یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے
کتاب : "کون ہیں صدیق اور صدیقہ"
تحریر: علامہ سید علی شہرستانی
مترجم: سید سبط حیدر زیدی
ماخذ:شیعہ نیٹ
عرض مترجم
کتاب ھٰذا ، استاد علامہ سید علی شہرستانی کی تألیف ''من ه و الصدّ یق و من هی الصدّیقة '' کا ترجمہ ہے یہ کتاب اصل میں عربی زبان میں ہے اور اس کا فارسی زبان میں ترجمہ '' تأمّلی در مفھوم یک لقب'' کے نام سے منظر عام پر آچکا ہے ۔
مؤلف محترم نے ایرانی ہونے کے ناطے فارسی ترجمے میں کچھ مطالب کا اضافہ فرمایا ہے لہٰذا ہمارے لیے بھی ضروری تھا کہ ان اضافات کو نظر انداز نہ کیا جائے لہٰذا اردو زبان میں یہ ترجمہ عربی و فارسی دونوں کتابوں کو سامنے رکھ کر انجام دیا گیا ہے تاکہ اصل کتاب مع اضافات قارئین کے حضور پیش کی جاسکے ۔
اس کتاب میں اگر چہ ظاہراً لفظی بحث ہے اور کلمات صدّیق و صدّیقہ کے متعلق گفتگو کی گئی ہے لیکن لفظی بحث کے باوجود معارف اور حقائق کے ان لطیف گوشوں کی نشاندہی بھی کرائی گئی ہے کہ جو علم کلام و عقائد کی کتابوں میں بھی دستیاب نہیں ہیں یا بہت کمیاب ہیں ۔
ظاہر ہے کہ کلمہ صدّیق و صدّیقہ اور اسی طرح بہت سے الفاظ و القاب حقیقتاً عظیم معانی و مفاہیم کے حامل ہیں لیکن مخالفین اہل بیت علیہم السلام نے جہاں آپ کی ظاہری حکومت و حکومت
اور مادی ملک و میراث پر ناجائز قبضہ کیا وہیں آپ کے القاب کہ جو اپنے دامن میں فضیلتوں کے دریا اور کمالات کے سمندر لیے ہوئے ہیں ، آپس میں تقسیم کرنے کی سعی لاحاصل انجام دی۔ جس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ مسلمانوں کی نظر میں ان القاب کی حیثیت نہ رہی اور پھر ان کے ظاہری و لغوی معانی کومدنظر رکھتے ہوئے ہرکس و ناکس کے لیے استعمال کیے جانے لگے ۔جبکہ قرآن کریم میں ان الفاظ کا استعمال کچھ خاص افراد کے لیے ہوا ہے اور ان کو بعض نبیوںکی خصوصی صفت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
''صدیقیت'' ایسے معانی و مفاہیم کو اپنے اندر لیے ہوئے ہے کہ جو عصمت، اعجاز، ولایت تکوینی اور ہم مشیت الٰہی ہونے کو شامل ہیں۔ مثلا خداوندمتعال نے قرآن کریم میں لفظ صدیق کو جس ذات والا صفات کے لیے بھی استعمال کیا وہاں پر اور اس استعمال کے پس منظر میں کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ ضرور ملا کہ اس ذات گرامی کی زبان مبارک سے کوئی بات نکلی اور مشیت الٰہی نے اس کو پورا کردکھایا ۔ جیسے حضرت یوسف کے لیے صدیق کا لفظ اس مقام پر استعمال ہوا کہ جہاں آپ نے خواب کی تعبیر بیان فرمائی اور پھر وہ تعبیر آپ کے بیان کے مطابق پوری ہوئی ، چاہے وہ ان قیدیوں کے خواب کی تعبیر ہو کہ جو آپ کے ساتھ زندان میں تھے یا بادشاہ مصر کے خواب کی تعبیر ، لیکن جو بھی یوسف صدیق کی زبان سے جاری ہوا وہی مشیت الٰہی نے پورا کر دکھایا اسی طرح ادھرحضرت صدیقہ طاہرہ فاطمہ زہرا کی زبان اطہر سے بچوں کے لباس کی خواہش پر الفاظ ادا ہوئے '' بچو! تمہارے لباس خیاط کے پاس ہیں جو کل لے آئے گا '' تو اب جبرئیل ، رضوان جنت ، سردارملائکہ درخانہ سیدہ صدیقہ طاہرہ پر آکر یہی کہتا ہوا نظر آتا ہے ''انا خیاط الحسنین جئت با لثیاب '' میں حسنین کا درزی ہوں کپڑے لے کر حاضر ہوا ہوں۔
معلوم ہواکہ صدیقیت بہت عظیم مرتبے اور معانی کی حامل ہے اور یہ صادق سے بہت بلندو بالا مقام کا نام ہے ۔۔۔ بلکہ یوں کہاجائے کہ صادق اس کو کہتے ہیں کہ جو واقعہ کو بعینہ نقل کرتا ہو اور اس کا کلام واقع کے مطابق ہو گویا صادق ،واقعہ کا محتاج ہوتا ہے کہ واقعہ رونما ہواور صادق اس کو بیان کرے ۔ جبکہ صدیق وہ ہے کہ واقعہ اس کا محتاج ہوتا ہے یعنی صدیق کی زبان مبارک سے جو کلمات بھی ادا ہوں وہ مشیت الٰہی کے تحت واقعہ کی صورت اختیار کرلیں ۔
یہی عصمت ، اعجاز، ولایت تکوینی اور مشیت الٰہی کے مطابق ہو نا ہے ۔
بہر حال یہ کتاب بہت عظیم معانی و مفاہیم پر مشتمل ہے ہمیں امید ہے کہ قارئین محترم ، اہل نظر اور اہل قلم و ادب حضرات ہماری کوتاہیوں کو دامن عفو میں جگہ عنایت کرتے ہوئے دعائے خیر میں یاد فرمائیں گے۔
بارگاہ احدیت میں ملتجی ہوں کہ اس ناچیز سعی کو مقبول فرمائے ۔آمین
الله م تقبل منا انک انت سمیع الدعا و صل علی محمد وآله الط یبین الطاه ر ین المعصومین ۔
سید سبط حیدر زیدی
مشہدمقدس، ایران
۱۳ رجب المرجب ۱۴۲۸ھ
روزولادت باسعادت صدیق اکبرحضرت امیر المؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام
مقدمہ مؤلف
حمد و ثنا ہے پروردگار عالم کی اور درود و سلام ہے ہمارے سید و سردار حضرت محمد اور ان کی آل پاک پر ۔
دین مقدس اسلام اور تاریخ و شریعت میں کچھ خاص الفاظ و مفاہیم ایسے بھی ہیں کہ جن کے بارے میں غور و فکر لازم ہے اس لیے کہ ان الفاظ و مفاہیم کا عقائد و احکام سے بہت عمیق رابطہ اور بہت گہرا تعلق ہے ۔
''صدیقیت'' ان ہی الفاظ میں سے ایک ہے کہ جو بہت بلند معانی رکھتا ہے اور اس میں الٰہی مقامات کی طرف اشارہ ہے ۔
جہاں تک میری نظر ہے ابھی تک اس سلسلے میں کوئی مستقل کتاب یا رسالہ تحریر نہیں ہوا ہے اور جو کچھ بھی علماء و بزرگوں کے کلام میں آیا ہے تو صدیقیت کے معنٰی کی طرف مختصراً اشارے ہیں کہ جو علم کلام اور عقائد کی دوسری بحثوں کے ضمن میں بیان ہوئے ہیں اور ان کو بھی اس طرح پیش نہیں کیا گیا کہ عصر حاضر کے محقق کی زیر کی و ہوشیاری سے سازگار ہوں اور خود ایک موضوعی بحث کے طور پر بیان ہوسکیں۔
ہم اس لیے بھی کہ اسلامی علوم و معارف اور علمی مواد و ذخائر میں ہمارا بھی کچھ حصہ ہو اس تحقیق کو پیش کرتے ہیں تاکہ یہ ہمارے لیے اور دوسرے ہمارے محققین بھائیوں کے لیے سرنقطہ آغاز قرار پائے ۔حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیھا کی زندگی نہ صرف تاریخی ، اعتقادی اور فقہی میراث سے بھر پور اور مملو ہے بلکہ آپ کی حیات طیبہ کے ہر پہلو میں درس ، عبرتیں اور زندگی گزارنے کے انمول نمونے موجود ہیں کہ جن کو ہر انسان اپنے لیے نقش راہ قرار دے کر فلاح وکامیابی سے ہمکنار ہوسکتا ہے ۔ انتہا یہ ہے کہ آپ کے القاب مبارکہ و اسماء طیبہ بڑے بڑے مقامات الٰہی اور مفاہیم معنوی پر دلالت کرتے ہیں ۔
ان میں سے بطور مثال لقب'' صدیقہ ''ہے کہ جو آنحضرت کی عصمت سے مربوط ہے اور اس بات پر دلالت کرتاہے کہ آپ کی حیات طیبہ آغاز ہی سے پاک و پاکیزہ تھی ، چونکہ آپ نے اپنے والدبزرگوارصلىاللهعليهوآلهوسلم ک ی رسالت کی پیدا ہوتے ہی تائید و تصدیق فرمائی اور جوکچھ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم لائے تھے ان کو سچ سمجھا اور اپن ی کمال تصدیق کو خداوندمتعال پر اظہار فرمایا ، یہاں تک کہ خداوندسبحان نے اپنی رضا و خوشنودی اور غضب و غصہ کو آپ کی خوشنودی و ناراضگی سے وابستہ قرار دیا ۔
اور اسی طرح ایک لقب'' محدّثہ'' ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ پیغمبر اکرم کی رحلت کے بعد بھی جبرئیل آپ کے پاس تشریف لاتے ، محو سخن ہوتے، آپ کی دلجوئی فرماتے اور آپ کی آل پاک پر رونما ہونے والے تمام حوادث کو بیان فرماتے تھے۔
ان دوالقاب کے علاوہ ایک لقب ''شہیدہ'' ہے کہ جو آپ کی مظلومیت کی طرف دلالت و راہنمائی کرتا ہے اور یہ کہ آپ کی زندگی کا خاتمہ شہادت پر ہے ۔
بنا برایں، حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کے القاب مبارکہ و اسماء طیبہ سطحی وعادی نہیں ہیں بلکہ ان میں معانی قدسیہ پائے جاتے ہیں ۔ بعض افرادان القاب کو چراکر دوسروں کے سر پر مڑھنا چاہتے ہیں تاکہ یہ القاب ہرکس و ناکس کو عطا کرکے ان عظیم معانی و اثرات قدسی کو ختم کردیا جائے اور پھر لوگوں کی نظروں میں ان کا کوئی اعتبار باقی نہ رہے ۔
بعض روایات اہل بیت میں آنحضرت کا نام ''فاطمہ''(۱) ک ی وجہ تسمیہ یہ بیان کی گئی ہے کہ آنحضرت اپنے چاہنے والوں اور شیعوں کو آتش جہنم سے دور و جدا رکھیں گی جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام کے لیے مذکورہے کہ آپ حق و باطل کے درمیان فرق و جدائی ڈالنے والے ہیں جبکہ اسی طرح ان معانی کو چھپانے کے لیے اور ان القاب کی فضیلت کو گھٹانے کے لیے اہل سنت نے صدیقہ کا لقب ایک دوسری خاتون کو دے دیا اور فاروق کا لقب ایک اور شخص کو دے دیا اس اعتقاد کے ساتھ کہ وہ حق و باطل کے درمیان جدائی ڈالنے والا ہے۔
اوراسی طرح کی روایات گھڑی گئیں تاکہ حق و باطل مخلوط ہوجائے لہٰذا نقل ہوا ہے کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرما یا کہ گذشتہ امتوں میں محدثین گذرے ہیں لہٰذا اگر میری امت میں کوئی محدث ہو تو وہ عمر بن خطاب ہے !(۲) ۔
____________________
(۱) یہاں تک کہ خود اسی نام مبارک کے بارے میں غورو فکراور بحث کی جائے کہ اس میں کس قدر معانی ومفاہیم الٰہیہ پوشیدہ ہیں ۔
(۲) صحیح بخاری :۱۲۷۹۳ ،ح ۳۲۸۲۔ و ۔ص ۱۳۴۹ ،ح۳۴۸۶۔ صحیح مسلم :۴ ۱۸۶۴۔سنن ترمذی :۵ ۶۲۲،ح۳۶۹۳۔ المستدرک علی صحیحین:۹۲۳ ،ح۴۴۹۹۔ السنن الکبری(نسائی) :۵ ۳۹ ،ح ۸۱۱۹۔
یا اسی طرح حضرت علی علیہ السلام کی طرف جھوٹی نسبت دی کہ آپ نے فرمایا ''فرشتہ عمر کی زبان میں ہم سے محو گفتگو ہوتاتھا ''(۱) ۔
جبکہ ادھر حضرت فاطمہ اور اہل بیت پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو محدث کہا گیا ہے ۔
ان دونوں باتوں کے درمیان کیا وجہ تشبیہ و ربط ہے !؟
مجھے نہیں معلوم کہ کیا میرے ساتھ کسی اور نے بھی غور کیا کہ لفظ ''زہرا'' کے معانی و مفاہیم میں نورالٰہی سے کتنا ربط ہے؟ اور یہ عظمت صرف حضرت فاطمہ سے مخصوص ہے یا حضور اکرم کی دوسری بیٹیوں کو بھی اس میں شریک کیا جاسکتاہے؟(۲) ۔جبکہ اہل سنت نے اس معن ی میں بھی عمومیت دی ہے تاکہ عثمان بن عفان کو حضور انورصلىاللهعليهوآلهوسلم ک ی دو بیٹیوں یا ربیباؤں(منھ بولی بیٹیوں) کا شوہر ثابت کرکے ذوالنورین کا لقب دے سکیں۔
شاید یہ لوگ خلفاء کی طرفداری میں ان القاب و اسماء کی عظمت و فضیلت کو درک کرنہ کرتے ہوئے یا خود جانتے ہوئے بھی دوسروں سے پوشیدہ رکھنے کے لیے ، شہید مظلوم کا لقب عثمان بن عفان کو دینے کے باوجود بھی حضرت فاطمہ زہرا کو لقب ''شہیدہ مظلومہ''دیتے ہوئے خوف کھاتے ہیں ۔(چونکہ اس میں بہت سے حقائق پوشیدہ ہیں !)
____________________
(۱) تاریخ واسط :۱ ۱۶۷۔حلیة الاولیاء :۱ ۴۲۔ الریاض النضرة :۱ ۳۷۶۔المعجم الاوسط:۱۸۷ ،ح ۶۷۲۶۔ مجمع الزوائد: ۹ ۶۹۔
(۲) بالفرض اگر حضورانور کے کوئی اور بھی بیٹی ہو چونکہ ہمارے عقیدے میں حضرت فاطمہ زہرا آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اکلوتی بیٹی ہیں(مترجم )
جی ہاں! ''صدیقہ''''محدثہ'' اور'' شہیدہ'' یہ وہ القاب ہیں کہ جن میں عظیم معانی و مفاہیم کے ساتھ ساتھ ''عصمت ''''علم ''اور'' مظلومیت'' کے حقائق نمایاں ہیں اور حضرت فاطمہ زہرا کی زندگی کے تینوں مرحلوں پر دلالت کرتے ہیں اور ان میں وہ تمام واقعات مضمر ہیں کہ جو آنحضرت سے متعلق رونماہوئے ۔
یہ مختصر رسالہ ، تاریخ و شریعت کے متعدد و فراوان الفاظ میں سے صرف ایک لفظ کی توضیح و تفسیر کے بیان میں ہے جبکہ ضروری ہے کہ اس طرح کے تمام القاب میں غور و فکر کیا جائے اور ان کے معنی و مفہوم میں تأمل ہو ۔
ہماری تمام اہل تحقیق و اہل علم و فضل حضرات سے امید وتوقع ہے کہ جوحضرت فاطمہ زہرا کے سلسلے میں علمی خدمت کرنا چاہتے ہیں وہ ان الفاظ و القاب پر خاص توجہ دیں۔
آخر میں خدائے سبحان کی بارگاہ میں ملتجی ہوں کہ میری اس ناچیز خدمت کو قبول فرمائے اور اس کو میری نیکیوں و حسنات میں شمار فرمائے، میرے گناہوں کا کفارہ قرار دے اور مجھ کو میری سیدہ و سردار حضرت فاطمہ زہرا کی شفاعت نصیب فرمائے اس حال میں کہ آپ پر اور آپ کے والد بزرگوار ،شوہر نامداراور آل پاک پر درود وصلوات بھیجتاہوں:
(اللهم صل علی فاطمة و ابیها و بعلها و بنیها بعددما احاط به علمک )
پروردگار درود وصلوات بھیج فاطمہ زہرا اور ان کے والدبزرگوارصلىاللهعليهوآلهوسلم ، شوہرنامدار ا ور اولاد پاک پر اسقدر کہ جتنا تیرے علم میں ہے ۔
اول و آخر خداوندکی حمد ہے اور ظاہرو باطن میں اس کا شکر ہے اور اس کی صلوات ہو محمد و آل محمد طیبین و طاہرین و معصومین پر۔
سید علی شہرستانی
۱۷ جماد ی الاولی ۱۴۲۶ھ
ایام شہادت صدیقہ کبری فاطمہ زہراسلام اللہ علیھا
تمہید
بحث موضوعی کی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ انسان کچھ ایسے الفاظ و اصطلاحات سے روبرو ہوتا ہے کہ جن کے سلسلے میں اپنی ذہنیت واقعی کا استعمال کرتا ہے، اور کبھی کبھی تاریخی شواہد وغیرہ انسان کو ان الفاظ و اصطلاحات کی تحقیق پر مجبور کرتے ہیں ۔خصوصا ایسے موارد کہ جہاں ایک ہی لفظ ،ایک ہی اصطلاح ایک دوسرے کے متعارض یا مخالف مواقع پر استعمال ہوئی ہو کہ جن کے درمیان کسی بھی طرح سے وجہ جمع ممکن نہ ہو اور نہ ہی کوئی شرعی یا عقلی قابل قبول توجیہ موجود ہو ۔
اسلامی تاریخ ، فقہ اور حدیث کا مطالعہ کرتے ہوئے کچھ ایسے الفاظ سے گذر ہوتا ہے کہ جو ایک دوسرے کے خلاف ہیں یا متناقض و متضاد ہیں اور محقق کو نہیں معلوم کہ اس کے ساتھ کیا برتاؤ کرے یا ان کے درمیان کیا وجہ جمع ایجاد کرے چونکہ یہ قدیم الایام سے ہم تک پہنچے ہیں ۔
یہ متناقضات خصوصاً اس طرح کے افراد کے سامنے زیادہ آتے ہیں کہ جو بعض ایسی شخصیات کو مقدس بناکے پیش کرنا چاہتے ہیں کہ جن کو اللہ و رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بعنوان مقدس یاد نہیں فرمایا۔جبکہ ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ دونوںمذہب(مذہب صحابہ و مذہب اہل بیت ) کی روش کو ایک جگہ جمع کریں۔
لہٰذا ہم ایک طرف دیکھتے ہیں کہ یہ افراد محبت اہل بیت علیہم السلام کا دم بھرتے ہیں اوردوسری طرف اہل بیت علیہم السلام پر ہونے والے مظالم کو بھی پسند نہیں کرتے لہٰذا ایک ایسی روش و راستہ ایجاد کرنا چاہتے ہیں کہ جس میں ظالموں کے ظلم سے چشم پوشی ہوسکے ،اس دعوی کے ساتھ ساتھ کہ جس نے جو کیا ،اچھا ہو یا برا، وہ چلا گیا اور اپنے اعمال اپنے ساتھ لے گیا ، ہمیں کیا مطلب کہ ہم ان کے کارناموں میں دخل اندازی کریں۔
یہ توجیہ ابتداء اچھی اور معقول نظر آتی ہے لیکن تھوڑا ہی غور و فکر کرنے سے اس کی خرابیاں آشکار ہونے لگتی ہیں چونکہ یہ شخصیات ، تاریخ کے عام افراد نہیں تھے کہ جن کے بارے میں کہا جائے کہ ان کے اچھے اور برے اعمال خود ان ہی سے مربوط ہیں اور ان کا مسئلہ خدا کے حضور پیش کیا جائے تاکہ وہ ان کے بارے میں جو چاہے حکم کرے۔
بلکہ وہ لوگ تاریخ و شریعت میں ایک مہم نقش رکھتے تھے اور عصر حاضر میں بہت سے مسلمانوں کے نظر یات انہیں سے ماخوذ ہیں اس وجہ سے ناچار ہیں کہ ان کی سیرت و حالات زندگی سے آشنا ہواجائے۔ چونکہ یہ ہماری آج کی اجتماعی زندگی اور علمی و عملی سیرت سے مربوط ہے اس لیے کہ ہر چیز اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے لہٰذا علی و فاطمہ کی معرفت ، ابوبکر و معاویہ کی پہچان کے بغیرممکن نہیںہے ۔چونکہ یہ ہم کو ماننا پڑے گا کہ خدا وندعالم کی جانب سے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم پرنازل ہونے والا حکم اورحق ا یک ہی ہے اور اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے باطل ہے پس اگر علی حق کے ساتھ ہیں ''علی مع الحق ''(۱) تو معاو یہ باطل پر ہے۔
____________________
(۱) خصال (صدوق) ۴۹۶۔ کفایةالاثر ۲۰۔ تاریخ مدینہ دمشق: ۴۲ ۴۴۹۔
اور اگر حضرت فاطمہ زہرا اپنے مدعیٰ میں سچی ہیں تو یقینا ابوبکر سچے نہیں ہیںاوراس کے علاوہ کوئی تیسری صورت نہیں۔ چونکہ خداوندعالم کا ارشاد گرامی ہے : (فماذا بعد الحق الا الضلال فانیٰ تصرفون )(۱) حق کے بعد گمراہی کے علاوہ کچھ نہیں ہے پس کہاں منھ موڑے جارہے ہو۔
اور پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا فرمان ہے : (ستفرق امتی الی نیف و سبعین فرقة ،فرقة ناجیة والباقی فی النار )(۲) عنقر یب میری امت ستر سے زیادہ فرقوں میں تقسیم ہوجائے گی کہ جن میں سے ایک فرقہ ناجی اور باقی جہنمی ہیں۔
یہ دونوں نصوص، وضاحت کے ساتھ ایک کے حق ہونے اور دوسر ے کے باطل ہونے پر دلالت کرتی ہیں بلکہ دین اسلام بطور کلی وحدت فکر و مضمون پر موقوف ہے ۔
حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں :''فلو ان الباطل خلص من مزاج الحق لم یخف علی المرتادین ، ولو ان الحق خلص من لبس الباطل لانقطعت عنه السن المعاندین ، ولکن یوخذ من هٰذا ضغث و من هٰذا ضغث فیمزجان ، فهنالک یستولی الشیطان علی اولیائه ، وینجو الذین سبقت لهم من الله الحسنی'' (۳)
____________________
(۱) سورہ یونس(۱۰) آیت ۳۲۔
(۲) شرح الاخبار :۲ ۱۲۴۔ خصال(صدوق) ۵۸۵۔ سنن ابن ماجہ:۲ ۳۹۹۳ ،ح ۱۳۲۲، اس ماخذ میں بیان ہوا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اور اس کے رجال سند ثقہ ہیں ۔سنن ترمذی:۴ ۱۳۵ ، اس ماخذ میں ہے کہ یہ حدیث غریب ہے ۔ مستدرک حاکم :۱۲۹۱۔
(۳) نہج البلاغہ :۱ ۹۹ خطبہ ۵۰۔ شرح نہج البلاغہ : ۳ ۲۴۰۔
اگر باطل ، حق کی آمیزش سے خالی رہتا تو حق کے طلب گاروں پر پوشیدہ نہ رہتا اور اگر حق ، باطل کی ملاوٹ سے الگ رہتا تو دشمنوں کی زبانیں نہ کھل سکتیں لیکن ہوتا یہ ہے کہ ایک حصہ اس سے لیا جاتا ہے اور ایک اس میں سے پھر دونوں کو ملا دیا جاتا ہے ، ایسے ہی مواقع پر شیطان اپنے ساتھیوں پر مسلط ہوجاتاہے اور صرف وہ لوگ نجات حاصل کرپاتے ہیں جن کے لیے پروردگار کی جانب سے نیکی پہلے ہی سے پہنچ چکی ہو تی ہے۔
اور آپ ہی نے حارث بن لوط لیثی سے فرمایا:
'' یا حارث، انک ملبوس علیک! ان الحق لایعرف بالرجال، اعرف الحق تعرف اهله'' (۱)
اے حارث آپ پر امر مشتبہ ہوگیا ہے حق لوگوں سے نہیں پہچانا جاتا بلکہ حق کو پہچانو پھر اہل حق کو پہچان جاؤ گے ۔
سلف و گذشتگان کی بزرگی و ہیبت نے بعض لوگوں کو اس تناقض گوئی میں ڈال دیا ہے جبکہ صحابہ عام انسانوں کی طرح ہیں اور سب الٰہی قانون کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہیں پس جوشخص خداوندعالم اور اس کے پیغمبر ، کتاب الٰہی اور اس کے احکام پر ایمان لائے ،راہ ہدایت کو اپنائے وہ ہدایت یافتہ ہے اور جو اس راستہ سے گمراہ و منحرف ہو اس نے خود نے اپنے آپ کو گمراہ کیا ہے ۔
____________________
(۱) انساب الاشراف ۲۳۸ـ۲۳۹۔ امالی شیخ طوسی ۱۲۴، ح ۲۱۶۔ تفسیر قرطبی :۱ ۳۴۰۔ اور دیکھیے ـ: وسائل الشیعہ :۲۷ ۱۳۵، ح ۳۲۔ بحار الانوار :۲۲ ۱۰۵، ح ۶۴۔
پس پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا صحابی ہونا اس بات سے مانع نہیں ہے کہ صحابی کی رأ و نظریات کی تحقیق ورد نہ کی جائے چونکہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حیثیت چمکتے ہوئے سورج کی طرح ہے اور جو حضرات ان کے ہمراہ و مصاحب ہیں ان کی مثال آئینہ کی ہے کہ جس قدر آئینہ صاف و شفاف ہوگا اسی قدر نور نبوت اس میں منعکس ہوگااور جس قدر دھندلا ہوگا تو سورج کی روشنی بھی اس کی دھندلاہٹ ہی میںاضافہ کرے گی۔
(سورج کی روشنی و گرمی پھول پر پڑتی ہے تو خوشبو میں اضافہ کرتی ہے اور گندگی پر پڑتی ہے تواس کی بدبو میں اضافہ کرتی ہے) لہٰذا اس صورت میں کمی و نقص اس مصاحب(صحابی) میں ہے نہ کہ مصاحبصلىاللهعليهوآلهوسلم م یں۔
حضرت امام زین العابدین علی بن الحسین علیہما السلام ان صحابہ کی کہ جوپیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی روش و سیرت پر باقی رہے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ک ی سنت میں کوئی تبدیلی نہیں کی ، ستائش و تجلیل کرتے ہوئے اپنی دعامیں اس طرح فرماتے ہیں :
''اللهم واصحاب محمد خاصة الذین احسنو ا الصحابة الذین ابلوا البلاء الحسن فی نصره ، و کانفوه و اسرعوا الی وفادته ، وسابقوالی دعوته، واستجابو له حیث اسمعهم حجة رسالته ، وفارقوا الازواج والاولاد فی اظهار کلمته ، وقاتلوا الاباء والابناء فی تثبیت نبوته ، وانتصروا به، ومن کانوا منطوین علی محبته یرجون تجارةً لن تبورفی مودته ، والذین هجرتهم العشائر اذتعلقو ابعروته ، و انتفت منهم القرابات اذ سکنوفی ظل قرابته ،فلا تنس لهم اللهم ماترکو ا لک و فیک، وارضهم من رضوانک اللهم واوصل الی التابعین لهم باحسانـالذین یقولون
( ربنا اغفرلناولاخوانناالذین سبقونابالایمان ) (۱) ـخیرجزائک،الذین قصدوا سمتهم'' (۲)
بارالٰھا، خصوصیت سے اصحاب محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم م یں سے وہ افراد کہ جنہوں نے پوری طرح پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ساتھ د یا اور ان کی نصرت میں پوری شجاعت کا مظاہرہ کیا اور ان کی مدد پر کمر بستہ رہے، ان پر ایمان لانے میں جلدی، ان کی دعوت کی طرف سبقت کی اور جب پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنی رسالت کی دلیلیں ان کے گوش گذار کیں تو انہوں نے لبیک کہا اور ان کا بول بالا کرنے کے لیے اپنے بیوی بچوں تک کو چھوڑدیا اور امر نبوت کے استحکام کے لیے باپ اور بیٹوں تک سے جنگیں کیں ، نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے وجود ک ی برکت سے کامیابیاں حاصل کیں اس حالت میں کہ آپ کی محبت دل کے ہر رگ و ریشہ میں لیے ہوئے تھے اور ان کی محبت و دوستی میں ایسی نفع بخش تجارت کے مواقع تھے کہ جس میں کبھی نقصان نہ ہو اور جب ان کے دین کے بندھن سے وابستہ ہوئے تو ان کے قوم و قبیلہ نے انہیں چھوڑ دیا اور جب سایہ قرب میں منزل کی تو اپنے بیگانے ہوگئے ۔
اے میرے معبود انہوں نے تیری خاطر اور تیری راہ کے سبب سب کو چھوڑ دیا تو (جزاء کے موقع پر) ان کو فراموش نہ کرنا اور ان کی اس فداکاری ،خلق کو تیرے دین پر جمع کرنے اور رسول اللہ کے ساتھ داعی حق بن کرکھڑے ہونے کے صلہ میں انہیں اپنی خوشنودی سے سرفراز و شادکام فرما اور جزائے خیر دے ۔۔۔
____________________
(۱) سورہ حشر (۵۹) آیت ۱۰۔
(۲) صحیفہ سجادیہ ، چوتھی دعا (رسول اکرم کی اتباع و تصدیق کرنے والوں کے حق میں دعا)۔
اہل بیت علیہم السلام کی سیرت و روش صحابہ کرام کے بارے میں اسی طرح ہے اور یہی راستہ حق ہے کہ ہر مسٔلہ کو اسی میزان میں پرکھا جاتاہے لیکن ہم دوسری طرف دیکھتے ہیں کہ جہاں سب کو مخلوط کرکے رکھ دیا گیا ہے ،طلیق (آزاد شدہ غلام ) کو مہاجر کی طرح اور صریح(محاصرہ کرنے والے) کو لصیق(محاصرہ ہونے والے ) کی طرح ، محق (اہل حق ) کو مبطل(اہل باطل) کی طرح پیش کیا جاتا ہے(۱) اور انتہا ئی جرأت سے کہا جاتاہے کہ ہمارے سید و سردار معاویہ ہمارے سید و سردار علی سے لڑے یا ہماری سیدہ و عایشہ نے ہمارے سید و سردار علی کے خلاف خروج کیا یاہمارے سید و سردار یزید نے ہمارے سید و سردار حسین کو قتل کیا اور اسی طرح بہت سے متناقض کلام دیکھنے میں آتے ہیں ۔
____________________
(۱) دیکھیے حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کا نامہ کہ جو معاویہ کے لیے تحریر فرمایا : (۔۔۔ولکن لیس امیة کهاشم ، ولا الحرب کعبدالمطلب، ولا ابوسفیان کابی طالب ولاالمهاجر کالطلیق ، ولا الصریح کاللصیق ، ولا المحق کاللمبطل ولا المؤمن کالمدغل ۔(شرح نہج البلاغہ(ابن ابی الحدید معتزلی):۳ ۱۸ـ۱۷)
اور لیکن امیہ، ہاشم کی طرح نہیں ہے اور نہ ہی حرب ، عبد المطلب کی طرح ہے اور نہ ابو سفیان، ابوطالب کی مانند ہے اور نہ ہی آزاد شدہ غلام(طلیق) مہاجر کی طرح ہوسکتا ہے اور محاصرہ کرنے والا(صریح ) محاصرہ ہونے والے(لصیق ) کی مانند، نہ محق (اہل حق ) مبطل(اہل باطل) کی طرح ہے تو نہ ہی مؤمن ، منافق و دھوکے باز کی طرح۔
خداوندتبارک و تعالی سورہ جاثیہ آیت ۲۱میں ارشاد فرماتا ہے : (ام حسب الذین اجترحوا السیٔات ان نجعلهم کالذین آمنوا و عملوا الصاحات سواء محیا هم و مماتهم ساء مایحکمون ) ۔
اور اس طرح کی تناقض گوئیوں میں کہ جہاں غور وفکر لازم ہے یہ بات بھی ہے کہ جو اہل بیت علیہم السلام کے مدمقابل والا مذہب ، ابوبکر اور حضرت فاطمہ زہرا کے سلسلے میں زبان پر لاتا ہے کہ ہمارے سید و سردار ابوبکر صدیق نے فدک و میراث رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بارے میں صدیقہ طاہرہ سے اختلاف کیا !۔
اس طرح کی عبارات و الفاظ سے بعض مسلمانوں پر مسٔلہ مشتبہ ہوگیا ہے لہذا اس مسئلہ میں وہ یہ فیصلہ نہیں کرپاتے کہ کون سچا ہے اور کون جھوٹا ،اور یہ کام ان دونوں حضرات کی نسبت لفظ صدیق و صدیقہ کے معنی میں تحریف کرکے ایجاد کیا گیا ہے ۔
بہر حال ان میں سے اگر کوئی ایک سچا و صادق ہے تو دوسرا یقینا و حتمی جھوٹا و کاذب ہے اور صدیقہ کے متعلق بھی کہ جو انتہائی صادق القول تھیں اور پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم و خداوندعالم نے ان ک ی تصدیق فرمائی ہے یہی مسئلہ ہے ۔یہ دونوں باتیںقبول نہیں کی جاسکتیں چونکہ دونوں ایک دوسرے کو خواہ صراحتاً یا اشارتاً و تلویحاً جھٹلارہے ہیں ۔
حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا نے اس کلام سے''لقدجئت شیئا فریا'' (۱) ( آپ نے ا یک جھوٹی اور اپنے پاس سے من گھڑت چیز پیش کی ہے ) بالکل واضح طورپر ابوبکر کی تکذیب کی ہے جبکہ ابوبکر یہ جرأت نہ کرسکے کہ حضرت زہرا کی صراحتاً تکذیب کریں بلکہ ایک ایسے کلام کا سہارا لیا کہ جس کا نتیجہ حضرت زہرا کی تکذیب تھی ۔
اب اس مسودہ کے ذریعہ لفظ صدیق کے معنی لغة اور استعمال میں تلاش کرتے ہیں ۔
____________________
(۱) سورہ مریم (۱۹) آیت ۲۷۔
صدیق باعتبار لغت و استعمال
صدیق ، مادۂ (ص،د،ق) سے مشتق ہے اور صدق (سچ) کذب (جھوٹ ) کی نقیض ہے ، صدیق فعیل کے وزن پر ہے اور صدیقہ فعیلہ کے وزن پر، اور یہ وزن موصوف کے صفت سے بہت زیادہ اتصاف پر دلالت کرتا ہے گویا اس مادہ میں صدق و تصدیق کا مبالغہ پایا جاتاہے اور یہ صدوق (بہت سچا ) سے بھی زیادہ سچے کے لیے استعمال ہوتاہے ۔ کہا جاتاہے صدیق اس کو کہتے ہیں کہ جو صدق و سچائی میں کامل ہو اس کا عمل اس کے قول کی تصدیق کرے یعنی قول و عمل ایک ہو اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدیق اس کو کہتے ہیں کہ جس نے اصلاً کبھی جھوٹ نہ بولا ہو ۔
اہل سنت کے درمیان مشہور ہے کہ'' صدیق '' ابوبکر بن قحافہ کا لقب ہے اگر چہ ان کے یہاں بہت زیادہ روایا ت موجود ہیں کہ جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ''صدیق'' حضرت علی بن ابی طالب کا لقب ہے اور یہ روایات شیعہ مذہب کی روایات کے مطابق ہیں کہ شیعوں کے نزدیک ''صدیق''بطور نص حضرت علی کا لقب مبارک ہے اور اہل سنت نے اس کو چوری کرکے ابوبکر کے سرپر چڑھادیا ہے(۱) ۔
____________________
(۱) العمدہ ۲۲۰۔
لیکن لقب ''صدیقہ '' قرآن کریم میں حضرت مریم بنت عمران کے لیے آیا ہے اور پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زبان مبارک پر حضرت فاطمہ زہرا اور حضرت خدیجہ کے لیے جاری ہوا ،جبکہ اس سلسلے میں اہل سنت کی طرف سے یہ کوشش رہی کہ یہ لقب عایشہ کو دیدیا جائے ،لیکن عنقریب آپ کے سامنے اس دعوی کی پول کھل جائے گی ۔
اگر حقیقت کو درک کرنا ہے تو ضروری ہے کہ'' صدیقیت'' کے معنی کی تنقیح و تحلیل کی جائے تاکہ معلوم ہو کہ صدیقیت ایک معنوی و ربانی مرتبہ ہے یا کوئی معمولی لقب ہے کہ جو جس کو چاہے عطا کردے۔
کیا صدر اسلام میں پیغمبر اکرم جس کو جو بھی عطاکرتے اور دوسرے لوگ کسی کو کچھ بھی عطا کرتے تو کیا ان دونوں میں کوئی فرق نہیں تھا ؟ اور کیا معقول ہے کہ جو القاب ، خداوندعالم اور پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی جانب سے دیے گئے ہیں وہ بے بنیاد اور صرف تعلقات کی وجہ سے ہوں یا ایسا نہیں ہے اور پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا کسی کا کوئی نام رکھنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ اس نام و لقب کا مستحق ہے۔
اور کیا القاب ، لیاقت و قابلیت کے اعتبار سے دیے جاتے تھے یا یہ کہ لوگوں کی تشویق و ترغیب کے لیے عطا ہوتے تھے ۔
اور کیوں جناب ابوذر غفاری کو لقب ''صدیق''عطا نہیں ہوا جبکہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے فرمان کے مطابق وہ روے زمین پر تمام انسانوں سے زیادہ سچے انسان تھے(۱) ۔
____________________
(۱) سنن ترمذی : ۵ ۳۳۴، ح ۳۸۸۹۔الانساب (سمعانی ): ۴ ۳۰۴۔
''صدیقیت'' سے کیا مراد ہے ؟ اور کیا'' صدیق ''کے مراتب و اقسام ہیں ؟
علامہ ابن بطریق (متوفی ۶۰۰ھ) اپنی کتاب العمدہ میں راقم ہیں :
((صدیق کی تین قسمیں ہیں :
۱ـ صدیق نبی ہوتا ہے ۔
۲ـ صدیق امام ہوتا ہے۔
۳ـ صدیق عبد صالح ہے کہ جو نہ نبی ہے اور نہ امام۔
پہلی قسم پر یہ فرمان الٰہی دلالت کرتا ہے( واذکر فی الکتاب ادریس انه کان صدیقاً نبیاً ) (۱) کتاب (قرآن ) میں ادریس کو یاد کرو کہ وہ صدیق نبی تھے ۔
اور خداوندعالم کا یہ ارشاد گرامی( یوسف ایهاالصدیق ) (۲) یوسف اے صدیق۔
اس سے یہ معلوم ہوا کہ ہر نبی صدیق ہے لیکن ہر صدیق نبی نہیں ہے ۔
اس بات پر کہ ''صدیق ''امام ہوتا ہے خداوندعالم کایہ فرمان دلالت کرتا ہے( فأولائک مع الذین انعم الله علیهم من النبیین والصدیقین والشهداء والصالحین و حسن اولٰئک رفیقا ) (۳) ۔ وہ ان کے ساتھ ہیں کہ جن کو اللہ نے نعمتیں عطا کی ہیں انبیاء ، صدیقین ، شہداء اور صالحین میں سے اور وہ بہترین ساتھی ہیں ۔
____________________
(۱) سورہ مریم(۱۹) آیت ۵۶۔
(۲) سورہ یوسف(۱۲) آیت ۴۶۔
(۳) سورہ نساء (۴) آیت ۶۹۔
خداوندعالم نے نبیوں کا تذکرہ کرنے کے بعد صدیقین کی مدح سرائی کی ہے جبکہ نبیوں کے بعد آئمہ ہی کا ذکر سب سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے اور اسی پر وہ روایات بھی دلالت کرتی ہیں کہ جن میں وارد ہے کہ'' صدیق '' تین شخص ہیں حبیب نجار، حزقیل ، علی اور علی ان سب سے افضل ہیں ۔ پس چونکہ علی کاذکر ان دو افراد کے ساتھ آیا ہے اور وہ ان کے ساتھ صدیقین میں شامل ہیں جبکہ وہ دونوں نہ نبی ہیں اور نہ امام ۔ لہذا مناسب یہ سمجھا کہ علی کو ان دونوں سے جدا اور ممتاز رکھیں ایک ایسی شی سے کہ جو ان دونوں میں نہیں ہے یعنی امامت لہذا پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا علی ان دونوں سے افضل ہیں ۔
پس لفظ صدیق کے اعتبار سے ان میں کوئی فرق نہیں ہے چونکہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تینوں کو صدیق فرمایا ہے لہذا لفظ کے اعتبار سے برابر ہیں ۔ لیکن پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے چاہا کہ ان کے درمیان معنی کے اعتبار سے فرق بیان کردیا جائے یعنی علی کے مستحق امامت ہونے کوامتیاز قرار دیا جائے لہذا فرمایا وہ ان دونوں سے افضل ہیں یعنی علی صدیق ہیں اور امام))(۱) ۔
ظاہرہے کہ اس مسئلہ سے متعلق بحث ، چند مسائل کو بیان کرنے پر موقوف ہے اور ان کو تدریجی و یکے بعد دیگر بیان کرنے کی ضرورت ہے لہٰذا ابتداء کلمہ ''صادق و کاذب ''سے آشنائی ضروری ہے تاکہ ''صدیقیت '' کے معنی کو درک کرسکیں اور یہ واضح ہوجائے کہ صدیقیت کہاں اور کس کے لیے مناسب ہے ۔
____________________
(۱) العمدہ ۲۲۳۔
سب سے پہلے اس نکتہ کی طرف توجہ دلانا ضروری ہے کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم زمانۂ جاہلیت ہی میں لقب ''صادق و امین'' سے ملقب تھے ، حضرت خدیجہ اور آپ کی دختر نیک اخترحضرت فاطمہ زہرا کو پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زبان مبارک سے صدیقہ کا لقب ملا ۔
صدیق حضرت امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب اور صدیقہ طاہرہ فاطمہ زہرا سے پاک وصادق اولادیں ہوئیںکہ جو مسلمانوں کے امام قرار پائے اور خداوندعالم نے آیت تطہیر(۱) میں ان کو پاک و منزہ قرار دیا۔
نیز خداوندعالم نے ان کی اطاعت کی طرف دعوت دی اور فرمایا( کونوا مع الصادقین ) (۲) ( سچو ںکے ساتھ ہوجاؤ)(۳) ۔
____________________
(۱) سورہ احزاب (۳۳) آیت ۳۳۔
(۲) سورہ توبہ (۹) آیت ۱۱۹۔
(۳) دیکھیے تفسیر قمی : ۱ ۳۰۷۔ تفسیر فرات کوفی ۱۳۷۔ ان دونوں تفاسیر میں وارد ہے کہ'' ای کونوا مع علی و اولادعلی'' علی اور اولاد علی کے ساتھ ہوجاؤ ، یہ معنی حضرت امام محمد باقر سے نقل ہوئے ہیں ، مندرجہ ذیل حوالے ملاحظہ فرمائیں :
الدرالمنثور :۳ ۲۹۰۔فتح القدیر:۲ ۳۹۵۔ شواہد التنزیل :۲۶۰۱، آیت ۵۵، حدیث۳۵۳۔ کفایت الطالب ۲۳۵ـ۲۳۶۔
اور حضرت امام جعفر صادق سے روایت ہے جیسا کہ شواہد التنزیل :۲۵۹۱، آیت ۵۵، حدیث۳۵۰۔اور غایت المرام ۲۴۸ میں ابو نعیم اصفہانی سے منقول ہے ۔اور اسی طرح عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے دیکھیے ذیل کے حوالہ جات: ۔۔۔۔۔اگلے صفحہ پر
اس طرح کے القاب میں تحریف اور اہل بیت علیہم السلام کی عظمت و منزلت کو گرانے و کم کرنے کی مسلسل ناکام کوششیں کی جاتی رہیں اور اب تک جاری ہیں ، لیکن ان سب کے باوجود تحریف کرنے والے ان کے مقام کو کم کرنے میں ناکام ہیں اور رہیں گے ۔
____________________
۔۔۔ پچھلے صفحہ کا ادامہ
مناقب امیر المؤمنین (خوارزمی ) ۱۹۸۔ شواہد التنزیل :۲۶۲۱، آیت ۵۵، حدیث۳۵۶۔ الدرالمنثور :۳ ۲۹۰۔فتح القدیر:۲ ۳۹۵۔
اور عبداللہ بن عمر سے روایت کی گئی ہے کہ جو شواہد التنزیل :۲۶۲۱، آیت ۵۵، حدیث۳۵۷۔ میں دیکھی جاسکتی ہے ۔
مقاتل بن سلیمان سے روایت ہے کہ جو شواہد التنزیل :۲۶۲۱، آیت ۵۵، حدیث۳۵۶۔میں مذکور ہے اور اس آیت کی تفسیر میں آیا ہے کہ صادقین سے مراد وہ لوگ ہیں کہ جن کا تذکرہ سورہ احزاب (۳۳) آیت ۲۳ میں آیا ہے ۔
(رجال صدقوا ماعاهدوا الله علیه فمنهم من قضی نحبه ومنهم من ینتظر )۔ وہ افراد کہ جنہوں نے اللہ سے عہد و پیمان کیا اور اس پر ثابت قدم رہے ان میں سے کچھ نے اس عہد کو انجام تک پہنچایا اور کچھ منتظر رہے ۔ ابو جعفر سے روایت ہے کہ (من قضی نحبہ) سے حمزہ اور جعفر مراد ہیں اور (من ینتظر ) سے مراد علی بن ابی طالب ہیں۔(سورہ احزاب (۳۳) آیت ۲۳)
اس لیے کہ یہ حضرات عظیم و باعظمت اصلاب و پاکیزہ ماؤں کے رحم میں رہے اور جاہلیت کی آلودگی ان سے دور ہے اور پلیدگی و تیرگی کا لباس انہوں نے جامہ تن نہیں کیا ۔(۱)
____________________
(۱) پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت نقل ہوئی ہے کہ آپ نے فرمایا : (انادعوة ابراھیم) میں اپنے پدربزرگوار ابراہیم کی دعا ہوں ۔ دیکھیے : مسند الشامیین :۲ ۲۴۱۔ تفسیر طبری :۱ ۷۷۳، حدیث ۱۷۰۷۔ الجامع الصغیر : ۱ ۴۱۴، حدیث ۷۰۳۔ شواہد التنزیل :۴۱۱۱،حدیث۴۳۵۔
اور آپ ہی سے روایت ہے کہ(نقلت من کرام الاصلاب الی مطهرات الارحام و خرجت من نکاح ولم اخرج من سفاح و ما مسنی عرق سفاح قط وما زلت انقل من الاصلاب السلیمة من الوصوم البریة من العیوب ) (شرح نہج البلاغہ(ابن ابی الحدید معتزلی):۱۱ ۱۰)
میں اصلاب کرام سے پاک و پاکیزہ ارحام کی طرف منتقل ہوا اور نکاح (حلال) زادہ ہوں نہ کہ زنا(حرام) زادہ، میری پشتوں میں بھی کبھی عرق زنا نے مجھے مس نہیں کیا اور میں ہمیشہ سے بے عیب و بے نقص اور پاک اصلاب سے پاک و پاکیزہ ارحام کی طرف منتقل ہوتا رہا ہوں ۔
احمد بن حنبل نے اپنی کتاب فضائل الصحابہ: ۲ ۶۶۲۔ میں پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا:( خلقت انا و علی بن ابی طالب من نور واحد قبل ان یخلق اللہ آدم فلما خلق اللہ آدم اسکن ذالک النور فی صلبہ الی ان افترقنا فی صلب عبد المطلب فجزء فی صلب عبداللہ و جزء فی صلب ابی طالب) میں اور علی ابن ابی طالب ایک ہی نور سے خلق ہوئے اس سے پہلے کہ خداوندعالم آدم کو خلق کرتا اور جب آدم کو خلق فرمایا تو اس نور کو صلب آدم میں قرار دیا یہاں تک کہ ہم صلب عبد المطلب میں جدا ہوئے کہ ایک جزء صلب عبداللہ میں قرار پایا اور ایک جز ء صلب ابی طالب میں منتقل ہوا۔
ان کے جدبزرگوار زمانہ جاہلیت میں ''صادق و امین''کے لقب سے معروف تھے اور اپنے عہد وپیمان میں وفادار ہونے کی وجہ سے عربوں کے درمیان مورد اعتماد و قابل احترام تھے ،عرب اپنے فیصلے کرانے آپ کی خدمت میں آتے چونکہ آپ حق کے علاوہ کسی کی طرف داری نہیں کرتے اور کسی کے حق سے انکار نہیں کرتے تھے ۔(۱)
بیس سال کی عمر میں (حلف الفضول) میں شرکت کی تاکہ ظالم کے مقابل میں مظلوم کی مدد کرسکیں(۲) ۔ اور اپنے عہد و پ یمان سے وفاداری کرسکیں ۔
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ، مکہ کے قب یلوں کے درمیان حجر اسود کو اس کی جگہ پر نصب کرنے کے لیے قاضی و داور قرارپائے ، جبکہ یہ وہ زمانہ تھا کہ قبائل عرب خانۂ کعبہ کی تجدید بناء کررہے تھے تو حجر اسود کو رکھنے میں آپس میں اختلاف ہوگیا ، ابو امیہ بن مغیرہ (والد ام سلمہ) نے مشورہ دیا کہ جو شخص بھی سب سے پہلے باب السلام سے اندر آئے اس کو قاضی و جج بنایا جائے تو اس وقت محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم بن عبد اللہ اس ی باب سے تشریف لے آئے جیسے ہی آپ کو آتے دیکھا سب کے سب کہنے لگے یہ امین ہیں ان کے فیصلے پر ہم راضی ہیں ۔
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے پورا واقعہ سنا اور پھر اپن ی عبا ء کو پھیلایا ـایک روایت میں ہے کہ ایک کپڑا منگایاـاور پھر حجر اسود کو اٹھایا آپ نے حجر اسود کو اس میں رکھا پھر فرمایا ہر ایک قبیلے والے اس کے ایک ایک گوشے کو پکڑ لیں ، انہوںنے ایسا ہی کیا اور اٹھایا ۔
____________________
(۱) السیرة الحلبیہ :۱ ۱۴۵۔
(۲) طبقات ابن سعد :۱ ۱۲۹۔ المنمق ۵۲ـ۵۴۔
جب اس کی جگہ کے قریب پہنچے تب آپ نے اپنے دست مبارک سے حجر اسود کو پکڑا اور اس کے مقام پر نصب فرمادیا ۔(۱)
اہل سنت والجماعت کی بعض کتب کی روایت کے مطابق پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنی دعوت اسلام کا آغاز کوہ صفا سے اس طرح کیا کہ فرمایا :
'' اے بنی فہر ، اے بنی عدی، اے فرزندان عبدالمطلب اور اسی طرح تمام قبائل کہ جو آپ سے قریب ترین تھے سب کو نام لے لے کر پکارا یہاں تک کہ سب آپ کے ارد گرد جمع ہوگئے اور جو نہیں آسکتا تھا اس نے اپنا نمائندہ بھیجا تاکہ معلوم ہو کہ آپ کیا چاہتے ہیں ۔
پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا : آپ حضرات کی نظر میں اگر میں یہ خبر دوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے دشمن کا لشکر ہے کہ جو آپ پر شبخون مارنے والا ہے تو کیا میری تصدیق کروگے ؟
سب نے ایک زبان ہوکر کہا : ہاں آپ ہمارے نزدیک سچے ہیں اور ہم نے آپ سے کبھی جھوٹ نہیں سنا۔
آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا : میں آپ کو عذاب شدید سے ڈرانے والا ہوں اے بنی عبد المطلب ، اے بنی عبد مناف ، اے بنی زہرہ ، اے بنی تیم ، اے بنی مخزوم و اسد اور تمام اہل مکہ کے قبیلوں میں سے ایک ایک کا نام لیا پھر فرمایا : خداوندعالم نے مجھے حکم دیا کہ آپ کو عذاب سے ڈراؤں میں آپ کی دنیا وآخرت کا مالک نہیں ہوں مگر یہ کہ کہیے'' لاالہ الا اللہ'' کوئی خدا نہیں سوائے اللہ کے ۔
____________________
(۱) السیرة النبویة (ابن ہشام) :۱ ۲۰۹۔ تاریخ طبری :۲ ۴۱۔ البدایة والنہایة : ۲ ۳۰۳۔ شرح نہج البلاغہ(ابن ابی الحدید معتزلی) : ۱۴ ۱۲۹۔
پس ابو لہب کھڑا ہوا ـ وہ بھاری بھر کم آدمی تھا اور بہت جلدی غصہ میں آجاتا تھا ـ اور چیخا : تجھ پر ہمیشہ پھٹکار ہو کیا اسی لیے لوگوں کو جمع کیا ہے اس کے بعد لوگ آپ کے چاروں طرف متفرق ہوگئے تاکہ آپ کے پیغام کے سلسلے میں فکر و مشورہ کریں''۔(۱)
جی ہاں ، قبائل عرب نے آپ کی تکذیب کی لیکن خود آپ کی وجہ سے نہیں بلکہ آپ کے نظریات و افکار اور پیغام کی وجہ سے کہ جو لوگوں کے لیے حیات بخش تھے وہ نظریات کہ جو اس سے پہلے ان کے سامنے بیان نہیں ہوئے تھے ، لہٰذا اس سلسلے میں آپ کا مقام دوسرے انبیاء و رسل کی طرح ہے کہ وہ بھی اپنی اپنی قوموں کے ذریعہ جھٹلائے گئے اور آپ کی قو م کی مثال بھی قوم نوح ، قوم عاد، قوم ثمود و لوط اور اصحاب رس کی طرح ہے جیسا کہ خداوندعالم کا ارشاد گرامی ہے:
( وان یکذبوک فقد کذبت قبلهم قوم نوح و عاد و ثمود و قوم ابراهیم و قوم لوط ) (۲) ۔پس اگر آپ ک ی تکذیب کریں تو آپ سے پہلے قوم نوح و عاد و ثمود اور قوم ابراہیم و قوم لوط اپنے اپنے پیغمبروں کی تکذیب کرچکے ہیں ۔
بہر حال آپ کی قوم نے کذب ذاتی اور خیانت و ظلم کی نسبت آپ کی طرف نہیں دی ہے بلکہ آپ پر جادو ٹونہ اور سحر کی تہمت لگائی ہے چونکہ وہ لوگ معجزہ کی حقیقت کو درک نہیں کرسکتے تھے اور پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو د یوانہ و مجنون کہتے تھے اس لیے کہ آپ پر وحی کے بارسنگین کو دیکھتے تھے جب کہ یہ انتہائی واضح ہے کہ عرب ،اسلام سے پہلے آپ کی امانت داری ، وفا اور سچائی کے معترف تھے ۔
____________________
(۱) دیکھیے ـ: صحیح بخاری : ۶ ۱۹۵، آیت (تبت یدا ابی لھب ) کی تفسیر میں ۔صحیح مسلم : ۱ ۱۳۴۔
(۲) سورہ حج (۲۲) آیت ۴۲و ۴۳۔
پس '' صادق و صدیق '' سب سے پہلے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا لقب ہے اور اسی طرح گذشتہ انبیاء کا جیسے ابراہیم ، ادریس ، اسماعیل ، موسی اور عیسی جیسا کہ خود آپ ہی کے بارے میں ارشاد رب العزت ہے :
( والذی جاء بالصدق و صدق به ) (۱) وہ کہ جو صدق کو لا یا اور اس کے ذریعہ تصدیق ہوئی ۔
حضرت ابراہیم کے متعلق ارشاد ہوا:
( واذکر فی الکتاب ابراهیم انه کان صدیقاً نبیاً ) (۲) اورکتاب (قرآن) م یں ابراہیم کو یاد کرو کہ وہ صدیق پیغمبر تھے۔
اور پھر حضرت ابراہیم ہی کے لیے ہے :
( و وهبنا له اسحاق و یعقوب و کلا جعلناه نبیاً ـ و وهبنا لهم من رحمتنا و جعلنالهم لسان صدق علیا ) (۳) ۔
اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق ویعقوب عطا کیے اور ہر ایک کو نبی بنایا اور ان کو اپنی رحمتوں میں سے کچھ عطا کیا اور ان کے لیے سچی زبان ، علی و بلند قرار دی ۔
____________________
(۱) سورہ زمر(۳۹) آیت ۳۳۔
(۲) سورہ مریم(۱۹) آیت ۴۱۔
(۳) سورہ مریم(۱۹) آیت ۴۹ـ۵۰۔
حضرت ادریس کے لیے ارشاد خداوندی ہے :
( اذکر فی الکتاب ادریس انه کان صدیقاً نبیاً ) (۱) ۔
اورکتاب (قرآن) میں ادریس کو یادکرو کہ وہ صدیق پیغمبر تھے۔
اور حضرت اسماعیل کے لیے ارشاد ہوا :
( اذکر فی الکتاب اسماعیل انه کان صادق الوعد و کان رسولاً نبیاً ) (۲) ۔
اورکتاب (قرآن) میں اسماعیل کو یادکرو کہ وہ صادق الوعدتھے اور پیغمبر نبی تھے ۔
حضرت موسی کے بارے میں ارشاد ہے:
( اذکر فی الکتاب موسی انه کان مخلصاًو کان رسولاً نبیاً ) (۳) ۔
اورکتاب (قرآن) میں موسی کو یادکرو کہ وہ مخلص اور پیغمبر نبی تھے ۔
بہر حال '' صدیقیت '' پیغمبروں اور نبیوں کی صفت ہے اور ممتاز علامت ہے ، مذکورہ آیات کے اعتبار سے یہ پہلے تو انبیاء اور پیغمبروں کی صفت ہے اور پھر اوصیاء و نیک وباایمان بندوں کی چونکہ خداوندعالم کا ارشاد گرامی ہے :
( والذین آمنوا بالله و رسوله اولائک هم الصدیقون ) (۴)
____________________
(۱) سورہ مریم(۱۹) آیت ۵۶۔
(۲) سورہ مریم(۱۹) آیت ۵۴۔
(۳) سورہ مریم(۱۹) آیت ۵۱۔
(۴) سورہ حدید (۵۷) آیت ۱۹۔
وہ لوگ کہ جو خدا اور پیغمبروں پر ایمان لائے وہی لوگ صدیقین ہیں اس آیت میں ''تخصص بعد از ایمان '' پایا جاتا ہے یعنی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو لوگ اپنے ایمان میں یقین نہیں رکھتے یا جھوٹے ہیں وہ ہر گز صدیق نہیں کہلاسکتے بلکہ اس آیت سے مراد صرف اہل بیت علیہم السلام ہیں چونکہ اصل میں وہی صادق و صدیق ہیں کہ جس کی تفصیل آئندہ آئے گی انشاء اللہ ۔
اس آیت( ومن یطع الله و الرسول فاولئک مع الذین انعم الله علیهم من النبیین و الصدیقین والشهداء والصالحین و حسن اولائک رفیقاً ) (۱) کے ذ یل میں ابن شہر آشوب نے مناقب آل ابی طالب میں ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا'' من النبیین'' یعنی محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ''والصد یقین ''یعنی علی (کہ جو پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سب سے پہلے تصدیق کرنے والے ہیں ) '' والشھداء '' یعنی علی و جعفر و حمزہ اور حسن و حسین ہیں اور پھر کہا تمام پیغمبر صدیق ہیں لیکن ہر صدیق پیغمبر نہیں ہے اور تمام صدیق ، نیک و صالح ہیں لیکن ہر نیک و صالح ، صدیق نہیں ہے اور ہر صدیق شہید بھی نہیں ۔
امیر المؤمنین علی علیہ السلام صدیق و شہید اور صالح تھے لہٰذا وہ نبوت کے علاوہ صالحین و صدیقین کی تمام صفات کے حامل تھے ۔
ابو ذر لوگوں سے کچھ بیان کررہے تھے کہ لوگوں نے ان کی تکذیب کی تب پیغمبر اکرم نے فرمایا : (ما اظلت الخضراء (علی ذی لهجة اصدق من ابی ذر ))
____________________
(۱) سورہ نساء (۴) آیت ۶۹۔ (وہ افراد کہ جو خدا اور رسول کی اطاعت کرتے ہیں وہی ان کے ساتھ ہیں کہ جن پر اللہ کی نعمتیں نازل ہوئی ہیں انبیاء و صدیقین ، شہداء و صالحین میں سے اور وہی بہترین دوست ہیں )۔
آسمان نے ابوذر سے زیادہ سچے انسان پر سایہ نہیں کیا ہے، اسی دوران حضرت امیرالمؤمنین تشریف لے آئے تو پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:
''الاان ه ذا الرجل المقبل فان ه الصد یق الاکبر و الفاروق الاعظم''
آگاہ ہوجاؤ کہ آنے والا شخص صدیق اکبر اور فاروق اعظم ہے''۔(۱)
اس اعتبار سے کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سچے اور ام ین ہیں یعنی وہ ایسی ہستی ہیں کہ جن کے بارے میں ارشاد ہے :( وماینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی)(۲) پ یغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ، اپنی مرضی اور خواہشات نفس سے کچھ نہیں کہتے وہی کہتے ہیں کہ جو ان پر وحی نازل ہوتی ہے ۔
لہذا آپ جو کچھ بھی کسی کے بھی بارے میں ارشاد فرمائیں یا کسی کو کوئی لقب عنایت کریں ، رشتہ داری یا اپنائیت کی وجہ سے نہیں بلکہ وہ ان صفات کا حامل اور صاحب لیاقت ہے ۔
یہ بھی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اسلام دو چیزوں سے پھیلا ہے ۔
۱ـ حضرت خد یجہ کا مال ۔
۲ـ حضرت ام یر المؤمنین علی علیہ السلام کی تلوار۔
جبکہ یہ بھی واضح ہے کہ یہ دونوں پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم پر سب سے پہلے ایمان لاے ہیں اور آپ کی رسالت کی تصدیق کرنے والے ہیں اور اپنی گرانبہا و قیمتی چیزوں کو اسلام اور پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دعوت کو پہنچانے اور پھیلانے میں نثار کردیا ہے ۔
____________________
(۱) مناقب ابن شہر آشوب :۳ ۸۹ـ۹۰۔
(۲) سورہ نجم(۵۳) آیت ۳ـ۴۔
لہذا دیکھتے ہیں کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جناب خدیجہ کو صدیقہ کا لقب عطا کیا اور حضرت علی کو صدیق کالقب عنایت فرمایا ۔ چونکہ یہ دونوں ہر مقام اور ہر گام پر اور ہر پیغام و کلام میں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تصدیق فرماتے تھے اس کا مطلب یہ ہے کہ مصداق صدیقیت ، لوگوں کے ذاتی کمالات اور سیر ت کو دیکھ کر پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی جانب سے مشخص ہوتے ہیں اور یہ ان الفاظ کا اطلاق و استعمال بغیر کسی قابلیت و صلاحیت کے ، بلا وجہ کسی بھی شخص کے لیے ممکن نہیں ہے ، یہ کمترین چیز ہے کہ جو عرض کی جاسکتی ہے ۔
تاریخ دمشق میں ضحاک و مجاہد کے حوالے سے ابن عمر کی روایت نقل کی گئی ہے '' ایک مرتبہ جبرئیل پیغام الٰہی لے کر پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم پر نازل ہوئے اور آپ کے قریب آکر بیٹھ گئے اور محو گفتگو ہوگئے کہ اتنے میں خدیجہ بنت خویلد کا وہاں سے گذرہوا ، جبرئیل نے سوال کیا اے محمد یہ کون ہیں ؟
پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا یہ میری امت کی صدیقہ ہیں''هذه صدیقة امتی''
جبرئیل نے کہا : میرے پاس ان کے لیے خداوند عالم کی جانب سے ایک پیغام ہے کہ خداوندعالم ان کو سلام پیش کرتا ہے اور بشارت دیتا ہے کہ جنت میں ان کا گھر قصب(مروارید) کا ہے کہ جو پیاس اور آگ سے بہت دور ہے ، نہ اس میں کوئی رنج و غم ہے اور نہ کسی طرح کا شور شرابا۔
جناب خدیجہ نے فرمایا :الله السلام و منه السلام والسلام علیکما ورحمة الله و برکاته علی رسول الله ۔
خداوندعالم سلام ہے اور سلامتی اسی کی جانب سے ہے آپ دونوں پر سلام ہو اور رحمت خدا اور اس کی برکتیں رسول خدا پر نازل ہوں یہ گھر کہ جو قصب کا ہے کیا ہے؟
پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا : مروارید کا بہت بڑا قصر و قلعہ مریم بنت عمران اور آسیہ بنت مزاحم کے قلعوں کے درمیان اور یہ دونوں بہشت میں میری بیویاں ہونگی۔(۱)
خداوندعالم کی جانب سے جناب خدیجہ کے لیے سلام آنا یہ آپ کا دوسری بیویوں پر فوقیت و برتری کی نشانی ہے چونکہ سلام الہٰی صرف معصوم کے لیے یا پھر اس شخص کے لیے آتا ہے کہ جو عصمت کے مرتبے میں ہو جیسے سلمان ، ابوذر اور عمار و غیرہ۔
____________________
(۱) تاریخ دمشق : ۷ ۱۱۸۔ اوراسی سے نقل ہے البدایة والنھایة :۲ ۶۲ میں ۔
یہ روایت شیعہ و سنی دونوں کتابوں میں مختلف و متعدد اسنا دکے ساتھ ذکر ہوئی ہے ، بخاری نے اپنی صحیح :۴ ۲۳۱،کتاب بدء الخلق ،باب تزویح النبی خدیجہ میں مختصر اشارے کے ساتھ ابو ہریرہ سے نقل کی ہے ۔
سیرہ ا بن ہشام : ۱۵۹۱ میں عبد اللہ بن جعفر بن ابی طالب سے نقل ہوئی ہے اور اس میں یہ آیا ہے'' الله السلام و منه السلام وجبرئیل السلام'' ۔
دولابی نے اپنی کتاب الذریة الطاہرہ ۳۶ میں ذکر کیا ہے ۔ اور حاکم نے مستدرک :۳ ۱۸۶ میں انس سے روایت نقل کی ہے اوراس میں ہے کہ ان اللہ ھو السلام و علیک السلام ورحمة اللہ و برکاتہ ۔ اور کہا ہے کہ یہ روایت ، مسلم کی شرائط کے اعتبار سے صحیح ہے لیکن بخاری و مسلم نے اس کو ذکر نہیں کیا ۔
معجم الکبیر : ۲۳ ۱۵ میں اور سنن الکبری (نسائی ) : ۵ ۹۴ ،حدیث ۸۳۵۹میں اور اسی سے نقل ہے اصابہ : ۸ ۲۰۲ میں اس میں بھی راوی انس ہی ہیں اور اس میں مذکور ہے ''ان الله هو السلام و علی جبرئیل السلام وعلیک السلام ۔ اور تفسیر عیاشی : ۲ ۲۷۹،حدیث ۱۲ میں ۔ اور اسی سے نقل ہے بحار الانوار :۱۶ ۷ میں کہ یہ روایت ابو سعید خدری سے ہے ۔
ہاں ، اہل سنت نے سلام الہٰی کو دوسروں کے لیے بھی نقل کیا ہے جبکہ تحقیق اور ان کی سیرت کا مطالعہ کرنے سے ان روایات کا جعلی و من گھڑت ہونا ثابت ہے ۔
عسقلانی ، فتح الباری میں اس حصے کی شرح کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جناب خدیجہ نے فرمایا : ھو السلام و عن جبرئیل السلام وعلیک السلام (خداوندعالم سلام ہے اور جبرئیل سے سلام ہے اور آپ پر اے رسول خدا سلام ہے )۔
علماء کا بیان ہے کہ یہ واقعہ جناب خدیجہ کی بلندی مقام پر دلیل ہے چونکہ آپ نے ''وعلیہ السلام'' نہیں کہا جیسا کہ بعض صحابہ کے متعلق یہ نقل کیا گیا ہے ۔ جناب خدیجہ نے اپنی فکر سے یہ سمجھ لیا کہ خداوندعالم کو عام مخلوق کی طرح جواب سلام نہیں دیا جاتا(۱) ۔
ڈاکٹر سلیمان بن سالم بن رجاء سیحمی (اسلامی یونیورسٹی مدینہ میں علمی گروپ کے ممبر)جناب خدیجہ کے لیے خدا کی جانب سے سلام کو نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کلام میں جناب خدیجہ کی دو عظیم منقبتیں پائی جاتی ہیں ۔
۱ـ خداوندعالم ک ی جانب سے جبرئیل کے ذریعہ آپ کے لیے سلام آنا اور پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا آپ تک سلام پہچانا یہ ایسی خصوصیت ہے کہ کسی دوسری خاتون کو نصیب نہیں ہوئی ۔
۲ـ جنت م یں مروارید کے گھر کی بشارت کہ جس میں نہ شورشرابا ہے اور نہ رنج وغم ۔
____________________
(۱) فتح الباری : ۷ ۱۰۵۔
سہیلی کا بیان ہے کہ'' بیت '' کے ذکر میں ایک لطیف معنی کی طرف اشارہ ہے چونکہ جناب خدیجہ بعثت سے پہلے صاحب خانہ تھیں اور آپ کا ہی گھر اسلام کا واحد گھر قرار پایا، جس روز سے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم مبعوث ہوئے تو صرف آپ ہی کا بیت الشرف اسلام کا تنہا گھر تھا اور یہ ایک ایسی فضیلت ہے کہ کوئی دوسرا اس میں شریک نہیں ہے ۔
اور پھر کہتا ہے کہ کسی بھی کام اور کار خیر کا بدلہ و جزاء غالباً اسی لفظ کے ساتھ بیان ہوتاہے چاہے وہ جزاء کتنی بھی بلند و بالا ہی کیوں نہ ہو اسی وجہ سے حدیث میں قصر نہیں بیت آیا ہے۔(۱)
حافظ ابن حجر کا کہنا ہے کہ لفظ بیت میں ایک خاص معنی پوشیدہ ہے چونکہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اہل ب یت کی مرکزحضرت خدیجہ ہیں اس لیے کہ اس آیت( انمایرید الله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت و یطهر کم تطهیرا ) (۲)
اے اہل بیت بس اللہ کا ارادہ یہ ہے آپ کو ہر طرح کے رجس سے پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک رکھنے کا حق ہے ) )کی تفسیر میں جناب ام سلمہ کا بیان ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فاطمہ ، علی وحسن اور حسین کو بلایا اور اپنی عبا ء ان پر ڈالی اور فرمایا : پروردگارا یہ میرے اہل بیت ہیں (اس روایت کو ترمذی اور دوسروں نے بھی نقل کیا ہے)۔(۳)
____________________
(۱) الروض الانف :۱ ۴۱۶۔
(۲) سورہ احزاب (۳۳) آیت ۳۳۔
(۳) فتح الباری :۷ ۱۳۸۔
ان افراد یعنی اہل بیت کا مرکز جناب خدیجہ ہیں چونکہ امام حسن و امام حسین حضرت فاطمہ کے فرزند ہیں اور حضرت فاطمہ جناب خدیجہ کی بیٹی ہیں اور حضرت علی بچپن ہی سے جناب خدیجہ کے گھر آگئے تھے وہیں تربیت پائی اور پھر آپ کی بیٹی جناب فاطمہ سے شادی ہوئی لہذا اہل بیت کی مرکزیت جناب خدیجہ کے علاوہ کوئی اور نہیں ہے ۔(ڈاکٹر سلیمان )(۱)
حاکم نیشاپوری نے اپنی اسناد کے ساتھ انس سے روایت نقل کی ہے کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا : آپ کے لیے دنیا کی چار عورتوں کی معرفت کافی ہے مریم بنت عمران ، آسیہ بنت مزاحم، خدیجہ بنت خویلد اور فاطمہ بنت محمد ۔(۲)
سنن ترمذی میں عبداللہ بن جعفر سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں نے علی بن ابی طالب سے سنا وہ فرماتے تھے کہ میں نے رسول خدا سے سنا آپ نے فرمایا: اس زمانے میں دنیا کی بہترین عورت خدیجہ بنت خویلد ہیں اور اس زمانے میں مریم بنت عمران بہترین عورت تھیں ۔(۳)
____________________
(۱) العقیدہ فی اہل البیت بین الافراط و التفریط:۱ ۱۰۳ـ۱۰۸۔
(۲) مستدرک حاکم : ۳ ۱۵۷۔ اور ترمذی نے اس روایت کو جلد: ۵ ۳۶۷ ، حدیث۳۹۸۱، ابواب مناقب میں نقل کیا ہے ۔ مسند احمد بن حنبل : ۳ ۱۳۵۔ اخبار اصبہان:۲ ۱۱۷۔
(۳) سنن ترمذی : ۵ ۳۶۷،حدیث ۳۹۸۰،فضل خدیجہ۔ مسند احمد بن حنبل : ۱ ۱۱۶۔ صحیح بخاری : ۴ ۱۳۸، (تھوڑے اختلاف کے ساتھ مذکور ہے )
جناب خدیجہ ، پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لیے بہترین وزیر تھیں(۱) اور آپ کو زمانۂ جاہلیت میں ''طاہرہ'' کہا جاتا تھا۔(۲)
فضائل الصحابہ احمد ابن حنبل میں(۳) تار یخ دمشق(۴) اور دوسرے منابع اور مآخذ(۵) م یں عبدالرحمن بن ابی لیلی کی سند سے کہ اس نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرما یا: صدیقین (بہت زیادہ سچے) تین شخص ہیں حبیب بن موسی نجار مؤمن آل یاسین وہ کہ جس نے کہا( یا قوم اتبعواالمرسلین ) (۶) اے م یری قوم والو پیغمبروں کی اطاعت کرو ۔
____________________
(۱) البدایة و النھایة :۳ ۱۵۷۔ فتح الباری : ۷ ۱۴۸۔ الذریة الطاہرہ (دولابی) ۴۰۔ اسد الغابہ : ۵ ۴۳۹۔
(۲) مجمع الزوائد : ۹۷ ۲۱۸۔ فتح الباری :۷ ۱۰۰۔المعجم الکبیر :۲۲ ۴۴۸۔ اسد الغابہ :۵ ۴۳۴۔ تاریخ دمشق :۳ ۱۳۱۔ البدایة و النھایة :۳۲۹۳۔سیرة النبویة (ابن کثیر) : ۴ ۶۰۸۔
(۳) فضائل الصحابہ : ۲ ۶۵۵و ۲۶۷۔
(۴) تاریخ دمشق : ۴۲ ۴۳و ۳۱۳۔
(۵) الفردوس بماثور الخطاب :۲ ۴۲۱۔ فیض القدیر : ۴ ۱۳۸۔ کنز العمال : ۱۱ ۶۰۱۔ شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) :۹ ۱۷۲۔مناقب ابن شہر آشوب :۲ ۲۸۶۔ الجامع الصغیر:۱۱۵۲۔ الدر المنثور : ۵ ۲۶۲۔ ان تمام کتابوں میں صرف قرطبی تنہا ہے کہ جس نے اپنی تفسیر :۱۵ ۳۰۶ میں تمام محدثین و مفسرین کے خلاف نقل کیا ہے کہ تیسرا شخص ابوبکر ہے نہ کہ علی ۔
(۶) سورہ یاسین(۳۶) آیت ۲۰۔
حزقیل مؤمن آل فرعون وہ کہ جس نے کہا (أ تقتلون رجلا )(۱) کیا ایسے شخص کو قتل کروگےاور علی بن ابی طالب ان میں تیسرے شخص ہیں کہ جو ان سب سے افضل ہیں ۔
سنن ابن ماجہ میں اپنی اسناد کے ساتھ عباد بن عبداللہ سے روایت نقل ہوئی کہ امیر المؤمنین نے فرمایا:''انا عبد الله و اخو رسوله و انا الصدیق الاکبر لا یقولها بعدی الا کذاب صلیت قبل الناس سبع سنین'' میں اللہ کا بندہ ہوں ، اس کے رسول کا بھائی ہوں، میں صدیق اکبر ہوں میرے بعد صدیق ہونے کا دعوی جو بھی کرے وہ کذاب ہے میں نے لوگوں سے سات سال پہلے رسول خدا کے ساتھ نماز پڑھی ۔
مجمع الزوائد میں ہے کہ اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں اور اس کے رجال ثقہ ہیں اس روایت کو حاکم نے مستدرک میں منہال سے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث شیخین (بخاری و مسلم) کی شرائط کے اعتبار سے صحیح ہے ۔(۲)
____________________
(۱) سورہ مؤمن (۴۰) آیت ۲۸۔
(۲) سنن ابن ماجہ :۱ ۴۴۔ مصباح الزجاجہ: ۱ ۲۲۔ السیرة النبویة (ابن کثیر ) :۱ ۴۳۱۔ مستدرک حاکم : ۳ ۱۱۱۔مصنف ابن ابی شیبہ:۷ ۴۹۸۔ الاحاد و المثانی (ضحاک) : ۱ ۱۴۸۔ السنة (ابن ابی عاصم) ۵۴۸۔ السنن الکبری (نسائی ) : ۵ ۱۰۶۔ خصائص امیر المؤمنین (نسائی) ۴۶۔ تاریخ طبری:۲ ۵۶۔ تہذیب الکمال : ۲۲ ۵۱۴۔ شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) : ۱۳ ۲۰۰۔ اس میں مذکور ہے کہ امیر المؤمنین نے فرمایا :انا الصدیق الاکبر وانا الفاروق الاول اسلمت قبل اسلام ابی بکر و صلیت قبل صلاته بسبع سنین ۔میں صدیق اکبر اور فاروق اول ہوں ، ابوبکر سے پہلے اسلام لایا اور اس سے سات سال پہلے نماز پڑھی ۔
معاذ ہ عدویہ سے روایت ہے کہ اس نے کہا کہ میں نے علی کو خطبہ دیتے ہوئے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا : میںصدیق اکبرہوں ، ابو بکر کے ایمان لانے سے پہلے ایمان لایا اور اس کے اسلام قبول کرنے سے پہلے اسلام قبول کیا ۔(۱)
ابن حجر نے کتاب اصابہ میں اورابن اثیر نے اسد الغابہ میں ابی لیلی غفاری سے روایت نقل کی ہے کہ اس نے کہا کہ میں نے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ :سیکون من بعدی فتنة فاذا کان ذالک فالتزموا علی بن ابی طالب فانه اول من آمن بی و اول من یصافحنی یوم القیامة وهو الصدیق الاکبر و هو فاروق هذه الامة و هو یعسوب المؤمنین ۔(۲)
میرے بعد ایک فتنہ برپا ہوگا اس وقت علی سے جدا نہ ہونا چونکہ علی وہ پہلے فرد ہیں کہ جو مجھ پرسب سے پہلے ایمان لائے اور روز قیامت مجھ سے سب سے پہلے مصافحہ کریں گے ، وہ صدیق اکبر ہیں اور اس امت میں فاروق و مؤمنوں کے بادشاہ ہیں ۔
