یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
نام کتاب : زاد راہ (دوسری جلد)
تالیف : آیت اللہ محمد تقی مصباح یزدی
ترجمہ : سید قلبی حسین رضوی
تصحیح : فیروز حیدر فیضی
نظر ثانی: مرغوب عالم عسکری
پیشکش: معاونت فرہنگی، ادارۂ ترجمہ
ناشر: مجمع جہانی اہل بیت
طبع اول : ١٤٢٨ھ ۔ ٢٠٠٧ئ
تعداد : ٣٠٠٠
مطبع : اعتماد
عرض ناشر
یقیناً اہل بیت علیہم السلام کی وہ میراث، جسے ان کے مکتب نے ذخیرہ کیا اور اس کے ماننے والوں نے برباد ہونے سے بچایا اسے ایک ایسے مکتب سے تعبیر کیا جاتا ہے جو اسلامی معارف کے تمام اصول و فروع کو حاوی ہے ، لہٰذا اس مکتب کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ ایسے با استعداد افراد کی تربیت کرے جو اس کے صاف و شفاف چشمہ سے کچھ گھونٹ نوش کرسکیں ،اور امت اسلامیہ کو فیض پہنچانے کیلئے ایسے اکابرعلماء کو پیش کر ے جو اہل بیت علہیم السلام کے نقش قدم پر گامزن رہتے ہوئے تمام اعتراضات نیزمختلف مذاہب کے مسائل اور اسلام کے داخلی اور خارجی گونا گوں مکاتب خیال کابہتر سے بہترجواب دیتے ہوئے ، صدیوں کے اعتراضات کا حل پیش کریں ، چنانچہ اسی مقصد کی تکمیل کے لئے اہل بیت علیہم السلام اور ان کے ہدایت بخش مکتب کی تاسی میں مجمع جہانی اہل البیت نے بھی اپنی ذمہ داری محسوس کی اور حریم رسالت ، نیز ان کے ایسے حقوق کے دفاع کرنے کیلئے پیش قدمی کی جن پرارباب فرق و مذاہب نیزاسلام دشمن عناصر اعتراضات کی بوچھاڑ کررہے ہیں، یہ سچ ہے کہ مکتب اہل بیت ہمیشہ ہونے والے اعتراض کا جواب دیتا اور اس کی رد کرتا آرہا ہے ، اس کے علاوہ یہ بھی کوشش کرتا ہے کہ دشمن کے سامنے اپنے استقلال اور ثبات قدمی کا مظاہرہ کرے اور ہر دور میں اپنی مراد کو پہنچے ۔
بیشک علمائے اہل بیت علیہم السلام کی کتابوںمیں موجود تجربے اپنی نوعیت میں بے نظیر اور انوکھے ہیں کیونکہ یہ ایک ایسے علمی ذخیرہ ہیں، جن کی تائید عقل و برہان کرتی ہے،دوسری خصوصیت یہ ہے کہ نفسانی خواہشات سے دور رہ کر مذموم تعصب سے اجتناب کرتے ہوئے اپنے فن میں متبحر اور ماہرعلماء ، مفکرین اور دانشور وں کو ایسے جالب انداز اور جاذب خطاب میں فکر و نظر کی دعوت دیتا ہے ، جسے عقل تسلیم اورفطرت سلیم قبول کرتی ہے ، مجمع جہانی اہل البیت علیہم السلام کی بھی یہی کوشش ہے کہ حقیقت کے طالب افراد کے لئے انھیں تالیفات اور بحثوں سے حاصل شدہ بے نیاز تجربوں کے ذریعہ ایک نئے مرحلے کا آغاز کرے ، اور گزشتہ اکابر علمائے شیعہ کی تالیفات ،تصنیفات اور تحقیقات کو شائع کرنے کے ساتھ ساتھ اس مکتب سے وابستہ دیگر افراد اور مستبصرین کی تالیفات ، تحقیقات، نیز ان کے دیگر آثار کی بھی نشر و اشاعت کرے تاکہ حق کے متلاشی افراد کیلئے یہ تالیفات اور کتابیں ایک شیریں اور خوشگوار چشمہ کے مانند بن جائیں،اور مکتب اہلبیت نے جن حقائق کو بیان کیا ہے ان کا فتح باب ہوسکے،وہ بھی ایک ایسے دور میں جبکہ عقلیں کامل ہورہی ہوں اور انسان کا ایک دوسرے سے رابطہ بڑی تیزی اور آسانی سے ہوجاتا ہو ۔
محترم قارئین سے امید ہے کہ وہ ہمیں اپنے قیمتی خیالات اور گرانقدر مشوروں سے نوازتے ہوئے تعمیری نظریات اور تنقید کا اظہار کریں گے ۔
جس طرح ہم ان تمام اہمیت کی حامل مراکز ، علماء ، مؤلفین اور مترجمین سے اسلام محمدی کی اصل تہذیب اور بنیادی ثقافت کے تحفظ کی درخواست کرتے ہیں ،اسی طرح خداوند عالم کی بارگاہ میں التجاء کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اس قلیل عمل کو قبول کرتے ہوئے اپنی خاص عنایت کے زیر سایہ اپنے خلیفہ حضرت مہدی (عجل اﷲ تعالی فرجہ الشریف ) کی رعایت کرنے کی روز افزوں توفیق سے نوازے ۔
ہم اس کتاب کے مؤلف جناب آیة اللہ محمد تقی مصباح یزدی اور اس کے مترجم جناب سید قلبی حسین رضوی نیز اپنے ان تمام ساتھیوں کے شکر گزار ہیں ،جنھوں نے اس اثر کی تکمیل میں حصہ لیا ، بالخصوص ان حضرات کے بھی مشکورہیںجو ادارہ ٔ ترجمہ میں اپنے فرائض کی ادائیگی میں ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں ۔
ثقافتی ادارہ ،مجمع جہانی اہل البیت علیہم السلام
اکیسواں درس
تفکر کی اہمیت اور غفلت سے بچنے کے عوامل کے تحفظ کی ضرورت
*پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تین نصیحتیں:
الف: تشییع جنازہ کے وقت آہستہ گفتگو کرنا
ب:جنگ کے دوران آہستہ گفتگو کرنا
ج:قرآن مجید کی قرائت کے دوران آہستہ گفتگو کرنا
* بیدار کرنے والے عوامل سے بے توجہی کا انجام
*کاہلی اور بیہودہ ہنسنے کی مذمت
*عبادت میں تفکر کا اثر
تفکر کی اہمیت اور غفلت سے بچنےکے عوامل کے تحفظ کی ضرورت
''یَا َبَاذَرٍّ! ِخْفِضْ صَوْتَکَ عِنْدَ الْجَنَائِزِ وَ عِنْدَ الْقِتَالِ وَ عِنْدَ الْقُرآنِ
''یٰا َبَاذَرٍّ!اِذَا تَبِعْتَ جَنَازَةً فَلْیَکُنْ عَقْلُکَ فِیْهَا مَشْغُولاً بِالتَّفَکُّرِ وَالْخُشُوعِ وَ اعْلَمْ اِنَّکَ لاَ حِق بِهِ
یَا اَبَاذَرٍّ! اِعْلَمْ اَنَّ کُلَّ شَیئٍ اِذَافَسَدَ فَالْمِلْحُ دَوَاؤُه وَِذَافَسَدَ الْمِلْحُ فَلَیسَ لَهُ دَوَائ وَاعْلَمْ اَنَّ فِیکُمْ خُلْقَینِ الضِّحْکُ مِنْ غَیرِ عَجَبٍ وَالْکَسَلَ مِنْ غَیْرِ سَهْوٍ یَا َبَاذَرٍّ! رَکْعَتٰانِ مُقْتَصِدَتَانِ فِی تَفَکَُّرٍ خَیْرمِنْ قِیَامِ لَیْلَةٍ وَالْقَلْبُ سٰاهٍ''
اس سے پہلے انسان میں خوف وخشیت پیدا ہو نے کے اسباب و عوامل پر بحث ہوئی۔ کہا گیا کہ من جملہ عوامل کہ جو انسان میں خوف خدا پیدا کرتے ہیں ، قیامت کے دن جہنم کے عذاب کے بزرگ ہونے اور بہشت کی نعمتوں کی اہمیت و وسعت پر توجہ کرنا ہے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیانات کے اس حصہ کا گزشتہ مطالب سے اس لحاظ سے ربط ہے کہ قلبی اور اندرونی حالات، جیسے، خوف، خشیت، شوق، امید، محبت و انس یہ سب چیزیں صرف اس صورت میں پیدا ہوسکتی ہیں کہ جب انسان توجہ دے اور اس کا دل بیدارا ور آگاہ ہو، لیکن اگر انسان غافل ہے اور اس کی توجہ ضعیف ہے اس صورت میں یہ حالات یا بالکل اس کے اندر پیدا نہیں ہوںگے یا ضعیف اور کم رنگ صورت میں رو نما ہوں گے۔
جب انسان غفلت یا سنگدلی اور بے رحمی میں مبتلا ہوتا ہے اور خودبہ خود ان رذائل اخلاقی کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اس کی اس پست حالت سے باہر آنے کے لئے، کچھ عوامل و اسباب مد نظر رکھے گئے ہیں،ان عوامل و اسباب میں سے کچھ انسان کے اندر سے جاری ہوتے ہیں اور ان میں سے کچھ خارجی ہیں، کبھی خارج میں کوئی حادثہ پیش آتا ہے، کوئی بات سننے میں آتی ہے یا ایسے شرائط پیدا ہوجاتے ہیں جو انسان کے لئے متنبہ اور بیدار ہو کر غفلت سے نجات پانے کا سبب بن جاتے ہیں۔ البتہ یہ تاثیر توفیقات الہٰی کے زمرہ میں ہے اور ان فرصتوں کی قدردانی کی جانی چاہیے اور انسان کو شکر گزار بننا چاہیے۔ تاکہ خدا کی مہر بانیوں اور توفیقات میں اضافہ ہوجائے، اگر ان فرصتوں سے استفادہ نہیں کیا گیااور قدر دانی نہیں کی گئی تو انسان کی غفلت اور بے رحمی میں اضافہ ہوئے گا، اس سلسلہ میں پیغمبر اکر م صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں:
''یَاا َبَاذَرٍّ: ِخْفِضْ صَوْتَکَ عِنْدَ الْجَنَائِزِ وَ عِنْدَ الْقِتَالِ وَ عِنْدَ الْقُرآنِ ۔
''اے ابوذر! جنازوں کے پاس، دین کے دشمنوں سے جنگ کے دوران اور تلاوت قرآن مجید کے وقت آہستہ گفتگو کرو؟
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حدیث کے اس حصہ میں اخلاق، تربیت اور حفاظت سے مربوط تین نصیحتیں فرماتے ہیں:
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تین نصیحتیں:
الف۔ تشییع جنازہ کے وقت آہستہ گفتگو کرنا:
بہت مناسب ہے انسان آہستہ بات کرے اور بلند گفتگو نہ کرے یہ ایک شائستہ ادب ہے جس کے بارے میں حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو نصیحت کی ہے:
( وَاغْضُضْ مِنْ صَوتِکَ اِنَّ اَنْکَرَ الْاَصْوَاتِ لَصَوتُ الْحَمِیرِ ) (لقمان١٩)
آہستہ گفتگو کرو اوراپنی آواز دھیمی رکھنو کہ سب سے بدتر آواز گدہے کی ہوتی ہے۔
اگر چہ عادی مواقع پر آہستہ بات کرنا مطلوب ہے، لیکن بعض مواقع پر متعارف اور معمول کی حد سے بھی بہت آہستہ بات کرنی چاہیے یا خاموشی اختیار کی جانی چاہیے۔ مثال کے طور پر جب انسان کو اپنی فکر اور توجہ کو کسی امر کے لئے متمرکز کرناہے تو وہ دوسرے امور کو چھوڑ کر اس امر کی طرف توجہ کرتا ہے، اور یہ فطری بات ہے کہ من جملہ مواقع میں سے کہ جہاں پر انسان کو فکر و اندیشہ میں غرق ہو کر عبرت حاصل کرنی چاہیے وہ تشییع جنازہ میں شرکت کا وقت ہے، یہاں پر انسان کو توجہ رکھنی چاہیے کہ کبھی یہ موت اسکے پیچھے بھی آنے والی ہے۔
اس بناپر دنیوی امور کے بارے میں بات کرنے سے وہ پرہیز کرتا ہے اور اس کی توجہ اس انسان کی تقدیر پر متمر کز ہوتی ہے جس کا جنازہ لوگوں کے کا ندھوں پر ہوتا ہے تاکہ عبرت حاصل کرے، افسوس کہ ہم اس مطلب کی طرف توجہ نہیں کرتے ، حتی تشییع جنازہ کے دوران بھی آداب کی رعایت نہیں کرتے ہیں اور عبرت حاصل کرنے کی فکر میں نہیں ہوتے ہیں، یہ اس صورت میں ہے جب کہ تاکید کی گئی ہے کہ تشییع جنازہ کے وقت خاموشی، آرام، وقار اور اطمینان سے راستہ چلو اور تمہاری توجہ صرف جنازہ کی طرف مبذول ہو، لہٰذا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
( یٰا َبَاذَرٍّ:اِذَا تَبِعْتَ جَنَازَةً فَلْیَکُنْ عَقْلُکَ فِیْهَا مَشْغُولاً بِالتَّفَکُّرِ وَالْخُشُوعِ وَ اعْلَمْ اِنَّکَ لاَ حِق بِهِ )
اے ابوذر! جنازہ کے پیچھے چلتے وقت اپنی عقل کو تفکر اور خشوع میں مشغول رکھواور یہ جان لو! کہ تم بھی اس سے ملحق ہونے والے ہو۔
من جملہ امور جو انسان کو غفلت سے باہر لاسکتے ہیں، ایک ایسے مومن کے جنازہ کا مشاہدہ کرنا ہے کہ جس نے ایک عمر تلاش اور دنیا کی نعمتوں سے بہرہ مند اور کامیاب ہو کر وفات پائی ہے اور اس کے جنازہ کو قبرستان کی طرف لے جارہے ہیں،یقینا انسان کو اس غمناک منظر کا مشاہدہ غفلت سے نکالتا ہے، کیونکہ دنیا اور اس کی ( دل فریب) رعنائیوں کی طرف متوجہ ہونا اور اس میں گرفتار ہوجانا غفلت کا سبب بنتے ہیں اور جو چیز انسان کو آخرت کی طرف متوجہ کرے، وہی غفلت سے بیداری اور اس سے دوری کا سبب بنتی ہے،اس لحاظ سے بیداری اور غفلت سے دور ہونے کا بہترین وسیلہ یہ ہے کہ انسان آنکھیں کھول کر دیکھے کہ ایک شخص نے ایک عرصہ تک سعی و کوشش کے بعد اپنی زندگی کو مکمل کیا ہے اور اب وہ عالم آخرت کی طرف کوچ کر رہا ہے۔ گرچہ انسان جانتا ہے کہ موت قطعی ہے اور سب مرر ہے ہیں، لیکن دنیا سے رخصت ہونے والے کا مشاہدہ کرنا، اسے جاننے سے زیادہ اثر رکھتا ہے۔
ایک مومن کے تشییع جنازہ میں شرکت کی فرصت کو اپنے نفس کی اصلاح، نفسانی خواہشات سے اجتناب اور اصلاح کے لئے غنیمت جاننا چاہیے اور فکر وہواس کو ادھر اُدھر، پر اکندہ ہونے سے دوری اختیار کرنی چاہیے اور صرف اپنی عافیت کے بارے میں فکر کرنی چاہیے ،سوچنا چاہئے کہ یہ وہ راہ ہے جسے دیر یاجلد ہمیں بھی طے کرنا ہے، پس کیا یہ دنیا کی چند روزہ زندگی یہ اہمیت رکھتی ہے کہ ہم بے پرو ا ہو کر اس کے لئے تلاش کریں؟ ہمیں چاہئے کہ ہم اس بارے میں غور و فکر کریں کہ، کیا ہم نے آخرت کی زندگی کے بارے میں صحیح کوشش کی ہے یا نہیں؟
موت کے بارے میں تفکر کرنا جیسا کہ روایتوں میں اس کی تاکید کی گئی ہے با اثر ترین عوامل میں سے ہے، جو شیطان سے دوری اور صحیح راستہ پر گامزن ہونے کا سبب بن سکتا ہے، انسان کو فکر کرنی چاہیے کہ شاید ایک گھنٹہ بعد زندہ نہیں رہے گا کیونکہ کوئی شخص مطمئن نہیں ہے وہ کب تک زندہ ہے، لہٰذا لمبی آرزئوں کے مقابل جو غفلت اور قساوت کا سبب بنتی ہیں، موت کی طرف توجہ کرنا انسان کے لئے غفلت سے دوری اور بیداری کا سبب بنتا ہے، اور ممکن ہے یہ تفکر واندیشہ اور یہ شیوئہ عمل انسان اور اس کی تقدیر کو بدل کے رکھدے۔
یہ فطری بات ہے، جب انسان اپنے انجام کے بارے میں غور کرے گا اور اپنے آپ کو خدائے متعال کی عظمت کے سامنے مغلوب پائیگاتواس کے دل میں ناکامی، ذلت اور خشوع کی حالت پیدا ہوگی اور اس کے آثار ظاہر میں بھی نمایاں ہوں گے چنانچہ جب مومن نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے اور اپنے مقابل میں خدا کی عظمت کو پاتا ہے، تو اس میں خضوع و خشوع پیدا ہوتا ہے، البتہ یہ ایک ایسا امر ہے جس کی تاکید کی گئی ہے اور مومن کی واضح ترین خصوصیت کے طور پر ذکر ہوئی ہے، جو اس کے لئے کامیابی کا سبب بنتی ہے:
( قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِینَ هُمْ فِی صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ ) (مومنون١۔٢)
''یقینا صاحبان ایمان کا میاب ہوگئے جو اپنی نمازوں میں گڑ گڑانے والے ہیں''
(اس کے مقابل جو خدا کی عظمت کو نہیں دیکھتے اور نماز کے مفہوم پر غور و فکر نہیں کرتے ہیں، ان میں خضوع و خشوع پیدا نہیں ہوتا ہے)
چنانچہ ہم نے کہا کی خشوع دل میں پیدا ہوتا ہے اور اس کے آثار انسان کے اعضاوجوارح سے آنکھوں میں ظاہر ہوتے ہیں، لیکن کبھی خشوع کے بارے میں بعض اعضائے بدن سے بھی نسبت دی جاتی ہے، چنانچہ خدائے متعال فرماتا ہے:
( وَخَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمَٰنِ فَلاَ تَسْمَعُ اِلَّاهَمْساً ) (طہ ١٠٨) ''(قیامت کے دن) ساری آواز یں رحمن کے سامنے خاشع ہوں گی اور تم سنسناہٹ کے علاوہ کچھ نہیں سن سکو گے۔''
ایک دوسری جگہ فرماتا ہے:
( خَاشِعَةً َبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّة وَ قَدْ کَانُوا یُدْ عَونَ اِلیَ السُّجُودِ وَهُمْ سَالِمُونَ ) (قلم ٤٣)
''ان کی نگاہیں شرم سے جھکی (خاشع) ہوں گی، ذلت ان پر چھائی ہوگی اور انھیں اس سے پہلے بھی سجدوں کی دعوت دی گئی تھی جب وہ بالکل صحیح و سالم تھے۔''
جو کچھ بیان ہوا اس کی بنا پر، تشییع جنازہ میں شرکت اور اس شخص کے انجام پر توجہ کرنا جو اس دنیا سے رخصت ہوا ہے اور قیامت کے منظر پر توجہ کرنا اور اس کے حالات اپنی آگاہی کے مطابق ذہن میں تصور کرنا، خضوع، خشوع اور غفلت سے دوری کا سبب ہے، لیکن اگر انسان اس وقت بھی اسی طرح بے فکر رہے جیسے کہ کچھ بھی نہیں ہوا ہے اور صرف دنیا کی فکر اور باتوں میں مشغول ہو، تو اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
جب کوئی شخص اس دنیا سے چلا جاتا ہے تو بعض لوگ اس کی موت سے استفادہ کرنے کی فکر میں ہوتے ہیں، اگر وہ پر و فیسر تھا، تو اس فکر میں ہیں کہ اس کی جگہ پر گامزن ہو جائیں، اگر رئیس تھا توخوشحال ہیں کہ اس کا عہدہ انھیں ملے گا، اگر کوئی ڈاکٹر مرگیا ہے تو دوسرے اس فکر میں ہیں کہ اس کی حیثیت و موقعیت کو حاصل کریں، افسوس اور شرم کی بات ہے! جو حادثہ انسان کے لئے قیامت اور اس کی زندگی کے انجام پر توجہ کرنے کا سبب ہونا چاہیے تھا، برعکس اسے دنیا میں غرق کرڈالتا ہے۔ جہاں پر انسان کو عبرت حاصل کر کے بیداری کے عامل کو اپنے اندارفراہم کرکے زندگی گزارنا چاہیے تاکہ فرضیات اور اوہام سے دوری اختیار کرے ،اس کے برعکس بعض لوگ غفلت اور بے رحمی سے دوچار ہونے کی وجہ سے بیشتر اوہام اور مفروضات میں پھنس جاتے ہیںنیز انھیں جھینجھوڑنے اور بیدار کرنے والے مناظر نہ صرف انہیں بیدار نہیں کرتے ہیں بلکہ ان کی بے رحمی اور سنگدلی میں اضافہ کرتے ہیں۔ اسی لئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جناب ابوذر کو گوش گزار فرماتے ہیں کہ منجملہ مواقع جو انسان کے لئے خوف، خشیت، خضوع و خشوع پیدا کر سکیں، تشییع جنازہ میں شرکت کرنا ہے، اس شرط پر کہ باتوجہ ہو، اپنے ہوش و حواس کو قابو میں رکھے اور شورشرابہ سے پرہیز کرے، صرف اپنی طرف توجہ کرے اور آہستہ آہستہ بات کرے تاکہ فکر واندیشہ کو جاری رکھ سکے، کیونکہ بلند آواز میں بولنا حتی بات کرنا، انسان کے دل کو مشغول کر دیتا ہے اور اسے حضور قلب کی طرف توجہ کرنے سے روکتا ہے۔
ایک دن تہران میں ایک شخص نے علامہ طباطبائی سے پوچھا، میں کیا کروں تاکہ نماز میں مجھے حضور قلب پیدا ہو؟ علامہ نے جواب میں فرمایا: باتیں کم کرو، شاید ہم اس پر تعجب کریں کہ باتیں کرنے سے نماز میں حضور قلبکا پیدا نہ ہونا یہ کیوں کر ہوسکتا ہے،(اتفاقاً وہ شخص باتونی تھا) یقینا بولنے اور باتیں کرنے سے انسان کی فکری، روحی اور نفسیاتی طاقت صرف ہوتی ہے، بالخصوص اگر بولنا رسمی ہو یعنی موعظہ، تقریر و تدریس ہو، جب بعض لوگ انسان کی تقریر سنتے ہیں تو وہ احتیاط کرتے ہیںکہ کوئی غلط بات نہ کہیں، اس لحاظ سے ان کی پوری توجہ اس کی تقریر کی طرف متمرکز ہوتی ہے اور یہ چیز اسے اپنے بارے میں فکر کرنے سے روکتی ہے، اس لئے باتیں کم کرنا اورآہستہ آواز میں بولنا انسان کو اپنی طرف زیادہ توجہ کرنے کا سبب بنتا ہے، اور وہ فکر پر اکندگی سے دوری اختیار کرتا ہے۔
تشییع جنازہ میں شرکت کرتے وقت پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حالت کے بارے میں ایک حدیث میں آیا ہے:
''کَانَ النَّبِیُ اِذَاتَبِعَ جَنَازَةً غَلَبَتْهُ کَآبَةً وَاَکْثَرَ حَدِیثَ النَّفْسِ وَاَقَّلَ الْکَلاَمَ'' (۱)
''تشییع جنازہ کے دوران پیغمبر اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پرانتہائی غم واندوہ کا عالم طاری ہوتاتھا ،آپ بیشتر غور و فکر میں ہوتے تھے اور باتیں کم کرتے تھے۔''
ب) جنگ کے دوران آہستہ گفتگو کرنا:
حملہ اور جنگ کے دوران سپاہیوں کی حالت اور عسکری اسرار کے پنہان ہونے کے پیش نظر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جنگ کے دوران آہستہ بات کرنے کی تاکید فرماتے ہیں، جنگ میں ایسے شرائط پیش آتے ہیں،بالخصوص جنگی حکمت عملی اور جنگی علاقوں سے معلومات حاصل کرنے کی منصوبہ بندی کے وقت، جن کے پیش نظر ضروری ہو جاتا ہے کہ جنگی اسرار کی حفاظت اور دشمن کی نظر سے اپنے سپاہیوں کی پوزیشن چھپائے رکھنے پردقت کی جائے، ممکن ہے کبھی بلند آواز میں گفتگو کرنا اور نامناسب حرکات اس امر کا سبب بن جائے کہ دشمن جنگی حکمت عملی اور حملے کے منصوبہ سے آگاہ ہوجائے جن کے نتیجہ میں مجاہدین کی جان بھی خطرے میں پڑے اورحملے کا منصوبہ اور پلان بھی ناکام ہوجائے۔
ہمارے مجاہدین نے اس حقیقت کو آٹھ سالہ جنگ کے دوران اچھی طرح تجربہ کیا ہے: یعنی بعض اوقات پوزیشن ایسی خطرناک، نازک اور حساس ہوتی تھی کہ ان کی ایک رفتاربھی فیصلہ کن ہوتی تھی، انہیں ایسی راہ پرچلنا پڑتا تھا کہ پائوںکے کھسکنے کی آواز بھی بلند نہیں ہونی چاہیے تھی، حقیقت میں جنگی منصوبوں کو عملی جامہ پہنا نے میں دشمن کے غافلگیرہونے کے اصول سے استفادہ کرتے تھے، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اس نصیحت میں ایک اور نکتہ یہ ہے کہ جنگ اور عملیات کی اہمیت و حساسیت کے تقاضا کے مطابق فوج کو عسکری اہداف کے حصول کے لئے اپنی تمام تر طاقت کو بروئے کارلانا چاہیے،اس نقطہ نظر کے مطابق خاموشی، آرام اور حواس کومتمر کزکرنے سے اپنی اندرونی اور پوشیدہ طاقت کو ہماہنگ کر کے پوری قوت و طاقت اور انتہائی صلاحیت کے ساتھ دشمن سے نبرد آزما ہو اور ایسی چیزوں سے قطعا پرہیز کریں جو ان کی فکر اور طاقت کو جنگ و حملہ سے منصرف کرنے کا سبب ہو،اسی اہمیت کے پیش نظر حضرت علی علیہ السلام جنگ جمل میں اپنے بیٹے محمد بن حنفیہ سے عسکری نصیحت کے طور پر فرماتے ہیں:
''تزول الجبال ولا تزل عضَّ علی ناجذک أَعراﷲ جمجحتک تِدْ فی الارض قدمک اِرْمِ ببصرک اقصی القوم وغُضَّ بصرک وَاعلم ان النصر من عند اﷲ سبحانه ''(۲)
پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائے لیکن تم اپنی جگہ سے نہ ہلنا،اپنیجبڑون کو مضبوطی سے دبائے رکھنا، اپنے سر کو خدا کی راہ میں عاریہ دے دینا، اپنے پیروں کومیخ کے مانند زمین میں نصب کردینا، اپنی نظر کو دشمن کے آخری نقطہ پر متمرکزر کھنا اور دوسری جانب چشم پوشی کرنا، جان لو کہ خدا کی طرف سے کامیابی اور فتح تمھارے نصیب ہوگی۔
ج) قرآن مجید کی قرائت کے وقت آہستہ آہستہ بات کرنا:
اگر انسان کوکبھی قرائت قرآن مجید کی محفل میں شرکت کرنے کی توفیق حاصل ہوجائے خواہ اس کامقصداور محرک قرآن سے استفادہ کرنا ہویا کسی اور محرک کی وجہ سے مثلاً مجلس ترحیم پسماندگان کو تعزیت و تسلیت کہنے کیلئے قرائت قرآن مجید کی محفل میں شرکت کی ہے تو اسے اس فرصت کو غنیمت سمجھ کر آیات میں تدبر اور ان کے مفاہیم کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ حتی اگر قرآن مجید کی ملکوتی آواز ریڈیو سے نشرہورہی ہے تب بھی خاموشی اور آرام سے تدبر اور اندیشہ میں غرق ہوجائے، تاکہ اس ابدی معجزہ کے مفاہیم کو اپنی روح کی تعمیر اور اسے اخلاقی رذائل سے پاک کرنے اور قابل قدر عادات، جیسے خضوع و خشوع کو ایجاد کرنے میں استفادہ کرے، چنانچہ قرآن مجید فرماتا ہے:
( اﷲُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیثِ کِتَاباً مُتَشَابِهاً مَثَانِیَ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِینَ یَخْشَونَ رِبَّهُمْ ثُمَّ تَلِینُ جُلُودُهُمْ وُقُلَوبُهُمْ اِلَی ذِکْرِ اﷲِ... ) (زمر٢٣)
''اللہ نے بہترین کلام اس کتاب کی شکل میں نازل کیا ہے جس کی آیتیں آپس میں ملتی جلتی ہیں اور بار بار دہرائی گئی ہیں کہ ان سے خوف خدا رکھنے والوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، اس کے بعد ان کے جسم اور دل یاد خدا کے لئے نرم ہوجاتے ہیں۔''
قرآن مجید کی اس نہایت عمدہ تاثیر کے باوجود اگر انسان قرآن مجید کی قرائت کے دوران آیات کے مفاہیم کی طرف توجہ نہ کرے اور اس کے لئے قرآن مجید کی آواز دوسری آوازوں سے کوئی فرق نہ رکھتی ہو، تو وہ غفلت میں مبتلا ہوجاتا ہے اور اس کی بے رحمی میں اضافہ ہوتا ہے۔
قرآن مجید کی اہمیت، اس کے احترام کے تحفظ اور قدر و منزلت کے پیش نظر خدائے متعال فرماتا ہے:
( وَاِذَاقُرِیَٔ الْقُراٰنُ فَاسْتَمِعُوالَهُ وََنْصِتُوا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ ) (اعراف٢٠٤)
''اور جب قرآن کی تلاوت کی جائے تو خاموش ہو کر غور سے سنو کہ شاید تم پر رحمت نازل ہوجائے۔''
فطری بات ہے کہ جب خدائے متعال نے قرآن مجید کو انسان کی ہدایت اوراندرونی تبدیلینیز خدا کی طرف توجہ کیلئے وسیلہ قرار دیا ہے، اب اگر وہ قرآن مجید کی آواز کی طرف متوجہ نہ ہو اور اس ملکوتی آواز اور دوسری آوازوں کے درمیان کوئی فرق نہ قرار دے اور خدا کے موعظوں اور نصیحتوں کی طرف توجہ نہ دے تو اس نے برا کام انجام دیا ہے اور کفرانِ نعمت کا مرتکب ہو ا ہے کہ اس نے ایک قیمتی فرصت کو گنوا دیا ہے،بلکہ اس کی بے رحمی میں بھی اضافہ ہوا ہے، اور ہدایت کے لئے محدود چانس اور نسبی آماد گی کو بھی کھو دیا ہے۔
قرآن مجید سے بہرہ مند ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اس کی تلاوت کے دوران ہم اپنے ہوش و حواس پر کنٹرول کر کے ایسے کان لگا کر سنیں کہ گویا قرآن مجید کی ملکوتی آواز کو خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبانی سن رہے ہیں، اس صورت میں قرآن مجید ہم میں اثر کرے گا اور تب اس سے بہترین صورت میں ہم استفادہ کرسکتے ہیں۔
قرآن مجید کی مجلسوں، جیسے مجلس ترحیم اور فاتحہ خوانی کی مجلسوں میں قرآن مجید کی تلاوت کا سننا ایک سنّت حسنہ ہے اور اس کی فراوان تاکید کی گئی ہے، افسوس کہ ہم اس نیک سنّت کی رعایت نہیں کرتے، مجلس ترحیم اور فاتحہ خوانی کی مجلسوں میں آپس میں گفتگو کرنے میں مشغول رہتے ہیں، حتی بلند آواز میں باتیں کرتے ہیں، یقینا جس کی توجہ اور فکر باتیں کرنے اور دوسروں کی باتیں سننے میں مشغول ہو، قرآن مجید کی طرف توجہ کرنے سے محروم رہتا ہے، اس لحاظ سے اہل سنت ہم سے آگے ہیں، وہ قرآن مجید کی تلاوت کے لئے خصوصی جلسات منعقد کرتے ہیں اور قرآن مجید کی صوت وقرائت پر شایان شان توجہ دیتے ہیں لیکن دوسری طرف بعض لوگوں کی ان مجلسوں میں شرکت، قرآن مجید کے قاریوں کی ہنرنمائی کا مشاہدہ کرنے اور ان کی تشویق کے لئے ہوتی ہے کہ بیچ بیچ میں ''اللہ اللہ'' کہہ کر ان کی ہمت افزائی اورترغیب و تشویق کرتے ہیں۔
درحقیقت ان کی (اہل سنت) توجہ لفظ اور قرآن مجید کی ظاہری صورت کی طرف زیادہ ہوتی ہے اور قرآن مجید کے مفہوم اور نہایت عمدہ اثرات سے عبرت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے ہیں۔ افسوس کہ ہم قرآن کی تلاوت سننے کے لئے کم جلسات منعقد کرتے ہیں، قرآن مجید کے ہمارے عمومی جلسات وہی مجالس ترحیم ہیں کہ جو ُمردوں کے لئے منعقد کرتے ہیں۔ ان مجالس میں قاری قرآن پڑھتا ہے، لیکن دوسرے لوگ اپنے کام میں مشغول ہوتے ہیں یا ایک دوسرے سے باتیں کرنے میں مشغول رہتے ہیں! کبھی لائوڈ سپیکرکی آواز کو اتنا بلند کرتے ہیں کہ ہر سننے والے کے لئے اذیت کا سبب بن جائے ، اس لحاظ سے قرآن مجید کی آواز سننے کا شوق ہی نہیں رکھتے۔ یہ اس صورت میں ہے کہ تمام جوانب کی رعایت کی جانی چاہئے اور لائوڈ سپیکر کی آواز ایک ایسی حد میں تنظیم ہونی چاہئے کہ مجلس میں حاضر لوگ مستفید ہو سکیں، مجلس کے اندر اور مجلس سے باہر والے لوگوں کے لئے اذیت و آزار کا سبب نہ ہو۔
قابل توجہ امر ہے کہ یہ طرح کے مرسوم طریقے نادر ست اور ناکافی ہیں:ایک وہ روش جس کو ہم نے اختیار کیا ہے یعنی قرآن مجید کی تلاوت اور اس کے جلسہ منعقد کرنے کی طرف کم توجہ دیتے ہیں، صحیح نہیں ہے اور اہل سنت کی روش بھی کہ صرف قرآن مجید کی تلاوت اور صوت و لحن کے جلسہ و پروگرام منعقد کرتے ہیں اوراس کے مفاہیم و معنی سے سروکار نہیں رکھتے ہیںیہ بھی ناکافی ہے۔ حقیقت میں چاہئے تھا قرآن مجید کے عموی جلسات و سیع پیمانے پر منعقد ہوں اور ان جلسوں میں صوت، لحن اور قرائت قرآن کے علاوہ اس کے معنی و مفاہیم بھی بیان کئے جائیں تاکہ لوگوں میں قرآن مجید سے عبرت حاصل کرنے کی رسم پیدا ہو۔ قرآن مجید کی آیات کی انہماک کے ساتھ حزن آمیز لحن میں تلاوت کی جائے تاکہ سننے والوں کے کے دلوں میں خضوع و خشوع پیدا ہو اور ان کے لئے متنبہ اور بیدار ہونے اور ہوش میں آنے کا وسیلہ و ذریعہ قرار پائے یہ وہ نکتہ ہے جس کی طرف خود قرآن مجید نے اشارہ کیا ہے:
( واذاسمعوا ماانزل الی الرسول تریٰ اعینهم تفیض من الدمع )
(مائدہ٨٣)
''اور جب اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے بیساختہ آنسو جاری ہو جاتے ہیں''
بیدار کرنے والے عوامل سے بے توجہی کا انجام:
حدیث کو جاری رکھتے ہوئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
''یَا اَبَاذَرٍّ: اِعْلَمْ اِنَّ کُلَّ شَیئٍ اِذَافَسَدَ فَالْمِلْحُ دَوَاؤُه وَاِذَافَسَدَ الْمِلْحُ فَلَیسَ لَهُ دَوَائ''
''اے ابوذر! جان لو ہر چیز کو سڑ نے سے بچانے کے لئے نمک دوا ہے، لیکن اگر نمک سڑجائے تو اس کے لئے کوئی چیز دوا نہیں ہے۔''
شاید اس جملہ کا ربط گزشتہ مطالب سے اس لحاظ سے ہے کہ ہماری ساری مشکلات، غفلت، دنیا پرستی اور مادیات کی طرف مائل ہونے کی وجہ سے ہیں، اور یہی چیزیں ہمارے دل کو فاسد کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ اب ان بیماریوں کوا ورمشکلات کے علاج و معالجہ کے لئے بعض اسباب و عوامل موجود ہیں جو انسان کی بیداری اور اس کے انجام پر متوجہ ہونے کا سبب ہیں۔ ان عوامل میں سے ایک تشییع جنازہ میں شرکت اور موت پر توجہ کرنا ہے۔ جب انسان فکر کرتا ہے کہ سفر آخرت پر نکلے ہوئے ایک شخص کے جنازہ کو اپنے ہاتھوں پر لے جارہا ہوتاہے، تو وہ اپنی موت کو اپنی آنکھوں کے سامنے مجسم ہوتے ہوئے دیکھتا ہے اور فکر واندیشہ میں غرق ہوجاتا ہے۔ یہ اندرونی تبدیلی اس کے لئے شرم و پشیمانی کا موجب بن کر اس میں خدا کے مقابل خضوع و خشوع کی حالت پیدا کرنے کا بھی سبب بنتی ہے۔ پھر وہ اس وقت اپنے انجام کے بارے میں خوف محسوس کرتا ہے۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام دوسروں کی موت سے عبرت حاصل کرنے کے بارے میں اباصالح نامی اپنے ایک صحابی سے فرماتے ہیں:
''اذاانت حملت جنازة فکن کانک انت المحمول وکانک سألت ربک الرجوع الی الدنیا ففعل' فانظرما ذاتستانف ثم قال:عجب لقوم حبس اولهم عن آخرهم' ثم نودی فیهم الرحیل وهم یلعبون'' (۳)
جب کسی کے جنازہ کو اپنے کندھوں پر لے جا رہے ہو، تو تصور کرو کہ تمھیں لے جایا جارہا ہے اور تم اپنے پرور دگار سے درخواست کر رہے ہو کہ وہ تمہیں دوبارہ دنیا میں بھیجدے، لہٰذا اگر اس نے مہلت دے دی ہے تو غور کرو کہ اب اپنی زندگی کو دوبارہ کیسے شروع کرو گے۔ اس کے بعد فرمایا: تعجب
ہے ان لوگوں کے بارے میں جن کی پہلی نسلیں بعدوالی نسلوں کو دیکھنے سے محروم ہیں (موت ان کے درمیان جدائی ڈالتی ہے) اور ان کے درمیان راحت اور موت کے لئے آہ و وفریاد بلند ہوتی رہتی ہے ، لیکن وہ بدستور جیسے کھیلنے میں سرگرم ہیں۔
مذکورہ مطالب کے پیش نظر، جو عامل نمک کے مانند انسان کے دل کو فاسد ہونے سے بچاسکتا ہے اور معنوی بیماریوں کی دوا ہے، اگر خود فاسد ہوجائے تو کونسی چیز اس کے فاسد ہونے کا علاج کر سکتی ہے؟!
تشییع جنازہ میں شرکت کرنا جو انسان کے لئے غور و فکر کا ذریعہ نیز موت کو یاد کرنے کا سبب ہے نیز اس چیز کا باعث ہے انسان دنیا اور اپنے آئندہ کے بارے میں غور کرے یاجنازہ کے ساتھ چلتے وقت نہ صرف یہ کہ عبرت حاصل نہ کرے بلکہ انتہائی بے شرمی سے دوسروں کی غیبت کرنے لگے تو وہ خود فاسد شدہ نمک کے مانند فاسد ہوتا ہے اور اس کے بعد انسان قساوت و شقاوت قلب میں مبتلا ہوتا ہے اور اس کے اندر تبدیلی پیدا کرنے والے عوامل غیر موثر ہوتے ہیں اور ایسی صورت میں کوئی دوا اس کی اندرونی بیماریوں کا علاج نہیں کرسکتی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قرائت قرآن مجید انسان کی معنوی بیماریوں کے لئے شفا بخش ہے چنانچہ خدائے متعال فرماتا ہے:
( یَأَ اَیُّهَا النَّاسُ قَدْجَائَ تْکُمْ مَوعِظَة مِنْ رَبِّکُمْ وَ شِفَائ لِمَافِی الصُّدُورِ وَهُدیً وَرَحْمَةً لِلْمُؤْمِنِینِ ) (یونس٥٧)
''اے لوگو! تمہارے پاس پرور دگار کی طرف سے نصیحت اور دلوں کی شفا کا سامان اور ہدایت اور صاحبان ایمان کے لئے رحمت (قرآن) آچکا ہے''
اب جو قرآن مجید شفابخش ہے اور اس کے مفاہیم کی طرف توجہ کرنا، گراں بہاحقائق کو انسان کے اختیار میں دیتا ہے، اگر وہ خود دنیا اور کسب شہرت کے لئے وسیلہ قرار پائے تو نہ صرف اس کی قرائت شفا بخش نہیں ہے بلکہ بذات خود وہ بھی ہماری نفسیاتی بیماریوں میں اضافہ کرتا ہے اور دنیا کی طرف بیشتر توجہ کرنے اور خدا اور حقیقت قرآن سے دوری کا سبب بن جاتا ہے۔
کاہلی اور بیہودہ ہنسنے کی مذمت:
بیہودہ ہنسنے اور کاہلی کی مذمت کے سلسلے میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
''اعلم ان فیکم خُلقَین الضحک من غیر عجب والکسل من غیر سهو''
''جان لو !تم میں دوناپسند صفتیں ہیں: ان میں سے ایک قابل تعجب ہنسی (بلا وجہ ہنسنا) اور دوسرے عمداً تساہلی جو سہواً و نسیاناًنہ ہو۔''
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مومنین کوگوشگزار کر رہے ہیں کہ ان میں دو ناپسند صفتیں موجود ہیں کہ جو بیشتر غفلت اور خوف و خشیت کے کم رنگ اور ضعیف ہونے کا سبب ہے۔ مومنوں کو ان دونا پسند صفتوں کا علاج کرنا چاہئے۔ ان دو صفتوں میں سے ایک بے جاہنسنا ہے۔ بسا اوقات انسان تعجب خیز اور خندہ دار مطالب سے دو چار ہوتا ہے، اس صورت میں طبعی طور پراسے ہنسی آجاتی ہے۔ اگر چہ خداکو یاد رکھنے والے افراد خندہ آور مناظر کو دیکھ کر ہونٹوں پر صرف تبسم ظاہر کرتے ہیں اور قہقہہ لگا کر نہیں ہنستے۔ بعض بزرگوں کے سامنے جب کوئی خندہ آور داستان( لطیفہ ) نقل کی جاتی تھی یا کسی تعجب آور روداد سے رو برو ہوتے تھے وہ تبسم کرتے تھے، لیکن ان کی توجہ کہیں اور ہوتی تھی اور روئداد کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں کرتے تھے لہٰذا اس روداد کاخاص اثران پر ظاہر نہیں ہوتا تھا۔
امام جعفر صادق علیہ اسلام ایک حدیث میں فرماتے ہیں:
''ان من الجهل الضحک من غیر عجب قال وکان یقول لاتبدین عن واضحة وقدعملت الاعمال الفاضحة ولا یا من البیات من عمل السیات'' (۴)
''بلا وجہ ہنسنا نادانی ہے، نیز حضرت نے اضافہ فرمایا: ایسے نہ ہنسا کرو کہ تمھارے دانت دکھائی دینے لگیں ( خدا نخواستہ) رسوا کن کر دار کے مرتکب ہوجائو۔ اور جو برے کام انجام دیتے ہیں وہ رات کی بلائوں سے آسودہ نہیں ہیں''
اس حدیث میں حضرت امام صادق علیہ السلام واضح طور پر فرماتے ہیں: ایسا شخص اپنے بُرے اعمال کے نتیجہ میں ، تاریک مستقبل اور خطرناک انجام کا منتظر ہے ہر لمحہ ممکن ہے اس پر کوئی بلا نازل ہوجائے، اس کا قہقہہ اور مستی میں ہنسنا بے جا ہے، ایسا ہنسنا کسی ایسے شخص کے لئے بجا ہے جو اپنے آئندہ سے مطمئن ہو اور پنے انجام سے پریشان و فکر مند نہ ہو۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انبیاء اور اولیائے الہیٰ بھی ایسی حالت اور ایسا اطمینان نہیں رکھتے تھے وہ صرف خدا کے فضل پر توکل رکھتے تھے۔
دل پر زیادہ ہنسنے کے اثرات کے بارے میں امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
''کثرة الضحک تُمیت القلب وقال کثرة الضحک تُمیت الدین کما یمیث الماء الملح'' (۵)
''زیادہ ہنسنا دل کو مردہ بنا دیتاہے، مزید فرمایا: زیادہ ہنسنا دین کو گھلا دیتا ہے چنانچہ پانی نمک کو گھلا دیتا ہے''
اس بنا پر بے جا ہنسنے سے کہ جس کے لئے کوئی عقلی دلیل نہ ہو پرہیز کرنا چاہئے۔ انسان کو اپنا منہ، زبان آنکھ ، کان کنڑول میں رکھنا چاہئے۔ اگر انسان ہنسنا چاہتا ہے ، اسے دیکھناچاہئے کہ ہنسنے کے لئے کوئی دلیل بھی موجود ہے یا نہیں، کیا کوئی ایسی بات جو ہنسے کی موجب ہے پیش آئی ہے، یا یہ کہ ہر بہانہ سے ہنستا ہے۔
قابل ذکر بات ہے کہ خوش روئی، ہمیشہ ہونٹوں پر تبسّم کا ہونا ہے ایک مطلوب اورقابل قدر خصوصیت ہے۔ اجتماعی آداب میں سے یہ ہے کہ مومنین کواجتما عات میں اور ایک دوسرے سے ملتے وقت تبسم ہونا چاہئے۔ اگر چہ ان کے دلغم و اندوہ اور خوف و خشیت سے بھرے ہوں۔ تاکہ دوسروں سے ملتے وقت وہ ان کی رنجش اور ناراضگی کا سبب نہ بنیں چنانچہ ایک روایت میں آیا ہے:
''المؤمن بُشرهُ فی وجهه وحزنه فی قلبه '' (۶)
''مؤمن کا چہرہ بشاش ہوتا ہے اور وہ غم کو دل میں پنہاں رکھتا ہے''
یہ پرکشش تبسّم اور مسکراہٹ اس قہقہہ اورٹھٹھے لگانے کے علاوہ ہے جو مومن کی شان کے مناسب نہیں ہے بامقصد مومن قیامت کا معتقد اور خدا شناس ہوتا ہے، وہ اعمال و حرکات سے بے خبر نہیں رہتا ہے اور نفسانی خواشہات کے مطابق حرکت نہیں کرتا ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنی امت کی جو دوسری ناپسند خصوصیت کے بارے میں ذکر فرماتے ہیں، وہ کاہلی اور سستی ہے۔ کبھی انسان غفلت اور فراموشی کی وجہ سے کسی فریضہ کو انجام نہیں دیتا ہے، مثال کے طور پر کسی عبادت کو انجام دینا بھول جاتا ہے، اس صورت میں وہ گناہ کا مرتکب نہیں ہوا ہے۔ لیکن بعض اوقات توجہ دینے کے لحاظ سے فریضہ کے بارے میں سستی سے کام لیتا ہے، یہ خصوصیت ایک مومن کے لئے شائستہ نہیں ہے۔ مومن سے یہ توقع نہیں ہے کہ توجہ کے لحاظ سے فرائض کے بارے میں کوتا ہی کرے۔ نماز کے وقت اور اذان کی آواز سننے سے کو تاہی کرے اور نماز جماعت میں شرکت نہ کرے، یہ بے توحہی مومن کے لئے مناسب نہیں ہے۔اس میں فرق نہیں ہے اس کی یہ سستی اور کاہلی واجب فرائض کے بارے میں ہو یا امر مستحب کے بارے میں ۔ علمائے یزد میں سے ایک شخص بنام مرحوم الحاج شیخ غلام رضایزدی ایک بڑے سنجیدہ شخص تھے۔ ایک دن میں ان کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا، جب انہوں نے دیکھا کہ کچھ لوگ امام جماعت کے انتظار میں بیٹھے ہیں اور نافلہ نہیں پرھ رہے ہیں، ناراض ہوکر فرمایا: ''شیطان پرلعنت ہو، ڈرتے ہو کہ تمہیں بہشت میں لے جائیں گے! اٹھو اور نماز نافلہ پڑھو ۔ جب انسان واجب نماز سے پہلے مسجد میں موجود ہو تو بہت مناسب ہے کہ نافلہ نماز پڑھنے میں مشغول ہوجائے اور مومن کے لئے مناسب نہیں ہے کہ اس اہم امر کے بارے میں بے توجہی کرے۔ یہ مطلب تمام امور کے بارے میں بھی صادق آتا ہے۔ کبھی بیماری یا دوسری کسی مشکل کی وجہ سے انسان مطالعہ نہیں کرسکتا ہے، لیکن کبھی کاہلی سستی اور آرام طلبی کی وجہ سے مطالعہ اور تحقیق سے ہاتھ کھینچتا ہے۔ بنیادی طور پر کاہلی اور آرام طلبی ایک بڑی آفت ہے جو انسان کی بالید گی اور ترقی میں رکاوٹ بنتی ہے، ہمیں اسے اپنے سے جدا کرنا چاہئے۔
عبادت میں تفکر کا اثر:
حدیث کو جاری رکھتے ہوئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
''یا اباذر: رکعتان مقتصد تان فی تفکرخیرمن قیام لیلة والقلب ساهٍ''
''اے ابوذر! دور کعت نماز معمولی اگر تفکر کے ساتھ پڑھی جائے تو وہ غفلت کے عالم میں ایک رات عبادت میں بسرکر نے سے بہتر ہے۔''
تفکر اور غور وخوض کی ا ہمیت کے پیش نظر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ فرماتے ہیں کہ دور کعت نماز جو معمولی صورت میں پڑھی جائے۔ نہ یہ کہ طولانی ہو۔ لیکن تفکر کے ساتھ ہو، انسان کے کمال کے لئے اس کا ثواب اور تاثیر اس سے زیادہ ہے کہ انسان پوری رات صبح تک حضور قلب کے بغیر عبادت میں گزارے۔ البتہ اگر انسان بڑی تیزی اور عجلت مین نماز پڑھے، تو بیشک اپنے فریضہ کو درک نہیں کر سکتا ہے اور بہتر صورت میں نماز کو ادا نہیں کرسکتا ہے۔ چنانچہ روایتوں سے استفادہ ہوتا ہے کہ، تیزی کے ساتھ پڑھی جانے والی نماز اگر تأمل کے ساتھ نہ ہو اور انسان کو اس میں تفکر و توجہ کا امکان نہ ہو تو اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسی کو ّا اپنی چونچ کو زمین پر مارتا ہے۔ یعنی یہ نماز تعمیری نہیں ہے، چونکہ توجہ کے بغیر انجام پاتی ہے اور اس قدر تیزی سے پڑھی جاتی ہے کہ انسان کے لئے ممکن نہیں ہوتا ہے کہ حضور الٰہی کو درک کرے اور نماز کے معنی ومفاہیم کے بارے میں فکر کرے۔ اصل بات یہ ہے کہ دو رکعت نماز لیکن توجہ کے ساتھ بغیر توجہپے در پے انجام دینے والی تکراری اور طولانی نماز سے بہتر ہے۔
چنانچہ مکر رکہا گیا کہ، انسان کا سفر ایک علمی اور شعوری سفر ہے۔ انسان کی ترقی اور کمال اس کے و ادراک میں اضافہ کی وجہ سے ہے دوسرے الفاظ میں انسان علم و شعور کے پائوں سے قرب الہٰی کی راہ میں قدم رکھتا ہے۔ اس کے خدا کے نزدیک ہونے کا معنی اس کا نقل مکان کرنا نہیں ہے کہ اس کا جسم ایک جگہ سے دوسری جگہ میں منتقل ہوجائے، بلکہ اس کا خدا کے نزدیک ہونا اس کے شعور و توجہ میں اضافہ ہونا اور صفات الہٰی کی عظمت کے بارے میں اس کے ادراک کی بالیدگی ہے، کہ جس قدر اس کا ادراک و شعور زیادہ ہوگا اسی قدروہ خدا سے نزدیک و قریب ہوگا۔ یہ سفر ایک علمی سفر ہے جو زیادہ سے زیادہ معرفت کے نتیجہ میں حاصل ہوتا ہے اور اس کا ابتدائی مرحلہ اپنے بارے میں معرفت جس کے نتیجہ میں خدا کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ اس کے مقابل میں جس قدر انسان کی معرفت کم ہوگی اور غفلت میں گرفتار ہوگا اسی اعتبار سے وہ تکامل وترقی اور بالید گی سے محروم ر ہے گا۔
نماز ایک تکاملی وارتقائی وسیلہ ہے اور یہ اس لئے ہے انسان خدا سے زیادہ قریب کا احساس کرے اور درک کرے کہ خدا کے نزدیک ہو رہا ہے۔ لیکن اگر یہ نماز توجہ اور مقام الہٰی کے درک کے ساتھ نہ ہو، تو نماز گزار کی مثال اس شخص کی سی ہے جو ورزش میں مشغول ہوتا ہے کیونکہ وہ نماز کے مفاہیم و معنی سے بہرہ مند نہیں ہو رہا ہے۔ البتہ بغیر توجہ نماز کی یہ قسم، سونے سے بہتر ہے، کہ انسان رات کو صبح تک سوتا رہے اورنماز سے محروم رہے، یا خدا نخواستہ رات بھر گناہ اور معصیت میں مشغول رہے۔ یہی کہ انسان نماز کے لئے رات کو بیدار ہے۔ بذات خود ایک شائستہ کام ہے، لیکن نماز میں توجہ اور حضور قلب ہونا چاہئے، اس صورت میں اس کی سرعت بڑھ جاتی ہے اور جلدی ہی مقصد تک پہنچتا ہے اور اسی کو قربِ الہٰی کہتے ہیں
____________________
١۔بحارالانوار(طبع بیروت )ج٧٨،ص٢٦٤
۲۔ نہج البلاغہ '' ترجمہ فیض الاسلام'' کلام ١١ص٦٢
۳۔ اصول کافی ج٣ص٢٥٨
۴و ۵۔ اصول کافی ،ج٤ص٤٨٦( کتاب العشرہ)
۶۔ بحار الانوار ج٦٧ص٣٠٥
بائیسواں درس:
حق و باطل کی وسعت
* حق و باطل اور اس سے استفادہ کے مواقع
* حق و باطل کی ظاہری شکل و صورت
* انسان مختار،صاحب انتخاب اور امتحان الٰہی
* انسان اور حق و باطل کی طرف دو اندرونی کشش
* حتی اور دنیوی لذتوں کی طرف عمومی تمایل
حق و باطل کی وسعت
''یا اباذر: الحق ثقیل مر والباطل خفیف حلو ورب شهوة ساعه تورث حزناً طویلا ''
''اے ابوذ ! حق سنگین و تلخ ہے اور باطل سہل اور شیرین۔بسا اوقات ایک گھنٹہ کی ہوس رانی طولانی حزن و غم کا سبب ہوتی ہے۔''
حق و باطل اور اس سے استفادہ کے مواقع:
عموم مفاہیم میں سے ایک جو اسلامی لغت میں مذکور ہے اور اس کو بہت سے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے ''حق و باطل'' کا مفہوم ہے۔ قرآن مجید میں ''حق و باطل'' کا مفہوم بعض جگہوں پر معبودوں کے بارے میں استعمال ہوا ہے۔ اس صورت میں کہ خدائے متعال کو معبود حقکہا جاتا ہے اور تمام دوسرے کو معبود باطل:
( ذٰلک بأَن اللّٰه هو الحق وان ما یدعون من دونه هو الباطل... ) (حج٦٢)
''یہ اس لئے ہے کہ خدا ہی یقیناً حق ہے اور اس کے علاوہ جس کو بھی یہ لوگ پکارتے ہیں وہ سب باطل ہیں...''
بعض اوقات حق و باطل عقائد' افکار کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی کردار و رفتار کے لئے بھی آیا ہے۔ من جملہ مطالب' جن کے بارے میں قرآن مجید ہمیں تعلیم دیتا ہے' یہ ہے کہ یہ کائنات حق و باطل سے آمیختہ ہے۔ کہا جا سکتا ہے کہ یہ دنیا حق و باطل کے دو عناصر سے مرکب ہے۔ ''اللہ'' حق کی بنیاد ہے اور باطل ایک امر طفیلی ہے جو حق کے سایہ میں اور اس کی آڑ میں ظہور کرتا ہے۔ قرآن مجید کی تعلیمات کے مطابق حق و باطل کی یہ آمیختگی پائدار نہیں ہے' ایک دن آئے گا جب حق باطل سے مکمل طور پر جدا ہو جائے گا اورپائیدار رہے گا اور باطل نابود ہوجائے گا:
(بل نقذف بالحق علی الباطل فید مغه فاذاهوزاهق ) (انبیائ١٨)
''بلکہ ہم تو حق کو باطل پر تسلط اور غلبہ دے دیں گے تاکہ وہ باطل کو نیست و نابود کر دے اور باطل تو مٹنے والا ہی ہے ''
ایک دوسری جگہ پر خدائے متعال باطل کو پانی کے او پر جھاگ سے تشبیہ دیتے ہوئے فرماتا ہے۔
( انزل من السماء مائً فسالت اودیة بقدرها فاحتمل السیل زبداً رابیاً ومما یوقدون علیه فی النار ابتغاء حلیة اومتاع زبد مثله کذٰلک یضرب اللّٰه الحق والباطل فاما الزبد فیذهب جفائً واما ماینفع الناس فیمکث فی الارض کذٰلک یضرب اللّٰه الامثال ) (رعد١٧)
''اس نے آسمان سے پانی برسایا تو وادیوں میں بقدر ظرف سیلاب آگیا اور اس بہتے ہوئے پانی پر چھاگ پیدا ہو گیا اور اس دھات سے بھی جھاگ پیدا ہو گیا جسے (سونے و چاندی کے ) زیورات یا کوئی دوسرا سامان بنانے کے لئے آگ پر پگھلاتے ہیں۔ اسی طرح پروردگار حق و باطل کی مثال بیان کرتا ہے کہباطل کی مثال پانی کے اوپر اس چھاگ کی سی ہے جو خشک ہو کر فنا ہو جاتا ہے اورحق جو لوگوں کو فائدہ پہنچانے والا ہے وہ زمین میں باقی رہ جاتا ہے اور خدا اس طرح مثالیں بیان کرتا ہے۔''
باطل کی جھاگ سے تشبیہ میں ایک ظریف نکتہ ہے جو جھاگ کی حقیقت کے پیش نظر واضح ہوتا ہے۔ جھاگ در حقیقت ایک حباب ہے جو پانی کی سطح پر ظاہر ہوتا ہے۔ جب انسان صابن کے جھاگ سے بھرے ایک طشت پر نظر ڈالتا ہے۔ تو اسے تیرتے ہوئے حباب نظر آتے ہیں جو اوپر نیچے ہوتے ہیں۔ اگر کوئی پہلی بار اس طشت پر نظر ڈالے تو وہی جھاگ اس کی توجہ کواپنی طرف متوجہ کرے گا اور اس جھاگ کے نیچے موجود پانی جو اس جھاگ کی پیدائش کا سرچشمہ ہے۔ سے غافل رہتا ہے۔ خیال کرتا ہے کہ حقیقت یہی حباب ہیں جو ظاہر ہوگئے ہیں اور اوپر نیچے ہو رہے ہیں اور ان میں گونا گوں رنگ پیدا ہوتے ہیں۔ جبکہ حباب نے اپنی حقیقت کو اسی پانی سے حاصل کیا ہے اور اس کا وجود پانی کے سایہ میں ہی ہے۔
دنیا' حق و باطل کامرکب ہے' لیکن باطل حق کے طفیل میں موجود ہے، ممکن ہے باطل حق سے زیادہ نمایاں ہواور اس سے زیادہ چمک دمک رکھتا ہو' لیکن قانون خلقت میں حق پانی کے مانند ہے اور باطل کی حیثیت اس کے جھاگ کی سی ہے جو پائدار نہیں ہے ' وہ نابود ہوجائے گا اور باقی رہنے والا حق ہے جو لوگوں کے لئے سودبخش ہے۔
باطل' جھاگ کی طرح چند لمحوں کے لئے ظہورظاہر ہوتا ہے اور اس کے بعد حقیقت اور حق نمایاں ہوجاتا ہے۔ البتہ ان لمحات کو جب ہم اپنے معیاروں سے موازنہ کرتے ہیں' تو فکر کرتے ہیں کہ یہ لمحہ ایک سکنڈ یا ایک منٹ کا ہوگا' لیکن جو ازل و ابد پر نظر رکھتا ہے' سو سال اور ہزار سال بھی اس کے لئے ایک لمحہ سے زیادہ نہیں ہے' اس کے معیار اورہمارے معیار میں فرق ہے۔ جس پیمانے سے ہم زمان اور اشیا کی بقاو ثبات کے بارے میں پیمائش کرتے ہیں اس کا حق کے پیمانہ سے فرق ہے۔ جو شخص حق بین نگاہ رکھتا ہے اس کے لئے زمانوں کا طول خواہ لمحوں میں یا گھنٹوں میں یا برسوں میں یا صدیوں میں ہو' کوئی اعتبار نہیں رکھتا، جو ہم دیکھتے ہیں' وہ اس سے بالاتر ایسے افق کو دیکھتا ہے جو بہت بلند اور پائدار تر ہے اور جس معیار و پیمانے سے حساب کرتا ہے' اس کی نظر میں باطل کوئی چیز نہیں ہے اور اس میں پائداری نہیں ہے۔
حق و باطل کا ظاہری شکل و صورت:
حدیث کے اس حصہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیان کا مفہوم یہ ہے کہ حق سنگین اور تلخ ہے اور باطل سہل اور شیرین ہے۔ اس جملہ کی وضاحت میں کہنا چاہئے: جو مومن سعادت اخروی کی فکر میں ہے' اسے اپنے ایمان کے اقتضا کے مطابق اپنے روحی اور معنوی تکامل وترقی کی فکر میں ہونا چاہئے اور اسے چاہئے کہ راستے کی تمام رکاوٹوں کو ہٹا دے تاکہ مقصد تک پہنچ سکے۔ فطری بات ہے کہ جو مومن اس راہ میں ابتدائی مرحلہ پر ہو' وہ توقع رکھتا ہے اس کے لئے تمام چیزیں سہل' آسان' گوارا اور شیریں ہوں۔ اس نے مشکلات اور تلخیوں کو برداشت کرنے کے لئے اپنے آپ کو آمادہ نہیں کیا ہے' اس لحاظ سے ممکن ہے مشکلات کے ساتھ مقابلہ میں شکست کھا کر راہ حق سے منحرف ہو جائے یا اگر اس راہ پر حسب معمولی آگے بڑھ رہا ہے تو اس لحاظ سے فکر مند ہے کہ خیر و حق کی راہ میں کیوں یہ مشکلات اور دشواریاں پائی جاتی ہیں؟
انسان کے لئے ہمیشہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حق کیوںتلخ اور سنگین ہے اور انسان حق کی راہ میں ناقابل برداشت مشکلات سے کیوں دوچار ہوتا ہے' لیکن باطل شیریں اور آسان ہے؟ انسان کو کیوں تلخیوں کو برداشت کرنا چاہئے اور خوشیوں اور خوشگوار لمحات کو نظر انداز کرے؟ شاید یہ سوال ذہن میں پیدا ہو جائے (نعوذ بااللہ) کیا خدا بخیل ہے کہ اجازت نہیں دیتا ہے تاکہ اس کے دوست دنیا کے خوشگوار لمحات اور خوشیوں سے استفادہ کریں اور ان کے لئے محنت اور دشوار کام فریضہ کے طور پر مقرر کئے جائیں؟ اس میں کونسی مشکل تھی کہ حق کو شیریں بنا دیتا تاکہ سب لوگ حق کے پیرو بن جاتے اور گمراہ نہ ہوتے؟
جب ہم ایک مومن کی زندگی کا ایک فاسق سے موازنہ کرتے ہیں' تو دیکھتے ہیں کہ ایک مومن کو زندگی میں فراوان مشکلات برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ ایک لقمہ حلال روٹی کمانے کے لئے اسے کتنی جانفشانی کرنی پڑتی ہے ۔ گھریلو زندگی میں ' بیوی' بچے اور ہمسایوں کے ساتھ فراوان مشکلات رکھتا ہے۔ اس کے برعکس اس کا فاسق اور لاابالی ہمسایہ یا رشتہ دار ایک اچھی اور خوشحال زندگی بسر کر رہا ہے اور کسی قسم کی مشکلات سے دو چار نہیں ہوتا۔ اس موازنہ کے پیش نظر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ' جو خدا مومن کو دوست رکھتا ہے،جیسا کہ بہت سی روایتوں میں مومن کے ایمان کی ستائش کی گئی ہے کس طرح اسے ان مشکلات اور سختیوں سے دوچار کرتا ہے؟ اپنے معاشی وسائل کے لئے کس قدر اسے محنت کرنی پڑتی ہے۔ جب وہ شادی کرنا چاہتا ہے' کبھی اسے برسوں تک مناسب جوڑے کی تلاش میں پھرنا پڑتا ہے۔ جہاں بھی جاتا ہے لوگ بہانہ کر کے اسے بیوی نہیں دیتے، لیکن دوسرے لوگ آسانی کے ساتھ اپنی من پسند بیوی کو منتخب کرتے ہیں، یہی موازنہ مومن اور کافر معاشرے میں پایا جاتا ہے۔ جب ہم بوسنیہ ہرزگوینہ کے مسلمانوں کا ان کی ہمسائیگی میں موجود غیر مسلمان معاشرے سے موازنہ کرتے ہیں' تو اپنے آپ سے کہتے ہیں کہ اس ملت بوسنی ہرزگوین نے کونسا جرم کیا ہے کہ انہیں یہ مشکلات ظلم و بربریت برداشت کرنی پڑتی ہیں؟ کیوں ان کی ہمسائیگی میں موجود کافر آرام کی زندگی بسر کر رہے ہیں، اور اس مسلمان ملت کی جان' مال اور ناموس ہر لمحہ پائمال کی جائے اور ظالم و جابر قوم ان پر وحشیانہ طور پر حملے کریں؟ اگر خدائے متعال مومنوں کا حامی ہے' تو ان کی کیوں مدد نہیں کرتا ہے؟
یہ سوال مختلف صورتوں میں ہمارے ذہنوں میں پیدا ہوتا ہے اور ہر ایک کے پاس اس کی معرفت کے مطابق اس کا ایک جواب ہے۔ لیکن بہرحال ہم میں سے اکثر لوگوں کے لئے کچھ ابہامات پیدا ہوتے ہیں۔ شاید' جن لوگوں کا ایمان زیادہ ہے' یہ کہیں جو کچھ پیش آتا ہے مصلحت خداوندی کی بنا پر ہے۔
اس قسم کے سوالات اور من جملہ اس سوال کے جواب میں کہ کیوں حق تلخ ہے اور خدائے متعال نے اسے شیریں نہیں بنایا ہے تاکہ سب اس کو قبول کر کے گمراہ نہ ہوتے اور بد بختی سے دوچار نہ ہوتے؟ یہاں پر علمی مباحث بیان کرنے کی گنجائش نہیں ہے اور ہمارا مقصد یہ ہے کہ ان مفاہیم سے عملی نتائج حاصل کریں اور مطلب کو روشن اور واضح کریں چونکہ اگر انسان پر کوئی مطلب مکمل طور پر واضح نہ ہو تووہ اس کے دل پر مناسب اثر نہیں ڈالتا ہے اور یا شیطان وسوسہ ڈالتا ہے اور شبہات ایجاد کر کے اس کے لئے مناسب اثر پیدا ہونے میں رکاوٹ بنتا ہے' مطلب واضح ہونے اور ابہامات دور ہونے کے بعد شبہات اور شیطانی وسوسوں کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی ہے۔
انسان صاحب اختیار ،صاحب انتخاب اور امتحان الٰہی:
دنیا میں انسان کی زندگی اس اصول پر مبنی ہے کہ وہ صحیح راستہ کا خود انتخاب کرے اور اپنے اختیار سے کمال کے مراحل کو طے کرے، انسان کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اپنے تحرک اور سفر میں خود فیصلہ کرنے والا اور آزاد ہے۔ خدا نے ملائکہ جیسی مخلوقات پیدا کی ہے کہ صرف حق کی طرف متمائل ہیں اور اگرچہ ان کا کام اختیاری ہے لیکن ان کا تمایل صرف حق اور خدا کی بندگی پر متعین ہوا ہے اور باطل کی طرف تمایل نہیں رکھتے۔ ان کے لئے حق اور خدا کی عبادت شیریں اور لذت بخش ہے۔ پس خلقت کے نظام میں ان مخلوقات کے لحاظ سے جو صرف حق کی طرف تمایل رکھتے ہیں اور صرف خدا کی عبادت میں مشغول ہوتے ہیں کسی قسم کی کمی اور نقص و عیب نہیں ہے۔ لہذا خدائے متعال نے یہ ارادہ کیا کہ ایک ایسی مخلوق کو پیدا کرے جس کا مقام فرشتوں سے بالاتر ہو' اس لئے انسان کو خلق کیا' جو باطل اور نفسانی خواہشات کی طرف تمایل رکھنے کے باوجود' اختیار کے ساتھ کمال کی راہ کو طے کرے۔ خدا کے لئے گناہ کی لذت سے منہ موڑلے تاکہ ابدی سعادت کو حاصل کرے۔اگر اس مخلوق نے نفسانی خواہشات پر قابو پا کر سعادت کی راہ طے کی' تو وہ یقیناً فرشتوں سے بلند تر ہوگا' کیونکہ وہ دو متضادمیلانات سے روبرو ہوکر اپنے انتخاب اور آزادی سے لذتوں کو چھوڑ کر خدا کی عبادت و بندگی کی معنوت کو حاصل کرتا ہے۔
نتیجہ یہ کہ انسان اس دنیا میں اپنے سامنے دو راستے رکھتا ہے: ایک حق کا راستہ اور دوسرا باطل کا راستہ ہے۔ البتہ توجہ رکھنی چاہئے کہ اگر انسان نے ان دو راستوں میں سے ایک کا انتخاب کیا تو ضروری نہیں ہے وہ مجبوراً آخر تک اس راہ پر چلے۔ گزشتہ بیان کے پیش نظرکہ انسان ایک صاحب اختیار اور آزاد مخلوق ہے قبول کرنا چاہئے کہ چونکہ اصلی راستہ کے انتخاب میں یہ اختیار و انتخاب موجود ہے' اس پر جاری رہنے میں بھی یہ اختیار و انتخاب موجود ہے۔ اس لحاظ سے انسان ہمیشہ راستہ کا رخ بدلنے کی طاقت رکھتا ہے اور ہمیشہ حق و باطل کے دو راستوں کے بارے میں مختار و آزاد ہے۔ان دوراستوں میں سے ایک خدا کا راستہ ہے اور دوسر اشیطان کا راستہ ہے' ایک ترقی اور تکامل کا راستہ ہے اور دوسرا تنزل اور نابودی کا راستہ ہے۔
ایک اور نکتہ ' جس کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے' یہ ہے کہ دنیا امتحان کی جگہ ہے اور قدرتی بات ہے کہ امتحان اس وقت ہوتا ہے جب انسان تلخیوں اور مشکلات سے دوچار ہو تا ہے اور ان پر صبر و تحمل کر کے امتحان میں پاس ہوتا ہے۔ اگر پہلے نقطہ نظر کے مطابق انسان کے لئے ترقی اور تکامل شیرین ہوتا اور باطل تنزل تلخ' تو امتحان کا مفہوم ہی نہیں رہتا' چونکہ امتحان اس لئے ہے کہ انسان اپنی خواہشات کو چھوڑکر خدا کے لئے کام کرے اور اس صورت میں اگر پہلے نقطہ نگاہ کے مطابق حق شیرین ہوتا تو انسان اپنی دلی چاہت کے مطابق تلخ باطل کو چھوڑ کر شیرین حق کے پیچھے دوڑتا نہ کہ خدا کے لئے' اس طرح اگر ہر باطل شیرین ہوتا تو حق کے لئے کوئی حلاوت اور خوشی باقی نہ رہتی' جو خدا کے لئے باطل سے منہ موڑتا اور حق کا راستہ انتخاب کرتا' تو وہ عام خوشیوں سے محروم ہو جاتا' پس ایسا نہیں ہے کہ راہ حق میں کسی قسم کی خوشی موجود نہ ہو۔
بہرصورت حق سنگین اور تلخ ہے اور جو آگاہی کے طور پر حق کا انتخاب کر تاہے فطری بات ہے کہ اس صورت میں وہ راہ حق کی تمام تلخیوں اور مشکلات کو دل و جان سے خریدتا ہے' البتہ تقدیر الہٰی تمام لوگوں کے لئے یکساں نہیں ہے، کیونکہ سبھی کی ظرفیت ایک جیسی نہیں ہوتی اور سب لوگ ہر قسم کی بلا و مصیبتوں کو برداشت کرنے کی ظرفیت نہیں رکھتے ہیں، اس لحاظ سے خدائے متعال نے ظرفیت کے مطابق ہر فرد کے لئے ایک خاص تقدیر عنایت کی ہے، بعض لوگوں کے لئے جوانی میں مشکلات اور دشواریاں مقدر کی ہے اور کچھ لوگوں کے لئے بڑھاپے میں کسی کو فقر میں مبتلا کرتا ہے اور کسی کو بیماری میں ۔ کسی کو اپنی بیوی کے ذریعہ مشکلات میں گرفتارہے اور دوسرے کو اپنے دوست کے ذریعہ۔ ایسا نہیں ہے کہ مومن اپنی زندگی میں کسی بھی دشواری او رمشکل سے روبرو نہ ہو' کیونکہ اس صورت میں کمال تک نہیں پہنچ سکتا ہے۔ چونکہ دنیا امتحان کی جگہ ہے' مومن کو سختیاں برداشت کر کے اپنے ایمان کو تقویت بخش کر احکام الہٰی کی پابندی اور تقدیرات الہٰی پر رضامندی ثابت کرنا ہے۔ یقیناً یہ ایک مشکل کام ہے' لیکن چونکہ وہ مومن ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اس لئے اسے ان تمام سختیوں کو دل و جان سے خریدنا چاہئے۔ لیکن کا فراس قسم کا دعویٰ نہیں کرتا ہے بلکہ اس کی خدا اور حق سے دوستی نہیں ہے۔ وہ چاہتا ہے اس چار دن کی دنیا میں آرام سے رہے' اس کے بعد جو ہونا چاہئے ہو جائے۔ اگر وہ کوئی نیک کام بھی انجام دے' خدا اس کا اجرا سے اسی دنیا میں دیتا ہے:
( من کان یرید الحیوٰة الدنیا وزینتها نوف الیهم اعمالهم فیها وهم فیهالا یبخسون اوٰلئک الذین لیس لهم فی الآخرة الا النار وحبط ما صنعوا فیها و باطل ما کانوا یعملون ) (ہود١٥-١٦)
''جو شخص زندگانی دنیا کا طالب ہے اور اس کی زینت ہی چاہتا ہے ہم اس کے اعمال کا پورا پورا حساب یہیں کر دیتے ہیں اور کسی طرح کی کمی نہیں کرتے ہیں اور یہی وہ ہیں جن کے لئے آخرت میں جہنم کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور ان کے سارے اعمال جو انھوں نے دنیا میں انجام دیئے ہیں باطل و بے اثر کر دیئے جائیںگے''
اس بنا پر حق کے طالبوں کو سختیاں اور دشواریاں برداشت کرنے کے لئے آمادہ رہنا چاہئے اور جو کچھ پیش آئے اس پر راضی ہونا چاہئے' کیونکہ یہی راہ حق کے انتخاب کا تقاضا ہے۔ اگر کوئی سختیاں برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ہے تو وہ راہ حق کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ اختیا رکرلیتا ہے۔ ترقی' معنوی تکامل اوج اور بلندیاںمشکلات کے مقابل میں صبر کے علاوہ کسی اور چیز سے حاصل نہیں ہوتے۔ حق کے تلخ اور باطل کے شیریں ہونے کا راز اس میں مضمر ہے کہ کمال کے طالب کو آزادانہ طور پر حق کا انتخاب کرنا چاہئے اور اس انتخاب کے لئے امتحان کی ضرورت ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو کسی کا امتحان نہیں لیا جاتا۔ یقیناً یہ امتحان انسان کے اعتقاد' ایمان اور حق کی طرف ان کے تمایل کی مقدار کا موازنہ کرنے کی لئے لیا جاتا ہے' اس کے علاوہ یہ امتحان اس لئے ہے کہ معلوم ہو جائے وہ کس حد تک خدا کی مرضی کو اپنی نفسانی خواہشات پر ترجیح دیتا ہے۔ لہذا فرائض سخت اور دشوار ہونا چاہئے تاکہ انسان تقویٰ کے ذریعہ خدا کی رضا اور مشکلات پرصبر و شکیبائی کی مشق سے تکامل و ترقی کی راہ کو طے کرے۔ اگر تمام فرائض راحت اور آسان ہوتے تو سب لوگ مسلمان ہوتے اور کسی کا امتیاز اور فرق معلوم نہ ہوتا۔ دشواریوں اور سختیوں سے مقابلہ کرنے اور درگزر کرنے اور خدا کی مرضی کو ترجیح دینے سے ایک انسان جناب سلمان کے مانند نمایاں اور صاحب امتیاز بن جاتا ہے اور انسانی کمال کی چوٹی تک پہنچنے میں دوسروں پر سبقت حاصل کرتا ہے اور اس طرح کمال کے بالاترین مراحل تک پہنچتا ہے۔
یہاں پر مناسب ہے کہ ایک عظیم عارف و عالم مرحوم الہٰی قمشہ ای رضوان اللہ تعالی علیہ کی داستان کی طرف ایک اشارہ کیا جائے۔ جو ایک عظیم شخصیت کے مالک تھے۔ اس عظیم شخصیت اور مخلص انسان نے قرآن مجید کا ترجمہ کیا ہے اور اس کے عوض کوئی اجرت نہیں لی ہے۔جبکہ اگر وہ حق تالیف اخذ کرتے تو وہ اپنے اور اپنے اہل وعیال کے لئے آرام و آسائش کی زندگی فراہم کر سکتے تھے۔ وہ یونیورسٹی کے پروفیسر ہونے کے باوجود کبھی رکشے پر سوار ہو کر یونیورسٹی جاتے تھے۔ وہ مشھد کے ایک سفر میں جب حرم مقدس حضرت امام رضا علیہ السلام میں داخل ہوئے' تو ان کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ حضرت امام علی رضاعلیہ السلام سے رضایت طلب کریں۔ اسی وجہ سے انھوں نے امام سے مخاطب ہو کر کہا: ''آقا: آپ رضا ہیں' میں بھی آپ کے گھر میں آیا ہوں' خدا سے درخواست کیجئے۔ مجھے ''مقام رضا' عنایت فرمائے!'' جب حرم سے باہر آئے راستہ میں ایک گاڑی کے حادثہ میں زخمی ہوئے اور ان کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ لوگ جمع ہوئے اور ڈرائیور کو پکڑ لیا گیا۔ لیکن انھوں نے لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا: اس کو نہ چھیڑنا' یہ میرے لئے امام رضا علیہ السلام کا تحفہ تھا' میں نے ان سے ''مقام رضا'' کی درخواست کی تھی وہ مجھے مل گیا۔ اگر یہ حادثہ پیش نہ آتا تو معلوم نہیں ہوتا میں ''مقام رضا'' تک پہنچایا نہیں' مجھے ثابت کرنا چاہئے جو کچھ خدانے چاہاہے میں اس پر راضی ہوں اور مجھے کسی قسم کی پریشانی نہیں ہے۔
انسان اور اس کی حق و باطل کی طرف دو اندرونی کشش:
انسان میں مختلف جہتوںسے دو طرح کی کشش موجود ہے' ایسا موقع فراہم ہونا چاہئے تاکہ مشخص ہو جائے کہ انسانی حق و باطل کے درمیان ان دو کششوں کے تضاد اور مقابلہ میں ان میں سے کس کی طرف زیادہ تمائل رکھتا ہے۔ کبھی وہ جس حق کے کام کو انجام دیتا ہے وہ اس کی مرضی اور خواہش سے متضاد اور مخالف نہیں ہے' اس صورت میں اس کا انجام مشکل نہیں ہے۔ مشکل وہاں ہے جب دو کششوں اور جاذبوں کے درمیان تعارض اور تضاد پیدا ہو جائے' شیطان ایک چیز کا حکم دے اور خدائے متعال اس کے خلاف' نفس ایک چیز کو چاہتا ہو اور خدا دوسری چیز کو ۔یہاں پر انسان امتحان و آزمائش سے روبرو ہوتا ہے اور کام کی قدر و منزلت مشخص ہوتی ہے۔ اس صورت میں جس قدر گناہ کا جاذبہ زیادہ ہوگا اور انسان نفسانی خواہشات سے مقابلہ کر کے اس کی مخالفت کرے' اس کا ثواب زیادہ ہے اور نفسانی خواہشات سے اس کی وہ مخالفت اس کے معنوی تکامل و ترقی میں نمایاں اثر رکھتی ہے۔
جو جوان جبلّی جذبات و تمایلات کے باوجود اس سے متناسب گناہ سے پرہیز کرتا ہے' اس کی قدر و منزلت اس بوڑھے سے زیادہ ہے جو اس گناہ کو ترک کرتا ہے۔ اس بوڑھے کے لئے اس گناہ کو ترک کرنا مشکل نہیں ہے کیونکہ وہ اس گناہ سے زیادہ تمایل نہیں رکھتا ہے۔ اس صورت میں اس جوان کا ثواب زیادہ ہے' اس کے مقابلہ میں اگر وہ بوڑھا اس گناہ کا مرتکب ہو جائے'' تو اس کا گناہ بہت زیادہ ہے' کیونکہ وہ کسی دباؤ میں نہیں تھا اور اس گناہ کے بارے میں زیادہ تمایل بھی نہیں رکھتا تھا(بہت برا ہے ایک بوڑھا مرتکب زنا ہو جائے) اگر خدانخواستہ' ایک جوان زنا جیسے کسی گناہ کے خطرہ میں پڑنے کے باوجود اپنی جبلّی خواہشات اور شہوت پر قابو پا سکے تو وہ عروج پر پہنچتا ہے اور اس گناہ سے پرہیز کرنا اس کے کمال کو اضافہ کرتا ہے۔ کیونکہ وہ فراوان اندرونی تلاش اور خدا سے شدید لگاؤ اور بلند ایمان کی بنا پر گناہ سے پرہیز کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ پسفطری بات ہے کہ اس دنیا میں گناہ شیرین ہو اور حق تلخ' تاکہ انسان کا امتحان لیا جائے اور نتیجہ کے طور پر مشخص ہو جائے کہ کون خدائے متعال کو ترجیح دیتا ہے اور کون اپنی نفسانی خواہشات کا انتخاب کرتا ہے اور کون باطل کو پسند کرتا ہے۔
البتہ بدیہی طور پر انسان کی فضیلت اور بلندی اس میں ہے کہ اس کا تکامل وارتقا اختیاری ہو'وہ پورے اختیار و آزاری سے اپنے نفسانی خواہشات سے مبارزہ کرے اور اپنے اختیار اور خدا کی محبت اور اس کی خوشنودی کے لئے نیک کام انجام دے اور گناہوں سے پرہیز کرے۔
کہا گیا ہے کہ حق تلخ ہے اور باطل شیرین' لیکن باطل کی شیرینی اور حق کی تلخی عام لوگوں کے لئے ہے' نہ سبھی کے لئے۔ عام لوگ اپنے فطری تقاضوں کے تحت اپنی خواہشات کو پورا کرنے کے درپے ہوتے ہیں اور جو فرائض ان کے لئے محد ودیت ایجاد کریں' وہ ان کے لئے دشوارا ور سخت ہوتے ہیں۔ اس کے مقابل میں باطل' ان کے لئے سہل اور آسان ہے' کیونکہ اس کے انجام میں کسی قسم کی محدودیت اور دشواری نہیں دیکھتے۔ انسان کے لئے بہت آسان ہے' کہ بیہودہ و لغو بات کرے' لیکن اگر صحیح بات کرنا چاہے تو اسے اپنے ایک ایک کلمہ پر غور و فکر کرنا ہوگا' ایسا نہ ہو کہ بے جا بات منھ سے نکل جائے' اور ایسا نہ ہو کہ وہ بات چغلخوری' غیبت اور تہمت شمار ہو جائے اور ایسا نہ ہو کہ اس بات کے ذریعہ کسی کا مذاق اڑایا جائے کہ جس سے اس کو اذیت پہنچے وہ ہر پہلو سے فکر کرتا ہے کہ اس کی بات کے کیا آثار اور نتائج نکلیں گے، لیکن اگر بکواس کرنا چاہے تو اپنا منہ کھولتا ہے اورجو چاہتا ہے کہہ ڈالتا ہے۔
یہ جو کہا جاتا ہے کہ ''پل صراط'' بال سے زیادہ باریک اور شمشیر سے زیادہ تیز ہے' وہ اس لحاظ سے ہے کہ انسان جو قدم اٹھانا چاہے اور جس راہ پر بھی چلنا چاہے' اس کو ہوش و حواس میں رہنا چاہئے کہ یہ راستہ کہاں پر منتہی ہوتا ہے اور کونسے لوازمات کی ضرورت ہے' کیا خدائے متعال راضی ہے یا نہیں ' اسے ہمیشہ اپنے ہر کام اور ہر رفتار کے سلسلے میں اپنے محرک کی فکر میں رہنا چاہئے' اس بناء پر اسے اپنی زبان کے بارے میں ہوشیار رہنا چاہئے کہ ہر بات کو نہ کہے اور اپنی آنکھوں کا خیال رکھنا چاہئے کہ ہر جگہ نگاہ نہ کرے۔ یقیناً تمام جوانب کی رعایت کرنا بہت مشکل ہے اور فرائض کی انجام دہی خون جگر پینے کے مترادف ہے۔ اس کے مقابل میں اگر انسان باطل اور اپنے نفسانی خواہشات کے مطابق عمل کرنا چاہے' تو اس کے لئے بہت آسان ہے اور وہ زندگی میں خوشی اور حلاوت کا احساس کرتا ہے۔ البتہ حق کے طالب کے لئے ساری مشکلات دنیا میں ہیں اور بہشت میں اس کے لئے کسی قسم کا رنج والم نہیں ہے۔
( الذی احلنا دارالمقامة من فضله لا یمسنا فیها نصب ولا یمسنا فیها لغوب ) (فاطر٣٥)
''اس نے ہمیں اپنے فضل و کرم سے ایسی رہنے کی جگہ پروارد کیا ہے جہاں نہ کوئی تھکن ہمیں چھو سکتی ہے اور نہ کوئی تکلیف ہم تک پہنچ سکتی ہے۔''
بہشت میں نہ صرف دنیا میں موجود ہ سختیوں اور مشکلات کی جیسی سختیاں اور مشکلات نہیں ہیں بلکہ بہشتی بھوک کا بھی احساس نہیں کرتے' جبکہ غذا کھانے کیطرف تمایل رکھتے ہیں اور اس سے کھانے کی لذت اٹھاتے ہیں۔ انسان کی دنیوی فطری زندگی سے رنج و مشقت کا چولی دامن کا ساتھ ہے' مومن و کافر دونوں سختی و مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں:
( لقدخلقنا الا نسان فی کبدٍ ) (بلد٤)
''ہم نے انسان کو مشقت میں رہنے والا بنایا ہے۔''
یہی دنیا کی زندگی کا فرومومن دونوںکے لئے ہے' اہل حق اور اہل باطل میں فرق ہے' اہل باطل نسبی آرام و آسائش کے مالک ہیں اور زندگی سے شیرینی کا احساس کرتے ہیں' لیکن اس کے مقابلہ میں اہل حق کے لئے زندگی تلخ ہے۔ البتہ ایسا نہیں ہے کہ اہل حق کے لئے پوری زندگی تلخ ہو بلکہ دنیا کی تلخی ان کے لئے نسبی ہے' اولیائے الہٰی کیلئے بھی خاص لذتیں ہیں۔ وہ بھی کھانے اور سونے کی لذت سے بہرہ مند ہیں' لیکن ان کی دنیوی سختیاں اور مشکلات اہل باطل کی مشکلات سے زیادہ ہیں۔
اس کے پیش نظر کہ انسان فطرت کی آغوش میں بالیدگی اور پرورش پاتا ہے' قدرتی طور پر پہلے فطری حلاوت اور خوشیاں محسوس کرتا ہے۔ دنیوی' مادی اور حسی لذتوں کو درک کرنے کے لئے اس کا ذائقہ آمادہ تر ہوتا ہے' معنوی ذائقہ پانے میں وقت لگ جاتا ہے۔ حق کے راستہ پر اختیاری سفر کرنے والے کارخیر کی عادت' زندگی کی تلخیوں کو برداشت کرنا اور مادی لذتوں سے چشم پوشی'آہستہ آہستہ اپنے ذائقہ سے حق کی حلاوت کامزہ چکھتے ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کے بارے میں قرآن مجید نے بھی اشارہ کیا ہے:
( واستعینوا بالصبرو الصلوٰة و انها لکبیرة الا علی الخاشعین ) (بقرہ٤٥)
''صبر اور نماز کے ذریعہ مدد مانگو' نماز بہت مشکل کام ہے سواء ان لوگوں کے جو خشوع و خضوع والے ہیں۔''
خدائے متعال فرماتا ہے: نماز خاشعین کے علاوہ عام لوگوں کے لئے ایک سنگین بوجھ ہے۔ بعض لوگ صبح سویرے نیند سے اٹھ کر ورزش میں مشغول ہوتے ہیں اور سخت و سنگین کام انجام دیتے ہیں' لیکن اگر وہ دورکعت نماز پڑھنا چاہیں تو سنگینی کا احساس کرتے ہیں: نماز کے لئے نیند سے نہیں اٹھتے ہیں' لیکن ورزش کے لئے نیند سے اٹھتے ہیں' ممکن ہے ایک گھنٹہ تک ورزش کریں' دوڑیں اور کوہ نوردی کریں' چونکہ ان کا ذائقہ نماز کی لذت کو درک نہیں کرتااور ورزش کی لذت اور اس کے فائدہ کو محسوس کرتا ہے' چونکہ کہا گیا ہے کہ ورزش بدن کے لئے مفید اور نشاط بخش ہے' اس لئے لوگ اس سے لذت کا احساس کرتے ہیں۔ اس کے مقابل میں ان کا ایمان اتنا قوی نہیں ہے کہ خدا وند متعال کی فرمائش کے مطابق پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ائمہ معصوم پرایمان لا کر اعتماد کریں۔
اہل خشوع اور خدا کو پہچاننے اور اس پر ایمان لانے والوں کے لئے صرف نماز بار گراں نہیں، بلکہ آسان بھی ہے اور وہ اس سے لذت محسوس کرتے ہیں۔ چونکہ وہ معنویبلوغ کو پہنچے ہوئے ہیں، اس لئے نماز میں خدا سے محبت کرتے ہیں اور نماز کی حلاوت کا اس قدر احساس کر تے ہیں کہ اس سے فارغ ہونا نہیں چاہتے ان کے لئے نماز اور خدا سے مناجات سے بالاترین کوئی لذت نہیں ہے۔ اس لحاظ سے بعض بزرگ فرماتے تھے: اگر دنیا کے بادشاہوں کو معلوم ہوتا کہ نماز میں کس قدر لذت ہے تو وہ اپنی سلطنت کو چھوڑ کر، نماز کے پیچھے پڑجاتے! انبیاء اولیائے الہٰی اور ان کے مکتب کے تربیت یا فتہ افراد کے لئے حق اس قدر شیرین اور دلچسپ ہے کہ اگر اس سے عدول کریں تو احساس کرتے ہیں کہ اپنے کسی عزیز ترین شخص کو کھو دیا ہے۔ انہوں نے راہ حق اور کارخیر انجام دینے کے بارے میں اتنا اُنس وابستگی پیدا کی ہے کہ اگر کسی نیک کام کو ترک کرتے ہیں تو احساس کرتے ہیں کہ کسی ایسی چیز کوگم کردیا ہے جس کی یاد کو اپنے دل سے نکالنا ان کے لئے ناممکن ہے۔ جو لوگ سحرخیزی کے عادی ہیں اگر وہ کسی رات کو مناجات کے لئے نہ اٹھ سکیں، تو وہ پریشان رہتے ہیں۔
حسی اور دنیوی لذتوں کی طرف عمومی تمایل:
چونکہ اکثر لوگ دنیوی اور حسی لذتوں کی طرف میلان رکھتے ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ انسان کیا کرے تاکہ تکامل و ترقی کی راہ پرگامزن ہو، اپنے اندر مادی رجحان اور حیوانی لذتوں کو پاکر ان سے چشم پوش کر کے حق کے راستہ کی طرف قدم بڑھائے؟ جواب میں کہنا چاہئے کہ لذت خواہی انسان کی فطرت میں موجود ہے۔ انسان کے انجام دیئے جانے والے کاموں میں محرک وہ لذت ہے جو اسے حاصل ہوتی ہے۔ ہم وہ کام انجام دیتے ہیں جسے ہم پسند کرتے ہیں اور جس کام کو پسند نہیں کرتے، اس سے پرہیز کرتے ہیں۔ باطل اور گناہ میں بھی اپنے لئے ایک لذت پاتے ہیں، لیکن ان سے چشم پوشی اور اجتناب کا راستہ یہ ہے کہ گناہ کے نتائج، انجام اور گناہ کی وجہ سے پیدا ہونے والی مشکلات کے بارے میں فکر کریں یا نیک کام کی لذتوں کے بارے میں فکر کریں۔ اگر چہ نیک کام اور حق کی سختیوں کو برداشت کرنا دشوار ہے، لیکن اگر ہم ان کی جزا خوش کرنے والے انجام کو مدِ نظر رکھیں تو ہمارے لئے وہ ساری مشکلات آسان ہوجائیں گی۔ حقیقت میں لوگ سخت اور دشوار دنیوی کام انجام دینے کے بارے میں یوں مواز نہ کرتے ہیں:
جو مزدور صبح سویرے ایک محرک کی بنا پر ایک سخت کام شروع کرتا ہے اور شام تک کام کرتا رہتا ہے اور پسینہ پسینہ ہوجاتا ہے، وہ برداشت کی گئی تمام سختیوں سے لذت کا احساس کرتا ہے، کیونکہ وہ اپنے کام کے نتیجہ پر نظر رکھتا ہے۔ نانوائی جو کبھی ٥٠ درجہ گرمی میں روٹی پکاتا ہے، تمام مشکلات کو برداشت کرتا ہے، کیونکہ اجرت لیتا ہے اور اس سے اپنی زندگی کی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ وہ جب اپنے کام کے نتیجہ پر غور و فکر کرتا ہے اور یہ کہ اس اجرت سے اپنی زندگی کے بعض مشکلات کو دور کرتا ہے، یہ امرباعث بنتا ہے کہ وہ زندگی سے لذت محسوس کرے، کام کی زحمت اور محنت اس کے لئے آسان ہوجاتی ہے۔ حقیقت میں ان مشکلات کو برداشت کرنا عقلمندی ہے اور سب لوگ ایسے ہی ہیں کہ جب سختیوں کو لذتوں سے موازنہ کرتے ہیں، تو ایسے کام کو انجام دیتے ہیں جس میں زیادہ لذت ہو۔ اگر وہ اپنے کام میں زیادہ اجرت اور نفع کمائیں تو بالآخر زیادہ لذت پاتے ہیں۔ حقیقت میں جو اجر و پاداش براہ راست اپنے کام سے حاصل کرتے ہیں، اس میں کوئی لذت نہیں ہوتی ہے، بلکہ وہ لذت پانے کے لئے ایک وسیلہ ہوتا ہے، انسان پیسے کے ذریعہ اپنی زندگی کے لئے گھر اور ضروری اشیاء تہیہ کرتا ہے اور ان سے لذت پاتا ہے۔ پس عقلمند انسان کام کی سختی کو برداشت کرتا ہے تاکہ سر انجام کام کی سختی سے بہتر لذت حاصل کرے۔
عاقل انسان نشہ آور چیزوں کے استعمال اور عارضی لذت سے پرہیز کرتا ہے، کیونکہ وہ ان کے نتائج کے بارے میں سوچتا ہے، وہ جانتا ہے کہ چند لمحوں کے لئے لذت پاتا ہے اور لاش کی طرح مردہ ہوکر گر جاتا ہے، اور عمر بھر کے لئے بدبخت ہوجاتا ہے۔ اگر ہم یقین کریں کہ گناہ جس قدر بھی شیریں اور لذت بخش ہو اس کا انجام کتنا بُرا ہے۔ اگر دنیا میں ہم اسکے برے انجام سے دو چار نہ بھی ہوں مگر آخرت کی مصیبت میں گرفتار ضرورہوں گے تو جس دلیل سے ہم نشہ آور چیزوں سے پرہیز کرتے ہیںاسی دلیل کی بنیادپر گناہ کی لذتوں کو بھی نظر انداز کریں تاکہ عذاب ابدی میں مبتلا نہ ہوں اس سلسلہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
''ورب شهوة ساعة تورث حزناً طویلا''
چند لمحوں کی لذتیں جن کا انجام طولانی مشکلات اور مصائب،ہیں، ہمارے زمانے میں ان کے فراوان نمونے پائے جاتے ہیں۔ گزشتہ زمانے میں صرف شراب تھی جو انسان کو چند لمحوں کے لئے مست و مدہوش کرتی تھی اور اس کے بعد اس کے برے اثرات رونما ہوتے تھے، لیکن آج نشہ آور چیزوں کے انواع و اقسام میں اضافہ ہواہے۔ بُرادوست انسان کو دھوکہ دیتا ہے اور ہیروئن جیسی نشہ آور چیز کی لذت بیان کر کے اسے استعمال کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ پہلی بار انسان لذت کا احساس کرتا ہے، دوبارہ اسے استعمال کرتا ہے اور سر انجام اس کا عادی بن جاتا ہے اور عمر بھر کے لئے بد بخت ہوتا ہے۔ دوسرے گناہ بھی اس طرح کے ہیں۔ اگر ہم فکر کریں کہ جن گناہوں کے ہم مرتکب ہونا چاہتے ہیں ان کا کتنا برا انجام ہے، تو ہم ان سے پرہیز کریں گے۔ بہت سے گناہ ایسے ہیں جو آخرت کے علاوہ انسان کو اسی دنیا میں مشکلات سے دوچار کر کے رکھ دیتے ہیں۔ کبھی نامحرم پر ایک نظر ڈالنا انسان کو عمر بھرکے لئے بدبخت اور بیچارہ بنا دیتا ہے اور اس کے سبب سے ایک خاندان ویران ہوجاتا ہے، یہ اس گناہ کا دنیوی انجام ہے، اخروی گرفتار یاں اپنی جگہ پر ہیں:
( فاذاقهم اللّٰه الخزی فی الحیوٰة الدنیا ولعذاب الآخرة اکبرلو کانوا یعلمون ) (زمر٢٦)
''پھر خدا نے انہیں حیات دنیا میں ذلت کا مزہ چکھایا اور آخرت کا عذاب تو بہر حال بہت بڑا ہے اگر انہیں معلوم ہو سکے۔''
ایک دوسری جگہ پر خدائے متعال فرماتا ہے:
( لهم عذاب فی الحیٰوة الدنیا و لعذاب الآخرة اشق... ) (رعد٣٤)
''ان کے لئے زندگانی دنیا میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب تو اور زیادہ سخت ہے''
پس، ہم گناہ کی لذت کو اس کے انجام سے موازنہ کر تے ہوئے یہ کوشش کریں کہ گناہ میں آلودہ نہ ہوں، خاص کر جب تک گناہ کا جاذبہ ہم میں اثر نہ کرے اور ہم گناہ کی سرحدتک نہ پہنچیں گناہ سے پرہیز کرنا آسان ہے، چونکہ گناہ کے جاذبہ نے ہم پر اثر کیا اور ہم گناہ کی سرحد تک پہنچ گئے، تو بہت مشکل ہے کہ ہم اس کو انجام دینے سے پرہیز کریں۔ ایک بزرگ شخص خدا ان پر رحمت نازل کرے کہتے تھے : اے جوانو! خدا سے دعا کرو کہ تمہاری شہوت کی دیگ ابلنے نہ پائے، کیونکہ اس صورت میں اسے خاموش کرنا مشکل ہے، جب تک انسان شہوت یا غضب کا اسیر نہیں ہے، آرام میں ہے اور فکر کر سکتا ہے اور فیصلہ کرکے محاسبہ کر سکتا ہے، اور اس کی شہوت مشتعل ہونے تک گناہ سے اجتناب کر سکتا ہے لیکن اگر پہلے سے فیصلہ نہ کرے اور فکر نہ کرے تو شہوت اور غضب کے مشتعل ہونے پر فکر کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہتی ہے، کیونکہ شہوت کے مشتعل ہونے سے عقل کا چراغ بجھ جاتا ہے۔
شیطان انسان کو منحرف کرنے کے لئے شہوت اور غضب کے علاوہ دوسری طاقتیں بھی رکھتا ہے کہ من جملہ ان کے اجتماعی عوامل ہیںسے ایک یہ کہ، سماج میں ہر شخص دوسروں کے جیسا ہونا چاہتا ہے۔ یہ ایک روحانی اور نفسیاتی عامل ہے کہ انسان کے بچپنے میں پیدا ہوتی ہے۔ البتہ اس عامل کے بھی دوسرے عوامل کی طرح مثبت و منفی آثار ہیں' درحقیقت خیر و شر کی سرحد کو پہچاننا چاہئے اور اس عامل سے صحیح حد تک استفادہ کرنا چاہئے تاکہ انسان اندھی تقلید نہ کرے۔
دوسروں کے ساتھ ہم رنگ ہونا' بہت سے مواقع پر انسان کی نجات کا سبب بنتا ہے' کتنے ہی زیادہ جوانوں نے اچھے دوستوں سے مصاحبت کی وجہ سے مسجد کی طرف رخ کیا ہے اور کتنے ہی جوان اس عامل کی وجہ سے محاذ جنگ کا رخ کر چکے ہیں۔وہ ابتداء میں محاذ جنگ پر جانے میں کوئی خاص دلچسپی نہیں رکھتے تھے' لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے دوست اور محلے کے نوجوان محاذ جنگ پر جا رہے ہیں' ان میں بھی محاذ جنگ میں جانے کی رغبت پیدا ہو گئی۔ یہ اس عامل کے اچھے اثرات ہیں، اس کے برعکس جس ماحول کو فساد نے آلودہ بنایا ہو' وہاں پر یہی عامل فساد کی طرف میلان میں اضافہ کا سبب بنتا ہے' خاص کر نوجوانوں میں کیونکہ نوجوان اپنے آس پاس کے ماحول سے فوراً متاثر ہوتے ہیں' اور ماحول پر حاوی فساد اور برائی کے مقابلہ میں کوئی خاص استقامت نہیں دکھا سکتے ہیں لیکن سن رسیدہ لوگوں میں دوسروں سے متاثر ہونے کا عامل ضعیف تر ہوتا ہے۔
معاشرے کی اکثریت یا برتر افراد یا ترقی یافتہ دنیا کی ملتوں کا نمونہ نوجوان ہیں۔ جب لوگوں کی اکثریت میں کسی قسم کا میلان موجود ہو' تو نمونوں کی تقلید کرنے والا انسان اپنے آپ سے کہتا ہے:عام لوگ عقل رکھتے ہیں' پاگل تو نہیں ہیں' ا سلئے ان کا کام صحیح ہے، اس لحاظ سے ہم دیکھتے ہیں کہ بعض افراد اس عامل سے متاثر ہو کر فساد اور برائیوں میں پھنس جاتے ہیں' خصوصاً اگر معاشرے کی اکثریت فاسد ہو۔
تئیسواں درس:
فقیہ کامل اورتوحید کے اعتقاد کی عملی صورت
* حضرت ابراہیم علیہ السلام اور توحید افعالی پر اعتقاد
* غیر خدا پر اعتماد' توحید افعالی پر عدم اعتقاد کا نتیجہ
* شیخ انصاری اور شیطان کے پھندے سے فرار
* تواضع عزت و سربلندی کا سبب
* حضرت سجاد علیہ السلام اور نقص و فقر ذاتی کا ادراک
* پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کلام میں حقیقی ایمان کا نتیجہ
توحید کے اعتقاد کی عملی صورت
''یا اباذر: لا یفقه الرجل کل الفقه حتیٰ یری الناس فی جنب اللّٰه تبارک و تعالیٰ امثال الأ باعر' ثم یرجع الی نفسه فیکون هو احقر حاقرٍ لها یا اباذر! لا تصیب حقیقه الایمان حتی تری الناس کلهم حمقیٰ فی دینهم ' عقلا فی دنیا هم''
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جناب ابوذر کو کئے جانے والے موعظہ کے سلسلے میں ہم ایک ایسی بحث تک پہنچ گئے جوتوحید افعالی سے مربوط ہے' جس کی وضاحت ضروری ہے: توحید پر اعتقاد کے چند مراتب ہیں کہ ان کا سب سے ادنی مرتبہ اسلام میں نصاب توحید ہے اور ہر شخص اس اعتقاد کی بنیاد پر اسلام کے نقطہ نظر سے موحد کہلاتا ہے' خدا کی وحدانیت پر اعتقاد اس کی ذات و صفات میں ''ربوبیت تکوینی'' اور ''ریوبیت تشریعی(۱) '' کی توحید پر اعتقاد نیز اس پر اعتقاد کہ خدائے متعال تنہا معبود ہے۔ اس مرحلہ سے بالا تر وہ مراحل ہیں کہ منجملہ ان میں توحیدا فعالی پر اعتقاد رکھنا ہے توحید افعالی یعنی انسان ابتداء علم کے ذریعہ اور اس کے بعد شہود کے ذریعہ یقین پیدا کرے کہ کائنات کے اندر موثر حقیقی خدا وند عالم ہے ، اس کے علاوہ کوئی بھی مخلوق مستقل حیثیت سے اثر نہیں رکھتی ( رہی یہ بحث کہ یہ اعتقاد مسئلہ اختیار و تکلیف سے مناسبت رکھتاہے یا نہیں تو یہ کلامی و فلسفی بحثوں میں بیان ہو اہے یہاں پر اس کی گنجائش نہیں ہے۔
جیسا کہ ذکر ہوا کہ توحید افعالی کے اعتقاد کے لئے دو مرحلے ہیں' پہلا مرحلہ: استدلال کے ذریعہ توحید افعالی کا اعتقاد' یعنی اس امر کا برہان و علم حاصل کرنا کہ کوئی بھی مخلوق ذاتی طور پر آزاد اور مستقل نہیں ہے بلکہ ہر مخلوق علت(خدا) کے ساتھ مربوط و وابستہ ہے۔ تمام تاثیر' علت اور معلول ذات مقدس پروردگار کا سرچشمہ ہیں۔ اگرچہ توحید پر اعتقاد کا یہ مرحلہ بہت اہم اور قابل قدر ہے' لیکن اس کی اہمیت توحید افعال کی شہود کے مرحلہ کے برابر نہیں ہے۔
دوسرا مرحلہ: انسان توحید افعالی پر علم حاصل کرنے کے بعد سیر و سلوک اور شہود کی راہ سے ایک عرفان تک پہنچتا ہے اور باورکرتا ہے کہ کائنات میں حقیقی موثر صرف اللہ ہے۔ اس مرحلہ میں انسان اس بات کو درک کرتا ہے کہ شدت و ضعف کے لحاظ سے اللہ کے علاوہ کوئی بھی انسان کی تقدیر کے بارے میں موثر نہیں ہے اور یہ خدائے متعال ہے جو نفوذ رکھتا ہے اور اسباب و وسائل میں ظہور پیدا کرتا ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور توحید افعالی پر اعتقاد:
توحید افعالی کے معتقدافرادکی بہترین مثالیں' جو اسباب و مسبات کے نظام کو مشیت الہٰی کے ارادہ سے وابستہ جانتے ہیں اور مستقل و براہ راست تاثیر کو صرف اللہ سے مربوط جانتے ہیں' اس کے علاوہ کسی کو ملجاوماوی نہیں جانتے' انبیاء علیہم السلام اور دین کے پیشوا ہیں۔ یہاں پر ہم موحدوں کے نمایاں اسوہ یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس نے دعوت الہٰی کی راہ میں کسی سے خوف نہ کیا' بابل کے مشرکوں اور بت پرستوں کے سامنے ہتھیار نہ ڈالے اور ان کی عدم موجودگی میں بتوںکو توڑ ڈالا' اور جب وہ لوگ شہر کی طرف واپس آئے تو بتوں کے توڑے جانے کے بارے میں آگاہ ہوئے۔ حضرت ابراہیم نے ان سے مجادلہ و مناظرہ کیا اور واضح روشن اور قوی استدلال سے ان کے بے بنیاد اعتقادات کو باطل ثابت کیا۔ یہاں تک وہ لوگ اس کی قوی منطق کے مقابلے میں کچھ نہ بول سکے صرف ایک ہی چارہ ان کی نظروں میں آیا کہ حضرت ابراہیم کو اپنے غضب کی آگ میں جلا دیں:
(قالوا حرّ قوه وانصروا اٰلهتکم ان کنتم فاعلین ) (انبیائ٦٨)
''ان لوگوں نے کہا ابراہیم کو آگ میں جلا دو اور اگر کچھ کرنا چاہتے ہو تو اس طرح اپنے خداؤں کی مدد کرو۔''
اس کے بعد بہت سی لکڑیاں جمع کی گئی اور مقررہ دن پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ کے اندر ڈال دیا، اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام صرف ذات مقدس الہٰی کی طرف متوجہ تھے۔ یہاں تک حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام فرماتے ہیں: اس دن حضرت ابراہیم علیہ السلام صرف یہ فرماتے تھے:
''یا احدُ یا احدُ یا صمدُ یا صمدُ یا من لم یلد ولم یولد ولم یکن له کفواً احد''
اس کے بعد فرمایا: ''صرف خدائے متعال پر توکل کرتا ہوں ''(۲)
وہ اس قدر خدا پر اعتماد رکھتے تھے اور اپنے ایمان پر راسخ الاعتقاد تھے اور پورے وجود کے ساتھ اپنے آپ کو ر ب العزت کا محتاج پاتے تھے اور انہوں نے خدا کے سوا کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا یہاں تک خدا کے مقرب فرشتے کی طرف سے مدد کی پیشکش بھی قبول نہیں کی:
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
''لما القی ابراهیم' علیه السلام' فی النار تلقّاه جبرئیل فی الهواه وهو یهوی فقال: یا ابراهیم الک حاجة ؟ فقال اما الیک فلا'' (۳)
''جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال دیا گیا، جبرئیل نے آسمان سے نازل ہوتے ہوئے انھیں دیکھا اور عرض کی: کیا کوئی حاجت ہے؟ حضرت ابراہیم نے فرمایا: ہے لیکن تم سے نہیں؟''
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بیان جو شیعہ و سنی دونوں سے نقل ہوا ہے' اس الہٰی سورما کی بزرگ روح میں توحید کے بلند مراتب کے وجود پر دلالت کرتا ہے اور یہ ایسا اعتقاد اور جذبہ ہے جس نے انہیں غیبی امداد کے لائق قرار دیا۔ اللہ نے آگ کو حکم دیا کہ سرد ہو جائے۔ کہا جاتا ہے :آگ اتنی ٹھنڈی ہو گئی کہ حضرت ابراہیم سردی سے کانپ رہے تھے اور ان کے دانت بج رہے تھے اور انھوں نے اپنے دانتوں کو دبا رکھا تھا یہاں تک خدائے متعال نے دوبارہ حکم دیا: ''اے آگ ان پر سالم ہو جائو ''!اس کشمکش کے دوران جبرئیل نازل ہوئے اور آگ کے اندر حضرت ابراہیم کے پاس بیٹھ گئے اور گفتگو کی۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
''حضرت علی علیہ السلام کے غلام قنبر حضرت سے انتہائی محبت کرتے تھے' اور جب حضرت گھر سے باہر نکلتے تھے' توقنبر بھی ایک تلوار لئے ہوئے ان کے پیچھے ہو لیتے تھے ،ایک رات حضرت علی نے جب انھیں دیکھا تو فرمایا: اے قنبر! کیا کر رہے ہو؟ عرض کی: یا امیر المومنین، آیاہوں تاکہ آپ کے پیچھے پیچھے چلوں۔ حضرت نے فرمایا: افسوس ہو تم پر! تم اہل آسمان یا اہل زمین سے میری حفاظت کر رہے ہو؟ عرض کی: اہل زمین سے۔ حضرت نے فرمایا: اہل زمین خدا کی اجازت کے بغیر میرے ساتھ کچھ نہیں کرسکتے ہیں، تم واپس چلے جائو، وہ واپس چلے گئے۔
غیر خدا پر اعتماد، تو حید افعالی پر عدم اعتقاد کا نتیجہ:
جو کچھ بیان ہوا وہ توحید افعالی پر اعتقاد، نقطہ نظر اور رفتارو کر دار کا انعکاس تھا کہ انسان کوچاہئے صرف خدا پرتکیہ کرے اور اس کے علاوہ کسی کو خاطر میں نہ لائے، جبکہ توحید افعالی کے مرحلۂ شہود تک پہنچنے سے پہلے انسان دوسروں پر بھر وسہ کرتا ہے اور سوچتا ہے ان کا محتاج اور نیاز مند ہے اور امید رکھتا ہے کہ وہ اس کی حاجت پوری کریں گے اور اس کی مشکل کو دور کریں گے۔ یایہ کہ اسے کوئی نقصان پہنچائے گا ، اس لئے وہ خوف و تشویش میں ہوتا ہے۔ حقیقت میں وہ تاثیر کے بارے میں مستقل اور آزاد اسباب و مسبات کا قائل ہے اور ان پر بھروسہ کرتا ہے۔ یقینا یہ رویہ توحیدی تفکر کے ساتھ تناسب نہیں رکھنا یہ تصور ''بحول اللّٰه وقوته اقوم و اقعد'' اور ولاحول ولا قوته اِلاّٰ باللّٰه '' کے ساتھ تناسب نہیں ہے۔ توحیدی معرفت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان خدا کے علاوہ کسی پر تکیہ نہ کرے اور ماسوا اللہ کسی پر اعتقاد نہ رکھے۔ اس سلسلہ میں پیغمبر خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
''یا اباذر! لا یفقه الرجل کل الفقه حتی یری الناس فی جنب اللّٰه تبارک و تعالیٰ امثال الا باعر ' ثم یر جع الی نفسه فیکون هو احقر حاقر لها''
''اے ابوذر! انسان تب تک کامل فہم و ادراک تک نہیں پہنچتا یہاں تک کہ لوگوں کو عظمت الہٰی کے سامنے بے شعور اونٹوں کے مانند دیکھے، اس کے بعد اپنے آپ پر نظر ڈال کر خود کو ان سے کم ترجان لے۔''
دلچسپ بات یہ ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظرمیں کوئی شخص کامل فقیہ نہیں ہوتا، مگر یہ کہ انسانوں کے اختیارات کسی اور کے ہاتھ میں دیکھے، اونٹوں کی طرح جن کی لگام ساربان کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور وہ اونٹوں کے گلہ کی ہدایت کرتا ہے اور وہ آزاد نہیں ہیں، حرکت کی جہت کا انتخاب اور کاموں کی تنظیم و تدبیر کسی اور کے ہاتھ میں ہے، لگام اس کے ہاتھ میں ہے۔
ابتدا میں انسان تصور کرتا ہے کہ دوسرے لوگ اپنی حرکتوں، جنگوں، کامیابیوں اور پیدا ہونے والے تحولات میں آزاد ہیں۔ لیکن جب اس کی معرفت میں بالیدگی پیدا ہوتی ہے اور معرفت تو حیدی تک پہنچتا ہے، تو انہیں اونٹوں کی قطارکے مانند دیکھتا ہے کہ ان کی لگام کسی اور کے ہاتھ میں ہے اور ان اسباب کے متحرک سلسلہ کو خدا جانتا ہے۔ صحیح ہے کہ کچھ اسباب و مسبات کی بنا پر یہ سلسلہ حرکت میں ہے، لیکن یہ سلسلہ متزلزل ہے۔ کوئی ہے جس نے ان اونٹوں کی لگام کو پکڑ رکھا ہے۔ البتہ یہ اس معنی میں نہیں ہے کہ انسان مجبور ہے، بلکہ بات یہ ہے کہ مطلق تاثیر اس کے اختیارمیں نہیں ہے، ایسا نہیں ہے کہ وہی سب کچھ ہیں اور فیصلہ کرنے والے ہیں:بلکہ کسی اور نظام کے تحت ہیں اور بشری ارادہ سے بالا کوئی اور ارادہ ان پر حکومت کر رہا ہے۔ پس، موحد وہ ہے جو اللہ کو فراموش نہ کرے اور کائنات کے نظام میں دست قدرت الہٰی سے آنکھ بند نہ کرے، اگر ایسا نہیں ہے تو۔ توحید کو درک نہیں کیا ہے۔ البتہ ان مطالب کا بیان اور وضاحت آسان نہیں ہے۔ اس حقیقت کے فہم و ادراک میں بیان کا کوئی بنیادی رول نہیں ہے، بلکہ ہمیں خدا وند متعال سے درخواست کرنی چاہئے تاکہ ان حقائق کو درک کرنے کی توفیق عنایت فرمائے۔
(پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیان میں فقیہ، وہ اصطلاحی فقیہ نہیں ہے کہ جس کا آج مجتہد کے لئے احکام شرعی کے استنباط کے سلسلہ میں اطلاق ہوتا ہے، بلکہ یہ لغوی معنی میں ہے، یعنی وہ شخص جسے معارف دینی میں حقیقی فہم و شعور ہو)
معرفت کی اس حد تک پہنچنے کے باوجود بھی انسان کو شیطانی وسوسوں سے اپنے کو محفوظ نہیں سمجھنا چاہئے، کیونکہ شیطان کسی بھی وقت انسان کو نہیں چھوڑتا ہے۔ خاص طور پر شیطان ان لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ تلاش کرتا ہے جنھوں نے حق و کمال کی راہ میں قدم رکھا ہے۔ لیکن کمزور ایمان والے لوگ خود شیطان کے پیچھے قدم بڑھاتے ہیں اور شیطان کو انھیں منحرف کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی ہے۔
شیخ انصاری اور شیطان کے پھندے سے فرار:
ایک معروف داستان ہے کہ شیخ انصاری کے زمانے میں ایک شخص نے خواب میں شیطان کو دیکھا کہ ان کے ہاتھ میں کافی تعداد میں رنگا رنگ رسیاں ہیں، ان میں سے بعض رسیاں سبز، بعض سرخ اور بعض زرد رنگ کی تھیں ان رسیوں میں سے کچھ رسیاں باریک تھیں اور کچھ موٹی۔ ان رسیوں میں ایک رسی کافی موٹی تھی جو ٹوٹ گئی تھی۔ اس شخص نے شیطان سے پوچھا: یہ رسیاں کس لئے ہیں؟ شیطان نے کہا: یہ وہ پھندے ہیں جن کے ذریعہ میں نبی آدم کو اپنے جال میں پھنسا کر دھوکہ دیتا ہوں۔ اس شخص نے ہر ایک رسی کے بارے میں سوال کیا۔ ایک رسی کے بارے سوال کیا تو شیطان نے کہا: یہ عورت ہے، یہ گھر ہے کسی سوال کے جواب میں کہا یہ زندگی، پیسہ اور مقام ہے۔ سوال کیا: میرا پھندا کونسا ہے؟ شیطان نے کہا: تجھے پھندے کی ضرورت نہیں ہے، تم تو خود میرے پیچھے آرہے ہو! یہ پھندے ان لوگوں کے لئے ہیں جو میرے پیچھے نہیں آتے ہیں، میں ان پھندوں کو ان کی گر دنوں میں ڈال کر زبردستی اپنے پیچھے کھینچ لیتا ہوں پھر سوال کیا: یہ رسی جو دو ٹکڑے ہو گئی ہے وہ کس لئے ہے ؟ کہا: مدتوں محنت کر کے اس رسی کو شیخ انصاری کے لئے درست کیا تھا، لیکن گزشتہ رات جب اسے ان کی گردن میں ڈالا ، تو انھوں نے اسے ایک جھٹکا دیکر توڑ دیا! شیطان غم و غصہ کے مارے ایک چیخ ماری دور چلا گیا۔
وہ شخص نیند سے بیدار ہوا اور صبح تک ناراض اور پریشان تھا کہ یہ کیسا حادثہ پیش آیا۔ صبح کو جب اس نے مرحوم شیخ انصاری کے پاس جاکر خواب بیان کیا۔ شیخ سن کر روپڑے اور کہا: گزشتہ رات میری بیوی کے وضع حمل کا وقت آپہنچا، دایہ اور ہمسایہ کی عورتوں نے کہا: جننے والی کو تیل پینا چاہئے۔ مجھے کہا: جاکر تھوڑا سا تیل خریدلایئے۔ تیل خرید نے کے لئے میرے پاس پیسے نہیں تھے، میرے پاس مال امام کے صرف دو تومان تھے جنہیں میں نے الگ رکھ رکھا تھا تا کہ کسی مستحق کو دیدوں۔ انہی پیسوں کو اٹھا کر چلا گیا تاکہ اپنی بیوی کے لئے تیل خرید لوں۔ راستے میں مجھے خیال آیا کہ اگر آج رات کسی طالب علم کی بیوی کے لئے یہی صورت حال پیش آگئی تو کیا اس کے پاس تیل خرید نے کے لئے پیسے ہیں؟ اس کے بعد اپنے آپ سے کہا: شاید نجف کے کسی گوشے میں کوئی طالب علم ہوگا جس کی بیوی آج رات وضع حمل کرنا چاہتی ہو اور اس کے پاس تیل خریدنے کے لئے پیسے نہ ہوں۔ میں واپس لوٹا اور پیسے اپنی جگہ پر رکھدیئے اور کہا رہنے دو تیل کو! یہ ایک پھندا تھا جسے شیطان نے میرے لئے پھیلایا تھا اور نو مہینوں سے منتظر تھا کہ ایسی ایک رات پہنچے تاکہ میں سہم امام پر تصرف کروں، لیکن خدائے متعال نے مجھے توفیق بخشی اور میں نے اس پھندے کو توڑ دیا۔
جی ہاں، شیطان اپنی پوری طاقت ایسے افرادکو منحرف کرنے پر صرف کرتا ہے، جو کمال کی راہ میں گامزن ہوتے ہیں۔ جب انسان نے کمال و معرفت کے مراحل میں قدم رکھا ہے، اس کی آنکھیں کھل گئیں اور اس کا دل منور ہوا اور توحید کے کچھ جلوے اس کے لئے رونما ہوئے، یا اس کے لئے کوئی مکاشفہ ہوا، کسی چیز کو دیکھا یا کوئی آواز سنی تو فوراً شیطان حاضر ہوتا ہے اور وسوسہ کرتا ہے اور انسان کو مغرور کر ڈالتا ہے کہ تم عالی مقام پر پہنچے ہو دوسروں سے بہت فرق رکھتے ہو۔ جب انسان تلاش و کوشش کے نتیجہ میں معرفت کے اس مرحلہ میں پہنچنے میں کامیاب ہوتا ہے اور سمجھتا ہے کہ دوسرے انسان اثر ڈالنے میں آزاد اور مستقل نہیں ہیں ان کی اتنی قدر و منزلت نہیں ہے کہ انسان تھوڑے سے پیسوں کیلئے یا اس لئے کہ اسی کے لئے کوئی کام انجام دیں' ان کے سامنے جھک جائے یا ہاتھ پھیلائے اور ان سے مدد طلب کرے، تو اچانک شیطان اسے وسوسہ میں ڈالتا ہے کہ تم نے عجیب بلند معرفت حاصل کی ہے! بڑی اہم شخصیت بن گئے ہو اس صورت میں انسان غرور میں مبتلا ہوتا ہے۔ ایسے ہی غرور کو روکنے کے لئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ فرمانے کے بعد کہ: ''دوسروں کو خدا کے پاس، اونٹوں کے مانند دیکھو'' فوراً فرماتے ہیں: ''لیکن خود کو ان سے پست تر دیکھو'' خود کو بھی دوسروں کے مانند بلکہ ان سے چھوٹا دیکھو کہ تم مخلوقات کی مسلسل کڑیوں میں سے ایک کڑی ہو دوسری اور ان کڑیوں کو ہلانے والا کوئی اور ہے نہ صرف دوسروں کی حرکت بلکہ تیری حرکت بھی اس سے ہے، بقول شاعر :
ما ہمہ شیریم ولی شیر علم
حملہ مان از باد باشد دم بہ دم
حملہ مان باد و نا پید است باد
جان فدای آنکہ نا پید است باد
''ہم سب شیر ہیں لیکن وہ شیر جو پرچم پر (نقشہ) بنا ہوتا ہے، ہماراحملہ ہوا کے ذریعہ ہوتا ہے (جب ہوا کے جھونکوں سے پرچم ہلتا ہے۔ ہمارا حملہ ہوا کے ذریعہ سے ہے لیکن ہوا دیکھائی نہیں دیتی۔ اس پر ہماری جان قربان ہو جو دکھائی نہیں دیتا''
