دروس تمھیدیہ فی الفقہ الاستدلالی (كتاب الطهارة)
گروہ بندی فقہ استدلالی
مصنف آیت اللہ شیخ باقر الایروانی
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


کتاب:دروس تمهيدية في الفقه الاستدلالي

(كتاب الطهارة )

مصنف:آیت اللہ شیخ باقر ایروانی

مترجم:شیر علی نادم بلتستانی

مصحح: حجۃ الاسلام و المسلمین شیخ علی توحیدی

اور حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ مصطفی علی فخری


بسم اللہ الرحمن الرحیم

انتساب!

میری یہ ناچیز کوشش

اپنے مولا و آقا

حضرت ولی عصرعجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف

کے نام!

جن کا دیدار نہ سہی ؛ پھر بھی اپنی زندگی انہی کے لطف و کرم کی گھنی چھاؤں میں گزر رہی ہے۔


مقدمہ

کتاب کا تعارف:

کتاب“دروس تمیدییة فی الفقه الاستدلالی ” آیت اللہ شیخ باقر ایروانی کی علمی کوشش کا نتیجہ ہے جس میں احکام کو ذکر دلیل کے ذریعے استدلال کے ساتھ پیش کرنے کی ایک نئی روش اپنائی گئی ہے۔ معاصر فقہ میں یہ کتاب ایک نیا اضافہ ہے جو اس شعبے کے طلبہ کے لئے روش استنباط سکھانے اور اپنے دعویٰ کے لئے استدلال پیش کرنے کا طریقہ سکھانے میں ممد و معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ کتاب ، قدیم درسی کتب کی جگہ لینے میں کسی حد تک کامیاب ہو چکی ہے اور بعض مراکز علمی میں نصاب درسی کے طور پر رائج بھی ہو گئی ہے ۔

مؤلف کا تعارف:

آیت اللہ شیخ محمد باقر ایروانی تقریبا ۱۹۴۹ ء میں عراق کے مقدس شہر نجف اشرف میں پیدا ہوئے۔ آپ نے فقہ و اصول اور عربی ادب میں مہارت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اسی شہر میں درس خارج تک کی تعلیم بھی حاصل کی۔آپ کے اساتذہ میں آیت اللہ العظمیٰ سید ابوالقاسم الخوئی اور شہید محمد باقر الصدرؒ جیسی شخصیات کا نام آتا ہے۔

۱۹۸۴ ء میں ایران عراق کی جنگ کے دوران آپ نے قم کی طرف ہجرت کی اور کئی سال تک حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے استا د رہے۔درس خارج کے ساتھ ساتھ تالیفات کا سلسلہ بھی جاری رکھا ۔ آپ کی مشہور کتب میں “الامام المهدی بین التواتر و حساب الاحتمال ” ،“الاسلوب الثانی للحلقة الثالثة ” ،“دروس تمهیدیة فی القواعد الفقهیة ” اور کتاب حاضر “دروس تمهیدیة فی الفقه الاستدلالی ” شامل ہیں۔

ظالم بعثی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد آیت اللہ ایروانی نجف اشرف واپس چلے گئے اور آج بھی وہاں پر درس خارج میں مشغول ہیں۔اللہ ان کی توفیقات خیر میں مزید اضافہ فرمائے ! آمین۔

ضرورت ترجمہ:

کسی بھی کتاب کی اہمیت کے پیش نظر دوسری زبانوں میں اس کا ترجمہ کیا جانا تمام معاشروں میں رائج اور متداول روش ہے۔ اردو زبان میں بھی عربی اور فارسی سمیت دوسری زبانوں سے مختلف کتب کے ترجمے کئے جا رہے ہیں۔ دینی اور مذہبی کتب کے حوالے سے عقائد، اخلاقیات اور دوسرے معارف دینی پر مشتمل کتب کی کثیر تعداد کا ترجمہ ہوچکا ہے؛ لیکن احکام کے حوالے سے سوائے مراجع کی توضیح المسائل کے کسی دوسری کتاب کا ترجمہ ہماری نظر سے نہیں گزرا؛ لہذا اردو دان طبقے کے لئے احکام کے ساتھ ان کی ادلہ سے آشنائی کی غرض سے فقہ استدلالی کے تمہیدی دروس کے عنوان سے اس ترجمے پر توجہ دی گئی ہے۔ امید ہے اللہ تعالیٰ اپنی بارگاہ میں اسے قبول فرمائے گا۔

کتاب کے مشتملات:

راقم نے کتاب طہارت کا ترجمہ پیش کرنے کی سعی کی ہے۔ اس کتاب میں “پانی کی اقسام اور احکام”، “رفع حاجت کے احکام”، “وضو، غسل اور تیمم کے احکام”، “دمائے ثلاثہ (حیض، استحاضہ، نفاس) کے احکام”، “موت اور مس میت کے احکام”، “جبیرہ کے احکام” اور “نجاسات”و“مطہرات”کے احکام بیان کئے گئے ہیں۔ ان احکام کوثابت کرنے کے لئے زیادہ ترمعصومین ؑ سے مروی روایات سے استناد کیا گیا ہے۔ البتہ گاہے گاہے اصولی قواعد جیسے “اصالہ برائت”، “ استصحاب” اور “قاعدہ فراغ” وغیرہ سے بھی مدد لی گئی ہے۔

وما توفیقی الا باللہ


پانی کے احکام

پانی کی اقسام:

پانی کی دو قسمیں ہیں:

۱ ۔ مطلق پانی،

۲ ۔ مضاف پانی۔

مضاف پانی اور اس کے احکام:

مضاف پانی بذاتِ خود پاک ہے ؛ لیکن کسی اور چیز کو حدث اور خبث سےپاک نہیں کرتا۔

جب اسے کوئی نجاست لگ جائے تو یہ پورے کا پورا نجس ہو جاتا ہے خواہ اس کی مقدار زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔ البتہ تدافع(۱) کی صورت میں پورے کا پورا نجس نہیں ہوتا۔

دلائل:

۱ ۔ پانی کے مطلق اور مضاف میں تقسیم ہونے کی دلیل: یہ دلیل وجدانی ہے جس کے لئے کسی اور دلیل کی ضرورت نہیں ۔

البتہ مضاف کو پانی کہنا مجاز ہے؛ لہٰذا یہ تقسیم کسی چیز کو خود اسی چیز اور کسی دوسری چیز میں تقسیم کرنے کی طرح ہے۔

۲ ۔ مضاف پانی کے بذات خود پاک ہونے کی دلیل:اس کی پہلی دلیل قاعدہ طہارت ہے جو ہمیں امام جعفر صادق علیہ السلام سے عمار ساباطی کی روایت کردہ موثق حدیث سے معلوم ہوتا ہے:

كُلُّ شَيْ‏ءٍ نَظِيفٌ حَتَّى تَعْلَمَ أَنَّهُ قَذِرٌ، فَإِذَا عَلِمْتَ فَقَدْ قَذِرَ وَ مَا لَمْ تَعْلَمْ فَلَيْسَ عَلَيْكَ .” “ہر چیز پاک ہے جب تک تجھے معلوم نہ ہو کہ وہ نجس ہے۔پس جب تجھے (اس کی نجاست کا) علم ہو جائے تووہ نجس ہوگی اور جس کا تجھے علم نہ ہو اس کی ذمہ داری تم پر نہیں۔”(۲)

دوسری دلیل استصحابِ طہارت ہے بشرطیکہ اصل قاعدہ ہر چیز کا پاک ہونا ہو۔

۳ ۔ مضاف پانی کے کسی چیز کو حدث سے پاک نہ کر سکنے کی دلیل: یہ حکم علماء کے درمیان مشہور ہونا ہے۔ اس حکم کو ثابت کرنے کے لئے یہی شک کافی ہے کہ مضاف پانی حدث کو رفع کر سکتا ہے یا نہیں؟ ؛ کیونکہ مضاف سے دھونے کے بعد بھی حدث کی بقاء کا استصحاب کیا جا سکتا ہے لہٰذا مضاف کے ذریعے حدث کا رفع ہونا دلیل کا محتا ج ہے ؛ جبکہ ہمارے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ہے؛ بلکہ حدث کے رفع نہ ہونے کی دلیل موجود ہے اور وہ دلیل یہ آیت ہے :

( ...فَلَمْ تجَِدُواْ مَاءً فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدًا طَيِّبًا ) ،“۔۔۔اور تمہیں پانی میسرنہ آئے تو پاک مٹی پر تیمم کرو۔”(۳)

۴ ۔ مضاف کے کسی چیز کو خبث سے پاک نہ کر سکنے کی دلیل: یہ حکم بھی علماء کے درمیان مشہور ہے۔اس کو ثابت کرنے کے لئے بھی اس کے رافع ِ خبث ہونے کی دلیل کی عدم موجودگی ہی کافی ہے؛ جبکہ ہمارے پاس خبث کے رفع نہ ہونے کی دلیل موجود ہے۔ مثلاحضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی برید ابن معاویہ کی یہ روایت :

يُجْزِي مِنَ الْغَائِطِ الْمَسْحُ بِالْأَحْجَارِ،وَ لَا يُجْزِي مِنَ الْبَوْلِ إِلَّا الْمَاءُ .”“ پاخانہ(کی نجاست کو دور کرنے) کے لئے پتھروں کا رگڑنا کافی ہے جبکہ پیشاب( کی نجاست کو پاک کرنے ) کے لئے پانی کے علاوہ کوئی چیز کافی نہیں۔”(۴)

اس حکم کو ثابت کرنے کے لئے ہم اس حدیث پر ایک بات کا اضافہ کریں گے اور وہ یہ کہ پیشاب اور دوسری نجاستوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔(پس مضاف پانی کسی چیز کو پاک نہیں کر سکتا۔)

ادھر فیض کاشانی ؒ سے منسوب نظریہ یہ ہے کہ ہر اس جسم کے ذریعے جو نجاست کو زائل کردے خبث کو پاک کیا جا سکتا ہے اگر چہ وہ جسم مضاف ہی کیوں نہ ہو۔(۵)

سید مرتضیٰ ؒ اور ان کے استاد شیخ مفید ؒ سے منسوب ہے کہ : ہر جسم سے نجاست کو زائل کرنا ہی کافی نہیں ہے بلکہ یہ ضروری ہے کہ (اس پر) دھونے کا عنوان صادق آئے۔ البتہ پانی سے دھونا ضروری نہیں؛ بلکہ ہر سیال اور مائع چیز سے دھونا کافی ہے خواہ وہ مضاف ہی کیوں نہ ہو۔(۶)

۵ ۔ نجاست کےساتھ اتصال سے ہی مضا ف پانی کے نجس ہونے کی دلیل: یہ ایک متفق علیہ حکم ہے۔ سکونی کی موثق روایت سے بھی اس پراستدلال کیا جا سکتا ہے۔ اس روایت کو سکونی نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے اور آپ نے اپنے پدر بزرگوار ؑسے نقل فرمایا ہے کہ :

أَنَّ عَلِيّاً علیه السلام سُئِلَ عَنْ قِدْرٍ طُبِخَتْ وَ إِذَا فِي الْقِدْرِ فَأْرَةٌ.قَالَ: يُهَرَقُ مَرَقُهَا وَ يُغْسَلُ اللَّحْمُ وَ يُؤْكَلُ .” “امیر المؤ منین علیہ السلام سے ایک ایسی دیگ کے بارے میں سوال کیا گیا جس میں سالن بناتے ہوئے ایک چوہا گر گیا تھا۔ آپ ؑ نے فرمایا: دیگ کا شوربہ (سالن ) گرایا جائے گا اور گوشت کو دھو کر کھایا جائے گا۔”(۷)

اگر ہم اس حدیث کے ساتھ اس بات کو بھی مدنظر رکھیں کہ چوہا اور دوسرے مرداروں کے درمیان کوئی فرق نہیں نیز سالن اور دوسری مضاف اشیاء کے درمیان بھی کوئی فرق نہیں تو اس کے نتیجے میں ایک حکم عام ثابت ہو تا ہے اور وہ یہ کہ ہر مضاف چیز، نجاست کے ساتھ صرف ملنے سے نجس ہو جاتی ہے۔)

۶ ۔ مضاف پانی کے تدافع کی صورت میں پورے پانی کے نجس نہ ہونے کی دلیل:مثلا اگر مضاف پانی اوپر سے گرے اور نجاست اس کے نچلے حصے سےمتصل ہو تو اوپر والا حصہ نہیں بلکہ صرف نچلا حصہ نجس ہو جائے گا؛ کیونکہ پہلی بات تو یہ ہے کہ تدافع کی صورت میں یہ دونوں عرفاً دو الگ الگ پانی شمار ہوتے ہیں؛ لہذا ایک کے نجس ہونے سے دوسرے کے بھی نجس ہونے کا کوئی سبب نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ عرف کی نگاہ میں نچلے پانی کی نجاست اوپر کی طرف سرایت نہیں کرے گی ۔ پس جب نجاست کے سرایت کرنے کی کیفیت کے بارے میں کوئی خاص نص نہ ہو تو (اس کیفیت کو سمجھنے کے لئے)عرف کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔

مطلق پانی اور اس کے احکام:

مطلق پانی کبھی کثیر ہوتا ہے اور کبھی قلیل۔

کثیر پانی ،نجاست سے صرف متصل ہونے کے باعث نجس نہیں ہوتا جب تک اس کے تین اوصاف (رنگ ، بو، ذائقہ)میں سے کوئی ایک وصف بدل نہ جائے۔

کثیر پانی سے مراد کر پانی ہے۔ وہ قلیل پانی بھی ،جس کا کوئی منبع اور سرچشمہ ہو ،کثیر کے حکم میں شامل ہے۔

قلیل پانی ، نجاست کے ساتھ ملنے سے ہی نجس ہو جاتا ہے، سوائے تدافع کی صورت کے۔

یاد رہے کہ کر پانی کی مقدار کے بارے میں چند اقوال ہیں۔

دلائل:

۱ ۔ “کر” پانی کے نجس نہ ہونے کی دلیل:بعض روایات اس حکم پر دلالت کرتی ہیں جن میں سے ایک معاویہ بن عمار کی روایت صحیحہ ہے جو انہوں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سےنقل کی ہےاور وہ روایت یہ ہے:

إِذَا كَانَ الْمَاءُ قَدْرَ كُرٍّ لَمْ يُنَجِّسْهُ شَيْ‏ءٌ .”“جب پانی کی مقدار“کر” کے برابر ہو تو کوئی چیز اسے نجس نہیں کر سکتی۔”(۸)

۲ ۔ تینوں اوصاف میں سے ایک کی تبدیلی سےکثیر پانی کے نجس ہونے کی دلیل: حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے حریز نے روایت کی ہے:

كُلَّمَا غَلَبَ الْمَاءُ عَلَى رِيحِ الْجِيفَةِ فَتَوَضَّأْ مِنَ الْمَاءِ وَ اشْرَبْ فَإِذَا تَغَيَّرَ الْمَاءُ وَ تَغَيَّرَ الطَّعْمُ فَلَا تَوَضَّأْ مِنْهُ وَ لَا تَشْرَبْ .” “جب مردار کی بدبو پر پانی ( کی بو) غالب رہے تو اس پانی سے وضو کرو اور پیو؛ لیکن جب پانی (کا رنگ) بدل جائے اور اس کا ذائقہ تبدیل ہو جائے تو اس سے نہ وضو کرو اور نہ پیو۔ ”(۹)

یہ حدیث پانی کی قدرتی حالت و فطرت کے بارے میں ہے۔ لہذا اس اطلاق میں “کر” بھی شامل ہے۔

۳ ۔ منبع والے پانی اور آب “ کر”کے حکم کی یکسانیت کی دلیل:محمد بن اسماعیل بن بزیع کی صحیح روایت ہے:

“ کتبت الی رجل اسأله ان یسأل ابا الحسن الرضا علیه السلام، فقال: مَاءُ الْبِئْرِ وَاسِعٌ لَا يُفْسِدُهُ‏ شَيْ‏ءٌ إِلَّا أَنْ يَتَغَيَّرَ رِيحُهُ أَوْ طَعْمُهُ فَيُنْزَحُ حَتَّى يَذْهَبَ الرِّيحُ وَ يَطِيبَ طَعْمُهُ لِأَنَّ لَهُ مَادَّةً. ”“ میں نے کسی کو خط لکھا کہ وہ حضرت امام رضا علیہ السلام سے سوال کرے ۔ پھر امام ؑ نے (جواب میں )فرمایا: کنویں کا پانی وسیع ہے۔ جب تک اس کی بو یا ذائقہ تبدیل نہ ہو جائے کوئی چیز اسے نجس نہیں کر سکتی ( جب اس کی بو یا ذائقہ بدل جائے تو) اس سے اتنا پانی نکالا جائے کہ اس کی بدبو ختم ہو جائے اور اس کا ذائقہ بہتر ہو جائے؛ کیونکہ کنویں کا پانی منبع (سے متصل)ہوتا ہے۔”(۱۰)

یہ حدیث مذکورہ دو باتوں پر دلالت کرتی ہے:

۱ ۔کنویں کا پانی نجاست کے ساتھ صرف اتصال کے باعث نجس نہیں ہوتا،

۲ ۔جب پانی، اوصاف ثلاثہ میں سے کسی ایک کے باعث ، متغیر ہوتا ہے تو نجس ہوتا ہے۔

حدیث میں مذکور علت (لان له مادة )کے باعث ، ہر منبع والے پانی پر اس حکم کا اطلاق ہوتا ہے۔

۴ ۔ نجاست کے ساتھ خالی اتصال سے قلیل پانی کےنجس ہونے کی دلیل: یہ معاویہ بن عمار کی گزشتہ صحیح روایت کا مفہوم(۱۱) ہے اور یہی حکم فقہاء کے درمیان معروف ہے؛ لیکن ابن ابی عقیل اور فیض کاشانی سے منسوب حکم یہ ہے کہ نجاست کے ساتھ صرف متصل ہونے سے قلیل پانی نجس نہیں ہوتا۔(۱۲)

۵ ۔ تدافع کی صورت میں سارےقلیل پانی کے نجس نہ ہونے کی دلیل:یہ وہی دلائل ہیں جو مضاف پانی کے احکام میں گزر چکی ہیں۔

۶ ۔ پیمائش کے لحاظ سے “کر” کی مقدارمیں مختلف اقوال:اس بارے میں کئی اقوال ہیں جن میں سے دو اقوال مشہور ہیں:

پہلاقول: “کر” وہ پانی ہے جس کی تین جہات (لمبائی، چوڑائی، گہرائی) تین تین بالشت ہوں۔ نتیجتاً ایک کر ۲۷ بالشت کے برابر ہوگا۔

دوسرا قول:“کر” وہ پانی ہے جس کی تین جہات میں سے ہر ایک ساڑھے تین بالشت پر مشتمل ہو۔ نتیجتاً ایک کر ۷۸ ۴۲ بالشت کے برابر ہوگا۔

پہلے قول کی دلیل: اسماعیل بن جابر کی صحیح روایت ہے:

سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام عَنِ‏الْمَاءِ الَّذِي لَا يُنَجِّسُهُ شَيْ‏ءٌ، فَقَالَ: كُرٌّ. قُلْتُ:وَ مَا الْكُرُّ؟ قَالَ: ثَلَاثَةُ أَشْبَارٍ فِي ثَلَاثَةِ أَشْبَارٍ .”“ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس پانی کے بارے میں سوال کیا جسے کوئی نجاست نجس نہیں کر سکتی۔ آپ ؑ نے فرمایا: وہ “کر” پانی ہے۔ میں نے عرض کیا: “کر” کیا ہے؟ فرمایا: تین بالشت ضرب تین بالشت۔”(۱۳)

اس وضاحت کے ساتھ کہ صرف دو جہات کے ذکر کرنے پر اکتفا کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ تیسری جہت بھی مذکورہ جہات کے برابر ہے؛ لہذا اسے بیان نہیں کیا گیا۔

البتہ اس روایت کی سند پر اعتراض کیا جاسکتا ہےکہ اس روایت کو اسماعیل بن جابر سے ابن سنان نے نقل کیا ہے جبکہ ابن سنان کے بارے میں یہ شک ہے کہ وہ محمد بن سنان ہیں یا عبد اللہ بن سنان ؟ چونکہ محمد بن سنان کا موثق ہونا ثابت نہیں ہے لہذا یہ روایت حت اور دلیل نہیں بن سکتی۔

لیکن ہاں! جب اس روایت کی بجائے ایک دوسری روایت(۱۴) سے استدلا ل کیا جائے تو مذکورہ اشکال کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔

دوسرے قول کی دلیل: اس حکم پر حسن بن صالح ثوری کی روایت سے استدلال کیا جا سکتا ہے۔ اس روایت کو ابن صالح نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے یوں نقل کیا ہے:

إِذَا كَانَ الْمَاءُ فِي الرَّكِيِّ كُرّاً لَمْ يُنَجِّسْهُ شَيْ‏ءٌ. قُلْتُ:وَ كَمِ الْكُرُّ؟ قَالَ: ثَلَاثَةُ أَشْبَارٍ وَ نِصْفٌ عُمْقُهَا فِي ثَلَاثَةِ أَشْبَارٍ وَ نِصْفٍ عَرْضِهَا .”“ جب حوض میں پانی کی مقدار“ کر” کے برابر ہو تو اسے کوئی چیز نجس نہیں کر سکتی۔ میں نے عرض کیا:“کر” کی مقدار کیا ہے؟ فرمایا: گہرائی کے لحاظ سے ساڑھے تین بالشت اور چوڑائی کے لحاظ سے ساڑھے تین بالشت۔”(۱۵)

اسی وضاحت کی روشنی میں جو اسماعیل بن جابر کی روایت میں گزر چکی ہے۔

یہ روایت سند کے لحاظ سے ضعیف ہے (کیونکہ حسن بن صالح ثوری کا موثق ہونا ثابت نہیں ہے)۔ لہذا پہلی روایت کی حجیت کسی معارض کے بغیر اپنی جگہ ثابت رہے گی۔

بارش کا پانی:

بارش کے دوران ، اس کا پانی “کر” کی طرح ہے جو نجاست کے لگے سے ہی نجس نہیں ہوتا۔

جب یہ پانی کسی جگہ جمع ہوجائے ؛لیکن قلیل ہو تواس صورت میں بھی اگر بارش ہو رہی تو وہ “کر” ہی کی طرح ہے۔

جب یہ پانی کسی ایسی چیز کو جو نجس ہو گئی ہو ، لگ کر اس کے اندر تک سرایت کر جائے تو وہ چیز پاک ہو جائے گی۔ اسے نچوڑنے یا ایک سے زائد بار اس پر بارش برسنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ہاں ! اگر اس چیز کے صرف ظاہری حصے کو لگ جائے اور اس کے اندرونی حصے تک نہ پہنچے تو اس صورت میں اس کا ظاہری حصہ ہی پاک ہوگا۔

دلائل:

۱ ۔ نجاست سے ساتھ صرف اتصال سے بارش کے پانی کے نجس نہ ہونے کی دلیل: حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہشام بن سالم کی روایت کہتی ہے:

أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عهیی السلام عَنِ السَّطْحِ يُبَالُ عَلَيْهِ فَتُصِيبُهُ السَّمَاءُ فَيَكِفُ‏ فَيُصِيبُ الثَّوْبَِ، فَقَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ، مَا أَصَابَهُ مِنَ الْمَاءِ أَكْثَرُ مِنْهُ .”“ اس نے امام سے پوچھا:جس چھت پر پیشاب کیا جاتاہے اس پر بارش برسے اورچھت ٹپکنے کی وجہ سے (اس کے چھینٹے )کسی کے کپڑوں کو لگ جائیں تو کیا (حکم) ہے؟ امام ؑ نے فرمایا: اگر بارش کا پانی پیشاب کی مقدار سے زیادہ ہو تو کوئی اشکال نہیں۔”(۱۶)

اس کے علاوہ بھی روایات ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ بارش کا پانی پیشاب کے لگنے سے نجس نہیں ہوتا۔

اوصاف کی تبدیلی کے باعث اس کے نجس ہونے کی دلیل: حریز کی صحیح حدیث، جو کثیر پانی کے احکام میں گزر چکی ہے، کا اطلاق اس حکم پر دلالت کرتا ہے۔

۲ ۔ نجس نہ ہونے کابارش کے نزول کے وقت سے مشروط ہونے کی دلیل:جب بارش تھم جائے تو اس پانی پر بارش کا پانی صادق نہیں آتا ؛ بلکہ یہ قلیل پانی کہلاتا ہے۔ پس اس پر قلیل پانی کا حکم جاری ہوگا۔

۳ ۔ بارش کےدوران اس کے قلیل پانی کا “کر” کی طرح ہونے کی دلیل: بارش کے دوران یہ پانی منبع والا پانی بن جاتا ہے اور ابن بزیع کی گزشتہ روایت میں مذکورعلت (لان له مادة ) کا عموم اس پر بھی صادق آتا ہے۔

۴ ۔ بارش کا پانی لگنے سے ، نچوڑے اور ایک سے زائد بار برسے بغیر نجس شدہ چیز کے پاک ہونے کی دلیل: یہ حکم فقہاء میں مشہور ہے جس پر کاہلی کی وہ روایت دلالت کرتی ہے جو اس نے کسی شخص کی وساطت سے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سےنقل کی ہے:

“...كُلُّ شَيْ‏ءٍ يَرَاهُ مَاءُ الْمَطَرِ فَقَدْ طَهُرَ .” ،“ ۔۔۔ ہروہ چیز جس تک بارش کا پانی پہنچے ، پاک ہو جائے گی۔”(۱۷)

یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نجس شدہ چیز کے پاک ہونے کے لئے بارش کے پانی کا اس تک پہنچنا ہی کافی ہے۔فقہاء کے مشہور فتویٰ سے اس کی سند کا ضعف بھی دور ہوتا ہے بشرطیکہ اس قاعدے کو مان لیا جائے کہ شہرت فتوائی ضعف سند کو دور کرتی ہے۔

۵ ۔ اس بات کی دلیل کہ بارش کے پانی کا نجس چیز میں پوری طرح سرایت کرجانا شرط ہے:وہ یوں کہ مکمل سرایت کئے بغیر پوری چیز کی نسبت سے رؤیت (پانی لگنے ) کا عنوان صادق نہیں آتا۔

۶ ۔ ظاہری حصے کو بارش لگنے کی صورت میں صرف ظاہر کے پاک ہونے کی دلیل:اس صورت میں صرف ظاہری سطح پر پانی لگنے (رؤیت) کا عنوان صادق آتا ہے۔


رفع حاجت کے احکام

شرمگاہ کو چھپانا:

رفع حاجت کے وقت نیز تمام حالتوں میں مکلف پر واجب ہے کہ وہ اپنی شرمگاہوں کو ہر ممیز ناظر سے چھپا ئے۔ سوائے میاں بیوی کے یا ان کے جو میاں بیوی کے حکم میں ہیں۔

دلائل:

۱ ۔شرمگاہ کو چھپانے کے وجوب کی دلیل: اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

( قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّواْ مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَ يحَْفَظُواْ فُرُوجَهُمْ ) “ آپ مومنوں سے کہدیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔”(۱۸)

البتہ یہ اس بنا پر ہے کہ آیت مجیدہ میں حفاظت سے مراد صرف زنا سے بچانا نہیں بلکہ اس سے مراد ہر جہت سے بچانا ہے۔

دوسری دلیل:شرمگاہوں کو چھپانا فقہ کا مسلمہ حکم ہے۔

تیسری دلیل :یہ بعض احادیث سے عبارت ہے۔ مثلا حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے رفاعۃ کی نقل کردہ صحیح روایت میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ كانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَ الْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلَا يَدْخُلِ الْحَمَّامَ إِلَّا بِمِئْزَرٍ .”“جو شخص اللہ تعالیٰ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ حمام میں تہبند کے بغیر داخل نہیں ہوتا۔ ”(۱۹)

یاد رہے کہ حدیث شریف میں حمام اور تہبند کا ذکر ہے؛ لیکن یہ ایک قطعی بات ہے کہ مذکورہ حکم کے ثبوت میں حمام اور تہبند دخیل نہیں ہیں۔

اسی طرح حریز نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے یہ صحیح حدیث نقل کی ہے:

لَا يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ أَخِيهِ .”“ کوئی آدمی اپنے بھائی کی شرمگاہ کو نہ دیکھے۔”(۲۰)

یہاں پر ان دو باتوں کا اضافہ ضروری ہے:

۱ ۔عرف عام میں دیکھنے کی حرمت کا لازمہ ،چھپانے کا وجوب ہے(کہ دیکھنا حرام ہے تو چھپانا واجب ہے)۔

۲ ۔ حرمت کا یہ حکم صرف اس مورد سے مختص نہیں کہ مرد ، دوسرے مرد کی شرمگاہ کو دیکھے( یعنی یہ روایت مردوں سے مختص نہیں بلکہ عام ہے۔)

۲ ۔ ممیز کی شرط کی دلیل:اولاً:غیر ممیز ،دیوانے کی طرح فہم و شعور سے عاری ہوتا ہے۔ ثانیاً انصراف(۲۱) کے باعث تمام ادلہ غیر ممیز کو شامل نہیں ہوتیں۔

۳ ۔ میاں بیوی وغیرہ سے چھپانے کے واجب نہ ہونے کی دلیل: قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیت کہتی ہے:

( الَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ إِلَّا عَلىَ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانهُُمْ ) ،“جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں o سوائے اپنی بیویوں اور ان کنیزوں سے جو ان کی ملکیت ہیں۔”(۲۲)

دوسری دلیل یہ کہ کسی کے ساتھ وطی کا جائز ہونا اور اس سے چھپانے کا واجب نہ ہونا آپس میں لازم و ملزوم ہیں(یعنی جس سے وطی جائز ہے اس سے چھپاناضروری نہیں)۔

رفع حاجت کے بعض احکام:

مشہور یہ ہے کہ رفع حاجت کے وقت قبلے کی طرف منہ یا پشت کرنا حرام ہے۔

پیشاب کا مخرج ،ایک مرتبہ صرف پانی کے ساتھ دھونے سے پاک ہو جاتا ہے۔ ایک قول کی بنا پر دو مرتبہ دھونا چاہئے۔

پاخانہ کا مخرج،پانی کے علاوہ نجاست کو زائل کرنے والی ہر چیز سے پاک ہو جاتا ہے۔

کہا گیا ہے کہ اگر نجاست کے محسوس ذرات نہ ہوں ، (رنگ، بو اور ذائقہ ) تبدیل نہ ہو اور کوئی دوسری نجاست اس کے ساتھ نہ لگی ہو تو استنجاء کا پانی پاک ہے۔

دلائل:

۱ ۔ رفع حاجت کے وقت روبقبلہ یا پشت بقبلہ ہونے کے حرام ہونے کی دلیل:تمام فقہاء کا اس حکم پر متفق ہونا اس حکم کی دلیل ہے۔ البتہ بعض متاخر فقہاء مثلا صاحب مدارک نے اسےمکروہ قرار دیا ہے۔(۲۳)

اس مسئلے میں گزشتہ فقہاء کے درمیان موجود اتفاق اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ بعض اوقات ان کے اتفاق سے یہ مکشف ہوتا ہے کہ حکم معصوم علیہ السلام سے صادر ہوا ہے اور دست بدست ان تک پہنچا ہے ورنہ اگر (ان کا اتفاق نہ ہو اور ) روایات کی طرف رجوع کیا جائے تو (ان روایتوں سے حرام ہونے کا حکم ثابت نہیں ہوتا کیونکہ) ان میں سند کے لحاظ سے ضعیف روایات بھی موجود ہیں مثلا:رسول خدا ﷺ سے ہاشمی کی یہ روایت:

إِذَا دَخَلْتَ الْمَخْرَجَ فَلَا تَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَ لَا تَسْتَدْبِرْهَا وَ لَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا .”“جب تو بیت الخلاء جائے تو قبلے کی طرف منہ اور پشت کرکے مت بیٹھنا ؛ بلکہ مشرق یا مغرب کی سمت بیٹھنا ۔”(۲۴)

اور کچھ روایات کی سند اور دلالت دونوں ضعیف ہیں مثلا محمد بن یحیی کی یہ مرفوعہ روایت :

سُئِلَ أَبُو الْحَسَنِ علیه السلام مَا حَدُّ الْغَائِطِ؟ قَالَ: لَا تَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَ لَا تَسْتَدْبِرْهَا وَ لَا تَسْتَقْبِلِ الرِّيحَ وَ لَا تَسْتَدْبِرْهَا .”“ حضرت امام رضا علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ پاخانے کی حدود کیا ہیں؟(یعنی بیت الخلاء میں کیسے بیٹھا جائے؟) فرمایا: نہ ہی قبلے کی جانب رخ اور پشت کرنا اور نہ ہوا کی طرف۔”(۲۵)

اس روایت کا سیاق اس بات کا قرینہ ہے کہ ( جس طرح رفع حاجت کے دوران ہوا کی طرف رخ یا پشت نہ کرنا واجب نہیں ؛ بلکہ اسلامی آداب میں شامل ہے اسی طرح )قبلے کی طرف رخ یا پشت نہ کرنا بھی (واجب نہیں ؛ بلکہ ) اسلامی آداب میں شامل ہے۔

جب روایات ضعیف ہوں اور اجماع کرنے والوں کے بارے میں بھی یہ احتمال ہو کہ انہوں نے انہی روایات پر اعتماد کیا ہے(۲۶) تو رفع حاجت کے وقت رو بقبلہ یا پشت بقبلہ ہونے کو حرام قرار دینے کا حکم صادر کرنے میں اشکال ہے ۔

۲ ۔ پیشاب کے مخرج کا صرف پانی سے پاک ہونے کی دلیل: حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے زرارہ کی نقل کردہ صحیح حدیث میں مذکور ہے :

لَا صَلَاةَ إِلَّا بِطَهُور.وَ يُجْزِيكَ مِنَ الِاسْتِنْجَاءِ ثَلَاثَةُ أَحْجَارٍ. بِذَلِكَ جَرَتِ السُّنَّةُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ص. وَ أَمَّا الْبَوْلُ فَإِنَّهُ لَا بُدَّ مِنْ غَسْلِهِ .” “ طہارت کے بغیر نماز نہیں ہو سکتی۔ تیرے لئے استنجا کی خاطر تین پتھر کافی ہیں، پیغمبر خدا ﷺ کی روش یہی تھی۔ ہاں! پیشاب کے لئے دھونا ضروری ہے۔ ”(۲۷)

علاوہ از ایں پانی ہی سے پاک ہونا اصل کا تقاضا ہے اورکسی روایت کی ضرورت ہی نہیں۔

۳ ۔ پیشاب کے مخرج کا صرف ایک مرتبہ دھونا کافی ہونے کی دلیل: اس حکم پربعض روایات دلالت کرتی ہیں۔ مثلا حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی جمیل بن دراج کی روایت کہتی ہے:

إِذَا انْقَطَعَتْ دِرَّةُ الْبَوْلِ فَصُبَّ الْمَاءَ .” “ جب پیشاب رک جائے تو اس پر پانی ڈالو۔ ”(۲۸)

ڈالنا ایک عمل ہے ،جو“ ایک مرتبہ” پربھی ڈالنا صادق آتا ہے۔

۴ ۔ کئی بار دھونا ضروری ہونے کی دلیل:یہ دلیل اس اعتراض پرمشتمل ہے جو (جمیل بن دراج کی ) گزشتہ روایت اور اس جیسی دوسری روایات پر اٹھایا گیا ہے کہ یہ روایتیں تعداد بیان کرنے کے درپے نہیں ہیں؛ لہذا اصل کی طرف رجوع کرناپڑے گا۔ جس کے مطابق نجاست کا استصحاب کرتے ہوئے ، کئی بار دھونا چاہئے۔

۵ ۔ مخرج پاخانہ کے ہر زائل کنندہ چیز سے پاک ہونے کی دلیل:اس حکم پر زرارہ کی سابق روایت اس شرط کے ساتھ دلالت کرتی ہے کہ پتھروں کو بطور مثال ذکر کیا گیا ہو۔

بلکہ امام رضا علیہ السلام سے مروی ابن مغیرہ کی صحیح روایت وضاحت کے ساتھ بیان کر رہی ہے کہ طہارت کی شرط صاف ہوناہے خواہ کسی بھی چیز سے صاف کیا جائے۔

قُلْتُ لَهُ: لِلِاسْتِنْجَاءِ حَدٌّ ؟ قَالَ: لَا، يُنَقَّى مَا ثَمَّةَ قُلْتُ فَإِنَّهُ يُنَقَّى مَا ثَمَّةَ .” “ میں نے امام سے عرض کیا: استنجاء کی کیا کوئی حد ہے؟ فرمایا: نہیں! (بلکہ) جس چیز سے بھی صاف ہو جائے ، پاک ہو جاتا ہے۔”(۲۹)

۶ ۔ استنجاء کے پانی کے پاک ہونے کی دلیل :اس حکم کی دلیل وہ روایات ہیں جو کہتی ہیں کہ جس چیز کو استنجاء کا پانی لگ جائے وہ پاک ہے۔ اس مطلب کے اضافے کے ساتھ کہ اگرجس چیز کو یہ پانی لگے وہ پاک رہتی ہے تو عرفاً، لگنے والی چیز بھی پاک ہی ہوگی۔مثلا حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی “احول” کی صحیح روایت کہ:

أَخْرُجُ مِنَ الْخَلَاءِ فَأَسْتَنْجِي بِالْمَاءِ فَيَقَعُ ثَوْبِي فِي ذَلِكَ الْمَاءِ الَّذِي اسْتَنْجَيْتُ بِهِ، فَقَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ .” “بیت الخلاء سے نکلتے ہوئے میرے کپڑے اس پانی سے لگ جاتے ہیں جس سے میں استنجاء کرتا ہوں۔ فرمایا: کوئی حرج نہیں ہے۔”(۳۰)

۷ ۔ پانی (کے رنگ ،بو اور ذائقے ) میں تبدیلی نہ آنا ضروری ہونے کی دلیل:“مطلق پانی اور اس کے احکام ” میں ذکر کی گئی روایتوں کا عموم اس حکم پر دلالت کرتا ہےکہ نجس کے رنگ میں رنگ جانے والا پانی نجس ہے۔

۸ ۔استنجاء کا پانی پاک ہونے کے لئےنجاست کے ذرات کی عدم موجودگی شرط ہونے کی دلیل: چونکہ عفو اور بخشش کی دلیلیں استنجاء کے پانی کی طہارت کا حکم اس وقت لگاتی ہیں جب نجاست اپنی ہی جگہ پر ہو نہ کہ ہرجگہ۔

۹ ۔ اس پانی کے ساتھ کسی دوسری نجاست کی عدم موجودگی شرط ہونے کی دلیل:عفو اور بخشش کی روایات کے مطابق یہ پانی استنجاء کے وقت پیشاب اور پاخانے کی وجہ سے نجس نہیں ہوتا؛ جبکہ کسی اور قسم کی نجاست کے لگنے کی صورت کو یہ روایات بیان نہیں کر رہی ہیں؛ لہذا ان دلیلوں کے اطلاق سے تمسک کیا جائے گا جن کے مطابق قلیل پانی ، نجاست کے ساتھ ملنے سے ہی نجس ہو جاتا ہے۔


وضوکے احکام

وضو کا طریقہ:

وضو کرتے وقت چہرے کولمبائی میں سر کے بال اگنے کی جگہ سے ٹھوڑی تک اورچوڑائی میں درمیانی انگلی اور انگوٹھے کی درمیانی مقدار کے برابر دھونا واجب ہے اور مشہور یہ ہے کہ نیچے سے اوپر کی طرف دھونا جائز نہیں ہے۔

پھر دائیں ہاتھ سے شروع کرتے ہوئے دونوں ہاتھوں کو کہنیوں سے انگلیوں کے سروں تک ، اوپر سے نیچے کی طرف دھونا واجب ہے۔

پھر سر کے اگلے حصے کااس مقدار میں مسح کرنا ضروری ہے جسے مسح کہا جائے۔

پھر ، پہلے دایاں پاؤں کا دائیں ہاتھ سے اور بایاں پاؤں کا بائیں ہاتھ سے ،ٹخنوں تک مسح کرنا واجب ہے ۔ البتہ مسح کے عمل میں اوپر سے نیچے کی طرف مسح کرنا جائز ہےاور ضروری ہے کہ مسح اسی وضو کی تری سے کیا جائے۔

دلائل:

۱ ۔ وضو کے، دوعضو کے دھونے اور دو عضو کے مسح کرنے پر مشتمل ہونے کی دلیل:اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

( يَأَيهَُّا الَّذِينَ ءَامَنُواْ إِذَا قُمْتُمْ إِلىَ الصَّلَوةِ فَاغْسِلُواْ وُجُوهَكُمْ وَ أَيْدِيَكُمْ إِلىَ الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُواْ بِرُءُوسِكُمْ وَ أَرْجُلَكُمْ إِلىَ الْكَعْبَينْ‏ِ ) ، “ اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تواپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھو لیا کرو نیز اپنے سروں کا اور ٹخنوں تک پاؤں کا مسح کرو۔”(۳۱)

آیہ مجیدہ میں لفظ “ارجل” کا عطف ، ظاہرا ًمجرور “برءُوسکم” کے محل پر ہے۔

وضو کے دو چیزوں سے مرکب ہونے کی دوسری دلیل زرارہ کی صحیح حدیث ہے جو دلیل نمبر ۳ میں بیان ہوگی۔

