو کہ میں تو جو (قرآن) میرے پاس وحی کے طور پر آیا ہے اس میں کوئی چیز کسی کھانے والے پر جو اس کو کھائے حرام نہیں پاتا،،

ان کے علاوہ بھی امام (ع) نے آیات قرآن سے استدلال فرمائے ہیں جو فقہ کے مختلف ابواب میں موجود ہیں۔


ظواہر قرآن کے حجت نہ ہونے کے دلائل:

محدثین کی ایک جماعت ظواہر قرآن کی حجیت کی منکر ہے اور ان پر عمل کرنے سے منع کرتی ہے اور اپنے مدعا پر ذرج ذیل دلائل پیش کرتی ہے:

۱۔ قرآن فہمی کا مختص ہونا:

قرآن کو صرف وہی ہستیاں سمجھ سکتی ہیں جن سے قرآن مخاطب ہے ان علماء کرام نے اپنے اس دعویٰ کے اثبات میں چند روایات سے استدلال کیا ہے وہ روایات یہ ہیں:

i ۔ مرسلہ(۱) شعیب بن انس میں امام صادق (ع) نے حضرت ابو حنیفہ سے فرمایا:

''انت فقه اهل العراق ؟ قال : نعم قال ع : فبایی شیی تفتیهم ؟ قال : بکتاب الله و سنة نیسه قال ع یا ابا حنیفة تعرف کتاب الله حق معرفته ، و تعرف الناسخ من المنسوخ ؟ قال : نعم قال ع : یا ابا حنیفة لقد ادعیت علماً ویلک ماجعل الله ذلک الا عند اهل الکتاب الذین انزل علیهم ، وبلک ماهو الا عند الحاص من ذریة تبینا ص وما ورثک الله تعالیٰ من کتابه حرفاً ،،

''کیا تو اہل عراق کا فقیہ ہے ؟ حضرت ابو حنیفہ نے جواب دیا : جی ہاں ۔ آپ (ع) نےف رمایا : تو کس دلیل کی بنیادپر لوگوں میں فتویٰ دیتا ہے ؟ حضرت ابو حنیفہ نے کہا : کتاب خدااور سنت نبوی (ص) کی بنیاد پر فتویٰ دیتا ہوں ۔ آپ (ع) نے فرمایا : کیا تو کتاب خدا کو کماحقہ ، سمجھ سکتا ہے اورناسخ کو منسوح سے تمیز دے سکتا ہے ؟ حضرت ابو حنیفہ نے کہا : جی ہاں۔ آپ (ع) نے فرمایا : ابو حنیفہ : تو نے ایک بہت بڑے علم کا دعویٰ کیا ہے اتنا وسیع علم اللہ تعالیٰ نے صرف ان ہستیوں کو دیا ہے جن پر قرآن اتارا اور یہ علم صرف ہمارے نبی (ص) کی ذریت کے پاس ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ نے تجھے اپنی کتاب کے پاس حرف تک کا وارث نہیں بنایا،،


ii ۔ زید شحام کی روایت میں ہے قتادہ امام باقر (علیہ السلام) کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ (ع) نے فرمایا:

''دخل قتادة علی ابیی جعفر ع فقال له : انت فقیه اهل البصرة ؟ فقال : هکذا یزعمون فقال ع بلغیی انک تفسر القرآن قال : نعم الی ان قال یا قتادة ان کنت فد فسرت القرآن من تلقساء نفسک فقد هلکت وهلکت ، وان کنت قد فسرته من الرجال فقد هلکت و اهلکت ، یا قتادة ویحک انما یعرف القرآن من خوطب به ،،

''فرمایا: میں نے سنا ہے تو قرآن کی تفسیر بیان کرتا ہے قتادہ نے کہا : جی ہاں ۔ سوال جواب ہوتے رہے حتی ٰ کہ آپ (ع) نے فرمایا: اے قتادہ اگر تو اپنی طرف سے قرآن کی تفسیر کرے گا تو خود بھی ہلاک ہو گا اور دوسروں کی ہلاکت کاباعث بھی بنے گا اور اگر لوگوں سے سنی سنائی تفسیر بیان کرے گا پھر بھی خود کو اور دوسروں کو ہلاک کرے گا اے قتادہ قرآن کو وہی ہستیاں سمجھ سکتی ہیں جن سے قرآن کے ذریعے خطاب کیا گیا ہے،،۔

جواب:

اس قسم کی روایات کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کو کماحقہ سمجھنا ، اس کے ظاہر و باطن کو درک کرنا اورناسخ و منسوخ کو تشخیص دینا ان ہستیوں سے مختص ہے جن سے قرآن کے ذریعے خطاب کیا گیا ہے چنانچہ پہلی روایات میں امام (ع) نے حضرت ابو حنیفہ سے کتاب خدا کی کماحقہ معرفت اور ناسخ کو منسوخ سے تمیز دینے کے بارے میں سوال کیا تھا اور آپ (ع) نے حضرت ابو حنیفہ کی سرزنش بھی اسی بات پر کی تھی کہ انہوں نے کتاب خدا کے کماحقہ ، علم کا دعویٰ کیا تھا۔

دوسری روایت بھی لفظ ''تفسیر،، پر مشتمل ہے جس کا معنیٰ کسی حقیقت پر سے پردہ اٹھاتا ہے بنا برایں یہ روایت ظواہر قرآن پر عمل کرنے کو شامل نہیں ہے۔ اس لئے کہ ظاہر پر تو کوئی پردہ نہیں ہوتا جسے اٹھانا پڑے اور تفسیر صادق آئے۔


اس حقیقت پر وہ گزشتہ روایات بھی دلالت کرتی ہیں جن کے مطابق قرآن کا سمجھنا صرف معصومین (ع) سے مختص نہیں روایت مرسلہ کا جملہ''وما ورثک الله من کتابه حرفاً (یعنی) خدا نے تجھے اپنی کتاب کے ایک حرف تک کا وارث نہیں بنایا،، بھی اسی نکتے پر دلالت کرتا ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (ص) کے جانشینوں کو کتاب کا وارث بنایا ہے اور انہیں اس کے ظاہر و باطن اور تاویل ، غرض پوری کتاب کا علم دیا ہے جو کسی اور کو نہیں ملا ارشاد باری تعالیٰ ہے:

( ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۖ ) ۳۵:۳۲

''پھر ہم نے اپنے بندوں میں سے خاص ان کو قرآن کاوارث بنایا جنہیں (اہل سمجھ کر) منتخب کیا،،۔

معلوم ہوا قرآن کے حقائق اور واقعات کے صحیح عالم معصومین (ع) ہیں۔ روایت مرسلہ میں بھی حضرت ابو حنیفہ وغیرہ سےا یسے علم کی نفی کی گئی ہے ورنہ یہ بات نامعقول ہے کہ حضرت ابو حنیفہ کتاب خداسے کچھ بھی نہ جانتے ہوں۔ اس مضمون کی آیات اور روایات اور بھی ہیں جن میں کتاب خدا کے مکمل علم کو معصومین (ع) سے مختص کیا گیا ہے۔

۲۔ تفسیر بالرائے کی ممانعت

قرآنی الفاظ کے ظاہری معنی کو اپنانا اوراس پر عمل کرنا ایک قسم کی تفسیر بالرائے ہے جس کی فریقین کی متواتر روایات میں نہی کی گئی ہے۔

جواب:

اس سے قبل بیان ہو چکاہے کہ تفسیر کا معنی کسی پوشیدہ حقیقت سے پردہ اٹھانا ہے کسی قرآنی لفظ سے اس کے ظاہری معنی کو لے لینا تفسیر نہیں کہلائے گا کیونکہ یہ ظاہری معنی پوشیدہ اور مستور نہیں ہے کہ اس سے پردہ اٹھانا پڑے۔


بفرض تسلیم اگر یہ تفسیر بھی کہلائے تو یہ تفسیر بالرائے نہیں ہو گی جس سے وہ روایات متواتر اس کو شامل ہو جائیں جن میں تفسیر بالرائے کی ممانعت کی گئی ہے ، بلکہ یہ تفسیر ایسی ہو گی جس کو عام لوگ کسی لفظ سے سمجھتے ہیں مثلاً اگر کوئی شخص عام فہم اور قرائن متصلہ و منفصلہ کے مطابق نہج البلاغۃ کے خطبات میں سے کسی خطبے کا ترجمہ کرے تو اس کوتفسیر بالرائے نہیں کہا جائے گا اس حقیقت کی طرف امام صادق (ع) نے بھی اشارہ فرمایا ہے۔

انما هلک الناس فیی المتشابه الانهم لم یقفوا علی معناه ، ولم یعرفوا حقیقته ، فوضعوا له تاویلا من عند انفسهم بآرائهم ، واستغنوا بذلک من مسالة الاوصیاء فیعرفونهم

''لوگ قرآن کی متشابہ آیات (جن کا معنی ظاہر نہ ہو) کی وجہ سے ہلاک ہوتے ہیں کیونکہ وہ اس کے حقیقی معانی نہیں سمجھ سکتے اور اپنی رائے سے اس کی کوئی نہ کوئی تاویل و توجیہ کر لیتے ہیں جس کے بعد وہ اپنے کو اوصیاء سے بے نیاز سمجھتے ہیں اور متشابہ آیات کامطلب ان سے نہیں پوچھتے تاکہ وہ انہیں ان آیات کے صحیح معانی بتائیں،،

ممکن ہے ان روایات میں تفسیر بالرائے سے مراد یہ ہو کہ ائمہ (ع) کی طرف رجوع کئے بغیر ، جو قرآن کے ہم پلہ اور واجب الاطاعت ہیں ، مستقل طور پر اور اپنی رائے سے کوئی فتویٰ دیا جائے مثلاً اگر کوئی شخص قرآن میں موجود کسی عام یا مطلق پر فوراً عمل کرے اور روایات ائمہ سے مخصص اور مقید کو تلاش نہ کرے تو یہ تفسیر بالرائے ہو گی۔

خلاصہ کلام یہ کہ قرآن کے کسی لفظ کے قرائن متصلہ اور منفصلہ کو کتاب و سنت میں تلاش کرنے اور دلیل عقلی ڈھڈنڈے کے بعد اس کے ظاہری معنی کو لے لینا تفسیر بالرائے تو کجا تفسیر بھی نہیں ہے اس کے علاوہ جہاں بعض روایات میں تفسیر بالرائے سے نہی کی گئی ہے وہاں کچھ ایسی روایات بھی ہیں جن میں قرآن کی طرف رجوع کرنے اور اس کے ظاہری معنی پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے ان دونوں قسم کی روایات پر عمل کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ تفسیر بالرائے سے مراد قرآن کے ظاہری معنی پر عمل نہ ہو بلکہ متشابہ اور غیر واضح آیات کی اپنی طرف سے تاویل کرنا مقصود ہو اس طرح دونوں قسم کی روایات پر عمل ہو جائے گا۔


۳۔ معانی قرآن کی پیچیدگی

قرآن مجید انتہائی بلند معانی اور پیچیدہ مطالب پر مشتمل ہے جو انسان کی طاقت فہم سے بالاتر ہے اور قرآنی مقاصد کا احاطہ انسانی قدرت سے باہر ہے گزشتہ علمائے کرام کی کچھ کتابیں بھی ایسی ہیں جنہیں ہر خاص و عام نہیں سمجھ سکتا بلکہ صرف ارباب دانش اور نکتہ دان ہی سمجھ سکتے ہیں تو کتاب الٰہی کو ہر شخص کیسے سمجھ سکتا ہے (جس میں اولین و آخرین کے علوم جمع ہیں)۔

جواب

یہ مسلم ہے کہ قرآن میں ''مالکان،، اور ''مایکون،، کا علم موجود ہے اور اس وسیع علم کے مالک صرف اور صرف اہل بیت (علیہم السلام) ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ حقیقت بھی ناقابل انکار ہے کہ قرآن کے کچھ ظاہری معانی بھی ہیں جن کو لغت عرب اور اس کے اسلوب کا جاننے والا ہر شخص سمجھ سکتا ہے اور قرائن و مویدات کو تلاش کرنے کے بعد ان معانی پر عمل کر سکتا ہے۔

۴۔ خلاف ظاہر کا یقین

ہمیں اجمالاً علم ہے کہ بعض عمومات قرآن کی تخصیص اور مطلقات کی تقیید ہوئی ہے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ بعض ظواہر قرآن یقیناً مراد الٰہی نہیں ہیں اور یہ عمومات جن کی تخصیص ہوئی ہے وہ مطلقات جن کی تقیید ہوئی ہے اور ظواہر قرآن جو یقیناً مراد الٰہی نہیں ہیں ، مشخص و معین نہیں ہیں تاکہ صرف انہی عمومات اور مطلقات میں ظاہر پر عمل کرنے سے احتراز کیا جائے نتیجہ یہ نکلا کہ تمام عمومات ، مطلقات اور ظواہر قرآن اگرچہ بذات خود مجمل نہیں لیکن بعض عمومات کی تخصیص اور بعض مطلقات کی تقیید کی وجہ سے باقی عمومات ، مطلقات اور ظواہر قرآن بھی مجمل ہو جائیں گے اس لئے ان عمومات ، مطلقات اور ظواہر قرآن پر عمل کرنا جائز نہیں مبادا خلاف واقع معنی کاارادہ ہو جائے۔


جواب:

پورے قرآن میں بعض عمومات کی تخصیص اور بعض مطلقات کی تقیید کے اجمالی علم سے ظواہر قرآن پر عمل کرنا تب جائز نہ ہوتا جب ہم مخصص و مقید کی تلاش کے بغیر ہی قرآن کے ظاہری معنی کاارادہ کرنا چاہیں لیکن اگر مکلف کو تحقیق و تلاش کے نتیجے میں وہ مخصصات اور مقیدات مل جائیں جن کا اسے اجمالی علم تھاتو لامحالہ اس کا اجمالی علم تفصیلی علم میں تبدیل ہو جائےگایعنی وہ غیر معین اور پورے قرآن میں گم گشتہ مخصصات اور مقیدات معین اور محدود ہو جائیں گے اجمالی علم بے اثرہو جائے گا اور باقی آیات میں ظاہر قرآن پر عمل کرنا جائز ہو گا۔

یہ قاعدہ ، سنت (روایات) میں بھی جاری ہو گا کیونکہ روایات کے بارے میں بھی ہم اجمالی طور پر یہ جانتے ہیں کہ بعض کی تخصیص وتقیید ہوئی ہے جب تحقیق کے بعد بعض مخصصات اور مقیدات دستیاب ہو جائیں تو یہ اجمالی علم تفصیلی علم میں تبدیل ہو جائےگا اور باقی روایات کے ظاہری معنی پر عمل کرنا جائز ہوگ ا اگر اجمالی علم کے تفصیلی علم میں تبدیل ہو جانے کے بعد بھی ظواہر قرآن پر عمل کرنا نہ ہوتا تو سنت (روایات) پر عمل کرنا بھی جائز نہ ہوتا بلکہ شبہات(۱) حکمیہ (وجوبیہ ہوں یا تحریمیہ) میں اصالتہ البراتہ کا جاری کرنا جائز نہ ہوتا کیونکہ ہر مکالف یقینی طور پر یہ جانتا ہے کہ شریعت مقدسہ میں الزامی احکام (واجب و حرام افعال) موجود ہیںاس علم اجمالی کا لازمہ یہ ہے کہ ہر شبہہ وجوبیہ اور تحریمیہ میں احتیاط برتی جائے ، حالانکہ ان مقامات میں احتیاط کوئی بھی واجب نہیں سمجھتا۔

____________________

(۱) اگر کسی علم کے بارے میں شروع میں یہ شک ہو کہ یہ واجب ہے یا نہیں یا یہ حرام ہے یا نہیں تو اسے شبہہ حکمیہ کہتے ہیں ایسے مسائل میں اصالۃ البراتہ جاری کرنے کا مطلب یہ ہے کہ احتیاطاً عمل کو انجام دینا اور دوسری صورت میں احتیاطاً عمل کو ترک کرنا ضروری نہیں بلکہ پہلے عمل کوترک اور دوسرے عمل کو انجام دے سکتے ہیں اور اس احتمال کو نظر انداز کیا جاتا ہے کہ شریعت اسلام میں کچھ واجبات تو یقیناً موجود ہیں ہو سکتا ہے یہ مشکوک عمل ان واجبات یا محرمات میں سے ہو۔ (مترجم)


ہاں ! محدثین کی ایک جماعت نے شبہہ تحریمہ میں احتیاط کو واجب قرار دیا ہے لیکن اس قول کا مدرک و منبع یہ نہیں کہ شریعت مقدسہ میں کچھ تکالیف (فرائض) الزامی موجود ہیں جن کا اجمالی علم ہے اس لئے وہ شبہہ تحریمیہ میں احتیاط کو واجب سمجھتے ہوں بلکہ اس قول کا مدرک یہ ہے کہ یہ حضرت ان روایات سے وجوب کو سمجھتے ہیں جن میں اس قسم کے شبہات احتیاط یا توقف کا حکم دیا گیا ہے اگر اس شبہہ تحریمیہ میں احتیاط کرنے کی وجہ وہ اجمالی علم ہوتا جو احکام الزامی کے بارے میں موجود ہے تو ان حضرات کو شبہہ وجوبیہ میں بھی احتیاط کرنی چاہئے تھی حالانکہ جہاں تک ہم جانتے ہیں شبہہ و جوبیہ میں احتیاط کو کوئی بھی واجب نہیں سمجھتا ان تمام مسائل میں احتیاط واجب نہ ہونے کی ایک ہی وجہ ہے وہ یہ کہ وہ اجمالی علم جو بعض واجبات اور محرمات کے بارے میں رکھتے تھے ، بعض معین و مشخص و اجبات اور محرمات کی وجہ سے تفصیلی علم میںتبدیل ہو گیا اور اجمالی علم بے اثرہو کر رہ گیاہے۔

اس مسئلے کی مزید وضاحت کیلئے ہماری کتاب ''اجود التقریرات،، کی طرف رجوع فرمائیں۔

۵۔ متشابہ پر عمل کی ممانعت

قرآن کی متعدد آیات میں متشابہ آیات پر عمل کرنے سے منع کیا گیا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

( مِنْهُ آيَاتٌ مُّحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ ۖ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ) ۳:۷

'' اس میں کی بعض آیتیں تو محکم (بہت صریح) ہیں وہی (عمل کرنے کیلئے) اصل (وبنیاد) کتاب ہیں اور کچھ (آیتیں) متشابہ (گول مول جس کے معنی میں سے پہلو نکل سکتے ہیں) پس جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ انہی آیتوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں جو متشابہ ہیں۔

متشابہ آیات میں ظواہر قرآن بھی شامل ہیں اگر ظواہر قرآن یقینی طورپر متشابہ نہ ہوں تو کم از کم یہ احتمال ضرور موجود ہے کہ یہ متشابہ کے ذیل میں آتے ہوں گے جس کے بعد وہ حجت اور قابل عمل نہیں رہتے کیونکہ آیہ کریمہ میں متشابہات پر عمل کرنے سے روکا گیا ہے۔


جواب

متشابہ ایسا الفاظ ہے جس کا معنی سب کو معلوم ہے اورا س میں کسی قسم کا اجمال اور مشابہت نہیں اور وہ (متشابہ) یہ ہے کہ ایک ہی لفظ کے دو یا دو سے زیادہ معانی کا احتمال ہو بایں معنی کہ ان تمام معانی کی نسبت لفظ کی طرف یکساں ہو جتنے فیصد ایک معنی کا احتمال ہوا اتنے فیصد دوسرے معنی کااحمتال بھی ہو یعنی جب لفظ بولا جائے توہر معنی کے بارے میں یہ احتمال برابر کا دیا جائے کہ یہی مراد ہو گا اس لئے جب تک کوئی دوسرا قرینہ کسی ایک معنی کی تعیین پر دلالت نہ کرے لفظ سے کسی معنی کا ارادہ نہیں کیا جائے گا بلکہ توقف کیا جائے گا متشابہ کے اس معنی کی روشنی میں لفظ ''ظاہر،، متشابہ کے مصادیق میں سے نہ ہو گا جس پر عمل کرنے سے روکا گیا ہے۔

بفرض تسلیم ، اگر لفظ متشابہ ہو اور یہ احتمال باقی ہو کر معنی ''ظاہر،، بھی متشابہ ہے پھر بھی ظاہر پر عمل کرنے سے نہیں روکا جا سکتا اس لئے کہ عقلاء کی یہ سیرت و روش رہی ہے کہ کلام سے جو معنی ظاہر ہو اس پر عمل کرتے ہیں اور صرف یہ احتمال کہ شاید ظاہر بھی متشابہ کے مصادیق میں سے ہو اس سیرت عقلاء کو ترک کرنے کا باعث نیں بن سکتا بلکہ اس عمل کے جائز نہ ہونے پر ایک مستقل اور قطعی دلیل درکار ہو گی اور جب تک ایسی مستقل اور قطعی دلیل نہ ملے بلا شبہ ظاہری معنی پر عمل کرنا جائز ہو گا ۔

یہی وجہ ہے کہ اگر غلام مالک کے ظاہر کلام پر عمل نہ کرے اور اس کی مخالفت کرے تو مالک احتجاج کا حق رکھتا ہے اور اپنے غلام کا مواخذہ کر سکتا ہے اسی طرح اگر غلام مالک کے ظاہر کلام پر عمل کرے مگر بعد میں معلوم ہو کہ مالک کا مقصد ظاہر کلام کیخلاف تھا تو غلام ، مالک کیخلاف احتجاج کر سکتا ہے۔

خلاصہ کلام یہ کہ جب تک کوئی قطعی دلیل ممانعت نہ کرے ظاہر کلام پر عمل کرنے کی سیرت پر عمل ہوتا رہیگا۔


۶۔قرآن میں تحریف

قرآن میں تحریف ہونا ظواہر قرآن پر عمل کرنے سے مانع اور اہم رکاوٹ ہے کیونکہ عین ممکن ہے کہ انہی ظواہر قرآن کے ساتھبعض قرائن ملے ہوئے ہوں جو معنی مراد پر دلالت کرتے تھے مگر اب تحریف کے نتیجے میں ساقط اور مفقود ہو گئے ہوں (جس کے نتیجے میں لفظ ایسے معنی میں ظہور رکھتا ہے جو معنی مراد کیخلاف ہے)

جواب:

اولاً : ہم اس بات کو نہیں مانتے کہ قرآن میں تحریف ہوئی ہے چنانچہ اس سلسلے میں سیر حاصل بحث اس سے قبل کر چکے ہیں وہ روایات جو قرآن کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیتی ہیں ، خود اس بات کی دلیل ہیں کہ قرآن میں تحریف واقع نہیں ہوئی۔

ثانیاً : بفرض تسلیم اگر قرآن میں تحریف ہوئی ہے پھر بھی ان روایات کا تقاضا یہ ہے کہ قرآن پر عمل کیا جائے گزشتہ مباحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ ظاہر قرآن پر عمل ضروری ہے اوریہ کہ ظاہر قرآن پر عمل کرنا ہی شریعت کی اساس اور بنیاد ہے اگر سنت (احادیث نبوی (ص) اور روایات (آئمہ(ع) ) مخالف قرآن ہو تو اس پر عمل نہیں کیا جائے گا۔


قرآن میں نسخ

٭نسخ کا لغوی معنی

٭نسخ کا اصطلاحی معنی

٭ نسخ کا امکان

٭ تورات میں نسخ

٭ شریعت اسلام میں نسخ

٭ تلاوت نسخ ہو ۔ حکم باقی رہے

٭تلاوت اور نسخ دونوں منسوخ ہوں

٭ حکم منسوخ ہو ۔ تلاوت باقی رہے

٭ان آیات کا تنقیدی جائزہ جن کے نسخ کا دعویٰ کیا گیا

٭مسئلے کی وضاحت

٭ متعہ کی سزا ۔ سنگساری

٭متعہ کے بارے میں چند بے بنیاد شبہات

٭مسلمانوں سے برسر پیکار کفار کے احکام

٭آیت کے بارے میں بعض دیگر عقائد

٭آیت نجومی پر عمل کی احادیث

٭ مسئلے کی تحقیق

٭ اس صدقے کے نسخ ہونے کے اسباب

٭ حکم صدقہ کی حکمت

٭ کھلم کھلا تعصب


کتب تفسیر وغیرہ میں عموماً کچھ ایسی آیات ذکر کی جاتی ہیں جن کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ یہ منسوخ ہو گئی ہیں چنانچہ ابوبکر نحاس نے اپنی کتاب ''الناسخ و المنسوخ،، میں ان آیات کو جمع کیا ہے اور ان کی تعداد ۱۳۸ ہے ہم نے اپنی اس کتاب میں اس بحث کو بھی شامل کیا ہے تاکہ ان آیات جن کے نسخ کا دعویٰ کیا گیا ہے کے بارے میں تحقیقی بحث کریں اور یہ ثابت کریں کہ جن آیات میں نسخ کا دعویٰ کیا گیا ہے ان میںسے ایک آیت بھی منسوخ نہیں ہوئی چہ جائیکہ سب منسوخ ہوئی ہوں۔

البتہ ہم نے ان آیات میں سے صرف ۳۶ آیات کا انتخاب کیا ہے اور یہی آیات بحث و تمحیص اور وضاحت کی محتاج ہیں اور انہی پر بحث سے حق آشکار ہو جائےگا باقی آیات کا نسخ نہ ہونا اتنا واضح ہے کہ محتاج بیان و قابل استدلال نہیں۔

نسخ کا لغوی معنی

لغت میں نسخ ایک جگہ لکھی ہوئی بات کو نقل کر کے دوسری جگہ لکھنے اور اتارنے کو کہا جاتا ہے چنانچہ ''استنساخ،، اور ''انتساخ،، بھی اس معنی میں استعمال ہوتے ہیں اس کے علاوہ یہ نقل و انتقال اور تبدیلی کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ''تناسخ المواریث و الدھور،، (یعنی) ''ثروت و دولت اور زمانہ تبدیل ہوئے،،۔

نسخ کاایک معنی ازالہ اور برطرف کرنابھی ہے ''نسخت الشمس اظل ،، ''(یعنی،، سورج نے سائے کو زائل کر دیا،، میں ''نسخت،، اسی معنی میں استعمال ہوا ہے صحابہ کرام اور تابعین نے نسخ کو اس معنی میں کثرت سے ا ستعمال کیا ہے چنانچہ صحابہ اور تابعین مخصص و مقید کوناسخ ہی کہتے تھے(۱)

____________________

(۱) ابن عباس کی طرف منسوب تفسیر میں تحصیص پر کثرت سے نسخ کا اطلاق ہوا ہے۔


نسخ کا اصطلاحی معنی

اصطلاح میں نسخ کسی ثابت امرشرعی کو اس کی مدت ختم ہونے کی وجہ سے اٹھانے کو کہتے ہیںچاہے وہ برطرف حکم کوئی حکم تکلیفی ہو جیسے وجوب ، حرمت وغیرہ میں یا حکم وضعی ہو جیسے صحیح ہوناباطل ہونا وغیرہ ہے اور چاہے وہ برطرف شدہ امر ، الٰہی منصب اور عہدوں میںسے ہو یا کوئی اور چیز ہو ، جس کی بازگشت بہ حیثیت شارع اللہ تعالیٰ کی طرف ہو ، جس کی مثال نسخ فی التلاوۃ ہے۔

ہم نے نسخ کی تعریف میں امر کے ساتھ ثابت کی قید کا اضافہ اس لئے کیا ہے تاکہ نسخ کی یہ تعریف اس حکم کے برطرف ہونے کو شامل نہ ہو جو خارج میں اپنے موضوع کے ختم ہو جانے کے باعث زائل ہو جائے جیسے ماہ رمضان ختم ہونے کے ساتھ ہی روزے کاوجوب بھی ختم ہو جاتا ہے اسی طرح نماز کا وقت نکلنے کے بعد نماز کاوجوب بھی ختم ہو جاتاہے اور کسی مال کامالک مر جانے سے اس کی مالکیت (مال کا مالک ہونا) بھی ختم ہو جاتی ہے ان تمام مثالوں میں حکم زائل تو ہو جاتا ہے مگر نسخ نہیں کہلاتا کیونکہ ان تمام مثالوں میں حکم نہیں بلکہ موضوع حکم برطرف ہو گیاہے موضوع کے ختم ہو جانے کی وجہ سے حکم برطرف ہوناممکن ہے ایسا ع ملی طورپر بھی ہوا ہے اور اس میں کسی کو کوئی اعتراض و اشکال نہیں ہے۔

ہم ذیل میں نسخ واقعی کی وضاحت کرتے ہیں:

(۱) پہلا مرحلہ تشریع اور قانون سازی کا ہوتا ہے اس مرحلے میں حکم بطور قضیہ حقیقیہ ثابت ہوتا ہے یعنی اس مرحلہ میں حکم ثابت ہو جاتا ہے چاہے خارج میں فی الحال کوئی موضوع (جس کیلئے حکم ثابت ہو) موجودہو یا نہ ہو اس مرحلے میں حکم کا دار و مدار ایک فرضی موضوع ہوا کرتا ہے۔


مثلاً جب شارع مقدس فرمائے : ''شرب الخمر حرام،، (یعنی) مے نوشی حرام ہے،، اس حکم کا مطلب یہ نہیں کہ ابھی اسی وقت خارج میں (ہمارے سامنے) کوئی شراب موجود ہے جس پر حرمت کا حکم لگایا گیا ہے بلکہ اس حکم کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی خارج (دنیا) میں کوئی شراب ہو گی شریعت میں اس کیلئے حکم ، حرام ہونے کا ہے چاہے فی الحال خارج میں کوئی شراب موجود ہو یا نہ ہو اس مرحلے میں حکم کو صرف نسخ کے ذریعے برطرف کیا جا سکتا ہے۔

(۲) دوسرا مرحلہ اس حکم کا خارج میں موجود ہوتا ہے بایں معنی کہ موضوع حکم فی الحال خارج میں موجود ہے اور حکم بھی متحقق ہے۔

مثال کے طورپر خارج میں (سامن) شراب موجود ہے اور شریعت میں مقرر شدہ حکم حرمت اس شراب کیلئے ثابت ہے جب تک موضوع موجود رہں گا حکم بھی رہے گا اگر کسی وقت شراب سرکہ میں تبدیل ہو جائے تو بلا شک شراب ہونے کی حالت میں موجود حکم اب برطرف ہو جائے گا مگر یہ نسخ نہیں کہلائے گا اس کے جواز بلکہ خارج میں واقع ہونے میں بھی کسی کو کوئی اختلاف نہیں اختلاف صرف پہلے مرحلے کے بارے میں ہے کہ آیا عالم تشریع (قانون سازی کے مرحلے) میں کسی حکم کو برطرف کیا جا سکتا ہے کہ نہیں؟

نسخ کاامکان

عقلاء مسلمین میں مشہور یہی ہے کہ زیر بحث نسخ (عالم تشریع میں کسی حکم کو برطرف کرنا) جائز ہے یہود و نصاریٰ نے اس کی مخالفت کی ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ نسخ محال ہے ان کا مسند و مدرک ایک شبہ (غلط فہمی) ہے جو تارعنکبوت سے بھی زیادہ کمزور اور ضعیف ہے۔


خلاصہ شبہ:

احکام کو نسخ کرنے سے یا یہ لازم آتا ہے کہ خدا کے کام حکمت و مصلحت پر مبنی نہ ہوں یا یہ لازم آتا ہے کہ خدا کسی بھی حکم کی حکمت اور مصلحت سے آگاہ نہ ہو یہ دونوں امور محال ہیں۔

توضیح : اللہ تعالیٰ جو حکیم مطلق ہے ، جو حکم بھی مقرر فرمائے کسی نہ کسی مصلحت کی بناء پر مقرر ہوتا ہے جو اس حکم کی متقاضی ہوتی ہے کیونکہ بے مصلحت حکم اس کے بنانے والے کی حکمت سے سازگار نہیں۔

ایسے فرض میں حکم کو اٹھاتے وقت یا تو اس حکم کی مصلحت و حکمت باقی ہو گی اور نسخ کرنے والا اس کا علم رکھتا ہو گا تو یہ حکم بنانے والے ، جو حکیم مطلق ہے، کی حکمت کیخلاف ہے ، یا بعد میں انکشاف ہوا ہوگا کہ یہ حکم شروع سے مصلحت پر مبنی نہ تھا ، جیسے عام عرفی قوانین کے بارے میں بعد میں پتہ چلتا ہے کہ اس میں مصلحت نہیںتھی اس سے جہل خدالازم آتا ہے ، جو محال ہے معلوم ہوا نسخ محال ہے اس لئے کہ اس سے محال لازم آتا ہے (مستلزم المحال محال،، (یعنی) ''جس چیز سے محال لازم آئے وہ چیز محال ہوتی ہے،،۔

جواب:

بعض اوقات اللہ تعالیٰ کچھ کاموں کا حکم دیتا ہے اور بعض کاموں سے منع فرماتا ہے لیکن خالق کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ جس کا حکم دیا ہے وہ ضرور انجام پائے اور جس کام سے منع کیا ہے وہ ضرور ترک ہو جائے بلکہ اس امرونہی کا مقصد بندوں کا امتحان ہوتا ہے اس قسم کے اوامرو نواہی شریعت میں موجود ہیںایسے احکامات صادر کئے جانے کے بعد دوبارہ برطرف کئے جا سکتے ہیں اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔


اس قسم کے احکام صادر ہونے میں بھی مصلحت ہوتی ہے اور پھر انہیں واپس لینے میں بھی مصلحت ہوتی ہے اس قسم کے نسخ اور ازالہ حکم سے نہ کوئی خلاف حکمت بات لازم آتی ہے اور نہ اس کا منشاء بداء (پہلے معلوم نہ ہو اور بعد میں انکشاف ہو ) ہے جو خدا کے لئے محال ہے۔

اور کبھی شارع کی طرف سے مقرر کردہ حکم حقیقی ہوتا ہے (بایں معنی کہ جس کام کو حکم دیا جائے اس کا بجا لانا اور جس کام سے روکا جائے اس کا ترک کرنا ضروری ہوتا ہے) اس کے باوجود ایک مدت کے بعد اس حقیقی حکم کو برطرف کیا جاتا ہے لیکن اس معنی میں نہیں کہ ایک حکم ، واقع اور علم خدا میں دائمی طور پر ثابت ہو مگر کسی خاص مصلحت یا اس حکم میں کسی خامی کے انکشاف کی بناء پر اسے نسخ اور برطرف کیا گیا ہو جس سے حکیم اور واقعیات و حقائق کی عالم ذات کے حق میں محال لازم آئے۔

بلکہ نسخ کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ یہ مقرر کردہ حکم ، عنداللہ کسی خاص مدت اور زمانے تک محدود ہوتا ہے اور عام لوگوں کو اس محدود وقت کا علم نہیں ہوتا اور جب یہ مدت ختم ہو جاتی ہے تو حکم بھی خود بخود زائل ہو جاتا ہے۔

اس معنی میں نسخ یقیناً ممکن ہے اور اس پر کسی قسم کا اشکال لازم نہیں آتا کیونکہ زمانہ اور وقت کی خصوصیات ، جن پر حکم کا دار و مدار ہو ، احکام میں دخیل ہوا کرتی ہیں جس میں کسی عاقل کوشک نہیں۔

مثلاً حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت میں ہفتہ کا دن خصوصیت رکھتا تھا جس کی وجہ سے روز ہفتہ اس شریعت کے ماننے والوں کیلئے عید قرار پایا اور باقی ایمام ہفتہ میں کسی یوم میں ایسی خصوصیت نہیں تھی یہی حیثیت اسلام میں جمعتہ المبارک کو حاصل ہے اسی طرح نماز ، روزے اور حج کے مخصوص اوقات کی بھی کچھ خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے مقررہ اوقات میں یہ فرض قرار دیئے گئے ہیں۔


جب شریعت کے کسی حکم (قانون) کے بنانے اور نہ بنانے میں زمانہ اور وقت کا دخل قابل تصور ہے تو کسی حکم کے دائمی رہنے اور نہ رہنے میں بھی وقت کا دخل قابل تصور ہونا چاہئے ! بنا برایں عین ممکن ہے کہ ایک حکم ، ایک معین مدت کیلئے مصلحت پر مشتمل ہو لیکن اس مدت کے گزر جانے کے بعد وہ مصلحت ختم ہو جائے اسی طرح اسی کے برعکس بھی ممکن ہے یعنی ممکن ہے کہ ایک محدود زمانے میں مصلحت نہ ہو اس محدود مدت کے گزرنے کے بعد مصلحت پیدا ہو جائے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ جب کوئی مخصوص گھڑی ، دن ہفتہ اور مہینہ کسی فعل کے بامصلحت اور نقصان دہ ہونے میں اثر انداز ہو سکتا ہے تو سال اور برس بھی اثر انداز اور دخیل ہو سکتے ہیں جس کے نتیجے میں ایک حکم چند محدود برس تک باصلحت رہے گا اور ان برسوں کے گزر جانے کے بعد اس فعل اور حکم میں وہ مصلحت نہ رہے گی جس طرح کسی حکم کے اطلاق کو زمانہ کے علاوہ کسی دوسری جداگانہ دلیل کے ذریعے مقید کیا جا سکتا ہے اسی طرح عین ممکن ہے کہ کسی جداگانہ دلیل کے ذریعے زمانے کے اعتبار سے بھی کسی مطلق حکم کو مقید کیا جائے کیونکہ بعض اوقات مصلحت کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ حکم کو ظاہری طور پر عام اور مطلق چھوڑا جائے (ظاہراً کسی لفظ کے ذریعے عام کی تخصیص اور مطلق کی تقیید نہ کی جائے) جبکہ درحقیقت خاص اور مقید ہی مراد ہوتے ہیں اور مخصص و مقید کو کسی جداگانہ دلیل کی صورت میں بعد میں بیان کیا جاتا ہے۔

معلوم ہوا اور حقیقت نسخ ، کسی حکم کے اطلاق کو زمانہ کے اعتبار سے مقید کرنے کا نام ہے جس سے حکمت کی مخالفت لازم آتی ہے اور نہ بداء لازم آتا ہے جو خدا کیلئے محال ہیں۔

یہ تمام بحث اس مذہب کی بنیادپر ہوئی جس کے مطابق قانون سازی ، اعمال میں مصلحت و مفسدہ کے تابع ہوتی ہے لیکن اگر اس مذہب کی رو سے دیکھا جائے جس کے مطابق احکام ، اپنے اندر موجود مصلحت و مفسدہ کے تابع ہوتے ہیں تو پھر تمام احکام ان احکام کی مانند ہوں گے جو درحقیقت امر حقیقی (جن کا امتشال مطلوب ہو) نہیں ہوتے بلکہ صرف امتحان کیلئے صادر ہوتے ہیں ان کا صادر ہونا مصلحت سے خالی نہیں اور ان کا نسخ ہونابھی مصلحت سے خالی نہیں۔


تورات میں نسخ

یہود و نصاریٰ شریعت میں نسخ کو محال قرار دے کر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ شریعت موسیٰ (علیہ السلام) کے تمام احکام آج تک باقی اور ثابت ہیں اور منسوخ نہیں ہوئے لیکن گزشتہ مباحث سے یہ ثابت ہو گیا کہ نسخ محال نہیں ہے نیز تورات اور انجیل میں بھی کئی مقامات پر نسخ واقع ہوا ہے ہم ذیل میں نمونہ کے طورپر عہد نامہ قدیم و جدیدسے نسخ کے چند اقتباسات پیش کرتے ہیں جن سے اندازہ ہو جائے گا کہ یہود و نصاریٰ نے اپنے مذہب کی حقانیت پر جو دلیل پیش کی ہے وہ کتنی کمزور ہے۔

۱۔ کتاب مقدس ، عہد نامہ قدیم و جدید ، سفر گنتی کے باب : ۴ شمارہ ۲۔۳ میں ہے:

''اور خداوند نے موسیٰ اور ہارون سے کہا : بنی لاوی میں سے قہانیوں کو ان کے گھرانوں اور آبائی خاندانوں کے مطابق تیس برس سے لے کرپچاس برس تک جتنے خیمہ اجتماع میں کام کرنے کیلئے مقدس کی خدمت میں شامل ہیں ان سب کو گنو،،

یہ حکم نسخ کر دیا گیا اور قبول خدمت کی عمر پچیس سال قرار دی گئی چنانچہ اسی سفر کے باب: ۸ ، شمارہ :۲۳ اور ۲۴ میں ہے:

''پھر خدا نے موسیٰ سے کہا : لاویوں کے متعلق جو بات ہے وہ یہ ہے کہ پچیس برس سے لے کر اس سے اوپر اوپر کی عمر میں وہ خیمہ اجتماع کی خدمت کے کام کیلئے اندر حاضر ہوا کریں،،۔

اس کے بعد یہ حکم بھی نسخ ہو گیا اور قبول خدمت کی عمر گھٹا کر بیس سال کر دی گئی چنانچہ تاب مقدس کے (عنوان) تواریخ ایک کے شمار ۲۳۔۲۴ میں ہے:

''لاوی کے بیٹے یہی تھے جو اپنے اپنے آبائی خاندان کے مطابق تھے ان کے آبائی خاندان کے سردار جیسا وہ نام بنام ایک ایک کر کے گنے گئے یہی ہیں وہ بیس برس اور اس سے اوپر کی عمر سے خداوند کے گھر کی خدمت کا کام کرتے تھے اور خدا کے گھر کی خدمت کو انجام دینے کیلئے خیمہ اجتماع کی حفاظت اور مقدس کی نگرانی اور اپنے بھائی نبی ہارون کی اطاعت کریں،،


۲۔ سفر گنتی کے باب: ۲۸ شمارہ : ۳ اور ۷ میں ہے:

''تو ان سے کہہ دے جو آتشین قربانی تم کو خدا کے حضور پیش کرنا ہے کہ دو بے عیب یکسالہ برے (بھیڑیں) ہر روز دائمی سوختی قربانی کیلئے چڑھایا کرو۔ ایک برہ (بھیڑ) صبح اور دوسرا برہ (بھیڑ) شام کو چڑھانا اور ساتھ ہی ایک ایفہ کے دسویں حصہ کے برابر میدہ جس میں کوٹ کر نکالا ہوا تیل چوتھائی ھین کے برابر ملا ہو ، نذر کی قربانی کے طور پر گزراننا اور ھین کی چوتھائی کے برابر مے فی برہ تپاون کیلئے لانا،،

یہ حکم منسوخ ہو گیا اور ہر صبح کی آتشین قربانی روزانہ ایک سالہ بھیڑ قرار دی گئی اور ایفہ کے چھٹے حصہ کے برابر میدہ اور ایک تہائی ھین کے برابر تیل پیش کرنا ضروری قرار دیا گیا چنانچہ حزقیل کے باب ۴۶ شمارہ ۱۳۔۵ۃ میں ہے:

''تو ہر روز خداوند کے حضور پہلے سال کاا یک بے عیب برہ (بھیڑ)سوختنی قربانی کیلئے ہر صبح کو چڑھائے گا اور تو اس کے ساتھ ہر صبح نذر کی ربانی گزرانے گا یعنی ایفہ کا چھٹہ حصہ اور میدہ کے ساتھ ملانے کو تیل کے ھین کی ایک تہائی دائمی حکم کے مطابق ہمیشہ کیلئے خداوند کے حضور یہ نذر کی قربانی ہو گی اسی طرح وہ برے (بھیڑیں) اور نذر کی قربانی اور تیل ہر صبح ہمیشہ کی سوختنی قربانی کیلئے چڑھائیں گے،،۔

۳۔ سفر گنتی کے باب ۲۸: شمارہ :۹ اور ۱۰ میں ہے:

''اور شنبہ کے روز دو بے عیب نر بھیڑ اور نذر کی قربانی کے طورپر ایفہ کے پانچویں حصے کے برابر میدہ جس میں تیل ملا ہوا ہو تپاون کے ساتھ گزراننا دائمی سوختنی قربانی اور اس کے تپاون کے علاوہ یہ ہر شنبہ کی سوختنی قربانی ہے،،۔

یہ حکم نسوخ ہو گیا چنانچہ حزقیل باب : ۴۶ شمارہ : ۴۔۵ میں نسخ کے بعد کا حکم یوں مذکور ہے: ''اور سوختنی قربانی جو فرمانروا شنبہ کے دن گزراننے گا یہ ہے : چھ بے عیب بھیڑ اور ایک بے عیب مینڈھا اور نذر کی قربانی مینڈھے کیلئے ایک ایفہ اور بھیڑوں کیلئے نذر کی قربانی اس کی توفیق کے مطابق اور ایک ایفہ کیلئے ایک ھین تیل،،


۴۔ کتاب مقدس سفر گنتی کے باب : ۳۰ شمارہ ۲ میں ہے:

''جب کوئی مرد خدا کی منت مانے یا قسم کھا کر اپنے اوپر کوئی خاص فرض ٹھہرا دے تو وہ اپنے عہد کو نہ توڑے بلکہ جو کچھ اس کے منہ سے نکلا ہے اسے پورا کرے،،۔

تورات میں ثابت یہی حکم (قسم کا جواز) منسوخ ہو گیا چنانچہ متیٰ کی انجیل باب : ۵ شمارہ : ۳۳۔۳۴ میں ہے: ''نیز تم نے یہ سنا ہے کہ گزشتوں سے کہا گیا تھا قسم کی مخالفت نہ کرو بلکہ اپنے رب کی قسم پورا کرو۔ لیکن میں یہ کہوں گا قسم ہرگز نہ کھاؤ،،۔

۵۔ کتاب مقدس کے سفر خروج باب : ۲۱ شمارہ : ۲۳۔۲۵ میں ہے:

''لیکن اگر نقصان ہو جائے تو جان کے بدلے جان لے او رآنکھ کے بدلے آنکھ دانت کے بدلے دانت اور ہاتھ کے بدلے ہاتھ پاؤں کے بدلے پاؤں جلانے کے بدلے جلانا زخم کے بدلے زخم اور چوٹ کے بدلے چوٹ،،

یہ حکم قصاص شریعت حضرت عیسیٰ (ع) میں منسوخ ہو گیا چنانچہ انجیل متیٰ کے باب : ۵ شمارہ ۳۸ میں ہے:

''تم سن چکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ آنکھ کے بدلے میں آنکھ دانت کے بدلے میں دانت لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ شریر کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جوتیرے دائیں رخسارپر طمانچہ مارے دوسرا بھی اس کی طرف پھیر دے،،۔

۶۔ کتاب مقدس سفر پیدائش باب : ۱۷ شمارہ ۱۰ میں حضرت ابراہیم (ع) سے خدا کا خطاب ہے: '' اور میرا عہد جو میرے اور تیرے درمیان اور تیرے بعد تیری نسل کے درمیان ہے اور جسے تم مانو گے سو یہ ہے کہ تم میں سے ہر ایک فرزمذ نرینہ ختنہ کیا جائے،،

حضرت موسیٰ (ع) کی شریعت نے بھی اس حکم کی تائید کر دی۔ چنانچہ سفر خروج کے باب ۱۲ کے شمارہ : ۴۸۔۴۹ میں ہے:


''اور اگر کوئی اجنبی تیرے ساتھ مقیم ہو اورخداوند کی فسح کو ماننا چاہتا ہو تو اس کے ہاں کے سب مرد اپنا ختنہ کرائیں تب وہ پاس آ کر فسح کرے یوں وہ ایسا سمجھا جائے گا گویا اسی ملک کی اس کی پیدائش ہے پر کوئی نامختون آدمی اسے کھانے نہ پائے وطنی اور اس اجنبی کیلئے جو تمہارے درمیان موجود ہو ایک ہی شریعت ہو گی،،۔

نیز کتاب مقدس کے سفر اخبار کے باب : ۱۲ شمارہ ۲ اور ۳ میں موجود ہے:

''خداوند نے موسیٰ سے کہا: بنی اسرائیل سے کہو اگر کوئی عورت حاملہ ہو اور اس کے ہاں لڑکا پیدا ہو تو وہ سات دن ناپاک رہے گی جیسے حیض کے ایام میں رہتی ہے آٹھویں دن لڑکے کا ختنہ کیا جائے،،۔

یہ حکم بھی منسوخ ہو گیا اور حضرت موسیٰ (ع) اور حضرت عیسیٰ (ع) کی امت سے ختنہ کا فریضہ اٹھا لیا گیا چنانچہ کتاب مقدس ، عہد نامہ جدید کے عنوان ''رسولوں کے اعمال،، کے باب : ۱۵ شمارہ : ۲۴۔۳۰ اور پولس کے بعض خطوط میں نسخ کا یہ حکم موجود ہے۔

۷۔ کتاب مقدس کے سفر استثنا باب : ۲۴ شمارہ:۱۔۳ میں ہے:

''اگر کوئی مرد کسی عورت سے بیاہ کرے اور بعد میں اس میں کوئی ایسی بیہودہ بات پائے جس سے اس عورت کی طرف اس کی التفات نہ رہے تو وہ اس کا طلاق نامہ لکھ کراس کے حوالے کرے اور اسے اپنے گھر سے نکال دے اور جب اس کے گھر سے نکل جائے تو وہ دوسرے مرد کی ہو سکتی ہے لیکن اگر دوسراشوہر بھی اس سے ناخوش رہے اور اس کا طلاق نامہ لکھ کر اس کے حوالے کرے اور اسے اپنے گھر سے نکال دے یا وہ دوسرا شوہر جس نے اس سے بیاہ کیا ہو مر جائے تو اس کا پہلا شوہر جس نے اسے نکال دیا تھا اس عورت کے ناپاک ہونے کے بعد یہ مرد اس سے بیاہ نہ کرنے پائے،،۔


انجیل نے اس حکم کو منسوخ کر دیا اور طلاق کو حرام قرار دیا ہے چنانچہ انجیل متیٰ کے باب: ۵۰ شمارہ : ۳۱۔۳۲ میں لکھا ہے:

''یہ بھی کہاگیا تھا کہ جو کوئی بیوی کو چھوڑے اسے طلاق نامہ لکھ دے لیکن میں تم سے یہ کہتا ہوں کہ جو کوئی اپنی بیوی کو حرام کاری کے سوا کسی اور سبب سے چھوڑ دے وہ اس سے زنا کراتا ہے اور جو کوئی اس چھوڑی ہوئی سے بیاہ کرے وہ زنا کرتا ہے،،(۱)

مرقس کے باب : ۱۰ شمارہ : ۱۱۔۱۲ اور لوقا کے باب : ۱۶ شمارہ :۱۸ میں بھی اس قسم کا حکم موجود ہے۔ عہد نامہ قدیم و جدید سے نسخ کے جو موارد بیان کئے گئے وہ اہل انصاف اور حقیقت بین حضرات کیلئے کافی ہیں ۔ جو حضرات نسخ کے مزید مقامات سے آگاہ ہونا چاہیں وہ کتاب ''اظہار الحق،، (۲) اور ''الہدیٰ الیٰ دین المصطفےٰ (۳)،، کی طرف رجوع فرمائیں۔

____________________

(۱) کتاب مقدس کے اقتباسات کا اردوترجمہ ، پاکستان بائیبل سوسائٹی انار کلی لاہور کے شائع کردہ اردو ترجمہ سے لیا گیا ہے (مترجم)

(۲) مولف کتاب: شیخ رحمتہ اللہ ابن خلیل الرحمن الہندی ، یہ انتہائی مفید اور جلیل کتاب ہے۔

(۳) مولف : امام البلاغی ۔


شریعت اسلام میں نسخ

نسخ کے واقع ہونے میں مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں کیونکہ گزشتہ شریعتوں کے بہت سے احکام ، شریعت اسلام کے احکام کے ذریعے نسخ ہو گئے اور شریعت اسلام ہی کے کچھ احکام شریعت اسلام کے چند دوسرے احکام کے ذریعے نسخ ہو گئے ہیں چنانچہ قرآن مجید اس بات کی تصریح کر رہا ہے کہ نماز میں قبلہ اول (بیت المقدس) کی طرف رخ کرنے کا حکم منسوخ ہو گیا ہے اور اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہے۔

اختلاف اس بات میں ہے کہ آیا قربان کے کچھ احکام ، قرآن یا سنت قطعیہ (خبر متواترہ وغیرہ)یا اجماع یا عقل کی وجہ سے نسخ ہو سکتے ہیں؟

بہتر ہے اس پہلو سے نسخ کی بحث شروع کرنے سے پہلے ہم نسخ کی قسمیں بیان کر دیں۔ علماء کرام نے نسخ قرآن کی تین قسمیں بیان کی ہیں:

۱۔ تلاوت نسخ ہو حکم باقی رہے(۱)

علمائے کرام نے اس ضمن میں مثال کے لئے آیت رحم کو پیش کیا ہے اور فرمایا ہے کہ آیت رحم فی الحال قرآن میں موجود نہیں (نسخ ہو گئی ہے) لیکن اس آیت میں موجود حکم باقی ہے۔

ہم تحریف کی بحث میں ثابت کر چکے ہیں کہ نسخ تلاوت کا قائل ہونا بعینہ تحریف کا قائل ہونے کے مترادف ہے اور جو روایات نسخ تلاوت پر دلالت کرتی ہیں وہ سب کی سب احادہیں اس قسم کی مباحث میں خبر واحد کے ذریعے مدعا ثابت نہیں ہو سکتا۔

____________________

(۱) یعنی حکم باقی رہے اور صرف تلاوت منسوخ ہو۔


تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ جس طرح خبر واحد سے قرآن ثابت نہیں ہو سکتا اسی طرح خبر واحد سے نسخ بھی ثابت نہیں ہو سکتا۔ اجتماع کے ساتھ ساتھ ایک عہدہ اور اہم دلیل یہ ہے کہ کوئی بھی اہم واقعہ جو رونما ہونے کے بعد (اگر درحقیقت ثابت ہو) عام طور پر لوگوں میں شائع اور مشہور ہو جاتا ہے وہ خبر واحد کے ذریعے ثابت نہیں ہوتا اس قسم کے واقعہ کو بعض راویوں کا نقل کرنا اور بعض راویوں کا نقل نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ جس نے نقل کیا ہے اس نے یا تو جھوٹ بولا ہے یا اسے غلط فہمی ہوئی ہے بنا برایں خبر واحد کے ذریعے یہ کیسے ثابت ہو سکتا ہے کہ آیت رجم قرآن کا حصہ ہو اور پھر منسوخ ہو گئی ہو اور یہ کہ اس کی صرف تلاوت نسخ ہوئی ہو اور اس کا حکم باقی رہے۔

ہاں! گزشتہ مباحث میں یہ بات ضرور نقل کی گئی ہے کہ جمع قرآن کے موقع پر حضرت عمرآیت رجم لے کر آئے اور انہوںنے یہ دعویٰ کیا کہ یہ بھی قرآن کا حصہ ہے لیکن مسلمانوں نے ان کے اس دعویٰ کو تسلیم نہیں کیا کیونکہ اس آیت کو نقل کرنے والے صرف حضرت عمر تھے چنانچہ مسلمانوں نے آیت رجم کو قرآن میں شامل نہیں کیا یہاں سے متاخرین نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ آیہ رجم کی تلاوت منسوخ ہو گئی ہے لیکن اس کا حکم باقی ہے۔

۲۔ تلاوت اور حکم دونوں منسوخ ہوں

تلاوت اور حکم دونوں میں نسخ کی مثال کیلئے تحریف کی بحث میں مذکور دسویں روایت کو پیش کیا گیا ہے جس کو حضرت عائشہ نے نقل کیا ہے:

اس دلیل کا جواب وہی ہے جو نسخ تلاوت کی دلیل کا تھا۔


۳۔ حکم منسوخ ہو۔ تلاوت باقی رہے۔

نسخ کی یہی قسم علماء اور مفسرین میں مشہور ہے اس کے بارے میں ئی علمائے کرام نے مستقل کتب لکھی ہیں اور ان میں ناسخ اور منسوخ کو ذکر کیا ہے ان علماء میں ممتاز عالم ابو جعفر نحاس اورحافظ المظفر الفارسی قابل ذکر ہیں۔

بعض محققین اس رائے کے مخالف ہیں اور انہوں نے قرآن میں کسی منسوخ آیت کے موجود ہونے کا انکار کیا ہے البتہ اس نسخ کے امکان پر سب کا اتفاق ہے اس بات پر بھی سب کا اتفاق ہے کہ قرآن میں کچھ آیات ایسی ہیں جو گزشتہ شریعتوں کے احکام کی ناسخ ہیں اور بعض آیات کے ذریعے صدر اسلام کے کچھ احکام منسوخ ہو گئے ہیں ہم ذیل میں اس مسئلے میں صحیح رائے کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔

قرآن میں موجود حکم تین طریقوں سے نسخ ہو سکتا ہے۔

۱۔ قرآن میں موجود حکم سنت متواترہ یا اس اجماع قطعی کے ذریعے نسخ کیا جائے جو اس بات کا انکشاف کرے کہ نسخ معصوم (ع) کی طرف سے ہوا ہے نسخ کی اس قسم پر عقلاً اور نقلاً کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ اگر کسی آیت کے بارے میں یہ ثابت ہو جائے کہ اجماع یا سنت متواترہ کے ذریعے یہ نسخ ہو گئی ہے تو اس پر عمل کیا جائے گا ورنہ نسخ کا التزام نہیں کیا جائے گاکیونکہ یہ مسلم ہے کہ خبر واحد کے ذریعے نسخ ثابت نہیں ہوتا۔

۲۔ قرآن میں کوئی ثابت حکم قرآن ہی کی دوسری آیت کے ذریعے نسخ ہو جس کی نظر اس آیہ منسوخہ پر نہ ہو اور اس کے حکم کے برطرف ہونے کو بیان نہ کرتی ہو بلکہ صرف اس بنیدپر نسخ سمجھا جائے کہ ان دونوں آئتوں میں حکم کے اعتبار سے منافات پائی جاتی ہے اور اس کا نتیجہ یہ اخذ کیا جائے کہ بعد والی آیت پہلی آیت کی ناسخ ہے۔


تحقیق سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن میں یہ نسخ و اقع نہیں ہوا اور کیسے اس قسم کے نسخ کو مانا جا سکتا ہے جبکہ قرآن پکار پکار کر کہہ رہا ہے:

( أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ ۚ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِندِ غَيْرِ اللَّـهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا ) ۴:۸۲

''تو کیا یہ لوگ قرآن میں بھی غور نہیں کرتے اور (یہ نہیں خیال کرتے کہ) اگر خدا کے سوا کسی اور کی طرف سے (آیا) ہوتا تو ضرور اس میں بڑا اختلاف پاتے،،۔

مگر بہت سے مفسرین نے آیات قرآنی کے مفاہیم میں کما حقہ ، غور و خوض نہیں کیا اور یہ خیال کیا کہ قرآن کی بہت سی آیات میں منافات پائی جاتی ہے اور اسی سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ان دونوں (باہم منافی) آیات میں سے پہلی منسوخ اور دوسری ناسخ ہے بلکہ بعض حضرات نے ان دونوں آئتوں کو بھی ایک دوسرے کے منافی قرار دیا ہے جہاں دوسری آیت پہلی آیت کیلئے قرینہ عرفیہ بن رہی ہو(۱) جس طرح خاص عام کا اور مقید مطلق کا مقصد و مراد بیان کرتا ہے اس قسم کے شبہات یا نظریات کا منشا و سرچشمہ ، فکر و تدبر کا فقدان ہے یا نسخ کے لغوی معنی کی مناسبت سے اس قسم کے موارد مقامات کو نسخ کہنے میں تسامح اور چشم پوشی سے کام لیا جانا ہے اگرچہ نسخ کے اصطلاحی معنی کی مناسبت سے اس قسم کے موارد و مقامات کو نسخ کہنے میں تسامح اور چشم پوشی سے کام لیا جانا ہے اگرچہ نسخ کے اصطلاحی معنی کے متحقق ہونے سے پہلے ایسے معانی کو عام طور پر نسخ کہا جاتا ہے لیکن اصطلاحی معنی کے متحقق ہونے کے بعداس کو نسخ کہنا یقیناً مجاز ہو گا جو چشم پوشی پر مبنی ہے۔

____________________

(۱) دوسری آیت پہلی آیت کا صحیح مقصد بیان کر رہی ہو(مترجم)


ان آیات کا تنقیدی جائزہ جن کے نسخ کا دعویٰ کیا گیا ہے

اس وقت ہمارا موضوع سخن وہ آیات ہیں جن کے نسخ کا دعویٰ کیا گیا ہے فی الحال ہم وہ آیات پیش کرتے ہیں جن کے بارے میں آسانی سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ان میں نسخ واقع ہوا ہے یا نہیں اور جن آیات کا نسخ نہ ہونا (ہمارے گزشتہ بیانات کی روشنی میں) واضح ہے ان کو فی الحال پیش نہیں کرتے انشاء اللہ تعالیٰ ان کی تفسیر کے موقع پر اس پہلو (نسخ) پر نظر ڈالیں گے۔

ان آیات پر بحث ہم اسی ترتیب سے کریں گے جس ترتیب سے یہ قرآن میں موجود ہیں:

۱۔( وَدَّ كَثِيرٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يَرُدُّونَكُم مِّن بَعْدِ إِيمَانِكُمْ كُفَّارًا حَسَدًا مِّنْ عِندِ أَنفُسِهِم مِّن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمُ الْحَقُّ ۖ فَاعْفُوا وَاصْفَحُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّـهُ بِأَمْرِهِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ) ۲:۱۰۹

''(مسلمانو)اہل کتاب میں سے اکثر لوگ اپنے دلی حسد کی وجہ سے یہ خواہش رکھتے ہیں کہ تم کو ایمان لانے کے بعد پھر کافربنا دیں (اور لطف تو یہ ہے) ان پر حق ظاہر ہو چکا ہے اس کے بعد بھی (یہ تمنا باقی ہے) پس تم معاف کرو اور درگزر کرو یہاں تک کہ خدا اپنا کوئی اور حکم بھیجے ، بیشک خداہر چیز پر قادر ہے،،

ابن عباس نے قتادہ اور سدی سے روایت کی ہے کہ یہ آیت ، آیہ سیف کے ذریعے نسخ ہو گئی ہے ابو جعفر نحاس نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے(۱) آیہ سیف یہ ہے:

( قَاتِلُوا الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَلَا يُحَرِّمُونَ مَا حَرَّمَ اللَّـهُ وَرَسُولُهُ وَلَا يَدِينُونَ دِينَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حَتَّىٰ يُعْطُوا الْجِزْيَةَ عَن يَدٍ وَهُمْ صَاغِرُونَ ) ۹:۲۹

''اہل کتاب میں سے جو لوگ نہ تو (دل سے) خدا ہی پر ایمان رکھتے ہیں نہ روز آخرت پر اور نہ خدا اوراس کے رسول کی حرام کی ہوئی چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں اور نہ سچے دین ہی کو اختیار کرتے ہیں ان لوگوںسے لڑے جاؤ یہاں تک کہ وہلوگ ذلیل ہو کر (اپنے) ہاتھ سے جزیہ دیں،،

____________________

(۱) الناسخ و المنسوخ ، ص ۲۶ ، طبع مکتبتہ العلامیہ ۔ مصر


مذکورہ آیت کے نسخ کو اس وقت مانا جا سکتا ہے جب دو باتیں مان لی جائیں جو کہ صحیح نہیں ہیں:

(۱) اس حکم کے برطرف ہونے کو بھی نسخ کہا جائے جس کی مدت معین ہو اور اس مدت کے ختم ہو جانے کی وجہ سے حکم برطرف ہوگیا ہو۔

اس بات کا باطل ہونا واضح ہے اس لئے کہ نسخ وہاں بولا جاتا ہے جہاں حکم کے عارضی اور دائمی ہونے کا کوئی ذکر نہ کیا گیا ہو اور اگر کوئی حکم عارضی ہو ، اگرچہ وقت کی تعیین تفصیل سے نہ کی گئی ہو اور اجمالی طور پر معلوم ہو کہ یہ حکم عارضی ہے تو وہی دلیل ، جو وقت کی وضاحت اور حکم کی آخری مدت بیان کرے ، قرینہ بنے گی جومراد متکلم کی وضاحت کرے اس پر نسخ صادق نہیں آتا نسخ اصطلاحی یہ ہے کہ ایسے حکم کو برطرف کیا جائے جسے کلام کے اطلاق کی رو سے ظاہری طورپر دائمی سمجھا جائے اور وہ حکم کسی معین مدت سے مختص نہ ہو۔

فخر الدین رازی کا خیال ہے کہ کسی جداگانہ دلیل کے ذریعے عارضی حکم کا وقت (آخری مدت) بیان کرنابھی نسخ کہلاتا ہے ۔ رازی کا یہ خیال سراسر باطل ہے کیونکہ اصطلاح میں اسے کوئی بھی نسخ نہیں کہتا اور جس حکم کے ابدی اور دائمی ہونے کی تصریح کی گئی ہو اس میں نسخ کا واقع نہ ہونا تو اظہر من الشمس ہے۔

(۲) پیغمبر اکرم (ص) کو اہل کتاب سے جنگ لڑنے کا حکم دیا گیا ہو اور یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ نبی اکرم (ص) کو اہل کتاب سے جنگ لڑنے کا حکم نہیں دیا گیا بلکہ آیت کریمہ میں مشرکین کو خدا اور اخرت پر ایمان لانے کی دعوت دینے اور ان سے جنگ لڑنے کا حکم دیا گیا ہے اہل کتاب سے ابتدائی طورپر جنگ لڑنا جائز نہیں یہ اور بات ہے کہ کسی اور وجہ سے اہل کتاب سے لڑنا جائز ہو مثلاً اگر اہل کتاب جنگ میں پہل کریں


اور مسلمانوں پر حملہ آور ہوں تو اس صورت میں ان سے لڑنا جائز ہو گا چنانچہ اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

(وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ ) ۲:۱۹۰

''اور جو لوگ تم سے لڑیں تم (بھی) خدا کی راہ میں ان سے لڑو اور زیادتی نہ کرو (کیونکہ) خدا زیادتی کرنے والوں کو ہگز دوست نہیں رکھتا،،

یا اس صورت میں اہل کتاب سے جنگ کی جا سکتی ہے جب وہ مسلمانوں میں فتنہ و فساد پھیلائیں اس لئے کہ فتنے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

(وَالْفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ ): ۱۹۱

''اور فتنہ پردازی (شرک) خونریزی سے بھی بڑھ کے ہے،،

یا اس صورت میں اہل کتاب سے لڑا جا سکتا ہے جب وہ طے شدہ جزیہ دینے سے انکار کر دیں جس کی طرف زیر بحث آیہ کریمہ میں اشارہ کیا جا رہا ہے:

لیکن اگر اس قسم کا کوئی سبب اور مجوز نہ ہو تو اہل کتاب سے صرف ان کے کفر کی بنیاد پر لڑنا جائز نہیں ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ پہلی آیت میں مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے کہ اگر اہل کتاب تمہیں دوبارہ کافر بنانا چاہیں جو ان کے کفر کا لازمی نتیجہ ہے تو اسے درگزر کرو اور ان سے جنگ نہ کرو۔

یہ حکم اس سے منافات نہیں رکھتا کہ دوسری آیت میں کسی اور سبب اور مجوز کی بنیاد پر ان سے لڑنے کا حکم دیا جائے بنا برایں دوسری آیت پہلی آیت کی ناسخ نہیں ، بلکہ پہلی آیت میں اہل کتاب سے قتال (جنگ) کا کوئی مجوز نہیں تھا اس لئے درگزر کرنے کا حکم دیا گیا اور دوسری آیت میں ان سے قتال کا مجوز موجود تھا اس لئے لڑنے کا حکم دیا گیا۔

اس کے علاوہ جس کو اس آیت کے نسخ پر شبہ ہوا ہے اس نے آیہ کریمہ:

(حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّـهُ بِأَمْرِهِ ) ۲:۱۰۹

''یہاں تک کہ خدا اپنا کوئی اور حکم بھیجے،،۔


میں امر کا معنی طلب اور حکم سمجھا ہے اور اس سے اس شبہ کا شکار ہوا ہے کہ کفار سے درگزر اور چشم پوشی سے کام لیا جائے حتیٰ کہ خدا ان سے جنگ لڑنے کا حکم دے اس طرح اس نے بعد والے حکم کو ناسخ قرار دیا ہے۔

محترم قارئین کے سامنے یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ بالفرض اگرا سے درست بھی سمجھا جائے پھر بھی نسخ لازم نہیں آتا لیکن یہ احتمال سرے سے باطل ہے اس لئے کہ پہلی آیت میں امر سے مراد طلب اور حکم نہیں ہے بلکہ اس سے مراد امر تکوینی اور مخلوق میں قضا و قدر الٰہی ہے اس کی دلیل امر سے پہلے لفظ ''اتیان،، کا لانا ہے (کیونکہ ار بمعنی مطلب اتیان کے ساتھ استعمال نہیں ہوتا) اور دوسری دلیل آخری آیت ہے۔

( إِنَّ اللَّـهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ) ۲:۱۰۹

''بیشک خدا ہر چیز پر قادر ہے،،

اس آیہ شریفہ کا خلاصہ یہ ہے کہ مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے: اگر اہل کتاب تمہیں دوبارہ کافر بنانا چاہیں تو انہیں معاف کر دو حتیٰ کہ اللہ تعالیٰاپنی مشیّت سے اسلام کو عزت عطا فرمائے اور کفار کی اکثریت دائرہ اسلام میں داخل ہو جائے کچھ کو اللہ تع الیٰ ہلاک کر دے اور انہیں آخرت میں شدید عذاب دے اور اس قسم کے دوسرے فیصلے فرمائے جن کی قضا و قدر الٰہی متقاضی ہو۔

۲۔( وَلِلَّـهِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ ۚ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّـهِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ وَاسِعٌ عَلِيمٌ ) ۲:۱۱۵

''(ساری زمین) خدا ہی کی ہے (کیا) پورب (کیا) پچھم پس جہاں کہیں (قبلہ کی طرف) رخ کر لو وہیں خدا کا سامنا ہے بیشک خدا بڑی گجائش والا اور خوب واقف ہے،،۔


علماء کی ایک جماعت ، جس میں ابن عباس ، ابو العالیہ ، حسن عطا ، مکرمہ قتادہ ، سدی اور زید بن اسلم شامل ہیں ، سے منسوب ہے کہ یہ آیت نسخ ہو گئی ہے(۱) البتہ اس کے ناسخ کے بارے میں علماء میں اختلاف ہے ابن عباس فرماتے ہیں:

یہ آیت قول اللہ تعالیٰ:

( وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ ) ۲:۱۵۰

''اور (اے مسلمانو) تم (بھی) جہاں کہیں ہوا کرو نماز میں اپنا منہ (اسی کعبہ) کی طرف کر لیا کرو،،

کے ذریعے نسخ ہوئی ہے،،

قتادہ فرماتے ہیں:

یہ آیت ، آیہ :

( فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ ) ۲:۱۵۰

''تم (نماز میں) اپنا منہ مسجد حرام کی طرف کرلیا کرو،،

کے ذریعے نسخ ہوئی ہے،،

قرطبی کا بھی یہ کہنا ہے(۲)

علماء نے اس آیت کے نسخ ہونے کی وجہ یہ بتائی ہے کہ رسول اللہ (ص) اور دوسرے تمام مسلمانوں کو پہلے یہ اختیار دیا گیا تھا کہ نماز میں جس طرف چاہیں رخ کریں اگرچہ رسول اللہ (ص) نے ان اطراف میں سے بیت المقدس کی سمت اختیار فرمائی تھی اس کے بعد یہ آیت نسخ ہو گئی اور صرف بیت الحرام کی طرف رخ کرنے کا حکم دے دیا گیا۔

____________________

(۱) تفسیر ابن کثیر ، ج ۱ ، ص ۱۵۷۔۱۵۸۔

(۲) تفسیر قرطبی ، ج ۲ ، ص ۷۴


اس احتمال کا بے بنیاد ہونا محتاج نہیں کیونکہ فرمان الٰہی ہے:

( وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ ۚ) ۲۔۱۴۳

''اور (اے رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم)) جس قبلہ کی طرف تم پہلے (سجدہ کرتے) تھے ہم نے اس کو صرف اس وجہ سے (قبلہ( قرار دیا تھا کہ جب (قبلہ بدلا جائے تو) ہم ان لوگوں کو جو رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کی پیروی کرتے ہیں ان لوگوں سے الگ دیکھ لیں جو الٹے پاؤں پھرتے ہیں،،۔

اس آیت میں اس بات کی تصریح موجود ہے کہ اس وقت مصلحت کے تقاضوں کے مطابق اللہ کے حکم پر بیت المقدس کی طرف رخ کیا کرتے تھے اور اس میں رسول اللہ (ص) کے ذاتی اختیار کا کوئی دخل نہیں تھا حقیقت امر یہ ہے کہ کوئی جہت اور طرف خدا کی ذات سے مختص نہیں کیونکہ کوئی مکان اللہ تعالیٰ کا احاطہ نہیں کر سکتا انسان اپنی نماز ، دعا اور دیگر عبادات میں جس طرف بھی رخ کرے ، خدا ہی کی طرف رخ ہو گا۔

اسی آیت کریمہ کو اہل بیت عصمت (ع) نے اس حکم کی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے کہ مسافر جس طرف چاہے رخ کر کے نفلی نماز پڑھ سکتا ہے اور اسی آیت کو اس واجب نماز کے صحیح ہونے کی دلیل قرار دیا ہے جو غلطی سے مشرق اور مغربی کے درمیانی رخ پڑھی گئی ہو۔

جو آدمی سرگرداں ہو اور اسے معلوم نہ ہو کہ قبلہ کس طرف ہے وہ جس طرف رخ کر کے نماز پڑھے صحیح ہے اور یہ کہ غیر قبلہ کی طرف رخ کر کے قرآن کے واجب سجدے کئے جا سکتے ہیں جب حجاج بن یوسف نے سعید بن جبیر (رح) کو زمین کی طرف رخ کر کے ذبح کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے اسی آیہ شریفہ کی تلاوت فرمائی۔(۱)

_____________________

(۱) تفسیر قرطبی ، ج ۲ ، ص ۷۵


معلوم ہوا یہ آیت مطلق ہے جس کی مختلف اوقات میں مختلف قیدوں سے تقیید کی گئی کبھی (واجب نماز میں) بیت المقدس کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا گیا اور اس طرح اس آیت کی تقیید کی گئی اور کبھی خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا اور اس طرح اس آیت کی تقیید کی گئی اور بعض علماء کے مطابق نوافل بھی ، اگرچہ چلنے کی حالت میں نہ ہوں بنا برقول بعضے ، کسی بھی طرف رخ کر کے پڑھے جا سکتے ہیں باقی رہیں وہ روایات جن کے مطابق یہ آیت نوافل کے بارے میں نازل ہوئی ہے ان روایات کا مطلب یہ نہیں کہ یہ آیہ کریمہ صرف نوافل سے مختص ہے کیونکہ اس سے پہلے بتا چکے ہیں کہ آیات صرف شان نزول سے مختص نہیں ہوا کرتیں۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس آیہ شریفہ کا نسخ اس وقت قابل قبول ہو گا جب دو باتیں ثابت ہوں۔

( i ) یہ ثابت ہو کہ یہ آیہ کریمہ صرف واجب نمازوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے یہ بات یقیناً باطل ہے اور اہل سنت کی کتب احادیث میں ایسی روایات موجود ہیں جن کی رو سے یہ آیت ، دعا ، مسافر کے نوافل ، متحیر و سرگرداں

آدمی کی نماز اور اس شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے غلطی سے غیر قبلہ کی طرف نماز پڑھی ہو(۱) اس سے قبل وہ مقامات بھی بیان کئے گئے جہاں اہل بیت اطہار (ع) نے اس آیہ شریفہ سے استدلال فرمایا ہے۔

( ii ) یہ ثابت ہو کہ یہ آیہ شریفہ ، اس آیہ شریفہ سے پہلے نازل ہوئی ہو جس میں خانہ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے یہ بات بھی ثابت اور مسلم نہیں ہے۔

بنا برایں یہ دعویٰ یقیناً باطل ہے کہ یہ آیت نسخ ہو گئی ہے اہل بیت (ع) سے ایسی روایات منقول ہیں جن میں اس بات کی تصریح کی گئی ہے کہ یہ آیت نسخ نہیں ہوئی۔

____________________

(۱) تفسیر طبری ، ج ۱ ، ص ۴۰۰۔۴۰۲


ہاں! بعض اوقات نسخ بولا جاتا ہے اور اس سے ایک عام معنی مقصود ہوتا ہے جو تقیید کو بھی شامل ہوتا ہے چنانچہ اس معنی کی طرف اس سےقبل اشارہ کیا جا چکا ہے اگر زیر بحث آیہ شریفہ میں بھی اس معنی کا ارادہ کیا جائے تو پھر کوئی اعتراض لازم نہیں آتا اور عین ممکن ہے کہ اس آیت میں نسخ سے ابن عباس کی مراد یہی ہو اور اس سے قبل بھی ہم اس خقیقت کی طرف اشارہ کر چکے ہیں۔

۳۔( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى ۖ الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنثَىٰ بِالْأُنثَىٰ ۚ ) ۲:۱۷۸

''اے مومنو! جو لوگ (ناحق) مار ڈالے جائیں ان کے بدلے میں تم کو جان کے بدلے جان لینے کا حکم دیا جاتا ہے آزاد کے بدلے آزاد اور غلام کے بدلے غلام اور عورت کے بدلے عورت،،

بعض علمائے کرام کا یہ دعویٰ ہے کہآیہ شریفہ اس آیت کے ذریعے نسخ ہو گئی ہے۔

( وَكَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ وَالْأَنفَ بِالْأَنفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِّ ) ۵:۴۵

''اور ہم نے توریت میں یہودیوں پر یہ (حکم) فرض کر دیا تھا کہ جان کے بدلے جان اور آنکھ کے بدلے آنکھ اور ناک کے بدلے ناک اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت،،

(پہلی آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ قصاص کے معاملے میں مرد ،عورت اور غلام آزاد میں مماثلت


ضروری ہے یعنی مرد کے بدلے میں مرد اور عورت کے بدلے میں عورت ، آزاد کے بدلے میں آزاد اور غلام کے بدلے میں غلام کو قتل کیا جائے لیکن دوسری آیت کریمہ میں اس مطابقت کا کوئی تذکرہ نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلی آیت دوسری آیت کے ذریعے نسخ ہو گئی ہے اس بنا پر عورت کے بدلے میں مرد اور غلام کے بدلے میں آزاد کو قتل کیا جا سکتا ہے)

یہی وجہ ہے کہ اہل سنت کی اکثریت اس بات کی قائل ہے کہ عورت کے بدلے میں مرد کو قتل کیا جا سکتا ہے اور مرد کے وارثوں کو دیت سے کچھ حصہ دینا بھی ضرروی نہیں(۱) البتہ حسن اور عطاء نے اس حکم کی مخالفت کی ہے ، ان کا کہنا ہے کہ مرد کو عورت کے بدلے میں قتل نہیں کیا جا سکتا۔

لیث کہتے ہیں:

''اگر مرد اپنی بیوی کو قتل کر دے تو اسے صرف اپنی بیوی کے بدلے میں قتل نہیں کیا جا سکتا،،(۲)

امامہ اثنا عشریہ کے مطابق مقتولہ کے ولی و وارث کو اختیار حاصل ہے کہ عورت کی دیت اور خونبہا کا مطالبہ کرے اور چاہے تو قاتل کو قصاص میں قتل کر دے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ مرد کی دیت اور خونبہا کا نصف حصہ اس کے وارثوں کو ادا کرنا ہو گا۔

اہل سنت میں مشہور یہی ہے کہ آزاد کو غلام کے بدلے میں قتل نہیں کیا جا سکتا اور امامیہ کا اس پر اجماع قائم ہے لیکن ابو حنیفہ ، ثوری ، ابن ابی لیلی ٰ اور داؤد نے اس حکم کی مخالفت کی ہے ان کا کہنا ہے کہ آزاد کسی دوسرے کے غلام کے بدلے میں قتل کیا جا سکتا ہے(۳) البتہ ان کے ایک گروہ کی رائے یہ ہے کہ آزاد کو غلام کے بدلے میں قتل کیا جائے گا خواہ وہ اس کا اپنا غلام ہی کیوں نہ ہو(۴)

_____________________

(۱) تفسیر قرطبی ، ج ۲ ، ص ۲۲۹

(۲) تفسیر ابن کثیر ، ج ۱ ، ص ۲۱۰

(۳) یضاً ، ج ۱ ، ص ۲۰۹۔

(۴) احکام القرآن للجصاص ، ج ۱ ، ص ۱۳۷

لیکن قول حق یہی ہے کہ پہلی آیت محکم ہے اورا س کے معنی ظاہر ہیں اس کے بعد کوئی ناسخ آیت نازل نہیں ہوئی اس لئے کہ دوسری آیت میں آزاد و غلام اور مرد و عورت کے اعتبار سے اطلاق پایا جاتا ہے یعنی آیت کریمہ اس پہلو کو بیان نہیں کر رہی کہ عورت کے قصاص میں مرد کو قتل کیا جا سکتا ہے کہ نہیں؟ یا اگر آزاد ، غلام کو قتل کرے تو اسے غلام کے مقابلے میں قتل کیا جا سکتا ہے کہ نہیں ؟ بلکہ دوسری آیت میں صرف اس نکتے کو بیان کیا جا رہا ہے کہ قصاص کے موقع پر جرم کی مقدار اور نوعیت کا خیال رکھا جائے یعنی جس نوعیت کا جرم کیا گیا ہے اسی کے حساب سے انتقام لیا جائے۔

چنانچہ آیہ کریمہ:

( فَمَنِ اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ فَاعْتَدُوا عَلَيْهِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدَىٰ عَلَيْكُمْ ۚ ) ۲:۱۹۴

''پس جو شخص تم پر زیادتی کرے تو جیسی زیادتی اس نے تم پر کی ہے ویسی ہی زیادتی تو بھی اس پر کرو،،

کا مفہوم بھی یہی ہے۔

بہرحال اگر دوسری آیت میں مرد و عورت اور آزادو غلام کے اعتبار سے قاتل و مقتول کی خصوصیات بیان نہ کی گئی ہوں اور صرف ابتدائی جرم اور قصاص کی نوعیت میں مساوات کو بیان کیا گیا ہو جس کو اس آیہ شریفہ میں بیان کیا گیا ہے تو دوسری آیت مہمل رہیگی اور اس کا عموم میں ظہور نہیں ہو گا تاکہ پہلی آیت کیلئے ناسخ بن سکے اور اگر دوسری آیت مرد و زن اور غلام و آزاد کے اعتبار سے اطلاق میں ظہور رکھتی ہو اور اس آیت میں صرف اس بات کی خبر نہ دی گئی ہو کہ یہ حکم تورات میں موجود ہے بلکہ اس امت کیلئے بھی یہی حکم ثابت ہو تو پہلی آیت دوسری کیلئے مقید ثابت ہو گی اور اس کا قرینہ ہو گی کہ دوسری آیت میں مراد الٰہی کیا ہے اس لئے کہ مطلق ، اگرچہ مؤخر ہو ، مقید کیلئے ناسخ نہیں بن سکتا بلکہ مقید ظہور مطلق میں تصرف (ردوبدل) پر قرینہ ثابت ہو گا چنانچہ ہر مقید ، جو موخر ہو ، کا یہی حکم ہوا کرتا ہے۔ بنا برایں غلام کے بدلے میں آزادکے قتل کئے جانے کاقائل ہونے کا کوئی جواز نہیں ہے۔


اس کے مقابلے میں دوسرا قول یہ ہے کہ غلام کے مقابلے میں آزاد کو قتل کیا جا سکتا ہے دلیل کے طور پر امیر المومنین (ع) کی روایت کو پیش کیا جاتا ہے جسے آپ (ع) نے رسول اللہ (ص) سے نقل فرمایاہے اس روایت میں رسول اللہ (ص) فرماتے ہیں:

المسلمون تتکافا دماؤهم ،،

''مسلمانوں کا خون (آزادہو یا غلام) یکساں ہے،،

جواب: فقرض تسلیم اگر یہ روایت درست بھی ہوتو آیہ کریمہ :( الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ ) ۔۔۔۔۔۔ الخ کے ذریعے اس کی تخصیص کی جائے گی اس لئے کہ یہ روایت غلام کے مقابلے میں آزاد کے قتل کو تب جائز قرار دے گی جب اس کے عموم پر عمل کیا جائے ظاہر ہے عام اس وقت حجت اور قابل عمل ہو گا جب اس سے پہلے یا اس کے بعد کوئی مخصص وارد نہ ہو۔

باقی رہی وہ روایت جو حسن نے سمرہ سے اور اس نے رسول اللہ (ص) سے نقل کی ہے اس کی سند ضعیف ہے اور یہ قابل اعتماد نہیں چنانچہ ابوبکر بن عربی کہتے ہیں:

''بعض لوگوں کی جہالت اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ وہ آزاد کے قتل کو اس کے اپنے غلام کے قتل کے بارے میں جائز سمجھتے ہیں اور اس کی دلیل کے طور پر رسول اللہ (ص) کے فرمان کو پیش کرتے ہیں جس کو حسن نے سمرہ سے نقل کیا ہے اور اس میں آپ (ص) فرماتے ہیں : من قتل عبدہ قتلناہ (یعنی )''جو اپنے غلام کو قتل کرے ہم اسے قتل کریں گے،، اوریہ حدیث ضعیف ہے،،(۱)

____________________

(۱) احکام القرآن لابی بکربن العربی ، ج ۱ ، ص ۲۷


مولف: اس روایت کی سند ضعیف ہونے کے علاوہ تین روایات سے متعارض بھی ہے۔

i ) عمر بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے جد سے روایت بیان کرتے ہیں:

''ایک شخص نے عملاً اپنے غلام کو قتل کر دیا اس قاتل کو رسول اللہ (ص) نے سزا میں کوڑے لگائے ، ایک سال کیلئے جلا وطن کر دیا اور بیت المال سے اس کا حصہ منقطع کر دیا لیکن اسے قتل نہیں کیا گیا،،(۱) اسی مضمون کی ایک روایت ابن عباس نے رسول اللہ (ص) سے بھی نقل کیا ہے۔

( ii ) جابر نے عامر سے اور اس نے امیر المومنین (ع) سے روایت بیان کی ہے:

''آزاد کو غلام کے بدلے میں قتل نہیں کیا جا سکتا ،،(۲)

( iii ) عمرو بن شعیب نے اپنے باپ سے اور انہوں نے اپنے جد سے روایت بیان کی ہے:

''حضرت ابوبکر اور حضرت عمر غلام کے بدلے میں آزاد کو قتل نہیں کرتے تھے ،،(۳)

قارئین کرام نے روایات اہل بیت (ع) ملا خطہ فرمائیں جن کا اتفاق ہے کہ آزاد آدمی کو غلام کے بدلے میں قتل نہیں کیا جا سکتا اور رسول اللہ (ص) کے بعد مرجع دین اہل بیت اطہار (ع) ہی ہیں ان تمام شواہد کے ہوتے ہوئے اس دعویٰ کی گنجائش نہیں رہتی کہ آیہ : ''الحر بالحر والعبد بالعبد،، نسخ ہو گئی اور غلام کے بدلے میں آزاد کو قتل کیا جا سکتا ہے۔

امامیہ ، حسن اور عطاء کے نقطہ نگاہ سے آیہ کریمہ اس اعتبار سے بھی نسخ نہیں ہوئی کہ عورت کے بدلے میں مرد کو قتل کیا جا سکے البتہ مذہب اہل سنت کے مطابق یہ اس اعتبار سے نسخ ہو گئی ہے یعنی عورت کے بدلے میں مرد کو قتل کیا جا سکتا ہے جبکہ پہلی آیہ (الانثی ٰ بالانثیٰ ) کی رو سے عورت کے بدلے میں مرد کو قتل نہیں کیا جا سکتا۔

____________________

(۱) سنن بیہقی ، ج ۸ ، ص ۳۶

(۲) ایضاً ص ۳۴۔۳۵

(۳) ایضاً ص ۳۴


اس مسئلے کی وضاحت:

فرمان اللہ تعالیٰ:

( كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ ) ۲:۱۷۸

''تم کو جان کے بدلے جان لینے کا حکم دیا جاتا ہے،،

کی رو سے قصاص لینا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرض ہے اور دوسری ادلہ کے مطابق یہ فرض اس صورت میں ثابت ہوتا ہے جب مقتول کے ورثا قصاص کا مطالبہ کریں چنانچہ آیہ کریمہ:

( فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ ) : ۱۷۸

''پس جس (قاتل) کو اس کے (ایمانی) بھائی (طالب قصاص) کی طرف سے کچھ معاف کر دیا جاوے،،۔

اس بات پر دلالت کرتی ہے (کیونکہ اس آیت میں قصاص سے درگزر کرنے کی تشویق اور ترغیب دلائی گئی ہے (بنا برایں آیت شریفہ کا مفہوم یہ ہے کہ حکم قصاص کے سامنے سر تسلیم خم کرنا قاتل پر اس وقت واجب ہے جب مقتول کے وارث خون کا بدلہ لینا چاہیں اور یہ حقیقت بھی پوشیدہ نہیں ہے کہ یہ حکم اس وقت مسلم ہے ، جب کوئی مرد ، مرد کو قتل کرے یا عورت ، مرد کو قتل کے یا عورت ، عورت کو قتل کرے۔

لیکن اگر مرد ، عورت کو قتل کرے تو عورت کے ورثا کی طرف سے قصاص کے مطالبے کے ساتھ ہی قصاص کیلئے اپنے آپ کو پیش کرنا مرد پر واجب نہیں ہے اور جب تک اپنی دیت کا نصف حصہ وصول نہ کرے مرد کو انکار کرنے کا حق پہنچتا ہے اور حاکم شرع بھی قاتل کے وارثوں کو دیت کا نصف حصہ دیئے بغیر قصاص کی حد جاری نہیں کر سکتا بالالفاظ دیگر آیت شریفہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ عورت کے بدلے میں عورت کو ہی قتل کیا جا سکتا ہے ، مرد کو قتل نہیں کیا جا سکتا اور آیہ کریمہ کایہ مفہوم ہرگز نسخ نہیں ہوا۔


ہاں ! یہ اور بات ہے کہ آیہ شریفہ سے قطع نظر خارجی دلائل سے یہ ثابت ہے کہ جب مقتولہ کے ولی و وارث مرد کی دیت کا نصف حصہ ادا کر دیں تو مرد کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو قصاص کیلئے پیش کر دے اس طرح مرد ، عورت اور نصف دیت کے مجموعہ کابدلہ قرار پائے گا یہ ایک جداگان اور مستقل حکم ہے جس کا اس حکم سے کوئی تعلق نہیں جو آیہ کریمہ سے ابتداً سمجھا جاتا ہے اوریہ وہ نسخ نہیں جس کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

خلاصہ کلام یہ کہ آیہ( الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ ) کا نسخ اس بات پر موقوف ہے کہ مقتولہ کے ولی و ورثا جب بھی قصاص کا مطالبہ کریں توقصاص کیلئے اپنے آپ کو پیش کرنا قاتل پر واجب ہو چنانچہ اہل سنت یہی کہتے ہیں لیکن یہ بات دلیل سے ثابت نہیں (اس کا اثبات جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ مترجم)

اہل سنت حضرات اس بات کے ثبوت میں کبھی تو دوسری آیت :( أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالْعَيْنِ ) کے اطلاق کا سہارالیتے ہیں ، کبھی حدیث شریف :المسلمون تتکافا دماؤهم کے عموم کا اس دلیل کا جواب دیا جا چکا ہے اور کبھی اس بات کے اثبات میں قتادہ کی روایت پیش کرتے ہیں جو اس نے سعید بن مسیب سے نقل کی ہے اس روایت میں ہے کہ حضرت عمر نے صنعاء کے کچھ لوگوں کو ایک عورت کے قتل کے جرم میں قتل کیا۔

لیث نے حکم سے روایت بیان کی ہے کہ امیر المومنین (ع) اور عبداللہ نے فرمایا:

''جب کوئی مرد کسی عورت کو قتل کرے تو اسے اس عورت کے بدلے میں قصاص کے طور پر قتل کیا جائیگا،،

زہری نےابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے اور اس نے اپنے والد سے ، اس نے اپنے جد سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا:

''ان الرجل یقتل بالمراة ،، (۱)

''مرد ، عورت کے بدلے میں قتل کیا جائے گا،،

____________________

(۱) احکام القرآن للجصاص ، ج ۱ ، ص ۱۳۹


لیکن یہ سب دلیلیں کئی اعتبار سے باطل ہیں۔

( i ) یہ سب روایات صحیح بھی ہوں لیکن کتاب خدا کی مخالف ہیں اور جو روایات کتاب الٰہی کی مخالف ہو وہ حجت نہیں ہوا کرتی یہ روایات خبر واحد ہیں اور علما کا اس پر اجتماع ہے کہ خبر واحد سے نسخ ثابت نہیں ہوتا۔

( ii ) ان میں سے پہلی روایت مرسلہ ہے کیونکہ سعید بن مسیّب ، خلافت حضرت عمر کے دو سال بعد پیدا ہوا(۱) اور یہ بات بہت بعید ہے کہ اس نے حضرت عمر سے بلا واسطہ روایت کی ہو اس کے علاوہ اگر اس روایت کو صحیح بھی مان لیا جائے تب بھی اس سے صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عمر نے اس کام کو انجام دیا اور حضرت عمر کا فعل بذات خود حجت نہیں۔

دوسری روایت ضعیف بھی ہے اورمرسلہ بھی ۔ تیسری روایت کو اگر صحیح بھی مان لیا جائے تو بھی یہ مطلقہ ہے اور اس روایت سے اس کی تقیید کی جائے گی جس کے مطابق قاتل کو اس کی نصف دیت ادا کرنے کے بعد قتل کیا جا سکتا ہے۔

گزشتہ مباحث کا نتیجہ یہ نکلا کہ آیہ کریمہ کا نسخ ثابت نہیں اور صرف فقہاء کی ایک جماعت کے فتویٰ کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ آیہ کریمہ نسخ ہو گئی ہے زیدیا عمرو کے قول اور فتویٰ کی بنیاد پر قول خداوند سے کیوں اور کس طرح دستبردار ہوا جا سکتا ہے ؟ اور مقام حیرت وتعجب ہے کہ علماء کی ایک جماعت جس کا اس بات پر اجماع ہے کہ خبر واحد کے ذریعے نسخ ثابت نہیں ہوتا ، اس کے باوجود ، قرآن کیخلاف اپنا فتویٰ صادر کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتی ہمارے گزشتہ بیانات سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ آیہ کریمہ:

( وَمَن قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا ) ۱۷:۳۳

''اور جو شخص ناحق مارا جائے تو ہم نے اس کے وارث کو (قاتل پر قصاص کا) قابو دیا ہے،،۔

__________________

(۱) تہذیب التہذیب ، ج ۴ ، ص ۸۶


اور آیہ کریمہ:

( وَلَكُمْ فِي الْقِصَاصِ حَيَاةٌ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ) ۲:۱۷۹

''اور اے عقلمندو ! قصاص میں تمہاری زندگی ہے اور اسی لئے جاری کیا گیا ہے،،

میں آیہ شریفہ (الانثی بالانثیٰ) جس میں مرد و زن اور آزاد و غلام میں فرق کو بیان کیا گیا ہے ، کی ناسخ بننے کی صلاحیت نہیں ہے انشاء اللہ اس آیت کریمہ کی تفسیر کے موقع پر اس موضوع پر مفصل بحث کی جائے گی۔

۴۔( كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ ۖ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقِينَ ) ۲:۱۸۰

''(مسلمانو!) تم کو حکم دیا جاتا ہے کہ جب تم میں سے کسی کے سامنے موت آ کھڑی ہو بشرطیکہ وہ کچھ مال چھوڑ جائے تو ماں باپ اور قرابتداروں کیلئے اچھی وصیت کرے جوخداسے ڈرتے ہیں ان پر یہ ایک حق ہے،،

بعض حضرات کا دعویٰ ہے کہ یہ آیت ، آیہ ارث کے ذریعے نسخ ہو گئی ہے کیونکہ صدر اسلام میں میراث کی تقسیم کی وہ کیفیت نہیںتھی جو اب ہے بلکہ سارے کا سارا ترکہ بیٹے کو مل جاتا تھا والدین اور دیگر رشتہ داروں کو جو کچھ ملتا تھا وہ وصیت کے ذریعے ملتا تھا اورآیہ میراث کے ذریعے یہ حکم منسوخ ہو گیا چنانچہ آیہ کریمہ میں اسی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے کہ مالدار آدمی کو چاہئے کہ وہ مرتے وقت والدین اور دیگر رشتہ داروں کیلئے ضرور وصیت کرے۔

کچھ حضرات کا دعوی ہے کہ یہ آیت فرمان رسول اللہ:''ولاوصیة لوارث (۱) ،، (یعنی) وارث کیلئے کسی وصیت کی ضرورت نہیں،، کے ذریعے منسوخ ہو گئی ہے۔

____________________

(۱) الناسخ و المنسوخ للخاس ، ص ۲۰


مگر حق یہی ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہوئی اس لئے کہ آیہ ارث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ میراث کی نوبت تب آتی ہے جب مرنے والے نے کوئی وصیت نہ کی ہو اور وہ مقروض بھی نہ ہو اس کے باوجود یہ کیسے معقول ہے کہ آیہ ارث ، آیہ وصیت کی ناسخ قرار پائے۔

اس کے علاوہ نسخ کی جو دلیل پیش کی جاتی ہے وہ بھی درست نہیں ، اس لئے کہ:

اولاً : اگرچہ صحیح بخاری میں یہ روایت موجود ہے لیکن اس سے نسخ ثابت نہیں ہوتا کیونکہ علماء کا اس پر اجتماع ہے کہ خبر واحد کے ذریعے نسخ ثابت نہیں ہوتا۔

ثانیاً: آیہ ارث کے ذریعے ، اس آیہ کا نسخ اس صورت میں ثابت ہو گا جب آیہ ارث ، اس آیہ( كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ ) ۔۔۔۔۔۔ الخ) کے بعد نازل ہوئی ہو اور قائلین نسخ کیلئے یہ بات ثابت کرنا مشکل ہے بعض حنفی حضرات کی طرف سے نسخ کے قطعی ہونے کا دعویٰ محتاج دلیل ہے۔

ثالثاً : مرنے والے کے رشتہ داروں کے بارے میں اس حکم کا نسخ ہونا قابل تصور نہیں کیونکہ مرنے والے کے بیٹے کی موجودگی میں دوسرے رشتہ دار ارث کے حقدار ہی نہیں بنتے تاکہ آیہ ارث کے ذریعے آیہ وصیت کو نسخ کر کے رشتہ داروں کیلئے ارث کو ثابت کیا جا سکتے لہٰذا مرنے والے کے رشتہ دار وصیت ہی سے استفادہ کر سکتےہیں بہرکیف چونکہ وصیت کے نہ ہونے کی صورت میں ارث کی نوبت پہنچتی ہے ، اس لئے آیہ ارث نہ صرف آیہ وصیت کیلئے ناسخ نہیں بن سکتی بلکہ اس سے آیہ وصیت کی تائید و تاکید بھی ہوتی ہے اس لئے کہ آیہ شریفہ (من بعد وصیۃ یوصی بہا اودین) کی رو سے وصیت ارث پر مقدم ہے۔


بعض علماء کرام کا دعویٰ ہے کہ آیہ شریفہ( كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ ) ۔۔۔۔۔۔ الخ) رسول اللہ (ص) کی حدیث(لاوصیة لوارث ) کے ذریعے نسخ ہو گئی ہے یہ دعویٰ کئی جہات سے باطل ہے:

( i ) اس روایت کی صحت ثابت نہیں ہے چنانچہ بخاری و مسلم نے بھی اس کی تصدیق نہیں کی اور تفسیر المنار میں اس روایت کی سند کو مورد اشکال و مناقشہ قرار دیاگیا ہے(۱)

( ii ) ایسی روایت اہل بیت اطہار (ع) کی ان مستفیض روایات سے متعارض ہیں جن کے مطابق وارث کے حق میں وصیت جائز ہے چنانچہ محمد بن مسلم کی روایت صحیحہ میں ہے کہ راوی نے امام محمد باقر (علیہ السلام) سے سوال کیا: کیا وارث کے حق میں وصیت کی جا سکتی ہے ؟ آپ (ع) نے فرمایا: جائز ہے پھر آپ (ع) نے اس ایت کی تلاوت فرمائی،

( إِن تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ بِالْمَعْرُوفِ ) ۲:۱۸۰

''بشرطیکہ وہ کچھ مال چھوڑ جائے تو ماں باپ اور قرابتداروں کیلئے اچھی وصیت کرے،،

اس مضمون کی روایت اور بھی ہیں(۲)

( iii ) اگر اس روایت کے خبر واحد ہونے سے چشم پوشی کی جائے اور اسے اہل بیت (ع) کی روایات سے معارض بھی نہ مانیں تب بھی اس روایت اورآیہ شریفہ کے مفاہیم میں کوئی منافات نہیں پائی جاتی زیادہ سے زیادہ اس حدیث شریف سے آیہ کریمہ کے اطلاق کیلئے تقیید سمجھی جائے گی بایں معنی کہ والدین کیلئے اس وقت وصیت کی جائے جب کسی مانع کی وجہ سے وہ ارث کے مستحق نہ ہوں یا ان رشتہ داروں کیلئے وصیت کی جائے جنہیں ارث نہیں مل سکتا اور اگر حدیث اورآیہ کریمہ میں منافات فرض بھی کر لی جائے تب بھی یہ حدیث آیہ کریمہ کیلئے ناسخ نہیں بن سکتی کیونکہ خبر واحد قرآن کیلئے ناسخ نہیں بن سکتی جس پر مسلمانوں کا اجماع قائم ہے ، بنا برایں آیہ کریمہ محکم ہے منسوح نہیں۔

____________________

(۱) تفسیر المنار ، ج ۲ ، ص ۱۳۸

(۲) الوافی ، ج ۱۳ ، ص ۱۷


اس مقام پر یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ ''کتابۃ،، کا معنی کس چیز کا حتمی فیصلہ ہے چنانچہ آیت:

( كَتَبَ عَلَىٰ نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ ۚ ) (۶:۱۲)

''اس نے اپنی ذات پر مہربانی لازم کر لی ہے،،

میں ''کتب،، اس معنی میں استعمال ہوا ہے اور عقل کا تقاضا یہ ہے کہ مولا کے حکم اور اس کے حتمی فیصلوں میں اس کا امتثال امر کیا جائے اگر یہ کہ اس کی طرف سے ترک کی اجازت ہو۔