لہٰذا اگر دین میں کوئی فقیہ بن گیاتو،پہلے یہ کہجب تمام لوگوں کا خدائے متعال سے موازنہ کرتا ہے تو انہیں ناچیز دیکھتا ہے، دوسرے یہ کہ جب دیگر لوگوں کا اپنے سے موازنہ کرتا ہے تو سب کو اپنے سے بہتر دیکھتا ہے اور یہ خصوصیت عجیب ہے۔ یعنی خدائے متعال انسان کو ایسی توفیق عطا کرتا ہے کہ ایک طرف تمام لوگوں کو اہمیت نہیں دیتانیز، اپنی زندگی میں اثر ڈالنے کے لحاظ سے دوسروں کو اہمیت نہیں دیتا اور دوسری جانب سے آداب شرعی کی بھی رعایت کرتا ہے، جبکہ اس حالت میں دوسروں کے لئے کسی رول یا مقام کا قائل نہیں ہے، انہیں تواضع، ادب اور احترام کرنے سے اس میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔ آداب شرعی کی رعایت کرتا ہے اور حقیقت میں اپنے آپ کو دوسروں سے چھوٹا سمجھتا ہے۔
ایک طرف سے انسانوں کی خدا کے سامنے بوجھ اٹھانے والے اونٹوں کے مانند دیکھتا ہے کہ ان کی لگام خدا کے ہاتھ میں ہے اور دوسری طرف سے خود کو ان کے درمیان ایک چھوٹے اونٹ کے مانند دیکھتا ہے۔ نہ یہ کہ ان کو اونٹ کے مانند دیکھتے وقت اپنے کو اونٹ سوار دیکھے! بلکہ خود کو چھوٹا اور دوسروں سے ذلیل تر دیکھتا ہے اور اپنی نفس کے حقیر ہونے کا اعتراف کرتا ہے، لیکن یہ مشکل ہے انسان اس نظر یہ کے مطابق دوسروں کے مقابل میں خود کو اس طرح چھوٹا شمار کر کے تواضع اور انکساری کے ساتھ پیش آئے۔ لیکن یہ ممکن ہے اور حقیقت بھی ہے۔ اگر انسان اس مطلب کو درک کرے اور دوسروں کے لئے کسی رول اور اثر کا قائل بھی نہ ہو اور ان کے سامنے کمال انکساری اور تواضع بھی رکھتا ہو، تو معارف دینی میں موجود ہ بہت سوالات کا جواب واضح ہوجاتا ہے۔ حقیقت میں پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس بیان سے تواضع کی حد بھی واضح ہوجاتی ہے اور تواضع اپنے آپ کو دوسروں کے سامنے ذلیل و خوار کرنے کے معنی میں نہیں ہوتا ہے بلکہ پیغمبر اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام مبارک میں تواضع انسان کی عظمت و عزت کو بڑھاتا ہے۔
تواضع، عزت و سربلندی کا سبب:
ایک روایت میں حسن بن جہم حضرت امام رضاعلیہ اسلام سے تواضع کی حد کے بارے میں سوال کر تے ہیں، حضرت جواب میں فرماتے ہیں:
''تو اضع کے چند درجات ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انسان اپنی قدر و منزلت کو پہچان لے اور اپنے آپ کو خوشی اوررضایت قلب کے ساتھ اپنی جگہ پر قرار دے اور جس طرح لوگوں نے اس کے ساتھ برتائو کیا ہے وہ بھی ان کے ساتھ ویسا ہی برتائو کرے (اگر اس کے ساتھ نیکی کی ہے تو وہ بھی نیکی کرے) اگر ان سے برائی دیکھے تو اسے نیکی سے پردہ پوشی کرے۔ اپنے غصہ کو پی جائے اور لوگوں کو معاف کردے اور خدائے متعال بھی نیک انسانوں کو دوست رکھتا ہے۔(۴)
یقینا اس قسم کا تواضع نہ صرف انسان کی پستی و خواری کا سبب نہیں بنتا ہے بلکہ اس کی عظمت اور عزت میں اضافہ کا سبب بھی بنتا ہے۔ اس بارے میں حضرت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
''....وان التواضع یزید صاحبه رفعة فتواضعوا یرفعکم اللّٰه... ''
بعض ماہر نفسیات معتقد ہیں کہ اگر انسان اپنے آپ کو دوسروں سے چھوٹا اور حقیر سمجھے تو ''احساس کم تری'' کاشکار ہو کر دوسروں سے رابطہ برقرار نہیں کرسکتا۔ وہ اچھی طرح بات بھی نہیں کرسکتا ہے۔ شرم و حیا سے دوچار ہوتا ہے، خود اعتمادی کو کھو دیتا ہے۔ معاشرتی زندگی کو ترک کر کے گوشہ نشینی اختیار کرتا ہے۔ اس صورت میں تو اضع اور خود اعتمادی کو کیسے جمع کیا جاسکتا ہے، یعنی ہم ایک طرف سے تو اضع کو اپنا شیوہ بنائیں اور دوسری طرف سے اپنی روح کی حفاظت کریں، ایک طرف سے خود کو دوسروں سے حقیر سمجھیں اور دوسری طرف سے اپنی روحانی نشاط کی حفاظت کریں۔
ایسا لگتا ہے کہ انسانوں میں موجودہ بہت سی نفسیاتی بیماریوں کا سرچشمہ (بغیر اس کے کہ ہم خاندان اور موحول کے رول کو مدِنظر نہ رکھیں) خداوند متعال پر بھروسہ نہ کرنا ہے، اگر انسان اس بنیادی اعتمادی اور اہم نقطہ کو کھودے، نفسیاتی حوادث و بحرانوں کا ایک سیلاب اسے اپنی لپیٹ میں لے لے گا اور اس کی روح آفات و امراض کے حملوں کا نشانہ بن جائے گی،لیکن اگر انسان اپنے عمل اور ردعمل کو آسمانی معیاروں کے مطابق منظم کرے تو وہ بہت سی نفسیاتی بیماریوں سے نجات پائے گا، اس لحاظ سے روایتوں میں تواضع کے خدا نے قید لگائی ہے: ''منِ تواضع للّٰہ رفعہ اللّٰہ'' اگر انسان کا تواضع دوسروں کے مقابلے میں صرف خدا کی خوشنودی کے لئے ہو اور اس کا عمل خدا کے لئے مخلصانہ ہو، تو وہ کسی قسم کی حقارت کا احساس نہیں کرے گا۔ پس وہ تو اضع پسندیدہ ہے جس کا سرچشمہ خدا کے کے لئے اخلاص ہو ورنہ اگر تواضع کا سرچشمہ ضعف، ناکامی اور احساس کمتری ہو تو اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے اور اس کے لئے کوئی ثواب بھی نہیں ہے۔
اس تجزیہ کے مطابق کہنا چاہئے: اگر انسان کا تواضع دوسروں کے سامنے، صرف فرمان الہٰی کی عبودیت و اطاعت پر مبنی ہوتو، نہ صرف ضعیفِ نفس کا سبب نہیں بنے گا بلکہ انسان کے فخر و مباہات کا سبب بھی بنے گا، یعنی انسان تو اضع کو خدا کی عبادت جانتا ہے اور اس پر فخر کرتا ہے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس کے سامنے خاک پررکھنا، پیشانی کو مٹی پر رگڑنا اور سجدہ کرنا کسی مومن کے لئے احساس کمتری کا سبب نہیں بنتا، بلکہ اس کے لئے فخر و عزت فراہم کرتا ہے، اسی طرح انسان کا دوسروں کے سامنے جب خدا اور اس کے احکام پر عمل کرنے کے لئے ہوتو، فخر و مباہات کا سبب بنتا ہے۔
حضرت سجاد علیہ السلام نقص اور فقرذاتی کا ادراک:
گزشتہ مطالب کے پیش نظر ہم بہتر سمجھ سکتے ہیں کہ حضرت امام سجاد علیہ السلام دعائے ابوحمزہ ثمالی میں اس مقام عصمت و طہارت نفس کے باوجود کیوں بارگاہ الہٰی میں یوں پیش آتے ہیں:
''...فمن یکون اسوء حالاً منّی ان انا نقلت علی مثل حالی الیٰ قبر لم امهده لرقدتی... ''
''کون مجھ سے بد حال تر ہے اور کس کا دن مجھ سے تاریک تر ہے، اگر میں اسی حالت میں جو اس وقت رکھتا ہوں قبر میں منتقل ہو جائوں تو اسے میں نے اپنے آرام کے لئے آمادہ نہیں کیا ہے''
(امام تکلف اور مذاق نہیں کرتے ان کی بات سنجیدہ ہے) یہ کہ امام معصوم کا حال کس طرح تمام لوگوں سے بدتر ہے، یہ ایک پیچیدہ معما ہے لیکن اگر انسان معارف توحیدی سے آشنا ہو جائے تو یہ معما اس کے لئے حل ہوجائے گا۔ جب انسان کو یہ علم ہو جائے کہ تمام ظروف خالی ہیںجو بھی جو کچھ بھی رکھتا ہے،اسے خدا نے دیا ہے، وہ اسی سے نتیجہ اخذ کرے گا کہ جو بھی نقص ہے وہ ہماری وجہ سے اور ہم میں موجودہ فقر کی وجہ سے ہے۔ یہ ہمارے گناہ انجام دینے کی وجہ سے ہے، یا اس لئے ہے کہ ہم معرفت نہیں رکھتے ہیں اور نہیں جانتے کہ کس کے سامنے ہیں، کس کی مخالفت کرتے ہیں، یا ہمارا ارادہ اس قدر ضعیف ہے کہ شہوت اور غضب کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہیں یہ سب ہماری کمزوری کی حکایت کرتے ہیں اور انسان، ضعف و کمزوری کے علاوہ اپنی کوئی چیز نہیں رکھتا ہے۔
ہمارا اپنا کیا ہے کہ خدا نے ہمیں نہیں دیا ہے؟ علم، فہم، اندیشہ، عبادت اور عبادت و عمل کی توفیق اور جو بھی ہم رکھتے ہیں وہ خدا سے ہے،یہ سب چیزیں توفیق الہٰی سے ہمیں ملی ہیں، سوال کرنا بھی اس نے ہمارے اختیار میں رکھا ہے، ورنہ ہم اپنی طرف سے کوئی چیز سوائے ان نابود ہونے والی حیثیت (ضعف و نقص)کے نہیں رکھتے اور اگر ہم خدائے متعال سے اپنے حساب کو جدا کرنا چاہیں تو ہمارے پاس صرف ایک خالی ظرف بچے گا،اگر تعبیر ظرف صحیح ہے تب، ہم اپنی طرف سے نہ ثروت رکھتے ہیں اور نہ فہم وعقل، جو کچھ ہماری طرف سے ہے وہ جہل، بے چارہ گی، کج فہمی اور کمزور ارادہ ہے کہ یہ سب نقص و کمزور یاں ہیں۔
اگر نقائص اور کمزوریاں انحراف اور لغزش کا سبب بنتی ہیں، تو جس میں نقائص اور کمزوریاں زیادہ ہوں اس میں منحرف ہونے کے زیادہ امکانات ہیں، جس میں نقص و ضعف زیادہ ہو اس میں ظرفیت و جودی زیادہ ہے: جب ظرف بڑا ہے تو، زیادہ گنجائش رکھتا ہے اور اسے پُر کرنے کے لئے زیادہ اشیاکی ضرورت پڑتی ہے، جب انسان کی ظرفیت وجودی زیادہ ہو، تو اسے بیشتر کمال عنایت ہونا چاہیے، بہر صورت وہ اپنی طرف سے کچھ نہیں رکھتا ہے،ایک چڑیا، اس کے چھوٹے پن کے پیش نظر تھوڑی سی ظرفیت کی مالک ہے تو اس کی ظرفیت کی حد میں خدائے متعال نے اسے آنکھ، کان، پرواز کی طاقت اور شور مچانے کی قدرت عطا کی ہے،اگر خدائے متعال ان چیزوں کو اس سے لے لے، تو ایک چڑیا کے برابر ظرف خالی ہوگا ، لیکن ایک ہاتھی جس کی ظرفیت زیادہ ہے، خدانے اسے اس کی ظرفیت کی حد میں اعضا و جوارح اور قدرت و توانائی عطا کی ہے، اب اگر ان کو اس سے لے لے، تو ایک ہاتھی کے برابر ظرفیت خالی ہوگی۔
کیا ہماری معنوی ظرفیت حضرت امام سجاد علیہ السلام کی معنوی ظرفیت کے برابر ہے؟ یقینا ایسا نہیں ہے،ہماری ظرفیت کم ہے، ہمارے فہم و شعور کے مطابق ہے، اس لحاظ سے ہم اپنی ظرفیت کے مطابق مجازات ہوں گے اور جس طرح امام سجاد علیہ السلام کا حساب و کتاب ہوگا، ہر گز ہمارا اس طرح نہیں ہوگا۔ جو تکلیف پیغمبر اور امام علیہم السلام کے لئے ہے، کبھی ہمارے لئے وہی تکلیف نہیں ہے، کیونکہ ہم اسے برداشت کرنے کی توانائی نہیں رکھتے ہیں، پس ہماری ظرفیت معصوم کی نسبت بہت محدود ہے، اس لحاظ سے ہماری کمزور یاں اور ضعف بھی محدود ہیں، امام جب خود پر نظر ڈالتے ہیں جو کچھ خدا نے انہیں دیا ہے اس کو نظرانداز کرتے ہوئے، تو بے شمار کمزور یاں مشاہدہ کرتے ہیں، کیونکہ خدا نے جو کچھ انہیں دیا ہے یادے گا اس کی نسبت زیادہ توانائی' ظرفیت اور قابلیت رکھتے ہیں۔
اس لحاظ سے جب اپنے پر نظر ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں ان کی کمزوریاں دوسروں سے زیادہ ہیں، کیونکہ ان کی ظرفیت زیادہ ہے، لہذا فرماتے ہیں: ''فمن یکون اسوئَ حالاً منّی''
کیا اگر ایک نوجوان جوابھی بالغ ہوا ہے، اور محدود معرفت رکھتا ہے، ایک اشتباہ و خطا کا مرتکب ہوجائے تو اس کا گناہ ایک دانشمند جو پچاس سال تک درس پڑھ چکا ہے حدیث و قرآن مجید کے علوم پڑھ چکا ہے، اور اسی گناہ کا مرتکب ہو جائے تو، اس کے برابر ہے؟ یقینا اس عالم کا گناہ زیادہ ہے، کیونکہ وہ زیادہ ظرفیت و قابلیت رکھتا ہے، اس نوجوان کا گناہ بہت کم ہے کیونکہ اس کی فہم و ظرفیت بہت کم ہے اور وہ عالم چونکہ زیادہ ظرفیت رکھتا ہے، اس کا گناہ زیادہ اور اس کی سزا سخت تر ہوگی، اس لحاظ سے ایک روایت میں آیا ہے:
''...یغفر للجاهل سبعون ذنباً قبل ان یغفر للعالم ذنب واحد... ''(۵)
''عالم کے ایک گناہ کو بخش دئے جانے سے پہلے جاہل کے ستر گناہ بخش دئے جاتے ہیں''
جاہل کے گناہ کم ہیں، کیونکہ اس کی فہم و ظرفیت کم تر ہے، بہ فرض محال، اگر امام معصوم کسی گناہ کا مرتکب ہوتو اس کی سزا عام انسانوں کی سزا کے ہزاروں برابر ہے، کیونکہ ان کی ظرفیت زیادہ ہے، امام جب خود پرنظر ڈالتا ہے تو مشاہدہ کرتا ہے کہ جو کچھ اس نے بندگی، اطاعت اور شائستہ اعمال انجام دیا ہے سب خدا کی طرف سے ہے اور اس کی توفیق سے انجام پایا ہے اور اس سے صنعف کے علاوہ کوئی چیز باقی نہیں بچتی، اور چونکہ وہ اپنے صنعف کو زیادہ دیکھتا ہے، اس لئے، دیگر لوگوں سے شرمندہ تر ہے، یہ حضرت امام سجاد علیہ السلام کے بیانات کے بارے میں ایک توجیہ تھی۔
اگر انسان کے چشم و دل کھل جائیں اور حقائق کو بیشتر ملاحظہ کرے تو وہ درک کرے گا کہ خدا کے سامنے کتنا ضعیف اور کمزور ہے، احساس کرے گا کہ اسے خود پر ناز نہیں کرنا چاہیے، اسے اپنے آپ کو دیکھ کر خود خواہی کو پہچاننا چاہیے، کیا وہ نجس پانی کے ایک قطرہ سے زیادہ تھا، کہ اب اس مرحلہ پر پہنچا ہے؟ اب جبکہ رشد و تکامل اور ترقی کے مرحلہ پر پہنچا ہے، جو کچھ رکھتا ہے کیا وہ اس کا اپنا ہے تاکہ اس پر ناز کرے؟ پس حقیقت میں اگر ہم اپنے آپ پر نظر ڈالیں تو یقینا خود کو حقیر دیکھیں گے، یہ نفاق ہے کہ انسان ظاہر میں اور زبان پر یہ کہے: میں سب سے حقیر اور چھوٹا ہوں اور دل میں خود کو دوسروں سے برتر سمجھے، ہمیں دل سے اپنے آپ کو دوسروں سے حقیر اور چھوٹا سمجھنا چاہیے اور یہ توفیق الہٰی اور اس کی طرف سے عنایت کے لئے نور معرفت کے علاوہ کسی اور چیزسے حاصل نہیں ہوتا، امید رکھتا ہوں خدائے متعال ہمیں یہ معرفت اور اس سے بالاتر معرفت عنایت فرمائے گا۔
پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے کلام میں حقیقی ایمان کا نتیجہ:
حدیث کو جاری رکھتے ہوئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں۔
''یا اباذرً! لا تصیب حقیقة الایمان حتیٰ تری الناس کلهم حمقیٰ فی دینهم عقلا ئِ فی دنیا هم ''
''اے ابوذر! ایمان کی حقیقت تک نہیں پہنچوگے، مگر یہ کہ لوگوں کو اپنے دین میں احمق اور اپنی دنیا میں عاقل پائو گے''
اے ابوذر! جب حقیقت ایمان کو درک کرو گے اور دیکھو گے کہ لوگ اپنی دنیا میں ترقی کر رہے ہیں اور مختلف کام انجام دے رہے ہیں، تو جان لینا کہ وہ اپنی دنیا کے بارے میں عاقل ہیں اور فہم و شعور رکھتے ہیں، لیکن وہ اپنی آخرت کے بارے میں کافی نادان اور احمق ہیں۔ (پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کینصیحتوں میں ''کلھم'' کی تعبیر آئی ہے، یعنی سب لوگ ایسے ہیں، کیونکہ جو لوگ اپنی آخرت کے بارے میں عاقل ہیں، بہت کم ہیں اور خالص ہونے کے مانند نایاب ہیں، اس لحاظ سے عام لوگوں کے مقابلے میں ، جو اپنی آخرت کے بارے میں احمق ہیں قابل تو جہ تعداد نہیں ہے)
عاقل وہ ہے کہ اگر اسے مفید و مفید تر کے درمیان انتخاب کرنا ہو، تو وہ مفید کاانتخاب کرے، اگر ہم دنیا کا آخرت سے موازنہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ آخرت، دنیا کی نسبت کئی گنا زیادہ فائدہ مند اور مفید تر ہے، کیونکہ مدت اور وسعت کے لحاظ سے بھی لامتنا ہی ہے، انسان کی دنیوی عمر ٧٠ سے ٨٠ سال یا حد اکثر ١٠٠ سے زیادہ نہیں ہے، حتی اگر ہم فرض کریں کہ انسان کی عمر ہزار سال کی ہوجائے، پھر بھی آخرت کی ابدی زندگی کے مقابلے میں کچھ نہیں ہے اور کیفیت کے لحاظ سے بھی دنیوی لذت، دسیوں مشکلات اور محنتوں کے بعد ہاتھ آتی ہے اس کے باوجود مشکلات اور سختیوں سے ملی ہوئی ہوتی ہے البتہ ہم نے رنج و آلام سے ایسا انس پیدا کیا ہے کہ اسی تھوڑی لذت وہ بھی رنج والم سے مخلوط شدہ پر قناعت کرتے ہیں، کھانا کھانے سے جولذت ہم پاتے ہیں اس کے لئے کس قدر محنت کرنا پڑتی ہے، پیسے پیدا کریں ان سے غذا خرید لیںپھر اس غذا کو چباتے وقت ہمارے جبڑوں میں تھکاوٹ پیدا ہوتی ہے،یہ سبب رنج و مشکلات اس لئے ہے کہ غذا ہمارے منہ سے نیچے اترے اور ہم تھوڑی سی لذت پائیں! پھراس کے بعد تھکاوٹ اور سستی ہم پر طاری ہوتی ہے،لیکن اخروی لذت، رنج و تھکاوٹ کا سبب نہیں ہے، نہ اس کو آمادہ کرنے میں انسان کو محنت کرنی ہے نہ اس کو مصرف کرنے میں اور نہ استفادہ کرنے کے بعد تھک جاتا ہے:
( ''لا یمسُنا فیها نصب ولا یمسنا فیها لغوب'' ) (فاطر ٣٥)
''جہاں نہ کوئی تھکن ہمیں چھوسکتی ہے اور نہ کوئی تکلیف ہم تک پہنچ سکتی ہے۔''
آخرت کیفیت کے لحاظ سے بھی دنیا سے برتر ہے اور کمیت کے لحاظ سے بھی دنیا سے بے انتہا اور برتر ہے: ''والآخرة خیر وابقیٰ'' (اعلیٰ١٧)''جبکہ آخرت بہتر اور ہمیشہ رہنے والی ہے۔''
آخرت کی دنیا پر ناقابل تصور برتری کے پیش نظر، ان دو نوںکا موازنہ کر کے عقل ان میں سے کس کو اختیار کرے گی؟ یقینا عقل آخرت کا انتخاب کرے گی،لیکن لوگوں میں بہت کم ایسے لوگ ہیں جو اس قسم کا موازنہ کر کے اس پر عمل کریں، چونکہ اکثر لوگ ایمان کی حقیقت تک نہیں پہنچتے ہیں، لیکن جو حقیقت ایمان تک پہنچے ہیں وہ آخرت کو دنیا پر ترجیح دینے کے علا وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ لوگ اپنی دنیا کے بارے میں عاقل ہیں، لیکن آخرت کے بارے میں جاہل ہیں: انہوں نے امور کے بارے میں نفع و نقصان کی اچھی طرح تشخیص دیتے ہیں اور اپنے مادی منافع کے بارے میں آگاہ ہیں، لیکن آخرت کے بارے میں کسی قسم کی معرفت نہیں رکھتے ہیں،وہ یقین نہیں کرتے ہیں کہ آخرت بھی ہے اور وہ دنیا سے بہتر ہے۔
شاید پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بیان کا راز اس میں مضمر ہو کہ جب مومن اس یقین پر پہنچتا ہے کہ اکثر لوگ اپنے دین میں جاہل و احمق ہیں، تو اپنی زندگی سلسلہ میں ان کی پیروی کرنے کی کوشش نہیں کرے گا اور اپنے راستہ کو ان سے جدا کرلے گا، کوشش کرے گا کہ آخرت کے بارے میں دوسروں کی خطائوں سے عبرت حاصل کرے اور خود حقیقت کی راہ کو طے کرے، دوسری جہت سے دنیا کے بارے میں عقلمندوں کے تجربہ سے دنیا میں استفادہ کرے گا، البتہ دینی قواعدو ضوابط کی رعایت کرتے ہوئے۔
____________________
١۔''ربوبیت تکوینی'' میں توحیدکا مفہوم یہ ہے کہ ہم کا ئنات کی تدبیر اوراس کے نظام کو چلانا خدا کے اختیار میں جائیں اور اعتقاد رکھیں کہ چاند سورج کی گردش' دن رات کا پیدا ہونا' انسانوں کی موت و حیات اور کھانے والوں کو رزق دینا خدا کے ہاتھ میں ہے اور وہی ہے جو آسمانوں و زمین کی نگرانی کرتا ہے۔ اسی طرح جو بھی مخلوق اس وسیع و عریض کائنات کے کسی کوشے میں پیدا ہو اور اس کو پروان چڑھائے نسلوںکا سلسلہ قائم ہوا کرے اور ہر موجود کا ظاہر ہو ناسب کی سب اللہ کی تدبیر کے تحت انجام پاتے ہیں اور کوئی شے خدا کی ربوبیت کے دائرے سے باہر نہیں ہے، ''ربوبیت تشریعی'' انسان کی اختیاری تدبیر سے مربوط ہے۔ خدا کی تمام مخلوقات میں صرف انسان ہے کہ جس کی ترقی اور تکا مل اس کے افعال اختیاری کے دائرے میں ہے ۔ ربوبیت الہٰی کے تقاضا کے مطابق خدا وند عالم ارادہ کے مقدمات ( شوق و انگیزہ) اور اختیار نیز امور کے اسباب و وسائل کہ جو انسان کے اختیار مین قرار دیتا ہے اس کے علاوہ درست اور صحیح راستہ کی بھی رہنمائی کرتا ہے ، اچھے اور برے کی انھیں ہدایت کرتا ہے اور اس کی فردی اور اجتماعی زندگی کے لئے دستور و قوانین وضع کرتا ہے۔
۲۔ المیزان ،ج١٤ص٣٠٧
۳۔اصول کافی ( باترجمہ) ج٣ص٩٨
۴۔ ''قال قلت: ما حدالتواضع الذی اذافعله العبد کان متواضعا؟ فقال : التواضع درجات منهاان یعرف المرٔقدر نفسه فینز لها بقلب سلیم' لایحب ان یاتی الی احد الا مثل ما یوتی الیه ان رای سیئة دراها بالحسنه کاظم الغیظ عاف عن الناس والله یحب المحسنین'' (اصول کافی ''باتر جمہ' 'ج ٣' کتاب الایمان ولکفر۔ص ١٨٩)
۵۔بحار الانوار ،ج٢،ص٢٧
چوبیسواں درس:
اعمال کے محاسبہ و مواز نہ کی اہمیت اورخدائے متعال سے شرم
* محاسبہ، ایک ناقابل اختناب ضرورت
* مشارطہ، مراقبہ اور محاسبہ:
الف: مشارطہ
ب: مراقبہ
ج :محاسبہ
* محاسبہ نفس کا فائدہ
* برے عمل کا نتیجہ، شرمندگی
* شرم و حیا کا مفہوم اور اس کی حد
* غلط رسم و رواج کے فروغ پانے کے عوامل
اعمال کے محاسبہ موازنہ کی اہمیت خدائے متعال سے شرم
''یا اباذر؛ حاسب نفسک قبل ان تحاسب فهو اهون لحسابک غداً وزن نفسک قبل ان توزن و تجهز للعرض الاکبر یوم تعرض لا تخفی علی اللّٰه خافیة''
''یا اباذر؛ استح من اللّٰه فانی و الذی نفسی بیده لا ازال حین اذهب الی الغائط متقنعاً بثوبی ' استحیی من الملکین اللذین معی''
پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم کی نصیحتوں کا یه حصه محاسبه اور حیائے الهٰی سے مربوط هے روایتوں میں من جمله نهج البلاغه میں ''محاسیه نفس'' پر فراواں تاکید کی گئی هے اور علمائے اخلاق ''محاسبه'' کو سیر و سلوک اور تهذیب نفس کے لئے ابتدائی مراحل جانتے هیں:
''یا اباذر؛ حاسب نفسک قبل ان تحاسب فهو اهون لحسابک غداً''
''اے ابوذر! اپنے نفس کا حساب لو، اس سے پہلے تمھارے نفس کا حساب لیا جائے تاکہ کل تمھارے لئے محاسبہ آسان ہوجائے۔''
بالکل یہی مضمون ایک اور روایت میں تکرار ہوا ہے:
''حَاسِبوا اَنُفُسَکُم قَبلَ اَن تُحَا سَبُوا''
''اس سے پہلے کہ تمہارا محا سبہ کیا جائے، تم اپنا محاسبہ خود کرلو''
جو کچھ دوسری روایتوں میں آیا ہے، اس کے علاوہ اس روایت میں ایک نکتہ کا اضافہ ہوا ہے کہ اس دنیا میں محاسبہ، تمہارے قیامت کے حساب کو سبک اور آسان کرتا ہے۔
محاسبہ، ایک ناقابل اجتناب ضرورت:
تمام کارکردگی کا محاسبہ اور جانچ پڑتال بنیادی طور پر ایک ناقابل اجتناب امر ہے اور یہ ہر ایک کے لئے قابل درک و فہم ہے، ہر ایک اپنی زندگی میں حساب و کتاب رکھتا ہے، خاص کر وہ لوگ جو اہل کسب و تجارت ہیں اور ان کا واسطہ سرمایہ، پیسے اور نفع و نقصان سے ہے، ان کے لئے حساب نہایت اہمیت رکھتا ہے، عام طور پر ہر بازار ی سال میں ایک بار اپنے حساب کی جانچ کرتے ہیں، تاکہ سالانہ حساب آسان طور پر انجام پائے، اگر تاجر اپنے روزانہ، ہفتگی اور ماہا نہ حساب کی جانچ پڑتال انجام نہ دے اور حساب و کتاب کو انبار کر کے رکھدے تو اس کا کام مشکل ہو جائے گا اور کبھی اس لاپروائی اور بے توجہی کے نتیجہ میں بہت بڑی غلطیاں رونما ہوجاتی ہیں۔
بات یہ ہے کہ جس طرح تاجر وقت سے اپنے نفع نقصان کے حساب و کتاب کا خیال رکھتا ہے اور ایک پیسہ کے بارے میں کوتا ہی نہیں کرتا ہے، مومن کو بھی خدائے متعال سے اپنا حساب چکا نا چاہیے، اس سلسلہ میں اسے اپنے نفس کے مکر سے پرہیز کرنا چاہیے کہ نفس اسے فریب نہ دے اور گناہوں کی توجیہ کر کے دقیق محاسبہ انجام دینے میں رکاوٹ نہ ڈالے، اسے اپنی تمام کارکردگی کے مقابلے میں اپنے نفس سے اطمینان بخش جواب حاصل کرنا چاہیے اور اسے اپنی تمام کارکردگی کے مقابلے میں اپنے نفس سے اطمینان بخش جواب حاصل کرنا چاہیے اور اسے اپنے آپ کا ایسے محاسبہ کرنا چاہیے جیسے قیامت کے دن خدا کے مامور اس کا محاسبہ کریں گے۔
اصولی طور پر اگر گناہوں کا محاسبہ وقت پر انجام پائے اور گناہ جمع ہو کر انبار نہ ہوجائیں،تو محاسبہ دقیق ہوتا ہے اور انسان صحیح نتیجہ اخذ کرتا ہے اور کم تر مشکلات سے روبرو ہوتا ہے، یہ ایک رخ ہے اور دوسرا رخ یہ ہے کہ اگر ہم اپنے گناہوں کے حساب میں تاخیر کر دیں، رفتہ رفتہ انہیں فراموش کردیں گے اور ہمیں یہ نہیں معلوم ہو سکے گا کہ کن کن گناہوں کے مرتکب ہوئے ہیں اور کتنے گناہوں کا ڈھیر لگ گیا ہے،اس کے علاوہ جب ہم اپنے گناہوں پر توجہ نہیں کرتے، تو ان کی چارہ جوئی کی بھی ہمیں فکر نہیں ہوتی اور اپنے گناہوں کے حجم کے بارے میں باور نہیں کرتے، اگر مجھ سے سوال کیا جائے کہ میں زندگی میں کتنے گناہوں کا مرتکب ہوا ہوں، میں اگر بڑے انصاف سے کام لوں تو کہوں گا ہزار گناہ، جبکہ اگر دقیق حساب کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ شاید ایک دن، ایک ہفتہ یا ایک مہینے میں ہزار سے زیادہ گناہ کا مرتکب ہوا ہوں! جب ان سارے گناہوں کا ڈھیر لگ جائے گا تو ان کی ایک بہت بڑی تعداد بن جائے گی۔
ہم غافل ہیں اور خیال کرتے ہیں چونکہ ہم نے چوری نہیں کی ہے کسی کو قتل نہیں کیا ہے، اس لئے ہمارے گناہ اہم نہیں ہیں، شاید اگر ہمیں گناہ گار کہا جائے تو ہم اعتراض کریں گے ہیں اور کہیں گے : مگر ہم نے کونسا گناہ انجام دیا ہے؟ انسان کی فطرت فراموش کار ہے، خاص کر اس چیز کے بارے میں جو اس کے لئے نقصان دہ ہو:
علم نفسیات کے بحث میں یہ بھی ہے چونکہ انسان خطائوں اور گناہوں کی یاددہانی اس کے لئے شرم و حیا کا سبب بنتی ہے اس لئے وہ مائل نہیں ہے کہ ان کی طرف توجہ کرے اور کوشش کرتا ہے کہ ان خطائوں کو فراموش کردے، آج کل ماہرین نفسیات نے، فراموش کاری، حوادث و واقعات کو ذہن کے سپرد کرنے میں ، یہ کہ انسان کس طرح کی چیز کو فراموش کرتا ہے، فراموشی اور خود کو فراموش کاربنانے میں کونسے عوامل موثر ہیں اور یہ کہحوادث اور واقعات کو ذہن کے حوالے کرنے میں کون کون سے عوامل کا رفرما ہیں،بہت زیادہ بحث کی ہے،افسوس ہے کہ باوجود اس کے کہ ان موضوعات میں جانچ پڑتال ہمارے دین و دنیا کی مصلحت میں انتہائی اہم ہیں ہم نے اس بارے میں کوئی کام نہیں کیا ہے اور دوسروں سے پیچھے ہیں۔
پس، انسان جسے پسند نہیں کرتا، نہیں چاہتا اسے اپنے سے نسبت دے، نفسیاتی تحقیقات کے مطابق، انسان ہر جرم و ظلم انجام دینے کے درپے ہے لیکن اپنے گناہ کی توجیہ کرتا ہے، انسان، اس عمل کو انجام دینے کی وجہ سے پیدا شدہ روحی عذاب سے اپنے آپ کو نجات دینے کے لئے گناہ کے انجام کو اپنی ذات سے جدا کر نا چاہتا ہے، دوسرے الفاظ میں اپنے آپ کو بے گناہ ثابت کرنا چاہتا ہے، اس لئے کوشش کرتا ہے کہ یا اپنے گناہ کو فراموش کردے یا دوسرے افراد، یا ماحول، یا دنیا، یا شیطان، یا سماجی سسٹم یا کسی دوسرے عامل کے سرتھونپے، اس طرح اپنے آپ اور اپنے عمل کے دفاع کے لئے ''دفاعی میکانزم'' کا سہارا لیتا ہے اور اگر ''دفاعی میکانزم''سے متوسل ہونا انسان میں تقویت پاگیا اور ہر گناہ کی وہ توجیہ کرنے لکا اور صحیح طور پر اپنے آپ کو مور دسوال قرار نہیں دیا' اور اپنے بارے میں عادلانہ فیصلہ نہیں کیا اور اپنے آپ کو مجرم قرار نہیں دیا تو اس سے بالا تر جرائم کے ارتکاب کا خطرہ موجود ہے۔ کیونکہ اس نے اپنے اس عمل سے اپنے آپ کو گناہ کے تاریخ سے آزاد کیا ہے اور اب اس سلسلہ میں رنج والم نہیں رکھتا ہے تاکہ گناہ کے بُرے انجام سے ڈرے،یہی وہ جگہ ہے جہاں پر گناہ کی توجیہ اور اس کا خطرہ خود گناہ سے بیشتر ہے۔
چونکہ انسان حب نفس رکھتا ہے، اس کے علاوہ لوگوں کے پاس محترم ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے پاس بھی سربلند ہونا چاہتا ہے، وہ نہیں چاہتا اپنی نظر میں شرمساراور خود کو نا قص دیکھے۔ وہ کمال وعزت کا مالک بننا چاہتا ہے،اس لئے جو اس کے لئے نقص و تنزل کا سبب بنے اسے اپنے ذہن سے فراموش کرتا ہے، کیونکہ اس کی یاد اپنے پاس حقیر و پست ہونے کا سبب بنتی ہے اور یہ انسان کی فطری چاہت کے خلاف ہے، اس نکتہ کے پیش نظر اگر اس دوران ایسے لوگ موجود نہ ہوں جو انسان کو ان نواقص، کوتاہیوں اور انحرافات کی یا ددہانی کرائیں، تو ایک بُرا انجام اس کے انتظار میں ہے جو اسے ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کر دے گا، اس لئے، نامناسب کردار کی یاد دہانی اور ان کی تلافی کی تلاش کے لئے عوامل کی منصوبہ بندی کے طور پر روایتوں میں بہترین شیوہ منتخب کیا گیا ہے اور علمائے اخلاق نے ان روایتوں کے پیش نظر اپنی کتابوں جیسے: معراج السعادة، جامع السعادات، اور احیا العلوم میں ، تہذیب و تزکیہ نفس اور سیر و سلوک کے متلاشیوں کے لئے ''مشارطہ''، ''مراقبہ'' اور ''محاسبہ'' نام کے تین مرحلے بیان کئے ہیں۔
مشارطہ' مراقبہ اور محاسبہ
الف)۔ مشارطہ
صبح کے وقت جب انسان نیند سے اٹھتاہے، اسے توجہ کرنی چاہیے کہ ایک نیا سرمایہ اس کے اختیار میں قرار پایا ہے: اگر ہم نیند سے بیدار نہ ہوتے اور ہماری روح ہمیشہ کے لئے ہمارے بدن سے پرواز کر کے چلی جاتی تو کیا یہ ہماری زندگی کا خاتمہ نہ ہوتا؟
( اللّٰه یتوفی الا نفس حین موتها والتی لم تمت فی منامها فیمسک التی قضی علیها الموت ویرسل الاخری الی اجلٍ مسمی ان فی ذٰلک لآیات لقوم یتفکرون ) (زمر٤٢)
''اللہ ہی ہے جو روحوں کو موت کے وقت اپنی طرف بلا لیتا ہے اور جو نہیں مرتے ہیں ان کی روحوں کی بھی نیند کے وقت طلب کرلیتا ہے اور پھر جس کی موت کا فیصلہ کرلیتا ہے اس کی روح کو روک لیتا ہے اور دوسری روحوں کو ایک مقررہ مدت کے لئے آزاد کر دیتا ہے، اس بات میں صاحبان فکر و نظر کے لئے بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں''
پس، نیند سے ہم نے موت کے ایک مرحلہ کو طے کیا ہے اور مردے کے مانند کوئی عمل انجام نہیں دیا ہے، اب اگر ہم دوبارہ نیند سے اٹھے ہیں، تو ہمیں دوبارہ زندگی عنایت ہوئی ہے اور ایک نیا سرمایہ ہمارے اختیار میں قرار پایا ہے، پس ہمیں اس نئی زندگی کے لئے خدا کا شکر بجالانا چاہیے، اپنے نفس کو مخاطب قرار دے کر اسے کہدیں: اے نفس! خدائے متعال نے اس قیمتی سرمایہ کو تیرے اختیار میں قرار دیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ آخرت کی سعادت حاصل کرو ،اگر تم سے لغزش رونما ہوجائے، تو اپنے سرمایہ کو تم نے کھو دیا اور نقصان سے دوچار ہو جائو گے۔ ہمیں اپنے نفس سے شرط کرنی چاہیے اور اس سے عہد و پہچان لینا چاہیے کہ گناہ کے پیچھے نہ پڑے اور اس سے کوئی ایسی چیز سرزدنہ ہو جائے جو غضب الہٰی کا سبب بنے، ہمیں اس سے عہد و پیمان لینا چاہیے کہ اس گراں بہا سرمایہ کو ایک ایسی راہ میں خرچ کرے جو خدا کی خوشنودی اور انسان کی سعادت کا سبب بنے، کیونکہ خدا کی خوشنودی سے انسان کو سعادت ملتی ہے اور اگر خدا راضی نہ ہو، تو انسان سعادت تک نہیں پہنچ سکتا،ہمیں اپنے نفس سے شرط کرنی چاہیے کہ واجبات اور احکام الہٰی کو انجام دینے میں کوتا ہی نہ کریں اور ہر نیک کام جو اس کے لئے ممکن ہے، اسے ترک نہ کریں۔
بہتر ہے یہ 'مشارطہ'' صبح کی نماز اور اس کی تعقیبات کے بعد انجام پائے اور انسان اپنے نفس سے مخاطب ہو کر کہے: اے نفس! میرے پاس ان چند دنوں کی عمر کے علا وہ کوئی سرمایہ نہیں ہے اور اگر یہ میرے ہاتھ سے چلا جائے تو میرا سرمایہ برباد ہوگا، اے نفس! خدائے رحمن نے آج بھی مجھے مہلت دیدی ہے، اگر میں آج مر چکا ہوتا، تو میں آرزو کرتا کہ خدائے متعال مجھے دوبارہ دنیا میں بھیجدے تاکہ کچھ زادراہ کٹھا کر لوں پس اے نفس! تصور کرو کہ تم مر چکے تھے اور دوبارہ دنیا میں بھیجے جانے کی تمنا کرتے تھے اور تجھے پھرسے دنیا میں بھیجد یا گیا ہے، پس ایسا نہ ہو کہ آج کے دن کو ضائع کردو، کیونکہ ہر سانس جو لیتے ہو وہ ایک گراں بہا اور بے نظیر گوہر کے مانند ہے اور اس سے ایک ابدی اور ختم نہ ہونے والا خزانہ اخذ کیا جاسکتا ہے جو ہمیشہ کے لئے آرام و آسائش کا سبب بن سکتا ہے۔
ب) ۔ مراقبہ:
مرحلہ مشارطہ کے بعد مرحلہ مراقبہ ہے کہ انسان اپنے ساتھ کی ہوئی شرط کے بارے میں پورے دن کے دوران چوکنا رہنا چاہیے، اور اس پر عمل کرنا چاہیے اور ہر لمحہ ہوشیار رہنا چاہیے کہ گناہ کا مرتکب نہ ہوجائے،اسے نگراں رہنا چاہیے کہ صحیح راستہ پر چل رہا ہے یا انحراف و لغزش کا شکار ہو رہا ہے، دوسرے الفاظ میں یہ اسی تقویٰ کی مراقبت ہے، کیونکہ تقویٰ اقدار الہٰی کا تحفظ اور اعمال کی نگہبانی ہے ایک روایات میں آیا ہے کہ تقویٰ اس کے مانند ہے کہ انسان ایک اندھیری رات میں سانپ اور بچھو سے پرُ ایک بیابان میں قدم رکھتا ہے اور ہر لمحہ ممکن ہے سانپ پر قدم پڑے اور اس کے ڈسنے سے اس کی زندگی کا خاتمہ ہوجائے، اب جس طرح وہ انتہائی دوراندیشی اور احتیاط سے کام لیتا ہے تاکہ سانپ اور بچھو سے رو برو نہ ہو اس طرح انسان کو بھی اپنی زندگی میں پوری دقت اور احتیاط کرنی چاہیے تاکہ شیطان کے خطرہ سے بچ جائے اور جہنم کے عذاب میں مبتلا نہ ہوجائے،پس تقویٰ یہ ہے کہ انسان ہمیشہ اپنے کردار کی فکر میں رہے اور اپنے اعمال کے انجام کو مدنظر رکھے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر ایک شخص نے عرض کیا:
اے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !مجھے کوئی نصیحت فرمائیں! پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا: اگر میں تجھے نصیحت کر وںتو کیا تم اسے قبول کرو گے؟ ہر بار اس مرد نے جواب دیا: جی ہاں، اس کے بعد پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
میری نصیحت تیرے لئے یہ ہے کہ اگر کسی کام کو بجالا نے کا فیصلہ کیا ہے تو اس کے انجام کے بارے میں فکر کرو۔ پس اگر اس کام کا انجام اچھا ہے تو اسے بجالا ئواگر اس کام کا انجام اچھا نہیں ہے اس سے پرہیز کرو۔ ١
نفس کی مراقبت، خدا کی معرفت اور اس یقین کے نتیجہ میں حاصل ہوتی ہے کہ خدائے متعال انسان کے اندرونی اسرار سے واقف ہے اور کوئی چیز اس سے پوشیدہ نہیں ہے،اس لحاظ سے کوئی ایسا عمل نہیں ہے کہ انسان کے اس بجالا نے کے وقت مراقبت کا محتاج نہ ہو، کیونکہ بندہ، یا خدا کی بندگی اور اطاعت کی حالت میں ہے یا معصیت انجام دینے کی حالت میں ، یا مباح کام انجام دینے کی حالت میں ہے، اطاعت و بندگی کے دوران اس کی مراقبت عمل کو کمال بخشنے کے لئے اخلاص وکوشش اور عمل کو آفات سے بچانے کے لئے ادب اور حفاظت کی مراعات کرنا ہے، معصیت کے دوران بندہ کی مراقبت، توبہ، ندامت، شرم اور اس معصیت کی تلافی کے لئے اہتمام کرنا ہے،انسان کے مباح کام میں مراقبت یہ ہے کہ آداب کی رعایت کرے اور ہمیشہ نعمتوں سے استفادہ کرتے وقت منعم کو مدِ نظر رکھے اور ان نعمتوں کے لئے اس کا شکر بجالائے اور بلائوں کے مقابلہ میں صبر کرے۔
ج)۔ محاسبہ:
محاسبہ، تیسرا مرحلہ ہے کہ علمائے اخلاق نے تہذیب نفس کے لئے اس کی تأکید کی ہے۔ محاسبہ، یعنی انسان دن کے خاتمہ پر اپنے ایک روز کی رفتار کی جانچ پڑتال کرے اور دیکھ لے کہ جو فرائض الہٰی اور واجبات اس کے ذمہ تھے، ان پر عمل کیا ہے یانہیں، اگر تحقیقات کے بعد معلول ہوا کہ اس نے اپنے الہٰی فرائض بجالائے ہیں اور اس کی روزانہ رفتار حکم شرع کے مطابق تھی، تو اسے خدا کا شکر بجالا نا چاہیے کہ اس نے اسے فرائض انجام دینے کی توفیق عنایت کی ہے، چونکہ انجام فرائض انہیں توفیق الہٰی پر ہے، اس توفیق کے لئے شکر بجالانا چاہیے، اس طرح کوشش کرنی چاہیے کہ دوسرے دنوں میں بھی اس صحیح وسالم راستہ پر گا مزن رہے ،لیکن اگر اس نے الہٰی فرائض پر عمل نہیں کیا ہے یا انہیں نا قص انجام دیا ہے، اور لغزش و انحراف کا شکار ہوا ہے، تومستحبات اور خاص کرنافلہ نمازیں پڑھ کر نقائص کی تلافی کرنے کی کوشش کرے اور فرائض الہٰی کو ترک کرنے اور معصیت میں آلودہ ہونے کے بارے میں اپنی ملامت کرے اور استغفار کرے تاکہ خدائے متعال اس کے گناہوں کو نجش دے، اس طرح نیک اعمال کو انجام دیکر اپنے گناہوں کی تلافی کرنے کی کوشش کرے، اس صورت میں سوتے وقت اس نے اپنا حساب چکا دیا ہے اور کوئی گناہ اس کے لئے باقی نہیں رہتا ہے،یہ وہی محاسبہ ہے جس کی اہل بیت اطہار علیہم السلام اپنے اصحاب کو نصیحت فرماتے تھے اور علمائے اخلاق نے بھی ائمہ اطہار علیہم السلام کے دستورات کی بنیاد پر دوسروں کو اس کی تاکید کی ہے۔
تہذیب نفس میں محاسبہ کی اہمیت کے پیش نظر حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں:
''لیس منامن لم یحاسب نفسه فی کل یوم فان عمل حسناً استزاد اللّٰه وان عمل سیئاً استغفرالله منه وتاب الیه'' (۲)
''جو ہر روز اپنا محاسبہ نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ پس اگر نیک عمل انجام دیا ہے، تو خدا سے اعمال نیک کے زیادہ ہونے کی دعا کرے اور اگر کوئی گناہ اور برا کام انجام دیا ہے تو خدا سے توبہ اور استغفار کرے۔''
پیغمبر خد ا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اصحاب سے فرماتے ہیں:
''الا انبئکم باکیس ا لکیّسین و احمق الحمقیٰ؟ قالوا: بلی یارسول اللّٰه ' قال: اکیس الکیّسین من حاسب نفسه و عمل لما بعد الموت' واحمق الحمقیٰ من اتبع نفسه هواه و تمنی علی اللّٰه الامانی ۔''(۳)
کیا تمھیں عاقل ترین عاقلوں اور نادان ترین نادانوں کی خبر دیدوں؟ اصحاب نے کہا: جی ہاں، یا رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عاقل ترین انسان وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور اپنے مرنے کے بعد کے لئے عمل کرے اور احمق ترین انسان وہ ہے جو اپنی نفسانی خواہشات کا غلام ہو اور ہمیشہ اپنی آرزئوں کے بارے میں خدا سے درخواست کرے۔''
محاسبہ نفس کا فائدہ:
محاسبہ نفس کے جملہ فوائد میں سے یہ ہے کہ جب انسان اپنی خطائوں اور لغزشوں کے بارے میں آگاہ ہوجاتا ہے تو فوراً اس کی تلافی کرتا ہے اور اس کے آثار کو اپنی روح میں باقی رہنے نہیں دیتا۔ اگر انسان اپنا محاسبہ نہ کرے تو اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس نے کتنے گناہ کئے ہیں اگر ہم سے سوال کیا جائے کہ صبح سے شام تک کتنے نیک کام اور کتنے بُرے کام انجام دیئے ہیں اور کہاں پر خطا اور لغزش کے مرتکب ہوئے ہیں؟ ہم نہیں جانتے۔ لیکن جب ہم اپنے نفس کا محاسبہ کرنے کی ہمت کریں، اپنے ایک ایک کام کو یاد کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اعمال میں سے کس قدر صحیح تھے اور کس قدر غلط۔
جب انسان اپنے گناہوں کی طرف توجہ نہیں کرتا، تو وہ گناہ اس کی روح میں اثر ڈالتے ہیں اور ہر گناہ کے نتیجہ میں اس کے دل میں ایک سیاہ داغ نمودار ہوتا ہے، یہاں تک گناہوں کی افزائش کی بنا پر یہ سیاہی اس کے پورے دل کو اپنے لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ اور ممکن ہے اس میں کوئی نور انی نقطہ باقی نہ رہے۔ یہ مطلب بعض روایتوں کا مضمون ہے، من جملہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ایک روایت میں فرماتے ہیں:
''اذااذنب الرجل خرج فی قلبه نکتة سوداء فان تاب انمحت وان زاد زادت حتی تغلب علی قلبه فلا یفلح بعدها ابدا ''(۴)
''جب کوئی شخص گناہ کرتا ہے، اس کے دل میں ایک سیاہ داغ پیدا ہوتا ہے۔ پس اگر وہ توبہ کرے تو یہ داغ زائل ہوجاتا ہے اور اگر اس گناہ کے بعد اور بھی گناہ انجام دے تو وہ سیاہ داغ بڑھتا ہے یہاں تک اس کے پورے دل پر پھیلتا ہے اور وہ شخص کبھی کامیاب نہیں ہوتا''
بعض اوقات انسان غافل ہوتا ہے، جس وقت متوجہ ہوتا ہے کہ اس کے گناہوں نے اس کے دل پر غلبہ کرلیا ہے، اور اس وقت کی اپنی موجودہ حالت کا پچھلے سال کے ساتھ موزانہ کرتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے ذہن میں ایک بڑی تبدیلی رونماہوچکی ہے، بعض لوگ، جو ایک مدت سے علم حاصل کرنے میں مشغول ہیں، اپنے ذہن کردار اور اخلاق میں ایجادشدہ تنزل کے پیش نظر مشاہدہ کر نے کے بعد اپنے آپ سے کہتے ہیں:
اپنی تعلیم کے ابتدائی مراحل میں ہم بلند حوصلہ اورنورانی دل کے مالک تھے، یہ کیا ہوا کہ رفتہ رفتہ ہمارے وہ حوصلے کمزور ہوگئے؟ بعض لوگ اس تنزل کو علم کے سر تھونپتے ہیں اور تصور کرتے کہ علم حاصل کر نا ان کے دل کی تاریکی کا سبب بنا ہے۔ ایسے لوگ یہ باور کرنا نہیں چاہتے ہیں کہ ان کے گناہ ان کے معنوی حوصلوں کے تنزل اور دل کے سیاہ ہونے کا سبب بنے ہیں۔ یقینا علم حاصل کر ناانسان کے قابل قدر کاموں میں سے ہے، اگر چہ کبھی انسان کے یہی اچھے کام بہت سے عیب کے حامل ہوتے ہیں جن کا سر چشمہ انسان کی کمزوری اور لاپروائی ہوتی ہے۔
یہ ایک قسم کی خود فریبی ہے کہ جب انسان علم حاصل کرتے ہوئے تھک جاتا ہے یا امید نہیں رکھتا ہے کہ وہ کہیں پہنچ پائے گا، یادرس پڑھنے کو اپنی نفسانی خو اہشات کے مطابق نہیں پاتا ہے، بلکہ اسے اپنے تنزل کا حامل تصور کرتا ہے اور کہتا ہے، درس پڑھنا ہی میرے دل کے سیاہ ہونے کا سبب بنا ورنہ جب میں نے درس پڑھنا شروع کیا تھا، اس وقت میرا دل پاک تھا، صحیح ہے کہ ابتدا میں ہمارا دل پاک تھا اور اب تاریک ہوگیا ہے، لیکن کلی علت ہمارا درس پڑھنا نہیں ہے بلکہ اس کا سبب صحیح طور پر درس نہ پڑھنا ہے، اس کا سبب گناہ اور تہذیب نفس اوراصلاح کے بغیر علم حاصل کرنا ہے۔
جی ہاں، جب انسان محاسبہ نہیں کرتا ہے، تو گناہ کے واقعی اور تکوینی آثار نابود نہیں ہوتے ہیں اور اس کے دل کو تاریک کر ڈالتے ہیں اور وہ متوجہ نہیں ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر کوئی شخص سفید لباس پہنتا ہے اس پرداغ لگ جاتا ہے وہ آنکھیں بند کر کے یہ نہیں دیکھتا ہے کہ اس کے لباس پر داغ لگ گیا ہے اور وہ لباس گندہ اور کثیف ہوگیا ہے، یقینا، داغ زیادہ ہونے سے وہ لباس اس قدر آلودہ اور نفرت انگیز ہوجاتا ہے کہ ہر دیکھنے والا اس سے متنفر ہوتا ہے، لیکن خود انسان اس سے بے خبر ہوتا ہے، کیونکہ اس نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں! محاسبہ نفس سے دوری کا سب سے بڑا عیب اور نقصان یہ ہے کہ گناہ کے اثرات دل پر باقی رہتے ہیں اور انسان دن بہ دن آلودہ ہو کر اس کا دل سیاہ اور تاریک ہوجاتا ہے اور خدا سے بیشتر دور ہوتا رہتاہے، لیکن خود متوجہ نہیں ہوتا ہے، بلکہ خیال کرتا ہے وہ ایک شائستہ اور اچھا انسان بن گیا ہے اور اپنے آپ پر ناز کرتا ہے کہ میں ایسا ہوںویسا ہوں، جبکہ ہر روز تنزل کی منزلیں طے کرتا ہے اور اس کے نتیجہ میں شقاوت و بدبختی سے دو چار ہوتا ہے:
( قل هل ننبئکم بالأ خسرین اعمالاً الذین ضل سعیهم فی الحیوٰة الدنیا وهم یحسبون انهم یحسنون صنعاً ) (کہف ١٠٢و١٠٣)
''پیغمبر! کیا ہم آپ کو ان لوگوں کے بارے میں اطلاع دیں جو اپنے اعمال میں بد ترین خسارہ میں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی کوشش زندگانی دنیا میں بہک گئی ہے اور یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ اچھے اعمال انجام دے رہے ہیں۔''
علا مہ طبا طبائی اس آیۂمبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
''جو کسب معاش نفع کما نے کے لئے انجام پاتا ہے، اس میں خسارہ و نقصان اس وقت پیش آتا ہے جب کسب معاش کا مقصد حاصل نہ ہو یا سرمایہ کم ہو یا انسان کی کوشش ناکام ہوجائے۔ آیۂ شریفہ میں کوشش کے ضائع ہونے یا سعی کے نابود ہونے کی تعبیر کی گئی ہے، جیسے کہ انسان راستہ کو گم کر کے سفر کو جاری رکھنے کے باوجود مقصد تک نہیں پہنچتا ہے۔
بعض اوقات انسان کا کسب معاش میں نقصان اٹھانا اس کے کام میں ناتجربہ کاری کی وجہ سے ہوتا ہے یا طریقہ کار سے بے خبری یا دوسرے ناخواستہ عوامل کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ نقصان اور ضرر، ممکن ہے دور ہوجائے، کیونکہ امید کی جاتی ہے کہ نقصان اٹھانے والا بیدا ر ہوجائے اور کام کو پھر سے شروع کرے اور کھوئی ہوئی چیزوں کو دوبارہ پاکر نقصان کی تلافی کرے۔ لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ انسان نقصان اٹھاتا ہے اور خود تصور کرتا ہے کہ اسے فائدہ ہوا ہے! وہ ضرر کرتا ہے لیکن معتقد ہے کہ نفع کے علاوہ اسے کچھ حاصل نہیں ہوا ہے۔ یہ بدترین نقصان و خسارہ ہے جو ناقابل تلافی ہے۔
دنیا میں انسان کا فریضہ، صرف سعادت کے لئے کوشش کرنا ہے اور اس کے علاوہ اس کی کوئی اور خواہش نہیں ہونی چاہئے۔ اگر وہ حق کی راہ میں گامزن ہوکر مقصد کو حاصل کر لے تو وہ حقیقی سعادت تک پہنچ گیا ہے، لیکن اگر وہ حق سے منحرف ہوگیا اور اپنی غلطی اور انحراف کی طرف متوجہ نہیں ہوسکا، تو اس نے اپنی سعی و کوشش میں نقصان اٹھایا ہے لیکن اسے نجات کی ایک امید ہے۔ ہاں اگر وہ حق کے راستہ سے منحرف ہوگیا اور باطل کو پا کر اس پر مصر رہا اور اگر حق کی ایک کرن اس کے لئے ظاہر ہوئی، لیکن اس کے نفس نے اس پر پردہ ڈال دیا اور اسے بزرگ بینی اور جاہلانہ تعصب میں مبتلا کردیا تو اس قسم کا شخص عمل و کوشش میں بدترین نقصان اٹھانے والا ہے، کیونکہ اس کے نقصان و خسارہ کے بر طرف ہو نے کی کوئی امید نہیں ہے اور توقع نہیں ہے کہ وہ سعادت حاصل کر سکے۔ یہ وہی نکتہ ہے کہ خدائے متعال اس آیۂ شریفہ میں بیان فرماتا ہے۔(۵)
جیسے کہ اس سے پہلے کہا گیا، محاسبہ نفس کے فوائد میں سے یہ ہے کہ انسان اپنی خطائوں کے بارے میں متوجہ ہوتا ہے اور اسے دور کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ گناہ کے تکوینی آثار کو اپنی روح میں باقی رہنے نہیں دیتا تاکہ اس کے تنزل کا سبب بنے۔ اس حقیقت کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دولازم وملزوم تعبیروں سے بیان فرمایا ہے۔
پہلے فرمایا:''حاسب نفسک قبل ان تحاسب ''
اس کے بعد فرمایا:''فهوا هون لحسابک غداً ''
اس سے پہلے کہ تمھارا محاسبہ کیا جائے، خود اپنے اعمال کامحاسبہ کرلو کیونکہ یہ محاسبہ تمھارے قیامت کے حساب کو آسان کر دے گا۔ کیونکہ اگر تم نے خود اپنے اعمال کامحا سبہ کیا تو تم اپنی خطائوں اور انحرافات کے علاج کے در پے رہو گے اور اس کے نتیجہ میں تمھاری قیامت کا حساب ہلکا ہوگا۔ لیکن اگر ایسا نہ کیا تو گناہوں کا انبار لگ جائے گا قیامت میں مشکل زیادہ ہوگی: تم دنیا میں اپنے گناہوں سے بے خبر ہو اور نہیں جانتے ہو کہ کس قدر پستی میں گر چکے ہو، لیکن جب قیامت کے دن اپنے نامہ اعمال کو پائوگے اور اپنے بے شمار گناہوں کو دیکھو گے تو اس کی حسرت تمہیں جہنم کے عذاب سے زیادہ رنج والم سے دوچار کر ے گی۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حدیث کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں:
''وزن نفسک قبل ان توزن و تجهز للعرض الاکبر یوم تعرض لا تخفی علی اللّٰه خافیة''
''اپنے آپ کو جانچ لو، اس سے پہلے کہ قیامت کے دن خدا کے حضور میں پیش کرنے کے لئے تجھے جانچاجائے، آمادہ رہنا کہ خدائے متعال سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے''
قیامت کے دن جانچ پڑتال کے بارے میں خداوند متعال فرماتا ہے:
( والو زن یومئذٍ الحق ) ) (اعراف٨)
''اس (قیامت) دن اعمال کا وزن ایک برحق شئے ہے۔''
اعمال کا موازنہ اور ناپ تول ہمارے اعتقاد میں سے ہے۔ اعمال کی پڑتال، ان کے موازنہ اور کم وزیاد سے مربوط ہے، اب اگر ہم اپنے اعمال کے بارے میں خود جانچ پڑتال کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ہمارے گناہ بہت سنگین ہوگئے ہیں تو اپنے بوجھ کو ہلکار کھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن اگر ہم نے اپنے اعمال کامحا سبہ نہ کیا، اپنے گناہوں اور ہماری روح پر ان کے اثرات کے بارے میں توجہ نہ کی، تو ہم الہٰی میزان کے حاضر کئے جانے کے دن رسوا ہوں گے اور کف افسوس ملیں گے۔ پس، جو اپنے اعمال کا محاسبہ کرے گا، جس دن اس کے تمام مخفی و آشکار اعمال خدا کے سامنے پیش کئے جائیں گے تو وہ ہلکا ہو گا، کیونکہ اس نے اپنے گناہ اور اخلاقی کو تاہیوں کی تلافی کی ہے۔ لیکن جس نے اپنے اعمال کا محاسبہ نہیں کیا ہے، خدا کے سامنے اس کے اعمال پیش کرنے کے دن جس دن انسان کے تمام چھوٹے بڑے اعمال آشکار ہوں گے حسرت کھائے گا۔
قیامت کے دن حسرت سے دو چار نہ ہونے کے لئے، آج ہی سے کوشش کرنی چاہئے اور اپنے اعمال کو اپنے سامنے ہمہ وقت مجسم رکھنا چاہئے، تصور کیجئے کہ آپ کی زندگی اختتام کو پہنچ چکی ہے چونکہ کوئی مطمئن نہیں ہے کہ وہ کل تک زندہ رہے گا یا نہیں اور تمہارے اعمال خدا کے حضور میں پیش کئے جائیں گے۔ دیکھیے کہ خدائے متعال کو کیا پیش کر رہے ہیں اور اس کے مقابلے میں کیا حال رکھتے ہیں۔ جب ائمہ اطہار علیہم السلام اپنی مناجات میں ''عرض اکبر'' کے دن جس دن انسان کے اعمال خدا کو پیش کئے جاتے ہیں سے خدا کی پناہ چاہتے ہیں، مناسب ہے اس دن خطر ناک و مہلک ترین عذابوں کا دن ہے کہ حسرت میں مبتلا نہ ہونے کی تلافی کریں تاکہ وہ ہمارے نامہ ٔاعمال کی کتاب سے مٹ جائیں۔
بُرے اعمال کا نتیجہ، شرمندگی:
یقینا جب خدا کے حضور اعمال کے پیش کئے جانے کی گفتگو کی جاتی ہے تو، خدا سے شرم و حیا کی بحث بھی پیش آتی ہے۔ جب انسان کوئی بُرا کام انجام دے یا کسی ظلم کا مرتکب ہوجائے اور اسے فراموش کردے، اور اس کے یہاں کوئی فرق نہ آئے اس کے ذہن میں کوئی تبدیلی پیدا نہ ہو یہ اس لئے ہے ہم ضعیف ہیں اور حقائق کو صحیح درک نہیں کر سکتے، مزید اس لئے کہ تدریجاً حقائق کو درک کریں، ایک محسوس امر کی مثال پیش کرتے ہیں: فرض کیجئے عرصہ سے دو آدمی آپس میں دوست تھے اوریہ عہد کر چکے تھے کہ ایک دوسرے کے ساتھ خیانت نہیں کریں گے۔ اب اگر ان دو میں سے کسی ایک نے اپنے دوست کے ساتھ ظلم کیا، اگر اس کا دوست اس کے ظلم سے بے خبر تھا یا اسے بھول گیا ہو، جب اپنے دوست سے ملتا ہے تو اس کا برتائو بالکل عادی ہے، لیکن اگر وہ دوست ظلم کی اور خیانت کی ویڈیو یا فوٹوگرافی بنا لے، اور ایک مدت کے بعد اسے دکھا کر کہے: تم نے میرے ساتھ عہد و پیمان کیا تھا کہ مجھ پر ظلم نہ کرو گے، اس قدر دوستی کا دم بھر تے تھے، پس کیوں تم نے میرے ساتھ یہ ظلم کیا اور خیانت کی؟ یہاں پر ظالم کے لئے ایک ایسی شرم و حیا پیش آتی ہے، جو تمام عذاب اور جسمانی اذیت سے سخت ہوتی ہے۔ وہ ایک تو ایک ظلم کا مرتکب ہونے کے بعدزمانۂ ظلم کو فراموش کر چکا تھا اور یقین نہیں رکھتا تھا اس کا دوست اس واقعہ سے خبر دار ہوگا، اگر اس کا دوست اس ظلم کے منظر کی تصویر اسے دکھادے، تو اس کا کیا حال ہو گا؟
ہم نے دنیا کے اعمال پیش کرنے کے لئے، ظلم کی تصویروں کی نمائش کی مثال پیش کی، لیکن قیامت کے دن خود اعمال حاضر ہوتے ہیں۔ اگر چہ ہماری عقل حضور اعمال کے مجسم ہونے کی کیفیت کو درک نہیں کرسکتی ہے، لیکن ہمارے مذہبی اعتقادات کی بنا پر، اعمال کا مجسم ہونا ثابت ہو چکا ہے:
(....( ووجد واما عملوا حاضرا ) (کہف٤٩)
''اور سب لوگ اپنے اعمال کو بالکل حاضر پائیں گے''
اس آیۂ شریفہ میں خدائے متعال صاف الفاظ میں عین عمل کے حاضر ہونے کو بیان فرماتا ہے اور آیت کی دوسری صورت میں تفسیر نہیں کی جاسکتی ہے۔ اس آیت کے علاوہ دیگر آیات بھی اعمال کے مجسم ہونے کو بیان کرتی ہیں، من جملہ:
( یوم تجد کل نفسٍ ماعملت من خیرٍ محضراً وما عملت من سوئٍ ) ...) (آل عمران ٣٠)
''اس دن کو یاد کرو جب ہر نفس اپنے نیک اعمال کو بھی حاضر پائے گا اور اعمال بد کو بھی''
حتی اگر قیامت کے دن، انسان کو اس کے اعمال کی تصویریں دکھائیں، تب بھی وہ انکار نہیں کرسکتا ہے۔ چہ جائے کہ اسے عین اعمال یا ان کی تصورت دکھائے جائے گی: فلاں گھڑی یا فلاں رات کو تم نے ایسا کیا ہے، اس وقت جب خدا کے حضور حاضر ہوا ہے، اس پر ایک ایسی شرم طاری ہو گی جو تمام عذاب سے سخت ہے۔
انسان کو محشر کی یاد ذہن میں تازہ کرنے کے لئے اور خدا کے سامنے اس کے اعمال پیش کئے جانے کو اپنے سامنے مجسم کرنا چاہئے، یا اگر اس دنیا میں کسی رسوائی سے روبرو ہوا ہے، تو اسے اپنے سامنے مجسم کرے، مثال کے طور پر کبھی پوشیدہ طور پر ایک بڑا کام انجام دے رہا تھا، اچانک ایک بچہ آکر اسے رنگے ہاتھوں پکڑلے۔ شاید اس قسم کی رود اد ہر ایک کے لئے پیش آئی ہوگی کہ دائیں بائیں توجہ کئے بغیر کسی بُرے کام میں مشغول تھا اور اچانک معلوم ہوا کہ کوئی اسے دیکھ رہا تھا۔ ایسے موقع پر انسان اس قدر شرمندہ ہوتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کے لئے زمین دھنس جائے اور زندہ دفن ہوجائے، اب اگر دیکھنے والا بچہ نہ ہو اور عاقل و باشعور ہو یا اس شخص پر کوئی حق رکھتا ہو اور وہ ناپسند کام اس کے حق میں خیانت حساب ہوتا ہو تو اس کی بات ہی جدا گانہ ہے ۔
اس میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں ہے کہ جو کچھ ہمارے اختیار میں ہے وہ خدا کی طرف سے ہے ہر نامناسب عمل خدائے متعال سے خیانت ہے۔ اگر انسان صحیح طور پر سوچ لے، تو اسے معلوم ہوگا کہ صاحب حق کے حضور میں اس کا گناہ انجام دینا اس کے ساتھ خیانت تھی۔ اسے معلوم ہوگا کہ جس کی وہ معصیت اور نافرمانی کرتا ہے، اس گناہ کو انجام دینے میں بھی اس کی ہستی اور قدرت اس کی طرف سے ہے۔ سانس لینے اور بات کرنے کی طاقت جو کچھ ہم رکھتے ہیں، اس کی طرف سے ہے۔ اس نے یہ سب نعمتیں اور توانائیاں ہمیں عطاکی ہیں تاکہ تکامل وترقی کی راہ میں اس کا قرب حاصل کرنے کے لئے ان سے استفادہ کریں، کتنی شرم ناک بات ہے کہ ہم خدا کی نعمتوں کو اس کی نافرمانی، معصیت، اس سے دوری اور اس سے خیانت کے لئے استفادہ کریں!
مذکورہ بیان کے پیش نظر، اگر انسان کسی رات کو چندلمحہ اپنے نفس کے محاسبہ کے لئے مخصوص کرلے اور اپنے سامنے مجسم کرے کہ اس نے اس خدا کے سامنے گناہ انجام دیا ہے، جس کی طرف سے سب چیزیں ہیں۔ یقینا یہ محاسبہ اور توجہ کہ خدا کے حضور میں گناہ انجام دیا ہے، گناہ میں تخفیف کا سبب بنتا ہے۔ حتی اگر توبہ نصوح بھی نہ کرے جو تمام گنا ہوں کو نابود کردیتی ہے، یہی شرمندگی کا احساس گناہ کے بوجھ کو تھوڑا سا کم کرتا ہے اور گناہ کے پھیلنے اور اس کے آثار کے باقی رہنے کو روکتا ہے، اور اس کے بعد انسان آسانی کے ساتھ مرتکب گناہ نہیں ہوتا ہے۔ اب اگر یہ تصور کہ وہ ہروقت خدا کے سامنے ہے، تنبیہ و توجہ کی حالت میں اس کے لئے ملکہ اور عادت بن جائے تو پھر وہ کبھی گناہ نہیں کرے گا۔
شرم و حیا کا مفہوم اور اس کی حد:
اعمال کا خدا کے حضور پیش ہونے اور شرم وحیا کے بارے میں مذکورہ بیانات کے ضمن میں حضرت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حدیث کے دوسرے حصہ میں مسئلہ حیا کے بارے میں بیان فرماتے ہیں:
''یا اباذر؛ استح من اللّٰه فانی والذی نفسی بیده لا ازال حین اذهب الی الغائط متقنعاً بثوبی استحیی من الملکین اللذین معی''
''اے ابوذر! خدائے متعال سے حیا کرو، اس خدا کی قسم جس کے اختیار میں میری جان ہے، جب میں بیت الخلا میں جاتا ہوں، اپنے ہمراہ دو فرشتوں سے شرم کی وجہ سے اپنے سراور چہرے کو چھپاتا ہوں''
شرم و حیا کا مسئلہ انتہائی اہم ہے، افسوس کہ اس کے بارے میں کچھ غلط فہمیاں ہیں، دشمنوں کے ثقافتی نفوذ کے نتیجہ میں ، شرم و حیا کے بارے میں ہمارے لئے فکری مشکلات پیدا ہوگئی ہیں۔ اس لحاظ سے مناسب ہے اس موضوع پر کچھ تحقیق انجام دی جائے۔ اگر چہ ہم چاہتے ہیں اس فرصت میں موعظوں کے بیان پر اکتفا کریں، شاید ان مباحث کو بیان کرنے کے لئے جلسہ میں آمادگی نہ ہو، لیکن اس مسئلہ کی فکری بنیاد کی طرف اشارہ کرنا ضروری جانتا ہوں:
ہم سب جانتے ہیں کہ اسلامی تہذیب میں ، شرم و حیا اقدار میں شمار ہوتی ہے اور گستاخی، بے شرمی نا ہمواری اقدار کے مقابل میں اس کی ضد شمار ہوتی ہے۔ پہلے جب کسی کو بُرا بھلا کہنا چاہتے تھے، تو اسے کہتے تھے: گستاخ، کیونکہ کلمئہ گستاخ، گالی محسوب ہوتا تھا۔ اگر اس سے غلیظ اور عظیم گالی دینا چاہتے تو کہتے تھے: بے شرم! بے شرم بہت بڑی گالی تھی، یہ ہماری تہذیب ہے۔ لیکن آج مغربی تہذیب اور کفر کی دنیا شرم و حیا کو عیب جانتے ہیں۔
آج جس مسئلہ کا، علم نفسیات، فلسفہ اخلاق اور تعلیم و تربیت میں فراوان استفادہ ہوتا ہے وہ مسئلہ شرم اوربے حیائی ہے، کیا علم نفسیات ، اخلاق اور تربیتی اصول کے نقطہ نظر سے انسان کو باشرم یا بے شرم ہونا چاہئے؟ البتہ جو ہم کہتے ہیں کہ مغربی تہذیب میں انسانی تہذیب کے برخلاف بے شرمی کی ترویج کی جاتی ہے، اس معنی میں نہیں ہے کہ شرم و حیا کے بارے میں ہمارا تصور اور شیوہ مکمل طور پر صحیح ہے، اس لحاظ سے یہ موضوع قابل بحث وتحقیق ہے اور مطلب کو واضح کرنے کے لئے ہم انسان میں شرم و حیا کی بنیاد کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
انسان میں موجود ہ فطرت کی بنیاد پر، اگر انسان کوئی ایسا کام انجام دے کہ اسے بُرا جانتا ہو، تو اس میں شرم نام کا ایک مخصوص ردِ عمل پیدا ہوتا ہے۔ البتہ اس روحی تأثر عمل کی پیدائش دوامر پر منحصر ہے: پہلے یہ کہ انسان اسی کام کوبرا جانتا ہو، دوسرے یہ کہ اس کی فطرت پامال نہ ہوئی ہو چونکہ انسان کے فطری حالات بہت ہیں، لیکن جب اس نے اپنی فطرت کو پامال کردیا، تو اس کے فطرت کمزور پڑ گئی اور آہستہ آہستہ نابود ہونے لگی پس، بُرے کام کے مقابل میں شرم کا احساس، ایک فطری امرہے، لیکن برائی کی شناخت کبھی، عقل کے توسط سے انجام پاتی ہے اور بعض مواقع پر تعلیم و تربیت کے ذریعہ اور بعض مواقع پر انسان محیط (ماحول و معاشرہ)کے تابع ہوتا ہے کہ کس چیز کو بُرا اور کس چیز کو اچھا سمجھے۔
ابتدا میں ماں باپ اپنے بچے کو یاد دلاتے ہیں کہ کونسی چیز بُری ہے اور کونسی چیز اچھی، اب اگر یہ تلقین اور یادد لانا صحیح انجام پایا ہے تو جب بچہ کسی بُرے کام کا مرتکب ہوجائے اور اسے معلوم ہوجائے کسی دوسرے نے اسے دیکھ لیاہے، تو وہ فطری جبلت کی بنا پر شرمندہ ہوتا ہے اور سرجھکا لیتا ہے اور کبھی پسینہ پسینہ ہوجاتا ہے۔ اس بچے کی طرف سے برے کام کے مقابل قدرتی امر ہے، کیونکہ اس نے اچھے اور بُرے کو تعلیم و تربیت سے سیکھا ہے۔
غلط رسم ورواج کے فروغ پانے کے عوامل:
اخلاقی و اسلامی ا قدار کے علاوہ بعض آداب و رسوم، محیط اور سماج کی چاہت کے اثر سے یا قوم پرستی اور دوسری قوم اور نسلی شرائط کی وجہ سے ہم میں رائج ہوگئی ہے کہ جن کی بنیاد پر ہم بعض چیزوں کو نیک وبد جانتے ہیں۔ یہ نظریہ شرع سے مربوط نہیں ہے بلکہ ممکن ہے مخالف شرع بھی ہو، مثلاً ہم بُرا جانتے ہیں کہ بچے بڑوں کے سامنے بات کریں، ہم اسے کہتے ہیں؛ چپ ہوجائو بُرا ہے، چونکہ اس بچے نے اچھے اور بُرے کو ماں باپ اور اپنے پاس لوگوں سے سیکھا ہے، تصور کرتا ہے فلاں کام بُرا ہے، یہی کہ وہ دیکھتا ہے دوسرے لوگ اس کے کام کے مقابل میں منفی ردِّ عمل دکھاتے ہیں، ناک بھوں چڑھا تے ہیں اور ناپسند رفتار دکھاتے ہیں تو کام کی برائی کو سمجھتا ہے اور اس کو بجالاتے وقت شرم و حیا کا احساس کرتا ہے، اسی لحاظ سے بزرگوں کے سامنے بات کرنے کی جرات نہیں کرتا ہے، کلاس میں استاد سے سوال کرنے میں شرماتا ہے۔ رفتہ رفتہ اس کے لئے یہ حالت ملکہ میں تبدیل ہوجاتی ہے اور جتنا آگے بڑھتا ہے اور اس کی عمر میں اضافہ ہوتا جاتا ہے پھر بھی بات کرتے وقت اس میں شرم و حیا کی حالت پیدا ہوتی ہے: جب درس خارج میں اعتراض کرنا چاہتا ہے، اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے اور اس کے چہرے کا رنگ سرخ ہوجاتا ہے۔
یقینا شرع پسند نہیں کرتی ہے کہ انسان اپنی بات نہ کہہ سکے اور اگر سوال کرنا چاہتا یاکوئی سچی بات کرنا چاہتا ہو تو اسے بیان نہ کرسکے۔ اس قسم کا غلط تصور عورتوں کے شرم و حیا میں بھی ہے: ہماری تہذیب میں عورت کا سب سے بڑا سرمایہ، شرم و حیا ہے، لیکن اس قیمتی مفہوم کے مصادیق کے بارے میں ہمارے معاشرے میں کچھ بے جا افراط موجود ہیں۔ ایک باشرم اور باحجاب لڑکی کی ایسی تربیت کرتے ہیں تاکہ کسی نامحرم مرد کے سامنے بات نہ کرسکے اور اسے سمجھاتے ہیں کہ یہ عمل شرم و حیا کا انعکاس ہے! اسلام کے نقطئہ نظر سے، ایک عورت کو دوسرے کے سامنے بولنے کی طاقت کو اپنے اندر اجاگر کرنا چاہئے، لیکن یہ امر بہت بجا اور پسندیدہ ہے کہ جہاں پر اسے بات نہیں کرنی چاہئے، وہاں پر بات نہ کرے، یا اس کی آواز اس قدر سریلی نہ ہو کہ دوسروں کے جذبات کے مشتعل ہونے کا سبب بنے ، لیکن اسے یہ عادت بھی نہیںبنانی چاہئے کہ کبھی نامحرم اس کی آواز نہ سننے پائے۔ حقیقت میں ہم مسائل اور مختلف جوانب کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کرسکے ہیں۔
اگردوسروں کے سامنے عورت کابولنا ناپسند ہوتا، تو حضرت فاطمئہ زہرا سلام اللہ علیہا کیوں مسجد النبی میں وہ شعلہ بیاں تقریر کر تیں؟ یا حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کیوں ابن زیاد کے دربارمیں زبانوں کو کھولتیں؟ جنھیں، شرع کہاجاتا ہے: عورت کو ایسے بات نہیں کرنی چاہئے جو دوسروں کو مشتعل اور منحرف کرنے کا سبب بنے اور اس کے بولنے کا انداز شہوت کو ابھارنے کا سبب بنے، ورنہ شائستہ نہیں ہے کہ عورت بولنے کی جرأت نہ رکھے۔
بعض مسائل خاص کر اخلاقی و تربیتی اقدار میں ہم بعض افراط اور تفریط سے کام لیتے ہیں کہ جن کے بہت بُرے اثرات رونما ہوئے ہیں۔ یورپیوں نے جب ہمارے افراط کے بُرے اثرات دیکھے، تو انہوں نے ان منفی آثار کو رو کنے کی کوشش کی اور وہ تفریط کے شکار ہوگئے اور خودا قدار کو بالائے طاق رکھدیا: ہم نے اپنے بچوں کو شرمیلا بنا دیا تاکہ بزرگوں کے سامنے بات نہ کر سکیں۔ ہم نے عورتوں کی ایسی تربیت کی کہ وہ مردوں کے سامنے بول نہ سکیں۔ انہوں نے جب دیکھا کہ یہ ایک نامناسب اور غلط کام ہے، تو کہا: بچہ کو ہر کام میں آزاد ہونا چاہئے، عورت کو آزاد ہونا چاہئے اور کسی چیز کی پروا اور شرم نہیں کرنی چاہئے، حتی اگر مردوں کے سامنے ننگی بھی ہوجائیں۔ ہمارے شرم و حیا کے اس بے جاتصور کا مغرب میں یہ ردِ عمل ہوا کہ انہوں نے حدود و قیود کو بالکل ہی ہٹا دیا:
''الجاهل اما مفرط واما مفرط'' ''نادان اور جاہل یا افراط کرتا ہے یا تفریط''
نہ ہم نے اسلام کو صحیح پہچانا ہے اور نہ وہ صحیح راستہ پر چلے ہیں، نہ ہم نے صحیح معنوں میں اسلامی اقدار کا استفادہ کیا ہے اور نہ انہوں نے الہٰی اقدار پر توجہ کی ہے۔ البتہ ان سے توقع نہیں کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ ان کی فکری بنیادہی فاسد ہے۔ معلوم نہیں ہے کہ وہ خدا پر اعتقاد رکھتے ہیں۔ یورپ میں حتی کلیسا جانے والے معتقد عیسائی بھی معلوم نہیں دین پر اعتقاد رکھتے ہیںیا نہیں، وہ صرف زبان سے دین اور دینی قدروں کے ساتھ دلچسپی رکھنے کا اظہار کرتے ہیں ورنہ وہ حقیقت میں دین کے بارے میں کوئی میلان نہیں رکھتے ہیں۔ لہذا ان سے کسی قسم کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے۔ بات یہ ہے کہ ہم نے کیوں اسلام کے حقائق کو نہیں پہچانا اور ان پر صحیح عمل نہیں کیا ہے، تاکہ ان کا صحیح استعمال کر کے اس سے شائستہ استفادہ کرتے اور دوسروں کی مذمت کا نشانہ نہ بنتے۔
گزشتہ مطالب کے پیش نظر ضروری ہے کہ شرم و حیا کے حدود معین ہوجائیں، یہ کہ حیا کا مفہوم کیا ہے اور کہاں پر حیا کی جانی چاہئے اور کہا ںپر شرم و حیا ناپسند اور قابل مذمت ہے؟ یقینا احساس شرمندگی ہر موقع پر مطلوب نہیں ہے اور ہر کمزوری جو شرم کی وجہ سے پیدا ہوجاتی ہے مطلوب نہیں ہے۔ ہمیں اچھے اور بُرے کو پہچاننا چاہئے اور دونوں کو قوی استدلال اور شرع کے مطابق ایک دوسرے سے ہماہنگی چاہئے۔ ہم کیوں بچے سے کہیں کہ بزر گوں کے سامنے بولنا بُرا ہے؟ کیا یہ حکم خدا اور پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم ہے؟ کیا ائمہ اطہار علیہم السلام کی سیرت یہی تھی؟ یقینا ایسا نہیں ہے۔ جی ہاں چیخ پکار کسی کے لئے مطلوب نہیں ہے، البتہ بچہ تدریجاً اور دوسروں کی صحیح تربیت سے سمجھ سکتا ہے کہ اسے ایسے بولنا چاہئے کہ مخاطب سن پائے اور حد سے زیادہ اس کی آواز بلند نہیں ہونا چاہئے، نہ یہ کہ بالکل بات ہی نہ کرے۔
کسی نے کہا ہے کہ عورت میں اس قدر جرأت کم ہو کہ دوسروں کے سامنے بات کرنے کی اس میں ہمت نہ ہو یا اگر عدالت میں اپنا حق ثابت کرنا چاہے یا کسی جگہ پر نہی از منکر کرنا چاہے، تو اس میں قدرت نہ ہو ؟! لہٰذا، ہمیں خوب اور بد کو اسلامی معیاروں کے مطابق پہچاننا چاہئے، ہمیں جاننا چاہئے کہ اسلام کی نظر میں حقیقت میں خوب و بد کونسی چیزیں ہیں پھر حقیقی بد کے مقابل میں شرم و حیا مطلوب ہے، نہ کہ ایک سماج اورقوم و ملت یا کسی نسل یا علاقہ کے پیدا کئے گئے رسم و عادت کے سامنے شرم کرنا، یہ شرم و حیا آداب و رسوم کی پیدا وار ہیں، نہ اخلاقی و معنوی اقدار کی۔ آداب و رسوم اگر اسلامی قدروں کی بنیادوں پر ہوں، تو قابل احترام ہیں اور اگرحق اور الہٰی اقدار کے خلاف ہوں تو کے مخالف ہیں۔ اس لحاظ سے، ہمیں اسلام کے احکام پر صحیح عمل اور پیروی کرنے کے لئے، ابتدا میں حقیقی خوب و بد کو پہچاننا چاہئے تاکہ جان لیں کہ کن اعمال اور رفتاروں کے سامنے شرم و حیا کرنی چاہئے۔
بیان کیا گیا کہ خوب و بد کو غریزہ فطری کی بنیاد پر پرکھنا چاہئے اور انسان کو غلط کام انجام دینے کے بعد شرم محسوس کرنا چاہئے اب اگر یہ غریزہ فطرت سے برسر پیکار ہو جائے، تو تدر یجاً شرم وحیا کی یہ فطری جبلت ضعیف ہو کر انسان میں بے حیائی کی عادت رسوخکرنے لگتی ہے۔ یہ امرشرم وحیا سے مخصوص نہیں ہے، بلکہ اگر انسان ہر فطری امر کے مقابل میں مقاومت کرے، تو وہ فطری امورفتہ رفتہ ضعیف اور بے اثر ہونے لگتے ہیں، جب انسان گناہ کا مرتکب ہوتا ہے اور اس کے انجام کے بارے میں بے تفاوتی سے کام لیتا ہے توآہستہ آہستہ ان میں گناہ کا ملکہ تقویت پاتا ہے، اور اس کے بعد اگر یہ تصور بھی کر لے کہ خدا کے حضور میں گناہ انجام دے رہا ہے پھر بھی احساس شرمندگی نہیں کرتا، کیونکہ اس کی فطرت مردہ چکی ہے۔
بیشک، محاسبہ نفس کا فقدان اور مسلسل پے در پے گناہ کا مرتکب ہونا فطرت کو رفتہ رفتہ بے اثر کر دیتا ہے اور نتیجہ کے طور پر انسان ہر قسم کے گناہ کو انجام دینے میں کوئی پروا نہیں کرتا اور اس کا ضمیر اس کی سزرنش نہیں کرتا، جو انسان ہر بُرے کام کو انجام دینے پر شرمندہ ہوتا تھا، اب شرمندگی کا احساس نہیں کرتا ہے،البتہ دوسرے عوامل بھی موجود ہیں جو احساس شرمندگی کو نابود کرنے کا سبب بنتے ہیں اور روایتوں میں ان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ لیکن بے شرمی اور بے حیائی کا اصل عامل، شرم و حیا کے فطری ہونے کے مقابلے میں مقاومت اور اس کی بے اعتنائی ہے۔ اس کے مقابل میں اس فطرت کی تقویت کے لئے بعض نکات کی رعایت کی جانی چاہئے کہ من جملہ ان میں ایک نکتہ یہ ہے جس کی طرف اس روایت میں اشارہ کیا گیا ہے: پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم اس روایت میں جناب ابوذر کو خدا سے شرم کرنے کی نصیحت فرماتے ہیں اور اس کے بعد فرماتے ہیں: ''جب میں بیت الخلا میں جاتا ہوں، اپنے سر اور چہرے کو چھپا لیتا ہوں، اور اپنے ہمراہ موجودہ فرشتوں سے حیا کرتا ہوں'' یہ رفتار، شرم کی جبلت کو تقویت بخشنے کے لئے ہے۔
ابو سعید خدری نے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بے انتہا شرم و حیا کے بارے میں کہا ہے:
''کان رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وآله وسلم' اشد حیائً من العذراء فی خدرها وکان اذاکره شیئاً عرفناه فی وجهه'' (۶)
''رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حجلہ عروسی کی دلہن سے زیادہ باحیا تھے، جب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کسی چیز سے رنجیدہ ہوتے تھے اس کو (زبان پر نہیں لاتے تھے) ہم آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے چہرہ سے سمجھ لیتے تھے''
معروف ہے کہ جناب سلمان نے فرمایا ہے: ''میں نے عمر بھر میں اپنی شرم گاہ پر نظر نہیں ڈالی ہے''! جناب سلمان بوڑھے تھے۔ وہ طولانی عمر کے مالک تھے۔ یقینا جس کا ایسا جذبہ ہو، وہ کبھی زنا نہیں کرتا۔ لیکن اگر انسان لاپروا ہو، خوب و بد میں فرق نہ کرتا ہو، رفتہ رفتہ اس کی فطری شرم و حیا نا بود جاہوتی ہے اور گناہ کے عامل و محرک اسے معصیت و لغزش کی طرف کھینچ لیتے ہیں۔ وہ ہمیشہ نابودی کے دہانے پر قرار پاتا ہے اور منتظر ہوتا ہے کہ ہوا کا ایک جھونکا آئے اور وہ گر جائے۔ لیکن اگر ابتدا سے اپنی رفتار کے بارے میں ہوشیار رہے اور فطرت کو تقویت بخشنے والے عوامل کو اپنے اندر اجاگر کرے، تو شرم و حیا کا جذبہ اس میں تقویت پائے گا اور وہ گناہ سے آلودہ نہیں ہوگا۔
____________________
١۔بحار الانوار :ج٧٠ ،ص٧٣
۲۔ اصول کافی ''باترجمہ '' ج٤ص١٩١
۳۔بحار الانوار ،ج٧٠ص٦٩
۴۔ اصول کافی ''باترجمہ '' ج٣ص٣٧٣
۵۔ المیزان، ج٣ص٤٣٠
۶۔ بحار الانوار ، ج٫١٦ص٢٣٠
پچیسواں درس:
بہشت تک پہنچے کا راستے اورحیائے الٰہی کے جلوے
* طولانی آرزوں کی مذمت اور امیدسے اس کافرق
* دنیا، وسیلہ یا ہدف ومقصد
* غنی مطلق کی طرف توجہ، غیر خدا سے بے نیازی کا سبب
* موت کی یاد اور حیائے الہٰی کے جلوے
* آرستگی، اولیائے دین کی سیرت
بہشت تک پہنچنے کاراستہ اورحیائے الٰہی کے جلوے
''یا اباذر؛ اتحب ان تدخل الجنة ؟ قلت: نعم فداک ابی قال: فاقصر من الامل واجعل الموت نصب عینیک واستح من اللّٰه حق الحیاء قال قلت: یا رسول اللّٰه کلنا نستحیی من اللّٰه قال: لیس ذٰلک الحیاء ولکن الحیاء من اللّٰه ان لاتنسی المقابر والبلی' والجوف وماوعی' والراس وما من حوی ومن اراد کرامة الآخرة فلیدع زینة الدنیا فاذا کنت کذٰلک' اصبت ولا یة اللّٰه ''
گزشتہ درس میں ہم نے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے موعظہ کے ایک حصہ پر بحث و تحقیق کی جس میں خدائے متعال سے شرم و حیا کی نصیحت کی گئی تھی۔ حدیث مبارک کے اس حصہ میں بھی رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم دوسری نصیحتوں کے ضمن میں ، خدائے متعال سے شرم و حیا کے بارے میں دوبارہ یاددہانی فرماتے ہیں اور جناب ابوذر سے فرماتے ہیں:
یا اباذر؛ اتحب ان تدخل الجنة ؟
''اے ابوذر! پسند کرتے ہو کہ تم بہشت میں داخل ہو؟''
جناب ابوذر جواب میں عرض کرتے ہیں:
نعم فداک ابی ''جی ہاں، میرے باپ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پر قربان ہوں۔''
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جناب ابوذرسے بہشت اور ابدی سعادت کے بارے میں تین بنیادی شرائط بیان فرماتے ہیں:
١۔ فاقصر من الامل، دورودراز آرزئوں کو اپنے دماغ سے نکال دو
٢۔ واجعل الموت نصب عینیک، موت کو ہمیشہ اپنے نزدیک تصور کرو
٣۔ واستح من اللّٰہ حق الحیائ۔ خدا سے اسی طرح شرم و حیا کرو جس کا وہ مستحق ہے
طولانی آرزوں کی مذمت اورامید سے اس کا فرق:
روایتوں میں جن موضو عات کے بارے میں فراوان تاکید کی گئی ہے، ان میں مومن کا طولانی آرزوؤں سے فرار کرنا بھی ہے،طولانی آرزوئیں اس امر کا سبب بنتی ہیں کہ انسان الہٰی فرائض اور معنوی مقاصد میں پیچھے رہے اور ان آرزوئوں تک پہنچنے کے لئے فرائض الہٰی سے پہلو تہی کرے، ہمیشہ اپنے حال پر نظر نہ رکھے اور فرصتوں سے استفادہ نہ کرے اور کل کی فکر میں قابل قدر فرصتوں کو کھودے، انسان کو کمال اور آخرت کی ابدی سعادت سے محروم کرنے کے لئے ناشائستہ طولانی آرزوئوں کو شیطان ایک کار آمد سہارے کے طورپر استعمال کرتا ہے تاکہ بندگانِ خدا کو گمراہ کرے:
جب خدائے متعال نے شیطان کو اپنی بارگاہ سے نکال باہر کیا' شیطان نے کہا:
(...( لأتخذن من عبادک نصیباً مفروضاً ولأضلنهم ولأمنینهم ) ...) (نسائ ١١٨و ١١٩)
''میں تیرے بندوں میں سے ایک گروہ کو اپنے ماتحت قرار دوں گا اور انہیں گمراہ کروں گا۔ امیدیں دلائوں گا۔''
طولانی آرزوئوں کے خطرات کے بارے میں ان کے ذریعہ انسان کے شبہات سے دوچار ہونے پھر چھوٹے گناہ انجام دینے اور اس کے بعد بڑے گناہوں اور گوناگوںکلمہ کے مرتکب ہونے کے بارے میں حضرت علی علیہ السلام احساس خطر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
''ایها الناس ان اخوف مااخاف علیکم اثنان: اتباع الهویٰ وطول الامل فاما اتباع الهویٰ فیصد عن الحق و اما طول الامل فینسی الآخرة...' '(۱)
اے لوگو! مجھے تم لوگوں کے بارے میں سب سے زیادہ خوف دو چیزوں سے ہے:
ایک ہوائے نفس کی پیروی اور دوسرے طولانی خواہشات،لیکن نفسانی خواہشات کی پیروی انسان کو حق کے راستہ سے روکتی ہے اور طولانی آرزوئیں انسانکے دل سے و آخرت کی یاد کو فراموش کرا دیتی ہے ۔
امید اور طولانی آرزوئوں میں فرق کو سمجھنے کے لئے، طولانی آرزو کے مفہوم کی وضاحت ضروری ہے ، خاص کر اس کے پیش نظر کہ آرزو کے مفہوم سے امید کے معنی بھی نکلتے ہیں، اور حیات اور کوشش کا سرمایہ، خواہ مادی امور میں یا معنوی امور میں امید ہے، اگر کوئی شخص اپنی حالت کی بہتری اور نیک عمال سے نکلنے والے بہتر نتائج کی امید نہ رکھتا ہو، تو وہ نہ دنیا کے لئے کوئی کام بجالائے گا اور نہ آخرت کے لئے قرآن مجید کے فرمان کے مطابق:
( من کان یظن ان لن ینصره الله فی الدنیا والآخرة فلیمدد بسبب الی السماء ثم لیقطع فلینظر هل یذهبن کیده ما یغیظ ) (حج ١٥)
''جس شخص کا خیال یہ ہے کہ اللہ دنیا اور آخرتمیں اس کی مددنہیں کرے گا اسے چاہیے کہ ایک رسی کے ذریعہ آسمان کی طرف بڑھے اور پھر اس رسی کو کاٹ دے پھر دیکھے کہ اس کی ترکیب اس چیز کو دور کر سکتی ہے یا نہیں جس کے غصہ میں وہ مبتلا تھا۔''
اس تشریح کے پیش نظر، اگر انسان خدا کی مدد کے لئے کوئی امید نہ رکھتا ہو، تو وہ ہمیشہ خشم، غضب، تزلزل اور نا اُمیدی کے دام میں گرفتار رہے گا اور ہمیشہ پریشان اور مضطرب ہوگا اور فرط نااُمیدی کی وجہ سے اپنی یا دوسروں کی سعادت کے لئے کوئی قدم نہیں اٹھائے گا ،پس امید طولانی آرزو سے متفاوت ہے اور امید انسان کو حرکت میں لانے والا انجن ہے۔ خدا سے امید، اخروی ثواب اور عنایات الہٰی کی امید کا شمار فضائل اخلاقی میں ہوتا ہے۔ اسی روایت میں پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم جناب ابوذر سے فرماتے ہیں: کیا بہشت میں جانا پسند کرتے ہو؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امید پسندیدہ اور شائستہ چیز ہے۔ جونا پسند اور ناشائستہ ہے وہ طولانی آرزوئیں اور دنیوی خیال اورتمنائیں ہیں جو مطلوب نہیں ہیں۔ پس مومن ایسا نہیں ہے کہ نا امید ہو بلکہ وہ دنیوی پست اور حقیر آرزوئوں کو اپنے دماغ میں جگہ نہیں دیتا، کیونکہ اس کا دماغ اس سے زیادہ محترم ہے کہ دنیا کی حقیر اور پست آرزوئوں کے بارے میں سوچے، لیکن وہ مکمل طور پر خدا اور اس کے تقرب کی امید میں ہوتا ہے۔
دنیا، وسیلہ یا ہدف ومقصد:
دنیا ذاتی طورپر مطلوب نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلوب ہونا وسیلہ کی حدتک ہے۔ یعنی انسان کو دنیا کے لئے کوشش کرنی چاہیے نہ یہ کہ اس کا مقصد دنیا ہو، دنیا کی تلاش اخروی سعادت کا وسیلہ ہونا چاہیے ورنہ تو جیہ نہیں کی جاسکتی ہے انسان کی طولانی آرزوئوں کے لئے کوشش کی بات ہی نہیں!
دنیا میں انسان کی کوشش فریضہ کو انجام دینے کے لئے ہونی چاہیے اور اس کی فعالیت، خواہ انفرادی مسائل کے بارے میں ہو یا اجتماعی مسائل کے بارے میں خدا کی خوشنودی اور اخروی سعادت حاصل کرنے کے لئے ہونی چاہیے، ورنہ اسلام کی نظر میں ، اس کی تلاش و کوشش مطلوب نہیں ہوگی بلکہ قابل مذمت ہوگی،دنیا سے اُمید باندھنا آخرت کے لئے ہونا چاہیے۔
اگر انسان چاہتا ہو کہ اس کے دنیوی امور اور فعالیتیں آخرت کے لئے وسیلہ قرار پائیں، تو اسے توجہ کرنی چاہیے کہ وہ دنیوی فعالیتیں جو آخرت تک پہنچنے کے لئے وسیلہ ہیںوہ معنوی امور کے لئے رکاوٹ کا سبب نہ بنیں کیونکہ انسان کی فکر،اس کا ذہن اور قدرت تخیل کی ظرفیت محدود ہے، جب انسان کسی موضوع کے بارے میں غور و فکر کرتا ہے، تو وہ دوسرے مسائل سے باز رہتا ہے۔ جب اس کی توجہ ایک چیز پر متمرکز ہوتی ہے تو وہ دوسرے مسائل میں پیچھے رہتا ہے۔ اگر انسان شب روز اکثر دنیوی امور کی فکر میں ہو گھر، بیوی، خوراک، لباس اور اپنی اجتماعی حیثیت کے بارے میں خلاصہ یہ ہے کہ جو کچھ دنیا کے بارے میں ہو، اس کی فکر میں اپنے ذہن کو مشغول کرے تو آخرت کے بارے میں فکر کرنے کی اسے فرصت نہیں ہوتی حتی وہ خواب میں بھی ان امور کو دیکھتا ہے۔
اگر انسان اہل کسب ومعاش ہوتو، خواب میں چیک اور بینک ڈرافٹ دیکھتا ہے۔ یا اگر معمارہے تو خواب میں تعمیراتی وسائل اور مسائل کے بارے میں سوچتا اور غور کرتا ہے جس نے شادی نہیں کی ہو وہ خواب میں اپنی شریک حیات کے انتخاب کی فکر میں ہوتا ہے یا اگر شادی کی ہے اور صاحب اولاد نہیں ہوا ہے تو خواب میں صاحب اولاد ہونے کی فکر میں ہوتا ہے ، انسان ان فکری مشغلوں اور مصروفیتوں کی وجہ سے، آخرت، معنویات، اپنی خلقت کے مقصد کے بارے میں اور اپنے دور و داراز مستقبل کے بارے میں غور و فکر نہیں کرپاتا ہے۔
یہی روزمرہ کے امور انسان کے ذہن کو ایسا مشغول کرلیتے ہیں کہ وہ واجب فرائض کو انجام نہیں دے سکتااور اگر وہ اپنے روزانہ کے مسائل سے فارغ ہوتا ہے تو آئندہ کے سوسال کی فکر میں پڑجاتا ہے کہ اس کے نواسوں اور آئندہ نسل کا کیا ہو گا؟ اس کی اولاد کس طرح کے وسائل حیات فراہم کریں گی؟ ان کے لئے کس طرح بیوی کا انتخاب کرے اور بیٹیوں کے لئے کیسے شوہر کا انتظام کرے یقینا ایسا ذہن اور ایسا دل خوشنودی خدا کیلئے معنوی مسائل، اخروی درد، روحی و معنوی بیماریوں اور اجتماعی مصلحتوں کی طرف توجہ نہیں کرسکتا ۔
بصدا فسوس کہ بعض اوقات حتی معنوی امور بھی دنیا کے لئے آلہ کاربن جاتے ہیں! یہ انسان کے لئے سب سے بڑا انقصان اور بدبختی ہے۔ اگر کسی اہل کسب و معاش نے اپنے کسب ومعاش کو دنیوی خواہشات پورا کرنے کے لئے وسیلہ قرار دیا، تو کوئی تعجب نہیں ہے، تعجب اس بات پر ہے کہ دین کو دنیا کے لئے وسیلہ قرار دیا جاتاہے۔ دین کو دینوی مقاصد کے حصول کے لئے دوکان قرار دیتا ہے ،ایسا شخص دین فروش ہے اور روایت کی تعبیر میں ، دین کی راستہ سے رزق کھاتا ہے۔ زہے افسوس ! کیا بدبختی ہے انسان کو کتنا بدبخت ہونا چاہئے کہ دینی امور کو دنیا اور دینوی آرزئوں کو پورا کرنے کے لئے وسیلہ قرار دیتا ہے۔ چنانچہ معصوم نے فرمایا ہے، ایسے شخص کے دین کی جزا، وہی آمدنی ہے جو دین کے ذریعہ حاصل کرتا ہے اور وہی رزق ہے جسے دین کے وسیلہ سے کھا تا ہے، وہ دین سے اس کے علاوہ کوئی اور فائدہ حاصل نہیں کرتا ہے:
''المستاکل بدینه حظه من دینه مایا کله'' (۲)
غنی مطلق کی طرف توجہ، غیر خدا سے بے نیازی کا سبب:
اگر مومن معرفت الہٰی اور فرائض الہٰی پر عمل کرنے کی راہ میں گامزن ہو، تو وہ پھر اپنے دنیوی امور کے بارے میں نہیں سوچتا، کیونکہ خدا اس کی کفالت کرنے والا ہے اور اس کی دنیوی ضروریات کو پورا کرتا ہے، البتہ نہ اس معنی میں کہ وہ کوئی کام انجام نہ دے، بلکہ وہ اپنے ذہن کو دنیوی امور میں مشغول نہیں کرتا ہے، حتی تاجر، کسان اور صنعت کار، جو اپنے کسب معاش کے لئے کوشش کرتے ہیں، ان کا مقصد خدا کی خوشنودی حاصل کرنا اور اپنا فرض نبھانا ہوتا ہے، نہ صرف دنیوی ضروریات کو پورا کرنا۔
مبارک ہو اس تاجر کے لئے جو دنیا کو آخرت کے لئے وسیلہ قرار دیتا ہے اور افسوس ہو اس شخص کے حال پرجو آخرت کو دنیا کے لئے وسیلہ قرار دیتا ہے،یقینا ایسا شخص زندگی میں ناکام رہتا ہے اور ہمیشہ اس کا دل مضطرب اور بیقرار رہے گا، کیونکہ باوجود اس کے کہ خود کو دین سے وابستہ اور اس سے آشنا جانتا ہے، دینی اور الہٰی اقدار کو باور نہیں کرتا اور اپنے علم کو عمل کے مطابق قرار نہیں دیتا اور جو کچھ کہتا ہے اس پر ایمان نہیں رکھتا ہے، ایسا انسان خدا کے غیظ و غضب کا مستحق قرارپا تا ہے اور خدائے متعال اس کی دنیا کو پانے والے وسائل کو اس کے سامنے سے ہٹالیتا ہے، اس لحاظ سے مشاہدہ ہوتا ہے کہ اس قسم کے لوگ اپنی زندگی میں ہمیشہ شکست اور ناکامی سے دوچار ہوتے ہیں، نہ دنیا ان کے ہاتھ آتی ہے اور نہ ہی آخرت سے بہرہ مند ہوتے ہیں، لیکن اس کے برعکس جب شخص مومن ،ایمان ، اعتقاد معرفت الہٰی کی راہ میں قدم اٹھاتا ہے، تو خدائے متعال اس کی دنیوی زندگی کے بارے میں بھی اس کی رہنمائی فرماتا ہے اور اس کی زندگی کے مسائل کو ایسے حل کرتا ہے کہ وہ دنیا کی طرف فکر کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتا اور اس سلسلہ میں تھوڑی سی بھی پریشانی نہیں رکھتا ہے، چنانچہ شب معراج خدائے متعال نے پیغمبر اسلا م صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے فرمایا:
''...وانه لیتقرب الی بالنافلة حتی اُحبّه فاذااحببته کنت سمعه الذی یسمع به و بصره الذی یبصربه ولسانه الذی ینطق به ویده التی یبطش بها...'' (۳)
''بندہ نماز نافلہ ( مستحبات انجام دیکر) کے وسیلہ سے مجھ سے تقرب پیدا کرتا ہے تاکہ میں اس سے محبت کروں اور جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کا کان بن جائوں گا جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کی زبان بن جاتا ہون گا جس سے وہ بات کرتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جائوں کا جس سے وہ حملہ اور دفاع کرتا ہے۔''
اس روایت کی سند معتبر ہے، کافی جیسی کتابوں میں درج ہوئی ہے، اس کے مضامین دوسری روایتوں میں بھی آئے ہیں۔ اس روایت میں بیان کی گئی تعبیروں کے بارے میں من جملہ یہ کہ خدائے متعال فرماتا ہے: میں اس کے کان، آنکھ اور ہاتھ بن جاتا ہوں بعض بزرگوں، جیسے شیخ بہائی نے اپنی
کتاب اربعین میں نیز امام خمینی رضوان اللہ تعالیٰ علیہ نے اس کی کئی تفسیر یںبیان کی ہیں۔
امام خمینی کے بیان کا مضمون کتاب چہل حدیث میں یوں ہے: جس قدر دل غیر حق کی طرف متوجہ ہوجائے اور دنیوی امور کی طرف توجہ کرے اس کی ضرورتیں اور احتیاجات روز بروز بڑھتی جائیں گی۔ لیکن معنوی اور قلبی حاجتیں واضح اور روشن ہیں، کیونکہ دنیا سے اس کی وابستگی اور دلبستگی نے اسکے دل کے تمام زاویے پُر کئے ہیں۔ لیکن خارجی ضرورتیں بھی فطری ہیں جو پھیلتی ہیں، کیونکہ کوئی شخص تنہا اپنے تمام امور کی دیکھ بھال نہیں کر سکتا،اگر چہ دولت مندافراد ظاہر میں بے نیاز دکھائی دیتے ہیں، لیکن وقت گزرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی دولت میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی ضرورتیں بڑھتی جاتی ہیں، پس دولتمند حقیقت میں امیروں کے روپ میں فقیر اور بے نیازوں کے لباس میں حاجتمند ہیں۔
جس قدر انسان کے دل کی توجہ دنیاوی اور دنیا کو آباد کرنے کے امور کی تدبیر کی طرف زیادہ ہوتی جائے گی اتنی ہی زیادہ ذلت و خواری کی گرداس کے اوپر بیٹھتی جائے گی اور رسوائی کی تاریکی اسے اپنی لپیٹ میں لے لیگی۔ اس کے برعکس اگر کوئی دنیا کی طرف پشت کرے اور اپنے قلب کو غنی مطلق کی طرف متوجہ کرے اور تمام مخلوقات کے ذاتی فقیر ہونے پر ایمان لائے اور جان لے کہ کوئی مخلوق اپنی طرف سے کسی چیز کی مالک نہیںہے اور کوئی بھی طاقت، عزت و سلطنت خدا کے علا وہ کسی کے لئے نہیں ہے، تو وہ دونوں جہانوں سے بے نیاز ہے اور دل میں ایسی بے نیازی کا احساس کرتا ہے کہ اس کی نظر میں ملک سلیمان کی قدر و قیمت ایک ذرہ کے برابر نہیں ہوتی۔ اگر زمین کے تمام خزانوں کی کنجی بھی اسے دے دی جائے، اعتنا نہیں کرتا، چنانچہ حدیث میں آیا ہے کہ جبرئیل امین خدا کی طرف سے خزانوں کی کنجی حضرت خاتم الانبیائصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لئے لے آئے تو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تواضع میں اسے قبول نہیں کیا اور فقر کو اپنے لئے فخر جانا(۴) ۔
''خدا کا ایک فرشتہ ، جو کبھی زمین پر نہیں آیا تھا، جبرئیل کے ہمراہ زمین پر آیا اور اس کے ہاتھ میں زمین کے خزانوں کی کنجیاں تھیں اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! پرور دگار نے آپ کو سلام بھیجا ہے اور فرمایا: یہ زمین کے خزانوں کی کنجیاں ہیں، اگر چاہتے ہیںتو ایک بندہ کی حیثیت سے پیغمبر رہیں یا ملک سلطنت کی حیثیت سے پیغمبر رہیں۔ اس کے بعد جبرئیل نے اشارہ کیا کہ یا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! انکساری سے کام لینا۔ پیغمبر خد ا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں بندہ کی حیثیت سے پیغمبر رہوں گا۔ اس کے بعد وہ فرشتہ آسمان کی طرف واپس ہو گیا''
اور حضرت علی علیہ السلام نے ابن عباس سے فرمایا: یہ تمھاری دنیا میری نظروں میں اس پیوندلگی جوتی سے پست تر ہے۔(۵)
وہ جانتے ہیں کہ دنیا کے خزانوں اور اس کے مال و دولت کی طرف توجہ کرنا اور اہل دنیا و اور اہل ثروت کی ہم نشینی دل میں کدورت اور تاریکی پیدا کرتی ہے اور انسان کے ارادہ کو سست کر دیتی ہے اور دل کو محتاج اور نیاز مند بنا کر خد کی طرف توجہ کرنے میں رکاوٹ بنتی ہے۔ لیکن جب دل کو صاحب دل اور گھر کو گھر کے مالک کے حوالہ کر دیا ا ور غاصب کے ہاتھ میں جانے نہیں دیا تو اس دل میں خود اس کا مالک ظہور پیدا کرتا ہے۔ البتہ غنی مطلق کا ظہور بے نیازی مطلق کو لے کر آتا ہے اور دل کو عزت و بے نیازی کے پر تلاطم دریا میں غرق کردیتا ہے:
( وللّٰه العزة ولرسوله وللمؤمنین ) (منافقون٨)
''ساری عزت اللہ، اس کے رسول اور صاحبان ایمان کے لئے ہے۔''
فطری بات ہے جب دل کے امور کو دل کا مالک انجام دے گا، تو انسان کو یوں ہی نہیں چھوڑتا دیگا اور بندہ کے تمام امور میں خود دخل دیگا بلکہ خود اس کیلئے کان، آنکھ اور ہاتھ پائوں بن جائیگا.... اس صورت میں بندہ کی محتاجی اوراس کا فقر مکمل طور سے بر طرف ہوجائیگا اور وہ دونوں جہاں سے بے نیاز ہوجائے گا۔
البتہ حق کے اس ظہور میں تمام مخلوقات کا خوف اس سے دور ہو کر اس کی جگہ پر خدائے متعال کا خوف جانشین ہوگااور حق کی عظمت و حشمت پورے دل پر سایہ فگن۔ غیر حق کے لئے کسی قسم کی عظمت، حشمت نیز تصرف کی گنجائش نہیں ہوگی اور '' لَا مُؤَ ثِرفی الوجود اِلَا اللّٰہ ''(۶) کی حقیقت کو پالے گا۔
روایت '' وانّہ لیتقر ب الیّ'' کے لئے جو سادہ ترین تفسیر کی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ خدائے متعال فرماتا ہے: جو کام انسان کے لئے اس کی آنکھ اور کان انجام دیتے ہیں، میں انجام دیتا ہوں۔ جو کام اس کے ہاتھ اس کے لئے انجام دیتے ہیں، میں انجام دیتا ہوں۔ اسے اپنی مادی زندگی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کوشش کرنی چاہیے تاکہ اپنی حاجتوں کو برطرف کرسکے، لیکن میں کام کو ایسے مرتب کرتا ہوں کہ کام خود بخود انجام پاتے رہیں تاکہ اسے ذہن پر دبائو ڈالنے کی ضرورت نہ پڑے کہ کل کیا کروں!، جب وہ گھر سے باہر آتا ہے، خدائے متعال کے ارادہ سے اور اس کے فراہم کردہ اسباب سے، شاید بندگان خدا میں سے کسی بندہ کے توسط سے اس کا کام انجام پاجائے اسے مدد کی ضرورت ہوتی ہے اور خدائے متعال اسے غیبی طور پر مدد پہنچاتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ عالم غیب سے براہ راست اور بلا واسطہ اس کے کام انجام پاتے ہیں بلکہ مفہوم یہ ہے کہ تمام امور کی تدبیر اور تمام کاموں کی مہارت اس کے ہاتھ میں ہے، وہ عوامل اور وسائل کو ایسے منظم کرتا ہے کہ کام بخوبی آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ بغیر اس کے کہ انسان زیادہ فکر کرنے اور منصوبہ بندی کی ضرورت کا احساس کرے۔
مومن کو اپنے امور اورکی ترقیکے لئے شیطانی منصوبے اور خاکے کھینچنے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ جب وہ یقین رکھتا ہے کہ اس کی مختصر ضرورتوں کو خدائے متعال پورا کرے گا، تو وہ طولانی آرزئوں کو اپنے ذہن میں پلنے نہیں دیتا اس کا کام صرف فریضہ انجام دینے کے لئے ہوتا ہے۔ اس کے برعکس اگر انسان صرف مال و دولت کو جمع کرنے اور کسب معاش اور آمدنی کو اضافہ کرنے کی فکر میں پڑے تاکہ دنیا کی رونق اور اس کی چمک دمک میں اضافہ کرے۔ مسلسل گھر کے ڈیکوریشن کو تبدیل کرتا رہے اور نئے ماڈل کی گاڑی خریدے چونکہ یہ سلسلہ طولانی ہے، کسی جگہ پر ختم نہیں ہوتا ہے اور امام خمینی کی فرمائش کے مطابق اگرتمام کرئہ ارض کو بھی اس کے اختیار میں دید یا جائے، وہ مطمئن نہیں ہوگا بلکہ وہ اس فکر میں ہوگا کہ کسی اور کرہ کو بھی اس کے اختیار میں دیا جائے!
موت کی یاد اور حیائے الٰہی کے جلوے:
جو کچھ بیان ہوا اور جس کے بارے میں ہم نے پہلے بھی یاد دہانی کی، اس کے پیش نظر، پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بہشت میں داخل ہونے کے لئے تین شرطیں ذکر فرمائی ہیں:
پہلی شرط یہ ہے کہ انسان اپنی آرزوئوں کو مختصر کرے، دنیا سے دلبستگی نہ رکھے، آئندہ کے بارے میں فکر مندنہ رہے، صرف آخرت کی فکر میں رہے۔
دوسری شرط یہ ہے کہ ہمیشہ موت کی یاد میں رہے۔ پہلی شرط کے بعد اس شرط کا ذکر ان دونوں کے درمیان قریبی رابطہ کی دلیل ہے، کیونکہ اگر انسان اپنی طولانی آرزئوں کو اپنی فکر کے دائرہ سے دور کرنا چاہے، تو اسے مسلسل موت کی فکر میں رہنا چاہیے، چونکہ جب انسان موت کو مد نظر رکھتا ہے تو دنیوی آرزوئوں کا انجام اور ان کا لغو و بیہودہ ہونا بھی اس کی نظروں کے سامنے مجسم ہوجاتا ہے۔ اس لحاظ سے طولانی آرزوئوں اور موت کے بارے میں سوچنے کے درمیان قریبی رابطہ ہے۔
آرزو کرنا اور آرزو رکھنا مکمل طور پر انسان کے اختیار میں نہیں ہے، جب انسان ایک ایسے ماحول میں تربیت پائے جس پر مادیات کی تہذیب حاکم ہو، تو دیکھنے اور سننے کی چیزیں اس پر اثر ڈالتی ہیں اور اس کی آنکھیں اور کان کو دنیا کی طرف متوجہ کر کے خواہ نخواہ اس کے دل میں دنیوی آرزوئیں پیدا کرتی ہیں۔ اب ہمیں کیا کرنا چاہیے کہ دنیا کی چمک دمک ہمیں فریب نہ دے اور ہم طولانی آرزوئوں کو اپنے ذہن میں نہ پالیں، اسی اہمیت کے پیش نظر پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم جناب ابوذر سے تأکید فرماتے ہیں کہ موت کو ہمیشہ اپنے سامنے مجسم تصویر کرو، اگر کوئی ہمیشہ توجہ رکھے کہ اس کی زندگی کا انجام موت ہے تو وہ اس حقیقت کو درک کرلے گا کہ اس دنیا سے دلبستگی کی کوئی قدر و منزلت نہیں ہے، وہ چیز دلبستگی کے لئے لائق و سزاوار ہے کہ جو ختم ہونے والی نہ ہو، اس سے کوئی چیز کم نہ ہو اور وہ آخرت کی حیات طیبہ ہے۔
اگر انسان مسلسل موت کی فکر میں ر ہے، تو وہ طولانی آرزوئوں،حرص و طمع اور بہت سی دوسری بری عادتوں میں مبتلا نہیں ہوگا۔ پس موت کی یاد آفتوں اور معنوی و روحانی بیماریوں کے لئے ایک موثر دوا ہے۔ فطری طور پر موت کی طرف توجہ پیدا کرنا بہت آسان ہے، انسان اپنے گردو نواح میں موت کی طرف توجہ کے لئے کچھ مظاہر کا اضافہ کر سکتا ہے، اپنے کمرے یاآفس میں موت کے بارے میں کچھ مطالب لکھ کرسائن بورڈ کے عنوان سے آویزاں کر دے، حتی کتاب کے اندر موت کے بارے میں کچھ کلمات تحریر کردے تاکہ اس کو دیکھ کر اسے موت کی یاد آتی رہے ۔
پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم ایک روایت میں فرماتے ہیں:
''اکیس الناس من کان اشدّ ذکراً للموت'' (۷)
''لوگوں میں چالاک ترین شخص وہ ہے جو موت کو زیادہ یاد کرے۔''
یقینا چالاک انسان دھوکہ نہیں کھاتا اور دنیا و آخرت میں سے بہترین کو منتخب کرتا ہے۔ جب چالاک انسان جان لے کہ دنیا ختم اور نابود ہونے والی ہے تو اس کے لئے اہمیت اور قدر و قیمت کا قائل نہیں ہوتا ہے۔ بہ ہر صورت موت کو یاد رکھنے کی مشق، دنیا پرستی اور طولانی آرزئوں میں مبتلا ہونے سے بچنے کی ایک مؤثر دوا ہے۔
بہشت میں داخل ہونے کی تیسری شرط خدا سے حیا ہے اس کے بارے میں گزشتہ جلسہ میں بھی دوسرے انداز سے اس کی طرف اشارہ ہواتھا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا سے حیا کرنے کی ضرورت کے بارے میں دوبارہ یاد دہانی کراتے ہیں جس کی وجہ سے ، جناب ابوذر یہ محسوس کرتے ہیں کہ حیا کا مسئلہ خاص اہمیت کا حامل ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تھوڑی ہی دیر بعد پھر سے اس پر تاکید فرمائی جس کی وجہ سے ان کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مسئلہ پر اتنی اہمیت کیوں دیتے ہیں اور اس کے بارے میں تاکید کیوں کررہے ہیں۔ اور یہ احتمال دے رہے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوئی خاص مقصد رکھتے ہیں، اس لئے پوچھتے ہیں:
''یا رسول اللّٰه کلنا نستحیی من الله ''
''اے رسول خد ا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہم سب خدائے متعال سے حیا کرتے ہیں ''
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حیا کی اس حد کو کافی نہ جانتے ہوئے، خدا کی حیاکے تین جلوے بیان فرماتے ہیں۔
''لیس ذٰلک الحیاء ولکن الحیاء من اللّٰه ان لا تنسی المقابر والبلی''
''خدا سے حیا ایسی نہیں ہے جو دکھائی دے بلکہ خدا سے حیا یہ ہے کہ قبروں اور ویرانوں کو فراموش نہ کرو''
حیائے الہٰی کا پہلا عکس اور الہٰی جلوہ یہ ہے کہ انسان قبرستانوں اور ویرانوں میں تبدیل ہوئی عمارتوں کو فراموش نہ کرے۔ البتہ وہ قبریںجو شاہی محلوں کے مانند مزین کی گئی ہوں اور ان کو دیکھنا انسان کو آخرت کی یاد نہیں دلاتا، بلکہ مرادوہ قبر یں ہیں جو ویران ہوگئی ہوں اور ان کی طرف لوگ توجہ کم دیتے ہو۔
اس سے پہلے بھی ہم نے یاد دہانی کرائی کہ انسا ن کا ذہن محدود ہے، اور اگر انسان مسائل کے ایک سلسلہ کی طرف توجہ دے تو دوسرے مسائل سے باز رہ جاتا ہے اور ان کی طرف جانے کے لئے اس کے ذہن میں ظرفیت باقی نہیں رہتی ۔ اگر انسان چاہتا ہے کہ بعض مطلوب حالات اور مطلوب نفسانی تأثرات جیسے: حیا، خوف، شوق الہٰی کہ جو اسلام کی قدر و منزلت کے نظام میں شناختہ شدہ ہیں اور اخلاق میں ان کی تاکید کی گئی ہے، اپنے اندر پیدا کرے، تو اسے ان کے لئے مقدمات فراہم کرنا چاہیے، اگر انسان چاہتا ہو کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان شدہ مطلوب حیا کے مرتبہ کو اپنے اندر پیدا کرے، تو اسے دنیا کی رعنائیوں اور آشائیسوں کو ترک کرنا ہوگا۔ اسے پرانی اور ویران شدہ عمارتوں سے انس پیدا کرنا ہوگا۔ جب انسان کی توجہ ہمیشہ بڑی بڑی اورمجلل عمارتوں پر رہے گی، اس کا دھیان زیبا اور قابل توجہ کاشانوں پر ہوگا، ہر روز اس کی نظر نئے نئے ڈیکوریشنوں ، رنگار نگ پردوں پر پڑے گی تو دنیا اس کی نظر میں بیشتر جلوہ پیدا کرے گی۔ اگر وہ ان فریب دینے والے دنیوی مظاہر سے اپنی توجہ کو ہٹانا چاہے تو اسے قبرستان کارخ کرنا چاہئے اور انسانوں اور زیر خاک سوئے ہوئے مردوں کے انجام پرغور کرنا چاہئے! ویران جگہوں اور کھنڈرات میں جا کر سوچنا ہئے یہ پتھر، لوہا اور سیمنٹ جو استعمال ہوئے ہیں، ان کا انجام کیا ہے؟!