تاریخ دمشق میں اپنی اسناد کے ساتھ ابن عباس سے روایت نقل ہوئی ہے کہ آپ نے کہا:
____________________
(۱) الاحاد والمثانی (ضحاک ) :۱ ۱۵۱۔ التاریخ الکبیر(بخاری) :۴ ۲۳۔ تاریخ دمشق :۴۲ ۳۳۔ المعارف (ابن قتیبہ ) ۷۳۔ انساب الاشراف ۱۴۶،شمارہ ۱۴۶۔ مناقب ابن شہر آشوب : ۱ ۲۸۱۔ شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید ) :۱۳ ۲۴۰۔ کنزالعمال : ۱۳ ۱۶۴، حدیث ۳۶۴۹۷۔ سمط النجوم العوالی :۲ ۴۷۶،حدیث ۸۔ اور کتب دیگر ۔
(۲) الاصابہ : ۷ ۲۹۳۔ اسد الغابہ : ۵ ۲۸۷۔ اور اسی کی طرح ابن عباس سے بھی نقل ہوا ہے دیکھیے :ـ الیقین (ابن طاؤس) :۱ ۵۰۰۔
'' ستکون فتنة فمن ادرکها منکم فعلیه بخصلتین : کتاب الله و علی بن ابی طالب فانی سمعت رسول الله یقول: ـ وهو آخذ بید علی ـ هذ ا اول من آمن بی و اول من یصافحنی و هو فاروق هذه الامة یفرق بین الحق والباطل و یعسوب المؤمنین و المال یعسوب الظلمة (۱) وهو الصدیق الاکبر وهو بابی الذین اوتی منه ، وهو خلیفتی من بعدی'' ۔(۲)
____________________
(۱) یہ جملہ شیعہ اور اہل تسنن کی تمام حدیث کی معتبر کتابوں میں مذکورہے اگر چہ اہل تسنن نے اس کو جعلی فرض کیا ہے اور اس کی جگہ پر''المال یعسوب الفجار '' اور''المال یعسوب المنافقین '' بھی بعض کتب اہل تسنن میں رکھ کر کچھ چالاکی دکھانے کی کوشش کی گئی ہے ۔
یہ کلام ، امیرالمؤمنین کے بارے میں پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے مروی ہے اور خود آپ بھی کہ جب بصرہ کے بیت المال میں تشریف لائے اور اس میں درھم و دینار پر نظر پڑی تب فرمایا اور اس کے علاوہ دوسرے مقام پر بھی یہ کلمات زبان پر لائے ۔
اس کلام کا مقصد یہ ہے کہ مؤمنین کے دل آپ کے شیدا اور عاشق ہیں اور آپ ہی کو اپنا مولا و امیر مانتے ہیں اور آپ ہی سے متمسک ہیں ۔لیکن ظالم ، فاسق و منافق اور انہیں کے طرف دار و ماننے والے اور تمام وہ افراد کہ جو حق و عدل کو برداشت نہیں کرسکتے ،دنیا پرست ہیں مال کے دلدادہ ہیں اور دنیاوی ساز وسامان پر مرتے ہیں ، مال اور دنیا ان کے دلوں پر حکومت کیے ہوئے ہیں ، اور ان کو حاصل کرنے کے لیے ہر کام کرگذر تے ہیں اور ہر برے فعل کے مرتکب ہوجاتے ہیں اور گندگی میں گرجاتے ہیں دنیا کو اختیار کرنے کی خاطر جو کام بھی ہو چاہے کتنا ہی برا کیوں نہ ہو ، کتنا ہی خلاف شرع و شریعت کیوں نہ ہو، چاہے دین ہی سے ہاتھ دھونا پڑے یا دوسروں کی حق تلفی ہو، انجام دے دیتے ہیں ۔ ۔۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر ۔۔۔
عنقریب فتنہ برپا ہوگا جو بھی اس وقت موجود ہو اس کو چاہیے کہ دو خصلتوں کو مضبوطی کے ساتھ اپنالے ، ایک کتاب خدا اور دوسرے علی بن ابی طالب چونکہ میں نے رسول خدا کو فرماتے سنا ہے کہ جبکہ آپ نے علی کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا اور فرمارہے تھے کہ یہ پہلا شخص ہے کہ جو مجھ پر ایمان لایا اور سب سے پہلے روز قیامت مجھ سے مصافحہ کرے گا ،یہ اس امت کا فاروق ہے کہ جو حق کو باطل سے جدا کرنے والا ہے ، یہ مؤمنین کا حاکم ہے اور مال ظالموں پر حاکم ہے ، یہ صدیق اکبر ہے ، مجھ تک پہنچنے کا دروازہ ہے اور میرے بعد میرا خلیفہ ہے ۔
ابی سخیلہ کا بیان ہے کہ میں نے اور سلمان فارسی نے حج انجام دیا اور اس کے بعد ابوذر کے پاس پہنچے ، خدا کی مصلحت، ایک مدت تک ان کے مہمان رہے اور جب ہمارے چلنے کا وقت ہوا میں نے ابوذر سے سوال کیا:
____________________
۔۔۔ پچھلے صفحہ کا بقیہ۔
اس طرح کے لوگوں کی رہبری ، ظلمہ یعنی وہ لوگ کہ جن کے اندر ونی حالات بہت گندیدہ ہیں، کرتے ہیں ، ظاہر ہے کہ وہ لوگ اپنے اوپر اور دین و سماج پر ظلم کرتے ہیں،مال بہت سے فتنوں اور حوادث کے وجود کا سبب بنتا ہے کہ جوانتہائی دردناک و غم انگیز ہوتے ہیں ،وہ لوگ مال کے پیرو کار ہیں اور مال کو جہاں بھی جس کے ہاتھ میں بھی دیکھتے ہیں اس کی اطاعت شروع کردیتے ہیں اسی کی راہ کو اپنا لیتے ہیں اور کسی دوسری چیز کو نہیں سوچتے یا دوسری تمام چیزوںکو بھول جاتے ہیں ۔
(۲) تاریخ دمشق: ۴۲ ۴۲ـ۴۳۔ اور اسی طرح کاکلام ابوذر سے بھی نقل ہوا ہے ۔
دیکھیے:ـ تاریخ دمشق :۴۲ ۴۱۔
اے ابوذر کچھ حادثات واقع ہوئے ہیں مجھے ڈر ہے کہ کہیں لوگوں میں اختلاف نہ ہو جائے ، اگر ایسا ہو تو ہمارے لیے آپ کا کیا حکم ہے تو ابوذر نے کہا خداوندعالم کی کتاب اور علی بن ابی طالب کا دامن پکڑلو اور گواہ رہنا میں نے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا : علی سب سے پہلے مجھ پر ایمان لائے اور روز قیامت سب سے پہلے مجھ سے مصافحہ کریں گے وہ صدیق اکبر ہیں اور وہ فاروق ہیں کہ جوحق و باطل کے درمیان جدائی کرتے ہیں ۔(۱)
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے مرو ی ہے کہ آپ نے جناب امیر سے فرمایا :اوتیت ثلاثاً لم یوتهن احد ولا انا اوتیت صهراً مثلی ، ولم اوت انا مثلی ،(۲) و اوتیت زوجة صدیقة مثل ابنتی و لم اوت مثلها زوجة و اوتیت الحسن و الحسین من صلبک و لم اوت من صلبی مثلها و لکنکم منی وانامنکم'' (۳) آپ کو ت ین ایسی چیزیں ملی ہیں جو کسی دوسرے کو نصیب نہیں ہوئیں حتی مجھے بھی نہیں ملیں ،خسر میری طرح، جبکہ مجھے بھی اپنی طرح خسر نہیں ملا ، صدیقہ بیوی ، میری بیٹی کی طرح جب کہ مجھے اس طرح کی کوئی بیوی نہ مل سکی اور آپ کی صلب سے حسن و حسین جیسے بیٹے عطا ہوئے، جب کہ مجھے ان کی طرح بیٹے نہ مل سکے ،لیکن آپ سب مجھ سے ہو اور میں آپ سے ہوں ۔
____________________
(۱) تاریخ دمشق : ۴۱ ۴۲۔ المعجم الکبیر : ۶ ۲۶۹۔ مجمع الزوائد (ہیثمی ) : ۹ ۱۰۲۔
(۲) درالغدیر :۲ ۴۴۰(چاپ اول تحقیق شدہ مرکز الغدیر ۱۴۱۶ھ) اس میں نیچے کے حاشیہ میں مذکورہے کہ الریاض النضرہ : ۳ ۵۲ میں بجائے مثلی ، مثلک آیا ہے۔
(۳) الریاض النضرہ :۲ ۲۰۲۔ اسی طرح الغدیر :۲ ۳۱۲ میں مذکورہے۔
اس حدیث سے واضح ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا صدیقہ ہیں چونکہ اس سے قبل بیان ہوچکا ہے کہ خدیجہ ، پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی نص کے مطابق صدیقہ ہیں بلکہ جبکہ اس حدیث میں حضرت فاطمہ زہرا کا مقام والا بیان ہوا ہے کہ جو اس مطلب پر دلیل ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا جناب خدیجہ سے افضل ہیں ، حضرت کا یہ فرمان کہ ولم اوت مثلھا زوجة مجھ کو فاطمہ کی طرح بیوی نہیں ملی۔
اس پوری گفتگو سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ صدیقہ کا صرف ایک مرتبہ نہیں بلکہ چند مراتب ہیں جیسے کہ جناب خدیجہ صدیقہ ہیں ان کا مرتبہ الگ ہے اور حضرت فاطمہ زہرا صدیقہ ہیں جبکہ ان کا مرتبہ بہت بلند ہے ۔
ایک طولانی حدیث میں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ارشاد فرما یا :'' یا علی انی قد اوصیت فاطمة ابنتی باشیاء و امرتها ان تلقیها الیک فانفذ ها فهی الصادقة الصدیقة ثم ضمها الیه و قبل رأسها و قال فداک ابوک یا فاطمة ۔(۱)
اے علی میں نے اپنی بیٹی فاطمہ کو چند چیزوں کی وصیت کی اور ان کو حکم دیا کہ وہ آپ کو بتائیں پس ان کو انجام دینا چونکہ وہ صادقہ (سچی)اور صدیقہ(بہت زیادہ سچی) ہیں پھر پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت فاطمہ کو اپنے سینے سے لگایا اور آپ کے سر کا بوسہ لیا اور فرمایا اے فاطمہ آپ کا باپ آپ پر فدا و قربان ہو۔
مفضل بن عمر سے روایت ہے کہ اس نے کہا میں نے حضرت امام جعفر صادق سے عرض کی کہ حضرت فاطمہ کو کس نے غسل دیا؟ آپ نے فرمایا: امیرالمومنین نے۔
____________________
(۱) کتاب الوصیة (عیسی بن مستفاد) ۱۲۰۔ بحار الانوار : ۲ ۴۹۱۔
یہ کلام مجھ پر گراں گذرا آپ نے فرمایا : میں نے جو کچھ تم کو خبر دی ہے یہ تم پر گراں گذری ہے ! میںنے عرض کی جی ایسا ہی ہے میں آپ پر قربان ہوجاں، تب مولا نے فرمایا:لا تضیقن فانها صدیقة لم یکن یغسلها الا الصدیق اماعلمت ان مریم لم یغسلها الا عیسی (۱) ۔
اپنے اوپر احساس نہ لیں ، فاطمہ صدیقہ ہیں اور ان کو صدیق کے علاوہ کوئی غیر غسل نہیں دے سکتا تھا ، کیا آپ کو نہیں معلوم کہ جناب مریم کو حضرت عیسی کے علاوہ کسی نے غسل نہیں دیا ۔
جناب علی بن جعفر اپنے بھائی امام موسی کاظم سے روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : ان فاطمة صدیقة شھیدة(۲) ب یشک فاطمہ صدیقہ شہیدہ ہیں ۔
پس صدیقہ کبری جناب خدیجہ ، صادق امین محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم بن عبداللہ سے صد یقہ طاہرہ فاطمہ زہرا دنیا میں آئیں اور آپ کی شادی صدیق اکبر علی بن ابی طالب کے ساتھ ہوئی اور دونوں ، انوار کا مرکز اور دو دریا کے ملاپ یعنی مجمع البحرین ہوگئے ۔
اس سے پہلے حضرت امیرالمؤمنین علی اور جناب خدیجہ کبری نے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تصدیق فرمائی اس زمانے میں کہ لوگ آپ کو جھٹلارہے تھے ۔ اور پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بارہا عایشہ کو کہ جب وہ جناب خدیجہ سے رشک و حسد کرتیں تو اس بات کی تاکید فرمائی ۔
____________________
(۱) اصول کافی :۱ ۴۵۹، حدیث ۲۴ و ج: ۳ ۱۵۹،حدیث ۱۳۔علل الشرائع ۱۸۴، حدیث۱۔ التھذیب:۱ ۴۴۰، حدیث ۱۴۲۴۔ الاستبصار:۱ ۱۹۹، حدیث ۱۵۷۰۳۔
(۲) اصول کافی : ۱ ۴۵۸، حدیث ۱۲۔ مرأ ة العقول : ۵ ۳۱۵۔ اس ماخذ میں جناب علامہ مجلسی فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ کلمہ صدیقہ سے آپ کی عصمت بھی ثابت ہوتی ہے ۔
عایشہ نے کہا کہ آپ کس قدر قریش کی ایک بوڑھی کا تذکرہ کرتے ہیں جبکہ ان کے منھ میں دانت بھی نہ تھے بلکہ صرف دو سرخ مسوڑے رہ گئے تھے حالانکہ آپ کو خداوندعالم نے ان سے بہتر بیویاں عطا کی ہیں ۔(۱)
اس وقت پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا چہرہ اس قدر متغیر ہوا کہ کبھی ان کو ایسی حالت میں نہیں دیکھا تھا مگر سوائے وحی کے وقت یا بجلی کے کڑکتے اور گرجتے وقت کہ جب وہ محسوس کرتے کہ وہ رحمت یا عذاب الہٰی ہے ۔(۲) پھر فرما یا : یہ بات نہ کہو ، چونکہ خدیجہ نے میری اس وقت تصدیق کی کہ جب لوگ مجھ کو جھٹلارہے تھے ۔(۳)
خداوندعالم کے اس کلام( والذی جاء بالصدق و صدق به ) (۴) (وہ کہ جو صدق لا یا اور اس کے ذریعہ سے تصدیق کی ) کی تفسیر میں صحابہ اور تابعین سے روایت ہے کہ( والذی جاء بالصدق ) سے مراد پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ہ یں اور ( و صدق بہ) (کہ جس نے تصدیق کی ) سے
____________________
(۱) صحیح بخاری : ۴ ۲۳۱، کتاب بدء الخلق ، باب تزویج النبی خدیجہ و فضلھا ۔ صحیح مسلم :۷ ۱۳۴۔ مستدرک حاکم:۴ ۲۸۶۔ مسند بن راہویہ : ۲ ۵۸۷۔ صحیح بن حبان : ۱۵ ۴۶۸۔ سیر اعلام النبلاء : ۲ ۱۱۷۔
(۲) مسند احمد بن حنبل : ۶ ۱۵۰ و ۱۵۴۔ البدایة و النھایة : ۳ ۱۵۸۔
(۳) المعجم الکبیر : ۱۲ ۳۲۔ الافصاح (مفید ) ۲۱۷۔ التعجب (کراجکی) ۳۷۔
(۴) سورہ زمر(۳۹) آیت ۳۳۔
حضرت علی بن ابی طالب مراد ہیں ۔(۱)
خداوندعالم کے اس کلام کے بارے میں کہ( فمن اظلم ممن کذب علی الله و کذب بالصدق اذجائه ) (۲) اس شخص سے ز یادہ ظالم کون ہے کہ جس نے خداوندعالم پر جھوٹ بولا اور جب سچائی اس کی طرف آئی تو اس کو جھٹلایا ۔
امیر المؤمنین نے فرمایا :'' الصدق ولایتنا اهل البیت'' (۳) صدق سے مراد ہم اہل ب یت کی ولایت ہے ۔
صاحبان اقتدار و حکومت اور ان کے پیرو کار ان القاب کو حضرت فاطمہ زہرا ، جناب خدیجہ اور حضرت علی کے لیے برداشت نہ کرسکے ۔ لہذا اس حقیقت کی تحریف میں لگ گئے اور اپنی سعی ناکام سے ابو بکر کو صدیق کا لقب دیا اور عایشہ کو صدیقہ کہا ۔
____________________
(۱) یہ معنی ابن عباس سے نقل ہواہے ۔ دیکھیے : شواہد التنزیل : ۲ ۱۸۰، آیت ۱۴۰، حدیث ۸۱۳ و ۸۱۴۔ اور ابو ہریرہ سے منقول ہے جیسا کہ الدر المنثور : ۵ ۳۲۸ میں مذکورہے ۔ اور ابو طفیل سے نقل ہے جیسا کہ شواہد التنزیل میں موجود ہے :۱۸۱۲، آیت ۱۴۰، حدیث ۸۱۵ ۔ ابو الاسود سے جیسا کہ البحر المحیط : ۷ ۴۱۱ میں آیا ہے اور مجاہد سے مندرجہ ذیل منابع میں ہے :
البحر المحیط : ۷ ۴۱۱ ۔تفسیر قرطبی :۱۵ ۲۵۶۔ شواہد التنزیل : ۲ ۱۸۰، آیت ۱۴۰، حدیث ۸۱۰ و ۸۱۲۔ مناقب امام علی (ابن مغازلی) ۲۶۹، حدیث ۲۱۷۔ تاریخ دمشق : ۴۲ ۳۵۹ـ ۳۶۰۔
(۲) سورہ زمر(۳۹) آیت ۳۲۔
(۳) امالی (طوسی) ۳۶۴، مجلس ۱۳، حدیث ۱۷۔ مناقب ابن شہر آشوب :۲ ۲۸۸۔ بحار الانوار :۸ ۲۸۸۔
نیز خداوندعالم کے اس فرمان (کونوا مع الصادقین )(۱) (سچوں کے ساتھ ہوجاؤ) کی تفسیر یہ کی کہ ابوبکر و عمر کے ساتھ ہوجاؤ۔(۲)
اور وہ روایات کہ جو صراحتا امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے لقب صدیق ہونے پر دلالت کرتی ہیں ان کی یا تضعیف کی یا اصلاً عمداً قبول ہی نہیں کیا ۔(۳)
ہم اس سلسلے میں دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا ابو بکر اور عایشہ کی زندگی و سیرت میں اس طرح کی صلاحیت و لیاقت اور ملاکات و معیار پائے جاتے ہیں کہ ان کو صدیق اور صدیقہ کہا جائے یا یہ لقب زبردستی ان کو دیے گئے ہیں ؟۔
____________________
(۱) سورہ توبہ (۹) آیت ۱۱۹۔
(۲) تفسیر طبری : ۱۱ ۸۴۔ زاد المسیر (ابن جوزی) : ۳ ۳۴۹۔ تفسیر قرطبی : ۸ ۲۸۸۔ الدر المنثور : ۳ ۲۸۹۔ فتح القدیر : ۲ ۴۱۴۔ تاریخ دمشق : ۳۰ ۳۱۰ و ۳۳۷ و ج : ۴۲ ۳۶۱۔
(۳) دیکھیے : ضعفاء العقیلی : ۲ ۱۳۰ و ۱۳۷۔ الکامل (ابن عدی) :۳ ۲۷۴۔ الموضوعات (ابن جوزی) :۱ ۳۴۔
یہ لوگ عمر کی پیروی کرتے ہوئے اس خبر کو ضعیف مانتے ہیں کہ عمر نے حضرت امیر المؤمنین علی کو بیعت نہ کرنے کی صورت میں دھمکی دی تب امام علی نے فرمایا : کیا تم لوگ خدا کے بندے اور اس کے رسول کے بھائی کو قتل کروگے ؟ عمر نے کہا : آپ خداکے بندے تو صحیح لیکن رسول کے بھائی نہیں !۔
عایشہ ا ور صدیقیت
صدیق ،اگر پیغمبر یا وصی پیغمبر نہ ہو تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے تمام وجود سے رسالت کی تصدیق کرے اور اس پر یقین رکھے ، آسمانی رسالت پر دل سے ایمان لائے اور عقیدہ رکھے نہ یہ کہ رسالت میں شک کرے جیسا کہ عایشہ کے کلام میں مذکور ہے جب کہ وہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی عدالت میں مشکوک ہوئیں اور کہا کہ کیا آپ کو یہ گمان نہیں ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ، اس وقت عایشہ کے باپ ابوبکر نے ان کے منھ پر طمانچہ مارا۔(۱)
اور پھر دوسرے مقام پرعایشہ نے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے کہا : خدا سے ڈرو حق کے علاوہ کچھ اور نہ کہو ۔
ابو بکر نے یہ سن کر ان کے اوپر ہاتھ اٹھایا اور عایشہ کی ناک مروڑ دی اور کہا: اے ام رومان (عایشہ کی ماں) کی بیٹی تو بغیر ماں کے ہوجائے تو اور تیرا باپ حق بولتے ہیں اور رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم حق نہیں بولتے ۔(۲)
____________________
(۱) مسند ابی یعلی : ۱۳۰۸ حدیث ۴۶۷۰۔ مجمع الزوائد : ۴ ۳۲۲۔ المطالب العالیہ (ابن حجر) : ۱۸۸۸، باب کید النساء حدیث ۱۵۹۹۔
(۲) سبل الھدی و الرشاد : ۱۱ ۱۷۳۔( ابن عساکر نے اپنے اسناد سے عایشہ سے نقل کیا ہے ) اور دیکھیے ، عین العبرہ ۴۵۔ الطرائف ۴۹۲۔ بہ نقل از احیاء العلوم (غزالی ) : ۲ ۴۳۔
صدیقہ وہ عورت ہے کہ جس نے کبھی جھوٹ نہ بولا ہو حتی کہ اپنی سوتن کے ساتھ بھی ،اور یہ بات جیسا کہ الاستیعاب (ابن عبدالبر) اور الاصابہ(ابن حجر) میں مذکورہے ، عایشہ کے کردار سے سازگار نہیں ہے ۔ ان دونوں کتابوں میں موجود ہے کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسماء بنت نعمان سے شادی کی ، عایشہ نے حفصہ سے یا حفصہ نے عایشہ سے کہا :اس کے مہندی لگاؤ اور میں اس کو سنوارتی ہوں ۔
دونوں نے اپنے اپنے کام انجام دیے اور پھر کسی ایک نے اسماء سے کہا کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو یہ بات بہت اچھی لگتی ہے کہ جب وہ تشریف لائیں تو ان سے کہا جائے (اعوذ باللہ منک ) میں آپ سے خدا کی پناہ مانگتی ہوں۔
پس جب رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم اسماء کے پاس پہنچے،پردہ کو اٹھا یا ہاتھوں کو اس کی طرف بڑھایا اسماء نے کہا (اعوذ بالله منک )پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنی صورت کو اپنی آستینوں سے چھپا لیا اور پردہ کو گرا دیا پھر تین مرتبہ فرمایا : خدا کی پناہ میں ہو ، اور پھر اس کو اس کے گھر والوں کے پاس واپس کردیا ۔(۱)
کیا اس طرح کے کارنامے عایشہ کو صادقین کے زمرے سے دور نہیں کرتے کہ جومیاں بیوی کے درمیان جدائی کا سبب بنیں۔
مجھے نہیں معلوم کہ مسلمان کیسے عایشہ کو صدیقہ مانتے ہیں جب کہ ان کو معلوم ہے کہ سورہ تحریم ان ہی کی شأن میں نازل ہوا ہے ، وہ ایسی عورت ہیں کہ جنہوںنے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو مجبور ک یا کہ آپ اپنے اوپر حلال الہٰی کو حرام کریں!؟۔
____________________
(۱) الاستیعاب : ۴ ۱۷۸۵، شمارہ زندگینامہ ۳۲۳۲۔ الاصابہ: ۸ ۲۰ ، شمارہ زندگینامہ ۱۰۸۱۵۔ مستدرک حاکم : ۴ ۳۶۔ الطبقات : ۸ ۱۴۵۔ المحبر ۹۵۔ المنتخب من ذیل المذیل ۱۰۶۔
کس طرح عایشہ جیسی عورت ، صدیقہ ہوسکتی ہیں کہ جو حفصہ کے ساتھ مل کر پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خلاف سازشیں کریں یہاں تک کہ ان کی شأ ن میں خدا وندعالم کی جانب سے یہ آیات نازل ہوں۔
( اذا اسر النبی الی بعض ازواجه حدیثا فلما نبأت به و اظهر ه الله علیه عرف بعضه و اعرض عن بعض فلما نبأ ها به قالت من انبأک هٰذا قال نبأنی العلیم الخبیر٭ ان تتوبا الی الله فقد صغت قلوبکما و ان تظاهرا علیه فان الله هو مولاه و جبریل و صالح المؤمنین و الملائکة بعد ذالک ظهیرا ) (۱)
اور جب نبی نے اپنی بعض ازواج سے بات چھپا کر کہی پھر جب اس بیوی نے راز کی خبر کردی اور اللہ تعالی نے اسے رسول پر ظاہر کردیا تو اس نے اس کا کچھ حصہ جتلا دیا اور کچھ حصے سے کنارہ کشی کی ، پس جب اس نے یہ بات اس بیوی کو بتلائی وہ کہنے لگی آپ کو یہ خبر کس نے دی ؟ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: مجھ کو بہت جاننے والے، پوری پوری خبر رکھنے والے نے خبر دی۔ اگر تم دونوں (نبی کی بیویاں) اللہ کے حضور میں توبہ کرلو تو فبھا پس تم دونوں کے دل یقینا منحرف ہوگئے ہیں اور اگر دونوں اس نبی کے خلاف ایک دوسرے کی پشت پناہی کرتی رہیں تو یقینا خداوندعالم اس کاسرپرست ہے اور جبریل و صالح المؤمنین بھی اور اس کے بعد کل فرشتے اس کے پشت پناہ ہیں ۔
____________________
(۱) سورہ تحریم (۶۶) آیت ۳ و۴۔
ابن عباس نے عمر بن خطاب سے سوال کیا کہ وہ دو عورتیں جو پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خلاف متحد ہوئیں وہ کون ہیں ؟ ابھی ابن عباس کا کلام تما م نہ ہوا تھا کہ عمر نے جواب دیا : عایشہ و حفصہ۔(۱)
یہی طعنہ عثمان نے عایشہ کو دیا جب کہ عثمان نے اس مال کو دینے میں تاخیر کی کہ جو ہمیشہ عایشہ کو دیا کرتے تھے ، عایشہ کو غصہ آیا اور کہا :
اے عثمان امانت کو کھاگئے اور رعیت کو ختم کردیا ، اپنے خاندان کے برے لوگوں کومسلمانوں پر مسلط کردیا ، خدا کی قسم اگر نماز پنجگانہ کی ادائگی نہ ہو تی تو جان بوجھ کر تیری طرف کچھ لوگ آتے جو تجھے اونٹ کے ذبیحہ کی طرح قتل کرڈالتے ۔
عثمان نے کہا :( ضرب الله مثلا للذین کفروا امرأ ة نوح و امرأة نوط ) (۲)
خداوندعالم نے ان کے لیے کہ جنہوں نے کفر کیا نوح کی بیوی اورلوط کی بیوی کی مثال بیان کی ہے ۔
____________________
(۱) تفسیر طبری :۲۸ ۲۰۲، حدیث ۲۶۶۷۸۔صحیح بخار ی :۶ ۶۹، تفسیر سورہ تحریم باب ۳و۴ ۔ و جلد : ۷ ۴۶، کتاب اللباس ،باب ما کان یتجوز رسول اللہ من اللباس و الزینة(وہ لباس اور زینت کہ جس کی رسول خدا نے اجاز ت دی )۔ صحیح مسلم : ۴ ۱۹۰ـ ۱۹۲، کتاب الطلاق ،باب فی الایلاء و اعتزال النساء ۔ مسنداحمد : ۱ ۴۸۔
(۲) سورہ تحریم (۶۶) آیت ۱۰۔ دیکھیے :ـ المحصل (رازی ) : ۴ ۳۴۳۔ الفتوح :۲ ۴۲۱۔
ان صفات کے باوجود کس طرح عایشہ کو صدیقہ کہا جاسکتا ہے جبکہ وہ دوسروں کو برے برے القاب سے نوازتیں(۱) اور ایمان دار عورتوں کی غیبت کرتی تھیں۔(۲)
اس آیت کے سلسلے میں کہ( یا ایها الذین آمنوا لایسخر قوم من قوم عسیٰ ان یکونوا خیرا منهم ولا نساء من نساء عسیٰ ان یکن خیرا منهن ) (۳) اے ا یمان لانے والو آپ ایک قوم،کسی دوسری قوم کا مذاق و مسخرہ نہ بناؤ ممکن ہے کہ وہ لوگ آپ سے بہتر ہوں اور نہ ہی عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں کہ ممکن ہے کہ وہ عورتیں آپ سے بہتر ہوں ۔
طبرسی نے مجمع البیان میں نقل کیا ہے کہ یہ آیت پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ک ی بعض ازواج کی شأن میں نازل ہوئی ہے کہ وہ ام سلمہ کامذاق اڑاتی تھیں ۔
انس و ابن عباس نے روایت ہے کہ ام سلمہ نے ایک سوتی کپڑا اپنی کمر سے باندھ رکھا تھا اور اس کے دونوں حصے و سرے لٹکے ہوئے جارہے تھے ، عایشہ نے اس کو دیکھ کر حفصہ سے کہا کہ دیکھو یہ کیسے پیچھے لٹکتا جارہا ہے گویا جیسے کتے کی زبان ہو۔(۴)
____________________
(۱) خداوندعالم کا ارشاد ہے (ولا تنابزو بالالقاب )(سورہ حجرات (۴۹) آیت ۱۱) ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد نہ کرو ۔
(۲) خداوندعالم کا ارشاد گرامی ہے (ولایغتب بعضکم بعضا )(سورہ حجرات (۴۹) آیت ۱۲) ایک دوسرے کی غیبت نہ کرو۔
(۳) سورہ حجرات (۴۹) آیت ۱۱۔
(۴) مجمع البیان : ۹ ۲۲۴۔ تفسیر قرطبی : ۱۶ ۳۲۶۔ زاد المسیر :۷ ۱۸۲۔ تفسیر بحر المحیط : ۸ ۱۱۲۔
کہتے ہیں کہ عایشہ نے ام سلمہ کو پستہ قد ہونے کا طعنہ دیا تھا اور ان کی طرف اشارہ کرکے کہاتھا کہ وہ گانٹھی ہے۔
کیا معقول ہے کہ کسی صدیقہ کے یہاں طرح طرح کی نامناسب اور حسد جیسی بری عادتیں پائی جائیں ؟!۔
سنن ترمذی میں عایشہ سے منقول ہے کہ آپ نے کہا میں نے خدیجہ سے زیادہ کسی سے حسد نہیں کیا اور پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مجھ سے شاد ی ان کے انتقال کے بعد کی ، خداوندعالم نے ان کو جنت میں مروارید سے بنے ہوئے گھر کی بشارت دی کہ جس میں نہ شورو شرابہ ہے نہ رنج و غم۔(۱)
کیوں( یحسدون الناس علی ما اتاهم من فضله ) (۲) لوگ حسد کرتے ہ یں اس چیز پر کہ جو اللہ نے اپنے فضل و کرم سے دی ہے ۔ اگر عایشہ واقعا صدیقہ ہوتیں تو کیا یہ ممکن تھا کہ رسول خدا ان کو دوسری غیر عورتوں کی طرح شمار کرتے اور ان کے بارے میں فرماتے (ان کن صویحبات یوسف )(۳) آپ عاشقان یوسف کی طرح ہو ۔
____________________
(۱) سنن ترمذی :۵ ۶۶، حدیث ۳۹۷۹، (فضل خدیجہ)۔
(۲) سورہ نسائ(۵) آیت ۵۴۔
(۳) احیاء علوم الدین : ۴ ۴۷المسترشدین فی الامامة ۱۴۱ اور صحیح بخاری :۱ ۱۶۵، کتاب الاذان ، باب اهل العلم و الفضل احق بالامامة و صحیح مسلم :۲ ۲۵ کتاب الصلوة ،باب تقد م الجماعة من یصلی بهم و سنن دارمی : ۱ ۳۹،باب وفات النبیصلىاللهعليهوآلهوسلم ،میں صواحب یوسف مذکور ہے ۔
یہ آیت بھی آپ ہی کی شأن میں نازل ہوئی( ترجی من تشاء منهن و تؤی الیک من تشاء ومن ابتغیت ممن عزلت فلا جناح علیک ) (۱) جس بیوی کے نمبر کو چاہو دیر میں رکھو اور جس کو چاہو اپنے پاس رکھو آپ کے لیے کوئی حرج نہیں ہے کہ جس کو چھوڑ دیا ہے اس کو پھر بلالو۔
عایشہ جیسی عورت کس طرح صدیقہ ہوسکتی ہے کہ جو خداوندعالم کی جانب سے نازل ہونے والی آیت پر اعتراض کرے اور پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے کہے کہ واللہ م یں نے آپ کے پروردگار کو نہیں دیکھا مگر یہ کہ وہ آپ کی خواہشات نفس کے مطابق جلدبازی کرتا ہے۔(۲)
کیا یہ کلام صحیح ہے کہ رسول خدا اپنی خواہشات نفسانی کی پیروی کرتے تھے ؟!۔
یا خداوندعالم آپ کی خواہشا ت نفسانی کی خاطر جلدبازی کرے؟ کیا یہ عایشہ کا کلام رسول خدا کی توہین اور رسالت کو ہیچ سمجھنا اور خداوندعالم کی حقارت و اہانت نہیں ہے ؟۔
کیا یہی سب کچھ ایک صدیقہ کے عرفان و معرفت سے امید کی جاسکتی ہے ؟۔
کیا رسول خدا کا پروردگار عایشہ کے پروردگار سے جدا ہے کہ جو پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے مخاطب ہوکر کہتی ہے کہ میں نے آپ کے پروردگار کو نہیں دیکھا مگر یہ کہ وہ آپ کی خواہشات نفس کے مطابق جلدبازی کرتا ہے۔
____________________
(۱) سورہ احزاب (۳۳) آیت ۵۱۔
(۲) صحیح مسلم :۵ ۱۷۴، کتاب الرضاع ،باب جواز ھبتھا بوبتھا لضرتھا ۔ صحیح بخاری :۲۴۶، کتاب التفسیر،سورہ احزاب۔ و جلد:۱۲۸۶،کتاب النکاح،باب ھل للمرأةان تھب نفسھا۔ تفسیر طبری:۳۳۲۲۔ تفسیر ابن کثیر:۵۰۸۳۔
کیا صدیقہ پر خواہشات نفسانی کا اثر ہوتا ہے ؟ اور کیا غیرت نسوانی اس کو ابھارتی ہے کہ وہ حق کو چھپائے اور جھوٹی خبر دے ؟!۔
ایک مرتبہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے عا یشہ کو ایک عورت کو دیکھنے کے لیے بھیجا کہ جس سے آپ شادی کرنا چاہتے تھے ، عایشہ گئیں اور پھر واپس آئیں ، پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے سوال کیا : اس عورت کو کیسا پایا ؟
عایشہ نے جواب دیا : وہ کوئی اچھی عورت نہیں ہے ۔
پیغمبر نے فرمایا : تونے اس کے رخسار پر تل دیکھا کہ جس سے تیرا سر چکراگیا ۔ عایشہ نے کہا: آپ سے کوئی راز پوشیدہ نہیں ہے آپ سے کون چھپا سکتا ہے ۔(۱)
یہ ہے عایشہ کی سیرت کا خلاصہ کہ جو اہل سنت کے نزدیک صدیقہ کہلاتی ہیں ۔میری نظر میں عایشہ کی شخصیت کے تعارف کے لیے بس اتنا ہی کافی ہے ۔
اور ظاہرا عایشہ کا جناب فاطمہ زہرا اور جناب خدیجہ سے مقایسہ و مقابلہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ لیکن پھر بھی مندرجہ ذیل روایت سے عایشہ اور حضرت فاطمہ زہرا و جناب خدیجہ کے درمیان فرق بالکل واضح ہوجاتاہے ۔
تاریخ دمشق میں مذکور ہے کہ عایشہ نے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو د یکھا کہ آپ حضرت فاطمہ زہرا اور ان کے بچوں کے لیے گوشت کی بوٹیاں چھوٹی چھوٹی کررہے ہیں عایشہ نے کہا : اے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم آپ حمراء (جناب خد یجہ ) کی بیٹی کے لیے کہ جو وحشی ترین عورت تھی یہ کام کررہے ہو؟
____________________
(۱) تاریخ بغدار : ۱ ۲۱۷، تاریخ دمشق :۵۱ ۳۶۔ ذکر اخبار اصبھان :۲ ۱۸۸۔ کنزالعمال :۱۲ ۴۱۸، حدیث ۳۵۴۹، اور دیکھیے طبقات ابن سعد : ۸ ۱۶۱۔ سبل الھدی و الرشاد:۱۱ ۲۳۵۔
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم غصہ میں آگئے اور عایشہ کو چھوڑدیا، اس سے ترک تعلق کرلیا اور کلام کرنا بند کردیا ، ام رمان (عایشہ کی ماں) نے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے گفتگو کی اور کہا اے رسول خدا عایشہ چھوٹی بچی ہے اس کو تنبیہ نہ کریں ، پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: تم کو معلوم ہے کہ اس نے کیا کہا ہے ؟ ایسا ویسا خدیجہ کے بارے میں کہا ہے ، حالانکہ میری امت کی عورتوں میں خدیجہ کو سب پر فوقیت و فضیلت حاصل ہے۔جیسا کہ جناب مریم پوری دنیا کی عورتوں سے افضل ہیں۔(۱)
سنن ترمذی میں عایشہ سے منقول ہے کہ اس نے کہا کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ک ی بیویوں میں سے میں نے کسی سے بھی اتنا حسد اور رشک نہیں کیا جتنا خدیجہ سے کیا کاش کہ میں ان کا مقام پاتی اور یہ حسد صرف اس لیے تھا کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ان کو بہت یاد فرماتے اور ان کی بہت تعریفیں کرتے تھے۔
آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی عادت یہ تھی کہ کسی خاص بھیڑ کو ذبح کرتے اور جناب خدیجہ کی دوست و سہیلیوں کو ہدیہ فرمادیتے تھے ۔(۲)
____________________
(۱) تاریخ دمشق :۷ ۱۱۴۔
(۲) سنن ترمذی : ۳ ۲۴۹، حدیث ۲۰۸۶۔ و جلد: ۵ ۳۶۶، حدیث ۳۹۷۷۔ اور دیکھیے : ـ مسند احمد : ۶ ۲۷۹۔ صحیح بخاری:۴ ۲۳۰، کتاب بدء الخلق ، باب تزویج النبی خدیجہ و فضلھا ۔ الطرائف ۲۹۱۔ فتح الباری :۷ ۱۰۲۔
ابو بکر اور صدیقیت
اب ابوبکر کی شخصیت و سیرت پر نظر ڈالتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیا واقعاً وہ صدیق ہیں یا حقیقت میں صدیق علی ابن ابی طالب ہی ہیں ۔
اس کا م کو دونوں طرف کے لوگوں کے عقیدہ سے ہٹ کر انجام دیں گے یعنی ان حضرات کی شخصیتوں کی خود ان ہی کے کلام سے وضاحت کریں گے نہ کہ ان کے پیرو کار اور ماننے والوں کے کلام ونظریات کی روشنی میں انہیں پیش کیا جائے ۔
یہ واضح ہے کہ صدق و سچائی ، کذب و جھو ٹ کے مقابل میں ہے ، پس اگرحضرت فاطمہ ، صدیقہ اپنے کلام میں سچی اور حق پر ہیں تو ابوبکر جھوٹے ہیں اور اسی طرح اگر علی حق پرہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے مقابل میں باطل ہے (جو بھی ہو)۔
اب طرفین کے کلمات و نظریا ت کو سامنے رکھتے ہیںاور ان مقامات کو کہ جن میں اختلاف ہے بطور نمونہ پیش کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کون سچا اور کون جھوٹا ہے ۔ اور اس کے بعد لفظ صدیق پر غور کریں گے اور پھر دیکھیں گے کہ کون ان صفات و کمالات کے ساتھ اس لقب کا مستحق ہے ۔
پہلا نمونہ :ـ
حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کے خطبہ کا ٹکڑا کہ جس میں مدعیان خلافت سے خطاب ہے :
کیا آپ لوگ یہ خیال کرتے ہوکہ ہمارا میراث میں کوئی حق نہیں ہے( أ فحکم الجاهلیة تبغون ومن احسن من الله حکماً لقوم یوقنون ) (۱)
کیا جاہلیت کے حکم کو چاہتے ہواور اللہ کے حکم سے کس کا حکم اچھا ہے ، ان لوگوں کے لیے کہ جو اہل یقین ہیں ۔ کیا اس سلسلے میں حکم خدا کو نہیں جانتے یقینا جانتے ہو ، سورج کی طرح تم پر روشن ہے کہ میں پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیٹی ہوں ، اے مسلمانوں کیا میں میراث سے محروم ر ہوں؟ اے ابو قحافہ کے بیٹے کیا خدا کی کتاب میں ہے کہ تو اپنے باپ کی میراث پائے اور میں اپنے باپ کی میراث نہ پاؤں؟( لقد جئت شیأ فریا ) (۲)
یقینا اپنے پاس سے من گھڑت لائے ہو۔ کیا جان بوجھ کر کتاب خدا کو چھوڑ دیا ہے اور اس کو پس پشت ڈال دیا ہے کہ جس میں ارشاد ہے( وورث سلیمان داؤد ) (۳)
سلیمان نے دائود سے میراث پائی ۔ اور یحی ابن زکریا کی خبر سنائی ہے لہذا ارشاد ہے( فهب لی من لدنک ولیا یرثنی و یرث من آل یعقوب ) (۴)
زکریا نے کہا پروردگار مجھ کو اپنی جانب سے ولی و جانشین عطا فرما کہ جو میرا وارث ہو اور آل یعقوب سے میراث پائے۔
____________________
(۱) سورہ مائدہ (۵) آیت ۵۰۔
(۲) سورہ مریم (۱۹) ،آیت ۲۷۔
(۳) سورہ نمل (۲۷) ،آیت ۱۶۔
(۴) سورہ مریم (۱۹) ،آیت ۵ـ۶۔
اور حکم الہی ہے( واولو ا الارحام بعضهم اولی ببعض فی کتاب الله ) (۱) خداوندعالم کی کتاب میں رشتہ دار ایک دوسرے کی بنسبت دوسروں سے زیادہ مستحق ہیں ۔
اور ارشاد ہے( یوصیکم الله فی اولادکم للذکر مثل حظ الانثیین ) (۲) ۔
خداوندعالم آپ کے بچوں کے بارے میں آپ کو وصیت کرتا ہے کہ لڑکے کا حق لڑکی کے حق سے دوبرابر ہے ۔
اور ارشاد ہے( ان ترک خیرالوصیة للوالدین والاقربین بالمعروف حقا علی المتقین ) (۳) جس کوآثار موت نظر آنے لگ یں اس پر لازم ہے کہ اگر صاحب مال ہے تو اپنے والدین و رشتہ داروں کے لیے وصیت کرے یہ متقی اور پرہیزگار وں پر حق ہے ۔
ان سب آیات کے باوجود آپ لوگوں کا خیال ہے کہ میرا کوئی حق نہیں ہے اور میں اپنے والد گرامی سے کوئی حق نہیں پاؤں گی اور ہمارے درمیان کوئی رشتہ داری نہیں ہے ؟۔
کیا خدا وندعالم نے آپ پر کوئی خاص آیت نازل کی ہے کہ جو میرے باپ پر نازل نہیں کی یا یہ کہ جو کہہ رہے ہو تو کیا میں اپنے والد کے دین پر نہیں ہوں ، دو دین والے آپس میں میراث نہیں پاتے تو کیا میرا اور میرے والد کا دین ایک نہیں ہے؟ کیا آپ لوگ قرآن کریم کے خاص و عام کو میرے والد اور ابن عم علی سے بہتر جانتے ہو؟۔
____________________
(۱) سورہ انفال (۸) ،آیت ۷۵۔
(۲) سورہ نساء (۴) ،آیت ۱۱۔
(۳) سورہ بقرہ (۲) ،آیت ۱۸۰۔
اب فدک کو غصب کرلو لیکن روز حشر ایک دوسرے کا مقابلہ کرنا ہے ، خداوندعالم کیا ہی خوب حاکم ہے ، اور پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم بہترین رہبر ہیں اور روز قیامت سب کے لیے وعدہ گاہ ہے ۔
قیامت کے دن جو لوگ باطل پر ہیں اپنے نقصان و خسارے کو دیکھیں گے اور وہ لوگ پشیمان و شرمندہ ہونگے لیکن اس وقت وہ شرمندگی کوئی فائدہ نہیں دے گی ۔
( وکل نبأ مستقر ) (۱) اور ہر خبر کو واقع ہونا ہے ۔( فسوف تعلمون من یاتیه عذاب یخزیه و یحل علیه عذاب مقیم ) (۲) پس عنقر یب جان لوگے کہ ذلیل و رسوا کرنے ولا عذاب آن پہنچا ہے اور ہمیشہ رہنے والا عقاب و عذاب سر پر منڈلارہا ہے ۔(۳)
یہ عبارت بہت واضح اور روشن ہے اور زیادہ تحلیل و تفسیر کی ضرورت نہیں ہے ۔ فاطمہ صدیقہ اپنے اس کلام میں ابوبکر صدیق کی تکذیب کر رہی ہیں : اے ابوقحافہ کے بیٹے کیا خدا کی کتاب میں ہے کہ تو اپنے باپ سے میراث پائے اور میں اپنے والد کی میراث سے محروم رہوں ، یقینا یہ کیا من گھڑت چیز پیش کی ہے ۔
اور اس کلام میں بھی کہ ابوبکر اور اس کے طرفدار زمانہ جاہلیت کے رسم و رواج کو سامنے رکھتے ہوئے یہ خیال کرتے ہیں کہ فاطمہ اپنے باپ سے میراث نہیں پائے گی جب کہ یہ خیال قرآن کریم کی آیات وصیت و میراث کے متعلق عمومات کے خلاف ہے ۔
____________________
(۱) سورہ انعام (۶) ،آیت ۶۷۔
(۲) سورہ ھود (۱۱) ،آیت ۳۹۔و سورہ زمر(۳۹) ،آیت ۳۹ـ۴۰۔
(۳) احتجاج طبرسی :۱ ۱۳۸ـ۱۳۹۔
یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ ابوبکر اپنے باپ سے میراث پائے اور فاطمہ اپنے والد سے میراث نہ پائیں! کیا خداوندعالم نے ان کے لیے کوئی خاص آیت بھیجی ہے کہ جس سے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو باہر و جدا کردیا گیا ہے یا یہ کہ ان کا نظریہ ہے کہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اور فاطمہ کا دین جدا جدا ہے کہ ایک دوسرے سے میراث نہیں پاسکتے یایہ کہنا چاہتے ہیں کہ نعوذ باللہ فاطمہ ، رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیٹی نہیں ہیں ۔
چونکہ یہ معقول نہیں ہے کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ایک حکم الہٰی کو ان لوگوں سے بیان کریں کہ جو وارث نہیں ہیں اور جو وارث ہیں ان سے چھپائے رکھیں ۔
اس بات کو عقل کیسے قبول کرسکتی ہے کہ کتاب الہٰی کو ایک ایسی خبرواحد سے تخصیص دی جائے کہ جس کی علی و فاطمہ تصدیق نہ فرمائیں۔
یہ کس طرح ممکن ہے اور عقل کیسے قبول کرے کہ کتاب الہٰی کی تخصیص ایک ایسی خبر واحد سے ہوکہ جو ظاہر اور عمومات قرآن کے مخالف ہو چونکہ گذشتہ نبیوں کی سیرت اس کے خلاف ثابت ہے
جی ہاں ! حضرت فاطمہ زہرا اپنے اس کلام سے یہ واضح کرنا چاہتی ہیں کہ ان لوگوں نے کتاب خدا پر بھی عمل کرنا چھوڑدیا ہے ۔ چونکہ لفظ وارث عام ہے اور مال کی میراث پر دلالت کرتا ہے جیسا کہ متعدد آیات سے واضح ہے اور کسی خاص قید سے مقید بھی نہیں ہوا ، لیکن انہوں نے میراث کو ، میراث حکمت و نبوت سے تعبیر کیا ہے نہ کہ اموال سے اور مجاز کو حقیقت پر مقدم رکھا ۔
جب کہ علم و حکمت اور نبوت کی میراث کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مالی میراث ختم ہوجائے بلکہ میراث نبوت اور اموال ایک دوسرے کے لازم و ملزوم ہیں ، اور یہ وراثت پروردگار کے نزدیک روز ازل سے اس کے مستحقین کے لیے محفوظ و مخصوص ہے ۔
( والله اعلم حیث یجعل رسالته ) (۱) اور خداوندعالم بہتر جانتا ہے کہ اپن ی رسالت کو کہاں رکھے۔
فخر رازی اپنی تفسیر میں رقمطراز ہے کہ دونوں جگہوں پر میراث سے مراد مالی میراث ہے ، اور یہ ابن عباس و حسن اور ضحاک کا قول ہے ۔(۲)
زمخشری نے تفسیر کشاف میں لکھا جناب سلیمان نے اپنے والد جناب داؤد سے ہزار گھوڑے میراث میں پائے ۔(۳) بغو ی نے معالم التنزیل ،سورہ مریم کی چھٹی آیت کی تفسیر میں لکھا ہے حسن نے کہا کہ اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ وہ میرے مال کا وارث ہو۔(۴)
ہم لوگ حضرت علی صدیق اور صدیقہ کبری حضرت فاطمہ زہرا و حضرت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے چچا جناب عباس کے استدلال پر ذرا غور کر یں تو بالکل واضح ہوجائے گا کہ ابوبکر اپنے دعوی میں جھوٹے اور خطا کار ہیں چونکہ جو چیز خود ہی نے اپنے لیے لازم قرار دی تھی اب اسی کی مخالفت کررہے ہیں اس لیے کہ لوگوں کو پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ک ی حدیث نقل کرنے سے منع کیا اور کہا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان کتاب خدا کافی ہے ۔(۵)
____________________
(۱) سورہ انعام(۶) ،آیت ۱۲۴۔
(۲) تفسیر کبیر فخررازی : ۲۱ ۱۵۶۔
(۳) تفسیر کشاف :۴ ۱۳۔
(۴) تفسیر بغوی (معالم التنزیل) : ۳ ۱۸۹۔
(۵) تذکرة الخواص : ۱ ۳۔ تو جیہ النظر (جزائری ) :۶۰۱۔
اور دوسری طرف ان حضرا ت نے ابوبکر کی خطا کاری پر میراث و وصیت کے بارے میں عموعات قرآن سے استدلال کیا ، لیکن ابوبکر نے اس چیز کاسہارا لیا کہ جس سے خود ہی نے لوگوں کو منع کیا تھا۔یعنی قرآن کریم کے مقابلے حدیث کو سہارا بناتے ہوئے استدلال کیا لہٰذا یہ ابوبکر کی تناقض گوئی، ایک لمحہ فکریہ ہے !۔
دوسرا نمونہ :ـ
حضرت فاطمہ زہرا نے عمومات قرآنی کے ذریعہ ابوبکر کے بیان اور مقصد کی تکذیب فرمائی کہ جو انہوں نے کہاتھا کہ''نحن معاشرالانبیاء لا نورث ماترکناه صدقه '' ہم پیغمبروں کی میراث نہیں ہوتی اور جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہے ۔ چونکہ اگر ابوبکر کا کلام صحیح ہوتا تو پھر کس طرح پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا عصا ، گھوڑا اور نعلین مبارک حضرت علی کو دیدیا ۔(۱) اور آپ کی ازواج کو گھر میں رہنے کی اجازت دی بالکل اسی طرح کہ جیسے مالک اپنے مال میں تصرف کرتا ہے یہاں تک کہ دفن کے لیے بھی عایشہ سے اس کے حجرے کی اجازت مانگی جبکہ اسی دور میں حضرت زہرا سے یہ کہکر کہ آپ مالک نہیں بن سکتیں فدک چھین لیا گیا۔
کیا پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لیے ممکن ہے کہ دنیا سے انتقال کرجائیں اور اپنی بیٹی و داماد کو ان کے حق کے متعلق کوئی خبر نہ دیں !؟۔
____________________
(۱) شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید): ۲۱۴۱۶۔ اور دیکھیے صحیح بخاری :۵ ۱۱۴ـ۱۱۵،کتاب المغازی ، حدیث بنی نضر ۔ صحیح مسلم :۳ ۱۳۷۷ـ۱۳۷۹، کتاب الجھاد و السیر، باب حکم الفن۔
یہ کس طرح ہوسکتا ہے کہ وہ دوسروں کو بتائیں اور غیروں کو با خبر کریں لیکن جن کا حق ہے یعنی اپنی بیٹی و داماد کو اس حکم خاص سے آگاہ نہ فرمائیں ؟۔
اور اس کے علاوہ اگر ابوبکر کو اپنے کلام پر اعتماد تھا اور وہ اپنے دعوے میں سچے تھے تو پھر کیوں انہوں نے حضرت زہرا کے لیے فدک کے متعلق نامہ لکھا کہ جس کو بعد میں عمر نے پھاڑدیا !؟ ۔ یعنی اس نامے سے خود اپنے ہی کلام کی تکذیب کی اور اس کو نقض کردیا ۔(۱)
ابوبکر نے اپنے اس دعوی سے قانون الٰہی کہ جو پیغمبروں کے بارے میں میراث کے متعلق ہے رسول خدا کی طرف توڑنے کی نسبت دی جبکہ یہ مطلب واقعیت کے خلاف ہے چونکہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم فرائض و تکال یف الہٰی میں عام لوگوں کی طرح مکلف ہیں اور آسمانی تعالیم آپ کے بارے میں بھی دوسروں کی طرح جاری ہیں اور یہ بات ثابت نہیں ہوئی کہ آپ کے مختصات و خصوصیات میں سے میراث کا نہ ہونا بھی ہے ۔ یہی وجہ تھی کہ حضرت فاطمہ زہرا نے ابوبکر کی تکذیب کی اور جھوٹ کی نسبت دی۔
تیسرا نمونہ:ـ
تیسرا نمونہ حضرت علی کی تکذیب اور آپ کو جھٹلانا ہے کہ جو ابوبکر کی طرف سے واقع ہوا اگر چہ بعض روایات میں عمر کی طرف نسبت دی گئی ہے ۔
____________________
(۱) شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید):۱۶ ۲۷۴۔ احتجاج طبرسی:۱ ۱۲۲۔ اور دیکھیے تہذیب الاحکام (شیخ طوسی) :۴ ۱۴۸۔ تفسیر قمی :۱۵۵۲۔ السیرة الحلبیہ:۳ ۴۸۸۔
اس وقت کہ جب ابوبکر کی بیعت نہ کرنے پر حضرت علی کو قتل کی دھمکی دی گئی تو آپ نے فرمایا کہ کیا آپ لوگ بندہ خدا اور رسول خدا کے بھائی کو قتل کروگے ؟ عمر نے کہا: بندہ خدا تو صحیح لیکن رسول خدا کا بھائی نہیں ۔(۱)
نہیں معلوم کس طرح پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اور حضرت علی کے درمیان رشتہ اخوت سے انکار کردیا جب کہ یہ کام دو مرتبہ واقع ہوچکا تھا ایک مرتبہ مکہ میں ہجرت سے پہلے اور دوسری مرتبہ مدینے میں ہجرت کے پانچویں مہینے میں کہ جب پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تمام انصار و مہاجرین کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا اور ایک دوسرے کے درمیان عقد اخوت پڑھا اور دونوں مقام پر اپنے لیے حضرت علی کا انتخاب فرمایا اور اپنے و علی کے درمیان عقد اخوت پڑھ کرفرمایا : اے علی آپ دنیا و آخرت میں میرے بھائی ہو ۔(۲)
اور اس کے علاوہ یہی کافی ہے کہ نص آیت مباہلہ کے مطابق حضرت علی نفس رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم ہ یں، ارشاد ہے(وانفسنا و انفسکم )(۳) تم اپنے نفس و جان کو لاؤ اور ہم اپنے نفس و جان کو لاتے ہ یں۔
____________________
(۱) الامامة والسیاسة:۱ ۲۰۰(تحقیق زینی)۔ احتجاج طبرسی :۱ ۱۰۹۔
(۲) سنن ترمذی :۵ ۳۳۰، حدیث ۳۸۰۴۔ اس میں مذکورہے کہ یہ حدیث حسن اور غریب ہے۔ مستدرک حاکم :۳ ۱۴۔
(۳) سورہ آل عمران(۳) ، آیت ۶۱۔
اور قضیہ تبوک میں آپ نے حضرت علی سے فرمایا:
'' انت منی بمنزلة هارون من موسیٰ الاانه لا نبی بعدی وانت اخی و وارثی'' (۱) آپ کو مجھ سے وہ ی نسبت ہے کہ جو ہارون کو موسی سے تھی سوائے اس کے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اور آپ میرے بھائی اور میرے وارث ہیں ۔
پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی کو اس وقت کہ جب دعوت اسلام کا آغازبھی نہ ہوا تھا اپنا بھائی قرار دیا جس وقت یہ آیت نازل ہوئی( وانذر عشیرتک الاقربین ) (۲)
اپنے عزیز وخاندان والوں کو ڈراؤ تب پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے تمام رشتہ دارو خاندان والوں کی جناب ابو طالب کے گھر میں دعوت کی ۔ وہ تقریبا چالیس آدمی تھے تب پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ان کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا :اے فرزندان عبدالمطلب ،خدا کی قسم میری نظرمیں عرب کا کوئی جوان بھی اپنی قوم کے لیے ایسا پیغام نہیں لایا کہ جیسا میں لایا ہوں ، میں آپ لوگوں کے لیے دنیا و آخر ت کی خیر و بھلائی لے کر آیا ہوں اور خداوندعالم نے مجھ کو حکم دیا ہے کہ تمہیں اس کی طرف دعوت دوں پس آپ میں سے کون ہے کہ اس امر میں میری مدد کرے گا تاکہ تمہارے درمیان میرا بھائی ، وصی اور خلیفہ قرار پائے۔
____________________
(۱) صحیح مسلم :۷ ۱۲۰، کتاب فضل الصحابہ من فضائل علی ۔ مسند ابی یعلی :۱ ۲۸۶، حدیث ۳۴۴۔ صحیح ابن حبان :۱۵ ۲۷۰ـ۲۷۱ ،باب مناقب علی ابن ابی طالب ۔ الآحاد و المثانی :۵ ۱۷۰۔، حدیث ۲۷۰۷۔ تاریخ مدینة دمشق : ۲۱ ۴۱۵ ۔و جلد:۴۲ ۵۳۔
(۲) سورہ شعراء (۶۶) ، آیت ۲۱۴۔
اس وقت تمام اہل خاندان نے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی یہ دعوت قبول کرنے سے انکار کیا سوائے حضرت علی کے کہ جو ان سب میں چھوٹے و کم سن تھے تب رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنا ہاتھ حضرت علی کے کاندھے پر رکھا اور فرمایا:بیشک یہ میرا بھائی ، وصی اور میرا خلیفہ ہے ، اس کی بات ماننا اور اطاعت کرنا ۔
وہ لوگ مذاق اڑاتے اور ہنستے تھے اور جناب ابوطالب سے کہتے کہ محمد نے تجھ کو حکم دیا ہے کہ اپنے بیٹے کی بات ماننا اور اس کی اطاعت کرنا ۔(۱)
اور اس وقت بھی کہ جب زنان عالم کی سیدہ و سردار حضرت فاطمہ زہرا کی شادی حضرت علی سے ہونے لگی تو پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: اے ام ایمن میرے بھائی کو بلائو ، ام ایمن نے کہا: وہ آپ کے بھائی ہیں جبکہ آپ اپنی یبٹی کی شادی ان سے کررہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا: ہاں اے ام ایمن ، پس ام ایمن نے حضرت علی کو بلایا۔(۲)
پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے متعدد مرتبہ حضرت علی کوبھائی کہکر خطاب کیا ہے ۔
ایک مرتبہ فرمایا:'' انت اخی و صاحبی فی الجنة'' (۳)
آپ جنت میں میرے بھائی اور ساتھی و ہمدم ہیں۔
____________________
(۱) تاریخ طبری :۲ ۶۳۔ السیرة النبوة (ابن کثیر) :۱ ۴۵۸ـ۴۵۹۔ کنزالعمال :۱۳ ۱۳۳، حدیث ۳۶۴۱۹۔ کہ یہ ابن اسحاق و ابن جریر اور ابن ابی حاتم سے نقل ہوئی ہے ۔
(۲) مستدرک حاکم : ۳ ۱۵۹۔ السنن الکبری (نسائی) : ۵ ۱۴۲، حدیث ۸۵۰۹۔
(۳) تاریخ بغداد : ۱۲ ۲۶۳۔ تاریخ دمشق :۴۲ ۶۱۔ ان دونوں ماخذ میں مذکور ہے ''یا علی انت اخی و صاحبی و رفیقی فی الجنة ''اے علی آپ جنت میں میرے بھائی ، ہمدم اور میرے دوست ہو۔
اور دوسرے مقام پر فرمایا:
''انت اخی ووزیری ، تقضی دینی و تنجز موعدی و تبری ذمتی '' (۱)
اے علی آپ میرے بھائی اور میرے وزیر ہو آپ ہی میرا قرضہ اتاروگے اور میرے عہد وپیمان اور وعدوں کو پورا کروگے اور میرے ذمہ جو کچھ بھی ہے اس کو ادا کروگے ۔
تیسرے مقا م پر فرمایا :
''هٰذا اخی وابن عمی و صهری و ابو ولدی '' (۲)
یہ( علی ) میرا بھائی، میرے چچا کا بیٹا ،میرا داماد اور میرے بچوں کا باپ ہے ۔
____________________
(۱) المعجم الکبیر: ۱۲ ۳۲۱۔ اور اسی سے نقل ہے مجمع الزوائد : ۹ ۱۲۱ و کنزالعمال :۱۱ ۶۱۱، حدیث ۳۲۹۵۵ میں ۔ اور اسی ماخذ میں آیاہے کہ''فمن احبک فی حیاة منی فقد قضی نحبه ومن احبک بعدی ولم یرک ختم الله له بالامن و امنه یوم الفزع الاکبر ومن مات و هو یبغضک یا علی مات میتة جاهلیة یحاسبه الله بما عمل فی الاسلام '' اے علی جو شخص بھی آپ کو میری زندگی میں دوست رکھے گا گویا اس نے اپنے عہد کو پورا کیا اور جو کوئی بھی میری زندگی کے بعد آپ کو دوست رکھے اور آپ کو نہ دیکھ پائے خداونداس کا خاتمہ بالخیر کرے گا اور روز قیامت اس کو امن و امان عطا کرے گا ، اور اے علی جو شخص بھی اس حالت میں مرے کہ تجھ سے حسد اور بغض اس کے دل میں ہو تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے خداوندعالم اس کی زندگی کے دوران اسلام کے کارناموں کا محاسبہ کرے گا ۔
(۲) کنزالعمال : ۵ ۲۹۱، حدیث ۱۲۹۱۴ ۔ و جلد : ۱۱ ۶۰۹ ، حدیث ۳۲۹۴۷۔ اس کو شیرازی نے کتاب القاب میں اور ابن نجار نے ابن عمر سے نقل کیا ہے ۔ اور دیکھیے:ـ مسند احمد: ۵ ۲۰۴۔ مستدرک حاکم : ۳ ۲۱۷۔ المعجم الکبیر : ۱ ۱۶۰ ، حدیث ۳۷۸۔
اور چوتھے مقام پر فرمایا:
میرے بھائی علی کو آواز دو ۔پس حضرت علی کو بلایا گیا آپ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سرہانے آئے حضرت پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: اور قریب آئو ، آپ قریب آئے اور پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اپنے زانو پر سہارا دے کر بٹھایا پیغمبراکرم علی پر تکیہ دیے رہے اور آپ سے محو گفتگو رہے یہاں تک کہ آپ کی روح مطہرآپ کے بدن مبارک سے پرواز کرگئی ۔(۱)
پانچویں مقام پر فرمایا:
''مکتوب علی باب الجنة ، لا اله الا الله محمد رسول الله علی اخو رسول الله'' (۲)
جنت کے دروازے پر لکھا ہوا ہے ، خدا کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ محمد، اللہ کے رسول ہیں اور علی رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بھ ائی ہیں ۔
اور چھٹے اور ساتویں مقامات پراس وقت کہ جب حضرت علی بستر رسول پر سورہے تھے خداوندعالم نے شب ہجرت جبرئیل و میکائیل کو وحی کی کہ میں نے تمہارے درمیاں عقد اخوت پڑھا اور آپ دونوں کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا اور ایک کو عمر طولانی دوسرے کو کم عمر عطا کی، آپ میں سے کون ہے کہ اپنی طولانی عمر کو اپنے بھائی پر نثار کرے کوئی ایک بھی حاضر نہ ہو ا ۔
____________________
(۱) طبقات ابن سعد : ۲ ۲۶۳۔
(۲) المعجم الاوسط :۵ ۴۳ ۱۳ ۔ تاریخ بغداد :۷ ۳۹۸۔ فیض القدیر :۴ ۴۶۸، حدیث ۵۵۸۹، ترجمہ الامام الحسین(ابن عساکر) ۱۸۶، حدیث ۱۶۷۔
اوردونوں نے طولانی عمر اور حیات کو چاہا تب خدا وندعالم نے ان دونوں پر وحی کی کہ کیوں آپ علی ابن ابی طالب کی طرح نہیں ہو کہ میں نے علی اور محمد کے درمیان بھائی چارگی ایجاد کی اور علی ، محمد کے بستر پر سوگئے تاکہ اپنی جان محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر فدا کردیں اور اپنی زندگی کو اس پر نثار کردیں ، پس زمین پر جاؤ اور اس کو دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھو ۔ پس دونوں زمین پر آگئے ۔(۱)
حضرت امام علی علیہ السلام نے اس مواخات (پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے بھائی چارگی) سے کئی مرتبہ استشہاد کیا ،مثلا روز شوری ، عثمان ، عبد الرحمن، سعد بن وقاص اور طلحہ و زبیر سے فرمایا: آپ کو میں خدا کی قسم دیتا ہوں آپ میں میرے علاوہ کوئی ہے جس کو رسول خدا نے اس دن جب مسلمانوں کے درمیان بھائی چارگی ایجاد کی ، بھائی بنایا ہو سب نے کہا نہیں خداکی قسم۔(۲)
روز بدر کہ جب ولید آپ کے مقابلے میں لڑنے کے لیے آیا تو آپ سے سوال کیا کہ آپ کون ہو؟ تب آپ نے فرمایا ''انا عبدالله و اخورسوله ''(۳) م یں خدا کا بندہ اور اس کے رسول کا بھائی ہوں۔
حضرت فاطمہ زہرا نے بھی اپنے مشہور خطبہ میں اس اخوت و بھائی چارگی کی طرف اشارہ فرمایا ہے جیسا کہ ارشاد ہے :
____________________
(۱) اسد الغابہ :۴ ۲۵۔ جواہر المطالب : ۱ ۲۱۷۔ شواہد التنزیل : ۱ ۱۲۳، حدیث ۱۳۳۔
(۲) الاستیعاب :۳ ۱۰۹۸۔
(۳) طبقات ابن سعد : ۲ ۲۳۔ تاریخ مدینہ دمشق : ۴۲ ۶۰۔
جب کبھی بھی شیطان سر اٹھاتا یا مشرکوں میںسے کوئی اژدھا منھ پھاڑتا تو رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے بھائی کو اس کے حوالے کردیتے اور وہ جب تک کہ ان پر مسلط نہ ہوتے اور ان کی آگ کے شعلے اپنی تلوار سے خاموش نہ کرتے واپس نہیں آتے تھے وہ راہ خدا میں ہر طرح کی سختیوں اور رنج وتکلیف کو برداشت کرلیتے تھے اور امر خدا کے احیاء میں ہرطرح کی کوشش کرتے وہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے عزیز اور اولیاء الٰہی کے سردار تھے ، ہمیشہ راہ خدا میں ناصح، کوشا اور کمر ہمت باندھے ہوئے تھے اور آپ لوگ اس دور میں اسی کی وجہ سے عیش و آرام کی زندگی گذار رہے تھے اور ہر طرح کے حوادث کے ہم پر منتظر رہتے تھے اور فقط ادھر ادھر کی باتیں سنتے اور جنگوں میں جانے سے گریز کرتے اور اگر کسی جنگ میں پہنچ بھی جاتے تو وہاں سے بھاگ کھڑے ہوتے تھے ''(۱) ۔
ابوبکر نے جب حضرت فاطمہ زہرا کی حجت و دلائل کو سنا تو آپ کے بیان سے متأثر ہوئے اور آپ کا دل لبھاناچاہا اوراس اعتراف کے ساتھ کہ علی ہی رسول خدا کے بھائی ہیں نہ کہ کوئی اور، کہنے لگے:
اے دختر رسول خدا ،آپ کے والد مؤمنوں پر مہربان تھے اور ان کے ساتھ مہر و محبت سے پیش آتے تھے اور بہت ہی کریم و دل سوز تھے اور کافروں کے حق میں درد ناک عذاب اور بہت سخت عقاب تھے ، اگر ان کے نسب کو دیکھیں تو وہ یقینا آپ کے والد و ماجد ہیں نہ کہ دوسری عورتوں کے اور آپ کے شوہر کے بھائی ہیں نہ کہ دوسرے اصحاب کے ۔ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کو ہر ایک نزدیک ترین دوست سے بھی زیادہ عزیز رکھا اور وہ بھی پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ہر مشکل کام میں مدد فرماتے تھے۔
____________________
(۱) دیکھیے:ـ شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) : ۱۶ ۲۵۰۔ جواہر المطالب :۱ ۱۵۶۔
آپ لوگ وہ افراد ہو کہ جن کو صرف سعادتمند و خوشبخت ہی دوست رکھتا ہے اور آپ کو کوئی دشمن نہیں رکھتا سوائے بدبخت انسان کے آپ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی عترت و اہل بیت پاک و پاکیزہ ہو اور اللہ کے منتخب و بہترین بندے ہو ہمیں اچھی راہنمائی اور بھلائی دکھاتے ہواور جنت و آخر ت میں بھی ہمارے بہترین راہنما ہو۔
اور آپ اے عورتوں کی سیدہ و سردار اور بہترین پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیٹی آپ کا کلام حق اور سچا ہے اور آپ کی عقل کامل و پختہ ہے ، آپ کے حق کو کوئی نہیں روکے گا اور آپ کے صدق و صفائی سے کوئی مانع نہیں ہوگا ۔
خدا کی قسم میں نے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے تجاوز نہیں کیا ہے میں نے سنا ہے کہ رسول خدا نے فرمایا :
''نحن معاشرالانبیاء لا نورث ذهبا و لا فضة ولا دارا ولا عقارا و انما نورث الکتاب و الحکمة والعلم والنبوة وما کان لنا من طعمة فلو لی الامر بعدنا ان یحکم فیه بحکمه'' ۔ ہم جماعت انبیاء سونا چاندی اور گھر و جنگل کو میراث میں نہیں چھوڑتے ہم فقط کتاب و حکمت اور علم و نبوت کو میراث میں چھوڑتے ہیں اور جو کچھ بھی مال و دولت میں سے ہمارے پاس بچتا ہے اس میں ہمارے بعد ولی امر اپنی مصلحت کے مطابق حکم کرتا ہے۔
آپ کا جو مقصد ہے ہم نے اس کو اسلحہ اور گھوڑے خریدنے کے لیے مخصوص و مہیا کردیا ہے تاکہ اس سے مسلمان جنگ کرسکیں اور کفار کا مقابلہ کرسکیں اور فاسقین کی سر کشی کوسرنگوں کیا جاسکے اور یہ کام مسلمانوں کے اجتماع و اتحاد اور رائے و مشورے سے وجود میں آیا ہے میں نے تنہا یہ کام انجام نہیں دیا ہے اور نہ اپنی رائے و نظر کو مقدم رکھا ہے ، میں اور میرا سارا مال و اسباب آپ کی خدمت میں حاضر ہے آپ سے کچھ مخفی نہیں کیا جائے گا ۔
اور یہ آپ کے علاوہ کسی اور کے لیے جمع نہیں کیا گیا ہے ۔ آپ اپنے والد گرامی کی امت کی شہزادی اور اپنی اولاد کے لیے پاک و پاکیزہ شجرہ ہیں اور جو فضل و کمال آپ کا ہے اس تک کوئی نہیں پہنچ سکتا اور آپ کی فرع و اصل میں سے کچھ کم نہیں کیا جا سکتا ، جو کچھ میرے اختیار میں ہے آپ کے حکم کی تعمیل کے لیے حاضر ہے ، لیکن کیا آپ حاضر ہیں کہ آپ کے والد گرامی کی مخالفت کروں!؟۔
حضرت فاطمہ زہرا نے فرمایا:
سبحان اللہ ، پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ، کتاب خدا سے روگردان نہ تھے اور اس کے احکام کی مخالفت نہیں کرتے تھے بلکہ اس کی پیروی فرماتے اور قرآن مجید کے سوروں کی رسیدگی کرتے ،کیا دھوکا دینے کے لیے جمع ہوئے ہو اور اس پر ظلم و ستم کرنے اور زور گوئی کہنے کے لیے اکھٹا ہوئے ہو ؟یہ کام ان کی وفات کے بعداسی کی مانند ہے کہ جیسے ان کی زندگی میں دھوکے اور مکاریاں کی جاتی رہیں اور یہ بھی انہیں کی زندگی میں پروپیگنڈ ا تیار ہوا ،یہ خدا کی کتاب عادل و حاکم ہے اور حق وحقانیت کو باطل و ناحق سے جدا کرنے کے لیے موجود ہے ۔ کہ جس میں ارشاد ہے( یرثنی و یرث من آل یعقوب ) (۱) خدا یا مجھ کو فرزند عطا فرما کہ جو میرا اور آل یعقوب کا وارث قرار پائے ۔اور ارشاد ہوا( وورث سلیمان داؤد ) (۲) سل یمان نے داؤد سے میراث پائی ۔
____________________
(۱) سورہ مریم(۱۹)، آیت ۶۔
(۲) سورہ نمل(۲۷)، آیت ۱۶۔
خدا وندعالم نے سب کے حصوں کو تقسیم کرنے کے لیے اور فرائض کو نافذ کرنے کے لیے اور مرد و عورتوں کو ان کے حق کی ادائیگی کی خاطر تمام چیزوں کو آشکار و واضح کر دیا ہے تاکہ اہل باطل کی تاویلات کو ختم کیا جاسکے اور شبہات و بد گمانی کو دور کیا جاسکے ۔کیا ایسا نہیں ہے ؟( بل سولت لکم انفسکم امرا فصبر جمیل والله المستعان علی ما تصفون ) (۱) بلکہ تمہارے نفسوں نے تمہارے لیے یہ معمہ بنا کرکھڑا کیا ہے لہذا میں صبر کو بہترین راستہ سمجھتی ہوں خداوندمددگار ہے ہر اس چیز پر کہ جو بیان کرتے ہو۔
ابو بکر نے کہا:
خدا اور اس کا رسول سچ کہتے ہیں اور اس کی بیٹی بھی سچ کہتی ہے ۔ اے فاطمہ آپ معدن حکمت ہیں اور مقام ہدایت و رحمت اور آپ دین کی رکن اور عین حجت ہیں۔
میںآپ کے کلام حق کو بعید نہیں سمجھتا اور آپ کی فرمایش سے انکار نہیں کرتا یہ مسلمان کہ جو میرے اور آپ کے درمیان ہیں ان لوگوں نے یہ ذمہ داری میرے کاندھوں پر ڈالی ہے ۔ جوکچھ بھی انجام دیا گیا ہے وہ انہیں کے مشورے سے انجام پایا ہے نہ کہ میں نے کوئی زبردستی کی ہے اور نہ ہی اپنی رائے و نظر یہ کو مقدم رکھا اور یہ لوگ اس بات پر شاہد و گواہ ہیں ۔
حضرت فاطمہ زہرا نے لوگوں کی طرف رخ کیا اور فرمایا :
اے لوگو ! آپ نے باطل کے کلام کی طرف سبقت کی اور برے و نقصان دہ کام سے چشم پوشی کی ۔
____________________
(۱) سورہ یوسف(۱۲)، آیت ۱۸۔
( وافلا تتدبرون القرآن ام علی قلوب اقفالها ) (۱) اورکیا قرآن کریم میں غور و فکر نہیں کرتے یاتمہارے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں کیا ایسا نہیں ہے ؟ بلکہ تمہارے برے اعمال نے تمہارے دلوں پر زنگ لگادیا ہے کہ جس سے تمہارے کان اور آنکھیں بند ہوگئی ہیں ، کس قدر بری تأویل کی ہے اور جو کچھ آپ لوگوں نے انجام دیا بہت برا ہے ، اور وہ کہ جس کا بدلہ چاہتے ہوبہت خطرناک ہے۔
خدا کی قسم یہ بہت سنگین و بھاری بوجھ ہے اور اس کا نتیجہ بہت برا اور وبال جان ہے وہ وقت کہ جب حقیقت کے پردے آپ کی آنکھوں کے سامنے سے ہٹیں گے اوراس کے بعد تمہاری بدبختی و پریشانی تمہارے سامنے آشکار ہوگی ۔
( وبدا لکم من ربکم مالم تکونوا تحتسبون ) (۲)
آپ کے پروردگار کی جانب سے کہ جو تم شمار بھی نہ کرتے تھے آشکار ہوگیا ۔
( وخسر هنالک المبطلون ) (۳)
یہی وہ مقام ہے کہ اہل باطل ، خسارہ و نقصا ن دیکھیں گے ۔(۴)
____________________
(۱) سورہ محمد(۴۷)، آیت ۲۴میں آیا ہے (افلا یتدبرون القرآن ام علی قلوب اقفالھا) ۔
(۲) سورہ زمر(۳۹)، آیت ۴۷میں آیا ہے (وبدا لکم من اللہ مالم تکونوا تحتسبون )۔
(۳) سورہ مؤمن (۴۰)، آیت ۷۸۔
(۴) احتجاج طبرسی :۱ ۱۴۱۔ اور اسی سے نقل ہوا ہے بحار الانوار :۲۹ ۲۳۲ـ۲۳۳ میں ۔
خدائے سبحان کا ارشاد ہے :
( تلک آیات الله نتلوها علیک بالحق فبای حدیث بعد الله و آیاته یومنون ٭ ویل لکل افاک اثیم ٭ یسمع آیات الله تتلی علیه ثم یصر مستکبرا کأن لم یسمعها فبشره بعذاب الیم ) (۱)
یہ خداوندعالم کی آیات ہیں کہ جو ہم آپ پرحق کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں ، پس خدا اور اس کی آیات کے بعد کون سا کلام ہے کہ اس پر ایمان لائو گے ۔وائے ہو جھوٹے گناہکار پر کہ اس پرآیات الہٰی کی تلاوت ہوتی ہے تو سنتا ہے اور پھر تکبر سے منھ پھیر لیتا ہے گویااس نے سنا ہی نہ ہو تو آپ اس کو جہنم اور سخت عذاب کی بشارت دیں ۔
____________________
(۱) سورہ جاثیہ (۴۵) ، آیات ۶ـ۷ـ۸۔
چوتھا نمونہ :ـ
حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام کے وارث ہونے کے سلسلے میں ابوبکر کا مشکوک ہونا اور ان کے اس کلام کا اعتبار ، خود ایک ایسا دعوی ہے کہ جس پر دلیل کی ضرورت ہے ، جب کہ ان کو اچھی طرح معلوم تھا کہ آیہ تطہیر کی مصداق حضرت زہرا ہیں کہ جس میں حضرت کی پاکیزگی ،جھوٹ و خیانت اور ہر طرح کی پلیدگی و رجس سے دوری آشکار و واضح ہے ۔
یہ فاطمہ وہ خاتون ہیں کہ جن کے بارے میں پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم صادق و امین کہ جو اپنی خواہشات نفس سے گفتگو نہیں کرتے بلکہ وہی کہتے ہیں کہ جو وحی ہوتی ہے فرماتے ہیں :''ان الله لیغضب لغضب فاطمة و یرضی لرضاها''
بیشک خداوندعالم حضرت فاطمہ کے غضب ناک ہونے سے غضب ناک ہوتا ہے اور ان کے راضی ہونے سے راضی ہوتا ہے ۔
اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ حضرت فاطمہ خطا و خواہشات نفس سے پاک و معصوم ہیں چونکہ یہ معقول نہیں ہے کہ خداوندعالم کا غضب اور خوشنودی کسی غیر معصوم کے غضب و خوشنودی سے مربوط ہو۔
پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ فاطمہ خدا کے لیے غضبناک اور اسی کے لیے خوشنود ہوتی ہیں بلکہ فرمایا ہے کہ خداوندعالم فاطمہ کے غصے میں غصہ اور خوشنودی میں خوشنود ہوتا ہے ۔ اس جملہ میں بہت عظیم معانی پوشیدہ ہیںکہ جس کو صاحب بصیرت لوگ ہی درک کرسکتے ہیں ۔
چونکہ جو انسان بھی کمال عبادت اور معرفت تک پہنچنا چاہتا ہے کوشش کرتا ہے کہ رضایت الہٰی کو حاصل کرلے جبکہ یہاں مسٔلہ برعکس اور مختلف ہے چونکہ رضائے خداونداور اس کا غضب ، رضا و غضب فاطمہ ہے ، یہی وہ مقام ہے کہ عقل حیران ہوجاتی ہے اور سوائے کامل افراد کے، ممکن نہیں ہے کہ کوئی اس کلام کی حقیقت و کنہ تک پہنچ جائے ۔
لہذا اب دیکھتے ہیں کہ ابوبکر نے حضرت فاطمہ زہرا سے کیا برتاؤ کیا ۔
حماد بن عثمان نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت نقل کی ہے آپ نے فرمایا :
جب ابوبکرکی بیعت ہوچکی اور ان کا تمام مہاجرین و انصار پر تسلط ہوگیا تب کچھ افراد کو سرزمین فدک بھیجا تاکہ وہاں سے حضرت فاطمہ زہرا کے وکیل کو باہر نکال دیں ۔
حضرت فاطمہ زہرا ابوبکر کے پاس آئیں اور فرمایا: کیوں مجھ کو میرے والد پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی میراث سے محروم کیا ہے؟ اور میرے وکیل کووہاں سے باہر کیا جبکہ رسول خدا نے خدا وندعالم کے حکم سے وہ مجھ کو عطا فرمایا تھا ۔ابوبکر نے کہا اپنے اس کلام پر میرے لیے گواہ لے کر آؤ !۔
حضرت فاطمہ زہرا جناب ام ایمن کو لائیں اور آپ نے کہا اے ابوبکر میں گواہی نہیں دوںگی جب تک کہ آپ سے جو کچھ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے میرے بارے میں فرمایا ہے اعتراف نہ کرالوں آپ کو خدا کی قسم دیتی ہوں کیا آپ نہیں جانتے کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ ام ایمن اہل بہشت ہے ابوبکر نے کہا : جی ہاں ۔ تب ام ایمن نے کہا: میں گواہی دیتی ہوں کہ خداوندعالم نے اپنے رسول پر وحی نازل کی کہ (وآت ذالقربی حقہ )(۱) اپنے قرابت داروں کا حق ادا کردو۔ لہذا رسول خدا نے خداوندعالم کے حکم سے فدک فاطمہ زہرا کو عطا فرما یا ۔
اور پھر علی علیہ السلام تشریف لائے اور انہوں نے بھی اسی طرح گواہی پیش کی ۔
ان گواہیوں کے بعد ابوبکر نے حضرت فاطمہ کے لیے ایک نامہ تحریر کیا اور آپ کو دیا اسی وقت عمر آئے اور پوچھا یہ نامہ کیسا ہے؟ ابوبکر نے جواب دیا : فاطمہ زہرا نے فدک کا ادعی کیا اور اس پر ام ایمن و علی نے گواہی دی لہذا میں نے یہ فاطمہ زہرا کے لیے لکھا ہے ۔
عمر نے نامہ لیا اس پر تھوکا اور پھاڑدیا ۔
حضرت فاطمہ زہرا روتی ہوئی وہاں سے باہر تشریف لائیں ۔
____________________
(۱) سورہ روم(۳۰) ، آیت ۳۸۔
اس کے بعد حضرت علی ابوبکر کے پاس آئے اس وقت کہ جب وہ مسجدمیں تھے اور مہاجرین و انصار اردگرد جمع تھے ۔ حضرت نے فرمایا اے ابوبکر کس دلیل پر فاطمہ کو ان کے والد پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی میراث سے منع کیا ہے ؟ جبکہ وہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ہی کی زندگی میں اس کی مالک تھیں۔
ابوبکر نے جواب دیا یہ فدک (فیٔ) تمام مسلمانوں کا حق ہے اگر وہ گواہ لے آئیں کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کو عطا کردیا تھا تو ان کا حق ہے ورنہ اس میں ان کا کوئی حق نہیں ہے ۔
امیرالمؤمنین نے فرمایا : اے ابوبکر ہمارے درمیان خداوندعالم کے حکم کے خلاف عمل کررہے ہو ! ابوبکر نے جواب دیا: نہیں ۔
تب آپ نے فرمایا: اگر کسی مسلمان کے پاس کوئی چیز ہو کہ وہ اس کا مالک ہو اس وقت میں یہ دعوی کروں کہ وہ مال میرا ہے تو کس سے بینہ و گواہ مانگوگے ؟ ابوبکر نے جواب دیا : آپ سے ۔
آپ نے فرمایا : تو پھر کیوں فاطمہ سے گواہ طلب کیے جب کہ فدک ان کے پاس تھا اور وہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زندگی میں بھی اوربعد میں بھی بعنوان مالک اس میں تصرف کررہی تھیں ۔اور کیوں مسلمانوں سے ان کے دعوی کے مطابق گوا ہ طلب نہیں کیے ؟ جیسا کہ میں نے دعوی کیا تھا تو مجھ سے گواہ مانگے ۔
ابوبکر خاموش ہوگئے ، عمر نے کہا اے علی یہ باتیں نہ کریں ہم آپ کے مقابلے میں گفتگو اور بحث کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ، اگر دو عادل گواہ لے آئیں تو صحیح ورنہ یہ تمام مسلمانوں کا مال ہے اور اس میں نہ آپ کا کوئی حق ہے اور نہ فاطمہ کا ۔
حضرت امیرنے فرمایا: اے ابوبکر کتاب خدا کی تلاوت کرتے ہو؟ کہا :ہاں ۔
آپ نے فرمایا : تو یہ بتاؤ کہ یہ آیت الہٰی( انما یرید الله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت ویطهرکم تطهیرا ) (۱)
کن کی شأن میں نازل ہوئی ، ہماری یا کسی اور کی ؟ابوبکر نے کہا : ہاں آپ حضرات کی شأن میں نازل ہوئی ہے۔
حضرت نے فرمایا: اگر مسلمان یہ گواہی دیں کہ فاطمہ زہرا کسی غلط فعل کی مرتکب ہوئی ہیں تو آپ ان کے ساتھ کیا برتاؤ کریں گے ؟ ابوبکر نے کہا : عام مسلمان عورتوں کی طرح ان پر بھی حد جاری کروں گا !۔ آپ نے فرمایا : اس صورت میں آپ خداوندعالم کے نزدیک کافروں میں سے ہوں گے ۔ ابوبکر نے کہا: وہ کیسے ؟
آپ نے فرمایا : چونکہ حضرت فاطمہ زہرا کی پاکیزگی و طہارت پر خداوندعالم کی گواہی کو رد کردیا اور ان کے خلاف مسلمانوں کی گواہی کو قبول کرلیا ۔ اسی طرح خداوندعالم اور رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حکم کو فدک کے سلسلے م یں رد کردیا ہے جب کہ وہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ہی کی زندگی میں اس کی مالک تھیں اور ایک عرب کہ جو کھڑے کھڑے پیشاب کرتا ہے(۲) اس ک ی گواہی کو فاطمہ کے خلاف فدک کے سلسلے میں قبول کرلیا ہے اور فدک کو فاطمہ سے چھین کریہ سمجھتے ہو کہ یہ تمام مسلمانوں کا حق ہے۔
____________________
(۱) سورہ احزاب (۳۳) ، آیت ۳۳۔ (اے اہل بیت اللہ کاارادہ یہ ہے کہ آپ کو ہر طرح کے رجس سے پاک رکھے جو پاک رکھنے کا حق ہے)۔
(۲) یہ جملہ اشارہ ہے مالک بن اوس بن حدثان نضری کہ جو پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا صحابی بھی نہیں ہے لیکن پھر بھی بہت سی روایات پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے نقل کی ہیں !۔۔۔بقیہ اگلے صفحہ پر۔ ۔ ۔
رسول خدا نے فرمایا ہے ''البینة علی المدعی والیمین علی المدعیٰ علیه '' مدعی پر ہے کہ وہ دلیل و گواہ لے کر آئے ورنہ مدعی علیہ قسم کھائے تاکہ فیصلہ تمام ہوجائے جبکہ آپ نے اس حکم میں پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مخالفت کی ہے اور فاطمہ سے گواہ مانگے ہیں ، جب کہ وہ مدعی نہیں بلکہ مدعیٰ علیہ ہیں اور مسلمانوں سے گواہ نہیں مانگے جب کہ وہ مدعی ہیں ۔
اس کلام کے بعد لوگوں میں چہ می گوئیاں ہونے لگیں اور ابوبکر کی بات کو ناپسند کیا جانے لگا وہ لوگ ایک دوسرے کی طرف دیکھتے اور کہتے کہ خداکی قسم علی سچ کہہ رہے ہیں ۔
اورحضرت امیر المؤمنین اپنے گھر تشریف لے آئے۔(۱)
ان عبارات میں کچھ تناقض ہے کہ جس پر توقف اور تفکر کرنا ضروری ہے وہ یہ کہ کیا فدک پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی میراث ہے یا نحلہ و ہدیہ کہ جو پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت فاطمہ زہرا کو عطا کیا ؟۔
اگر فدک، میراث ہے تو میراث کے مطالبہ کے لیے گواہ کی ضرورت نہیں ہے مگر یہ کہ نعوذ باللہ حضرت فاطمہ زہرا کے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیٹی ہونے میں شک ہو۔
____________________
۔۔۔ پچھلے صفحہ کا بقیہ ۔
ابن خراش نے اس روایت''نحن معاشرالانبیاء لانورث ماترکناه صدقه'' کو من گھڑت اور جعلی قرار دیا ہے ۔ دیکھیے :ـ تاریخ بخاری :۷ ۳۰۵۔ الجرح والتعدیل :۸ ۲۰۳۔ الثقات (ابن حبان ) : ۳ ۱۱۔ و جلد: ۵ ۳۸۲۔ کمال الدین و تمام النعمة :۲ ۴۰۱۔ تاریخ دمشق : ۵۶ ۳۶۰ـ ۳۷۲۔ الکامل (ابن عدی): ۴ ۳۲۱۔
(۱) احتجاج طبرسی :۱ ۱۱۹۔ تفسیر قمی :۲ ۱۵۵۔ (عثمان بن عیسی و حماد بن عثمان نے حضرت امام جعفر صادق سے نقل کیا ہے )۔
اوراگر فدک نحلہ و ہدیہ ہے جیسا کہ ابوبکر کے گواہ مانگنے سے ظاہر ہے تو یہ ان کے ادعی سے باہر کی بات ہے اور یہ ان کے کلام پر منطبق نہیں ہے چونکہ ان کا کہنا ہے ''نحن معاشرالانبیاء لا نورث '' چونکہ اس صورت میں ہدیہ ، پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ملکیت سے نکل چکا ہے اور اب حضرت فاطمہ زہرا کی ملکیت ہے۔
اوراگریہ کلام صحیح ہو کہ انبیاء اپنا وارث نہیں بناتے تو پھر کس طرح پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ازواج کو میراث ملی اور بیٹی کو محروم کردیا گیا ؟!۔
اور اگر پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا مال اعم از گھر و فدک ، سب ہدیہ ہے تو کیوں ابو بکر نے آپ کی بیویوں سے گواہ نہ مانگے اور صرف دعوی پر ہی ان کو دے دیا گیا اور حضرت زہرا سے آیہ تطہیر کی نص کے باوجود کہ جو ان کی پاکیزگی و عصمت پر دلالت کرتی ہے گواہ طلب کیے اور وہ گواہ بھی لے کر آئیں تب بھی رد کردی گئیں ! اورپھر کس طرح ابوبکر نے وصیت کی کہ اس کو پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پہلو میں دفن کیا جائے جبکہ وہ اس خبر کے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ہونے پریقین رکھتے تھے کہ'' نحن معاشرالانبیاء لانورث '' ہم گروہ انبیاء وارث نہیں بناتے ۔
اب ابوبکر سے سوال کیا جائے کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا گھر آپ کا خصوصی مال تھا یا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ک ی میراث کا حصہ ؟
اگر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کا خصوص ی مال تھا تو یہ صدقہ ہے اور تمام مسلمانوں کا برابر حق ہے جیسا کہ ابوبکر کا عقیدہ ہے کہ انبیاء جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہے ۔ لہذا یہ جائز نہیں ہے کہ یہ مال کسی ایک شخص کو دیدیا جائے اور دوسروں کو اس حق سے محروم کردیا جائے ۔
اوراگر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ک ی میراث کا حصہ ہے کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم بھی عام مسلمانوں کی طرح میراث چھوڑتے ہیں اور وارث بناتے ہیں تو ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ ابوبکر و عمر پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے وارث نہیں ہیں۔
اور اگر یہ کہا جائے کہ یہ حصہ کہ جس میں ابوبکر و عمر دفن ہوئے ہیں یہ عایشہ و حفصہ کا حصہ ہے کہ جو ان کوپیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی میراث سے ملا ہے ۔
تو اس بات کا جواب یہ ہے کہ ان دونوں کا حصہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ک ی میراث میں سے ایک چڑیا کے گھونسلے کے برابر بھی نہیں نکلتا چونکہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بوقت وفات نو( ۹) ب یویاں اور ایک بیٹی چھوڑی ہے کہ اس صورت میں ہر بیوی کا حصہ یک نہم از یک ہشتم (آٹھویں میں سے نواں حصہ) ۔
اس لیے کہ اولاد کی صورت میں بیوی کا آٹھواں حصہ ہے اور یہ آٹھواںحصہ نو( ۹) ب یویوں میں تقسیم ہوناہے توکیا ملے گا؟
اور پھر کس دلیل پر عایشہ کو میراث مل گئی ؟جب کہ حضرت فاطمہ زہرا کو کہ جو صلبی بیٹی ہیں میراث سے محروم کردیا گیا ؟!۔
اور اگر ابوبکر اس حدیث کے صحیح ہونے اور جو کچھ انجام دیا اس پر اعتماد رکھتے تھے تو پھر کیوں حضرت فاطمہ زہرا کی رضایت حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے ؟ اور پھر کیوں آخر عمرمیں افسوس کرتے تھے کہ کاش میں حضرت فاطمہ زہرا کے گھر کی حرمت کو پامال نہ کرتا۔(۱)
____________________
(۱) المعجم الکبیر:۱ ۶۲، حدیث ۴۳۔ تاریخ طبری :۲ ۶۱۹۔ تاریخ دمشق :۳۰ ۴۱۸ـ۴۲۰۔ خصال صدوق ۱۷۲، حدیث ۲۲۸۔
اوراگر ابوبکر کا کلام کہ انبیاء میراث نہیں چھوڑتے درست ہوتا تو یہ بات آسمانی ادیان اور دیگر امتوں میں مشہورہوتی ا ور گذشتہ انبیاء کے پیروکاربھی اس سے واقف ہوتے ۔
اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ فدک کسی جنگ و جدال سے حاصل نہیں ہوا تھا بلکہ لشکر و قدرت اسلام سے ڈر کر پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تھا لہذا فدک شیعہ و سنی علماء کے اتفاق رائے کے مطابق خصوصی پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا حصہ ہے جیسا کہ ارشاد الہٰی ہے ۔
( وماافاء الله علی رسوله منهم فما اوجفتم علیه من خیل و لا رکاب ولکن الله یسلط رسله علی من یشاء والله علی کل شی ء قدیر ) (۱)
وہ مال کہ جس کو حاصل کرنے میں آپ کو گھوڑے نہیں دوڑانے پڑے اور جنگ نہیں کرنی پڑی اس کو خدا وندعالم اپنے رسول کی ملکیت میں قرار دیتا ہے لیکن خداوندعالم جس چیز پر چاہے اپنے رسولوں کو مسلط کردے اور خداہر چیزپر قادر ہے ۔
ابن ابی الحدید کہتا ہے :
اگر مسلمان فدک کو چھوڑنے پر تیار نہ تھے تو پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی آبرو و حرمت کی رعایت کی خاطر اور ان کے عہد کے حفظ کے لیے مناسب یہ تھا کہ فدک کے بدلے آپ کی بیٹی کو کچھ اور چیز دے دیتے تاکہ وہ راضی ہوجاتیں ۔ اور امام کو اس طرح کے کاموں میں خود کو اختیار ہے دیگر مسلمانوں کی اجازت و مشورہ کی ضرورت نہیں ہے ۔(۲)
____________________
(۱) سورہ حشر(۵۹) ، آیت ۶۔
(۲) شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید ) : ۱۶ ۲۸۶۔
یہ بیان، قضیہ کے ایک طرف کا حصہ ہے جب کہ قضیہ کی دوسری طرف توجہ ضروری ہے وہ یہ کہ حضرت امیرالمؤمنین و صدیقہ طاہرہ حضرت فاطمہ زہرا نے ابوبکر پر ''قاعدہ ید '' سے استدلال فرمایا جیسا کہ قبلا بھی گذرچکا ہے لہذا ابوبکر مدعی ہے اور بینہ و دلیل اس کو خود کو لانا چاہیے اورمنکر و مدعی علیہ پر بینہ و دلیل نہ ہونے کی صورت میں قسم کھانا ہے ۔
اس سے پہلے گذرچکا ہے کہ حضرت علی نے ابوبکر پر احتجاج کیااور فرمایا:
اگر کسی مسلمان کے پاس کوئی چیز ہو کہ وہ اس کا مالک ہو اس وقت میں یہ دعوی کروں کہ وہ مال میرا ہے تو کس سے بینہ و گواہ مانگوگے ؟ ابوبکر نے جواب دیا : آپ سے ۔
آپ نے فرمایا : تو پھر کیوں فاطمہ سے گواہ طلب کیے جب کہ فدک ان کے پاس تھا اور وہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زندگی میں بھی اوربعد میں بھی بعنوان مالک اس میں تصرف کررہی تھیں ۔اور کیوں مسلمانوں سے ان کے دعوی کے مطابق گوا ہ طلب نہیں کیے ؟ جیسا کہ میں نے دعوی کیا تھا تو مجھ سے گواہ مانگے ۔ ابوبکر خاموش ہوگئے ، عمر نے کہا اے علی یہ باتیں نہ کریں ہم آپ کے مقابلے میں گفتگو اور بحث کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ، اگر دو عادل گواہ لے آئیں تو صحیح ورنہ یہ تمام مسلمانوں کا مال ہے اور اس میں نہ آپ کا کوئی حق ہے اور نہ فاطمہ کا ۔
حضرت علی اور صدیقہ طاہرہ حضرت زہرا کے استدلال اور محکم و مضبوط حجت پر خوب غور و فکر کیجیے اور پھردوسری طرف عمر کے اس جملہ کو بھی دیکھیے کہ جو اس نے کہا :دعنا من کلامک فانا لا نقوی علی حجتک ''ہم سے اس طرح کا کلام نہ کیجیے ہم میں آپ کی حجت و دلیل کامقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے ۔
جب انصار نے حضرت فاطمہ کی حجت و دلیل کو اس سلسلے میں کہ علی خلیفہ اور پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے جانشین ہیں سنا تو کہنے لگے اے رسول کی بیٹی ہم نے اس مرد کے ہاتھ پر بیعت کرلی ہے اگر آپ کے شوہر اور ابن عم علی اس سے پہلے ہماری طرف آتے تو ہم ان کے طرف دار ہوتے ۔(۱)
دوسری جگہ پر مذکور ہے کہ اگر ہم نے آپ کی حجت و دلیل کو سنا ہوتا تو آپ سے کبھی بھی عدول و منحرف نہ ہوتے ۔(۲)
کس طرح علی کی گواہی مورد قطع ویقین واقع نہ ہوئی جب کہ ایک اور گواہی ان کے ساتھ تھی اور کیوں صدیقہ طاہرہ حضرت فاطمہ زہرا کو ایک عام عورت کی طرح مانا گیا، ان کے دعوے پر ان سے دلیل و بینہ کا مطالبہ کیا گیا ۔ جبکہ ہم یہ جانتے ہیں کہ بینہ ایک ظنی راستہ ہے کہ جو کسی احتمال کو ثابت کرنے کے لیے بنایا گیا ہے ۔ جب کہ حضرت فاطمہ زہرا کے کلام سے قطع و یقین کے بعد کہ جن کو خداوندعالم نے پاک و پاکیزہ قرار دیا اور پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنا ٹکڑا قرار دیا ، اصلاً ظنی راستہ کی کوئی ضرورت نہیں ہونی چاہیے تھی اس لیے کہ راہ یقین کے بعد راہ ظنی کا کوئی وجود و فائدہ نہیں ہے ۔
____________________
(۱) احتجاج طبرسی :۱ ۱۲۲۔ تفسیر قمی :۲ ۱۵۶۔ وسائل الشیعہ : ۲۷ ۲۹۳، حدیث ۳۳۷۸۱۔ اسی طرح کا کلام جنگ جمل سے پہلے عایشہ کی زبان پر بھی جاری ہوا ہے جس وقت امیرالمؤمنین نے اس پر احتجاج کیا تو عایشہ نے آپ کے نامہ کے جواب میں کہ جو عبداللہ ابن عباس اور زید بن صوحان لے کر گئے تھے ان سے کہا کہ میں آپ کی کسی بات کو رد نہیں کروں گی چونکہ مجھ کو معلوم ہے کہ میں علی ابن ابی طالب کے احتجاج کے جواب کی طاقت نہیں رکھتی ۔ الفتوح (ابن اعثم ):۱ ۴۷۱۔
(۲) الامامة والسیاسة :۱ ۱۹۔ شرح نہج البلاغہ : ۱۳۶۔ بحار الانوار : ۲۸ ۱۸۶۔ و ۲۵۲۔ و ۳۵۵۔
اور اسی طرح جناب خزیمہ (ذوالشہادتین)کی گواہی کے واقعہ میں آنحضرت کا اس اعرابی سے اختلاف کے سلسلے میں خزیمہ کی گواہی بغیر کسی کو شامل کیے ،قبول کرلی گئی جب کہ خزیمہ کی گواہی قول رسول کی تائید و تصدیق ہی تھی اور آپ کے دعوی سے بڑھ کر کوئی اور بات نہ تھی ۔
ابوبکر اور تمام مسلمانوں پر لازم تھا کہ حضرت فاطمہ زہرا کی طرف سے گواہی دیتے چونکہ خداوندعالم نے ان کو پا ک و پاکیزہ قرار دیا ہے اور وہ سب آپ ہی کی تصدیق کرتے چونکہ خداوندعالم نے آپ کی تصدیق کی ہے جیسا کہ خزیمہ نے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ ک یا اور پھر رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے خزیمہ کے فعل کی تائید فرمائی ۔(۱)
سید مرتضی نے قاضی القضات عبدالجبار ہمدانی کی رد میں تحریر فرمایا ہے کہ بینہ سے مراد مدعی کے گمان و ظن کے سچے ہونے کو ثابت کرنا ہے چونکہ عدالت میں کسی مدعیٰ کو بھی ثابت کرنے کے لیے ایک معتبر شہادت مانگی جاتی ہے اور اسی ظن و گمان کو تسلیم کرلیا جاتا ہے ، یہی وجہ ہے کہ حاکم کے لیے جائز ہے کہ گواہی کے بغیربھی اگر علم ہوجائے تو اپنے علم کے مطابق عمل کرے بلکہ اس کا علم ، گواہی سے قوی تر و بہتر ہے ، اور اسی وجہ سے اقرار ، بینہ سے زیادہ قوی ہے چونکہ اقرار اس گمان و ظن کو قوی کرنے اور مقام اثبات میں بہتر ہے ۔ اور جب اقرار ، قوت ظن کے اعتبا رسے حاکم کے نزدیک گواہی پر مقدم ہے تو علم بدرجہ اولی مقدم ہونا چاہیے ۔ چونکہ اقرار کی موجودگی میں گواہی کی ضرورت نہیں ہوتی اس لیے کہ قوی دلیل کی موجودگی میں ضعیف دلیل ساقط ہوجاتی ہے ۔
____________________
(۱) دلائل الصدق :۲ ۳۹۔
اسی طرح علم کی موجودگی میں کسی بھی چیز کی کہ جو ظن میں مؤثر ہو جیسے بینہ و شہادت وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔(۱)
لہذا حق ، علی ابن ابی طالب اور حضرت فاطمہ زہرا کے ساتھ ہے اور سب اس مسئلے سے واقف ہیں لیکن ان کی خواہشات نفسانی نے ان کو ابھارا کہ ایک ایسی چیز کا دعوی کریں کہ جو قرآن کریم ، سنت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور عقل سل یم کے مخالف ہو ۔
آپ کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ مامون عباسی کے حضور میں بہت سے علماء جمع تھے کہ مسٔلہ فدک اور پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی میراث کا مسٔلہ چھڑگیا، مامون نے سب کو لاجواب کردیا اس طرح کہ مامون نے حضرت علی کے فضائل کے بارے میں علماء سے سوال کیاان لوگوں نے آپ کے متعدد و نایاب فضائل بیان کیے اور پھر حضرت فاطمہ زہرا کے متعلق پوچھا تو آپ کے بارے میں بہت زیادہ فضائل کہ جو آپ کے والد گرامی سے مروی تھے نقل کیے ۔ پھر ام ایمن اور اسماء بنت عمیس کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت نقل کی کہ وہ دونوں اہل بہشت ہیں ۔
تب مامون نے کہا کیا جائز ہے کہ یہ کلام یا اعتقاد کہ علی ابن ابی طالب اتنے زہد و تقوی کے باوجود ناحق فاطمہ کی طرف سے گواہی دیں جب کہ خداوندعالم اور رسول خدا نے اتنے زیادہ فضائل کی ان کے متعلق گواہی دی ہے ۔
____________________
(۱) الشافی فی الامامة : ۴ ۹۶ـ ۹۷۔ اسی سے نقل ہوا ہے شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید ) : ۱۶ ۲۷۳ـ ۲۷۴۔
کیا یہ جائز ہے کہ آنحضرت کے اتنے علم و فضل کے باوجود یہ کہا جائے کہ فاطمہ معصوم ہونے کے باوجود اور یہ کہ وہ عالمین کی عورتوں کی سردار اور اہل بہشت کی عورتوں کی سردار ہیں جیسا کہ آپ حضرات نے روایت کی ہے ایک ایسی چیز کا مطالبہ کریں کہ جو ان کی نہ ہو!۔اور اس کے ذریعہ تمام مسلمانوں کے حق میں ظلم کریں اور اس حق پر خدوندیکتا کی قسم کھائیں ۔
کیا جائز ہے کہ یہ کہا جائے کہ ام ایمن و اسماء نے ناحق گواہی دی ہے جبکہ وہ دونوں اہل بہشت ہیں ؟۔
بیشک حضرت فاطمہ زہرا اور ان کے گواہوں پر طعنہ زنی گویا کتاب خدا پر طعنہ اور دین خدا سے کفر ہے ۔ خداکی پناہ کہ یہ کلام صحیح ہو ۔(۱)
نہیں معلوم کہ کیسے ابوبکر نے علی کی گواہی کورد کیا جب کہ علی کامقام و مرتبہ خزیمہ بن ثابت ذوالشہادتین سے کم نہ تھا(۲) بلکہ عل ی ان سے بہت بلند و بالا ہیں ، وہ ہر عیب و رجس سے پاک ہیں ، وہ رسول خدا کے بھائی ہیں بلکہ وہ رسول خدا کے نفس و جان ہیں ۔
اوراگر اس کلام سے غض نظر کی جائے اور تسلیم کرلیا جائے کہ امام کی گواہی ایک عام مسلمان عادل کی گواہی سے زیادہ نہیں ہے تو بھی ابوبکر ایک شاہد کی جگہ پر حضرت فاطمہ زہرا کو قسم دے سکتے تھے آپ قسم کھاتیں اور مسٔلہ حل ہوجاتا جبکہ یہ کام ابوبکر نے نہیں کیا ! کیوں؟ ۔
بلکہ ابوبکر نے صرف علی کی گواہی اور ام ایمن و اسماء کی گواہی کو رد کیا ۔
____________________
(۱) الطرائف ۲۵۰۔
(۲) یعنی ان کی گواہی دو گواہوں کی گواہیوں کے برابر ہے ۔
خدا کی قسم یہ مصیبت ہے بلکہ فتنہ ہے کہ جس سے بہت سے مقدسات آلودہ ہوگئے ہیں ، اور رسول خدا کے نا م سے احکام خدا میں تغیر اور دین خدا کو تبدیل کیا گیا ہے ۔
حضرت فاطمہ زہرا بتول حق بجانب ہیں کہ یہ کہیں :
( الافی الفتنة سقطوا وان جهنم لمحیطة بالکافرین ) (۱)
آگاہ ہوجاؤ کہ وہ لوگ فتنے میں جاپڑے ہیں اور بیشک جہنم کافروں کو گھیرے ہوئے ہے(۲)
مناسب ہے کہ ہم یہاں علی بن فارقی( کہ جو ابن ابی الحدید کے استادوں میں سے ہے )کا کلام پیش کریں جس وقت ابن ابی الحدید نے اس سے سوال کیا کہ کیا حضرت فاطمہ زہرا اپنے اس دعوی میں کہ فدک نحلہ و ہدیہ ہے کہ جو پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کو اپنی زندگی ہی میں عطا کردیا تھا ، سچی تھیں؟۔
فارقی نے جواب دیا: جی ہاں ۔
ابن ابی الحدید نے کہا: پس کیوں ابوبکر نے اس علم کے باوجود کہ حضرت فاطمہ زہرا سچی ہیں فدک ان کو واپس نہیں کیا ؟۔
فارقی مسکرایا اور بہت لطیف جواب دیا کہ جو اس کی شخصیت اور مزاج و مزاح کے مطابق تھا وہ یہ کہ اگر ابوبکر آج صرف حضرت فاطمہ زہرا کے سچی ہونے کی بنیاد پر ان کے دعوی کی تصدیق کرتے اور فدک ان کو واپس کردیتے تو کل کو وہ اپنے شوہر کے لیے خلافت کا دعوی کرتیں ۔
____________________
(۱) سورہ توبہ (۹)، آیت ۴۹۔
(۲) یہ آیت حضرت فاطمہ زہرا کے خطبہ کا حصہ ہے کہ جس کا کچھ حصہ قبلا بھی گذر چکا ہے ۔
تو اب ابوبکر کے پاس کوئی جواب نہ تھا ۔ چونکہ جس بناء پر کل حضرت فاطمہ زہرا کی تصدیق کی تھی وہی بناء آج بھی موجود ہے کہ بغیر گواہی وبینہ حضرت فاطمہ زہرا، صدیقہ و سچی ہیں ۔(۱)
اب ہم پلٹتے ہیں اور سوال کرتے ہیں۔
کیا معقول ہے کہ جو چیز فاطمہ کا حق نہ ہو وہ اس کا مطالبہ فرمائیں، جب کہ وہ عالمین کی عورتوں کی سردار اور بہشت کی خواتین کی سردار ہیں ، اور ان کی طہارت و پاکیزگی و عصمت کے علاوہ خداوندعالم نے اپنی رضایت و غضب کو ان کی رضایت و غضب پر موقوف کردیا ہے ۔
کیاحضرت فاطمہ زہرا اس کا م سے مسلمانوں پر ظلم کرنا چاہتی تھیں اور ان کے مال کو غصب کرناچاہتی تھیں نعوذباللہ ۔
کیا حضرت علی کے لیے مناسب ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا کے حق میں ناحق گواہی دیں ؟ اور کیا ہوسکتا ہے کہ علی کی مخالفت کو حق بجانب فرض کیا جائے؟ جب کہ رسول خدا کا ارشاد گرامی ہے : '' علی حق کے ساتھ ہے اور حق علی کے ساتھ ہے ، پروردگار حق کو ادھر ادھر موڑ جدھر جدھر علی مڑے ''۔
اور کیا جائز ہے کہ ام ایمن کہ جن کے لیے جنت کی بشارت ہو وہ جھوٹی گواہی دیں؟۔
جی ہاں ہمارے بس کی بات نہیں ہے کہ ابوبکر اور حضرت فاطمہ زہرا دونوں کو پاک و پاکیزہ اور جھوٹ سے بری مانیں ، چونکہ اگر ابوبکر کو اپنے دعوی میں ـکہ جو قطعا جھوٹے ہیںـ سچا مانیں اور ان کی تصدیق کریں تو اس کے مقابل کے دعوی کی تکذیب کرنا ہوگی اور اگران کو جھوٹا مانیں ـجیسا کہ حق بھی یہی ہےـ تو حضرت فاطمہ زہرا سچی و صدیقہ ہیں ۔
____________________
(۱) شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) :۱۶ ۲۸۴۔
پس یہ ممکن نہیں ہے کہ ہم صدیقیت کو جمع کریں اور دونوں کو صدیق مانیں چونکہ یہ کام تناقض گوئی ہے۔
اور مندرجہ ذیل احادیث کے سلسلے میں بھی امر یہی ہے ۔
''من خرج علی امام زمانه '' جو شخص اپنے زمانے کے امام کے خلاف قیام کرے ۔ یا
''من مات ولیس فی عنقه بیعة'' جو شخص مرجائے اور اس کی گردن پر کسی امام کی بیعت نہ ہو ۔یا
''من لم یعرف امام زمانه '' جو شخص اپنے زمانے کے امام کو نہ پہچانتا ہو ۔ یا
''من خرج من طاعة السلطان شبرا '' جو شخص اپنے زمانے کے امام کی نافرمانی میں ایک بالشت بھی دورہو '' مات میتة جاھلیة '' تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہے ۔
اگرفرضاً ہم یہ قبول کرلیں کہ یہ احادیث مذکورہ ابوبکر کے امام زمان ہونے پر دلالت کرتی ہیں تو مطلب یہ ہوگا کہ حضرت فاطمہ زہرا کہ جو نص قرآنی اور حدیث رسول کے اعتبار سے پاک و پاکیزہ اور طیب و طاہر ، عالمین کی عورتوں کی سردار، خواتین بہشت کی سردارہیں، ان کی موت جاہلیت کی موت ہوگی ۔نعوذ بالله من ذالک ۔
لیکن اگر ابوبکر کے امام زمان ہونے میں شک کریں ، دلیل نہ ہونے کی وجہ سے اور ان کے یہاں امام ہونے کی صلاحیت و لیاقت نہ ہونے کی وجہ سے اور بزرگان صحابہ کی مخالفت کی وجہ سے جیسے علی ، عباس ، و افراد بنی ہاشم وزبیر ، مقداد اور سعد بن عبادہ وغیرہ ،تب حضرت فاطمہ زہرا کا خروج ابوبکر کے خلاف مناسب و جائز ہے اور آپ کا اعتقاد کہ ابوبکر منحرف ہوگئے ہیں صحیح ہے ۔
لہذا ممکن نہیں ہے کہ دونوں نظریوں کو ایک جگہ جمع کیا جائے اور دونوں کو صحیح مانا جائے ۔
کس طرح ابوبکر و عمر ، حضرت علی کی گواہی کو ردکرتے ہیںاور کہتے ہیں کہ علی نے اپنے حق میں گواہی دی ! جبکہ آنحضرت نہ دنیا کے طالب تھے اور نہ اس میں رغبت رکھتے تھے جیسا کہ کوئی بھی انسان ان کی سیرت یا کلام کہ جونہج البلاغہ میں مذکور ہے، کا مطالعہ کرے تو بخوبی اس حقیقت کودرک کرلے گا ۔ اور اسی سلسلے میں حضرت کا نامہ کہ جوعثمان بن حنیف والی بصرہ کو تحریر فرمایا ، موجود ہے کہ''وما اصنع بفدک و غیر فدک ، والنفس مظانها فی غد جدث'' (۱)
مجھے فدک و غیر فدک سے کیا مطلب جب کہ جان آدمی کا مقام قبر ہے ۔
ابوبکر نے حضرت علی کی گواہی کو قبول نہیں کیا اس لیے کہ وہ ان کے فائدے میں تھی تو پھر رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے خز یمہ بن ثابت کی گواہی کوکیوں قبول فرمالیا جب کہ وہ بھی آنحضرت کے فائدے میں تھی ، بلکہ اس کی گواہی کو دوگواہیوں کے مقابلے کا مقا م عطا فرمایا ؟!۔
اس شخص کی گواہی سے کس طرح یقین حاصل نہ ہوا کہ جس کے بارے میں پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا ہے :'' علی حق کے ساتھ ہے اور حق علی کے ساتھ اور حق علی پر موقوف ہے'' ۔(۲)
جبکہ ابوبکر کو یہ علم تھا کہ علی ، ثقلین ، یعنی دو گرانبہا چیزوں میں سے ایک ہے ، قرآن کریم کے مقابل ایک ثقل اور گرانبہا حصہ ہے ، وہ ایسا گواہ ہے کہ جس کی گواہی رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حق م یں خداوندعالم نے قبول کی ہے اور اس کو رسالت کا گواہ اور تصدیق کرنے والا قراردیا ہے ۔
____________________
(۱) نہج البلاغہ :۳ ۷۱، خط ۴۵۔
(۲)شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) : ۲ ۲۹۷۔ الفصول المختارہ ۹۷، حدیث ۹۷۔ التعجب (کراجکی)۱۵۔
لہذا ارشادہے ۔( افمن کان علی بینة من ربه و یتلوه شاهدمنه ) (۱)
کیا وہ شخص کہ جو اپنے پروردگار کی جانب سے روشن دلیل پر ہے اور اس کا گواہ بھی اس کی پیروی کرتا ہے (نامناسب بات کہہ سکتاہے)۔
اگر ان لوگوں کا استدلال کامل اور صحیح ہو کہ فدک کے مسئلے میں گواہی اپنے حدنصاب کو نہ پہنچ سکی چونکہ علی تنہا تھے اور ایک ام ایمن ۔ تو کیا خلفاء و حکام کی سیرت یہ نہیں رہی کہ ایک گواہ کی صورت میں دوسرے گواہ کی جگہ پر قسم کھلاتے اور قضیہ کو حل کردیتے تھے ۔
کتاب الشہادات کنزالعمال میں مذکور ہے کہ بیشک رسول خدا ، ابوبکر ، عمر اور عثمان ایک گواہ کی صورت میں ایک قسم کھلاتے اور فیصلے کرتے تھے ۔(۲) دارقطن ی نے علی سے روایت نقل کی ہے کہ ابوبکر و عمر اور عثمان ایک قسم اور ایک شاہد پر فیصلے کرتے تھے ۔(۳)
نیز حضرت علی سے روایت ہے کہ جبرئیل ، رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم پر نازل ہوئے یہ حکم الہٰی لے کر کہ ایک گواہ کی صورت میں ایک قسم لے کر فیصلہ کرو۔(۴)
ابن عباس سے منقول ہے کہ رسول خدا ایک گواہ اور ایک قسم سے حکم صادر فرماتے تھے ۔(۵)
____________________
(۱) سورہ ہود(۱۱) ، آیت ۱۷۔ اور دیکھیے :ـ الدرالمنثور :۳ ۳۲۴۔
(۲) کنزالعمال : ۷ ۲۶ ، حدیث ۱۷۷۸۶۔ دارقطنی سے منقول ہے ۔
(۳) سنن دارقطنی :۴ ۱۳۷۔ السنن الکبری (بیہقی ) :۱۰ ۱۷۳۔
(۴) کنزالعمال : ۵ ۸۲۶، حدیث ۱۴۴۹۸۔ الدرالمنثور :۶ ۱۳۵۔
(۵) صحیح مسلم :۵ ۱۲۸، کتاب الاقضیہ ،باب القضاء بالیمین و الشاہد۔
نووی نے صحیح مسلم کی شرح میں تحریر کیا ہے کہ جمہور علماء اسلام ، صحابہ و تابعین سے لیکر آج تک تمام بلاد اسلامی میں ایک گواہ اور ایک قسم کے ساتھ مالی امور میں فیصلے ہوتے ہیں اور اسی کے قائل ہیں ابوبکر، علی ، عمر بن عبد العزیز اور مالک بن انس ، شافعی ، احمد اور مدینہ کے فقہا ء ،علماء حجاز اور دیگر شہروں کے بڑے بڑے علماء و مفتی ، ان کی دلیل وہ روایات ہیں کہ جو اس سلسلے میں بہت زیادہ مذکور ہیں ۔(۱)
کتاب شرح التلویح علی التوضیح میں مذکورہے کہ امام علی سے روایت ہے کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ، ابوبکر و عمر اور عثمان ایک گواہی اور ایک قسم کے ساتھ حکم صادر کرتے تھے ۔(۲)
ہم اگر ان نصوص و روایات کو جمع کریں ابوبکر کے اس کلام و قضاوت کے ساتھ کہ جو انہوں نے حضرت فاطمہ زہرا کے ساتھ انجام دی اور آپ سے کہا کہ'' اے فاطمہ آپ اپنے قول میںسچی ہو اور عقل میں پختہ و کامل ہو آپ کا حق مارا نہیں جائے گا اور آپ کی سچائی و حقانیت سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی ''اور آخر میں کہا '' خداوندسچ کہتا ہے اور اس کے رسول نے سچ کہا اور اس کی بیٹی نے سچ کہا ''تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ ابوبکر جھوٹے ہیں اور اپنے کلام میں سچے و صادق نہیں ہیں ۔
اگر ابوبکر جو کچھ کہہ رہے تھے اپنے اس کلام میں سچے تھے تو پھر کیوں فدک حضرت فاطمہ زہرا کو واپس نہیں کیا ؟۔ اس لیے کہ حق کا یقین حاصل ہونے کے بعد حاکم کے پاس اور کوئی راستہ باقی ہی نہیں رہتا کہ قضیہ کے حل کے لیے کسی اور طریقے کی تلاش و جستجو کرے۔
____________________
(۱) شرح نووی علی مسلم۴۱۲۔
(۲) شرح التلویح علی التوضیح :۲ ۱۷۔
سنن ابی داؤد میں وارد ہے کہ حاکم کے لیے اگر ثابت ہوجائے کہ ایک گواہ بھی حق بجانب ہے اور سچا ہے تو اس کو چاہیے کہ اس پر اعتماد کرتے ہوئے فیصلہ کردے ۔(۱)
ترمذی نے اپنی اسناد کے ساتھ ابی جحیفہ سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا کہ میں نے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو دیکھا کہ آخر عمر میں گندمی چہرے کے ساتھ حکم کیا کہ ہم کو تیرہ ( ۱۳)جوان ناقے عطا کر یں گے ہم اس خیال میں چلے گئے کہ ان کو بعد میں لے لیں گے ،وقت کے ساتھ ساتھ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم ب ھی دنیا سے رخصت ہوگئے اور ہم کو کچھ نہ ملا ،پس جس وقت ابوبکر حاکم ہوئے اور کہا کہ جو کوئی بھی کہ جس کو رسول خدا نے وعدہ دیا ہو وہ آئے میں اس کو پورا کروں گا میں ان کے پاس گیا اور ماجرے کو نقل کیا تو انہوں نے حکم دیا کہ ناقے عطا کیے جائیں ۔(۲)
صحیح بخاری کی کتب الکفالة ،باب من یکفل عن میت دینا میں روایت نقل ہوئی ہے کہ جابر بن عبداللہ انصاری نے زمان ابوبکر میں دعوی کیا کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ اس کو مال بحرین میں سے کچھ حصہ عطا کریں گے ۔ پس ابوبکر نے بغیر اس کے کہ اس سے کوئی دلیل طلب کرتے اس کو بیت المال سے پندرہ سو دینار دیئے ۔(۳)
____________________
(۱) سنن ابی داؤد :۲ ۱۶۶۔
(۲) سنن ترمذی :۴ ۲۱۰، حدیث ۲۹۸۳۔ المعجم الکبیر: ۲۲ ۱۲۸۔
(۳) دیکھیے :ـ صحیح بخاری :۳ ۵۸، کتاب الاجارہ ، باب الکفالة فی القرض و الدیون ۔ و ۱۳۷ کتاب المظالم ،باب من لم یقبل الھدیة لعلة ۔
ابن حجر نے فتح باری باب من یکفل عن میت دیناً میں اس حدیث کی شرح میں کہا ہے کہ ا س کا مطلب یہ ہوا کہ صحابہ کی خبر واحد عادل بھی قابل قبول ہے چاہے وہ اس کے نفع و فائدے ہی میں کیوں نہ ہو۔(۱)
یہاں پر یہ سوال کرنا مناسب و معقول ہے کہ کیا ابوبکر کے نزدیک ابو جحیفہ اور جابر بن عبداللہ انصاری حضرت فاطمہ زہرا سے زیادہ سچے تھے ؟ خصوصا آپ کے شوہر صدیق کی گواہی کے باوجود بھی کہ جو نفس پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے وصی ہیں نیز ام ایمن و اسماء کی گواہی کے باوجود کہ وہ دونوں اہل بہشت ہیں ، یا یہ کہ مسٔلہ ایک سیاسی و حکومتی اور دنیوی تھا ۔
اس تمام گفتگو کے بعد بھی کیا ایجی کی ابوبکر کی جانب سے عذرتراشی آپ کو قانع کرسکتی ہے کہ جو اس نے تحریر کی ہے کہ۔
اگر یہ کہیں کہ حضرت فاطمہ زہرا نے ادعی کیا کہ فدک نحلہ ہے اور اس پر علی و حسن و حسین اور ام کلثوم نے گواہی دی تو پھر ابوبکر نے کیوں قبول نہ کیا اور ان کی گواہیوں کو رد کردیا ؟۔
تو اس کا جواب یہ ہے کہ حسن و حسین کی گواہی فرعیت کی وجہ سے (مدعی کے بیٹے ہونے کی وجہ سے رد ہوئی ) اور علی و ام کلثوم کی گواہی بینہ و شہادت کے حد نصا ب تک نہیں پہنچی تھی ۔ اور شاید ابوبکرکے نزدیک گوا ہ اور ایک قسم کا رواج نہ تھا چونکہ یہ بہت سے علماء کا نظریہ ہے ۔(۲)
____________________
(۱) فتح الباری :۴ ۳۸۹۔
(۲) المواقف (ایجی ) :۳ ۵۹۸، مقصد چہارم۔
اس کلام کو پڑھیے اور تعجب کیجیے اور خود ہی قضاوت و فیصلہ کیجیے چونکہ آپ ابوبکر کے نظریہ سے واقف ہوچکے ہیں کہ وہ ایک گواہ اور ایک قسم پر فیصلہ کرتے تھے ، بلکہ یہ بھی واضح ہوچکا ہے کہ وہ بغیر گواہی کے صرف ادعی پر بھی حکم کردیتے تھے اور مدعی کو مال دیتے تھے ۔
طرفین کے نزدیک جھوٹ بولنے کے اسباب
ا ب ذرا غور و فکر کرنے کے بعد آئیں دیکھیں کہ کیا ابوبکر واقعا سچے اور صدیق ہیں یا صدیق حضرت علی ابن ابی طالب ہیں ؟۔
حضرت امیر المؤمنین علی نے اپنے کلام میں اپنی اس مظلومیت کی طرف اشارہ فرمایا ہے :
'' مازلت مذ قبض رسول الله مظلوما و لقد بلغنی انکم تقولون علی یکذب قاتلکم الله فعلی من اکذب أ علی الله فانا اول من آمن به ام علی نبیه فانا اول من صدقه '' (۱)
جب سے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت ہوئی ہے تب ہی سے میں مظلوم ہوں اور مجھ کو خبر ملی ہے کہ آپ لوگ کہتے ہو کہ علی جھوٹ بولتے ہیں ،خدا آپ کو ہلاک کرے میں کس پر جھوٹ بولتا ہوں ؟ کیا میں خدا پر جھوٹ بولتا ہوں جب کہ سب سے پہلے اس پر میں ایمان لایا ہوں یا اس کے نبی پر جھوٹ بولتا ہوں ؟ جب کہ سب سے پہلے میں نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ک ی تصدیق کی ہے ۔
____________________
(۱) نہج البلاغہ: ۱ ۱۱۹، حظبہ ۷۱۔ خصائص الائمہ(سید رضی) ۹۹۔ الارشاد:۱ ۲۷۹۔ بحار الانوار :۳۹ ۳۵۲۔ ینابیع المودة :۳ ۴۳۶۔
امام کی اس فرمایش میں بہت دقیق اور بہت خوبصورت معانی اور ایک عظیم احتجاج و مناظرہ پوشیدہ ہے ۔ چونکہ حقیقت میں کیا دلیل و توجیہ پیش کی جاسکتی ہے اس بات پر کہ علی خدا پر جھوٹ بولیں جب کہ علی وہ شخص ہیں کہ جن کے بارے میں اور آپ کے خاندان کے بارے میں قرآن کریم کی متعدد اور بہت زیادہ آیات نازل ہوئی ہیں جیسے آیہ تطہیر ، آیہ مباہلہ ، آیہ مودت، سورہ دہر اور مذکورہ ذیل آیات کہ جن میں خداوندعالم کا ارشادگرامی ہے :
۱ـ( واعتصموا بحبل الله جمیعا ولا تفرقوا ) (۱)
اور سب اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑلو اور آپس میں تفرقہ مت ڈالو۔
تفسیر عیاشی میں مذکور ہے کہ علی ابن ابی طالب ، خداوندعالم کی مضبوط رسی ہے ۔(۲)
۲ـ( کونو امع الصادقین ) (۳) سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔
روایت میں آیاہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو جناب سلمان نے پوچھا کہ اے پیغمبرخدا کیا یہ آیت عام ہے یا خاص ؟ آنحضرت نے فرمایا تمام مومنوں کو حکم ہوا ہے کہ سچوں کے ساتھ ہوجائیں لیکن صادقین سے مراد خاص افراد ہیں میرے بھائی علی اور ان کے بعد اوصیاء قیامت تک۔(۴)
____________________
(۱) سورہ آل عمران(۳) ، آیت ۱۰۳۔
(۲) تفسیر عیاشی :۱ ۱۹۴، حدیث ۱۲۲۔
(۳) سورہ توبہ (۹)، آیت ۱۱۹۔
(۴)کمال الدین و تمام النعمة ۲۷۸، باب ۲۴، حدیث ۲۵۔
۳ ـ( ان هذا صراطی مستقیما فاتبعوه ولا تتبعوا السبل فتقرق بکم عن سبیله ) (۱)
بیشک یہ میرا سیدھا راستہ ہے پس اس کی پیروی کرو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ تم کو سیدھے راستے سے جدا کردیں گے ۔
روضة الواعظین میں مذکورہے کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ میں نے خدا وندعالم سے چاہا کہ اس آیت کو علی کے بارے میں قرار د ے خداوندکریم نے قبول فرمایا اور ایسا ہی کیا ۔(۲)
اور یہ بھی پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : میں وہی صراط مستقیم ہوں کہ جس کی پیروی کا خداوندعالم نے تم کو حکم دیا ہے اور میرے بعد علی ،صر اط مستقیم ہے اور اس کے بعد علی کی نسل میں سے میرے بیٹے خدا کی طرف سے سیدھا راستہ ہیں ۔(۳)
۴ـ( یا ایهاالذین آمنوا اطیعوا الله و اطیعو ا الرسول و اولی الامر منکم ) (۴)
اے ایمان لانے والو خدا کی اطاعت کرو اورر سول اور اولی الامر کی اطاعت کر و کہ جو تم ہی میں سے ہے ۔
____________________
(۱) سورہ انعام (۷)، آیت ۱۵۳۔
(۲) روضة الواعظین :۱ ۱۰۶۔
(۳) احتجاج طبرسی :۱ ۷۸ـ۷۹، حدیث الغدیر۔
(۴) سورہ نساء (۴)، آیت ۵۹۔
جابر ابن عبداللہ انصاری سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی میں نے رسول خدا سے سوال کیا : یارسول اللہ ہم نے اللہ اور رسول کو تو پہچان لیا لیکن یہ اولی الامر کون ہے ؟کہ جس کی اطاعت آپ کی اطاعت کے ساتھ ساتھ ہم پر واجب کی گئی ہے ، پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: اے جابر وہ میرے خلفاء اور مسلمانوں کے امام ہیں میرے بعد کہ ان میں سے اول علی ابن ابی طالب اور ان کے بعد حسن پھر حسین ہیں۔(۱)
۵ـ( فاسئلو ا اهل الذکر ان کنتم لا تعلمون ) (۲) آپ اگر نہ یں جانتے تو اہل ذکر سے سوال کرو ۔ روایات میں آیاہے کہ ذکر سے مراد پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اور اہل ذکر سے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اہل ب یت مراد ہیں ۔(۳)
۶ـ( ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین له الهدی و یتبع غیرسبیل المؤمنین نوله ما تو لی و نصله جهنم و سائت مصیرا ) (۴) راہ حق و ہدا یت روشن ہونے کے بعد بھی جو شخص پیغمبراکرم سے اختلاف کرے اور مؤمنین کے راستے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ اختیار کرے تو اس کو اسی راستے پر چھوڑدیں گے کہ جو اس نے اختیار کیا ہے اور اس کو جہنم تک پہنچادیں گے ،کہ جو بہت برا راستہ ہے ۔
____________________
(۱) ۱ کمال الدین و تمام النعمة ۲۵۳،باب ۲۳۔ حدیث ۳۔
(۲) سورہ نحل (۱۶)، آیت ۴۳۔
(۳) دیکھیے :ـ اصول کافی :۱ ۲۱۰، حدیث ۱ـ۳۔ تفسیر قمی :۲ ۶۸۔ تفسیر عیا شی :۲ ۲۶۰،حدیث ۳۲۔ بصائر الدرجات ۶۰،باب ۱۹، حدیث ۱۰و۱۳۔ (۴) سورہ نسائ(۴)، آیت ۱۱۵۔
۷ـ( انما انت منذر و لکل قوم هاد ) (۱)
بیشک آپ ڈرانے والے ہیں اور ہر قوم کے لیے ایک ہادی ہے ۔
تفسیر مجمع البیان میں مذکورہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول خدا نے فرمایا : میں ڈرانے والاہوں اور میرے بعد علی ہادی ہے اے علی ہدایت پانے والے آپ سے ہدایت پائیں گے ۔(۲)
۸ـ( انما ولیکم الله ورسوله والذین آمنوا الذین یقیمون الصلوة ویوتون الزکاة و هم راکعون ) (۳)
آپ کا ولی اور سر پرست صرف خدا ہے اور اس کا رسول اور وہ مومنین کہ جو نماز قائم کرتے اور حالت رکوع میں زکات دیتے ہیں (اور جو شخص بھی خدااور اس کے رسول اور ان مومنین کو اپنا ولی قراردے و ہ حزب اللہ کے دائرے میں ہے اور بیشک وہ افراد کہ جو حزب اللہ کے زمرے میں ہیں کامیاب ہیں )
کتاب کافی میں حضرت امام جعفر صادق سے روایت ہے کہ والذین آمنوا سے مراد علی اور قیامت تک آپ کی اولاد آئمہ ہیں ۔(۴)
____________________
(۱) سورہ رعد(۱۳)، آیت ۷۔
(۲) مجمع البیان :۵و۶ ۲۸۷۔
(۳) سورہ مائدہ (۵)، آیت ۵۵و ۵۶۔
(۴) اصول کافی :۱ ۲۸۸،حدیث ۳۔
حضرت امام محمد باقر سے روایت ہے کہ یہودیوں میں سے ایک گروہ نے اسلام قبول کیا اور پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس آئے اور آپ سے سوال کیا کہ آپ کا وصی اور جانشین کون ہے ، آپ کے بعد ہماراولی و سرپرست کون ہے ؟ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی( انما ولیکم الله و رسوله ) پیغمبراکرم نے ان لوگوں سے فرمایا اٹھیے اور مسجد کی طرف چلیے وہ سب کے سب مسجد کی طرف چل پڑے اسی دوران ایک فقیر کو دیکھا کہ جو مسجد سے باہر نکل رہا تھا پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے سوال کیا: اے سائل کیا تجھ کو کسی نے کچھ دیا ؟ اس نے کہا؟ جی ہاں یہ انگوٹھی ، پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے معلوم کیا : کس شخص نے یہ انگوٹھی تجھے دی ؟ فقیر نے کہا : اس شخص نے کہ جو نماز پڑھ رہا ہے ۔ آپ نے معلوم کیا : کس حالت میں یہ انگوٹھی تجھ کو دی ؟ اس نے کہا : حالت رکوع میں ۔
پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے یہ سن کر تکبیر کہی اور تمام اہل مسجد نے تکبیر کہی پھر پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: علی ابن ابی طالب آپ کا ولی و سرپرست ہے۔ سب نے کہا ہم راضی ہیں کہ اللہ ہمارا پروردگار، محمد ہمارا رسول ہے اور علی ابن ابی طالب ہمارے ولی و سرپرست ہیں ، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی( ومن یتول الله و رسوله ) (۱)
اور ان کے علاوہ بہت سی دوسری آیات کہ جو اس سلسلے میں نازل ہوئی ہیں اور تفاسیر و دوسری کتابوں میں ان باتوںکی طرف اشارہ ہوا ہے ۔
____________________
(۱) امالی (شیخ صدوق ) ۱۰۷ـ۱۰۸، مجلس ۲۶،حدیث ۴۔
پیغمبراسلام پر جھوٹ بولنا چاپلوسی ،چمچے اور تملق مزاج لوگوں کا کام ہے اور وہ یہ حرکت کرتے ہیں کہ جو خواہشات نفس کے پیروکار ہیں یا وہ افراد کہ جو حقیقت میں اسلام کے دشمن ہیں لیکن اپنے آپ کو مسلمانوں کی صفوں میں کھڑا کرلیا ہے ۔یا وہ لوگ کہ جنہوں نے اپنی قلعی و حقیقت کھلنے کے خوف سے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ستایا اور آپ پر جھوٹ کا الزام لگایا ہے یہ وہی لوگ ہیں کہ جو پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اوپر کوڑا پھینکتے تھے اور آپ کے راستے میں کانٹے بچھاتے تھے ۔
جبکہ حضرت امام علی ابن ابی طالب آپ کے چچا زاد بھائی ہیں اور وہ ہیں کہ جنہوںنے اپنی جان اور خون سے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی محافظت کی، آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سے دفاع ک یا اور آپ پہلے فرد ہیں کہ جنہوں نے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی نبوت و رسالت کو قبول کیا ، اور آپ سے خطرات کو ٹالنے کے لیے آپ کے بستر پر سوئے ، جو شخص اس طرح کا ہو اوراس طرح کے امتیازات رکھتاہو کیا یہ معقول ہے کہ وہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم پر جھوٹ بولے ؟۔
یہ کس طرح ممکن ہے کہ علی پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم پر جھوٹ کی تہمت لگائیں جب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ سیکڑوں حدیثین حضرت علی کے مدح میں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے مرو ی ہیں ، مذکورہ ذیل روایات صرف نمونے کے طور پر پیش خدمت ہیں کہ جو پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی کے بارے میں فرمایا :
٭''امام المتقین وقائد الغر المحجلین'' (۱)
علی متقین اور پرہیزگاروں کے امام اور سفید و نورانی پیشانی والوں کے قائد ہیں۔
____________________
(۱) اس حدیث کے منابع و مصادر سے آشنائی کے لیے دیکھیے :ـ المراجعات (شرف الدین) ۳۴۰، مراجعہ ۴۸۔
٭'' هذا امیر البررة وقاتل الفجرة منصورمن نصره مخذول من خذله'' (۱)
یہ علی، نیک وصالحین کے امیر ،فاسقین و فاجرین کے قاتل اور جو اس کی مدد کرے وہ کامیاب ہے اور جو اس کو پست و خوار سمجھے وہ خود ذلیل ہے ۔
٭'' انا مدینة العلم و علی بابها فمن اراد العلم فلیات الباب '' (۲)
میں علم کا شہرہوں اورعلی اس کے دروازہ ہیں پس جس کو علم چاہیے وہ دروازے سے داخل ہو۔
٭'' انت تبین لامتی ما اختلفوافیه من بعدی'' (۳)
آپ اے علی میرے بعد میری امت کے لیے وضاحت کریںگے جن مسائل میں وہ اختلاف کریں۔
____________________
(۱) مستدرک حاکم :۳ ۱۲۹۔ حاکم کا بیان ہے کہ اس حدیث کے اسناد صحیح ہیں اور بخاری و مسلم نے اس کو نقل نہیں کیا ہے ۔ تاریخ بغداد : ۴ ۴۴۱، ترجمہ ۲۲۳۱۔
(۲) المعجم الکبیر :۱۱ ۵۵(بہ نقل از ابن عباس )۔ مستدرک حاکم :۳ ۱۲۶(حاکم کا بیان ہے کہ اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں اور بخاری و مسلم نے اس کو نقل نہیں کیا ہے ) اور ۱۲۷ صفحہ پر اس حدیث کو جابر بن عبداللہ انصاری سے نقل کیا ہے ۔ فیض القدیر :۱ ۴۹۔ اسد الغابہ :۴ ۲۲۔
(۳) مستدرک حاکم:۳ ۱۲۲ ۔حاکم کا بیان ہے کہ اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں اور بخاری و مسلم نے اس کو نقل نہیں کیا ہے ۔ تاریخ دمشق : ۴۲ ۳۸۷۔
٭'' اناالمنذر و علی الهادی و بک یا علی یهتدی المهتدون من بعدی'' (۱)
میں ڈرانے والاہوں اور علی ہادی ہیں ، اور اے علی میرے بعدہدایت پانے والے آپ سے ہدایت پائیں گے ۔
٭'' ان الامة ستغدربک بعدی وانت تعیش علی امتی و تقتل علی سنتی من احبک احبنی ومن ابغضک ابغضنی و ان هذه ستخضب من هذا (یعنی لحیته من راسه )'' (۲) اے عل ی میرے بعد میری امت آپ سے خیانت کرے گی جب کہ آپ کی زندگی میرے آئین و روش پر ہوگی اور میری سنت کے احیاء میں قتل کردیے جاؤ گے اور جو آپ کو دوست رکھے وہ مجھ کو دوست رکھتا ہے اور جوآپ سے بغض رکھے وہ مجھ سے بغض، اور میر ا دشمن ہے ۔اور عنقریب آپ کی ڈاڑھی آپ کے سر کے خون سے رنگین ہوگی ۔
____________________
(۱) تفسیر طبری :۱۳ ۱۴۲(بہ نقل از ابن عباس) ۔ فتح الباری : ۸ ۲۸۵(ابن حجر کا بیان ہے کہ اس حدیث کے اسناد حسن ہیں ) ۔ الدر المنثور : ۴ ۴۵۔(اس ماخذ میں وارد ہے کہ اس حدیث کو ابن حجر ، ابن مردویہ اور ابونعیم نے المعرفت میں اور دیلمی ، ابن عساکر ، ابن نجار اور اسی طرح حاکم نے عباد بن عبداللہ اسدی سے کہ اس نے علی سے روایت کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور بخاری و مسلم نے نقل نہیں کیا ہے ) دیکھیے:ـ مستدرک حاکم :۳ ۱۳۰۔
(۲) اس حدیث کو حاکم نے مستدرک :۳ ۱۴۲ میں نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے اور ذہبی نے اس کو اپنی تلخیص میں صحیح جانا ہے ۔ کنزالعمال :۱۱ ۲۹۷، حدیث ۱۳۵۶۲۔اسی طرح کی روایت شیعہ طرق سے بھی نقل ہوئی ہے جیسا کہ عیون اخبار الرضا :۱ ۷۲، حدیث ۳۰۶، میں وارد ہے ۔
عمر بن خطاب سے منقول ہے انہوں نے کہا: علی کو تین ایسی خصلتیں ملیں کہ اگر مجھ کو ان میں سے ایک بھی مل جاتی تو اس سے کہیں زیادہ بہتر تھی کہ مجھ کو لال بالوں والے اونٹ دیئے جائیں ۔
لوگوں نے معلوم کیا کہ وہ علی کی کیا خصوصیتیں ہیں؟تو کہا : علی کی فاطمہ دختر رسول خدا سے شادی ہونا ، اور آپ کا پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ مسجدمیں سونا اور ہر وہ چیز کہ جو پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لیے مسجد میں حلال تھی آپ کے لیے بھی حلال تھی اور آپ کو روزخیبر علم کا دیا جانا ۔(۱)
مسلم نے سعد بن وقاص سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے ۔(۲)
اور اسی طرح کے مضمون کی روایت ابن عباس سے نقل ہوئی ہے ۔(۳)
جس کے حصے اور نصیب میں خدا اور رسول سے اس قدر فضائل و کمالات ہوں تو کیا اس کے لیے یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ وہ خدا اور رسول پر جھوٹ بولے ۔
صدیق اکبرحضرت علی اور صدیقہ کبری حضرت فاطمہ زہرا کی تصدیق نہ کرنا یا ان کی بات رد کرنا ـ ان دونوں کی فضیلت میں اتنی زیادہ احادیث صحیحہ و متواترہ ہونے کے باوجود ـ گویا رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم ک ی تکذیب کرنا ہے خصوصاًان روایات میں کہ جن کے صحیح ہونے پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے ۔
____________________
(۱) مصنف ابن ابی شیبہ :۷ ۵۰۰، حدیث ۳۶۔ مستدرک حاکم :۳ ۱۲۵۔(حاکم کا بیان ہے کہ اس حدیث کی اسناد صحیح ہیں اور بخاری و مسلم نے اس کو نقل نہیں کیا ہے ) ۔ مجمع الزوائد :۹ ۱۲۰۔
(۲) صحیح مسلم ۱۲۰ کتاب فضائل الصحابہ ، فضائل علی ۔ سنن ترمذی :۵ ۳۰۱، حدیث ۳۸۰۸۔
(۳) المعجم الاوسط : ۸ ۲۱۲ ۔ مجمع الزوائد : ۹ ۱۲۰۔ مستدرک حاکم :۳۰ ۱۱۱۔ تاریخ دمشق :۴۲ ۷۲۔ شواہد التنزیل : ۱ ۲۲۔
وہ لوگ کہ جو تاریخ اسلام کا حقیقت مندانہ مطالعہ کرتے ہیں وہ اچھی طرح درک کرلیتے ہیں کہ خدا اور رسول پر ان لوگوں نے جھوٹ بولا ہے کہ جن کے یہاں زمانہ جاہلیت کی طرف تمایل اور تعصب تھا ، یا خواہشات نفس کے تابع تھے ، یا حکومت و جاہ طلب، اور یا پھر فکری اعتبار سے پست تھے اور یہ لوگ عموماً وہ تھے کہ جو مسلمانوں کی تلوار کے خوف سے ایمان لائے تھے، اپنی جان کے خوف میں جہاد پر بھی نہ گئے اور اگر گئے بھی تو مسلمانوں کی صفوں میں رخنہ و تفرقہ ڈالا ۔ جیسے فتح مکہ کے دن اسلام قبو ل کرنے والے اور اس کے بعد والے یا منافق افراد وغیرہ۔
یہ تمام اسباب ـ کہ جن کی سزا اور بھگتان بہت سنگین ہے ـ حضرت علی ابن ابی طالب ، حضرت فاطمہ زہرا ، جناب خدیجہ اور تمام ہی اہل بیت علیہم السلام کے حق میں کہ جن کو خداوندعالم نے پاک و پاکیزہ رکھا ہے ، منتفی ہیں ، اور یہی وجہ ہے کہ صدیق اکبر حضرت امیر المؤمنین علی ابن ابی طالب کا ارشاد گرامی ہے :
'' ما کذبت ولا کذبت '' (۱)
نہ میں نے کبھی جھوٹ بولا اور نہ مجھ پر(رسول خدا کی جانب سے) کبھی جھوٹ بولا گیا ۔
اور یہ اسباب ، اہل بیت علیہم السلام کے پیرو وتابع حضرات جیسے سلمان ، مقداد ، ابوذر ، عمار ، ابن عباس ، حذیفہ بن یمان اور خزیمہ بن ثابت ذوالشہادتین وغیرہ کے یہاں بھی منتفی و محال ہیں
____________________
(۱) مسند احمد : ۱ ۱۳۹ـ۱۴۱۔ مستدرک حاکم:۲ ۱۵۴۔ (حاکم کا بیان ہے کہ یہ حدیث بہ شرط شیخین صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا ہے ) ۔ السنن الکبری (بیہقی ) :۲ ۳۷۱۔ مسند ابی داؤد ۲۴۔ المصنف(عبد الرزاق) :۳ ۳۵۸، حدیث ۵۹۶۲۔
اس لیے کہ ان حضرات کی صدق وصفائی اور فضائل میں خود رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایات وارد ہیں اور یہ لوگ صدق و صفائی میں مشہور ہیں ان پر سیاسی حوادث اور خواہشات نفس کا غلبہ نہیں ہوا اور ان میں سے کوئی ایک بھی حدیث کے جعل و گھڑنے اور جھوٹ سے متہم نہیں ہوا ہے ۔ ان کے بر خلاف حاکم اور ان کے پیروکاروں کے یہاں جعل حدیث اور جھوٹ کا بازار گرم ہے جیسے کعب الاحبار ، وھب بن منبہ ، سمرہ بن جندب اور ابوھریرہ وغیرہ ۔
جی ہاں ! حضرت فاطمہ زہرا کی سچائی اور راست گوئی کی تصدیق ہوئی ہے ۔ اور بیشک آپ اور آپ کے شوہرحضرت امیرالمؤمنین سیاسی امور وشخصی معاملات میں جھٹلائے گئے حضرت فاطمہ زہرا بیت الشرف سے باہر تشریف لائیں تاکہ لوگوں کو یہ تاکید کرسکیں کہ وہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم ک ی بیٹی ہیں اور وہ اپنے قول و فعل میں سچی ہیں ، پس جو کچھ بھی فرمائیں وہ غلط و جھوٹ نہیں ہے اور جوکام بھی انجام دیں وہ کسی کے حق میں ظلم و زیادتی نہیں ہے ۔
اے لوگو! یہ جان لو کہ میں فاطمہ اور میرے باپ محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ہ یں ، میرا اول و آخر کلام یہ ہے کہ میں کوئی غلط بات نہیں کہتی اور جو کام کرتی ہوں اس میں کسی پر ظلم و ستم نہیں کرتی ۔
( لقد جاء کم رسول من انفسکم عزیز علیه ما عنتم حریص علیکم بالمؤمنین رؤف رحیم ) (۱) خدا ک ی قسم آپ ہی میں سے آپ کے درمیان پیغمبرآئے کہ جس پر آپ کے رنج و تکلیف دشوار تھی اور جو آپ لوگوں کی کامیابی و سعادت کے لیے حرص و طمع کرتے اور مومنین کے متعلق بہت مہربان و دل سوز تھے ۔
____________________
(۱) سورہ توبہ(۹)، آیت ۱۲۸۔
اگر ان کے نسب کو دیکھنا ہے اور ان کو پہچاننا ہے تو دیکھوگے کہ وہ میرے باپ ہیں نہ کہ آپ کی عورتوں کے باپ ۔ اور میر ے ابن عم علی کے بھائی ہیں نہ کہ تم مردوں کے ، اور یہ کتنی نیک نسبت ہے کہ جومجھے ان سے ہے ۔
انہوں نے اپنی الہٰی رسالت کو انجام دیا اور خداوندعالم کی جانب سے عذاب کے اسباب و علل کو پہچنوادیا ہے ۔۔۔(۱)
ابوبکر اور ان کے پیرو کار و طرف دار حضرت فاطمہ زہرا کے اسلام میں مقام و منزلت سے اچھی طرح واقف تھے اور جان بوجھ کر آپ کی منزلت و شان میں تجاہل عارفانہ سے کام لے رہے تھے اور اپنے آپ کو نادانی میں ڈالے ہوئے تھے اور جہاں کہیں بھی حضرت فاطمہ زہرا کے مقا م کا اعتراف کیا وہ از راہ اکراہ تھا، حقیقت مندانہ نہیں تھا بلکہ اپنے نئے نئے حربوں سے آپ کو آپ کے مقام سے اوروہ منزلت کہ جو آپ کو خدا نے عطا فرمائی تھی گرانے کی کوشش کرتے تھے ۔
اگر ان لوگوں کے افعال کی بہترین توجیہ و تاویل کی جائے تو یہ ہوگی کہ وہ لوگ مقام رسالت و حقائق الہٰی سے ناآشنا تھے اور معرفت نام کی ان کے پاس کوئی چیز نہ تھی اگر امیر المؤمنین کے احتجاج پرکہ جو آپ نے ابوبکر پر کیا ، غور کریں تو معلوم ہوجائے گا کہ ابوبکر حقیقت وحی و رسالت کی کما حقہ معرفت نہیں رکھتے تھے ، چونکہ جب امیرالمؤمنین نے ان کی زبان سے یہ کہلوالیا کہ آیت تطہیر ان حضرا ت کی شان میں نازل ہوئی ہے تب فرمایا :
____________________
(۱) شرح الاخبار :۳ ۳۴۔ احتجاج طبرسی :۱ ۱۳۴۔ شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) :۱۶ ۲۱۲۔
اگر مسلمان یہ گواہی دیں کہ فاطمہ زہرا کسی غلط فعل کی مرتکب ہوئی ہیں تو آپ ان کے ساتھ کیا برتاؤ کریں گے ؟ ابوبکر نے کہا : عام مسلمان عورتوں کی طرح ان پر بھی حد جاری کروں گا !۔ آپ نے فرمایا : اس صورت میں آپ خداوندعالم کے نزدیک کافروں میں سے ہوں گے ۔ ابوبکر نے کہا: وہ کیسے ؟
آپ نے فرمایا : چونکہ حضرت فاطمہ زہرا کی پاکیزگی و طہارت پر خداوندعالم کی گواہی کو رد کردیا اور ان کے خلاف مسلمانوں کی گواہی کو قبول کرلیا ۔ اسی طرح خداوندعالم اور رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حکم کو فدک کے سلسلے م یں کہ جو آپ کے لیے قرار دیا تھا اورآپ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زندگی ہی میں اس کی مالک تھیں، رد کردیا ہے ۔
عالم غیب اور عالم مادہ
یہ واضح ہے کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ اور مشرکین عرب اپنی سطحی فکر پر زندگی گذار رہے تھے ، اگر ان کے حالات پر غور کریں تو روشن ہوجائے گا کہ وہ حقیقت رسالت کودرک نہ کرنے کی وجہ سے جو کچھ بھی پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم لائے تھے اس پر اعتراض کرتے اور کہتے تھے کہ کیوں پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ایک عظیم بادشاہ کی طرح نہیں ہیں ؟آپ کے پاس کیوں مال و دولت کے انبار نہیں ہیں ؟ ۔
کس طرح خد اوندعالم مردوں کو زندہ کرے گا ؟ کس طرح لوگ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جائیں گے ؟۔
اور اس طرح کے ہزاروں سوال ۔
یہ تمام سوالات مشرکین کی جانب سے ہیں کہ جن میں سے زیادہ تر مادی اور امور حسی سے مربوط ہیں کہ جن کا عالم غیب سے کوئی تعلق نہیں ہے جب کہ خداوندعالم نے مؤمنین سے غیب پر ایمان لانے کی فرمائش کی ہے کہ تمام حوادث کو ایک مادی نگاہ سے نہ دیکھا جائے بلکہ عالم غیب پر ایمان رکھا جائے ۔
حدیثی منابع و مصادر میں ابوبکر کے متعلق نقل ہوا ہے کہ وہ جنگ حنین میں بعض غیبی حوادث کے متعلق مادی نظر رکھتے تھے اسی لیے کہا کہ ہم آج قلت افراد کی وجہ سے اصلا کامیاب نہیں ہوسکتے!