بنا برایں آیہ کریمہ کی رو سے والدین اور دیگر رشتہ داروں کے حق میں وصیت کرنا لازم و واجب ہے لیکن مسلمانوں کی سیرت جو قطعی طور پر ثابت ہے، اہل بیت اطہار (ع) سے منقول روایات اورہر دور میں فقہاء کے اجتماع سے ترک وصیت کی اجازت ثابت ہے بنا برایں اس اجازت کے ثابت ہونے کے بعد آیت سے وصیت کا مستحب ہونا ثابت ہو گا بلکہ وصیت کی تاکید ثابت ہو گی اورا س آیت میں ''کتب،، سے مراد وصیت کی تشریع ہو گی اور اس کا حتمی اور لازمی قرار دینا نہیں:

۵۔( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ ) ۲:۱۸۳

''اے ایماندارو! روزہ رکھنا جس طرح تم سے پہلے کے لوگوں پر فرض تھا اسی طرح تم پر بھی فرض کیا گیا تاکہ تم (اس کی وجہ سے) بہت سے گناہوں سے بچو،،

اس آیہ کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ آیہ دوسری آیہ:

( أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَائِكُمْ ) : ۱۸۷

''مسلمانو!) تمہارے واسطے روزوں کی راتوں میں اپنی بی بیوں کے پاس جانا حالا کر دیا گیا،،

کے ذریعے نسخ ہو گئی ہے ۔ اس کے نسخ ہونے کی کیفیت یہ بتائی گئی ہے کہ صدر اسلام میں مسلمانوں پر روزہ اسی کیفیت سے واجب تھا جس کیفیت سے گزشتہ اقوام پر واجب تھا گزشتہ اقوام پر واجب روزہ کے احکام میں سے ایک حکم یہ تھا کہ اگر کوئی شخص ماہ رمضان میں رات کا کھانا کھانے سے قبل سو جائے تو پھر رات کو کسی بھی وقت بیدار ہو کر کچھ کھانا اس کیلئے جائز نہیں تھا


اور اگر کوئی عصر کے بعد سو جائے تو اس کیلئے کھانا پینا اور ہم بستری کرنا جائز نہیں تھا لیکن یہ آیہ جس میں مسلمانوں کے روزہ کو گزشتہ اقوام کے روزہ سے تشبیہ دی گئی ہے آیہ کریمہ:

( وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الْأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ ) : ۱۸۷

''اور کھاؤ اور پیو یہاں تک کہ صبح کی سفیدی دھاری تمہیں صاف نظر آنے لگے،،

کے ذریعے نسخ ہو گئی ہے جس میں طلوع فجر تک کھانے پینے کی اجازت دی گئی ہے اس کے علاوہ اس آیت کو بھی ناسخ قراردیا جاتا ہے:

( أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَائِكُمْ ۚ) : ۱۸۷

''(مسلمانو!) تمہارے واسطے روزوں کی راتوں میں اپنی بی بیوں کے پاس جانا حلال کر دیا گیا،،

علماء اہل سنت کا اتفاق ہے کہ آیہ تحلیل( أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ ) ناسخ ہے(۱) البتہ اس کی منسوخی کے بارے میں اختلاف ہے بعض کا خیال ہے کہ منسوخ وہی آیت ہے جو ہمارے محل بحث ہے کیونکہ ان حضرات نے آیت( كُتِبَ عَلَيْكُمُ ) ۔۔۔۔۔الخ سے یہی سمجھا ہے کہ صدر اسلام میں مسلمانوں پر واجب روزہ اور گزشتہ اقوام پر واجب روزہ یکساں تھے بعد میں وہ آیہ کریمہ اس آیہ کریمہ :( أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ ) ۔۔۔۔۔۔ الخ کے ذریعے نسخ ہو گئی چنانچہ ابوالعالیہ اور علماء کا یہی خیال ہے اور ابو جعفر نحاس نے سدی کی طرف بھی اس بات کو منسوخ کیا ہے(۲)

بعض کا خیال ہے کہ آیہ تحلیل کے ذریعے گزشتہ اقوام کے عمل اور ان کی روش کو نسخ کیا گیا ہے اور آیہ کریمہ( كُتِبَ عَلَيْكُمُ ) ۔۔۔۔۔۔ الخ کو نسخ نہیں کیا گیا۔

یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ پہلی آیت کا نسخ ہونا دو چیزوں پر موقوف ہے:

_________________

(۱) الناسخ و المنسوخ نحاس ، ص ۲۴

(۲) ایضاً ص ۲۱


( i ) اس کا دوسری آیہ :( أُحِلَّ لَكُمْ ) ۔۔۔۔۔۔ الخ سے پہلے نازل ہونا ثابت ہو جسے نسخ کے مدعی ثابت نہیں کر سکتے۔

( ii ) آیہ کریمہ :( كُتِبَ عَلَيْكُمُ ) ۔۔۔۔۔۔ الخ میں صدر اسلام کے روزوں کو ہر جہت سے گزشتہ اقوام کے روزوں سے تشبیہ دی جا رہی ہو (تاکہ وہ حکم میں یکساں ہو اور پھر آیت :( كُتِبَ عَلَيْكُمُ ) ۔۔۔۔۔۔ الخ کے ذریعے نسخ ہو جائے) اور یہ بات مفہوم عرفی بلکہ آیت کی صریح دلالت کیخلاف ہے کیونکہ آیہ شریفہ میں صدر اسلام کے روزے کے وجوب کو گزشتہ امتوں کے روزے کے وجوب سے تشبیہ دی جا رہی ہے دونوں کے روزوں کی تفصیلی کیفیت میں یگانگت بیان نہیں کی جا رہی تاکہ آیت :( أُحِلَّ لَكُمْ ) ۔۔۔۔۔۔ الخ کے ذریعے اسے نسخ کیا جا سکے۔

اگر کسی اور خارجی دلیل سے ثہ بات بھی ہو کہ صدر اسلام اور قبل از اسلام کے روزوں کے احکام ایک جیسے تھے تو اس صورت میں آیہ کریمہ :( أُحِلَّ لَكُمْ ) ۔۔۔۔۔۔ الخ کے ریعے ایسا حکم نسخ ہو گی جو قرآن کے علاوہ کسی اور دلیل سے ثابت ہو اور یہ ہمارے محل بحث سے خارج ہے۔

۶۔( وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ۖ فَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ ۚ وَأَن تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ ) ۲:۱۸۴

''اور جنہیں روزہ رکھنے کی قوت ہے (اور نہ رکھیں) تو ان پر اس کا بدلہ ایک محتاج کو کھانا کھلا دینا ہے اور جو شخص اپنی خوشی سے بھلائی کرے تو یہ اس کیلئے زیادہ بہتر ہے،،۔

اس آیت کے بارے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ آیت اس آیہ شریفہ کے ذریعے نسخ ہو گئی ہے:

( فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ) : ۱۸۵

''(مسلمانو!) تم میں سے جو شخص اس مہینہ میں اپنی جگہ پر ہو تو اسے چاہئے کہ روزہ رکھے،،


پہلی آیت میں اگر ''طوق،، سے مراد (عام) طاقت و قدرت ہو تو آیت کے منسوخ ہونے کا دعویٰ واضح اور درست ہے کیونکہ اس صورت میں آیہ شریفہ کا مفہوم یہ ہو گا کہ جو شخص روزہ رکھنے کی قدرت رکھتا ہے وہ چاہے تو روزہ نہ رکھے اور اس کے بدلے میں فدیہ کے طور پر مسکینوں کو کھانا کھلائے جبکہ دوسری آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص ماہ مبارک میں حاضر ہو وہ روزہ ضرور رکھے ، یعنی اختیاری حالت میں فدیہ پر اکتفاء نہیں کر سکتا۔

لیکن یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ طاقت سے مرا دوہ قدرت ہے جس کے ساتھ مشقت اور زحمت ہو بنا برایں آیہ کریمہ کا مطلب یہ ہے کہخداوند متعال نے سب سے پہلے آیہ شریفہ:

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ ) ۲:۱۸۳

''اے ایماندارو! روزہ رکھنا جس طرح تم سے پہلے کے لوگوں پر فرض تھا اسی طرح تم پر بھی فرض کیا گیا،،

کے ذریعے واجب تعیین(۱) کے طور پر روزہ رکھنا لازم قرار دیا ہے اور اس کے بعد آیہ شریفہ فمن کان منکم مریضا او علی سفر فعدۃ من ایام اخر : ۱۸۴

''(روزے کے دنوں میں) جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو اور دونوں میں (جتنے قضا ہوئے ہوں) گن کر رکھ لے،،

کے ذریعے مسافر اور مریض سے اس حکم کو اٹھا لیا اور ان روزوں کے عوض کسی دوسرے وقت (جب مسافر کا سفر ختم ہو جائے اور مریض ٹھیک ہو جائے) روزہ جانے کا حکم دیا ہے۔

اس کے بعد بعض مخصوص افراد کیلئے جداگانہ حکم بیان کیا گیا اور وہ یہ ہے کہ زیادہ بوڑھا آدمی ، وہ آدمی جسے پیاس زیادہ لگتی ہو ، وہ مریض جس کا مرض آئندہ رمضان تک باقی رہے اور اس قسم کے دوسرے افراد جن کو روزہ رکھنے سے ناقابل برداشت مشقت و زحمت اٹھانا پڑتی ہے ، ان لوگوں پر روزے کی ادا و قضا واجب نہیں بلکہ صرف فدیہ دیا جائے گا۔

___________________

(۱) جس کا کوئی اور چیز عوض نہ بن سکے۔


معلوم ہوا جب آیہ کریمہ کی رو سے عام مومنین پر مخصوص ایام میں بطور واجب تعیینی روزوں کی ادا اور مریض و مسافر پر روزوں کی قضا کو فرض قرار دیا گیا تو وہ لوگ ان دونوں سے مختلف ہوں گے جن پر صرف فدیہ دینا واجب ہے آیات کی اس دلالت کے باوجود یہ دعویٰ کیسے کیا جا سکتا ہے کہ آیہ کریمہ کے مطابق وہ آدمی جو روزہ رکھنے کی قدرت رکھتا ہو ، چاہے تو روزہ رکھے اور چاہے تو روزوں کے بدلے میں فدیہ دے دے ، اسے اختیار ہے اہل بیت اطہار (ع) کی مستفیض روایات بھی آیہ کریمہ کی اسی تفسیر پر دلالت کرتی ہیں(۱)

لفظ طاقت اگرچہ عام قدرت اور توانائی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے لیکن طاقت کے لغوی معنی ہیں: مشقت کثیرہ کے ساتھ کسی کام کی قدرت حاصل ہونا چنانچہ ''لسان العرب،، میں ہے:

''الطوق الطاقة ای اقصی غایته و هواسم لمقدار مایمکنه ان یفعله بمشقة منه ،،

(یعنی) '' طوق کا مطلب قدرت و توانائی کی آخری حد ہے جس میں ایک کام انتہائی زحمت کے ساتھ انجام پائے،،

اور ابن اثیر اور راغب سے بھی طاقت کا یہی معنی منقول ہے۔

اگر اس بات کو تسلیم بھی کر لیا جائے کہ طاقت کا معنی عام قدرت وتوانائی ہے ''اطاقہ،، جس سے ''یطیقونہ،، بنا ہے ، کا معنی کسی چیز میں طاقت پیدا کرنا ہے تو لامحالہ ''اطاقہ،، وہاں استعمال ہو گا جہاں ایک کام بذات خود آسان اور مقدور نہ ہو ، کسی دوسرے نے اسے مقدور بنایا ہو اور یہ سخت محنت و مشقت کے ساتھ ہی انجام پایا ہو۔

____________________

(۱) الوافی ، ج ۷ ، باب العاجز من الصیام ، ص ۲۳


صاحب ''تفسیر المنار،، اپنے استاد سے نقل کرتے ہیں:

''عرب،، ''اطاق الشئی،، وہاں کہتے ہیں جہاں کسی چیز یا فعل پر ضعیف اور معمولی سی قدرت ہو اور اس کیلئے سخت محنت و مشقت درکار ہو،،(۱)

بنا برایں یہ آیہ کریمہ محکم ہے ، منسوخ نہیں ، اور اس کا حکم اس شخص کے حکم سے بالکل مختلف ہے جس پر ادایا قضا روزے رکھنا واجب ہیں۔

یہ سب بحث اس بنیاد پر کی گئی کہ آیہ شریفہ میں مشہور قرات کے مطابق لفظ یطیقونہ یعنی صیغہ معلوم پڑھا جائے لیکن اگر ابن عباس ، حضرت عائشہ ، عکرمہ اور ابن مسیّب کی قرات کے مطابق اس لفظ کو باب تفعیل مجہول(۲) (یطوقونہ) پڑھا جائے تو پھر مسئلہ اور زیادہ واضح ہو جائے گا کیونکہ اس صورت میں یقیناً ''مشقت،، والے معنی مراد لئے جائیں گے۔

البتہ مالک اور ربیعہ کے قول کے مطابق ، جو یہ کہتے ہیں کہ اگر بوڑھے مرداور بوڑھی عورتیں افطار کر لیں تو ان کے ذمے کچھ واجب نہیں (۳) آیہ کریمہ منسوخ ہوگئی لیکن یہ ان کی ذاتی رائے ہے جو ہمارے لئے حجت اور مدرک نہیں بن سکتی اس کے علاوہ اس قول کی صحت مشکوک ہے۔

۷۔( وَلَا تُقَاتِلُوهُمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّىٰ يُقَاتِلُوكُمْ فِيهِ ۖ فَإِن قَاتَلُوكُمْ فَاقْتُلُوهُمْ ۗ كَذَٰلِكَ جَزَاءُ الْكَافِرِينَ ) ۲:۱۹۱

''اور جب تک وہ لوگ (کفار) مسجد الحرام(کعبہ) کے پاس تم سے نہ لڑیں تم بھی ان سے اس جگہ نہ لڑو پس وہ اگر تم سے لڑیں تو (بے کھٹکے) تم بھی ان کو قتل کرو ، کافروں کی یہی سزا ہے،،

____________________

(۱) تفسیر المنار ، ج ۲ ، ص ۱۵۶

(۲) احکام القرآن للجصاص ، ص ۱۷۷

(۳) الناسخ و المنسوخ للخاس ، ص ۲۳


ابو جعفر نحاس اور اکثر اہل نظر کی رائے یہی ہے کہ یہ آیت منسوخ ہو گئی ہے اور مشرکین سے حرم اور غیر محرم میں جنگ لڑی جا سکتی ہے یہ قول قتادہ کی طرف بھی منسوب ہے(۱)

لیکن قول حق یہی ہے کہ گزشتہ آیات کی طرح یہ آیت بھی منسوخ نہیں ہوئی اور محکم ہے اگر اس کے کسی آیت کے ذریعے ناسخ ہونے کا احتمال دیا جا سکتا ہے تو وہ آیت یہ ہے:

( اقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ ) ۹:۵

''تو مشرکوں کو جہاں پاؤ (بے تامل) قتل کر دو،،

یہ آیت ناسخ نہیں بن سکتی اس لئے کہ پہلی آیت خاص ہے اور دوسری عام ہے خاص ، عام کیلئے قرینہ ہوا کرتا ہے اور وہ عام کا مقصد و مراد بیان کرتا ہے اگرچہ خاص کی تاریخ صدور مقدم ہی کیوں نہ ہو اور جہاں خاص کا مقدم ہونا ثابت ہی نہ ہو وہ بطریق اولیٰ عام کیلئے قرینہ ہو گا بنا برایں اس آیت سے یہی ثابت ہوا کہ حرم سے باہر مشرکین سے جنگ لڑی جا سکتی ہے لیکن اگر مشرکین حرم میں جنگ کی ابتداء کریں تو ان سے حرم میں بھی جنگ کی جا سکتی ہے۔

دوسرا احتمال یہ ہے کہ مدعیان نسخ اس روایت کو ناسخ قرار دیں جس کے مطابق رسول اکرم (ص) نے حکم دیا تھا کہ ''ابن خطل،، کو قتل کر دو جبکہ وہ خانہ کعبہ سے لپٹا ہواہو۔

یہ دعویٰ بھی باطل ہے کیونکہ اولاً یہ روایت خبر واحد ہے اور خبر واحد سے نسخ ثابت نہیں ہوتا ثانیاً یہ روایت نسخ آیت پر دلالت نہیں کرتی کیونکہ مدعیان نسخ خود رسول اللہ (ص) روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ (ص) نے فرمایا:

''انهالم تحل لاحد قبلی و انما احلت لی ساعة من نهارها ،، (۲)

''مجھ سے قبل کسی کیلئے بھی کعبہ میں قتل کو حلال نہیں کیا گیا اور میرے لئے بھی فتح مکہ کے روز صرف ایک گھڑی کیلئے حلال قرار دیا گیاتھا،،

___________________

(۱) الناسخ و المنسوخ للخاس ، ص ۲۸

(۲) فتح القدیر للشوکانی ، ج ۱ ، ص ۱۶۸


بنا برایں یہ آیہ کریمہ اس حقیقت کی تصریح کر رہی ہے کہ حرم میں قتال کی اجازت صرف پیغمبر اکرم (ص) کی خصوصیات میں سے ہے کسی اور کو یہ اجازت نہیں دی گئی اس طرح سوائے فقہاء کی ایک جماعت کا لحاظ کرنے کے ، اس آیت کے نسخ ہونے کی کوئی دلیل نہیں اور آیہ شریفہ کا مفہوم ان کے دعویٰ کیخلاف ہے۔

۸۔( يَسْأَلُونَكَ عَنِ الشَّهْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِيهِ ۖ قُلْ قِتَالٌ فِيهِ كَبِيرٌ ۖ ) ۲:۲۱۷

''(اے رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) ) تم سے لوگ حرمت والے مہینوں کے نسبت پوچھتے ہیں کہ (آیا) جہاد (ان میں جائز) ہے تو تم انہیں جواب دو کہ ان مہینوں میں جہاد بڑا گناہ ہے،،

ابو جعفر نحاس کہتے ہیں:

''علماء (اہل سنت) کا اس بات پر اجماع ہے کہ آیہ کریمہ نسخ ہو گئی ہے اور ان مہینوں میں جنگ جائز ہے البتہ عطا کی رائے یہ ہے کہ آیہ کریمہ محکم ہے اور حرمت والے مہینوں میں قتال جائز نہیں ہے ،،(۱)

شیعہ امامیہ روایات اور علماء کے فتاویٰ کے مطابق یہ آیت نسخ نہیں ہوئی اورا ن مہینوں میں جنگ جائز نہیں ہے چنانچہ صاحب ''التبیان،، اور ''جواہر الکلام،، نے اس بات کی تصریح کی ہے۔

مولف: قول حق یہی ہے کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہوئی اس لئے کہ ناسخ کے طورپر آیہ کریمہ:

( اقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ ) ۹:۵

''تو مشرکوں کو جہاں پاؤ (بے تامل) قتل کر دو،،

____________________

(۱) الناسخ و المنسوخ للخاس ، ص ۳۲


کو پیش کرنا تعجب خیز ہے کیونکہ اس آیت میں مشرکین سے قتال اور جنگ کو باحرمت مہینوں کے گزر جانے پر موقوف قرار دیا گیا ہے چنانچہ ارشاد ہوتاہے۔

( فَإِذَا انسَلَخَ الْأَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ ) ۹:۵

''پھر جب حرمت کے (چاروں) مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ (بے تامل) قتل کر دو،،۔

آیہ کریمہ کی اس تصریح کے باوجود یہ دعویٰ کیسے کیا جا سکتا ہے کہ آیت :یسلونک عن الشہر الحرام ۔۔۔۔۔۔ الخ دوسری آیت : فاقتلوا المشرکین حیث وجد تموھم کے ذریعے نسخ ہوگئی ہے۔

ہو سکتا ہے ناسخ کے طور پر آیہ سیف:

( وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِينَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً ) ۹:۳۶

''مشرکین جس طرح تم سے سب کے سب مل کر لڑتے ہیں تم بھی اسی طرح سب کے سب مل کر ان سے لڑو،،

کے اطلاق کو پیش کیا جائے لیکن یہ بھی درست نہیں اس لئے کہ یہ آیت مطلق ہے اور مطلق اگرچہ موخر ہو مقید کیلئے ناسخ نہیں بن سکتا۔

اگر نسخ کے اثبات کیلئے ابن عباس اور قتادہ کی روایت کا سہارا لیا جائے جس کے مطابق متنازع فیہ آیت ، آیہ سیف کے ذریعے نسخ ہو گئی ہے تو یہ بھی اعتراض سے خالی نہیں اس لئے کہ اولایہ روایت خبر واحد ہے جس سے نسخ ثابت نہیں ہوتا ثانیاً یہ کسی معصوم کی روایت نہیں شاید یہ ابن عباس اور قتادہ کااپنا اجتہاد ہو ثالثاً یہ روایت ابراہیم ابن شریک کی روایت سے متعارض ہے ابراہیم کہتے ہیں : احمد بن عبداللہ بن یونس نے لیث سے ، لیث نے ابی ازہر سے ، ابی ازہر نے جابر سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا:

''لایقاتل فی شهر الحرام الاان یغزی اویغزو فاذا حضر ذالک اقام حتی ٰ ینسلخ ،،

''حرمت والے مہینوں میں جنگ نہ لڑی جائے مگریہ کہ دشمن کی طرف سے پہل ہو اور جب حرمت والا مہینہ آ جائے تو جنگ کو موقوف کیا جائے حتیٰ کہ ماہ حرام گزر جائے،،


اسکے علاوہ اقتادہ اور ابن عباس سے منقول روایت ، اہل بیت ، (ع) سے منقول روایات کے بھی مخالف ہے ، جن کے مطابق ان مہینوں میں جنگ حرام ہے۔

اس آیت کے نسخ کے اثبات کیلئے اس روایت سے بھی تمسک صحیح نہیں جس کے مطابق رسول اللہ (ص) نے ماہ شوال ، ذیقعدہ اور ذی الحجہ میں حنین میں ہوازن کے ساتھ اور طائف میں ثقیف کے ساتھ جنگ کی کیونکہ اولاً یہ خبر واحد ہے جس سے نسخ ثابت نہیں ہو سکتا ثانیاً بفرض تسلیم اگر یہ روایت صحیح بھی ہو تو یہ مجمل ہے اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہے ممکن ہے کسی خاص اوراہم ضرورت کے تحت آپ نے ان مہینوں میں جنگ کا حکم دیا ہو ایسی روایت کس طرح آیہ کریمہ کے لئے ناسخ بن سکتی ہے ۔

۹۔( وَلَا تَنكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّىٰ يُؤْمِنَّ ۚ ) ۲:۲۲۱

''اور (مسلمانو) تم مشرک عورتوں سے جب تک ایمان نہ لائیں نکاح نہ کرو،،۔

بعض علماء کا د عویٰ ہے کہ یہ آیت ، اس آیت کے ذریعے منسوخ ہو گئی ہے:

( وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمومناتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ ) ۵:۵

''اور ان لوگوں میں کی آزاد پاک دامن عورتیں جن کوتم میں سے پہلے کتاب دی جا چکی ہے جب تم ان کوا ن کے مہر دیدو،،

چنانچہ ابن عباس ، مالک بن انس ، سفیان بن سعید ، عبدالرحمن ، ابن عمراور اوزاعی کی رائے یہی ہے عبداللہ بن عمر کی رائے یہ ہے کہ دوسری آیت منسوخ اور پہلی آیت ناسخ ہے اس طرح اہل کتاب عورت سے نکاح حرام ہو گا(۱)

لیکن حق یہی ہے کہ یہ دونوں آیتیں منسوخ نہیں ہوئیں اس لئے کہ اگر مشرک عورت (جس سے نکاح پہلی آیت حرام قرار دے دی رہی ہے) سے مراد بت پرست عورتیں ہوں (جیسا کہ آیت سے ظاہر ہو رہا ہے ) تو ان سے نکاح حرام ہونا ، اہل کتاب سے نکاح جائز ہونے سے کوئی منافات نہیں رکھتا تاکہ ایک ناسخ اور دوسری منسوخ قرار پائے کیونکہ پہلی آیت میں عورت بت پرست ہونے کی بنا پر حرام اور

_____________________

(۱) الناسخ و المنسوخ ، ص ۵۸


دوسری آیت میں عورت اہل کتاب ہونے کی بنیاد پر حلال قرار پائی ہے اور اگر مشرکہ سے مراد وہ عورت ہو جو اہل کتاب کوبھی شامل ہو (جیسا کہ مدعیان نسخ کا خیال ہے) تو دوسری آیت پہلی آیت کیلئے مخصص قرار پائے گی اس طرح دونوں آیتوں کامفہوم یہ ہو گا کہ اہل کتاب عورت سے تو نکاح جائز ہے لیکن مشرک ، بت پرست عورت سے نکاح جائز نہیں کیونکہ اس فرض کے مطابق پہلی آیت بت پرست اور اہل کتاب عورتوں کو حرام قرار دے رہی ہے اور دوسری آیت اس حکم سے اہل کتاب کو خارج کر کے انہیں حلال قرار دے رہی ہے۔

البتہ شیعہ نقطہ نگاہ سے اہل کتاب عورتوں سے نکاح موقت (متعہ) جائز ہے لیکن نکاح دائمی جائز نہیں اہل کتاب سے دائمی نکاح جائز نہ ہونے کی وجہ یا تو یہ ہے کہ وہ روایات جن کی رو سے اہل کتاب عورتوں سے نکاح دائمی جائز نہیں، اس آیت کیلئے مقید ثابت ہوں گی جس کے مطابق اہل کتاب سے نکاح دائمی اور نکاح موقت دونوں کا جواز سمجھا جاتا ہے یا عدم جواز کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ آیت کریمہ (جس سے اہل کتاب سے نکاح کا جوازثابت ہوتا ہے) سے صرف نکاح موقت کا جواز ثابت ہوتا ہے۔

اس مشہور قول کے مقابلے میں علماء امامیہ کی ایک جماعت اہل کتاب عورتوں سے نکاح دائمی کوبھی جائز سمجھتی ہے چنانچہ حسین اور صدوقین (علی بن بابویہ ، محمد بن بابویہ ) سے یہ فتویٰ منقول ہے انشاء اللہ تعالیٰ اس مسئلہ پر اس آیت کی تفسیر کے موقع پر تفصیلی بحث کریں گے۔

۱۰۔( لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ ۖ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ۚ ) ۲:۲۵۶

''دین میں کسی طرح کی زبردستی نہیں کیونکہ ہدایت گمراہی سے (الگ) ظاہر ہو چکی ۔


علماء کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ یہ آیت ، اس آیہ شریفہ کے ذریعے نسخ ہوگ ئی ہے:

( يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ ۚ ) ۹:۷۳

''اے رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) ! کفار کے ساتھ (تلوار سے) اور منافقین کے ساتھ (زبان سے) جہاد کرو،،

کیونکہ اس آیت میں کفارسے جنگ کر کے انہیں اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے جبکہ پہلی آیت میں دین کے معاملہ میں جبر کرنے سے روکا گیا ہے بعض حضرات کا خیال ہے کہ پہلی آیت نسخ نہیں ہوئی بلکہ دوسری آیت کے ذریعے اس کی تخصیص ہوئی ہے یعنی اہل کتاب کو مجبور نہ کیا جائے کیونکہ جیسا کہ اس سے قبل بھی اشارہ کیا جا چکا ہے کہ اہل کتاب سے صرف اس بنیاد پر کہ وہ اہل کتاب ہیں ، جنگ نہیں کی جا سکتی۔

مولف : قول حق یہی ہے کہ یہ آیت منسوخ ہوئی ہے اور نہ اس کی تخصیص ہوئی ہے۔

وضاحت : لغت عرب میں ''کرہ،، دو معنی میں استعمال ہوتا ہے:

i ۔ وہ معنی جو رضا مندی کے مقابلے میں استعمال ہوتا ہے یعنی کسی پر نارض یا خفا ہونا چنانچہ آیہ شریفہ:

( وَعَسَىٰ أَن تَكْرَهُوا شَيْئًا وَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ) ۲:۲۱۶

''اور عجب نہیں کہ تم کسی چیز (جہاد) کون اپسند کرو حالانکہ وہ تمہارے حق میں بہتر ہو،،

میں یہی معنی مراد ہے۔

ii ۔ وہ معنی جو اختیار کے مقابلے میں استعمال ہوتا ہے یعنی مجبوراً چنانچہ آیہ کریمہ:

( حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا ۖ ) ۴۶:۱۵

''اس کی ماں نے رنج ہی کی حالت میں اس کو پیٹ میں رکھا اور رنج ہی سے اس کو جنا،،۔


میں یہی مقصود ہے کیونکہ حاملہ ہونا اور بچے کی ولادت اگرچہ اکثر اوقات عورت کی رضا مندی سے ہوتی ہے لیکن یہ ان کے دائرہ اختیار سے باہر ہے متنازعہ فیہ آیہ شریفہ میں نسخ یا تخصیص اس صورت میں ممکن ہے جب ''کرہ،، پہلے معنی (ناراضگی) میں استعمال ہو۔

لیکن ''اکراہ،، سے پہلا معنی (کسی چیز کو پسند نہ کرنا) مراد ہونا کئی جہات سے باطل ہے:

( i ) جہاں بھی کسی لفظ کے دو معنی ہوں ، ان میں سے کسی ایک معنی کے تعین کیلئے قرینہ اور موید کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ اس مقام پر کوئی ایسا قرینہ اور موید موجود نہیں جس سے معنی اول کا ارادہ کیا جانا ثابت ہو سکے۔

( ii ) دین اسلام ، اصول دین اور فروع دین دونوں کو شامل ہے اس آیت کے بعد کفر اور ایمان کا ذکر کرنا اس بات کی دلیل نہیں کہ دین صرف اصول دین کا نام ہے بلکہ ایک کلیہ کو اس کے بعض مصادیق پر منطبق کیا گیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شریعت اسلامیہ میں بہت سے ایسے احکام موجود ہیں جو مسلمانوں پر (برحق) مسلط کئے گئے ہیں چنانچہ عقلاء کی سیرت بھی اس کی تائید کرتی ہے شریعت میں اس کی کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں مثلاً مقروض کو قرض ادا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے زوجہ کو شہر کی اطاعت پر مجبور کیا گیا ہے چور کو چوری ترک کرنے پر مجبور کیا جاتاہ ے ان تمام موارد کے ہوتے ہوئے کیسے کہا جا سکتا ہے کہ شریعت اسلامیہ میں ''اکراہ،، نہیں ہے۔

( iii ) ''اکراہ،، کی تفسیر میں اس کے پہلے معنی کو ذکر کرنا آیہ شریفہ کے دوسرے حصے:

( قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ ) ۲:۲۵۶

''کیونکہ ہدایت گمراہی سے (الگ) ظاہر ہو چکی،،۔


سے سازگار نہیں مگر یہ کہ ''قدتبین الرشد من الغی کو ''لااکراہ فی الدین،، کیلئے علت اور وجہ قرار دیا جائے بایں معنی کہ ہدایت اور گمراہی کا آشکار ہونا، احکام اسلام کو لوگوں پر ان کی مرضی کیخلاف مسلط کرنے سے بے نیاز کر دیتا ہے۔

اگر آیہ کریمہ کا مطلب یہی ہے تو پھر اس کے نسخ ہونے کا امکان باقی نہیں رہتاکیونکہ دین اسلام کی دلیلیں اور حجیتیں شروع ہی سے واضح اور آشکار تھیں یہ الگ بات ہے کہ یہ روز بروز مستحکم ہوتی گئیں ا ن حقائق کی روشنی میں صدر اسلام کی بہ نسبت دعوت پیغمبر (ص) کے آخر میں اکراہ کا واقع نہ ہونا زیادہ مناسب ہوتا کیونکہ اسلام کے دلائل صدر اسلام کی بہ نسبت دعوت پیغمبر (ص) کے آخر میں زیادہ واضح اور مستحکم ہو گئے تھے۔

اس کے علاوہ جب عدم کراہ کی یہ علت تمام کفار میں مشترک تھی تو پھر اس حکم (عدم اکراہ) کے صرف بعض کفارسے مختص ہونے کی کوئی وجہ نہیں اور اس کا لازمی نتیجہ یہی ہے کہ تمام کے تمام کفار سے جنگ حرام ہو اس نتیجے کا باطل ہونا بدیہی اور واضح ہے۔

پس حق یہی ہے کہ آیہ کریمہ میں ''اکراہ،، سے مراد وہی معنی ہے جو اختیار کے مقابلے میں آتا ہے اور یہ یہاں جملہ خبریہ ہے انشائیہ نہیں۔

آیہ شریفہ اسی حقیقت کو بیان کر رہی ہے جس کا قرآن کی متعدد آیات میں ذکر ہو چکا ہے کہ شریعت الٰہی کسی جبر و اکراہ پر مبنی نہیں ہے نہ اس کے اصول کے سلسلے میں کسی کو مجبور کیا جاتا ہے اور اس کے فروع کے بارے میں پس حکمت الٰہی کا تقاضا یہ ہے کہ انسانیت کی ہدایت کیلئے رسول بھیجے جائیں ، آسمان سے کتابیں نازل ہوں اور احکام الٰہی کی وضاحت کی جائے تاکہ ہلاک (گمراہ) ہونے اور زندگی (ہدایت) حاصل کرنے والوں پر اتمام حجت ہو جائے اور خدا کے مقابلے میں کوئی عذر باقی نہ رہے جیسا کہ ارشاد تعالیٰ ہے:

( إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا ) ۷۶:۳

''اور اس کو رستہ بھی دکھا دیا (اب وہ ) خواہ شکر گزار ہو خواہ ناشکرا،،۔


آیہ کریمہ کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کوبھی ایمان لانے اور اطاعت کرنے پر مجبور نہیں کرتا بلکہ صرف حق کو گمراہی اور باطل کے مقابلے میںواضح طور پر بیان فرماتا ہے اور جو شخص حق پر ایمان لاتا ہے وہ اپنے ارادے اور اختیارسے ایمان لاتا ہے اور جو گمراہ ہوتا ہے وہ بھی اپنے ارادے اور اختیار سے باطل اورگمراہی کے راستے کا انتخاب کرتا ہے اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو تمام لوگوں کو حق کی منزل تک پہنچاسکتا ہے لیکن حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ حق اور باطل کی وضاحت کے بعد لوگوں کو ان کے اعمال میں مجبور نہ کیا جائے چنانچہ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

( وَلَوْ شَاءَ اللَّـهُ لَجَعَلَكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَلَـٰكِن لِّيَبْلُوَكُمْ فِي مَا آتَاكُمْ ۖ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ ۚ إِلَى اللَّـهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِيعًا فَيُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ ) ۵:۴۸

''اور اگر خدا چاہتا تو تم سب کے سب کو ایک ہی (شریعت کی ) امت بنا دیتا مگر (مختلف شریعتوں سے) خدا کا مقصودیہ تھا کہ جو کچھ تمہیں دیا ہے اس میں تمہاراامتحان کر لے بس تم نیکیوں میں لپک کے آگے بڑھ جاؤ اور (یقین جانو) کہ تم سب کو خدا ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے تب (اس وقت) جن باتوں میں تم اختلاف کرتے تھے وہ تمہیں بتا دے گا،،

( قُلْ فَلِلَّـهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ ۖ فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ ) ۶:۱۴۹

''اے رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم)) تم کہو کہ (اب تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں) خدا تک پہنچانے والی دلیل خد ہی کیلئے خاص ہے پھر اگر وہی چاہتا تو تم سب کی ہدایت کرتا،،

( وَقَالَ الَّذِينَ أَشْرَكُوا لَوْ شَاءَ اللَّـهُ مَا عَبَدْنَا مِن دُونِهِ مِن شَيْءٍ نَّحْنُ وَلَا آبَاؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِن دُونِهِ مِن شَيْءٍ ۚ كَذَٰلِكَ فَعَلَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ فَهَلْ عَلَى الرُّسُلِ إِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ ) ۱۶:۳۵

''اور مشرکین کہتے ہیں کہ اگر خدا چاہتا تو نہ ہم ہی اس کے سوا کسی اور چیز کی عبادت کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم بغیر اس (کی مرضی) کے کسی چیز کو حرام کر بیٹھتے جولوگ ان سے پہلے ہو گزرے ہیں وہ بھی ایسے ( حیلہ حوالہ کی ) باتیں کر چکے ہیں تو (کہا کریں) پیغمبروں پر تو اس کے سوا کہ احکام کو صاف صاف پہنچا دیں اور کچھ بھی نہیں،،


۱۱۔( وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِن نِّسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِّنكُمْ ۖ فَإِن شَهِدُوا فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّىٰ يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللَّـهُ لَهُنَّ سَبِيلًا ) ۴:۱۵

''اور تمہاری عورتوں میں سے جو عورتیں بدکاری کریں تو ان کی بدکاری پر اپنے لوگوں میں سے چار کی گواہی لو پھر اگر چاروں گواہ اس کی تصدیق کریں تو (ان کی سزا یہ ہے کہ ) ان کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ موت آ جائے یا خدا ان کی کوئی (دوسری) راہ نکالے،،۔

( وَاللَّذَانِ يَأْتِيَانِهَا مِنكُمْ فَآذُوهُمَا ۖ فَإِن تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِضُوا عَنْهُمَا ۗ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ تَوَّابًا رَّحِيمًا ) : ۱۶

'' اور تم لوگوں میں جن سے بدکاری سرزد ہوئی ہو ان کو مارو پیٹو ، پھر اگر وہ دونوں (اپنی حرکت سے) توبہ کریں اور اصلاح کر لیں تو ان کو چھوڑ دو بے شک خدا بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

حسن کی روایت ، جواس نے رقاشی سے نقل کی ہے ، کے مطابق عکرمہ اور عبادۃ بن صامت کی رائے یہ ہے کہ پہلی آیت ، دوسری آیت کے ذریعے نسخ ہو گئی ہے اور دوسری آیت کنوارہ مرد اور عورت جب زنا کریں تو ان کے بارے میں نسخ ہو گئی ہے اس لئے کہ ان کی سزا سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے اور شادی شدہ مرد اور عورت جب زنا کریں توا ن کے بارے میں بھی یہ آیت نسخ ہو گئی ہے کیونکہ ان کو سو کوڑے مارنے کے علاوہ سنگسار کیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ مر جائیں۔

قتادہ اور محمد بن جابر کی رائے یہ ہے کہ پہلی آیت (میں موجود حکم) شادی شدہ ہے اور دوسری آیت باکرہ سے مختص ہے اور یہ دونوں آیات کروڑوں اور سنگساری کی سزا دینے کے حکم کے ذریعے منسوخ ہو گئی ہیں۔


ابن عباس ، مجاہد اور ابو جعفر نحاس جیسے ، ان کے ہم رائے ، حضرات کی رائے یہ ہے کہ پہلی آیت عورتوں کے زنا (چاہے وہ شادی شدہ ہوں یا باکرہ) اور دوسری آیت مردوں کے زنا (چاہے شادی شدہ ہوں یا کنوارے) سے مختص ہے اور یہ دونوں آیات کروڑوں اور سنگساری کی سزا دینے کے حکم کے ذریعے نسخ ہو گئی ہیں(۱) بہرحال ابوبکر جصاص کا کہنا ہے کہ زنا کے ان دونوں حکموں کے نسخ ہونے پر مسلمانوں کا اتفاق ہے(۲)

مولف: حق یہی ہے کہ یہ دونوں آیتیں نسخ نہیں ہوئیں۔

توضیح: لفظ فاحشہ سے مراد وہ عمل ہے جس کی برائی اور قباحت سنگین ہو۔ اگر ایسی سنگین برائی کا ارتکاب دو عورتیں باہم مل کر کریں تو اسے ''مساحقہ،، کہا جاتا ہے ، کبھی اس برائی کو دو مرد انجام دیتے ہیں جو ''لواطہ،، کہلاتا ہے اور کبھی ایک مرد اور ایک عورت کے ذریعے یہ برائی انجام پاتی ہے جو زنا کہلاتی ہے لفظ ''فاحشہ،، سے نہ یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ زنا کیلئے وضع کیا گیا اور نہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس سے خالق کی مراد زنا ہے اس نکتے کے پیش نظر پہلی آیت کا نسخ دو چیزوں پر موقوف ہے:

i ۔ پہلی آیت میں گھروں میں نظر بند کرنے کا مطلب ، مرتکب فحش کی تعزیر ہو۔

ii ۔ خدا کی طرف سے راہ مقرر ہونے سے مراد سنگساری اور کوڑے ہوں۔

ان دونوں کا ثابت ہونا ناممکن ہے کیونکہ آیہ مبارکہ سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ عورت کو گھر میں نظر بند کرنے کا مقصد اسے دوبارہ ارتکاب فحش سے روکنا اور اس طرح منکرات کا سدباب کرناہے اور یہ مسلم ہے کہ لوگوں کی جان ، مال ناموس اور اس قسم کے دیگر حساس اعمال کے سلسلے میں منکرات کا سدباب کرنا واجب اور ہر شخص کا فرض ہے بلکہ ایک قول کے مطابق ہر برائی کی روک تھام واجب ہے۔

____________________

(۱) الناسخ و المنسوخ ، ص ۹۸

(۲) احکام القرآن للجصاص ، ج ۲ ، ص ۱۰۷


اسی طرح فحش کی مرتکب عورت کیلئے راہ مقرر کرنے کا مقصد ، اس کیلئے ایک ایسا طریقہ مقرر کرنا ہے جس کے ذریعے اسے عذاب سے نجات مل جائے یہ راہ کوڑے اور سنگساری کس طرح ہو سکتی ہے ؟ کیا کوئی آسودہ حال اور عقلمند عورت جو نظر بند ہو ، اس بات پر راضی ہو سکتی ہے کہ اسے کوڑے لگائے جائیں یا اسے سنگسار کیا جائے اسے کوڑے مارنا یا سنگسار کرنا تو اس کے عذاب میں اضافہ کرتا ہے ، اس کی نجات اور سہولت کی راہ و سبیل نہیں ہے ۔

گزشتہ بیان کی روشنی میں ''فاحشہ،، سے کبھی مراد ''مساحقہ،، ہوتا ہے ، جس طرح دوسری آیت میں ''فاحشہ،، سے مراد ''لواط،، ہے چنانچہ اس کو بعد میں بیان کیا جائے گا اور کبھی ''فاحشہ،، سے مراد وہ گناہ ہوتا ہے جو ''مساحقہ،، اور زنا دونوں کو شامل ہو۔

ان دونوںاحتمالات کے مطابق آیہ کریمہ میں فاحشہ عورت کی نظر بندی کولازمی قرار دیا جا رہا ہے (حتیٰ کہ خدا اس کیلئے آسانی نصیب فرمائے بایں معنی کہ یا وہ توبہ کر لے یا گھر میں بیٹھی بیٹھی بوڑھی ہو جائے اور کسی فحش کے ارتکاب کے قابل نہ رہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اسے گھر سے نکلنے کی اجازت مرحمت فرمائے یا اس میں شادی کی خواہش پیدا ہو اور اس کا شوہر اس کی ناموس کا تحفظ کرے یا اس قسم کے دیگر اسباب فراہم ہوں جن کی وجہ سے اس کے کسی فحش میں مبتلا ہونے کا خطرہ نہ رہے یہ ایک ایسا حکم ہے جو ہمیشہ کیلئے ثابت ہے۔

جہاں تک کوڑوں اور سنگساری کا تعلق ہے وہ ایک جداگانہ اور مستقل حکم ہے جو فحش کے مرتکب افراد کی تادیب اور تنبیہ کیلئے شارع مقدس نے مقرر فرمایا ہے جس کا حکم اول (عورت کی نظر بندی) سے کوئی تعلق نہیں اور نہ اس کیلئے نسخ واقع ہوا ہے دوسرے الفاظ میں پہلا حکم شارع مقدس نے اس لئے مقرر فرمایا کہ دوبارہ فحش اور بدکاری کا سدباب ہو سکے اور دوسرے حکم کو پہلے جرم کی سزا اور اس پر تنبیہ کیلئے مقرر کیاتاکہ دوتری عورتیں بھی اس قسم کے جرائم کا ارتکاب نہ کریں پس حکم اول اور حکم ثانی میں کوئی منافات نہیں کہ دوسرے حکم کو پہلے حکم کا ناسخ قرار دیا جائے البتہ اگر کوڑے مارنے اور سنگساری کی وجہ سے عورت کی موت واقع ہو جائے تو اسے گھر میں نظر بند کرنے کا حکم برطرف ہو جائے گا کیونکہ موت سے نظر بندی کا مقصد حاصل ہو جاتا ہے۔


خلاصہ بحث یہ ہے کہ جو شخص آیہ کریمہ میں غور و فکر کرے اسے اس میں کوئی ایسا نکتہ نظر نہیں آئے گا جس سے نسخ کا تو ہم ہو چاہئے آیہ جلد (کوڑے) اس آیہ پر مقدم ہو یا مؤخر ہو۔

جہاں تک دوسری آیت کے نسخ کا تعلق ہے وہ اس بات پر موقوف ہے۔

اولاً : ''یاتیانھا،، کی ضمیر زنا کی طرف لوٹتی ہو۔

ثانیاً : آیہ کریمہ میں ''ایذائ،، سے مراد سب و شتم (گالی گلوچ) اور لعن طعن ہو۔

ان دونوں امور کی کوئی دلیل نہیں اس کے علاوہ یہ دونوں باتیں آیہ کریمہ سے ظاہر نہیں ہوتیں۔

وضاحت: گزشتہ دونوں آیات میں تین مرتبہ جمع مذکر حاضر کی ضمیر لائی گئی ہے اور یہ مسلم ہے کہ تیسری ضمیر سے مراد وہی ہے جو پہلی اور دوسری ضمیر سے مردا ہے اور یہ بھی واضح ہے کہ پہلی دو ضمیروں سے مراد ، مرد ہیں پس بنا برایں''اللذان،، سے مراد دو مرد ہیں اور اس سے مراد ایسا عام معنی نہیں ہے جو مرد اور عورت دونوں کو شامل ہو۔

اس کے علاوہ اگر تثنیہ کی ضمیر سے مراد دو مرد نہ لئے جائیں تو اس کا کوئی دوسرا معنی مراد لینا صحیح بھی نہیں کیونکہ اگر ضمیر سے مراد دو مرد نہ ہوتے توا س کی جگہ جمع کی ضمیر آنی چاہئے تھی جس طرح سابقہ آیت میں جمع کی ضمیر لائی گئی ہے اور یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ دوسری آیت میں ''فاحشہ،، سے مراد ''لواط،، ہے ، زنا نہیں اور نہ وہ عام معنی ہے جو لواط اور زنا دونوں کو شامل ہو یہ بات واضح ہونے کے بعد ثابت ہو جاتا ہے کہ اس آیت کے موضوع کا آیہ جلد سے کوئی ربط نہیں یہ بات تسلیم کرنے کے بعد کہ اس آیت میں موجود حکم کے موضوع میں زانی بھی شامل ہے اس امر کی کوئی دلیل نہیں رہتی کہ آیت میں جس ایذارسانی کا حکم دیا گیا ہے اس سے مراد کوئی خاص قسم کی اذیت ہو البتہ ابن عباس ےس مروی ہے کہ اس ایذا سے مراد ضرب و شتم ہے لیکن یہ روایت حجت نہیں کہ اس کے ذریعے نسخ ثابت ہو سکے لہٰذا لفظ کے اپنے ظہور پر عمل کرنا چاہئے اور آیہ جلد یا حکم رجم کے ذریعے (جو قطعی طور پر ثابت ہے) اس کی تقیید کی جائے۔


خلاصہ بحث یہ کہ ان دونوں آیتوں میں نسخ کے التزام کی کوئی وجہ نہیں مگر یہ کہ کوئی اندھی تقلید کرے اور ان احاد روایات پر عمل کرے جو کسی علم و عمل کا فائدہ نہیں دیتیں۔

۱۲۔( وَأُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَٰلِكُمْ ) ۴:۲۴

''اور ان عورتوں کے سوا( اور عورتیں) تمہارے لئے جائز نہیں،،

بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ آیہ کریمہ ان روایات کے ذریعے نسخ ہو گئی ہے جس کی رُو سے سورہ نساء کی آیہ ۲۳ میں مذکور عورتوں کے علاوہ بھی کچھ عورتیں حرام قرار دی گئی ہیں یہ دعویٰ اس وقت صحیح ہو سکتا ہے جب خاص متاخر ، عام مقدم کیلئے ناسخ بنے ، مخصص نہ بنے۔

لیکن قول حق یہی ہے کہ خاص عام کیلئے مخصص بنتا ہے ناسخ نہیںبنتا ، خواہ خاص ، مقدم ہویا موخر یہی وجہ ہے کہ خبر واحد ، جس میں جیت کی تمام شرائط موجود ہوں کو عام کا مخصص قرار دیا جا سکتا ہے چنانچہ عنقریب یہ بحث آئے گی کہ خبر واحد ، جس میں حجیت کی تمام شرائط موجود ہوں، کو عام کا مخصص قرار دیا جا سکتا ہے چنانچہ عنقریب یہ بحث آئے گی کہ خبر واحد کے ذریعے قرآن کی تخصیص جائز ہے اگر مؤخر خاص ناسخ ہوتا تو خبر واحد پر اکتفا نہ کیا جاتا اس لئے کہ خبر واحد کے ذریعے نسخ ثابت نہیں کیا جا سکتا اس کے علاوہ آیہ کریمہ میں کوئی عموم لفظی نہیں پایا جاتا بلکہ ظاہری اطلاق کے ذریعے عموم سمجھا جاتا ہے اور جب کوئی ایسی دلیل موجود ہو جو اس آیہ کیلئے مقید بننے کی صلاحیت رکھتی ہو وہاں یہ حکم لگایا جائے گا کہ اس مقام پر شروع سے (واقعی) اطلاق مراد نہیں۔


۱۳۔( فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُم بِهِ مِن بَعْدِ الْفَرِيضَةِ ۚ ) ۴:۲۴

''ہاں جن عورتوں سے تم نے متعہ کیا ہو تو انہیں و مہر معین کیا ہے دے دو،،

علماء اہل سنت میں مشہور ہے کہ متعہ کی حلیت (حلال ہونا) نسخ ہو گئی ہے اور قیامت تک کیلئے اس کی حرمت ثابت ہو گئی ہے اس کے برعکس شیعہ امام کا اتفاق ہے کہ متعہ کی حلیت باقی ہے اور آیہ کریمہ نسخ نہیں ہوئی صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت نے بھی شیعہ امامیہ کی اس رائے سے اتفاق کیا ہے چنانچہ ابن حزم لکھتے ہیں:

''ابن مسعود ، معاویہ ، ابو سعید ، ابن عباس ، امیہ بن خلف کے دونوں بیٹے سلمہ اور معبد ، جابر اور عمرو بن حریث پیغمبر اکرم (ص) کے بعد بھی متعہ کی حلیت کے قائل تھے،،۔

اس کے بعد ابن حزم لکھتے ہیں:

''جابر نقل کرتے ہیں کہ تمام صحابہ پیغمبر اکرم (ص) ، رسول اللہ (ص) کی زندگی میں حضرت ابوبکر کی خلافت کے دوران اور خلافت حضرت عمر کے آخر تک متعہ کو حلال سمجھتے تھے،،

ابن حزم مزید لکھتے ہیں:

''تابعین میں سے طاووس ، سعید بن جبیر ، عطا اور مکہ کے دیگر فقہا متعہ کی حلیت کے قائل تھے ،،(۱)

شیخ الاسلام مرغینانی نے جو ازمتعہ کے قول کی نسبت مالک کی طرف دی ہے مالک متعہ کے جواز پر یہ دلیل پیش کرتے ہیں:

____________________

(۱) حاشیہ فقی برمنتقیٰ ، ج ۲ ، ص ۵۲۰


''متعہ (رسول اللہ (ص) کے زمانے میں) یقیناً مباح تھا۔ جب تک اس کا نسخ ثابت نہ ہو اس کی حلیت باقی رہے گی،،(۱)

ابن کثیر لکھتے ہیں:

''ایک اور روایت کے مطابق امام احمد بن حنبل اضطراری حالت میں متعہ کو جائز سمجھتے ہیں،،(۲)

مکہ کے نامور عالم اور فقیہ ابن جریح نے اپنے زمانے میں ستر عورتوں سے نکاح متعہ کیا تھا(۳) انشاء اللہ اس آیہ کریمہ کی تفسیر کے موقعہپر ہم تفصیلی گفتگو کریں گے یہاں ہم اس آیہ کے بارے میں مختصر بحث کریں گے تاکہ ثابت کیا جا سکے کہ اس آیہ شریفہ کا مفہوم نسخ نہیں ہوا۔

توضیح: آیہ شریفہ میں موجود حکم اس بات پر موقوف ہے۔

اولاً: آیہ شریفہ میں استمتاع سے مراد نکاح متعہ ہو۔

ثانیاً : بعد میں نکاح متعہ کی حرمت ثابت ہو جائے۔

جہاں تک امر اول (استمتاع سے مراد نکاح متعہ ہو) کا تعلق ہے اس کے ثبوت میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں طرفین کی بہت سی روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ آیہ شریفہ میں استمتاع سے مراد نکاح متعہ ہے۔

____________________

(۱) ہدایہ شرح بدایہ ص ۳۸۵ ۔ مطبوعہ بولاق معہ فتح القدیر ۔ اس نسبت کی شیخ محمد بابرتی نے بھی شرح ہدایہ میں تاید کی ہے البتہ ابن ہمام حنفی نے فتح القدیر میںاس کاانکار کیا ہے عبدالباقی مالکی زرقانی نے شرح مختصر ابی ضیاء ج ۳ ص ۱۹۰ پر کہا ہے:

''متعہ جو کسی بھی وقت قابل فسخ ہے کی حقیقت یہ ہے کہ مرد یا عورت یا ان کے ولی عقد اس طرح پڑھیں کہ اس میں مدت مذکور ہو اور یہ کہ مرد عورت کو اپنے مقصد سے آگاہ کرے لیکن اگر صیغہ عقد میں مدت کا ذکر نہ ہو لیکن مرد اس کا قصد کرے اور عورت بھی مرد کے قصد کو سمجھا جائے تو بھی کافی ہے امام مالک کا فتویٰ یہی ہے اور یہ عقد مسافروں کیلئے مفید ہے،،۔

(۲) تفسیر ابن کثیر ، ج ۱ ، ص ۴۷۴

(۳) شرح زرقانی برمختصر ابی ضیاء ، ج ۸ ، ص ۷۶


قرطبی کہتے ہیں

''تمام علماء اور محدثین کی رائے یہ ہے کہ آیہ شریفہ میں استمتاع سے مراد نکاح متعہ ہے جس کا رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم)

اسلام (ص) کے زمانے میں رواج تھا ابن عباس ، ابیی بن کعب اور ابن جبیر نے اس آیہ شریفہ کو یوں پڑھا ہے( فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ ) (۱)

علماء کے ان تمام اقوال کی موجودگی میں حسن کا یہ قول کسی توجہ اور اہمیت کے قابل نہیں رہتا کہ استمتاع سے مراد نکاح دائمی ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نکاح متعہ کو حلال قرار نہیں دیا نیز اس قول کی نسبت مجاہد اور ابن عباس کی طرف دی گئی ہے لیکن اس نسبت کی تکذیب و تردید حسن اور ابن عباس کی ان روایات سے ہو جاتی ہے جن کے مطابق یہ آیہ کریمہ متعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے بہرحال ان کثیر روایات کے ہوتے ہوئے جو نکاح مؤقت (متعہ) کو ثابت کرتی ہے ہمیں اس کے اثبات کیلئے کسی زحمت میں پڑنے اور کلام کو طول دینے کی ضرورت نہیں۔

جہاں تک امرثانی ، یعنی متعہ ، جواز کے بعد دوبارہ حرام قرار دیا گیاہو ، کا تعلق ہے اسے ہم نہیں مانتے نسخ کے قائل حضرات ان چند چیزوں کاسہارا لیتے ہیں ، لیکن درحقیقت ان میں سے کوئی چیز ناسخ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

۱۔ آیہ شریفہ :( فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ ) ۔۔۔۔۔۔ الخ ، اس آیت کے ذریعے نسخ ہو گئی ہے:

( يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ ) ۶۵:۱

''اے رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) (مسلمانوں سے کہہ دو) کہ جب تم اپنی بیبیوں کو طلاق دو تو ان کی عدت (پاکی) کے وقت طلاق دو،،۔ اس قول کی نسبت ابن عباس کی طرف دی گئی ہے(۲) لیکن یہ نسبت صحیح نہیں ہے کیونکہ ابن عباس زندگی بھر اس بات پر مصر رہے کہ متعہ حلال ہے۔

____________________

(۱) تفسیر قرطبی ، ج ۵ ، ص ۱۳۰ ابن کثیر اپنی تفسیر میں کہتے ہیں: ابن عباس ، ابیی بن کعب ، سعید بن جبیر اور سعدی اس آیت کو یوں پڑھتے تھے:( فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُم بِهِ مِن بَعْدِ الْفَرِيضَةِ ۚ ) ،

(۲) الناسخ و المنسوخ للخاس ، ص ۱۰۵


یہ دعویٰ بذات خود درست نہیں کیونکہ اگر اس بنیاد پر آیہ کریمہ کو ناسخ قرار دیا جائے کہ مطلقہ عورتوں کیلئے عدہ کو واجب قرار دیا گیا ہے اور جس عورت سے متعہ کیا جائے اس کے عدہ کی مدت طلاق والی عورت سے کم ہے۔

اس دلیل کا جواب یہ ہے کہ اس آیت سے اور کسی دوسری آیت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ عورتوں کے عدہ کی مدت برابر ہونا ضروری ہے۔

اگرا س بنیاد پر آیہ طلاق کو آیہ متعہ کا ناسخ قرار دیا جائے کہ نکاح متعہ میں طلاق نہیں ہوا کرتی تو اس دلیل کا جواب یہ ہے کہ آیہ کریمہ کا مقصد ، ان موارد اور مقامات کو بیان کرنا نہیں کہ طلاق کہاں واقع ہوتی ہے اور کہاں واقع نہیں۔

ہوتی۔ تفسیر منار میں بعض مفسرین سے یہ تہمت منقول ہے کہ شیعہ ، نکاح متعہ میں عدہ کو واجب نہیں سمجھتے(۱)

سبحانک الھم ۔ بارالہا! گواہ رہنا کہ یہ شیعوں پر بہت بڑا الزام ہے متقدین اور متاخرین شیعہ فقہاء کی کتب قارئین کے سامنے ہیں آج تک کسی شیعہ فقیہ کی طرف یہ قول منسوب نہیں یہ فتویٰ شاذ و نادر قول کے طور پر بھی فقہی کتب میں موجود نہیں چہ جائیکہ یہ کوئی اجماعی مسئلہ ہو ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب شیعہ اور ان پر الزامات لگانے والے داد گاہ الٰہی میں پیش ہوں گے اس دن وہی لوگ خسارے میں ہوں گے جو باطل پر ہیں ۔وهنالک یخسرالمبطلون (۲)

۲۔ یہ آیہ متعہ اس آیت کے ذریعے نسخ ہو گئی ہے:

( وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ ) ۴:۱۲

''اور جو کچھ تمہاری بیبیاں چھوڑ (کر مر) جائیں پس تمہارے آدھے آدھ ہے،،

___________________

(۱) تفسیر ا لمنار ، ج ۵ ، ص ۱۳۔۱۴

(۲) آیت( إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ) کی تفسیر کے موقع پر ان الزامات کا ذکر کریں گے۔


یہ آیت زوج اور زوجہ کے درمیان میراث کو ثابت کرتی ہے جبکہ نہ متعہ والی عورت کو شوہر سے ارث ملتا ہے اور نہ شوہر کو متعہ والی بیوی سے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ متعہ والی عورت درحقیقت زوجہ نہیں ہے اس طرح یہ آیت آیہ متعہ کیلئے ناسخ قرار پاتی ہےیہ قول سعید بن مسیّب ، سالم بن عبداللہ اور عاصم ابن ابی بکر کی طرف منسوب ہے(۱)

جواب: جس دلیل سے نکاح متعہ میں میراث کی نفی ہوتی ہے وہ آیت ارث کا مخصص ہے اور کسی دلیل سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مطلق زوجیت (ہر قسم کی زوجیت و ہمسری) میراث کی مستوجب ہو بلکہ یہ ثات ہے کہ کافر کو مسلمان سے اور قاتل کو مقتول سے ارث نہیں ملتا اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ زوج اور زوجہ اس صورت میں ایک دوسرے کے وارث ہوں گے جب ان کا نکاح دائمی ہو ظاہر ہے یہ حقیقت نسخ سے مختلف ہے۔

۳۔ آیہ متعہ ، سنت (روایات )کے ذریعے نسخ ہو گئی ہے اس سلسلے میںامیر المومنین (ع) سے یہ روایت بیان کی جاتی ہے کہ آپ نے ابن عباس سے فرمایا:

''انک رجعل تاثه ، ان رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم نهی عن المتعة وعن لحوم الحمر الاهلیة زمن خیبر،،

''تم ایک گمراہ آدمی ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ خیبر کے موقع پر متعہ اور پالتو گدھے کا گوشت حرام قرار دیا،،

ربیع بن سبرۃ نے اپنے باپ سے روایت بیان کی ہے:

''رآیت رسول الله ص قائماً بین الرکن و الباب وهو یقول : یاایها الناس انیی قد کنت اذنت لکم فیی الاستمتاع من النساء ، وان الله قد حرم ذلک الی یوم القیامة فمن کان عنده منهن شییء فلیخل سبیله ، ولا تاخذوا مما آتیتموهن شیاً،،

''میں نے رسول اللہ (ص) کو رکن اور درخانہ کعبہ کے درمیان کھڑے ہوئے یہ فرماتے سنا۔ اے لوگو! میں نے تمہیں متعہ کی اجازت دی تھی اور اللہ تعالیٰ نے اسے قیامت تک کیلئے حرام قرار دے دیا ہے ، تم میں سے جس کے پاس بھی کوئی ایسی عورت ہے اسے چھوڑ دےاور جو کچھ ان عورتوں کو دیا ہے وہ واپس نہ لے،،۔

____________________

(۱) الناسخ و المنسوخ للخاس ، ص ۱۰۵۔۱۰۶


سلمہ نے اپنے باپ سے روایت کی ہے:

''رخص رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم عام اوطاس فیی المتعة ثلاثاً ثم نهی عنها،،

جنگ اوطاس کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین دن کیلئے نکاح مؤقت کی اجازت دیاور اس کے بعد اس سے منع فرمایا دیا،،

جواب: اولاً اس سے پہلے کئی دفعہ بیان ہو چکا ہے کہ خبر واحد کے ذریعے نسخ ثابت نہیں ہو سکتا۔

ثانیاً ان روایات کا ائمہ اہل بیت (ع) کی ان متواتر روایات سے تعارض ہے جو متعہ کے مباح ہونے پر دلالت کرتی ہیں اور یہ کہ رسول اللہ (ص) نے کبھی بھی متعہ سے منع نہیں فرمایا:

ثالثاً پیغمبر اکرم (ص) کے کسی دور میں متعہ کی حرمت ثابت ہونے سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ آیہ متعہ نسخ ہو گئی ہے کیونکہ عن ممکن ہے کہ حرمت کا زمانہ حلیت متعہ کے زمانے سے مقدم ہو اور اہل سنت کی بہت سی روایات موجود ہیں جن کی رو سے متعہ رسول اللہ (ص) کے آخری ایام سے لے کر خلافت حضرت عمر تک جائز رہا۔

اگر ان روایات کی مخالف کوئی دوسری روایت موجود ہو اسے ٹھکرا دینا چاہئے قارئین کی آگاہی کیلئے ہم ذیل میں اس قسم کی چند روایات پیش کرتے ہیں:

۱۔ ابوزبیر روایت کرتے ہیں:

''میں نے جابر بن عبداللہ کو یہ کہتے سنا : ہم رسول اللہ (ص) اور حضرت ابوبکر کے زمانے میں مٹھی بھر کھجور اور کچھ مقدار آٹا دے کر متعہ کیا کرتے تھے حتیٰ کہ حضرت عمر نے عمرو بن حریث کے واقعہ میں اس پر پابندی لگا دی،،(۱)

۲۔ ابو نضرۃ روایت کرتے ہیں:

''میں جابر بن عبداللہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا: متعہ حج اور متعہ نساء کے بارے

____________________

(۱) صحیح مسلم ، باب نکاح متعہ ، ج ۴ ، ص ۱۴۱


میں ابن عباس اور ابن زبیر کا آپس میں اختلاف ہے جابر بن عبداللہ نے فرمایا: ہم رسول اللہ (ص) کے زمانے میں حج تمتع اور متعہ نساء کرتے رہے ہیں اس کے بعد حضرت عمر نے اس سے منع کر دیا جس کے بعد ہم نے دوبارہ نہیں کیا،،(۱)

۳۔ ابو نضرۃ نے جابر بن عبداللہ سے روایت کی ہے:

حج تمتع اور متعہ نساء رسول اللہ (ص) کے زمانے میں رائج تھے اس کے بعد حضرت عمر نے ان سے روک دیا تو ہم رک گئے،،(۲)

۴۔ ابو نضرۃ نے جابر بن عبداللہ سے روایت کی ہے:

''رسول اللہ (ص) کے زمانے میں ہم حج تمتع اور نکاح متعہ کرتے رہے لیکن جب حضرت عمر نے اس سے منع کر دیا تو ہم نے انہیں ترک کر دیا،،(۳)

۵۔ ابونضرۃ نے جابر بن عبداللہ سے روایت کی ہے:

''میں نے کہا: ابن زبیر متعہ سے روکتے ہیں اور ابن عباس متعہ کا حکم دیتے ہیں؟ جابر نے کہا: تم خبر کو اس کے اہل کے پاس لے آئے ہو ہم رسول اللہ (ص) اور حضرت ابوبکر کے زمانے میں متعہ کرتے رہے لیکن جب حضرت عمر کو خلافت ملی تو انہوں نے لوگوں سے خطاب کر کے کہا: رسول اللہ (ص) وہی رسول ، اور قرآن وہی قرآن ہے حج تمتع اور متعہ نساء رسول اللہ (ص) کے زمانے میں مباح و جائز تھے میں انہیں حرام قرار دے رہا ہوں اور ان کے مرتکب کو سزا دوں گا اور جو شخص کسی عورت سے نکاح موقت کرے گا میں اسے سنگسار کروں گا،،(۴)

____________________

(۱) صحیح مسلم ، باب نکاح متعہ ، ج ۴ ، ص ۱۴۱

(۲) مسند احمد ، ج ۳ ، ص ۳۲۵

(۳) ایضاً ص ۳۵۶۔۳۶۳

(۴) سنن بیہقی ، ج ۷ باب نکاح متعہ ، ص ۲۰۶


۶۔ عطاء روایت کرتے ہیں:

''جس وقت جابر بن عبداللہ عمرہ سے فارغ ہو کر آئے تو ہم ان کے گھر گئے اس دوران لوگوں نے ان سے کچھ مسائل پوچھے جن میں متعہ بھی زیر بحث آیا تو جابر بن عبداللہ نے فرمایا: ہاں ! ہم رسول اللہ (ص) حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے دور خلافت میں متعہ کرتے رہے،،(۱)

احمد نے اپنی مسند میں بھی اس روایت کو بیان کیا ہے البتہ اس میں اس جملے کا بھی اضافہ ہے: حتیٰ کہ حضرت

عمر کی خلافت کا آخری دور آیا،،(۲)

۷۔ عمران بن حصین روایت کرتے ہیں:

''کتاب الٰہی میں آیہ متعہ نازل ہوئی اور رسول اللہ (ص) کے زمانے میں ہم اس آیت پر عمل کرتے رہے اس کے بعد ایسی کوئی آیت نازل نہیں ہوئی جو اسے نسخ کرے اور نہ پیغمبر اسلام (ص) نے اپنی وفات تک اس سے منع فرمایا،،(۳)

رازی نے اس آیہ مبارکہ کی تفسیر کے موقع پر اس روایت کو اس اضافے کے ساتھ بیان کیا ہے:

''پھر ایک آدمی نے اپنی رائے کے مطابق جوجی میں آیا کہہ دیا،،(۴)

____________________

(۱) صحیح مسلم ، ج ۴ ، باب نکاح متعہ ، ص ۱۳۱

(۲) مسند احمد ، ج ۳، ص ۳۸۰

(۳) ایضاً ج ۴ ، ص ۲۳۶

(۴) یہ روایت اسی اضافے کے ساتھ صحیح مسلم ، ج ۴ ، باب جواز التمتع ، ص ۴۸ میں بھی موجود ہے۔


۸۔ عبداللہ ابن مسعود نے روایت کی ہے:

''ہم رسول اللہ (ص) کے ہمراہ مشغول جہاد تھے اور ہمارے ساتھ عورتیں نہیں تھیں ہم نے رسول اللہ (ص) سے عرض کی : یارسول اللہ (ص) کیا ہم اپنے آپ کو نامرد بنالیں ؟ آپ (ص) نے ہمیں اس عمل سے منع فرمایااور ہمیں ایک کپڑے حق مہر پر نکاح موقت کی اجازت دے دی اس کے بعد عبداللہ ابن مسعود نے اس آیہ کی تلاوت کی:

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّـهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ ) ۵:۸۷(۱)

''اے ایماندارو! جو پاک چیزیں خدا نے تمہارے واسطے حلال کر دی ہیں ان کو اپنے اوپر حرام نہ کرو اور حد سے نہ بڑھو کیونکہ خدا حد سے بڑھ جانے والوں کو ہرگز دوست نہیں رکھتا،،

مولف: عبداللہ ابن مسعودکا اس آیہ کی تلاوت کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اسے اللہ اور رسول (ص) کی طرف سے حرام قرار نہیں دیا گیا بلکہ حرمت کا حکم رسول اللہ (ص) کے بعد کسی کا ایجاد کردہ ہے:

۹۔ شعبہ نے حکم بن عیینہ سے روایت بیان کی ہے:

''میں نے حکم سے پوچھا: کیا آیہ متعہ نسخ ہوئی ہے ؟ حکم نے کہا : نہیں۔ اس کے بعد کہا : امیر المومنین (ع) نے فرمایا: اگر حضرت عمر نے متعہ حرام قرار نہ دیا ہوتا تو کوئی شقی ہی زنا میں مبتلا ہوا،،(۲)

اس روایت کوقرطبی نے عطاء کے واسطے سے ابن عباس سے نقل کیا ہے(۳)

____________________

(۱) صحیح مسلم ، ج ۴ ، ص ۱۳۰ ، بخاری میں اس حدیث کی تحریف سے آگاہی کیلئے اسی کتاب کاضمیمہ نمبر ۷ ملا خطہ فرمائیں۔

(۲) تفسیر طبری ، ج ۵ ، ص ۹

(۳) تفسیر قرطبی ، ج ۵ ، ص ۱۳۰


مولف: شاید اس روایت میں شقی سے مراد وہی ہے جس کی تفسیر ابوہریرہ کی روایت میں بیان کی گئی ہے ابوہریرہ کہتے ہیں:

رسول اللہ (ص) نے فرمایا: جہنم میں شقی لوگ ہی داخل ہوں گے آپ (ص) سے پوچھا گیا شقی کون لوگ ہیں ؟ آپ (ص) نے فرمایا: شقی وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہیں کرتے اور معصیت الٰہی کو ترک نہیں کرتے،،(۱)

۱۰۔ عطاء روایت بیان کرتے ہیں:

''میں نے ابن عباس کو یہ کہتے سنا : عمر پر خدا رحمت کرے متعہ خدا کی طرف سے پیغمبر (ص) کی امت پر ایک رحمت تھی اگر عمر نے متعہ کو حرام قرار نہ دیا ہوتا تو بہت ہی کم لوگ زنا کے محتاج ہوتے،،(۲)

وہ روایات جن کاذکر نسخ کے قائل حضرات دلیل کے طور پر کرتے ہیں ، کئی قسم کی ہیں ان میں سے بعض روایات ایسی ہیں جن کا سلسلہ سندربیع بن سبرۃ تک پہنچتا ہے یہ روایات اس نے اپنے والد سے نقل کی ہیں اور یہ زیادہ تعداد میں ہیں ان میں سے بعض روایات میں اس بات کی تصریح کی گئی ہے کہ رسول اللہ (ص) نے رکن اور مقام یا درکعبہ اور مقام کے درمیان کھڑے ہو کر قیامت تک کیلئے متعہ کو حرام قرار دینے کا اعلان کیا۔

بعض روایات ایسی ہیں جن کے مطابق امیر المومنین (ع) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (ص) نے متعہ کو حرام قرار دیا اور بعض روایات ایسی ہیں جو سلمہ بن اکوع سے منقول ہیں۔

جہاں تک ان روایات کا تعلق ہے جن کا سلسلہ سند سبرۃ تک پہنچتا ہے یہ روایات اگرچہ بہت طریقوں سے نقل کی گئی ہیں لیکن یہ ایک ہی آدمی کی روایات ہیں اور خبر واحد کے ذریعے نسخ ثابت نہیں ہو سکتا اس کے علاوہ ان ہی روایات میں سے بعض کامضمون بعض روایات کے بے بنیاد اور جھوٹا ہونے کا واضح ثبوت ہے

____________________

(۱) مسند احمد ، ج ۲ ، ص ۳۴۹

(۲) احکام القرآن للجصاص ، ج ۲ ، ص ۱۴۷


کیونکہ یہ بات معقول معلوم نہیں ہوتی کہ رسول اللہ (ص) رکن و مقام یا درکعبہ و مقام کے درمیان (جہاں لوگوں کابہت بڑا اجتماع ہوتا تھا) کھڑے ہو کر متعہ کی حرمت کا اعلان فرمائیں اور یہ اعلان صرف سبرۃ سن سکے اور یہ بھی نامعقول معلوم ہوتا ہے کہ ہزاروں مسلمانوں میں سے صرف سبرۃ(۱) سے نقل کرے۔

اس مجمع سے مہاجرین و انصار کہاں گئے جو رسول اللہ (ص) کے ہر قول و فعل کو آنکھوں سے لگاتے اور اسے محفوظ کرل یتے تھے اور وہ راوی کہاں غائب ہو گئے تھے جو رسول اللہ (ص) کے ہاتھوں اور آنکھوں کے اشاروں کو بھی زیادہ اہمیت دیتے اور انہیں محفوظ کرل یتے تھے یہ سب حضرات کیوں غائب تھے اور قیامت تک متعہ کو حرام قرار دینے والی روایت کو نقل کرنے میں سبرۃ کے ساتھ کیوں شریک نہیں ہوئے۔

اس سے بڑھ کر خود حضرت عمر نے اس روایت کو کیوں نقل نہیں کیا تاکہ تحریم کی نسبت اپنی طرف دینے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی اس کے علاوہ سبرۃ کی روایات آپس میں بھی سازگار نہیں ہیں اور ان میں سے بعض ، بعض کی تکذیب و تردید کرتی ہیں کیونکہ بعض روایات کے مطابق متعہ ، فتح مکہ کے سال حرام قرار دیا گیا(۲) اور بعض کے مطابق حجتہ الوداع کے سال حرام قرار دیا گیا(۳) خلاصہ یہ کہ سبرۃ کی یہ روایات کئی اعتبار سے ناقابل عمل ہیں۔

جہاں تک اس روایت کاتعلق ہے جو حضرت علی (علیہ السلام) سے مروی ہے ، وہ یقیناً من گھڑت ہے کیونکہ تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ

____________________

(۱) صحیح مسلم ، ج ۴ باب النکاح متعہ ، ص ۱۳۲۔۱۳۳

(۲) سنن ابن ماجہ طبع اول ، ج ۱ ، باب النہی عن نکاح المتعہ ، ص ۳۰۹۔ سنن ابی داؤد، ج ۱ ، باب نکاح المتعہ ، ص ۳۲۴

(۳) المنتقیٰ ، ج ۲ ، ص ۵۱۹۔ ابن ماجہ ، ج۱ ، ص ۳۰۹


فتح مکہ کے سال متعہ جائز تھا پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ خیبر میں امیر المومنین (ع) ابن عباس کے سامنے متعہ کے حرام قرار دیئے جانے پر استدلال کریں یہی وجہ ہے کہ بعض علماء کرام نے یہ احتمال دیا ہے کہ گزشتہ روایت میں زمانہ خیبر سے مرادپالتو گدھے کے حرام قرار دیئے جانے کے زمانے کی طرف اشارہ ہو ، تحریم متعہ کے زمانے کی طرف نہیں اس احتمال کو منتقی اور سنن بیہقی میں ابن عیینہ سے نقل کیا گیا ہے لیکن یہ احتمال دو جہتوں سے باطل ہے:

i ۔ یہ احتمال عربی قواعد کیخلاف ہے کیونکہ اس روایت میں ایک ہی مرتبہ ، آغاز کلام میں نہی کا ذکر کیا گیا ہے لہٰذا ظرف (زمانہ تریم) بھی ایک ہی ہونا چا ہئے اس لئے کہ اگر کوئی آدمی یہ کہے :اکرمت زیداً و عمرواً یوم الجمعته (یعنی) میں نے جمعہ کے دن عمرو کی عزت کی اس میں زید اور عمرو کے احترام کا زمانہ لازماً ایک ہونا چاہئے لیکن اگر متکلم کی مراد یہ ہو کہ صرف عمرو کے احترام کا دن جمعہ تھا تو اسے کیوں کہنا چاہئے:اکرمت زیداً اواکرمت عمرواً یوم الجمته (یعنی) میں نے زید کی عزت کی اور عمرو کی عزت جمعہ کے دن کی۔

ii ۔ یہ احتمال بخاری ، مسلم اور احمد کی روایت کے منافی ہے جو انہوں نے حضرت علی (علیہ السلام) سے نقل کی ہے اس روایت میں حضرت علی (علیہ السلام) نے فرمایا:

''نھی رسول اللہ (ص) عن متعتہ النسآء یوم خیبر ''رسول اللہ (ص) نے خیبر کے دن متعتہ النساء اور پالتو گدھے کاگ وشت حرام قرار دیا،،

بیہقی نے باب متعہ میں عبداللہ بن عمر سے بھی روایت بیان کی ہے جس کے مطابق متعہ کو خیبر کے دن حرام قرار دیاگیا ہے(۱)

____________________

(۱) سنن بیہقی ، ج ۷ ، ص ۲۰۲


باقی رہی وہ روایت جو سلمہ بن اکوع نے اپنے باپ سے نقل کی ہے:

''رخص رسول الله (ص) فی متعة النسآء عام اوطاط ثلاثه ایام ثم نهی عنها،،

''رسول اللہ (ص) نے جنگ اوطاس کے موقع پر تین دن کے لئے متعہ کی اجازت دی اور پھر اس سے منع فرمایا،،

یہ روایت خبر واحد ہے جس سے نسخ ثابت نہیں ہوتا اس کے علاوہ اگر یہ روایت صحیح ہوتی تو ابن عباس ، ابن مسعود ، جابر ، عمرو بن حریث اور ان جیسے دوسرے صحابہ اور تابعین سے یہ پوشیدہ نہ رہتی بھلا یہ روایت کیسے صحیح ہو سکتی ہے جبکہ حضرت ابوبکر نے اپنے پورے دور خلافت میں اور حضرت عمر نے اپنے دور خلافت کے زیادہ تر عرصے میں اسے حرام قرار نہیں دیا بلکہ اپنی خلافت کے آخری دنوں میں اسے حرام قرار دیا۔

اس سے قبل ابن حزم کا وہ کلام بھی گزر چکا ہے جس کےم طابق صحابہ اورتابعین کی ایک جماعت متعہ کو حلال و مباح سمجھتی رہی اس کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے جو ابن جریر نے تہذیب الآثار میںسلمان بن یسار سے اور اس نے ام عبداللہ دختر ابی خثیمہ سے نقل کی ہے : ام عبداللہ دختر ابی خثیمہ کہتی ہیں:

''ان رجلا قدم من ا لشام فزل علیها فقال : ان العزبة قد اشندت علیی فابغینی امراة انمتع معها قالت: فدلله علی امراة فشارطها و اشهدوا علی ذلک عدولاً ، فمکث معها ماشاء الله ان یمکث ، ثم انه خرج فاخبر عن ذلک عمر بن الخطاب ، فارسل الیی فسالنیی احق ماحدیت ؟ قلت : نعم قال : فاذاقدم فآذنینیی به ، فلما قدم اخبرته فارسل الیه فقال: ماحملک علی الذی فعلته ؟ قال : فعلته مع رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم ثم لم ینهنا عنه حتی قبضه الله ثم مع ابیی بکر فلم ینهنا عنه حتی قبضه الله ، ثم معک فلم تحدث لنا فه نهاً ققال عمر : اما و الذین نفسیی بیده او کنت تقدمت فیی نهی لرجمعتک ، یسنوا حتی یعرف النکاح من السفاح،،

''شام سے ایک شخص میرے پاس آیا اور اس نے کہا : میں بے ہمسری سے تنگ آ گیا ہوں ۔ میرے لئے کسی عورت کابندوبست کرو جس سے میں متعہ کر لوں میں نے ایک عورت کی طرف اس کی رہنمائی کی۔ چنانچہ ان دونوں کے درمیان مقررہ مدت کیلئے قرارداد یعنی عقدمتعہ انجام پایا اور اس موقع پر عادل گواہ بھی رکھے گئے اور ایک عرصے تک یہ دونوں ساتھ رہے اس کے بعد یہ دونوں جدا ہو گئے ۔


اس کی اطلاع حضرت عمر بن خطاب کو ملی اور انہوں نے مجھے اپنے پاس بلا کر پوچھا: کیا یہ خبر درست ہے ؟ میں نے اس خبر کی تصدیق کی اس پر حضرت عمر نے کہا: اگر یہ شخص دوبارہ مدینہ آئے تو مجھے اطلاع دینا جس وقت یہ شخص مدینہ آیا تو میں نے اس کی اطلاع حضرت عمر کو دے دی۔ حضرت عمر نے اس شخص کو اپنے پاس بلا کر پوچھا: تو نے یہ حرکت کیوں کی ؟ اس نے جواب دیا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میںیہ عمل انجام دیتے رہے ہیں مگر آپ (ص) نے ہمیں اس سے منع نہیں فرمایا اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے حضرت ابوبکر کے دور خلافت میں بھی ہم عقد متعہ کرتے رہے مگرا نہوںنے بھی ہمیں نہیں روکا اور ان کا انتقال ہو گیا آپ کے دور خلافت میں بھی ہم اسے ایک عرصے تک انجام دیتے رہے ۔ (ابھی اس سے منع کرنے کی کیا وجہ ہے) اس پر حضرت عمر نے جواب دیا:قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر میں نے اس سے قبل اس کی حرمت کا اعلان کر دیا ہوتا تو تجھے حتماً سنگسار کر دیتا آئندہ کیلئے نکاح متعہ کی حرمت کا اعلان کر دو تاکہ حلال نکاح اور حرام نکاح میں فرق رہے،،۔

دوسری روایت وہ ہے جسے ابن جزیر نے اپنی مسند میں ابو یعلی سے اور ابوداؤد نے اپنے ناسخ میں حضرت علی (علیہ السلام) سے نقل کیا ہے اس روایت میں حضرت علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں:

''لولاما سبق من رایی عمر بن الخطاب لامرت بالمتعة ، ثم مازنی الاشقیی'' (۱)

''اگر مجھ سے پہلے عمر نے متعہ کو حرام قرار نہ دیا ہوتا تو میں متعہ کا حکم دیتا پھر کوئی شقی ہی زنا کا مرتکب ہوتا،،۔

ان دونوں روایات میں چند نکات ایسے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ متعہ کو حضرت عمر نے حرام قرار دیا ہے ۔

i ۔ حضرت امیر المومنین (ع) اور ایک صحابی گواہی دے رہے ہیں کہ متعہ ، پیغمبر اکرم (ص) کے زمانے میں اور اس کے بعد ایک عرصے تک حرام نہیں تھا اور اسے حضرت عمر نے حرام قرار دیا۔

ii ۔ عادلوں کا عقد متعہ پر گواہ رہنا اور ان کا اس سے منع نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ حضرات متعہ کو جائز سمجھتے تھے۔

____________________

(۱) کنز العمال ، ج ۸ ، ص ۲۹۴


iii ۔ حضرت عمر کا شامی کی اس بات کی تردید نہ کرنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے متعہ سے منع نہیں فرمایا اس بات کا ثبوت ہے کہ رسول اللہ (ص) نے اسے حرام قرار دیا ہے۔

iv ۔ حضرت عمر کا شامی سے یہ کہنا : ''اگر میں نے اس سے قبل اس کی حرمت کا اعلان کر دیا ہوتا تو تجھے سنگسار کر دیتا،،۔ اس بات کا ثبوت ہے کہ اس واقعہ سے پہلے حضرت عمر نے متعہ سے نہیں روکا تھا۔

v ۔ حضرت عمر کا یہ کہنا : آئندہ کیلئے نکاح متعہ کی حرمت کا اعلان کر دو،، اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس سے قبل مسلمانوں میں متعہ کارواج عام تھااور حضرت عمر نے اس اعلان کے ذریعے یہ چاہا کہ اس کی ممنوعیت لوگوں تک پہنچ جائے تاکہ لوگ اس سے رک جائیں۔

ہو سکتا ہے کہ حضرت عمر کی جانب سے متعہ کو حرام قرار دینے میں اس واقعہ کا بالواسطہ یابلاواسطہ دخل ہو کیونکہ حضرت عمر کاشامی کے اس عمل کا برا منانا جبکہ اس حدیث کے مطابق مسلمانوں میں متعہ کاعام رواج تھا اور اس واقعہ کا حضرت عمر کے علم میں آ جانا جبکہاس قسم کے واقعات کی اطلاع عموماً حاکم وقت تک نہیں پہنچتی ، ایسے امور ہیں جو اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ اس داستان میں ایک اہم راز مضمر ہے جس سے راوی آخرتک لاعلم رہے یا ان راویوں نے جان بوجھ کر اس داستان کے اصل راز کو پردے میں ہی رہنے دیا۔

ان سب کے علاوہ سلمہ بن اکوع کی روایت سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ پیغمبر اکرم (ص) نے متعہ سے منع فرمایا تھا بنا برایں یہ احتمال دیا جاسکتا ہے کہ روایت یوں واردہوئی ہو۔

''رخص رسول الله (ص) متعة النساء عام امطاس ثلاثا ایام ثم نهی عنها،، نہی کا صیغہ مجمہول ہو اور ترجمہ یہ ہو:

جنگ اوطاط کے موقع پر تین دن کے لئے رسول اللہ (ص) نے متعہ کی اجازت دی اور پھر اس سے روک دیا گیا ہو سکتا ہے کہ روکنے و الے حضرت عمر ہوں جنہوں نے رسول اللہ (ص) کی وفات کےبعد متعہ حرام قرار دیا۔


خلاصہ کلام یہ کہ کسی قابل قبول دلیل سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ رسول اللہ (ص) نے متعہ سے منع فرمایا ہو بلکہ رسول اللہ (ص) کے منع نہ فرمانے کا بنی ثبوت یہ ہے کہ حضرت عمر نے حرام قرار دینے کی نسبت اپنی طرف دی ہے اور کہا ہے:

''متعتان کانتا علی عهد رسول الله (ص) وانا انهی عنهما و اعاقب علیهما،، (۱)

''نکاح متعہ اور حج تمتع رسول اللہ (ص) کے زمانے میں انجام پاتے تھے اور میں ان دونوں پر پابندی لگا رہا ہوں اور اس کی مخالفت کرنے والے کو سزا دونگا،،

اگر متعہ کو رسول اللہ (ص) نے حرام قرار دیا ہوتا تو حضرت عمریوں فرماتے '''نهی النبی (ص) عنهما،، رسول اللہ (ص) نے ان دونوں سے منع فرمایا،،۔

چوتھی چیز جس کا ذکر منکرین متعہ ، جو کتاب و سنت کی رو سے جائز ہے ، کے نسخ کے طور پر کرتے ہیں وہ علماء کا اجماع ہے۔

جواب: اجماع اس وقت تک حجت اور قابل عمل نہیں ہو سکتا جب تک اس کی تائید اور پشت پناہی قول معصوم (ع) نے کرے گزشتہ بحثوں میں یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ متعہ کو رسول اللہ (ص) کے زمانے میں اور خلافت حضرت عمر کے دور میں بھی ایک عرصے تک حرام قرار نہیں دیا گیا کیا یہ معقول ہے کہ صرف ایک جماعت کے فتویٰ کی بنیادپر ، جو معصوم عن الخطاء بھی نہیں ، کتاب خدا اور سنت رسول (ص) کو ٹھکرا دیا جائے اگر ہر آدمی کے فتویٰ سے احکام خدا نسخ ہو سکتے ہیں تو وہ احکام بھی نسخ ہو سکتے ہیں ، جو قرآن کریم اور سنت قطعیہ سے ثابت ہیں اس کالازمی نتیجہ یہ ہے کہ مجتہدین کی رائے اور فتاویٰ سے نماز ، روزہ اور حج جیسے مسلم واجبات کا نسخ ہونا بھی جائز ہو جس کے ماننے کیلئے کوئی مسلمان تیار نہیں۔

____________________

(۱) یہ روایت جابر کی پانچویں روایت میں بھی ذکر کی گئی ہے ابو صالح کاتب اللیث نے اپنے نسخ میں اور طحاوی اور ان جریر نے تہذیب الآثار میں اور ابن عسا کرنے بھی اسے نقل کیا ہے البتہ ان دونوں کی روایت میں اس جملے کا اضافہ ہے ان دونوں کے مرتکب کو سزا دوں گا کنز العمال المتعہ ، ج ۸ ، ص ۲۹۳۔۲۹۴۔


اس کے علاوہ متعہ کو حرام قرار دینے پر علماء کا اجماع ثابت بھی نہیں کیونکہ ایسے مسئلے پر اجتماع کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا جس کے مخالف اصحاب نبی (ص) اور ان کے بعد کے دوسرے علماء کرام ہوں خصوصاً جب ان اصحاب پیغمبر (ص) کا قول ائمہ اہل بیت (ع) ، جن سے ہر قسم کے رجس و پلیدی کو خدا نے دور رکھا ہے ، کے قول کے مطابق ہو ان تمام بحثوںکا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ متعہ کو صرف حضرت عمر نے حرام قرار دیا ہے۔

یہ حقیقت محتاج بیان نہیں کہ کتاب اللہ اور سنت پیغمبر (ص) دوسروں سے زیادہ اتباع و پیروی کے مستحق ہیں اور اسی لئے عبداللہ ابن عمر نے حج تمتع کی اجازت دے دی تھی اس پر کچھ لوگوں نے اعتراض کیا:

''کیف مخالف اباک و قد نهی عن ذلک : فقال لهم : ویلکم الاتتقون ۔۔۔۔۔۔افرسول الله صلی الله علیه وآله وسلم احق انتتبعوا سنته ام سنة عمر ؟،، (۱)

''آپ اپنے والد کی مخالفت کیوں کر رہے ہیں انہوں نے تو حج تمتع سے منع کر دیا ہے عبداللہ ابن عمر نے جواب میں کہا: مقام افسوس ہے تم خوف خدا نہیں رکھتے؟ سنت رسول (ص) قابل اتباع ہے یا سنت عمر؟،،

گزشتہ مباحث کا خلاصہ یہ ہے کہ آیہ متعہ کے نسخ کے قائل حضرات جن چیزوں کا سہارا لیتے ہیں ان میں سے کوئی چیز بھی آیہ متعہ کے حکم ، جس کا جواز شریعت اسلام میں قطعی طورپر ثابت ہے ، کیلئے ناسخ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

متعہ کی سزا۔۔۔۔۔۔سنگساری

بہت سی روایات ، جن میں سے بعض کا ذکر اس سے پہلے ہو چکا ہے ، سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عمر نے متعہ کرنے

والے کو سنگسار کرنے کا حکم دیا اس سلسلے کی پہلی روایت وہ ہے جسے جابر نے نقل کیا ہے۔

____________________

(۱) مسند احمد ، ج ۲ ، ص ۹۵


''تمتعنا مع رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم فلما قام عمر قال ان الله کان یحل لرسوله ماشاء بماشاة ، و ان القرآن قد نزل منازله ، فاتموا الحجة و العمرة لله کما امر کم ، و ابتوا نکاح هذا النساء فلن اوتیی برجل نکح امراة الی اجل الا رجمته بالحجارة،، (۱)

''ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ رہتے ہوئے متعہ انجام دیتے رہے لیکن جب حضرت عمر مسند خلافت پر آئے تو کہنے لگے: اللہ تعالیٰ جس کو چاہتاہے اور جیسے چاہتا ہے اپنے رسول کیلئے حلال قرار دیتا ہے قرآن مجید اپنے مخصوص اہداف کے تحت اتاراگیا حج اور عمرہ کوا سی طرح مکمل کرو جس طرح اللہ نے حکم دیا ہےاور عورتوں سے دائمی نکاح کیا کرو میرے پاس اگر کوئی ایسا آدمی لایا گیا جس نے کسی عورت سے نکاح موقت کیاہو گا تو میں اسے سنگسار کروں گا،،۔

دوسری روایت : شافعی نے مالک سے ، اس نے ابن شہاب سے اور اس نے عروہ سے روایت کی ہے کہ خولہ بنت حکیم نے حضرت عمر بن خطاب سے جا کر کہا:

''ان ربیعة بن امیة استمتع بامراة مولدة فحملت منه فخرج عمر یجر رداء ه فزعاً ۔فقال : هذه المتعة ولو کنت تقدمت فیه لرجمته ،،(۲)

بتحقیق ربیعہ بن امیہ نے ایک جوان عورت سے متعہ کیا ہے اور اس سے حمل بھی ٹھہرا ہے اس خبر کو سن کر حضرت عمر غضب کے عالم میں اپنی چادر کو زمین پر گھسیٹتے ہوئے نکلے اور کہا: اگر میں نے اس سے قبل منع کیا ہوتا تو اس کو سنگسار کر دیتا،،۔

تیسری روایت: نافع نے عبداللہ ابن عمر سے روایت بیان کی ہے:

''انه سئل عن متعة النساء ، فقال : حرام ، اما ان عمر بن الخطاب لو اخذ فیها احداً لرجمه ،، (۳)

____________________

(۱) صحیح مسلم باب متعہ بالحج و العمرۃ ، ج ۴ ، ص ۳۶ ۔ طیالسی نے تقریباً بہیی روایت جابر سے اپنی مسند کی ج ۸ ، ص ۲۴۷ میں نقل کی ہے۔

(۲) سنن بیہقی باب نکاح المتعہ ، ج ۷ ، ص ۲۰۶

(۳) ایضاً


''عبداللہ ابن عمر سے پوچھا گیا : متعتہ النساء حرام ہے یا حلال ؟ انہوں نے جواب دیا: حرام ہے۔ اگر حضرت عمر ایسے آدمی کو گرفتار کرتے جس نے متعہ کیا ہو تو اسے سنگسار کرتے،،۔ متعہ کے بارے میں عبداللہ بن زبیر کا مسلک بھی وہی تھاجو حضرت عمر کا تھا کیونکہ جب اس نے متعہ کو جواز سے انکار کیا تو عبداللہ بن عباس نے اس سے کہا:

''انک لجلف جاف فلعمری لقسد کانت المتعة تفعل علی عهد امام المتقین ، رسول الله ۔فقال له ابن الزبیر فجرب بنفسک فوالله لئن فحلتها لارجمنک باحجارک،، (۱)

''تم ایک ناداان اور خرمغز آدمی ہو اس لئے کہ بخدا امام المتقین (رسول اللہ ) (ص) کے زمانے میں متعہ عام تھا ابن زبیر نے کہا بہتر ہے کہ تم اپنے نفس پر اسے (متعہ) آزما دیکھو ! بخدا اگر تم متعہ کرو گے تو تمہیں سنگسار کروںگا،،۔

مقام حیرت ہے وہ مسلمان کس طرح سنگساری کا مستحق ہوا جس نے حضرت عمر کے فتویٰ کی مخالفت کی ہو جبکہ اس (مسلمان) کے عمل کی دلیل اور مدرک کتاب الٰہی اور سنت رسول ہو فرض کیا (جو ازمتعہ کے قائل) اس شخص سے اجتہادی غلطی ہو گئی لیکن کیاشک و شبہ کی بنیاد پر حد ساقط نہیں ہو جاتی اگرچہ یہ (اجتہادی غلطی) محض فرضی ہے کیونکہ کسی دلیل سے یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ آیہ متعہ ، جو متعہ کے جواز پر دلالت کرتی ہے ، نسخ ہو گئی ہو۔

صاحبان نظر ملا خطہ فرمائیں کہ حضرت عمر اور ابو حنیفہ کے فتویٰ میں کتنا تفاوت ہے اس لئے کو ابو حنیفہ کا فتویٰ یہ ہے کہ اگر کوئی مرد کسی عورت سے باطل عقد کرے یا اپنی محرم عورتوں میں سے کسی کے ساتھ نکاح کرے اور نکاح کے باطل اور حرام ہونے کو جانتے ہوئے اس سے ہمبستری کرے تو اس (مرد) سے حد ساقط ہے(۲) اور یہ کہ اگر کوئی مرد کسی عورت کو کسی کام کیلئے اجیر بنائے اور اس سے زنا کر لے تو بھی حد ساقط ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مہر کو اجرت کا نام دیا ہے اور اس قسم کا حکم حضرت عمر سے بھی منقول ہے(۳)

____________________

(۱) صحیح مسلم باب نکاح المتعتہ ، ج ۴ ، ص ۱۳۳

(۲) الہدایہ ، فتح القدیر ، ج ۴ ، ص ۱۴۷

(۳) احکام القرآن للجصاص ، ص ۲ ، ص ۱۴۶


متعہ کے بارے میں چند بے بنیادشبہات

صاحب تفسیر منار نے اس زعم باطل کا اظہار کیا ہے کہ متعہ ، عفت و پاکدامنی کیخلاف ہے اور اس کا مقصد شہوت پرستی اور زنا ہے کیونکہ یہ کام سراسر عفت و پاکدامنی کیخلاف ہے کہ ایک عورت کچھ عرصے کیلئے کرایہ پر اپنے آپ کو کسی مرد کے حوالے کر دے اس طرح یہ عورت اس شعر کا مصداق بنے گی۔

کرة حذفت بصوالجة

فتلقفها رجل رجل

اس شعر کے حوالے سے عورت کو اس گیند سے تشبیہ دی ہے جس کو یکے بعد دیگرے پاؤں سے ٹھوکریں ماری جاتی ہیں۔ نیز صاحب منار کایہ گمان بھی ہے کہ متعہ درج ذیل آیات کے منافی ہے کیونکہ متعہ والی عورت نہ زوجہ ہے نہ کنیز ، اس لئے اس سے ہمبستری عفت و تقویٰ کیخلاف ہے۔

( وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ ) ۲۳:۵

''اور جو (اپنی ) شرمگاہوں کو (حرام سے) بچاتے ہیں،،

( إِلَّا عَلَىٰ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ ) : ۶

''مگر اپنی بی بیوں سے یہ اپنی زرخرید لونڈیوں سے کہ ان پر ہرگز الزام نہیں ہو سکتا،،

( فَمَنِ ابْتَغَىٰ وَرَاءَ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْعَادُونَ ) : ۷

''پس جو شخص اس کے سوا (کسی اور طریقہ سے شہوت پرستی کی ) تمنا کرے تو ایسے ہی لوگ حد سے بڑھ جانے و الے ہیں،،


اس کے بعد صاحب منار لکھتے ہیں:

''حضرت عمر نے متعہ کو اپنی طرف سے حرام قرار نہیں دیا اور اگر کسی روایت سے یہ ثابت ہو جائے کہ حضرت عمر نے تحریم کی نسبت اپنی طرف دی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عمر نے اس کی تحریم کاصرف اعلان کیا ہے یا اس کا مطلب یہ ہو گا کہ انہوں نے متعہ کی تحریم پر عملدرآمد کرایا ہے،،۔

اس کے بعد صاحب منار اپنی اس بات سے توبہ استغفار کرتے ہیں (۳۲۸) انہوں نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے۔

''حضرت عمر نے اپنے ذاتی اجتہادکی بنیاد پر متعہ کو حرام قرار دیا اور باقی صحابہ نے ان کی پیروی کی،،(۱)

مولف: جہاں تک متعہ کے عفت و پاکدامنی کے منافی ہونے کاتعلق ہے یہ اعتراض اس زعم باطل پر مبنی ہے کہ متعہ والی عورت زوجہ نہیں ہے گزشتہ بحثوں میں یہ ثابت کیا جا چکا ہے کہ متعہ والی عورت شرعی زوجہ ہے اور اس سے اس تو ہم و گمان کا بھی بے بنیاد ہونا ثابت ہو جاتا ہے کہ متعہ کا جواز اس آیہ شریفہ کے منافی ہے جو زوجات اور کنیزوں کے علاوہ باقی عورتوں سے اجتناب کا حکم دیتی ہے کہ عقد متعہ ، عقد دائمی کی طرح ایک شرعی ازدواج ہے اور متعہ والی عورت زوجات کے ذیل میں آتی ہے۔

باقی رہا یہ اشکال کہ عقد متعہ میں عورت اپنے آپ کو کرایہ پر دیتی ہے اور یہ کہ متعہ والی عورت اس گیند کی مانند ہے جس کو یکے بعد دیگرے ہاتھوں ہاتھ اڑایا جاتا ہے اگر یہ اعتراض صحیح ہو تو یہ رسول اللہ (ص) کی طرف سے متعہ کی تشریح پر اعتراض ہو گا کیونکہ یہ تشبیہ اور قباحت صرف ایک زمانے سے مختص نہیں بلکہ اگر یہ قبیح ہے تو ہر زمانے اورہر دور میں قبیح ہو گا اور اگر قبیح نہیں تو کسی زمانے میں بھی قبیح نہیں ہو گا اور کونسا مسلمان ایسا ہے جو رسول اللہ (ص) کے زمانے میں متعہ کے حلال ہونے میں شک کرے بلکہ گزشتہ بحثوں میں ثابت کیا جا چکا ہے کہ متعہ ، حضرت عمر کے دور خلافت تک حلال تھا اور اس پر عمل بھی ہوتا رہا۔

____________________

(۱) تفسیرا لمنار ، ج ۵ ، ص ۱۳۔۱۶


مقام تعجب ہے کہ صاحب المنار مدعی ہے کہ اس کا مقصد حق گوئی کے علاوہ اور کچھ نہیں اور یہ کہ وہ کسی خاص مذہب کے سلسلے میں متعصب نہیں ہے جبکہ اس کے تعصب کا یہ عالم ہے کہ یہ اسلام کے ایسے حکم کو اپنے حملوں کا نشانہ بنا رہا ہے جس کا جواز کتاب اللہ ، سنت پیغمبر (ص) اور اجماع مسلمین سے ثابت ہے اگر کوئی اختلاف ہے تو اس بات میں ہے کہ یہ حکم جواز کے بعد دوبارہ نسخ ہوا ہے کہ نہیں۔