غلط فہمی نہ ہو، مقصود یہ نہیںہے کہ ہم اپنے گھروں کو خام اینٹوں اور ایسی کمزور بنیادوں پر تعمیر کریں کہ بارش سے خراب ہوجائیں۔ بلکہ اسلام کا حکم یہ ہے کہ انسان ہر کام کو صحیح انجام دے، اگر گھر تعمیر کررہا ہے تو اسے مضبوط اور پائدار صورت میں تعمیر کرے۔ بات یہ ہے دنیاوی زرق وبرق انسان کے دل پر اثر نہ کرے اور وہ دنیا کا شیدائی نہہو نہ یہ کہ کام کو صحیح طور پر انجام نہ دے۔ انسان کا فرض ہے اپنے کام میں سنجیدہ ہو لیکن دنیا سے وابستہ نہ ہوجائے۔ جب انسان دنیا کی عیاشیوں کو دیکھتا ہے، فطری بات ہے کہ اس کا دل ان کی طرف مجذوب ہوجاتا ہے، یہ حالت اختیاری نہیں ہے، جب دیکھتا ہے کہ اس کے ہمسایہ کے پاس گاڑی ہے اور وہ چند مدت کے بعد اس گاڑی کو ایک نئی اور اعلی قسم کی گاڑی میں تبدیل کرتا ہے، اس کے دل میں بھی ہوس پیدا ہوتی ہے اور وہ اپنے آپ سے کہتا ہے: کیوں فلاں شخص مسلسل اپنی گاڑی بدلتا رہتاہے اور ہم ایک فرسودہ گاڑی کے بھی مالک نہیں ہیں؟ جب وہ گاڑی خریدتا ہے تو دوسرے دن بہتر گاڑی کی آرزو کرتا ہے اور اسی طرح روز بروز، لہذا، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تاکید یہ ہے انسان کبھی کبھی قبرستانوں ویرانوں اور کھنڈرات کی طرف بھی جاکر جھانکے۔ علمائے اخلاق بھی اپنے شاگردوں کو نصیحت کرتے تھے کہ ہر روز قبرستان جائیں، کم از کم ہفتہ میں ایک بار مستحب ہے قبرستان جائیں تاکہ ان کے دل دنیا کی محبت اور مادی توجہات سے صاف اور فلٹر ہوجائیںکم از کم دنیا و آخرت کے درمیان ایک توازن پیدا ہوجائے۔
ایسا نہیں ہے کہ انسان دنیوی امور کا شیدائی ہو اور دنیا کی محبت اس کے دل پر سایہ کئے ہو اور اسی حالت میں چاہتا ہو کہ خدائے متعال کا خوف بھی رکھے، سحرخیز بھی ہو اور جب امام حُسین علیہ السلام کا نام سنے تو آنکھوں سے آنسو بھی جاری ہوجائیں،یاجب بہشت کا نام اور اس کی نعمتوں کا ذکر ہوتا ہے، تو اس کے دل میں ان کے بارے میں ولولہ پیدا ہوتا ہے، فطری بات ہے دنیا اور اس کی طرف توجہ نے اس کے دل میں ان امور کے لئے جگہ ہی نہیں چھوڑڑ ہے، جو دل دنیا کی محبت سے لبریز ہو، اس میں امام حُسین علیہ السلام اور حضرت زہر اسلام اللہ علیہا کی محبت کے لئے کوئی جگہ نہیں ہوتی، البتہ یہ معصومین اس قدر نورانی ہیں کہ جب ہمارے مردہ دلوں میں بھی ان کی یاد آتی ہے تو، اثر کرتی ہے، لیکن ان کی یاد آلودہ دلوں پرشائستہ و کما حقہ اثر نہیں کرتی۔
''والجوف و ماوعی'' ''اور یہ کہ شکم اور جو کچھ اس میں ہے، اسے نہ بھولو ''
دوسرا ردعمل اور حیائے الہٰی کا جلوہ، یہ ہے کہ انسان دیکھ لے کہ وہ کیاکہتا ہے۔ اگر انسان نے جو کچھ اسے ہاتھ آیا اس سے استفادہ کیا اور لقمہ حرام کھانے میں کوئی دریغ نہیں کی تووہ رفتہ رفتہ قساوت سے دو چار ہوتا ہے اور اس کا دل نور الہٰی سے خالی ہوجاتا ہے۔ انسان کو اپنی غذا دیکھنی چاہئے اور اسے توجہ رکھنی چاہیے کہ شبہ والی غذائیں یا خدا نخواستہ حرام غذائیں، شقاوت قلب کا سبب بنتی ہیں اور اس کے بعد انسان کے دل میں عبادت کی رغبت، خوف خدا، شوق بہشت اور لقاء اللہ کی کیفیت پیدا نہیں ہوتی، پس خدا کی حیا کو پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان اپنے شکم اور اس میں موجودہ غذا کے بارے میں توجہ کرے۔
قرآن مجید انسان کو نصیحت کرتا ہے کہ اپنی غذا کے بارے میں ہوشیار رہو:
( فلینظر الا نسان الیٰ طعامه ) ) (عبس ٢٤)
''ذرا انسان اپنے کھانے کی طرف تونگاہ کرے''
انسان کو تمام جوانب کی رعایت کرنی چاہیے اور اپنی غذا کو تمام پہلوؤںسے جانچ لینا چاہیے اسے ہوشیار رہنا چاہئے کہ اس کی غذا سالم، حفظان صحت کے مطابق، حلال اور پاکیزہ ہو۔ اصحاب کہف جنہوں نے برترین بندگان خدا کی حیثیت سے شرک و بت پرستی کے نظام کو چھوڑ کر عہد دقیانوسی کے کفر آمیز اعتقادات کے دام سے اپنے آپ کو آزاد کیا، قرآن مجید کی فرمائش کے مطابق غذائوں میں سے پاکیزہ ترین اور حلال ترین غذائوں کو منتخب کرتے تھے، قرآن مجید اصحاب کہف کے غار میں سونے کے بعد نیند سے بیدار ہونے کی روداد کو بیان کرنے کے بعد ان کی گفتگو کے بارے میں فرماتا ہے:
(فابعثوا احد کم بورقکم ھٰذہ الی المدینة فلینظر ایّھا ازکیٰ طعاماً فلیأتکم برزقٍ منہ ) (کہف١٩)
''اب تم اپنے سکّے دے کر کسی کو شہر کی طرف بھیجو تاکہ وہ دیکھیں کہ کون سا کھانا بہتر اور پاکیزہ تر ہے اور اس سے تمہارے لئے رزق فراہم کرے۔''
انسان کے انحراف، حق سے کنارہ گیری اور خدا و اولیائے الہٰی کے سامنے گناہ کے مرتکب ہونے میں مال حرام کے اثرات کے پیش نظر امام حسین کے کلام کا اثر لشکر اہل کفر پر نہ ہوا تو فرمایا:
''وکلکم عاص لامری غیر مستمع قولی فقد ملئت بطونکم من الحرام وطبع علی قلوبکم ''(۸)
''تم سب گناہگار ہو اور بغاوت کر رہے ہو اور میرے حکم کی نافرمانی کر رہے ہو، میری بات پر کان نہیں دھرتے ہو، بیشک تمارے شکم حرام غذا سے بھرگئے ہیں اور تمہارے دلوں پر مہر لگی ہے''
بیشک حرام لقمہ انسان کو اس قدر قساوت اورسنگ دل بناتا ہے، کہ یہاں تک وہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسہ پر تلوارکھینچنے میں بھی پرواہ نہیں کرتا، یہی وجہ ہے کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدا سے شرم کرنے کے لئے یہ شرط ضروری سمجھتے ہیں کہ انسان توجہ کرے کہ وہ کونسی غذا کھاتا ہے۔
''والرأس ومن حوی ''(۹)
یہ کہ سر اور جوکچھ اس احاطہ میں ہے، یعنی آنکھ، کان اور زبان کو کنڑول کرو۔ تیسرا عکس العمل اور حیائے الہٰی کا جلوہ یہ ہے کہ انسان دیکھ لے کہ وہ اپنے سر میں کن فکروں اور خیالات کی پرورش کرتا ہے اور کونسی آرزوئیں اور خواہشیں رکھتا ہے۔ اگر وہ اپنے خیالات کا تصفیہ کرے، باطل افکار کو اپنے سر سے نکال باہر کرے، اور اپنااندرونی تصیفہ کرے تو مطلوب حیا کو اپنے اندر جگہ دے سکتا ہے۔
تزئین و آرائش، اولیاء دین کی سیرت:
حدیث مبارک کو جاری رکھتے ہوئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
''ومن اراد کرامة الاخرة فلیدع زینة الدنیا فاذاکنت کذٰلک اصبت ولایة اللّٰه''
''جو بھی آخرت کی عظمت و بزر گی چاہتا ہے، وہ دنیا کی زینت کو چھوڑدے، جب ایسا کرو گے تو خدائے متعال کی دوستی کے مقام تک پہنچے ہو۔''
جب انسان دنیا سے کٹ کر اس کی نسبت بے اعتنائی برتتا ہے تو وہ آخرت، اس کی پائدار نعمتوں اور قرب الہٰی پیدا کرتا ہے اور آخرت میں عزیز، محترم اور با عظمت بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس اگر انسان کی نظر میں دنیا بڑی دکھائی دے تو اس کی نظر میں آخرت چھوٹی ہوتی ہے۔ البتہ آخرت اور موت کے بارے میں فکر کرنا اور قبرستان میں جانا مؤثر ہے، لیکن انسان کو اپنے عمل کے بارے میں بھی نئے سرے سے سوچنا چاہیے۔ دنیا کے پھندے میں نہ پھنسنے کے لئے اسے دنیوی زینتوں اور آرائشوں سے پرہیز کرنا چاہئے، اس صورت میں وہ آخرت میں عزیز اور باعظمت ہوگا۔
یہاں پر یہ اشارہ کرنا ضروری ہے کہ بعض تزئین و آرائش مستحب ہیں، اب اگر انسان انہیں استحباب اور شرعی مطلوبیت کی نیت سے انجام دے، تو نہ صرف وہ دنیا طلب نہیں ہے، بلکہ وہ آخرت طلب ہے، مستحب ہے کہ عورت اپنے شوہر کے لئے اور شوہر اپنی بیوی کے لئے زینت اور آرائش کرے ، یا مستحب ہے کہ مؤمن جب ایک اجتماع میں جائے، تو پاک و صاف لباس پہنے اور عطر لگائے اس کے علاوہ مسواک کرنا، بالوں کی کنگھی کرنا اور بالوں میں تیل لگانا بھی مستحب ہے مؤمن ایسا صاف و شفاف ہونا چاہئے کہ لوگ اس سے ملنے کے لئے رغبت پیدا کریں اور اس سے انس پیدا کریں۔ یقینا اگر یہ امور قصدقربت کے طور پر انجام دئے جائیں تو عبادت ہیں اور دنیوی زینت شمار نہیں ہوتے ہیں۔ دنیوی زینت اس جگہ پر ہے کہ انسان نفسانی خواہشات اور لذت پانے کے لئے زینت کرے نہ کہ خدا اور آخرت کے لئے۔ انسان کا دل چاہتا ہے کہ صاف ستھرا اور نفیسلباس پہنے، لذیذ اور متنوع کھانا کھائے اور خوشنما اور شاندار گھر کا مالک ہو،لیکن اگر زینت آخرت اور حکم خدا کی تعمیل کے لئے ہو تو مطلوب ہے۔ چنانچہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم بھی ہمیشہ اپنے آپ کو صاف ستھرا اور معطّر رکھتے تھے:
مکارم اخلاق میں ، پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی توصیف میں آیا ہے کہ:
''کان ینظر فی المراة ویرجل جمته ویتمشط وربما نظر فی الماء وسوّی جمّته فیه ولقد کان یتجمّل لأصحابه فضلاً علی تجمله لأهله وقال صلی اللّٰه علیه و آله وسلم ان اللّٰه یحب من عبده اذاخرج الیٰ اخوانه ان یتهیا لهم ویتجمل'' (۱۰)
''پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت یہ تھی کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم آئینہ دیکھتے تھے اور اپنے سر اور داڑھی میں کنگھی کرتے تھے، بعض اوقات یہ کام پانی میں دیکھ کر انجام دیتے تھے، اہل خانہ کے علاوہ اپنے اصحاب کے لئے بھی زینت کرتے تھے اور فرماتے تھے: خدائے متعال اس بندے کو دوست رکھتا ہے جواپنے بھائیوں کو دیکھنے کے لئے گھر سے باہر جاتے وقت اپنے کوآراستہ کرے۔''
مومن کو ہمیشہ آراستہ اور ظاہراً صاف ستھرا ہونا چاہئے نہ یہ کہ بکھرے بال اور عجیب و غریب صورت بنائے ہو کہ جو دوسروں کی نفرت کا سبب بنے۔ گزشتہ زمانے میں بعض مسجدوں کے فرش میلے اور گندے ہوا کرتا تھا اور بعض لوگ گندے کپڑے اور بد بودار بدن کے ساتھ مسجد میں داخل ہوتے تھے اس کے مقابل میں فاسقوں کی جگہیں صاف ستھری ہوتی تھیں، لہٰذا مومنوں کی مجلسیں، بہترین، صاف ستھری اور معطر ہونی چاہئے۔ ہمیں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ اطہار علیہم السلام کی سیرت کو نمونہ بنانا چاہئے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے اخراجات کا ایک بڑا حصہ عطر پر خرچ ہوتا تھا۔ ہمیں سبق حاصل کرنا چاہئے اور جانتا چاہئے کہ یہ زینتیں آرائشیں نا مطلوب نہیں ہیں، کیونکہ شرع مقدس کا حکم ہے کہ اگر قصد قربت کی نیت سے انجام دی جائیں تو یہ بذات خود عبادت شمار ہوتی ہیں اور اس کا فلسفہ یہ ہے کہ مومنین آپس میں مانوس ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مصاحبت سے لذت حاصل کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے نور سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔
____________________
١۔ نہج البلاغة (ترجمة فیض الاسلام )خطبہ٤٢،ص ١٢٧
۲۔ بحار الانوار :ج٧٨،ص٦٣
۳۔ اصول کافی (باترجمہ )ج٤،ص٥٤
۴ ''...وهبط مع جبریل ملک لم یطاء الارض قط' معه مفاتیح خزائن الارض فقال: یامحمد' ان ربک یقرئک السلام و یقول هذه مفاتیح خزائن الارض: فان شئت فکن نبیا عبداً وان شئت فکن نبیا ملکا فاشار الیه جبریل : ان تواضع یا محمد' فقال: بل اکون نبیا
۱عبداً ثم صعد الی السمائ...''
۵۔ ''...قال عبداللّٰه ابن العباس: دخلت علی امیر المومنین بذی قار وهو یخصف نعله: فقال لی: ماقیمة هذه النعل؟ فقلت: لا قیمه لها' فقال واللّٰه لهی احب الی من امرتکم الا ان اقیم حقاً اوادفع باطلاً...'' (امالی صدوق' مجلس ٩' ص ٣:ح ٠٢)
''ابن عباس نے کہا: میں ذی قار کے مقام پر امیر المئومنین علیہ اسلام سے ملا، وہ اپنے جوتیوں کے ٹانکنے میں مشغول تھے، انھوں نی مجھ سے کہا: اس جوتی کی قیمت کتنی ہوگی؟ میں نے کہا: اس کی قیمت نہیں ہے! فرمایا: خدا کی قسم یہ جوتی میرے لئے آپ لوگوں پر حکومت کرنے سے زیادہ غریز ہے: مگر یہ کہ حق کو قائم کروں اور باطل کو دور کروں'' (نہج البلاغہ (ترجمہ فیض الاسلام) خ ٣٣' ص١١١)
۶۔ امام خمینی '' چہل حدیث'' ص٤٤٤۔٤٤٥
۷۔ بحار الانوار :ج٦،ص١٣٠
۸۔ بحار الانوار ج٤٥ص٨
۹۔ دوسرے نسخہ میں ''وماحوی'' ہے اور شاید یہی صحیح ہو۔
۱۰۔المیزان ،ج٦ص٣٣٠
چھبیسواں درس:
مخلصانہ دعا اور شائستہ عمل کا نقش اوراثر
* دعا کے مفہوم کی طرف ایک اشارہ
* دعا اور درخواست میں انسانوں کے مراتب میں فرق
* بارگاہ الہٰی میں فقر و ناتوانی کے اظہار کی اہمیت
* شائستہ ا عمال کے ساتھ دعا کے ہمراہ ہونے کی ضرورت
* شائستہ و صالح انسان کے وجود کی برکتیں
مخلصانہ دعا اور شائستہ عمل کا نقش اوراثر
''یا اباذر: یکفی من الدعاء مع البرما یکفی الطعام من الملح یا اباذر؛ مثل الذی یدعو بغیر عملٍ کمثل الذی یرمی بغیر وترٍ یا اباذر؛ ان اللّٰه یصلح بصلاح العبد ولده وولد ولده ویحفظه فی دویرته والدور حوله مادام فیهم''
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موعظہ کا یہ حصہ دعا اور خدائے متعال سے درخواست اور دعا کی عمل صالح کے ساتھ ضرورت اور صالح انسان کا گھر اور معاشرے میں قابل اہم نقش سے مربوط ہے۔ بیشک دعا اور خدائے متعال سے درخواست، بندگی و عبودیت کا ایک مظہر ہے اور اس سلسلہ میں بہت سی آیات و روایات وار دہوئی ہیں اور اس موضوع پر مفصل بحثیںبھی کی گئی ہیں۔
دعا کے مفہوم کی طرف ایک اشارہ
مرحوم راغب اصفہانی دعا کے بارے مین کہتے ہیں: ''دعا'' مانند ''ندائ'' ہے، اس فرق کے ساتھ کہ نداء میں کبھی ''یا''اس کے علاوہ (الفاظ )سے استفادہ ہوتا ہے اور اس کے ساتھ کوئی نام نہیں آتا ہے، لیکن لفظ ''دعا'' ایسی جگہ پر استعمال ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ نام آئے، مثال کے طورپر: اے فلاںالبتہ دعا و ندا کبھی کبھی ایک دوسرے کی جگہ پر استعمال ہوتے ہیں۔(۱)
علامہ طبا طبائی فرماتے ہیں:
خدائے متعال کی دعا کی دو قسمیں ہیں: تکوینی و تشریعی۔ تکوینی کسی چیز کے کی ایجاد کے معنی میں ہے کہ خدائے متعال نے اس کا ارادہ کیا ہے، گویااس چیز کو اپنے ارادہ کے مطابق بلاتا ہے۔ خدائے متعال فرماتا ہے:
( یوم یدعوکم فتستجیبون بحمده ) ...) (اسرائ٥٢)
''جس دن وہ تمہیں (آخرت کی ابدی زندگی کی طرف) بلائے گا اور تم سب (قبروں سے باہر آجائو گے) اور اس کی تعریف کرتے ہوئے لبیک کہو گے۔''
لیکن خدا کی تشریعی دعا اس معنی میں ہے کہ قرآن مجید کی آیات سے لوگوں کو دین قبول کرنے کے لئے مکلف قرار دیتا ہے۔ لیکن بندے کی پرور دگار سے دعا، اس معنی میں ہے کہ بندہ خدا کی بندگی اور خدا کے سامنے اپنیغلامی کا کے احساس دلا کر، خدا کی رحمت و عنایت کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔ اس لحاظ سے حقیقت میں عبادت وہی دعا ہے، جسے بندہ اپنی دعا سے (خدا وند متعال سے وابستگی اور ذلت کے احساس سے) غلامی کے مرحلہ میں رہ کر اپنے مولا سے ارتباط برقرار کرتا ہے، تاکہ خدائے متعال کو اس کی سرداری اور ربوبیت کا واسطہ دیکر اپنی طرف متوجہ کرے اور یہ وہی دعا ہے اور اس معنی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خدائے متعال فرماتا ہے:
( وقال ربکم ادعونی استجب لکم ان الذین یستکبرون عن عبادتی سید خلون جهنم داخرین ) (غافر ٦٠)
''اور تمہارے پرور دگار کا ارشاد ہے کہ مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا اور یقینا جو لوگ میری عبادت سے اکڑتے ہیں وہ عنقریب ذلت کے ساتھ جہنم میں داخل ہوں گے۔''
اس آیت میں خدائے متعال نے پہلے تعبیر ''دعا'' سے استفادہ کیا ہے اس کے بعد تعبیر ''عبادت'' سے۔(۲)
یہ غلط فہمی نہ ہو کہ درخواست کرنے والے کی دعا کے قبول ہونے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ جس چیز کی بھی وہ درخواست کرے اور جس وقت بھی وہ چاہے اس کی حاجت پوری ہوگی۔ دعا کے قبول ہونے کے بارے میں اس قسم کی تفسیر دینی بیانات سے سازگار نہیں ہے۔ ممکن ہے جس چیز کے متعلق دعا کرنے والا درخواست کررہا ہے وہ اس کی مصلحت میں نہ ہو اور درخواست کا قبول ہونا اس کے نقصان میں ہو، کیونکہ وہ اپنی مصلحت سے آگاہ نہیں ہے۔
حضرت علی علیہ السلام اپنے بیٹے سے وصیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
''...ثم جعل فی یدیک مفاتیح خزائنه' بما اذن لک فیه من مسالته' فمتی شئت استفتحت بالدعاء ابواب نعمته واستمطرت شابیب رحمته فلا یقنطنک ابطاء اجابته فان العطیّة علی قدر النیّة وربما اخّرت عنک الاجابة لیکون ذٰلک اعظم لأجر السائل واجزل لعطاء الاٰمل وربما سالت الشئی فلاتوتاه واوتیت خیراً منه عاجلاً او آجلا' او صرف عنک لما هو خیر لک''
فلرب امر قد طلبته فیه هلاک دینک لو اوتیته فلتکن مسالتک فیما یبقی لک جماله وینفی عنک وباله فالمال لا یبقی لک ولا تبقی له ..''(۳)
تیرے دونوں ہاتھوں میں جس تجھے درخواست کی اجازت دی ہے، خزانوں کی کنجیاں رکھی ہیں۔ پس اگر دعا سے نعمتوں کے دروازوں کو کھولنا چاہوتو مسلسل رحمت کی بارش کے لئے دعا کرو۔ تیری درخواست کے قبول ہونے میں تاخیر تجھے نا اُمید نہ کرے، کیونکہ بخشش نیت اور مہم ارادہ کے مطابق ہوتی ہے (دعا کا قبول ہونا خلوص نیت اور پائداری پر منحصر ہے) ممکن ہے تیری درخواست کو قبول ہونے میں تاخیر ہوجائے تاکہ درخواست کرنے والے کی پاداش میں اضافہ ہو اور کامیابی کے لئے بخشش زیادتی ہو ۔ ممکن ہے کسی چیز کی درخواست کرو اور وہ شی تجھے عطانہ کی جائے اور آخرت یا دنیا میں اس سے بہترشی تجھے دی جائے یاتمھاری مصلحت میں یہی ہو کہ تمھاری درخواست قبول نہ ہو ممکن ہے کہ ایسی چیز کی درخواست کرو کہ اگر تجھے عطاکردی جائے تو تمھارادین خراب ہوجائے۔ پس تجھے ایسی چیز کی درخواست کرنی چاہئے جس کی نیکی تیرے لئے باقی رہے اور اس کی ناگوار تم سے دور ہوجائے۔ مال تمھارے لئے باقی نہیں رہے گا اور تم بھی اس کے لئے نہیں رہو گے''
دعا و درخواست میں انسانوں کے مراتب میں فرق:
اس بارے میں کہ دعا میں انسان کامحرک کیا ہے اور دعا کی اتنی تاکید کیوں کی گئی ہے، مختصریہ کہ انسان اپنی حاجت کو صرف بار گاہ الہٰی میں پیش کرے اور اس سے حاجت روائی چاہیے۔ بندگی اور اس کے مقامات کے بارے میں لوگ مختلف ہیںان کی حاجتیں بھی مختلف ہیں، جو لوگ معرفت و ایمان کے ادنی درجہ اور خدا کی بندگی وعبودیت کے تکامل وترقی کے راستہ کی ابتدامیں قراردیتے ہیں، ان کی حاجتیں عام اور دنیوی ہوتی ہیں، مثال کے طور پر وسعت رزق، شائستہ فرزند، اچھی شریک حیات، اچھے گھر اور زندگی کے وسائل کو پورا کرنے کی درخواست و غیرہ۔
البتہ جو ایمان کے ادنی درجہ پر ہے اور معرفت الہٰی کے اعلی درجات پر فائز نہیں ہوا ہے،کہ خدا سے بالاتر حاجتوںکی درخواست کرے، بجا ہے کہ خدا سے ان ہی مادی حاجتوں کی درخواست کرے، حقیقت میں خدا سے اس کی درخواست اس بات کی علامت ہے کہ وہ خدا پر ایمان رکھتا ہے اور اسے اپنی حاجتوں کو پوا کرنے کا قادر جانتا ہے، اس لحاظ سے وہ بندگان خدا کی طرف دست سوال دراز نہیں کرتا ہے، فطری بات ہے کہ اگر ان ہی مادی حاجتوں کو خدا سے چاہے، تو خدائے متعال اس کی حاجتوں کو پورا کرے گا، کیونکہ اس نے خود موسیٰ سے فرمایا:
''یا موسیٰ سلنی کل ماتحتاج الیه حتی علف شاتک وملح عجینک'' (۴)
''اے موسیٰ! اپنی تمام حاجتوں کو مجھ سے مانگو، یہاں تک بھیڑ کے چارہ اور خمیر کے نمک کو''
انسان کا کمال اس میں ہے کہ ہر قسم کی حاجت خواہ مادی ہویا معنوی پوری کرنے کے لئے خدائے متعال سے رجوع کرے اور اس کے علاوہ کسی سے رجوع نہ کرے اور غیر خدا کو بلا واسطہ مؤ ثر نہ جانے اگر غیر خدا سے رجوع کیا تو خدائے متعال اسے نا اُمید کرتا ہے:
''ان الله تبارک و تعالیٰ یقول: وعزتی وجلالی ومجدی وارتفاعی علی عرشی لأُ قطعن امل کل مومل غیری بالیاس ولأ کسونه ثوب المذلة عند الناس ولا نحّینه من قربی ولأُبعدنه من فضلی' ایومل غیری فی الشدائد والشدائد بیدی ویرجو غیری ویقرع بالفکر باب غیری؟ وبیدی مفاتیح الابواب وهی مغلقه وبابی مفتوح لمن دعانی... ''(۵)
خدائے متعال فرماتا ہے: مجھے اپنی عزت و جلال، بزرگواری اور عرش پر عظمت کی قسم ہے جو کوئی میرے علاوہ کسی اور سے اُمید باندھے اس کی آرزوئوں کو نا اُمیدی میں تبدیل کر دو ںگا اور لوگوں کے پاس اسے ذلیل و خوار کر کے رکھدوں گا اور اسے اپنے تقریب سے دور رکھوں گا اور اپنے فضل و کرم سے محروم کردونگا۔ وہ مشکلات میں دوسروں سے اُمید رکھتا ہے جبکہ مشکلات (کاحل) میرے ہاتھوں میں ہے ۔ میرے علاوہ غیروں سے امید رکھتا ہے اور اپنی فکر میں میرے علاوہ کسی اور کے گھر کا دروازہ کھٹ کھٹاتا ہے، جبکہ تمام بند دروازوں کی کنجیاں میرے پاس ہیں اور میرے چاہنے والوں کے لئے میرا دروازہ کھلا ہے۔
افسوس کہ ہماری بہت سی دعائیں اور درخواستیں حقیقی نہیں ہیں، یعنی ہم خدا سے درخواست نہیں کرتے، چونکہ حقیقی مؤثر خدائے متعال ہے اور مناسب سے کہ انسان صرف اسی سے درخواست کرے، اگر چہ انسان حاجت کے وقت اسی کے پیچھے دوڑتا ہے جو اس کی حاجت کو پورا کرے اور اگر روپیہ و پیسہ چاہتا ہے تو اپنا ہاتھ اسی کے سامنے پھیلاتا ہے کہ جو اس کی مدد کرے یا کسب معاش کے پیچھے جاتا ہے تاکہ پیسے کما سکے، لیکن مومن شروع میں اپنے دل کو خدا سے وابستہ کرتا ہے اور اس سے طلب کرتا ہے چوں کہ اس نے دنیوی اسباب کو حاجتوں کو پورا کرنے کے لئے وسیلہ قرار دیا ہے،لہٰذا ان کا سہارا چاہتا ہے، نہ اس لئے کہ وہ آزادو مستقل ہیں۔
بہر حال جس قدر انسان کا دل خدا کی طرف متوجہ ہوجائے اور بارگاہ رب العزت سے اپنی حاجت پوری کرنے کے لئے درخواست کرے، انسان کے کمال اور ایمان میں اضافہ ہوتا ہے اور خدا کی طرف اس کی توجہ زیادہ ہوتی ہے، ہم نہیں جانتے کہ خدا کی طرف توجہ کرنا کونسی گراںقدر کیمیاہے ، حتی کہ خدائے متعال سے مادی اور دنیوی حاجتوں کی درخواست بھی انسان کی روحانی تکامل و ترقی میں کس قدر مؤثر ہے: علامہ طبا طبائی اپنے استاد مرحوم آیت اللہ میرزا علی آقا قاضی سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: بعض اوقات انسان خدا کی توجہ سے غافل ہوتا ہے اور خدائے متعال ایک مدت تک اپنے اس بندہ کو مشکلات اور سختیوں میں مبتلا کرتا ہے تاکہ ایک ''یا اللہ کہے، کیونکہ یہ ''یااللہ'' کہنا اور خدا کی طرف توجہ کرنا روح پر زیادہ اثر ڈالتا ہے اور اس کے دل کے نورانی ہونے کا سبب بنتا ہے۔
گزشتہ بیانات کے پیش نظر واضح ہوتا ہے کہ خدا کی طرف توجہ کس قدر روح کی ارتقاکے لئے مؤثر ہے حتی انسان عادی حالات میں جب ضرورت کازیادہ احساس نہ کرے خدا کی طرف متوجہ ہوجائے تو کس قدر اپنے کمال کی راہ میں آگے بڑھ سکتا ہے،البتہ وہ نہیں سمجھتا ہے اور صحیح طور پر سمجھنا بھی نہیں چاہئے، کیونکہ یہ دنیا امتحان کی جگہ ہے اور اگر ہر چیز کے آثار مکمل طور پر آشکار ہو جائیں تو امتحان کما حقہ انجام نہیں پائے گا۔ بہت سی چیزیں مخفی اور پوشیدہ رہنی چاہئے تاکہ امتحان صحیح معنوں میں انجام پائے۔
اس لئے انسان کو ہر گز خدائے متعال کو فراموش نہیں کرنا چاہئے اور اسے ہر چیز، یہاں تک اپنی مادی حاجتوں کو بھی خدا سے مانگنا چاہئے۔ا سے توجہ کرنی چاہئے کہ اس کی دعا حتی مادی حاجتوں کے لئے اور خدا کی طرف توجہ خدا کی ربوبیت اور اس کی بندگی کااقرار ہے اور اسی قدر توجہ بھی، اپنی مادی حاجتوں کے لئے درخواست، اس کی روح کے کمال کے لئے مؤثر ہے، اگر اس کی معرفت نشوونما پا کر اس کا ایمان قوی ہوجائے اور مادی امور کے علاوہ معنوی امور کے لئے بھی دعا کرے تو کیا بات ہے! دعا کرے کہ خدا اسے عبادت کی توفیق عنایت کرے، علم حاصل کرنے، لوگوں کی خدمت کرنے اور گناہ سے پرہیز کرنے کی توفیق مرحمت کرے۔ اس سے بھی بڑھ کر دوسروں کیلئے، دوستوں، ہمسایوں، ہم کلاسوں، مومنوں، ان کے لئے جن کا اس پر حق ہے من جملہ اپنے استادوں کے لئے دعا کرے۔
اس سے عالی ترین گروہ، وہ لوگ ہیں کہ جب دعایا درخواست کرنا چاہتے ہیں، تو ان کی حمد و تسبیح الٰہی میں مشغولیت ان کے لئے دعا اور درخواست کرنے سے مانع ہوتی ہے جب وہ دعا کرنا چاہتے تو وہ خدا کے جلال و جمال کی صفات کی یاد میں پڑجاتے ہیں اور پروردگار کی مدح و ثنا کرنے لگتے ہیں جس قدر اس کی ستائش کرتے ہیں سیر نہیں ہوتے ہیں، اس لئے ان کے لئے کوئی فرصت باقی نہیں بچتی تاکہ اپنے لئے کسی چیز کا مطالبہ کریں۔ جس عاشق کی نظر اس کے معشوق کے جمال پر پڑتی ہے، وہ خود کو نہیں دیکھتا ہے تاکہ اپنے معشوق سے اپنے لئے کوئی چیز مانگے۔
حتیٰ جو لوگ معرفت کے اس مرحلہ پر پہنچے ہیں، وہ پھر بھی احساس کرتے ہیں کہ خدائے متعال چاہتا ہے کہ عبودیت و بندگی کے آثار ان کے تمام اعضاو جوارح اور اس کے وجود کے تمام زاویوںسے ظاہر ہوں، جس طرح عبودیت و بندگی کے آثار یہ ہیں کہ انسان اپنی پیشانی کومٹی پر رکھے، ذلت اور پستی کے عنوان سے بارگاہ الہٰی میں اپنے رخ کو خاک پر قرار دے، اس کی آنکھوں سے جمال الہٰی کے شوق کے آنسو یا عظمت الہٰی کے خوف کے آنسو جاری ہوجائیں اور دل کا نپ اٹھے، اس طرح تمام اعضا و جوارح کے علاوہ زبان پر ذلت کے آثار رونما ہونے چاہئے اور زبان پر جاری ہونے والے عبودیت و بندگی کے آثار میں سے ایک یہ ہے کہ بندہ اپنے مولا سے کسی چیز کی درخواست نہیں کرتا ہے۔
بارگاہ الہٰی میں فقر و ناتوانی کے اظہار کی اہمیت:
جب انسان کو معلوم ہوا کہ خدائے متعال ا سے چاہتا ہے کہ اپنے پورے وجود اور اپنی پوری ظاہری اور باطنی طاقت کے ساتھ بندگی کا اظہار کرے، تو اسے جاننا چاہئے کہ وہ زبان سے بھی عاجزی ، ذلت اور گدائی کا اظہار کرے اور یہ درخواست اور گدائی پرور دگارکی بارگاہ میں ذلت کی علامت ہے اور جنہوں نے اس کا مزہ چکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ گدائی کس عظمت و عزت کا سبب بنتی ہے۔ جو لوگ معرفت کے عالی مقامات تک پہنچے ہیں، وہ پھر بھی احساس کرتے ہیں کہ انہیں دعا کرنی چاہئے اور آثار بندگی کو زبان پر جاری کرنا چاہئے، یہ اظہار بندگی عبادت ہے اور موضوعیت رکھتا ہے۔
خدائے متعال انسان سے چاہتا ہے کہ اس کی بارگاہ میں فقر و محتاجی کا اظہار کرے اورفطری بات ہے کہ جب انسان کے تمام اعضاو جوارح خدا کی بندگی کی راہ میں شائستہ اعمال انجام دینے کے لئے ہماہنگ ہوں اور من جملہ آثار بندگی، اظہار عجز و ناداری اور خدا سے درخواست زبان پر جاری ہو، تو انسان مطلوب نتیجہ تک پہنچتا ہے، کیونکہ انسان کے تمام قویٰ ( طاقتیں) اور اعضاء و جوارح ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں۔ جب وہ دعا کرتا ہے، گویا اپنے تام وجود سے بار گاہ رب العزت سے درخواست اور سوال کرتا ہے، توفطری طورپر خدائے تبارک و تعالیٰ کی وسیع رحمت اسے اپنے دامن میں لے لیگی۔
( واذاسالک عبادی عنی فانی قریب اجیب دعوةَ الداع اذا دعان ) ...) (بقرہ ١٨٦)
''اور اے پیغمبر! اگر میرے بندے تم سے میرے بارے میں سوال کریں تو میں ان سے قریب ہوں،پکارنے والے کی آواز سنتا ہوں، جب بھی وہ پکارتا ہے۔''
دعامیں انسان خدا سے کوئی چیز مانگتا ہے اور وہ بھی اسے عطا کرتا ہے۔ لیکن جس نے خدا ئے متعال کی مناجات اور اس کی محبت کا مزہ چکھا ہے، اس کے لئے سب سے بڑی لذت یہ ہے کہ جب وہ ''یا اللہ'' کہتا ہے تو اسے جواب میں ''لبیک'' کہا جائے۔ لیکن اگر کسی کا دل صرف خدا کی طرف متوجہ ہو اور دوسروں پر نظر نہ رکھتا ہو، تو درخواست کرتے وقت خدا وند متعال اسے عطا کرتا ہے۔ انسان کو ہر چیز خدائے متعال سے مانگنی چاہئے، اگر بھوکا ہے تو روٹی خدا سے مانگے اور اپنے تمام وجود کے ساتھ خدا کی بارگاہ میں فقر و محتاجی کا اظہار کرے اور حضرت موسیٰ کی طرح کہے:
(...( رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر ) ) (قصص٢٤)
''پرور دگارا! یقینا میں اس خیر کا محتاج ہوں جس کو تونے میری طرف بھیجاہے۔''
حضرت موسیٰ نے اس بات کو اپنی زبان پر اس وقت جاری کیا، جب مصر سے بھاگ کر مدین روانہ ہونے اس وقت آپ کے پاس نہ غذا تھی اور نہ سونے کے لئے گھر۔ راتوں کو بیابانوں میں بغیر کچھ بچھائے ہوئے زمین پر سوتے تھے اور بھوک کی شدّت کی وجہ سے بیابان کی گھاس کھاتے تھے۔ چنانچہ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
''...واللّٰه ماسأَله اِلاخبزاً یاکله لأَنّه کان یاکل بقلة الارض ولقد کانت خضرة البقل تری من شفیف صفاق بطنه لهزاله وتشذب لحمه ''(۶)
خدا کی قسم، موسیٰ نے خدائے متعال سے کھانے کے لئے روٹی کے علاوہ کچھ نہیں مانگا تھا کیونکہ وہ زمین کی گھاس کھاتے تھے اور بے حد نحیف ولاغراور بدن پرگوشت کی کمی کی وجہ سے ان کے پیٹ کی نازک کھال کے نیچے سے گھاس کی سبزی دکھائی دیتی تھی۔
حضرت موسیٰ، مصر سے بھاگ کر مدین کی طرف روانہ ہوئے۔ ایک دن مدین میں دیکھا کہ کچھ لوگ کنویں سے پانی کھینچنے میں مشغول ہیں، اور دولڑکیوں کو دیکھا کہ ایک گوشے میں بیٹھے انتظار کر رہی ہیں تاکہ مرد چلے جائیں تو وہ اپنی بھیڑ بکریوں کے لئے کنویں سے پانی کھینچ لیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام ان دو لڑکیوں کے پاس گئے اور ان سے سوال کیا: کس لئے یہاں آئی ہیں ؟ جب حضرت موسیٰ ان کے مقصود سے آگاہ ہوئے، تو ہمدردی کی بنا پر کنویں سے پانی کھینچ کر ان کی بھیڑ بکریوں کو سیراب کیا۔ اس کے بعد یہ لڑکیاں اپنی بھیڑ بکریوں کے ہمراہ دور چلی گئیں اور زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ ان دو لڑکیوں میں سے ایک نے واپس آکر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کہا: میرے باپ نے یہ خواہش ظاہر کی ہے کہ آپ ان کے پاس آجائیں تا کہ وہ آپ کو ہماری کمک کرنے کی اجرت دیں۔ جب موسیٰ ان لڑکیوں کے باپ، حضرت شعیب کے پاس گئے تو انھوں نے اپنی بیٹیوں میں سے ایک کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عقد میں قرار دیا اور اس کے بعد حضرت موسیٰ کی مادی زندگی، بیوی بچے اور آرام آسائشکا اہتمام ہو گیا۔
جی ہاں، اگر انسان دل کی گہرائی سے خدا سے کوئی چیز مانگے وہ اسے عنایت کرتا ہے۔ پھر ضروری نہیں ہے مفصل اور طولانی دعائیں پڑھے اور دعائوں پر زیادہ وقت صرف کرے، کافی ہے کہ اپنے پورے وجود کے ساتھ خدا سے درخواست کرے تاکہ اس کی درخواست قبول ہوجائے۔ لیکن جب انسان دعا پڑہتا ہے، حتی لمبی چوڑی اور مفصل دعائیں، لیکن غیر خدا سے بھی دلی توجہ رکھتا ہے، تو وہ دعا اثر نہیں رکھتی۔ اگر انسان روحی آماد گی کے علاوہ شائستہ اعمال بھی انجام دے تو اس کی دعا جلدی اثر کرتی ہے۔
شائستہ اعمال کے ساتھ دعا کی ضرورت:
شاید ناشائستہ اعمال انجام دینے والوں کی دعا قبول نہ ہونے اور ان کے خدا سے درخواست کرنے میں کامیاب نہ ہونے کی علت یہ ہو کہ وہ خدا کی طرف مکمل توجہ نہیں رکھتے ہیں۔ کیونکہ ناپسند اعمال غیر خدا سے دلبستگی حتی کسی ایسی چیز سے دلبستگی کا سبب بن جاتے ہیں کہ جو خدا کی ناراضگی کا باعث ہیں۔ اس صورت میں کیسے ممکن ہے کہ انسان خدا کی بارگاہ میں حاضری دے؟ وہ لوگ خدائے متعال کی طرف خالصةً اور مکمل توجہ کرتے ہیں، جن کے اعمال صالح وشائستہ اور آلود گی سے پاک ہوں۔ اسی لئے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے ہیں:
''یااباذر؛ یکفی من الدعاء مع البر ما یکفی الطعام من الملح''
''اے ابوذر! شائستہ اور نیک اعمال کے ساتھ دعا کرنا ایسے کافی ہے جیسے غذا کے لئے نمک کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔''
جس طرح غذا کے لئے ایک خاص مقدار میں نمک ضروری اور کافی ہوتا ہے اور اس سے زیادہ نہیں ہونا چاہئے، اسی طرح جو پسندیدہ اعمال بجالاتا ہے، جس مقدار میں غذا کے لئے نمک کاہونا ضروری ہے، اسی مقدارمیں اس کے لئے دعا کی بھی ضرورت ہوتی ہے اور حقیقت میں انسان کی زندگی کے لئے دعا نمک کے مانند سعادت ہے،پس ضروری نہیں ہے کہ انسان مسلسل دعا و درخواست کرتا رہے اور خدا سے درخواست و دعا کرنے کے فوراً بعد خدائے متعال اس کی درخواست کا جواب بھی دے، لیکن جن کے اعمال شائستہ نہیں ہیں اور دوسروں کی خدمت نہیں کرتے ہیں وہ اگر فراوان دعا بھی کریں تو معلوم نہیں ان کے لئے فائدہ مند ہویا نہ۔ اس مطلب کی بیشتر و ضاحت کے لئے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے ہیں:
''یا اباذر: مثل الذی یدعو بغیر عملٍ کمثل الذی یرمی بغیر وترٍ ''
''اے ابوذر! جو شخص عمل ِشائستہ کے بغیر دعا کرتا ہے، اس کی مثال اس شخص کی جیسی ہے جو کمان کے بغیر تیرچلاتا ہے''
جو دعا کرتا ہے، لیکن اپنے فرائض کو صحیح طور پر انجام نہیں دیتا وہ دعا کی اہمیت سے توواقف ہے اور دعا میں سچابھی ہے نیز در حقیقت خدائے متعال سے درخواست بھی کرتا ہے ہاں جو چیز اس میں ہے وہ یہ ہے کہ تمام امور میں اپنے فریضہ پر عمل نہیں کرتا ہے اور اس کی رفتار میں بندگی کے آثار نہیں پائے جاتے، کان، آنکھ وغیرہ کے بارے میں کوتا ہی برتتا ہے اور حقیقت میں وہ نفس کی بندگی کرتا ہے۔ ایسے شخص کوبھی خدا سے نا اُمید نہیں ہونا چاہئے، خدائے متعال اس سے کہیں زیادہ کریم ہے کہ جو اس کے درپر آئے اور وہ ، اسے نکال باہر کرے اور کوئی جواب نہ دے۔ لیکن ایسے شخص کی حالت اس انسان سے بہت ہی متفاوت ہے کہ جس کی تمام سرگرمیوں اور رفتاروں میں خدا کی بندگی کے آثار و جلوے نمایاں ہوں اور وہ تمام وجود کے ساتھ اپنے معبود کی بندگی کے راستہ پر گامزن ہو اور انجام فرائض اور خلق و خالق کی خدمت میں ایک لمحہ کے لئے بھی غفلت نہ کرتا ہو۔ ان دوشخصوں کی درخواست اور دعا کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی چاہتا ہو کہ ایک تیر کو نشانہ پر چلائے مگر وہ تیر کوہاتھ سے پھینکتاہے، تو اس کی مسافت بہت کم ہوتی ہے اور تیر کماحقہ نشانہ پر نہیں لگتا ہے، لیکن اگر اسی تیر کو چلۂ کمان میں رکھ کر چلایا جائے تو اس کیمسافت کئی گنا زیادہ ہو گی اور تیر نشانہ پر بھی لگے گا۔ شائستہ عمل کے بغیر دعا کرنے والے کی مثال اس شخص کی جیسی ہے کہ کمان کے بغیر تیر چلاتاہے، یقینا اس کے تیر کیمسافت اور دوری بہت کم ہوگی۔
مذکورہ گفتگو کے پیش نظر انسان کی زندگی میں دعا کا نقش اور اثر واضح اور روشن ہو گیاکہ دعا اس نمک کے مانند ہے جسے غذا میں ڈالا جاتا ہے، انسان کی زندگی سرا سر خدا کی بندگی اور عبادت ہونی چاہئے۔ خواہ انفرادی حیثیت میں یا خاندانی روابط کے بارے میں ، ہمسایوں کے بارے میں یاسماج اور خدا کے بندوں کے بارے میں ، انسان کے رفتار و اعمال سے بندگی کے اثرات ظاہر ہونا چاہئے، ضمناً دعا بھی کرے۔ کیونکہ یہی دعا خدا کی بندگی کا اثر ہے جو زبان سے ظاہر ہوتا ہے (اور یقینا وہ درخواست اوردعا اور توجہ صمیم قلب سے ہونی چاہیے۔)
دوسرا نکتہ جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیان سے واضح ہے ، وہ یہ ہے کہ انسان نیک اور شائستہ اعمال سے اپنے مقاصد تک بہت جلد پہنچتا ہے اور جب وعدہ کرتا ہے تو اس کی مثال اس شخص کے مانند ہوتی ہے جو کمان سے تیر چلاتاہے اور اس کا تیر فوری طور پر نشانہ پر لگ جاتا ہے۔ وہ اس شخص کے مانندہے جس کی غذا آمادہ ہے اور اس میں صرف تھوڑ اسا نمک ملانا باقی ہے تاکہ کھانے کے لئے تیار ہوجائے۔ پس نیک اور شائستہ اعمال انسان کو اپنی خواہشات تک پہنچاتے ہیں۔
البتہ افراد کی خواہشات مختلف ہوتی ہیں وہ لوگ جو خدا کی بندگی کے اعلی ترین درجہ تک جاپہنچے ہیں، ان کی خواہشات بہت بلند ہیں، ان کی خواہشات جیسے: قرب الہٰی، لوگوں سے بے نیازی اور دنیا و آخرت کی سعادت کو حاصل کرنا نیز خدا کی عنایت کردہ نعمتوں کا ہمیشہ ہمیشہ باقی رہنا ہے۔ وہ معتقد ہیں کہ صرف خدائے متعال ان کی خواہشات کو پورا کرتا ہے نہ کہ کوئی اور۔ لیکن جو لوگ بندگی اور خدا کی معرفت کے ادنی درجہ پر فائز ہیں، وہ اپنے شکم، گھر اور لباس کی فکر میں ہیں اور ان کی خواہشات بھی انہیں چیزوں سے مربوط ہوتی ہیں، البتہ خدائے متعال ان کی حاجتوں کو بھی پورا کرتا ہے۔
حقیقت میں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بیان انسان کے اپنے نفس کی اصلاح کرنے اور فرائض انجام دینے کے لئے ایک تشویق ہے تاکہ وہ جلدی اپنے مقاصد تک پہنچ جائے اور خدائے متعال اس کی دعا کو قبول کرے، اس میں کوئی فرق نہیں ہے کہ اس کی دعا اپنے بارے میں ہویا دوسروں کے بارے میں ، اس کی خواہشات دنیوی ہوں یا معنوی و اخروی،پس پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دوسروں کو نیک اعمال انجام دینے کی تشویق فرماتے ہیں، اگر چہ نیک اعمال کے حقیقی آثار اور شائستہ پاداش اور حقیقی اعمالِ خیر آخرت میں ظاہر ہوں گے اور یہ دنیا صرف کام کرنے کی جگہ ہے اور اعمال کی پاداش آخرت میں انسان کو ملے گی۔
''ان الیوم عمل ولا حساب وغداً حساب ولاعمل...'' (۷)
''بیشک آج کام کا دن ہے اور حساب کا دن نہیں ہے اور کل حساب کا دن ہے اور کسی کو کام کرنے کی مہلت نہیں ہوگی''
ایک دوسری حدیث میں آیا ہے:
''الدنیا مزرعة الآخرة '' (۸)
''دنیا آخرت کی کھیتی ہے۔''
یہاں پر بیج بویا جاتا ہے اور آخرت میں فصل کاٹی جاتی ہے، لیکن خدائے متعال اپنی بے انتہا مہربانیوں کی بنا پر کبھی بعض اعمال کے آثار اور ان کے نمونے اسی دنیا میں نیک افراد کو عنایت فرماتا ہے تاکہ عمل خیر کی انجام دہی میں رغبت پیدا ہو اور انجام وظیفہ کے بلند عہدہ پر فائز ہوں۔ اگر چہ کمال کے عالی مقامات پر فائز ہوئے افراد اس طرح کی توفیق کے محتاج ہی نہیں ہوتے چاہے جس قدر بھی وہ ان آثار کو دیکھیں ان کے یقین میں اضافہ نہیں ہوتا ہے:
''لوکشف الغطاء لم ازاددت یقینا ...''(۹)
''اگر پردے ہٹادیئے جائیں تب بھی میرے یقین میں اضافہ نہیں ہوگا۔''
جن کے سامنے سے تمام پردے نہیں ہٹائے گئے ہیں، وہ ہمت افزائی کے مستحق ہیں تاکہ وہ خدا کی بندگی اور تکامل وترقی کی راہ میں آگے بڑھیں۔ ان تشویقوں میں سے ایک یہ ہے کہ خدائے متعال اسی دنیا میں خیر و برکت کے آثار ان پرنازل فرماتا ہے اور ان کی دعائوں کو قبول کرتا ہے:
( ولو ان اهل القریٰ آمنوا واتقوا لفتحنا علیهم برکاتٍ من السمآء والارض ) (اعراف٩٦)
''اور اگر اہل قریہ ایمان لے آتے اور تقویٰ اختیار کرلیتے تو ہم ان کے لئے زمین اور آسمان کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔''
شائستہ اورصالح انسان کے وجود کی برکتیں:
مذکورہ بیانات سے بالاتر، پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے بعد وا لے جملہ میں نیک اور شائستہ اعمال کے لئے کچھ ایسے آثار بیان فرماتے ہیں جو ناقابل تصور ہیں اور انسان توقع نہیں رکھتا کہ اس کے نیک اعمال ایسے شائستہ آثار رکھتے ہوںگے۔
''یا اباذر؛ ان اللّٰه یصلح بصلاح العبد ولده وولد ولده ویحفظه فی دویرته والدور حوله مادام فیهم''
''اے ابوذر! خدائے متعال شخص کے صالح ہونے پر اس کے فر زندوں اور فر زندوں کے فرزندوں کی اصلاح فرماتا ہے اور اسے اپنے گھر میں نیز اور اس کے ہمسایہ کے گھروں میں ان کے زندہ رہنے تک ان کی حفاظت کرتا ہے''
جو لوگ خدا کی بندگی کے مالک ہیں،خدائے متعال انہیں اس دنیا میں خطرات سے بچاتا ہے اور ان کے وجود کی برکت سے ان کی اولاد کو پشت درپشت تحفظ بخشتا ہے، حتیٰ اہل محلہ اور اس شہر کے باشندوں کی بلائوں سے حفاظت کرتا ہے جس میں صالح و شائستہ انسان زندگی گزارتے ہیں۔ اسی طرح ایسے افراد کے وجود کی شعائیں اور معنوی برکتیں گرد و نواح کے لوگوں کو بھی شامل ہوتی ہیں۔ مومنوں کی وجودی شعاعیں یکساں نہیں ہوتیں، بعض صرف اپنے اہل وعیال سے رابطہ رکھتے ہیں، کچھ اپنے ہمسایوں اور اہل محلہ سے بھی رابطہ رکھتے ہیں اور کچھ اس سے بڑھ کر ایک شہر حتی ملک کے لوگوں سے رابطہ رکھتے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ حضرت امام خمینی رحمتہ اللہ علیہ ایران کے تمام لوگوں، بلکہ دنیا کے تمام مسلمانوں بلکہ اس سے بڑھ کر تمام مستضعفان عالم سے رابطہ رکھتے تھے۔ ان کی وجودی شعاعیں ایک شہر اور ایک ملک سے بڑھ کرتمام دنیا میں پھیلی ہوئی تھیں۔ خدائے متعال نے اس شائستہ و برگزیدہ انسان کی برکت سے لاکھوں انسانوں کو اپنی عنایتوں سے نوازا۔
یقینا خدا وند متعال نہ صرف صالح وشائستہ انسان کی حفاظت کرتا ہے، اسے برکتیں عطا کرتا ہے، اس کی دعائیں قبول کرتا ہے اور بلائوں کو اس سے دور کرتا ہے بلکہ اس کے وجود کی خیر و برکت دوسروں، اس کی اولاد، محلہ والوں حتی ملک بھر کے لوگوں تک پہنچتی ہے اور اس کے قابل قدر وجود کی برکت سے بلائیں دور ہوتی ہیں۔ شائستہ اور صالح بندہ کا یہ قابل قدر نقش اور اثر، انسان کو اس نکتہ کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ خدا کی راہ میں قدم اٹھانے اور اس کے فرمان کی اطاعت میں نہ جانے کونسا گراں بہا کیمیا ہے کہ اس کے آثار انسان کے وجود کے حدودسے بڑھ کر دوسروں کو بھی فائدہ پہنچاتے ہیں۔ کیا مناسب نہیں ہے کہ انسان ان کاموں کو انجام دینے کے بجائے کہ امید وار ہو کہ نتیجہ خیز ہوگا، لیکن معلوم نہیں کہ خاطر خواہ نتیجہ بر آمد ہوگا یا نہیں ،ان ساری دنیوی زحمتوں کی اٹھانے کے بجائے اس امید میں کہ ان کا کوئی ثمرہ ہوگا، اپنی عمر کے لمحوں کو فرائض کے انجام دینے اور حکم خدا کو بجالانے میں صرف کرے تاکہ اس کی دنیوی خواہشات بھی پوری ہوجائیں اور اخروی خواہشات بھی، خدا کی برکتیں خود اس کو بھی ملیں اور اس کے اہل و عیال، آئندہ نسل حتی ہمسایوں، شہر اور ملک کے لوگوں تک پہنچیں، اس سے بڑھ کر کونسا فائدہ مند اور مفید کام ہوسکتا ہے؟ کیا تجارت اور کسب معاش کرنے والے اپنے مطلوبہ تمام دنیوی نتائج کو اخذ کرتے ہیں؟ کبھی ان کا فائدہ ہوتا ہے اور کبھی نقصان۔ ہاں ، اگر وہ کامیاب بھی ہوتے ہیں تو ان کو کیا ملتا ہے؟ زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ اس دنیا میں خوشی کے کچھ دن گزارتے ہیں۔
چنانچہ کہا گیا، کہ کبھی ایک صالح وشائستہ بندے کی دعا ایک شہر کے لوگوں کو بلائوں سے بچاتی ہے اور لوگوں کے لئے برکتیں نازل ہونے کا سبب بنتی ہے۔ یقینا، اولیائے الہٰی اور شائستہ انسانوں کے وجود کی وجہ سے ہم سے بہت ساری بلائیں دور ہوتی ہیں اور ان کی دعائوں کی بدولت بے شمار تو فیقات ہمیں نصیب ہوتی ہے، ممکن ہے ہم انہیں نہ پہچانتے ہوں۔ ممکن ہے ہمارے آباء و اجداد نے نیک کام انجام دیئے ہوں جن کی وجہ سے خدا نے اس وقت ہمیں توفیقات عنایت کی ہے۔ ممکن ہے ہمارے اساتذہ اور بزرگوں نے ہمارے حق میں دعائیں کی ہوں یا ہمسائے اور مومنین نصف شب ہمارے لئے دعا کرتے ہوں اور انہی دعائوں کے اثرسے خدائے متعال نے اپنی تو فیقات سے ہمیں نوازا ہو، اور ہم سے بلائیں دور کی ہوں۔ ہمیں کیا پتہ ہے کہ یہ برکتیں اور نعمتیں کہاں سے آئی ہیں اور کس کے ذریعہ یہ بلائیں ہم سے دور ہوئی ہیں؟ اور ہم کیا جانتے ہیں کہ ایک بندہ صالح کی نصف شب کو خدا سے اس کے حق میں کی جانے والی دعا کی کیا برکتیں ہوں گی؟ لیکن خدائے متعال نے قرآن مجید میں فرمایا ہے اور روایتوں میں بھی آیا ہے کہ خدا ئے متعال شائستہ انسانوں کی برکتوں سے دوسروں کو نعمتیں عطا کرتا ہے، اور لوگوں سے بعض بلائوں کو دور کرتا ہے:
اس سلسلہ میں قرآن مجید کے سورہ بقرہ کی آیت نمبر ٢٥١ کو شاہد کے عنوان سے پیش کیا جاسکتا ہے:
(...ولولا دفع اللّٰه الناس بعضهم ببعضٍ لفسدت الارض ولٰکن اللّٰه ذوفضلٍ علی العالمین )
''اور اگر اسی طرح خدا بعض کو بعض کے ذریعہ سے نہ روکتا رہتا تو ساری زمین میں فساد پھیل جاتا لیکن خدا عالمین پر بڑا فضل کرنے والا ہے۔''
یونس بن ظبیان نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس آیت کے بارے میں جو روایت نقل کی ہے حسب ذیل ہے:
''ان اللّٰه یدفع بمن یصلّٰی من شیعتنا عمن لا یصلّٰی من شیعتنا ولو اجمعوا علی ترک الصلاة لهلکوا ، و ان اللّٰه یدفع بمن یصوم منهم عمن لا یصوم من شیعتناولو اجمعوا علی ترک الصیام لهلکوا وان اللّٰه یدفع بمن یزکی من شیعتنا عمن لایز کی منهم ولواجتمعوا علی ترک الزکاة لهلکوا وان اللّٰه لیدفع بمن یحج من شیعتنا عمن لایحج منهم ولوا جتمعوا علی ترک الحج لهلکوا' هو قول اللّٰه تعالیٰ: '' ( ولولا دفع اللّٰه الناس... ) ''فو اللّٰه ما انزلت الافیکم ولا عنی بها غیرکم'' (۱۰)
''خدائے متعال نماز پڑھنے والے ہمارے شیعوں کے طفیل سے نماز نہ پڑہنے والے شیعوں سے بلا کو دور کرتا ہے اور اگر سب نماز نہ پڑہیں تو ہلاک ہوجائیں گے۔ خدائے متعال ہمارے روزہ رکھنے والے شیعوں کے وجود کی برکت سے روزہ نہ رکھنے والے شیعوں سے بلا کو دور کرتا ہے اور اگر سب روزہ کو ترک کردیں تو ہلاک ہو جائیں گے۔ خدا ئے متعال ہمارے زکوٰة دینے والے شیعوں کے طفیل سے زکوٰة نہ دینے والے شیعوں سے بلا کو دور کرتا ہے، اور اگر اجتماعی طور پر سب زکوٰة دینا ترک کردیں تو ہلاک ہوجائیں گے۔ خدائے متعال حج کو بجا لانے والے ہمارے شیعوں کے طفیل سے حج بجانہ لانے والوں سے بلا دور کرتا ہے اور اگر سب حج کو بجالا ناترک کردیں تو ہلاک ہوجائیں گے۔ یہ
(مطلب) خدا کا فرمان ہے: ''اگر خدائے متعال بعض لوگوں کو بعض لوگوں کے وسیلہ سے نہ روکتا '' خدا کی قسم یہ آیت نازل نہیں ہوئی مگر آپ کے حق میں اور اس سے آپ (شیعوں) کے علاوہ کسی کا قصد نہیں ہوا۔ ہے۔''
صالح انسانوں کا معاشرے میں نقش، ان کی وجہ سے لوگوں کو نصیب ہونے والی برکتوں اور ان کی وجہ سے خدائے متعال کا لوگوں کی بلائوں کو دور کرنے کے پیش نظر توجہ کرنی چاہئے کہ انسانوں اور انبیاء میں برترین، یعنی خاتم الانبیاء حضرت محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، کہ صاحب علم اولین و آخرین ہیں اور تمام عالی انسانی صفات و بلند معنوی کمالات آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے وجود میں اور ائمہ اطہار علیہم السلام کے وجود میں جمع ہیں اور ہر قسم کی خطا اور گناہ سے معصوم ہیں، وہ تمام برکات الہٰی کے سرچشمہ ہیں اور کائنات ان کے وجود کے طفیل سے ہے، چنانچہ ذات مقدس الہٰی نے فرمایا ہے:
''...وعزتی وجلالی لولاک لما خلقت الافلاک'' (۱۱)
مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم ہے کہ اگر تم نہ ہوتے تو افلاک کو پیدا نہیں کرتا پیغمبر اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ ائمہ اطہار علیہم السلام کا وجود مقدس سبب بنا ہے کہ پرور دگار عالم نے کائنات کو باقی رکھا ہے اور اپنی مخلوقات پر مسلسل برکتیں اور نعمتیں نازل کی ہیں حجت خدا کے وجود مقدس کی برکت سے بہت سی بلائیں دور ہوتی ہیں، کیونکہ اگر دنیا حجت خدا سے ایک لمحہ کے لئے محروم ہوتی، تونا بود ہوجاتی، چنانچہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
''نحن ائمة المسلمین وحجج اللّٰه علی العالمین...ولولا مافی الارض منالساخت بأهلها' ثم قال علیه السلام: ولم تخل الارض منذخلق اللّٰه آدم من حجة للّٰه فیها ظاهرٍ مشهودٍ اوغائبٍ مستورٍ ولا تخلوٰ الی ان تقوم الساعة من حجة للّٰه فیها ولولا ذٰلک لم یعبداللّٰه قال سلیمان فقلت للصادق علیه السلام فکیف ینتفع الناس بالحجة الغائب المستور؟ قال علیه السلام' کما ینتفعون بالشمس اذا سترها السحاب'' (۱۱)
''ہم مسلمانوں کے پیشو اور عالمین پر خدا کی حجت ہیں اور اگر زمین ہم سے خالی ہو
جائے تو وہ باشندوں کو نگل لے گی۔ اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا: جب سے پرور دگار عالم نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا ہے، زمین حجت خدا سے خالی نہیں رہی ہے اور وہ حجت خدایا ظاہربظاہر شناختہ شچہ ہے یا غائب اوردوسروں کے لئے ناشناس، اور قیامت تک زمین حجت خدا سے خالی نہیں رہے گی اور اگر ایسا نہ ہوتا تو خدا کی عبادت نہیں کی جاسکتی (یعنی کوئی باقی نہ رہتا جو خدا کی عبادت کرتا)سلیمان راوی نے سوال کیا: لوگ کیسے غائب حجت خدا سے استفادہ کر سکتے ہیں؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: جس طرح ابر کے پیچھے پوشیدہ سورج سے استفادہ کرتے ہیں''
____________________
١۔ راغب اصفہانی ،مفردات ،مادہ '' عود''
۲۔ المیزان :ج١٠، ص ٣٦
۳۔ نہج البلاغہ (ترجمہ فیض الاسلام)نامہ٣١، ص ٩٢٥و٩٢٤
۴۔ بحار الانوار ،ج٩٣ص٣٠٣
۵۔ اصول کافی(باترجمہ)ج٣،ص١٠٧
۶۔ نہج البلاغہ '' ترجمہ فیض اسلام'' خطبہ ١٥٩ص٥٠٧
۷۔ نہج البلاغہ (ترجمہ شہیدی) خطبہ ٤٢، ص ٤٠
۸۔بحار الانوارج ٧٠، ص ٢٢٥
۹۔ بحار الانوارج ٤٠، ص ١٥٣
۱۰۔ تفسیر عیاشی ،ج١ص١٣٥
۱۱۔ بحار الانوار ،ج٢٣ص٥
ستائیسواں درس:
خداوند متعال کے نزدیک مخلص بندے کی قدر و منزلت
* انسان کی بلندی و برتری کا معیار
* آزادی و اخلاص کا اثر
الف: عامل استقلال
ب: عامل اخلاص
خدا وند متعال کے نزدیک مخلص بندے کی قدر و منزلت
یا اباذر' ان ربک عزوجل یباهی الملائکة بثلاثة نفرٍ: رجل فی ارض قفرٍ فیوذن ثم یقیم ثم یصلی' فیقول ربک للملائکة؛ انظرو الی عبدی یصلی ولایراه احد غیری فینزل سبعون الف ملک یصلون وراء ه ویستغفرون له الی الغد من ذٰلک الیوم ورجل قام من اللیل فصلی وحده فسجد و نام وهو ساجد' فیقول تعالیٰ: انظروالی عبدی' روحه عندی وجسده ساجد؛ ورجل فی زحفٍ فر اصحابه وثبت هو ویقاتل حتی یقتل''
پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نصیحتوں کے اس حصہ کا مضمون یہ ہے کہ خدائے متعال اپنے بندوں میں سے تین گروہ کے بارے میں فرشتوں پر فخر و مباہات کرتا ہے۔ البتہ خدا وند متعال کے فخرو مباہات کا کیا معنی ہے اور وہ اپنے فرشتوں پر کیسے فخر کرتا ہے، یہ صحیح طور پر ہمیں معلوم نہیں ہے۔ اس روایت کے اس حصہ سے جو کچھ استفادہ ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ بندگان خدا کے تین گروہوں کا مقام فرشتوں سے برتر ہے اورخدائے متعال ان کے بلند مقامات اپنے فرشتوں کو دکھلاتا ہے۔
انسان کی بلندی اور برتری کا معیار:
اس میں کوئی شک نہیں ہے خدائے متعال نے اپنی مخلوقات میں ، انسان کو بعض امتیازات اور خصوصیات سے بہرہ مند فرمایا ہے کہ جوباقی تمام مخلوقات میں نہیں پائی جاتی ہیں۔ مادی مخلوقات میں اسے عقل و فہم اور آگاہی عطا کی ہے، یہاں تک اسے کرامت بخشی اور خشکی اور دریائوں کو اس کے لئے مسخر کردیا:
( ولقد کرّمنابنی آدم وحملنا هم فی البر و البحرورزقنا هم من الطیبات وفضّلنا هم علی کثیرٍ ممن خلقنا تفضیلاً ) (اسرائ٧٠)
''اور ہم نے بنی آدم کو کرامت عطا کی ہے اور انہیں خشکی اور دریائوں میں سواریوں پر اٹھایا ہے اور انہیں پاکیزہ رزق عطا کیا ہے اور اپنی مخلوقات میں سے بہت سوں پر فضیلت دی ہے۔''
اس کے علاوہ خدائے متعال نے انسان کو ایک صاحب اختیار اور انتخاب کرنے والی مخلوق پیدا کیا ہے، تاکہ وہ اپنی مرضی کے مطابق سعادت یاشقاوت کے راستہ کا انتخاب کرے۔ اور اسے فطرت الہٰی عطا کی تاکہ اس کیذریعے سے تمام اقدار، خوبیوں اور الہٰی، فضائل کی طرف رجحان پیدا کرے اور اسے راہ سعادت بھی دکھایا۔ لیکن نہ تو وہ تکوینی کرامت انسان کے لئے فرشتوں پر برتری کا باعث ہے اور نہ ہی انتخاب اور اختیار کا عنصر، کیونکہ ممکن ہے انسان اختیار و انتخاب کے اسی گراں بہا عامل کے ذریعہ خوش بختی اور سعادت کی راہ کے بجائے بغاوت اور شقاوت کا راستہ اختیار کرے اور حق کی ڈگر سے منحرف ہوجائے اور گمراہی میں گر کر ذلیل ترین مخلوقات میں شمار ہوجائے:
( ان شرّالدّوابّ عند اللّٰه الذین کفروا فهم لا یؤمنون ) (انفال٥٥)
''زمین پر چلنے والوں میں بدترین افراد وہ ہیں جنہوں نے کفر اختیار کرلیا اور اب وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔''
جو چیز انسان کے مقام کو فرشتوں کے مقام سے بڑھا کر برتری اور فضیلت کا سبب بنتی ہے وہ دستورات الہٰی پر عمل کرنا، انسان کے معنوی تکامل وترقی کے لئے کوشش اور مطلوبہ کمال تک پہنچنا ہے۔ یعنی انسان اپنی الہٰی فطرت کی بنیاد پر سعادت کے راستہ کا انتخاب کرے اپنی اور نفسانی خواہشات کو کچل دے اور اپنی مادی جبلتوں کی اصلاح کرے۔ جو انسان حیوانی اور مادی کشش کی توانائیاں رکھتا ہے، وہ انھیں کسی بھی وقت اس مادیات اور حیوانی لذتوں کی طرف کھنیچ سکتی ہے، جب وہ حیوانی توانائی پر کنڑول حاصل کرے اور حق وباطل سے رو برو ہوتے وقت حق کو انتخاب کرے اور فطرت کی بنیادوں پر عمل کرے، تو وہ مسجود ملائکہ بن جاتا ہے اور اس کا مقام ملائکہ کے مقام سے برتر ہوتاہے، اسی لئے حدیث کے اس حصہ میں پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے ہیں:
''یا اباذر' ان ربک عزوجل یباهی الملائکة بثلاثة نفرٍ: رجل فی ارض قفرٍ فیوذن ثم یقیم ثم یصلی' فیقول ربک للملائکة: انظرو الی عبدی یصلی ولایراه احد غیری فینزل سبعون الف ملک یصلون وراء ه ویستغفرون له الی الغد من ذٰلک الیوم''
''اے ابوذر! تیرا پرور دگار تین افراد کے بارے میں فرشتوں پر فخر کرتا ہے: پہلا شخص جس کے بارے میں خدا وند متعال فرشتوں پر افتحار کرتا ہے وہ ہے کہ جو کسی بیابان میں اذان واقامت کہے اور نماز قائم کرے۔ پرور دگار فرشتوں سے کہتا ہے: میرے اس بندے کو دیکھو جو اس حالت میں نماز پڑھ رہا ہے جبکہ کوئی بھی اسے نہیں دیکھ رہا ہے، اس وقت ستر ہزار فرشتے اترتے ہیں اور اس کی اقتدا کرتے ہیں اور دوسرے دن تک اس کے لئے استغفار کرتے ہیں''
دوسرا شخص جس کے لئے خدائے متعال فرشتوں پر فخر و مباہات کرتا ہے:
''ورجل قام من اللیل فصلّٰی وحده فسجد ونام وهوساجد فیقول تعالی: انظرو الی عبدی' روحه عندی وجسده ساجد''
''اور وہ شخص جو رات کو نیند سے بیدار ہوتا ہے اور تنہائی میں نماز پڑھتا ہے اور سجدہ کرتا ہے اور سجدہ میں سوجاتا ہے، تو خدائے متعال فرماتا ہے: (اے فرشتو!) میرے بندے کو دیکھو اس کی روح میرے پاس ہے اور اس کا بدن سجدے میں ۔''
جو شخص نصف شب کو آرام دہ اور گرم بستر سے اٹھتا ہے، میٹھی نیند کو چھوڑ تا ہے اور اپنے پروردگار سے عبادات و مناجات میں مشغول ہوتا ہے۔ اور وہ اپنے معبود کی مناجات میں اس قدر غرق ہوجاتا ہے کہ سجدہ سے سر نہیں اٹھاتا یہاں تک کہ اسے نیند آتی ہے، تو خدائے متعال اپنے فرشتوں سے کہتا ہے: دیکھ لو، میرا بندہ نصف شب کو آرام و آسائش کے بستر سے اٹھا ہے اور لوگوں کی نظروں سے دور میری مناجات اور عبادت میں مشغول ہے۔ وہ اپنی عبادت میں اس قدر طول دیتا ہے کہ تھک کر سجدہ میں سوجاتا ہے۔ اس کی روح میرے پاس ہے لیکن اس کا جسم سجدہ میں پڑا ہے۔ خدا وند متعال فرماتا ہے: اس کی روح میرے پاس ہے، کیونکہ نیند کی حالت میں انسان کی روح خدا کے پاس چلی جاتی ہے، اور یہ وہ نکتہ ہے جس کی طرف قرآن مجید میں اشارہ ہوا ہے:
( اللّٰه یتوفی الانفس حین موتها والتی لم تمت فی منامها فیمسک التی قضیٰ علیها الموت و یرسلٰ الاخری الی اجلٍ مسمی ) (زمر٤٢)
''اللہ ہی ہے جو روحوں کو موت کے وقت اپنی طرف بلالیتا ہے اور جو نہیں مرتے ان کی روحوں کو بھی نیند کے وقت طلب کرلیتا ہے اور پھر جس کی موت کا فیصلہ کرلیتاہے اس کی روح کو روک لیتا ہے اور دوسرے کی روحوں کو ایک مقررہ مدّت کے لئے آزاد کر دیتا ہے۔''
قرآن مجید کی نظر میں حقیقی مومن وہ ہے جو اپنے پرور دگار کی بندگی اور عبادت کے لئے نصف شب کو بستر سے اٹھے اور نیند کو اپنے لئے حرام قرار دے:
( تتجافی جنوبهم عن المضاجع یدعون ربهم خوفاوطمعاً ) ...) (سجدہ ١٦)
''ان کے پہلو بستر سے الگ رہتے ہیں اور وہ اپنے پرور دگار کو خوف اور طمع کی بنیاد پر پکار تے رہتے ہیں۔''
جی ہاں، دوسروں کی نظروں سے دور نماز شب قائم کرنا اور طولانی سجدے انجام دینا اور خدا کے حضور میں تعظیم بجالا نا خدا کے لئے فخرو مباہات کا سبب بن جاتا ہے۔
تیسرا شخص کہ جس کے ذریعے خدائے متعال فرشتوں پر فخر و مباہات کرتا ہے:
''ورجل فی زحف فرّاصحابه وثبّت هو ویقاتل حتی یقتل''
''اور وہ شخص جو میدان جہاد میں ہو، اس کے دوستوں نے فرار کی ہو اور وہ ثابت قدمی کے ساتھ جہاد کو جاری رکھے یہاں تک قتل ہو جائے۔''
خدائے متعال اس مجاہد سورما پر فخر و مباہات کرتا ہے، کہ حنگ میں شکست کھانے کے بعد دوسرے لوگ دشمنی کے مقابلہ میں تاب نہ لاتے ہوئے بھاگ گئے ہوں اور وہ اکیلا ہی دشمن کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کرتا رہے اور زندگی کے آخری لمحہ تک لڑتار ہے، باوجود اس کے کہ دوسروں کی طرح بھاگ کر وہ بھی اپنی جان بجا سکتا تھا لیکن وہ خدا کی راہ میں شہید ہونے کو ترجیح دیتا ہے۔ جی ہاں، خدائے متعال اس شخص پر فخر کرتا ہے، جو یار و یاور کے بغیر دشمنوں کی ایک بڑی تعداد کے مقابلہ میں ڈٹ جاتا ہے، جبکہ ایسی حالت میں استقامت کرنا واجب نہیں ہے: صدر اسلام میں ابتدا میں ایک آدمی کا دس افراد کے مقابلے میں مقاوت کرنا واجب تھا اس کے بعد تخفیف دیدی گئی اور ایک آدمی کا دو افراد کے مقابلہ میں مقاومت کرنا واجب ہوا، لیکن اگر سب چلے گئے اور وہ تنہارہ گیا، تو اس کے لئے واجب نہیں ہے۔
بیشک، دشمن کے مقابلہ میں مقاومت کرنے کی توانائی رکھنے کی صورت میں جنگ سے فرار کرنا گناہ کبیرہ ہے اور قرآن مجید نے واضح طور پر جنگ سے فرار کرنے کو منع کیا ہے اور اس عمل کو خدا کے غضب کا سبب بیان کیا ہے اور جنگ سے بھاگنے والے کی جگہ جہنم بتائی ہے:
( یا ایها الذین آمنوا اذالقیتم الذین کفرو ازحفاً فلا تولوهم الأدبار ومن یولهم یومئذٍ دبره الا متحرفاً لقتالٍ اومتحیزاً الی فئةٍ فقد باء بغضبٍ من اللّٰه وماواه جهنم وبئس المصیر ) ۔) (انفال١٥و ١٦)
''اے ایمان والو! جب کفار سے میدان جنگ میں ملاقات کرو تو خبر دار انہیں پیٹھ نہ دکھانا۔ اور جو آج کے دن پیٹھ دکھائے گا وہ غضب الہٰی کا حق دار ہوگا اور اس کا ٹھکا نا جہنم ہوگا، جو بدترین انجام ہے علاوہ ان لوگوں کے جو جنگی حکمت عملی کی بنا پر پیچھے ہٹ جائیں یا کسی دوسرے گروہ کے پناہ لینے کے لئے اپنی جگہ چھوڑ دیں''
روایت کے اس حصہ سے بہت سے درس حاصل کئے جاسکتے ہیں: خدائے متعال کا اپنے بعض بندوں کے وجود کا ملائکہ پر فخر کرنا، اس معنی میں ہے کہ وہ ایسی اقدار کے مالک ہیں جن کی خدا کے پاس بہت اہمیت ہے، اگر دوسری خصوصیات ہوتیں جو انسان کے لئے بیشتر کمال کا سبب بنتیں اور خدا کے نزدیک زیادہ اہمیت کی حامل ہوتیں، تو خدائے متعال ان کا ذکر کرتا۔ جب خدائے متعال اپنے بعض بندوں کے بلند مقامات کو فرشتوں کے سامنے تعارف کرانا چاہتا ہے اور ان پر فخر کرتا ہے، تو حقیقت میں ان کے بہترین اقدار کو بیان کرتا ہے۔ اب دیکھنا چاہئے کہ خدا کے بندوں کے وہ تین گروہ جو ایک بیایان میں لوگوں کی نظروں سے دور، آداب و مستحبات کی رعایت کرتے ہوئے نماز پڑھتا ہے اور جو نصف شب آرام و آسائش کے وقت بستر سے اٹھ کر خدا کی عبادت و مناجات میں مشغول ہوجاتا ہے اور وہ جو میدان کار زار میں دشمنوں کی بڑی تعداد کے سامنے اکیلا ڈٹ کر مقابلہ کرتا ہے، یہاں تک جام شہادت نوش کرتا ہے کن خصوصیات کے حامل ہیں اور کن پہلوؤں میں مشترک ہیں کہ خدائے متعال انہیں اس حد تک مقام و منزلت بخشتا ہے؟
یقینا خدا کی راہ میں مال کے انفاق یا حسب ضرورت ایثار و قربانی یا عبادتیں اور دوسرے نیک اعمال، کہ جن کی شرع مقدس میں تاکیدکی گئی ہے، سب قابل قدر و اہمیت اور انسان کے کمال کے سبب ہیں، لیکن دیکھنا چاہئے وہ تین گروہ کن خصوصیتوں کے حامل ہیں اور ان میں کون سے مشترک عناصر پائے جاتے ہیں کہ اس حد تک ان کی تاکید کی گئی ہے؟
ان تین گروہوں میں خصوصیت اور مشترک عنصر تنہا ہوناہے پہلا شخص دوسروں کی نظروں سے دور تنہائی میں عبادت کرتا ہے اور دوسرا شخص نصف شب کو نیند سے اٹھ کر تنہائی میں مناجات کرتا ہے اور تیسرا شخص بھی دشمن کے سامنے تنہاڈٹ کر مقابلہ کرتا ہے۔ خدائے متعال اس شخص کے ثواب پرفخر و مباہات نہیں کرتا ہے جو محلہ کی مسجد میں یا جامع مسجد میں نماز پڑہتا ہے بلکہ اس پر فخر کرتا ہے جو بیابان میں تنہائی میں عبادت کرتا ہے یا اس کے سب دوست محاذ جنگ سے بھاگ گئے ہیں اور وہ تن تنہا دشمن سے مقابلہ کر رہا ہے۔ ممکن ہے کسی شخص نے دسیوں حملوں اورجنگی معرکوں میں حصہ لیا ہو اور بہت سی شجاعتوں کا مظاہرہ کیا ہومتعدد فتح و کامرانیاں بھی حاصل کر چکا ہو، لیکن اس کے باوجود تاکید اس شخص پر ہے جو محاذجنگ میں تنہا رہ گیا ہے پھر بھی اپنا فریضہ انجام دینے میں مشغول ہے۔
آزادی و اخلاص کا اثر:
الف: عامل استقلال
دو مہم عامل ،استقلا ل یعنی دوسروں کا اثر قبول نہ کرنا اور اخلاص، ان تین اشخاص کے انفرادی اقدام کی عظیم اہمیت کا سبب واقع ہوئے ہیں:
پہلے عامل کی وضاحت، یعنی استقلال کی و ضاحت میں یہ کہنا بہتر ہے کہ: اکثر لوگ دوسروں کے الہامات اور رفتار سے متأثر ہوتے ہیں انسان کی خصوصیات میں سے ہے کہ جب وہ دیکھتا ہے کہ کچھ لوگ ایک راہ پر جارہے ہیں اور ایک رفتار انجام دے رہے ہیں، وہ بھی اسی راہ پر چلناچاہتا ہے اور اس رفتار کی طرف میلان پیدا کرتا ہے۔ گویا دوسروں کا اقدام اور ان کی روش انسان کے لئے راستہ کے انتخاب کرنے اور اس پر چلنے کا ایک ایسا عامل ہے جو اس کی مدد کرتا ہے: جب وہ دیکھتا ہے کہ کچھ لوگ خیر و صلاح کی راہ پر گامزن ہیں، تو وہ بھی ان کی پیروی کرتا ہے۔ البتہ یہ انسان کے لئے ضعف و کمزوری کی علامت ہے اور خدائے متعال نے انسان میں یہ عنصر قرار دیا ہے تاکہ جو لوگ ضعیف ہیں، صالح افراد کی پیروی کر کے صحیح راستہ کا انتخاب کریں۔ اگر چہ ایسے افراد غلط اور برے ماحول سے بھی متاثر ہوتے ہیں اور ممکن ہے دوسروں سے وابستگی اس امر کا سبب بنے کہ انسان دوسروں کی پیروی میں باطل راستہ کو پسند کرے اور حالات اور شرائط کے بدلنے کے ساتھ وہ بھی تبدیل ہو جائے اور رسوائی سے بچنے کے لئے وہ بھی انھیں کے رنگ میں ڈھل جائے۔ خدائے متعال ایسے ضعیف انسانوں کے انجام کے بارے میں کہ جو سوچے سمجھے بغیر اہل باطل کی پیروی کرنے لگتے ہیں اور اپنے اختیار کی لگام دوسروں کے ہاتھوں میں تھما دیتے ہیں والوں کی مذمت کرتے ہوئے فرماتا ہے:
( واذاقیل لهم اتبعو اماانزل اللّٰه قالوا بل نتبع ما الفینا علیه آباء نا اولو کان آباوهم لا یعقلون شیئاً ولا یهتدون ) ۔'' (بقرہ ١٧٠)
''جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ خدا نے نازل کیا ہے اس کا اتباع کرو تو کہتے ہیں ہم اس کا اتباع کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ کیا یہ ایساہی کریں گے چاہے ان کے باپ دادا بے عقل رہے ہوں اور ہدایت یافتہ نہ رہے ہوں''
البتہ احکام الہٰی اور شرعی فرائض کے بارے میں ، جو شخص آگاہی اور پہچان نہ رکھتا ہو، اس پر فرض ہے کہ عالم سے پوچھ لے، خواہ وہ حکم خدا کے بارے میں جاہل ہو یا حکم خدا کے موضوع کے بارے میں (یہ دین میں فقیہ اور مجتہد کی تقلید کرنے کے معنی میں ہے) البتہ یہ شخص جو تقلید کے ذریعہ احکام خدا سے آگاہ ہوتا ہے اس شخص کے برابر نہیں ہے جو محنت و مشقت کر کے احکام دین کو خود استنباط کرتا ہے، کیونکہ مجتہد اور عالم کی معرفت استقلالی ہے اور جاہل کی معرفت تقلیدی، اور یہ دونوں یکساں نہیں ہیں اور یقینا معرفت استقلالی برتر ہے۔
اسی طرح موضوعات کے بارے میں ، خاص کر اجتماعی مسائل کے بارے میں اکثر لوگ بہ حد کافی آگاہی نہیں رکھتے ہیںاور وہ مجبور ہیں کہ ایسے افراد کی پیروی کریں کہ جو ان موضوعات کے بارے میں علم و آگاہی رکھتا ہے ان کی یہ پیروی اگر راہ حق سے انحراف کا باعث نہیں ہے تو موجب سرزنش نہیں ہوگی ، لیکن ایسا شخص کہ جو عالم ہے اورجس کے ہاتھ میں چراح ہدایت ہے کہ جس سے وہ دوسروں کی ہدایت و رہنمائی کرتا ہے، بلند تر ین مقام و منزلت پر فائز ہے۔
شناخت استقلالی کے علاوہ اس سے اہم مرحلہ انسان کے لئے اس کے ارادہ اور عمل میں استقلال ہے: کبھی انسان اجتہاد یا تقلید کے ذریعہ موضوع کو پہچانتا ہے، لیکن عمل کے مقام پر اگر تنہا ہے تو معلوم نہیں ہے کہ جو کچھ جانتا ہو اس پر عمل کریگا۔ جی ہاں، اگر وہ ایک جماعت کے ساتھ ہے اور خاص کر اس جماعت کے افرادبہت زیادہ ہیں تو وہ اقدام کرتا ہے، لیکن تنہائی میں سستی کرتا ہے۔ اس سلسلہ میں ہر ایک اپنی روزمرہ کی زندگی میں بہت ساری مثالیں رکھتا ہے: مثال کے طور پر ایک مدرسہ میں جہاں طلاب کی ایک تعداد رہائش پذیر ہے، اگر شب جمعہ دعائے کمیل کی مجلس منعقد ہوجائے، جب انسان مشاہدہ کرتا ہے کہ طلاب گر وہ گر وہ اس مجلس میں حاضر ہو رہے ہیں تو اس میں بھی شوق پیدا ہوتا ہے کہ اس جلسہ میں شرکت کرے۔ لیکن ایک چھٹی کی شب کو، جب سب طلاب مسافرت پر گئے ہوں، اس کے لئے مشکل ہے کہ تنہا دعائے کمیل پڑھے۔ اسی طرح دوسرے نیک کام انجام دینے میں ، جب انسان دیکھتا ہے کہ دوسرے اس کام کو انجام دے رہے ہیں، وہ بھی جوش میں اس کام کو کرتا ہے، لیکن جب تنہا ہوتا ہے تو بہانے تلاش کرتا ہے، اس کے اندر اتنی کشش نہیں ہے کہ اسے فیصلہ کرنے پر مجبور کرے۔ بالآخر جس طرح بھی ممکن ہو وہ اس کام سے پہلوتہی کرتا ہے۔ یا جب رات کو دیکھتا ہے کہ کمروں کے لیمپ روشن ہیں اور دوسرے لوگ رات گئے تک مطالعہ میں مشغول ہیں، اس میں بھی مطالعہ کرنے کا شوق پیدا ہوتا ہے اور وہ بھی رات گئے تک مطالعہ کرتا ہے۔ لیکن جب مدرسہ میں چھٹی ہوتی ہے اور مدرسہ میں اس کے علاوہ کوئی اور نہیں ہوتا ہے، اس کے اندر پھر وہ کشش نہیں ہوتی ہے اور مطالعہ کی رغبت نہیں رکھتا ہے۔یہاں جو کچھ بیان ہوا وہ ہماری اجتماعی اور سیاسی رفتاروں کا ایک نمونہ تھا، اس سلسلہ میں مزید اور مثالیں بھی ممکن ہیں۔
اس سستی اور دوسروں سے وابستگی کی علت ارادہ اور ایمان کی کمزوری ہے۔ کیا جب دوسرے کسی کام کو انجام دیتے ہیں تو اس کام کی قدر و منزلت ہوتی ہے اور وہ انجام نہ دیں تو اس کی قدر و منزلت ختم ہوجاتی ہے؟ اگر دعائے کمیل کی فضیلت اور قدر و منزلت ہے تو ہمیں اسے تنہائی اور خلوت میں پڑہنے کے لئے بھی اہمیت دینی چاہئے، نہ یہ کہ جب اس کے لئے کوئی اجتماع منعقد ہو تو ہم بھی پڑھیں۔ یہ انسان کی کمزوری کی علامت ہے کہ جب دوسروں کو دعائے کمیل پڑھتے دیکھتا ہے یا دیکھتا ہے کہ دوسرے لوگ گروہ درگروہ نماز جمعہ کی طرف جا رہے ہیں، اس میں بھی شوق پیدا ہوتا ہے، یہ انسان کے لئے قابل فخر نہیں ہے۔ اس کا عمل اسی وقت فخر کا سبب ہے کہ جب تنہا ہو کوئی اس کے ساتھ نہ ہو اور وہ جس چیز کو تشخیص دے اس پر عمل کرے اور انتظار نہ کرے دوسرے افراد اس کا ساتھ دیں گے۔
جب میں جانتا ہوں کہ خدائے متعال مجھ سے کوئی کام لیناچاہتا ہے تو مجھے اس کام کو انجام دینا چاہئے اور مجھے اس سے سروکار نہیں ہونا چاہئے کہ کوئی میرا ساتھ دیتا ہے یا نہیں، کیونکہ دوسروں کی عدم ہمراہی اور تنہاہو نے سے اس کام کی قدر و منزلت میں کسی بھی قسم کی کمی واقع نہیں ہوتی ہے اس سے انسان کے اندر قوت ارادی پیدا ہوتی ہے اور اپنے قوی اور بلندی ایمان سے اپنے فرائض پر یقین پیدا کرتا ہے۔ اسی لئے اس کام کو انجام دینے میں بلاواسطہ فیصلہ کرتا ہے، خواہ دوسرے اس کا ساتھ دیں یا نہ۔ یقینا فیصلہ کرنے میں استقلال کافی اہمیت رکھتا ہے، کہ انسان فیصلہ کرتے وقت اس کا انتظار نہ کرے کہ دوسرے لوگ کو نسا راستہ اختیار کرتے ہیں تاکہ وہ بھی اسی راستہ پر چلے۔ وہ تو خود قوی ارادہ و ایمان کا مالک ہے، اگر کسی کام کو اپنا فرض سمجھ لیا اور دیکھتا کہ اس میں خدا کی مرضی ہے تو اس کام کو انجام دیتا ہے اور دوسروں کے انتظار میں نہیں رہتا ۔
جابربن یزید جعفی، ائمہ اطہار علیہم السلام کے ہم اسرار اصحاب میں سے تھے، انہوں نے امام جعفرمحمد باقر علیہ السلام سے بہت سی روایات نقل کی ہیں۔ بہت سی روایتیں جو امام محمد باقر علیہ السلام نے جابر کو نقل فرمائی تھیں، اسرار تھیں اور جابر کو اجازت نہیں تھی کہ انہیں دوسروں کے پاس نقل کریں۔ چونکہ وہ ان خالص معارف الٰہی کے جام کو تشنگان معرفت تک نہیں پہنچاسکتے تھے، ا س کی وجہ سے وہ اپنے سینہ میں تنگی محسوس کرتے تھے، یہی وجہ تھی کہ وہ امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی:
''جو اسرار آپ نے مجھ سے بیان فرمائے ہیں اور حکم دیا ہے کہ کسی سے نہیں نقل نہ کروں، یہ میرے کندہوں پر ایک بار گراں ہے جس نے میرے سینہ میں اتنا دبائو پیدا کردیا ہے، کہ میں دیوانہ ہو رہا ہوں! امام علیہ السلام نے فرمایا: اے جابر! اگر تمھاری یہ کیفیت ہورہی ہے توبیابان میں جا کر ایک گڑہا کھود کر اپنے سرکو اس گڑھے میں ڈال کر کہو: ''محمد بن علی علیہ السلام نے فلاں حدیث مجھے روایت کی ہے''(۱)
اس کے بعد جابر کنویں میں سرڈال کر امام محمد باقر علیہ السلام کی روایتیں بیان کرتے تھے تاکہ تھوڑا سا(دل) ہلکا ہوجائے۔ من جملہ روایتوں میں سے جنہیں جابر نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے کی ہے، یہ روایت ہے کہ امام علیہ السلام نے اس سے فرمایا:
''...واعلم بانک لا تکون لناولیاً حتی لو اجتمع علیک اهل مصرک وقالوا: انک رجل سوء لم یحزنک ذٰلک ولوقالوا: انک رجل صالح لم یسرک ذٰلک وٰلکن اعرض نفسک علی کتاب اللّٰه فان کنت سالکاً سبیله' زاهداً فی تزهیده' راغباً فی ترغیبه خائفاً من تخویفه فاثبت وابشر فانه لا یضرک ماقیل فیک ...''(۲)
''جان لو ہمارے محب دوستدار نہیں بن سکتے ، مگر یہ کہ تمھارے شہر کے لوگ متفقہ طور پر تمھارے خلاف ہوجائیں اور کہیں : تم ایک بُرے انسان ہو، تو تم غمگین اور بے چین نہیں ہو نا اور اگر وہ سب کہیں ۔ تم ایک شائستہ انسان ہو، تو خوشحال نہ ہونا لیکن خود کوکتاب خدا کے حوالہ کردو ا گر دیکھو کہ تم اس کتاب کے راستہ پر چل رہے ہو جن مواقع پر یہ کتاب زہد کی دعوت دے، تو زہد کو اپنا شیوہ قرار دو اور جس چیز کی تاکید اور ترغیب دے، اس کی رغبت پیدا کرو اور جس چیز سے ڈراتی ہے، اس سے خوف کھائو، تم اپنی جگہ پر مستحکم اورخوش رہو پھر، لوگ جو کچھ کہتے ہیں اس سے تجھے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔''
امام محمد باقر علیہ السلام جابر کو اعتماد اور خدا پر توکل کی دعوت دیتے ہیں کہ اس قدر خدا پر اعتماد کرے کہ لوگوں کا مردہ باد! یا زندہ باد! کہنا تم پر کسی قسم کا اثر نہ کرے اور اپنی رفتار وگفتار کو قرآن مجید کے مطابق قرار دے۔ اب اگر اس نے دیکھا کہ اس کی رفتار حکم الہٰی کے مطابق ہے۔ تو چاہئے کہ وہ خوشحال ہو اور اس توفیق کے حاصل ہونے کے لئے خدا کا شکر بجالا ئے۔ اور اگر دیکھے کہ اس کی رفتار قرآن مجید کے مطابق نہیں ہے، تو بے چین ہواس بات پر کہ خدائے متعال اس سے راضی نہیں ہے۔ پس انسان کے خوش ہونے یا ناخوش ہونے کا معیار خدائے متعال اور قرآن مجید کے احکام ہونا چاہئے، نہ لوگوں کا راضی یا ناراض ہونا۔
اگر انسان فیصلہ کرتے وقت کافی علمی توانا ئی رکھتا ہے، تو اسے فریضہ کی تشخیص کے وقت مستقل ہونا چاہئے اور دوسروں کا تابع نہیں ہونا چاہئے۔ جو عقل خدانے اسے دی ہے اسی سے فکر کرے اور قرآن مجید اور روایات کے مطابق اپنے فریضہ کو تشخیص دے اور اس کی پروا نہ کرے کہ لوگ کیا کہتے ہیں۔ اس کے بعد ، جو اپنا فریضہ تشخیص دیا ہو اس پر عمل پیرارہے اور دوسروں کی ہمراہی اور مدد کے انتظار میں نہ ر ہے حتی اگر دشمن سے مقابلہ میں تنہا رہ جائے، اگرچہ ہمارے لئے اس صورت میں لڑنا واجب نہیں ہے، لیکن چونکہ اس نے دیکھا کہ دشمن کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کر نے میں خدائے متعال کی رضامندی ہے تو تن تنہامقابلہ و مبارزہ کو جاری رکھے، خواہ اسے شہید ہونا بھی پڑے۔ یقینا ایسی بہادری اور شجاعت کہ شخص تنہائی میں بھی اپنے مقصد اور راہ کی حفاظت میں آرام سے نہ بیٹھے اور مبارزہ کرتا رہے تو اس کا یہ عمل انتہائی گراں بہا اور خدا کے فخر و مباہات کا سبب ہوگا۔ اس مبارزہ کے بارے میں حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
''واللّٰه لو تظاهرت العرب علی قتالی لما ولیت عنها ولو امکنت الفرص من رقابها لسارعت الیها ...''(۳)
''خدا کی قسم اگر عرب میرے ساتھ لڑنے میں سب مل کر مقابلے میں آئیں تو بھی میں ان کی طرف پیٹھ نہیں پھیر وں گا اور فرصت ہاتھ آئے تو ان پر تابڑتوڑ حملہ کروں گا۔''
لہذا، پہلا عامل یہ ہے کہ خدا وند پسند فرماتا ہے کہ مومن تشخیص اور فریضہ کی پہچان میں نیز اپنی رفتار اور علم میں مستقل ہو اور دوسروں کا منتظر نہ رہے اور دوسروں کے جیسا نہ ہو ۔ البتہ جیسا کہ کہا گیا کہ اس سے یہ غلط مطلب نہ لیا جائے کہ انسان کو خود سر اور ضدی بن کر ہمیشہ دوسروں کے برخلاف عمل کرنا چاہئے، یعنی اگر اس نے دیکھا کہ دوسروں نے کوئی کام انجام دیا ہے تو اس کوقطعاً اس کے برعکس کام انجام دینا چاہئے یہ تو ایک ناپسند، ناشائستہ اور بہت احمقانہ صفت ہے، حقیقت یہ ہے کہ انسان فیصلہ کرتے وقت اور فریضہ کی تشخیص اور ان پر عمل کرنے میں آزاد ہونا چاہئے اور دوسروں کی تشویق، ہمراہی اور ہم فکری کا منتظر نہ رہے۔ پس، اگر اس نے اپنے فریضہ کو تشخیص دیا اور دیکھا کہ دوسرے لوگ بھی اس کے ساتھ ہیں تو بہت اچھا ہے۔
انسان کوایسا نہیں ہونا چاہئے کہ اگر کسی چیز کو فریضہ کے طور پر تشخیص دیدیا اور بعد میں سمجھ لے کہ اس نے غلطی کی تھی، پھر بھی اپنی بات پر ہٹ دھرمی کرے تو یہ اچھی بات نہیں ہے بلکہ یہ ایک ناپسندیدہ خصلت ہے۔ انسان کو ہمیشہ اپنے اخلاق، رفتار اور تفکر میں نظر ثانی کرنی چاہئے اور اگر اسے معلوم ہوجائے کہ اس سے کوئی غلطی سرزد ہوئی ہے، تو اسے کمال شجاعت سے اعتراف کرنا چاہئے اور ہٹ دھرمی نہ کرے اور اپنی بات پر ضد نہیں کرنی چاہئے۔مومن کی جب حق کی طرف ہدایت ہوتی ہے تو اسی کو انجام دیتا ہے۔
ب۔ اخلاص کا عامل:
دوسرا عامل جو خدا کے لئے ان تین گرو ہوں پر فخر و مباہات کرنے کا سبب بنا، اخلاص ہے۔ بیابان میں تنہائی کے عالم میں نماز پڑھنے والے کی نماز میں ریاکا شائبہ تک نہیں ہوتا۔ اسے کوئی نہیں دیکھ رہا ہے تاکہ اس کے حالات کا مشاہدہ کرے اور پھر دوسروں کے لئے اسے نقل کرے۔ یقینا ایسے عمل کا اخلاص، اس عمل سے بیشتر ہے جو دوسروں کے سامنے انجام پاتا ہے۔
اگر انسان لوگوں کے سامنے پورے آداب کے ساتھ نماز پڑھے، تو بھی اس بات کا امکان ہے شیطان اسے وسوسہ میں مبتلا کردے، چونکہ شیطان مکار ہے انسان نے جس قدر بھی وارستہ اور تہذیب یافتہ ہو ہو ممکن ہے شیطان کے ہاتھوں شکست کھاجائے، جب وہ دوسروں کے سامنے نماز پڑھتا ہے اس کے دل میں ریا پیدا ہوجاتی ہے، اسے یہ چیز پسند ہے کہ دوسرے اس کے عمل کو دیکھ لیں یا اس کی آواز سن لیں۔ لیکن جب ایک بیابان میں تنہا ہے اور اذان و اقامت کے ساتھ کر نماز پڑھتا ہے، ممکن نہیں ہے ریا کرے۔ یا جو نصف شب کو، دوسروں کی نظروں سے اوجھل ہے اور خدا کی عبادت میں مشغول ہوتا ہے اور سجدہ میں اتنا طول دیتا ہے کہ اسے نیندآجاتی ہے، یہاں پر ریا کا تصور ممکن نہیں ہے، کیونکہ یہاں پر کوئی نہیں ہے جو اس کی حالت کا مشاہدہ کرے۔
جو میدان کار زار میں میں اکیلا رہ گیا ہے اور تن تنہا جہاد کر رہا ہے، ممکن نہیں ہے ریا کرے، کیونکہ وہاں پر اس کے دوست واحباب نہیں ہیں جو یہ کہیں: کیا شجاعت کے جوہر دکھا رہا ہے! اور اس کی شہادت کے بعد اس کی بہادری کے بارے میں لوگوں کو بتائیں۔ دشمن تو اس کی فضیلتوں کو نقل نہیں کرے گا۔ لہذا ایسے افراد کے لئے ریاکاری اور خود نمائی کے قصد کا وجود ہی نہیں ہے۔ اس بنا پر جو دوسری مشترک خصوصیت ان تین گرو ہوں میں پائی جاتی ہے اور خداکے لئے فخر و مباہات کا سبب ہے وہ انتہائی خلوص ہے جو ان میں پایا جاتا ہے اور انہیں ریا اور خود نمائی میں آلودہ ہونے سے پاک و صاف کرتا ہے۔
جیسا کہ مشاہدہ کیا گیا کہ ان تین گرو ہوں کے عمل کی ساخت اور شکل ممکن ہے دوسرے لوگوں کے عمل کے مانند ہی ہو، پس جوچیز ان کے اس عمل کو ممتاز بناتی ہے اور اسے ایسا گراں بہا گوہرمیں تبدیل کرتی ہے کہ خدائے متعال اپنے فرشتوں پر فخر کرتا ہے وہ اخلاص ہے، جو اس عمل کو صرف خدا کے لئے انجام دینے کا سبب ہے، اس لحاظ سے ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید اور روایتوں میں آیا ہے کہ اخلاص عمل کی بلندی اور اس کے قبول ہونے کا سبب ہے:
(( انا انزلنا الیک الکتاب بالحق فاعبد اللّٰه مخلصاً له الدین الا للّٰه الدین الخالص ) ...) (زمر٢و٣)
''ہم نے آپ کی طرف اس کتاب کو حق کے ساتھ نازل کیا، لہذا آپ مکمل اخلاص کے ساتھ خدا کی عبادت کریں، آگاہ ہوجائو خالص بندگی صرف اللہ کے لئے ہے''
ایک حدیث میں آیا ہے:
''من اخلص لنا اربعین صباحاً جرت ینابیع الحکمه من قلبه علی لسانه ''(۴)
''جو چالیس دن تک خدا کے لئے اخلاص سے کام لے، حکمت کے چشمے اس کے دل سے اس کی زبان پر جاری ہوتے ہیں ''
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے آیۂ مبارکہ :
( لیبلوکم ایکم احسن ) ) (ملک٢)
''تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں حسن عمل کے اعتبار سے سب سے بہتر کون ہے۔''
کے بارے میں فرمایا:
''...لیس یعنی اکثر عملاً ولٰکن اصوبکم عملاً وانما الاصابة خشیة اللّٰه والنیة الصادقة والحسنة ثم قال: الابقاء علی العمل حتی یخلص اشد من العمل' والعمل الخالص الذی لا ترید ان یحمدک علیه احد الا اللّٰه عزوجل والنیة افضل من العمل ...''(۵)
''خدا کا مقصود زیادہ عمل کرنا نہیں ہے بلکہ مقصود درست اور صحیح عمل کرنا ہے اور بیشک یہ وہی خدا کا خوف اور سچی اور نیک نیت ہے، اس کے بعد فرمایا: عمل کو خالص بنانے میں پائداری، خود عمل سے سخت تر ہے اور خالص عمل وہ ہے کہ تم اس عمل کے بارے میں خدا کے علاوہ کسی سے ستائش کے خواہاں نہ ہو اور نیت عمل سے بہتر ہے ''
لہذا جو کچھ بیان ہوا اس کے پیش نظر، ممکن ہے ہمارا کوئی ایسا عمل ہوجو بافضیلت اور اس کا اجر و ثواب بہت زیادہ ہو، جیسے باجماعت نماز پڑھنا، کہ روایتوں کے مطابق اس کے ثواب کو ملائکہ بھی گن نہیں سکتے ہیں۔ لیکن معلوم نہیں ہے اس قسم کی نماز کا خلوص اس نماز کے خلوص کے برابر ہو کہ جسے ایک بندہ تنہا بیابان میں انجام دیتا ہے۔
بہر صورت شیطان وسوسہ کرتا ہے اور انسان تنہا ہوتا ہے اس کے لئے مشکل ہے عبادت میں خلوص پیدا کرنا وہ بھی آداب کے ساتھ، کیونکہ اس کا اندرونی ارادہ اور شوق اتنا قوی نہیں ہے، لیکن اگر دوسرے اس کے ہمراہ ہوں خارجی مدد اس کے ہمراہ ہوتو، عبادت کو بہتر صورت میں انجام دیسکتا ہے۔
____________________
١۔ بحار الانوار ،ج٢ص٦٩ حدیث٫٢٢
٢۔ بحار الانوار ،ج٧٨ص١٦٢ح١
۳۔ نہج البلاغہ ترجمہ فیض الاسلام مکتوب ٣٥ص٩٧١
۴۔ بحار الانوار ،ج٦٧ص٢٤٢
۵۔اصول کافی (باترجمہ)ج٣،ص ٢٦
اٹھائیسواں سبق:
عبادت و بندگی کی عظمت اوراس کے تکوینی اثرات
* انسان کے اعمال کے بارے میں زمین کی گواہی۔
* زمین اور بے جان مخلوقات کی ستائش کی کیفیت۔
* مخلوقات کا شعور و آگاہی اور ان کا اثر قبول کرنا۔
* انوار ائمہ اطہار علیہم السلام کی وسعت اور اس کے حدود ۔
* گواہوں اور شاہدوں کی نظروں سے اعمال کامخفی نہ رہنا
* بندگی میں اخلاص، شادمانی اور فخر و مباہات کا سبب
* اخلاص، بہترین عمل کا سبب۔
عبادت و بندگی کی عظمت اور اس کے تکوینی اثرات
یا اباذر: مامن رجلٍ یجعل جبهته فی بقعة من بقاع الارض الا شهدت له بها یوم القیامة وما من منزل ینزله قوم الا واصبح ذٰلک المنزل یصلی علیهم اویلعنهم
یا اباذر: ما من صباح ولا رواح الا وبقاع الارض تنادی بعضها بعضاً یا جارهل مربک ذاکر للّٰه تعالیٰ او عبد وضع جبهته علیک ساجد اللّٰه؟ فمن قائلة لا ومن قائله نعم ' فاذا قالت نعم اهتزت انشرحت وتری ان لها الفضل علی جارتها''
حدیث کے اس حصہ میں خدائے متعال کی عبادت و بندگی کی عظمت اور بلندی کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے اور یہ کہ انسان کا عمل خواہ پسندیدہ ہویانا پسندیدہ گواہوں اور شاہدوں کی نظروں سے دور نہیں رہتا، یہاں تک زمین بھی جس پر ہم عبادت یا برے کام انجام دیتے ہیں قیامت کے دن ہمارے نفع یا نقصان میں گواہی دے گی۔ ایسا نہیں ہے کہ ہمارے اعمال وکردار ردّعمل اور نتیجہ نہ ہو، بلکہ دنیوی رد عمل اور نتیجہ کے علاوہ ہمارے اعمال و کردار کا قیامت میں بھی نتیجہ ظاہر ہوگا۔ قیامت کے دن، وہ زمین جس پر ہم عبادت کرتے ہیں، اس عبادت کے انجام کے بارے میں شہادت دے گی، یا اگر اس پر ہم کوئی برا کام انجام دیں تو قیامت کے دن ہمارے خلاف شہادت دے گی اور ہم پر لعنت کرے گی۔
انسان کے اعمال کے بارے میں زمین کی گواہی:
''یا اباذر؛ ما من رجلٍ یجعل جبهته فی بقعة من بقاع الارض الا شهدت له بها یوم القیامة وما من منزل ینزله قوم الاواصبح ذالک المنزل یصلی علیهم اویلعنهم ''
''اے ابوذر! کوئی شخص اپنی پیشا نی کو زمین کے کسی نقطہ پر نہیں رکھتا ہے، مگر یہ کہ وہ نقطہ قیامت کے دن اس کی گواہی دے گا اور کوئی ایسی جگہ نہیں ہے کہ ایک گروہ وہاں پر قدم رکھے، مگر یہ کہ وہ جگہ ان پر درود یا لعنت بھیجے گی''
بعض بزرگ یہ کو شش کرتے تھے کہ مسجد کی مختلف جگہوں پر نماز پڑھیں اور ہمیشہ ایک ہی جگہ پر نماز نہیں پڑھتے تھے، یا اگر کسی گھر یا کسی دوسری جگہ داخل ہوتے تھے، پہلے دو رکعت نماز پڑہتے تھے تاکہ قیامت کے دن اپنے لئے زیادہ سے زیادہ گواہ بنائیں۔ یہ بذات خود ایک ہوشیاری ہے جو مؤمن کے لئے مفید و مطلوب ہے۔
اسی روایت اور دوسری روایتوں میں عبادت کے لئے جو بلندی و قدر و منزلت بیان ہوئی ہے اس کے پیش نظر ہماری اس امرکی تاکید کہ عبادت کو مختلف جگہوں پر انجام دینا چاہئے، اس معنی میں ہے کہ ہم نے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ائمہ اطہار علیہم السلام کے بیانات پر اعتماد کیا ہے۔
چنانچہ مذکورہ روایت کے اس حصہ اور دوسری روایتوں سے معلوم ہوتا ہے زمین، درخت اور تمام بے جان مخلوقات، کہ جنھیں ہم انہیں فاقد درک و شعور جانتے ہیں، حقیقت میں درک وشعور کے حامل ہیں اور ہمارے اعمال کو درک کرتے ہیں اور ہمارے نیک کام انجام دینے پر ہمارے لئے دعا کرتے ہیں اور ہمارے بُرے کاموں کی وجہ سے ہم پر لعنت بھیجتے ہیں، اس کے علاوہ قیامت کے دن بھی ہمارے نفع یا نقصان میں گواہی دیتے ہیں۔
زمین اور بے جان مخلوقات کی ستائش کی کیفیت:
روایت کے اس حصہ کے مضمون جس میں زمین اور بے جان مخلوقات کے شعور و درک کی تصویر کشی کی گئی ہے نیز دوسری آیات اور وایات، جو اسی مضمون پر مشتمل ہیں، کے بارے میں بزرگ علمانے تین نظر یہ پیش کئے ہیں:
ٍ پہلا نظریہ: بعض کا خیال یہ ہے کہ یہ تعبیریں کنا یہ ہیں اور ان کا حقیقی معنی مراد نہیں ہے اور ہر مورد کے لئے مناسب تاویل ذکر کرتے ہیں۔ شاید اکثر مفسرین نے اس قسم کی آیات و روا یات کی تفسیر میں اسی شیوہ کو اپنایا ہے۔
دوسرا نظریہ: عرفا اور عارف مزاج فلاسفہ، جیسے صدر المتاھین اور ان کے شاگرد یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ یہ مخلوقات واقعاً ادراک و شعور رکھتی ہیں اور خدائے تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں اور خدا سے ڈرتے ہیں، لیکن ہم اس حقیقت کو درک کرنے سے عاجز ہیں۔
شاعر کہتا ہے:
ماسمیعیم و بصیریم و ہُشیم
باشمانا محرمان ما خامشیم
''ہم سنتے، دیکھتے اور باہوش ہیں، لیکن تم نامحرموں کے سامنے خاموش ہیں''
یہ لوگ ان آیات و روایات کے حقیقی معنی اخذ کرتے ہیں اور کہتے ہیں:
درخت، زمین اور کنکریاں وغیرہ شعور رکھتی ہیں اور خدائے متعال کی تسبیح کرتے ہیں:
( ''تسبح له السمٰوات والارض ومن فیهن وان من شیً الا یسبح ) ( بحمده ولٰٰکن لا تفقهون تسبیحهم ) .........) (اسرائ٤٤)
''ساتوں آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب اس کی تسبیح کرتے ہیں اور کوئی شے ایسی نہیں ہے جو اس کی تسبیح نہ کرتی ہو یہ اور بات ہے کہ تم ان کی تسبیح کونہیں سمجھتے ہو ''
مذکورہ آیت کی تفسیر میں علامہ طبا طبائی فرماتے ہیں:
''آیت عالم مادی کے اجزا کی تسبیح کوثات کرتی ہے اور یہ کہ وہ خدائے متعال کی تسبیح کرتے ہیں اور اسے (ہر)شریک سے منزہ اور پاک جانتے ہیں،تسبیح کے معنی کلام و سخن کے ذریعہ تنزیہ ہے اور کلام کی حقیقت اندرونی مقصود سے اس کے اشارہ اور رہنمائی سے پردہ اٹھانا ہے۔ چونکہ انسان کے پاس اپنے مقصد کی طرف اشارہ کرنے اور اسے پیش کرنے کے لئے کوئی تکوینی راستہ نہیںہے لہذا مجبور ہے ایسے آواز والے کلمہ سے استفادہ کرے جو بہت سے معنی کے لئے وضع ہوئے ہیں، اور ان کے ذریعہ اپنا مقصود واضح کرے ،اس کے بعد تفہیم و تفہم کا طریقہ اسی صورت میں رائج ہوا۔ اس کے علاوہ ممکن ہے اپنا مقصود بیان کرنے کے لئے انسان ہاتھ یا سر کے اشارہ سے مدد لے اور کبھی لکھنے یا علامتوں کے ذریعہمدد حاصل کرے
مختصر یہ کہ جو مقصدسے پردہ اٹھاتا ہے وہ کلام ہے اور اپنے مقصود اور منظور کو بیان کرنے کے لئے ہر چیز اور ہر مخلوق سے استفادہ کرنا، اس کا قول و کلام ہے، اگر چہ وہ مقصود باطنی آواز اور کلمہ سے ہما ھنگ نہ ہو۔ اس نکتہ کی دلیل، بعض کلمات جیسے کلام، قول، امر و نہی ہیں کہ قرآن مجید میں خدائے متعال کی طرف ان کی نسبت دی گئی ہے اور یقینا وہ ہم سے صادر ہونے والی بات اور گفتار جیسی نہیں ہیں۔
یقینا آسمان و زمین اور جو کچھ ان میں موجود ہے، ایک ایسی چیز ہے جو خدائے متعال کی وحدانیت اور یکتائی کو بیان کرتی ہے اور اسے ہر عیب و نقص سے منزہ جانتی ہے۔ وہ یہ کہ یہ ساری مخلوقات نیازمند اور محتاج ہیں اور احتیاج اس امر کا واضح ترین گواہ ہے کہ کوئی ایسا موجود ہے جس کی طرف سب نیاز مند اور محتاج ہیں اور اس سے کوئی بھی بے نیاز نہیں ہے۔ پس مخلوقات میں ہر ایک مخلوق، اپنے احتیاج و جودی اور ذاتی نقص کی بنا پر خالق غنی کے بارے میں خبر دیتی ہے۔
بحث کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں:
''خدائے متعال کا بیان اس بات کی دلیل ہے کہ مخلوقات کی پیدائش کے ساتھ علم و آگاہی بھی ان میں پھیلی ہے اور ان میں سے ہر ایک نے وجود وہستی سے بہرہ مند ہونے کی حد میں ، علم سے بھی استفادہ کیا ہے۔ نہ یہ کہ سب ایک ہی حداور دائرہ میں علم رکھتے ہوں اور سبھی کا علم و اور ان کی معلومات ایک ہی قسم کا ہو۔ ایسا نہیں ہے کہ'' تمام مخلوقات کا علم انسان کے جیسا ہو یا انسان تمام مخلوقات کے علم و آگاہی سے واقف ہو۔ اس بناپر ہر مخلوق کسی نہ کسی صورت میں اپنے وجود کا علم رکھتی ہے اور اپنی ہستی اور وجود سے اپنی محتاجی اور نقصان کا کہ جس کا خدائے بے نیاز میں احاطہ ہے اظہار کرتی ہے اور یہ کہ خدائے متعال صاحب کمال ہے اور اس کے علاوہ کوئی پروردگار نہیں ہے۔ پس ہر مخلوق اپنے پروردگار کی تسبیح کرتی ہے اور اسے شریک اور ہر نقص سے پاک و منزہ جانتی ہے ''(۱)
تیسرا نظریہ: اس دنیا میں موجود تمام مخلوقات کے علاوہ مادی صورت کے ساتھ ملکوتی صورت بھی ہے اور حقیقت میں ان کی یہی ملکوتی اور باطنی صورت درک و شعور رکھتی ہے اور وہی ملکوتی صورت قیامت کے دن ظاہر ہوگی اور شہادت دے گی،ہم اس دنیا میں اس ملکوتی صورت کو درک نہیں کرتے ہیں، اس لئے اشیاکی تسبیح کو نہیں سنتے نہیں سمجھتے ہیں اور ان میں شعور و آگاہی کے آثار کو نہیں دیکھتے، لیکن یہ صورت موجود ہے اور قیامت کے دن ظاہر ہوگی اور جن حقائق کو ادراک کرتی ہے انہیں ظاہر کر کے شہادت دے گی۔
قرآن مجید کے واضح بیان کے مطابق، قیامت کے دن حتی انسان کی کھال بھی اس کے خلاف گواہی دے گی، اس کی زبان اور ہاتھ پائوں بھی اس کے خلاف گواہی دیں گے، اگر یہ اعضاشعور نہ رکھتے ہوں تو ان کی گواہی بے معنی ہے۔ قرآن مجید انسان کے بدن کے اعضاکی گواہی کے بارے میں فرماتا ہے:
(وقالوا لجلودهم لم شهدتم علینا قالوا انطقنا الله الذی انطق کل شیٔ ) '' (فصلت٢١)
''اور وہ اپنے اعضا سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف کیسے شہادت دی تو وہ جواب میں کہیںگے کہ ہمیں اسی خدانے گویا بنایا ہے جس نے سب کو گویائی عطا کی ہے۔''
اگر انسان کی کھال کسی قسم کا شعور نہ رکھتی ہوتی کہ معصیت کے وقت جس کو درک کرسکے، تو کیسے ممکن ہے وہ قیامت کے دن اس کی معصیت کے بارے میں گواہی دے جبکہ اسے درک نہیںکرسکتی تھی؟ شہادت کا اس وقت معنی درست ہوںگے جب شاہد معصیت کے منظر کو درک اور احساس کرے ورنہ شہادت کا کوئی معنی نہیںہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ انسان کے اعضا اس کی معصیت کے بارے میں درک نہ رکھنے کے باوجود، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انہیں بات کرنے پر مجبور کردے گا، تو کہنا چاہئے کہ اس صورت میں شہادت کا کوئی معنی و مفہوم ہی نہیں ہے اور شہادت کا اطلاق ایسے مورد پر بے معنی ہے۔ اس بنا پر اعضا کا گواہی دینا درک و احساس اور عمل کے بارے میں ایک قسم کے علم کے بعد انجام پاتی ہے اس کے بغیر شہادت ہی انجام نہیں پاسکتی ہے۔
پس دوسرے اور تیسرے نظر یہ کے مطابق، بنیادی طور پر تمام مخلوقات میں شعور، احساس اور ایک قسم کی آگاہی و علم کے موجود ہونے میں کس قسم کا شک و شبہ نہیں ہے، بلکہ ان کی کیفیت میں اختلاف ہے کہ کیا یہ علم اشیا کی ملکوتی روح کے ساتھ ہے، یا یہ کہ بذات خود درک و شعور کے حامل ہیں۔ البتہ پہلے نظریہ کے قائل کہتے ہیں: جب انسان کے اعضا و جوارح قیامت کے دن ظاہر ہوں گے، جو انسان کی رفتار کے آثار ان میں باقی رہے ہیں وہ ان کی شہادت کے درجہ پر ہیں۔
مخلوقات کا شعور و آگاہی اور ان کا اثر قبول کرنا:
شاید مذکورہ تینوں نظریات میں تیسرا نظریہ بہتر ہوگا،اور ہر صورت میں آیات و روایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ اشیاا ور مادی مخلوقات ایک قسم کا شعور و ادراک رکھتی ہیں۔ نہ صرف ان میں تکوینی شعور موجود ر ہے، بلکہ اپنے سے مربوط حوادث سے متاثر ہوتی ہیں اور حوادث ان میں اثر ڈالتے ہیں اور نتیجہ کے طور پر ان میں ایک نئی قوت پیدا ہوتی ہے: اگر روی زمین پرعبادت انجام دی جاتی ہے تو، وہ اس سے نیک اثر قبول کرتی ہے اور اس لحاظ سے خوش ہوتی ہے اور اپنے اوپر نازکرتی ہے ، اس کے برعکس اگر روی زمین پر کوئی معصیت انجام دی جاتی ہے تو ایک منفی اثران پر پڑتا ہے، اس لحاظ سے زمین ناراض ہوتی ہے اور گناہ کار پر لعنت بھیجتی ہے، البتہ ہم اس قسم کے مفاہیم کو سمجھنے سے قاصر ہیں اور ان آیات و روایات کا مضمون ہمارے لئے صحیح طورپر واضح اور نمایاں نہیں ہے، لیکن ہمیں یہ تسلیم کرناچاہئے کہ کائنات میں بعض نا معلوم حقائق موجود ہیں جو ہمارے درک و فہم کے حدود اور دائر کے باہر ہیں یا ان کے بارے میں ہماری معرفت بہت محدود ہے، چنانچہ قرآن مجید فرماتا ہے:
(...( وما اوتیتم من العلم الاقلیلاً ) ) (اسرائ٨٥)
''اور تمہیں بہت تھوڑا سا علم دیا گیا ہے۔''
کائنات میں بہت حقائق موجود ہیں جن کے بارے میں ہمیں علم نہیں ہے اور ان میں سے بعض کو ہم نے وحی کے ذریعہ پہچان لیا ہے اور یا انبیائے عظام صلوات اللہ علیہم اور ائمہ اطہار علیہم السلام نے ہمارے لئے انہیں بیان کیا ہے اور ہم بھی ان کے کہنے پر اعتماد کرتے ہیں اور ہمیں ان کا شکر گزار ہوناچاہئے کہ انہوں نے ان حقائق کو بیان فرمایا ہے ورنہ ہماری عقل ان تک نہیں پہنچ سکتی تھی اور ممکن نہیںتھا ہم اپنی ناقص عقل کے ذریعہ ان حقائق تک پہنچ سکتے:
( کما ارسلنا فیکم رسولا منکم یتلوا علیکم آیا تناویزکیکم و یعلمکم الکتاب والحمکة ویعلمکم مالم تکونوا تعلمون ) (بقرہ ١٥١)
جس طرح ہم نے تمہارے درمیان تمہیں میں سے ایک رسول بھیجا ہے جو تم پر ہماری آیات کی تلاوت کرتا ہے، تمہیں پاک و پاکیزہ بناتا ہے اور تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور سب کچھ بتاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔
مذکورہ مطالب کے پیش نظر ہمارے لئے دو نکتے واضح ہوگئے: پہلا نکتہ یہ کہ اگر ہم ہزاروں دانش و علم بھی حاصل کرلیں اور تمام بشری مخلوقات کو پالیں، پھر بھی ہماری معلومات ہماری نامعلوم چیزوں کے مقابلہ میں محدود ہیں اور قابل شمار نہیں ہیں، پس ہمیں مغرور نہیں ہونا چاہئے اور اپنے اوپر ناز نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ ممکن نہیں ہے کوئی تمام بشری معلومات کو پاسکے، بلکہ ہر شخص علوم کے ایک حصہ کو حاصل کرسکتا ہے اور علم کے بے انتہا سمندر سے ایک قطرہ اس کو نصیب ہوتا ہے۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ہمیں یہ خیال نہیں کرنا چاہئے، کہ ہم ایک ایسی دنیا میں زندگی گزار ہے ہیں کہ اگر ایک خلوت گاہ پر کوئی کام انجام دیں تو کوئی ہمیں نہیں دیکھتا ہے: اگر زمین درک نہ کرے اور نہ سمجھے، تمھارے اعمال پر مقرر کئے گئے فرشتے تو اسے درک کرتے ہیں اور ہمارے اعمال کو لکھتے ہیں اور ان کے علاوہ بھی ایسے اشخاص موجود ہیں جو اس دنیا پر تسلط رکھتے ہیں اور ان کی نظروں سے کوئی چیز مخفی اور پوشیدہ نہیں ہے۔
انوارائمہ اطہار علیہم السلام کی وسعت اور اس کے حدود:
ہم، شیعوں کے عقیدہ کی بنیاد پر، ائمہ اطہار علیہم السلام کا نور ہر جگہ حاضر ہے، اگرچہ ہم سب ان کے نور کو کماحقہ درک نہیں کرتے ہیں۔ ذخیرہ الہٰی، حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ کو اگر کوئی انہیں سلام کرے تو وہ جواب دیتے ہیں، لیکن ہمارے کانوں میں ان کا کلام سننے کی توانائی نہیں ہے۔ اگر کوئی ان سے فریاد کرے، تو وہ جواب دیتے ہیں، اگر بیابان میں گم شدہ کوئی شخص انہیں پکارے تو وہ مدد کے لئے پہنچتے ہیں اور اس کی رہنمائی کرتے ہیں اور آپ درماندہ وعاجز ، مصیبت زدہ بیمار کوشفا بخشتے ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے آپ حاضر ہیں اور سنتے ہیں، ورنہ اگر حاضر نہ ہوتے اور نہیں سنتے اور تو کیسے سمندروں کی لہروں میں گرفتار یا جنگل و بیابان میں مشکل سے دو چار شخص کی فریاد سنتے اور اس کی مدد کو پہنچتے نیز اس کو نجات دیتے ؟
علامہ مجلسی رحمة اللہ علیہ اپنے والدسے نقل کرتے ہیں کہ ان کے زمانہ میں ایک صالح شخص جو صاحب تقوی اور اہل معرفت تھا اس نے بہت سے حج کئے تھے ۔ اس کے بارے مشہور تھا کہ اس نے ''طی الارض'' کیا ہے، ایک دن وہ اصفہان آیا تو میں نے اس سے ملاقات کی۔ میں نے اس سے سوال کیا: تمھارے متعلق ''طی الارض'' کی روداد کیا ہے؟ اس نے کہا: میں ایک سال حاجیوں کے ہمراہ بیت اللہ کے لئے روانہ ہوا۔ ہم ایک ایسی جگہ پر پہنچ گئے جہاں سے مکہ مکرمہ کی مسافت سات یانو منزل رہ گئی تھی۔ میں قافلہ سے بچھڑ گیا اور قافلہ والے میری نظروں سے غائب ہوگئے، میں نے راستہ کو گم کردیا اور حیرانی و سر گردانی کی حالت میں ادھر ادھر بھٹک رہا تھا پیاس کی شدت کی وجہ سے زندگی سے نا اُمید ہوگیا تھا، اسی حالت میں ، میں نے فریاد بلند کی: ''یا اباصالح، میری مدد کیجئے '' اچانک دور سے ایک سوار نمودار ہوا۔ جب وہ میرے نزدیک پہنچا تو میں نے ایک خوبصورت جوان کو لباس فاخرہ پہنے ہوئے بزرگوارانہ صورت میں اونٹ پر سوار دیکھا اور ان کے ساتھ پانی کا ایک برتن بھی تھا۔
میں نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے جواب دیا اور فرمایا: کیا تم پیاسے ہو؟ میں نے عرض کی: جی ہاں،انہوں نے مجھے پانی پیش کیا اور میں نے اسے پیا،اس کے بعد فرمایا: کیا تم چاہتے ہو کہ تمھیں تمھارے قافلہ کے پاس پہنچادوں؟ میں نے عرض کی: جی ہاں، انہوں نے فرمایا: میرے اونٹ کی پشت پر سوار ہوجائو؟ میں سوار ہوا اور وہ مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ مجھے ہر روز ''حرزیمانی'' پڑھنے کی عادت تھی میں نے اسے پڑھنا شروع کیا ،پڑھنے کے بعد اس عرب جو ان نے مجھ سے فرمایا: بعض کلمات کو یوں پڑھا کرو تھوڑی دیر گزرنے کے بعد انہوں نے مجھ سے فرمایا: اس جگہ کو پہنچانتے ہو؟ میں نے نظر ڈالی اور دیکھا کہ میں سرزمین ابطح یعنی مکہ کے قریب پہنچاگیا ہوں۔ اس نے فرمایا نیچے اتر جائو۔ جوں ہی میں اونٹ سے نیچے اتراوہ غائب ہوگئے۔ یہاں پر مجھے معلوم ہوا کہ وہ خوبصورت جوان، امام زمان عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف تھے۔(۲)
پس امام علیہ السلام کا نور ہر جگہ حاضر ہے اور ہمیں دیکھ رہا ہے، چونکہ اس حقیقت کو درک کرنا تمام لوگوں کے لئے مشکل ہے۔ اگر یہ حقائق لوگوں کے لئے کھلم کھلا بیان کئے جائیں تو وہ غلو میں مبتلا ہوجائیں گے، اس لئے ان کے ادنی مراتب بیان ہوئے ہیں من جملہ ہمارے نامۂ اعمال امام علیہ السلام کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں۔ یا بعض روایتوں میں ہمارے اعمال کے خدائے متعال اور پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی خدمت میں پیش کئے جانے کی بات کہی گئی ہے۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ جب ہفتہ کے دنوں میں من جملہ جمعرات کا ذکر آیا تو حضرت امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:
''...( هو یوم تعرض فیه الاعمال علی اللّٰه وعلیٰ رسوله' صلی اللّٰه علیه وآله وعلی الائمة... ) ''(۳)
''جمعرات کا دن وہ دن ہے جس میں بندوں کے اعمال خدائے متعال' رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ائمہ اطہار علیہم السلام کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں۔''
یا بعض روایتوں میں آیا ہے کہ جب ملائکہ انسان کے اعمال لکھتے ہیں، اسی دن شب کو عرش پر لے جا کر خدائے متعال کی خدمت میں پیش کرتے ہیں۔ ممکن ہے یہاں پر یہ سوال کیا جائے کہ کیا خدائے متعال ہر جگہ حاضر نہیں ہے کہ اعمال کی رپورٹ کو عرش پر اس کی خدمت میں پہنچا ئی جائے؟ لیکن جاننا چاہئے کہ وجود کے مراتب کی خاص صورتیں ہیں اور اعمال کوپیش کرنے کا بھی ایک خاص نظام ہے جو بارگاہ ربوبیت کے متناسب ہے اور یہ خدا کے ہر جگہ پر حاضر ہونے کے منافی نہیں ہے۔
گواہوں اور شاہدوں کی نظروں سے اعمال کا مخفی نہ ہونا:
مذکورہ مطالب کے پیش نظر، ہمیں ہوشیار رہنا چاہئے کہ ہم ایک ایسی دنیا میں زندگی نہیںبسر کر رہے ہیں، جو درک و شعور سے خالی ہو: اس دنیا میں دیکھنے والی آنکھیں اور سننے والے کان موجود ہیں جو ہمارے اعمال اور بیان کے گواہ ہیں اور بعض آیات و روایات کے ظاہر کی بناء پر زمین، درخت اور پر ندے بھی شعور رکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں، البتہ ہم غافل ہیں! اس سے بالا تر امام زمان عجل اللہ تعالےٰ فرجہ الشریف کا وجود مقدس ہمارے اعمال پر ناظر ہے، سب سے افع و اعلیٰ ذات مقدس باری تعالےٰ ہمارے اعمال پر گواہ ہے:
(...( ان اللّٰه کان علی کل شیً شهیداً ) (نسائ٣٣)
''بیشک اللہ ہرشے پرگواہ اور نگراں ہے''
خدائے متعال انسان کے پنہان اور آشکار اعمال کے بارے میں اپنی آگاہی اور فرشتوں کی نگرانی کے سلسلہ میں فرمایا ہے:
( ولقد خلقنا الانسان ونعلم ما توسوس به نفسه ونحن اقرب الیه من حبل الورید اذیتلقی المتلقیان عن الیمین وعن الشمال قعید مایلفظ من قول الا لدیه رقیب عتید ) (ق: ١٨١٦)
اور ہم نے ہی انسان کو پیدا کیا ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ اس کانفس کیا کیا وسو سے پیدا کرتا ہے اور ہم اس سے رگ گردن سے زیادہ قریب ہیں۔ جب کہ دو لکھنے والے فرشتے اس کے نامہ اعمال لکھنے کے لئے مامور ہیں جو داہنے اور بائیں بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ کوئی بات منہ سے نکالتا ہے مگر یہ کہ ایک نگہبان اس کے پاس موجود رہتا ہے( جو اس کی باتوں کو لکھ لیتا ہے ) ۔ ایک دوسری جگہ پر قیامت کے دن پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی گواہی کے بارے میں فرماتا ہے:
( فکیف اذاجئنا من کل امةٍ بشهیدٍ وجئنا بک علی هولاء شهیداً )
(نسائ ٤١)
''اس وقت کیا ہوگا جب ہم ہرامت کو اس کے گواہ کے ساتھ بلائیں گے اور اے پیغمبرتمھیں بھی ان پر گواہ بنائوں گا ''
قیامت کے دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دیگر گواہوں کی شہادت کے بارے میں بیان کرنے والی آیتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ گواہ دنیا میں بندوں کے اعمال کے شاہد ہیں ورنہ اگر وہ دنیا میں لوگوں کے اعمال کے شاہد نہ ہوتے تو قیامت کے دن کیسے شہادت دیتے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی حادثہ کو دیکھے بغیر اس کے بارے میں شہادت دے؟
اگر ہم اس نکتہ کی طرف توجہ کریں کہ جس دنیا میں ہم رہتے ہیں، وہ خاموش اور شعور و درک سے خالی نہیں ہے بلکہ ایسے اشخاص موجود ہیں جو ہمیں دیکھتے ہیں اور وہ ہمارے اعمال کے شاہد اور ناظر ہیں، اگر چہ ہم ان کو نہیں دیکھ رہے ہیں، ہمیں ہوشیار رہنا چاہئے اور اپنی رفتار پر نظر ثانی کرنی چاہئے یہ شرم و حیا ہے کہ جو بعض ناپسندیدہ حرکتوں کے سرزد ہونے سے ہمارے لئے مانع ہوتی ہے۔ جب ہم یہ تصور کرتے ہیں کہ ہمارے اعمال ثبت ہو کر قیامت کے دن ظاہر ہوں گے تو شرم و حیا بُرے کام کو انجام دینے سے ہمارے لئے مانع ہو جاتی ہے۔ جب انسان کسی گناہ کا مرتکب ہونا چاہتا ہے، اگر یہ توجہ کرلے کہ زمین و آسمان اور بعض صفحات ( تختیاں) ہیں جن پر انسان کے اعمال کی صورت ثبت ہوتی ہے اور ایک دن ظاہر ہوگی، تو وہ اس گناہ سے پرہیز کرے گا اور خلوت میں بھی گناہ نہیں کرے گا، کیونکہ حضرت علی فرماتے ہیں:
''اتقوا معاصی اللّٰه فی الخلوات فان الشاهد هو الحاکم '' (۴)
''پوشیدہ حالت میں خدا کی نافرمانی سے پرہیز کرو، کیونکہ جو شاہد اور ناظر ہے وہ حاکم بھی ہے''
اگر آپ اپنی کسی حالت کے بارے میں پسند نہیں کرتے کہ کوئی اس حالت کو دیکھ لے، تو اگر کسی نے اس حالت کی تصویر لے لی ہے تو، آپ ہرممکن کوشش کرتے ہیں کہ اس تصویر کو نابود کر دیں تاکہ اسے آئندہ کوئی نہ دیکھ سکے۔ یقینا انسان ہر گز نہیں چاہتا ہے کہ کوئی اس کی ایسی تصویر کھینچے جو اس کی شرمندگی کا سبب بنے۔ وہ تصویر کھینچتے وقت اپنے آپ کو آراستہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، اچھے کپڑے پہنتا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اس کا قیافہ اچھا ہو زیر لب ہنستا رہے تاکہ اس کی تصویر بہتر ہو۔ اس کے لئے پسندیدہ نہیں ہے کہ اس کی تصویر اس حالت میں کھینچی جائے جو اس کے لئے شرمندگی اور رسوائی کا سبب بنے۔ اس مثال کے پیش نظر، ہمیں جاننا چاہئے۔ کہ طبیعیعوامل جیسے زمین، آسمان اور در و دیوار مسلسل ہماری تصویریں کھینچ رہے ہیں اور قیامت کے دن ان تصویروں کو ظاہر کریں گے۔ لہٰذاہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ نامناسب اور بد حالت میں ہماری تصویریں نہ کھینچی جائیں تاکہ قیامت کے دن ہماری تمام رفتار اور کردار رونما ہو کر ہماری رسوائی کا سبب نہ بنیں:
( یوم تجدکل نفسٍ ماعملت من خیرٍ محضراً وما عملت من سوئٍ تود لو ان بینها وبینه امدًابعیداً... ) (آل عمران٣٠)
''اس دن کو یاد کرو جب ہر نفس اپنے نیک و بد اعمال کو حاضر پائے گا جن کو دیکھ کر یہ تمنا کرے گا کہ کاش ہمارے اور ان بُرے اعمال کے درمیان طویل فاصلہہوجاتا''
بندگی میں اخلاص، شادمانی اور فخر و مباہات کا سبب:
''یا اباذر: مامن صباح ولا رواح الا وبقاع الارض تنادی بعضها بعضاً یا جارهل مربک ذاکر للّٰه تعالیٰ او عبد وضع جبهته علیک ساجد اللّٰه؟ فمن قائلة لا ومن قائلة نعم ' فاذا قالت نعم اهتزت وانشرحت وتری ان لها الفضل علی جارتها''
''اے ابوذر! کوئی صبح و شام ایسی نہیں ہے مگر یہ کہ زمین کا چپا چپا ایک دوسرے سے کہتا ہے: اے میرے ہمسایہ! کیا تم پر کوئی ایسا دقت گزرا جو ذکر خدا کرے، یا کوئی ایسا بندہ جو خدا کو سجدہ کرنے کے لئے تجھ پر پیشانی رکھے؟ بعض کہتے ہیں: ہاں اور بعض کہتے ہیں: نہیں، جو بھی ہاں کہے وہ اپنے اوپر ناز اور شادمانی کرتا ہے اور اپنے کو دوسروں پر برتر جانتا ہے۔''
ایک اور مطلب، جس کی طرف اس حدیث شریف میں اشارہ ہوا ہے، وہ یہ ہے، کہ جس زمین پر خدا کا بندہ عبادت کرتا ہے اور سجدہ کرنے کے لئے اپنی پیشانی اس پر رکھتا ہے، وہ اپنے اوپر ناز کرتے ہوئے مخر و مباہات کرتی ہے۔ دیکھنا چاہئے کہ اس ناز کرنے اور فخر و مباہات کا راز کیا ہے؟ اس کا راز یہ ہے کہ جو چیز بنیادی طور پر خدا کے سامنے قدر و قیمت رکھتی ہے، وہ اس کی طرف توجہ ہے اور دوسرے کام اس وقت قدر و منزلت رکھتے ہیں، جب خدا کی توجہ کے ہمراہ اور قربت الی اللہ انجام پائیں۔ کام اس وقت خدا کے لئے انجام پاتا ہے، جب انسان خدا کی یاد میں ہو ورنہ جو خدائے متعال سے غافل ہو، اس کا کام قربة الی اللہ انجام نہیں پاتا ہے، بلکہ وہ کام یا اپنے دل کی مرضی یا اپنے دل کو خوش کرنے کے لئے یا دیگر مادی نیتوں سے انجام دیا جاتا ہے اور اس کی خدا ئے متعال کے پاس کوئی قیمت نہیں ہے۔
پس خدا کی یاد، اس کی طرف توجہ اور جو چیز انسان کو ذات ابدیت سے ملحق کرتی ہے وہ اصالت اور حقیقت رکھتی ہے اور اسی طرح دوسری تمام چیزیں خدا کی یاد کے سائے میں قابل اہمیت ہیں اور خدا کی یاد کے بغیر ان کی کوئی حقیقت و اہمیت نہیںہے۔ اس لحاظ سے، انسان کا حقیقی کمال خدا کی توجہ کے سائے میں حاصل ہوتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتو، خدا کی طرف توجہ کے بغیر اور اعمال و عبادت کو قربةً الی اللہ اور اخلاص کے بغیر انجام دینا بے روح بدن کی طرح ناچیز اور بے قیمت ہے۔ پس، ہمارے تمام اعمال خدائے متعال کے لئے انجام پانا چاہئے:
( قل انی امرت ان اعبد اللّٰه مخلصاً له الدین ) (زمر١١)
''(اے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم !) کہہ دیجئے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کروں اور اپنے دین کو اس کے لئے خالص قرار دوں''
اخلاص، خاص کر دین میں اخلاص پر خدائے متعال کی تاکید، اس لئے ہے کہ انسان خدا کا بندہ ہے اور اسے خدا کی بندگی اور عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ اسے اپنی زندگی کی راہ میں اور زندگی کے دوسرے تمام مراحل میں ، تکامل وترقی، سعادت اور بالیدگی کی فکر میں ہونا چاہئے یہ چیز اخلاص اور خدا کے سائے کے بغیر حاصل نہیں ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے عبادت کو خدا کے لئے خالص بنانا، دین کا سب سے بڑا حکم ہے، کیونکہ انسان کے لئے خدا کے تقرب اور کمال تک پہنچنے کے لئے یہ بذات خود ایک اہم عامل ہے۔ اس لئے خدائے متعال ، چنانچہ قرآن مجید میں جگہ جگہ پر مخلصین کی ستائش کی گئی ہے، حضرت موسی کے بارے میں فرماتا ہے:
( واذکرفی الکتاب موسیٰ انه کان مخلصاً و کان رسولاً نبیا )
(مریم ٥١)
''اور اپنی کتاب میں موسیٰ کا بھی تذکرہ کرو کہ وہ میرے مخلص بندے اور رسول و نبی تھے''
(لام پر کسرہ کے ساتھ) مخلص اس معنی میں ہے جو اخلاص رکھتا ہے اور اپنے کام اخلاص سے انجام دیتا ہے۔ لیکن (لام پر فتحہ کے ساتھ) مخلص، یعنی جو خالص ہوا ہے۔ فطری بات ہے کہ ''خالص شدہ'' کو ایک خالص کرنے والے کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ یقینا خدائے متعال ہے جو مخلصین کو خالص کرتا ہے، تاکہ شیطان ان کو گمراہ نہ کرسکے:
( قال فبعزتک لا غوینهم اجمعین الاعبادک منهم المخلصین )
(ص: ٨٢ ٨٣)
''اس نے کہا تو پھر تیری عزت کی قسم میں سب کو گمراہ کروں گا۔ سواء تیرے ان بندوں کے جو تیری بندگی میں خالص ہین۔''
اس آیت کی وضاحت میں قابل ذکر بات ہے کہ ''مخلصین'' نفسانی، روحانی اور معنوی توانائی کے مالک ہوتے ہیں جو شیطان کے دام میں پھنسنے سے مانع ہوتی ہے اور شیطان ان پر بُرا اثر نہیں ڈال پاتا ہے۔ البتہ خدائے متعال کے لطف و عنایت سے مخلصین اس توانائی سے بہرہ مند ہوئے ہیں، چنانچہ خدائے متعال حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں فرماتا ہے:
( ولقد همت به وهم بها لولا ان رء ا برهان ربه کذٰلک لنصرف عنه السوء والفحشاء انه من عبادنا المخلصین ) (یوسف ٢٤)
''اور یقینا اس عورت نے ان سے برائی کا ارادہ کیا اور وہ بھی ارادہ کر بیٹھتے اگر اپنے رب کی دلیل نہ دیکھتے یہ تو ہم نے اس طرح کا انتظام کیا کہ ان سے برائی اور بدکاری کا رخ موڑ دیں کیوں کہ وہ ہمارے مخلص بندوں میں سے تھے۔''
اس آیۂ شریفہ میں تاکید ہوئی ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام برائی اور گناہ میں مبتلا نہیں ہوئے، باوجود اس کے کہ ان کے لئے ایسے مناسب اور وسوسہ انگیز شرائط فراہم ہوچکے تھے کہ اگر دوسرا کوئی بھی انسان ان شرائط میں قرار پاتا، تو شیطان کے جال میں پھنس جاتا۔ کیونکہ حضرت یوسف غریزہ جنسی اور خواہشات کے نقطہ عر وج پر تھے اور عزیز مصر کے گھر کا ماحول بھی آرام و آسائش سے بھرا تھا اور عزیز مصر کی بیوی نے ایسے شرائط فراہم کئے تھے کہ اگر حضرت یوسف برہان الہٰی کا مشاہدہ نہ کرتے تو پھسل جاتے۔
اخلاص، بہترین عمل کا سبب:
مذکورہ مطالب کے پیش نظر، جو چیز انسان کے عمل کو قدر و منزلت بخشتی ہے اور انسان کے لئے شیطان کے آشکار و مخفی پھندوں سے نجات پانے کا سبب بنتی ہے، وہ خدائے متعال کی طرف توجہ دینا اور اخلاص ہے۔ اس لحاظ سے اگر مقدس ترین اور بڑے بڑے کام خدا کے لئے انجام نہ دئے جائیں تو ان کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ آیات و روایات کی تعبیر میں سب سے بہتر عمل جہاد ہے، یہاں تک خدائے متعال فرماتا ہے:
( فضل اللّٰه الجاهدین باموالهم وانفسهم علی القاعدین درجةً وکلا وعد اللّٰه الحسنیٰ وفضّل اللّٰه المجاهدین علی القاعدین اجراً عظیماً ) (نسائ٩٥)
'' اللہ نے اپنے مال اور جان سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھے رہنے والوں پر فضیلت و برتری عنایت کی ہے اور ہر ایک سے نیکی کا وعدہ کیا ہے اور مجاہدین کو بیٹھے رہنے والوں کے مقابلہ میں اجر عظیم عطا کیا ہے۔''
اب اگر اس عظمت اور شوکت کے با وجود جہاد خدا کی مرضی کے بغیر اور غیر الہٰی قصد سے انجام دیا جائے تو اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے۔ بعض روایتوں کے مطابق، صدر اسلام کی جنگوں میں سے ایک جنگ میں ایک شخص بڑی شجاعت کے ساتھ لڑتے ہوئے قتل ہوا۔ اس شخص کی مجاہدت دلیری نے دوسروں کو اس کی ستائش کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس لئے انہوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا: وہ شخص جس بہادری اور شجاعت سے لڑا، خدا کے نزدیک عظیم مقام رکھتا ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں فرمایا: وہ خدا کی راہ میں شہید نہیں ہوا ہے بلکہ وہ اپنے گدہے کہ راہ میں قتل ہوا ہے۔ (جب اس کا گدھا خوف و وحشت کی وجہ سے دشمن کی فوج میں گھس پڑا تھا تو وہ شخص اپنے گدہے کو حاصل کرنے کے لئے دشمنوں سے لڑرہا تھا!)