۲ ۔چہرے کی مذکورہ حد بندی کی دلیل: حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی زرارہ کی صحیح روایت ہے :

أَخْبِرْنِي عَنْ حَدِّ الْوَجْهِ الَّذِي يَنْبَغِي أَنْ يُوَضَّأَ الَّذِي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ، فَقَالَ: الْوَجْهُ الَّذِي قَالَ اللَّهُ وَ أَمَرَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ بِغَسْلِهِ الَّذِي لَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَزِيدَ عَلَيْهِ وَ لَا يَنْقُصَ مِنْهُ، إِنْ زَادَ عَلَيْهِ لَمْ يُؤْجَرْ وَ إِنْ نَقَصَ مِنْهُ أَثِمَ مَا دَارَتْ عَلَيْهِ الْوُسْطَى وَ الْإِبْهَامُ مِنْ قُصَاصِ شَعْرِ الرَّأْسِ إِلَى الذَّقَنِ، وَ مَا جَرَتْ‏ عَلَيْهِ الْإِصْبَعَانِ مُسْتَدِيراً فَهُوَ مِنَ الْوَجْهِ.وَ مَا سِوَى ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ الْوَجْهِ. فَقَالَ: لَهُ الصُّدْغُ مِنَ الْوَجْهِ؟ فَقَالَ: لَا .” “مجھے چہرے کی اس حد سے آگاہ فرمائیے ، اللہ تعالی ٰ نے وضو میں جس کے دھونے کا حکم دیا ہے، امام ؑ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے چہرے کی جو مقداربیان کر کے اس کے دھونے کا حکم دیا ہے اوراس مقدار سے زیادہ یا کم نہیں دھونا چاہئے اور اگر اس سے زیادہ دھویا تو کوئی ثواب نہیں دیا جائے گا اور اگر کم دھویا تو گناہ گار ہوگا۔ وہ مقدارسر کے بال اگنے کی جگہ سے ٹھوڑی تک ،درمیانی انگلی اور انگوٹھے کے احاطے میں آنے والا حصہ ہے۔ جو حصہ ان دو انگلیوں کے دائرے میں آئے وہی چہرہ ہے اورجو اس حد سے باہر ہے وہ چہرے کا حصہ نہیں ہے۔ میں نے عرض کیا:کیا کنپٹی بھی چہرے کا حصہ ہے؟ فرمایا: نہیں۔”(۳۲)

مشیخہ(۳۳) کے مطابق شیخ صدوق ؒسے زرارہ تک کا پورا سلسلہ سند صحیح ہے۔(۳۴)

۳ ۔ چہرے کا برعکس دھونا جائز نہ ہونے کی دلیل: اس حکم پر مندرجہ ذیل طریقوں سے استدلال کیا جاسکتا ہے:

۱ ۔ اعمال کی کیفیت کو بیان کرنے والی روایات کے ذریعے:مثلا زراہ کی یہ صحیح روایت :

حَكَى لَنَا أَبُو جَعْفَرٍ عهی السلام وُضُوءَ رَسُولِ اللَّهِ (ص) فَدَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ- فَأَدْخَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى فَأَخَذَ كَفّاً مِنْ مَاءٍ- فَأَسْدَلَهَا عَلَى وَجْهِهِ مِنْ أَعْلَى الْوَجْهِ- ثُمَّ مَسَحَ بِيَدِهِ الْجَانِبَيْنِ جَمِيعاً- ثُمَّ أَعَادَ الْيُسْرَى فِي الْإِنَاءِ- فَأَسْدَلَهَا عَلَى الْيُمْنَى ثُمَّ مَسَحَ جَوَانِبَهَا- ثُمَّ أَعَادَ الْيُمْنَى فِي الْإِنَاءِ- ثُمَّ صَبَّهَا عَلَى الْيُسْرَى فَصَنَعَ بِهَا كَمَا صَنَعَ بِالْيُمْنَى- ثُمَّ مَسَحَ بِبِلَّةِ مَا بَقِيَ فِي يَدَيْهِ رَأْسَهُ وَ رِجْلَيْهِ- وَ لَمْ يُعِدْهُمَا فِي الْإِنَاءِ .”“حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نےہمیں رسول خداﷺ کے وضو کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ؐ نے پانی کا ایک برتن منگوایا اس میں اپنا داہنا ہاتھ ڈال کر چلو بھر پانی اٹھایا پھر اسے اپنے چہرہ مبارک پر اوپر کی جانب سے ڈالا پھر چہرے کی دونوں طرف ہاتھ پھیر ا، اس کے بعد باہنے داتھ کو برتن میں ڈالا اور پانی نکال کر دائیں ہاتھ پر ڈالا پھر ہاتھ کے اطراف پر پھیرا، اس کے بعد دائیں ہاتھ کو برتن میں ڈالا اور پانی نکال کر بائیں ہاتھ پر ڈالا اور وہی عمل دہرایا جو دائیں ہاتھ پر انجام دیا تھا، اس کے بعد ہاتھوں کو دوبارہ برتن میں ڈالے بغیر اسی باقیماندہ تری کے ساتھ اپنے سر اور پاؤں کا مسح کیا۔”(۳۵)

یہ روایت کہہ رہی ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے چہرے پر اوپر کی جانب سے پانی ڈالا۔

٭ ۲ ۔ اصالہ اشتغال(۳۶) کے ذریعےکہ : اگر نیچے سے اوپر کی طرف دھویا جائے تو عمل سے بریٔ الذمہ ہونے کا یقین حاصل نہیں ہوتا۔

۴ ۔ دونوں ہاتھوں کا مذکورہ مقدار میں دھوناضروری ہونے کی دلیل: آیت وضو اس حکم کا تقاضا کرتی ہے۔

۵ ۔ ہاتھوں کابرعکس دھونا جائز نہ ہوناتقریباً شیعوں کی خاص علامتوں میں سے ہے ۔سید مرتضی ؒاور ابن ادریس ؒ(۳۷) کے علاوہ کسی شیعہ فقیہ کی طرف اس حکم کی مخالفت کی نسبت نہیں دی گئی ہے ۔

اس حکم کو وضو کا طریقہ بیان کرنے والی بعض روایات سے سمجھا جاسکتا ہے۔ مثلا:

“...ثُمَّ غَمَسَ كَفَّهُ الْيُسْرَى فَغَرَفَ بِهَا غُرْفَةً فَأَفْرَغَ عَلَى ذِرَاعِهِ الْيُمْنَى- فَغَسَلَ بِهَا ذِرَاعَهُ مِنَ الْمِرْفَقِ إِلَى الْكَفِّ- لَا يَرُدُّهَا إِلَى الْمِرْفَق‏...”، “۔۔۔پھربائیں ہاتھ کو کلائیوں تک پانی میں ڈبو کر چلو بھر پانی اٹھایا اور اسے دائیں ہاتھ پر ڈالا، پھر ہاتھ کو کہنیوں سے کلائیوں تک دھویا اور دھوتے وقت ہاتھ کودوبارہ کہنیوں کی طرف لے کر نہیں گیا۔”(۳۸)

اس روایت میں ہاتھ کو دوبارہ کہنیوں کی طرف نہ لے جانے پر ہونے والی تاکیدسے سمجھا جا سکتا ہے کہ ہاتھوں کا برعکس دھونا جائز نہیں ہے۔

اگر یہ کہا جائے کہ : آیت مجیدہ میں “الی” کی تعبیر اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ برعکس دھونا ہی شرعی طریقہ ہے ؛لہذا جو بات آیت کے خلاف ہوگی وہ قابل قبول نہیں ہوگی۔

تو اس کا جواب یہ ہے کہ: مندرجہ بالا بات اس وقت صحیح ہوگی جب جار و مجرور“الی ...” کا متعلق “فاغسلوا ” ہو، تاکہ دھونے کی انتہائی مقدار بیان ہو جائے؛ لیکن اگر “الی” لفظ “ایدیکم ” کے لئے قید ہو ؛ کیونکہ مطلَقاً ہاتھ کہنے سے ہاتھ کے کئی مصادیق ہو سکتے ہیں، تو اس صورت میں “الی ” کے ذریعے ہاتھ کی وہ مقداربیان کرنا مراد ہوگا جس کا دھونا واجب ہے۔ مثلا یہ کہا جائے کہ “دیوار کو چھت تک رنگین کرو۔”

جو بات ہماری دلیل کی تائید کرتی ہے وہ یہ کہ اگر “الی ” کا متعلق “فاغسلوا ” ہوتا تو آیت مجیدہ کی دلالت ، برعکس دھونا واجب ہونے پر ہوتی؛ جبکہ واجب ہونے کا کوئی قائل نہیں ہے۔

۶ ۔دائیں ہاتھ کا پہلے دھوناضروری ہونے کی دلیل: فقہاء کے درمیان یہ متفق علیہ حکم ہے۔ اس پرحضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی منصور بن حازم کی صحیح روایت اور دوسری روایات دلالت کرتی ہیں:

الرَّجُلِ يَتَوَضَّأُ فَيَبْدَأُ بِالشِّمَالِ قَبْلَ الْيَمِينِِ،ِ قَالَ: يَغْسِلُ الْيَمِينَ وَ يُعِيدُ الْيَسَارَ .”“ایک آدمی، وضو کرتے وقت، پہلے بائیں ہاتھ کو دھوتا ہے پھر دائیں ہاتھ کو ۔ امام ؑ نے فرمایا:وہ دائیں ہاتھ کو دھوئے گا پھر بائیں ہاتھ کو دوبارہ دھوئے گا۔”(۳۹)

جیسا کہ واضح ہے کہ اگر دونوں ہاتھوں کو ایک ساتھ دھونا جائز ہوتا تو مندرجہ بالا روایت سمیت دوسری روایات ،اس سے منع نہیں کرتیں۔

۷ ۔ سر کے اگلے حصے پر مسح کرنا ضروری ہونا بھی متفق علیہ حکم ہے۔ اگرچہ آیت مجیدہ کا اطلاق ، سر کے کسی بھی حصے پر مسح کرنا صحیح ہونے پر دلالت کرتاہے ؛ لیکن اس اطلاق کے لئے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی محمد بن مسلم کی صحیح روایت تقیید بن رہی ہے:“امْسَحِ الرَّأْسَ عَلَى مُقَدَّمِهِ .”“سر کا مسح اس کے اگلے حصے پرکرو ۔”(۴۰)

اورجو روایات سر کے پچھلے حصے پر مسح کے جائز ہونے پر دلالت کرتی ہیں(۴۱) جب فقہاء نے ان کے مشتملات سے دوری اختیار کرتے ہوئے کسی ایک نے بھی ان کے مطابق فتویٰ نہیں دیا تو ان روایات کو تقیہ یا کسی اور وجہ پر حمل کرنا چاہئے۔

۸ ۔ مسمائے مسح کے کافی ہونے کو ثابت کرنے کے لئے آیت مجیدہ کا اطلاق ہی کافی ہے؛ کیونکہ “برءوسکم” کی “ب” سر کے بعض حصے کا مسح کرنا واجب ہونے پر دلالت کرتی ہے۔اس دلالت کے لئے کوئی اورشرط و قید موجودنہیں ہے؛ لہذا اطلاق کی وجہ سے مسمائے مسح کا کافی ہونا ثابت ہوتا ہے۔

علاوہ از ایں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی زراہ اور بکیر کی صحیح روایت کہہ رہی ہے کہ:

“...وَ إِذَا مَسَحْتَ بِشَيْ‏ءٍ مِنْ رَأْسِكَ أَوْ بِشَيْ‏ءٍ مِنْ قَدَمَيْكَ مَا بَيْنَ كَعْبَيْكَ إِلَى أَطْرَافِ الْأَصَابِعِ فَقَدْ أَجْزَأَكَ .”“جب تو نے اپنے سر کے ایک حصے کا یا پاؤں کی انگلیوں اور ٹخنوں تک کے درمیانی حصے کا مسح کر لیا تو یہی کافی ہے۔”(۴۲)

اس روایت کے ساتھ دوسری بعض روایات بھی اسی حکم پر واضح دلالت کر رہی ہیں۔( کہ مسمائے مسح یعنی اتنی مقدار جسے مسح کہا جائے ، کافی ہے۔)

یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ جس بات کے بعض اہل سنت قائل ہیں کہ پورے سر کا یہاں تک کہ کانوں کا بھی مسح کرلینا چاہئے ، اس کے صحیح ہونے پر کوئی دلیل نہیں ہے۔(۴۳)

۹ ۔ دونوں پاؤں کا دھونا ضروری نہیں بلکہ اہل سنت کی روش کے خلاف(۴۴) مسح کرنا واجب ہونے پر قرآن مجید کی واضح دلالت ہے؛ کیونکہ قرائتوں کے اختلاف کے ساتھ “ارجل”(۴۵) ،کا عطف “رءوسکم” کے لفظ پر ہے یا اس کے محل پر؛ دونوں صورتوں میں صرف مسح کا واجب ہونا ثابت ہوتا ہے۔

اگر یہ دعویٰ کیا جائے کہ : کلمہ “ارجل” ،کا عطف “وجوهکم ” پر کیا گیا ہے ؛ لہذا پاؤں کا دھونا واجب ہے ۔ نیز “ارجلکم” کو “جحر ضبٍ خربٍ” کی طرح پہلے والے مکسور کلمےکی مجاورت اور مصاحبت کی وجہ سے مکسور پڑھا گیا ہے۔

تو اس کا جواب یہ ہے کہ : چونکہ معطوف “ارجلکم” اور معطوف علیہ “وجوهکم ” کے درمیان اجنبی الفاظ کا طویل فاصلہ آیا ہے؛ لہذا ادب کے ذوق سلیم پر اس طرح کا عطف ناگوار گزرتا ہےاوروہ اس عطف کو نہیں مانتا۔

۱۰ ۔ پاؤں کے مسح میں ٹخنوں کو داخل کئے بغیر ابھار تک ہی مسح کا واجب ہونا،یا تو اس لئے ہے کہ غایت ( مسح)مغییٰ (ابھار) میں داخل نہیں ہوتی ،یا زرارہ اور بکیر کی صحیح روایت کی وہ سے ہے جو مسمائے مسح میں گزر چکی ہے۔

۱۱ ۔ پاؤں کے مسح میں چوڑائی کے اعتبار سے مسمائے مسح کے کافی ہونے پر آیہ وضو دلالت کرتی ہے۔بشرطیکہ “ارجلکم” کو “مجرور” پڑھا جائے؛ کیونکہ اس صورت میں“ب” کو پوشیدہ مانا جاتا ہے ۔(جوبعض پر دلالت کرتی ہے) بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ محل پر عطف کرتے ہوئے“نصب” دینے کی صورت میں بھی آیت ، اسی حکم پر دلالت کرتی ہے۔

۱۲ ۔ دایاں پاؤں کا دائیں ہاتھ سے اور بایاں پاؤں کا بائیں ہاتھ سے مسح کرنا ضروری ہونا، زرارہ کی صحیح روایت کی وجہ سے ہےجو ذیل میں بیان ہوگی۔

۱۳ ۔ پہلے دائیں پاؤں کا مسح کرنا ضروری ہونے پر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی محمد بن مسلم کی یہ صحیح روایت دلالت کرتی ہے:

امْسَحْ عَلَى الْقَدَمَيْنِ وَ ابْدَأْ بِالشِّقِّ الْأَيْمَنِ .” “دونوں پاؤں کا مسح کروجبکہ ابتداء دایاں پاؤں سے کرو۔”(۴۶)

۱۴ ۔ سر اور پاؤں کے مسح میں برعکس مسح کرنا جائز ہونے کی دلیل، آیت مجیدہ کا اطلاق ہے۔

جبکہ پاؤں کے مسح میں اس اطلاق کی تائید کے لئے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی حماد بن عثمان کی صحیح روایت بھی ہےکہ آپ نے فرمایا:

لَا بَأْسَ بِمَسْحِ الْقَدَمَيْنِ مُقْبِلًا وَ مُدْبِراً .”“پاؤں کا مسح اوپر سے نیچے کی طرف کیا جائے یا نیچے سے اوپر کی طرف، کوئی اشکال نہیں ہے ۔”(۴۷)

۱۵ ۔ وضو کی تری سے سر اور پاؤں کا مسح کرنا ضروری ہونے پربعض روایات دلالت کرتی ہیں جن میں سے ایک حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی زرارہ کی صحیح روایت ہے، جس میں آپ فرماتے ہیں:

“...وَ تَمْسَحُ بِبِلَّةِ يُمْنَاكَ نَاصِيَتَكَ، وَ مَا بَقِيَ مِنْ بِلَّةِ يُمْنَاكَ ظَهْرَ قَدَمِكَ الْيُمْنَى وَ تَمْسَحُ بِبِلَّةِ يُسْرَاكَ ظَهْرَ قَدَمِكَ الْيُسْرَى .”“۔۔۔ اور تمہارے دائیں ہاتھ کی تری سے سر کے اگلے حصے کا اور اسی کی باقیماندہ تری سے دایاں پاؤں کی پشت کا مسح کروگے اور بائیں ہاتھ کی تری سے بایاں پاؤں کی پشت کا مسح کروگے۔”(۴۸)

وضو کی شرائط:

وضو میں چند چیزیں ضروری ہیں:

۱ ۔ نیت: اس معنی میں کہ فعل کی انجام دہی، اللہ تعالیٰ کے امر کو بجالانے کے ارادے سے ہو؛

۲ ۔ پانی کا پاک ہونا،

۳ ۔ پانی کا مباح ہونا،

۴ ۔ پانی کا مطلق ہونا،

۵ ۔ ترتیب،

۶ ۔ موالات،(۴۹)

۷ ۔ مکلف خود وضو کرے۔

مشہورقول کے مطابق ضروری ہے کہ اعضائے وضو پاک ہوں اور مکلف کے لئے،پانی کے استعمال میں، شرعاًکوئی رکاوٹ نہ ہو۔

دلائل:

۱ ۔ فعل کی انجام دہی، اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کے ارادے سے ہونااس لئے ضروری ہے کہ یہ ہر عبادت کا لازمہ ہے۔ یہاں سے واضح ہوتا ہے کہ ریا یعنی دکھاوا، وضو سمیت ہر عبادی عمل کو کیوں باطل کرتا ہے ؛ بلکہ ریا، گناہان کبیرہ میں سے ہے ؛کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو شریک جاننا ہے۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ہے :

لَوْ أَنَّ عَبْداً عَمِلَ عَمَلًا يَطْلُبُ بِهِ وَجْهَ اللَّهِ وَ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَ أَدْخَلَ فِيهِ رِضَى أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ كَانَ مُشْرِكا .”“اگر کوئی بندہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی چاہتے ہوئے اور جنت میں داخل ہونے کے لئے کوئی عمل انجام دے اور لوگوں میں سے کسی کی خوشنودی بھی اس میں شامل کرلے تو وہ بندہ مشرک ہے۔”(۵۰)

شرک حرام ہے اور حرام کا لازمہ اس عمل کا باطل ہونا ہے۔

رسول خدا ﷺ سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ:

سُئِلَ فِيمَا النَّجَاةُ غَداً، فَقَالَ: إِنَّمَا النَّجَاةُ فِي أَنْ لَا تُخَادِعُوا اللَّهَ فَيَخْدَعَكُمْ فَإِنَّهُ مَنْ يُخَادِعِ اللَّهَ يَخْدَعْهُ وَ يَخْلَعْ مِنْهُ الْإِيمَانَ، وَ نَفْسَهُ يَخْدَعُ لَوْ يَشْعُرُ. قِيلَ لَهُ: فَكَيْفَ يُخَادِعُ اللَّهَ؟ قَالَ يَعْمَلُ بِمَا أَمَرَهُ اللَّهُ ثُمَّ يُرِيدُ بِهِ غَيْرَهُ، فَاتَّقُوا اللَّهَ فِي الرِّيَاءِ فَإِنَّهُ الشِّرْكُ بِاللَّهِ. إِنَّ الْمُرَائِيَ يُدْعَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِأَرْبَعَةِ أَسْمَاءٍ: يَا كَافِرُ يَا فَاجِرُ يَا غَادِرُ يَا خَاسِرُ، حَبِطَ عَمَلُكَ وَ بَطَلَ أَجْرُكَ، فَلَا خَلَاصَ لَكَ الْيَوْمَ فَالْتَمِسْ أَجْرَكَ مِمَّنْ كُنْتَ تَعْمَلُ لَهُ .”“پیغمبر اکرم ﷺ سے سوال کیا گیا کہ قیامت کے دن کی نجات کس چیز میں ہے ؟ آپ ؐ نے فرمایا: تمہاری نجات اللہ تعالیٰ کو دھوکہ نہ دینے میں ہے؛ ورنہ اللہ تمہیں دھوکہ دے گا۔ جو شخص اللہ کو دھوکہ دیتا ہے، اللہ بھی اسے دھوکہ دیتا اور اس کا ایمان چھین لیتا ہے۔ وہ اپنے آپ کو دھوکہ دیتا ہے حالانکہ اسے اس کا شعور نہیں ہے۔ پوچھا گیا کہ اللہ کو کس طرح دھوکہ دیا جاتا ہے؟ فرمایا: اللہ کے فرمان کے مطابق عمل کیا جاتا ہے پھر اس عمل کے ذریعے لوگوں کی خوشنودی کا بھی ارادہ کیا جاتا ہے۔ پس تم لوگ دکھاوے کے سلسلے میں اللہ کا تقویٰ اختیار کرو!؛ کیونکہ یہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک جاننا ہے۔ ریاکار کو قیامت کے دن چار ناموں کے ساتھ پکارا جائے گا: اے کافر!، اے فاجر! اے غادر! (دھوکہ باز) اور اے خاسر! (نقصان اٹھانے والا)تیرا عمل حبط (ختم) ہو گیا اور تیرا اجر ضائع ہو گیا! آج کوئی چارہ نہیں ہے ۔جا! اور جس کے لئے عمل انجام دیتا رہا ہے اسی سے اس کی جزا مانگ۔ ”(۵۱)

رہا یہ سوال کہ وضو کس طرح واجب تعبدی میں سے شمار ہوتا ہے؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ وضو کے بارے میں شریعت کے تمام پیروکاروں کا،خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے، مرد ہوں یا عورت، ارتکاز ذہنی یہی ہے کہ وضو ایک عبادت ہے۔ اس ذہنی ارتکاز کے بارے میں ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ خود بخود وجود میں آیا ہے؛ کیونکہ کسی بھی معلول کا،علت کے بغیر،وجود میں آنا محال ہے۔پس اس ارتکاز کی علت اس کے سواکچھ نہیں ہو سکتا کہ یہ بات معصوم ؑ سے دست بدست ان تک پہنچی ہے۔

۲ ۔ پانی کاپاک ہونا ضروری ہونے پر بہت ساری متواتر روایات دلالت کرتی ہیں۔ انہی میں سے ایک حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سےمروی سماعۃ کی موثق روایت ہے :

سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ عهیو السلام عَنْ رَجُلٍ مَعَهُ إِنَاءَانِ فِيهِمَا مَاءٌ وَقَعَ فِي أَحَدِهِمَا قَذَرٌ، لَا يَدْرِي أَيُّهُمَا هُوَ، وَ لَيْسَ يَقْدِرُ عَلَى مَاءٍ غَيْرِهِ، قَالَ: يُهَرِيقُهُمَا جَمِيعاً وَ يَتَيَمَّمُ .”“میں نے حضرت امام جعفر صادق عرض کیا :ایک شخص کے پاس موجود پانی کے دو برتنوں میں سے ایک برتن میں کوئی نجاست گری ہے اور اسے نہیں معلوم کہ کس برتن میں گری ہے۔ انہی برتنوں کے پانی کے علاوہ اس کی دسترس میں پانی نہیں ہے۔ امام ؑ نے فرمایا: دونوں برتنوں کا پانی گرایا جائے گا اور تیمم کرے گا۔”(۵۲)

۳ ۔پانی کامباح ہونا اس لئے ضروری ہے کہ اگر پانی مباح نہ ہو تواس کا وضو کرنا ایک غصبی اورحرام فعل ہو تا ہے۔ نتیجتاً اسے عبادت نہیں کہا جا سکتا۔

۴ ۔ پانی کامطلق ہونا ضروری ہونے پر مندرجہ ذیل آیت مجیدہ کے اطلاق سے استدلال کیا جا سکتا ہے :

( ...فَلَمْ تجَِدُواْ مَاءً فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدًا طَيِّبًا ) ، “۔۔۔اور تمہیں پانی میسرنہ آئے تو پاک مٹی پر تیمم کرو۔”(۵۳)

۵ ۔وضو میں ترتیب شرط ہونے پر بعض روایات دلالت کرتی ہیں ۔ منجملہ: زرارہ کی یہ صحیح روایت :

سُئِلَ أَحَدُهُمَا علیهما السلام عَنْ رَجُلٍ بَدَأَ بِيَدِهِ قَبْلَ وَجْهِهِ، وَ بِرِجْلَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ. قَالَ: يَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ وَ لْيُعِدْ مَا كَانَ .” “دو اماموں (حضرت امام محمد باقر یا حضرت امام جعفر صادق علیہما السلام) میں سے ایک سے کسی ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے چہرے کو دھونے سے پہلے ہاتھوں کو دھویا اور ہاتھوں کو دھونے سے پہلے پاؤں کا مسح کر لیا تھا۔ امام ؑ نے فرمایا:جس طرح خدا نے فرمایا ہے اسی ترتیب سے شروع کرنا چاہئے اور جو پہلے بجا لایا ہے اس کا اعادہ کرنا چاہئے۔”(۵۴)

جیسا کہ واضح ہے: یہ روایت دائیں ہاتھ کو پہلے دھونا ضروری ہونے پر دلالت نہیں کررہی ہے ؛ لیکن منصور بن حازم کی گزشتہ روایت(۵۵) سے اس شرط پر استدلال کیا جا سکتا ہے۔

۶ ۔موالات شرط ہونے کی دلیل: اگرچہ آیت مجیدہ کے اطلاق کا تقاضا ، موالات کا شرط نہ ہونا ہے ؛ لیکن معاویہ کی صحیح روایت اس کے شرط ہونےپر دلالت کر رہی ہے:

قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام:رُبَّمَا تَوَضَّأْتُ فَنَفِدَ الْمَاءُ فَدَعَوْتُ الْجَارِيَةَ فَأَبْطَأَتْ عَلَيَّ بِالْمَاءِ فَيَجِفُّ وَضُوئِي، فَقَالَ: أَعِدْ .”“میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا کہ: وضو کرتے ہوئے جب میرے پاس پانی ختم ہوجائے تو میں کنیز کو پانی لانے کے لئے بلاتا ہوں؛تووہ پانی لانے میں دیر کرے اور میرے وہ اعضاء، جنہیں دھو چکا ہوں، خشک ہو جائیں (تو) امام ؑ نے فرمایا: اعادہ کرو۔”(۵۶)

یہ روایت کہہ رہی ہے کہ موالات شرط ہے ؛ اس معنی میں کہ اعضائے وضو ( وضو کے دوران ) خشک نہ ہو جائیں۔

۷ ۔براہ راست وضو کرنا ضروری ہونے کو آیت وضو سے ہی سمجھا جا سکتا ہے ؛ کیونکہ ظاہرِ آیت ،جس فاعل کےوجود پر دلالت کررہا ہے اس کی طرف وضو کے فعل کی نسبت دینا، تب صحیح ہے جب وہ براہ راست اس فعل کو انجام دے۔

۸ ۔ اعضائے وضو کے پاک ہونے کی شرط مشہور فقہاء نے لگائی ہے جبکہ اس پرکوئی دلیل نہیں ہے سوائے اس کے کہ :

ا۔وضو کا قیاس غسل جنابت پر کیا جائے کیونکہ غسل جنابت میں زرارہ کی صحیح روایت(۵۷) دلالت کر رہی ہے کہ جو اعضاء نجس ہو گئے ہیں انہیں غسل سے پہلے دھونا ضروری ہے ۔

۲ ۔یا یہ کہا جائے کہ اعضائے وضو کا نجس ہونا ، وضو کے پانی کے نجس ہونے کا سبب بنتا ہے ؛ لہذا وضو سے پہلے دھونا ضروری ہے۔

جبکہ دونوں دلیلیں قابل تامل ہیں:

پہلی دلیل کے قیاس مع الفارق ہونے کا احتمال ہے ۔( کہ ممکن ہے وضو اور غسل کے احکام میں فرق ہوں۔)

دوسری دلیل پر اشکال یہ ہے کہ بعض حالات میں اعضائے وضو کے نجس ہوتے ہوئے بھی وضو کے پانی کا نجس نہ ہونا ممکن ہے ۔ مثلا :کثیر پانی سے ارتماسی وضو کرلیا جائے ۔ یا اس فرضیہ کی بنا پر کہ نجس چیز کے پاک ہونے سے اس کا دھووَن بھی پاک ہوجاتا ہے۔

بنابرایں جب اعضائے وضو کا نجس ہونا ، وضو کے پانی کے نجس ہونے کا باعث نہ بنے تو وضو سے پہلے اعضاء کے پاک ہونے کی شرط لگانابلا دلیل ہے۔

۹ ۔پانی کے استعمال میں کوئی رکاوٹ نہ ہونے کی شرط پیاس کی حالت میں پوری ہو سکتی ہے۔ جس پر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی حلبی کی صحیح روایت دلالت کر تی ہے :

الْجُنُبُ يَكُونُ مَعَهُ الْمَاءُ الْقَلِيلُ فَإِنْ هُوَ اغْتَسَلَ بِهِ خَافَ الْعَطَشَ. أَ يَغْتَسِلُ بِهِ أَوْ يَتَيَمَّمُ؟ فَقَالَ: بَلْ يَتَيَمَّمُ، وَ كَذَلِكَ إِذَا أَرَادَ الْوُضُوءَ .” “کسی مجنب شخص کے پاس تھوڑا پانی موجود ہے اگر اس سے وہ غسل کرلے تو اسے پیاس کا خوف ہے۔ وہ غسل کرے گا یا تیمم؟ امام ؑ نے فرمایا:وہ تیمم کرے گا، اسی طرح وہ اگر وضو کرنا چاہے (تو وضو نہیں کرے گا بلکہ اس کے بدلے تیمم کرے گا)”(۵۸)

یہ روایت اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ وضو کاحکم یہاں سے اٹھالیا گیا ہے ۔ ایسی صورت میں وضو کیا جائے تو اس وضو کو صحیح نہیں سمجھا جائے گا ؛ نہ ہی:امر( حکم) کے ذریعے ؛ کیونکہ روایت کے مطابق یہاں پر امر موجود نہیں ہے؛اور نہ ملاک(وضو میں موجود مصلحت) کے ذریعے؛ کیونکہ ہمارے پاس ، اس وضو میں مصلحت ہونے کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔

مبطلات وضو:

کچھ چیزیں وضو کو باطل کردیتی ہیں:

۱ ۔ پیشاب،

۲ ۔ پاخانہ،

۳ ۔ معدے کی ہوا،

۴ ۔ نیند،

۵ ۔ ہر وہ چیز جو عقل کو زائل کر دے،

۶ ۔ استحاضۂ قلیلہ، متوسطہ اور کثیرہ،

۷ ۔ جنابت۔

استبراء کرنے سے پہلے خارج ہو نے والی رطوبت اور تری بھی پیشاب کے حکم میں ہے۔

دلائل:

۱ ۔ پہلی چار چیزوں کے ذریعے وضوکاباطل ہونا،فقہاء کے درمیان متفق علیہ حکم ہے اور زرارہ کی صحیح روایت سے بھی یہی حکم ثابت ہوتا ہے :

قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ وَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ علیهما السلام: مَا يُنْقِضُ الْوُضُوءَ؟ فَقَالا: مَا يَخْرُجُ مِنْ طَرَفَيْكَ الْأَسْفَلَيْنِ مِنَ الذَّكَرِ وَ الدُّبُرِ مِنَ الْغَائِطِ وَ الْبَوْلِ أَوْ مَنِيٍّ أَوْ رِيحٍ وَ النَّوْمُ حَتَّى يُذْهِبَ الْعَقْل ...”“میں نے حضرت امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہما السلام سے عرض کیا کہ کونسی چیز وضو کو باطل کر دیتی ہے؟ انہوں نے فرمایا: جو چیزیں آلۂ تناسل اور مقعد سے خارج ہوتی ہیں۔جیسے: پاخانہ، پیشاب، منی یا ہوا۔ نیز ایسی نیند جو عقل کو زائل کر ے۔”(۵۹)

اس کے علاوہ بھی بہت ساری روایات اسی بات پر دلالت کرتی ہیں۔

۲ ۔ عقل کو زائل کرنے والی چیزوں کے ذریعے وضو کے باطل ہونابھی فقہاء کےدرمیان متفق علیہ مسئلہ ہے اور مندرجہ بالا صحیح روایت کے آخری جملے سے یہی حکم سمجھا جا سکتا ہے ۔

۳ ۔ استحاضہ قلیلہ کے ذریعے وضو کا باطل ہونا اس روایت کی وجہ سے ہے جو معاویہ بن عمار نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کی ہے:

“...وَ إِنْ كَانَ الدَّمُ لَا يَثْقُبُ الْكُرْسُفَ تَوَضَّأَتْ وَ دَخَلَتِ الْمَسْجِدَ وَ صَلَّتْ كُلَّ صَلَاةٍ بِوُضُوء” “اگر خون روئی کے( ظاہری حصے کو لگے اور) اندر سرایت نہ کرے تو یہ عورت وضو کرے گی اور مسجد میں داخل ہو سکے گی اور ہر نماز کے لئے وضو کرے گی۔”(۶۰)

استحاضہ متوسطہ کے ذریعے وضو کے باطل ہونے پر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی سماعہ کی موثق روایت دلالت کرتی ہے :

الْمُسْتَحَاضَةُ إِذَا ثَقَبَ الدَّمُ الْكُرْسُفَ اغْتَسَلَتْ لِكُلِّ صَلَاتَيْنِ وَ لِلْفَجْرِ غُسْلًا، وَ إِنْ لَمْ يَجُزِ الدَّمُ الْكُرْسُفَ فَعَلَيْهَا الْغُسْلُ لِكُلِّ يَوْمٍ مَرَّةً وَ الْوُضُوءُ لِكُلِّ صَلَاةٍ ...”“مستحاضہ کا خون اگر روئی کے اندر سرایت کرجائے تو وہ ہر دو نمازوں کے لئے ایک غسل اور صبح کی نماز کے لئے ایک غسل کرے گی ، اگر روئی کے اندر سرایت نہ کرے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ پورے ایک دن کے لئے ایک غسل اور ہر نماز کے لئے وضو کرے۔”(۶۱)

جبکہ استحاضہ کثیرہ میں کہا جا سکتا ہے کہ اس عورت پر وضو کرنا ضروری نہیں؛ بلکہ اس پر تین بار غسل کرنا ضروری ہے جیسا کہ اس حکم پر مذکورہ موثقہ روایت واضح طور پر دلالت کر رہی ہے۔

رہا یہ سوال کہ کیا مستحاضہ کثیرہ کا وضو بھی باطل ہوتا ہے ؟ تو اس حکم کا بطریق اولیٰ ثابت ہونا بعید نہیں ہے؛ کیونکہ جب استحاضہ قلیلہ اور متوسطہ کی وجہ سے وضو باطل ہوتا ہے تو کثیرہ کی وجہ سے بطریق اولیٰ باطل ہوگا۔البتہ کثیرہ پر دوبارہ وضو کرنا ضروری نہیں ہے ؛ کیونکہ اس کا غسل ہی اسے دوبارہ وضو کرنے سے بے نیاز کرتا ہے۔ اگر چہ احتیاط کرنا بہتر ہے ؛ بلکہ مشہور حکم کی مخالفت سے بچتے ہوئے احتیاط کرناضروری ہے۔

۴ ۔ منی خارج ہونے سے وضو کا باطل ہونازرارہ کی گزشتہ روایت صحیحہ کی وجہ سے ہے۔

جماع کی وجہ سے وضو کے باطل ہونے پر ابو مریم کی روایت صحیحہ دلالت کررہی ہے کہ:

قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ علیه السلام: مَا تَقُولُ فِي الرَّجُلِ يَتَوَضَّأُ ثُمَّ يَدْعُو جَارِيَتَهُ فَتَأْخُذُ بِيَدِهِ حَتَّى يَنْتَهِيَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَإِنَّ مَنْ عِنْدَنَا يَزْعُمُونَ أَنَّهَا الْمُلَامَسَةُ، فَقَالَ: لَا وَ اللَّهِ، مَا بِذَلِكَ بَأْسٌ، وَ رُبَّمَا فَعَلْتُهُ، وَ مَا يُعْنَى بِهَذَا”أَوْ لامَسْتُمُ النِّساءَ(۶۲) إِلَّا الْمُوَاقَعَةُ فِي الْفَرْج .”“میں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے عرض کیا: اس شخص کے بارے میں آپ ؑ کیا فرماتے ہیں جو وضو کرنے کے بعد اپنی کنیز کو بلاتا ہے اور کنیز اس کا ہاتھ پکڑتی ہے یہاں تک کہ دونوںمسجد پہنچ جاتے ہیں، ہمارے ہاں بعض لوگ اس کو ملامسہ(جماع) سمجھتے ہیں؟ فرمایا: بخدا ایسا نہیں ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے؛ ممکن ہے کبھی میں نے بھی ایسا کیا ہو، “أَوْ لامَسْتُمُ النِّساءَ ” کا مطلب یہ نہیں ہے ؛ بلکہ عورت کی شرمگاہ میں دخول کرنا ہے۔”(۶۳)

۵ ۔ استبراء سے پہلے خارج ہونے والی مشتبہ رطوبت ،پیشاب کا حکم رکھتی ہے اس کی دلیل وہ روایات ہیں جو مشتبہ رطوبت کی وجہ سے طہارت کے ٹوٹنے یااس رطوبت کے پیشاب ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ جیسےمحمد بن مسلم کی صحیح روایت کا مفہوم ( لازمہ):

قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ علیه السلام: رَجُلٌ بَالَ وَ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ مَاءٌ. قَالَ: يَعْصِرُ أَصْلَ ذَكَرِهِ إِلَى طَرَفِهِ‏ ثَلَاثَ عَصَرَاتٍ، وَ يَنْتُرُ طَرَفَهُ، فَإِنْ خَرَجَ بَعْدَ ذَلِكَ شَيْ‏ءٌ فَلَيْسَ مِنَ الْبَوْلِ وَ لَكِنَّهُ مِنَ الْحَبَائِلِ .” “میں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے عرض کیا: ایک شخص پیشاب کرتا ہے ؛ جبکہ اس کے پاس پانی نہیں ہے۔ امام ؑ نے فرمایا: وہ اپنے آلہ تناسل کو جڑ سے سرے تک تین مرتبہ سونتے گا اور اسے جھٹکے گا پھر اس کے بعد بھی کوئی چیز نکلے تو وہ پیشاب نہیں بلکہ حبائل(۶۴) میں سے ہے ۔”(۶۵)

اسباب وضو:

مندرجہ ذیل اعمال کے لئے وضو کرنا واجب ہے:

۱ ۔ نماز میت کے علاوہ تمام واجب نمازیں ،

۲ ۔ نماز کے بھولے ہوئے اجزاء ،

۳ ۔ نماز احتیاط،

۴ ۔ واجب طواف کی نماز،

۵ ۔ نذر اور اس کے دوساتھی: عہد اور قسم۔

دلائل:

۱ ۔واجب نمازوں کے لئے وضو کے واجب ہونے کی دلیل: اس حکم پر آیت وضو(۶۶) دلالت کرتی ہے نیز وہ احادیث اور روایات جن کا ماحصل یہ ہے کہ: “لَا صَلَاةَ إِلَّا بِطَهُورٍ .”“طہارت کے بغیر نماز نہیں ہو سکتی۔”(۶۷)

۲ ۔ نماز میت کے لئے وضو کے واجب نہ ہونے کی دلیل،نماز میت کی بحث میں بیان ہوگی۔

۳ ۔ نماز کے بھولے ہوئے اجزاء اور نماز احتیاط کے لئے وضو کے واجب ہونے پر علی ابن جعفر کی صحیح روایت دلالت کرتی ہے ۔ اس روایت کو انہوں نے اپنے برادر گرامی حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام سے نقل کیا ہے:

“...وَ سَأَلْتُهُ عَنْ رَجُلٍ طَافَ ثُمَّ ذَكَرَ أَنَّهُ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ. قَالَ: يَقْطَعُ طَوَافَهُ وَ لَا يَعْتَدُّ بِهِ. ”“میں نے امام ؑ سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جس نےطواف (کرنا شروع) کیا پھر یاد آیا کہ وہ وضو سے نہیں تھا۔ امام ؑ نے فرمایا: وہ اپنے طواف کو توڑ دے گا اور جو کچھ بجا لایا ہے اس کوشمارنہیں کرے گا۔”(۶۸)

۵ ۔ نذر وغیرہ کی وجہ سے وضو کے واجب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ نذر و عہد وغیرہ کو پورا کرنا واجب ہے؛ لہذا اگر وضو کرنے کی نذر مانی ہو تو اس نذر کو بھی پورا کرنا واجب ہوجاتا ہے۔

وضو کے خصوصی احکام:

جس شخص کو حدث کا یقین ہو اور طہارت میں شک ہو یا اس کے برعکس ( کہ طہارت کا یقین ہو اور حدث میں شک ہو ) تو وہ پہلے والی حالت پر بنا رکھے گا۔