مزید براں اگر عورت کے ایک مرد سے دوسرے مردکی طرف منتقل ہونے میں کوئی قباحت ہوتی تو اس قباحت کی وجہ سے عقد دائمی میں طلاق بھی حرام قرار دی جانی چاہئے تھے کیونکہ اس کے نتیجے میں بھی عورت ایک مرد سے دوسرے مرد کی طرف منتقل ہوتی ہے نیز ملکیت کے ذریعے کنیزوں کے نقل و انتقال کو بھی منع کر دیا جانا چاہئے تھا حالانکہ کسی بھی مسلمان نے اس پر اعتراض نہیں کیا لیکن صاحب المنار کو اس اشکال کا کوئی خطرہ نہیں کیونکہ وہ استرقاق (غلام اور کنیز بنانے) کو حرام سمجھتا ہے اور یہ سمجھتا ہے کہ اس سے بہت سے مفاسد مترتب ہوتے ہیں جنہیںعلماء نے نظر انداز کر دیا ہے اس کا یہ فتویٰ بھی ہے کہ اگر کوئی پہلے سے طلاق کی نیت رکھتا ہو تو اس کا عقد دائمی باطل ہے اس نے اپنے اس فتوی میں تمام فقہائے اسلام کی مخالفت کی ہے۔

یہ بات بھی تعجب خیز ہے کہ صاحب المنار نے حضرت عمر کی طرف سے متعہ کے حرام قرار دیئے جانے کی ناقابل قبول تاویل و توجیہ کی ہے کیونکہ اس مقام پر تین احتمال دیئے جا سکتے ہیں:

i ۔ رسول اللہ (ص) کے مقابلے میں حضرت عمر نے اجتہاد کیا ہو گا اور متعہ کو حرام قرار دیا۔

ii ۔ اپنے اجتہاد کے ذریعے وہ اس نتیجے پر پہنچے ہوں گے کہ رسول اللہ (ص) نے متعہ کو حرام قرار دیا ہے۔

iii ۔رسول اللہ (ص) کی طرف سے متعہ کو حرام قرار دینے کی روایت نقل کی ہو گی۔

یہ احتمال صحیح نہیں کہ حضرت عمر نے رسول اللہ (ص) کی روایت نقل کی ہو کیونکہ یہ احتمال تحریم کی اپنی طرف نسبت دینے سے سازگار نہیں چونکہ متعدد روایات کے مطابق حضرت عمرنے تحریم متعہ کی نسبت اپنی طرف دی ہے بالفرض اگر ایسی روایت موجود بھی ہے تو یہ روایت ان تمام روایات کی معارض ہو گی جن کے مطابق خلافت حضرت عمر میں کافی عرصے تک متعہ حلال تھا حضرت عمر ،خلافت ابوبکر کے دوران کہاں تھے


اورانہوں نے اس روایت کو حضرت ابوبکر اور دوسرے مسلمانوں کے سامنے کیوں نہیں بیان کیا ان سب باتوں کے علاوہ حضرت عمر کی روایت خبر واحد ہے جس سے نسخ ثابت نہیں ہوتا۔

یہ احتمال بھی صحیح نہیں ہے کہ حضرت عمر اپنے اجتہاد سے اس نتیجے تک پہنچے ہوں کہ رسول اللہ (ص) نے متعہ کو حرام قرار دیا ہو کیونکہ صحابہ کی ایک تعداد شہادت دے رہی ہے کہ متعہ رسول اللہ (ص) کی وفات تک حلال تھا اس کے علاوہ حضرت عمر کے اجتہاد کی کوئی ارزش نہیں کیونکہ لوگوں کی شرعی تکلیف یہ نہیں کہ حضرت عمر کی رائے اور اجتہاد کی پیروی کریں بلکہ یہ دونوں احتمال خود حضرت عمر کی تصریح کیخلاف ہیں جس میں انہوں نے کہاتھا:

''متعتان کانتا علی ٰ عهد رسول الله (ص) انا امنهی عنهما و اعاقب علیهما،،

''نکاح متعہ اور حج تمتع رسول اللہ (ص) کے زمانے میں انجام پاتے تھے اور میں ان دونوں پر پابندی لگا رہا ہوں اور اس کی مخالفت کرنے والے کو سزا دوںگا،،

اب صرف یہ احتمال باقی رہ جاتا ہے کہ حضرت عمر نے قول پیغمبر (ص) کیخلاف متعہ کو حرام قرار دیا ہو اسی لئے حج تمتع کے حرام قرار دینے میں لوگوںنے اس کی اتباع نہیں کی اور نہ نکاح متعہ کے جرم میں حد کے قائل ہیں کیونکہ مسلمانوں کافرض ہے کہ وہ اپنے رسول (ص) کی پیروی کریں اور انکے مقابلے میں ہر شخص کے فتویٰ اور رائے کو ٹھکرا دیں۔

( وَمَا كَانَ لِمومن وَلَا مومنةٍ إِذَا قَضَى اللَّـهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ۗ ) ۳۳:۳۶

''اور نہ کسی ایماندار مرد کو یہ مناسب ہے اور نہ کسی ایماندار عورت کو کہ جب خدا اور اس کےرسول کسی کام کا حکم دیں تو ان کو اپنے اس کام (کے کرنے نہ کرنے) کا اختیارہو،،


رسول اللہ (ص) نے فرمایا:

''ما احللت الاما احل الله ولا حرمت الاما حرم الله،، (۱)

''میں نے اسی عمل کو حلال قرار دیا جسے خدا نے حلال قرار دیا اور اسی کو حرام قرار دیا جسے خدا نے حرام قرار دیا،،

نیز آپ (ص) نے فرمایا:

''فوالذی نفسی بیده مایخرج منه فمه الا حق ،، (۲)

''قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میرے منہسے حق کے علاوہ کچھ نہیں نکلتا،،

ان تمام حقائق کے ہوتے ہوئے قوشجی نے حضرت عمر کی طرف سے عذر خواہی کرتے ہوئے لکھا ہے:

''رسول اللہ (ص) کے خلاف حضرت عمر کا فتویٰ کوئی قابل اعتراض بات نہیں، کیونکہ اجتہادی مسائل میں مجتہدین کاباہمی اختلاف کوئی نئی بات نہیں ہے،،(۳)

آمدی کا کہنا ہے:

''علماء کا اس مسئلے میں اختلاف ہے کہ اگر کسی مسئلے کے بارے میں قرآن کی کوئی تصریح آیت نہ ہو تو کیا ایسے موقعوں پر رسول اللہ (ص) اپنے اجتہادپر عمل کرتے تھے ؟ احمد بن حنبل اور قاضی ابو یوسف کا یہ عقیدہ ہے کہ رسول اللہ (ص) اپنے اجتہادپرعمل کرتے تھے شافعی نے بھی اپنے رسالے میں اس (اجتہاد) کو جائز قرار دیا ہے ، ا لبتہ حتمی طورپر نہیں بعض اصحاب شافعی ، قاضی عبدالجبار اور ابوالحسین بصری کا بھی یہی عقیدہ ہے،،۔

____________________

(۱) طبقات ابن سعد ، طبع مصر ، ص ۷۲ ، طبقات میں اس کے بعد والی روایت بھی اسی مضمون کی ہے۔

(۲) اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے ، التاج ، ج ۱ ، ص ۶۶

(۳) شرح التجرید فی بحث الامامۃ۔


اس کے بعد آمدی لکھتے ہیں:

''ہماری رائے بھی یہی ہے کہ یہ (رسول اللہ کاا جتہاد کرنا) عقلاً جائز ہے اور روایات کے ذریعہ ایسا اجتہاد منقول بھی ہے،،(۱)

آمدی مزید کہتے ہیں:

''جن حضرات نے نبی کریم (ص) کیلئے اجتہاد کو جائز قرار دیا ہے ان کا اختلاف یہ ہے کہ آیا رسول (ص) سے اجتہادی غلطی ہو سکتی ہے ؟ ہمارے بعض علماء نے کہا ہے کہ رسول (ص) سے اجتہادی غلطی نہیں ہو سکتی اور اکثر علماء حنبلی حضرات ، اصحاب حدیث ، جبائی اور معتزلہ کی ایک جماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ رسول سے اجتہادی غلطی ہو سکتی ہے بشرطیکہ یہ غلطی بار بار نہ ہو،،۔

اس کے بعد آمدی کا کہنا ہے:

''ہمارا عقیدہ بھی یہی ہے کہ رسول (ص) سے اجتہادی غلطی ہو سکتی ہے،،(۲)

ان تمام بحثوں کا خلاصہ یہ نکلا کہ آیہ متعہ نسخ نہیں ہوئی اور حضرت عمر کا متعہ کو حرام قرار دینا اور کچھ صحابہ کاطوعاً یا کرھاً اس کا ہم رائے ہونا ، نص رسول (ص) کے مقابلے میں اجتہاد ہے جس کا علماء کی ایک جماعت نے اعتراف کیا ہے اس کے علاوہ سوائے حضرت عمر کے منع کرنے کے ، متعہ کے حرام قرار دیئے جانے پر کوئی دلیل نہیں یہ الگ بات ہے کہ لوگوں نے سنت نبی کی طرح سنت خلفاء کوبھی واجب الاتباع سمجھ لیا ہے۔(۳)

____________________

(۱) الاحکام فی اصول الاحکام ، ج ۴ ، ص ۲۲۲

(۲) ایضاً ص ۲۹۰

(۳) حاشیہ منتقیٰ للفقیٰ ، ج ۲ ، ص ۵۱۹


بہرحال عبداللہ ابن عمر نے نہایت عمدہ بات کہی ہے ''سنت پیغمبر (ص) قابل اتباع ہے یا سنت عمر ؟ نیز شیخ محمد عبدہ نے بھی آیہ شریفہ : 'الطلاق مرتان،، کی تفسیر میں بہت عمدہ بات کہی ہے(۱)

۱۴۔( وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ ۚ وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدًا ) ۴:۳۳

''اور ماںباپ (یا) اور قرابتدار (غرض) جو شخص جو ترکہ چھوڑ جائے ہم نے ہر ایک کا (والی) وارث مقرر کر دیا ہے اور جن لوگوںسے تم نے مستحکم عہد کیا ہے ان کا مقررہ بھی تم دے دو بیشک خداہر چیز پر گواہ ہے،،۔

اس آیہ شریفہ کے مفہوم کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے بعض علمائے کرام فرماتے ہیں کہ جملہ :والذین عقدت ایمانکم،، میں ایک مستقل حکم بیان کیا جا رہا ہے اور اس کا آغاز آیت میں موجود حکم سے کوئی تعلق نہیں ، اس طرح یہ ایک جملہ مستانفہ ہے یعنی اس میں ایک ابتدائی حکم بیان کیا جا رہا ہے اس تفسیر کے مطابق ''نصیبھم،، کے معنی نصحیت ، مدد ، عقل اور مشورہ کے ہیں اس قول کے مطابق آیہ کریمہ محکم ہے اور منسوخ نہیں ہوئی یہ قول ابن عباس ، مجاہد اور سعید بن جبیر کی طرف منسوب ہے(۲)

بعض علماء کرام اور مفسرین نے اس جملے کو اپنے ماقبل پر معطوف قرار دیا ہے اور نصیب کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ اس سے مراد وارثوں کا وہ حصہ ہے جو انہیں ترکہ سے ملا کرتا ہے۔ البتہ انہی حضرات میں ایک اور اختلاف موجود ہے بعض فرماتے ہیں کہ آیہ کریمہ میں عقدیمین سے مراد صیغہ اخوت اور اس قسم کے دوسرے عقود ہیں جو زمانہ جاہلیت میں باعث ارث بنتے تھے اسلام نے بھی اس حکم کی تائید کی حتیٰ کہ آیت مواریث نازل ہوئی:

( وَأُولُو الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أَوْلَىٰ بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللَّـهِ ۗ ) ۸:۷۵

''اور صاحبان قرابت خدا کی کتاب میں باہم ایک دوسرے کے بہ نسبت (اوروں کے) زیادہ حق دار ہیں،،۔

____________________

(۱) اسی کتاب کے ضمیمہ نمبر ۸ میںتین طلاقوں کے بارے میں شیخ محمد عبدہ کی رائے ملا خطہ فرمائیں۔

(۲) الناسخ و المنسوخ للخاس ، ص ۱۰۷


اور اس طرح پہلی آیت جس کی رو سے عہدو پیمان بھی سبب ارث بنتے تھے نسخ ہو گئی ۔(۱)

بعض علماء فرماتے ہیں کہ عقدیمین سے مراد عقد ضمان جریرہ ہے(۲) بنا برایں اگر ہم ضمان جریرہ کو سبب ارث قرار نہ دیں، جیسا کہ اکثر علماء اہل سنت کی یہی رائے ہے ، تو اس صورت میں یہ آیت ، آیہ ارث کے ذریعے نسخ ہو گئی(۳) اور اگر ضمان جریرہ کو سبب ارث قرار دیں جس کے قائل ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب ہیں تو یہ آیت محکم ہو گئی یعنی نسخ نہیں ہو گی۔

ابو حنیفہ اور ان کے پیروکار اپنے اس نظریئے پر یوں استدلال کرتے ہیں کہ آیہ مواریث ، غیر اولی الارحام کے ارث کی نفی نہیں کرتی بلکہ صرف ''اولی الارحام،، کو ''غیر اولی الارحام،، پر مقدم قرار دیتی ہے بنا برایں ان دونوں آیتوں میں کسی قسم کی منافات نہیں پائی جاتی تاکہ آیہ مواریث پہلی آیت کیلئے ناسخ بن سکے(۴)

مولف: قول حق یہ ہے کہ آیہ کریمہ کا مدلول اورا س کا مفہوم وہی ہے جو اس کی ظاہری عبارت سے سمجھا جا رہا ہے اور وہ یہ کہ عہد و پیمان سے بھی ارث ثابت ہو جاتا ہے لیکن اس کےباوجود آیہ کریمہ کا آیہ مواریث کے ذریعے نسخ ہونا لازم نہیں آتا۔

وضاحت: آیت کے سیاق سے یہی سمجھا جاتا ہے کہ آیہ کریمہ میں مذکور ''نصیب،، سے مراد ارث ہے اور اس کو نصرت ، نصیحت اور مشورہ جیسے معنوں پر محمول کرنا خلاف ظاہر بلکہ خلاف صریح آیت ہے۔

یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ ان تین قسم کے لوگوں (والدین ، قریبی رشتہ دار اور ہم پیمان) کا آیت میں ذکر کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ ایک ہی طبقہ کے ارث کے حقدار ہیں کیونکہ والدین کی وفات کے بعد بیٹا ان کا وارث بنتا ہے اور اولاد کی موجودگی میں میت کے کسی دوسرے رشتہ دار کو ارث نہیں ملتا۔

____________________

(۱) ایضاً : ص ۱۰۹

(۲) دو آدمی اپنے اوپر عائد جرمانے میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹانے کا عہد کریں (مترجم)

(۳) تفسیر ابن کثیر ، ج ۱ ، ص ۴۹۰

(۴) احکام القرآن للجصاص ، ج ۲ ، ص ۱۸۵


بنا برایں آیت صرف اتنا بتاتی ہے کہ مجموعی طورپر ارث کے حقدار یہ لوگ (والدین ، رشتہ دار اور ہم پیمان) ہیں یہ بات کتاب و سنت کے دوسرے دلائل سے ثابت ہو گی کہ وارثوں میں بعض ، بعض پر مقدم ہیں اور مقدم کے ہوتے ہوئے موخر کی نوبت نہیں آتی۔

اس تفسیر کے مطابق آیہ کریمہ اجمالی طور پر تمام وارثوں کو شامل ہے یعنی اولاد والدین کے ترکہ کی وارث ہو گی اسی طرح دوسرے قریبی رشتہ دار ایک دوسرے کے وارث ہوںگے اور جس کے ساتھ کوئی عہدو پیمان کیا گیا ہو گا وہ بھی باقی وارثوں کے شریک کے طورپر یابالترتیب مرنے والے کاوارث ہو گا۔

تفصیل: رشتہ داری کے علاوہ ارث کے ثابت ہونے کیلئے کسی نہ کسی عہدو پیمان کا ہونا لازمی امر ہے یہ عہدو پیمان نکاح ہو گا جس میں عقد نکاح کے ذریعے شوہر و بیوی ایک دوسرے کے وارث بنتے ہیں یا یہ عہد و پیمان بیعت اور تبعیت کی صورت میں ہو گا جس کو ولاء امامت کہا جاتا ہے اس میں کسی کو کوئی اختلاف نہیں کہ رسول اللہ (ص) کویہ حق (حق وراثت) حاصل تھا اہل سنت کی متعدد روایات میں آیا ہے کہ آپ (ص) نے فرمای

''انا وارث من لاوارث له ،، (۱)

''میں اس کا وارث ہوں جس کا کوئی وارث نہ ہو،،

اس میں کوئی اشکال و اعتراض نہیں کہ یہ حق انبیاء کے بعد ان کے اوصیاء کا کوئی وارث نہ ہو،،

اس میں کوئی اشکال و اعتراض نہیں کہ یہ حق انبیاء کے بعد ان کے اوصیاء کو حاصل ہے کیونکہ قطعی دلائل سے ثابت ہے کہ ائمہ (ع) نفس رسول (ص) کی حیثیت رکھتے ہیں علماء امامیہ کا اس پر اتفاق ہے اور اہل بیت اطہار (ع) کی روایت بھی اس پر دلالت کرتی ہیں کبھی یہ عہدوپیمان عقد عتق (غلام آزادکرنا) سے حاصل ہوتا ہے جس میں غلام کو آزاد کرنے والا شخص آزادشدہ غلام کا وارث بنتا ہے اور اس پر بھی علماء امامیہ کا اتفاق ہے چنانچہ علماء امامیہ کے علاوہ بھی کچھ دوسرے علماء اس بات کے قائل ہیں۔

____________________

(۱) یہ روایت احمد ،ابوداؤد اور ابن ماجہ نے نقل کی ہے: المنتقیٰ ، ج ۲ ، ص ۴۶۲


کبھی عہد وپیمان کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ دو آدمی اپنے اوپر عائد جرمانوں کی ادائیگی میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹانے کا عہد کرتے ہیں جسے ''ولاء ضمان جریدہ،، کہتے ہیں علماء امامیہ کا اتفاق ہے کہ ''ضمان جریرہ،، بھی ارث کا سب بنتا ہے ابو حنیفہ اور ان کے پیروکاروں کابھی یہی عقیدہ ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ آیہ کریمہ کا نسخ ہونا دو چیزوںپر موقوف ہے:

i ۔ قول خداوندی:

( وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ ۚ ) ۴:۳۳

''اور جنل وگوں سے تم نے مستحکم عہد کیا ہے ان کا مقررہ بھی تم دے دو،،

کا عطف اپنے ماقبل پر ہو اور جملہ مستانفہ نہ ہوتا کہ ''نصیب،، سے مراد نصیحت اور مشورہ وغیرہ نہ ہو۔

ii ۔ عقدیمین سے مراد صرف ''ضمان جریرہ،، ہو اور ''ضمان جریرہ،، سبب ارث تو نہ بن سکتا ہو یا عقدیمین سے مراد عقد مواخات وغیرہ ہوں جو باتفاق اجماع مسلمین سبب ارث نہیں بنسکتے۔

جہاں تک پہلی چیز کا تعلق ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ جملہ :( وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ ۚ ) ۔۔۔۔۔۔ الخ کا عطف اپنے ماقبل پر ہے جہاں تک دوسری چیز کاتعلق ہے یہ قابل قبول نہیں کیونکہ عقدیمین سے مرادصرف ''ضمان جریرہ،، نہیں بلکہ ''ضمان جریرہ،، عقدیمین کے مصادیق میں سے ایک مصداق ہے اس طرح اس کا حکم منسوخ نہیں ہو گااور یہ دعویٰ بھی بلا دلیل ہے کہ عقدیمین سے مراد عقد مواخات اور دیگر عقود ہیں جو سبب میراث نہیں بنتے۔

۱۵۔( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُكَارَىٰ حَتَّىٰ تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ ) ۴:۴۳

''اے ایمان والو ! تم نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ تاکہ جو کچھ تم منہ سے کہو سمجھو بھی،،


اکثر عملاء و مفسرین کی رائے یہ ہے کہ یہ آیت نسخ ہو گئی ہے ) لیکن ناسخ آیت کے بارے میں اختلاف ہے قتادہ مجاہد اور حسن کی رائے یہ ہے کہ شراب کو حرام قرار دے کر اس آیت کو نسخ کیا گیا ہے(۲) بایں معنی کہ زیر بحث آیہ کریمہ میں شہ اور شراب نوشی کو صرف حالت نماز میں حرام قرار دیا ہے لیکن آیہ تحریم خمر کے ذریعے یہ آیہ نسخ ہو گئی ہے اور نشہ و شراب نوشی کوہر حالت میں حرام قرار دیا گیا ہے۔

ابن عباس کا قول ہے کہ یہ آیت ، اس آیت کے ذریعے نسخ ہو گئی ہے

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ ) ۵ :۶

''جب تم نماز کیلئے آمادہ ہو تو اپنے منہ اور کہنیوں تک ہاتھ دھو لیا کرو،،۔

بایں معنی کہ زیر بحث آیت( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ ) ۔۔۔۔۔۔ الخ میں حالت نماز میں صرف نشے سے روکا گیا ہے اور آیہ وضو کے ذریعے یہ آیت نسخ ہو گئی اور نماز میں وضو کو بھی لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔

لیکن یہ دونوں اقوال اور نظریئے باطل ہیں:

پہلا قول اس لئے باطل ہے کہ زیر بحث آیہ کریمہ سے یہ ہرگز سمجھا نہیں جاتا کہ نماز کے علاوہ دوسرے حالات میں شراب نوشی جائز ہے تاکہ آیہ حرمت خمر اس کے منافی ہو اور اس کیلئے ناسخ بن سکے بالفرض یہ مان بھی لیا جائے کہ اس وقت شراب نوشی حرام نہیں تھی ، پھر بھی اس آیت میں نہ شراب کے حرام ہونے کی طرف کوئی اشارہ ہے اور نہ اس کے حلال ہونے کی طرف اگرچہ یہ فرضی ہے کہ اس زمانے میں شراب حرام نہ ہو اس لئے کہ عبداللہ ابن عمر کی روایت کے مطابق شراب کے بارے میں تین آیات نازل ہوئی ہیں:

____________________

(۱) الناسخ و المنسوخ للخاس ، ص ۱۰۹

(۲) احکام القرآن للجصاص ، ج ۲ ، ص ۲۰۱


( يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ ۖ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِن نَّفْعِهِمَا ۗ ) ۲:۲۱۹

''(اے رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) ) تم سے لوگ شراب اور جوئے کے بارے پوچھتے ہیں تو تم ان سے کہہ دو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور (کچھ) فائدے بھی ہیں اور ان کے فائدہ سے ان کاگناہ بڑھ کے ہے،،۔

عبداللہ بن عمر کہتے ہیں:

جب یہ آیت نازل ہوئی تو لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ص) اگر اجازت ہو تو ہم شراب کے اس فائدے سے استفادہ کریں جس کی طرف آیہ کریمہ میں اشارہ کیا گیا ہے آپ (ص) نے ان کی درخواست کےم قابلے میں سکوت فرمایا اس کے بعد دوسری آیت نازل ہوئی:(۱)

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُكَارَىٰ ) ۴:۲۳

''اے ایمان والو! تم نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ،،۔

اسی مضمون کی روایت ابوہریرہ نے بھی نقل کی ہے(۲) ابومیسرہ نے حضرت عمر بن خطاب سے روایت بیان کی ہے کہ:

''جب آیت تحریم خمر نازل ہوئی تو حضرت عمر بن خطاب نے کہا:

''اللهم بین لنافی الخمربیاناشافیا،،

''پالنے والے! شراب کے بارے میں کوئی واضح بیان فرما،،

____________________

(۱) مسند الطیاسی ، ج ۸ ، ص ۲۶۳

(۲) مسندا حمد، ج ۲ ، ص ۳۵۱


اس پر سورہ بقرہ کی یہ آیت نازل ہوئی:

( يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ ۖ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ ) ۲:۲۱۹

''(اے رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم)) تم سے لوگ شراب اور جوئے کے بارے میں پوچھتے ہیں تو تم ان سے کہہ دو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے،،۔

حضرت عمر کو بلا کر ان کے سامنے یہ آیہ کریمہ پڑھی گئی مگر انہوں نے اس پر اکتفا نہ کی اور دوبارہ دعا کی''اللهم بین لنا فی الخمر بیانا شافیا،، اس پر سورہ نساء کی یہ آیت نازل ہوئی:

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنتُمْ سُكَارَىٰ ) ۴:۲۳

''اے ایمان والو! تم نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ،،۔

ابومیسرہ کہتے ہیں: رسول اللہ (ص) کے موذن نے نماز کے بعد اعلان کیا :''لایقربن الصلوة سکران،، کوئی شخص نشے کی حالت میں نماز کے نزدیک نہ جائے،، حضرت عمر کو بلا کر انہیں یہ آیت سنائی گئی اس پر حضرت عمر نے کہا:''اللهم بین لنافی الخمر بیاناشافیا،، چنانچہ سورہ مائدہ کی ایک آیت نازل ہوئی جب اس کی تلاوت حضرت عمر کے سامنے شروع ہوئی اور جب قاری اس جملے تک پہنچا:

( فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ ) ۵:۹۱

''تو کیا تم اس سے باز آنے والے ہو،،

تو حضرت عمر پکار اٹھے :''انتهینا انتهینا،، اب ہم باز آئے ، اب ہم باز آئے،،(۱)

نسائی نے بھی یہ حدیث ، الفاظ کے معمولی اختلاف کے ساتھ نقل کی ہے(۲) (ان روایات سے ثابت ہوتا ہے کہ زیر بحث آیت کے نزول سے پہلے شراب حرام تھی)۔

____________________

(۱) مسند احمد ، ج ۱ ، ص ۵۳

(۲) سنن نسائی ، باب تحریم الخمر ، ج ۲ ، ص ۳۲۳


دوسرا قول اس لئے باطل ہے کہ نماز کے موقع پر وضو کے واجب ہونے کا زیر بحث آیت سے کوئی تعلق نہیں تاکہ یہ ناسخ بن سکے۔

جو حضرات اس کے نسخ ہونے کے قائل ہیں شاید ان کی دلیل یہ ہے: آیہ کریمہ میں ایسے نشے کی حالت میں نماز کے قریب جانے سے منع کیا جا رہا ہے جو غفلت اور بے ہوشی کی حد تک نہ پہنچے کیونکہ نشے کی اس حد تک پہنچنے کے بعد اسے کسی بھی عمل کا مکلف بنانا قبیح ہو گا بنا برایں اگر کوئی شخص شراب پی لے اور اس پر معمولی سا نشہ طارق ہو اور وہ اپنی مسؤلیت کی طرف متوجہ ہو تو وہ بالا جماع مکلف ہے اور اس کا لازمہ یہ ہے کہ آیہ کریمہ کا مفہوم نسخ ہو۔

لیکن یہ تو ہم سراسر باطل ہے کیونکہ آیت میں ''سکر،، سے مراد نشے کا وہ مراحلہ ہے جس میں انسان ہوش و حواس کھو بیٹھتا ہے: چنانچہ اس کی تائید آیت کے آخری حصے سے ہوتی ہے:

( حَتَّىٰ تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ ) ۴:۴۳

''جو کچھ تم منہ سے کہو سمجھو بھی،،۔

پس اس نہی( لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ ) کو حرمت تکلیفی پر محمول کیا جائے گا اگرچہ اس حالت میں نماز پڑھنا نشے والے آدمی کی قدرت میں نہیں ہو گا لیکن چونکہ یہ شخص اپنے اختیار اور ارادے سے اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھا ہے اور جو کام انسان کے ارادے اور اختیار سے اس کی قدرت سے باہر ہو جائے اسے اس کامکلف بنایا جا سکتا ہے اس لئے قبل اس کے کہ انسان ایسی نشہ آور چیز کھا لے اسے نماز سے روکا جا سکتا ہے اور اس نہی کی مخالفت پر اسے عقاب بھی کیا جا سکتا ہے اور اس قسم کے اکام شریعت اسلامیہ میں بہت سے ہیں۔


کبھی اس قسم کی نہی کا مقصد یہ بتانا ہوتا ہے کہ ایسی حالت میں پڑھی گئی نماز با طل ہو گی چنانچہ اس قسم کی ترکیبوں سے یہی ظاہر ہوتا ہے اس معنی کے مطابق مطلب اور زیادہ واضح ہوتا ہے بہرحال اس آیت کے نسخ ہونے کاقائل ہونے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔

۶۔( إِلَّا الَّذِينَ يَصِلُونَ إِلَىٰ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَاقٌ أَوْ جَاءُوكُمْ حَصِرَتْ صُدُورُهُمْ أَن يُقَاتِلُوكُمْ أَوْ يُقَاتِلُوا قَوْمَهُمْ ۚ وَلَوْ شَاءَ اللَّـهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَيْكُمْ فَلَقَاتَلُوكُمْ ۚ فَإِنِ اعْتَزَلُوكُمْ فَلَمْ يُقَاتِلُوكُمْ وَأَلْقَوْا إِلَيْكُمُ السَّلَمَ فَمَا جَعَلَ اللَّـهُ لَكُمْ عَلَيْهِمْ سَبِيلًا ) ۴:۹۰

''مگر جو لوگ کسی ایسی قوم سے جاملے ہوں کہ تم میں اور ان میں (صلح کا) عہد و پیمان ہو چکا ہے یا تم سے جنگ کرنے یا اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے دل تنگ ہو کر تمہارے پاس آئے ہوں (تو انہیں آزار نہ پہنچاؤ) اور اگر خدا چاہتا تو ان کو تم پر غلبہ دیتی تو وہ تم سے ضرور لڑ پڑتے پس اگر وہ تم سے کنارہ کشی کریںاور تم سے نہ لڑیں اور تمہارے پاس صلح کا پیغام دیں تو پھر تمہارے لئے ان لوگوںپر (آزار پہنچانے کی) خدا نے کوئی سبیل نہیں نکالی،،۔

بعض علماء کا کہنا ہے: یہ آیت ، اس آیت کے ذریعے نسخ ہو گئی ہے جس میں مشرکین کے عہدو پیمان کو ٹھکرانے اور ان سے جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے چاہے وہ (مشرکین) مسلمانوں سے کنارہ کش ہوںیا نہ ہوں بنا برایں اس آیت کی دو چیزیں نسخ ہو گئی ہیں:

i ) مشرکین کے عہدو پیمان کا تحفظ

ii ) ان سے جنگ کا آغاز نہ کرنا۔

جواب: اس آیت کا مشرکین سے کوئی ربطہ نہیں کیونکہ یہ آیت ان منافقین کے بارے میں ہے جو ایک مرتبہ بظاہر اسلام لانے کے بعد دوبارہ مرتد ہو گئے تھے ایسے لوگوں کے بارے میں اسلام کا حکم یہ ہے کہ انہیں قتل کر دیا جائے سوائے دو قسم کے لوگوں کے چنانچہ زیر بحث آیت سے قبل اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:


( فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّـهُ أَرْكَسَهُم بِمَا كَسَبُوا ۚ أَتُرِيدُونَ أَن تَهْدُوا مَنْ أَضَلَّ اللَّـهُ ۖ وَمَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا ) ۴:۸۸

''(مسلمانو!) پھرتم کو کیا ہو گیا ہے کہ تم منافقوں کے بارے میں دو فریق ہو گئے ہو( ایک موافق ایک مخالف) حالانکہ خود خدا نے ان کے کرتوتوں کی بدولت ان کی (عقلوں) کو الٹ پلٹ دیا ہے ، کیا تم یہ چاہتے ہو کہ جس کو خدا نے گمراہی میں چھوڑ دیا ہے تم اسے راہ راست پر لے آؤ حالانکہ خدا نے جس کو گمراہی میں چھوڑ دیا ہے اس کیلئے تم میں سے کوئی شخص راستہ نکال ہی نہیں سکتا،،۔

( دُّوا لَوْ تَكْفُرُونَ كَمَا كَفَرُوا فَتَكُونُونَ سَوَاءً ۖ فَلَا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ أَوْلِيَاءَ حَتَّىٰ يُهَاجِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوْا فَخُذُوهُمْ وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ ۖ وَلَا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا ) : ۸۹

'' ان لوگوں کی خواہش تو یہ ہے کہ جس طرح وہ کافر ہو گئے تم بھی کافر ہو جاؤ تاکہ تم ان کے برابرہو جاؤ پس جب تک وہ خدا کی راہ میں ہجرت نہ کریں تم ان میں سے کسی کو دوست نہ بناؤ پھر اگر وہ اس سے بھی منہ موڑیں تو انہیں گرفتار کرو اور جہاں پاؤ ان کو قتل کر دو اور ان میں سے کسی کو نہ اپنا دوست بناؤ نہ مدد گار،،۔

( إِلَّا الَّذِينَ يَصِلُونَ ) : ۹۰

''مگر جو لوگ کسی ایسی قوم سے جا ملے ہوں،،

بنا برایں آیہ شریفہ میں ایسے افراد کے قتل کا حکم دیا جا رہا ہے جو پہلے کافر تھے پھر مسلمان ہوئے اور پھر مرتد ہو گئے صرف دو صورتوں میں انہیں قتل نہیں کیا جاتا:


i ) ایسے لوگوں سے جا ملیں جن کا مسلمانوں سے عہدو پیمان ہو(کہ وہ ایک دوسرے کو گزند نہیںپہنچائیں گے) اور یہ ہم پیمان لوگ ان مرتدین کو مسلمانوں کی طرف سے پناہ دیں اس صورت میں اس عہد و پیمان کی خاطر مرتدین کو قتل نہیں کیا جاتا لیکن یہ حکم (عدم قتل) اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک معاہدہ باقی ہے لیکن جیسے ہی معاہدہ منسوخ ہو گا حکم بھی ہوجائےگا ۔ کیونکہ قہری بات ہے کہ موضوع برطرف ہونے کے ساتھ ساتھ حکم بھی برطرف ہو جاتا ہے اور ہم ن سخ کی بحث کے شروع میں واضح کر چکے ہیں کہ موضوع برطرف ہونے کی وجہ سے حکم کا زائل ہو جانا نسخ نہیں کہلاتا اس معاہدہ کے بعدسورۃ توبہ میں یہ معاہدہ منسوخ کر دیا گیا اور مشرکین کو چار مہینے کی مہلت دی گئی کہ اس دوران یا اسلام لے آئیں یا مملکت اسلامی سے خارج ہو جائیں بنا برایں اس پناہ دینے کا کوئی موضوع نہ رہا جس کاآیہ کریمہ میں ذکر ہے۔

ii ) صلح پسندانہ رویہ اپنا کر مسلمانوں کے قریب آئیں اور ان سے جنگ لڑنے سے کنارہ کشی کریں اس صلح کا مقصد یہ ہے کہ مرتد ہونے کے بعد دوبارہ اسلام لے آئیں اور کلمہ شہادتین زبان پر جاری کریں چنانچہ اس مطلب کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے:

( وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَىٰ إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مومنا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ) ۴:۹۴

''اور جو شخص (اظہار اسلام کی غرض سے) تم کو سلام کرے توتم (بے سوچے سمجھے) نہ کہہ دیا کرو کہ تم ایماندار نہیں (اس سے تو ظاہر ہوتا ہے) تم (فقط) دنیاوی اثاثہ کی تمنا رکھتے ہو،،۔

آیہ کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر مرتد ملی توبہ کرلے اور اسلام لے آئے تو اس کی توبہ قبول ہو گی اور توبہ کرنے کے بعد اسے قتل نہیں کیا جائے گا شیعوںکا عقیدہ بھی یہی ہے اور قرآن کی کوئی آیت اس پر دلالت نہیں کرتی کہ مرتد کو ہر حالت میں قتل کر دیا جائے تاکہ وہی آیت ناسخ بن سکے۔


اگر نسخ کے قائل حضرات ناسخ کے طور پر ان آیات کو پیش کریں جن میں مشرک اور کافر کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے تو اس کا جواب بھی واضح ہے کہ مشرکین و کفار کو اس صورت میں قتل کیا جائے گا جب قتال کا موضوع باقی رہے اور یہ وہ قاعدہ کلیہ ہے جس پر تمام احکام شرعیہ میں عمل ہوتا ہے لیکن اگر مرتد ملی توبہ کرلے تو پھر کوئی کفر باقی نہیںرہتا جس کی بنیاد پر قتال کیا جا سکے ہاں ! اہل سنت کی کچھ روایات ایسی ضرور ہیں جن کے مطابق مرتد کو مطلقاً قتل کیا جانا چاہئے (اگرچہ وہ توبہ بھی کر لے) چنانچہ بخاری ، احمد ، ترمذی ، نسائی ،ابوداؤد سجستائی اور ابن ماجہ نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا:

''من بدل دینه فاقتلوه ،، (۱)

''جو کوئی اپنا دین تبدیل کرے (مذہب چھوڑے)اسے قتل کرو،،۔

لیکن تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ قتل کا یہ حکم تب ثابت ہو گا جب مرتد توبہ نہ کرے ہاں ! مسلمانوں میں اس مدت کے با رے میں ضرور اختلاف ہے جس میں اسے توبہ کی مہلت دی جاتی ہے نیز اس میں بھی اختلاف ہے کہ اسے توبہ کرانا واجب ہے یا مستحب ، علماء امامیہ میں مشہور میں مشہور قول یہی ہے کہ اس مرتد کو توبہ کی دعوت دینا واجب ہے البتہ توبہ کیلئے کوئی خاص مدت معین نہیں کی گئی بلکہ اسے اتنی مہلت دی جائے کہ جس میں اسلام کیطرف رجوع کر سکے۔

بعض علمائے امامیہ کی طرف منسوب ہے کہ اسے تین دن کے اندر توبہ کی دعوت دی جائے گی۔ اس قول کو بہت سے علمائے اہل سنت نے بھی اختیار کیا ہے ابو حنیفہ اور ابو یوسف کا عقیدہ یہ ہے کہ اسے تین دن کی مہلت دینا مستحب ہے علی بن ابی بکرمرغینانی کا عقیدہ یہ ہے کہ اسے فوراً (بغیر مہلت دیئے) قتل کیا جائیگا ابن ہمام نے شافعی اور ابن مندر کی طرف یہ بات منسوب کی ہے کہ اگر فوراً توبہ کرے تو ٹھیک ورنہ اسے قتل کر دیا جائے گا(۲)

____________________-

(۱) المنتقی ، ج ۲ ، ص ۷۴۵

(۲) فتح القدیر ، ج ۴ ، ص ۳۸۶


بہرحال اس میں کوئی شک نہیں کہ توبہ کی وجہ سے قتل کا حکم ساقط ہو جاتا ہے جس پر طرفین کی روایات دلالت کرتی ہیں ان تمام شواہد کے ہوتے ہوئے آیہ شریفہ کو منسوخ قرار دینا کسی صورت میں بھی درست نہ ہو گا۔

( فَإِن جَاءُوكَ فَاحْكُم بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ ۖ وَإِن تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَن يَضُرُّوكَ شَيْئًا ۖ وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُم بَيْنَهُم بِالْقِسْطِ ۚ إِنَّ اللَّـهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ ) ۵:۴۲

''(اے رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) ) اگر یہ لوگ تمہارے پاس (کوئی معاملہ لے کر) آئیں تو (تم کو اختیار ہے) خواہ ان کے درمیان فیصلہ کر دو یا ان سے کنارہ کشی کرو اور تم ان سے کنارہ کش رہو گے تو (کچھ خیال نہ کرو) یہ لوگ تمہارا ہرگز کچھ بگاڑ نہیں سکتے اور اگر ان میں فیصلہ کرو تو انصاف سے فیصلہ کرو کیونکہ خدا انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے،،۔

اس آیہ کریمہ کے بارے میں علماء کے اقوال مختلف ہیں بعض نے کہا ہے یہ آیت محکم ہے نسخ نہیں ہوئی چنانچہ علمائے شیعہ کا اتفاق ہے کہ آیہ نسخ نہیں ہوئی بنا برایں جب کسی حاکم شرعی کے پاس اہل کتاب کوئی مقدمہ لے کر آئیں تو حاکم کو اتیار حاصل ہے کہ چاہے تو اس کا فیصلہ شریعت کے مطابق کرے اور چاہے تو انہیں اپنی حالت اور دین و مذہب پر چھوڑ دے شیخ طوسی علیہ الرحمہ صحیح سند سے امام محمد باقر (علیہ السلام) کی روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ (ع) نے فرمایا:

''ان الحاکم اذا اتاه اهل التوراة واهل الانجیل یتحاکمون الیه کان ذالک الیه ان شآء حکم بینهم و ان شآء ترک،، (۱)

''جب اہل تورات اور اہل انجیل حاکم شرع کے پاس کوئی مقدمہ لے کر آئیںتو ان کا فیصلہ کرنے یا نہ کرنے کا اختیار حاکم شرع کو حاصل ہے،،۔

____________________

(۱) وسائل ، ج ۳ ، باب ۲۷ ، ازکتاب القضاء ، ص ۴۰۶ طبع عین الدولہ


علمائے اہل سنت میں سے شعبی ، ابراہیم نخعی ، عطا اور مالک کا بھی یہی عقیدہ ہے(۱) بعض علمائے اہلسنت کا نظریہ یہ ہے کہ یہ آیہ کریمہ اس آیت کے ذریعے منسوخ ہو گئی ہے:

( فَا حْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ ) ۵:۴۸

''تو جو کچھ تم پر خدا نے نازل کیا ہے اس کے مطابق تم بھی حکم دو ، اور ان لوگوں کے خواہش نفسانی کی پیروی نہ کرو،،۔

اس کے برعکس مجاہد کی رائے یہ ہے کہ دوسری آیت( فَا حْكُم بَيْنَهُم ) ۔۔۔۔۔۔ الخ) پہلی آیت( فَإِن جَاءُوكَ فَاحْكُم بَيْنَهُمْ ) ۔۔۔۔۔۔ الخ) کے ذریعے نسخ ہو گئی ہے۔

لیکن تحقیق یہی ہے کہ گزشتہ آیات کی طرح یہ آیت بھی نسخ نہیں ہوئی کیونکہ دوسری آیت :( فَا حْكُم بَيْنَهُم بِمَا أَنزَلَ اللَّـهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَاءَهُمْ ) میں اہل کتاب کے درمیان فیصلہ کا حکم دیا جا رہا ہے وہ اس صورت سے مختص ہے جب حاکم شرع فیصلہ کوت رجیح دے اس امر کی تائید پہلی آیت سے بھی ہوتی ہے اس کے علاوہ پہلی آیت کا آخری حصہ: وان حکمت فاحکم بینھم بالقسط بھی اسی بات پر دلالت کرتا ہے کیونکہ آیہ کریمہ کا مفہوم و مدلول نہ کرنے کا بھی حق حاصل ہے اب فیصلہ کرنے کا حکم برطرف ہو جائے گا کیونکہ اس کا موضوع (فیصلہ کرنے کا ارادہ) ہی منتفی ہو گیا ہے۔

آیہ شریفہ کے نسخ نہ ہونے کی ایک اہم دلیل یہ ہے کہ روایات کے مطابق سورہ مائدہ (جس میں یہ دونوں آیات ہیں) رسول اللہ (ص) پر حالت سفر میں ایک ساتھ نازل ہوا ہے یہ کیسے ممکن و متصور ہو سکتا ہے کہ ناسخ و منسوخ دونوں ایک ہی وقت میں نازل ہوئی ہوں؟

____________________

(۱) الناسخ و المنسوخ للخاس ، ص ۱۳۰ اور احکام القرآن للجصاص ، ج ۲ ، ص ۴۳۴ اس قول کی نسبت حسن کی طرف بھی دی گئی ہے۔


چنانچہ عیسیٰ بن عبداللہ نے اپنے والد سے اور اس نے اپنے جد سے اور اس نے حضرت علی (علیہ السلام) سے روایت بیان کی ہے۔

''ان سورة المائده کانت من اخرما نزل رسول الله (ص) و انها نزلت و هوعلی بغلته الشهباء و ثقل علیه الوحی حتی وقعت (۱)

''سورہ مائدہ ان سورتوں میں شامل ہے جو رسول اللہ (ص) پر سب سے آخر میں نازل ہوئیں اوریہ سورہ اس وقت نازل ہوئی جب آپ (ص) ''شہبائ،، نامی اپنے خچر پر سوار تھے اور وحی کی سنگینی کی وجہ سے آپ (ص) کا خچر گر پڑا،،۔

نیز اسماء بنت یزید روایت کرتی ہیں۔

''انی لآخذه بزمام العضباء فاقة رسول الله (ص) اذا انزلت علیه المائده کلها وکادت من ثقلها تدق من عضدالناقة ،، (۲)

''میں رسول اللہ (ص) کی ''عضبائ،، نامی اونٹنی کی لگام تھامے ہوئے تھی کہ آپ (ص) پر پورا سورہ مائدہ ایک مرتبہ نازل ہوا حتیٰ کہ اس کی سنگینی کی وجہ سے قریب تھا کہ اونٹنی اپنے زانو ٹیک دیتی،،۔

اسماء بنت یزید نے دوسری سند سے روایت کی ہے:

''نزلت سورة المائدة علی النبی (ص) جمیعاً ان کا دت لتکسر الناقة ،، (۳)

''نبی اکرم (ص) پر مکمل سورہ مائدہ نازل ہوا قریب تھا کہ اس وقت وحی کی سنگینی کی وجہ سے اونٹنی کی کمر ٹوٹ جاتی،،۔

جبیر بن نفیر روایت کرتے ہیں:

____________________

(۱) تفسیر برہان ، ج ۱ ، ص ۲۶۳

(۲) تفسیر ابن کثیر ، ج ۲ ، ص ۲

(۳) مسند احمد، ج ۶ ، ص ۴۵۸ ۔ تفسیر شوکانی ، ج ۲ ، ص ۲


''حججت فدخلت علی عائشة فقالت لی : یا جبیر تقرا المائدة ؟ فقلت : نعم فقالت: اما انها اخر سورة نزلت ، فما وجدتم فیها من حلال فاستحلوه وما وجد تم من حرام فحرموه ،، (۱)

''میں حج کے موقعہ پر عائشہ کے پاس گیا تو انہوںنے مجھ سے پوچھا: جبیر! تم سورۃ مائدہ کی تلاوت کرتے رہتے ہو ؟ میں نے کہا: ہاں انہوں نے کہا: دیکھو یہ قرآن کا آخری سورہ ہے جو آپ (ص) پر نازل ہوا اس میں تمہیں جو حلال ملے اسے حلال سمجھو اور جو حرام نظر آئے اسے حرام قرار دو،،۔

ابو عبید ، ضمرۃ بن حبیب اور عیہ بن قیس سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا:

''المائدة من اخر القرآن تنزیلا ، فاحلوا حلالها و حرموا حرامها،، (۲)

''سورہ مائدہ سب سے آخر میں نازل ہوا ہے اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھو،،۔

ان کے علاوہ بھی کچھ ایسی روایات ہیں جن کے مطابق مکمل سورہ مائدہ ایک ساتھ نازل ہوا ہے ان کثیر روایات کے باوجود یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک سورہ کی دو ایتوں میں سے ایک دوسری کیلئے ناسخ قرار پائے یہ تو منسوخ پر عمل کرنے کا وقت آنے سے قبل ہی ناسخ کا نازل ہونا ہے اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ناسخ شدہ آیت کی تشریع لغو ہو گی جس کا کوئی فائدہ نہ ہو گا بلکہ بعض روایات کا مفہوم یہ تھا کہ یہ سورہ قرآن کے سب سے آخر میں نازل ہوا ہے اور یہ کہ اس کی کوئی آیت نسخ نہیں ہوئی۔

۱۸۔( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِينَ الْوَصِيَّةِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِّنكُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ إِنْ أَنتُمْ ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ ) ۵:۱۰۶

''اے ایمان والو! جب تم سے کسی (کے سر) پر موت آ کھڑی ہو تو وصیت کے وقت تم (مومنوں) میں سے دو عا دلوں کی گواہی ہونی ضروری ہے اور اگر تم (سفر ہی میں )ہو تو (بھی) دو گواہ غیر (مومن) ہی سہی،،۔

____________________

(۱) اس روایت کو احمد ، نسائی ، ابن منذر ، حاکم ، ابن مردویہ اور بیہقی نے اپنے سنن میں نقل کیا ہے ملا خطہ ہو تفسیر شوکانی ، ج ۲ ، ص ۲ اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

(۲) ایضاً

شیعہ امامیہ کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ آیت محکم ہے اور منسوخ نہیں ہوئی بنا برایں اہل کتاب سفر میں مسلمانوں کیخلاف وصیت کی شہادت دے سکتے ہیں صحابہ اور تابعین جن میں عبداللہ بن قیس ، ابن عباس ، شریح ، سعید بن مسیب ، سعید بن جبیر ، عبیدہ ، محمد بن سیرن ، شعبی ، یحییٰ بن یعمر اور سدی شامل ہیں ، نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے فقہاء میں سے سفیان ثوری نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ابو عبیدہ کا رجحان بھی اسی طرف ہے کیونکہ اس قول کے قائل زیادہ ہیں زید بن اسلم ، مالک بن انس ، شافعی اور ابو حنیفہ کی رائے یہ ہے کہ یہ آیت نسخ ہو گئی ہے اور یہ کہ کسی بھی حالت میں کافر کی شہادت جائز (قابل قبول) نہیں(۱)

لیکن تحقیق کا تقاضا یہ ہے کہ یہ عقیدہ باطل ہے اور آیہ کریمہ نسخ نہیں ہوئی اس کے دلائل یہ ہیں:

i ) طرفین کی بہت سی روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ وصیت میں جب مسلمان کی شہادت ناممکن ہو تو اہل کتاب کی شہادت نافذ اور قابل قبول ہے ان روایات میں ایک کلینی کی روایت ہے جسے اس نے ہشام بن حکم سے اور اس نے امام صادق (علیہ السلام) سے نقل کیا ہے کہ آپ (ع) نے قول خداوندی: اواخران من غیرکم،، کی تفسیر میں فرمایا:

''اذاکان الرجل فی الارض غربة لایوجد فیها مسلم جازت شهادة من لیس بمسلم علی الوصیة (۲)

''اگر کوئی پردیس میں ہو ا ور اسے کوئی مسلمان میسر نہ ہو تو وہ غیر ملک کو اپنی وصیت کا گواہ بنا سکتا ہے،،

شعبی نے روایت کی ہے: ''مقام،، وقوقا،، میں کسی مسلمان پر موت کے آثار نظر آنے لگے مگر وہاں کوئی ایسا مسلمان نہیںتھا جو اس کی وصیت کا گواہ بن سکتا چنانچہ اس نے اہل کتاب میں سے دو آدمیوں کو مقرر کیا یہ لوگ کوفہ میں ابو موسیٰ اشعری کے پاس گئے اور اسے اس واقعہ کی خبر دی اور مرنے والے کی وصیت اور ترکہ ابوموسیٰ اشعری کو پیش کیا ابو موسیٰ اشعری نے کہا: یہ ایسا معاملہ ہے جو رسول اللہ (ص) کے بعد کبھی پیش نہیں آیا۔

____________________

(۱) الناسخ و المنسوخ ، للخاس ، ص ۱۳۳۔۱۳۴

(۲) الوافی ، ج ۳ ، باب الاشہاد علی الوصیۃ ، ص ۸


ابو موسیٰ اشعری نے عصر کے بعد ان سے قسم لی کہ انہوں نے شہادت میں کسی قسم کی خیانت نہیں کی ، جھوٹ نہیںبولا اور نہ کوئی ردوبدل کیا اور نہ وصیت کو چھپایا ہے اس کے بعد ابو موسیٰ اشعری نے ان دونوں کی شہادت پر دستخط کئے،،(۱)

ii ) آیہ کریمہ کے نسخ نہ ہونے کی دوسری دلیل وہ روایات ہیں جن کے مطابق سورہ مائدہ آخر قرآن میں اور بیک وقت نازل ہوا اور اس کی کوئی آیت منسوخ نہیں ہوئی۔

iii ) کسی بھی آیت کا نسخ ہونا بغیر دلیل کے ثابت نہیں ہوتا اور نسخ کے قائل حضرات جو دلیل بھی پیش کرتے ہیں اس سے ان کا مدعی ثابت نہیں ہوتا۔

نسخ کی ایک دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شاہد کیلئے لازمی قرار دیا ہے کہ وہ عادل ہو اور لوگ اس سے راضی ہوں ارشاد ہوتا ہے:

( مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ ) ۲:۲۸۲

''گواہوں میں سے جو تمہیں پسند ہوں،،

( وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ ) ۶۵:۲

''اپنے لوگوں میں سے دو عادلوں کو گواہ قرار دے لو،،

کافر عادل ہو سکتا ہے اور نہ لوگ اس سے راضی ہو سکتے ہیں لامحالہ اہل کتاب کی شہادت کا حکم نسخ ہو گا

جواب: اولاً: پہلی آیت دین (قرض) کی اور دوسری آیت طلاق کی شہادت کے بارے میں نازل ہوئی ہے ان سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وصیت کے گواہ کا عادل ہونا ضروری ہے۔

ثانیاً: بفرض تسلیم اگر مان بھی لیا جائے کہ یہ دونوں آیات مطلق ہیں تو گزشتہ آیت ان کیلئے مقید قرار پائے گی اور مطلق ، مقید کی دلیل کیلئے ناسخ نہیںبن سکتا خصوصاً جب مقید کا زمانہ نزول ، مطلق سے مؤخر ہوجیسے

____________________

(۱) المنتقی ، ج ۲ ، ص ۹۴۲


زیر بحث آیہ میں ہے۔

نسخ کی دوسری دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ فاسق کی شہادت قابل قبول نہیں اور کافر یقیناً فاسق ہے اس لئے اس کی شہادت بھی قبول نہیں ہونی چاہئے۔

جواب: اس سے قبل بھی بیان کیا جا چکا ہے کہ اکثر علماء وصیت میں اہل کتاب کی شہادت کو جائز جانتے ہیں اس کے باوجود ان کی شہادت کے جائز نہ ہونے پر اجماع کا دعویٰ کیسے کیا جا سکتا ہے اور عملی طورپر فاسق مسلمان کی شہادت کے مسترد ہونے اور کافر جو کہ اپنے مذہب میں عادل ہو ، کی شہادت کے مسترد ہونے میں کوئی ملازمہ نہیں پایا جاتا۔

نسخ کی تیسری دلیل یہ پیش کی جاتی ہے کہ وصیت کے علاوہ بایق مسائل میں کافر کی شہادت بالافاق قابل قبول نہیں اور وصیت میں اس کی شہادت کے قبول ہونے اور نہ ہونے میں اختلاف ہے اس مختلف فیہ کو متفق علیہ پر محمول کیا جائے گا یعنی یہ کہا جائے گا کہ جس طرح وصیت کے علاوہ باقی امور میں مسلمان کیخلاف کافر کی شہادت قابل قبول نہیں اسی طرح وصیت میں بھی کافر کی شہادت ، مسلمان کیخلاف قابل قبول نہیں۔

جواب: نسخ کی یہ دلیل انتہائی حیرت انگیز ہے کیونکہ اس بات کی دلیل موجود ہے کہ وصیت میں کافر کی شہادت قابل قبول ہے اور اس دلیل کا کوئی معارض بھی نہیں کاش مستدل اپنی دلیل کا عکس پیش کرتا یعنی یہ کہ رسول اللہ (ص) کے زمانے میں کافر کی شہادت اجماعی طور پر قابل قبول تھی اور زمانہ پیغمبر اکرم (ص) کے بعد اس مسئلے میں اختلاف کیا گیا اس لئے مختلف فیہ (رسول اللہ (ص) کے بعد کے زمانے) کو متفق علیہ (زمانہ رسول (ص) پر محمول کیا جانا چاہئے اور یہ کہنا چاہئے کہ جس طرح زمانہ پیغمبر اکرم (ص) میں یہ شہادت جائز تھی ، زمانہ رسول اللہ (ص) کے بعد بھی جائز ہونی چاہئے۔


خلاصہ کلام یہ ہے کہ سوائے بعض فقہائے متاخرین کی تقلید کے زیر بحث آیت کے نسخ ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے بھلا لوگوں میں سے ایک کے فتویٰ کی بنیاد پر ایسے حکم سے کس طرح دست بردار ہوا جا سکتا ہے جو قرآن کی رو سے ثابت ہو

اس مقام پر حسن اور زہری کا یہ قول بھی تعجب خیز ہے کہ آیت میں:

( وْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ ) ۵:۱۰۶

''ورنہ دو گواہ غیر (مومن) ہی سہی،،

سے مراد اہل کتاب نہیں بلکہ اس سے مراد اپنے قبیلے کے علاوہ کسی دوسرے قبیلے کے دو افراد ہیں(۱)

اس قول کی تردید ان روایات سے بھی ہوتی ہے جو آیہ شریفہ کی تفسیر میں وارد ہوئی ہیں اس کے علاوہ یہ تفسیر ظہور قرآن سے بھی سازگار نہیں کیونکہ آیت میں مومنین سے خطاب کیا جا رہا ہے اس لئے لامحالہ غیر سے مراد ، غیر مومنین ہوں گے اور وہ کافر ہی ہو سکتے ہیں۔

ہاں ! آیت میں یہ اطلاق ضرور پایا جاتا ہے کہ وصیت میں ہر کافر کی شہادت قابل قبول ہے اگرچہ یہ کافر اہل کتاب میں سے نہ ہو ، چاہے مومنین میں سے کسی کو گمراہ رکھنا ممکن ہو یا نہ ہو لیکن روایات کثیرہ اس اطلاق کو اہل کتاب کی شہادت سے مقید کرتی ہیں یعنی صرف اہل کتاب کی شہادت قابل قبول ہے مطلق کافر کی نہیں اور یہی روایات اہل کتاب کی شہادت کواس صورت سے مختص کر دیتی ہیں جہاں دو مومنین کی شہادت ممکن نہ ہو یہ منجملہ ان امور اور مقدمات میں سے ہے جہاں قرآن کے اطلاق کو سنت (روایات) کے ذریعے مقید کیا گیا ہو۔

____________________

(۱) الناسخ و المنسوخ للخاس ، ص ۱۳۴


۱۹۔( وَهُوَ الَّذِي أَنشَأَ جَنَّاتٍ مَّعْرُوشَاتٍ وَغَيْرَ مَعْرُوشَاتٍ وَالنَّخْلَ وَالزَّرْعَ مُخْتَلِفًا أُكُلُهُ وَالزَّيْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَغَيْرَ مُتَشَابِهٍ ۚ كُلُوا مِن ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَآتُوا حَقَّهُ يَوْمَ حَصَادِهِ ۖ وَلَا تُسْرِفُوا ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُسْرِفِينَ ) ۶:۱۴۱

''اور وہ تو وہی خدا ہے جس نے بہت سے باغ پیدا کئے (جن میں مختلف اقسام کے درخت ہیں کچھ تو انگور کی طرح ٹیٹوں پر ) چڑھائے ہوئے اور (کچھ) بے چڑھاتے ہوئے اور کھجور کے درخت اور کھیتی جس کے پھل (مزے میں) مختلف قسموں کے ہیں اور زیتون اور انار (بعض تو صورت ، رنگ اور مزے ہیں ) ملتے جلتے اور (بعض) بے میل (لوگو!) جب یہ چیزیں پھیلیں تو ان کا پھل کھاؤ ، اور ان چیزوں کے کاٹنے کے دن خدا کا حق (زکوٰۃ) دیدو اور خبردار فضول خرچی نہ کرو کیونکہ وہ خدا (فضول خرچوں سے ہرگز الفت نہیں رکھتا،،۔

اکثر علمائے اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ آیت نسخ ہو گئی ہے البتہ اس کے نسخ ہونے کی مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں:

( i ) یہ آیت زکوٰۃ کے بارے میں نازل ہوئی اس کی رُو سے اس آیت میں مذکور اشیاء و اجناس میں زکوٰۃ واجب ہے لیکن گندم جو ، کھجور اور کشمش کے علاوہ باقی چیزوں کیلئے وجوب زکوٰۃ نسخ ہو گیا ہے اس قول کوشہرت حاصل ہے بلکہ صحابہ اور تابعین میں سے کوئی بھی زمین سے اگنے والی ہر چیز پر زکوٰۃ کو واجب نہیں سمجھتا البتہ ابو حنیفہ اور زفر ، لکڑی ، گنا اورگھاس پھونس کے علاوہ باقی چیزوں پر زکوٰۃ کو واجب سمجھتے ہیں(۱)

____________________

(۱) احکام القرآن للجصاص ، ج ۳ ، ص ۹


( ii ) یہ آیت ، جس میں عمومی طورپر زکوٰۃ کا حکم دیا گیا ہے ان روایات کے ذریعے نسخ ہو گئی ہے جن کی رو سے زکوٰۃ صرف دسویں حصے ، اگر زمین بارانی ہو ، یا بیسویں حصے اگر زمین نہری ہو ، پر واجب کی گئی ہے سدی اور انس بن مالک نے اسی قول کو اختیار کیا ہے اور ابن عباس و محمد بن ح نیفہ کی طرف بھی یہی قول منسوب ہے(۱)

( iii ) یہ آیت زکوٰۃ کے بارے میں نہیں بلکہ ایک مستقل حق اور حصہ کی طرف اشارہ کر رہی ہے اور یہ آیت ، آیت زکوٰۃ کے ذریعے نسخ ہو گئی ہے عکرمہ اور ضحاک نے اسی قول کو اختیار کیا ہے سعید بن جبیر کی طرف بھی یہی قول منسوب ہے۔(۲)

لیکن قول حق یہ ہے کہ اس آیت کا مدلول و مفہوم نسخ نہیں ہوا اس کے دلائل یہ ہیں:

اول: وہ روایات کثیرہ ہیں جن کا مفہوم یہ ہے کہ آیت میں مذکورہ حق سے مراد زکوٰۃ نہیں ہے بلکہ یہ ایک مستقل حق ہے جس کا زکوٰۃ سے کوئی ربطہ نہیں اور وہ نسخ نہیں ہوا ان روایات میں سے ایک روایت وہ ہے جسے کلینی نے معاویہ بن حجاج کی سند سے نقل کیا ہے راوی کہتا ہے:

''میں نے امام جعفر صادق (علیہ السلام) کو یہ کہتے سنا ہے : ہر زراعت میں دو حق ہوا کرتے ہیں، ایک حق وہ ہے جو تم سے وصول کیا جاتا ہے ایک حق وہ ہے جو تم خود ادا کرتے ہو میں نے عرض کیا: وہ کونسا حق ہے جو مجھ سے وصول کیا جاتا ہے اور وہ کون سا حق ہے جو میں خود ادا کرتا ہوں؟ آپ (ع) نے فرمایا: جو حق تجھ سے وصول کیا جاتا ہے وہ دسواں یا بیسواں حصہ ہے جو غلات اربعہ (گندم ، جو ، کھجور اور کشمش) سے بطے زکوٰۃ وصول کیا جاتا ہے اور جو حق تم ادا کرتے ہو وہ وہی ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ کے فرمان : ''واتوا حقہ یوم حصادہ،، میں اشارہ کیا جا رہا ہے ،،(۳)

____________________

(۱) الناسخ و المنسوخ ، للخاس ، ص ۱۴۰

(۲) ایضاً

(۳) تفسیر البرہان ، ج ۱ ، ص ۳۳۸


ثانی: سورہ انعام مکہ میں بیک وقت نازل ہوا جس کی تصریح بہت سی روایات میں کی گئی ہے ان میں سے ایک روایت حسن بن علی بن ابی حمزہ سے نقل کی گئی ہے۔

راوی کہتا ہے:

ابن مردویہ نے ابی سعید خدری سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (ص) نے ''واتوا حقہ یوم حصادہ،، کی تفسیر میں فرمایا:

''اس حق سے مرادگندم اور جو کے وہ دانے ہیں جو کٹائی کے وقت خدشے سے گرتے ہیں،،(۱)

''قال ابو عبدالله ۔ع ۔ان سورة الانعام نزلت جملة ، شیعها سبعون الف ملک حتی نزلت علی محمد صلی الله علیه وآله فحظموها و بجلوها ، فان اسم الله عزوجل فیها فیی سبعین موضحاً ، ولو یعلم الناس ما فیی قراعتها ما ترکوها،، (۲)

''امام جعفر صادق (ع) نے فرمایا: تحقیق سورہ انعام بیک وقت نازل ہوا ہے اس سورہ کی تعظیم میں ستر ہزار فرشتوں نے اس کی مشایعت کی حتیٰ کہ یہ سورہ رسول اکرم (ص) پر نازل ہوا چنانچہ لگوں نے اس کی تکریم و تعظیم کی اس لئے کہ سورہ انعام میں ستر جگہ اللہ تعالیٰ کا نام آیا ہے اگر لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اس کی قرات اور تلاوت کی کیا فضیلت ہے تو کبھی بھی اس کی تلاوت ترک نہ کرتے،،۔

ابن عباس سے مروی ہے:

''نزلت سورة الانعام بمکة لیلاً جملة واحدة ، حولها سبعون الف ملک یجارون حولها بالتسبیح ،، (۳)

''سورہ انعام مکہ میں رات کے وقت بیک وقت نازل ہوا نزول کے دوران تعظیم کے طور پر ستر ہزار فرشتے اس کے ارد گرد تسبیح الٰہی میں مصروف تھے،،۔

____________________

(۱) تفسیر ابن کثیر ، ج ۲ ، ص ۱۸۲

(۲) تفسیر البرہان ، ج ۱ ، ص ۳۱۳

(۳) اس کی روایت ابو عبید ، ابن منذر ، طبرانی اور ابن مردویہ نے کی ہے تفسیر شوکانی ، ج ۲ ، ص ۹۱


اس میں کوئی شک نہیں کہ جس آیت کے ذریعے زکوٰۃ واجب ہوئی وہ مدینہ میں نازل ہوئی پھر یہ دعویٰ کیسے ممکن ہے کہ زیر بحث آیہ شریفہ زکوٰۃ کے بارے میں نازل ہوئی خارج کی نقل کے مطابق اس آیت کے بارے میں یہ کہا گیا ہے کہ یہ مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔(۱) لیکن یہ قول ان گزشتہ روایات کے سراسر مخالف ہے جن کے مطابق سورہ انعام مکہ میں نازل ہوا اور زیر بحث آیت سورہ انعام کی آیت ہے اس کے علاوہ یہ قول بغیر کسی علم و یقین کے کہا گیا ہے۔

ثالث: آیت کے مطابق جس حق کو ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس کا وقت فصل کی کٹائی سے مختص کیا گیا ہے جب کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کٹائی کے وقت واجب نہیں ہوتی بلکہ گندم وغیرہ کی صفائی اور اس کے ناپ تول کے بعد واجب ہوتی ہے لا محالہ ماننا پڑے گا کہ آیت میں جس حق کا ذکر کیا گیا ہے وہ زکوٰۃ نہیں بلکہ کوئی اور حق ہے جس کی طرف گزشتہ روایات میں اشارہ کیا جا چکا ہے۔

اس حق سے مراد زکوٰۃ نہ ہونے کی تائیدان روایات سے بھی ہوتی ہے جن میں رات کے وقت گندم وغیرہ کی کٹائی سے نہی کی گئی ہے روایت میں اس نہی کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ اس طرح مانگنے والے اور نہ مانگنے والے محروم ہو۔ جاتے ہیں(۲)

جعفر بن محمد بن ابراہیم نے جعفر بن محمد کی سند سے ، اس نے اپنے والد سے اور اس نے اپنے جد سے روایت نقل کی ہے:

''ان رسول الله ۔ص ۔نهی عن الجداد باللیل ، والحصاد باللیل ۔قال جعفر: اراه من اجل المساکین،، (۳)

''رسول اللہ (ص) نے رات کے وقت درخت سے کھجور اتارنے اور گندم وغیرہ کی کٹائی سے منع فرمایا ہے (روایت کے ناقل) جعفر کہتے ہیں: شاید اس نہی کی وجہ یہ ہو کہ اس سے مساکین محروم رہ جاتے ہیں،،۔

____________________

(۱) تفسیر قرطبی ، ج ۷ ، ص ۹۹

(۲) تفسیر برہان ، ج ۱ ، ص ۳۳۸

(۳) سنن بیہقی ، ج ۴ ، ص ۱۳۳


ایک اشکال اور اس کا جواب:

بعض حضرات نے اس آیت کی یہ توجیہ کی ہے کہ ممکن ہے یوم حصاد (کٹائی کا دن)زکوٰۃ کے واجب ہونے کا وقت ہو اور زکوٰۃ کی ادائیگی کاوقت گندم کی صفائی کے بعد ہو بنا برایں اس حق سے مراد زکوٰۃ لی جا سکتی ہے کیونکہ اگرچہ زکوٰۃ کی ادائیگی صفائی کے بعد واجب ہوتی ہے لیکن زکوٰۃ اسی وقت واجب ہو جاتی ہے جب کٹائی کا وقت آ جائے۔

لیکن یہ احتمال صحیح نہیں ہے کیونکہ :

۱۔ یہ احمال اس معنی کے خلاف ہے جو آیت سے ظاہری طور پر عرف میں سمجھا جاتا ہے بلکہ یہ صریح آیت کے خلاف ہے کیونکہ ظرف کا تعلق اسی چیز سے ہوتا ہے جس پر مادہ فعل دلالت کرتا ہے ، اس سے نہیں ہوتا جس پر ہیئت فعل دلالت کرتا ہے یعنی یوم حصاد ادائیگی (جس پر ''اتوا،، کے حروف دلالت کرتے ہیں) کا زمانہ ہے وجوب کا زمانہ نہیں جس پر ''اتوا،، کی ہیئت (مخصوص صورت) دلالت کرتی ہے مثلاً اگر کہا جائے :''اکرم زیداً یوم الجمعته،، (یعنی) ''جمعہ کے روز زید کا احترام کرو،، تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ احترام کرنے کا زمانہ جمعہ کا دن ہے ایسا نہیں ہے کہ احترام واجب ہونے کا زمانہ جمعہ ہو لیکن عملاً اکرام انجام دینے کا زمانہ کوئی دوسرا دن ہو۔

۲۔ زکوٰۃ اس وقت واجب نہیں ہوتی جب کٹائی کاوقت آ جائے بلکہ اس وقت واجب ہوتی ہے جب خوشہ کے اندر موجود دانہ گندم یا جو بن جائے اور گندم یا جو کہلائے بنا برایں آیت میں یوم حصاد کا ذکر کرنا اس بات کاقطعی شاہد ہے کہ اس حق سے مراد زکوٰۃ نہیں کوئی اور حق ہے۔

حق سے مراد زکوٰۃ نہ ہونے کی تائید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اسراف سے نہی فرمائی ہے اور اسراف سے نہی ، زکوٰۃ سے سازگار نہیں کیونکہ زکوٰۃ جو دسویں یا بیسویں حصے کی صورت میں ایک معینہ مقدار ہے اس میں


اسراف کا کوئی پہلو ہی نہیں ہے۔

جب یہ ثابت ہو گیا کہ آیہ کریمہ میں حق سے مراد زکوٰۃ نہیں، کوئی اور حق ہے ، تو یہ بھی ثابت ہو گیا کہ آیہ زکوٰۃ اس آیت کیلئے ناسخ نہیں بن سکتی جس میں بغیر تعین کے حق ادا کرنے کا حکم دیاگیا ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ اس آیت میں نسخ کا دعویٰ اس بات پر موقوف ہے کہ فصلوں میں زکوٰۃ کے علاوہ کوئی حق واجب ہو تاکہ یہ وجوب زکوٰۃ کے ذریعے نسخ ہو لیکن نسخ کے قائل حضرات کیلئے یہ ثابت کرنا مشکل ہے کیونکہ اگرچہ ''آتواحقہ،، میں صیغہ امردو باتوں (وجوب اور دوام و استمرار) میں ظہور رکھتا ہے مگر صیغہ امر کو ان دونوں ظہوروں میں باقی رکھنا ممکن نہیں کیونکہ زکوٰۃ کے علاہ کوئی بھی حق دائماً واجب نہیں اس لئے ان دونوں ظہوروں میں سے ایک سے دستبردار ہونا پڑیگا یعنی یا یہ کہا جائے کہ اس امر کا مدلول وجوب نہیں، البتہ ایک امر استحبابی کیلئے دوام ثابت ہو گا یا یہ کہا جائے کہ یہ امر وجوب پر تو دلالت کرتا ہے لیکن دوام پر دلالت نہیں کرتا اس صورت میں اس حق کا وجوب ، وجوب زکوٰۃ کی آیت کے ذریعے نسخ ہو گئی۔

ان دونوں احتمالوں میں سے دوسرے احتمال کو پہلے احتمال پر کوئی ترجیح حاصل نہیں بلکہ پہلے احتمال کو ترجیح حاصل ہے اس کی دو دیلیں ہیں:

( i ) اہل بیت (ع) کی ایسی روایات کی تعداد بہت زیادہ ہے جن کے مطابق یہ حق بطور استحباب باقی ہے ، اس سے قبل ان روایات کاذکر کیا جا چکا ہے۔

( ii ) اگر یہ حق واجب ہوتا تو تمام صحابہ اور تابعین میں اس کو شہرت حاصل ہونی چاہئے تھی اور صرف عکرمہ ، ضحاک یا ان کے علاوہ ایک دو افراد ہی اس کے قائل نہ ہوتے۔


گزشتہ بحث کا خلاصہ: قابل قبول قول یہ ہے کہ پھولوں اور فصلوں میں زکوٰۃ کے علاہو ایک مستحب حق ثابت ہے اور شیعہ امامیہ کا عقیدہ یہی ہے بنابرایں اس آیہ کریمہ کا مدلول نسخ نہیں ہوا۔

۲۰۔( قُل لَّا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا عَلَىٰ طَاعِمٍ يَطْعَمُهُ إِلَّا أَن يَكُونَ مَيْتَةً أَوْ دَمًا مَّسْفُوحًا أَوْ لَحْمَ خِنزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ أَوْ فِسْقًا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّـهِ بِهِ ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ رَبَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ) ۶:۱۴۵

''(اے رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم)) تم کہو کہ میں تو جو (قرآن) میرے پاس وحی کے طور پر آیا اس میں کوئی چیز کسی کھانے والے پر جو اس کو کھائے حرام نہیں پاتا مگر جب کہ وہ مردہ یا بہتا ہوا خون یا سور کا گوشت ہو تو بیشک یہ (چیزیں) ناپاک (اور حرام ) ہیں یا (وہ جانور) نافرمانی (کا باعث) ہو کہ (وقت ذبح) خدا کے سوا اور کسی کا نام لیا گیا ہو پھر جو شخص (ہر طرح) بے بس ہو جائے (اور)نافرمان و سرکش نہ ہو (اور اس حالت میں کھائے) تو البتہ تمہارا پروردگار بڑا بخشنے والا مہربان ہے،،۔

علماء کی ایک جماعت کی یہ رائے ہے کہ یہ آیت منسوخ ہو گئی ہے اس کا ناسخ رسول اللہ (ص) کا وہ فرمان ہے جس میں آپ (ص) نے آیت میں مذکور چیزوں کے علاوہ مزید کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا ہے۔

لیکن قول حق یہی ہے کہ دوسری آیت کی طرح یہ آیت بھی نسخ نہیں ہوئی کیونکہ اس آیت میں صرف یہ خبر دی جا رہی ہے کہ یہ آیہ شریفہ میں مذکور چیزوں کے علاوہ کوئی چیز حرام نہیں ہے اس سے صرف یہی ثابت ہوتا ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی اس وقت یہی چیزیں حرام تھیں۔

بنا برایں اس آیت کے نسخ ہونے کا دعویٰ بے معنی ہے کیونکہ جملہ خبر یہ میں کبھی بھی نسخ واقع نہیں ہوتا لامحالہ اس حصر کو حصر اضافی ماننا پڑے گا بایں معنی کہ اس آیت کے ذریعے ان چیزوں کی حرمت کی نفی کی جا رہی ہے جنہیں مشرکین اپنی طرف سے حرام قرار دیتے تھے جبکہ شریعت اسلام میں وہ چیزیں حرام نہیں تھیں اور اس آیت سے پہلے مذکور آیات کے سیاق سے بھی یہی بات ظاہر ہوتی ہے یا حصر کو حصر حقیقی فرض کریں گے اور آیت کا مطلب یہ ہو گا کہ یہ مکہ آیت جس وقت نازل ہوئی تھی اس وقت صرف یہی چند چیزیں حرام تھیں اور نزول آیت کے بعد مزید کچھ چیزیں حرام قرار پائیں چونکہ احکام اسلام بتدریج نازل ہوا کرتے تھے۔


یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ ایک چیز حرام قرار دینے کے بعد دوسری چیز حرام قرار دینا نسخ نہیں کہلاتا حصر اضافی اور حصر حقیقی میں سے عرف کے نزدیک حصر حقیقی زیادہ ظاہر ہے اگر حصر ، حصر اضافی ہو پھر نسخ ثابت نہیں ہوتا۔

۲۱۔( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا زَحْفًا فَلَا تُوَلُّوهُمُ الْأَدْبَارَ ) ۸:۱۵

''اے ایماندارو! جب تمہارا کفار سے میدان جنگ میں مقابلہ ہو تو (خبردار) ان کی طرف سے پیٹھ نہ پھیرنا،،۔

( وَمَن يُوَلِّهِمْ يَوْمَئِذٍ دُبُرَهُ إِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ أَوْ مُتَحَيِّزًا إِلَىٰ فِئَةٍ فَقَدْ بَاءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّـهِ وَمَأْوَاهُ جَهَنَّمُ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ ) : ۱۶

''اور (یاد رہے) اس شخص کے سوا جو لڑائی میں کترائے یا کسی جماعت کے پاس جا کر موقع پائے (اور) جو شخص بھی اس دن ان کفار کی طرف سے اپنی پیٹھ پھیرے گا وہ یقینی (ہرپھر کے) خدا کے غضب میں آ گیا ، اور اس کا ٹھکانا جہنم ہی ہے اور وہ (کیا) برا ٹھکانا ہے،،۔

بعض حضرات کا عقیدہ ہے کہ یہ آیت ، اس آیت کے ذریعے نسخ ہو گئی ہے:

( الْآنَ خَفَّفَ اللَّـهُ عَنكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًا ۚ فَإِن يَكُن مِّنكُم مِّائَةٌ صَابِرَةٌ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ ۚ وَإِن يَكُن مِّنكُمْ أَلْفٌ يَغْلِبُوا أَلْفَيْنِ بِإِذْنِ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ مَعَ الصَّابِرِينَ ) ۸:۶۶

''اب خدا نے تم سے (اپنے حکم کی سختی میں ) تخفیف کر دی ہے اور دیکھ لیا کہ تم میں یقیناً کمزوری ہے تو اگر تم لوگوں میں سے ثابت قدم رہنے والے سو ہوں گے تو دو سو (کافروں) پر غالب رہیں گے اور (جنگ کی تکلیفوں کو) جھیل جانے والوں کا خدا ساتھی ہے،،۔


نسخ کی صورت میں یہ بیان کی گئی ہے کہ پہلی آیت (۸:۱۵۔۱۶) میں جنگ سے پشت پھیرنے کو ہر حالت میں حرام قرار دیا گیا ہے جبکہ دوسری آیت میں جنگ سے فرار ہونا اس صورت میں جائز قرار دیا گیا ہے جب کفار کے مقابلے میں مسلمانوں کی تعداد نصف سے بھی کم ہو اس نسخ کے قائل حضرات میں عطا بن ابی ریاح بھی شامل ہے(۱) ۔

جواب: دوسری آیت (تخفیف ) کے ذریعے پہلی آیت کی تقیید سے اس کا نسخ ہونا لازم نہیں آتا بلکہ ان دونوں آیات کے مفہوم سے اسلام کا ایک اصول اور قاعدہ مل جاتا ہے اور اول آیت میں مذکور حکم کی تاید ہوتی ہے بایں معنی کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کفار کے مقابلے میں اس وقت تک ثابت قدم رہو جب تک تمہاری تعداد کفار کی تعداد سے نصف سے کم نہ ہو لیکن اگر تمہاری تعداد نصف کفار سے کم ہو تو اس وقت جنگ سے فرار کر کے اپنی جانیں بچائی جا سکتی ہیں ظاہر ہے یہ نسخ نہیں کہلاتا۔

عمرو بن عمر ، ابوہریرہ ، ابو سعید ، ابو نضرۃ ، ابن عمر کے غلام نافع ، حسن بصری ، عکرمہ ، قتادہ ، زید بن ابی حبیب اور ضحاک سے روایت کی گئی ہے کہ زیر بحث آیت میں موجود حکم (جنگ سے فرار کا حرام ہونا) صرف جنگ بدر سے مختص ہے اور جنگ بدر میں شریک مجاہدین کے علاوہ باقی مسلمانوں کیلئے جنگ سے فرار ہونا حرام نہیں ہے اور ابو حنیفہ کی رائے بھی یہی ہے(۲) لیکن یہ قول بھی باطل ہے:

____________________

(۱) الناسخ و المنسوخ للخاس ، ص ۱۴۵۔ تفسیر طبری ، ج ۹ ، ص ۱۳۵۔

(۲) تفسیر شوکانی ، ج ۲ ، ص ۲۸۰


اس لئے کہ اگرچہ یہ آیت جنگ بدر کے موقعہ پر نازل ہوئی لیکن اس میں موجود حکم جنگ بدر سے مختص نہیں ہے کیونکہ اولاً ، آیت میں موجود الفاظ ''یاایھا الذین امنوا،، عام ہیں اور تمام مسلمانوں کو شامل ہیں ثانیاً : آیہ کریمہ جنگ بدر کے بعد نازل ہوئی ہے(۱) دوران جنگ نازل نہیں ہوئی تاکہ یہ اہل بدر سے مختص ہو۔

ابن عباس(۲) ، تمام شیعہ امامیہ اور بہت سے علمائے اہل سنت کا عقیدہ یہی ہے کہ یہ آیت محکم ہے (نسخ نہیں ہوئی) اور اس میں موجود حکم تا قیامت باقی ہے یہی قول صحیح ہے چنانچہ اس کی دلیل بھی بیان کی گئی ہے اور طرفین کی بہت سی روایات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔

کلینی اپنی سند کے ذریعے محمد سے اور وہ حضرت ابو عبداللہ (علیہ السلام) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (ع) نے فرمایا:

''سمعته یقول الکبائر سبع : قتل المومن متعداً ، و قذف المحصنة ، و الفرار من الزحف ، و التعرب بعد الهجرة ، وأ کل مال الیتیم ظلماً ، وأکل الربابعد البینتة ، و کل ما أوجب الله علیه النار،، (۳)

''گناہان کبیرہ سات ہیں: جان بوجھ کر مومن کو قتل کرنا۔ پاک دامن عورت پر زنا کا الزام لگانا جنگ سے فرار ہونا ہجرت کے بعد دوبارہ بدووں کی زندگی اختیار کرنا۔ ظلم سے یتیم کا مال کھانا۔ سود لینا۔ ہر وہ کام انجام دینا جس کی سزا خدا نے جہنم قرار دی ہو۔،،

ابوہریرہ ، رسول اللہ (ص) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ (ص) نے فرمایا:

''واجتنبوا السبع الموبقات ۔قالوا: یارسول الله وماهن ؟ قال ۔ص ۔الشربالله ، و الحسر ، و قتل النفس الی حرم الله الا بالحق ، واکل الربا ، وأکل ما الیتیم ، والتولیی یوم الزحف ، و قذف المحصنات المومنات الغافلات،، (۴)

____________________

(۱) تفسیر شوکانی ، ج ۲ ، ص ۲۸۰

(۲) الناسخ و المنسوخ للخاس ، ص ۱۵۴ تفسیر طبری ، ج ۹ ، ص ۱۳۵

(۳) الوافی ، ج ۳ ، باب تفسیر الکبائر ، ص ۱۷۴

(۴) صحیح بخاری ، ج ۳ ، ص ۱۹۵ ، باب فرمان خداوندی : ان الذین یا کلون اموال الیتامی۔ صحیح مسلم ، ج ۱ ، ص ۶۴


''سات مہلک گناہوں سے اجتناب کرو۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ص) وہ سات مہلک گناہ کون سے ہیں؟ آپ (ص) نے فرمایا: کسی کو خدا کا شریک ٹھہرانا ، جادو کرنا ، کسی نفس محترمہ کو ناحق قتل کرنا ، سود کھانا، یتیم کا مال کھانا ، جنگ (واجب جہاد) سے فرار ہونا ، مومن اور پاکدامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا،،۔

۲۲۔( وَإِن جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا ) ۸:۶۱

''اور اگر یہ کفار صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کی طرف مائل ہو،،

ابن عباس ، مجاہد ، زید بن اسلم ، عطاء ، عکرمہ ، حسن اور قتادہ کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ آیت ، آیہ سیف کے ذریعے نسخ ہو گئی ہے(۱)

لیکن حق یہ یہے کہ گزشتہ آیات کی طرح یہ آیت بھی محکم ہے اور نسخ نہیں ہوئی اس کی دلیل یہ ہے:

اولاً: آیہ سیف (جس میں جہاد کاحکم دیا گیا ہے) صرف مشرکین سے مختص ہے چنانچہ اس کا بیان اس سے پہلے بھی ہو چکا ہے اور یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ (ص) نے ہجرت کے دسویں سال نجران کے نصاریٰ کے ساتھ صلح کی۔(۲) جبکہ سورہ برات (جس میں آیہ سیف ہے) ہجرت کے نویں سال نازل ہو چکا تھا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آیہ سیف زیر بحث آیہ کریمہ کیلئے مخصص ہو گئی جس میں عام صلح کا حکم دیا گیا ہے۔

ثانیاً: مشرکین سے قتال اس صورت میں واجب ہے جب مسلمانوں میں اتنی طاقت ہو کہ مشرکین سے لڑ سکیں۔لیکن اگر ان میں مشرکین کو شکست دینے کی صلاحیت نہ ہو تو ان سے صلح کر لینے میں کوئی حرج نہیں جس طرح جنگ حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ (ص) نے صلح کی تھی چنانچہ طاقت اور غلبہ کے امکان کی صورت میں قتال کے واجب ہونے کی تائید اس آیہ کریمہ سے بھی ہوتی ہے:

____________________

(۱) تفسیر ابن کثیر ، ج ۲ ، ص ۳۲۲

(۲) امتاع الاسماع للمقریزی ،ص ۵۰۲


( فَلَا تَهِنُوا وَتَدْعُوا إِلَى السَّلْمِ وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ وَاللَّـهُ مَعَكُمْ وَلَن يَتِرَكُمْ أَعْمَالَكُمْ ) ۴۷:۳۵

''تو تم ہمت نہ ہارو اور (دشمنوں کو) صلح کی دعوت نہ دو غالب ہو ہی اور خدا تو تمہارے ساتھ ہے اور ہرگز تمہارے اعمال (کے ثواب) کو کم نہ کرے گا،،۔

اس آیت میں عدم مصالحت کی وجہ مسلمانوں کی برتری اور ان کا طاقتور ہونا بیان کی جا رہی ہے۔

باب بیان الکبائر ۔ ابی داؤد ، باب التشدید فی اکل مال الیتیم ، ج ۲ ، ص ۹۳ ۔ سنن نسائی باب اجتناب اکل مال الیتیم ، ج ۲ ، ص ۱۳۱ سحر کی جگہ بخل کا ذکر ہے۔

۲۳۔( يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ حَرِّضِ الْمومنينَ عَلَى الْقِتَالِ ۚ إِن يَكُن مِّنكُمْ عِشْرُونَ صَابِرُونَ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ ۚ وَإِن يَكُن مِّنكُم مِّائَةٌ يَغْلِبُوا أَلْفًا مِّنَ الَّذِينَ كَفَرُوا بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا يَفْقَهُونَ ) ۸:۶۵

''اے رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) تم مومنین کو جہاد کے واسطے آمادہ کرو(وہ گھبرائیں نہیں خدا ان سے وعدہ کرتا ہے کہ) اگر تم لوگوں میں کے ثابت قدم رہنے والے بیس بھی ہوں گے تو دوسو (کافروں پر) غالب آ جائیں گے اور اگر تم لوگوں میں (ایسے) سو ہوں گے تو ہزار (کافروں) پر غالب آ جائیں گے اس سبب سے کہ یہ لوگ ناسمجھ ہیں،،۔

( الْآنَ خَفَّفَ اللَّـهُ عَنكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًا ۚ فَإِن يَكُن مِّنكُم مِّائَةٌ صَابِرَةٌ يَغْلِبُوا مِائَتَيْنِ ۚ وَإِن يَكُن مِّنكُمْ أَلْفٌ يَغْلِبُوا أَلْفَيْنِ بِإِذْنِ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ مَعَ الصَّابِرِينَ ) : ۶۶

''اب خدا نے تم سے (اپنے حکم کی سختی میں ) تخفیف کر دی ہے اور دیکھ لیا کہ تم میں یقیناً کمزوری ہے تو اگر تم لوگوں میں سے ثابت قدم رہنے والے سو ہوں گے تو دو سو (کافروں ) پر غالب رہیں گے اور اگر تم لوگوں میں سے (ایسے) ایک ہزار ہوں گے تو خدا کے حکم سے دو ہزار (کافروں ) پر غالب رہیں گے اور (جنگ کی تکلیفوں کو) جھیل جانے والوں کا خدا ساتھی ہے،،۔


بعض علماء کا یہ عقیدہ ہے کہ پہلی آیت دوسری آیت کے ذریعے نسخ ہو گئی ہے کیونکہ شروع شروع میں مسلمانوں پر واجب تھا کہ وہ کفار سے قتال کریں خواہ کفار مسلمانوں سے دس گنا زیادہ ہی کیوں نہ ہوں۔ اس کے بعد آیت نمبر ۶۶ کے ذریعے یہ حکم نسخ ہو گیا اور مسلمانوں کو یہ رعایت دی گئی کہ مسلمانوں پر قتال اس صورت میں واجب ہے جب ان کے مقابلے میں کفار کی تعداد دوگنی سے زیادہ نہ ہو۔

لیکن حق یہی ہے کہ آیہ اول میں موجود حکم نسخ نہیں ہوا کیونکہ اس آیت کا نسخ ہونا اس بات پر موقوف ہے کہ دونوں آیتوں (۶۵ اور ۶۶) کے نزول میں فاصلہ ہو اور یہ کہ دوسری آیت اس وقت نازل ہوئی ہو جب پہلی آیت پر عمل کرنے کا وقت پہنچ چکا ہو کیونکہ اگر آیہ اول پر عمل کرنے کاوقت آنے سے پہلے ناسخ آیت نازل ہو جائے تو اس وقت ضرورت سے قبل نسخ لازم آئے گا اس کا لازمہ یہ ہے کہ پہلی تشریع (حکم شرع) لغو اور بے فائدہ تھی۔

نسخ کے قائل حضرات یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ دونوں آیتوں کے نزول میں فاصلہ واقع تھا اور یہ کہ دوسری آیت تب نازل ہوئی جب پہلی آیت پر عمل کرنے کا وقت آچکا تھا مگر یہ کہ وہ خبر واحد کا سہارا لیں اور اس سے قبل متعدد مرتبہ بتایا جا چکا ہے کہ خبر واحد کے ذریعے نسخ اجماعاً ثابت نہیں ہوسکتا(۱) اس کے علاوہ دونوں آیتوں کا سیاق و سباق اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ یہ دونوں آیتیں بلا فاصلہ نازل ہوئی ہیں۔

بنا براین ان دونوں آیات کا مفہوم یہ ہو گا کہ اگر مسلمانوں کی تعداد بیس اور کفار کی تعداد دو سو ہو تو کفارسے قتال مستحب ہے اور اگرا یک سو مسلمان دو سو کفار کو شکست دینے کا احتمال دیںتو ان سے قتال واجب ہے۔

____________________

(۱) اسی کتاب کے صفحہ ۲۷۸ پر رجوع کریں۔


اس کے علاوہ اس نسخ کے قائل ہونےکا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ صدر اسلام کے مسلمان ، بعد والے مسلمانوں سے زیادہ طاقتور مضبوط اور ثابت قدم ہوں بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک مرتبہ طاقتور بننے کے بعد مسلمانوں پر ضعف اور کمزوری طاری ہو جائے؟

ان دونوں آیتوں کے مفہوم سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنین کو قتال پر آمادہ کر رہا ہے اور دشمنوں کے مقابلے میں ان کی مدد کرنے کا وعدہ فرما رہا ہے اگرچہ دشمن مسلمانوں سے دس گنا زیادہ ہو لیکن چونکہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اکثر مسلمانوں کے دل کمزور ہیں اور اتنا سخت مقابلہ ان کیلئے ناقابل برداشت ہے اس لئے اتنی کم تعداد کی صورت میں کفار سے قتال کو واجب قرار نہیں دیا اور ان پر رحم کرتے ہوئے اتنی رعایت دی کہ اگر کفار کی تعداد دوگنی سے زیادہ ہو تو وہ مقابلے سے دستبردار ہو سکتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ یہ وعدہ بھی کیا کہ اگر مسلمان اسلام کی سربلندی کیلئے کفار کا مقابلہ کریں تو خدا ان کی مدد فرمائے گا۔

کفارکی تعداد دوگنی سے زیادہ نہ ہونے کی صورت میں ان کے ساتھ مقابلے کو اس لئے واجب قرار دیا کہ کفار چونکہ دین سے جاہل ہیں اور جنگ میں ان کا اعتماد اور سہارا اللہ تعالیٰ کی ذات پر نہیں ہوتا اس لئے وہ سختیاں برداشت نہیں کرتے اس کے برعکس مسلمانوں کا عقیدہ اور ایمان انہیں خطرات میں ثابت قدم رکھتا اور اسلام کی سربلندی کیلئے قیام کی دعوت دیتا ہے اس لئے کہ مسلمان کا عقیدہ یہ ہے کہ چاہے وہ فتحیاب ہو یا ظاہراً شکست کھا لے درحقیقت وہ کامیاب ہے اس حقیقت کی طرف اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اشارہ فرمایا ہے:

( وَلَا تَهِنُوا فِي ابْتِغَاءِ الْقَوْمِ ۖ إِن تَكُونُوا تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ ۖ وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّـهِ مَا لَا يَرْجُونَ ۗ وَكَانَ اللَّـهُ عَلِيمًا حَكِيمًا ) ۴:۱۰۴

''اور (مسلمانو!) دشمنوں کا پیچھا کرنے میں سستی نہ کرو ، اگر لڑائی میں تم کو تکلیف پہنچتی ہے تو جیسی تم کو تکلیف پہنچتی ہے ان کو بھی ویسی ہی اذیت ہوتی ہے اور (تم کو یہ بھی تقویت ہے کہ ) تم خدا سے وہ امیدیں رکھتے ہو جو ان کو (نصیب ) نہیں اور خدا تو (سب سے ) واقف (اور) حکمت والا ہے،،۔


۲۴۔( إِلَّا تَنفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا ) ۹:۳۹

''اگر (اب بھی) تم نہ نکلو گے تو خدا تم پر درد ناک عذاب نازل فرمائے گا،،۔

ابن عباس ، حسن اور عکرمہ سے منقول ہے کہ یہ آیت ، اس آیت کے ذریعے نسخ ہو گئی ہے (۱)

( وَمَا كَانَ الْمومنونَ لِيَنفِرُوا كَافَّةً ۚ ) ۹:۱۲۲

''اور یہ (بھی) مناسب نہیں کہ مومنین کل کے کل (اپنے گھروں سے) نکل کھڑے ہوں،،۔

ان حضرات کا خیال ہے کہ پہلی آیت میں تمام مسلمانوں پر جنگ کیلئے روانہ ہونا واجب قرار دیا گیا ہے اور دوسری آیت کے مطابق تمام پر جنگ کیلئے روانہ ہونا واجب نہیں۔

لیکن یہ قول تب صحیح ہو سکتا ہے جب شروع میں جنگ کیلئے جانا سب پر واجب ہو جبکہ اس سے پہلے کی آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جنگ کیلئے روانہ ہونا ان لوگوں پر واجب تھا جنہیں جنگ کیلئے جانے کی دعوت دی جائے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا مَا لَكُمْ إِذَا قِيلَ لَكُمُ انفِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّـهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ ۚ أَرَضِيتُم بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا مِنَ الْآخِرَةِ ۚ فَمَا مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فِي الْآخِرَةِ إِلَّا قَلِيلٌ ) ۹:۳۸

''اے ایماندار تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ خدا کی راہ میں جہاد کیلئے نکلو تو تم لدھر ہو کے زمین کی طرف جھکے پڑتے ہو کیا تم آخرت کے بہ نسبت دنیا کی (چند روزہ) زندگی کو پسند کرتے ہو تو (سمجھ لو) کہ دنیاوی زندگی کاسازو سامان آخرت کے (عیش و آرام کے) مقابلہ میں بہت ہی تھوڑا ہے،،۔

( إِلَّا تَنفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا وَيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوهُ شَيْئًا ۗ وَاللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ) : ۳۹

____________________

۱) الناسخ و المنسوخ ، ص ۱۶۹ قرطبی نے اپنی تفسیر میں اس بات کی نسبت ضحاک کی طرف بھی دی ہے ج ۸ ، ص ۱۴۲


''اگر (اب بھی ) تم نہ نکلو گے تو خدا تم پر درد ناک عذاب نازل فرمائے گا اور (خدا کچھ مجبور تو ہے نہیں) تمہارے بدلے کسی دوسری قوم کو لے آئے گا اور تم اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے اور خدا ہر چیزپر قادر ہے،،۔

آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جسے جہاد کرنے کا حکم دیا جائے اور وہ سستی کر کے جہاد پر نہ جائے تو وہ اس ترک واجب کی وجہ سے عذاب کا مستحق ہو گا اس کا تمام مسلمانوں پر جہادکے واجب ہونے سے کوئی ربطہ نہیں۔

اس بیان سے یہ دعویٰ بھی باطل ثابت ہو گا کہ اس سورہ کی دوسری آیت:

(انفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنفُسِكُمْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ ۚ ) ۹:۴۱

''(مسلمانو!) تم ہلکے پھلکے (نہتے) ہو یا بھاری بھر کم (مسلم بہرحال جب تم کو حکم دیا جائے) فوراً چل کھڑے ہو اور اپنی جانوں سے اور اپنے مالوں سے خدا کی راہ میں جہاد کرو،،۔

بھی اس آیت :( وَمَا كَانَ الْمومنونَ لِيَنفِرُوا كَافَّةً ۚ ) کے ذریعے نسخ ہوئی ہے(۱)

اس کے علاوہ ہم متعدد بار اس کی وضاحت کر چکے ہیں کہ کسی حکم میں عام کو اس کے بعض افراد سے مختص کر دینا نسخ نہیں کہلاتا بلکہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دوسری آیت کے نسخ نہ ہونے کی دلیل ہے:

( وَمَا كَانَ الْمومنونَ لِيَنفِرُوا كَافَّةً ۚ ) ۹:۱۲۲

''اور یہ (بھی) مناسب نہیں کہ مومنین کل کے کل (اپنے گھروں سے) نکل کھڑے ہوں،،

کیونکہ اس آیت کا مدلول یہ ہے کہ شروع میں تمام مسلمانوں پر جہاد کیلئے جانا واجب نہیں تھا بھلا یہ آیت زیر بحث آیت کیلئے کیسے ناسخ بن سکتی ہے۔

____________________

(۱) قرطبی نے اپنی تفسیر میں نام لئے بغیر دوسروں کی طرف نسبت دی ہے ، ج ۸ ، ص ۱۵۰ ، اور طبرسی نے مجمع البیان میں سدی کی طرف نسبت دی ہے ج ۳ ، ص ۳۳


۲۵۔( عَفَا اللَّـهُ عَنكَ لِمَ أَذِنتَ لَهُمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَتَعْلَمَ الْكَاذِبِينَ ) ۹:۴۳

(اے رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) ) خدا تم سے درگزر فرمائے تو تم نے انہیں (پیچھے رہ جانے کی) اجازت ہی کیوں دی تاکہ (تم اگر ایسا نہ کرتے تو ) تم پر سچ بولنے والے (الگ) ظاہر ہو جاتے اور تم جھوٹوں کو (الگ) معلوم کر لیتے،،۔

( لَا يَسْتَأْذِنُكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَن يُجَاهِدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ ۗ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ بِالْمُتَّقِينَ ) : ۴۴

''(اے رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) ) جو لوگ (دل سے) خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو اپنے مال سے اور اپنی جانوں سے جہاد (نہ) کرنے کی اجازت مانگنے کے نہیں (بلکہ وہ خود جائیں گے) اور خدا پرہیز گاروں سے خوب واقف ہے،،۔

( إِنَّمَا يَسْتَأْذِنُكَ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّـهِ ) : ۴۵

''(پیچھے رہ جانے کی اجازت) تو بس وہی لوگ مانیں گے جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے،، ابن عباس ، حسن ، عکرمہ اور قتادہ کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ آیات ، اس آیہ کریمہ کے ذریعے نسخ ہو گئی ہے:(۱)

( إِذَا اسْتَأْذَنُوكَ لِبَعْضِ شَأْنِهِمْ فَأْذَن لِّمَن شِئْتَ مِنْهُمْ ) ۲۴:۶۲

''تو جب یہ لوگ اپنے کسی کام کیلئے تم سے اجازت مانگیں تو تم ان میں سے جس کو (مناسب خیال کر کے) چاہو اجازت دے دیا کرو،،۔

____________________

(۱) الناسخ و المنسوخ للخاس ، ص ۱۷۰


لیکن قول حق یہی ہے کہ یہ تینوں آیتیں نسخ نہیں ہوئیں کیونکہ ان آیات کی تصریح کے مطابق رسول اللہ (ص) کو اس صورت میں اجازت دینے سے روکا جا رہا ہے اور سرزنش کی جا رہی ہے جب سچے اور جھوٹے میں تمیز نہ کی جا سکے اور اللہ تعالیٰ نے بھی یہ فرما دیا ہے کہ جو لوگ قرآن نہیں لائے ، وہ جنگ سے فرار ہونے کے بہانے تلاش کرتے ہیں اور آپ (ص) سے جنگ میں نہ جانے کی اجازت مانگتے ہیں نیز رسول اللہ (ص) کو حکم دیا ہے کہ اس وقت تک نہ جانے کی اجازت نہ دیں جب تک ان کی صحیح صورتحال معلوم نہ ہو جائے لیکناگر مسلمانوں کی صحیح صورتحال معلوم ہو جائے تو خدا نے مسلمانوں کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنی ضروریات کیلئے رسول اللہ (ص) سے اجازت لیں اور رسول اللہ (ص) کو بھی انہیں رخصت دینے کا مجاز قرار دیا ہے۔