جی ہاں، ہر جہاد و مبارزہ اور قتل ہونا انسان کو کمال تک نہیں پہنچاتا ہے۔ بلکہ انسان کو وہ شہادت کمال تک پہنچاتی ہے جو خدا کی یاد کے ساتھ ہو، ہمارے عزیز شہداء کی طرح کہ (ایران عراق جنگ کے دوران نذر کرتے تھے کہ شہید ہوجائیں۔ بعض اوقات چالیس شب جمعہ یا شب بدھ کو مسجد جمکران جاتے تھے اور شہادت کے لئے درخواست و آرزو کرتے تھے۔ یہ شہادتیں چونکہ خدا کی یاد اور اس کی توجہ کے ساتھ ہیں، اس لئے ان کی قدر و منزلت ہے۔
اعمال و رفتار ،قدر و قیمت اور عظمت یا پستی انسان کی نیت پرمنحصر ہے، اگر انسان کی نیت پاک ہو اور اس کا عمل خدا کے لئے انجام پائے تو اس عمل کی قدر و قیمت ہے، اب جس قدر خدا کی یاد زیادہ ہوگی اور محبت و معرفت الہٰی میں اضافہ ہوگا اسی اعتبار سے، اس کے عمل کی قدر و قیمت بھی زیادہ ہوگی۔ اس کے مقابلہ میں اگر عمل خدا کی معرفت و محبت اور اس کی یاد اور توجہ کے بغیر انجام دیا جائے تو وہ اس جسد کے مانند ہے جو بے روح و بے خاصیت ہے۔
زمین کے حصے جب ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں، تو وہ یہ نہیں کہتے ہیں: کہ کسی نے تم پر جہاد کیا یا تم پر انفاق کیا یا نہیں، بلکہ پوچھتے ہیں کہ کسی نے تمھارے او پر خدا کو یاد کیا ہے یانہیں؟ پس اگر انسان کا عمل خدا کی توجہ کے ساتھ انجام پائے تو وہ عبادت شمار ہوتا ہے اور اس صورت میں اس کا جہادکرنا، نماز پڑھنا اور انفاق کرنا سب عبادت کہلائے گا۔ علم حاصل کرنا، تدریس، بحث و گفتگو حتی تقریر سننا بھی عبادت میں شمار ہوگا لیکن اگر اخلاص نہ ہو تو نہ صرف یہ کہ اس کا عمل عبادت نہیں ہے، بلکہ دوسروں کی توجہ مبذول کرنے کاایک وسیلہ ہے!لہٰذا جو بات بہت ہی زیادہ قابل توجہ ہے اور جس کی اہمیت کو زمین کے ٹکڑے بھی درک کر چکے ہیںوہ خدا کی طرف توجہ اور اس کے دربار میں حاضری دینا ہے۔
جب ہم قرآن مجید کی ورق گردانی کرتے ہیں، تو ہم کسی ایسے صفحہ کو نہیں پا تے جس پر خدا کے ذکرا ور اس کی تسبیح کی بات نہ کہی گئی ہو۔ من جملہ خدائے متعال فرماتا ہے:
( یا ایّها الذین آمنو اذکر وا اللّٰه ذکراً کثیراً ) (اسرائ٤١)
''ایمان والو! اللہ کا ذکر بہت زیادہ کیا کرو''
ایک دوسری جگہ پر خدائے متعال، عقلمندوں کے لئے، آسمان، زمین اور شب و روز کی گردش کی تخلیق کے دلائل ذکر کرتے ہوئے عقل مندو ں کا تعارف فرماتا ہے:
( الّذین یذکرن اللّٰه قیاماً وقعو داوعلیٰ جنوبهم ویتفکرون فی خلق السمٰوات والارض... ) (آل عمران ١٩١)
''جو لوگ اٹھتے، بیٹھتے، لیٹتے خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان وزمین کی تخلیق میں غور و فکر کرتے ہیں''
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: حضرت موسیٰ بن عمران علیہ السلام نے خدائے متعال سے عرض کی:
''یارب تمر بی حالات استحیی ان اذکرک فیها ' فقال: یا موسیٰ' ذکری علی کل حالٍ حسن'' (۵)
خدا وندا! میرے لئے ایسے حالات پیش آتے ہیں، ان حالات میں تجھے یاد کرنے میں مجھے شرم آتی ہے (شاید ان کا مقصود قضائے حاجت کے وقت ہو) خدائے متعال نے جواب میں فرمایا: اے موسیٰ! میرا ذکر ہر حالت میں نیک ہے''
اس لئے حتی قضائے حاجت کرنے کے لئے بیت الخلا میں جاتے وقت بھی بعض دعائیں نقل ہوئی ہیں، تاکہ انسان اس حالت میں بھی خدا کی عبادت سے غافل نہ رہے، کیونکہ خدائے متعال راضی نہیں ہوتا ہے حتی ہماری عمر کا ایک لمحہ بھی اس کی توجہ اور عبادت کے بغیر گزرے اور انسانی کمال خدائے متعال کی عبادت و بندگی کے سایہ میں ہی ممکن ہے۔ پس ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ہر صورت اور ہر حالت میں ، خواہ ضعیف انداز میں کیوں نہ ہو لیکن خدا کی طرف توجہ رکھنی چاہئے۔ خدا کی یاد اور اس کی طرف توجہ ایک ایسی اکسیر ہے جو ہر ناچیز شیٔ پر لگا دی جائے، تو وہ گراں بہا چیز میں تبدیل ہو جاتی ہے، یہ اکسیر ہی ہے جو ہماری زندگی کو قدر و قیمت بخشتی ہے۔
____________________
١۔االمیزان ج٣، ص١١٤۔ ١١٦
۲۔کفایة الموحدین ،نوری طبرسی ج٢، ص ١٨٢
۳۔بحار الانوار ،ج٢٣ص٣٤٦
۴۔ نہج البلاغہ '' ترجمہ شہیدی'' کلمات قصار ٣٢٤ص٤٢٠
۵۔ بحار الانوار ،ج١٣ص٣٤٣
انتیسواں درس:
انسان کی سب سے بڑی دولت بندگی و عبادت
* دنیا کا انسان کے لئے طفیلی ہونا
*انسانِ کامل کی شرافت و کرامت
* بہشت، مومنین اور محبان اہل بیت(ع) کی جگہ
*صاحبان بہشت:
الف: انبیاء اور پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کا مقام
ب: صالحین کا مقام
ج: صدیقین کا مقام
* خد ا کے منتخب بندوں کے لئے عصمت کا ایک خاص درجہ
*ایمان میں صداقت کی اہمیت اور اس تک پہنچنے کا راستہ
انسان کی سب سے بڑی دولت بندگی و عبادت
''یا اباذر؛ ما من شاب یدع ﷲ الدنیا و لهوها و اهرم شبابه فی طاعة اﷲ الا اعطاه اﷲ اجر اثنین و سبعین صدیقا''
''اے ابوذر ؛ جو بھی جوان خدا ئے متعال کے لئے دنیا اور اس کے لہو و لعب کو چھوڑ کر اپنی جوانی کو خدا کی اطاعت میں بوڑھا کر لے ، اللہ تعالی بھی اسے بہتّر صدیقین کے اجر و ثواب عطا کرتا ہے''
دنیا کاانسان کے لئے طفیلی ہونا:
حدیث شریف کے اس حصہ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، انسان کی کمال جوئی اور راہ تکامل اختیار کرنے والے کی عظمت، کی اہمیت بیان فرماتے ہیں۔کیونکہ بعض آیات و روایات سے استفادہ ہوتا ہے کہ یہ کائنات اپنی پوری و سعتوں او ر عظمتوں کے ساتھ انسان کے کمال تک پہنچنے کیلئے خلق کی گئی ہے اور حقیقت میں اس دنیا کی تخلیق کا اصلی مقصد انسان ہے اور دوسرے تمام مخلوقات انسان کے طفیل میں خلق کی گئی ہیں ۔خدائے متعال فرماتاہے:
( هو الذی خلق السموات و الارض فی سته ایام و کان عرشه علی الماء لیبلوکم ایکم احسن عملا ) (ھود٧)
''اور و ہی وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو چھ دنوں میں پیدا کیا ہے اور اس کاتخت اقتدار پانی پر تھا تا کہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سب سے بہتر عمل کرنے والا کون ہے''
آیۂ مبارکہ کا مضمون یہ ہے کہ خدا ئے متعال نے آسمانوں، زمینوں اور عالم طبیعت کو اس لئے خلق کیا ہے تا کہ انسان کی خلقت کے اسباب فراہم ہو جائیں او رپھر انسان کو خلق کیا تا کہ اس کی آزمائش کرے۔آیۂ شریفہ کا مضمون حیرت انگیز ہے اور اس کا درک کرنا ہمارے طرز تفکر اور رفتار میں کافی اثر ڈالتا ہے یہ حقیقت ہے کہ خدائے متعال نے عالم وجود کو اس عظمت کے ساتھ اس لئے خلق کیا ہے کہ اس میں انسان کو پیداکرے تا کہ وہ اس کے امکانات سے استفادہ کرکے اپنے کمال تک پہنچے ، انسان کی قدر و منزلت او راس کی ذمہ داری کی گہرائی کی دلیل ہے۔
گزشتہ مطالب کا ذکر کرنا اس لئے ضروری ہے کہ انسان اپنے وجودکی قدر و قیمت کو دوسری مخلوقات کے مقابلہ میں در ک کرے اور جان لے کہ وہ کیڑے اور مینڈک جیسی مخلوقات کے مانند ایک سادہ مخلوق نہیں ہے ، بلکہ وہ ایک عظیم اور قدرو منزلت والی مخلوق ہے کہ جس کی زندگی کی تسہیل کے لئے بہت سے سرمایہ کو وجود بخشا ،اور کائنات کو اسی آب وتاب کے ساتھ خلق کیا تا کہ ایک با شعور، با ارادہ او رصاحب اختیار مخلوق کی حیثیت سے اپنے وجودکی قدرو قیمت کو سمجھے لہٰذا پہلی فرصت میں ایک عاقل اور متفکر وجود ہونے کے ناطے ایک انسان کا فریضہ یہ ہے کہ وہ اپنی اہمیت کو درک کرے، لیکن ان تمام اہمیتوںکے پیش نظر صرف اس نکتہ کا در ک کرنا کافی نہیں ہے بلکہ اسے عالم ھستی میں اپنی ذمہ داری اور وظیفہ کی عظمت کو بھی درک کرنا ضروری ہے اور جاننا چاہئے کہ وہ عبث ، بیہودہ، باطل اور بغیر مقصد خلق نہیں کیا گیا ہے۔
مخلوقات عالم میں انسان ایک ایسی خصوصیتوں کا حامل ہے کہ دوسری مخلوقات میں وہ خصوصیتنہیں پائی جاتی ہیں اور و ہ عقل کی نعمت سے آراستہ ہے۔ انسان کی دوسری تمام مخلوقات پر برتری او رفضیلت کے معنی یہ ہیں کہ عقل کے علاوہ دوسری خصوصیات و صفات میں بھی انسان دوسری مخلوقات پر برتری رکھتا ہے اور دیگر موجودات میں جو بھی کمال پایاجاتا ہے، وہ انسان میں بھی بدرجہ اعلی موجود ہے۔ یہ معنی انسان کا دیگر مخلوقات سے خوراک، لباس، رہائش اور ازدواج میں موازنہ کرنے سے بالکل واضح ہو جاتاہے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ انسان جو اپنے اجتماعی زندگی کے نظم و تدبیر میں تبدیلیوں اورموجودہ ترقی سے جس طرح استفادہ کرتا ہے، وہ کسی بھی دوسری مخلوق میں نظر نہیںآتا۔ اس کے علاوہ انسان اپنے مقاصد تک پہنچنے کے لئے تمام مخلوقات کو بہ روئے کار لاتا ہے لیکن اس کے مقابلہ میں تمام حیوانات و نباتات و غیرہ ایسے نہیں ہیں، بلکہ ان کے بہت معمولی، بسیط اور مخصوص قسم کے اختیاراتہیں، وہ اپنے پیدائش سے آج تک اپنی حالت سے ایک قدم بھی آگے نہیںبڑھے ہیں اور ان میں کسی قسم کی قابل توجہ تبدیلی نہیں آئی ہے۔جب کہ انسان نے اپنی زندگی کے تمام شعبوں میں بہت زیادہ ترقی کی ہے اور اس کی ترقی کا یہ سفر جاری ہے۔
مختصر یہ کہ انسان تمام مخلوقا تِ عالم میں ان سے جس خصوصیت و برتری کا مالک ہے، وہ عقل کی خصوصیت ہے اس عمل کے ذریعہ اس نے دنیا کی تمام موجودات پر فوقیت حاصل کی ہے اسی کے ذریعہ وہ حق و باطل ، خیر و شر اور نفع و نقصان میں فرقپیدا کیا ہے۔
انسان کامل کی شرافت اور کرامت:
( ولقد کرّمنا بنی آدم و حملنا هم فی البرّ و البحر و رزقنا هم من الطّیبات و فضّلنا هم علی کثیر ممّن خلقنا تفضیلا ) (اسرائ٧٠)
''اور ہم نے بنی آدم کو کرامت عطاکی ہے انھیں خشکی اور دریاؤں میں سواریوں پر اٹھایا ہے اور انھیں پاکیزہ رزق عطا کیا ہے اور اپنی مخلوقات میں سے بہت سوں پر فضیلت دی ہے۔''
علامہ طباطبائی رحمة اللہ علیہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
''یہ آیت منّت رکھنے کے سیاق میں ہے، البتہ وہ منّت جو سرزنش کے ساتھ آمیختہ ہے۔ گویا خداوند متعال ، انسانوں سے اپنی فراوان نعمتوںاور فضل و کرم کا تذکرہ کرتا ہے کہ اس نے انھیں ان نعمتوں کو حاصل کرنے اور رزق سے اپنی زندگی کوبخوبی گزارنے کے لئے ، بیابانوں اور دریاؤں میں سواریاں اور کشتیاں چلائیں، اس نکتہ کی طرف متنبہ کرتاہے کہ انسان نے اپنے پروردگار کو فراموش کر دیا ہے، اس سے منہ موڑلیا اور اس سے کو ئی چیز نہ مانگی اور دریا سے نجات پانے کے بعد پھر سے اپنی گزشتہ روش پرگامزن ہو، با وجودیکہ وہ ہمیشہ اس کی نعمتوں میں غرق تھا۔
خدائے متعال اس آیت میں اپنی کرامتوں اور فضل کا ایک خلاصہ بیان فرماتاہے، تا کہ انسان یہ سمجھ لے کہ اس کا پروردگار اسے کس قدرعنایت کرتاہے اور انتہا ئی افسوس ہے کہ انسان اس عنایت کا بھی دوسری نعمتوں کے مانند کفران کرتاہے ۔(۱)
اس لئے بجا ہے کہ انسان اپنے وجود کے گوہر او ر صدف کی قدر و منزلت کو جان لے اور اسے حقیر اور پست دنیا کے عوض فروخت نہ کرے۔
چشم دل باز کن تا کہ جان بینی
آنچہ نادیدنی است آن بینی
گربہ اقیلم عشق روی آری
ہمہ آفاق گلستان بینی
بر ہمہ اہل آن زمین بہ مراد
گردش دور آسمان بینی
آنچہ بینی دلت ہمان خواہد
وآنچہ خواہد دلت ہمان بینی(۲)
(د ل کی آنکھیں کھولو تاکہ روح''ہستی'' کو دیکھ لو ،جو دیکھنے کے قابل نہیں ہے اسے دیکھ لو گر ملک عشق کی طرف تو جہ کرو گے تو تمام آفاق کو گلستان پائو گے، تمام اہل زمین، گر دش افلاک کو اپنے مقصدکے مطابق خیال کریں گے جسے دیکھو گے تمھارا دل اسی کو چاہے گا اور تمھارے دل اور آرزو کے مطابق تمام چیزیں نظر آئیں گی)
انسان کو انسانی کما لا ت تک پہنچنے کے لئے بعض خاص شرائط اور سہو لتوں کی ضرورت ہو تی ہے اوریہ دنیا جو عالم طبیعت کے ای پر شکوہ نظام کا حصہ ہے اپنے تمام تر تبدیلیوں اور ترقیوں کے ساتھ انسان کے اختیار میں ہو نی چاہئے۔ ہم کسی حد تک جانتے ہیں کہ اگر عالم طبیعت میں وہ تحو لات اور متواتر نظم نہ ہو تا تو یا انسان کی اختیا ری زندگی متحقق نہ ہوتی یاناقص صورت میں متحقق ہو تی ۔
ہم اجمالی طور پر جانتے ہیں کہ کائنات کا ایک ہما ہنگ نظام ہے اوراس کے اجزا و عوامل ایک دوسرے کے محتاج ہیں ۔ ان عوامل کا ایک نمو نہ مختلف سیاروں میں پایا جانے والا قوئہ جاذبہ ہے یہاں تک کہ اگر اس معین اور دقیق جاذ بہ میں کسی قسم کاخلل ایجاد ہو جائے اور ایک سیارہ اپنے مدار سے ہٹ جائے تو تمام سیاروں کا نظام در ہم بر ہم ہو جائے گااور ایک خلاف تو قع المیہ پیش آئے گا۔
جیسا کہ اشارہ ہوا، عالم اس عظمت کے ساتھ انسان کی خلقت اوراس کے کمال تک پہنچنے کا ایک مقدمہ ہے۔ اور جن کمالات تک انسان پہنچنا چاہتا ہے،اور یہ بات شائستہ ہے ایک عالم اتنی وسعت و عظمت کے ساتھ اس کی حیثیت انسان کے لئے طفیلی۔ اگر چہ تمام انسانوں میں سے بہت کم ہی لو گ ایسے ہوتے ہیں جو ان کما لات کی انتہا تک پہنچتے ہیں اور بقیہ افراد تو ان کے و جود کے سایہ میں کسی حد تک بہرہ مند ہوتے ہیں اور ان کے وجود کا دارو مدار ان نیک اور منتخب شخصیات کے و جو کے تابع ہے ۔ مثال کے طور پر پچاس کلو میٹر وسیع و عریض علاقہ پر پوری گہرئی سے چند دانے ہیر ے حاصل کر نے کے لئے و سیع پیمانے پر کھدائی کی جائے تویہاں پر اصلی مقصد ہیروں کے چند دانے حاصل کرنا ہے، اگر چہ اس کھدائی کے دوران پتھرکے کو ئلہ کا بھی استخر اج ہو تا ہے لیکن اس کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہو تی ہے۔لہٰذا ہیر وں کی کھدائی کے لئے کہ جومعدن کے استخراج کا اصلی مقصدہے دوسرے موادبھی مو جود ہو تے ہیں کہ جن کو ددسرے در جے کی اہمیت حاصل ہے ان کے علاوہ کچھ بے فائدہ چیز یں بھی ملتی ہیں جنھیں ضایعات کے طور پر دور پھینکا جاتا ہے۔
اس دنیا کی خلقت کا مقصد کچھ انوار پاک ہیں کہ ان میں بر جستہ تر ین و مشخص ترین انوار مقدس چہار دہ معصو مین علیہم السلام ہیں، اور ان کے بعد تمام انبیاء اور وہ افراد ہیں جو اپنے کمال کے درجات کے مطا بق ان میں ملحق ہو تے ہیں ۔( تقریبا ایک لاکھ چو بیس ہزار انبیاء اور اولیائے خدا ہیں۔ ان میں سے بعض انبیاء دوسرے انبیاء سے بر تر ہیںہم انکی تعداد سے بے خبر ہیں)
پس کمالات انسانی کا آخری درجہ اور مرتبہ پیغمبر اسلام صلی ا للہ علیہ و آلہ و سلم اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اہل بیت علیہم السلام کی ذات میں منحصر ہے اور ان کمالات کے ادنی مراتب ان لوگوں میں پائے جاتے ہیں جو دوسروں کے بعد بہشت میں داخل ہوں گے۔ ان افراد کے علاوہ ، دوسرے لوگ جن کے دل ایمان کے نور سے خالی ہیں، انھیں ضائعات کے مانند قہرالہی کی آگ میں جلادیا جائے گا:
( ولقد ذرانا لجهنّم کثیرا من الجن و الانس لهم قلوب لا یفقهون بها و لهم اعین لا یبصرون بها و لهم آذان لا یسمعون بها ) ...) (اعرف/ ١٧٩)
''اور یقینا ہم نے انسان و جنا ت کی ایک کثیر تعداد کو گویا جہنّم کے لئے پیدا کیا ہے کہ ان کے پاس دل ہیں مگر سمجھتے نہیں اور آنکھیں ہیں مگر دیکھتے نہیں ہیں اور کان ہیں مگر سنتے نہیں ہیں...''
جہنم میں اس دنیا کے ضائعات ہیں اور خلقت عالم کا اصلی مقصد ، پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ، فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا اور ائمہ معصومین علیہم السلام ہیں کہ عالم اپنی پوری وسعت اور عظمت کے ساتھ فضیلت و کما ل کے لحاظ سے ان میں سے کسی کے ساتھ قابل موازنہ نہیں ہے ؛ بلکہ ان کے ایک دن کی قیمت پورے اس کائنات کے برابر ہے۔ اس عالم کے اصلی وارث و ہ انسان ہیں حو سعادت پاکر خدا کا تقرّب حاصل کر چکے میں :
( ( انّ المتقین فی جناتٍ و نهرٍ فی مقعد صدقٍ عند ملیکٍ مقتدر )
(قمر٥٤و٥٥)
''بیشک صاحبان تقوی باغات او رنہروں کے در میان ہوں گے۔اس پاکیزہ مقام پر جو صاحب اقتدار بادشاہ کی بارگاہ میں ہے''
بہشت مومنین اور محبان اہل بیت کی جگہ:
ہمارا اعتقاد ہے کہ با ایمان مرنے والے بہشت میں جائیں گے؟حتی اگر ان کا ایمان سب سے ادنی درجہ کا بھی ہو اور وہ ایمان مرتے وقت کفر میں تبدیل نہ ہو اہو۔ (وہ عالم برزخ کے بعد بہشت میں داخل ہوتاہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ کمال ایمان ،اعتقاد اور محبت اہل بیت علیہم السلام کے ذریعہ حاصل ہو تا ہے چنانچہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
''...الا و من مات علی حبّ آل محمدٍ مات مومناً مستکمل الایمان، الا و من مات علی حبّ آل محمدٍ بشّره ملک الموت بالجنة... (۳)
''بیشک جو آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی محبت میں مرجائے، وہ مؤمن اور ایمانِ کامل کے ساتھ مراہے۔بیشک جو آل محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم کی محبت میں مرجائے، ملک الموت اسے بہشت کی بشارت دیتے ہیں۔''
اس لحاظ سے جو شیعہ محب اہل بیت علیہم السلام ہے اور خدا ئے متعال اور اولیائے خدا کے حکم کے مقابلہ بیں خاضع اور فرمانبردار ہے، اسے موت کی کوئی پروا نہیں ہے، کیونکہ موت مومن کے سامنے رضائے الہی تک پہنچنے کا ایک پل ہے۔
حضرت اما م حسین علیہ السلام نے عاشورا کے دن اپنے اصحاب سے مخاطب ہو کر فرمایا:
''اے شریف زادو! صبر و تحمل سے کام لو کہ موت صرف ایک پل ہے حو تمہیں سختیوں اور مشکلات سے عبور کراکے وسیع باغوں اور ابدی نعمتوں میں پہنچاتی ہے اور حقیقت میں تم میں سے کون راضی نہیں ہے جو زندان سے محل کی طرف روانہ ہو جائے؟ ''(۴)
حضرت علی علیہ السلام متقین کے لقاء اللہ کے شوق کے بارے میں فرماتے ہیں:
''اگر ان کے لئے (متقین) موت معین او رمقدر نہ کی گئی ہوتی تو ثواب کے شوق اور عذاب کے ڈر سے ان کی جان ان کے بدن میں ایک لمحہ کے لئے بھی باقی نہ رہتی''
ان کی نظروں میں پروردگار عالم عظیم ہے اس لحاظ سے دوسرے ان کی نظروں میں چھوٹے ہیں ''(۵)
ایک شخص نے جناب ابوذر سے پوچھا: ہم کیوں موت سے بیزارہیں؟ جناب ابوذر نے جواب میں فرمایا:
''لانّکم عمّرتم الدنیاوخرّبتم الآخره فتکرهون ان تنتقلوا من عمران الی خراب ..''(۶)
''چونکہ تم لوگوں نے اپنی دنیا کو آباد کیا ہے اور اپنی آخرت کو ویران کیا ہے۔اس لئے آبادی سے ویرانی کی طرف منتقل ہونے کے لئے راضی نہیں ہو۔''
افراد اپنے ایمان و اعمال کے مرا تب کے مطابق بہشت سے بہرہ مند ہوتے ہیں: کچھ لوگ مرنے کے بعد برزخی بہشت میں داخل ہوتے ہیں اور اس کے بعد قیامت کے دن بہشت میں جاتے ہیں۔ لیکن جو لوگ گناہ گار تھے،مگر یہ کہ ان کے وجود میں ایمان کا ایک ضعیف روشن تھا، و ہ عذاب الہی میں گرفتار ہونے کے بعد اور ممکن ہے برسوںتک عذاب برداشت کریں اور گناہوںسے پاک ہونے کے بعد بہشت میں داخل ہوں گے۔ان کی مثال اس سونے کی سی ہے جسے بھٹی میں ڈال دیاجاتاہے تا کہ آلود ہ اور غیر خالص مادہ اس سے دور ہو جائے اور خالص سونے میں تبدیل ہو جائے۔یقینا یہ لوگ بہشت کے مالک نہیں ہیں، بلکہ یہ ایسے مہمان ہیں جو بہشت کے اصلی مالکوں کی شفاعت اور خدائے متعال کے لطف و کرم سے بہشت میں پہنچے ہیں.
١۔ صاحبان بہشت:
بہشت کے اصلی مالکوں کا خدائے متعال نے یوں تعارف کرایا ہے :
( ومن یطع الله و الرّسول فاولئک مع الذین انعم الله علیهم من النبيّین و الصّدیقین و الشّهداء و الصّالحین و حسن اولئک رفیقا ) (نسائ٦٩)
''اور جو بھی اللہ اور رسول کی اطاعت کرے گاوہ ان لوگوں کے ساتھ رہے گا، جن پر خدانے نعمتیں نازل کی ہیں انبیائ، صدیقین، شہداء اور صالحین اور یہی بہترین رفقاء ہیں۔''
یہ آیۂ مبارکہ بہشت کے اصلی مالک کی حیثیت سے چار گروہ کا تعارف کراتی ہے اور دوسرے افرادان کی پیروی اور شفاعت سے بہشت میں داخل ہوتے ہیں اور حقیقت میں وہ لوگ میزبان اور صاحب خانہ ہیں اور دوسرے مہمان۔ صاحبانِ بہشت، یعنی انبیاء ، صدیقین، شہداء اور صالحین وہ لوگ ہیں جن پر خدائے متعال نے اپنی نعمتیں تمام کی ہیں اور ہمیں حکم دیاہے کہ ہم ہر روز نماز میں خداسے دعا کریں کہ ہمیں ان کی راہ کی طرف ہدایت فرمائے:
( اهدنا الصّراط المستقیم صراط الّذین انعمت علیهم ) )
قابل ذکر بات یہ ہے کہ مذکور ہ آیۂ مبارکہ میں ،شہد اء سے مراد قیا مت کے دن بندوں کے اعمال پر گواہی دینے والے ہیں کہ ان کا مقام دیگر شہداء سے بلند ہے۔ چنانچہ علا مہ طبا طبا ئی ر حمة ا للہ علیہ فر ما تے ہیں:
'' شہاد ت کا مقصود( بعض آ یتوں میں ) لو گوں کے اعمال پر شہادت ہے اور اس سے مراد ان اعمال کے حقائق کو دیکھنا اور بر داشت کر ناہے جنھیں لو گ دنیا میں انجام دیتے ہیں ،خواہ وہ حقیقت سعادت ہو یاشقا وت ۔پس قیا مت کے دن شاہد اس چیزکی شہادت دیتا ہے جسے اس نے دیکھاہے جس دن خدا ئے متعال ہر چیز سے گواہی لیتا ہے، حتی بدن کے اعضا سے بھی شہا دت لیتا ہے، جس دن پیغمبر اسلام صلی ا للہ علیہ و آلہ و سلم فر ماتے ہیں :
(.( یا رب ان قو می اتّخذوا هذاالقرآن مهجو را ) (فرقا ن٣٠)
''پر ور دگارا:میری قوم نے قر آن مجیدکو چھوڑ دیا ہے''
و اضح رہے کہ اس قسم کا عظیم مرتبہ پو ری امت کی شان میں نہیں ہو سکتا ہے ،چوں کہ یہ ایک خاص فضیلت ہے جوخدا کے او لیائے طا ہرین کے لائق ہے کم ترین مقام جو یہ گواہ ( اعمال کے شاہد) ر کھتے ہیں ، وہ یہ ہے کہ وہ خدا کی و لا یت کے تحت اور اس کی نعمت کے سایہ میں پلتے ہیں اور اصحاب صراط مستقیم ہیں۔(۷)
پس ہم نے یہ نتیجہ اخذ کیاکہ خدا کے بر ترین بندے اور وہ جن کے حق میں خدا ئے متعال نے اپنی نعمتیں تمام کیں اور انھیں صاحبان بہشت قراردیا، انبیائ،صدیقین،شہداء اور صالحین ہیں ۔ دوسرے بندے ان چار گرو ہوں کی پیر وی اور و ابستگی کی وجہ سے بہشت میں داخل ہوں گے البتہ جو لوگ خدا کے نیک و صالح بندوںسے رابطہ کی وجہ سے سعاد ت و بہشت تک پہنچتے ہیں وہ مراتب کے لحاظ سے ایک دوسرے سے متفاوت ہیںاور سب ایک مرتبہ میں نہیں ہیں، یہاں تک کہ خود وہ چار گروہ مراتبکے لحاظ سے یکساں نہیں ہیں اور بعض کو بعض دو سروں پرفوقیت و بر تر ی حاصل ہے۔
الف: انبیاء اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مقام:
فرمان الٰہی کے مطا بق انبیاء دوسرے لو گوںپر بر تری رکھتے ہیں۔
(( ان اللّٰه اصطفی آدم و نوحا و آل ابراهیم و آل عمران علی العالمین ) ( آل عمران٣٣)
'' اللہ نے آدم ، نو ح اور آل ابراھیم اور آل عمران کو دنیا کے لوگو ں پر بر تری بخشی ہے''
اس کے علاوہ بعض پیغمبر دوسرے پیغمبر وں پر بر تری رکھتے ہیں:
(( تلک الرسل فضّلنا بعضهم علی بعض ) (بقرہ٢٥٣)
'' ان رسولوں میں سے بعض کو ہم نے بعض پر بر تری دی ہے''
ایک لاکھ چو بیس ہزار انبیاء میں سے صر ف٣١٣ افراد مقام رسالت کے حامل تھے۔ اور ان میں سب رسول صاحب شریعت نہیںتھے، بلکہ صرف پانچ رسول صاحب شریعت تھے کہ جن سے یہ افراد مراد ہیں : نوح علیہ السلام، ابراہیم علیہ ا لسلام ، موسی علیہ ا لسلام، عیسیٰ علیہ ا لسلام ، اور حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ۔ یہ ا ولو ا لعزم انبیاء د یگر تمام ر سولوں سے بر تر ہیں اور ہما ر ے اعتقاد کے مطا بق حضرت خاتم الا نبیاء محمد مصطفی صلی ا للہ علیہ و آلہ وسلم ان سب سے افضل و بر تر ہیں چنانچہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فر ما یا ہے :
''یا علی ان اللّٰه تبارک وتعالی فضّل ا نبیائه المر سلین علی ملائکته ا لمقربین و فضّلنی علی جمیع النبیین والمرسلین والفضل بعدی لک یا علی وللأئمة من بعدک وان الملائکة لخدّامنا وخدام محبینا ...''(۸)
'' اے علی !خدا ئے متعال نے اپنے پیغمبروں کو اپنے مقرب فر شتوں پر بر تری عنایت کی ہے اور مجھے تمام انبیاء اور پیغمبر وں پر فوقیت و بر تری دی ہے اور میرے بعد بر تری کے مستحق تم اور تمھارے بعدآنے والے ائمہ ہیں ، بیشک فر شتے ہما رے اور ہمار ے دوستو ں کے خدمت گزار ہیں ''
ثا بت ہوا کہ انسان کی خلقت کا اصلی مقصد خدا کے منتخب بندے ہیں اور چونکہ عام افراد انسانی کمالات میں ایک دوسرے سے متفاوت ہیں ، انبیاء و صالحین او ر خدا کے دوستوں میں بھی کمالات انسانی کے لحاظ سے فرق ہے اور ان کے مراتب اور درجات میں اختلاف ہمارے لئے قابل درک نہیں ہے او رصرف خدا ان سے آگاہ ہے۔
انبیائے الہی اور اولیائے خدا حتی ایک پلک جھپکانے کے برابر بھی شرک و گناہ میں آلودہ نہیں ہوئے ہیں، یہاں شرک بہ معنی حقیقی ہے یعنی غیر خدا کی طرف لو لگانا بت پرستوں کے شرک کی تو بات ہی نہیںہے،ان کا مقصود و مطلوب خدائے متعال ہوتا ہے اور اس کے علاوہ ان کا کوئی مقصود و مطلوب نہیںہوتا۔اگر وہ کبھی غیر خدا کی طرف توجہ کرتے ہیں تو فریضہ اور خدا کی اطاعت کے طور پر ہے کہ ان سے خدانے یہ چاہا ہے کہ اس کے دوسرے بندوں سے غافل نہ رہیں او ر اپنے اصلی مقصد تک پہنچنے کے لئے اپنے مادی وسائل سے فائدہ اٹھائیں ورنہ ان کا مقصد صرف خدا ہے اور بس.
ہم انبیائے کرام کے اعلیٰ مدارج اور بلند مراتب کے بارے میں صرف ایک ضعیف تصور رکھتے ہیں اور ان کی گہرائیوں تک نہیں پہنچ سکتے ، بلکہ اگر ہم ان کے مقام کی کیفیت کے بارے میں فکر کریں تو ہماری عقل حیران ہوجاتی ہے۔ ان کے مقام و منزلت کے بارے میں صرف وہ اور ان کاخدا واقف ہے اور دوسرے ان کے انسانی مرتبہ اور مقام و منزلت کی معرفت حاصل کرنے سے عاجز ہیں :
( فلا تعلم نفس ما اخفی لهم من قرّه اعینٍ جزاء بماکانوا یعملون ) (سجدہ ١٧)
''پس کسی نفس کو نہیں معلوم ہے کہ اس کے لئے کیا کیاخنکی چشم کاسامان چھپا کر رکھاگیاہے جوان کے اعمال کی جزا ہے.''
ب۔صالحین کا مقام:
منجملہ انسانی عالی مراتب، جن کی طرف اشارہ ہوا، صالحین کامرتبہ ہے کہ ان کے بلندمرتبہ اور عظمت و منزلت کے بارے میں خدائے متعال حضرت موسی علیہ السلام کی زبانی فرماتاہے:
( رب هب لی حکما و الحقنی بالصالحین ) (شعرائ٨٣)
''خدایا !مجھے علم وحکمت عطا فرمااور مجھے صالحین کے ساتھ ملحق کردے۔''
ایک دوسری جگہ پر فرماتاہے:
( ووهبنا له اسحاق و یعقوب نافلة و کلّا جعلنا صالحین ) (انبیاء ٧٢)
''اور پھرابراہیم کو اسحاق اور ان کے بعد یعقوب عطاکئے اور سب کو صالح اور نیک کردارقرار دیا''.
ج۔ صدیقین کا مقام:
ایک او ربلند انسانی مرتبہ، صدیقین کا مرتبہ ہے کلمۂ ''صدیقین'' جیسے کہ خود کلمہ دلالت کرتاہے کہ ''صدق '' کا مبالغہ ہے، یعنی وہ جو بہت زیادہ سچے ہیں۔حقیقت میں صدق صرف زبانی نہیںہے: اس کے مصادیق میں سے ایک انسان کی گفتگو ہے جو وہ بولتا ہے، اس کا دوسرا مصداق عمل ہے، کہ اگر عمل بات اور دعوی کے مطابق ہے، تو صادق ہے۔ چونکہ انسان کا عمل اس کے اندرونی اعتقاد کی حکایت کرتاہے اور انسان اس حکایت میں اس وقت صادق ہے جب وہ مافی الضمیرکو مکمل طور پر حکایت کرے او راس میں سے کوئی چیز باقی نہ رکھے، ایسا عمل صحیح اور صادق ہے۔اس کے مقابلہ میں اگر ما فی الضمیرکی حکایت نہ کرے یا صحیح اور مکمل طور پر حکایت نہ کرے ، تو وہ عمل غیر صادق ہے۔
سچ بات بھی وہ بات ہے جو واقع اور خارج کے ساتھ مطابقت رکھے، چونکہ بات کرنا بھی ایک فعل ہے، قہری و فطری طور پر جو اپنے فعل میں صادق ہے وہ اس وقت تک بات نہیں کرے گاجب تک کہ اس کے سچ ہونے کے بارے میں علم نہ ہو جائے اور یہ بھی جانتا ہو کہ وہ بات کہنا مناسب اور بجا ہے اور اس کا کہنا حق ہے۔ اس بناپر ایسی بات خود اور بولنے کی صداقت کی حکایت بھی ہے اور کہنے والے کی صداقت کی حکایت بھی ۔
پس صدیق وہ ہے جو کبھی اور کسی صورت میں جھوٹ نہیں بولتا ہے اور جس کام کے حق ہونے کے بارے میں نہیں جانتاہے اسے انجام نہیں دیتا ہے خواہ، وہ کام کتنا ہی اس کے نفسانی خواہشات کے مطابق کیوں نہ ہو، اسی طرح جس بات کے سچ ہونے کے بارے میں نہیں جانتا، اسے نہیں کہتا ہے اور جو کام عبودیت کے ساتھ سازگار نہیں ہے، اسے انجام نہیں دیتا ہے۔
حضرت علی علیہ السلام اپنی توصیف میں فرماتے ہیں:
''...وانی لمن قوم لا تاخذهم فی اللّٰه لومة لائم،سیماهم سیما الصدیقین وکلامهم کلام الابرار'' (۹)
''میں ان لوگوں میں سے ہوں جو را ہ خدا میں سرزنش و ملامت کرنے والوںسے باز نہیں آتے ہیں ۔ان کی نشانیاں سچّوں کی نشانیاں ہیں اور ان کی باتیں سچے کر دار والوں کی باتیںہیں''
صدیقین کا مقام ایک ایسا مقام ہے کہ جب خداوند متعال اپنے بعض پیغمبروں کے مقام کی توصیف کرنا چاہتا ہے تو فرماتاہے:
( واذکر فی الکتاب ابراهیم انّه کان صدّیقا نبيّا ) (مریم ٤١)
''اور کتاب خدا میں ابراھیم کا تذکرہ کرو کہ وہ ایک صدیق پیغمبر تھے۔''
یا حضرت عیسی علیہ السلام کی والدہ حضرت مریم کے بارے میں فرماتا ہے:
( و امّه صدّیقه ) (مائدہ٧٥)
البتہ ہمیں کوئی طمع نہیں ہے کہ صدیقین یا صالحین کے جیسے مقام تک پہنچ جائیں، لیکن انسان کی کوشش کسی بھی حالت میں پست نہیں ہونی چاہئے۔اس اپنی استعداد وں اور توانائیوں کے مطابق کوشش کرنی چاہئے اور برتر مراتب تک پہنچنے کے لئے سعی کرے۔اسے ان مراحل تک پہنچنے کی کوشش کرنی چاہئے ، جن تک غیر معصوم انسان پہنچ سکتے ہیں ،علما ء کے درمیان ایسے بزرگ بھی گز رے ہیں جو انسانی مرا حل کے اعلی مقام تک پہنچے تھے ، ہم نے ان میں سے بعض کو دیکھا ہے اوران سے واقف ہیں اور کتنے ایسے بزر گوار ہیں جو تکامل کے اس مر حلے تک پہنچے ہیں جو خاصان خدا سے مخصوص ہے اور ہم ان کے بارے میں خبر نہیں رکھتے ہیں۔ یقینا ایسے بلند وبالا مقامات عالی ہمت اورپیہم کوششوں کے نتیجہ میں حاصل ہو تے ہیں جیسے شا عر کہتا ہیں:
ہمت بلنددارکہ مر دان روز گار
از ہمت بلند بہ جائی رسیدہ اند
( اپنی ہمت کو بلند کر وکہ مردان روز گار بلند ہمت سے ہی عالی مقامات تک پہنچے ہیں)
ایک دوسرا شاعر کہتا ہے:
ہمت اگر سلسلہ جنیان شود
مور تواند کہ سلیمان شود
اگر ہمت اور حوصلہ کو بہ روئے کار لایا جائے تو ایک چونٹی بھی سلیمان ہو سکتی ہے۔
خدا کے منتخب بندوںکے لئے عصمت کاایک خاص درجہ:
خدائے متعال نے انسان کی تکامل و ترقی اور بالیدگی کی راہ میں کو ئی رکا و ٹ قرار نہیں دی ہے۔ اگر انسان ہمت کرے تو وہ مقام صالحین جیسے بلند مقامات تک پہنچ سکتا ہے ، اگر چہ وہ معصوم نہیں ہو سکتا صدیقین اور صالحین کا مقام معصومین کے مقام سے پست تر ہے ۔ اس لحاظ سے ہر انسان ان مقامات تک پہنچ سکتا ہے۔ہر انسان اپنی پوری عمر میں گناہ نہیں کر سکتا ہے اور حقیقت میں جو شخص چاہتا ہے کہ گناہ میں آلودہ نہ ہو اور اپنی نفسانی خواہشات پر کنٹرول رکھے اور صرف خدا کی خو شنودی کیلئے اپنے آپ کووقف کر دے، تو وہ عمل میں معصوم ہے، اگر چہ معصوم کی اصطلاح اس پر صادق نہیں آ تی ہے۔اس مطلب کی وضاحت میں کہنا چاہئے:
لغت میں (( عصمت)) روکنے اور رکاوٹ بننے کے معنی میں ہے اور اصطلاح میں ایک نفسانی ملکہ کو کہتے ہیں جوانسان کو گناہ حتی خطا و اشتباہ سے محفوظ رکھے ۔اب کیا یہ ملکہ ما نع ہے اور اسی لئے اسے ملکہ''عصمت'' کہتے ہیں، یا یہ کہ خدا ئے متعال اس انسان کو گناہ، خطا و اشتباہ سے روکتا ہے جس میں یہ ملکہ پایا جاتا ہے فی ا لجملہ دونوں معنی صحیح ہیں ،خواہ ہم یہ کہیں کہ معصوم وہ ہے جو ایسا ملکہ رکھتا ہے اور وہ ملکہ اسے خطا اور گناہ سیمحفوظہے ، یا یہ کہیں کہ معصوم وہ شخص ہے کہ اللہ تعالی اسے گناہ اور اشتباہ سے روکتا ہے،توہم نے خطانہیں کی ہے کیونکہ خدائے متعال بھی اسی ملکہ کے ذریعہ اس کا تحفظ کرتا ہے۔پس معصوم وہ ہے جوخطا وگناہ سے پاک ہو یا صرف گناہ سے محفو ظ ہو۔
عصمت کی قسمیں :
١۔ گناہ سے عصمت: یعنی معصوم وہ ہے جو اختیار و قصدسے کسی گناہ کا مر تکب نہ ہو جائے۔
٢۔ خطا و اشتباہ سے عصمت: یعنی معصوم وہ ہے جو گناہ کو ترک کر نے کے علا وہ خطا و اشتباہ سے بھی پر ہیز کر ے ،عصمت کی پہلی قسم ، مقام عمل میں عصمت ہے،لیکن عصمت کی دوسری قسم، عمل اور غیر عمل دونوں کو شامل ہے، یعنی مقام ادراک اور تشخیص میں بھی معصوم ہے ، چو نکہ دو سری قسم کا معصوم وہ ہے کہ نہ صرف مقام عمل میں گناہ نہیں کر تا ہے، بلکہ تشخیص میں بھی خطا سے دو چار نہیں ہوتاہے۔ یعنی صحیح سمجھ بھی سکتے ہیں صحیح بیان بھی کر تے ہیں اور صحیح عمل بھی کر تے ہیں ۔
علا مہ طباطبائی ر حمة اللہ علیہ انبیاء اور ا ئمہ معصو مین کی عصمت کے بارے میں فر ما تے ہیں:
قر آن مجید صراحت کے ساتھ فر ما تا ہے کہ خدائے متعال نے انھیں اپنے لئے منتخب کیا ہے اور اپنے لئے خالص قرار دیا ہے، جیسے کہ فرماتا ہے:
(( و من ء آبائهم و ذریا تهم و اخوانهم و اجتبیناهم و هدیناهم الی صراط مستقیم ) ( انعام٨٧)
''اور پھر ان کے باپ دادا، اولاد اور برادری میں سے اور خود ا نھیں بھی منتخب کیا ور سب کو سیدھے راستہ کی ہدا یت کر دی ''
خدا ئے متعال نے انھیں علم میں سے وہ مرحلہ عطا کیا ہے جو عصمت کا ملکہ ہے اور وہ انھیں گناہ کے ارتکاب اور جرائم سے روکتا ہے۔ اس ملکہ کے ہوتے ہوئے ان سے گناہ کا ( حتی گناہ صغیرہ) سر زد ہو نا محال ہوتا ہے ۔ اگر چہ عصمت،اورعد الت کے دونوں ملکہ گناہ کے مر تکب ہو نے سے مانع ہوتے ہیں ، لیکن ان میں یہ فر ق ہے کہ عصمت کے ملکہ ساتھ گناہ کا سر زد ہو ناممتنع ہو تاہے، لیکن عدالت کے ملکہ ساتھ گناہ کا سرزد ممتنع نہیں ہو تا ہے۔
مزید فرماتا ہے:
''عصمت''کا ملکہ سے سے نہ صرف یہ کہ اس کا اثر کو نہیں بدلتا ہے بلکہ اس کا اثر قطعی اور دائمی ہے ، اسی کے ساتھ طبیعت انسانی کو کہ وہی اپنے ارادی افعال میں مختار ہو ناہے تغیر دئیے بغیر اسے عصمت کے لئے مجبور ومضطرب نہیں کیا جاسکتا۔ اسے کیسے مجبور کر سکتاہے،جبکہ علم خود اختیارات کا مقدمہ ہے اور علم کا قوی ہونا ارادہ کے قوی ہونے کا سبب ہو تا ہے ، مثلا جو تندرستی کاطالب ہے، اگر یقین پیدا کر لے کہ فلاں چیز زہر قاتل فوری ہے، بلکہ یقین اسے مجبور کر دیتا ہے کہ اپنے کو ارادہ و اختیار کے ساتھ اس زہر یلے سیال مادہ کو پینے سے روک لے۔(۱۰)
مذ کورہ مطالب کے پیش نظر ، حتی بعض افراد جیسے حضرت ابو الفضل العباس علیہ السلام اور حضرت علی اکبر علیہ ا لسلام اور بہت سے امام زادے دوسری قسم کی عصمت جو بعض انبیاء ، ائمہ معصو مین اور حضرت زہرا سلام اللہ علیہا سے مخصوص ہے کے مالک نہیں ہیں، جبکہ وہ اپنی پوری زندگی میں مر تکب گناہ نہیں ہو ئے ہیں ۔ البتہ اس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہے کہ ان بزر گوںکا مقام دوسرے لو گوں سے بدرجہ ہا بلند ہے اور وہ ایک قسم کے مقام عصمت کے مالک ہیں، البتہ جو عصمت بعض انبیاء اور ائمہ کے لئے مخصوص ہے ، اس کے یہ مالک نہیں ہیں۔
نتیجہ نکلا کہ انسان گناہ سے عملی عصمت کا مالک ہو سکتا ہے اور عملا گناہ نہ کر ے اور اگر بلند ہمت رکھتا ہے اور تز کیہ نفس اور نفسانی خواہشات کو کچل کر خدائے متعال سے اپنے رابطہ کو مستحکم کرلے تو وہ صدیقین کے مقام تک پہنچ سکتا ہے۔لہذا ہمیں معنوی کمالات تک پہنچنے کے لئے اپنے قدم آگے بڑھانا چاہئے اورخودکوصدیق یا صالح بننے کی تلقین کرنا چاہئے۔ بیشک اگر انسان کو شش کرے اور ضروری ظرفیت اور کما حقہ تمام شائستگی کو کسب کرے، تو خدائے متعال ایسے مقامات عطاکرنے میں بخل نہیں کرتاہے ۔ بنیادی طو ر پر خود خدائے متعال نے انسان کی ہمت افزائی کی ہے کہ وہ بلند مقام تک پہنچے اور اسلام نے مو من کو بلند ہمتی کی دعوت دی ہے اور خدائے متعال چاہتا ہے کہ مو من کے حوصلے بلند ہوں اور وہ تھوڑے پر مطمئن اور قانع نہ ہوجائے ، انبیاء کے مقام پر نظر رکھے اور کو شش کرے کہ ان کی پیروی۔
اگر ہم انبیاء کے درجہ اور مقام عصمت تک نہیں پہنچ سکتے ،لیکن صدیق اور صالح بن سکتے ہیں، کیونکہ انبیاء اور ائمہ معصو مین کی خصوصی عصمت کے لئے ان دونوں چیزوں کی شرط نہیں ہے۔ چنانچہ ہم نے اس سے پہلے بھی کہا ''صدیق یعنی'' سچ بولنے اور راست گفتاری میں مبالغہ ہے، یعنی جو اپنی زندگی میں جھوٹ کو اپنے نزدیک آنے کی اجازت نہ دے،نہ اپنے گفتار میں ،نہ کردار میں اور نہ اپنی سوچ میں حتی غلط فکر اوربرا تصور بھی نہیں کرتا ہے ۔
ایمان میں صداقت کی اہمیت اوراس تک پہنچنے کا راستہ:
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سچائی وصداقت کی قدر و قیمت کے بارے میں فرماتے ہیں:
''ان ا لصدق یهدی الی البروالبر یهدی الی الجنة و ان الرجل لیصدق حتی یکتب عندالله صدیقا'' (۱۱)
'' صدق ،نیکی کے لئے راہنما ہے اور نیکی بہشت کے لئے، اور مرد سچ نہیں کہتاہے مگر یہ کہ خدا کے نزدیک صدیق کی حیثیت سے پہچا ناجائے''
شایدہم بولنے فکر کرنے اور رفتار وکردار میں صداقت پیدا کرنے کومشکل نہ سمجھیں او راپنی جگہ یہ تصور کریں کہ ایسا ممکن ہے کہ ہم جھوٹ نہ بولیں ، برُی فکر کو اپنے ذہن میں پلنے نہ دیں اورناشائستہ رفتار سے پر ہیز کر یں،لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ کام بہت مشکل ہے ۔ ہم سب دعوی کر تے ہیں کہ خدا پر ایمان رکھتے ہیں اور ہمیشہ خدا کو حاضر وناظر جانتے ہیں ،لیکن کیا ہماری رفتار و گفتار ہمارے ایسے دعوی کی تائید کرتی ہیں؟
ہم بعض اوقات تنہائی میں ایسے کام انجام دیتے ہیںکہ ا گر ایک چھوٹا بچہ ہمارے پاس ہو تا تو ہم شرم کے مارے ڈوب مرتے اور وہ کام انجام نہ دیتے،اب ہم کیسے اعتقاد رکھتے ہیں کہ خدا حاضرو ناظر ہے جبکہ ہم برے کام انجام دیتے ہیں!حقیقت میں ہم خدائے متعال کو ایک بچے سے بھی کم تر جانتے ہیںاور اپنے اعتقاد میں صادق نہیںہیں بلکہ ہمارے اعتقاد میں جھوٹ اور کذب کا شائبہ پایا جاتا ہے ۔ہم اعتقاد رکھتے ہیں کہ اگر انسان اپنی عمر کو خدا کی اطا عت میں صرف کرے ، تو خدا ئے متعال اس کی عمر کے ہر لمحہ کے مقا بلہ میں اسے ایسی جزا دیتا ہے کہ اس کی قیمت پوری دنیا اورجو کچھ اس میں موجود ہے ، کے برابر ہے ،لیکن کیا ہم اس اعتقاد اور باور میں صادق ہیں ؟کیا ہماری رفتار اس اعتقاد کی تصدیق کر تی ہے؟
اگر کسی کے پاس سو نے سے بھری ایک چھوٹی سی تھیلی ہو، کیا وہ اسے بیہودہ طور پر کنویں میں ڈ ال دے گا؟ کیا کو ئی عاقل انسان ایسا کر سکتا ہے ؟یا یہ کہ اگر سونے کا ایک سکہ بھی اس کے پاس ہوتو اسے ایک محفوظ جگہ پر چھپا ئے رکھتا ہے تاکہ گم نہ ہوجائے یا چو ری نہ ہوجائے؟پس انسان کبھی اپنے مادی سر مایہ اور دولت کو بیہودہ طور پر ضائع نہیںکرتا ہے ،کیو نکہ اس کام کو وہ معقول تصور نہیں کرتا ہے۔ اب ہم اگر یقین کر تے ہیں کہ ہماری عمر کا ہر لمحہ ہیرے سے گراں قیمت ہے کیا ہم حاضر ہیں اسے مفت میں کھو دیں ؟ کیا ہم اس فکر میں ہیں کہ گناہ نہ کریں ، کیا ہم اپنی عمر کو بیہو دگی اور لغو کے عالم میں ضائع نہیں کر تے؟
اگر ہم حقیقت میں اعتقاد رکھتے کہ ہماری عمر کے ہر لمحہ کے بدلے میں پو ری دنیا سے زیادہ جزا ملنے والا ہے ، تو ہم ہر گز اسے مفت میں ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، کیو نکہ ہم مال دنیاکو مفت میں ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ہیں۔ اگر ہم سو رو پیہ کھو دیں تو پریشانی کے عالم میں ہما رے ہوش اڑ جاتے ہیں حتی ہم نماز پڑھتے وقت بھی انھیں پانے کی فکر میں ہو تے ہیں
( عام طور پر بعض لوگ نماز میں اپنی گم شدہ چیز وں کے تصور میں کھوئے رہتے ہیں اور جو چیزبھول گئے ہیں نماز میں وہ انھیں یاد آتی ہے)
اگر انسان محنت اور کو شش کے نتیجہ میں کو ئی دولت کمائے ،تو وہ کبھی حاضر نہیں ہوتا ہے کہ اسے آسانی کے ساتھ کسی کو بخش دے اور وہ اس کی قدر کو جانتا ہے ،کیو نکہ اس نے اسے حاصل کر نے میں کافی محنت کی ہے ،لیکن یہ ممکن ہے کہ معمولی سے نقصان کا احساس کئے بغیر انسان اپنی عمر کے بہت سے گھنٹوںکو باطل راستہ پر صرف کرے ۔دوسرے الفاظ میں ممکن ہے انسان مال خرچ کر نے میں بخیل ہولیکن اپنی عمرکو صرف کر نے میں بخیل نہ ہو، با وجود یکہ مال کی قیمت کا عمر کی قیمت سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ پس ہم آخرت اور اخروی ثواب کے بارے میں جو ہماری عمر کے ہر لمحہ کے لئے موجود ہے۔ اس دعوے اور ایمان میں صادق نہیں ہیں، ورنہ اگر ہم سچا ایمان رکھتے،تو اپنی عمر کو بیہودہ طور پر نہ گزار تے، اسے گناہ کی راہ میں صرف کر نے کی بات ہی نہیں۔ حقیقت میں ہماری زندگی ان جھو ٹے دعووںکے ساتھ آمیختہ ہے۔ اگر خدا نخواستہ ہماری رفتار اور گفتار میں بھی جھوٹ سرایت کرجائے تو یہ ہمارے لئے بدتر مصیبت ہو گی۔
خدائے متعال قرآن مجید میں فرماتا ہے:
(( وما یؤمن اکثر هم با ﷲ الا و هم مشر کو ن ) (یوسف/١٠٦)
'' خدا پر ایمان کا ادعوی ٰکر نے والے اکثر مشرک ہیں ''
شائد خدائے متعال اس آیت کے ذریعہ ہمیں یہ نکتہ سمجھنا چاہتا ہے کہ بہت سے مومنوں کا ایمان شرک کے ساتھ آمیختہ ہے اور خالص نہیںہے ، اگر کسی کا صرف ایک معبود ہو تا اور وہ مشرک نہ ہوتا تو اس کے اندر لالچ ،مقام پرستی خلاصہ یہ کہ دنیا پرستی کے لئے کوئی جگہ نہ ہوتی ۔ ان رجحانات کا وجود اور باطل سے دل لگی اس بات کی علامت ہے کہ اس کے کئی معبود ہیں نہ کہ ایک معبود:
( افر ٔ یت من اتخذالٰهه هواه واضلّه اللّٰه علی علم وختم علی سمعه وقلبه وجعل علی بصره غشاوة فمن یهدیه من بعدالله افلا تذکرون ) (جاثیہ٢٣)
کیا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا ہے جس نے اپنی خواہش ہی کو خدا بنا لیا ہے اور خدا نے ایسی حالت کو دیکھ کر اسے گمراہی میں چھوڑ دیا ہے اور اس کے کان اور دل پر مہر لگادی ہے اوراس کی آنکھ پر پردے پڑے ہوئے ہیں اور خدا کے بعد کون ہدایت کر سکتا ہے کیا تم اتنا بھی غور نہیں کر تے ہو؟
جی ہاں، جن لو گوں میں نفسا نی خواہشا ت ہیں اور انہوں نے ان نفسانی خواہشات کو اپنا معبود قرار دیا ہے وہ مشرک ہیں ۔ حقیقت میں چو نکہ ان کا ایمان نفسانی خواہشات کے ساتھ آلودہ ہے اور خالص نہیں ہے، اس لئے وہ شرک میں آلودہ ہیں، البتہ شرک میں آلودہ ہوئے ایمان سب ایک حد میں نہیں ہو تے۔ بعض اوقات ٩٩فی صد ایمان٥فی صد شرک سے آلودہ ہوتاہے اور کبھی شرک یہا ں تک بڑھتا ہے کہ خدا پر ایمان ہی مکمل طور پر نا بود ہو جاتا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہم گناہ میں آلودہ ہیں۔لیکن کیا وہ شخص جس نے سالہا سال تک اپنی عمر کو گناہ اور بیہودگیوں میں صرف کیا ہے،فیصلہ کر سکتا ہے کہ گناہ سے پر ہیز کرے اور اپنے ایمان و اعتقاد میں صادق ہو جائے اور حقیقت میں وہ صدیق بن سکتا ہے یانہیں؟ یقینا یہ امر ممکن ہے، حتی ساٹھ سال عمر کے گزر نے کے بعد بھی انسان مصمم ارادہ کرسکتا ہے کہ صدیق بن جا ئے، اس شرط پر کہ اپنے گذشتہ کے بارے میں تو بہ کرے اورمصمم ارادہ کر ے کہ اپنی باقی عمرکو خدا کی اطاعت میں گزارے ،اور ایسی رفتار کرے جسے خدا پسند کرتا ہے۔ اس کا سونا ،بیداری، اٹھنا،بیٹھنا، معاشرت کرنا گھرمیں بر تائو اور لوگوں کے ساتھ بر تائو سب خدا کے لئے ہو ۔یہ امر ممکن ہے ،لیکن مختصر وقت میں حاصل نہیں ہو سکتا اور مختصر زمانے میں انسان صدیق نہیں بن سکتا ہے۔
''صدق''ایک ایسا ملکہ ہے جو انسان میں طولانی اور مسلسل سعی وکوشش کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے ۔ جو ساٹھ سال گناہ کر نے کے بعد صدیق بننے کا مصمم ارادہ کرے، اسے اس قدر کو شش کر نی چاہئے کہ ملکۂ '' صدق'' اس معنی میں اس میں پیدا ہو جائے،جسے ہم نے دقیق طور پر بیان کیا۔ اب ممکن ہے کوئی شخص دو سال تک مسلسل مشق اور ریاضت کے نتیجہ میں وہ ملکہ حاصل کرلے ،اس صورت جب وہ صدیق بن جاتا ہے، تو اس کا مرتبہ اس شخص کے مر تبہ سے دگنا ہے جس نے مقا م صدق تک پہنچنے کے لئے ایک سال کو شش کی ہے اور اس کا اجر و ثواب بھی اس سے زیادہ ہو گا ۔ اسی طرح اگر اس مقام تک پہنچنے کے لئے مزید بر سوں تک کوشش کرے تو اس کا مر تبہ بلند تر ہو گا۔ کتنا بہتر ہو تا انسان بالغ ہونے کے و قت سے ہی خدا کا بند ہ ہو نے کے لئے مصمم ارادہ کرتا !حقیقی معنوں میں خدا کی راہ کے علاوہ کسی اور راہ پر قدم نہ رکھتا اور خدا کی فکر کے علاوہ کسی اور فکر کو اپنے دماغ میں جگہ نہ دیتا حتی گناہ کا خیال تک نہ کر تا۔
ہما رے لئے یہ باور کرنا بہت مشکل ہے کہ انسان ایک ایسے مقام تک پہنچ جائے کہ حتی گناہ کا تصور بھی نہ کرے ، لیکن ہمارے علماء میں ایسے افراد گزرے ہیں جو اس مقام تک پہنچے تھے۔
نقل کیا گیا ہے کہ مرحوم سید ر ضی اور سید مر تضی رحمةاللہ علیہمانماز جماعت پڑھنا چاہتے تھے ۔ سید مر تضی جو بڑے بھائی تھے اشارتا ًسید رضی کو یہ سمجھانا چاہتے تھے کہ اس کی عدالت میں کسی قم کا شبہ نہیں ہے اس لئے انھوں نے کہا: ہم میں سے جس نے آج تک گناہ نہیں کیا ہے وہ نما ز جما عت کی امامت کرے ۔ وہ اپنے بھا ئی کو سمجھانا چاہتے تھے کہ انھوںنے بالغ ہونے سے اس وقت تک کوئی گناہ نہیں کیا ہے! سید رضی نے جواب میں کہا: ہم میں سے اس کو نماز جما عت کی امامت کر نی چاہئے جس نے گنا ہ کا خیال بھی نہیں کیا ہو، یعنی میں نے گناہ کی فکر تک کو بھی ذہن میں جگہ نہیں دی ہے
ایک بزرگ شخص نقل کرتا تھا کہ تقریباً ساٹھ سال پہلے ، خاندان قا چار کا ایک شخص جو ایک زمانے میں عراق میں ایران کا قو نصلر (سفیر) تھا۔ جو بلند قامت تھا اور وقار کے ساتھ راہ چلتا تھا ۔
وہ چلتے وقت اس قدر وقار اور سر بلندی کے ساتھ قدم بڑھاتا تھا کہ بعض اسے متکبرسمجھتے تھے لیکن میں احساس کر تاتھا کہ اس کا ایک اور رازتھا وہ یہ کہ تواضع و انکساری میں اس متانت کا مظاہرہ کرتا تھا ۔ میں اسے نہیں جانتا تھا، یہاں تک اس نے مر تے وقت دو مرا جع کو اپنا وصی قرار دینا چاہا۔ اس نے سکرات الموت اور احتضار کی حالت میں ان دو مرا جع کے محضر میں کہا تھا:خداوندا! تو شاہد ہے کہ میں نے بالغ ہو نے کے دن سے آج تک جان بو جھ کر اور عمداً کوئی گناہ نہیں کیا ہے! جب کہ اس حال میں کہ سب اپنے گناہوں کا اعتراف کر تے ہیں،لیکن و ہ شخص دو مراجع کے محضر میں کہتا ہے کہ بالغ ہونے سے اس وقت تک میں نے کوئی گناہ نہیں کیا ہے ۔ وہ بزرگ عالم کہتے تھے:میں نے جب وہ روداد سنیتومجھے یہ فکر لاحق ہوئی کہ میں اس راز اور حقیقت سے آگاہ ہوجائوںکہ تو میں نے اس کے دعوی کوسچا پایا۔ شاید وہ بزرگ عالم اس کے باطن کو دیکھ رہے تھے ،کیونکہ بعض اولیائے الٰہی افراد کے باطن کے بارے میں خبر رکھتے ہیں۔
ایسا شخص جو جوانی کی ابتدا سے گناہ کا مر تکب نہ ہواور صرف خدا پر نظر رکھتا ہو فرائض اور تکالیف الٰہی کو انجام دینے کی فکر میں ہو،یقینا وہ صدیقین کے مقام سے دور نہیں رہے گا۔
____________________
١۔المیزان د ار الکتب لاسلامیہ ، طبع سوم ج ١٣، ص ١٦٥
۲۔ہا تف اصفہانی کے اشعار
۳۔بحار الانوار ،ج ٢٣، ص ٢٣٣
۴۔ شیخ صدوق ، معانی الاخبار ، ص ٢٨٩
۵۔نہج البلاغہ (ترجمہ فیض الاسلام ) ،ج ١٨٤، ص ٦١٢
۶ ۔فیض کاشانی، محجہ البیضائ، ج ٨، ص ٢٥٨
۷۔ المیزان(دارالکتاب الاسلامیہ، طبع سوم)ج١،ص ٣٢٤۔٣٢٥
۸۔ بحار الانوار ، ج ١ ، ص ٣٤٥
۹۔ نہج البلاغہ '' ترجمہ شہیدی'' خطبہ ١٩٢ص٢٢٤
۱۰-المیزان(دارالکتب الاسلا میہ ،طبع سوم)ج١١،ص١٧٧۔١٨٩
۱۱۔ فیض کاشانی،المحجة ا لبیضاء ،ج٨،ص١٤
تیسواں درس:
ذکر کی اہمیت ،تربیت ساز معاشرت اور انتخاب دوست کا معیار
* گو شہ نشینی کے فوائد
*معاشرت اور دوسروں کے ساتھ زندگی گزار نے کے فوائد
* الفت و برادری، خدا کی ایک مہر بانی
*دوست کے انتخاب کامعیار
* غا فلوں کے اجتماع میں ذکر خدا کرنے کی عظمت
* گفتگو کرنے کے بارے میں انسان کی ذمہ داری
* مومن کے ساتھکھانا کھانے کے محاسن اور فاسق کے ساتھ کھانا کھانے سے پرہیز
ذکر کی اہمیت ،تربیت ساز معاشرت اور انتخاب دوست کا معیار
'' یا اباذر:الذاکرفی الغافلین کالمقاتل فی الفارّین؛یااباذر؛ الجلیس الصالح خیرمن الوحدة والوحدةخیرمن جلیس السوء واملاء الخیر خیر من السکوت و السکوت خیر من املاء الشر''
''یا ابا ذر: لا تصاحب الا مؤمنا ولا یا کل طعا مک الا تقی ولا تاکل طعام الفاسقین؛ یااباذر؛اطعم طعامک من تحبه فی الله وکل طعام من یحبک فی الله عزوجل''
حضرت پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جناب ابوذر سے نصیحتوںکا یہ حصہ ایک دوسر ے سے میل جول اور نشست وبرخاست سے مربوط ہے ،علمائے اخلاق نے اپنی کتا بوں میں جن مسا ئل کا ذکر کیا ہے اور ان میں کم و بیش اختلاف ہے ، وہ یہ ہے کہ اسلامی اخلاق کی نظر میں میل جول اور اجتماعی ہو نا بہتر ہے یا تنہائی و گو شہ نشینی؟دو سروں سے میل جول کی اہمیت کے سلسلے میں بعض روایتں نقل ہوئی ہے کہ من جملہ حضرت محمد باقر علیہ السلام فر ماتے ہیں:
امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے احتضار اور جان کنی کے عالم میں ،اپنے بیٹوں حسن و حسین علیھماالسلام اور محمد حنفیہ نیز اپنے چھو ٹے فرزندوں کو اپنے پاس بلا کر انھیں و صیت کی اور وصیت کے آخر میں فرمایا :
''میر ے فر زندو!لو گو ں کے ساتھ ایسی معاشرت کرو کہ اگر تم ان سے دور ہو گئے تو وہ تمھیںدو بارہ دیکھنے کے لئے مشتاق رہیں اور مرجاؤ تو تم پر روئیں ''(۱)
علمائے اخلاق نے تنہائی اور گو شہ نشینی کے کچھ فوائد بیان کئے ہیں کہ ان کا ذکر لو گوں کے ساتھ میل جول اور نشست وبر خاست کرنا مطلو ب دکھا یا ہے، اس کے مقابلہ میں دوسروں کے ساتھ معا شرت کے بھی کچھ فوائد بیان کئے ہیں اور گو شہ نشینی کے کچھ نقصا نات بھی ذکر کئے ہیں۔
گو شہ نشینی کے فوائد:
گو شہ نشینی کے درج ذیل فائدے بیان کئے گئے ہیں:
الف۔ اجتماعی زندگی سے گو شہ نشینی اختیار کر نا، عبادت کے لئے فرا غت پیدا کر نے ،دنیوی و اخروی امور میں تفکر کرنے ،خدا کے ساتھ مناجات سے انس پیدا کر نے، اسرار الہی کو درک کر نے اور خدا متعال کی حیرت انگیز مخلو قات پر غور وخوض کر نے کا سبب ہے اور لوگوں کے ساتھ میل جول انسان کو بلند تو فیقات سے محروم کر دیتاہے بیان کیا گیا ہے کہ:گو شہ نشینی کے اہم تربیتی رول کی وجہ سے ہی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی رسالت کے آغاز پر تنہا کوہ حر ا میں تشریف لے جاتے تھے اور اپنے پر ور دگار سے مناجات میں مشغول ہو تے تھے اور معاشرے سے دوری اختیار فر ماتے تھے ، یہاں تک آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے قلب مبارک میں نور نبوت و رسالت روشن ہوا اور اس کے بعد لوگ آپ کو خدائے متعال سے جدا نہ کر سکے۔
آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اگر چہ جسم و بدن کے سا تھ لوگوں میں ہوا کرتے تھے ،لیکن آپ کا دل خدا کے ساتھ ہو تاتھا اورتنہائی میں خدا کی یاد اورذکر کیاکرتے تھے۔ نبوت و رسالت کی طا قت اور قرب الٰہی پر فائز ہونے کی طاقت کے بغیر انسان لوگوں کے ساتھ ظاہری میل جول اور خدا وند متعال سے مخفی تو جہ کو آپس میں جمع نہیں کر سکتا ہے۔
ب۔ لوگوں سے کنارہ کشی کرنے سے انسان بہت سے گناہوں سے بچ جاتا ہے ،خاص کر ان گناہوں سے جو غالباً لوگوں کے ساتھ میل جول کی وجہ سے ہی سر زد ہو تے ہیں ،مثال کے طور پر:
١)غیبت۔
٢)ریاکیونکہ انسان لوگوں کے ساتھ معاشرت کی وجہ سے ہی ریا اور نفاق میں مبتلا ہو تا
ہے وہ اگر لوگوں کے ساتھ نرمی نہ کرے اور انھیںبُرے کاموں اور نامناسب باتوں سے روکنا چاہے تو اسے تکلیف پہنچا تے ہیں ۔ اس کے مقا بلہ میں خاموشی اختیا ر کرے تو ریا میں مبتلا ہو تا ہے ۔
٣)۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے بارے میں خا موشی،٤۔ پست اخلاق اور ناپسند اعمال سے انسان کی طبیعت اور فطرت کو پاک نہ کرناجس کی وجہ سے انسان دنیا کی طمع میں مبتلا ہوتاہے ،جو لوگوں سے میل جول کی وجہ سے ہی انسان میں پیدا ہو تی ہے۔
فطری و طبعی بات ہے کہ جب انسان نے اپنی اصلاح نہ کی ہو اور ایک ایسے مر حلہ تک نہ پہنچاہو جہاں پر وہ اپنے نفس کو لگام دے سکے اور اسے لغزشوں سے بچا سکے تو وہ اجتماع میں گناہ کا مر تکب ہو تا ہے ، کیونکہ لوگوں سے گفتگو کر نا اور میل جول بذات خود گناہ سے آلودہ ہونے کا موقع فراہم کر تا ہے۔
ج)۔ اختلاف اور ٹکرائو سے بچنا، دین کا تحفظ اور اپنے نفس کو معاشرتی لغزشوںسے رو کنا : کیونکہ اجتماعات ،تعصبات ، عداوت اور دشمنیوں سے خالی نہیں ہیں ، اس لحاظ سے جو اجتماعات سے بچتا ہے ،وہ ان انحرافات سے محفوظ ہے۔
د)۔ لوگوں کی طرف سے پہنچنے والے نقصانات سے نجات:کبھی دوسرے لوگ غیبت کرکے انسان کو اذیت و آزار پہنچاتے ہیں اور کبھی بد ظن ہو کے ، کبھی تہمت سے اور کبھی ناروا باتوں اور طمع و لالچ سے آزار پہنچا تے ہیں ۔ اس لحاظ سے جب انسان لوگوں سے دوری اختیار کر تا ہے تو ان امور سے آزاد ہوتاہے ۔ اگر لوگوںسے میل جول کرے اوران کے ساتھ نشست وبر خاست رکھے اور خود کو ان کے کاموں میں شریک قرار دے ، توحسادت اور دشمنیوں کے شر سے محفوظ نہیںہے ۔ ہر لمحہ اسے فتنے ضر بہ لگانے کے در پے ہیں تاکہ اسے اپنے مقام و منزلت سے گرادیں۔
ھ)۔ گوشہ نشینی اور تنہائی لوگوں کی طرف سے انسان کے لئے طمع نہ کرے اور انسان کی طرف سے لوگوں کے لئے طمع نہ کرنے کا سب بن جاتاہے ۔ انسان کی آسائش اس میں ہے کہ لوگوں کی طمع اس سے کم ہو جائے ، انسان کبھی لوگوں کی رضا مندی حاصل نہیں کر سکتا ہے ،کیو نکہ امیدیں اور توقعات حد سے زیادہ ہو تی ہیں، اس لحاظ سے نفس کی اصلاح کر نا لوگوں کی ر ضا مندی حاصل کر نے سے بہتر ہے۔
جو انسان دوسروں کے حقوق جیسے لوگوں کے تشییع جنازہ میں شرکت کرنا ، بیماروں کی عیادت اورشادی وغیرہ میں شرکت کرنااداکرنے کی تلاش میں ہوتاہے،اگران تمام امور کو انجام دینا چاہے اس کا وقت ضائع ہو تاہے اور دوسر ے فرائض انجام دینے سے پیچھے رہتاہے ، اگر ان امور سے بعض کو انجام دے تو بعض دوسرے امور رہ جاتے ہیں، اگر دوسروں کی خواہشات کے مقا بلہ میں کوئی عذر پیش کرے تو اس کے عذرکو قبول نہیںکرتے اس لحاظ سے وہ دوسروں کا مقروض رہتاہے اور یہ بذا ت خود کدو رت اوردشمنی کا سبب بنتا ہے ۔ لیکن جو مکمل طور پر ان امور سے دوری اختیار کر تاہے ، اس کے لئے کم تر مشکلات اور درد سرپیدا ہو تا ہے۔
و)۔ جو تنہائی اور گوشہ نشینی اختیار کر تاہے ، وہ مغرور ،ہٹ دھرم اور احمق انسانوں جن کو دیکھنا انسان کیلئے رنجش کا سبب بن جاتاہے کو دیکھنے سے بچتا ہے ۔اعمش سے پو چھا گیا کہ:تیری آنکھ میں کیوں تکلیف ہوئی ہے؟ اس نے کہا:کیونکہ میں نے مغرور متکبروں پر نگاہ کی۔ اس لئے دنیوی نقطہ نظرسے، احمقوں،متکبروں مغروروں کو دیکھنا انسان کی روح پر بُرا اثر ڈالتاہے اور اخروی جہت سے، جب انسان ان کو دیکھنے سے رنجیدہ ہو تا ہے ،تو ان کی غیبت میں تاخیر نہیں کرتا ۔ اس کے علا وہ جب انسان دوسروں کی غیبت، اپنے اوپر تہمت اور دوسروں کے حسد اورچغلخوری سے اذیت و آزار محسوس کر تا ہے ، تو ان کی تلا فی میں کو تاہی نہیں کرتا اور یہ سب انسان کے لئے اس کے دین میں خرابی پیدا کرنے کا سبب بن جاتاہے اور انسان گوشہ نشینی کے ذریعہ ان مصیبتوں سے محفو ظ رہ سکتاہے۔
معاشرت اوردوسروں کے ساتھ زندگی گزار نے کے فوائد:
بہت سے مقاصد اور دینی اور دنیوی ضرورتیں دوسروں کی مدد سے حاصل ہو تی ہیں اور یہ چیزیں دوسروں کی معاشرت اور میل جول کے بغیر حاصل نہیں ہو تیں۔ پس جو کچھ دوسروں سے معاشرت کی بناپر ہاتھ آتا ہے ،وہ گو شہ نشینی اور اختیار کرنے سے ہاتھ سے چلا جاتا ہے اور فطری بات ہے کہ ان منا فع کے ہاتھ سے چلا جانا، گوشہ نشینی اور تنہائی کے نقصانات اور آفات ہیں ۔ مذکو رہ بیان کے پیش نظر دوسروں سے معاشرت کے چند فوائد کو حسب ذیل عبارت میں ذکر کیا جاسکتا ہے:
الف)۔ سیکھنااور دوسروں کو سکھانا( تعلیم و تعلم) جس کی اہمیت کسی سے پو شیدہ نہیں ہے، اور یہ بڑی عبادتوں میں سے ہے، جو دوسروں سے معاشرت اور میل جول کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی ہے۔ گوشی نشینی ور تنہائی اختیار کر نے والا (تعلیم و تعلم) علم کے سیکھنے اور سکھانے اوراس کے نشر و اشاعت سے محروم رہتا ہے۔ یقینا اگرانسان گوشہ نشینی کی وجہ سے دینی اوردنیوی علوم سیکھنے سے محروم رہا اور اس نے دینی احکام نہ سیکھے تو وہ ناقا بل تلافی نقصان سے دو چار ہو گا۔
ب)۔دوسروں سے فائدہ اٹھانا اور دوسروںکوفائدہ پہنچانا: فطری بات ہے کہ لوگوںسے استفادہ کرنا ،ان کے ساتھ کسب و تجارت اور کام کر نے سے حاصل ہوتا ہے اور یہ امر ممکن نہیںہے مگر یہ کہ لوگوں سے معاشرت کی جائے اور جو دوسروں سے استفادہ کر نا چاہتاہے، اسے گو شہ نشینی کو ترک کرناہوگا اور لوگوں سے روابط اور میل جول بر قرار کرنے کی کو شش کرنا ہوگی۔ لیکن اس کی یہ کوشش اور کام خداکی راہ میں انجام پانا چا ہئے۔
لیکن دوسروںکافائدہ اٹھانااس معنی میں ہے کہ انسان اپنے مال ،جسم اور فکرسے دوسروں کو فائدہ پہنچائے اور ان کی ضرورتوںکوپورا کرے ۔ حقیقت میں لوگوںکی ضرورتوںکو پورا کرنے کے لئے اقدام کر نا ثواب کاکام ہے اور یہ لوگوں سے معاشرت اور میل جول کے بغیرحاصل نہیںہو سکتا۔جولوگوں کے بوجھ کو ہلکا کرتا ہے اور ان کے مشکلات کو دور کر نے کی کو شش کرتا ہے تو اس نے ایک بڑی فضیلت حاصل کی ہے اور یہ امر گوشہ نشینی سے حاصل نہیں ہو سکتا ہے۔ انسان گو شہ نشینی میں صرف اپنی انفرادی عبادت جیسے نوافل،مستحبات اورشخصی کام انجام دے سکتا ہے۔
ج)۔ تر بیت کرنا اور ادب وتر بیت قبول کرنا: ادب و تربیت قبول کرنا،یعنی لوگوں کی نامناسب عادات کا علاج اور انھیں بر داشت کر نے کی کو شش کرنا اور لوگوں کے نا شائستہ اخلاق اور ان کی اذیتوں کو بر داشت کر نے کی کوشش کرنا، تاکہ اپنے نفس اور شہوانی خواہشات کو کچل سکے۔یہ امر صرف لوگوں سے معاشرت اور ان کے ساتھ نشست بر خاست سے حاصل ہو سکتا ہے ۔جو تز کیہ نفس اور اصلاح نہ کر سکا وہ حدود شر عی کی رعا یت سے اپنی شہوت کو کنٹرول نہیں کر سکتا ہے ، تو اس کے لئے لوگوں کے ساتھ تعمیری معاشرت تنہائی اور گوشہ نشینی سے بہتر ہے۔
دوسروں کی تادیب و تربیت کا معنی یہ ہے کہ انھیں نا پسند کاموں کے بارے میں ڈرا یا جائے اور روکا جائے،چونکہ معلم اپنے شاگردوں سے ایسا ہی کر تاہے ۔گوشہ نشینی اور لوگوں سے معاشرت کے نتائج کا آپس میں موازنہ نہیں کرنا چاہئے اور جاننا چاہئے کہ لوگوں سے میل جول انسان کے اخلاقی سدھار میں کس قدربہتر رول ادا کرتا ہے، اس کے بعد بہترین پہلو کواختیار کر نا چاہئے۔
د)۔ دوسروں سے رفا قت اور انس: یہ امر مجالس میں شرکت اور دوسروںسے معاشرت وانس سے حاصل ہو تاہے ۔ البتہ ایسی رفاقت ومجانست سے دوری اختیا ر کرنا چاہئے جو حرام کام میں ملوث ہونے کا سبب ہو، بلکہ انس و دوستی خداکی مرضی اور احکام شرع کے مطا بق ہو نی چاہئے۔ انسان کو میل جول کی کوشش کر نی چاہئے تا کہ لوگوں سے نشست وبر خاست اس کے کمال وعلم کے عروج کا سبب بنے ۔ نہ یہ کہ وقت کے ضائع ہو نے اور مادی و معنوی استعدادوں کو کھو دینے کا سبب بنے۔ کیو نکہ انسان کے دوست و ساتھی اس کے سعادت و کمال یا شقا وت و بدبختی حاصل کر نے میں اہم کردار ادا کر تے ہیں۔اس لحاظ سے دوست کو منتخب کر نے میں انتہائی سنجید گی اور احتیاط سے کام لینا چاہئے۔
پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما تے ہیں:
''المرء علی دین خلیله فلینظر احد کم من یخا لل'' (۲)
''انسان اپنے دوست کے دین پر ہے، پس تم سے ہر ایک کو دیکھنا چاہئے کہ کس سے دوستی کر رہے ہو''
حضرت لقمان علما اور دانشمندوں سے ہم نشینی کی اہمیت کے سلسلہ میں اپنے بیٹے سے کہتے ہیں:
''یابنیّ جالس العلماء فزاحمهم برکبتیک فان القلوب تحی با لحکمة کما تحی الارض المیتة بوا بل المطر ''(۳)
میرے بیٹے: علما کی ہمنشینی اختیار کرو اور ان کے آگے زانوئے ادب تہہ کرو ، بیشک دل حکمت سے اسی طرح زندہ ہو تے ہیں ، جس طرح مردہ زمین بار ش کے قطروں سے زندہ ہوجا تی ہے۔
سعدی نے عابد و عالم کی ہم نشینی کے فرق کے بارے میں کہا ہے:
صاحب دلی بہ مدرسہ آمد ز خانقاہ
بشکست عہد صحبت اہل طریق را
گفتم میان عالم و عابد چہ فرق بود
تا اختیار کر دی ازآن این فریق را
گفت آن گلیم خویش بدر می بر دز موج
وین جہد می کند کہ بگیرد غریق را
( ایک عارف خانقاہ کو چھوڑ کر مدرسہ میں آگیا۔ تاکہ اہل طریقت کی ہم نشینی کے عہد و پیمان کو تو ڑ دے میں نے اس سے پو چھا کہ عا بد اور عالم میں کیا فرق ہے اور تم نے عبادت کو چھوڑ کر علم کے راستہ کو کیوں اپنایا؟ اس نے جواب میں کہا: عابد دریا کی لہر وں سے اپنی گلیم کو حاصل کر نے کی فکر میں ہوتاہے اور عالم ڈوبنے والے کو بچانے کی کو شش کر تا ہے۔)
ھ)۔ لو گوں سے معاشرت کا فائدہ ،ثواب حاصل کر نا اور دوسروں کو ثواب پہنچانا ہے۔ لوگوں کے مردوںکے تشییع جنازہ میں شرکت کرنے، بیماروں کی عیادت کو جانے، رشتہ داروں اور جانے پہچانے لوگوں کے گھر جانے اور ان کے غم وشادی میں شریک ہونے سے ثواب حاصل ہو تا ہے۔ کیو نکہ ان امور کو انجام دینا برادری کے مستحکم ہو نے اور مسلما نوں کے دلوں میں مسرت و شاد مانی داخل ہونے کا سبب بنتا ہے اور یہ بذات خود فراوان ثواب رکھتا ہے ۔لیکن دوسروںکو ثواب پہنچانے کا معنی یہ ہے کہ، انسان اپنے گھر کے دروازہ کو دوسروں کے لئے کھلا ر کھے تاکہ مشکلات اور مصیبتوں میں لوگ آجائیں اور اسے تسلیت و تعزیت پیش کریں اور خوشیوں ا ور نعمتوں سے بہرہ مند ہو نے پر ا سے مبارکباد پیش کریں ،کہ اس کام سے لوگ ثواب پاتے ہیں۔چنانچہ اگر ایک عالم اپنے گھر کے دروازہ کو دوسروں کے لئے کھلا رکھے ،تو یہ اس امرکا سبب بن جاتاہے کہ لوگ اس کی زیارت سے ثواب پا ئیں۔
و)۔ تواضع و انکساری:دوسروں کے ساتھ معا شرت اور میل جول سے ،انسان میں تواضع اور انکساری کی بلند عادت پیدا ہو تی ہے،اور حقیقت میں یہ ایک ایسا بلند مقام ہے جو انسان کو گو شہ نشینی اور تنہائی میں حاصل نہیں ہو تاہے ،کیو نکہ بعض او قات بذات خود تکبر گو شہ نشینی کا سبب بنتاہے ۔نقل کیاگیا ہے کہ ایک فلسفی نے حکمت کے مو ضوع پر تین سو ساٹھ مقالے لکھے تاکہ خدا کے نزدیک ایک بلند مقام حاصل کرے خدائے متعال نے اس زمانے کے پیغمبر کو و حی کی کہ اس فلسفی سے کہو: تم نے زمین کو نفاق و پر یشانی سے بھر دیا ہے، میں تمھاری پر یشانی پھیلا نے والے کاموں کو پسند نہیں کر تا ہوں ۔ اس کے بعد اس حکیم نے گوشہ نشینی اختیا ر کی اور لوگوں سے دور ہو گیا اور کہا:شایداب خدائے متعال مجھ سے خوش ہوگیاہے۔
خدا وندمتعال نے اپنے پیغمبروں کو وحی کی کہ اس سے کہہ دو :میں تجھ سے خو ش نہیں ہو ںگا مگر یہ کہ تم لوگوں کے ساتھ معاشر ت رکھو اور انکی آزارو اذیت کو بر داشت کرو۔ اسکے بعد وہ حکیم لوگوںسے جا ملا اور کوچہ بازار میں ان کے ساتھ معاشرت اور میل جول کر نے لگا ، ان کے ساتھ نشست بر خاست کرتا تھا ،یہاں تک خدائے متعال نے وحی بھیجی: میں تم سے خوش اور راضی ہوا۔
ز)۔کسب تجارت:لوگوں کے ساتھ معاشرت، ہم نشینی اور ہمراہی سے تجر بے حاصل ہوتے ہیں ، چونکہ انسان لوگوںکے حالات ، افکار اور اعمال کے بارے میں آگاہ ہو تاہے ۔ ان کی زندگی میں موجود ہ کردار اور اتار چڑھائوسے آگاہ ہونے کے بعد ،صحیح زندگی گزارنے کے لئے توشہ راہ مہیا کرتے ہیں۔یقینا دینی اور دنیوی مصلحتوں کو سمجھنے کے لئے صرف فطری عقل کافی نہیںہے اور تجربہ اس کی مدد کر تاہے اسکے مقابلہ میں جو تجربہ سے استفادہ نہ کرتے ہوئے گوشہ نشینی اختیار کر تاہے اسے کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔
مذکورہ بیانات کے پیش نظر واضح ہوگیا کہ نہ مکمل طور پر تنہائی اور گو شہ نشینی سے انکار کیا جاسکتا ہے اور نہ لوگوں سے معاشرت اور میل جول کو مکمل طور پرمطلوب سمجھا جا سکتا ہے، بلکہ ہر فرد کے حالات وجذ بات اور اس کے ہم نشین کے حالات و جذ بات اور ان کی دوستی و معاشرت کے محرک کے پیش نظر حکم فرق کر تاہے ۔مختصر یہ کہ لوگوں سے دوری اختیار کرنا ، عدا وت و دشمنی کا سبب بن جاتاہے اور ان سے میل جول میں افراط،بد کر داری کا سبب بن جاتاہے، لہذا انسان کو ہر حالت میں گو شہ نشینی اور لوگوں سے معاشرت کے درمیان اعتدال کی رعایت کی جانی چاہئے۔
الفت و برادری ، خداکی ایک مہر بانی:
بیشک خدائے متعال نے ، کوہ و بیابان ،جنگل و در یاسے لے کر انسان و حیوانا ت تک جو کچھ خلق کیاہے،ان سب کو نعمت قرار دیا ہے ۔اہل فن کی تعبیر میں ، یہ عالم ایک ہم آہنگ نظام کا حامل ہے جس کے اجزا ایک دوسرے سے مر تبط اور ہم آہنگ ہیں، حقیقت میں عالم پر ایک بہتر ین نظام حاکم ہے اور ہر چیز اپنی جگہ پر قرار پائی ہے اور تمام مخلو قات ،آپس میں منظم ربط کے پیش نظر ایک دوسرے کو بہرہ مند کر تے ہیں ۔ اس اصول کے مطا بق ،خدا ئے متعال نے انسانوں کی زندگی کے لئے جو مقصد مد نظر رکھا ہے ،جسے انسانی کمال سے تعبیر کیا گیا ہے ، لوگوں کو اس مقصد کو حاصل کر نے کے لئے ایک دوسرے کے لئے مفید واقع ہونا چاہئے اور ایک دوسرے سے استفادہ کر نا چاہئے دوسری طرف سے اگر چہ خدائے متعال نے بنیا دی طور پر انسان کو ایک دوسرے کے لئے نعمت قرار دیا ہے کہ بہترین نظام کے راستے میں کمال کی طر ف قدم بڑھائیں، لیکن چونکہ انسان صاحب اختیار ہے ،اس لئے وہ خداکی نعمتوں کو شقاوت اور بد بختیوں میں تبدیل کر سکتاہے ،جیسا کہ خدا ئے متعال فر ما تا ہے:
( الم تر الی الّذین بد لوا نعمة اللّٰه کفراً واحلّوا قو مهم دار البوار ) (ابراہیم٢٨)
'' کیا تم نے ان لوگوںکو نہیںدیکھا ،جنھوں نے اللہ کی نعمت کو کفران نعمت سے تبدیل کردیا اور اپنی قوم کو ہلاکت کی منزل تک پہنچا دیا''
مذکو رہ مطالب کے پیش نظر ، انسان خود کو دوسروں کے لئے نعمت بھی قرار دے سکتا ہے تاکہ دوسرے اس سے استفادہ کر سکیں ، اور انکے لئے مشکلات اور بد بختی کا سبب بن سکتا ہے۔اخوت و، برادری اور معاشرتی زندگی خدائے متعال کی ایسی عظیم نعمتیں ہیں کہ خدائے متعال نے ان پر خاص نظر عنایت کی ہے،یہاں تک کہ فر ما تاہے:
(...( واذ کروانعمة اللّٰه علیکم اذ کنتم اعداء فالّف بین قلو بکم فا صبحتم بنعمته اخوا نا ) ...) (آل عمران١٠٣)
''... اور اللہ کی نعمت کو یاد کرو کہ تم لوگ آپس میں دشمن تھے اس نے تمھا رے دلوں میں الفت پیدا کر دی اور تم اس کی نعمت سے بھائی بھائی بن گئے ''
پس لوگوں کے درمیان الفت اور برادری کا رابطہ ایک نعمت الہی ہے، اس کی قدر کرنی چاہئے اور مزید اس الفت کو مستحکم کر نے کے لئے کو شش کر نی چاہئے ۔ ایک مسلمان کو ہر حا لت میں اپنے مسلمان بھائی کا یار و غمخوار ہو ناچاہئے نہ یہ کہ اس کے لئے ر نجید گی کا سبب بنے اور اس پر ظلم کرے۔
حضرت امام صادق علیہ السلام فر ماتے ہیں،
''المسلم اخوا لمسلم هو عینه و مر آته و دلیله لا یخو نه ولا یظلمه و لا یکذ به ولایغتابه'' (۴)
'' مسلمان،مسلمان کابھائی، اس کی آنکھ ، آئینہ اور اس کا رہنما ہے وہ اس کے ساتھ خیانت نہیں کر تاہے اوراس پر ظلم نہیں کر تاہے اور اس سے جھو ٹ نہیں بولتاہے اور اس کی غیبت نہیں کر تاہے''
لیکن یہ نہیں کہا جا سکتا ہے کہ سب انسانوں کے ساتھ معاشرت اور ہم نشینی مفید ہے اور اس کے بر عکس یہ بھی نہیں کہا جاسکتا ہے کہ تمام انسانوں کے ساتھ معاشرت بالکل مضر ہے اور انسان کوکسی سے میل جول نہیں رکھنا چاہئے، بلکہ ایک معیار مد نظر رکھنا چاہئے،جس کے پیش نظر مطلوب اور تعمیری معاشرتوں کو نا مطلوب اور مضر معاشرتوں سے جداکر کے پہنچاننا چاہئے۔انسان کو جانناچاہئے کہ کیسے افراد سے معاشرت اس کو الہی اور معنوی مقاصد تک پہنچنے میں مدد کر سکتی ہے ،اسے اپنی معنوی اورروحی تکامل و ترقی کے لئے اور فرائض کو انجام دینے کے لئے کن افرادسے معاشرت کر نی چاہئے ،یا کن افراد سے معاشرت کر ے تاکہ ان پر تعمیری اثر ڈال سکے ،کیو نکہ دوسروں پر تعمیری اثر ڈالنابھی انسان کے لئے تکامل و ترقی کا سبب بنتا ہے۔ اگر انسان دوسروںکی خدمت کرنا ا پنا فرض قرار دے خواہ خد مت مادی ہو یا معنوی البتہ معنوی مدد کی قدر وقیمت زیادہ ہے اور فرائض کو انجام دینے کیلئے دوسروںکی ہدایت اورانھیں خیر و سعادت کی طرف رہنمائی کرے تووہ خود تکامل و ترقی پاتا ہے کیو نکہ فریضہ انجام دے کر اس نے خداکی عبادت کی ہے جس کے نتیجہ میں وہ پر خود کامل تر ہواہے ۔
حقیقت میں اس دنیا میں ہم دوسروںکی جو بھی خدمت انجا م دیں،اگر وہ صحیح نیت اور شرعی صورت میں ہو،تو وہ خدمت در اصل خود ہما ری طرف پلٹتی ہے، یعنی ہم نے خدائے متعال کی عبادت کی ہے اور اس کا ثواب ہما ریطرف پلٹتاہے۔پس اگر معاشرت و ہمنشینی سبب ہو کہ انسان دوسروں کے ساتھ نیکی کرے یا دوسروںسے معنوی خیرحاصل کرے اور ان سے معاشرت کر کے ہدف ومقصد کی طرف اچھی طرح متوجہ ہو تو ،اس کے علم اور قلبی توجہات میں اضافہ ہو گا اور وہ اپنی زند گی کے لئے بہتر راستہ کاانتخاب کرے گا تو یقینایہ معاشرت اس کے لئے گراں قیمت ہے۔
اس کے مقابل میں ،ایسے افراد سے معاشرت کرنا مطلوب نہیں ہے جو نہ صرف انسان کو خدا کی یاد نہیں دلا تے بلکہ اس سے غافل کر تے ہیں اور اپنی گفتاراور عمل سے انحطاط وانحراف کی طرف دعوت دیتے ہیں ۔اس لحاظ سے ہر انسان کواپنا دوست قرارنہیں دینا چاہئے ۔دوستی اور رفاقت کے لئے دوست کی بلنداور قابل قدر خصلتیں معیار ہیں ،البتہ رفیق اور دوست میں پائی جانے والی عمدہ ممتاز خصلتیں دوسروں کے ساتھ ہم نشینی و مصا حبت سے ان کی طرف مفید اور اچھے پیغامات پہنچتے ہیں۔اگر چہ بعض اوقات دوستی اور رفاقتوںسے دینوی فوائد، جیسے مال اورمقام سے استفادہ مدنظر ہو تاہے ،لیکن اہم ترین فوائد ، دینی فوائد ہیں،جیسے ہم نشین کے علم و عمل سے استفادہ کر نا کسی کی طرف سے خدا کی عبادت و بندگی میں رکاوٹ ڈالنے کی غرض سے ایجاد کئے گئے آزار اور مزاحمت سے محفو ظ رہنے کی سعی کرنا۔یا اس کے مال سے استفادہ کر ے تاکہ اپنے و قت اور عمرکودینوی امور میں ضائع کرنے سے محفوظ رکھے اور فرائض الہی کو بہتر صو رت میں انجام دے۔
دوست کے انتخاب کا معیار :
منا سب دوست کے انتخاب میں مشکلات اور نیک وبد دوستوں کے مثبت و منفی اثرات کے پیش نظر اسلامی منا بع و مصادر میں دوست بنانے کے معیاروں کے سلسلے میں چند باب مختص کئے گئے ہیں اور اولیائے دین نے مناسب دوست کے او صاف اور ان کی خصو صیتیںبیان کی ہیںمن جملہ جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پو چھا گیا کہ :بہترین ہم نشین کون ہیں؟ تو آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جواب میں فر مایا:
''من ذکّرتکم با اﷲ رؤ یته و زادکم فی علمکم منطقه وذکّرکم با لا خرة عمله'' (۵)
'' جس کا دیدار تمھیں خداکی یاد دلا ئے اور اس کا کلام تمھارے علم میں اضافہ کرے اوراس کا عمل تجھے قیامت کی طرف متوجہ کرے''
یاجب حضرت عیسیٰ علی نبینا و علیہ السلام سے ان کے اصحاب سوال کر تے ہیںکہ:ہم کس کے ساتھ معاشرت کریں ؟ تو انہوں نے جواب میں فرمایا:
''اس شخص سے ہم نشینی اختیارکرو، جس کا دیدار تجھے خدا کی یاد دلائے اوراس کا عمل تجھے آخرت کا مشتاق بنائے اور اس کا علم تمھاری عقل و منطق میں اضافہ کرے ۔مزید فرمایا: اہل دنیاسے دوری اختیارکر کے خدا کے نزدیک ہو جائو اور گناہگاروں سے دشمنی کرتے ہوئے، خداکے دوست بن جائو' '(۶) اور قرآن مجید ایک نقصان اٹھائے ہوئے فرد کی زبانی کہ جس نے راہ حق اورخدا کے پیغمبرو ں سے انحراف کر کے ، خود اور دوسروں پر ظلم کیا ہے ،خشم اور غصب الہی کی آگ میں پھنس گیا ہے اور بے انتہا پشیمانی و اندوہ کے عالم میں حسرت سے کہہ رہا تھا:
(( یاویلتٰی لیتنی لم أَتخذفلاناخلیلالقداضلنی عن الذکر بعد اذ جاء نی ) ) (ر قان٢٨و٢٩)
''ہائے افسوس :کاش میں نے فلاں شخص کو اپنادوست نہ بنایا ہو تا ۔اس کی دوستی نے مجھے پیروی قرآن اور رسول حق کی اطاعت سے محروم کر دیا اور مجھے گمراہ کر دیا۔۔۔''
اس قسم کی آیتیں،اس پر دلالت کر تی ہیں کہ انسان کے گمراہ ہو نے کے عوامل میں نا مناسب دوست اور گمراہوں کے ساتھ رفا قت ہے،اس لئے تاکید کی گئی ہے کہ مو من ناسا لم افراد اور آلودہ اجتماعات سے پر ہیز کرے ۔البتہ تمام افراد یکساں نہیں ہو تے ۔کچھ لوگ ایسے خود ساختہ اورمصمم ارادے کے مالک ہیں کہ ہر شرائط میں دوسروں سے متاثر نہیں ہو تے بلکہ ان پر ہی اثر ڈالتے ہیں ،لیکن کچھ لوگ ارادہ میں سستی اور ایمان کی کمزوری کی وجہ سے ، جس سے بھی میل جول کر تے ہیں انھیں کے رنگ میں ڈھل جاتے ہیں اور انکے اخلاق اور رفتار سے متاثر ہو تے ہیں ۔اس لئے انسان کو ہو شیار رہنا چاہئے کہ وہ کس سے معاشرت کر تا ہے اور کون اس پر اثر ڈال رہا ہے جولوگ مضبوط اور قوی دل کے مالک ہیں ،اگرچہ دوسروںسے متاثر ہو کر ان کے رنگ میں نہیں ڈھل سکتے،پھر بھی انھیں دیکھنا چاہئے کہ کس سے بہتر استفادہ کر سکتے ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ وہ معاشرت میں تر جیحات کو مد نظر رکھیں۔
لہٰذا جن شرائط میں بھی ہم ایسے لوگوںاور ایسی جماعت میں ہوں کہ ان کی معاشرت ہمیں زیادہ سے زیادہ خدا اور آخرت کی یاد دلائے، ہما رے علم میں اضافہ کا باعث ہو،کا ر خیر کو انجام دینے اور دوسروں کی خد مت کر نے میں ہمارے لئے تشو یق کا سبب ہو اور ان کی مدد سے زندگی کے صحیح راستہ پر آرام سے ہم چل سکتے ہیں بڑھا سکیں ، تو یقینا ایسی معاشرت منا سب اور تعمیری ہے ، اگر ایسا نہیں ہے تو معاشرت معکوس اور نا مطلوب ہے ،لہذا مطلق طور پر نہیں کہا جا سکتاہے کہ ہر معاشرت مطلو ب ہے اور انسان کو ہر اجتماع میں داخل ہو نا چاہئے اور ہر ایک سے معاشرت کر نی چاہئے ،اس بہانہ سے کہ خوش اخلاقی اور خوش رفتاری اچھی ہے ،حقیقت میں ایسے تصور سے انسان اپنے آپ کودھوکہ دیتا ہے۔
ہر کسی کے ساتھ معاشرت انسان کے فائدے میں نہیںہے ۔ ممکن ہے انسان ابتدا میں پاک نیت سے ایک اجتماع میں داخل ہوجائے اور اس کے بعد اسے معلوم ہوجائے کہ ان کے ساتھ معاشرت اس کے نقصان میں ہے،کیو نکہ وہ غیبت کر نے والے اور جھوٹ بولنے والے ہیں، بیہودہ گفتگو کر تے ہیں اور اسے دنیا پرستی کیطر ف دعوت دیتے ہیں۔یا ان کی رفتار ایسی ہے کہ انسان کو دنیا کی طرف کھینچتی ہے اور آخرت سے غافل کر تی ہے اس حالت میں انسان کو نیکی، خوش اخلاقی اور نیک رفتاری کے بہانہ سے اس جماعت کے ساتھ میل جول نہیں کرناچاہئے،مگر یہ کہ ایسی قدرت اور ہمت رکھتاہو کہ ان پراثرانداز ہو ،اگر چہ جانتا ہے کہ انکی رفتار نا پسند ہے ،لیکن مطمئن ہے کہ نصیحت اور مو عظہ سے انکی ہدایت کر سکتاہے ۔ایسی معاشرت،امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور دوسروں کی راہنمائی کے طور پر،جس کو شرع مقدس میں خاص اہمیت دی گئی ہے مطلوب ہو سکتی ہے۔پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک روایت میں فر ماتے ہیں:
''انظروا من تحادثون،فانه لیس من احد ینزل به المو ت الا مثل له اصحا به الی اللّٰه فان کانوا خیا را فخیا را و ان کانواشر ارا فشرارا'' (۷)
''دیکھو کہ کس کے ساتھ بات کر رہے ہو،کیو نکہ جب کسی کو موت آتی ہے تو خداکے حضور اس کے دوست اس کے سامنے مجسم ہو تے ہیں۔اگر وہ نیک ہیں تو وہ بھی نیک افرادکے زمرہ میں قرار پاتا ہے اگر وہ برُے ہیں تو وہ بھی بروں کے ساتھ قرار پاتاہے''
پس اگر سوال کیا جائے کہ اخلاق اسلامی کی نظر میں معاشرت اور میل جول مطلوب ہے یا گو شہ نشینی جواب میں کہا جاتا ہے:ایسا نہیںہے کہ معاشرت تمام مو اقع پر مطلوب ہے اور گوشہ نشینی اور تنہائی نا مطلوب، بلکہ اس شخص سے دوری اور گوشہ نشینی اختیار کر نا بہت بجا اور لازم ہے جو انسان کو گناہ کے انجام دینے پر اکساتا ہے اور اسے صحیح راہ سے منحرف کرتا ہے اور اس کے ایمان کو کمزورکر کے ا سے شک و شبہ میں ڈالتاہے۔اس کے مقابلہ میں ،معاشرت کو ترک کر کے گو شہ نشینی اختیا ر کر نا انسان کو اجتماعی مسائل اور خدا کی طرف سے اجتماعی زندگی کے سایہ میں قرار دی گئی نعمتوں سے محروم کر تا ہے اور اسے دوسروںکے متعلق انجام دینے والے فرائض سے رو کتا ہے ۔حقیقت میں گو شہ نشینی کا منفی اثر یہ ہے کہ بہت سے واجبات اور تکالیف کو ترک کرنے کا سبب ہے انسان اجتماعی زندگی کے سائے میں حاصل ہو نے والے علم ودانش اور کمالات سے محروم ہو جاتا ہے ۔صحیح و سالم اخلاقی طریقہ کار اور آداب اور دوسروں کی مادی اور معنوی مدد جو اس کے لئے دنیا و آخرت میں مفید ہے سے بھی محروم ہو جاتاہے ۔اگر سب لوگ گوشہ نشینی اختیا ر کریں اور دوسروںسے معاشرت نہ کریں ،تو اسلام کے اجتما عی احکام معطل اور ترک ہوجائیں گے۔ اس لئے گوشہ نشینی اور دوسروں سے معاشرت ،دونوں میں سے ہر ایک اپنی جگہ پر مطلوب اور پسندیدہ ہے۔
خود بخود تنہائی میں بسر کر نا اچھا اور مطلوب نہیںہے ، مگر یہ کہ یہ کام ایک عبادت کو ریا سے بچانے کے لئے ہو اور روزانہ کی مشکلات اور لوگوں سے معاشرت اس میں رکاوٹ بنے،تواس صورت میں عبادت کو تنہائی اور رات میں انجام دینا چاہئے،کیو نکہ شب خداکی عبادت اور مناجات الہی کے لئے منا سب ہے،تاکہ انسان روز مرہ کی فعالیتوں سے فارغ ہو کر اپنے بارے میں فکر کرے اور اپنے دل کو خدا کی مناجات سے جلا بخشے۔خدا ئے متعال فرماتا ہے:
(( ا ن نا شئة الیل هی اشد و طأ واقوم قیلا ان لک فی النهار سَبَحاً طویلا ) (مزمل ٦و٧)
'' بیشک رات کااٹھنا(نماز شب کے لئے)نفس کی پامالی کے لئے بہترین ذریعہ اور ذکر کا بہترین وقت ہے۔یقینا آپکے لئے دن میں بہت سی مصروفیت ہیں''
انسان کو دن میں تسبیح ہاتھ میں لئے ہوئے ایک گو شے میں بیٹھ کر ذکر میں مشغول نہیں ہو نا چاہئے بلکہ اسے لوگوں کے اجتماعات میں داخل ہو ناچاہئے اور ان کے ساتھ فرائض انجام دینا چاہئے لوگوں کے اجتماعات میں شر کت کئے بغیر اور لوگوں سے میل جول رکھے بغیر صرف ایک کمرے یا مسجد میں بیٹھ کر تعلیم و تعلم اور وعظ و نصیحت کا فریضہ انجام نہیں دیا جا سکتاہے اور نہ محتاجوں اور فقرا کی مدد کی جاسکتی ہے اور نہ خیر کی دعوت د ی جاسکتی ہے اور نہ انسان دیگر ایسے اجتماعی فرائض کو انجام دے سکتا ہے کہ جو اس پر نجام دینا ضروری ہیں۔ انسان کے سیا سی پہلوئوں میں فرائض کوانجام دینے کی بات ہی نہیں جو اس سے ملکی اور بین الا قوامی سطح پردوسرے ممالک میں زندگی گزا رنے والے دنیا کے مسلمانوںکی مدد کے طور پرانجام دینے چاہئے۔دوسری طرف سے انسان کو یہ تصور نہیں کر نا چاہئے کہ چو نکہ یہ بر کتیںاور نیکیاں اجتماع میں پائی جاتی ہیں،لہذا ہر اجتماع اورہرایک سے ہر حالت میں معاشرت مطلوب ہے،یہ بذات خود انسان کی لغزش اور انحراف کا سبب بن جا تا ہے۔ جیسا کہ اس سے پہلے بیان ہوا انسان کو الہی مصلحتوں اور معاشرت کے شر عی پہلوئوں کی رعا یت کی کوشش کر نی چاہئے، تاکہ اپنے اصلی مقصد یعنی سعا دت تک پہنچنے سے پیچھے نہ رہے۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام صالح نامی اپنے ایک صحا بی سے فر ما تے ہیں:
''اتبع من یبکیک وهولک ناصح ولا تتبع من یضحکک وهولک غاشّ وستردون علی اللّٰه جمیعا فتعلمون'' (۸)
''اس کی پیر وی کرو جو تجھے رلائے اور تیری نصحت کرے ،اور اس کی پیروی نہ کرو جو تجھے ہنسائے اور دھوکہ د ے تم جلدی ہی خداکے پاس پہنچ جائو گے اور اپنے کردار سے آگاہ ہو جائو گے۔''
غا فلوں کے اجتماع میں ذکر خداکی عظمت:
اگر انسان ناخواستہ طور پر غافلوں کے اجتماع میں پھنس جائے،جو نہ خدا کا پاس ولحاظ رکھتے ہیںاورنہ قیامت کا ،تواس سے کیا کر نا چاہئے تاکہ وہ گناہ میں آلودہ نہ ہو ۔اگر وہ اس اجتماع سے باہر نکلنا چاہے تو وہ مناسب رد عمل نہیں دکھائیں گے بلکہ ممکن ہے وہ تصور کریں کہ شخص اپنے آپ کو دوسروں سے منزہ اوربر تر جانتا ہے ۔اسلامی آداب کا تقاضا یہ ہے کہ انسان نہ دل میں اپنے کو دوسروں سے بر تر تصور کرے اور نہ اس کا عمل ایسا ہو نا چاہئے جس سے یہ مطلب اخذ کیا جائے چنانچہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم،جناب ابو ذر کو اپنی ایک نصیحت میں جس پراس سے پہلے بحث ہوئی فرما تے ہیں:
انسان تب تک مکمل فقہ تک نہیں پہنچتا،جب تک لوگوںکو خدا کی عظمت کے سامنے درک و فہم سے فاقد اونٹوں کے مانند نہ دیکھے ، اس کے بعد اپنے آپ پر نظر ڈال کر خودکو ان سے پست نہ سمجھے۔