جوشخص نماز پڑھنے کے بعد طہارت میں شک کرے تو وہ اسی نماز کو صحیح سمجھے گا جبکہ بعد والی نمازوں کے لئے وضو کرے گا۔

جو شخص نماز کے دوران طہارت میں شک کرے اوروہ بظاہر محکوم بطہارت بھی نہ ہو تو وہ نماز کو توڑ دے گا اور وضو کرنے کے بعد اسے دوبارہ بجالائے گا۔

جس شخص کو وضو کرنے سے پہلے یا وضو کے دوران موجودہ شیء کے رکاوٹ بننے یا کسی رکاوٹ کی موجودگی کے بارے میں شک ہو تو ضروری ہے کہ رکاوٹ کے برطرف ہونے یا وضو سے پہلے کسی رکاوٹ کے نہ ہونے کا یقین یا اطمینان حاصل کرے ؛ لیکن اگر وضو کے بعد شک ہو تو وضو صحیح سمجھا جائے۔

جو شخص وضو کرے جبکہ اس کے بعض اعضائے وضو نجس تھے، پھر وہ شک کرے کہ یہ اعضاء پاک ہو گئے ہیں یا نہیں تو اسے چاہئے کہ وضو کے صحیح ہونے اور اعضاء کے نجس حالت میں باقی رہنے پر بنا رکھے؛ لہذا بعد میں بجا لانے والے اعمال کے لئے اعضاء کا پاک کرنا واجب ہوجائے گا۔

دلائل:

۱ ۔ یقین والی سابقہ حالت پر بنا رکھنا ،استصحاب(۶۹) کی وجہ سے ہے۔

۲ ۔ نماز کے بعد طہارت میں شک کی صورت میں نماز کا صحیح ہونا قاعدۂ فراغ(۷۰) کی وجہ سے ہے جو بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے۔ انہی روایات میں سے ایک حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام سے مروی محمد بن مسلم کی موثق روایت ہے کہ آپ ؑ نے فرمایا:

كُلُّ مَا شَكَكْتَ فِيهِ مِمَّا قَدْ مَضَى فَامْضِهِ كَمَا هُوَ .”“جب بھی کسی بجا لائی گئی چیز میں تجھے شک ہو تو اس کے صحیح ہونے پر بنا رکھ!۔”(۷۱)

۳ ۔ بعد والے اعمال کے لئے وضو کے واجب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان اعمال میں قاعدۂ فراغ جاری نہیں ہوسکتا ؛ لہذا اعمال سے پہلے شرط عمل کا حصول ضروری ہوجاتا ہے۔ (یعنی اعمال کے لئے طہارت شرط ہے اس لئے پہلے شرط کو پورا کرناپڑے گا۔)

۴ ۔ جو شخص دوران نماز، طہارت میں شک کرے اور وہ محکوم بطہارت بھی نہ ہو تواس پر وضو کرنا واجب ہوجاتا ہے کیونکہ اسی نماز کے بعد والے اجزا کو بجالانے کے لئے شرط طہارت کا حصول ضروری ہے۔

۵ ۔ کسی چیز کے رکاوٹ بننے میں شک یا کسی رکاوٹ کی موجودگی کے بارے میں شک کی صورت میں یقین یا اطمینان کاحوال لازمی ہے چونکہ چہرہ اور ہاتھوں کو دھونے کے لحاظ سے مکلف کی گردن پر ایک ذمہ داری ہے اور اس پر اس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کا یقین حاصل کرنا ضروری ہے ؛ لہذا جب تک کسی رکاوٹ کی عدم موجودگی کا یقین نہ ہوجائے اس وقت تک مکلف کو اس ذمہ داری سے سبکدوش ہونے کا یقین حاصل نہیں ہو سکتا۔

۶ ۔ عمل سے فارغ ہونے کے بعد شک کی صورت میں اس عمل کے صحیح ہونے پر بنا رکھنا،قاعدہ فراغ کی وجہ سے ہے۔

لیکن اس مورد سمیت دوسرے موارد میں قاعدۂ فراغ کے جاری ہونے میں ، دوران عمل ، خود عمل کے تمام شرائط کی طرف مکلف کا متوجہ ہونا ،شرط ہے یا نہیں؟ اس بات پر فقہائے عظام کے درمیان اختلاف ہے۔

۷ ۔ اعضاء کے نجس ہوتے ہوئے وضو کرنے کی صورت میں وضو کے صحیح ہونے کی دلیل بھی قاعدہ فراغ ہے۔

جبکہ اعضاء کا نجاست کی حالت پر باقی رہنے کا حکم استصحاب ِنجاست کی وجہ سے ہے بشرطیکہ اعضاء کو وضو کے ارادے سے دھونا، ان کے پاک ہونے کے لئے کافی نہ ہو۔نیز قاعدۂ فراغ بھی اپنے لوازمات کو ثابت نہیں کر سکتا ۔


غسل کے احکام

غسل کے اسباب:

چند چیزوں کی وجہ سے غسل واجب ہوتا ہے:

۱ ۔ جنابت،

۲ ۔ حیض،

۳ ۔ نفاس،

۴ ۔ استحاضہ،

۵ ۔ موت،

۶ ۔ مس میت۔ ( میت کو چھونا)

غسل جنابت اور اس کے اسباب:

جنابت کے دو اسباب ہیں:

۱ ۔ منی کا خارج ہونا،

۲ ۔ عورت کے ساتھ جماع کرنا، خواہ قبل میں کیا جائے یا دبر میں۔

اول الذکر کے حکم میں وہ مشتبہ رطوبت بھی شامل ہے جو پیشاب کے ذریعے استبراء کرنے سے پہلے اور غسل کر لینے کےبعد خارج ہوجائے۔

جب مکلف پر طہارت سے مشروط کوئی عمل واجب ہو جائے تو اس پر غسل جنابت واجب ہوجاتا ہے۔

دلائل:

۱ ۔ منی کے نکلنے سے غسل جنابت کے واجب ہونے پربعض روایات دلالت کرتی ہیں جن میں سے ایک حلبی کی روایت صحیحہ ہے :

سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام: عَنِ الْمُفَخِّذِ، عَلَيْهِ غُسْلٌ؟ قَالَ: نَعَمْ إِذَا أَنْزَل .”“میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جو عورت کے ساتھ کھیلتا ہے ،کیا اس پر غسل واجب ہے ؟ امام ؑ نے فرمایا: ہاں ! جب منی نکلے۔”(۷۲)

عورت کے قبل یا دبر میں جماع کرنے سے غسل کے واجب ہونے پر آیت مجیدہ کا اطلاق دلالت کررہا ہے:( أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تجَِدُواْ مَاءً. ..) ،“ یا تم نے عورتوں کو ہاتھ لگایا ہو پھر تمہیں پانی میسر نہ آئے۔”(۷۳) اس کے علاوہ بہت ساری روایات بھی اسی حکم کو بیان کرتی ہیں۔

۲ ۔کیا مرد کے دبر میں وطی کرنا بھی (جو گناہان کبیرہ میں سے ہے)جنابت کا سبب بنتا ہے؟ مشہور قول یہ ہے کہ : جی ہاں! مرد کے دبر میں وطی کرنا بھی جنابت کا سبب بنتا ہے۔اس حکم کو ثابت کرنے کے لئے مندرجہ ذیل دلیلوں کا سہارا لیا جاتا ہے:

الف: اجماع۔ جس کا سید مرتضیٰ ؒ نے دعویٰ کیا ہے۔(۷۴)

ب:بعض روایات۔مثلا:

۱ ۔ دو اماموں (حضرت امام جعفر صادق اور حضرت امام محمد باقر علیہما السلام) میں سے کسی ایک سے مروی محمد ابن مسلم کی صحیح روایت ہے:

سَأَلْتُهُ مَتَى يَجِبُ الْغُسْلُ عَلَى الرَّجُلِ وَ الْمَرْأَةِ؟ فَقَالَ: إِذَاأَدْخَلَهُ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ وَ الْمَهْرُ وَ الرَّجْمُ .”“میں نے امام ؑ سے سوال کیا: مرد اور عورت پر کب غسل واجب ہوجاتا ہے؟ آپ ؑ نے فرمایا: جب دخول کیا جائے تو غسل، مہر اور رجم(سنگسار کرنا) واجب ہوجاتا ہے۔”(۷۵)

۲ ۔ابو بکر حضرمی کی روایت جو انہوں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کی ہے :

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ص‏): مَنْ جَامَعَ غُلَاماً جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جُنُباً لَا يُنَقِّيهِ مَاءُ الدُّنْيَا وَ غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَ لَعَنَهُ وَ أَعَدَّ لَهُ جَهَنَّمَ وَ سَاءَتْ مَصِيراً. ثُمَّ قَالَ: إِنَّ الذَّكَرَ يَرْكَبُ الذَّكَرَ فَيَهْتَزُّ الْعَرْشُ لِذَلِك .” “رسول خدا ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی لڑکے کے ساتھ لواط کرے گا تو دنیا کا پانی اسے پاک نہیں کرے گا اور وہ قیامت کے دن جنابت کی حالت میں آئے گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب اور اس کی لعنت ہوگی اور اس کے لئے جہنم کو آمادہ کیا جائے گا۔ پھر آپ ؐ نے فرمایا: جب کوئی مرد کسی مرد کے اوپر چڑھتا ہے تو عرش الٰہی لرز اٹھتا ہے۔”(۷۶)

یہ تمام دلائل یا ان میں بعض دلیلیں کامل ہوں تو ہم یہ حکم لگاسکیں گے کہ مرد کے دبر میں وطی کرنے والے پر جنابت کا حکم جاری ہوتا ہے ؛ لیکن اگر دلیلیں کامل نہ ہوں تو احتیاط کرنا بہتر ہے۔لہذا جن مواقع میں مکلف نے غسل سے پہلے وضو نہ کیا ہو وہاں غسل کے ساتھ ساتھ وضو کرنے سے احتیاط پر عمل ہوسکتا ہے ؛ لیکن اگر غسل سے پہلے اس نے وضو کیا ہو تو اس غسل کا کافی ہونا واضح ہے۔

۳ ۔ مشتبہ رطوبت کے منی کےحکم میں شامل ہونے پر محمد ابن مسلم کی صحیح روایت دلالت کررہی ہے :

سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام عَنِ الرَّجُلِ يَخْرُجُ مِنْ إِحْلِيلِهِ بَعْدَ مَا اغْتَسَلَ شَيْ‏ءٌ. قَالَ: يَغْتَسِلُ وَ يُعِيدُ الصَّلَاةَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ بَالَ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ فَإِنَّهُ لَا يُعِيدُ غُسْلَه. ”“میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیاجس کے آلۂ تناسل سے غسل کے بعد کوئی رطوبت نکلتی ہے۔ آپ ؑ نے فرمایا: وہ دوبارہ غسل کرے گا اور نماز کو دہرائے گا؛ لیکن اگر اس نے غسل سے پہلے پیشاب کیا ہو تو غسل کا اعادہ نہیں کرے گا۔”(۷۷)

۴ ۔ غسل جنابت کےبذات خود واجب ہونے کی ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے؛ لہذا ہم اصالہ برائت جاری کریں گے۔( اور کہیں گے کہ یہ غسل بذات خود واجب نہیں ہے۔)

طہارت سے مشروط کسی عمل کے واجب ہونے کے ساتھ غسل جنابت کے واجب ہونے کی دلیل: اس حکم کا ماخذ قاعدہ “وجوب مقدمہ واجب ” ہے کہ ہر واجب کا مقدمہ ، خواہ عقلا ہی کیوں نہ ہو، واجب ہو جاتا ہے۔

غسل جنابت اور اس کے بعض احکام:

غسل کے دو طریقے ہیں:

الف)ارتماسی :

مکلف اپنے پورے جسم کو پانی میں اس طرح ڈبو دے جسے عرفاً یکدم ڈبونا کہا جائے۔

ب) ترتیبی:

مکلف پہلے اپنے سر اور گردن کو دھوئے پھر جسم کے دائیں حصے کو پھر بائیں حصے کو دھوئے۔

غسل جنابت سمیت تمام غسلوں میں موالات اور برعکس نہ دھونے کی شرط نہیں ہے۔

غسل جنابت ، وضو سے مجزی ہے؛ یعنی اس کے بعد وضو کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔

اگر مکلف کو شک گزرے کہ غسل جنابت انجام پایا ہے یا نہیں تواسے دوبارہ غسل کرنا چاہئے۔

اگر غسل کرنے کے بعد شک کرے کہ یہ غسل صحیح انجام پایا ہے یا نہیں؟ تو اس کے صحیح ہونے پر بنا رکھے۔

اگر نماز پڑھنے کے بعد شک کرے کہ غسل انجام پایا تھا یا نہیں تو اسی نماز کو صحیح سمجھے گا اور بعد میں پڑھی جانے والی نمازوں کے لئے غسل بجا لائے گا۔

دلائل:

۱ ۔ غسل ارتماسی کے جائز ہونے پر بعض روایات دلالت کرتی ہیں جن میں سے ایک حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی محمد بن مسلم کی روایت صحیحہ ہے :

لَوْ أَنَّ رَجُلًا جُنُباً ارْتَمَسَ فِي الْمَاءِ ارْتِمَاسَةً وَاحِدَةً أَجْزَأَهُ ذَلِكَ وَ إِنْ لَمْ يَدْلُكْ جَسَدَهُ .” “اگر مجنب اپنے جسم کو ملے بغیربھی اپنے آپ کو ایک مرتبہ پانی میں مکمل ڈبودے تو یہی کافی ہے۔”(۷۸)

اس روایت میں امام ؑ کے فرمان “ارتماسة واحدة” سے معلوم ہوتا ہے کہ جسم کو پانی میں ڈبونے پر عرفاً یکبارگی ڈبوناصادق آنا چاہئے۔

۲ ۔ غسل ترتیبی کا جائز ہونا زرارہ کی ایک اور صحیح روایت کی وجہ سے ہے :

قُلْتُ: كَيْفَ يَغْتَسِلُ الْجُنُبُ؟ فَقَالَ: إِنْ لَمْ يَكُنْ أَصَابَ كَفَّهُ شَيْ‏ءٌ غَمَسَهَا فِي الْمَاءِ ثُمَّ بَدَأَ بِفَرْجِهِ فَأَنْقَاهُ بِثَلَاثِ غُرَفٍ ثُمَّ صَبَّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ أَكُفٍّ ثُمَّ صَبَّ عَلَى مَنْكِبِهِ الْأَيْمَنِ مَرَّتَيْنِ وَ عَلَى مَنْكِبِهِ الْأَيْسَرِ مَرَّتَيْنِ فَمَا جَرَى عَلَيْهِ الْمَاءُ فَقَدْ أَجْزَأَهُ .”“میں نے عرض کیا:مجنب کیسے غسل کرے گا؟ فرمایا: اگر اس کی ہتھیلی پر کوئی نجاست نہ لگی ہو تو اسے پانی ڈبو کر تین چلو پانی سے اپنی شرمگاہ کو دھوئے گا پھر سر پر تین چلو پانی ڈالے گا ، پھر دو چلو دائیں کندھے پر اور دو چلو بائیں کندھے پر ڈالے گا اس طرح پورے جسم تک پانی پہنچ جائے تو یہی کافی ہے۔”(۷۹)

اس روایت کا مُضمَر(۸۰) ہونا اس کے دلیل بننے میں رکاوٹ نہیں بنے گا؛ کیونکہ مُضمِر(راوی) ان بزرگ اصحاب میں سے ہیں جن کے لئے امام ؑ کے علاوہ کسی اور سے روایت کرنا مناسب نہیں ہے۔

مشہور کے مطابق جسم کے دائیں حصے کو بائیں حصے سے پہلے دھونا ضروری ہے ؛لیکن اس کے ضروری نہ ہونے پر بھی ایک قول موجود ہے۔

۳ ۔ غسل میں موالات کی شرط کا نہ ہونا حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سےمروی ابراہیم بن عمر الیمانی کی روایت کی وجہ سے ہے کہ آپؑ نے فرمایا:

إِنَّ عَلِيّاً علیه السلام لَمْ يَرَ بَأْساً أَنْ يَغْسِلَ الْجُنُبُ رَأْسَهُ غُدْوَةً وَ يَغْسِلَ سَائِرَ جَسَدِهِ عِنْدَ الصَّلَاة. ” “حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے کہ مجنب اپنےسر کو صبح کے وقت اور جسم کے باقی حصوں کو نماز کے وقت دھوئے ۔”(۸۱)

۴ ۔ دھوتے وقت اوپر کی طرف سے شروع کرنا واجب نہ ہونے کی دلیل: حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے سماعۃ کی موثق روایت ہے جس میں آپ ؑ نے فرمایا:

“...ثُمَّ لْيَصُبَّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ مِلْ‏ءَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ يَضْرِبُ بِكَفٍّ مِنْ مَاءٍ عَلَى صَدْرِهِ وَ كَفٍّ بَيْنَ كَتِفَيْه ...”“پھر دونوں چلوؤں کو بھر کر تین مرتبہ اپنے سر پر پانی ڈالے پھر ایک چلو اپنے سینے پر اور ایک چلو اپنے کندھے پر ڈالے۔”(۸۲)

اس حدیث میں سینے پر پانی کا ڈالنا یعنی:“صبّ” مطلق ذکر ہوا ہے جو کسی بھی طرح سے پانی ڈالنے پر صادق آتا ہے اگرچہ اوپر کے حصے سے ڈالنا شروع نہ بھی کرے۔

۵ ۔تمام غسلوں میں ان شرائط کے ضروری نہ ہونے کی دلیل، یہ ہے کہ غسل جنابت کے مذکور طریقے کے علاوہ دوسرے غسلوں کا کوئی خاص طریقہ ذکر نہیں ہوا ہے۔

علاوہ از ایں اگر مذکورہ شرائط ضروری ہوتیں تو لوگوں کے درمیان معروف اور مشہور ہوتیں کیونکہ غسل جنابت کے علاوہ دوسرے اغسال بھی لوگوں کو بہت زیادہ پیش آتے رہتے ہیں۔

۶ ۔ غسل جنابت کا وضو سے مجزی ہونے کی دلیل ،اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے :

( يَأَيهَُّا الَّذِينَ ءَامَنُواْ إِذَا قُمْتُمْ... وَ إِن كُنتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُواْ ) ،“ اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو۔۔۔۔ اگر تم حالت جنابت میں ہو تو پاک ہوجاؤ۔”(۸۳)

آیت مجیدہ اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ مجنب کا فریضہ غسل ہے اور غیر مجنب کا فریضہ وضو۔ فرائض کا الگ الگ بیان کرنا اشتراک فریضہ کے تصور کو ختم کرتا ہے۔(۸۴)

۷ ۔غسل کے انجام پانے کے بارے میں شک کی صورت میں دوبارہ غسل کے واجب ہونے کے حکم کا ماخذ استصحاب عدم تحقق غسل ہے ۔(یعنی مکلف کو غسل نہ کرنے کا یقین تھا پھر اس کے انجام پانے میں شک ہواتو وہ پہلی والی یقینی حالت پر عمل کرے گا۔)

۸ ۔ غسل سے فارغ ہونے کے بعد اس کے صحیح ہونے میں شک کی صورت میں صحیح ہونے پر بنا رکھناقاعدۂ فراغ کی وجہ سے ہے جو حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سےمروی محمد بن مسلم کی موثق روایت سے معلوم ہوتا ہے :

كُلُّ مَا شَكَكْتَ فِيهِ مِمَّا قَدْ مَضَى فَامْضِهِ كَمَا هُوَ. ”“جب بھی کسی بجا لائی گئی چیز میں شک کرو تو اس کے صحیح ہونے پر بنا رکھو۔”(۸۵)

۹ ۔ نماز کے بعد غسل کے انجام پانے میں شک کی صورت میں نماز کا صحیح ہونابھی قاعدۂ فراغ کی وجہ سے ہے؛ لیکن اس نماز کے بعد پڑھی جانے والی نمازوں کے لئے ،استصحاب عدم تحقق غسل کی وجہ سے ، غسل کرنا ضروری ہے۔

اگر یہ اشکال کیا جائے کہ : جو نماز پڑھی گئی ہے اس کے حوالے سے بھی استصحاب جاری ہو سکتا ہے۔ پس بعد والی نمازوں کو چھوڑ کر صرف اسی نماز کے حوالے سے استصحاب جاری کرنے کی وجہ کیا ہے؟

تواس کا جواب یہ ہے کہ: پڑھی گئی نماز کے حوالے سے قاعدۂ فراغ جاری ہوسکتا ہے جو استصحاب پر حاکم ہے؛ درحالیکہ بعد والی نمازوں کے حوالے سے یہ قاعدہ جاری نہیں ہو سکتا۔

مجنب پر حرام ہونے والی چیزیں:

چند چیزیں مجنب پر حرام ہیں:

الف) قرآن مجید کی تحریر کو چھونا۔ مشہور فقہاء نے لفظ جلالہ (اللہ) اور اللہ تعالیٰ کی ذاتی صفات کوبھی قرآن مجید کے حکم میں شامل کیا ہے ۔

ب)فقہاء کے درمیان اختلاف نظر کے ساتھ قرآن مجید کے ان سوروں کا پڑھنا جن میں واجب سجدے ہیں یا صرف سجدے والی آیت کا پڑھنا ۔

ج) مسجد میں داخل ہونا؛ سوائے گزرنے کی حالت کے کہ ایک دروازے سے داخل ہو اور دوسرے دروازے سے نکل جائے۔ البتہ یہ حکم مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے علاوہ دوسری مساجد کے لئے ہے جبکہ ان دونوں مسجدوں سے گزرنا بھی حرام ہے۔

(معصومین ؑ کے حرم جیسے)مقدس مقامات کومسجد کے حکم میں شامل کیا جانا مناسب ہے۔

د) مسجد کے اندر کسی چیز کا رکھنا۔

دلائل:

۱ ۔ قرآن مجید کی کتابت کو چھوناحرام ہونے کی دلیل، ابو بصیر کی موثق روایت ہے :

سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام عَمَّنْ قَرَأَ فِي الْمُصْحَفِ وَ هُوَ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ. قَالَ: لَا بَأْسَ وَ لَا يَمَسَّ الْكِتَابَ .” “میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سےاس شخص کے بارے میں سوال کیا جو وضو کئے بغیر قرآن پڑھتا ہے۔ فرمایا: کوئی حرج نہیں ؛ لیکن کتابت کو مس نہ کرے۔”(۸۶)

اس روایت کے ساتھ مندرجہ ذیل باتوں میں سے کسی ایک کے پیش نظر کہ :

۱ ۔ جب ہم وضو کے بغیر نہیں چھو سکتے تو جنب کی حالت میں بطریق اولیٰ نہیں چھو سکتے؛

۲ ۔یا یہ کہ وضو نہ کرنے والے کا ایک مصداق مجنب بھی ہے۔

۲ ۔ لفظ جلالہ کو چھونے کا حکم: مشہورقول کے مطابق ، لفظ جلالہ کو چھونا مجنب پر حرام ہے جس پر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی عمار بن موسیٰ کی موثق روایت دلالت کررہی ہے:

لَا يَمَسُّ الْجُنُبُ دِرْهَماً وَ لَا دِينَاراً عَلَيْهِ اسْمُ اللَّهِ تَعَالَى .”“مجنب ایسے درہم اور دینار کو نہیں چھو سکتا جن پر اللہ تعالیٰ کا اسم لکھا ہوا ہو۔”(۸۷)

البتہ اس حکم کے مقابلے میں حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے مروی اسحاق بن عمار کی موثق روایت ہے :

سَأَلْتُهُ عَنِ الْجُنُبِ وَ الطَّامِثِ يَمَسَّانِ بِأَيْدِيهِمَا الدَّرَاهِمَ الْبِيضَ. قَالَ: لَا بَأْسَ .”“میں نے امام ؑ سے سوال کیا: کیا مجنب اور حائض چاندی کے درہموں کو چھو سکتے ہیں ؟ امام ؑ نے فرمایا: کوئی حرج نہیں۔”(۸۸)

ان دونوں روایونں کو یوں جمع کیا گیا ہے کہ پہلی روایت،“اسم جلالہ” کو چھونے کے معنی میں لی گئی ہے اور دوسری سے “اسم جلالہ” کو مس کئے بغیر ،“اسم” لکھے ہو ئے درہم ہی کو چھونا مراد لیا گیا ہے ۔ اس طرح سے جمع کرنا اگر صحیح ہو تو بات بھی پوری ہو جائے گی اور دونوں روایتوں پر بھی کوئی اشکال نہیں ہوگا؛ لیکن اگر اس طرح جمع کرنے کو قبول نہ کیا جائے تو مناسب یہ ہے کہ ایک اور طریقے جمع کر لیا جائے کہ پہلی روایت کومکروہ ہونے کے معنی میں سمجھیں ؛ کیونکہ دوسری روایت صراحت کے ساتھ جائز ہونے پر دلالت کر رہی ہے۔ اس صورت میں دوسری روایت کو کراہت پر حمل کرتے ہوئے اس کے ظاہر یعنی؛ حرام کے حکم سے دستبردار ہونا پڑے گا ۔

۳ ۔اللہ تعالیٰ کی ذاتی صفات پر دلالت کرنے والے الفاظ کا حکم: اگر ان الفاظ کے بارے میں قطعی طور پر معلوم ہوجائے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے شمار ہو تے ہیں تو عمار کی موثق روایت کے تحت “اسم جلالہ” کا حکم (چھونا حرام ہونا)ان کے لئے بھی ثابت ہوجائے گا ؛ بصورت دیگر (یعنی:اگر قطعی طور پر علم نہ ہو تو )اصالۂ برائت جاری کرتے ہوئے ان کو چھونا جائز قرار دیا جائے گا۔

۴ ۔ سجدے والی آیت کا پڑھنا حرام ہونے میں کسی کو اختلا ف نہیں ہے ؛ لیکن اختلا ف اس بات پر ہے کہ :صرف سجدے والی آیتوں کا پڑھنا حرام ہے ؛ یا سجدے والی سورتوں کی کسی بھی آیت کو پڑھنا حرام ہے؟

پہلے قول پر بعض روایات دلالت کررہی ہیں جن میں سے ایک حضر ت امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی زرارہ کی روایت صحیحہ ہے:

“...الْحَائِضُ وَ الْجُنُبُ هَلْ يَقْرَءَانِ مِنَ الْقُرْآنِ‏ شَيْئاً؟ قَالَ: نَعَمْ مَا شَاءَا إِلَّا السَّجْدَة .”“۔۔۔ کیا حائض اور مجنب قرآن پڑھ سکتے ہیں؟ امام ؑ نے فرمایا: ہاں! جتنا چاہیں پڑھ سکتے ہیں سوائے سجدہ کے ۔”(۸۹)

اس روایت کےلفظ “سجدہ” سے ظاہراً، آیت سجدہ ہی کے مراد ہونے کا علم نہیں ہوتا ؛ کیونکہ اس احتمال کی وجہ سے کہ سجدہ سے مراد آیت سجدہ ہے یا سورہ سجدہ، یہ لفظ مجمل ہے؛ لہذا “قدر متیقن”(۹۰) پر اکتفا کرنا ضروری ہوجائے گا اور وہ قدر متیقن آیت سجدہ ہے۔آیت سجدہ کا حکم ثابت کرنے کے بعد سجدہ والی سورتوں کی باقیماندہ مقدار کے حوالے سے ہم ان روایات کے اطلاق کی طرف رجوع کریں گے جو مجنب کے لئے قرآن پڑھنا جائز ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ مثلا حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی زید شحام کی روایت صحیحہ ہےکہ امام ؑ نے فرمایا:

تَقْرَأُ الْحَائِضُ الْقُرْآنَ وَ النُّفَسَاءُ وَ الْجُنُبُ أَيْضاً. ”“حائض قرآن پڑھ سکتی ہے ، اسی طرح نفساء اور مجنب بھی۔”(۹۱)

۵ ۔مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے علاوہ دوسری مساجد میں ،گزرنے کی حالت کے علاوہ ، داخل ہونا حرام ہونے پر بعض روایات دلالت کرتی ہیں جن میں سے ایک محمد بن مسلم کی روایت صحیحہ ہے :

قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ علیه السلام فِي حَدِيثِ الْجُنُبِ وَ الْحَائِضِ: وَ يَدْخُلَانِ الْمَسْجِدَ مُجْتَازَيْنِ وَ لَا يَقْعُدَانِ فِيهِ وَ لَا يَقْرَبَانِ الْمَسْجِدَيْنِ الْحَرَمَيْن .”“حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے حائض اور مجنب کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا: یہ دونوں (حائض اور مجنب) مسجد میں ، وہاں سے گزرتے ہوئے ،داخل ہو سکتے ہیں؛ لیکن وہاں بیٹھ نہیں سکتے اورحرمین (مسجد الحرام اور مسجد نبوی)کے قریب نہیں ہوسکتے۔”(۹۲)

اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نہ صرف دو مسجدوں سے بلکہ تمام مسجدوں سے گزرنے کے حرام ہونے پر دلالت کرتا ہے :

( يَأَيهَُّا الَّذِينَ ءَامَنُواْ لَا تَقْرَبُواْ الصَّلَوةَ وَ أَنتُمْ سُكَارَى‏ حَتىَ‏ تَعْلَمُواْ مَا تَقُولُونَ وَ لَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِى سَبِيلٍ ) ، “اے ایمان والو! نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جایا کرو یہاں تک کہ تم جان لو کہ تم کیا کہہ رہے ہو اور جنابت کی حالت میں بھی، یہاں تک کہ غسل کر لو مگریہ کہ کسی راستے سے گزر رہے ہو”(۹۳)

۶ ۔مقدس مقامات کا حکم: بعض فقہاء نے مقدس مقامات کو مسجد کے حکم میں شامل کیا ہے اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں:

یہ کہ: جگہے کی شرافت و پاکیزگی اور اس کے جائے عبادت ہونے کے اعتبار سے ان مقامات میں بھی کاملا مسجد کا تقدس پایا جاتا ہے؛

یا یہ کہ:مجنب اور حائض کا ان مقامات میں داخل ہونے اوروہاں بیٹھنے سے پرہیز کرنا ایک طرح سے شعائر الٰہی کی تعظیم ہے جو دلوں کی پرہیز گاری ہے؛

یا یہ کہ بکر بن محمد کی روایت صحیحہ اس حکم پر دلالت کررہی ہے :

خَرَجْنَا مِنَ الْمَدِينَةِ نُرِيدُ مَنْزِلَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام، فَلَحِقَنَا أَبُو بَصِيرٍ خَارِجاً مِنْ زُقَاقٍ وَ هُوَ جُنُبٌ وَ نَحْنُ لَا نَعْلَمُ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام، قَالَ: فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى أَبِي بَصِيرٍ فَقَالَ: يَا أَبَا مُحَمَّدٍ أَ مَا تَعْلَمُ أَنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِجُنُبٍ أَنْ يَدْخُلَ بُيُوتَ الْأَنْبِيَاءِ؟! قَالَ: فَرَجَعَ أَبُو بَصِيرٍ وَ دَخَلْنَا. ”“ہم مدینے سے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کےگھر جانے کے ارادے سے نکلے تو ابو بصیر بھی ،گلی سے نکل کر ،ہمارے ساتھ ہو لئے؛ درحالیکہ وہ مجنب تھے اور ہمیں اس کا علم نہیں تھا یہاں تک کہ ہم امام ؑ کے گھر تک پہنچ گئے۔امام ؑ نے اپنا سر مبارک اٹھا کر ابو بصیر کی طرف دیکھتے ہوئے فرمایا: اے ابو محمد! کیا تمہیں نہیں معلوم کہ مجنب کو انبیاء کے گھروں میں داخل نہیں ہونا چاہئے؟ پھرابو بصیر پلٹ گئے اور ہم گھر میں داخل ہو گئے۔”(۹۴)

۷ ۔مجنب پر مسجد کے اندر کوئی چیز رکھنا حرام ہونے میں کسی کو اختلاف نہیں ہے ؛کیونکہ اس پر بعض روایات دلالت کر رہی ہیں جن میں سے ایک عبد اللہ بن سنان کی روایت صحیحہ ہے:

سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام عَنِ الْجُنُبِ وَالْحَائِضِ يَتَنَاوَلَانِ مِنَ الْمَسْجِدِ الْمَتَاعَ يَكُونُ فِيهِ؟ قَالَ: نَعَمِْ، وَ لَكِنْ لَا يَضَعَانِ فِي الْمَسْجِدِ شَيْئاً .”، “میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سےسوال کیا : کیا حائض اور مجنب مسجد میں پڑی ہوئی چیزوں کو اٹھا سکتے ہیں؟فرمایا: ہاں! لیکن یہ دونوں مسجد میں کوئی چیز نہ رکھیں۔”(۹۵)


حیض کے احکام

حیض کی تعریف اور اس کے کچھ مختص احکام:

حیض وہ خون ہے جو غالبا ً ہر مہینے،عورت (کی خاص جگہ سے) خارج ہوتا ہے۔ یہ خون سیاہ یا سرخ ، گرم اور گاڑھاہوتاہے اورغالباً جلن کے ساتھ اچھلتے ہوئے نکلتا ہے۔

اس کی کم سے کم مدت تین دن اور زیادہ سے زیادہ مدت دس دن ہوتی ہے۔اس خون کی شرط یہ ہے کہ ابتدائی تین دنوں میں عرف کے مطابق متواتر آئے نیز عورت کے بالغ ہونے کے بعد اور یائسہ ہونے سے پہلے آئے۔

جب تک حیض منقطع نہ ہو اور غسل نہ کر لے ، اس عورت کی نماز ، روزہ، طواف اور اعتکاف صحیح نہیں ہے۔

حائض روزے کی قضا کرے گی جبکہ نماز کی قضا اس پر نہیں ہے۔ جوچیزیں مجنب پر حرام تھیں وہ حائض پر بھی حرا م ہوتی ہیں۔ خون کے منقطع ہونے سے پہلے اس کے ساتھ ہمبستری کرنا حرام ہے۔

طلاق کے باب میں مذکور تفصیلات کے تحت حائض کو طلاق دینا بھی صحیح نہیں ہے۔

غسل حیض کا طریقہ غسل جنابت کی مانند ہے۔

دلائل :

۱ ۔ حیض کی بیان کردہ تشریح،حیض کے بارے میں زمینی حقائق کی وجہ سے ہے ۔ ( یعنی تمام عورتیں ہر مہینے میں ایک بار اسی طرح حیض دیکھتی ہیں۔)

اور “غالبا ”کی شرط ،مضطربہ کے جیسے بعض حالات کو بیان کرنے سے بچنے کی خاطر ، لگائی گئی ہے۔

۲ ۔ حیض کی مذکورہ صفات کی دلیل: بعض روایات ہیں جن میں سے ایک حفص بن بختری کی مندرجہ ذیل صحیح روایت ہے:

دَخَلَتْ عَلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام امْرَأَةٌ، فَسَأَلَتْهُ عَنِ الْمَرْأَةِ يَسْتَمِرُّ بِهَا الدَّمُ فَلَا تَدْرِي حَيْضٌ‏ هُوَ أَوْ غَيْرُهُ، قَالَ: فَقَالَ لَهَا: إِنَّ دَمَ الْحَيْضِ حَارٌّ عَبِيطٌ أَسْوَدُ لَهُ دَفْعٌ وَ حَرَارَةٌ، وَ دَمُ الِاسْتِحَاضَةِ أَصْفَرُ بَارِدٌ، فَإِذَا كَانَ لِلدَّمِ حَرَارَةٌ وَ دَفْعٌ وَ سَوَادٌ فَلْتَدَعِ الصَّلَاةَ. قَالَ: فَخَرَجَتْ وَ هِيَ تَقُولُ: وَ اللَّهِ أَنْ لَوْ كَانَ امْرَأَةً مَا زَادَ عَلَى هَذَا .”“ ایک عورت نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں پہنچ کر آپ ؑسے سوال کیا کہ ایک عورت کو پے در پے خون آتا رہتا ہے اور وہ نہیں جانتی کہ یہ حیض کا خون ہے یا کوئی اور خون؟ روای کہتا ہے کہ امام ؑ نے اس عورت سے فرمایا: خون حیض گرم، تازہ اور سیاہ ہوتا ہے جو جلن کے ساتھ اچھلتے ہوئے نکلتا ہے اور خون استحاضہ زرد اور سرد ہوتا ہے۔پس جب خون سیاہ ہو اور جلن کے ساتھ اچھلتے ہوئے نکلے تو وہ نمازپڑھنا چھوڑ دے ۔ راوی کہتا ہے کہ وہ عورت یہ کہتی ہوئی نکل گئی کہ : خدا کی قسم ! اگر کوئی عورت ہوتی تب بھی اس سے بہتر بیان نہ کرتی۔”(۹۶)

خون کے سیاہ ہونے سے مراد وہ سرخ خون ہے جو زیادہ سرخی کی وجہ سے سیاہ مائل ہو چکا ہو ورنہ کوئی ایسا خون نہیں ہے جو کوئلے کی طرح کالا ہو۔

۳ ۔ “غالبا ” کی قید،اس خون کو بیان کرنے سے بچنے کے لئے لائی گئی ہے جوحیض کے حکم میں تو ہے ؛ لیکن اس میں مذکورہ علامتیں نہیں پائی جاتیں ۔ مثلا وہ زرد خون جسے عورت ، اپنی عادت کے ایام میں یا عادت سے ایک دو دن پہلے دیکھتی ہے۔

۴ ۔ کثرت و قلت کے لحاظ سے حیض کی حدبندی کی دلیل: بعض روایات ہیں جن میں سے ایک ،حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سےمروی معاویہ بن عمار کی روایت ہے کہ:

أَقَلُّ مَا يَكُونُ الْحَيْضُ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَ أَكْثَرُهُ مَا يَكُونُ عَشَرَةُ أَيَّامٍ .”“حیض کی کم سے کم مدت تین دن اور زیادہ سے زیادہ مدت دس دن ہے۔”(۹۷)

۵ ۔ابتدائی تین دنوں میں متواترخون دیکھنا شرط ہونا، حیض کی کم از کم مدت تین دن ہونے کا تقاضا ہے؛ کیونکہ بظاہر “ایک خون” اس مدت سے کم نہیں ہوتا ہےاور جب یہ منقطع ہوجائے گاتو “ایک خون ” شمار نہیں ہوگا؛ کیونکہ عرف میں بھی “ایک ” اس وقت کہا جاتا ہے جب متصل ہو۔

۶ ۔ تین دن متواتر ہونے میں دقیق طور پرمتواتر ہونے کو معیار بنائے بغیر عرف (جس کے تحت کچھ دیر منقطع ہوجائے تب بھی متواتر ہونا صادق آتا ہے)کو معیار بنانا ، ان الفاظ سے ان کے عرف عام میں رائج اور متداول معانی مراد لینے کا نتیجہ ہے۔

۷ ۔ خون حیض کابعد از بلوغ سے مشروط ہونے کی دلیل: عبد الرحمن بن حجاج کی صحیح روایت ہے :

سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام يَقُولُ‏: ثَلَاثٌ يَتَزَوَّجْنَ عَلَى كُلِّ حَالٍ...الی ان قال:وَ الَّتِي لَمْ تَحِضْ وَ مِثْلُهَا لَا تَحِيضُ. قُلْتُ: وَ مَتَى يَكُونُ كَذَلِكَ؟ قَالَ: مَا لَمْ تَبْلُغْ تِسْعَ سِنِين‏...”“ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تین قسم کی عورتیں (طلاق لینے کے بعد عدہ گزارے بغیر) نکاح کر سکتی ہیں۔۔۔ یہاں تک فرمایا کہ: وہ عورت جس نے ابھی تک حیض نہ دیکھا ہو اسی طرح وہ عورت جو یائسہ ہو چکی ہو۔ میں نے عرض کیا:وہ کب تک حیض نہ دیکھنے والی ہوگی؟ فرمایا: جب تک نو سال کی عمر کو نہ پہنچے۔۔۔”(۹۸)

خون حیض کا یائسگی سے پہلے آنا شرط ہونے پر بعض روایات دلالت کرتی ہیں جن کا مضمون کچھ یوں ہے:

حَدُّ الَّتِي قَدْ يَئِسَتْ مِنَ الْمَحِيضِ خَمْسُونَ سَنَةً .”“یعنی: عورت کے خون حیض سے یائسہ ہونے کی حدپچاس سال ہے۔”(۹۹)

۸ ۔ حائض کے چار اعمال (نماز ، روزہ، طواف، اعتکاف)کاصحیح نہ ہونا ،فقہاء کے موردِاتفاق ہونے کی وجہ سے واضح احکام میں سے ایک ہے اور اس پر بعض روایات دلالت کر رہی ہیں:

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی زرارہ کی صحیح روایت:

إِذَا كَانَتِ الْمَرْأَةُ طَامِثاً فَلَا تَحِلُّ لَهَا الصَّلَاة...” “جب عورت حیض کی حالت میں ہو تو اس کے لئے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔۔۔”(۱۰۰)

عمار کی موثق روایت:

سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام عَنِ الْمُسْتَحَاضَةِ، قَالَ: فَقَالَ تَصُومُ شَهْرَ رَمَضَانَ- إِلَّا الْأَيَّامَ الَّتِي كَانَتْ تَحِيضُ فِيهَا ثُمَّ تَقْضِيهَا بَعْدُ .”“میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مستحاضہ کے بارے میں سوال کیا تو آپ ؑ نے فرمایا: وہ ماہ رمضان کے روزے رکھے گی سوائے ان ایام کے کہ جن میں حیض دیکھتی ہے ، پھر بعد میں ان کی قضا کرے گی۔”(۱۰۱)