معلوم ہوا ان دونوں آیتوں میں کسی قسم کی منافات نہیں پائی جاتی تاکہ ایک دوسری کیلئے ناسخ بن سکے۔

۲۶۔( مَا كَانَ لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ وَمَنْ حَوْلَهُم مِّنَ الْأَعْرَابِ أَن يَتَخَلَّفُوا عَن رَّسُولِ اللَّـهِ وَلَا يَرْغَبُوا بِأَنفُسِهِمْ عَن نَّفْسِهِ ۚ ) ۹:۱۲۰

''مدینہ کے رہنے والوں اور ان کے گردونواح کے دیہاتیوں کو یہ جائز نہ تھا کہ رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) خدا کا ساتھ چھوڑ دیں اور نہ یہ جائز تھا کہ رسول کی جان سے بے پرواہ ہو کر اپنی جانوں کے بچانے کی فکر کریں،،۔

ابن زید سے منقول ہے کہ یہ آیت اس آیت کے ذریعے نسخ ہو گئی ہے(۱)

( وَمَا كَانَ الْمومنونَ لِيَنفِرُوا كَافَّةً ۚ ) ۹:۱۲۲

''اور یہ (بھی) مناسب نہیں کہ مومنین کل کے کل (اپنے گھروں سے) نکل کھڑے ہوں،،۔

لیکن حق یہی ہے کہ یہ آیت نسخ نہیں ہوئی کیونکہ دوسری آیت تک ایک قرینہ ہے جو آیہ اول سے متصل ہے اور یہ آیہ اول کا مطلب بیان کر رہی ہے۔

____________________

(۱) الناسخ و المنسوخ للخاس ، ص ۸۷ قرطبی نے اس قول کی نسبت مجاہد کی طرف بھی دی ہے ، ج ۸ ، ص ۳۹۲


دونوں آیات کا مفہوم یہ ہے کہ بطور واجب کفائی صرف بعض مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ جنگ میں جائیں اس طرح دوسری آیت ، پہلی آیت کیلئے ناسخ نہیں بنے گی۔

ہاں ! اگر کسی خاص موقع پر کسی ضرورت کا یہ تقاضا ہو کہ تمام مسلمان جہاد کیلئے روانہ ہوں یا حاکم شرع سب کو جہاد پر جانے کا حکم دے یا کسی او وجہ سے سب کا جہاد پر جانا ضروری ہو جائے تو اس ضرورت کو پورا کریں یہ عمومی جہاد ، وہ جہاد نہیں جو اسلام میں بطور واجب کفائی مسلمانوں پر واجب ہے بلکہ یہ ایک جداگانہ حکم ہے جوب عض مخصوص حالات میں ثابت ہے یہ دونوں حکم اپنے طور پر مستقل ثابت ہیں اور ایک دوسرے کا ناسخ نہیں ہے:

۲۷۔( وَاتَّبِعْ مَا يُوحَىٰ إِلَيْكَ وَاصْبِرْ حَتَّىٰ يَحْكُمَ اللَّـهُ ۚ وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ ) ۱۰۔۱۰۹

''اور (اے رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) ) تمہارے پاس جو وحی بھیجی جاتی ہے تم بس اسی کی پیروی کرو اور صبر کرو یہاں تک کہ خدا (تمہارے اور کافروں کے درمیان) فیصلہ فرمائے اور وہ تمام فیصلہ کرنے والوں سے بہتر ہے،،۔

ابن زید کی رائے یہ ہے کہ یہ آیت ، آیہ جہاد (جس میں کفار پر سختی کرنے کا حکم دیا گیا ہے ) کے ذریعے نسخ ہو گئی ہے(۱) گزشتہ آیات کے بارے میں ہمارے بیان سے اس آیت کے نسخ کا دعویٰ بھی باطل ثابت ہو جاتا ہے ان بیانات کو یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔

کسی دلیل سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آیت میں صبر سے مراد کفار کے مقابلے میں صبر ہو (یعنی ان سے جنگ نہ کی جائے) البتہ اس آیت میں مطلق صبر کا حکم دیا جا رہا ہے جو کفار کے مقابلے میں صبر کو بھی شامل ہے ۔

بنا برایں زیر بحث آیہ شریفہ میں نسخ کے دعویٰ کی کوئی وجہ نہیں۔

____________________

(۱) الناسخ و المنسوخ للخاس ، ص ۱۷۸


۲۸۔( فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ ) ۱۵:۹۴

''اور قیامت یقیناً ضرور آنے والی ہے تو تم (اے رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم)) ان کافروں سے شائستہ عنوان کے ساتھ درگزر کرو،،۔

ابن عباس ، سعید اور قتادہ کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ آیت ، آیہ سیف کے ذریعے نسخ ہو گئی ہے۔

لیکن یہ حقیقت پوشیدہ نہیں کہ ''صفح،، (چشم پوشی) سے مراد یہ ہے کہ آپ (ص) ان اذیتوں اور تکلیفوں سے درگزر کریں جو تبلیغ شریعت کی راہ میں مشرکین کی طرف سے دی جاتی تھیں اس آیت کا راہ خدا میں قتال وجہاد سے کوئی ربط و تعلق نہیں اس امر کی تائید بعد والی آیت سے بھی ہوتی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کافرمان ہے:

( فاصدع بما تومر و اعرض عن المشرکین) ۱۵:۹۴

پس جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے اسے واضح کر کے سنا دو اور مشرکین کی طر ف سے منہ پھیر لو،،۔

( إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ ) : ۹۵

''جو لوگ تمہاری ہنسی اڑاتے ہیں ہم تمہاری طرف سے ان کیلئے کافی ہیں،،۔

آیہ کریمہ کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں رسول اللہ (ص) کو اوامرالٰہی کی تبلیغ اور اسلام کے نشرو اشاعت کی تشویق و ترغیب دلائی ہے اور آپ (ص) کو تسلی دی ہے کہ اس سلسلے میں آپ (ص) مشرکین کی اذیت اور ان کے تمسخر کی پروا تک نہ کریں۔

یہ ایک جداگانہ حکم ہے اور اس کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں کہ جب اسلام کی حجت مکمل ہو اور مسلمانوں کی کثرت سے تقویت حاصل ہو تو کفارسے جہاد کریں۔


ہاں ! یہ بات مسلم ہے کہ رسول اللہ (ص) کو اسلام کے آغاز ہی میں قتال و جہاد کا حکم نہیں دیا گیا کیونکہ اس وقت معجزہ اور دوسرے غیر معمولی اقدامات کے علاوہ عام مادی وسائل و اسباب کے بل پر کفار سے جنگ کرنے کی قدرت حاصل نہ تھی لیکن جب قدرت حاصل ہوئی اور مسلمانوں میں اتنی طاقت اور کثرت آ گئی جس سے کفار کا مقابلہ کیا جا سکے تو آپ (ص) کو جہاد کا حکم دیا گیا۔ اس سے قبل بھی یہ حقیقت بیان کی گئی ہے کہ احکام اسلام تدریجاً نافذ کئے گئے ہ یں جو نسخ نہیں کہلاتا۔

۲۹۔( وَمِن ثَمَرَاتِ النَّخِيلِ وَالْأَعْنَابِ تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَكَرًا وَرِزْقًا حَسَنًا ۗ ) ۱۶:۶۷

''اور اسی خرمے اور انگور کے پھل سے (ہم تم کو شیرہ پلاتے ہیں) جس کی (کبھی تو ) شراب بنا لیا کرتے ہو اور (کبھی) اچھی روزی (سرکہ وغیرہ)

قتادہ ، سعید بن جبیر ، شعبی ، مجاہد ، ابراہیم اور ابورزین کا عقیدہ ہے کہ یہ آیت ، اس آیت کے ذریعے نسخ ہو گئی ہے جس میں شراب نوشی کو حرام قرار دیا گیا ہے(۱)

لیکن قول حق یہی ہے کہ باقی آیات کی طرح یہ آیت بھی محکم ہے (نسخ نہیں ہوئی) کیونکہ اس آیت کا نسخ ہونا دو چیزوں پر موقوف ہے:

( i ) ''سکر،، سے مراد نشہ آور شراب ہو لیکن نسخ کے قائلین یہ ثابت نہیں کر سکتے کہ آیت میں ''سکر،، سے مراد نشہ آور شراب ہے کیونکہ ''سکر،، کے معانی میں سے ایک معنی ''سرکہ،، بھی ہے چنانچہ مشہور مفسر علی بن ابراہیم نے اپنی تفسیر میں ''سکر،، کے اسی معنی (سرکہ) کا ذکر کیا ہے(۲) بنا برایں ''رزق حسن،، سے مراد سرکہ اور اس قسم کے دیگر لذیذ کھانے ہوں گے نشہ آور شراب نہیں تاکہ آیہ تحریم خمر کے ذریعے یہ آیت نسخ ہو جائے۔

____________________

(۱) الناسخ و المنسوخ للخاس، ص ۱۸۱

(۲) تفسیر برہان، ج ۱، ص ۵۷۷


( ii ) آیہ کریمہ مسکر (نشہ آور چیز) کے مباح ہونے پر دلالت کرے تاکہ دوسری آیت ''مسکر،، کو حرام قرار دے اور پہلی آیت کیلئے ناسخ قرار پائے۔

لیکن نسخ کا قائل اس مطلب کو بھی ثابت نہیں کر سکتا کیونکہ اس آیہ کریمہ میں ایسے کام اور واقعہ کی خبر دی جارہی ہے جسکو عام لوگ انجام دیتے تھے۔ اس آیت سے یہ نہیں سمجھا جاتا کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو اس کام کی اجامت بھی دی ہو۔

یہ آیت، اس آیت کے بعد نازل ہوئی ہے جس میں کائنات کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی نشانیوں کے ذریعے خدائے واجب الوجود کو ثابت کیا گیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

( وَاللَّـهُ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَسْمَعُونَ ) ۱۶:۶۵

''اور خد ہی نے آسمان سے پانی برسایا تو اس کے ذریعہ سے زمین کو مردہ (پڑتی) ہونے کے بعد زندہ (شاداب) کیا کچھ شک نہیں کہ اس میں جو لوگ بستے، ان کے واسطے (قدرت خدا) بہت بڑی نشانی ہے۔،،

( وَإِنَّ لَكُمْ فِي الْأَنْعَامِ لَعِبْرَةً ۖ نُّسْقِيكُم مِّمَّا فِي بُطُونِهِ مِن بَيْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَائِغًا لِّلشَّارِبِينَ ) : ۶۶

اور اس میں شک نہیں کہ چوپایوں میں بھی تمہارے لیے عبرت (کی بات) ہے کہ ان کے پیٹ میں (خاک ملا)گوبر اور خون (جو کچھ بھرا ہوا ہے) ا س میں سے ہم تم کو خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لیے خوشگوار ہے۔،،

( وَمِن ثَمَرَاتِ النَّخِيلِ وَالْأَعْنَابِ تَتَّخِذُونَ مِنْهُ سَكَرًا وَرِزْقًا حَسَنًا ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَعْقِلُونَ ) :۶۷

''اور اسی طرح خرمے اور انگور کے پھل سے (ہم تم کو شیرہ پلاتے ہیں) جس کی (کبھی تو) شراب بنالیا کرتے ہو اور (کبھی) اچھی روزی (سرکہ وغیرہ) اس میں شک نہیں کہ اس میں بھی سمجھ دار لوگوں کے لیے (قدرت خدا کی) بڑی نشانی ہے۔،،


( وَأَوْحَىٰ رَبُّكَ إِلَى النَّحْلِ أَنِ اتَّخِذِي مِنَ الْجِبَالِ بُيُوتًا وَمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا يَعْرِشُونَ ) :۶۸

''اور (اے رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم)) تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ تو پہاڑوں اور درختوں اور لوگ جو اونچی اونچی ٹیٹاں (اور مکانات پاٹ کر) بناتے ہیں ان میں چھتّے بنا۔،،

( ثُمَّ كُلِي مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ فَاسْلُكِي سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا ۚ يَخْرُجُ مِن بُطُونِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ فِيهِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ ) : ۶۹

''پھر ہر طرح کے پھلوں (کے بورے سے) ان کا چوس پھر اپنے پروردگار کی راہوں میں تابعداری کے ساتھ چلی جا مکھیوں کے پیٹ سے پینے کی ایک چیز نکلتی ہے (شہد) جس کے مختلف رنگ ہوتے ہیں اس میں لوگوں (کی بیماریوں) کی شفا (بھی) ہے اس میں شک نہیں کہ اس میں غور و فکر کرنے والوں کے واسطے (قدرت خدا کی) بہت بڑی نشانی ہے۔،،

اس آیت میں منجملہ آثار قدثرت میں سے ایک یہ ہے کہ خدا نے آسمان سے پانی نازل کیا اور اس سے مردہ زمین کو زندہ کردیا۔ اس کے بعد حیوانات کی خلقت میں تدبیر خداوندی کا بیان ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ گوبر اور خون کے درمیان سے خالص دودھ پیدا کرتا ہے۔ پھر یہ بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کھجور اور انگور میں وہ صلاحیت پیدا کی جس کے ذریعے لذیذ چیزوں سے نشہ آور اشیاء بنائی جاسکتی ہےں اور باقی پھلوں میں یہ امتیاز صرف کھجور اور انگور کو حاصل ہے۔

اس کے بعد شہد کی مکھی کے ان حیرت انگیز کارناموں کا ذکر فرمایاجنہیں سن اور دیکھ کر وہ صاحبان عقل دنگ رہ جاتے ہیں جو شہد بنانے کے طریقوں اور اس کی خصوصیات سے آگاہ ہوتے ہیں اور یہ کہ شہد کی مکھی یہ سب کچھ خدا کی وحی اور الہام کے ذریعے انجام دیتی ہے۔


پس معلوم ہوا ہے کہ اس آیت میں مسکر کو مباح و حلال قرار دینے کی کوئی دلیل نہیں۔ اس کے علاوہ اسی آیت میں اس بات کی طرف اشارہ موجود ہے کہ (بفرض تسلیم سکر سے مراد نشہ آور چیز بھی ہو تو) نشہ آور چیز کو پینا جائز نہیں اس لیے کہ نشہ آور چیز کو رزق حسن کے مقابلے میں پیش کیا گیا ہے۔ اس سے یہ بات ہوتا ہے کہ نشہ آور چیز کا شمار رزق حسن میں نہیں ہوتا اس لیے یہ مباح بھی نہیں ہوگا۔

اہل بیت اطہار (ع) کی روایات بھی اس پر دلالت کرتی ہیں کہ شراب نوشی کسی وقت اور زمانے میں حلال نہیں تھی۔ چنانچہ شیخ صدوق اپنی سند کے ذریعے محمد بن مسلم سے روایت کرتے ہیں:

''قال: سئل ابو عبد الله علیه السلام عن الخمر فقال: قال رسول الله ان اول ما نهانی عنه ربی عزوجل عبادة الاوثان و شرب الخمرٍ،،

''حضرت امام جعفر صادق(علیہ السلام) سے شراب کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ (ع) نے فرمایا: رسول اللہ نے فرمایا: پہلی چیز جس سے اللہ نے مجِھے منع فرمایا وہ بت پرستی اور شراب نوشی ہے۔۔۔،،

نیز ریان، امام رضا (علیہ السلام) سے نقل کرتے ہیں کہ آپ(ع) نے فرمایا:

قال : ما بعث الله نبیّا الا بتحریم الخمر،، (۱)

''اللہ تعالٰ نے جس نبی کو بھی بھیجا اسے حرمت شراب کا حکم دے کر بھیجا۔،،

____________________

(۱)البحار، ج ۱۶، ص ۱۸۔۲۰، باب حرمۃ شرب الخمر۔ وافی، ج ۱۱، ص ۷۹ میں اس کے لیے ایک مستقل باب مخصوص کیا گیا ہے۔


اعجاز کی بحث میں بھی گزر چکا ہے کہ شراب کو تورات میں بھی حرام قرار دیا گیا ہے۔(۱) لیکن ایک حقیقت، جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں، یہ ہے کہ اسلام نے ایک عرصہ تک حرمت شراب کا اعلان نہیں کیا اور یہ بات صرف شراب سے مختص نہیں ہے، تمام احکامات پر اسی طریقے سے عمل کیا گیا ہے، ظاہر ہے اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ شراب پہلے حلال تھی اور بعد میں حرام قرار دی گئی۔

( الزَّانِي لَا يَنكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ ۚ وَحُرِّمَ ذَٰلِكَ عَلَى الْمومنينَ ) ۲۴:۳

''زنا کرنے والا مرد تو زنا کرنے والی ہی عورت یا مشرکہ سے نکایح کرے گا اور زنیا کرنے والی عورت بھی بس زنیا کرنے والے ہی مرد یا مشرک سے نکاح کرے گی اور سچے ایمانداروں پر تو اس قسم کے تعلقات حرام ہیں۔،،

سعید بن مسیّب اور بہت سے دیگر علماء کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ آیت اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے ذریعے نسخ ہو گئی ہے:

( وَأَنكِحُوا الْأَيَامَىٰ مِنكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ ۚ ) ۲۴:۳۲

''اوراپنی (قوم کی) بے شوہر عورتوں اور اپنے نیک بخت غلاموں اور لونڈیوں کا بھی نکاح کردیا کرو۔،،

آیہ اوّل کے مطابق زانی عورت سے وہی نکاح کرسکتا ہے جو خود زانی یا مشرک ہو۔ جب کہ دوسری آیت کیمطابق مطلق بے ہمسر مسلمان سے نکاح جائز ہے چاہے وہ زانی ہو یا نہ ہو۔ کیونکہ ''ایامیٰ،، (بے ہمسر) دونوں کو شامل ہے۔ اس طرح دوسری آیت پہلی آیت کے لیے ناسخ قرار پائے گی۔

لیکن حق یہی ہے کہ گذشتہ آیات کی طرح یہ آیت بھی نسخ نہیں ہوئی۔ کیونکہ اس آیت کا نسخ ہونا اس بات پر موقوف ہے کہ آیت میں نکاح سے مراد ازدواج ہو، اور کسی دلیل سے یہ ثابت نہیں کہ اس آیت میں نکاح سے مراد شادی یا ازدواج ہے۔

____________________

) ۱) اسی کتاب کے صفحہ ۵۶ کی طرف رجوع فرمائیں۔


اس کے علاوہ اگر اس آیت میں نکاح سے مراد ازدواج ہو تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ زانی مسلمان کے لیے مشرک عورت سےشادی کرنا جائز ہے۔ اسی طرح یہ بھی لازم آتا ہے کہ مسلمان زانی عورت کے لیے مشرک مرد سے شادی کرنا جائز ہے اور یہ بات ظاہر کتابِ الہی اور سیرتِ مسلمین کے خلاف ہے

بنابرایں آیت سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ نکاح سے مراد مطلق ہمبستری ہے۔ چاہے جائز طریقے سے ہو یا زنا ہو۔ اس آیت میں جواز یا عدم جواز کا حکم بیان نہیں کیا جارہا بلکہ یہ ایک جملہ خبر یہ ہے۔ اس کے ذریعے حرمتِ زنا کی شدّت بیان کی جارہی ہے اور اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ زانی مرد صرف زانی عورت یا اس سے بھی پست، مشرک عورت سے زنا کرتاہے اسی طرح زانی عورت بھی صرف کسی زانی مرد یا اس سے بھی پست مشرک مرد سے زنا کرتی ہے۔ مومن انسان کبھی بھی اس قسم کے گناہوں کا مرتکب نہیں ہوتا کیونکہ زنا ایک حرام فعل ہے اور وہ حرام فعل انجام نہیں دیتا۔

( قُل لِّلَّذِينَ آمَنُوا يَغْفِرُوا لِلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ أَيَّامَ اللَّـهِ ) ۴۵:۱۴

''(اے رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم)) مومنوں سے کہدو کہ جو لوگ خدا کے دنوں کی (جو جزا کے لیے مقرر ہیں) توقع نہیں رکھتے ان سے درگزر کریں۔،،

بعض مفسرین کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ آیت، آیہ سیف کے ذریعے نسخ ہوگئی ہے اس آیت کا شان نزول یوں بیان کرتے ہیں کہ یہ آیت مکی ہے اور یہ اس وقت نازل ہوئی جب ہجرت سے قبل مکّہ میں حضرت عمر بن خطاب کو کسی مشرک نے گالی دی اور اور ان کی توہین کی اور حضرت عمر اسے سزا دینا چاہتے تھے اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ ایت نازل فرمائی۔ لیکن بعد میں آیت، اس آیہ سیف کے ذریعے منسوخ ہوگئی:

( فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ ) ۹:۵

''تو مشرکوں کو جہاں پاؤ (بے تامّل) قتل کردو۔،،


یہ حضرات اپنے دعویٰ کی دلیل کے طور پر اس روایت کو پیش کرتے ہیں جس کی روایت علیل بن احمد نے محمد بن ہاشم سے، اس نے عاصم بن سلیمان سے، اس نے جویبر سے اس نے ضحاک سے او ضحاک نے ابن عباس سے کی ہے۔(۱)

لیکن یہ روایت ہے بہت ضعیف ہے، اس کا سب سے معمولی اور کمزور پہلو یہ ہے کہ اس کے سلسلہئ سند میں عاصم بن سلیمان شامل ہے جو بہت بڑا جھوٹا اور جعل ساز راوی ہے۔(۲) اس کے علاوہ یہ روایت متن کے اعتبار سے

بھی کمزور اور ناقابل عمل ہے۔ کیونکہ ہجرت سے پہلے مسلمان کمزور تھے اورایسے حالات میں حضرت عمر کے لیے یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ اس مشرک سے انتقال لیتے۔ نیز اس روایت میں لفظ ''غفران،، استعمال ہوا ہے۔ یہ لفظ ایسے مقام ہر استعمال کیاجاتا ہے جہاں کوئی انتقال لینے پر قادر ہو لیکن چشم پوشی اور درگزر کرے اور یہ مسلّم ہے کہ ہجرت سے قبل حضرت عمر کے لیے یہ ممکن نہ تھا۔ اس لیے کہ اگر حضرت عمر انتقام لیتے تو مشرک بھی جوابی کارروائی کرتا۔

پس حق یہی ہے کہ یہ آیت محکم ہے (نسخ نہیں ہوئی) آیہ شریفہ کے مطلب یہ ہے کہ جو لوگ آخرت کی امید نہیں رکھتے ان کی طرف سے اگر تمہیں ذاتی طور پر کوئی اذیت پہنچے اور تمہاری توہین کی جائے تو تمہیں اسے درگزرکردینا چاہیے، اس حقیقت پر یہ آیت بھی دلالت کرتی ہے:

( لِيَجْزِيَ قَوْمًا بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ ) ۴۵:۱۴

''تاکہ وہ لوگوں کے اعمال کا بدلہ دے۔،،

____________________

(۱) الناسخ و المنسوخ للخاس، ص ۲۱۸

(۲) اس کے بارے میں ابن عدی کا کہنا ہے کہ یہ شخص من گھڑت احادیث وضع کرنے والوں میں سے ایک ہے، اور یہ کہ اس کی اکثر احادیث متن اور سند کے اعتبار سے متزلزل ہیں۔


( مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهِ ۖ وَمَنْ أَسَاءَ فَعَلَيْهَا ۖ ثُمَّ إِلَىٰ رَبِّكُمْ تُرْجَعُونَ ) : ۱۵

''جو شخص نیک کام کرتا ہے تو خاص اپنے لیے اور برا کام کرے گا تو اس کا وبال اسی پر ہوگا پھر (آخر) تم اپنے پروردگار کی طرف لوٹا ئے جاؤگے۔،،

پس اس آیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جو آدمی روز آخرت کا امیدوار نہیں، چاہے وہ مشرک، اہل کتاب یا مسلمان ہو، جو اپنے دین کا صحیح پابند نہی، اس کے بُرے اعمال اور زیادتیوں کی سزا خدا کے ہاتھ میں ہے۔ کوئی ظالم، ظلم کرکے خدا سے بچ نہیں سکتا لہذا مسلمان اور مومن کو چاہےے کہ وہ ظالموں سے انتقام لینے میں جلد بازی نہ کرے، اس لیے کہ خدا کا انتقام، مظلوم کے انتقام سے زیادہ سخت ہے، یہ ایک اخلاقی اور تادیبی حکم ہے اور یہ دعوتِ اسلام یا کسی اور ضرورت کی خاطر کفار سے قتال و جہاد کے منافی نہیں ہے۔ اس لحاظ سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یہ آیت، آیہ سیف سے پہلے نازل ہوئی ہو یا اس کے بعد نازل ہوئی ہو۔

( فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّىٰ إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً ) ۴۷:۴

'' تو جب تم کافروں سے بھڑو تو (ان کی) گردنیں مارو یہاں تک کہ جب انہیں زحموں سے چور کر ڈالو تو ان کی مشکیں کس لو پھر اس کے بعد یا تو احسان رکھ کر چھوڑ دینا یا معاوضہ لے کر رہا کرنا۔

علماء کی ایک جماعت کا عقیدہ ہے کہ یہ آیت، آیہ سیف کے ذریعے نسخ ہوگئی ہے اور بعض کا خیال ہے کہ آیہ سیف، اس آیت کے ذریعے نسخ ہوئی ہے۔(۱)

لیکن قول حق یہی ہے کہ یہ آیت ناسخ ہے اور نہ منسوخ۔ البتہ اس مسئلے کی تحقیق مزید تفیصل کی متقاضی ہے۔

____________________

(۱) الناسخ و المنسوخ للخاس، ص ۲۲۰۔


مسلمانوں سے برسر پیکار کفار کے احکام

شیعہ امامیہ میں یہ حکم مشہور ہے کہ مسلمانوں سے برسرپیکار کفار جب تک اسلام نہ لے آئیں، مکمل شکست سے دوچار نہ ہوجائیں اور زیادہ تعداد میں مارے جانے کی وجہ سے عاجز نہ آجائیں، وہ واجب القتل ہیں۔ صرف اسیری کی وجہ سے کافر کا قتل ساقط نہیں ہوتا۔ اگر کافر مسلمان ہوجائے تو قتل کا موضوع ہی برطرف ہوجاتا ہے کیونکہ موضوع قتل، کفر ہے۔

اسی طرح کفار کی مکمل شکست کے بعد ان کا قتل ساقط ہوجاتا ہے۔ کیونکہ آیت میں اس موقت تک کفار کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے جب تک انہیں شکست نہ ہوجائے البتہ قتل کے ساقط ہو نے کے بعد حاکم شرع کو اختیار ہے کہ چاہے تو پکڑے جانے والے کافروں کو اسیر بنائے یا ان سے فدیہ و تاوان وصول کرے یا ان پر احسان کرتے ہوئے انہیں بلاعوض آزاد کردے اس حکم میں بت پرست ،مشرک اور اہل کتاب شریک ہیں۔

ان احکام پر علماء کے اجماع و اتفاق کا دعویٰ کیا گیا ہے اور بہت شاذ و نادر افراد نے ان احکام کی مخالفت کی ہے ار ان کی رائے بھی قابل توجہ نہیں۔ چناچنہ آئندہ بحثوں میں اس کی مزید وضاحت آئے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔

اگر ''شد الوثاق،، سے مراد غلام بنانا ہو تو آیہ کریمہ کے ظہور سے بھی یہی احکام سمجھے جاتے ہیں، جن کا ذکر کیا گیا ہے '' شد الوثاق،، سے غلام بنانے کا معنی اس لیے سمجھا گیا ہے کہ ''شدّ الوثاق،، کا معنی ہے: کسی کی آزادی کا سلب کرنا، جب تک اسے بلاعوض یا عوض لے کر آزاد نہ کیا جائے اور یہ معنی غلام بنانے سے زیادہ سازگار ہے۔

اگر ''شدّ الوثاق،، کا معنی غلام بنانا نہ ہو پھر بھی کافر سے فدیہ لینے اور اس پر احسان کرتے ہوئے اسے ازاد کرنے کے ساتھ، اسے غلام بنانے کا بھی حکم موجود ہے، کیونکہ دلیل سے ثابت ہے کہ کافر کو غلام بناناجائز ہے۔ اس دلیل کے ذریعے آیت کے اطلاق کی تقیید ہوگی۔


مذکورہ احکام اس روایت میں موجود ہیں جسے کلینی اور شیخ طوسی نے طلحہ بن زید سے اور اس نے حضرت ابو عبد اللہ الصادق (علیہ السلام) سے روایت کی ہے: امام (ع) فرماتے ہیں:

''میرے والد گرامی فرماتے تھے: جنگ کے دو حکم ہیں: ایک یہ کہ اگر کفار کے ساتھ جنگ جاری ہو اور ابھی کفار کو شکست نہ ہوئی تو کافر قیدیوں کے بارے میں امام (ع) کو اختیار ہے کہ چاہے تو انہیں قتل کردے اور چاہے تو ان کا بایاں پاؤں کاٹے اور اسے بدن سے جدا نہ کرے تاکہ ان کا خون نکلتا رہے اور اس طرح وہ مرجائیں چنانچہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

( إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلَافٍ أَوْ يُنفَوْا مِنَ الْأَرْضِ ۚ ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا ۖ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ ) ۵:۳۳

'' جو لوگ خدا اور اس کے رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) سے لڑتے بھڑتے اور (احکام کو نہیں مانتے) اور فساد پھیلانے کی غرض سے ملکوں (ملکوں) دوڑتے پھرتے ہیں ان کی سزا بس یہی ہے کہ (چن چن کر) یا تو مار ڈالے جائیں یا انہیں سولی دے دی جائے یا ان کے ہاتھ پاؤں ہیر پھیر کے (ایک طرف کا ہاتھ، دوسری طرف کا پاؤں) کاٹ ڈالے جائیں، یا انہیں اپنے وطن کی سرزمین سے شہر بدر کردیا جائے، یہ رسوائی تو ان کی دنیا میں ہوئی اور پر آخرت میں تو ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہی ہے۔،،

اس کے بعد امام (ع) نے فرمایا:

''کیا تم دیکھتے نہیں اللہ تعالیٰ نے صرف کفر کی صورت میں امام (ع) کو یہ اختیار دیا ہے، ہر مقام پر نہیں طلحہ کہتے ہیں کہ میں نے امام (ع) سے عرض کیا: آیہ کریمہ :''او ینفوا من الارض،، کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا: اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمان کفار کو منتشر کردیں اور انہیں بھگا دیں اور اگر مسلمان کفار کا تعاقب کریں اور انہیں گرفتار کرلیں تو ان پر وہ احکام لاگو ہوں گے۔


دوسرا یہ کہ جب کفار سے جنگ بند ہوجائے اور انہیں شکست دے دی جائے، اس وقت جو بھی قیدی بنایا جائے اور وہ مسلمانوں کے قبضے میں ہو، اس کے لیے امام (ع) کو اختیار ہے کہ چاہے تو اس پر احسان کرے اور اسے آزاد کر دے، چاہے تو اس سے فدیہ و تاوان وصول کرے اور اگر چاہے تو اسے غلام بنالے۔،،(۱)

کفار کی شکست کے بعد ان سے قتل کے ساقط ہونے پر ضحاک اور عطاء بھی ہم سے متفق ہےں اور حسن نے بھی اس بات کی تصریح کی ہے کہ اس صورت میں امام (ع) کو آزاد کرنے، فدیہ لینے اور غلام بنانے میں اختیارحاصل ہے۔(۲)

گذشتہ بیانات کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ زیر بحث آیہ کریمہ نسخ نہیں ہوئی یہ اور بات ہے کہ بعض مقامات سے قتل مختص ہے اور بعض مقامات پر عدم قتل۔ اس اعتبار سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آیہ سیف زیر بحث آیت سے پہلے نازل ہوئی ہو یا بعد میں۔

مقام تعجب ہے کہ شیخ طوسی نے اس مسئلے میں علمائے امامیہ کی طرف اس قول کی نسبت دی ہے کہ جنگ بندی کے بعد اسیر کے بارے میں امام کو اسیر کے قتل، آزاد کرنے، اس سے تاوان وصول کرنے اور اسے غلام بنانے میں اختیار حاصل ہے۔ چنانچ شیخ طوسی فرماتے ہیں:

''ہمارے اصحاب نے یہ روایت کی ہے کہ اگر جنگ بندی سے پہلے کسی قیدی کو گرفتار کیا جائے تو امام کو اختیار ہے کہ چاہے اس قتل کردے، چاہے اس کے ہاتھ پاؤں کاٹ دے اور اس طرح چھوڑ دے کہ وہ مرجائے۔ وہ اسے بلاعوض آزاد نہیں کرسکتا اور نہ اس سے تاوان وصول کرکے آزاد کرسکتا ہے اور اگر جنگ بندی کے بعد کسی کافر کو قیدی بنایا جائے تو امام کو اسے بلاعوض آزاد کرنے، تاوان مالی یا جانی لے کر آزاد کرنے، غلام بنانے اور قت کرنے میں اختیار ہے۔،،

____________________

(۱) الوافی، ج ۹، ص۲۳

(۲) قرطبی، ج ۱۶، ص ۲۲۷، الناسخ و المنسوخ، ص ۲۲۱۔


طبرسی نے اپنی تفسیر میں بھی شیخ طوسی کی متابعت کی ہے۔(۱) جبکہ اس مضمون کی کوئی روایت وارد نہیں ہوئی، بلکہ خود شیخ طوسی اپنی کتاب ''مبسوط،،(۲) میں اس بات کی تصریح کرتے ہیں کہ جو قیدی جنگ بندی کے بعد گرفتار کیا جائے اس کے بارے میں امام کو اختیار ہے کہ اس پر احسان کرکے اسے بلا عوض آزاد کردے یا اسے غلام بنائے اور یا اس سے تاوان وصول کرکے آزاد کرے۔ اسے قتل نہیں کیا جاتا۔ چنانچہ ہمارے علماء کی روایات بھی اسی بات پر دلالت کرتی ہیں۔

بلکہ چیخ طوسی نے اپنی کتاب ''خلاف،، کے باب ''فئی، اور ''غنائم،، میں اس بات پر اجماع کا دعویٰ کیا ہے جن حضرات نے اس بات پر اجماع کا دعویٰ کیا ہے ان میں علاّمہ مرحوم بھی ہیں انہوں نے اپنی دونوں کتابوں ''المنتہیٰ،، اور ''التذکرہ،، کے باب جہاد میں، اسیروں کے احکام میں اجماع کا دعویٰ کیا ہے۔

میرے خیال میں شیخ طوسی کی کتاب ''التبیان،، میں لفظ ''ضرب الرقاب،، (اسیروں کو قتل کرنا) لغزشِ قلم کا نتیجہ ہوگا اور مرحوم طبرسی نے بغیر کسی تحقیق کے اس بات کو لے لیا ہے۔

یہاں تک اس مسئلے میں علمائے شیعہ امامیہ، ضحاک، عطاء اورحسن کے نظریات بیان کیے گئے۔

آیت کے بارے میں بعض دیگر عقائد

اس مسئلے میں باقی علمائے اہل سنت کے مختلف اقوال نظر آتے ہیں:

۱۔ یہ آیت مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ پھر یہ آیت، آیہ سیف کے ذریعے نسخ ہوگئی۔ یہ قول قتادہ، ضحاک، سدی، ابن جریح، ابن عباس اور بہت سے کوفی علماء کی طرف منسوب ہے۔ یہ حضرات کہتے ہیں کہ مشرک قیدی کو قتل کرنا واجب ہے اسے بلا عوض یا تاوان وصول کرکے آزاد کرنا جائز نہیں۔(۳)

____________________

(۱) التبیان، ج ۹، ص ۲۹۱، طبع نجف۔

(۲) المبسوط، کتاب الجہاد، فصل فی اضاف الکفار و کیفیۃ قتالہم۔

(۳) تفسیر قرطبی، ج ۱۶، ص ۲۲۷


جواب: اس قول کے رو سے آیت کے نسخ کی کو ئی وجہ او جواز نہیں بنتا۔ کیونکہ یہ آیت مقید ہے اور آیہ سیف مطلق ہے، چاہے یہ آیت، آیہ سیف سے پہلے نازل ہوئی ہو یا بعد میں۔ اس سے پہلے ہم اس بات کی وضاحت کرچکے ہیں کہ عامِ مؤخر خاصِ مقدم کا ناسخ نہیں بن سکتا تو مطلق متاخر مقید مقدم کے لیے بطریقِ اولیٰ ناسخ نہیں بن سکتا۔(۱)

۲۔ یہ عام کفار کے بارے میں نازل ہوئی لیکن صرف مشرکین کے سلسلے میں نسخ ہوگئی ہے۔ یہ قول قتادہ، مجاہد اور حکم کی طرف منسوبگ ہے۔ مذہب ابو حنیفہ میں بھی قول مشہور ہے۔(۲)

جواب: پہلے کی طرح یہ قول بھی باطل ہے۔ کیونکہ یہ قول اس صورت میں صحیح ہوسکتا ہے جب آیہ سیف، زیرِ بحث آیت کے بعد نازل ہوئی ہو اور نسخ کے قائل حضرات یہ بات ثابت نہیں کرسکتے یہ حضرات اپنے مدعیٰ کے اثبات کے لیے صرف خبر واحد سے تمسک کرسکتے ہیں او علماء کا اجماع ہے کہ خبر واحد سے نسخ ثابت نہیں ہوسکتا۔

اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ خبر واحد سے نسخ ثابت ہو جاتا ہے پھر بھی آیہ سیف کے ناسخ ہونے کی دلیل نہیں بنتی تاکہ یہ قول ثابت ہو۔ بلکہ ثابت یہ ہوگا کہ زیر بحث آیت، آیہ سیف کے لیے مقید ہو۔ اس لیے کہ امت کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ آیت مشرکین کو بھی شامل ہے یا اس سے صرف مشرکین ہی مراد ہیں۔ بنابرایں یہ آیت، آیہ سیف کے لیے ایک قرینہ ہوگی کیونکہ مطلق مقید کے لیے ناسخ نہیں بن سکتا۔

اگر ان تمام باتوں سے چشم پوشی بھی کی جائے تو یہ مسلّم ہے کہ زیربحث آیت اور آیہ سیف میں عموم اور حصوص من وجہ کی نسبت پائی جاتی ہے۔ یعنی کہیں تو مشرک ہے لیکن جنگ بندی کے بعد قیدی نہیں۔ یہاں مشرک کے لیے حکم قتل ہی ثابت ہوگا اور کہیں جنگ بندی کے بعد قیدی ہوگا مشرک نہیں۔ یہاں اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔

____________________

(۱) ہم نے اپنی کتاب ''اجود التقریرات،، کی عموم و خصوص کی بحث میں اس مسئلے کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔

(۲) تفسیر قرطبی، ج ۱۶، ص ۲۲۷


ایک مقام وہ ہوسکتا ہے جہاں کافر، مشرک ہو اور جنگ بندی کے بعد اسے اسیر بنالیا جائے۔ یہاں دو مختلف احکام میں ٹکراؤ ہوگا۔ ظاہرہے اس صورت میں دونوں آیتیں ایک دوسرے کے لیے ناسخ نہیں ہونگی بلکہ اس آیت کے مضمون پر عمل ہوگا جس کی تائید کوئی دوسری دلیل کرے۔

۳۔ زیر بحث آیت، آیہ سیف کی ناسخ ہے یہ قول ضحاک وغیرہ کی طرف منسوب ہے۔(۱)

جواب: یہ قول اس صورت میں صحیح ہوگا جب اس آیت کا آیہ سیف کے بعد نازل ہونا ثابت ہو۔ اس کو ضحاک وغیرہ ثابت نہیں کرسکتے۔اس کے علاوہ اس سے قبل اس امر کی وضاحت کر دی گئی ہے کہ چاہے یہ آیت، آیہ سیف سے مقدم ہو یا مؤخر، اس کے نسخ ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔

۴۔ ہر حالت میں قتل کرنے، غلام بنانے، فدیہ لے کر آزاد کرنے اور بلا عوض آزاد کرنے کا اختیار امام کو حاصل ہے۔ اس قول کو ابو طلحہ نے ابن عباس سے نقل کیا ہے جسے بہت سے علمائے کرام نے اپنایا ہے۔ ان میں ابن عمر، حسن اور عطاء شامل ہیں۔ مالک، شافعی، ثوری، اوزاعی اور ابی عبید وغیرہ کا بھی یہی عقیدہ ہے۔ اس قول کے مطابق آیہ کریمہ میں کسی قسم کا نسخ نہیں ہوا۔(۲) نحاس اس قول کو ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں:

''یہ قول اس بنیاد پر قائم ہے کہ دونوں آیتیں، آیہ سیف اور آیہ عفو، محکم ہیں (نسخ نہیں ہوئیں) اور دونوں کے ظاہر پر عمل کیا گیا ہے۔ یہ قول بالکل صحیح ہے کیونکہ نسخ کے لیے کسی قطعی اور مسلّم دلیل کی ضرورت ہوتی ہے اور جہاں پر دونوں آیتوں پر عمل کرنا ممکن ہے وہاں نسخ کوئی معنی نہیں رکھتا۔ یہ قول اہل مدینہ، شافعی اور ابو عبید سے منقول ہے۔،،(۳)

____________________

(۱) تفسیر قرطبی، ج ۱۶، ص ۲۲۷

(۲) تفسیر قرطبی، ج ۱۶، ص ۲۲۸

(۳) الناسخ و المنسوخ، ص ۲۲۱


جواب: اگرچہ اس قول سے آیہ شریفہ کا نسخ ہونا لاز م نہیں آتا لیکن پھر بھی یہ باطل ہے کیونکہ آیت میں اس امر کی تصریح ہے کہ کفار کی شکست اور جنگ بندی کے بعد ہی ان قیدیوں کو بلا عوض یا عوض لیکر آزاد کیا جاسکتا ہے۔ بنابریں کفار کی شکست سے پہلے بلاعوض یا عوض لے کر اسیروں کی آزادی کا قائل ہونا سراسر قرآن کی خلاف ورزی ہے۔

اسی طرح آیہ کی رو سے قتل کی اس وقت تک اجازت ہے جب تک کفار کو شکست نہیں ہوتی۔ لیکن کفار کی شکست کے بعد بھی ان کے قتل کا قائل ہونا، خلاف قرآن ہے۔

اس سے قبل بیان کیا جاچکا ہے کہ اس آیت کے ذریعے آیہ سیف کی تقیید کی گئی ہے۔

اس قول کی دلیل یہ پیش کی گئی ہے کہ رسول اللہ(ص) نے بعض قیدیوں کو قتل کیا، بعض کو ان پر احسان کرتے ہوئے آزاد کردیا اوربعض سے فدیہ و تاوان لے کر ان کو آزاد کردیا تھا۔

اس کا جواب یہ ہے کہ بفرض تسلیم اگر یہ روایت صحیح ہو پھر بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ قتل کرنے، فدیہ لینے اور بلاعوض آزاد کرنے میں امام کو اختیار حاصل ہے کیونکہ عین ممکن ہے کہ نبی اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) نے اسیر کو جنگ بندی اور کفار کی شکست سے پہلے قتل کیا ہو۔ اسی طرح یہ بھی ممکن ہے کہ آپ نے کفار کی شکست کے بعد اسیروں کو ان سے فدیہ لے کر اور بغیر فدیہ کے آزادکیا ہو۔

ممکن ہے یہ حضرات (جو ہر حالت میں قتل اور آزاد کرنے میں اختیار کے قائل ہیں) حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے عمل سے استدلال کریں جس کے مطابق انہوں نے اسیروںکو قتل کیا تھا۔


اس کا جواب یہ ہے کہ اوّلاً یہ واقعہ تاریخی اعتبار سے ثابت نہیں ہے بفرض تسلیم اگر یہ واقعہ صحیح بھی ہو پھر بھی مدعیٰ ثابت نہیں ہوسکتا کیونکہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کا عمل حجیّت نہیں رکھتا تاکہ اس کی بنیاد پر ظاہر قرآن سے دست بردار ہوا جائے۔

۳۳۔( وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ ) ۵۱:۱۹

''اور ان کے مال میں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے (دونوں) کا حصّہ تھا۔،،

۳۴۔( وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ ) ۷۰:۲۴

( لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ ) : ۲۵

''اور جن کے مال میں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے کے لیے ایک مقرر حصّہ ہے۔،،

ان دونوں آیات کے بارے میں اختلاف ہے کہ آیا یہ نسخ ہوئی ہےں؟ کیونکہ ان آیات میں جس معلوم اور آشکار حق کا ذکر کیا گیا ہے ممکن ہے اس سے مراد واجب زکوٰۃ ہو جو ایک واجب حق ہے۔ ممکن ہے اس سے مراد کوئی اور م الی حق ہو جو واجب ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد ایک مالی حق ہو جو مستحب ہو۔

اگر اس حق سے مراد زکوٰۃ کے علاوہ کوئی دوسرا واجب حق ہے تو اس صورت میں دونوں آیتیں نسخ ہوں گی اس لیے کہ واجب زکوٰۃ کی وجہ سے قرآن میں موجود تمام دوسرے واجب صدقات نسخ ہوگئے ہیں۔ چنانچہ اس احتمال کو علماء کی ایک جماعت نے اختیار کیا ہے۔ اگر اس حق سے مردا واجب زکوٰۃ یا کوئی دوسرا مالی حق ہے تو اس صورت میں دونوں آیتیں محکم ہوں گی۔

تحقیق اس امر کی متقاضی ہے کہ ان دونوں آیتوں میں حق سے مراد واجب زکوٰۃ کے علاوہ کوئی دوسرا حق ہے جس کی ادائیگی کی شارع نے ترغیب دی ہے۔ شیعہ اور اہل سنت کی بہت سی روایات اس بات کی دلیل ہیں کہ زکوٰۃ کے علاوہ کوئی اور صدقہ واجب نہیں ہے اور اہل بیت اطہار (ع) کی روایات میںیہ بیان موجود ہے کہ اس حق سے کیا مراد ہے۔


شیخ کلینی نے ابو بصیر سے روایت کی ہے ابو بصیر کہتے ہیں:

''ہم امام صادقؑ کی خدمت میں بیٹھے تھے، ہمارے ساتھ کچھ دولت مند افراد بھی تھے انہوں زکوٰۃ کا ذکر کیا تو امام(ع) نے فرمایا: زکوٰۃ کوئی ایسی چیز نہیں کہ زکوٰۃ ادا کرنے والے تعریف کی جائے۔

یہ تو ایک ظاہر ہے اور مسلّم چیز ہے اسی کی وجہ سے تو مسلمانوں کے خون کو تحفظ ملا ہے اور اسی کی بدولت انسان مسلمان کہلانے کا مستحق قرار پاتا ہے۔ اگر مسلمان زکوٰۃ ادا نہ کرے تو اس کی نماز قبول نہیں ہوگی۔ یہ دیکھو کہ زکوٰۃ کے علاوہ بھی تمہارے اموال میں لوگوں کے کچھ حقوق ہیں۔ میں (ابو بصیر) نے عرض کیا: مولا! زکوٰۃ کے علاوہ ہمارے اموال میں اور کون سے حقوق موجود ہیں؟ آپ نے فرمایا: سبحان اللہ! کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہیں سنا: :( وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ ) ( لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ ) ۔ میں نے عرض کی: آحر وہ کون سا حق ہے۔ آپ نے فرمایا: خدا کی قسم! یہ وہی حق ہے جس کی طرف ہر شخص متوجہ ہے۔ اسے چاہیے کہ ہر روز یا جمعہ میںیا مہینے میں ایک مرتبہ کچھ نہ کچھ دیتا رہے۔،،

نیز کلینی نے اپنی سندسے اسماعیل بن جابر سے اور انہوں نے امام صادقؑ سے نقل کیا ہے:

''آپ سے آیہ کریمہ:( وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ ) ( لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ ) کے بارے میں سوال کیا گیا کہ کیا یہ زکوٰۃ کے علاوہ کوئی حق ہے؟ آپ نے فرمایا: اس حق کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کو خدا مال و دولت دے اسے چاہیے کہ اس میں سے ایک ہزار، دو ہزار یا تین ہزار الگ کرلے اور اس کے ذریعے صلہ رحمی کرے اور قریبی رشتہ داروں کی مشکلات کو حل کرے۔،،

ان کے علاوہ بھی امام باقر اور امام صادق (علیھما السلام) سے اس مضمون کی روایات منقول ہیں۔(۱)

____________________

(۱) الوافی باب الحق المعلوم، ج ۶، ص ۵۲


بیہقی نے اپنی کتاب ''شعب الایمان،، میں عزوان ان ابی حاتم سے روایت کی ہے:

''ایک مرتبہ جناب ابوذرؓ حضرت عثمان کے گھر کے دروازے پر کھڑے تھے اور انہیں اندر جانے کی اجازت نہیں مل رہی تھی۔ اتفاق سے قریشی خاندان کے ایک شخص کی نظر ان پر پڑی۔ اس نے جناب ابوذرؓ سے کہا: ابوذر! یہاں کیوں کھڑے ہو؟ جناب ابوذر نے کہا: یہ لوگ مجھے ابوذر کاکیا قصور ہے کہ وہ دروازے پر کھڑا ہے اور اسے اندر آنے کی اجازت نہیں مل رہی۔ اس شخص کی سفارش پر جناب ابوذر کو اجازت مل گئی۔ آپ گھر میں داخل ہوئے اور سب سے آخر میں جا کر بیٹھ گئے۔ اس دوران حضرت عثمان نے کعب سے پوچھا: اگر ایک شخص اپنے مال سے زکوٰۃ ادا کردے تو پھر بھی اسے (کوئی دوسرا حق ادا نہ کرنے کی وجہ سے) کسی گناہ کا خدشہ رہے گا؟ کعب نے جواب میں کہا: نہیں۔ جناب ابوذر کے ہاتھ میںایک عصا تھا، وہ اٹھے اور کعب کے دونوں کانوں کے درمیان عصا مار کر کہا: یہودی کے بیٹے! تمہارا یہ خیال ہے کہ اگر انسان زکوٰۃ ادا کردے تو اس کے ذمے اور کوئی حق نہیں رہتا؟! جبکہ خالق فرمایا ہے:

( وَجَاءَ فِرْعَوْنُ وَمَن قَبْلَهُ وَالْمُؤْتَفِكَاتُ بِالْخَاطِئَةِ ) ۵۹:۹

''اور اگرچہ اپنےاوپر تنگی ہی (کیوں نہ) ہو دوسروں کو اپنے نفس پر ترجیح دیتے ہیں۔،،

نیز خالق فرماتا ہے:

( وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا ) ۷۶:۸

''اور اس کی محبت میں محتاج اور یتیمار اسیر کو کھانا کھلاتے ہیں۔،،


ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

( وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ ) ( لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ ) : ۷۰:۲۴۔۲۵

''اور جن کے مال میں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے کے لیے ایک مقرر حصّہ ہے۔،،

جناب ابوذرنے اس مضمون کی اور آیات بھی انہیں سنا دیں۔(۱)

ابن حریر نے اپنی اسناد سے ابن عباس سے روایت کی ہے:

''حق معلوم صدقہ(زکوٰۃ) کے علاوہ کوئی دوسرا حق ہے جس سے صلہ رحمی اور مہمان نوازی کی جاتی ہے محتاج کی نیاز مندی دور کی جاتی ہے اور محروموں اور ناداروں کی مدد کی جاتی ہے۔،،(۲)

بعض دوسرے مفسرین نے بھی ابن عباس کے اس قول کو اختیار کیا ہے۔ ان بیانات سے یہ ثابت ہوا کہ آیہ کریمہ نسخ نہیں ہوئی بلکہ محکم ہے۔

۳۵۔( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَأَطْهَرُ ۚ فَإِن لَّمْ تَجِدُوا فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ) ۵۸:۱۲

''اے ایماندارو! جب پیغمبر سے کوئی بات کان میں کہنا چاہو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کوئی خیرات دے دیا کرو یہی تمہارے واسطے بہتر اور پاکیزہ بات ہے۔ پس اگر تم کو اس کا مقدور نہ ہو تو بے شک خدا بڑا بخشنے والا مہرمان ہے۔،،

____________________

(۱) کنز العمال، ج ۳، ص ۳۱۰

(۲) تفسیر قرطبی، ج ۲۹، ص ۵۰


اکثر علماء کا یہ عقیدہ ہے کہ مذکورہ آیت اس آیہ کے ذریعے نسخ ہوگئی ہے:

( أَأَشْفَقْتُمْ أَن تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ ۚ فَإِذْ لَمْ تَفْعَلُوا وَتَابَ اللَّـهُ عَلَيْكُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَطِيعُوا اللَّـهَ وَرَسُولَهُ ۚ وَاللَّـهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ) ۵۸:۱۳

''(مسلمانو)کیا تم اس بات سے ڈر گئے کہ (رسول کے ) کان میں بات کہنے سے پہلے خیرات کرلو جب تم لوگ (اتنا سا کام) نہ کرسکے اور خدا نے تمہیں معاف کردیا تو پابندی سے نماز پڑھو اور زکوٰۃ دیتے رہو اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے باخبر ہے۔،،

شیعہ امامیہ اور اہل سنت کی کثیر روایات سے یہ ثابت ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد سوائے حضرت علی (علیہ السلام) کے کسی اور نے اس پر عمل نہیں کیا۔ آپ کے پاس ایک دینار تھا جسے آپ نے دس درہم میں بیچ دیا۔ آپ جب بھی رسول اللہ سے گفتگو اور راز و فرماتے اس سے پہلے ایک درہم صدقہ دے دیتے۔ اس طرح آپ نے دس مرتبہ ا س آیہ کریمہ پر عمل کیا اور پیغمبر اکرم(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) سے خلوت میں راز و نیاز کا شرف حاصل کیا۔


آیہ نجویٰ پر عمل کی احادیث

۱۔ ابن بابویہ نے اپنی اسناد کے ذریعے مکحول سے روایت کی ہے:

''امیر المومنین(ع) نے فرمایا: اصحاب پیغمبر(ص) جو حافظ حدیث ہیں، بخوبی جانتے ہیںکہ ان میں سے جس شخص میں بھی کوئی فضیلت و منقبت موجود ہے، میں اس میں شریک ہوں کوئی دوسرا میرے ساتھ شریک نہیں ہے۔ میں (مکحول) نے عرض کی: یا امیر المومنین(ع) وہ کون سی فضیلیتیں ہیں جو آپ کی ذات سے مختص ہےں۔ آپ نے ان فضائل کو گننا شروع کیا حتیٰ کہ فرمایا: چوبیسویں فضیلت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں پر یہ آیت نازل فرمائی: اذا ناجیتم ۔۔۔ الخ میرے پاس ایک دینار تھا جسے میں نے دس درہم میں بیچ دیا اور میں جب بھی رسول اللہ سے گفتگو کرتا پہلے ایک درہم صدقہ دیا کرتا تھا۔ خدا کی قسم! مجھ سے پہلے اور میرے بعد اصحاب پیغمبر(ص) میں سے کسی نے بھی اس آیت پر عمل نہیں کیا جس پر یہ آیت نازل ہوئی:( أَأَشْفَقْتُمْ أَن تُقَدِّمُوا ) ۔۔۔ الخ(۱) ،،

۲۔ ابن جریر نے مجاہد سے روایت کی ہے:

''امیر المومنین(ع) نے فرمایا: کتاب الہیٰ میں ایک ایسی آیت ہے جس پر مجِھ سے پہلے کسی نے عمل نہیں کیا اور نہ میرے بعد اس میں کوئی عمل کرے گا۔ میرے پاس ایک دینار تھا جسے میں نے دس درہم میں فروخت کیا۔ میں جب بھی رسول اللہ سے خلوت میں گفتگو کرتا تو ایک درہم صدقہ دیا کرتا۔ یہاں تک کہ یہ آیت نسخ ہوگئی اور مجھِ سے پہلے کسی نے بھی اس آیت پر عمل نہیں کیا اور وہ آیت یہ ہے:( نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا ) ۔۔،،(۲)

____________________

(۱) تفسیر البرہان، ج ۲، ص ۱۰۹۹

(۲) تفسیر طبری، ج ۲۸، ص ۱۵


۳۔ شوکانی کہتے ہیں عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن منذ، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے امیر المومنین(ع) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:

''اس آیت پر میرے علاوہ کسی نے بھی عمل نہیں کیا حتیٰ کہ یہ آیت نسخ ہوگئی۔ اس کی مدّت صرف ایک گھنٹہ تھی۔،،

۴۔ سعید بن منصور، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم، حاکم اور ابن مردویہ نے امیر المومنین(ع) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:

''قرآن کریم میں ایک آیت ایسی ہے جس پر مجِ سے پہلے کسی نے عمل نہیں کیا اور نہ کوئی میرے بعد اس پر عمل کرے گا اور وہ آیہ نجویٰ:( نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا ) ۔۔۔۔ الخ ہے، میرے پاس ایک دینار تھا جسے میں نے دس درہم صدقہ دیتا تھا۔ اس کے بعد آیہ کریمہ نسخ ہوگئی اور اس پر کسی نے عمل نہیں کیا تھا۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی( أَأَشْفَقْتُمْ أَن تُقَدِّمُوا ) ۔۔ الخ۔،،(۱)

مسئلے کی تحقیق

آیہ شریفہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ کے ساتھ گفتگو کرنے سے پہلے صدقہ دینے میں انسانوں کی بھلائی اور نفوس کی تطہیر و صفائی ہے اور یہ ایک ایسا حک ہے جو انسانوں کی مصلحت پر مشتمل ہے۔ یہ آیت اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ یہ حکم اس شخص کے لیے ہے جو صدقہ دے سکتا ہو لیکن جو شخص سے پہلے صدق نہ دے سکے تفسیر البرہان، تفسیر طبری و دیگر کتب احادیث، چنانچہ مرحوم مجلسی نے اپنی کتاب بحار الانوار کی جلد ۹، ص ۱۷۰ میں اس مضمون کی متعدد روایات کو نقل کیا ہے۔

خدا اسے بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔

____________________

(۱) فتح فتح القدیر، ج ۵، ص ۱۸۶۔ ا س مضمون کی روایات کثرت سے موجود ہیں۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں:


اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر شخص کی عقل اس فعل کو حسن سمجھتی ہے اور وجدان اس کی صحت کی گواہی دیتا ہے۔ کیونکہ اس حکم میں فقراء کا فائدہ ہے اس لیے کہ صدقات کے مستحق یہی لوگ ہیں۔ اس کے علاوہ اس سے رسول اللہ کا بوجھ ہلکا ہوجاتاہے کیونکہ اس کے نتیجے میں عام لوگوں کی ملاقاتوں کا سلسلہ بہت کم ہوجاتا اور یہ کہ اس حکم کے بعد رسول اللہ سے گفتگو اور راز و نیاز کی خواہش وہی شخص کرے گا۔ جسکے دل میں مال دنیا سے زیادہ رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) سے راز و نیاز کی محبت ہو۔

ظاہر ہے یہ عمل ایسا نہیں جو کسی زمانے میں حسن رکھتا ہو اور کسی زمانے میں حسن نہ رکھتا ہو بلکہ یہ ہمہ وقت اس مصلحت پر مشتمل ہے اور عقل اسے حسن کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

دوسری آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ (امیر المومنین(ع) کے علاوہ) عام لوگوں نے مال کے لالچ میں آکر اور صدقے سے گھبرا کر رسول اللہ سے گفتگو اور راز و نیاز کو ترک کردیا تھا۔

اس صدقے کے نسخ ہونے کے اسباب

اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول اللہ سے راز و نیاز اورخلوت کی ملاقات کو ترک کرنے سے بہت سے عمومی مفادات اور مصلحتیں فوت ہوجاتی ہیں۔ ان مفادات کے تحفظ کی خاطر اور عمومی مصلحت کو خصوصی مصلحت پر ترجیح دیتے ہوئے اللہ نے وجوب صدق کو اٹھا دیا اور لوگں کو نمام قائم کرنے زکوٰۃ دینے اور خداوند رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کی اطاعت کرنے کا حکم دیا۔

لا محالہ ماننا پڑے گا کہ پہلی آیت :( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ ) ۔۔۔ الخ سے ثابت شدہ حکم (وجوب صدقہ) دوسری آیت: ع اشفقتم ۔۔۔ الخ کے ذریعے نسخ ہوگیا ہے۔ لیکن یہ نسخ قرآن کی اقسام میں سے پہلی قسم ہے جس میں ناسخ آیت کی نظر اس بات پر ہوتی ہے کہ منسوخ آیت میں موجود حکم کی مدّت ختم ہو گئی ہے۔ تاہم حکم اوّل کے نسخ ہونے کا سبب یہ نہیں کہ اس میں موجود مصلحت، جو حکم کی متقاضی ہے، کسی خاص زمانے سے مختص ہے کیونکہ جیسا کہ اس سے پہلے بتایا گیا ہے یہ مصلحت رسول اللہ کی پوری زندگی میںموجود تھی لیکن لوگوں کی مال سے محبت اور صدقہ سے گھبرانے کے باعث یہ حکم باقی نہیں رہ سکا۔ اس طرح حکم اوّل نسخ ہوگیا اور وجوب برطرف ہوگیا۔


کبھی یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ جب خداوند عالم جانتا تھا کہ لوگوں کی مال سے محبت کی وجہ سے یہ حکم ہمیشہ نہیں رہ سکے گا تو پھر اس حکم کی تشریع کیوں فرمائی؟ (صدقے کا حکم کیوں دیا گیا؟)ِ

جواب: اس حکم اور اس کے نسخ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو متنبہ کرنا چاہا اور ان پر حجت تمام کردی۔ اس کے بعد یہ بات کھل کر سامنے آگئی کہ امیر المومنین(ع) کے علاوہ باقی صحانہ نے مال دنیا کو رسول اللہ سے راز و نیاز کرنے پر ترجیح دی۔ اگرچہ رسول اللہ سے گفتگو ترک کرنا بذات خود کوئی معصیت نہیں تھی۔ کیونکہ یہ مناجات (خلوت کی گفتگو) واجب نہیں تھی کہ اس کا ترک کرنا گناہ ہوتا اور صدقہ دینا اس صورت میں واجب تھا جب کوئی مناجات کرنا چاہے۔ اگر کوئی مناجات نہ کرنا چاہے تو صدقہ دینا بھی اس پر واجب نہیں تھا۔ اور ترک مناجات بھی گناہ نہیں تھا لیکن اس سے یہ بات ضرور ثابت ہوتی ہے کہ جو شخص اس شرط مناجات کو ترک کرے وہ مال دنیا کو مناجات کرنے سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔

حکم صدقہ کی حکمت

اس حکم کے صادر ہونے کے بعد اس کے نسخ ہو جانے سے اس کی حکمت ظاہر ہوتی ہے اور اس سے اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر احسان و کرم ظاہر ہوتا ہے۔ اس سے یہ با ت بھی ثابت ہوگئی کہ لوگ رسول اللہ سے مناجات کو اہمیت نہیں دیتے تھے اس کے ساتھ ساتھ اس سے امیر المومنین(ع) کامقام اور عظمت بھی ثابت ہوگئی۔ چنانچہ آیہ کریمہ کا ظاہری مفہوم بھی یہی ہے اور اکثر روایات بھی اسی پر دلالت کرتی ہیں۔

لیکن اگر مناجات سے پہلے صدقے کا حکم ایک ظاہری حکم ہوتا جو صرف امتحان کے لیے صادر ہوا ہو۔ جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اپنے فرزند حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا تو اس صورت میں دوسری آیت کے ذریعے پہلی آیت کا نسخ اصطلاحی نہ ہوگا بلکہ اس امتحانی حکم کے برطرف ہونے پر نسخ لغوی صادق آئے گا۔


رازی نے ابومسلم سے یہ بات نقل کی ہے:

''صدقے کا حکم یقیناً امتحانی تھا اور اس مقصد کے لیے صادر ہوا تھا کہ صدق دل سے ایمان لانے والوں اور منافقین میں تمیز ہوسکے۔ اس صورت میں نسخ نہیں ہوگا۔،،

اس عبارت کو نقل کرنے کے بعد رازی لکھتے ہیں:

''یہ ایک اچھی رائے ہے۔ اسے قبول کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔،،(۱)

شیخ شرف الدین لکھتے ہیں:

''محمد بن عباس نے اپنی تفسیر میں شیعہ اور سنی طریقوں سے ایسی ستّر احادیث نقل کی ہیں جن کا مضمون یہی ہے کہ تمام صحابہ میں صرف امیر المومنین(ع) کی ذات ایسی تھی جنہوں نے آیہ نجویٰ پر عمل کیا اور صدقہ دے کر رسول اللہ سے خلوت میں گفتگو فرمائی۔،،

اس کے بعد انہوں نے شیخ ابو جعفر طوسیؒ سے یہ حدیث نقل کی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ترمذی نے اپنی سنن میں اور ثعلبی نے اپنی تفسیر علقمہ انماوی سے روایت مرفوعہ(۲) نقل کی ہے۔ اس میں امیر المومنین(ع) فرماتے ہیں:

____________________

(۱) تفسیر الرازی ، ج ۸، ص ۱۶۷

(۲) اصطلاح میں مرفوعہ اس روایت کو کہتے ہیں جس میں ایک یا چند آدمیوں کے نام ذکر نہ ہوں۔


''بی خفف الله عن هذه الأمة لأن الله امتحن الصحابة، فتقاعسوا عن مناجاة الرسول، و کان قد احتجب فی منزله من مناجاة کل أحد الا من تصدق بصدقة، و کان معی دینار، فتصدقت به، فکنت أنا سبب التوبة من الله علی المسلمین حین عملت بالآیة، و لو لم یعمل بها أحد لنزل العذاب، الامتناع الکل من العمل بها،، (۱)

''اللہ نے میری بدولت اس امّت کا بوجھ ہلکا کیا کیونکہ اللہ نے تمام صحابہ کا امتحان لیا اور سب نے صدقہ دے کر رسول اللہ سے خلوت میں گفتگو کرنے میں پس و پیش کیا۔ رسول اللہ خانہ نشین ہوگئے تھے اور صرف ایسے شخص سے خلوت میں ملتے تھے جو پہلے صدقہ دیتا تھا۔ میرے پاس ایک دینا تھا اسے میں نے اسی راہ میں صدقہ میں دےدیا۔ میں ہی آیہ کریمہ پر عمل کرکے مسلمین کی توبہ کے قبول ہونے کا باعث بنا۔ اگر مسلمانوں میں سے کوئی بھی اس آیت پر عمل نہ کرتا تو لوگوں پر عذاب نازل ہوتا۔،،

جامع ترمذی کے مطبوع اور خطّی نسخوں میں سے کسی میں بھی اس روایت کا نام و نشان تک نہیں ملتا۔ اس کے علاوہ تفسیر ثعلبی میں بھی اس روایت کا کوئی ذکر نہیں ۔ جس سے اکثر مؤلفات میں اس روایت کو نق کیا جاتا ہے۔ غرض کسی بھی حدیث اور روایات کی کتاب میں یہ روایت نظر سے نہیں گزری۔ بہرحال یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ یہ حکم بہت کم عرصے تک باقی رہا اور پھر برطرف ہوگیا اور امیر المومنین(ع) کے علاوہ کسی نے بھی اس پر عمل نہیں کیا اس سے امیر المومنین کی فضیلت ظاہر ہوتی ہے، چاہے یہ ایک حقیقی حکم ہو یا ایک امتحان ہو۔

____________________

(۱) بحار، ج ۹، ص ۷۲، تفسیر برہان، ج ۲، ص ۱۱۰۰


کھلم کھلا تعصّب

فخر الدین رازی نے صحابہ کی طرف سے فرصت اور وقت ہونے کے باوجود اس آیت پر عمل نہ کرنے کا یہ عذت پیش کیا ہے:

''صدقہ دے کر رسول اللہ سے خلوت میں ملاقات کرنا فقراء کی مایوسی اور دلشکنی اور دولتمندوں کی نفرت و اشتعال کا باعث بنتا تھا۔ اس لیے کہ جب دولتمند اس آیت پر عمل نہ کریں اور صرف چند نادار لوگ اس پر عمل کریں تو اس سے وہ لوگ لعن طعن کا نشانہ بنتے جنہوں نے اس پر عمل نہیں کیا۔ پس چونکہ یہ فعل فقراء کے حزن و ملال اور امیروں کی نفرت کا باعث بنتا تھا۔ اس لیے اس ترک کرنے میں اتنا زیادہ نقصان نہیں تھا اس لیے کہ جو کام باہمی محبت اور ہمدردی کا باعث بنے وہ اس کام سے بہتر ہے جس سے باہمی نفرت اور دشمنی پیدا ہو۔ اس کے علاوہ یہ مناجات واجب نہیں تھی اور نہ مستحب، بلکہ لوگوں کو اس کا حکم

اس مقصد کے لیے دیا گیا تھا کہ لوگ رسول اللہ سے ملاقات اور مناجات کو ترک کردیں اور جب اس مناجات کا ترک کرنا ہی بہتر قرار پایا تو اس کو ترک کرنے والا کسی ملامت اور مذمّت کا مستحق نہیں ہوگا۔،،(۱)

مؤلف: یہ وہ معذرت تھی جو فخر الدین رازی نے بعض صحابہ کی طرف سے پیش کی ہے۔ صاحبان فکر حضرات سے مخفی نہ رہے کہ رازی کا یہ عذر قارئین کو شک و تردد میں ڈالنے کی ناکام کوشش کے علاوہ کوئی علمی مقام بھی نہیں رکھتا۔ اگر کسی شخص میں کلام فہمی کا معمولی سا بھی سلیقہ ہو تو اس سے اس قسم کا کلام ہر گز صادر نہیں ہوسکتا۔

فرض کریں اس مسئلے میں تارکین صدقہ کے بارے میں کسی قسم کی روایت موجود نہیں لین کیا آیت:( أَأَشْفَقْتُمْ أَن تُقَدِّمُوا ) ۔۔ الخ سے لالچ اور حب مال کی وجہ سے ترک مناجات پر سرزنش نہیں سمجھی جاتی؟ کیا اس آیت سے یہ نہیں سمجھا جاتا کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی اس کوتاہی کو بخش دیا ہے؟ مگر اس تعصّب کا کیا علاج ہے جو ایک خطرناک اورمہلک بیماری ہے۔

____________________

(۱) تفسیررازی، ج ۸، ص ۱۶۷


مقام تعجب ہے کہ فحر الدین رازی اس بیان سے کچھ پہلے اس امر کا اعتراف کرتا ہے کہ اس حکم کے فوائد میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ اس سے دنیا پرست اور محب آخرت میں تمیز ہو جاتی ہے کیونکہمال دنیا ہی عوامل و محرکات کا معیار اور کسوٹی قرار پاتا ہے۔

فخر الدین رازی کا یہ کہنا کہ اس عمل سے فقراء رنجیدہ اور دولت مند مشتعل ہو جاتے لہذا اس فعل کو ترک کرنا بہتر ہے کیونکہ اس طرح باہمی محبت بڑھتی ہے۔ اگر اس کا یہ قول صحیح ہو تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ اسلام میں جتنے بھی مالی واجبات اورحقوق ہیں انہیں انجام دینے کی نسبت ترک کرنا بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے افعال کا حکم دیتا ہے جن کا ترک کرنا عقلی طور پر بہتر ہو اور رازی سے یہ بعید نہیں کہ وہ امیر المومنین(ع) کی فضیلت کا انکار کرنے کے لیے اس بات کا قائل بھی ہو جائے (کہ احکام الہٰی خلاف عقل ہیں) بلکہ عینم ممکن ہے کہ وہ اس سے بھی زیاد خرافات کا قائل ہو۔

اس مقام پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ نظام الدین نیشا پوری کا کلام نقل کروں جس میں فخر الدین رازی کے کلام اور اس کے تعصب کو ہدف تنقید قرار دیا گیا ہے۔ نظام الدین نیشاپوری کی عین عبارت یہ ہے: قاضی کہتا ہے:

''رسول اللہ سے مناجات سے پہلے صدقہ دینا کوئی ایسا عمل نہیں جس سے بزرگ صحابہ کرام پر علی (علیہ السلام) کی کوئی فضیلت ثابت ہو۔ کیونکہ ہوسکتا ہےکہ صحابہ کے پاس اتنا وقت نہ ہو کہ وہ ا س فرض کو انجام دے سکتے۔ فخر الدین رازی نے کہا ہے: فخر الدین رازی نے کہا ہے: ہم تسلیم کرتےہیں کہ صحابہ کے پاس اس فرض کو انجام دینے کا وقت بھی تھا لیکن یہ ایک ایسا عمل ہے جس سے فقراء جن کے پاس صدقہ دینے کے لیے

کچہ نہ ہو، رنجیدہ اور دولت مند متنفر ہوسکتے تھے اور دوسری طرف اسے ترک کرنے میں کوئی نقصان بھی نہیں تھا۔ کیونکہ جس عمل سے محبت اور ہمدردی بڑھتی ہو وہ اس عمل سے بہتر ہے جو نفرت و دشمنی کا باعث بنے اس کے علاہو مناجات سے قبل صدقہ دینا واجب تھا لیکن مناجاتا خود نہ واجب تھی اور نہ مستحب۔ بلکہ بہتر یہی تھا کہ مناجات کو ترک کیا جائے۔ کیونکہ جیسا کہ بیان کیا گیا ہے یہ عمل رسول اللہ کے لیے ملال خاطر کا باعث بنتا تھا۔،،


نیشا پوری فخر الدین رازی کے کلام کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں:

''رازی کا یہ کلام تعصّب سے خالی نہیں۔ آخر ہم اس امر کو کیوں اپنا فرض سمجھیں کہ ہر صفت میں حضرت علی (علیہ السلام) پر باقی صحابہ کی فضیلت کو ثابت کیا جائے؟ اور کیا یہ ممکن نہیں کہ حضرت علی (علیہ السلام) ایسی فضیلت کے حامل ہوں جس سے دوسرے محروم ہوں؟ ممکن کیوں نہ ہو جبکہ عبد اللہ ابن عمر کہتے ہیں:

حضرت علی (علیہ السلام) میں تین فضیلیتیں ایسی تھیں کہ اگر ان میں سے ایک بھی مجھ ہوتی تو یہ سرخ اونٹوں (ہرمال و دولت) سے بہتر ہوتی: حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا جیسی ہمسر نصیب ہونا، جنگ خیبر کے موقع پر آپ کو علم اسلام ملنا اور آیہ نجویٰ۔ وہ کون سا مصنف ہے جو رسول اللہ سے مناجات کو عیب اور خامی سمجِھے جبکہ آیہ کریمہ میں مناجات سے روکا بھی نہیں گیا۔ صرف مناجات سے قبل صدقہ دینے کا حکم دیا گیا ہے جو آدمی مناجات سے پہلے صدقہ دے وہ دو اعتبار سے فضیلت کا حامل بن جاتا ہے۔ ایک تو اس سے فقراء کی حاجات پوری ہوجاتی ہیں اور دوسرا یہ کہ اس طرح مناجات رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) سے محبت کا مظاہرہ ہوتا ہے اس سے رسول اللہ کا قرب حاصل ہو جاتا ہے۔ مشکل مسائل کا حل ملتا ہے اور یہ بھی ظاہرہوتا ہے کہ صدقہ دینے والے کے دل میں مال دنیا سے زیادہ محبت مناجات رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کی ہے۔،،(۱)

۳۶۔( مَّا أَفَاءَ اللَّـهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ فَلِلَّـهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ ) ۵۹:۷

''تو جومال خدا نے اپنے رسول کو دیہات والوں سے بے لڑے دلوایا ہے وہ خاص خدا اور رسول اور (رسول کے) قرابت داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور پردیسیوں کا ہے۔،،

____________________

(۱) تفسیر نیشاپوری حاشیہ تفسیر طبری، ج ۲۸، ص ۲۴


قتادہ سے منقول ہے کہ یہ آیت نسخ ہوگئی ہے بایں معنیٰ کہ ''فئی،، اور ''غنیمت،، دونوں کا ایک ہی معنی ہے۔ صدر اسلام میں غنیمت، آیہ شریفہ میں مذکورہ افراد میں تقسیم ہوا کرتی تھی اور جنگ میں شریک مجاہدین کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہوا کرتا تھا۔ مگر یہ کہ کوئی مجاہد انہیں میں ےس ہو۔ اس کے بعد یہ حکم سورہ انفال کے ذ ریعے نسخ ہوگیا اور آیہ میں مذکور لوگوں کے لیے غنیف کا صرف پانچواں حصہ رہ گیا اور باقی چار حصوں کے مستحق مجاہدین قرار پائے، چنانچہ سورہ انفال میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:(۱)

( وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَيْءٍ فَأَنَّ لِلَّـهِ خُمُسَهُ ) ۸:۴۱

''اور جان لو کہ جو کچھ تم (مال لڑکر) لوٹو اس میں کا پانچواں حصّہ مخصوص خدا کے لئے ہے۔،،

لیکن محققین نے قتادہ کے اس قول کو ردّ کیا ہے اور فرمایا ہے کہ مسلمان کفار سے جنگ کے نتیجےمیں جو مال بطور غنیمت حاصل کریں اس کا موضوع اور ہے، جو مال کسی جنگ و قتال کے بغیر اللہ تعالیٰ اپنے رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کو عطا فرمائے اس کا موضوع اور ہے۔ ان دو نوں آیات میں کسی قسم کی منافات نہیں پائی جاتی تاکہ ایک دوسری کے لئے ناسخ بن سکیں۔

مؤلّف: محققین حق بجانب ہیں کہ اس مسئلے میں کسی قسم کے مناقشہ کی گنجائش نہیں۔ اس کی تائید اور تاکید اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ رسول اللہ کی سیرت سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ آپ نے غنیمت کو ا پنی ذات اور اپنے رشتہ داروں سے مختص کردیا اور مجاہدین کو اس سے محروم رکھا ہو۔

زیر بحث آیہ کے نسخ ہونے کا نظریہ اس بات سے بھی باطل ہو جاتا ہے کہ سورہ انفال، سورہ حشر سے پہلے نازل ہوئی ہے۔(۲) جس میں کسی قسم کا شک و بشہ نہیں اور یہ بھی مسلّم ہے کہ ناسخ کو منسوخ کے بعد نازل ہونا چاہیے۔

____________________

(۱) الناسخ و المنسوخ للخاس، ص ۲۳۱

(۲) تفسیر قرطبی ، ج ۱۸، ص ۱۴


عالم خلقت میں بدائ

٭ تمہید

٭ قدرت خدا یہود کی نظر میں

٭ بداء شیعوں کی نظر میں

٭ قضائے الہٰی کی قسمیں

٭ عقیدہ ئ بداء کے ثمرات

٭ حقیقت بداء شیعوں کی نظر میں


اب تک ہماری بحث نسخ احکام کے بارے میں تھی۔ یہاں پر گذشتہ بحث کی مناسبت سے مسئلہ بداء کو مورد بحث قرار دیتے ہیں کیونکہ بداء بھی نسخ ہی کی ایک قسم ہے۔ اتنا فرق ضرور ہے کہ نسخ تشریع و قانون سازی کے میدان میں ہوتا ہے اور بداء تکوین و خلقت کے میدان میں۔ یعنی اگر عالم خلقت میں کوئی حکم منسوخ ہوجائے تو اسے بداء کہتے ہیں اور اگر قرآنی احکام و قوانین منسوخ ہوں تو اسے نسخ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس مناسبت سے یہاں پر بداء کی بحث چھیڑی گئی ہے۔

بداء کے بارے میں بحث کا دوسرا عامل و سبب یہ ہے کہ بعض علمائے اسلام نے بداء کی حقیقت اور اس کے صحیح مفہوم، جس کے شیعہ قائل ہیں، کونہیں سمجھِا اور اس میں کما حقّہ، تحقیق نہیں کی جس کی وجہ سے وہ بعض اشتباہات کا شکار ہوگئے اور شیعوں کی طرف ایسے عقائد و نظریات کی نسبت دی جس سے شیعہ بری ہیں۔ کاش یہ حضرات جو حقیقت سے آگاہ نہیں ہیں تحقیق و تتبع کرتے یا کم از کم توقف اختیار کرتے(۱) جو نقل میں دیانت اور دین میں تقویٰ و پرہیزگاری کا تقاضا ہے۔

بہرحال ان دو مناسبتوں کے پیش نظر ہم نے بداء کو مورد بحث و تحقیق قرار دیا ہے اگرچہ اس مناسبت کے علاوہ مقدمہ تفسیر سے اس کا کوئی ربط نہیں۔

____________________

(۱) فخر رازی کے الزام ''شیعہ خدا کی طر ف جہل کی نست دیتے ہیں،، کی وضاحت کے لیے ضمیمہ نمبر ۹ کی طرف رجوع فرمائیں۔


تمہید

یہ ایک ناقابل انکا حقیقت ہے کہ تمام عالم ہستی حکومت اور قدرت الہٰی کے تحت چل رہا ہے۔ عالم امکان کی ہر شئی کے وجود کا دار و مدار خدا کی مشیئت اور ارادے پر ہے۔ اگر چاہے ایجاد فرماتا ہے اور اگر نہ چاہے ایجاد نہیں فرماتا۔

یہ حقیقت بھی مسلّم ہے کہ اللہ تعالیٰ کو روز ازل سے تمام اشیاء کا علم ہے اور خدا کے ازلی علم میں اشیاء عالم کو تعین علمی حاصل ہے اس علمی تعین کو کبھی تو قضائے الہی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور کبھی قدر الہی سے لیکن تقدیر الہٰی اور اشیاء کا علم ازلی ان کے ایجاد کی قدرت کے منافی نہیں۔ کیونکہ ہر ممکن کی ایجاد خدا کی مشیّت اور اس کے ارادے میں منحصر ہے۔ جسے کبھی اخیتار سے تعبیر کیا جاتا ہے اورکبھی ارادے سے۔ اگر ممکن، مورد مشیّت الہٰی قرار پائے تو وجود میں آئے گا ورنہ نہیں۔

تقدیر اور علم الہی، ہر چیز کی واقعی حالت کے م طابق ہوتا ہے۔ بایں معنی کہ اگر مشیت الہی کا تقاضا کسی چیز کو ایجاد کرنا ہو تو علم و تقدیر الہی میں بھی یہ چیز موجود ہوگی اور اگر مشیت الہی کا تقاضا کسی چیز کا ایجاد کرنا نہ ہو تو تقدیر اور علم الہی بھی اس کے مطابق ہوگا کیونکہ کسی چیز کا علم اور انکشاف اس چیز کی واقعی حالت سے مختلف نہیں ہوتا۔ اگر واقع مورد مشیت الہی ہو تو علم بھی اس کے مطابق ہوگا یعنی معلوم ایسی چیز ہوگی جس کی مشیت الہی متقاضی ہو۔ ورنہ یہ علم واقع کے مطابق نہ ہوگا اور نہ کسی شئی کا وقوع اور اس کی حقیقت کا انکشاف ہوگا۔

پس قضاء اور قدر الہٰی کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کی ہر چیز ازل سے اپنی واقعی حالت کے مطابق علم خدا میں مشخص و معین ہے یعنی ہر چیز کا وجود اس امر پر موقوف ہے کہ وہ مورد مشیت و ارادہ الہی قرار پائے اور میشت و ارادہ الہی، اشیاء میں موجود مصلحت اور مفسدہ کے تقاضوں کے مطابق ہوا کرتے ہیں اور مصلحت و مفسدہ، حالات و شرائط کے ساتھ ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ کسی چیز کی مصلحت یا اس کا مفسدہ علم الہٰی سے خارج نہیں ہوسکتا بلکہ علم الہی ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔


قدرت خدا ۔ یہود کی نظر میں

یہودیوں کا عقیدہ ہے کہ جس چیز کو ازل میں قلم تقدیر نے لکھ دیا ہے، مشیت اور ارادہئ الہی اس کے خلاف نہیں ہوسکتا۔ یعنی خداوند عالم اس عالم ہستی میںکوئی چیز گھٹانے یا بڑھانے سے عاجز ہے، اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور وہ لینے دینے سے قاصر ہے، اس لیے کہ قلم تقدیر نے جو خط کھینچا ہے وہ تبدیل نہیں ہوسکتا۔(۱)

کتنی عجیب بات ہے یہود، خدا انہیں نیست و نابود فرمائے، خاد سے تو قدرت کو سلب کرتے ہیں (اس بنیاد پر کہ خدا علم ازلی کے خلاف کسی کام پر قادر نہیں) لیکن اس بنیاد پر بندوں سے قدرت کو سلب نہیں کرتے (انہیں عاجز نہیں سمجھتے) جبکہ بقول خود سلب قدرت کا سبب دونوں میں پایا جاتا ہے۔ اس لیے کہ جس طرح افعال خدا، علم ازلی میں موجود ہیں اسی طرح بندوں کے افعال بھی علم ازلی میں موجود ہیں۔

بداء شیعوں کی نظر میں

پوشیدہ نہ رہے کہ شیعہ امامیہ جس بداء کے قائل ہیں وہ ان واقعات و افعال میں واقع ہوتا ہے جو خدا کی طرف سے حتمی نہ ہوں۔ لیکن جہاں تک حتمی مقدّرات الہٰی کا تعلّق ہے ان میں پس و پیش نہیں ہوسکتا لامحالہ وہی چیز مورد مشیّت الہٰی قرار پائے گی جو موردِ قضائے الہٰی ہو (حتمی مقدور ہو)

بداء کے موارد اور مقامات کو سمجھنے کے لئے قضاء و قدر کی اقسام کو سمجھنا ضروری ہے۔

__________________

(۱) مشیت الہی سے متعلق روایات کسی کتاب کے ضمیمہ نمبر ۱۰ میں ملاحظہ فرمائیں۔


قضائے الہٰی کی قسمیں

۱) وہ مقدّرات الہٰی جن کے بارے میں خدا نے اپنی مخلوقات میں سے کسی کو آگاہ نہیں کیا اور ان کا علم صرف ذاتِ الہٰی سے مختص ہے۔ اس علم (مقدّرات الہٰی) میں کسی قسم کا بداء اور ردّ و بدل نہیں ہوتا بلکہ اہل بیت اطہار(ع) نے سلیمان مروزی سے فرمایا:

''میرے والد بزرگوار نے اپنے والد گرامی امام جعفر صادق(ع) سے روایت کی ہے کہ اللہ تعالیٰ دو قسم کا علم رکھتا ہے۔ ایک وہ علم ہے جو سربستہ اور مخفی ہے جسے ذاتِ خدا کے علاوہ کوئی اور نہیں جانتا اور اسی سے بداء ہوتا ہے (بعض واقعات کی خبر دینے کے بعد اس میں تبدیلی آجاتی ہے) دوسرا علم وہ ہے جس کی تعلیم اللہ تعالیٰ نے فرشتوں اور انبیاء(ع) کو دی ہے اور اہل بیت نبی یہ علم رکھتے ہیں۔،،(۱)

'' ان الله علمین: علم مکنون مخزون لا یعلمه، الا هو، من ذٰلک یکون البدائ، و علم علّمه ملائکته و رسله و انبیآء و نجن نعلمة ۔،، (۲)

''اللہ کے پاس دو قسم کے علم ہیں۔ ایک علم مخزون و مکنون ہے جسے سوائے اللہ کے کوئی دوسرا نہیں جانتا اور اسی وجہ سے بداء واقع ہوتا ہے۔ دوسرا علم وہ ہے جس کی تعلیم، ملائکہ، انبیاء اور رسولوں کو دی اور ہم اس کے عالم ہیں۔،،

۲۔ وہ مقدراتِ الہٰی جن کے بارے میں اللہ نے انبیاء(ع) اور ملائکہ کو خبر دی ہے کہ یہ حتمی طور پر واقع ہوں گے۔ ا س میں کوئی شک نہیں کہ ان مقدرات میں بداء واقع نہیں ہوتا اگر چہ پہلے مقدرات اور ان یہ فرق موجود ہے کہ یہ مقدرات، بداء کے لیے سرچشمہ نہیں بنتے۔

____________________

(۱) عیون الاخبار الرضا باب ۱۳ فی الذکر مجلس الرضا مع سلیمان مروزی۔ بحار باب البداء و النسخ، ج ۲، ص ۱۳۲

(۲) بحار، باب البداء و النسخ، ج ۲، ص ۱۳۶، شیخ کلینی نے ابو بصیرسے بھی یہ روایت کی ہے: الوافی باب البدائ، ج ۱، ص ۱۱۳


گذشتہ روایات میں امام رضا(ع) نے سلیمان مروزی سے فرمایا:

امیر المومنین(ع) فرماتا کرتے تھے: علم کی دو قسمیں ہیں، ایک علم وہ ہے جو اللہ نے ملائکہ اور رسولوں کو بھی دیا۔ اللہ نے اپنے رسولوں فرشتوں کو جو کچھ سکھایا ہے وہ ہو کر رہے گا اور اللہ اپنی ذات، ملائکہ اور رسولوںؑ کو کبھی نہیں جھٹلاتا اور دوسرا علم وہ ہے جس کا خزانہ اللہ ہی کے پاس ہے اور اپنی مخلوق میں سے کسی کو بھی اس سے آگاہ نہیں کیا، ان مقدرات میں سے جسے چاہے مقدم فرماتا ہے اور جسے چاہے مؤخر فرماتا ہے جسے چاہے محو فرماتا ہے اور جسے چاہے ثابت اور برقرار رکھتا ہے۔،،(۱)

عیاشی نے فضیل سے روایت کی ہے کہ امام محمد باقر (علیہ السلام) نے فرمایا:

''کچھ امور وہ ہےں جو لامحالہ واقع ہو کر رہیں گے اور ان میں کسی قسم کا بداء اور تغیر و تبدل واقع نہیں ہوگا اور کچھ امرو وہ ہیں جن کا دار مدار منشاء الہٰی پر ہے جس کو اللہ چاہے مقدم فرمائے جس کو چاہے محو کر دے اور جس کو چاہے ثابت و برقرار رکھے۔ ان امور سے اللہ نے کسی کو بھی آگاہ نہیں فرمایا جس چیز سے اللہ نے انبیاء(ع) کو مطلع کردیا ہو وہ ضرور واقع ہوگی۔ اس لیے کہ اللہ اپنی ذات، انبیاء(ع) اور اپنے فرشتوں کو نہیں جھٹلاتا۔،،(۲)

مقدرات کی تیسری قسم وہہے جس کے خارج میں واقع ہونے کے بارے میں اللہ نے اپنے نبی اور ملائکہ کو آگاہ کردیا ہے لیکن ان کا خارج میں واقع ہونا اس پر موقوف ہے کہ مشیّت الہٰی اس کے خلاف نہ ہو، یہ وہ مقدرات ہیں جن میں بداء (تغیر و تبدل) واقع ہوتا ہے:

( يَمْحُو اللَّـهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ ۖ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ ) ۱۳:۳۹

''خدا جس کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جس کو چاہتا ہے) باقی رکھتا ہے اور اس کے پاس (اصل کتاب لوح محفوظ موجود ہے)۔،،

____________________

(۱) عیون اخبار الرضا، باب ۱۳، الوافی باب البدائ، ج ۱، ص ۱۱۳

(۲) بحار، باب البداء والنسخ، ج ۲، ص ۱۳۳


( لِلَّـهِ الْأَمْرُ مِن قَبْلُ وَمِن بَعْدُ ۚ ) ۳۰:۴

''کیونکہ (اس سے) پہلے اور بعد (غرض ہر زمانے میں) ہر امر کا اختیار خدا ہی کو ہے۔،،

اس قضائے الہٰی پر متعدد روایات بھی دلالت کرتی ہیں:

i ) تفسیر علی بن ابراہیم میں عبد اللہ بن مسکان اور اس نے امام جعفر صادق(ع) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:

''جب شب قدر آتی ہے تو ملائکہ، روح اور انسانی اعمال لکھنے والے فرشتے دنیا کے آسمان پر نازل ہوتے ہیں اور اس سال کے تمام مقدرات الہٰی ثبت کرلیتے ہیں۔ اس کے بعد اگر اللہ تعالیٰ کسی چیز میں تقدیم و تاخیر یا کمی بیشی کرنا چاہے تو خالق مخصوص فرشتے کو حکم دیتا ہے کہ اللہ جسے چاہے مٹا ڈالے اور جس کا ارادہ کرے اسے ثابت رکھے۔ عبد اللہ ابن مسکان کہتا ہے، میں نے امام صادق(ع) کی خدمت میں عرض کی: کیا ہر چیز کتاب الہٰی میں ثبت ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ میں نے عرض کی: تو پھر کیا ان مقدراتِ الہٰی میں تبدیلی آسکتی ہے؟ آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔،،(۱)

ii ) تفسیر علی بن ابراہیم میں عبد اللہ بن مسکان ، امام محمد بن باقر، امام جعفر صادق اور امام موسیٰ کاظم (علیہم السلام) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے اللہ کے اس ارشاد کی تفسیر میں فرمایا:

( فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ ) ۴۴:۴

''اسی رات کو تمام دنیا کے حکمت و مصلحت کے (سال بھر کے) کاموں کے فیصلے کئے جاتے ہیں۔،،

____________________

(۱) نقل از بحار باب البداء و النسخ، ج ۲، ص ۱۳۳


''اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ شب قدر کو اس سال رونما ہونے والے حق و باطل اور اس سال جو کچھ بھی ہونے والا ہے، کو مقدر فرماتا ہے۔ اس کے باوجود ان مقدرات میں مشیّت الہٰی کے مطابق تعیّر و تبدل (بدائ) بھی واقع ہوتا ہے۔ اس طرح اللہ اجل، رزق، بلائیں، بیماریاں اور دیگر عارضوں میں سے جسے چاہتا ہے مقدم اور جسے چاہتا ہے مؤخر فرماتا ہے۔ نیز ان مقدرات میں جو چاہے اضافہ اور جو چاہے کمی کردیتا ہے۔،،(۱)

iii ) کتب احتجاج طبرسی میں امیر المومنین(ع) سے مروی ہے:

''انه قال: لولا اٰیة فی کتاب الله ، لاخبر تکم بما کان و بما یکون و بما هوکائن الیٰ یو القیامة و هی هذه الایة: یمحوا الله ۔۔۔،(۲)

آپ نے فرمایا: اگر قرآن کی ایک آیہ: یمحوا اللہ۔۔۔ نہ ہوتی تو میں تمہیں خبر دیتا کہ ماضی میں کیا کیا واقعات پیش آئے، اب کیا ہو رہا ہے اور قیامت تک کیا ہوگا۔،،

iv ) تفسیر عیاشی میں زرارہ نے امام صادق(ع) سے روایت نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا:

''امام زین العابدینؑ فرمایا کرتے تھے: اگر کتاب الہٰی کی ایک آیت نہ ہوتی تو میں تمہیں قیامت تک رونما ہونے والے واقعات کی خبر دیتا۔ میں (زرارہ) نے عرض کی: وہ کون سی آیت ہے۔ آپ نے فرمایا:( یَمْحُوْا اللهُ ) ۔۔۔(۳)

) ''قرب الاسناد،، میں بزنطی نے امام رضا(ع) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:

''امام جعفر صادق، امام محمد باقر، امام زین العابدین، امام حسن اور امیر المومنین (علیہم السلام) فرمایا کرتے تھے: اگر کتاب الہٰی کی آیت( یَمْحُوْا اللهُ ) ۔۔ نہ ہوتی تو ہم قیامت تک رونما ہونے والے واقعات کی تمہیں خبر دیتے۔،،(۴)

____________________

(۱) ایضاً ص ۱۳۴

(۲) احتجاج طبرسی، ص ۱۳۷

(۳) منقول از بحار، ج ۲، ص ۱۳۹

(۴) ایضاً ص ۱۳۲


ان کے علاوہ بھی کچھ روایات ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان مقدرات الہٰی اور فیصلوں میں تغیر و تبدل واقع ہوتا ہے جو مشیّت الہٰی پر موقوف ہوتے ہیں۔

خلاصہئ بحث یہ ہے کہ حتمی قضائے الہٰی، جسے لوحِ محفوظ، ام الکتاب اور علم مخزون عند اللہ سے تعبیر کیا جاتا ہے، میں کسی قسم کے تغیر و تبدل اور بداء کا واقع ہونا محال ہے اور اس میں کیونکر بداء واقع ہوسکتا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ روز ازل سے تمام اشیاء کا عالم ہے اور زمین و آسمان میں سے ذرہ بھر بھی اس کے علم سے خارج نہیں ہے۔

کتاب ''اکمال الدین،، میں صدوق، ابو بصیر اور سماعۃ کی سند سے امام صادق(ع) سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:

''جو شخص یہ خیال کرے کہ خدا کے سامنے ایسی تازہ چیز ظاہر ہوتی ہے جسے وہ کل نہیں جانتا تھا، ایسے شخص سے برات کرو۔،،(۱)

عیاشی نے ابن سنان سے اور اس نے امام صادق(ع) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:

''اللہ تعالیٰ جس کو چاہتا ہے مقدم اور جس کو چاہتا ہے مؤخر فرما دیتا ہے۔ نیز جسے چاہے محو اور جسے چاہے ثبت کردیتا ہے۔ کتاب کااصلی نسخہ اللہ ہی کے پاس ہے۔ پھر آپ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جو کچھ کرنا چاہے اسے انجام دینے سے پہلے ہی اس کا علم رکھتا ہے جس کام میں بھی بداء واقع ہو وہ اللہ کے علم میں ہوتا ہے۔ افعال الہٰی میں کوئی تغیر و تبدل جہالت کی بنیاد پر نہیں ہوتا۔،،(۲)

عمار بن موسیٰ امام صادق(ع) سے روایت کرتے ہیں کہ جب آپ سے فرمان الہٰی: یمحوا اللہ۔۔۔ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:

____________________

(۱) ایضاً ص ۱۳۶

(۲) ایضاً ص ۱۳۹


''یہ وہ کتاب ہے جس میں خدا جو چاہتا ہے ثبت کرتا ہے جو چاہتا ہے محو کردیتا ہے۔ دعا کے ذریعے اس قسم کے مقدرات بدل جاتے ہیں لیکن جب مقدرات اس کتاب (لوح محو و اثبات) سے منتقل ہو کر امّ الکتاب یا لوح محفوظ میں آجاتے ہیں تو اس پر دعا کوئی اثر نہیں کرتی اور وہ ہو کر رہتے ہیں۔،،(۱)

شیخ طوسی اپنی کتاب ''الغیبۃ،، میں بزنطی سے اور وہ امام رضا(ع) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: امام زمین العابدینؑ اور آپ سے پہلے امیر المومنین، امام محمد باقر اور امام جعفر صادق (علیہم السلام) فرمایا کرتے تھے:

''آیہ کریمہ : یمحوا اللہ۔۔۔ کی موجودگی میں ہم کیسے کسی واقعہ کے بارے میں حتمی پیشگوئی کرسکتے ہیں۔ البتہ خدا کے بارے میں جس شخص کا عقیدہ یہ ہو کہ اللہ کو کسی بھی چیز کے واقع ہونے کے بعد اس کا علم ہوتا ہے وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔،،(۲)

اہل بیت اطہار(ع) کی وہ روایات، جن کی رو سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کی خلقت سے پہلے ہی اس کا عالم ہوتا ہے، حدو حصر سے زیادہ ہیں۔ کتاب الہیٰ و سنت پیغمبر(ص) کی پیروی کرتے ہوئے تمام شیعہ امامیہ کا اس پر اتفاق ہے اور صحیح و فطری عقل سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔

عقیدہ ئ بداء کے ثمرات

اس سے قبل بیان کیا جاچکا ہے کہ بداء ان مقدرات الہی میں واقع ہوتاہے جو مشیت الہی ہر موقوف ہوتے ہیں اور جن کو لوح محو و اثبات سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس بداء کا قائل ہونے کا لازمہ یہ نہیں کہ ہم نے اللہ کی طرف (العیاذ باللہ) جہالت کی نسبت دی ہو اور نہ ہی یہ کوئی عقیدہ عظمت الہی کے منافی ہے۔

____________________

(۱) منقول ازبحار باب البداء و النسخ، ج ۲، ص ۱۳۹

(۲) ایضاً، ص ۱۳۶۔ شیخ کلینی نے اپنی سند سے عبد اللہ ابن سنان سے اور اس نے امام جعفر صادق(ع) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: کسی بھی چیز میں بداء واقع ہونے سے پہلے ہی خدا اس کا عالم ہوتا ہے۔ الوافی، باب ج۱، ص ۱۱۳


بداء کا قائل ہونا واضح اعتراف ہے کہ پورا عالم ہستی اپنے وجود و بقاء میں قدرت و سلطنت الہٰی کے تابع ہے اور یہ کہ ارادہئ الہٰی ازل تا ابد تمام چیزوں میں کار فرما ہے بلکہ عقیدہئ بداء ہی کی بدولت علم الہٰی اور علم مخلوق میں فرق واضح ہوتا ہے اس لیے کہ مخلوق کا علم، خواہ وہ انبیاء(ع) و اولیاء کا علم ہی کیوں نہ ہو، ان چیزوں کا احاطہ نہیں کرسکتا جن کا احاطہ، علم خدا کرتا ہے اور بعض اولیاء اللہ اگرچہ تعلیم الہی کی بنیاد پر، تمام ممکنات اور اعلمین کا علم رکھتے ہیں پھر بھی ان کا علم ان چیزوں کا احاطہ نہیں کرسکتا جن کا احاطہ اللہ کا مخزون اور اپنی ذات سے مختص علم کرتا ہے۔ کیونکہ کسی بھی چیز کے بارے میں مشیت الہی اور عدم مشیت الہی کا عالم وہی ہوسکتا ہے جسے اللہ نے حتمی طور پر خبر دی ہو۔

بداء کا قائل ہونا اس امر کا باعث بنتا ہے کہ بندے ہمہ تن اللہ کی طرف متوجہ ہوں اور بندوں سے اپنی

امیدوں کے بندھن توڑ دیں اور استجابت دعا، حاجت روائی، اطاعت کی توفیق اور معصیت سے دوری کی درخواست اس کی ذات اقدس سے کریں۔

کیونکہ بداء کا انکار کرنا اور یہ عقیدہ رکھنا کہ جو کچھ قلم تقدیر نے لکھ دیا ہے وہ بلا استثناء ہو کر رہے گا، اپنے کو استجابت دعا سے مایوس کر دینا ہے، اس لیے کہ انسان جس چیز کی دعا کرتا ہے، اگر قلم تقدیر نے اس کے واقع ہونے کی پیشگوئی کی ہے تو وہ لامحالہ ہو کر رہے گی۔ انسان کی دعا اور توسّل کی ضرورت ہی نہیں اور اگر قلم تقدیر نے اس کی دعا کے خلاف لکھا ہو تو وہ کام کبھی بھی نہیں ہوسکتا اور دعا و تضرع کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا اور جب انسان استجابت دعا سے مایوس ہوگا تو وہ اپنے خالق کے دربار میں دعا و تضرع ترک کردے گا کیونکہ یہ بے فائدہ ثابت ہوگی اس طرح وہ عبادات اور صدقات بھی ترک ہو جائیں گے جو روایات معصومین(ع) کے مطابق عمر اور رزق میں اضافہ اور حاجت روائی کا باعث بنتے ہیں۔