خدا اور اس کے رسول نے اس مادی فکر کو پسند نہ فرمایا چونکہ ان کا مقصد ایمان اور غیبی مدد پر یقین کو تقویت دینا تھا ، لہذا ارشاد فرمایا :
( ویوم حنین اذاعجبتکم کثرتکم ) (۱)
اور روز حنین ان کی زیادتی نے تم کو تعجب میں ڈا ل دیا۔
بہت سے مسلمان اسی سطحی فکر پر ایمان لائے ہوئے تھے اور ان کی نظر اکثر امور کے متعلق مادی ہوا کرتی تھی ، ہر چیز کو اس کے ظاہری اعتبار سے دیکھتے اور اس کو معیار قرار دیتے تھے ،انبیاء و اولیا ء اور اللہ کے نیک بندوں کے مقامات اور ان کی معنوی شأن و منزلت کے متعلق شک و شبہہ کرتے اور یہ دعوی کرتے کہ ان حضرات کے بدن مٹی میں ملنے اور خاک ہوجانے کے باوجود کیسے یہ لوگ دوبارہ اٹھائے جائیں گے ؟ جب کہ یہ فکرظاہری ، حیات مادی اور دنیوی خیال کی وجہ سے ہے کہ جو زمانہ جاہلیت سے سرچشمہ لے رہی ہے اور اسی کی دین ہے ۔
اگر یہ لوگ خداوندعالم کے اس فرمان کو کہ جس میں ارشاد ہے (کم من فئة قلیلة غلبت فئة کثیرة باذن اللہ واللہ مع الصابرین )(۲) چہ بسا تھوڑے لوگ ، خدا وندعالم کے اذن سے ز یادہ لوگوں پر غالب آجاتے ہیں اور خداوندعالم صبر کرنے والوںکے ساتھ ہے ۔حقیقت میں درک کرتے تو انبیاء اور اوصیاء کے مقامات کو کہ جو خداوندعالم نے ان کو عطا فرمائے ہیں خوب سمجھ لیتے اور پھر کبھی شک نہ کرتے اور بے اساس و بے بنیاد اور بیہودہ باتیں نہ کرتے ۔
____________________
(۱) سورہ توبہ (۹) ، آیت ۲۵۔
(۲) سورہ بقرہ(۲)، آیت۲۴۹۔
ابلیس اپنی تمام خباثتوں کے ساتھ خداوندعالم سے مخاطب ہے کہ اپنی تمام تر کوششوں سے اولاد آدم کو بہکائے گا اور راہ حق سے گمراہ کرے گا لیکن ان افراد کے علاوہ کہ جن کو گمراہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ۔
( لا حتنکن ذریته الا قلیلا ) (۱)
میں یقینا آدم کی اولاد کے لگام ڈالوںگا اور ان پر مسلط ہوجائوں گا مگر کچھ افراد کے علاوہ ۔یا اس کا یہ کلام کہ:( فبعزتک لاغوینهم اجمعین الاعبادک منهم المخلصین ) (۲)
تیری عزت کی قسم میں ان سب کو گمراہ کر وں گا مگر سوائے تیرے مخلص بندوں کے ۔(۳)
____________________
(۱) سورہ اسراء (۱۷)، آیت۶۲۔
(۲) سورہ ص(۳۸)، آیت۸۲ـ۸۳۔
(۳) مخلص ،(زبر کے ساتھ) ، مخلص ،(زیر کے ساتھ)سے جدا اور ممتاز ہے ۔
مخلص، (زیر کے ساتھ)وہ شخص ہے کہ جو اپنے اعمال میں اخلاص سے کام لے اور یہ کوشش کرے کہ اس کی ہر حرکت ورفتار و گفتار صرف خدا کے لیے ہواور ریاکاری ، نفاق اور ہر وہ شیٔ کہ جس کو خدا وند پسند نہیں فرماتا اس کے عمل میںنہ پائی جائے ، اس اعتبار سے ہر انسان باایمان اور مخلص ، اخلاص کی راہ پر گامزن ہے اور خطروں سے بچا ہوا نہیں ہے ، اخلاص کے مراتب و مقامات ہیں کہ ہر شخص مخلص کے اخلاص کا درجہ جدا جدا ہے۔
لیکن مخلص، (زبر کے ساتھ) وہ شخص ہے کہ جو پیغمبروں کی توصیف میں آیا ہے اور ان کی ممتاز خصوصیتوں میں سے ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ خدا وندعالم کی جانب سے کسی بندے کا انتخاب یعنی اخلاص کے تمام مراحل کو طے کرکے خطاء و غلطی سے مصونیت و معصومیت کے درجہ پر فائز ہوگیا ہے ۔ اس حیثیت سے کہ اپنے نفس کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہے اور جن و انس اور شیطان کوئی بھی اس کو دھوکا نہیں دے سکتے ۔۔ ۔بقیہ اگلے صفحہ پر ۔ ۔ ۔
اسی بناء پر عالم غیب کے اسرار و رموز سے آگا ہی ہمارے لیے امکان فراہم کرتی ہے کہ ہم تمام امور میں جس مقام و حیثیت میں ہیں اس سے زیادہ حقیقت بینی سے کام لیں اور ان کو کما حقہ درک کرنے کی کشش کریں ۔
حق یہ ہے کہ کہاجائے کہ ہم پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ، حضرت فاطمہ زہرا اور آئمہ معصومین علیہم السلام کے مقامات کو درک نہیں کرپاتے چونکہ ان کا عالم غیبی و معنوی ہمارے سطحی عالم سے کہیں بلند و بالاہے اور ہمارے یہاں ان کے مقام کو درک کرنے اورسمجھنے کی صلاحیت نہیں ہے ۔
اسی وجہ سے وہ لوگ کہ جو مادی و سطحی فکر رکھتے ہیں جیسے عصر حاضر میں فرقہ وہابیت وہ لوگ اصلاً اس بات کو درک نہیں کرسکتے کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم چودہ صدیوں کے بعد آج بھی ہم پر گواہ و شاہد ہیں جب کہ یہ گواہی وشہادت خداوندمتعال کے کلام پاک میں موجود ہے۔
____________________
۔ ۔ ۔پچھلے صفحہ کا بقیہ۔ ۔ ۔
دوسر ے لفظوں میں یہ کہا جائے کہ مخلص (زبر کے ساتھ) وہ شخض ہے کہ جو توفیق الٰہی کے ساتھ تمام تر آزمائشات و امتحانات سے سربلند و کامیاب نکلا ہو اور کسی بھی فتنے میںاس کے قدم نہ ڈگمگائے ہوں ۔
جی ہاں ! اخلاص ایک وظیفہ ہے کہ جو ہر مخلص مرد و عورت اپنا شیوہ بناتا ہے ۔ اور مخلص (زبر کے ساتھ) خداوندعالم کی جانب سے ایک رتبہ اور مقام ہے اور ایک ایسی منزلت ہے کہ جو مسلسل علمی وعملی جہاد اور کوششوں کے بعد اور ایمان کے آخری درجہ پر فائز ہونے کے بعد ، خدا کے بعض بندوں کو نصیب ہوتی ہے اور ان کو خدا کا منتخب بندہ بناتی ہے ۔
( وکذالک جعلنا کم امة وسطا لتکونوا شهداء علی الناس و یکون الرسول علیکم شهیدا ) (۱) اور اسی طرح آپ کو درمیانی امت قرار دیا تاکہ آپ لوگوں پر گواہ رہیں اوررسول آپ پر گواہ ہو ۔
اسی طرح یہ دوسری آیت :( وقل اعملو فسیرالله عملکم و رسوله والمؤمنون و ستردون الی عالم الغیب والشهادة فینبٔکم بما کنتم تعملون ) (۲)
اے رسول کہدو کہ جوتمہارا دل چاہے انجام دو ، جبکہ اللہ تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے اور اس کا رسول اور مؤمنین آپ کے اعمال کو دیکھتے ہیں اور عنقریب آپ عالم غیب و شہادت کی طرف پلٹادیئے جائوگے تاکہ جو کام انجام دیتے ہو ان سے تم کو باخبر کردیا جائے ۔
اور خداوندعالم کا یہ ارشادگرامی :
( قل کفٰی بالله شهیدا بینی و بینکم ومن عنده علم الکتاب ) (۳)
اے رسو ل کہدو، میرے اور تمہارے درمیان گواہی کے لیے خدا کافی ہے اور وہ کہ جس کے پاس تمام کتاب کا علم ہے ۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا گواہی و شہادت اور پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا دوسروں کے اعمال کو دیکھنا صرف انپے ہم عصر اور صحابہ تک مخصوص ہے یا ہر زمانے اور مکان اور تمام نسلوں کوشامل ہے ۔
____________________
(۱) سورہ بقرہ (۲)، آیت ۱۴۳۔
(۲) سورہ توبہ(۹)، آیت ۱۰۵۔
(۳) سورہ رعد(۱۳) ، آیت ۴۳۔
اور پھر اس آیت کے کیا معنی ہیںکہ خداوندعالم کا ارشاد گرامی ہے :
( ولو انهم اذظلموا انفسهم جائوک فاستغفروا الله واستغفرلهم الرسول لو جدوا الله توابا رحیما ) (۱)
اے رسول ، اگر یہ لوگ اپنے اوپر ظلم و ستم کریں اور پھر آپ کے پاس آئیں کہ خود بھی خداوندعالم کے حضور استغفار کریں اور پیغمبر بھی ان کے لیے مغفرت کی دعا کرے تو خداوندعالم کو توبہ قبول کرنے والا اور رحیم پائیں گے۔
کیا یہ کلام صرف عصر رسول سے مخصوص ہے ؟ یا یہ کہ دوسرے زمانوں کو بھی شامل ہے ۔اور اگر یہ صرف عصر رسول سے مخصوص ہے تو کیا یہ آئندہ نسلوں پر ظلم و ستم نہیں ہے ؟۔
اور اس کے علاوہ گذشہ آیت میں گواہی و شہادت کے کیا معنی ہیں ؟ اور کس طرح مادی قوانین و ضوابط کی بنیاد پر کہ جو ہمارے یہاں پائے جاتے ہیں یہ تصور کیا جاسکتاہے کہ پیغمبراکرم انسانوں پر گواہ ہیں جبکہ وہ رحلت فرماچکے ہیں اور ظاہراً فوت ہوچکے ہیں ۔
یہ امور سب کے سب عالم غیب سے مربوط ہیں اور ان باتوں پر ایمان رکھنا لازم ہے اگرچہ ان کی حقیقت اور تفصیلی کیفیت سے ہم ناواقف ہوں چونکہ غیب پر ایمان ، خداوندعالم کی اس آیت( الذین یؤمنون بالغیب ) (وہ لوگ کہ جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں)اور فرمان کے مطابق ہر مسلمان پر واجب ہے ۔ جی ہاں! غیب کے معنوی معانی و مفاہیم ہماری اسلامی زندگی میں بہت زیادہ پائے جاتے ہیں کہ جن کی معرفت ہم پر لازم ہے ۔
____________________
(۱) سورہ نساء (۴) ، آیت ۶۴۔
میرے عقیدے میں ، اس روش کو تو جہ کا مرکز قرار دینا بہت زیادہ ضروری ہے اس لیے کہ یہ روش اعتقادی مسائل کےـ کہ جن کی گہرائی تک دوسرے نہیں پہنچ سکتے ـحل ہونے کا سبب ہے ۔ چونکہ تمام امور کو مادی و سطحی نظر سے دیکھنا وہابیت و مارکسیستی نظریہ ہے ،کہ جو اسلامی نظریہ سے بہت دور ہے ، یہ نظریہ آخری دوصدیوں میں مسلمانوں کے ایمان اورا نبیاء و صالحین کے مقامات و منزلت میں تغافل و بے تو جھی کی وجہ سے وجود میں آیا ہے ۔
غیب پر ایمان ، تقریباً خداوندعالم کے لیے تمام موجودات کے تسبیح کرنے کی طرح ہے کہ جس کو ہم درک نہیں کرپاتے یا جس طرح خداوندعالم ،ماہ مبارک رمضان میں اپنے بندوں کی مہمان نوازی کرتا ہے ، لیکن یہ میزبانی عام انسانوں کی ایک دوسر ے کی میزبانی کی طرح نہیں ہے چونکہ اکل و کھانے کا مفہوم خداکے نزدیک ہمارے یہاں کے مفہوم سے جدا و متفاوت ہے ، اسی طرح مفہوم شہادت و شہود ہیں اور دیگراصطلاحات کہ جن کا دوسری جہت اور معنوی اعتبار سے اسلام کے اصل افکار میں لحاظ رکھا گیا ہے ، ان کو سطحی فکر اورپست خیالی سے درک نہیں کیا جاسکتا۔ ان امور کو صحیح اور کامل صرف پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سمجھ سکتے ہیں اور وہ افراد کہ جن کے پاس علم کتاب ہے ۔
پس اس تمام گفتگو کے بعد عرض کرتے ہیں کہ امت اسلامی کے بہت سے افراد ، پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانے یا ان کے بعد ، حقیقت رسالت اور رسول خدا کے معنوی مقام کو درک نہیں کرتے تھے یا نہیں چاہتے تھے کہ کما حقہ درک کریں ۔
اسی بناء پر آنحضرت سے ایک آدمی و معمولی انسان کی طرح ملتے اور ارتباط رکھتے اور یہ اعتقادرکھتے کہ ان کے یہاں امکان خطاء و صواب ہے اور وہ غصے میں وہ بات بھی کہہ سکتے ہیں کہ جو رضایت و خوشنودی میں کبھی بھی زبان پر نہیں لاسکتے ۔
امیرالمؤمنین یہی چاہتے تھے کہ ابوبکر کے لیے یہ واضح کردیں کہ وہ اسلامی عقیدہ کی گہرائی تک نہیں پہنچے اور اپنے کاموں میں قرآن کریم کے خلاف عمل کررہے ہیں اور تمام امور میں سطحی فکر رکھتے ہیں اور سادہ لوحی و پست خیالی سے کام لے رہے ہیں جبکہ اس کے بر خلاف امیر المؤمنین اپنی ہر گفتار و رفتار اور ہر احتجاج و مقام پر باآواز بلند یہ آشکار فرمارہے ہیں کہ وہ تمام وجود سے شأن رسالت اور اس کی گہرائی کو خوب سمجھتے ہیں اور پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حکم کو نماز سے بھی زیادہ مہم جانتے ہیں ۔
یہی وجہ ہے کہ پیغمبرا کرمصلىاللهعليهوآلهوسلم پر وح ی نازل ہوتے وقت کہ جب پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا سرمبارک علی کی آغوش میں ہے خدااوررسول کی اطاعت اور امتثال امر کی خاطر نماز کے لیے نہیں اٹھتے یہاں تک کہ سورج غروب ہوجاتا ہے اور نماز کی فضیلت کا وقت ختم ہوجاتا ہے ۔
لیکن علی کی یہ اطاعت شعاری خداوندمتعال کو اتنی پسند آئی ہے کہ آپ کے لیے سورج کو دوبارہ پلٹاتا ہے ۔(۱)
____________________
(۱) فتح الباری : ۶ ۱۵۵۔
ابن حجر کا بیان ہے کہ طحاوی نے شرح معانی الآثار :۱ ۴۶ اور طبرانی نے المعجم الکبیر :۲۴ ۱۵۱، حدیث ۳۹۰۔ اور حاکم و بیہقی نے دلائل النبوة میں اسماء بنت عمیس سے روایت نقل کی ہے ۔ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے سرمبارک کو علی کے زانو پر رکھا اور سوگئے ان کی نماز عصر کا وقت نکل گیا تو آنحضرت نے دعافرمائی پس سورج دوبارہ پلٹا اور علی نے نماز عصر ادا کی پھر سورج غروب ہوا ۔
اور اس کے بعد کہتا ہے کہ ابن جوزی نے اس حدیث کو اپنی کتاب موضوعا ت (گھڑی ہوئی حدیثیں) میں نقل کیا ہے جب کہ یہ خطاء و اشتباہ ہے اور ابن تیمیہ نے اپنی کتاب الرد علی الروافض میں بھی نقل کیا ہے ۔
اسی کے بالکل برعکس ابو سعید بن معلی انصاری کی حالت ہے کہ جو تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہے کہ وہ نماز میں مشغول تھا کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کو طلب فرمایا ، ابوسعید نے آنے میں تاخیر کی اور نماز کو پورے آرام و اطمیٔنان کے ساتھ انجام دیا پھر حضور کی خدمت میں حاضر ہوا ، رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس سستی و تاخیرپر اعتراض کیااور اس کو نصیحت فرمائی اس طرح کہ کیا نہیں سنا کہ خداوندعالم کا ارشادگرامی ہے ۔(۱)
( یا ایها الذین آمنوا استجیبولله و للرسول اذا دعا کم لما یحییکم ) (۲) اے ا یمان دارو جب کبھی خدا اور اس کا رسول تم کو بلائے اس کا جواب دو تاکہ تمہیں زندگی عطا ہو ۔
حدیث و تاریخ کی کتابوں میں مذکورہے کہ رسول خدا نے سواد بن قیس محاربی سے ایک گھوڑا خریدا اور اس نے بیچنے کے بعد انکار کردیا ، خزیمہ بن ثابت نے رسول خدا کی طرف سے گواہی دی ، رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے خز یمہ سے سوال کیا : آپ جب کہ ہمارے درمیان نہیں تھے تو آپ کس وجہ سے گواہی دے رہے ہو ، خزیمہ نے کہا آپ کی بات کی تصدیق کرتاہوںچونکہ میرا عقیدہ ہے کہ آپ حق کے علاوہ کچھ نہیں کہتے ، پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :
____________________
(۱) صحیح بخاری : ۵ ۱۴۶ و ۱۹۹ و ۲۲۲، کتاب التفسیر ۔ و جلد: ۶ ۱۰۳، کتاب فضائل القرآن ۔ مسند احمد :۳ ۴۵۰۔ وجلد: ۴ ۲۱۱۔ سنن ابی داؤد :۱ ۳۲۸، حدیث ۱۴۵۸۔ سنن نسائی (المجتبیٰ):۲ ۱۳۹۔ صحیح ابن حبان :۳ ۵۶۔ المعجم الکبیر :۲۲ ۳۰۳ ۔ سنن ترمذی :۴ ۲۳۱، حدیث ۳۰۳۶۔ مستدرک حاکم :۱ ۵۵۸۔ السنن الکبری (البیہقی ) :۲ ۲۷۶۔
(۲) سورہ انفال (۸)، آیت ۲۷۶۔
خزیمہ کی گواہی تنہا ہی کافی ہے اور کسی بھی معاملے میں ان کے ساتھ دوسرے گواہ کی ضرورت نہیں ہے ۔(۱)
آخر کلا م میں آپ کے لیے ایک روایت اور پیش کرتا ہوں کہ جو جابر بن عبداللہ انصاری سے منقول ہے کہ ایک اعرابی (دیہاتی عرب) کومیں نے دیکھا کہ وہ حضرت فاطمہ زہرا کے خانہ اقدس کے دروازے پر کھڑا کچھ مانگ رہا ہے کہ اپنا پیٹ بھر سکے ، بھوک کو مٹاسکے اور اپنے بدن کو چھپا سکے ۔ حضرت فاطمہ زہرا نے ہرن کی کھا ل اور درخت سلم کے پتے کہ جن پر حضرات حسنین سویا کرتے تھے لاکر دیے ۔ اوراس سے کہا : اے سائل اس کو لے لو امید ہے کہ خداونداس سے بہتر آپ کو عطا کرے گا کہ خوشحال ہوجائوگے۔
اعرابی نے کہا اے محمد کی بیٹی میں نے آپ سے بھوک کی شکایت کی تھی اور آپ ہرن کی کھا ل مجھے دے رہی ہیں، میں اس بھوک کی حالت میں اس کا کیا کرو ں گا ؟ حضرت فاطمہ زہرا نے جیسے ہی اس کی یہ باتیں سنیں اپنے گلے سے گردن بند کو کھولا اور سائل کودیدیا ۔ یہ گردن بند آپ کی چچا زاد پھوپی فاطمہ بنت حمزہ بن عبد المطلب نے آپ کو ہدیہ دیا تھا ۔ اور فرمایا اس کو لے لو اور بیچ دو ، امید ہے کہ خداوند اس کے بدلے میں آپ کو کوئی اچھی چیز عطا فرمائے ۔
اعرابی نے گردن بند کو لیا ،مسجد رسول میں حاضر ہوا ، دیکھا کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اصحاب کے درمیان تشریف فرماہیں ، اس نے کہا اے رسول خدا یہ گردن بند فاطمہ نے مجھے دیا ہے اور فرمایا ہے کہ اس کو بیچ دو تاکہ خداوندعالم آپ کے لیے کوئی بہترین اسباب فراہم کرے ۔
____________________
(۱) الآحاد والمثانی :۴ ۱۱۵۔ المعجم الکبیر :۴ ۸۷۔ مستدرک حاکم : ۲ ۱۸۔
پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم گریہ فرمانے لگے اور ارشاد فرمایا کس طرح خداوندعالم تیرے لیے اچھے حالات نہ لائے جب کہ یہ گردن بند فاطمہ بنت محمد اور سارے عالم کی شہزادی نے تجھے عطا فرمایا ہے ۔
تب عمار یاسر کھڑے ہوئے اور عرض کی اے رسول خدا کیا مجھ کو اجازت ہے کہ میں یہ گردن بند خرید لوں ؟۔
پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا : اے عمار اس کو خرید لو اگر جن و انس مل کر اس کو خرید نے میں آپ کے شریک ہوں تو خداوندعالم ان سب سے عذاب جہنم کو ختم کردے گا ۔
عمار نے کہا : اے اعرابی اس گردن بند کو کتنی قیمت میں بیچوگے ؟
اعرابی نے کہا : ایک پیٹ بھر نے کے قابل روٹی اور گوشت ، ایک بردیمانی کہ جس کو اوڑھ کر میں اپنے آپ کو چھپا سکوں اور اس میں اپنے پروردگار کی نماز و عبادت انجام دے سکوں اور ایک سواری و مرکب تاکہ میں اس کے ذریعہ اپنے اہل و عیال تک پہنچ سکوں ۔
عمار نے کہ جو فتح خیبر سے ملا ہوا اپنا حصہ بیچ چکے تھے ،کہا: تیرے اس گردن بند کو ۲۰ د ینا ر ایک چادر یمانی اور ایک سواری کہ جو تجھ کو تیرے اہل و عیال تک پہنچادے اور ایک وقت کا کھانا روٹی و گوشت کے ساتھ خرید تا ہوں ۔
اعرابی نے کہا : اے مرد اس مال کی بخشش میں کس قدر سخاوت مند ہو!۔
عمار جلدی سے اس کو اپنے ساتھ لے گئے اور جو کچھ اس سے طے پایا تھا بطور کامل ادا کیا ۔
اعرابی اس کے بعد پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے معلوم ک یا کہ کیا سیر ہوگئے اور پہننے کو بھی مل گیا ؟
اعرابی نے جواب دیا : اے رسول خدا میں اور میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں بے نیاز ہوگیا ۔(۱)
جناب عمار ، اہل بیت علیہم السلام کی منزلت اور مقا م کی معرفت رکھنے کی وجہ سے اس ہدیہ کی قدر وقیمت جانتے تھے ، لیکن اعرابی اپنے پیٹ بھر نے اور بدن چھپانے کے علاوہ کچھ اور اس کی نظر میں اس گردن بند کی قیمت نہ تھی ۔ لہذا عمار نے جو کچھ بھی اس سے وعد ہ کیا اس کو عطا کیا وہ خوشحال ہوگیا ۔جب کہ اس کویہ نہیں معلوم کہ اس نے کیا گھاٹا و نقصان اٹھایا ہے اور دوسر ے کو کیا فائدہ پہنچایا ہے ۔
یہ ہے معرفت اہل بیت اور اس معرفت کے لیے اور اس مقام تک پہنچنے کے لیے عمار جیسے ہی کافی ہیں ۔
بنابراین ،مقام معنوی کی معرفت اور مفاہیم الہٰی کو کما حقہ سمجھنے کو ہمارے لیے بہت زیادہ راستے اور دریچے کھلتے ہیں کہ جن کی شعاؤں میں ہم معانی معراج واسراء کو درک کرسکتے ہیں ۔
حضرت موسی کا خداوندعالم سے کلام کرنا سمجھ میں آسکتا ہے ۔ پیغمبراکرم صلىاللهعليهوآلهوسلم کا اس صاحب قبر سے کلام اور جواب دینا کہ جب اس نے آپ پر سلام کیا ، درک کرسکتے ہیں ہم جب آئمہ کو مخاطب کرتے ہیں اور ان کو بلاتے ہیں مدد کو پکارتے ہیں اور وہ ہماراجواب دیتے ہیں یہ باتیں سمجھ میں آسکتی ہیں ۔ اس لیے کہ الہٰی نقطہ نظر سے موت ، حیات جاودانی ہے نہ کہ فناء و نابودی ، وجود و ہستی ہے نہ کہ عدم و نیستی ۔
____________________
(۱) بشارة المصطفیٰصلىاللهعليهوآلهوسلم ۲۱۹۔ اور اس سے منقول ہے بحارالانوار:۴۳ ۵۷ میں۔
اسی لیے خداوندعالم نے موت و حیات کو ایک ساتھ خلق فرمایا ہے یعنی دونوں مخلوق و موجود ہیں ۔ جیسا کہ ارشادہے ۔
( تبارک الذی بیده الملک وهو علی کل شیٔ قدیر الذی خلق الموت و الحیاة لیبلوکم ایکم احسن عملا ) (۱)
مبارک ہے وہ ذات کہ جس کے قبضہ قدرت میں حکومت وفرمانروائی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ وہ ہی ہے کہ جس نے موت اور حیات کو پیدا کیا تاکہ آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل انجام دیتا ہے ۔ لیکن اگر موت ، زندگی ہے تو پھر اس دنیوی زندگی سے اس کی وجہ شباہت کیا ہے؟۔ اور کیا معقول ہے کہ ایک شخص بغیر کچھ کھائے پئے اور بات کیے زندہ رہ سکتا ہے ؟۔
لازم ہے کہ یہ امور و مسائل بیان ہوں اور ان کے متعلق بحث کی جائے ،لیکن واقعا بہت زیادہ افسوس کا مقام ہے کہ امت اسلامی کے بہت سے افراد وفرقے اس فکر کی گہرائی تک نہیں پہنچتے اور اس کو خوب درک نہیں کرتے اور پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم و آئمہ طاہرین کے بارے میں عام و عادی انسان کی طرح فکر کرتے ہیں اور ان کے معنوی مقام ، الہٰی موہبات و ملکوتی درجات کو نظرانداز کردیتے ہیں ۔
یہی سبب ہے کہ آپ دیکھتے ہیں کہ ابوبکر ، آیہ تطہیر کی حقیقت کو درک نہیں کرتے اور ایک عام مسلمان عورت کی طرح حضرت فاطمہ زہرا سے سلوک روا رکھتے ہیں جب کہ ابوبکر کا یہ عمل قرآن کریم اور شریعت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بالکل خلاف ہے ۔
____________________
(۱) سورہ ملک (۶۷)، آیت ۱ـ۲۔
جی ہاں ! کبھی کبھی الہٰی مقامات کی معرفت نہ ہونا اور مخلص (زبر کے ساتھ ) بندوں کو نہ سمجھنا سبب بنتا ہے کہ ان کے ساتھ ایسا برتاؤ کیا جائے اور کبھی کبھی شخصی مفاد و مادی غرض سبب ہوتا ہے کہ ان بزرگواروں کے ساتھ یہ سلوک کیا جائے ۔ اگر چہ جو کچھ بھی واقع ہوا ہے وہ دوسرے سبب سے زیادہ نزدیک ہے ۔
صدیقیت کے کچھ معیار
گذشتہ گفتگو سے آپ پر روشن ہوگیا ہے کہ سچا اور صادق کو ن ہے اور جھوٹا و کاذب کون؟ ۔
اب ہم چاہتے ہیں کہ یہ واضح کریں کہ الہٰی نظام میں صدیقیت کیا ہے اور صدیق و صدیقہ کون ہیں ؟ چونکہ صدیق و صدیقہ کا مرتبہ صادق و صادقہ سے کہیں بلند و بالاہے ، اس لیے کہ وہ مبالغہ کا صیغہ ہے اور قرآن کریم میں انبیاء کی صفت کے طور پر واقع ہوا ہے ۔
جیسا کہ خداوندعالم کا ارشاد گرامی ہے حضرت یوسف کے بارے میں :
( یوسف ایهاالصدیق ) (۱) یوسف اے صدیق اور بہت زیادہ سچے ۔
اور حضرت ابراہیم کے لیے ارشاد ہوا:( واذکر فی الکتاب ابراهیم انه کان صدیقا نبیا ) (۲) اور کتاب م یں یاد کرو ابراہیم کو کہ وہ صدیق نبی تھے ۔
اور حضرت ادریس کے متعلق مذکورہے:
( واذکر فی الکتاب ادریس انه کان صدیقا نبیا ) (۳) اور کتاب م یں یاد کرو ادریس کو کہ وہ صدیق نبی تھے ۔
____________________
(۱) سورہ یوسف(۱۲)، آیت ۴۶۔
(۲) سورہ مریم (۱۹)، آیت ۴۱۔
(۳) سورہ مریم (۱۹)، آیت ۵۶۔
قرآن کریم میں یہ القاب و اصاف کسی عام اور غیر معصوم کو عطا نہیں کیے گئے ، لہذا صدیقیت انبیاء و اوصیاء کی صفت ہے اور اگر اس کے معنی ، مفہوم اور مدلو ل کو وسعت سے دیکھیں تو ممکن ہے کہ نیک و صالح بندوں کو بھی شامل ہوجائے کہ جو انسان کامل ہیں اور خدا وندعالم اور اس کے رسول پر دل سے ایمان اور عقیدہ رکھتے ہیں نہ کہ وہ افراد کہ جو صرف زبان سے اظہار ایمان کرتے ہیں اور مصلحتاً ایمان لائے ہیں
اس موضوع کو اور زیادہ روشن کرنے کے لیے اور جس کا جو مقام ہے اس کو وہ مقام دینے کے لیے ضروری ہے کہ صدیقیت کے کچھ معیار اور مشخصات کو بیان کیا جائے چونکہ معیار و مشخصات، انسانی زندگی کی ارتقاء اور ارزش میں ایک عمدہ و عالی مقام رکھتے ہیں اور اس کے بعد اس موضوع کے افراد پر تطبیق کریں گے۔
اولـ صدق و سچائی
صدیقیت کی سب سے پہلی خصوصیت یہ ہے کہ صدیق اپنے کلام و گفتگو میں صادق و سچا ہو چونکہ خداوندمتعال نے جھوٹے و کاذب شخص کو اپنے اوپر ظلم کرنے والا قراردیا ہے ۔لہذا ارشاد ہے :
۱ ـ( ومن اظلم ممن افتری علی الله کذبا او کذب بآیاته )
(۱) اور اس سے ز یادہ ظلم کرنے والا کون ہے کہ جو خدا پر جھوٹ بولے اور اس کی آیات کی تکذیب کرے اور جھٹلائے ۔
____________________
(۱) سورہ انعام (۶)، آیت ۲۱۔ سورہ اعراف (۷) ،آیت۳۷۔ سورہ یونس (۱۰)، آیت ۱۷۔
۲ـ( ومن اظلم ممن افتری علی الله کذبا او کذب بالحق لما جائه ) (۱) اور اس سے زیادہ ظلم کرنے والا کون ہے کہ جو خدا پر جھوٹ بولے اور اس کی آیات کی تکذیب کرے کہ جب وہ حق کے ساتھ آئے ۔
۳ـ( فمن اظلم ممن افتری علی الله کذبا لیضل الناس بغیرعلم ) (۲) پس اس سے ز یادہ ظلم کرنے والا کون ہے کہ جو خدا پر جھوٹ بولے تاکہ لوگوں کو بغیر علم و معرفت کے گمراہ کرے۔
۴ـ( ومن اظلم ممن افتری علی الله کذبا اولٰئک یعرضون علی ربهم ) (۳) اور اس سے ز یادہ ظلم کرنے والا کون ہے کہ جو خدا پر جھوٹ بولے ،یہ ظالم افراد خدا کے حضور پیش کیے جائیں گے ۔
۵ـ( فمن افتری علی الله الکذب من بعد ذالک فاولٰئک هم الظالمون ) (۴) پس اس کے بعد جو بھ ی اللہ پر جھوٹ بولے پس وہ ہی افراد ظالم ہیں ۔
یوسف صدیق نے عزیز مصر سے کہا :
____________________
(۱) سورہ عنکبوت (۲۹)، آیت ۶۸۔
(۲) سورہ انعام(۶)، آیت ۱۴۴۔
(۳) سورہ ھود (۱۱)، آیت ۱۸۔
(۴) سورہ آل عمران (۳)، آیت ۹۴۔
( قال هی راودتنی عن نفسی ، شهد شاهد من اهلها ان کان قمیصه قد من قبل فصدقت وهو من الکاذبین و ان کان قمیصه قد من دبر فکذبت وهو من الصادقین فلما رایٔ قمیصه قد من دبر قال انه من کیدکن ان کیدکن عظیم ) (۱)
یوسف نے کہا : یہ زلیخا چاہتی ہے کہ مجھ کو اپنے نفس کی طرف کھیچے اور اس کے گھرانے کے ایک گواہ نے گواہی دی کہ اگر یوسف کی قمیص آگے سے پھٹی ہوتو یہ سچی ہے اور یوسف جھوٹے ہیں اور اگر دامن پیچھے سے پھٹا ہوتو یہ جھوٹی اور یوسف سچے ہیں ، تو جب قمیص کو دیکھا گیا تو اس کا دامن پیچھے سے پھٹا تھا ، تو عزیز مصر نے زلیخا سے کہا یہ تمہاری چلتر بازی ہے اور تم عورتوں کی چلتر بازیاں بہت عظیم ہیں ۔
اسی بنیاد پر حضرت امیر المؤمنین نے خداوندعالم کے اس قول( فمن اظلم ممن کذب علی الله و کذبا لصدق اذ جا ئه ) (۲) کے بارے م یں فرمایا : صدق سے مراد ہم اہل بیت کی ولایت ہے ۔(۳)
جیسا کہ اس سے پہلے بھی بیان ہوچکا ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا نے اپنے مشہور خطبہ میں ابوبکر کے تمام دعووں کوجھوٹ قرار دیا اور فرمایا :
____________________
(۱) سورہ یوسف(۱۲)، آیا ت ۲۶ـ۲۸۔
(۲) سورہ زمر (۳۹)، آیت ۳۲۔
(۳) مناقب ابن شہر آشوب :۳ ۹۲ ۔ امالی طوسی ۳۶۴، مجلس ۱۳، حدیث ۱۷۔
کیا تم لوگ قرآن کریم کے خاص وعام کو میرے باپ اور ابن عم علی سے زیادہ جانتے ہو تو لو یہ فدک اپنے پاس رکھو کہ روزقیامت ایک دوسرے کا آمنا سامناکروگے کہ خدا بہترین حاکم اور محمد بہترین رہبر و قائد اور بہترین وعدہ گاہ قیامت ہے ۔ اور روز قیامت اہل باطل نقصان و خسارے کو دیکھیں گے اوراگر پشیمان و شرمندہ ہو ئے تو یہ شرمندگی تم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا ئے گی۔
اور ہر خبر کے لیے اس کا واقع ہونے کا وقت معین ہے(۱) ۔ اور بہت جلد ی جان لو گے کہ کس پر ذلیل کرنے والا عذاب آنے والا ہے اور اس کو ہمیشہ کے عقاب اور دردناک عذاب میں مبتلا و غرق کرنے والا ہے۔(۲) اور پھر خداوندمتعال کے اس کلام ک ی طرف اشارہ فرمایا :
( ومامحمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل أفان مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم ومن ینقلب علی عقبیه فلن یضرالله شیأ و سیجزی الله الشاکرین ) (۳)
اور محمد کچھ نہیں ہیں سوائے رسول کے کہ ان سے پہلے بھی رسول آئے ہیں ، کیااگر وہ مرجائیں یا قتل کردیے جائیں آپ اپنے گذشتہ (آداب و رسوم اور جاہلیت) کی طرف پلٹ جائو گے اور جو بھی اپنے گذشتہ اور پیچھے کی طرف پلٹے تووہ خدا کو کوئی ضرر و نقصان نہیں پہنچائے گا اور بہت جلدی خداوند اپنے شکر گذار بندوں کو جزادینے والا ہے ۔
____________________
(۱) سورہ انعام (۶)، آیت ۶۷۔
(۲) اس کلام کا مضمون سورہ ھو د (۱۱) ، آیت ۳۹۔میں آیا ہے صرف اس فرق کے ساتھ کہ سوف کے بجائے فسوف ہے اور عذاب عظیم کی جگہ عذاب مقیم آیا ہے ۔
(۳) سورہ آل عمران (۳) ، آیت ۱۴۴۔
ابوبکر نے حضرت فاطمہ زہرا کو جواب دیا کہ میں نے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا : ہم صنف انبیاء سونا چاندی اور گھر و جنگل میراث نہیں چھوڑتے بلکہ صرف کتاب و حکمت اورعلم و نبوت کو میراث میں چھوڑتے ہیں ۔
حضرت فاطمہ زہرا نے فرمایا:
سبحان اللہ ، پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ، کتاب خدا سے روگردان نہ تھے اور اس کے احکام کی مخالفت نہیں کرتے تھے بلکہ اس کی پیروی فرماتے اور قرآن مجید کے سوروں کی رسیدگی کرتے ،کیا دھوکا دینے کے لیے جمع ہوئے ہو اور اس پر ظلم و ستم کرنے اور زور گوئی کرنے کے لیے اکھٹا ہوئے ہو ؟یہ کام ان کی وفات کے بعداسی کی مانند ہے کہ جیسے ان کی زندگی میں دھوکے اور مکاریاں کی جاتی رہیں اور یہ بھی انہیں کی زندگی میں پروپیگنڈ ا تیار ہوا ۔
یہ خدا کی کتاب عادل و حاکم ہے اور حق وحقانیت کو باطل و ناحق سے جدا کرنے کے لیے موجود ہے ۔ کہ جس میں ارشاد ہے( یرثنی و یرث من آل یعقوب ) (۱) خدا یا مجھ کو فرزند عطا فرما کہ جو میرا اور آل یعقوب کا وارث قرار پائے ۔ اور ارشاد ہوا( وورث سلیمان داؤد ) (۲) سل یمان نے داؤد سے میراث پائی ۔ خدا وندعالم نے سب کے حصوں کو تقسیم کرنے کے لیے ، فرائض کو نافذ کرنے کے لیے اور مرد وں عورتوں کو ان کے حق کی ادائیگی کی خاطر تمام چیزوں کو آشکار و واضح کر دیا ہے تاکہ اہل باطل کی تاویلات کو ختم کیا جاسکے اور شبہات و بد گمانی کو دور کیا جاسکے ۔
____________________
(۱) سورہ مریم (۱۹ )، آیت ۶۔
(۲) سورہ نمل (۲۷)، آیت ۱۶۔
( بل سولت لکم انفسکم امراً فصبر جمیل و الله المستعان علی ما تصفون ) (۱) بلکہ تمہارے نفسوں نے تمہارے لیے یہ معمہ بنا کرکھڑا کیا ہے لہذا میں صبر کو بہترین راستہ سمجھتی ہوں خداوندمددگار ہے ۔
پس ابوبکر نے کہا خدا سچ کہتا ہے اور اس کا رسول سچ کہتا ہے اور اس کی بیٹی سچ کہتی ہیں،آپ معدن حکمت ، مقام و مرکز ہدایت و رحمت ، رکن دین اور عین حجت ہیں آپ کے سچے و صادق کلام کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور آپ کے بیان سے انکار نہیں کرسکتا ۔(۲)
اب یہاں دیکھ رہے ہیں کہ حضرت فاطمہ زہرا نے ابوبکر کی تکذیب کی جبکہ ابوبکر کو حضرت فاطمہ زہرا کی تکذیب پر جرأت نہیں ہوئی بلکہ آپ کے کلام کے صحیح ہونے کی تائید کی ۔اور آپ کی حق بیانی کا اعتراف کیا ۔
اس سے پہلے ، عمر کا کلام گذرچکا ہے کہ اس نے امیر المؤمنین سے کہا کہ ہم آپ کے مقابلے میں گفتگو کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔جب کہ اس دوران دیکھتے ہیں کہ ابوبکر سقیفہ میں انصار سے کہتے ہیں کہ ہم امراء اور آپ وزراء ہو ، اورپھر ان کا فعل و عمل ان کے قول کی تصدیق نہیں کرتا ، چونکہ انصار کو ہر طرح کی ذمہ داری اور منصب سے دور رکھا جاتا ہے چہ جائیکہ وزارت سونپی جائے ۔
اور ادھر قرآن و سنت کی تصریحات کو دیکھتے ہیں کہ حضرت علی کا تعارف ہوتا ہے کہ علی وہ شخص ہیں کہ جن کے متعلق کلمہ صادقین آیا ہے۔
____________________
(۱) سورہ یوسف (۱۲) ، آیت ۱۸۔
(۲) احتجاج طبرسی :۱ ۱۴۴۔
اور علی ہی کی مکمل زندگی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آپ صدیق اکبر ہیں اورآپ ہی سچوں کے امام ہیں ۔
شیخ طبرسی مجمع البیان میں آیہ( یا ایها الذین آمنوا اتقوا الله و کونو مع الصادقین ) (۱) ک ی تفسیر میں کہتے ہیں :
'' قرائت '' مصحف عبداللہ اور قرائت ابن عباس میں ہے '' من الصادقین'' اوریہ قرائت ابوعبداللہ امام صادق سے روایت ہے ۔
''لغت '' صادق ، سچ اور حق بولنے والے کو کہتے ہیں کہ جو حق پر عمل کرتا ہے چونکہ صادق، صفت مدح ہے اور اس صفت کو بطور مطلق اس وقت بیان کیا جاسکتا ہے کہ موصوف کی سچائی ، مدح و ستائش کے قابل و شائستہ ہو۔
'' معنی'' خداوندعالم نے مومنین کو کہ جو خدائے متعال کی وحدانیت اور رسول مکرم کی رسالت پر ایمان لاچکے اور تصدیق کرچکے ہیں ، ان سے فرمایا ہے''یا ایها الذین آمنوا اتقواالله'' یعنی خدا کی نافرمانی و معصیت سے اجتناب کرو''وکونوا مع الصادقین'' اور سچوں کے ساتھ ہوجائو ۔یعنی وہ لوگ کہ جو اپنے قول وعمل میں سچے ہیں اور کبھی جھوٹ نہیں بولتے ۔ اس کے معنی یہ ہیں اے مومنوں ایسے افراد کے مذہب کو اختیار کرو کہ جن کے قول ان کے افعال کے مطابق اور اپنے قول و فعل میں صادق و سچے ہیں ، ان کے ساتھ ہمراہی کرو۔ جیسا کہ آپ کا قول کہ میں اس مسئلے میں فلاں کے ساتھ ہوں یعنی اس مسئلے میں اس کی اقتداء وپیروی کرتا ہوں۔
____________________
(۱) سورہ توبہ(۹)، آیت ۱۱۹۔ (اے ایمان لانے والو ، خدا سے ڈرو اور صادقین کے ساتھ ہوجائو )
خداوندعالم نے سورہ بقرہ میں صادقین (سچوں) کی اس طرح توصیف فرمائی ہے ۔
( ولٰکن البر من آمن بالله والیوم الآ خر ـــ اولٰئک الذین صدقوا و اولٰئک هم المتقون ) (۱)
اور لیکن نیک وہ افراد ہیں کہ جو روز قیامت پر ایمان لائے ہیں ، وہی لوگ سچے اور وہی لوگ پرہیز گار ہیں ۔
اسی وجہ سے خداوندعالم نے مومنوں کو حکم دیا ہے کہ تقوی و پرہیزگاری اختیار کرو اور سچوں کے ساتھ ہوجائو۔
کہا جاتا ہے کہ صادقین سے مراد وہی افراد ہیں کہ جن کا تذکرہ خداوندعالم نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے ، اور وہ آیت یہ ہے( من المؤمنین رجال صدقوا ماعاهدو ا الله علیه فمنهم من قضی نحبه ) (۲) یعنی حمزہ بن عبد المطلب و جعفر بن ابی طالب( ومنهم من ینتظر ) (۳) یعنی علی ابن ابی طالب ۔
کلبی نے ابی صالح سے اور اس نے ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ ابن عباس نے کہا کہ ''کونوا مع الصادقین'' یعنی علی اور ان کے اصحاب کے ساتھ ہوجائو۔
____________________
(۱) سورہ بقرہ (۱)، آیت ۱۷۷۔
(۲) سورہ احزاب (۳۳) ، آیت ۲۳۔
(۳) اسی آیت کا ادامہ ،سورہ احزاب (۳۳) ، آیت ۲۳۔
اور جابر نے ابی جعفر امام محمد باقر سے روایت نقل کی ہے کہ خدا وندعالم کے اس کلام ''کونوا مع الصادقین'' کے بارے میں فرمایا کہ آل محمد کے ساتھ ہوجاؤ۔
اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ بہشت میں پیغمبروں اور صدیقین کے ساتھ رہو۔
اور کہا جاتا ہے کہ یہاں پر ''مع '' ''من ''کے معنی میں ہے گویا خداوندعالم نے حکم دیا ہے کہ مومنین سچوں میں سے ہوجائیں ۔ اور جس نے اس کی من کے ساتھ قرائت کی ہے تو اس معنی کو تقویت ملتی ہے اگر چہ دونوں معنی یہاں پر ایک دوسرے کے نزدیک اور ملتے جلتے ہیں چونکہ '' مع '' مصاحبت کے لیے ہے اور'' من'' تبعیض کے لیے ،پس جس وقت وہ شخص خود صادقین و سچوں میں سے ہو تو ان ہی کے ساتھ ہے اور انہی میں سے شمار ہوتا ہے ۔
ابن مسعود کہتے ہیں کہ جھوٹ بولنا مناسب نہیں ہے نہ حقیقتا اور نہ ہنسی مذاق میں اور نہ تم میں سے کوئی اپنے بچوں سے وعدہ کرے اور پھر اس کو پورا نہ کرے ، جس طرح بھی چاہو اس آیت کی قرائت کرو، تو کیا جھوٹ میں چھٹکارہ دیکھتے ہو؟۔(۱)
ابن اذینہ نے برید بن معاویہ عجلی سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا کہ میں نے خداوندعالم کے اس فرمان''اتقوا الله وکونوا مع الصادقین'' کے متعلق حضرت امام محمد باقر سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ صادقین سے مراد ہم اہل بیت ہیں۔(۲)
____________________
(۱) دیکھیے :ـ مجمع البیان۔ سورہ توبہ تفسیر آیت ۱۱۹۔
(۲) بصائر الدرجات ۵۱، حدیث ۱۔ اصول کافی : ۱ ۲۰۸، حدیث ۱۔
صفار نے حسین بن محمد اور اس نے معلی بن محمد اوراس نے حسن اور اس نے احمد بن محمد سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا کہ میں نے حضر ت امام رضا سے خداوندعالم کے اس فرمان''اتقوا الله وکونوا مع الصادقین'' کے متعلق سوال کیا تو امام نے فرمایا: صادقین سے مراد آئمہ ہیں کہ جو اطاعت و عبادت میں صدیق ہیں ۔(۱)
حدیث مناشدہ میں مذکور ہے کہ امیر المؤمنین نے فرمایا : آپ کو خدا کی قسم دیتا ہوں کیا جانتے ہو کہ یہ آیت نازل ہوئی( یا ایها الذین آمنوا اتقوا الله وکونو مع الصادقین ) تب سلمان نے سوال کیا :اے رسول خدا یہ دستور عام ہے یا خاص ؟ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا : خطاب کی طرف تو تمام مؤمنین مراد ہیں کہ جن کو اس کام کا حکم دیا گیا ہے لیکن صادقین سے مخصوص میرے بھائی علی اور روز قیامت تک اس کے بعد کے اوصیاء ہیں ، تب سب نے کہا ہاں خدا کی قسم یہی درست ہے ۔(۲)
ابن شہر آشوب نے تفسیر ابویوسف سے روایت کی ہے کہ یعقوب بن سفیان نے ہم سے کہا کہ مالک بن انس نے نافع سے اور اس نے ابن عمر سے کہ ابن عمر نے اس آیت کے بارے میں کہ( یا ایها الذین آمنوا اتقوا الله ) کہا کہ خدا وندعالم نے صحابہ کو حکم دیا کہ خدا سے ڈرو اور پھر فرمایا( و کونو مع الصادقین ) یعنی محمد اور ان کے اہل بیت کے ساتھ ہوجائو۔(۳)
____________________
(۱) بصائر الدرجات ۵۱، حدیث ۱۔ اور اسی سے منقول ہے بحار الانوار :۲۴ ۳۱ میں ۔
(۲) کتاب سلیم بن قیس ۲۰۱۔ التحصین ۶۳۵۔ ینابیع المودة :۱ ۳۴۴۔
(۳) مناقب ابن شہر آشوب :۲ ۲۸۸۔ ینابیع المودة : ۱ ۳۵۸، باب ۳۹، حدیث ۱۵، کہ اس میں موفق بن احمد خوارزمی سے منقول ہے ۔ فضائل ابن شاذان ۱۳۸۔
حضرت امام موسیٰ کاظم سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : کہتے ہیں کہ ہم علی کے شیعہ ہیں ، علی کا شیعہ وہ ہے کہ جس کا عمل اس کے قول کی تصدیق کرے ۔(۱)
حضرات معصومین کی امامت و صدیقیت کے اثبات میں شیعوں کے درمیان اس آیت سے استدلال و تمسک معروف ہے اور محقق طوسی نے کتاب تجرید الاعتقاد میں اس کو ذکر کیا ہے ۔(۲)
علامہ مجلسی کہتے ہیں کہ اس آیت سے وجہ استدلال یہ ہے کہ خداوندعالم نے تمام مؤمنین کو صادقین کے ساتھ ہونے کا حکم دیاہے اور اس کا ظاہری مطلب یہ ہے کہ ان کے بدن کے ساتھ رہنا مقصود نہیں ہے بلکہ ان کی روش کی پیروی و ملازمت اور ان کے عقائد و اقوال و افعال کی اتباع مراد ہے ، اور یہ واضح ہے کہ خداوندعالم کسی بھی ایسے شخص کی اتباع و پیروی کا حکم نہیں دیتا کہ جس کے بارے میں جانتاہو کہ اس سے فسق و فجور اور گناہ صادر ہوتے رہتے ہیں ، بلکہ ایسے افراد کی ہمراہی سے منع فرمایا ہے ۔
پس لازم ہے کہ صادقین ، معصوم ہوں کہ جو کسی بھی خطا و غلطی کے مرتکب نہ ہوں تاکہ ان کی اتباع اور پیروی تمام امور میں واجب ہوسکے ۔نیز یہ حکم کسی خاص زمانے سے مخصوص نہیں ہے بلکہ ہر زمانے کے لیے عام ہے ،پس ان صادقین میں سے کوئی ایک معصوم ہرزمانے میں موجود ہو تاہے تاکہ ہرزمانے کے مومنین کے لیے ان کی اتباع کا حکم صحیح ہوسکے ۔(۳)
____________________
(۱) روضہ کافی :۸ ۲۲۸،حدیث ۲۹۰۔
(۲) تجرید الاعتقاد ۲۳۷، مقصد خامس فی الامامة ۔ کشف المراد (علامہ حلی ) ۳۷۱۔
(۳) بحار الانوار : ۲۴ ۳۳ـ۳۴۔
شاعر کہتا ہے:
اذا کذبت اسماء قوم علیه م
فاسمک صدیق له شا ه د عدل(۱)
جب تمام اقوام عالم کے نام ان کے اوپر جھوٹ ثابت ہوں اور کوئی نام مطابقت نہ رکھتا ہوتو تیر ا نام صدیق و سچا ہے ، اور اس بات پر شاہد عادل گوا ہ ہے ۔
ان تمام مطالب کے بعد آپ کے لیے واضح ہوگیا کہ صدیق کون ہے اور صدیقہ کون؟
دوم : عصمت
صدیقیت کی دوسری صفت عصمت ہے یعنی صفت صدیقیت کے معنی یہ ہیں کہ صدیق مرتبہ کمال اور عصمت تک پہنچ جائے چونکہ وہ خداوندعالم کی طرف سے منتخب ہوتا ہے اور یہ صفت ، ''صادقیت ''سچ بولنے سے زیادہ بلند و بالا ہے ۔
____________________
(۱) مناقب ابن شہر آشوب :۲ ۲۸۷۔
صدق و سچائی کادارومدار خود انسان پر ہے لیکن صدیقیت کا تعلق خداوند سے ہے ، معصوم نہ صرف صادق بلکہ صدیق ہوتا ہے اور نہ فقط طاہر بلکہ مطہر ہوتا ہے ،پس جو کوئی خداوندعالم کی جانب سے منتخب اور چنا ہوا ہو اس کے لیے واجب ہے کہ اپنی رفتار و گفتار میں بغیر کسی کمی و زیادتی کے راہ حق کو اپنائے جیساکہ یہ خصوصیت حضرت مریم بنت عمران میں نظر آتی ہے لہذا خدا وندعالم کا ارشادگرامی ہے ۔( ماالمسیح ابن مریم الا رسول قد خلت من قبله الرسل وامه صدیقه ) (۱)
مسیح ابن مریم کچھ نہیں ہیں سوائے رسول کے کہ ان سے پہلے بھی رسول آئے اور چلے گئے اور ان کی مادر گرامی صدیقہ ہیں ۔ اور ان ہی کے بارے میں ارشاد خداوندی ہے :
( واذقالت الملائکة یا مریم ان الله اصطفاک و طهر ک واصطفاک علی نساء العالمین ٭ یا مریم اقنتی لربک واسجدی وارکعی مع الراکعین٭ذالک من انباء الغیب نوحیه الیک وما کنت لدیهم اذ یلقون اقلامهم ایهم یکفل مریم وما کنت لدیهم اذ یختصمون ) (۲)
اور جب فرشتوں نے کہا : اے مریم خداوندعالم نے آپ کو منتخب کیا اور پاک و پاکیزہ رکھا اور آپ کو عالمین کی عورتوں پر فضیلت بخشی ۔ اے مریم اپنے پروردگار کے سامنے خاضع اور خاشع رہو، سجدہ کرنے والو ں کے ساتھ سجدہ اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔ یہ غیبی خبریں ہیں کہ جن کی ہم نے آپ پر وحی کی اورآپ اس وقت ان کے پاس نہیں تھے کہ جب ان کے درمیان اس سلسلے میں قرعہ ڈالے گئے کہ مریم کی پرورش کون کرے ؟ اورآپ ان کے درمیان نہیں تھے کہ جب وہ آپس میں اختلاف کررہے تھے ۔
اور جب اس قوم نے مریم سے کہا (یا مریم لقد جئت شیأ فریا )(۳)
____________________
(۱) سورہ مائدہ(۵)، آیت ۷۵۔
(۲) سورہ آل عمران (۳)، آیت ۴۲ـ۴۴۔
(۳) سورہ مریم (۱۹)، آیات ۲۷ـ ۳۰۔
یعنی اے مریم آپ ایک دھوکے کی چیز لائی ہو کہ جو برائی کا سرچشمہ ہے( یا اخت هارون ماکان ابوک امرء سوء وما کانت امک بغیا ) اے ہارون کی بہن آپ کا باپ کوئی برا آدمی نہ تھا اور نہ آپ کی ماں کوئی بدکار عورت تھی ۔
مریم نے عیسیٰ کی طرف اشارہ کیا کہ جو گہوارے میں تھے اور لوگوں سے چاہا کہ اس ماجرے کی شرح وتفصیل اس بچے سے معلوم کریں ، ان لوگوں نے کہا( کیف نکلم من کان فی المهد صبیا ) ہم کس طرح اس بچے سے گفتگو کریں کہ جو ابھی گہوارے میں ہے ، اس وقت خداوندعالم نے حضرت عیسی کو قوت گویائی عطا فرمائی ۔ پس آپ نے کہا( قال انی عبد الله آتانی الکتاب و جعلنی نبیا،و جعلنی مبارکا این ما کنت و اوصانی بالصلوة والزکوة مادمت حیا ، وبرا بوالدتی ولم یجعلنی جبارا شقیا ، والسلام علی یوم ولدت ویوم اموت ویوم ابعث حیا )
بیشک میں خدا کا بندہ ہوں کہ جس نے مجھے کتاب عطا فرمائی ہے،مجھے نبی بنایا،مجھے جہاں کہیں بھی رہوں بابرکت قرار دیا،جب تک زندہ ہوں نماز اور زکوة کی وصیت فرمائی اور مجھے وصیت فرمائی کہ میں اپنی والدہ کے ساتھ نیکی کروں اس نے مجھے جبار و شقی نہیںبنایا پس مجھ پر سلام ہو اس دن کہ جب میں پید ا ہوا اور اس روز کہ جب مروں اور اس روز کہ جب دوبارہ زندہ کیا جاؤں ۔
اس بناء پر حضرت مریم قرآن کریم کی نص کے اعتبار سے صدیقہ ہیں۔ ان کے اور حضرت فاطمہ زہرا کے درمیان بہت زیادہ چیزیں مشترک ہیں ، مثلا یہ کہ دونوں نبوت کے سلالہ اور نسل سے ہیں اور نبوت ایک ایسا سلالہ و رشتہ ہے کہ جو بھی اس سلسلے سے ہو گا وہ آپس ہی میں ایک دوسرے کی نسل سے ہے۔ جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے ۔
( ان الله اصطفی آدم و نوحا و آل ابراهیم و آل عمران علی العالمین ذریة بعضها من بعض والله سمیع علیم اذاقالت امراة عمران رب انی نذرت لک مافی بطنی محررا فتقبل منی انک انت السمیع العلیم ) (۱)
خداوندعالم نے آدم ، نوح اور آل ابراہیم و آل عمران کو چنا اور عالمین پر فضیلت بخشی کہ جو ایک دوسرے کی نسل و ذریت ہیں اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے ۔ جب عمران کی زوجہ نے کہا : پروردگارا جو بچہ میرے شکم میں ہے اس کے لیے میںنے نذر مانی ہے کہ تیری راہ میں آزاد کروں اور تیری خدمت کے لیے مخصوص کردوں ، پس خداوندا مجھ سے اس کو قبول فرمالے کہ تو سننے اور جاننے والا ہے۔
مریم ایک نبی کی بیٹی اور فاطمہ خاتم الانبیاء کی بیٹی ہیں ، مریم ایک نبی کی ماں ۔ فاطمہ ام ابیھا ، اپنے باپ کی ماں، دو وصیوں کی ماں ، بلکہ مادر اوصیاء ہیں۔
مریم کے یہاں بغیر شوہر کے بچے کی ولادت ہوئی معجزے کے ذریعہ چونکہ اس دور میںان کا کوئی کفو اور مقابل نہ تھا اور فاطمہ کے لیے علی جیسی عظیم شخصیت شوہر قرارپائے اور ان سے حسن و حسین جیسے فرزندوں کی ولادت ہوئی ، اور اگر علی نہ ہوتے تو فاطمہ کے برابر و کفو کوئی نہ ہوتا اور ان دونوں کی تربیت و پرورش پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نے کی ، مریم کی کفالت و پرورش زکریا نبی نے کی، فاطمہ کی پرورش وکفالت سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی نے فرمائی۔
____________________
(۱) سورہ آل عمران(۳)، آیات ۳۳ـ۳۵۔
حضرت امام رضا سے روایت ہے کہ آپ نے ابن ابی سعید مکاری کے جواب میں فرمایا : خدا وندعالم نے جناب عمران پر وحی نازل کی کہ میں نے تجھ کو بیٹا عطا کیا اور پھر مریم ان کے یہاں پیدا ہوئیں اور مریم کو عیسی عطا ہوئے پس عیسی ، مریم سے ہیں اورمریم ، عیسی سے اور عیسی و مریم دونوں ایک چیز ہیں اور میں اپنے باپ سے ہوں اور میرے والد گرامی مجھ سے اور ہم دونوں ایک چیز ہیں۔(۱)
شیعہ اور اہل سنت دونوں نے نقل کیا ہے کہ ایک رات امیر المؤمنین حضرت علی بھوکے سوگئے اور صبح کو اٹھ کر حضرت فاطمہ سے کھانا طلب فرمایا حضرت فاطمہ زہرا نے فرمایا : اس خدا کی قسم کہ جس نے میرے باپ کو مبعوث بہ رسالت کیا اور آپ کو ان کا وصی قرار دیا میرے پاس کھانے کی کوئی چیز نہیں ہے اور دو دن سے گھر میں کچھ بھی نہیں ، حتی کہ بچوں حسن و حسین کے کھانے کے لیے بھی کچھ نہیں ہے ۔
حضرت علی نے فرمایا :آپ نے ان بچوں کے لیے بھی کچھ نہ رکھااور مجھے بھی خبر دار نہ کیا تاکہ آپ کے لیے اور بچوں کے لیے کچھ انتظام کرتا ۔
حضرت فاطمہ زہرا نے فرمایا : اے ابو الحسن مجھے خدا سے شرم آتی ہے کہ کسی ایسی چیز کے لیے آپ سے کہوں کہ آپ کے پاس بھی نہ ہو ۔
حضرت علی ، خداپر بھروسہ و توکل کرکے گھر سے باہر نکلے ایک دینار پیغمبراکرم سے قرض لیا اور چل پڑے تاکہ اس سے کچھ خرید کر لائیں اچانک مقداد سے ملاقات ہوئی ۔
____________________
(۱) بحارالانوار :۲۵ ۱۔ بنقل از معانی الاخبار ۶۵۔
دیکھا کہ مقداد جلتی ہوئی دھوپ میں باہر گھوم رہے ہیں حضرت علی مقداد کی یہ حالت دیکھ کر تاب نہ لاسکے اورفرمایا: اے مقداد آپ کو ایسی گرمی میں کس چیز نے باہر نکالا ہے ؟ اورکیوںپریشان پھر رہے ہو؟۔
مقداد نے کہا : اے ابو الحسن مجھ کو میرے حال پرچھوڑدو اور میری زندگی کے راز کو نہ کھلواؤ ۔
آپ نے فرمایا: میں بغیر معلوم کئے آپ کو نہیں جانے دوں گا۔
مقداد نے کہا : اے ابوالحسن آپ کو خدا کی قسم مجھے میرے حال پر چھوڑ دو اور میری حالت معلوم نہ کرو۔
علی نے فرمایا : آپ کے لیے مناسب نہیں ہے کہ مجھ سے اپنی حالت کو چھپاؤ ۔
مقداد نے کہا: آپ کا اصرار ہی ہے تو عرض کرتا ہوں اس ذات کی قسم کہ جس نے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کو نبوت سے سرفراز ک یا اور آپ کو ان کا وصی قرار دیا ۔ مجھے میرے گھر کی ناداری نے بے قرارکررکھا ہے ،میرے بچے بھوک سے بے حال ہیں اور اب میں ان کے پاس بیٹھنے کی بھی طاقت نہیں رکھتا ہوں، لہذا شرم کے مارے میں نے سر کو جھکا یا اور باہر نکل آیا اور اب پریشان پھر رہا ہوں ، یہ ہے میری حالت!۔
یہ باتیں سنتے ہی علی کی آنکھوں سے اشک جاری ہوئے اور آپ کی ریش مبارک تر ہوگئی اور پھر فرمایا : میں بھی قسم کھاتا ہوں اس کی جس کی تونے قسم کھائی ہے میں بھی اپنے اہل خانہ سے اسی وجہ سے شرم کھاکے باہر آیا ہوں جس کی وجہ سے آپ باہر آئے ہیں ۔یہ ایک دینار میں نے قرض لیا ہے اس کو لیں اور اپنی ضرورت کو پورا کریں ۔
لہذا حضرت علی نے مقداد کی ضرورت کو اپنی ضرورت و احتیاج پر مقدم رکھا ،ا ن کووہ دینار دے دیا اور خود ایک گوشہ میں سر رکھ کر سوگئے ۔
پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے بیت الشرف سے باہر تشریف لارہے تھے کہ ناگہاں آپ کو دیکھا آپ کا سر ہلایا اور فرمایا : کیا کام کیا ؟ حضرت علی نے آپ کو سارا ماجرہ سنا دیا ، پھر اٹھے اور پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ نماز بجالائے۔
جب نماز سے فارغ ہوئے تو پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علیصلىاللهعليهوآلهوسلم سے فرمایا : اے علی آپ کے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے ؟ حضرت نے توقف کیا اور خاموشی اختیار کی اور شرم کی وجہ سے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا کوئی جواب نہ دیا جبکہ ان کو دینار کا سار ا قصہ سنا چکے تھے ، پھر فرمایا : جی ہاں یا رسول اللہ ، خداوندعالم کی نعمتیں بہت زیادہ ہیں ۔
خداوندعالم نے اپنے رسول پر وحی نازل کردی تھی کہ آج شام کا کھانا علی ابن ابی طالب کے گھر پر ہے ۔ پس دونوں چلے اور فاطمہ کے بیت الشرف میں وارد ہوئے آنحضرت مصروف عبادت تھیں ، اور آپ کے پاس ایک بہت بڑا طشت رکھا ہوا تھا کہ جس میں سے گرم گرم کھانے کا دھواں اٹھ رہا تھا ۔
حضرت فاطمہ زہرا نے نمازکے بعد اس طشت کو اٹھایا اور ان بزرگواروں کے سامنے لاکر رکھ دیا ، حضرت علی نے سوال کیا : اے فاطمہ یہ آپ کے پاس کہاں سے آیا ؟ آپ نے جواب دیا یہ خداوندعالم کا فضل اور اس کا رزق ہے خداوندعالم جس کو چاہتا ہے بے حساب روزی عطا کرتا ہے ۔
اسی دوران پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے دست مبارک کو علی کے دوش مبارک پر رکھا اور فرمایا : اے علی یہ آپ کے دینار کے بدلے میں ہے ، پھر آپ کے آنسو جاری ہوگئے اور روتے ہوئے فرمایا :
حمد و شکر ہے اس پروردگار کا کہ مجھے موت نہ آئی جب تک کہ میں نے اپنی آنکھوں سے اپنی بیٹی کے پاس وہ سب کچھ نہ دیکھ لیا کہ جو زکریا نے مریم کے پاس دیکھا تھا ۔(۱)
ہماری روایات میں مذکور ہے کہ نسل حضرت فاطمہ زہرا سے آئمہ ، بنی اسرائیل کے نبیوں سے افضل ہیں اور عامہ کی روایات میں ہے کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ میری امت کے علما ء انبیاء بنی اسرائیل کی طرح ہیں۔(۲)
اور دونوں فرقوں کی روایات میں ایسی خبریں اور حدیثیں موجود ہیں کہ جو مذہب شیعہ کے عقیدے کی تصدیق کرتی ہیں چونکہ شیعہ اور سنی دونوں نے نقل کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ آخری زمانے میں جب حضرت امام مہدی کے ظہور کے ساتھ زمین پر تشریف لائیں گے تو آپ کی اقتداء میں نماز ادا کریں گے ۔(۳) جب کہ یہ خود دلیل ہے کہ آئمہ اہل بیت ، انبیاء بنی اسرائیل سے افضل ہیں ۔
اور اگر حضرت ابراہیم و حضرت علی کے کلاموں کے درمیان مقایسہ کیا جائے تو حضرت علی کی بزرگی و معرفت حضرت ابراہیم کی نسبت واضح و آشکار ہوجائے گی ۔
____________________
(۱) دیکھیے:ـ مناقب ابن شہر آشوب : ۱ ۳۵۰ ۔ امالی شیخ طوسی ۶۱۷۔ الخرائج و الجرائح :۲ ۵۲۲۔ ذخائرالعقبی ۴۶۔ فضائل سیدة النساء (عمر بن شاہین) ۲۶۔ تفسیر فرات کوفی ۸۴۔ کشف الغمہ :۲ ۹۸۔تاویل الآیات :۱ ۱۰۹۔ ینابیع المودة :۲ ۱۳۶۔
(۲) المحصوم (رازی ) :۵ ۷۲۔ سبل الھدی و الرشاد:۱۰ ۳۳۷۔
(۳) الآحاد المثانی :۲ ۴۴۶ـ۴۴۹، حدیث ۱۲۴۹۔ کنزالعمال :۱۴ ۲۲۶، حدیث ۳۸۶۷۳۔ یہ ابونعیم کی کتاب مہدی میں ابو سعیدسے روایت ہے ۔ فتح الباری :۶ ۳۵۸۔ تفسیر قرطبی :۱۶ ۱۰۶۔
خداوندعالم نے حضرت ابراہیم سے خطاب فرمایا( اولم تومن قال بلی ولکن لیطمئن قلبی ) (۱) اے ابراہیم کیا مردوں کے زندہ ہونے کے بارے میں آپ کو یقین نہیں ہے ابراہیم نے جواب دیا یقین تو ہے لیکن اپنے دل کو مطمئن کرنے کے لیے معلوم کررہا ہوں ۔
جب کہ حضرت علی کا ارشاد گرامی ہے :'' لوکشف الغطاء ما زددت یقینا ''(۲) اگر م یری آنکھوں کے سامنے سے پردے بھی ہٹادیے جائیں تو بھی میر ے یقین میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
اس کلام میں بہت عظیم معنی پوشیدہ ہیں کہ جس کو علماء اپنی بصیرت سے درک کرتے ہیں ۔
اسی منطق و دلیل اور پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی نص کے مطابق حضرت فاطمہ زہرا جناب مریم سے افضل و بالاتر ہیں چونکہ حضرت رسول خدا کہ ان پر قرآن نازل ہو ااور اس میں جناب مریم کے انتخاب کی آیت نازل ہوئی جبکہ آپ نے حضرت فاطمہ زہرا کے لیے فرمایا: فاطمہ تمام عالم کی عورتوں کی سرادار ہیں لوگوں نے سوال کیا اے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم فاطمہ ک یا اپنے زمانے کی عورتوں کی سردار ہیں تو آپ نے فرمایا:''ذاک مریم بنت عمران ، اما ابنتی فهی سیدة نساء العالمین من الاولین و آخرین'' (۳)
____________________
(۱) سورہ بقرہ (۲)، آیت ۲۶۰۔
(۲) تفسیر ابی السعود :۱ ۵۶۔ و جلد:۴ ۴۔ الصواعق المحرقہ :۲ ۳۷۹۔ حاشیہ السندی :۸ ۹۶۔ مناقب ابن شہر آشوب :۱ ۳۱۷۔ فضائل ابن شاذان ۱۳۷۔
(۳) امالی صدوق ۵۷۵۔ اور اسی سے منقول ہے شرح الاخبار :۳ ۵۲۰، حدیث ۹۵۹۔ اور بحار الانوار : ۴۳ ۲۴، حدیث ۲۰،میں ۔ بشارة المصطفی ۳۷۴، حدیث ۸۹ ۔ بحارالانوار : ۳۷ ۸۵، حدیث ۵۲ ۔
یہ کہ اپنے زمانے کی عورتوں کی سردار تو مریم بنت عمران تھیں لیکن میری بیٹی تمام عالمین اولین و آخرین کی عورتوں کی سردار ہیں ۔
عائشہ کی کیا صورت حال ہے ؟ کہاں عایشہ اور کہاں یہ فضائل ، کیا وہ ان عظیم فضائل و کمالات میں سے کچھ تھوڑ ا بہت بھی رکھتی تھیں؟۔
ایک شبہہ وسوال اور اس کا جواب
یہاں پر ہم ایک شبہہ کا جواب دینے پر مجبور ہیں کہ جو بعض افراد کے ذہن میں پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ کس طرح حضرت فاطمہ زہرا تمام عالمین کی عورتوں کی سردار ہیں ؟ جب کہ خداوند عالم نے قرآن کریم میں یہ مرتبہ حضرت مریم کو عطا فرمایا ہے لہذا ارشاد گرامی ہے :
( یا مریم ان الله اصطفاک و طهر ک واصطفا ک علی نساء العالمین ) (۱)
اے مریم بیشک اللہ نے آپ کو منتخب فرمایا اور آپ کو پاک و پاکیزہ رکھا اور تمام عالمین کی عورتوں پرچن لیا۔
ہم اس شبہہ کا جواب دو طرح سے پیش کرتے ہیں ، ایک نقضی ہے اور دوسرا حلی ۔
جواب نقضی یہ ہے کہ خود اعتراض کرنے والوں سے معلوم کرتے ہیں کہ اس آیت خداوندی کے بارے میں کیا خیا ل ہے کہ ارشاد گرامی ہے :
____________________
(۲) سورہ آل عمران (۳)، آیت ۴۲۔
( واسماعیل و الیسع و یونس و لوطا و کلا فضلنا ه علی العالمین ) (۱)
اور اسماعیل و یسع و یونس اورلوط ، ان سب کو ہم نے عالمین پر فضیلت بخشی ۔
تو کیا ان کا یہ یقین ہے یا کوئی قائل ہے کہ یہ مذکورہ نبی حضرات، ہمارے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم حضرت محمد مصطفی سے افضل ہیں ؟ اصلا نہیں ۔ چونکہ پیغمبروں کے یہاں مراتب ہیں کہ جن میں سب سے افضل خاتم الانبیاء ہیں ۔
اور پیغمبروں میں ایک دوسرے پر برتری و افضلیت یہ ایک حقیقت ربانی ہے لیکن یہ فضیلت ہمیشہ کے لیے نہیں ہے بلکہ اپنے اپنے زمانے سے مخصوص ہے ۔
( تلک الرسل فضلنا بعضهم علی بعض منهم من کلم الله و رفع بعضهم درجات ) (۲) یہ پیغمبران الہٰی کہ جن میں ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت عطا کی ان میں سے بعض وہ ہیں کہ جو خدا سے گفتگو کرتے ہیں اور ان میں سے بعض کے درجات کو بلند کیا ہے ۔
اور ان سب سے زیادہ واضح آیت وہ ہے کہ جہاں خداوندعالم نے یہودیوں کو قرآن کریم میں تمام مخلوقات عالم پر فضیلت عطا فرمائی ہے ۔ لہذا ارشاد گرامی ہے :
( یا بنی اسرائیل اذکرو نعمتی التی انعمت علیکم و انی فضلتکم علی العالمین ) (۳)
____________________
(۱) سورہ انعام (۶) ، آیت ۸۶۔
(۲) سورہ بقرہ(۲) ، آیت ۲۵۳۔
(۳) سورہ بقرہ (۱) ، آیت ۱۲۲۔
اے بنی اسرائیل یاد کرو ان نعمتوں کو کہ جو میں نے تم کو عطا کیں اور بیشک میں نے تم کو تمام عالمین پر فضیلت عطا کی ۔
کیا یہاں کوئی مسلمان یا عیسائی ہے کہ جو یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ یہودی تمام عالم سے افضل ہیں ؟ اصلاً نہیں ۔ خصوصاً اس بات کی اطلاع پانے کے بعد کہ انہوں نے انپے پیغمبروں کے ساتھ کیا کیا سلوک کیا ، اور شریعت میں کس قدر تحریف کی ۔
لہذا اس بات کو سامنے رکھتے ہوئے واضح ہوجاتا ہے کہ ان کی فضیلت اور کلمہ'' علی العالمین'' سے مراد اسی زمانے کے لوگ اور مخلوق ہے نہ کہ تما م زمانوں کے ۔
چونکہ آخری زمانہ مخصوص ہے حضرت پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ،حضرت فاطمہ زہرا ، حضرت امام علی اور ان کے معصوم فرزندوں سے کہ بغیر شک و تردید یہ حضرات انبیاء و بنی اسرائیل سے افضل وبرتر ہیں ۔
لیکن جواب حلی یہ ہے کہ جس شخصیت نے یہ فرمایا ہے کہ فاطمہ زہرا ، مریم سے افضل ہیں اور وہ تمام عالمین کی عورتوں کی سردار ہیں اور بہشت کی عورتوں کی سردار ہیں کہ جن میں مریم بھی ہیں وہی شخصیت ہے کہ جس پر قرآن نازل ہوا ہے اور اسی قرآن میں وہ آیت بھی ہے کہ جس میں مریم کو تمام عالم پر فضیلت دی گئی ہے۔لہذا جس پر قرآن نازل ہوا ہے وہ ہرآیت کے معنی پوری کائنات سے بہتر جانتا ہے ۔
اگر ذرا غور کریں ، اور پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے فرامین میں فکر سے کام لیں کہ جو آپ نے اپنی دختر نیک اختر کے بارے میں فرمائے ہیں جیسا کہ روایات میں آیا ہے کہ خداوندعالم حضرت فاطمہ زہرا کی خوشنودی میں خوش اور ان کی ناراضگی میں ناراض ہوتا ہے۔
یقینا آپ کوعلم ہوجائے گا کہ یہ نصوص ، حضرت فاطمہ زہرا کی عصمت اور آپ کے تمام عالمین کی عورتوں پر فضیلت پر دلالت کرتی ہیں لہذا حق یہ ہے کہ آنحضرت کا مرتبہ بہت بلند و بالا ہے اور آپ مریم بنت عمران سے کہیں افضل وبرتر ہیں ۔
اصلی مطلب کی طرف مراجعت
اب اپنے اصلی مطلب کی طرف پلٹتے ہیں تاکہ دیکھیں کہ ان چارافراد علی ، فاطمہ اور ابوبکر و عائشہ میں سے کون کون اس صفت صدیقیت کا مستحق ہے،اوران میں سے کس کس کی عصمت بیان ہوئی ہے اور کس کے یہاں اس لقب کے قابل ، امتیازات و علامات موجود ہیں ۔
یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ کسی بھی مسلمان نے ابوبکر و عمراور عائشہ کی عصمت کا دعوی نہیں کیا ہے اور وہ لوگ خود بھی اس طرح کا ادعی نہیں کرتے تھے ۔
جبکہ یہ بات علی و فاطمہ کے یہاں بر عکس ہے کہ وہ دونوں حضرات خود بھی اپنی عصمت کے بارے میں معتقد تھے اور اسی طرح بہت سے مسلمان بھی ان کی عصمت و پاکیزگی اور ہر طرح کے رجس و آدلودگی سے طہارت کے متعلق یقین رکھتے ہیں ۔
قرآن کریم میں آیت تطہیر جیسی آیات انہیں کی شأن میں نازل ہوئی ہیں کہ جو ان کی عصمت پر دلالت کرتی ہیں اور اسی طرح پیغمبرا کرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ک ی وہ تقاریر اوراحادیث کہ جو ان کے متعلق ارشاد فرمائیں یقینا ان کی عصمت پر دال ہیں ۔
لہذا یہ مطلب اس بات کے لیے کافی ہے کہ کہا جائے کہ صدیقہ اولویت و ترجیح کے اعتبار سے حضرت فاطمہ زہرا کے لیے ثابت ہے نہ کہ عائشہ کے لیے ۔
اور صدیق، حضرت علی کے لیے حق ہے نہ کہ ابوبکر کے لیے ۔
اب ابوبکر اور حضرت یوسف کے درمیان مقایسہ و مقابلہ کرتے ہیں کہ جن کو قرآن کریم میں صدیق کہا گیا ہے تاکہ صدیقیت کے معیار کو سمجھیں اور ان دونوں کے یہاں ان کے اعمال و کردار سے صدیقیت کی صلاحیت کو درک کریں ۔
حضرت یوسف کو یہ لقب اس لیے عطا ہو ا کہ انہوں نے عزیز مصرکے لیے اس کے خواب کی صحیح تعبیر بیان کی کہ جب اس نے خواب دیکھا کہ سات موٹی تازی گائے ہیں جن کو سات پتلی دبلی گائیں کھارہی ہیں اور سات ہرے بھرے گندم کے خوشے (گیہوں کی بالیاں) اور باقی خشک و خالی نکلی ہیں ۔خداوند عالم نے اس ماجرے کو عزیز مصر کی زبانی قرآن کریم میںیوں بیان فرمایا ہے :