عبد الرحمن بن ابی عبد اللہ کی موثق روایت:

سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام عَنِ الْمُسْتَحَاضَةِ أَ يَطَؤُهَا زَوْجُهَا، وَ هَلْ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ؟ قَالَ: تَقْعُدُ قُرْأَهَا الَّذِي كَانَتْ تَحِيضُ فِيهِ... الی أن قال:وَ كُلُّ شَيْ‏ءٍ اسْتَحَلَّتْ بِهِ الصَّلَاةَ فَلْيَأْتِهَا زَوْجُهَا وَ لْتَطُفْ بِالْبَيْتِ .”“میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مستحاضہ کے بارے میں سوال کیا کہ کیا اس کا شوہر اس کے ساتھ جماع کرسکتا ہے اور کیا وہ بیت اللہ کا طواف کرسکتی ہے؟ تو امام ؑنے فرمایا: جن ایام میں وہ حیض دیکھتی ہے ان میں بیٹھ جائے گی (کچھ نہیں کرسکے گی) ۔۔۔یہاں تک کہ فرمایا: اور جب نماز پڑھنا اس کے لئے حلال ہوجائے تو اس کا شوہر بھی ہمبستری کرسکتا ہے اور وہ خود طواف بھی کر سکتی ہے۔”(۱۰۲)

یہ روایت اس بات کو آشکار کر رہی ہے کہ جب اس کے لئے نماز پڑھنا جائز ہو جائے تو اس کے شوہر کے لئے نزدیکی جائز ہو جائے گی اور خود اس کے لئے بیت اللہ کا طواف کرنا جائز ہو جائے گا۔

اعتکاف کے صحیح نہ ہونے کو ثابت کرنے کے لئے اس کا روزے سے مشروط ہونا ہی کافی ہے۔

۹ ۔مذکورہ اعمال کا صحیح ہونا، خون کے منقطع ہونے اور غسل کرنے سے مر وط ہونا اس وجہ سے ہے کہ خون کے منقطع ہونے سے پہلے عورت، حائض شمار ہوتی ہے اور غسل کرنے سے پہلے محدث ؛ لہذا طہارت کے ساتھ مشروط ہونے کی وجہ سے اس کے یہ اعمال صحیح نہیں ہو سکتے ۔

۱۰ ۔ نماز کی قضاءواجب نہ ہونے اورروزے کی قضاء کے واجب ہونے کی دلیل: یہ مسلم اور یقینی امور میں سے ہےاور بعض روایات بھی اس حکم پر دلالت کرتی ہیں جن میں سے ایک زرارہ کی صحیح روایت ہے:

سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ علیه السلام عَنْ قَضَاءِ الْحَائِضِ الصَّلَاةَ ثُمَّ تَقْضِي الصِّيَامَ،قَالَ: لَيْسَ عَلَيْهَا أَنْ تَقْضِيَ الصَّلَاةَ وَ عَلَيْهَا أَنْ تَقْضِيَ صَوْمَ شَهْرِ رَمَضَان‏.”“ میں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے حائض کی قضا نماز پھر اس کے روزے کی قضا کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا: اس پر نماز کی قضا واجب نہیں ؛ لیکن ماہ رمضان کے روزوں کی قضا واجب ہے۔”(۱۰۳)

۱۱ ۔ مجنب پر حرام ہونے والی چیزیں حائض پر بھی حرام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ مجنب پر حرام ہونے والی چیزوں کو بیان کرنے والی اکثر و بیشتر روایات میں حائض کا عنوان بھی ذکر کیا گیا ہے یا یہ کہ مطلَقاً محدث کے احکام کو بیان کرتے وقت حائض کا بھی ذکر کیا گیا ہے جیسے قرآن مجید کو چھونا۔

۱۲ ۔ حائض کے ساتھ جماع کرنا حرام ہونے کی دلیل،اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:

( وَ يَسَْلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ قُلْ هُوَ أَذًى فَاعْتَزِلُواْ النِّسَاءَ فىِ الْمَحِيضِ وَ لَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتىَ‏ يَطْهُرْن ) “اور وہ آپ سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہدیجیے: یہ ایک گندگی ہے، پس حیض کے دنوںمیں عورتوں سے کنارہ کش رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں ان کے قریب نہ جاؤ،”(۱۰۴)

اگر چہ قاعدۂ استصحاب کا تقاضا، خون منقطع ہونے کے بعد اور غسل کرنے سے پہلے ہمبستری کی حرمت کا حکم باقی رہنا ہے؛ لیکن محمد بن مسلم کی روایت صحیحہ اس کے جائز ہونے پر دلالت کر رہی ہے :

فِي الْمَرْأَةِ يَنْقَطِعُ عَنْهَا الدَّمُ دَمُ الْحَيْضِ فِي آخِرِ أَيَّامِهَا. قَالَ: إِذَا أَصَابَ زَوْجَهَا شَبَقٌ‏ فَلْيَأْمُرْهَا فَلْتَغْسِلْ فَرْجَهَا ثُمَّ يَمَسُّهَا إِنْ شَاءَ قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ .”“(سوال کیا گیا )ایسی عورت کے بارے میں جس کا خون حیض ، (عادت کے) آخری ایام میں منقطع ہوجاتا ہے۔ امام ؑ نے فرمایا: جب یہ معلوم ہو جائے کہ اس کا شوہر اس کی طرف راغب ہوگیا ہے ،اگر وہ غسل سے پہلے نزدیکی کرنا چاہے تو عورت اپنی شرمگاہ کو دھولے پھر نزدیکی کرے۔”(۱۰۵)

لیکن جو روایات ، غسل سے پہلے نزدیکی کرنے سے منع کرتی ہیں جیسے “لا، حتی تغتسل ”، “(نزدیکی )نہیں (کر سکتا) جب تک غسل نہ کرے”(۱۰۶) انہیں قاعدۂ “لزوم التصرف فی الظاهر بقرینة الصریح ” کے مطابق کراہت پر محمول کریں گے ۔ یعنی ایک روایت کی صراحت کے قرینے کی وجہ سے دوسری روایت کے ظاہر کو کسی اور معنی میں پھیردیں گے ۔کیونکہ روایات کے ایک گروہ کو عرف دوسرے گروہ کی تاویل میں لے جاتا ہے اور دوسرے گروہ کو پہلےگروہ میں تصرف کرنے پر قرینہ سمجھتا ہے۔

۱۳ ۔ غسل حیض کا طریقہ غسل جنابت کی مانند ہونے کی وجہ،غسل جنابت کے مذکورہ طریقے کے علاوہ غسل حیض کا کوئی خاص طریقہ بیان نہ کیا جانا ہے جو ان دونوں کاطریقہ ایک ہونے کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے؛ کیونکہ اگر کوئی دوسرا طریقہ ہوتا تو ، کثرت سے درپیش مسئلہ ہونے کی وجہ سے اس کو بیان کرنا چاہئےتھا۔

اس کے علاوہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی حلبی کی موثق روایت میں بھی کہا گیا ہے کہ :

غُسْلُ الْجَنَابَةِ وَ الْحَيْضِ وَاحِدٌ .” “غسل جنابت اور غسل حیض (کا طریقہ) ایک ( جیسا) ہے۔”(۱۰۷)

استحاضہ کے احکام

استحاضہ کی تعریف اور اس کے کچھ احکام:

استحاضہ وہ خون ہے جوزچگی اور ماہانہ عادت کے اوقات کے علاوہ دوسرے دنوں میں عورت سے خارج ہوتا ہےاور یہ کسی زخم یا بکارت (کنوارپن) کا خون بھی نہیں ہے۔

یہ خون غالبا ً زرد، سرد اور پتلا ہوتا ہے جس میں حیض کے برعکس جلن نہیں ہوتی۔

اس کی کثرت و قلت کی کوئی حدنہیں ہے اور دو استحاضہ کے درمیان، طہارت کی حد اقل مدت( ۱۰ دن) کا فاصلہ بھی ضروری نہیں ہے۔

استحاضہ کی اقسام:

خون استحاضہ کی تین قسمیں ہیں:

۱ ۔ قلیلہ : جو روئی کے اندر سرایت نہ کرے؛

۲ ۔ متوسطہ: جو روئی کے اندر سرایت کر جائے ؛ لیکن نہ بہے؛

۳ ۔ کثیرہ: جو روئی کو تر کر کے بہہ جائے۔

مشہور کے مطابق قلیلہ کا حکم یہ ہے کہ اس پر ہر نماز کے لئے روئی کو بدلتے ہوئے یا اسے دھوتے ہوئے وضو کرنا واجب ہے۔

متوسطہ پر قلیلہ میں مذکور حکم کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ روزانہ ایک مرتبہ غسل بھی کرے۔ معروف یہ ہے کہ یہ غسل نماز صبح سے پہلے ہو۔

کثیرہ پر گزشتہ حکم کے ساتھ ساتھ تین مرتبہ غسل کرنا ضروری ہے: ایک غسل نماز صبح کے لئے ، ایک ظہرین کے لئے اور ایک مغربین کے لئے۔ استحاضہ کثیرہ میں بعض فقہاء اس بات کے قائل ہیں کہ ( غسل کے بعد ) وضو کرنا ضروری نہیں۔

دلائل:

۱ ۔ استحاضہ کو مذکورہ چیزوں میں محدود کرنا،واضح اور وجدانی امور میں سے ہے۔

۲ ۔ استحاضہ کے مذکورہ صفات کے حامل ہونے پر حفص ابن بختری کی صحیح روایت (جس کی طرف احکام حیض میں اشارہ ہو چکاہے) اور بعض دوسری روایات دلالت کرتی ہیں۔

۳ ۔ قلت و کثرت کے لحاظ سے استحاضہ کی کوئی حد نہ ہونے کا حکم روایات کے اطلاق کی وجہ سے لگایا جاتاہے۔

۴ ۔ دو استحاضہ کے درمیان طہارت کی حد اقل مدت کا فاصلہ ضروری نہ ہونےکاحکم بھی روایات کے اطلاق کی وجہ سے لگایا جاتا ہے۔(مثلا کسی روایت میں نہیں کہا گیا ہے کہ دو استحاضہ کے درمیان عورت دس دن پاک رہے۔)

۵ ۔ استحاضہ کے مذکورہ تین قسموں میں تقسیم ہونے کاحکم مندرجہ ذیل دو روایتوں کو باہم ملاتے ہوئے ثابت کیا جاتا ہے۔

۱ ۔حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی معاویہ بن عمار کی روایت صحیحہ:

الْمُسْتَحَاضَةُ تَنْظُرُ أَيَّامَهَا...وَ إِنْ كَانَ الدَّمُ لَا يَثْقُبُ الْكُرْسُفَ تَوَضَّأَتْ وَ دَخَلَتِ الْمَسْجِدَ وَ صَلَّتْ كُلَّ صَلَاةٍ بِوُضُوء.” “مستحاضہ اپنے ایام عادت کی طرف توجہ دے گی۔۔۔ اگر اس کا خون روئی کے اندر سرایت نہ کرے تو وضو کرے گی اور مسجد میں داخل ہوگی اور ہر نماز کے لئے وضو کر کے نماز پڑھے گی۔”(۱۰۸)

۲ ۔زرارہ کی روایت صحیحہ:

“...فَإِنْ جَازَ الدَّمُ الْكُرْسُفَ تَعَصَّبَتْ وَ اغْتَسَلَتْ ثُمَّ صَلَّتِ الْغَدَاةَ بِغُسْلٍ، وَالظُّهْرَ وَالْعَصْرَ بِغُسْلٍ وَ الْمَغْرِبَ وَ الْعِشَاءَ بِغُسْلٍ. وَإِنْ لَمْ يَجُزِ الدَّمُ الْكُرْسُفَ صَلَّتْ بِغُسْلٍ وَاحِد .”“۔۔۔اگر خون روئی کو تر کرکے باہر نکلے تو وہ نماز صبح کو ایک غسل کے ساتھ ، ظہرین کو ایک غسل کے ساتھ اور مغربین کو ایک غسل کے ساتھ پڑھے گی اور اگر خون روئی سے باہر نہ نکلے تو پورے دن کی نمازوں کے لئے ایک غسل کرے گی۔”(۱۰۹)

۶ ۔ قلیلہ والی عورت پر ہر نماز کے لئے وضو کے واجب ہونے کاحکم ،معاویہ بن عمار کی گزشتہ صحیح روایت کی وجہ سے لگایا جاتاہے۔

۷ ۔ اس پر روئی کا بدلنا یا دھونا ضروری ہونے کا حکم عبد الرحمن بن ابی عبد اللہ کی موثق روایت سے لیاجا سکتا ہے جو متوسطہ کے بارے میں ہے:

سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام عَنِ الْمُسْتَحَاضَةِ...فَإِنْ ظَهَرَ عَنِ الْكُرْسُفِ فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ تَضَعُ كُرْسُفاً آخَر .”“میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مستحاضہ کے بارے میں سوال کیا۔۔۔۔ اگر خون روئی پر نمایاں ہو جائے تو غسل کرے اور کوئی دوسری روئی استعمال کرے۔”(۱۱۰)

اس روایت کے ساتھ یہ بات بھی پیش نظر رکھتے ہوئے کہ ( روئی کو تبدیل کرنے یا دھونے کے لحاظ سے) قلیلہ اور متوسطہ کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے یا ان روایات سے استفادہ کرتے ہوئے جو نجاست کے ساتھ خصوصا دمائے ثلاثہ (حیض ، نفاس اور استحاضہ کا خون)کے ساتھ نماز پڑھنے سے منع کرتی ہیں۔

پھر یہ کہ روئی کو تبدیل کرنا حصول طہارت کی خاطر ضروری ہے تو تبدیل کرنے کے بجائے روئی کو دھولینا بھی کافی ہے۔

۸ ۔ متوسطہ پر صبح کی نماز سے پہلے غسل اور ہر نماز کے لئے وضو ضروری ہونے کی دلیل سماعہ کی موثق روایت ہے :

الْمُسْتَحَاضَةُ إِذَا ثَقَبَ الدَّمُ الْكُرْسُفَ اغْتَسَلَتْ لِكُلِّ صَلَاتَيْنِ وَ لِلْفَجْرِ غُسْلًا، وَ إِنْ لَمْ يَجُزِ الدَّمُ الْكُرْسُفَ فَعَلَيْهَا الْغُسْلُ لِكُلِّ يَوْمٍ مَرَّةً وَ الْوُضُوءُ لِكُلِّ صَلَاةٍ...”“ مستحاضہ کا خون اگر روئی سے تجاوز کرجائے تووہ ہر دو نمازوں کے لئے ایک غسل اور صبح کی نماز کے لئے ایک غسل کرے گی اور اگر روئی سے تجاوز نہ کرے تو اس پر ہر روز کے لئے ایک غسل اور ہر نماز کے لئے وضو کرنا ضروری ہے۔”(۱۱۱)

چونکہ غسل ،واجب نفسی نہیں ہے؛ بلکہ نماز کی وجہ سے واجب ہوجاتا ہے ؛ لہذا مناسب یہ ہے کہ صبح کی نماز سے پہلے انجام پائے جو ہر دن کی پہلی نماز ہے۔

۹ ۔ کثیرہ پر تین غسلوں کے واجب ہونے کی دلیل ،سماعہ کی گزشتہ موثق روایت اور بعض دوسری روایات ہیں۔

یہ روایت واضح طور پر دلالت کر رہی ہے کہ کثیرہ پر ہر نماز کے لئے وضو کرنا واجب نہیں ہے۔ اگر دلالت نہیں کر رہی تو کم از کم وضو کا حکم بیان کرنے کے لحاظ سے اجمال پایا جاتا ہے جو اصالۂ برائت جاری ہونے کے لئے کافی ہے۔(۱۱۲)

اگر یہ کہا جائے کہ متوسطہ پر ہر نماز کے لئے وضو کا واجب ہونا ،کثیرہ پربطریق اولیٰ واجب ہونے پر دلالت کرتا ہے۔

تو اس کا جواب یہ ہے کہ غسل کی تکرار، وضو کے قائم مقام ہونے کا احتمال ہے؛ لہذا کوئی اولویت نہیں پائی جاتی اور بطریق اولیٰ کہنا صحیح نہیں ہے۔

۱۰ ۔ روئی کا بدلنا یا دھوناضروری ہونا، اسی دلیل کی وجہ سے ہے جو متوسطہ میں بیان ہوئی ہے ۔ اسی طرح جب متوسطہ میں روئی کا دھونا یا اسے تبدیل کرنا ضروری ہے تو کثیرہ میں بطریق اولیٰ ضروری ہے۔


نفاس کے احکام

نفاس کی تعریف اور اس کے کچھ مخصوص احکام:

نفاس وہ خون ہے جو زچگی کے ساتھ یا اس کے بعد عورت (کے مخصوص مقام ) سے نکلتا ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ مدت دس دن تک ہے اور کم سے کم مدت کی کوئی حد نہیں۔

جب یہ خون دس دن سے تجاوز نہ کر جائے تو پورے کا پورا نفاس ہے؛ لیکن اگر دس دن سے گزر جائے تو جو حیض کی عادت کی مقدار کے برابر ہو وہ نفاس ہے اور جو اس سے زائد ہے وہ استحاضہ ہے۔

نفساء (نفاس والی عورت)نماز اور روزہ چھوڑ دے گی در حالیکہ روزے کی قضا کرے گی۔

اس کے ساتھ وطی کرنا حرام ہے اور اسے طلاق دینا صحیح نہیں ہے۔

جب خون منقطع ہوجائے تو اس پر غسل جنابت کے طریقے کے مطابق غسل کرنا واجب ہے۔

دلائل:

۱ ۔ نفاس کی مذکورہ تعریف (زچگی کے ساتھ یا اس کے بعد نکلنے والا خون)، ان فقہاء کے نظرئیے کے خلاف ہے جس کے مطابق زچگی سے پہلے نکلنے والا خون بھی نفاس ہے یا صرف زچگی کے بعد نکلنے والا خون نفاس ہے۔ہمارے مورد نظر قول پربعض روایات دلالت کرتی ہیں جن میں سے ایک حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی عمار کی موثق روایت ہے:

فِي الْمَرْأَةِ يُصِيبُهَا الطَّلْقُ أَيَّاماً (أَوْ يَوْماً) أَوْ يَوْمَيْنِ فَتَرَى الصُّفْرَةَ أَوْ دَماً. قَالَ: تُصَلِّي مَا لَمْ تَلِد ...” “ایسی عورت کے بارے میں، جو ایک دن یا کئی دنوں تک دردِ زہ میں مبتلا رہتی ہے اور وہ زرد رنگ کا یا مطلَقاً خون دیکھتی ہے، امام ؑ نے فرمایا: جب تک زچگی نہ ہوجائے وہ نماز پڑھے گی۔۔۔”(۱۱۳)

۲ ۔ نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت ، مشہور کے مطابق ، دس دن تک ہےنہ کہ سید مرتضیٰ ؒ(۱۱۴) کے نظرئیے کے مطابق اٹھارہ دن تک۔یہ حکم قاعدے کا تقاضا ہے۔

اس وضاحت کے ساتھ کہ مقدار کی کمی اور زیادتی کے اعتبار سے روایات کے باہمی ٹکراؤ(۱۱۵) کی وجہ سے ہمارا موضوع بحث مخصص کی نسبت سے بحث صغروی ہے ؛ لہذا اس جیسے موارد میں ان دلائل کے عموم سے تمسک کیا جاتا ہے جو قدر متیقن سے زائد مقدار میں مکلف پر نماز اور روزہ کے واجب ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔

۳ ۔ کم سے کم مدت کی کوئی حد نہ ہونا ،روایات کے اطلاق کی وجہ سے ہے۔

۴ ۔ اس بات کی دلیل کہ دس دن سے نہ گزرے تو پورے کا پورا خون ، نفاس ہے لیکن دس دن سے گزرنے کی صورت میں صرف ایام عادت کی مقدار ہی نفاس ہے۔حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے زرارہ کی نقل کردہ صحیح روایت ہے:

قُلْتُ لَهُ:النُّفَسَاءُ مَتَى تُصَلِّي؟ قَالَ: تَقْعُدُ قَدْرَ حَيْضِهَا وَ تَسْتَظْهِرُ بِيَوْمَيْنِ فَإِنِ انْقَطَعَ الدَّمُ وَ إِلَّا اغْتَسَلَتْ وَ احْتَشَتْ وَ اسْتَثْفَرَتْ وَ صَلَّت .”“میں نے امام ؑ سے عرض کیا کہ نفساء کب نماز پڑھے گی؟ فرمایا: وہ اپنے ایام حیض کی مقدار صبر کرے گی اور دو دن تک تحقیق کرے گی پھر اگر خون رک جائے (توغسل کرکے پاک کہلائے گی) ورنہ غسل کرے گی اور روئی رکھتے ہوئے کپڑا باندھ کر نماز پڑھے گی۔”(۱۱۶)

اس عورت کا دو دن تحقیق کرنا خون کی صورتحال کو سمجھنے کے لئے ہے کہ وہ دس دن سے گزر جائے گا یا نہیں؟ اگر دس دن سے گزر جائے تو وہ ایام عادت کی مقدار کے برابر کو نفاس سمجھے گی اور اگر دس دن سے گزر نہ جائے تو تمام کے تمام کو نفاس کو قرار دے گی۔

۵ ۔ نفساء کے ساتھ جماع کرنا حرام ہونے پر مالک بن اعین کی موثق روایت دلالت کررہی ہے:

سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ علیه السلام عَنِ النُّفَسَاءِ يَغْشَاهَا زَوْجُهَا وَ هِيَ فِي نِفَاسِهَا مِنَ الدَّمِ؟ قَالَ: نَعَمْ، إِذَا مَضَى لَهَا مُنْذُ يَوْمَ وَضَعَتْ بِقَدْرِ أَيَّامِ عِدَّةِ حَيْضِهَا ثُمَّ تَسْتَظْهِرُ بِيَوْمٍ، فَلَا بَأْسَ بَعْدُ أَنْ يَغْشَاهَا زَوْجُهَا يَأْمُرُهَا فَلْتَغْتَسِلْ ثُمَّ يَغْشَاهَا إِنْ أَحَبَّ .”“میں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے اس عورت کے بارے سوال کیا جس کا شوہر اس کے ساتھ جماع کرنا چاہتا ہے حالانکہ وہ نفاس کی حالت میں ہے؟ فرمایا: ہاں ! جب زچگی کے بعد اس کے ایام عادت کی مقدار گزر جائے تو وہ ایک دن تحقیق کرے گی پھر اس کا شوہر جماع کرے تو کوئی حرج نہیں کہ وہ اپنی بیوی کو غسل کرنے کا حکم دے پھر اگر چاہے تو جماع کر سکتا ہے۔”(۱۱۷)

یہ روایت اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ حیض کے خلاف نفاس میں وطی جائز ہونے کے لئے صرف خون کا منقطع ہونا کافی نہیں ہے۔علاوہ بر ایں یہ بھی کہاجاتا ہے کہ “استصحاب حرمت ” کا تقاضا بھی حرام ہونا ہے۔

۶ ۔ نفساء کو دی جانے والی طلاق کے صحیح نہ ہونے پر حضرت امام محمد باقر اور جعفر صادق علیہما السلام سے نقل کردہ زرارہ کی صحیح روایت دلالت کر رہی ہے:

إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ فِي دَمِ النِّفَاسِ أَوْ طَلَّقَهَا بَعْدَ مَا يَمَسُّهَا فَلَيْسَ طَلَاقُهُ إِيَّاهَا بِطَلَاقٍ .”“اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو نفاس کی حالت میں یا اس کے ساتھ ہمبستری کرنے کے بعد طلاق دے تو بیوی کی نسبت اس کی یہ طلاق ، طلاق نہیں ہے۔”(۱۱۸)

۷ ۔ غسل نفاس کا طریقہ بھی غسل جنابت کی مانند ہونے پر،وہی دلیل دلالت کرتی ہے جو غسل حیض کے بارے میں گزر گئی ہے۔

۸ ۔نفساء پر نماز اور روزہ دونوں کا ترک کرنا واجب ، جبکہ صرف روزے کی قضا کرنا ضروری ہونے پر مندرجہ ذیل روایات دلالت کرتی ہیں:

الف) حضرت امام رضا علیہ السلام سےمروی عبد الرحمن بن حجاج کی روایت:

سَأَلْتُهُ عَنِ النُّفَسَاءِ تَضَعُ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ، أَ تُتِمُّ ذَلِكَ الْيَوْمَ أَمْ تُفْطِرُ؟ فَقَالَ: تُفْطِرُ ثُمَّ لْتَقْضِ ذَلِكَ الْيَوْمَ .”“میں نے امام ؑ سے اس نفساء کے بارے میں، جو ماہ رمضان میں ، نماز عصر کے بعد زچہ رانی بن جائے ، سوال کیا کہ وہ اسی دن کا روزہ تمام کرے گی یا افطار کرے گی؟ فرمایا: افطار کرے گی پھر اسی دن کی قضا کرے گی۔”(۱۱۹)

ب) حضرت امام محمد باقر یا جعفر صادق علیہماالسلام سے نقل کردہ زرارہ کی روایت:

النُّفَسَاءُ تَكُفُّ عَنِ الصَّلَاةِ أَيَّامَهَا الَّتِي كَانَتْ تَمْكُثُ‏ فِيهَا ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَ تَعْمَلُ‏ كَمَا تَعْمَلُ الْمُسْتَحَاضَةُ .”“نفساء جن ایام میں(حیض کی وجہ سے )ٹھہر جایا کرتی تھی ان میں نماز سے اجتناب کرے گی پھر غسل کرکے اس وظیفے پر عمل کرے گی جس پرمستحاضہ عمل کرتی ہے۔”(۱۲۰)


موت اور مس میت کے احکام

مشہور یہ ہے کہ جب کوئی احتضار کے عالم میں ہو تو اس کو قبلہ کی طرف اس طرح پھیرنا واجب کفائی ہے کہ اگر بیٹھ جائے تو اس کا چہرہ قبلے کی جانب ہوتا ہو ۔

جب وہ مرجائے تو ابتداء میں سدر (بیری) کے پانی سے ، دوسری دفعہ کافور کے پانی سے اور تیسری دفعہ مطلق پانی سےغسل دینا واجب کفائی ہے۔اس غسل کا طریقہ بھی غسل جنابت کی مانند ہے۔ پہلے اور دوسرے غسل میں شرط ہے کہ پانی کے ساتھ سدر اور کافور اتنی مقدار میں نہ ملائے کہ اسے مطلق پانی نہ کہا جا سکے۔

غسال کے لئے ضروری ہے کہ وہ میت کا ہم جنس ہو ( کہ اگر میت مرد ہو تو غسال بھی مرد ہواور اگر عورت ہو تو غسال بھی عورت ہو)۔ البتہ میاں بیوی، تین سال سے کم عمر بچہ اور محرم کے لئے یہ شرط نہیں ہے۔

میت کو غسل دینے کے بعد،پاک اور پسے ہوئے کافور سے ،اس کے سات اعضائے سجدہ(پیشانی، دونوں ہتھیلیوں، دونوں گٹھنوں اور پاؤں کے دونوں انگوٹھوں) کو حنوط کرنا واجب ہے۔

پھر اسے تین کپڑوں میں کفن پہنانا چاہئے۔ پہلا کپڑا اس کی ناف سے گٹھنوں تک کے درمیانی حصے کو چھپائے جسے شلوار کہاجاتا ہے۔ دوسرا کپڑا اس کے کندھوں سے آدھی پنڈلیوں تک کے حصے کو چھپائے جسے قمیص کہا جاتا ہے اور تیسرا کپڑا اس کے پورے بدن کو ڈھانپ لے اسے چادر کہا جاتا ہے۔

مسلمان میت کو غسل دینے اور کفن پہنانے کے بعد اگر اس کی عمر چھے سال سے کم نہ ہو تو اس پر نماز پڑھنا واجب ہے۔اس نماز میں پانچ تکبیریں ہیں ۔ پہلی تکبیر کے بعد شہادتین اور دوسری تکبیر کے بعد نبی اکرم ﷺ پر صلوات پڑھی جاتی ہے،تیسری تکبیر کے بعد مومنین کے لئے اور چوتھی تکبیر کے بعد میت کے لئے دعا مانگی جاتی ہے؛ اس کے بعد پانچویں تکبیر کہہ کر نماز کو ختم کیا جاتا ہے۔

نماز میت میں نمازی کا حدث اور خبث سے پاک ہونا نیز اس کے لباس کا مباح ہونا ضروری نہیں۔

نماز کے بعد میت کو زمین میں اس طرح چھپا کر دفنایا جاتا ہے کہ اس کا بدن درندوں کی پہنچ سے امان میں رہے اور لوگوں کو اس کی بدبو سے اذیت نہ پہنچے۔ میت کو قبر میں دائیں پہلو پر اس طرح سے رکھا جاتا ہے کہ اس کا چہرہ قبلے کی طرف ہو۔

غسل دینے سے پہلے میت کو چھونے کی صورت میں:

۱ ۔ اگر کوئی رطوبت ہو تو چھونے والے کا وہ عضو نجس ہوجاتا ہے،

۲ ۔ اگر میت کسی انسان کی ہو اور سرد ہوچکی ہو تو چھونے والے پر غسل مس میت واجب ہوجاتا ہے۔

دلائل:

۱ ۔میت کو قبلہ رو کرنے کا وجوب،مشہور فتویٰ ہے ۔ اس حکم کی پہلی دلیل “علل الشرائع” میں شیخ صدوق ؒ کی نقل کردہ وہ روایت ہو سکتی ہے جو حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے مروی ہے:

دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ (ص) عَلَى رَجُلٍ مِنْ وُلْدِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَ هُوَ فِي السَّوْقِ‏ -النزع- وَ قَدْ وُجِّهَ بِغَيْرِ الْقِبْلَةِ فَقَالَ وَجِّهُوهُ إِلَى الْقِبْلَةِ فَإِنَّكُمْ إِذَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ أَقْبَلَتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ.. .”“رسول اللہ ﷺ ، اولاد عبد المطلب میں سے کسی ایک کے گھر تشریف لے گئے ۔ وہ شخص احتضار کے عالم میں تھا اور قبلہ رخ نہیں تھا۔ آپ ؐ نے فرمایا: اس کو قبلہ رخ کرو! اگر تم اس کو روبقبلہ کرو گے تو فرشتے اس کی طرف آئیں گے۔۔۔”(۱۲۱)

اور اس کی دوسری دلیل سیرت مسلمین ہے۔

مصنف کے نزدیک ان دونوں دلیلوں پر اشکال ہے کہ:

۱ ۔روایت کی سند سے قطع نظر، اس میں بیان کی گئی علت سےمعلوم ہوتا ہے کہ یہ روایت وجوب پر دلالت نہیں کرتی۔

۲ ۔ سیرت ، وجوب سے عام ہے؛ یعنی: سیرت مسلمین میں واجب اور مستحب دونوں کی گنجائش ہے لہذا اس سے صرف واجب مراد لینا صحیح نہیں۔

۲ ۔ محتضر کو روبقبلہ کرنا اس لئے (واجب )کفائی ہے کہ اس کام کے لئے اگر ایک شخص بھی اقدام کرے تو مقصد حاصل ہوجاتا ہے۔

۳ ۔ روبقبلہ کرنے کامذکورہ طریقہ گزشتہ روایات سے سمجھا جا سکتا ہے۔

غسل میت کے احکام:

۱ ۔ میت کو غسل دینے کا وجوب ،مسلمہ امور میں سے ہے اور اس پر بعض روایات دلالت کرتی ہیں جن میں سے ایک حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی سماعہ کی موثق روایت ہے:

غُسْلُ الْجَنَابَةِ وَاجِبٌ...وَ غُسْلُ الْمَيِّتِ وَاجِبٌ .”“غسل جنابت واجب ہے... غسل میت واجب ہے۔”(۱۲۲)

غسل میت کے واجب کفائی ہونے کی دلیل وہی ہے جو محتضر کے حکم میں بیان کی گئی ہے۔

۲ ۔ میت کو تین بار غسل دینا ضروری ہونے پر بعض روایت دلالت کرتی ہیں جن میں سے ایک حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سےمروی ابن مسکان کی روایت صحیحہ ہے :

سَأَلْتُهُ عَنْ غُسْلِ الْمَيِّتِ، فَقَالَ‏: اغْسِلْهُ بِمَاءٍ وَ سِدْرٍ ثُمَّ اغْسِلْهُ عَلَى أَثَرِ ذَلِكَ غَسْلَةً أُخْرَى بِمَاءٍ وَ كَافُورٍ وَ ذَرِيرَةٍ إِنْ كَانَتْ وَ اغْسِلْهُ الثَّالِثَةَ بِمَاءٍ قَرَاحٍ ....”“میں سے امام ؑ سے غسل میت کے بارے میں سوال کیا، فرمایا: میت کو سدر کے پانی سے غسل دو پھر اسی تری کے اوپر کافور کے پانی سے یاذریرہ(۱۲۳) ہو تو اس کے پانی سے ایک اور غسل دو پھر تیسری بار اسے آب مطلق سے غسل دو۔۔۔ ”(۱۲۴)

۳ ۔ غسل میت کا طریقہ بھی غسل جنابت کی مانند ہونے کی دلیل،غسل حیض کے بیان میں گزر چکی ہے۔ اس کے علاوہ خصوصاًغسل میت کو بیان کرنے والی بعض روایتیں بھی اس پر دلالت کرتی ہیں۔(۱۲۵)

۴ ۔ پانی کے ساتھ سدر یا کافور کو اس حد تک نہ ملائے کہ پانی کو مطلق نہ کہا جا سکے، اس حکم کی دلیل ،ابن مسکان کی گزشتہ روایت صحیحہ اور بعض دوسری روایات ہیں۔

۵ ۔ غسال اور میت میں جنس کے لحاظ سے مماثلت ضروری ہونے پر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی حلبی کی روایت صحیحہ دلالت کرتی ہے:

سَأَلَهُ عَنِ الْمَرْأَةِ تَمُوتُ فِي السَّفَرِ وَ لَيْسَ مَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ وَ لَا نِسَاءٌ قَالَ: تُدْفَنُ كَمَا هِيَ بِثِيَابِهَا. وَ عَنِ الرَّجُلِ يَمُوتُ وَ لَيْسَ مَعَهُ إِلَّا النِّسَاءُ لَيْسَ مَعَهُنَّ رِجَالٌ‏، قَالَ: يُدْفَنُ‏ كَمَا هُوَ بِثِيَابِهِ .”“امام ؑ سے ایسی عورت کے بارے میں سوال کیا گیا جو سفر میں مرجاتی ہے جبکہ اس کے ساتھ کوئی محرم یا کوئی دوسری عورت نہیں ہے، فرمایا:اسے اپنے کپڑوں سمیت دفنایا جائے گا۔ نیز ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو مرجاتا ہے جبکہ اس کے ساتھ عورتوں کے سوا کوئی نہیں ہے اور ان عورتوں کے ہمراہ بھی کوئی مرد نہیں ہے، فرمایا: اسے اپنے کپڑوں سمیت دفنایا جائے گا۔”(۱۲۶)

۶ ۔ میاں بیوی کو اس شرط سے مستثنیٰ قرار دینے کے لئے ، حلبی کی گزشتہ روایت صحیحہ کے ساتھ تقریر معصوم کی دلالت کا اضافہ کرتے ہوئے استدلال کیا جا سکتا ہے۔

البتہ اگر کوئی اس استدلال پر اشکال کرے تو ہم،مورد نظر حکم پر صراحت کے ساتھ دلالت کرنے والی دوسری روایات(۱۲۷) سے استفادہ کر سکتے ہیں۔

بچے کو مستثنیٰ قرار دینے کےحکم کو ثابت کرنے کے لئے یہی کہنا کافی ہے کہ جو روایات ،میت اور غسال میں مماثلت کے شرط ہونے پر دلالت کرتی ہیں ان میں بچہ شامل نہیں ہے؛ کیونکہ روایات مرد اور عورت سے مختص ہیں جبکہ بچہ یا بچی کو مرد یا عورت نہیں کہا جاتا۔ لہذا بچے کے لحاظ اصالۂ برائت جاری کیا جائے گا۔

محرم کو مستثنیٰ قرار دینے کے حکم کو ثابت کرنے کے لئے بھی حلبی کی گزشتہ روایت صحیحہ سے مذکورہ وضاحت کے ساتھ استفادہ کیا جا سکتا ہے۔اگر اس سے قطع نظر کر لیا جائے تو مورد نظر حکم پر صراحت کے ساتھ دلالت کرنے والی بعض دوسری روایات(۱۲۸) سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

رہا یہ سوال کہ جب تک بالغ نہ ہوجائے تب تک بچے پر مرد یا عورت کا عنوان صادق نہیں آتا اس کے باوجود بچے کے لئے تین سال کی شرط لگانے کی کیا وجہ ہے؟

مذکورہ شرط مشہور فتویٰ کے مطابق ہے جسے ثابت کرنے کے لئے “ابو نمیر”کی روایت سے تمسک کیا جاتا ہے:

قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام حَدِّثْنِي عَنِ الصَّبِيِّ إِلَى كَمْ تُغَسِّلُهُ النِّسَاءُ فَقَالَ إِلَى ثَلَاثِ سِنِينَ .”“میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے بچے کے بارے میں سوال کیا کہ کس عمر تک ، عورت اس کو غسل دے سکتی ہے؟ فرمایا: تین سال کی عمر تک۔”(۱۲۹)

اگرچہ یہ روایت بچے کے بارے میں ہے مگر اس بات پر بطریق اولیٰ دلالت کررہی ہے کہ مرد بھی تین سال سے زیادہ عمر کی بچی کو غسل نہیں دے سکتا۔

البتہ اس کا راوی “ابو نمیر” مجہول ہے؛ لہذا سند کے لحاظ سے یہ روایت ضعیف ہے؛ مگر یہ کہ ہم اس قاعدے کے قائل ہوں کہ شہرت فتوائی کے ذریعے سند کی کمزوری دور ہوجاتی ہے۔

لیکن اگر ہم مذکورہ قاعدے کے قائل نہ ہوں تب بھی مشہور فتویٰ کی مخالفت سے بچتے ہوئے احتیاط کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

حنوط کے احکام:

۱ ۔سجدہ کے اعضاء کو حنوط کرنا واجب ہونے پر بعض روایتیں دلالت کرتی ہیں جن میں سے ایک زرارہ کی روایت صحیحہ ہے:

إِذَا جَفَّفْتَ الْمَيِّتَ عَمَدْتَ إِلَى الْكَافُورِ فَمَسَحْتَ بِهِ آثَارَ السُّجُود ...”“جب تم میت کے بدن کوخشک کرو تو کافور لے کر اس کے اعضائے سجدہ پر مل لو۔ ”(۱۳۰)

۲ ۔ حنوط کا (واجب) کفائی ہونا اسلئے ہے کہ اگر ایک شخص بھی اقدام کرے تو مقصد حاصل ہوجاتا ہے۔

۳ ۔ کافور کے پاک ہونے کی شرط ،شریعت پر عمل پیرا افراد کے ارتکاز ذہنی سے عبارت ہے ؛ کیونکہ صاحبِ شرع نے میت کے بدن اور کفن کے پاک ہونے کی شرط رکھی ہے؛ بلکہ نجس ہونے کی صورت میں کفن کے کاٹنے اور بدن کے دھونے کا حکم دیا ہے۔ لہذا معلوم ہوتا ہے کہ صاحب شرع طبعاً یہ چاہتا ہے کہ میت کے ساتھ کسی قسم کی نجاست نہ ہو۔

۴ ۔ کافور کے لئے پسا ہوا ہونا شرط ہونے کی دلیل: اس حکم کا ماخذ ایک مرسل(۱۳۱) روایت ہے جو ابراہیم بن ہاشم نے اپنے سلسلہ سند کے ذریعے یونس سے اور یونس نے ائمہ علیہہم السلام سے نقل کی ہے:

“...ثُمَّ اعْمِدْ إِلَى كَافُورٍ مَسْحُوقٍ فَضَعْهُ عَلَى جَبْهَتِه ...”“۔۔۔پھر پسا ہوا کافور لے کر اس کی پیشانی پر رکھو۔۔۔”(۱۳۲)

اس روایت کا مرسل ہونا اس کے دلیل بننے میں رکاوٹ نہیں بنے گا کیونکہ ابراہیم کے سلسلہ سند میں مذکور تمام راویوں کے ضعیف ہونے کا احتمال نہیں ۔

کفن کے احکام:

۱ ۔ میت کو تین کپڑوں میں کفن پہنانا واجب ہونے پر بعض روایات دلالت کرتی ہیں جن میں سے ایک حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی زرارہ کی روایت صحیحہ ہے:

إِنَّمَا الْكَفَنُ الْمَفْرُوضُ ثَلَاثَةُ أَثْوَاب ...”“واجب کفن ، تین کپڑوں پر مشتمل ہوتا ہے۔۔۔”(۱۳۳)