یہی وہ راز ہے جس کی وجہ سے معصومین(ع) سے بداء کی شان اور اہمیت کے بارے میں کثرت سے روایات وارد ہوئی ہےں۔

مرحوم صدوق نے کتاب ''توحید،، میں زرارہ سے اور انہوں نے امام محمد باقرؑ اور امام صادق(ع) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:

'' ما عبد الله عزوجل بشیئ مثل البدائ،، (۱)

''بداء کی مانند ایسا کوئی عمل نہیں جس سے خدا کی عبادت کی جائے۔،،

یعنی عقیدہ بداء کے مانند کوئی عبادت نہیں۔ نیز ہشام بن سالم، امام صادق(ع) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:

''خدا کی جو تعظیم بداء کے ذریعے ہوسکتی ہے کسی اور عمل کے ذریعے نہیں ہوسکتی۔،،(۲)

صدق نے محمد بن مسلم سے اور انہوں امام صادق(ع) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:

''اللہ نے جس نبی کو بھی بھیجا (پہلے) اس سے تین باتوں کا اقرار لیا: اللہ کی عبودیت کا اقرار، شریک خدا کی نفی اور یہ کہ اللہ جسے چاہتا ہے مقدم کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے مؤخر کرتا ہے۔،،(۳)

اس اہمیت کا راز یہ ہے کہ بداء کا انکار کرنا اور اس بات کا قائل ہونا کہ جو کچھ قلم تقدیر نے لکھ دیا ہے اللہ اس میں تبدیلی پر قادر نہیں ہے، دونوں کا نتیجہ ایک ہے۔ کیونکہ یہ دونوں عقیدے انسان کو استجابت دعا سے مایوس

____________________

(۱) روایت کے دوسرے نسخے کے مطابق: بداء سے بہتر کوئی ایسا عمل نہیں جس سے خدا کی عبادت کی جائے۔

(۲) التوحید للصدوق باب البداء ص ۲۷۲۔ اس کی روایت شیخ کلینی نے بھی کی ہے۔ وافی باب البدائ، ج ۱، ص ۱۱۳

(۳) التوحید للصدوق باب البداء ص ۲۷۲۔ اس کی روایت شیخ کلینی نے بھی کی ہے۔ وافی باب البدائ، ج ۱، ص ۱۱۳


کر دیتے ہیں۔ جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ انسان اپنی مشکلات اور مقاصد میں اپنے ربّ کی طرف توجہ نہ کرے۔

حقیقت بداء شیعوں کی نظر میں

جس بداء کے شیعہ امامیہ قائل ہیں، حقیقت میں اس کا معنی ''اظہار،، ہے (یعنی ایک چیز جو بندوں کے لیے پوشیدہ ہو اور اللہ اسے ظاہر کردے) اسکی جگہ ''بدائ،، (جس کا معنی خلقت اور آفرینش ہے) کا استعمال اس لیے ہوتا ہے کہ ان دونوں کے معنی میں شباہت پائی جاتی ہے کیونکہ ''اظہار،، کی طرح ''خلقت،، کے ذریعے مخلوق کو ظاہر کیا جاتا ہے۔ چنانچہ اہل سنت کی کچھ روایات میں بھی ''بدائ،، اسی معنی (اظہار) میں استعمال ہوا ہے۔

بخاری نے ابو عمرہ سے راویت کی ہے کہ ابو ہریرہ نے کہا: میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے سنا:

''بنی اسرائیل میں تین ایسے آدمی تھے جن میں سے ایک برص کا مریض، دوسرا اندھا اور تیسرا گنجا تھا۔ اللہ کے لیے بداء واقع ہوا کہ ان کا امتحان لیا جائے، چنانچہ برص کے مریض کے پاس ایک فرشتہ بھیجا ۔۔۔،،(۱)

قرآن میں بھی اس کی متعدد مثالین ملتی ہیں:

( الْآنَ خَفَّفَ اللَّـهُ عَنكُمْ وَعَلِمَ أَنَّ فِيكُمْ ضَعْفًا ۚ ) ۸:۶۶

''اب خدا نے سے (اپنے حکم کی سختی ہیں) تخفیف کردی ہے اور دیکھ لیا کہ تم میں یقیناً کمزوری ہے۔،،

( لِنَعْلَمَ أَيُّ الْحِزْبَيْنِ أَحْصَىٰ لِمَا لَبِثُوا أَمَدًا ) ۱۸:۱۲

''تاکہ ہم دیکھیں کہ گروہوں میں سے کس کو (غار میں) ٹھہرنے کی مدّت خوب یاد ہے۔،،

( لِنَبْلُوَهُمْ أَيُّهُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ) ۱۸:۷

''تاکہ ہم لوگ کا امتحان لیں کہ ان میں سے کون سب سے اچھے چلن کا ہے۔،،

____________________

(۱) صحیح بخاری، ج ۴ باب ماذکر عن بنی اسرائیل، ص ۱۴۲


اہل سنّت کی روایات کثیرہ میں ہے کہ دعا اور صدقہ قضائے الہی کو تبدیل کردیتے ہیں۔(۱)

جہاں تک اہل بیت اطہار(ع) کی ان روایات کا تعلّق ہے، جن میں مستقبل میں رونما ہونے والے واقعات کی پیش گوئی کی گئی ہے، ان میں تحقیق یہی ہے کہ اگر معصوم(ع) حتمی طور پر اور بغیر کسی شرط و قید کے مستقبل میں کسی واقعہ کے رونما ہونے کی خبر دے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ مقدرات کی وہ قسم ہے جو حتمی ہے اور اس میں کسی قسم کا بداء واقع نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اللہ نہ اپنی ذات کو جھٹلاتا ہے اور نہ اپنے نبی کو اور اگر معصوم(ع) کسی امر کی پیشگوئی اس شرط پر کرے کہ مشیّت الہی اس کے خلاف نہ ہو اس پر کوئی قرینہ متصل و منفصل قائم کریں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ مقدرات کی وہ قسم ہے جو مشیّت الہٰی پر موقوف ہے اور اس میں بداء واقع ہوسکتا ہے اور معصوم(ع) کی یہ خبر اور پیشگوئی سو فیصد صادق ہوگی اگرچہ اس میں بداء واقع ہو اور مشیّت الہٰی اس پیشگوئی کے خلاف ہو، کیونکہ معصوم(ع) کی پیشگوئی میں اس شرط پر واقع کے رونما ہونے کی خبر دی گئی ہے کہ مشیّت الہٰی اس کے خلاف نہ ہو۔

عیاشی نے عمرو بن حمق سے روایت کی ہے:

''جس وقت امیر المومنین(ع) کے سرمبارک پر ضربت لگی، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے فرمایا: اے عمرو! عنقریب میں تم سے جدا ہو جاؤں گا۔ تمہیں معلوم ہونا چاہےے کہ ۷۰ھ میں ایک بلا نازل ہوگی۔ میں نے عرض کی: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کیا ۷۰ھ کے بعد یہ بلاٹل جائے گی؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ بلا کے بعد آسائش ہوگی۔ پھر آپ نے آیہ کریمہ: یمحوا اللہ۔۔۔ کی تلاوت فرمائی۔،،

____________________

(۱) دعا سے قضاء کے تبدیل ہونے کے بارے میں روایات اسی کتاب کے ضمیمہ نمبر ۱۱ میں ملاحظہ فرمائیں۔


اصول تفسیر

مدارک تفسیر

خبر واحدسے قرآن کی تخصیص

چند توہمات اور ان کا ازالہ


تفسیر، کتاب الٰہی کی کسی آیت میں مقصود الہی کی وضاحت کا نام ہے بنا برایں اس سلسلے میں ظن اور عقلی استحسانات پر اعتماد اور ان پر عمل کرنا جائز نہیں ہے اور نہ ایسی چیز پر اعتماد کیا جا سکتا ہے جس کی تجیت عقلی اور شرعی طورپر ثابت نہ ہو کیونکہ قرآن میںظن کی پیروی کرنے سے منع فرمایا گیا ہے اور اللہ کی اجازت کے بغیر اس کی طرف کسی چیز کی نسبت دینا حرام ہے اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے۔

( قُلْ آللَّـهُ أَذِنَ لَكُمْ ۖ أَمْ عَلَى اللَّـهِ تَفْتَرُونَ ) ۱۰:۵۹

(''اے رسولؐ) تم کہہ دو کہ کیا خدا نے تمہیں اجازت دی ہے یاتم خدا پر بہتان باندھتے ہو،،۔

( وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۚ ) ۱۷:۳۶

''اور جس چیز کا تمہیں یقین نہ ہو(خواہ مخواہ) اس کے پیچھے نہ پڑا کرو،،۔

انکے علاوہ بھی قرآنی آیات اور روایات موجود ہیں جن میں غیر علم پر عمل کرنے سے منع کیا گیا ہے شیعہ اورسنی کتب احادیث میں کثرت سے روایات موجود ہیں جن میں تفسیر بالائے سے نہی کی گئی ہے۔

ان آیات اور روایات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ تفسیر قرآن کے سلسلے میں مفسرین کی ذاتی رائے پر عمل کرناجائز نہیں ہے چاہے یہ مفسر کوئی صحیح المسلک آدمی ہو یا نہ ہو کیونکہ ذاتی رائے پر عمل کرنا اتباع ظن ہے جو حق سے بے نیاز نہیں کرسکتا۔

مدارک تفسیر

مفسر کیلئے ضروری ہے کہ وہ فہم قرآن اور تفسیر قرآن میں ان ظواہر پر عمل کرے جو ایک صحیح عرب سمجھتاہے (ہم اس سے پہلے ظواہر کی حجیت کو ثابت کر چکے ہیں) یا ان فیصلوں پر عمل کرے جو ایک صحیح اور فطری عقل صادر کرے کیونکہ جس طرح نبی حجت ظاہری ہے اسی طرح عقل حجت باطنی ہے یااس معنی اور مفہوم پر عمل کرے جو معصومین (ع) سے ثابت ہو کیونکہ یہی ہسپتال مرجع دین ہیں اور رسول اللہ (ص) نے انہی سے تمسک کی وصیت فرمائی ہے آپ (ص) نے فرمایا۔


انی تارک فکم الثقلین کتاب الله و عترتی اهل بینی ، ما ان تمسکم بهما لن تضلوا بعدی ابدا (۱)

''میں (ص) تم میں دو گرانقدار چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں کتاب اللہ اور میری عترت اہل بیت (ع) جب تک تم ان دونوں سے متمسک رہو گے کبھی بھی میرے بعدگمراہ نہیں ہو گے،،۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ قطعی اور یقینی ذریعے سےاہل بیت اطہار (ع) کا قول ثابت ہو جاتا ہے اور خبر ضعیف (جس میں حجیت کی شرائط موجود نہ ہوں) کے ذریعے قول معصوم (ع) ثابت نہیں ہوتا۔

لیکن اس میں اختلاف ہے کہ آیا اس ظنی طریقے (خبر واحد اور دیگر دلائل) سے قول معصوم (ع) ثابت ہو جاتاہے جس کی حجیت پر قطعی دلیل قائم ہو؟

بعض علمائے کرام اس خبر واحد کی حجیت کو مورد اشکال قرار دیتے ہیں جو تفسیر کے بارے میں وارد ہوئی ہو اعتراض یہ ہے کہ خبر واحد اور دوسرے ظنی ادلہ کی حجیت کا مطلب یہ ہے کہ جب حقیقت اور واقع ہونا معلوم نہ ہو تو اس خبر واحد کے مفہوم پر واقع کے آثار مرتب کئے جائیں جس طرح واقع اور یقین حاصل ہونے کی صورت میں آثار مرتب کئے جاتے ہیںاس معنی میں حجیت وہاں متحقق ہو سکتی ہے جہاں خبر واحد کا مفہوم کوئی حکم شرعی ہویاکوئی ایسا موضوع ہو جس پر کوئی حکم شرعی مرتب کیا گیا اور ممکن ہے جہاںخبر واحد کا مفہوم کوئی حکم شرعی ہو یا کوئی ایسا موضوع ہو جس پر کوئی حکم شرعی مرتب کیا گیا ہو اور ممکن ہے کہ یہ شرط اس خبر واحد میں نہ پائی جائے جوتفسیر کے بارے میں ورد ہوئی ہے (کیونکہ کچھ روایات ایسی ہیں جو گزشتہ اقوام کے قصوں اور داستانوں کے متعلق قرآنی آیات کی تفسیر میں وارد ہوئی ہیں جن کا حکم اور موضوع حکم سے کوئی تعلق نہیں ہوتا)

____________________

نمبر۱اس حدیث کے حوالے اسی کتاب کے آخر پر ضمیمہ نمبر ۱ میں ذکر کئے جائیں گے نیز کنز العمال باب الاعتصام بالکتاب و السنتہ ج ۱ ، ص ۱۵۳ اور ۳۳۲

نمبر۲ جب کہا جائے شراب حرام ہے یانماز واجب ہے تو''شراب ،، اور ''نماز،، موضوع اور ''وجوب،، اور ''حرمت،، حکم کہلاتے ہیں (مترجم)۔


لیکن یہ اشکال تحقیق کیخلاف ہے کیونکہ ہم نے علم ا صول میں اس کی وضاحت کر دی ہے کہ اجتہادی دلیل جس کی نظر واقع پر ہوتی ہے یعنی جو واقع کی نشاندہی کرتی ہے کہ حجیت کا مطلب یہ ہے کہ اس کو حکم شرع میں علم کامقام دیا گیا ہے گویا اس طرح واجب العمل ظنی دلیل کو علم شمار کیا گیا ہے یہ ایسا علم ہے جس کو شارع نے علم کارتبہ دیا ہے یہ علم وجدانی نہیں ہے لہٰذا اس پر بھی وہی آثار مرتب ہوں گے جو قطع و یقین پر مرتب ہوتے

ہیں نیز ان روایات کے مضمون کے مطابق خبر دینا صحیح ہو گا جس طرح وجدانی علم کے مطابق خبر دی جاتی ہے اس طرح یہ (خبر واحد وغیرہ پر عمل کرنا) بغیر علم کے خبر دینے کے مترادف نہیں ہوگا۔

چنانچہ اس طرز عمل کی تائیدسیرت عقلاء سے بھی ہوتی ہے کیونکہ عقلاء اس قسم کی دلیلوں پر اسی طرح عمل کرتے ہیں جس طرح وجدانی علم پر کرتے ہیں اور دونوں کے آثار میں کسی قسم کے فرق کے قائل نہیں ہوتے مثلاً جس کسی کے ہاتھ میں کوئی چیز ہو ، عقلاء کے نزدیک قبضہ اس شخص کی ملکیت کی دلیل سمجھا جاتا ہے جس کے ہاتھ میں مال ہو اس بنیاد پر کہا جاتاہے کہ فلاں آدمی فلاں چیز کامالک ہے اس روش کا کوئی منکر نہیں اور شارع مقدس نے بھی عقلاء کی اس دائمی سیرت اور روش پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔

ہاں ! البتہ خبر موثق اور دیگر شرعی دلیلوں کے قابل عمل ہونے کی شرط یہ ہے کہ وہ حجیت کی تمام شرائط پر مشتمل ہوں۔ ان میں سے ایک اہم شرط یہ ہے کہ اس خبر کے جھوٹے ہونے کا یقین نہ ہو کیونکہ جس خبر کاکذب یقینی ہو اسے حجیت کی دلیل شامل ہی نہیں ہو سکتی بنا برایں وہ روایات جو اجماع ، سنت قطعیہ ، کتاب الٰہی اور صحیح حکم عمقل کے خلاف ہوں کبھی بھی حجیت نہیں ہو سکتیں اگرچہ حجیت کی باقی شرائط اس خبر واحد اور روایت میں موجود ہوں اس حکم میں وہ اخبار جو کسی حکم شرعی پر مشتمل ہوں اور دوسرے اخبار یکساں ہیں۔


اس شرط کاراز یہ ہے کہ راوی ، چاہے کتنا ہی موثق ہو اس کی خبر واقع کیخلاف بھی ہو سکتی ہے کیونکہ کم از کم یہ احتمال دیا جا سکتا ہے کہ راوی کیلئے حقیقت حال مشتبہ ہو گئی ہو خصوصاً جب واسطے (سلسلہ رواۃ) زیادہ ہوں تو اس احتمال کو اور زیادہ تقویت ملتی ہے اس لئے اس احتمال کے ازالے اور اس کالعدم فرض کرنے کیلئے حجیت کی دلیل کاسہارالیناضروری ہو جاتا ہے۔

لیکن جہاں خبر کیخلاف واقع ہونے کا یقین ہو وہاں پرتعبداً اسے معدوم فرض کرنا غیر معقول ہے کیونکہ یقین کی کاشفیت ذاتی ہے یعنی اس کی یہ ذاتی خصوصیت ہے کہ وہ واقع کاانکشاف کرتا ہے اور اس کی حجیت بحکم عقل بدیہی طورپر ثابت ہے۔

بنا بریں حجیت خبر واحد کے دلائل صرف انہی روایات کو شامل ہوں گے جن کے کاذب اور مخالف واقع ہونے کا علم اور یقین نہ ہو۔ یہی حکم خبر واحد کے علاوہ دوسرے شرعی دلائل کا بھی ہو گا جو واقع کاانکشاف کرتے ہیں یہ حقائق ایک ایسا دروازہ ہے جس سے کئی اور دروازے کھلتے ہیں اور اس سے بہت سے اعتراضات اور اشکالات کا جواب دیا جا سکتا ہے اس لئے قارئین کرام کو یہ ذہن نشین کر لینا چاہئے۔

خبر واحد سے قرآن کی تخصیص

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب کسی قطعی دلیل کے ذریعے خبر واحد کی حجیت ثابت ہو جائے تو کیا اس خبر واحد کے ذریعے ان عمومات کی تخصیص ہو سکتی ہے جو قرآن میں موجود ہیں؟

مشہور کا مسلک یہی ہے کہ خبر واحد کے ذریعے عمومات قرآن کی تخصیص جائز ہے اور بعض علمائے اہل سنت نے اس (جواز) کی مخالفت سنی ہے البتہ ان میں سے بعض نے تو معطلقاً اسے ناجائز قرار دیا ہے عیسیٰ بن ابان کا عقیدہ یہ ہے کہ اگر عام قرآن کی پہلے کسی قطعی دلیل کے ذریعے تخصیص ہو چکی ہو تو خبر واحد کے ذریعے اس کی مزید تخصیص جائز ہے ورنہ جائز نہیں۔

کرخی کا نظریہ ہے کہ اگر کسی دلیل منفصل کے ذریعے عام قرآن کی تخصیص ہوئی ہو تو خبر واحد کے ذریعے مزید تخصیص جائز ہے ورنہ نہیں اور قاضی ابوبکر نے توقف اختیار کیا ہے (وہ نہ جواز کاقائل ہوا ہے اور نہ عدم جواز کا)۔


ہمارا عقیدہ وہی ہے جو مشہور علماء کا ہے یعنی خبر واحد کے ذریعے عام قرآن کی تخصیص ہو سکتی ہو۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ خبر واحد کی حجیت (اس کا لازم العمل ہونا) قطعی اور یقینی ہے اور اس کا تقاضا یہی ہے کہ جب تک کوئی مانع پیش نہ آئے اس خبر کے مدلول و مضمون پر عمل کرنا واجب ہے اس کالازمی نتیجہ یہی ہے کہ اس کے ذریعے عام قرآن کی تخصیص ہو جاتی ہے۔

چندتوہمات اور ان کاازالہ

چند چیزوں کو مانع کے طورپر ذکر کیا گیا ہے لیکن درحقیقت وہ مانع بننے کی صلاحیت نہیں رکھتیں ۔

۱۔ مانعین کا کہنا یہ ہے کہ قرآن کریم کلام الٰہی ہے جس کو اللہ نے اپنے نبی (ص) پر نازل فرمایا ہے یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں لیکن خبر واحدکے مطابق واقع ہونے کا یقین نہیں اور نہ اس بات کا یقین ہے کہ یہ خبر معصوم (ع) سے صادر ہوئی ہے کیونکہ کم از کم یہ احتمال باقی ہے کہ راوی کو اشتباہ ہوا ہو اور عقل کبھی بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ایک ایسی دلیل کی وجہ سے جس میں خطاء کا احتمال موجود ہو ایک قطعی دلیل سے دستبردار ہوا جائے۔

جواب: یہ درست ہے کہ قرآن قطعی ا لصدور ہے (اس کے کلام خدا ہونے میں کوئی شک نہیں) لیکن ہمیں اس بات کا یقین نہیں کہ حکم واقعی ، عمومات قرآن کے مطابق ہو عمومات قرآن اس لئے واجب العمل ہیں کہ یہ ظاہر کلام ہیں اور عقلاء کی سیرت اس بات پر قائم ہے کہ وہ ظواہر کو حجت جانتے ہیں اور شارع مقدس نے بھی اس سیرت اور روش سے منع نہیں فرمایا۔

لیکن یہ بھی واضح ہے کہ سیرت عقلاء کی رو سے ظواہراس صورت میں حجت ہیں جب ان کے ظاہری معنی کیخلاف کوئی قریہ متصل و مقصل قائم نہ ہو اور اگر کسی مقام پر ظاہری معنی کیخلاف کوئی قرینہ قائم ہو تو اس طاہری معنی سے دستبردار ہونا اور قرینہ کے مطابق عمل کرنا ضروری ہے۔


بنا برایں یہ بات تسلیم کرناناگزیر ہے کہ عمومات قرآن کی اس خبر واحد کے ذریعے تخصیص جائز ہے جس کی حجیت پر کوئی قطعی دلیل قائم ہو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اس خبر کا مضمون ، معصوم (ع) سے صادر ہونے کو شرعی طور سے تسلیم کر لیں دوسرے الفاظ میں اگرچہ قرآن کی سند قطعی ہے لیکن اس کی دلالت ظنی ہے اور عقل کے نزدیک اس میں کوئی قباحت نہیں ہے کہ ایک ظنی دلالت سے کسی ایسی ظنی دلیل کی بنیاد پر دستبردار ہوا جائے جس کی حجیت پر قطعی دلیل قائم ہو۔

۲۔ دوسرا تو ہم یہ ہے کہ معصومین (ع) کی صحیح روایات کہتی ہیں کہ روایات کو کتاب خدا کے سامنے پیش کیا جائے ان میں سے جو روایات کتاب خدا کے خلاف ہو اس کو ترک کر دیا جائے اور اسے دیوار پر مار دیا جائے اور یہ کہ وہ روایت معصوم (ع) سے صادر ہی نہیں ہوئی جو مخالف کتاب خداہو یہ روایت صحیحہ اس خبر واحد کو بھی شامل ہوں گی جو عموم قرآن کیخلاف ہو یعنی اس کو مخالف قرآن ہونے کی وجہ سے ترک کر دیا جائے گا۔

جواب: وہ قرائن عرفیہ جو مراد خداوندی کو بیان کریں ، عرف کے نزدیک مخالف قرآن نہیں سمجھتے جاتے اور دلیل خاص ہمیشہ دلیل عام کی وضاحت ہوا کرتی ہے کوئی دو دلیلیں اس وقت ایک دوسری کی مخالف سمجھی جاتی ہیں جب ان کا آپس میں تعارض ہو۔ بایں معنی کہ جب کسی متکلم سے یہ دونوں دلیلیں صادر ہوں تو اہل عرف اس سے مقصود و متکلم کو نہ سمجھیں اور حیران رہ جائیں بنا برایں خبر واحد جو خاص ہو عام قرآن کی مخالف نہیں بلکہ وہ مراد اور مقصود قرآن کو بیان کرتی ہے۔

اس کی دلیل یہ ہے کہ ہمیں قطعی طورپر علم ہے کہ معصومین (ع) سے ایسی روایات صادر ہوئی ہیں جو عمومات قرآن کیلئے مخصص اور مطلقات قرآن کیلئے مقید ہیں اگر تخصیص و تقیید ، قرآن کی مخالفت کہلاتی تو ان کایہ فرمان درست نہ ہوتا ''جو کلام خدا کا مخالف ہے وہ ہمارا قول نہیں ہے بلکہ جھوٹ یاباطل ہے،، لہٰذا ان روایات کا ائمہ (ع) سے صادر ہونا اس امر کی دلیل ہے کہ تخصیص و تقیید قرآن کی مخالف نہیں ہے۔


اس کے علاوہ معصومین(ع) نے دو روایتوں میں سے ایک کے موافق قرآن ہونے کو ، دوسری روایت پر مقدم ہونے کامرجح قرار دیا ہے اس کامطلب یہ ہوا کہ مخالف روایت بھی (جو موافق قرآن نہیں) اگر معارض نہ ہوتی تو بذات خود حجیت تھی اور یہ حقیقت بھی پوشیدہ نہیں کہ اگر اس متروک روایت کی مخالفت اس نوعیت کی ہوتی جو قرآن کے ساتھ ہرگز سازگار نہ ہوتی توبذات خود بھی حجیت نہ ہوتی اور تعارض اور ترجیح کی نوبت نہ آتی۔

معلوم ہوا روایت کا موافق کتاب نہ ہونے کامطلب یہ ہے کہ عرفاً یہ دونوں تخصیص یا تقیید کے ذریعے ہم آہنگ ہو سکتے ہیں۔

اس بحث کانتیجہ یہ نکلا کہ خبر واحد جو کسی عام کیلئے مخصص یا مطلق کیلئے مقید قرار پائے بذات خود حجیت اور لازم العمل ہے مگر یہ کہ کسی دوسری دلیل سے اس کاتعارض ہو۔

۳۔ تیرا شبہ یہ ذکر کیا جاتا ہے کہ اگر خبر واحد کے ذریعے قرآن کی تخصیص جائز ہو تو اس کے ذریعے قرآن کا نسخ بھی جائز ہونا چاہئے جبکہ خبر واحد کے ذریعے قرآن کا نسخ ہونا یقیناً جائز نہیں ہے اس لئے تخصیص بھی جائز نہیں ہونی چاہئے۔

اس ملازمہ کی دلیل یہ ہے کہ نسخ (جس کی وضاحت ہم نسخ کی بحث میں کر چکے ہیں) زمانے کے اعتبار سے تخصیص کانام ہے اور دلیل ناسخ اس کا انکشاف کرتی ہے کہ حکم سابق (منسوخ) ایک خاص زمانے اور مدت سے مختص تھا جو دلیل ناسخ کے آنے پر ختم ہو گیا بنا برایں کسی حکم کا نسخ ہو جانا حقیقی معنوں میں اس حکم کا اٹھا دینا نہیں بلکہ ظاہری شکل میں حکم کا ازالہ ہوتا ہے افراد کی تخصیص (حکم عام سے اس کے بعض افرادکو خارج کرنا) زمانے کے اعتبار سے تخصیص کے مانند ہے اس طرح یہ دونوں تخصیص ہیں۔ اگر پہلی تخصیص جائز ہو تو دوسری کوبھی جائز ہونا چاہئے۔


جواب: یہ درست ہے کہ یہ دونوں تخصیص ہیں لیکن ان دونوں تخصیصوں میں فرق ہے یہ کہ اجتماع قطعی اس بات پر قائم ہے کہ خبر واحد کے ذریعے نسخ جائز نہیں ہے اگر عدم جواز پر اجتماع قائم نہ ہوتاتو خبر واحد کے ذریعے تخصیص کی طرح اس کے ذریعے نسخ بھی جائز ہوتا اس سے قبل یہ بیان کیا جا چکا ہے کہ قرآن اگرچہ قطعی الصدور ہے مگر اس کی دلالت ظنی ہے قطعی نہیں اور خبر واحد ، جس کی حجیت دلیل قطعی سے ثابت ہے کہ ذریعے اس ظنی دلالت سے دستبردار ہوا جا سکتا ہے۔

ہاں ! یہ بات ضرور ہے کہ عدم جواز نسخ پر قائم ہونے والا اجماع تعبدی نہیں بلکہ بعض مسائل اور واقعات اس اہمیت اور خصوصیت کے حامل ہوتے ہیں کہ اگر خارج میں رونما ہوں تو خبر متواتر کے ذریعے ہی نقل ہوتے ہیں ایسے مسائل اور واقعات کوصرف چند آدمی نقل کریں تواس راوی کے کذب اور اس کی خطا کی دلیل ہو گی اور حجیت خبر واحد کی دلیلیں ایسی خبروں اور روایات کو شامل نہیں ہوں گی جنہیں ا ہمیت کی حامل ہونے کے باوجود ایک یا چندآدمی نقل کریں اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ خبر واحد کے ذریعے قرآن ثابت نہیں ہوسکتا۔

یہ حقیقت بھی ناقابل انکار ہے کہ نسخ قرآن کوئی ایسا مسئلہ نہیں جو مسلمانوں کی صرف ایک قوم سے مختص ہو اس کے علاوہ نسخ واقع ہونے کی صورت میں اس کی خبر نقل ہونے کے اسباب و عوامل بھی زیادہ ہوتے ہیںبنا برایں اگر نسخ واقع ہو تو یہ ایک ایسی غیر معمولی خبر ہے جسے خبر متواتر کے ذریعے ہی نقل ہونا چاہئے اگر اسے صرف ایک یا دو آدمی نقل کریں تو یہ اس راوی کے جھوٹ یا اشتباہ کا ثبوت ہو گا یہیں سے نسخ اور تخصیص کے درمیان فرق واضح ہو جاتا ہے اور وہ ملازمہ بھی باطل ہو جاتا ہے جس کی رو سے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اگر خبر واحد کے ذریعے تخصیص جائز ہو تو نسخ بھی جائز ہونا چاہئے۔


قرآن حادث ہے قدیم

یونانی فلسفہ کا مسلمانوںکی زندگی پر اثر

اللہ کی صفات ذاتی و فعلی

کلام نفسی

کیا ''طلب،، کلام نفسی ہے ؟

کلام نفسی کا کوئی وجود نہیں

کلام نفسی پر اشاعرہ کے دلائل


کسی مسلمان کو اس بات میں شک نہیں کہ کلام اللہ وہی ہے جسے اللہ نے نبوت کی دلیل کے طور پر رسول اللہ (ص) پر نازل فرمایانیز اس بات میں بھی کسی مسلمان کو شک نہیں کہ ''تکلم،، خدا کی صفات ثبوتیہ میں سے ایک صفت ہے ، جن کو صفات جمال کہتے ہیںچنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس صفت کو اپنی ذات کیلئے استعمال کیا ہے۔

( وَكَلَّمَ اللَّـهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا ) ۴:۱۶۴

''اور خدا نے تو موسیٰ سے (بہت سی) باتیںبھی کیں،،

یونانی فلسفہ کا مسلمانوں کی زندگی پر اثر

تمام مسلمانوں کا مذکورہ دو باتوں پر اتفاق تھا اور ان میں کسی قسم کا اختلاف نہیںپایا جاتاتھا یہاں تک کہ یونانی فلسفہ مسلمانوں میں داخل ہو گیا اور مسلمانوں کو مختلف فرقوں میں بانٹ کر رکھ دیا حتیٰ کہ ایک فرقہ دوسرے کو کافر گرداننے لگا اور زبانی اختلاف ہاتھا پائی اور قتل و قتال میں تبدیل ہو گیا کئی مسلمانوں کی ناموس کی توہین کی گئی اور کئی بے گناہ افرادکا خون بہایا گیا جبکہ قاتل اور مقتول دونوں توحید کے قائل تھے اور رسالت و معاد کا اقرار کرتے تھے۔

کیا یہ مقام تعجب نہیں کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان بھائی کی عصمت دری اور قتل کے درپے ہو جب کہ دونوں مسلمان گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد (ص) اللہ کے بن دہ اور رسول ہیں جو اللہ کی طرف سے پیام حق لے کر آئے ہیں اوریہ کہ اللہ روز محشر تمام لوگوںکو (حساب کتاب کیلئے) قبروں سے دوبارہ اٹھائے گا۔

کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ(ص) کے بعد ولی امر (ع) کی سیرت یہ نہیں رہی کہ جو شخص بھی ان باتوں کی گواہی دے اس پر مسلمان کے احکام و آثار مرتب کئے جائیں ؟ کیا کوئی روایت یہ کہتی ہے کہ رسول اللہ (ص) یا آپ (ص) کے جانشینوں (ع) میں سے کسی نے کسی بھی شخص سے قرآن کے قدیم یا حادث ہونے یا اس کے علاوہ دوسرے اختلافی مسائل کے بارے میں سوال فرمایا ہو اور ان کے اختلافی مسائل میں سے کسی ایک کا اقرار لینے کے بعد اسے مسلمان قرار دیا ہو؟


میں نہیں سمجھتا کہ (اور کاش سمجھتا) کہ جو لوگ اس طرح مسلمانوں میں اختلاف و انتشار کا بیج بوتے ہیں خدا کو کیا جواب دیں گے اور کیاعذر پیش کریں گے ۔انا لله و انا الیه راجعون ۔

حدوث قرآن اور قدم قرآن کے مسئلے نے اس وقت جنم لیا جب مسلمان دو گروہوں (اشعری اور غیر اشعری) میں تقسیم ہو گئے اشاعرہ اس بات کے قائل ہوئے کہ قرآن کریم ہے (یعنی ابد سے ہے اور اس کی کوئی ابتداء نہیں) اوریہ کہ کلام کی دو قسمیں ہیں ۔ ۱۔کلام لفظی ۲۔ کلام نفسی۔ کلام نفسی اللہ کی ذات کے ساتھ قائم اور موجود ہے اور اللہ کے قدیم ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا کلام نفسی بھی قدیم ہے اور یہ کہ کلام نفسی خدا کی صفات ذاتیہ میں سے ایک صفت ہے معزلہ اور عدلیہ (امامیہ) کا یہ عقیدہ ہے کہ ''قرآن،، حادث (مخلوق) ہےاور یہ کہ کلام صرف لفظی ہی ہوا کرتی ہے کلام نفسی نامی کوئی چیز موجودن ہیں ہے اور ''تکلم،، اللہ کی صفات فعلیہ میں سے ہے۔

اللہ کی صفات ذاتی و فعلی

اللہ کی صفات ذاتی اور فعلی میں فرق یہ ہے کہ اس کی ذات میں صفات ذاتی کا نقیض و عکس کبھی نہیں پایا جا سکتا دوسرے الفاظ میں اللہ کی ذاتی صفات وہ صفات ہیں جو کبھی بھی اللہ سے سلب نہیں ہو سکتیں جس طرح علم ، قدرت اور حیات ہیں اللہ کی ذات ہمیشہ سے عالم ، قادر اور زندہ ہے اور عالم ، قادر اور زندہ رہے گی یہ امر محال ہے کہ ایک لمحہ کیلئے بھی اللہ عالم ، قادر اور حّی نہ ہو۔

اللہ کی صفات فعلیہ وہ ہیں کہ اللہ کی ذات کبھی ان سے متصف ہوتی اور کبھی ان کے نقیض و عکس سے متصف ہوتی ہے جس طرح خلق کرنا اور رزق دینا ہے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اللہ نے فلاں چیز کو خلق فرمایا اور فلاں چیز کو خلق نہیں فرمایا فلاں کو اللہ نے فرزند عطا فرمایا اور مال عطا نہیں فرمایا۔

اس بیان کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ''تکلم،، صفات فعلیہ میں سے ہے صفات ذاتیہ میں سے نہیں کیونکہ یہ کہنا بالکل درست ہے کہ اللہ ت عالیٰ حضرت موسی ٰ (علیہ السلام) سے ہمکلام ہوا اور فرعون سے ہمکلام نہیں ہوا یااللہ کوہ طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ہمکلام ہوا ، اور بحرنیل میں ہمکلام نہیں ہوا۔


کلام نفسی

تمام اشاعرہ کا اتفاق ہے کہ عام اور مشہور کلام لفظی کے علاوہ بھی ایک کلام موجود ہے جس کانام انہوںنے کلام نفسی رکھا ہے البتہ کلام نفسی کی حقیقت کے بارے میں ان سے اختلاف ہے بعض اشاعرہ کا کہنا ہے کہ کلام نفسی ، کلام لفظی کے مدلول اور اس کے معنی کا نام ہے اور بعض اشاعرہ کا عقیدہ یہ ہے کہ کلام نفسی مدلول لفظ سے مختلف ہے اور لفظ اس کلام نفسی پر دلالت و وضعیہ نہیں کرتا بلکہ لفظ کی دلالت اس کلام پر ایسی ہے جیسے انسان کے اختیاری افعال ہیں جو فاعل کے ارادہ علم اور اس کی حیات پر دلالت کرتے ہیں بہرحال اشاعرہ کا عقیدہ یہ ہے کہ قرآن مجید میں موجود کلام ہی قدیم ہے لیکن فاضل قوشجی نے بعض اشاعرہ کی طرف یہ قول منسوب کیا ہے کہ کلام قرآن کی طرح اس کی جلد اور غلام بھی قدیم ہے جیسا کہ اس سے پہلے بھی بتایا گیا ہے کہ اشاعرہ کے علاوہ سب کا اتفاق ہے کہ قرآن حادث ہے اور یہ کہ اللہ کا کلام لفظی کائنات کی دیگر مخلوقات کی طرحایک مخلوق ہے اور اس کی آیات اور نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔

البتہ اس مسئلہ میں بحث و تمحیص اور تحقیق سے کوئی نتیجہ نہیں نکلتا اس لئے کہ یہ مسئلہ اصول دین میں سے ہے اور نہ فروغ دین میں سے بلکہ اس کا دنی مسائل اور الٰہی معارف سے دُور کابھی واسطہ نہیں ۔ تاہم میں نے چاہا کہ اس مسئلے کے بارے میں بھی کچھ بحث کی جائے تاکہ ہمارے اشاعرہ بھائیوں (جن کی مسلمانوں میںا کثریت ہے) کیلئے یہ بات واضح ہو جائے کہ جس مسلک کو انہوں نے اختیار کیا ہے اور جس عقیدے کو واجب سمجھتے ہیں وہ محض ایک خیالی چیز ہے عقلی اور شرعی اعتبار سے اس کی کوئی بنیاداور اساس نہیں۔


تفصیل: اس بات میں کسی کو اختلاف نہیں کہ کلام جو حروف تہجی سے تدریجاً یکے بعد دیگرے وجود میں آتا ہے یقیناً ایک حا دث چیز ہے۔ ایسی صفت سے اللہ کا ازل اور غیر ازل میں متصف ہونا محال ہے اختلاف اس بات میں ہے کہ آیا اس کلام کے علاوہ بھی کوئی کلام موجود ہے جس کے تمام اجزاء یکجا موجود ہوں اشاعرہ حضرات ایسے کلام کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی دوسری صفات کی طرح ایک ذاتی صفت ہے اور غیر اشاعرہ اس کی نفی کرتے ہیں اور کلام کو صرف کلام لفظی میں منحصر سمجھتے ہیں اور یہ کہ کلام لفظی متکلم سے اس طرح صادر ہوتا ہے کہ جس طرح کسی فاعل سے کوئی فعل صادر ہوتا ہے اور حق یہ ہے کہ کلام الٰہی حادث و مخلوق ہے۔

دلیل: جملہ دو قسم کا ہوتا ہے (۱) خبریہ (۲) انشائیہ

(۱) جملہ خبریہ:/ جب ہم کس یبھی جملہ خبریہ میں غور و فکر او رتحقیق کرتے ہیں تو ہمیں اس میں صرف نو چیزیں نظر آتی ہیں اوریہ نوچزیں ایسی ہیں کہ جب بھی کسی چیز کو دوسری چیز کیلئے ثابت کرنا چاہیں یا ایک چیز کی دوسری سے نفی کرنا چاہیں تو ان نو چیزوں کا ہونا لازمی ہے:

۱۔ جملے کے مفردات جن میں اس کے مودا اور ہیئت لفظیہ بھی شامل ہیں۔

۲۔ مفردات کے معانی اور ان کے مدلول۔

۳۔ جملے کی ہیئت ترکیبیہ۔

۴۔ وہ چیز جس پر ہیئت ترکیبیہ دلالت کرے۔

۵۔ خبر دینے والے شخص کا مادہ جملہ اور ہیئت جملہ کاتصور کرنا۔

۶۔مادہ جملہ اور ہیئت جملہ کے مدلول کا تصور۔

۷۔ نسبت کا خارج کے مطابق ہونا یا نہ ہونا۔

۸۔ مخبر کا اس مطابقت و عدم کا علم رکھنا یا شک کرنا۔

۹۔متکلم کامقدمات ارادہ کے بعد جملے کو خارج میں ایجاد کرنے کا ارادہ کرنا۔


اشاعرہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ کلام نفسی ان نو چیزوں میں سے کوئی چیز نہیں ہے بنا برایں کلام نفسی کا کوئی نام و نشان بھی باقی نہیں رہتا باقی رہا جملے کامفاد تو وہ بھی کلام نفسی نہیں بن سکتا کیونکہ مشہور یہ ہے کہ جملہ خبریہ ایک چیز کو دوسری چیز کیلئے ثابت کرنے یا ایک چیز کی دوسری چیز سے نفی کرنے کا نام ہے اور ہماری تحقیق کے مطابق اس ثبوت یا سلب کے بیان کے قصد کا نام ہے ، کیونکہ ہم نے اپنے مقام پر یہ ثابت کر دیا ہے کہ جملہ خبریہ کی ہیئت ترکیبیہ اپنی وضع کے مطابق اس بات کی علامت ہے کہ متکلم نسبت کے بیان کا قصد کر رہا ہے اوریہی کیفیت دوسرے الفاظ کی بھی ہے جن کو کسی نہ کسی معنی کے لئے مقرر کیا گیا ہو۔

ہم نے تحقیق سے یہ بات ثابت کر دی ہے کہ وضع اس التزام کا نام ہے جس میں کسی خاص لفظ یا ہیئت کاتقرر کیا جائے تاکہا س سے ہر اس امر کی تفہیم ظاہر ہو سکے جسے متکلم کسی کوسمجھانا چاہئے یہ تھا جملہ خبریہ کا مفاداور مفہوم۔

جہاں تک جملہ انشائیہ کا تعلق ہے یہ بھی جملہ خبریہ کی مانند ہے جملہ خبریہ اور انشائیہ میں اتنا فرق ہے کہ جملہ انشائیہ میں پہلے سے کوئی خاص واقعہ موجود نہیں تھا جس کی نسبت کلامیہ مطابق یا مخالف ہو اس بیان کی روشنی میں جملہ انشائیہ میںسات چیزیں ہوا کرتی ہیں اور وہ وہی چیزیں ہیں جو جملہ خبریہ میں ہوتی ہیں البتہ صرف ساتویں اور آٹھویں چیز اس میں نہیں ہو گی اور یہ بات بھی بتا دی گئی کہ جو حضرات کلام نفسی کے قائل ہیں وہ ان نو چیزوں میں سے کسی چیز کو کلام نفسی نہیں سمجھتے۔

اب یہ سوال باقی رہ گیا ہے کہ جملہ انشائیہ کی ہیئت کامفاد (مدلول) کیا ہے ۔ علماء میں مشہور یہی ہے کہ جملہ انشائیہ کوا س لئے وضع کیا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعے عالم انشاء کے مناسب کوئی معنی ایجاد کیا جائے اور علماء کے کلام میں مکرر بیان کیا جاتا ہے کہ انشاء لفظ کے ذریعے معنی ایجاد کرنے کا نام ہے ہم نے اصول فقہ کی بحثوں میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ وجود انشائی کی کوئی اساس اور دلیل نہیں اگرچہ لفظ اور معنی میں ایک عارضی اتحادپایا جاتا ہے جس کا منشاء لفظ اور معنی کے درمیان وہ ربطہ ہے جو وضع کی وجہ سے قائم ہوا ہے۔ لفظ کا وجود اس کیلئے حقیقی و ذاتی ہے اور معنی کیلئے عارضی اور مجازی۔


یہی وجہ ہے کہ معنی کا حسن و قبیح لفظ تک سرایت کر جاتا ہے اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ لفظ کی وجہ سے معنی کو ایک وجود لفظی مل گیا ہے اگرچہ لفظ و معنی میں یہ اتحادپایا جاتا ہے لیکن یہ جملہ انشائیہ سے مختص نہیں جملہ خبریہ اور مفردات میں یہ اتحاد پایا جاتا ہے۔

جہاں تک لفظ سے قطع نظر معنی کے وجود کا تعلق ہے وہ دو ہی قسم کا ہو سکتا ہے۔

(۱) معنی کا حقیقی وجود ، جو اس کائناتی نظام میں ظاہر ہوتا ہے جس طرح اس دنیا کے مختلف جواہر (اشیائ) اور اعراض (صفات) ہیں وجود کی اس قسم کے اپنے خاص علل و اسباب ہوا کرتے ہیں جن کا الفاظ سے کوئی ربطہ و تعلق نہیں ہوتا یہ ایک واضح بات ہے۔

(۲) معنی کا اعتباری اور قراردادی وجود یہ بھی اشیاء کا ایک قسم کا وجود ہے ، لیکن صرف عالم اعتبار اور فرض میں ہے ، خارج میں اس کا کوئی وجود نہیں ہر فرض و اعتبار ، فرض کرنے والے شخص کی ذات کے ذریعے قائم ہوا کرتا ہے اور اسی سے بلاواسطہ صادر ہوتا ہے۔ الفاظ خارجی پر ہرگز یہ موقوف نہیں باقی رہے لوگوں سے صادر ہونے والے عقود، جیسے بیع و شراء وغیرہ اور ایقاعات ، جیسے غلام آزاد کرنےاور طلاق دینا ، تصدیق اور تملیک و تملک کو جائز قرار دینا یہ چیزیں اگرچہ کسی شخص سے صیغہ عقد و ایقاع کے صادر ہونے پر موقوف ہیں اور معاملہ انجام دینے والے کے قول یا فعل کے بغیر تصدیق شارع بے اثر ہے لیکن شارع کی یہ تصدیق بقصد انشاء کسی لفظ کے صادر ہونے پر موقوف ہے مگر ہماری بحث لفظ کے اس مفاداور مفہوم سے ہے جو مرحلہ تصدیق شارع سے قبل ذکر کیا گیا ہو۔

خلاصہ بحث یہ ہے کہ کسی بھی چیز کا وجود حقیقی اور وجود اعتباری لفظ پر موقوف نہیں۔ باقی رہا شارع یا عقلاء کا اس وجود اعتباری کی تصدیق کرنا۔ اگرچہ یہ تصدیق متکلم سے لفظ یا کسی دوسرے فعل کے صادر ہونے پر مووف ہے لیکن یہ اس معنی میں کہ لفظ اپنے معنی میں استعمال ہوا ہو اس معنی میں نہیں کہ لفظ سے معنی کو ایجاد کیا گیا ہے جہاں تک وجود لفظی کاتعلق ہے یہ ہر اس معنی کو شامل ہے جس پر کوئی لفظ دلالت کرے جملہ انشائیہ میں کوئی خصوصیت نہیں بنا برایں علماء میں مشہور قول ''انشاء لفظ کے ذریعے ایجاد معنی کا نام ہے،، کی کوئی حقیقت اور اساس نہیں۔


صحیح قول یہ ہے کہ ہیئت انشائیہ کو اس لئے وضع کیا گیا ہے کہ اس کے ذریعے انسان باطنی امور میں سے کسی کااظہار کرے ۔ یہی باطنی شئی کبھی تو اعتبارات میں سے ہوتی ہے جیسے امر، نہی عقود اور ایقاعات ہیں اور کبھی صفات میں سے ایک صفت ہوتی ہے جیسے کسی چیز کی تمنا اور امید رکھنا پس جملوں کی ہیتیں باطنی امور میں سے کسی نہ کسی شئی کی علامت اور نشانی ہوتی ہیں یہ شئی جملہ خبر یہ ہیں مقصد بیان اور خبر ہےاور جملہا نشائیہ میں کوئی اور چیز ہوتی ہے۔

جو جملہ اس باطنی امر کو ظاہر کرتا ہے ، کبھی اسے جملوں میں ذکر کرنے کا مقصد اس باطنی شئی کو ظاہر کرنا ہوتا ہے اور کبھی کوئی اور عامل اور مقصدہواہے یہ بات محل بحث و اختلاف ہے کہ جملہ کا دوسر مقصد میں استعمال ہونا حقیقت ہے یا مجاز اس بحث کا یہ موقع نہیں ہے تفصیلی معلومات کیلئے ہماری تعلیقات کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔

کیا ''طلب ،، کلام نفسی ہے؟

لفظ ''طلب،، کے جائے استعمال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ''طلب،، کسی شئی کو حاصل کرنے کے درپے ہونے کا نام ہے ''طلب الضالتہ،، یعنی گمشدہ چیز کو تلاش کیا اور ''طلب الآخرۃ،، یعنی آخرت کی تلاش ، اسی صورت میں کہا جائے گا جب انسان ان دونوں (گمشدہ چیز اور آخرت) کو حاصل کرنے کے درپے ہو چنانچہ لغت کی کتاب ''لسان العرب،، میں ہے۔

''الطلب محاوله وجدان الشئی واخذه،،

(یعنی) ''مطلب کسی شئی کو حاصل اور دریافت کرنے کی کوشش کا نام ہے،،۔

اس اعتبار سے آمر (حکم دینے والے) پر ''طالب،، صادق آئے گا کیونکہ اس کی کوشش ہوتی ہے کہ مامور (جس کا حکم دیا گیا ہو) وجود میں آ جائے اس لئے آمروہی ہوتا ہے جو مامور کو متعلق امر (ماموربہ) کو بجا لانے کی دعوت دیتا ہے اور یہی طلب کا مصداق ہے ایسا نہیں کہ امر کوئی لفظ ہو جس کا معنی طلب ہو بنا برایں اس قول کی کوئی اساس باقی نہیں رہتی کہ امر کو طلب کیلئے وضع کیا گیا ہے اور نہ اس بات کی کوئی اساس باقی رہتی ہے کہ ''طلب،، کلام نفسی ہے جس پر کلام لفظی دلالت کرتا ہے۔

اشاعرہ نے درست کہا کہ ''طلب،، اور ہے ''ارادہ،، اور ہے لیکنان کی یہ بات درست نہیں کہ ''طلب،، ایک باطنی صفت کانام ہے اور یہ کہ اس صفت باطنی پر کلام لفظی دلالت کرتا ہے۔


کلام نفسی کا کوئی وجود نہیں

گزشتہ بیانات سے قارئین محترم کے سامنے واضح ہو گیا ہو گا کہ جملہ خبریہ اور جملہ انشائیہ میں کلام کی کوئی ایسی قسم نہیں جو نفس انسانی سے وابستہ ہوتا کہ وہ کلام نفسی کہلائے یہ بات ضروری ہے کہ ہر متکلم کیلئے ایجاد کلام سے پہلے اس کلام کا تصور کرنا ضروری ہے اور تصور نفس انسانی میں ایک قسم کے وجود کا نام ہے جس کو وجود ذہنی کہتے ہیں۔ اگر کلام نفسی کے قائل حضرات کی مراد، نفس انسانی میں موجود یہی کلام ہو تو یہ بات اپنے مقام پر درست ہے لیکن یہ نکتہ بھی پوشیدہ نہ رہے کہ بات صرف کلام سے مختص نہیں بلکہ ہر فعل اختیاری کا تصور ، نفس انسانی میں موجود ہوتا ہے۔ کلام کاتصور بھی اس لئے ضروری ہے کہ یہ متکلم کا ایک فعل اختیاری ہے۔

کلام نفسی پر اشاعرہ کے دلائل

کلام نفسی کے قائل حضرات اپنے مدعیٰ کے اثبات میں کئی دلائل دیتے ہیں۔

(۱) ہر متکلم ، تکلم سے پہلے کلام کو اپنے نفس میں ترتیب دیتا ہے اور خارج میں موجود کلام اس بات کاانکشاف ہے کہ اسی نوعیت کا ایک کلام ، نفس بھی موجود ہے اوریہ ایک واجدانی چیز ہے جسے متکلم اپنے نفس میں محسوس کرتا ہے چنانچہ شاعر ''اخطل،، نے اس حقیقت کی طرف یوں اشارہ کیا ہے۔

ان الکلام لفی الفوادوانما

جعل اللسان علی الفواد دلیلا

''(یعنی) کلام (حقیقی) تو نفس انسانی میں ہوتا ہے زبان تو صرف اس کلام نفسی کی نشاندہی کرتی ہے،،۔

اس دلیل کا جواب گزر چکا ہے یعنی نفس میں کلام کی ترتیب اس کات صور اور اسے نفس میں حاضر کرنا ہے اور یہی وجود ذہنی ہے جو تمام اختیارای افعال میں پایا جاتا ہے چنانچہ کاتب اور نقشہ کش کیلئے ضروری ہے کہ کتابت اور نقشہ کشی سے پہلے نقشہ اور مکتوب کاتصور کرے اس کا کلام نفسی سے دور کا بھی تعلق نہیں۔


(۲) نفس انسانی میں موجود مفاہیم پر کلام صادق آتا ہے اور یہ اطلاق صحیح اور حقیقت ہے اس میں کوئی مجاز گوئی بھی نہیں ہے چنانچہ ہر شخص یہ ہتا ہے کہ میرے نفس میں ایک کلام ہے جسے میں ظاہر نہیں کرنا چاہتا ارشاد ربانی ہے۔

( وَأَسِرُّوا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ ۖ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ) ۶۷:۱۳

''اور تم لوگ اپنی بات چھپا کر کہو یا کھلم کھلا وہ تو دل کے بھیدوں تک سے خوب واقف ہے،،۔

اس دلیل کا جواب بھی گزشتہ مطلب سے معلوم ہو گا بایں معنی کہ جس طرح کلام کے وجود خارجی پر کلام صادق آتا ہے اسی طرح کلام کے وجود ذہنی پر بھی کلام صادق آتا ہے بلکہ ہر چیز کے دو قسم کے وجود ہوتے ہیں وجود خارجی اور وجود ذہنی دونوں صورتوں میں چیز کی حقیقت ایک ہی رہتی ہے اور دونوں صعورتوں میں اس شئی کا نام صادق آتا ہے اوریہ مجاز گوئی بھی نہیں کہلائے گی۔

یہ قسمیں صرف کلام سے مختص نہیں ہیں۔ چنانچہ انجینئر کو آپ یہ کہتے سنیں گے میرے نفس میں ایک عمارت کاتصور ہے۔ اسے میں نقشے پر اتاروں گا عبادت گزار انسان کہے گا میرے نفس میں یہ بات ہے کہ کل روزہ رکھوںگا۔

(۳) اللہ تعالیٰ کی ذات پر متکلم کا اطلاق صحیح ہے اور اسم فعال کی ہیئت اور وزن اس مقصد کو ظاہر کرنے کیلئے وضع کیا گیا ہے کہ مبداء فعل بطور صفت ذات کے ذریعے قائم ہے یہی وجہ ہے کہ الفاظ متحرک ساکن اور نائم اسی شخص پر صادق آتے ہیں جو حرکت ، سکون اور نوم (نیند) کی صفت سے متصف ہو یہ الفاظ اس شخص پر صادق نہیں آتے جو ان کو ایجاد کرے ظاہر ہے کلام لفظی سے اللہ کی ذات متصف نہیں ہو سکتی اس لئے کہ قدیم ذات کا حادث صفت سے متصف ہونا محال ہے لا محالہ کلام قدیم کا التزام ضروری ہے تاکہ اللہ کی ذات پر متکلم صادق آ سکے۔


جواب: صیغہ متکلم میں مبداء ، کلام نہیں۔ اس لئے کہ اللہ کے علاوہ غیر خدا میں بھی کلام اس طرح متکلم کے ذریعے قائم نہیں جس طرح صفت موصوف کے ذریعے قائم ہوتی ہے۔ کیونکہ کلام اس کیفیت کو کہتے ہیں جو ہوا کی لہروں سے حاصل آواز کو عارض ہوتی ہے اور یہ ایسی چیز ہے جو ہوا کے ذریعے قائم ہے متکلم کے ذریعے نہیں صیغہ متکلم میں مبداء تکلم ہے اور تکلم ، ایجاد و معنی کے علاوہ قابل تصور کوئی اور چیز نہیں بنا برایں متکلم جس معنی میں اللہ کی ذات پر صادق آتا ہے اسی معنی میں غیر خدا پر بھی صادق آتا ہے۔

مستدل کا یہ کہنا ہے کہ اسم فاعل کا وزن ، اس مقصد کو ظاہر کرنے کیلئے وضع کیا گیا ہے کہ مبداء ذات کے ذریعے قائم ہے جس طرح صفت ، موصوف کے ذریعے قائم اورثابت ہوتی ہے یہ قول سراسر غلط ہے۔

اس لئے کہ ہیئت اسم فاعل تو صرف اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ مبداء ذات کے ذریعے قائم ہے لیکن اس قیام کی خصوصیات کہ آیایہ قیام بطور ایجاد ہے جس طرح ''ضارب،، ہے یا بطور حلول ہے جس طرح مریض ہے یہ خصوصیات ہیئت ضارب کے مفاد اور مدلول میں شامل نہیں موار دو مقامات کے اختلاف کے ساتھ یہ خصوصیات بھی مختلف ہوتی رہتی ہیں اور کسی ضابطہ وکلیہ کے تحت نہیں آتیں۔

مثال کے طورپر علم اور نوم کے ایجاد کرنے والے پر عالم اورنائم صادق نہیں آتا لیکن قبض و بسط اور نفع و رضر کے ایجاد کرنے والے پر قابض باسط اور نافع و ضار صادق آتے ہیں بنا برایں موجد حرکت پر متحرک صادق نہ آنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ موجد کلام پر متکلم بھی صادق نہ آئے۔

گزشتہ مباحث کا خلاصہ یہ ہے کہ کلام نفسی محض ایک مفروضہ ہے۔ جس پر کوئی برہان اور وجدان دلالت نہیں کرتا۔


اس مقام پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس بحث کے خاتمہ کے طور پر موضوع سے متعلق امام ابو عبداللہ جعفر بن محمد الصادق (علیہما السلام) کی ایک روایت ذکر کی جائے کلینی اپنی سند سے ابی بصیر سے روایت کرتے ہیں میں نے امام صادق (علیہ السلام ) کو یہ فرماتے سنا۔

سمعت ابا عبدالله ۔ع ۔بقول : لم یزل الله عزل وجل ربنا ، والعلم ذاته معلوم ، و السمع ذاته ولا مسموع ، والبصر ذاته ولا مبصر ، والقدرة ذاته ولامقدور فلما احدث الاشیاء وکان المعلوم وقع العلم منه علی المعلوم ، والسمع علی السموع ، و البصر علی البصر ، والقدرة علی القدور ، قال : قلت: فلم یزل الله متحرکا؟ قال : فقال: تعالیٰ الله عن ذلک ، ان الحرکة صفة محدثة بالفعل ، قال : فقلت: فلم یزل الله متکلماً ؟ قال: فقال: ان الکلام صفة محدثة لیست بازلیة ، کان الله عزوجل ولا متکلم (۱)

''خداوند لم یزل و لایزال اس وقت بھی علم ذاتی رکھتاتھا جب کسی معلوم کی ذات نہ تھی ۔ سمع اس وقت بھی عین ذات الٰہی تھا جب کوئی مسموع نہ تھا بصارت اس وقت بھی عین ذات الٰہی تھی ، جب کسی مبصر (دکھائی دینے والا) کی ذات نہ تھی اور قدرت خدا اس وقت بھی عین ذات تھی جب کسی مقدور کی ذات نہ تھی۔ اللہ نے جب اشیاء کو خلق فرمایا اور معلومات وجود میں آ گئیں تو علم معلوم پر ، سمع مسموع پر ، بصارت مبصر پر اور قدرت مقدور پر منطبق ہوتی گئی ابو بصیر کہتے ہیں میں نے عرض کی : اللہ ازل سے متحرک بھی ہے؟ آپ (ع) نے فرمایا اللہ کی شان اس سے بالاتر ہے اور حرکت صفات فعلی میں سے ہے جو حادث ہے ، قدیم نہیں۔ ابوبصیر کہتے ہیں: میں نے کہا : کیا اللہ ازل سے متکلم ہے ؟ آپ (ع) نے فرمایا کلام بھی ایک حادث صفت ہے اللہ کی ذات موجود تھی لیکن متکلم نہیں،،۔


سورة الفاتحة مکیته و اباتها سبع

بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ ﴿١﴾ الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿٢﴾ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ ﴿٣﴾ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ﴿٤﴾ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ﴿٥﴾ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ﴿٦﴾ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ﴿٧﴾

نزلت بعد المدثر


تفسیر سورہ فاتحہ

٭مقام نزول

٭ سورہ فاتحہ کے فضائل

٭فاتحتہ الکتاب کی آیات

٭سورہ فاتحہ کے اغراض و مقاصد

٭سورہ فاتحہ کا خلاصہ

٭بسم اللہ الرحمن الرحیم کی تحلیل

٭ لغت ، اللہ ، الرحمن ،ا لرحیم

٭اعراب

٭ تفسیر


مقام نزول:

علما مفسرین میں مشہور یہی ہے کہ سورۃ مکی ہے اوربعض کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ سورہ مدنی ہے اور پہلا قول صحیح ہے ، اس کی دو دلیلیں ہیں:

اول: سبع مثانی سے مراد سورۃ فاتحہ ہے اللہ تعالیٰ نے خود سورۃ حجرہ میں فرمایا ہے کہ ''سبع مثانی،، سورۃ حجر سے پہلے نازل کی گئی ہے۔

( وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ ) ۱۵:۸۷

''اور ہم نے تمہیں سبع مثانی (سورہ حمد) اور قرآن عظیم عطا کیا ہے،،۔

سورہ حجر کے بارے میں سب کا افاق ہے کہ یہ مکی ہے جب مکی ہے تو اس سے پہلے نازل شدہ سورۃ کو بطریق اولیٰ مکی ہونا چاہئے:

ثانی: نماز کی تشریع مکہ معظمہ میں ہوئی تھی جو تمام مسلمانوں کے نزدیک ایک بدیہی اور واضح حقیقت ہے اور اسلام میں ایسی کوئی نماز نہیں ہے جس میں سورۃ فاتحہ شامل نہ ہو چنانچہ اس کی تصریح خود رسول اللہ (ص) نے فرمائی ہے آپ (ص) نے فرمایا:

''لاصلوٰة اللابفاتحته الکتاب،،

''سورہ فاتحہ کے بغیر کوئی نماز نہیں،،

نمبر ۱ اس بات کی متعدد روایات میں تصریح کی گئی ہے ان میں صدوق اور بخاری کی روایات شامل ہیں جن کا ہم بعد میں ذکر کریں گے۔

____________________

نمبر۱: البخاری ، ج ۶ ، ص ۱۰۳ ، باب فاتحہ الکتاب۔


اس حدیث کو امامیہ اور غیر امامیہ دونوں نے نقل کیا ہے۔

بعض علماء کاعقیدہ یہ ہے کہ اس سورۃ مبارکہ کو اس کی عظمت و فضیلت کی وجہ سے دو مرتبہ ایک مرتبہ مکہ میں اور دوسری مرتبہ مدینہ میں نازل کیا گیا ہے۔

بذات خود اس قول کا احتمال ضرور ہے لیکنیہ دلیل سے ثابت نہیں ہے اور بعید نہیں کہ اسی ، دومرتبہ نازل ہونے کی وجہ سے اس کا نام ''سبع مثانی،، رکھا گیا ہو۔

ایک اور احتمال یہ ہے کہ ''سبع مثانی،، کی وجہ تسمیہ یہ ہو کہ اس کو ہر نمز میں دو مرتبہ پڑھا جاتا ہے ایک مرتبہ پہلی رکعت میں اور دوسری مرتبہ دوسری رکعت میں۔

سورہ فاتحہ کے فضائل

اس سورہ کی فضیلت کے لئے یہی کافی ہے کہ اللہ نے سورۃ حجر کی اس آیت میں اسے قرآن کے ہم پلہ قرار دیا اور ارشاد فرمایا ہے :

( وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ ) ۱۵:۸۷

''اور ہم نے تم کو سبع مثانی (سورہ حمد) اور قرآن عظیم عطا کیا ہے،،۔

اس کے علاوہ ہر نماز میں سورہ فاتحہ کا پڑھنا لازمی ہے کوئی دوسرا سورہ اس کی جگہ نہیں لے سکتا نماز وہ عمل ہے جو دین کا ستون ہے اور مسلمان اور کافر کے درمیان طرہ امتیاز ہے انشاء اللہ تعالیٰ اس کے بعد ہم اس مختصر سورہ میں موجود معارف اور علوم الہیٰ کا ذکر کریں گے


صدوق نے اپنی سند سے حضرت امام حسن عسکری (علیہ السلام) سے اور آپ (ع) نے امیر المومنین (ع) سے روایت کی ہے کہ آپ (ع) نے فرمایا:

''بسم اللہ الرحمن الرحیم ،، فاتحتہ الکتاب کا جزء ہے اور فاتحتہ الکتاب بسم اللہ سمیت سات آیات پر مشتمل ہے اس کے بعد آپ (ع) نے فرمایا: میں نے رسول اللہ (ص) کویہ فرماتے سنا ہے اللہ تعالیٰ نے مجھ سے ارشاد فرمایا کہ اے محمد (ص):

( وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ ) ۔ ۱۵:۸۷

''اور ہم نے تم کو سبع مثانی (سورہ حمد) اور قرآن عظیم عطا کیا ہے،،۔

اس طرح اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ کے ذریعے خاص کر مجھ پر احسان فرمایا اور اسے قرآن کریم کا ہم پلہ قرار دیا فاتحتہ الکتاب عرش الٰہی کے گرانبہا خزانوں میں سے ہے،،

بخاری نے ابی سعید بن معلی سے روایت کی ہے ابی سعید کہتے ہیں۔

''میں حالت نماز میں تھا کہ رسول اللہ (ص) نے مجھے بلایا۔ اس وقت میں نے رسول اللہ (ص) کو جواب نہیں دیااور پھر عرض کی: یا رسول اللہ (ص) اس وقت) میں نماز پڑھ رہا تھا آپ (ص) نے فرمایا: کیا اللہ نے نہیں فرمایا:

( اسْتَجِيبُوا لِلَّـهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ ۖ ) ۸:۲۴

''جب تم کو (ہمارا) رسول (محمد(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم)) ایسے کام کیلئے بلائے جو تمہاری روحانی زندگی کاباعث ہو تو تم خدا اور رسول کا حکم دل سے قبول کر لو،،۔

اس کے بعدآپ (ص) نے فرمایا:کیا تمہارے مسجد سے نکلنے سے پہلے تمہیں بتاؤں کہ قرآن میں سب سے افضل سورہ کونسا ہے آپ (ص) نے میرا ہاتھ پکڑا اور جب ہم مسجد سے باہر نکلنے لگے تو میں نے عرض کی: یا رسول اللہ (ص)! آپ (ص) نے فرمایا تھا کہ قرآن میں سب سے افضل سورہ کے بارے میںبتائیں گے آپ (ص) نے فرمایا وہ الحمدللہ رب العمین ہے جو سبع مثانی اور قرآن کریم ہے جو مجھے دیا گیا ہے:


فاتحتہ الکتاب کی آیات

مسلمانوں میں مشہور قول کے مطابق سورۃ فاتحہ کی آیات سات ہیں بلکہ اس قول میں کسی کو کوئی اختلاف نہیں حسین بن جعفی سے مروی ہے کہ سورہ فاتحہ کی آیات چھ ہیں عمروبن عبید سے مروی ہے کہ سورہ فاتحہ کی آیات آٹھ ہیں لیکن یہ دونوں شاذو نادر قول ہیں اور طرفین کی روایات (جن کے مطابق سورہ فاتحہ کی آیات سات ہیں) کے خلاف ہیں:

اس سے قبل ذکر ہو چکا ہے کہ گزشتہ آیت میں سبع مثانی سے مراد سورہ فاتحہ ہے البتہ جو حضرات بسم اللہ ۔۔۔۔۔۔ کو سورہ فاتحہ کا جز سمجھتے ہیں وہ صراط الذین انعمت علیھم سے لے کر آخر تک کو ایک آیت سمجھتے ہیں اور جو لوگ بسم اللہ ۔۔۔۔۔۔ کو سورۃ فاتحہ کاجز نہیں سمجھتے وہ غیر المغضوب علیھم ولاالضالین کو ایک مستقل آیت قرار دیتے ہیں۔

سورۃ فاتحہ کے اغراض و مقاصد

سورہ فاتحہ کے دو اہم مقاصد ہیں:

(۱)عبادت اور پرستش کے قابل صرف اللہ کی ذات ہے۔

(۲) قیامت اور حشر و نشر کی اہمیت بیان کرنا اور یہ وہ عظیم مقصد ہے جس کی خاطر رسول اللہ (ص) کوب ھیجا گیا اور قرآن کو نازل کیا گیا۔

دین اسلام میں تمام انسانوں کو اللہ کی ذات اور توحید و یگانگی کی دعوت دی گئی ہے ارشاد ہوتا ہے:

( قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّـهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّـهِ ۚ ) ۳:۶۴

''(اے رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم)) تم (ان سے) کہو کہ اے اہل کتاب تم ایسی (ٹھکانے کی )بات پر تو آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ بنائیں اور خدا کے سوا ہم میں سے کوئی کسی کو اپنا پروردگار نہ بنائے،،۔


خدا کے سوا کوئی ذات پرستش کے لائق نہیں ، ہر بشر اور صاحب ادراک کو چاہئے کہ صرف خدا کے سامنے خشوع و خضوع سے پیش آئے اور اسی کی طرف توجہ کرے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ ہر عقلمند ایسی ذات سے تواضع سے پیش آتا ہے اور اس کی عبادت اور کرتا ہےاور اپنی احتیاجات میں اسی کی طرف رخ کرتا ہے جس میں کوئی کمال پایا جاتا ہو اورہر ناقص کی فطرت ہے کہ وہ کامل کے سامنے متواضع رہے یا وہ اس کی اس لئے پرستش و تواضع کرتا ہے کہ اس نے اس پر احسان کیا ہے ، یا ناقص ، نفع حاصل کرنے اور نقصان کو دور کرنے میں اس کامحتاج ہوتا ہے یا کامل ذات کے قہر و غضب اور اس کی سلطنت کی وجہ سے اس کی مخالفت اور معصیت سے احتراز کرتا ہے۔

پس عبادت اور خشوع و خضوع کے اسباب یہی ہیں اور ہر عاقل کو یہ صفات صرف اللہ کی ذات میں نظر آئیں گی لہٰذا حمد کی مستحق صرف اللہ کی ذات ہے اس لئے کہ تمام صفات کمال اللہ کی ذات میں مجتمع ہیں اور اس کی ذات میں کسی نقص اور خامی کا شائبہ تک نہیں عالم ظاہر اور عالم باطن موجود اور تدریجاً وجود میں آنے والی موجدات کا منعم بھی اللہ ہے اور پوری کائنات کا تکوینی اور تشریعی مربی اللہ ہے ۔ اللہ ہی کی ذات ہے جو وسیع اور ناقابل زوال رحمت سے متصف ہے اللہ ہی مالک مطلق اور مخلوق کا حاکم اعلیٰ ہے جس کا کوئی شریک اور فریق نہیں۔

بنا برایں اپنے کمال ، انعام ، رحمت اور سلطنت کی بنیاد پر معبود حقیقی اللہ کی ذات ہے ایک عاقل انسان اسی کی طرف توجہ کرتا ہے اسی کی عبادت کرتا ، اسی سے مدد مانگتا اور اس پر توکل کرتا ہے کیونکہ اللہ کی ذات کے علاوہ ہر چیز ممکن الوجود ہے اورممکن الوجود ذاتی طورپر محتاج ہوا کرتی ہے عبادت اسی ذات کی ہو سکتی ہے اور مدد اسی سے مانگی جا سکتی ہے جو مستغنی اوربے نیاز ہے۔


( يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّـهِ ۖ وَاللَّـهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ ) ۳۵:۱۵

''لوگو تم سب کے سب خدا کے (ہر وقت) محتاج ہو اور (صرف) خدا ہی (سب سے) بے پرواہ سزاوار حمد (وثنا) ہے،،۔

جب اللہ تعالیٰ نے آیات : الحمدللہ رب العالمین ۔ الرحمن الرحیم ۔ مالیک یوم الدین کے ذریعے ثابت کر دیا کہ حمد و ثناء کے لائق صرف اسی کی ذات ہے تو اس نے اپنے بندوں کو تلقین کی کہ وہ دل و جان سے کہیں : ایاک نعبد و ایاک نستعین اس کے بعد اللہ تعالیٰ ، بعثت انبیاء ، انزال کتب اور اتمام حجت کے بعد مختلف لوگوں کے حالات بیان فرما رہا ہے اور اس طرح اس نے لوگوں کو تین قسموں میں تقسیم کر دیا ہے۔

(۱) یہ وہ لوگ ہیں ، خدا کی رحمت و نعمت جن کے شامل حال ہے جنہوں نے صراط مستقیم کی ہدایت حاصل کی اور اپنی منزل مقصود تک پہنچ گئے۔

(۲) وہ لوگ ہیں جو گمراہ ہو گئے اور ادھر ادھر منحرف ہوئے اگرچہ یہ لوگ اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے حق کے راستے سے بھٹکے ہوئے ہیں لیکن حق سے عناد اور دشمنی نہیں رکھتے ان کا گمان یہی ہے کہ دین حق وہی ہے جو انہوں نے اختیار کیا ہے اور جس راستے کو انہوں نے اپنایا ہے وہی سیدھا راستہ ہے۔

(۳) وہ لوگ ہیں جن کو حب جاہ و مال نے حق سے دشمنی اور عناد پر آمادہ کر دیا چاہے انہوں نے حق پہچان کر اس کا انکار کیا ہو یا سرے سے حق کو نہ پہچانا ہو یہ وہ لوگ ہیں جو درحقیقت اپنی خواہشات کی پرستش کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے:

( أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَـٰهَهُ هَوَاهُ ) ۴۵:۲۲

''بھلا تم نے اس شخص کوبھی دیکھا جس نے اپنی نفسانی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے،،۔

گمراہوں کی اس قسم کا کفر پہلے سے زیادہ شدید ہے اور وہ اپنی گمراہی کی وجہ سے عقاب کے مستحق ہوں گے اس کے علاوہ حق سے عناد اور دشمنی کی وجہ سے بھی وہ معاقب ہوں گے۔ چونکہ بشرحب مالو مقام کی خواہشات سے خالی نہیں ہوسکتا اور جب تک ہدات الٰہی شامل حال نہ ہو گمراہی میں مبتلا ہونے سے محفوظ نہیں رہ سکتا چنانچہ ارشاد ہوتاہے۔


( وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ مَا زَكَىٰ مِنكُم مِّنْ أَحَدٍ أَبَدًا وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يُزَكِّي مَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّـهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ) ۲۴:۲۱

''اور اگر تم پر خدا کافضل (وکرم) اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوء بھی کبھی پاک و صاف نہ ہوتا مگر خدا تو جسے چاہتا ہے پاک و صاف کر دیتا ہے اور خدا بڑا سننے والا واقف کار ہے،،۔

چونکہ گمراہی کا اندیشہ تھا اس لئے اللہ نے اپنے بندوں کو یہ تلقین فرمائی کہ وہ اللہ سے ہدایت طلب کریں اور دعا کے طور پر عرض کریں :اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ﴿﴾ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ

ان آیات میں بندے اپنے رب سے اس ہدایت کا مطالبہ کرتے ہیں جو مومنین سے مختص ہے ، ایک دوسری آیت میں ارشاد ہوتاہے۔

( وَاللَّـهُ يَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ) ۲:۲۱۳

''اور خدا جس کو چاہے راہ راست کی ہدایت کرتا ہے،،۔

نیز وہ اللہ سے سوال کرتے ہیں کہ انہیں ان لوگوں کے زمرے میں شامل فرمائے جنہیں اس نے نعمتیں بخشی ہیں چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:

( أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ مِن ذُرِّيَّةِ آدَمَ وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ وَمِن ذُرِّيَّةِ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْرَائِيلَ وَمِمَّنْ هَدَيْنَا وَاجْتَبَيْنَا ۚ إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُ الرَّحْمَـٰنِ خَرُّوا سُجَّدًا وَبُكِيًّا ) ۱۹:۵۸

''یہ انبیاء لوگ جنہیں خدا نے اپنی نعمت دی تھی ، آدم کی اولاد سے ہیں اور ان کی نسل سے جنہیں ہم نے (طوفان کے وقت) نوح کے ساتھ (کشتی پر) سوار کر لیا تھا اور ابراہیم و یعقوب کی اولاد سے ہیں اور ان لوگوں میں سے ہیں جن کی ہم نے ہدایت کی اور منتخب کیا جب ان کے سامنے خدا کی نازل کی ہوئی آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو سجدہ میں زار و قدار روتے ہوئے گرپڑتے تھے،،۔

اور یہ بھی دعا کرتے ہیں کہ اللہ انہیں ان دونوں فرقوں کے راستے پر نہ چلائے جو ہدایت کے راستے سے بھٹک گئے ہوں:

( الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ )


سورۃ فاتحہ کا خلاصہ

پہلے اللہ نے ان اوصاف کے ذریعے اپنی ذات اقدس کی تعریف و توصیف فرمائی جن کات علق اس کی ذات اور افعال سے ہے اور یہ کہ وہ تمام عالم کا پروردگار ہے اور اس کی عام رحمت اس سے ہرگز جدا نہیں ہو سکتی اور روز محشر حکومت اسی کی ہو گی یہ اس سورہ کا پہلا مقصد تھا۔

اس کے بعد عبادت اور استعانت کو اپنی ذات میں منحصر کر دیا بنا برایں ذات الٰہی کے علاوہ کوئی اور اس قابل نہیں کہ جس کی عبادت کی جائے یااس سے مدد طلب کی جائے یہ اس آیت کا دوسرا مقصد تھا اس کے بعد اللہ نے لوگوں کو یہ تلقین فرمائی کہ اللہ سے صراط مستقیم کی ہدایت کی دعا کریں جو انہیں ابدی زندگی لازوال نعمتوں اور اس نور کی رہنمائی کرے جس کے بعد کوئی ظلمت نہ ہو یہ سورہ مبارکہ کا تیسرا مقصد تھا پھر ذات الٰہی نے یہ حقیقت بیان فرمائی کہ یہ صراط مستقیم ان لوگوں سے مخصوص ہے جن پر اللہ نے اپنے فضل و کرم سے نعمتیں نازل فرمائی ہیں اوریہ صراط مستقیم ان لوگوں کی راہ سے مختلف ہے جن پر غضب نازل ہوا اوران لوگوں کی راہ سے بھی مختلف ہے جو راہ راست سے بھٹک چکے ہیں یہ سورہ مبارکہ کا چوتھا مقصد تھا۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔کی تحلیل

لغت

اسم: لغت میں اسم کامعنی علامت ہے اور اس کا ھمزہ ، حمزہ وصل ہے اور لفظ کا لازمی جز نہیں ہے ویسے تو اس میں بہت سی لغات ہیں لیکن ان میں سے چار لغات مشہور ہیں ''اسم ،، ، ''اسم،، ، ''سم،، اور ''سم،، اسم کو دراصل ''سمو،، سے لیا گیا ہے جس کا معنی بلندی ہے اس میں مناسبت یہ ہے کہ اسم کی وجہ سے اس کا معنی بلند ہو جاتا ہے اور خفار (پوشیدگی) سے ظہور میں تبدیل ہو جاتا ہے اس لئے سامع کے ذہن میں لفظ کو سن کر اس کا معنی حاضر ہو جاتا ہے یا اس مناسبت سے یہ لفظ اختیار کیا گیا ہے کہ لفظ وضع کی وجہ سے گمنامی سے نکل آتا اور استعمال میں آنے لگتا ہے۔


بعض علماء نے فرمایا ہے کہ اسم ، سمہ (علامت) سے مشتق ہے لیکن یہ قول صحیح نہیں ہے کیونکہ اسم کی جمع اسماء اور تصغیر ''سمی،، ہے اور جب اس کی طرف کسی چیز کو نسبت دی جاتی ہے تو ''سموی،، اور ''اسمی،، بولا جاتا ہے اور اگر اسے متعدی بنائیں تو ''سمیت ،، یا ''اسمیت،، کہا جاتا ہے اگر اسم ، سمہ سے بنا ہوتا تو اس کی جمع ''اوسام،، اور تصغیر ''وسیم،، آتی ہے اور نسبت کے وقت ''وسمی،، اور متعدی بنانے کی صورت میں ''وسمت،، اور ''اوسمت،، پڑھا جاتا۔

اس سے معلوم ہوا ہے کہ ''اسم،، ''سمہ،، سے نہیں بنا بلکہ ''سمو،، سے بنا ہے۔

اللہ: یہ لفظ ذات مقدس الٰہی کا مخصوص نام ہے اور زمانہ جاہلیت میں بھی عرب ، ذات الٰہی کو اسی نام سے جانتے تھے۔

چنانچہ مشہور عرب شاعر لبید کہتا ہے۔

الا کل شی ماخلا الله باطل و کل نعیم لامحالة زائل

''اللہ کے علاوہ ہر شے باطل ہے ، اور آخر کارہر نعمت زائل ہو جانے والی ہے،،

خود اللہ تعالیٰ کاارشاد گرامی ہے۔

( وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ ۚ ) ۳۱:۲۵

'' اور (اے رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم)) تم اگر ان سے پوچھو کہ سارے آسمان اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو ضرور کہہ دیں گے اللہ نے،،۔

بعض علماء کا یہ خیال قطعی طورپر غلط اللہ (لفظ انسان کی طرح) اسم جنس ہے ، جس کاایک ہی فرد پایا جاتا ہے ہم اس مقام پر اپنے مدعی کے اثبات میں چار دلائل پیش کرتے ہیں:


(۱) تبادر ، یعنی جب بھی لفظ اللہ بولا جاتا ہے بغیر کسی دوسرے قرینہ اور علامت کے ذات الٰہی ذہن میں آتی ہے جس میں کوئی بھی شخص شک نہیں کر سکتا اگر کوئی شخص یہ احمال دے کہ ممکن ہے کہ اصل نعمت میں لفظ اللہ اسم جنس ہو اور بعد میں اس لفظ کو ذات الٰہی سے مختص کر دیا گیا ہو تو اس کا جواب یہ ہے کہ قائد کلیہ یہ ہے کہ شک کی صورت میں اس احتمال کو کالعدم فرض کیا جاتا ہے چنانچہ میں نے علماصول میں اس قائدے کو ثابت کیا ہے۔

(۲) لفظ اللہ اپنے معنی میں صفت کے طور پر استعمال نہیں ہوتا مثلاً یہ نہیں کہا جاتا کہ العالم اللہ ، الخاق اللہ بایں معنی کہ لفظ اللہ کے ذریعے عالم اور خالق کی صفت بیان کی جائے یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ لفظ اللہ اسم مشتق نہیں ہے اور جب اسم جامد ہو گا تو لامحالہ یہ علم ہو گا۔ کیونکہ جن حضرات کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ اسم جنس ہے وہ مشتق والے معنی کی صورت میں اس کی تفسیر کرتے ہیں۔

(۳) اگر لفظ اللہ علم نہ ہوتا اور اسم جنس ہوتا تو کلمہ لاالہ الا اللہ سے توحید ثابت نہ ہوتی جس طرح لاالہ الا الخالق ، لاالہ الاالرزاق وغیرہ سے توحید ثابت نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی لاالہ الا الرزاق یا الا الہ الاالخالق کہے تو وہ مسلمان نہیں کہلائے گا۔

(۴) حکمت وضع کا تقاضا ہے کہ جس طرح دوسرے مفاہیم کیلئے کسی نہ کسی لفظ کو وضع کیا گیا ہے اسی طرح ذات واجب الوجود کیلئے بھی کوئی نہ کوئی لفظ وضع کیا جانا چاہئے اور لغت عرب میں لفظ اللہ کے علاوہ کوئی دوسرا لفظ نہیں جس کو واجب الوجود سے مختص کیا گیا ہو اس سے ثات ہوتا ہے کہ لفظ اللہ ہی ہے جس کو واجب الوجود کیلئے مختص کیا گیا ہے۔

اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ کسی بھی لفظ کو کسی معنی کیلئے وضع کرنا اس بات پر موقوف ہے کہ واضع (وضع کرنے والا) لفظ کابھی تصور کرے اور اس معنی کا بھی تصور کرے جس کیلئے لفظ کو وضع کرنا چاہتا ہے اور غیر خدا کیلئے خدا کا تصور کسی طرح بھی ممکن نہیں اس طرح ذات واجب الوجود کیلئے کسی لف کا وضع کیا جانا بھی محال ہو گا۔


یہ کہنا بھی درست نہیں کہل فظ اللہ کا واضع خود خدا ہے اور خدا کیلئے یہ محال نہیں کہ وہ اپنی ذات کیلئے کسی لفظ کو وضع کرے کیونکہ خدا اپنی ذات کا احاطہ کر سکتا ہے یہ بات اس لئے درست نہیں کہ اس وضع کا کوئی فائدہ مترتب نہیں ہوگا کیونکہ جس طرح وضع معنی کے تصور پر موقوف ہے اسی طرح لفظ کا کسی معنی میں استعمال کرنا بھی معنی کے تصور پر موقوف ہے جو ایک مخلوق کیلئے محال ہے جب معنی کا تصور محال ہوگا تو لفظ اس معنی میں استعمال بھی محال ہو گا اور جب استعمال محال ہو گا تو وضع بے فائدہ ہو کر رہ جائے گی۔ اس کے علاوہ یہ قول (لفظ اللہ کا واضع خدا ہو) بذات خود باطل ہے۔

جواب: اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ وضع ، معنی کے تفصیلی اور پوری حقیقت کے تصور پر موقوف نہیں بلکہ وضع اور استعمال دونوں کیلئے معنی کا اجمالی اور مختصر سا تصور کافی ہے اگرچہ یہ تصور معنی کی طرف اشارہ کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو اور اتنا تصور واجب کا بھی ہو سکتا ہے اور ممکن کا بھی۔

ہاں! واجب کا تصور بکہہ (پوری حقیقت کا تصور) ممکن نہیں اور اس طرح کا تصور نہ وضع میں ضروری ہے اور نہ استعمال میں۔ اگر وضع کیلئے اس قسم کا تصور ضروری ہو تو واجب الوجود کے علاوہ بہت سے ان ممکنات کا وضع اور استعمال بھی ناممکن ہو جائے گا جن کی پوری حقیقت کا تصور محال ہے جس طرح روح ، ملک اور جن میں اس میں کوئی شک نہیں کرتا کہ اسم اشارہ اور ضمیر کو استعمال کر کے اس سے ذات اقدس باری تعالیٰ کاارادہ کیا جا سکتا ہے اسی طرح اس لفظ کو ادا کر کے بھی واجب الوجود کا ارادہ کیا جا سکتا ہے جس کو واجب الوجود کیلئے وضع کیا گیا ہو چونکہ ذات باری تعالیٰ تمام صفات کمال کی جامع ہے اور وضع کے موقع پر ان کمالات کی کسی خاص جہت کو ملحوظ نہیں رکھا گیا اس لئے یہ کہنا بالکل صحیح ہو گا کہ لفظ اللہ کو اس ذات کیلئے وضع کیا گیا ہے جو تمام صفات کمالیہ کی جامع ہے۔


اگر کوئی یہ اعتراض کرے کہ اگر لفظ اللہ ذات واجب الوجود کا مخصوص نام ہو تو اس آیہ کریمہ کامعنی غلط ہو جاتا ہے۔

( وَهُوَ اللَّـهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَفِي الْأَرْضِ ) ۶:۳

''اور وہی تو آسمانوں میں (بھی) اور زمین میں (بھی)خدا ہے،،۔

اس لئے کہ اگر لفظ اللہ علم شخصی ہو تو آیہ کریمہ کا معنی ہو گا: ''آسمانوں اور زمینوں میں اللہ کی ذات موجود ہے،، اس طرح خدا کیلئے مکان ثابت ہو گا جو محال ہے لامحالہ اللہ کا معنی معبود ہونا چاہئے تاکہ آیہ شریفہ کا معنی یہ ہو ''اللہ آسمانوں اور زمینوں میں معبود ہے،، یعنی آسمانوں اور زمینوں میں اللہ کی عبادت ہوتی ہے ۔

جواب:/ اس آیہ شریفہ کا معنی یہ ہے کہ اللہ کی ذات سے کوئی مکان خالی نہیں ہے اور یہ کہ وہ آسمانوں اور زمینوں میں موجود ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور مخفی سے مخفی چیز بھی اس سے پوشیدہ نہیں ہے چنانچہ اس مفہوم کی تائید بعد والے جملے سے بھی ہوتی ہے ارشاد ہوتا ہے۔

( يَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَجَهْرَكُمْ وَيَعْلَمُ مَا تَكْسِبُونَ ) ۶:۳

''وہی تمہارے ظاہر و باطن سے (بھی)خبردار ہے اور وہی جو کچھ بھی کرتے ہو جانتا ہے،،۔

ابو جعفر ، جو صدوق کے خیال کے مطابق محمد بن نعمان ہیں ، کہتے ہیں۔

''امام جعفر صادق (علیہ السلام ) سے آیہ شریفہ :

( وَهُوَ اللَّـهُ فِي السَّمَاوَاتِ وَفِي الْأَرْضِ ) ۶:۳

کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ (ع) نے فرمایا ایسا ہی ہے خدا ہر جگہ ہے میں نے عرض کیا کیا ذات خدا ہر جگہ موجود ہے ؟ آپ (ع) نے فرمایا افسوس کی بات ہے ! مکان کا مطلب محدودیت ہوتا ہے اگر تم یہ کہو کہ خدا کسی خاص جگہ موجود ہے تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ خدا کو کسی خاص حد میں محدود کریں ذات خدا تو اپنی مخلوق سے مختلف ہے اس کا علم ، قدرت اور سلطنت تمام مخلوق کا احاطہ کئے ہوئے ہے،،

____________________

نمبر۱ تفسیر البرہان: ج ۱ ، ص ۳۱۵


اگر لفظ اللہ کو علم (اسم خاص) مانا جائے تو الف اور لام کلمہ کے لازمی اجزاء شمار ہوں گے لیکن الف ، الف وصل ہے جو ملا کر پڑھنے کی صورت میں ساقط ہو جاتا ہے ہاں ! اگر یہی ہمزہ حرف ندا کے بد واقع ہو تو ہمزہ پڑھا جائے گا اور ''یااللہ،، پڑھا جائے گایہ بات لفظ اللہ کی خصوصیات میں سے ہے اور کلام عرب میں اس کی کوئی نظیر نہیں ملتی بعید نہیں کہ لفظ اللہ کسی دوسرے لفظ سے منقول ہو اس احتمال کی بناء پر اللہ ''لاہ،، سے لیا گیا ہے جس کا معنی احتجاب و ارتفاع (پوشیدگی وبلندی) ہے یہ مصدرہے جو فاعل کے معنی میں ہو گا کیونکہ درحقیقت مرتفع اور بلند ذات صرف خدا کی ہے جس میں کسی قسم کی پستی کی شائبہ تک نہیں اپنے آثار و قدرت کی وجہ سے ظاہر و آشکار ہونے کے باوجود اس کی ذات اور حقیقت مخفی و پوشیدہ ہے نہ کوئی آنکھ اسے درک کر سکتی ہے اور نہ افکار کی اس کی حقیقت تک رسائی ہو سکتی ہے۔

فیک یا اعجوبة الکو ن غدا الفسکر کلیلا انت خیرت ذوی اللب و بلبلت العقولا کلما اقدم فکری فیک شبراً فرمیلا ناکصاً نحبط فی عشواء لا هدی السبیلا

''اے عجوبہ روزگار ، فکریں تیرے بارے میں سوچتے سوچتے تھک گئی ہیں تو نے صاحبان عقل کو حیرت میں ڈال دیا ہے اور عقلوں کو سرگرداں کر دیاہے جب بھی تیری ذات کے بارے میں سوچتے سوچتے میری فکر ایک بالشت آگے بڑھی ہے اسے سرگرداں ہو کر دوبارہ ایک میل پیچھے ہٹنا پڑتاہے جہاں وہ ظلمت میں ٹامک ٹوئیاں مارتی ہے اور اسے کوئی راستہ نہیں ملتا،،۔

اس قول کا کوئی مجوز نہیں کہ لفظ اللہ ''الہ،، بمعنی عبد (عبادت کی) یا ''آلہ ،، بمعنی تحیر ہوتا کہ ''الہ،، بمعنی مفعول ہو جس طرح کتاب بمعنی مکتوب ہے یہ ایک غیر ضروری قول ہے۔


الرحمن : یہ لفظ ''رحمت،، سے لیا گیا ہے جس کا معنی مشہور و معروف ہے اور یہ سختی و سنگ دلی کے مقابلے میں آتا ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

( أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ ) ۴۸:۲۹

''جان لو کہ یقیناً خدا بڑا سخت عذاب والا ہے اور یہ بھی کہ خدا بڑے بخشنے والا مہربان ہے،،۔

رحمت ، اللہ کی صفات فعلیہ میں سے ہے اور رقت قلب اس کے مفہوم میں شامل نہیں ہے لیکن جب یہ کسی بشر میں پائی جائے تو یہ رقت قلب کے معنی میں استعمال ہوتی ہے پس رحمت اپنے حققی معنی میں خلق اور رزق کی طرح خدا کی صفات فعلیہ میں سے ہے صفات ذاتیہ میں سے نہیں جو اس کی ذات سے کبھی جدا نہیں ہو سکتیں جس طرح حیات اور قدرت ہے اللہ جب چاہے رحمت ایجاد فرماتا ہے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔

( رَّبُّكُمْ أَعْلَمُ بِكُمْ ۖ إِن يَشَأْ يَرْحَمْكُمْ أَوْ إِن يَشَأْ يُعَذِّبْكُمْ ۚ ) ۱۷:۵۴

''تمہارا پروردگار تمہارے حال سے خوب واقف ہے اگر چاہے گاتم پر رحم کریگا اور اگر چاہے گا تم پر عذاب کریگا،،۔

( يُعَذِّبُ مَن يَشَاءُ وَيَرْحَمُ مَن يَشَاءُ ۖ وَإِلَيْهِ تُقْلَبُونَ ) ۲۹:۲۱

''جس پر چاہئے عذاب کرے اور جس پر چاہے رحم کرے اور تم لوگ (سب کے سب) اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے،،۔

غرض جہاں جہاں اس کی حکمت کا تقاضا ہوتا ہے وہاں رحمت ایجاد فرماتا ہے قرآن مجید کی متعدد آیات میں اللہ سے طلب رحمت کی تاکید کی گئی ہے۔

( وَقُل رَّبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ ) ۲۳:۱۱۸

''اور (اے رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) ) تم کہو پروردگار تو (میری امت کو ) بخش دے اورترس کھا اور تو تو سب رحم کرنے والوں سے بہتر ہے،،۔


کئی مفسرین اور اہل لغت کا یہ عقیدہ ہے کہ ''رحمن،، مبالغہ کا صیغہ ہے اور رحمت کی کثرت پر دلالت کرتا ہے اور یہ بات خاص کر اس لفظ میں درست ہے چاہے ''فعلان،، کا وزن مبالغہ کیلئے استعمال ہو یا نہ ہو کیونکہ لفظ ''رحمن،، جہاں بھی استعمال ہوا ہے متعلق (مفعول) کے بغیر استعمال ہوا ہے (یعنی یہ ذکر نہیں ہوتا کہ اللہ کس پر رحم کرتا ہے) اس سے عموم سمجھا جاتا ہے اور یہ کہ رحمت خدا ہر شئی کو شامل ہے قرآن مجید میں یہ جملہ تو موجود ہے ''ان اللہ بالناس لرحیم ،، یا ''ان اللہ بالمومنین لرحمن،، یعنی اللہ لوگوں پر یا مومنین پر رحیم ہے لیکنیہ جملہ کہیں موجود نہیں ''ان اللہ بالناس،، یا ''بالمومنین لرحمن،، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ''رحمن،، مبالغہ پر دلالت کرتا ہے۔

لفظ ''رحمن ،، اللہ کے مخصوص لقب کی حیثیت رکھتا ہے اور غیر خدا پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ قرآن کی متعدد آیات میں لفظ ''رحمن،، رحمت کے اعتبار سے نہیںبلکہ ذات الٰہی کے لقب کے اعتبار سے استعمال ہوا ہے ارشاد ہوتا ہے۔

( قَالُوا مَا أَنتُمْ إِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَمَا أَنزَلَ الرَّحْمَـٰنُ مِن شَيْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا تَكْذِبُونَ ) ۳۶:۱۵

'' وہ لوگ کہنے لگے تم لوگ بھی تو بس ہمارے ہی آدمی ہو اور خدا نے کچھ نازل (وازل) نہیں کیا ہے،،۔

( إِن يُرِدْنِ الرَّحْمَـٰنُ بِضُرٍّ لَّا تُغْنِ عَنِّي شَفَاعَتُهُمْ شَيْئًا وَلَا يُنقِذُونِ ) ۲۳

''اگر خدا مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہئے تو نہ ان کی سفارش ہی میرے کچھ کام آئے گی اور نہ یہ لوگ مجھے (اس مصیبت سے )چھڑا ہی سکیں گے،،

( هَـٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمَـٰنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُونَ ) : ۵۲

''کہ یہ وہی (قیامت کا) دن ہے جس کا خدا نے (بھی) وعدہ کیاتھا اور پیغمبروں نے بھی سچ کہا تھا،،

( مَّا تَرَىٰ فِي خَلْقِ الرَّحْمَـٰنِ مِن تَفَاوُتٍ ) ۶۷:۳

''بھلا تجھے خدا کی آفرنیش میں کوئی کسر نظر آتی ہے،،


درج ذیل آیت سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ لفظ ''رحمن،، ذات الٰہی سے مختص ہے۔

( رَّبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهِ ۚ هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا ) ۱۹:۶۰

''سارے آسمان و زمین کا مالک ہے اور ان چیزوں کا بھی جو دونوں کے درمیان میں ہیں، تم اس کی عبادت کرو اور اس کی عبادت پر ثابت قدم رو ، بھلا تمہارے علم میں اس کا کوئی ہمنام بھی ہے۔

قابل ملا خطہ یہ نکتہ ہے کہ اس سورہ (مریم) میں اللہ نے لفظ ''رحمن،، کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے حتیٰ کہ لفظ ''رحمن،، کی سولہ مرتبہ تکرار کی گئی ہے اس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ اس آیت کا مقصد یہ ہے کہ اس نام (رحمن) میں اللہ کا کوئی شریک اور ہمنام نہیں ہے۔

الرحیم :/ یہ لفظ صفت مشبہ کا صیغہ ہے یا مبالغہ کا اس وزن کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اکثر اوقات صفات عزیزہ اور ان لوازمات میں استعمال ہوتا ہے جو ذات سے جدا نہیں ہوتے جیسے لفظ ''علیم،، ، ''قدیر،، ، ''شریف،، ، ''وضیع،، ، ''سخی،،، اور ''دنی،، ہیں ان دونوں صفات (رحمن و رحیم) میں فرق یہ ہے کہ رحیم اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ رحمت ذات کا لازمہ ہے اور اس سے جدا نہیں ہو سکتی اور رحمن صرف اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ ذات میں صفت رحمت موجود ہے اس صفت کے دوام اور ہمیشگی پر دلالت نہیں کرتا۔

رحیم میں رحمت کاایک عزیزہ اور صفت نفسانی ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ یہ لفظ قرآن کریم میں جہاں کہیں متعلق (جس پر رحم کیا جائ) کے ساتھ استعمال ہوا ہے ''ب،، کے ذریعے متعدی استعمال ہوا ہے۔

جیسے۔

( إِنَّ اللَّـهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ ) ۲:۱۴۳

''بیشک خدا لوگوں پر بڑا ہی رفیق اور مہربان ہے،،۔

( وَكَانَ بِالْمومنينَ رَحِيمًا ) ۳۳:۴۳

''اور خدا تو ایمانداروں پر بڑا مہربان ہے،،


گویا رحیم کو متعلق کے ساتھ ذکر کرتے وقت اسے متعدی سے لازم میںتبدیل کیا جاتا ہے اس لئے ''با،، کے ذریعے متعدی بنانے کی ضرورت ہوتی ہے۔

آلوسی کا عقیدہ یہ ہے کہ رحمن اور رحیم صفت شبہ کے صیغے نہیں ہیں اس لئے کہ یہ دونوں الفاظ جملہ''رحمن الدنیا والاخرة و رحیمهما،، میں اپنے مفعول کی طرف مضاف نہ ہوتے لیکن آلوسی کا یہ استدلال تعجب خیز ہے اس لئے کہ گزشتہ جملہ :رحمن الدنیا و الاخرة و رحیمهما میں یہ دونوں صیغے مفعول کی طرف مضاف نہیں ہوئے بلکہ زمان و مکان کی طرف مضاف ہوئے ہیں زمان و مکان کی طرف لازم بھی مضاف ہو سکتا ہے اور متعدی بھی۔

بعض روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ''رحمن،، اسم خاص ہے (صرف خدا سے مختص سے) اس کا معنی عام ہے جو رحمت دنیا و رحمت آخرت مومنو کافر سب کو شامل ہے لیکن ''رحیم،، اسم عام ہ(جو خدا کیلئے بھی بولا جاتا ہے اور غیر خدا کیلئے بھی) لیکن اس کا معنی خاص ہے اور رحمت آخرت یا مومنین پر رحمت سے مختص ہے۔

لیکن ان روایات کی یاتاویل کی جائے گی یا انہیں مسترد کر دیا جائے گا اس لئے کہ یہ روایات کتاب الٰہی کیخلاف ہیں کیونکہ قرآن میں لفظ '' رحیم،، نہ تو اس رحمت کے معنی میں استعمال ہوا ہے جو مومنین سے مختص ہو اور نہ اس رحمت کے معنی میں استعمال ہوا ہے جو آخرت سے مختص ہو ارشاد ہوتا ہے۔

( فَمَن تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي ۖ وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ) ۱۴:۳۶

''تو جو شخص میری پیروی کرے تو وہ مجھ سے ہے اور جس نے میری نافرمانی کی (تو تجھے اختیار ہے) تو تو بڑا بخشنے والا مہربان ہے،،۔

____________________

نمبر ۱ تفسیر آلوسی ، ج ۱ ص ۵۹ نمبر۲ تفسیر طبری ، ج ۱ ص ۴۳ تفسیر البرہان ، ج ۱ ، ص ۲۸


( نَبِّئْ عِبَادِي أَنِّي أَنَا الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ) ۱۵:۴۹