حتی انسان اپنے آپ کو ایک فاسق سے بھی برترنہ جانے ،ممکن ہے وہ فاسق تو بہ کر چکا ہو گا اور اس کے گناہ بخش دئے گئے ہوں ،جبکہ وہ مومن اپنی عبادت پر ناز کرتے ہوئے غرور و تکبر میں مبتلا ہوگیا ہو جو اس کی ہلاکت کا سبب ہو،لہذا بعض او قا ت ایسے شرائط پیش آ تے ہیںکہ انسان اپنے آپ کو ایک جما عت سے جدا نہ کرے تاکہ وہ منفی رد عمل نہ دکھا ئیں اور اس پر بد گمانی نہ کریں۔اس کے علاوہ بعض او قات امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ایک سماج اور معاشرے کے اندر انجام دینا چاہئے جو گناہ اور معصیت میں مشغول ہوں ،تاکہ ان کو گناہ سے ڈرائے،ان کے در میان رہنا نہی از منکر کے لئے ایک و سیلہ ہے۔ لیکن ہمیشہ ایسا نہیںہے ،یعنی ممکن ہے ایک جماعت اہل خیرو نیک راستہ پر نہیں ہے اور غافل ہے اور بیہودہ باتیں کر تی ہے لیکن کسی معصیت و حرام کی مر تکب نہیں ہو تی ہے کہ اسے ڈرانا واجب ہو ،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایسی جما عت کے بارے میں فرماتے ہیں:
''یا ابا ذر'الذاکر فی الغافلین کا لمقاتل فی الفارّین''
اے ابو ذر:جو غافلوں کے در میان خدا کو یاد کرے ،اس کی مثال اس شخص کے مانند ہے جو جنگ سے فرار کرنے والوں میں جہاد کو جاری رکھے۔
جبکہ غافلوں کے اجتماع میں مو جود انسان ان سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کر تا ہے ، وہ کوشش کر تا ہے کہ اپنے دل میں خدا کی یاد کو تقو یت بخشے تاکہ وہ اس شخص کے جیسا ہو کہ جب دوسرے میدان جنگ سے فرار کر تے ہیں تو وہ تن تنہا دشمن کے مقا بلہ میں مبا رزہ کر تا ہے اس سے پہلے ذکر کیا گیا کہ خدا ئے متعال ایسے شخص کے بارے میں اپنے فرشتوں پر فخر و مباہا ت کرتا ہے جو دوسروں کے جنگ سے بھاگنے کے باو جود تن تنہا جہاد کو جاری رکھتا ہے ۔اسی طر ح خدائے متعال اس شخص پر بھی فخر کرتا ہے جوایک ایسے معاشرے میں ہو جو خدا سے غافل ہیںاور دنیا کے پست امور کی طرف توجہ کرتے ہیں اور ایسے کام انجام دیتے ہیں جو خداپسند نہیںکرتا لیکن وہ مو من اپنے دل میں خدائے متعال کی طرف توجہ رکھتاہے ، تو خدائے متعال اس پر فخر ومبا ہات کرتاہے۔
گفتگو کرنے کے بارے میں انسان کی ذمہ داری:
اس کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فر ما تے ہیں:
''یا اباذر!الجلیس الصالح خیرمن الوحدةوالوحدة خیرمن جلیس السوء و املاء الخیر خیر من السکوت و السکوت خیر من املاء الشر''
'' اے ابو ذر !:نیک انسان سے ہم نشینی تنہائی سے بہتر ہے اور تنہائی برے کی ہم نشینی سے بہتر ہے اور نیک گفتگو خامو شی سے بہتر ہے اور خاموشی بُرے کلام سے بہتر ہے''
فطری بات ہے کہ جب انسان دوسروںسے میل جول رکھتاہے تو گفتگو کرنے کے امکا نات فراہم ہو تے ہیں،کیا اس حالت میں بات کرنا بہتر ہے یا خامو شی؟ چنانچہ ہم نے معاشرت اور گوشہ نشینی کے اصولوں کی بحث میں کہا کہ اس کے معیار متفا وت ہیں کبھی معاشرت مطلو ب ہے تو کبھی گو شہ نشینی۔اسی طرح بات کرنے اور خاموشی اختیا ر کرنے کے بارے میں بھی کوئی ثابت اور معین معیار نہیں ہے ،دیکھنا چاہئے کہ بات کس غرض سے کہی جاتی ہے ۔ بات کرنا اس وقت مطلوب اور اچھا ہے کہ خدا کیلئے اور دوسروں کے فائدے کے لئے کہی جائے اورخدا کی توجہ اور احکام و مسائل الہی بیان کرنے کی غرض سے ہو
بہر صورت نیک بات،وہ ہے جو ہدایت اور دوسروں کو مطلوب کمال کی طرف رجحان پیدا کرنے کی غرض سے کی جائے،خواہ وہ بات معنوی او راخروی تکامل و ترقی سے براہ راست مربوط ہو یا تکامل معنوی اور سعادت اخروی کے لئے ایک مقد مہ ہو ،اگر چہ دنیوی امور سے ہی مر بوط ہو۔ بات کرنے والے کا مقصد یہ ہے کہ مخاطب کو مادی وسائل کے ذریعہ آگاہ کر کے کمال و ترقی تک پہنچنے کے راستہ کو ہموارکرے،کیو نکہ انسانیت اور کمال کے راستہ میں مادی وسائل سے استفادہ کرنا ناگزیر ہے ۔لیکن جب اپنی بات سے انسان نہ خود استفادہ کر سکتاہو اور نہ دوسرے تو اس حالت میں خاموشی بہتر ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ روایتوں میں (املائ))کی تعبیر استعمال ہوئی ہے نہ((تکلم)) یعنی بات کرنا ۔ اس تعبیر میں ایک عنایت ہے: عربی اور فارسی میں ((املائ)) اس معنی میں ہے کہ کوئی کسی چیز کو کہے اور دوسرااسے لکھے.ہر بات جو انسان بولتاہے وہ املاء نہیں ہے ،کیونکہ وہ ہمیشہ اس لئے نہیں بولتا ہے کہ دوسرے اسے لکھیں، پس پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیوں نہیں یہ فرمایا: خیر کے متعلق گفتگو خاموشی سے بہتر ہے اورخاموشی بُری بات سے بہترہے؟''املائ''کی تعبیر استعمال کرنے کے لئے دو نکتے بیان کئے جاسکتے ہیں:
پہلا نکتہ: جب انسان بات کرتاہے ، تو اس کی بات سننے والے کے ذہن میں محفوظ ہوجا تی ہے اور اسکے ذہن کے حافظہ میں واقع ہوتی ہے .پس دیکھنا چاہئے کہ کونسی بات سننے والے کے ذہن میں محفوظ ہوتی ہے اور اسکے ذہن پر کو نسا اثرڈالتی ہے،اس کاخیال رکھنا چاہئے کہ بات کرنا صرف یہ نہیں کہ منہ سے کوئی آواز نکلے ، بلکہاس بات کا کوئی نہ کوئی اثر ہوتا ہے،گویا جب انسان بات کرتاہے تو دوسرے ا سے لکھتے ہیں۔پس انسان کو ہوشیار رہنا چاہئے کہ وہ دوسروں کی روح پر کونسا اثر ڈالتاہے اور سننے والے کے ذہن اوردل کی تختی پر کونسی چیزنقش ہوتی ہے ، اگر وہ بات نیک ہے تواس کا بولنا مناسب ہے اور وہ اپنا اچھا اثرڈالتی ہے،لیکن اگر بات نیک نہیںہے ،تو کیوں انسان اس امر کا سبب بنے کہ نا مناسب بات کااثر دوسروں کے ذہن میں باقی رہے؟
دوسرا نکتہ: جو کچھ انسان کہتاہے ،اس کے لکھنے کے لئے دوفرشتے مامور ہیں،اس لحاظ سے انسان کی بات ((املائ)) کہی جاتی ہے،جیسے خدائے متعال فر ما تا ہے:
( ما یلفظ من قول الا لدیه رقیب عتید ) (ق١٨)
اور کوئی بات منہ سے نہیں نکلتی ہے مگر یہ کہ ایک نگہبان اس کے پاس موجود رہتا ہے۔
ایک اور جگہ پر خدائے متعال فرماتاہے :
( وان علیکم لحا فظین، کرا ما کا تبین یعلمون ما تفعلون ) (انفطار١٠۔١٢)
'' اور یقینا تمہارے سروں پر نگہبان مقرر ہیں .جو با عز ت لکھنے والے ہیں .وہ تمہارے اعمال کو خوب جانتے ہیں''
مو من کے ساتھ کھانا کھانے کے محاسن اور فاسق کے ساتھ کھانا کھانے سے پر ہیز:
حدیث کو جاری رکھتے ہوئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
'' یا اباذر ؛لا تصاحب الا مؤ منا ولا یاکل طعامک الا تقی ولا تا کل طعام الفاسقین''
''اے ابو ذر!با ایمان افراد کے علاوہ کسی سے ہم نشینی نہ کرو ،تمھارا کھانا پرہیز گار کے علاوہ کوئی نہ کھائے اور تم بھی فاسق لوگوں کا کھانا نہ کھائو''
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روایت کے اس حصہ میں سب سے پہلے معاشرت کے مسئلہ کو پیش کیاہے اور اس کے بعد اس سے مربوط بعض مسائل کی طرف اشارہ فرمایا ہے، ان مسائل اور معاشرت کے آثار میں آپس کی گفتگو تھی ،اب دوسروں کے ساتھ غذاکھانے کے مسئلہ کو بیان فرماتے ہیں۔کیو نکہ دوسروں سے معاشرت کے نتیجہ میں بعض او قات انسان مجبور ہوتاہے تاکہ اپنے ہم نشینوں کے ساتھ کھاناکھائے۔آپصلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے ہیں کہ مو من کے علاوہ کسی کی ہمنشینی اختیار نہ کرو اور ہر ایک کا کھانا نہ کھائو اور ہر کسی کو اپنا مہمان نہ بنا ئو اور صرف مو من کے ساتھ کھانا کھائو ۔
فاسق کی غذا کھانے کا پہلا نتیجہ اس کا احسان مند ہونا ہے اورجب انسان فاسق کا مہمان ہوتا ہے اور اس کا کھانا کھاتا ہے تو وہ فاسق بھی اس سے توقع رکھتاہے اگر وہ غیر شرعی چیز کی درخواست کرے اور توقع و امید رکھے کہ فلاں حکم پر دستخط کرے،فلاں ناحق اور غیرشرعی سفارش کو انجام دے اور بعض اوقات انسان اس کی خواہشات کو پورا کرنے پر مجبور ہوجا تاہے اس کے بر خلاف اگر انسان فاسقو ں کے ساتھ معاشرت نہ کرے اور ان کاکھا نا نہ کھائے تو ان کا احسان مند نہیں ہوگا اوروہ اس سے کوئی امید بھی نہیں رکھے گا ۔اگر اس سے کسی نا حق چیز کی درخواست بھی کرے تو وہ پوری جرأت کے ساتھ اس سے مستردکردے گا،کیونکہ اس درخواست کو منظور کرنا وہ اپنے فرائض کے حدود میں نہیں جانتا ہے ۔دوسری طرف سے یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ فاسق کی غذ ا حلال ہے کیوں کہ ،وہ تو اسلام کے احکام کا پا بند نہیں ہے،معلوم نہیںہے اس نے مال کہاں سے حاصل کیا ہے،معلوم نہیں وہ اپنے مال میں خمس وزکو١ة کا پابندہے کہ نہیں یہ بھی معلوم نہیںہے کہ اس نے یہ مال رشوت کے ذریعہ حاصل کیاہے یا کسی اور ذرائع سے۔انسان مومن پر تواعتمادکر سکتاہے کہ ا س سے اپنے مال کو حلال راہ سے حاصل کیا ہو گا ،لیکن فاسق پراعتمادنہیں کیا جاسکتاہے،ممکن ہے انسان اسکی غذا کھائے اور بعد میں معلوم ہو کہ اس کا مال حلال نہیں تھا۔
مذکورہ مطا لب کے علاوہ بعض روایتوںسے یہ بھی استفادہ کیاجاسکتاہے کہ مشکوک غذا انسان کی روح پر اثر کرتی ہے اور اس کا طبیعی اثر ہو تاہے ،اگر انسان بے خبری میں بھی مشکوک غذا کو کھائے تو اس غذا کے طبعی اثرات مرتب ہوں گے اس سلسلہ میں بعض بزرگوں سے عجیب و غریب داستانیں نقل ہوئی ہیں:ایک بزرگ سے نقل ہے کہ انھوں نے اپنے بیوی سے کہا تھا :میں احساس کر رہاہوں کہ مردار حیوان کا گوشت کھا رہاہوں! ان کی بیوی تعجب کر تی تھی کہ اسکا شو ہر یہ کیا باتیں کررہاہے لیکن تحقیق کے بعدمعلوم ہوا کہ پانی کے مخصوص بر تن میں ایک جانور( گزشتہ زمانے میں نجف اشرف میں پانی رکھنے کا ایک مخصوص ظرف ہوتا تھا)پڑا تھا اور وہ اسی نجس پانی کو پیتے تھے! اور وہ بزرگ عالم اس نجس پانی کے طبیعی اثرکو محسوس کر رہے تھے۔
بعض بزرگوںکے حالات میں پا یا جاتا تھا کہ وہ ہر ایک کی دعوت کو قبول نہیں کر تے تھے اور ہر جگہ نہیں جا تے تھے ا ور ہر غذا کو نہیں کھا تے تھے۔کر بلا ئی کاظم نامی ایک شخص کی ایک معروف داستان ہے کہ وہ خداکی خاص عنایت سے معجزانہ طور پر حا فظ قر آن ہوئے تھے ۔ طلبگی کے ابتدائی دنو ں میں جب ہم مدرسۂ حجتیہ میں سکو نت پذیر تھے ، وہ ہمارے مدرسے میں آ ئے تھے اور طلا ب ان سے امتحان لیتے تھے کہ واقعا وہ حافظ قرآن مجید ہیں یانہیں. وہ ایک عجیب قسم کے حافظ تھے، یہا ں تک قرآن مجیدکی آیات کو بر عکس آخر سے اول تک پڑ ھتے تھے اور قرآن مجیدکے نقطوں کی تعدادکو بھی جانتے تھے .۔ وہ ہرایک کے گھر نہیں جاتے تھے۔بعض لوگوں کی دعوت کو قبول کرتے تھے اور بعض کی دعوت کو قبول نہیں کر تے تھے ۔انھوں نے کہا تھا:جب بعض دعوتوںپر جاتا ہوں،اس کے بعد دل میں کدورت اور تاریکی کا احساس کر تا ہوں اوراس دعوت سے پہلے جن انوار کو دیکھتا تھا، اب انھیں نہیں دیکھتا ہوں(یقینا یہ مذ کو رہ باتیںہمارا ادراک ہے ، لیکن یہ حقیقت ہے)
مر حوم آیت اللہ حاج آقا مرتضی حائری رضوان اللہ تعالے علیہ نے نقل کیاہے: میں نے کتاب جواہر کربلائی کا ظم کے سامنے رکھی ، چو نکہ وہ ان پڑھ تھے اس لئے نہیں پڑھ سکتے تھے اور ''الف'' کو''ب'' سے تشخیص نہیں دے سکتے تھے ، لیکن قرآن مجید کی آیتوںپرانگلی رکھ کر کہتے تھے: یہ قرآن مجید کی آیت ہے! آقاحائری نے ان سے کہا تھا: تم تو ان پڑھ ہو،قرآن مجید کی آیت کو کیسے تشخیص دیتے ہو؟ اس نے کہا: یہ آیتیں نو رانی ہیں اور میں انھیں نور سے تشخیص دیتا ہوںکہ یہ قرآن مجید کی آیتیں ہیں! جی ہاں ایسی حقیقتیں مو جود ہیں ،چونکہ ہم درک نہیں کرتے ہیں،ہمیں انکار نہیں کرنا چاہئے۔
ہمیں کو شش کرنی چاہئے کہ ایسے لوگوںسے معا شرت کریں،ایسے لوگوںکے ہمراہ کھاناکھائیں ،ایسے لوگوں کے مال سے استفادہ کریں اور ایسے افراد کا تحفہ قبول کریں جو اہل ایمان و تقوی ہو ں۔ اسی طرح جب خدائے متعال کسی کو کوئی مال عطا کرے،تو اسے کوشش کرنی چاہئے کہ اس نعمت سے بنحو احسن استفادہ کرے۔ اگر اس مال سے کھانا تیار کرے تو ایسے افراد کو کھلائیجو با ایمان و با تقوی ہوں تاکہ اس کا عمل خداکے نزدیک پسندیدہ قرار پائے اس کے علاوہ اس کی دعوت اور اسکا کھانا کھلا نا ان دونوںکے درمیان رابطۂ الہی کے بر قرار ہونے کا سبب ہو نہ یہ کہ وہ دعوت پست مادی ہوس رانیوں کے لئے ہو:
'' یا اباذر: اطعم طعامک من تحبه فی اللّٰه و کل طعام من یحبک فی اللّٰه عزو جل ''
'' اے ابو ذر!اپنی غذا اس کو کھلا ئو کہ جسے خد ا کی راہ میں دوست رکھتے ہو تم بھی اس کا کھا نا کھائو جو تجھے خدا کی راہ میں دوست رکھتا ہے''
انسان کو اپنی غذا اس کو دینی چاہئے اور اسکی غذا کھانی چاہئے جس کے ساتھ دوستی اورمودت کا رابطہ بر قرار ہو اور وہ دوستی الہی اصولوں پر مبنی ہو۔جب کوئی کسی انسان کو غذا دیتاہے،معلوم ہے کہ وہ اسے دوست رکھتاہے،لیکن دیکھناچاہئے کہ اسے خدا کے لئے دوست رکھتا ہے یا دوسرے مقاصد کے لئے۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تاکید فر ماتے ہیں کہ دعوت پر جانا اور دعوت کرنا خدا کے لئے ہو تا کہ خدا کی نعمتوں سے پورا پورا استفادہ کیا جاسکے اور خدا کے مومن بندوں کے در میان الہی رابطہ مستحکم ہو ۔ کیو نکہ ایک دوسرے کو کھانا کھلانے سے مومن بندوں کے در میان محبت مستحکم اور پائیدار ہو تی ہے اور الہی محبت سے مومن بندے نشوو نما پاتے ہیں ،اس کے مقابلہ میں اگر محبت غیر الہی اور شیطانی ہو تو اس کا اثر انسان کے لئے انحطاط و پستی کا سبب ہے۔
احکام ظاہری حلال و حرام کی سفارش کے علاوہ ۔۔جو ضروری فقہی احکام ہیں۔ او لیائے الہی بعض دوسرے سنجیدہ اور ظریف مسائل کی ر عایت کرنے کی بھی تاکید کر تے تھے ۔کیونکہ صرف واجبات انجام دینا اور محر مات کو ترک کرنا انسان کے تکا مل و ترقی اور نشوونما کے لئے کافی نہیںہے اور ان فرائض کو انجام دینا جو ابھی ابتدائی قدم ہے (کہ البتہ ہم میں سے بہت سے لوگ اسی ابتدائی مر حلہ میں رک گئے ہیں) مو من کی ہمت بلند ہونی چاہئے اور وہ یہ خیال نہ کرے کہ واجبات ومحرمات الہی کی رعا یت سے انتہائی مقصد تک پہنچ سکتاہے ،بلکہ ا سے جاننا چاہئے کہ دوسراقدم آدا ب شرعی اور مستحبات کی رعایت کرنا ہے، ان میں سے بعض من جملہ آداب معاشرت، آداب گفتگو ،کھانا کھانااور حسن اخلاق کی طرف اشارہ کیا گیاہے ۔دوسرے مستحبات کی رعایت اور مشکوک چیزوں سے پرہیز نیز دوسرے شرعی آداب وغیرہ۔
اس مرحلہ کو طے کرنے اور دوسرا قدم اٹھانے کے بعد ،بھی انسان کو تکامل وترقی تک پہنچنے کے لئے ایک طولانی راستہ طے کرناہے ۔اسے اپنی قلبی رجحانات کی تحقیق کرنی چاہئے اور دیکھ لے کہ اس کا دل کس چیز کی طرف مائل ہے۔ اس کے رفتاری مقاصد کیا ہیں ؟ حتی اگر وہ ایک نیک یا مستحب کام انجام دیتا ہے ،اسے بھی دیکھ لے کہ کیا غرض رکھتا ہے ۔بالآخر دل اور نفس کی تحقیق اور جانچ کرنا انسان کے تکامل و ترقی کے مراحل میں سے ہے،ہم جو ابھی اپنے ظاہری اعمال کی تصحیح وتطہیر نہیں کر چکے ہیں ،ابھی اس مر حلہ تک نہیں پہنچے ہیں ۔ اس کاانتہائی اور آخری مرحلہ یہ ہے کہ او لیائے الہی کو شش کرتے ہیں کہ ان کی توجہ صرف خدائے متعال پر متمرکز ہو ، ان کے دل خدا کی محبت کے مظہر بن جائیں ،ان کی امیدیں صرف خدا سے ہو ،اوراسی سے ڈریں نہ غیر خدا سے.وہ ایسی زندگی گزاریں کہ گویا اس دنیا میں خدا کے علاوہ کسی سے سروکار نہیں رکھتے ہیں جبکہ اسی حالت میں سب کے ساتھ معاشرت کرتے ہیں اور دوسروںسے گفتگو کرتے ہیں اور اجتماعی زندگی بسر کرتے ہیں ،انکے دل خداسے اس طرح لو لگائے ہیں کہ گو یا خداکے سوا کسی سے کوئی سر وکار نہیں رکھتے ہیں۔
حدیث معراج میں ، جواراور قرب الہی میں پہنچے ہوئے مو من کی روح کی زبانی خدائے متعال فرماتاہے:
''ثم یقال لها :کیف ترکت الدنیا ؟فتقول:الهی وعزتک وجلالک لا علم لی بالدنیا انا منذ خلقتنی خائفه منک'' (۹)
اس مومن کی روح سے کہاجاتا ہے ،تم نے کیسے دنیا کو ترک کیا ؟ وہ جواب میں کہتی ہے: خداوندا!تیری عزت وجلال کی قسم کہ میں دنیا کے بارے میں علم و آگاہی نہیں رکھتی ہوں جس دن تونے مجھے پیداکیا اس دن سے تیرے مقام سے خائف ہوں۔
وہ مومن دنیا کی کوئی خبرنہیں رکھتاہے ، کیونکہ اس کی توجہ صرف خداکی طرف ہے اور جو امور خداسے مربوط نہ ہوں وہ ان سے بے خبر ہے۔ دنیا کے گوشہ وکنار میں خدائے متعال ایسے بندے رکھتاہے ۔اگر ہم بھی ہمت کریں ،اپنے ارادہ کو مستحکم کریں، اپنے نفس کی اصلاح کریں اوراپنے آپ کو طاہر قرار دیں ، تو ہم بھی اس مقام تک پہنچ سکتے ہیں۔ ہمیں اپنے انجام دیئے گئے کاموں پر مغرور نہیں ہونا چاہئے اور ظاہر کو نہیں دیکھنا چاہئے کوشش کرنا چاہئے اپنی روح اور دل پر نگاہ رکھیں۔
____________________
١۔ بحارالانوار :ج ٤٢ ، ص ٢٤٧
۲ ۔بحا ر الا نوار،ج٧٤ ص١٩٤
۳۔بحار الانوار ، ج١ص٢٠٤
۴۔اصول کا فی،ج٢ص١٦٦
۵۔بحارالانوار،ج٧١،ص١١٨٦
۶۔بحار الانور ج٧١ ص١٨٩ح١٨
۷ ۔ اصول کافی،ج٤ص٤٥
۸۔اصول کافی، ج٤ ص٤٥١
۹۔ بحارلانوار،ج٧٧ ،ص٢٧
اکتیسواں درس:
زبان،وسیلہ ہدایت یاوسیلہ گمراہی
* ترقی اور بالیدگی کے لئے زبان اور دیگر عضاء و جوارح سے استفادہ کرنا
* زبان سے بہرہ مند ہونے اور اس کی آفات سے بچنے کاطریقہ
* مذاق اور مزاح میں مشغول کرنے والی اور افراطی باتوں سےپرہیز
* ہدایت کے طریقوں کا یکساں نہ ہونا
* بولنے اور دیگر رفتار کے رد عمل اور نتائج پر ایک نظر
* محققانہ باتوں کو نقل کرنے کی ضرورت اور افواہوںسے پرہیز
زبان،وسیلہ ہدایت یاوسیلہ گمراہی
''یا اَباذَرٍّ؛ ان اللّٰه عزّوجل عند لسان کل قائل فلیتّق اللّٰه امرء ولیعلم ما یقول. یا اباذر؛ اترک فضول الکلام و حسبک من الکلام ما تبلغ به حاجتک یا اباذر؛ کفی بالمرء کذبا ان یحدث بکل ما یسمع. یا اباذر؛ ما من شی ء احق بطول السجن من اللسان''
رسول خدا صلّی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حدیث شریف کا یہ حصہ زبان اور اس کے کنٹرول کے بارے میں ہے۔ البتہ گزشتہ درس میں بھی زبان کے کنٹرول کی ضرورت کے بارے میں تھوڑی سی بحث ہوئی اور آنحضرت صلّی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہ بیانات اس نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انسان اپنی گفتگو میں بیشتر احتیاط کرے۔ اس امر کے پیش نظر ہم دیکھتے ہیں کہ ہماری احادیث کی کتابوں میں بات کرنے کے طریقہ اور بولنے کے آداب اور اس کی آفتوں کی بارے میں کئی باب مخصوص کئے گئے ہیں ۔اس سے پہلے ذکر کیا گیا کہ کونسی بات کرنا ضروری ہے او رکونسی بات ناپسندید ہے کہ جس کو بولنے سے اجتناب کرنا چاہئے۔ چونکہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نصیحتوں کے سلسلہ میں ہم اس مرحلہ تک پہنچے ہیں، اس لئے ہم اسی مناسبت سے اس موضوع کی وضاحت کرتے ہیں۔ پہلے اس نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ زبان ، خدا کی نعمتوں میں سے ایک قیمتی نعمت ہے، اس کے بعد زبا ن کی بعض آفتوں اور نقصانات کی طرف اشارہ کریں گے.
ترقی و بالیدگی کے لئے زبان اور دیگراعضاء و جوارح سے استفادہ :
خدائے متعال نے جن تمام نعمتوں کو انسان کے وجود میں قرار دیا ہے خواہ وہ اس کے ظاہری اعضاء و جوارح ہوں، جیسے:آنکھ ، کان، ہاتھ پاؤں وغیرہ خواہ اس کے داخلی اعضاء ہوں خواہ انسان کی غیر مادی خصوصیات کہ جو روحانی پہلو رکھتے ہیں، جیسے تفکر وتخیّل کی صلاحیت کہ جو دماغ سے مربوط ہے اور انسان کے روحی جذبات ، مختصر جو کچھ انسان کے بدن اور روح سے مربوط ہے یہ تمام کی تمام چیزیں انسان کے تکامل و ترقی کے لئے وسائل ہیں نہ کہ مقصد اور نہ ہی ان کی چاہت اور ان کا ماحصل انسان کا آخری مقصد ہے، چیزوں کو ہمیں اس نگاہ سے دیکھنا چاہئے جو انسان کے کمال اور اخروی ثواب کا سبب بنے، اس طر ح دوسرے تمام اعضائ، من جملہ زبان۔
انسان کو ایسی بات کرنی چاہئے جو اس کی بلندی اور خدائے متعال کی خوشنودی کاسبب بنے۔ خدا کی تمام نعمتوں کو، خدا کا تقرب حاصل کرنے اور کمال تک پہنچنے کا ذریعہ قرار دینا چاہئے اور یہ نعمتیںتماشا نہیں ہیں کہ انسان ہر نیت وغرض سے ان کا استعمال کرے۔ انھیں زبان جیسیعضو سے حاصل ہونے والی خواہشات اور نتائج کو اپنا اصلی مقصد نہیں سمجھنا چاہئیکیونکہ اس کا اصلی مقصد ان چیزوں سے بلندتر ہے اور انسان کا بات کرنا اصل مقصد نہیں ہے۔ اس لحاظ سے زبان کو خیرکمال کی راہ میں استعمال کرنا چاہئے۔ حضرت اما م جعفر صادق علیہ السلام ایک حدیث میں فرماتے ہیں:
''زکاة اللسان النصح للمسلمین و التّیقّظ للغافلین و کثرة التسبیح و الذّکر ..،،(۱)
''زبان کی زکوة مسلمانوں کو نصیحت اور غافلوں کو بیدا رکرنا اور فراوان تسبیح و ذکر ہے۔''
بات کرنا وسیلہ ہے او رچونکہ خدائے متعال نے انسان کی خلقت کا مقصد کمال اور اپنا تقرب قرار دیا ہے ، لہذا اس نیک مقصد تک پہنچنے کے لئے زبان سے فائدہ اٹھا نا چاہئے، نہ کہ اس کے ذریعہ اپنے لئے بدبختی کے وسائل فراہم کئے جائیں۔ سوچ اور سمجھ کے بات کرنی چاہئے اور بیہودہ باتوں سے و انسان کی اجتماعی و معنوی منزلت کے انحطاط کا باعث ہے پرہیز کرنا چاہئے، کیونکہ انسان کا بولنا اس کی شخصیت و منزلت کا مظہر ہے۔ پس اگر انسان نے اپنی بات کے نتائج کے بارے میں سوچے سمجھے بغیر بات کی تو اس نے اپنی بے مایہ ماہیت کو فاش کردیا، چنانچہ حضرت امام علی فرماتے ہیں:
''تکلّموا تعرفوا فانّ المرء مخبوء تحت لسانه'' (۲)
''بات کرو تا کہ پہچانے جائو،بیشک انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا ہوا ہے.''
دوسری جگہ پر بیہودہ بات کرنے اور اس کے نتیجہ کے بار میں فکر نہ کرنے کو منافقوں کے صفات جانتے ہوئے فرماتے ہیں:
''و انّ المنافق یتکلّم بما علی لسانه لایدری ماذاله و ما ذا علیه '' (۳)
''منافق کی زبان پر جو آتا ہے اسے بولتا ہے اور وہ نہیں جانتا ہے کہ اس کے نفع میں کیا ہے اور نقصان میں کیا ہے۔''
اس کے برعکس مومن:
''اذا اراد ان یتکلم بکلام تدبره فی نفسه، فان کان خیراً ابداه وان کان شرّاً واراه '' (۴)
''جب چاہتا ہے کوئی بات بولے اس کے بارے میں صحیح طور پر غور و فکر کرتا ہے، اگر اچھی ہے تو اسے اظہار کرتاہے اور اگر بری ہے تو اسے چھپاتاہے.''
اگر چہ ہم اجمالا ًجانتے ہیں کہ زبان کے وسیلہ سے خدا ئے متعال کے تقرب کی کوشش کرنی چاہئے ، لیکن بات اس تقرب کی کیفیت میں ہے اس کی وضاحت میں یہ کہنابہتر ہے: ہماری بات اور گفتگو کبھی عبادت کے زمرے میں ہے، کہ انسان نماز اور عبادت کے دوران کچھ کلمات زبان پر جاری کرتاہے، ہمارایہ بولنا واجب اور مستحب عبادتوں میں شمار ہوتاہے۔ لیکن دوسرے مواقع پر ، زبان ایک وسیلہ ہے اپنے مافی الضمیرکو سمجھانے کے لئے اس کے ذریعہ سے انسان اپنی نیت اور ارادے سے دوسروں کو آگاہ کرتا ہے ،اس سلسلہ میں بھی انسان کو الٰہی مقصد ملحوظ رکھنا چاہئے کہ کونسی بات خداکو پسند او راس کا تقرب حاصل کرنے کا
سبب ہے اور اس میں اخروی ثواب ہیں، اس صورت میں انسان اپنی زبان کو حرکت دینے اور بات کرنے سے رضائے الہی تک پہنچتا ہے۔
بعض مواقع پر ، بات کے مطلوب او ر پسندیدہ ہونے کے سلسلے میں شرعی راہ سے معلومات حاصل کرنی جاہئے ورنہ انسان مطلوب کے حدود اور مشخصات کو نہیں پاسکتا ہے۔
بہت سے مواقع پر انسان اپنی عقل کے ذریعہ بات کے نیک ہونے کو تشخیص دیتا ہے اور اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بات پسندید ہ ہے ، واجب یا مستحب ہے۔ اس صورت میں اگر انسان قصد قربت رکھتا ہو، تو اس کی بات عبادت شمارہوگی، مثال کے طور پر وہ اپنی بات کے ذریعہ کسی مظلوم سے ظلم کو دور کرنا چاہتا ہے یا اپنی بات سے کسی مظلوم کا حق ظالم سے واپس لینا چاہتا ہے۔یہ موارد''مستقلات عقلیہ'' میں سے ہیں کہ عقل ان کو درک کرنے میں آزاد ہے اور اسے حکم شرعی کی ضرورت نہیں ہے۔اگر ہمیں کوئی شرعی حکم بھی نہیں ملتا، تب بھی ہم اس بات کو درک کرتے ہیں کہ مظلوم سے ظلم کو دور کرنا واجب ہے اور اگر ہم اپنی بات سے کسی مظلوم سے ظلم کو دور کر سکیں ، تو وہ بات واجب اور رضائے الہی کا سبب ہے، اگر وہ بات واجب کی حد تک بھی نہ پہنچے تو کم از کم اس کے نیک ہونے کو ہم درک کرتے ہیں۔
ہم سب جانتے ہیں کہ یتیم کے سرپردستِ شفقت پھیرنا اور اسے خوش کرنا اور اپنی بات سے مصیبت سے دوچار ہوئے مومن کے غم و اندوہ کو دور کرنا ، پسندیدہ ہے ۔ ایسی صورت میں اگر انسان قصد قربت کرے تواس کا عمل عبادت ہے۔ ان مواقع کے مقابلہ میں بعض جگہوں پر ہم فعل کے جائز ہونے کے حدود تشخیص نہیں دے سکتے ہیں، ایسے مواقع پر شرعی احکام کے مانند ، شارع کو ہمارے لئے حکم بیان کرنا چاہئے ۔اگر چہ ہماری عقل بعض کلی چیزوں کو درک کرتی ہے ، لیکن ان کی خصوصیات شرائط اور حدود کو شارع مقدس معین کرتاہے، کہ وہ منابع فقہی سے استنباط کے بعدہمارے اختیار میں قرار دے، لہذا ایسے مواقع پر حکم شرع کا انتظار کرنا چاہئے بعض مسائل ایسے ہیں جن کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ وہ خدا کوپسند نہیں ہیں، ان کا انجام دیناصحیح نہیں ہے ، اور اگر انسان انھیں انجام دے تواس نے گناہ کیا ہے، اسے سزا ملے گی، چونکہ وہ خدا کوپسند نہیں ہیں اس لئے قصد قربت سے وہ عبادت نہیں بن سکتے۔ایسے مواردکے بارے میں انسان کی عقل مستقل طور پر تشخیص دیتی ہے اور شارع مقدس کی طرف سے حکم حاصل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔مثال کے طور پر زبان کے ذریعہ دوسروں کو تکلیف دینا، جھوٹ، تہمت اور دومومنوں کے درمیان زبان کے ذریعہ اختلاف پیدا کرنا یہ سبب امور عقلی کی بنا پر قابل مذمت ہیں۔
مذکورہ باتوں سے ہم نے نتیجہ حاصل کیا کہ بعض باتوں کے پسندیدہ یا ناپسندیدہ ہونے کو ہم واضح طور پر درک کرتے ہیں اوربعض دوسرے موارد ایسے ہیں کہ جہاں پر پسندیدیا ناپسندیدہ باتوں کے حدود و شرائط کو ہمارے لئے شارع مقدس بیان کرتا ہے۔
زبان سے بہرہ مند ہونے اور اس کے آفات سے بچنے کا طریقہ :
یاد رکھنا چاہئے کہ زبان ، خدائے متعال کی سب سے بڑی نعمتوں میں سے ایک نعمت اور اس کی لطیف ترین مخلوقات ہے۔ اگر چہ اس کا حجم چھوٹا ہے لیکن اس کی اطاعت و جرم بڑے ہیں ۔چونکہ کفر و ایمان زبان کے ذریعہ سے ظاہر ہوتے ہیں اور یہ دونوں انسان کی اطاعت و عصیان کی سر حد ہیں ۔ اس لئے زبان پر کنٹرول کرنے کے لئے کوشش کی جانی چاہئے ، کیونکہ زبان کو کھلی ڈھیل دینا انسان کے لئے فروان نقصانات کا سبب بن جاتا ہے۔ انسان زبان کے شر سے تب محفوظ رہتاہے ۔جب اسے شرعی احکام اور قوانین کے ذریعہ کنٹرول کرے اور اسے دنیا و آخرت کے فائدہ کے علاوہ کسی اور چیزکے لئے آزادانہ رکھے اور جہاں پر بات کرنے سے دنیوی و اخروی خطرات کے ایجاد ہونے کا خوف ہو، اسے کنٹرول کرے۔انسان کو فریب دینے اور غافل کرنے کے لئے شیطان کا سب سے بڑا وسیلہ انسان کی زبان ہے۔ اسی لئے روایتوں میں خاموش رہنے کی تاکید کی گئی ہے، چنانچہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں:
''من صمت نجا ''(۵)
''جس نے خاموشی اختیار کی اس نے نجات پائی''
ایک اور حدیث میں فرماتے ہیں:
''لا یستقیم ایمان عبدٍ حتی یستقیم قلبه و لا یستقم قلبه حتی یستقیم لسانه ''(۶)
''کسی بندے کا ایمان تب تک مستحکم نہیں ہو تا جب تک اس کا دل مستحکم نہ ہو جائے اور اس کا دل اس وقت تک مستحکم نہیں ہوتا ہے جب تک نہ اس کی زبان استوار نہ ہوجائے ''
اوحدی شاعرنے خاموشی کی توصیف میں یہ شعر کہے ہیں:
غنچہ کو درکشد زبان دوسہ روز
ہم بزاید گلی جھان افروز
گر چہ پرسند کم جواب دھد
بہ نفس بوی مشک ناب دھد
راہ مردان بہ خود فروشی نیست
در جھان بہتر از خموشی نیست
(غنچہ دوتین دن کے لئے اپنی زبان بند رکھتاہے تا کہ عالم کو منور کرنے والے پھول اور خوشبوکو کو جنم دے جب اس سے پوچھتے ہیں توکم جواب دیتا ہے بلکہ نفس کو خاص مشک کی خوشبو دیتا ہے خودفروشی مردوں کا شیوہہے دنیامیں خاموشی سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے)
زبان کو جھوٹ ، تہمت اور غیبت و غیرہ جیسی آفتوں سے محفوظ رکھنا چاہئے اور نیک اورشائستہ گفتگو کرنی چاہئے تا کہمخاطب یا کسی دوسرے کوکوئی اذیت نہ پہنچے ۔پس ایسے موقع پر گفتگو کرنی چاہئے جہاں اس کی ضرورت ہواور اس سے کوئی مقصد نکلے، ممکن ہے کبھی انسان ایسی بات کہے جس کے نتیجہ میں اس کے لئے بہشت میں ایک محل تعمیر کیا جائے۔پس جو اپنی بات سے خزانے حاصل کرسکتا ہے اگر اس کے بجائے خس وخاشاک حاصل کر ے تو اس نے بہت بڑا نقصان کیا ہے۔ یہ مثال اس کے لئے ہے جوذکر الہی تر ک کرکے مباح کا موں میں لگ جائے جس کا اس کے لئے کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اگر چہ اس نے گناہ نہیں کیا ہے ، لیکن اس لحاظ سے کہ اس نے ایک بڑ ے فائدے کو جو ذکر خدا کے ذریعہ اسے حاصل ہورہا تھا کھو دیا ہے اس لئے وہ خسارے میں ہے چنانچہ اما م جعفر صادق علیہ ا لسلام اولیائے الہی کی توصیف میں فرماتے ہیں:
''انَّ اولیاء اللّٰه سکتوا فکان سکوتهم ذکراً و نظروا فکان نظرهم عبرةً ونطقوا فکان نطقهم حکمةً و مشوا فکان مشیهم بین الناس برکة'' (۷)
'' اولیائے الہی نے خاموشی اختیار کی ان کی خاموشی ذکر تھی ، ان کا نگاہ اٹھا کر دیکھا ان کا دیکھنا عبرت تھا اورانھوں نے گفتگو کی ان کی گفتگو حکمت تھی۔ وہ لوگوں کے درمیان پیادہ روی کی اور ان کا چلنا برکت تھا ''
انسان کی سعادت و شقاوت اس سے بڑھ کر معاشرے کی تعمیر یا ایک سماج کے اقدار کی بیخ کنی کرنے میں زبان کا جو نقش رہا ہے اس کے پیش نظر خدائے متعال اور اولیائے الہی کی طرف سے اس کے متعلق بہت زیادہ تاکید ہوئی ہے کہ انسان اپنی زبان کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرے۔ اور اجتماعی و اسلامی آدابنیز رفتار سے آگاہی حاصل کرے، اولیائے دین کی رفتار و کردار کے طریقوں کو اپنے لئے نمونہ قرار دے اپنی زبان کو خود سازی اور معاشرے کی اصلاح کے لئے استعمال کرے۔ اس لحاظ سے زبان کو کنٹرول کرنے اور اس سے صحیح استفادہ کرنے کا بہترین طریقہ انبیاء و اولیای الہی کی بات کرنے کے آداب کو مد نظر رکھنا ہے۔
معاشرت کے درمیان انبیاء لوگوں کو بات کرنے کے بہترین آداب کے طریقہ پیش کئے کہ نمونے کے طور پر ان کفار کے ساتھ انجام شدہ استدلالی مناظر پیش کئے جاسکتے ہیں، جو قرآن مجید میں بھی نقل ہوئے ہیں ، اس طرح جو باتیں وہ مومنوں کے ساتھ کرتے تھے اور جو مختصر سیرت ان کی نقل ہوئی ہے۔ اگر ہم پیغمبروں کی کفار اور ہٹ دھرم افراد کے ساتھ کی گئی گفتگو کی جانچ پڑتال کریں تو ہم اس میں کوئی ایسی چیز نہیں ملے گی کہ جو کفار کے لئے خوشی کا باعث نہ ہواور بے ادبی اور بی احترامی پر مبنی ہو۔ جی ہاں، خدا کے پیغمبر کفار کی طرف سے اس قدر مخالفت ، گالم گلوج، طعنہ زنی، بے احترامی اور مذاق اڑ انے کے با وجود جواب ہیں بہترین بیان اور خیر خواہانہ نصیحتوں کے علاوہ کچھ نہیں کہتے تھے اور ان سے جدا ہوتے وقت سلام کئے بغیر جدا نہیں ہوتے تھے:
( وَ عبادُ الرَّحمٰن الّذین یَمشُونَ عَلی الارضِ هوناً وَ اِذا خاطَبَهُم الجاهلونَ قالوا سلاماً ) (فرقان / ٦٣)
'' اور اللہ کے بندے وہی ہیں جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے خطاب کرتے ہیں ، تو وہ انھیں سلام کرتے ہیں ''
جی ہاں، مشرکین جو خدا کے پیغمبروں کے خلاف اس قدر زخم زبان، تہمتیں اور بے احترامیاں رو ارکھنے کے با وجود قرآن مجید کے نقل کے مطابق کسی ایک پیغمبرنے بھی ان اذیت و آزاروں کے مقابلہ میں سختی یا بد زبانی سے جواب نہیں دیا ہے، بلکہ اس کے بر عکس نیک گفتار ، د ل کو موہ لینے والی منطق اور نیک اخلاق سے پیش آتے تھے۔جی ہاں یہ بزرگوار ایسی تعلیم و تربیت گاہ کے پروردہ تھے کہ جنھیں بہترین کلام کرنے اور زیبا ترین اد ب کی تعلیم دی جاتی تھی اور انہیں تعلیمات الہی میں سے ایک دستور ہے کہ جسے خدا ئے متعال حضرت موسیٰ اور ہاورن کو دیتے ہوئے فرماتا ہے:
( اذهبا الی فرعون انّه طغی فقولا له قولاً لیّنا لعلّه یتذکّرا و یخشی' )
(طہ ٤٣و٤٤)
''تم دونوں فرعون کی طرف جاؤ کہ وہ سرکش ہوگیا ہے۔ اس سے نرمی سے بات کرو شاید وہ نصیحت قبول کرے یا خوف خداپیدا ہو''
انبیاء کی بات کرنے کے آداب میں یہ تھا کہ وہ اپنے آپ کو لوگوں میں سے جانتے تھے اور ان کے ہر گروہ اور طبقہ سے ان کے فہم کے مطابق گفتگو کرتے تھے اور یہ حقیقت ان کی مختلف لوگوں کے ساتھ کی گئی گفتگوجو تاریخ اور روایتوں میں نقل ہوئی ہے سے بخوبی معلوم ہوتا ہے. چنانچہ شیعہ اور سنی دونوں کی طرف سے روایت کی گئی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
''انّا معاشر الانبیاء امرنا ان نکلِّمَ الناس علی قدر عقولهم'' (۸)
'' ہم پیغمبروں کا بنیادی کام یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ ان کی عقل کے مطابق بات کریں''(۹)
مزاح میں مشغول کرنے والی اور افراطی باتوں سے پرہیز:
آفات زبان اور زیان آور بحث و مباحثہ کے سلسلہ میں بہت سی روایتیں نقل ہوئی ہیں اور ہمارے فقہانے فقہ میں حرام باتوں کے بارے میں کئی باب مخصوص کئے ہیں ، جیسے جھوٹ ، غیبت ، مذاق اڑانا، مومن کو اذیت کرنا، ایسی بیہودہ اور مشغول کرنے والی باتیں ، جن کو ''لھو الحدیث'' سے تعبیر کیا گیا ہے اور یہ انسان کو خدا سے دور کرتی ہے اور انسانی طبیعت کو معنویت اور خدا کے نور سے خالی کردیتی ہے۔ (اخلاق کی کتابوں میں اس پر مفصل بحث کی گئی ہے) بعض مواقع پر کسی عمل کے مذموم او ر حرام ہونا انسان کے لئے واضح ہوتا ہے، اس لئے انسان اس گفتگو یا عمل کے حکم کے بارے میں شک نہیں کرتا۔ لیکن بعض مواقع پر کچھ باتیں بظاہر مباح لگتی ہیں حتی انسان تصور کرتاہے کہ یہ پسندیدہ ہیں لیکن حقیقت میں وہ باتیں ناشائستہ اور حرام ہوتی ہیں ۔ایسے مواقع پرشیطان ہمیں دھوکہ دیتاہے اور ہم مشکوک باتوں کو آگاہانہ یا نیم آگاہانہ طور پر زبان پرلاکر گناہ میں آلودہ ہوتے ہیں ، اگر چہ کبھی انسان کافی توجہ نہ کرنے کی وجہ سے خود اپنے کو دھوکہ دیتا ہے۔ اگر انسان مشکوک مواقع کے بارے میں صحیح فکر اور دقت کرے ، تو حقیقت کو درک کر سکتاہے، لیکن چونکہ وہ خواہشات سے مغلوب عمل کرتاہے، اپنی کام میں دقت نہیں کرتاہے اور اپنے عمل کو انجام دینے کے لئے ایک نہ ایک بہانہ تلاش کرتا ہے۔مثلاً ایک شوخ مزاج انسان جب ایک مجلس کو سرگرم کرنا چاہتا ہے اور اپنی باتوں سے دوسروں کہ شاد و مسرور کرنا چاہتاہے۔ تو بہانہ جوئی کرتاہے کہ مثلاً آج شبِ عید ہے اورمیں دوسروں کو شادکرناچاہتا ہوں۔ اسی بہانہ سے اوقات کو ضائع کرنے والی ایسی باتیں کرتاہے کہ ان کا کوئی معنوی حتی دنیوی فائدہ نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ اپنی عمر ضائع کرنے، دوسروں کو تکلیف پہنچانے اور برے اثرات کے علاوہ اس کا کوئی نتیجہ نہیں ہوتا ہے۔
کلمہ ''لھو'' کا معنی ہر وہ چیز ہے جوا نسان کو ضروری اور اہم کاموں سے روکے اور ''لھوالحدیث'' مشغول کرنے والی بات ہے کہ انسان کو حق سے منصرف کرکے اپنی طرف مشغول کرلے، مثال کے طور پر خرافاتی حکایتیں اور وہ داستانیں جو انسان کو فسق و فجور کی طرف کھینچتی ہیں۔اس طرح مبتذل ترانے اور موسیقی و غیرہ ''لھو الحدیث'' کے مصداق ہیں۔
تفسیر مجمع البیان میں آیا ہے کہ یہ آیت نصربن حارث کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ چونکہ وہ ایک تاجر تھا ایران سفر کرتا تھا او ر وہا ں پر ایرانی اخبار اور افسانوں کو ان کے منابع سے حاصل کرتا تھا او رپھرانھیں قریش سے بیان کرتاتھا اور ان سے کہتاتھا: محمد تمھیں عاد و ثمود کی داستانیں سناتے ہیں اور میں رستم ، اسفندیار اور کسری کی داستانیں سناتاہوں، لوگ بھی اس کی داستانوں کو کان لگا کے سنتے تھے اور قرآن مجید کی آیتو ں کو نہیں سنتے تھے۔(۱۰)
اس امر کی طرف دھیان رکھنا چاہئے کہ ایک بے چین اور افسردہ مومن بھائی کو خوش کرنے کے لئے صرف یہ وسیلہ نہیں ہے کہ اسے بیہودہ او رہنسانے والی باتوں سے سرگرم کیاجائے، بلکہ افسردہ اور غمگین فردکے مزاج کے مطابق خدا کی رحمتوں سے متعلق کسی روایت کو منتخب کرکے اسے بیان کیا جاسکتا ہے تا کہ اس کے اندر خوشی اور مسرت پیدا ہواور اس کی بے چینی اور افسردگی دور ہوجائے، نہ یہ کہ ہم اسے بعض خرافات اور بیہودہ باتوں سے خوش کریں. اس بناپر دوسروں کے دلوں میں مسرت پیدا کرنے اور انھیں خوش کرنے کا کوئی منکر و مخالف نہیں ہے بلکہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کی مکرر طور پر دینی کتابوں میں تاکید کی گئی ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ انسان کا بیان او راس کی بات میں مثبت مادی و معنوی نتیجہ ہونا چاہئے تا کہ نہ دوسروں کا وقت ضائع ہو اور نہ زبان جیسی نعمت الہی کا پست اور بے اہمیت طریقہ سے استعمال کیا جائے۔
اما م محمد باقر علیہ السلام نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
''من سرّ مومناً فقد سرّنی و من سرّنی فقد سرّ اللّٰه '' (۱۱)
''جو شخص کسی مومن کو خوش و مسرور کرے ، اس نے مجھے خوش کیا ہے اور جس نے مجھے خوش کیا اس نے بیشک خدائے متعال کو خوش کیا ہے۔''
ایک اورروایت میں حضرت اما م سجاد علیہ السلام نقل فرماتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
''انَّ احبَّ الاعمال الی اللّٰه عزّ و جل ادخال السرور علی المومنین'' (۱۲)
''خدائے متعال کے پاس سب سے بہترین عمل مومنوں میں مسرّت و شادمانی پیدا کرناہے۔''
کبھی مومن امور دنیوی یا اخروی کی وجہ سے غمگین ہوتا ہے ، غم و حزن اس کی فعالیت اور سرگرمی میں روکاوٹ کا باعث ہوتے ہیں اور اس کی توانائیوں کو مفلوج کرکے رکھ دیتے ہیں۔ اس بناپر وہ اپنی قابلیتوںاور توانائیوں سے استفادہ نہیں کرسکتا ہے، کیونکہ وہ نشاط و آرام سے محروم ہوتا ہے. اگر وہ مطالعہ کرے تو کسی چیز کو حفظ نہیں کرسکتا ہے یانماز کے وقت حضور قلب نہیں رکھتا ہے۔ بہر صورت کسی کام میں اسے دلچسپی نہیں ہوتی اور کسی کام کوانجام دینے کے لئے ہاتھ نہیں بڑھا تا اس صورت میں اسے اس غم و اندوہ سے نکالنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس کو خوش کرناچاہئے تا کہ وہ عبادت اور دیگرسرگرمیوں کو انجام دے سکے۔ اُسے خوش کرنا ایک پسندیدہ عمل ہے اور اگر خدائے متعال کے لئے ہو توعبادت بھی ہے.
کبھی انسان خود اپنے آپ کو دھوکہ دیتا ہے اور ایک مومن کو خوش کرنے کے لئے، بے فائدہ کہانیاں نقل کرنے اور لغو و بیہودہ باتیں،مذاق اور مضحکہ خیز کلمات کا سہارا لیتا ہے، گویا راستے کو انہی پرمنحصر جانتاہے ۔اس سے غافل کہ اس سلسلے میں کوئی منطقی ، موزوں او رقابل قدر بات کہہ سکے اور دلیل و استدلا ل سے اس مومن کو اس کے غم و آلام سے نجات دلا سکے۔ اس مومن کی رہنمائی کی جاسکتی ہے اور اسے یاددہانی کرائی جاسکتی ہے کہ یہ اضطراب اور غم و اندوہ تمھارے ذہن کو نقصان پہنچانے اور بیکار کرنے کے علاوہ تمھارے درد کاعلاج نہیں کرسکتے ہیں اس سے تجھے کوئی فائدہ نہیں مل سکتاہے۔
شوخ طبیعت اور لطیفہ باز انسان جب دیکھتا ہے کہ اس کا دوست مضطرب و رنجیدہ ہے تو وہ لطیفے اور ہنسانے والی باتیں کہنا شروع کرتا ہے تا کہ اپنے دوست کو خوش کرسکے، البتہ وہ اس سے غافل ہے کہ مزاح بہت کم پسندیدہ ہے اور اس میں افراط قابل مذمت ہے۔مزاح میں افراط اس امر کا سبب ہے کہ انسان متواتر اپنے اور دوسروں کو کھلونا بنا لیتا ہے اور اس میں افراط کے علاوہ حد سے زیادہ ہنسی کا موجب ہو تا ہے اور حد سے زیادہ ہنسنا دل کو مردہ کر دیتا ہے اور انسان کی عظمت اور وقار کو زائل کرتا ہے۔ اس لحاظ سے ہم دیکھتے ہیں کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی مزاح و شوخی کم کرتے تھے، چنانچہ فرمایاہے:
''انّی لاامزح و لا اقول الّا حقاً'' (۱۳)
''میں بھی مزاح کرتا ہوں ، لیکن مزاح ( مذاق ) میں سچی باتیں کہتاہوں''
یا زیادہ ہنسنے سے پرہیز کرنے کے سلسلہ میں فرماتے ہیں:
''واللّٰه لو تعلمون ما اعلم لضحکتم قلیلاً و لبکیتم کثیراً ''(۱۴)
''خدا کی قسم! اگر تم لوگ اس چیز سے آگاہ ہوتے جس سے میں آگاہ ہوں تو زیادہ روتے اور کم ہنستے۔''
مذکورہ مطالب کے پیش نظر کوشش کرنی چاہئے کہ مذاق و مسخرہ حد سے تجاوز نہ کرے ۔ کیونکہ کبھی مذاق و مسخرہ میں اعتدال سے تجاوز کرنا ادخال السرور کے بہانے اذیت، آزار ، گستاخی ، تہمت و غیبت کا مرتکب جاتا ہے۔ اس بہانہ سے کہ مومن کو خوش کرنا مستحب ہے، انسان شیطان کے دھوکے میں آتا ہے اور غیبت جیسے گناہ کبیرہ میں آلودہ ہوتاہے ، یعنی اپنے دوست کو بھی مجبور کرتا ہے کہ وہ غیبت کوسن کرگناہ میں آلودہ ہوجائے۔
بہر حال ، بہت سے مواقع پرشیطان انسان کو دھو کہ دیتا ہے وہ اپنے خیال میں نیک عمل انجام دیتا ہے، لیکن در حقیقت وہ مرتکب گناہ ہوتا ہے۔اب اگر انسان صحیح طور پر غور و فکر کرے تو اسے اپنی غلطی کا علم ہوگا، اگر چہ بعض اوقات انسان اس قدر آگاہی و بصیرت نہیں رکھتا ہے، حتی اگرغور بھی کرتا ہے تب بھی اپنی غلطی کی طرف متوجہ نہیں ہوتا؛ اس صورت میں دوسروں کی ذمہ داری ہے کہ اسے آگاہ کریں کہ یہ ناپسندیدہ عمل ہے اور ایک مطلوب فعل جیسے دوسروں کو خوش کرنا دوسرے انداز میں کہ جو صحیح اور مطلوب طریقہ ہے انجام دیا جاسکتاہے۔
ہدایت کے طریقوں کا یکساں نہ ہونا:
افراد کو آگاہ کرنے اور انھیں ناپسندیدہ اعمال کے بارے میں متوجہ کرانے کے لئے یکساں طریقہ سے استفادہ نہیں کیاجاسکتاہے۔ جولوگ واجبات اور محرمات سے خاص آگاہی نہیں رکھتے ہیں اور دینی منابع ، جیسے قرآن مجید اور روایات تک جن کی رسائی نہیں ہے، انھیں جھوٹ، چغل خوری اور غیبت کے دنیوی نقصانات سے آگاہ کرنا چاہئے، یعنی غیبت کرنا مردار کا گوشت کھانے کے برابر ہے و غیرہ لیکن جو ہمیشہ کتاب و سنت سے سروکار رکھتے ہیںان کے لئے مناسب نہیں ہے کہ ہم انھیں ان گناہوں کے نقصانات کی طرف اشارہ کریں، کیونکہ وہ خود آگاہ ہیںبلکہ انھیں ان موارد سے آگاہ کرناچاہئے جن کے بارے میں وہ غفلت سے دوچار ہوئے ہیں۔انھیں اس بات سے آگاہ کرنا چاہئے، کہ اگر چہ بعض باتیں صحیح ہیں اور نیک نیتی سے کہی جاتی ہیں لیکن درست نہیں ہے اور اس میں خدا کی مرضی نہیں ہے اور ایسی باتیں سبب بنتی ہیں کہ انسان نقصان اٹھائے۔
جی ہاں، بعض مواقع پرکام ایک دوسرے کے دورخی ہوتے ہیں اور یہ انسان کی نیت اور غرض پر منحصر ہے کہ انھیں پسندیدہ ھویت بخشے یا ناپسندیدہ کبھی اگر کسی کام کو نیک نیتی سے انجام دیاجائے تو وہ کام نیک محسوب ہوتا ہے اور اگر اسی کام کو بُری نیت سے انجام دیاجائے تو وہ کام بُرا اور پست ہوتاہے، کیوں کہ اسلام میں ہر کام کی اہمیت انجام دینے والے کی نیت پر منحصر ہے۔ ممکن ہے انسان لاعلمی اور غفلت کے عالم میں ایک بُرے کام کو نیک نیتی سے انجام دے اور ممکن ہے اس کی نیت کی بنا پراسے ثواب ملے، اگر اسے ثواب نہ بھی ملے تو کم از کم معذور ہے۔ لیکن اگر ایک اچھے کام کو بُری نیت سے انجام دے تو اس کا کوئی ثواب نہیں ہے،اور وہ عبادت بھی نہیں ہے، ممکن ہے سزابھی ہو،کیونکہ اس کا عمل حسن اخلاق پر مبنی نہیں تھا۔ بولنے اور بات کرنے میں ایسی مثالیں زیادہ پائی جاسکتی ہیں۔
کبھی کسی شخص کی بارے میں بات چھڑ جاتی ہے اور انسان اس کی نیکیوں کوبیان کرنا چاہتاہے اور کبھی اس کی خوشنودی کے لئے، چاپلوسی ، مبالغہ اور بے جاتعریفیں کرتاہے۔اگر اس سے پوچھاجاتاہے: تم کیوں اس قدر چابلوسی، مبالغہ آرائی اور تملّق سے کام لیتے ہو؟ تو وہ جواب میں کہتاہے: میں دوسروں کا ذکر خیر کر کے تواضع او رانکساری دکھاناچاہتاہوں! البتہ انسان کی عالی اورممتاز خصوصیات میں سے ہے کہ دوسروں کی خوبیوں کو شمار کرے اور کوشش کرے دوسروں کی نیکیوں کا ذکر کرے، روایتوں میں بھی اس نکتہ کی طرف تاکید کی گئی ہے ۔ایسا کر کے ہم ایک مومن کو عزت بخشتے ہیں اور اس کی آبرو بڑھاتے ہیں او ردوسروں کو بھی نیک صفات کے حوالے سے تشویق کرتے ہیں۔لیکن دیکھنا چاہئے کہ ہم کس نیت سے دوسروں کی ستائش کرتے ہیں؟ کیا ہم مومن کو عزت بخشنے کے لئے ، خداکی مرضی حاصل کرنے کے لئے اور معاشرت میں نیکی کی ترویج کے لئے دوسروں کی ستائش کرتے ہیں؟ یا اس کے سامنے یا اس کی عدم موجود گی میں اس کی ستائش کرتے ہیں کہ وہ ہم سے خوش ہو اور ہم اس سے ناجائز فائدہ اٹھائیں! اور وہ بھی ہماری اسی طرح تعریف کرے حقیقت میں یہاں پر ہمای مثال:''من تراحاجی بگویم تو مرا حاجی بگو'' کے مانند ہے۔ میں اپنے دوست کی عدم موجود گی میں اس کی تعریف کرتا ہوں او روہ بھی میری عدم موجود گی میں میری ستائش کرتاہے۔یہ ایسے مواقع میں جہاں پر شیطان پڑھے لکھے لوگوں کو بھی اپنے شیشے میں اتارلیتاہے۔
عوام او رعام افراد کو جو حکم الہی سے آگاہ نہیں ہیں شیطان جھوٹ، غیبت اورمعروف گناہوں کو انجام دینے پراکساتاہے، لیکن علما کو دوسرے طریقوں سے دھوکہ دیتا ہے۔ جولوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ اگر کسی کی عدم موجود گی میں اس کی تعریف کریں تا کہ وہ بھی مقابلہ میں ان کی ستائش کرے، تو انہوں نے اچھا کام انجام دیا ہے، حقیقت میں یہ اچھا کام نہیں ہے بلکہ یہ ان کے نفس کے مکر و فریب کا نتیجہ ہے۔
لہذا انسان کو ہوشیار رہنا چاہئے، اگر وہ کسی کام کو انجام دیناچاہتا ہے ، تو اسے پہلے اپنے دل میں پوری طرح غور و خوض کرنا چاہئے کہ اس کام کو انجام دینے کے لئے کو نسا مقصد مد نظر رکھتاہے۔ہرکام کو انجام دینے سے پہلے اس پر تھوڑاغور کرے اس کے بعد اس کام کو انجام دے، ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی زبان کوآزاد رکھے اور کسی قسم کی فکر کئے بغیر بات کہے ، کیونکہ احمق کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنی زبان کو کنٹرول نہیں کرتاہے اور جوچاہتاہے کہہ دیتا ہے۔
حضرت علی علیہ السلام گفتگو کرنے کے حوالے سے عاقل اور احمق کے درمیان فرق کے بارے میں فرماتے ہیں:
''لسان العاقل وراء قلبه و قلب الاحمق وراء لسانه'' (۱۵)
''عقلمند کی زبان اس کے دل کے پیچھے ہے اور بیوقوف کادل اس کی زبان کے پیچھے ہے۔''
مرحوم سید رضی رحمةاللہ علیہ اس عظیم المرتب بیان کی وضاحت میں فرماتے ہیں:
''یہ تعجب آور بات ہے کہ امام علیہ السلام کا مقصود یہ ہے کہ عقلمند شخص، اپنی زبان کو کھلی ڈھیل نہیں دیتا بلکہ اپنے دل میں غور و خوض کرنے کے بعد اظہارکرتا ہے. اس کے مقابلہ میں بیوقوف کی زبان پرجو آتاہے اسے بولتاہے اور غور وفکر کرنے سے پہلے بات کہنے کو ترجیح دیتا ہے۔پس گویا عقلمند کی زبان اس کے دل کے تابع ہے اور بیوقوف کا دل اس کی زبان کے تابع ہے''
پس ہمیں بات کرتے وقت غور و خوض کرنا چاہئے کہ ہم کس لئے بات کرنا چاہتے ہیں اور ہماری غرض کیا ہے تا کہ خدا کی عنایت سے زبان کی آفتوں اور نفسانی خواہشات اور شیطانی حیلوں سے اپنے آپ کو بچا سکیں۔ لیکن اگر ہم غور و فکر نہ کریں اور اپنی کام میں ضروری دقت نہ کریں اور تامل کئے بغیر بے حساب بات کریں، تو ہم آہستہ آہستہ شیطان کے پھندے میں پھنس جائیں گے اور غیر شعوری طور پر اس کے مکرو فریب میں گرفتار ہوں گے۔ البتہ یہ لغزشیں اور یہ انحرافات جو غفلت ، جلد بازی،امور کی انجام دہی میں غور و فکر نہ کرنے اور صحیح محرک (مقاصد) کے نہ ہونے کی وجہ سے ہیںاور یہ چیز صرف بات کرنے اور گفتگوکی حدتک محدود نہیں ہے ، بلکہ انسان اپنے بدن کے دوسرے تمام اعضا اور توانائیوں سے استفادہ کرنے میں بھی اپنی لغزشوں اور انحرافات سے دوچار ہوتاہے۔البتہ اس وقت ہماری بحث کاموضوع ان آفتوں کے بارے میں ہے جو انسان کو زبان کی وجہ سے پیش آتی ہیں اور دوسرے خطرات کی نسبت بیشتر نقصان پہنچانے والی ہے۔ہمیں بات کرتے وقت خدا کی مرضی اور اس کی خوشنودی کو حاصل کرنے کی فکر میں ہونا چاہئے نہ یہ کہ اپنی نیت اور ناپاک عزائم کو عملی جامہ پہنانے کی فکر میں رہیں۔
پہلے مرحلہ میں ہماری گفتگو خدا کے نزدیک پسندیدہ او رمطلوب ہونی چاہئے اور دوسرے درجہ میں اس بات کے کہنے میں ہمارے ا غراض او رمقاصد صحیح ہونے چاہئے، یعنی فعل بھی نیک ہوناچاہئے اور فاعل بھی ۔ بات کا قالب بھی صحیح ہو اور اس بات کا ہدف اور مقصد بھی ، بات کی صورت بھی صحیح ہو اور اس کا مفہوم و معنی بھی ۔
حضرت امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ اور دوسرے بزرگ بارہا فرمایا کرتے تھے: شیطان ہرگز عالم کو شراب نوشی او رزشت اعمال جو اس کی شایان شان نہیں ہے انجام دینے پر مجبور نہیں کرتا کیونکہ اس صورت میں عالم کے لئے آبروباقی نہیں رہے گی اور وہ ہرگز ایسا خطرہ اور نقصان اٹھا نے کے لئے آمادہ نہیں ہوگا۔لیکن شیطان علما اور اہل علم کو ایسی لغزشوں اور انحرافات سے دوچار کرتاہے کہ جو حقیقت میں شراب نوشی سے بھی بدتر ہیں۔وہ عالم کو ایسا کام انجام دینے پر مجبور کرتاہے کہ ظاہر میں وہ کام برانہیں لگتا ہے او رکوئی اسے مذمت نہیں کرتاہے کہ تم نے کیوں ایسا کیا،لیکن اس کام کا ضرر اور گناہ بہت ہوتاہے اور ممکن ہے خود انسان بھی متوجہ نہ ہوکہ وہ کیسے اتنے بڑے گناہ کا مرتکب ہوگیا اور کس قدر اپنی حیثیت سے گرگیاہے! اس لئے بہتر ہے ہم مزید غور فکر سے کام لیں اور اپنی نفسانی خواہشات پر قابو پانے کی کوشش کریں اور اپنی زبان کو لگام دیں، تاکہ ہر بات کو زبان پرجاری نہ کریں اورسوچ سمجھ کر گفتگوکریں ۔جب تک بات کرنے کہ ضرورت نہ ہو زبان نہ کھولیں، چنانچہ سعدی کہتاہے:
ندہد مرد ہوشمند جواب
مگرآنگہ کزاو سوال کنند
''عقلمند تب تک بات نہیں کرتا جب تک اس سے سوال نہ کیا جائے''
بولنے اور دیگر رفتار کے ر دعمل اور نتائج پر ایک نظر:
ہمیں توجہ رکھناچاہئے کہ جب ہم گفتگو کرنے میں محو ہوتے ہیں،تو پھر زبان پر قابوپانامشکل ہے، اس لئے زبان کھولنے سے پہلے جو ہم کہناچاہتے ہیں اس کے بارے میں غور کر لیں تا کہ حد سے تجاوز نہ کریں۔ہم اگر اپنی زبان پر قابونہیں رکھتے تو جب ایک مجلس میں ادھر اُدھر کی باتیں ہوتی ہیں، لوگ دوسروں کی باتیں سن کر ہنستے ہیں اور بات کرنے والے کی ہمت افزائی کرتے ہیں، تو انسان کے لئے ایسے ماحول میں خاموش بیٹھنامشکل ہے۔لہٰذا باتوں باتوں میں انسان مذاق و مسخرہ کرنے پراترتاہے اورہر طریقہ سے، حتی غیبت کے ذریعہ دوسروں کو ہنسانے کی کوشش کرتاہے۔حقیقت میں ایسی حالت میں زبان کنٹرول میں نہیں رہتی ہے بلکہ سرکش گھوڑے کے مانند ہے ، کہ جو لگام توڑ کر بھاگ جاتاہے تو اسے پھر سے قابومیں لانادشوارہوتاہے۔لہذاانسان کو ابتدا سے ہی اپنی زبان کو کنٹرول میں رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے اور جو بھی مطالب یا گفتگو پیش کرنا چاہے پہلے اس کے بارے میں فکر کرے کہ وہ بات مناسب وسزاوار ہے یا نہیں اس کے علاوہ گفتگو میں حد سے تجاوز کرنے اور افراط سے بھی پرہیز کرے۔
انبیا ء اور اولیائے الہی انسانوں کی تربیت کی غرض سے انھیں یاددہانی کراتے تھے کہ ان کے کام کا ایک حساب و کتاب ہے،ایسا نہیں ہے کہ وہ اپنی گفتار و کردار میں جوابدہ نہیں ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ ایک گھنٹہ گفتگو کرنے کے بعد ہم فکر کریںکہ کہیں کوئی اتفاق تو پیش نہیں آیا! بلکہ ہرکلمہ جوانسان کے منہ سے نکلتاہے وہ ثبت ہوتا ہے اور اس کے بارے میں اس سے سوال ہوتا ہے کہ تم نے کیوں ایسا کہا اور کیوں فلاں نیت سے کہا۔اس مطلب کو مدنظر رکھناانسان کے لئے سبب بنتاہے کہ انسان کسی حد تک اپنی آپ کو کنٹرول کرے و رنہ انسان کانفس قوی ہے اور آسانی کے ساتھ قابومیں نہیں آتاہے۔
مومن کے نفس کو کنٹرول کرنے کی من جملہ راہوں میں سے ایک راہ یہ بھی ہے کہ وہ اس امر کی طرف متوجہ رہے کہ خدائے متعال حاضر وناظر ہے اور وہ اس کی باتوں کو سنتاہے اور قیامت کے دن اس کے بارے میں سوال کرے گا، اس نکتہ کوپیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے اپنے کلامِ مبارک میں یوں بیان فرمایا ہے:
''یا اباذر؛ ان اللّٰه عزّو جلّ عند لسان کلِّ قائلٍ فلیتّقِّ اللّٰه امرء و لیعلم ما یقول''
''اے ابوذر! خدائے متعال ہر بولنے والے کی زبان کے پاس ہے، پس بات کرنے والے کو خدا سے ڈرناچاہئے اوروہ جان لے کہ کیا کہتا ہے''
اگر انسان اس حقیقت کو مد نظر رکھے کہ اس کی گفتگو کے دوران خدائے متعال حاضر و ناظر ہے اور اس کی کوئی بات خدا سے پوشیدہ نہیں ہے، تو وہ احتیاط سے کام لے گا ہر با ت کو زبان پرجاری نہیں کرے گا۔اس کے علاوہ تقوائے الہی اس امر کا سبب بن جاتاہے کہ انسان خدائے متعال سے ڈرے، نتیجہ کے طور پر اپنی رفتار کو کنٹرول کرتا ہے اور اس کی اجازت نہیں دیتا کہ سوچے سمجھے بغیر کوئی بات اس کی زبان پر جاری ہوجائے۔
اس طرح اولیائے الہی کی تربیت کے طریقوں میں سے ایک طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے پیرو کار افراد کو نفسانی خواہشات پر کنٹرول کی تاکید کرتے ہوئے انھیں فضول اور بے جا باتوں سے پرہیز کرنے کی تشویق کرتے ہیں اور احتیاج اور ضرورت کے مطابق بات کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ زبان پر کم کلمات جاری کریں۔اگر دوجملوں سے کسی کو کوئی مطلب سمجھاسکتے ہیں تو تیسرا جملہ کہنے سے پرہیز کریں ۔یہاں تک اگر کسی واجب حکم ، جیسے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے بارے میں بات کرناچاہتے ہیں تو کوشش کریں کہ اپنے مقصود کی حدمیں بات کریں اور اضافی بات کرنے سے پرہیز کریں۔اس سلسلہ میں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں:
''یا اباذر؛ اترک فضول الکلام وحسبک من الکلام ماتبلغ به حاجتک''
''اے ابوذر!زیادہ بات کرنے سے پرہیز کرو، اتنی ہی بات کروجس سے تمھاری حاجت پوری ہو جائے''
بعض اوقات جب انسان کسی مجلس میں باتیں کرنے میں مشغول ہوجاتاہے ، تو غیر شعوری طور پر فضول اور بیہودہ باتیں اس کی زبان پرجاری ہوتی ہیں نہ ان سے اس کاکوئی دنیوی فائدہ ہوتا ہے اورنہ اخروی۔ اپنی زندگی کے ناقابل تلافی سرمایہ کو فضول باتوں میں ضائع کرتا ہے ! لہذا مناسب ہے انسان اندازہ کے مطابق بات کرے اور فضول اور اضافی باتوں سے پرہیز کرے۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک حدیث میں فرماتے ہیں:
''طوبی لمن طاب خلقه وطهرت سجیّته وصلحت سریرته وحسنت علانیته علانیه وانفق الفضل من ماله وامسک الفضل من کلامه'' (۱۶)
''کتنے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کے اخلاق اچھے ، صفات پاکیزہ، باطن شائستہ اور ان کاظاہر نیک ہے اور وہ اپنے اضافی مال کو انفاق کرتے ہیں اور زیادہ باتیں نہیں کرتے.''
ایک بزرگ کاکہنا ہے: مومن وہ ہے ، جو بات کرتے وقت پہلے فکر کرتاہے، لہٰذااگر بات
کرنے میں مصلحت ہے تو بات کرتاہے ورنہ بات نہیں کرتاہے۔ لیکن فاسق و فاجر ، بات کرتے وقت اپنی زبان کو مکمل طور پر کھلی ڈھیل دیتا ہے۔
جی ہاں، زبان کے نقصانات اور آفتوں کے بار ے میں بہت سی باتیں قابل بیان ہیں من جملہ زبان انسان کی شخصیت اور اجتماعی حیثیت کو خراب کرتی ہے آخرت میں اس کی پشیمانی کاسبب بنتی ہے ، کیونکہ جب انسان قابوسے باہر ہوکرباتیں کرتا ہے، خواستہ یانخواستہ وقت ضائع کرنے کے علاوہ زیادہ اور بیہودہ باتیں کرنے کی وجہ سے گناہوں میں بھی مبتلا ہوتا ہے، لہذا اس طرح اپنے قیمتی وقت کے سرمایہ کو بھی ضائع کرتا ہے اور خدا کے غضب و خشم سے بھی دوچار ہوتاہے۔
محققانہ باتوں کو نقل کرنے کی ضرورت اور افواہوں سے پرہیز :
حدیث کو جاری رکھتے ہوئے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں:
''یا اباذر؛ کفی بالمرء کذبا ان یحدث بکل مایسمع''
''اے ابوذر ! جھوٹا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ انسان جو سنے اسے نقل کرے''
زبان کی آفتوں میں سے ایک آفت یہ ہے کہ انسان جو کچھ سنے اس کی حقیقت کی بارے میں تحقیق و تفحّص کے بغیر بلافاصلہ اسے دوسروں کے لئے نقل کرے۔اگر چہ وہ جھوٹ بولنے کامقصد نہیں رکھتا ہے ، اور جو کچھ سناہے اسے کسی قسم کی کمی بیشی کے بغیر نقل کرتا ہے، لیکن اس کی بات جھوٹ شمار ہوتی ہے ، کیونکہ جو کچھ وہ کہتاہے اس کے سچ ہونے کے بارے میں اطمینان نہیں رکھتا ہے۔ اس لئے انسان کو جھوٹ بُری اور ناپسند باتوں سے بھی پرہیزکرنا چاہئے اور ساتھ ہی ایسی باتوں سے پرہیز کرنا چاہئے جن کی سچائی کی بارے میں یقین نہیں رکھتا ہے، بلکہ ہمیں ہر بات کی بارے میں پہلے تحقیق کرنی چاہئے اگر اس کی سچائی کی بار ے میں اطمینان پیدا ہواتو اسے نقل کرناچاہئے.اس سلسلہ میں شاعر کہتا ہے:
تا نیک ندانی کہ سخن عین صوابست
باید کہ بہ گفتن دہن ازہم نگشائی
گر راست سخن گویی و در بند بمانی
بہ زانکہ دروغت دہد از بندرہائی
''جب تک تجھے یقین نہ ہوجائے کہ تیری بات صحیح ہے، اسے کہنے کے لئے اپنا منہ نہ کھولو ۔ اگر سچ کہہ کر تجھے قید وبند میں ڈالاجائے تو وہ اس سے بہتر ہے کہ جھوٹ تجھے قید سے رہائی بخشے''
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم فرماتے ہیں: اگر انسان جو کچھ سنتا ہے اسے نقل کرے تو وہ جھوٹ بولنے والوں میں شمارہوتاہے، لیکن کبھی ہم بھی جو کچھ سنتے ہیں اس پر دقت نہیں کرتے ہیں بلکہ ممکن ہے اس میں کمی یا بیشی کرکے دوسروں کے لئے نقل کرتے ہیں جبکہ ۔ ہمیں بات کرتے وقت دقت کرنی چاہئے اور ہر چیز کو نقل نہیں کرنا چاہے ، جب انسان جو کچھ سنتا ہے اسے نقل نہیں کرناچاہئے پس چہ جائے کہ ، کوئی بات نقل کرنے میں مبالغہ کرے اوردوسرے کی بات کو گھڑ کرپیش کرے!! ۔
جھوٹ کے بارے میں جو تصور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پیش کیا ہے، اس کے پیش نظر یقیناً افواہ جھوٹ کا واضح مظہرہے۔ افواہ شیطان کے کارآمد حربوں میں سے ایک حربہ تھا کہ جب بھی اولیائے دین، بشر کی ہدایت اور سالم معاشرے کے تشکیل کی لئے قدم اٹھاتے تھے، تو خدا او ر دین کے دشمن تمام شیطانی وسائل کے ساتھ من جملہ جھوٹ ،تہمت اور افواہ سے ان کا مقابلہ کرتے تھے تا کہ الہی قائدین کے گرد جمع ہوئے لوگوں کو متفرق کرکے اپنے شیطانی مقاصد تک پہنچ جائیں۔
تاریخی تحقیق سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ صدر اسلام میں بھی دشمن ، مسلمانوں کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حمایت اور دین کی راہ میں پائداری سے روکنے کے لئے ان کے دلوں میں خوف و وحشت ایجاد کرتے تھے اور اس سلسلہ میں افواہ کا سہارا لیتے تھے ، چنانچہ خدائے متعال فرماتاہے:
( واذاجاء هم أمرمن الأمن أوالخوف اذاعوابه ولوردّوه الی الرّسول والی أولی ألامر منهم لعلمه الّذین یستنبطونه منهم ) ...) (نسا ئ ٨٣)
''اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی خبر آتی ہے تو اسے فوراً نشر کردیتے ہیں (تاکہ دشمن آگا ہوجائیں) حالانکہ اگررسول اور صاحبان امر کی طرف پلٹا دیتے تو ان سے استفادہ کرنے والی حقیقت حال کا علم ہوتا... ''
یہ آیہ مبارکہ بدر صغری کی داستان بیان کرتی ہے کہ جنگ احد کی روداد کے بعد مسلمانوں کی پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حکم کی نافرمانی کے نتیجہ میں شکست سے روبرو ہونے کے بعدآخر میں اللہ تعالی نے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مددکی تاکہ وہ اپنے مختصر سپاہیوں کے ذریعہ دشمنوں پر فتح پاسکیںاور اسلام کو قطعی نابودی سے نجات دیں،منافقین دشمن کی طاقت کو بیان کرنے اور جنگ احد میں ان کی فتح یابی کا ذکر کرکے مسلمانوں اور پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اصحاب کے دلوں میں شک و شبہ پیدا کرنا چاہتے تھے او راپنی افواہ سے مومنوں کو گمراہ کرناچاہتے تھے، ان کامقصد رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مخالفت کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔
اس آیہ مبارکہ سے یہ معلوم ہوتاہے کہ خوف و امن کے بارے میں جو کچھ منافقین کو پہنچتاتھا وہ اسے نشر کردیتے تھے، سے مرادوہ افواہ ہیں جو کفار اوران کے چیلوںکے ذریعہ ایجاد کی جاتی تھیں تا کہ مومنین میں نفاق اور اختلاف پیدا کریں ، ضعیف الایمان مومنین بھی انھیں نشر کرتے تھے اور اس کی پروا نہیں کرتے تھے کہ ان خبروں کا پھیلنا مسلمانوں میں سستی اور عدم استحکام ایجاد ہونے کا سبب بنے گا۔
پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم جنگ احد میں مسلمانوں کی ناکامی کے بعد ہمیشہ لوگوں کو کفار سے جہاد کرنے کی دعوت دیتے تھے اور کچھ لوگ اس کوشش میں تھے کہ مومنوں کو جہاد میں شرکت کرنے اور پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مدد کرنے سے لوگوں کو روکیں اور اس غرض سے افواہ پھیلاتے تھے کہ مشرکین تمھارے خلاف لشکر جمع کررہے ہیں ، خدائے متعال مسلمانوں کو اطمینان دلاتاہے کہ یہ ڈرانااور افواہ شیطان کی طرف سے ہے اور یہ شیطان کی باتیں ہیں جو اس کے دوستوں کے منہ سے باہر آتی ہیں ، اور اس کے بعد مومنوں پر واجب کرتاہے کہ ان افواہ پھیلانے والوں سے نہ ڈرو اگر خدا ئے متعال پرایمان رکھتے ہو تو صرف اسی سے ڈرو ۔(۱۷)
آج کل کی دنیا میں ، خاص کر انقلابی ممالک بالاخص ہمارے ملک (ایران) میں ، جو اکیلے ہی دنیا کی تمام بڑی طاقتوں کے مقابلہ میں کھڑاہے اور کوشش کرتاہے کہ اپنی آزادی کو تحفظ بخشے اور اپنے تمام وجودسے اسلامی اور انقلابی قدروں کی حفاظت کرے، افواہ پھیلانے والوں کارواج ہے ۔ منافقین او رانقلاب دشمن عناصر، لوگوں کے آپسی اتحاد میں رخنہ اندازی کرتے ہیں اور انھیں انقلاب کے مقاصد اور نتائج سے میں بد ظن کرنے کے لئے ، افواہ ہیں گڑھتے ہیں اورکر انھیں نشر کرتے ہیں ۔
افسوس ہے کہ جب ناآگاہ لوگ ان افواہوں کو سنتے ہیں تو مخالف اغراض کے لئے ان افواہوں کو دست بہ دست پھیلا تے ہیں ۔ شاید وہ ان افواہوں کو نقل کرنے میں کوئی برا مقصد نہ رکھتے ہوں کوئی شخص کسی دوست کے پاس بیٹھ کر مختلف گفتگو کی بعد ایک افواہ کو بھی نقل کردے۔
انسان اگر افواہ کو نقل کرنے میں کوئی بُرا ارادہ حتی خودنمائی کامقصد بھی نہ رکھتاہو،پھربھی اسے سوچناچاہئے کہ اس خبر کو نقل کرنے میں کوئی فائدہ بھی ہے یا نہیں، اس کے علاوہ اسے سوچناچاہئے کہ کیا اس افواہ کی کوئی بنیاد بھی تھی یا نہیں؟ شاید جس نے اس افواہ کو میرے لئے نقل کیا ہے ، اس نے غلطی کی ہوگی یا کسی دوسرے نے وہ جھوٹی خبر اسے پہنچادی ہوگی لہذا ہمیں خبر کو پیش کرنے سے پہلے اس کی حقیقت کے بارے میں تحقیق کرناچاہے اور ہمیں دقت اور غور و خوض کے بعد خبر کو نقل کرنا چاہئے تا کہ اگر کوئی ہماری بات کو سنے ہم پر اطمینان کرے اور کہے کہ فلاںکی بات میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں پایا جاتاہے اور جو کچھ وہ کہتا ہے وہ ۔ صحیح ہے اور وہ سوچے سمجھے بغیر بات نہیں کرتا ہے۔
انسان کو صحیح اور سوچ سمجھ کربات کرنی چاہئے تا کہ لوگ اس پر اعتماد کریں اور وہ لوگوں کے اعتماد کے سائے میں معاشرے میں بلند مقام حاصل کرے۔اگر کوئی معاشرے میں بلند مقام پانے کی فکر میں ہے اسے کوشش کرناچاہئے کہ اس مقام کومعاشرہ میں اعتمادکے ذریعہ حاصل کرے اور اپنی ایسی حیثیت بنائے کہ لوگ اس کی رفتار و گفتار پر پوری طرح اعتماد کریں او رکہیں : فلاں بیہودہ باتیں نہیں کرتا ہے اس کی باتیں سچی اور صحیح ہوتی ہیں، ایسی حیثیت دنیوی اور اخروی لحاظ سے فائدہ مند ہے، کیونکہ دنیوی پہلو سے صداقت اور راست گوئی کے عنوان سے مشخص ہے اور اخروی لحاظسے بھی خدا کی خوشنودی اور بہشت کے بلند درجات کی صورت میں اس کا نفع ہو گا۔
لہٰذا ہمیں کسی بھی بہانہ سے سنی سنائی باتوں کو نقل نہیں کرنا چاہئے۔یہی وجہ ہے کہ غور و خوض نہ کرنے کی وجہ سے ہم جو کچھ سنتے ہیں اس میں کچھ تصرف بھی کرتے ہیں یا ان میں کمی کرتے ہیں یااس میں کچھ بڑھادیتے ہیں، ہر صحیح اور درست مطلب کو بیان کرنا بھی صحیح نہیں ہے، ممکن ہے ایک سچی بات کو نقل کرنے میں مصلحت نہ ہو، ممکن ہے اس سے کسی کی آبرو خطرہ میں پڑجائے جو حرام او رناپسندیدہ ہے اور خدائے متعال کے غضب کا سبب بنے ، اس کے علاوہ بعض افواہیں ضعیف النفس اور سست ایمان افراد حکومت اور حکومت کے اراکین سے بدظن کرنے کا سبب واقع ہو لہذا بعض خبروں کو نقل کرتے وقت مصلحتوں کو مد نظر رکھناچاہئے۔ ہمیں فکر کرنی چاہئے کہ اس کا نقل کرناکوئی فائدہ رکھتا ہے یا نہیں؟مخاطب خبر کو برداشت اور قبول کرنے کی ظرفیت رکھتا ہے یا نہیں؟ اس کے علاوہ کیاوہ خبر کو دوسروں کے لئے نقل کرنے میں احتیاط اور دقت سے کام لیتاہے یا ہر جگہ ضرورت اور بے ضرورت نقل کرتاہے اور خبر کو کسی قسم کی کمی و بیشی کے ساتھ نقل کرتا ہے یا اسے کئی گنا بڑھاکر ہرایک کے لئے نقل کرتا ہے اور اس خبر کے نشر ہونے کے نتیجہ میں حکومت کمزور ہوگی، لوگوںکاحکومت کے بارے میں اعتماد ضعیف ہو جائے گا۔
حدیث کو جاری رکھتے ہوئے پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے ہیں:
''یا اباذر؛ ما من شی ئٍ احقُّ بطول السجن من اللِّسان''
''اے ابوذر !قید کی جانے والی ا شیاء میں زبان سے زیادہ سزاوارکوئی چیز نہیں ہے''
یہ بیان پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے ایک دستور تربیت ہے جوانسان کوبات کرنے میں زیادہ سے زیادہ دقّت اور احتیاط کرنے اور زبان کو قید میں رکھنے کی تاکید کرتاہے تاکہ وہ بے جا بات نہ کرے۔بعض علمائے اخلاق فرماتے تھے: خدائے متعال نے زبان کے سامنے دانتوں کو اور دانتوں کے سامنے ہونٹوں کو قرار دیا ہے ، حقیقت میں ہونٹوں اور دانتوں کو خلق کرنا ایک اشارہ ہیکہ ہم ان کے پیچھے اپنی زبان کو قید کئے رہیں۔
____________________
١۔ بحار الانوار ، ج ٩٦، ص ٧
۲۔ نہج البلاغہ (ترجمہ شہیدی) کلمات قصار ٣٩٢، ص ٤٣٢
۳۔ نہج البلاغہ (ترجمہ شہیدی) خطبہ ١٧٦، ص ١٨٤
۴۔ نہج البلاغہ (ترجمہ شہیدی) خطبہ ١٧٦، ص ١٨٤
۵۔بحار الانوار ، ج ٧٧، ص ٩٠، ح٢،
۶۔ بحار الانوار ، ج ٧١، ص ٢٨٦
۷۔ اصول کافی ، ج ٣، ص ٣٣٣، ح ٢٥
۸۔ بحار الانوار، ج ١، ص ٨٥، ح ٧
۹۔المیزان (دار الکتب الاسلامیہ ، طبع سوم) ج ٦، ص ٣١٥۔٣١٧
۱۰۔المیزان (دار الکتب الاسلامیہ ، طبع سوم) ج ١٦، ص ٢٢٠، ٢٢٣
۱۱۔ وصول کافی ،ج٣ص٢٧١
۱۲۔
۱۳۔ بحار الانوار ، ج ١٦، ص ٢٩٨
۱۴۔بحار الانوار ، ج ٥٨، ص ١٠٧
۱۵۔ نہج البلاغہ (ترجمہ شہیدی، کلمات قصار ٤٠، ص ٣٦٧
۱۶۔ بحار الانوار ، ج ٦٩، ص ٤٠٠
۱۷۔ المیزان (دار الکتب الاسلامیہ ، طبع سوم )ج ٥، ص ١٨
بتیسواں درس
خدا کی عظمت وجلالت کے نمونے
*پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ائمہ اطہارکی ناشناختہ عظمت و منزلت
*خدائے متعال کی اطاعت اور پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم و ائمہ اطہار کی اطاعت کے درمیان رابطہ
*مومنوں کی عزت و احترام کی ضرورت
*الف۔سن رسیدہ مسلمان کا احترام
*ب۔ قرآن مجید کو حمل کرنے والوں اور اس پر عمل کرنے والوں کااحترام
*ج ۔با انصاف اور عادل حاکم کا احترام
*معاشر ے میں حکومت اور قانون کی ضرورت
*صالح اور شائستہ حاکم کے شرائط
*ولی فقیہ ، صالح اور شائستہ ترین فرد
خدا کی عظمت وجلالت کے نمونے
''یا اباذر؛ من اجلال اللّٰه تعالی اکرام ذی الشیبة المسلم و اکرام حملة القرآن العاملین واکرام السلطان المقسط.یا اباذر؛ لایزال العبد یزداد من اللّٰه بعدا ما ساء خلقه''
''اے ابوذر ! خدا ئے متعال کی عظمت و جلالت، سن رسیدہ مسلمانوں ، قرآن حمل کرنے والوں اور اس پر عمل کرنے والوں نیز انصاف پسندعادل و حاکم کے احترام میں مضمر ہے۔ ''
پیغمبر خداصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حدیث کے اس حصہ میں یاددہانی فرماتے ہیں کہ خدا کے بعض بندوں کا احترام کرنا خدا کا احترام کرنے کے برابر ہے۔دانالوگ اپنی عقل کے ذوق کے مطابق کچھ مقاصد کے پیش نظربسا اوقات ایک چیزکو دوسری چیز کی منزلت پر یا ایک کام کو دوسرے کام کی منزلت پر یاکسی ایک شخص کوایک دوسرے شخص کی منزلتکے طور پر بیان کرتے ہیں چنانچہ عام گفتگو کے دوران بھی کہا جاتاہے : یہ کام اس کام کے مانند ہے یہ شخص اس شخص کے جیسا ہے۔یہ تشبیہ اس شباہت اور مشترک صورت کی بنیاد پر ہوتی ہے جو ''مشبہ'' اور ''مشبّہ بہ'' کے درمیان پائی جاتی ہے۔
اس تشبیہ کی دلیل یہ ہے کہ جو خصوصیت کسی شخص یا چیز میں پوشیدہ ہوتی ہے و ہی خصوصیت کسی دوسرے شخص یا چیز میں نمایاں ہوتی ہے، پوشیدہ خصوصیت کو آشکار کرنے اور دوسروں کی توجہ اس کی طرف مبذول کرانے کے لئے اسے کسی ایسے با فضیلت شخص یا قابل اہمیت کسی کی طرف نسبت دیتے ہوئے بیان کرتے ہیں جس کی خصوصیت بلند ترینمرتبہ ککی حاملہے۔ہم معروف تشبیہات میں دیکھتے ہیں کہ ایک بہادر انسان کو شیر سے تشبیہ دی جاتی ہے جبکہ شجاعت کا جو مرتبہ شیر میں پایاجاتاہے ، وہ انسان میں نہیں ہے، لیکن اس لحاظ سے کہ شیرکی نمایاں خصوصیت شجاعت ہے لہذا اس شخص کو شیر سے تشبیہ دی جاتی ہے تا کہ اس کی پوشیدہ شجاعت کو پہچنوا یاجائے اور اس کی بہادری اور شجاعت مکمل طور پر دوسروں کے لئے نمایاں ہوجائے اور نظر یں اس پر متوجہ ہو جائیں اور یہ دوسروں کی نظریں اس پر متوجہ ہونابذات خود کچھ مقاصدکی حاملہیں۔
ہم قرآن مجید کی آیتوں اور روایتوں میں بہت سی ایسی تعبیر یں پاتے ہیں کہ بعض افراد کی فضیلت خدائے متعال کی منزلت کے طور پر بیان کی گئی ہے یا بعض لوگوں کے کام خدا سے انجام پانے والے کاموں کے مانند بیان ہوئے ہیں، چنانچہ حاجتمندوں کو قرض دینے سے مربوط آیتوں میں ، خدا کو قرض دینے کی صورت میں بیان کیا گیا ہے، منجملہ:
( من ذاالذی یقرض الله قرضاً حسناً فیضاعفه له و له اجر کریم )
(الحدید/١١)
''کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے کہ وہ اس کو دوگناکرد ے اور اس کے لئے با عزت اجر بھی ہو''
یہ تشبیہ و تنزل اس حالت میں ہے کہ خدائے متعال بے نہایت حدتک تمام کمالات بلکہ بعض بزرگوں کے بقول غیر منتاہی اور بے نہایت سے بالا تر کمالات کامالک ہے۔ جو خدا کو پہچانتا ہے اور اس پر ایمان رکھتا ہے اسے معلوم ہے کہ خدائے متعال غیر متناہی حد تک تصور کئے جانے والے تمام کمالات کامالک ہے۔
پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم اور ائمہ اطہار کی ناشناختہ عظمت و منزلت:
خدائے متعال کے علاوہ مخلوقات میں بھی اگر چہ ان کے کمالات محدود ہیں ، لیکن بعض اوقات یہی کمالات اوران کی مقدار دوسروں کے لئے مجہول اور ناشناختہ ہے۔ خدا کے بزرگ ترین اور کامل ترین مخلوقات میں چہاردہ معصومین علیہم السلام کی قد رو منزلت اوران کے کمالات کی وسعت دوسروں کے لئے ناشناختہ ہے، اس لئے عام انسان انھیں دوسرے لوگوں کی حدمیں جانتے ہیں۔حتی بعض انسان جو پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم پر ایمان لائے تھے، خیال کرتے تھے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم دوسرے لوگوں کے مانند ایک انسان ہیں ، صرف اتنا فرق جانتے تھے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پر وحی نازل ہوتی تھی: لیکن وہ نہیں جانتے تھے اور اس بات کو نہیں سمجھتے تھے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کامقام دوسروں کے مقام سے کس قدربلند و بر برتر ہے:
بامعرفت افراد کے لئے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے مقام و منزلت کی بلندی کے بارے میں کسی قسم کاشک و شبہ باقی نہیں رہا ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم انبیائے الہی میں برترین، بلند ترین اور کامل ترین مقام و منزلت کے مالک ہیں اور بہترین شریعت آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی شریعت ہے۔ خدائے متعال نے آپ کو پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم مبعوث فرمایا اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پر قرآن مجید نازل کیاکہ عدل و انصاف کے مطابق فیصلہ کر یں اور خدا کے حکم سے قیام کریں اور لوگوں کی صحیح راستہ کی طرف ہدایت فرمائیں۔ لوگوں کی عقل و شعور کی مطابق استدلال و برہان کے ذریعہ انھیں خدائے متعال اور دنیوی و اخروی مصلحتوں سے آگاہ کریں اور ان کے دین کو مکمل فرمائیں۔ اس سلسلہ میں پیغمبر خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر شخص کی عقل کے لحاظ سے اس کے لئے دلیل و برہان پیش کرتے تھے او ر ان سے بات کرتے تھے تاکہ امت حقیقت سے آگاہ ہوجائے۔آپصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے دعوی کے ساتھ حجت و برہان بھی پیش کرتے تھے:
( لیهلک من هلک عن بینة و یحیی من حیّ عن بیّنة... ) (انفال/٤١)
''جو ہلاک ہو وہ دلیل کے ساتھ اور جو زندہ رہے وہ بھی دلیل کے ساتھ...''
حضرت علی علیہ السلام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں فرماتے ہیں :
''اختاره من شجرة الانبیاء ومشکاة الضّیاء وذؤابة العلیاء وسرّة البطحاء ومصابیح الظّلمة و ینابیع الحکمة'' (۱)
پروردگار عالم نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیغمبر وں (آل ابراہیم ) کے شجرہ نسب سے ، کہ جو روشن چراغوں (کہ جن سے ہدایت ا ور کامیابی کانور چمکتاتھا )نیز مشہور اور بلند مرتبہ خاندانوں (کہ جو دوسروں سے اشرف و افضل تھے )اور سر زمین بطحاء (قابل فخر اور عظمت والی سرزمین ہے) اور، تاریکی کے چراغوں سے (آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے آباء و اجداد سرگرداں لوگوں کے لئے ہدایت و رہنمائی کے چراغ تھے) اور حکمت کے سر چشموں (کہ سب دین و شریعت والے تھے اور دوسرے ان سے علم و حکمت سیکھتے تھے) سے منتخب فرمایاہے۔
ایک اور جگہ فرماتے ہیں:
آپ کی قیام گاہ بہترین قیام گاہ اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی پرورش کی جگہ بہترین جگہ ہے۔ کرامت و عظمت کے ٹھکانے او رسلامتی کی آرام گاہ ہیں، نیک لوگوں کے دل آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے شیدائی بن گئے اور ان کی آنکھی آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف خیرہ ہو گئیں، خدا ئے متعال نے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی برکت سے پر انے اور دیرینہ کینوں کونابود کرکے دشمنی کی آگ کوخاموش کردیا اور مومنین کے درمیان الفت و دوستی ایجاد کی اور اپنے رشتہ داروں (حمزہ اور ابو لہب کے مانند) میں دوری ڈال دی،آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ظہور و پیدائش کی برکت سے مومنین کی ذلّت و بیچارگی عزت و سرفرازی میں اور کفار کی بزرگی بدبختی میں تبدیل ہوگئی۔(۲)
خدا کے کلام کی بنیاد پر اور پیغمبر اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم او رائمہ اطہار صلوات اللہ علیہم سے جوروایتیں ہم تک پہنچی ہیں، ان سے خلاصہ کے طور پر ہم سمجھتے ہیں کہ چودہ مقدس نور ایسے مقامات کے مالک ہیں کہ اگر تمام انسانوں کی عقلیں جمع کی جائیں تب بھی وہ ان مقامات میں سے ایک کو بھی درک نہیں کرسکتے ، وہاں تک پہنچے کی بات ہی نہیں ! یہ معرفت وشناخت ہمیں خدائے متعال کی عنایت سے اور قرآن مجید کی آیات اور روایتوں کے ذریعہ حاصل ہوئی ہے۔ اس لئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بلند مقام اور عالی مرتبہ کے پیش نظر آپصلىاللهعليهوآلهوسلم خدا کی طرف سے بہترین رہنما ہیں۔ اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنے بعد دوبڑی میراث، خدا کی کتاب اور اپنی عترت چھوڑ ی اور لوگوں کو تاکید کی کہ ان سے منسلک رہیں تاکہ منحرف نہ ہو جائیں ، جیسے کہ فرمایا:
''انّی تارک فیکم الثقلین کتاب اللّٰه وعترتی اهل بیتی ما ان تمسکتم بهمالن تضلّوا ابدا وانّهما لن یفترقا حتی یردا علی الحوض ''(۳)
''میں تم میں دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جاتاہوں ، کتاب خدا او رمیری عترت جو میرے اہل بیت علیہم السلام ہیںیہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس پہنچیں۔''
خدائے متعال کی اطاعت اور پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم و ائمہ اطہار کی اطاعت کے درمیان رابطہ:
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بلند مقام کو بیان کرنے والی آیتوں میں یہ آیہ شریفہ بھی ہے کہ خدا وند متعال نے فرمایا:
( من یطع الرّسول فقد اطاع اﷲ ) ) (نسائ/٨٠)
''جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔''
اس آیہ شریفہ میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت کی وسعت کے بارے میں کوئی حدبیان نہیں ہوئی ہے، اس سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو بھی حکم پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دیں اگرانسان اس کی اطاعت کرے تواس نے خداوند متعال کی اطاعت کی ہے۔ یہ آیت پیغمبر اسلام صلی اللہ اعلیہ و آلہ وسلم کی عصمت کی ایک دلیل شمارہوتی ہے، کیونکہ یہ آیت اور اس جیسی دوسری آیات ہمیں پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بغیر چون وچرا اطاعت کرنے کی تاکید کرتی ہیں۔اس کا معنی یہ ہے کہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم خدائے متعال کے حکم کے خلاف اور اس کی مرضی کے خلاف حکم نہیں دیتے ہیں، ورنہ اگر خدائے متعال ایک طرف سے اپنی اطاعت کرنے کا حکمدیتااور دوسری طرف کسی ایسے کی اطاعت کرنے کا حکم کرتا جو خداکے حکم کے خلاف ہے، تواس میں تناقض و تضادپیش آتا۔
یہی برتری اور عظمت جو پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لئے ثابت ہے ، آپ کے بعد ائمہ معصومین علیہم السلام کے لئے بھی ثابت ہے اور ان کے مقام ومنزلت اور عظمت کے پیش نظر ہی خدائے متعال نے ان کے لئے ''اولی الامر'' کاعنوان اطلاق کیا ہے:
( یا ایها الّذین آمنوا اطیعوا اللّٰه واطیعوا الرّسول و اولی الامر منکم... ) (نسائ/٥٩)
''ایمان والو!اللہ کی اطاعت کرواور رسول اور صاحبان امر(اوصیاء پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم ) کی اطاعت کرو۔''
جابربن عبد اللہ انصاری کہتے ہیں: اس آیت کے ناز ل ہونے کے بعد میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول ! ہم خدا اور اس کے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کو پہچانتے ہیں، یہ اولی الامر کون ہیں کہ خدا ئے متعال نے ان کی اطاعت کو اپنی اطاعت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے؟
پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب میں فرمایا:
'' اے جابر! وہ میرے جانشین اور میرے بعد مسلمانوں کے پیشوا ہیں۔''
اس کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک ایک کرکے ائمہ کانام ذکر کیا، جب بارہویں امام عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف پر پہنچے تو اس کے بعد فرمایا:
(ان میں سے بارہواں) وہ ہے جس کی کنیت اور نام میری کنیت اور نام پر ہے ، وہ زمین پر حجت خدا ہے، خدا کے بندوں میں باقیماندہ حجت ہے، وہ حسین (علیہ السلام) کی نسلہے۔ یہ وہی ہے جس کے ہاتھوں خداوند متعال مشرق سے مغرب تک دنیا کو فتح کرے گا ۔(۴)
پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت خدا کی اطاعت کے ہم پلہ ہونے کے سلسلہ میں ائمہ اطہار علیہم السلام میں ذات مقدس حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا بھی شامل ہے، چونکہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرح ہروہ کما ل جو خدا کی مخلوقات میں ممکن ہے وہ بہ تمام معنی ان سب میں موجود ہے۔ خدائے متعال کی اطاعت کو ائمہ اطہار علیہم السلام کی اطاعت سے تشبیہ ، اور یکسانیت کو بہتر انداز میں درک کرنے کے لئے مناسب ہے ہم زیارت جامعہ کبیرہ میں غور و خوض کریں تاکہ ہم سمجھ سکیں کہ ان کے بلند مقام ومنزلت اور ان کی محبت اور اطاعت کے ضروری ہونے کے بارے میں کیا فرمایاگیا ہے۔ ہم اسی زیارت میں پٹرھتے ہیں:
''من اطاعکم فقد اطاع اللّٰه و من عصاکم فقد عصی اللّٰه و من احبّکم فقداحب اللّٰه و من ابغضکم فقد ابغض اللّٰه ...''