۲ ۔ کفن پہنانے کے مذکورہ طریقے پر مسلمانوں کی مسلسل سیرت کے علاوہ کوئی اور دلیل نہیں ہے۔ اگر اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ ہوتا تو حتما وہی طریقہ مسلمانوں کے درمیان مشہور اور معروف ہوتا؛ کیونکہ کفن پہنانے کا مسئلہ تمام مسلمانوں کو عموماً پیش آنے والے مسائل میں سے ہے۔

علاوہ بر ایں ،اس حکم کی کوئی قابل اعتماد دلیل نہ ملنے کی صورت میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ مذکورہ طریقے پر مسلمانوں کا ارتکاز ذہنی ہے جو ان میں وراثتاً پایا جاتا ہے جس سے منکشف ہوتا ہے کہ یہ طریقہ انہوں نے معصومین علیہم السلام سے پایا ہے۔

نماز میت کے احکام:

۱ ۔ میت پر نماز پڑھنے کا وجوب ،اسلام کے مسلمات میں سے ہےجس پر طلحہ بن زید کی موثق روایت دلالت کرتی ہے۔ اس روایت کو طلحہ نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے اور انہوں نے اپنے پدر بزرگوار ؑ سے نقل کیا ہے:

صَلِّ عَلَى مَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِ الْقِبْلَةِ، وَ حِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ .”“اہل قبلہ میں سے جو بھی مرجائے ، اس پر نماز پڑھ! اور اس کا حساب خدا پر ہے۔”(۱۳۴)

اس روایت پر ،اس کی سند میں طلحہ کی موجودگی کے علاوہ ، کوئی اشکال نہیں ہے؛ کیونکہ طلحہ کا موثق ہونا رجال کی کتابوں میں صراحتاً بیان نہیں کیا گیا ہے۔مگر شیخ طوسی ؒ کے اس بیان “ طلحہ کی کتاب قابل اعتماد ہے”(۱۳۵) کے ذریعے یہ مسئلہ بھی آسان ہوجاتا ہے۔

۲ ۔ اس نمازکے صرف مسلمان میت کے ساتھ مختص ہونے پر مسلمانوں کی سیرت دلالت کر تی ہے۔ نیز قرآن مجید کی آیت میں بیان کی گئی علت کے عموم سے بھی یہی حکم ثابت ہوتا ہے:

( وَ لَا تُصَلّ‏ِ عَلىَ أَحَدٍ مِّنهُْم مَّاتَ أَبَدًا وَ لَا تَقُمْ عَلىَ‏ قَبرِْهِ إِنهَُّمْ كَفَرُواْ بِاللَّهِ وَ رَسُولِهِ ) “اور ان میں سے جو کوئی مر جائے اس پر آپ کبھی بھی نماز نہ پڑھیں اور نہ ہی اس کی قبر پر کھڑے ہوں، انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے۔”(۱۳۶)

۳ ۔ نماز کا غسل و کفن کے بعد پڑھنا ضروری ہونے میں کسی کا اختلاف ذکر نہیں کیا گیا ہے۔(یعنی اس حکم پر اجماع ہے) بعض روایات کے ذریعے بھی اس حکم پر استدلال کیا جا سکتا ہے جن میں معصوم ؑ نے حکم کو بیان کرنے کے مرحلے میں غسل اور کفن پر “واو” کے ذریعے نماز کا عطف کیا ہے۔(۱۳۷)

مذکورہ استدلال کو نہ ماننے کی صورت میں صرف “اجماع” رہ جاتا ہے ؛ لیکن وہ بھی“ مدرکی” ہونے کے احتمال کی وجہ سے ضعیف قرار پاتا ہے لہذا “اصالۂ برائت” کے مطابق غسل دینے اور کفن پہنانے کے بعدہی نماز میت کا پڑھنا ضروری نہیں بلکہ ان دونوں سے پہلے بھی پڑھی جاسکتی ہے۔

البتہ مذکورہ دونوں دلیلوں کے ضعیف ہونے کے باوجود فقیہ کے لئے مناسب یہ ہے کہ وہ مشہوربلکہ متفق علیہ حکم کی مخالفت سے بچتے ہوئے احتیاطا یہ فتویٰ دے کہ غسل اور کفن کے بعد ہی نماز پڑھنی چاہئے۔

۴ ۔ وجوب ِنماز کے لئے میت کی عمر چھ سال سے کم نہ ہونے کی شرط کو زرارہ کی مندرجہ ذیل روایت صحیحہ سے اخذ کیا جا سکتا ہے:

مَاتَ ابنٌ‏ لِأَبِي جَعْفَرٍعلیه السلام فَأُخْبِرَ بِمَوْتِهِ، فَأَمَرَ بِهِ فَغُسِّلَ وَ كُفِّنَ وَ مَشَى مَعَهُ وَ صَلَّى عَلَيْهِ فَقَالَ: أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ يُصَلَّى عَلَى مِثْلِ هَذَا-وَ كَانَ ابْنَ ثَلَاثِ سِنِينَ -كَانَ عَلِيٌّ علیه السلام يَأْمُرُ بِهِ فَيُدْفَنُ وَ لَا يُصَلَّى عَلَيْهِ، وَ لَكِنَّ النَّاسَ صَنَعُوا شَيْئاً، فَنَحْنُ نَصْنَعُ مِثْلَهُ. قَالَ قُلْتُ: فَمَتَى تَجِبُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ؟ فَقَالَ: إِذَا عَقَلَ الصَّلَاةَ وَ كَانَ ابْنَ سِتِّ سِنِينَ .”“حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے ایک فرزند کا انتقال ہو گیا۔ آپ ؑ کو اس کی خبر دی گئی ۔ آپ ؑ کے حکم کے مطابق جب اسے غسل دیا اور کفن پہنایا گیا تو آپ ؑنے جنازے کی تشییع کی اور اس پر نماز ادا کی۔۔۔ پھر فرمایا:آگاہ ہوجاؤ کہ اس جیسے میت پر نماز نہیں پڑھی جاتی (کہ وہ تین سالہ بچہ تھا) امیر المومنین علیہ السلام اس طرح کی میت کو دفنانے کا حکم دیتے اور اس پر نماز نہیں پڑھتے تھے؛ لیکن لوگوں نے ایسا کام انجام دیا ہے لہذا ہم بھی اسی طرح انجام دیتے ہیں۔ راوی کہتا ہے: میں نے سوال کیا: پس میت پر کب نماز واجب ہوجاتی ہے؟ فرمایا: جب اسے نماز کی سوجھ بوجھ آجائے اور چھ سال کو پہنچے۔”(۱۳۸)

۵ ۔ نماز میت میں پانچ تکبیروں کے واجب ہونے پر بہت سی روایات دلالت کرتی ہیں۔ مثلا حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے عبد اللہ بن سنان نے ایک روایت صحیحہ نقل کی ہے:

التَّكْبِيرُ عَلَى الْمَيِّتِ خَمْسُ تَكْبِيرَاتٍ .”“میت پر پانچ تکبیریں (کہی جاتی ) ہیں۔”(۱۳۹)

لیکن مذکورہ کیفیت کے ساتھ تکبیر کہنے کی کوئی کامل دلیل موجود نہیں ہے۔ البتہ نماز میت میں پیغمبر اکرم ﷺ پر صلوات پڑھنا اور میت کے لئے دعا مانگنا واجب ہونے پر حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی ایک روایت صحیحہ دلالت کر رہی ہے:

لَيْسَ فِي الصَّلَاةِ عَلَى الْمَيِّتِ قِرَاءَةٌ وَ لَا دُعَاءٌ مُوَقَّتٌ.تَدْعُو بِمَا بَدَا لَكَ.وَ أَحَقُّ الْمَوْتَى أَنْ يُدْعَى لَهُ الْمُؤْمِنُ، وَ أَنْ يُبْدَأَ بِالصَّلَاةِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ.”“ نماز میت میں قرائت اور کوئی مخصوص دعا نہیں ہے ۔تو جو چاہے دعا کرسکتا ہے؛ لیکن میت کا حق ہے کہ مومن اس کے دعا کرے اور پیغمبر اکرم ﷺ پر صلوات بھیجنے کے ذریعے اس دعا کی ابتداء کرے۔”(۱۴۰)

البتہ بعض روایات کی رو سے،آجکل لوگوں کے درمیان ، نماز میت کی رائج اور متداول کیفیت کاجائز ہونا ثابت ہوتا ہے نہ کہ اسی کیفیت کا ضروری ہونا۔(۱۴۱)

۶ ۔ نماز میت میں حدث اور خبث سے پاک ہونا کی شرط کے نہ ہونے کو ثابت کرنے کے لئے کسی دلیل کی عدم موجودگی ہی کافی ہےاورجو دلیلیں نماز کے لئے حدث اور خبث سے پاک ہونا شرط جانتی ہیں جیسے :( يَأَيهَُّا الَّذِينَ ءَامَنُواْ إِذَا قُمْتُمْ إِلىَ الصَّلَوةِ فَاغْسِلُواوجوهکم و ایدیکم ...) “اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو چہروں اور ہاتھوں کو دھو لو۔۔۔”(۱۴۲) یہ دلیلیں حقیقی نماز سے مختص ہیں اور نماز میت“دعا” ہے۔

نیز یونس بن یعقوب کی روایت صحیحہ میں ذکر ہوا ہے :

سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِعلیه السلام عَنِ‏الْجِنَازَةِ أُصَلِّي‏ عَلَيْهَا عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ؟ فَقَالَ نَعَمْ، إِنَّمَا هُوَ تَكْبِيرٌ وَ تَسْبِيحٌ وَ تَحْمِيدٌ وَ تَهْلِيل ...”“میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے جنازہ سے متعلق سوال کیا : کیا میں اس پر وضو کے بغیر نماز پڑھ سکتا ہوں؟ فرمایا: ہاں! یہ صرف تکبیر و حمد اور تسبیح و تہلیل ہے۔۔۔”(۱۴۳)

یہ روایت ،حدث سے پاک ہونا ضروری نہ ہونے پر صراحتاً دلالت کررہی ہے (کیونکہ سوال وضو کے بارے میں ہے)؛ جبکہ خبث سے پاک ہونا ضروری نہ ہونا ، مذکورہ علت سے معلوم ہوتا ہے۔

دفن کے احکام:

۱ ۔ دفنانے کے وجوب کا حکم “متفق علیہ” احکام میں سے ہے ۔اس پر تمام مسلمانوں کا ارتکاز ذہنی موجود ہےاور دفن کے بارے میں ذکر کی گئی روایات بھی اس پر دلالت کرتی ہیں۔

۲ ۔ زمین میں چھپانے کو دفن کہنے کی دلیل: روایات میں مذکور لفظ “دفن” کا ظاہر یہ ہے کہ مردے کو زمین میں چھپا دیا جائے۔

۳ ۔ مذکورہ دو شرطیں ( یعنی مردے کا جسم درندوں سے محفوظ رہے اور لوگوں کو اس کی بد بو سے اذیت نہ پہنچے)، روایات سے ظاہر ہوتی ہیں کہ جب“دفنانا ” میت کے احترام کی خاطر ہے تو جب تک مذکورہ شرطیں پوری نہ ہوجائیں میت کا احترام نہیں ہو سکتا۔

۴ ۔ قبر میں دائیں پہلو لٹا کر قبلہ رخ رکھنا ضروری ہونے میں کسی کا اختلا ف ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ یعقوب بن یقطین کی روایت صحیحہ کے ذریعے بھی اس پر استدلال کیا جاتا ہے:

سَأَلْتُ أَبَا الْحَسَنِ الرِّضَا علیه السلام عَنِ الْمَيِّتِ كَيْفَ يُوضَعُ عَلَى الْمُغْتَسَلِ، مُوَجَّهاً وَجْهُهُ نَحْوَ الْقِبْلَةِ أَوْ يُوضَعُ عَلَى يَمِينِهِ وَوَجْهُهُ نَحْوَ الْقِبْلَةِ؟ قَالَ: يُوضَعُ كَيْفَ تَيَسَّرَ، فَإِذَا طَهُرَ وُضِعَ كَمَا يُوضَعُ فِي قَبْرِهِ .”“میں نے حضرت امام رضا علیہ السلام سے سوال کیا کہ مردے کو غسل کی جگہ پر کس طرح رکھا جائے گا، قبلہ رخ یا دائیں پہلو کے بل، کہ اس کا چہرہ قبلے کی جانب ہو؟ فرمایا: جیسے آسانی ہواسی طرح رکھا جائے گا اور جب وہ پاک ہوجائے تو اسے جس طرح قبر میں رکھا جاتا ہے اسی طرح رکھا جائے گا۔”(۱۴۴)

اس روایت کا آخری حصہ،میت کو قبر میں رکھنے کی خاص کیفیت موجود ہونے پر دلالت کررہا ہےاور جب وہ اس کیفیت سے ،جس پر دینداروں کی سیرت قائم ہوئی ہے ، مختلف ہونے کا احتمال نہ ہو تو یہ بات طے ہوجائے گی کہ امام ؑ کا مقصد یہی کیفیت ہے۔

مس میت کے احکام:

۱ ۔ میت کو چھونے سے مس شدہ چیز کے نجس ہونےکی دلیل،حلبی کی روایت ہے جو انہوں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کی ہے:

سَأَلْتُهُ عَنِ الرَّجُلِ يُصِيبُ ثَوْبُهُ جَسَدَ الْمَيِّتِ، فَقَالَ: يَغْسِلُ مَا أَصَابَ الثَّوْبَ .”“میں نے امام ؑ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا کہ جس کا لباس میت سے مس ہوا تھا، فرمایا: لباس کے اس حصے کو دھوئے گا وہ جو میت سے مس ہوا ہے۔”(۱۴۵)

اگرچہ اس روایت کا اطلاق ،میت کے خشک ہونے کی صورت میں بھی اس کے نجس ہونے پر دلالت کرتا ہے؛ لیکن دینداروں کے ارتکاز ذہنی کی وجہ سے مس ہونے والی چیز کا نجس ہونا اس حالت کے ساتھ مختص کیا جاتا ہے جب کوئی رطوبت ہو۔

۲ ۔ میت کو چھونے سے غسل واجب ہونے کی دلیل: حضرت امام محمد باقر یا جعفر صادق علیہما السلام میں سے کسی ایک سے مروی محمد بن مسلم کی روایت صحیحہ ہے:

الرَّجُلُ يُغَمِّضُ‏ الْمَيِّتَ، أَ عَلَيْهِ غُسْلٌ؟ قَالَ: إِذَا مَسَّهُ بِحَرَارَتِهِ فَلَا، وَ لَكِنْ إِذَا مَسَّهُ بَعْدَ مَا يَبْرُدُ فَلْيَغْتَسِل‏.”“ اگر کوئی شخص کسی میت کی آنکھوں کوبند کرے تو کیا اس پر غسل واجب ہے ؟ فرمایا: اگر اس وقت میت کا بدن گرم ہو تو غسل واجب نہیں ہے؛ لیکن اگر اس کا جسم ٹھنڈا ہونے کے بعد مس کرے تو غسل کرناواجب ہے۔”(۱۴۶)

یہ روایت جس طرح غسل مس میت کے اصل ِوجوب پر دلالت کرتی ہے اسی طرح اس قید پر بھی دلالت کر تی ہے کہ میت کا جسم ٹھنڈا ہونے کے بعد، اس کو چھونے سے غسل واجب ہوجاتا ہے۔

۳ ۔ صرف انسان کی میت کو چھونے سے غسل واجب ہونے پر حلبی کی صحیح روایت دلالت کررہی ہے:

سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام عَنِ الرَّجُلِ يَمَسُّ الْمَيْتَةَ أَ يَنْبَغِي‏أَنْ يَغْتَسِلَ مِنْهَا؟ فَقَالَ: لَا، إِنَّمَا ذَلِكَ‏ مِنَ الْإِنْسَانِ ”“میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جو مردار کو چھوتا ہے ، کیا اسے غسل کرنا چاہئے؟ فرمایا: نہیں! یہ (غسل )صرف انسان (کے جسم کے ساتھ مس کرنے) سے (مختص) ہے۔”(۱۴۷)

اس کے علاوہ “اصالہ برائت”جاری کرنا بھی کافی ہے؛ کیونکہ غسل مس میت کو واجب قرار دینے والی دلیلیں، غیر انسان کے مردار کو چھونے کی صورت میں غسل کے وجوب کو بیان کرنے سے قاصر ہیں۔


تیمم کے احکام:

تیمم کا طریقہ:

تیمم کا طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنی دونوں ہتھیلیوں کو زمین پر مارے پھر انہیں سر کے بال اگنے کی جگہ سے ناک اور ابرو کے بالائی حصے تک اپنی پیشانی اور پیشانی کے دونوں اطراف پر پھیرے۔ اس کے بعد بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو دائیں ہاتھ کی پشت پر کلائیوں سے انگلیوں کے سروں تک ، پھر اسی کیفیت اور مقدار میں دائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو بائیں ہاتھ کی پشت پر پھیرے ۔

تیمم ،پورے سطح زمین پر صحیح ہے ۔

دلائل:

۱ ۔ تیمم میں ہاتھوں کو زمین پر رکھنا کافی نہ ہونا بلکہ مارنا ضروری ہونا ایک معروف حکم ہے۔ نیز زرارہ کی روایت صحیحہ سے بھی اس پر استدلال کیا جا سکتا ہے:

سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍعلیه السلام عَنِ التَّيَمُّمِ فَضَرَبَ بِيَدِهِ إِلَى الْأَرْضِ... وفی صحیحته الاخری:...فَوَضَعَ أَبُو جَعْفَرٍعلیه السلام كَفَّيْهِ عَلَى الْأَرْض ...”“میں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے تیمم کے بارے سوال کیا تو آپ ؑ نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا۔۔۔”(۱۴۸) دوسری روایت میں کہا گیا ہے کہ :حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے اپنی ہتھیلیوں کو زمین پر رکھا۔۔۔ ”(۱۴۹)

اس وضاحت کے ساتھ کہ یہ مقام، “ مطلق اور مقید”کا مقام ہے ؛ لہذا دوسری روایت کے لفظ “وضع” (رکھنا) کو پہلی روایت کے لفظ “ضرب” (مارنا)کے ذریعے مقید کرنا ضروری ہے۔

۲ ۔ ہاتھ کی پشت کومارنا مراد نہیں بلکہ ہتھیلیوں کو مارنا مراد ہونا ( کیونکہ ہاتھ کی پشت کو مارے تب بھی مارنا صادق آتا ہے)، مارنے کے رائج مصداق کی وجہ سے ہے؛ کیونکہ عام طور پر مارتے وقت ہتھیلیوں کو مارا جاتا ہے ۔ پس اگر کیفیت عمل کو بیان کرنے والی روایات دونوں صورتوں (رائج اور غیر رائج)کو بیان کرنے کے درپے ہوتیں تو حتما اس طرف توجہ دلاتیں۔

اس مقام پر ہم اطلاق سے بھی تمسک نہیں کر سکتے ؛ کیونکہ جب روایات“خارجی موضوعات” کی حکایت کر رہی ہوں تو کلا م میں اطلاق کا وجود ہی نہیں ہوتا۔

۳ ۔ ہتھیلیوں کو مذکورہ کیفیت میں پیشانی وغیرہ پر پھیرنے کی کیفیت میں،فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ مشہور فتویٰ یہ ہے کہ سر کے بال اگنے کی جگہ سے ناک کے بالائی حصے تک کا مسح کیا جائےجبکہ بعض فقہاء کے مطابق چہرے کا مسح کرنا واجب ہے اور ظاہرا ان کی مراد پورا چہرہ ہے۔

یہ اختلاف ، مختلف روایتوں کی وجہ سے وجود میں آیا ہے؛ کیونکہ کچھ روایات میں “مسح وجہ”(چہرے کا مسح )کہا گیا ہے اور بعض میں “مسح جبین” (پیشانی کی اطراف کا مسح) ؛ جبکہ “ مسح جبہہ” ( پیشانی کا مسح) کسی روایت میں نہیں کہا گیا ہے ۔

چہرے کے مسح پر دلالت کرنے والی روایتوں میں سے ایک، کاہلی کی روایت صحیحہ ہے:

سَأَلْتُهُ عَنِ التَّيَمُّمِ، فَضَرَبَ بِيَدَيْهِ عَلَى الْبِسَاطِ فَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ، ثُمَّ مَسَحَ كَفَّيْهِ إِحْدَاهُمَا عَلَى ظَهْرِ الْأُخْرَى .”“میں نے امام ؑ سے تیمم کے بارے میں سوال کیا تو آپ ؑ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو زمین پر مارا اور ان کے ذریعے چہرے کا مسح کیا، پھر دونوں ہاتھوں میں سے ہر ایک کی پشت کا دوسرے کی ہتھیلی سے مسح کیا۔ ”(۱۵۰)

پیشانی کی دونوں اطراف کے مسح پر دلالت کرنے والی روایتوں میں سے ایک، زرارہ کی روایت صحیحہ ہے:

“...ثُمَّ مَسَحَ جَبِينَیهِ‏ بِأَصَابِعِهِ وَ كَفَّيْهِ إِحْدَاهُمَا بِالْأُخْرَى ...”“پھر ( امام ؑ نے ) اپنی انگلیوں کے ذریعے پیشانی کی دونوں اطراف کا مسح کیا اور دونوں ہاتھوں میں سے ہر ایک کا دوسرے کی ہتھیلی سے مسح کیا ۔”(۱۵۱)

ان دونوں روایتوں کو ٹکراؤ سے بچانے کی خاطر پہلی روایت کو اس بات پر محمول کریں گے کہ یہاں پر “مسح وجہ” سے مراد “مسح جبینین” ہے؛ کیونکہ جو شخص پیشانی کی دونوں طرف کا مسح کرے اس کی نسبت کہا جاسکتا ہےکہ اس نے چہرے کا مسح کیا ہے۔

رہی بات پیشانی کے مسح کی، تو فقہ کے مسلمات میں سے ہونے کے سوا اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔

۴ ۔ سر کے بال اگنے کی جگہ سے ناک اور ابرو کے بالائی حصے تک کے احاطے کا مسح کرنا ضروری ہونے کی وجہ ہے کہ جب تک اس احاطے کا مسح نہ کیا جائے اس وقت تک چہرے اور پیشانی کی دونوں اطراف کا مسح کرنا صادق نہیں آتا۔

دونوں ابرو کا مسح واجب نہیں مگر یہ کہ “مقدمہ علمیہ” کے عنوان سے واجب ہو جائے کہ مکلف پورے عضو کے مسح کرنے کا یقین حاصل کرنے کی خاطر ان کا بھی مسح کرے۔

۵ ۔ ہاتھوں کے مسح میں مذکورہ طریقے کے ضروری ہونے پر زرارہ اور کاہلی کی گزشتہ روایات دلالت کر رہی ہیں۔

۶ ۔ ہاتھوں کو ایک بار زمین پر مارنا کافی ہونے میں فقہاء کے درمیان اختلا ف ہے۔ایک قول کے مطابق تیمم میں ایک بار ہاتھوں کو زمین پر مارنا کافی ہے ۔ دوسرے قول کے مطابق دو بار مارنا ضروری ہے جبکہ تیسرا قول یہ ہے کہ اگر وضو کے بدلے میں تیمم کیا جا رہا ہوتو ایک بار مارنا چاہئے اور اگر غسل کے بدلے میں ہو تو دو بار مارنا چاہئے۔

مصنف کے نظرئیے کے مطابق،تیمم میں خواہ وضو کے بدلے ہو یا غسل کےبدلے،ہاتھوں کو ایک بار زمین پر مارنا کافی ہے؛ کیونکہ گزشتہ دونوں صحیح روایتوں کے مطابق امام ؑنے تیمم کی کیفیت کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے صرف ایک بار ہاتھوں کو زمین پر مارا اور کوئی تفصیل بھی بیان نہیں فرمائی۔

اگر یہ اشکال کیا جائے کہ دوبار مارنے کی دلیل حضرت امام رضا علیہ السلام سے مروی اسماعیل بن ہمام کی روایت ہے کہ آپ ؑ نے فرمایا:

التَّيَمُّمُ ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ وَ ضَرْبَةٌ لِلْكَفَّيْن .”“تیمم (میں) چہرے کے مسح کے لئے ایک بار مارنا ہے اور کلائیوں تک کے مسح کے لئے ایک بار۔”(۱۵۲)

توہم یوں جواب دیں گے کہ :گزشتہ روایتوں کے قرینے کی وجہ سے اس روایت کو مستحب پر محمول کرنا ضروری ہے۔

۷ ۔سید مرتضیٰ ؒ کے نظرئیے کے خلاف ، کہ مٹی کے علاوہ کسی چیز پر تیمم صحیح نہیں ہے،(۱۵۳) ہر اس چیز پر، جس پر زمین کا اطلاق ہو، تیمم صحیح ہونے کی دلیل،یہ آیت مجیدہ ہے:( فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدًا طَيِّبًا ) “تو پاک مٹی سے تیمم کرو”(۱۵۴) کی تفسیر اگرچہ بعض اہل لغت کے کہنے کے مطابق صرف مٹی ہے ؛ لیکن اکثر اہل لغت کی رائے کے مطابق “صَعِيدًا ”سے مراد مطلق زمین ہے۔لہذا ہر وہ چیز ، جس پر زمین کا اطلاق ہو ، اس پر تیمم صحیح ہے۔

مندرجہ ذیل آیت مجیدہ اور پیغمبر اکرم ﷺ کی ایک حدیث شریف سے بھی دوسری تفسیر کی تائید ہوتی ہے:

آیت مجیدہ:

( فَتُصْبِحَ صَعِيدًا زَلَقًا ) “اور وہ (باغ) صاف میدان بن جائے۔”(۱۵۵)

حدیث شریف:

یحشر الناس یوم القیامة حفاة عراة علی صعید واحد .”“قیامت کے دن تمام لوگوں کو برہنہ اور ننگے پیر ایک زمین پر محشور کیا جائے گا۔”(۱۵۶)

تیمم کے اسباب:

مندرجہ ذیل مواقع میں مکلف پر تیمم کرنا واجب ہوجاتا ہے:

۱ ۔تلاش کے بعد پانی نہ ملے۔اگر وہ کسی ناہموار زمین پر ہو توچاروں طرف ایک تیر کی پرواز کے فاصلےتک پانی کی تلاش میں جائے اور اگر ہموار زمین پر ہو تو دو تیروں کی پرواز کے فاصلے تک جائے۔

۲ ۔پانی تک پہنچنے میں خطرہ ہو ،

۳ ۔ پانی کے استعمال سے اپنے آپ کے یا کسی دوسرے کےبارے میں خوف ہو،

۴ ۔ پانی کے حصول میں مشقت اور سختی پیش آئے ،

۵ ۔نماز کا وقت تنگ ہو،

۶ ۔ پانی کا استعمال کرنا کسی ایسے واجب کے ساتھ ٹکراتا ہو جس کے لئے صرف پانی ضروری ہے۔

دلائل:

۱ ۔ پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کے واجب ہونے پر مندرجہ ذیل آیت اور بعض روایات(۱۵۷) دلالت کر رہی ہیں:

( ...فَلَمْ تجَِدُواْ مَاءً فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدًا طَيِّبًا ) “پھر تمہیں پانی میسر نہ آئے تو پاک مٹی سے تیمم کرو”(۱۵۸)

۲ ۔ پانی کا تلاش کرنا واجب ہونے پر بعض روایات دلالت کر رہی ہیں جن میں سے ایک روایت کو دو اماموں (حضرت امام محمد باقر اور امام جعفر صادق علیہما السلام )میں سے کسی ایک سے زرارہ نے نقل کیا ہے:

إِذَا لَمْ يَجِدِ الْمُسَافِرُ الْمَاءَ فَلْيَطْلُب ....” “اگر کسی مسافر کو پانی نہ ملے تو اسے تلاش کرنا چاہئے۔۔۔”(۱۵۹)

نیز قاعدہ اشتغال کے مطابق مکلف پر پانی کا تلاش کرنا ضروری ہے؛ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس پر طہارت کے ساتھ نماز پڑھنا واجب ہے خواہ پانی کے ذریعے طہارت کرے یا مٹی کے ذریعے۔ چونکہ مٹی سے طہارت کرنے کا مرحلہ پانی کی طہارت کے بعد آتا ہے ؛لہذا حکم عقل کے مطابق مکلف پر پہلے پانی کی جستجو میں نکل جانا ضروری ہے۔ (پھر پانی نہ ملنے کی صورت میں اسے تیمم کرنا چاہئے۔) اگر وہ پانی کی تلاش میں گئے بغیر تیمم کرکے نماز پڑھے توفریضہ انجام پانے کا احتمال پایا جاتا ہے۔ ( جبکہ یقین حاصل ہونا ضروری ہے۔ )

۳ ۔ مذکورہ فاصلے تک پانی کی تلاش میں جانا ضروری ہونے کی دلیل: اس حکم کا ماخذ سکونی کی موثق روایت ہے جو اس نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ،انہوں نے اپنے والد گرامی حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے اور انہوں نے حضرت امیر المومنین علیہ السلام سے نقل کی ہے:

يُطْلَبُ الْمَاءُ فِي السَّفَرِ إِنْ كَانَتِ الْحزُونَة فَغَلْوَةً وَ إِنْ كَانَتْ سُهُولَة فَغَلْوَتَيْن .”“سفر کی حالت میں پانی تلاش کیا جائے گا۔ اگر ناہموار زمین ہو تو ایک تیر کی پرواز کے فاصلے تک اور اگر ہموار زمین ہو تو دو تیر کی پرواز کے فاصلے تک (تلاش کیا جائے گا)۔”(۱۶۰)

اگرچہ سکونی کی وثاقت کے بارے میں صراحتاًکچھ ذکر نہیں کیا گیا ہے ؛لیکن کتاب “عدّہ” میں شیخ طوسی ؒ کا یہ دعویٰ کرنا کافی ہے کہ : “علماء نے سکونی کی روایتوں پر عمل کیا ہے۔”(۱۶۱)

پانی تلاش کرنے کی مقدار کو ایک تیر یا دو تیر کے فاصلے تک میں محدود کرنے سے فقیہ یہ سمجھتا ہے کہ یہ مقدار،عرف کے نزدیک پانی ملنے یا نہ ملنے کو سمجھنے کا ایک ذریعہ ہے۔گزشتہ زمانے میں اسی مقدار میں تلاش کرنے کے بعد نہ ملتا تو اس پر پانی کا نہ ملنا صادق آتا تھا۔ اس لحاظ سے موجودہ زمانے میں تلاش اور جستجو کے ترقی یافتہ وسائل کی موجودگی کے باعث مذکورہ مقدار سے اتنی زیادہ مقدار میں تلاش کرنا ضروری ہوجاتا ہے کہ عرفاً کہا جا سکے کہ مکلف نے ممکنہ کوشش کی اور پانی نہ مل سکا ۔

۴ ۔ خوف کی حالتوں میں تیمم کے واجب ہونے کا حکم آیت مجیدہ( ...فَلَمْ تجَِدُواْ مَاءً فَتَيَمَّمُواْ صَعِيدًا طَيِّبًا ) سے اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ آیت مجیدہ میں بیماری کے ذکر سے معلوم ہوتا ہے کہ پانی نہ ملنے سے مراد، پانی کے استعمال پر قادر نہ ہونا ہے؛ لہذا جب نفس اور عزت کی حفاظت واجب ہے تو ان دونوں کے بارے میں خوف ہونے کی صورت میں بھی قادر نہ ہونا صادق آتا ہے۔

۵ ۔ پانی کے حصول میں سختی پیش آنے کی صورت میں تیمم کا واجب ہونا “قاعدةٔ نفی حرج ” کا نتیجہ ہے جو قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے:“مَا جَعَلَ عَلَيْكمُ‏ْ فىِ الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ ”،“ اور دین کے معاملے میں تمہیں کسی مشکل سے دوچار نہیں کیا”(۱۶۲)

۶ ۔وقت کی تنگی کے باعث تیمم کا واجب ہونا،مشہور فتویٰ ہے جس پر آیت تیمم سے اس طرح استدلال کیا جا سکتا ہے کہ پانی کے نہ ملنے سے وضو کرنے کاحکم عام ہے جو وقت کی تنگی کی وجہ سے وضو کرنا ممکن نہ ہونے کی صورت کو بھی شامل ہے۔

نیز زرارہ کی روایت صحیحہ بھی اس حکم پر دلالت کرتی ہے:“...فَإِذَا خَافَ أَنْ يَفُوتَهُ الْوَقْتُ فَلْيَتَيَمَّمْ وَ لْيُصَلِّ ”“جب وقت کے ختم ہونے کا خوف ہو تو تیمم کرے اور نماز بجا لائے۔”(۱۶۳)

۷ ۔ کسی دوسرے واجب کے ساتھ ٹکراؤ کی صورت میں تیمم کا واجب ہونا اس لئے ہے کہ جب مکلف کے ذمے ایک دوسرا واجب ہوجو زیادہ اہم ہو تو ضروری ہے کہ پانی کو اس واجب کے لئے رکھ دیا جائے ۔ اس صورت میں مکلف پر پانی کا نہ ملنا صادق آتا ہے۔


جبیرہ کے احکام

وضو اور غسل جبیرہ:

اگر ( کسی زخم، پھوڑا یا ٹوٹنے کی وجہ سے ) انسان کے بعض اعضائے وضو پر جبیرہ ( پٹی بندھی ہوئی ) ہو اور وہ بغیر کسی نقصان کے پٹی کے اندر تک پانی پہنچا سکتا ہو، خواہ پٹی کو کھولنے یا پورے عضو کو پانی میں ڈبونے کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو، تو پٹی کے اندر تک پانی پہنچانا واجب ہے؛ لیکن اگر ایسا ممکن نہ ہوتو پٹی کے اوپر مسح کرنا ضروری ہے۔

اگر اعضاء پر ، پانی کے عضو تک پہنچنے میں رکاوٹ بننے والی مثلا تارکول جیسی کوئی چیز چپکی ہوئی ہو تو اسے ہٹانا اور جدا کرنا ضروری ہے۔ اگر اس رکاوٹ کو برطرف کرنا ممکن نہ ہو تو تیمم کرنا ضروری ہے، بشرطیکہ وہ اعضائے تیمم پر نہ ہو؛ لیکن اگر اعضائے تیمم پر ہو تو وضو اور تیمم دونوں کا انجام دینا ضروری ہے۔

غسل جبیرہ کا حکم بھی وضوئے جبیرہ کی طرح ہے۔

دلائل:

۱ ۔ ممکنہ صورت میں پٹی کو کھولنے یا عضو کو پانی میں ڈبونے کا وجوب ، ان دلیلوں کاتقاضا ہے جوقادر شخص پر وضو کو واجب قرار دیتی ہیں۔

۲ ۔ ممکن نہ ہونے کی صورت میں پٹی کے اوپر مسح کرنا اس لئے واجب ہے کہ جو شخص کامل وضو کرنے پر قادر نہ ہو تو قاعدتاً اس پر تیمم واجب ہوتا ہے۔ علاوہ بر ایں بعض روایات بھی اسی حکم پر دلالت کرتی ہیں جن میں سے ایک ،حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی حلبی کی روایت صحیحہ ہے:

سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ تَكُونُ بِهِ الْقَرْحَةُ فِي ذِرَاعِهِ أَوْ نَحْوِ ذَلِكَ مِنْ‏ مَوْضِعِ الْوُضُوءِ، فَيَعْصِبُهَا بِالْخِرْقَةِ وَ يَتَوَضَّأُ وَ يَمْسَحُ عَلَيْهَا إِذَا تَوَضَّأَ؟ فَقَالَ: إِنْ كَانَ يُؤْذِيهِ الْمَاءُ فَلْيَمْسَحْ عَلَى الْخِرْقَة ”“ایک شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس کے ہاتھ یا اعضائے وضو میں سے کسی ایک عضو پر پھوڑا نکل آیا ہے اور وہ وضو کرتے وقت اس پر کپڑا باندھتا ہے پھر اسی پر وضو کرتا ہے یا اس کپڑے کے اوپر مسح کرتا ہے؟ امام ؑ نے فرمایا: اگر پانی اسے اذیت پہنچائے تو وہ کپڑے پر مسح کرے۔”(۱۶۴)

اگرچہ روایت میں پھوڑے کا ذکر ہوا ہے؛ لیکن حکم کے لئے پھوڑے کی خصوصیت کو ملاحظہ کرنا مناسب نہیں ہے۔ خصوصا جب اس کا تذکرہ امام ؑ کے جواب میں نہ ہو؛ بلکہ سائل کے سوال میں ہو۔

۳ ۔ مانع اور رکاوٹ کو برطرف کرنا اس لئے واجب ہے کہ اعضاء پر دھونا اور مسح کرنا اس وقت تک صادق نہیں آتاجب تک رکاوٹ برطرف نہ ہو اور مانع ہٹ نہ جائے۔

۴ ۔رکاوٹ کو برطرف کرنا ممکن نہ ہونے کی صورت میں تیمم واجب ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جس شخص کے لئے پانی کا استعمال ممکن نہ ہو قاعدتاً اس پر تیمم واجب ہوجاتا ہے۔

۵ ۔ آخری فرض میں وضو اور تیمم دونوں کا واجب ہونا اس بات کے پیش نظر ہے کہ نماز کسی حالت میں ساقط نہیں ہوتی؛ لہذا نماز کی ادائیگی کے لئے مکلف پر وضو یا تیمم کرنا ضروری ہے۔ مذکورہ فرض میں وضو یا تیمم کے وجوب پر مکلف کو اجمالی علم حاصل ہے لہذا اپنی ذمہ داری کی ادائیگی کو یقینی بنانے کے لئے وضو اور تیمم دونوں کا بجالانا ضروری ہے۔

۶ ۔ غسل میں بھی جبیرہ پر مسح کرنا واجب ہونے کی دلیل: کلیب اسدی کی روایت صحیحہ ہے:

سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام: عَنِ الرَّجُلِ إِذَا كَانَ كَسِيراً، كَيْفَ يَصْنَعُ بِالصَّلَاةِ؟ قَالَ: إِنْ كَانَ يَتَخَوَّفُ عَلَى نَفْسِهِِ، فَلْيَمْسَحْ عَلَى جَبَائِرِهِ وَ لْيُصَلِّ .”“میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس شخص کی بابت سوال کیا جس کا کوئی عضو ٹوٹ گیا ہے لہذا وہ کیسے نماز پڑھے؟ فرمایا: اگر اسے اپنے بارے میں خوف ہو تو جبیرہ پر مسح کرے اور نماز پڑھے۔”(۱۶۵)

اس روایت کے اطلاق میں غسل بھی شامل ہوتا ہے۔

اسی طرح یہ روایت اگرچہ اس شخص کے بارے میں ہے جس کے اعضاء ٹوٹ گئے ہوں ؛ لیکن فقیہ کو چاہئے کہ اس کو صرف اس مذکورہ شخص کے ساتھ مختص نہ سمجھے ۔( بلکہ اس حکم میں ہر وہ شخص شامل ہے جس کے اعضاء پر جبیرہ ہو۔)


نجاسات کے احکام

نجاسات دس ہیں:

پیشاب اور پاخانہ:

پرندوں کے علاوہ تمام خون جہندہ رکھنے والے حرام گوشت حیوانوں کا پیشاب اور پاخانہ نجس ہے۔اگران دو شرطوں ( خون جہندہ رکھنے یا نہ رکھنے نیز حلال گوشت ہونے یا نہ ہونے) میں شک ہو تو اس حیوان پر پاک ہونے کا حکم جاری ہوگا۔

دلائل:

۱ ۔ نجاسات کا دس چیزوں میں منحصر ہونا استقراء کی وجہ سے ہے۔

۲ ۔ پیشاب اور پاخانہ کے نجس ہونے میں ،مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔ حضرت امام محمد باقر یا جعفر صادق علیہما السلام میں سے کسی ایک سے مروی محمد بن مسلم کی روایت صحیحہ بھی اس پر دلالت کرتی ہے:

سَأَلْتُهُ عَنِ الْبَوْلِ يُصِيبُ الثَّوْبَ، فَقَالَ: اغْسِلْهُ مَرَّتَيْنِ .”“میں نے امام ؑ سے کپڑے کو لگنے والے پیشاب کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا: اس کپڑے کو دو مرتبہ دھو لے۔”(۱۶۶)

نیز حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی عمار کی موثق روایت کا مفہوم بھی اسی حکم پر دلالت کرتا ہے:

كُلُّ مَا أُكِلَ لَحْمُهُ فَلَا بَأْسَ بِمَا يَخْرُجُ مِنْهُ .”“جس حیوان کا گوشت حلال ہو اس سے خارج ہونے والی چیزوں میں بھی کوئی اشکال نہیں ہے۔”(۱۶۷)

۳ ۔ پیشاب اور پاخانہ کے نجس ہونے میں حیوان کے حرام گوشت ہونے کی شرط بھی مذکورہ بالا موثق روایت سے ہی معلوم ہوتی ہے۔

حیوان کا خون جہندہ رکھنے والا ہونا ضروری ہونے پر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ساباطی کی موثق روایت دلالت کر رہی ہے:

سُئِلَ عَنِ الْخُنْفَسَاءِ،وَالذُّبَابِ، وَالْجَرَادِ، وَ النَّمْلَةِ، وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ، يَمُوتُ فِي الْبِئْرِ وَالزَّيْتِ وَ السَّمْنِ وَ شِبْهِهِ، قَالَ: كُلُّ مَا لَيْسَ لَهُ دَمٌ فَلَا بَأْسَ .”“میں نے امام ؑ سے پوچھا: اگر کنویں، تیل یا گھی وغیرہ میں گبریلا، مکھی، ٹڈی یا چیونٹی وغیرہ مرجائے تو (کیا حکم ہے؟) فرمایا:جس کا خون جہندہ نہیں ہے اس میں کوئی اشکال نہیں۔”(۱۶۸)