( یوسف ایها الصدیق افتنا فی سبع بقرات سمان یاکلهن سبع عجاف و سبع سنبلات خضر و اخر یابسات لعلی ارجع الی الناس لعلهم یعلمون ٭قال تزرعون سبع سنین دأبا فما حصدتم فذروه فی سنبلة الاقلیلامما تاکلون ٭ ثم یاتی من بعد ذالک سبع شداد یاکلهن ما قدمتم لهن الا قلیلا مما تحصنون ٭ ثم یاتی من بعد ذالک عام فیه یغاث الناس و فیه یعصرون ) (۱)
یوسف اے صدیق اس خواب کی تعبیر کو ہمارے لیے بیان کریں کہ سات موٹی تازی گائے ہیںجن کو سات دبلی پتلی گائیںکھارہی ہیں اورسات ہرے بھرے گندم کے خوشے (گیہوں کی بالیاں) اور باقی خشک و خالی نکلی ہیں ۔
____________________
(۱) سورہ یوسف(۱۲) ، ۴۶ـ۴۹۔
مجھے امید ہے کہ اس کی صحیح تعبیر پر میں لوگوں کی طرف پلٹ آؤںاور شاید وہ لوگ بھی جان لیں ۔ یوسف نے کہا : آپ لوگ سات سال تک مسلسل کھیتی باڑی کرو ،اور جو کچھ بھی پیدا ہواس کو بالی سمیت ہی رکھ لو اور صرف تھوڑا بہت کھانے کے قابل استعمال کرو، اس کے بعد سات سال سخت وقحط کے آئیں گے کہ جن میں پہلے ہی سے جو بچا کے رکھا ہوگا وہ بھی خرچ ہوجائے گا مگر تھوڑا بہت ،پھر اس کے بعد سال آئے گا کہ جس میں بارش آئے گی اور اس میں لوگ پھولوں کو توڑیں گے ۔
خداوندمتعال نے حضرت یوسف کے چند سال زندان میں رہنے کے بعد ان کی بیان کردہ تعبیر کی تصدیق فرمائی ، لیکن ابوبکر کہ جس کے بارے میں لوگوں کی کوشش ہے کہ لقب صدیق کو ان کے سر پر مڑھیں ، جیسا کہ معلوم ہوچکا ہے کہ ان کے اندر یہ صلاحیت و معیار نہیں ہے اور اس لقب کی قابلیت نہیں پائی جاتی ۔
ابوبکر نہ معصوم صدیق ہیں اور نہ غیرمعصوم صدیق ، بلکہ قرآن و سنت کے معانی و مطالب کو بھی صحیح نہیں سمجھ پاتے ، اور قرآن کریم کی متعددآیات کے سلسلے میں صحابہ سے معلوم کرتے تھے ، بارہا صحابہ کی طرف سے قرآن و سنت اور فتوی دینے میں ان کی غلطیاں پکڑی گئیں ۔ اور وہ قرآن کریم میں استعمال ہونے والا لفظ ''بضع''کے معنی بھی نہیں جانتے تھے اوراپنی طرف سے جلد بازی میں تفسیر کرگئے ۔
سنن ترمذی میں ابن مکرم اسلمی سے روایت ہے کہ اس نے کہا: کہ جب یہ آیت( الم ٭غلبت الروم٭ فی ادنی الارض من بعد غلبهم سیغلبون٭فی بضع سنین ) (۱)
____________________
(۱) سورہ روم(۳۰ )، آیات ۱ـ۴۔
الم ۔ ملک رو م اپنی نزدیک ترین و پست ترین زمین سے مغلوب ہوگیا اور وہ عنقریب اس شکست کے بعد غالب ہوجائیں گے ۔
اس آیت کے نزول کے وقت فارس ، روم پر غالب آچکا تھا جب کہ مسلمان یہ چاہتے تھے کہ روم ، فارس پر غالب ہوجائے چونکہ اہل روم او ر مسلمان اہل کتاب تھے ۔ اسی سلسلے میں خداوندعالم کا ارشاد گرامی ہے:( ویومئذ یفرح المؤمنون٭ بنصرالله ینصر من یشاء ، وهو العزیز الرحیم ) (۱) اور اس وقت مؤمن ین ،روم کے فارس پر غلبہ کی وجہ سے خوشحال ہوگئے اور ہر طرح کی کامیابی و غلبہ خدا کی مدد سے ہے ، وہ جس کی چاہتا ہے مدد کرتا ہے اور وہ عزیزو رحم کرنے والا ہے ۔
کفار قریش ، فارس کی کامیابی و غلبہ کو چاہتے تھے ، چونکہ کفار و اہل فارس اہل کتاب نہ تھے اور موت کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان نہیں رکھتے تھے ۔
جس وقت یہ آیت نازل ہوئی ابوبکر گھر سے باہر آئے اور مکہ کے ادھر ادھر شور مچانا شروع کیا :( الم ٭غلبت الروم٭ فی ادنی الارض من بعد غلبهم سیغلبون٭فی بضع سنین ) (۲)
قریش کے لوگوں نے ابوبکر سے کہا یہ بات ہمارے اور تمہارے درمیان رہے کہ آپ کے نبی کا یہ گمان ہے کہ روم بہت جلد ہی چند سالوں میں فارس پر غالب ہوجائے گا تو کیا اس پر شرط لگاتے ہو؟۔
____________________
(۱) سورہ روم(۳۰)، آیات ۴ـ۵۔
(۲) سورہ روم(۳۰)، آیات ۱ـ۴۔
ابوبکر نے کہا ہاں، یہ واقعہ رہان وشرط بندی کے حرام ہونے سے پہلے کا ہے ۔ پس ابوبکر اور مشرکین قریش کے درمیان شرط لگ گئی اور ان دونوں کے درمیان طے پایا کہ بضع کو کتنے سال قرار دیں جب کہ بضع ۳سے ۹ سال تک کے عرصہ کو کہتے ہیں ان لوگوں نے ابوبکر سے وقت معین کرنے کو کہا تاکہ اس زمانے تک یہ شرط پوری ہو لہذا ان کے درمیان ۶ سال کا عرصہ طے پایا ۔ ادھر روم کے غالب ہونے سے پہلے ہی ۶ سال تمام ہوگئے اور مشرکین قریش نے جو کچھ ابوبکر سے شرط میں گروی رکھا تھا لے لیا اور شرط جیت گئے ۔ اورجب ساتواں سال آیا تو روم ، فارس پر غالب آگیا ۔ اس وجہ سے بضع کا نام ۶ سال رکھنے پر مسلمانوں نے ابوبکر پر اعتراض کیا ، چونکہ خداوندعالم نے فرمایا :فی بضع سنین (۱)
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ جو ابن عباس سے نقل ہوئی اس نے کہا کہ رسول خدا نے فرمایا : اے ابوبکر آپ نے کیوں احتیاط نہ کی جب کہ بضع ۳ سے ۹ سال تک کا عرصہ ہے(۲)
بہر حال ابوبکر نے قرآن کریم کے ایک ایسے لفظ کی ـکہ جس کے معنی معین ہیںـ ایسی تفسیر کی کہ جو خداوندعالم کے ارادے کے خلا ف ثابت ہوئی اور معنی بضع کو ۶ سال سے تعب یر کیا لہذا پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس سے فرمایا :'' الااحتطت یاابابکر فان البضع ما بین الثلاث الی التسع '' (۳)
____________________
(۱) سنن ترمذی :۵ ۲۵، حدیث ۳۲۴۶۔
(۲) سنن ترمذی :۵ ۲۴، حدیث ۳۲۴۵۔
(۳) سنن ترمذی :۵ ۲۴، حدیث ۳۲۴۵۔
جب کہ یوسف صدیق نے عزیز مصر کے خواب کی تعبیر کی اوروہ واقع کے مطابق ثابت ہوئی لہذا یہ فرق دو صدیقوں کے درمیان مناسب نہیں ہے اور اس فرق کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔
پس قرآن مجید نے اپنے علم و آگاہی کے ذریعہ ابوبکر کے صدیق ہونے کو رد کردیا ہے ۔جبکہ بغیر کسی شک و شبہہ کے اور یقین کے ساتھ یوسف کے صدیق ہونے کی تائید کرتاہے ، اور علی کے صدیق ہونے کی گواہی دیتا ہے ۔
جی ہاں ! صدیق علی اورصدیقہ فاطمہ سے کچھ صادق ذوات مقدسہ وجود میں آئیں کہ جو اہل بیت پیغمبر ہیں اور خداوندعالم نے ان کو ہر طرح کے رجس و گندگی سے دور رکھا ہے او ر ایسا پاک وپاکیزہ قرار دیا کہ جو پاک رکھنے کا حق ہے ۔
یہ کچھ خاص افراد ہیں کہ جن کو شیطان کے ہر حربہ اور مکر سے دور کھا ہے ، اور ان پر شیطا ن مسلط نہیں ہوسکتا جبکہ شیطان نے خداوندعالم سے چیلنج کیا ہے کہ اولاد آدم کو بہکاؤں گا اور انہیں گمراہ کروںگا( لاحتنکن ذریته الا قلیلا ) (۱)
آدم کی اولاد کو گمراہ کروں گا سوائے تھوڑے افراد کے ۔
____________________
(۱) سورہ اسراء (۱۷)، آیت ۶۲۔ اور سورہ نساء (۴) ، آیت ۸۳ میں آیا ہے :(ولو ردوه الی الرسول والی اولی الامر منهم لعلمه الذین یستنبطونه منهم ولو لا فضل الله علیکم و رحمته لاتبعتم الشیطان الاقلیلا )اگر اس امر کو رسول و ولی امر کی طرف پلٹا دیں کہ جو لوگ ان میں سے حقیقت کودرک کرتے ہیں اور اگرآپ لوگوں کے اوپر فضل خدا اور اس کی رحمت نہ ہو تو تم سب شیطان کی پیروی کرتے ہوتے مگر تھوڑے سے افراد کے علاوہ ۔
حضرت امیر المؤمنین علی نے اہل شوری پر اسی بات سے احتجاج فرمایا:
آپ کو خدا کی قسم کیا میرے علاوہ تمہارے درمیان کوئی پاک وپاکیزہ ہے جب کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تم سب کے گھروں کے دروازے کہ جومسجدم یں کھلتے تھے ، بند کرادئیے اور صرف میرے گھر کا دروازہ مسجد رسول میں کھلا رہا اس وقت پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے چچا نے فرمایا : اے رسول خدا آپ نے سب کے دروازے بند کرادیئے اور علی کا دروازہ کھلا رہنے دیا ؟ تب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرما یا : ہاں اس کا م کا خداوندعالم نے حکم دیا تھا، تو سب نے کہا نہیں خداکی قسم آپ کے علاوہ کوئی نہیں ہے ۔(۱)
علی ابن الحسین نے اپنے والد اور انہوں نے علی ابن ابی طالب سے روایت بیان کی ہے کہ رسول خدا نے میرے ہاتھوں کو پکڑا اور فرمایا : بیشک موسی نے اپنے پروردگار سے چاہا کہ اس کی مسجد کو ہارون کے لیے حلال قرار دے اور میں نے اپنے پروردگار سے دعا کی کہ میری مسجد کو علی اور اس کی اولاد کے لیے حلال اور پاک قرار دے تو خداوندعالم نے ہماری دعا مستجاب فرمائی ۔
اور پھر اس وقت ابوبکر کے یہاں پیغام بھیجا کہ اپنے گھر کا دروازہ کہ جو مسجد کی طرف کو کھل رہا ہے اس کو بند کردو ، انہوں نے کلمہ استرجاع کو زبان پر دوہرا یا اور پھر کہا میں نے سنا اور اطاعت کی ، اور اپنے گھر کا دروازہ بند کرلیا ،پھر اسی طرح عمر اوراس کے بعد عباس کی طرف پیغام بھیجا۔
____________________
(۱) تاریخ دمشق :۴۲ ۴۳۲ ۔ و ۴۳۵۔(متن روایت اسی کتاب سے ہے )۔ المناقب (ابن مغازلی ) ۱۱۷۔ خصال صدوق ۵۵۲، حدیث ۳۰، ۳۱۔ امالی شیخ طوسی ۵۴۸، حدیث ۱۱۶۸۔ مناقب خوارزمی ۳۱۵۔ کتاب سلیم ابن قیس ۷۴۔ کنزالعمال :۵ ۷۲۶، حدیث ۱۴۲۴۳۔
پھر اس ماجرے کے بعد پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ میں نے لوگوں کے دروازے بندنہیں کیے اور علی کا دروازہ نہیں کھولا بلکہ خداوندعالم نے علی کا دروازہ کھولا اور تمہارے دروازے بند کئے ہیں ۔
اس کے علاوہ یہ بھی کہ ابوبکر نے طہارت کا ادعی نہیں کیا اور اپنے آپ کو شیطان کے وسوسہ سے پاک وپاکیزہ نہیں سمجھا بلکہ اس بات کی تصریح کی کہ اس کے ہمراہ ایک شیطان ہے جو اس کو بہکاتارہتا ہے لہذا اس کا قول ہے کہ :
'' خدا کی قسم میں آپ حضرات میں سب سے بہتر نہیں ہوں اور اس مقام کو با دل ناخواستہ اور مجبوراً اختیارکیا ہے اور میں چاہتا تھا کہ آپ لوگوں کے درمیان کوئی ہوتا جو اس بوجھ کو اٹھاتا اور مجھے چھٹکارا ملتا آپ لوگوں کا خیال ہے کہ میں تمہارے درمیان سنت رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اجراکروں گا جبکہ اس حالت م یں ، میں یہ کام انجام نہیں دے سکتا ، رسول خدا وحی کے ذریعہ محفو ظ تھے اور خطا ء سے معصوم تھے ان کے ساتھ فرشتے تھے جب کہ میرے ساتھ شیطان ہے کہ جس کے جال میں پھنس جاتا ہوں پس جب کبھی بھی مجھے غصے میں دیکھو تو مجھ سے دوری اختیار کرنا ۔(۱)
تمّام بن محمد رازی (م ۴۱۴ھ) نے اپنی کتاب الفوائد میں اپنی اسناد کے ساتھ ابن ابی عموص سے روایت نقل کی ہے کہ جس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ابوبکر پر شیطان مسلط ہوتا تھا ۔ لہذا تماّم لکھتا ہے :
ابوبکر زمانہ جاہلیت میں شراب پیتے اور پھر یہ شعر پڑھتے تھے :
____________________
(۱) المصنف (عبدالرزاق ) : ۱۱ ۳۳۶، حدیث ۲۰۷۰۱(متن روایت اسی کتاب سے ہے ) ۔ اور دیکھیے :ـ الامامة والسیاسة :۱ ۲۲۔ تاریخ دمشق :۳۰ ۳۰۳۔ تاریخ طبری : ۲ ۴۶۰۔ طبقات ابن سعد :۳ ۲۱۲۔
نحیی ام بکر بالسلام
و ه ل ل ی بعد قوم من سلام
اے مادر بکر آپ کو بشارت ہو ،آپ کے فرزندکی سلامتی کی اور کیا اس قوم کے مرنے کے بعد بھی میرے لیے کوئی سلامتی ہے ۔
یہ خبر رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کو پہنچ ی آپ اٹھے اپنی عبا کو اپنے کاندھوں پر ڈالا اور وہاں تک پہنچ گئے ، وہاں جاکر دیکھا کہ ابوبکر کے ساتھ عمر بھی ہیں ، پس جیسے ہی عمر نے رنجیدگی کی حالت میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کو د یکھا تو کہا : میں غضب رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم سے خدا ک ی بارگاہ میں پناہ چاہتاہوں خدا کی قسم وہ بغیر سبب ہماری طرف نہیں آتے وہ پہلے فرد ہیں کہ جنہوں نے اپنے اوپر شراب حرام کی ہے ۔(۱)
جی ہاں ! ابوبکر نے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم ک ی رفتار سے درس حاصل نہیں کیا اور ان کے غصے و خشم سے عبرت حاصل نہیں کی بلکہ دیکھیں کہ خالد بن ولید کو اپنی فوج کا کمانڈر بنادیا جب کہ رسول خدا نے اس سے اور ضرار بن ازور سے متعدد بار شراب خواری و بد خواری اور فسق و فجور کی وجہ سے بیزاری کا اظہار فرمایا تھا ۔
یہ تمام باتیں اس وجہ سے ہیں کہ ابوبکر اپنی خواہشات نفس کے تابع تھے ، اور اپنے دستورات و قوانین کو خداوندعالم کے احکام پر مقدم رکھتے تھے ۔
یہ ابوبکر خلیفہ مسلمین کے تھوڑے سے حالات ہیں ۔
اب دیکھیں حضرت امیر المؤمنین امام علی انپے اور رسول خدا کے بارے میں کیا فرماتے ہیں :
____________________
(۱) الفوائد :۲ ۲۲۸۔ اور دیکھیے :ـ الاصابہ :۷ ۳۹، ترجمہ۹۶۳۷۔
''جس وقت رسول خدا کا دودھ چھڑایا گیا تب ہی سے خداوندعالم کی جانب سے ایک بہت بڑا فرشتہ شب و روز آپ کے ہمراہ قرار پایا ، یہاں تک کہ آپ نے بڑی بڑی راہوں کو طے فرمایا اور دنیا کی اچھی اچھی خصلتیں اپنائیں ۔اور میں سفر و حضر میں آپ کے ہمراہ تھا جیسے کہ اوٹنی کا بچہ اپنی ماں کے ساتھ رہتاہے ، آپ ہرروز میرے سامنے اپنے اخلاق کا ایک خاص نمونہ پیش فرماتے ، اور مجھ سے پیروی کرنے کو فرماتے ، ہر سال غارحرا ء میں گوشہ نشین ہوتے ، میں آپ کو دیکھتا اور میرے علاوہ کوئی آپ کو نہیں دیکھتا تھا ۔اس وقت سوائے اس گھر کے کہ جس میں رسول خدا اور خدیجة الکبری رہتے تھے کسی دوسرے گھر میں اسلام داخل نہیں ہوا تھا ، ان دوکے علاوہ میں تیسرا مسلمان تھا ، میں رسالت و وحی کے نور کو دیکھتا تھا ، میں نبوت کی خوشبو محسوس کرتا تھا۔
میں نے جس وقت آپ پر وحی نازل ہوئی شیطان کے رونے کی آواز کو سنا اورپھر رسول خدا سے سوال کیا کہ یہ کیسی آواز ہے ؟
آپ نے فرمایا : یہ شیطان ہے کہ جو اس بات سے رنجیدہ ہے کہ اب اس کی عبادت نہیں ہوگی ، بیشک تم ہر اس آواز کو سنتے ہو کہ جس کومیں سنتا ہوں اور ہر اس چیز کو دیکھتے ہو جس کو میں دیکھتا ہوں سوائے اس کے کہ میرے بعد پیغمبرنہیں ہو بلکہ میرے وزیر ہو ، راہ حق پر گامزن ہو اور مؤمنین کے امیر ہو ۔(۱)
''بغیة الباحث '' اور '' المطالب العالیہ بزوائد المسانید الثمانیہ'' نیز ''الجمع بین الصحیحین '' اور ان کے علاوہ دوسری بہت سی کتابوں میں مذکورہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت عل ی ابن ابی طالب سے فرمایا
____________________
(۱) نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۹۲۔
اے علی تم میرے گھر کے دروازے پر کھڑ ے رہو کوئی میرے پاس نہ آئے اس لیے کہ میرے پاس کچھ زائر فرشتے ہیں کہ جو خداوندعالم سے اجازت لے کر میری زیارت کو آئے ہیں ۔
حضرت علی دروازے پر کھڑے ہوگئے اتنے میں عمر آئے، اندر آنے کی اجازت مانگی اور کہا اے علی میرے لیے رسول خدا سے اجازت لو ، آپ نے فرمایا : کسی کو بھی پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں پہنچنے کی اجازت نہیں ہے ، عمرنے کہا کیوں؟ آپ نے جواب دیا: چونکہ آپ کے پاس کچھ زائر فرشتے ہیں کہ جو خداوند عالم سے اجازت لے کر آئے ہیں کہ آپ کی زیارت کریں ، عمر نے سوال کیا : اے علی وہ کتنے افراد ہیں ؟ آپ نے فرمایا ۳۶۰ فرشتے ۔
اس واقعہ کے بعد ایک دن عمر نے اس گفتگو کو رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے نقل ک یا اور کہا: اے رسول خدا یہ سب مجھے علی نے خبردی ہے ۔
پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے علی سے فرمایا : اے علی آپ نے زائر فرشتوں کی خبر دی ہے ؟ آپ نے فرمایا: جی ہاں ، یارسول اللہ ۔ پھر فرمایا : کیا عمر سے فرشتوں کی تعداد بھی بیان فرمائی تھی ؟ علی نے کہا : جی ہاں آپ نے فرمایا: اے علی وہ کتنے افراد تھے ؟ علی نے کہا : وہ ۳۶۰ تھے، آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرما یا : آپ کو ان کی تعداد کا کیسے علم ہوا ؟ علی نے کہا : میں نے ۳۶۰ آواز یںسنیں مجھ کو علم ہوگیا کہ وہ ۳۶۰ فرشتے ہ یں ۔
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے دست مبارک کو عل ی کے سینے پر رکھا اور فرمایا : اے علی خداوند تیرے ایمان اور علم میں اضافہ فرمائے ۔(۱)
____________________
(۱) بغیة الباحث ۲۹۵۔ المطالب العالیہ بزوائد المسانید الثمانیہ:۹۰۱۶۔الجمع بین الصحیحین:۴ ۲۶۳۔ سبل الھدی والرشاد:۱۰ ۲۴۶۔
یہ حدیث آپ کے لیے واضح کرہی ہے کہ کسی بھی صحابی یا کسی بھی اورشخض کا اہل بیت طاہرین کے ساتھ مقایسہ و مقابلہ نہیں کیا جاسکتا ،چونکہ وہ حضرات نبوت کے ثمر آور اور تناور شجرہ طیبہ سے ہیں ، خداوندعالم نے ان کو پیغمبراکرم کی جانشینی اور مؤمنین کی رہبری و قیادت کے لیے انتخاب فرمایا ہے اور وہ سب سے پہلے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم پر ایمان لائے ہیں ، اور آپ کی تصدیق کی ہے اور ان کے واسطے بہت سی خصوصیات اور امتیازات ہیں کہ کائنات کا کوئی فرد بھی ان کامقابلہ نہیں کرسکتا ۔
حضرت امیر المؤمنین کا خط معاویہ کے نام میں مذکورہے :
محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جیسے ہی ایمان اور خداوندعالم کی توحید کی طرف دعوت دی ہم اہل بیت سب سے پہلے ان پر ایمان لائے اور جو کچھ وہ لائے ہم اس پر یقین رکھتے ہیں ، ہم کئی سال تک ایسے عالم میں ایمان پر رہے کہ ہمارے علاوہ پورے عالم میں کوئی خداوندعالم پر ایمان نہیں رکھتا تھا اور اس کی عبادت نہیں کر تا تھا ۔(۱)
حضرت امام حسن بن علی نے جس وقت معاویہ سے صلح کرنے کا ارادہ فرمایا تو ابتداء حمد و ثناء خداوندی بجالائے اور اپنے جدامجد محمد مصطفی پر درود و سلام بھیجا پھر فرمایا :
ہم اہل بیت کو خداوندعالم نے اسلام میں محترم و مکرم قرار دیا اور تمام عالم میں سے ہم کوچنا اورانتخاب کیا ، ہم سے رجس و پلیدگی کو دور رکھا ، ہم کو پاک و پاکیزہ قرار دیا۔
____________________
(۱) کتاب صفین (منقری ) ۸۹۔ (اصل عبارت اسی کتاب سے ہے ) ۔ شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید ) :۱۵ ۷۶۔ بحارالانوار :۳۳ ۱۱۱۔
حضرت آدم سے میرے جد محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم تک جب کبھی بھی دو فرقوں میں تقسیم ہوتے خداوندعالم ہم کو ان میں سے بہترین میں قرار دیتا ۔ پس خداوندمتعال نے محمد کو نبوت کے لیے انتخاب فرمایا اور ان کو رسالت عطا فرمائی ، آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پر کتاب نازل کی اور میرے والد گرامی سب سے پہلے آپ پر ایمان لائے ، خدا اور اس کے رسول کی تصدیق کی ، خداوندعالم ، اپنی کتاب میں کہ جو اپنے رسول پر نازل کی ہے ، فرماتا ہے( افمن کان علی بینة من ربه و یتلوه شاهدمنه ) (۱) کیا وہ شخص کہ جو اپنے پروردگار کی جانب سے بینہ و دلیل رکھتا ہو اور اس کے پیچھے اس کا شاہد و گواہ بھی ہو (جھوٹ بول سکتا ہے ) ۔
میرے جد بزرگوار ہی اپنے پروردگار کی جانب سے بینہ و دلیل پر ہیں اور میرے والد بزرگوار وہی ہیں کہ جو ان کے پیچھے اور اتباع کرنے والے ہیں اور ان پر شاہد و گواہ ہیں۔(۲)
معاویہ کے نام محمد بن ابی بکر کے خط میں مذکور ہے :
۔ ۔ اس وقت خداوندعالم نے اپنے علم کے ذریعے ان کو منتخب فرمایا اور ان کے درمیان سے محمد کو چنا اور انتخاب کیا ان کو رسالت سے مخصوص کیا اور اپنی وحی کے لیے ان کوپسند فرمایا ، اپنے امر کے لیے ان پر اعتماد کیا، ان کوان تمام خصوصیات کے ساتھ گذشتہ تمام آسمانی کتابوں اور انبیاء و رسل پر گواہ اور گذشتہ شریعتوں پر راہنما قرار دیا ۔
____________________
(۱) سورہ ھود (۱۱) ، آیت ۱۷۔
(۲) ینابیع المودة (قندوزی حنفی ) :۳ ۳۶۴ـ ۳۶۶۔
آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنی حکمت اور نیک نصیحتوں کے ذریعہ اپنے پروردگار کی طرف دعوت دی تو سب سے پہلے جس نے ان کا جواب دیا اور ان کے ساتھ آمد و رفت کی اور ان کی بات کی تصدیق کی ، سچ سمجھا اوراسلام لائے ، ان کے ساتھ رہے اور ان کی ہر با ت کو قبول کیا ، ان کے بھائی ، ابن عم علی ابن ابی طالب تھے ، انہوں نے آپ کے غیب کی ہربات کی تصدیق کی ، اور اپنی ہر بات پر ان کو مقدم رکھا اور ان کی ہرخوف و خطر میں حفاظت کی ، ہر طرح کے حوادث میں اپنی جان کو ان پر قربان کرنے کے لیے پیش کیا ، جس نے محمد سے دشمنی کی اس سے علی نے جنگ کی اور جس نے محمد سے صلح کی علی نے اس سے صلح کی۔(۱)
حدیث ابوبکر ھذلی اور داؤد بن ہند میں آیا ہے کہ جو شعبی سے منقول ہے اس نے کہا کہ رسول خدا نے علی کے متعلق فرمایا:''هذا اول من آمن بی و صدقنی و صلیٰ معی '' (۲)
یہ علی وہ فرد ہیں کہ جو سب سے پہلے مجھ پر ایمان لائے، میر ی تصدیق کی اور میرے ساتھ نماز پڑھی ۔
امیرالمؤمنین نے کمیل کو اس طرح وصیت فرمائی :
اے کمیل ! زمین ، شیطانوں کے جالوں سے بھری پڑی ہے کوئی شخص بھی ان سے نجات حاصل نہیں کرسکتا مگر یہ کہ ہمارے دامن سے متمسک ہوجائے۔
____________________
(۱) مروج الذھب :۲ ۵۹۔ کتاب صفین (منقری ) ۱۱۸۔(متن عبارت اسی کتاب سے ہے )۔ شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) :۳ ۱۸۸۔ جمھرة رسائل العرب :۱ ۵۰۲۴۷۷۔
(۲) شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) :۱۳ ۲۲۵۔
اور خداوند عالم نے تجھے متوجہ کردیا کہ کوئی بھی ان کے پنجے سے چھٹکارا نہیں پاسکتا مگر اس کے خاص بندے اور خدا کے خاص بندے ہمارے دوستدار و شیعہ ہیں ۔
اے کمیل ! یہ خداوندمتعال کا کلام ہے( ان عبادی لیس لک علیهم سلطان ) (۱) اے ش یطان وہ میرے خاص بندے ہیں تو ان پر مسلط نہیں ہوسکتا ۔ اوریہ کلام پاک ہے( انما سلطانه علی الذین یتولونه والذین هم به مشرکون ) (۲)
شیطان کا تسلط اور حکومت صرف ان لوگوں پر ہے کہ جو اس کی اطاعت و ولایت کو قبول کرتے ہیں اور جو لوگ اس کے اغوا کرنے سے مشرک ہوجاتے ہیں ۔
اے کمیل! اس سے پہلے کہ آپ کے مال و فرزند میں شیطان شریک ہو ، جیسا کہ تم کو حکم دیا گیا ہے ہماری ولایت کے ذریعہ راہ نجات تلاش کرو۔(۳)
یہ پیغام ہے اس بات پر کہ اہل بیت معصوم ہیں اور ان کی خدا کی جانب سے تصدیق ہوئی ہے اور وہ ہی افراد خداوندعالم کی جانب سے اس آیت (کونوا مع الصادقین)(۱) (سچوں کے ساتھ ہوجاؤ ) م یں مورد عنایت ہیں نہ ابوبکر و عمر۔چونکہ اہل بیت کے متعلق حدیث ثقلین میں قرآن کریم کے برابر ہونا آیاہے،اوریہ مطلب ہماری راہنمائی کرتا ہے اس بات کی طرف کہ جس طرح قرآن سے متمسک ہونا واجب ہے اسی طرح اہل بیت سے بھی متمسک ہونا واجب ہے۔
____________________
(۱) سورہ حجر (۱۵)، آیت ۴۲۔ و سورہ اسرائ(۱۷)، آیت ۶۵۔
(۲) سورہ نحل (۶۱)، آیت ۱۰۰۔
(۳)بشارةالمصطفی لشیعة المرتضی ۵۵۔ تحف العقول ۱۷۴۔
اگر اہل بیت سے خطا ء ممکن ہوتی تو ان سے تمسک کے لیے امر بطور مطلق صحیح نہ ہوتا اور جس طرح قرآن کریم کی تعلیمات بلا شک و تردید ہیں اسی طرح اہل بیت سے بھی جو کچھ ہم تک پہنچا ہے اس میں بھی کوئی شک و شبہہ نہیں ہے ۔ اور اگر اہل بیت معصوم نہ ہوتے تو ان کی پیروی میں گمراہی کا احتمال ہو تا لیکن وہ خدا وندعالم کی آسمان وزمین کے درمیان حبل متین اور مضبوط رسی ہیں اور قرآن کریم کی مانند خداوند اور خلق کے درمیان واسطہ ہیں ۔
اس تمام گفتگو کے بعد ہمیں یہ نتیجہ نظر آتاہے کہ اہل بیت سے دشمنی و اختلاف بدون شک و شبہہ اس شخص کے گمراہ ہونے پر دلیل ہے۔ اور ہمارا وظیفہ ہے قرآن و عترت دونوں سے متمسک رہیں چونکہ یہ دونوں ہمیں گمراہی سے نجات دلائیں گے اور یہی وجہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے وابستہ ہیں اور حوض کوثر پر پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس پہنچنے تک ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے ۔
اسلامی فرقوں میں سے کوئی سا بھی فرقہ ایسا نہیں ہے کہ جس کے یہاں قرآن و اہل بیت اس طرح متمسک ہوں کہ دونوں حوض کوثر تک ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں اور اس فرقے کے تمام مسائل و احکام و عقائد انہی سے ماخوذ ہوں ،سوائے مذہب شیعہ کے کہ جو بارہ اماموں کی امامت کے قائل ہیں کہ جن میں سے پہلے صدیق اکبر علی ابن ابی طالب اور آخری مہدی منتظر ہیں ۔ یہی معنی ہیں پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اس حدیث شریف کے جوآپ نے بیان فرمائی :
____________________
(۱) سورہ توبہ(۹)، آیت ۱۱۹۔
''خلفائی اثنا عشر کلهم من قریش'' (۱)
میرے خلفاء بارہ افراد ہیں کہ جو سب کے سب قریش سے ہیں ۔
پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا اپنے خلفاء کو بارہ کی تعداد میں محدود و معین کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ بارہویں امام کی عمر طولانی ہوگی ۔ مذہب شیعہ اور اہل سنت کے بہت سے بزرگوں کا بھی یہی عقیدہ ہے کہ بارہویں امام زندہ ہیں اور ہماری نظروں سے غایب ہیں اور وہ زمان حاضر میں بھی باقی ہیں تاکہ ہرزمانے میں قرآن کریم کی ہمراہی کی جاسکے اور حوض کوثر تک دونوں ساتھ پہنچیں ۔
یہی وجہ ہے کہ امیرالمؤمنین نے کمیل بن زیاد سے اہل بیت کے بارے میں اس طرح تعارف کرایا ہے :
'' ۔ ۔ ۔ جی ہاں ، یہ زمین کسی وقت بھی حجت خدا سے خالی نہیں رہ سکتی چاہے وہ حاضر و آشکار ہو یا غائب اور پوشیدہ اس کی وجہ یہ ہے تاکہ زمین کبھی بھی خدا کی روشن دلیل سے خالی نہ رہے ۔
لیکن وہ لوگ کون ہیں؟ کتنے افراد ہیں اور کہاں ہیں ؟
خدا کی قسم ان کی تعداد بہت تھوڑی ہے اور خدا کے نزدیک بہت بڑی منزلت و مقام رکھتے ہیں خدانے ان کو اپنی امانات و آیات عطا کی ہیں تاکہ وہ اپنے بعد ایک دوسر ے کے سپردکرتے رہیں ۔
____________________
(۱) صحیح مسلم :۶ ۴، باب الناس تبع القریش ، جابرابن سمرة سے روایت ہے کہ اس نے کہا کہ میں نے رسول خدا کو فرماتے سنا ہے کہ لایزال الدین قائما حتی تقوم الساعة ویکون علیھم اثنا عشر خلیفة کلھم من قریش ۔ یہ دین ہمیشہ قیامت تک باقی رہے گا اور لوگوں پر بارہ خلیفہ حکومت کریں گے کہ جو سب کے سب قریش سے ہوں گے ۔
علم و معرفت ، حقیقی بصیرت کے ساتھ ان کے یہاں ٹھاٹھیں مارتے سمندر کی طرح ہے ، وہ روح یقین سے مخلوط ہیں اور ہر کام کہ جو پوری دنیا پر مشکل ہو وہ ان پر آسان ہے اور جس سے اہل باطل و جاہل بھاگتے ہیں وہ اس سے مانوس ہیں اور اہل دنیا کے درمیان ایسی بلند روح و حوصلہ کے ساتھ زندگی بسر کرتے ہیں کہ جن کی نظیر پیش نہیں کی جاسکتی ۔وہ زمین پر خدا کے خلیفہ ہیں ، اور اس کے دین کی طرف بلانے والے ، آہ آہ مجھے ان کے دیدار کا کس قدر شوق ہے ''۔(۱) او ر پھر فرمایا :
'' کہاں ہیں وہ لوگ کہ جو ہم پر جھوٹ و تہمت لگاتے ہیں اور سر کشی کرتے ہیں جب کہ خداوندعالم نے ہمیں سر بلند فرمایا ہے اور ان کو سرنگوں کیا ، ہمیں علم و فضل عطا کیا اور ا ن کو بے نصیب بنایا ، ہمیں امن کے قلعے میں قرار دیا اور ان کو باہر نکال دیا ، وہ لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ علم قرآن میں راسخ ہمارے علاوہ کوئی اور ہے ۔
ہدایت ،ہماری رہنمائی ہی سے مل سکتی ہے اور دل کے نا بینوں کو روشنی ہمارے ہی ذریعہ نصیب ہوتی ہے ، بیشک وہ قریش کے آئمہ ہی ہیں کہ جوہاشم کی نسل او رشجرہ طیبہ سے ہیں دوسرے لوگ اس کے مستحق نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے علاوہ کوئی اور امر الہٰی کا ولی وسرپرست ہے ۔(۲)
ابن شہر آشوب، مناقب میں رقمطراز ہے: اس آیت( یا ایهاالذین آمنوا اتقواالله و کونوا مع الصادقین ) (۳) م یں خداوندعالم نے صادقین کی بطور مطلق پیروی کرنے کا حکم دیا ہے
____________________
(۱) نہج البلاغہ :۳ ۳۷، حکمت (کلمات قصار)۱۴۷۔
(۲) نہج البلاغہ :۲ ۲۷، خطبہ ۱۴۴۔
(۲) سورہ توبہ(۹)، آیت ۱۱۹۔ (اے ایمان لانے والو اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ)۔
اوریہ بات ان کے معصوم ہونے پر دلالت کرتی ہے چونکہ اس طرح کا امر کسی ایسے کے متعلق کہ جو برائیوں سے بچا ہوا نہ ہو ،قبیح ہے چونکہ اس کا م کا نتیجہ امر قبیح ہی کی طرف لے جاتاہے۔ اور جب یہ بات امامت کے باب میں ثابت ہوگئی کہ خصوص امیر المؤمنین اور ان کی اولاد معصوم کے لیے بطور اجماع عصمت ثابت ہے اور یہ آیت انہیں کے لیے ہے ، چونکہ امت اسلامی کا کوئی فرقہ بھی اس آیت کے بارے میں ان کے علاوہ کسی اور کے لیے نہیں کہتا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ صفات ان کے علاوہ کسی اور کے لیے ثابت نہیں ہیں اورکسی نے بھی ان خصوصیات کا ان کے علاوہ ادعی نہیں کیا ہے تو امامت بھی انہیں کا مسلم حق ہے ۔(۱)
____________________
(۱) مناقب ابن شہر آشوب :۱ ۲۴۷۔
سوم :ـ مطہر اور پاک وپاکیزہ ہونا
یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ تطہیر ، عصمت کا لازمہ و جزء ہے لیکن ہم یہاں پر عصمت کے قسیم کے طور پر پیش کررہے ہیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم یہاں پر تطہیر کے متعلق کچھ خاص چیزیں پیش کرنا چاہتے ہیں ، چونکہ ابھی گذرچکاہے کہ خداوندعالم نے موسیٰ کو حکم دیا کہ مسجد تعمیر کرے اور اس کو پاک و پاکیز ہ رکھے ، اس میں اپنے اور ہارون کے علاوہ کسی اور کو رہنے کا حق نہ دے۔ بالکل یہی مطلب خداوندعالم نے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے خلیفہ و وصی کے متعلق فرمایا ۔(۱)
____________________
(۱) الخصائص (سیوطی ) :۲ ۴۲۴۔غایة المرام :۳ ۱۹۱۔کتاب سلیم بن قیس ۱۹۵و ۳۲۱و ۴۰۰۔
امیرالمؤمنین کے احتجاجات میں وارد ہے کہ :
'' تمہیں اللہ کی قسم ، کیامیرے علاوہ تمہارے درمیان کوئی اور مطہر ہے ؟، اس وقت کہ جب رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تم سب کے گھروں کے دروازوں کو مسجد ک ی طرف سے بند کروادیا اور صرف میرے گھر کا دروازہ کھلا رکھا ، اور میں گھر و مسجد میں ہمیشہ ان کے ساتھ رہا ، پھر آپ کے چچا کھڑے ہوئے اور کہا : اے رسول خدا آپ نے ہم سب کے دروازوں کو بند کردیا اور علی کے دروازے کو کھلا رکھا ، تو آپ نے فرمایا : جی ہاں! خداوندعالم نے اس کام کا حکم دیا تھا ، تو سب نے کہا : نہ ، خدا کی قسم ، (آپ نے جو کہا ہے سچ ہے )''(۱)
ابوبکر کے ساتھ احتجاج میں آپ نے فرمایا :
'' میں آپ کو خدا کی قسم دیتاہوں کیا آیہ تطہیر اور ہر طرح کی گندگی و پلیدگی سے دوری تیری اور تیرے خاندان کی شأن میں نازل ہوئی یا میرے اور میرے خاندان کے بارے میں ؟ ابوبکر نے کہا آپ کے اور آپ کے اہل بیت کے بارے میں ۔
آپ نے فرمایا : تجھے خدا کی قسم دیتا ہوں کیا وہ شخص کہ جس کو خداوندعالم نے نسل بعد نسل اس کے باپ سے حضرت آدم تک زنا اور غیر مشروع رابطہ سے دوررکھا اور رسول خدا فرماتے تھے میں اور آپ آدم سے لیکر عبدالمطلب تک حلال ونکاح کے ذریعہ منتقل ہوتے رہے اور زنا و سفاح سے پاک و پاکیزہ رہے ، میں ہوں یا تو ؟
____________________
(۱) تاریخ دمشق :۴۲ ۴۳۲۔ کنزالعمال :۵ ۴۲۶، حدیث ۱۴۲۴۳۔ مناقب خوارزمی ۳۱۵۔ خصال صدوق ۵۵۹، حدیث ۳۱۔
ابوبکر نے کہا: بلکہ آپ ہیں ۔(۱)
حضرت امیر المؤمنین سے روایت ہے کہ اپنے دین کے سلسلے میں تین طرح کے لوگوں سے بچے رہنا ۔ ۔ ۔ اور فرمایا :
'' وہ شخص کہ جس کو خدائے متعال نے حکومت عطا فرمائی تو اس نے گمان کیا کہ اس کی اطاعت خدا کی اطاعت ہے اور اس کی معصیت خدا کی معصیت ہے ، جب کہ وہ جھوٹا ہے چونکہ خداوندعالم کی معصیت میں مخلوق کی کوئی اطاعت نہیں ہے بلکہ صرف اطاعت خدااور اس کے رسول اور صاحبان امر کی ہے کہ جس کو خداوند عالم نے اپنے اور اپنے رسول کے قرین و ہمراہ قرار دیا ہے اور فرمایا ہے :
( اطیعوا الله و اطیعو الرسول و اولی الامر منکم ) (۲)
خداوندعالم کی اطاعت کرو اور رسول و صاحب امر کی اطاعت کرو ۔
چونکہ خداوندعالم نے اپنی اور رسول کی اطاعت کا حکم دیا اس لیے وہ معصوم و مطہر ہیں، خدا کی نافرمانی و معصیت کی دعوت نہیں دیتے اور پھر اس کے ساتھ صاحبان امر کی اطاعت کا حکم دیا ، اس لیے کہ وہ بھی معصوم او رپاک ہیں اور خداکی نافرمانی و معصیت کی طرف دعوت نہیں دیتے ۔(۳)
____________________
(۱) احتجاج طبرسی :۱ ۱۷۱۔
(۲) سورہ نسائ(۴)، آیت ۵۹۔
(۳) کتاب سلیم بن قیس ۴۰۵، حدیث ۵۴۔ اسی کی طرح کچھ فرق کے ساتھ منقول ہے : خصال صدوق ۱۳۹،حدیث ۱۵۸ میں اور بحار الانوار :۲۵ ۲۰۰،حدیث۱۹ میں ۔
حضرت امام جعفرصادق نے اپنے آباء و اجداد مطہرین سے روایت نقل کی ہے کہ امیرالمؤمنین نے کوفہ کے منبر پر خطبہ ارشادفرمایا اور اپنے خطبے کے دوران فرمایا کہ:
'' خداوند عالم نے ہم اہل بیت کو محفوظ رکھا اس سے کہ چال باز ، حیلہ گر ، دھوکے بازیا جھوٹے و مکار ہوں ، بس جس میں بھی اس طرح کی بری چیزیں پائی جاتی ہیں وہ ہم میں سے نہیں ہے اور ہمارا اس سے کوئی رابطہ نہیں ہے ۔
بیشک خداوندعالم نے ہم اہل بیت کو ہر طرح کی پلیدگی و رجس سے پاک رکھا اور جب کبھی بھی ہماری زبان سے کچھ نکلا تو سچ کردکھایا اور جب کبھی ہم سے کوئی سوال ہوا اس کا ہم نے جواب دیا ۔ خداوندعالم نے ہم کو دس ایسی خصلتیں عطا فرمائی ہیں کہ جو نہ ہم سے پہلے کسی کو دیں اور نہ ہمارے بعد کسی کو عطا فرمائے۔
حلم ، علم، عقل، نبوت ، شجاعت ، سخاوت، صبر ، صدق و سچائی ، عفت و پاکدامنی اور طہارت و پاکیزگی ۔ پس ہم ہیںکلمة التقوی،ہدایت کے راستے ، بہترین نمونے، بہت عظیم حجت الہٰی اور حکم و مضبوط امانت ، ہم ہی وہ حق ہیں کہ جن کے بارے میں ارشاد الہٰی ہے ۔
( فما ذا بعد الحق الاالضلال فانیٰ تصرفون ) (۱)
حق کے بعد گمراہی کے علاوہ کچھ نہیں ہے پس کہاں منھ موڑے جارہے ہو۔''(۲)
____________________
(۱) سورہ یونس (۱۰)، آیت ۳۲۔
(۲) تفسیر فرات کوفی ۱۷۸، حدیث ۲۳۰۔ بحارالانوار:۳۹ ۳۵۰، حدیث ۲۴۔
عبداللہ بن عمر بن خطاب سے روایت ہے کہ اس نے کہا : فرزند ابو طالب کو تین خصلتیں ایسی عطا ہوئیں کہ اگر ان میں سے مجھ کو ایک بھی مل جاتی تو وہ مجھ کو لال بال والے اونٹ سے بھی کہیں زیادہ عزیز تھی ۔ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنی بیٹی کی شادی ان سے فرمائی اور آپ کے یہاں ان سے دو بیٹے پیداہوئے اور تمام مسلمانوں کے گھروں کے دروازوں کو کہ جو مسجد کی طرف کھلتے تھے بندکرادیا سوائے آپ کے گھر کے دروازے کے ، اور روز خیبر آپ کو علم عطا فرمایا ۔(۱)
اسی طرح کی روایت ابوسعید خدری(۲) اور عمر بن خطاب سے بھ ی نقل ہوئی ہے ،صر ف عمر کی روایت میں الفاظ اس طرح ہیں ''وسکناه المسجد مع رسول الله یحل له فیه مایحل له ''
یعنی وہ مسجد میں رسول کے ساتھ رہتے اور جو چیز مسجد میںرسول کے لیے حلال تھی علی کے لیے بھی حلال تھی ۔(۳)
حذیفہ بن اسید انصاری سے روایت ہے کہ روزسدالابواب (دروازے بند ہونے والے دن) پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم منبر پر تشریف لے گئے اور خطبہ ارشاد فرمایا :
____________________
(۳) مسند احمد ابن حنبل :۲ ۲۶۔ مجمع الزوائد :۹ ۱۲۰۔ فتح الباری : ۷ ۱۲۔ کنزالعمال : ۱۳ ۱۱۰، حدیث ۳۶۳۵۹۔
(۴) مستدرک حاکم :۳ ۱۱۷۔
(۱) مستدرک حاکم :۳ ۱۲۵۔ مجمع الزوائد :۹ ۱۲۰۔ مصنف ابن ابی شیبہ :۷ ۵۰۰ ، حدیث ۳۶۔ مناقب خوارزمی ۲۶۱۔ البدایة والنھایة :۷ ۳۷۷۔
''کچھ لوگ اس بات سے کہ میں نے علی کو مسجد میں رکھا اور ان کو باہر کردیا اپنے دلوں میں احساس لیے ہوئے ہیں ، خداکی قسم میں نے یہ کام نہیں کیا بلکہ خداوندعالم نے ان کو باہر کیا ہے اور علی کو سکونت عطا فرمائی ہے ، خدائے متعال نے موسیٰ اور ان کے بھائی ہارون کو وحی فرمائی کہ اپنے لیے شہر میں گھر تعمیر کرو اور اس کو لوگوں کا قبلہ قرار دو ، اس گھر میں عبادت کرو ، علی کو مجھ سے وہی نسبت ہے کہ جو ہارون کو موسی سے تھی اور وہ میرا بھائی ہے ، کسی کے لیے مسجد میں اپنی بیوی کے ساتھ مباشرت جائز نہیں ہے سوائے اس کے ۔(۱)
حضرت علی کے دشمنوں نے آپ سے بغض و حسد میں مختلف طریقے کی روایات کوگھڑا جیسے یہ روایت کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تمام صحابہ کے گھروں کے دروازے کہ جو مسجد میں کھلتے تھے بند کرادیئے سوائے ابوبکر کے گھر کی کھڑکی کے۔(۲)
علامہ امینی نے حدیث سد الابواب کے ذیل میں خوخة ابی بکر (ابوبکر کی کھڑکی ) کے متعلق کافی مفصل و دلچسپ گفتگو فرمائی ہے(۳) وہ کہتے ہ یں :
____________________
(۱) ینابیع المودة :۱ ۲۵۹، باب ۱۷، حدیث ۸۔ الطرائف ۶۱، حدیث ۵۹۔ اور دیکھیے :ـ مسند احمد :۴ ۳۶۹۔ مستدرک حاکم :۳ ۱۲۵۔
(۲) صحیح بخاری :۴ ۲۵۴۔ صحیح مسلم :۷ ۱۰۸۔ مسند احمد :۱ ۲۷۰۔ اور ابن جوزی نے الموضوعات :۱ ۳۶۷ ۔ میں لکھا ہے کہ بعض عالم نما افراد نے حدیث ابوبکر میں زیادتی سے کام لیا ہے کہ جو صحیح نہیں ہے ۔
(۳) دیکھیے :ـ الغدیر :۳ ۲۰۲ـ ۲۱۵۔
اس طرح کی روایات اس مطلب کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ ان سب دروازوں کو بند کرنا کہ جو مسجد کے اندر کو کھلتے تھے مسجد کو ظاہری و معنوی نجاست سے پاک رکھنا تھا ،تاکہ کوئی بھی حالت جنابت میں اس میں وارد نہ ہو اور کوئی بھی اس میں جنب نہ ہو، لیکن اپنے اور امیرالمؤمنین کے لیے مسجد میں ہرحال میں رفت و آمد کی اجازت اور آپ کا دروازہ کھلا رکھنا یہ ان دوبزرگواروں کی طہارت و پاکیزگی کی وجہ سے ہے کہ جس بات پر آیہ تطہیر دلالت کرتی ہے کہ وہ حضرات ہر طرح کی پلیدگی و گندگی حتی معنوی نجاست جیسے جنابت سے بھی پاک و پاکیزہ ہیں ۔
یہ مسئلہ کاملاً مسجد موسی کی طرح ہے اور اس سلسلے میں بیشتر آگاہی کے لیے مفید ہے یہ کہ موسی نے اپنے پروردگار سے دعا مانگی کہ میرے اور میرے بھائی ہارون کے لیے مسجد کو حلال و پاک فرما۔ یا یہ کہ خداوندعالم نے حکم دیا کہ مسجد کو پاک رکھو،سوائے اپنے اور ہارون کے کوئی اور اس میں سکونت اختیار نہ کرے ، اور یہاں پر مسجد کو پاک رکھنا صرف ظاہری نجاست سے پاک رکھنا مقصود نہیں ہے چونکہ یہ تو ہرمسجد کے لیے حکم ہے ۔
اس سے پہلے بھی روایت بیان ہوچکی ہے کہ جس سے یہ مطلب صاف واضح ہوجاتاہے کہ امیرالمؤمنین حالت جنابت میں مسجد میں وارد ہوجاتے تھے ۔(۱)
____________________
(۱) یہ حدیث عبداللہ ابن عباس سے روایت ہے ۔ نسائی نے الخصائص ۷۶ میں نقل کیا ہے ۔ اور اسی سے نقل ہوئی ہے فتح الباری :۷ ۱۳ میں اور نسائی کا کہنا ہے کہ اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ و نیز کتاب السنة (ابن ابی عاصم ) ۵۸۹ میں بھی مذکور ہے ۔
اوربعض اوقات جنب کی حالت میں مسجد سے عبور فرماتے تھے ۔(۱)
آپ حالت جنابت میں مسجد میں تشریف لاتے اور گذر جاتے ۔(۲) اور یہی مطلب اس حدیث کا ہے کہ جو ابوسعید خدری سے نقل ہوئی ہے کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا : کسی شخص کے لیے بھی حلال و مناسب نہیں ہے کہ مسجد میں جنب ہو سوائے میرے اور اے علی تیرے۔(۳)
اور اسی سلسلے میں پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی یہ حدیث :
'' الاان مسجدی حرام علی کل حائض من النساء و کل جنب من الرجال الا علیٰ محمد و اھل بیتہ علی و فاطمة و الحسن و الحسین''۔(۴)
____________________
(۱) مجمع الزوائد :۹ ۱۱۵۔ فتح الباری :۷ ۱۳۔ اور طبرانی نے معجم الکبیر :۲ ۲۴۶ میں ابراہیم بن نائلہ اصبہانی اور اس نے اسماعیل بن عمر و بجلی سے اور اس نے ناصح بن حرب سے اور اس نے جابر بن سمرہ سے روایت کی ہے ۔
(۲) یہ تمام روایات اہل سنت کے یہاں سے ہیں اگر چہ شیعہ مذہب میں بھی اس طرح کی متعدد روایات موجود ہیں کہ جن کا مطلب یہ ہے کہ واقعہ سد الابواب اور آیہ تطہیر اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ علی اور معصومین علیہم السلام ہر حال میں طیب و طاہر اور پاک و پاکیزہ ہیں ، جنابت و غیر جنابت ا ن کے لیے کوئی فرق نہیں ہے۔(م)
(۳) سنن ترمذی :۵ ۳۰۳،حدیث ۳۸۱۔ السنن الکبری(البیہقی ): ۷ ۶۶۔
(۴) السنن الکبری (بیہقی ) :۷ ۶۶۔ سبل الھدی و الرشاد :۱۰ ۴۲۳۔ تفسیر ثعلبی :۳ ۳۱۳۔ تلخیص التحبیر : ۳ ۱۳۶۔ اور دیکھیے : تاریخ دمشق : ۱۴ ۱۶۶۔ ذکر اخبار اصبہان:۱ ۱۹۱۔ کنزالعمال :۱۲ ۱۰۱،حدیث ۳۴۱۸۳۔
آگاہ ہوجائو بیشک میری مسجد ، حائض عورت اور جنب مرد پر حرام ہے سوائے محمد اور آپ کے اہل بیت کے کہ وہ علی و فاطمہ اور حسن و حسین ہیں۔(۱)
لہذا تطہیر ، پاک ہونا ، اہل بیت علیہم السلام کے لیے ممتاز ترین وعالی ترین مرتبہ ہے اور یہ مطلب بھی واضح ہوجاتاہے کہ وہ حضرات ایک نور سے خلق ہوئے ہیں کوئی بھی شیٔ ان کے سامنے قابل قیاس نہیں ہے ۔
ابھی تھوڑا پہلے گذرچکا ہے کہ وہ حضرات پاک و پاکیزہ ماؤوں کے رحم اور پاک و طاہر صلبوں میں منتقل ہوتے رہے اور آپ حضرات کی جدہ خدیجہ زمانہ جاہلیت میں بھی طاہرہ و پاکدامن کہلاتی تھیں۔(۲)
یہی وجہ ہے کہ معصوم کو معصوم کے علاوہ کوئی اورغسل نہیں دے سکتا ، روایات میں مذکورہے کہ حضرت امام موسی بن جعفر نے فرمایا کہ مجھ سے میرے والد نے فرمایا کہ علی کا ارشاد ہے کہ جب میں نے رسول خدا کا وصیت نامہ پڑھا تو دیکھا کہ اس میں تحریر ہے کہ اے علی مجھے آپ ہی غسل دینا اور آپ کے علاوہ مجھے کوئی اور غسل نہ دے ،میں نے سوال کیا اے رسول خدا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوجائیں کیا میں تنہا آپ کو غسل دے سکتا ہوں ؟ کیا میرے اندر اتنی طاقت ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ جبرئیل کا پیغام ہے کہ جس کو خداوندعالم نے حکم دیا ہے ۔
____________________
(۱) الغدیر :۳ ۲۱۰ـ۲۱۲۔
(۲) مجمع الزوائد :۹ ۲۱۸۔فتح الباری :۷ ۱۰۰۔ المعجم الکبیر :۲۲ ۴۴۸۔ اسدالغابہ :۵ ۴۳۴۔ تاریخ دمشق :۳ ۱۳۱۔ البدایة والنھایة ۳۲۹۔ السیرة النبویة (ابن کثیر) :۴ ۶۰۸۔
میں نے سوال کیا : اگر میں تنہا آپ کو غسل نہ دے سکا توکیا اپنے علاوہ کسی ایسے کو جو ہم ہی میں سے ہے غسل میں مدد کے لیے بلا سکتاہوں ؟ توآپ نے فرمایا کہ جبرئیل نے کہا ہے کہ علی سے کہیں کہ آپ کے پروردگارکا حکم ہے کہ اپنے چچا زاد بھائی محمد کو غسل دو چونکہ یہ سنت الٰہیہ ہے کہ انبیاء کو اوصیاء کے علاوہ کوئی غسل نہیں دیتا اور ہر نبی کو اس کے بعد والاوصی غسل دیتا ہے۔اور یہ امت پر پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی جانب سے حجت خدا ہے اس بات پر کہ جو انہوں نے مشیت خدا کے خلاف اجماع کر رکھا ہے۔
اے علی جان لو کہ میرے غسل میں آپ کی مددگار وہ ہستیاں ہیں کہ جو بہترین بھائی اور مددگار ہیں ۔
علی نے سوال کیا اے رسول خدا ،وہ کون ہیں ؟آپ پر میرے ماں باپ فداہوں تو آپ نے فرمایا : وہ جبرئیل و میکائیل و اسرافیل اور ملک الموت اور اسماعیل صاحب آسمان دنیا ہیں کہ جو آپ کی مدد کریں گے ۔
پس علی نے کہا کہ میں خدا کے حضور سجدہ میں گرگیا اور عرض کی خدایا تیرا شکر ہے کہ تو نے ایسے بھائی و مددگار میرے لیے معین فرمائے کہ جو خدا کے امین ہیں ۔(۱)
____________________
(۱) بحارالانوار : ۲۲ ۴۵۶،حدیث ۶۴۔(بنقل از طرائف ابن طائوس ، متن روایت اسی کتاب سے ہے ) ۔ الصراط المستقیم : ۲ ۹۴، حدیث ۱۴۔ اور دیکھیے :ـ کنزالعمال :۷ ۲۴۹، حدیث ۱۸۷۸۰۔ تاریخ دمشق :۱۳ ۱۲۹۔ سمط النجوم العوالی :۳ ۴۱، حدیث ۴۵۔
اور یہ خود امیر المؤمنین کا ارشاد گرامی ہے کہ :
'' اس وقت کہ جب رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم ک ی روح قبض ہوئی آپ کا سرمبارک میری آغوش میں تھا اور پھر میرے سر آپ کے غسل کی ذمہ داری پڑگئی کہ مقرب فرشتے میرے ساتھ آپ کے جنازے کو الٹتے پلٹتے تھے اور خدا کی قسم کسی بھی پیغمبرکے بعد اس کی امت میں اختلاف نہ ہوا مگر یہ کہ اہل باطل ، اہل حق پر کامیاب ہوئے اور خداجو چاہتا ہے کرتا ہے۔(۱)
نیز امیرالمؤمنین نے فرمایا :
''رسول خد اصلىاللهعليهوآلهوسلم نے وص یت فرمائی کہ میرے علاوہ کوئی ان کو غسل نہ دے چونکہ جو کوئی بھی شرم گاہ کو دیکھے گا اس کی دونوں آنکھیں اندھی ہوجائیں گی ،پس عباس اور اسامہ پردے کے پیچھے سے پانی پہنچا رہے تھے اور میں بدن کے جس حصہ کو بھی پکڑتا تو محسوس کرتا کہ گویا کوئی تیس افراد میرے ساتھ اس حصے کو پکڑے ہوئے الٹ پلٹ کررہے ہیں یہاں تک کہ میں غسل سے فارغ ہوا ''۔(۲)
____________________
(۱) کتاب صفین (منقری) ۲۲۴۔ جمھرة خطب العرب :۱ ۳۴۶۔ شرح نہج البلاغہ :۵ ۱۸۱۔ امالی مفید ۲۳۵۔
جس چیز کی امیرالمؤمنین نے خبر دی ہے یہی چیز معاویہ کی زبان پر بھی جاری ہوئی ، شعبی سے نقل ہوا ہے کہ اس نے کہا کہ جب معاویہ کے ہاتھ پر بعیت ہورہی تھی تو اس نے خطبہ دیا اور کہا کہ کسی بھی امت میں اپنے پیغمبر کے بعد اختلا ف نہیں ہوا مگریہ کہ اہل باطل ، اہل حق پر کامیاب ہوئے اور اس کے بعد معاویہ کو اپنے کہے پر پشیمانی ہوئی لہذا کہا سوائے اس امت کے کہ بیشک۔۔۔(مقاتل الطالبین ۴۵۔ سبل الھدی والرشاد:۱۰ ۳۶۴) ۔
(۲) طبقات ابن سعد :۲ ۲۷۸۔ مجمع الزوائد: ۹ ۳۶۔ کنزالعمال :۷ ۲۵۰، حدیث۱۸۷۸۴۔
اسی طرح کی حدیث آپ کے احتجاجات میں بھی ہے کہ آپ نے فرمایا :
''آپ کو میں خدا کی قسم دیتاہوں کیاآپ لوگوں کے درمیان میرے علاوہ کوئی ہے کہ جس نے فرشتوں کے ساتھ رسول خدا کی آنکھیں بند کی ہوں، سب نے کہا نہ خداکی قسم،پھر آپ نے فرمایا تمہیں میں خدا کی قسم دیتاہوں کیا آپ لوگوں کے درمیان میرے علاوہ کوئی ہے کہ جس نے فرشتوں کے ساتھ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو غسل دیا ہوکہ جو میری خواہش کے مطابق پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بدن کو پلٹا رہے تھے ۔ سب نے کہا : نہ ''۔(۱)
مفضل ابن عمر نے حضرت امام جعفر صادق سے روایت نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا :
''فاطمة صدیقة لم یکن یغسلها الاصدیق'' (۲)
فاطمہ، صدیقہ ہیں ان کو صدیق کے علاوہ کوئی اور غسل نہیں دے سکتا ۔
ان مذکورہ تمام احادیث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہر طرح کی پلیدگی ، گندگی ، آلودگی و نجاست سے تطہیر اور پاک و پاکیزہ ہونا ، صدیقیت کی واضح ترین علامت ہے اور چونکہ جھوٹ ، رجس و پلیدگی کا جزء ہے جب کہ صدیق، صادق و صدوق کا صیغہ مبالغہ ہے۔
____________________
(۱) تاریخ دمشق :۴۲ ۴۳۳و۴۳۵۔ الطرائف ۴۱۳۔ شرح الاخبار :۲ ۱۸۹،حدیث ۵۲۹۔ مناقب خوارزمی ۳۱۵۔
(۲) اصول کافی :۱ ۴۵۹، باب مولد الزھرا، حدیث ۴۔ فروع کافی :۳ ۱۵۹،باب الرجل یغسل المرأ ة ،حدیث ۱۳۔ علل الشرایع:۱ ۱۸۴،باب العلة التی من اجلھا غسل فاطمة امیر المؤمنین لما توفیت ، حدیث ۱۳۔ تہذیب الاحکام :۱ ۴۴۰،حدیث ۱۴۲۲۔ الاستبصار :۱ ۲۰۰ ،حدیث ۱۵۷۰۳۔
لہذا جھوٹ کبھی بھی صدیق تک نہیں آسکتا بلکہ صدیق کے لیے لازم ہے کہ پہلے مرحلے میں صادق، امین اور وعدہ وفادار ہو، تاکہ اپنے دوسرے مرحلہ میں صدیق کہلاسکے ۔
یہی وجہ ہے کہ آیت تطہیر میں اس مبالغہ کا خیال رکھا گیا ہے جیسے کلمہ ''انما''کہ کلمہ حصر ہے اور مفعول مطلق کو تاکید کے لیے لایا گیا''یطهر کم تطهیرا'' اور اس آیت کا نزول صرف محمد و علی و فاطمہ و حسن و حسین سلام اللہ علیہم اجمعین کے لیے ہے ۔(۱)
یہ اسی کی مانند ہے کہ جو حضرت مریم بنت عمران کے لیے قرآن کریم میں آیا ہے:
٭( اصطفاک علی نساء العالمین ) (۲)
اے مریم خداوندعالم نے آپ کو تمام عالمین کی عورتوں پر چنا ۔
٭( و جعلناابن مریم و امه آیة ) (۳)
ہم نے ابن مریم اور اس کی ماں کو آیت و نشانی قرار دیا۔
پس مریم بنت عمران اور فاطمہ بنت محمد ، تطہیر کے دو کامل نمونے ہیں ۔ خداوندکریم کا ارشاد گرامی ہے :
____________________
(۱) تفسیر الکشاف :۱ ۳۹۶۔ البرھان (زرکشی) :۲ ۱۹۷۔ اسباب النزول (نیشابوری) ۲۳۹۔ اور دیکھیے :ـ الدرالمنثور :۵ ۱۹۸۔(سیوطی نے اس روایت کو کئی طریقوں سے نقل کیا ہے )
(۲) سورہ آل عمران (۳)، آیت ۴۲۔
(۳) سورہ مؤمنون (۲۳)، آیت ۵۰۔
( و مریم بنت عمران التی احصنت فرجها فنفخنا فیه من روحنا و صدقت بکلمات ربها و کتبه و کانت من القانتین ) (۱)
اور مریم بنت عمران کہ جس نے پاکدامنی اختیار کی تو ہم نے اپنی روح میں سے ان میں پھونکی اوروہ خدا کی کتب و کلمات کی تصدیق کرنے والی اور فرمانبردار تھیں ۔
اور اسی طرح کا کلام حضرت امام جعفر صادق سے نقل ہوا ہے آپ نے فرمایا : مریم بنت عمران نے پاکدامن زندگی گذاری اور ان کی مثال خداوندعالم نے حضرت فاطمہ کے لیے یہاں بیان فرمائی ہے ، اور پھر آپ نے فرمایا :
'' ان فاطمة احصنت فرجها فحرم الله ذریتها علی النار'' (۲) ب یشک فاطمہ پاکدامن رہیں پس خداوندعالم نے ان کی ذریت و نسل پر جہنم کی آگ کو حرام کردیا ۔
____________________
(۱) سورہ تحریم(۶۶)، آیت ۱۲۔
(۲) تفسیر برہان :۴ ۳۵۸۔
چہارم : ـ حنفیت و یکتا پرستی
چونکہ صدیقیت ایک الہٰی و ربانی مقا م ومرتبہ ہے لہذا صدیق کے لیے لازم ہے کہ اسلام سے پہلے ہی سے خداپرست ہو، بتوں کے سامنے سجدہ ریز نہ ہوا ہو اور اسلام سے پہلے یکتا پرستی کے آئین و دین پر ہو یا اگر زمانہ اسلام میں پیدا ہوا ہو تو ابتداء ہی سے مسلمان ہو یعنی صدیق کا اسلام اصلی ہو ، اور اس کے یہاں کفر و شرک نہ پایا جائے ۔
یہ بات واضح ہے کہ امیرالمؤمنین ایک ایسے فرد ہیں کہ جنہوںنے کبھی بتوں کے سامنے سر نہیں جھکایا اور اس بات میں کسی کو بھی شک و شبہہ نہیں ہے ، چونکہ اہل سنت کے درمیان بھی صرف امام علی ہی ہیں کہ جن کو رضی اللہ عنہ (خدا ان سے راضی ہو) کے بجائے کرم اللہ وجہہ (خدا نے ان کے چہرے کو مکرم و مقدس رکھا) کہا جاتا ہے اور سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے شخص ہیں ، انہوں نے دوسروں سے سات یانو سال پہلے خداوندعالم کی عبادت شروع کی ، یہی حال حضرت فاطمہ زہرا کا ہے کہ آپ زمانہ اسلام میں متولد ہوئیں اور لمحہ بھر کے لیے بھی شرک نہ کیا ۔
لیکن ابوبکر زمانہ جاہلیت میں بتوں کی پوجا اور پرستش کرتے تھے اور اس زمانے کے مشرکوں میں سے تھے ، اور ان لوگوں میں سے تھے کہ اسلام کے بعد بھی کچھ ایسے کارنامے انجام دیئے کہ جن پر اکثر لوگوں نے اعتراض کیے اور انگلیاں اٹھائیں۔(۱)
اسی سلسلے میں چند احادیث قابل ملاحظہ ہیں
حضرت امیرالمومنین فرماتے ہیں :''فانی ولدت علی الفطرة و سبقت علی الایمان والهجرة ''(۲) م یں فطرت اسلام پر پیدا ہوا اور میں نے ایمان اور ہجرت میںسب پر سبقت کی ۔
____________________
(۱) دیکھیے :ـ احکام القرآن (جصاص ) :۱ ۳۹۸۔ جصاص کا بیان ہے کہ قمار کے حرام ہونے میں اہل علم کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے اور شرط بندی قمار ہی کے اقسام میں سے ہے ۔۔۔ اور پھر کہتاہے کہ ابوبکر نے مشرکوں کے ساتھ شرط بندی کی جب کہ یہ آیت نازل ہوئی (الم٭ غلبت الروم) سورہ روم ،آیت ۱ـ۲۔
(۲) نہج البلاغہ :۱ ۱۰۶، خطبہ ۵۷۔ وسائل الشیعہ :۱۶ ۲۲۸،حدیث ۴۱۴۳۱۔ شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید ): ۴ ۱۱۴۔ مناقب ابن شہر آشوب : ۲ ۱۰۷۔ بحار الانوار :۴۱ ۳۱۷۔
حضرت امام جعفر صادق سے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا : علی ابن ابی طالب نے لوگوں سے اپنے مقام و مرتبہ کا شکوہ کیا اور فرمایا : میں رسول خدا کا بھائی اور ان کا وزیر ہوں اور آپ جانتے ہوکہ میں خدا اور رسول پر سب سے پہلے ایمان لایا ہوں اور پھر آپ لوگ گروہ گروہ اسلام لائے ہو ۔(۱)
اور خود ہی آپ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ میں اس امت میں سے کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا کہ جس نے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد میرے علاوہ خدا کی عبادت کی ہو ۔ میں نے نوسال پہلے خداوندعالم کی عبادت کی جب کہ کوئی بھی اس امت میں اس کی عبادت نہیں کرتا تھا ۔(۲)
اور دوسری روایت میںآیاہے کہ پانچ یاسات سال پہلے ۔(۳)
اور نیز امام علی نے فرمایا : میں نے اس طرح رسول خدا کے ساتھ نماز انجام دی کہ میرے علاوہ ان کے ساتھ کسی نے بھی نماز نہ پڑھی سوائے خدیجہ کے ۔(۴)
____________________
(۱)المناقب(ابن مغازلی)۱۱۱،حدیث۱۵۴۔کشف الغمہ:۷۸۱۔بحارالانوار:۳۸ ۳۳۰۔
(۲) الخصائص (نسائی ) ۴۷۔
(۳) تاریخ دمشق :۴۲ ۳۰۔ مسند ابی یعلی موصلی :۱ ۳۴۸، حدیث ۴۴۷۔ اسد الغابہ : ۴ ۱۷۔ القول المسدد فی مسند احمد ۶۴۔ الآحاد والمثانی :۱ ۱۴۸، حدیث ۱۷۸۔ مسند احمد :۱ ۹۹۔ کنزالعمال :۱۳ ۴۲، حدیث ۳۶۳۹۰۔ سمط النجوم العوالی :۳ ۲۸، حدیث ۶۔ مجمع الزوائد :۹ ۱۰۲۔ کشف الغمہ :۱ ۸۰۔ بحارالانوار :۳۸ ۲۵۷۔ الکامل فی التاریخ :۱ ۵۸۲۔
(۴) الاستیعاب :۳ ۱۰۹۶۔ ۔ شرح نہج البلاغہ(ابن ابی الحدید):۴ ۱۲۰۔
ابو ایوب انصاری سے نقل ہوا ہے کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا : فرشتوں نے سات سال مجھ پر اور علی پر دردو بھیجا چونکہ ہم نماز پڑھتے تھے اور ہمارے علاوہ کوئی اور نہ تھا کہ جو ہمارے ساتھ نماز بجالاتا ۔(۱)
انس سے روایت نقل ہوئی ہے کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا : سات سال مجھ پر اور علی پر فرشتوں نے صلوات و درود بھیجا اور خداوندعالم کی یکتائی و توحید کی گواہی زمین سے آسمان تک نہ گئی سوائے میری اور علی کی زبان سے۔(۲)
ابوذر سے روایت ہے کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا : فرشتوں نے مجھ پر اور علی پر سات سال تک درود و صلوات بھیجی اس سے پہلے کہ کوئی انسان اسلام لے کر آتا ۔(۳)
اور خود امیر المؤمنین ہی سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : آغاز وحی ونبوت پیر کے دن سے ہوا او ر میں نے منگل کی صبح میں اسلام کا اظہار کیا پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نماز پڑھتے اور میں ان کے دا ہنی طرف نماز بجالاتا اور کوئی بھی میرے علا وہ ہمراہ نہ ہوتا پھر خداوندعالم کی جانب سے یہ آیت نازل ہوئی
____________________
(۱) تاریخ دمشق :۴۲ ۳۹۔ اسدالغابہ :۴ ۱۸۔ مناقب کوفی :۱ ۲۳۸، حدیث ۳۲۹۹۸۔ روضة الواعظین ۸۵۔ شرح الاخبار :۲ ۴۰۹، حدیث ۷۵۵۔
(۲) الفصول المختارہ ۲۶۶۔ اعلام الوری :۱ ۳۶۱۔ کنزالفوائد ۱۲۵۔
(۳) شواہد التنزیل :۲ ۱۸۴، حدیث ۸۱۸۔ کنزالعمال :۱۱ ۶۱۶، حدیث ۳۲۹۸۹۔ کنزالفوائد ۱۲۰۔ مناقب ابن شہر آشوب :۱ ۲۹۱۔
(اصحاب الیمین )(۱) اور داہنی طرف کے اصحاب ۔(۲)
اور آپ ہی کا کلام ہے کہ فرمایا : خدایا میں پہلا وہ شخص ہوں کہ جو تیرے حضور حاضر ہوا ، تیری دعوت کو سنا اور قبول کیا کسی نے بھی نماز میں مجھ پر سبقت نہ لی سوائے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ۔(۳)
اور فرمایا: خدایا میں اس امت میں سے کسی ایسے بندے کو نہیں جانتا کہ جس نے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے علاوہ مجھ سے پہلے تیری عبادت کی ہو ، اور پھر فرمایا: میںنے اس سے پہلے کہ کوئی نماز پڑھتا سات سال نماز پڑھی ۔(۴)
اورآپ نے اہل کوفہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا :
اے اہل کوفہ آپ کوآنے والے حوادث و واقعات سے خبر دار کرتاہوں تاکہ آپ لوگ ڈرتے رہو اورآمادہ رہو ، نصیحت قبول کرنے والوں کو سمجھاؤ، گویا میں دیکھ رہاہوں کہ تمہارے درمیان یہ کہا جائے گا کہ علی جھوٹ بولتے ہیں جیسا کہ قریش نے یہ نامناسب نسبت اپنے سید و سردار حبیب خدا رحمت الہٰی حضرت محمد بن عبداللہ کو دی ۔
____________________
(۱) سورہ واقعہ (۵۶)، آیت ۲۷۔
(۲) شواہد التنزیل :۲ ۳۰۰ ،حدیث ۳۹۶(از جعفر جعفی )۔
(۳) نہج البلاغہ :۲ ۱۳، خطبہ ۱۳۱۔ شرخ نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید):۸ ۲۶۳۔ النزاع و التخاصم ۴۳۔ اور دیکھیے :ـ امالی صدوق ۴۹۱۔ مجمع الزوائد :۹ ۱۰۳۔ الاصابہ :۴ ۳۲۶، ترجمہ ۵۶۰۲۔ کشف الغمہ :۱ ۸۳۔
(۴) تاریخ دمشق :۴۲ ۳۲۔ مسند احمد :۱ ۹۹۔ کشف الغمہ :۱ ۸۱۔ نظم درر السمطین ۸۲۔ مجمع الزوائد :۹ ۱۰۲۔ کنزالعمال :۳ ۱۲۲، حدیث ۳۶۳۹۱۔
وائے ہوآپ پر، میں کس پر اور کس سے جھوٹ بولوں گا ، کیا خدا پر؟ میں تو سب سے پہلا فرد ہوں کہ جس نے اس کی عبادت کی اور اس کو واحد و یکتا جانا،اور کیا رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم پر ؟ جبکہ میں پہلا وہ شخص ہوںکہ جو ان پر ایمان لایا ، ان کی تصدیق کی اور ان کی مدد و نصرت کی ۔
اصلا ایسا نہیں ہے کہ میں جھوٹ بولوں لیکن مکاری و فریب کی زبان تمہیں بہکادے گی اور تم بے خبر رہوگے۔(۱)
____________________
(۱) ارشاد مفید:۱ ۲۷۹۔ احتجاج طبرسی :۱ ۲۵۵۔ بحارالانوار:۴۰ ۱۱۱۔
پنجم :ـ علم و دانائی
علم، صدیق کے واسطے ضروریات واولیات میں سے ہے جو شخص علم وآگاہی نہ رکھتا ہو اس کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ اپنے تمام امور اور نظریات و آراء میں صدیق ہو ، اور اس علم سے مراد علم الہٰی ہے یعنی علم لدنی و علم وہبی ۔
اس علم الہٰی کا لازمہ یہ ہے کہ جس شخص کے پاس یہ علم ہو وہ دل و جان سے اور عقیدہ و اعتقاد کی بنیاد پر رسالت آسمانی اور غیب پر ایمان و یقین رکھتا ہے ، نہ یہ کہ صرف زبان اور ظاہری احساسات کی بناپر اقرار کرے ۔
لہذا صدیقیت کسی بھی شخص کی معرفت و عرفان کی بلندی کی حیثیت سے مربوط ہے ، جتنا زیادہ اس کا علم و عرفان ہوگا تو اس کی تصدیق بھی پروردگار عالم کے متعلق اتنی ہی زیادہ اور یقینی ہوگی
جب کہ واضح ہے کہ ابوبکر ، فرمایشات رسول خدا کے بھی عالم نہ تھے اور آپ دیکھتے ہیں کہ اکثر مسائل میں یہ صحابہ سے سوال کرتے تھے اور بہت زیادہ مقامات ایسے ہیں کہ خطا ء و غلطی کرجاتے تھے ،کوئی ایسا فتوی دے دیتے کہ دوسرے صحابہ ان سے اختلاف کرنے لگتے ۔(۱)
لیکن حضرت علی کے متعلق ایسا نہیں ہے بلکہ قضیہ بر عکس ہے کہ تمام عالم اسلام ابتداء سے آج تک علی کے علم و حکمت اور قضاوت کی گواہی دیتے ہیں ۔
حاکم نیشاپوری نے اپنی اسناد کے ساتھ ابن عباس اور جابر ابن عبداللہ انصاری سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول خدا نے فرمایا:
'' انا مدینة العلم وعلی بابها فمن اراد المدینة فلیأت الباب '' (۲)
میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کادروازہ ہیں ،پس جو شہر میں آنا چاہے اس کو چاہیے کہ دروازے سے آئے ۔
اور رافعی نے اپنی اسناد کے ساتھ ابن عباس سے روایت کی ہے کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:''علی عیبة علمی ''(۳) عل ی میرے علم کے خزانے ہیں ۔
____________________
(۱) اس سلسلے میں اور زیادہ معلومات کے لیے مؤلف کی کتب ''منع تدوین الحدیث'' اور ''تاریخ الحدیث النبوی '' میں مراجعہ کیا جائے ۔
(۲) مستدرک حاکم:۳ ۱۲۶۔ المعجم الکبیر :۱۱ ۵۵۔
(۳) التدوین فی اخبار قزوین ۸۹(بہ نقل از ابن عباس)۔ کنزالعمال :۱۱ ۶۰۲، حدیث ۳۲۹۱۱۔(بہ طریق دیگر)۔