جس نے آپ لوگوں کی اطاعت کی اس نے خداکی اطاعت کی اور جو آپ لوگوں کی نافرمانی کرے اس نے خدا کی نافرمانی کی ہے اور جو آپ لوگوں سے محبت کرے اس نے خدا سے محبت کی ہے اورجو آپ لوگوں سے دشمنی اور عداوت روار کھے اس نے خداسے دشمنی کی ہے۔
یہی معنی مکمل طور پر ایام ماہ رجب کی دعامیں وارد ہوئے ہیں:
''اللّهم انّی اسألک بمعانی جمیع مایدعوک به ولاة امرک''
''خداوندا ! میں تجھ سے درخواست کرتاہوں ان تمام معانی سے جن معنی میں تیرے صاحبان امر تجھے پکارتے ہیں''
یہاں تک فرماتاہے:
''لا فرّق بینک و بینهم الا انّهم عبادک و خلقک''
''تجھ میں اور ان (آیات) میں کوئی فرق نہیں ہے، اس کے سوا کہ وہ تیرے بندے اور مخلوق ہیں۔''
ان میں کمالات الہی کے نمونے موجود ہیں، صرف فرق اس میں یہ ہے کہ ان کے تمام کمالات خدائے متعال سے ہیں اور خدائے متعال نے وہ کمالات انھیں عنایت کئے ہیں اور البتہ یہ فرق اور تفاوت بے نہایت سے بالاتر ہے، اگر چہ اہل بیت اطہار علیہم السلام تمام کمالات اور عظمتوں کے مالک ہیں ، لیکن وہ کمالات بنیادی طور پرخدا ئے متعال سے ہیں اور وہ خود کوئی چیز نہیں رکھتے ہیں۔جب ان کا خدا کی دوسری مخلوقات سے موازنہ کیا جاتاہے تو معلوم ہوتا ہے کہ تمام مخلوقات ان کے نیازمند ہیں، نہ صرف کوئی ان کی برابری نہیں کرسکتا ہے، بلکہ ان کے اور دوسروں کے در میان بے نہایت تفاوت ہے۔ لیکن جب ان کا خدا ئے متعال سے موازنہ کیا جاتاہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے اور خدائے متعال کے درمیان کسی بھی قسم کی نسبت نہیں پائی جاتی ، کیونکہ وہ بالکل محتاج و فقیر ہیں، اور جس کے پاس جو کچھ ہے وہ خدا سے ہے۔
بہر صورت پیغمبر و اہل بیت علیہم السلام کامقام خداکے مقام سے تنزیل وتشبیہ مکمل طور پر بجا ہے اور ہم ان کے مقام کو درک کرنے سے عاجز ہیں اور ہم یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ ان کی اطاعت خدا کی اطاعت ہے اور ان کی محبت خدا کی محبت ہے اور ان سے دشمنی اور نافرمانی خدا سے دشمنی اور نافرمانی ہے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی شان میں فرماتے ہیں:
''فاطمة بضعة منّی من سرّها فقد سرّنی و من ساء ها فقد ساء نی، فاطمة اعزّ الناس علی'' (۵)
''فاطمہ میرے بدن کا ٹکڑا ہے، جس نے انھیں مسرور کیا اس نے مجھے مسرور کیا، جس نے اسے اذیت پہنچائی اس نے مجھے اذیت پہنچائی۔ فاطمہ لوگوں میں میرے لئے عزیزترین ہے۔''
کہا گیا کہ پیغمبر اسلام اور اہل بیت علیہم السلام کا مقام خداکے مقام کے مانند بیان ہواہے، اسی طرح بعض افعال جو بعض لوگوں کے بارے میں انجام پاتے ہیں، دوسرے افراد کے ذریعہ انجام پانے والے افعال کے برابر بیان کئے گئے ہیں، چنانچہ اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام کاذکر
خدائے متعال کے ذکر کے عنوان سے بیان ہواہے، خدائے متعال قرآن مجید میں فرماتاہے:
(فاذکرونی اذکر کم ) (بقرہ /١٥٢)
''تم ہم کویا دکروتاکہ ہم تمھیں یاد رکھیں ''
بیشک خدائے متعال تمام لوگوں کی یادمیں ہے اور کسی چیزاور شخص سے غافل نہیں ہے۔ لیکن آیہ شریفہ میں یاد سے مقصود شرف بخشنا اور وہ یاد ہے جو عنایت وانعام الہی کی ساتھ ہو۔ اگر کوئی چاہے کہ خدا اس کی یاد میں ہواور اس سے اپنی نعمت کو فروگزارنہ کرے تو اسے اس کی یاد میں رہنا چاہئے۔
اس وقت ہم دیکھتے ہیں کہ روایت میں اہل بیت کی یاد خدا کی یاد سے تنزیلتشبیہ دی گئی ہے:
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
''ان ذکرنامن ذکر اللّٰه و ذکر عدونا من ذکر الشّیطان ''(۶)
''ہماری یا دخدا کی یاد ہے اور ہمارے دشمن کی یاد شیطان کی یاد ہے''
اہل بیت علیہم السلام کی یا د کو خدا کی یاد سے تنزیل و تشبیہ دی گئی ہے اس جہت سے ہے کہ وہ خدا کے خلفاء ہیں او راپنے لئے خدا کے علاوہ کسی شان ومنزلت کے قائل نہیں ہیں، جب ہم پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اور کسی امام کانام سنتے ہیں تو کیا اس کے علاوہ کوئی اور چیز ہمارے ذہن میں آتی ہے کہ وہ خدا کے نمائندہ ہیں؟ اس بناپر ان کانام سننا خدا کی طرف توجہ مبذول کرنا ہے، اس لئے کہ ان کی یاد خدا کی یاد ہے۔
خدائے متعال نے اپنے مقام جبروت کو تنزیل و تشبیہ اور نمایاں کرنے کے لئے،اہل بیت اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے بلند مرتبہ پر فائز کیا لہٰذا وہ خداکے لئے مکمل نمونے ہیں او رہر لحاظ سے حق کو مکمل طور پر منعکس کرنے کے آئینہ دارہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آئینہ اپنی کسی چیز کو نہیں دکھاتا بلکہ جو چیز اس کے سامنے آتی ہے اس کی جلوہ نمائی کا ایک وسیلہ ہے اور اس تصویر کو واضح طور پر منعکس کرتاہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم او ر اہل بیت عصمت و طہارت بھی اپنی طرف سے کوئی چیز نہیں رکھتے ہیں اور جو کچھ ان کی پاس ہے خدائے متعال سے ہے اور وہ خدائے متعال کو اچھی طرح سے منعکس کرتے ہیں۔
اس کے پیش نظر کہ ائمہ علیہم السلام حق کومکمل طور پر نمایاں اور منعکس کرنے والے آئینہ ہیں اور تمام معنی میں ربوبیت کے جمال کا محور قرار پائے ہیں، یہاں تک اپنے وجود کے تمام رخ سے حق تعالی کے صفات کو نمایاں کررہے ہیں، امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
''کلّ علم لایخرج من ہذا البیت فہو باطل و اشار الی بیتہ و قال: علیہ السلام، لبعض اصحابہ: اذا اردت العلم الصحیح فخذ عن اہل البیت فأننا رویناہ و اوتیناہ و اوتینا شرح الحکمة و فصل الخطاب، ان اللّٰہ اصطفانا و آتاناما لم یؤت احداً من العالمین''(۷)
''جو بھی علم اس گھر سے نشر نہیں ہوگا، وہ باطل ہے یہ فرماتے ہوئے اپنے بیت الشرف کی طرف اشارہ کیا اور مزید اپنے ایک صحابی سے فرمایا: اگر صحیح علم کی تلاش میں ہوتو اہل بیت سے حاصل کرنا۔ بیشک ہم نے اس علم کو بیان کیا ہے۔ اور (آیات الہی میں پوشیدہ ) حکمتوں کی شرح اور عدلیہ اور صحیح و عادلانہ فیصلوں کا علم ہمیں عطا کیا گیا ہے اور خدانے ہمیں منتخب کیا ہے اور جو کچھ ہمیں عطاکیا ہے کسی اور کو نہیں دیا ہے''
مومنوں کی عزت واحترام کی ضرورت:
معصومین کے مقام کے علاوہ جب ہم ادنی در جے کے افراد پر نظر ڈالتے ہیں ، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے جو بھی ان سے بیشتر شباہت رکھتا ہے، یعنی خدا کی بندگی میں راسخ اور پختہ تر ہے اس نے اپنے وجود سے انانیت کے جذبے کو دورکرکے خود کو خدائے متعال کی عبودیت میں محو کر دیا۔ مختصر یہ کہ جس قدر انسان اپنی خود پسندی کو چھوڑ کرخدا کا بندہ بن جائے اور جس حد تک اپنے آپ کومستقل تصور نہ کرے، وہ اسی اعتبار سے خدا کی منزلت کی لیاقت رکھتاہے، یہاں تک امام صادق علیہ السلام مومن کی زیارت کے بارے میں فرماتے ہیں:
''من زاراخاه فی اللّٰه. قال اللّٰه عز وجلّ: ایای زرت و ثوابک علیّ و لست ارضی لک ثواباً دون الجنة'' (۸)
'' جو خداکے لئے اپنے مومن بھائی کی زیارت کرے، خدا نے فرمایا ہے: تم نے میری زیارت کی ہے اور اس کی پاداش میرے ذمہ ہے اور میں تمھارے لئے بہشت سے کم تر پاداش پر راضی نہیں ہوتاہوں۔''
ایک روایت میں آیا ہے کہ اگر ایک مؤمن خدا کی لئے اور کسی دنیوی غرض و درخواست کے بغیر ایک مومن بھائی کے گھر جائے تو خدائے متعال ایک فرشتہ کو بھیجتا ہے تاکہ اس سے سوال کرے: تم کیوں یہاں آئے ہوا ور کیا کام ہے؟ وہ مومن جواب میں کہتا ہے: خدا کے بندوں میں سے ایک بندہ اور اپنے مومن بھائی کے گھر آیا ہے تاکہ اس سے ملاقات کرے: فرشتہ پوچھتاہے: کیاتم نے اس کو کوئی کام سپرد کیا تھا اور اب اس کی ضرورت ہے؟ جواب میں کہتا ہے: نہیں۔فرشتہ پوچھتا ہے : پس اس کی ساتھ تمھارا کیاکام ہے اور کیوں یہاں آئے ہو؟ وہ مومن جواب میں کہتا ہے: میں اسے خداکے لئے دوست رکھتا ہوں، اس لئے اس کی زیارت کے لئے آیا ہوں ۔پھروہ فرشتہ خدا کی طرف سے اسے پیغام دیتا ہے کہ: اے بندہ !تم میری ملاقات کے لئے آئے ہوا اور میرے مہمان ہو اور تمھاری مہمان نوازی میرے ذمہ ہے۔
جی ہاں ، جب ایک مومن خدا کی بندگی کرنے کا فیصلہ کرتاہے، خود پسند ی اور انانیت کو چھوڑتا ہے تو وہ ایک ایسے مقام پر پہنچتا ہے کہ جہاں پر اس کی زیارت خدا کی زیارت شمار ہو تی ہے۔آیات و روایات پر تحقیق ا ور غور و خوض کرنے کے بعد ہمیں اس مضمون کی بہت سی آیتیں اور روایتیں ملتی ہیں کہ جن میں مومن کی زیارت اور اس کے احترام کو خدا کی زیارت اور اس کے احترام کے برابر بیان کیا گیا ہے۔من جملہ اس روایت میں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جناب ابوذر کو نصیحت کے طور پر خدا کے بندوں میں سے تین گروہ کے احترام کو خداکے احترام کے مانند بیان کرتے ہیں ۔قابل توجہ بات یہ ہے کہ (نعوذ باللہ) اگر خدا ئے متعال کو دیکھتااور اس کا احترام کرتا، تو انسان کس بلند مقام پر پہنچ جاتا! البتہ ہمیں بندگی و عبادت کے مرحلہ میں خدائے متعال کو اپنے دل کی آنکھوں سے دیکھناچاہئے ، تب اس کی عبادت کریں ، چنانچہ مولائے متقیان حضرت علی علیہ السلام نے فرمایاہے:
''لم اکن بالذی اعبد ربا لم اره'' (۹)
''میں ایسا نہیں ہوں کہ بغیر دیکھے خدا کی عبادت کروں''
مخلصانہ عبادت کرنے والا انسان کبھی خد اکی عبادت و بندگی کے دوران خدا ئی عظمت کے مقام پر فائز ہوجا تاہے، خدا کے بندوں کے ان تین گروہوں کا احترام کرنے والے کو بھی خدا کے احترام کے رتبوں میں قرار دیا گیا ہے:
الف :سن رسیدہ مسلمان کا احترام:
پہلا گروہ: وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی عمر اسلام اور اس کے بلند احکام کی پابندی میں گزاری ہو او ر ان کی داڑ ھی اسلام کی راہ میں سفید ہو چکی ہو۔ اس گروہ کا احترام اور اس کی قدر کرنا گویا خدا کا احترام ہے۔ پس ہم نے ایک سن رسیدہ مسلمان کو دیکھا او راس کے مسلمان ہونے اور ایک طولانی عمر اسلام کی راہ میں گزارنے کے ناطے اس کا احترام کیا تو ہم نے خدا کا احترام کیا ہے۔
ہمارے لئے اس امر پر غور کرنے کا مقام ہے کہ خدا کے بندوں میں اس شائستہ ا ور مومن گروہ میں کیا خصوصیت ہے کہ انہوں نے یہ عظمت پائی ہے کہ ان کا احترام کرنا خدا کے احترام کے برابر ہے۔ شاید اس بوڑھے اور ریش سفید مسلمان کے لئے یہ تنزیل و تشبیہ اور موازنہ اس لئے کہ جب انسان اسے دیکھتا ہے تو اس کے چہرہ پر ایک طولانی مدت بندگی کا مطالعہ کرتاہے۔ اس کا نوارنی قیافہ ، سفید ریش، خاص کر اگر پیشانی پر سجدہ کا نشان بھی ہو، یہ سب اس کی ایک عمر خدا کی بندگی کی حکایت کرتے ہیں:
(...( سیماهم فی وجوههم من اثر السّجود ) ...) (فتح/ ٢٩)
''ان کے چہرہ پر سجدہ کے نشانات پائے جاتے ہیں...''
خدا کی بندگی کی ایک عمر کو دیکھنا، ایک عمر خدائی کو دیکھنے کے برابر ہے، کیونکہ بندگی کا خدائی کے ساتھ چولی دامن کا ساتھ ہے۔ یعنی جب ہم ایک عابد بندے کو دیکھتے ہیں کہ اس نے ایک عمر عبادت میں گزاری ہے،توہم ایک عمر خدائی اور اس کے حکیمانہ تدبیر و رہنمائی کا بھی مشاہدہ کرتے ہیں، اس لحاظ سے کہا گیا ہے کہ عبودیت و ربوبیت دوسرے تمام لازم و ملزومات مفاہیم کے مانند دو لازم و ملزوم مفہوم ہیں، جیسے باپ بیٹے ، جب انسان باپ کو باپ کی حیثیت سے دیکھتا ہے تو لازمی طور پر اسے بیٹے کی یادبھی آتی ہے۔ اسی طرح جب کسی کو بیٹے کے طور پر تصور میں لاتاہے تو باپ کی یاد بھی آتی ہے۔
جب انسان ایک دل باختہ بندہ کی بندگی کی عمر کو دیکھتا ہے تو اسے خدائی عمر کی ایک یاد ذہن میں آتی ہے اور یہ وہی ربوبیت الہی اور عبودیت الہی کے درمیان ایک نسبت اور رابطہ ہے۔ اس لحاظ سے اس قسم کی تنزیل و تشبیہکے بارے میں بجاہے کہ کہا جائے: جب اس کا احترام کروگے تو گو یا خدا ئے متعال کا احترام کیا ہے۔ نزول اور موازنہ کا معیار دو نوں طرف وجہ مشترک کا موجود ہونا ہے، اب اس سے بہتر وجہ مشتر ک کیا ہو سکتی ہے کہ ایک دوسرے کو نمایاں کرنے والاہو، ایک تصویر کی مانند کہ جب تصویر پر نظر ڈالتے ہیں تو صاحب تصویر کی یاد آتی ہے۔ اس بوڑ ھے مسلمان نے ایک عمر عبودیت و بندگی کو اپنے قیافہ میں مجسم کیا ہے اور جب آپ اس کی بندگی کے آثار پر نظر ڈالتے ہیں تو خدا کی ربوبیت کا بھی مشاہدہ کرتے ہیں۔
پس مذکورہ مطالب کے پیش نظر ، اسلام میں سن رسیدہ او ربوڑھے افراد کا احترام اس قسم کی عظمت رکھتا ہے۔ البتہ سن رسیدہ خواتین کا احترام بھی اس زمرے میں آتا ہے، لیکن معاشرے میں معمولاً مرد، عمر رسیدہ مردوں سے اور عوریتں بوڑھی عورتوں سے ملاقات کرتی ہیں اور ان کے در میان احترام میں کوئی فرق نہیں ہے،مجموعی طور پر سن رسیدہ مسلمان افراد کا احترام خدا کے احترام کے برابر ہے۔
یہاں پر مناسب ہے کہ اس نکتہ کی طرف ایک اشارہ کریں کہ بعض قدریں ، جن کا اسلامی معاشرہ میں اعتبار ہے، غیر اسلامی معاشرے میں بھی ان کو محترم جانتے ہیں لیکن معیار مختلف ہیں۔بزرگوں کا احترام ایک ایسی قدر ہے جو کم و بیش ہر معاشرے میں رائج ہے، لیکن جس معاشرے میں اسلامی اورالہی نظریہ نہیں ہے، وہاںپر اسی قدر آداب و رسوم کا حصہ ماناجاتاہے، وہاں پر سن رسیدہ افراد کے احترام کا کوئی ثابت او رصحیح معیار نہیں پایاجاسکتاہے۔لیکن اسلام کے قابل قدر نظام میں اس قسم کی قدریں دوسروں کے نزدیک محترم قراردی گئی ہیں، لیکن معقول معیار او رثابت و پائدار بنیاد کے ساتھ ۔تمام معاشروں میں سن رسیدہ افراد کا احترام کیا جاتاہے، اسلامی نظام میں ایک مسلمان عمر رسیدہ کا احترام خاص اہمیت رکھتا ہے اور اس کا احترام اس لئے کیا جاتا ہے کہ وہ ایک عمرخداکی عبودیت میں بسر کر چکا ہے، لیکن یہ خصوصیت دوسروں کے وہاں بیان نہیں ہوئی ہے۔ پس توجہ کرنی چاہئے کہ اگر آیات و روایات میں ایسے اقدارکی بات کی گئی ہو جنھیں دوسرے نظاموں میں بھی قابل احترام جانتے ہوں، تو یہ اس معنی و مفہوم میں نہیں ہے اسلام میں شناختہ شدہ قدریں و ہی ہیں جو دوسرے معاشروں میں اعتبار رکھتی ہیں ، بلکہ ممکن ہے ان قدروں کا معیار اسلام میں بہت مختلف ہو، اسلام کے نزدیک ان قدروں کا معیار بہت بلند ہے۔
مذکورہ بیان شدہ مطالب کے پیش نظر ہمیں معلوم ہواکہ سن رسیدہ لوگوں کااحترام کیا جانا چاہئے او رہر چھوٹے کو اپنے سے بڑے کااس لحاظ سے کہ وہ بندہ ہے اور اس نے ایک عمرعبادت میں گزاری ہے احترام کرناچاہئے، لیکن ایک مسلمان سن رسیدہ کا احترام خاص اہمیت رکھتاہے اور خدا کے احترام کے برابر ہے.
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مسلمان سن رسیدہ کے احترام کے اخروی نتائج او ررد عمل کے بارے میں فرماتے ہیں:
''من وقّر ذاشیبةٍ فی الاسلام آمنه اللّٰه من فزعٍ یوم القیامة'' (۱۰)
''جو کسی مسلمان بوڑھے کا احترام اور عزت کرے گا، خدائے متعال اسے روز قیامت کے خوف سے نجات دے گا''
حضرت اما م جعفر صادق علیہ السلام مسلمانوں کے ساتھ اس کی عمر کے مختلف مراحل میں برتاؤ کے بارے میں فرماتے ہیں:
''اوصیکم ان تتخذوا صغیر المسلمین و لداً و اوسطهم اخاً و کبیرهم ١باً فارحم ولدک وصل اخاک وبرّ اباک'' (۱۱)
''میں تجھے وصیتکرتاہوں کہ مسلمان بچوں کو اپنا فرزند ، جوانوں کو اپنا بھائی اور سن رسیدہ کو اپنا باپ قرار دو او ر(جس طرح اپنے گھر میں برتاؤکرتے ہو) مسلمانوں کے فرزند وں سے مہربانی ، دینی بھائیوں سے برادری او ربزرگوں سے نیکی سے پیش آؤ''
چونکہ دین اسلام ، دین موّدت او رمحبت ہے اور اسلام مہر و محبت کو ایجاد کرنے والادین ہے جو اپنے پیرؤںکو برادری و محبت کی دعوت دیتا ہے اور ان سے صمیمیت اور یکجہتی پیدا کرکے رنجش اور کینہ کو دور کرنے کا مطالبہ کرتاہے اور تقاضا کرتاہے کہ محبت آمیز باتوں سے رحمت الہی کے سایہ کو اپنے سر پر جاری رکھیں ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں:
''من اکرم اخاه المسلم بکلمة یلطفه بها و فرّج عنه کربته، لم یزل فی ظل اللّٰه الممد ود علیه الرحمة ما کان فی ذلک'' (۱۲)
''جو اپنے مسلمان بھائی کا اپنی محبت آمیز باتوں کے ذریعہ احترام کرے اور اس کے غم کو دور کرے، توجب تک یہ عادت و خصلت اس میں موجود ہے وہ ہمیشہ خداکے سایۂ رحمت میں ہوگا۔''
پس ہمیں ان بزرگوں کا احترام کرناچاہئے ، جنھوں نے ایک عمر اسلام میں گزاری ہے اور ان کی ڈاڑھی سفید ہوچکی ہے،حتی اگر ان کی معلومات ہماری معلومات کے برابر بھی نہ ہوں۔ کیونکہ ہم نہیں جانتے ہیں کہ ہماری عمران کی عمر کے برابر پہنچے گی یا نہیں، یا اگر ہم ان کی عمر تک پہنچے بھی معلوم نہیں اپنے دین کا تحفظ کر سکیں یا نہیں۔ کتنے ہی جوان گزرے ہیں کہ جوانی میں ہی ہدایت کی نعمت سے محروم ہوگئے اور کفر و عناد کے عالم میں اس دنیا سے گئے ہیں، اس کے مقابلہ میں یہ انسان کہ جس نے دین کی حفاظت کرتے ہوئے ایک عمر گزاری ہے اور اسلام کو اپنے وجود میں تحفظ بخشا ہے، حقیقتاً احترام کا مستحق ہے، اگر چہ وہ علمی مفاہیم کے بہت سے اصولوں سے واقف نہیں ہے اور اس کا علم ہمارے برابر نہیں ہے۔ یہ گروہ اس قدر عظمت و شرافت کا حامل ہے کہ جس نے اسلام میں ایک عمر گزاری ہے ۔
ب۔ قرآن مجید کے حاملین اور اس پر عمل کرنے والوں کا احترام :
دوسرا گروہ : قرآن مجید کے حاملین او ر اس پر عمل کرنے والوں کا ہے۔ پہلے درجہ پر ان کا احترام خدائے متعال کا احترام ہے کہ جو حافظ قرآن بھی ہیں اور قرآن مجید پر عمل کرنے والے بھی ہیںاور اس گروہ کے بعد ان کا احترام بھی خدائے متعال کا احترا م ہے جو حافظِ قرآن نہیں ہیں لیکن علوم قرآن کے عالم اور اس پر عمل کرنے والے ہیں ، اسی طرح اگر قرآن مجید پر عمل کرنے والے نہیں تھے صرف قرآن مجید کے حامل تھے، پھر بھی وہ احترام کا ایک درجہ رکھتے ہیں۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایاہے:
''اشراف امتی حملة القرآن و اصحاب اللّیل'' (۱۳)
''میری امت کے بزرگ وبرتر افراد قرآن مجید کے حامل(حافظ) اور شب زندہ دار ہیں''
اس روایت میں قرآن مجید کے حاملین کے لئے ایک خاص شرافت ثابت ہوتی ہے، لیکن ابوذر کی حدیث کے اس حصہ میں ، اصل شرافت کے اثبات کے علاوہ یہ بھی بیان ہوا ہے کہ ان کا احترام خدا کا احترام ہے البتہ اس شرط کے ساتھ کہ قرآن مجید پر عمل کرنے والے ہوں او ر ان کی خصوصیت یہ ہے کہ قرآن مجید کے حامل اور اس پر عمل کرنے والے ظاہر و باطن ، گفتار و کردار میں ارادہ الٰہی کا جلوہ کلام الہی کے مظہر ہیں، انہوں نے قرآن مجید کے الفاظ اور حروف کو بھی حفظ کیا ہے اور ان کے ذہنوں میں قرآن کے مفاہیم بھی محفوظ ہیں اور اصطلاح میں ان کے قوہ متخیّلہ نے الفاظ کی صورت کو درک کیا ہے، ان کے قوہ عاقلہ نے اس کے مفاہیم کو اور قوہ عاملہ نے قرآن مجید کے حقائق کو عمل کی دنیا میں جلوہ گر کیا ہے، یعنی ان کا وجود سرتا پا خدائی اور قرآنی ہوچکاہے۔جب ہم ان کے حافظہ پر نظر ڈالتے ہیں کہ وہ حافظ قرآن مجید ہیں ، جب ان کے علوم پر نظر ڈالتے میں تو دیکھتے ہیں کہ وہ علوم قرآن مجید کے حامل او راس کے مفاہیم کو حاصل کرچکے ہیں او رجب ہم ان کے عمل پر نظر ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وہ قرآن مجید کے مطابق عمل کرتے ہیں، اس لحاظ سے ان کا وجود قرآن مجید کا آئینہ ہے، یعنی ان کا وجود کمالِ خدا کا آئینہ ہے اور خدائے متعال نے اپنے کلام سے ان کے وجود میں ظہور کیا ہے،
لہذا ان کا احترام خداوند متعال کا احترام ہے۔
قرآن مجید کے بلند مقام کے بارے میں پیغمبر اسلام فرماتے ہیں:
''القرآن هدی من الضلالة و تبیان من العمی و استقالة من العثرة و نور من الظلمة و ضیاء من الاحداث و عثمة من الهلکة و رشد من الغوایة وبیان من الفتن و بلاغ من الدنیا الی الآخرة و فیه کمال دینکم و ما عدل احد عن القرآن الّا الی النار'' (۱۴)
'' قرآن مجید گمراہی کے لئے ایک رہنمااور نابینا کے لئے بینائی اور نجات بخش ہے، لغزشوں کو بخشنے کا سبب او رہر تاریکی کے لئے نور اور روشنی ہے، حوادث میں نجات دلانے والا ہے، ہر ہلاکت سے بچانے والا اور ہر گمراہی میں رہنمائی کرنے والا ہے۔ ہرفتنہ وانحراف کو بیان کرنے والا او رانسان کو دنیا سے (پستی سے سعادت) آخرت کی طرف لے جانے والاہے اور اس میں تمہارے دین کا کمال ہے اور قرآن مجید سے کوئی شخص منہ نہیں موڑتا مگر یہ کہ اس نے جہنم کی طرف رخ کیا ہے''
قرآن مجید پر توجہ کرنے ، اسے پہچاننے او راسے ایک سعادت او رنجات بخش کتاب کی حیثیت سے منتخب کرنے کی ضرورت کے بارے میں ایک حدیث میں آیا ہے:
''من اخذ دینه من کتاب اللّٰه و سنة نبیه صلی اللّٰه علیه و آله و سلم زالت الجبال قبل ان یزول و من اخذ دینه من افواه الرجال ردّته الرّجال'' (۱۵)
'' جو بھی اپنے دین کو خدا کی کتاب اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت سے حاصل کرتا ہے وہ پہاڑوں سے مستحکم تر او رجو اپنے دین کو لوگوں کی زبانوں سے حاصل کرتاہے، وہی لوگ اسے دین سے منحرف کردیں گے''
ایک اور جگہ پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قرآن مجید اور اہلبیت علیہم السلام کے درمیان رابطہ کے بارے میں فرماتے ہیں:
''انا اول رافد علی العزیز الجبّار یوم القیامة و کتابه و اهل بیتی، ثم امّتی ثم اسالهم ما فعلتم بکتاب اللّٰه و اهل بیتی'' (۱۶)
میں پہلا شخص ہوں جو قیامت کے دن خدائے جبار کے حضور قرآن مجید اور اپنے اہلبیت کے ساتھ حاضر ہوگا، اس کے بعد میری امت (حاضر ہوگی) ، اس کے بعد میں پوچھوں گا: تم لوگوں نے خدا کی کتاب او رمیرے اہل بیت کے ساتھ کیا سلوک کیا؟
جو کچھ بیان ہوا، وہ اس لئے تھاکہ ہم جان لیں کہ قرآن مجید ، مادی و معنوی دونوں لحاظ سے، بابرکت رکھتا ہے او رانسان جس قدراس سے زیادہ بہرہ مند ہوگا۔ قرآن مجید کی فضیلت او رعظمت اتنی ہی زیادہ ہوگی اس مضمون کی ایک روایت نقل ہوئی ہے کہ ایک شخص نے معصوم سے سوال کیا: دوسرے لوگوں پر آپ کی فضیلت او ربرتری کا سبب کیاہے؟ تو معصوم نے جواب میں فرمایا: دوسروں پر ہماری فضیلت اس لئے ہے کہ قرآن مجید کا علم ہمارے پاس ہے۔
پس ہمیں ہمیشہ قرآن مجید کی تکریم و تقدیس کرنی چاہئے اور قرآن مجیدکو ہرگز دوسری کتابوں کی طرح نہیں دیکھنا چاہئے اور قرآن مجید کو دوسری تمام کتابوں پر فضیلت دینا صرف قلبی اعتقاد تک محدود نہ ہو، بلکہ قرآن مجید کے بارے میں ہماری رفتا ردوسری کتابوں کے مقابلہ میں متفاوت ہونی چاہئے۔ ہمیں قرآن مجید کی نسبت قلبی احترام کے علاوہ اس کا ظاہری احترام بھی کرنا چاہئے یعنی ہماری ظاہری رفتار ، قرآن مجید کے ساتھ ہماری قلبی رفتار کا مظہر ہونا چاہئے ۔بیشک قرآن مجید کے ساتھ ہماری یہی قابل تعظیم رفتار، ہمارے ایمان میں اضافہ کا سبب بنے گی۔
بعض برزگان اس کمرے میں نہیں سوتے تھے، جس میں قرآن مجید ہوا کرتا تھا اور حتی اس کمرے میں قرآن مجید کے احترام میں پیر بھی نہیں پھیلا تے تھے۔ علامہ طباطبائی رحمة اللہ علیہ اور شہید مطہری رحمة اللہ علیہ نے مرحوم شیخ محمد تقی آملی سے ایک داستان نقل کی ہے کہ مرحوم آملی نے ایک رات کو قرآن محید کی تلاوت کے دوران انتہائی تھکاوٹ کی وجہ سے تکیہ سے ٹیک لگایا۔ دوسرے دن حب وہ اپنے استاد مرحوم میرزا علی آقای قاضی کہ علامہ طباطبائی اور دیگر بزرگوں کے بھی استاد تھے۔ کے پاس پہنچے تو استادنے بغیر کسی مقدمہ کے فرمایا: قرآن محید کی تلاوت کے وقت اچھا نہیں ہے کہ انسان تکیہ سے ٹیک لگائے!
جی ہاں، قرآن مجید کی تعظیم کے لئے اور معاشرے میں قرآنی ثقافت کو وسعت دینے کے لئے قرآن مجید کے حاملین کا اکرام کرنا چاہئے اور اگر ہم خود قرآن محید کے حاملین میں ہوں تو دوسرے لوگ ہمارا بھی احترام کریں گے اور ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ چونکہ ہم خود قرآن مجید کے حامل ہیں، اس لئے قرآن مجید کے دوسرے حاملین کا احترام نہیں کرناچاہئے، کیونکہ ایک شخص حامل قرآن ہو اور دوسرے حاملان قرآن کا احترام کرے ، چنانچہ سادات او راولاد رسول اللہ کا احترام تما م لوگوں من جملہ سادات پر واحب ہے۔ جب انسان ایک سید کودیکھتا ہے اسے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم یاد آتے ہیں، اس لحاظ سے اس کا احترام کرنا ضروری ہے، حتی اگر خود بھی سید ہو۔
ج۔باانصاف او رعادل حاکم کا احترام :
تیسرا گروہ: تیسرا گروہ جن کا احترام کرنا خدا کا احترام کرناہے، عادل او ربا انصاف حکام ہیں۔ہم عادل حاکم کا احترام ضروروی ہونے کے موضوع پر بحث کرنے سے پہلے معاشرے میں حکومت اور قانون کی ضرورت اور حاکم کے شرائط پر بحث کریں گے:
معاشرے میں حکومت اور قانون کی ضرورت :
مرحوم علامہ طباطبائی فرماتے ہیں:
''ملک'' سلطنت کے معنی میں ضروریات بدہیہ میں سے ہے کہ انسان اس سے مستغنی نہیں ہے۔ لیکن جس چیز کی بشر کو ابتدا میں ضروروت ہے،وہ اجتماع کی تشکیل ہے۔معاشرے کے افراد کا ایک دوسرے سے ربط اور لگائو اس طرح سے کہ معاشرے کا ہر فرد دوسروں کے مقصد اور چاہت کے علاوہ اپنے لئے ایک مقصد اور ارادہ رکھتا ہے، نہ وہ معاشرہ جو کہ فرد فرد کے اعتبار سے ایک دوسروں سے ربط وضبط کے بغیر ہوتاہے، کیونکہ ایک ایک فرد مختلف مطالبات اور گوناگوں مقاصد رکھتے ہیں، اس لحاظ سے ان کی ایک دوسرے سے نہیں بنتی ہے، ہر فرد دوسروں کے ماحصل کو چُرا کران پر غلبہ پانا چاہتا ہے اور دوسروں کے حقوق کو پائمال کرناچاہتا ہے، جس کے نتیجہ میں معاشرے میں ناامنی پھیلتی ہے اور جس معاشرے کو زندگی کی سعادت کے تحفظ کے لئے تشکیل دیاگیا تھا اسے بدبختی و نابودی کا وسیلہ بنایاجاتاہے۔ اس مشکل کو دور کرنے کے لئے اس کے سوا کوئی اور چارہ نہیں ہے کہ معاشر اپنے لئے ایک قہر و غلبہ پانے والی طاقت فراہم کرے تا کہ تمام دیگر قوا اور توانائیوں کو اپنے کنٹرول میں قرار دے۔ تمام لوگوں کو اپنے فرمان کے تحت قرار دے اور نتیجہ کے طور پر دوسروں پر ظلم والی سرکش طاقتوں کو اعتدال میں لایا جائے۔ کمزور افراد کو بھی کمزوری اور سستی کے مرحلہ سے نجات دلاکر در میانی حد تک پہنچادیں تاکہ سرانجام معاشرے کی تمام توانائیاں قوت و ضعف کے لحاظ سے برابر اور ایک دوسرے کے نزدیک ہوجائیں اور اس کے بعد ہر طاقت کو اس کی خاص جگہ پر معین کر دیا جائے ، تو اس صورت میں ہرحقدار کو اس کا حق پہنچ جائے گا''(۱۷)
واضح ہواکہ انسان کی زندگی ایک اجتماعی زندگی ہے۔ اب یہ کہ کیوں اس کی زندگی اجتماعی ہے، کیا اجتماعی ہونا جبراً انسان پر مسلط ہے یا انسان کی فطرت پہلے سے اجتماعی زندگی کی متقاضی ہے او رکیا کوئی عقلائی اور اختیاری عامل اجتماعی زندگی کے انتخاب میں موثر ہے یا نہیں؟ یہ وہ مباحث ہیں جن کے بارے میں فراواں بحثیں ہوئی ہیں، لیکن ہماری نظریہ ہے کہ اجتماعی زندگی کے انتخاب میں عقلائی عامل مؤثر ہے، چونکہ انسان اجتماعی زندگی میں اپنے لئے منافع دیکھتا ہے اور دیکھتا ہے کہ اس کی مادی و معنوی ضرورتیں اجتماعی زندگی کے بغیر یا اصلاً پوری نہیں ہوتی ہیں یا مطلوب صورت میں مکمل طور پر پوری نہیں ہوتی ہیں ، اس لئے وہ اجتماعی زندگی کو پسند کرتا ہے اور اس کے شرائط کو قبول کرتا ہے۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اجتماعی زندگی کا لازمی نتیجہ معاشرے کے مختلف افراد کے منافع کے در میان ٹکراؤکا پیدا ہونا ہے۔ یعنی جب لوگ اجتماعی زندگی چاہتے ہیں اور آپس میں ایک ساتھ زندگی کزارتے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں، اس باہمی تعاون کے ما حصل کو آپس میں تقسیم کرتے ہیں، توان کے منافع اور خواہشات کے در میان ٹکراؤ پیدا ہوتاہے۔ بعض لوگ زیادہ سے زیادہ نفع کے در پے ہوتے ہیں اور الٰہی عطیوں اور نعمتوں سے لامحدود صورت میں فائدہ اٹھا ناچاہتے ہیں اور دوسرے انسانوں کے ساتھ برتاؤ کے طریقہ کو اپنی مرضی کے مطابق بر قرارکرنا چاہتے ہیںا ور ان کا یہ رویہ دوسروں کو پسند نہیں ہوتا ہے۔ پس معاشرے میں کشیدگی پیدا ہوتی ہے، کہ اس کو روکنے کے لئے حدود او رقوانین مرتب و معین کئے جانے چاہئے یہ بھی ایک بدیہی امر ہے اور اس کا واضح ہونا یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص انسان کی خواہشات خواہ مادی یا معنوی کے بارے میں تھوڑا ساغور کرے(جو اجتماعی زندگی سے مربوط ہے) تو وہ دیکھے گاکہ تمام افراد کی لا محدود خواہشات کا پورا ہونا ممکن نہیں ہے اور اگر انسان اجتماعی طور پر زندگی گزارنا چاہے توا سے اپنی خواہشات کے لئے ایک حد معین کرنا چاہئے او رمن پسند طو رپر عمل نہ کرے۔
پس ٹکراؤ کو دور کرنے یا اسے کم کرنے کے لئے ہم حدود اور قوانین کے محتاج ہیں۔ اگرہم اجتماعی زندگی میں افراد کے استفادہ کے لئے حدود کے قائل نہ ہو جائیں یا کچھ انسان ان حدود کی رعایت نہ کریں تو اجتماعی زندگی کا مقصد کہ انسان کے معنوی ومادی تکامل و ترقی کے لئے طبیعت کی نعمتوں سے استفادہ کرناہے حاصل نہیں ہوگا۔ پس اجتماعی زندگی اس طرح نظم و ضبط کے ساتھ گزارنا چاہئے کہ معاشرے کے تمام افراد کے لئے روز افزوں ترقی اور تکامل کے مواقع فراہمہوں۔ صرف اسی صورت میں اجتماعی زندگی کا مقصد صحیح معنوی میں پورا ہوسکتا ہے۔
اسلامی نظام میں ، جو اسلامی اصول اور نظریات پر مبنی ہے، ضرورت ہے کہ قانون الہی ہو۔ اس امر کی دلیل وہ دعوی ہے جسے اسلام نے معاشرے کے امور کی تدبیر میں ایک ہمہ جہت مکتب کے طور پر پیش کیا ہے۔ ہم بھی اسلام کے پیرو ہیں اور اس پر عمل کرنے کو عام سعادت کی ضمانت سمجھتے ہیں ہمیں گوناگوں مذاہب و مکاتب فکر کے مختلف رجحانات جنھیں دنیا کے اکثر ممالک نے کم و بیش قبول کیا ہے کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے عقیدہ اور ارمانوں کا استدلال و تفکر کے اسلحہ سے دفاع کرناچاہئے۔
صالح او رشائستہ حاکم کے شرائط:
یہاں تک معاشرے میں حکومت اور قانون کے وجود کی ضرورت بیان ہوئی، اور چونکہ حکومت کی تشکیل او رقانون کا نفاذ حاکم کے وجود کے بغیر ممکن نہیں ہے، اس لئے ہم امور حکومت کو سنبھالنے والے حاکم کے بعض شرائط کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
١۔ شناخت قانون: جو شخص قانون کو نافذ کرناچاہتاہو، خواہ وہ قانون داخلی امن و سلامتی کے بارے میں ہو خواہ دفاع کے بارے میں یا بین الاقوامی تعلقات، یا دوسری چیزوں کے بارے میں اسے قانون اور ان اصولوں او رقدروںکے بارے میں جن پر وہ قانون استوار ہے ، کافی شناخت و معلومات ہونی چاہئے۔
٢۔ تقویٰ : تقویٰ، اسلامی ثقافت میں ایک کلی شرط ہے اور عام لغت میں اسے ''فرضیہ شناسی'' کہتے ہیں۔ جو شخص معاشرے کے امور کا حاکم بن جاتاہے اور لوگوں کی مصلحتوں کو اپنے ذمہ سنبھالتا ہے، اسے ان کی مصلحتوں کو پور اکرنے کی فکر میں ہونا چاہئے، نہ یہ کہ اقتدار پر پہنچنے کے بعد اپنے ذاتی مقاصد او ردنیوی خواہشات کو پورا کرنے کی فکر میں ہو، ایسی صورت میں اس قسم کا شخص لوگوں کے جان مال،کی حفاظت اور قانون نافذ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے۔ کیونکہ وہ قانون کو اس کے بر خلاف اور اپنی خواہشات کے مطابق تفسیر و تاویل کرتاہے یا اسے نسخ کرتاہے اور بعض اوقات واضح طور پر اس کی مخالفت کرتاہے۔ پس حکومتی امور کو سنبھالنے والے کے لئے دوسری شرط اخلاقی اقدار سے برخورد ار ہونا، یا قرآن مجید او راسلامی ثقافت کی اصطلاح میں صاحب تقویٰ ہونا ہے۔
٣۔ تجربہ کاری: جو بھی کسی کام کو انجام دینے کی ذمہ داری سنبھالے اس میں اس کام کو انجام دینے کی صلاحیت ہونی چاہئے،کیونکہ کسی شخص کے لئے صرف قانون کے بارے میں آگاہی رکھنا او رصاحب تقوی ہوناکام کو صحیح طور پر انجام دینے کے لئے کافی نہیں ہے ، بلکہ اس کام کے بارے میں مہارت او رتجربہ کاری کا بھی ہونا ضروری ہے تاکہ اس کی مدد سے مسئولین (اراکین) کو پیش آنے والے چھوٹے بڑے مسائل و مشکلات کو حل کرسکے۔
اس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہے کہ انسانی معاشرے ٹکراؤاور کشیدگیوں کو دور کرنے شخصی اور معاشرتی منافع کے بارے میں حدود معین کرنے اور بالاخر معاشرتی زندگی میں اعتدال پیدا کرنے کے لئے قانون کے محتاج ہیں، اور اس کو صحیح طو رپر نافذ کرنے کے لئے او رباغیوں اور سرکشوں کودورکرنے کے لئے والی اور حاکم کے محتاج ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ولایت اور سرپرستی کا حق فقط خدائے متعال کو ہے اور دوسرے اس کی اجازت سے لوگوں کے والی اور سرپرست ہوتے ہیں؟ یا بعض انسان بنیادی طور پر دوسروں پر ولایت و سرپرستی کی صلاحیت رکھتے ہیں؟ اس کے حواب میں کہا جاسکتاہے کہ کوئی بھی انسان دوسرے افراد پر ولایت و سرپرستی کا حق نہیں رکھتاہے، کیونکہ انسان اسی کی اطاعت کرتا ہے کہ جس سے اس نے اپنے وجود جیسی نعمت کو حاصل کیا ہے، چونکہ عام لوگوں نے نہ انسان کو ھستی عطاکی ہے اور نہ اس کے بقا او ردوام میں مؤثر ہیں اس لئے کسی کاحکم دوسری کے لئے واجب الاطاعت نہیں ہے۔
انسانوں کی عدم ولایت میں پہلی اصل افراد کی پیروی کی عدم ضرورت ہے۔ چونکہ انسان اپنی ھستی کی پوری حیثیت کو خدائے متعال سے حاصل کرتا ہے اس لئے اس پر واجب ہے، صرف اس کے حکم کی تعمیل کرے اور اس کے علاوہ کسی اور کے حکم کی تعمیل کرنے میں یہ شرط ہے کہ وہ دوسرا خدائے متعال کی طرف سے معین ہونا چاہئے۔
مذکورہ مطالب کے پیش نظر جب ہم قرآن مجید پر نظر ڈالتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ خدائے متعال باطل ولایتوں کو، یعنی جن ولایتوں پر خداوند عالم نے دستخط نہیں کئے ہیں، مسترد کرتاہے:
( یا ایها الذین آمنوا لاتتخذوا الیهود والنصاری اولیاء بعضهم اولیاء بعضٍ و من یتولّهم منکم فانّه منهم انّ اللّٰه لا یهدی القوم الظالمین ) ) (مائدہ /٥١)
'' ایمان والو! یہودیوں او رعیسائیوں کو (کہ اسلام کے دشمن ہیں) اپنا دوست اور سرپرست نہ بناؤ کہ یہ خود آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جوکوئی انھیں دوست بنائے گاتو (کفر و ظلم میں ) انھیں میں شمارہو گا۔ بیشک اللہ ظالم قوم کی ہدایت نہیں کرتا ہے۔ ''
(جملہ''( ان اللّٰه لایهدی القوم الظالمین'' ) اس پر دلالت کرتاہے کہ وہ ظالم ہیںاور ظالم کبھی ہدایت سے بہرہ مندنہیں ہوتا، ہرگز مقصد تک نہیں پہنچتا بلکہ وہ متواتر راستہ میں ہی رہتا ہے۔پس اگر تم لوگ بھی ان کے ہی زمرہ میں قرار پائے تو مقصد تک نہیں پہنچ پاؤگے)
پرودگار عالم ایک دوسری آیت میں حاکم بر حق کا یوںتعارف کراتاہے:
(انّما ولیکم اللّٰه و رسوله و الذین آمنوا الذین یقیمون الصّلوة و یؤتون الزّکوٰة و هم راکعون ) (مائدہ/٥٥)
''ایمان والو! بس تمھارا ولی اللہ ہے اور اس کا رسول او روہ صاحبانِ ایمان جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوة دیتے ہیں (تمام مفسرین کا اتفاق ہے کہ آیہ شریفہ کے مصداق حضرت علی علیہ السلام ہیں''
پس معاشرے میں حکومت کی ضرورت کے پیش نظر اسلام میں جو شاہد پیش کئے گئے ہیںا ور حاکم بر حق کے لئے جو شرائط ذکر ہوئے ہیں، ان سے واضح ہوتاہے، کہ شخص معصوم کے حضور کی صورت میں ( جیسے وجود مقدس روسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم او رمعصوم ائمہ علیہم السلام) وہی حکومت کا والی و سرپرست ہوگا اور فطری بات ہے کہ ایسی حکومت کا فی مطلوب اور مثالی ہوگی۔لیکن یہ صورت ہمیشہ ممکن نہیں ہے، حتی امام معصوم کے حضور کے زمانے میں بھی وہ صرف جس جگہ پر تشریف رکھتے ہیں، اسی شہریاصوبے کی حکومت چلا سکتے ہیں اور دیگر تمام شہروں میں اپنے کارندے اور عامل معین کرکے امور کی نگرانی اور نظارت کریں گے۔ عصر غیبت میں امام معصوم تک رسائی نہ ہونے کی وجہ سے، کسی کا اس منصب پر فائز ہونا ضروری ہے تا کہ اسلامی معاشرے کو قوانین الہی او راسلام کے اصولی کی بنیاد پر قیادت و رہبری کرے، اس کے حسب ذیل شرائطہیں۔
١۔ اسلام کے بارے میں کافی آگاہی :
چونکہ رہبری اور حکومت کی مسئولیت میں ، قوانین اور اسلامی اقدار کی حفاظت مسلمانوں کے حاکم کے ذمہ ہے اور وہ دین، ناموس اور احکام خدا کا امانت دار ہوتا ہے، اس لئے ان تینوں شرائط یعنی: قانون کے بارے میں آگاہی، تقوی و اخلاقی صلاحیت اور حکومت چلانے کی اہلیت و قدرتکے سلسلہ میں دوسروں کی بہ نسبت زیادہ آگاہی اور مہارت رکھتا ہو۔ایک روایت کا مضمون یہ ہے کہ اگر ایک معاشرے میں کوئی شخص امامت و رہبری کو اپنے ذمہ لے لے، جبکہ دوسرے لوگ حتی ایک آدمی بھی اس معاشرے میں اس سے داناتر و شائستہ تر موجود ہوںتا تو وہ معاشرہ ہمیشہ روبہ زوال ہوگا:
''من امّ قوماً و فیهم من هوا علم منه او افقه لم یزل امرهم الی سفالٍ الی یوم القیامة ''(۱۸)
٢۔تقوی:
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے صلاحیت رہبری کی شرائط میں سے ایک شرط کہ جو اسے خداکے حرام سے بچاتی ہے تقوی و پرہیز گاری بیان فرمائی ہے:
''ورع یحجز ه عن معاصی اللّٰه ''(۱۹)
امام حسین علیہ السلام ایک روایت میں معاشرے کی رہبری کے بارے میں اہل کوفہ کو لکھتے ہیں:
''ما الامام الا الحاکم بالکتاب، القائم بالقسط، الدّائن بدین الحق الحابس نفسه علی ذات اللّٰه'' (۲۰)
''پیشوا اور امام نہیں ہے مگروہ جس کی حکومت قرآن مجید کی بنیاد پر ہو، عدل و انصاف کو قائم کرتاہو اور دینِ حق پر پابند ہواور خود کو خدا کی راہ میں وقف کرے۔''
حضرت علی علیہ السلام عثمان سے مخاطب ہوکر فرماتے ہیں:
''فاعلم انّ افضل عباد اللّٰه عند اللّٰه امام عادل هدی و هدی فاقام سنّة و معلومة و امات بدعة مجهولة و انّ شرّ الناس عندا للّٰه اما م جائر ضلّ و ضلّ به فامات سنة ماخوذة و احیا بدعة متروکة '' (۲۱)
''جان لو! خداکے نزدیک بندوں میں برترین شخص عادل اور نجات یافتہ پیشوا ہے جو ہدایت یافتہ رہنما ہو اور سنت اور معروف طریقہ (پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے) کو رواج دے اور باطل و غلط بدعت کونابود کرے۔ خدا کے پاس لوگوں میں سے بدترین شخص ظالم امام ہے جو خود گمراہ ہو اور دوسروں کو گمراہ کرنے کا سبب بنے، قبول کی گئی سنت کو نابود کرے او رچھوڑی ہوئی بدعت کو پھرسے زندہ کرے''
٣۔ تدبیر و مدیریت :
تیسری شرط امور کو چلانے کی مہارت حسن تدبیر اور معاشرے کے امور کی مدیریت ہے۔
اسلامی حاکم کے لئے، رہبری کی توانائی اور معاشرے کو اسلام کے راستہ پر چلانے کی طاقت کا ہونا ضروری شرط میں شمار کیا گیا ہے اور اس خصوصیت کے لئے بہت سے مقدمات، تجربے، آگاہی اور عوامل کی ضرورت ہوتی ہے کہ اگر کوئی شخص اجتماعی امور کے بارے میں سیاسی تدبیر و دیانت میں اس حد تک پہنچ جائے تو مسلمانوں کی مسئولیت و ذمہ داری کو اسے سونپا جاسکتاہے۔
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
''ایّها الناس انّ احقّ الناس بهذا الامر اقواهم علیه و اعلمهم بامرالله فیه'' (۲۲)
لوگو! خلافت کا سزاوار وہ شخص ہے جو اس کام کے لئے تواناتر او رخدا کا حکم جاننے میں داناتر ہو۔''
ولی فقیہ، صالح او رشائستہ ترین فرد:
حاکم اسلامی کے لئے بیان کئے گئے معیار و صفات کے پیش نظرہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے زمانہ میں شائستہ ترین فرد کی حکومت کی راہ اور مواقع فراہم ہیں، گزشتہ زمانہ میں ایسے اشخاص کے توسط سے حکومت اختیار میں لینا بہت بعید او ربعض اوقات ناممکن نظر آتاتھا، ایسی بحثیں بھی نہیں ہوتی تھیں او ر صرف ''مرجع تقلید'' کا مسئلہ پیش کیا جاتاتھا۔
اس جہت سے اسلام کے ہمدرد اور مصلحت اندیش کچھ بزرگ تھے جو ''مرجع تقلید'' کے عنوان سے معاشرے کی بہترین خدمت انجام دینے والی فرد کو تلاش کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ لیکن آج بحمدللہ صالح افراد کے ذریعہ حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے کے لئے اسباب وسائل فراہم ہوئے ہیں اور اس عظیم اسلامی انقلاب او رشہیدوں کے مقدس خون کی برکت سے ایسے شرائط فراہم ہوگئے کہ اس نے ہمیں اسلامی نظام میں ، رہبری (ولی فقیہ) کی نعمت سے سرفراز فرماکر ہم پر احسان کیا ہے۔ اس نعمت کی شکر گزاری کو صرف ولایت فقیہ کی اطاعت سے انجام دیا جا سکتاہے کہ وہ مسلمین کی عزت و امت اسلامیہ کی وحدت و یکجہتی کا ضامن ہے۔
حضرت اما خمینی قدس اللہ نفسہ الزکیہ کی حیات میں ہم اس نعمت سے مستفید تھے او رآج بھی افسوس کہ اس عظیم نعمت سے محروم ہوئے ہیں لیکن اس کے با وجو خدائے متعال نے اپنی نعمت کو ہم پر جاری رکھتے ہوئے ولی فقیہ کے سایہ کو ہمارے سروں پر استمرار بخشاہے۔ ہم خدا کا لاکھ لاکھ شکر بجا لاتے ہیں کہ امت کے ماہر اور داناافراد (خبرگان) نے امام خمینی رحمة اللہ علیہ کے دوستوں میں سے بہترین اورشائستہ ترین فرد یعنی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای مد ظلہ العالی کو ان کا جانشین منتخب کیا اور تمام لوگوں نے خوشی خوشی ان کی بیعت کی ہے اور امام خمینی رحمة اللہ علیہ کے تمام ساتھیوں نے کمال ہمدلی و یکجہتی سے راہ امام کو ثبات بخشاہے اور بحمدللہ امور کو جاری رکھنے میں کسی قسم کی سستی او ر خلل کا سامنانہیں ہوا۔ ہم بارگاہ الہی میں دست بہ دعا ہیں کہ مسئولین کا یہ اتحاد و یکجہتی قائم و دائم رہے اور روز افزوں مستحکم اور پائدار تر ہو جائے تا کہ انقلاب اسلامی کی یہ کشتی رہبر معظم کی قیادت میں امن و مقصد کے مطلوب ساحل سے ہم کنار ہوجائے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ و آلہ و سلم جناب ابوذر غفار ی کونصیحت فرماتے ہیں کہ قانون الہی کے مطابق اور عدل و انصاف کی بنیاد پر حکومت کرنے والے عادل حاکم کا احترام کرو اس لئے کہ اس کا احترام کرنا، خدا کا احترام کرناہے، خدا کی صفات میں سے ایک صفت حاکمیت ہے، کیونکہ اسمائے الہی میں سے ایک اسم حاکم ومولا ہے اور خدا کا مولا ہونا اور حکومت الہی عملا خدا کے عادلانہ احکام میں ظہور پذیر ہے کہ اس خطیراور عظیم ذمہ داری کی باگ ڈور حاکم اسلامی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔
عادل مسلمان فرمانروا اور ولی امر مسلمین ، جو قانون الہی کے مطابق حکم دیتا ہے، اور اسلامی معاشرہ میں احکام الہی کونافذ کرنے کی کوشش کرتا ہے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اہل بیت علیہم السلام کی ولایت کے ایک مرتبہ کا حامل ہوتاہے۔ کیونکہ ولایت الہی در حقیقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم او رائمہ اطہار علیہم السلام کو سپرد کی گئی ہے(۲۳) ۔ اور اس کا ادنی درجہ سلطان عادل اور ولی امر مسلمین کو سپرد کیا گیا ہے، اس لحاظ سے اس کا احترام خدا کا احترام ہے۔
اس بنا پر بعض لوگوں کے تصور کے خلاف کہ سوچتے ہیں اسلامی حاکم کی کوئی خاص اہمیت نہیں ہے اگر کوئی شخص خدا کے لئے اور اسلام و اسلامی نظام حکومت کے احترام کی نیت سے رہبر معظم اور ولی امر مسلمین کا کسی ذاتی غرض کے بغیر احترام کرے ، اور اس کے احترام کی دلیل یہ ہوکہ ولی امر مسلمین اسلامی احکام کو نافذ کرتاہے اور قرآن مجید کا مروج ہے تو اس کا یہ احترام قابل اہمیت ہے۔
اس مطلب کو ذکر کرنا میں اپنا فرض جانتا ہوں کہ انقلاب اسلامی کی کامیابی کے بعد ولی امر مسلمین کے ہاتھوں جو بہترین اور شائستہ ترین سنتیں ہمارے ملک میں ایجاد ہوئیں وہ قرآن مجید کی قرائت اور حفظ کی سنّت کا احیاء اور زندہ کرنا ہے۔آپ مشاہدہ فرمارہے ہیں کہ بعض اوقات ٹیلی ویژن چھوٹے چھوٹے کمسن اور نو عمر بچوں کو دکھا تاہے کہ جو حافظ قرآن ہیں۔ ہم کبھی مشاہدہ کرتے ہیں کہ ایک چھوٹی بچی جوابھی اچھی طرح سے بات بھی نہیں کرسکتی ہے، قرآن مجید کا ایک تہائی حصہ حفظ کرچکی ہے، وہ بھی عربی لہجہ میں ! آپ کو یادہوگا کہ انقلاب سے پہلے ہمیں انتہائی محنت کرنا پڑتی تھی تا کہ لوگ حمد و سورہ کو صحیح پڑھ سکیں اور ''سین و صاد'' میں فرق کرسکیں، حتی پڑھے لکھے لوگوں کے لئے بھی حمد و سورہ کی تجوید سیکھنا مشکل امر تھا۔ آج ہم دیکھ رہے ہیں ایک ٦ یا ٧ سالہ بچی قرآن مجید کے ایک تہائی حصہ کو حفظ کرچکی ہے اور تجوید کے ساتھ ہم سے بہتر تلاوت کرتی ہے! کیا یہ قابل فخرو مباہات نہیں ہے؟کیا جس نے اس سنت کو زندہ کیا ہے، اس کا احترام نہیں کرنا چاہئے؟ یقینا ایسے شخص کا احترام خدا کا احترام ہے، قرآن مجید کا احترام ہے، پس ہمیں کوتاہی نہیں کرنی چاہئے۔ اگر ہم ان احتراموں کی رعایت نہ کریں تو شعائر اسلامی نابود ہوجائیں گے۔معاشرے میں دین کی بقا شعائر اسلامی کی بقا پر منحصر ہے۔ اگر یہ احترام کرنا عام ہو کر رواج نہ پائے اور لوگوں میں اس کی تشہیر نہ ہو تو آہستہ آہستہ یہ قدریں فراموش ہوجائیں گی اور یہ کفران نعمت ہوگا۔
ہم اس بڑی نعمت کو درک کرتے ہیں جسے خدائے متعال نے ہمیں عنایت کی ہے، ہمیں اس کی قدر کرنی چاہئے اور نظام اسلام کی رہبری کا احترام کرناچاہئے۔ البتہ جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں کہ اس احترام کی قدر اس وقت ہے کہ جب طمع او رلالچ کی غرض سے نہ ہو، بلکہ فریضہ انجام دینے اور خدا کی خوشنودی کے لئے ہونا چاہئے اور اس لئے ہو کہ مسلمانوں کے قائد کا احترام ، اسلامی نظام کا احترام ہے اور اسلام کا احترام خدا کا احترام ہے۔
____________________
١۔ نہج البلاغہ (فیض الاسلام ) خ ١٠٧، ص ٣٢١
۲۔ نہج البلاغہ (فیض الاسلام ) خ ٩٤، ص ٢٨٣
۳۔ بحار الانوار ج ٢٣ص ١٣٣
۴۔ بحار الانوار، ج ٢٦، ص ٢٥٠
۵۔ بحار الانوار ، ج ٧٥ص ٤٦٨
۶۔ بحار الانوار ، ج ٧٥، ص ٤٦٨
۷۔ بجار الانوار ، ج ٢٦،ص ١٥٨
۸۔بحار الانوار، ج ٧٤ص ٣٤٥
۹۔ بحار الانوار ، ج ٤، ص ٢٧
۱۰۔ بحا رالانوار ، ج ٧، ص ٢٠٢ ٢۔
۱۱۔ مرتضی فرید ، الحدیث ، ج ١،ص ٣٠٦
۱۲۔بحار الانوار ، ج ١٦، ص ٨٤
۱۳۔بحا رالانوار ، ج ٨٧، ص ١٣٨
۱۴۔ اصول کافی ج ٤، ص ٤١
۱۵۔ اصول کافی ج ٤، ص ٤١
۱۶۔ مقدمہ اصول کافی ، ص ٧
۱۷۔ المیزان ، ج ٣، ص ١٤٤
۱۸۔ بحار الانوار ، ج ٨٨، ص ٨٨
۱۹۔اصول کافی، ج ٢، ص ٢٦٦
۲۰۔محمد بن نعمان (مفید)، ارشاد، ص ١٨٦
۲۱۔نہج البلاغہ (ترجمہ شہیدی) خ ١٨٣، ص ١٧٣
۲۲۔ نہج البلاغہ'' فیض الاسلام'' خطبہ ١٦٣و ٥٢٦
۲۳۔یہ ولایت اور حکومت سورہ مائدہ کی آیت نمبر ٥٥ ہیں واضح طور پربیان ہوئی جہاں پر خدائے متعال فرماتاہے: ''انّما ولیکم اللّٰہ و رسولہ والذین آمنوا...''
تینتیسواں درس
زبان کو محفوظ رکھنے کی ضرورت او راس کے آفات کی مذمت
* اعمال کا ایک دوسرے کے مقابل اثر احتیاط و تکفیر
*دوسروں کی عیب جوئی کرنے کی مذمت
*چاپلوسی او ر بے جا ستائش کی مذمت
*دوسروں کی طعنہ زنی اور زخم زبان کی مذمت
*اپنی بات پرھٹ دھرمی کرنے کی مذمت
زبان کو محفوظ رکھنے کی ضرورت او راس کے آفات کی مذمت
''یا اباذر؛ ما عمل من لم یحفظ لسانه. یا اباذر؛ لاتکن عیّابا و لا مدّاحاً و لا طعّاناً و لا مماریاً، یا اباذر؛لایزال العبد یزداد من اللّٰه بعدا ما ساء خلقه''
''اے ابوذر! جو اپنی زبان کو کنٹرول نہ کرتا ، اس کا نیک کا م ضائع ہوجاتاہے۔ اے ابوذر! عیب جوئی ،بے جا تعریف، جھگڑالو، اور طنز گوئی کے مرتکب نہ ہونا۔ اے ابوذر ! جب تک انسان بد اخلاق رہتاہے خدائے متعال سے دور ہوتا ہے۔''
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نصیحتوں کا یہ حصہ زبان سے مربوط ہے۔ (جیسا کہ ملاحظہ ہو رہا ہے کہ یہ فقرے موضوع کے لحاظ سے پہلے او ربعد والے جملوں سے کوئی ربط نہیں رکھتے ہیں، لگتا ہے کہ نقل میں آگے پیچھے ہوگئے ہیں اور ان فقروں کا ذکر زبان سے متعلق نصیحتوں کے بعد آنا چاہئے تھااس سے پہلے جملہ ان من اجلال اللّٰہ ذکر کیا گیا ہے میرے خیال میں لگتا ہے کہ جملہ انّ من اجلال اللّٰہ کو نقل کرنے میں مقدم کر دیا گیا ہے)
اعمال کا ایک دوسرے کے مقابل اثر یا احباط و تکفیر:
ان بیانات میں ، آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گفتگو کرنے میں احتیاط کی اہمیت کو ایک دوسرے طریقہ سے بیان فرمایا ہے۔ یہ اس جہت سے ہے کہ انسان اپنی زبان کو کھلی ڈھیل نہ دے کہ جو جی چاہے بول دے اور جو زبان پر آئے بک دے بلکہ زبان پر تالا لگائے اور فکر کرے۔ چونکہ انسان کے لئے بات کرنابہت آسان ہے، کبھی معمولی اور چھوٹے اغراض بھی زیادہ باتیں کرنے اور دوسروں کی بدگوئی کرنے کاسبب بنتے ہیں۔بزرگان دین نے کوشش کی ہے کہ مختلف تعبیروں اور طریقوں سے ہمیں اس بات کی تاکید کریں کہ ہم اپنی زبان کے بارے میں ہوشیار رہیں اور اسے آزادنہ چھوڑیں ۔ انھیں تعبیرات میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ نصیحت بھی ہے کہ جس نے اپنی زبان کو کنٹرول نہیں کیا اس نے کوئی عمل انجام نہیں دیا ہے۔ شاید اس بات میں یہ نکتہ پوشیدہ ہوکہ زبان انسان کی روح میں ایسے شر پسند عناصر کو جنم دیتی ہے کہ جوانسان کے تمام اعمال کو نابود کردیتے ہیں چونکہ آیات و متواتر روایات میں آیا ہے کہ انسان کے اعمال ایک دوسرے میں اثر ڈالتے ہیں، کبھی انسان ایک فعل انجام دیتاہے لیکن اس کے بعد جو فعل انجام دیتا ہے وہ پہلے والے فعل کی خاصیت کو بدل کے رکھ دیتا ہے اور اس میں ایک ایسا اثر ڈالتا ہے کہ اس کا اپنا اثر نابود ہوتاہے، خواہ وہ اثر اچھا ہو یا بُرا۔
علم کلام کی کتابوں میں ''احباط و تکفیر'' کے عنوان سے ایک بحث پیش کی گئی ہے۔''حبط'' نیک کاموں کے بے اثر ہونے کے معنی میں ہیں۔یعنی انسان کے بُرے کام اس کے اچھے کام کو حبط و ضائع کردیتے ہیں اور انھیں بے فائدہ او ربے نتیجہ کرڈالتے ہیں. اور ''تکفیر'' گناہوں کی تلافی کے معنی میں ہے اور یہ اچھا اور پسندیدہ عمل ہے، او رپہلے والے کام کے نقص کی تلافی کرتاہے۔ چونکہ ہمارے تمام اعمال کی بنیاد ایمان وکفر پر ہے، لہذا ''احبا ط و تکفیر '' کے واضح ترین مصداق ایمان و کفر ہیں:
انسان جو گناہ او ربُرے اعمال کے بعد ایمان اور صالح عمل انجام دیتا ہے، وہ اپنے گزشتہ کفرو ناشائستہ عمل کی تلافی کرتاہے اور روشن نور کی طرح گزشتہ کی تاریکیوں کو زائل کردیتاہے اور اس کے بر عکس کفرا ور ناشائستہ اعمال ، گزشتہ نیک اعمال کو نابود کرکے رکھ دیتے ہیں اور انسان کے ریکارڈ کو سیاہ اور اس کے انجام کو تباہ کر دیتے ہیں یہاں تک کہ خرمن میں لگی آگ کی طرح سب کچھ خاکستر ہو جاتا ہے۔دوسرے الفاظ میں ، ایمان اس نوارنی چراغ کے مانند ہے جو دل اور روح کے گھر کو روشن اور منور کر دیتا ہے اور تاریکیوں اور سیاہیوں کونابود کر دیتا ہے اور کفر اس چراغ کے بجھنے کے مانند ہے کہ جس کی وجہ سے تمام روشنی ختم ہو جاتی ہے اور تاریکیاں پھیل جاتی ہیں۔ جب تک انسان کی روح اس تغیر ہونے والی شیٔ سے تعلق رکھتی ہے ہمیشہ روشنی و تاریکی ، نور و ظلمت کی کمی بیشی سے د وچار ہوتی رہتی ہے،یہاںتک اس دنیا سے رخصت ہوجائے اور اس پر ایمان و کفر کو انتخاب کرنے کی راہ بند ہوجائے ، پھر جس قدر بھی دوبارہ اس دنیا میں آکرتاریکیوں کو دور کرنے کی آرزو کرے گا، کوئی فائدہ نہیں ہوگا:
( حتی اذا جاء احد هم الموت قال رب ارجعون لعلی اعمل صالحا فیما ترکت کلا انها کلمة هو قائلها ومن ورائهم برزخ الی یوم یبعثون ) (مؤمنون /٩٩و١٠٠)
''یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت آگئی تو کہنے لگا کہ پروردگار مجھے پلٹادے، شاید میں اب کوئی نیک عمل انجام دوں(ان سے کہا جائے گا) ہرگز نہیںایسا ہر گز نہیں ہو سکتا جو یہ کہہ رہا ہے وہ حسرت کی بنا پر اور اس کے پیچھے ایک عالم برزخ ہے جو قیامت کے دن تک قائم رہنے والاہے''
قرآن مجید کے نقطۂ نگاہ سے ایمان و کفر کے درمیان اس تاثیر وتاثّر میں کسی قسم کے شک اور تذبذب کی گنجائش نہیں ہے۔ اس مطلب کی دلالت میں فراوان آیتیں موجود ہیں، من جملہ خدائے متعال فرماتاہے:
( ومن يؤمن باللّٰه و یعمل صالحاً یکفّر عنه سیئاته ) (تغابن/٩)
''اور جو اللہ پر ایمان رکھے گااور نیک اعمال انجام دے گا، خدا اس کی برائیوں کو دور کرے گا''
ایک اور جگہ پر فرماتاہے:
( ومن یرتدد منکم عن دینه فیمت و هو کافر فاولئک حبطت اعمالهم فی الدّنیا و الآخرة و اولئک اصحاب النار هم فیها خالدون ) (بقرہ/٢١٧)
''اور تم ہی سے جو اپنے دین سے پلٹ جائے او رکفر کی حالت میں مرجائے اس کے سارے اعمال دنیا و آخرت میں برباد ہوجائیں گے اور وہ جہنمی ہوگا اور وہیں ہمیشہ رہے گا''
ایمان و کفر کے درمیان جیسا رابطہ اجمالی طور پر نیک و بد کاموں میں بھی موجود ہے، لیکن کلی طور پر اور ایسا نہیں کہ انسان کے نامہ اعمال میں ہمیشہ یا نیک کام درج ہوں گے اور اس کے گزشتہ بُرے اعمال نابود ہوجائیں گے یا بُرے کام محفوظ ہوں گے اور اس کے گزشتہ نیک اعمال نابود کردیئے جائیںگے، بلکہ اعمال کے بارے میں تفصیل کا قائل ہونا چاہئے ، اس معنی میں کہ بعض نیک اعمال اگر قابل قبول اور شائستہ صورت میں انجام پائیں گزشتہ برے اعمال کے آثار کو نابود کردیتے ہیں، جیسے توبہ اگر مطلوب صورت میں انجام پائے، توانسان کے گناہ بخش دیئے جائیں گے:
( ومن یعمل سوء او یظلم نفسه ثمّ یستغفر اللّٰه یجد اللّٰه غفوراً رحیماً ) (نسائ/١١٠)
''اور جو بھی کسی کے ساتھ برائی کرے گا یا اپنی نفس پر ظلم کرے گا اس کے بعد توبہ و استغفار کرے گاتو خدا کو غفور و رحیم پائے گا''
مزید فرماتاہے:
( والذین اذا فعلوا فاحشة او ظلموا انفسهم ذکروااللّٰه فاستغفروا لذنوبهم و من یغفر الذنوب الا اللّٰه ولم یصرّوا علی ما فعلواوهم یعلمون ) (آل عمران /١٣٥)
''نیک لوگ وہ ہیں کہ جب کوئی نمایاں گناہ کرتے ہیں یا اپنے نفس پرظلم کرتے ہیں تو خدا کویاد کرکے اپنے گناہوںپر ستغفار کرتے ہیںاورخدا کے علاوہ کون گناہوں کا معاف کرنے والاہے اور وہ اپنے برے عمل پر جان بوجھ کراصرار نہیں کرتے اس لئے کہ گناہ کی پلیدی سے آگاہ ہیں''
پس توبہ بالکل نور کی شعاع کے مانند ہے جو درست تاریکی کے نقطہ پر چمکتی ہے اور اسے روشن کرتی ہے۔ پس ایسا نہیں ہے کہ ہرنیک عمل تمام گناہ کے اثر کونابود کردے، اس لحاظ سے ممکن ہے مومن شخص ایک مدت تک گناہ کے عذاب میں گرفتار رہے اور سرانجام ہمیشہ کے لئے بہشت میں داخل ہوجائے۔
گویا انسان کی روح کے مختلف اور گوناگوں رخ ہیںا ور نیک و بد اعمال کاہر مجموعہ ان کے ایک پہلو سے مربوط ہوتاہے۔مثلا جو نیک عمل کا پہلو ''الف'' سے مربوط ہے، وہ ''ب''کے پہلو سے ربط رکھنے والے گناہ کے اثر کو نابودنہیں کرسکتا، مگریہ کہ عمل صالح اس قدر نوارنی ہو کہ روح کے دوسرے جوانب پر بھی سرایت کرے ، یا گناہ اس قدر آلودہ کرنے والاہو کہ روح کے تمام رخ کو بھی آلودہ کردے۔ مثلاً نماز کے بارے میں قرآن مجید میں آیاہے:
( وأقم الصلوة طرفی النهار و زلفا من الّیل انّ الحسنات یذهبن السیئات ) (ھود/١١٤)
''اوراے پیغمبر ! آپ دن کے دونوں حصہ میں اور رات گئے نماز قائم کریں بیشک نیکیاں برائیوں کو ختم کردینے والی ہیں''
عاق والدین اورشراب نوشی جیسے بعض گناہ ایکحد (مدت) تک عبادت کے قبول ہونے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شراب نوشی کے نامطلوب اثر کے بارے میں فرماتے ہیں:
''اقسم ربّی جل جلاله فقال: لایشرب عبدلی خمرا فی الدنیا الا سقیته یوم القیامه مثل ماشرب منها من الحمیم....'' (۱)
''میرے پروردگار نے قسم کھائی او رفرمایا: میرا بندہ دنیا میں شراب نہیں پیتا ہے مگر یہ قیامت کے دن اسے اسی مقدار میں کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گاجتنی کہ اس نے شراب پیہے۔''
مناسب ہے اس بات کی طرف اشارہ کریں کہ نیک و بد اعمال ، بعض اوقات خوشی و غم یا توفیق او رسلب توفیق جیسے اور دوسرے امور میں اسی دنیا میں مؤثر ہوتے ہیں، چنانچہ دوسروں کااحسان، خاص کرماں باپ اور رشتہ داروں کا احسان عمر کے طولانی ہونے اور آفات و بلیات سے
دور ہونے کاسبب ہے۔ اسی طرح دوسروں کی بے احترامی خاص کراستاد کی بے احترامی ، سلب توفیق کاباعث ہے۔
جی ہاں، بعض اوقات نیک کام، گزشتہ برے کاموں کی تلافی کرتے ہیں اور کبھی برے کام گزشتہ نیک اعمال کونابود کر دیتے ہیں۔ جب تک انسان اس دنیا میں ہے اس کے اعمال میں یہ تاثیر و تاثرات موجود ہیں۔ بعنوان تشبیہ ، انسان کے دل و روح کاگھرایک کمرے کے مانند ہے، کبھی وہ کمرہ تاریک ہے اور ایک نور روشن ہوتاہے اور اس کی تاریکی کوختم دیتا ہے اور کبھی وہ کمرہ روشن ہے اور ہواکا ایک جھونکاآتاہے اور اس چراغ کو بجھادیتاہے۔
پس جب تک انسان اس دنیا میں ہے یہ تحولات اور تغیر ات پیش آتے رہیںگے اور ایسا نہیں ہے کہ اگر کوئی نیک کام انجام دیا اس کااثر ابدتک باقی رہے گا، بلکہ ممکن ہے ایک ناشائستہ عمل سے اس کا اثر ضائع ہو جائے. پس اعمال کا ایک دوسرے پر اثر ڈالنا ایک کلی قاعدہ ہے کہ اس کی بنا پر بعض گناہ گزشتہ نیک اعمال کے اثرات کونابود کردیتے ہیں یا حتی آئندہ انجام پانے والے نیک کام کے قبول ہونے ہیں رکاوٹ بنتے ہیںچنانچہ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ بعض گناہ اس بات کا سبب ہیں کہ انسان کانیک عمل اور اس کی نمازیں چالیس روزتک قبول نہ ہوں:
''من اغتاب مسلما اومسلمة لم یقبل الله تعالی صلاتة و لا صیامه اربعین یوماً ولیلة الا ان یغفرله صاحبه''
''جو شخص کسی مسلمان مرد یا عورت کی غیبت کرے، چالیس دن رات تک خدائے متعال اس کی نماز وروزے قبول نہیں کرتاہے، مگر جس کی غیبت کی ہو وہ اسے بخش دے۔''(۲)
یا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل کی گئی ایک حدیث میں آیا ہے:
''اطب کسبک تستجاب دعوتک فان الرجل یرفع اللقمة الی فیّه حراما''فما تستجاب له دعوة اربعین یوما'' (۳)
''اپنے کسب و معاش کو پاک کرتاکہ تمھاری دعا قبول ہو، بیشک انسان جب لقمہ حرام کھاتاہے تو چالیس دن تک اس کی دعا قبول نہیں ہوتی ہے''
یا شراب نوشی کے بارے میں فرمایاہے:
''من شربها لم تقبل له صلاة اربعین یوماً '' (۴)
''شراب پینے والے کی نماز چالیس روز تک قبول نہیں ہوتی''
حدیث کے اس حصہ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیان کا مضمون یہ ہے کہ اگر کوئی اپنی زبان پر قابونہ پائے اور جو زبان پر آئے اسے کہہ ڈالے تو کوئی عمل اس کے لئے باقی نہیں بچے گا، یعنی انسان کی زبان میں ایسا اثر ہے کہ انسان کے تمام گزشتہ اعمال کو نابود کردے۔ یہ انسان کے لئے ایک انتباہ ہے کہ منہ میں موجود اس چھوٹیسے گوشت کے ٹکڑے کو معمولی نہ سمجھے اور بات کرنے سے پہلے اس پر غور کرے اور دیکھ لے کہ جس بات کو کرنا چاہتاہے اس کاکیا اثر ہوگا، کیا خدا اس سے راضی ہے؟ کیا اس کی یہ بات انسان کی روح پر اچھا اثر ڈالتی ہے یا بُرا اثر؟
اس کلی نصیحت کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زبان کے بعض گناہوں کو بیان فرماتے ہیں۔ طبعی طور پر زبان کے بعض گناہوں کاذکر اس کے اس فراوان نقش کے پیش نظر ہے جووہ انسان کی ہویت میں تغیر پیدا کرنے اور اسے گرانے میں رکھتے ہیں اس کے علاوہ اس لئے بھی ہے کہ انسان کے لئے ہمیشہ اس سے آلودہ ہونے کا خطرہ ہے۔
دوسروں کی عیب جوئی کی مذمت:
بُری صفتوں میں سے ایک صفت، جس کا پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ذکر فرمایاہے، دوسروں کی عیب جوئی کرناہے۔بیشک عیب جوئی ایک ناپسندیدہ اور غیر شائستہ عادت ہے۔ دشمنی اور حسد کی وجہ سے لوگوں کے عیب اور لغزشوں کی جستجو کرنے اور پھر انھیں بر ملا کرنے کو عیب جوئی کہتے ہیںاور انسان اس کام سے لذت محسوس کرتاہے۔ آیات و روایات میں اس پست خصلت کی سرزنش کی گئی ہے، ہم ان افراد کی تحقیق کریں گے جو مسلمانو ں کی عیب جوئی کرکے انھیں رسوا کرنے کے در پے تھے، یہ خبیث ترین اور بدترین لوگ ہیں، چنانچہ خدائے متعال فرماتاہے:
( ان الذین یحبون ان تشیع الفاحشة فی الذین آمنوا لهم عذاب الیم فی الدنیا والاخرة ) (نور/١٩)
''جو لوگ یہ چاہتے ہیں کہ صاحبان ایمان میں بدکاری کا چرچاپھیل جائے ان کے لئے بڑادردناک عذاب ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔''
اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں:
''من اذاع فاحشة کان کمبتدئها ومن عیّر مومناً بشی ئٍ لم یمت حتی یرتکبه'' (۵)
''جو شخص کسی کے ناشائستہ عمل کو ظاہر او رنشر کرے وہ ایسا ہی ہے کہ جیسے خود اس نے وہ عمل انجام دیاہے اور جو شخص کسی مومن کواس کے عیب کی وجہ سے سرزنش کرے گاوہ شخص تب تک نہیں مرے گا جب تک اسی عیب کا مرتکب نہ ہوجائے گا''
منجملہ محرکات جوانسان کو دوسروں کی عیب جوئی کرنے پر مجبور کرتے ہیں احساس کمتری ہے۔جب انسان میں کوئی کمی ہوتی ہے اور حقیر اور پست ذہنیت کا مالک ہوتا ہے اپنے دل میں اتنی وسعت نہیں رکھتا کہ دوسروں کے کما لات کو دیکھ کر برداشت کرے، اس لئے کوشش کرتاہے کہ دوسروں کی شخصیت کو داغدار بنائے اوران کے کمالات کو کم کرکے پیش کرے۔ کوشش کرتا ہے کہ دوسروں میں کوئی کمزور نکتہ پیدا کرے تاکہ اسے لوگوں میں پیش کرسکے۔ جب بھی کسی کی بات چھڑتی ہے، بجائے اس کے کہ اس کی زندگی کے مثبت نکات بیان کرے اس کے عیب بیان کرتاہے۔
جب ایک مجلس میں کسی مومن کانام لیاجاتاہے کچھ افراد اسلامی آداب و تقوی کی بنا پر کوشش کرتے ہیں کہ اس کے اچھے او رپسندیدہ صفات کو بیان کریں او راس کے مقابلہ میں کچھ افراد اپنے ایمان کی کمزوری، حسد اور احساس کمتری کی بناپر اس کے کمزور اور منفی نکات ، اس کی لغزشوں اورکوتاہیوں کو بیان کرتے ہیں۔ حتی کبھی اس سے بڑھ کر مشکوک اور مشتبہ امور کی اس کی طرف نسبت دے کر اسے یقین کی صورت میں پیش کرتے ہیں، اور بعض اوقات تہمت لگانے سے بھی فروگذاشت نہیں کرتے۔
یہ ایک بری خصلت ہے کہ انسان دوسروں کے ضعف کو ذکر کرنے کی کوشش کرے۔افسوس ہے کہ اس آفت میں مبتلا افراد فراواں ہیں او رہر ایک اپنے آپ کی آزمائش کرسکتاہے کہ جب کسی مومن بھائی یادوست کانام لیاجاتا ہے ، خاص کر اگر اس مومن کے ساتھ اس کی رقابت ہے ، وہ مختلف طریقوں سے دوسروں کویہ سمجھانے کی کوشش کرتاہے کہ فلاں شخص میں یہ یہ عیب موجود ہیں!
فطری طور پر انسان کو دیکھناچاہئے کہ جب کسی شخص کانام لیاجاتاہے توکیاوہ اس کی نیک صفات بیان کرکے دوسروں کے سامنے اس کی ستائش کرتاہے اور لوگوں کی نگاہوں میں اسے محترم بیان کرتاہے، یا جب کسی کانام لیا جاتاہے تو اس کی بری صفتیں بیان کرکے اسے حقیر بناکرپیش کرتاہے۔ یہاںانسان میں ایک بہت بڑی کمزوری اور اس کاسرچشمہ ، جیسا کہ بیان ہوا، حسد اور احساس کم تری ہے یعنی دوسرے فلاں صفات کے مالک کیوں ہیں وہ اس پر وہ رنجیدہ ہے اور برداشت نہیں کرتاہے کہ دوسرے مالدار ہوں او روہ اس سے محروم رہے۔
ہمیں توجہ رکھنی چاہئے کہ بہت اچھا ہے کہ ہماری حالت ایسی ہو کہ مومن کانام لیتے وقت اس کی خوبیوں کو شمار کرے، اگر چہ بعض اوقات شرائط او رمحرکات کاتقاضا ہوتاہے کہ انسان دوسروں کے عیب ذکر کرے، مثال کے طور پر انسان مشاورت کی ذمہ داری انجام دیتاہے، ایسی حالت میں اگر کوئی کسی کے بارے میں بہ طور تحقیق پوچھ رہا ہے تو یہاں پر اسے اس کاعیب بتانا ضروری ہے، البتہ ایسے موقع استثناہیں۔
دوسروں کے پاس مال یا کسی اور صفات کے پائے جانے سے ہمیں رنجیدہ نہیں ہونا چاہئے اور ہمیں جاننا چاہئے کہ مومن کا اصل سرمایہ خدا سے رابطہ ہے اور مومن اس کے علاوہ کسی اور سرمایہ کو نہیں جانتا ہے۔ اگر انسان اس قسم کے سرمایہ کامالک ہو گیا تو وہ اپنی روح میں ایک ایسی عظمت کا احساس کرتاہے کہ دوسری عظمتیں اور سرمائے اس کی نظر میں حقیر ہوجاتے ہیں۔ وہ ایک ایسے مقام پر پہنچ جاتاہے جہاں عظمت کے ایک بے انتہا سمندر میں غرق ہوکر ناقابل توصیف مسّرت اور لذت کا احساس کرتا ہے، پھر اس کے لئے اس میں کوئی فرق نہیں ہے کہ دوسرے لوگ اس کا احترام کریں یا نہکریں اس کی ستائش کریں یا سرزنش ۔ یقینا اس قسم کا انسان جس کے دل میں ایمان کانور روشنہے، مومنوں کے احترام کی فکر میں ہوتاہے، کیونکہ وہ اس کام کو خدا کی خوشنودی اور اس کے تقرب کاسبب جانتاہے۔
مومن کا سرمایہ صرف ایمان کا ہوناہے۔اس کی توجہ خدا پر ہوتی ہے وہ نہ لوگوں کے احترام کرنے پر خوش ہوتاہے اورنہ ان کی طرف سے بے احترامی پررنجیدہ ہوتا ہے، اس کے مقابلہ میں جو کمی کااحساس کرتے ہیں او رایمان جیسے سرمایہ سے محروم ہیں، اپنی شخصیت کی عظمت اور اپنے وجودی سرمایہ کو لوگوں کی طرف سے کئے جانے والے احترام کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔وہ چیز جسے آج کل ''اجتماعی شخصیت'' کہتے ہیں، یعنی اپنی شخصیت کو دوسروں کی جانب سے کئے جانے والے فیصلہ کے آئینہ میں دیکھتے ہیں اور اجتماعی عظمت بخشنے کو اپنا سرمایہ جانتے ہیںاگر دوسرے ان کی تعریف کریں تو اپنے کو محترم تصور کرتے ہیں اور اگر وہ سرزنش اور مذمت کریں تو خود کو گھٹیا اور سماج میں گراہوا پا تے ہیں اور جب مشاہدہ کرتے ہیں کہ لوگ ان سے بد ظن ہورہے ہیں تو فکر کرتے ہیں کہ سب کچھ لٹ گیا ہے۔ اب جو مال اور مادی کمیوں سے دوچار ہیں۔ جیسے علم ، کمالات، ثروت اور دنیوی وسائل ۔وہ دوسروں کی برتری کو نہیںدیکھ سکتے، اس لئے کوشش کرتے ہیں کہ دوسروں کے کمالات کو شک و شبہ میں ڈال کر خدشہ دار کریں ، یہ عیب جوئی کرنے والے کی فطری خصلت ہے کہ وہ دوسروں کی ٹوہ میں لگا رہتا ہے ایسا شخص اپنی دنیوی و اخروی سعادت کو خطرہ میں ڈالتا ہے اور ایک مومن کے عیب کو برملا کرکے قہر الہی میں مبتلا ہوجاتاہے۔
حضرت علی علیہ السلام دوسروں کی عیب جوئی اور غیبت کی نہی کرتے ہوئے انسان کی اپنی کمیوں سے غفلت کے بارے میں اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
''یا عبداللّٰه لا تعجل فی عیب احد بذنبه فلعلّه مغفور له، و لا تامن علی نفسک صغیر معصیتک فلعلک معذّب علیه فلیکفف من علم منکم عیب غیره لما یعلم من عیب نفسه... ''(۶)
اے بندہ خدا! گناہ انجام دینے والے کے عیب کو بیان کرنے میں جلدی نہ کرنا، شاید اسے بخش دیاگیا ہواپنے چھوٹے گناہ کے بارے ہوشیار رہنا، شاید تجھے اس کے لئے عذاب میں مبتلا کیا جائے ، پس اگر تم میں سے کسی دوسرے کے عیب کے بارے میں علم رکھتا ہے تو وہ اپنے آپ میں پائے جانے والے عیب کے پیش نظر اس کو بیان کرنے سے پرہیز کرتا ہے۔
مولائے متقیان حضرت علی علیہ السلام ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں:
''من نظر فی عیب نفسه اشتغل عن عیب غیره'' (۷)
''جو اپنے عیب پر نظر ڈالتا ہے وہ دوسروں کے عیب کو نہیں دیکھتا ۔''
مذکورہ مطالب کے پیش نظر بجاہے کہ ہم دوسروں کی عیب جوئی کرنے سے پرہیز کریں اور دوسروں کی شخصیت کو داغدا رنہ بنا ئیں ۔ہمیں جاننا چاہئے کہ معاشرے میں عیب جوئی کو رواج دینے سے معاشرے کی بنیاد متزلزل ہو کر اس کا شیرازہ بکھر جاتاہے۔اسی طرح عیب جوئی معاشرے میں بد ظنی ، عداوت ، دشمنی نیز عزت کو پامال کرنے کا باعث بنتی ہے، اس کی وجہ سے انسان اتنا گرجاتاہے کہ وہ دوسروں کی شخصیت کو پامال کرنے ہی کو اپنی عظمت اور بزرگی سمجھتا ہے۔ اسی طرح معاشرے میں عیب جوئی کی آفت کے پھیلنے سے اخلاقی حدود پارہ پارہ ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ آفت گناہ کرنے پر اکساتی ہے ان تمام لوگوں میں جو سماجی لحاظ سے بہت سے گناہوں سے پرہیز کرتے تھے مشتعل کرکے انھیں قوت بخشتی ہے۔
چاپلوسی اور بے جاستائش کی مذمت :
جن ناپسند یدہ صفات کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بیان فرمایاہے ان میں سے ایک دوسروں کی ستائش اور بے جا تعریف کرنا ہے۔ کا سہ یسی اور خوشامد بھی عیب جوئی کی طرح انسان کی شخصیت کی کمزوری او راحساس کم تری کی پیداوار ہے۔ حقیقت میں یہ ان لوگوں کی خصلت ہے جو اپنی احساس کم تر ی کی تلافی کی جستجو میں دوسروں کو اپنی طرف متوجہ کرانے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ شاید دوسروں کی بے جا ستائش سے اپنے لئے ایک برتر حیثیت پیدا کرسکیں۔ یہ خصلت خود فروش اور کمزور ایمان والے افراد کی ہے کہ پروردگار عالم کی لازوال قدرت و مملکت پر نظر نہیں رکھتے ، اس لئے دوسروں پرطمع آمیز نظریں رکھتے ہیں اور اپنی عزت و سرداری کی درخواست بارگاہ الہی کے حقیقی فقیروں سے کرتے ہیں۔ اگر کسی نے غنی مطلق کی بارگاہ کی طرف رخ کیا اور سرچشمہ ھستی سے مدد طلب کی تووہ لالچ ، چابلوسی او ردوسروں کی ستائش کا سہارا نہیں لیتا ہے۔
امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام اس سلسلہ میں کہ صرف خدائے متعال حمدو ستائش کاسزاوار ہے، فرماتے ہیں:
''اللّٰهم انت اهل الوصف الجمیل و التعداد الکثیر ان تومل فخیر مؤمل وان تُرْجَّ فاکرم مرجو، اللهم و قد بسطت لی فیما لا امدح به غیرک ولا اتنی به علی احد سواک... و عدلت بلسانی عن مدائح الآدمیّین و الثناء علی المربوبین المخلوقین... ''(۸)
''خداوند ا ! صرف تو ہی نیک اوصاف کی ستائش اور بی انتہا نعمتو ںکو گننے کا سزوار ہے۔ اگر تجھ سے امیدیں باندھی جائیں توتویقینا بہترین ہے کہ جس سے امیدیں باندھی جائیں او راگر تجھ سے امیدوار ہوا جائے تو تو محترم ترین ہے کہ جس سے امید کی جائے۔ خدواندا !تم نے مجھ کو اپنی بہت سی نعمتوں سے نوازا اورمجھی ایسی زبان عطا کی کہ اس سے تیرے سواکسی کی ستائش نہ کروں لوگوں کی ستائش او رمخلوق کی ثنا خوانی سے میری زبان کو محفوظ رکھ۔''
کبھی انسان خدا کی خوشنود ی اور مومنوں کے احترام کے لئے کس مومن کی ستائش کرتے ہوئے اس کی خوبیاںبیان کرتاہے، لیکن کبھی لالچ اور نفسانی خواہشات کی بنا پر دوسروں کی ستائش کرتاہے تاکہ اس کی توجہ کو اپنی طرف مبذول کرسکے اور ضرورت کے وقت وہ اس کی مادی مدد کرے، اسیا شخص در حقیقت اپنے عمل سے دوسروں کو بہ طور قرض روٹی دیتا ہے۔
چاپلوسی کی ذہنیت انسان کی بُری صفتوں میں سے ایک ہے اور یہ صفت خدا پر ایمان رکھنے سے ہما ہنگ و سازگار نہیں ہے ۔چونکہ جب انسان اپنے مقدر کو دوسروں کے ہاتھوں میں دیکھتا ہے تو اس غرض سے کہ وہ کسی طرح اس سے کوئی فائدہ حاصل کرے تو تملق اورچاپلوسی کرنے لگتا ہے، یہ اس حالت میں ہے کہ انسان کو اپنے مقدر کو خداکے ہاتھ میں دیکھنا چاہئے۔ جیسا کہ بیان ہوا کہ اس صفت کا روحی اور نفسیاتی سر چشمہ احساس کم تری ہے کہ انسان احساس کرتا ہے کہ اس کے پاس کچھ نہیں ہے اور کوشش کرتاہے کہ خود کو دوسروں سے وابستہ کرے اور اس وابستگی کے نتیجہ میں تملق اور چاپلوسی کے ذریعہ ممکن ہے وہ اسے کوئی مدداور بھلائی پہنچا دے ؟
مناسب ہے کہ ہم معاشرے میں تملق و چاپلوسی کی ذہنیت کے وسیع رد عمل پر توجہ کریں اور دیکھیں کہ دوسروں کی چاپلوسی اور افراد کی حدسے زیادہ ستائش ان پرکیا اثر ڈالتی ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ دوسروںکی ستائش ان کے لئے غرور و تکبر کاسبب بنتی ہے او رافراد کو بگاڑ کر انھیں پر توقع بنادیتی ہے اور ان میں خودستائی و بزرگ بینی کی حس کو اجاگر کردیتی ہے، او رظالموں کے بارے میں ستائش ان کے اعمال کی ایک طرح سے تائید و تشویق ہے۔
دوسروں کی چاپلوسی او رستائش اس امر کا باعث ہے کہ وہ اس ستائش کو اپنے لئے خوبی اور جنبہ مثبت تصور کریں اس کے علاوہ اپنی کوتاہیوں کو بھول جائیں اور دوسری طرف سے یہ کہ، جن بُرے اور غیر شرعی اعمال کے وہ مرتکب ہوئے ہیں، وہ ان کی نظر میں پسندیدہ کام شمار ہوگا۔
تملق اور چاپلوسی،اس کے علاوہ بعض اخلاقی اصلاحات میں رکاوٹ بنتی ہے تنگ نظر اور خودخواہ افراد کی راہ کو الٹ پلٹ کردکھ دیتی ہے اور انھیں اپنی اخلاقی کمزوریوں ، ظالمانہ اور خلاف عقل و شرع تمام روش کونمایاں کرنے میں گستاخ بنادیتی ہے۔ اسی لئے دین کے پیشوا خود عملا اس قابل مذمت روش سے بیزاری کاا ظہار کرتے تھے اور دوسری طرف سے اپنے پیرؤں کو انتباہ کے ساتھ اس سے مبارزہ کرنے کی تاکید فرماتے تھے ۔چنانچہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں:
''احثوالتراب علی وجوه المداحین ''(۹)
''چاپلوسوں اوربے جا تعریف کرنے والوں کے چہروں پر مٹی پھینک دو''
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کا یہ بیان اس شخص کے بارے میں ہے جو ایک مسلمان کی چاپلوسی کرے ،ورنہ کافر کی چاپلوسی کرنے کاحکم اس سے شدید تر ہے۔ یہ تعبیر اس لئے ہے کہ معاشرے میں چاپلوسی کی ذہنیت کے رواج اور اس کے پھیلنے کو روک دیاجائے ، یہاں تک ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام جیسے شخص جو تمام انسانی فضائل وکمالات کے جامع تھے اور عمومی انسانوں سے بلند تر اور جمال و جلال الہی کے مظہر تھے اس بات کی اجازت نہیں دیتے تھے کہ کوئی ان کے سامنے ان کی ستائش کرے۔
جب ایک گروہ نے حضرت علی علیہ السلام کی آپ کے سامنے ستائش کی تو حضرت نے فرمایا:
''خداوندا! تو میرے بارے میں مجھ سے بہتر جانتا ہے اور میں اپنے بارے میں ان سے بہتر جانتا ہوں، خدایا! مجھے اس سے بہتر قرار دے جو یہ میرے بارے میں گمان کرتے ہیں، اور جو میرے بارے میں (برائیوں کو) نہیں جانتے ، مجھے بخش دے ''(۱۰)
مرحوم الہی قمشہ ای صاحبان تقوی کے متعلق دوسروں کی ستائش کے خوف کے بارے میں فرماتے ہیں:
چو آنان را بہ نیکویی ستائی
بیندیشد و بر نیکی فزاید
ہمی گویند در پاسخ ما را
بہ خود ماییم دانا تر ز اغیار
سریرت ہست بر خویش آشکارا
زمابہ داند آن دانای اسرار
جب ہم ان (صاحبان تقوی ) کی ستائش کرتے ہیں تو، تصور کرتے ہیں کہ ان کی نیکیوں میں اضافہ کر رہے ہیں، لیکن وہ (صاحبان تقوی) ہمارے جواب میں کہتے ہیں : ہم اپنے بارے میں غیروں سے بہتر جانتے ہیں ۔
اپنا باطن اپنے لئے واضح ہے ہمارے بارے میں ہم سے بہتر ہمارا خداجانتا ہے۔
حضرت علی علیہ السلام انھیں یہ سمجھا ناچا ہتے تھے کہ انھیں ان کی ستائش کی ضرورت نہیں ہے اس لئے وہ انھیں ستائش کرنے کی اجازت نہیں دینا چاہ رہے تھے تاکہ یہ ناشائستہ صفت یعنی چاپلوسی کی ذہنیت اسلامی معاشرہ میں رواج نہ پائے کیونکہ اگر اُس دن علی علیہ السلام کی ستائش کررہے تھے تو دوسرے دن دوسر ے حاکم کی بھی ستائش کریں گے ، سب معصوم نہیں ہیں کہ ان کی چاپلوسی کے دھو کے میں نہ آئیں بلکہ بعض لوگوں میں آہستہ آہستہ یہ چاپلوسیاں اثرڈالتی ہیں اور وہ تصور کرتے ہیں کہ جو کچھ دوسرے لوگ ان کے بارے میں کہتے ہیں وہ سچ ہے اور یہ ایک بہت بڑی آفت ہے کہ انسان دوسروں کو جہل پر مجبور کرے اور دوسروں کے لئے سبب بنے اور لوگ خلاف واقع اس کو اس کی حیثیتچ سے بلند تر تصور کریں اور جو کچھ اس کے بارے میں کہاجا رہا ہے وہ رفتہ رفتہ یقین میں تبدیل ہو جائے ،اس طرح سے انسان اعتدال سے خارج ہوکر اپنے آپ کو اپنی حیثیت سے بالا تر تصور کرے گا اور اس بڑی آفت کا سبب بے جا ستائش کے علاوہ تملق اور چاپلوسی ہے اور تملق نفاق او ردورخی کی نشانی ہے، چنانچہ حضر ت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
''الثناء بأکثر من الاستحقاق ملق'' (۱۱)
''دوسروں کی اس کے استحقاق سے زیادہ ستائش کرنا چاپلوسی ہے ''
دوسری جگہ فرماتے ہیں:
''من مدحک بما لیس فیک فهو خلیق ان یذمک بما لیس فیک'' (۱۲)
''جو شخص کسی ایسی فضیلت پرکہ جو تجھ میں نہیں ہے جھوٹی تیری ستائش کر ے وہ دوسرے دن ایسی بری صفت پر تیری سرزنش کرنے کا سزوار ہے جو تجھ میں نہیں ہے''
حضرت علی علیہ السلام کا بیان اس نکتہ کو آشکار کرتاہے کہ چاپلوس حق و حقیقت کہنا نہیں چاہتاہے،
بلکہ اس کے ذاتی اغراض نے اسے دوسروں کی ستائش پر مجبور کیا ہے۔ اس لحاظ سے اگر ایک دن پاساالٹ گیا اور چاپلوس نے اپنے ذاتی منافع کو اس شخص کی تذلیل و تحقیر دیکھا کہ جس کی اس سے پہلے بے جا ایسی فضیلتیں بیان کرکے ستائش کرتا تھا جو اس میں موجود نہیں تھی، تو وہ اس کی سرزنش اور مذمت میں ایسی غلط باتوں کی نسبت دے گا جواس میں موجود نہیں ہے، تا کہ اس طرح سے اسے کوئی نفع ملے یا کسی حیثیت کا مالک بنے۔
پس اسلام اجازت نہیں دیتاہے کہ انسان چاپلوس بنے، کیونکہ چاپلوسی اور ستائش کرنے کی ذہنیت، چاپلوسی کرنے والے اور وہ شخص کہ جس کی ستائش کی جارہی ہے کی روح اور معاشرے میں بُرے اثرات پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔ حقیقت میں ستائش کرنے والا اس قدر پست و حقیر او رخود فروش بن جاتا ہے کہ خلاف واقع کلمات کو زبان پر جاری کرتاہے۔ خدائے متعال قطعاراضی نہیںہے کہ مومن اپنی عظمت اور عزت نفس کو پامال کرکے اس قدر اپنے آپ کو ذلیل و حقیر بنالے تا کہ دوسروں کی چاپلوسی کرے۔تملق چاپلوسی کا مد مقابل پر یہ اثر ہوتا ہے کہ وہ خود کو بھول جاتاہے اور خیال کرتا ہے کہ ایسے مقام ومنزلت کا مالک ہے کہ وہ دوسروں کی ستائش کا سزاوار ہے، نتیجہ کے طور پر اپنی کوتاہیوں، کمیوں اور کمزوریوں کو فراموش کرتاہے اور اپنی زندگی و رفتار کو برجستہ اور مثبت پہلوؤںسے لبریز تصور کرتا ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں:
''اذا مدحت اخاک فی وجهه امررت علی حلقه موسی'' (۱۳)
''اپنے بھائی کی اس کے سامنے ستائش کرنا اس کی گردن پر چھری پھیرنے کے مانند ہے''
مذکورہ مطالب کے علاوہ ، بد ذات اور فاسد انسانوں کی چاپلوسی و ستائش کرنا ، انھیں گستاخ بنا کردوسروں کے حقوق پر تجاوز اور لوٹ مارکرنے کی جرأت بخشتاہے۔ چاپلوسی کرنے والا، اس کے علاوہ کہ نفاق و جھوٹ کا مرتکب ہوتاہے، اپنی بے جاتعریف و تمجید سے، سرکشی، انتہا پسندی، بے راہ روی اور فاسدوں خاص کر باطل حکام کو تجاوز کرنے کے لئے مناسب موقع فراہم کرتاہے اور حقیقت میں وہ خود لوگوں کے خلاف فساد پھیلانے والوں کے جرم و نقصانات میں شریک بن جاتاہے۔ اسی لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں:
''اذا مدح الفاجرا هتزّ العرش و غضب الرّب (۱۴) ''
''جب فاجر کی ستائش کی جاتی ہے تو، عرشِ خدا کا نپنے لگتاہے اور خدائے متعال غضب ناک ہوتاہے''
آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے ہیں:عیب جونہ بنو کہ صرف لوگوں کی کمزوریوں کو پاکر انھیں بیان کرکے ان کی عزت و آبرو کو طشت از بام کرو، کیونکہ خدائے متعال راضی نہیں ہے کہ لوگوں کی آبرو ریزی کی جائے ، حتی وہ عیب جو اس میں موجود ہیں وہ بھی فاش نہیں ہونا چاہئے۔ اس نے لوگوں کے عیبوں پر پردہ کھینچا ہے تا کہ وہ آپس میں الفت کے ساتھ زندگی گزاریں اور اجازت نہیں دیتاہے کہ مومنین ایک دوسرے کے عیبوں کو فاش کریں، حتی اجازت نہیں دیتا ہے کہ مومن اپنے ذاتی عیب کو بھی دوسروں سے بیان کریں، کیونکہ انسان حق نہیں رکھتا ہے کہ وہ اپنی آبروریزی کرے۔
اس طرح آنحضرت مزید فرماتے ہیں: تملق اور چاپلوسی کیذریعہدوسروں کو اُن اچھے صفات سے منسوب کرنا جو ان میں موجود نہیں ہیں۔در حقیقت یہ افراط و تفریط ہے جو مومن کے لئے مضر ہے اور انسان کو اعتدال سے خارج نہیں ہونا چاہئے۔اگروہ دوسروں کی اچھی صفتوں کو بیان کرنا چاہتاہے تو حقیقت کی حد میں اور خیرو مصلحت پر اکتفاکرے، نہ یہ کہ ان صفات کو بیان کرنے میں اپنے لئے نفع کی فکر میں ہو یا اعتدال کی حد سے خارج ہوجائے۔
دوسروں کی طعنہ زنی اور زخم زبان کی مذمت:
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حن ناپسند صفات کا ذکر فرمایا ہے، ان میں لوگوں کی طعنہ زنی کرنا اور ڈنک مارنے والی زبان کا ہونا بھی ہے طعنہ زن اور دلخراش باتوں سے مؤمن کو تکلیف پہنچانے کو زخم زبان کہتے ہیں، کہ انسان کوشش کرتا ہے دوسروں کی ناکامیوں او رکمزوریوں کو اس پر تھونپ دے اور اس طرح اس کے دل کو مجروح کرے۔ مناسب ہے کہ انسان دوسروں کی دلجوئی کرنے کی کوشش کرے اور اگر ان کی زندگی میں کچھ ناکامیاں ہوئی ہوں توبھی اپنی باتوں سے ان کے دل کے زخموں پر مرہم رکھے،نہ یہ کہ انھیں ان نقصانات کامستحق و سزوار جانے اور زخم زبان سے ان کے دل دکھائے، حضرت اما م علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
''حدّ اللسان امضی من احد السنان'' (۱۵)
''زبان کی تیزی اور شدت نیزہ سے زیادہ ہے ''
طعنہ زنی کاسرچشمہ ، عداوت و کینہ اور بعض اوقات حسد ہے کہ طعنہ دینے والے کو مجبور کرتاہے کہ دوسروں کے ساتھ بات کرتے وقت اس کی بات دلخراش ہو۔ ممکن ہے ظاہری با ت اور اس کا مفہوم حق ہو، لیکن اسے دلخراش اور تکلیف دہ انداز میں پیش کیا جائے کہ جو مخاطب کی رنجش و تکلیف کاسبب ہو۔جب انسان کسی سے بحث و مباحثہ کرتاہے، اگر مخاطب مطلب کو پیش کرنے میں غلطی کرتا ہے،تو اس نرم لہجہ میں سمجھا یا جاسکتاہے کہ فلاںعبارت کو آپ نے صحیح نہیں پڑھا اور فلاںمطلب کو صحیح بیان نہیں کیا، لیکن کبھی وہ اسے طنزیہ کلمات کہ جو اذیت کا باعث ہیں سمجھاتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی کو اس کی غلطی کی طرف توجہ دلاناچاہتاہے، تو اسے ایسے لہجہ میں کہنا چاہئے کہ جو اس میں اثر کرے اور اس طرح اسے سمجھا ئے کہ وہ اسے قبول کرنے پر مجبور ہوجائے اور ہٹ دھرمی نہ کرے، ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی غلطی پر اصرار کرے اور پہلی غلطی کے اوپر اس کے غلط رویہ کی وجہ سے دوسری غلطی کابھی مرتکب ہوجائے کہ جس کے نتیجہ میں وہ صحیح راستہ سے منحرف ہو جائے اور غلط طریقہ کار کے سبب جہل اور من مانی کرنے لگے اور اس کی اصلاح دشوار ہوجائے۔
بعض افراد امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے سلسلہ میں ایسا برتاؤ کرتے ہیں کہ نہ صرف یہ کہ مخاطب کی اصلاح نہیں کرتے اور اسے معروف اور نیکیوںکی طرف کھینچ کر نہیں لاتے بلکہ نصیحت کے غلظ طریقہ کار بلکہ ملامت و سرزنش کے ذریعہ اسے دوسری برائیوں میں مبتلا ہونے پر مجبور کردیتے ہیں ، اس لئے حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
''ایاک ان تعاتب فیعظم الذنب و یهون العتب '' (۱۶)
''ملامت و سرزنش سے پرہیز کروکہ یہ کام گناہ کو بڑھاچڑھا کر پیش کرتاہے اور ملامت کو بے اثر کرڈالتا ہے۔''
یا افراد کی سرزنش کرنے اور ملامت کی تکرار کے بارے میں فرماتے ہیں:
''الافراط فی الملامة یشبّ نیران اللّجاج '' (۱۷)
''ملامت و سرزنش میں افراط و زیادتی ، ہٹ دھرمی کی آگ کو شعلہ ور کرتا ہے۔''
''ایاک ان تکرر العتب فانّ ذالک یغری بالذنب و یهوّن بالعتب'' (۱۸)
''باربارر سرزنش سے پرہیز کرو، کیونکہ سرزنش کی تکرار گناہ گار کو اس کے ناپسندیدہ فعل کے انجام دینے میں گستاخ بنادیتی ہے اور اس کے علاوہ خود ملامت و سرزنش کو پست اور حقیر بنادیتی ہے۔''
پس جب کسی کو اس کی کمزوری کے بارے میں توجہ دلاناچاہتے ہو تو اس کے ساتھ ہشاش بشاش مہربانی اور ہمدردی کے ساتھ پیش آئو نہ یہ کہتمھاری زبان بچھوکی طرح ڈسنے والی ہو۔ اس طرح بات کرو کہ وہ شخص اپنی کمزوریوں کی تلافی کرنے پر آمادہ ہو جائے ورنہ اگر اسے کہوگے کہ تم نے غلطی کی ہے،یا تم نہیں سمجھتے ہو،یا اس جیسے کلمات تو فطری بات ہے کہ وہ اسے پسند نہیں کرے گا اور رنجیدہ ہوگا ۔ اور اس رد عمل کے طور پر اس کے برخلاف انجام دے گا ،سواء اس کے کہ کوئی اہل تقویٰ ہو جو بزرگی کے پاس و لحاظ میں سکوت اختیار کرے اور کوئی جواب نہ دے۔
پس جب ہم ناشائستہ او رتند برتاؤ کو پسند نہیں کرتے، کس طرح توقع کریں گے کہ طعنہ زنی والے کلام سے دوسروں کی اصلاح کریں۔ہمیں ہرحالت میں دوسروں کے ساتھ نیکی اور اچھائی کی فکر میں رہنا چاہئے اور ہماری بات او ر رفتار نیک انسانی اخلاق کی ترجمان اور اس بات کی دلیل ہونی چاہئے کہ ہم اس وصف کے حامل ہیں۔ سعدی کہتا ہے:
آنکس کہ بہ دینار و درم خیر نیندوخت
سر عاقبت اندر سرِ دینا رو درم کرد
خواہی کہ متمتع شوی از دنیی و عقبی
با خلق کرم کن چو خدا با تو کرم کرد
(جس نے دینار و درہم سے نیکی ذخیرہ نہ کی، اس کا سرانجام دینارو درہم ہی ہوگا،اگر دنیا و آخرت سے بہرہ مند ہونا چاہتے ہو، تو لوگوں کے ساتھ اسی طرح نیکی کرو جس طرح خدانے تمھارے ساتھ نیکی کی ہے)
اپنی بات پر اصرار کرنے کی مذمت:
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جس چوتھی ناپسندیدہ صفت کا ذکر کیا ہے وہ مراء اور خطا پر اصرار ہے۔ مراء یعنی دوسروں کی بات کو مسترد کر کے اپنی برتری کو ثابت کرنا، اس طرح کہ جب انسان کوئی غلطی کرتاہے تو اپنی غلطی کا اعتراف کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہوتاہے اور اپنی باتوں کی دوسرے نادرست مطالب سے توجیہ کرتاہے اور اسے ترمیم کرنے لگتا ہے اور اس کام کو مسلسل انجام دیتا ہے، جب انسان ہر بار اپنی غلطی پر اصرار کرتاہے اورمدمقابل شخص بھی دیکھتا ہے کہ یہ آدمی ایک باطل مطلب کو حق کے طور پر بیش کرناچاہتاہے تو وہ اس کی بات کو مسترد کرنے میں اصرار کرتاہے۔
جب جدال اور اصرار کی ذہنیت انسان میں پیدا ہوجاتی ہے تووہ متواتر کوشش کرتاہے تاکہ اپنی بات کا سکہ دوسرے پر بٹھائے اور اس ذہنیت کاسرچشمہ اس کی خودخواہی اور خود پسندی ہے۔ یعنی انسان یہ کہنا چاہتاہے کہ میں نے غلطی کی اور وہ اپنی غلطی کے اعتراف میں کسرشان سمجھتا ہے۔ باوجود اس کے وہ جانتا ہے کہ اس نے غلطی کی ہے، لیکن نہیں چاہتا کہ دوسرے یہ سمجھ لیں کہ اس نے غلطی کی ہے، اس لئے جب مطلب کی وضاحت کرکے اسے اپنی غلطی کے بارے میں متوجہ کرنا چاہیں تو وہ ہٹ دھری سے اسے مسترد کرتا ہے اور اپنی بات کو حق جتاتے ہوئے کہتا ہے: جو کچھ میں نے کہا وہی صحیح ہے!
اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ اصرار،اور پے در پے ایک بات کی رٹ لگانامد مقابل کے، غصہ کو برانگیختہ کرنے میں کلیدی رول انجام دیتاہے، اس لئے اصرار سبب بنتا ہے کہ اصرار کرنے والے ایک دوسرے سے لڑپڑیںاور ہر کوئی کوشش کرے کہ اپنی بات کو برتر ی بخشے اس لئے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے ہیں:
''ذرو االمراء فانّه لا تفهم حکمته و لا تؤمن فتنته'' (۱۹)
''ہٹ دھرمی کو چھوڑ دو اس لئے کہ اس کی حکمت روشن نہیں ہے (یعنی اس میں کوئی حکمت نہیں ہے) اور کوئی اس کے شر سے محفوظ نہیں ہے ''
اپنی غلط بات پر ہٹ دھرمی او راصرار، ایک بری صفت ہے، افسوس ہے کہ بعض اہل علم بھی اس سے آلودہ ہوتے ہیں۔ بحث کے دوران جب کوئی شخص ایک غلط نظریہ پیش کرتاہے، تو وہ اپنے نظریہ پر اصرار کرتاہے اور اگر دوست کے سامنے ہتھیار ڈالنا چاہے تو احساس ناکامی کرتاہے، خاص کر اگر کوئی تیسرا آدمی بھی ان کی گفتگو کا مشاہدہ کررہاہو تواپنی آبرو کو بچانے کے لئے کوئی کسر باقی نہیںرکھتا ہے اور اپنی بات کا دفاع کرتاہے، خاص کراگر وہ تیسرا شخص اس کا مرید بھی ہو؛ آخر کار یہ سب چیزیں انسان کو حق قبول نہ کرنے اور نا حق پر ترجیح دینے کے محرک بن جاتے ہیں۔
ہٹ دھرمی اور اصرار کے نتیجہ میں جن آفات سے انسان دوچارہوتا ہے ان کے پیش نظر مناسب ہے انسان اس صفت سے مبارزہ کرنے کی ہمت کرے۔ اصرار اور ہٹ دھری کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی آفتوں میں ایک یہ بھی ہے کہ انسان خلاف حقیقت نظریات پیش کرنے پر مجبور ہوتاہے۔
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
''اللّجاج یفسد الرّای'' (۲۰)
''ہٹ دھرمی انسان کی رای کو فاسد کردیتی ہے( اور اسے خلاف حقیقت اظہاررای کرنے پر مجبور کرتی ہے)
ہٹ دھرمی کی من جملہ آفتیں جو حضرت علی علیہ السلام کے کلام میں موجود ہیں، انسان کی روح کا مریض ہونا بھی ہے:
''اللّجاج یشین العقل'' (۲۱)
ہٹ دھرمی روح کو ناقص اور زخمی کردیتی ہے۔
حضرت علی علیہ السلام کے کلام میں ذکر ہوئی آفتوں میں انسان کی فکر ونظر میں زوال بھی ہے:
''اللجوج لا رای له '' (۲۲)
ہٹ دھرم صاحب عقل و نظر (اور صحیح نظر) نہیں ہے۔
لیکن غلط نظریہ پرہٹ دھرمی اور اصرار کے علاج کا طریقہ یہ ہے کہ ، اظہار فضیلت کا باعث بننے والے تکبر کی اپنی اندر سے بیخ کنی کی جائے اور جان لے کہ ہٹ دھرمی دشمنی اور کدورت کاسبب بنتی ہے اور الفت و برادری کو نابود کردیتی ہے۔اسی طرح یونیورسٹی کے طالب علموں کے لئے شائستہ ہے کہ وہ کوشش کریں کہ جدال و اصرار سے پرہیز کرکے اس کے ہٹ دھرمی پر مبنی رویہ پر کنٹرل کریں اور ہمیشہ حرف حق کے تابع رہیں اور نیک گفتار اپنا شیوہ قرار دیںتا کہ اس کے نتیجہ میں احترام و حق قبول کرنے کی ذہنیت ان میں ملکہ بن جائے اور اصرار و ہٹ دھرمی کی ناشائستہ صفت ان کے دل سے نابود ہو جائے۔
جدال او راصرار سے پرہیز کرنے کے لئے انسان کو اپنے آپ کو باور کرانا چاہئے کہ ہرکوئی خواہ نخواہ غلطیوں اور لغزشوں سے دوچار ہوتا ہے اور ایسا نہیں ہے کہ تمام انسان غلطیوں سے محفوظ ہیں۔ صرف معصومین غلطیوں سے محفوظ ہیںاور دوسرے افراد ممکن ہے غلطی کریں ، یا کسی چیز کے بیان اور نقل کرنے میں غلطی کریںیا ان کے فہم و درک کرنے میں ۔ یہ چیز خلاف توقع نہیں ہے اور ہر ایک کے لئے پیش آسکتی ہے، پس اسے عیب شمارنہیں کرناچاہئے۔ البتہ انسان کو کوشش کرنی چاہئے کہ اس سے کم غلطیاں سرزد ہوں، خاص کر درس و مباحثہ کے لئے زیادہ مطالعہ کرے تا کہ کم تر غلطی کرے، لیکن اگر اس سے کوئی غلطی سرزدہوئی ہے تو اسے اپنے لئے بڑا عیب نہیں سمجھنا چاہیے اور فکر نہیں کرنی چاہیے کہ اس کی عزت ختم ہوگئی اور وہ ناکام ہوگیا۔
دوسرے مرحلہ میں جب انسان سمجھ گیا کہ اس سے غلطی سرزد ہوئی ہے، اسے فوراً اپنی غلطی کا اعتراف کرناچاہئے اور کہنا چاہئے کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے اور آپ حق پر ہیں البتہ ابتدا میں اپنی غلطی کا اعترا ف کرنا مشکل ہے لیکن اس کے بعد جب اپنی غلطی کے اعتراف کی حلاوت کو درک کرتاہے اور سمجھ لیتا ہے کہ نظریہ کے مطابق غلطی عیب نہیں ہے، تو اس کے لئے غلطی کا اعتراف کرنا آسان بن جاتاہے۔وہ اپنے آپ سے کہتا ہے:''میں انسان ہوںاور انسان خطا سے محفوظ نہیں ہے اور کبھی میں خطا کرتاہوں اور دوسرا صحیح سمجھتا ہے اور کبھی اس کے بر عکس ۔'' کیا اچھا ہے اپنے اس دوست کا شکریہ بجالائے ، جس نے اسے اس کی غلطیوں کے بارے میں متوجہ کیا ہے اور اسے صحیح راستہ و نظریہ دکھایا ہے، اس کے سامنے صرف خاموش رہنے پر اکتفا نہ کرے، چونکہ اگر ہم جدال اور اصرار کی خصوصیت اور اس کی آفتوں سے نجا ت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اس کے نقطہ مقابل کو اپنا نے کی کوشش کرنی چاہئے اور جدال و اصرار کا نقطۂ مقابل غلطی کااعتراف کرناہے۔ اپنے دوست سے کہے : آپ نے مطلب کو اچھا سمجھا ہے اور میں متوجہ نہیں تھا۔اس شیریں اور شائستہ برتاؤ کے نتیجہ میں نہ صرف یہ کہ شکست وکمی کا احساس نہیں کرتاہے بلکہ یہ مناسب برتاؤ تفاہم اور ایک شیریں زندگی کے ایجاد کاسبب بنتاہے اورانسان دوسروں کے دل میں بیشتر جگہ پاتاہے او رلوگ اس کی بات پر زیادہ اعتمادکرتے ہیں۔
اگر انسان اپنی غلطیوں کی توجیہ کرنے کی کوشش کرے گا او ران پر پردہ ڈالنے کی جستجو کرے گا، تو لوگوں کے دلوں میں اس کااعتماد ختم ہوجائے گا اور اگر وہ کبھی صحیح بات بھی کہے گا تو لوگ اس پر اعتماد نہیں کریں گے ، لیکن جب اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتاہے اور دوسروں کے صحیح نظریہ کے سامنے ہتھیار ڈالتا ہے، تو اس کی باتوں پر اعتماد کرتے ہیں، چونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ یوں ہی بات نہیں کرتا ہے، اور اس رفتار کے نتیجہ میں اس کی اجتماعی حیثیت بھی بہترہوجاتی ہے، البتہ مومن کو اپنی اجتماعی حیثیت کی خوش فہمی میں نہیں رہنا چاہئے، لیکن اس رفتار او رحق کو قبول کرنے کے ایسے آثار بھی ہوتے ہیں۔ اس کی نسبت دوسروں کا اعتماد بھی بیشتر ہوتا ہے اور وہ ان میں محبوب بھی ہوتاہے او ربہتر اجتماعی مقام بھی پاتا ہے ، اس کے علاوہ بُرے اور ناپسند اخلاق سے نجات بھی پاتاہے۔ اگر ان میں سے کسی ایک چیز سے وابستگی نہیں رکھنی چاہئے بلکہ خدا سے دل لگا ناچاہئے اور ہرکام میں انسان کامحرک خدا کی مرضی حاصل کرنا چاہئے اور مذکورہ آثار مؤمن کے رفتار کے اضافی منافع ہیں۔
____________________
١۔بحار الانوار ، ج ٧٦، ص ١٢٦
۲۔ مستدرک الوسائل ، ج ٩، ص ١٢٢
۳۔مستدرک الوسائل، ج ١، ص ١٦٦
۴۔ بحارالانوار ، ج ٧٦، ص ١٢٦
۵۔ بحار الانوار،ج٧٣ص٣٨٤
۶و ۷ ۔نہج البلاغہ (فیض الاسلام) خ ١٤٠، ص ٤٢٩
۸۔ نہج البلاغہ (فیض الاسلام) خ ٩١، ص ٢٦٩
۹۔ بحارالانوار،ج ٧٣، ص ٢٩٤
۱۰۔ نہج البلاغہ (فیض الاسلام) حکمت ٩٦، ص ١١٣١
۱۱۔ نہج البلاغہ (فیض الاسلام) حکمت ٣٣٩، ص ١٢٤٩
۱۲۔ غرر الحکم ص ٦٧١
۱۳۔جامع السعادات، ج ٢ ، ص ٣٢٧
۱۴۔ بحار الانوار ، ج ٧٧، ص ١٥٢
۱۵۔ غرر الحکم، ص ٣٨٢
۱۶۔ بحارالانوار ، ج ٧٧، ٢١٦
۱۷۔ بحار الانوار، ج ٧٧، ٢٣٢
۱۸۔غرر الحکم ، ص ٢٧٨
۱۹۔ بحار الانوار ، ج ٢، ص ١٣٨
۲۰۔غرر الحکم، ص ٣٦
۲۱۔غرر الحکم، ص١٧
۲۲۔غرر الحکم، ص٣١
چونتیسواںدرس
عبادتوں کے جلوے اور اسلام میں مسجدوں کا نقش
*عبادت کامفہوم اور اس کی وسعت:
الف۔عبادت کی ایک تقسیم بندی۔
ب۔نماز،کمال بندگی اور تقر ب الہی۔
ج۔مقدمات کے شرعی ہونے کا فلسفہ اور نماز کی جانب توجہ دینے والے عوامل۔
* مسجد ،لقاء اللہ کے عاشقوں کی معراج۔
*مسجد کی طرف لوگوں کے تو جہ دینے کا فلسفہ۔
*مساجد کی اہمیت کو درک کرنے کی ضرورت اور اس میں
حاضر ہو نے کے آداب ۔
*مسجد میں حاضر ہو نے اور اس میں عبادت کرنے کی فضیلت۔
*خدا کے محبوب تر ین بندے۔
عبادتوں کے جلوے اور اسلام میں مسجدوں کا نقش
'' یااباذر!الکلمة الطیبة صدقة وکل خطوة تخطوهاالی الصلوٰة صدقةیااباذر!من اجاب داعی اللّٰه واحسن عمارةمساجد اللّٰه کان ثوابه من اللّٰه الجنة فقلت :بابی انت وامیّ یا رسول اللّٰه کیف تعمر مساجد اللّٰه؟قال لا تر فع فیها الا صوات ولا یخاض فیها بالبا طل ولا یشتری فیها ولا یباع واترک اللغو مادمت فیها فان لم تفعل فلا تلومن یوم القیامة الا نفسکیااباذر! ان اللّٰه تعالی یعطیک مادمت جالسا فی المسجد بکل نفس تنفّست درجة فی الجنه و تصلی علیک الملائکة وتکتب لک بکل نفس فیه عشر حسنات وتمحی عنک عشر سیات
یااباذر !أتعلم فی ایٔ شی ء انزلت هذه الایة:(اصبروا ورابطوا واتقوااللّٰه لعلکم تفلحون)(۱) قلت:لا،فداک ابی وامیقال:فی انتظارالصلوٰةخلف الصلوٰة ''
یا اباذر!اسباغ الوضوء فی المکاره من الکفارات وکثرة الاختلاف الی المساجد فذلکم الرباط
یااباذر!یقول اللّٰه تبارک وتعالی:ان احب العباد الی المتحابون من اجلی،المتعلقة قلو بهم بالمساجدوالمستغفرون بالاسحار اولئک اذا اردت باهلا الارض عقوبةذکرتهم فصرفت العقوبة عنهم
''یااباذر!کل جلوس فی المسجد لغو الاّ ثلاثة:قرا ء ةمصل اوذکر اللّٰه او سائل عن علم''
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جناب ابو ذرسے کی گئی پند و نصائح کے بعض حصوں پر بحث و تحقیق کے بعد اب ہم ا س کے ایک اور حصہ کی بحث و تحقیق کریں گے جس کا مو ضوع مسجد،مسجد میں حاضر ہونے کے آداب اورنماز کی اہمیت ہے۔
عبادت کا مفہوم اور اس کی وسعت:
ابتدا میں ہم عبادت کے مفہوم اور اسکی وسعت کے بارے میں بحث کریں گے ۔چنانچہ ہم نے اس سے پہلے بیان کیا ہے کہ انسان کا حقیقی کمال قرب الہی میں ہے اور اس قرب الٰہی یا حقیقی تکامل کو حاصل کر نے کا وسیلہ عبادت ہے ۔عبادت و پر ستش کہ جس کے بہت ہی وسیع اورعمیق مفاہیم ہیں اور یہ ایک ایسے جاذبہ سے بہرہ مند ہے کہ جو حیرت و پریشانی کے سمندر میں پھنسے ہر شخص کو آرام و سکون کے ساحل سے ہم کنار کر دیتا ہے اور آخرکار فنافی اللہ کے مقام تک پہنچا تا ہے حقیقت میں کوئی قلم اور بیان، عبادت و پرستش کے ملکو تی جاذبہ کی بلندی و گہرائی کی تو صیف نہیں کر سکتا ہے اور سچ یہ ہے کہ یہ بلند مفہوم الہی الفاظ وبیان کے قالب میں نہیں آسکتا ہے ۔صرف وہ امام بر حق سخی و جوانمرد نیز اطاعت وعبادت کے شیدائی حضرت علی ابن ابیطالب علیھما السلام ہیں کہ جو فر ماتے ہیں:
''الهی کفی بی عزا ان اکون لک عبد اوکفی بی فخرا ان تکون لی ربا'' (۲)
'' پرور دگارا!میری عزت کے لئے کافی ہے کہ تیرا بندہ ہوں اور میرے فخر کے لئے کافی ہے کہ تو میرا پروردگار ہے!''