مذکورہ حشرات ،مرنے کے بعدیقینا سڑ جاتے ہیں اور ان کے پیٹ سے پیشاب اور دوسرے فضلات بھی نکلتے ہیں اس کے باوجود امام ؑ نے کسی قید وشرط کے بغیر پاک ہونے کا حکم لگایا ہے۔

۴ ۔ پرندوں کو مذکورہ حکم سے مستثنیٰ قرار دینا، حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ابوبصیر کی مندرجہ ذیل روایت صحیحہ کی وجہ سے ہے:

كُلُّ شَيْ‏ءٍ يَطِيرُ فَلَا بَأْسَ بِبَوْلِهِ وَ خُرْئِهِ .”“ہر طائر کے پیشاب اور پاخانے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔”(۱۶۹)

۵ ۔ دو قیود ( خون جہندہ رکھنے یا نہ رکھنے نیز حلال گوشت ہونے یا نہ ہونے)میں شک کی صورت میں حیوان کا پاک ہونا، اصالت طہارت کی وجہ سے ہے۔

منی اور مردار:

خون جہندہ رکھنے والے حیوانوں کی منی اور مردار نجس ہے۔

مردار سے مرادوہ حیوان ہے جسے شرعی طریقے سے ذبح نہ کیاگیا ہو۔

جوچیز(مثلا گوشت) مسلمانوں کے قبضے میں ہو یا ان کے بازار میں دستیاب ہو اگر اس کے پاک ہونے یا نہ ہونے میں شک ہو تو وہ چیز حلال اور پاک شمار ہوگی خواہ اس سے پہلے کسی کافر کے قبضے میں ہی کیوں نہ رہی ہو بشرطیکہ اس بات کا احتمال ہو کہ مسلمان نے اس کی پاکی کے بارے میں چھان بین کی ہے۔

دلائل:

۱ ۔ انسان کی منی کا نجس ہونا ایک مسلمہ حکم اور دین کے بدیہی امور میں سے ہے جس پر بہت ساری روایات دلالت کرتی ہیں۔ مثلا محمد ابن مسلم نے حضرت امام محمد باقر یا جعفر صادق علیہما السلام سے روایت کی ہے:

سَأَلْتُهُ عَنِ الْمَنِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَِ، قَالَ:إِنْ عَرَفْتَ مَكَانَهُ فَاغْسِلْهُ،وَإِنْ خَفِيَ عَلَيْكَ مَكَانُهُ فَاغْسِلْهُ كُلَّه .”“میں نے امام ؑ سے سوال کیا: اگر کپڑے پر منی لگ جائے ( تو کیا حکم ہے؟) فرمایا: اگر تمہیں منی لگنے والی جگہ کا علم ہوتو وہی جگہ دھو لو اور اگر اس جگہے کا علم نہ ہو تو پورے کپڑے کو دھو لو۔”(۱۷۰)

غیر انسان کی منی کے نجس ہونے پر محمد بن مسلم کی ایک روایت صحیحہ دلالت کر رہی ہے:

ذَكَرَ الْمَنِيَّ وَ شَدَّدَهُ وَ جَعَلَهُ أَشَدَّ مِنَ الْبَوْل ”“منی کے نجس ہونے کو شدت کے ساتھ ذکر کیا اور اسے پیشاب سے نجس تر قرار دیا۔”(۱۷۱)

اس روایت میں منی اور بول کو “ال” جنس کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔ جب خون جہندہ رکھنے والے حرام گوشت حیوان کا پیشاب نجس ہے تو اس کی منی بھی نجس ہے۔

اس حکم کو ثابت کرنے کے لئے گزشتہ روایت “الْمَنِيِّ يُصِيبُ الثَّوْبَِ ” سے تمسک کرنا صحیح نہیں ہے ؛ کیونکہ اس روایت میں مذکور “اصابة” کی تعبیر نے حکم کو انسان کی منی سے مختص کیا ہے۔( جبکہ ہماری بات غیر انسان کی منی کے بارے میں ہے۔)

خون جہندہ رکھنے والے حلال گوشت حیوان کی منی کے نجس ہونے پر فقہاء کا اجماع ہے ۔ اگر اجماع نہ ہوتا تو ابن بکیر کی موثق روایت کے عموم کا تقاضا اس منی کا پاک ہونا ہے۔ ابن بکیر کی روایت یہ ہے :

“...فَإِنْ كَانَ مِمَّا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ، فَالصَّلَاةُ فِي وَبَرِهِ وَ بَوْلِهِ وَ شَعْرِهِ وَ رَوْثِهِ وَ أَلْبَانِهِ وَ كُلِّ شَيْ‏ءٍ مِنْهُ جَائِز ...”“اگر وہ حیوان حلال گوشت ہے تو اس کے اون ، پیشاب، بال، فضلات، دودھ اور اس کی ہر چیز میں نماز جائز ہے۔”(۱۷۲)

خون جہندہ نہ رکھنے والے حیوان کی منی کا پاک ہونا اس بات کے پیش نظر ہےکہ منی کو نجس قرار دینے والی دلیلیں اس مورد کو ثابت نہیں کر سکتی ہیں ؛ لہذا ہم “اصالۂ طہارت” جاری کریں گے۔ بلکہ خون جہندہ نہ رکھنے والے حیوان کی منی کے پاک ہونے کی دلیل بھی موجود ہے اور وہ دلیل حفص بن غیاث کی روایت صحیحہ ہے ۔ اس روایت کو حفص نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے اور انہوں نے اپنے پدر بزرگوار ؑ سے نقل کی ہے:“لَا يُفْسِدُ الْمَاءَ إِلَّا مَا كَانَتْ لَهُ نَفْسٌ سَائِلَةٌ .”“پانی کو نجس نہیں کرتا مگر یہ کہ وہ خون جہندہ رکھنے والا حیوان ہو۔”(۱۷۳)

اس روایت کے اطلاق میں حیوان کی منی بھی شامل ہے۔

۲ ۔ مردار ( جسے شرعی طریقے سے ذبح نہ کیا گیا ہو) کا نجس ہونا ایک متفق علیہ حکم ہے جس پر بہت ساری روایات دلالت کر رہی ہیں جن کے بارے میں تواتر اجمالی کا دعویٰ کیا جا سکتا ہے۔ مثلا حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے زرارہ نے روایت کی ہے:

إِذَا وَقَعَتِ الْفَأْرَةُ فِي السَّمْنِ فَمَاتَتْ فِيهِ، فَإِنْ كَانَ جَامِداً فَأَلْقِهَا وَ مَا يَلِيهَا،وَإِنْ كَانَ ذَائِباً فَلَا تَأْكُلْهُ وَ اسْتَصْبِحْ بِه .”“گھی میں چوہا گر کر مر جانے کی صورت میں ،اگر وہ گھی جامد ہے تو چوہے کے ساتھ اس کی اطراف کے حصوں کو بھی نکال پھینک دے (باقی کو کھانے کے لئے استعمال کرے) اور اگر مائع ہے تو اسے نہ کھائے بلکہ چراغ جلانے کے لئے استعمال کرے۔”(۱۷۴)

۳ ۔خون جہندہ نہ رکھنے والے حیوان کا مردار پاک ہونے کی وجہ یہ ہے کہ مردار کو نجس قرار دینے والی دلیلوں میں عمومیت نہیں پائی جاتی؛ لہذاہم “اصالۂ طہارت” جاری کریں گے؛ بلکہ ہمارے پاس اس طرح کے مردار کے پاک ہونے کی دلیل ہےاور وہ ساباطی کی وہی روایت ہے جو پیشاب اور پاخانہ کے احکام میں گزر چکی ہے۔

۴ ۔ مردار ، صرف خودبخود مرجانے والے حیوان میں منحصر نہیں؛بلکہ شرعی طریقے پر ذبح نہ کئے جانے والے کو بھی کہاجاتا ہے۔ اس کی دلیل سماعہ کی موثق روایت ہے:

إِذَا رَمَيْتَ وَ سَمَّيْتَ فَانْتَفِعْ بِجِلْدِهِ وَ أَمَّا الْمَيْتَةُ فَلَا .”“جب تو تیر مارے اور اللہ کا نام لے تو اس (شکار) کی کھال سے فائدہ اٹھاؤ ؛ لیکن مردار ہو تو (استفادہ) نہ (کرو)۔”(۱۷۵)

جس شکار پرتیر چلاتے وقت اللہ کا نام لیا جائے (وہ ذبح شرعی ہے)اس کے مقابلے میں مردار کا ذکر ہوا ہے ؛ لہذا جس حیوان کو شرعی طریقے سے ذبح نہ کیا جائے وہ بھی مردار میں شامل ہے اور اس سے فائدہ اٹھانا صحیح نہیں۔

۵ ۔ مسلمانوں کے بازار سے خریدی جانے والی چیز وں پر حلال اور پاک ہونے کا حکم لگانے کی وجہ، محمد بن مسلم، زرارہ اور فضیل کی روایات صحیحہ سے معلوم ہوتی ہے کہ مسلمانوں کے بازار میں ان چیزوں کا دستیاب ہونا ہی ان کے پاک اور حلال ہونے کی نشانی ( امارہ) ہے۔ جب مذکورہ راویان حدیث نے بازاروں میں دستیاب گوشت کے بارے میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سےسوال کیا کہ معلوم نہیں قصائی ان حیوانوں کو کیسے ذبح کرتے ہیں، تو امام ؑ نے فرمایا:

كُلْ إِذَا كَانَ ذَلِكَ فِي سُوقِ الْمُسْلِمِينَ وَ لَا تَسْأَلْ عَنْهُ .”“ جب یہ مسلمانوں کے بازار میں( دستیاب) ہو تو کھاؤ اور اس کے بارے میں استفسار نہ کرو۔ ”(۱۷۶)

یہ روایت مسلمانوں کے بازار سے خریدی جانے والی چیز کے بارے میں استفسار اور پوچھ گچھ نہ کرنے پر قائم قطعی سیرت کے علاوہ ایک دوسری دلیل ہے۔

مسلمان کے قبضے میں موجود چیز پر بھی حلال اور پاک ہونے کا حکم لگانے کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے بازارکو بازار ہونے کے عنوان سے یا متعدد دکانوں پر مشتمل ہونے کے عنوان سے ،اس حکم کے اجراء میں کوئی دخل نہیں ہے ؛ بلکہ مسلمانوں کا بازار اس لئے حجت بن گیا ہے کہ اس سے (ید مسلم) مسلمانوں کے قبضے میں ہونا منکشف ہوتا ہے۔ پس اس بنا پر اصلی معیار“ بازار” نہیں ہے ؛بلکہ“ید مسلم” (مسلمانوں کے قبضے میں ہونا) ہے ۔

۶ ۔ پہلے کسی کافر کے قبضے میں ہوتے ہوئے بھی بازار مسلمین کی حجیت عام ہونے کا حکم گزشتہ روایت صحیحہ کے اطلاق کی وجہ سے لگایا جاتا ہے۔

لیکن اس کے ساتھ یہ احتمال بھی کہ کسی مسلمان نے اس کی پاکی کے بارے میں تحقیق کی ہو؛ اسلئے ضروری ہے کہ بازار مسلمین اس چیز کے پاک ہونے کی نشانی اور “ امارہ” ہونے کے باعث حجت ہے ؛ لیکن جب قطعی طور پر معلوم ہو جائے کہ کسی مسلمان نے اس چیز کی پاکی کے بارے میں تحقیق نہیں کی ہے تو وہاں “امارہ ” کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔

خون:

خون جہندہ رکھنے تمام حیوانوں کا خون نجس ہے۔ اگر خون جہندہ رکھنے یا نہ رکھنے کے بارے میں شک ہوتو پاک ہونے کا حکم لگایا جائے گا۔

کھجانے کی وجہ سے بدن سے خارج ہونے والی مشکوک چیز پاک ہے۔ نیز تاریکی کی وجہ سے مشکوک ہونے والی چیز بھی پاک ہے اور اس کے بارے میں چھان بین کرنا ضروری نہیں خواہ آسانی کے ساتھ چھان بین کی جا سکتی ہو۔

دلائل:

۱ ۔ کلی طور پر خون کا نجس ہوناایک متفق علیہ حکم ہے ؛بلکہ فقہ کے مسلمات میں سے ہے۔بعض خصوصی موارد مثلا ناک سے نکلنے والےخون، دانت اکھاڑنے سے نکلنے والےخون نیز زخم کے خون کا حکم بیان کرنے والی بہت ساری روایات ، مذکورہ حکم پر دلالت کرتی ہیں۔

مذکورہ خصوصی موارد کی وجہ سے خون کی تمام اقسام کے نجس ہونے کا عمومی حکم لگانا مشکل ہوجاتا ہے۔ مگر یہ کہ اس ارتکاز ذہنی کا سہارا لیا جائے جو کلی طور پر خون کے نجس ہونے کا حکم لگاتا ہے یا اس موثق روایت سے تمسک کیا جائے جو عمار نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کی ہے:

سُئِلَ عَمَّا تَشْرَبُ مِنْهُ الْحَمَامَةُ، فَقَالَ:كُلُّ مَا أُكِلَ لَحْمُهُ، فَتَوَضَّأْ مِنْ سُؤْرِهِ وَ اشْرَبْ إِلَّا أَنْ تَرَى فِي مِنْقَارِهِ دَماً، فَإِنْ رَأَيْتَ فِي مِنْقَارِهِ دَماً، فَلَا تَوَضَّأْ مِنْهُ وَ لَا تَشْرَبْ .”“امام ؑ سے سوال کیا گیا اس چیز کے بارے میں جس سے کبوتر پانی پیتا ہے، فرمایا: تمام حلال گوشت حیوانوں کے جھوٹے سے وضو کیا جاسکتا ہے اور پیا جا سکتا ہے۔۔۔ مگر یہ کہ اس کی چونچ پر خون لگا ہو، اگر تجھے اس کی چونچ پر خون دکھائی دے تو اس سے نہ وضو کر و اور نہ پیو”(۱۷۷)

روایت میں مذکور خون کا اطلاق ،کلی طور پر خون کی نجاست پر دلالت کرتا ہے۔

اس روایت میں عمومیت ہونے کی صورت میں انڈے میں پائے جانے والے خون پر بھی نجاست کا حکم مرتب ہوتا ہے اور وہ بھی نجس شمار ہوتا ہے؛ لیکن اگر ایسا نہ ہو تو انڈے میں پائے جانے والے خون پر“اصالۂ طہارت” کی وجہ سے پاک ہونے کا حکم لگایا جاتا ہے۔البتہ خواہ اس خون کونجس مان لیا جائے یا پاک، اس کا کھانا دونوں صورتوں میں جائز نہیں ہے؛ کیونکہ قرآن مجید کی آیت کے مطابق خون کا کھاناحرام ہے:( إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَ الدَّمَ ...) “یقینا اسی نے تم پر مردار،خون حرام قرار دیا۔”(۱۷۸)

۲ ۔ خون جہندہ نہ رکھنے والے حیوانوں کا خون پاک ہونے کی دلیل: اس بات کے پیش نظر کہ خون کے عمومی طور پر نجس ہونے کو بیان کرنے والی دلیلیں کامل نہیں ہیں ؛ لہذا ہم “اصالۂ طہارت” جاری کریں گے۔ البتہ اگر وہ دلیلیں کامل ہوں اور عمومی طورپر خون کے نجس ہونے کا حکم لگایا جا سکے تو اس حکم کو ثابت کرنے کے لئے حفص بن غیاث کی اس روایت سے،مذکورہ وضاحت کے ساتھ ،تمسک کیا جا سکتا ہے جوخون جہندہ نہ رکھنے والے حیوان کی منی پاک ہونے کے بارے میں گزر چکی ہے۔

۳ ۔ خون جہندہ رکھنے یا نہ رکھنے میں شک ہونے کی صورت میں “اصالۂ طہارت” سے تمسک کرتے ہوئے اس کے پاک ہونے کا حکم لگایا جائے گا۔

۴ ۔ کھجانے کی صورت میں بدن سے نکلنے والی رطوبت نیز تاریکی کی وجہ سے ہونے والی مشکوک چیزوں کے پاک ہونے کا حکم بھی “اصالۂ طہارت” کی وجہ سے لگایا جاتا ہے۔

۵ ۔ چھان بین کرنا ضروری نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یہ “شبہہ موضوعیہ” ہے جس میں چھان بین کرنا ضروری نہ ہونے پر تمام فقہاء متفق ہیں ۔

علاوہ بر ایں زرارہ کی روایت صحیحہ اس حکم پر دلالت کررہی ہے:

“...فَهَلْ عَلَيَّ إِنْ شَكَكْتُ فِي أَنَّهُ أَصَابَهُ شَيْ‏ءٌ أَنْ أَنْظُرَ فِيهِ؟ قَالَ: لَا، وَ لَكِنَّكَ إِنَّمَا تُرِيدُ أَنْ تُذْهِبَ الشَّكَّ الَّذِي وَقَعَ فِي نَفْسِك ...”“ اگر میرے کپڑوں سے کوئی مشکوک چیز لگ جائے تو کیا مجھ پر اس کی چھان بین کرنا ضروری ہے ؟ فرمایا: ضروری نہیں ہے مگر یہ کہ تم خود اس شک سے مطمئن ہونا چاہو ۔”(۱۷۹)

اس وضاحت کے ساتھ کہ یہ حکم ، روایت میں مذکورہ مورد کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔

انگور، کھجور اور جو کی شراب:

شراب کی مذکورہ تینوں اقسام نجس ہیں۔ بعض فقہاء کے مطابق ہر وہ مائع اور سیال چیز نجس ہے جو انسان کو بے ہوش کردے۔

انگور کے رس کو ابالنے کی صورت میں اس کے دو تہائی حصے ختم ہونے سے پہلے اس کا پینا حرام ہے؛ لیکن وہ نجس نہیں ہوتا۔

کشمش اور کھجور کے رس کو ابالنے کی صورت میں وہ نہ صرف یہ کہ نجس نہیں ہوتا ؛ بلکہ حرام بھی نہیں ہوتا۔

دلائل:

۱ ۔ انگور کی شراب کا حکم: روایات کے مختلف ہونے کی وجہ سے اس کے پاک ہونے اور نجس ہونے میں اختلاف ہے۔

جو روایتیں اس کے پاک ہونے پر دلالت کرتی ہیں ان میں سے ایک “حناط” کی روایت صحیحہ ہے:

سَأَلْتُ‏أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام عَنِ الرَّجُلِ يَشْرَبُ الْخَمْرَ ثُمَّ يَمُجُّهُ مِنْ فيهِ فَيُصِيبُ ثَوْبِي، فَقَالَ: لَا بَأْسَ .” “میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا کہ ایک آدمی شراب پیتا ہے پھر اس کا لعاب دہن میرے کپڑوں سے لگ جاتا ہے، فرمایا: کوئی حرج نہیں۔”(۱۸۰)

جو روایات اس کے نجس ہونے پر دلالت کرتی ہیں ان میں سے ایک حضرت امام جعفر صاد ق علیہ السلام سے مروی عمار کی موثق روایت ہے:

سَأَلْتُهُ عَنِ الدَّنِّ يَكُونُ فِيهِ الْخَمْرُ، هَلْ يَصْلُحُ أَنْ يَكُونَ فِيهِ خَلٌّ أَوْ مَاءٌ كَامَخٌ أَوْ زَيْتُونٌ؟ قَالَ:إِذَا غُسِلَ فَلَا بَأْس ...”“میں نے امام ؑ سے پوچھا : جس مٹکے میں شراب رکھی جاتی ہے کیا اس میں سرکہ، سالن یا زیتون کا تیل رکھا جا سکتا ہے؟ فرمایا: اگر دھو لیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔۔۔”(۱۸۱)

بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ علی ابن مہزیار کی روایت صحیحہ کی وجہ سے ، شراب کے نجس ہونے پر دلالت کرنے والی روایات کو پاک قرار دینے والی روایت پر مقدم کرنا چاہئے۔علی ابن مہزیار کہتے ہیں : میں نےعبداللہ بن محمد کا وہ خط پڑھا جو اس نے حضرت امام رضا علیہ السلام کے نام لکھا تھا:

جُعِلْتُ فِدَاكَ رَوَى زُرَارَةُ عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ،وَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عما السلام- فِي الْخَمْرِ يُصِيبُ ثَوْبَ الرَّجُلِ، أَنَّهُمَا قَالا: لَا بَأْسَ بِأَنْ يُصَلِّيَ فِيهِ، إِنَّمَا حَرُمَ شُرْبُهَا. وَ رُوِيَ عَنْ‏ غیر زُرَارَةَ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام أَنَّهُ قَالَ: إِذَاأَصَابَ ثَوْبَكَ خَمْرٌ أَوْ نَبِيذٌ، يَعْنِي الْمُسْكِرَ فَاغْسِلْهُ إِنْ عَرَفْتَ مَوْضِعَهُ، وَ إِنْ لَمْ تَعْرِفْ مَوْضِعَهُ فَاغْسِلْهُ كُلَّهُ، وَإِنْ صَلَّيْتَ فِيهِ فَأَعِدْ صَلَاتَكَ، فَأَعْلِمْنِي مَا آخُذُ بِهِ، فَوَقَّعَ علیه السلام بِخَطِّهِ وَ قَرَأْتُهُ:‏ خُذْ بِقَوْلِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ .”“میں آپ کے قربان جاؤں! زرارہ نے حضرت امام محمد باقر اور جعفر صادق علیہما السلام سے روایت کی ہے کہ اگر کسی کے کپڑے پر شراب لگ جائے تو دونوں ائمہ نے فرمایا: اس کپڑے کے ساتھ نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہےصرف شراب کا پینا حرام ہے ؛ جبکہ زرارہ کے علاوہ کسی راوی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ اگر تیرے کپڑے پر شراب یا کھجور کی شراب( یعنی کوئی بھی مدہوش کرنے والی چیز) لگ جائے توجس جگہ وہ چیز لگی ہے اسی جگہے کو دھو لے اگر معلوم نہ ہو کہ کہاں پر لگی ہے تو پورے کپڑے کو دھولے۔ اگر تو نے اسی کپڑے کے ساتھ نماز پڑھی ہے تو نماز کا اعادہ کرے۔ پس آپ ؑ فرمائیں کہ میں کس حکم کو اخذ کروں؟ حضرت امام رضا علیہ السلام نے خود لکھا تھا ، جو میں نے پڑھا، : حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے فرمان کو اخذ کرو۔”(۱۸۲)

اس وضاحت کے ساتھ کہ حضرت امام رضا علیہ السلام نے باہم متعارض روایات کو ملاحظہ فرمانے کے بعد ان روایات کو مقدم فرمایا جو شراب کے نجس ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔

۲ ۔ کھجور کی شراب(نبیذ) اور بے ہوش کرنے والی مائع چیزوں کے نجس ہونے کا حکم حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام سے مروی علی ابن یقطین کی روایت صحیحہ سے اخذ کیا جا سکتا ہے:

إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ لَمْ يُحَرِّمِ الْخَمْرَ لِاسْمِهَا،وَ لَكِنْ حَرَّمَهَا لِعَاقِبَتِهَا، فَمَا كَانَ عَاقِبَتُهُ عَاقِبَةَ الْخَمْرِ فَهُوَ خَمْرٌ .”“اللہ تعالیٰ نے شراب کو اس کے نام کی وجہ سے نہیں ؛ بلکہ اس کے انجام کی وجہ سے حرام قرار دیا ہے۔ پس جس چیز کا انجام شراب کی طرح ہو وہ ( حکم کے لحاظ سے بھی ) شراب ( کی طرح) ہے۔”(۱۸۳)

۳ ۔ جو کی شراب(فقاع) کے نجس ہونے کی دلیل: ابن فضال کی مکاتبہ روایت میں جو کی شراب کو شراب کی مانند قرار دیا گیا ہے:

كَتَبْتُ إِلَى أَبِي الْحَسَنِ علیه السلام أَسْأَلُهُ عَنِ الْفُقَّاعِ، فَقَالَ: هُوَ الْخَمْرُ، وَ فِيهِ حَدُّ شَارِبِ الْخَمْرِ .” “میں جو کی شراب کے بارے میں سوال کرتے ہوئے حضرت امام رضا علیہ السلام کے نام خط لکھا، آپ ؑ نے فرمایا:وہ شراب ہے اور اس کے پینے والے پر شرابخور کی حد جاری ہوگی۔”(۱۸۴)

اس وضاحت کے ساتھ کہ امام ؑ نے فقاع کو مطلق طور پر شراب کا رتبہ دیا ہے لہذا اس اطلاق میں نجس ہونے کا حکم بھی شامل ہے۔

۴ ۔ انگور کے رس کا حکم : انگور کے رس کو ابالنے کی صورت میں اس کے حرام ہونےپر کسی کو اعتراض نہیں؛ کیونکہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی عبد اللہ بن سنان کی روایت صحیحہ اس حکم پر دلالت کررہی ہے:

كُلُّ عَصِيرٍ (۱۸۵) أَصَابَتْهُ النَّارُ فَهُوَ حَرَامٌ حَتَّى يَذْهَبَ ثُلُثَاهُ وَ يَبْقَى ثُلُثُهُ .”“ہر وہ رس جسے آگ پر رکھا جائے حرام ہے مگر یہ کہ اس کے دوتہائی حصے ختم ہوجائیں اور ایک تہائی باقی رہ جائے۔”(۱۸۶)

لیکن اس کے نجس ہونے میں اشکال ہے کیونکہ حرام ہونے سے اس کا نجس بھی ہونا لازم نہیں آتا۔

بسا اوقات اس کے نجس ہونے پر عمار کی روایت صحیحہ سے استدلال کیا جاتا ہے:

سالت ابا عبد اللّه علیه السلام عن الرجل من اهل المعرفة بالحق، یأتینی بالبختج ویقول قد طبخ علی الثلث، و أنا أعرف أنّه یشربه علی النصف أفأشربه بقوله، وهو یشربه علی النصف؟ فقال: خمر لا تشربه ...”“میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے حق کی معرفت رکھنے والے ایک شخص کے بارے میں پوچھا کہ وہ مجھے انگور کا ابلا ہوا رس یہ کہہ کر دیتا ہے کہ اس کے دو تہائی حصے ختم ہو گئے ہیں؛ جبکہ میں جانتا ہوں کہ اگر اس کا نصف حصہ ختم ہو جائے تب بھی وہ پیتا ہے۔ کیا میں اس پر اعتماد کر کے اس پانی کو پی سکتا ہوں؟ فرمایا: شراب ہے، اسے نہ پینا۔”(۱۸۷)

فیض کاشانی(۱۸۸) کے بیان کے مطابق “بختج” وہی انگور کا ابلا ہوا رس ہے۔ جب اس رس کو مطلق طور پر شراب کہا جاتا ہےتو اس کا مطلب یہ ہے کہ شراب کے تمام آثار اس پر مرتب ہوتے ہیں انہی آثار میں سے ایک اس کا نجس ہونا ہے۔

ابتک بیان کی گئی باتیں انگور کے رس کو آگ پر ابالنے کے بارے میں تھیں ؛ لیکن اگر یہ رس خود بخود ابل پڑے تو اس وقت بھی کہاجاتا ہے کہ یہ شراب کے مصادیق میں شمار ہوگا اور شراب کا حکم اس پر جاری ہوگا۔

۵ ۔ کشمش کے رس کا حکم: کشمش کے رس کو نجس قرار دینے والا کوئی سبب موجود نہیں ہے؛لہذا اس کے پاک ہونے پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ اشکال صرف اس کے حرام ہونے میں ہے۔ حرام ہونے کو ثابت کرنے کے لئے ان روایات سے تمسک نہیں کیا جا سکتا جو انگور کے رس کو،ابلنے کی صورت میں، حرام قرار دیتی ہیں؛ کیونکہ یہ ایک واضح سی بات ہے کہ اس پر رس صادق نہیں آتا۔رس اس چیز کو کہا جاتا ہے جو کسی چیز سے نچوڑ کر حاصل کیا جائے جبکہ خشک ہونے کے باعث کشمش کا کوئی رس نہیں ہوتا ۔ جب ہم اسے کشمش کا رس کہتے ہیں تو یہ بطور حقیقت نہیں؛ بلکہ مجاز ہے۔

خشک ہونے سے پہلے انگور کے لئے حرام کا حکم ثابت تھا ۔ اس بات پر بنا رکھتے ہوئے حرام کا استصحاب کرنا صحیح نہیں ہے ؛ کیونکہ اس حکم کا موضوع بدل گیا ہے( جبکہ استصحاب جاری ہونے کے لئے موضوع کا ثابت رہنا ضروری ہے)۔حرام کا موضوع “عصیر” (رس) تھا جو کشمش پر صادق نہیں آتا۔

بنا بر ایں ،“قاعدۂ استصحاب ” یا “قاعدۂ حلیت” کے مطابق ، حلال ہونے کا حکم جاری کرنا مناسب ہے۔

۶ ۔ کھجور کے رس کا حکم: کھجور کے رس کو حرام قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں ہے سوائے “عصیر ” والی روایتوں کے۔ جبکہ کھجور کے رس پر “عصیر ” کا اطلاق نہ ہونا ایک واضح بات ہے۔

کافر:

مشہور فتویٰ یہ ہے کہ کتابی کفار (اہل کتاب) نجس ہیں اور غیر کتابی کفار بطریق اولیٰ نجس ہیں۔

دلائل:

۱ ۔ کتابی کفار کے نجس ہونے کی دلیل: یہ مشہور کا منتخب نظریہ ہے؛ جبکہ روایات باہم مختلف ہیں۔ ان کے پاک ہونے اور نجس ہونے ، یعنی دونوں حکموں پر بہت سی روایات دلالت کرتی ہیں۔

جو روایات ان کے نجس ہونے پر دلالت کرتی ہیں ان کا ایک نمونہ سعید الاعرج کی روایت صحیحہ ہے:

سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام عَنْ سُؤرالْيَهُودِيِّ وَ النَّصْرَانِيِّ، فَقَالَ: لَا .”“میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا: یہودی اور عیسائی کے جھوٹے سے ( استفادہ کیا جا سکتا ہے)؟ فرمایا: نہیں۔”(۱۸۹)

اور جو روایات ان کے پاک ہونے پر دلالت کرتی ہیں ان کا ایک نمونہ عیص بن قاسم کی روایت صحیحہ ہے:

سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام عَنْ مُؤَاكَلَةِ الْيَهُودِيِّ،وَالنَّصْرَانِيِّ،وَالْمَجُوسِيِّ، فَقَالَ: إِذَا كَانَ مِنْ طَعَامِكَ وَ تَوَضَّأَ فَلَا بَأْسَ .”“میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے یہودی ، عیسائی اور مجوسی کے ساتھ کھانا کھانے کے بارے میں سوال کیا تو آپ ؑ نے فرمایا: اگر کھانا تمہارا ہو اور وہ اپنے ہاتھوں کو دھو لے تو کوئی حرج نہیں۔”(۱۹۰)

بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ اہل کتاب، تثلیث کے قائل ہونے کی وجہ سے، مشرک ہیں ؛ لہذا ان روایات کو ترجیح ملے گی جو ان کے نجس ہونے پر دلالت کرتی ہیں ؛ کیونکہ یہ روایات،قرآن مجید کی آیت( إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نجَسٌ ...) “مشرکین تو بلاشبہ ناپاک ہیں”(۱۹۱) کے ساتھ مطابقت رکھتی ہیں۔

بہتر ہے یہ کہا جائے کہ نجس ہونے پر دلالت کرنے والی روایات ان کفار کے ذاتاً نجس ہونے پر دلالت نہیں کرتیں ؛ بلکہ کسی نجس چیز کے ساتھ متصل ہونے کی وجہ سے ان کی عارضی نجاست پر دلالت کرتی ہے ۔ گویا روایات یہ کہنا چاہتی ہیں کہ قاعدہ “اصالۂ طہارت” صرف مسلمان پر جاری ہوگا نہ کہ اہل کتاب پر؛ اسی لئے دوسری روایت کہہ رہی ہے کہ : اگر کھانا آپ کا ہو اور وہ کافر اپنے ہاتھوں کو دھولے تو اس کے ساتھ کھانا کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

اس قول کے اولیٰ اور بہتر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جب تک عرفاً دو روایتوں کو باہم جمع کرنے کی گنجائش ہو اس وقت تک ترجیح دینے والے اسباب (مرجحات) سے رجوع کرنے کی نوبت ہی نہیں آتی۔

علاوہ بر ایں یہ احتمال بھی ہے کہ شاید آیت مجیدہ میں نجس سے مراد معنوی نجاست ہو نہ کہ وہ نجاست جس میں ہم بحث کر رہے ہیں۔

۲ ۔غیر کتابی کافر کا نجس ہونا تقریبا متفق علیہ حکم ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات اس پر گزشتہ آیت مجیدہ کے ذریعے استدلال کیا جاتا ہے؛ لیکن اس کی دلالت کے سلسلے میں مذکورہ اشکال پیش آتاہے۔

ناصبی کا حکم: حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی عبد اللہ بن ابی یعفور کی موثق روایت کی وجہ سے ناصبی پر نجس ہونے کا حکم لگایا گیا ہے:

“...وَ إِيَّاكَ أَنْ تَغْتَسِلَ مِنْ غُسَالَةِ الْحَمَّامِ، فَفِيهَا تَجْتَمِعُ غُسَالَةُ الْيَهُودِيِّ،وَ النَّصْرَانِيِّ،وَ الْمَجُوسِيِّ، وَ النَّاصِبِ لَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ، وَ هُوَ شَرُّهُمْ، فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَ تَعَالَى لَمْ يَخْلُقْ خَلْقاً أَنْجَسَ مِنَ الْكَلْبِ، وَ إِنَّ النَّاصِبَ لَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ لَأَنْجَسُ مِنْهُ .”“غسل خانے کےاس باقیماندہ پانی سے غسل کرنے سے اجتناب کرو جس میں یہودی، عیسائی ، مجوسی اورہم اہل بیت کی برائی کرنے والے ناصبی کا، جوان سے بھی بدتر ہیں، دھووَن جمع ہو۔ بتحقیق اللہ تعالیٰ نے کتے سے بڑھ کر کوئی نجس مخلوق ، خلق نہیں کی ہے اورہم اہل بیت ؑ کی برائی کرنے والے ناصبی، کتے سے بھی زیادہ نجس ہیں۔”(۱۹۲)

یہ ساری باتیں فقہی اور اصولی استدلال کا تقاضا ہیں؛ لیکن مشہور فتویٰ کے راستے سے نہیں ہٹنا چاہئے۔

بقیہ نجاسات:

خشکی پر زندگی گزارنے والے کتے اور سور نجس ہیں۔

حرام طریقے سےجنب ہونے والے کا پسینہ، بعض فقہاء کے مطابق نجس ہے اور بعض کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ نماز پڑھنا حرام ہے۔

دلائل:

۱ ۔ خشکی پر زندگی گزارنے والے کتے اور سور کے نجس ہونے کی دلیل: یہ حکم فقہاء کے درمیان متفق علیہ ہےاور روایات کا ایک مجموعہ اس پر دلالت کرتا ہے۔

ناصبی کے بارے میں بیان کی جانے والی گزشتہ روایت صحیحہ کتے کو نجس قرار دیتی ہےاور سور کے نجس ہونے پر علی ابن جعفر کی مندرجہ ذیل روایت دلالت کرتی ہے:

“...وَ سَأَلْتُهُ عَنْ خِنْزِيرٍ يَشْرَبُ مِنْ إِنَاءٍ كَيْفَ يُصْنَعُ بِهِ؟ قَالَ: يُغْسَلُ سَبْعَ مَرَّاتٍ .”“۔۔۔ میں نے امام ؑ سے سوال کیا: جس برتن سے سور پانی پیتا ہے اس کا کیا کیا جائے؟ فرمایا: اس برتن کو سات مرتبہ دھویا جائے”(۱۹۳)

جو روایات ظاہرا ً مندرجہ بالا حکم کے معارض ہیں ان کی کسی اور طرح سے توجیہ کرنی ہوگی۔

۲ ۔ صرف خشکی پر رہنے والے کتے اورسور کے نجس ہونے کی دلیل: در اصل “کلب وخنزیر” (کتا اور سور) کے الفاظ خشکی پر رہنے والے کتے اور سور کی نسبت حقیقت رکھتے ہیں اور بحری کتے اور سور پر ان الفاظ کااطلاق مجازاً ہوتا ہے۔

۳ ۔ حرام طریقے سے جنب ہونےوالے کے پسینے کا حکم: بعض روایات اس پسینے کے نجس ہونے پر یا اس کے ساتھ نماز پڑھنا جائز نہ ہونے پر دلالت کرتی ہیں ؛ لیکن سب کے سب ضعیف روایتیں ہیں۔ مثلا علی ابن حکم نے ایک شخص کی وساطت سے حضرت امام رضا علیہ السلام سے روایت کی ہے:

لَا تَغْتَسِلْ مِنْ غُسَالَةِ مَاءِ الْحَمَّامِ، فَإِنَّهُ يُغْتَسَلُ فِيهِ مِنَ الزِّنَا، وَ يَغْتَسِلُ فِيهِ وَلَدُ الزِّنَا، وَ النَّاصِبُ لَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ، وَ هُوَ شَرُّهُمْ .”“غسل خانے کے اس باقیماندہ پانی سے غسل نہ کرو جس میں زانی، حرام زادہ اور ہم اہل بیت کی برائی کرنے والے ناصبی نے،جو ان سے بھی بدتر ہیں،غسل کیا ہو۔”(۱۹۴)

لیکن یہ روایت مرسل ہونے کی وجہ سے سند کے لحاظ سے ضعیف ہے اور پسینے کی بات نہ ہونے کی وجہ سے دلالت کے لحاظ سے ضعیف ہے؛ کیونکہ روایت کی توجہ صرف زانی کے بدن اور اس کی نجاست پر ہے (نہ کہ پسینے کی نجاست پر)۔


مطہرات

نجس ہونے والی چیزیں مندرجہ ذیل میں سے کسی ایک سبب کے ذریعے پاک ہو جاتی ہیں:

۱ ۔ پانی:

پانی ہر نجس ہونے والی چیز کو ،یہاں تک کہ نجس ہونے والے پانی کو بھی پاک کرتا ہے ؛ لیکن مضاف پانی جب تک مضاف کی حالت میں ہو ، پانی کے ذریعے پاک نہیں ہو سکتا۔

اگر کوئی برتن، کتےکے چاٹنے کی وجہ سے، نجس ہو جائے تو اس کو پاک کرنے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے مٹی مانجے پھر تین مرتبہ قلیل پانی سے دھوئے یا مٹی مانجنے کے بعد ایک مرتبہ کثیر پانی سے دھوئے۔

اگر ،سور کے پانی پینے یا چوہے کے مرنے کی وجہ سے، کوئی برتن نجس ہوجائے تو سات مرتبہ دھونے سے پاک ہوجاتا ہے خواہ قلیل پانی سے دھولے یا کثیر پانی سے۔

مندرجہ بالا موارد کے علاوہ ، تین مرتبہ قلیل پانی سے یا ایک مرتبہ کثیر پانی سے دھولیا جائے تو نجس برتن پاک ہوجاتا ہے مگر یہ کہ شراب کا برتن ہو۔ شراب کے برتن کو تین مرتبہ دھونے کی ضرورت ہوتی ہے خواہ کثیر پانی سے ہی کیوں نہ ہو۔

اگر بدن ، پیشاب کی وجہ سے، نجس ہو جائے تو قلیل پانی سے دو مرتبہ یا کثیر پانی سے ایک مرتبہ دھو لیا جائے تو پاک ہوگا۔

کپڑوں پر پیشاب لگنے کی صورت میں جاری پانی سے ایک مرتبہ یا غیر جاری پانی سے دو مرتبہ دھو لیا جائے تو کپڑے پاک ہوں گے۔

ان کے علاوہ باقی چیزیں اگر پیشاب کی وجہ سے نجس ہوجائیں تو مشہور فتویٰ کے مطابق قلیل پانی میں دو مرتبہ دھونے سے وہ پاک ہو جائیں گی۔

پیشاب کے علاوہ کسی اور نجاست کی وجہ سے نجس ہونے کی صورت میں ایک مرتبہ دھونا کافی ہے خواہ قلیل پانی سے ہو یا کثیر پانی سے۔

مشہور فتویٰ کے مطابق کسی نجس چیز پر بارش کا پانی لگ جائے تو وہ پاک ہوجائے گی ۔ اس پر بار بار بارش برسنا یا اسے نچوڑنا ضروری نہیں۔

دلائل:

۱ ۔ کلی طور پر پانی کاپاک کنندہ ہونا ان بدیہی امور میں سے ہے جن پر اہل شریعت کا ارتکاز ذہنی دلالت کرتا ہے اور یہ ارتکاز ذہنی،اہل شریعت کو معصوم ؑ سے دست بدست ورثے میں ملا ہے۔

اس کےساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے فرمان:( وَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً طَهُورًا ) “اور ہم نے آسمان سے پاکیزہ پانی برسایا ہے۔”(۱۹۵) سے بھی تمسک کیا جا سکتا ہے؛ بشرطیکہ “طَهُورًا ”سے مراد پاک کنندہ ہو۔