ابن عساکر نے اپنی اسناد کے ساتھ عبد الرحمن بن بہمان سے راویت کی ہے اس نے کہا کہ میں نے جابر کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول خدا روز حدیبیہ علی کے بازو پکڑے ہوئے فرمارہے تھے : '' ھذا امیر البررة وقاتل الفجرة ، منصور من نصرہ مخذول من خذلہ ''
یہ علی نیک و صالحین کا امیر اور فساق و فجار کا قاتل ہے جو شخص اس کی مدد کرے اس کی خدا کی جانب سے مدد ہوگی ، جو اس کو چھوڑدے ا ور پست سمجھے وہ ذلیل و رسوا ہوگا۔
اس وقت پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے باآواز بلند فرما یا : '' میں علم کا شہرہوں اور علی اس کے دروازہ ہیں اور جو بھی شہر میں داخل ہونا چاہے اس کو چاہیے وہ دروازے سے آئے ۔(۱)
متقی ہندی نے ابن مسعود سے روایت نقل کی ہے کہ اس نے کہا :
'' حکمت کی دس قسمیں ہیںکہ جن میں سے ۹ عل ی کے پاس ہیں اور ایک حصہ تمام لوگوں کے پاس ہے۔ اور اس ایک حصے میں بھی علی ان سب سے زیادہ عالم ہے'' ۔(۲)
ابن عساکرنے اپنی اسناد کے ساتھ عبداللہ ابن مسعود سے روایت نقل کی ہے کہ اس نے کہا کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں تھا کہ علی کے بارے میں آنحضرت سے سوال ہوا تو آپ نے فرمایا : حکمت کے دس حصے ہیں کہ جن میں سے نو علی کے پاس اور ایک حصہ تمام لوگوں کے پاس ہے ۔(۳)
____________________
(۱) تاریخ مدینة دمشق :۴۲ ۲۲۶و ۳۸۳(ترجمہ امام علی ابن ابی طالب )۔
(۲) کنزالعمال :۱۱ ۶۱۵، حدیث ۳۲۹۸۲۔ و جلد :۱۳ ۱۴۶، حدیث ۳۶۴۶۱۔ فیض القدیر :۳ ۶۰، حدیث ۲۷۰۴۔
(۳) تاریخ مدینة دمشق : ۴۲ ۳۸۴۔ مناقب خوارزمی ۸۲۔
خطیب بغدادی نے اپنی اسناد کے ساتھ ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :
''انا مدینة الحکمة و علی بابها فمن اراد الحکمة فلیات الباب '' (۱)
میں حکمت کا شہرہوں اور علی اس کے دروازہ ہیں پس جوبھی حکمت چاہے اس کو چاہیے کہ دروازے سے آئے۔
دوری نے تاریخ ابن معین میں اپنی اسناد کے ساتھ سعید بن مسیب سے روایت نقل کی ہے کہ اس نے کہا کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے صحابہ میں کوئی بھی سوائے علی ابن ابی طالب کے یہ دعوی نہیں کرتا کہ جوچاہو مجھ سے پوچھ لو ۔(۲)
خوارزمی نے اپنی اسناد کے ساتھ ابوالبختری سے روایت نقل کی ہے کہ اس نے کہا کہ میں نے علی کو دیکھا کہ رسول خدا کی تلوار حمائل کیے ہوئے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا عمامہ اپنے سر پر باندھے ہوئے
____________________
(۱) تاریخ بغداد:۱۱ ۲۰۴، ترجمہ۵۹۰۸۔
(۲) تاریخ ابن معین :۱ ۱۰۶۔(دوری کہتاہے ہم سے یحی ابن معین نے نقل کیا کہ اس نے کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے اس سے یحی بن سعید نے اس سے سعید بن مسیب نے )۔ مناقب خوارزمی ۹۱۔ اسدالغابہ :۴ ۲۲۔ ذخائر العقبی ۸۳۔
اس حدیث کو احمد نے مناقب میں اور بغوی نے المعجم میں اس عبارت کے ساتھ نقل کیا ہے کہماکان احد من الناس یقول سلونی غیر علی ابن ابی طالب ، لوگوں میں کسی نے یہ نہیں کہا کہ مجھ سے سوال کرو سوائے علی ابن ابی طالب کے ۔
اور آپ کی انگشتر مبارک پہنے ہوئے منبر پر تشریف فرماہیں اور اپنے سینے کی طرف اشارہ کرکے فرماتے ہیں :
'' سلونی قبل ان تفقدونی ،فانما بین الجوانح منی علم جم، هذا سقط العلم ! هذا لعاب رسول الله ! هذا ما زقنی رسول الله زقا من غیر وحی اوحی الی ، فوالله لو ثنیت لی وسادة فجلست علیها ، لافتیت اهل التوراة بتوراتهم و اهل الانجیل بانجیلهم ، حتی ینطق الله التوراة والانجیل فیقول : صدق علی قد افتاکم بما انزل فی ، وانتم تتلون الکتاب افلا تعقلون '' (۱)
مجھ سے جوسوال کرنا چاہو سوال کرو اس سے پہلے کہ تم مجھے کھو بیٹھو ۔بیشک میرے پہلووں کے درمیان بہت زیادہ علم ہے یہ علم کی سبیل اور جام ہے ، یہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا لعاب دہن ہے ، یہ وہ چیز ہے کہ جو رسول خدا نے مجھے اس طرح عطا کی کہ جس طرح پرندہ اپنے بچے کے پوٹے کو دانے سے بھرتا ہے ۔ بغیر اس کے کہ مجھ پر وحی نازل ہوئی ہو، خداکی قسم اگر میرے لیے مسند قضاوت بچھادی جائے کہ میں اس پر بیٹھ کر فیصلے کروں تو اہل توریت کے لیے ان کی توریت سے اور اہل انجیل کے لیے ان کی انجیل سے اس طرح فتوے دوںگا کہ خداوندعالم توریت و انجیل کو زبان عطا فرمائے گا اور وہ کہیں گی کہ علی نے سچ کہا ہے اور جو کچھ ہم میں نازل ہوا اسی طرح فتوی دیا ہے اور جب کہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو تو کیا غور وفکر نہیں کرتے ۔
____________________
(۱) المناقب ۹۱۔ اور دیکھیے :ـ امالی صدوق ۴۲۲۔ اختصاص مفید ۲۳۵۔ احتجاج طبرسی :۱ ۳۴۴۔ (بہ نقل از اصبغ ابن نباتہ )۔
ابن عساکر نے اپنی اسناد کے ساتھ زکریا سے روایت نقل کی ہے کہ اس نے عامر شعبی کو کہتے سنا کہ ابن کوّا نے علی سے سوال کیا : مخلوقات الہٰی میں کون سی چیز سب سے زیادہ سخت ہے ، آپ نے فرمایا :''اشد خلق ربک عشرة : الجبال الرواسی ، الحدید تنحت به الجبال ، والنار تاکل الحدید ، والماء یطفی النار ، والسحاب المسخر بین السماء والارض، یعنی یحمل المائ، والریح تقل السحاب،والانسان یغلب الریح یعصمها بیده و یذهب حاحته ، السکر یغلب الانسان ، والنوم یغلب السکر، والهم یغلب النوم فاشدخلق ربکم الهم ۔(۱)
آپ کے پروردگار کی مخلوقات میں سب سے زیادہ سخت چیزیں دس ہیں :
بلند و بالا پہاڑ، اور لوہا پہاڑ کو ریزہ ریزہ کردیتا ہے، آگ کہ جو کہ لوہے کو کھاجاتی ہے ، پانی کہ جو آگ کو بجھا دیتا ہے ، بادل کہ جو پانی کو آسمان و زمین کے درمیان اٹھائے اٹھائے پھرتے ہیں ، ہوا کہ جو بادلوں کو لیے پھرتی ہے ، اور انسان کہ جو ہوا پر غالب آجاتا ہے ، اس کو اپنے ہاتھ سے مسخر کرتا ہے اور اپنی ضرورت کو پورا کرتا ہے ، نشہ انسان پر غالب آجاتا ہے ، نیند کہ جو نشہ پر غالب آجاتی ہے اور ہم و غم (فکر و پریشانی) کہ جو نیند پر غالب آجاتی ہے۔
____________________
(۱) تاریخ دمشق : ۴۰۱۴۲۔ الغارات :۱۸۲۱۔ اس مدرک میں یعصمھا بیدہ کی جگہ پر یتقیھا بیدہ آیاہے ۔ اس روایت کوطبرانی نے المعجم الاوسط :۲۷۶۱ میں حارث سے اور اس نے علی سے نقل کیا ہے اور اس میں یعصھا کی جگہ پر یتقی الریح بیدہ آیاہے اور اس سے ھیثمی نے مجمع الزوائد : ۱۳۲۸میں نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس حدیث کے رجال ثقہ ہیں ۔ کنزالعمال :۱۷۷۶،حدیث ۱۵۲۵۲۔
پس آپ کے پروردگار کی مخلوقات میں سب سے زیادہ سخت ہم و غم اور فکر و پریشانی ہے ۔
خوارزمی نے اپنی اسناد کے ساتھ ابی سعید خدری سے روایت نقل کی ہے اس نے کہا کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرما یا : اقضی امتی علی ابن ابی طالب(۱) م یری امت میں سب سے بڑا قاضی علی ابن ابی طالب ہے ۔
ابن سعد نے اپنی اسناد کے ساتھ ابوہریرہ ، ابن عباس اور سعید بن جبیر و عطا سے روایت نقل کی ہے کہ ان حضرات نے کہا کہ عمر کا قول ہے ''علی اقضانا''(۲) ہمارے درم یان سب سے بڑا قاضی علی ہے ۔
احمد نے اپنی اسناد کے ساتھ ابو البختری سے اور اس نے علی سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا : رسول خدا نے مجھے جوانی ہی کے عالم میں یمن میں حکومت کے لیے بھیجا ، میںنے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے عرض کی مجھے ایک ایسی قوم کی طرف بھیج رہے ہیں کہ جس کے درمیان مجھے قضاوت کرنا ہے جب کہ میں علم قضاوت سے کچھ نہیں جانتا پس رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرما یا : میرے قریب آؤ ، میں آپ کے پاس گیا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے دست مبارک کو م یرے سینے پر رکھا اور فرمایا : خدایا اس سینے کو کشادہ فرما اور اس کی زبان کو محفوظ رکھ۔
____________________
(۱) مناقب خوارزمی ۱۸۔ امالی صدوق ۶۴۲ (بنقل از سلمان فارسی)۔تاریخ دمشق : ۴۲ ۲۴۱ (بنقل از ابن عباس)۔
(۲) طبقات ابن سعد : ۲ ۳۳۹ـ ۳۴۰۔ اور دیکھیے : مسند احمد :۵ ۱۱۳۔ مصنف ابن ابی شیبہ : ۷ ۱۸۳، حدیث ۳۔ مستدرک حاکم :۳ ۳۰۵۔ مناقب خوارزمی ۹۲۔ البدایة و النہایة : ۷ ۲۹۷۔
علی نے فرمایا: اس وقت کے بعد سے میں نے کبھی قضاوت کے سلسلے میں دو شخصوں کے بارے میں بھی شک نہیں کیا اور کسی مسئلہ میں بھی مردد نہیں ہوا۔(۱)
ابن عساکر نے اپنی اسناد کے ساتھ عبداللہ ابن مسعود سے روایت نقل کی ہے اس نے کہا کہ کہا جاتا ہے کہ فرائض دین اور واجبات و محرمات الہٰی کے متعلق سب سے زیادہ عالم علی ابن ابی طالب ہیں ۔(۲)
اور ابن عبد البر نے اپنی اسناد کے ساتھ انس سے روایت نقل کی ہے اس نے کہا کہ رسول خدا نے فرمایا :''اقضاکم علی '' (۳) تم م یں سب سے بڑا قاضی علی ہے ۔
عبداللہ ابن عمر سے نقل ہوا ہے اس نے کہا ایک شخص ابوبکر کے پاس آیا اور کہا : کیا آپ کی نظر میں زنا مقدر اور تقدیر الہٰی میں ہے ؟ ابو بکر نے جواب دیا : ہاں، اس شخص نے کہا تو بس خداوندعالم نے میرے مقدر میں زنا لکھا ہے، پھر اس کو انجام دینے پر مجھ پر عذاب کرے گا ؟ ابوبکر نے کہا : ہاں ، اے لخناء کے بیٹے اگر میرے پاس کوئی ہوتا تو اس کو حکم دیتا کہ تیرے ناک کان کاٹ ڈالے ۔(۴)
____________________
(۱) دیکھیے : مسند احمد :۱ ۸۳۔ سنن ابن ماجہ :۲ ۷۷۴، حدیث ۲۳۱۰۔ مستدرک حاکم: ۳ ۱۳۵۔
(۲) تاریخ دمشق : ۴۲ ۴۰۵۔
(۳) الاستیعاب : ۱ ۶۸۔ اور دیکھیے : تفسیر قرطبی : ۱۵ ۱۶۲۔ مقدمہ ابن خلدون : ۱ ۱۹۷۔ جواہر المطالب (ابن دمشقی) :۱ ۷۶۔ غریب الحدیث (خطابی) : ۲ ۲۰۱۔
(۴) اس حدیث کو لالکائی نے اعتقاد اہل السنة : ۴ ۶۶۲، حدیث ۱۲۰۵ میں نقل کیا ہے اور اس سے کنزالعمال :۱ ۳۳۴، حدیث ۱۵۳۷ و تاریخ الخلفا ء :۱ ۹۵ میں منقول ہے ۔
اس طرح کی باتیں ہمیں علی کے یہاں نہیں ملتیں بلکہ وہ لوگوں سے کہتے ہیں کہ جو سوال کرنا ہے مجھ سے سوال کرو اس سے پہلے کہ تم مجھے کھو بیٹھو ، چونکہ جو عالم ہوتاہے وہ سوال کرنے پر گھبراتانہیں ہے، بلکہ سوالات اس کو خوشحال کرتے ہیں ، اس شخص کے برعکس کہ جو مسائل شرعی سے واقف نہیں ہے اس کو آپ دیکھتے ہیں کہ سوالات سے ڈرتا ہے اور یہ حالت ابو بکر و عمر کے یہاں مشاہدہ کی جاسکتی ہے ۔
ابوعثمان نہدی نے نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے بنی یربوع یا بنی تمیم خاندان سے (والذاریات)، (والمرسلات ) اور (والنازعات ) کے معنی اور تفسیر یا ان میں سے کسی ایک کے معنی یا تفسیر کے متعلق سوال کیا ۔
عمر نے کہا : اپنے سر سے عمامہ کو اتار اس نے سر سے عمامہ اتار لیا تو اس کے سر کے لمبے بال نظر آنے لگے ۔ عمر نے کہا: خدا کی قسم اگر تیرا سر منڈا ہوا ہوتا تو تیرا سر توڑ دیتا ۔
اس کے بعد اس کو ابوموسی اشعری کے پاس بھیجا اور اہل بصرہ کو لکھا،اور ہم سے بھی کہا کہ اس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا چھوڑدیں ، پس اگر ہم سو ( ۱۰۰)افراد ہوتے اور وہ ہمار ی طرف آتا تو سب آپس میں متفرق ہوجاتے اس شخص کا نام صبیغ بن عسیل تھا ۔(۱)
ابوبکر و عمر کی اس سیرت کے مقابل دیکھتے ہیں کہ حاکم نیشاپوری نے اپنی اسناد کے ساتھ ابوطفیل سے روایت بیان کی ہے کہ اس نے کہا کہ میںنے امیرالمؤمنین علی کودیکھا کہ آپ منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا : پوچھو جو پوجھنا چاہواس سے پہلے کہ تم مجھے کھو بیٹھو ۔
____________________
(۱) مسائل احمد :۱ ۴۷۸، حدیث ۸۱۔
میرے بعد کوئی میری طرح جواب دینے والا نہیں پاؤ گے ۔پس ابن کوا کھڑا ہوا اور اس نے کہا اے امیر المؤمنین( والذاریات ذرواً ) (۱) کیا ہے ؟
آپ نے فرمایا ہوائیں ۔ پھر اس نے سوال کیا( والحاملات وقراً ) کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا :بادل ۔ پھر اس نے سوال کیا( فالجاریات یسرا ) کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا :کشتیاں ۔
پھر اس نے سوال کیا( والمقسمات امراً) کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ملائکہ ۔ پھر اس نے سوال کیا( الذین بدلوا نعمة الله کفراً واحلوا قومهم دار البوار جهنم ) (۲) ان لوگوں نے نعمت الہٰ ی کو کفر سے تبدیل کردیا اور اپنی قوم کے لیے ایک ہلاک ہونے والے گھر کا انتخاب کیا ۔وہ لوگ کون ہیں؟آپ نے فرمایا : منافقین قریش۔
حاکم کا بیا ن ہے کہ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے بخاری و مسلم نے اس کو ذکر نہیں کیا ہے ۔(۳)
____________________
(۱) سورہ ذاریات (۵۱) آیت ۱ـ۴
(۲) سورہ ابراہیم (۱۴) آیات ۲۸ـ۲۹۔
(۳) مستدرک حاکم :۲ ۴۶۷۔ اور دیکھیے اس کے طرق و اسانید کو عمدة القاری : ۱۹ ۱۹۰ میں تغلیق التعلیق ۳۱۸ـ ۳۱۹۔ کنزالعمال :۲ ۵۶۵،حدیث ۴۷۴۰۔ الاحادیث المختارہ :۱۲۴۲و ۱۷۶و ۲۹۸، حدیث ۴۹۴ و ۵۵۶ و۶۷۸۔ مسند شامی :۲ ۹۶ ، حدیث ۶۲۰۔ تاریخ دمشق : ۲۷ ۹۹۔ المعیار والموازنہ ۲۹۸۔ فتح الباری :۸ ۵۹۹۔ الغارات :۱ ۱۷۸۔ احتجاج طبرسی :۱ ۳۸۶۔ جواہر المطالب :۱ ۳۰۰ ۔ اور بعض مصادر میں حدیث طولانی ہے اور اس میں سوال زیادہ ہیں کہ جن کے امیر المؤمنین نے جواب دیے ہیں ۔
ابن شہر آشوب راقم ہے کہ خداوندعالم کا فرمان ہے( ولو ردوه الی الرسول والی اولی الامر منهم لعلمه الذین یستنبطونه منهم ) (۱)
(اگر اس کو رسول اور صاحبان امر کی طرف پلٹا دیں تو یقینا ایسے افراد ہیں کہ جو اس کو درک کرلیتے ہیں اور اس کی اچھائی و برائی اور حق و باطل کو جانتے ہیں )
یہ آیت آئمہ طاہرین کی عصمت پر دلالت کرتی ہے چونکہ اس آیت میں خبر دی گئی ہے کہ جس طرح پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم پر مسائل بیان کیے جائیں تو وہ حق و باطل اور اچھائی و برائی کو سمجھ لیتے ہیں اسی طرح صاحبان امر بھی ہیں ۔ اور معصوم کے علاوہ کسی بھی چیز کا علم بحد یقین ممکن نہیں ہے اور نیز یہ بھی صحیح نہیں ہے کہ خدا وند ایسے کی نظر کو مطلقاً صحیح سمجھے کہ جو خود خطا ء و غلطی سے پاک نہ ہو چونکہ اس صورت میں امر الہٰی کا قبیح ہونا لازم آئے گا۔
اور جب یہ آیت اولی الامر کی عصمت پر دلالت کرتی ہے تو ان کا امام ہونا بھی ثابت ہے ۔ چونکہ کسی نے بھی عصمت و امامت کے درمیان فرق بیان نہیں کیا ہے اور اگر یہ بات ثابت ہوجائے تو یہ بھی ثابت ہوجاتا ہے کہ یہ آیت آل محمد کی شان میں ہے ۔
روایت میں ہے کہ یہ آیت بارہ الہٰی حجتوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔(۲)
____________________
(۱) سورہ نساء (۴) آیت ۸۳۔
(۲) مناقب ابن شہر آشوب :۱ ۲۴۷ـ۲۴۸۔
شاعر کہتا ہے :
علی هو الصدیق علامة الوری (۱)
و فاروقه ا ب ین الحطیم و زمزم
علی ہی صدیق ہے اور کائنات میں سب سے زیادہ عالم، اورباب حطیم و زمزم کے درمیان حق و باطل میں فیصلہ کرنے والا ہے۔
اور دوسرا شاعر کہتا ہے :
فقال من الفاروق ان کنت عالما
فقلت الذی کان للدین یظه ر
علی ابو السبطین علامة الوری
وما زال للاحکام یبدی و ینشر (۲)
کہا کہ اگر جانتے ہو تو بتاؤ کہ حق و باطل کے درمیان فیصلے کرنے والا کون ہے تو میں نے کہا وہ کہ جو دین کو آشکار و و اضح کرتا ہے ، علی ،سبطین حضرات حسن و حسین کے والد بزرگوار پوری کائنات میں سب سے زیادہ عالم کہ جو ہمیشہ احکام الہٰی کو بیان کرتے ہیں اور منتشر فرماتے ہیں ۔
____________________
(۱) مناقب ابن شہر آشوب : ۲ ۲۸۷،ابن شہر آشوب نے اس شعر کو قمی نامی شاعر کے نام سے منسوب کیا ہے ۔
(۲) مناقب ابن شہر آشوب : ۲ ۲۸۷۔ اس ماخذ میں یظھرکے بجائے مظھر آیاہے۔
ششم : صدیقیت کا نبوت کی طرح ہونا
صدیقیت کی علامت میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ نبوت کی مانند ہواور اس کی ہم فکر و ہم صنف ہو چونکہ خداوندعالم کا ارشاد ہے۔
( ومن یطع الله و الرسول فاولئک مع الذین انعم الله علیهم من النبیین والصدیقین والشهدا والصالحین و حسن اولائک رفیقا ) ۔(۱)
جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے ہیں وہ ان حضرات کے ساتھ ہیں کہ جن پر اللہ نے نعمتیں نازل کی ہیں، انبیا، صدیقین، شھدا، اورصالحین میں سے اور وہ بہترین دوست و ہمدم ہیں ۔
یہ مانند و مثل ونظیر ہونا ، پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم و علی کے درمیان توبہت واضح و روشن ہے ۔ لیکن پیغمبر اکرم اور اس شخص کے درمیان کہ جس کو اس زمانے والوں نے صدیق کا لقب دیا ہے اصلاً نہیں پایا جاتا ، چونکہ جب سورہ برائت کی دس آیات نازل ہوئیں تو پیغمبراکرم نے ابو بکر کو بلایا اور ان کو یہ آیات دے کر بھیجا تاکہ مکہ والوں پر ان آیات کی تلاوت کریں ابھی ابوبکر کچھ ہی دور گئے تھے کہ جبرئیل، پیغمبراکرم پر نازل ہوئے اور کہااے محمد آپ کے پروردگار نے آپ کو سلام کہا ہے اور فرمایا ہے :
''لایؤدی عنک الاانت او رجل منک '' آپ کی طرف سے آیات الٰہی کو ادا نہیں کرسکتا اور نہیں پہنچا سکتا مگر خود آپ یا وہ شخص کہ جو آپ سے ہو (یعنی آپ کانفس و جان اور آپ کی مثل و ھم نظیرہو)
تو فورا ہی رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے عل ی کو بلایا اور فرمایا میرے ناقہ عضباء پر سوار ہوکر اپنے آپ کو ابوبکر تک پہنچا دو ۔اور سورہ برأت کو اس سے لے لو، اس سورہ کو مکہ لے جاؤ اور مشرکین کے عہد و پیمان کو خود انہی پر پھینک دو ۔ اور ابوبکر کو اختیار دینا کہ چاہے تو وہ آپ کے ساتھ چلے یا میرے پاس واپس آجائے ۔
____________________
(۱) سورہ نسائ(۴) آیت ۶۹۔
امیرالمؤمنین، رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ناقہ عضباء پرسوار ہوئے اور چلے یہاں تک کہ ابوبکر تک پہنچ گئے ابوبکر نے جیسے ہی آپ کو دیکھا تو آپ کے آنے سے پریشان ہوئے اور آپ کے پاس آکر کہا اے ابو الحسن کس لیے آئے ہو ؟ کیا میرے ساتھ چلنے کے لیے آئے ہو یا کسی اور کام کے لیے ؟
امیر المؤمنین علی نے فرمایا : رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مجھے حکم د یا ہے کہ اپنے آپ کو تم تک پہنچاؤں اور سورہ برأت کو آپ سے لے لوں اور اس کو مشرکین کے عہد کے ساتھ ان کے منھ پر ماروں اور مجھ سے فرمایا ہے کہ آپ کو اختیار دوں کہ چاہوتو میرے ساتھ چلو یا پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف پلٹ جاؤ ۔ ابوبکر نے کہا بیشک میں پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف پلٹ رہاہوں ۔
پس ابوبکر پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس آئے اور کہا اے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم پہلے مجھے اس کام کے ل یے مناسب سمجھا اور انتخاب کیا کہ تمام لوگوں کی نگاہیں مجھ پر جم گئیں اور پھر جب میں اس کام کو انجام دینے کے لیے چلا تو وہ کام واپس لے لیا میرے سلسلے میں کیا پیش آیا ؟ کیا میرے بارے میں کوئی آیت نازل ہوئی ہے ؟
پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا : نہیں لیکن مجھ پر جبرئیل نازل ہوئے اور خدا کی جانب سے یہ پیغام مجھے دیا کہ میرے جانب سے آیات الہٰی کو کوئی ادا نہیں کرسکتا مگر میں خود یا وہ شخص کہ جو مجھ سے ہو ،'' و علی منی و لا یؤد ی عنی الا علی '' (۱)
اور علی مجھ سے ہے اور میری طرف سے کوئی پیغام الہٰی کوسوائے علی کے ادا نہیں کرسکتا ۔
____________________
(۲) ارشاد مفید :۱ ۶۷۔ کشف الیقین (علامہ حلی ) ۱۷۵۔
یہ کارنامہ اول ذی الحجہ سال ہفتم ہجری کو پیش آیا اور امام علی نے اس کو روز عرفہ اور روز نحر، عید قربان لوگوں پر بیان کیا ،اور یہ وہی فرمان ہے کہ جس میں خدا وندعالم نے ابراہیم اور آپ کی اولاد کو دعوت دی ہے جیسا کہ ارشاد ہوا ۔
( طهر بیتی للطائفین و العاکفین و الرکع السجود ) (۱)
میرے گھر کو طواف کرنے والوں،اعتکاف کرنے والوں اور رکوع و سجدہ گذاروں کے لیے پاک کرو۔
پس خداوندمتعال نے سب سے پہلے جناب ابراہیم کو دعوت دی( واذن فی الناس بالحج ) (۲)
لوگوں کے درمیان حج کی انجام دہی کے لیے آواز دو ۔اور ان کے بعد علی ولی کو سورہ برأت کے پہنچانے کے لیے انتخاب فرمایا ۔
اور یہ واضح ہے کہ عہد و پیمان اسی سے مربوط ہوتا ہے کہ جس نے باندھا ہو اور وہ رسول خد اصلىاللهعليهوآلهوسلم کا عہد تھا تو یا رسول خدا تشریف لے جائیں یا وہ کہ جو آپ کے قائم مقام ہو آپ کے مثل و نظیر ہو اور مقام و مرتبہ اور صلاحیت و لیاقت میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم ک ی طرح ہو تو صرف علی ہی تنہا وہ فرد ہیں کہ جن میں اس امت کے درمیان یہ تمام صلاحیتیں پائی جاتی ہیں ۔
____________________
(۱) سورہ بقرہ(۲) آیت ۱۲۵۔
(۲) سورہ حج(۲۲) آیت ۲۷۔
اس لیے کہ فقط وہ ہی نفس اور جان پیغمبر ہیں(۱) اور آپ کے بھائی اور آپ کے مثل و نظیر ہیں ۔(۲)
آپ کی بیٹی کے شوہر اور کفو ہیں ۔(۳) اور آپ کے نزد یک سب سے زیادہ پیارے و محبوب ہیں ۔(۴)
اس الہٰی فرمان میں کہ جو پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف ابلاغ ہوا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ابوبکر کے یہاں قرآن کریم کی چند آیات کے پہنچانے تک کی صلاحیت نہیں ہے تو پھر وہ کس طرح مسلمانوں پر امامت و رہبری کی صلاحیت و شائستگی رکھتے ہیں ؟۔
اور امام علی کے ہوتے ہوئے ان کو کس طرح لقب صدیق دیا جاسکتا ہے ۔
بہر حال خدا اور رسول خدا کے نزدیک ان دونوں کی یہ حالت ہے ۔
اوروہ نصوص کہ جو امام علی و حسن و حسین اور حضرت زہرا کے بارے میں پائی جاتی ہیں ان کو ذرا غور سے دیکھیں تو یقینا ان حضرات کو رسول اکرم کے ہم پلہ پائیں گے ۔
____________________
(۱) اس بنیاد پر خداوندعالم کا ارشادہے (وانفسنا و انفسکم )آپ اپنے نفس و جان کو لاؤ اور ہم اپنے نفسوں کو لاتے ہیں ۔ (سورہ آل عمران (۳) آیت ۶۱)۔
(۲) امالی طوسی۶۲۶،حدیث ۱۹۲۔ امالی مفید۶،مجلس اول۔ کشف الغمہ ۴۱۲۔بحار الانوار: ۳۹ ۲۴۰۔
(۳) مسند ابی یعلی :۳۳۸۱،حدیث ۵۰۳۔ شرح الاخبار : ۳ ۲۸، حدیث ۹۶۴۔
(۴) تاریخ دمشق : ۳۷ ۴۰۶ ۔ و جلد: ۴۲ ۲۴۵۔ مناقب خوارزمی ۲۲۲۔ خصال صدوق :۲ ۵۵۴۔ امالی طوسی ۳۳۳، حدیث ۶۶۷۔
بلکہ امیرالمومنین وصی پیغمبراکرم میں انبیا سے شباہت پائی جاتی ہے۔
ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول خدا نے فرمایا :
کہ جو بھی آدم کو ان کے علم میں ، نوح کو ان کی حکمت میں اورابراہیم کو ان کے حلم میں دیکھنا چاہے تو وہ علی کو دیکھے ۔(۱)
ابو الحمرا ء سے روایت نقل ہوئی ہے کہ پیغمبراکرم نے فرمایا: جو شخص بھی چاہے کہ علم آدم ، فہم نوح کو دیکھے ، یحی کے زہد و تقوی اور، موسی کی شجاعت و دلاوری کودرک کرے پس اس کو چاہیے کہ علی کو دیکھے ۔(۲)
بیاض رقمطراز ہے کہ اس کلام پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ابن جبیر نے ابن عباس کی سند سے بیان کیا ہے کہ جو بھی آدم کو ان کے علم میں، نوح کو ان کی فہم و عقل میں، موسی کو ان کی مناجات میں، عیسی کو ان کی خاموشی میں اور محمد کو ان کے تمام صفات میں دیکھنا چاہے تو وہ اس شخص کو دیکھے ، اس وقت سب کی گردنیں دراز ہوئیں اور نگاہیں اٹھیں تو دیکھا وہ شخص علی ابن ابی طالب ہیں ۔(۳)
٭رسول خدا نے علی کو آدم سے علم میں تشبیہ دی ہے چونکہ خداوندعالم نے تمام اسماء (تمام موجودات اور حقائق عالم کے نام) کی تعلیم آدم کودی( علم آدم الاسماء کلها ) (۴) ۔
____________________
(۱) اور محب طبری : ۳/ ۲۴۹ میں آیا ہے کہ جو یوسف کو ان کے حسن و جمال میں ۔
(۲) مناقب خوارزمی /۴۰ فصل ۷۔ حاکم نے شواہد التنزیل :۱/ ۱۸۰ میں بھی روایت نقل کی ہے ۔
(۳) الصراط المستقیم:۱ ۱۰۳۔
(۴) سورہ بقرہ (۲)آیت ۱۳۔
اس بنا پر کوئی حادثہ، کوئی واقعہ اور کوئی شیٔ بھی نہیں ہے کہ جس کا علم علی کے پاس نہ ہو، اور ان کے معانی و مفاہیم کو آپ نہ سمجھتے ہوں ، خدا وندعالم نے آدم کو تراب سے خلق فرمایا جب کہ رسول خدا نے علی کا لقب ابوتراب رکھا ۔
٭پیغمبراکرم نے علی کو جناب نوح کی فہم و حکمت میں مثل و نظیر قرار دیا ہے چونکہ جناب نوح نے اپنی قوم کے ساتھ بہت حلم و بردباری سے کام لیا اور کہا پروردگارا میری قوم کی ہدایت فرما ، چونکہ وہ نادان ہے۔(۱) اور اس ی طرح امیر المومنین کی زبان مبارک پر بھی یہ کلمات جاری ہوئے لہذا فرمایا:''فصبرت وفی العین قذی و فی الحلق شجی'' (۲)
میں نے صبر کیا حالانکہ میری آنکھوں میں خش و خاشاک اور میرے حلق میں ہڈی تھی ۔
نوح نے اپنی قوم پران کی بدکرداری ، تجاوز اور فسق و فجور کی انتہا پر پہنچنے کے بعد اور یہ جاننے کے بعد کہ یہ قابل اصلاح نہیں ہیں لعنت کی لہذا کہا :( رب لاتذر علی الارض من الکافرین دیارا ) (۳)
پروردگارا روی زمین پر ایک گھر بھی کافروں کا باقی نہ رکھ۔
امیرالمومنین نے بھی اسی طرح نوح کے کلام کی مانند ایک جانگذار شکوہ فرمایا لہذا ارشاد ہوا :
____________________
(۱) ذکر اخبار اصبہان:۴۹۲، باب غین۔ فتح الباری :۱۲ ۲۵۰ ۔ الدر المنثور : ۳۰ ۹۴۔
(۲) نہج البلاغہ :خطبہ شقشقیہ،خطبہ۳۔
(۳) سورہ نوح (۷۱)آیت ۲۶۔
''اللهم انی قد مللتهم و ملونی و سئمتهم و سئمونی، فابدلتنی بهم خیراًمنهم وابدلهم بی شراً منی'' (۱)
پروردگارا ، بیشک یہ لوگ مجھ سے بیزار ہیں اور میں بھی ان سے خستہ ہوچکا ہوں یہ لوگ مجھ سے دل تنگ و عاجز ہیں اور میں بھی ان سے دل شکستہ ہوچکا ہوں ، پالنے والے میری جگہ ان کو کوئی برا اور بدتر حاکم نصیب فرمااور ان کی جگہ میرے لیے کوئی بہتر رعایا و امت قرار دے۔
٭پیغمبراکرم نے امیرالمومنین علی کو حضرت ابراہیم سے تشبیہ دی ہے چونکہ خداوندعالم نے بچپنے ہی میں ان کے لیے اپنی دلیلیں اور براہین پیش فرمائے جب کہ وہ گھر سے باہر تشریف لائے اور اپنے چچا اور قوم سے مناظرہ کیا جیسا کہ خداوندکریم کے کلام میں مذکور ہے ۔
( یاابت لم تعبد مالایسمع ولا یبصر ولا یغنی عنک شیئا ) (۲)
اے میرے بابا (چچا آذر)کیوں آپ ایسی چیز کی عبادت کرتے ہو کہ جو نہ سنتی ہے نہ دیکھتی ہے اور نہ ہی آپ کو کسی طرح کا کوئی فائدہ پہنچاتی ہے ۔
( اذ قال لابیه و قومه ماذا تعبدون ) (۳)
جب کہ ابراہیم نے اپنے والد (چچا آذر)اور اپنی قوم سے کہا کہ تم کس کی عبادت کرتے ہو۔
____________________
(۱) نہج البلاغہ :۶۵۱،خطبہ ۲۵۔ اور دیکھیے : الغارات:۲ ۶۳۶۔ شرح الاخبار:۲ ۲۹۰۔
(۲) سورہ مریم(۱۹)آیت ۴۳۔
(۳) سورہ صافات(۳۷)آیت ۸۵۔
( فلما جن علیه اللیل رأی کوکباً ) (۱)
جب رات ہوگئی اور ابراہیم نے ستارہ کو دیکھا ۔ ۔ ۔
( وتلک حجتنا آتیناها ابراهیم علی قومه نرفع درجات من نشائ ) (۲)
یہ ہماری حجتیں ہیں کہ جو ہم نے ابراہیم کو ان کی قوم پر پیش کرنے کے لیے عطا کیں اورہم جس کے مرتبے کوچاہتے ہیں بلند کرتے ہیں ۔
اور یہی حال امام علی علیہ السلام کا ہے جیسا کہ خدا وندعالم نے جناب ابراہیم کو زمانہ طفلی میں اور سن بلوغ سے پہلے ہی اپنی آیات و دلائل سے نوازا اور انہوں نے اپنی قوم سے مناظرہ کیا ، بتوں کو توڑا ، خداوندعالم نے ابراہیم کو حکم دیا کہ میرے گھر کعبہ کو پاک کرو (وطهر بیتی )(۳)
جب کہ علی کے گھر کو خود خداوندعالم نے پاک و پاکیزہ قرار دیا (ویطهرکم تطهیرا )(۴)
اے اہل بیت، خدا نے تمہیں پاک و پاکیزہ رکھا جو پاک رکھنے کا حق ہے ۔
اسی طرح کا کلام خداوندعالم نے حضرت یحی کے بارے میں ارشاد فرمایا( یا یحی خذ الکتاب بقوة ) (۵) اے یحی قدرت و طاقت سے کتاب کو پکڑلو۔
____________________
(۱) سورہ انعام(۶)آیت ۷۶۔
(۲) سورہ انعام(۶)آیت ۸۳۔
(۳) سورہ حج(۲۲) آیت ۲۶۔
(۴) سورہ احزاب(۳۳) آت ۳۳۔
(۵) سورہ مریم(۱۹)آیت ۱۲۔
خداوندمتعال نے جناب یحی کو کم سنی ہی میں توریت کا علم عطا کیا ۔
( وآتیناه الحکم صبیاً ) (۱) اور ہم نے یحی کو بچپنے ہی میں نبوت عطا کی ۔
( وبراً بوالدیه ولم یکن جباراً عصیاً ) (۲) اور یحی اپنے والدین کے حق میں بہت نیک و شریف تھے اور نافرمانی و ظلم و زبردستی نہیں کرتے تھے ۔
( وسیداً و حصوراًو نبیاً من الصالحین ) (۳)
اور یحی بزرگوار و سردار، پاک دامن و باوقار اور نیک و صالحین میں سے نبی تھے ۔
روایت میں ہے کہ زکریا نے اپنے بیٹے یحی کو روتے ہوئے دیکھا تو آپ نے کہا بیٹا یہ آپ کی کیا حالت ہے ؟ یحی نے جواب دیا : بابا جان آپ نے مجھے با خبر کیا ہے کہ جبرئیل نے آپ سے فرمایا کہ جنت و جہنم کے درمیان ایک بہت بڑا آگ کا میدان ہے کہ جس کو صرف راہ خدا میں آنسو ہی بجھا سکتے ہیں ۔(۴)
____________________
(۱) سورہ مریم(۱۹)آیت ۱۲۔
(۲) سورہ مریم(۱۹)آیت ۱۴۔
(۳) سورہ آل عمران(۳)آیت ۳۹۔
(۴) یہ حدیث جیسا کہ متن میں آئی ہے اس طرح کسی بھی ماخذ میں نہیں مل سکی لیکن بحار الانوار: ۱۶۵۱۴، حدیث ۴ کے تحت واردہے؛
''یا بنی مایدعوک الی هذا ؟ انما سألت ربی ان یهبک لی لتقربک عینی ، قال: انت امرتنی بذالک یا ابه ! قال: و متی ذالک یا بنی ؟ قال: الست القائل ان بین الجنة و النار لعقب لایجوزها الاالبکاوون من خشیة الله '' ۔۔۔ اگلے صفحہ پر ۔۔۔
اور حضرت امیر المومنین علی ابن ابی طالب کی بھی یہی حالت و منزلت ہے ۔ حضرت امام جعفر صادق اور امام محمد باقر سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا امام علی ابن الحسین زین العابدین جب کبھی بھی امیر المومنین کی زندگانی پر نظر کرتے اور آپ کی عبادت کو ملاحظہ فرماتے توکہتے :
''من یطیق هذا'' (۱)
کس میں طاقت ہے کہ اس قدر عبادت کرسکے اور عبادت میں علی کا مقابلہ کرسکے۔
٭پیغمبر اکرم نے حضرت علی کو جناب موسی سے شجاعت و دلیری میں تشبیہ دی خداوندعالم جناب موسی کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے ۔
( فاستغاثه الذی من شیعته علی الذی من عدوه فوکزه موسی فقضی علیه ) (۲) موس یٰ کے شیعہ نے اپنے دشمن پر غلبہ پانے کے لیے موسی کو مدد کے لیے بلایا تو موسی نے اس دشمن کے ایک گھونسا مارا اور وہ مرگیا۔
____________________
۔۔۔پچھلے صفحہ کا بقیہ۔
زکریا نے کہا اے میرے بیٹے یہ آپ نے اپنی حالت کیا بنا رکھی ہے جب کہ میں نے پروردگار سے تجھے اس لیے مانگا ہے تاکہ میرا دل ٹھنڈا ہو اور میری آنکھوں کی روشنی قرار پائے ۔ یحی نے جواب دیا اے میرے بابا جان آپ نے مجھے اس کام کے لیے آمادہ فرمایا ، زکریا نے سوال کیا میرے بیٹے کب میں نے ایسا کیا ؟ یحی نے جواب دیا تو کیا آپ یہ نہیں فرماتے کہ جنت و جہنم کے درمیان ایک بہت بڑا آگ کا میدان ہے کہ اس سے صرف وہی گذر سکتا ہے جو خوف خدا میں بہت زیادہ گریہ و زاری کرتا ہو(م)۔
(۱) روضہ کافی : ۸ ۱۳۱، ذیل حدیث ۱۰۰۔
(۲) سورہ قصص(۲۸) آیت ۱۵۔
موسی شجاعت و دلیری میں مشہور تھے اور یہی حال علی ابن ابی طالب کا ہے کہ وہ راہ خدا میں ثابت قدم تھے شکست نہ کھانے والی جنگیں کرتے ،دین مبین اسلام کے دفاع میں پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حفاظت کی خاطر قریش اور عرب کے بڑے بڑے پہلوانوں کو قتل کیا ۔
٭ حضرت علی کی جناب عیسی سے تشبیہ کے متعلق نسائی نے اپنی کتاب الحضائص الکبری میں حضرت علی سے روایت نقل کی ہے کہ رسول خدا نے فرمایا : اے علی تیری مثال عیسی کی طرح ہے ، یہودیوں نے ان سے دشمنی کی یہاں تک کہ ان کی والدہ پر تہمتیں لگائیں اور نصاری نے ان سے محبت کی یہاں تک کہ ان کو وہ مقام بھی دیا کہ جو ان کا نہیں تھا ۔(۱)
پس علی علیہ السلام کی عیسی سے شباہت ان کے کتاب کے علم کی وجہ سے ہے کہ جو خداوندعالم نے ان کو کم سنی اورسن بلوغ سے پہلے ہی عطا فرمایا لہذا ارشاد ہوا :
( ویعلمه الکتاب والحکمة والتوراة والانجیل ) (۲)
خداوندعالم نے عیسی کو کتاب و حکمت اور توریت و انجیل کی تعلیم دی اور علی عیسی کی طرح خدا کے مطیع و فرمانبردار بندے ہیں ، جیسا کہ ارشاد ہوا :
( انی عبدالله آتانی الکتاب ) (۳)
میں خدا کا بندہ ہوں اور مجھے کتاب عطا کی گئی ہے ۔
____________________
(۱) مسند احمد : ۱ ۱۶۰۔ مجمع الزوائد : ۹ ۱۳۳۔ خصائص امیر المؤمنین(نسائی) ۱۰۶۔
(۲) سورہ آل عمران (۳) آیت ۴۸۔
(۳) سورہ مریم (۱۹) آیت ۳۰۔
اور اسی طرح دسیوں صفات کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے کہ جن میںحضرت علی، حضرات آدم ، موسی ، ابراہیم ، عیسی ، نوح ، یحی ، ایوب ، یوسف ، سلیمان ، اور داؤد وغیرہ سے شباہت رکھتے ہیں ۔
بصائر الدرجات میں حضرت امام محمد باقر سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : ''کانت فی علی سنة الف نبی ''(۱)
حضرت علی کے یہاں ایک ہزار نبیوں کی سنتیں پائی جاتی تھیں۔
____________________
(۱) بصائر الدرجات ۱۳۴۔
ہفتم :ـ ایمان واقعی اور فنا فی اللہ ہونا ۔
خداوند عالم کی بندگی کی مہمترین خصوصیت یہ ہے کہ انسان ذات خدا میں فنا ہوجائے ، پیغمبرامین کی اطاعت میں کمال تک پہنچ جائے اور دعوت اسلام کی نشر و اشاعت میں اپنی جان و مال سے انتہائی کوشش کرے ۔
نیز مصدق وہ شخص ہے کہ جس چیز پر ایمان لایا ہے اس کو اپنے عمل سے ثابت کردکھائے اور اپنی زندگی کے ڈھانچے میں اس کو مجسم بناکر پیش کرے اور صدیق وہ شخص ہے کہ جس کا مقام و مرتبہ اس سے بھی بلند و بالا ہو،وہ فناء کی انتہا کو پہنچ جائے نہ یہ کہ اپنی ذاتی مصلحت اور خود غرضی کو مقدم رکھے جیسا کہ یہ کارنامے ابوبکر کی سیرت میںمشاہد ہ کرتے ہیں۔
حضرت امیر المؤمنین سے روایت ہے کہ آپ نے ایک روز جنگ صفین کے دوران فرمایا:
ہم لوگ حضرت پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہمراہ جنگوں میں شریک تھے اور اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے باپ ، بیٹے ، بھائی اور چچاؤں کو قتل کرتے اور ان کو خاک و خون میں غلطاں کرتے تھے اور یہ عزیز واقارب و رشتہ داروں کا قتل ہمیں رنجیدہ خاطر نہیں کرتا تھا بلکہ ہمارے ایمان میں استواری واستحکام پیدا ہوتا چونکہ ہم راہ حق پر ثابت قدم اور گامزن تھے ہم سختیوں میں صابر اور دشمن سے جہاد میں کوشا رہتے ، کبھی کبھی ہم میں سے اور دشمن کے لشکر سے ایک ایک و تنہا تنہا کی جنگ ہوتی اور بالکل ایسے ہی کہ جیسے دو بجھار(سانڈ) آپس میں لڑپڑے ہوں ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتے اور ایک کوشش کرتا کہ دوسرے کو موت کے گھاٹ اتار دے اور اس کو مار کے ہی دم لے ، کبھی کامیابی ہمارے نصیب میں آتی تو کبھی دشمن کامیاب ہوجاتا ۔
چونکہ خداوندعالم نے ہمیںآزمالیا اور اچھی طرح پرکھ لیا ہمارے صدق و صفائی کودیکھ لیا تو ہمارے دشمن کو ذلیل کردیا ہمارے پرچم کو سر بلند کردیا جیسا کہ اب اسلام ہر شہر و قریہ اور ہر علاقہ میں پھیلا ہوا ہے اور دور دراز تک حکومت اسلامی قائم ہے ۔
میری جان کی قسم اگر ہماری رفتار آپ لوگوں کی طرح ہوتی تو نہ دین کا ستون قائم ہوتااورنہ ایمان کا درخت ہرا بھرا ہوتا، خدا کی قسم اس کے بعد خون جگر پیوگے پشیمانی و شرمندگی اٹھاؤ گے ۔(۱)
____________________
(۱) نہج البلاغہ، خطبہ ۵۶۔ اور دیکھیے : ارشاد مفید :۱ ۲۶۸۔ کتاب سلیم ابن قیس ۲۴۷۔ شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) :۴ ۳۳۔
آپ ہی سے روایت ہے کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا : قریش نے ایسے ایسے میرے قتل کا پروگرام بنایا ہے آج آپ میرے بستر پر سوجاؤ اور میں رات کی تاریکی میں شہر مکہ سے باہر چلاجاؤں چونکہ خداوندعالم نے مجھے اس کا م کے لیے حکم دیا ہے ۔
میں نے آنحضرت سے عرض کیا : میں دل و جان سے حاضر ہوں ، میں آپ کے بستر پر سوگیا رسول خدا نے دروازہ کھولا جبکہ تمام لوگ صبح کے انتظار میں آپ کو قتل کرنے کے لیے آمادہ بیٹھے ہوئے تھے آپ یہ پڑھتے ہوئے باہر نکل گئے( وجعلنامن بین ایدیهم سدا و من خلفهم سدا فاغشیناهم فهم لا یبصرون ) (۱)
ہم نے ان کے سامنے اور پیچھے دیوار حائل کردی اور ان کی آنکھوں کو ڈھانپ دیا ، پس وہ لوگ دیکھ نہیں سکتے ۔
اس طرح پیغمبراکرم ان کے درمیان سے نکل گئے اور ان لوگوں نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو نہ یں دیکھا ۔(۲)
نیز حضرت علی علیہ السلام کا فرمان ہے ۔
حضرت محمد مصطفی کے وہ اصحاب کہ جو اسرار الہٰی کے خزانہ دار ہیں اور کتاب و سنت کے امانتدار ہیں وہ جانتے ہیں کہ میں نے لمحہ بھر کے لیے بھی خدااور رسول کے فرمان سے منھ نہیں موڑا ، جان و دل سے پیغمبراکرم کی مدد کی اس وقت کہ جب بڑے بڑے پہلوان پچھڑ رہے تھے اور ہر ایک کے قدم لڑکھڑا رہے تھے میں ثابت قدم تھا ۔
____________________
(۱) سورہ یاسین (۳۶) آیت ۹۔
(۲) الخرائج والجرائح :۱ ۱۴۳، حدیث ۲۳۱۔ اختصاص مفید ۱۴۶۔
اور یہ وہ دلیری و مردانگی تھی کہ جو خداوندعالم نے مجھے عطا فرمائی تھی ۔(۱)
اور آپ نے یہودیوں کے بزرگوں سے ایک گفتگو میں فرمایا :
میں اور میرے چچا حمزہ میرے بھائی جعفر اور میرے چچا زاد بھائی عبیدہ نے خدااور اس کے رسول سے جس بات پر عہد کیا تھا ہم اس پر باقی رہے اور اس کو وفا کیا ، میرے ساتھی اور ہم عہد حضرات نے مجھ سے سبقت کی اور میں خداوندعالم کی مشیت و مصلحت کے تحت پیچھے رہ گیا اور اسی مناسبت سے خداوندعالم نے ارشاد فرمایا :
( من المؤمنین رجال صدقو ا ما عاهدو ا الله علیه فمنهم من قضی نحبه و منهم من ینتظر وما بدّلو تبدیلاً ) (۲)
مومنین میں سے کچھ مرد ایسے بھی ہیں کہ جنہوں نے اپنے پروردگار سے جو عہد کیا اس کو پورا کردکھایا پس ان میں سے کچھ افراد اپنی منزل تک پہنچ گئے اور کچھ ابھی منتظر ہیں اور انہوں نے کوئی تبدیلی ایجاد نہیں کی ۔
حمزہ ، عبیدہ اور جعفر نے اپنے عہد کو پورا کیا اور عالم جاودانی کی طرف رحلت کرگئے اور میں منتظر ہوں اور میںنے اپنے عہد میں کوئی تبدیلی نہیں کی ۔(۳)
____________________
(۱) نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۹۷۔دیکھیے: ینابیع المودة : ۱ ۲۶۵، حدیث ۱۹۔ بحار الانوار :۳۸ ۳۱۹، ح ۳۲۔
(۲) سورہ احزاب (۳۳) آیت ۲۳۔
(۳) اختصاص مفید ۱۷۴۔ خصال صدو ق ۳۷۶۔ بحار الانوار :۳۱ ۳۴۹۔ تاویل الآیات :۲ ۴۴۹، حدیث ۸۔
ابن عباس سے منقول ہے کہ علی ، پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زندگی ہی میں فرماتے تھے کہ خداوندعالم کا ارشاد گرامی ہے :
( اف ا ن مات أوقتل انقلبتم علی أعقابکم ) (۱)
کیا اگر پیغمبراکرم مرجائیں یا قتل کردیے جائیں تو آپ اپنے پرانے عقیدے و زمانۂ جاہلیت کی طرف پلٹ جاؤ گے ۔
خدا کی قسم اب جب کہ خداوندعالم نے ہماری ہدایت فرمائی ہے ہم پیچھے نہیں پلٹ سکتے ، خدا کی قسم اگر وہ رحلت فرماجائیں یا قتل کردیے جائیں تو بھی وہ جس چیز کی خاطر لڑتے رہے ہیں میں بھی جب تک زندہ ہوں اس چیز کی خاطر لڑتا رہوں گا ، خدا کی قسم میں آپ کا بھائی، دوست ہوںاور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کاوارث ہوں پس م یرے علاوہ کون شخص ان کا ہمدرد ہوگا اور ان باتوں کا حق دار ہوگا ۔(۲)
اس سلسلے میں بہت زیادہ روایات و احادیث ، امیرالمؤمنین ، خود رسول خدا اور حضرت فاطمہ زہرا سے منقول ہیں، نیز اہل بیت و صحابہ سے بھی اس سلسلے میں بہت زیادہ روایات پائی جاتی ہیں ۔
لہذا علی سب سے پہلے ایمان لانے والے شخص ہیں، سب سے پہلے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہمراہ نماز پڑھی، آپ کی رسالت کی تصدیق فرمائی، آخرعمر تک اس پر ثابت قدم رہے اور حضور پاکصلىاللهعليهوآلهوسلم ک ی کسی بھی معاملے میں تکذیب نہیں کی ۔
____________________
(۱) سورہ آل عمران (۳) آیت ۱۴۴۔
(۲) خصائص امیر المؤمنین (نسائی)۸۶۔ المعجم الکبیر:۱۰۷۱، حدیث ۱۷۶۔ مناقب کوفی :۱ ۳۳۹، حدیث ۲۶۵۔ شواھد التنزیل :۱ ۱۷۷، حدیث ۲۴۔ تاریخ دمشق :۴۲ ۵۶۔ مستدرک حاکم :۳ ۱۲۶۔
اب ان تمام چیز وں کی طرف انگشت نمائی کرتے ہیں کہ جن کو امیر المؤمنین نے فرمایا ہے تاکہ ان تمام مراحل و مقامات میں ابوبکر کی موقعیت و حیثیت سمجھ سکیں۔:
۱ـ ام یر المؤمنین حضرت علی سب سے پہلے اسلام لائے اور سب سے پہلے نماز بجالائے ، اس سلسلے میں بہت زیادہ کتابیں اور رسالے لکھے گئے ہیں لہذا اس کے بارے میں ہمیں گفتگو کرنے کی ضرورت نہیں ہے جس کو ضرورت ہو وہ ان کتابوں میں مراجعہ کرے ۔(۱)
۲ـ حضرت عل ی ، خدا اور رسول کی ذات میں فنا تھے اور دین کے مقابلے میںکسی بھی شیٔ کی حیثیت کو نہیں پہچانتے تھے حتی کہ باپ ، بھائی چچا کوئی دین کے مقابلے میںکچھ نہ تھا ، جب کہ یہ خاصیت ہمیں ابوبکر کے یہاں نظر نہیں آتی ، آئندہ چند صفحوںکے بعد ہم ابوبکر کی سیرت کو پیش کریں گے۔
۳ـ عل ی مطیع و فرمانبردار رسول خدا تھے جب کہ یہ صفت ابوبکر پر منطبق نہیں ہے اور اس سلسلے میں یہی کافی ہے کہ رسول خدا نے ابوبکر کو ایک زاہد نما شخص کو قتل کرنے کے لیے بھیجا ،ابوبکر اس شخص کے قریب پہنچے دیکھا کہ وہ نماز میں مشغول ہے تو خود اپنے آپ سے کہنے لگے کہ نماز قابل احترام ہے اور اسی طرح اس زاہد نما شخص کو چھوڑ آئے اور رسول خدا کے امر کی اطاعت نہیں کی ۔(۲)
____________________
(۱) اس سلسلے میں بیشتر معلومات کے لیے دیکھیے : الغدیر (امینی ) :۳ ۲۲۱ـ ۲۲۴۔
(۲) مسند ابویعلی :۶ ۳۴۱، حدیث ۳۶۶۸۔ حلیة الاولیاء : ۳ ۲۲۷۔ مسند احمد :۳ ۱۵۔ البدایة و النہایة :۷ ۳۳۰۔
۴ـ حضرت علی دین پر ثابت قدم رہے اور پچھلے آئین و زمانہ جاہلیت کی طرف مراجعہ نہ کیا، جب کہ حضرت فاطمہ زہرا کے خطبہ میں ابوبکر اور ان کی قوم کے پیچھے پلٹنے کے متعلق ثبوت موجود ہیں اور حدیث حوض(۱) اور آیہ انقلاب(۲) میں کچھ ایسے نکات ہیں کہ کہ جو ان کے ارتداد اور اعقاب کی طرف پلٹنے پر دلالت کرتے ہیں ۔
جی ہاں ، ابوبکر کی زندگی پر تھوڑا غور کرنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ وہ مصلحت کو واجبات الہٰی پر مقدم رکھتے تھے جیسا کہ ان کو اس مصلحت ہی کی بنا پر کہ جب تمام مسلمانوں کا اجماع ہوچکا کہ خالد بن ولید کے زنا ء محصنہ پر قتل اور حد جاری کی جائے لیکن ابوبکر نے یہ کام انجام نہ دیا چونکہ ان کی مصلحت نہ تھی جب کہ عمر ابن خطاب تک بھی اس فعل پر خالد بن ولید کے قتل کو لازم جانتے تھے چونکہ اس نے مالک بن نویرہ کی زوجہ سے عدہ کے دوران زنا کیا تھا ۔ لیکن ابوبکر نے اس پر حد جاری کرنے سے خودداری کی اور یہ کہا کہ اے عمر ، خالد نے اجتہاد کیا اور خطا کی ، اپنی زبان کو خالد کے سلسلے میں بند رکھو بیشک میں اس تلوار کو کہ جس کو خدا نے کافروں کے لیے کھینچا ہے ،اس کومیں غلاف میں نہیں رکھو ں گا ۔(۳)
____________________
(۱) اس حدیث کے سلسلے میں مراجعہ کیجیے : صحیح بخاری :۵ ۱۹۱۔ و جلد :۷ ۱۹۵۔ صحیح مسلم :۷ ۷۱۔
(۲) سورہ آل عمران(۳) آیت ۱۴۴۔
(۳) تاریخ طبری :۲ ۵۰۳۔ اور دیکھیے : طبقات ابن سعد : ۷ ۳۹۶۔ البدایة والنہایة : ۶ ۳۴۵۔ الاصابة :۵ ۷۵۵۔ اور دوسرے مآخذ۔
اور جب ابوقتادہ انصاری نے خالد بن ولید کے زناء محصنہ پر گواہی دی کہ جو خود اسی کے لشکر میں موجود تھے اور وقت زنا حاضر تھے تو ابوبکر نے ان کو بلایا اور اس کا م سے منع کیا ۔(۱) اور اس طرح اجتہاد کی منطق کے ذریعہ اور یہ کہ ابوبکر کے دشمن کافر ہیں چاہے وہ حقیقت میں مسلمان ہی کیوں نہ ہوں ، ابوبکر نے خالد کے لیے عذر تراشا چونکہ ان کو خالد کی اور دوسری جگاہوں پر ضرورت تھی ۔
اور اسی بناء پر اشعث بن قیس کہ جب وہ مرتد ہوگیا اس کو معاف کردیا اور ابوبکر مرتے وقت ان کاموں پر افسوس کرتے رہے اور کہتے رہے کاش تین و تین اور تین(۲)
وہ تین کام کہ جن کو انجام دینا چاہتے تھے لیکن انجام نہ دیا، ایک اشعث بن قیس کوقتل کرنا تھا کہ جب اس کو گرفتار کرکے لائے، چونکہ ابوبکر کو بعد میں معلوم ہوگیا تھا کہ تمام فتنوں اور فساد میں اشعث ہی کا ہاتھ تھا ۔(۳)
ابوبکر نے یہ کام اس لیے انجام نہیں دیا چونکہ اشعث بن قیس قبیلہ کندہ کا رئیس تھا اور ابوبکر کو اس کی ضرورت تھی لہذا خلیفۂ اول نے صرف نظرکرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا ، بلکہ اپنی بہن کی شادی بھی اس سے رچادی اور اس کو مہمترین کاموں میں اپنے ساتھ رکھا ۔
____________________
(۱) الکامل فی التاریخ :۲ ۳۵۸۔
(۲) یہ امور ابو بکر آخری وقت زبان پر لائے اور مرتے دم یہ حسرت دل میں لے کر گئے کہ کاش میں تین کام ترک نہ کرتا اور اے کاش میں تین کام انجام دیتا اور اے کاش میں تین مسٔلے پیغمبراکرم سے معلوم کرتا ، اور پھر ان کی ایک ایک کرکے تفصیل بیان کی ۔(م)
(۳) تاریخ طبری :۱ ۶۲۰۔ تاریخ دمشق : ۳۰ ۴۱۸۔ کنزالعمال :۵ ۶۳۲، حدیث ۱۴۱۱۳۔
اسی طرح زکا ت کا حصہ کہ جو مؤلفة القلوب کے لیے معین کیا گیا تھا اور قرآن کریم میں بھی اس کی تصریح ہوئی ہے ،ادا نہ کیا اور جب عمر نے از باب مصلحت مؤلفة القلوب کا حق دینے کی خواہش ظاہر کی تو ابوبکر نے یہ کہکر ٹال دیا کہ اب اسلام قدرتمندہوچکاہے لہذا مؤلفة القلوب کے حصہ کی ادائیگی کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔(۱)
انہی واقعات کی طرح حضرت فاطمہ زہرا کو فدک سے منع کرنا بھی ہے جب کہ حضرت فاطمہ زہرا نے اپنی ملکیت کوثابت کرنے میں آیات وصیت و وراثت اور انبیاء کی میراث کی آیات کے ذریعہ ابوبکر پر احتجاج کیا ۔
ان تمام واقعات سے پہلے ابوبکر کا احد ، حنین اور خیبر کی جنگوں سے بھاگنا ہے اور دینی اہمیتوں کے مقابل ثابت قدم نہ رہنا، میدان چھوڑکر بھاگنا اور یہ سب ان مصلحتوں کی وجہ سے ہے کہ جو ان کے پیش نظر تھیں۔یعقوبی جنگ احد کے متعلق تحریر کرتا ہے کہ تمام مسلمان میدان چھوڑکر بھاگ گئے اور رسول خدا کے ہمرا ہ صرف تین آدمی باقی رہے علی ، طلحہ و زبیر۔(۲)
حاکم نے عایشہ سے روایت نقل کی ہے اور اس کو صحیح جانا ہے کہ ابوبکر نے کہا کہ جب جنگ احد میں مسلمان پیغمبراکرم کے اطراف سے فرار ہوئے تو میں بھاگنے والوں میں سب سے پہلا فرد تھا کہ جو رسول خدا کے پاس پلٹا ۔(۳)
____________________
(۱) تاریخ طبری :۲ ۳۰۱۔ طبقات ابن سعد :۵ ۱۰۔ معجم البلدان: ۲ ۲۷۱۔
(۲) تاریخ یعقوبی :۲ ۴۷۔
(۳) مستدرک حاکم : ۲۷۳۔
صاحب کنزالعمال نے جنگ احد کے بارے میں ابو داؤد طیالسی سے اور ابن سعد و بزار، دارقطنی ، ابن حیان ، ابو نعیم اور دوسروں نے اپنی اپنی اسناد کے ساتھ عایشہ سے روایت نقل کی ہے کہ عایشہ نے کہا کہ جب کبھی بھی جنگ احد کا تذکرہ ہوتا تو ابوبکر رونے لگتے تھے اور روتے ہوئے کہتے کہ میں بھاگنے والوں میں سب سے پہلے واپس آیا ۔(۱)
ابن ابی الحدید لکھتا ہے کہ جاحظ نے کہا : ابوبکر پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس جنگ احدمیں کھڑے رہے جیسا کہ علی ثابت قدم رہے ۔ ۔ ۔ تو ہمارے استاد ابوجعفر نے کہا کہ اکثر مورخین و اہل قلم نے جنگ احد میں ابوبکر کے فرار اور عدم ثبوت قدم کو نقل کیا ہے اور جمہور نے روایت کی ہے کہ ابوبکرنے فرار اختیار کیا اور علی کے علاوہ کوئی بھی پیغمبراکرم کے پاس نہ رہا اور طلحہ و زبیر اور ابو دجانہ بھی قریب ہی تھے اور ابن عباس سے روایت ہے کہ ان میں پانچواں فرد کہ جو باقی بچا عبد اللہ بن مسعود تھے اور کچھ مورخین نے چھٹے آدمی کا بھی نام لکھا ہے اور وہ مقداد بن عمروہے۔(۲)
زید بن وہب کا بیان ہے کہ میں نے ابن مسعود سے کہا: ابوبکر و عمر جنگ احد میں کہاں تھے ؟ تو اس نے کہا ان لوگوں کے ساتھ کہ جنہوں نے میدان سے فرار اختیار کیا تو میںنے سوال کیا عثمان کہاں تھے ؟ کہا کہ واقعہ احد کے تین دن کے بعد واپس آئے ، رسول خدا نے عثمان سے کہا اے عثمان جنگ سے بھاگنے میں بہت لمبے لمبے قدم رکھے !۔(۳)
____________________
(۱) مسند ابی داؤد طیالسی ۳۔ کنزالعمال :۱۰ ۴۲۵، حدیث ۳۰۰۲۵۔
(۲) شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) :۱۳ ۲۹۳۔
(۳) کشف الغمہ : ۱ ۱۹۳ ۔ شرح نہج البلاغہ :۱۵ ۲۱۔تاریخ طبری: ۲ ۲۰۳۔ البدایہ و النہا یہ :۳ ۳۲۔
المغازی میں محمد بن مسلمہ سے منقول ہے کہ میں نے اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا اور دونوں کانوں سے سنا کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم روز احد تنہا رہ گئے اور مسلمان پہاڑ کی طرف بھاگ رہے تھے ، رسول خدا اپنی مدد کے لیے بلارہے تھے اور آواز دیتے اے فلاں آؤ ، اے فلاں آؤ میرے قریب آؤ میں رسول خدا ہوں ، لیکن ان دونوں میں سے کسی نے بھی نہ سنا اور دونوں بھاگے چلے گئے ۔(۱)
واضح ہے کہ یہاں پر فلاں اور فلاں سے مراد شیخین یعنی ابوبکر و عمر ہیں ۔ راوی نے صراحتاً ان کا نام ذکر نہیں کیا چونکہ وہ صاحب اقتدار تھے اور اس لیے بھی کہ ان کے پیروکار،ان کے متعلق اس طرح کی روایات کوپسند نہیں کریں گے ، اور شاید یہ بھی ممکن ہے کہ یہ راوی کی نہیں بلکہ مؤلف یا کاتب کی ہنر نمائی ہو۔
روایت میں آیا ہے کہ ایک عورت زمانہ خلافت عمر میں آئی اور عمر سے یمنی چادر وں کے متعلق مطالبہ کیا اور اسی وقت عمر کی بیٹی آئی اس نے بھی یمنی چادر مانگی عمر نے اس عورت کوچادر دے دی اور اپنی بیٹی کو منع کردیا ! ۔ جب لوگوں نے اس کی دلیل چاہی تو جواب دیا کہ اس عورت کاباپ جنگ احد میں ثابت قدم رہا اور اس کا باپ یعنی خود عمر ثابت قدم نہ رہ سکا اور فرار اختیار کیا ۔(۲)
واقدی رقمطراز ہے کہ جب جنگ احد کے دوران ابلیس نے شور مچایا کہ محمد قتل ہوگئے تو لوگ متفرق ہوگئے کچھ لوگ مدینہ واپس آگئے اور ان بھاگنے والوں میں ایک تو فلاں تھے اور دوسرے حارث بن حاطب ۔
____________________
(۱) المغازی :۱ ۲۳۷۔ اور اسی سے منقول ہے شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) :۱۵ ۲۳ میں ۔
(۲) شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) :۲۲۱۵۔
لیکن ابن ابی الحدید نے اسی واقدی سے روایت بطور صریح و بغیر کنایہ کے نقل کی ہے کہ اس نے کہا وہ لوگ کہ جو فرار اختیار کرگئے ، عمر و عثمان اور حارث بن حاطب تھے ۔(۱)
رافع بن خدیج کہتاہے کہ میں فلاں اور فلاں کی طرف دیکھ رہا تھا کہ جو پہاڑ پر اچک اچک کر بھاگ رہے تھے پس عمر نے کہا کہ جب شیطان نے شور مچایا کہ محمد قتل ہوگئے تو میں اس طرح پہاڑپر چڑھا کہ جیسے پہاڑی بکری پہاڑ پر چڑھتی ہے ۔(۲)
محمد بن اسحاق نے مغازی میں تحریر کیا ہے کہ۔ ۔ ۔ لوگ جنگ احد میں پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس سے بھاگ رہے تھے یہاں تک کہ عثمان بھی بھاگ گئے چونکہ وہ ان سب سے پہلے بھاگ گئے اور مدینہ پہنچ گئے اور انہی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی :
( ان الذین تولوا یو م التقی الجمعان ) (۳)
اس روز کہ جب دوگروہ آپس میں ٹکرائے تو کچھ لوگ بھاگ کھڑے ہوئے ۔(۴)
____________________
(۱) المغازی :۲۷۷۱ ۔ اور اسی کتاب کے دوسرے نسخہ میں فلاں کی جگہ پر عمر و عثمان بھی آیا ہے۔شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) :۲۴۱۵۔
(۲) المغازی:۱ ۲۹۵ ۔ اور ۳۲۱۔ شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) :۲۲۱۵۔الدر المنثور :۲ ۸۹۔
(۳) سورہ آل عمران (۳) آیت ۱۵۵۔
(۴) المغازی :۱ ۲۷۸ـ۲۷۹۔ اور دیکھیے : صحیح بخاری :۵ ۳۵(از عثمان بن وہب )۔ مجمع الزوائد: ۱۱۵۹۔
فخررازی کا بیان ہے کہ بھاگنے والوں میں سے عمر بھی تھے مگر یہ کہ سب سے پہلے نہیں بھاگے اور زیادہ دور بھی نہیں بھاگے بلکہ صرف پہاڑ پر چڑھ گئے تاکہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم بھی ان کے پیچھے پیچھے پہاڑ پر چڑھ جائیں اور عثمان بن عفان انصار کے دو افراد سعد و عقبہ کے ساتھ بھاگ کھڑے ہوئے اوربہت دور نکل گئے یہاں تک کہ تین دن کے بعد واپس آئے ۔(۱)
نیشاپوری کا بیان ہے کہ قفال نے کہا بہرحال جس چیز پر روایات دلالت کرتی ہیں وہ یہ ہے کہ کچھ لوگ جنگ احد سے بھاگے اور کچھ قریب ہی چھپ گئے اور کچھ بہت دور نکل گئے اور بعض مدینہ آگئے اور کچھ ادھر ادھر کو فرار کرگئے ۔ ۔ ۔ اور ان بھاگنے والوں میں عمر بھی تھے ۔(۲)
آلوسی رقمطراز ہے کہ بھاگنے والے ایک پہاڑ کے دامن میں جمع ہوگئے اور عمر بن خطاب بھی ان کے ہمراہ تھے جیسا کہ ابن جریر کی روایت میں مذکور ہے ۔(۳)
بہر حال آپ نے ان روایات میں ملاحظہ فرمالیا کہ جنگ احد سے بھاگنے والوں میںیہ تین افراد ابوبکر ، عمر اور عثمان بھی تھے اور اسی جنگ میں ثابت قدم نہ رہے جب کہ علی ابن ابی طالب اور کچھ صحابہ ثابت قدم رہے ۔
عمران بن حصین کی روایت میں آیا ہے کہ جب جنگ احد میں لوگ رسول خدا کے اطراف سے بھاگ رہے تھے توعلی برہنہ شمشیر کولیے ہوئے حضور اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے سامنے آگئے۔
____________________
(۱) تفسیر فخر رازی : ۹ ۴۲۔
(۲) تفسیر نیشابوری : ۲ ۲۸۷۔
(۳) روح المعانی : ۴ ۹۹۔
پس رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے سر کو بلند فرمایا اورعلی سے کہا کہ جب سب بھاگ گئے تو آپ کیوں نہیں بھاگے ؟ علی نے جواب دیا: اے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کیا میں اسلام لانے کے بعد کافر ہوجاؤں ۔(۱)
پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے کفار کے ایک گروہ کی طرف اشارہ کیا کہ جو پہاڑ پر سے اتر رہے تھے علی نے ان پر حملہ کیا اور ان سب کو مار بھگایا پھر دوسرے گروہ کی طرف اشارہ کیا آپ نے ان پر بھی حملہ کیا اور ان کو بھی پچھاڑ دیا پس جبرئیل آئے اور کہا اے رسول خدا فرشتے علی کی آپ کے لیے جانبازی پر فخر و مباہات کررہے ہیں ۔
اس وقت پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کون اس کو اس کا م سے روک سکتا ہے جب کہ وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں تو جبرئیل نے بھی کہا کہ میں تم دونوں سے ہوں۔(۲)
حضرت علی کے کلام ہی میں سے حدیث مناشدہ ہے کہ فرماتے ہیں :کیا آپ لوگوں کے درمیان میرے علاوہ کوئی ہے کہ جس کے لیے جبرئیل نے فخر و مباہات کیا ہو کہ یہ واقعہ جنگ احد کا ہے پس رسول خدا نے فرمایا ایسا کیوں نہ ہوکہ علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں پھر جبرئیل نے کہا کہ میں تم دونوں سے ہوں ؟ تو سب نے کہا : نہیں۔(۳)
____________________
(۱) حضرت علی کی نظرمیں جنگ سے فرار کرنا گویا اسلام لانے کے بعد کفر اختیار کرنا ہے تواب ان بھاگنے والوں کے بارے میں کیا خیال ہے ؟(م)
(۲) ارشاد مفید:۱ ۸۵۔ کشف الغمہ :۱ ۱۹۴۔ بحار الانوار:۲۰ ۸۵۔
(۳) امالی طوسی ۵۴۷، مجلس ۲۰، حدیث ۴۔ خصال صدوق :۲ ۵۵۶۔ مناقب کوفی :۱ ۴۸۶، حدیث ۳۹۲۔ تاریخ طبر ی :۲ ۱۹۷۔ المعجم الکبیر :۱ ۳۱۸، حدیث ۹۴۱۔ کشف الیقین ۴۲۴۔
اسد الغابہ میں ہے کہ جب جنگ احد میں لوگوں نے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے آنکھیں چرائیں اور فرار اختیار کیا میں نے قتل ہوجانے والوں کو دیکھا تو ان میں رسول خدا کو نہ پایا تو میں نے اپنے دل میں کہا کہ خدا کی قسم رسول خدا ایسے نہیں ہیں کہ جو جنگ سے فرار اختیار کریں جب کہ قتل ہونے والوں کے درمیان بھی نہیں ہیں، شاید خداوندعالم ہمارے اعمال سے ناراض ہوگیا اور اپنے رسول کو آسما ن پر لے گیا لہذا میرے لیے اس سے بہترکوئی کام نہیں ہے کہ جنگ کروں یہاں تک کہ قتل ہوجاؤں پس میں نے اپنی تلوار کے نیام کو توڑ دیا اور پھر دشمن کے لشکر پر حملہ کیا اور سارے لشکر کو بکھیر کررکھ دیا تو اسی دوارن میں نے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کو ان کے درمیان دیکھا۔جی ہاں، اسی روز علی پر سولہ ضربتیں لگیںاور ہر ضربت کے اثر سے وہ زمین پر گرے اور جبرئیل کے علاوہ ان کو کسی نے نہیں اٹھایا ۔(۱)
حضرت امیر کے دوسرے کلام میں مذکور ہے کہ آپ نے فرمایا : اے رسول خدا وہ فتنہ کہ جس کی خداوندعالم نے آپ کو خبر دی ہے وہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : بیشک میرے بعد میری امت کو خداوندمتعال آزمائے گا ،میں نے عرض کی اے رسول خدا تو کیا روز جنگ احد کہ جس دن کچھ مسلمان شہید ہوئے اور یہ فیض میرے نصیب میں نہ آیا مجھ پر بہت سخت گذرا تب آپ نے فرمایا: اے علی صدیق آپ کو بھی شہادت مبارک ہو اور جب آپ کی شہادت کا وقت آئے گا اور آپ کے محاسن مبارک آپ کے سرکے خون میں تر ہوگی تو آپ کا صبر کیسا ہوگا؟۔(۲)
____________________
(۱) اسد الغابہ : ۴ ۲۰ـ۲۱۔
(۲) نہج البلاغہ :۲ ۴۹، خطبہ ۱۵۶۔ اور دیکھیے : کنزالعمال:۱۶ ۱۹۴ ، حدیث ۴۴۲۱۷۔ المعجم الکبیر :۱۱ ۲۹۵۔ اسد الغابہ:۴ ۳۴۔
جی ہاں ، یقینا وہ آزمائش و امتحان تھا کیا کہیں ایسے شخص کے بارے میں کہ جو رسول خدا کو کافروں کے درمیان چھوڑکر بھاگ کھڑا ہو، تو کیا یہ کام کفر ہے یا فسق یا کچھ اور ؟
مسلم ہے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم اس کام سے بہت رنج یدہ خاطر اور غمگین ہوئے تھے اور جنگ سے بھاگنے والوں سے بہت ناراض ہوئے تھے ۔
واقدی کا بیان ہے کہ طلحہ بن عبیداللہ و ابن عباس اور جابر بن عبداللہ کہتے ہیں کہ رسول خدا نے شہداء احد کی نماز جنازہ پڑھی اور فرمایا میں ان لوگوں پر گواہ ہوں کہ انہوں نے راہ حق میں تلوار چلائی اور شہید ہوگئے تو ابوبکر نے کہا اے رسول خدا کیا ہم انہیں کے بھائی نہیں ہیں جیسا کہ وہ اسلام لائے ہم بھی اسلام لائے اور انہیں کی طرح ہم نے بھی جہاد کیا پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :ہاں! لیکن انہوںنے اپنا کامل حق ادا کیا اور کامل اجر حاصل کیا لیکن مجھے نہیں معلوم کہ تم لوگ میرے بعد کیا کارنامے انجام دو گے پس ابوبکر رونے لگے اور کہا کیا ہم آپ کے بعد بھی زندہ رہیں گے ۔(۱)
حضرت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے منقول ہے کہ آپ نے عمر سے فرما یا: جب صلح حدیبیہ کے وقت عمر نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اعتراض ک یا '' کیا جنگ احد کو بھول گئے ہو کہ جب پہاڑ پر چھپ چھپ کے بھاگ رہے تھے ،کسی کی طرف کو بھی مڑکرنہیں دیکھ رہے تھے میں وہیںکھڑا ہواآپ لوگوںکو بلارہا تھا ۔(۲)
اور اس سے پہلے عثمان کے بارے میں رسول خدا کا ارشاد گرامی گذرچکا ہے کہ آپ نے فرمایا : کہ بھاگنے میں بہت لمبے لمبے قدم اٹھا رہے تھے ۔
____________________
(۱) المغازی : ۱ ۳۱۰۔ شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) :۳۸۱۵ (متن عبارت اسی کتاب سے ہے ) اور دیکھیے الموطاء :۲ ۴۶۱، حدیث ۹۸۷۔التمہید (ابن عبدالبر) :۲۱ ۲۲۸، حدیث ۲۰۳۔
(۲) المغازی : ۶۰۹۲۔ اور اسی سے منقول ہے شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) :۲۵۱۵۔ اور دیکھیے : الدر المنثور :۶ ۶۸۔ عیون الاثر : ۲ ۱۲۵۔
لیکن جنگ خیبر !