یہ بات اللہ کی عبودیت و بندگی کے عشق میں غرق شدہ روح سے نکلی ہے،اس بلند روح سے کہ فرماتا ہے:
''ولا لفیتم دنیا کم هذه ازهد عندی من عفطةعنز'' (۳)
تم جانتے ہو:کہ یہ تمہاری دنیا میری نظروں میں بکری کی چھینک سے پست تر ہے؟
بندگی درکوی عشق ازپادشاہی خوشتر است
بستگی صدرہ در این دام ازرہائی خوشتر است
تجربت ہا کردم از روی حقیقت چند بار
دلق درویشی زتاج پادشاہی خوشتر است
یک نظردربارہ صافی کن ودرجام می
تا ببینی بی خودی از خودنمائی خوشتراست
ذوق شبہای درازونالہ ہای جان گداز
گرچشی دانی کہ شاہی ازگدائی خو شتراست
(کوی عشق میں بندگی کرناپادشاہی سے بہتر ہے ۔اس بندگی کے پھندے میں سو بار پھنسنا رہائی سے بہتر ہے ۔میں نے حقیقت کی رو سے کئی بار تجر بہ کیا ہے کہ درویشوں کا لباس تاج پادشاہی سے بہتر ہے۔لمبی راتوں کے ذوق اور جانسوز نالہ و فریاد وں کو اگر چکھ لوگے تو سمجھ لو گے کہ یہ (بندگی) ایسی شاہی ہے کہ جو اس گدائی (ظاہری پادشاہی) سے بہتر ہے۔)
جی ہاں، عبا دت و پرستش کاایک پائداراور ثابت نظام ہے کہ بشریت کی پیاسی روح اسکے علاوہ کسی اور چیز سے سیراب نہیں ہوتی ہے اور مادی جاذبے اور مادی ترقیاں اس میں اثر نہیںڈال سکتی ہیں اور نہ اس کے خلاکو پر کر سکتے ہیں،کیو نکہ بشر جس قدر صنعت اور ٹیکنا لوجی کے میدانوںمیں تر قی کرے اور مادیا ت کے میدانوں کو فتح کرلے ،نہ صرف غنی مطلق سے بے نیاز نہیں ہو تا ہے بلکہ اس کی احتیاج اور ضرورت میں اور زیادہ اضافہ ہو جاتا ہے۔
الف۔عبادت کی ایک تقسیم بندی:
ایک عام اور وسیع نقطہ نگاہ سے عبادت کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے :
١۔ عبادت بہ معنی خاص جو کہ افعال عبادی سے عبارت ہے،جیسے نماز،روزہ وحج و...
٢۔ عبادت بہ معنی عام سے مراد ہر وہ اچھا کام جو خدائے متعال کی اطاعت کی نیت سے انجام دیا جائے۔اس تعریف میں حتی کھانا،بیٹھنا،اٹھنااور بات کرنا اور دیگر وہ تمام کام جنھیں خدائے متعال نے نیک کام شمار کیا ہے اور اس کی اطاعت وبندگی کے قصد سے انجام پاتے ہیں ۔ پس اس لئے کہ انسان کی عمر ایک صحیح راستہ پر صرف ہو اور بیہودہ طور پرصرف نہ ہواور اس کا سر مایہ ضائع نہ ہو،اسے کوشش کرنی چاہئے کہ اپنی زندگی کے لمحات کو ز یادہ سے زیادہ خدائے متعال کی عبادت خواہ بہ معنای خاص یاعام میں گزاریںیا جو کچھ شرع میں عبادت کے طور پر بیان ہوا ہے اسے انجام دیں اور فرائض نیزافعال تو صلی کو قصد قربت سے انجام دینے کی کو شش کریں۔
اگرانسان سے کوئی چھوٹا بڑا کام انجام پائے اور وہ کام مذکورہ عبارت کے زمرے میں نہ آتاہو ،یعنی اس پر عبادت کاخاص یاعام عنوان صدق نہ آتا ہو،تو وہ کام بیہودہ اور لغو ہے اور قیامت کے دن انسان کے لئے حسرت کا باعث ہے ۔اگرنعوذباللہ،گناہ ہو تو دنیا وآخرت میں خسارت کا باعث اور ابدی عذاب کا سبب ہو گااور اگر گناہ نہ بھی ہو بلکہ مباح یامکروہ ہو،تو بہرحال انسان کا سر مایہ اس کے ہاتھ سے چلا گیاہے اور ایک ایسی چیزپر خرچ ہوا ہے کہ اس کے لئے کوئی نفع نہیں ہے ۔شرع میں بہت سے ذاتی طور پر مباح کام انجا م دینے کی تاکیدکی گئی ہے اور یہی تشویق اور تاکید مو جب ہوتی ہے کہ انسان انھیں انجام دے،اب اگر وہ کام اسی امرکی اطاعت کے قصد سے ہو کہ جس عمل عبادی سے اس کا تعلق ہے انجام دیاجائے تو عبادت ہے۔
انسان کی زندگی سے مربوط اسلامی اور قرآنی نظر یہ زندگی کا مقصد اور سعادت اور اس کے اعمال و رفتار کے پیش نظر فطری بات ہے کہ اسلام کی دعوت یہ ہو نی چاہئے کہ انسان سے جس قدر زیادہ اوربہتر ممکن ہو سکے عبادت کرے :کمیت اور مقدار کے لحاظ سے، انسان کے انجام دئے جانے والے تمام کام عبادت ہو سکتے ہیں اور حقیقت میں عبادت میں اس قدر وسعت پائی جاتی ہے کہ وہ انسان کی پوری زندگی کو احاطہ کرسکتی ہے۔لیکن کیفیت کے لحاظ سے (عبادت کی کیفیت انسان کی نیت و معرفت سے وابستہ ہے)جس قدر انسان کی معر فت خدائے متعال کے بارے میں زیادہ ہو گی ،جس قدرخدا کے بارے میں اس کی محبت میں اضافہ ہو گا اسی اعتبار سے،عبادت کو انجام دینے میں اس کا قصدخالص تر ہو گا اور عبادت کے دوران بیشتر حضور قلب کی کیفیت پیدا ہو گی اور عبادت کی کیفیت بھی بہتر ہوتی جائے گی۔کبھی اگر انسان دو رکعت نماز با کیفیت انجام دے تو ،اس کاثواب ہزاروں رکعت نماز سے بیشتر ہے ،یہ وہ چیز ہے جس کو ہم سب جانتے ہیں اور اسی لئے اسلام نے ہمیں اس کی طرف تو جہ دلائی ہے کہ جس قدر زیادہ کو شش کریں گے ہمارے کام میں خدائی رنگ اتنا ہی زیادہ ہوگا اور ہماری زندگی سراسرخدا کی بندگی میں تبدیل ہو جائے گی،کیو نکہ انسان کا کمال خداکی بندگی میں ہے ۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
''افضل الناس من عشق العبادةفعانقها واحبها بقلبه وبا شررها بجسده وتفرغ لها فهو لا یبالی علی مااصبح من الدنیا علی عسر ام علی یسر'' (۴)
''لوگوں میں سب سے قابل قدر وہ ہے جو عبادت کے ساتھ عشق رکھتا ہے ،عبادت سے بغل گیر اور ہم آغوش ہوتاہے اور دل سے اس کے ساتھ محبت کرتے ہوئے اپنے اعضاوجوارح کے ذریعہ اس سے لمس کرتاہے اور اپنے تمام ہم وغم کو اس کی طرف متو جہ کر تا ہے اوراس کے لئیدنیاوی آرام یا تکلیف کو اہمیت نہیںدیتاہے ۔''
مذ کورہ مطالب کے پیش نظر ،فطری بات ہے کہ پروردگار جس نے انسان کے لئے ایسے مقصد کو مد نظررکھاہے اور اس کیلئے ایسے اسباب فراہم کئے ہیں کہ وہ اپنے تمام کاموں کو عبادت اور خدائی رنگ دے سکتا ہے ،تمام وہ وسائل اس کے لئے فراہم کئے ہیں، جن سے لوگ مدد لے کر بہتر اور زیادہ تر خدا کی عبادت کر سکیں اوراس سے قریب ہو جائیں ،کیو نکہ خدائے متعال کی رحمت سب سے زیادہ ہے اور وہ دوسروں سے زیادہ چاہتا ہے کہ اس کے بندے اس سے قریب ہو جائیں۔جس طرح اس کا وجود اور عمل لامتناہی ہے ،اسی طرح اس کی خیر خواہی بھی لامتناہی ہے ۔
خدائے متعال کے تمام اوصاف لامتناہی ہیں،اپنے بندوں کے ساتھ اس کی الفت و محبت کی بھی کو ئی حد نہیں ہے۔جو اس قدر بے انتہارحمت کا مالک ہے اور اپنے بندوں کے لئے اس قدر خیر خواہ ہے تشریعی مراحل میں اس نے ایسے احکام صادر فرما ئے ہیں تاکہ اس کے بندے اس سے زیادہ قریب ہو جائیں۔ اس لئے شرعی احکام،عبادت،خواہ واجب یا مستحب اور ان کی کیفیت و آداب ،سب الطاف الٰہی ہیں۔خدا وند متعال چاہتاہے کہ ہم اپنے ارادہ و اختیار سے کمال وسعادت تک پہنچیں اور بیشتر تکامل وارتقاء حاصل کریں،اسی لحاظ سے اس نے ہمارے لئے ضروری تکو ینی و تشریعی و سائل فراہم کئے ہیں۔
ب:نماز ،کمال بندگی اور تقرب الٰہی:
تکو ینی مراحل میں ،خدائے متعال جس قدر اپنے بندوںپر زیادہ لطف وعنایت کرے گا ،اتنی زیادہ انھیں توفیق ہوگیکہ وہ فرائض اور عبادات کوانجام دیں ،البتہ جو کچھ خداوند کریم انجام دیتا ہے وہ بیہودہ نہیں ہے بلکہ ایک خاص قوانین الہی کے تابع ہے۔ تشریعی مراحل میں تشویق کر تاہے اورایسے احکام جعل کرتاہے کہ لوگ ان احکام کو انجام دے کر زیادہ سے زیادہ خدا سے نزدیک ہو جائیں ۔من جملہ نماز کو شر عاًواجب فرمایا ہے کہ جوتقرب الٰہی کے لئے بہترین وسیلہ ہے ،چنانچہ معصوم نے فرما یا ہے:
''الصلوة قر بان کل تقی'' (۵)
''نماز ہر با تقوی مؤمن کے لئے وسیلۂ تقر ب ہے''
البتہ قا بل توجہ امر یہ ہے کہ نماز کی ظاہری صورت قرب الہی نہیں ہے ،بلکہ نماز کی حقیقت اور اس کا باطنی صورت خداکے قرب کا سبب ہے اورآیات و روایات کے لحاظ سے یہاں نماز کی حقیقت مراد ہے نہ اسکی ظاہری صورت۔خدائے متعال فر ماتا ہے :
( اقم الصلوة لذکری ) ( طہ ١٤ )
''نماز کو میری یاد کے لئے قائم کرو ''
(اس آیت میں تعبیر''اقامہ''نماز کی حقیقت کے ساتھ تناسب رکھتی ہے ،نہ اس کی ظاہری صورت سے)
خدائے متعال مزید فرماتاہے :
( واقم الصلٰوة ان الصلوةتنهی عن الفحشاء والمنکر ) ۔۔۔)(عنکبوت ٤٥)
''اور نماز قائم کریں کہ نماز ہر برائی اور بد کاری سے روکنے والی ہے۔''
علامہ طباطبائی فرماتے ہیں:
سیاق آیت اس بات کی شاہدہے کہ نماز کا بد کاریوں سے روکنے سے مراد ،طبیعت نمازکا بدکاریوں او ر منکرات سے روکنا ہے اب سوال یہ پیدا ہو تاہے کہ نمازکیسے بدکاریوں اور منکرات سے روک سکتی ہے ؟جواب میں کہتے ہیں:اگر خدا کا بندہ روزانہ پانچ بارنماز بجالائے اور پوری عمر میں اس کام کو جاری رکھے،خاص کر اگر اسے ایک صالح معاشرے میں بجالائے اور اس معاشرے کے افراد بھی ہر روز نمازکو بجا لائیںاور اسی کی طرح اس کا اہتمام کریں توفطری طور پر وہ نماز گناہان کبیرہ سے موافقت و میل نہیں کھائی گی ۔جی ہاں ،بندگی کے عالم میں خداکی طرف توجہ ، وہ بھی ایسے ماحول اور ایسے افراد میں کہ جو،انسان کو ہر اس گناہ اور عمل سے کہ جس کو دینی ذوق ناپسندیدہ اور گھنائونا عمل جانتا ہے ،جیسے قتل نفس ، یتیموں کے جان و مال پر تجاوز کرنا اور زنا وغیرہ سے باز رکھے بلکہ نہ صرف ان کے ارتکاب سے روکے بلکہ ان کے بارے میں تصور کرنے سے بھی منع کرے ۔چونکہ نمازذکر خدائے متعال پر مشتمل ہے ،لہذاسب سے پہلے خدائے متعال کی وحدانیت ،رسالت اور روز قیامت کے جزا پر ایمان کو نماز گزارکے لئے تلقین کیا جاتا ہے اور اسے کہا جاتاہے کہ اپنے خداکو ایمان و اخلاص کے ساتھ خطاب کرے،اس سے مدد طلب کرے اور درخواست کرے کہ اسے سیدھے راستہ پر ہد ایت کرے اسی طرح گمراہی اور اس کے قہر و غضب سے پناہ طلب کرے دوسرے یہ کہ اسے بر انگیختہ کرتاہے کہ اپنی روح وبدن کو خدائے متعال کی عظمت و کبر یائی کی طرف متو جہ کر ے ،اپنے پروردگارکو حمد وثنا ،تسبیح و تکبیر سے یاد کرے۔(۶)
لیکن روایات کے نقطہ نظرسے،پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ایک روایت نقل ہوئی ہے کہ خدائے متعال اس نماز پر نظرنہیں ڈالتا،جس میں نمازی ا پنے دل کو اپنے بدن سے ہم آہنگ نہ کرے او ر اس کا دل اس نماز کے پاس نہ ہو ۔بالکل واضح ہے کہ یہ روایت نماز کی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جو وہی ذکر اور خدا کی یاد ہے ،کیونکہ ذکر اورخدائے متعال کی یاد عبادت کا مقصد ہے اور انسان کے دل کو جلا وروشنی بخشتا ہے اور اسے تجلیا ت الہی کو قبول کر نے کے لئے آمادہ کر تاہے۔حضرت علی علیہ السلام یاد حق جو عبادت کی روح ہے کے بارے میں یوں فرماتے ہیں:
''ان اللّٰه سبحانه وتعالی جعل الذکر جلاء للقلوب ،تسمع به بعد الوقرةو تبصربه بعد العشوةوتنقاد به بعد المعا ندة ''(۷)
''خدائے متعال نے اپنی یاد کو دلوں کے لئے صیقل و جلا قرار دیاہے کہ اس کے سبب (اس کے اوامرونواہی)بہرے پن کے بعد سنتے ہیں اور تاریکی (نادانی)کے بعد دیکھتے ہیں اور
جنگ و دشمنی کے بعد فرمانبردار ہو جاتے ہیں۔''
سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں:
خدائے متعال کے لئے ہمیشہ جس کی نعمتیں اورکرم فرمائیاں بلند ہیں ایک زمانے کے بعد دوسرے زمانے میں اور اسے زمانے میں جب شریعتوں کے آثار گم ہو جاتے ہیں ،کچھ بندے ایسے ہوتے ہیں جو اپنے خیالات و تصورات میں اس کے ساتھ رازو نیاز کر تے ہیں اورحقیقت میں عقلیں ان کے ساتھ باتیں کرتی ہیں۔
نماز کی حقیقت و اہمیت کاعالم یہ ہے کہ حضرت علی علیہ السلام جنگ صفین میں دشمن سے جہادو برسرے پیکار ہونے کے ساتھ سخت گرمی کی حالت میں سورج کی طرف نگاہ اٹھاتے ہیں ،تاکہ اگرظہر کاوقت آپہنچا ہے تو نماز کے لئے کھڑے جائیں۔ابن عباس سوال کرتے ہیں'کیا کر رہے ہو ؟ حضرت جواب میں فرماتے ہیں:
''انظر الی الزوال حتی نصلی''
(آسمان کی طرف) دیکھ رہا ہوں کہ اگر وقت زوال ہوگیا ہے تو نماز پڑھوں۔ابن عباس کہتے ہیں : کیایہ نماز پڑھنے کا وقت ہے؟ اس وقت تو جنگ و جہادنے نماز پڑھنے کیلئے کوئی فرصت باقی نہیں رکھی ہے !حضرت جواب میں فرماتے ہیں:
''علی مانقا تلهم؟ انمانقاتلهم علی الصلٰوة'' (۸)
''مگر ہم ان سے کس لئے لڑرہے ہیں ؟ہم تو ان کے ساتھ نماز کے لئے ہی تو لڑرہے ہیں!''
جی ہاں، علی علیہ السلام کی نظر میں نماز کی اتنی عظمت و بلندی ہے کہ کوئی چیز ان کے لئے نماز سے منہ موڑ نے کا سبب نہیں بن سکتی تھی۔اس کے علاوہ آپ کی نظر میں عالم عبادت ،لذتوں سے لبریز ہے، ایسی لذت جو مادی لذتوں سے قابل موازنہ نہیں ہے۔آپ کی نظر میں ،عالم عبادت سراسر نور ہے ، اس میں تاریکی ،کدورت اور اندوہ کا کہیں نام و نشان نہیں ہے اور عبادت بالکل نورانی اور خلوص ہے۔آپ کی نظر میں خوش قسمت وہ ہے جو اس بے انتہا دنیا ( دنیائے بندگی) میں قدم رکھے اور ایک مسکراہٹ کے ساتھ اپنی جان کو اس جان بخشنے والی حقیقت (ذات خدا) کے سپرد کردے،کیونکہ جس نے اس لامتنا ہی دنیا( دنیائے عبودیت) میں قدم رکھا ،اس کی نظر میں دنیاچھوٹی اور حقیر بن جاتی ہے ،یہاں تک وہ دشمن سے جنگ کی حالت میں نمازکو ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہو تا ہے ،کیونکہ وہ ہر چیزکو نماز کے لئے چاہتا ہے اور نماز کو اس لئے چاہتا ہے کہ وہ اس کے ساتھ راز و نیاز اور گفتگو کر تی ہے۔
حضرت علی علیہ السلام عثمان بن حنیف انصاری کو ایک خط میں لکھتے ہیں:
''خوشانصیب اس شخص کا کہ جس نے اللہ کے فرائض کو پوراکیا ۔سختیوں اور مصیبتوں میں صبر کیا ،راتوں کو اپنی نیدوں سے پہلو تہی اختیار کی اورجب نیند کا غلبہ ہو ا تو زمیں کوبچھونا اور اپنے ہاتھ کو تکیہ بنا لیا قیامت کے خوف نے جن کی آنکھیں بیدار،پہلو بچھونوں سے الگ اور ہونٹ یاد خدا میں زمزمہ کرتے رہتے ہیںاور کثرت استغفار سے جن کے گناہ (پراکندہ بادلوںکی طرح )چھٹ گئے ہیں(۹) ''یہی اللہ کا گروہ ہے۔اور بیشک اللہ کا گروہ ہی کامیاب کامران ہو نے والاہے''(۱۰)
ج۔مقدمات شرعی ہونے کا فلسفہ اور نماز کی طرف متوجہ کرنے والے عوامل نماز کی اہمیت اورانسان ومعاشرہ کی سلامتی میں اس کے مؤثر ہونیکے پیش نظر،خدائے متعال نے اس کو بہتر صورت میں انجام دینے کے لئے بعض مقدمات قرار دئے ہیں اور اس کے لئے بعض آداب معین کئے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ بندے اس کو یاد کریں اور اس کی عبادت کی اہمیت کو درک کریں ۔انسان کو کسی کار خیر کو انجام دینے کے لئے ،پہلے جاننا چاہئے؛کہ وہ کام خیرہے کہ نہیں اس کے بعد اس کے بارے میں فکر کرے.ہم بہت سے امور کے نیک ہونے کے بارے میں آگاہ ہیں،لیکن ان کو وقت پرانجام دینا بھول جاتے ہیں ہمیں نماز کو بھولنے سے بچانے کے لئے، خدائے متعال نے بعض مقدمات معین کئے ہیں، مثلا اذان کو نماز کے لئے واجب قرار دیا اور تاکید فرمائی کہ اسے ترک کرنے سے اجتناب کریں ۔اس کے علاوہ ایک اور عبادت کو اذان کے نام پر معین فرمایا،یہ نماز کا مقدمہ اور اس کی یاددہانی کرنے والی ہے اور فرمایا کہ اذان کو بلندآوازمیں کہوتاکہ دوسرے لوگ نماز اور اس کے وقت کے ہو جانیکے بارے میں متو جہ ہو جائیں اور ان میں نماز کو قائم کرنے کے لئے شوق پیدا ہو جائے۔اگر چہ نماز کے شرعی ہونے کی بنیاد اور اس سلسلہ میں نقل ہوئی آیات وروایات ،سب انسان کو نماز کی اہمیت اور موقعیت کو سمجھنے کے لئے مدد کرتی ہیں ،لیکن جب نماز کے وقت اذان کی آواز بلند ہو تی ہے تو لوگوں کی توجہ نماز کے وقت اوراس کی اہمیت کی طرف مبذول ہو تی ہے اور یہ لوگوںکو نماز کی طرف متوجہ کرنے کے لئے ایک مؤثرسبب ہے۔
یہاں تک بہت سے ایسے لوگ جو نماز کو اول وقت پر پڑھنے کا ملکہ رکھتے ہیں ، جب کسی کام کو انجام دینے میں سرگرم ومشغول ہوتے ہیں تو ممکن ہے نمازکو انجام دینے سے غافل ہوجائیں اور بھول جائیں کہ نماز کا وقت آپہنچا ہے،لیکن جب اذان کی آواز بلند ہوتی ہے تو خواہ نخواہ نماز کی طرف متو جہ ہو جاتے ہیں۔پس شریعت میں اذان اوراس کو بہ آواز بلند کہنے کی تاکید، دوسروں کو نماز کی طرف توجہ اور تذکر دلانے کے لئے ہے اور یہ بذات خود دوسروں کو اول وقت پر عبادت انجام د ینے کی دعوت ہے۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اول وقت میں نماز پڑھنے کی فضیلت کے بارے میں فرماتے ہیں:
''اذا صلّیت صلاة فریضة فصلها لو قتها صلاة مودّع یخاف ان لا یعود الیها ابدا'' (۱۱)
''جب تم واجب نماز پڑھنا چاہو تو اسے اول وقت میں اس شخص کی طرح بجالائو جس کا اس دنیا سے رخصت ہو نے کا وقت آپہنچا ہے اور ڈرتا ہے کہ کہیں پھر سے نماز پڑھنے کی اسے فرصت میسر نہ ہو، اسی طرح ابن مسعود سے نقل ہوا ہے :
''سألت رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم :ایّ الاعمال احب الی الله عز وجل ؟قال :الصلوة لوقتها'' (۱۲)
''میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا : کونسا عمل خدائے متعال کے نزدیک بہتر و محبوب تر ہے ؟تو حضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا( محبوب ترین عمل خداکے نزدیک) اول وقت میں نماز پڑھناہے ۔''
پھر بھی خدائے متعال نے لوگوںمیں عبادت اور بندگی کی روح کو ایجاد کرنے کے لئے مزید تشویق کی خاطر نماز کے لئے خاص زمان ومکان معین فرمائے ہیں ۔مثلا شب اور روز جمعہ کو عبادت کے لئے معین فرمایا ہے اورخود روز جمعہ کو عبادت کے لئے مخصوص کیا گیا ہے، انسان کو عبادت انجام دینے اور بیہودہ کاموں سے پرہیز کرنے کی طرف تر غیب و تلقین کرتاہے۔ا سی طرح جو فضیلت خدائے متعال نے ماہ ذیقعدہ اور ذی الحجہ کے ابتدائی دس دنوں کے لئے قراردی ہے وہ بذات خود خداکی عبادت کی یاد دہانی ہے کیونکہ ان چالیس دنوں (ایک ماہ ذی القعدہ اور دس روز ذی الحجہ) تک حضرت مو سی علیہ السلام کوہ طور پر عبادت پروردگار میں مشغول رہے ہیں خدائے متعال اس سلسلہ میں فرماتا ہے:
(وواعدنا موسی ثلثین لیلةواتممناها بعشر فتم میقات ربه اربعین لیلة وقال موسی لأخیه هرون اخلفنی فی قوم واصلح ولا تتبع سبیل المفسدین ) ( اعراف ١٤٢)
''اور ہم نے موسی سے تیس راتوں کا وعدہ لیا اورپھر مزید دس راتوں کا اضافہ کیا تا کہ اس طرح ان کے رب کا وعدہ چالیس راتوں کا مکمل ہو جائے اور انہوں نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ تم قوم میں میری نیابت کرو اور اصلاح کرتے رہواور خبر دار مفسدوں کے راستہ کا اتباع نہ کرنا''
حضرت مو سی علی نبینا وعلیہ السلام نے چالیس دن عبادت میں گزارے وہ ((اربعین کلیمیہ)) کے نام سے مشہور ہیں اور اہل سیر وسلوک ان کیلئے فراوان اہمیت کے قائل ہیں اور ان کے لئے خاص آداب واحکام ذکر کئے ہیں اور اس کے دوران بیشتر عبادت میں مشغول رہتے ہیں،چونکہ ہماری احادیث کے منابع میں اربعین کے بارے میں ایک خاص اہمیت ذکر ہو ئی ہے، مثلا ایک روایت میں آیا ہے:
''من أخلص لله اربعین یومافجر اللّٰه ینابیع الحکمة من قلبه علی لسانه'' (۱۳)
جوچالیس روز تک خدائے متعال کی مخلصانہ عبادت کرے ،خدائے متعال اس کے دل سے حکمت کے چشمے زبان پر جاری فرمائے گا۔
(چالیس دن تک عبادت کرنا یاچالیس حدیث حفظ کرنا وغیرہ کے بارے میں فراوان فائدے ذکر کئے گئے ہیں۔)
اسی طرح مبارک ایام ،عیدیں، احیاء (بیداری)کی راتیں اور ماہ رمضان المبارک ایسے امتیازات اورخصوصیات رکھتے ہیں تاکہ ان سے استفادہ اور ان زمانوں سے مربوط مواقع کو درک کرنا لوگوں کو بیشتر خداکی یاد میں مشغول کرے اور وہ زیادہ سے زیادہ عبادت کریںاور وہ سمجھ لیں کہ ان کی سعادت خداکی بندگی اوراس کی عبادت میں ہے،اور شائستہ نہیں ہے کہ انسان خدائے متعال سے منہ موڑ کر دوسروں کی طرف رخ کرے۔
مادرخلوت بہ روی خلق ببستیم
از ہمہ بازآمدیم وباتونشستیم
ہرچہ نہ پیوند یار بودبریدیم
وآنچہ نہ پیمان دوست بودشکستیم
در ہمہ چشمی عزیز ونزدتوخواریم
در ہمہ عالم بلندوپیش تو پستیم
(ہم نے خلوت اور تنہائیوںمیں لوگوں سے منہ موڑ لیا ہے ۔سب کو چھوڑ کے تیرے حضور آبیٹھے ہیں ۔جو بھی دوست کاپیوند نہ تھا اسے ہم نے پھاڑ دیا۔اور جو بھی دوست کا عہد و پیمان نہ تھا اسے توڑدیا ، ہم سبھی کی نظروں میں عزیز ہیں لیکن تیرے حضور میں ذلیل وخوار ہیں،تمام دنیا میں بلند لیکن تیرے سامنے پست ہیں)
مسجد، لقاء اللہ کے عاشقوں کے کی معراج:
خاص زمانوں کے علاوہ خدائے متعال نے عبادت کیلئے چند خاص مکان بھی عبادت کے لئے معین فرمائے ہیں ،کہ جب لوگ ان مکانوںکو دیکھتے ہیں اور ان میں داخل ہو تے ہیںتو انھیں خود بخود خدا اوراس کے عبادی فریضہ کی یاد آتی ہے اس لحاظ سے ان مکانوں کا وجود ،خدا کے طرف تو جہ کر نے اور اس کی بندگی کے لئے زیادہ شو ق پیدا کرتاہے ،کلی طور پر مسجدیں اس قسم کا رول ادا کرتی ہیں۔
اگر چہ انسان کے لئے نماز کو بجالانا ہر جگہ پر غصبی جگہوں یا ایسی جگہوںپر، جہاں کسی وجہ سے نماز پڑھنا جائز نہیںہے ،کے علاوہ جائز ہے، لیکن اسلام میں سخت تاکید کی گئی ہے کہ انسان واجب نمازوں کومسجد میں پڑھے اورمسجد میں رفت وآمد کے لئے پابند رہے،خاص کرہمسایہ کی مسجد میں ، چنانچہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
''لا صلوة لجارالمسجد الا فی مسجده'' (۱۴)
''مسجد کے ہمسایہ کی نمازقبول نہیں ہے ،مگر مسجدمیں ۔''
روایتوںمیں کی گئی تاکید وںکے پیش نظر فقہا نے مسجد کے ہمسایوںکے لئے مسجد میں نماز پڑھنے کو مستحب مو کد اوراس کے ترک کرنے کو مکروہ جاناہے۔ مرحوم آیت اللہ سید محمد کاظم یزدی فرماتے ہیں:
مسجد کے ہمسایہ کے لئے عذر کے بغیر اس مسجد کے علاوہ کہیں اور نماز پڑھنامکروہ ہے(۱۵) پس انسان کوہمیشہ مسجد میں حاضر ہوناچاہئے تاکہ نماز کو مسجد میں پڑھے اور مسجد کے مقام ومنزلت اور اس کے آداب و احترام کی رعایت اور اس میں عدم حضور کی قباحت کے بارے میں فکر کرے اور یہ بھی سوچ لے کہ مسجد میں حاضر ہونے اور وہاں پر نماز پڑھنے کے ثواب کے علاوہ خدائے متعال نے مسجد کو اپنا گھر قرار دیا ہے اور اپنے بندوں کو اس میں داخل ہونے کی اجازت دیکر انھیں اپنا مرہون منت بنایا تا کہ وہ اس میں حاضر ہو کر مستفید و باریاب ہوں،کیو نکہ مسجد خدا کاگھر ہے ۔
فطری بات ہے کہ تمام زمین خدائے متعال کے نزدیک یکساںہے اور کوئی ایک جگہ دوسری کی نسبت خدا سے زیادہ نزدیک نہیں ہے،پس کعبہ اورمسجد کے خداکا گھرہونے کا مقصد یہ ہے کہ خداوند متعال کا ان مکانات کے ساتھ بر تائوویسا ہی ہے جیسا ہم اپنے گھروں سے رکھتے ہیں ۔یعنی خدا ئے متعال نے ان مکانات کواپنی ملاقات اور انس اور زیارت کی جگہ قرار دیا ہے اور اپنے بندوںاور زائرین کو وہاں پر اپنی ملاقات سے سر فراز کر تاہے اور ان سے بات کر تاہے اس کے علاوہ جس جگہ کے بارے میں ہم مسجدبنانے کا ارادہ کریںاور اسے خدائے متعال سے منسوب کریں اورجس جگہ کو بھی ہم اسکی ملاقات اس کے وہاں حاضر ہونے اور اسکی زیارت کے لئے قرار دیں وہ اسے قبول کرتاہے اور یہ اس معنی میں ہے کہ ملاقات اور زیارت کی جگہ کومعین کر نا بھی ہمارے ذمہ رکھا ہے اور یہ خدائے متعال کی طرف سے ہمارے لئے سب سے بڑی سخاوت اور مہر بانی ہے۔
پس مسجدوں کا سب سے بڑا رول ،انسان کا خداوند متعال کی طرف توجہ کرنا اور ان میں عبادت و بندگی کی حس کو اجاگر کرناہے ،اگر چہ سب مسجدیں رتبہ اور مقام کے لحاظ سے یکساں نہیں ہیںاور اہمیت کے لحاظ سے بعض مسجدوں کی عظمت بلند ہے ۔حضرت امام خمینی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں:
''مذہب اسلام میں تاکید کی گئی ہے کہ نماز کو مسجدمیں پڑھا جائے، تمام مسجدوں میں سب سے بہترمسجد الحرام ہے، اس کے بعد مسجد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،اس کے بعد مسجد کو فہ ،اس کے بعد بیت المقدس ، اس کے بعد ہر شہر کی جامع مسجد اسکے بعد محلہ کی مسجد،اور اس کے بعدبازارکی مسجد ہے۔ ''(۱۶)
حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
''اربعةمن قصور الجنة فی الدنیا:المسجدالحرام،و مسجد الرسول صلىاللهعليهوآلهوسلم ومسجد بیت المقدس ومسجد الکوفه'' (۱۷)
یہ چار مسجدیں دنیا میں قصر بہشت ہیں، مسجد الحرام ، مسجد النبیصلىاللهعليهوآلهوسلم ، مسجد بیت المقدس ، مسجد کوفہ ۔
یہ چار مسجدیں اس قدر عظیم اور مقدس ہیں کہ حتی بعض روایتوں میں تاکیدکی گئی ہے کہ انسان دور ونزدیک راستوں سے سفر کر کے ان مساجد کی زیارت کرے اور ان میں اعتکاف کرنے کا ثواب ہے ۔ امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
''لو یعلم الناس مافی مسجد الکوفه لأعدواله الزاد والرواحل من مکان بعید ان الصلاة فریضة فیه تعدل حجة وصلاة نافلة فیه تعدل عمرة'' (۱۸)
اگر لوگ مسجد کوفہ کو پہچانتے ،تو دور دراز منزلوںسے اس مسجدمیں پہنچنے کے لئے زاد راہ اور سواری کا انتظام کرتے ۔اس مسجد میں ایک واجب نماز کا ثواب حج کے ثواب کے برابر اور ایک مستحب نماز کا ثواب ایک عمرہ کے برابر ہیں۔
یا یہ کہ مسجدالحرام کی اس قدر عظمت ہے کہ مسلمانوں کی قبلہ گاہ یعنی کعبہ اسی میں قرار پایا ہے اور مسلمانوں پر واجب ہے کہ اپنی نماز کو اس مسجد اور خانہ کعبہ کی طرف بجا لائیں۔ اس کے علاوہ مستطیع ہو نے والوں پر اسکا حج کرنا واجب ہے اوراس مسجد میں ایک رکعت نماز کا ثواب دوسری مسجدوں میں دس لاکھ رکعتوں کے ثواب کے برابر ہے ۔ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا ہے:
''صلاة فی مسجدی تعدل الف صلاة فی غیره وصلاة فی المسجد الحرام تعدل الف صلاة فی مسجد'' (۱۹)
''میری مسجدمیں ایک رکعت نماز پڑھنا دوسری مسجدوں میں ہزاررکعتیں پڑھنے کے برابر ہے اور مسجد الحرام میں ایک رکعت نمازپڑھنامیری مسجد میں ہزاررکعتیں نماز پڑھنے کے برابر ہے''
اس کے علاوہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام اس مسجد مقدس کی فضلیت میں فرماتے ہیں:
''من صلّی فی المسجد الحرام صلاةمکتو بة قبل الله منه کل صلاة صلاها منذیوم وجبت علیه الصلاة وکل صلاة یصلیهاالی ان یموت'' (۲۰)
''جس شخص نے ایک واجب نمازکو مسجدالحرام میں بجا لا یا، تو خدائے متعال اس پر واجب ہو نے کے دن سے پڑھی گئی تمام نمازوں کواور آئندہ مر تے دم تک پڑھی جانی والی تمام نمازوں کو قبول فرماتاہے ۔''
مذکورہ مسجدوں کے علاوہ کچھ اور مسجدیں بھی بافضیلت ہیں، یہاں تک حدیث قدسی میں آیا ہے:
''قال الله تبارک و تعالی:ان بیوتیٰ فی الارض المساجد ،تضیٔ لاهل السماء کما تضیٔ النجوم لا هل الارض الا طو بیٰ لمن کانت المساجد بیو ته الا طوبیٰ لعبد توضأ فی بیته ثم زارنی فی بیتی الاان علی المزور کرامة الزائر الابشر المشائین فی الظلمات الی المساجد بالنور الساطع یوم القیامة '' (۲۱)
پروردگار عالم فرماتاہے:زمین پر مسجد یں میرا گھر ہیں جو اہل آسمان کے لئے اسی طرح چمکتی ہیں جس طرح اہل زمین کے لئے ستارے چمکتے ہیں ۔خوشا نصیب ان کیلئے جنھوں نے مسجدوں کو اپنے گھر قرار دیا ہے ۔خو شا نصیب اس بندے کے لئے ،جو اپنے گھر میں وضو کر تا ہے اور اس کے بعد میرے گھر پرمیری زیارت کر تاہے ۔آگاہ ہوجائو کہ جس کی زیارت کی جاتی ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ اپنے زائر کا احترام کرے اور اس پر احسان کرے ۔جو لوگ رات کی تاریکی میں مسجد کی طرف قدم بڑھاتے ہیں انھیں قیا مت کے دن ایک چمکتے نورکی بشارت دو۔
مسجدوں کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنے کی حکمتیں:
لوگوںکو مساجد کی طرف متوجہ کرنے کی فراوان حکمتیں ہیں ، ان کو کلی طور پر دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
١۔اجتما عی حکمتیں:جب کی مسجد کو مرکزیت مل جائیگی اور روزانہ چند مر تبہ لوگ وہاں جمع ہوںگے یا جمعہ کے دن لوگوں کاایک پر شکوہ اجتماع مسجد میں اکٹھا ہوگا تو معاشرے کو بہت ساری اجتماعی ، اقتصادی اور سیاسی بر کتیں نصیب ہوں گی۔ اورمسلمان صدر اسلام سے آج تک ان منفعتوںاور برکتوں سے بہرہ مند ہو تے آئیں ہیں۔مسجد، پوری تاریخ میں فکری ،مذہبی ،سیاسی اور اقتصادی ضرورتوں کو پورا کرنے کا مرکز رہی ہیں اس کے علاوہ مساجد اسلام کی غنی ثقافت کی تر ویج اور معاشر ے کے لئے ضروری علوم سیکھنے کا مر کز رہی ہیں۔ اس کے علاوہ مسجدیںدشمن سے مقابلہ کرنے کے لئے جنگجوئوں اور مجاہدین کا مر کز رہی ہیں۔ ہم کلی طور پر مسجد کے لئے چار اہم نقش کے قائل ہو سکتے ہیں:
الف۔عبادت اور خداکی یاد کا مرکز
ب۔ فکری جہاد اور تعلیم و معارف اسلامی سیکھنے کا مر کز ۔
ج۔مسلمانوں کی وحدت اورآشکار و مخفی دشمنوں سے مقابلہ کے لئے اتحاد و یکجہتی کے مظاہرہ کا مرکز ۔
د۔ لشکر اسلام اور مجاہدین کے جمع ہو نے اور دشمن سے مقابلہ کرنے کیلئے ان کو محاذ جنگ پر روانہ کرنے کا مرکز ۔
٢۔انفرادی حکمتیں: مذکورہ مطالب کے علاوہ ،مسجد خود ایک فرد کے لئے بھی بہت سی بر کتیں رکھتی ہے. جب کوئی شخص مسجد سے گزرتا ہے اور اس میں داخل ہوتا ہے تو اس میں عبادت کے لئے مزید آمادگی ظاہر کرتاہے۔ پس مسجد تذکر دینے کی جگہ ہے جو انسان کو خدا اور عبادت کی یاددلا تی ہے۔حتی اگر انسان یادخدا سے غافل بھی ہو ، جب وہ مسجد کے سامنے سے گزر تاہے یا مسجد کے گنبد یا مینار کو دیکھتا ہے،تووہ متوجہ ہو تاہے کہ یہاںپر خداکا گھرہے اور فو راً اسے خدا کی یاد آتی ہے۔جو خدائے متعال کی بندگی کے خواہشمند ہو تے ہیں ، ان میں عبادت کے شوق کو اجاگر کر نے والے عوامل پیدا ہوتے ہیںاس لحاظ سے وہ عوامل ، اس کے تکامل وارتقاء کے لئے بہترین وسیلہ ہیں،اور انسانوں کو زیادہ سے زیادہ خدا اور اس کی عبادت کی طرف مائل کر نے والے عوامل میں عبادت و بندگی کے لئے مشخص کئے گئے مخصوص مکان بھی ہیں۔اس لئے تاکید کی گئی ہے کہ انسان اپنے گھر میں بھی نماز خانہ یا مصلی کے طورپر ایک جگہ کو معین اور مشخص کر لے اور اس بات کا دھہان رکھے کہ وہ جگہ نجاست سے آلودہ نہ ہو ،جب انسان نماز کے لئے مخصوص کی گئی اس جگہ یا نماز کے لئے بچھائی گئی جانماز کو دیکھتا ہے ،اسے خدا کی یاد آتی ہے۔ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
''کان علی علیه السلام قد جعل بینا فی داره لیس بالصغیرولا بالکبیر لصلاته وکان اذا کان اللیل ذهب معه بصبی لا یبیت معه فیصلی فیه'' (۲۲)
''امیرالمو منین حضرت علی علیہ السلام نے اپنے گھر میں ایک متو سط قسم کا کمرہ نماز کے لئے قرار دیاتھا اور جو بچہ شب میں بیدار ہو تا تھا اسے ساتھ لے کرنماز پڑھنے کے لئے اس کمرہ میں جاتے تھے اور نماز پڑھتے تھے ۔ ''
گھر کے نمازخانہ کے علاوہ ،شہر اور محلہ کی مسجدیں بھی یاد دہانی کرانے والی ہیں اور انسان کوخدا کی طرف متو جہ کرتی ہیں اور ان وسائل میں سے ہیںکہ جنھیں خدائے متعال نے انسان کے لئے کمال و سعادت کی راہ میں قرار دیا ہے۔اس لحاظ سے جب کسی جگہ پر مسجد تعمیر ہو تی ہے ،تو لوگوں کو اس میں جانے کی تشویق کرنا چاہئے اور مسجدمیں جانے کاثواب اور مسجد کی طرف جانے کے لئے ہر کے لئے جو ثواب ہیں،انھیں بیان کیا جاناچاہئے تا کہ لوگوں میں مسجد میں جانے کاشوق پیدا ہو ، انھیں کہنا چاہئے کہ مسجد میں حاضر ہو نا ثواب میں اضافہ ہونے اور گناہ کے نا بود ہو نے کاسبب ہے ۔ حضرت امام صادق علیہ السلام فر ما تے ہیں:
'' قال رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم و من مشی الی مسجد یطلب فیہ الجماعة کان لہ بکل خطوة سبعون الف حسنة و یرفع لہ من الدرجات مثل ذلک''(۲۳)
''پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:جو نماز میں شرکت کرنیکی نیت سے مسجد کی طرف قدم بڑھا تا ہے ،خدائے متعال اس کے ہر قدم کے عوض میں سترہزار ثواب پاداش (جزا) کے طور پر دیتا ہے اور اسی قدر اس کے درجات بھی بلند ہو تے ہیں ''
مساجد کی اہمیت کو درک کرنے کی ضرو رت
اور ان میں حاضر ہو نے کے آداب :
پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اس حدیث میں نصیحتوں کا ایک حصہ مو منین کو مسجدمیں حاضر ہو کر اس کے معنوی بر کات سے بہرہ مند ہو نے کے لئے تشو یق کرنے پر مشتمل ہے۔اس کا ایک اور حصہ مسجد میں حاضر ہو نے کے آداب سے مر بوط ہے کہ کس طرح مسجد سے بہتر استفادہ کیا جائے ، ہمیں کن قواعد وضوابط پر عمل کر نا چاہئے تاکہ خدا نخواستہ اس الہی اورعظیم نعمت سے محروم نہ ہو جائیں ، کیو نکہ بعض او قات انسان اس قدر غفلت اور شیطان وسوسوں میں مبتلا ہو تا ہے کہ خیر و سعادت کے وسائل کو اپنے ہی ہاتھ سے شر اور تاریکی کے وسائل میں تبدیل کر دیتا ہے :
( الم تر الی الذین بدلو ا نعمت الله کفرا ) ۔۔۔ ) (ابراہیم ٢٨)
''کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھوں نے اللہ کی نعمت کو کفران نعمت سے تبدیل کر دیا''
جی ہاں،انسان کے لئے یہ خطرہ مو جود ہے کہ اپنے ہی ہاتھوں سے خداکی ایک نعمت کو کفران نعمت میں تبدیل کردے اور خیر ونیکی کے وسیلہ کو شر کے وسیلہ میں تبدیل کرے ، لہذا جب لوگ مسجد میں جانے اور مسجد کی طرف قدم بڑھانے کے ثواب شما ر کرتے ہیں تو جائیے کہ اس کے علاوہ انھیں یہ بھی یاد دہانی کرائی جائے کہ وہ مسجد سے مناسب استفادہ کرنے کی کوشش کریں اور اس بات کی طرف متوجہ رہیں کہ کس لئے مسجد میں آئے ہیں ،تاکہ خدا نخواستہ دنیوی امور ، خرید و فروش، گران وارزان ،ڈالر اور زمین کی قیمت جیسی چیزوں کی گفتگو میں مشغول نہ ہو جائیں اور اس بات کو بالکل ہی فراموش کرجائیں کہ کہاں ہیں اور کس لئے آئے ہیں !اس لحاظ سے مسجد کے لئے کچھ مخصوص آداب معین ہوئے ہیں تاکہ ان کی رعایت سے انسان غفلت میں مبتلا نہ ہو اور مسجد کی بر کات سے محروم نہ رہے ۔پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بیا نات پر غور و تحقیقا ت سے پہلے ہم ایک نکتہ کی طرف یاد دہانی کرانا ضروری سمجھتے ہیںاور وہ یہ ہے جب انسان مسجد جانیکا ارادہ کر تاہے ، تواسے اپنی استعداد کے مطا بق مسجد میں حاضر ہو نے کے آداب کو جاننے کی کوشش کرنا چاہئے ، کیو نکہ جس قدر معر فت ہوگی ،اسی قدرعمل کی قدر وقیمت میں اضافہ ہوگا اور ادب کی ر عایت خود بندہ کے لئے خدائے متعال سے قریب ہو نے کا سبب ہے، اس کے علاوہ جو شخص مسجد میں حاضرہونے کے آداب کی رعایت کرتاہے ، اس کا عمل قرب الٰہی اور اعمال کے قبول ہونے کا سبب واقع ہو تاہے ہمیں جاننا چاہئے کہ جب ہم مسجد میں حاضر ہوتے ہیں تو گویا ہم خدا ئے متعال کی چو کھٹ پر وارد ہوتے ہیں اور اس کے حضور میں ہو تے ہیں اور مناسب ہے حضرت حق کی بارگاہ میں حاضر ہو نے کے آداب کو اپنے بزرگوں اور محترم شخصیتوں کے وہاں حاضر ہو نیکے آداب کو معیار قرار دیں اور دیکھیں کہ جب ہم کسی محترم بزرگ شخصیت کی خدمت میں حاضر ہو تے ہیں،تو کس طرح خضوع و خشوع کے ساتھ نیز انکساری اور احساس کم تری کی کیفیت ہم پر طاری ہو تی ہے عع۔ اس کے پیش نظر کہ بزرگوں کی عظمت خدائے متعال کی عظمت سے قابل موازنہ نہیں ہے اور اسی طرح خداکے حضور میں حاضر ہو نے کے آداب کی نسبت بزرگوں کے حضور میں حاضر ہو نے کے آداب سے قابل موازنہ نہیں ہے ۔
مذکو رہ مطالب کے پیش نظر معلوم ہو تا ہے کہ کوئی بھی شخص خدا کے حضور میں حاضر ہو نے کے آداب کے حق کی رعایت کرنے کی طاقت نہیں رکھتاہے ۔اس لحاظ سے ہم خدا کے حضور میں حاضر ہونے کے آداب کی رعایت نہیں کرسکتے ہیںپس کم از کم اتنا تو دیکھ لیں کہ ہماری رفتار کیسی ہے اور اپنی کو تاہیوں کو مد نظر رکھیں کہ یہی مختصراقدام ہما رے لئے خدا کے کرم کا دروازہ کھلنے کا سبب بنے گا ۔ حضرت امام صادق علیہ السلام ایک مفصل حدیث میں ،مسجد میں حاضر ہو نے کے آداب کو یوں بیان فرما تے ہیں:
جب کسی مسجد کے دروازہ پر وارد ہو ، تو جان لو کہ تم نے ایک ایسے سلطان وبادشاہ کی ملا قات کا ارادہ کیا ہے جس کی بساط پر پاک و پاکیزہ لوگوں کے علاوہ کوئی قدم نہیں رکھ سکتا ہے اور اس کی مصاحبت کے لئے صدیقین اور اچھے کردار والوں کے علاوہ کسی کو اجازت نہیں دی گئی ہے اور جب اسکی بساط پر قدم رکھو ،تو جان لو کہ اگر معمولی سی غفلت تم سے سر زد ہوئی تو تم ایک بڑے خطرے اور خطرناک گڑھے کے دہانے پر واقع ہو اور یہ بھی جان لو کہ وہ اپنے عدل یافضل سے تمھارے ساتھ معا ملہ کرے گا ۔پس اگر اس نے مہر بانی کی اوراپنے فضل و رحمت سے تمھارے ساتھ معاملہ کیا تو وہ تمھاری معمو لی اطا عت کو بھی قبول کرلے گا اور اس کے مقا بلہ میں تجھے ثواب دے گا اور اگر وہ تجھ سے اپنے عدل سے معاملہ کر نا چاہے اور جس چیز کے تم مستحق ہو وہ تمہیں عطا کرے تو وہ تمہیں تمہاری اطاعت سمیٹ واپس کردے گا چاہئے جس قدر بھی زیادہ ہو،مسترد کر دے گااوروہ جو چاہے گا وہ انجام دیگا۔
پس اسکی بار گاہ میں اپنی عاجزی،کو تاہی اور فقر کا اعتراف کرو،کیونکہ تم نے اسکی عبادت اور اس سے انس کی نیت کی ہے ۔اپنے اسرار کواس کے سامنے پیش کروا اور جان لوکہ وہ تمام مخلو قات کے پنہاں وآشکار امورکے بارے میں علم رکھتاہے اور ایک ذرہ بھی اس سے پو شیدہ نہیں ہے اور تم اس کے حضور میں ایک فقیر ترین بندہ کے مانند رہو اوراپنے دل کو ان تمام چیزوںسے پاک کر و جو تجھے اپنی طرف مشغول کرے اور تیرے اوراس کے درمیان حجاب اور مانع ہو، کیونکہ وہ پاکیزہ ترین اور مخلص ترین دلوں کے علاوہ کسی کو قبول نہیں کر تا ہے اور اچھی طرح دیکھ لو کہ تمھارا نام کس رجسٹر میں درج ہے۔پس اگر تم نے اس کے ساتھ مناجات کی حلاوت کو چکھا اور اسکے ساتھ گفتگو میں لذت کا احساس کیااور اس کی رحمت وکرامت کے جام نوش کئے،تو یہ اسکی طرف تجھے قبول کر نے اور تیری دعوت کو اجابت کرنے کی نشانی ہے اوراس صورت میں جان لوکہ تم اس کی خدمت میں جانے کے سزاوار ہوپس تم مسجد میں داخل ہوجائو کہ تجھے پروانہ اذن وامان مل گیا اور اگر ایسا نہ ہوا تو تم ایک ایسے دربدر شخص کی طرح ہو کہ جس کے لئے تمام دروازے بندکردیئے گئے ہیں اور وہ کچھ نہیں کر سکتا ہے ۔ تمھیں جان لینا چاہئے کہ اگراسے معلوم ہو جائے کہ تم نے حقیقت میں اس کے یہاں پناہ لی ہے ، تو وہ تجھے مہر بانی، رحمت اور کرم کی نگاہ سے دیکھے گا اور تجھے اپنی مرضی سے کامیاب بنا دے گا،کیو نکہ وہ کریم اور عظمت والا ہے اور اپنے ایسے بندوںسے عطوفت و محبت کرتاہے جو بے چارہ مضطرب حالت میں اس کی بار گاہ میں کھڑے ہو کر اس کے لطف وکرم کے لئے امید وار ہوتے ہیں،کیونکہ وہ خود فرما تاہے:
( ''امن یجیب المضطر اذا دعاه و یکشف السو ئ ) ۔۔۔'' (نمل٦٢)
''بھلا وہ کون ہے جومضطر کی فریاد کو سنتاہے؟ جب وہ اس کو آواز دیتاہے اوراسکی مصیبت کو دور کردیتاہے ۔''
پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں حاضر ہونے کی تشو یق کے لئے فرماتے ہیں:
''یا اباذر!الکلمة الطیبة صدقة وکل خطوةتخطوها الی الصلوٰة صدقة''
''اے ابوذر !نیک گفتاراور جو بھی قدم نماز کیلئے اٹھائو گے وہ صدقہ ہے''
''صدقہ'' ان عناوین میں سے ہے جس کو اسلامی ثقافت میں مختلف صورتوں میں پیش کیا گیاہے اور اس کی اہمیت واضح ہے،جب کہتے ہیں کہ فلاں کام صدقہ ہے ،تو اس کا مفہوم ومعنی یہ ہو تا ہے کہ اس کام کی غیر معمولی اہمیت ہے اوراس کا بہت زیادہ ثواب ہے ۔اس لحاظ سے جب کسی چیزکی عظمت کو بیان کرنا چاہتے ہیں توکہتے ہیں : یہ کام صدقہ ہے ۔ من جملہ جب نیک اور شائستہ بات ہم کسی سے کہنا چاہتے ہیں،تو کہتے ہیں صدقہ ہے،تاکہ اسے کم اہمیت نہ سمجھیں اور توجہ رکھیں کہ ہم نے جب کسی سے اچھی بات کہی جواس کے کام کی تھی اور اسے خدا کی طرف متوجہ کرنے والی تھی نیز ،برے کام سے باز رکھنے والی تھی یا ایسی بات جو ایک غمزدہ اور پریشان مومن کے لئے خوشنودی کا باعث ہو اور اس کی ناامیدی اور افسردگی کو برطرف کردے تو ایسی بات مطلوب اور خدا کے نزدیک پسندیدہ ہے اگر خدا وند عالم کی اطاعت کے قصد سے انجام دی جائے تو عبادت ہے ۔
پہلے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم فرما تے ہیں کہ ہر نیک بات صدقہ ہے اور اس کے بعد فرما تے ہیں جو بھی قدم مسجد کی طرف اٹھائو گے وہ بھی صدقہ ہے اور اس کے بعد بحث کا محور مسجد ہے ۔فطری بات ہے کہ جب ایک انسان آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اس بیان کے مفہوم و معنی سے آگاہ ہو گیااور اس نے یقین کر لیا کہ جو بھی قدم وہ مسجد کی طرف اٹھائے گا وہ صدقہ ہے اور اس بہت زیادہ اجر اور ثواب ہے ،تو مسجد اس کے گھر سے چاہے جتنی دور ہو پھر بھی مسجد میں جانے کے لئے وہ عجلت کرے گااور اس کے لئے مسجد میں جانا مشکل نہیں ہوگا اور بہانہ نہیں کرسکتا کہ مسجد دور ہے، چونکہ وہ جانتا ہے کہ جتنی زیادہ مسجد اس کے گھر دور ہوگی اتنی زیادہ وہاں جانے کا ثواب زیادہ ہوگا ۔
اس کے بعدنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں حاضر ہونے کے آداب کے بارے میں فرماتے ہیں:
''یا اباذر !من اجاب داعی اللّٰہ و احسن عمارة مساجد اللّٰہ کان ثوابہ من اللّٰہ الجنة''
اے ابو ذر !جو شخص خدائے متعال کی طرف دعوت کرنے والے کی بات پر لبیک کہے اور مسجد کو آباد کرنے میں اچھی طرح حصہ لے، تو خداکی طرف سے اس کی پاداش (جزا )بہشت ہے۔
ظاہرا ًخدا کی طرف بلانے والے سے مقصود وہ مؤذن ہے جو اذان کہتا ہے،کیو نکہ وہ خداکی طرف سے لوگوں کو خدا کے گھر کی جانب دعوت دیتاہے اور اس کا کام یہ ہے کہ بلند آواز میں اذان کہے اور اعلان کرے کہ نماز کا وقت آپہنچا ہے ،تاکہ لوگ عبادت کے لئے مسجد میں حاضر ہو جائیں۔ اگر کسی نے اس کی دعوت قبول کی ،یعنی اذان کی آواز سن کرمسجد کی طرف روانہ ہوا ،تو اس نے مسجد کو آباد کرنیکی کوشش کی،اس کی پاداش بہشت ہے۔
ابتدا میں کسی مسجد کو تعمیر کر نے سے مراد یا اس کو آباد کرنے کسی ویران ہو نے والے کی مسجد کی حفاظت اور مرمت کامسئلہ انسان کے ذہن میں آتا ہے،لیکن اس معنی کا گزشتہ جملہ کے ساتھ کوئی تناسب نہیں ہے۔ اس بناپر عمارت یعنی مسجد کو آباد کرنے کا معنی ، تعمیر اور مرمت کے معنی سے وسیع تر ہو نا چاہئے ۔(عمارت مسجد) کا عنوان جو قر آن مجید اور روایا ت میں استعمال ہوا ہے ،لغوی معنی میں مسجد کی ابتدائی تعمیر بھی ہے اور اس کی محافظت بھی ہے اور اس کے علا وہ اس کی زیا رت کر نے اور مسجد میں رفت و آمد کے معنی میں بھی آیا ہے، ائمہ معصومین علیھم السلام سے نقل کی گئی ایک روایت میں ان تینوں معنی کے بارے میں تاکید کی گئی ہے:مسجدتعمیر کرنا،اس کی مرمت کرنامساجدمیں رفت وآمد کی مزید تاکید کی گئی ہے ۔
مذکورہ مطالب کے پیش نظر لگتا ہے کہ جناب ابوذر بھی متو جہ ہوئے کہ''عمارت مسجد'' کے عنوان سے مسجد تعمیر کرنے، ظاہری طور پر آباد کرنے اور مرمت و محافظت کے علاوہ کوئی دوسرا معنی بھی مد نظر ہے اور اسی لئے کیفیت عمارت کے بارے میں سوال کر تے ہیں ۔چونکہ اگر عمارت سے مسجد کو تعمیر کرنا مقصود ہو تا تو جنا ب ابوذر کے لئے کوئی ابہام باقی نہ تھا کہ سوال کر تے۔
جناب ابو ذر پوچھتے ہیں :اے اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قر بان ہوں ،ہم مسجد کو کیسے آباد کریں ؟
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جواب میں فرماتے ہیں:
''لا تر فع فیها الاصوات ولایخاض فیها بالباطل ولا یشتری فیها ولا یباع واترک اللغو مادمت فیهافان لم تفعل فلا تلوا من یوم القیامة الا نفسک ''
( مسجد کو آباد کرنا اس معنی میں ہے کہ) اس میں آواز بلند نہ ہو،باطل اور بیہودہ کام کو انجام دینے سے پرہیز کیا جائے ، اس میں خرید و فروخت نہ کیا جائے اور جب تک مسجد کے اندر ہے لغو بیان سے پرہیز کرے ورنہ قیامت کے دن اپنے علاوہ کسی اور کی سرزنش نہ کر ے۔
مذ کورہ جملوں میں ،پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جناب ابوذر کے لئے چار اخلاقی اور تربیتی قواعدوضوابط کی طرف اشارہ فرماتے ہیں:
١۔مسجد میں شور مچانے اور بلند آواز سے بات کرنے سے پر ہیز ! کیونکہ مسجد عبادت کی جگہ ہے ممکن ہے اونچی آوازمیں بات کرنادوسروں کے ہواس کے مختل ہونے کاسبب ہوتا ہے اور ممکن ہے عبادت گزار نماز و عبادت میں اپنی فکر کو متمرکز نہ کرسکیں۔اس کے علاوہ کسی اجتماع میں اونچی آواز میں بولنا ایک قسم کی بے ادبی شمار ہوتا ہے اور مناسب ہے انسان مسجدمیں شائستہ رفتار کا مظاہرہ کرے اور جو کام انسانی آداب کے متناسب نہ ہو اس سے پرہیز کرے ۔اس بنا پر مسجد کی آبادی کاری کا ایک مصداق یہ ہے کہ انسان اس میں وقار اور سنجیدگی کے ساتھ رہے اورخاموشی کی رعایت کرنیکی کوشش کرے اوراگر بات کرنا چاہتا ہے تو آہستہ بو لے تاکہ دوسروں ۔۔جو نما ز یادوسرے کام میں مشغول افراد کے لئے رکاوٹ نہ بن جائے۔پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں آواز کو بلند کر نے سے پرہیز کرنے کے سلسلہ میں فرماتے ہیں:
''اذافعلت امتی خمس عشرة خصلة حل بها البلائقیل:یا رسول الله ماهن؟ قال: اذا ار تفعت الاصوات فی المساجد'' (۲۵)
''جب میری امت میں پندرہ خصلتیں رائج ہو جائیں ان پر بلا نازل ہو گی،ان خصلتوں میں سے ایک مسجد میں آواز بلند کرناہے ''
٢۔باطل اور بیہودہ گفتگو سے پر ہیز کرنا :مسجد خدا کا گھر اور عبادت کی جگہ ہے اور مسجد میں باطل اوربیہودہ باتیں کرنا اورایسی نا مناسب باتیں کر نا جو بالکل نا جائز ہیں ، ان کی مذمت کی گئی ہے ، کیونکہ یہ مسجد کے لئے ایک قسم کی بے احترامی اور اس کی شأن کی رعایت نہ کر نے کے برابر ہے۔ جیسا کہ کوئی کسی کے گھر میں مہمان ہو اور میز بان کے دشمنوںکی بات کرے اور ان کی ستائش کرے اور ایسے موضوعات پر بات کرے کہ میز بان کے لئے اذیت و تکلیف کاباعث یا ایسا کام انجام دے جو صاحب خانہ کو پسند نہ ہو ،یقینا اس قسم کی رفتار انسانی ادب کے خلاف ہے۔مہمان کو میز بان کے حقوق کی رعایت کرنی چاہئے اور ایسا بر تائو کرے کہ جس سے میز بان کو خوشی و مسرت ہو ،خدائے متعال یہ پسند نہیں کر تا ہے کہ اس کے بندے ایسی بحثیں اور گفتگو کریں جو ان کیلئے مضر ہوں اور ان کی سعادت کو خطرہ میں ڈالتی ہو اس کے علاوہ مسجد میں بیہودہ کام کر نا اورباطل باتیں کرناکہ جو،مسجد کی حیثیت کو فراموش اور مائمال کرنے کا سبب ہے ، کیو نکہ جب مسجد میں بیٹھ کر بیہودہ باتیں کرتے ہیں ، تو وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ وہاں پر مسجد ہے اور کس لئے وہاں گئے ہیں۔
٣۔مسجد میں خرید و فروخت سے پر ہیز کر نا :خرید و فروخت اور وہ امورجو مشغلہ شمار ہو تے ہیں ،جیسے :آہنگری ، بخاری اور نائی وغیرہ کاکام ،مسجد میں انجام دینا ممنو ع ہے ۔حضرت امام صادق علیہ السلام ایک حدیث میں فرماتے ہیں:
''جنِّبوا مساجد کم البیع والشراء ''(۲۶)
''اپنی مسجدوں کو خرید و فروخت کی جگہ قرار نہ دو''
تجارت،خرید و فروخت اور معاشرے کی ضروریات نیز اپنے مشغلوںکو انجام دینے کے لئے بازار بنائے گئے ہیں اور مسجد عبادت کے لئے مخصوص ہے اور اس میں دنیوی کام جیسے،خرید و فروخت انجام نہیں دینا چاہئے ۔ فطری با ت ہے جب مسجد بھی خرید وفروخت اور تجارت کی جگہ ہو جائے گی تو وہ یاد دہانی اور موعظہ و نصیحت کے پہلو سے عاری ہو جائے گی اور نہ صرف یہ کہ انسان کو خداکی یاد نہیں دلائے گی بلکہ اس کی توجہ دنیا اور کسب ِ معاش اورآمدنی کی طرف زیادہ مشغول کردے گی ، اس لحاظ سے مسجدکو بازاراور محل تجارت میں تبدیل کرکے اس سے مناسب استفادہ نہیں کیا جاسکتاہے ۔
مسجد خدا وند متعال کے ذکر کی جگہ ہے اوراسلام کی اس پر تاکید ہے کہ یہ مکان مقدس ہر اس کام سے خالی ہو جانا چاہئے جو لوگوں کی توجہ کو غیرخدا کی طرف متو جہ کر نے کا سبب بنے ۔ تاکہ اس میں ذکر وعبادت کا موقع مکمل طورپر فراہم ہوسکے ۔ اس لئے کسبِ معاش والے کام، جیسے آہنگری اور نجاری و غیرہ بھی مسجد میں انجام دیناممنوع قراردیا گیا ہے ، ایک روایت میں آیا ہے:
''ان رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وآله وسلم مرّ برجل یبری مشاقص له فی المسجد فنها ه و قال :انها لغیر هذا بنیت'' (۲۷)
''رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں ایک آدمی کو اپنا تیر تیز کر تے ہوئے دیکھا آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اسے اس کام سے منع کرتے ہوئے فر مایا:مسجد کوان کاموں کے لئے تعمیر نہیں کیا گیا ہے''
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :
''ان امیر المؤمنین علیه السلام رأی قاصا فی المسجد فضر به بالدرة وطرده'' (۲۸)
''امیرالمومنین نے مسجد میں ایک نائی کو کہ جو حجامت بنا نے میں مشغول تھا کوڑے مارکر مسجد سے نکال باہر کیا''
٤۔مسجد میں لغو کام انجام دینے سے پرہیز :پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سفارش کرتے ہیں کہ مسجد میں بیہودہ باتیں نہ کرو اور لغو کام انجام دینے سے پر ہیز کر و ۔کوشش کرو کہ مسجد میں تمھاری رفتار مطلوب ہو تاکہ خدائے متعالی کو پسند آئے اورپاداش،ثواب اور کمال کا سبب بنے ۔جو کام تمھارے نفع میں نہ ہو ،کم از کم انھیں مسجد میں انجام نہ دو اس کے علاوہ انسان کو ہر جگہ پرلغوگفتار ورفتار سے پرہیز کر نا چاہئے اور مومنین کے اوصاف یہ ہیں کہ وہ لغوبات سے پرہیز کرتے ہیں:
( قدافلح المومنون الذین هم فی صلاتهم خاشعون والذین هم عن اللغو معرضون ) (مومنون١۔٣)
''یقینا صاحبان ایمان کامیاب ہوگئے ،جو اپنی نمازوں میں گڑ گڑانے والے ہیں، اور لغو باتوں سے اعراض کرنے والے ہیں''
مومن کو بنیادی طور پرلغوکام انجام نہیں دینا چاہئے اوراسے اپنی عمر کو بیہودہ ضائع نہیںکرنا چاہئے ، لیکن چونکہ عام لوگ کم وبیش بیہودہ کام بھی انجام دیتے ہیں اور کم ازکم ایسے مباح کام بھی انجام دیتے ہیں جن کا کوئی فائدہ نہیں ہو تا، انھیں کو شش کرنی چاہئے کہ ان کاموں کو مسجد میں انجام دینے سے پر ہیز کریں اور مسجد کو عبادت سے مختص رکھیں ،تاکہ مسجد کی شان و عظمت محفوظ رہے اور خود اس سے زیادہ تر معنوی استفادہ کریں ، تاکہ مسجد کے حوالے سے موعظہ و نصیحت اور ہدایت کرنے کا پہلو باقی رہے۔
حدیث کو جاری رکھتے ہوئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں :اگر تم مسجد کے آداب کی رعایت نہیں کی تو،قیامت کے دن صرف اپنی مذمت کرنا۔ اس دن انسان کو سمجھ میں آئے گا کہ مسجد سے کونسے فائدے اٹھاسکتا تھا ۔انہی لمحات سے کہ وہ جب مسجد میں بیٹھتاتھا ،کس قدر اپنی آخرت کے لئے استفادہ کر سکتاتھا ،لیکن نہ صرف اس نے اس سے استفادہ نہیں کیابلکہ اس کے بر عکس ایسا کام انجام دیا کہ جس سے اپنی آخرت تباہ کر لی ۔اس وقت وہ ایک ایسی حسرت سے دو چار ہو گا کہ جو قابل تو صیف نہیں ہے۔
مسجد میں حاضر ہونے اوراس میں عبادت کرنے کی فضیلت:
'' یااباذر!ان اللّٰه تعالی یعطیک مادمت جالسا فی المسجد بکل نفس تنفست درجة فی الجنة''
اے ابو ذر !جب تک تم مسجد میں ہو ،خدائے متعال تمھاری ہر سانس کے بدلے میں بہشت میں تمھارے لئے ایک درجہ عطا کر تاہے۔
ہمارے گھر سے نکلنے اور مسجد کیطرف روانہ ہونے کے بعد جب ہم مسجد کے آداب کی رعایت کرتے ہیں اور اپنی نماز پڑھتے ہیں،تو ہمیں مزید تاکید کی گئی ہے کہ نماز تمام کر نے کے فورا بعد اٹھ کر نہ چلے جائیں ،بلکہ کو شش کریں کہ زیادہ سے زیادہ وقت تک مسجد میں رہیں ،کیو نکہ جب تک ہم مسجد میں ہیں خدائے متعال ہماری لی گئی ہرسانس کے بدلے میں بہشت میں ہمارے لئے ایک درجہ عنایت کر تاہے۔اگر ہم نے وہاں پر قرآن مجید کی تلا وت کی ،خدا کا ذ کر کیا اور عبادت و سجدہ میں مشغول رہے تو ان اعمال کے ثواب بھی ہمیں ملیں گے اور اس کے علاوہ مسجد میں ہمارا سانس لینا بذات خود سبب بنتا ہے کہ خدائے متعال ہمارے لئے بہشت میں ہر سانس کے بدلے میں ایک درجہ عطاکر ے کیونکہ یہی ہماراسانس لیناخدا کی عبادت کی نیت سے تھا اور اس غرض سے تھا کہ ہم خدا کی خو شنودی کے لئے مسجد اوراس کے گھرمیں ٹھہرے ہیں اور جو بھی کام ہم خداکی توجہ حاصل کرنے کے لئے اور اس کی اطاعت کی غرض سے انجام دیتے ہیں ،وہ عبادت ہے اور ہر عبادت کے بدلے میں بہشت میں ایک درجہ ہے ۔لیکن ہمیں توجہ رکھنا چاہئے کہ اس سانس لینے کا ثواب جو عبادت کے عالم ہو نہ کہ دنیوی امور کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے سانس لینا عبادت ہے ۔
کہا گیا کہ مسجد میں رکنا اور وہاں پر سانس لینا مستحب ہے اور اس کا ثواب ہے،لیکن یہ اس معنی میں نہیں ہے ہم اپنے تمام کارو بارکو چھوڑ کر مسجد میں معتکف (اعتکاف کرنے والا)بن جائیں ۔ممکن ہے دو مستحب کاموںکے درمیان تزاحم و تضاد وجودمیں آئے،اس معنی میں کہ انسان ان دومیں سے صرف ایک کوانجام دینے کی قدرت رکھتا ہو ،اس صورت میں ہمیں جو زیادہ مستحب کام ہے اس کو انجام دینا چاہئے، بعض او قات ممکن ہے مستحب اور واجب کے درمیان تزاحم وتضاد پیدا ہو تو اس صورت میں واجب کوانجام دیناچاہئے اور مستحب کوچھوڑ نا چاہئے۔ اس بنا پر اگر کسی مستحب عمل کوبہت زیادہ بجالانے کی شفارش کی گئی ہے،تو وہ اس معنی میں نہیں ہے کہ اگر کسی واجب کام سے مزاحم و معارضہو تو بھی و اجب کو چھوڑکرمستحب کو انجام دیں ،ہمیں اس مطلب کی طرف توجہ رکھنی چاہئے ۔
جب کسی عمل کے حسن کو بیان کرتے ہیں تو وہ حسن اس عمل کی ذات سے مربوط ہوتا ہے ،یعنی دوسرے عمل سے تزاحم اور مزاحمت کے بغیر ،اس لحاظ سے ممکن ہے ایک بات یا اس کا بیان کا ظاہرا مطلق ہو،لیکن دوسر ی عبادت سے یا کسی دوسرے واجب عمل سے تزاحم وتضاد رکھتا ہے تو اس صورت میں وہ مستحب کام مطلو بیت سے گرتا ہے اوراسے انجام نہیں دینا چاہئے ۔پس اگراس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ انسان زیادہ دیر تک مسجد میں ٹھہرا رہے ،تو یہ اس معنی میں نہیں ہے کہ درس وبحث اوراپنے ضروری کام کو چھوڑ کرمسجد میں بیٹھ جائے اور ذکر خدا کرتا رہے ۔واجب درس وبحث کومسجد میں بیٹھنے یا ذکر کرنے یا مستحب عبادت انجام دینے کے لئے نہیں چھوڑا جاسکتاہے اور یہ درس وبحث کے جا نشین نہیں بن سکتے ہیں اور کسی بھی وقت کوئی مستحب عمل واجب کی جگہ نہیں لے سکتا ہے ،ضروری اور واجب تکالیف اور فرائض اہمیت کے حامل ہوتے ہیں انھیں مسجد میں بیٹھنے اورذکر کے بہانے سے ترک نہیں کیا جاسکتا ہے۔
''وتصلی علیک الملائکة و تکتب لک بکل نفس فیه عشر حسنات و تمحی عنک عشر سیئات''
''اور فرشتے تجھ پر درود بھیجتے ہیں اور تیری ہر سانس کے بدلے دس حسنات لکھے جاتے ہیں اور دس گناہ زائل کئے جاتے ہیں ''
جو کچھ بیان ہواوہ مسجد میں بیٹھنے کے فائدے سے مربوط تھا ،چونکہ مسجد عبادت کی ایک ایسی جگہ ہے جہاں پر انسان خدا کی طرف توجہ کرتا ہے ۔ اس لحاظ سے روایتوں میں مسجد کوآخرت کا بازار کہا گیا ہے اور تاکید کی گئی ہے کہ انسان دوسروں سے پہلے مسجد میں داخل ہو اور سب سے آخرمیں مسجد سے خارج ہو :
''قال رسو ل اللّٰه صلی اللّٰه علیه واله وسلم لجبرئیل:ای البقاع احب الی اللّٰه تعالی؟قال: المساجد واحب اهلها الی اللّٰه اولهم دخو لا الیها وآخرهم خروجا منها''
''پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جبرئیل سے سوال کیا: کونسی جگہ خداکے نزدیک محبوب تر ہے؟ جبرئیل نے عرض کی :مساجد، اور اہل مسجدمیں سے محبوب ترین بندہ وہ شخص ہے جو سب سے پہلے مسجد میں داخل ہو تاہے اور سب سے آخرمیں مسجدسے خارج ہوتاہے''
'' یااباذر!اتعلم فی ای شی ء انزلت هذه الایة:(( اصبروا و صابروا ورابطواواتّقوا اللّٰه لعلکم تفلحون ) )قلت:لا فداک ابی وامیقال : فی انتظار الصلوٰة خلف الصلوٰة''
''اے ابوذر ! کیا تم جانتے ہو کہ آیۂ مبارکہ: اے ایمان والو ! صبر کرو،صبرکی تعلیم دو، جہاد کے لئے تیاری کرو اور اللہ سے ڈرو شاید تم فلاح یافتہ اور کامیاب ہو جائو ''کس سلسلہ میں نازل ہوئی ہے ؟میں نے کہا: نہیںمعلوم،میرے ماں باپ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم پر قر بان ہوں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا :نماز کے بعد نماز کے لئے انتظار کرنے کے سلسلہ میں نازل ہوئی ہے''
آیہ مبارکہ میں '' مر ابط''کے معنی ومفہوم کے بارے میں گوناگوں تفسیریں کی گئی ہیں۔اس کی ایک تفسیر یہ ہے کہ چونکہ''مرابط'' لفظ ''ربط''باندھنے کے معنی میں بھی اور لفظ''رباط'' کسی چیز کو کسی جگہ پر باندھنے کے معنی میں بھی آیا ہے،جیسے: گھوڑے کو ایک جگہ پر باندھنے اوراس کے بعدگھوڑوںکو قطار میں کھڑا کرنے اورانھیں دشمن سے مقابلہ کرنے کے لئے آمادہ کرنے کے معنی میں آیا ہے۔اس لحاظ سے''مرابط''سرحدوںکی حفاظت اور ہوشیاری اوردشمن سے مقابلہ کرنے کے لئے آمادہ ہو نے کے معنی میں ہے ،لیکن اس آیت اوراس سے قبل والی آیتوںپر دقت کر نے سے آیت کا ایک وسیع تر معنی معلوم ہو تا ہے جو اسلامی ملک کی سرحدوں کی حفاظت اور دفاع کے معنی کو بھی شامل ہے اور ایمان وعقائد کی سرحدوں کے مقام کے معنی میں بھی آیا ہے،اس لحاظ سے ہم دیکھتے ہیں کہ بعض احادیث میں علمااور دین کے دانشمندوں نے اسکی تعبیر''مرابطوں''یعنی سرحد وں کی حفاظت کرنے والے ہیں۔
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
''علماء شیعتنا مرابطون بالثغر الذی یلی ابلیس وعفاریته ویمنعونه عن الخروج علی ضعفاء شیعتنا وعن ان یتسلط علیهم ابلیس'' (۳۰)
''ہمارے شیعہ(پیرو) علماء ان سرحد ی محافظوں کے مانند ہیں جوابلیس کی فوج کے سامنے صف بستہ کھڑے ہیں اور اپنے دفاع کی طاقت نہ رکھنے والے افرادپر ان کے حملوںکو روکتے ہیں''
دانشمندوں اور علما کے علاوہ ایسے محافظ بھی ہیں جو سرحدوں کی محافظت کرتے ہیں چونکہ جغرافیائی سرحدوں کے محافظ ہیں اور علماء عقائداسلامی ثقافت کے محافظ ہیں ،اور یقینا جس امت کی ثقافت اور عقائد کی سرحدوں پرغیروں کا حملہ ہو اوروہ اپنادفاع نہ کر سکتے ہوں، تو انھیںمختصر مدت کے اندر عقیدہ وثقافت کے لحاظ سے شکست اٹھانا پڑے گی اور اس کے علاو ہ سیاسی اورعسکری لحاظ سے بھی انھیں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
''مرابط''چبکے بارے میں کی گئی تفاسیر میں یہ بھی ہے کہ ہر نماز کے بعد دوسری نمازکے انتظار میں رہنااور پے در پے نماز بجالانا،اس کے علاوہ ''مرابط'' مسجد میں رفت وآمد کے معنی میں بھی آیا ہے،چونکہ
مساجد میں رفت وآمدانسانوںاورمو منوںکے دلوں کے درمیان روابط کا سبب بنتا ہے۔
''یااباذر!اسباغ الوضوء فی المکاره من الکفّارات وکثرة الاختلاف الی المساجد فذلکم الرباط''
''اے ابوذر! مشکلات میں (جیسے سردیوں میں ) ٹھیک طرح سے وضوکرنا کفارات میں سے ہے اور مسجدوں میں زیادہ جانا''رباط''ہے کہ آیت میں اس کاحکم ہواہے''
جب موسم سرد ہو تو وضو کرنا مشکل ہے ،اگر کوئی شخص اس حالت میں ہمت و شادابی کے ساتھ وضو کر نیکی کو شش کرے تو اس کا یہ وضوگناہوں کا کفارہ ہوتاہے ۔یہ سردموسم میں سرد پانی سے وضوکی فضیلت کے پیش نظر ہے،چنانچہ ایک اور روایت میں بھی آیا ہے :
''قال رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیه وآله وسلم ألاادلّکم علی شی یکفر اللّٰه به الخطا یا ویزید فی الحسنات ؟قیل:بلیٰ یا رسول اللّٰه قال اسباغ الوضوء علی المکاره وکثرة الخطا الی هذه المساجد وانتظار الصلاة بعدالصلاة'' (۳۱)
''رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فر مایا: کیاتم آمادہ ہو کہ میں تمہیں ایک ایسی چیز کی راہنمائی کروںجو گناہوں کے بخش دیئے جانے اور حسنات اورخو بیوںکی افزائش کا سبب ہو؟ عرض کی :جی ہاںیا رسو ل اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم ، فرمایا:مشکلات میں صحیح طریقہ سے وضو کرنامساجد میں بہت زیادہ پیدل جانا اور نماز کے بعددوسری نماز کاانتظار کرنا''
خدا کے محبوب ترین بندے:
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حدیث کو جاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں:
''یااباذر! یقول اللّٰه تبارک وتعالی:ان احب العباد الی المتحا بون من اجلی،المتعلقة قلوبهم بالمساجد والمستغفرون بالاسحار اولئک اذا اردت باهل الارض عقوبة ذکرتهم فصرفت العقوبة عنهم''
''اے ابوذر!خدائے متعال فرماتاہے :میرے نزدیک محبوب ترین بندے وہ لوگ ہیںجو میرے لئے ایک دوسرے سے محبت اور دوستی کر تے ہیں۔وہ جن کے دل مسجدوںسے وابستہ ہیںاور سحر کے وقت استغفار کرتے ہیں ۔یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر اہل زمیں پر کوئی عذاب نازل کرنا چاہتاہوں توان لوگوں کی وجہ سے اس عذاب کو روک دیتا ہوں''
جی ہاں،خدائے متعال اپنے محبوب ترین بندوں جن کے دل مسجدوں سے وابستہ ہیں اور مسجد میں جانیکی فرصت کے انتظارمیں ہوتے ہیں اور نصف شب کو اپنے پروردگارسے راز ونیاز کرتے ہیں،ان کی وجہ سے معاشرے سے بلائوںاور عذاب کواٹھا لیتا ہے۔اس کے علاوہ کہ وہ قیامت کے دن بلند مقامات اور بے شمارثواب حاصل کریں گے ،ان کے وجود کے آثار میں معاشرے سے عذاب کا دورہونابھی ہے ۔اس کے علاوہ معاشرے کے حوالے سے اس گروہ کے اور بھی بہت سے آثار ہیں کہ یہ سب آثار مسجد میں رفت وآمد اور خدائے متعال کی طرف تو جہ کے نتیجہ میں حاصل ہو تے ہیں۔
انسان کو مسجد سے انس ومحبت اور رفت وآمدکے نتیجہ میں جو فائدہ نصیب ہو تا ہے ،وہ صرف ثواب اخروی اور دوسری دنیا میں نعمت الہی تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ مسجد میں رفت وآمدکے طفیل میں اسی دنیامیں بھی انسان کے لئے اخلاقی ، علمی ،تربیتی،اجتماعی وسیاسی حتی فراوان مادی فوائدہیں ۔ امیرالمو منین علیہ السلام،مسجد میں رفت و آمدکے نتیجہ میں حاصل ہو نے والے بعض قابل قدر اور تعمیری آثار کے بارے میں فرماتے ہیں:
''من اختلف الی المساجد اصاب احدی الثمان:اخاً مستفاداً فی اللّٰه اوعلما مستطر فا اوآیة محکمةاو یسمع کلمة تدل علی هدی اورحمة اوکلمةترده عن ردی اویترک ذنبا خشیةاوحیائ'' (۳۲)
جو مسجد میں رفت وآمدکرتاہے (کم از کم) درج ذیل آٹھ امور میں سے ایک اسکے نصیب میں ہوتا ہے:
١۔مونین کے درمیان اخوت و برادریجس سے خدا کی راہ میں استفادہ کرے۔
٢۔ جدید علم ودانش تک رسائی۔
٣۔قرآن مجید کی آیات کا علم و ادراک۔
٤۔ ایک ایسی بات کو سننا جو اس کے لئے ہدایت کی رہنمائی کرے۔
٥۔ایک ایسی رحمت ،جس کا اسے انتظار تھا۔
٦۔ایک ایسی بات جو اسے گمراہی اور ہلاکت سے بچائے۔
٧مسجد میں آمدو رفت کی وجہ سے اس کے دل میں پیداہوئے خداکے خوف کے نتیجہ میں گناہ کو ترک کرنا۔
٨۔مسجد میں آشناہوئے اپنے مومن بھائیوں کی حیاء کی وجہ سے گناہ کو ترک کرنا۔
اس حدیث کے آخر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فر ماتے ہیں:
''یا اباذر!کل جلوس فی المسجد لغو الاثلاثة :قراء ة مصل اوذکر اللّٰه اوسائل عن علم''
''اے ابو ذر!تین صورتوں کے علاوہ مسجد میں بیٹھنا بے فائدہ ہے :یاحالت نماز میں قرائت قرآن میں مشغول ہو،یا خداکی یاد میں ذکر کہتا ہو،یا علم سیکھنے میں مشغول ہو''
مسجد میں رفت وآمد کی یہ سب تاکید یں،مسجدمیں حاضری دینے کے معنوی اورمادی آثارکو گننا اورمسجدمیں سانس لینے کے ثواب کا شمار کرنا اس لئے ہے کہ انسان مسجدکوخداسے رابطے اور معنویت حاصل کرنے کا مرکز قرار دیتا ہے اور اپنے معنوی تکامل و اور سعادت کو اس کے ذریعہ حاصل کرتا ہے ورنہ اگر آخرت سے مربوط کوئی کام نہ ہو تو ،ا سے مسجد میں انجام دینے سے پر ہیز کر ناچاہئے ۔اس لئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں انجام دینے والے شائستہ اور مثبت کاموںکو تین حصوں میں تقسیم فرماتے ہیںاور ان کے علاوہ کسی کام کو مسجد میں انجام دینے کو لغو جانتے ہیں:
الف۔ انسان نماز میں مشغول ہواور اس میں قرآن مجید پڑھے یا اس کے بعدقرآن مجیدپڑھنے میں مشغول ہو۔
ب۔خدائے متعال کے ذکرکو زبان پر جاری کرے یاقلبی توجہ خدا کی طرف مرکوز ہو ۔
ج۔مسجدمیں علوم معارف سیکھنے میں مشغول ہونا اور مسجد کو علم و آگاہی کی ترویج اور اس کی نشرو اشاعت کا مرکزقراردینا، کہ اس صورت میں تیرا کام بھی نتیجہ بخش وقیمتی ہو گا اور تیرے درجات میں اضافہ ہو گا اور یہ تمہاری ابدی خوش قسمتی کا سبب ہو گا۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدیث کے اس حصہ میں مساجد کی اہمیت ، اس میں رفت وآمدکر نیکی ضرورت ،اس میں عبادت کرنے والوںکی فضیلت اور مسجد سے مناسب استفادہ کرنے کے بارے میں جوکچھ فرمایا ہے اس کے پیش نظر مناسب ہے کہ مسجد، یعنی خداکے گھر کوزیادہ سے زیادہ اہمیت دیں اور کوشش کریں کہ مساجد کو آباد رکھیں اور ہمیں ڈرنا چاہئے کہ قیامت کے دن یہ مسجد ہماری بے اعتنائی کی وجہ سے شکایت نہ کرے ،چنانچہ امام جعفر صادق علیہ اسلام فرماتے ہیں:
''شکت المساجد الی اللّٰه الذین لا یشهد ونها من جیرانها فاوحی اللّٰه الیهاوعزتی وجلا لی لا قبلت لهم صلاةواحدة ولااظهرنّ لهم فی الناس عدالة ولانالتهم رحمتی ولا جاورونی فی جنتی'' (۳۳)
''مساجد نے اپنے ہمسایوں کے ایک گروہ کی خدا سے شکایت کی جو اس میں حاضر نہیں
ہوتے ہیں. خدا متعال نے ان مساجد کی طرف وحی کی: مجھے مرے عزت و جلال کی قسم ہے کہ ان کی ایک رکعت نماز بھی قبول نہیں کروں گا اور لوگوں میں ان میں کوئی عدالت آشکار نہیں کروں گا، انھیں میری رحمت نہیں ملے گی اور وہ بہشت میں میرے ہمسایہ اورنزدیک نہیں ہوں گے۔''
____________________
۱۔ آل عمران٢٠٠
۲۔بحارالانوار،ج٧٧ص٤٠٢
۳۔نہج البلاغہ(فیض الاسلام)خ٣،ص٥٢
۴۔اصول کافی،ج ٣،ص ١٣١
۵۔١بحارالانوار ج١٠،ص٩٩
۶۔المیزان ،ج١٦(طبع اسما عیلیان)ص١٣٣
۷۔نہج البلاغہ(فیض الاسلام)خ٢١٣،ص٧٠٣
۸۔بحار الانوار، ج ٨٠، ص ٢٣
۹۔نہج البلا غہ(فیض الاسلام مکتوب نمبر٤٥،نمبر١٥،ص٩٧٤
۱۰۔مجادلہ١٢٢
۱۱۔بحار الاانوار،ج٨٠،ص١٠
۱۲۔ بحارالانوار ، ج ٨٠، ص ١٣
۱۳۔بحار الانوار،ج٧،ص٢٤٩
۱۴۔وسائل الشیعہ ،ج ٣، ص ٤٧٨
۱۵۔ عروةالوثقی ،امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کے حاشیہ کے ساتھ ،ص ٢١١
۱۶۔رسالہ تو ضیح المسائل،مسئلہ٨٩٣
۱۷۔وسائل الشیعہ،ج٣ ص٥٤٥
۱۸۔وسائل الشیعہ،ج٣ ص٥٢٥
۱۹۔ وسائل الشیعہ، ج ٣،ص ٥٤٥
۲۰۔وسائل الشیعہ، ج ٣،ص ٥٣٦
۲۱۔وسائل الشیعہ ،ج١،ص٢٦٨
۲۲۔ وسائل الشیعہ،ج ٣ ،ص ٥٥٥
۲۳۔ وسائل الشیعہ ،ج ٥،ص ٣٧٢
۲۴۔مصباح الشریعہ(مرکزنشرکتاب،جیبی سائز)ص١٠،باب١٢
۲۵۔تحف العقول،باب مواعظ النبی وحکمہ،ص٥٢
۲۶۔ وسائل الشیعہ ، ج ٣، ص ٥٠٧
۲۷۔وسائل الشیعہ،ج٣ص٤٩٦
۲۸۔وسائل الشیعہ،ج٣ص٥١٥
۲۹ -وسائل الشیعہ ،ج١٢،ص٣٤٥
۳۰۔بحا رالانوار،ج٢،ص٥
۳۱۔وسائل الشیعہ،ج١،ص٢٦٧
۳۲-بحارالانوار،ج٨٣ص٣٥١
۳۳۔وسائل الشیعہ ،ج٣ص٤٧٩
پینتیسواں درس:
تقوی ، زہد اور پرہیزگاری کی منزلت
*تقوی کا مفہوم اور خوف سے اس کارابطہ
*تقوی کی اہمیت اور اس کو حاصل کرنے کے راستے
*مراتب تقوی پر ایک نظر
*آثار تقوی پر ایک نظر
*متقین کے حساب و کتاب کی خصوصیت اور چند دوسری خصوصیات
*پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بیان میں زہدو تقوی
تقوی، زہد اور پرہیزگاری کی منزلت
''یا اباذر؛کن بالتقوی اشد اهتماما منک بالعمل فانه لایقل عمل بالتقوی، وکیف یقل عمل یتقبل؟ یقول اللّٰه عزوجل:( انما یتقبل اللّٰه من المتقین ) (۱) یا اباذر؛ لایکون الرجل من المتقین حتی یحاسب نفسه اشد من محاسبة الشریک شریکه فیعلم من این مطعمه و من این مشربه و من این ملبسه؟ امن حل ذلک ام من حرام یا اباذر؛ من لم یبال من این اکتسب المال لم یبال اللّٰه عزوجل من این ادخله النار.
یا اباذر؛ من سره ان یکون اکرم الناس فلیتق اللّٰه عزوجل. یا اباذر؛ ان احبکم الی اللّٰه جل ثناؤه اکثرکم ذکرا له و اکرمکم عند اللّٰه اتقاکم له و انجاکم من عذاب اللّٰه اشدکم له خوفا. یا اباذر؛ ان المتقین الذین یتقون من الشی الذی لایتقی منه خوفا من الدخول فی الشبهة.
یا اباذر؛ من اطاع اللّٰه عزوجل فقد ذکر اللّٰه و ان قلت صلاته و صیامه و تلاوته للقرآن. یا اباذر؛ اصل الدین الورع و راسه الطاعة. یا اباذر؛ کن ورعا تکن اعبد الناس و خیر دینکم الورع.
یا اباذر؛ فضل العلم خیر من فضل العباده و اعلم انکم لو صلّیتم حتی تکونوا کالحنایا و صمتم حتی تکونوا کا لأوتار ما ینفعکم الا بورع. یا اباذر؛ اهل الورع والزهد فی الدنیا هم اولیاء اللّٰه حقا))
پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے کلام کے اس حصہ کا موضوع تقوی ہے۔ تقوی کے گوناگوں مواقع کے بارے میں اخلاق کی کتابوں میں فراواںبحثیں ہوئی ہیں۔اس سے پہلے بھی ہم نے اس موضوع پر بحث کی ہے۔اس میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے کلام کے بعض بنیادی مطالب کو بیان کریں گے جن کو تقوی کے سلسلہ میں اس کے مقدمہ کے طور پر بیان کرنا مناسب ہے۔
تقوی کا مفہوم او رخوف سے اس کا رابطہ:
لفظ ''تقوی'' مادہ ''وقایہ'' سے اور فعل ''اتقی یتقی'' کا اسم مصدر ہے اور مصدر ''اتقائ'' کا معنی اپنے آپ کو یا کسی دورسرے کو کسی خطرہ سے روکنا ہے۔ ''اتقائ'' کی تین اسم مصدر ہیں ان میں سے دوقرآن مجید میں استعمال ہوئے ہیں، یعنی ''تقوی'' اور ''تقاة'' اور اس کا تیسرا اسم مصدر '' تقیہ '' ہے۔ اور یہ تینوں لغت میں ایک ہی معنی میں ہیں(نہج البلاغہ میں کبھی ''تقیہ'' تقوی کی جگہ استعمال ہواہے)
''اتقائ'' باب افتعال کا مصدر ہے اور مادہ ''وقایہ'' سے لیا گیا ہے اور چونکہ کہا گیا کہ ''تقوی'' اتقاء کا اسم مصدر ہے کہ جو اصل میں ''وقوی'' تھا اور اس کے بعد اس کا ''فاء الفعل'' ''تا '' میں تبدیل ہوا، جیسے ''تراث'' اصل میں ''وراث'' تھا۔
پس یہ ''تقوی '' ہوا، جو لغت میں اپنے آپ کو خطرہ سے روکنے کے معنی میں ہے اور اس میں کوئی فرق نہیں ہے کہ وہ خطرہ کیا ہے۔ لیکن جب کلمہ''تقوی'' اخلاقی یا قرآنی مباحث میں استعمال ہوتاہے تو اس کا سے مراد وہ خطرہ ہے جس سے اپنے آپ کو روکنا چاہئے، یہاں پر ہر خطرہ نہیں ہے بلکہ وہ خطرہ ہے جو انسان کی سعادت و آخرت میں در پیش ہے۔ اگر چہ قرآن مجید میں ''اتقائ'' اپنے آپ کو اس خطرہ سے روکنے کے معنی میں استعمال ہواہے جسے دوسرے انسان کسی شخص کواس کی طرف متوجہ کرتے ہیں:
( ''لایتخذ المؤمنون الکافرین اولیاء من دون المومنین و من یفعل ذلک فلیس من اللّٰه فی شیٔ الا ان تتقوا منهم تقاة '' ) (آل عمران٢٨)
''خبر دار صاحبان ایمان، مومنین کوچھوڑ کر کفار کو اپنا ولی اور سرپرست نہ بنائیں کہ جو بھی ایسا کرے گا اس کا خدا سے کوئی تعلق نہ ہوگا مگر یہ کہ تمھیں کفار سے خوف ہوتو کوئی حرج بھی نہیں ہے...''
لیکن جب بات تقوائے الٰہی کی ہو یا آیات و روایات میں مطلق تقوی و متقین کے بارے میں بات ہوتی ہے تو اس سے مرادتقوائے الہی ہے ، او ر ایسے لوگوں سے گفتگو ہے جو دینی اور معنوی مسائل کے بارے میں خطرہ کا احساس کرتے ہیں، کیونکہ وہ اپنے دین کے بارے میں موجود ہ خطرہ سے خائف ہیں، کوشش کرتے ہیں کہ خود کو اس سے بچائیں ، پس ''اتقائ'' کی بنیاد خطرہ کے بارے میں احساس خوف ہے۔ احساس خطرہ و خوف کے بعد انسان ایسا کام کرتا ہے تا کہ اس خطرہ سے محفوظ رہے اور کم از کم اس خطرہ سے دور رہے۔ اس معنی و مفہوم کو پرہیزگاری کہتے ہیں (حقیقت میں پرہیزگاری تقوی الہی کی شرط ہے، کیونکہ گناہ او رخطرہ سے اپنے آپ کو بچانے کی شرط پرہیز اور اس خطرہ سے دوری اختیار کرنا ہے)
قرآن مجید میں بعض اوقات قیامت کا دن مطلق تقوی کے طور پر ذکر ہوا ہے کہ اس روز بُرے اعمال کے خطرات او رنتائج ظاہر ہوتے ہیں، چنانچہ خدائے متعال فرماتاہے:
( واتقوا یوما لاتجزی نفس عن نفس شیئا ) (بقرہ١٢٣)
''اور اس دن سے ڈرو جس دن کوئی کسی کا عوض اور بدلہ نہیں قرار دیا جائے گا۔''
اور کبھی گناہوں کی وجہ سے انسان کو سزا دینے والا متعلق تقوی کے طور پر ذکر ہواہے، مثال کے طور پر''واتقوالله '' (۲) کا معنی خداسے پرہیز کرنااور اس سے دوری اختیار کرنا نہیں ہے، بلکہ اس کامعنی یہ ہے کہ جو خطرہ عذاب الہی کی طرف سے تم پر متوجہ ہوتا ہے، اسی سے پرہیز کرو۔پس خدائے متعال سے خوف در اصل اس عذاب سے خوف ہے جس کا انسان کو اس کے برے اعمال کی وجہ سے سامنا کرناپڑتاہے۔
بہر حال تقوائے الٰہی کے معنی اس کے مبدأ کے پیش نظر خوف لیا گیا ہے او ر اس لحاظ سے خوفِ خدا بھی معنی کیا جاسکتا ہے۔ کبھی تقوی اس ملکہ کو بھی کہتے ہیں جو گناہ سے پرہیز او ردوری کی تکرار کے نتیجہ میں انسان کو حاصل ہوتاہے۔لہٰذا جوانسان ایک بار گناہ سے دوری اختیار کرتاہے اسے متقی نہیں کہتے ہیں، لیکن جب تر ک گناہ میں اس قدر ثابت قدم رہے کہ اس میں ترک گناہ کا ملکہ پیدا ہوجائے تو اسے متقی کہتے ہیں۔ لہٰذ ا نتیجہ یہ نکلا کہ کبھی مبدا فعل کو تقوی کہتے ہیں کہ جو خوف خدا ہے اور کبھی ملکہ نفسانی کو کہتے ہیں جو گناہ سے پرہیز کی تکرار کی نتیجہ میں انسان میں پیدا ہوتا ہے۔
حضرت علی علیہ السلام تقوی کو ایک روحانی و معنوی حالت کے معنی میں ذکر فرماتے ہیں جوانسان کو گناہ و انحراف سے روکتی ہے۔ اگر یہ وہیملکہ نفسانی ہے ۔تو خوف خدا کو اس کا ایک اثر تصور کرنا چاہئے :
''عباد اللّٰه ان تقوی اللّٰه حمت اولیاء اللّٰه محارمه والزمت قلوبهم مخافته حتی أسهرت لیالیهم و اظمات هواجرهم..'' (۲)
''خدا کے بندو! تقوائے الہی خداکے دوستوں کو فعل حرام انجام دینے سے روکتا ہے اور (عذاب کے) خوف و ترس کو ان کے دل میں قرار دیتا ہے۔ راتوں کو (عبادت کے لئے) بیدار رکھتا ہے، او رشدت کی گرمی کے دنوں (روزہ رکھنے کے لئے) انھیں پیا سارکھتا ہے۔''
ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں:
''ذمّتی بما اقول رهینة و انابه زعیم، ان من صرحت له العبر عما بین یدیه من المثلات حجزته التقوی من تقحّم الشبهات '' (۳)
''اپنی ذمہ داری کو اپنی بات کی ضمانت قرار دیتا ہوں اور اس طرح اپنی بات کے صحیح ہونے کی ضمانت دیتا ہوں۔ اگر انسان کے لئے گزشتہ عبرتیں آئندہ کا آئینہ قرار پائیں تو تقوی ، مشکوک کاموں میں پھنسنے سے روکتا ہے۔''
جی ہاں ، تقوی ایک ایسے بندے کاسب سے بڑا ، سرمایہ ہے کہ اس کے خطرات سے پر خوف زدہ زندگی میں اور بلاؤں و گناہوں کے پر تلاطم سمندر کی خطرناک لہروں میں اس کی مدد کرتاہے تا کہ وہ سعادت کی راہ کوتلاش کرے او راسے طے کرے کہ یہ راستہ تقوای الٰہی کے بغیر طے نہیں کیا جاسکتا ہے:
نیست جز تقوی در این رہ توشہ ای
نان و حلوا را بنہ در گوشہ ای
(اس راستہ میں تقوی کے علاوہ کوئی اور زاد راہ نہیں ہے۔ تم روٹی اور حلوا کو ایک گوشہ میں رکھو)
تقوی کی اہمیت اور اس کو حاصل کرنے کے راستے:
تقوی کی اہمیت اور اس پر تاکید کی علت اس سے معلوم ہوتی ہے کہ بنیادی طور پر دین، پیغمبروں کا مبعوث ہونا اور آسمانی کتابوں کا نازل ہونا صرف اس لئے تھا کہ بشر اپنی سعادت کی راہ کو حاصل کر لے اور سنجیدگی کے ساتھ اس راہ پر گامزن ہوجائے تا کہ خلقت کا اصلی مقصد و ہدف یعنی آخرت کی بے شمار اور لا متناہی رحمتوں سے سرفراز ہو جائے لہٰذا اس ہدف تک پہنچنے کے لئے جس قدر موثر اقدام کرے گا اتنی ہی اس کی زیادہ اہمیت ہوگی اور دوسرے الفاظ میں چونکہ نبوت او رالہی شریعتوں کی حقیقت بشر کو راہ راست کی ہدایت کرنا ہے، اس لئے آیات الہی اور جو کچھ اولیائے الہی کے ذریعہ لوگوں تک پہنچاہے، اس میں کوشش کی گئی ہے کہ لوگوں کی ایسی تربیت کی جائے کہ وہ ان احکام پر عمل کریں اور چونکہ انسان کے عمل کا سرچشمہ انسان کی نفسانی خواہش ہے، یعنی انسان کا اختیاری عمل اس کی خواہشات کاسرچشمہ ہے اور انسان کے ارادہ کی عمدہ بنیادیں خوف و امید میں پیوست ہوتی ہیں، پیغمبروں اوران کے جانشینوں نے اس راستہ سے استفادہ کیا ہے کہ ترس و امید کو انسان میں زندہ کریں اور انھیں ایک ایسی چیز کی طرف متوجہ کریں کہ جس میں انسان کی خلقت کا مقصد ہو۔
تقوی کے مفہوم اور اس کی اہمیت سے آگاہ ہونے کے بعد، یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ تقوی کے پیدا ہونے کی راہیں کونسی ہیں؟ اور ہم ذیل میں خلاصہ کے طور پر تقوی کے پیدا ہونے کی تین راہوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
١۔ مستقبل پر نظر: اس کے پیش نظر کہ تقوی انسان کے مستقبل کازادراہ ہے، اس لئے دور اندیشی اور عقلی تقاضے کے مطابق آئندہ کے لئے کوشش کرنے میں ،حب ذات مشتعل اور بیدار ہوتی ہے اور انسان کو مجبور کرتی ہے کہ اپنے آئندہ کے لئے تلاش کرے اور جواس کے بے نہایت مستقبل کے لئے مفید ہو اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرے، اس لئے قرآن مجید فرماتاہے:
(( یا ایهاالذین آمنوا اتقوا اللّٰه و لتنظر نفس ما قدمت لغد ) ...) (حشر١٨)
''ایمان والو؛ اللہ سے ڈور اور ہر شخص دیکھے کہ اس نے کل کے لئے کیا بھیجاہے۔''
٢۔ انسان کے اعمال و رفتار پر خدا کے علم و آگاہی کی توجہ : یہ راہ مذکورہ آیت کے ذیل میں بیان ہوئی ہے:
(...( واتقوااللّٰه ان اللّٰه خبیر بما تعملون )
''اوراللہ سے ڈرتے رہو کہ وہ یقینا تمھارے اعمال سے باخبر ہے''
یعنی خدائے متعال کی اس صفت کے پیش نظر کہ جو کچھ تم لوگ انجام دیتے وہ اس سے آگاہ ہے، تقوی کو اپنا لائحہ عمل بنا لو۔ یہ تربیت کی ایک اور روش ہے جسے خدائے متعال نے انسان کو مدد کرنے کے لئے انتخاب کیا ہے تا کہ وہ تقوی حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ چونکہ انسان خاص نفسیاتی خصوصیات کا مالک ہے، من جملہ ان میں یہ ہے کہ اگر وہ جانتا ہے کہ اس کے عمل پر اس کے علاوہ کوئی اور ناظر ہے اور جو کچھ وہ انجام دے رہاہے اسے وہ دیکھ ر ہا ہے اور اس کے برے بھلے سے آگاہ ہے، تو وہ ناشائستہ اعمال انجام دینے سے پرہیز کرتاہے ۔حقیقت میں خدائے متعال نے انسان کو ایسا خلق کیا ہے کہ کسی کے سامنے وہ، برا کام انجام دینے سے شرماتاہے۔ اس لئے اگر انسان اس موضوع پر غور وفکر کرے کہ وہ ہمیشہ خدا کے حضور میں ہے اور نہ صرف وہ اس کے ظاہری اعمال کا مشاہدہ کررہا ہے، بلکہ خدائے متعال اس تصور سے بھی واقف ہے جو اس کے دل میں پیدا ہوتے ہیں ، تو وہ حتی اپنے دل میں خطور کرنے والے آلودہ خیالات سے بھی شرماتاہے انسان کسی کے بارے میں جس قدر احترام و عظمت کا قائل ہو، اس کا دل چاہتا ہے کہ اس کے سامنے زیادہ پاک و صاف یعنی اپنی شخصیت کو اچھا جلوہ دے انسان کے اعمال سے مربوط خدا کے آگاہ ہونے کے بارے میں قرآن مجید مزید فرماتا ہے:
( اولا یعلمون ان اللّٰه یعلم ما یسرون و ما یعلنون ) (بقرہ٧٧)
''کیا تمہیں نہیں معلوم کہ خدا سب کچھ جانتا ہے، جس کایہ اظہار کررہے ہیں اور جس کی یہ پردہ پوشی کررہے ہیں؟''
٣۔ یہ جان لینا کہ تقوی دنیا کے لئے بھی فائدہ مندہے:
(...( و من یتق اللّٰه یجعل له مخرجا و یرزقه من حیث لا یحتسب ) ...)(طلاق ٢۔٣)
''...اور جو بھی اللہ سے ڈرتاہے اللہ اس کے لئے نجات کی راہ پیدا کرتاہے، اور اسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جس کا وہ خیال بھی نہیں ہوتاہے ۔''
حضرت علی علیہ السلام بھی فرماتے ہیں:
''واعلمواانه من یتق اللّٰه یجعل له مخرجامن الفتن ونورامن الظلم .''(۴)
''جان لو ، جو تقوی کو اپنی زندگی کا دستور العمل قرار دیتا ہے اور خدا سے ڈرتا ہے تو خدا تعالی اسے فتنوں اورتباہیوں سے بچانے اور تاریکیوں میں اسے روشنراستہ دکھاتا ہے۔''
پہلے مرحلہ میں کہا گیا: غور کرو کہ اپنے آنے والے کل کے لئے کیا اکٹھا کررہے ہو، اس راہ میں فرماتا ہے: تقوی کے ان فوائد کو دیکھو جوتمھاری اس دنیا کے لئے ہیں۔ تم لوگ خواہ نخواہ اپنی پوری زندگی میں فتنوں، مشکلات، شعبدہ بازیوں، تاریکیوں اور ابہامات سے دوچار ہوتے ہو، اگر تم چاہتے ہو کہ خدائے متعال تمہیں اسی زندگی میں مدد کرے اور تمہیں ان مشکلا ت اور پریشانیوں سے نجات دلائے تو تقوی کو اپنا دستور بنا لو۔
با تقوی انسان جہاں پر اپنی فکر سے کسی راستہ کا انتخاب کرنا چاہتا ہے، خدا وندمتعال اس کے لئے ایک نور ظاہر کرتاہے تا کہ وہ راستہ کو صحیح دیکھ سکے۔ اس لحاظ سے ہم کبھی دیکھتے ہیں کہ لوگوں کے لئے پریشان کن اور حیرت انگیز مسائل پیش آتے ہیں او ر ان مواقع پر قوی فکر اور غیر معمولی ہوش رکھنے والے انسا ن پریشانیوں اورمشکلات سے بچنے کا راستہ نہیں نکال پاتے، لیکن جو بہت زیادہ عقل و شعور نہیں رکھتے وہ بچاؤ کاراستہ نکال لیتے ہیں، یہ حقیقت میں خدا کی مدد ہے جو تقوی کے ذریعہ اپنے بعض بندوں کو خدائے متعال عنایت فرماتاہے۔
تقوی اختیار کرنے کی تشویق کی تمام راستہ کے ذکرنے کے بعد تقوی کے نتائج اور آثار کا ذکر
ضروریہے۔انسان اس وقت کسی کام کوانجام دینے یا کسی عزیز چیز کو ترک کرنے کے لئے آمادہ ہوتا ہے، جب وہ جانتا ہے اس کا نتیجہ اچھا ہوگا۔ وہ اس وقت ایک مشکل کام کو انجام دینے کے لئے حاضر ہوتا ہے جب وہ مطمئن ہو کہ اس کانتیجہ اچھا ہے۔ لہٰذااگر ہم یہ چاہتے ہوں کہ دوسرے لوگ بھی بلندو بالا مقامات تک پہنچ جائیں اور اخروی ومعنوی نقصان پہنچانے والی چیزوں سے پرہیز کریں، تو ہمیں ایسا کام کرنا چاہئے کہ ان میں ذوق و شوق پیدا ہو انسان کو گناہ کی لذت سے چشم پوشی کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی محرک کا ہونا ضروری ہے، رات کے آرام کو چھوڑنے اور عبادت میں مشغول ہو جانے کے لئے محرک ہونا چاہئے۔ یا جہاں پر انسان کے فریضہ کا تقاضا ہو کہ لوگ مجاذ جنگ پر جائیں اوراپنی جان کو خطرہ میں ڈالیں اور اسی طرح دوسرے فرائض کو عملی جامہ پہنا نے کے لئے، محرک کا ہونا ضروری ہے اور محرک پیدا کرنے کا بہترین راستہ یہ ہے کہ انسان کو منافع اور اس کے آثار خیر کی طرف متوجہ کریں جو اس کے عمل کا نتیجہ ہوتے ہیں، کیونکہ انسان کی فطرت ان آثار کی طالب ہوتی ہے۔
انسان، معرفت و ایما ن کے جس مرتبہ پر بھی فائز ہو، وہ خیر کا طالب ہوتا ہے اور اگرا س کا ایمان اور اس کی معرفت ضعیف ہے تو، کم از کم وہ دنیا کی خیر چاہتا ہے، تمام لوگ وسیع رزق کے طالب ہوتے ہیں، وہ بھی زیادہ محنت و کوشش کے بغیر ۔ اس لحاظ سے تقوی کے محرک کو پیدا کرنے کے لئے قرآن مجید اور اس حدیث میں ایک راستہ جو اختیار کیا گیا ہے وہ تقوی کے دنیوی منافع ہیں، کہ اگر کوئی شخص تقوی اختیار کرتا ہے توخدائے متعال اس کے سامنے سختیوں اور مشکلات سے نجات پانے کا راستہ قرار دیتا ہے ۔ بعض اوقات ممکن ہے انسان مشکلات اور پریشانیوں سے دوچار ہو جائے اور نجات کی کوئی راہ نہ ہواور خود بھی مشکلات کو حل کرنے کے لئے کوئی راستہ پیدا نہ کر سکے ، تو وہ اس حالت میں تلخیوں اور سختیوں کے با وجود زندگی کی مشکلات کو برداشت کرنے پر مجبور ہوتاہے۔ خدائے متعال اسے وعدہ دیتا ہے کہ اگر تقوی رکھتے ہو تو مشکلات اور سختیوں کے دوران تیرے لئے نجات کا ایک راستہ فراہم ہوگا۔یہ ایک بڑاوعدہ ہے جو خدائے متعال انسان کو دیتا ہے اور اسے تشویق کرتاہے کہ ایک ایسے راستہ کا انتخاب کرے جس کا ثمرہ و نتیجہ مشکلات اور سختیوں سے نجات ہو۔
ایران کے مسلمانوں کے لئے جنگ کے دوران بعض اوقات انتہائی مشکل اور دشوارگزار مرحلے پیش آتے تھے اور کوئی ان پریشانیوں اور مشکلات سے رہائی اور نجات کا راستہ نظر نہیں آتا تھا، لیکن چونکہ یہ انقلاب تقوی کی بنیاد پر معاشرے میں تقوائے الہی پھیلانے اور روح بندگی پیدا کرنے اور اللہ کی حاکمیت کو برقرار کرنے کے لئے انجام دیا گیا، اس لئے خدائے متعال مسلسل عنایتیں کار فرما رہیں او رہر موڑ پر نجات کی راہ خدا کی جانب سے الہام ہوتی رہی کہ جس کے نتیجہ میں لوگ مشکلات سے نجات پاتے تھے، اس کا نمونہ ٢٢ بہمن بمطابق (١٩٧٩ ع) کا دن ہے:
جب طاغوتی حکومت نے مارشل لا کا اعلان کیا اور لوگوں کو گھروں سے باہر نکلے کی سختی سے ممانعت کی تا کہ اپنی شیطانی منصوبوں کو عملی جامہ پہنا سکیں، تو امام خمینی نے اپنی دور اندیشی اور الٰہی مدد سے تمام لوگوں کو سڑکوں پر آنے کا حکم دے دیا اور لوگ مارشل لا کی پروا کئے بغیر سڑکوں پر نکل آئے ، جس کے نتیجہ میں دشمن کی تمام سازشیں طشت از بام ہوگئیں اور انقلاب اسلامی کامیابی سے ہم کنار ہوگیا۔
اس طرح خدائے متعال اہل تقوی کوایسی راہ سے رزق پہنچاتاہے جس کا تصور نہیں کیا جا سکتا، ہم سب اپنے لئے رزق حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیںاور اسے فراہم کرنے کے لئے مکلف ہیں۔ہرکوئی اپنی جگہ پر محاسبہ کرتاہے کہ کونسا کام انجام دے اور کونسا راستہ اختیار کرے تا کہ بیشتر نفع کمائے اور اس طرح بیشتر رزق حاصل کرے آخرکار عمومی محاسبات اور زندگی کی طبیعی راہوں سے وہ ایک راہ کا انتخاب کرتاہے: یا کھیتی باڑی، یا صنعتی کام یا تجارت۔ قرائن کی بنیاد پر اور اپنے محاسبات کے مطابق آمدنی کی مقدار اور نفع کا اندازہ لگاتاہے، لیکن خدائے متعال نے اہل تقوی کے لئے ضمانت دی ہے کہ ان کو حساب و کتاب کے بغیر رزق دے گا من جملہ جو خدا کی خوشنودی کے لئے فریضہ انجام دینے کی غرض سے علم حاصل کرتاہے۔ جیسا کہ بعض روایتوں میں آیا ہے۔ خدائے متعال اسے ایک ایسی جگہ سے کہ جس کا وہ تصور بھی نہیں کرتا ہے رزق پہنچاتاہے اس سلسلہ میں بہت سے نمونے موجود ہیں او رہم سب نے اپنی زندگی میں کم و بیش اس کا تجربہ کیا ہے لیکن اگر کسی نے دیکھا کہ جس طرح اسے رزق ملنا چاہئے تھا نہ ملا تو اسے دیکھنا چاہئے کہ خطا کہاں ہوئی ہے۔ اس لئے خدا کے وعدہ کے مطابق اہل تقوی کا رزق عمومی محاسبات اور متوقع راستوں سے خارج ہے۔
اگر خدائے متعال ہمیں تقوی حاصل کرنے کی دعوت دیتا ہے، تو وہ اس لئے ہے کہ دنیا و آخرت میں اس کے اچھے نتیجہ اور بڑے مرتبہ کو حاصل کرسکیں۔ بہشت اور اخروی درجات نیز معنوی کمال حاصل کریںاور ہمارے دنیوی زندگی سلامتی سے گزرے ورنہ خدائے متعال ہمارے تقوی سے استفادہ نہیں کرتاہے:
( لن ینال اللّٰه لحومها ولادما ؤها و لکن یناله التقوی منکم ) ...)(حج٣٧)
''خدا تک ان جانوروں کا نہ گوشت جانے والا ہے اور نہ خون ، اس کی بارگاہ میں صرف تمھارا تقوی جاتاہے''
جوہمیں خدا سے ملاتاہے، وہ تقوی ہے، یہی تقوی کمال و بلندی کا سبب ہے، چونکہ خدائے متعال چاہتاہے کہ ہم کمال تک پہنچ جائیں، اس لئے تقوی کے کچھ دنیوی نتائج کو بیان کرکے ہمیں تشویق کرتاہے کہ ہم اس کو حاصل کرنے کی جستجو کریں تا کہ اس کے نتیجہ میں اخروی منافع بھی حاصل کرسکیں۔حقیقت میں اخروی منافعجیسا کہ ہم خیال کرتے ہیں اودھار نہیں ہیں اور ان کا محقق ہونا نزدیک اور یقینی ہے لیکن ہم درک نہیں کرتے۔
مراتب تقوی پر ایک نظر:
اس کے پیش نظر کہ تمام معنوی کمالات کے مراتب ہیں اور تقوی بھی چونکہ بلند ترین معنوی کمالات میں سے ہے، اس لئے اس کے بھی مراتب ہیں۔مناسب ہے یہاں پر اس کے مراتب کی طرف ایک اشارہ کریں: علمائے اخلاق نے تقوی کے لئے ایک زاویہ سے تین مراتب ذکر کئے ہیں:
١۔ صالح اور شائستہ اعمال انجام دے کر اور صحیح عقائد رکھتے ہوئے، نفس کو جہنم کے عذاب اور اس میں داخل ہونے سے بچاناکیونکہ تقوی کے معنی نفس کا تحفظ اور اپنے آپ کو خدا کی مخالفت سے روکنا ہے، بلکہ صرف گناہ سے پرہیز اور اس سے دوری اختیار کرنے کے معنی میں نہیں ہے۔ اس لحاظ سے تقوی عقائد سے بھی مربوط ہے اور غیر عقائد سے بھی ،عقائد میں تقوی ، یعنی انسان اپنے اعتقادی اصول کے بارے میں غور کرے اورکوشش کرے کہ ان سے منحرف نہ ہو جائے اور اپنے صحیح او رراسخ اعتقاد کے سلسلہ میں اپنی رفتار و گفتار حتی اپنی سوچ کو بھی جہت دے ۔ انسان حقیقی معنوں میں اپنے خدا اور اصلی معبود کا معتقد ہو جائے اور یقین پیداکرے کہ دوسرے تمام خیالی خدا اور معبود باطل ہیں۔ صحیح معنوںمیں معتقد ہوجائے کہ اس معبود کی تمام مخلوق حقیقت ہیںاور مخلوق کو اپنے معبود کا مطیع و فرمانبردار ہونا چاہئے، اس کے سامنے اپنی ذلت کی پیشانی زمین پر رکھے اور اس سے روگردانی نہ کرے۔
خدائے متعال کے بارے میں تقوی کے رعایت کے بعد، پیغمبروں اور ان کے جانشینوں کے تقوی کی بھی رعایت کرے۔ ان کے احکام کو دل و جان سے قبول کرے.