علاوہ بر ایں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی داؤد بن فرقد کی صحیح روایت سے بھی استدلال کیا جا سکتا ہے:

كَانَ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِذَا أَصَابَ أَحَدَهُمْ قَطْرَةُ بَوْلٍِ، قَرَضُوا لُحُومَهُمْ بِالْمَقَارِيضِ، وَ قَدْ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ بِأَوْسَعِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَ الْأَرْضِ،وَجَعَلَ لَكُمُ الْمَاءَ طَهُوراً فَانْظُرُوا كَيْفَ تَكُونُونَ .”“بنی اسرائیل میں سے کسی پر پیشاب لگتا تو وہ اپنے گوشت کو قینچی سے کاٹ لیتا تھا؛ جبکہ خدا نے تم لوگوں پر زمین و آسمان کی درمیانی وسعت جتنی آسانی کردی ہے اور تمہارے لئے پانی کو پاک کنندہ قرار دیا ہے ۔ پس دیکھو تم لوگ کس طرح عمل کرتے ہو۔”(۱۹۶)

نیز کپڑے اور بدن کو دھونے کا حکم دینے والی روایتوں سے بھی تمسک کیا جا سکتا ہے۔

۲ ۔ پانی کے، ہر چیز کا،پاک کنندہ ہونے کا حکم فقہاء کے درمیان متفق علیہ مسئلہ ہے مگر یہ کہ وہ نجس مضاف پانی ہو( تو اس صورت میں اختلاف ہے کہ مضاف پانی ، پاک ہوتا ہے یا نہیں)۔

اس حکم کو ثابت کرنے کے لئے ان روایات سے تمسک کیا جاسکتا ہے جو کپڑا اور بدن وغیرہ کے لئے پانی کو پاک کنندہ قرار دیتی ہیں ۔ البتہ اس وضاحت کے ساتھ کہ کپڑا اور بدن مذکورہ حکم کے ثبوت میں دخیل نہیں ؛ بلکہ ان کا ذکر بطور مثال کیا گیا ہے۔

یا عمار کی موثق روایت سے تمسک کیا جاسکتا ہے جو اس شخص کے بارے میں ہے جس نے ایک ایسے برتن سے وضو کیا تھا یا اس میں کپڑے دھوئے تھے کہ جس میں ایک چوہا گل چکا تھا۔(امام ؑ نے فرمایا:)“يَغْسِلَ كُلَّ مَا أَصَابَهُ ذَلِكَ الْمَاء ”“ان تمام چیزوں کو دھو لے جنہیں یہ پانی لگا ہے۔”(۱۹۷) اس روایت کے عموم کا تقاضا یہ ہے کہ پانی ہر نجس ہونے والی چیز کو پاک کرتا ہے۔

۳ ۔ نجس ہونے والے پانی کو بھی پانی ہی پاک کر سکتا ہے اس کی دلیل وہ عام علت ہے جوحضرت امام رضا علیہ السلام سے مروی ابن بزیع کی روایت صحیحہ میں بیان ہوئی ہے:

مَاءُ الْبِئْرِ وَاسِعٌ لَا يُفْسِدُهُ‏ شَيْ‏ءٌ إِلَّا أَنْ يَتَغَيَّرَ رِيحُهُ أَوْ طَعْمُهُ فَيُنْزَحُ حَتَّى يَذْهَبَ الرِّيحُ وَ يَطِيبَ طَعْمُهُ لِأَنَّ لَهُ مَادَّةً .”“ کنویں کا پانی وسیع ہے۔ جب تک اس کی بو یا ذائقہ تبدیل نہ ہو جائے کوئی چیز اسے نجس نہیں کر سکتی ( جب اس کی بو یا ذائقہ بدل جائے تو) اس سے اتنا پانی نکالا جائے کہ اس کی بدبو ختم ہو جائے اور اس کا ذائقہ بہتر ہو جائے؛ کیونکہ کنویں کا پانی منبع (سے متصل)ہوتا ہے۔”(۱۹۸)

پس جب نجس شدہ قلیل پانی، آب کر سے متصل ہوجائے تو اس کے پاک ہونے کے لئے یہی کافی ہے۔

۴ ۔ مضاف پانی کو پاک نہ کرسکنے کی دلیل: علامہ ؒ(۱۹۹) کے سوا کسی فقیہ کو اس حکم سے اختلاف نہیں ہے۔ پانی کے ہر چیز کا پاک کنندہ ہونے کی دلیلیں اس بات کو بیان کرنے سے قاصر ہیں کہ پانی ، مضاف کو بھی پاک کر سکتا ہے ؛ کیونکہ روایات میں ذکر شدہ چیزوں کے بارے میں یہ احتمال ہے کہ حکم کے ثبوت میں یہی چیزیں دخیل ہیں ؛ لہذا مذکور چیزوں کے علاوہ کسی دوسری چیز کی طرف حکم کا دائرہ پھیلانے کی کوئی وجہ نہیں بنتی۔ادھر ، عمار کی موثق روایت سے بھی تمسک نہیں کیا جا سکتا ؛ کیونکہ مضاف پانی پر دھونا صادق نہیں آتا؛( جبکہ روایت میں دھونے کا حکم ہوا ہے)۔

البتہ مضاف پانی پر اس قدر پانی کا اضافہ کیا جائے کہ وہ مضاف نہ کہلائے اور اس کا موضوع ہی ختم ہو جائے تو اس طرح سے پاک ہونا “قاعدۂ طہارت” کا تقاضا ہے۔

۵ ۔ کتے کے چاٹے ہوئے برتن کا مذکورہ حکم ، حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی بقباق کی روایت صحیحہ کی وجہ سے لگایا جاتا ہے کہ جب کتے کے بارے میں سوال کیا گیا تو امام ؑ نے فرمایا:

رِجْسٌ نِجْسٌ لَا يُتَوَضَّأْ بِفَضْلِهِ،وَاصْبُبْ ذَلِكَ الْمَاءَ وَ اغْسِلْهُ بِالتُّرَابِ أَوَّلَ مَرَّةٍ ثُمَّ بِالْمَاءِ مَرَّتین .” “نجس اور ناپاک ہے اس جھوٹے پانی سے وضو نہیں کیا جائے گا۔ اس پانی کو گرا کر پہلے برتن کو مٹی مانجے پھر دو مرتبہ پانی سے دھولے۔”(۲۰۰)

بشرطیکہ روایت میں، محقق ؒ کی نقل(۲۰۱) کے مطابق لفظ “مَرَّتین”موجود ہو۔

لیکن اگر یہ لفظ موجود نہ ہو تو روایت کے اطلاق کا تقاضا ، ایک مرتبہ دھونا کافی ہونا، ہے۔البتہ عمار کی موثق روایت، جو بعد میں ذکر ہوگی، بتا رہی ہے کہ نجس ہونے والے برتن کو ، خواہ کسی قسم کی نجاست کی وجہ سے نجس ہوا ہو، تین مرتبہ دھونا ضروری ہے اورہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ شاید کتے کے چاٹے ہوئے برتن کی نجاست دوسری نجاستوں سے کم تر ہو۔

اس بیان کے مطابق موثقہ روایت ، صحیحہ کے لئے مقید بنے گی اور درعین حال مٹی مانجنا ضروری ہونے کی جہت سے صحیحہ ، موثقہ کے لئے مقید بنے گی؛ یعنی دونوں روایتیں ،دو مختلف جہتوں سے ایک دوسرےکے لئے مقید بنتی ہے۔( صحیحہ میں جب “مَرَّتین” کا لفظ نہ ہو تو پانی سے دھونے کا حکم مطلق ہے لہذا موثقہ ،اس کو تین مرتبہ دھونے کے ساتھ مقید کرتی ہے اور موثقہ میں صرف دھونے کا ذکر ہے لہذا صحیحہ ، مٹی مانجنے کی قیدکا ذکر کر کے اس کو مقید کرتی ہے۔)

۶ ۔ مذکورہ برتن کو تین مرتبہ دھونے کا حکم قلیل پانی کے ساتھ مختص ہونے کی وجہ معمولی سی توجہ سے معلوم ہوجاتی ہے کہ موثقہ ، جو صحیحہ کے لئے مقید بن رہی ہے، میں متعدد بار دھونے کا حکم قلیل پانی کے ساتھ مختص ہے؛ لہذاقلیل کے علاوہ پانی کے لحاظ سے صحیحہ اپنے اطلاق پر باقی رہے گی بشرطیکہ لفظ “مَرَّتین”موجود نہ ہو۔

۷ ۔ سور کے پانی پینے والے برتن کو سات مرتبہ دھونا ضروری ہونے کی دلیل، علی ابن جعفر کی روایت ہے جو انہوں نے اپنے برادر بزرگوار حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے نقل کی ہے:

سَأَلْتُهُ عَنْ خِنْزِيرٍ شَرِبَ مِنْ إِنَاءٍ كَيْفَ يُصْنَعُ بِهِ؟ قَالَ: يُغْسَلُ سَبْعَ مَرَّاتٍ‏. ”“میں نے امام ؑ سے سوال کیا: ایک برتن سے سور نے پانی پیا ہے اسے کیسے پاک کیا جائے؟ فرمایا: اس برتن کو سات مرتبہ دھویا جائے گا۔”(۲۰۲)

اس روایت کے اطلاق میں کثیر پانی سے دھونے کی صورت بھی شامل ہے۔

۸ ۔ مذکورہ موارد کے علاوہ میں، برتنوں کو قلیل پانی سے تین مرتبہ دھونا ضروری ہونے پر عمار ساباطی کی موثق روایت ، جس کے بارے میں ہم نے اوپر گفتگو کی ، دلالت کررہی ہے ۔ روایت اس طرح ہے:

سُئِلَ عَنِ الْكُوزِ وَ الْإِنَاءِ يَكُونُ قَذِراً كَيْفَ يُغْسَلُ؟وَكَمْ مَرَّةً يُغْسَلُ؟ قَالَ: يُغْسَلُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، يُصَبُّ فِيهِ الْمَاءُ فَيُحَرَّكُ فِيهِِ، ثُمَّ يُفْرَغُ مِنْهُ،ثُمَّ يُصَبُّ فِيهِ مَاءٌ آخَرُ فَيُحَرَّكُ فِيهِ،ثُمَّ يُفْرَغُ ذَلِكَ الْمَاءُ، ثُمَّ يُصَبُّ فِيهِ مَاءٌ آخَرُ فَيُحَرَّكُ فِيهِ، ثُمَّ يُفْرَغُ مِنْهُ وَ قَدْ طَهُر ...”“امام ؑ سے سوال کیا گیا کہ کوزہ اور ظروف نجس ہو جائیں تو ان کو کیسے اور کتنی بار دھویا جاتا ہے؟ فرمایا: ان کو تین بار دھویا جاتا ہے۔ برتن میں پانی ڈال کر ہلایا جاتا ہے پھر اس پانی کو گرایا جاتا ہے۔ دوسری بار اس میں پانی ڈال کر ہلایا جاتا ہے پھر اس پانی کو بھی گرایا جاتا ہے۔ اس کے بعد تیسری بار اس میں پانی ڈال کر ہلایا جاتا ہے پھر اس پانی کو بھی گرایا جاتا ہے۔ (اس کے بعد ) وہ برتن پاک ہوگا۔ ”(۲۰۳)

۹ ۔ کثیر پانی سے ایک مرتبہ دھونا کافی ہونے کی وجہ یہ ہے کہ موثقہ روایت میں تین بار دھونے کے حکم کو آب قلیل سے دھونے کے ساتھ مقید کیا گیا ہے۔ چنانچہ جب یہ قید (آب قلیل سے دھونا)نہ ہو تودلیل کے اطلاق کے پیش نظر ایک بار دھو ناکافی ہوگا۔

۱۰ ۔ شراب کے برتنوں کو اس حکم سے مستثنیٰ قرار دینے کی وجہ عمار کی گزشتہ موثقہ روایت کا اطلاق ہے:

“...وَ قَالَ: فِي قَدَحٍ أَوْ إِنَاءٍ يُشْرَبُ فِيهِ الْخَمْرُ، قَالَ: تَغْسِلُهُ ثَلَاثَ مَرَّات .”“جن برتنوں اور گلاسوں سے شراب پی جاتی ہے، ان کے بارے میں امام ؑ نے فرمایا: ان کو تین مرتبہ دھو لے۔”(۲۰۴)

۱۱ ۔ پیشاب لگنے کی صورت میں بدن کو آب قلیل سے دومرتبہ یا آب کثیر سے ایک مرتبہ دھونا ضروری ہونے پر بعض روایات دلالت کرتی ہیں جن میں سے ایک حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ابو اسحاق نحوی کی روایت صحیحہ ہے:

سَأَلْتُهُ عَنِ الْبَوْلِ يُصِيبُ الْجَسَدَِ، قَالَ: صُبَّ عَلَيْهِ الْمَاءَ مَرَّتَيْنِ .”“میں نے بدن کو لگنے والے پیشاب کے بارے میں امام ؑ سے سوال کیا تو آپ ؑ نےفرمایا: بدن پر دو مرتبہ پانی ڈالا جائے گا۔”(۲۰۵)

اس وضاحت کے ساتھ کہ “پانی ڈالنے” کی تعبیر آب قلیل سے مختص ہے( لہذا آب قلیل سے دھونے کی صورت میں دو مرتبہ پانی ڈالا جائے گا)۔ باقی رہیں دو صورتیں ( ۱ ۔ آب کثیر سے دھونے کی صورت اور ۲ ۔پیشاب کے علاوہ کسی دوسری نجاست کی وجہ سے نجس ہونے والی صورت)؛ تو یہ دونوں صورتیں ، دلیل کے اطلاق میں شامل ہوں گی؛ لہذا ایک مرتبہ دھونا کافی شمار ہوگا۔

۱۲ ۔ پیشاب لگنے والے کپڑوں کو آب جاری میں ایک مرتبہ یا غیر جاری میں دومرتبہ دھونا ضروری ہونے پر محمد بن مسلم کی صحیح روایت دلالت کر رہی ہے:

سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام عَنِ الثَّوْبِ يُصِيبُهُ الْبَوْلُ، قَالَ: اغْسِلْهُ فِي الْمَرْكَنِ مَرَّتَيْنِ، فَإِنْ غَسَلْتَهُ فِي مَاءٍ جَارٍ فَمَرَّةً وَاحِدَةً .”“میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے پیشاب لگنے والے کپڑے کے بارے میں سوال کیاتو آپ ؑ نے فرمایا: طشت میں اس کو دو مرتبہ دھولے۔ اگر تو نے آب جاری میں اسے دھویا تو صرف ایک مرتبہ (دھونا کافی ہے)۔”(۲۰۶)

یہ روایت نجس کپڑے کو آب جاری سے ایک مرتبہ دھونا کافی ہونے اور غیر جاری سے دو بار دھونا ضروری ہونے پر دلالت کر رہی ہے۔ نیز یہ حکم پیشاب کی وجہ سے نجس ہونے کی صورت کے ساتھ مختص ہے ۔ باقی رہی پیشاب کے علاوہ کسی اور نجاست کی وجہ سے نجس ہونے والی صورت ، تو یہ صورت دلیل کے اطلاق میں شامل ہوگی ؛ لہذا ایک مرتبہ دھونا کافی شمار ہوگا۔

۱۳ ۔ مشہور کے مطابق کپڑا اور بدن کے علاوہ باقی چیزوں کو ، پیشاب سے نجس ہونے کی صورت میں،آب قلیل سے دو مرتبہ دھونا ضروری ہونے کی دلیل، نجاست کے حکم کو ثابت کرنے کے لئے کپڑا اور بدن کو دخیل نہ سمجھنا اورحکم کے دائرے میں ان دونوں کے علاوہ باقی چیزوں کو بھی شامل سمجھنا ہے۔

مگر اس دعویٰ کی ذمہ داری اس کے مدعی پر ہے۔(یعنی اس کی دلیل لانا ہمارے ذمے نہیں)۔

۱۴ ۔ پیشاب کے علاوہ کسی دوسری نجاست کی وجہ سے نجس ہونے کی صورت میں ایک مرتبہ دھونا کافی ہونے کی دلیل: چونکہ دلیل کے اطلاق کو مقید کرنے والی کوئی چیز نہیں ہے ؛ لہذا اطلاق کے تحت یہی حکم ثابت ہوتا ہے۔

۱۵ ۔ بارش کا پانی لگنے سے ، نچوڑے اور ایک سے زائد بار برسے بغیر نجس شدہ چیز کا پاک ہونا، فقہاء کے درمیان مشہور ہے اور اس بارے میں متقدمین میں سے کسی فقیہ کا اختلاف سامنے نہیں آیا ہے۔

اسی حکم پر کاہلی کی مرسلہ روایت دلالت کرتی ہے جو اس نے کسی شخص کی وساطت سے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سےنقل کی ہے:“...كُلُّ شَيْ‏ءٍ يَرَاهُ مَاءُ الْمَطَرِ فَقَدْ طَهُرَ .” ،“ ۔۔۔ ہروہ چیز جس تک بارش کا پانی پہنچے ، پاک ہو جائے گی۔”(۲۰۷)

بشرطیکہ اس قاعدے کو مان لیا جائے کہ شہرت فتوائی ضعف سند کو دور کرتی ہے۔

۲ ۔ زمین:

زمین ، پاؤں اور جوتوں کے تلوؤں سمیت متداول مقدار میں ان کی اطراف کو پاک کرتی ہے ۔ اس طرح پاک ہونے کے دو طریقے ہیں : ۱ ۔ زمین پر چلنا، یا ۲ ۔ پاؤں یا جوتوں کو زمین سے رگڑنا بشرطیکہ عین نجاست زائل ہو جائے۔

جب “چلنا ”صادق آئے اور جس چیز پر چلا ہے اس کے “زمین ” ہونے میں شک ہو تو پاک ہونے کا حکم نہیں لگایا جائے گا۔

دلائل:

۱ ۔ پاؤں اور جوتوں کے تلوؤں کو زمین ، پاک کر سکتی ہے ۔اس حکم میں شیخ طوسی ؒ کے علاوہ کسی اور کا اختلاف سامنے نہیں آیا ہےاور اسی حکم پر بعض روایات دلالت کر رہی ہیں جن میں سے ایک حلبی کی صحیح روایت ہے:

نَزَلْنَا فِي مَكَانٍ بَيْنَنَا وَ بَيْنَ الْمَسْجِدِ زُقَاقٌ قَذِرٌ، فَدَخَلْتُ عَلَى أَبِي عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام فَقَالَ: أَيْنَ نَزَلْتُمْ؟ فَقُلْتُ: نَزَلْنَا فِي دَارِ فُلَانٍ، فَقَالَ: إِنَّ بَيْنَكُمْ وَ بَيْنَ الْمَسْجِدِ زُقَاقاً قَذِراً أَوْ قُلْنَا لَهُ: إِنَّ بَيْنَنَا وَ بَيْنَ الْمَسْجِدِ زُقَاقاً قَذِراً، فَقَالَ: لَا بَأْسَ انّ الْأَرْضَ تُطَهِّرُ بَعْضُهَا بَعْضاً. ..”“ہم ایسی جگہ پہنچے کہ ہمارے اور مسجد کے درمیان ایک نجس گلی تھی، پھر میں حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام کی خدمت میں پہنچا تو آپ ؑ نے فرمایا:تم لوگ کہاں اترے؟ عرض کیا : فلاں کے گھر۔ فرمایا: تمہارے اور مسجد کے درمیان ایک نجس گلی ہے یا ہم نے امام ؑ سے عرض کیا: ہمارے اور مسجد کے درمیان ایک نجس گلی ہے۔ فرمایا: کوئی حرج نہیں ؛ کیونکہ زمین کا بعض حصہ ، دوسرے بعض حصے کو پاک کرتا ہے۔”(۲۰۸)

روایت میں مذکور علت “تُطَهِّرُ بَعْضُهَا بَعْضاً ”کے عموم کی وجہ سے حکم میں جوتا وغیرہ کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے؛ بلکہ روایت کے اطلاق سے ہی اس حکم کو اخذ کیا جا سکتا ہے ، علت کے عموم سے تمسک کرنے کی ضرورت نہیں ۔

البتہ اس علت کو “لَا بَأْسَ ” کے ساتھ ملایا جانا ضروری ہے تاکہ اس بات کی گنجائش نہ رہے کہ “لَا بَأْسَ ” مسجد کو نجس کرنے کی جہت سے کہا گیا ہے۔

۲ ۔ متداول مقدار میں پاؤں اور جوتوں کی اطراف کے بھی پاک ہونے کی دلیل: عموما راستہ چلتے ہوئے بہت کم مواقع کے علاوہ صرف تلوے ہی زمین پر نہیں لگتے ؛ بلکہ اطراف بھی لگتی ہیں ؛ لہذا روایت کے اطلاق کی وجہ سے یہ حکم لگایا جاتا ہے۔

۳ ۔ زمین سے مس ہونا کافی ہونے کی دلیل، گزشتہ روایت میں مذکور علت کا عموم ہے۔

۴ ۔ عین نجاست کا زائل ہونا ضروری ہونے کی دلیل: یہ ایک واضح بات ہے ؛ کیونکہ جب تک عین نجاست زائل نہ ہوجائے کوئی چیز پاک نہیں ہو سکتی۔ البتہ چلنے یا زمین کے ساتھ مس کرنے کے ذریعے عین نجاست کا زائل ہونا ضروری نہیں؛ بلکہ اگر کسی دوسری چیز مثلا کپڑے کے ذریعے نجاست کو برطرف کیا جائے پھر زمین پر چلے یا زمین کے ساتھ مس کرے تو کافی ہے۔کیونکہ اصل مقصد نجاست کو زائل کرنا ہے اس کے لئے جو بھی طریقہ اپنائے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا اورروایت کے مطابق ، علت میں بھی عمومیت پائی جاتی ہے۔

۵ ۔ جس چیز پر چلا ہے اس کے “زمین ” ہونے میں شک ہو تو پاک نہ ہونے کا حکم اس لئے لگایا جاتا ہے کہ پاک ہونے کی شرط، زمین پر چلنا یا زمین سے مس کرنا ہے اور شک کی صورت میں یہ شرط پوری نہیں ہوتی۔ نیزیہاں پر نجاست کے استصحاب کے باعث قاعدہ طہارت بھی جاری نہیں ہوگا۔

۳ ۔سورج:

سورج کے ذریعے زمین نیز درخت اور دروازے کی مانند تمام غیر منقول چیزیں پاک ہو جاتی ہیں بشرطیکہ یہ چیزیں دھوپ پڑنے کی وجہ سے سوکھ جائیں اگرچہ کچھ حد تک ہوا کی بھی مشارکت ہو۔

دلائل:

۱ ۔ سورج ، زمین کو پاک کر تا ہے یہ حکم فقہاء میں مشہور ہے۔ کہا گیا ہے کہ سورج ، زمین کو پاک نہیں کرتا؛ بلکہ صرف اس زمین پر سجدہ اور تیمم جائز ہونے کا موجب بنتا ہے۔مشہور حکم پر بعض روایت دلالت کرتی ہیں جن میں سے ایک زرارہ کی صحیح روایت ہے:

سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍعلیه السلام عَنِ الْبَوْلِ يَكُونُ عَلَى السَّطْحِ أَوْ فِي الْمَكَانِ الَّذِي يُصَلَّى فِيهِ، فَقَالَ:إِذَا جَفَّفَتْهُ الشَّمْسُ، فَصَلِّ عَلَيْهِ فَهُوَ طَاهِرٌ .”“میں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے نماز کی جگہ یا کسی چھت پر پائے جانے والے پیشاب کے بارے میں سوال کیا تو آپ ؑ نے فرمایا: اگر سورج اسے سکھا دے تو اس پر نماز پڑھ لے وہ پاک ہے۔”(۲۰۹)

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے زمانے میں لفظ “طہارت ” سے ، اصطلاحی معنی کے بجائے “صاف ہونا ” جیسے معانی ،مراد لینے کا احتمال دینا بعید ہے۔

۲ ۔ سورج ، غیر منقول چیزوں کو پاک کرتا ہے ۔ یہ حکم بھی فقہاء میں مشہور ہے اور اس پر گزشتہ صحیح روایت کا اطلاق دلالت کر رہا ہے ۔ روایت کے اطلاق میں زمین کے علاوہ اس پر بچھی ہوئی لکڑیاں اور تختے بھی شامل ہیں ۔ یہیں سے اس حکم کے دائرے میں وہ لکڑیاں بھی آجائیں گی جو زمین پر بچھی ہوئی نہ ہوں ؛ بلکہ دروازہ وغیرہ کی طرح دیوار میں گاڑ دی گئی ہوں بشرطیکہ ہم ان موارد کے درمیان کوئی فرق ہونے کے قائل نہ ہوں۔

۳ ۔پاک ہونے کے لئے دھوپ کے ذریعے ان چیزوں کے سوکھ جانے کی شرط روایت کے ظاہر سے معلوم ہوجاتی ہے۔

۴ ۔ دھوپ کے ساتھ ہوا کی بھی مشارکت ہو تو اس میں اشکال نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ سورج کو پاک کنندہ قرار دینے والی روایات مطلق ہیں؛ لہذا اس کا فیصلہ عرف کرے گا اور جب کسی چیز کو سکھانے میں دھوپ کے ساتھ ہوا کی بھی مشارکت ہو تو عرفاً اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

۴ ۔ استحالہ:

جب کوئی عین نجاست یا نجس شدہ چیز کسی دوسری چیز میں تبدیل ہو جائے مثلا نجس لکڑی جل کر راکھ بن جائے تو وہ پاک ہوجائے گی؛ لیکن اگر نجس مٹی کو پکا کر کوزہ بنایا جائے تو وہ مٹی پاک نہیں ہوگی۔

دلائل:

۱ ۔ لکڑی کے راکھ بننے سے پاک ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جس موضوع پر نجاست کاحکم لگایا گیا تھا وہ ختم ہوگیا ہے اور ایک نیا موضوع وجود میں آیا ہے جس کا پاک ہونا قاعدہ ٔ طہارت کے ذریعے ثابت کیا جا سکتا ہے۔

یہاں پر نجاست کا استصحاب نہیں کیا جا سکتا؛ کیونکہ عرفاً سابقہ موضوع ختم ہوچکا ہے۔(جبکہ استصحاب کر سکنے کے لئے موضوع کا نہ بدلنا شرط ہے)۔

۲ ۔ کوزہ بنائی جانے والی نجس مٹی کے پاک نہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ کوزہ بنانے کی صورت میں صفت کے بدلنے کے علاوہ مٹی میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی ہے اور کوزہ ہو یا مٹی، عرف میں دونوں کو ایک ہی موضوع شمار کیا جاتا ہے۔

۵ ۔ انقلاب:

اگر شراب منقلب ہو کر سرکہ بن جائے تو وہ پاک ہوگی۔ نیز شراب کی متابعت کرتے ہوئے اس کا برتن بھی پاک ہوگا۔

دلائل:

۱ ۔ منقلب ہوکر سرکہ بننے سے شراب کے پاک ہونے پر بعض روایات دلالت کرتی ہیں جن میں سے ایک حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی عبید بن زرارہ کی موثق روایت ہے:

الرَّجُلِ إِذَا بَاعَ عَصِيراً فَحَبَسَهُ السُّلْطَانُ حَتَّى صَارَ خَمْراًِ، فَجَعَلَهُ صَاحِبُهُ خَلًّا، فَقَالَ: إِذَا تَحَوَّلَ عَنِ اسْمِ الْخَمْرِ فَلَا بَأْسَِ .”“ایک شخص نے انگور کے رس کا سودا کیااور اس رس کے شراب بننے تک بادشاہ نے اسے محبوس رکھا۔ پھر صاحب مال نے اس کو سرکہ بنایا، امام ؑ نے فرمایا: جب وہ شراب سے (سرکے میں) بدل جائے تو کوئی اشکال نہیں ہے۔”(۲۱۰)

۲ ۔ شراب کی متابعت میں برتن کا پاک ہونا بھی گزشتہ موثق روایت کی وجہ سے ہے۔ البتہ روایت کے ساتھ اس کی دلالت التزامیہ کو بھی ملاتے ہوئے(یعنی مظروف کے پاک ہونے کا لازمہ ظرف کا پاک ہونا ہے)؛ کیونکہ ظرف ( برتن) کے اپنی نجاست پر باقی رہتے ہوئے مظروف (برتن میں موجود چیز) کے پاک اور حلال ہونے کا حکم نہیں لگایا جا سکتا۔

۶ ۔انتقال:

اگر کوئی نجس چیز کسی پاک حیوان کا جزو بدن بن جائے تو وہ پاک ہو جائے گی۔ مثلا انسان کا خون ، مچھر کا جزو بدن بن جائے تو وہ پاک ہوگا۔

دلائل:

اس حکم کی پہلی دلیل ان روایات کا اطلاق ہے جو منتقل ہونے والے اجزاء کے پاک ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ مثلا غیاث نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے اورانہوں نے اپنے پدر بزرگوار حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے ایک موثق روایت نقل کی ہے:

لَا بَأْسَ بِدَمِ الْبَرَاغِيثِ، وَ الْبَقِّ، وَ بَوْلِ الْخَشَاشِيفِ .”“جوں اور مچھر کے خون ،نیز چمگاڈر کے پیشاب میں کوئی اشکال نہیں۔”(۲۱۱)

دوسری دلیل اہل شریعت کی سیرت ہے۔

۷ ۔ اسلام:

اسلام ، کافر کے تمام اجزائے بدن کو یہاں تک کہ اس کے لباس کو بھی پاک کرتا ہے۔

دلائل:

۱ ۔ اسلام ، کافر کو پاک کرتا ہے ؛ کیونکہ اسلام لانے کے باعث نجاست کا موضوع ختم ہوجاتا ہے اور یہ شخص ان دلیلوں کے دائرے میں شامل ہوجاتا ہے جو مسلمان کے پاک ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔

۲ ۔ کافر کے تمام اجزائے بدن مثلا اس کا پسینہ اور لعاب دہن وغیرہ کے پاک ہونے کی پہلی دلیل یہ ہے کہ یہ اجزاء اس کے نجس بدن کی متابعت میں نجس تھے اور بدن کی نجاست اب ختم ہوگئی ہے۔

دوسری دلیل سیرت مسلمین اور تیسری دلیل یہ ہے کہ پیغمبر اکرم ﷺ نےاسلام لانے والے کسی کافر کو بدن کے دھونے کا حکم نہیں دیا؛ حالانکہ انسان کا بدن غالبا پسینہ اور لعاب دہن سے خالی نہیں ہوتا۔

۳ ۔ کافر کے لباس کے پاک ہونے کی پہلی دلیل سیرت مسلمین ہے اور دوسری دلیل پیغمبر اکرم ﷺ کا اس کے کپڑوں کے دھونے سے متعلق حکم نہ دینا ہے۔

لیکن قدر متیقن یہ ہے کہ کافر کا لباس اس وقت پاک شمار ہوگا جب اس پر کوئی نجاست مثلا خون وغیرہ نہ ہو۔

۸ ۔ تبعیت:

جب کوئی کافر مسلمان ہوجائے تو اس کی متابعت کرتے ہوئے اس کے کپڑے اور اولاد پاک ہوں گی۔

جب کوئی مسلمان کسی بچے کو اسیر کر لے تو اس کی متابعت کرتے ہوئے وہ بچہ پاک ہوگا؛ بشرطیکہ اس کے والدین میں سے کوئی ایک اس کے ہمراہ نہ ہو۔

شراب کے سرکہ بننے سے اس کا برتن بھی پاک ہوگا۔

انگور کے رس کے دوتہائی حصے ختم ہوجائیں تو اس کا برتن بھی پاک ہوگا ؛ بشرطیکہ ہم اس کے نجس ہونے کو مان لیں۔

جب میت کو مکمل غسل دیا جائے تو اس کی متابعت کرتے ہوئے غسال کے ہاتھوں سمیت وہ کپڑے بھی پاک ہوں گے جن میں اسے غسل دیا گیا ہے۔ نیز وہ جگہ بھی پاک ہوجائے گی جہاں میت کو غسل دیا گیا ہے۔

دلائل:

۱ ۔ کافر کے کپڑوں کے پاک ہونے کی دلیلیں(“اسلام” کے ذیل میں) گزر چکی ہیں۔

۲ ۔ ماں باپ میں سے کسی ایک کے مسلمان ہونے سے بچے کا پاک ہونا اس بات کے پیش نظر ہے کہ بچے کو نجس قرار دینے والی دلیل، اجماع ہے ۔ اجماع “دلیل لُبّی” (لفظی کے مقابلے میں)ہے جس میں قدر متیقن کو اخذ کرنا ضروری ہوتا ہے اورہماری بحث میں قدر متیقن یہ ہے کہ یہ بچہ اس وقت نجس ہے جب اس کے والدین میں سے کوئی ایک بھی مسلمان نہ ہو۔ پس جب ان میں سے کوئی ایک مسلمان ہوجائے تو دلیل (اجماع) اس بچے کو نجس قرار دینے سے قاصر ہے؛ لہذا قاعدہ طہارت جاری ہوگا۔

۳ ۔ مسلمان کی متابعت کرتے ہوئے اسیر بچے کے پاک ہونے کی دلیل وہی ہے جونمبر ۲ میں گزر چکی ہے۔

۴ ۔ تبعیت کے حکم کا غیر بالغ کے ساتھ مختص ہونے کی وجہ یہ ہے کہ بالغ ہو نے کی صورت میں وہ ( کسی کا تابع نہیں رہتا بلکہ)یہودی وغیرہ کا عنوان صادق آنے کی وجہ سے نجاست کے لئے ایک جداگانہ موضوع بن جاتا ہے ۔

۵ ۔ اس حکم کے ثابت ہونے کے لئے بچے کے ہمراہ اس کے والدین میں سے کسی ایک کا بھی نہ ہونا اس لئے شرط ہے کہ اگر والدین میں سے کوئی ایک اس کے ساتھ ہو تو اجماع کے باعث وہ بچہ نجاست میں اسی ایک کا تابع بن جائے گا۔

۶ ۔ شراب کے سرکہ بننے سے برتن کے پاک ہونے کی دلیل،“انقلاب” کے ذیل میں بیان کی گئی ہے۔

۷ ۔ انگور کے رس کے دوتہائی حصے ختم ہونے کی صورت میں اس کے برتن کے پاک ہونے کی وہی دلیلیں ہیں جو دو تہائی حصے ختم ہونے کی صورت میں انگور کے رس کو حلال قرار دیتی ہیں کہ جس کا لازمہ انگور کے رس کے ساتھ ساتھ اس کے برتن کا بھی پاک ہونا ہے؛ کیونکہ برتن کے نجس رہتے ہوئے صرف رس کے پاک ہونے کا حکم لگانا سراسر فضول ہے۔

۸ ۔ میت کے ساتھ غسال کے ہاتھ وغیرہ کے پاک ہونے کی دلیل، یا تو مسلمانوں کی یقینی سیرت ہے کہ یہ لوگ مردے کو غسل دینے کے بعد ہاتھ وغیرہ کو نہیں دھوتے۔ یا “اطلاق مقامی” ہے کہ ہاتھ وغیرہ کو دھونا واجب ہونے کے بارے میں نصوص کی خاموشی اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مذکورہ چیزیں ، میت کی متابعت کرتے ہوئے پاک ہوجاتی ہیں۔

۹ ۔ عین نجاست کا زائل ہونا:

اعضائے انسانی کے اندرونی حصے اور حیوانات کےبدن، عین نجاست کے زائل ہونے سے پاک ہوجاتے ہیں۔

دلائل:

۱ ۔ عین نجاست کے زائل ہونے سے اعضائے انسانی کے اندرونی حصوں کے پاک ہونے پر اہل شریعت کی یقینی سیرت قائم ہے۔ مثلا کسی کے کان کا اندرونی حصہ خون نکلنے سے نجس ہوجائے یا کسی کی ناک کا اندرونی حصہ یا دانتوں کا درمیانی حصہ نجس ہوجائے تو وہ ان اعضاء کے اندر پانی ڈال کر نہیں دھوتا۔

عمار کی موثق روایت کچھ یوں ہے :

سُئِلَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام عَنْ رَجُلٍ يَسِيلُ مِنْ أَنْفِهِ الدَّمُ هَلْ عَلَيْهِ أَنْ يَغْسِلَ بَاطِنَهُ يَعْنِي جَوْفَ الْأَنْفِ؟ فَقَالَ: إِنَّمَا عَلَيْهِ أَنْ يَغْسِلَ مَا ظَهَرَ مِنْهُ .”“حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ ایک آدمی کی ناک سے خون بہتا ہے ۔ کیا اس پر ناک کے اندرونی حصے کو دھونا ضروری ہے ؟ فرمایا: اس پر صرف ناک کے ظاہری حصے کو دھونا ضروری ہے۔”(۲۱۲)

بلکہ اندرونی اور باطنی حصوں کے نجس ہونے میں اشکال ہے۔

۲ ۔ عین نجاست کے زائل ہونے سے حیوانات کے بدن کا پاک ہونا بھی سیرت مسلمین سے ثابت ہوتاہے۔ مثلا عام طور پر مسلمان ، بلی اور مرغی وغیرہ سے اجتناب نہیں کرتے حالانکہ اس بات کا علم ہوتا ہے کہ بچہ دیتے وقت یا نر و مادہ کی نزدیکی کے دوران یا دوسرے حالات میں ان جانوروں کے منہ یا چونچ یا دوسرے اعضاء پر خون یا دوسری نجاستیں لگتی ہیں اورساتھ ساتھ کسی پاک کنندہ کے عارض ہونے کے بارے میں شک ہوتا ہے یا اس کے عارض نہ ہونے کا علم ہوتا ہے۔ ( اس کے باوجود اجتناب نہیں کرتے۔)

علاوہ بر ایں نجاست کے ساتھ متصل ہونے سے حیوانات کے بدن کے نجس ہونے میں اشکال ہے۔

نجاست سے اتصال کا علم ہونے کے باوجود، عین نجاست کے زائل ہونے سے، حیوانات کے بدن کے پاک ہونے پر بعض اوقات روایات کے ذریعے استدلال کیا جاتا ہے ۔ مثلا حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام سے مروی علی ابن جعفر کی روایت صحیحہ ہے:

عَنْ فَأْرَةٍ وَقَعَتْ فِي حُبِّ دُهْنٍ،وَأُخْرِجَتْ قَبْلَ أَنْ تَمُوتَ،أَ يَبِيعُهُ مِنْ مُسْلِمٍ؟ قَالَ: نَعَمْ،وَ يَدَّهِنُ مِنْهُ .”“امام ؑ سے سوال کیا گیا کہ تیل کے برتن میں چوہا گر جاتا ہے اور مرنے سے پہلے باہر نکل آتا ہے ۔ کیا وہ تیل کسی مسلمان کو بیچا جا سکتا ہے؟ فرمایا: ہاں ! اس سے مالش کی جا سکتی ہے۔”(۲۱۳)

اس وضاحت کے ساتھ کہ تیل کے پاک ہونے کا حکم لگانے سے معلوم ہوتا ہے کہ چوہے کا مخرج پیشاب پاک ہے۔

۱۰ ۔ مسلمان کا غائب ہونا:

جب کسی کا لباس یا اس کی متابعت کرنے والی دوسری چیزیں نجس ہو جائیں اور وہ ہماری نظروں سے غائب ہوجائے نیز ان کے پاک کرنے کا احتمال ہوتو ان چیزوں کو پاک سمجھا جائے گا؛ بشرطیکہ وہ نجاست کے معاملے میں لاپروائی نہ کرتا ہو اور اسی لباس کو ان افعال کے لئے استعمال بھی کرے جن میں طہارت شرط ہے۔

دلائل:

۱ ۔غائب ہونا پاک کنندہ ہونے پر اہل شریعت کی سیرت دلالت کرتی ہے اور یہ سیرت استصحاب کے عموم کے لئے مخصص بنتی ہے۔

۲ ۔ پاک کرنے کا احتمال ضروری ہونا ایک واضح حکم ہے ؛ کیونکہ جب پاک کرنے کا احتمال ہی نہ ہو تو نجاست کے باقی ہونے کا یقین یا اطمینان ہوگا۔

۳ ۔ آخری دو شرطوں کی دلیل: چونکہ سیرت دلیل لُبّی ( مقابل لفظی) ہے اور دلیل لُبّی میں قدر متیقن کو اخذ کرنا پڑتا ہے ۔ اور ہمارے مورد نظر مسئلے میں مذکورہ دو شرطیں قدر متیقن ہیں۔

اسی دلیل پر بنا رکھتے ہوئے بعض اوقات مزید دو شرطوں کا اضافہ کیا جاتا ہے :

الف) انسان کو مذکورہ شخص کے لباس کے نجس ہونے کا علم ہو اور

ب) یہ بھی معلوم ہو کہ ( اس لباس کے ساتھ انجام دیا جانے والا ) عمل ، طہارت کے ساتھ مشروط ہے۔

۱۱ ۔ نجاست خور حیوان کا استبراء:

نجاست خور حیوان کا پسینہ، دودھ،پیشاب اور گوبر اس کے استبراء کے ذریعے پاک ہوتا ہے۔

دلائل:

۱ ۔استبراء کے ذریعے پسینے کے پاک ہونے پر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہشام بن سالم کی صحیح روایت دلالت کرتی ہے:

لَا تَأْكُلِ اللُّحُومَ الْجَلَّالَةَ، وَ إِنْ أَصَابَكَ مِنْ عَرَقِهَا فَاغْسِلْهُ .”“نجاست خور حیوان کا گوشت نہ کھا اور اگر تجھے اس کا پسینہ لگ جائے تو دھو لے۔”(۲۱۴)