سیرہ حلبی میں پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت منقول ہے کہ جب جنگ خیبر میں شیخین ابوبکر و عمر مسلسل دشمن کے خوف و ڈر سے بھاگتے رہے تب رسول خدا نے فرمایا : کل میں علم اس کو دوںگا کہ جو خدا اور رسول کودوست رکھتا ہوگا اور خداو رسول اس کو دوست رکھتے ہونگے ،مردہوگا کرار ہوگا ، فرار نہ ہوگا یعنی جم کر لڑنے والا ہوگا بھاگنے والا نہ ہوگا اور اس کے ہاتھوں کامیابی و فتح حاصل ہوگی ۔
اس کے بعد اگلے روز رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے عل ی کو بلایا جب کہ آپ کی آنکھیں دکھ رہی تھیں رسول خدا نے اپنا لعاب دہن علی کی آنکھوں میں لگایا اور فرمایا اس علم کو لو اور دشمن کی طرف جاؤ تاکہ خداآپ کو کامیاب و کامران فرمائے ۔(۱)
ابوسعید خدری کا بیان ہے کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے علم کول یا اور گھمایا اور پھر فرمایا کون شخص اس علم کا حق ادا کرے گا ،فلاں (ابوبکر) آگے آئے اور کہا میں یا رسول اللہ ۔ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا : جاؤ دفان ہو۔ توپھر دوسرا شخص (عمر) آگے بڑھا اور کہا میں یا رسول اللہ تو آپ نے فرمایا : جاؤ ہٹو ۔
____________________
(۱) السیرة الحلبیہ :۲ ۷۳۷۔ السیرة النبویة (ابن ہشام) : ۳ ۷۹۷۔ مسند احمد :۱ ۹۹۔ الاحادیث المختارہ : ۲ ۲۷۵۔ فتح الباری :۷ ۳۶۵۔ مجمع الزوائد :۹ ۱۲۴۔ نیز اس حدیث کو بخاری و مسلم نے بطور اختصار بیان کیا ہے ۔ دیکھیے : صحیح بخاری :۵ ۷۶۔ صحیح مسلم :۵ ۱۹۵۔
پھر پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی کہ جس نے مجھ کو مکرم و محترم قرار دیا میں علم اس کو دونگا کہ جو میدان سے نہیں بھاگے گا ، اے علی آؤ اوراس علم کو لو آپ نے علم کو لیا اور میدان کی طرف چل دیئے یہاں تک کہ خداوندعالم نے آپ کے ہاتھوں سے در خیبر کو اکھاڑا اور فتح و کامیابی عطا فرمائی ۔(۱)
یہ جو پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :''غیر فرار'' (۲) ا یسا مرد ہے کہ جو کبھی نہ بھاگے یا''رجلا لایفر'' (۳) وہ مرد کہ جو فرار اخت یار نہ کرے یہ ابوبکر و عمر کے لیے کنایہ ہے ، اور ظاہر ہے کہ میدان جنگ سے بھاگنے سے کون سا بھاگنا برا اور بدتر ہوگا چونکہ نصوص روایات میں بہت قابل افسوس عبارات مذکو رہیں مثلا ابوبکر نے علم کو لیا''فانهز م بها '' (۴) پس اس نے شکست و ہار مان ل ی اور بھاگ کھڑے ہوئے اور پھر عمر نے لیا''صارغیر بعیدثم انهزم '' (۵) تھوڑ ی دیر نہ لگی کہ وہ ہار کے بھاگے آئے ۔
____________________
(۱) مسند احمد :۳ ۱۶۔ فضائل احمد :۲ ۵۸۳۔ السیرة النبویة (ابن کثیر) :۲ ۳۵۲۔ مجمع الزوائد:۶ ۱۵۱۔ تالی تلخیص المتشابہ (خطیب بغدادی) :۲ ۵۲۸۔
(۲) تاریخ یعقوبی :۲ ۵۶۔ مناقب خوارزمی ۱۷۰۔ روضہ کافی :۸ ۳۵۱، حدیث ۵۴۸۔ کنزالعمال :۱۳ ۱۲۳،حدیث ۳۶۳۹۳۔
(۳) مسند احمد :۳ ۱۶۔ مجمع الزوائد :۹ ۱۲۴۔ مناقب کوفی :۲ ۴۹۵، حدیث ۹۹۵۔ البدایة والنہایة : ۴ ۲۱۲۔ و جلد : ۷ ۳۷۵۔
(۴) مصنف ابن ابی شیبہ : ۷ ۴۹۷، حدیث ۱۷۔ و جلد :۸ ۵۲۲،حدیث ۱۱۔ مجمع الزوائد :۹ ۱۲۴۔کنزالعمال :۱۲۱۱۳،حدیث ۳۶۳۸۸۔
(۵) کشف الیقین ۱۴۰۔
اور روایات میں مذکور ہے کہ عمر میدان سے بھاگ کر پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں پہنچے اس صورت میں کہ وہ ڈر ، خوف اور فرار کی نسبت اپنے ساتھیوں کی طرف دے رہے تھے اور ان کے ساتھی ڈر ، خوف اور فرار کی نسبت ان کی طرف دے رہے تھے ۔(۱)
یا یہ کہ ابوبکر نے علم کو لیا اور کامیاب نہ ہوئے تو اگلے روز عمر نے علم کو لیا اور شرمندہ ہوکر واپس آئے لوگ مشکلات میں پڑگئے(۲) یایہ کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے علم مبارک کو اپنے مہاجرین اصحاب میں سے ایک کو دیااس نے بھی کچھ نہ کیا اور بھاگ کھڑے ہوئے اور دوسرے (عمر) کودیا تو اس نے بھی کچھ نہ کردکھایا اور بھاگ آئے۔(۳) اصحاب نے ب یعت شجرہ میںیہ عہد و پیمان کیا تھا کہ دشمن کے سامنے سے نہیں بھاگیں گے جب کہ یہ کام اس عہد کوتوڑنے کے مترادف تھا ۔ جناب عباس پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے چچا اور امام علی نے اس مطلب کی طرف اشارہ فرما یا ہے اس وقت کہ جب آپ دونوں حضرا ت پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی میراث کے مطالبے کے لیے دربارخلافت میںگئے اور جو کچھ ان دونوں نے کہا یہ تھا کہ ابوبکر و عمر جھوٹے ، گنہکار ، عہد توڑنے والے اور خائن ہیں ۔(۴)
____________________
(۱) مصنف ابن ابی شیبہ :۸ ۵۲۱، حدیث ۷۔مستدرک حاکم :۳ ۳۸۔ تاریخ دمشق :۴۲ ۹۷۔ اصول کافی : ۱ ۲۹۴، حدیث ۳۔
(۲) السنن الکبری(نسائی ) :۵ ۱۰۹، حدیث ۸۴۰۳۔ مجمع الزوائد :۶ ۱۵۰۔(ہیثمی کا بیان ہے کہ اس حدیث کے رجال ثقہ ہیں) ۔ البدایة النہایة :۷ ۳۷۳۔
(۳) السیرة الحلبیہ: ۳ ۷۳۲ ۔ اور اس سے منقول ہے الغدیر: ۷ ۲۰۳ میں ۔
(۴) دیکھیے : صحیح مسلم :۵ ۱۵۲۔
یہی وجہ ہے کہ رسول خدا نے بیعت شجرہ کے بعد اہل مکہ سے صلح فرمائی چونکہ مسلمانوں نے کفار مکہ پر حملہ کیا اور قریش نے مسلمانوں کو شکست دے کر بھگادیا پھر پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی کو بھیجا آپ نے ان کو شکست دی اور بھگایا ، بھاگنے والے مسلمانوں نے توبہ کی پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا اب آئیے دوبارہ بیعت کیجیے تم لوگوں نے عہد کو توڑا ہے جب کہ یہ عہد کیا تھا کہ کبھی دشمن کے مقابل میدان سے نہیں بھاگیں گے ۔ اسی وجہ سے ان کے اس عہد و پیمان کو بیعت رضوان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔ چونکہ یہ بیعت رسول خدا کی نافرمانی اور معصیت کے بعد آپ کو راضی و خوشنود کرنے کے لیے انجام پائی تھی ۔ پس ابوبکر و عمر اور دیگر مسلمانوں کا جنگ خیبر و حنین وغیرہ سے فرار اور بھاگنا گویا بیعت رضوان کو توڑنا ہے ۔(۱)
صحیح مسلم میں مذکور ہے کہ عمر نے عباس وعلی سے مخاطب ہوکر کہا ۔ ۔ ۔ اس وقت کہ جب ابوبکر نے کہا کہ رسول خدا نے فرمایا ہے کہ ہم گروہ انبیاء میراث نہیں چھوڑتے اور جو کچھ ہم سے رہ جاتا ہے وہ صدقہ ہے ۔ تم دونوں حضرات اس کو جھوٹا ، گنہکار ، عہد توڑنے والا اور خائن جانتے ہو جب کہ ابوبکر دنیا سے جاچکا ہے اور اب میں ابوبکر اور رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ول ی ہوں جب کہ تم دونوں حضرات مجھ کو بھی جھوٹا ، گنہکار ، عہد توڑنے والا اور خائن مانتے ہو۔(۲)
____________________
(۱) الصراط المستقیم :۳ ۱۱۰ـ ۱۰۱۔
(۲) صحیح مسلم :۵ ۱۵۲، کتاب الجہاد و السیر، باب حکم الفئی۔ اور دیکھیے صحیح بخاری : ۴ ۴۴، باب فرض الخمس ۔ و جلد : ۵ ۲۳ـ۲۴، کتاب الجہاد و السیر۔ تفسیر ابن کثیر :۴ ۲۵۹۔ شرح نہج البلاغہ(ابن ابی الحدید): ۱۶ ۲۲۲۔ تاریخ المدینہ (ابن شبہ) :۱ ۲۰۴۔
بہر حال ان تمام حالات و روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے ابوبکر ، رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے چچا عباس کی نظر میں، رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے داماد علی کی نظر میں اور رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیٹی فاطمہ کی نظر میں جھوٹے و گنہکار ہیں ، اور کوئی بھی جھوٹا ، صادق و سچا نہیں ہوسکتا تو پھر صدیق کیسے ہوسکتا ہے ؟۔
ابن شہر آشوب نے مناقب میں لکھا ہے :
متکلمین کہتے ہیں کہ علی کی امامت کے دلائل میں سے یہ خداوندعالم کا فرمان ہے( یا ایها الذین آمنو ا اتقو الله و کونوا مع الصادقین ) (۱) اے ا یمان لانے والوخداسے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ ۔ہم نے آپ کو اس صفت پر پورا پایا ،چونکہ خداوندعالم فرماتا ہے( والصابرین فی الباساء والضراء و حین البأس اولٰئک الذین صدقوا و اولٰئک هم المتقون ) (۲) وہ لوگ سخت یوں اور پریشانیوں میں اور وقت جنگ صابر و ثابت قدم ہیں ، سچے ہیں اور یہی لوگ متقی و پرہیز گار ہیں ۔
اسی وجہ سے یہ اجماع متحقق ہوچکا ہے کہ علی دوسروں کی نسبت امامت کے زیادہ حق دار ہیں چونکہ وہ میدان جنگ سے کبھی نہیں بھاگے جب کہ دوسروں نے بارہا راہ فرار اختیار کی ۔(۳)
شیخ مفید نے اپنی کتاب ''الجمل و النصرة لسید العترةفی حرب البصرة'' میں عمر بن آبان سے روایت نقل کی ہے کہ اس نے کہا کہ جب امیر المؤمنین نے اہل بصرہ پر کامیابی حاصل کرلی۔
____________________
(۱) سورہ توبہ (۹) آیت ۱۱۹۔
(۲) سورہ بقرہ (۲) آیت ۱۷۷۔
(۳) مناقب ابن شہر آشوب :۳ ۹۳۔
تب کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا اے امیر المؤمنین کیا سبب تھا کہ عایشہ آپ کے خلاف نکل پڑیں اور لوگوں سے آپ کے خلاف مدد مانگی اور ان کو آپ کے خلاف بھڑکایا اور بات یہاں تک پہنچی کہ آپ سے جنگ ہوئی ، جب کہ وہ دوسری عورتوں کی طرح ایک عورت ہیں ان پر جنگ واجب نہیں تھی ، جہاد ان سے ساقط تھا ، ان کو گھر سے باہر نکلنے کی اجازت بھی نہیں تھی ، ان کے لیے لوگوں کے درمیان آنا اور ظاہر ہونا بھی مناسب نہیں تھا اور وہ افراد بھی کہ جو ان کے لشکر کی کمانڈ ہاتھ میں لیے ہوئے تھے وہ بھی اس قابل نہ تھے ۔
امیر المؤمنین نے فرمایا: میں آپ لوگوں سے چند چیز یںبیا ن کرتا ہوں کہ جو عایشہ کے دل میں مجھ سے حسد و کینہ کا سبب بنیں جب کہ ان میں سے میں کسی میں بھی گنہکار نہیں ہوں جب کہ وہ مجھے سزاوار سمجھتی ہیں ۔
۱ـ رسول خدا نے مجھے ان کے باپ پر برتر ی بخشی ، اور ہر مہم کام میں مجھے ان پر مقدم رکھتے تھے عایشہ کے دل میں حسد بیٹھ گیا چونکہ وہ جانتی تھیں کہ ابوبکر کے دل میں مجھ سے حسد ہے لہذا انہوں نے بھی اپنے باپ کی پیروی کی ۔
۲ـ جب پ یغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تمام اصحاب کے درمیان بھائی چارگی اوررشتہ اخوت قائم کیا تو ان کے باپ اور عمر کے درمیان بھائی چارگی قائم کی اور جب کہ مجھے خود اپنے لیے انتخاب فرمایا اور رشتہ اخوت قائم کیا ۔ یہ کام عایشہ کو بہت ناگوار گذرا اور مجھ سے حسد کرنے لگیں ۔
۳ـ خداوندعالم نے تمام اصحاب کے دروازے کہ جو مسجد م یں کو کھلتے تھے ،بند کروادیے سوائے میرے گھر کے دوازے کے ۔ تو جب ان کے باپ کے گھر کا دروازہ ،اور ان کے دوست جیسے عمر کے گھر کا دروازہ بند ہوا جبکہ میرے گھر کا دروازہ مسجد میں کھلا رہا ۔
تب اس سلسلے میں کچھ لوگو ں نے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اعتراض ک یا تب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرما یا : میں نے آپ لوگوں کے گھروں کے دروازوں کو بند نہیں کیا اور میں نے علی کے گھر کے دروازے کو کھلا نہیں رکھا ہے ، بلکہ یہ حکم الٰہی ہے ۔ابوبکر کو اس کام پر بہت غصہ آیا اور اپنے گھر والوں کے درمیان الٹی سیدھی باتیں کہیں کہ جو ان کی بیٹی نے سنیں اور اس کے بعد سے مجھ سے حسد میں اضافہ ہوا ۔
۴ـ رسول خدا نے جنگ خ یبر میں علم ان کے باپ کو عطا کیا اور ان کو لشکر اسلام کا سردار بنایا ، خیبر کو فتح کرنے کے لیے بھیجا تاکہ یا خیبر کو فتح کریں یا شہید ہوجائیں جب کہ وہ ثابت قدم نہ رہ سکے اور ہارمان کر بھاگ آئے ، اس کے اگلے روز علم عمر بن خطاب کودیا اور جیسا کہ ابوبکر کو حکم دیا تھا ان کو بھی وہی حکم دیا لیکن وہ بھی دشمن کے مقابل نہ ٹھہر سکے اور ہار کے بھاگ آئے ۔ یہ کارنامہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کو بہت برالگا اور آپ نے اپنے لشکر کے درم یان بلند آواز سے فرمایا :کل میں علم اس کو دوں گا کہ جو مرد ہوگا خدا اور رسول اس کو دوست رکھتے ہوںگے اور وہ خداورسول کو دوست رکھتا ہوگا ، حملہ کرنے والا ہوگا بھاگنے والا نہیں ہوگا اور خیبر کو فتح کیے بغیر واپس نہیں آئے گا۔
اس روز رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے علم مجھے عطا فرما یا میں نے صبر کیا ، ثابت قدم رہا یہاں تک کہ خداوندعالم نے میرے ہاتھوں خیبر کو فتح کرایا اور کامیابی بخشی ، اس کام سے عایشہ کے باپ بہت غمگین ہوئے اور مجھ سے کینہ و حسد میں اور بھی اضافہ ہوگیا جب کہ میں ان کاموں میں ان کے حق میںبالکل بھی خطاکار و مقصر نہیں ہوں لیکن عایشہ نے بھی اپنے باپ کی وجہ سے مجھ سے حسد کیا ۔
۵ـ رسول خدا نے ا بوبکر کو کفار و مشرکین مکہ کے لیے سورہ برأت کی تلاوت کرنے کو بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ مشرکین کے عہد کو توڑنا اور ان کے درمیان یہ آیات تلاوت کرنا اور بلند آواز سے یہ پیغام الہٰی پہنچانا ، وہ یہ پیغام لے کرچلے اور راستہ میں منحرف ہوگئے ۔
پھر خداوندعالم نے اپنے رسول پر وحی نازل فرمائی کہ ان کو پلٹائیں اور ان آیات کو ان سے واپس لیں اور مجھے عطا کریں پس وہ آیات لطف الہٰی سے مجھے عطا کی گئیں اور عایشہ کے باپ واپس آگئے ۔جو کچھ خداوند متعال نے اپنے رسول پر وحی نازل فرمائی تھی وہ یہ تھی کہ آپ کی جانب سے کوئی حق ادا نہیں کرسکتا مگر آپ خود یا آپ ہی سے کوئی مرد۔اور میں رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ہوں اور وہ مجھ سے ہ یں ۔لہذا ابوبکر اس کا م کی وجہ سے مجھ سے بہت حسد کرنے لگے جب کہ اس معاملے میں بھی ان کی بیٹی نے اپنے باپ کی پیروی کی ۔
۶ـ عا یشہ کو خدیجہ بنت خویلد بری لگتی تھیں جیسا کہ معمولا تمام سوتن ہی ایک دوسرے کو برا سمجھتی ہیں ۔ عایشہ بھی خدیجہ سے دشمنی رکھتی تھیں جب کہ خدیجہ کے مقام و منزلت کو رسول خدا کی نظرمیں پہچانتی تھیں اور پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا خدیجہ کا اس قدر احترام کرنا عایشہ کو برا لگتا تھا ، سخت ناگوار گذرتا تھا اور ان میں تحمل و برداشت کا مادہ نہ تھا۔یہ خدیجہ سے نفرت پھر فاطمہ کی طرف منتقل ہوگئی کہ جس کے نتیجے میں عایشہ خدیجہ ، فاطمہ اور مجھ سے بھی بیزار ہوگئیں ۔ جب کہ معمولاً سوتنوں کے درمیان یہ حالات معروف ہیں ۔
۷ـ اس سے پہلے کہ پ یغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ازواج کو پردے کا حکم آئے میں پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا عایشہ آپ کے پاس بیٹھی ہوئی ہیں ، رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مجھے د یکھا، میرے بیٹھنے کے لیے جگہ فراہم کی اور مجھ سے فرمایا آؤ ہمارے پاس آجاؤ ، اتنا قریب بلایا کہ مجھے اپنے اور عایشہ کے درمیان بٹھالیا ، یہ کام عایشہ پر بہت سخت و ناگوار گذرا اور خواتین کی تند رفتاری اور ناز نخوت کی طرح مجھ سے مخاطب ہوئیں اور کہا اے علی آپ کو بیٹھنے کے لیے میری ران کی جگہ کے علاوہ کوئی اور جگہ نہ مل سکی ۔
پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو یہ کلام برا لگا اور ان کی اس رفتار سے ناراض ہوگئے اور غصے میں فرمایا کیا یہ باتیں علی سے کہہ رہی ہو ، خداکی قسم وہ مجھ پر سب سے پہلے ایمان لائے ہیں اور میری تصدیق کی ہے اور وہ سب سے پہلے میرے پاس حوض کوثر پر آئیںگے اور وہ امر الہٰی او ر امور دین میں عہد و پیمان پر ثابت قدم رہنے والے سب لوگوںسے زیادہ حق دار ہیں ، کوئی بھی ان سے دشمنی نہیں رکھے گا مگر یہ کہ خداوندعالم اس کی ناک کو جہنم کی آگ سے رگڑ دے گا۔ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس فرمان اور میری تمجید سے عایشہ کے غیظ و غضب میں اور اضافہ ہوگیا ، مجھ سے اوربھی زیادہ نفرت و حسد کرنے لگیں ۔
۸ـ جس وقت عا یشہ سے متعلق لوگوں میں ایک تہمت مشہور ہوئی تو پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مجھے طلب فرماکر معلوم کیا ، میں نے عرض کی یا رسول اللہ آپ اس بات کی حقیقت اس کی کنیز بریرہ سے معلوم کریں ،اگر معلو م ہوگیا کہ یہ تہمت صحیح ہے تو ان کو چھوڑ دینا عورتیں اور بہت زیادہ ہیں ۔رسول خدا نے اس مسئلہ کے متعلق مجھے ہی حکم دیا کہ میں بریرہ سے دریافت کروں ، عایشہ کی صورتحال اور اس کی تحقیق میری گردن پرآگئی، میں نے اپنی ذمہ داری نبھائی اور اس کام کو انجام دیا ۔ اس وجہ سے بھی عایشہ کے دل میں مجھ سے نفرت اور زیادہ ہوگئی جب کہ خدا کی قسم میرا کوئی برا ارادہ نہیں تھا بلکہ میں نے خدا اور اس کے رسول کے لیے خیر خواہی چاہی ۔
اسی طرح کے اور بھی بہت سے موارد ہیں لہذاآپ اگر چاہیں تو خود عایشہ سے ہی معلوم کرلیں کہ ان کو کیا حسد تھا اور کیا سبب ہوا کہ وہ میرے خلاف جنگ پر نکل آئیں ، لوگوں کو بیعت توڑنے پر مجبور کیا ، میرے چاہنے والوں کا خون بہایا ، بغیر کسی دینی و الہٰی سبب کے مسلمانوں کے درمیان اپنے حسد کو میرے خلاف آشکار کیا اورلوگوں کو میرا دشمن بنادیا ، جب کہ خداوند مددگار ہے اور وہی نصرت کرنے والا ہے ۔
ان افراد نے کہا اے امیرالمؤمنین بات یہی ہے کہ جو آپ نے فرمائی ہے خدا کی قسم آپ نے ہمارے ا فکار و احساسات کو صاف کردیا اور ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ خداو رسول کے نزدیک ان لوگوں سے کہ جنہوں نے آپ سے دشمنی کی زیادہ اولیٰ و حق دار ہیں ۔
اس وقت حجاج بن عمر و انصاری اٹھے اور آپ کی شأن میں کچھ اشعار پڑھے(۱)
ان تما م باتوں کے علاوہ اگر خطبہ حضرت فاطمہ زہرا پر غور کرلیا جائے تو معلوم ہوجائے گا کہ آپ نے لوگوں کو تذکر دیا ہے کہ خداوندعالم نے ان کے والد گرامی حضرت محمد کواس وقت انتخاب فرمایا کہ جب مخلوق عالم ذر میں پوشیدہ تھی اور آپ کو لوگوں کے درمیان بھیجنے سے پہلے منتخب فرمایا ۔ حضرت فاطمہ زہرا کے کلام کا مطلب یہ ہے کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ازل سے ہی اور اس سے پہلے کہ خداوندعالم خلائق کو وجود بخشتا، خدا کے نزدیک منتخب تھے اور خود آنحضرت نے بھی اسی مطلب کا تاکیدسے ارشاد فرمایا : '' کنت نبیا و آدم بین الماء الطین ''(۲)
میں اس وقت بھی نبی تھا کہ جب آدم پانی اور مٹی کے درمیان تھے ۔
____________________
(۱) الجمل (مفید)۲۲۰۔ اس میں حجاج بن عمرو کی جگہ حجاج بن عزمہ مذکور ہے ۔
(۲) مناقب ابن شہر آشوب :۱ ۱۸۲۔ عوالی اللئالی :۲ ۱۲۱۔ ینابیع المودة : ۱ ۴۶ ۔ اور طبقات ابن سعد :۱ ۱۴۸ ۔ میں مذکور ہے کہ بین الروح والطین من آدم ۔ اور سیرة النبویة (ابن کثیر) :۱ ۳۴۷ میں مذکور ہے کہ '' وآدم منحدل فی الطین ''۔ اور دیکھیے مسند احمد :۴ ۶۶۔ مستدرک حاکم :۲ ۶۰۹۔ مصنف ابن ابی شیبہ :۸ ۴۳۸۔ المعجم الکبیر : ۱۲ ۷۳۔ الاحتجاج (طبرسی ) :۲ ۲۴۸۔ الفضائل (ابن شاذان) ۲۴۔ اسدالغابہ :۳ ۱۳۲۔ اور دوسرے مدارک و منابع کہ جن میں '' وآدم بین الروح و الجسد '' مذکور ہے ۔ ۔ ۔ ۔بقیہ اگلے صفحہ پر ۔ ۔ ۔
امیر المؤمنین امام علی نے حارث ہمدانی کو اس بات کی طرف توجہ دلائی اور تاکید فرمائی کہ آپ نے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تصدیق اس عالم میں کی کہ جب آدم روح و بدن کے درمیان تھے ۔ لہذا آپ کا ارشاد گرامی ہے : میں خدا کا بندہ اور اس کے رسول کا بھائی ہوں میں نے سب سے پہلے آپ کی تصدیق اس وقت کی کہ جب آدم روح و جسد کے درمیان تھے اور آپ کی امت میں بھی حقیقتاً و بدون شک و تردید میں سب سے پہلے تصدیق کرنے والا ہوں ۔(۱)
اور اس سے پہلے آپ کا کلام گذرچکا ہے کہ آپ نے فرمایا : خداوندعالم نے پیغمبرا کرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو بچپنے ہ ی میں جب سے آپ کا دودھ چھٹا آپ کے ہمراہ روح القدس سب سے بڑے فرشتے کو قرار دیا اور اس کو آپ کا ہمدم و قرین بنایا اس طرح آپ کی رسالت کا آغاز ہوا ، میں اونٹنی کے بچے کی طرح آپ کے ہمراہ رہا کہ جیسے اونٹنی کا بچہ اپنی ماں کے پیچھے لگار ہتاہے اسی طرح میں رسول خدا کی پیروی کرتا رہا ۔(۲)
____________________
۔ ۔ ۔پچھلے صفحہ کا بقیہ۔
شیخ سعدی شیرازی نے اس حدیث کو اپنی کتاب بوستان کے دیباچہ میں شعر کی صورت میں پیش کیا ہے۔
بلند آسمان پیش قدرت خجل تومخلوق و آدم ھنوز آب و گل
بلند و بالا آسمان آپ کی قد رو منزلت کے حضور شرمندہ ہے کہ آپ کی خلقت ہوچکی ہے جب کہ ابھی آدم پانی و مٹی کے درمیان ہیں ۔(م)
(۱) امالی (مفید ) ۶، مجلس اول ، حدیث ۳۔ امالی طوسی ۶۲۶، حدیث ۱۲۹۲۔ کشف الغمہ :۱ ۴۱۲۔ بحارالانوار :۳۹ ۳۹۔
(۲) نہج البلاغہ :۲ ۱۵۷ ، ضمن خطبہ ۱۹۲۔
ان تمام واقعات و حالات سے یہ واضح ہوگیا کہ صدیقیت ایک ربانی و الہٰی امتیاز ہے اور صرف ان لوگوں کو عطا ہوتا ہے کہ جو عالی صفات کے حامل ہوں ، ان کا کردار ان کی گفتار کی تصدیق کرتا ہو ، انپے دل و جان سے ایمان لائے ہوں اور علی ہے کہ جس نے فرمایا:
''ما شککت فی الحق منذ اریته'' (۱) م یں نے جب سے حق کو پہچانا اس میں کبھی شک نہ کیا ۔
مسلمان پریہ بات مخفی نہیں رہنی چاہیے کہ تمام خلائق کے پیدا ہونے کا مقصد و ہد ف، خداوندمتعال کی عبادت و معرفت ہے اور یہ معرفت وحی کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی ، اسی وجہ سے مخلوقات کے وجود او رپیدائش کے آخری سبب پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ان کے وصی و معصومین ہیں کہ وہ واقعی انسان کامل ہیں اور یہ معرفت حضرت محمد مصطفی کی بعثت کے وقت اپنے عروج پر پہنچی اور روز غدیر کامل ہوئی لہذا خداوندعالم کا ارشاد گرامی ہے :
( الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دینا ) (۲)
آج میں نے تمہارے لیے تمہارے دین کو کامل کردیا اور تم پر اپنی نعمتوں کا اتمام کردیا اور تمہارے لیے دین اسلام سے راضی ہوگیا ۔
____________________
(۱) خصائص الآئمہ (سید رضی ) ۱۰۷۔ ارشاد مفید :۱ ۲۵۴۔ شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید ) :۱۸ ۳۷۴۔
(۲) سورہ مائدہ (۵) آیت ۳۔
منزلت صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا
صدیقہ طاہرہ حضرت فاطمہ زہرا ، نبوت اور وصایت کے درمیان پیوند دینے والی کڑی کا نام ہے ،چونکہ آپ رسول کی بیٹی اور وصی کی زوجہ ہیں اور دیگر اوصیاء آپ ہی کے بیٹے ہیں کہ جن پر میراث نبوت تمام ہوتی ہے ۔(۱)
فاطمہ وہ نور ہے کہ جو محمد رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم کی صلب سے چمکا اور پھر اس نور سے جا ملا کہ جو ابوطالب کی صلب سے تھا ، اس طرح علی و فاطمہ اس نور کے ملاپ کے مرکز ہیں کہ جو خلقت آدم سے پہلے وجود میں آیا ، چونکہ اس سے پہلے گذر چکا ہے کہ احمد بن حنبل نے فضائل الصحابہ : ۲ ۶۶۲ میںپیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے روایت نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا :
میں اور علی ابن ابی طالب ایک ہی نور کے دو ٹکڑے ہیں ہم خلقت آدم سے پہلے خلق ہوئے اور خداوندعالم نے جب آدم کو پیدا کیا تو ہمارے نور کو ان کی صلب میں رکھا ، یہاں تک کہ ہم ایک ساتھ چلتے رہے اور عبدالمطلب کی صلب میں دو حصوں میں تقسیم ہوگئے ، پس اس نور کا ایک جزء عبداللہ کی صلب میں قرار پایا اور دوسرا جزء صلب ابی طالب میں مستقر ہوا۔
____________________
(۱) بصائر الدرجات ۸۳، حدیث ۱۰۔ امالی صدوق ۳۸۳، حدیث ۴۸۹۔
حضرت علی علیہ السلام اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے اپنے اپنے خطبوں میں ان حقائق کی طرف اشارہ فرمایا ہے لہذا حضرت فاطمہ زہرا اپنے خطبہ میں ارشاد فرماتی ہیں :
میں گواہی دیتی ہوں کہ میرے والد محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ، اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہ یں ان کو مبعوث کرنے سے پہلے منتخب فرمایا اور منتخب کرنے سے پہلے اپنا رسول کہا اور ان کو مبعوث بہ رسالت کرنے سے پہلے دوسروں پر فضیلت عطا فرمائی ، میرے والد محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ک ی پیغمبری کا انتخاب اس وقت ہوا کہ جب لوگ عالم ذر میں پوشیدہ تھے ، عدم کے تاریک و ہولناک پردوں میں تھے اور وجود کی نعمت ان کو عطا نہ ہوئی تھی ۔
خداوندعالم نے کائنات کے علم اور تمام و قائع و حوادث کی معلومات اور مقدرات کی معرفت کے سبب اپنے اتمام امر کی خاطر، اپنے حکم کی تعمیل اور اپنے مقدرات حتمی کے جریان کی خاطر آپ کو مبعوث بہ رسالت فرمایا ۔(۱)
بنابرایں حضرت فاطمہ زہرا لوگوں کو اصل نبوت پر تذکر نہیں دیتیں چونکہ امت نے ظاہرا قبول کرلیا ہے کہ محمد ،اللہ کے رسول ہیں لیکن اللہ کے نزدیک آپ کی منزلت و مقام کو بیان کرنا مقصود ہے چونکہ بہت سے لوگ رسالت کے عمیق معنی کو درک نہیں کرتے اور مقام پیغمبری کو نہیں سمجھ پاتے بلکہ ایک عام انسان کی طرح اس کے متعلق بھی سطحی نظر رکھتے ہیں ۔
حضرت فاطمہ زہرا نے سمجھانا چاہا کہ معرفت واقعی ہمارے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی اور چونکہ انسان روئے زمین پر الہٰی خلیفہ ہے لہذا امت کا رہبر اور قائد کوئی کامل انسان ہو۔
____________________
(۱) احتجاج طبرسی :۱ ۱۳۳۔ السقیفہ و فدک (جوہری) ۱۴۰۔ بلاغات النساء (ابن منظور) ۱۵۔
جیساکہ انبیاء و رسل اور منتخب اوصیاء سب انسان کامل تھے یہ وہی افراد ہیں کہ جن کو خداوندعالم نے اپنے بندو ں کے درمیان منتخب فرمایا ہے اور وہ لائق ترین افراد ہیں ، تمام مخلوقات زمین وآسمان میں سب سے بلند و بالا مقام و درجہ پر فائز ہیں ، اور یہی افراد نص قرآنی کے اعتبار سے مطہر و پاک و پاکیزہ ہیں ۔
اس سے پہلے امیر المؤمنین امام علی اور ابوبکر کے درمیان گفتگو و احتجاج گذرچکا ہے کہ آپ نے ابو بکر سے فرمایا اگر کچھ لوگ فاطمہ پر نازیبا حرکت کی تہمت لگائیں تو آپ ان کے ساتھ کیا برتاؤ کرو گے ابوبکر نے کہا میں ان کے خلاف لوگوں کی گواہی کو قبول کرکے ان پر حد جاری کروںگا۔(۱)
امیرالمؤمنین اس سوال سے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ ابوبکر اور ان کے ماننے والے اور آئندہ کی نسل ابھی فاطمہ زہرا کی قرآنی منزلت و مقام کو درک نہیں کرپائے ہیں اور ان کے بارے میں ان لوگوں کی نظر سطحی ہے ، فاطمہ کو صرف ایک عام آدمی کی حیثیت سے دیکھتے ہیں نہ کہ ان کے اصلی مقام اور تمام مراتب کے اعتبار سے ۔
اور ہم صادق و امین پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آپ کے صدیق و امین وصی علی ابن ابی طالب اور صدیقہ طاہرہ فاطمہ زہرا کی تھوڑی بہت معرفت رکھتے ہیں جب کہ ان کی حقیقی معرفت تو ہماری سطح سے بہت بلند و بالا ہے لہذا ان کی شخصیت کے بارے میں ہماری نادانی و مجہولات بہت زیادہ ہیں چونکہ وہ بہت بلند وبالا مقام و مرتبہ پر فائز اور نور الہٰی سے خلق ہوئے ہیں ۔(۲)
____________________
(۱) احتجاج طبرسی :۱ ۱۱۹ـ۱۲۳۔ تفسیر قمی :۲ ۱۵۵۔
(۲) الامامة والنصرة ۱۳۳، حدیث ۱۴۔ معانی الاخبار ۳۵۱۔ الفضائل (ابن شاذان) ۱۵۸۔
اس وجہ سے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے تصریح فرمائی ہے کہ فاطمہ کو فاطمہ اس لیے کہا جاتا ہے کہ مخلوق الہٰی ان کی معرفت سے جدا اور عاجزہیں ۔(۱)
اس حدیث میں امام جعفر صادق نے کلمہ خلق (مخلوقات الہٰی ) کا استعمال کیا جب کہ خلق اور ناس میں بہت زیادہ فرق ہے ، خلق و مخلوقات الہٰی ناس وانسان سے بہت وسیع مفہوم والا لفظ ہے چونکہ مخلوقات الہٰی میں تمام انسان و جن و ملائکہ بھی شامل ہیں ۔
بہرحال اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ مخلوقات الہٰی کیوں معرفت فاطمہ سے دور ہیں کیا ان کی کوتاہ فکری کی وجہ سے ؟ یا فاطمہ کا مقام بہت بلند و بالا ہے ؟ یا ان کے اعمال کی وجہ سے ہے کہ وہ ہوا پرستی ، و خواہشات نفس کے سبب فاطمہ کے خلاف مرتکب ہوئے ؟ یا یہ تمام اسباب اس امر میں دخیل ہیں ؟ ۔
جی ہاں، منزلت فاطمہ زہرا بہت بلند و بالا ہے ہم ان کی معرفت کما حقہ حاصل نہیں کرسکتے ، لیکن علی ان کی منزلت کو سمجھتے ہیں چونکہ آپ کا وجود مبارک بھی اسی نور سے ہے کہ جس سے وہ خلق ہوئی ہیں ۔(۲)
____________________
(۱) تفسیر فرات کوفی ۵۸۱۔ بحارالانوار : ۴۳ ۶۵۔
(۲) حضرت امیر المؤمنین کا خط عثمان بن حنیف انصاری کے نام کہ جوآپ کی جانب سے بصرہ کا گورنر تھا ، اس میں مذکور ہے کہ میری رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے نسبت ایک جڑ سے دوشاخیں کی حیثیت ہے جیسے کہنی سے بازو کی نسبت ۔نہج البلاغہ :۳ ۷۳ ، خط ۴۴۔ اس تشبیہ سے اتحاد و امتزاج کی شدت و انتہا بتانا مقصود ہے کہ جو پیغمبر و علی کے درمیان ہے ۔ ۔ ۔ ۔ بقیہ اگلے صفحہ پر ۔ ۔ ۔
کتاب مقتل الحسین خوارزمی میں مذکور ہے کہ حضرت امام علی علیہ السلام نے حضرت فاطمہ زہرا کی نماز جنازہ پڑھنے کے بعد خداوندعالم سے مخاطب ہوکے فرمایا :
پروردگارا یہ تیرے رسول کی بیٹی ہے تونے اس کو تاریکی سے بچا کرنور کی طرف راہنمائی کی کہ جس کے نور کے سبب دنیا ، دور دور تک روشن ہوتی چلی گئی ۔(۱)
حضرت امیر اس کلام سے بتانا چاہتے ہیں کہ پروردگار ، فاطمہ کو اس تاریک دنیا سے نکال کر اپنے نور مطلق کی طرف لے گیا ۔
( الله نور السموات والارض مثل نوره کمشکاة فیها مصباح ، المصباح فی زجاجة الزجاجة کانها کوکب دری یوقد من شجرة مبارکة زیتونة لا شرقیة ولا غربیة یکاد زیتها یضیٔ ) (۲)
____________________
۔ ۔ ۔پچھلے صفحہ کا بقیہ۔
اور دوسری روایت میں ہے کہ '' انامن احمد کالصنو من الصنو'' یعنی اصل علی اور اصل پیغمبر ایک ہے جیسے دو خرما کے درخت ایک جڑ سے وجود میں آئے ہوں۔
یہ کلام ، پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ سے تائید ہوتاہے کہ آپ نے فرمایا : اے علی جس نے تجھے قتل کیا گویا مجھے قتل کیا اور جو تجھ سے دشمنی رکھے گویا میرا دشمن ہے ، اور جو تجھے برا بھلا کہے گویا مجھے برا بھلا کہا ، چونکہ آپ میری جان کی طرح ہو اور آپ کی روح میری روح ہے اور آپ کی طینت و سرشت میری طینت ہے ۔(عیون اخبار الرضا :۲ ۲۶۶۔ اقبال الاعمال :۱ ۳۷۔ بحارالانوار :۱۹۴۲۔)
(۱) بحارالانوار :۴۳ ۲۱۵۔
(۲) سورہ نور (۲۴) آیت ۳۵۔
خداوندعالم ، زمین و آسمان کا نور ہے اس کے نور کی مثال چراغدان کی طرح ہے کہ جس کے اندر چراغ ہو اور چراغ ایک شیشہ کی چمنی و قندیل میں ہو اور وہ قندیل ایسی ہو گویا چمکتا ہوا ستارہ ، اور وہ زیتون کے مبارک درخت کے تیل سے روشن کیا جاتا ہو کہ جو نہ شرقی ہے اور نہ غربی اور اس میں اتنی چمک ہو کہ گویا خود بخود روشن ہوجائے ۔
امام علی یہ بیان کرنا چاہتے ہیں کہ فاطمہ جس چیز سے خلق ہوئی تھی اس کی طرف پلٹ گئی ہے یعنی فاطمہ کا انتقال اور رحلت عام انسانوں کے انتقال کی طرح نہیں ہے کہ جیسے تمام انسانوں کا انتقال( انا لله و انا الیه راجعون ) (۱) ہم خدا کے لیے ہیں اور اسی کی طرف پلٹنا ہے بلکہ فاطمہ کاانتقال کرنا ایک نورانی وجود کا نور اکمل کی طرف منتقل ہونا ہے کہ وہی نور پروردگار ہے ۔(۲)
جابر ابن یزید جعفی سے روایت ہے کہ کسی نے اما م جعفر صادق سے سوال کیا کہ فاطمہ کا نام زہرا کیوں رکھا گیا تو امام نے فرمایا: اس لیے کہ خداوندمتعال نے حضرت فاطمہ کو اپنے نور عظمت سے پیدا کیا اور جب نور خلقت فاطمہ چمکا تو تمام آسمان و زمین کو روشن کردیا اور فرشتوں کی آنکھوں کو چکا چوند کردیا ، فرشتے خداوندعالم کے حضور سجدے میں گر گئے اور کہا اے پالنے والے اے ہمارے پروردگار یہ کیسا نور ہے ؟ خداوندعالم نے فرشتوں پر وحی نازل کی کہ یہ میرے نور کا ایک حصہ ہے کہ جس کو آسمان میں قرار دیا ہے اور اس کو میںنے اپنی عظمت سے خلق کیا ہے ۔
____________________
(۱) سورہ بقرہ (۲) آیت ۱۵۶۔
(۲) اور زیادہ معلومات کے لیے مراجعہ کیجیے کتاب '' الحق المبین''تالیف، حضرت آیت اللہ العظمی وحید خراسانی ۔
اپنے نبیوں میں سے ایک نبی کی صلب سے وجود ظاہری میں لاؤں گا ۔ اس کو میں نے تمام پیغمبروں پر فضیلت بخشی ، اس نور سے کچھ ہستیاں خلق ہوںگی کہ جو کائنات کے امام ہوںگے اور میرے امر کو قائم کریں گے اور میری طرف لوگوں کی راہنمائی کریں گے ، میں نے ان کو سلسلہ وحی کے ختم ہونے کے بعد روئے زمین پر اپنا خلیفہ قرار دیا ہے ۔(۱)
کلینی نے اپنی اسناد کے ساتھ محمد بن مروان سے روایت نقل کی ہے اس نے کہا کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق سے سنا کہ آپ نے فرمایا :بیشک خداوندعالم نے ہمیں اپنی عظمت کے نور سے خلق فرمایا اور پھر ہماری خلقت عرش کے نیچے چھپی ہوئی طینت سے فرمائی ، کوئی بھی ہماری طرح اس کیفیت سے خلق نہیں ہوا ۔(۲)
معانی الاخبار میں رسول خدا سے منقول ہے کہ نور فاطمہ زمین و آسمان کی خلقت سے پہلے خلق ہوا ، کسی نے سوال کیا اے رسول خدا کیا وہ بشر نہیں ہیں ؟آپ نے فرمایا وہ لباس بشریت میں فرشتہ ہیں ، سائل نے دریافت کیا وہ کس طرح ؟ آپ نے فرمایا خداوندعالم نے آدم کو خلق کرنے سے پہلے ، فاطمہ کو انپے نورسے پیدا کیا اور اس وقت فاطمہ عالم ارواح میں تھیں پھر جب آدم کو خلق کیا تو یہ نور آدم کودکھایا گیا ۔ سوال کیا اے رسول خدا اس دوران فاطمہ کہاں تھیں؟ فرمایا ساق عرش کے نیچے ایک خاص مکان میں ، معلوم کیا کہ ان کا کھانا پینا کیا تھا ؟ فرمایا تسبیح وتہلیل و تحمید۔(۳)
____________________
(۱) الامامة النصرة ۱۳۳۔ علل الشرائع :۱ ۱۸۰۔
(۲) اصول کافی :۱ ۳۸۹، حدیث ۲۔
(۳) معانی الاخبار ۳۹۶۔
ابو حمزہ ثمالی سے روایت ہے کہ اس نے امام محمد باقر سے سوال کیا ، اے فرزند رسول مجھے مطلع فرمائیں کہ آپ حضرات ساق عرش میں کس طرح تھے ؟ آپ نے فرمایا ہم خدا کے حضور نور تھے اس سے پہلے کہ وہ مخلوقات کو پیدا کرے ، پس جب خدا نے اپنی مخلوق کو وجود بخشا ہم نے تسبیح کی تو مخلوق نے بھی ہمارے ساتھ تسبیح کی ہم نے تہلیل کی تو اس نے بھی تہلیل کی ، ہم نے تکبیر کہی تو اس نے بھی تکبیر کہی ۔(۱)
عیون اخبار الرضا میں منقول ہے کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے علی سے فرمایا : انبیاء ، ملائکہ سے افضل ہیں اور میں افضل الانبیاء ہوں اور یہ فضیلت میرے بعد علی کے لیے ہے اور علی کے بعد اس کی نسل کے آئمہ کے لیے ہے ۔
اس وقت علی نے فرمایا ہم کس طرح فرشتوں سے نہ افضل ہوں جب کہ ہم نے ا پنے پروردگار کی معرفت اور تسبیح و تہلیل و تقدیس میں فرشتوں پر سبقت حاصل کی ہے چونکہ خداوندعالم نے سب سے پہلے ہمیں خلق فرمایا اور ہمارے ذریعہ سے اپنی تمحید و توحید کرائی ، پھر ملائکہ کو خلق کیا پس جب انہوں نے ہمارے عظیم نو ر کا مشاہدہ کیا تو ان کی نظروں میں اس کی جلالت آشکار ہوئی تب ہم نے ملائکہ کو سکھانے اور تعلیم دینے کے لیے تسبیح کی تاکہ ان کو یہ علم ہو جائے کہ ہم بھی خدا کی ایک مخلوق ہیں اور خداوندعالم ہماری صفات والا سے منزہ وجدا ہے تب ملائکہ نے ہماری تسبیح کی طرح خداوندعالم کی تسبیح کی اور اس کو ہم سے اور ہمار ی صفات سے جدا و منزہ جانا۔(۲)
____________________
(۱) بحارالانوار :۲۵ ۲۴ ، حدیث ۴۰۔ اور دیکھیے : ـ الہدایة الکبری ۲۴۰۔
(۲) عیون اخبار الرضا :۲ ۲۳۷۔ ینابیع المودة :۳ ۳۷۸۔ تفسیر قمی :۱ ۱۸۔
تسبیح و تہلیل و تحمید کے مفاہیم ہمیںنماز کی تسبیح کی یاد دلاتے ہیں وہ تسبیح کہ جو رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے میوہ دل حضرت فاطمہ زہرا کو تعلیم دی اور یہ مفاہیم ساق عرش کے نیچے آپ کا کھانا پانی تھے اور یہ بات خود ہمیں امر نبوت اور امر خلافت و وصایت کے درمیان رابطے کا پتا دیتی ہے ۔
جی ہاں ، یہ مفاہیم اس انسان نما فرشتے کی خصوصیات میں سے ہیں کہ جس کے متعلق رسول خدا جب کبھی بھی بہشت کے مشتاق ہوتے تو آپ کی خوشبو لیا کرتے اور آپ کے بدن مبارک کا استشمام فرماتے تھے۔
عایشہ سے روایت ہے کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرما یا :جب مجھے معراج ہوئی اور آسمان پر گیا تو بہشت میں لے جایا گیا ، میں وہاں بہشت کے ایک درخت کے قریب کھڑا ہوگیا کہ جو تمام درختوں میں سب سے زیادہ خوبصورت تھا، اس سے زیادہ خوبصورت میںنے درخت نہیں دیکھا، اس کے پتوں سے زیادہ سفیدی، اس کی خوشبو سے زیادہ خوشبو اور اس کے پھلوں سے زیادہ خوشمزہ پھل نہیں دیکھے ، لہذا میں نے اس میں سے ایک پھل کو لیا اور کھالیا وہ پھل میرے صلب میں نطفہ بنا جب زمین پر آیا تو وہ نور میری صلب سے خدیجہ کے رحم میں منتقل ہوگیا اور اس سے فاطمہ متولد ہوئیں ۔لہذا میں جب کبھی بھی بہشت کی خوشبو کا مشتا ق ہوتا ہوں تو فاطمہ کو استشمام کرتا ہوں ۔(۱)
جی ہاں ، فاطمہ بہشت کے سب سے بہترین پھل و میوہ ہیں کہ جو درخت طوبی سے وجود میں آیا ہے ۔(۲)
____________________
(۱) المعجم الکبیر :۲۲ ۴۰۱۔ الدر المنثور :۴ ۱۵۳۔
(۲) بحار الانوار :۴۳ ۶، حدیث ۶۔
اس کے بعد اس معزز خاتون کے رحم میں منتقل ہوا(۱) کہ جو عالم کی سب سے بہتر اور افضل خاتون ہیں یعنی حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا ، یہ وہ عظیم المرتبت بی بی ہیں کہ ان کے پاس جو کچھ بھی مال و دولت تھی سب کچھ راہ خدا میں نثار کردی یہاں تک کہ جب ان کی وفات کا وقت آیا تو ان کے لیے کفن بھی نہ تھا تب خداوندعالم نے جبرئیل کے ذریعہ جنت سے کفن بھیجا ۔
یقینا اس عظیم المرتبت بی بی کا حق ہے کہ ان کو صدیقہ ، محدثہ اور علیمہ کہا جائے چونکہ آپ کی والدہ خدیجہ ، باپ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ، شوہر عل ی مرتضی اور بچے حسن وحسین جیسی ہستیاں ہیں ۔
____________________
(۱) یہ بات قابل ذکر ہے کہ حدیث سابق کہ جو معجم کبیر و درمنثور ، اہل سنت کی کتابوں سے نقل ہوئی ہے شیعہ روایات کی تائید و تصدیق کرتی ہے اور یہی مؤلف محترم کی نظر بھی ہے کہ صدیقہ طاہرہ کا معنوی و ملکوتی مقام بہت بلند و بالا ہے اور یہ نورانیت ، ودیعۂ الہٰی ہے کہ جو ان کے بعد آپ کی اولاد طاہرین و آئمہ معصومین میں منتقل ہوتی رہی ہے ، بہشتی خوشبو ،ماوراء انسانی خلقت، فرشتہ صفت انسان، اور بشریت سے مافوق یہ سب اموراس وقت حضرت امام زمان (عج) کے وجود مبارک میں پایدار ہیں ، لہذا اس حیثیت سے کوئی بھی انسان بلکہ کوئی بھی مخلوق اہل بیت علیہم السلام کی شریک اور مثل و نظیر نہیں ہے ۔
لیکن واضح ہے کہ آپ کی خلقت ظاہری عام انسانوں کی طرح وجود جسمانی میں پیغمبراکرم اور حضرت خدیجہ کے ذریعہ وجود میں آئی لہذا حضر ت فاطمہ کو وجود ظاہری عطا کرنے میں جناب خدیجہ کا حق پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مانند ہے بلکہ اس کے علاوہ آپ کا تغذیہ جیسے دودھ وغیرہ جناب خدیجہ ہی سے مخصوص ہے جب کہ یہ نکتہ حضرت فاطمہ زہرا کے بے نظیر و بے شمار فضائل کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت بنیادی و ظریف ہے کہ جس سے جناب خدیجہ کی عظمت اور نمایاں ہوتی ہے اور اس کو خدا ہی بہتر جانتا ہے ۔(م)
حضرت فاطمہ کی منزلت کو نصاریٰ تک نے دریافت کیا اور اسقف نصاریٰ نے روز مباہلہ حضرت رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہمرا ہ علی و فاطمہ اور حسن و حسین کو دیکھ کر اپنے ساتھیوں اور قوم سے کہا کہ میں کچھ ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ چاہیں توخداوندعالم پہاڑ کو بھی اپنی جگہ سے ہٹا سکتا ہے لہذا ان سے مباہلہ نہ کرو ورنہ قیامت تک کے لیے قوم نصاریٰ دنیا سے مٹ جائے گی اور کوئی نصرانی باقی نہ رہے گا ۔(۱)
کیا آپ نے کبھی ان قرآنی مفاہیم( انفسنا و انفسکم ، نسائنا و نسائکم ، ابنائنا و ابنائکم ) (۲) م یں غور و فکر کیا ہے ؟۔
واقعا علی کیا ہیں اور آپ کا کیا مقام ہے ؟ زہرا کون ہیں اور آپ کی کیا منزلت ہے ؟ حسن و حسین کون ہیں آپ کے مرتبے کیا ہیں ؟۔
بیشک یہ معنوی مفاہیم اورآسمانی نام ہیں کہ جن کے متعلق غور وفکرلازم و ضروری ہے ۔(۳)
جی ہاں ، فاطمہ اور آپ کے والد گرامی ایک گوہر ہیں اور علی و پیغمبر ایک نفس وجان ہیں رسول خدا نے فاطمہ کی شادی علی کے ساتھ فرمائی چونکہ علی ،فاطمہ کے کفو و برابر ہیں۔
____________________
(۱) تفسیر کشاف :۱ ۳۶۹۔ تفسیر فخررازی :۸ ۷۱۔ السیرة الحلبیة :۳ ۲۶۳۔ الطرائف ۴۲۔ مجمع البیان :۲ ۳۱۰۔
(۲) سورہ آل عمران(۳) آیت ۶۱۔
(۳) جو کوئی بھی معارف الہٰی اور نفخات قدسی کو اس طرح کے کلمات میں تلاش کرنا چاہتاہے تو وہ کتاب شریف '' الحق المبین'' تالیف، حضرت آیت اللہ العظمی وحید خراسانی کی طرف مراجعہ کرے۔
اور اگر علی نہ ہوتے تو کوئی فاطمہ کی برابری کے قابل نہ تھا ، یہ خداوندعالم کا لطف خاص اور فضل و کرم ہے اور پھر خداوندعالم نے انہیں پاک و پاکیزہ و طاہر و مطہر فرزند عطا فرمائے کہ جو مسلمانوں کے امام ہیں ۔
فاطمہ صدیقہ اور آپ کے دشمن
اب دیکھیے کہ علی و فاطمہ کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا اورکس طرح مختلف روش کے ساتھ حیلہ ومکر کے ذریعہ آپ کی تکذیب کی گئی اور آپ کو آپ کے حق سے محروم رکھا گیا ۔
ابوبکر صراحتاً حضرت زہرا کی تکذیب نہ کرسکتے تھے بلکہ اس بات کا اعتراف کیا کہ آپ سچی و صادقہ ہیں اور آپ کا کلام ، کلام الہٰی کی طرح سچا ہے ۔ لیکن کچھ بہانے اور عذر پیش کیے کہ جو ابتدائی نظر میں اچھے نظر آتے ہیں ۔
ابوبکر نے کہا :اے بہترین خاتون عالم اور تمام عالم کی بہترین عورت کی بیٹی آپ اپنی گفتار میں سچی ہیں اور عقل و منطق میں کامل ہیں آپ کے حق کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور آپ کے صدق و صفائی میں کوئی بہانہ پیش نہیں کیا جائے گا ، لیکن خدا کی قسم میں رسول خدا کے فرمان کو پائمال نہیں کرسکتا میں نے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ ہم صنف انبیاء ، سونا چاندی گھر و جنگل میراث میں نہیں چھوڑ تے! اور ہماری میراث صرف کتاب و سنت اور حکمت و نبوت ہے اور جو مال ہم سے رہ جائے وہ ہمارے بعد ولی امر کے لیے ہے کہ وہ جو چاہے انجام دے ۔(۱)
____________________
(۱) یہ تمام گفتگو اور حضرت زہرا کا جواب پہلے بیان ہوچکا ہے ۔ دیکھیے: احتجاج طبرسی :۱ ۱۴۱ـ۱۴۴۔
ابوبکر نے یہ ماحول و موقعیت فراہم کرلی کہ فاطمہ زہرا کو جھٹلایا جاسکے اور ایسے بہانے تلاش کیے کہ جوظاہرا شرعی نظر آرہے تھے لیکن حضرت فاطمہ زہرا نے حجت و برہان اور قاطع دلیلوں سے یہ ثابت کردیا کہ ابوبکر جھوٹے ہیں اور فرمایا : اے ابوقحافہ کے بیٹے ''لقد جئت شیأ فریا ''(۱) خدا کی قسم بہت بڑا جھوٹ اور خود ساختگی چیز پیش کی ہے ۔
یہ صدیقہ فاطمہ کا کلام ہے کہ جس کی خوشنودی میں رضائے الہٰی ہے اور جس کی ناراضگی میں غضب خداوندہے جب کہ یہ جملہ بالکل واضح ہے کہ حضرت زہرا کوئی بات بھی اپنی خواہشا ت نفس و حس عاطفی سے نہیں کہتیں اور عام انسانوں کی طرح گفتگو نہیں کرتیں چونکہ یہ معقول نہیں ہے کہ خداوندعالم اپنی مطلقا رضا و غضب کوکسی ایسے شخص کی خوشنودی و ناراضگی میں قرار دے کہ جو نعوذ باللہ خواہشات نفس کا تابع اور اپنی مصلحت کا فرمانبردار ہو ۔
ا س کا مطلب یہ ہے کہ فاطمہ زہرا ، مرتبہ عصمت پر فائز ہیں چونکہ آپ کی خوشنودی خدا کی رضا اور آپ کی ناراضگی خداوندعالم کا غضب ہونے کے یہی معنی ہیں کہ آپ معصوم ہیں،اور دوسری طرف یہ مقام کہ فاطمہ ، نور خدا سے خلق ہوئی ہیں ، صدیقہ کبری کی خشم و ناراضگی میں خدااور اس کے رسول کا غضب منعکس ہے ۔یہ ہے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا فرمان '' فاطمہ م یرا ٹکڑا ہے جو اس کو اذیت دے گا گویا اس نے مجھے اذیت دی ''(۲) اورجس نے اس کو ناراض ک یا گویا اس نے مجھے ناراض کیا ۔(۳)
____________________
(۱) سورہ مریم(۱۹) آیت ۲۷۔
(۲) المجموع (نووی) :۲۰ ۲۳۴۔
(۳) ینابیع المودة :۲ ۵۷۔
فاطمہ زہرا سے فرمایا بیشک خداوند آپ کی ناراضگی میں غضب ناک ہوتا ہے اور آپ کی خوشنودی میں خوشنود ہوتا ہے ۔(۱)
یہ سب تاکید ہے کہ فاطمہ کی ناراضگی اور اس کو پریشان کرنا، ان کو غصہ دلانا خدا اور رسول کو ناراض کرنا اور ان کو اذیت و پریشان کرنا ہے ۔خداوندمتعال کا ارشاد ہے :
( ان الذین یوذون الله و رسوله لعنهم الله فی الدنیا والآخرة و اعدلهم عذاباً مهیناً ) (۲)
وہ لوگ کہ جو خدااور رسول کو اذیت و پریشان کرتے ہیں ان پر اللہ دنیا و آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لیے ذلیل و خوار کرنے والا عذاب مہیا کررکھا ہے ۔ اور پھر ارشاد ہوا :
( ومن یحلل علیه غضبی فقد هوی ) (۳)
اور جس پر خدا وندعالم کا غضب نافذ ہو جائے وہ برباد اور جہنمی ہے ۔
اب آپ دیکھیے کہ جو بخاری نے عایشہ سے اور ابن قتیبہ نے عمر سے روایت نقل کی ہے کہ عایشہ کا بیان کہ فاطمہ بنت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ابوبکر کے پاس پ یغام بھیجا کہ جس میں رسول خدا کی میراث کا مطالبہ کیا اور وہ مال کہ جو خداوندعالم نے ان کو مدینہ میں عطا کیا تھا فدک و خمس خیبر وغیرہ اسے طلب کیا۔
____________________
(۱) مستدرک حاکم :۳ ۱۵۴۔
(۲) سورہ احزاب (۳۳) آیت ۵۷۔
(۳) سورہ طہ(۲۰) آیت ۸۱۔
ابوبکر نے کہا ، رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا ہے کہ ہم میراث نہیں چھوڑ تے اور جو کچھ ہم سے رہ جاتا ہے وہ صدقہ ہے بیشک آل محمد اسی طرح تصرف کریں اور خدا کی قسم میں رسول خدا کے صدقے میں کوئی تغییر نہیں دے سکتا اور جو چیز آپ کے زمانہ حیات میں جہاں استعمال ہوتی تھی اس کو وہیں استعمال کروں گا اور میں رسول خدا کے عمل کے مطابق عمل انجام دوںگا ۔
بہر حال ابوبکر نے کچھ بھی فاطمہ زہرا کو نہ دیا ، آپ ابوبکر سے ناراض ہوگئیں اور ان کو ان کے حال پر چھوڑ دیاجب تک زندہ رہیں ابوبکر سے گفتگو نہیں کی ۔
فاطمہ ، پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی وفات کے بعد چھ مہینے تک زندہ رہیں اور جب آپ کا انتقال ہوا آپ کے شوہر علی نے آپ کو رات ہی میں دفن کردیا اور ابوبکر کو خبر بھی نہ دی ، خود ہی فاطمہ کی نماز جنازہ پڑھی اور فاطمہ کی زندگی میں علی کے لیے رعب و دبدبہ تھا ،لوگوں کے درمیان عز ت و احترام تھا لیکن جب فاطمہ کا انتقال ہوگیا علی ناآشنا و تنہا رہ گئے۔(۱)
ابن قتیبہ دینوری (م ۲۷۶ھ) الامامة والس یاسة میں رقمطراز ہے کہ عمر نے ابوبکر سے کہا آؤ ہم فاطمہ کے پاس چلتے ہیں کہ ہم نے ان کو ناراض کیا ہے ، پس دونوں چل دیئے اور فاطمہ سے ملاقات کی اجازت چاہی ، فاطمہ نے ان دونوں کو اجاز ت نہیں دی وہ لوگ علی کے پاس پہنچے اور آپ سے گفتگو کی ، علی ان دونوں کو فاطمہ کے پاس لے گئے تو جیسے ہی وہ فاطمہ کے سامنے بیٹھے آپ نے اپنی صورت کو دیوار کی طرف کرلیا ، انہوں نے فاطمہ کو سلام کیا آپ نے ان کے سلام کا جواب بھی نہ دیا ۔
____________________
(۱) صحیح بخاری : ۵ ۸۳، کتاب مغازی ، باب غزوہ خیبر ۔ صحیح مسلم :۵ ۱۵۴۔
ابوبکر نے گفتگو کرنا شروع کی اور کہا اے حبیبہ رسول خدا ، خدا کی قسم میرے نزدیک رسول خدا کے رشتہ دار و عزیز میرے رشتہ دار و عزیز سے زیادہ محبوب تر ہیں اور میں آپ کو اپنی بیٹی عایشہ سے بھی زیادہ چاہتاہوں اور عزیز رکھتا ہوں ، میں تو چاہتا تھا کہ آپ کے والد رسول خدا کے انتقال سے پہلے ہی مرجاؤں اور یہ دن مجھے دیکھنے کو نہ ملے میں آپ کے فضل و شرف سے واقف ہوں اور آپ کی نظریہ ہے کہ میں نے آپ کو آپ کی میراث اور حق سے محروم رکھا ہے جب کہ میں نے وہی کیا کہ جو رسول خدا سے سنا تھا کہ آپ نے فرمایا: ہم انبیاء میراث نہیں چھوڑتے او ر جو کچھ ہم سے رہ جاتا ہے وہ صدقہ ہے ۔
فاطمہ نے کہا کیا اگر میں آپ سے حدیث رسول بیان کروں تواس کو حدیث و فرمان رسول مانوگے اور اس پر عمل کروگے ؟ ان دونوں نے کہا :ہاں۔
فاطمہ نے فرمایا آپ دونوں کو خدا کی قسم دیتی ہوں کیا آپ لوگوں نے یہ نہیں سنا کہ رسول خدا نے فرمایا ہے کہ فاطمہ کی خوشنودی میری رضا ہے اور فاطمہ کی ناراضگی میری ناراضگی ہے اور جو کوئی بھی میری بیٹی فاطمہ کو دوست رکھے گا گویا مجھے دوست رکھا اور جس نے فاطمہ کو خوشنود و خوشحال کیا گویا مجھے خوشنود و خوشحال کیا اور جس نے اس کو ناراض کیا اور غصہ دلایا گویا مجھے ناراض کیا اورمجھے غصے میں لایا، ان دونوں نے کہا : ہاں ہم نے رسول خدا سے یہ سنا ہے ۔
فاطمہ نے فرمایا پس میں خدا اور اس کے فرشتوں کو گواہ بناتی ہوں کہ تم دونوں نے مجھے ناراض کیا اور غصہ دلایا ہے اور راضی و خوشنود نہیں کیا ہے اور جب پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زیارت کروں گی ان سے آپ کی شکایت کروں گی ۔
ابوبکر نے کہا میں خدا کے غضب اور اے فاطمہ آپ کے غضب و ناراضگی سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں اس وقت ابوبکر بلند آواز سے رونے لگے یہاں تک کہ ان کی روح ، بد ن سے نکلنے والی تھی جب کہ فاطمہ کہہ رہی تھیں خداکی قسم میں ہر نماز میں تم دونوں پر لعنت کروں گی ۔۔۔
علی نے جب تک فاطمہ زندہ رہیں ابوبکر کی بیعت نہ کی(۱) اور فاطمہ اپنے والد گرا می کے انتقال کے بعد زیادہ دن دنیا میں نہ رہیں بلکہ صرف پچھتررات۔(۲)
تمام نصوص وروایات دلالت کرتی ہیں کہ فاطمہ زہرا ، ابوبکر سے ناراض رہیں اور ابوبکر و عمر سے ناراض و غمگین دنیا سے گئیں ۔ اس سلسلے میں مسجد رسول میں حضرت فاطمہ زہرا کا خطبہ آپ کے لیے کافی ہے ، اس خطبہ میں بہت زیادہ ایسے مقامات اور عبارات ہیں کہ جن میں غور وفکر کی ضرور ت ہے ۔
مثلا وہ وقت کہ جب حضرت فاطمہ نے فرمایا : اے لوگوں جان لو کہ میں فاطمہ ہوں اور میرے والد محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم ہ یں یہ ہمیشہ کہتی ہوں اور جو کہتی ہوں اشتباہ و خطاء نہیں کرتی اور جو کام انجام دیتی ہوں اس میں کسی پر ظلم و زیادتی نہیںکرتی ۔(۳)
____________________
(۱) یہ اہل سنت کی روایت ہے ورنہ شیعہ عقیدہ یہ ہے کہ علی نے اصلا ابوبکر کی بیعت نہیں کی بلکہ مادام العمر کسی غیر کی بیعت نہیں کی ۔(م)
(۲) الامامة والسیاسة :۱ ۱۹ـ۲۰۔
(۳) شرح الاخبار :۳ ۳۴۔ احتجاج طبرسی :۱ ۱۳۴۔ شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید): ۱۶ ۲۱۲۔
آنحضرت اس کلام سے ایک بہت مہم حقیقت کو آشکار فرمانا چاہتی ہیں اور وہ یہ کہ میں وہی فاطمہ ہوں کہ جس کے بارے میں رسول خدا کا ارشاد گرامی ہے :سیدة نساء العالمین(۱) فاطمہ تمام عالمین کی عورتوں کی سردار ہے فاطمہ صدیقہ ہیں(۲) (بہت زیادہ سچ بولنے والی )۔
____________________
(۱) مسند ابی داؤد طیالسی ۱۹۷ ۔ مصنف ابن ابی شیبہ : ۷ ۲۵۷، حدیث ۵۔ مستدرک حاکم :۳ ۱۵۶۔(حاکم کا بیان ہے کہ اس حدیث کے اسناد و رجال صحیح ہیں اور بخاری و مسلم نے اس کو نقل نہیں کیا )
(۲) اصول کافی :۱ ۴۵۸،حدیث ۲۔ منتقی الجمان :۱ ۲۲۴۔
بلکہ ام المؤمنین عایشہ حضرت فاطمہ زہرا کی توصیف میں کہتی ہیں کہ میں نے کسی کو بھی فاطمہ سے زیادہ رسول خدا سے گفتار و رفتار، اٹھنے بیٹھنے ،چلنے پھرنے میں مشابہ تر نہیں پایا اور جب پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس تشریف لاتیں آپ ان کی تعظیم کے لیے اٹھ جاتے ، ان کی دست بوسی کرتے اور اپنی جگہ پر بٹھاتے اور جب کبھی پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم فاطمہ کے یہاں تشریف لے جاتے توفاطمہ ان کی تعظیم کے لیے اٹھتیں اور آپ کی دست بوسی کرتیں اور اپنی جگہ پر بٹھاتیں ۔دیکھیےـ : سنن ترمذی :۵ ۳۶۱، حدیث ۳۹۶۴۔ سنن ابی داؤد :۲ ۵۲۲ ، حدیث ۱۷ ۵۲۔ مستدرک حاکم :۴ ۲۷۲۔ الادب المفرد (بخاری ) ۲۰۲۔
دوسری روایت میںہے کہ میں نے کسی کو بھی فاطمہ کی طرح رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے گفتار و رفتار و کردار میں شبیہ ترنہیں دیکھا ، جب بھی فاطمہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس تشریف لاتیں ان کے لیے جگہ فراہم کرتے ان کی تعظیم کوکھڑے ہوتے آپ کے ہاتھوں کو پکڑتے، بوسے لیتے اور اپنی جگہ پر بٹھلاتے ۔ مستدرک حاکم :۳ ۱۵۴۔ السنن الکبری (بیہقی ) : ۷ ۱۰۱۔
اور تیسری روایت میں ہے کہ عایشہ نے کہا کہ میں نے فاطمہ سے زیادہ رسول خدا کے علاوہ سچا اور وعدہ وفائی میں پکا و پختہ نہیں دیکھا ۔ مستدرک حاکم :۳ ۱۶۱ ۔ نظم درر السمطین(زرندی) ۱۸۲ ۔
ام ابیها (۱) اپنے باپ کی ماں ،فداها ابوها (۲) اس کا باپ اس پر قربان ہوجائے ۔ گویا حضرت فاطمہ زہرا یہ فرمانا چاہتی ہیں کہ میں وہی ہوں کہ جس کے بارے میں رسول خدا نے فرمایا فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جس نے اسے آزردہ و پریشان کیا اس نے مجھ کوآزردہ و پریشان کیا ۔(۳)
بنابر این حضرت زہرا کے کلام مبارک کے جملات اس حقیقت کو آشکار کر رہے ہیں کہ میں جو کچھ بھی کہہ رہی ہوں غلط و خطا ء نہیں ہے اور جو کچھ اقدام کررہی ہوں یہ ظلم و زیاتی نہیں ہے ۔
یقینا فاطمہ زہرا غلط و خطا ء کلام نہیں فرماتیں اور اپنے کام میں ظلم و زیادتی نہیں فرماتیں جیسا کہ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے کس ی پر بھی یا کسی سے بھی خواہشات نفس کی وجہ سے کچھ نہیں فرمایا وہ ایسی شخصیت ہیں کہ جن کے بارے میں ارشاد ہوا :( وما ینطق عن الهوی ان هو الا وحی یوحی ) (۴)
پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنی خواہشات نفس سے کوئی بات نہیں کرتے وہ جو بھی کہتے ہیں وہ وحی الہٰی ہے ۔
امیر المؤمنین نے اسی بات کی اپنے کلام میں تائید فرمائی ہے :
''بیشک رسول خدا نے مجھ کو ظاہری رشتہ داری و قرابت داری کی وجہ سے اپنے قریب نہیں کیا بلکہ میں ایثار و قربانی اور جہاد کے ذریعہ ان کے قریب ہوا ''۔(۵)
____________________
(۱) المعجم الکبیر :۲۲ ۳۹۷۔ تاریخ دمشق :۱۵۸۔ اسد الغابہ :۵ ۵۲۰۔
(۲) امالی صدوق ۳۰۵، حدیث ۳۴۸۔ روضة الواعظین ۴۴۴۔ مناقب ابن شہر آشوب :۳ ۱۲۱۔
(۳) صحیح بخاری :۶ ۱۵۸۔ سنن ابی داؤد :۱ ۴۶۰، حدیث ۲۰۷۱۔ المعجم الکبیر : ۲۲ ۴۰۴۔
(۴) سورہ نجم (۵۳) آیت ۳ـ۴۔
(۵) شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) :۲۰ ۲۹۹۔
اور اس کے بعد حضرت فاطمہ زہرا کا فرمان ذیشان :
''فان تعزوه و تعرفوه تجدوه ابی دون نسائکم و اخاابن عمی دون رجالکم ولنعم المعزی الیه ''(۱)
اگر نسب و نسبت کو دیکھنا چاہتے ہو تو دیکھو گے کہ وہ میرے باپ ہیں نہ کہ تمہاری عورتوں کے اور میرے ابن عم کے بھائی ہیں نہ کہ تمہارے ، اور یہ ہماری پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے کتنی بہترین نسبت ہے۔
اس کلام میں حضرت فاطمہ اپنی معنوی منزلت کی طرف اشارہ فرمانا چاہتی ہیں وہ یہ کہ ہمارا یہ مقام صرف پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے رشتہ داری ہی کی وجہ سے نہیں ہے ۔
اور بالفرض اگر یہ بھی مان لیا جائے کہ فاطمہ اس کلام میں اپنی ظاہری رشتہ داری کو بیان فرمانا چاہتی ہیں تو مقصد یہ ہے کہ اس رشتہ داری کے ذریعہ اپنے حق کو جتلایا جاسکے اور پھر میراث کا مطالبہ کیا جاسکے ۔لیکن وہ لوگ شیطان کے اغوا شدہ تھے اور حیات رسول میں ہی اپنی اپنی مصلحتوں کی بناء پر خاموش تھے اور دشمنی کو رسول کے بعد ظاہر کیا جیسا کہ امت موسیٰ نے ان کے بعد کارنامے انجام دیئے۔رسول خدا نے انپی امت کو ان حوادث کی خبر دی تھی اور فرمایا تھا کہ تم گذشتہ امتوں کی پیروی ایک ایک بالشت تک میں انجام دوگے حتی اگر وہ نیول و گو کے سوراخ میں بھی گھسے تو تم بھی گھسوگے ۔(۲)
____________________
(۱) احتجاج طبرسی :۱ ۱۳۴۔ الطرائف (ابن طاؤس ) ۲۶۳۔
(۲) صحیح مسلم :۸ ۵۸۔ الطرائف ۳۷۹، حدیث ۲۱۔(اس حدیث کی صحت پر سب کا اتفاق ہے ) ۔ مسند احمد:۲ ۵۱۱۔
اور اپنی زندگی کے آخری خطبہ ، خطبۂ وداع میں فرمایا : وائے ہو تم پر کہ میرے بعد کفر کی طرف نہ چلے جانا کہ آپس میں ایک دوسرے کی گردنیں کاٹو ۔(۱)
حدیث حوض میں ارشاد ہوا : ''آگاہ ہوجاؤ کہ حوض کوثر پر میرے پاس میری امت کے کچھ افراد کو لایا جائے گا اور ان کو برے ا ور دوزخی قرار دیا جائے گا پس میں کہوں گا کہ خدایا یہ تو میرے اصحاب ہیں تو کہا جائے گا آپ کو نہیں معلوم کہ آپ کے بعد انہوں نے کیا افعال انجام دیئے ۔(۲)
اس روش سے رسول خدا نے آنے والے واقعات و حوادث کو اپنی امت پر بیان فرمایا اور اپنے خوف کا اظہار کیا اور ان کو متوجہ کیا کہ مبادا گمراہ نہ ہوجانا ۔
اور اسی طرح حضرت فاطمہ زہرا نے اپنے خطبہ میں سنت نبوی کے خلاف ہونے والی چالبازی اور مکاری کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور اس بات کی وضاحت فرمائی ہے کہ شیطان لوگوں کو اپنے جال میں پھنسا نے کے لیے ہر طرح کی کوشش میں لگا ہوا ہے لہذا خبر دار اس کے جال میں نہ پھنس جانا ۔ لہذا آپ نے فرمایا :
اور اب جوں ہی خداوندعالم نے اپنے حبیب رسول خدا کو ان کے اصلی مقام پر بلالیا اور وہ دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں تو تمہارے اندر سے نفاق و حسدظاہر ہونا شروع ہوگیا ہے
____________________
(۱) صحیح بخاری :۱ ۳۸ ۔ و جلد : ۲ ۱۹۱۔ وجلد : ۵ ۱۲۶۔ و جلد :۷ ۱۱۲۔ سنن ابن ماجہ :۲ ۱۳۰، حدیث ۳۹۴۳۔ مسند احمد :۲ ۸۵۔ بغیة الباحث ۲۴۵۔ اور دوسرے منابع۔
(۲) صحیح بخاری : ۵ ۲۴۰، وجلد :۷ ۲۰۶۔ صحیح مسلم :۱ ۱۵۰۔ وجلد : ۷ ۶۸۔ سنن ترمذی :۴ ۳۸۔ اور دوسرے منابع میں ۔
اور تم اپنے پرانے دین جاہلیت کی طرف پلٹ گئے ہو اور اب خاموش گمراہوں کی زبانیں کھل گئی ہیں اور گمنام و بے وقار لوگ چمک اٹھے ہیں ، اہل باطل کے نازو نخرے کا پلا ہوا اونٹ بول اٹھا ہے اوراب تمہارے سروں پر حکومت ہورہی ہے شیطان کہ جو اب تک کمین گاہ میں چھپا ہوا تھا اس نے سربلند کرلیا ہے اور تمہیں اس نے دعوت دی ہے اس نے یہ جان لیا کہ تم اس کے بہکائے میں بہت آسانی سے آنے والے ہو بلکہ اس کے بہکائے میں آنے کے لیے آمادہ ہو تو اس نے تم سے چاہا کہ عذر سجاؤ بغاوت کرو اور تمہیںمکر وفریب کے ذریعہ ابھارا اور تم عذر و بغاوت کے لیے نکل کھڑے ہوئے ۔
لہذا تم نے کسی دوسرے اونٹ کی چرا گاہ کو نشانہ بنایا اور اس کی چراگاہ سے استفادہ کرنے لگے کہ جو تمہاری نہ تھی ۔
اور یہ کارنامے اس وقت انجام پائے کہ ابھی پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو دنیا سے گئے ہوئے چند روز نہ گذرے تھے ابھی ان کی مفارقت کا زخم نہ بھرا تھا ،ابھی ان کے جانے سے دلوں میں پیدا ہونے والے زخم صحیح نہ ہونے پائے تھے اور ابھی وہ دفن بھی نہ ہونے پائے تھے کہ تم نے اس فتنہ کو برپا کردیا جب کہ تمہیں خبردارکرتی ہوں کہ اپنے کارنامے سے باز آؤ اور اس فتنہ سے ہاتھ اٹھالو ۔
( الا فی الفتنة سقطوا و ان جهنم لمحیطة بالکافرین ) (۱) آگاہ رہو کہ وہ فتنہ م یں پڑگئے ہیں اور بیشک جہنم کافروں کے لیے آمادہ اور ان پر احاطہ کیے ہوئے ہے۔
____________________
(۱) سورہ توبہ (۹) آیت ۴۹۔
یہ کام تم لوگوں سے بعید تھا کس طرح آپ لوگوں نے انجام دیا ؟ اور اس جھوٹ کے پلندوں کو کہاں کہاں اٹھائے پھروگے ۔
کیا کتاب خدا کوپڑھتے ہو ، اس کے امور ظاہر ہیں اور اس کے احکام روشن و واضح ،اس کے اعلانات آشکار ، اس کے نواہی درخشان اور اوامر صاف و سادہ ہیں ۔ آپ لوگوں
نے اس کو پس پشت ڈال دیا ہے ، کیا قرآن سے بیزار ہو اور منھ پھیر لیا ہے یا کوئی اور حکم چاہتے ہو؟۔
( بٔس للظالمین بدلا ) (۱) ظالم ین کا یہ مقام کتنا برا ہے !
( ومن یتبع غیر الاسلام دینا فلن یقبل منه و هو فی الآخرة من الخاسرین ) (۲) جو کوئ ی بھی دین اسلام کے علاوہ کسی اور دین کی پیروی کرے اس سے وہ قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں گھاٹا اٹھانے والوں میں سے ہے ۔
تم لوگوں نے تھوڑا سا توقف بھی نہ کیا ،اس اونٹ کو آرام بھی نہ کرنے دیا اور سوار ہوگئے ، اب آگ بھڑکادی ہے اور شعلوں کو دہکادیا ہے کہ شیطان گمراہ کرنے کے لیے آواز دے اور تم اس کی دعوت کو قبول کرلو اور دین کے چمکتے ہوئے نور کو خاموش کرو ، سنت پیغمبرکو فراموش کرو اور تبدیل کردو۔
تم نے اپنے مقصد کو چھپائے رکھا اور اپنی دھوکہ دینے والی رفتار سے آگے بڑھتے رہے جب کہ اہل بیت کی راہ میں کانٹے بچھاتے رہے ۔
____________________
(۱) سورہ کہف (۱۸) آیت ۵۰۔
(۲) سورہ آل عمران (۳) آیت ۸۵۔
ہم تمہاری اس رفتار کے مقابل صابر و بردبار ہیں اگر چہ یہ صبر سخت ہے لیکن پھر بھی اس شخص کی مانند کہ جس کے خنجر مارا جائے اور نیزہ اس کے پیٹ میں گھونپ دیا جائے لیکن پھر بھی وہ دم نہ بھرے اور آہ نہ کرے۔(۱)
حضرت فاطمہ زہرا نے اپنے اس متین و لطیف خطبہ اور علمی تنبیہ کے ذریعہ اس قوم کو متوجہ فرمایا اور فتنہ میں پڑنے سے ڈرایا، کہ شیطان اپنی کمین گاہ سے نکل کر ان کو بلا رہا ہے اور وہ لوگ اس کے بلانے پر لبیک کہہ رہے ہیں ۔
جب کہ یہ شیطان وہی ہے کہ جس کے بارے میں خداوندمتعال کا ارشاد گرامی ہے ۔( و قال الشیطان لما قضی الامر ان الله وعدکم وعدالحق و وعدتکم فاخلفتکم و ماکان لی علیکم من سلطان الا ان دعوتکم فاستجبتم لی فلا تلومونی ولو موا انفسکم ) (۲)
اور شیطان نے کہا کہ جب وقت حساب و کتاب آیا بیشک خداوند عالم نے تم کو وعدہ حق دیا اور میں نے بھی وعدہ دیا پس میں نے اپنے وعدے میں خلاف ورزی کی، اور میری تم پر حکومت نہیں تھی مگر صرف یہ کہ تم کو دعوت دیتا تھا اور تم قبول کرلیتے تھے لہذا مجھ کو برا نہ کہو اور میری ملامت نہ کرو بلکہ خود اپنے آپ کی سرزنش کرو۔
____________________
(۱) دلائل الامامة ۱۱۵۔ بحار الانوار :۲۹ ۲۹ـ۳۰۔ (متن خطبہ اسی کتاب سے ماخوذہے )
(۲) سورہ ابراہیم (۱۴) آیت ۲۲۔
لیکن وہ کہ جو عمر نے اپنی خلافت کے ابتداء میں کہا کہ میں جب اختلاف امت سے ڈرنے لگا تو ابوبکر سے کہا کہ اپنا ہاتھ دے کہ میں بیعت کروں ۔(۱)
یہ اس منافق(۲) کے کلام ک ی دوسری صورت و توجیہ ہے کہ جس نے جنگ تبوک میں نہ جانے کا بہانا بھرا اور پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے کہا میں عورتوں کو بہت چاہتاہوں جمالیاتی ذوق رکھتاہوں کہیں ایسا نہ ہو کہ روم کی خوبصورت و حسین عورتیں مجھے اپنے حسن کا گرویدہ کرلیں اور میں اپنا دین و ایمان کھو بیٹھوں ، اس وقت یہ آیت نازل ہوئی :( ومن هم من یقول أذن لی ولا تفتنی الافی الفتنة سقطو اوان جهنم لمحیطة بالکافرین ) (۳)
اور ان میں سے وہ بھی ہے کہ جو کہتا ہے کہ مجھ کو اجازت دیں اور جنگ میں نہ جاؤں مجھے فتنے میں نہ ڈالو ، آگاہ ہوجاؤ کہ وہ فتنے میں پڑچکے ہیں اور بیشک جہنم کافرین کا احاطہ کیے ہوئے ہے ۔
حضرت فاطمہ زہرا اپنے اس کلام سے ان بہانے اور توجیہات کا قبل از وقت جواب دے رہی ہیں۔'' زعمتم خوف الفنتة الافی الفتنة سقطوا ''تمہیں اختلاف و فتنہ کا خوف تھا جب کہ اب فتنہ میں پڑ چکے ہو ۔
چونکہ وہ منافق جد بن قیس یہ چاہتا تھا کہ بنی اسرائیل کی طرح راہ فرار اختیار کرے (کہ لاٹھی بھی نہ ٹوٹے اور سانپ بھی مرجائے ) کہ جو بنی اسرائیل نے کہا :
____________________
(۱) شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید) :۲ ۲۴ـ۲۵۔
(۲) مراد جد بن قیس ہے
(۳) سورہ توبہ (۹) آیت ۴۹۔
( فاذهب انت و ربک فقاتلا انا ههنا قاعدون ) (۱)
اے موسی آپ اور آپ کا پروردگار جاؤ اور جاکر جنگ کرو ہم یہیں پر بیٹھے ہیں ۔
اس لیے کہ حقیقی فتنہ یہی ہے کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ جنگ پر نہ جایا جائے اور ان کے ہم رکاب ہوکر جنگ نہ کی جائے چونکہ یہی شرک و کفر کا سرچشمہ ہے ، بالکل اسی کی طرح یہ ہے کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے وصی وجانشین کو ان کے منصب سے دور و علیحدہ رکھا جائے ، چونکہ یہ سبب ہوگا کہ منافقین و طلقاء خلافت کی طمع و لالچ اور خواب و خیال میں پڑجائیں۔
واقعا یہی فتنہ ہے بلکہ یہ بہت عظیم فتنہ ہے
حضرت فاطمہ زہرا اپنے اس کلام میں '' ھیھات منکم و کیف بکم و انی تؤفکون وکتاب اللہ بین اظھر کم وامور ہ ظاھرة ۔ ۔ ۔'' یہ اشارہ فرمانا چاہتی ہیں کہ منصب خلافت ایک الہی منصب ہے تو پھر کیوں لوگ اس کی معرفت نہیں رکھتے جب کہ خدا کی کتاب لوگوں ہی کے لیے ہے اور اس کے امور و معارف سب کے لیے واضح ہیں کہ جو خلافت الہٰیہ پر دلالت کرتے ہیں جیساکہ خداوندمتعال کا ارشاد گرامی ہے :
( واذ ابتلی ابراهیم ربه بکلمات فاتمهن قال انی جاعلک للناس اماما قال و من ذریتی قال لا ینال عهدی الظالمین ) (۲)
____________________
(۱) سورہ مائدہ (۵) آیت ۲۴۔
(۲) سورہ بقرہ(۲) آیت ۱۲۴۔
اور جب ابراہیم کا اس کے پروردگار نے چند کلمات کے ذریعہ امتحان لیا اوروہ اس میں کامیاب ہوگئے تو خداوندعالم نے فرمایا کہ ہم تمہیں لوگوں کا امام بنانے والے ہیں تو ابراہیم نے سوال کیا کہ پروردگار کیا یہ امامت میری نسل میں بھی کسی کو دے گا ؟ جواب آیا اے ابراہیم ہمارا یہ عہدہ کسی ظالم تک نہیں پہنچے گا۔
یا اسی طرح دوسری آیت :( وجعلنامنهم آئمة یهدون بامرنا لما صبروا و کانوا بآیاتنا یوقنون ) (۱)
اور ہم نے ان میں سے کہ جو صبر کرنے والے اور ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے امام قرار دیا کہ جوہمارے امر کے ذریعہ لوگوں کی ہدایت کرتے ہیں ۔
حضرت زہرا نے اس کلام کو اس لیے بیان فرمایا تاکہ ان کو متوجہ فرمائیں کہ وہ لوگ قرآن پر عمل کرنا ترک کرچکے ہیں۔
'' تم لوگوں نے قرآن کو پس پشت ڈال دیاہے کیا اس سے منھ پھیرے جارہے ہو ؟ یا قرآن کے علاوہ کسی اور چیز سے فیصلے کررہے ہو ؟ ظالموں اور ستمگروں کے لیے اس کا بدلا کتنا برا ہے اور جو کوئی اس کے علاوہ دوسرا دین لائے گا وہ قبول نہ ہوگا ،وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا ''۔(۲)
____________________
(۱) سورہ سجدہ (۳۲) آیت ۲۴۔
(۲) شرح الاخبار :۳ ۳۶۔ احتجاج طبرسی : ۱ ۱۳۷۔ کشف الغمہ : ۲ ۱۱۲۔
آپ نے اس کے بعد اپنے خطبہ کوجاری رکھا تاکہ واضح کریں کہ ان لوگوں نے احکام الہٰی کو کھیل و بازیچہ بنالیا ہے کس طرح کہتے ہیں کہ زہرا کے لیے ارث و میراث نہیں ہے کیاجان بوجھ کر کتاب خدا کو چھوڑدیا ہے اور پس پشت ڈالدیا ہے ،جب کہ خداوندعالم قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے (وورث سلیمان داؤد )(۱) سلیمان نے داؤد سے میراث پائی ۔
اور اسی طرح اس خطبہ کے متعدد ٹکڑے و جملات کہ جو احتجاج و مناظرے کی انتہا و معنویت و حقیقت کے بلند و بالا منارے ہیں ۔
____________________
(۱) سورہ نمل(۲۷) آیت ۱۶۔
عجیب و غریب تحریفات
اہل سنت کا خیال یہ ہے کہ بے بنیاد اور بغیر کسی ملاک و معیار کے ہر کس و ناکس کے لیے لفظ صدیقہ کا اطلاق و استعمال کیا جاسکتا ہے، یا اس طرح کے القاب کی طرح احادیث گھڑنا اور ان کا استعمال کرنا کہ جو اس دور میں از باب مصلحت کارنامے انجام دیئے گئے۔جب کہ تحقیق و جستجو کے بعد یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ کام ان کے خیال کے برعکس ہے ۔
مدائنی نے اپنی کتاب الاحداث میں روایت نقل کی ہے کہ معاویہ ابن ابی سفیان نے حکم دیا کہ فضائل عثمان میں احادیث گھڑی جائیں اور جب عثمان کے بارے میں گھڑی ہوئی احادیث کا انبار لگ گیا اور سب میں منتشر ہوگئیں تب احادیث گھڑنے والوں کے لیے لکھا :
جب میرا یہ خط آپ کے ہاتھ میں پہنچے تو لوگوں کو فضائل صحابہ اور خلفاء راشدین کے بارے میں روایت نقل کرنے کو کہنا اور ابوتراب کے بارے میں کوئی بھی ایسی خبر کہ جس کو کسی مسلمان نے نقل کیا ہو نہ چھوڑنا مگر اس کے مقابل اور اسی طرح کی روایت صحابہ کی شان میں بھی بنا لینا اور مجھے لکھ بھیجنا چونکہ یہ کام مجھے بہت پسند ہے اور اس سے میں بہت خوشحال ہوتاہوں اور یہ کام ابوتراب اور ان کے شیعوں کی دلیلوں کو باطل کرنے کا بہترین طریقہ ہے اور عثمان کے فضائل ان لوگوں پر سخت گذرتے ہیں ۔
راوی کا بیا ن ہے کہ میں نے معاویہ کے خط کو لوگوں کے سامنے پڑھا اور بہت زیادہ روایات کہ جو گھڑی ہوئی و جعلی تھیں صحابہ کی شان میں جمع کیں اور لوگوں نے بھی اس سلسلے میں بہت کوششیں کیں یہاں تک کہ ایسی روایات کو منبروں پر بلند آواز سے پڑھتے تھے اور اس طرح کی روایات مدرسوں میں معلمین و اساتید کودی جاتیں ، وہ بچوں اور نوجوانوںکو تعلیم دیتے اور اس طرح ان کی تربیت ہوتی وہ ایک دوسرے سے ان روایات کو نقل کرتے اور قرآن کی طرح ان روایات کو حفظ کرایا جاتا حتی کہ لڑکیا ں اور عورتیں ، غلام و کنیز سب ان روایات کو حفظ کرتے اوراس طرح یہ سلسلہ چلتا رہا ۔(۱)
٭ وہ روایات کہ جو ابوبکر کے بارے میں گھڑی گئیں ان میں ایک یہ ہے کہ ابوبکر زمانہ جاہلیت ہی سے لقب صدیق سے ملقب تھے ۔(۲) یہ اس لیے وضع ہوئی چونکہ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم زمانہ جاہل یت اور قبل از بعثت ہی صادق و امین کے لقب سے مشہور تھے لہذا ابوبکر کورسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے برابر و م قابل میں پیش کیا جاسکے ۔
٭اسی طرح کی روایت گھڑی کہ خداوندعالم کے فرمان( والذی جاء بالصدق و صدق به ) (۳) ''اور وہ کہ جو سچائ ی لایااور اس کی تصدیق کی ''سے مراد ابوبکر ہے ۔
____________________
(۱) شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید ) : ۱۱ ۴۴(بہ نقل از مدائنی )
(۲) سمط النجوم العوالی :۲ ۴۱۲۔
(۳) سورہ زمر (۳۹) آیت ۳۳۔
عطاء کا بیان ہے کہ وہ سچائی لایا ''سے مراد محمد ہیں اور اس کے بعد سچائی کے انوار کی برکتوں سے یہ صدق وسچائی ابوبکر پر جلوہ گر ہوئی اور ان کالقب صدیق ہوگیا ۔(۱) یا یہ کہ خداوندعالم نے قرآن کریم میں ابوبکر کانام صدیق رکھا اور ان کی شان میں یہ آیت نازل ہوئی( والذی جاء بالصدق و صدق به ) (۲)
٭ خود حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی زبانی حدیث گھڑی گئی کہ آپ نے خداکی قسم کھاکر فرمایا کہ ابوبکر کا نام صدیق آسمان سے نازل ہوا !(۳)
٭ اسی طرح حضرت علی پر ایک اور جھوٹ بولا گیا کہ آپ سے اصحاب رسول کے متعلق دریافت ہوا اورکہا گہا کہ ابوبکر بن قحافہ کے بارے میں ہمیں کچھ بتائیں تو آپ نے فرمایا کہ یہ وہ انسان ہیں جن کے بارے میں خداوندعالم نے محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم اور جبرائ یل کی زبان سے صدیق کہلوایا وہ رسول خدا کے خلیفہ ہیں ، پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کو ہمارے دین کے لیے پسند فرمایا تو ہم نے بھی ان کو اپنی دنیا کے لیے پسند کیا ۔(۴)
____________________
(۱) تفسیر السلمی :۲ ۱۹۹۔
(۲) سورہ زمر (۳۹) آیت ۳۳۔ الاحادیث المختار ہ :۳ ۱۲۔ تاریخ دمشق : ۳۰ ۴۳۸۔
(۳) تاریخ دمشق :۳۰ ۲۵۔ اسد الغابہ :۳ ۲۱۶۔
(۴) تاریخ الخلفا ء :۱ ۳۰۔ اعتقاد اہل سنت :۷ ۱۲۹۵۔ تہذیب الاسماء :۲ ۴۷۹۔ کنزالعمال :۳ ۱۰۱،حدیث ۳۶۶۹۸۔
٭ بلکہ احادیث یہاں تک گھڑی گئیں کہ جن سے بنی امیہ اور بنی عباس کی حکومتوں کی بھی تائید ہونے لگی ، لہذا کہا گیا کہ امیر المؤمنین نے خطبہ دیا اور فرمایا کہ جان لو پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد بہترین مرد ابوبکر صدیق ہیں اور ان کے بعد عمر فاروق اور ان کے بعد عثمان ذوالنورین اور ان کے بعد میں اور میرے بعد خلافت آپ لوگوں کے کاندھوں پر ہے جس کو چاہو خلیفہ بنالینا اور میری کوئی حجت آپ پر نہیں ہے ۔(۱)
٭ایک جھوٹی روایت حضرت علی علیہ السلام سے منسوب کی گئی کہ آپ نے فرمایا کہ جبرئیل پیغمبراکرم کے پاس آئے ، پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان سے پوچھا کہ کون میرے ساتھ ہجرت کرے گا ؟ جبرئیل نے کہا: ابوبکر کہ وہ وصدیق ہیں۔(۲)
٭ اور دوسری روایت رسول خد ا کی طرف منسوب کی گئی کہ آپ نے فرمایا کہ جبرئیل میرے پاس آئے میںنے ان سے پوچھا کہ میرے ساتھ کون ہجرت کرے گا؟ تو جواب دیا کہ ابوبکر کہ وہ آپ کے بعد آپ کی امت کی سرپرستی فرمائیں گے اور وہ آپ کے بعد آپ کی امت میں بہترین فرد ہیں ۔(۳)
____________________
(۱) الریاض النضرہ :۱ ۳۸۱، حدیث ۲۶۰۔ الغدیر :۸ ۳۸۔
(۲) مستدرک حاکم :۳ ۵۔ تاریخ دمشق : ۳۰ ۷۳۔ کنزالعمال :۱۶ ۶۶۷، حدیث ۴۶۲۹۲۔ الکامل (ابن عدی) :۶ ۲۸۹۔
(۳) الفردوس بماثور الخطاب :۱ ۴۰۴، حدیث ۱۶۳۱۔ کنزالعمال :۱۱ ۵۵۱، حدیث ۳۲۵۸۹۔ (بہ نقل ازماخذ سابق )۔ الغدیر :۵ ۳۵۵۔ (بہ نقل از کنزالعمال)
٭ حضرت علی علیہ السلام کی طرف ایک جھوٹی روایت کی نسبت دی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا : روز قیامت منادی ندادے گا کہ'' این السابقون ''سب سے پہلے ایمان لانے والے اور نیک کام کرنے والے کہاں ہیں ؟ سوال ہوگا کون؟ تو منادی جواب دے گا ابوبکر کہاں ہیں ؟ اسی وجہ سے خداوندمتعال ابو بکر کے لیے خصوصی تجلی دکھائے گا اور تمام لوگوں کے لیے عام ۔(۱)
٭ حضر ت علی سے ایک مرفوع روایت نقل کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا : انبیاء و رسل کے بعد سورج کسی پر بھی نہیں چمکا کہ جو ابوبکر سے افضل ہو ۔(۲)
٭ ایک اور روایت حضرت علی سے بطور مرفوع نقل ہوئی ہے کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :
اے ابوبکر خداوندعالم نے خلقت آدم سے لیکر روزقیامت تک اس شخص کا ثواب کہ جوخدا پر ایمان لایا مجھ کو عطا کیا اور جو شخص مجھ پر ایمان لایااس کا ثواب میری بعثت سے لیکر روز قیامت تک
____________________
(۱) رؤیة اللہ (دارقطنی):۱ ۷۰ ، حدیث ۵۷۔ الریاض النضرہ :۲ ۷۵۔ سمط النجوم العوالی :۲ ۴۴۳، حدیث ۷۴۔ تفسیر فخررازی :۱۲ ۲۱۔ اللآلی المصنوعة :۱ ۲۶۴۔
(یہ روایت مختلف الفاظ کے ساتھ نقل ہوئی ہے کہ جو معنی میں ایک ہی ہے ) یہ انتہائی ضعیف ہے اس کے راوی کو جعل حدیث کی نسبت دی گئی ہے ۔ دیکھیے:ـ الکشف الحدیث :۱ ۱۸۵، حدیث ۲۲۷۔ المجروحین :۲ ۱۱۵۔ المغنی من الضعفاء : ۲ ۵۷۵و ۷۶۵ ۔ میزان الاعتدال :۵ ۱۴۸ و ۱۳۱۔ و جلد : ۷ ۳۱۱۔ الموضوعات :۱ ۲۲۵۔ اور دوسری کتابیں جو ضعفاء و مجروحین کے متعلق لکھی گئی ہیں ۔
(۲) الانساب (سمعانی ) :۲ ۵۱۔ تاریخ بغداد :۱۲ ۴۳۳۔ تاریخ دمشق :۲۰۸۳۰۔ کنزالعمال :۱۱ ۵۵۷، حدیث ۳۲۶۲۲۔(ان سب ماخذ نے ابو درداء سے نقل کیا ہے ) اور الغدیر :۷ ۱۱۲ میں یہ حدیث علامہ حرفیش سے کتاب الروض الفائق ۳۸۸ میں بطور مرفوع حضرت علی سے منقول ہے ۔
آپ کو عطا کیا ۔(۱)
٭ ایک شخص نے حضرت علی سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا : رسول خدا نے ہم میں سے کسی کو منصب امامت وامارت کے لیے منتخب نہیں فرمایا مگر یہ کہ ہم نے اپنی طرف سے جس کو پسند کیا اور منتخب کیا کہ اگر صحیح رہا تو خدا کی جانب سے ہے اوراگر صحیح نہ رہا اور خطا ء و نادرست رہا تو ہماری جانب سے ۔رسول خدا کے بعد ابوبکر خلیفہ ہوئے اور امارت کو قائم کیا اور مضبوطی سے چلایا پھر عمر خلیفہ ہوئے انہوں نے بھی خلافت کو قائم کیا اور استقلال و استحکام پیدا کیا یہاں تک کہ دین مضبوط اور پائدار ہوگیا اور آرام و سکون حاصل ہوا ۔(۲)
٭ یہ بھی جھوٹ نقل کیا ہے کہ ابوبکر نے حضرت علی سے کہا کہ کیا آپ کو معلو م تھا کہ میں آپ سے پہلے اس امر خلافت کا عہدہ دار ہوں آپ نے فرمایا: آپ نے سچ کہا ہے اے خلیفہ رسول خدا ، پھر ابوبکر نے ہاتھ بڑھایا اور علی نے بیعت کی ۔(۳)
٭ اور حضرت علی علیہ السلام سے روایت نقل ہوئی ہے کہ رسول خدا نے فرمایا کہ میں دنیا سے نہ گیا مگر یہ کہ خداوندعالم نے ہمیںبتا دیا کہ میرے بعد سب سے افضل ابوبکر ہیں۔
____________________
(۱) فضائل احمد :۱ ۴۳۴۔ الفردوس بماثورالخطاب :۵ ۳۰۶، حدیث ۸۲۷۰۔ الریاض النضرہ : ۲ ۱۲۱۔ سمط النجوم العوالی :۲ ۴۴۱، حدیث ۶۹۔ تاریخ بغداد :۵ ۱۰، ترجمہ ۲۳۰۹۔ تاریخ دمشق : ۳۰ ۱۱۸۔
(۲) السنة (عبداللہ بن احمد) :۲ ۵۶۶۔ علل دار قطنی :۴ ۸۷۔ الریاض النضرة :۲ ۱۹۸۔ اور دیکھیے :ـ مسند احمد:۱ ۱۱۴۔ السنة (عمرو بن ابی عاصمی ) ۵۶۱۔
(۳) الغدیر : ۸ ۴۰، حدیث ۶۰۔
اوریہ بھی ہم پر واضح کردیا کہ کہ ابوبکر کے بعد افضل ترین فرد عمر ہیں ۔(۱)
٭بصورت مرفوع حضرت علی سے روایت نقل ہوئی ہے کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا : اے علی یہ دو فراد ابوبکر و عمر ،اولین و آخرین میں سے انبیاء و رسل کے علاوہ ،جنت کے بوڑھوں کے سردار ہیں، اے علی یہ بات ان دونوں کو نہ بتانا لہذا میں نے بھی ان کو باخبر نہیں کیا یہاں تک کہ وہ مرگئے ۔(۲)
ان روایات کو خود امیر المؤمنین ہی کی نسبت سے گھڑا گیا تاکہ آپ کے مطالبہ خلافت کو ناحق دکھایا جائے یا فراموش کردیا جائے اور اس پر پردہ ڈا ل دیا جائے ، آپ کے احتجاجات و اعتراضات کو چھپادیا جائے اور کوئی متوجہ نہ ہونے پائے کہ انہوں نے چھ مہینے یا بالکل ہی حاکمان وقت کی بیعت نہیں کی ۔
ان روایات کو وضع و جعل کرکے یہ کوشش کی گئی کہ سقیفہ کی چال بازیوں سے حسد و دشمنی کی علامتوں کو پاک و صاف کردیا جائے نیز یہ کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے جنازے کو چھوڑا ، اسامہ بن ز ید کے لشکر سے بھاگ کر واپس آئے اور ابوبکر نے خود ہی عمر کو خلیفہ بنایا ، عمر نے ایک پروپیگنڈہ کے ساتھ خلافت کو شوری کے حوالے کیا ، ان سب باتوں پر پردہ پڑ جائے ۔
____________________
(۱) السنة (عمرو بن ابی عاصمی ) ۵۵۵، حدیث ۱۳۰۰۔ تاریخ دمشق : ۳۰ ۳۷۵۔ سبل الھدی و الرشاد :۱۱ ۲۴۷۔
(۲) مسند احمد : ۱ ۸۰۔ مصنف ابن ابی شیبہ : ۷ ۴۷۳۔ المعجم الاوسط : ۴ ۳۵۹۔ تاریخ بغداد : ۷ ۱۲۱۔ تاریخ دمشق :۳۰ ۱۶۶ـ۱۷۰۔ اسد الغابہ : ۴ ۶۳۔ الامامة والسیاسة :۱ ۱۰۔
ان جھوٹی روایات کو گھڑنے کا مقصد یہ ہے کہ امیر المؤمنین علیہ السلام کے شکوے اور آپ کے ایام خلافت کے درد بھرے خطبات و کلمات جیسے خطبہ شقشقیہ اور دوسرے وہ کلمات و فقرات کہ جن میں آپ نے خلفاء و حکام کی قلعی کھولی ہے، ان کو مبہم و مشتبہ کردیا جائے اور ان کو شک و شبہہ کی دھندلاہٹ میں ڈال دیا جائے ۔
ان جھوٹی و من گھڑت روایا ت سے بنی امیہ اپنے ملک اور نظام حکومت کو چلانے اور حق کو نابود کرنے میں کوشاں رہے ، ان کو جعلی روایات سے بہت سہا را ملا اور حق کو خوب پائمال کیا ، جتنا ہوسکتا تھا باطل کو ابھارا اورپروان چڑھایا ۔
ان میں سے بعض مطالب خندہ آور بھی ہیںاور غم انگیز بھی، نہیں معلوم کہ اس بات پر ہنسا جائے یا گریہ کیا جائے مثلا یہ کہ امیر المؤمنین کی شجاعت کو اندھیر ے میںڈال دیا گیا جب کہ آپ کی شجاعت ضرب المثل وزبان زد عام و خاص تھی اور تاریخ وسیر میں مفصل باب موجود ہیں جوآپ کی شجاعت و دلیری کے قصیدہ خواں ہیں اور مشہور و معروف ہے کہ آپ کے دست مبارک سے بڑے بڑے نامور پہلوان قتل ہوئے اور جو بھی آپ کے سامنے آیا بچ نہ سکا اور جو بھی بچ کے بھاگا تو اپنے آپ کو ننگا کرکے، اپنی شرمگاہ کو کھو ل کر جان بچائی ۔(۱)
____________________
(۱) تاریخ نے اس طرح کے تین حادثے ہمارے لیے نقل کئے ہیں :
سب سے پہلے طلحہ بن ابی طلحہ کہ جو جنگ احد میں مشرکوں کا علمبردار تھا جب حضرت علی کے مقابلے آیا تو ننگا ہوکر بھاگا۔اسی طرح جنگ صفین میں ایک مرتبہ بسر بن ارطاة پر حضرت علی نے حملہ کیا اور اس کو یقین ہوگیا کہ اب جان بچنے والی نہیں ہے تو کشف عورت کی، ننگا ہوگیا ، آپ نے منھ پھیر لیا اور وہ بھاگ گیا ۔۔ بقیہ اگلے صفحہ پر۔۔
یہ چاہتے ہیں کہ ان سب پر پردہ ڈال دیا جائے اور مطلقاً شجاعت کی نسبت ابوبکر کی طرف دی جائے جب کہ ہم نے صدر اسلام سے آخر تک ایک شخص کے متعلق بھی نہیں سنا کہ اس کو ابوبکر نے قتل کیا ہو !۔
٭ خود حضرت علی سے ہی روایت نقل کی گئی کہ آپ نے خطبہ کے دوران لوگوں سے دریافت کیا کہ سب سے بہادر کون ہے ؟ توسب نے کہا : آپ ۔
آپ نے فرمایا آگاہ ہوجاؤ کہ میں نے کسی سے بھی جنگ نہیں کی مگر انتقام کی خاطر لہذا تم مجھے بتاؤ کہ بہادر و دلیر کون شخص ہے ؟ سب نے کہا کہ نہیں معلوم کون ہے ۔
آپ نے فرمایا :ابوبکر ہے ، جنگ بدر میں ہم نے رسول خدا کے لیے ایک سائبان و محافظ قرار دیا اور آپس میں کہا کہ کون رسول خدا کے ساتھ رہے گا اور آپ کی حفاظت کرے گا تاکہ کوئی مشرک آپ تک نہ پہنچ سکے ، خدا کی قسم کوئی بھی آگے نہ بڑھا سوائے ابوبکر کے کہ جو ننگی تلوار کے ساتھ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے قریب کھڑے رہے اور اگر کوئی مشرک پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے قریب آتا تو ابوبکر اس پر حملہ آور ہوتے اور اس کے شر سے رسول خدا کو امان میں رکھتے ۔پس وہ سب سے زیادہ شجاع و بہادر ہیں !