''(اے رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) ) میرے بندوں کو آگاہ کر دو کہ بشک اس میں بڑا بخشنے والا مہربان ہوں،،

( إِنَّ اللَّـهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ ) ۲۲:۶۵

''اس میں شک نہیں کہ خدا لوگوں پر بڑا مہربان رحم والا ہے،،۔

( رَّبُّكُمُ الَّذِي يُزْجِي لَكُمُ الْفُلْكَ فِي الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوا مِن فَضْلِهِ ۚ إِنَّهُ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا ) ۱۷:۶۶

''اور اگر چاہے تو منافقین کی سزا کرے یا (اگر وہ لوگ توبہ کریں تو) خدا ان کی توبہ قبول فرمائے اس میں شک نہیں کہ خدا بڑا بخشنے والا مہربان ہے،،

قرآن میں اس مضمون کی آیات اور بھی ہیں اس کے علاوہ بعض دعاؤںاور روایات میں یہ جملہ بھی موجود ہے''رحمن الدنیا والاخرة و رحیمهما،، یعنی اللہ دنیا و آخرت میں رحمن و رحیم ہے۔

ممکن ہے ان روایات میں ، جن میں رحیم کو اسم عام اور اس کا معنی خاص قرار دیا گیا ہے ، اختصاص سے مراد یہ ہو کہ اگر انسان پر اللہ کی رحمت دنیا کی طرح آخرت میں بھی شامل نہ ہو اور یہ آخرت میں منقطع ہو جائے تو یہ رحمت نہ رہی بھلا اس رحمت کا کیا فائدہ نمبر ۲ جس کا انجام کار عذاب اور خسارہ ہو۔ اس لئے کہ زائل اور منقطع ہونے والی رحمت دائمی عذاب کے مقابلے میں کالعدم قرار پاتی ہے اس مناسبت سے یہ کہنا صحیح ہو گا کہ رحمت صرف مومنین یا عالم آخرت سے مختص ہے۔

____________________

نمبر ۱ صحیفہ سجادیہ کی دعا جو ہم وغم کے موقع پر پڑھی جای ہے مستدرک حاکم ، ج ۱ ، ص ۱۵۵

نمبر ۲: اس مطلب کی طرف بعض منقول دعاؤں میں اشارہ کیا گیا ہے۔


اعراب

بعض علماء کی رائے یہ ہے کہ بسم اللہ میں جارو مجرور کا متعلق ''اقرائ،، یا ''اقوال ،، یا ''قل،، ہے بعض کا عقیدہ یہ ہے کہ جارو مجرور کا متعلق ''استعین،، یا ''استعن،، ہے تیسرا قول یہ ہے کہ جارو مجرور کا متعلق ''ابتدی،، ہے پہلے دو اقوال صحیح نہیں ہیں۔

دوسرا قول اس لئے باطل ہے کہ استعانۃ (مدد طلبی) اللہ کی طرف سے محال ہے کیونکہ ذات الٰہی بے نیاز ہے خدا نہ اپنی ذات سے مدد طلب کرتا ہے اور نہ اپنی صفات حسنہ سے اور مخلوق ، اللہ کی ذات سے مدد مطلب کرتی ہے اس کے اسماء حسنہ سے نہیں اس کی تصریح آیت( إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ) میں موجود ہے۔

پس معلوم ہوا کہ جارو مجرور کا متعلق ''ابتدی،، ہے اقوال یا اقراء نہیں ۔ اللہ کی طرف اسم کی اضافت بیانیہ نہیں ہے تاکہ اللہ الرحمن الرحیم سے مراد صرف الفاظ ہوں اس لئے کہ یہ احتمال بعید ہے اس کے علاوہ ان تینوں الفاظ کا مجموعہ مراد نہیں لیا جا سکتا اس لئے کہ یہ مجموعہ اسماء الٰہی میں سے نہیں ہے اور اگر ان سے مراد ایک ایک لفظ مستقل ہو تو حرف عطف ہونا چاہئے تھا اور جملہ یوں ہونا چاہئے تھا ''بسم اللہ والرحمن و الرحیم،، پس معلوم ہوا اضافہ معنویہ ہے بیانیہ نہیں اور لفظ ''اللہ،، اپنے معنی اور مسمیٰ میں استعمال ہواہے۔

تفسیر

کیونکہ قرآن کے سورے ، بشر کی اس کے ممکنہ کمال تک رہنمائی اور اسے شرک و جہالت کی ظلمت سے نکال کر نور توحید و معرفت سے منور کرنے کی غرض سے نازل ہوئے ہیں لہٰذا عین مناسب ہے کہ ہر سورہ کی ابتداء اللہ تعالیٰ کے اسم سے کی جائے کیونکہ اسم خداوندی ہی ذات الٰہی کا مظہر بن سکتا ہے اور قرآن اسی مقصد کے لئے نازل کیا گیا ہے تاکہ اس سے اللہ کی معرفت حاصل کی جائے۔


البتہ سورہ برات اس امر سے مستثنیٰ ہے کیونکہ اس کی ابتداء مشرکین سے برات اور بیزاری کے اظہار سے کی گئی ہے اور اس مقصد کیلئے سورہ نازل کیا گیا ہے لہٰذا اسم خدا کا ذکر کرنا مناسب نہیں تھا خصوصاً جب اس اسم کے ساتھ الرحمن الرحیم کی صفت بھی لائی جائے ۔ نمبر۱

خلاصہ: جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب تکوینی (عالم ہستی) کا آغاز اپنے کامل اسم مقدس سے فرمایا اور تمام مخلوقات سے پہلے حقیقت محمدیہ اور نور محمد نبی اکرم (صلی اللہ علیہ والہ وسلم) کو خلق فرمایا اسی طرح اپنی کتاب تدوینی (قرآن) کا آغاز بھی اپنے اسم مبارک سے فرمایا۔

وضاحت: اسم ہر اس لفظ کو کہتے ہیں جو کسی ذات پر دلالت کرے اس لاظ سے اسماء الٰہی کی دو قسمیں ہیں۔

(۱) تکوینی

(۲) قراردادی

قراردادی اسماء وہ ہیں جو کسی ذات یا صفات ثبوتیہ و سلبیسہ پر دلالت کی غرض سے وضع کئے گئے ہوں۔

اسماء تکوینی وہ ممکن موجودات ہیں جو اپنے وجود کے ذریعے خالق کے وجود اور اس کی توحید پر دلالت کریں۔

ہر گیا ہی کہ از زمین روید

وحدہ لاشریک لہ گوید

____________________

نمبر ۱ ابن عباس روایت کرتے ہیں میں نے امیر المومنین (ع) سے پوچھا سورہ برات کے شروع میں بسم اللہ کیوں نہیں ؟ آپ (ع) نے فرمایا : اس لئے کہ بسم اللہ امن کا پیغام ہے اور برات تلواروں کیساتھ نازل ہوا ہے ، اس میں امن کا پیغام نہیں مستدرک ج ۲ ، ص ۳۳


ارشادباری ہے:

( أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ ) ۵۲:۳۵

''کیا یہ لوگ کسی کے (پیدا کئ) بغیر یہ پیدا ہو گئے ہیں یا یہی لوگ (مخلوقات کے ) پیدا کرنے والے ہیں،،

( لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّـهُ لَفَسَدَتَا ۚ ) ۲۱:۲۲

''اگر بفرض محال زمین اور آسمان میں خدا کے سوا چند معبود ہوتے تو دونوں کب کے برباد ہو گئے ہوتے،،

پس کائنات کی ہر شئی اپنے خالق کے وجود اور اس کی توحید کا بین ثبوت اور واضح دلیل ہے جس طرح لفظی اسماء الٰہی دلالت کے اعتبار سے مختلف ہیں یعنی بعض اسماء الٰہی صفات کمال کی جامع ذات پر دلالت کرتے ہیں اور بعض صفات کمال کی ایک جہت و پہلو کو اجاگر کرتے ہیں اسی طرح اللہ کے اسماء تکوینی بھی اس اعتبارسے مختلف ہیں اگرچہ تمام اسماء تکوینی وجود ، توحید ، علم ، قدرت اور دیگر صفات کمال پر دلالت کرنے میں شریک ہیں لیکن ہر اسم تکوینی (موجود امکانی) ایک خاص پہلو پر دلالت کرتا ہے اس اختلاف کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی موجود جتنا قوی ہو گا اسی نسبت سے اس کی دلالت بھی قوی اور آشکار ہو گی۔

یہیں سے ثابت ہوتا ہے کہ ائمہ ہدیٰ (علیہم السلام) پر اسماء حسنیٰ کا اطلاق صحیح ہے چنانچہ بعض روایات میں ائمہ ہدیٰ کو اسماء حسنیٰ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ نمبر۱

پس اللہ نے اپنی کتاب تدوینی (قرآن) کی ابتداء ان پاکیزہ اور باعظمت الفاظ سے کی جو اسم اعظم کے نزدیک ہیں ، اتنے نزدیک کہ آنکھ کی سفیدی بھی آنکھ کی سیاہی کے نزدیک نہیں ہے۔ نمبر۲

____________________

نمبر۱ کافی باب النوا درمن ابواب التوحید ، ص ۷۰ الوافی ، ج ۱ ، ص ۱۰۹ تفیسر البرہان ، ج ۱ ، ص ۳۷۷

نمبر ۲ الوافی ، ج ۵ ، ص ۹۹ ۔ التہذیب ، ج ۱ ، ص ۲۱۸۔ المستدرک للحاکم ، ج ۱ ، ص ۵۵۲ ۔ کنز العمال ، ج ۲ ، ص ۱۹۰ ، مزید ملا خطہ ہو ضمیمہ نمبر ۱۲


اسی خدا نے اپنی کتاب تکوینی کی ابتداء عالم وجود خارجی میں اسم اعظم (رسول اکرم (ص) سے فرمائی نمبر۱۔ اس طرح انسان کو یہ تلیقن کی جا رہی ہے کہ اپنے تمام اقوال و افعال کی ابتداء نام اللہ سے کریں جناب نبی کریم (ص) سے مروی ہے۔

کل کلام او امرذی بال لم یفتح بذکرالله عزوجل فهوابتر اوقال اقطع نمبر ۲

''ہر باعظمت کلام یا فعل جس کی ابتداء نام اللہ عزوجل سے نہ کی جائے وہ نامکمل اور بے ثمر رہتا ہے،،

امیر المومنین (ع) سے روایت کی ہے کہ آپ (ص) نے فرمایا کہ ا للہ تعالیٰ فرماتا ہے:

کل امر ذی بال لم یذکرفیه بسم الله فهوابتر : نمبر۳

''ہر وہ کام جس کی ابتداء بسم اللہ سے نہ کی جائے وہ ناقص رہتا ہے،،۔


آیہ ''بسم اللہ ،، کے بارے میں بحث اول

٭ آغاز قرآن بہ رحمت

٭بعد از رحمن ذکر رحیم

٭کیا بسم اللہ قرآن کا حصہ ہے ؟

٭ بسم اللہ کے جز قرآن ہونے کے دلائل

٭ اہل بیت اطہار (ع) کی احادیث

٭اہل سنت کی احادیث

٭ معارض روایات

٭ سیرت مسلمین

٭ تابعین اور صحابہ کا قرآن

٭ منکرین کے دلائل

٭ تحلیل آیتہ ، الحمداللہ رب العالمین الرحمن الرحیم ۔ مالک یوم الدین

٭قرات ---------- ٭تفسیر---------- ٭ قراتوں کی ترجیحات -------- ٭ تحلیل آیتہ ، ایاک نعبدوایاک نستعین

٭ ترجیحات کا بے فائدہ ہونا ---------- ٭ لغت ، العبادۃ--------- ٭ دوسروں کا جواب

٭ الاستعانتہ

٭ ہمارا جواب

٭ اعراب

٭ لغات ، الحمد ، الرب ، العالم ، الملک ، الدین

٭ تفسیر


آغاز قرآن بہ رحمت

اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک کی ابتداء میں رحمت کو اپنی ذات کی صفت کے طور پر ذکر فرمایا ہے کسی دوسری صفت کمال کا ذکر نہیں فرمایا اس لئے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں پر رحمت بن کر نازل ہوا ہے لہٰذا عین مناسب ہے کہ کلام الٰہی کی ابتداء اسی صفت سے کی جائے جو ارسال رسل اور انزال کتب کی موجب ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی متعدد آیات میں قرآن مجید اور اپنے رسول (ص) کو رحمت قرار دیا ہے ارشاد ہوتا ہے۔

( هَـٰذَا بَصَائِرُ مِن رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ) ۷:۲۰۳

''اور جو (امراض شرک وغیرہ) دل میں ہیں ان کی دوا اور ایمانداروں کیلئے رحمت ہے،،

( وَنَزَّلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَابَ تِبْيَانًا لِّكُلِّ شَيْءٍ وَهُدًى وَرَحْمَةً وَبُشْرَىٰ لِلْمُسْلِمِينَ ) ۱۶:۸۹

''اور ہم نے تم پر کتاب (قرآن) نازل کی جس میں ہر چیز کا (شافی) بیان ہے اور مسلمانوں کیلئے (سرتاپا) ہدایت اور رحمت اور خوشخبری ہے،،۔

( وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمومنينَ ۙ ) ۱۷:۸۲

''اور ہم تو قرآن میں وہی چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کیلئے (سراسر) شفاء اور رحمت ہے،،۔

( وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ ) ۲۱:۱۰۷

''اور (اے رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم)) ہم نے تو تم کو سارے دنیا جہان کے لوگوں کے حق میں ازسرتاپا رحمت بنا کر بھیجا،،

( وَإِنَّهُ لَهُدًى وَرَحْمَةٌ لِّلْمومنينَ ) ۲۷:۷۷

''اور اس میں بھی شک نہیں کہ یہ قرآن ایمانداروں کے واسطے ازسر تاپا ہدایت اور رحمت ہے،،۔


بعد از رحمن ذکر رحیم

جیسا کہ اس سے قبل بیان کیا جا چکا ہے کہ ''فعیل،، ایک ایسی ہیت اور وزن ہے جو اپنے مادہ کی ایک صفت عزیزی اورطبیعی عادت ہونے پر دلالت کرتا ہے جو اپنی ذات سے جدا نہیں ہو سکتی اوراسی سے صفت ''رحیم،، کے صفت ''رحمن،، کے بعد لائے جانے کا نکتہ اور وجہ واضح ہو جاتی ہے بایں معنی کہ صفت ''رحمن،، اپنے عموم اور وسعت پر تو دلالت کرتی ہے لیکن اس پر دلالت نہیں کرتی کہ یہ صفت اپنی ذات کا لازمہ ہے اس لئے صفت ''رحمن،، کے بعد صفت ''رحیم،، کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ اس کے لازمہ ذات ہونے پر دلالت کرے۔

پس بلاغت قرآن کا یہ تقاضا ہے کہ اس آیہ میں ان دونوں اہداف (صفت کا عام اور وسیع ہونا اور لازمہ ذات ہونا) کی طرف اشارہ کیا جائے یعنی اللہ کی ذات ''رحمن،، ہے اور اس کی رحمت ہر شئی کے شامل حال ہے اور وہ ''رحیم،، بھی ہے یعنی یہ صفت اس کی ذات سے جدا نہیں ہوتی۔

بہت سے مفسرین اس نکتے کی طرف متوجہ نہیں ہوئے اور انہوں نے یہ خیال کیا ہے کہ ''رحیم،، کی بہ نسبت ''رحمن،، کے معنی میں زیادہ وسعت پائی جاتی ہے اس لئے کہ کثرت حروف کثرت معانی پر دلالت کرتے ہیں۔ لیکن حق و حقیقت یہ ہے کہ اس تعلیل کا شمار مضحکہ خیز باتوں میں ہونا چاہئے کیونکہ الفاظ کی دلالت ، وضع کی کیفیت اور اس کی نوعیت کے تابع ہوتی ہے قلت حروف اور کثرت حروف کا اس سے کوئی ربطہ نہیں کتنے ہی الفاظ ایسے ہیں جن کے حروف کم ہیں لیکن معانی زیادہ ہیں اور کئی الفاظ ایسے ہیں جن کے حروف زیادہ ہیں لیکن معانی کم ہیں مثلاً لفظ ''حذر،، (جو مبالغہ کا صیغہ ہے) کثرت معنی (زیادہ ڈرپوک) پر دلالت کرتا ہے لیکن ''حاذر،، قلت معنی (صرف ڈرپوک) پر دلالت کرتا ہے۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ مجرد اور مزیدفیہ ایک ہی معنی میں استعمال ہوتے ہیں جیسا کہ ''ضر،، اور ''اضر،، کامعنی ہے ''ضضر اور نقصان پہنچایا،، جبکہ ''ضر،، کی بہ نسبت ''اضر،، میں حروف زیادہ ہیں۔

لفظ ''رحمن،، کے بعد ''رحیم،، لانے کی اب تک جو وجہ بیان کی گئی ہے وہ اس بات پر مبنی ہے کہ ''رحمن،، اشتقاقی معنی میں استعمال ہو لیکن اگر لفظ ''رحمن،، اسماء خداوندی میں سے ہو اور اپنے لغوی معنی سے نقل ہو کر لقب الٰہی کے طور پر استعمال ہو (چنانچہ) اس سے قبل یہ بات ثابت کی جا چکی ہے) تو گزشتہ وجہ کے علاوہ اس لفظ کے لغوی معنی سے نقل ہونے کے سبب کی طرف اشارہ ہو گا اور وہ یہ کہ اللہ کی ذات وسیع رحمت سے متصف ہے۔


کیا بسم اللہ قرآن کا حصہ ہے؟

تمام علمائے شیعہ امامیہ کااتفاق ہے کہ ہر سورہ کی ابتداء میں موجود بسم اللہ اس سورہ کا حصہ ہے اس قول کو ابن عباس ، ابن مبارک اور اہل مکہ جیسے ابن کثیر ہے ،نیز اہل کوفہ جس طرح عاصم اور کسائی ہیں ، نے اختیار کیا ہے۔ البتہ حمزہ نے اس کی مخالفت کی ہے۔

اکثر علمائے شافعی نے اسی قول کو اختیار کیا ہے نمبر ۱ مکہ اور کوفہ کے علماء بھی اسی پر یقین رکھتے ہیں نمبر ۲ یہی قول ابن عمر ، ابن زبیر ، ابی ھریرہ ، عطاء ، طاؤس ، سعید بن جبیر ، مکحول ، زہری اور ایک روایت کے مطابق احمد بن حنبل ، اسحاق بن راہویہ اور ابو عبید القاسم بن سلام سے منقول ہے۔ نمبر ۳ بیہقی نے اس قول کو توری اور محمد بن کعب سے نقل کیا ہے۔ نمبر۴ رازی نے اپنی تفسیر میں اسی قول کو اختیار کیا ہے اور اس نے اسے قراء مکہ و کوفہ اور اکثر فقہائے حجاز ، ابن مبارک اور ثوری کی طرف نسبت دی ہے جلال الدین سیوطی نے بھی اسی قول کو اختیار کیا اور یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس پر روایت متواترہ (تواتر معنوی) دلالت کرتی ہیں نمبر۵:

بعض شافعی اور حمزہ کاکہناہے ''بسم اللہ صرف سورہ فاتحہ کا حصہ ہے دوسرے سوروں کا نہیں،، جس طرح پہلا قول (بسم اللہ ہر سورہ کا جز ہے) احمد ابن حنبل کی طرف منسوب ہے اسی طرح یہ قول (بسم اللہ صرف سورہ فاتحہ کا جزء

____________________

نمبر۱ تفسیر آلوسی ، ج ۱ ، ص ۳۹

نمبر ۲ تفسیر الشوکانی ، ج ۱ ، ص ۷

نمبر ۳ تفسیر ابن کثیر ، ج ۱ ، ص ۱۶

نمبر ۴ تفسیر الخازن ، ج ۱ ، ص ۱۳

نمبر ۵ الاتقان النوع ۲۲ ۔ ۲۷۔ ج ۱ ، ص ۱۳۵۔۱۳۶


ہے) بھی احمد ابن حنبل کی طرف منسوب ہے نمبر۱

علمائے اہلسنت کی ایک جماعت جس میں مالک ، ابو عمرو اور یعقوب شامل ہیں کا عقیدہ ہے کہ بسم اللہ ایک جدا آیت ہے اور یہ کسی بھی سورہ کا جزء نہیں بلکہ یہ ہر سورہ کے آغاز میں بطور تبرک نازل کی گئی ہے نیز یہ دوسوروں کے درمیان فاصلہ کی غرض سے بھی نازل کی گئی ہے حنفی حضرات میں یہی قول مشہور ہے نمبر۲

البتہ اکثر حنفیوں کی رائے یہ ہے کہ نماز میں فاتحہ سے پہلے بسم اللہ پڑھنا واجب ہے زاہدی نے مجبتبیٰ سے نقل کیا ہے کہ ابو حنیفہ کی صحیح روایت کے مطاب قنماز کی ہر رکعت میں بسم اللہ پڑھنا واجب ہے نمبر۳

مالک کے نزدیک نمز میں بسم اللہ پڑھنا بذات خود مکروہ ہے لیکن علماء کی اکثریت سے ہم آہنگی اور اختلاف سے بچنے کیلئے ایسا کرنا مستحب ہے نمبر۴

بسم اللہ کے جزء قرآن ہونے کے دلائل

اس مسئلہ میں گزشتہ اقوال کے علاوہ بھی چند اقوال موجود ہیں لیکن ان سب کا ذکر کرنے میں کوئی فائدہ نہیں ہے عمدہ یہ ہے کہ اس مقام پر مذہب حق (بسم اللہ جزء سورہ ہے) کی دلیل بیان کی جائے اس ضمن میں چند امور بیان کئے جاتے ہیں۔

____________________

نمبر۱: تفسیر الآلوسی ، ج ۱ ، ص ۳۹

نمبر ۲: ایضاً

نمبر۳: ایضاً

نمبر۴: الفقہ علی المذاہب الاربعہ ، ج ۱ ، ص ۲۵۷


(۱) اہل بیت اطہار (ع) کی احادیث:

پہلی دلیل اہل بیت ا طہار (ع) کی وہ صحیح روایات ہیں جن میں بسم اللہ کے جزء سورہ ہونے کی تصریح موجود ہے نمبر۵۔ جب رسول اکرم (ص) نے انہیں (ع) قرآن کا ہم پلہ اور قرآن کی طرح ان (ع) سے تمسک کو واجب قرار دیا ہے تو اس مدعیٰ کو ثابت کرنے کیلئے یہی روایات کافی ہیں ذیل میں ہم یہ صحیح روایات پیش کرتے ہیں:

۱۔ معاویہ بن عمار سے روایت ہے:

''میں (معاویہ بن عمار) نے امام صادق (ع) کی خدمت میں عرض کی: جب میں نماز کیلئے کھڑا ؟ تو کیا فاتحتہ القرآن میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کو بھی پڑھوں ؟ آپ (ع) نے فرمایا: ہاں میں نے عرض کی : فاتحتہ القرآن کے ساتھ بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی پڑھوں؟ آپ (ع) نے فرمایا: ہاں نمبر ۶

۲۔ یحییٰ ابن عمران ہمدانی روایت کرتے ہیں۔

''میں نے امام باقر (ع) کی خدمت میں لکھا: میری جان آپ (ع) پر قربان ہو ، اس شخص کے بارے میں آپ (ع) کیا فرماتے ہیں جو نماز میں سورہ حمد کے شروع میں تو بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتا ہے لیکن جب کوئی دوسرا سورہ پڑھتا ہے تو اس کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں پڑھتا اور عباسی کا کہنا ہے کہ اس شخص کی نماز صحیح ہے۔ آپ (ع) نے اس کے جواب میں عباسی کی تذلیل کیلئے دو مرتبہ فرمایا: ایسا شخص اپنی نماز دوبارہ پڑھے، نمبر۱

____________________

نمبر ۵: فروع کافی ، باب قرات القرآن ، ص ۸۶ ۔ الاتبصار ، باب الجھربا بسملتہ ، ج ۱ ، ص ۳۱۱ ، التہذیب ، ج ۱ ، ص ۱۵۳ ، ۲۱۸ ، وسائل الشیعہ ، ج ۱ ، ص ۳۵۲ ،

نمبر ۶ کافی ، ج ۳ ، ص ۳۱۲

نمبر ۱: کافی ، ج ۳ ، ص ۳۱۳


۳۔ صحیحہ ابن ابی اذینتہ میں ہے:

''جب رسول کریم (ص) تکبیرۃ الاحرام اور نہاز کے افتتاحیہ سے فارغ ہوئے اللہ کی طرف س وحی نازل ہوئی ، اب میرا نام لیجئے یہی وجہ ہے کہ سورہ کے آغاز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کو واجب قرار دیا گیا ہے اس کے بعد وحی نازل ہوئی اے میرے حبیب (ص) میری حمد و ثناء کیجئے آپ (ص) نے فرمایا: الحمدللہ رب العالمین۔ اس کے بعد رسول اللہ (ص) نے دل میں فرمایا: شکراً (حمد الٰہی پر شکر کیا) پھر اللہ کی طرف سے وحی ہوئی : اے حبیب ! آپ (ص) نے میری حمد کے سلسلے کو منقطع کر دیا ہے پھر سے میرا نام لیجئے یہی وجہ ہے کہ ''الحمد،، میں ''الرحمن الرحیم،، کو دو مرتبہ واجب قرار دیا گیا ہے اور جب آپ (ص) ''ولاالضالین،، تک پہنچے تو آپ (ص) نے فرمایا : ''الحمد للہ رب العالمین شکرا،، تو اللہ کی طرف سے وحی ہوئی ایک مرتبہ پھر میرے ذکر کاسلسلہ منقطع ہو گیا اس لئے دوبارہ میرا نام لیجئے یہی وجہ ہے کہ سورۃ حمدکے بعد ہر سورہ سے پہلے ''بسم اللہ الرحمن الرحیم،، کو واجب قرار دیا گیا ہے پھر وحی نازل ہوئی یا محمد (ص) اپنے رب کے اوصاف بیان کیجئے اور کہئے:

قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ ﴿١﴾ اللَّـهُ الصَّمَدُ ﴿٢﴾ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ ﴿٣﴾ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ ﴿٤﴾ ۔ نمبر ۲

(۲) اہل سنت کی احادیث

اہل سنت کی بھی بہت سی روایات بسم اللہ کے ہر سورہ کے جز ہونے پر دلالت کرتی ہیں ان میں سے چند احادیث یہاں پیش کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔

''ایک مرتبہ رسول اللہ (ص) ہمارے درمیان بیٹھے ہوئے تھے اسی دوران اچانک آپ (ص) پر غنودگی طاری ہو گئی اور پھر آپ (ص) نے مسکراتے ہوئے اپنا سر اٹھایا ہم نے عرض کی :یا رسول اللہ (ص) آپ کے

____________________

نمبر ۲: کافی ، ج ۳


مسکرانے کا کیا سبب ہے ؟ آپ (ص) نے فرمایا: ابھی ابھی مجھ پر ایک سورہ نازل ہوا ہے جو یہ ہے:

( بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ) ۔۔۔۔۔۔ الخ ،، نمبر۱

۲۔ وار قطنی نے صحیح سند سے امیرا لمومنین (ع) سے روایت کی ہے۔

''آپ (ع) سے پوچھا گیا سبع مثانی کونسا سورہ ہے ؟ آپ (ع) نے فرمایا: الحمد للہ رب العالمین آپ (ع) سے سوال کیاگیا: صرف چھ آیات ہیں ؟ آپ (ع) نے فرمایا:بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ بھی ایک آیہ ہے،، نمبر۲

۳۔ دار قطنی نے ہی صحیح سند کے ذریعے ابوہریرہ سے روایت کی ہے:

''رسول اللہ (ص) نے فرمایا جب بھی تم سورہ حمد پڑھوبِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ بھی پڑھا کرو کیونکہ الحمد اساس قرآن، اساس کتاب اور سبع مثانی ہے اوربِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ ، الحمد کی آیات میںسے ایک آیت ہے،، نمبر ۳۔

۴۔ ابن خزیمہ اور بیہقی نے صحیح سند کے ذریعے ابن عباس سے روایت کی ہے:

''سبع مثانی فاتحتہ الکتاب کانام ہے آپ سے پوچھا گیا : ساتویں آیت کونسی ہے آپ نے فرمایا :بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ : نمبر۴

۵۔ ابن خزیمہ اور بیہقی نے ''المعرفہ،، میں صحیح سند کے ذریعے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے ابن عباس سے روایت کی ہے:

''شیطان نے لوگوں سے قرآن کی ایک بہت بڑی آیت چرالی ہے اور وہ ہےبِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ ،، نمبر۵

____________________

نمبر۱ صحیح مسلم باب حجتہ من قال البسملتہ آیتہ ج ۲ ، ص ۱۲ ۔ سنن النسائی باب قراء ۃ البسملتہ ج ،ص ۱۴۳ ، سنن ابی داؤد باب الجھربابسملہ ج ۱ ، ص ۱۲۵

نمبر۲ الاتقان النوع ۲۲۔ ۲۷ ج ۱ ، ص ۱۳۶ ۔ سنن بیہقی ج ۲ ، ص ۴۵

نمبر۳ ایضاً

نمبر۴ ایضاً ، مستدرکا لحاکم ج ۱ ، ص ۵۵۱

نمبر ۵ ایضاً ص ۱۳۵ ۔ سنن بیہقی ، ج ۲ ، ص ۵۰


۶۔ سعیدبن جبیر نے ابن عباس سے روایت کی ہے:

''جب تک آیہبِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ نازل نہ ہوئی مسلمانوں کو معلوم نہیں ہوتا تھا کہ پہلا سورہ ختم ہوا ہے یا نہیں لیکن جب آیتبِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ نازل ہوئی تو انہیں معلوم ہو جاتا تھا کہ پہلا سورہ ختم ہو گیا ہے :نمبر۶

۷۔ سعید نے ابن عباس سے روایت کی ہے:

''جب بھی جبرئیل نازل ہوتے اور بسم اللہ الرحمن پڑھتے ، آپ (ص) سمجھ جاتے کہ کوئی سورہ نازل ہو رہا ہے نمبر۱:

۸۔ ابن جریحنے روایت کی ہے :

''میرے والد نے مجھے بتایا کہ سعید بن جبیر نے انہیں کہا : ولقد ایتنک سبعا من المثانی میں ، سبع مثانی سے مراد، ام القرآن (سورہ حمد) ہے نیز سعید بن جبیر نے کہا :بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ سورہ حمد کی ساتویں آیت ہے۔ جس طرح میں (سعید بن جبیر) نے تمہارے سامنےبِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ کو پڑھا ہے اسی طرح ابن عباس نے اسے میرے سامنے پڑھا تھا اس کے بعد سعید بن جبیر نے پھر کہا :بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ سورہ حمد کی ساتویں آیت ہے ابن عباس نے کہا: اللہ نے صرف تمہارے لئےبِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ کو نازل فرمایا ہے تم سے قبل کسی اور کیلئے ایسی آیت نازل نہیں ہوئی ،،(۲)

ان کے علاوہ اور بھی اس مضمون کی روایات موجود ہیں جو شخص ان سے آگاہ ہونا چاہئے وہ کتب احادیث کی طرف رجوع کرے۔

____________________

نمبر۶ مستدرک الحاکم ، ج ۱ ، ص ۲۳۲ ۔ حاکم نے کہا ہے یہ روایت شیخین کی شرائط کے مطابق صحیح ہے۔

(۱) مستدرک الحاکم ج ۱ ، ص ۲۳۱

(۲) ایضاً ص ۵۵۰


معارض روایات

طرفین کی ان تمام روایات کے مقابلے میں صرف دو روایات اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم ہر سورہ کا جز نہیں ہے۔

(۱) قتادہ نے انس بن مالک سے روایت کی ہے۔

''میں (انس بن مالک)نے رسول اللہ (ص) حضرت ابوبکر ، حضرت عمر اور حضرت عثمان کے ساتھ نماز پڑھی اور ان میں سے کسی کو نماز میںبِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ پڑھتے نہیں سنا،،(۱)

(۲) ابن عبداللہ بن مغفل یزید بن عبداللہ نے روایت کی ہے:

''میرے والد نے نماز میںبِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ پڑھتے مجھے سنا تو کہا :بیٹا خبردار! آئندہ ایسا نہ کرنا میں نے اصحاب پیغمبر (ص) میں اس عمل سے بدتر کوئی بدعت نہیں دیکھی میں نے رسول اللہ (ص) حضرت ابوبکر ، حضرت عمر اور حضرت عثمان کےساتھ نماز پڑھی ہے اور کسی کو بھی بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے نہیںسنا تم بھی نہ پڑھا کرو جب الحمدپڑھنا چاہو تو الحمدللہ رب العالمین سے شروع کیا کرو(۲)

جواب:

پہلی روایت کا جواب یہ ہے کہ یہ روایت اہل بیت اطہار (ع) کی روایات کے مخالف ہونے کے علاوہ بھی کئی اعتبار سے قابل عمل و اعتماد نہیں۔

___________________

(۳) مسند احمد ، ج ۳ ، ص ۱۷۷ ، ۲۷۳ ، ۲۷۸ ۔ صحیح مسلم ، ج ۲ ، ص ۱۲۔ سنن نسائی ، ج ۱ ، ص ۱۴۴ ، اس مضمون کی ایک روایت عبداللہ بن مغفل سے بھی روی ہے۔

(۴) مسند احمد بن حبنل ، ج ۴ ، ص ۸۵ صحیح ترمذی ، ج ۲ ، ص ۲۳


(۱) یہ روایت اہل سنت کی کئی ایسی روایات کے معارض ہے جو تواتر معنوع رکھتی ہیں خصوصاً وہ روایات جن کی سند صحیح ہے بھلا اس روایت کی تصدیق کیسے ممکن ہے اس کے علاوہ ابن عباس ، ابوہریرہ اور اسم مسلمہ بھی یہ شہادت دیتے ہیں کہ رسول اللہ (ص) سورہ فاتحہ میں بسم اللہ پڑھا کرتے اور اسے سورہ کا جزء سمجھتے تھے اوریہ کہ ابن عمر کہا کرتے تھے: اگر بسم اللہ کاسورہ فاتحہ میں پڑھنا صحیح نہیں توپھر اسے کیوں لکھا گیا ہے امیر المومنین (ع) فرمایا کرتے تھے جو شخص قرات میں بسم اللہ کو ترک کرتا ہے اس نے اپنی قرات کو ناقص چھوڑا ہے نیز آپ (ع) نے فرمایا:بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ سبع مثانی میں شامل ہے(۱)

(۲) یہ روایت مسلمانوں میں پائی جانے والی اس شہرت کیخلاف ہے جس کے مطابق تمام مسلمان نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کی تلاوت کرتے تھے حتیٰ کہ ایک مرتبہ معاویہ نے اپنے دور خلافت میں بسم اللہ کو ترک کیا تو مسلمانوں نے اس سے کہا : تم نے سورہ فاتحہ کی کویت آیت چرالی ہے یا اسے بھول گئے ہو؟(۲) ان تمام شواہد کے ہوتے ہوئے اس امر کی کیونکر تصدیق کی جا سکتی ہے کہ رسول اللہ (ص) اور آپ (ص) کے بعد دوسرے حضرات نے سورہ فاتحہ میں بسم اللہ نہیں پڑھی ہو گی۔

(۳) یہ روایت ، اس روایت کی مخالف ہے جسے انس بن مالک نے ہی نقل کیا ہے(۳) پس معلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت من گھڑت اور جعلی ہے اور اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔

دوسری روایت (جو ابن عبداللہ بن مغفل نے بیان کی ہے) کا جواب بھی پہلی روایت کے جواب سے معلوم ہو جاتا ہے اس کے علاوہ یہ روایت ایسے امر پر مشتمل ہے جو حضرات دین اسلام کیخلاف ہے اس لئے کہ کسی مسلمان کو اس میں شک نہیں کہ حمد و سورہ سے پہلےبِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ کا پڑھنا مستجب ہے اگرچہ جزء کے طور پر نہیں بلکہ تبرک کے طور پر سہی اور ابن مغفل کی روایت میں بسم اللہ کو بدعت قرار دیاگیا ہے اور اسے پڑھنے سےمنع کیا گیا ہے۔

____________________

۱) اسی کتاب کا ضمیمہ نمبر ۱۴ ملا خطہ فرمائیں۔

۲) اسی کتاب کا ضمیمہ نمبر ۱۵ ملا خطہ فرمائیں۔

۳) اس ضمن میں ضمیمہ نمبر ۱۶ کی طرف رجوع کریں۔


(۳) سیرت مسلمین

تمام مسلمانوں کی سیرت اس بات پر برقرار ہے کہ وہ سورہ برات کے علاوہ باقی تمام سوروں میں بسم اللہ پڑھتے ہیں اور یہ بھی تواترسے ثابت ہے کہ رسول اللہ (ص) بھی بھی ہر سورہ سے پہلے بسم اللہ پڑھتے تھے اگر بسم اللہ جز سورہ نہ ہوتی تو رسول اللہ (ص) کو اس کی تصریح کرنا چاہئے تھی کیونکہ احکام بیان کرنے کے موقع پر آپ کاقرات کو بیان کرنا ظاہر کرتا ہے کہ بسم اللہ ہر سورہ کا جزء ہے ۔ رسول اللہ (ص) جس سورہ کوبھی پڑھتے تھے اگر اس میں سے کچھ آیات اس سورہ کا جزء نہ ہوتیں اور اس کے باوجود آپ (ص) اس کی وضاحت نہ کرتے تو یہ آپ (ص) کی طرف سے جہالت اور تاریکی میں رکھنے کے مترادف ہوتا جو بذات خود قبیح ہے اور وحی الٰہی کے بارے میں تو بطریق اولیٰ قبیح ہوتا اور اگر رسول اللہ (ص) نے بسم اللہ کے جز سورہ نہ ہونے کی تصریح فرمائی ہوتی تو خبر متواتر کے ذریعے اسے نقل کیا جاتا جبکہ خبر متواتر تو کجا خبر واحد کے ذریعے بھی یہ بات نقل نہیں کی گئی۔

(۴) تابعین اور صحابہ کا قرآن

اس میں کوئی شک نہیں کہ (حضرت عثمان کے قرآن جمع کرنے سے پہلے اور بعد بھی) تابعین اور صحابہ کے پاس موجود قرآنی نسخے بسم اللہ الرحمن الرحیم پر مشتمل تھے اگر بسم اللہ سورہ کا جزء نہ ہوتی تو اسے تابعین اور صحابہ اپنے قرآنوں میں درج نہ کرتے کیونکہ صحابہ نے دوسروں کو اس بات سے منع فرمایا ہے کہ قرآن میں غیر قرآن کو شامل کیا جائے حتیٰ کہ بعض متقدمین نے تو قرآن کو نقطے ، حرکات اور اعراب دینے سے بھی منع فرمایا ہے اس کے باوجود اپنے قرآنوں میں بسم اللہ شامل کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ قرآن میں موجود دوسری تکرار شدہ آیات کی طرح بسم اللہ بھی قرآن کا حصہ ہے۔

اس سے یہ احتمال بھی باطل ہو جاتا ہے کہ تابعین نے سوروں میں فاصلہ کی خاطر بسم اللہ کوقرآن میں درج کیا ہو یہ احتمال اور دعویٰ اس امر سے بھی باطل ہو جاتاہے کہ بسم اللہ کو سورہ حمد کے ساتھ توذکر کیاگیا ہے لیکن سورہ برات کے ساتھ ذکر نہیں کیا گیا اگر بسم اللہ کو دو سوروں کے درمیان فاصلے کی خاطر ذکر کیا جاتا تو سورہ الحمد کے شروع میں اس کا ذکر نہیں کرنا چاہئے تھا اس لئے کہ الحمد سے پہلے تو کوئی سورہ نہیں ہے کہ اس کے اور الحمد کے درمیان فاصلے کی خاطر بسم اللہ کو ذکر کرتے اس کے برعکس سورہ برات کے شروع میں بسم اللہ کا ذکر ہوناچاہئے تھا تاکہ سورہ برات اور اس سے پہلے کہ سورہ میں فاصلہ ہو اس سے ہمیںیقین ہوتا ہے کہ بسم اللہ سورہ الحمد کا جزء ہے اور سورہ برات کا جزء نہیں ہے۔


منکرین کے دلائل

بسم اللہ کے جز ہونے کے منکرین نے اپنے دعویٰ کے اثبات میں تین دلائل پیش کئے ہیں:

۱۔ قرآن صرف خبر متواتر کے ذریعے ثابت ہو سکتا ہے اور جس آیت کے جزء سورہ ہونے میں اختلاف ہو وہ قرآن کا حصہ نہیں ہو سکتی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ بسم اللہ کے جزء قرآن ہونے میں اختلاف ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہب سم اللہ کا جزء قرآن ہوناثابت نہیں۔

جواب: اولاً ، بسم اللہ کا جزء قرآن ہونا اہل بیت (ع) کی متواتر روایات کے ذریعے ثابت ہے اور اس اعتبار سے کوئی فرق نہیں کہ خبر متواتر رسول اللہ (ص) سے منقول ہو یا اہل بیت اطہار (ع) ہے اس لئے کہ اطاعت رسول (ص) کی طرح اطاعت اہل بیت (ع) بھی واجب ہے۔

ثانیاً : یہ جب بہت سے صحابہ بسم اللہ کے جزء قرآن ہونے کی شہادت دیتے ہیں اور یہ متواتر روایات سے بھی ثابت ہے تو ایک چھوٹے سے ٹولے کا انکار ، جس کی بنیاد ایک غلط فہمی ہے، کیا ضرر پہنچا سکتا ہے۔

ثالثاً : یہ تواترسے ثابت ہے کہ رسول اللہ (ص) مقام بیان میں جب بھی قرآن کے کسی سورے کی تلاوت فرماتے پہلے بسم اللہ کی تلاوت فرماتے تھے آپ (ص) نے اس کے ساتھ یہ نہیں فرمایا کہ بسم اللہ قرآن کا جزء نہیں ہے یہ امرقطعاً اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ بسم اللہ قرآن کا جز ہے۔

ہاں !اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بسم اللہ سورہ کا بھی جزء ہے البتہ اس کے اثبات کیلئے فریقین کی روایات کثیرہ کے علاوہ وہ روایات کافی ہیں جن کاذکر اس سے پہلے ہو چکا ہے اور بسم اللہ کا جزء ہونا صحیح خبر واحد سے ثابت ہو جاتا ہے ضرور ینہیں کہ وہ خبر متواتر ہو۔


۲۔ دوسری دلیل وہ روایت ہے جو مسلم نے حضرات ابوہریرہ سے نقل کی ہے حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں:

''میں نے رسول اللہ (ص) کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تع الیٰ فرماتا ہے میں نے نماز کو اپنے اور بندوں کے درمیان تقسیم کر دیا ہے اور میرا بندہ جو سوال کرے گا میں اسے پورا کروں گا جب بندہ الحمد للہ رب العالمین کہتے تو خالق فرماتا ہے : میرے بندے نے میری حمد و ثناء کی ہے اور جب بندہ کہے : الرحمن الرحیم خالق فرماتا ہے : میرے بندے نے میری ستائش کی ہے اور جب بندہ کہے : مالک نعبد و ایاک نستعین تو خالق فرماتا ہے : یہ (ذکر) میرے اور میرے بندے کے درمیان ہے اور میرابندہ جو چاہے گا میں اسے دوں گا اور بندہ جب کہے : اھدنا الصراط المستقیم صراط الذین انعمت علیھم غیرا لمغضوب علیھم والضالین۔ تو خالق فرماتا ہے: یہ صرف میرےب ندے کا ہے اور اسے میں وہ کچھ دوںگا جو وہ مانگے گا،،(۱)

اس روایت سے یوں استدلال کیا جاتا ہے کہ اس روایت کے ظاہری مفہوم کی رو سے آیہ کریمہ ایاک نعبد و ایاک نستعین کاما بعد اس کے ماقبل کے برابر ہے لیکن اگر بسم اللہ کو سورہ فاتحہ کاجزء مان لیا جائے تو اس روایت کا معنی و مفہوم صحیح نہیں رہتا۔ اس لئے کہ سورہ فاتحہ سات آیات پر مشتمل ہے (جیسا کہ اس سے قبل معلوم ہو چکا ہے) اگر بسم اللہ کو سورہ کا جزء مان لیا جائے تو یہ آیہ ایاک نعبد و ایاک نستعین سے آخر تک دو ہی آیتیں ہوں گی۔ اس

طرح اس آیت سے پہلے کی آیات اس کے مابعد کی دو گنی ہوں گی اور آیت ایاک نعبد تک سورہ فاتحہ دو برابر حصو میں تقسیم نہیں ہو گی جو اس روایت کے منافی ہے۔

____________________

(۱) صحیح مسلم ، ج ۲ ، ص ۶ ، سنن ابوداؤد ، ج ۱ ، ص ۱۳۰ ، سنن نسائی ، ج ۱ ، ص ۱۴۴


جواب: اولاً: اس روایت کا راوی علاء ہے جس کے بارے میں علماء میں اختلاف ہے بعض نے اس کی توثیق کی ہے اور بعض نے اس کی تضعیف کی ہے اس کو کمزور اور اس کی روایت کو ناقابل عمل قرار دیا ہے۔

ثانیاً بفرض تسلیم اگر اس روایت کی دلالت درست ہو تو بھی یہ قابل قبول نہیں اس لئے کہ یہ ان گزشتہ روایات سے معارض ہے جن کے مطابق سورہ فاتحہ بسم اللہ سمیت سات آیات پر مشتمل ہے۔

ثالثاً : یہ روایت اس امرپر دلالت نہیں کرتی کہ سورہ فاتحہ الفاظ کے اعتبار سے دو حصوں میں تقسیم ہوتی ہے بلکہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سورہ فاتحہ معنی کے اعتبارسے دو برابر حصوں میں تقسیم ہوتی ہے بنا برایں روایت کا مفہوم یہ ہے کہ اپنے مدلول کے اعتبار سے سورہ فاتحہ کابعض حصہ خداسے متعلق ہے اور بعض حصہ بندوں سے متعلق ہے۔

رابعاً: اگر اس بات کو مان بھی لیا جائے کہ سورہ فاتحہ کو الفاظ کے اعتبار سے تقسیم کیا گیا ہے تو اس امر پر کوئی دلیل نہیں کہ یہ تقسیم آیات کی تعداد کے اعتبار سے کی گئی ہو ۔ شاید یہ تقسیم کلمات (الفاظ) کے اعتبار سے کی گئی ہو اس لئے کہ مکرر الفاظ کو حذف کرنے کے بعد اور بسم اللہ کو شامل کر کے ایاک نعبد و ایاک نستعین سے پہلے بھی دس کلمے ہیں اور اس کے بعد بھی۔

۳۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے :

''سورہ کوثر تین آیات پر مشتمل ہے(۱) اور سورہ ملک تیس آیات پر(۲) ،،

اگر بسم اللہ سورہ کا جزء ہو تو یہ تعداد درست نہیں رہتی۔

جواب: سورہ کوثر کے بارے میں حضرت ابوہریرہ کی یہ روایت صحیح السند مان لی جائے تو یہ انس کی اس گزشتہ روایت سے معارض ہے جو مقبولہ ہے جسے موطا کے علاوہ تمام صحاح نے روایت کیا ہے(۳)

____________________

(۱) کتب روایات میں یہ روایت مجھے نہیں ملی۔

(۲) مستدرک الحاکم ، ج ۱ ، ص ۵۶۵ ۔ صحیح ترمذی ، ج۱۱ ، ص ۳۰ ، کنز العمال ، ج۱ ، ص ۵۱۶ ، ۵۲۵

(۳) تیسیرالوصول ، ج۱ ، ص ۱۹۹


بنا برایں یا تو حضرت ابوہریرہ کی روایت ترک ہونی چاہئے یااس کی تاویل یہ کی جائے کہ سورہ کی تین آیات سے مرادوہ آیات ہیں جو صرف اس سورہ سے مختص ہیں اور یہ دوسرے سوروں میں موجود نہیں بخلاف بسم اللہ کے جو تمام سوروں میں مشترک موجود ہے اور یہی جواب سورہ ملک کے بارے میں بھی دیا جاسکتا ہے۔

تحلیل آیتہ

الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿٢﴾ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ ﴿٣﴾ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ﴿٤﴾

''سب تعریف خدا ہی کیلئے (سزاوار) ہے جو سارے جہان کا پالنے والا بڑا مہربان رحم والا ہے ، روز جزا کا حاکم ہے،،۔

قرات

اکثر علمائے قرات ''الحمد،، کی دال کو پیش اور ''للہ،، کے لام کو زیر دیتے ہیں بعض علمائے قرآت نے الحمد کی دال کو للہ کے لام کے تابع قرار دیا ہے اور اسے زیر دیا ہے اور بعض دوسرے علمائے قرات للہ کے لام کو الحمد کی دال کاتابع بنا کر اسے پیش دیتے ہیں لیکن یہ دونوں قرابتں غیر مشہور اور شاذ ہیں ان کی طرف توجہ بھی نہیں کرنی چاہئے ۔

لفظ ''مالک،، کی قرات کے بارے میں بھی اختلاف ہے اس میں دو قول مشہور ہیں۔

۱) یہ فاعل کے وزن پر مالک پڑھا جائے۔

۲) کتف کے وزن پر ملک یوم الدین پڑھا جائے۔

بعض قاریوںنے فلس کے وزن پر ملک پڑھا ہے ان کے مقابلے میں بعض نے فعیل کے وزن پر ملیک اور حضرت ابو حنیفہ نے صیغہ ماضی کی صورت میں ملک پڑھا ہے لیکن پہلے دو اقوال کے علاوہ تین اقوال شاذ اور ناقابل عمل ہیں۔


قراتوں کی ترجیحات

پہلی دو مشہور قراتوں کے بارے میں اختلاف ہے کہ ان میں سے کونسی مقدم ہے:

(۱) بعض علمائے قرات کا کہنا ہے کہ ''مالک،، زیادہ بہتر ہے ان کی دلیل یہ ہے کہ ''مالک،، کا مفہوم '' ملک،، کی نسبت عام ہے مثلاً اگر یہ کہا جائے کہ فلاںآدمی اپنی قوم کامالک ہے۔

اس جملے سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ آدمی مملکیت اور مالکیت (جو اس لفظ کے اصلی اور لغوی معنی ہیں) کے علاوہ اپنی قوم پر حکومت اور سرپرستی کا حق بھی رکھتا ہے لیکن اگر یہ کہا جائے کہ فلاں آدمی اپنی قوم کا''ملک،، (بادشاہ) ہے تو اس جملے سے یہ سمجھا جائے گا کہ یہ آدمی اپنی قوم پر حکومت و سلطنت کا حق رکھتا ہے مگر مالکیت و ملکیت کا مفہوم نہیں سمجھا جائے گا پس مالک پڑھنا ملک پر مقدم ہو گا۔

(۲) اس کے مقابلے میں بعض علمائے قرات ''ملک،، کو ترجیح دیتے ہیں ان کی دلیل یہ ہے کہ اکثر اوقات دیکھنے میں آیا ہے کہ مالک زمانہ کی طرف مضاف نہیں ہوتا بلکہ ملک زمانہ کی طرف مضاف ہوتا ہے چنانچہ کہا جاتا ہے :ملک العصر (بادشاہ زمان) نیز کہا جاتا ہے :ملوک العصار المتقدمة (گزشتہ زمانے کے بادشاہ) چونکہ سورہ حمد میں ''ملک،، زمانہ (یوم) کی طرف مضاف استعمال ہوا ہے اس لئے ''ملک،، پڑھا جانا چاہئے ''مالک،، نہیں۔

ترجیحات کابے فائدہ ہونا

یہ وہ دو دلیلیں تھیں جو ''مالک،، اور ''ملک،، کے قائل علمائے قرات نے پیش کی ہیں لیکن ہمارے خیال میں یہ بحث بے فائدہ ہے بلکہ بنیادی طورپر مشہور قراتوں میں سے کسی ایک کے انتخاب اور اسے اختیار کرنے کا کوئی فائدہ نہیں اس لئے کہاگر یہ قراتیں تمام کی تمام رسول اللہ (ص) سے بطور تواتر منقول ہوں توساری کی ساری قراتوں کو قرآن کی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے اور اس اعتبار سے قرآن کی آیات اور اس کے کلمات (الفاظ) میں کوئی فرق نہیں اور اگر یہ قراتیں بطور تواتر ثابت نہ ہوں (چنانچہ حق بھی یہی ہے) اس صورت میں اگر ایک قرات کی ترجیح اور اس کے انتخاب سے دوسری قرات کے باطل ہونے کا علم و یقین حاصل ہو جائے تو پھر اس بحث میں پڑھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔


لیکن حقیقت یہ ہے کہ بحث و تحقیق سے ایک قرات کو ترجیح دینے اور اسے منتخب کرنے سے دوسری قرات کے باطل ہونے کا یقین حاصل نہیں ہو سکتا اور جب تک ایک قرات کے انتخاب اورت رجیح سے دوسری قرات کے باطل ہونے کا علم حاصل نہ ہو (اکثر اوقات دوسری قرات کے باطل ہونے کایقین حاصل نہیں ہوتا) یہ بحث بے نتیجہ اور بے فائدہ ہے۔ جبکہ یہ مسلم ہے کہ معروف و مشہور قراتوں میں سے کسی بھی قرات کوپڑھا جاسکتا ہے:

مشہور قراتوں میں سے ایک کو دوسری پر ترجیح دینے کی بحث بے فائدہ ہے لفظ ''مالک،، اور ''ملک،، میں اس لئے کہ ''مالک،، ، ''ملک،، میں فرق و تفاوت اس جگہ ظاہر ہوتا ہے جہاں''ملک،، ایک اعتبار اورقرارددی حکومت و سلطنت کیلئے استعمال ہو جس میں سلطنت و حکومت کے مراتب بھی مختلف موارد اور مقامات کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں کبھی حاکمیت اورسلطنت کے ساتھ ملکیت بھی حاصل ہوتی ہے اور کبھی ملکیت حاصل نہیں ہوتی لیکن اگر یہی لفظ (ملک) خدا کیلئے استعمال ہو جس کی حکومت حقیقی ہے اور اس کاسرچشمہ پوری کائنات پر اللہ کا احاطہ ہے تو اسی احاطہ کی وجہ سے اللہ پر ''مالک،، اور ''ملک،، دونوں صادق آتے ہیں۔

یہاں سے معلوم ہوا کہ اللہ کے علاوہ کسی اور ملک کے زمانہ کی طرف اضافت جائز نہ ہونے کا لازمہ یہ نہیں کہ ''مالک،، جب اللہ کیلئے استعمال ہو تب ہی یہ زمانہ کی طرف مضاف نہیں ہو سکتا کیونکہ اللہ جس طرح دیگر موجودات عالم کام الک ہے اسی طرح زمانہ کا بھی مالک ہے بنا برایں زمانہ کی طرف مضاف ہونے میں بھی ''مالک،، مثل ''ملک،، کے ہے اور اس اعتبار سے بھی ''ملک،، کو ''مالک،، پر کوئی ترجیح حاصل نہیں۔

بعض حضرت ''ملک،، کی دلیل یہ پیش کرتے ہیں کہ اگر یہ لفظ ''مالک،، ہو تو اس صورت میں ''یوم،، کی طرف اس کی اضافت ، اضافت لفظی ہو گی جو تعریف (معرفہ) کا فائدہ نہیں دیتی اور اضافت سے پہلے کی طرح یہ نکرہ رہے گا اس طرح لازم آئے گا کہ نکرہ ، معرفہ کی صفت واقع ہو ، جو جائز نہیں لیکن اگر یہ لفظ ''ملک،، ہو تو اس صورت میں ''ملک،، سلطان کے معنی میں ہو گا جو غیر مشتق کے حکم میں ہو گا اور اس طرح یوم کی طرف ملک کی اضافت ، اضافت معنویہ ہو گی اور یہ تعریف کافائدہ دے گی اس طرح یہ اعتراض لازم نہیں آئے گا کہ نکرہ ، معرفہ کی صفت واقع ہو۔


دوسروں کا جواب:

تفسیر کثاف اور دیگر کتب میں اس اعتراض کا یہ جواب دیاگیا ہے کہ اسم فاعل کی اضافت اس صورت میں اضافت لفظی کہلاتی ہے جس وہ (اسم فاعل) حال یہ مستقبل کے معنی میں ہو لیکن اگر اسم فاعل ماضی یا دوام اور ہمیشگی کے معنی میں استعمال ہو تو ان دونوں صورتوں میں اسم فاعل کی اضافت ، اضافت معنوی ہوتی ہے اور اپنے مضاف الیہ سے کسب تعریف کرتی ہے جیسے اسم فاعل کے معنی ماضی ہونے کی مثال ہے:

( الْحَمْدُ لِلَّـهِ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ جَاعِلِ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا ) ۳۵:۱

''ہر طرح کی تعریف خدا ہی کے لئے (مخصوص ) ہے جو سارے آسمان اور زمین کا پیدا کرنے والا فرشتوں کو (اپنا) قاصد بنانے والا ہے،،۔

اور اسم فاعل کے بمعنی دوام ہونے کی مثال ہے:

( تَنزِيلُ الْكِتَابِ مِنَ اللَّـهِ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ ) ۴۰:۲

(اس ) کتاب (قرآن) کا نازل کرنا (خاص بارگاہ) خدا سے ہے جو (سب سے) غالب بڑا واقف کار ہے۔

( غَافِرِ الذَّنبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَابِ ذِي الطَّوْلِ ۖ ) ۴۰:۳

''گناہوں کا بخشنے والا اور توبہ کا قبول کرنے والا سخت عذاب دینے والا صاحب فضل و کرم ہے،،۔

واضح ہے کہ پہلی آیت میں ''فاطر،، اور ''جاعل،، ماضی کے معنی میں اور دوسری آیت میں ''غافر الذنب،، اور ''قابل التوب،، دوام کے معنی میں استعمال ہوئے ہیں اضافت کی وجہ سے معرفہ بن گئے ہیں اور اللہ کی صفت واقع ہوئے ہیں۔

سورہ فاتحہ میں ''مالک،، کی اضافت بھی ایسی ہی ہے کیونکہ لفظ ''مالک،، کا معنی ہے روز قیامت اللہ کی مالکیت دائمی اور ابدی ہے بنا برایں ''مالک،، کی اضافت ''یوم،، کی طرف ، اضافت معنی ہو گی اور کسب تعریف کے بعد لفظ اللہ کی صفت واقع ہو سکے گی۔


اس اعتراض کا تحقیقی جواب یہ ہے کہ اضافت چاہے لفظی ہو یا معنوی ، نکرہ کو معرفہ نہیں بنا سکتی بلکہ اضافت صرف تخصیص کافائدہ دیتی ہے اور لفظ کے مفہوم اور اس کے مصادیق کے دائرے کوتنگ کر دیتی ہے تعریف و تعیین تو دوسرے قرائن و شواہد کے ذریعے سمجھی جائے گی۔

اس کی دلیل یہ ہے کہ جم لہ ''غلام لزید،، اور ''غلام زید،، میں کوئی فرق نہیں جس طرح ''غلام لزید،، صرف تخصیص کا فائدہ دیتا ہے اسی طرح ''غلام زید،،بھی صرف تخصیص کا فائدہ دیتا ہے پس جس طرح اضافت معنوی کے نتیجے میں تخصیص حاصل ہوتی ہے اسی طرح اضافت لفظی میں بھی تخصیص حاصل ہوتی ہے فرق صرف اتنا ہے کہ اضافت لفظی کی تخصیص اضافت کی وجہ سے حاصل نہیں ہوئی بلکہ اضافت کے بغیر حاصل ہوئی ہے اضافت لفظی سے صرف تخفیف حاصل ہوئی ہے لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ مضاف کسی معرفہ کی صفت واقع نہ ہو سکے اس لئے کہ اگر تخصیص کی وجہ سے معرفہ کی صفت قرار پانا صحیح ہو تو مانحن فیہ (اضافت لفظی) میں مضاف کی تخصیص حاصل ہو جاتی ہے اور اگر معرفہ کی صفت بننے کا مجوز وہ تعریف (معرفہ ہونا) ہو جو خارجی شواہد سے حاصل ہو تو اس میں دونوںا ضافتیں مشترک ہیں بنا برایں اضافت لفظی اور اضافت معنوی میں جتنا فرق بیان کیا جاتا ہے وہ سب بے نتیجہ ہے۔

اس مقام پر ایک بحث باقی رہتی ہے کہ جہاں تک مقام اثبات اور وقوع کا تعلق ہے اس بات پر اتفاق کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر مصاف باضافت لفظیہ صفت مشبہ ہو تو معرفہ کی صفت واقع نہیں ہوس کتا ہے لیکناگر صفت مشبہ کے علاوہ کوئی اور مشتق مضاف واقع ہو تو اس صورت میں ''سیبویہ،، نے ''خلیل،، اور ''یونس،، سے یہ بات نقل کی ہے کہ اکثر کلام عرب(۱) میں ایسے مشتقات جو مضاف ہوں ، معرفہ کی صفت واقع ہوئے ہیں اور قرآن میں جہاں کہیں بھی مضاف

____________________

۱) تفسیر ابی حیان ، ج ۱ ص ۲۱


باضافت لفظیہ معرفہ کی صفت قرار پایا ہے، اسی قبیل سے ہے۔ یعنی صفت مشبہ کے علاوہ کوئی مشتق ہے جو مضاف واقع ہوا ہے اور معرفہ کی صفت قرار پایا ہے۔

قرآن کریم میں جہاں کہیں بھی مضاف باضافت لفظی معرفہ کی صفت واقع ہوا ہے اسے اسی پر محمول کیا گیا ہے چنانچہ ''مانحن فیہ،، (مالک یوم الدین) میں بھی ایسا ہی ہوا ہے۔

باقی رہا صاحب ''کشاف،، کا یہ کہنا کہ ''مالک یوم الدین،، میں اسم فاعل استمرار کے معنی میں استعمال ہواہے اور جب اسم فاعل استمرار کے معنی میں استعمال ہو تو اس کی اضافت ، لفظی نہیں معنوی ہوتی ہے یہ قول واضح طور پر باطل ہے اس لئے کہ یہ درست ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام موجودات کا احاطہ کئے ہوئے ہے اور اس کا یہ احاطہ اور مالکیت دائمی و ابدی ہے لیکن آیت میں ''مالک،، کو ''یوم الدین،، کی طرف مضاف کیا گیا ہے اور ''یوم الدین،، وجود کے اعتبارسے متاخر ہے بنا برایں لامحالہ اسم فاعل ، مستقبل کے معنی میں ہو گا اور اضافت ، اضافث لفظی ہو گی۔

اسم فاعل مضاف کےبارے میں یہ فرق بھی درست نہیں کہ اگر اسم فاعل بمعنی ماضی ہو تو معرفہ کی صفت بن سکتا ہے ورنہ نہیں کیونکہ کسی بھی چیز کے حدوث اور تحقق کا لازمہ یہ ہے کہ وہ متعین اور معلوم ہو یہ فرق اس لئے صحیح نہیں کہ کسی بھی شئی کا حدوث مستلزم علم نہیں ہوا کرتا عین ممکن ہے کہ ایک چیز درواقع متحقق ہو لیکن سب کو معلوم نہ ہو کسی چیز کے معرفہ بننے کا دارو مدار یہ ہے کہ وہ فی الحال متکلم و مخاطب کو معلوم ہو صرف بذات خود اس کامتحقق ہونا کافی نہیں ہے خلاصہ یہ کہ کلام عرب میں وہی قواعد قابل اتباع ہیں جو فصیح عربوں نے استعمال کئے ہوں اور بے معنی توجیہات پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا جن کا ذکر نحوی حضرات کیا کرتے ہیں۔


الحمد:

حمد وہ مفہوم ہےجو ملامت کے مقابلے میں استعمال ہوتا ہے اور حمد ہر اس اچھائی پر کی جاتی ہے جو انسان کے ارادہ و اختیار سے صادر ہو خواہ تعری فکرنے والے پر احسان ہو یا نہ ہو '' شکر،، کفران (ناشکری) کے مقابلے میں استعمال ہوتا ہے اور اسے نعمت و احسان کے بدلے میں ادا کیا جاتا ہے ''مدح،، مذمت کے مقابلے میں آتا ہے اس میں یہضروری نہیں ہے کہ یہ کسی اختیاری عمل کےب دلے میں انجام پائے چہ جائیکہ یہ احسان کے بدلے میں ہو لفظ ''الحمد،، میں الف لام جنس ہے اس لئے کوئی خاص اور معہود حمد پیش نظر نہیں اللہ ، رحمن اور رحیم کی وضاحت اس سے قبل ہو چکی ہے۔

الرب:

یہ لفظ ''ربب،، سے لیا گیا ہے جس کا معنی ہے مصلح ، مالک اور مزتی اور اسی سے ''ربیبہ،، (پروردہ) بنایا گیا ہے ۔ یہ لفظ جب اللہ کے علاوہ کسی کیلئے استعمال ہو تو اضافت کے ساتھ استعمال ہوتا ہے جیسا کہ کہا جاتا ہے ''رب السفینتہ،، (کشتی کامالک) ''رب الدار،، (گھر کا مالک)

العالم:

یہ ایسی جمع ہے جس کا کوئی مفرد نہیں۔ جس طرح ''رھط،، اور ''قوم،، ہیں کبھی اس کا اطلاق ایک حقیقت کی متعدد اشیاء کے مجموعہ پر ہوتا ہے ۔ جیسے عالم جمادات ، عالم نباتات اور عالم حیوانات ہیں کبھی یہ ایسی چیزوں کے مجموعہ کیلئے بولا جاتا ہے جن کا زمانہ یا مکان کے اعتبار سے آپس میں کوئی ربط و تعلق ہو جیسا کہ عالم صبا (بچپن) عالم ذر ، عالم دنیا اور عالم آخرت ہے کبھی تمام موجودات عالم پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔اس کی جمع کبھی واؤ اور نون کے ساتھ آتی ہے، جیسے ''عالمون،، اور کبھی فواعل کے وزن پر جیسے ''عوالم،، ہے لغت عرب میں عالم کے علاوہ کوئی اور ایسا لفظ نہیں جس کا مفرد فاعل کے وزن پر ہو اور اس کی جمع واؤ اور نون کے ساتھ آئے۔


الملک:

یہ لفظ احاطہ اور سلطنت کے معنی میں آتا ہے البتہ احاطہ ، سلطنت اور ملکیت کبھی تو حقیقی اور خارجی ہوتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ موجودات عالم کا محیط و مالک ہے کیونکہ ہر موجود و مخلوق اپنے خالق اور موجد سے قائم اور وابستہ ہے اور اپنی علت موجدہ سے وابستگی کے علاوہ اس کا اپنا کوئی مستقل وجود نہیں ہے ہر ممکن اپنے حدوث و پیدائش اور بقاء میں اپنے موثر کا محتاج ہے اور احتیاج و نیاز اس سے کبھی بھی جدا نہیں ہوتی۔

( وَاللَّـهُ الْغَنِيُّ وَأَنتُمُ الْفُقَرَاءُ ) ۴۷:۳۸

''اور خدا تو بے نیاز ہے اور تم (اس کے) محتاج ہو،،

کبھی مالکیت و سلطنت ، اعتباری اور قراردادی ہوتی ہے جس طرح لوگوںکوچیزوں کی ملکیت حاصل ہوتی ہے زید اپنے پاس موجود چیزوں کا صرف اس معنی میں مالک ہے کہ ان چیزوں کی ملکیت اور اختیار فرض کیا جاتا ہے اور وہ بھی اس صورت میں جب ملکیت کے اسباب میں سے کوئی سبب وجود میں آئے جس طرح عقد ، معاملہ ، ارث اور آزاد علاقوں سے لکڑیاں وغیرہ جمع کرنا ہے۔

فلاسفروں کے نزدیک ملکیت اس حالت اور کیفیت کو کہا جاتا ہے جو ایک چیز کے احاطہ کرنے سے حاصل ہو یہ نو اعراض میں سے ایک عرض ہے جسے مقولہ جدہ سے تعبیر کیا جاتا ہے جیسا کہ عمامے کا سر کو اور انگوٹھی کا انگلی کو گھیر لینے سے ایک صورت حاصل ہوتی ہے۔

الدین:

یہ جزاء اور حساب کے معنی میں آتا ہے ۔ سورہ فاتحہ میں ان دونوں میں سے جس معنی کا بھی ارادہ کیا جائے مناسب ہے کیونکہ حساب ، جزاء کا مقدمہ اورپیش خیمہ ہوتا ہے اور روز حساب یوم جزاء ہی کا نام ہے۔


تفسیر:

خالق کائنات نے یہ بیان فرمایا ہے کہ حمد و ثناء کی حقیقت صرف اللہ کی ذات سے مختص ہے اس لئے کہ :

(۱) کسی بھی فعل کے حُسن اور اس کے کمال کا منشاء فاعل کاحسن اور کمال ہوا کرتا ہے بایں معنی کہ اگر فاعل اچھا اور حسن ہے تو اس سے اچھے افعال صادر ہوتے ہیں اگر فاعل برا ہے تو اس سے برے افعال صادر ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کا مل مطلق ہے اس میں کسی قسم کے عیب اور نقص کا شائبہ تک نہیں پایا جاتا۔ لہٰذا اس کا ہر فعل بھی ہر لحاظ سے کامل اور بے عیب ہے۔

( قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَىٰ شَاكِلَتِهِ ) ۱۷:۸۴

''(اےرسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) ) تم کہہ دو کہ ہر ایک اپنے (اپنے) طریقہ پر کار گزاری کرتا ہے،،

اللہ تعالیٰ کے علاوہ باقی مخلوقات میں کوئی نہ کوئی بلکہ کئی ذاتی عیب و نقائص پائے جاتے ہیں لہٰذا لامحالہ ان کے افعال بھی نقص و عیب سے خالی نہیں ہوں گے معلوم ہوا خالص حسن اور اچھے افعال صرف اللہ تعالیٰ کی ذات سے مختص ہیں اور غیر خدا سے خالص حسن اچھے افعال کا صادر ہونا محال ہے اسی لئے حمد کی مستحق صرف اللہ کی ذات ہے اور غیر خدا کا لائق حمد ہونا محال ہے۔

اس حقیقت کی طرف سورہ فاتحہ میں جملہ : الحمدللہ کے ذریعے اشارہ کیا گیا ہے گزشتہ مباحث سے معلوم ہو چکا ہے کہ لظ ''اللہ،، نام ہے اس ذات مقدس کا جو تمام صفات مال کی جامع ہے امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے مروی ہے کہ آپ (ع) نے فرمایا:

''ایک مرتبہ میرے والد بزرگوار امام محمدباقر (علیہ السلام) کا ایک خچر گم ہو گیا۔ اس موقع پر آپ (ع) نے فرمایا: اگر اللہ تعالیٰ میرا خچر میری طرف لوٹا دے تو میں اللہ کا ایسا شکر ادا کروں گا جس پر وہ راضی ہو جائے زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ آپ (ع) کا خچر زین و لگام سمیت لا کر آپ (ع) کے حوالے کر دیا گیا آپ (ع) نے آسمان کی طرف سر اٹھایا اور صرف اتنا فرمایا : الحمدللہ۔ پھر فرمایا: میں نے اللہ تعالیٰ کی کوئی حمد و ثناء نہیں چھوڑی اور تمام تعریفوں کو اللہ کی ذات سے مختص کیا ہے حمد وثناء کی تمام قسمیں اس جملے میں داخل ہیں(۱)

____________________

۱) تفسیر البرہان ، ج ۱ ، ص ۲۹۔ اصول کافی ، باب الشکر ، ص ۳۵۶


نیز آپ (ع) نے فرمایا:

اگر اللہ اپنے کسی بندے کو کسی بڑی یا چھوٹی نعمت سے نوازے اور بندہ الحمدللہ کہے تو اس سے اللہ کا شکر ادا ہو جاتا ہے(۱)

(۲) عقول ، نفوس ، ارواح و اشباح غرض ہر ممکن کا کمال اول اس کا اپنا وجود ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر ممکن کا وجود ، اللہ کی طرف سے ہے اور وہی اس کا خالق و موجد ہے۔

دوسرا کمال وہ امور اور صفات ہیں جو کسی کی فضیلت اور امتیاز کاباعث بنتی ہیں اگر یہ صفات مخلوق کے ارادہ و ا ختیار سے باہر ہوں تو یہ بھی یقیناً اللہ کی طرف سے ہی ہوں گی جس طرح نباتات کا نشوونما پانا ، حیوانات کا اپنے فائدے اور نقصان کوسمجھنا اور انسان کا اپنے مقصد کو بیان کرنے پر قادر ہونا ہے اور جو افعال مخلوق کے ارادے اور اختیار سے صادر ہوں اگرچہ یہ اختیاری افعال کہلاتے ہیں لیکن درحقیقت ان کامنشاء اور منبع بھی اللہ کی ذات ہے اللہ تعالیٰ کی ذات ہی کار خیر کی توفیق دیتی اور راہ حق کی رہنمائی فرماتی ہے چنانچہ حدیث میں آیا ہے۔

''ان الله اولی بحسنات العبدمنه،، (۲)

''بندے کی نیکیوں میں بندے کی نسبت اللہ کا حصہ زیادہ ہے،،

اس حقیقت کی طرف جملہ ''رب العالمین،، کے ذریعے اشارہ کیا گیا ہے۔

(۳) ہر اچھا فعل جو اللہ سے صادر ہوتا ہے اس کا فائدہ اللہ کو نہیں ہوتا کیونکہ اللہ وہ کامل مطلق ہے جس کا مزید کامل ہونا یا کمال کو طلب کرنا محال ہے اور اللہ کا ہر فعل محض احسان ہے جو وہ اپنی مخلوق پر کرتا ہے جو اچھا کام خیر خدا سے صادر ہوتا ہے اگرچہ بعض اوقات ظاہراً دوسروں پر احسان سمجھا جاتا ہے لیکن درحقیقت یہ احسان اپنے اوپر کیا جاتا ہے ارشاد ہوتا ہے۔

( إِنْ أَحْسَنتُمْ أَحْسَنتُمْ لِأَنفُسِكُمْ ۖ ) ۱۷:۷

''اگر تم اچھے کام کروں گے تو اپنے فا ئدے کیلئے اچھے کام کرو گے،،


پس معلوم ہوا خالص احسان صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے اور وہی حمد و ثناء کا مستحق ہے کوئی دوسرا نہیںا س حقیقت کی طرف جملہ( الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ ) میں ا شارہ کیا جاتا ہے۔

اس مقام پر یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ کسی بھی ذات کے اختیاری فعل پر اس کی حمد وثناء کبھی اس کی نعمتوں کے شوق و رغبت اور خوف و عقاب سے ہٹ کر صرف اس ذات کی خوبی کے ادراک کی وجہ سے کی جاتی ہے اور کبھی محسن کے انعام و احسان اور رغبت و خوف کے پیش نظر اس کی حمد و ثناء کی جاتی ہے کبھی انعام و احسان کی رغبت و لالچ میں کسی کی تعریف کی جاتی ہے اور کبھی کسی کے خوف کی وجہ سے اس کی تعریف کی جاتی ہے۔ حمد کی پہلی وجہ کی طرف جملہ( الْحَمْدُ لِلَّـهِ ) کے ذریعے اشارہ کیا گیا ہے یعنی ہم اللہ کی اس لئے تعریف کرتے ہیں کہ وہ حمد کا مستحق ہے اور تمام صفات کمال کا جامع ہے ہر قسم کے عیب و نقص سے منزہ ہے۔

حمد کی دوسری وجہ کی طرف جملہ ''( رَبِّ الْعَالَمِينَ ) کے ذریعے اشارہ کیا گیا ہے کیونکہ اللہ ہی نے اپنے بندوں کو خلقت و ایجاد کی نعمت سے نوازا ہے اور ان کی تربیت کر کے انہیں کمال تک پہنچایا ہے۔

حمد کی تیسری وجہ کی طرف جملہ( الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ ) کے ذریعے اشارہ کیا گیا ہے کیونکہ رحمت ایک ایسی صفت ہے جو اللہ کی نعمتوں کی طرف رغبت اور اس سے طلب خیر کی متقاضی ہے۔

____________________

۱) اصول کافی ، باب الشکر ، ص ۳۵۶

۲) الوافی باب الخیر و القدر ، ج ۱ ، ص ۱۱۹


حمد کی چوتھی وجہ کی طرف جملہ( مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ) کے ذریعے اشارہ کیا گیا ہے کیونکہ جس کی طرف سب لوگوں کی باز گشت ہے وہ اس قابل ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور اس کی مخالفت سے احتراز کیا جائے۔

( مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ) کی تفسیر یہ بھی ہو سکتی ہے کہ روز قیامت وہ دن ہے جب اللہ کا عدل و انصاف اور رحم و کرم ظاہر ہو گا اور یہ دونوں ایسی حسین و جمیل نعمتیں ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی حمد کی جانی چاہئے جس طرح دنیا میں خلق کرنا ، تربیت دینا اور لوگوں پر احسان کرنا اللہ کے افعال اور اس کی صفات جمیلہ ہیں جن کی وجہ سے وہ حمد و ثنا کا مستحق ہے اسی طرح روز آخرت اس کی بخشش و مغفرت ، اطاعت گزاروں کو ثواب دینا اور گناہ گناروں کو سزا دینا یہ سب اس کے افعال اور اس کی صفات جمیلہ ہیں جن کے بموجب وہ حمد و ثناء کے لائق ہے۔

ہمارے اس بیان سے یہ بات بھی واضح ہو گئی کہ جملہ ''الرحمن الرحیم،، تاکید کی خاطر مکرر نہیں لایا گیا جیسا کہ بعض مفسرین کا خیال ہے بلکہ اس جملے میں حمد کے اللہ سے مختص ہونے کی وجہ بیان کی گئی ہے بسم اللہ میں بطور تبرک( الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ ) کا ذکر کرنا کافی نہ تھا اس لئے بعد میں اس کا لانا ناگزیر تھا۔

تحلیل آیت

( إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ )

''خدایا ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں،،


لغت

العبادۃ

لغت میں ''عبادت،، تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے:

(۱) اطاعت ،چنانچہ ارشاد ہوتا ہے۔

( أَلَمْ أَعْهَدْ إِلَيْكُمْ يَا بَنِي آدَمَ أَن لَّا تَعْبُدُوا الشَّيْطَانَ ۖ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ ) ۳۶:۶۰

''اے آدم کی اولاد کیا میں نے تمہارے پاس یہ حکم نہیں بھیجا تھا کہ (خبردار) شیطان کی پرستش نہ کرنا ، وہ یقینی تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے،،

آیت میں شیطان کی جس عبادت کی نہی کی گئی ہے اس سے مرد اس کی اطاعت ہے۔

(۲) خشوع و خضوع چنانچہ ارشاد ہوتا ہے۔

( فَقَالُوا أَنُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلِنَا وَقَوْمُهُمَا لَنَا عَابِدُونَ ) ۲۳:۴۷

''آپس میں کہنے لگے کیا ہم اپنے ہی ایسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں حالانکہ ان دونوں کی (قوم کی) قوم ہماری خدمت گار ہے ،،۔

اسی لئے ہر جگہ کو ''معبد،، کہا جاتا ہے جہاںل وگوں کی آمدورفت زیادہ ہو اور وہ لوگوں کے قدموں تلے دبتی رہے۔

(۳) پرستش و پوجا کرنا چنانچہ ارشادہوتا ہے:

( قُلْ إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّـهَ وَلَا أُشْرِكَ بِهِ ۚ ) ۱۳:۳۶

''کہہ دو کہ (تم مانو نہ مانو) مجھے تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں خدا ہی کی عبادت کروں اور کسی کو اس کا شریک نہ بناؤں،،۔

جب لفظ ''عبادت،، عام طور پر بولا جائے اور یہ ہر قسم کے قرینہ اور شاہد کے بغیر ہو تو اس سے عبادت کا آخری معنی ذہن میں آتا ہے۔


عبد: کبھی ''عبد،، انسان کو کہا جاتا ہے خواہ وہ آزاد ہی کیوں نہ ہو کیونکہ انسان اللہ کی مخلوق اور اس کا پروردہ ہے جو اپنے وجود اور تمام افعال میں اللہ تعالیٰ کے سامنے خاضع اور نیاز مند ہے اگرچہ وہ اس کے اوامرونواہی کی مخالفت کرے اور کبھی ''عہد،، زرخرید غلام کو کہا جاتا ہے کیونکہ یہ اپنے مالک کا مملوک اور اس کے زیر سلطنت ہوتا ہے کبھی لفظ ''عبد،، کے استعمال میں وسعت سے کام لیا جاتا ہے اور ہر اس شخص کو ''عبد،، کہا جاتا ہے جو کسی غیر معمولی چیز کو اہمیت دے اور اس کے علاوہ کوئی دوسری چیز اسے دکھائی نہ دیتی ہو چنانچہ امام حسین (علیہ السلام) فرماتے ہیں:

الناس عبید الدنیا و الدین لعق علیٰ السنتهم یحوطونه مادرت معایشهم و اذا محصوبالبلاء قل الدیا نون،، (۱)

''لوگ دنیا پرست ہیں اور دین ان کی زبانوں تک محدود ہے جب تک یہ آسودہ حال رہیں دین کا طواف کرتے ہیں اور جب آزمائش کا وقت آتا ہے تو متدین افراد بہت کم رہ جاتے ہیں،،۔

کبھی ''عبد،، متواضع اور عبادت گزار کو کہا جاتا ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:

( أَنْ عَبَّدتَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ ) ۲۶:۲۲

''کہ آپ نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے،،۔

( عَبَّدتَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ ) کا مطلب ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو اپنا اطاعت گزار بنا دیا ہے جو تیرے امرو نہی کی مخالفت نہیں کرتے۔

____________________

(۱) بحار ، ج ۱۰ ، ص ۱۸۹


الاستعانتہ

استعانت مدد طلب کرنے کو کہتے ہیں یہ لفظ کبھی خود اور کبھی 'ب، کے ذریعے متعدی ہوتا ہے چنانچہ استعنتہ،، بھی کہا جاتا ہے اور''استعنت به ،، بھی کہا جاتا ہے یعنی میں نے اس سے مدد طلب کی۔

اعراب:

دونوں جملوں( إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ) میں ''ایاک،، کو جو مفعول ہے حصر کی خاطر مقدم کیا گیا ہے اور آیت میں غائب سے خطاب کی طرف التفات سے کام لیا گیا ہے(۱) اس میں دو راز ہو سکتے ہیں:

(۱) گزشتہ آیات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ تمام موجدات کامالک اور مزتی ہے اور زندگی کا ہر کام اس کی قدرت سے انجام پاتا ہے یہ امر اس بات کا متقاضی ہے کہ کائنات کی ہر شئی اللہ کے سامنے حاضر ہو اور اللہ ، انسان اور اس کے تمام اعمال کا احاطہ کئے ہوئے ہو تاکہ روز قیامت اطاعت گزاروں اور معصیت کاروں کو جزاء و سزا دے سکے اس کا تقاضا یہ ہے کہ بندہ اللہ کے سامنے اپنی حاضری دے اور اس سے مخاطب ہو۔

(۲) عبادت کی حقیقت یہ ہے کہ بندہ اپنے خالق کے سامنے اسے اپنا رب سمجھ کر متواضع ہو اور ربوبیت کا تقاضا یہ ہے کہ مربی ا پنے پروردہ کے سامنے ہو۔ یہی حکم استعانت کا بھی ہے کیونکہ انسان کا اپنے رب کا محتاج ہونا اور اس کا مستقل نہ ہونا اس امر کا متقاضی ہے کہ معبود ، عبد کے سامنے ہوتا کہ اس کی طرف سے مدد ہو سکے۔

ان دو نکتوں کے پیش نظر سورہ حمد میں غایب سے خطاب کی طرف رخ کیا گیا اور( إِيَّاكَ نَعْبُدُ ) کہا گیا ۔ پس بندہ اپنے رب کے سامنے حاضر ہو اس سے غائب نہیں۔

____________________

(۱) علم معنی بیان میں کسی خاص مقصد کے تحت غائب کی ضمیرا ستعمال کرتے کرتے اچانک مخاطب کی ضمیر لانے یا مخاطب کے بعد غائب کی ضمیر لائے ، یعنی ایک ضمیر کو چھوڑ کر دوسری ضمیر سے استفادہ کرنے کو ''التفات،، کہا جاتا ہے۔ (مترجم)


گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنی عظمت اور بزرگی بیان فرمائی اس کے بعد اس آیت( إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ) کی تلاوت کی تلقین فرمائی اور یہ کہ اس آیت کے مدلول و مفہوم کا اعتراف کریں یعنی ہم سوائے خدا کے کسی اور کی عبادت و پرستش نہیں کرتے اور غیر اللہ سے مدد طلب نہیں کرتے اس خدا کے علاوہ تمام موجودات ذاتاً فقیر، محتاج اور عاجز ہیں بلکہ وہ لاشئی اور ہیچ ہیں مگر یہ کہ رحمت الٰہی انہیں شامل حال ہو۔

جس موجود و مخلوق کی یہ حالت ہو وہ اس قابل نہیں کہ اس کی عبادت کی جائے یا اس سے مدد طلب کی جائے اور تمام ممکنات ، اگرچہ کمال و نقص کے اعتبار سے ان کے درجے مختلف ہیں صفت عجز میں مشترک ہیں جو ایک ممکن کا لازمہ ہے اور یہ کہ سب ممکنات اللہ کے حکم اور اس کے ارادے سے موجود ہیں۔

( أَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَالْأَمْرُ ۗ تَبَارَكَ اللَّـهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ ) ۷:۵۴

''دیکھو حکومت اور پیدا کرنا بس خاص اسی کیلئے ، وہ خدا جو سارے جہاں کا پروردگار ہے ، بڑا برکت والا ہے،،

( وَلِلَّـهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَإِلَى اللَّـهِ الْمَصِيرُ ) ۲۴:۴۲

''اور سارے آسمان اور زمین کی سلطنت خاص خدا ہی کی ہے اور خدا ہی کی طرف (سب کو) لوٹ کر جانا ہے،،

اللہ کے ساتھ اس کی سلطنت میں کون ٹکر لے سکتا ہے اور اس کے امرو حکم کے سامنے کون آ سکتا ہے عطا کرنے والی ذات بھی وہی ہے اور روکنے والی ذات بھی وہی ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جو چاہے حکم فرماتا ہے پس مومن اللہ کے علاوہ کسی کی عبادت نہیں کرتا اور نہ اس کے غیر سے مدد مطلب کرتا ہے کیونکہ غیر خدا چاہے کوئی بھی ہو ہر کام اور ہر بات میں اللہ کا محتاج ہے معبود کوہر حالت میں مستغنی اور بے نیاز ہونا چاہئے اس لئے کہ فقیر اپنے جیسے فقیروں کی کیسے عبادت کرسکتا ہے۔

خلاصہ کلام یہ کہ اللہ پر ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان سوائے اللہ کے کسی کی عبادت نہ کرے اور اللہ کے علاوہ کسی کے پاس اپنی حاجت لے کر نہ جائے غمیر خدا پر بھروسہ نہ کرے اور صرف اللہ سے مانگے ورنہ شرک باللہ اور اس کی سلطنت میں کسی اور کی حاکمیت کو تسلیم کرنے کے مترادف ہو گا۔

( وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ ) ۱۷:۲۳

''اور تمہارے پروردگار نے تو حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی دوسرے کی عبادت نہ کرنا،،


آیتہ ''الحمد،، کے بارے میں بحث دوم

٭ العبادۃ و التالہ

٭ عبادت اور اطاعت

٭ عبادت اور خشوع

٭ غیر اللہ کو سجدہ

٭ آدم (ع) کو سجدہ ۔۔۔۔۔۔ اقوال علمائ

٭ شرک باللہ کیا ہے ؟

٭ اسباب عبادت

٭ صرف اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتا ہے

٭ شفاعت

٭ امامیہ کے نزدیک شفاعت کی احادیث

٭ اہلسنت کے نزدیک شفاعت کی احادیث

٭ تحلیل آیتہ ،اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ۔

٭ قرات

٭ لغت ، الہدایتہ ، الصراط ، الاستقامہ ، الانعام ، الغضب ، اضلال

٭ اعراب ، الضالین

٭ تفسیر----- ٭ ہدایت عامہ

٭ ہدایت خاصہ


العبادۃ و التالہ

اس میں کوئی مسلمان شک نہیں کر سکتا کہ ''عبادت،، بمعنی ''پرستش،، صرف اللہ سے مختص ہے اور اس سے قبل یہ بتایا جا چکا ہے کہ جب بھی یہ لفظ (عبادت) بولا جائے اس کا معنی ''پرستش،، ہی ذہن میں آتا ہے اور یہی وہ توحید ہے جس کی تبلیغ کیلئے اللہ کی طرف سے انبیاء (ع) بھیجے گئے اور آسمان سے کتابیں نازل کی گئیں ارشادباری ہے:

( قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّـهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّـهِ ۚ ) ۳:۶۴

''(اےرسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم)) تم (ان سے) کہو کہ اے اہل کتاب تم ایسی (ٹھکانے کی) بات پر تو آؤ جو ہمارے اورتمہارے درمیان یکساں ہے کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ بنائیں اور خدا کے سوا ہم میں سے کوئی کسی کو اپنا پروردگار نہ بنائے،،

پس ایمان بخدا اور غیر خدا کی عبادت یہ دونوں جمع نہیں ہو سکتے غیر خدا کی عبادت حرام ہے چاہے یہ عبادت ، توحید فی الذات سے انکار اور متعدد خالقوں کے عقیدے کی بنیاد پر ہو یا اس عقیدے کی وجہ سے کی جائے کہ مخلوق اور اللہ میں فاصلہ بہت زیادہ ہے اور لوگوں کی دعا اللہ تک نہیں پہنچ سکتی لہٰذا اس خالق کائنات کے علاوہ ایک یا کئی دیگر خداؤں کے محتاج ہیں جو خالق اور لوگوں کے درمیان واسطہ بن سکیں اور ان کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کر سکیں خدا کے مقابلے میں ان خداؤں کی وہی حیثیت ہے جو بادشاہ کے مقابلے میں اس کے حواریوں کی ہوتی ہے چونکہ بادشاہ اور عوام میں فاصلہ زیادہ ہوتا ہے اور عام لوگوں کی اس تک رسائی نہیں ہو سکتی اس لئے بادشاہ کے حواریوں کو واسطہ قرار دیتے ہیں اور انہی کے ذریعے اپنی حاجات اور ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے کلام مجید میں ان دونوں عقیدوں کو باطل قرار دیا ہے چنانچہ پہلے عقیدے کے ابطال میں خالق فرماتا ہے۔

( لَوْ كَانَ فِيهِمَا آلِهَةٌ إِلَّا اللَّـهُ لَفَسَدَتَا ۚ ) ۲۱:۲۲

'' اگر (بفرض محال) زمین اور آسمان میں خدا کے سوا چند معبود ہوتے تو دونوں کب کے بربادہو گئے ہوتے،،


( وَمَا كَانَ مَعَهُ مِنْ إِلَـٰهٍ ۚ إِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ إِلَـٰهٍ بِمَا خَلَقَ وَلَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ سُبْحَانَ اللَّـهِ عَمَّا يَصِفُونَ ) ۲۳:۹۱

''اور نہ اس کے ساتھ کوئی اور خدا ہے (اگر ایسا ہوتا تو) اس وقت ہر خدا اپنی اپنی مخلوق کو لئے پھرتا ہے اور یقیناً ایک دوسرے پر چڑھائی کرتے (اور خوب جنگ ہوتی) جو جو باتیں یہ لوگ (خدا کی نسبت) بیان کرتے ہیں اس سے خدا پاک و پاکیزہ ہے،،۔

دوسرا عقیدہ جس کی رو سے لوگ واسطہ کے قائل ہیں اور الٰہی نظام کو بادشاہوں کے نظام سے قیاس کرتے ہیں اللہ نے مختلف بیانات کے ذریعے اس عقیدے کو باطل قرار دیا ہے بعض آیات میں اس غلط دعویٰ کی دلیل کا مطالبہ کیا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اس عقیدے کی کوئی دلیل نہیں ہے ارشاد ہوتا ہے:

( قُلْ هَاتُوا بُرْهَانَكُمْ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ) ۲۷:۶۴

''تو کیا خدا کے سامنے کوئی اور معبود بھی ہے (ہرگز نہیں اےرسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم)) تم (ان مشرکین سے) کہہ دو کہ اگر تم سچے ہوتو اپنی دلیل پیش کرو،،

( قَالُوا نَعْبُدُ أَصْنَامًا فَنَظَلُّ لَهَا عَاكِفِينَ ) ۲۶:۷۱

''وہ بوگے ہم بتوں کی عبادت کرتے ہیں اور ان ہی کے مجاور بن جاتے ہیں،،

( أَوْ يَنفَعُونَكُمْ أَوْ يَضُرُّونَ ) : ۷۳

''یا تمہیں کچھ نفع یا نقصان پہنچا سکتے ہیں،،

( قَالُوا بَلْ وَجَدْنَا آبَاءَنَا كَذَٰلِكَ يَفْعَلُونَ ) : ۷۴

''کہنے لگے ( کہ یہ سب کچھ تو نہیں) بلکہ ہم نے اپنے باپ داداؤں کو ایسا ہی کرتے پایا،،


کبھی اللہ تعالیٰ ان (منکرین توحید) کو ان چیزوں کی طرف متوجہ فرماتا ہے جن کو وہ اپنے حواس کے ذریعے درک کر سکتے ہیں اور کہ یہ لوگ جن بتوں کی پوجا کرتے ہیں وہ کسی کو نہ فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان اور جو نفع ، نقصان ، لینے دینے ، مارنے اور زندہ کرنے کا اختیار نہیں رکھتا وہ ایک کمزور مخلوق ہی ہو سکتی ہے وہ اس قابل نہیں کہ اسے معبود بنایا جائے ارشاد ہوتا ہے:

( قَالَ أَفَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ مَا لَا يَنفَعُكُمْ شَيْئًا وَلَا يَضُرُّكُمْ ) ۲۱:۶۶

''ابرہیم نے کہا تو کیا تم لوگ خدا کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کی پرستش کرتے ہو جو نہ تمہیں کچھ نفع ہی پہنچا سکتے ہیں اور نہ تمہارا کچھ نقصان ہی کر سکتے ہیں،،

( أُفٍّ لَّكُمْ وَلِمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ ۖ أَفَلَا تَعْقِلُونَ ) : ۶۷

''تف ہے تم پر اور اس چیز پر جسے تم خدا کے سوا پوجتے ہو تو کیا تم (اتنا بھی) نہیں سمجھتے،،

( قُلْ أَتَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ مَا لَا يَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا نَفْعًا ۚ ) ۵:۷۶

''(اےرسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) تم ) کہہ دو کہ کیا تم خدا (جیسے قادر وتوانا) کو چھوڑ کر ایسی (ذلیل) چیز کی عبادت کرتے ہو جس کو نہ تو نقصان ہی کا اختیار ہے اور نہ نفع کا،،۔

( أَلَمْ يَرَوْا أَنَّهُ لَا يُكَلِّمُهُمْ وَلَا يَهْدِيهِمْ سَبِيلًا ۘ اتَّخَذُوهُ وَكَانُوا ظَالِمِينَ ) ۷:۱۴۸

''(افسوس ) کیا ان لوگوں نے اتنا بھی نہ دیکھا کہ وہ نہ تو ان سے بات ہی کر سکتا ہے نہ کسی طرح کی ہدایت ہی کر سکتا ہے (خلاصہ) ان لوگو نے اسے اپنا معبود بنا لیا اور اپنے اوپر ظلم کرتے تھے،،

مخلوق کا عبادت و پرستش کے قابل نہ ہونا ا یک عقلی اور فطری قانون ہے جس کی طرف اللہ تعالیٰ ان آیات کے ذریعے متوجہ فرما رہا ہے اور اس قانون سے کوئی موجود ، ممکن اور محتاج مستثنیٰ نہیں اگرچہ وہ نبی ہی کیوں نہ ہو۔


( وَإِذْ قَالَ اللَّـهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَأَنتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُونِي وَأُمِّيَ إِلَـٰهَيْنِ مِن دُونِ اللَّـهِ ۖ قَالَ سُبْحَانَكَ مَا يَكُونُ لِي أَنْ أَقُولَ مَا لَيْسَ لِي بِحَقٍّ ۚ إِن كُنتُ قُلْتُهُ فَقَدْ عَلِمْتَهُ ۚ تَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِي وَلَا أَعْلَمُ مَا فِي نَفْسِكَ ۚ إِنَّكَ أَنتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ ) ۵:۱۱۶

''اور وہ (وقت بھی یاد کرو) جب (قیامت میں عیسیٰ سے) خدا فرمائے گا کہ (کیوں) اے مریم کے بیٹے عیسیٰ کیا تم نے لوگوں سے یہ کہہ دیا تھا کہ خدا کو چھوڑ کر مجھ کو اور میری ماں کو خدا بنالو ، عیسیٰ عرض کریں گے سبحان اللہ میری تو یہ مجال نہ تھی کہ میں منہ سے ایسی بات نکالوں جس کا مجھے کوئی حق نہ ہو (اچھا) اگر میں نے کہا ہو گا کہ تجھ کو تو ضرور معلوم ہو گا کیونکہ تو میرے دل کی (سب بات ) جانتا ہے ہاں البتہ میں تیرے دل کی بات نہیں انتا (کیونکہ) اس میں تو شک ہی نہیں کہ تو ہی غیب کی باتیں خوب جانتا ہے،،

( مَا قُلْتُ لَهُمْ إِلَّا مَا أَمَرْتَنِي بِهِ أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ رَبِّي وَرَبَّكُمْ ۚ ) ۵:۱۱۷

؟؟ تو نے مجھے جو کچھ حکم دیا اس کے سوا تو میں نے ان سے کچھ بھی نہیں کہا یہی کہ خدا ہی کی عبادت کرو جو میرا اور تمہارا سب کا پالنے والا ہے،،

کبھی اس اعتقاد کو اس دلیل سے باطل قرار دیا کہ اللہ اپنے بندوں کے نزدیک ہے ، ان کی سرگوشیوں کو سنتا اور ان کی پکار پر انہیں جواب دیتا ہے ان کی تربیت اور سرپرستی اسی کے ہاتھ میں ہے چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:

( وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ ) ۵۰:۱۶

''اور ہم تو اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں،،

( أَلَيْسَ اللَّـهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ ۖ ) ۳۹:۳۶

''کیا خدا اپنے بندوں (کی مدد) کیلئے کافی نہیں ہے (ضرور ہے)،،

( ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ) ۴۰:۶۰

''تم مجھ سے دعائیں مانگو میں تمہاری (دعا) قبول کروں گا،،


( وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ ۚ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ ) ۶:۱۸

''وہی اپنے تمام بندوں پر غالب ہے اور وہ واقف کار حکیم ہے،،

( قُلْ إِن تُخْفُوا مَا فِي صُدُورِكُمْ أَوْ تُبْدُوهُ يَعْلَمْهُ اللَّـهُ ۗ وَيَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ وَاللَّـهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ) ۳:۲۹

''(اےرسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم)) تم (ان لوگوں سے) کہہ دو کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تم خواہ اسے چھپاؤ یا ظاہر کرو (بہرحال) خدا تو اسے جانتا ہے اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے وہ (سب کچھ) جانتا ہے اور خداہر چیز پر قادر ہے،،۔

( وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّـهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِن يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ ۚ ) ۱۰:۱۰۷

'' اور (یاد رکھو) اگر خدا کی طرف سے تمہیں کوئی برائی چھو بھی گئی تو اس کے سوا کوئی اس کا دفع کرنے والا نہ ہو گا۔ اور اگر تمہارے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرے تو پھر اس کے فضل (وکرم) کا پلٹنے والا بھی کوئی نہیں،،

( وَإِن يَمْسَسْكَ اللَّـهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ ----- فَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ) ۶:۱۷

''اور اگر تمہیں کچھ فائدہ پہنچائے تو بھی (کوئی روک نہیں سکتا کیونکہ) وہ ہر چیز پر قادر ہے،،

( اللَّـهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَن يَشَاءُ وَيَقْدِرُ ۚ ) ۱۳:۲۶

''اور خدا ہی جس کیلئے چاہتا ہے روزی کو بڑھا دیتا ہے اور (جس کیلئے چاہتا ہے) تنگ کرتا ہے،،

ان اللہ ھو الرزاق دینے والا زور آور (اور) زبردست ہے،،

( لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ ) ۴۲:۱۱

''کوئی چیز اس کے مثل نہیں اوروہ ہر چیز کو سنتا دیکھتا ہے ،،


( أَلَا إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُّحِيطٌ ) ۴۱:۵۴

''سن رکھو وہ یقیناً ہر چیز پر حاوی ہے،،

بنا برایں خدا اپنےی مخلوق سے دور نہیں اس کے اور اس کی مخلوق کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں لوگوں کے تمام معاملات اس کے ہاتھ میں ہیں لوگ کسی ایسے واسطے کے محتاج نہیں جو ان کی حاجات اللہ تک پہنچائے تاکہ یہ واسطے عبادت میں شریک ہو جائیں بلکہ سب کے سب لوگ اس بات میں مشترک ہیں کہ اللہ ہی ان کا پروردگار ہے اور ان کے تمام معاملات اس کے ہاتھ میں ہیں۔

( مَا يَكُونُ مِن نَّجْوَىٰ ثَلَاثَةٍ إِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ وَلَا خَمْسَةٍ إِلَّا هُوَ سَادِسُهُمْ وَلَا أَدْنَىٰ مِن ذَٰلِكَ وَلَا أَكْثَرَ إِلَّا هُوَ مَعَهُمْ أَيْنَ مَا كَانُوا ۖ ) ۵۸:۷

''جب تین (آدمیوں) کا خفیہ مشورہ ہوتا ہے تو وہ (خدا) ان کا ضرور چوتھا ہے اور جب پانچ کا (مشورہ) ہوتا ہے تو وہ ان کا چھٹا ہے اور اس سے کم ہوں یا زیادہ اور چاہے جہاں کہیں ہو وہ ان کے ساتھ ضرور ہوتا ہے،،

( كَذَٰلِكَ اللَّـهُ يَفْعَلُ مَا يَشَاءُ ) ۳:۴۰

'' اسی طرح خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے،،

( إِنَّ اللَّـهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيدُ ) ۵ :۱

''بیشک خدا جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے،،

خلاصہ کلام یہ کہ توحید در عبادت کے بارے میں کوئی مسلمان شک نہیں کر سکتا اور یہ وہ امتیاز ہے جو موحد انسان کو حاصل ہے جو غیر اللہ کی عبادت کرے اور اسے اپنا پروردگار بنائے وہ کافرو مشرک ہے:


عبادت اور اطاعت

اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری واجب اوراس کی مخالفت عقلاً مستوجب عذاب ہے قرآن مجید میں بار بار اللہ تعالیٰ نے اطاعت کے عوض ثواب اور معصیت کی پاداش میں عذاب دینے کا وعدہ فرمایا ہے۔

غیر اللہ کی اطاعت کئی قسم کی ہوتی ہے۔

اول: غیر اللہ کی ایک عبادت وہ ہے جو اللہ کے حکم اور اس کی اجازت سے ہو جس طرح رسول اکرم (ص) اور ائمہ اطہار (ع) کی اطاعت ہے درحقیقت یہ اللہ ہی کی اطاعت ہے عقلی طورپر اطاعت خدا کی طرح یہ اطاعت بھی واجب ہے:

( مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّـهَ ۖ ) ۴:۸۰

''جس نے رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کی اطاعت کی تو اس نے خدا کی اطاعت کی،،

( وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّـهِ ۚ ) ۴:۶۴

''اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس واسطے کہ خدا کے حکم سے لوگ اس کی اطاعت کریں،،

یہی وجہ ہے کہ جہاں اللہ نے اپنی اطاعت کا حکم دیا ہے وہاں ساتھ ساتھ رسول (ص) کی اطاعت کا بھی حکم دیا ہے ارشاد ہوتا ہے:

( وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا ) ۳۳:۷۱

''اور جس شخص نے خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کی وہ تو اپنی مراد کو خوب اچھی طرح پہنچ گیا ہے،،

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّـهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ ۖ ) ۴:۵۹

'' اے ایماندار و خدا کی اطاعت کرو اور رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کی اور جو تم میں سے صاحبان حکم ہوں ا ن کی اطاعت کرو،،


ثانی: غیر اللہ کی دوسری عبادت وہ ہے جس سے منع کیا گیا ہے جس طرح شیان اور ہر اس شخص کی اطاعت ہے جو اللہ کی معصیت کا حکم دے اس اطاعت کے شرعی طور پر حرام اور عقلی طور پر قبیح ہونے میں بھی کوئی شک نہیں بلکہ بعض اوقات یہی اطاعت کفر اور شرک قرار پاتی ہے ، جب کفر یا شرک کا حکم دیا جائے اور اس پر عمل کیا جائے:

( يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ اتَّقِ اللَّـهَ وَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَالْمُنَافِقِينَ ۗ ) ۳۳:۱

''اے نبی خدا ہی سے ڈرتے رہو اور کافروں اور منافقوں کی بات نہ مانو،،

( فَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ وَلَا تُطِعْ مِنْهُمْ آثِمًا أَوْ كَفُورًا ) ۷۶:۲۴

''تم اپنے پروردگار کے حکم کے انتظار میں صبر کئے رہو ، اور ان لوگوں میں سے گنہگار اور ناشکرے کی پیروی نہ کرو۔

( وَإِن جَاهَدَاكَ عَلَىٰ أَن تُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۖ ) ۳۱:۱۵

''اگر تیرے ماں باپ تجھے اس بات پر مجبور کریں کہ تو میرا شریک ایسی چیز کو قرار دے جس کا تجھے کچھ علم نہیں توتو (اس میں) ان کی اطاعت نہ کر۔

ثالث: تیسری اطاعت وہ ہے جس کا نہ حکم دیا گیا ہے اور نہ اس سے روکا گیا ہے یہ اطاعت واجب بھی نہیں اور حرام بھی نہیں بلکہ جائز ہے۔

عبادت اور خشوع

اس میں کوئی شک نہیں کہ مخلوق کو اپنے خالق کے سامنے متواضع ہو کر پیش ہونا چاہئے اس بات کا عقل بھی حکم دیتی ہے اور شرع نے بھی اس کا حکم دیا ہے جہاں تک مخلوق کے سامنے تواضع سے پیش آنے کا تعلق ہے اس کی بھی کئی قسمیں ہیں۔


(۱) ایسی مخلوق سے تواضع کی جائے جس کی اللہ سے کوئی خاص نسبت نہیں جس طرح شاگرد اپنے استاد، بیٹا اپنے والد اور خادم اپنے آقا سے تواضع کیساتھ پیش آتا ہے یا اس قسم کی اور تواضع جس کا عام لوگوں میں رواج ہے اس تواضع کے جواز میں بھی کوئی شک نہیں بشرطیکہ شارع نے اس سے منہ نہ فرمایا ہو پس غیر اللہ کو سجدہ کرنا جائز نہیں اس لئے کہ اس سجدہ سے منع کیا گیا ہے:

مخلوق کے ساتھ تواضع سے پیش آنے کا جائزہ ہونا ضرورت کا تقاضا ہے اور اس میں شرک کامعمولی سابھی شائبہ نہیں چنانچہ خ الق کا ارشاد ہے:

( وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا ) ۱۷:۲۴

''اور ان کے سامنے نیاز سے خاکساری کاپہلو جھکائے رکھو اور (ان کے حق میں) دعا کرو کہ اے میرے پالنے والے جس طرح ان دونوں نے میرے چھٹپنے میں پرورش کی ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما،،

ملا خطہ فرمائیں کیا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے والدین کے سامنے اظہار ذلت کرنے کا حکم دے کر ان کی عبادت کا حکم دیا ہے ؟ جبکہ اس سے قبل غیر اللہ کی عبادت سے منع فرمایا گیا ہے۔

( وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ ) ۱۷:۲۳

''اور تمہارے پروردگار نے تو ہی دا ہے کہ اس کے سوا کسی دوسرے کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ سے نیکی کرنا،،

نیز ملاخطہ ہو کہ شانہ ذلت کو جھکانا (جس طرح چھوٹے اور کمزور پرندے جھکایا کرتے ہیں) وہی احسان ہے جس کا آیت میں حکم دیا گیا ہے اور اسے عبادت کے مقابلے میں قرار دیا ہے معلوم ہوا ہر خشوع و خضوع اور اظہار ذلت شرک نہیں ہوتا ، تاکہ یہ حرام قرار پائے۔


(۲) دوسرا خشوع و خضوع اور اظہار تواضح وہ ہے جو اس خیال سے کی مخلوق سے کیا جائے کہ اس مخلوق کو اللہ سے کوئی خاص نسبت ہے جس کی وجہ سے یہ مخلوق مستحق خشوع و خضوع ہے یہ عقیدہ درحقیقت باطل ہے اس خشوع و خضوع کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہیں دی جس طرح بعض باطل اور فاسد مذاہب کے پیروکار اپنے پیشوایان مذاہب کا کرتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بدعت ہے یعنی ایک ایسے عمل کو دین میں شامل کرنے کے مترادف ہے جو درواقع دین سے خارج ہے اور اس کی تشریع کہا جاتا ہے جو ادلہ اربعہ(۱) کی رو سے حرام اور ذات خدا پر بہتان ہے۔

( فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّـهِ كَذِبًا ) ۱۸:۱۵

''اور جو شخص خدا پر جھوٹ بہتان باندھے اس سے زیادہ ظالم اور کون ہو گا،،

(۳) تیسرا خشوع و خضوع وہ ہے جو اللہ کے حکم پر کسی مخلوق کے سامنے اختیار کیا جائے جس طرح رسول اللہ (ص) اور ائمہ ہدی (ع) اور دوسرے مومنین ہیں بلکہ بعض ایسی اشیاء ہیں جن کو اللہ سے کوئی خاص نسبت حاصل ہے جیسے مسجد ، قرآن اور حجراسود اور دوسرے شعائرالٰہی ہیں اس قسم کا تواضع اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ عمل ہے۔

( فَسَوْفَ يَأْتِي اللَّـهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُ أَذِلَّةٍ عَلَى الْمومنينَ أَعِزَّةٍ عَلَى الْكَافِرِينَ ) ۵:۵۴

''عنقریب ہی خدا ایسے لوگوں کو ظاہر کر دے گا جنہیں خدا دوست رکھتا ہو گا اور وہ اس کو دوست رکھتے ہوں گے ایمانداروں کے ساتھ منسکر (متواضع ) (اور) کافروں کے ساتھ کڑے،،

____________________

(۱) قرآن سنت ، اجماع اور عقل


خشوع کی یہ قسم درحقیقت اللہ تعالیٰ کے سامنے خشوع و خضوع اور اس کی عبادیت و بندگی اختیار کرنے کے مترادف ہے ظاہر ہے جو شخص اللہ تعالیٰ کی واحدنیت اور یگانگت کا معتقد ہو اس بات کااعتقاد رکھتا ہو کہ زندگی دینا ، مارنا ، خلق کرنا، رزق دینا ، بندوں کو کچھ عطا کرنا ، ان سے لے لینا ، لوگوں کوبخشنا اور عذاب کرنا اللہ ہی کے قبضہ قدرت میں ہے اور یہ عقیدہ بھی رکھتا ہو کہ نبی اکرم (ص) اور آپ (ص) اللہ کے لائق عزت و تکریم بندے ہیں جو کسی بات میں اللہ سے سبقت نہیں لے جاتے اور اس کے ہر حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔

( عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ ﴿﴾ لَا يَسْبِقُونَهُ بِالْقَوْلِ وَهُم بِأَمْرِهِ يَعْمَلُونَ ) (۲۱: ۲۶۔۲۷)

'' خدا کے معزز بندے ہیں یہ لوگ اس کے سامنے بڑھ کر بول نہیں سکتے اور یہ لوگ اسی کے حکم پر چلتے ہیں،،

ان ہستیوں (ع) کو اللہ تک پہنچنے کا وسیلہ اور ذریعہ بنائے ، باذن اللہ ان (ع) کی شفاعت ، عظمت اور شان کا قائل ہو تو وہ دائرہ ایمان سے خارج نہیں ہوتا اور یہ نہیں کہا جائے گا کہ اس شخص نے غیر اللہ کی عبادت کی ہے اس لئے کہ ہر مسلمان بخوبی جانتا ہے کہ رسول اللہ (ص) حجراسود کو بوسہ دیا کرتے تھے اور اسے اپنے ہاتھ سے مس کر کے اس کی عزت و تکریم فرمایا کرتے تھے آپ (ع) مومنین ، شہداء اور دوسرے نیک بندوں کی قبروں کی زیارت فرماتے تھے انہیں سلام کرتے اور ان کیلئے دعا فرماتے تھے

آپ (ص) کے بعد صحابہ کرام اور تابعین بھی اس سنت پر عمل پیرا رہے یہ حضرت رسول اللہ (ص) کی قبر کی زیارت کرتے اور ا سے متبرک سمجھتے بوسہ دیتے اور رسول اللہ (ص) سے اسی طرح شفاعت طلب کرتے جس طرح زندگی میں کیا کرتے تھے اسی طرح ائمہ دین اور صالحین اولیائے کرام کی قبروں کی زیارت اور احترام کرتے تھے اس عمل کو کسی بھی صحابی نے برا اور حرام نہیں کہا اور نہ تابعین یا علمائے کرام میں سے کسی نے اس عمل کو ناجائز سمجھا یہاں تک کہ احمد بن عبدالجلیم بن عبدالسلام بن عبداللہ بن تیمیہ حرانی ظاہر ہوا جس نے ان قبروں میں دفن ہستیوں سے شفاعت طلب کرنا حرام قرار دیا یہاں تک کہ اس نے ہر اس شخص کی سخت مذمت کی جس نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی قبر مطہر کی زیارت کی ، بطرو تبرک اس کا بوسہ لیا یا اسے مس کیا بلکہ اس نے اس عمل کو بھی شرک اصغر اور کبھی شرک اکبر گردانا۔


جب اس زمانے کے تمام علمائے کرام نے دیکھا کہ ابن تیمیہ اپنے اس عیقدے کے نتیجے میں دین اسلام کے مسلمات اور ضروریات مسلمین کی مخالفت کر رہا ہے کیونکہ ان علمائے کرام نے آپ (ص) سے روایت نقل کی ہے جس میں آپ (ص) نے بالعموم تمام مومنین اور بالخصوص اپنی زیارت کی ترغیب و تشویق دلائی ہے اور فرمایا ہے۔

من زارنی بعد مماتی کان کمن زارنی فی حیاتی

''جس نے میری وفات کے بعد میری زیارت کی گویا اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی،،۔

اس مضمون کی اور روایات بھی مروی ہیں(۱) جب علماء نے ابن تیمیہ کے اس خلاف اسلام عمل کو دیکھا(۱) تو انہوں نے اس سے برات اور نفرت کا اظہار کیا ، اس کی گمراہی کا فیصلہ دے دیا ، اس پر توبہ کو واجب قرار دیا اور اسے ہر حالت میں یا توبہ نہ کرنے کی صورت میں قید کرنے کا حکم صادر کر دیا۔

اگر ابن تیمیہ کے اس عمل کو مسلمانوں میں اختلاف وانتشار کا بیج بونے کا ایک سوچا سمجھا منصوبہ نہ کہا جائے توا س کی اس غلط فہمی کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اس کے خیال میں یہ اعمال (زیارات وغیرہ) شرک اور غیر اللہ کی عبادت شمار ہوتے ہیں ابن تیمیہ کو یہ معلوم نہیں کہ جو لوگ اس قسم کے اعمال بجا لاتے ہیں وہ اللہ کی توحید اور اس کی یگانگی کے معتقد ہیں اور یہ کہ اللہ کے علاوہ کوئی دوسراخالق و رازق نہیں خلق اور امر صرف اس کی ذات سے مختص ہے ان اعمال کا مقصد صرف اور صرف شعائر الٰہی کی تعظیم ہے اس قبل ہم بتا چکے ہیں کہ ان ہستیوں کی تعظیم و تکریم درحقیقت اللہ کی تعظیم و تکریم ہے اور اللہ کے سامنے خشوع و خضوع اختیار کرنے اور اس کا تقرب حاصل کرنے کے مترادف ہے۔

___________________

(۱) قبروں کی زیارت جائز ہونے کے متعلق روایات ضمیمہ نمبر ۱۷ میں ذکر کی گئی ہیں۔


ان اعمال میں شرک کا معمولی سا شائبہ تک نہیں کیونکہ شرک غیر اللہ کی عبادت کا نام ہے اور کسی کی عبادت کا مطلب کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کو قابل پرستش رب سمجھ کر اس کے سامنے خشوع و خضوع اختیار کیا جائے اس معنی میں عبادت کجا اورنبی (ص) اور آپ (ص) کے اوصیاء (ع) کو اللہ کے مکرم بندے مانتے ہوئے نبی کریم (ص) اور آپ (ص) کے اوصیاء (ع) کی تعظیم و تکریم کجا؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ کوئی مسلمان کسی نبی یا اس کے وصی کی عبادت نہیں کرتا چہ جائیکہ ان کی قبروں کی عبادت کرے۔

خلاصہ بحث یہ ہے کہ قبروں کی زیارت کرنا اور ان کو بوسہ دینا یا اس قسم کی تعظیم کی دیگر صورتیں کسی بھی اعتبار اور سبب سے شرک نہیں کہلاتیں اگر یہ چیزیں شرک کہلاتیں تو زندہ انسانوں کی تعظیم و تکریم بھی شرک شمار ہوتی کیونکہ اس اعتبار (غیر اللہ کی تعظیم شرک ہونا) سے زندہ اور مردے میں کوئی فرق نہیں۔ حالانکہ ابن تیمیہ اور اس کے ہم مسلک ، زندہ انسانوں کی زیارت کو کبھی بھی شرک نہیں سمجھتے اس کے علاوہ اگر قبروں کی زیارت کرنا شرک ہوتا تو العیاذ باللہ حاشاوکلا رسول اللہ (ص) بھی مشرک کہلائیں گے اس لئے کہ آپ (ص) بھی قبروں کی زیارت فرمایا کرتے ، انہیں سلام کرتے تھے اور حجراسود کا بوسہ کا بوسہ لیتے تھے جیسا کہ اس سے قبل ہم بتا چکے ہیں۔

بنا برایں اس مقام پر دو میں سے ایک بات ضرور تسلیم کرنا پڑے گی۔

(۱) بعض شرک جائز ہیں اور بعض جائز نہیں۔

(۲)پرستش کی نیت کے بغیر کسی قبر کی تعظیم کرنا اور اس کا بوسہ لینا شرک نہیں کہلاتا۔

ظاہر ہے پہلی بات کا کوئی قائل نہیں ہو سکتا اس لئے کہ وہ سراسر باطل اور غلط ہے لامحالہ دوسری بات حق اور صحیح ہو گی اور یہ ثابت ہو گیا کہ انبیاء اوصیاء (علیہم السلام) کی قبروں کی زیارت اور تعظیم ، عبادت الہی اور تعظیم خدا شمار ہوتی ہے شرک نہیں کہلاتی

( وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّـهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ ) ۲۲:۳۲

''اور جس شخص نے خدا کی نشانیوں کی تعظیم کی تو کچھ شک نہیں کہ یہ بھی دلوں کی پرہیز گاری سے حاصل ہوتی ہے،،

اس قبل وہ روایات بیان کی جا چکی ہیں جن کی رو سے بنی (ع) اور صالحین اولیاء اللہ کی زیارت مستحب ہے۔


غیر اللہ کو سجدہ

گزشتہ مباحث سے یہ واضح ہو چکا ہے کہ کسی بھی مخلوق کے سامنے خشوع و خضوع اختیار کرنا ( اگر شریعت میں اس سے منع کیا گیا ہو تو) جائز نہیں اگرچہ یہ تواضع بطور پرستش نہ ہو غیر اللہ کو سجدہ کرنا بھی اسی قبیل سے ہے اور تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ غیر خدا کو سجدہ کرنا حرام ہے ارشاد ہوتا ہے:

( لَا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلَا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلَّـهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ ) ۴۱:۳۷

''تم لوگ نہ سورج کو سجدہ کرنا اور نہ چاند کو اور اگر تم کو خدا ہی کی عبادت کرنی منظور ہے تو بس اسی کو سجدہ کرو جس نے ان چیزوں کو پیدا کیا ہے،،۔

اس آیت سے یہی استفادہ ہوتا ہے کہ سجدہ صرف خالق کائنات کیلئے مختص ہے اور کسی مخلوق کیلئے جائز نہیں۔

( وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّـهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّـهِ أَحَدًا ) ۷۲:۱۸

''اور یہ کہ مسجدیں خاص خدا کی ہیں تو تم لوگ خدا کے ساتھ کسی کی عبادت نہ کرنا،،

یہ آیت ہمارے مدعا پر صرف اس صورت میں دلالت کرتی ہے جب آیت میں ''مساجد،، سے مراد سات اعضاء (پٍیشانی ، دونوں ہا تھوں کی ہتھیلیاں ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کے انگوٹھے ) ہوں جن کا حالت سجدہ میں زمین سے لگنا ضروری ہے چنانچہ آیہ شریفہ سے یہی ظاہر ہو رہا ہے اور معصومین (ع) کی روایات بھی اسی پر دلالت کرتی ہیں(۱)

بہرحال اس میں کوئی شک نہیں کہ اور تو اور کسی نبی یا اس کے وصی کو سجدہ کرنا بھی جائز نہیں شیعوں کی طرف یہ نسبت دینا

____________________

(۱) وسائل باب حدالقطع من ابواب حداسرقہ ، ج ۳ ، ص ۴۴۸


کہ وہ اپنے ائمہ (ع) کی قبروں کو سجدہ کرتے ہیں محض تہمت اور الزام ہے روز محشر شیعہ اور ان پر اس قسم کے الزامات لگانے والے درگاہ الٰہی میں پیش ہوں گے اور اللہ ہی فیصلہ کرنے والا ہے ان میں سے بعض تو الزام تراشی میں حد سے بڑھ گئے ہیں یہ الزام تو پہلے سے بھی زیادہ دل آزار اور تکلیف دہ ہے اور وہ یہ کہ شیعہ اپنے ائمہ (ع) کی قبروں کی مٹی لے کر اس کو سجدہ کرتے ہیں۔

بارالہا ! تو جانتا ہے کہ یہ کتنی بڑی تہمت ہے(۱) شیعوں کی قدیم و جدید مطبوعہ اور قلمی کتب دنیا کے کونے کونے میں پھیلی ہوئی ہیں اور ان تمام کتب کا اتفاق ہے کہ غیر اللہ کو سجدہ کرنا حرام ہے جس شخص نے شیعوں کی طرف یہ نسبت دی ہے وہ یا تو شیعوں پر عمداً الزام تراشی اور تہمت کا مرتکب ہوا ہے یا وہ غافل ہے اور کسی چیز کو سجدہ کرنے اور کسی چیز پر سجدہ کرنے میں موجود فرق کو نہیں سمجھتا۔

شیعوں کے نزیک نماز میں ہر اس چیز پر سجدہ ہو سکتا ہے جو زمین کا حصہ اور جزء شمار ہو جیسا کہ پتھر یا ڈھیلا یا ریت یا مٹی ہے ۔ ان نباتات پر بھی سجدہ ہو سکتا ہے جو کھائی یا پہنی نہ جائیں شیعہ نقطہ نگاہ سے مٹی پر سجدہ کرنا دوسری چیزوں کی نسبت افضل ہے ، اسی طرح خاک کربلا پر سجدہ کرنا باقی سب چیزوں پر سجدہ کرنے سے افضل ہے اور ان سب باتوں میں شیعہ اپنے ائمہ معصوم (ع) کی پیروی کرتے ہیں(۲) اس کے باوجود شیعوں کی طرف کیونکر شرک کی نسبت دی جاتی ہے کہ شیعہ غیر اللہ کو سجدہ کرتے ہیں(۳)

خاک کربلا اللہ کی اس وسیع و عریض سرزمین ہی کاایک جزء ہے جسے اللہ نے اپنے نبی (ص) کیلئے سجدہ گاہ اور مطہر بنایا(۴)

____________________

(۱) اسی کتاب کے ضمیمہ نمبر ۱۸ میں روزوں کے بارے میں شیعوں پر آلوسی کے الزامات ملا خطہ فرمائیں۔

(۲) وسائل ، باب ۱۶۲ ، من ابواب مایسجد علیہ ، ص ۲۳۶

(۳) ضمیمہ نمبر ۱۹ میں تربت حسینیہ کے بارے میں ایک مباحثہ ملا خطہ فرمائیں جو م ولف اور ایک حجازی عالم کے درمیان ہوا

(۴) سنن البیہقی باب التیمم بالصعید الطیب ، ج ۱ ، ص۲۱۲ ۔ ۲۱۳


ہاں ! خاک کربلا وہ خاک ہے جس کی عظمت اور قدرو منزلت کا کوئی اندازہ نہیں کر سکتا کیونکہ اس سرزمین میں وہ نواسہ رسول (ص) اور جوانان جنت کے سردار دفن ہیں جنہوں نے اپنے نفس ، خاندان اور اصاب کو دین اسلام کی راہ اور شریعت سید المرسلین (ص) کے احیاء کی خاطر قربان کر دیا خاک کربلا کی فضیلت میں فریقین نے رسول اللہ (ص) سے روایات نقل کی ہیں(۱)

فرض کیجئے اس خاک کی فضیلت میں رسول اللہ (ص) اور آپ (ص) کے اوصیاء کی کوئی روایت نہیں ہے لیکن کیا حق و انصاف کا یہ تقاضا نہیں کہ مسلمان اس مقدس خاک کو ہر وقت اپنے پاس رکھے اور جب بھی سجدہ کرنا ہو اس پر سجدہ کرے ؟ اس لئے کہ اس خاک پر سجدہ کرنا ، جو بذات خود ان چیزوں میں سے ہے جنپر سجدہ صحیح ہے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اس مقدس خاک کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھنے والا شخص اس عظیم شخصیت کا پیروکار ہے جس کی طرف یہ خاک منسوب ہے اور جسے اللہ اور اصلاح مسلمین کی راہ میں شہید کر دیا گیا۔

آدم (ع) کوسجدہ ۔ اقوال علمائ

اب یہ سوال رہ جاتا ہے کہ حضرت آدم (ع) کو فرشتوں کا سجدہ کرنا کیوں جائز ہوا جبکہ غیر اللہ کو سجدہ کرنا جائز نہیں؟ علماء نے اس سوال کے مختلف جوابات دیئے ہیں۔

(۱) حضرت آدم(ع) کوفرشتوں کا سجدہ ، خشوع و خضوع کے معنی میں تھا یہ وہ سجدہ نہیں تھا جس کا عام طور پر تصور کیا جاتا ہے۔

__________________

(۱) وسائل ، ج ۱ ، ص ۲۳۶ ۔ باب استحباب السجود علی تربتہ الحسین (ع) نیز ملا خطہ فرمائیں ضمیمہ نمبر ۲۰


اس رائے کی رو یہ ہے کہ یہ احتمال ا س معنی کے سراسر خلاف ہے جو لفظ سجود سے عام طور پر سمجھا جاتا ہے بنا برایں بغیر کسی شاہداور خارجی دلیل کے یہ احتمال قابل قبول نہیں نیز روایات اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ جب اولاد آدم (ع) اپنے رب کوسجدہ کرتی ہے تو ابلیس رنجیدہ ہو جاتااور رو پڑتا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو جس سجدے کا حکم دیا تھا اور ابلیس نے غرور میں آ کر جس سے انکار کیا تھا وہ وہی عام متصور سجدہ تھا اسی لئے ابلیس ، اولاد آدم (ع) کی طرف سے امتثال امر (تعمیل حکم) پر رنجیدہ ہوتا ہے کیونکہ اس نے خود اس کی مخالفت کی تھی۔

(۲) فرشتوں نے اللہ تعالیٰ ہی کو سجدہ کیا تھا حضرت آدم (ع) تو اس سجدہ میں فرشتوں کا صرف قبلہ قرار پائے تھے جس طرح کہا جاتا ہے کہ''صلی للقبة ،، اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ اس نے روبہ قبلہ نماز پڑھی اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (ع) کی تکریم و تعظیم کی خاطر فرشتوں کو حضرت آدم (ع) کی طرف رخ کر کے سجدہ کرنے کا حکم دیا تھا۔

اس نظریئے کی رو یہ ہے کہ آیت کی یہ تاویل ظاہر آیات قرآن اور روایات معصومین (ع) بلکہ آیات و روایات کی تصریحات کے بھی منافی ہے کیونکہ ابلیس نے اپنے زعم باطل میں اس بنیاد پر حضرت آدم (ع) کو سجدہ کرنے سے انکار کیا تھا کہ وہ آدم (ع) سے افضل ہے اگر یہسجدہ اللہ کو ہوتا اورحضرت آدم (ع) صرف قبلہ قرار پاتے تو ابلیس کا یہ قول بے معنی ہو جاتا:

( أَأَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِينًا ) ۱۷:۶۱

''کیا میں ایسے شخص کوسجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے،،

کیونکہ ممکن تو ہے کہ سجدہ کرنے والا اس سے افضل ہو جس کی طرف رخ کر کے سجدہ کیا جائے۔


(۳) یہ سجدہ حضرت آدم (ع) ہی کو تھا لیکن چونکہ حکم الٰہی سے انجام پایا تھا اس لئے خشوع وخضوع اور سجدہ ، خدا ہی کے لئے ہو گا۔

وضاحت: خشوع و خضوع کی آخری منزل سجدہ ہے اسی لئے اللہ نے سجدہ اپنی ذات سے مختص فرمایا ہے اور غیر اللہ کو سجدہ کرنے کی اجازت نہیں دی اگرچہ یہ سجدہ پرستش اور عبودیت کے عنوان سے نہ کیا جائے۔

لیکن اگر اللہ کے حکم سے غیر اللہ کو سجدہ کیا جائے تو یہ درحقیقت اللہ کی عبادت اور اس کے تقرب کاباعث بنے گا اس لئے کہ یہ امتشال اور امر الٰہی اور اس کے حکم کی تعمیل ہے اگرچہ یہ ظاہراً اللہ کی کسی مخلوق کے سامنے تواضع کا مظاہرہ ہی ہو یہی وجہ ہے کہ اس امر سے سرکشی پر کسی کو عقاب کرنا صحیح ہے اور مخالف امر کا یہ عذر قابل قبول نہیں کہ میں کسی مخلوق کے سامنے ذلیل نہیںب نوں گا اور حکم دینے والے کے علاوہ کسی کے سامنے تواضع سے پیش نہیں آؤں گا(۱)

یہ تیسرا جواب درست ہے اس لئے کہ اللہ کے بندے کو چاہئے کہ وہ اپنے جملہ امور میں اپنے نفس کیلئے کسی استقلال کا قائل نہ ہو اور ہر حالت میں اپنے مولا کی اطاعت کرے اگر مولا کسی کے سامنے تواضع سے پیش آنے کا حکم دے تو بندے پر واجب ہے کہ امتثال امر کرے اس صورت میں بندے کے سامنے تواضع سے پیش آنا اللہ کے سامنے تواضع سے پیش آنے کے مترادف ہو گا جس نے اس کا حکم دیا ہے(۲)

گزشتہ بحث کا نتیجہ یہ ہوا کہ کسی بھی عمل سے اللہ کا قرب صرف اسی صورت میں حاصل کیا جا سکتا ہے جب اللہ تعالیٰ اس عمل کو انجام دینے کا حکم فرمائے اور یہ حکم کسی عمومی یا خصوصی دلیل کے ذریعے ثابت ہو اگر کسی عمل کے بارے میں شک ہو کہ اللہ نے اس کا حکم دیا ہے یا نہیں تو ایسے عمل کے ذریعے اللہ کاقرب حاصل کرنا تشریح(۳) کہلائے گا جو قرآن و سنت ، عقل اور اجماع علماء کی رو سے حرام ہے۔

____________________

(۱) ملا خطہ فرمائیں ضمیمہ نمبر ۲۱

(۲) ایضاً ۲۲

(۳) ایسے عمل کو دین میں شامل کرنا جو دین سے خارج ہو۔


ہاں ! ائمہ (ع) اور دیگر مومنین کی قبور کی زیارت کرنا ، ان کو بوسہ دینا اور ان کی تعظیم کرنا عام دلیلوں اور اہل بیت (علیہم السلام) جن کو رسول اسلام (ص) نے اپنی مشہور حدیث :انی تارک فیکم ۔۔۔۔۔۔ کے ذریعے قرآن کے ہم پلہ قرار دیا ہے ، کی خصوصی روایات کے ذریعے ثابت ہے زیارت قبور کے جائز ہونے کی تائید ہر دور کے مسلمانوں کی سیرت اور اہل سنت کی گزشتہ روایات سے بھی ہوتی ہے۔

شرک باللہ کیا ہے ؟

توجہ: جب غیر اللہ کے سامنے کسی خاص قسم کے خضوع کی نہی کی جائے جس طرح غیر اللہ کو سجدہ کرنا یا کسی خاص عبادت سے منع فرمایا جائے جیسے عیدالفطر اور عید قربان کے دن روزہ رکھنا حالت حیض میں نماز پڑھنا اور شوال ، ذیقعدہ اور ذی الحجہ کے علاوہ کسی دوسرے مہینے میں حج کرنا ہے تو ان اعمال کو بجا لانے والا شخص حرام کا مرتکب اور عذاب کا مستحق ہو گا لیکن ان اعمال کی وجہ سے نہ مشرک ہو گا اور نہ کافر معلوم ہوا ہر فعل حرام کا مرتکب مشرک اور کافر نہیں ہوتا۔

اس سے پہلے واضح ہو چکا ہے کہ شرک کا مطلب یہ ہے کہ غیر اللہ کی اس طرح تواضع کی جائے کہ تواضع کرنے والا ، عبد اور جس کی تواضع کی جا رہی ہے اسے رب مانا جائے پس جو شخص عبودیت اور پرستش کی نیت کے بغیر غیر اللہ کو سجدہ کرے وہ اپنے اس حرام عمل کی وجہ سے مسلمانوں کے زمرے سے خارج نہیں ہو سکتا اس لئے کہ اسلام کا دارو مدار شہادتین کے اقرار پر ہے اور اسی سے اس کا مال اور خون محترم سمجھا جاتا ہے۔


اس امر پر فریقین کی متواتر روایات دلالت کرتی ہیں(۱) ان دلائل کے باوجود اس شخص کو مشرک قرار دینے کا کیا جواز ہے باقی رہ جاتی ہے جو شہادتین کااقرار کرے اور قربتہ ً الی اللہ نبی اکرم (ص) اورآپ (ص) کے اوصیاء (ع) کی قبور کی زیارت کرے۔

( وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَىٰ إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مومنا ) ۴:۹۴

''اور جو شخص (اظہار اسلام کی غرض سے) تم کو سلام کرے تو تم (بے سوچے سمجھے) نہ کہہ دیا کرو کہ تو ایماندار نہیں،،

نعنقریب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں حق کا فیصلہ فرمائے گااور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔

اسباب عبادت

عبادت کرنا ایک اختیاری عمل ہے جس کیلئے کسی نہ کسی ایسے سبب کا ہونا ضروری ہے جو انسان کو عبادت کرنے پرآمادہ کرے یہ سبب چند چیزیں ہو سکتی ہیں۔

(۱) عبادت کا سبب اور عامل اللہ کی عبادت کے عوض میں ملنے والی نعمتوں اور اجر و ثواب کی طمع ہو ، جس کا اللہ نے اپنے کلام مجید میں وعدہ فرمایا ہے۔

( وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ) ۴:۱۳

''اور جو خدا اور رسول کی اطاعت کرے اس کو خدا آخرت میں ایسے (ہرے بھرے) باغوں میں پہنچا دے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی،،

( وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ۙ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ ) ۵:۹

''اور جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور اچھے (اچھے) کام (بھی) کئے خدا نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ ان کیلئے (آخرت میں) مغفرت اور بڑا ثواب ہے،،

(۲) عبادت کا سبب و عامل ، حکم خداکی مخالفت پر سزا و عقاب کا خوف ہو،،

____________________

(۱) ملا خطہ فرمائیں ضمیمہ مبر ۲۳


( إِنِّي أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّي عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ) ۱۰:۱۵

''میں تو اگر اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو بڑے (کٹھن) دن کے عذاب سے ڈرتا ہو،،

( إِنَّا نَخَافُ مِن رَّبِّنَا يَوْمًا عَبُوسًا قَمْطَرِيرًا ) ۷۶:۱۰

''ہم کو تو اپنے پروردگار سے اس دن کا ڈر ہے جس میں منہ بن جائیں گے،،

ان دونوں اسباب کی طرف قرآن کی متعدد آیات دلالت کرتی ہیں۔

( تَتَجَافَىٰ جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَاهُمْ يُنفِقُونَ ) ۳۲:۱۶

''رات کے وقت ان کے پہلو بستروں سے آشنا نہیں ہوتے اور (عذاب کے) خوف اور (رحمت کی) امید پراپنے پروردگار کی عبادت کرتے ہیں،،

( وَادْعُوهُ خَوْفًا وَطَمَعًا ۚ إِنَّ رَحْمَتَ اللَّـهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ ) ۷:۵۶

''اور (عذاب کے) خوف سے اور (رحمت کی) آس لگا کے خدا سے دعائیں مانگو (کیونکہ) نیکی کرنے والو ںسے خدا کی رحمت یقیناً قریب ہے،،۔

( يَبْتَغُونَ إِلَىٰ رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُ ) ۱۷:۵۷

''وہ خود اپنے پروردگار کی قربت کے ذریعے ڈھونڈتے پھرتے ہیں کہ (دیکھیں) ان میں سے کون زیادہ قربت رکھتا ہے اور اس کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں،،

(۳) خدا کو عبادت کا اہل سمجھ کر اس کی عبادت کی جائے کیونکہ اللہ ہی کی ذات کامل مطلق اور صفات جمال و جلال کی جامع ہے ایسی عبادت صرف وہ شخص کرسکتا ہے جو مکمل طور پر فنافی اللہ کی منزل پر پہنچا ہوا ہو اور اپنے خالق کے مقابلے میں اسے اپنا وجود تک نظر نہ آتا ہو جس کا وہ خیر خواہ یا اس کے بارے میں اسے کسی عذاب کا خوف لاحق ہو اس کے پیش نظر صرف اس کا خالق ہو اور وہ غیرا للہ کا تصور تک نہ کر کے۔


سوائے مصومین (علیہم السلام) کے کسی اور کے بارے میں یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ اس مرتبہ پر فائز ہے۔ جنہوں نے اپنے نفسوں کو محض اللہ کا مخلص بنایا ہے اور شیطان ان (ع) کے نزدیک تک نہیں جا سکتا اور وہ اس آیت کے مصداق ہیں:

( وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ) ۱۵:۳۹

''اور ان سب کو ضرور بہکاؤں گا،،

( إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ ) : ۴۰

مگر ان میں سے تیرے نرے کھرے خاص بندے (کہ وہ میرے بہکانے میں نہ آئیں گے)،،

امیر المومنین سید الموحدین (ع) فرماتے ہیں۔

''ماعبدتک خوفاً من نارک و لا طمعاً فی جنتک ولکن و جدتک اهلاً للعبادة فعبد تک (۱)

''بارالہا ! میں نے آتش جہنم کے خوف سے تیری عبادت کی ہے اور نہ جنت کے لالچ میں بلکہ تجھے عبادت کا اہل سمجھ کر تیری عبادت کی ہے،،

معصومین (ع) کے علاوہ باقی انسانوں کی عبادت کا عامل و سبب پہلی دو وجوہ ہو سکتی ہیں ہمارے اس بیان سے ان حضرات کے اس قول کا بطلان بھی ظاہر ہو جائے گا جو جنت کے طمع یا جہنم کے خوف سے انجام دی گئی عبادات کو باطل سمجھتے ہیں اور عبادت کی صحت میں اس امر کو شرط قرار دیتے ہیںکہ عبادت صرف اللہ کو اس کا اہل سمجھ کر انجام دی جائے یہ قول اس لئے باطل ہے کہ معصومین (ع) کے علاوہ عام لوگ ایسی عبادت انجام دینے کی قدرت نہیں رکھتے اور انہیں ایسے امر کا مکلف بنانا ناممکن ہے جو ان کے دائرہ اختیار سے خارج ہے۔

____________________

(۱) مراۃ العقول باب الینتہ ، ج ۲ ، ص ۱۰۱


اس کے علاوہ پہلی دو آیات اس عبادت کے صحیح ہونے پر دلالت کرتی ہیں جو جنت کی طمع اور جہنم کے خوف سے انجام دی جائیں ان آیات میں اللہ نے اس شخص کی تعریف کی ہے جو اللہ کو جہنم کے خوف یا بہشت کے لالچ میں پکارے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ یہ عمل محبوب خدا ہو ، اللہ نے اس کا حکم دیا ہو اور اس سے امتثال امر ہو جائے معصومین (ع) کی روایات بھی ہیں جن کی رو سے وہ عبادت صحیح ہے جو دوزخ کے خوف سے اور جنت کی طمع میں انجام دی جائے(۱)

ہم گزشتہ بحثوں میں وضاحت کر چکے ہیں کہ اسی سورہ کی گزشتہ آیات کی رو سے حمد و ثناء اللہ کے کمال ذاتی اس کی ربوبیت ، رحمت واسعہ اور سلطنت و قدرت کی وجہ سے اللہ کی ذات سے مختص ہے اس طرح ان آیات میں عبادت کے منشاء اور اسباب کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے یعنی عبادت کی وجہ یا یہ ہوتی ہے کہ عابد معبود کے کمال اور اس کے مستحق عبادت ہونے کو درک کر کے اس کی عبادت کرتا ہے اور یہ آزاد انسان کی عبادت ہے یا عبادت کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ عابد ، معبود کی نعمتوں اور اس کے احسان کو درک کرتے ہوئے ان کی طمع میں عبادت کرتا ہے یہ تاجروں کی عبادت ہے یا عبادت اس لئے کی جاتی ہے کہ عبادت گزار معبود کے قہر و غضب اور اس کے عقاب کو درک کرتا ہے یہ غلاموں کی عبادت ہے۔

____________________

(۲) ضمیمہ نمبر ۲۴ پر عبادت کی اقسام ملا خطہ فرمائیں۔


صرف اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنا

اس میں کوئی حرج نہیں کہ انسان اپنے مقاصد میں اللہ کے علاوہ دوسری مخلوق یا افعال سے مدد طلب کرے ارشاد ہوتا ہے۔

( وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ ) ۲:۴۵

''اور (مصیبت کے وقت) صبر اور نماز کا سہارا پکڑو،،

( وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ ) ۵:۲

''اور (تمہارا تو فرض یہ ہے کہ ) نیکی اور پرہیز گاری میں ایک دوسرے کی مدد کرو،،

( مَا مَكَّنِّي فِيهِ رَبِّي خَيْرٌ فَأَعِينُونِي بِقُوَّةٍ أَجْعَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ رَدْمًا ) ۱۸:۹۵

''ذوالقرنین نے کہا میرے پروردگار نے جو قدرت مجھے دے رکھی ہے وہ کہیں بہتر ہے،،۔

پس معلوم ہوا ہر قسم کی مدد طلبی صرف اللہ کی ذات میں منحصر نہیں بلکہ اسعانت (مدد طلب کرنا) کے اللہ سے مختص ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عبادت کی قدرت اور توفیقات میں اضافہ صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کیا جائے تاکہ عبادت خالص اور کامل انجام پائے۔

پس معلوم ہوا ہر قسم کی مدد طلبی صرف اللہ کی ذات میں منحصر نہیں بلکہ استعانت (مدد طلب کرنا) کہ اللہ سے مختص ہونے کا مطلب یہ ہے کہ عبادت کی قدرت اور توفیقات میں اضافہ صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کیا جائے تاکہ عبادت خالص اور کامل انجام پائے۔

اس کا مقصد ، اس حقیقت کو ثابت کرنا ہے کہ انسان اپنے اختیاری اعمال میں جبرو تفویض کے درمیانی سنگم پر کھڑا ہے اس لئے کہ جملہ افعال انسان کے اختیارسے صادر ہوتے ہیں اسی لئے قول خداوندی( إِيَّاكَ نَعْبُدُ ) (ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں) میں فعل کی نسبت انسان کی طرف دی گئی ہے لیکن انسان کا یہ فعل اللہ کی طرف لمحہ بہ لمحہ ملنے والی مدد اور قدرت کے ذریعے انجام پاتا ہے ، جو ایک غیر منقطع عطیہ ہے بایں معنی کہ اگر کسی بھی لمحے مدد الٰہی منقطع ہو جائے تو انسان اس فعل کو مکمل نہیں کر سکتا اور نہ اس سے کوئی عبادت اور نیکی ہو سکتی ہے۔


یہ وہی قول و عقیدہ ہے جس کا ایک خالص انسان متقاضی ہے اس لئے کہ جبر کا لازمہ یہ ہے کہ گناہ گار انسان کو عذاب دینا ایک بے گناہ شخص کو عذاب دینے کے مترادف ہے اور یہ صریحاً ظلم ہے:

( سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا ) ۱۷:۴۳

''جو جو (بیہودہ باتیں) یہ لوگ(خدا کی نسبت) کہا کرتے ہیں وہ ان سے بڑھ کر بہت پاکیزہ اور بدتر ہے،،

تفویض یعنی جملہ افعال انسان کے سپرد ہونے سے یہ لازم آتا ہے کہ اللہ کے علاوہ کسی دوسرے خالق کا اقرار جائے کیونکہ تفویض کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے افعال کو مستقل طور پر انجام دیتا ہے اور وہی ان کا خالق ہے اس عقیدے کا نتیجہ متعدد خالقوں کا قائل ہونا ہے جو شرک باللہ ہے۔

اللہ پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ انسان افراط و تفریط کی بجائے درمیانی راستہ اختیار کرے بایں معنی کہ فعل انسان ہی سے صادر ہوتا ہے اور وہی اس فعل کا اختیاری فاعل ہے اسی وجہ سے وہ سزا و عذاب کا مستحق قرار پاتا ہے اور ایک لحاظ سے اللہ کی ذات ہے جو انسان کو زندگی ، قدرت اور دیگر مقدمات فعل مسلسل عطا فرماتی رہتی ہیں۔

بنا برایں انسان اپنے اعمال کو مستقل طور پر انجام دے سکتا ہے اور نہ اپنے خالق کی سلطنت میں کسی قسم کی دخل اندازی کر سکتا ہے اس مسئلہ کی وضاحت ہم اعجاز قرآن کی بحث میں کر چکے ہیں۔

یہی وہ استعانت ہے جو اللہ کی ذات میں منحصر ہے اگر فیض الٰہی حاصل نہ ہو تو کسی سے کوئی فعل سرزد نہیں ہو سکتا چاہے تمام جن وانس مل کر اسے انجام دینا چاہیں۔ اس لئے کہ ممکن الوجود ، جو اپنے وجود میں استقلال نہیں رکھتا اس کا کسی عمل کو مستقلاً انجام دینا ناممکن ہے۔


ہمارے اس بیان سے جملہ( ایاک نستعین ) کو( ایاک نعبد ) کے بعد ذکر کرنے کی وجہ بھی معلوم ہو جاتی ہے بایں معنی کہ پہلے تو اللہ نے عبادت کو اپنی ذات سے مختص کر دیا اور یہ کہ مومنین صرف اللہ کی عبادت کرتے ہیں پھر یہ حقیقت ظاہر کی کہ انسان کی عبادات ، اللہ کی مدد اور اس کی دی ہوئی قدرت سے انجام پاتی ہیں اور بندے مشیت کے مرہون منت ہیں بندوں کی نیکیوں میں اللہ کی ذات زیادہ موثر ہے اور برائیوں کا مسؤل بندہ ہی ہوتا ہے(۱)

شفاعت

قرآنی آیات اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ انسان کے تمام معاملات کا کفیل و ضامن اللہ تعالیٰ ہے تمام معاملات اس کے قبضہ قدرت میں ہیں اللہ ہی اپنی رحمت سے بندوں کو کمال کا راستہ دکھاتا ہے وہ اپنے بن دوں کے نزدیک ہے ، ان کی آواز سنتا اور دعا قبول فرماتا ہے۔

( أَلَيْسَ اللَّـهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ ۖ ) ۳۹:۳۶

''کیا خدا اپنے بندوں (کی مدد) کیلئے کافی نہیں ہے (ضرور ہے)،،

( وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ ) ۲:۱۸۶

''(اے رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم)) جب میرے بندے میرا حال تم سے پوچھیں تو (کہدو کہ ) میں ان کے پاس ہی ہوں اور جب کوئی مجھ سے دعا مانگتا ہے تو میں ہر دعا کرنے والے کی (دعا سن لیتا ہوں اور اگر مناسب ہو تو) قبول کرتا ہوں پس انہیں چاہئے کہ (میرا ہی کہنا مانیں اور) مجھپر ایمان لائیں تاکہ وہ سیدھی راہ پر آ جائیں،،

____________________

(۱) ضمیمہ نمبر ۲۵ ملا خطہ فرمائیں۔


بنا برایں مخلوق کو چاہئے کہ وہ اپنی جیسی مخلوق سے شفاعت طلب نہ کرے اور نہ کسی مخلوق کو اپنے اور اپنے رب کے درمیان واسطہ بنائے اس لئے کہ اس میں مقصد تک رسائی کیلئے لمبی مسافت طے کرنا پڑتی ہے بلکہ غیر اللہ کی طرف احتیاج ظاہر کرنا لازم آتا ہے ایک محتاج دوسرے محتاج کے کیا کام آ سکتا ہے اور ایک گناہگار کو اس شخص کی شفاعت سے کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے جس کے پاس کوئی سلطنت و اختیار نہ ہو۔

( لِلَّـهِ الْأَمْرُ مِن قَبْلُ وَمِن بَعْدُ ۚ ) ۳۰:۴

''پہلے اور بعد (غرض ہر زمانہ میں) ہر امر کا اختیار خدا ہی کو ہے،،۔

( قُل لِّلَّـهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيعًا ۖ لَّهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ ) ۳۹:۴۴

''تم کہہ دو کہ ساری سفارش تو خدا کیلئے خاص ہے سارے آسمان اور زمین کی حکومت اسی کیلئے خاص ہے،،

یہ وہ شفاعت ہے جو اذن خدا کے بغیر کی جائے لیکن اگر اللہ کسی کو شفاعت کرنے کی اجازت دے دے تو اس سے شفاعت طلب کرنا اللہ کے حضور خشوع و خضوع اور اس کی پرستش کے مترادف ہو گا اور قرآن کریم سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بعض بندوں کو شفاعت کی اجازت دی ہوئی ہے اگرچہ اس کیلئے رسول اللہ (ص) کے علاوہ کسی دوسرے کے نام کی تصریح نہیں فرمائی گئی چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

( ا يَمْلِكُونَ الشَّفَاعَةَ إِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِندَ الرَّحْمَـٰنِ عَهْدًا ) ۱۹:۸۷

''(اس دن) یہ لوگ سفارش پر (بھی) قادر نہ ہونگے مگر (ہاں) جس شخص نے خدا سے (سفارش کا) اقرار لے لیا ہو،،

( يَوْمَئِذٍ لَّا تَنفَعُ الشَّفَاعَةُ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـٰنُ ) ۲۰:۱۰۹

''اس دن کسی کی سفارش کام نہ آئے گی مگر جس کو خدا نے اجازت دی ہو،،


( وَلَا تَنفَعُ الشَّفَاعَةُ عِندَهُ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ ۚ ) ۳۴:۲۳

''اور جس شخص کیلئے وہ خود اجازت عطا فرمائے اس کے سوا کسی کی سفارش اس کی بارگاہ میں کام نہ آئیگی،،

( وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُوا أَنفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّـهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّـهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا ) ۴:۶۴

''اور (اےرسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم)) جب ان لوگوں نے (نافرمانی کر کے) اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا ، اگر تمہارے پاس پاس چلے آتے اورخدا سے معافی مانگتے اور رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) (تم) بھی ان کی مغفرت چاہتے تو بیشک وہ لوگ خدا کو بڑا توبہ قبول کرنےوالا مہربان پاتے،،

شفاعت کے موضوع پر اللہ رسول (ص) اور آپ (ص) کے اوصیاء (ع) کی متواتر روایات بھی موجود ہیں۔

امامیہ کے نزدیک شفاعت کی احادیث

شفاعت کےب ارے میں امامیہ سلسلہ سند سے پہنچنے والی روایات حدو حصر سے زیادہ ہیں امامیہ کے نزدیک یہ مسئلہ واضحات میں سے ہے اور کسی سے پوشیدہ نہیں نمونہ کے طور پر صرف ایک روایت پیش کرنے پر ہم اکتفا کرتے ہیں۔

برقی نے ''المحاسن،، میں معاویہ بن وہب سے روایت کی ہے۔

''معاویہ بن وہب کہتا ہے : میں نے امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے اس آیت کی تفسیر پوچھی:

( لَّا يَتَكَلَّمُونَ إِلَّا مَنْ أَذِنَ لَهُ الرَّحْمَـٰنُ وَقَالَ صَوَابًا ) ۷۸:۳۸

''اس سے کوئی بات نہ کرس کے گا مگر جسے خدا اجازت دے اور وہ حق بات کہے،،


آپ (ع) نے فرمایا: اللہ کی قسم ہم ہی ہیں جنہیں بولنے کی اجازت ہو گی اور حق بات کریں گے میں نے کہا میری جان آپ (ع) پر نثار ہو جب آپ (ع) بولیں گے تو کون سی بات کریں گے؟ آپ (ع) نے فرمایا: ہم اپنے رب کی عظمت اور بزرگی بیان کریں گے اپنے نبی (ص) پروردو سلام بھیجیں گے اور اپنے شیعوں کی شفاعت کریں گے اور اللہ (ہماری سفارش) رد نہیں فرمائے گا،، محمد بن یعقوب نے ''کافی،، میں محمد بن فضیل سے اور اس نے امام موسیٰ کاظم (علیہ السلام) سے اسی مضمون کی روایت کی ہے(۱)

اہلسنت کے نزدیک شفاعت کی احادیث

شفاعت کے بارے میں اہلسنت کے ہاں بھی روایات متواترہ(۲) موجود ہیں جن میں سےب عض یہاں پیش کر رہیں۔

۱۔ یزید فقیر روایت کرتا ہے کہ جابر بن عبداللہ نے خبر دی کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا:

اللہ کی جانب سے پانچ ایسی چیزیں مجھے عطا ہوئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو عطا نہیں کی گئیں ۔۔۔۔۔۔ مجھے ایسا رعب عطا کیا جو ایک ماہ کی مسافت سے دشمن کو محسوس ہوتا ہے ، زمین کومیرے لئے سجدہ گاہ اور مطہر بنایا ۔۔۔۔۔۔مال غنیمت میرے لئے حلال قرار دیا ، جبکہ مجھ سے پہلے یہ کسی کے لئے حلال نہ تھا اور مجھے شفاعت کا اختیار دیا ہے(۳)

____________________

(۱) بحار ، باب الشفاعہ ، ج ۳ ، ص ۳۰۱

(۲)۔ کنز العمال ، ج ۷ ، ص ۲۱۵ ۔۲۷۰ میں تقریبات ۸۰ روایات موجود ہیں۔

(۳) ۔ صحیح بخاری کتاب یتمم ، باب ۱ ، ج ۱ ، ص ۸۶


۲۔ انس بن مالک نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا:

''بہشت میں سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ، میں ہوں:(۱)

۳۔ ابوہریرہ نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا۔

''ہر نبی کی ایک دعا ہوا کرتی ہے اور میں نے اپنی دعا ، روز محشر اپنی امت کی شفاعت کیلئے ذخیرہ کر رکھی ہے،،(۲)

۴۔ ابوہریرہ نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا:

''میں روز قیامت اولاد آدم کا سردار ہوں گا میں وہ پہلا شخص ہوں گا جس کی قبر شگافتہ ہو گی ، میں سب سے پہلے شفاعت کرنے والا ہوں گا اور میری شفاعت سب سے پہلے ہو گی ،،(۳)

۵۔ ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا:

شفاعت کرنے والے پانچ ہیں ، قرآن کریم ، قریبی رشتہ دار ، امانت داری ، تمہارے نبی اور اس کے اہل بیت ،،(۴)

____________________

(۱)۔ صحیح مسلم باب ان النبی اول من یشفع فی الجنتہ ، ج ۱ ، ص ۱۳۰

(۲) ۔ ضمیمہ نمبر ۲۶ ملا خطہ فرمائیں۔

(۳) ۔ صحیح مسلم باب تفصیل نبینا علی جمیع الخلائق ، ج ۷ ، ص ۵۹

(۴) ۔ کنز العمال ، الشفاعتہ ، ج ۷ ، ص ۲۱۴


۶۔ عبداللہ بن ابی جدعاء نے روایت کی ہے کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا:

''میری امت کے ایک آدمی کی شفاعت سے قبیلہ نبی تمیم کے افراد سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہونگے،،(۱)

اس روایت کو ترمذی اور حاکم نے بھی بیان کیا ہے ان روایات سے ثابت ہو جاتا ہے کہ رسول اللہ (ص) اور آپ (ص) کے اہل بیت (ع) سے شفاعت طلب کرنا ایک ایسا عمل ہے جس کاشریعت میں حکم دیا گیا ہے ایسی صورت میںشفاعت طلب کرنا کیونکر شرک شمارہو گا ؟ اللہ تعالیٰ ہمیں خواہشات نفسانی کی پیروی اور قدم و علم کی لغزشوں سے محفوظ رکھے۔

تحلیل آیت

اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ﴿٦﴾ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ﴿٧﴾

''تو ہم کو سیدھی راہ پر ثابت قدم رکھ ، ان کی راہ جنہیں تو نے (اپنی) نعمت عطا کی ہے ، نہ ان کی رہا جن پر تیرا غضب ڈھایا گیا ہے اور نہ گمراہوں کی،،۔

قرات

قراتوں میں سب سے مشہور قرات یہ ہے کہ اس آیت میں ''غیر،، کی 'را، کو مجرور پڑھا جائے البتہ زمحشری نے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (ص) اور حضرت عمر نے 'را، کو منصوب پڑھا ہے لیکن یہ ثابت نہیں کہ رسول اللہ (ص) نے ''غیر،،کی 'را، کو منصوب پڑھا ہو اسی طرح یہ بھی ثابت نہیں کہ حضرت عمر نے اسے منصوب پڑھا ہو اور اگر یہ ثابت بھی ہو کہ حضرت عمر نے اسے منصوب پڑھا تھا پھرب ھی یہ حجت اور قابل قبول نہیں کیونکہ اس سے قبل ہم واضح کر چکے ہیں کہیغر معصوم کی قرات کوتب اہمیت حاصل ہوتی ہے جب وہ مشہور قراتوں میں سے ہو ورنہ وہ شاذ ہو گی اور اس کا پڑھنا کافی نہ ہو گا مشہور و معروف قرات( أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ) ہے


البتہ حضرت علی (ع) اور حضرت عمر کی طرف یہ بات منسوب ہے کہ ان حضرات نے ''من انعمت علیہم و غیر الضآلین ،، پڑھا ہے حضرت عل ی(ع) کا اس طرح پڑھنا ثابت نہیں ہے بلکہ آپ کااس طرح سے نہ پڑھنا ثابت ہے اگر امیر المومنین (ع) ''ومن انعمت علیھم و غیر الضالین،، پڑھتے تو یہ قرات آپ (ع) کے شیعول میں رائج ہو گئی ہوتی اور آپ (ع) کے بعد دوسرے ائمہ (ع) اس کی تائید فرماتے حالانکہ کسی ایک قابل اعتماد آدمی نے بھی اس قرات کو نقل نہیں کیا۔

رسول اللہ (ص) کی طرف ''غیر،، کو منصوب پڑھنے کی جو نسبت دی جاتی ہے اس کے بارے میں بھی یہی کہا جا سکتا سکتا ہے کہ اگر آپ (ص) ''غیر،، کو منصوب پڑھتے تو یہ رات مشہور ہو جاتی اور باقی المہ ہدیٰ (ع) بھی اس کی تائید فرماتے جہاں تک حضرت عمر کی قرات کا تعلق ہے اس کا حکم بیان کر دیا گیا ہے۔

لغت

الهدایة

''ہدایت،، راہنمائی کو کہتے ہیں جو ضلالت و گمراہی کا عکس ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کا مطلب عنقریب نظر سے گزرے گا۔

الصراط

''صراط،، وہ راستہ ہے جس پر چلنےسے انسان اپنی منزل مقصود تک پہنچ سکے البتہ کبھی کسی غیر محسوس چیز کو بھی ''طریق،، کہا جاتا ہے چنانچہ کہاجاتا ہے''الاحتیاط طریق النجاة ،، یعنی ''احتیاط راہ نجات ہے،، اطاعتہ اللہ طریق الی الجنتہ،، یعنی ''اللہ کی اطاعت بہشت تک پہنچنے کا راستہ ہے،،

غیر محسوس طریق کو یا اس لئے ''طریق،، کہا جاتا ہے کہ لفظ ''طریق ،، طریق محسوس اور طریق غیر محسوس دونوں کیلئے استعمال ہو گا یا تشبیہ اور استعمارہ کے طور پر غیر محسوس طریق کو بھی طریق کہا گیا ہے۔


الاستقامة

''استقامت ،، اعتدال اور میانہ روی کو کہا جاتا ہے، جو دایں یا بائیں طرف انحراف کے مقابلے میں آتا ہے ''صراط مستقیم،، وہ راستہ ہے جس پر چلنے والا ابدی نعمتوں اور رضائے الہی تک پہنچ جاتا ہے اور ''صراط مستقیم،، یہی ہے کہ مخلوق اپنے خالق کی اطاعت کرے اس کے اوامرو نواہی میں اس کی مخالفت و معصیت نہ کرے اور غیر اللہ کی عبادت نہ کرے یہ وہی صراط ہے جس میں کسی قسم کا انحراف نہیں ارشاد ہوتا ہے۔

( وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ) ۴۲:۵۲

''اور اس میں شک نہیں کہ تم (اےرسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم)) سیدھا ہی راستہ دکھاتے ہو،،

( صِرَاطِ اللَّـهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ ) : ۵۳

''اس خدا کا راستہ کہ جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے (غرض سب کچھ) اسی کا ہے سن رکھو،،

( وَهَـٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِيمًا ۗ ) ۶:۱۲۶

''اور (اےرسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم)) یہ (اسلام) تمہارے پروردگار کا (بنایا ہوا) سیدھا راستہ ہے،،۔

( إِنَّ اللَّـهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ ۗ هَـٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ ) ۳:۵۱

''بیشک خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے پس اس کی عبادت کرو (کیونکہ) یہی (نجات کا) سیدھا راستہ ہے،،

( وَأَنِ اعْبُدُونِي ۚ هَـٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ ) ۳۶:۶۱

''اور یہ کہ (دیکھو) صرف میری عبادت کرنا یہی (نجات کی ) سیدھی راہ ہے،،۔


( وَبِعَهْدِ اللَّـهِ أَوْفُوا ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ ) ۶:۱۵۲

''اور خدا کے عہد و پیمان کو پورا کرو یہ وہ باتیں ہیں جن کا خدا نے تمہیں حکم دیا ہے تاکہ تم عبرت حاصل کرو،،۔

( وَأَنَّ هَـٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ ۚ ) : ۱۵۳

''اور یہ (بھی سمجھ لو) کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے تو اسی پر چلے جاؤ اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ تم کو خدا کے راستہ سے (بھٹکا کر) تتر بتر کر دیں گے،،

چونکہ اللہ کی عبادت کسی خاص قسم میں منحصر نہیں ہے بلکہ بعض عبادات کاتعلق دل اور نفس سے ہے اور بعض کا متعدد اعضاء بدن سے۔ لہٰذا کبھی تو ایک عام اور وسیع معنی کو مدنظر رکھا جاتا ہے جو عبادت کی تمام اقسام کو شامل ہے اس معنی کی مناسبت سے لفظ صراط مفرد سے تعبیر کیا جاتا ہے جیسے ''الصراط المستقیم،، اور ''الصراط السویٰ،، ہے اور کبھی عبادت کی مختلف اقسام کو پیش نظر رکھا جاتاہ ے جس طرح اللہ تعالیٰ ، رسول اللہ (ص) اور معادپر ایمان لانا اور نماز ، روزہ ، حج اور دیگر اعمال بجا لانا ہے اس معنی کی مناسبت سے یہ لفظ جمع کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے چنانچہ ارشادباری ہے۔

( قَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللَّـهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ ) ۵:۱۵

''اور تمہارے پاس تو خدا کی طرف سے ایک (چمکتا ہوا) نور اور صاف صاف بیان کرنے والی کتاب (قرآن) آ چکی،،

( يَهْدِي بِهِ اللَّـهُ مَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَهُ سُبُلَ السَّلَامِ ) ۵:۱۶

''جو لوگ خدا کی خوشنودی کے پابند ہیں ان کو تو اس کے ذریعہ سے نجات کے راستوں کی ہدایت کرتا ہے،،

( وَمَا لَنَا أَلَّا نَتَوَكَّلَ عَلَى اللَّـهِ وَقَدْ هَدَانَا سُبُلَنَا ۚ ) ۱۴:۱۲

''اور ہمیں (آخر) کیا ہے جو ہم اللہ پر بھروسہ نہ کریں حالانکہ ہمیں (نجات کی) یقیناً اسی نے راہیں دکھائیں،،

( وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ ) ۲۹:۶۹

''اور جنل وگوںنے ہماری راہ میں جہاں کیا انہیں ہم ضرور اپنے راستوں کی ہدایت کریں گے،،


الانعام:

''انعام،، کے معنی ہیں ، نعمتوں سے نوازنا اور ان میں اضافہ کرنا اللہ کی نعمتوں سے نوازے گئے لوگ وہ ہوتے ہیں جو صراط مستقیم پر گامزن ہوں جنہیں خواہشات نفسانی شیطان کی اطاعت پر آمادہ نہ کر سکے اور اس طرح وہ ابدی سعادت اور دائمی زندگی حاصل کر لیں اور اس سے بڑھ کر یہ کہ انہیں رضائے الٰہی نصیب ہو۔

( وَعَدَ اللَّـهُ الْمومنينَ وَالْمومناتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا وَمَسَاكِنَ طَيِّبَةً فِي جَنَّاتِ عَدْنٍ ۚ وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللَّـهِ أَكْبَرُ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ) ۹:۷۲

''خدا نے ایماندار مردوں اور ایماندار عورتوں سے (بہشت کے) ان باغوں کا وعدہ کر لیاہے جن کے نیچے نہریں جاری ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے (بہشت) عدن کے باغوں میں عمدہ عمدہ مکانات کا (بھی وعدہ فرمایا ہے) اور خدا کی خوشنودی ان سب سے بالاتر ہے یہی تو بڑی اعلیٰ درجہ کی کامیابی ہے،،

الغضب:

''غضب،، نارضگی کو کہا جاتا ہے جس کے مقابلے میں رحمت ہے اللہ ان لوگوں پر غضبناک ہوتا ہے جو کفر کے بھنور میں پھنسے ہوئے اور حق سے منحرف ہوں اور آیات الٰہی کو پس پشت ڈالتے ہوں اس سے مراد مطلق کافر نہیں:

( وَلَـٰكِن مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللَّـهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ) ۱۶:۱۰۶

''بلکہ خوب سینہ کشادہ (جی کھول کر) کفر کرے تو ان پر خدا کا غضب ہے اور ان کیلئے بڑا (سخت)عذاب ہے،،


الضلال:

''ضلال،، بے راہ روی اور گمراہی کو کہا جاتا ہے اس کے مقابلے میں ''ہدایت،، ہے گمراہ لوگ وہ ہیں جو راہ ہدایت سے منحرف اور ابدی ہلاکت و دائمی عذاب سے دوچار ہوں لیکن یہ لوگ شدت کفر میں ان لوگوں کی مانند نہیں جو غضب الٰہی کے مستحق ہیں کیونکہ اگرچہ گمراہ ہونے والے حق کی تحقیق میں کوتاہی کی وجہ سے صراط مستقیم سے بھٹک گئے ہوتے لیکن حق آشکار ہونے کے بعد وہ اس سے دشمنی نہیںبرتتے۔

چنانچہ بعض روایات میں ہے کہ ''مغضوب علیھم،، سے مراد یہود اور ''ضالین،، سے مراد نصاریٰ ہیں اس سے قبل اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا جا چکا ہے کہ قرآنی آیات صرف شان نزول سے مختص نہیں ہواکرتیں اور یہ کہ ان آیات کا جو معنی بھی بیان کیا جائے وہ قاعدہ کلیہ کی تطبیق و اطلاق ہے۔

اعراب

سورہ فاتحہ میں جملہ ''غیر ا لمغضوب علیھم،، جملہ ''الذین انعمت علیھم،، کا بدن بن رہا ہے دوسرا احتمال یہ ہے کہ الذین انعمت علیھم کی صفت بن رہا ہے بایں معنی کہ اللہ کی نعمتیں اس کی رحمت کی طرح تمام تک پہنچتی رہتی ہیں کچھ لوگ ان نعمتوں کا شکر بجالاتے ہیں اور کچھ لوگ کفران نعمت کرتے ہیں:

( أَلَمْ تَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً ۗ وَمِنَ النَّاسِ مَن يُجَادِلُ فِي اللَّـهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلَا هُدًى وَلَا كِتَابٍ مُّنِيرٍ ) ۳۱:۲۰

''کیا تم لوگوںنے اس پر غور نہیں کیا کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے(غرض سب کچھ) خدا ہی نے یقینی تمہارا تابع کر دیا ہے اور تم پر اپنی ظاہری اورباطنی نعمتیں پوری کر دیں اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو (خواہ مخواہ) خدا کے بارے میں ھجگڑتے ہیں (حالانکہ ان کے پاس ) نہ علم ہے اور نہ ہدایت ہے اور نہ کوئی روش کتاب ہے،،


الٰہی نعمتوں سے مستفید ہونے والوں کو جو یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ غضب الٰہی سے بچتے ہیں اس کے مفہوم و اطلاق کو مقید کیا گیا ہے تاکہ یہ جملہ صرف ان لوگوں کو شامل ہو جو دونوں صفات کے حامل ہیں اس طرح یہ آیت ان لوگوں کو شامل نہیں ہو گی جنہوں نے اللہ کی نعمتوں کاشکر ادا نہیں کیا۔

بنا برایں آیہ کریمہ کا مفہوم یہ ہے کہ بندے ، اللہ سے ایسے راستے کی ہدایت کے طالب ہیں جس پر اللہ کی نعمتوں سے بہرہ مند لوگوں میں سے کچھ خاص لوگ گامزن ہیں اور وہ ، وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفران نعمت نہیں کیا اور اللہ کی اطاعت میں ثابت قدم رہتے ہوئے آخرت کی نعمتوں سے بھی اسی طرح مستفیض ہوں گے جس طرح دنیا میں اس کی نعمتوں سے مستفیض ہوئے اس طرح دنیا و آخرت دونوں میں انہیں سعادت حاصل ہوئی۔

آیہ شریفہ اپنے مفہوم کے اعتبار سے اس جملے کی مانند ہے جیسے کہا جائے : گمراہ کن کتابوں کے علاوہ دوسری کتب اپنے پاس رکھنا جائز ہے،، اس تحیل کی روشنی میں بعض حضرات کے اس اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں رہتی اور نہ ہی اس کا جواب دینے کی ضرورت ہے جو یہ کہتے ہیں ۔

''لفظ،، غیر میں بہت زیادہ ابہام پایا جاتا ہے جو اضافت کی وجہ سے معرفہ نہیں بن سکتا اس لئے یہ کسی معرفہ کی صفت نہیں بن سکتا،،

خلاصہ بحث یہ ہوا کہ کسی بھی جملے، چاہے خبر ہو یا انشائیہ ، میں موجود حکم اگر عام ہو اور موضوع کے تمام افرادکو شامل ہو تو اس کی تخصیص جس طرح ''الا،، وغیرہ سے کی جا سکتی ہے اسی طرح لفظ ''غیر،، کے ذریعے بھی کی جا سکتی ہے گویا آپ یوں کہہ سکتے ہیں میرے پاس سارے شہر والے آئے سوائے فاسقین کے یا سب شہر والوں کا احترام کرو سوائے فاسقین کے۔


الضآلین

اس لفظ کا عطف ''غیر المغضوب علیھم ،، پر ہے ۔ اس جملے میں ''لا،، نفی کو بھی استعمال کیا گیاہ ے تاکہ نفی کی تاکید ہو اور یہ غلط فہمی نہ ہو کہ ''مغضوب،، اور ''ضالین،، دونوں کے مجموعے کی نفی کی گئی ہے چنانچہ لفظ ''غیر،، ضمنی طور پر نفی پر دلالت کرتا ہے اس لئے اس پر وہی حکم جاری کرتے ہیں جو حروف کا ہے مثلاً کہتے ہیں:

جالس رجلا غیر فاسق ولا سئی الخلق ، اعبدالله بغیر کس ولا ملل ،، (یعنی) ''ایسے آدمی کے ساتھ بیٹھو جو فاسق اور بداخلاق نہ ہو۔ اللہ کی عبادت کرو بغیر کسی اکتاہٹ اور سستی کے،،۔

ہمارے بعض تقریباً ہم عصر علمائے کرام کا خیال ہے لفظ ''غیر،، کا استعمال نفی میں صحیح نہیں ہے اس طرح انہوں نے آیہ کریمہ کی توجیہ کرنے میں اپنے آپ کو مشقت میں مبتلا کیا ہے آخر کار کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے سکے اور اپنی عاجزی کا ا عتراف کر لیا ہے۔

تفسیر

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو پہلے توحید فی العبادۃ اور توحید فی الاستعانۃ کا اعتراف کرنے کی تعلیم دی یعنی صرف اللہ کی عبادت کی جائے اور مدد بھی صرف اسی سے مانگی جائے اس کے بعد اپنے بن دوں کو اس امر کی تلقین کی کہ وہ اللہ سے صراط مستقیم کی ہدایت کی دعا مانگیں۔

اس آیہ شریفہ کا پہلا حصہ اللہ کی حمد و ثناء اور بزرگی پر مشتمل ہے اور آخری حصہ ہدایت کی دعا پر ابتدائی اور آخری حصے کے درمیان آیہ شریفہ :ایاک نعبد و ایاک نستعین،، پہلی آیت کے مضمون کا نتیجہ اوربعد والی آیت میں موجود دعا کی تمہید ہے اس لئے کہ پہلی آیت میں خدا کی جو عظمت و بزرگی بیان کی گئی ہے اس پر عبادت و استعانت (مدد طلبی) کا ذات الٰہی سے مختص ہونے کا دار و مدار ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات ، رحمت اور سلطنت کی وجہ سے عبادت کا مستحق ہے اور غیر اللہ عبادت و استعانت کا مستحق نہیں۔


جب عبادت اور استعانت خدا کی ذات سے مختص ہوئی تو لامحالہ دعا بھی اسی کے دربار میں کی جانے چاہئے یہی وجہ ہے کہ فریقین نے اس روایت کو نقل کیا ہے۔

ان الله تبارک و تعالیٰ قدجعل هذه السورة نصفین : نصف له و نصف لعبده ، فاذا قال العبد : الحمد لله رب العالمین ، یقول الله تعالیٰ : مجدنی عبدی ، و اذاقال : اهدنا الصراط المستقیم ، قال الله تعالیٰ هذا لعبدی و لعبدی ماسال ،، (۱)

''اللہ نے سورہ حمد کو دو حصوں میں تقسیم فرمایا ، آدھا سورہ اللہ کیلئے اور آدھا اس کے بندوں کیلئے ، جب بندہ الحمد للہ رب العالمین کہتا ہے تو خالق فرماتا ہے : میرے عبد نے میری عظمت بیان کی ہے اور جب بندہ کہے :اھدنا الصراط المستقیم،، تو خالق فرماتا ہے : یہ میرے عبد کا حصہ ہے میرا بندہ جو مانگے اسے دیا جائے گا،،۔

گزشتہ بحثوں سے معلوم ہوا کہ انسان اپنے ایمان و عقیدہ اوراعمال کے سلسلے میں تین میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کر سکتا ہے۔

(۱) وہ راستہ جو اللہ نے اپنے بندوں کیلئے مقرر کر رکھا ہے اس راستے پر وہ شخص چلتا ہے جسے اللہ نے اپنے فضل و کرم سے ہدایت فرمائی ہے۔

(۲) وہ راستے ، جن پر گمراہ چلتے ہیں۔

(۳) وہ راستہ جس پر غضب الٰہی کے مستحق افراد چلتے ہیں۔

سورہ حمد میں اللہ تعالیٰ نے یہ حقیقت بیان فرمائی ہے کہ صراط مستقیم جو پہلا راستہ ہے وہ دوسرے دو راستوں سے مختلف ہے بایں معنی کہ صراط مستقیم پر چلنے والے اور ہوتے ہیں اور دوسرے راستوں پر چلنے والے اور ہوتے ہیں اس طرح یہاں پر یہ نکتہ بیان فرمایا ہے کہ جو شخص طریق مستقیم سے انحراف کرے رسوائی اس کا مقدر ہوتی ہے اس لئے کہ وہ گمراہ وتا ہے یا گمراہ ہونے کے علاوہ غضب الٰہی کا بھی مستحق ہوتا ہے۔

____________________

(۱) عیون اخبار الرضا ۔ باب ماجاء من الرضامن الاخبار المتفرقہ ، ص ۱۶۶ طبع ایران ۱۳۱۷ھ


اللہ تعالیٰ ہمیں آخرت کی رسوائی سے بچائے اور صراط مستقیم کی ہدایت فرمائے۔

مفسرین کا کہنا ہے : اللہ سے وہ شخص ہدایت طلب کرتا ہے جو پہلے سے ہدایت یافتہ نہ ہو اور ایک مسلمان ، جو اللہ کی وحدانیت اور یگانگی کا قائل ہے وہ کیونکر اپنی نماز میں ہدایت کی دعا کرتا ہے۔

اس اعتراض کے کئی جواب دیئے گئے ہیں

(۱) آیت میں ہدایت سے مراد پہلے سے حاصل ہدایت کی بقاء اور دوام ہے یعنی جب اللہ نے اپنے بندوں کو اپنے فضل و احسان سے ایمان کی ہدایت کر دی تو اب اس کے بندے یہ دعا مانگتے ہیں : پالنے والے ! ہمیں ایمان پر ثابت قدم رہنے اور اسے برقرار رکھنے کی توفیق عنایت فرما تاکہ ہدایت کے بعد کہیں لغزش قدم کے نتیجے میں دوبارہ گمراہ نہ ہو جائیں۔

(۲) ہدایت کا معنی ثواب ہے یعنی بارالٰہا! ہمیں ثواب کے طور پر راہ جنت عطا فرما۔

(۳) ہدایت سے مراد ہدایت میں اضافہ ہے اس لئے کہ ہدایت کبھی کم اور کبھی زیادہ ہوتی ہے جو شخص ہدایت کی ایک منزل پر فائز ہو وہ اس سے بلند منزل پر فائز ہونے کی دعا کر سکتا ہے۔

یہ تینوں جوابات خام خیالی اور ظاہر آیہ کریمہ کیخلاف ہیں ۔ صحیح جواب یہ ہے کہ جس ہدایت کی مسلمان اپنی نماز میں دعا کرتا ہے وہ ایسی ہدایت ہے جو اسے پہلے حاصل نہیں اسی لئے اللہ کے حضور اس کے حصول کی دعا مانگی جاتی ہے۔

وضاحت: اللہ کی طرف سے دو قسم کی ہدایت کی جاتی ہے۔

(۱) ہدایت عامہ

(۲) ہدایت خاصہ


ہدایت عامہ: یہ ہدایت کبھی تکوینی ہوتی ہے اور کبھی تشریعی ۔ تکوینی ہدایت عامہ وہ ہے جو اللہ نے جمادات ، نباتات اور حیوانات غرض تمام موجودات کو ودیعت فرمائی ہے یہ سب چیزیں قدرتی طور پر یا اپنے اختیار سے اپنے کمال اور ارتقائی منازل کی طرف رواں دواں ہیں ۔ اللہ کی ذات نے ان چیزوں میں طلب کمال کی قدرت و دیعت فرمائی ہے:

کیا آپ نے نباتات میں کبھی غور کیا ہے کہ وہ اپنی نشوونما کے دوران ایسے راستے کا انتخاب کرتی ہیں جس میں کوئی رکاوٹ نہ ہو ، یا کبھی حیوانات کے بارے میں سوچا ہے کہ وہ موذی حیوانوں کوکیسے دوسروں سے تمیز دے لیتے ہیں مثلاً چوہا بلی سے تو بھاگتا ہے لیکن بکری سے نہیں بھاگتا یا چیونٹی اور شہد کی مکھی اجتماع اور حکومت تشکیل دینے اور اپنی رہائشی جگہ تعمیر کرنے کی ہدایت و رہنمائی کیسے حاصل کرتی ہے ؟ یا شیر خوار طفل پستان مادر کی رہنمائی کیسے حاصل کرتا ہے اور ولادت کے فوراً بعد دودھ پینا شروع کر دیتا ہے۔

( قَالَ رَبُّنَا الَّذِي أَعْطَىٰ كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدَىٰ ) ۲۰:۵۰

''موسیٰ (ع) نے کہا ہمارا پروردگار وہ ہے جس نے ہر چیز کو اسی کے (مناسب) صورت عطا فرمای پھرا سی نے (زندگی بسر کرنے کے) طریقے بتائے،،۔

تشریعی ہدایت عامہ وہ ہے جو اللہ نے انسانوں کی طرف نبی (ع) بھیج کر اور ان پر کتب نازل فرما کر مکمل کی پہلے خدا نے انسان کو عقل اور حق و باطل میں تمیز کرنے کی صلاحیت دے کر ان پر حجت تمام کی اس کے بعد انسان کی ہدایت کیلئے انبیاء بھیجے جو انسانوںکے سامنے آیات الٰہی کی تلاوت کرتے اور ان کیلئے مختلف شریعتوں کو بیان کرتے تھے پھر اللہ نے انبیاء (ع) کو معجزات دے کر بھیجا جو ان کی نبوت کا ثبوت اور دلیل بن سکے اس کے بعد کچھ لوگ ہدایت پا گئے اور کچھ گمراہ ہو گئے اور ضلالت ان کا مقدر بن گئی۔

( إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا ) ۷۶:۳

''اس کو رستہ بھی دکھا دیا (اب وہ ) خواہ شکر گزار ہو خواہ ناشکرا،،


ہدایت خاصہ: یہ ہدایت تکوینی ہوتی ہے اور یہ اللہ کا خاص لطف و کرم ہے جس سے وہ اپنے بعض مخصوص بندوں کو اپنی حکمت و مصلحت کے مطابق نوازتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لئے وہ اسباب و ذرائع فراہم کرتا ہے جس سے وہ اپنے کمال اور منزل مقصود تک پہنچ جائیں اگر اللہ تعالیٰ اپنی ہدایت خاصہ کے ذریعے لوگوں کی ہدایت اور اصلاح نہ فرمائے تو وہ گمراہی کی اتھاہ گہرائیوں میں جاگریں ہدایت کی اس قسم کی طرف قرآن کی متعدد آیات میں اشارہ کیا گیا ہے۔

( فَرِيقًا هَدَىٰ وَفَرِيقًا حَقَّ عَلَيْهِمُ الضَّلَالَةُ ۗ ) ۷:۳۰

''اسی نے ایک فریق کی ہدایت کی اور ایک گروہ (کے سر) پر گمراہی سوار ہو گئی،،۔

( قُلْ فَلِلَّـهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ ۖ فَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ ) ۶:۱۴۹

(اےرسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم)) تم کہو کہ اب (تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں) خدا تک پہنچانے والی دلیل خدا ہی کے لئے خاص ہے پھر اگر وہی چاہتا تو تم سب کی ہدایت کرتا،،

( لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ ۗ ) ۲:۲۷۲

''(اے رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم)) انہیں منزل مقصود تک پہنچانا تمہارا فرض نہیں (تمہارا کام) صرف راستہ دکھانا ہے مگر ہاں خدا جس کو چاہے منزل مقصود تک پہنچا دے،،

( إِنَّ اللَّـهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ ) ۶:۱۴۴

''خدا ہرگز ظالم قوم کو منزل مقصود تک نہیں پہنچاتا،،

( وَاللَّـهُ يَهْدِي مَن يَشَاءُ إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ) ۲:۲۱۳

''اور خدا جس کو چاہے راہ راست کی ہدایت کرتا ہے،،

( إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَـٰكِنَّ اللَّـهَ يَهْدِي مَن يَشَاءُ ۚ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ ) ۲۸:۵۶

(اےرسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم)) بیشک تم چسے چاہو منزل مقصود تک نہیں پہنچا سکتے مگر ہاں خا جسے چاہے منزل مقصود تک پہنچائے،،


( وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا ۚ ) ۲۹:۶۹

''اور جن لوگوں نے ہماری راہ میں جہاد کیا انہیں ہم ضرور اپنی راہ کی ہدایت کریں گے،،

( فَيُضِلُّ اللَّـهُ مَن يَشَاءُ وَيَهْدِي مَن يَشَاءُ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ) ۱۴:۴

''تو یہی خدا جسے چاہتا ہے گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے ہدایت کرتا ہے اور وہی سب پر غالب حکمت والا ہے،،

ان آیات کے علاوہ بھی قرآن کریم کی متعدد آیات ایسی ہیں جن سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ اللہ کی ہدایت خاصہ کچھ خاص قسم کے لوگوں کو نصیب ہوتی ہے سب کو نہیں بنا برایں اس سورہ فاتحہ میں مسلمان پہلے اللہ کی تشریعی و تکوینی ہدایت عامہ کا اعتراف کرتا ہے اس کے بعد درگاہ الٰہی میں تکوینی ہدایت خاصہ کی دعا کرتا ہے جو صرف مخصوص لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ انسان قدرتی طور پر ہلاکت اور سرکشی سے دو چار ہو سکتا ہے اس لئے مسلمان اور موحد کو چاہئے کہ وہ صرف اپنے نفس پر اعتماد نہ کرے بلکہ اپنے رب سے مدد طلب کرے اور اس سے ہدایت کی دعا مانگے تاکہ وہ اسے صراط مستقیم کی رہنمائی فرمائے اور وہ ان لوگوں میں سے نہ ہو جو گمراہ اور غضب الٰہی کے مستحق ہیں۔


ضمیمہ جات

۱۔ حدیث ثقلین کے مدارک اور حوالے

۲۔ حارث کی سوانح حیات اور شعبی کے بہتان

۳۔ حدیث شریف''لترکبن سنن من قبلکم ،، کے حوالے۔

۴۔ موتف اور یہودی عالم میں بحث

۵۔ ترجمہ قرآن اور اس کی شرائط

۶۔ رسول اسلام (ص) کو شکست دینے کی قریشیوں کی کوشش۔

۷۔ صحیح بخاری میں حدیث متعہ کی تحریف

۸۔ محمد عبدہ ، اور تین طلاقیں

۹۔ شیعوں پر رازی کا افترائ

۱۰۔ احادیث اور مشیّت الٰہی

۱۱۔ دعا سے تقدیر الٰہی بدل جانے کی احادیث

۱۲۔ آیہ بسم اللہ کی اہمیت

۱۳۔ آغاز آفرینش

۱۴۔ بسم اللہ کے جزء قرآن ہونے کی احادیث

۱۵۔ معاویہ بسم اللہ پڑھنا بھول جاتا تھا


۱۶۔ رسول خدا کا بسم اللہ پڑھنا اور روایت انس کی توجیح

۱۷۔ ابن تیمیہ اور زیارت قبور کے جواز کی حدیثیں

۱۸۔ آلوسی کی شیعوں پر بہتان تراشی

۱۹۔ مولف اور حجازی عالم میں بحث

۲۰۔ تربت سید الشہداء (ع) کی حقیقت

۲۱۔ مکاشفہ کے ذریعے آیہ سجود کی تاویل

۲۲۔ ابلیس اور خدا کامکالمہ

۲۳۔ اسلام اور شہداتین

۲۴۔ عبادت اور اس کے عوامل

۲۵۔ الامربین الامرین لوگوں کی نیکیاں اور برائیاں

۲۶۔ شفاعت کے مدارک


ضمیمہ (۱) ص ۱۸

حدیث ثقلین کے مدارک اور حوالے

حدیث ثقلین کو احمد نے اپنی کتاب ''مسند،، کی جلد ۳ کے صفحہ ۱۴ ، ۱۷ ، ۲۶ اور ۵۹ پر ابو سعید خدری سے روایت کیا ہے دارمی نے کتاب فضائل القرآن،، کے جزء ۲ کے صفحہ ۴۳۱ اور احمد نے اپنی کتاب ''مسند،، کے جزء ۴ کے صفحہ ۳۶۶ اور ۳۷۱ پر زید بن ارقم سے اور جزء ۵ کے ص ۱۸۶ ، ۱۸۹ پر زید بن ثابت سے روایت کیا ہے ۔

جلال ادین سیوطی نے ''جامع الصغیر،، میں طبرانی سے اور اس نے زید بن ثابت سے اس کی روایت کی ہے جلال الدین سیوطی نے یہ حدیث نقل کر کے اسے صحیح قرار دیا ہے علامہ مناوی نے اپنی شرح کی جز ۳ کے صفحہ ۱۵ پر لکھا ہے : ھیثمی کا کہنا ہے '' اس حدیث کے راوی موثق ہیں،،

نیز ابویعلیٰ نے اس حدیث کی ایسے سلسلہ سند سے روایت کی جو قابل خدشہ نہیں ہے حافظ عبدالعزیز ابن الاخضر نے بھی اس حدیث کو نقل کیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس بات کااضافہ بھی کیا ہے کہ یہ حدیث حجتہ الوداع کے موقع پر صادر ہوئی اور وہ شخص (جیسا کہ ابن جوزی ہے) غلطی پر ہے جو اسے من گھڑت سمجھتا ہے سمھودی کا کہنا ہے کہ اس حدیث کو بیس سے زیادہ صحابہ نے نقل کیا ہے۔

حاکم نے کتاب ''المستدرک،، کی جزء ۳ کے صفحہ ۱۰۹ پر زید ابن ارقم سے اس حدیث کی روایت کی ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے ذہبی نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے اگرچہ روایات کی تعبیریں مختلف ہیں مگر سب کا مطلب ایک ہی ہے۔


ضمیمہ (۲) ص ۱۸

حارث کی سوانح حیات اور

شعبی کے بہتان ان کا نام حارث بن عبداللہ الاعور الھمدانی ہے علمائے امامیہ کا اس پر اتفاق ہے کہ آپ امیر المومنین (علیہ السلام) کے بزرگ اصحاب میں سے تھے علماء کرام نے ان کو عظیم المرتبت ، متقی ، پرہیز گار اور خدمت گزارامیر المومنین (ع) کے لقب سے یاد کیا ہے۔

علماء کرام نے اپنی کتاب رجال اور دیگر کتابوں میں ان کے موثق ہونے کی تصریح کی ہے اہل سنت کے کئی بزرگ علماء نے حارث کا ذکر کیا ہے اور اس کی تعریف کی ہے ابن حجر عسقلانی ''تہذیب التہذیب،، میں لکھتے ہیں،،

''دوری نے ابن معین سے نقل کیا ہے کہ حارث نے ابن مسعود سے حدیث سنی ہے اور یہ قابل خدشہ نہیں ہے،،

عثمان دارمی نے ابن معین سے نقل کیا ہے : ''حارث موثق ہے،،

اشعث ابن سوار نے ابن سیرین سے نقل کیا ہے ''میں نے کوفہ جا کر دیکھا کہ لوگ پانچ آدمیوں کو دوسروں پر مقدم سمجھتے تھے ان میں سے جو شخص حارث کو سب سے مقدم سمجھتا تھا وہ دوسرے نمبر پر عبیدہ کا نام لیتا تھا اور جو شخص عبیدہ کو سب سے مقدم سمجھتا تھا وہ دوسرے نمبر پر حارث کا نام لیتا تھا،،

ابن ابی داؤد کہتے ہیں ''حارث ، فقہ ، حسب و نسب اور مسائل ارث میں سب سے بہتر تھے آپ نے میراث کے احکام امیر المومنین (ع) سے حاصل کئے،،


ذہبی حارث کے حالات زندگی میں لکھتا ہے ''حارث کی احادیث سنن اربعہ میں موجود ہیں اور نسائی نے رجال (راویوں) کے سلسلے میں سخت گیر ہونے کے باوجود حارث کی احادیث سے استدلال کیا ہے اور اس کی تائید کی ہے وہ (حارث) علم کے سمندر تھے،،

مرہ بن خالد کہتا ہے کہ محمد بن سیرین نے خبر دی ہے ''اصحاب بابن مسعود میں پانچ افراد ایسے تھے جن کی احادیث قابل قبول ہوتی تھیں ان میں سے چار کی زیارت کی گئی مگر حارث کی زیارت سے محروم رہا حارث کو باقی چاروں پر فضیلت حاصل تھی اور وہ ان سے بہتر تھا،،

مولف: تعصبات و خواہشات کاتقاضا یہی ہے جو شعیی نے کہا ہے ''حارث اعور نے مجھ سے حدیث بیان کی اور وہ (حارث) ایک جھوٹا انسان تھا ،، اس بات میں کچھ اور لوگوں نے بھی شعبی کی متابعت کی ہے۔

عبداللہ قرطبی اپنی تفسیر کے جزء اول صفحہ ۵ پر لکھتے ہیں۔

درحقیقت حارث کو اس لئے مطعون کیا جاتا ہے کہ ان کے دل میں حب علی (ع) کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی اور وہ امیر المومنین (ع) کو دوسروں سے افضل سمجھتے تھے اسی لئے شعبی نے اس (حارث) کی تکذیب کی ہے کیونکہ وہ شعبی حضرت ابوبکر کو دوسروں سے بہتر اور پہلا مسلمان سمجھتا تھا،،۔

ابن حجر ، حارث کے حالات میں لکھتا ہے کہ ابن عبدالبر نے اپنی کتاب ''العلم،، میں حارث کا شبی کی طرف سے طعن و تشینع کا نشانہ بننے کا یہ راز بیان کیا ہے۔

''حارث حب علی (ع) میں انتہا پسند تھے میرے خیال میں شعبی ، حارث کی تکذیب اور اسے جھٹلانے کی وجہ سے عذاب الٰہی کا مستحق ہو گا اس لئے کہ حارث کی کوئی بھی بات جھوٹ ثابت نہیں ہوئی،،۔

ابن شاہین نے ''ثقات،، میں لکھا ہے کہ احمد بن صالح مصری کہتے ہیں۔

''حارث کتنے مضبوط حافظہ کے مالک تھے اور انہوں نے کتنی اچھی اور زندہ روایات حضرت علی (علیہ السلام) سے روایت کی ہیں،،


اس کے بعد انہوں نے حارث کی تعریف و ستائش کی ہے احمد بن صالح سے کہا گیا شعبی تو کہتا ہے کہ حارث جھوٹ بولا کرتاتھا احمد بن صالح نے کہا حارث نقل حدیث کے سلسلے میں جھوٹ نہیں بولتا تھا۔ صرف اس کی اپنی رائے خلاف واقعہ ہوتی تھی۔

خدارا! صاحب بصیرت نقاد بتائیں کیا علم پرور شریعت اور دین اسلام اس امر کی اجازت دیتا ہے کہ کسی مسلمان کی طرف فحاشی کی نسبت صرف اس بنیاد پر دی جائے اورا س پر جھوٹ بولنے کی تہمت صرف اس لئے لگائی جائے کہ اسکے دل میں حضرت علی (ع) کی محبت ہے اور کہ وہ حضرت علی (ع) کو دوسروں سے افضل سمجھتا ہے ؟ کیا خود رسول اللہ (ص) نے حضرت علی (ع) کے دوسروں سے افضل ہونے کا برملا اعلان نہیں فرمایا یہاں تک کہ رسول اللہ (ص) نے حضرت علی (ع) کو وہ مقام دیا جو حضرت ہارون (ع) کو حضرت موسیٰ (ع) کی نسبت حاصل تھا اور آپ (ع) کو ایسے خصائل و خصوصیات سے نوازا جو دوسرے صحابہ رسول (ص) میں سے کسی کو حاصل نہ تھیں۔

مستدرک حاکم جزء ۳ ، ۱۰۸ کے مطابق سعد ابن ابی وقاص نے معاوضہ کے سامنے ان فضائل کی اس وقت شہادت دی جب معاویہ نے سعد بن ابی وقاص کو امیر المومنین (ع) پر سب و شتم کرنے پر مجبور کرنا چاہا اس موقع پر سعد بن ابی وقاص نے کہا۔

کیف اسب رجلاً کانت لہ خصال من رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم: لو ان لی واحدۃ منہا لکان احب الی من حمر انعم ،،

''بھلا اس ہستی پر میں کیسے سب و شتم کر سکتا ہوں جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسے فضائل و مناقب سے نوازا جن میں ایک فضیلت بھی مجھے نصیب ہوتی تو سرخ اونٹوں سے زیادہ میں اسے پسند کرتا،،

اس کے بعد سعد بن ابی وقاص نے حدیث کساء ، حدیث منزلت (انت منی بمنزلہ ہارون من موسیٰ ) اور جنگ خیبر میں علم دینے کا واقعہ بیان کیا رسول اللہ (ص) نے صرف انہی فضائل کے بیان پر اکتفا نہیں کیا بلکہ امت کے سامنے حضرت علی (علیہ السلام) کے بلند مقام کا اعلان فرمایا۔ چنانچہ مستدرک حاکم جزء ۳ ، صفحہ ۱۰۸ پر ہے کہ رسول اللہ (ص) نے امیر المومنین (ع) سے فرمایا۔


''من اطاعنی فقداطاع الله و من عصانی فقد عصی الله و من اطاعک فقد اطاعنی و من عصاک فقد عصانی،،

''جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس نے تیری اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نے تیری نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی،،

ان کے علاوہ اور بھی بہت سے فضائل ہیں جو حدو حصر سے باہر ہیں۔

ہاں ! اگر شعبی حارث پر تہمتیں لگائے اور اس کی طرف کذب کی نسبت دے تو اس پر تعجب نہیں ہونا چاہئے اس لئے کہ شعبی وہ آدمی ہے جو بنی امیہ اور ان کے ماحول کا پروردہ اور ان کی دنیا میں موج اڑاتا اور ان کی خواہشات کے مطابق عمل کرتا تھا۔

کتاب النجوم الزاہرۃ جزء ۱ صفحہ ۲۰۸ کے مطابق ولید بن عبدالملک کی بیعت کے صلے میں عبدالملک بن مردان نے شعبی کو مصر بھیجا پھر کوفے کے والی و گورنر بشر بن مردان کی طر فسے کوفہ میں اس کا (امور حبیہ میں )وکیل رہا۔

چنانچہ کتاب الاغانی جزء ۲ ، ص ۱۲۰ پر ہے اس کے بعد عمر بن عبدالعزیز کی طرف سے کوفہ کی قضاوت کے منصب پر فائز رہا چنانچہ تاریخ طبری جزئ۵ ، ۳۱۰ پر یہ واقعہ موجود ہے۔

یہی وجہ ہے کہ اس کی تمام حرکات و سکنات مروانی تھیں اور وہ وہی کچھ کہتا اور کرتا تھا جو خواہشات نفسانی کاتقاضا ہو کسی جھوٹی بات سے نہ اسے کوئی جھجھک ہوتی تھی اور نہ بیہودگی سے یہ باز آتات ھا۔

ابو الفرج نے الاغانی جزء ۱ ، ص ۱۲۱ پر حسن بن عمر فقیمی سے نقل کیا ہے کہ فقیمی کہتا ہے:

''میں شعبی کے کمرے میں اس کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اتنے میں، میں نے گانے کی آواز سنی میں نے شعبی سے کہا : گانے کی آواز آپ کے ہمسائے کے گھر سے آ رہی ہے میں نے اس کے ساتھ جا کر اس کے مکان کی چھت پر ایک چاند سے حسین و جمیل لڑکے کو دیکھا جوگانےگا رہا تھا حسن بن عمر فقیمی کہتا ہے کہ شعبی نے مجھ سے کہا : جانتے ہو یہ کون ہے ؟ میں نے کہا نہیں۔ شعبی نھے کہا یہ وہ ہے جس کو بچپن ہی میں حکمت عطا کی گئی ہے یہ ابن سریج ہے،،۔


نیز الاغانی کے جزء ۲ ، ص ۷۱ پر عمر بن ابی خلیفہ سے منقول ہے۔

''شعبی اور میرے والد گھر کے بالائی حصے میں تھے اتنے میں ہم نے اچھی آواز میں گانے کی آواز سنی میرے والد نے کہا تمہیں کچھ نظر آ رہا ہے ؟ شعبی نے کہا نہیں ۔ اس وقت ہمیں ایک خوبصورت نوجوان لڑکا نظر آیا جو گا رہا تھا اور وہ عائشہ کابیٹا تھا ، شعبی نے اس کے گانے کو پسند کیا اور کہا : خدا جسے چاہتا ہے علم و حکمت سے نوازتا ہے،،۔

الاغانی کے جزء ۲ ، ص ۱۳۳ پر مذکور ہے ''مصعب بن زبیر نے کوفے پر اپنی گورنری کے دوران شعبی کا ہاتھ تھام کر اسے اپنی زوجہ عائشہ بنت طلحہ ، جو اس وقت بے حجاب تھی کی خواہب گاہ میں لے گیا اور پھر مصعب نے اپنی زوجہ کے بارے میں شعبی کی رائے پوچھی شعبی نے اپنی رائے ظاہر کی اور اس کی زوجہ کی ایسی ہی تعریف کی جیسی مصعب چاہتا تھا اس پر مصعب نے شعبی کو دس ہزار درہم اور تیس لباس دیئے،،۔

شعبی اگر حارث کو ان الفاظ میں یاد کرے تعجب کی کون سی بات ہے یہ تو وہی شخص ہے جو امیر المومنین علی (علیہ السلام) کے بارے میں قسم کھا کر کہتا تھا:

لقد دخل علی حضرة و ما حفظ القرآن،،

یعنی ''علی (ع) اپنی قبر میں پہنچ گئے مگر قرآن حفظ نہ کر سکے،،

چنانچہ قرطین کے جزء ۱ ، ص ۱۵۸ پر مذکور عبارت موجود ہے۔

صاحبی ، فقہ اللغۃ کے صفحہ ۱۷۰ پر رقمطراز ہے۔

''شعبی کا یہ جملہ اس شخص کے بارے میں انتہائی بے ہودہ ہے جو کہا کرتا تھا۔

''سلونی قبل ان تفقدونی ، سلونی فمامن آیة الااعلم بلیل نزلت ام بنهار ام فی سهل ام فی جبل ،،

یعنی ''پوچھنا ہے مجھ سے پوچھ لو قبل اس کے کہ میں تم میں نہ رہوں اس لئے کہ میں قرآن کی ہر آیت کے بارے میں بتا سکتا ہوں کہ وہ رات کے وقت نازل ہوئی یا دن کے وقت کسی ہموار جگہ پر نازل ہوئی ہے یا پہاڑ پر،،


سدی نے عبد خبر سے اور اس نے علی (علیہ السلام) سے روایت کی ہے۔

''آپ (ع) نے رسول خدا (ص) کی وفات کے موقع پر لوگوں کو فال بد کی کیفیت میں دیکھا جس کے بعد آپ (ع) نے قسم کھائی کہ جب تک قرآن مجید کو مکمل جمع نہ کر لوں اپنی چادر دوش پر نہیں رکھوں گا عبد خیر کہتے ہیں پس امیر المومنین (ع) نے اپنے بیت الشرف میں گوشہ نشین ہوئے اور وہیں پر آپ نے قرآن جمع کیا یہ وہ پہلا مصحف تھا جس میںق رآن جمع کیا گیا آپ نے اسی قرآن کو جمع کیا جو آپ کے قلب مطہر پر نقش اور زبانی یاد تھا اور یہ قرآن آل جعفر کے پاس تھا،،

ہر غیرت مند مسلمان کیلئے لمحہ فکریہ ہے کہ اس شخص نے خدا اور رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کیخلاف اس قسم کی بے ہودہ گوئی کی کیسی جرات کی ہے یہ الفاظ ''قرآن حفظ نہ کر سکا،، اس شخص کے بارے میں کہے جا رہے ہیں جو علم رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کے شہر کا دروازہ تھااور آپ (ع) لوگوں کیلئے ان احکام کو بیان کیا کرتے تھے جنہیں دے کر رسول اللہ (ص) کوبھیجاگیا تھا اس مضمون کی بہت سی روایات ہیں جیسا کہ کنز العمال جزء ۶ ص ۱۵۶ پر موجود ہاں ! تو یہ الفاظ اس ہستی کے بارے میں کہے جا رہے ہیں جو حکمت کا شہر تھا جیسا کہ صحیح بخاری جزء ۱۳ ، ص ۱۷۱ پر موجود ہے اور اس شخص کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اسے قرآن حفظ نہیں تھا جوقرآن کے ساتھ ہے اور قرآن اس کے ساتھ اور یہ اس وقت تک ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے جب تک حوض کوثر پر نہ پہنچیں چنانچہ مستدرک الحاکم جزء ۳ ، ص ۱۲۴ اور سیوطی کی جامع الصغیر جزء ۴ ، ص ۳۵۶ پر یہ روایت موجود ہے۔