دھونے کا وجوب، نجاست خور کے عنوان سے جڑا ہوا ہے ۔ جب استبراء کے ذریعے نجاست خور کا عنوان برطرف ہو جائے تو دھونے کا وجوب بھی ختم ہوجاتا ہے۔

۲ ۔استبراء کے ذریعے دودھ کے پاک ہونے کی دلیل: حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے حفص بن بختری نے صحیح روایت نقل کی ہے:

لَا تَشْرَبْ مِنْ أَلْبَانِ الْإِبِلِ الْجَلَّالَة .”“نجاست خور اونٹنی کا دودھ نہ پیو۔”(۲۱۵)

اس روایت میں بھی دودھ نہ پینے کا حکم نجاست خور کے عنوان سے جڑا ہوا ہے۔ جب نجاست خور کا عنوان ختم ہو جائے تو نہ پینے کا حکم بھی ختم ہو جاتا ہے۔

۳ ۔ استبراء کے ذریعے پیشاب اور گوبر کے پاک ہونے کی دلیل: حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے عبد اللہ بن سنان نے صحیح روایت نقل کی ہے:

اغْسِلْ ثَوْبَكَ مِنْ أَبْوَالِ مَا لَا يُؤْكَلُ لَحْمُهُ .”“حرام گوشت حیوان کا پیشاب لگنے کی صورت میں تمہارے لباس کو دھو لو۔”(۲۱۶)

دھونے کا وجوب حرام گوشت کے عنوان سے مربوط ہے( اور نجاست خور حیوان کا گوشت کھانا حرام ہے)۔ جب استبراء کے ذریعے یہ عنوان ختم ہوجائے تودھونے کا حکم بھی ختم ہو جائے گا۔

مذکورہ روایت پر اس بات کا اضافہ کرنے سے کہ پیشاب اور گوبر میں کوئی فرق نہیں، گوبر کے بھی پاک ہونے کا حکم ثابت ہوجاتا ہے۔

۱۲ ۔ ذبیحہ کے بدن سے خون کا نکل جانا:

جب ذبح کئے گئے حیوان کے بدن سے معمول کے مطابق خون نکل جائے تو جسم میں باقی رہ جانے والا خون پاک ہوگا۔

دلیل:

اس حکم کی دلیل اہل شریعت کی سیرت ہے ۔ ذبح کئے گئے حیوان کے بدن میں باقی رہ جانے والے خون سے اجتناب نہ کرنے پر مسلمانوں کی سیرت قائم ہوئی ہے ؛ جبکہ ذبح کا مسئلہ انہیں عموما اور خاص طور پرپانی نہ ملنے والے صحراؤں میں پیش آتا رہتا ہے۔ یہ لوگ گوشت کو نہیں دھوتے اور نہ اس گوشت کے ساتھ مس ہونے والے کپڑوں اور بدن کو دھوتے ہیں۔

چنانچہ اگر اس خون کو نجس شمار کیا جائے تو گوشت کا کھانا حرام ہونا لازم آتا ہے ؛ کیونکہ عموما گوشت کے ساتھ اس طرح سے خون چپکا ہوتا ہے کہ آدمی بڑی کوشش کے باوجود بھی اسے الگ نہیں کر سکتا۔

____________________

۱ ۔تدافع: یعنی دھکیلنا؛ اس طرح کہ ایک پانی دوسرے پانی کو دھکیل دے ۔ مثلا اوپر سے گرنے والا پانی نیچے موجود پانی کو دھکیلتے ہوئے اسے اس کی جگہ سے ہٹا دے۔

۲ وسائل الشیعہ: ابواب نجاسات، باب ۳۷ ، حدیث ۴

۳ النساء: ۴۳؛ ترجمہ: محسن علی نجفی

۴ وسائل الشیعہ: ابواب احکام تخلی، باب ۳۰، حدیث ۲

۵ ۔ الحدائق الناضرۃ: ۱/۴۰۶

۶ ۔ ایضا: ۱/۳۹۹

۷ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب ماء المضاف، باب ۵، حدیث ۳

۸ ۔وسائل الشیعہ:ابواب ماء المطلق، باب ۹، حدیث ۲

۹ ۔ایضا: باب ۹، حدیث ۱

۱۰ ۔ایضا: باب ۹، حدیث ۷

۱۱ ۔روایت میں کہا گیا ہے کہ جب پانی کی مقدار “کر” کے برابر ہو تو کوئی چیز اسے نجس نہیں کرسکتی ۔ اس کا“ مفہوم” یہ ہے کہ اگر پانی کی مقدار “کر” کے برابر نہ ہو تو وہ نجس ہو جاتا ہے۔ اصطلاح میں اسے مفہوم مخالف کہا جاتا ہے۔

۱۲ ۔ الحدائق الناضرة: ۱/ ۲۸۱، ۳۰۱

۱۳ ۔ وسائل الشیعہ:ابواب ماء المطلق ، باب ۹، حدیث۷

۱۴ ۔وہ روایت اسماعیل بن جابر ہی کی ایک اور صحیح روایت ہے۔ “قلت لأبی عبد الله علیه السلام: المآء الذی لا ینجّسه شیء؟ قال : ذراعان عمقه فی ذراع و شبر سعته ۔” میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس پانی کے بارے میں سوال کیا جسے کوئی چیز نجس نہیں کر سکتی تو آپ ؑ نے فرمایا: اس کی گہرائی دو ہاتھ اور وسعت ایک بالشت ہوں۔ وسائل الشیعہ: ابواب ماء المطلق ، باب ۹، حدیث ۱

۱۵ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب ماء المطلق ، باب ۹، حدیث ۸

۱۶ ۔ایضا:ابواب ماء المطلق، باب۶، حدیث ۱

۱۷ ۔وسائل الشیعہ: ابواب ماء المطلق ، باب۶، حدیث ۵

۱۸ ۔ نور: ۳۰؛

۱۹ ۔وسائل الشیعہ: حمام کے آداب ، باب ۹، حدیث ۵

۲۰ ۔ایضا: حمام کے آداب ، باب ۳، حدیث ۱

۲۱ ۔انصراف: لفظ سے اس کے بعض مصادیق کا مراد لیا جانا ۔ اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں: ۱۔ ان بعض مصادیق کا کثرت سے پایا جانا؛ ۲۔ ان بعض مصادیق میں کثرت سے استعمال ہونا۔ اگر انصراف کا سبب اول الذکر وجہ ہو تو یہ انصراف حجت نہیں ہے ؛لیکن اگراس کا سبب موخر الذکر وجہ ہو تو ایسا انصراف حجت ہے۔

۲۲ ۔مؤمنون: ۵،۶

۲۳ ۔ مدارک الاحکام: ۱ / ۱۵۸

۲۴۔وسائل الشیعہ: بیت الخلاء کے احکام، باب ۲، حدیث ۵(مشرق اور مغرب کی طرف رخ کرنے کا یہ حکم اہل مدینہ وغیرہ کے لئے ہو سکتا ہے جن کا قبلہ جنوب کی طرف واقع ہے۔)

۲۵ ایضا: بیت الخلاء کے احکام، باب ۲، حدیث۲

۲۶ ۔ یعنی اس اجماع کے بارے میں یہ احتمال ہے کہ علماء انہی روایات کے مطابق متفق ہوگئے ہوں۔ اس طرح کا اجماع “اجماع مدرکی ” کہلاتا ہے اور حجت نہیں؛ کیونکہ ایسی صورت میں براہ راست روایات سے ہی رجوع کرنا چاہئے اور جب ہم روایات سے رجوع کرتے ہیں تو وہ سند کے لحاظ سے یا سند اور دلالت دونوں اعتبار سے ضعیف ہیں؛ لہذا حرام ہونے کا حکم نہیں لگایا جاسکتا۔

۲۷ ۔ وسائل الشیعہ: بیت الخلاء کے احکام، باب ۹، حدیث ۱

۲۸ ۔وسائل الشیعہ: بیت الخلاء کے احکام، باب۳۱، حدیث ۱

۲۹۔ایضا: بیت الخلاء کے احکام، باب۱۳، حدیث ۱

۳۰۔ ایضا: مضاف پانی، باب۱۳، حدیث ۱

۳۱ ۔ مائدہ:۶،ترجمہ: محسن علی نجفی

۳۲ ۔وسائل الشیعہ: ابواب وضو، باب۱۷، حدیث ۱

۳۳ ۔مَشیَخَة اورمَشِیخَة ، شیخ کی جمع ہے۔یہاں پر اس سے مرادکتاب“من لا یحضرہ الفقیہ”کا آخری باب ہے جس میں روایات کا سلسلۂ سند ذکر کیا گیا ہے۔

۳۴ ۔ ملاحظہ ہو: من لا یحضرہ الفقیہ: ج ۴ آخر کتاب

۳۵ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب وضو، باب۱۵، حدیث ۱

۳۶ ۔قاعدۂ اشتغال : یہ عمل اس وقت تک میرے ذمے ہے جبتک مجھے اس سے فارغ یا بریٔ الذمہ ہونے کا یقین حاصل نہ ہوجائے۔ ہمارے پیش نظر مسئلے میں جب ہم چہرے کو برعکس دھوئیں گے اور شک کریں گے کہ کیا وضو کی نسبت سے میری گردن چھٹ گئی ہے یا نہیں تو یہاں بھی یہ قاعدہ جاری ہوگا کہ نہیں ! اس وقت تک آپ بریٔ الذمہ نہیں ہوں گے جبتک آپ کو یقین حاصل نہ ہو جائے۔

۳۷ ۔ الانتصار: ۱۶ ؛ السرائر:۱۷

۳۸ ۔وسائل الشیعہ: ابواب وضو، باب۱۵، حدیث ۳

۳۹ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب وضو، باب۳۵، حدیث ۲

۴۰ ۔ ایضا: ابواب وضو، باب۲۲، حدیث ۲

۴۱ ۔امْسَحِ الرَّأْسَ عَلَى مُقَدَّمِهِ وَ مُؤَخَّرِهِ .وسائل الشیعہ: ابواب وضو، باب۲۲، حدیث ۶

۴۲ ۔ ایضا: ابواب وضو، باب۲۳، حدیث۴

۴۳ ۔ الفقہ علی المذاہب الاربعہ: ۱ /۵۸، ناشر دارالکتب العلمیہ

۴۴۔ ایضا: ۱ /۵۹

۴۵ ۔ یعنی “ارجل” کے لام کو بعض قراء نے “نصب” کے ساتھ اور بعض نے “جر” کے ساتھ پڑھا ہے۔

۴۶ ۔وسائل الشیعہ: ابواب وضو ، باب ۳۴، حدیث ۲

۴۷ ۔وسائل الشیعہ: ابواب وضو ، باب ۲۰، حدیث ۲

۴۸ ۔ ایضا: ابواب وضو ، باب ۲۱، حدیث ۲

۴۹ ۔کبھی اعضائے وضو کے پے در پے دھونے کو موالات کہا جاتا ہے اور کبھی ایک عضو کو دھوتے وقت اس سے پہلے والےاعضاء کے خشک نہ ہونے کو۔

۵۰ ۔وسائل الشیعہ: ابواب مقدمہ عبادات، باب ۱۱، حدیث ۱۱

۵۱ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب مقدمہ عبادات، باب ۱۱، حدیث ۱۶

۵۲ ۔ ایضا: مطلق پانی باب ۸، حدیث ۲

۵۳ ۔مائدہ :۶؛ ترجمہ: محسن علی نجفی

۵۴ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب وضو ، باب ۳۵، حدیث ۱

۵۵ ۔ملاحظہ ہو:وضو کا طریقہ ، دلائل ،نمبر ۶

۵۶ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب وضو ، باب ۳۳، حدیث ۳

۵۷ ۔ایضا: ابواب جنابت، باب ۲۶، حدیث ۵

۵۸ ۔وسائل الشیعہ: ابواب تیمم، باب ۲۵، حدیث ۲

۵۹ ۔وسائل الشیعہ: ابواب مبطلات وضو، باب ۲، حدیث ۲

۶۰ ۔ ایضا: ابواب استحاضہ، باب ۱، حدیث ۱

۶۱ ۔وسائل الشیعہ: ابواب استحاضہ، باب ۱، حدیث ۶

۶۲ ۔ النساء :۴۳، المائدة:۶

۶۳ ۔ ایضا: ابواب مبطلات وضو، باب ۹ حدیث ۴

۶۴ ۔ ایسا عرق ہے جو کمر کی رگوں سے نکلتا ہے۔

۶۵ ۔ وسائل الشیعہ: خلوت کے احکام، باب ۱۱، حدیث ۲

۶۶ ۔مائدہ: ۶

۶۷ ۔وسائل الشیعہ: ابواب وضو، باب ۱، حدیث ۱

۶۸ ۔ ایضا: واجب طواف کے ابواب، باب ۳۸، حدیث ۴

۶۹ ۔ استصحاب : یقین سابق اور شک لاحق کا نام ہے۔ اگر انسان کسی چیز کے نہ ہونے میں شک کرے حالانکہ اس سے پہلے اس کے ہونے کے بارے میں یقین تھا تو اس صورت میں پہلے والی حالت کے حکم پر عمل کرے گا۔ ہمارے فرض میں بھی پہلی حالت میں اگر طہارت کا یقین تھا تو اب طہارت کا حکم جاری کریں گے اور اگر حدث کا یقین تھا تو اب حدث کا حکم جاری کریں گے۔

۷۰ ۔قاعدۂ فراغ: کسی بھی مرکب عمل میں ( جیسے نماز کہ جس کے مختلف اجزاء ہیں) اس عمل کو بجالانے کے بعد اس کے صحیح ہونے میں شک ہوجائے تو صحیح ہونے پر بنا رکھنا ہے۔

۷۱ ۔وسائل الشیعہ: ابواب خلل در نماز، باب ۲۳، حدیث ۳

۷۲ ۔وسائل الشیعہ: ابواب جنابت، باب ۷، حدیث ۱

۷۳ ۔مائدہ: ۶؛ ترجمہ :محسن علی نجفی

۷۴ ۔سید مرتضیٰ ؒ کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ المعتبر: ا/ ۸۱؛ مدارک الاحکام: ۱/ ۲۷۲

۷۵ ۔وسائل الشیعہ: ابواب جنابت، باب ۶، حدیث ۱

۷۶ ۔ ایضا: ابواب نکاح محرم، باب ۱۷، حدیث ۱

۷۷ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب جنابت ، باب ۳۶، حدیث ۶

۷۸ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب جنابت، باب ۲۶، حدیث ۵

۷۹ ۔ ایضا: ابواب جنابت، باب ۲۶، حدیث ۲

۸۰ ۔مضمر: وہ روایت جس میں معصوم کے نام کے بجائے ضمیر کا استعمال کیا گیا ہو۔

۸۱ ۔وسائل الشیعہ: ابواب جنابت، باب ۲۹، حدیث ۳

۸۲ ۔ ایضا: ابواب جنابت، باب ۲۶، حدیث ۸

۸۳ ۔مائدہ: ۶؛ ترجمہ: محسن علی نجفی

۸۴ ۔یعنی: آیت مجیدہ میں طہارت سے مشروط عمل کے حوالے سے مکلف کی دو صورتیں متصور ہیں: ۱۔ مکلف وضو کے بغیر ہو یا ۲۔ غسل کے بغیر ۔ اگر وضو کے بغیر ہو تو نماز کے لئے وضو کرنا چاہئے اور اگر غسل کے بغیر ہو تو غسل کرنا چاہئے۔ دونوں کے فرائض کو الگ الگ ذکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے احکام الگ الگ ہیں اور جو شخص غسل کے بغیر ہو اس پر صرف غسل واجب ہے پس اگر غسل کے ساتھ وضو بھی واجب ہوتا تو حتما بیان کیا جاتا۔

۸۵ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب خلل در نماز، باب ۲۳، حدیث ۳

۸۶ ۔وسائل الشیعہ: ابواب وضو، باب ۱۲، حدیث ۱

۸۷ ۔ ایضا: خلوت کے احکام، باب ۱۷، حدیث ۵

۸۸ ۔ ایضا: ابواب جنابت، باب ۱۸، حدیث ۲

۸۹ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب جنابت، باب ۱۹، حدیث ۴

۹۰ ۔ ایسی مقدار جو یقینی طور پر حکم میں شامل ہو۔

۹۱ ۔وسائل الشیعہ: ابواب جنابت، باب ۱۹، حدیث ۴

۹۲ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب جنابت، باب ۱۵، حدیث ۱۷

۹۳ ۔ نساء: ۴۳؛ ترجمہ: محسن علی نجفی

۹۴ ۔وسائل الشیعہ: ابواب جنابت، باب ۱۶، حدیث ۱

۹۵ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب جنابت، باب۱۷، حدیث ۱

۹۶ ۔وسائل الشیعہ: ابواب حیض، باب ۳، حدیث ۲

۹۷ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب حیض، باب۱۰، حدیث ۱

۹۸ ۔وسائل الشیعہ: ابواب عدہ ، باب ۳، حدیث ۵

۹۹ ۔وسائل الشیعہ: ابواب حیض، باب ۳۱، حدیث ۱

۱۰۰ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب حیض، باب ۳۹، حدیث ۱

۱۰۱ ۔وسائل الشیعہ: ابواب حیض، باب ۳۹، حدیث ۳

۱۰۲ ۔وسائل الشیعہ: ابواب استحاضہ، باب۱، حدیث ۸

۱۰۳ ۔وسائل الشیعہ: ابواب حیض، باب ۴۱، حدیث ۲

۱۰۴ ۔بقرہ: ۲۲۲؛ ترجمہ: محسن علی نجفی

۱۰۵ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب حیض، باب ۲۷، حدیث ۲

۱۰۶ ۔“قُلْتُ لَهُ: الْمَرْأَةُ تَحْرُمُ عَلَيْهَا الصَّلَاةُ ثُمَّ تَطْهُرُ فَتَوَضَّأُ مِنْ غَيْرِ أَنْ تَغْتَسِلَ أَ فَلِزَوْجِهَا أَنْ يَأْتِيَهَا قَبْلَ أَنْ تَغْتَسِلَ؟قَالَ: لَا حَتَّى تَغْتَسِلَ .” “میں نے امام ؑ سے عرض کیا : جس عورت پر نماز حرام تھی پھر وہ غسل کئے بغیر وضو کرے تو کیا اس کے غسل کرنے سے پہلے اس کا شوہر اس کے ساتھ نزدیکی کرسکتا ہے؟ فرمایا: نہیں ! جب تک غسل نہ کرے۔” وسائل الشیعہ: ابواب حیض، باب ۲۷، حدیث ۷

۱۰۷ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب حیض، باب۲۳، حدیث ۱

۱۰۸ ۔وسائل الشیعہ: ابواب استحاضہ، باب ۱، حدیث ۱

۱۰۹ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب استحاضہ، باب ۱، حدیث۵

۱۱۰ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب استحاضہ، باب ۱، حدیث۸

۱۱۱ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب استحاضہ، باب ۱، حدیث۶

۱۱۲ ۔چونکہ یہاں پراصل تکلیف (وضو کے واجب ہونے) میں شک ہے ؛لہذا اصالۂ برائت جاری کریں گے جس کا تقاضا یہ ہے کہ وضو واجب نہیں ہے۔

۱۱۳ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب نفاس ، باب ۴، حدیث ۱

۱۱۴ ۔ الانتصار: ۳۵

۱۱۵ ۔کہ بعض روایات کہتی ہیں: نفساء اپنے حیض کے ایام کی مقدار تک نماز نہیں پڑھے گی جیسا کہ دلائل نمبر ۴ میں مذکور زرارہ کی صحیح روایت؛ اور بعض اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نفاس کی زیادہ سے زیادہ مدت ۱۸ دن ہے جیسے : زرارہ کی ایک دوسری روایت ۔ ملاحظہ ہو: وسائل الشیعہ، ابواب نفاس ، باب ۳ ، حدیث ۶

۱۱۶ ۔وسائل الشیعہ: ابواب نفاس، باب ۳، حدیث ۲

۱۱۷ ۔ایضا: ابواب نفاس، باب ۳، حدیث ۴

۱۱۸ ۔وسائل الشیعہ: ابواب مقدمات طلاق، باب ۹، حدیث ۱

۱۱۹ ۔ایضا: ابواب نفاس ، باب ۶، حدیث ۱

۱۲۰ ۔ ایضا: ابواب نفاس، باب ۳، حدیث ۱

۱۲۱ ۔وسائل الشیعہ: ابواب احتضار، باب ۳۵، حدیث ۶

۱۲۲ ۔وسائل الشیعہ: ابواب غسل میت، باب ۱، حدیث۱

۱۲۳ ۔ذریرہ: ہر خوشبو دار مادہ جسے پسا گیا ہو۔ کہاگیا ہے کہ یہ ایک خاص قسم کی خوشبو ہے جو ہندوستان یا نہاوند سے لائی جاتی ہے۔

۱۲۴ ۔وسائل الشیعہ: ابواب غسل میت، باب ۲، حدیث ۱

۱۲۵ ۔وسائل الشیعہ: ابواب غسل میت، باب ۲، حدیث ۲

۱۲۶ ۔وسائل الشیعہ: ابواب غسل میت، باب ۲۱، حدیث ۱

۱۲۷ ۔وسائل الشیعہ: ابواب غسل میت، باب ۲۴، حدیث ۳

۱۲۸ ۔وسائل الشیعہ: ابواب غسل میت، باب ۲۰، حدیث ۹

۱۲۹ ۔وسائل الشیعہ: ابواب غسل میت، باب ۲۳، حدیث ۱

۱۳۰ ۔وسائل الشیعہ: ابواب تکفین، باب ۱۶، حدیث ۶

۱۳۱ ۔مرسل: وہ روایت جس کے سلسلہ سند میں ایک یابعض راویوں کے نام موجود نہ ہوں۔

۱۳۲ ۔وسائل الشیعہ: ابواب تکفین، باب ۱۴، حدیث ۳

۱۳۳ ۔وسائل الشیعہ: ابواب تکفین، باب ۲، حدیث ۱

۱۳۴ ۔وسائل الشیعہ: ابواب صلاۃ الجنازۃ، باب ۳۷، حدیث ۲

۱۳۵ ۔فہرست : شیخ طوسی، ۸۶، ص۳۶۲

۱۳۶ ۔توبہ: ۸۴؛ ترجمہ : محسن علی نجفی

۱۳۷ ۔وسائل الشیعہ: ابواب غسل میت، باب ۱۴، حدیث۱؛ ابواب صلاۃ الجنازۃ، باب ۳۸، حدیث ۱، ۵

۱۳۸ ۔وسائل الشیعہ: ابواب صلاۃ الجنازۃ، باب ۱۳، حدیث۳

۱۳۹ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب صلاۃ الجنازۃ، باب ۵، حدیث۶

۱۴۰ ۔وسائل الشیعہ: ابواب صلاۃ الجنازۃ، باب ۷، حدیث ۱

۱۴۱ ۔بعض روایتوں میں بیان ہوتا ہے کہ “كَانَ رَسُولُ اللَّهِﷺإِذَا صَلَّى عَلَى مَيِّتٍ كَبَّرَ وَ تَشَهَّدَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَ صَلَّى عَلَى الْأَنْبِيَاءِ وَ دَعَا، ثُمَّ كَبَّرَ وَ دَعَا لِلْمُؤْمِنِينَ- وفی نسخة واستغفر للمؤمنین والمؤمنات-‏ثُمَّ كَبَّرَ الرَّابِعَةَ وَ دَعَا لِلْمَيِّتِ، ثُمَّ كَبَّرَ الْخَامِسَةَ وَ انْصَرَفَ ...”“پیغمبر اکرم ﷺ کسی میت پر نماز پڑھتے تھے تو تکبیر کہہ کر شہادتیں پڑھتے پھر تکبیر کہہ کر انبیاء پر صلوات بھیجتے اور دعا کرتے پھر تکبیر کہہ کر مومنین کے لئے دعا مانگتے ( ایک نسخے کے مطابق: مومنین و مومنات کے لئے استغفار کرتے) پھر چوتھی تکبیر کہہ کر میت کے لئے دعا مانگتے پھر پانچویں تکبیر کہہ کر پلٹ جاتے تھے۔۔۔” وسائل الشیعہ: ابواب صلاۃ الجنازۃ، باب ۲، حدیث ۱

۱۴۲ ۔مائدہ: ۶

۱۴۳ ۔وسائل الشیعہ: ابواب صلاۃ الجنازۃ، باب ۲۱، حدیث ۳

۱۴۴ ۔وسائل الشیعہ: ابواب غسل میت، باب ۵، حدیث ۲

۱۴۵ ۔وسائل الشیعہ: ابواب نجاسات، باب ۳۴، حدیث ۲

۱۴۶ ۔وسائل الشیعہ: ابواب غسل المس، باب ۱، حدیث ۱

۱۴۷ ۔وسائل الشیعہ: ابواب غسل المس، باب ۶، حدیث ۲

۱۴۸ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب تیمم، باب ۱۱، حدیث ۳

۱۴۹ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب تیمم، باب ۱۱، حدیث ۵

۱۵۰ ۔وسائل الشیعہ: ابواب تیمم، باب ۱۱، حدیث۱

۱۵۱ ۔وسائل الشیعہ: ابواب تیمم، باب ۱۱، حدیث ۸

۱۵۲ ۔وسائل الشیعہ: ابواب تیمم، باب ۱۲، حدیث ۳

۱۵۳ ۔جیسا کہ محقق ؒ نے سید مرتضیٰ ؒ سے نقل کیا ہے۔ المعتبر: ۱ /۳۷۲

۱۵۴ ۔مائدہ: ۶؛ ترجمہ : محسن علی نجفی

۱۵۵ ۔کہف: ۴۰

۱۵۶ ۔معالم الزلفی: باب ۲۳

۱۵۷ ۔ملاحظہ ہو: وسائل الشیعہ: ابواب تیمم، باب ۱۔ وغیرہ

۱۵۸ ۔مائدہ: ۶؛ ترجمہ : محسن علی نجفی

۱۵۹ ۔وسائل الشیعہ: ابواب تیمم، باب ۱، حدیث ۱

۱۶۰ ۔وسائل الشیعہ: ابواب تیمم، باب ۱، حدیث ۲

۱۶۱ ۔العدّۃ فی الاصول: ۱/ ۱۴۹

۱۶۲ ۔حج: ۷۸؛ ترجمہ:محسن علی نجفی

۱۶۳ ۔وسائل الشیعہ: ابواب تیمم، باب ۱، حدیث ۱

۱۶۴ ۔وسائل الشیعہ: ابواب وضو، باب ۳۹، حدیث ۲

۱۶۵ ۔وسائل الشیعہ: ابواب وضو، باب ۳۹، حدیث ۸

۱۶۶ ۔وسائل الشیعہ: ابواب نجاسات، باب ۱، حدیث۱

۱۶۷ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب نجاسات، باب۹، حدیث۱۲

۱۶۸ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب نجاسات، باب۳۵، حدیث۱

۱۶۹ ۔وسائل الشیعہ: ابواب نجاسات، باب ۱۰، حدیث ۱

۱۷۰ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب نجاسات، باب ۱۶، حدیث ۶

۱۷۱ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب نجاسات، باب ۱۶، حدیث ۲

۱۷۲ ۔ وسائل الشیعہ:ابواب لباس مصلی، باب ۲، حدیث ۱

۱۷۳ ۔ وسائل الشیعہ:ابواب نجاسات، باب ۳۵، حدیث ۲

۱۷۴ ۔وسائل الشیعہ، ابواب ما یکتسب بہ، باب ۶، حدیث۲

۱۷۵ ۔ وسائل الشیعہ، ابواب نجاسات، باب ۴۹، حدیث ۲

۱۷۶ ۔ وسائل الشیعہ، ابواب ذبائح، باب ۲۹، حدیث ۱

۱۷۷ ۔وسائل الشیعہ: ابواب اسئار، باب ۴، حدیث ۲

۱۷۸ ۔بقرہ: ۱۷۳، ترجمہ : محسن علی نجفی

۱۷۹ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب نجاسات، باب ۳۷، حدیث ۱

۱۸۰ ۔وسائل الشیعہ: ابواب نجاسات، باب ۳۹، حدیث ۲

۱۸۱ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب نجاسات،باب ۵۱، حدیث۱

۱۸۲ ۔وسائل الشیعہ: ابواب نجاسات، باب ۳۸، حدیث ۲

۱۸۳ ۔وسائل الشیعہ: ابواب اشربہ محرمہ، باب ۱۹، حدیث۱

۱۸۴ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب اشربہ محرمہ،باب ۲۴، حدیث ۲

۱۔ روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ لفظ “عصیر”(رس) انگور کے رس کے ساتھ مختص ہے۔جیسا کہ شیخ بحرانی نے (حدائق الناضرۃ: ۵/۱۲۵ ) اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی عبد الرحمن بن حجاج کی روایت صحیحہ میں یوں ذکر ہوا ہے: “قَالَ رَسُولُ اللَّهِﷺ‏ الْخَمْرُ مِنْ خَمْسَةٍ الْعَصِيرُ مِنَ الْكَرْمِ وَ النَّقِيعُ مِنَ الزَّبِيبِ وَ الْبِتْعُ مِنَ الْعَسَلِ وَ الْمِزْرُ مِنَ الشَّعِيرِ وَ النَّبِيذُ مِنَ التَّمْرِ .”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: شراب کی پانچ قسمیں ہیں: ۱۔انگور کی شراب “ عصیر” ،۲۔ کشمش کی شراب “نقیع” ، ۳۔شہد کی شراب “بتع” ،۴۔جو کی شراب “مزر” اور ۵۔ کھجور کی شراب “نبیذ” ہے۔( وسائل الشیعہ: ابواب اشربہ محرمہ، باب ۱، حدیث ۱

۱۸۵ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب اشربہ محرمہ، باب۲، حدیث ۱

۱۸۶ ۔التہذیب: ۹/ ۱۲۲، ص ۵۲۶

۱۸۷ ۔الوافی: ۲۰/ ۶۵۴

۱۸۸ ۔وسائل الشیعہ: ابواب نجاسات، باب ۱۴، حدیث۸

۱۸۹ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب نجاسات، باب۵۴، حدیث ۱

۱۹۰ ۔توبہ : ۲۸، ترجمہ : محسن علی نجفی

۱۹۱ ۔وسائل الشیعہ: ابواب ماء المضاف، باب ۱۱، حدیث۵

۱۹۲ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب نجاسات، باب۱۳، حدیث ۱

۱۹۳ ۔وسائل الشیعہ: ابواب ماء المضاف، باب۱۱، حدیث۳

۱۹۴ ۔فرقان:۴۸؛ ترجمہ : محسن علی نجفی

۱۹۵ ۔وسائل الشیعہ: ابواب ماء المطلق، باب ۱، حدیث ۴

۱۹۶ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب ماء المطلق، باب۴، حدیث ۱

۱۹۷ ۔وسائل الشیعہ: ابواب ماء المطلق، باب ۳، حدیث ۱۲

۱۹۸ ۔تذکرۃ الفقہاء: ۱/۳۳؛ جامع المقاصد: ۱/ ۱۲۵

۱۹۹ ۔وسائل الشیعہ: ابواب نجاسات، باب ۱۲، حدیث ۲

۲۰۰ ۔المعتبر فی شرح المختصر: ۱/۴۵۸

۲۰۱ ۔وسائل الشیعہ: ابواب الاسئار، باب ۱، حدیث ۲

۲۰۳ ۔وسائل الشیعہ: ابواب نجاسات، باب ۵۳، حدیث ۱

۲۰۴ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب نجاسات، باب۵۱، حدیث ۱

۲۰۵ ۔وسائل الشیعہ: ابواب نجاسات، باب۱، حدیث ۳

۲۰۶ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب نجاسات، باب۲، حدیث۱

۲۰۷ ۔وسائل الشیعہ:ابواب الماء المطلق ،باب۶، حدیث ۵

۲۰۸ ۔وسائل الشیعہ: ابواب نجاسات، باب ۳۲، حدیث ۴

۲۰۹ ۔وسائل الشیعہ: ابواب نجاسات، باب ۲۹، حدیث ۱

۲۱۰ ۔وسائل الشیعہ: ابواب اشربۃ المحرمہ، باب ۳۱، حدیث ۵

۲۱۱ ۔وسائل الشیعہ: ابواب نجاسات، باب ۲۳، حدیث۵

۲۱۲ ۔وسائل الشیعہ: ابواب نجاسات ، باب ۲۴، حدیث ۵

۲۱۳ ۔وسائل الشیعہ: ابواب الاسئار، باب ۹، حدیث ۱

۲۱۴ ۔وسائل الشیعہ: ابواب نجاسات، باب ۱۵، حدیث ۱

۲۱۵ ۔وسائل الشیعہ: ابواب نجاسات، باب ۱۵، حدیث ۲

۲۱۶ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب نجاسات، باب۸، حدیث ۲


مصادر و مآخذ

۱ ۔قرآن مجید

۲ ۔الایروانی، الشیخ باقر بن محمد تقی ، دروس تمہیدیۃ فی القواعد الرجالیۃ، انتشارات مدین، قم ، ط ۲ ، ۲۰۰۷ م۔

۳ ۔ البحرانی، الشیخ یوسف بن احمد بن ابراہیم الدرازی (ت ۱۱۸۶ ھ) الحدائق الناضرۃ فی فقہ العترۃ الطاہرۃ، تحقیق: الشیخ محمد تقی الایروانی، النجف الاشرف، دار الکتب الاسلامیہ، ۱۳۷۷ ھ۔

۴ ۔البحرانی، السید ہاشم بن السید سلیمان التوبلی البحرانی (ت ۱۱۰۷ ھ) معالم الزلفی، طہران، ط۔ق ۳ ، ۱۲۸۹ ھ۔

۵ ۔الجزایری، عبد الرحمن، الفقہ علی المذاہب الاربعۃ، تحقیق: لجنۃ تحت اشراف وزارۃ الاوقاف بمصر، دار احیاء التراث العربی، بیروت، ۱۴۰۶ ھ۔

۶ ۔الحلی، المحقق الشیخ نجم الدین ابو القاسم، جعفر بن الحسن بن یحیی بن سعید الھذلی(ت ۶۷۶ ھ) المعتبر فی شرح المختصر، ط منشورات سید الشہداء، قم، (بلا۔ ت)

۷ ۔ الصدوق، ابو جعفر ، محمد بن علی بن بابویہ القمی، المعروف بالشیخ الصدوق(ت ۳۸۱ ھ) من لایحضرہ الفقیہ، تحقیق: علی اکبر غفاری، قم ، مؤسسۃ النشر الاسلامی۔

۸ ۔ الطوسی، الشیخ محمد بن الحسن ( ۴۶۰ ھ) تہذیب الاحکام فی شرح المقنعۃ، دار صعب و دار التعارف، بیروت، ۱۴۰۱ ھ

۹ ۔الطوسی، الشیخ محمد بن الحسن ( ۴۶۰ ھ) فہرست کتب الشیعہ و اصولہم، تحقیق و تقدیم : السید عبد العزیز الطباطبائی، ط۔ مؤسسۃ آل البیت لاحیاء التراث ۔ قم، ط ۱ ، ۱۴۲۰ ھ۔

۱۰ ۔العاملی، الشیخ محمد بن الحسن بن علی، الشہیر بالحر العاملی (ت ۱۱۰۴ ھ) تفصیل وسائل الشیعۃ الی احکام الشریعۃ ، ط المکتبۃ الاسلامیہ ، طہران، ۱۳۴۷ ھ۔

۱۱ ۔العاملی، السید محمد بن علی الموسوی( ۱۰۰۹ ھ) مدارک الاحکام فی شرح شرائع الاسلام، تحقیق: مؤسسۃ آل البیت، مشہد، ۱۴۱۰ ھ۔

۱۲ ۔العلامۃ الحلی، جمال الدین الحسن بن یوسف بن علی بن المطہر(ت ۷۲۶ ھ) ، تذکرۃ الفقہاء، منشورات المکتبۃ المرتضویہ لاحیاء الآثار الجعفریہ، ۱۳۸۸ ھ

۱۳ ۔الفیض الکاشانی، محمد محسن بن مرتضی ( ت ۱۳۳۸ ھ) ، الوافی، تحقیق : ضیاء الدین الحسینی الاصفہانی، مکتبۃ الامام امیر المؤمنین ؑ، اصفہان، ط ۱ ، ۱۴۰۶ ھ۔

۱۴ ۔ الکرکی، الشیخ عبد العالی بن الحسین، المعروف بالمحقق الکرکی (ت ۹۴۰ ھ) جامع المقاصد فی شرح القواعد، مؤسسۃ آل البیت لاحیاء التراث، ط ۱ ، ۱۴۰۸ ھ۔

۱۵ ۔النجفی ، الشیخ محمد حسن ( ۱۲۶۶ ھ) ، جواہر الکلام فی شرح شرائع الاسلام، دار الکتب الاسلامیہ ، طہران، ط ۳ ، ۱۳۶۲ ھ۔

۱۶ ۔ النجفی ، الشیخ محسن علی، بلاغ القرآن( اردو ) ، جامعہ اہل بیت اسلام آباد پاکستان


فہرست

انتساب! ۴

مقدمہ ۵

کتاب کا تعارف: ۵

مؤلف کا تعارف: ۵

ضرورت ترجمہ: ۵

کتاب کے مشتملات: ۶

پانی کے احکام ۷

پانی کی اقسام: ۷

مضاف پانی اور اس کے احکام: ۷

دلائل: ۷

مطلق پانی اور اس کے احکام: ۹

دلائل: ۹

بارش کا پانی: ۱۲

دلائل: ۱۲

رفع حاجت کے احکام ۱۴

شرمگاہ کو چھپانا: ۱۴

دلائل: ۱۴

رفع حاجت کے بعض احکام: ۱۵

دلائل: ۱۵

وضوکے احکام ۱۹


وضو کا طریقہ: ۱۹

دلائل: ۱۹

وضو کی شرائط: ۲۴

دلائل: ۲۴

مبطلات وضو: ۲۸

دلائل: ۲۸

اسباب وضو: ۳۰

دلائل: ۳۱

وضو کے خصوصی احکام: ۳۱

دلائل: ۳۲

غسل کے احکام ۳۴

غسل کے اسباب: ۳۴

غسل جنابت اور اس کے اسباب: ۳۴

دلائل: ۳۴

ب:بعض روایات۔مثلا: ۳۵

غسل جنابت اور اس کے بعض احکام: ۳۶

الف)ارتماسی : ۳۶

ب) ترتیبی: ۳۶

دلائل: ۳۷

مجنب پر حرام ہونے والی چیزیں: ۳۹

دلائل: ۴۰


حیض کے احکام ۴۴

حیض کی تعریف اور اس کے کچھ مختص احکام: ۴۴

دلائل : ۴۴

عمار کی موثق روایت: ۴۶

استحاضہ کے احکام ۴۸

استحاضہ کی تعریف اور اس کے کچھ احکام: ۴۸

استحاضہ کی اقسام: ۴۹

دلائل: ۴۹

۲ ۔زرارہ کی روایت صحیحہ: ۵۰

نفاس کے احکام ۵۲

نفاس کی تعریف اور اس کے کچھ مخصوص احکام: ۵۲

دلائل: ۵۲

موت اور مس میت کے احکام ۵۵

دلائل: ۵۶

غسل میت کے احکام: ۵۶

حنوط کے احکام: ۵۸

کفن کے احکام: ۵۹

نماز میت کے احکام: ۶۰

دفن کے احکام: ۶۲

مس میت کے احکام: ۶۳

تیمم کے احکام: ۶۵


تیمم کا طریقہ: ۶۵

دلائل: ۶۵

آیت مجیدہ: ۶۷

حدیث شریف: ۶۷

تیمم کے اسباب: ۶۸

دلائل: ۶۸

جبیرہ کے احکام ۷۱

وضو اور غسل جبیرہ: ۷۱

دلائل: ۷۱

نجاسات کے احکام ۷۳

پیشاب اور پاخانہ: ۷۳

دلائل: ۷۳

منی اور مردار: ۷۴

دلائل: ۷۴

خون: ۷۷

دلائل: ۷۷

انگور، کھجور اور جو کی شراب: ۷۹

دلائل: ۷۹

کافر: ۸۲

دلائل: ۸۲

بقیہ نجاسات: ۸۴


دلائل: ۸۴

مطہرات ۸۶

۱ ۔ پانی: ۸۶

دلائل: ۸۶

۲ ۔ زمین: ۹۱

دلائل: ۹۱

۳ ۔سورج: ۹۲

دلائل: ۹۲

۴ ۔ استحالہ: ۹۳

دلائل: ۹۳

۵ ۔ انقلاب: ۹۴

دلائل: ۹۴

۶ ۔انتقال: ۹۴

دلائل: ۹۵

۷ ۔ اسلام: ۹۵

دلائل: ۹۵

۸ ۔ تبعیت: ۹۵

دلائل: ۹۶

۹ ۔ عین نجاست کا زائل ہونا: ۹۷

دلائل: ۹۷

۱۰ ۔ مسلمان کا غائب ہونا: ۹۸


دلائل: ۹۸

۱۱ ۔ نجاست خور حیوان کا استبراء: ۹۹

دلائل: ۹۹

۱۲ ۔ ذبیحہ کے بدن سے خون کا نکل جانا: ۱۰۰

دلیل: ۱۰۰

مصادر و مآخذ ۱۱۴