____________________
۔۔۔ پچھلے صفحہ کا بقیہ۔
پھر دوسری مرتبہ عمرو بن عاص نے یہی واقعہ دہرایا کہ جو تاریخ میں بہت مشہور ہوا کہ جس کے ذکر کی ضرورت بھی نہیں ہے ۔ السیرة الحلبیہ:۲ ۴۹۸۔ السیرة النبویہ (ابن کثیر) :۳ ۴۰۔ البدایہ والنہایہ:۴ ۲۳۔
(۱) مسند بزار :۲ ۱۵، حدیث ۷۶۱۔ السیرة النبویة (ابن کثیر) : ۲ ۴۱۰۔ فتح الباری :۷ ۱۲۹۔
ان کے علاوہ دسیوں روایات ابوبکر کے بارے میں نقل کی گئی ہیں کہ جن میں سے بعض روایا ت خود امیر المؤمنین سے منسوب ہیں !۔
ان جھوٹی و من گھڑت روایا ت سے یہ چاہا گیا ہے کہ صدیقیت ، شجاعت ، اولویت و امارت اور خلافت کو ابوبکر کے لیے ثابت کریں ۔ اور یہ سب ان احادیث کے مقابل میں گھڑی گئیں کہ جو پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضرت علی کے بارے میں ارشاد فرمائی تھیں ۔
٭ کہتے ہیں کہ ابوبکر کو زمانۂ جاہلیت ہی میں صدیق کا لقب دیا گیا اور اس کے بعد محمد بن عبداللہ مبعوث بہ رسالت اور صادق و امین سے ملقب ہوئے۔!
٭ خود رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم ہ ی سے روایت نقل کی گئی کہ آپ نے ابوبکر سے فرمایا کہ اگر میں کسی کو دوست بناتا تو یقینا اپنا دوست و خلیل ابوبکر کو انتخاب کرتا ۔ یہ روایت گھڑی گئی چونکہ علی اور رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے درم یان برادری و عقد اخوت کہ جو شیعہ و سنی دونوں کے یہاں مسلم ہے اس کے مقابل میں پیش کی جاسکے ۔(۱)
کتنے تعجب کا مقام ہے کہ یہ روایت خلت (ابوبکر کو دوست بنانے والی روایت) صحیح ہوتی تو پھر کیوں رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے روز مواخات (ا یک دوسرے کو بھائی بنانے کے دن) ابوبکر کو اپنا بھائی نہ بنایا
____________________
(۱) صحیح بخاری :۱ ۱۱۹ـ ۱۲۰، کتاب الصلوة ،باب الخوخة و الممر فی المسجد۔ و جلد : ۴ ۱۹۰، کتاب بدء الخلق ، باب النبی سدوا الابواب الا باب ابی بکر ۔ صحیح مسلم : ۲ ۶۸، باب فضل بناء المسجد و الحث علیھا ۔ و جلد : ۷ ۱۰۸، کتاب فضائل الصحابہ ، باب من فضائل ابی بکر۔ سنن ابن ماجہ :۱ ۳۶، حدیث ۹۳۔سنن ترمذی : ۵ ۲۷۰، حدیث ۳۷۴۰۔
بلکہ ابوبکر کو عمر کا بھائی بنایا ۔(۱)
کیا بھائی و عقد اخوت میں دوستی نہیں ہے یا دوستی اس سے بڑھ کر کوئی اور چیز ہے ؟!۔
٭ انہیں گھڑی ہوئی روایات میں سے یہ بھی ہے کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا کہ اگر ابوبکر کو ترازو و میزان کے ایک کف و پلڑے میں رکھا جائے اور تمام امت کو دوسرے پلڑے میں تو ابوبکر کا پلڑا بھاری رہے گا ۔(۲)
یہ روایت اس حدیث کے مقابلے گھڑی گئی کہ جورسول خدا نے حضرت علی کے بارے میں فرمایا تھا : روز خندق علی کی ضربت عبادت ثقلین پر بھاری ہے ۔(۳)
____________________
(۱) مسند احمد :۵ ۲۵۹۔ مجمع الزوائد : ۹ ۵۸۔ المعجم الکبیر :۸ ۲۱۴۔ الموضوعات :۲ ۱۴۔ اللآلی المصنوعہ :۱ ۳۷۸۔(ابن جوزی و سیوطی کا بیان ہے کہ یہ روایت صحیح نہیں ہے ) دیکھیے اس روایت کے مصادر ، الغدیر :۷ ۲۸۵،باب ۱۴، ابوبکر فی کفة المیزان ۔
(۲) دیکھیے :ـ مستدرک حاکم :۳ ۳۲۔ تاریخ دمشق :۵ ۳۳۳۔ مناقب خوارزمی ۱۰۷، حدیث ۱۱۲۔ شواہد التنزیل :۲ ۱۴۔ الطرائف ۵۱۴۔
اس سلسلے میں ایک لطیفہ بھی مشہور ہے کہ یہ روایت جب بہلول کے سامنے پیش کی گئی تو بہلول نے فرمایا کہ اگر یہ روایت صحیح ہو تو ترازو خراب ہے ۔ دیکھیے الصوارم المھرقہ (قاضی نور اللہ شوشتری) ۳۲۹۔
(۳) اس روایت کے منابع پہلے بھی گذرچکے ہیں ، سیوطی نے اللآلی مصنوعہ میں بہت زیادہ صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے اور دیکھیے :ـ الغدیر :۳ ۱۲۷۔
٭ رد شمس (سورج کو پلٹانے) والی روایت کے مقابلے میں ایک روایت گھڑی گئی کہ سورج ابوبکر سے متوسل ہوا !۔(۱)
٭ اور جس طرح یہ ثابت ہے کہ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرما یا: علی کا نام ساق عرش پر لکھا ہے ۔( ۲ ) توابوبکر کے ل یے بھی کہا جانے لگا کہ ساق عرش پر ابوبکر کا نام اس طرح لکھا ہوا ہے ۔(۳)
٭ رسول خدا کی اس فرمائش کے مقابلے میںکہ آپ نے فرمایا : علی میرے بعد میرا خلیفہ و وصی و جانشین ہے اور جو اس کی اتباع و پیروی کرے گا وہ کامیاب ہے اور کبھی گمراہ نہیں ہوسکتا ۔ یہ روایت گھڑی گئی کہ خداوندعالم نے ابوبکر کو میرا خلیفہ بنایا اور وہ میرے دین میں میرا وصی ہے اس کی پیروی کرو اور اگر اس کی اطاعت کروگے تو راہ حق پر رہو گے ۔(۴)
____________________
(۱) اس روایت کا کامل متن ، الغدیر :۷ ۲۸۸ میں نزھة المجالس :۲ ۱۸۴ ، سے نقل ہوا ہے ۔
(۲) المعجم الکبیر :۳۰۰۲۲۔ نظم درر السمطین ۱۲۰۔ کنزالعمال : ۱۱ ۶۲۴، حدیث ۳۳۰۴۰۔ شواہد التنزیل : ۱ ۲۹۳، حدیث ۳۰۰۔ و صفحہ ۲۹۸، حدیث ۳۰۴۔ تاریخ بغداد :۱۱ ۱۷۳۔ تاریخ دمشق :۱۶ ۴۵۶۔
(۳) تاریخ دمشق :۳۷ ۳۴۴۔و جلد :۴۴ ۵۰۔ میزان الاعتدال :۳ ۱۱۷، حدیث ۵۸۰۰۔ الکامل (ابن عدی ) :۵ ۳۳۔
(۴) اس روایت کو ابونعیم نے فضائل الصحابہ میں نقل کیا ہے اور وصابی نے الاکتفاء میں نقل کیا ہے ، اور دیکھیے :ـ تاریخ بغداد :۱۱ ۲۹۲، ترجمہ ۶۰۷۱ و تاریخ دمشق :۳۰ ۲۲۴۔۔ کنزالعمال :۱۱ ۵۵، حدیث ۳۲۵۸۶۔
٭ حدیث طیر(۱) اور مرغ بریان کے مقابے میں ابوبکر کے لیے جگر بریان والی روایت جعل کی گئی ۔(۲)
٭ اور اس حدیث کے مقابلے میں کہ آپ نے فرمایا کہ خداوندعالم کی جانب سے رسول خدا اور خدیجہ کے لیے سلام آیا اور خدا کی مرضی فاطمہ کی مرضی و خوشنودی پر موقوف ہے ، یہ روایت گھڑی وجعل کی گئی کہ جبرئیل رسول خدا کے پاس آئے اور کہا کہ خداوندعالم نے ابوبکر کو سلام کہا ہے اور فرمایا ہے کہ کیا اس فقر و نادار ی میں خداسے راضی ہو یا ناراض۔(۳)
اور اسی طرح دسیوں روایات جھوٹی گھڑی گئیں کہ جن کو عقل و عرف و شرع بے بنیاد بتاتی ہے اور ان کے راوی و متن روایا ت خود ان کے کلام معصوم نہ ہونے پر گواہ ہیں ۔
بہر حال ہم اس مکمل گفتگو میں اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ قضیہ فدک و میراث میں کون صدیق و صادق اورسچا ہے اور کون کاذب و جھوٹا ہے ، یہ حادثہ رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ک ی وفات کے بعد پیش آیا کہ جس کو ہم نے روایات و نصوص کے ساتھ بیان کردیا ہے۔
____________________
(۱) سنن ترمذی :۵ ۳۰۰ ، حدیث ۳۸۰۵۔ مستدرک حاکم :۳ ۱۳۰ـ۱۳۱۔ المعجم الکبیر :۱ ۲۵۳۔ و جلد : ۱۰ ۲۸۲۔ معرفة علوم الحدیث ۶۔ مسند ابی حنیفہ ۲۳۴۔ نظم درر السمطین ۱۰۱۔
(۲) الریاض النضرہ :۲ ۱۳۵، حدیث ۱۰۔ مرأ ة الجنان :۱ ۶۸، احادیث السنة الثالثہ عشرة۔
(۲) تاریخ بغداد : ۲ ۱۰۵۔ تاریخ دمشق :۳ ۷۱۔ المجروحین (ابن حبان) :۲ ۱۸۵ ۔ میزان الاعتدال :۳ ۱۰۳۔ لسان المیزان :۴ ۱۸۵،(اس روایت کو ذہبی اور ابن حجر نے جھوٹ مانا ہے )۔
اس کتاب میں بے بنیادو جھوٹے دعوے اورسچائیت و واقعیت دونوں کو مد نظر رکھا گیا ہے ۔
اور اب جب کہ صدیقیت کے کچھ معیار ہمارے ایمان اور دل پر روشن ہوگئے ہیں یہ معیار ابوبکر ابن قحافہ پر تطبیق نہیں کرتے کہ جو ہم نے ان کی سیرت وزندگی میں محسوس کیا ہے ۔جب کہ صدیقیت علی و زہرا اور ان کی معصوم اولاد سے کاملاً مطابقت رکھتی ہے اور ان کے علاوہ کسی سے ہم آہنگ ومطابق نہیں ہے ۔
وآخردعوانا الحمدلله رب العالم ین
منابع و مآخذ
۱ـ قرآن کر یم
۲ـ نہج البلاغہ
۳ـ صح یفہ سجادیہ
۴ـ آلوس ی ،سید محمود (م ۱۲۷۰ھ)، روح المعان ی فی تفسیر القرآن العظیم و السبع المثانی ، ۳۰ جلد ی ، دار احیاء التراث العربی ، بیروت۔
۵ـ ابن اب ی الحدید ، عبد الحمید بن ھبة اللہ (م ۶۵۵ھ)، شرح نہج البلاغہ ، ۲۰ جلد ی ۔ تحقیق : ابو الفضل ابراہیم ، طبع اول ، دار احیاء الکتب العربیہ ، قاہرہ ، ۱۳۷۸ھ۔
۶ ـ ابن اب ی جمہور احسائی ، محمد بن علی (م ۸۸۰ھ ) ، عوال ی اللآلی العزیزیہ فی الاحادیث الدینیہ، ۴ جلد ی ۔ تحقیق : مجتبی عراقی ، طبع اول ، سید الشہداء ، قم، ۱۴۰۳ھ۔
۷ـ ابن اب ی شیبہ ، عبد اللہ بن محمد (م ۲۳۵ھ)، المصنف لابن اب ی شیبہ ، ۸ جلد ی ۔ تحقیق: سعید محمد لحام ، طبع اول ، دارالفکر ، بیروت ، ۱۴۰۹ھ۔
۸ ـ ابن اب ی عاصم ، عمرو (م ۲۸۷ھ)،السنة ۔ تحق یق: محمد ناصر الدین البانی ، طبع سوم، مکتب الاسلامی ، بیروت ، ۱۴۱۳ھ۔
۹ ـ ابن اب ی یعقوب ، احمد (م ۲۸۴ھ) ، تار یخ یعقوبی ، ۲ جلد ی ، دار صادر ، بیروت ۔
۱۰ ـ ابن اث یر ، محمد بن عبدالکریم (م ۶۳۰ھ)، اسد الغابہ،۵جلد ی ، انتشارات اسماعیلیان ، تہران۔
۱۱ ـ ابن اث یر ، محمد بن محمد (م ۶۳۰ھ ) ، الکامل ف ی التاریخ ، ۱۰ جلد ی ۔ تحقیق : ابی الفداء عبداللہ قاضی ، طبع دوم ، دارالکتب العلمیہ ، بیروت ، ۱۴۱۵ھ۔
۱۲ ـ ابن بابو یہ قمی ، علی بن حسین (م ۳۲۹ھ)، الامامة والتبصرة من الح یرة۔ تحقیق و نشر : مدرسہ امام مہدی ، قم۔
۱۳ ـ ابن بطر یق ، یحی بن حسن (م ۶۰۰ھ)، عمدہ ع یون صحاح الاخبار فی مناقب امام الابرار۔ تحقیق : جامعہ مدرسین ، طبع اول ، مؤسسہ نشر اسلامی ، قم ، ۱۴۰۷ھ۔
۱۴ ـ ابن جوز ی ، عبد الرحمن بن علی (م ۵۹۷ھ) ، الموضوعات ، ۳ جلد ی ۔ تحقیق : عبد الرحمن بن محمد عثمان ، طبع اول ، مکتبہ سلفیہ ، مدینہ ، ۱۳۸۶ھ۔
۱۵ ـ ابن جوز ی ، عبد الرحمن بن علی (م ۵۹۷ھ) ، زاد المس یر فی علم التفسیر ، ۸ جلد ی ، طبع اول ، دارالفکر ، بیروت ، ۱۴۰۷ھ۔
۱۶ ـ ابن جبان البست ی ، محمد (م ۳۵۴ھ)، المجروح ین من المحدثین و الضعفاء و المتروکین، ۳ جلد ی ، محمد ابراہیم زاید، طبع اول ، دار الوعی ، حلب ، ۱۳۹۶ھ۔
۱۷ ـ ابن حجر عسقلان ی ، احمدبن علی (م ۸۵۲ھ) ، القول المسدد ف ی مسند احمد ۔ تحقیق و نشر : مکتبہ ابن تیمیہ ، طبع اول ، قاہرہ ، ۱۴۰۱ھ۔
۱۸ ـ ابن حجر عسقلان ی ، احمدبن علی (م ۸۵۲ھ) ، المطالب العال یہ بزواید المسانید الثمانیہ ، ۸ جلد ی ۔ تحقیق : سعد بن ناصر شتری ، طبع اول ، دارالعاصمہ (سعودی) ، ۱۴۱۹ھ۔
۱۹ ـ ابن حجر عسقلان ی ، احمدبن علی (م ۸۵۲ھ) ، تعل یق التعلیق علی صحیح البخاری ، ۵ جلد ی ۔ تحقیق : سعید عبدالرحمن موسی قزقی ، طبع اول ، دار عمار ، بیروت ، ۱۴۰۵ھ۔
۲۰ـ ابن حجر عسقلان ی ، احمدبن علی (م ۸۵۲ ھ) ، الاصابہ فی تمییز الصحابہ ، ۸ جلد ی ۔ تحقیق : عادل احمد عبد الموجود ، وعلی محمد معوض ، طبع اول ، دار الکتب العلمیہ ، بیروت ، ۱۴۱۵ھ۔
۲۱ـ ابن حجر عسقلان ی ، احمدبن علی (م ۸۵۲ھ) ، فتح البار ی بشرح صحیح البخاری ، ۱۳ جلد ی ، طبع دوم، دارالمعرفہ ، بیروت ۔
۲۲ ـ ابن حجر عسقلانی ، احمدبن علی (م ۸۵۲ھ) ، تلخ یص الحبیر فی تخریج الرافعی الکبیر، ۱۲ جلد ی ، دار الفکر ، بیروب ۔
۲۳ ـ ابن حجر ھ یثمی ، احمد بن محمد (م ۹۷۴ھ)، الصواعق المحرقہ عل ی اھل الرفض والضلال و الزندقہ ، ۲جلد ی ۔ تحقیق : عبد الرحمن بعد اللہ زکی و کامل محمد خراط ، طبع اول ، مؤسسہ الرسالہ ، بیروت ، ۱۴۱۷ھ۔
۲۴ ـ ابن خلدون ، عبد الرحمن (م ۸۰۸)، مقدمہ ابن خلدون ، طبع چہارم، داراح یاء التراث العربی ، بیروت ۔
۲۵ـ ابن راھو یہ ، اسحاق بن ابراہیم (م ۲۳۸ھ)، مسند ابن اھو یہ ، ۵ جلد ی ۔ تحقیق: عبد الغفورعبد الحق حسین برد بلوسی ، طبع اول ، مکتبہ الایمان ، مدینہ ، ۱۴۱۲ھ ۔
۲۶ ـ ابن ز ین الدین ،حسن ، ( ۱۰۱۱ھ)، منتق ی الجمان فی الاحادیث الصحاح و الحسان ، ۳ جلد ی ، طبع اول ، جامعہ مدرسین ،قم، ۱۴۰۳ھ۔
۲۷ ـ ابن سعد ، محمد (م ۲۳۰ھ) ، طبقات ابن سعد (الطبقات الکبر ی) ، ۸ جلد ی ، دار صادر ، بیروت ۔
۲۸ ـ ابن س ید الناس ، محمد بن عبد اللہ (م ۷۳۴ھ ) ، ع یون الاثر فی فنون المغازی والشمائل والسیر ، ۲ جلد ی ، مؤسسہ عزالدین ، بیروت ، ۱۴۰۶ھ۔
۲۹ ـ ابن شاذان ، شاذان بن جبرئ یل (م ۶۶۰ھ)، الفضائل لابن شاذان ، مطبعہ ح یدریہ ، نجف ، ۱۳۸۱ھ۔
۳۰ ـ ابن شاہ ین ، عمر بن احمد (م ۳۸۵ھ) ، فضائل س یدة النساء ۔ تحقیق : ابو اسحاق جوینی اثری ، طبع اول ، مکتبة التربة الاسلامیہ، قاہرہ ، ۱۴۱۱ھ۔
۳۱ ـ ابن شبہ ، عمر بن شبہ (م ۲۶۲ھ)،تار یخ المدینہ و اخبار المنورہ ، ۴ جلد ی ۔ تحقیق: فہیم محمد شلتوت ، دارالفکر ، ۱۴۱۰ھ ۔
۳۲ ـ ابن شعبہ حران ی ، حسن ابن علی (چوتھی صدی کی شخصیت ) ، تحف العقول عن آل الرسول ۔ تحقیق: علی اکبر غفاری ۔ طبع دوم ، موسسہ انتشارات اسلامی ، قم ، ۱۴۰۴ھ۔
۳۳ ـ ابن شہر آشوب ، محمد بن عل ی (م ۵۸۸ھ)، مناقب آل اب ی طالب ، ۳ جلد ی ۔ تحقیق: نجف کے اساتذہ کا ایک گروہ ، طبع اول ، مکتبہ حیدریہ ، نجف ، ۱۳۷۶ھ۔
۳۴ ـ ابن طاؤس ، س ید احمد بن سعد الدین (م ۶۷۷ھ)، ع ین العبرہ فی غبن العترہ ، دار الشہاب ، قم۔
۳۵ ـ ابن طاؤس ، عل ی بن موسی (م ۶۶۴ھ) ،ال یقین باختصاص مولانا علی بامرة المؤمنین۔ تحقیق: انصاری ، طبع اول ، موسسہ دار الکتاب ، قم ، ۱۴۱۳ھ ۔
۳۶ ـ ابن طاؤس ، عل ی بن موسی (م ۶۶۴ھ) ،التحص ین ۔ تحقیق: انصاری ، موسسہ ثقلین ، قم ، ۱۴۱۳ھ ۔
۳۷ ـ ابن طاؤس ، عل ی بن موسی (م ۶۶۴ھ) ،اقبال الاعمال ، ۳ جلد ی ۔ تحقیق:جواد قیومی اصفہانی ، طبع اول ، دفتر انتشارات اسلامی ، قم ، ۱۴۱۴ھ۔
۳۸ ـ ابن طاؤس ، عل ی بن موسی (م ۶۶۴ھ) ،الطرائف ف ی معرفة مذاھب الطوائف، طبع اول ، مطبع خیام ، قم ، ۱۳۹۹ھ۔
۳۹ ـ ابن ط یفور ، ابو الفضل (م ۲۸۰ھ) ، بلاغات النساء ، کتاب خانہ بص یرتی ، قم ۔
۴۰ ـ ابن عبد البر نمر ی ، یوسف بن عبد اللہ (م ۴۶۳ھ)، الاست یعاب فی معرفة الاصحاب ، ۴جلد ی ۔ تحقیق: علی محمد بجاوی ، دا ر الجبل ، بیروت ، ۱۴۱۲ھ۔
۴۱ ـ ابن عبد البر نمر ی ، یوسف بن عبد اللہ (م ۴۶۳ھ)، التمہ ید لما فی المؤطا من المعانی والاسانید، ۲۴ جلد ی ۔ تحقیق: مصطفی بن احمد علوی ، و محمد عبد الکبیر بکری، وزارة عموم الاوقاف و الشؤون الاسلامیہ ، مراکش ، ۱۳۸۷ھ۔
۴۲ ـ ابن عد ی ، عبداللہ (م ۳۶۵ھ) ، الکامل ف ی ضعفاء الرجال ، ۷جلد ی ۔ تحقیق: سھیل زکار ، یحی مختار غزاوی ، طبع سوم ، دارالفکر ، بیروت ، ۱۴۰۹ھ۔
۴۳ ـ ابن عساکر ، عل ی ابن حسن (م ۵۷۱ھ)، تار یخ دمشق ، ۷۰ جلدی۔ تحقیق: ابو سعید عمر بن غرامہ عمری ، طبع اول ، دارالفکر ، بیروت ، ۱۹۹۵م۔
۴۴ ـ ابن عساکر ، عل ی ابن حسن (م ۵۷۱ھ)، ترجمہ الامام الحس ین من تاریخ دمشق ۔ تحقیق: محمد باقر محمودی ، طبع اول ، موسسہ محمودی ، بیروت ، ۱۴۰۰ھ ۔
۴۵ ـ ابن قت یبہ دینوری ، عبداللہ بن سالم (م ۲۷۰ یا ۲۸۲ھ )، الامامہ والس یاسہ ، ۴جلد ی ۔ تحقیق: طہ محمد زینی ، طبع اول ۔ موسسہ حلبی وشرکاء ، قاہرہ، ۱۴۱۳ھ۔
۴۶ ـ ابن قت یبہ دینوری ، عبداللہ بن سالم (م ۲۷۰ یا ۲۸۲ھ )،المعارف ۔ تحق یق: ثروت عکاشہ ، دارالمعارف ، قاہرہ۔
۴۷ ـ ابن ق یم جوزی ، محمد بن ابی بکر (م ۷۵۱ھ) ، زاد المعاد ف ی ھدی خیر العباد ، ۵جلد ی ۔ تحقیق: شعیب آرناؤوط و عبدالقادر آرناؤوط ، طبع چہادہم ، موسسہ الرسالہ ، بیروت ، ۱۴۰۷ھ۔
۴۸ ـ ابن کث یر ، اسماعیل (م ۷۷۴ھ) ، البدا یہ والنہایہ ، ۱۴ جلد ی ۔ تحقیق:علی شیری ، طبع اول ، داراحیاء التراث العربی ، بیروت ، ۱۳۰۸ھ۔
۴۹ ـ ابن کث یر ، اسماعیل (م ۷۷۴ھ) ،الس یرة النبویة لاابن کثیر ، ۴ جلد ی ۔ تحقیق: مصطفی عبد الواحد ، طبع اول ، دار المعرقہ ، بیروت ، ۱۳۹۶ھ۔
۵۰ ـ ابن کث یر ، اسماعیل (م ۷۷۴ھ) ، تفس یر ابن کثیر ـ تفسیر القرآن العظیم ـ ۴ جلد ی ۔ تحقیق: یوسف عبد الرحمن مرعشلی ، طبع اول دار المعرفہ ، بیروت ، ۱۴۱۲ھ۔
۵۱ـ ابن ماجہ ، محمد بن یزید (م ۲۷۵ھ) ، سنن ابن ماجہ ، ۲ جلد ی ۔ تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقی ، دارالفکر، بیروت ۔
۵۲ ـ ابن مع ین ، یحی (م ۲۳۳ھ) ، تار یخ ابن معین بروایة الدوری ، ۲ جلد ی ۔ تحقیق: عبداللہ احمد حسن ، دار القلم ، بیروت ۔
۵۳ ـ ابن منظور ، محمد بن مکرم (م ۷۱۱ھ)، لسان العرب ، ۱۵ جلد ی ، طبع اول ، دار احیاء التراث العربی ، بیروت ، ۱۴۰۵ھ۔
۵۴ ـ ابن ہشام حم یری (م ۲۱۳ھ) ، الس یرة النبویة لابن ھشام، ۶ جلد ی ۔ تحقیق: طہ عبد الرؤف سعد ، طبع اول ، دار الجبل ع بیروت ، ۱۴۱۱ھ۔
۵۵ ـ ابو نع یم اصفہانی ، احمد بن عبداللہ (م ۴۳۰ھ)، مسند اب ی حنیفہ ۔ تحقیق: نظر محمد فاریابی ، طبع اول ، مکتبہ کوثر ، ریاض، ۱۴۱۵ھ۔
۵۶ ـ ابو نع یم اصفہانی ، احمد بن عبداللہ (م ۴۳۰ھ)، حل یةالاولیاء و طبقات الاصفیاء ، ۱۰ جلد ی ، طبع چہارم ، دار الکتب العربی ، بیروت ، ۱۴۰۵ھ۔
۵۷ ـ ابو نع یم اصفہانی ، احمد بن عبداللہ (م ۴۳۰ھ)،ذکر اخبار اصبہان ،۲ جلد ی ، طبع لندن ، اپریل ۱۹۳۴م۔
۵۸ ـ اب ی السعود ، محمد بن محمد (م ۹۸۲ھ)، تفس یر ابی السعود ـ ارشاد العقل السلیم الی مزایا القرآن الکریم ـ ۹ جلد ی ، داراحیاء التراث العربی ، بیروت ۔
۵۹ ـ اب ی حاتم ، محمد بن حبان (م ۳۵۴ھ )، صح یح ابن حبان ، بترتیب ابن بلبان ، ۱۶ جلد ی ـ بترتیب علی بن بلبان فارسی ( ۷۳۹ھ)ـ تحق یق: شعیب ارنؤوط ، طبع دوم ، موسسہ الرسالہ ، بیروت ، ۱۴۱۴ھ۔
۶۰ ـ اب ی حاتم ، محمد بن حبان (م ۳۵۴ھ )، ثقات ابن حبان ، ۹ جلد ی ۔ تحقیق: عبد المعید خان، طبع اول ، مجلس دائرة المعارف العثمانیہ ، حیدرآباد ،ہند ، ۱۳۹۳ھ۔
۶۱ ـ اب ی حیان اندلسی ، محمد بن یوسف (م ۷۴۵ھ)، تفس یر البحر المحیط ، ۸ جلد ی ۔ تحقیق: عادل احمد عبد الموجود ، و علی محمد عوض ، طبع اول ، دار الکتب العلمیہ ، بیروت ، ۱۴۲۲ھ ۔
۶۲ ـ اب ی داؤد ، سلیمان بن اشعث (م ۲۵۷ھ)، سنن اب ی داؤد، ۲ جلد ی۔ تحقیق: شعیب ارنؤوط و حسین اسد، طبع نہم، موسسہ الرسالہ، بیروت ، ۱۴۱۳ھ۔
۶۳ ـ اب ی یعلی موصلی ، احمد بن علی (م ۳۰۷ھ)،مسند اب ی یعلی الموصلی ، ۱۳ جلد ی۔ تحقیق: حسین سلیم اسد ، دار مأمون ، دمشق۔
۶۴ ـ احمد بن حنبل (م ۲۴۱ھ)، فضائل الصحابہ ، ۲ جلد ی ۔ تحقیق: وصی اللہ محمد عباس ، طبع اول ، موسسہ الرسالہ ، بیروت ، ۱۴۰۳ھ۔
۶۵ ـ احمد بن حنبل (م ۲۴۱ھ)، مسند احمد ، ۶ جلد ی، دار صادر بیروت۔
۶۶ ـ احمد زک ی صفوت ، جمہرة رسائل العرب فی عصور العربیة الزاھرہ، ۴ جلد ی ، دار المطبوعات العربیہ ، قاہرہ۔
۶۷ ـ احمد زک ی صفوت ، جمہرة الخطب العرب، ۳ جلد ی ، مکتبہ العلمیہ، بیروت۔
۶۸ ـ اربل ی ، علی بن عیسی (م ۶۹۳ھ) ،کشف الغمہ ف ی معرفة الآئمہ، ۳جلد ی ، طبع دوم ، دار الاضوائ، بیروت، ۱۴۰۵ھ۔
۶۹ ـ اسکاف ی ، محمد بن عبدا للہ (م ۲۲۰ھ)، المع یار و الموازنہ ۔ تحقیق: محمد باقر محمودی ۔
۷۰ ـ ام ینی ، عبد الحسین (م ۱۳۹۳ھ)، الغد یر فی الکتاب و السنة وا لادب، ۱۲ جلد ی ، طبع چہارم، دارالکتاب العربی ، بیروت ، ۱۳۹۸ھ۔
۷۱ ـ ا یجی ، عبدالرحمن ابن احمد(م ۷۵۶ھ)، المواقف، ۳ جلد ی ۔ تحقیق: عبد الرحمن عمیرہ ، طبع اول ، دارالجبل ، بیروت ، ۱۴۱۷ھ۔
۷۲ ـ باغون ی ، محمد بن احمد (م ۸۷۱ھ)، جواہر المطالب ف ی مناقب الامام علی ابن ابی طالب ، ۲ جلد ی۔ تحقیق: محمد باقر محمودی ، طبع اول ، مجتمع احیاء فرھنگ اسلامی ، قم ، ۱۴۱۵ھ۔
۷۳ ـ بحران ی ، سید ہاشم (م ۱۱۰۷ھ)، غا یة المرام و حجة الخصام فی تعیین الامام من طریق الخاص و العام ، ۷ جلد ی ۔ تحقیق: سید علی عاشور، بیروت۔
۷۴ ـ بخار ی ، اسماعیل بن ابراہیم (م ۲۵۶ھ )،تار یخ الکبیر، ۹ جلد ی ۔ تحقیق: ہاشم ندوی، طبع اول ، دارالفکر ، بیروت۔
۷۵ ـ بخار ی ، اسماعیل بن ابراہیم (م ۲۵۶ھ )،الادب المفرد ۔تحق یق : محمد فؤاد عبد الباقی ، طبع سوم ، موسسہ الکتب الثقافیہ، ۱۴۰۹ھ۔
۷۶ ـ بخار ی ، اسماعیل بن ابراہیم (م ۲۵۶ھ )،صح یح البخاری ، ۸جلد ی ، طبع اول ، دارالفکر العربی ، افست از چاپ دار الطباعة العامرہ (استانبول )، ۱۴۰۱ھ۔
۷۷ ـ بزار ، احمد بن عمر و (م ۲۹۲ھ)، مسند البزار ، ۱۰ جلد ی ۔ تحقیق: محفوظ رحمن زین اللہ ، طبع اول ، موسسہ علوم القرآن ، بیروت ، و مکتبہ العلوم والحکم ، مدینہ ، ۱۴۰۹ھ۔
۷۸ ـ بغداد ی ، محمد بن حبیب (م ۲۴۵ھ)، المنمق ف ی اخبار قریش ۔ تحقیق: خورشید احمد فاروق ، طبع اول ، طبع اول ، عالم الکتب ، بیروت ، ۱۴۰۵ھ۔
۷۹ ـ بغداد ی ، محمد بن حبیب (م ۲۴۵ھ)، المح یر ، نسخہ خطی۔
۸۰ ـ بغو ی ، حسین بن مسعود (م ۵۱۶ھ)، تفس یر البغوی ـ معالم التنزیل فی التفسیر، ۴ جلد ی ۔ تحقیق : خالد عبد الرحمن عک، دار المعرفہ ، بیروت ۔
۸۱ ـ بلاذر ی ، احمد بن یحی (تیسری صدی ہجری کی شخصیت) ، انساب الاشراف ۔ تحقیق: محمد باقر محمودی ، طبع اول ، موسسہ اعلمی ، بیروت، ۱۳۹۴ھ۔
۸۲ ـ ب یاضی ، علی بن یونس عاملی (م ۸۷۷ھ)، الصراط المستق یم الی مستحقی التقدیم ، ۳ جلد ی ۔ تحقیق : محمد باقر محمودی ، طبع اول ، مکتبہ الرضویہ (افست از مطبعہ حیدریہ ) نجف، ۱۳۸۴ھ۔
۸۳ ـ ب یہقی ، احمد بن حسین (م ۴۵۸ھ) ، السنن الکبر ی ، ۱۰ جلد ی ، دارالفکر ، بیروت ۔
۸۴ ـ ترمذ ی ، محمد بن عیسی (م ۲۷۹ھ)، سنن الترمذ ی ، ۵ جلد ی ۔ تحقیق : عبد الوہاب عبد اللطیف ۔ دارالفکر ، بیروت ، ۱۴۰۳ھ۔
۸۵ ـ تستر ی ، قاضی نوراللہ ( ۱۰۱۹ھ)، الصوارم المھرقہ ف ی جواب المحرقہ ۔ تحقیق : جلال الدین محدث، موسسہ نہضت ،قم ۔
۸۶ ـ ثعالب ی ، عبد الرحمن بن محمد (م ۸۷۵ھ) ، تفس یر الثعالبی ـ جواہرالحسان فی تفسیر القرآن ـ ۵ جلد ی ۔ تحقیق : عبد الفتاح ابو سنہ ، علی محمد عوض ، و عادل احمد عبد الموجود ، طبع اول ، دار احیاء التراث العربی ، بیروت ، ۱۴۱۸ھ۔
۸۷ ـ ثقف ی ، ابراہیم بن محمد (م ۲۸۳ھ)، الغارات ، ۲ جلد ی ۔ تحقیق: سید جلال الدین محدث، دار بھمن ، تہران۔
۸۸ ـ جزائر ی ، طاہر بن صالح (م ۱۳۳۸ھ)، توج یہ النظر الی اصول الاثر ، ۲ جلد ی ۔ تحقیق : عبد الفتاح ابو عذہ ، طبع اول ، مکتبہ مطبوعات اسلامیہ ، حلب ، ۱۴۱۶ھ۔
۸۹ ـ جصاص ، احمد بن عل ی رازی (م ۳۷۰ھ)، احکام القرآن ، ۳ جلد ی ۔ تحقیق : عبدالسلام محمد علی شاہین، طبع اول ، دارالکتب العلمیہ، بیروت ، ۱۴۱۵ھ۔
۹۰ ـ جوہر ی ، احمد بن عبد العزیز (م ۳۲۳ھ)، السق یفہ و فدک ۔ تحقیق: محمد ہادی امینی ، طبع دوم شرکة الکتبی ، بیروت ، ۱۴۱۳ھ۔
۹۱ ـ حاکم حسکان ی ، عبید اللہ بن احمد(پانچویں صدی ہجری کے علماء میں سے)، شواہد التنزیل لقواعد التفضیل، ۲جلد ی ۔ تحقیق: محمد باقر محمودی، طبع اول، مجمع احیاء فرھنگ اسلامی، قم، ۱۴۱۱ھ۔
۹۲ ـ حاکم ن یشاپوری ، محمد بن عبداللہ (م ۴۰۵ھ)، المستدرک عل ی الصحیحین ، ۴جلد ی۔ تحقیق: یوسف مرعشلی ، طبع اول ، دارالمعرفہ ، بیروت ، ۱۴۰۶ھ۔
۹۳ ـ حاکم ن یشاپوری ، محمد بن عبداللہ (م ۴۰۵ھ)، معرف علوم الحد یث ۔ تحقیق : سید معظم حسین ۔ طبع چہارم، دار الآفاق ، بیروت ، ۱۴۰۰ھ۔
۹۴ ـ حر عامل ی ، محمد بن حسن (م ۱۱۰۴ھ)، وسائل الش یعہ الی تحصیل مسائل الشریعہ ، ۳۰جلد ی۔ تحقیق و نشر: موسسہ آل البیت، طبع سوم ، قم، ۱۴۱۴ھ۔
۹۵ ـ حس ینی استرآبادی ، سید علی (م ۹۶۵ھ)، تاو یل الآیات الباھرہ فی فضائل العتر الطاہرہ، ۲ جلد ی۔ تحقیق: مدرسہ امام مھدی ، طبع اول ، کتاب فروشی امیر ، قم ، ۱۴۰۷ھ۔
۹۶ ـ حلب ی، علی بن برہان الدین(م ۱۰۴۴ھ)، الس یر الحلبیہ، ۳جلد ی، طبع اول ، دار المعرفہ ، بیروت ، ۱۴۰۰ھ۔
۹۷ ـ حل ی ، حسن بن یوسف(م ۷۲۶ھ)، کشف المراد ف ی شرح تجرید الاعتقاد ۔ تحقیق : حسن حسن زادہ عاملی ۔ موسسہ انتشارات اسلامی ، قم، ۱۴۰۷ھ۔
۹۸ ـ حل ی ، حسن بن یوسف(م ۷۲۶ھ)،کشف ال یقین فی فضائل امیر المومنین ۔ تحقیق: حسین درگاہی و محمد حسن حسین آبادی ۔ طبع اول ،تہران ۔ ۱۴۱۱ھ۔
۹۹ ـ حمو ی ، یاقوت بن عبداللہ (م ۶۲۶ھ)، معجم البلدان ، ۵جلد ی ، داراحیا التراث العربی ، بیروت ، ۱۳۹۹ھ۔
۱۰۰ ـ حم یدی ، محمد بن فتوح (م ۴۸۸ھ)، الجمع ب ین الصحیحین البخاری و مسلم، ۴جلد ی۔ تحقیق: علی حسین بواب، طبع دوم ، دارابن حزم بیروت ، ۱۴۲۳ھ۔
۱۰۱ ـ خص یبی ، حسین بن حمدان ((م ۳۵۸ھ)، الھدا ی الکبری ، طبع چہارم ، موسسہ البلاغہ ، بیروت۔
۱۰۲ ـ خطاب ی ، احمد بن محمد (م ۳۸۸ھ)، غر یب الحدیث ، ۳ جلد ی۔ تحقیق: عبدالکریم ابراہیم غرباوی، جامعہ ام القری، مکہ۔
۱۰۳ ـ خط یب بغدادی، احمد بن علی (م ۴۶۳ھ)، تال ی تلخیص المتشابہ ، ۲جلد ی۔ تحقیق: مشہور بن حسن آل سلمان، احمد شقیرات ، طبع اول ، دار الصمیعی ، ریاض ، ۱۴۱۷ھ۔
۱۰۴ ـ خط یب بغدادی، احمد بن علی ((م ۴۶۳ھ)،تار یخ بغداد، ۱۴جلد ی۔ تحقیق: مصطفی عبد القادر عطا، طبع اول، دارالکتب العلمیہ ، بیروت ، ۱۴۱۷ھ۔
۱۰۵ ـ خوارزم ی ، موفق بن احمد(م ۵۶۸ھ)، مناقب خوارزم ی ۔ تحقیق : محمد باقر محمودی ، طبع دوم ، موسسہ نشر اسلامی ، قم ، ۱۴۱۱ھ۔
۱۰۶ ـ دارقطن ی ، علی بن عمر (م ۳۸۵ھ)، رو یة اللہ ۔ تحقیق: مبروک اسماعیل مبروک ، مکتبہ القرآن ، قاہرہ ۔
۱۰۷ ـ دارقطن ی ، علی بن عمر (م ۳۸۵ھ)، سنن دارقطن ی ، ۴ جلد ی ۔ تحقیق: مجدی بن منصور ، طبع اول ، دارالکتب العلمیہ ، بیروت ، ۱۴۱۷ھ۔
۱۰۸ ـ دارقطن ی ، علی بن عمر (م ۳۸۵ھ)، العلل الواردہ ف ی الاحادیث النبویہ، ۱۱ جلد ی ۔ تحقیق: محفوظ الرحمن زین اللہ سلفی ، طبع اول ، دارطیبہ ، ریاض ، ۱۴۰۵ھ۔
۱۰۹ ـ دولاب ی ، محمد بن احمد (م ۳۱۰ھ)، الذر یة الطاہرة النبویہ ۔ تحقیق: سعد المبارک حسن، طبع اول دار السلفیہ ، کویت ، ۱۴۰۷ھ۔
۱۱۰ـ د یلمی ، شیرویہ بن شہردار(م ۵۰۹ھ)، الفردوس بماثورالخطاب، ۵ جلد ی۔ تحقیق: سعید بن بسیونی زغلول ، طبع اول ، دارالکتب العلمیہ ، بیروت ، ۱۴۰۶ھ۔
۱۱۱ ـ ذہب ی ، محمد بن احمد(م ۷۴۸ھ)، المغن ی فی الضعفاء ۔ تحقیق: نورالدین عتر۔
۱۱۲ ـ ذہب ی ، محمد بن احمد(م ۷۴۸ھ)، س یر اعلام النبلاء ، ۲۳ جلد ی ۔ تحقیق: شعیب ارنؤوط و حسین اسد، طبع نہم ، موسسہ الرسالہ، بیروت ، ۱۴۱۳ھ۔
۱۱۳ ـ ذہب ی ، محمد بن احمد(م ۷۴۸ھ)، م یزان الاعتدال فی نقد الرجال ، ۴ جلد ی ۔ تحقیق: علی محمد بجاوی ، طبع اول ، دارالمعرفہ ، بیروت ، ۱۳۸۲ھ۔
۱۱۴ ـ ذہب ی ، محمد بن احمد(م ۷۴۸ھ)، تذکرة الحفاظ ، ۴ جلد ی ، طبع اول ، دارالکتب العلمیہ ، بیروت۔
۱۱۵ ـ راز ی ، تمام بن محمد (م ۴۱۴ھ)، الفوائد ، ۲ جلد ی ۔تحقیق: حمدی عبد المجید سلفی ، طبع اول ، مکتبہ الرشید ، ریاض ، ۱۴۱۲ھ۔
۱۱۶ ـ راز ی ، عبد الرحمن بن ابی حاتم (م ۳۲۷ھ) ، الجرح و التعد یل ، ۹ جلد ی ، طبع اول ، دار احیاء التراث العربی ، بیروت ، ۱۳۷۱ھ۔
۱۱۷ ـ راز ی ، محمد بن عمر(م ۶۰۶ھ)، المحصول ف ی علم اصول الفقہ، ۶ جلد ی ۔ تحقیق: طہٰ جابر فیاض علوانی ، طبع دوم ، موسسہ الرسالہ ، بیروت ، ۱۴۱۲ھ۔
۱۱۸ ـ رافع ی قزوینی ، عبدالکریم (م ۶۲۲ھ)، التدو ین فی اخبار قزوین۔ تحقیق: عزیز اللہ عطاردی ، بیروت ، ۱۹۸۷ئ۔
۱۱۹ ـ زرکش ی ، محمد بن عبداللہ (م ۷۹۴ھ)، البرہان ف ی علوم القرآن ، ۴ جلد ی ۔ تحقیق: محمد ابوالفضل ابراہیم ، طبع اول ، داراحیاء الکتب العربیہ ،قاہرہ، ۱۳۷۶ھ۔
۱۲۰ ـ زرند ی ، محمد بن یوسف(م ۷۵۰ھ)، نظم درر السمط ین فی فضائل المطصفی و المرتضی والبتول والسبطین، طبع اول مکتبہ امیر المؤمنین العامہ ، نجف ، اشرف، ۱۳۷۷ھ۔
۱۲۱ ـ زمخشر ی ، محمود بن عمر(م ۴۶۷ھ)، تفس یر الکشاف عن حقائق التنزیل و عیون الاقاویل فی وجوہ التاویل، ۴ جلد ی۔ تحقیق: عبد الرزاق مہدی ، داراحیاء التراث العربی ، بیروت ۔
۲۲ ۱ـ سبط ، ابراہ یم بن محمد (م ۸۴۱ھ)، الکشف الح یث عمن روی بوضع الحدیث ۔ تحقیق: صبحی سامرائی ، طبع اول، مکتبہ النھضة العربیہ، بیروت۔
۱۲۳ ـ سلم ی ،محمدبن حسین (م ۴۱۲ھ)، تفس یر السلمی ـ حقائق التفسیرـ ۲ جلد ی ۔ تحقیق: سید عمران ، طبع اول ، دار الکتب العلمیہ ، بیروت ، ۱۴۲۱ھ۔
۱۲۴ ـ سل یمان بن سالم ، العقیدة فی اھل البیت بین الافراط و التفریط، ۲ جلد ی ، طبع اول ، دار اضواء السلف، ریاض، ۱۴۲۵ھ۔
۱۲۵ ـ سل یم بن قیس(م ۷۶ھ)، کتاب سلیم بن قیس ، ۳جلد ی۔ تحقیق: محمد باقر انصاری زنجانی ۔
۱۲۶ ـ سمعان ی ، عبد الکریم (م ۵۶۲ھ) ،الانساب ، ۵ جلد ی۔ تحقیق: عبداللہ عمر بارودی ، طبع اول ، دار الجنان ع بیرو ت ، ۱۴۰۸ھ۔
۱۲۷ ـ سہ یلی ، عبد الرحمن بن عبداللہ (م ۵۸۱ھ) ، الروض الانف ف ی تفسیر السیرة النبویہ لابن ھشام ، ۴ جلد ی۔ تحقیق: مجدی بن منصور بن سید شوری ، طبع اول ، دارالکتب العلمیہ ، بیروت ، ۱۴۱۸ھ۔
۱۲۸ ـ س یوطی ، عبد الرحمن (م ۹۱۱ھ)،تار یخ الخلفاء ۔ تحقیق: محمد محی الدین عبد الحمید ، طبع اول ، مطبعہ السعادہ ، مصر، ۱۳۷۱ھ۔
۱۲۹ ـ س یوطی ، عبد الرحمن (م ۹۱۱ھ)،الآل ی المصنوعہ فی الاحادیث الموضوعہ ، ۲ جلد ی ۔ تحقیق: ابو عبد الرحمن ، صلاح بن محمد بن عویضہ ، طبع دوم ، دارالکتب العلمیہ ، بیروت ، ۱۴۱۷ھ۔
۱۳۰ ـ س یوطی ، عبد الرحمن (م ۹۱۱ھ)، الجامع الصغ یر فی احادیث البشیر النذیر، ۲ جلد ی ، طبع اول ، دار الفکر ، بیروت ، ۱۴۰۱ھ۔
۱۳۱ ـ س یوطی ، عبد الرحمن (م ۹۱۱ھ)،الدر المنثور ، ۶ جلد ی ، طبع اول ، دارالمعرفہ ، جدہ ، ۱۳۶۵ھ۔
۱۳۲ ـ س یوطی ، عبد الرحمن (م ۹۱۱ھ)،الخصائص الکبر ی، ۲ جلد ی ، دارالکتب العلمیہ ، بیروت ، ۱۴۰۵ھ۔
۱۳۳ ـ شاش ی ، ھیثم بن کلیب (م ۳۳۵ھ)، مسند الشاش ی ، ۲ جلد ی۔ تحقیق: محفوظ الرحمن زین اللہ ، طبع اول ، مکتبہ العلوم و الحکم، مدینہ ، ۱۴۱۰ھ۔
۱۳۴ ـ شرف الد ین، عبد الحسین(م ۱۳۷۷ھ)، المراجعات ۔ تحق یق: حسین راضی ، طبع دوم، جمعیة الاسلامیہ ، بیروت ، ۱۴۰۲ھ۔
۱۳۵ ـ شر یف رضی ،محمد بن حسین (م ۴۰۶ھ)، خصائص الآئمہ ۔ تحق یق: محمد ہادی امینی ، طبع اول ، مجمع بحوث اسلامیہ ، آستان قدس رضوی ، مشہد ، ۱۴۰۶ھ۔
۱۳۶ ـ شر یف مرتضی ، علی بن حسین(م ۴۳۶ھ)، الشاف ی فی الامامہ ، ۴ جلد ی۔ تحقیق: سید عبد الزھراحسینی ، طبع اول ، موسسہ صادق ، تہران ، ۱۴۱۰ھ۔
۱۳۷ ـ شوکان ی ، محمد بن علی (م ۱۲۵۰ھ)، فتح القد یر الجامع بین فنی الروایة و الدرایة من علم التفسیر، ۵جلد ی، عالم الکتب ، بیروت۔
۱۳۸ ـ شہرستان ی ، سید علی (مؤلف کتاب حاضر)، منع تدوین الحدیث ، طبع سوم، دارالغدیر، قم۔
۱۳۹ ـ شہرستان ی ، سید علی (مؤلف کتاب حاضر)، تاریخ الحدیث النبوی الشریف، دار الغدیر، قم۔
۱۴۰ ـ ش یبانی ، عبداللہ بن احمد (م ۲۹۰ھ)، السنہ ۔ تحق یق: محمد سعید سالم قحطانی ، طبع اول دارابن قیم ، دمام السعودیہ، ۱۴۰۶ھ۔
۱۴۱ ـ صالح ی شامی ، محمد بن یوسف (م ۹۴۲ھ)، سبل الھد ی والرشاد فی سیرة خیر العباد، ۱۲ جلد ی ، تحقیق: عادل احمد عبدالموجود و علی محمد معوض ، طبع اول ، دار الکتب العلمیہ ، بیروت ۱۴۱۴ھ۔
۱۴۲ ـ صدوق ، محمد بن عل ی (م ۳۸۱ھ)، الامال ی ۔ تحقیق: بخش پژوھش ھای اسلامی ، طبع اول ، موسسہ بعثت ، قم ، ۱۴۱۷ھ۔
۱۴۳ ـ صدوق ، محمد بن عل ی (م ۳۸۱ھ)،معان ی الاخبار ۔ تحقیق: علی اکبر غفاری ، طبع اول ، دارالنشر الاسلامی ، تہران ، ۱۹۸۲ئ۔
۱۴۴ ـ صدوق ، محمد بن عل ی (م ۳۸۱ھ)،الخصال ۔ تحق یق: علی اکبر غفاری ، طبع دوم ، جامعہ مدرسین، قم ، ۱۴۰۳ھ۔
۱۴۵ ـ صدوق ، محمد بن عل ی (م ۳۸۱ھ)،کمال الد ین و تمام النعمہ ۔ تحقیق: علی اکبر غفاری ، موسسہ انتشارات اسلامی ، قم ، ۱۴۰۵ھ۔
۱۴۶ ـ صدوق ، محمد بن عل ی (م ۳۸۱ھ)،ع یون اخبار الرضا ، ۲جلد ی۔ تحقیق: شیخ حسین اعلمی ، طبع اول ، موسسہ اعلمی ، بیروت ، ۱۴۰۴ھ۔
۱۴۷ ـ صدوق ، محمد بن عل ی (م ۳۸۱ھ)،علل الشر یع ، ۲ جلد ی ، طبع اول ، مکتبہ حیدری ، نجف، ۱۳۸۵ھ۔
۱۴۸ ـ صفار ، محمد بن حسن(م۲۹۰ھ)، بصائر الدرجات ،موسسہ اعلم ی ، تہران ، ۱۴۰۴ھ ۔
۱۴۹ ـ صفور ی ، عبد الرحمن (م ۸۸۴ھ)، نزھة المجالس ومنتخب النفائس ، ۲ جلد ی ، طبع شدہ در مصر، ۱۳۲۰ھ۔
۱۵۰ ـ صنعان ی ، عبدالرزاق (م ۲۱۱ھ)، المصنف لعبد الرزاق، ۱۱ جلد ی۔ تحقیق: حبیب رحمن اعظمی ، مجلس العلمی ، بیروت۔
۱۵۱ ـ ضحاک ش یبانی ، احمد بن عمرو(م ۲۸۷ھ)، الآحاد والمثان ی ، ۶ جلد ی ۔ تحقیق: فیصل احمد، طبع اول ، دار الدرایہ ، ریاض، ۱۴۱۱ھ۔
۱۵۲ ـ طبران ی ، سلیمان بن احمد (م ۳۶۰ھ)، المعجم الکب یر ، ۲۵ جلد ی ۔ تحقیق: حمدی عبدالمجیدسلفی ، طبع دوم ، مکتبہ ابن تیمیہ ، قاہرہ۔
۱۵۳ـ طبران ی ، سلیمان بن احمد (م ۳۶۰ھ)،مسند الشام یین، ۴جلد ی ۔ تحقیق: حمدی عبدالمجید سلفی ، طبع دوم ، موسسہ الرسالہ ،بیروت، ۱۴۱۷ھ۔
۱۵۴ـ طبران ی ، سلیمان بن احمد (م ۳۶۰ھ)، المعجم الاوسط، ۹جلد ی ۔ تحقیق: طارق بن عوض اللہ و عبد الحسین بن ابراہیم حسینی ،دارالحرمین،مصر۔
۱۵۵ـ طبرس ی ، احمد بن علی (م ۵۴۸ھ)، الاحتجاج ، ۲ جلد ی۔ تحقیق: سید محمد باقر خرسان، دارالنعمان، نجف ، ۱۳۸۶ھ۔
۱۵۶ـ طبرس ی ، فضل بن حسن (م ۵۶۰ھ)، مجمع الب یان فی تفسیر القرآن، ۱۰ جلد ی ۔ تحقیق: علماء و محقیقین کا ایک گروہ ، طبع اول ، موسسہ اعلمی ، بیروت ، ۱۴۱۵ھ۔
۱۵۷ ـ طبرس ی ، فضل بن حسن (م ۵۶۰ھ)،اعلام الور ی باعلام الھدی، ۲ جلد ی ۔ تحقیق و نشر: موسسہ آل البیت ، طبع اول، قم۔
۱۵۸ ـ طبر ی ، ابو جعفر بن ابی القاسم (چھٹی صدی ہجری کے شیعہ علماء میں سے)، بشارة المصطفی ۔ تحقیق: جواد قیومی اصفہانی، طبع اول ، موسسہ انتشارات اسلامی ، قم ، ۱۴۲۰ھ۔
۱۵۹ ـ طبر ی ، محمد بن جریربن رستم(چوتھی صدی ہجری کے شیعہ علماء میں سے)، المسترشدفی امامة امیر المؤمنین علی بن ابی طالب ، طبع اول ، موسسہ فرہنگ اسلامی ، تہران، ۱۴۱۵ھ۔
۱۶۰ ـ طبر ی ، محمد بن جریر(م ۳۱۰ھ) ، تفسیر الطبری ـ جامع البیان فی تفسیر القرآن، ۳۰ جلد ی۔ تحقیق: خلیل مس ، و صدقی جمیل عطار ، طبع اول ، دار الفکر ، بیروت ، ۱۴۱۵ھ۔
۱۶۱ـ طبر ی ، محمد بن جریر(م ۳۱۰ھ)، تار یخ الطبری ـ تاریخ الامم و الملوک ـ ۸ جلد ی ۔ تحقیق: بزرگ علمائ، موسسہ اعلمی ، بیروت ۔
۱۶۲ ـ طبر ی ، محمد بن جریر(م ۳۱۰ھ)، المنتخب من ذ یل المذیل ، طبع اول موسسہ اعلمی ، بیروت ، ۱۳۵۸ھ۔
۱۶۳ ـ طحاو ی ، احمد بن سلمہ(م ۳۲۱ھ)، شرح معان ی الآثار ، ۴ جلد ی ۔ تحقیق: محمد زھری نجار (جامعہ ازہر کے علماء میں سے )، طبع سوم ، دارالکتب العلمیہ ، بیروت ، ۱۴۱۶ھ۔
۱۶۴ ـ طوس ی ، محمد بن حسن(م ۴۶۰ھ)، الامال ی ۔ تحقیق: تحقیقات اسلامی گروہ ، طبع اول، خانہ فرھنگ ، قم، ۱۴۱۴ھ۔
۱۶۵ ـ طوس ی ، محمد بن حسن(م ۴۶۰ھ)، تہذ یب الاحکام ، ۱۰ جلد ی ۔ تحقیق: سید حسن خرسان و شیخ محمد آخوندی ،طبع چہارم ، دارالکتب الاسلامیہ ، تہران، ۱۹۸۶ئ۔
۱۶۶ ـ طوس ی ، محمد بن حسن(م ۴۶۰ھ)، الاستبصار ، ۴جلد ی ۔ تحقیق: سید حسن موسوی خرسان ، و شیخ علی آخوندی ، طبع چہارم، انتشارات اسلامی ، تہران، ۱۹۸۴ئ۔
۱۶۷ ـ طوس ی ، محمد بن محمد(م ۶۷۲ھ)، تجر ید الاعتقاد۔ تحقیق: محمد جواد حسینی جلالی ، طبع اول ، دفتر انتشارات اسلامی ، قم ، ۱۴۰۷ھ۔
۱۶۸ ـ ط یالسی ، سلیمان بن داؤد(م ۲۰۴ھ)،مسند اب ی داؤد الطیالسی ، دارالحدیث ، بیروت ۔
۱۶۹ ـ عاصم ی ، عبد الملک بن حسین(م ۱۱۱۱ھ)، سمط النجوم العوال ی فی انباء الاوائل و التوالی، ۴ جلد ی ۔ تحقیق: عادل احمد عبد الموجود و علی محمد عوض ، طبع اول ، دارالکتب العلمیہ ، بیروت ، ۱۴۱۹ھ۔
۱۷۰ ـ عبد اللہ بن احمد بن حنبل (م ۹۰ ۲ھ)، مسائل احمد بروا یة ابنہ عبداللہ ۔ تحقیق: زہیر شاویس، طبع اول ، مکتب الاسلامی ، بیروت ، ۱۴۰۱ھ۔
۱۷۱ ـ عق یلی ، محمد بن عمرو(م ۳۲۲ھ)، ضعفاء العق یلی ـ الضعفاء الکبیرـ ۴ جلد ی ۔ تحقیق: عبد المعطی تلعجی ، طبع دوم ، دار الکتب العلمیہ بیروت ، ۱۴۱۸ھ۔
۱۷۲ ـ ع یاشی ، محمد بن مسعود(م ۳۲۰ھ)، تفس یر العیاشی ، ۲ جلد ی۔ تحقیق: سید ہاشم رسولی محلاتی ، انتشارات کتاب فروشی علمی اسلامی ، تہران۔
۱۷۳ ـ ع ینی ، محمود بن احمد (م ۸۵۵ھ)، عمدة القار ی شرح صحیح البخاری ، ۲۵ جلد ی، داراحیاء التراث العربی ، بیروت ۔
۱۷۴ ـ غزال ی ، محمد بن محمد (م ۵۰۵ھ)، اح یاء علوم الدین، ۴ جلد ی ، دارالمعرفہ ، بیروت ۔
۱۷۵ ـ فتال ن یشاپوری ، محمد (ش ۵۰۸ھ)، روضة الواعظ ین۔ تحقیق: سید محمد مہدی، و سید حسن خرسان، طبع اول ، منشورات رضی ، قم۔
۱۷۶ ـ فخرراز ی ، محمد بن عمر(م ۶۰۶ھ)، تفس یر فخر رازی ـ التفسیر الکبیر یا مفاتیح الغیبـ ۳۲جلد ی ، طبع اول ، دارالکتب العلمیہ ، بیروت ، ۱۴۲۱ھ۔
۱۷۷ ـ فرات کوف ی ، فرات بن ابراہیم(م ۳۵۲ھ)، تفس یر فرات کوفی ۔ تحقیق: محمد کاظم ، طبع اول ، وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی ، تہران ، ۱۴۱۰ھ۔
۱۷۸ ـ قاض ی نعمان ، نعمان بن محمد (م ۳۶۳ھ)، شرح الاخبار ف ی فضائل الآئمة الاطہار، ۳ جلد ی ۔ تحقیق: سید محمد حسینی جلالی ، موسسہ نشر اسلامی ،قم۔
۱۷۹ ـ قرطب ی ، محمد بن احمد (م ۶۷۱ھ)، تفس یر قرطبی ـ الجامع لاحکام القرآن ـ ۲۰ جلد ی ، طبع اول ، دار احیاء التراث العربی ، بیروت ، ۱۴۰۵ھ۔
۱۸۰ ـ قطب الد ین راوندی ، سعید بن ھبة اللہ (م ۵۷۳ھ)، الخرائج و الجرائح ، ۳ جلد ی، موسسہ امام مہدی ، قم۔
۱۸۱ـ قم ی ، علی بن ابراہیم(م ۳۲۹ھ)، تفس یر القمی ، ۲ جلد ی ۔ تحقیق: سید طیب جزائری ، طبع سوم ، دارالکتاب ،قم ، ۱۴۰۴ھ۔
۱۸۲ ـ قندوز ی ، سلیمان بن ابراہیم (م ۱۲۷۰ھ)، ینابیع المودہ لذوی قربی، ۳ جلد ی ۔ تحقیق: سید علی جمال اشرف حسینی ، طبع اول ، دارالاسوہ ، ایران ، ۱۴۱۶ھ۔
۱۸۳ ـ کراجک ی ، محمد بن علی (م ۴۴۹ھ )، التعجب ، طبع دوم ، مکتبہ مصطفو ی ،قم ، ۱۴۱۰ھ۔
۱۸۴ ـ کراجک ی ، محمد بن علی (م ۴۴۹ھ )، کنزالفوائد ، طبع دوم ، مکتبہ مصطفو ی ، قم ۱۴۱۰ھ۔
۱۸۵ ـ کل ینی ، محمد بن اسحاق (م ۳۲۸ھ)، الکاف ی ، ۸ جلد ی ۔ تحقیق: علی اکبر غفاری ، طبع سوم ، دارالکتب الاسلامیہ ، تہران، ۱۳۸۸ھ۔
۱۸۶ ـ کنان ی ، احمد بن ابی بکر (م ۸۴۰ھ)، مصباح الزجاجہ ف ی زوائد ابن ماجہ، ۴ جلد ی ۔تحقیق: محمد منتقی کشاوی ، طبع دوم ، دارالعربیہ، بیروت ، ۱۴۰۳ھ۔
۱۸۷ ـ کوف ی ، احمد بن اعثم (م ۳۱۴ھ)، کتاب الفتوح ۔ تحق یق: علی شیری ، طبع اول ، دارالاضواء ،بیروت ، ۱۴۱۱ھ۔
۱۸۸ ـ کوف ی ، محمد بن سلمان (تیسری صدی ہجری کے بزرگوں میں سے )، مناقب الامام علی ابن ابی طالب ، ۲ جلد ی ۔ تحقیق: محمد باقر محمودی ، طبع اول ، مجمع احیاء الثقافة الاسلامیہ، قم، ۱۴۱۲ھ۔
۱۸۹ ـ گنج ی شافعی ، محمد بن یوسف(م ۶۵۸ھ)، کفا یة الطالب ، مطبعہ حیدریہ ، نجف ، ۱۳۵۶ھ۔
۱۹۰ ـ لالکان ی ، ھبة اللہ بن حسن (م ۴۱۸ھ )، اعتقاد اہل السنة، ۴ جلد ی ۔ تحقیق: احمد سعد حمدان، دارطیبہ ، ریاض ، ۱۴۰۲ھ۔
۱۹۱ ـ مالک ابن انس (۱۷۹ھ)، الموطا، ۲ جلد ی ۔ تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقی ، طبع اول ، داراحیاء التراث العربی ، بیروت ، ۱۴۰۶ھ۔
۱۹۲ ـ متق ی ہندی ، علی (م ۹۷۵ھ)، کنزالعمال ف ی سنن الاقوال والافعال ، ۱۶جلد ی ۔ تحقیق: بکری حیانی و صفوة السقا، موسسہ الرسالہ ، بیروت ، ۱۴۰۹ھ۔
۱۹۳ ـ مجلس ی ، محمد باقر (م ۱۱۱۱ھ)، مرآة العقول ف ی شرح اخبار آل الرسول، ۲۶ جلد ی ، طبع اول ، دارالکتب الاسلامیہ ، تہران، ۱۳۶۴ش(ا یرانی سال)
۱۹۴ ـ مجلس ی ، محمد باقر (م ۱۱۱۱ھ)، بحار الانوار ، ۱۱۰ حلد ی ، طبع دوم ، مصحح: موسسہ وفاء ، بیروت ، ۱۴۰۳ھ۔
۱۹۵ ـ محب الد ین طبری ، احمد بن عبداللہ (م ۶۹۴ھ)، الر یاض النضرة فی مناقب العشرة ، ۲ جلد ی ۔ تحقیق: عیسی عبداللہ محمد مانع الحمیری ، طبع اول ، دارالقرب الاسلامی ، بیروت ، ۱۹۹۶ئ۔
۱۹۶ ـ محب الد ین طبری ، احمد بن عبداللہ (م ۶۹۴ھ)، ذخائر العقب ی فی مناقب ذوی القربی، دارالکتب المصریہ ، مصر، ۱۳۵۶ھ۔
۱۹۷ ـ محبوب ی ، عبیداللہ بن مسعود (م ۷۴۷ھ)، شرح التلو یح علی التوضیح ، ۲ جلد ی۔ تحقیق: زکریا عمیرات ، دارالکتب العلمیہ ، بیروت ، ۱۴۱۶ھ۔
۱۹۸ ـ مز ی ، یوسف بن زکی (م ۷۴۲ھ)، تہذ یب الکمال ، ۳۵ جلد ی ۔ تحقیق: بشار عواد معروف، طبع چہارم ، موسسہ الرسالہ ، بیروت ، ۱۴۰۶ھ۔
۱۹۹ ـ مسعود ی ، علی بن حسین(م ۳۴۶ھ)، مروج الذھب و معادن الجوھر، ۴ جلد ی ۔ تحقیق: یوسف اسعد داغر، طبع دوم، دارالھجرہ ، قم ، ۱۴۰۴ھ۔ (افست از طبع اول ب یروت ۱۳۸۵ھ)۔
۲۰۰ ـ مسلم بن حجاج ن یشاپوری(م ۲۶۱ھ)، صح یح مسلم ، ۸ جلد ی ، دارالفکر، بیروت ۔
۲۰۱ ـ مف ید ، محمد بن محمد بن نعمان (م ۴۱۳ھ)، الفصول المختارہ ۔ تحق یق: سید میر علی شریف ، طبع دوم ، دارالمفید ، بیروت ۱۴۱۴ھ۔
۲۰۲ ـ مف ید ، محمد بن محمد بن نعمان (م ۴۱۳ھ)، الامال ی ، ۔ تحقیق: علی اکبر غفاری و حسین استاد ولی ، جامعہ مدرسین، قم ۔
۲۰۳ ـ مف ید ، محمد بن محمد بن نعمان (م ۴۱۳ھ)، الاختصاص۔ تحق یق: علی اکبر غفاری وسید محمود زرندی ، جامعہ مدرسین، قم۔
۲۰۴ ـ مفید ، محمد بن محمد بن نعمان (م ۴۱۳ھ)،الافصاح ، تحق یق و نشر: موسسہ بعثت ، قم ، ۱۴۱۲ھ۔
۲۰۵ ـ مف ید ، محمد بن محمد بن نعمان (م ۴۱۳ھ)،الارشاد، ۲ جلد ی ، تحقیق و نشر : موسسہ آل البیت و دارالمفید، قم۔
۲۰۶ ـ مف ید ، محمد بن محمد بن نعمان (م ۴۱۳ھ)،الجمل ، مکتبہ داؤد ی ، قم۔
۲۰۷ ـ مقدس ی حنبلی بن عبد الواحد (م ۶۴۳ھ)، الاحاد یث المختارہ ، ۱۰ جلد ی ۔ تحقیق: عبد المالک بن عبداللہ بن دھیش ، طبع اول ، مکتبہ الھضة الحدیثہ ، مکہ ، ۱۴۱۰ھ۔
۲۰۸ ـ مقر یزی ، احمد بن علی (م ۸۴۵ھ)، الن زاع وا لتخاصم بین بنی امیہ و بنی ہاشم۔ تحقیق: سید علی عاشور۔
۲۰۹ ـ مناو ی ، محمد عبد الرؤف(م ۱۳۳۱ھ)، ف یض القدیر شرح الجامع الصغیرمن احادیث البشیر النذیر، ۶ جلد ی ۔ تحقیق: احمد عبد السلام ، طبع اول ، دارالکتب العلمیہ ، بیروت ، ۱۴۱۵ھ۔
۲۱۰ ـ منقر ی ، نصر بن مزاحم (م ۲۱۲ھ)، کتاب صف ین ۔ تحقیق: عبدالسلام محمدہارون ، طبع دوم، موسسہ العربیہ الحدیثہ، ۱۳۸۲ھ۔
۲۱۱ ـ نسائ ی ، احمد بن شعیب (م ۳۰۳ھ)، سنن النسائ ی (المجتبی) ۸جلد ی ، طبع اول ، دارالفکر ، بیروت ، ۱۳۴۸ھ۔
۲۱۲ ـ نسائ ی ، احمد بن شعیب (م ۳۰۳ھ)، خصائص ام یر المؤمنین ۔ تحقیق: محمد ہادی امینی ، مکتبہ نینوی الحدیثہ ۔
۲۱۳ ـ نسائ ی ، احمد بن شعیب (م ۳۰۳ھ)، السنن الکبر ی ، ۶ جلد ی ۔ تحقیق: عبد الغفار سلیمان بنداری و سید حسن کروی ، طبع اول ، دار الکتب العلمیہ ، بیروت ، ۱۴۱۱ھ۔
۲۱۴ ـ نور الد ین عبد الہادی (م ۱۱۳۸ھ)، حاش یہ سندی علی سنن نسائی (المطبوع مع سنن نسائی بشرح سیوطی) ، ۸ جلد ی ۔ تحقیق: عبدالفتاح ، طبع دوم ، دارالکتب العلمیہ ، بیروت ، ۱۴۰۶ھ۔
۲۱۵ ـ نوو ی ، محی الدین بن شرف الدین(م ۶۷۶ھ)، شرح النوو ی علی صحیح مسلمـ المجموع فی شرح المہذب ـ ۲۰ جلد ی ، دارالفکر ، بیروت ۔
۱۶ ۲ ـ نوو ی ، محی الدین بن شرف الدین(م ۶۷۶ھ)،تہذ یب الاسماء ۔ تحقیق : مکتب البحوث والدراسات، طبع اول ، دارالفکر ، بیروت ، ۱۹۹۶ئ۔
۲۱۷ ـ ن یشاپوری قمی ، حسن بن محمد(م ۷۲۸ھ)، تفس یر النشاپوری ـ تفسیر غرائب القرآن و غائب الفرقان، ۶جلد ی ۔ تحقیق: زکریا عمیران، طبع اول ، دارالکتب العلمیہ ، بیروت ، ۱۴۱۶ھ۔
۲۱۸ ـ واحد ی نیشاپوری ، علی بن احمد(م ۴۶۸ھ)، اسباب نزول الآ یات ، طبع اول ، موسسہ حلبی و شرکائ، قاہرہ ، ۱۳۸۸ھ۔
۲۱۹ ـ واسط ی ، اسلم بن سہل رزاز(م ۲۹۲ھ)، تار یخ واسط ۔تحقیق: کورکیس عواد، طبع اول ، عالم الکتب ، بیروت ، ۱۴۰۶ھ۔
۲۲۰ ـ واسط ی ، علی بن محمد(م ۴۸۳ھ)، مناقب ام یرالمؤمنین ۔ تحقیق: محمد باقر بہبودی ، مطبعہ الاسلامیہ ، تہران، ۱۳۹۴ھ۔
۲۲۱ـ واقد ی ، محمد بن عمر (م ۲۰۷ھ)، المغاز ی، ۲ جلد ی ۔ تحقیق: مارسان جونس ، طبع اول ، مکتب الاعلام الاسلامی ، ایران، ۱۴۱۴ھ۔
۲۲۲ـ ھ یثمی ، علی بن ابی بکر(م ۸۰۷ھ )، بغ یة الباحث عن زوائد مسند الحارث ۔ تحقیق: مسعد عبد الحمیدمحمد سعد نی ، نشر دارالطلائع ، بیروت۔
۲۲۳ـ ھ یثمی ، علی بن ابی بکر(م ۸۰۷ھ )، مجمع الزوائد ومنبع الفوائد، ۱۰ جلد ی، طبع اول، دار الکتب العلمیہ، بیروت، ۱۴۰۸ھ۔
۲۲۴ـ یافعی ، عبد اللہ بن اسعد(م ۷۶۸ھ)، مرآة الجنان و عبرة ال یقطان، ۴جلد ی، دار الکتاب الاسلامی ، قاہرہ، ۱۴۱۳ھ۔
فہرست
عرض مترجم ۴
مقدمہ مؤلف ۷
تمہید ۱۳
صدیق باعتبار لغت و استعمال ۲۱
عایشہ ا ور صدیقیت ۵۱
ابو بکر اور صدیقیت ۶۰
پہلا نمونہ :ـ ۶۰
دوسرا نمونہ :ـ ۶۷
تیسرا نمونہ:ـ ۶۸
چوتھا نمونہ :ـ ۸۱
طرفین کے نزدیک جھوٹ بولنے کے اسباب ۱۰۲
عالم غیب اور عالم مادہ ۱۱۵
صدیقیت کے کچھ معیار ۱۲۸
اولـ صدق و سچائی ۱۲۹
دوم : عصمت ۱۴۰
ایک شبہہ وسوال اور اس کا جواب ۱۴۹
اصلی مطلب کی طرف مراجعت ۱۵۲
سوم :ـ مطہر اور پاک وپاکیزہ ہونا ۱۷۱
چہارم : ـ حنفیت و یکتا پرستی ۱۸۵
پنجم :ـ علم و دانائی ۱۹۱
ششم : صدیقیت کا نبوت کی طرح ہونا ۲۰۳
ہفتم :ـ ایمان واقعی اور فنا فی اللہ ہونا ۔ ۲۱۵
لیکن جنگ خیبر ! ۲۳۰
منزلت صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا ۲۴۲
فاطمہ صدیقہ اور آپ کے دشمن ۲۵۳
عجیب و غریب تحریفات ۲۷۰
منابع و مآخذ ۲۸۴