ان الذین یکسبون الاثم سیجزون ماکانوا یقترفون

''جو لوگ گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں عنقریب ان کو اپنے اعمال کی سزا ملے گی،،


ضمیمہ (۳) ص ۲۰

حدیث شریف ''لترکبن سنن من قبلکم ،، کے حوالے

یہ حدیث مسند احمد کی جزء ۵ ص ۲۱۸ پر ابی واقدلیثی کی حدیث میں وارد ہوئی ہے۔

بخاری میں کتاب الاعتصام بالکتاب و السنتہ باب قول النبی لتتبعن سنن من قبلکم جزء ۸ ، ص ۱۵۱ ، مسلم کی کتاب العلم باب اتباع سنن الیہود و انصاریٰ جزء ۸ ، ص ۵۷ ، اور مسند احمد جزء ۳ ، ص ۷۴ پر ابی سعید خدری سے یہ حدیث وارد ہے نیز ھیثمی کی کتاب مجمع الزوائد ، جزء ۷ ، ص ۲۶۱ پر ابن عباس سے یہ روایت مروی ہے۔

ضمیمہ (۴) ص ۴۳

مولف اور یہودی عالم میں بحث

ایک مرتبہ ایک یہودی عالم سے اس موضوع پر میری بحث ہوئی کہ شریعت یہود بھی اپنی حجت و دلیل کے ختم ہونے پر ختم ہو جاتی ہے۔

میں نے یہودی عالم سے کہا : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت پر عمل کرنا صرف یہودیوں پر واجب تھا یا یہ کہ یہودیوں کے علاوہ دوسری امتوں پر بھی شریعت موسیٰ ؑ پر عمل کرنا واجب ہے ؟ اگر شریعت موسیٰ ؑ صرف یہودیوں سے مختص ہو تو دوسری امتوں کیلئے کسی اور نبی کا ہونا ضروری ہے بتایئے وہ نبی کون ہے ؟ اور اگر شریعت موسیٰ ؑ تمام اقوام اور امتوں کیلئے ہو تو پھر ضرورت اس امر کی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کی نبوت کی صداقت اور اس کے تمام امتوں کو شامل ہونے پر کوئی حجت و دلیل پیش کی جائے اور تم کوئی ایسی دلیل پیش نہیں کر سکتے اس لئے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات آئندہ آنے والی نسلوں نے دیکھے تک نہیں


تاکہ ان معجزات پر یقین کر سکیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات آئندہ آنے والی نسلوں نے دیکھے تک نہیں تاکہ ان معجزات پر یقین کر سکیں حضرت موسیٰ (علیہ اسلام) کے معجزات کی خبر صرف اسی صورت میں تواتر کی حد تک پہنچ سکتی ہے کہ جب ہر دور میں خبر دینے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہو کہ عقلی طور پر ان سب کا جھوٹی بات پر اتفاق ناممکن ہو اور یہ وہ امر ہے جس کو ثابت کرنا تمہارے دائرہ قدرت سے باہر ہے۔

تم (یہود) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزوں کی خبر دیتے ہو ، نصاریٰ حضرت عیسی ٰ (علیہ السلام) کے معجزات کی خبر دیتے ہیں اور دوسری امتیں اپنے اپنے نبیوں کے معجزات کی خبر دیتی ہیں بھلا ان خبروں میں کوئی فرق ہے اور ایک خبر کو دوسری خبر پر کوئی فوقیت حاصل ہے ؟ اگر لوگوں پر تمہاری خبروں کی تصدیق واجب ہے تو باقی لوگوں کی خبروں کی تصدیق کیوں ضرورت نہیں جو اپنے انبیاء کے معجزات نقل کرتے ہیں جب مسئلے کی صورت یہ ہو تو پھر تم (یہود) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے علاوہ دوسرے انبیاء کی تصدیق کیوں نہیں کرتے۔

یہودی عالم نے جواب میں کہا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات یہود ، نصاریٰ اور مسلمان سب کے نزدیک ثابت ہیں اور سب ہی ان کا اعتراف کرتے ہیں جبکہ باقی انبیاء کے معجزات کا سب لوگ اعتراف نہیں کرتے اسی لئے باقی انبیاء کی نبوت محتاج دلیل ہے۔

میں نے کہا : مسلمانوں اور نصاریٰ کے نزدیک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات اس لئے ثابت ہیں کہ ان کے نبی (حضرت عیسیٰ ؑ اور حضرت خاتم الانبیا (ص) نے ان معجزات کی خبر دی ہے اس وجہ سے ثابت نہیں کہ خبر متواتر ان معجزات پر دلالت کرتی ہو اگر حضرت موسیٰ ؑ کے معجزات کے بارے میں حضرت عیسیٰ ؑ اور حضرت محمد مصطفی (ص) کی خبر کی تصدیق ضروری ہے تو ان کی نبوت کی تصدیق بھی ضروری ہونی چاہئے جس کا وہ دعویٰ کرتے ہیں اگر اس سلسلے میں ان کی تصدیق ضروری ہو تو ان کی خبر سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات بھی ثابت نہیں ہو سکیں گے یہ تو گزشتہ شریعتوں کا حال تھا۔


جہاں تک شریعت اسلام کاتعلق ہے اس کی حجت اور دلیل ہمیشہ کیلئے باقی ہے اور قیامت تک آنے والی نسلوں کیلئے ایک چیلنج کے طورپر باقی رہے گی جب شریعت اسلام ثابت ہو گی تو اس کی بنیاد پر گزشتہ تمام انبیاء کی تصدیق بھی ہم پر واجب ہو گی اس لئے کہ قرآن مجید نے بھی اور رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) خدا نے بھی ان انبیاء کی نبوت کی شہادت دی ہے پس معلوم یہ ہوا کہ قرآن کریم ہی وہ یگانہ اور ابدی معجزہ ہے جو تمام آسمانی کتابوں کی صداقت ، اور انبیاء علیہم السلام کی عصمت اور پاکیزگی کی شہادت دیتا ہے۔

ضمیمہ (۵) ص ۴۳

ترجمہ قرآن اور اس کی شرائط

خداوند عالم نے لوگوں کی ہدایت کیلئے اپنے نبی کو بھیجا اور قرآن کریم کے ذریعے آپ (ص) کی عظمت بیان کی اور لوگوں کو سعادت و ارتقائی مراحل تک پہنچانے والا ہر امر قرآن میں موجود ہے اور یہ خدا کا وہ لطف و کرم ہے جو کسی ایک قوم سے مختص نہیں بلکہ تمام انسانیت کو شامل ہے مشیّت الٰہی یہی ہے کہ اپنے نبی کی قوم کی زبان میں ہی اپنا پیغام آپ (ص) پر نازل کیا جائے جبکہ قرآن کی تعلیمات اور ہدایات ہر دور کے انسانوں کو شامل ہیں اسی نکتہ کے پیش نظر ہر شخص پر واجب ہے کہ وہ قرآن مجید کو سمجھے تاکہ اس سے ہدایت حاصل کر سکے۔


اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآن کا ترجمہ قرآن کو سمجھنے میں ممدومعاون ثابت ہو سکتا ہے لیکن ترجمہ کیلئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ترجمہ کرنے والا شخص لغت عربی پر مکمل عبور رکھتا ہو جس سے کسی دوسرے لغت میں قرآن کا ترجمہ کرنا چاہتا ہے۔

اس لئے کہ ترجمہ چاہے کتناہی مستحکم اور مضبوط ہو اس میں فصاحت و بلاغت اور وہ خصوصیات حاصل نہیں ہو سکتیں جن کی بدولت قرآن کو امتیازی مقام حاصل ہے یہی بات قرآن کے علاوہ دوسرے کلاموں کے بارے میں بھی کہی جا سکتی ہے کیونکہ یہ عین ممکن (یہ خطرہ باقی رہتا ) ہے ترجمہ سے اس نتیجہ تک پہنچا جائے جو اس کے اصل مضمون کے بالکل برعکس ہو۔

پس ترجمہ قرآن کیلئے سب سے پہلے قرآن کا سمجھنا ضروری ہے اور قرآن فہمی کا دارو مدار تین چیزوں پر ہے ۔

۱۔ ظہور لفظی جس کو فصیح عرب سمجھیں۔

۲۔ عقل فطری کا حکم ، جو ہر قسم کی آلودگی سے پاک ہو۔

۳۔ تفسیر قرآن کے سلسلے میں معصومین (ع) کی روایات۔

بنا براین مترجم کیلئے ضروری ہے کہ وہ مندرجہ بالا تین چیزوں کا مکمل احاطہ رکھتا ہو تاکہ قرآن کے معانی اور مفاہیم کو کسی دوسری لغت میں نقل کر سکے۔

باقی رہی ذاتی رائے جس کو بعض مفسرین اپنی تفسیروں میں پیش کرتے ہیں اور وہ ان گزشتہ رہنما اصولوں کی روشنی میں حاصل نہ ہو تو وہ تفسیر بالرائے ہے اور اس کی کوئی حیثیت اور مقام نہیں مترجم کو چاہئے کہ ترجمہ کے سلسلے میں اس قسم کی تفسیروں کا سہارا نہ لے۔

ترجمہ کے سلسلے میں ان نکات کومدنظر رکھتے ہوئے حقائق قرآن اور اس کے مفاہیم ہر قوم کیلئے اسی کی لغت میں پیش کئے جائیں کیونکہ قرآن تمامل وگوں کی ہدایت کیلئے نازل کیاگیا ہے ، اور جب تک قرآن کی تعلیمات اور اس کے حقائق تمام انسانوں کیلئے لغت قرآن کو ، عام انسانوں اور قرآنی تعلیمات کے درمیان حائل نہیں ہونا چاہئے۔


ضمیمہ (۶) ص ۱۱۳

رسول (ص) اسلام کو شکست دینے کی قریشیوں کی کوشش

اسی کتاب کے ص پر آیات کریمہ کی جو وضاحت ہم نے کی ہے اس کی تائیدان روایات سے بھی ہوتی ہے جو ان آیات کی شان نزول کے ضمن میں وارد ہوئی ہیں چنانچہ ان آیات کی شان نزول کے بارے میں ''تفسیر البرہان،، میں مرقوم ہے۔

''ایک دن رسول خدا (ص) خانہ کعبہ میں اپنے آس پاس بیٹھے کچھ صحابیوں کو کلام خدا اور اس کے اوامرو نواہی کی تعلیم دے رہے تھے اتنے میں قریش کے سرکردہ افراد کی ایک جماعت جس میں ولید بن مغیرہ مخزومی ، ابو البختری بن ہشام ، ابوجہل بن ہشام ، عاص بن وائل السہمی ، عبداللہ بن ابی امیہ مخزومی اور اس قسم کے دیگر افراد شامل تھے وہاں آئی ۔ ان مشرکین نے آپس میں کہا : دینمحمد(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کی ا ہمیت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے آؤ ایک مرتبہ پھر اس کو سختی سے جھڑکیں ، اس کی سرزنش کریں اور دلائل سے اس کے لائے ہوئے پیغام کو باطل ثابت کریں تاکہ اپنے اصحاب کے سامنے اس کی اہمیت اور ہیبت ختم ہو جائے اور وہ ان کی نظروں سے گر جائے شاید اس طرح وہ اپنے مشن گمراہی ، باطل اور سرکشی سے باز آ جائے اگر زبانی سرزنش اور دلائل کے ذریعے باز آ جائے تو بہتر ورنہ شمشیر کے زور سے اسے بٹھا دیں گے۔

ابوجہل نے کہا : کون آگے بڑھ کرمحمد(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) سے گفتگو کرے گا؟

عبداللہ بن ابی امیہ مخزومی نے کہا : میں اس سے گفتگو شروع کروں گا کیا تم مجھے اس سے مقابلہ اور مباحثہ کیلئے کافی نہیں سمجھتے ؟


ابوجہل نے کہا : کیوں نہیں چنانچہ یہ سب کے سب آنحضرتؐ کی خدمت میں آئے اور عبداللہ بن ابی امیہ مخزومی نے اپنے کلام کا آغاز کرتے ہوئے یوں کہا:

''آپ (ص) نے ایک بہت بڑا دعویٰ کر دیا اور بہت اونچی بات کہہ دی ہے آپ (ص) کا خیال ہے کہ آپ (ص) رب کائنات کے بھیجے ہوئے رسولؐ ہیں جبکہ رب اور خالق کائنات کیلئے ہرگز یہ مناسب نہیں کہ آپ (ص) جیسے انسان کو اپنا رسول بنا کر بھیجے جو ہماری مانند بشر ہے آپ ویسے ہی کھاتے پیتے ہیں جیسے ہم کھاتے پیتے ہیں آپ ویسے ہی بازاروں میں گھومتے پھرتے ہیں جیسے ہم چلتے ہیں روم اور فارس کے بادشاہ جب کسی ملک میں اپنا نمائندہ بھیجتے ہیں تو کسی مالدار ، باحیثیت آدمی کو بھیجتے ہیں جس کے عالی شان محل و عمارات اور کئی غلام و نوکر ہوں اور رب کائنات کا مقام تو ان بادشاہوں سے بہت بلند ہے بلکہ یہ اس کے بندے ہیں اگرخدا ہماری طرف اپنا کوئی نمائندہ بھیجنا چاہتا تو ہم میں سے ایسے آدمی کا انتخاب کرتا جو مال و دولت اور مقام و منزلت کے اعتبار سے سب سے بہتر اور نمایاں حیثیت کا مالک ہو بنا برایں یہی قرآن جس کے بارے میں آپ (ص) کا یہ خیال ہے کہ خدا نے اسے آپ (ص) پر نازل کیا اور اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے مکہ یا مدینہ کے کسی عظیم المرتبت آدمی پر اسے کیوں نازل نہیں کیا ؟ یہ اہل مکہ میں سے ولید بن مغیرہ پر نازل کیا ہوتا یا اہل مدینہ میں سے عروہ بن مسعود ثقفی پر نازل کرتا،،

رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا: عبداللہ ابھی تیرا کچھ کلام باقی ہے؟

عبداللہ نے کہا : ہاں ! ہم اس وقت تک آپ (ص) پر ایمان نہیں لائیں گے جب تک اسی مکہ کی سرزمین پر آپ (ص) چشمہ نہ بہائیں کیونکہ مکہ اپک پتھریلہ اور پہاڑی علاقہ ہے ہمیں اس امر کی ضرورت ہے آپ (ص) اس کی کھدائی کریں اسے ہموار کریں اور اس میں چشمے بہا دیں یا آپ (ص) کے پاس کھجور اور انگور کے باغات ہوں جس سے آپ (ص) کھائیں اور ان باغات میں نہریں بہتی ہوں ، یا آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو کر ہمپر گرے جیسا کہ آپ (ص) کا خیال ہے کیونکہ آپ (ص) نے ہی تو ہمارے بارے میں کہا : ''اگر یہ لوگ آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گرتے دیکھیں تو کہیں گے،، یہ تہہ بتہہ بادل ہیں،، اب ایسا کر کے دکھائیں شاید ہم یہی کہیں؟،،


اس کے بعد عبداللہ بن ابی امیہ نے کہا : ہم اس وقت تک ہرگز ایمان نہیں لا سکتے جب تک خدا اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لا کر حاضر نہ کریں یا پھرا س وقت ایمان لائیں گے جب آپ (ص) کے پاس سونے کا گھر ہو اور ہمیں اس میں سے حصہ دیں اور بے نیاز کر دیں شاید اس کے باوجود ہم بغاوت کر جائیں کیونکہ آپ (ص) نے ہی ہمارے بارے میں کہا ہے:

کلا ان الانسان لیطغی ان راه استغنی

''سن رکھو بیشک انسان جب اپنے کو غنی دیکھتا ہے تو سرکش ہو جاتا ہے،،۔

اس کے بعد عبداللہ بن ابی امیہ نے کہا: یا ہم اس صورت میں ایمان لائیں گے جب آپ (ص) آسمان کی طرف پرواز کریں اور آپ (ص) کے آسمان کی طرف پرواز کرنے پر بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک خدا کی طرف سے عبداللہ بن ابی امیہ مخزومی اور اس کے ساتھیوں پر ایک کتاب نازل نہ ہو جس میں یہ خطاب ہو کہ تم سب محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب پر ایمان لے آؤاس لئے کہیہ میرا بھیجا ہوا رسول ہے اس کی باتوں کی تصدیق کرو اس لئے کہ یہ جو کچھ کہتا ہے میری طرف سے کہتا ہے،،

اےمحمد(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) ! ان سب مطالبات کے پورے ہونے کے بعد بھی معلوم نہیں میں آپ (ص) پر ایمان لاؤں یا نہ لاؤں اگر آپ ؐ ہمیں اٹھا کر آسمان کی طرف لے جائیں اور اس کے دروازے ہمارے آگے کھول دیں اور ہم ان دروازوں میں داخل ہو جائیں پھر بھی ہم یہی کہیں گے کہ ہماری آنکھیں مسحور کی گئی ہیں اور ہم پر جادو کیا گیا ہے۔

رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پالنے و الے ! تو ہر آواز کوسننے اور ہر چیز کو جاننے والا ہے اپنے بندوں کی باتوں کوتوبہتر جانتا ہے۔

اے عبداللہ بن ابی امیہ ! تیرا یہ کہنا کہ روم اور فارس کے بادشاہ ہمیشہ کسی مالدار آدمی کو اپنا نمائندہ بنا کر بھیجتے ہیں تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ خدا خود تدبیر فرماتا اور فیصلہ کرتا ہے اس کے افعال ، تیرے خیالات اور تجاویز کے مطابق انجام نہیں پاتے بلکہ خدا خود جو چاہے کرتا ہے اور جیسا اس کا ارادہ ہو حکم فرماتا ہے۔


اگر نبی محلوںکا مالک ہوتا اور ان میں جا کر غائب ہو جاتا یا اس کی خدمت کیلئے غلام اور نوکر ہوتے جو اس کو لوگوں کی نظروں سے چھپائے رکھتے ، تو کیا رسالت ضائع اور احکام خدا معطل نہ ہو جاتے؟

(میرے بارے میں ) تیرایہ کہنا کہ اگر تو نبی ہوتاتو تیرے ساتھ ہمہ وقت ایک فرشتہ ہوتا جو تیری تصدیق کرتا اور اسے ہم بھی دیکھ سکتے تو تجھے معلوم ہونا چاہئے کہ تیرے حواس فرشتے کو درک نہیں کر سکتے کیونکہ فرشتہ ہوا کی مانند ہے جس کا مشاہدہ نہیں ہو سکتا اگر تم فرشتے کا مشاہدہ کر سکتے بایں معنی کہ تمہاری حس باصرہ کو غیر معمولی طاقت دے دی جاتی ، تو تم کہتے یہ کوئی فرشتہ نہیں بلکہ یہ تو ایک بشر ہے اس لئے کہ اگر فرشتہ ظاہر ہوتا تو لامحالہ کسی انسانی صورت میں ہی ظاہر ہوتا جس سے تم مانوس ہوتے تاکہ تم اس کی بات کو سمجھ سکو۔

تمہارا یہ کہنا کہ میں جادو گر ہوں بھلا میں جادو گر کیسے ہو سکتا ہوں جبکہ تم بخوبی جانتے ہو کہ عقل و فہم اور خیر و شر کو تمیز دینے میں ، میں تم سے بالاتر ہوں میری پیدائش سے آج تک چالیس سال کے عرصے میں تم نے مجھ سے کوئی جرم، جھوٹ ، بدزبانی سرزد ہوتے ہوئے دیکھی ہے ؟ یا کسی غلط بات اور کم عقلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مجھے دیکھا ہے ؟ تمہارا کیا خیال ہے کیا ایک شخص اتنے طویل عرصے تک اپنی قوت اور بل بوتے پر ہر قسم کی غلطی سے محفوظ رہ سکتا ہے ؟ یا اس عرصے میں خدا کی تائید اور توفیق شامل حال رہی ہو گی؟

تمہارا یہ کہنا کہ خدا نے مکہ یا مدینہ کے کسی مالدار اور نامور آدمی پر قرآن کیوں نازل نہیں کیا ؟ تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ خدا کی نظر میں مال دنیا کی وہ عظمت نہیں جو تمہاری نگاہ میں ہے اور اس کی نظر میں مال دنیا کی وہ اہمیت اور وقعت نہیں جو تمہاری نگاہ میں ہے خدا کسی سے اس کے مال و دولت اور حیثیت و مقام کی وجہ سے نہیں ڈرتا جس طرح تو ڈرتا ہے۔

تیرا یہ کہنا کہ جب تک زمین سے چشمے نہ پھوٹیں ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے وغیرہ تم نے اپنے اس کلام میں رسول خدا محمد (ص) کے سامنے کئی تجاویز پیش کی ہیں ان میں سے بعض تجاویز ایسی ہیں کہ اگر محمدؐ ان تجاویز پر عمل بھی کرے تب بھی وہ نبوت کی دلیل نہیں بن سکتیں رسول (ص) کی شان اس سے بالاتر ہے کہ وہ جاہلوں کی نادانی کو غنیمت سمجھے اور ان کے سامنے ایسے دلائل پیش کرے جو درحقیقت حجت و دلیل بننے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔


تیری کچھ تجاویز ایسی ہیں کہ اگر ان پر عمل ہو جائے تو یہ تیری ہلاکت کا باعث بنیں گی نبوت کے دلائل تو اس لئے پیش کئے جاتے ہیں کہ خدا کے بندے ایمان لے آئیں اور ہلاکت سے محفوظ رہیں پس تو نے اپنی ہلاکت کی تجویز پیش کی ہے خدا کی ذات سب سے زیادہ اپنے بندوں پر رحم کرنے والی ہے لوگوں کی مصلحتوں کو ان سے بہتر سمجھتی ہے۔ اور ان کی تجاویز پر عمل کر کے انہیں ہلاک نہیں کرتی۔

تیری بعض تجاویز ایسی ہیں جو بذات خود ناممکن ہیں اور صحیح و جائز نہیں ہیں اور کچھ تجاویز ایسی ہیں جو تیرے اعتراف کے مطابق تیری ضد ، ہٹ دھرمی اور سرکشی پر مبنی ہیں تو کسی دلیل کوتسلیم کرتا ہے اور نہ اسے سننے کیلئے تیار ہے۔

تیرا یہ مطالبہ کہ اگر اس سرزمین پر چشمے بہا کر دکھاؤں تب ایمان لاؤ گے تو نے یہ مطالبہ اس لئے کیا ہے کہ تو الٰہی دلائل سے جاہل ہے تیرا کیا خیال ہے اگر میں تیرا مطالبہ پورا کر دوں اور زمین پر چشمے بہا کر دکھا دوں تو کیا اسی دلیل سے میری نبوت ثابت ہو گی ؟ تیرا یہ مطالبہ اورتجویز ایسی ہے جیسا تو کہے ہم تو تب ایمان لائیں گے جب آپ اپنی جگہ سے اٹھیں اور چل کر دکھائیں کیا تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کے پاس طائف میں کھجور اور انگور کے باغات نہیں ہیں جن سے تم کھاتے رہتے ہو اور ان کے درمیان سے نہریں نہیں بہتیں ؟ کیا ان باغات اور نہروں کی وجہ سے تم نبی بن گئے ہو؟

تیرا یہ کہنا کہ آسمان ریزہ ریزہ ہو کر ہمارے اوپر گرے جیسا کہ تیرا گمان ہے۔

آسمان کا ریزہ ریزہ ہو کر گرنا تمہاری موت اور ہلاکت کے مترادف ہے گویا اس طرح تم رسول خدا (ص) سے اپنی ہلاکت کا مطالبہ کر رہے ہیں رسول خدا (ص) کا رحم و کرم اس سے بالاتر ہے کہ وہ تمہیں ہلاک کر دے۔

ہاں ! وہ تمہارے سامنے الٰہی دلائل پیش کرے گا۔


وہ الٰہی دلائل اور حجتیں جو اللہ اپنے نبی کو دیکر بھیجتا ہے وہ بندوں کے مشوروں اور تجاویز کے مطابق نہیں ہوا کرتیں اس لئے کہ لوگوں کو یہ معلوم نہیں کہ کس امر میں ان کا مفاد اور مصلحت ہے جو جائز ہو اور کس میں مفسدہ اور نقصان ہے جو جائز نہ ہو کیا تم نے کسی ڈاکٹر کو دیکھا ہے جو اپنے مریض کے مشورے کے مطابق اس کیلئے نسخہ اور دوائی تجویز کرے ؟ یا تم نے کسی ایسے حاکم کو دیکھا ہے جو حق کے دعوے دار کو مدعی علیہ کی مرضی کے مطابق گواہ پیش کرنے کا حکم دے؟

تیرا یہ کہنا کہ ہم تب ایمان لائیں گے جب تو خدا اور فرشتوں کو ہمارے سامنے حاضر کرے جن کا ہم مشاہدہ کر سکیں یہ وہ مطالبہ ہے جس کا محال اور ناممکن ہونا کسی سے پوشیدہ نہیں اس لئے ہمارا رب اور خالق عام مخلوق کی مانند نہیں جو کسی کے سامنے آتا اور حرکت کرتا ہو ، تاکہ اس کو تمہارے سامنے لایا جائے پس تم نے اس مطالبہ میں ایک ناممکن ا مر کی تجویز پیش کی ہے۔

اے عبداللہ ! تیرا یہ کہنا کہ ہم تو تب ایمان لائیں گے جب تیرے پاس سونے کا مکان ہو یہ بتاؤ تم نے سنا ہے کہ شاہ مصر کے پاس سونے کے کئی گھر ہیں ؟ عبداللہ نے کہا : جی سنا ہے آپ (ص) نے فرمایا کیا بادشاہ مصران مکانات کی وجہ سے نبی بن گیا ہے ؟ عبداللہ نے کہا : نہیں ۔ آپ (ص) نے فرمایا جس طرح بادشاہ مصر کے سونے کے مکانات سے وہ نبی نہیں بن جاتا اگر میرے پاس بھی سونے کے مکانات ہوتے تو ان سے میری نبوت ثابت نہ ہوتی البتہ محمد (ص) تمہاری حالت اور نادانی کو غنیمت سمجھ کر اس قسم کی چیزوں کو حجت خدا کے طور پر پیش نہیں کرتا تیرا یہ کہنا کہ ہم اس وقت ایمان لائیں گے جب تم آسمان کی طرف پرواز کرو اور پھرتو یہ کہتاہ ے کہ تیرے آسمان کی طرف بلند ہونے کے بعد بھی ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہم پر کوئی کتاب نازل نہ ہو جس کو ہم خود پڑھیں۔


اے عبداللہ ! تمہیں معلوم ہے کہ آسمان کی طرف پرواز کرنا آسمان سے اترنے سے زیادہ مشکل ہے تو ایک مرتبہ اعتراف کر چکا ہے کہ میرے آسمان کی طرف پرواز کرنے کے باوجود بھی تم ایمان نہیں لاؤ گے تو میرے آسمان سے قرآن لے کر اترنے پر کب ایمان لاؤ گے ؟ تو نے اپنے کلام میں یہ بھی کہا ہے کہ ہم پر قرآن نازل ہونے کے بعد بھی معلوم نہیں ہم ایمان لائیں نہ لائیں۔

یہ تیری طرف سے اس بات کا اعتراف ہے کہ تو حجت خدا کے مقابلے میں عناد اور ضد رکھتا ہے تمہارے ان مطالبوں کا جواب خالق کا وہ جامع کلام ہے جو اس نے نازل فرمایا ہے اور اسی سے تمہاری تمام تجاویز باطل ہو جاتی ہیں خالق فرماتا ہے : اےمحمد(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کہہ دو ! میرا رب پاک و پاکیزہ ہے میں ایک انسان ہوں جس کو رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) بنا کر بھیجا گیا ہے مجھے یہ حق نہیں پہنچتا کہ خدا کو کوئی حکم دوں ، اس کو کسی کام سے روکوں یا کسی امر کا مشورہ دوں،،

یہ حدیث شریف بہت سارے فوائد پر مشتمل ہے محققین کو اس حدیث کی طرف رجوع کرنا چاہئے ان آیات کی شان نزول کے بارے میں اور بھی بہت سی روایات موجود ہیں جن کو طبری نے ان آیات کی تفسیر کے موقع پر ذکر کیا ہے۔


ضمیمہ (۷) ص ۳۱۵

صحیح بخاری میں حدیث متعہ کی تحریف

یہ حدیث یوں مروی ہے:

عبداللہ بن مسعود کہتا ہے:

''کنا نغزو مع رسول الله ص و لیس معنا نسآء فقلنا : الا نستخصی فنهانا عن ذلک ، ثم رخص لنا ان ننکح المراة بالتوب الی اجل ، ثم قراء عبدالله :( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّـهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ ) ۵:۸۷

''ہم دوران جنگ رسول خدا (ص) کے ہمراہ تھے اور ہماری بیویاں ہمارے پاس نہیں تھیں ہم نے رسول خدا (ص) سے پوچھا : کیا ہم اپنے آپ کو نامرد بنا دیں آپ (ص) نے ہمیں اس عمل سے منع فرمایا اور اس امر کی اجازت دی کہ ایک مقررہ وقت تک کیلئے ایک کپڑے کے عوض عورتوںسے نکاح کر لیں اس کے بعد عبداللہ بن مسعود نے اس آیہ کریمہ کی تلاوت کی:

( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّـهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا ۚ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ ) (۵:۸۷)

''اے ایماندرو ! جو پاک چیزیں خدا نے تمہارے واسطے حلال کر دی ہیں ان کو اپنے اوپر حرام نہ کرو اور حد سے نہ بڑھو کیونکہ خدا حد سے بڑھ جانے والوں کو ہرگز دوست نہیں رکھتا،،

محدثین ، مفسرین اور فقہاء کی ایک جماعت نے اس نص ، حدیث اور عبارت کو بخاری سے نقل کیا ہے لیکن آج کل کی رائج الوقت صحیح بخاری کے ج ۶ ص ۵۳ پر جو حدیث موجود ہے وہ دو اعتبار سے اصلی صحیح بخاری کی عبارت سے مختلف ہے:

۱۔ موجودہ صحیح بخاری میں سند حدیث سے لفظ عبداللہ بن مسعود کو نکال لیا گیا ہے جبکہ اکثر محدثین نے عبداللہ بن مسعود کا ذکر کیا ہے عبداللہ بن مسعود کے نام کو اس لئے نکال لیا گیا ہے تاکہ عبداللہ بن مسعود کا نام اس بات کا قرینہ اور شاہد نہ بن سکتے کہ اس روایت کا مقصد نکاح متعہ کو جائز قرار دینا ہے ، اس لئے کہ عبداللہ بن مسعود نکاح متعہ کو جائز سمجھتے تھے۔


۲۔ موجودہ صحیح بخاری میں روایت کے آخری سے لفظ ''الی اجل،، (معین مدت تک) کو بھی نکال دیا گیا ہے کیونکہ ''الی اجل،، کا لفظ اس امر کی تصریح ہے کہ آنحضرت ؐ نے نکاح متعہ کی اجازت دے دی ہے چنانچہ شارحین نے بھی یہی سمجھا اور ایسی ہی اس کی تفسیر کی ہے کیونکہ اس قسم کے مقامات پر نکاح کی اجازت لازمی طور پر نکاح متعہ ہی کی اجازت ہوا کرتی ہے صرف دائمی نکاح کی نہیں اور یہ کہ ''لیس معنانسآ،، یعنی مجاہدین کے پاس عورتوں کے نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی اپنی بیویاں ان کے ساتھ نہیں تھیں ایسا نہیں ہے کہ عام عورتیں وہاں نہیں تھیں ورنہ نکاح کی اجازت دینا بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے اس معنی کی تائید اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ بعض روایات میں ''لیس معنا،، کی جگہ ''لیس لنانساء ،، موجود ہے یعنی ہماری اپنی عورتیں نہیں ہیں۔

چونکہ یہ روایت نکاح متعہ کے جائز ہونے پر دلالت کرتی ہے اس لئے کئی فقہاء کا دعویٰ ہے کہ بعض دوسری روایات میں نکاح متعہ کو حرام قرار دیا گیا ہے جس سے اس روایت میں موجود حکم (جواز متعہ) نسخ ہو جاتا ہے لیکناس بات سے بھی ان کا مدعیٰ ثابت نہیں ہوتا جس کی تفصیل آیہ متعہ سے متعلق روایات پر تبصرہ کے دوران ہم نے بیان کر دی ہے تحریف کے مجرم ہاتھوں سے یہ روایت بھی محفوظ نہیں رہ سکی اور اس کو اپنی صحیح اورا صلی صورت پر نہیں رہنے دیا گیا ہم ذیل میں ان محدثین ، مفسرین اور فقہاء کی فہرست ذکر کر رہے ہیں جنہوں نے صحیح بخاری سے صحیح حدیث نقل کی ہے۔

(۱) بیھقی : سنن بیھقی جز ۷ ص ۲۰۰ طبع حیدر آباد

(ب) سیوطی : تفسیر سیوطی = ۲ = ۲۰۷ = المیمنیتہ مصر

(ج) زیلعی : نصب الرایہ = ۳ = ۱۸۰ = دارالتالیف مصر

(د) ابن تیمیہ : المنتقی ٰ جزء ۲ ص ۵۱۷ طبع حجازی

(ھ) ابن القیم : زادالمعاد = ۴ = ۸ محمد علی صبیح

(و) قنوچی : روضتہ الندیہ ۲ = ۱۶ = المنیریہ

(ز) محمد بن سلیمان : جمع الفوائد = ۱ = ۵۸۹ = دارالتالیف


اس روایت کے کچھ اور مصادر اور حوالے بھی ہیں جو ذیل میں دیئے جا رہے ہیں

(ح) مسند احمد : جزء ۱ ص ۴۲۰ طبع مصر ۱۳۱۳

(ط) تفسیر قرطبی : = ۵ = ۱۳۰ = = ۱۳۵۶

(ی) تفسیر ابن کثیر : = ۲ = ۱۸۷ = = علی البابی

(ل) الاعتبار للحازمی : = = ۱۷۶ حیدر آباد

یہ حدیث صحیح ابی حاتم اور اس قسم کے اہم مصادر میں بھی موجود ہیں۔

ضمیمہ (۸) ص ۳۲۸

محمد عبدہ اور تین طلاقیں

محمد عبدہ پہلے یہ بات ثابت کرتے ہیں کہ اگر ایک نشست میں تین طلاقیں جاری کر دی جائیں تو وہ ایک طلاق شمار ہوں گی۔

اس کے بعد فرماتے ہیں:

''ہمارا مقصد یہ نہیں کہ ہم ان مقلدین سے بحث اور مناظرہ کریں یا ان قاضیوں اور مفتیوں سے ان کے مذاہب چھڑا دیں جو تین طلاقوں کے قائل ہیں ان میں سے اکثر حضرت ایک طلاق پر دلالت کرنے والی روایات سے آگاہ ہیں جو کتب حدیث وغیرہ میں موجود ہیں البتہ یہ لوگ ان روایات کو کوئی اہمیت نہیں دیتے اس لئے کہ یہ لوگ اپنی کتابوں میں موجود اقوال پر زیادہ عمل کرتے ہیں کتاب خدا اور سنت رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) پر نہیں(۱)

کاش محمد عبدہ متعہ کی بحث میں بھی یہی بات کرتے۔ اس لئے کہ جیسا کہ آپ نے دیکھا نکاح متعہ شریعت اسلام میں

____________________

(۱) تفسیر المنار ، جزء ۱ ، ص ۳۸۶


ثابت ہے اس کے بعد اسے نسخ بھی نہیں کیا گیا جو لوگ نکاح متعہ کو حرام سمجتھے ہیں ان کی واحد دلیل ان کی کتابوں میں موجود اقوال ہی بن سکتے ہیں کتاب خدا اور سنت رسول(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نہیں بن سکتیں۔

ضمیمہ (۹) ص ۳۸۳

شیعوں پر رازی کا افترائ

من جملہ ان لوگوں میں جنہیں تحقیق و تدقین کی توفیق نہیں ، فخر رازی ہے جو آیئہ کریمہ ''یمحوا اللہ مایشآء ویثبت،، کی تفسیر میں کہتا ہے :

''رافضی (شیعہ) کہتے ہیں خدا کے حق میں بداء جائز ہے اوربداء یہ ہے کہ خدا کو کسی چیز کا یقین حاصل ہو اس کے بعد اس پر انکشاف ہو کہ حقیقت اور واقع ایسا نہیں جس کا اسے یقین تھا،،۔

خالق ! تو جانتا ہے کہ یہ محض تہمت ہے رازی نے اپنی کتاب ''محصل،، کے خاتمہ میں ''سلیمان بن جریر،، سے ایک کلام نقل کیا ہے جس کا ذکر قبیح ہے اور مجھے بھی زیب نہیں دیتا کہ اس کتاب میں اس کلام کو ذکر کروں رازی نے یہ جملہ اسی جیسے ایک دوسرے ننگین جملے کے بعد ذکر کیا ہے جوبعض نصاریٰ رسول خدا (ص) کے بارے میں کہتے تھے جب آنحضرت (ص) ایسے احکام لے کر آئے جو گزشتہ شریعتوں کے لئے ناسخ قرار پائے''کبرت کلمته تخرج من ا فواههم وسیعلم الذین ظلموا ایی منقلب ینقلبون،،


ضمیمہ (۱۰) ص ۳۹۴

احادیث اور مشیّت الٰہی

شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے اپنی دونوں کتابوں ''توحید،، اور ''معانی الاخبار،، میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت بیان کی ہے ، امام علیہ السلام نے آیہ شریفہ : ''وقالت الیھود یداللہ مغلولۃ ،، کے بارے میں فرمایا:

''لیکن یہود کہا کرتے تھے خدا خلقت و آفرنیش کے ہر کام سے فارغ ہو گیا ہے خدا نہ تو کسی چیز کو بڑھاتا ہے اور نہ گھٹاتا ہے،،

خدا نے ان لوگوں کی تکذیب کرتے ہوئے فرمایا:

( غُلَّتْ أَيْدِيهِمْ وَلُعِنُوا بِمَا قَالُوا ۘ بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ يُنفِقُ كَيْفَ يَشَاءُ ۚ ) ۵:۶۴

''انہیں کے ہاتھ باندھ دیئے جائیں اور ان کے (اس) کہنے پر (خدا کی ) پھٹکار (بر سے خدا کا ہاتھ بندھنے کیوں لگا) بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کشادہ ہیں جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے،،

کیا تم نے خدا کا یہ قول نہیں سنا۔

( يَمْحُو اللَّـهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ ۖ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ ) ۱۳:۳۹

''(پھر اس میں سے) خدا جس کو چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور (جس کو چاہتا ہے) باقی رکھتا ہے اور اس کے پاس اصل کتاب (لوح محفوظ) موجود ہے،،

عیاشی نے یعقوب بن شعیب اور عماد کے ذریعے حضرت ابو عبداللہ (علیہ السلام) سے بھی اسی مضمون کی روایت بیان کی ہے اس قسم کی روایات کو مجلسی نے بحار کی جلد ۲ ، ص ۱۳۱۔۱۴۲ پر ذکر کیا ہے۔


ضمیمہ (۱۱) ص ۳۹۱

دعا سے تقدیر الٰہی بدل جانے کی احادیث

سلمان کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ص) نے فرمایا:

''قضاء الٰہی کو دعا ہی تبدیل کرس کتی ہے اور عمر میں اضافہ نیکی ہی کر سکتی ہے،،(۱)

تو بان کی روایت ہے کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا:

''عمر کو نیکی ہی بڑھا سکتی ہے انسان اپنے گناہوں کی وجہ سے رزق سے محروم ہو جاتا ہے(۲)

ضمیمہ (۱۲) ص ۲۳۵

آیہ بسم اللہ کی اہمیت

اس کتاب کے صفحہ ۴۳۳ پر اعراب کی بحث میں یہ وضاحت کی جا چکی ہے کہ ''بسم اللہ،، میں اسم کی اضافت اللہ کی طرف اضافہ معنویہ ہے

____________________

(۱) ترمذی ، باب ماجاء لایرد القدر الالدعا ، ج ۸ ، ص ۳۵۰

(۲) ابن ماجہ ، باب القدر ، ج ۱ ، ص ۲۴ ، حاکم نے مستدرک میں روایت کی ہےاور ذہبی نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا ، ج ۱ ، ص ۴۹۳ ۔ احمد نے اپنی مسند میں روایت کی ہے، ج ۵ ، ص ۲۷۷ ، ۲۸۰ ، ۲۸۲ ، اس مضمون کی روایت زیادہ ہیں جو متعلقہ کتب میں مل سکتی ہیں۔


اوریہ کہ لفظ ''اللہ،، اپنے حقیقی معنی(۱) میں استعمال ہوا ہے ۔ بنا برایں لفظ اسم اپنے اس جامع معنی میں استعمال ہوا ہے جو تمام اسمائے الٰہی پر صادق آنے کے قابل ہے گویا مفہوم کاذکر کر کے اس کے ذریعے اس کے مصداق کی طر فاشارہ کیا گیا ہے چونکہ اسم اعظم اسم الٰہی کا اشرف مصداق ہے اس لئے لامحالہ اسم اعظم مفہوم اسم کے مصداق بننے کا سب سے زیادہ استحقاق رکھتا ہو گا اوراسی سے اس روایت کا معنی بھی واضح ہو جاتا ہے کہ بسم اللہ اسم اعظم کے اس سے بھی زیادہ نزدیک ہے جتنی آنکھکی سفیدی آنکھ کی سیاہی کے نزدیک ہے کیونکہ بسم اللہ اور اسم اعظم کے درمیان قرب ذاتی ہے اس لئے کہ مفہوم اور مصداق خارج میں ایک ہوا کرتے ہیں اور سفیدی چشم کاقرب سیاہی چشم کیلئے مکانی اور ان دونوں میں اتحاد وضعی ہے۔

ضمیمہ (۱۳) ص ۴۳۶

آغاز آفرنیش

رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

خدا نے سب سے پہلے میرے نور کو خلق فرمایا(۲)

محمد بن مسلم سنان کی روایت ہے وہ فرماتے ہیں میں امام جواد (علیہ السلام) کی خدمت میں بیٹھا تھا ، آپ (ع) نے فرمایا:

''اے محمد ! خدا ہمیشہ اپنی وحدانیت میں منفرد اور یگانہ رہا ہے اس کے بعد خداوند عالم نے محمد ، علی اور فاطمہ (علیہم السلام) کو خلق فرمایا اس کے بعد یہ حضرات ہزار برس عالم نور میں رہے(۳)

____________________

(۱) وہ ذات جو تمام صفات کمال کی جامع ہو (مترجم)

(۲) البحار ، باب حقیقتہ العقل و کیفیتہ و بدء خلقہ ، ج ۱ ، ص ۳۳

(۳) اصول کافی ، باب تاریخ مولد النبی (ص) ، ص ۲۳۹ ، الوافی باب بداخلق المعصومین ، ج ۲ ، ص ۱۵۵


ضمیمہ (۱۴) ص ۴۴۶

بسم اللہ کے جزء قرآن ہونے کی احادیث

بیہقی نے اپنی سند سے ام سلمہ سے روایت کی ہے:

''رسول خدا (ص) نے نماز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کو پڑھا اور اسے جزء قرآن قرار دیا،،

یہ روایت حاکم نے مستدرک کی ج ۱ ص ۲۳۲ پر بیان کی ہے اور کہا ہے کہ یہ روایت مسلم اور بخاری کی شرائط پر پوری اترتی ہے اور صحیح ہے نیز عبد خیر سے روایت ہے کہ امیر المومنین علیہ السلام سے پوچھا گیا سبع مثانی کون سا سورہ ہے ، آپ (ص) نے فرمایا : سورۃ الحمد۔

راوی نے پوچھا: الحمد کی آیات توچھ ہیں آپ (ع) نے فرمایا : بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی سورہ الحمد کا جزء ہے اس روایت کو ابوہریرہ نے بھی بیان کیا ہے۔

رسول خدا (ص) سے ابوہریرہ روایت نقل کرتا ہے کہ آپ (ص) نے فرمایا:

''سورۃ الحمد سات آیات پر مشتمل ہے ان میں بسم اللہ الرحمن الرحیم بھی شامل ہے،،

ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سورہ فاتحہ کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے فرماتے تھے یہ روایت ترمذی نے ج ۲ ، ص ۴۴ پر نقل کی ہے۔

ابن عمر سے منقول ہے کہ وہ نماز کی ابتداء تکبیرۃ الاحرام سے کرتے تھے اس کے بعد بسم اللہ الرحم الرحیم پڑھتے تھے اور جب سورۃ الحمد سے فارغ ہوتے دوبارہ بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے اور کہا کرتے تھے ''اگر بسم اللہ کا پڑھنا ضروری نہیں تو پھر قرآن میں اسے کیوں لکھا گیا ہے،،


ان کے علاوہ بھی اس مضمون کی کئی روایات موجود ہیں سنن بیہقی ج ۲ ص ۴۳ ، ۴۷ کی طرف رجوع کریں ، کنز العمال ، ج ۲ ، ص ۱۹۰ فضائل السورہ والآیات نیز باب البسملہ آیہ ، ص ۳۷۵ میں ثعلبی نے علی علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ جب آپ (ص) نماز میں کسی سورے کو پڑھتے تھے تو شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے تھے اور فرماتے تھے جو شخص بسم اللہ الرحمن الرحیم کو ترک کر دے اس نے سورہ کو ناقص پڑھا ہے نیز آپ (ص) فرماتے تھے بسم اللہ الرحمن الرحیم سبع مثانی کا حصہ ہے۔

ضمیمہ (۱۵) ص ۴۴۶

معاویہ بسم اللہ پڑھنا بھول جاتا تھا

بیہقی نے ج ۲ ، ص ۴۹ پر اپنی سند سے انس بن مالک سے روایت کی ہے:

''ایک مرتبہ معاویہ نے مدینہ میں نماز پڑھی اس نے نماز میں سورہ فاتحہ بلند آواز میں پڑھا البتہ اس نے سورہ حمد سے پہلے تو بسم اللہ کو پڑھا مگر حمد کے بعد پڑھے جانے والے سورہ سے پہلے بسم اللہ نہیں پڑھی یہاں تک کہ اس کی قرات مکمل ہو گئی ، اس کے بعد تکبیر بھی نہیں پڑھی اور رکوع میں چلا گیا اور اس طرح اپنی نماز مکمل کی جب معاویہ سلام پھیر چکا تو نماز میں موجود مہاجرین ہر طرف سے بول اٹھے معاویہ ! تم نے نماز میں چوری کر لی یا بھول گئے ہو ؟ اس واقعہ کے بعد جب بھی معاویہ نماز پڑھتا تو سورہ الحمد کے بعد والے سورہ سے پہلے بھی بسم اللہ پڑھتااور سجدے میں جانے سے قبل تکبیر بھی پڑھتا تھا،،۔


اسی روایت کو بیہقی نے ایک اور سند سے بھی بیان کیا ہے البتہ اس روایت کا مضمون یہ ہے کہ معاویہ نے سورۃ الحمد سے پہلے بھی بسم اللہ نہیں پڑھی اور اس کے بعد دوسرے سورے سے پہلے بھی بسم اللہ نہیں پڑھی اس کے علاوہ اس روایت میں اعتراض کرنے والوں میں مہاجرین کے علاوہ انصار کابھی ذکر ہے اس روایت کو حاکم نے مستدرک کی جلد۱ ص ۲۳۳ میں ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ یہ روایت صحیح ہے اور مسلم کی شرائط پر پوری اترتی ہے۔

ضمیمہ (۱۶) ص ۴۴۶

رسول (ص) خدا کا بسم اللہ کو پڑھنا اور روایت انس کی توجیہ

قرات بسم اللہ کی ایک روایت اسی کتاب کے ص پر گزر چکی ہے قتادہ نے انس سے روایت کی ہے ''رسول خدا (ص) سورہ حمد کی تلاوت مد کیساتھ کرتے تھے اس کے بعد انس نے بسم اللہ الرحمن الرحیم کی تلاوت کی اور بسم اللہ ، الرحمن اور الرحیم کو مد کے ساتھ پڑھا ،،(۱)

شریک بن انس کی روایت ہے:

''میں نے رسول خدا (ص) کو بلند آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھتے سنا،،

____________________

(۱) سنن بیہقی ، باب افتتاح القراء ۃ فی الصلوٰۃ : ببسم اللہ الرحمن الرحیم ، ج ۲ ، ص ۴۶ ۔ مستدرک حدیث الجہر ببسم اللہ ، ج ۱ ، ص ۲۳۳


حاکم کہتے ہیں : اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں۔

عسقلانی کی روایت ہے:

''میں نے بہت دفعہ معتمربن سلیمان کی اقتداء میں نماز صبح اور نماز مغرب پڑھی معتمر سورہ فاتحہ سے پہلے اور اس کے بعد بلند آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم کہتے تھے ۔ میں (عسقلانی) نے معتمر کو یہ کہتے سنا ہے : میں نماز میں ہمیشہ اپنے والد کی اقدا کرتا ہوں اور میرے والد کہتے تھے : میں نماز میں ہمیشہ انس بن مالک کی اقتدا کرتا ہوں اورانس کہتے تھے : میں نماز میں رسول خدا (ص) کی اقدا کرتا ہوں،،

(یہ سب نماز میں بلند آواز سے بسم اللہ الرحمنالرحیم پڑھتے تھے)

حاکم کہتے ہیں اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں(۱)

ابو نعامہ انس سے روایت کرتے ہیں:

''رسول خدا (ص) حضرت ابوبکر اور حضرت عمر بسم اللہ الرحمن الرحیم کو بلند آواز سے نہیں پڑھتے تھے ،،(۲)

مولف : ممکن ہے انس کی گزشتہ روایت (جس سے بسم اللہ کے جزء قرآن نہ ہونے پر استدلال کیا جاتا ہے) سے مراد یہ ہو کہ رسول خدا (ص) اور آپ کے بعد دوسرے خلفاء نے بسم اللہ کو بلند آواز سے نہیں پڑھا (روایت کا مطلب یہ نہیں کہ آپ (ص) نے بسم اللہ کو سرے سے نہیں پڑھا) اس مطلب کا قرینہ اور شاہد انس کی مذکورہ بالا روایت ہے (جس میں اس امر کی تصریح ہے کہ رسول خدا (ص) حضرت ابوبکر اور حضرت عمر نے بسم اللہ کو بلند آواز سے نہیں پڑھا) اس مطلب کی تائید گزشتہ روایت میں انس کی اس تعبیر سے بھی ہوتی ہے کہ ''میں نے قرات نہیں سنی،، بلکہ انس کی بعض روایات میں تو یہ جملہ موجود ہے کہ ''میں نے ان میں سے کسی کو بھی بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے پڑھتے نہیں سنا،، بعض روایات میں یہ جملہ موجود ہے۔

____________________

(۱) مستدرک ، ج ۱ ، ص ۲۳۳ ۔۲۳۴

(۲) سنن بیہقی ، باب من قال لایجہر بہا ، ج ۲ ، ص ۵۲


''رسول خدا (ص) نے ہمیں نماز پڑھائی مگر ہمیں بسم اللہ کی قراً سنائی نہیں دی(۱)

بنا برایں انس کی گزشتہ روایت اور ان روایات کے درمیان کوئی منافات نہیں پائی جاتی جن کے مطابق رسول خدا (ص) کے بعد دوسرے اصحاب بسم اللہ پڑھتے تھے۔

ہاں ! ایک روایت یہ کہتی ہے کہ رسول خدا (ص) حضرت ابوبکر اور حضرت عمر قرات کے اول اور آخر میں

بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں پڑھتے تھے(۲)

لیکن اس روایت کے راویوں میں ولید بن مسلم قرشی شامل ہے جس کا ثقہ ہونا مخدوش ہے بلکہ بہت سوں نے تو تصریح کی ہے کہ یہ شخص بہت زیادہ خطا کاراور جعلساز تھا(۳)

جہاں تک قتادہ کی اس روایت کا تعلق ہے جو انس سے مروی ہے جس کے مطابق رسول خدا (ص) ، حضرت ابوبکر ، حضرت عمر اور حضرت عثمان قرات کی ابتداء الحمد اللہ رب العالمین سے کرتے تھے(۴)

تقریباً اسی روایت کی ہم مضمون وہ روایت ہے جس کو نسائی نے باب البداء بفاتحتہ الکتاب ، ج ۱ ، ص ۱۴۳ میں ذکر کیا ہے قتادہ کس اس روایت کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ (ص) اور آپ (ص) کے بعد دوسرے خلفاء ، سورہ فاتحہ سے ابتداء کرتے تھے (روایت کا مطلب یہ نہیں کہ یہ حضرات سورہ فاتحہ کی ابتداء آیتہ الحمد للہ سے کرتے تھے ) اور سورۃ فاتحتہ التکاب پر الحمدللہ رب العالمین کا اطلاق ہوتا رہتا ہے چنانچہ بعض گزشتہ روایات میں بھی سورہ فاتحہ کو الحمدللہ رب العالمین کہا گیا ہے۔

شافعی نے بھی اس روایت کو اسی معنی پر محمول کیا ہے۔

____________________

(۱) ایضاً باب ترک الجہر ببسم اللہ ، ج ۱ ، ص ۱۴۴

(۲) صحیح مسلم ، باب حجتہ من قال لایجہربابسملہ ، ج ۲ ، ص ۱۲

(۳) تہذیب التہذیب ملا خطہ فرمائیں۔

(۴) ترمذی باب ماجاء فی افتتاح القرات بالحمد ، ج ۲ ، ص ۴۵ ۔ سنن ابی داؤد ، باب الجہر بسم اللہ ، ج ۱ ، ص ۱۲۵


ضمیمہ (۱۷) ص ۴۷۵

ابن تیمیہ اور زیارت قبور کے جواز کی حدیثیں

اس موضوع کی روایات اتنی زیادہ ہیں کہ انہیں ذکر کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں ہوتی البتہ ہم صرف احمد بن عبدالحلیم بن عبدالسلام بن عبداللہ بن تیمیہ ہی کی وہ روایت ذکر کرتے ہیں کہ جو اس کی کتاب ''المنتقی ٰ من اخبار المصطفی،، میں مذکور ہے اس کے علاوہ بعض دوسرے حضرات کی روایات کو بھی ذکر کریں گے۔

۱۔ بریدہ سے مروی ہے کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا:

''میں (ص) نے تمہیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا لیکن مجھے اپنی والدہ گرامی کی زیارت کی اجازت دی گئی ہے تم بھی اس کی زیارت کیا کروں کیونکہ اس سے آخرت کی یاد دہانی ہوتی ہے،،۔

بریدہ کہتے ہیں ، ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے۔

۲۔ ابوہریرہ سے مروی ہے :

''رسول اسلام (ص) نے اپنی والدہ گرامی کی قبر کی زیارت کی ۔ آپ (ص) خود بھی روئے اور ارد گرد موجود افراد کو بھی رلا دیا ۔ پھر فرمایا : میں (ص) نے خدا سےاپنی والدہ کیلئے طلب مغفرت کی اجازت مانگی مگر خدا نے اجازت نہ دی پھر میں نے اس کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی جو خدا نے دے دی پس تم بھی قبروں کی زیارت کیا کرو اس لئے کہ زیارت قبور موت کی یاد دلاتی ہے،،۔

ابوہریرہ کہتے ہیں اس روایت کو علماء کی کی ایک جماعت نے نقل کیا ہے۔


۳۔ عبداللہ بن ابی ملیکہ سے مروی ہے:

''ایک مرتبہ حضرت عائشہ قبرستان کی طرف سے آئیں میں نے سے پوچھا: ام المومنین آپ کہاں سے آ رہی ہیں ؟ حضرت عائشہ نے جواب دیا : اپنے بھائی عبدالرحمن کی قبر سے آ رہی ہوں میں نے کہا : کیا رسول خدا (ص) نے زیارت قبور سے منع نہیں فرمایا تھا ؟ حضرت عائشہ نے جواب دیا : ہاں ! آنحضرت (ص) نے پہلے منع فرمایا تھا پھر آپ (ص) نے زیارت قبور کا امر فرمایا تھا،،

عبداللہ بن ابی ملیکہ کہتے ہیں اس روایت کو اثرم نے بھی اپنے سنن میں ذکر کیا ہے۔

مولف: شیخ محمد حامد فقی اپنے حاشیہ کتاب پر لکھتے ہیں : اس روایت کو ابن ماجہ ، حاکم اور بغوی نے شرح السنتہ میں بھی ذکر کیا ہے۔

۴۔ ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول خدا (ص) قبرستان میں تشریف لائے اور فرمایا:

'دصاحبان ایمان کو ہمارا اسلام ہو ، انشاء اللہ ہم بھی تم سے آ ملیں گے،،

ابوہریرہ کہتے ہیں : اس روایت کو احمد مسلم اور نسائی نے بھی ذکر کیا ہے احمد نے عائشہ سے بھی یہ روایت نقل کی ہے البتہ اس میں اس جملے کا اضافہ ہے : ''خدا یا ہمیں ان مرحومین کے اجرسے محروم نہ فرما اور ہمیں ان کے بعد آزمائش میں نہ ڈال،،

۵۔ بریدہ سے مروی ہے:

''رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کویہ تعلیم دیتے تھے کہ جب وہ قبرستان کی طرف جائیں تو یہ کہا کریں :''السلام علیکم اهل الدیارمن المومنین و اسلمین و انا ان شآء الله بکم لاحقون ، نسال الله لنا ولکم العافیة،، ۔

''ان گھروں میں بسنے والے مومنو اور مسلمانو! ہمارا تم پر سلام ہو ، انشاء اللہ ہم تم سے آ ملیں گے ہم تمہارے لئے اور اپنے لئے خداسے عافیت کے طلب گار ہیں،،۔

ابن تیمیہ کہتے ہیں اس روایت کو احمد ،مسلم اور ابن ماجہ نے بھی نقل کیا ہے(۱)

____________________

(۱) المنتقی ٰ ، ج ۲ ، ص ۱۱۶


۶۔ ابن عمر رسول خدا (ص) سے روایت کرتے ہیں:

''من حج فزار قبری بعد وفاقی کان کمن زارنی فی حیاتی،،

''جو آدمی حج بیت اللہ سے مشرف ہو اور میری وفات کے بعد میری قبر کی زیارت کرے گویا اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی،،

اس روایت کو طبرانی نے اوسط میں اور بیہقی نے سنن میں نقل کیا ہے۔

۷۔ نیز رسول خدا (ص) سے مروی ہے:

''جو شخص میری قبر کی زیارت کرے اس کی شفاعت میرے اوپر واجب ہو جاتی ہے،،

اس روایت کو ابن عدی نے کامل میں اور بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے۔

۸۔ انس نے رسول خدا (ص) سے روایت کی ہے۔

''جو شخص (میری معرفت رکھتے ہوئے) مدینہ میں میری زیارت کرے ، روز قیامت میں اس کے اعمال کا گواہ ہونگا یا اس کی شفاعت کروں گا ،،(۱)

۹۔ ابوہریرہ رسول خدا (ص) سے روایت کرتے ہیں:

''جو آدمی اپنے کسی دوست کی قبر کی زیارت کرے اور اسے سلام کر کے اس کے پاس بیٹھ جائے تو (مرحوم) دوست سلام کا جواب دیتا ہے اور جب تک زیارت کرنے والا شخص اس کی قبر پر بیٹھا رہے مرحوم مانوس رہتا ہے ،،(۲)

____________________

(۱) بیہقی نے شعب الایمان میں روایت کی ہے ، کنز العمال ، فضل زیارت القبور ، ج ۸ ، ص ۹۹

(۲) اس روایت کو ابو الشیخ اور دیلمی نے نقل کیا ہے۔


۱۰۔ ''جو شخص بھی کسی جاننے والے کی قبر کی زیارت کرے اور اسے سلام کرے مرنے والا اسے پہچان لیتا ہے اور اس کا جواب دیتا ہے،،۔

اس روایت کو تمام ، خطیب ، ابن عساکر اور ابن بخار نے نقل کیا ہے صاحب کنز العمال کہتے ہیں ، اس روایت کی سند عمدہ ہے کنز العمال ، ج ۸ ، ص ۹۹ اور ص ۱۲۵ میں اور اس کے بعد اس میں اس مضمون کی تقریباً اسی روایات نقل کی ہیں ، جو حضرات ان روایات سے آگاہ ہوناچاہئے وہ ان کی طرف رجوع کر سکتے ہیں۔

۱۱۔ ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا:

''جو شخص بھی مجھے سلام کرے خداوند میری روح کو میری طرف لوٹا دیتا ہے اور میں اس کے سلام کا جواب دیتا ہوں،،(۱)

۱۲۔ ابن عمر حجرا سود کو چھونے اور اس کو چومنے کے بارے میں کہتے ہیں:

''رسول خدا (ص) حجرا سود کو مس کرتے اور بوسہ دیتے تھے سائل نے ابن عمر سے پوچھا: کیا آپ یہ احتمال نہیں دیتے کہ لوگوں کی بھیڑ کی وجہ سے ہم زحمت میں مبتلا ہو جائیں گے ؟ اور بے بس ہو جائیں گے ۔ ابن عمر نے جواب دیا: اس قسم کے احتمالات اور شاید والی باتوں کو ترک کریں میں نے خود رسول اکرم (ص) کو دیکھا ہے کہ آپ (ص) حجرا سود کو سینے سے لگاتے اور اس کو بوسہ دیتے تھے،،

____________________

(۱) سنن بیہقی باب زیارت قبر النبی(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) ، ج ۵ ، ص ۲۴۵۔


اس روایت کوبخاری نے اپنی صحیح میں مسدد سے نقل کیا ہے۔

۱۳۔ ابن عباس کی روایت ہے :

میں نے رسول اکرم (ص) کو دیکھا کہ حجرا سود پر سجدہ کیا کرتے تھے،،(۱)

۱۶۔ داؤد ابن ابی صالح کی روایت ہے

''ایک مرتبہ مروان آیا اور اس نے ایک آدمی کو اپنا چہرہ قبر پر رکھے ہوئے دیکھا چنانچہ مروان نے اس کو گردن سے پکڑا اور کہا تمہیں معلوم ہے کہ اس وقت تم کیا کر رہے ہو ؟ اس نے جواب دیا : جی ہاں ، مروان نے آگے بڑھ کر دیکھا تو اسے معلوم ہوا کہ یہ ابو ایوب انصاری ؓ ہیں ۔ ابو ایوب نے مروان سے کہا: میں رسول خدا (ص) کی خدمت میں شرفیاب ہوا ہوں نہ کہ حجرا سود کے پاس آیا ہوں۔ میں نے رسول خدا (ص) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : تم اس وقت دین پر گریہ نہ کرو جب زمام حکومت اس کے اہل کے ہاتھ میں ہو بلکہ اس وقت دین پر گریہ کرو جب دینی حکومت نااہلوں کے ہاتھ میں چلی جائے(۲)

۱۷۔ حافظ ابن عسا کر نقل کرتے ہیں:

''جناب سیدہ (سلام اللہ علیہا) تشریف لائیں اور اپنے والد گرامی رسول اکرم (ص) کی قبر پر آ کر رکیں اور آپ (ص) کی قبر کی مٹی ہاتھ میں لی اور اسے آنکھوں سے لگا کر گر یہ فرمایا،،

____________________

(۱) سنن بیہقی ، باب السجود علیہ علی الحجر ، ج ۵ ، ص ۷۴۔۷۵

(۲) اس روایت کو حاکم نے مستدرک کی جلد ۴ ص ۵۱۵ میں نقل کیا ہے اور اسے صحیح قرار دیا ہے ، ذہبی نے بھی اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا ابن تیمیہ نے حجرا سود کو بوسہ دینے اسے مس کرنے اور اس پر رخسار رکھنے کے بارے میں روایات کو منتقی ٰ کی ج ۲ ، ص ۲۶۱ ، ۲۶۳ میں نقل کیا ہے۔


۱۸۔ حافظ ابن عساکر سے مروی ہے:

''ایک اعرابی رسول خدا (ص) کی قبر پر آیا اور قبر کی مٹی اپنے سر پر ڈالنے لگا اس کے بعد رسول خدا (ص) سے مخاطب ہو کر کہنے لگا: یارسول اللہ (ص) آپ (ص) پر نازل ہونے والی آیات میں سے ایک آیت یہ تھی ''اگر لوگ اپنے نفسوں پر ظلم کرنے (گناہ کا مرتکب ہونے) کے بعد تیرے پاس آئیں اور آپ (ص) ان کیلئے طلب مغفرت کریں تو خدا ان کے گناہوں کو بخش دے گا،، میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ہے اور آپ (ص) کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں تاکہ آپ (ص) میرے لئے مغفرت طلب کریں اتنے میں قبر سے آواز آئی خدا نے تیرے گناہ معاف کر دیئے یہ سارا واقعہ امیر المومنین علی علیہ السلام کے سامنے پیش آیا،،۔

۱۹۔ نیز ابن عساکر سے مروی ہے:

''ایک مرتبہ جناب بلال ، رسول اللہ (ص) کی قبر پر آئے اور روتے ہوئے اپنا چہرہ خاک قبر پر رکھ دیا اتنے میں امام حسن اور امام حسینہ (علیہما السلام) تشریف لے آئے ، جناب بلال نے ان کو اپنے سینے سے لگایا اور ان کی دست بوسی کی،،(۱)

ضمیمہ (۱۸) ص ۴۷۷

آلوسی کی شیعوں پر بہتان تراشی

اسی کتاب کے ص پر مذکور تہمت (شیعہ خاک کربلا کو سجدہ کرتے ہیں) میں آلوسی نے آیہ شریفہ:

کلواواشربوا حتی یتبین لکم الخیط الابیض من الخیط الاسود من الفجر کی تفسیر کے موقع پر یہ الزام لگایا ہے کہ شیعہ روزوں میں طلوع آفتاب تک کھانے پینے کو جائز سمجھتے ہیں۔

____________________

(۱) الغدیر ، ج ۵ ، ۱۲۷۔۱۲۸


میں نہیں سمجھتا کہ آلوسی کے پاس اس نسبت (الزام) کی کیا دلیل ہے جب کہ وہ عراق کے دارالحکومت بغداد میں مقیم تھا عراق کو شروع سے اب تک شیعوں کے مرکز کی حیثیت حاصل رہی ہے اور عتبات مقدسہ (زیارات ائمہ) بھی بغداد کے نزدیک ہیں اور شیعوں کے علاوہ دوسرے فرقوں کے ماننے والے وہاں کم ہیں اس کے علاوہ خود آلوسی شیعہ کتابوں سے بخوبی آشنا بھی ہے درحقیقت شیعوں کی طرف اس قسم کی نسبتوں ہی کی وجہ سے مسلمانوں کا شیرازہ بکھر گیا ہے اور انہیں الزام تراشیوں نے دشمنان اسلام کو مسلمانوں پر مسلط کر دیا ہے اور بعید نہیں کہ اس میں خارجی ہاتھ کارفرما ہو۔

ضمیمہ (۱۹) ص ۴۷۷

مولف اور حجازی عالم میں بحث

سن ۱۳۵۳ھ میں زیارت بیت اللہ سے شرفیاب ہوا اس دوران مسجد نبوی میں میری ملاقات ایک فاضل عالم دین سے ہوئی جو سجدہ گاہ پر نماز پڑھنے والوں کی نگرانی کرتا اور ان سے (سجدہ گاہ) چھین لیتا تھا میں نے اس سے کہا:

شیخنا ! کیا رسول خدا (ص) نے مسلمان کی اجازت کے بغیر ان کے مال میں تصرف کو حرام قرار نہیں دیا ؟ اس نے جواب دیا: کیوں نہیں ! میں نے کہا: توپھر تم ان مسلمانوں سے ان کا مال کیوں چھینتے ہو جبکہ یہ شہادتیں پڑھتے ہیں ؟ اس نے کہا : یہ لوگ مشرک ہیں انہوں نے تربت (خاک کربلا) کو بت بنا رکھا ہے اور اس کو سجدہ کرتے ہیں میں نے کہا : اگر اجازت ہو تو اس موضوع پر قدرے تفصیلی بحث کی جائے اس نے جواب دیا: کوئی حرج نہیں۔

چنانچہ ہم دونوں میں بحث اور مناظرہ شروع ہوا اور آخر کار اس نے اپنے اس عمل کی معذرت طلب کی اور اپنے رب سے استغفار کرنے لگا اور کہنے لگا: درحقیقت اب تک میں غلطی فہمی کا شکار رہا ہوں۔


اس کے بعد اس نے مجھ سے درخواست کی کہ (دینے میں قیام کے دوران) مختلف موضوعات پر بحث ہوتی رہے میں نے بھی آمادگی ظاہر کی اور اس طرح ہر شب مسجد نبوی میں بحث و مباحثہ کی ایک محفل تشکیل پاتی تھی مدینہ میں تقریباً دس راتیں ہماراقیام رہا اس دوران مختلف مکاتب فکر کے افراد کا اجتماع ہوتا تھا اور ہم دونوں کے درمیان مختلف موضوعات پر مناظرے ہوتے تھے آخر کار اس حجازی نے ان اعتقادات اور خیالات سے بیزاری کا اظہار کیا جو وہ شیعوں کے بارے میں رکھتا تھا اوراس نے مجھ سے وعدہ کیا کہ وہ میری ان تمام بحثوں کو رسالہ ''ام القریٰ ،، میں شائع کرے گا تاکہ ان لوگوں کیلئے حق آشکار ہو جائے جو حق سے بغض و عناد نہیں رکھےت اور اشتباہ و غلط فہمی کے شکار ہیں اور یہ کہ وہ اس رسالے کا ایک نسخہ مجھے بھی بھیجے گا۔ مگر اس نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا شاید حالات نے اس کا ساتھ نہ دیا ہو اور اس کے مقصد کی راہ میں رکاوٹ بن گئے ہوں۔

ضمیمہ (۲۰) ص ۴۷۷

تربت سید الشہداء کی فضیلت

ابویعلی ٰ اپنی مسند میں اور ابن ابی شیبہ اذرسعید نے منصور سے اور اس نے اپنی سنن میں مسند علی سے روایت کی ہے:

''ایک مرتبہ میں رسول اللہ (ص) کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ (ص) کی آنکھوںسے آنسو جاری تھے میں نے عرض کیا : یارسول اللہ (ص) کیا آپ (ص) کسی سے خفا ہو گئے ہیں آپ (ص) کے آنسو کیوں جاری ہیں ؟ آپ (ص) نے فرمایا: ابھی کچھ دیر قبل جبرئیل میرے پاس سے اٹھ کر گئے ہیں انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ نہر فرات پر میرا نواسہ حسین (ع) شہید کیا جائے گا اس کے بعد انہوںنے پوچھا: کیا آپ (ص) حسین (ع) کی تربت سونگھیں گے؟ میں (ص) نے کہا: ضرور سونگھوں گا چنانچہ جبرئیل نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور اپنے ہاتھ میں مٹی لا کر مجھے دے دی جس کے بعد میں گریہ کئے بغیر نہ رہ سکا،،


طبرانی نے کبیر میں جناب ام سلمہ سے روایت کی ہے:

ایک دن رسول خدا (ص) لیٹے آرام فرما رہے تھے یکایک آپ رنجیدہ خاطر بیدار ہوئے اس وقت آپ (ص) کے ہاتھ میں سرخ رنگ کی مٹی تھی جسے آپ چوم رہے تھے ام سلمہ کہتی ہیں میں نے عرض کی یارسول اللہ (ص) یہ کیسی مٹی ہے ؟ رسول خدا (ص) نے فرمایا: جبرئیل نے مجھے خبر دی کہ آپ (ص) کانواسہ سرزمین کربلا پر شہید کر دیا جائے گا میں نے کہا کہ مجھے وہ خاک دکھا دے جس پر میرا نواسہ (ع) شہید کیا جائے گا یہ وہی مٹی ہے جو جبرئیل نے لا کر دی ہے۔

اسی روایت کو ابن شیبہ نے معمولی اختلاف کے ساتھ ام سلمہ سے روایت کیا ہے ابن ماجہ ، طیالسی اور ابو نعیم نے بھی تقریباً اس مضمون کی روایت نقل کی ہے(۱)

ضمیمہ (۲۱) ص ۴۷۹

مکاشفہ کے ذریعے آیہ سجود کی تاویل

حسن بن منصور کہتے ہیں جب ابلیس سے کہاگیا کہ آدم کو سجدہ کرے تو اس نے خالق سے مخاطب ہو کر کہا:

''میرے دل سے سجدہ کی اہمیت اٹھا لے تاکہ تیرے غیر کیلئے سجدہ کر سکوں اگر تو نے آدم کیلئے سجدہ کا حکم دیا ہے تو اپنے غیر کیلئے سجدہ کرنے سے منع بھی تو فرمایا ہے۔

خالق نے فرمایا: میں تمہیں ابدی عذاب دوں گا ابلیس نے کہا : کیا تو مجھے عذاب دیتے وقت دیکھے گا نہیں ؟ خالق نے فرمایا : کیوں نہیں ابلیس نے کہا تیرا دیدار مجھے عذاب کے دیکھنے پر آمادہ کر رہا ہے تو جو چاہے مجھے عذاب دے ۔(۲)

مولف : ابن روز بہان جیسے اہل مکاشفہ کو اس قسم کا خلاف عقل و قرآن و ضرورت دین مکا شفہ مبارک ہو۔

____________________

(۱) کنز العمال ، ج ۷ ، ص ۱۰۵ ۔۱۰۶

(۲) تفسیر ابن روز بہان ، ص ۲۱ ، طبع ہند۔


ضمیمہ (۲۲) ص ۴۷۹

ابلیس اور خدا کا مکالمہ

امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے آپ (ع) نے فرمایا:

ابلیس نے کہا : پالنے والے ! مجھے آدم کا سجدہ معاف کر دے میں تیری ایسی عبادت کروں گا جو نہ کسی مقرب فرشتے نے کی ہو گی اور نہ کسی نبی مرسل نے خالق نے فرمایا: مجھے تیری عبادت کی احتیاج نہیں عبادت وہ ہوتی ہے جس کو (جیسے) میں چاہوں وہ نہیں جسے تو چاہے(۱)

نیز امام صادق علیہ السلام نے ایک زندیق سے اس کے اس سوال ، ''خدا نے ملائکہ کو آدم ؑ کیلئے سجدہ کا کیسے حکم دیا ؟،، کے جواب میں فرمایا:

''جو خدا کے حکم پر سجدہ کرے گویا اس نے خدا کیلئے سجدہ کیا ہے پس آدم (ع) کیلئے سجدہ خدا کیلئے سجدہ تھا کیونکہ یہ سجدہ خدا کے حکم پر کیا گیا تھا،،(۲)

____________________

(۱) تفسیر الصافی تفسیر قول خداوندی فسجدوالاابلیس ، ص ۲۶

(۲) البحار ، باب سجود الملائکہ و معناہ ، ج ۵ ، ص ۳۷


ضمیمہ (۲۳) ص ۴۸۰

اسلام اور شہادتیں

سماعہ ، امام صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں:

اسلام ، کلمہ لاالہ الا اللہ اور رسول خدا (ص) کی رسالت کی تصدیق کا نام ہے اسی سے مسلمان کا خون محفوظ ہو جاتا ہے اس سے نکاح جائز ہوتاہے اور یہ ارث کا موجب بھی بنتا ہے(۱)

ابوہریرہ نے رسول خدا (ص) سے روایت کی ہے ، آپ (ص) نے فرمایا:

''میں اس وقت تک جہاد کروں گا جب تک کفار لا الہ الا اللہ کی شہادت نہ دیں اور مجھ پر اور اس کتاب پر ایمان نہ لائیں جسے میں لے کر آیا ہوں جب لوگ ان دونوں باتوں پرایمان لے آئیں تو میری طرف سے ان کے جان و مال محفوظ ہو جاتے ہیں مگر یہ کہ اسلامی قوانین کی رو سے کسی مسلمان کا قتل اور اس کا مال ضبط کرنا جائز ہو اس کے بعد ہر شخص کے اعمال اور اس کا ثواب و عقاب خدا کے سامنے ہو گا،،

اس روایت کو جابر اور عبداللہ بن عمر نے بھی معمولی اختلاف کے ساتھ نقل کیا ہے(۲)

صاحب تیسیرالوصول عبداللہ بن عمر کی روایت کے نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں اس روایت کو مسلم اور بخاری نے بھی نقل کیا ہے(۳)

____________________

(۱) الوافی الایمان اخص من الاسلام ، ج ۳ ،ص ۱۸

(۲) صحیح مسلم باب الامرقتال الناس حتیٰ یقولوا لا الہ الااللہ محمد رسول اللہ ج ۱ ، ص ۳۹

(۳) تیسیرا لوصول ج ۱ ، ص ۲۰


اس روایت کو ترمذی نے ابوہریرہ سے بھی نقل کیا ہے۔

باب ماجاء امرت ان اقاتل الناس حتیٰ یقولوالا الہ الا اللہ ، ج ۱۰ ص ۶۸ ۔ اس روایت کو نسائی نے انس سے بھی نقل کیا ہے کتاب التحریم الدم ، ج ۲ ، ص ۱۶۱ ۔ باب علی مایقاتل الناس ، ص ۲۶۹۔

اس کو احمد نے اپنے مسند کے ج ۲ ، ص ۳۴۵ ، ۵۲۸ پر ابوہریرہ سے روایت کی ہے اور ج ۳ ، ص ۱۹۹ ، ۲۲۴ پرانس سے نیز ج ۵ ، ص ۲۴۶ پر معاذ بن جبل سے اور ص ۴۳۳ پر اسی مضمون کی روایت کو عبیداللہ بن عدی سے روایت کیا ہے۔

صاحب تیسرا لوصول ، ج ۱ ، ص ۲۰ پر عبیداللہ کی روایت کو ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں: اس کو مالک نے بھی نقل کیا ہے۔

ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول خدا (ص) نے فرمایا:

''مجھے اس وقت تک لوگوں سے جہاد کا حکم دیا گیا ہے جب تک وہ لاالہ الا اللہ نہ کہیں اور جو شخص لا اللہ الا اللہ کہے میری طرف سے اس کے جان و مال محفوظ ہو جاتے ہیں مگر یہ کہ برحق کوئی قتل کیا جائے یا اس کا مال ضبط کیا جائے باقی اعمال کا حساب کتاب خدا کے پاس ہو گا،،(۱)

اسم کو مسلم ، ابوداؤد ، ابن ماجہ ، ترمذی ، نسائی ، احمد اور طیالسی نے بھی روایت کی ہے۔

____________________

(۱) صحیح بخاری ، باب قتل من ابی قبول الفرائض ، ج ۸ ، ص ۵۰


اوس بن اوس ثقفی کی روایت ہے:

''ہم مسجد مدینہ کے گنبد کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں رسول خدا (ص) مسجد میں داخل ہوئے پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے رسول خدا (ص) سے سرگوشی میں ایک بات کہی جسے ہم نہ سمجھ سکے البتہ آنحضرت (ص) نے اس کو جواب دیا: جاؤ !ا نہیں کہو اس کو قتل کر دیں اس کے بعد آپ (ص) نے اس شخص کو دوبارہ بلایا اور فرمایا: شاید وہ شخص کلمہ شہادتین پڑھتا ہو۔ اس شخص نے جواب دیا : جی ہاں وہ شہادتین پڑھتا ہے آپ (ص) نے فرمایا: (اگر ایسا ہے) تو جاؤ اور انہیں کہو اسے آزاد کر دیں مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے اس وقت تک جہاد کروں جب تک وہ توحید الٰہی اور میری رسالت کی شہادت نہ دیں جب شہادتین کا اقرار کر لیں تو ان کا خون اور مال محترم ہو جاتا ہے مگریہ کہ کسی کو برحق قتل کیا جائے یا اس کا مال ضبط کیا جائے ان کے باقی اعمال کا حساب کتاب خدا کے سامنے ہو گا،،

اس روایت کو ابوداؤد طیالسی ، احمد ، دارمی اور طحاوی نے نقل کیا ہے(۱)

ضمیمہ (۲۴) ص ۴۸۲

عبادت اور اس کے عوامل

محمد بن یعقوب نے اپنی سند سے امام صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ (ع) نے فرمایا:

''بندے تین قسم کے ہوتے ہیں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو عقاب کے خوف سے عبادت کرتے ہیں یہ غلاموں کی عبادت ہے ، اور کچھ لوگ وہ ہیں جو ثواب کے لالچ میں عبادت کرتے ہیں ، یہ مزدوروں کی عبادت ہے ، کچھ لوگ وہ ہیں جو محض حب خدا کی خاطر عبادت کرتے ہیں یہ آزاد انسانوں کی عیادت ہے اور یہی سب سے افضل عبادت ہے،، شیخ صدوق نے اپنی سند سے امام صادق علیہ السلام سے تقریباً اسی مضمون کی روایت نقل کی ہے۔

____________________

(۱) کنز العمال فی حکم الاسلام ، طبعتہ دائرۃ المعارف العثمانیہ ، ج ۱ ، ص ۳۷۵


امیر المومنین علیہ السلام نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں:

''ایک قوم ایسی ہے جو ثواب کے شوق و رغبت میں عبادت کرتی ہے یہ تاجروں کی عبادت ہے اور ایک قسم وہ ہے جو دوزخ کے خوف سے عبادت کرتی ہے ، یہ غلاموں کی عبادت ہے اور تیسری قوم وہ ہے جو شکر خدا کی خاطر عبادت کرتی ہے خدا کے آزاد بندوں کی عبادت یہی ہے(۱)

ضمیمہ (۲۵) ص ۴۸۴

الامربین الامرین : لوگوں کی نیکیاں اور برائیاں

حسن بن علی الوشاء نے امام رضا علیہ السلام سے روایت کی ہے راوی کہتا ہے:

''میں نے امام علیہ السلام سے پوچھا: کیا خدا نے ہر کام کو بندے کے سپرد کر دیا ہے آپ (ع) نے فرمایا: خدا کی ذات سے بالاتر ہے میں نے کہا: کیا خدا بندوں کو معصیت پر مجبور کرتا ہے ؟ آپ (ع) نے فرمایا : یہ عدل الٰہی کے منافی ہے راوی کہتا ہے : اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا: خدا فرماتا ہے: اے فرزند آدم تیری نیکیوں میں ، تیری نسبت میرا حصہ زیادہ ہے اور تیری برائیوں میں تیرا حصہ زیادہ ہے تو نے اسی قوت کے ذریعے برائی کو انجام دیا ہے جو میں نے تجھے دی ہے ،،(۲)

____________________

(۱) الوسائل ، مقدمنہ العبادات ، باب مایجوز قصدہ من غایات النیتہ ح ، ص ۱۰

(۲) الوافی باب الخیر و القدر ، ج ۱ ، ص ۱۱۹ :


ضمیمہ (۲۶) ص ۴۸۷

شفاعت کے مدارک

ایک روایت میں ہے:

''ہر نبی کی کوئی نہ کوئی دعا ہوا کرتی ہے ۔ انشاء اللہ میرا ارادہ یہ ہے کہ میں اپنی دعا کو راز میں رکھوں گا اور روز محشر اپنی امت کی شفاعت کی دعا کروں گا،،

یہ روایت مندرجہ ذیل مدارک میں موجود ہے:

صحیح بخاری کتاب الدعوات ، باب ۱ ، ج ۷ ، ص ۱۴۵۔

صحیح مسلم باب اختباء النبی(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) دعوۃ الشفاعتہ لامتہ ، ج ۱ ، ص ۱۳۰۔۱۳۱ انس اور جابر سے بھی مروی ہے: مالک نے موطا میں ابوہریرہ سے نقل کیا ہے باب ماجاء فی الدعاء ، ج ۱ ص ۱۶۶ طبعتہ مصطفےٰ محمد المشروحہ

ابن ماجہ نے اپنے سنن میں بھی نقل کیا ہے ، باب ذکر الشفاعۃ ، ج ۲ ، ۳۰۱ طبعتہ مطیعۃ العلمینہ مصر۔ احمد نے اپنی سند میں ابوہریرہ سے نقل کیا ہے ، ج ۲ ، ص ۲۷۵ ، ۳۱۳ ، ۳۸۱ ، ۳۹۶ ، ۴۰۹ ، ۴۲۶ ، ۴۳۰ ، ۴۸۶ ، ابوسعید خدری سے بھی منقول ہے ، ج ۳ ، ص ۲ ، انس سے بھی مروی ہے ، ج ۳ ، ص ۱۳۴ ، ۲۰۸ ، ۲۱۸ ، ۲۰۹ ، ۲۵۸ ، ۲۷۶ ، ۲۹۲ ، جابر سے بھی منقول ہے ، ج ۳ ، ص ۳۸۴ ، ۳۹۶ ، ابوذر سے بھی منقول ہے ، ج ۵ ، ص ۱۴۸

خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں اس کتاب کی اشاعت کی نعمت سے نوازا ہمیں امید ہے کہ اس کتاب سے مسلمان اور غیر مسلمان مستفیض ہوں گے اور یہ قرآن اور اس کے اسرار و رموز کو سمجھنے کا باعث بنے گی اللہ تعالیٰ سے اس تفسیر کی تکمیل کی دعا کرتے ہیں جو ہماری آخری آرزو ہے۔

واللہ ولی التوفیق مولف

تمام شد

تصحیح کتاب شریف البیان تاریخ ۹۰ئ/۱/۳۰ ، ۱۴۱۰/۷/۲ ھ : نثار حیدر نقوی نورپور شاہاں اسلام آباد


فہرست

عرض مترجم ۳

مقدمہ ۶

البیان فی تفسیر القرآن ۶

قرآنی مکتب ۷

فضائل قرآن ۱۵

تلاوت قرآن کے آداب اور اس کا ثواب ۱۶

تلاوت قرآن کی فضیلت اور اس کا ثواب ۲۹

گھروں میں تلاوت کے آثار جو روایات میں مذکورہ ہیں ۳۳

قرآن میں غور و خوض اور اس کی تفسیر ۳۶

اعجاز قرآن ۳۹

اعجاز کے معنی ۴۰

نبی یا امام معصوم کی نظر میں محال ہونے کی مثال ۴۱

نبوّت اور اعجاز ۴۳

معجزہ اور عصری تقاضے ۴۸

قرآن۔۔۔ایک الہٰی معجزہ ۵۲

ایک اعتراض اور اسکا جواب ۵۳

قرآن۔۔۔ایک ابدی معجزہ ۵۶

قرآن اور معارف ۶۰

آیات میں ہم آہنگی ۷۶

قرآن اور نظام قانون ۸۲


قرآن کے معانی میں پختگی ۹۴

قرآن کی غیب گوئی ۹۵

قرآن اور اسرار خلقت ۹۹

اعجازِ قُرآن اور اوہام ۱۰۸

پہلا اعتراض ۱۰۹

جواب: ۱۰۹

دوسرا اعتراض ۱۱۱

جواب: ۱۱۱

تیسرا اعتراض ۱۱۲

جواب: ۱۱۲

چوتھا اعتراض ۱۱۴

جواب: ۱۱۴

پانچواں اعتراض ۱۱۴

جواب: ۱۱۵

چھٹا اعتراض ۱۲۱

جواب: ۱۲۱

ساتواں اعتراض ۱۲۱

جواب: ۱۲۲

آٹھواں اعتراض ۱۲۴

جواب: ۱۲۵

نواں اعتراض ۱۲۶


جواب: ۱۲۶

قرآن کا مقابلہ ۱۲۸

رسُول اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)کےدیگر معجزات ۱۳۷

تورات و انجیل میں نبوت محمد(صلّی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم) کی بشارت ۱۳۷

جواب: ۱۵۰

جواب: ۱۵۴

جواب: ۱۵۷

تورات و انجیل میں نبوّت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی بشارت ۱۶۱

قاریوں پر ایک نظر ۱۶۳

تمہید ۱۶۴

۱۔ عبد اللہ بن عامر دمشقی ۱۶۷

۲۔ ابن کثیر مکّی ۱۷۰

۳۔ عاصم بن بہدلہ کوفی ۱۷۲

۴۔ ابو عمرو بصری ۱۷۸

۵۔ حمزہ کوفی ۱۸۲

۶۔ نافع مدنی ۱۸۷

۷۔ کسائی کوفی ۱۹۰

۸۔ خلف بن ہشام بزار ۱۹۲

۹۔ یعقوب بن اسحاق ۱۹۳

۱۰۔ یزید بن قعقاع ۱۹۵

قراءتوں پر ایک نظر ۱۹۷


تواتر قراءت کے منکرین کی تصریح ۲۰۰

تواتر قراءت کے دلائل ۲۰۶

جواب: ۲۰۶

جواب: ۲۰۷

جواب: ۲۰۸

تتمہ ۲۰۹

قراءتیں اور سات اسلوب ۲۱۰

۱۔ حجیت قراءت ۲۱۵

جواب: ۲۱۶

جواب: ۲۱۶

۲۔ نماز میں ان قراءتوں کا پڑھنا جائز ہے ۲۱۹

کیا قرآن سات حروف پر نازل ہوا؟ ۲۲۱

i ۔ ان روایات کے کمزور پہلو ۲۲۹

ii ۔ روایات میں تضاد ۲۳۰

سات حروف کی تاویل و توجیہ ۲۳۲

۱۔ قریب المعنی الفاظ ۲۳۲

۲۔ سات ابواب ۲۳۸

۳۔ سات ابواب کا ایک اور معنی ۲۴۱

۴۔ فصیح لغات ۲۴۱

۵۔ قبیلہ ئ مضر کی لُغت ۲۴۳

۶۔ قراءتوں میں اختلاف ۲۴۴


جواب: ۲۴۵

۷۔ اختلاف قراءت کا ایک اور معنی ۲۴۶

جواب: ۲۴۷

۸۔ اکائیوں کی کثرت ۲۴۸

جواب: ۲۴۸

۹۔ سات قراءتیں ۲۴۹

جواب: ۲۴۹

۱۰۔ مختلف لہجے ۲۴۹

جواب: ۲۵۰

مسئلہ تحریف قرآن ۲۵۲

۱۔ معنی تحریف کی تعریف ۲۵۳

۲۔ تحریف کے بارے میں مسلمانوں کا نظریہ ۲۵۶

۳۔ نسخ تلاوت ۲۵۸

تحریف، قرآن کی نظر میں ۲۶۳

تحریف اور سنت ۲۶۹

نماز میں سورتوں کی اجازت ۲۷۴

خلفاء پر تحریف کا الزام ۲۷۶

قائلین تحریف کے شبہات ۲۸۲

پہلا شبہ: ۲۸۲

جواب: ۲۸۳

دوسرا شبہ: ۲۸۵


جواب: ۲۸۷

تیسرا شبہ ۲۹۰

جواب: ۲۹۰

وضاحت: ۲۹۰

روایات تحریف ۲۹۰

روایات کا حقیقی مفہوم ۲۹۴

جواب: ۲۹۹

جواب: ۲۹۹

چوتھا شبہ ۳۰۱

جمع قرآن کے بارے میں نظریات ۳۰۲

جواب ۳۰۳

جمع قرآن کی روایات ۳۰۴

۱۔ جمع قرآن کی احادیث میں تضاد ۳۱۴

٭ قرآن کو مصحف کی صورت میں کب جمع کیا گیا۔ ۳۱۴

٭ حضرت ابوبکر کے زمانے میں جمع قرآن کی ذمہ داری کس نے لی ؟ ۳۱۴

٭ کیا جمع قرآن کا کام زید کے سپرد کیا گیا تھا؟ ۳۱۴

٭ کیا حضرت عثمان کے زمانے تک ایسی آیات باقی تھیں جن کی تدوین نہیں کی گئی؟ ۳۱۵

٭ جمع قرآن میں حضرت عثمان کا ماخذ و مدرک کیا تھا؟ ۳۱۵

٭ حضرت ابوبکر سے جمع قرآن کا مطالبہ کس نے کیا؟ ۳۱۵

٭قرآن جمع کر کے اس کے نسخے دوسرے شہروں میں کس نے بھیجے؟ ۳۱۵

٭ دو آئتوں کو سورہ برائت کے آخر میں کب ملایا گیا؟ ۳۱۶


٭ ان دو آئتوں کو کس نے پیش کیا؟ ۳۱۶

٭ یہ کیسے ثابت ہوا کہ یہ دونوں آئتیں قرآن کا حصہ ہیں؟ ۳۱۶

٭قرآن کی کتابت اور املاء کے لئے حضرت عثمان نے کس کا تقرر کیا؟ ۳۱۶

۲۔ روایات جمع قرآن میں تضادات ۳۱۷

۳۔ احادیث جمع قرآن ، کتاب الٰہی سے متعارض ہیں۔ ۳۲۰

۴۔ احادیث جمع قرآن حکم عقل کے خلاف ہیں۔ ۳۲۱

۵۔ احادیث جمع قرآن خلاف اجماع ہیں۔ ۳۲۵

۶۔ احادیث جمع قرآن اور قرآن میں زیادتی ۳۲۶

نتیجہ: ۳۲۸

ظواھر قرآن کی حجیت ۳۲۹

ظواہر قرآن کے حجت نہ ہونے کے دلائل: ۳۳۶

۱۔ قرآن فہمی کا مختص ہونا: ۳۳۶

جواب: ۳۳۷

۲۔ تفسیر بالرائے کی ممانعت ۳۳۸

جواب: ۳۳۸

۳۔ معانی قرآن کی پیچیدگی ۳۴۰

جواب ۳۴۰

۴۔ خلاف ظاہر کا یقین ۳۴۰

جواب: ۳۴۱

۵۔ متشابہ پر عمل کی ممانعت ۳۴۲

جواب ۳۴۳


۶۔قرآن میں تحریف ۳۴۴

جواب: ۳۴۴

قرآن میں نسخ ۳۴۵

نسخ کا لغوی معنی ۳۴۶

نسخ کا اصطلاحی معنی ۳۴۷

نسخ کاامکان ۳۴۸

خلاصہ شبہ: ۳۴۹

جواب: ۳۴۹

تورات میں نسخ ۳۵۲

شریعت اسلام میں نسخ ۳۵۷

۱۔ تلاوت نسخ ہو حکم باقی رہے(۱) ۳۵۷

۲۔ تلاوت اور حکم دونوں منسوخ ہوں ۳۵۸

۳۔ حکم منسوخ ہو۔ تلاوت باقی رہے۔ ۳۵۹

اس مسئلے کی وضاحت: ۳۷۳

متعہ کی سزا۔۔۔۔۔۔سنگساری ۴۱۵

متعہ کے بارے میں چند بے بنیادشبہات ۴۱۸

ایک اشکال اور اس کا جواب: ۴۴۸

مسلمانوں سے برسر پیکار کفار کے احکام ۴۷۲

آیت کے بارے میں بعض دیگر عقائد ۴۷۵

آیہ نجویٰ پر عمل کی احادیث ۴۸۴

مسئلے کی تحقیق ۴۸۵


اس صدقے کے نسخ ہونے کے اسباب ۴۸۶

حکم صدقہ کی حکمت ۴۸۷

کھلم کھلا تعصّب ۴۹۰

عالم خلقت میں بدائ ۴۹۴

تمہید ۴۹۶

قدرت خدا ۔ یہود کی نظر میں ۴۹۷

بداء شیعوں کی نظر میں ۴۹۷

قضائے الہٰی کی قسمیں ۴۹۸

عقیدہ ئ بداء کے ثمرات ۵۰۳

حقیقت بداء شیعوں کی نظر میں ۵۰۶

اصول تفسیر ۵۰۸

مدارک تفسیر ۵۰۹

خبر واحد سے قرآن کی تخصیص ۵۱۲

چندتوہمات اور ان کاازالہ ۵۱۳

قرآن حادث ہے قدیم ۵۱۷

یونانی فلسفہ کا مسلمانوں کی زندگی پر اثر ۵۱۸

اللہ کی صفات ذاتی و فعلی ۵۱۹

کلام نفسی ۵۲۰

کیا ''طلب ،، کلام نفسی ہے؟ ۵۲۴

کلام نفسی کا کوئی وجود نہیں ۵۲۵

کلام نفسی پر اشاعرہ کے دلائل ۵۲۵


تفسیر سورہ فاتحہ ۵۳۰

مقام نزول: ۵۳۱

سورہ فاتحہ کے فضائل ۵۳۲

فاتحتہ الکتاب کی آیات ۵۳۴

سورۃ فاتحہ کے اغراض و مقاصد ۵۳۴

سورۃ فاتحہ کا خلاصہ ۵۳۸

بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔کی تحلیل ۵۳۸

لغت ۵۳۸

اعراب ۵۴۹

تفسیر ۵۴۹

آیہ ''بسم اللہ ،، کے بارے میں بحث اول ۵۵۳

آغاز قرآن بہ رحمت ۵۵۴

بعد از رحمن ذکر رحیم ۵۵۵

کیا بسم اللہ قرآن کا حصہ ہے؟ ۵۵۶

بسم اللہ کے جزء قرآن ہونے کے دلائل ۵۵۷

(۱) اہل بیت اطہار (ع) کی احادیث: ۵۵۸

(۲) اہل سنت کی احادیث ۵۵۹

معارض روایات ۵۶۲

جواب: ۵۶۲

(۳) سیرت مسلمین ۵۶۴

(۴) تابعین اور صحابہ کا قرآن ۵۶۴


منکرین کے دلائل ۵۶۵

تحلیل آیتہ ۵۶۸

قرات ۵۶۸

قراتوں کی ترجیحات ۵۶۹

ترجیحات کابے فائدہ ہونا ۵۶۹

دوسروں کا جواب: ۵۷۱

الحمد: ۵۷۴

الرب: ۵۷۴

العالم: ۵۷۴

الملک: ۵۷۵

الدین: ۵۷۵

تفسیر: ۵۷۶

تحلیل آیت ۵۷۹

لغت ۵۸۰

العبادۃ ۵۸۰

الاستعانتہ ۵۸۲

اعراب: ۵۸۲

آیتہ ''الحمد،، کے بارے میں بحث دوم ۵۸۴

العبادۃ و التالہ ۵۸۵

عبادت اور اطاعت ۵۹۱

عبادت اور خشوع ۵۹۲


غیر اللہ کو سجدہ ۵۹۸

آدم (ع) کوسجدہ ۔ اقوال علمائ ۶۰۰

شرک باللہ کیا ہے ؟ ۶۰۳

اسباب عبادت ۶۰۴

صرف اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنا ۶۰۸

شفاعت ۶۱۰

امامیہ کے نزدیک شفاعت کی احادیث ۶۱۲

اہلسنت کے نزدیک شفاعت کی احادیث ۶۱۳

تحلیل آیت ۶۱۵

قرات ۶۱۵

لغت ۶۱۶

اعراب ۶۲۰

تفسیر ۶۲۲

ضمیمہ جات ۶۲۸

ضمیمہ (۱) ص ۱۸ ۶۳۰

حدیث ثقلین کے مدارک اور حوالے ۶۳۰

ضمیمہ (۲) ص ۱۸ ۶۳۱

حارث کی سوانح حیات اور ۶۳۱

ضمیمہ (۳) ص ۲۰ ۶۳۷

حدیث شریف ''لترکبن سنن من قبلکم ،، کے حوالے ۶۳۷

ضمیمہ (۴) ص ۴۳ ۶۳۷


مولف اور یہودی عالم میں بحث ۶۳۷

ضمیمہ (۵) ص ۴۳ ۶۳۹

ترجمہ قرآن اور اس کی شرائط ۶۳۹

ضمیمہ (۶) ص ۱۱۳ ۶۴۱

رسول (ص) اسلام کو شکست دینے کی قریشیوں کی کوشش ۶۴۱

ضمیمہ (۷) ص ۳۱۵ ۶۴۸

صحیح بخاری میں حدیث متعہ کی تحریف ۶۴۸

ضمیمہ (۸) ص ۳۲۸ ۶۵۰

محمد عبدہ اور تین طلاقیں ۶۵۰

ضمیمہ (۹) ص ۳۸۳ ۶۵۱

شیعوں پر رازی کا افترائ ۶۵۱

ضمیمہ (۱۰) ص ۳۹۴ ۶۵۲

احادیث اور مشیّت الٰہی ۶۵۲

ضمیمہ (۱۱) ص ۳۹۱ ۶۵۳

دعا سے تقدیر الٰہی بدل جانے کی احادیث ۶۵۳

ضمیمہ (۱۲) ص ۲۳۵ ۶۵۳

آیہ بسم اللہ کی اہمیت ۶۵۳

ضمیمہ (۱۳) ص ۴۳۶ ۶۵۴

آغاز آفرنیش ۶۵۴

ضمیمہ (۱۴) ص ۴۴۶ ۶۵۵

بسم اللہ کے جزء قرآن ہونے کی احادیث ۶۵۵


ضمیمہ (۱۵) ص ۴۴۶ ۶۵۶

معاویہ بسم اللہ پڑھنا بھول جاتا تھا ۶۵۶

ضمیمہ (۱۶) ص ۴۴۶ ۶۵۷

رسول (ص) خدا کا بسم اللہ کو پڑھنا اور روایت انس کی توجیہ ۶۵۷

ضمیمہ (۱۷) ص ۴۷۵ ۶۶۰

ابن تیمیہ اور زیارت قبور کے جواز کی حدیثیں ۶۶۰

ضمیمہ (۱۸) ص ۴۷۷ ۶۶۵

آلوسی کی شیعوں پر بہتان تراشی ۶۶۵

ضمیمہ (۱۹) ص ۴۷۷ ۶۶۶

مولف اور حجازی عالم میں بحث ۶۶۶

ضمیمہ (۲۰) ص ۴۷۷ ۶۶۷

تربت سید الشہداء کی فضیلت ۶۶۷

ضمیمہ (۲۱) ص ۴۷۹ ۶۶۸

مکاشفہ کے ذریعے آیہ سجود کی تاویل ۶۶۸

ضمیمہ (۲۲) ص ۴۷۹ ۶۶۹

ابلیس اور خدا کا مکالمہ ۶۶۹

ضمیمہ (۲۳) ص ۴۸۰ ۶۷۰

اسلام اور شہادتیں ۶۷۰

ضمیمہ (۲۴) ص ۴۸۲ ۶۷۲

عبادت اور اس کے عوامل ۶۷۲

ضمیمہ (۲۵) ص ۴۸۴ ۶۷۳


الامربین الامرین : لوگوں کی نیکیاں اور برائیاں ۶۷۳

ضمیمہ (۲۶) ص ۴۸۷ ۶۷۴

شفاعت کے مدارک ۶۷۴