٢۔ تقوی کا دوسرا مرتبہ یہ ہے کہ گناہ کو ترک کرنے کے علاوہ مشتبہ چیزوں اور مکروہات سے بھی پرہیز کرے۔
٣۔ تقوی کا تیسرا مرتبہ یہ ہے کہ انسان اپنے اعضاو جوارح کو محرمات ، مشتبہات اور مکروہات سے بچانے کے علاوہ اپنے دل کی بھی خدا کی مرضی کے مطابق حفاظت کرے اورگناہ ا ور بُرے کام کے تصور تک کو دل میں راستہ نہ دے اور کوشش کرے کہ صرف خدائے متعال اور اس کی مرضی کے بارے میں فکر کرے۔
فطری بات ہے کہ انسان جس قدر بھی عبادت کرے ، لیکن گناہ سے پرہیز نہ کرے تو وہ عبادت سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا ہے۔ پس ہمیں اپنی عبادتوں اور اعمال سے بہرہ مند ہونے کے لئے ، سب سے پہلے ان کے حدود کی اچھی طرح حفاظت کرنی چاہئے تا کہ خدا کی مرضی کے خلاف کوئی کام ہم سے سرزد نہ ہو ۔روایت میں آیا ہے:
''من تورع عن محارم اللّٰه فهو من اورع الناس'' (۵)
''جو شخص محرمات سے پرہیز کرے وہ پرہیز گارترین انسان ہے۔''
آثار تقوی پر ایک نظر:
ایک او رمطلب، جس پر بحث کرنامناسب ہے، آثار تقوی کو بیان کرنا ہے، ہم یہاں پر ان کے بعض آثار کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
١۔ حقائق کو درک کرنے میں تقوی کے اثرات:
( ''یا أیهاالذین آمنوا ان تتقوااللّٰه یجعل لکم فرقاناً'' ) (فرقان ٢٩)
''ایمان والو! اگر تم تقوائے الٰہی اختیار کرو گے تو وہ تمھیں حق و باطل میں فرق کرنے کی صلاحیت عطا کرے گا''
عقل کی قوت جو حقائق کو پہچاننے کا سبب ہوتی ہے، انسان کے لاابالی پن سے پرہیز اور رفتار کے حدود کی رعایت کرنے کی صورت میں ، زیادہ فعال ہوتی ہے، کیونکہ لاابالی اور بے راہ روی عقل کی صحیح فعالیت کے لئے مانع ہے۔ ماہرانہ صورت میں ، انسان کی لاابالی طبیعت اس کی حیوانی پہلوؤںسے مربوط ہے، خواہ خوراک میں ہویا جنسی مسائل میں اور خواہ اس کی قوت غضبیہ سے مربوط ہو۔ اب اگر انسان نے ان پہلوؤںمیں اپنے لئے کسی قیود کی رعایت نہ کی، اپنے حیوانی زاویہ کو تقویت بخشی، تو جس کا ہم و غم اس کی غذا ہو، وہ اس گوسفند کے مانند ہے کہ جس کا ہم و غم گھاس کھانا ہوتاہے۔ یقیناً ایسا انسان اپنے انسانی پہلوؤں کو تقویت نہیں بخش سکتا ہے، اور عقل ان انسانی توانائیوں میں سے ہے جو مذکورہ صورت میں یا ضعیف ہوتی ہے یا ختم ہوجاتی ہے۔ اسی طرح جس کی توجہ جنسی شہوات کو تسکین دینا ہو تو اس کی فکر و سرگرمی شہوت کے محور کے گرد چکر لگاتی ہے اور اس کی مثال اس سور کی سی ہے جو صبح سے شام تک اپنی شہوت کے پیچھے رہتی ہے۔ایسا انسان ایسے ماحول کی تلاش میں رہتاہے کہ جو اس کے غریزہ کے ما تحت ہوں ایسی آواز یں سنتا ہے یا ایسی باتیں کہتا ہے جواس کی خواہش اور غریزہ کے تابع ہوتی ہیں، ایسی کتابوں کا مطالعہ کرتاہے جوجنسی مسائل سے مربوط ہوتی ہیں۔یقینا ایسے انسان سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی ہے کہ وہ معارف الٰہی کے بارے میں فکر کرے گا اور، حقائق کو درک کرے گا اور حق و باطل کو تشخیص دے گا۔ اس قسم کا انسان درندوں کے مانند ہے، اپنی قوت غضبی کو تقویت بخشنے کی فکر میں ہوتاہے ہر وقت غلبہ پانے او ردوسروں پر مسلّط ہوجانے کی فکر میں رہتاہے۔ اس بناء پر ایسے انسان کی فکر کا محور جبلّت اور تسلّط جمانا ہوتا ہے۔
تقوی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی حیوانی قوتوں پر کنٹرول کرے اور اس صورت میں عقل کی قوت ہمارے وجود پر حاکم ہوگی۔ اب اگر ''فرقان'' سے مرادعقل ہے۔ چونکہ عقل حق و باطل کے درمیان تمیز دیتی ہے۔ تو ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ حیوانی قوتوں کو کنٹرول کرکے اور عقل کی حاکمیت سے تمام دیگر قوتوں کو تسخیر کرکے فرقان کی منزل تک پہنچ گئے ہیں۔
فرقان کے بارے میں ایک اور تفسیر کو بھی مد نظر رکھا گیا ہے ، کہ فرقان عقل سے بالاتر ایک نور ہے، کیونکہ عقل تمام انسانوں میں کم و زیاد موجود ہوتی ہے۔ پس خدا او رخوف الہی کو پہچاننے سے انسان اپنی زندگی میں کچھ حدود کی رعایت کرتاہے اور جو تقوی اس کے وجود میں پیدا ہوتاہے، اس سے یہ توانائی پیدا ہوتی ہے کہ خدائے متعال اسے فرقان کا نور عطاکرے کہ جو قوت عاقلہ کی تائید کرنے والی ہے۔
٢۔ بصیرت اور روشن فکری میں تقوی کا اثر: بہت سی آیات و روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ تقوائے الٰہی کے قیمتی آثار میں سے بصیرت او رروشن فکری کو جلا دیناہے، چنانچہ خدائے متعال فرماتاہے:
(...( و اتقوااللّٰه و یعلمکم اللّٰه ) ..) (بقرہ ٢٨٢)
''تقویٰ الٰہی اختیار کرو اور خدا تمھیں تعلیم دے گا۔''
یہ آیہ مبارکہ اس نکتہ کی تاکید کرتی ہے کہ تقوی خدا کی طرف سے انسان کے لئے علم و آگاہی حاصل کرنے میں شائستہ اثر رکھتا ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک روایت میں فرمایا ہے:
''من اخلص لله اربعین یوماًفجّر اللّٰه ینابیع الحکمة من قلبه علی لسانه'' (۶)
''جو شخص چالیس دنوں تک خود کو خدا کے لئے خالص قرار دے تو دل سے حکمت کے چشمے
اس کی زبان پر جاری ہوں گے۔''
حقیقت میں تقوی انسان کے دل میں معرفت حق پر لگے ہوئے زنگ کوصاف کرتا ہے اور انسان کے دل سے شیطان کے حجاب یعنی وسوسوں کو دور کرتا ہے، تب انسان حقائق کو صاف اور آشکار دیکھ سکتا ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
''لولا انّ الشیاطین یحومون حول قلوب بنی آدم لنظروا الی ملکوت السماوات '' (۷)
''اگر فرزندان آدم کے دلوں کے اطراف میں شیاطین نہ ہوتے، تو وہ آسمانوں کے ملکوت کا مشاہدہ کرتے!''
ہمارے دینی آثار میں اس قسم کے بیانات بہت زیادہ ہیں جواس امر کی حکایت کرتے ہیں کہ تقوی اور گناہ سے پا ک ہونا، روح کی بصیرت اور روشن بینی کی راہ میں مؤثر ہے اور بالواسطہ ہمیں متنبہ کرتا ہے کہ تقوی کی باگ ڈور کوہاتھ سے چھوڑنا، روح کے تاریک ہونے، دل کے سیاہ ہونے اور نور بصیرت کے بجھنے کا سبب ہے۔
٣۔ تقوی کے آثار میں ، خدا کی محبت کو حاصل کرنا بھی شامل ہے:
( بلی من اوفی بعهده واتقی فان اللّٰه یحب المتقین ) )(آل عمران ٧٦)
''بیشک جو اپنے عہد کو پورا کرتا ہے اورتقوی اختیار کرتا ہے تو خدا متقین کو دوست رکھتا ہے۔''
واضح ہے کہ اگر خدائے متعال کسی سے محبت کرتاہے، تو کون سے ثمرات اورمنافع اسے حاصل ہوتے ہیں۔ جب انسان کسی سے محبت کرتاہے، تو متواتر اس کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتاہے اور اس میں کوتاہی نہیں کرتاہے اور اس بات کی بھی سعی کرتا ہے تا کہ اس کے مطالبات کو پورا کرے اور جو کام بھی ممکن ہوتا ہے اس کے لئے انجام دیتاہے۔ اب خدائے متعال جو ہر چیز پر قادر ہے اور تمام کمالات کا خالق و مالک ہے اگر کسی شخص کو دوست رکھتا ہے تو معلوم ہے اس کے لئے کیا کرے گا۔ ممکن ہے ہم کسی سے محبت کرتے ہوںاور اس کے لئے کوئی کام انجام دینا چاہیں لیکن وسائل و امکانات کی عدم فراہمی کی وجہ سے شائستہ ظہور پر انجام دینے سے عاجر ہوں ۔ لیکن خدائے متعال ہر چیز پر قادر ہے اور تمام چیزیں اس کی
قدرت اور مشیت کے تحت ہیں اوروہ جو کام چاہئے اپنے دوست کے لئے انجام دے سکتا ہے۔
٤۔خوف و رنج کا دور ہونا۔
چنانچہ خدائے متعال فرماتاہے:
(...( فمن اتقی و اصلح فلا خوف علیهم و لاهم یحزنون ) (اعراف ٣٥)
''جو بھی تقوی اختیار کرے گا اور اصلاح کرے گا اس کے لئے نہ کوئی خوف ہے اور نہ رنجیدہ ہوگا۔''
٥۔ غیبی امداد حاصل کرنا:
اور متقی کے لئے امداد غیبی کے بارے میں فرماتاہے:
( بلی ان تصبروا و تتقوا و یأتوکم من فورهم هذا یمددکم ربکم بخمسة ء الٰف من الملائکة مسومین ) (آل عمران ١٢٥)
''یقینا اگر تم صبر کروگے اور تقوی اختیار کروگے او ردشمن فی الفور تم تک آجائے تو خدا پانچ ہزار فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا جن پر بہادری کے نشان لگے ہوں گے''
ایک حدیث میں ہے:
''ان اللّٰه تبارک و تعالی ایّد المؤمن بروح منه یحضره فی کل وقت یحسن فیه و یتقی و یغیب عنه فی کل وقت یذنب فیه ویعتدی.. ''(۸)
بیشک خدائے متعال مومن کی اپنی روح کے ذریعہ تائید کرتاہے اور جس وقت بھی وہ احسان اور تقوی اختیار کرے گا تو وہ روح اس کی تائید کے لئے اس کے پاس حاضر ہوتی ہے، لیکن جس وقت وہ گناہ اور ظلم کرتا ہے ، وہ روح اس سے دور ہو جاتی ہے.
٦۔ عظمت اور قرب الہی کا حاصل ہونا:
انسان کا قرب الہی اور و کرامت سے سرفراز ہونے کے سلسلہ کرنے میں تقوی کا کیا نقش ہے اس بارے میں قرآن مجید فرماتا ہے:
( ان اکرمکم عنداللّٰه اتقیکم ) ) (حجرات/١٣)
''بیشک تم میں سے خدا کے نزدیک زیادہ محترم وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔''
٧۔مشکلات او رپریشانیوں سے رہائی۔
مشکلات او رپریشانیوں سے رہائی کے بار ے میں تقوی کے اثرات کے موضوع پر اس سے پہلے بحث ہوئی اور سورہ طلاق آیت نمبر ١٢ کی طرف اشارہ کیا گیا ۔یہاں پر ہم ایک دوسری آیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو باتقوی معاشرے کے بارے میں ہے اور وہ سورہ اعراف کی آیت نمبر ٩٦ ہے،کہ جس میں فرماتاہے :
''و لوان اهل القری آمنوا واتقوا لفتحنا علیهم برکٰت من السماء و الارض ۔''
''اور اگر اہل قریہ ایمان لے آتے اور تقوی اختیار کرلیتے تو ہم ان کے لئے زمین اورآسمان سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے''
٨۔ اعمال کا قبول ہونا۔
انسان کے اعمال کے قبول ہونے میں تقوی کا اثر اوراس کے نقش کے بارے میں خدائے متعال فرماتاہے:
( انما یتقبل اللّٰه من المتقین ) (مائدہ /٢٧)
''خدائے متعال صرف صاحبان تقوی کے اعمال کو قبول کرتاہے۔''
خدائے متعال اس آیت میں ہمیں اس نکتہ کی طرف متوجہ کرتاہے کہ اگر ہم چاہیں کہ ہمارے اعمال قبول ہوں تو ہمیں تقوی اختیار کرناچاہئے۔ البتہ اگر تکالیف اور واجبات ان کے ظاہر ی شرائط کے ساتھ انجام پائیں اور صحیح ہوں ،تو ہم سے تکلیف ساقط ہوجاتی ہے۔مثلا اگر ہم صبح کی نماز کو سستی اور کاہلی کی وجہ سے صبح ہونے سے پہلے عجلت کی حالت میں پڑھ لیں، تو یقینا ہم سے تکلیف ساقط ہوجاتی ہے لیکن قبول ہونے کے مرحلہ اس سے جدا ہے اور قبول ہونے کا مرحلہ اس سے برتر ہے اور اس کے خاص شرائط ہیں، من جملہ ان شرائط میں سے ایکعمل کا تقوی کے ساتھ ہوناہے۔ پس وہ اثر جس کا سبب انسان کا عمل خداکے پاس بلند مرتبہ پر قرار پاتا ہے، یعنی عمل کی قبولیت ، اس وقت انجام پاتی ہے جب عمل تقوی اور خدا کی نافرمانی سے پرہیز کے ساتھ ہو۔
''یا اباذر؛ کن بالتقوی اشد اهتماما منک بالعمل فانه لایقل عمل بالتقوی، و کیف یقل عمل یتقبل؟ یقول اللّٰه عزوجل :( انما یتقبل اللّٰه من المتقین )
''اے ابوذر! عمل سے زیادہ تقوی کے لئے اہتمام کرنا. کیونکہ تقوی کے ساتھ عمل کم نہیں ہے، کس طرح وہ عمل کم تصورکیا جائے گا جو درگاہ الہی میں قبول ہوچکا ہو؟ خدائے متعال فرماتاہے: پروردگار صرف صاحبان تقوی کے عمل کو قبول کرتاہے۔''
لوگ ، خواہ دنیا سے مربوط ہوںیا آخرت سے ، عزم وارادہ کے لحاظ سے یکساں نہیں ہیںاور ممکن ہے ان کے درمیان کافی فرق ہو،معاشی زندگی کے بارے میں بعض لوگوں کے عزم ارادے کمزورہیں اور صبح سے شام تک دال روٹی کی امید میں محنت کرتے ہیں، پسینے پسینے ہوتے ہیں اور اسی پرقناعت کرتے ہیں۔اس لئے نہیں کہ اس گروہ نے زہد کی راہ کو اپنا یا ہے بلکہ ان کے توقعات کم ہیں اور ان کا عزم و ارادہ کم ہے۔ بعض لوگوں کا عزم وارادہ اس سے زیادہ ہوتا ہے اور مختصر پر مطمئن نہیں ہوتے اور کوشش کرتے ہیں کہ اس دنیا میں زیادہ سے زیادہ منافع کمائیں، محدود اور کم چیزیں انھیں مطمئن نہیں کرتی ہیں۔لیکن بعض لوگوں کے عزم و ارادے اس گروہ سے بھی بالاتر ہیں اور وہ مادی و محسوس منافع اور خوراک و شکم کواہمیت نہیں دیتے ہیں۔ ان کے لئے اجتماعی حیثیت اور عزت و عظمت حاصل کرنا اہم ہوتا ہے۔اگر وہ کسی کام کا انتخاب کرتے ہیں تو وہ اس لئے نہیں کہ اس کے ذریعہ ایک بڑی رقم انھیں ملنے والی ہو بلکہ وہ کام ان کی شان و حیثیت کے مطابق ہے اور ان کی عزت و شرافت کا باعث ہے اس لئے اسے انتخاب کرتے رہیں غیر شرافت مندانہ فعل چاہے جتنی دولت و نفع کا باعث ہو اسے ہاتھ نہیں لگاتے با عزت و عظمت نہ ہوتواس کے پیچھے نہیں پڑتے۔ اس گروہ کے عزم وارادے بلند ہیں، وہ عزت نفس کے مالک ہوتے ہیں اور ان کے پاس عزت کی قدر و منزلت ہوتی ہے۔
اسی طرح آخرت کے سلسلہ میں بھی مومنوں کے عزم و ارادے میں فرق ہوتاہے: بعض لوگوں کے عزم و ارادے اسی حد تک ہوتے ہیں کہ کوئی ایساکام کریں تا کہ جہنم میں نہ جائیں اور اس کی آگ سے نجات پائیں اور وہ اسی پر قناعت کرتے ہیں۔ لیکن بعض لوگ اس پر مطمئن نہیں ہوتے اور وہ بہشت کے بلند مراتب حاصل کرنے کی فکر میں بھی ہوتے ہیں ایک او رگروہ کے لوگ ایسے ہیں کہ جنہوں نے اپنے عزم و ارادے کو بلند تر کردیا ہے اور وہ جہنم و بہشت کو نہیں دیکھتے بلکہ اس کوشش میں ہوتے ہیں کہ خدا کے نزدیک عزیز ہوجائیں او راس کے قرب میں پہنچ جائیں۔ جی ہاں! جنہوں نے خدائے متعال کو پہچاناہے اور خدا کے نزدیک عزت کی بلند قدر و قیمت سے آگاہ ہیں، اگر بہشت کی نعمتیں بھی نہ ہوں، تو پھر بھی وہ خدا کے نزدیک پانے والی عظمت سے کافی خوش اور راضی ہو کر اس پرناز کرتے ہیں۔ان کے لئے اس میں اہمیت ہے کہ خدا ان کی عزت کرے اور انھیں عظمت بخشے اس لئے وہ بہشت کی نعمتوں کی طرف کوئی اعتنا نہیں کرتے ہیں۔ خدائے متعال قرآن مجید میں فرماتاہے:
(...( ان اکرمکم عند اللّٰه اتقیکم ) ...) (حجرات/١٣)
''بیشک تم میں سے خدا کے نزدیک زیادہ محترم و ہ ہے جو زیادہ پرہیز گارہے۔''
اللہ تعالی یہاںیہ نہیں فرماتاہے کہ جوزیادہ باتقوی ہے اسے میں بہشت او ربہشت کی نعمتیں عطا کروں گایا اسے جہنم کی آگ سے نجات دلاؤنگا، بلکہ فرماتاہے کہ وہ خدا کی کرامت حاصل کرتاہے اور خدا کے نزدیک محترم قرار پاتا، بہشت اور اس کے ہمیشہ باقی رہنے والے محل اور جاویدانی نعمتوں سے مستفید ہونے سے بالاتر ہے۔ اب جو شخص معرفت کے اس مقام تک پہنچا ہو تو مزید تقوی کے لئے اس کی کیسے تشویق کی جائے؟ کیا اسے یہ کہیں کہ: اپنے تقوی میں اضافہ کرو تا کہ تمھاری دنیا کی زندگی بہتر ہو؟ و ہ تو ان سب کو پس پشت ڈاکر عالی ترین مرحلہ پر فائز ہوچکا ہے. یا اس سے یہ کہیں: اپنے تقوی میں اضافہ کرو تا کہ بہشت کے محلوں اور حو رالعین سے بہرہ مند ہوجاؤ اور جہنم سے نجات پاؤ فطری بات ہے کہ ان میں سے کوئی چیز اسے بہکانہیں سکتی اور اس میں محرک پیدا نہیں کرسکتی ہے، کیونکہ اس نے ان چیزوں سے منہ موڑ لیاہے. وہ کمال اور بلندی کے ایک ایسے مرحلہ پر پہنچاہے اور اس کا عزم و ارادہ اس حد تک پہنچاہے کہ شوق لقاء اللہ اور محبت و عظمت الہی کے مقام کو حاصل کرنے کے علاوہ کسی اور چیزکی فکر نہیں کرتاہے۔ جو چیز ایسے افراد کے شوق میں اضافہ کرسکتی ہے وہ محبوب کا دیدار اور اس کی رضایت ہے۔
توجہ کرنی چاہئے کہ قرآن مجید نے تربیت کے لئے ایک ہی قسم کے شیوہ کا انتخاب نہیں کیا ہے، بلکہ ہر سطح کے افراد کے لئے خاص شیوہ کاانتخاب کیا ہے۔ اس لحاظ سے قرآن مجید میں تربیت کے متعدد طریقے ہیں اور اس کے یہ طریقے صرف اولیائے الہی اور مقامات عالی تک پہنچنے والے افراد سے مخصوص نہیں ہیں، کیونکہ قرآن مجید تمام انسانوں کے کمال اور اصلاحکے لئے کتاب ہدایت اور دعوت عمل ہے۔ اس لئے حتی کم عزم اور کم حوصلہ رکھنے والوں کے لئے بھی ان کی جزا اور نعمتیں ذکر کی ہیں، جو تکامل وترقی کی راہ میں ہیں، تا کہ وہ بھی بہرہ مندی سے محروم نہ ہو رہیں۔ انھیں مادی نعمتوں ، بہشت اور جہنم سے نجات کا وعدہ دیاگیا ہے. لیکن کرامت الہی ، رضوان حق تک پہنچنے اور اس کے نزدیک محبوب ہونے کا وعدہ ان سے مخصوص ہے جو معرفت کے عالی درجات تک پہنچے ہیں۔
متقین کے حساب و کتاب کی خصوصیت او ران کی چند دوسری خصوصیات:
ایک اور موضوع جس پر بحث کرنامناسب ہے وہ'' متقین کے صفات'' ہیں۔ تقوی کی قدر و قیمت اور بلند مقام سے آگاہ ہونے کے بعد ہمیں متقین کی نشانیوں او رصفات کو جانناچاہئے تا کہ تقوی کو حاصل کرنے کے طریقہ سے آگاہ ہوجائیں۔ اس سلسلہ میں پیغمبر اسلام صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
''یا اباذر؛ لایکون الرجل من المتقین حتی یحاسب نفسه اشد من محاسبة الشریک شریکه. فیعلم من این مطعمه و من این مشربه و من این ملبسه؟ امن حل ذلک ام من حرام''
''اے ابوذر! انسان تب تک پرہیز گاروں میں شمارنہیں ہوتا جب تک کہ وہ اپنے شریک کا محاسبہ کرنے سے سخت تر خود کو محاسبہ کی منزل میں قرار نہ دے۔ تاکہ جان لے اس کی خوراک ، پینے کی چیزوں او رپہننے کا لباس کہاں سے آیا ہے، حلال سے ہے یا حرام سے ہے.''
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حساب و کتاب کی خصوصیات کو متقین کی جملہ صفات میں شمار کرتے ہیں اور فرماتے ہیں: باتقوی وہ ہے جولاپروا ہ نہ ہو او راپنے آپ کو تحت محاسبہ قرار دے۔ اگر کسی خورا ک کو حاصلکیاہے تو دیکھ لے کہ اسے حلال راہ سے حاصل کیا ہے یاحرام راہ سے، اگر لباس فراہم ہوا ہے تو دیکھ لے کہ وہ اس کے پیسے کہاں سے لایا ہے۔ اسی طرح گھر کے بارے میں کہ اس کے پیسے کہاں سے فراہم ہوئے ہیں۔ اسی طرح اس کی گھر بنانے کا محرک یہ ہے کہ خدا کی عبادت و بندگی بہتر طور پر انجام دے سکے، خاندان کے لئے بیشتر آرام و آسائش فراہم کرے اور بہتر عبادت کر سکے اور اپنے فرزندوں کی تربیت کر سکے یا اس کا گھر بنانے کا محرک دوسروں پر فخر و مباہات کرنااور دوسروں کو نیچا دکھاناہے۔
جب و ہ کسی راہ میں پیسے خرچ کرناچاہتاہے، دیکھناچاہئے خدا اس پر راضی ہے اور اس سے واجب تر کوئی کام تو نہیں ہے کہ جس کے لئے یہ پیسے خرچ کرناضروری ہوں؟ بہر صورت تمام جوانب کی پڑتال کرے اور ایسا نہ ہو کہ سر کو نیجے کرکے اور جس راہ سے بھی ممکن ہو پیسے جمع کرکے جس کام پر چاہے خرچ کرے۔ دیکھ لے کہ جو امکانات اسے حاصل ہوئے ہیں وہ حلال راہ سے حاصل ہوئے ہیں یا حرام سے۔ اگر حرام طریقے سے حاصل ہوئے ہیں تو اسے اس کیجگہ پر واپس پلٹا دے او رخود کو مصیبت میں نہ ڈالے.
بعض اوقات انسان اس قدر دنیا داری میں ملوثہوتا ہے اور اپنے آپ کو دنیوی امور میں گرفتار کرتاہے کہ اس سے چھٹکارا پانا ناممکن ہوجاتا ہے۔ اپنے آپ کو بڑے بڑے قرضوں اور لون کی قسطوں میں پھنساتاہے اور اپنی آبرو کو داؤ پر لگاتاہے، حتی کسی نہ کسی طرح دوسروں کو بھی اپنے مسائل میں گرفتار کرتا ہے اورا س طرحسے نجات کا کوئی راستہ نہیں رہ جاتا، صرف اس فکر میں ہوتاہے کہ کچھ پیسے اس کے ہاتھ آئیں ،جس طریقہ سے بھی ہو، حلال یا حرام!( یعنی پیسہ ہو جیسا ہو)
اگر ہم تقوی کے بلند مرحلہ پرنہیں پہنچے ہیں ، کہ مشتبہ و مکروہ سے پرہیز کریں، توکم از کم حرام کے حدودکی رعایت کریں! ایسانہ ہو کہ جو مال ہمارے ہاتھ آیاہے وہ کسی اور کا حق ہے۔ ہر مومن کو اپنی زندگی میں بعض قوانین و حدود کی رعایت کرنی چاہئے اور اس سے آگے نہیں بڑھناچاہئے۔ ایک تاجرکو ایک طرح سیشرعی احکام کی رعایت کرنی چاہئے ملازم کو دوسرے انداز سے ان کی رعایت کرنی چاہئے اور اسے دیکھنا چاہئے کہ جو وہ تنخواہ لیتا ہے، کیا اس کے ساری وہ کام کرتاہے یا کم کام کرتاہے؟ کام کے وقت تفریح آرام، سیگریٹ پینے، اور دوسروں سے گفتگو کرنے میں وقت گزارتا ہے یا کام انجام دیتاہے؟ بعض مومن و اہل عبادت ، نافلہ پڑھتے ہیں، لیکن جب اپنے کام کی کرسی پر بیٹھتے ہیں تو تمام چیزوں کو پس پشت ڈال کر اپنے فریضہ کو بھول جاتے ہیں او رتصور کرتے ہیں کہ اس کرسی پر بیٹھ جانا ہی گویا انھوں نے اپنیفریضہ کو انجام دے دیا ہے۔
سرکاری ملازم یا کسی پرائیویٹ کمپنی کے ملازم کے لئے ڈیوٹی کا وقت اس کے مالک کا حق ہے اسے اس وقت میں کسی اپنے ذاتی امورمیں مشغول نہیں ہوناجاہئے، حتی اگر کبھی ذاتی کام کے لئے ٹیلیفون کرے اور وہ ٹیلیفون کام میں رکاوٹ بنے، تو وہ اس کے مقابل میں جواب دہ ہے ، ہم ان نکات کی طرف توجہ نہیں رکھتے ہیں۔ اسی طرح بیت المال سے استفادہ ،بیت المال کی ہی مصلحت کی راہ میں ہونا چاہئے، اس بناپر اگر ہم نے عہدو پیمانکیا ہے کہ ایک مشخص (معین) وقت میں ایک خاص کام انجام دیں، تو اس وقت کو کسی دوسرے کام میں صرف نہیں کرناچاہئے، حتی اگر ہم نے ایک خاص زمانہ میں ایک کام کو اجرت پر انجام دینے کے لئے عہدو پیمان کیا ہے، توہمیں اس وقت میں نماز پڑھنے کا حق نہیں ہے مگر یہ کہ پہلے سے ہی مالک سے شرط رکھی ہو۔
بیت المال کے بارے میں حرام و حلال او ر اس کے شرائط و حدود کی رعایت کرنا دشوار ہے۔ خوش بختی سے ایسے مسائل ہمارے لئے بہت کم پیش آتے ہیں، لیکن ہم دوسرے مسائل سے روبرو ہیں: جب ہم دین کی تبلیغ کے لئے جاتے ہیں ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ تبلیغ کی راہوں کو جانیں ، ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ ایسا کام انجام نہ دیں کہ جس سے دوسروں پر آنچ آئے اور دوسروں کی بے احترامی نہ کریں اور اپنے آپ کو نمایان کرنے کی فکر میں نہ ہوں۔ ممکن ہے تبلیغ کے لئے ایک ایسی جگہ پر جائیں جہاں پر ہم سے پہلے کوئی اور شخص تبلیغ کے لئے گیا ہولوگ اس سے مطمئن اور خوش ہوں اور ہمارے سامنے اس کی تعریفیں کریں کہ فلاں شخص اچھی مجلسیں پڑھتاتھا، اس کی تقریر اچھی تھی اور لوگ اس کا استقبال کرتے تھے۔ یہاں پر ممکن ہے ہم اس شخص کی تعریف تو کریں، لیکن اشارو ں میں حتی باتوں باتوں میں لوگوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کریںکہ اس شخص کا علم مجھ سے کم ہے تا کہ بعد والے برسوں میں پھر مجھے ہی دعوت کریں! مثلا ہم اس طرح کہتے ہیں چند سال پہلے وہ شخص میرا ہم درس تھا ایک مدت کے بعد اس نے پڑھائی چھوڑدی یا دفتری کاموں میں مشغول ہوگیا اور پڑھائی کو جاری نہ رکھ سکا، یعنی ہم علم میں آگے بڑھے اور وہ پیچھے رہا!
دوسروں کی تردید اور تضعیف کرنے کے لئے اور دوسروں کی شخصیت کو پست دکھلانے کے لئے یا اپنے ذاتی منافع و مقاصد تک پہنچنے کے لئے ، شیطان مختلف طرح کے حیلوں او ربہانوں سے کام لیتا ہے کہ ان میں سے بعض خاص قسم کی ظرافت کے حامل ہوتے ہیں اور ہر ایک ان کی قباحت اور برائی کو نہیں جان سکتا ہے ممکن ہے ظاہر میں کافی پر رونق اور زیبا دکھائی دیں۔
پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم جناب ابوذر سے اپنی نصیحتوں کوجاری رکھتے ہوئے فرماتے ہیں:
''یا اباذر؛ من لم یبال من این اکتسب المال لم یبال اللّٰه عزوجل من این ادخله النار''
''اے ابوذر؛ جو بھی اس کا خیال نہیں رکھتا ہے کہ مال کہاں سے آتا ہے خدائے متعال بھی اس کی پروانہیں کرے گا کہ اسے کہاں سے جہنم میں ڈالے۔''
انسان کو مال حاصل کرنے میں دقت کرنی چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ پیسے کہاں سے حاصل کرتاہے۔ ایسانہ ہو کہ لوگوں کی ستائش ، تملق، ترویج او ران کے سامنے سر خم کرکے پیسے حاصل کئے ہوں اس کے لئے یہ مہم نہیں ہے کہ پیسے حلال راہ سے آئے ہیں یا حرام راستہ سے، اس کا کا م شرعی جواز رکھتاہے یا نہیں ، اگر ایسا کیا تو خدائے متعال کو اسے اپنے قہر کی آگ میں جلانے اور جہنم میں ڈالنے کا حق ہے.
''یا اباذر؛ من سرّه ان یکون اکرم الناس فلیتق اللّٰه عزوجل''
''اے ابوذر! جو بھی لوگوں میں اپنے آپ کو محترم ترین شخص کے طور پر دیکھنا چاہے اسے تقوائے الٰہی اختیار کرنا چاہئے.''
''یا اباذر! انّ احبکم الی اللّٰه جل ثناؤه اکثرکم ذکرا له و اکرمکم عند اللّٰه اتقاکم له و انجاکم من عذاب اللّٰه اشدکم له خوفا''
''اے ابوذر؛ تم میں سے خدا کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جو بیشتر اس کی یاد میں ہو او رتم میں سے خدا کے نزدیک عزیز ترین وہ ہے جو سب سے زیادہ پرہیز گار ہو اور خدا کے عذاب سے دورترین وہ شخص ہے جو اس سے زیادہ ڈرے''
(جیسا کہ ہم نے اس سے پہلے اشارہ کیاہے کہ خوف خدا تقوی کے مقدمات میں سے ہے اور جب تک یہ خوف نہ ہو تقوی حاصل نہیں ہوتاہے)
''یا اباذر:ان المتقین الذین یتقون من الشی ء الذی لایتقی منه خوفا من الدخول فی الشبهة ''
''اے ابوذر ! پرہیز گار وہ لوگ ہیں جو ان چیزوں سے بھی اجتناب کرتے ہیں جن سے پرہیز نہیں کیا جاتاہے، تا کہ شبہ سے دوچار نہ ہوں۔''
کہا گیا ہے کہ تقوی کے کچھ مراتب ہیں اور بعض لوگ صرف ان چیزوں سے دوری اختیار کرتے ہیں جو قطعا حرام ہیں اور بعض لوگ اس مرحلہ سے بالاتر قدم بڑھاکر حتی مشکوک چیزوں سے بھی پرہیز کرتے ہیں او ربعض لوگ اس مقام پر پہنچے ہیں کہ جس چیز کے بارے میں جانتے ہیں کہ وہ مباح ہے اس سے بھی پرہیز کرتے ہیں تا کہ مشکوک چیز وں میں مبتلا نہ ہوں۔اس کے بعد پیغمبر اسلام تقوی کے عالی ترین مرحلہ اور خدا کی اطاعت کے بارے میں فرماتے ہیں:
''یا اباذر: من اطاع اللّٰه عزوجل فقد ذکر اللّٰه و ان قلت صلاته وصیامه و تلاوته للقرآن''
''اے ابوذر؛ جس نے خدائے متعال کی اطاعت کی اس نے اس کویادکیا ہے اگر چہ اس کے روزہ و نماز کم ہوں او رقرآن مجید کی تلاوت کم کی ہے ۔''
پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بیان میں زہدو تقویٰ:
اس کے بعد آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم زہد کے بارے میں فرماتے ہیں:
''یا اباذر؛ اصل الدین الورع و راسه الطاعة. یا اباذر؛کم ورعا تکن اعبد الناس و خیر دینکم الورع''
''اے ابوذر! دین کی جڑزہد اور گناہ و شبہات سے دوری اختیار کرناہے او راس کی اصل خدا کی اطاعت ہے۔ اے ابوذر! اپنے نفس کو گناہوں سے بچانا تا کہ تم لوگوں میں عابد ترین شخص بن جاؤ اور تمھارے دین کا بہترین حصہ پارسائی ہے۔''
بنیادی طور پر ورع نفس کو محرمات سے روکنے اور اس سے دوری اختیار کرنے کے معنی میں ہے، اس کے بعد یہ لفظ مطلق طور پر نفس کو روکنے کے معنی میں استعمال ہواہے اور اس کا مفہوم تقوی مفہوم سے کے بہت قریب ہے ۔ لیکن غالبا ورع کو پرہیزگاری کے ملکہ (جو ایک اندورنی حالت ہے) میں استعمال کرتے ہیں اور تقوی کا مقدمات عمل، خود اچھے عمل نیز داخلی ملکہ پر اطلاق ہوتاہے.
حضرت علی علیہ السلام انسان کو گناہ اورانحراف سے روکنے کے سلسلہ میں ورع کے نقش کے بارے میں فرماتے ہیں:
''لاشرف اعلی من الاسلام و لا عزّاعزّ من التقوی و لا معقل احسن من الورع''
''اسلام سے بالاتر کوئی عظمت و بزرگی نہیں ہے، پرہیز گاری سے بالاتر کوئی عزت و احترام نہیں ہے اور ورع و پارسائی (گناہ او رشبہات سے دروی) سے بڑھ کر کوئی مستحکم ترین پناہ گاہ نہیں ہے۔''(۹)
حضرت اما م جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
''اتقوا اللّٰه و صونوا دینکم بالورع''
''الہی تقوی کو اپنا لائحہ عمل پیشہ قرار دو اور پارسائی سے اپنے دین کا تحفظ کرو''(۱۰)
سعادت او ربلند معنوی درجات تک پہنچنے اور ہلاکت کے بھنور میں گرکر غرق ہونے سے بچنے کے لئے سب سے بڑا ذریعہ پارسائی اور اپنے آپ کو حرام سے بچانا ہے۔ حقیقت میں ورع اور گناہوں سے اپنے کو محفوظرکھنا خدا کی بندگی اور اس کی عبادت کا سخت ترین مرحلہ ہے۔ اس لئے امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
''ان اشد العبادة الورع ''
''ورع مشکل ترین عبادت ہے۔'''(۱۱)
عبادت کی سلامتی میں ورع کے رول پیش نظر امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
''... لاخیر فی نسک لاورع فیه'' (۱۲)
''جو عبادت ورع کے ساتھ نہ ہو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔''
عبادت کے ساتھ ورع کی ضرورت کے پیش نظر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مزید فرماتے ہیں:
''یا اباذر! فضل العلم خیر من فضل العبادة و اعلم انکم لو صلیتم حتی تکونوا کالحنایا و صمتم حتی تکونوا کالاوتار ما ینفعکم الا بورع''
''اے ابوذر! علم کی فضیلت عبادت کی فضیلت سے زیادہ ہے اور جان لو اگر اس قدر نماز پڑھوکہ کما ن کے مانند خم ہوجاؤ اور اس قدر روزہ رکھوکہ تیر کے مانند دبلے پتلے ہوجاؤ اگر ورع نہ ہو تو کوئی فائدہ نہیں ہے۔''
مزید فرماتے ہیں:
''یا باذر؛ اهل الورع و الزهد فی الدنیا هم اولیا اللّٰه حقا''
''جو دنیا میں اہل ورع و زہد ہیں حقیقت میں وہ اولیائے الہی ہیں۔''
''زہد '' اور ''زھادہ'' لغت میں دنیا سے دلچسبی، میل و رغبت کے مقابلہ میں بی رغبتی کے معنی میں ہے۔ یعنی انسان دنیا سے رغبت او رشغف نہ رکھے اور صرف سادہ زندگی پر قناعت کرے.
قابل ذکر بات یہ ہے کہ اسلام میں مطلوب زہد، یہ ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کو بہتر صورت میں نبھانے کے لئے، سادگی او رتجمل گرائی سے پرہیز کو اپنا شیوہ قرار دے اور زرق وبرق والی ظاہری زندگی کی نسبت بے اعتنائی دکھائے۔ بدیہی ہے کہ رفتار کایہ طریقہ دنیا اور اس کے مظاہر کو ناپاک جاننے ، دنیا و آخرت میں موجود تضاد اور اجتماعی ذمہ داریوں سے فرار کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ اسلام میں زہد ذمہ داریوں کو بہتر صورت میں انجام دینے اور و افراطی میلانات کو زندگی کی ظاہری کششوں سے بچانے کے لئے ہے زہد انسان کی زیادہ خواہی کی ذہنیت کو کنٹرول کرتاہے اور دنیا کی زندگی کی ظاہری حالت کے مقابلہ میں خود فروشی کو ختم کردیتا ہے۔ چنانچہ حافظ کہتے ہیں:
غلام ہمت آنم کہ زیر چرخ کبود
ز ہر چہ رنگ تعلق پذیرد آزاداست
میں اس شخص و ارادے کا کا غلام ہوں جو اس آسمان کے نیچے خدائے متعال کے علاوہ کسی کا محتاج نہیں ہے۔
اس بنا پر اسلام میں زہد، مال و اقتدار سے منافات نہیں رکھتا ہے اور حقیقت میں زاہد وہ ہے جو زندگی کے مظاہر کو خدا اور حقسے زیادہ دوست نہیں رکھتا ہے اور الہی مقاصد کو دنیوی مقاصد پر قربان نہیں کر تا ہے او رآخرت کو بنیاد قرار دے کر دنیا کو فروع ، وسیلہ اور مقدمہ کے عنوان سے جانتا ہے۔
مذکورہ مطالب کے پیش نظر زہد کا رہبانیت (جو عیسائیوں او ربدھ مذہب کے پیرؤں میں رائج ہے)سے فرق واضح ہوجاتاہے،کیونکہ رہبانیت ترک دنیا، ذمہ داریوں اور اجتماع سے فرار کے معنی میں ہے اور اس قسم کی فکر اسلام کی روح سے موافقت نہیں رکھتی ، اسلام کی نظر میں زندگی کے تمام مظاہر جیسے مال ، فرزند اور ریاست و غیرہ سب ترقی و تکامل کے وسائل ہیں اورخدائے متعال کی تمام نعمتیں اور ان کا صحیح استعمال اور استفادہ میں تعادل کی رعایت ، اس کے علاوہ انسان کی دنیا کے آباد ہونے کا سبب ہیں، آخرت کو آباد کرنے کا بھی سبب ہے ۔ صحیح استفادہ اس معنی میں ہے کہ انسان دنیا اور اس کے مظاہر کو بنیاد اور اصل قرار دینے کا قائل نہ ہو اور انھیں کمال اور سعادت اخروی تک پہنچنے کے لئے خدا کی نعمتوں کا درجہ دے، چنانچہ فرمایا گیا ہے:
''الدنیا مزرعة الآخره ''(۱۳)
''دنیا آخرت کے کھیتی ہے۔''
اور خدائے متعال فرماتاہے:
( و ابتغ فیما اٰتٰک اللّٰه الدّار الآخرة و لا تنس نصیبک من الدّنیا. ) ..)
(قصص/٧٧)
''اور جو کچھ خدانے دیا ہے اس سے آخرت کے گھرکا انتظام کرو اور دنیا میں اپنا حصہ بھول نہ جاؤ...''
اسلام کی نظر میں ، جو کچھ دنیا میں موجود ہے وہ اچھا ہے، خدائے متعال نے کسی بری چیز کو خلق نہیں کیا ہے۔ اس لئے نہ دنیا اور اس کے مظاہر برے ہیں نہ ان سے دلچسپی اور وابستگی کہ جو طبیعی میلانات کے مطابق انسان کے اندر قرار دی گئی ہے۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے:
''الزهادة فی الدنیا لیست بتحریم الحلال و لا اضاعة المال و لکن الزهادة فی الدنیا ان لا تکون بما فی یدیک اوثق منک بما فی ید اللّٰه '' (۱۴)
''دنیا میں زہد اور دنیا کو اہمیت نہ دینا یہ نہیں ہے کہ حلال کو اپنے لئے حرام کروگے یا اپنے مال کو ضائع کروگے۔ زہد، یعنی جو کچھ تمھارے ہاتھ میں ہے اسے اس سے زیادہ اعتقاد نہ رکھنا جو خدا کے پاس ہے۔''
نیز حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
''ایّها الناس الزّهادة قصر الأمل و الشکر عند النعم و الورع عند المحارم...''
''اے لوگ! زھد ، اپنی آرزؤں کو کم کرنا، نعمتوں کی شکر گزاری اور حرام سے پرہیز ہے.''
مذکورہ بیانات کے علاوہ، قرآن مجید رہبانیت کی مذمت کرتاہے اور اسے ایک ایسی بدعت جانتا ہے ،جسے راہبوں نے دنیا و آخرت کے درمیان تضاد کی غلط فہمی کی بنیاد پر عیسائی مذہب میں رائج کیا ہے۔قرآن مجید یہ فرمانے کے بعد کہ: ''ہم نے عیسی کو بھیجا اور انھیں انجیل عطا کی اور ان کی پیروی کرنے والوں کے دل میں مہربانی اور رحم قرار دیا'' فرماتاہے:
(...و رهبانیة ابتدعوها ماکتبناهاعلیهم الا ابتغاء رضوان اللّٰه فمارعوها حق رعایتها )(حدید/٢٧)
''اور جس رہبانیت کو انھوں نے از خود ایجاد کیا تھا اور اس سے رضائے خدا کے طلبکار تھے ہم نے ان کے اوپر فرض نہیں کہا تھا اور انہوں نے خود بھی اس کی مکمل پاسداری نہیں کی۔''
ایک دن عثمان بن مظعونی کی بیوی شکوہ کرنے کے لئے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی : اے رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم عثمان بن مظعون دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو شب بیداری کرتا ہے (اپنی زندگی اور اہل و عیال کی فکر نہیں کرتاہے) پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم یہ مطلب سننے کے بعد عثمان کے پاس تشریف لے گئے اور دیکھا کہ وہ نماز کی حالت میں ہے ۔ جب عثمان نے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کو دیکھا تو اس نے نماز ختم کی ۔پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس سے کہا:
''یا عثمان! لم یرسلنی الله بالرهبانیة ولکن بعثنی بالحنفیة السهلة السمحة أصوم و أصلی و ألمس اهلی ۔۔۔(۱۵) ''
'' اے عثمان ! خداوند متعال نے ہمیں تصوف کے دین پر اور ترک دنیا کے لئے مبعوث نہیں کیا ہے بلکہ ایک معتدل اور آسان دین پر مبعوث کیا ہے ۔ میں روزہ رکھتا ہوں ، نماز بھی پڑھتا ہوں اور اپنی بیوی سے مباشرت بھی کرتا ہوں۔''
شہید مدرس قشمہ ای کے بارے میں نقل کیا گیاہے کہ : ایک دن قمشہ کاایک معروف زمیندار مدرس کے پاس آیا اور زمین کا ایک حصہ انھیں دینا چاہا۔ مدرس ، باوجود اس کے کہ انتہائی فقر و تنگدسی سے دوچار تھے، زمیندار سے کہا: کیا تمہارے خاندان میں کوئی فقیر و محتاج نہیں ہے؟اس شخص نے کہا: کیوں نہیں، ہیںلیکن میں زمین کے اس ٹکڑے کوآپ کو بخشناچاہتا ہوں ۔ مدرس نے فرمایا: بہتر ہے اس زمین کو اپنے کسی فقیر رشتہ دار کو بخش دو۔
اسی طرح نقل کیا گیا ہے: آیت اللہ مدرس، موسم گرما و سرمامیں ٹاٹ کا بُنا ہواایک ہی قسم کا لباس پہنتے تھے اور فرماتے تھے: ہاتھ، پاؤں اور باقی بدن کی کھال چہرے کی کھال سے نازک تر نہیں ہے۔ بدن کی جس طرح عادت بنائوگے،بدن عادی ہوتا ہے! وہ اونی موزہ ، شلوار اور اونی کرتا، قبائے سرج اور عبائے نائینی نہیں پہنتے تھے اور فرماتے تھے: ان چیزوں کے لئے پیسا ہونا چاہئے اور پیسے غلامی لاتے ہیں اور مدرس غلام نہیں ہونا چاہتا ہے(شہادت کے وقت ان کی پوری ثروت چوبیس ٢٤ تومان تھے)
آیت اللہ شہید مدرس اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھ سے فرمایا: کہ دن رات میں صرف ایک وقت کے کھانے پر قناعت کرنے کی عادت ڈالو اور اپنے لباس کو صاف ستھرا رکھو تا کہ نئے کپڑے سلوانے کی فکر میں نہ رہو ، وہ ہمارے اجداد کو نمونہ عمل قرار دیتے تھے اور فرماتے تھے: حلم و بردباری کو اپنے جد بزرگوار رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سیکھو، شہادت و قناعت کو اپنے جد پاک علی علیہ السلام سے اور ظلم و ستم کے سامنے ہتھیار نہ ڈالنے کو اپنے جد سیدالشہداء سلام اللہ علیہ سے سیکھ لینا۔ ؟(۱۶)
____________________
١۔بقرہ ١٩٤
٢۔ نہج البلاغہ (فیض الاسلام) خطبہ ١١٣، ص ٣٥٣
٣۔ نہج البلاغہ ، خطبہ ١٦، ص ٦٦
۴۔نہج البلاغہ (فیض الاسلام ) خطبہ ١٨٢، ص ٦٠٢
۵۔ بحار الانوار، ج ٧٧، ص ٦٤
۶۔ بحار الانوار ، ج ٧٠، ص ٢٤
۷۔ بحار الانوار ، ج ٥٩، ص ١٦٣
۸۔ وسائل الشیعہ ،ج١١ص٢٣٥
۹۔ نہج البلاغہ ( فیض الاسلام) حکمت ٣٦٣، ص١٢٦
۱۰۔ بحار الانوار ، ج ٧٠، ص ٢٩٧
۱۱۔ بحار الانوار ، ج ٧٠، ص ٢٩٧
۱۲۔ بحار الانوار، ج ٧٠، ص ٣٠٧
۱۳۔ بحار الانوار، ج ٧٣، ص ١٤٨
۱۴۔ نہج الفصاحة ،ص ٣٥٨حدیث ١٧١٢
۱۵۔بحار الانوار ، ج٢٢، ص٢٦٤
۱۶۔ حسینی سید نعمت اللہ، مردان علم در میدان عمل،ص١٢٧۔١٢٩
چھتیسواں درس
پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی نظرمیں بردباری، تواضع اور توکل
* ۔حلم و بردباری کابلند مرتبہ و منزلت
* ۔حلم وبردباری، اولیائے الہی کے لئے زینت بخش
* ۔ نرمی و تواضع اور چاپلوسی اور خوشامدکے در میان فرق
* ۔مشرکوں کے مقابلہ میں پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کانرمی سے پیش نہ آنا * ۔توکل کی عظمت و منزلت
* ۔توکل اور مادی و معنوی اسباب و عوامل سے استفادہ
* ۔تقوی اور توکل کے در میان رابطہ
پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی نظر میں بردباری ،تواضع او ر توکل
''یا اباذر؛ من لم یأت یوم القیامة بثلاث فقد خسر.قلت: و ما الثلاث؟ فداک ابی و امی. قال:ورع یحجزه عما حرّم اللّٰه عزوجل علیه، و حلم یرد به جهل السفیه، و خُلُق یداری به الناس.
یا اباذر؛ ان سَرَّک ان تکون اقوی الناس فتوکل علی اللّٰه، و ان سَرَّک ان تکون اکرم الناس فاتق اللّٰه، و ان سَرَّک ان تکون اغنی الناس فکن بما فی ید اللّٰه عزوجل اوثق منک بما فی یدیک.
یا اباذر؛ لو ان الناس کلهم اخذوا بهذه الآیه لکفتهم:( و من یتّق اللّٰه یجعل له مخرجا و یرزقه من حیث لا یحتسب و من یتوکل علی اللّٰه فهو حسبه ان اللّٰه بالغ امره قد جعل اللّٰه لکل شی ء قدرا ) (۱)
جس موضوع پر گزشتہ درس میں بحث ہوئی اس کا محور تقوی اور ورع تھا، روایت کے اس حصہ
میں بھی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ورع اور گناہ سے پرہیز کے علاوہ حلم، بردباری اور توکل کی عظمت کے بارے میں بھی بیان فرماتے ہیں:
''یا اباذر! من لم یات یوم القیامة بثلاث فقد خسر.قلت: و ما الثلاث؟ فداک ابی و امی. قال:ورع یحجزه عما حرّم اللّٰه عزوجل علیه، و حلم یرد به جهل السفیه، و خلق یداری به الناس''
''اے ابوذر! جس کے ہمراہ قیامت کے دن تین چیزیں نہ ہوں وہ گھاٹے میں ہے ابوذر نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، وہ تین چیزیں کیا ہیں: پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب میں فرمایا:
١۔ورع، جو اسے حرام چیزوں سے بچائے.
٢۔ حلم، جس کے ذریعہ بیوقوفوں کی نادانی سے مقابلہ کرے.
٣۔ نیک اخلاق جس سے لوگوں کی خاطر تو اضع کرے.
سب سے پہلی چیزجو اگر انسان میں نہ ہو تو قیامت کے دن نقصان میں ہے، وہ ورع ہے۔
گزشتہ درس میں ہم نے کہا کہ عام طور پر ورع تقوی کے ملکہ کو کہتے ہیں اور خود گناہ سے پرہیز کو ورع نہیں کہتے ہیں۔ حدیث کے اس حصہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعبیر ، اس تفسیر کی تائید کرتی ہے جو واضح طور پر بیان کرتی ہے کہ ورع وہ ملکہ نفسانی ہے جو انسان کو گناہ سے روکنے کا سبب ہے، اس بنا پر ورع کی خاصیت انسان کو گناہ سے روکناہے۔ فطری بات ہے کہ جس انسان میں اس قسم کی خصوصیت نہ ہوتو وہ گناہ میں ملوث ہوتاہے اور نتیجہ کے طورپر نقصان اٹھاتاہے اور جہنم سے دوچار ہوتاہے.
حلم و بردبار ی کا بلند مرتبہ و منزلت :
دوسری خصوصیت جو انسان کو قیامت کے دن نقصان سے بچاتی ہے، حلم و بردباری ہے۔ لغت میں آیا ہے کہ حلم ، نفس کو قوہ غضبیہ کے بھڑکنے سے روکنے کے معنی میں ہے۔ بیشک حلم پسندیدہ اور قابل قدر صفات میں سے ہے، اور عقل کاسپاہی شمار ہوتا ہے، کیونکہ غضب حلم کے مقابلہ میں قرار پاپاہےجہل کا سپاہی شمار ہوتاہے. معروف ہے کہ انسان کو چاہئے غصہ کی حالت میں نہ کوئی فیصلہ کرے ، نہ کسی کو تنبیہ کرے اور نہ کوئی اقدام کرے کہ بعد میں پشیمان ہو، کیونکہ یہ تینوں چیزیں غصہ کی حالت میں عقل کے کنٹرول سے خارج ہوتی ہیںاس لئے اس حالت میں انسان کی عقل صحیح کام نہیں کرتی ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک دن نادانی کی وجہ سے قنبر کی بے احترامی کی گئی اور وہ بے چین ہوئے اور جواب دینا چاہتے تھے کہ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:
''مهلا یا قنبر، دع شاتمک مهاناً ترضی الرحمن و تسخط الشیطان و تعاقب عدوک فوالذی فلق الحبة و برء النسمة ماارضی المؤمن ربه بمثل الحلم و لا أسخط الشیطان بمثل الصمت و لا عوقب الاحمق بمثل السکوت عنه'' (۲)
''ٹھیر والے قنبر! گالی دینے والے سیبے اعتنائی کرو اور اس کو اسی کی حالت پر چھوڑ دو تا کہ خدائے متعال کو خوش کرو اور شیطان کو غضبناک اوردشمن کوسزاد و (کیونکہ دشمن کی اس سے بڑھ کرکوئی سزا نہیں ہے کہ اس کا اعتنا نہ کیا جائے) قسم اس خدا کی جو دانہ کہ شگافتہ کرنے والا اور انسان کو پیدا کرنے والا ہے،مومن حلم و بردباری سے زیادہ کسی اور چیزسے خدا کو راضی نہیں کرتا ہے ، غصہ کو ضبطکرنے سے زیادہ کسی اور چیز سے شیطان کو ناراض نہیں کرتا اور احمق کے مقابلہ میں خاموشی اختیار کرنے سے زیادہ اسے کسی اور چیز سے سزا نہیں دیتا ہے۔''
حضرت علی علیہ السلام ایک دوسری جگہ پر فرماتے ہیں:
''لاشرف کالعلم و لا عز کالحلم '' (۳)
''علم کے برابر کوئی عظمت و بزرگی نہیں ہے اور بردباری کے برابر کوئی احترام نہیں ہے۔''
حلم و بردباری کی صفت کی عظمت اور صحیح اجتماعی روابط کے تحفظ اور انسانوں کے متقابل احترام کی حفاظت میں اس کے اہم نقش کے پیش نظر ضروری ہے کہ معاشرے کا فرد فرد اس صفت سے مزین ہو، خاص کر علما جو اصلاح اور تربیت کاکام انجام دیتے ہیں. جو عالم ہدایت اوراصلاح کرنے ولاہوتاہے، اگر ناشائستہ رفتار کے مقابلہ میں وہ بھی جوابا ویسا ہی کردار پیش کرے تو اس کے اصلاحی پروگرام بے اثر اورناکام ہوجائیگا۔ اس لحاظ سے اسے ہمیشہ اپنے علم کو حلم و بردباری سے منسلک کرناچاہئے تا کہ مطلوبہ نتیجہ کو حاصل کرسکے۔ لہذا انسان کو حقائق بیان کرنے اور ان کے تبلیغ میں صابر اور با حوصلہ ہونا چاہئے۔ اس نکتہ کے پیش نظر علم و تربیت کا نتیجہ حلم وبردباری کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں:
''والذی نفسی بیده ما جمع شی ء الی شی ء افضل من حلم الی علم'' (۴)
''اس پروردگار کی قسم جس کی اختیار میں میری جان ہے، حلم کو علم کے ساتھ ملحقہونے کے مانند کوئی چیزاس سے بہتر صورت میں دوسری چیز کے ساتھ ملحق نہیں ہوئی ہے''
جی ہاںعلم کے بعد بلندترین کمالات نفسانی میں حلم و بردباری ہے، جیسا کہ ہم نے کہا کہ علم کا حلم کے بغیر کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اس لحاظ سے جب کبھی علم کی ستائش ہوتی ہے، حلم کا بھی اس کے ساتھ ذکر ہوتا ہے، حقیقت میں علم و حلم دوقابل قدر او رلازم و ملزوم عناصر کیحیثیت سے ذکر ہوتے ہیں۔ لہذا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
''اللهم اغننی بالعلم و زیّنّی بالحلم'' (۵)
''پروردگار!مجھے علم کے سبب بے نیاز اور علم سے زینت عطا کر''
یقینا جو انسان علم و حلم کو اپنی زینت قرار دے، بحرانی مراحل میں جب کینہ و عداوت کی آگ کسی کے داخل سے شعلہ ور ہوتی ہے، تو اس وقت وہ رحم و محبت کے بہترین شیوہ کو اپنا تا ہے اور اس کا حلم کینہ کی آگ کو شعلہ ور ہونے سے روکتا ہے اور اختیار کی باگ ڈور نفسانی خواہشات کے ہاتھ میں نہیں دیتا، بلکہ اسے اپنے نفسانی خواہشات کو کنٹرول کرنے اور اپنی اوردوسروں کے غضب کی آگ کو بچھانے پر مجبور کرتا ہے۔ ہم تاریخ میں دیکھتے ہیں کہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اصحاب کے خلاف مشرکین کی طرف سے پہنچائی گئی انواع و اقسام کی اذیت و آزار کے باوجود ،فتح مکہ کے وقت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انتہائی بردباری کا مظاہرہ فرمایا اور عفو، بخشش اور رحم دلی کو اپنی سرمشق قراردیا۔ اس وقت دشمن یہ توقع رکھتے تھے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خون کی ہولی کھیلیں گے حتی بعض اسلامی کمانڈر جو انتقام لینے کی فکر میں تھے،ابوسفیان سے مخاطب ہوکر کہنے لگے:
''الیوم یوم الملحمة''
''آج کا دن سخت جنگ اور انتقام کا دن ہے''
لیکن پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے انتقامی اشعار کے جواب میں یہ محبت آمیز اشعار فرمائے:
''الیوم یوم المرحمة الیوم اعزّ الله قریشا'' (۶)
آج ، رحمت اور نیک برتاؤ کا دن ہے، آج کے دن خدانے قریش کو عزت بخشی ہے۔
بیشک انسان اپنی زندگی میں دوسروں سے روابط برقرار کرنے کے لئے مجبور ہے۔ خدائے متعال نے اس کو ایسے خلق کیا ہے کہ اسے اجتماعی زندگی کو قبول کئے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے، اگر وہ معاشرے سے دور تنہائی میں زندگی گزارناچاہے تو اس کو دنیا کی اکثر برکتوں سے محروم ہونا پڑے گا اور وہ تکامل و ترقی کی راہ میں قدم نہیں بڑھا سکے گا، شاید وہ اپنی زندگی کو بھی جاری نہیں رکھ سکے گا۔ لہذا وہ زندگی کو جاری رکھنے اور تکامل و ترقی کے لئے مجبور ہے، تا کہ اجتماعی زندگی اور دوسروں کے ساتھ روابط کو قبول کرے۔ دوسری طرف سے لوگ جذبات ، اخلاق اور فہم و معرفت کے لحاظ سے ایک دوسرے سے فراوان تفاوت رکھتے ہیں اور اس لئے انسان خواہ مخواہ ایسے افراد سے سروکار پیدا کرتاہے جوبیوقوفانہ عادات رکھتے ہیں۔ کبھی وہ ایسے افراد سے رابطہ پیدا کرتاہے کہ ان کی غیر عاقلانہ عادات اور برتاؤ کی وجہ سے اس کی تو ہین اور بے احترامی ہوتی ہے۔
کمال و معرفت انسانی کے لحاظ سے تمام انسان کمال کی حد تک نہیں پہنچے ہیں اور ایسی عقل نہیں رکھتے ہیں کہ انھیں شائستہ او رمودبانہ برتاؤکرنے پر مجبور کرے۔ اس لحاظ سے کبھی جس شخص سے انسان رابطہ برقرار کرتاہے یا ایک انسان اپنے اہل کار کار یا کسی مسئول سے کہ جس کے پاس لوگ مراجعت کرتے ہیں، اصلاح کے فقدان ، معرفت کی کمی یا زندگی کی مشکلات اور دباؤ کی وجہ سے معاندانہ برتاؤ کامظاہرہ کرتا ہے اور آداب اور دوسروں کے احترام کی رعایت نہیں کرتا تو فطری بات ہے کہ اگر انسان ایسے افراد کے مقابلہ میں ان کاہی جیسا برتاؤ کرے اور فوری طور پر غضبناک ہوکر لڑائی اور جھگڑے کے لئے آمادہ ہوجائے ، تو اختلاف اور ٹکراؤ میں شدت پیدا ہوگی اور اس کے بُرے نتائج نکلیں گے۔ اس طرح انسان کا وقت ضائع ہوگا، آرام و خوشحالی اس سے چھن جائے گی ۔ اور وہ اپنی زندگی کی آرزؤں تک نہیں پہونچ پائیگا۔ پس انسان کو اجتماعی زندگی سے مناسب طور پر بہرہ مند ہونے اور اس کی آفتوں سے بچنے کے لئے اپنے اندر حلم و بردباری ایجاد کرنی چاہئے تا کہ ایسے افراد سے روبرو ہوتے وقت اپنے آپ کو کنٹرول کرسکے۔
انسان کو اپنے آپ کو گناہ سے بچانے کے لئے صاحب ورع ہونے کے علاوہ بردبار بھی ہونا چاہئے تا کہ اپنی اجتماعی زندگی سے بہرہ مند ہواور نقصان سے دوچار نہ ہو۔ چونکہ اگر انسان اجتماع سے دور ہوتاہے تو اس کے منافع سے محروم ہوجاتاہے، لیکن اگر اجتماعی منافع سے اپنی اخروی زندگی کے لئے استفادہ کرنا چاہے اور کم عقل اور جھگڑالو انسانوں سے محفوظ رہنا چاہے تو ان سے ٹکراؤ کی حالت پیدا نہ ہونے کے لئے بردبارہوناچاہئے۔ اسے بردباری کی مشق کرنی چاہئے، تا کہ حقارت او رتوہین آمیز حالت کے مقابلہ میں ان سے مظاہرہ کرے اور اپنے فرائض پر عمل کرسکے او اجتماع سے فائدہ اٹھائے اور ناشائستہ برتاؤ اس کے تکامل وترقی میں رکاوٹ نہ بنے اور روایت کی تعبیر میں وہ'' ایک ایسے حلم کا مالک ہو کہ جہل ونادانی کو اپنے آپ سے دور کر سکے۔''
ہمارے تصور کے خلاف کہ ہم جہل کو عدم علم سے تعبیر کرتے ہیں اور اسے صرف علم کے مقابلہ میں استعمال میں لاتے ہیں،جہل بیوقوفی کے معنی میں بھی ہے اور سفاہت و حماقت کے مانند عقل کے مقابلہ میں استعمال ہوتاہے۔ اسی بنا پر جہل، جاہلانہ اور احمقانہبرتاؤ کا مظاہرہ کرنے کے معنی میں بھی ہے اور قرآن مجید کی اکثر آیات میں اسی معنی میں استعمال ہو اہے، مثلا خدائے متعال حضرت یوسف علیہ السلام کی زبانی نقل کرتاہے:
( والا تصرف عنّی کیدهن أصبُ الیهن وأَکن من الجاهلین ) (یوسف/٣٣)
''اور اگر تم ان کے مکر کو میری طرف سے نہیں موڑ دو گے تو میں ان کی طرف مائل ہوسکتاہوں اور میرا شمار بھی جاہلوں میں ہو سکتاہے۔''
مقصود یہ ہے کہ اگر عورتوں کے حیلہ کومجھ سے دور نہ کروگے تو مجھ سے احمقانہ اور غیر دانشمندانہ کام سرزد ہوگا۔ ایسی آیتوں میں عدم علم کو جہل سے معنی کرنا غلط ہے دوسری طرف سے علم کا فقدان اکثر مواقع پر عذر ہے، حالانکہ یہ کلمہ بیشتر سرزنش و عدم عذر کے مقام پر آیا ہے ، چنانچہ خدائے متعال یوسف کے بھائیوں کی سرزنش کرتے ہوئے فرماتاہے:
( هل علمتم ما فعلتم بیوسف و اخیه اذ انتم جاهلون ) (یوسف/٨٩)
''معلوم ہے کہ تم نے یوسف اور ان کے بھائی کے ساتھ کیا برتاؤ کیا ہے جب کہ تم بالکل جاہل تھے؟''
یقینا یوسف کے بھائی اپنے کام اور عمل سے بے خبر نہیں تھے، وہ یوسف کو پہچانتے تھے اور جانتے تھے کہ ان کایہ فعل ناشائستہ ہے اسی حالت میں جاہل بھی تھے کہ ان کاکام جاہلانہ یعنی خلاف عقل و حق تھا۔
اسی طرح جب حضرت موسی علیہ السلام نے اپنے لوگوں سے کہا کہ خدائے متعال نے تمھیں حکم دیا ہے کہ ایک گائے کو ذبح کرنا، انہوں نے اسے کہا: کیا ہمارا مذاق اڑاتے ہو؟ فرمایا:
(...( اعوذ باللّٰه ان اکون من الجاهلین ) (بقرہ/٦٧)
''...پناہ بخدا کہ میں جاہلوں میں سے ہو جاؤں''
اس آیت میں جہل سفاہت کے معنی میں ہے نہ علم کے فقدا ن کے معنی میں اور حضرت موسی علیہ السلام عدم علم کے لئے خدا سے پناہ نہیں مانگتے ہیں بلکہ بے عقلی و بیوقوفی ، جاہلانہ، اور خلاف عقل رفتار سے پناہ مانگتے ہیں۔ اصول کافی میں ایک کتاب ''علم'' کے نام سے مخصوص ہے اور ایک دوسری کتاب ''عقل و جہل'' کے نام سے ہے۔ یہ اس لئے ہے کہ اس کتاب میں جہل عقل کے مقابلہ میں ہے نہ علم کے مقابلہ میں اور جیسا کہ ہم نے کہا: غالبا جہل و جہالت نادانی اور احمقانہ رفتار کو کہا جاتا ہے اور عقل کے مقابلہ میں استعمال ہوتاہے نہ علم کے مقابلہ میں ۔
حلم و بردباری، اولیائے الہی کے لئے زینت بخش:
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی نصیحتوں میں اس نکتہ کی طرف تاکید فرماتے ہیں کہ انسان اپنی زندگی میں کبھی مجبورا کم عقل اور کم شعور افراد سے روبرو ہوتاہے کہ وہ غیر عاقلانہ اور جاہلانہ رفتار رکھتے ہیں، بہترین رفتار جو ان کے ساتھ روا رکھ سکتا ہے، ان کی بے ادبی کو برداشت کرنا اور بردباری کا مظاہرہ کرنا ہے کہ اس صورت میں اجتماعی منافع سے بھی بہرہ مند ہوتاہے اور نادانوں او ربے عقلوں سے ٹکراؤ پیش آنے سے بھی بچ جاتاہے اور ان کی دشمنی سے نجات پاتاہے اور اس طرح خدا کی نظر میں محبوب قرار پاتا ہے:
''قال رسول اللّٰه، صلی اللّٰه علیه و آله و سلم، ان اللّٰه یحب الحی الحلیم العفیف المتعفف'' (۷)
خدائے تعالے باحیا، بردبار، پاک دامن اور عالی ظرف شخص کو دوست رکھتا ہے۔
قرآن مجید نادان دشمنوں سے مبارزہ کے بارے میں یوں بیان فرماتاہے:
( ولا تستوی الحسنة و لا السیئة ادفع بالتی هی احسن فاذاالذی بینک و بینه عداوة کانه ولی حمیم. و ما یلقّیها الا الذین صبروا و ما یلقّیها الا ذو حظّ عظیم و اما ینزغنّک من الشیطان نزغ فاستعذ باللّٰه انه هو السمیع العلیم ) (فصلت/٣٤۔٣٦)
''نیکی او ربرائی برابر نہیں ہو سکتی، لہذا تم برائی کا جواب بہترین طریقہ سے دوکہ اس طرح وہ شخص جو تمہارا دشمن ہے وہ بھی ایسا ہوجائے گا جیسے ایک گہرادوست ہوتاہے۔ اور یہ صلاحیت انھیں کو نصیب ہوتی ہے جو صبر کرنے والے ہوتے ہیں اور یہ بات انھیں کو حاصل ہوتی ہے جو بڑی قسمت والے ہوتے ہیں ۔ اور جب تم میں شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیداہوتو اللہ کی پناہ طلب کرو کہ وہ سب کی سننے والا اور سب کو جاننے والاہے''
قرآن مجید سرکشوں او ربیوقوفوں کے بارے میں جو شیوہ بیان کرتاہے وہ ظریف ترین، اور اہمیت ترین تربیتی روش ہے۔ کیونکہ جو بھی برائی کرتاہے ، وہ مقابلہ بہ مثل کے قانون کے تحت یہی امید رکھتا ہے کہ مدمقابل بھی اس کے ساتھ یہی برتاؤکرے گا، لیکن جب وہ توقع کے خلاف سالم اور تعمیر ی برتاؤ دیکھتا ہے تو بدل جاتاہے اور اس کے اندر ایک طوفان پیدا ہوتاہے اور ضمیر کے دباؤ کے اثر میں بیدار ہوتا ہے اور احساس کم تری سے دوچار ہوکر اپنی ناشائستہ روش کو تبدیل کرتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ایسے لوگوں کی ایک بڑی تعداد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گردپاتے ہیں کہ فرمان الہی کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت، او ربردباری کی صفت ان لوگوں کے جمع ہونے کا سبب بنی تھی:
(فبما رحمة من الله لنت لهم و لو کنت فظا غلیظ القلب لانفضوا من حولک فاعف عنهم و استغفر لهم و شاورهم فی الامر. ..)(آل عمران/١٥٩)
''پیغمبر ! یہ اللہ کی مہربانی ہے کہ تم ان لوگوں کے لئے نرم ہو ورنہ اگر تم تندخو اور سخت دل ہوتے تو یہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے، لہذا اب انھیں معاف کردو۔ ان کے لئے استغفار کرو اور ان سے امر جنگ میں مشورہ کرو''
اس کے علاوہ خدائے متعال اپنے صالح بندوں کی منطقی رفتار کے بارے میں فرماتا ہے:
(و عباد الرحمن الذین یمشون علی الارض هونا و اذا خاطبهم الجاهلون قالوا سلاما ) (فرقان/٦٣)
''اور اللہ کے بندے وہی ہیں جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے خطاب کرتے ہیں تو سلامتی کا پیغام دیتے ہیں۔''
نقل کیا گیا ہے کہ ایک دانا شخص کا دوست اس کے گھر تشریف لایا۔ دانا شخص نے اس کے سامنے کھانا پیش کیا، اس حکیم و دانا کی بداخلاق بیوی نے آکر مہمان کے سامنے سے کھانااٹھالیا اور حکیم کو برا بھلا کہا۔وہ مہمان رنجیدہ ہوکر اس کے گھر سے چلاگیا۔ حکیم اس کے پیچھے پیچھے دوڑااور جب اس کے نزدیک پہنچا تو اس سے کہا:کیاوہ دن آپ کو یاد ہے جب ہم آپ کے گھر میں مہمان تھے اور کھانا کھاتے وقت ایک مرغی پرواز کرکے ہمارے دسترخوان پر آپڑی اورسارا کھانا خراب کردیا اور ہم میں سے کوئی بھی رنجیدہ نہیں ہوا؟ اس وقت آپ تصور کریں کہ میری بداخلاق بیوی اسی مرغی کے مانند ہے! یہ بات سن کر اس شخص کاغصہ سرد ہوا اور کہا: دانا نے سچ کہا ہے کہ حلم و بردباری تمام دردوں کی دواہے۔
امام حسن مجتبی علیہ السلام کی زندگی کے حالات میں ذکر ہوا ہے کہ ایک روز ایک شامی شخص نے جو بنی امیہ کے پروپگنڈا کے اثر میں اہل بیت علیہم السلام کا بغض دل میں رکھے ہوئے تھا مدینہ کے ایک کوچہ میں حضرت سے ملاقات کی اور فی الفور حضرت کے خلاف برابھلا کہنا اور گالیاں دینا شروع کردیا۔حضرت نے بردباری اور خاموشی کے بعد فرمایا: مجھے لگتا ہے تم اس شہر میں اجنبی ہو اور تم مغالطہ اور غلط فہمی سے دوچار ہوئے ہو۔ اگرگھرنہیں رکھتے ہو تو میرا گھر حاضر ہے۔ اگر مقروض ہو تو میں تمھارے قرض کو اپنے ذمہ لیتاہوں اور اسے میں ادا کروں گا۔ اگر بھوکے ہوتو تجھے سیر ہونے تک کھانا کھلاؤں گا ۔ حضرت کابرتاؤ اس شخص کے لئیخلاف توقع تھا اور اس رفتار نے اس کے دل میں ایک انقلاب برپاکردیا اور حضرت سے اتنا متاثر ہوا کہ کہا: اے فرزند رسول ! اگر اس سے پہلے مجھ سے سوال کیا جاتاکہ روئے زمین پر کون بدترین انسان ہے تو جواب میں آپ کو اور آپ کے باپ کو بیان کرتا لیکن اب آپ کو بہترین انسان کی حیثیت سے جانتاہوں۔
خواجہ نصیر الدین طوسی کے حالات میں کہا گیا ہے:ایک شخص خواجہ کے پاس آیا اور ایک تحریرانھیں دی کہ لکھنے والے نے اس میں خواجہ کو برابھلالکھاتھا، اس میں گالیاں لکھی تھیں اور اسے کلب بن کلب (کتا او رکتے کا بیٹا) کہاتھا: خواجہ نے اس کی اس نفرت بھری کے مقابلہ میں محبت آمیز زبان میں یوں جواب دیا: یہ جو مجھے کتا کہا گیا ہے صحیح نہیں ہے ،کیونکہ کتا ان جانوروں میں ہے جو ''عوں عوں'' کرتاہے اور اس کی کھال بال (روئیں) سے بھری ہوئی ہے اور اس کے ناخن لمبے ہوتے ہیں اور مجھ میں ان خصوصیات میں سے کوئی بھی خصوصیت موجود نہیں ہے: میرا قد بلند ہے، میرے بدن پر بال (روئیں) نہیں ہیں اور میرے ناخن لمبے نہیں ہیں، باتیں کرتا اور ہنستا ہوں اور جو خصوصیات مجھ میں ہیں وہ کتے میں نہیں ہیں۔ جو کچھ مجھ میں ہے وہ اس لکھنے والے کے دعوی کی تصدیق نہیں کرتے ہیں۔
حضرت علی علیہ السلام حلم کے اجتماعی فوائد میں سے ایک یعنی حلم و بردباری کے بارے میں فرماتے ہیں:
''اول عوض الحلیم من حلمه ان الناس انصاره علی الجاهل'' (۸)
''بردبار کی بردباری کا سب سے پہلا فائدہ یہ ہے کہ جاہل و نادان کے مقالہ میں لوگ اس کے حامی اور مددگار بن جاتے ہیں۔''
سعدی کہتے ہیں:
از صدف یادگیر نکتہ حلم
آنکہ برّد سرت گہر بخشش
(نکتہ حلم کو صدف سے سیکھنا۔جب اسے کاٹاجاتاہے تو موتی بخشتاہے)
نرمی و تواضع اور چاپلوسی اور خوشامد کے درمیان فرق:
تیسری خصوصیت ، جس کی طرف توجہ کرنا انسان کو قیامت کے نقصان سے بچانا ہے، لوگوں سے نرمی اور مہربانی سے پیش آناہے۔ ''مدارات'' معنی کے لحاظ سے ''نرمی'' کے نزدیک ہے، کیونکہ ''مدارات''بہ معنی ، نرمی ، رفتار میں ملائمت ، لوگوں کے ساتھ حسن معاشرت اور ان کی آزار رسانی اور اذیت برداشت کرنے کے معنی میں ہے۔''مدارات'' کی ستائش اور اس کے دنیوی اور اخروی فائدوں کے بارے میں فراوان روایتیں نقل ہوئی ہیں.پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایاہے:
''المداراة نصف الایمان''
''لوگوں کے ساتھ مدارات کرنا نصف ایمان ہے''
مزید فرمایا:
''ثلاث من لم یکن فیه لم یتم له عمل: ورع یحجزه عن معاصی اللّٰه و خلق یداری به الناس و حلم یردبه جهل الجاهل''
''تین چیزیں ایسی ہیں کہ اگر کسی میں نہ ہوں تو ان کا کام مکمل نہیں ہے: گناہ سے بچانے والا ورع، لوگوں کے ساتھ مدارات کرنے والا اخلاق ، اور بے عقلوں کی بیوقوفی کو دور کرنے والاحلم''(۹)
ایک اور جگہ پر لوگوں کے ساتھ مدارات کو واجب اور تکالیف کی فہرست میں قرار دیتے ہوئے فرماتاہے:
''انا معاشر الانبیاء امرنا بمدارات الناس کما امرنا باداء الفرائض'' (۱۰)
''ہم انبیاء لوگوں کے ساتھ مدارا ت کرنے کے لئے مامور ہوئے ہیں جس طرح واجبات اورتکالیف کے لئے مامور ہوئے ہیں''
انسان برابر ایسے افراد سے روبرو ہوتاہے جو اپنے خاص اغراض و مقاصد کے لئے ناشائستہ رفتار کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ بعض اوقات حسد اور اور دیگر بری عاداتیں انھیں دوسروں کے ساتھ معاشرت کے دوران ایسا برتاؤ کرنے پرمحبور کرتی ہیں،جن سے نقصان پہنچتا ہے۔بات یہ ہے کہ ان افراد کے ساتھ روبرو ہوتے وقت انسان کو نسا رویہ اختیار کرے؟ اگر ایسے شخص کے مقابلہ میں کہ جو اس کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں یا اس کے حق میں کوتاہی یا بے ادبی سے پیش آتے ہیں ویسا ہی برتاؤ روا رکھاجائے تو ٹکراؤ اور جھگڑے کی نوبت آجائیگی اور بالکل ایسی مشکل سے دوچار ہونا پڑے گا کہ جیسا انسان کو احمقوں اور نادانوں کے ساتھ پیش آناپڑتا ہے۔
ایسے مواقع پر جوابی کا رروائی کو نظر انداز کرنا چاہئے او رمدارات کا شیوہ اختیار کرناچاہئے۔ کوشش کرنی چاہئے کہ عفو و گزشت اور چشم پوشی کی مشق سے ایسے افراد کے ساتھ مدارات سے پیش آئے اور ان کے مقابلہ میں جلدی کوئی رد عمل نہ دکھائے۔ بعض مواقع پر ایسے تغافل کا مظاہرہ کرے گویامتوجہ نہیں ہواہے کہ انھوں نے کیا کیا ہے او رکیا کہا ہے۔بعض مواقع پر انسان کو دوسروں کے ناشائستہ برتاؤ کے مقابلہ میں چشم پوشی کرنی چاہئے با وجودیکہ اس کے حق میں دشمنی کی گئی ہے نہ صرف یہ کہ وہ دشمنی نہ کرے، بلکہ ان کی خدمت بھی کرے، اگر انسان اپنی زندگی میں اس قسم کی عادت واطوار کو اپنالے تو اس نے دوسروں کی خود غرضی اورآزار و اذیت کے مقابلہ میں مدارات کا مظاہرہ کیا ہے، ایسا شخصمنزل مقصود تک پہنچ سکتاہے۔ لیکن اگر ہر اس شخص کے ساتھ کہ جس نے اس کے ساتھ دشمنی حق تلفی کی ہے ، لڑناچاہے تو ، لڑنے جھگڑنے سے انسان کی توانائی بیہودہ امور میں صرف ہوتی ہے اور ایک جہت سے اس کا ذہن پریشان ہوتاہے اور دوسرے وقت بھی ضائع ہوتاہے نیز فرصت کے اوقات بھی ہاتھ سے چلے جاتے ہیں اور اس طرح رنجش اور کدور توں کے علاوہ دشمنیاں بھی بڑھتی ہیں۔
پس ایسے افراد سے روبرو ہونے کی صورت میں بہتر ین طریقہ راہ مدارات ہے،کیونکہ دوسروں کے ساتھ مدارات و نرمی سے پیش آنا عاقلوں اور باشعور افراد کا شیوہ اور کامیابی کی کنجی ہے:
''علیک بالرفق فانه مفتاح الصواب و سجیّة اولی الالباب'' (۱۱)
''تمہاری لئے دوسروں کے ساتھ مدارات و نرمی سے پیش آنا لازم ہے، کیونکہ وہ دوستی کی کنجی اور عقلمندوں کی روش ہے۔''
جس نکتہ کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ کبھی مدارات کا مداہنت سے مغالطہ ہوتاہے، مداہنت مخالفین ، حق اور انحراف کرنے والوں کے ساتھ ہماہنگی اور موافقت ہے، یعنی انسان حقائق کے بیان اور خدا کے دین کی تبلیغ و ترویج میں سستی کرے اور اگر دوسروں کی طرف سے کسی انحراف کا مشاہدہ کرے تو کسی قسم کا اعتراض نہ کرے ۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
''ولعمری ما علیّ من قتال من خالف الحق و خابط الغی من ادهان و لا ایهان...'' (۱۲)
''اپنی جان قسم، حق کے مخالفوں اور ضلالت و گمراہی میں قدم رکھنے والوں کے ساتھ تسامح و سستی نہیں برتوں گا''
ایک دوسری جگہ پر اپنے زمانے کے ان سست عناصرکی شکایت کرتے ہیں جو حق کی بات نہیں کہتے تھے اور آرام و آسائش کی راہ کو انتخاب کرچکے تھے اور فرماتے ہیں:
''و اعلموا رحمکم اللّٰه، انکم فی زمان القائل فیه بالحق قلیل و اللّسان عن الصدق کلیل و اللازم للحق ذلیل اهله معتکفون علی العصیان مصطلحون علی الادهان...'' (۱۳)
''خدا تمھیں بخش دے، جان لو کہ تم ایک ایسے زمانہ میں زندگیگزاررہے ہو کہ اس میں حق بولنے والے کم، سچ بولنے والی زبانیں کند اور حق کے طالب ذلیل ہیں۔ لوگ نافرمانی پر اترآئے ہیں اور اپنے ہم یاروں اور ہمراہوں کے ساتھ مداہنت کرتے ہیں۔''
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت ، حق کی مخالفت میں ، قیام کرنے والوں کے ساتھ ہمدردی اور مداہنت کی سرزنش فرماتے ہیں اور مداہنت کو ایک پست، قابل مذمت، معاشرے کو تباہ کرنے اور اس کی عزت و آبرو کے ارکان کو منہدم کرنے والی خصلت جانتے ہیں۔ اس بنا پر مداہنت کو دشمنوں کے ساتھ مدارات ، نرمی ، اپنے حق اور شخصی منافع کے سلسلے میں اجتماعی مصلحتوں اور دین خدا کو احیاء اور زندہ کرنے کے پیش نظر عفو وبخشش کے معنی کے ساتھ مغالطہ نہیں کرنا چاہئے جوایک شائستہ اور تعمیری خصلت ہے۔
معاشرے میں ، ایسے ٹھنڈے مزاج کے انسان ہوتے ہیں جو اپنے بارے میں رونماہو نیوالی رودادوں کے بارے میں کسی قسم کا رد عمل نہیں دکھاتے اور لوگوں کی مشکلات ،دینی اور ثقافتی مشکلات جو ان کے اپنے لئے یادوسروں کے لئے پیش آتی ہیں، کے مقابلہ میں بے اعتنائی دکھاتے ہیں۔ اس قسم کے افراد جذبات او راحساسات سے عاری ،سست ، کاہل او رآرام طلب ہوتے ہیں اور ایک ایسی جگہ کی تلاش میں ہوتے ہیں جس کے ساتھ ٹیک لگاکردنیا سے بے خبری اور خوشی کے عالم میں آرام میں ہوں۔ جب کبھی مبارزہ کا وقت آتاہے اور جاں نثاری کا مظاہرہ کرنے کے لئے جہاد کے لئے اٹھنے کی باری آتی ہے تویہ لوگ بھاگ جاتے ہیں اور اپنی جان بچاتے ہیں۔ فطری بات ہے کہ یہ لوگ اپنے کام کے لئے توجیہ پیش کرتے ہیں، کیونکہ کوئی یہ کہنے کے لئے تیار نہیں ہے کہ میں بُرا انسان ہوں اور برا کام انجا م دیتاہوں بلکہ اپنی رفتار کی توجیہ کے لئے کوئی نہ کوئی ظاہر ی بہانا تراشنا ہے۔ عام طور پر ان لوگوں کی توجیہ یہ ہے کہ دشمنوں کے ساتھ مدارات کرنا ضرروی ہے اور سخت گیری نہیں کرنی چاہئے ، کیونکہ تند برتاؤ کا کوئی نتیجہ نہیں ہوتا اور کبھی اس شعر کا سہارا لیتے ہیں:
آسائش دوگیتی تفسیر این دو حرف است
با دوستان مروت با دشمنان مدارا
(دوجہان کی آسائش ان دو کلموں کی تفسیر ہے،دوستوں سے مروت اور دشمنوں سے مدارات)
بعض اوقات ایسی احادیث کا سہارا لیتے ہیں جو دوسروں سے مدارت کو حاصل کرنے کے عامل کے طور پر بیان ہوئی ہیں۔ اگربنا یہ ہو کہ یہی ذہنیت او رطرز تفکر معاشرے میں پھیل جائے،تو کبھی جہاد و مبارزہ نہیں ہوگا او رکوئی تحریک محقق نہیں ہوگی او رجہاد کا راستہ بند ہوجائے گا. چنانچہ ہم نے کہا کہ، یہ نرمی او رسستی حق کے سلسلہ میں مداہنت ہے اور خودخواہ اور آرام طلب انسان ذمہ داریوں سے بچنے کے لئے اسے اپنے لئے سند قرار دیتے ہیں اور اسے شرعی رنگ بھی دیتے ہیں تا کہ اجتماعی ذمہ داریوں اور دشمنوں سے جہاد کے فریضہ کے سلسلہ میں بہتر صورت میں پہلوتہی کریں اور دشمنوں سے نہ لڑیں۔ یہ شیوہ انتہائی ناپسند ہے اور اس کے ناشائستہ آثار او غلط رنتائج بر آمد ہوتے ہیں۔ قرآن مجید اس کی واضح طور پر مذمت کرتاہے۔
مشرکوں کے مقابلہ میں پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کانرمی سے پیش نہ آنا:
صدر اسلام میں کفار و مشرکین پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مکرر درخواست کررہے تھے کہ آپ اپنے دین میں نرمی دکھائیں تا کہ وہ بھی اپنی رفتار میں نرمی دکھائیں،حقیقت میں وہ اس کوشش میں تھے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ کو کچھ امتیازات دیکر ان سے کچھ امتیازات حاصل کریں اور پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کو اپنے مقابلہ میں نرمی او رانعطاف دکھانے پر مجبور کریں، وہ آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سے چاہتے تھے کہ دوسرے دنیوی رہبروں کے مانند اپنے مقاصد کو نافذ کرنے کے بارے میں سخت گیری سے ہاتھ کھینچ لیں اور نرمی اور ہمدردی کا مظاہر کرتے ہوئے پنے مخالفوں کے نزدیک آجائیں۔ خدائے متعال ان کی درخواست کے بارے میں فرماتا ہے:
(ودّوا لو تدهن فیدهنون ) (قلم/٩)
''یہ چاہتے ہیں آپ ذرانرم ہوجائیں تویہ بھی نرم ہو جائیں''
یقینا دشمن کے مقابلہ میں نرمی دکھانا اور احکام الہی کے نفاذ اور الہی اقدار کی ترویج، اور فساد سے مبارزہ میں پیچھے ہٹنا،مطلوب مدارات نہیں ہے بلکہ مداہنت ہے، اس لئے خدائے متعال نے اس کام کی سختی سے نہی کی ہے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے چاہتا ہے کہ احکام الہی کے نفاذ میں سختی سے اقدام کریں:
( و ان احکم بینهم بما انزل اللّٰه ولا تتّبع اهواء هم واحذرهم ان یفتنوک عن بعض ما انزل اللّٰه الیک فان تولوا فاعلم انما یرید اللّٰه ان یصیبهم ببعض ذنوبهم ) ...) (مائدہ/٤٩)
''اور اے پیغمبر آپ ان کے در میان تنزیل خدا کے مطابق حکم کریں اور ان کے خواہشات کا اتباع نہ کریں اور اس بات سے بچتے رہیں کہ یہ بعض احکام الہی سے منحرف کردیں۔ پھراگریہ خود منحرف ہوجائیںتو یادرکھیں کہ خدا ان کے بعض گناہوں کی وجہ سے مصیبت میں مبتلا کرنا چاہتاہے۔''
ہر قسم کاسازباز اور نرمی ، مدارات نہیں ہے، مدارات اس جگہ پر ہے جہاں اس کے پس منظر میں صحیح عقلائی غرض ہو کہ انسان اس عقلائی مقصد اور بالاتر مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے،لوگوں کی ایجاد کی ہوئی بعض مشکلات کو برداشت کرے۔ نہ یہ کہ انسان ہر کسی اور ہر رفتار کے مقابلہ میں ٹھنڈے مزاج سے رد عمل کا مظاہرہ نہ کرے اور مدارات کے نام پر دشمنوں کے ساتھ ساز باز کرے۔ ہمیں مدارات اور مداہنت میں فرق کرناچاہئے اور جاننا چاہئے کہ اسلامی مقاصد او ردین کے مسائل میں عفو و بخشش سے کام نہیں لینا چاہئے اور نرمی نہیں دکھانی چاہئے اور فکری اور رفتاری اصول کے بارے میں نرمی اور انعطاف دکھانا ایک ناپسندیدہ امرہے، جب انسان کے لئے فریضہ الہی مشخص اور اس کے شرائط فراہم ہوں تواسے قطعی طور پر انجام دینا چاہئے اور اس کوانجام دینے کی راہ میں مضبوط اور مستحکم ہونا چاہئے اور ہر قسم کی بے توجہی اور لاپروائی سے پرہیز کرناچاہئے۔
یہ ذہنیت پسندیدہ نہیں ہے کہ انسان ہمیشہ نرمی دکھائے اور ہر ایک کے ساتھ سازباز کرے ، حتی الہی اہداف و مقاصد میں بھی سازباز کرے۔ انسان کو زندگی کے آخری لمحہ تک الہی مقاصد کے نفاذ میں ڈٹ جانا چاہئے او راستقامت دکھائے او رعفو و بخشش کا مظاہرہ نہ کرے۔ جب ہم دشمنوں کے لاؤڈ سپیکروں سے پروپیگنڈے کی گنگناہٹ سنتے ہیں،تو جو جملہ قابل توجہ ہے وہ اصول پرست کا عنوان ہے جو ہمیں دیاگیا ہے۔البتہ ان کا اس عنوان کو پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہماری ملت کو کمزور کریں اور ہمارے چہروں کو انتہا پسند اور بے رحم کے عنوان سے پیش کریں۔ لیکن جب ہم اس عنوان پر غور کرتے ہیںتو معلوم ہوتاہے کہ یہ ایک بہت مناسب اور بجالقب ہے، ہمیں اس کا استقبال کرنا چاہئے۔ جی ہاں! ہم اصول پرست ہیںا ور ہمیشہ اپنے اصول کا تحفظ کرتے ہیںا ور اعتقاد رکھتے ہیں کہ ہمیں اپنے اصلی مقاصد اور ارمانوں سے چشم پوشی نہیں کرنی چاہئے اور ان کے بارے میں سازباز نہیں کرنا چاہئے۔بلکہ بعض اوقات ضروری ہے وقتی طور پر مصلحتی نرمی اور بحشش کا مظاہرہ کریں اور غیر اہم اور غیر حیاتی مسائل کے بارے میں قدرے عقب نشینی کریں لیکن بنیادی اصول پر کبھی سودا نہیں کرنی چاہئے۔
مکہ کے سخت دنوں میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قریش کے سخت دباؤ میں تھے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اصحاب پر مشروکوں اور بت پرستوں کی طرف سے جسمانی اذیت و آزار ڈھائے جاتے تھے، یہاں تک کہ اسلام کی تبلیغ کی راہ میں اور رسالت کے پیغام کو پہچانیمیں شدید رکاوٹیں ایجاد کی گئیں چنانچہ وقفہ وقفہ سے آپ کی پیروی اور اتباع کرنے والوں میں سے کسی نہ کسی کو بلند الہی ارمانوں کی قربان گاہ عشق کی راہ میں اپنی جان نچھاور کرنا پڑتی تھی۔فطری طور پر اس پکڑدھکڑ کے دوران مظلوم اور زیر عذاب مسلمانوں کا سب سے بڑا مقصد ، ان مشکلات اور دباؤ سے رہائی حاصل کرنا اور ان افراد کی حمایت حاصل کرناتھا، جو ان کو قریش کے مقابلہ میں مسلح کرکے نجات کے اسباب فراہم کرتے۔ مورخین نے کہا ہے کہ اس نازک وقت میں اہل طائف نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں مددکی تجویز پیش کی تا کہ جنگوں اور لڑائیوں میں مسلمانوںکے دوش بدوش رہیں اور اپنی جان و مال سے ان کا دفاع کریں۔ ان کی یہ شرط تھی ان پر نماز پڑھنے کی پابندی نہ ہو۔کیونکہ وہ زمین پر سجدہ کرنے کو اپنی شان کے خلاف سمجھتے تھے، حقیقت میں ان کی ثقافت اس قسم کی رفتار کو قبول نہیں کرتی تھی۔
پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کو یہ تجویز اس وقت دی گئی جب آپصلىاللهعليهوآلهوسلم انتہائی مشکلات اور سختی سے دوچار تھے اور دشمنوں نے انھیں ہر طرف سے دباؤمیں رکھاتھا۔ اگر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوسرے اجتماعی رہبروں کے مانند ہوتے تو اس قسم کی تجویز کا استقبال کرتے اور فرصت کو غنیمت سمجھتے او رتعہد نامہ منعقد کرکے اپنے ہم پیمان سے پور ا پورا فائدہ اٹھاتے اور ایک مناسب فرصت کے انتظار میں رہتے، تا کہ ان کو آہستہ آہستہ نماز عبادت و بندگی سے آشنا کراتے او ران کے لئے ثقافتی کام انجام دیتے۔ بعض مفسرین کے کہنے کے مطابق اس سلسلہ میں یہ آیت نازل ہوئی ہے:
( ولولا ان ثبتناک لقد کدت ترکن الیهم شیئا قلیلا ) (اسرائ/٧٤)
''اور اگر ہماری توفیق خاص نے آپ کوثابت قدم نہ رکھا ہوتاتو آپ (بشری طورپر)کچھ نہ کچھ ان کی طرف مائل ضرور ہوجاتے ''(۱۴)
خدائے متعال انتباہ فرماتاہے کہ ایسا نہ ہو کہ مسلمان مشرکوں کے مطالبات کی طرف رجحان پیدا کریں اور دین کے سلسلہ میں سود اکریں؟ تمام جنگ اور مبارزات دینی مسائل میں ہیں اور یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ لوگ خداپرست بن جائیں اور خدائے متعال سے رابطہ پیدا کریں ،پس ان کے نزدیک آنا اور ان سے سودا کرنا کیسے ممکن تھا جب تک کہ وہ خداسے رابطہ پیدا نہ کرتے؟
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل طائف کی تجویز کے جواب میں فرمایا:
''لا خیر فی دین لا رکوع فیه و لا سجود'' (۱۵)
''جس دین میں رکوع و سجود نہ ہوا اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے''
وہ چاہتے تھے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نرمی دکھائیں اور اپنے اصول سے منصرف ہوجائیں ، تا کہ وہ ان کے پاس رہیں،لیکن نہ خدائے متعال اس قسم کی اجازت دیتا تھا اور نہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایسا سودا کرتے،لہذا ان سے فرمایا: میں اس دین کے بارے میں تم لوگوں سے سودا نہیں کروں گا جس میں نماز نہ ہو او رمجھے تمھاری حمایت کی ضرورت نہیں ہے۔ میرے دین کا استحکام بنیادی طور پرنماز اورخدا سے رابطہ پر ہے اور میرے دین و رسالت کا اصلی مقصد، اصل پرستش الہی کو حاکمیت بخشنا ہے۔
بنیادی اصول او رمقاصد کے بارے میں تمام مواقع پر تحفظ کرنے کی ضرورت ثابت ہے، من جملہ ان میں معاشرے کی قیادت اور وسیع پیمانہ پر مدیریت ہے۔ رہبر کو اصول اور بنیادی مقاصد کے تحفظ کے بارے میں ثابت قدم او رجرات مند ہونا چاہئے اور نرم نہیں ہونا چاہئے،لیکن فرعی امور میں اگر ضرورت اقتضا کرے تو نرمی اور چشم پوشی سے کام لے سکتاہے، کیونکہ بعض اوقات اصول کا تحفظ اور بچاؤ کا تقاضا ہوتاہے کہ انسان فرعی امور میں نرمی دکھائے تا کہ اصول کو دھچکانہ پہنچے۔ پس معاشرے کے قائدین کو بھی کبھی سخت او رکبھی نرم ہوناچاہئے۔ چنانچہ ہم نے کہا کہ جس محور پر سخت پالیسی اپنا کر اس کا تحفظ کرنا چاہئے، وہ دین کے اصول اور بنیادی محور اور بلند الہی مقاصد ہیں کہ قابل گزشت اور چشم پوشی روا نہیں ہے۔ لیکن جزئی مسائل کے باب میں کبھی ممکن ہے چشم پوشی، کوتاہی اور خلاف ورزی کی جائے اور رہبر مصلحت کے پیش نظر کبھی چشم پوشی سے کام لے۔
جو کچھبیان ہواوہ اس نکتہ کی طرف توجہ مبذول کرانے کے لئے ہے کہ ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ مدارات کو مداہنت سے مغالطہ نہ کریں اور ان دونوں کی سرحدوں کی تشخیص دیں۔البتہ پسندیدہ مدارات اور مذموم مداہنت کے درمیان سرحد کی تشخیص بہت مشکل ہے۔ انسان کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھنا چاہئے کہ کہاں پر مدارات کرناچاہئے اور کہاں پرمدارات نہیںکرناچاہئے اور کہاں پر چشم پوشی مداہنت ہے۔ کہاں پر سازباز اور نرمی مداہنت کا مصداق ہے۔ مداہنت کو مدارات سے تشخیص دینے کی راہوں میں سے ایک یہ ہے کہ اگر چشم پوشی اور نرمی اصلی اوراہم مسائل کو بالائے طاق رکھنے کاسبب بنے تو مداہنت ہے۔ لیکن اگر انسان کے شخصی منافع خطرے میں پڑیں اور انسان اس لئے کہ بلند تر مقصد تک پہنچ جائے اپنے شخصی فائدہ سے چشم پوشی کرے اور اپنے دشمن سے محترمانہ برتاؤ کرے ، تو اس نے مدارات کی ہے،البتہ اس پرتوجہ رکھنی چاہئے بعض مشکوک مواقع ہیں، کہ جن کے پیش نظر مداہنت اور مدارات کے درمیان تشخیص دینے میں زیادہ دقت کی ضرورت ہے۔
''یا اباذر؛ ان سَرَّک ان تکون اقوی الناس فتوکلّ علی اللّٰه، و ان سَرَّک ان تکون اکرم الناس فاتق اللّٰه، و ان سَرَّک ان تکون اغنی النّاس فکن بما فی ید اللّٰه عزوجل اوثق منک بما فی یدیک .
''اے ابوذر؛ اگر لوگوں میں توانا ترین بنناچاہتے ہو تو خدا پر توکل کرو اور لوگوں میں عزیزترین بننا چاہتے ہو تو تقوائے الہی کے مالک بن جاؤ اور مالدار ترین بننا چاہتے ہو تو جو کچھ خدا کے پاس ہے اس پر اپنے مال کی بہ نسبت زیادہ اطمینان رکھو''
حدیث کے اس حصہ میں دوبارہ تقوی کی بحث آئی ہے چنانچہ ملاحظہ ہوتاہے کہ گزشتہ مطالب سے رابطہ منقطع نہیں ہوا ہے اگر چہ تقوی سے ہم آہنگ کچھ دوسرے مسائل بھی ذکر ہوئے ہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے بیان میں تین نکتوں کی طرف یاددہانی کی ہے:
پہلا نکتہ یہ کہ اگر لوگوں میں قوی ترین بننا چاہتے ہو تا کہ بہتر طریقہ سے ، اپنے مقاصد کو حاصل کرلوضعیف نہ ہو کہ جلدی شکست نہ کھاؤ اور مقصد پہنچنے کی قدرت رکھو توخدا پر توکل کرو۔
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اگر خدا کے نزدیک عزیز اور محترم ترین فرد قرار پاناچاہتے ہو، تو تقوی کو اپنا اصول بنالو،چنانچہ خدائے متعال قرآن مجید میں فرماتاہے:
(...( ان اکرمکم عند الله اتقیکم ) (حجرات/١٣)
''تم میں سے خدا کے نزدیک زیادہ محترم وہ ہے جو زیادہ پرہیز گار ہے۔''
تیسرا نکتہ یہ ہے کہ اگر غنی اور بے نیاز ترین شخص بننا چاہتے ہو تو، جو کچھ خدا کے پاس ہے اس پر اپنے پاس موجود ہ مال کی بہ نسبت زیادہ اعتماد کرو۔ ہر شخص کسی حد تک خدا کی نعمتوں سے بہرہ مند ہوتا ہے اور کچھ مال اپنے اختیار میں رکھتا ہے۔ بعض اوقات اتنے پیسے اور مال رکھتا ہے کہ دوسروں کا محتاج نہیں رہتا اور پیسے حاصل کرنے کے لئے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتاہے۔ یا اس کے پاس کافی مقدار میں غذا اور روٹی ہے اور دوسروں سے غذا اور روٹی قرض لینے پر مجبور نہیں ہے، یہ بذات خود ایک قسم کی بے نیازی ہے۔ لیکن جان لینا چاہئے کہ ہم کس حد تک اپنے مال و ثروت کے بارے میں خوش فہمی میں رہ سکتے ہیں۔ انسان کے پیسے ممکن ہے کم ہوجائے یا ممکن ہے انسان کے مال کو چوراچک لے جائے اور ممکن ہے اس کی تمام نعمتیں نابود ہوجائیں اور انسان کو اس سے استفادہ کرنے کی فرصت نہ ۔ ممکن ہے ضرورت کے وقت انسان کو مال سے ہاتھ دھونا پڑے وہ اور اس سے استفادہ نہ کرسکے اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے سارے پیسے گم ہوجائیں، لیکن جو کچھ خدا کے پاس ہے وہ کبھی گم ہونے والانہیں ہے اور خداکی نعمتیں کبھی خدا کے ہاتھ سے خارج نہیں ہوتی ہیں۔
ممکن ہے کوئی مال ہمارے ہاتھ سے چلاجائے ، لیکن خدا کے ہاتھ سے کوئی چیز چلی جائے یہ ممکن نہیںاور اس کی مالکیت سے کوئی چیز کم ہوجائے یہ تصور نہیں، اس لئے خدائے متعال کی تمام اشیاء اور موجودات کی مالکیت پر قدرت او رتسلط کے پیش نظر ، اور جو کچھ خدائے متعال ارادہ کرے اس میں تبدیلی نہیں ہوتی ہے، حتی اگر کرہ مریخ پر کوئی چیز ہو او رخدائے متعال ارادہ کرے کہ وہ مجھ تک پہونچ جائے تو اس کے ارادہ میں تغییر و تخلف ممکن نہیں ، ہمارا اعتقاد اپنے پاس موجود ہ چیزوں سے زیادہ خداکے پاس موجود ہ چیزوں پر ہونا چاہئے، کیونکہ ممکن ہے ضرورت کے وقت اپنے پاس موجودہ مال سے استفادہ نہ کرسکیں یاوہ گم ہو جائے یا کوئی اور مصیبت اس پرآ پڑے اور ہمیں اس سے استفادہ کرنے سے محروم کردے۔
اگر ہم معرفت کی اس منزل پرپہنچ جائیں کہ تمام ھستی اور تمام ظاہری اور باطنی طاقتوں کو خدا کے قبضہ میں دیکھیں اور یقین کریں کہ اس کی قدرت سے کوئی چیز خارج نہیں ہے، تو ہم خدا کی تمام چیزوں پر مالکیت اور تسلط حتی انسان کی تدبیر پر اس کے تسلط سے آگاہ ہوجائیں اور خدا پر ہمارا اعتماد بڑھ جائے گا اور خدا کی قدرت پر اپنے پاس موجودہ قدرت سے زیادہ اعتماد پیدا کریں گے۔ فطری بات ہے جو خدا کی قدرت پر اعتماد رکھتا ہے وہ غنی ترین فرد ہے، کیونکہ خدا کا ارادہ کبھی نہیں بدلتااور اس کی قدرت سے کوئی چیز خارج نہیں ہوتی، جو شخص اپنے مال پر اعتماد کرتا ہے اور اس کے ساتھ دل وابستہ کرتاہے، چونکہ پیسے ہر وقت انسان کے اختیار میں نہیں ہوتے لہذا ممکن ہے فائدہ اٹھانے سے پہلے ہی مال اس کے ہاتھ سے چلاجائے ۔
توکل کی عظمت و منزلت:
چنانچہ معلوم ہوا کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدائے متعال پر توکل کو مومن کے لئے قدرت حاصل کرنے کا سرمایہ قرار دیتے ہیں ۔ توکل کے مقام کی اہمیت اور انسان کی زندگی میں اس کے رول، مختلف خطرات اور سختیوں سے روبرو ہونے اور اس سے غلط تصورات ایجاد کرنے کے پیش نظر ضروری ہے کہ توکل کے بارے میں ایک مختصر بحث کریں۔
توکل کا مادہ ''وکالة'' ہے اور اسلامی لغت میں اس کا معنی یہ ہے ہ انسان خدائے متعال کو اپنے لئے ایک مطمئن تکیہ گاہ قرار دے اور تمام امور اسی پر چھوڑ دے۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبرئیل سے توکل کے بارے میں سوال کیا ، جبرئیل نے جواب دیا:
''العلم بانّ المخلوق لا یضرو لا ینفع و لا یعطی ولا یمنع و استعمال الیاس من الخلق فاذا کان العبد کذلک لم یعمل لاحد سوی اللّٰه و لم یرج و لم یخف سوی اللّٰه و لم یطمع فی احد سوی اللّٰه فهذا هو التوکل'' (۱۶)
''توکل اس امر کی آگاہی ہے کہ بندہ انسان کو کوئی نفع یا نقصان نہیں پہنچاسکتا ہے اور اسے کوئی چیز نہیں عطا کرتاہے اور کوئی چیز اس سے واپس نہیں لیتا ، اور توکل مخلوق سے مایوس ہونے کے معنی میں ہے ۔ پس جب بندہ معرفت کے اس مرحلہ تک پہونچ جاتا ہے ، وہ غیر خدا کے لئے کام نہیں کرتا ہے اور خدا کے علاوہ کسی سے امید نہیں رکھتا ہے، اور خدا کے علاوہ کسی سے خوف محسوس نہیں کرتا یہ ہے خدا پر توکل کامعنی ہے''
قرآن مجید میں توکل کے بارے میں فراوان آیتیں موجود ہیں، من جملہ خدائے متعال فرماتا ہے:
( و علی اللّٰه فلیتوکل المؤمنون ) (آل عمران/ ١٢٢)
''اور ایمان والوں کو اللہ پر بھروسہ کرناچاہئے۔''
(اس آیت میں خدائے متعال توکل اور بھروسہ کو ایما ن کا اٹوٹ اور لازمی جزبیان کرتاہے)
جس طرح انسان عام طور پر دنیوی کاموں میں اپنے لئے وکیل منتخب کرتاہے اور اپنے بہت سے کام اس کے سپرد کرتاہے تا کہ واضح اور فائدہ بخش نتائج و آثار حاصل کرے، شائستہ ہے خدا کا بندہ بھی اپنے تمام امور میں خدائے متعال کو اپنا وکیل قرار دے اور اس پر بھروسہ کرے، تا کہ اس کے مطالبات کسی تشویش کے بغیر حاصل ہوجائیں۔ دوسرے الفاظ میں جو اپنی حاجتوں کو برطرف کرناچاہتا ہے، اس کے سامنے تین راہیں ہوتی ہیں: اپنی توانائی پر اعتماد کرے یا دوسروں پر اعتماد کرے اور اُن سے توقع رکھے یا پھر اپنے اعتماد کو خدائے متعال کی ذات پر قرار دے اور اس پر بھروسہ کرے اور اس کے علاوہ ہر ایک سے چشم پوشی کرلے۔
اس میں انسان کا خدا پر اعتماد اور بھروسہ کرنے کا سرچشمہ خدا کی ربوبیت کے بارے میں اس کی معرفت ہے، کیونکہ اگر انسان خدائے متعال کومالک ، صاحب اختیار اور تمام موجودات پر تسلط رکھنے والے کی حیثیت سے پہچان لے تو پھردوسروں کے پیچھے دوڑنے اور ان کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرے گا۔ حضرت علی علیہ السلام اپنے مالک سے ایک دعامیں فرماتے ہیں:
''اللهم انک آنس الآنسین لأولیائک واحضرهم بالکفایه للمتوکلین تشاهد هم فی سرائرهم و تطّلع علیهم فی ضمائرهم و تعلم مبلغ بصائرهم''
''خداوندا! تو اپنے دوستوں کے ساتھ دوسروں سے زیادہ محبت کرتا ہے اور تجھ پر توان لوگوں کے امور کیاصلاح کے لئے جو تیری ذات پر بھروسہ کرتے ہیںخود ان سے زیادہ حاضر ہے (کیونکہ ہر چیز کے لئے قدرت رکھتاہے اور اپنے ارادے سے ہر کام کو انجام دیتا ہے) ان کے چُھپے ہوئے اسرار کو جانتا ہے ان کی فکر سے آگاہ ہے ان کی بصیرت کی مقدار سے واقف ہے''
اسی کے ضمن میں فرماتے ہیں:
''ان کے اسرار تیرے پاس آشکار ہیں اور ان کے دل تیرے دیدار کی حسرت میں داغ دار ہیں، اگر تنہائی ان پرو حشت ڈالتی ہے توتیری یادوں کے سایہ میں پناہ لیتے ہیں اور جب مصیبتیں ان پر ٹوٹتی ہیں تیری بارگاہ کی طرف رخ کرتے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ تمام کاموں کا سرچشمہ تیرے ہاتھ میں ہے۔''(۱۷)
خدا پر بھروسہ کرنے کے نتائج کے بارے میں حضرت محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
''من توکل علی اللّٰه لایغلب و من اعتصم باللّٰه لایهزم'' (۱۸)
''جو خدا پر بھروسہ کرتا ہے وہ شکست نہیں کھاتا اور جو بھی خدا کے پاس پناہ لیتا ہے کبھی ناکام نہیں ہوتا ہے۔''
بہت سے انبیاء کی دعوتوں کے اجنڈے پریہ پیغام لکھاہواتھا کہ خدا پر ایمان لاؤ اور اس پر بھروسہ کرو، اس لئے ایمان کی نشانیوں میں سے ایک خداپر توکل کرناہے۔ اگر انسان خدا کی ربوبیت پر اعتقاد رکھتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ تمام کائنات اس کی حکومت او رربوبیت کے تسلط میں ہے اور تنہا شائستہ پرستش وہ معبود ہے، تو وہ ہرگز اپنے آپ کو اس بات کی اجازت نہیں دے گا کہ دوسروں کے پیچھے جا کر کسی اور سے مدد چاہے بلکہ ہمیشہ خدا کی ذات پر بھروسہ کریگااور صرف اسی سے مدد کی درخواست کریگا۔
توکل او رمادی ومعنوی اسباب و عوامل سے استفادہ کرنا
توکل ایک قلبی امر ہے، خارجی رفتار میں سے نہیں ہے، اس لئے توکل اسے نہیں کہتے کہ انسان کسی مسجد میں معتکف ہوجائے اور صرف خداکی عبادت اور اس سے رازو نیاز میں مشغول رہے اور تمام کاروبارسے ہاتھ کھینچ لے، اس امید سے کہ خدائے متعال خود اس کارزق فراہم کرے گا۔ بیشک یہ تصور غلط ہے اور اس روش کا اختیار کرنے والا منحرف ہے اورتوکل کے حقیقی معنی سے آگاہ نہیں ہے، چنانچہ ایک روایت میں آیا ہے:
''رای رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم، قوما لایزرعون، قال: من انتم؟ قالوا : نحن المتوکلون قال: بل انتم المتکلون'' (۱۹)
رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ کھیتی باڑی نہیں کررہے تھے۔ان سے کہا: تم کون ہو؟ انہوں نے جواب میں کہا: ہم توکل کرنے والے ہیں۔ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: نہیں، بلکہ تم لوگ دوسروں کے رحم و کرم ہو۔''
جی ہاں، جو معارف الہی کی صحیح پہچان نہیں رکھتے، وہ خیال کرتے ہیں کہ توکل یہ ہے کہ انسان مادی و سائل اور امکانات سے استفادہ نہ کرے اور اگر کسی نے مادی وسائل سے استفادہ کیا تو وہ توکل نہیں رکھتا ہے۔ جبکہ نہ مادی وسائل کا سہارا لینے والا شخص توکل سے عای ہے اور نہ ہروہ شخص جو ان وسائل سے استفادہ نہیں کرتاہے وہ صاحب توکل ہے۔ ایسے کاہل اور سست افراد بھی جوایک لقمہ روٹی کے انتظار میں رہتے ہیں تا کہ اسے کھاکر اسی پر قناعت کریں اور کام کرنے کی ہمت نہیں رکھتے ، جب ایسے لوگوں سے سوال کیا جاتاہے کہ تم لوگ کیوں کام نہیں کرتے اور محنت نہیں کرتے ہو؟ تو جواب میں کہتے ہیں: ہم خدا پر توکل کرتے ہیں یہ توجیہ ان کی کاہلی اور سستی پر ایک پردہ ہے ورنہ وہ جھوٹ بولتے ہیں اور خدا پر بھروسہ نہیں رکھتے ہیں.
البتہ ایسے لوگ بھی ہیں جو حقیقتا صاحب توکل ہوتے ہیں، لیکن بہر صورت یہ تصور غلط ہے کہ توکل کے بہانہ سے عوامل واسباب سے استفادہ نہ کیا جائے۔
چنانچہ ہم نے کہا کہ توکل ایک قلبی امر ہے اور اس کامعنی خدا پر بھروسہ کرناہے کہ انسان اپنے دل میں خداپر بھروسہ کرے۔ اس بناپر ممکن ہے انسان توکل کے عالی ترین مرحلہ تک پہنچ جائے او راسی حالت میں فریضہ انجام دینے اور حکم خداپر عمل کرنے کے لئے مادی و سائل اور اسباب سے بھی استفادہ کرے۔ ممکن ہے کوئی شخص دوسروں سے زیادہ محنت کرے یا اپنے کام میں دوسروں سے زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرے لیکن پھر بھی اپنے کام پر اعتماد نہ رکھتا ہو اور صرف خدا پر بھروسہ کرتاہو، چونکہ خدائے متعال بے کار اور سست انسان سے بیزار ہے او راس پر کام کرنا واجب قرار دیا ہے اسلئے یہ شخص کام کرتا ہے ، کیونکہ حکمت الہی کا تقاضا ہے کہ دنیا کے امور و اسباب اوروسائل کے ذریعہ آگے بڑھیں:
بنیادی طور پر جو خدا کی معرفت رکھتا ہے، وہ شخص جانتا ہے کہ حکمت الہی کے مطابق جملہ امور اسباب کے ذریعہ واقع ہوتے ہیں۔ حکمت الہی کا تقاضا ہے کہ ہر مظہر اپنے اسباب کے ذریعہ واقع ہو ۔ اس لحاظ سے خدائے متعال کا علم اور اس کی معرفت و حکمت اس کے مقتضائے حکمت کی شناخت نظام اسباب و علل پر برقرار ہے کا سبب ہے اور بالاخر، انسان کا تکامل اور اس کی ترقی اسی نظام سے وابستہ ہے اور اسی کے ذریعہ انسان کی آزمائش اور امتحان سے مواجہ ہوتاہے ورنہ انسان تکامل وترقی کی طرف نہیں بڑھتا۔ انسان کے تکامل و ترقی کے لئے بندگی کے فرائض انجام دینا شرط ہے اور وہ انسان کے ارتباط پرمنحصر ہے اور انسان کا ارتباط نظام اسباب و علل سے منسلک ہے۔ پس اگر انسان آرام و آسائش کی راہ پر چلے او رتنہائی اختیار کرے اور عبادت میں مشغول ہوجائے اور اپنی روزمرہ زندگی میں کسب معاش ونیز سعی و کوششسے ہاتھ کھینچ لے تو اس نے حکمت الہی کے خلاف کام کیا ہے اور اس صورت میں خدا کی طرف سے روزی پہنچنے کی امید رکھنا بیہودہ ہوگا، بقول مولوی:
گر توکل می کنی در کا ر کن
کشت کن پس تکیہ بر جبار کن
(اگر تم توکل کرتے ہو چاہتے ہو تو کام کرو توکل کرو، کھیتی کرنے کے بعد خدا پر بھروسہ کرو)
اس بنا پر حکمت الہی کا تقاضا ہے کہ انسان ضرورتوں کو پانے کے لئے اسباب و عوامل سے استفادہ کرے۔ اگر ایسا ہوتا کہ رزق کی درخواست کرکے خداسے رزق فراہم ہوجاتاتوکوئی عملی رزق کے لئے کوشش نہیں کرتااور انسانوں کی آزمائش نہیں ہوتی۔ اگر کہا جاتا ہے کہ مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے عوامل اور وسائل سے استفادہ کرناچاہئے تو اس کے یہ معنی نہیں ہے کہ تمھیں رارزق دینے والی زمین، کسب معاش اور دیگر اسباب ہیں، بلکہ یہ سب خدا کی طرف سے ہیں اور تدبیر اس کے ہاتھ میں ہے، رزق بھی اسی سے ہے۔ عوامل و اسباب کے پیچھے جاناتم پر فرض ہے تا کہ دنیا کے نظام میں الہی مقاصد پورے ہوجائیں اور یہ مقاصد انسان کے تکامل و ترقی کے لئے ہیں۔
پس توکل اور بھروسہ کرنے والے کو کسب معاش و تلاش سے غفلت نہیں کرنی چاہئے، چنانچہ جواہل توکل نہیں ہیں وہ ایسا ہی کرتے ہیں، ان دو گروہوں میں قلبی رابطہ کے بارے میں فرق یہ ہے کہ توکل کرنے والا خدا کے حکم کی اطاعت کی غرض اور خدا پر بھروسہ اور امید رکھ کر کوشش کرتاہے، لیکن غیر موحد اور توکل نہ رکھنے والا انسان اپنی روزی کو اپنے کام، کاج اور کوشش دوسروں کے ہاتھ میں ڈھونڈ تا ہے۔ مومن خدا کے علاوہ کسی سے امید نہیں رکھتاہے اورتمام اسباب ووسائل کو خدا کی طرف سے دیکھتا ہے اور اگر وہ تمام اسباب وسائل سے محروم ہو جائے تو بھی اس کی خدا پر امید میں ذرہ برابر فرق نہیں آتا ہے ،کیونکہ وہ جانتا ہے کہ خدائے متعال جو بھی اپنے بندہ کے حق میں انجام دیتا ہے وہ حکمت کی بنیاد پر اور اس کی مصلحت کے لئے ہو تا ہے اور خدائے متعال کسی بھی وقت اپنے بندے کو اس سے محروم نہیں کرتاکہ جس میں ، اس کے لئے خیر ہو۔
پس ایک طرف سے دنیا کا نظام اسباب وعلل کے نظام پرو جود میں آیا ہے اور اس نظام کی زنجیر میں انسان کو کام اور کوشش سے اپنے مطالبات کو حاصل کرنا چاہئے۔ دوسری طرف سے کسب معاش اور دوسروں سے اپنے مطالبات کو حاصل کرنا چاہئے۔ دوسری طرف کام ، کاج اور ذریعہ معاش اور دوسروں سے روابط اس لئے ہے کہ انسان کے لئے امتحان و آزمائش کے مواقع فراہم ہوجائیں، چونکہ اگر انسان کی آزمائش نہ ہو اور اس سے امتحان نہ لیا جائے تو وہ تکامل وترقی کی طرف قدم نہیں بڑھائے گا۔ کام اور انجام فریضہ اور کارکن و مالک کے درمیان رابطہ کی رعایت کی جانی چاہئے تا کہ ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت کے سایہ او رسعی و کوشش کے نتیجہ میں تکامل وترقی مواقع فراہم ہوں۔ اس بناپر انسان کا فرض ہے کہ کام اور محنت کرے اور اسی حالت میں اعتقاد رکھے کہ روزی اسے خدا سے ملتی ہے اور اس کا بھروسہ اس پر ہونا چاہئے۔ توکل کی حقیقت یہ نہیں ہے کہ انسان کام نہ کرے بلکہ حقیقت توکل یہ ہے کہ انسان کا دل خداکے ساتھ ہو اپنے رزق کو خدا کی طرف سے سمجھے ،نہ کام سے تو اس صورت میں وہ کامیاب ہوگا اور زندگی کے مشکل ترین مراحل میں بھی خطرات سے گزر کر مشکلات پر قابوپائے گا۔ کیونکہ وہ خدائے متعال کی لافانی ذات پر بھروسہ کرتاہے۔
نقل کیا گیا ہے کہ حضرت موسی علی نبینا و علیہ السلام بیمار ہوئے اور بنی اسرائیل ان کی عیادت کے لئے آئے او ران سے کہا: اگر فلاںجڑ ی بوٹی سے علاج کریںگے تو آپ ٹھیک ہوجائیںگے۔ حضرت موسی علیہ السلام نے کہا: میں علاج نہیں کروں گا یہاںتک خدا مجھے شفا عنایت کرے! حضرت موسی علیہ السلام کی بیماری کی ایک مدت گزرگئی لیکن صحت یابی کی کوئی علامت ان میں ظاہر نہیں ہوئی۔ خداکی طرف سے انھیں وحی ہوئی:مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ہے، تجھے میں تب تک شفانہیں دوںگاجب تک آپ اس جڑی بوٹی سے اپنا معالجہ نہ کریں کہ جس کے بارے میں بنی اسرائیل نے تمہیں خبر دی تھی۔ حضرت موسی علیہ السلام نے اس دوا کو کھانے کے بعد شفا پائی،لیکن جوبات انھوںنے بنی اسرائیل سے کہی تھی اس سے خائف تھے۔ خطاب آگیا: اے موسی !کیا تم اپنے توکل سے میری حکمت کو جھٹلانا چاہتے ہو؟ میرے سواکون ہے جس نے ان جڑی بوٹیوں میں یہ تاثیر رکھی ہے ۔
اسی طرح ایک حدیث میں آیا ہے کہ ایک زاہد شہر سے نکل کر ایک پہاڑکے دامن میں ساکن ہوا اور کہتا تھا: میں کسی سے درخواست نہیں کروں گا یہاں تک کہ خدائے متعال خود مجھے رزق پہنچائے! اسی حالت میں سات دن گزر گئے اور کہیں سے کو ئی غذا اس تک نہیں پہنچا یہاں تک وہ قریب المرگ ہوگیا ۔ اس کے بعد اس نے عرض کی:پروردگارا!مجھے روزی عنایت کر یا میری جان لے لے تا کہ میں مطمئن ہوجاؤں !خطاب ہوا میرے عزت و جلال کی قسم ،تجھے تب تک رزق نہیں دوں گا،جب تک معاشرے میں جاکر لوگوں کے ساتھ زندگی نہ گزاروگے ۔زاہدنے پہاڑ سے اتر کر شہر کی راہ لی ۔جب لوگوں میں پہنچا تو ایک شخص اس کے لئے پانی لا رہا تھا اوردوسرا کھانا ۔اس وقت خدائے متعال نے اسے خطاب کر کے فر مایا : اے زاہد! کیاتواپنے زہد سے میری حکمت کو جھٹلانا چاہتا ہے ؟کیا تم نہیں جانتے ہو کہ مجھے اپنے بندوں کوبندوںکے ہی ذریعہ سے روزی پہنچانا پسند ہے بجائے اس کے کہ انھیں بلا واسطہ اور بغیر سبب روزی پہنچا ؤں۔(۲۱)
رزق صرف مادی رزق اور شکم کے رزق تک محدود نہیں ہے بلکہ منا فع اور معنوی نعمتیں من جملہ علم بھی رزق ہے اس لحاظ سے ممکن ہے کوئی کا ہلی وسستی کی وجہ سے علم حاصل کرنے اور مطالعہ کرنے کے لئے نہ جائے،وقت پر کلاس میں حاضر نہ ہو اور کہے کہ میں نے خدا پر توکل کیا ہے وہ خود مجھے علم عطا کرے گا اور معصوم کے اس بیان کو دستا ویز قرار دے کہ فرماتے ہیں:
''لیس العلم بالتعلم انما هو نور یقع فی قلب من یرید الله تبارک وتعالی ان یهدیه''
'' علم پڑھنے سے حاصل نہیں ہوتاہے،بلکہ علم ایک ایسا نور ہے کہ جسے خدا ہدایت کرنا چاہے اس کے قلب میں اسے ڈال دیتاہے۔''
جی ہاںعلم خداکی طرف سے ہے اور وہ جسے چاہے مرحمت کرتاہے،لیکن ہمارا بھی کوئی فرض ہے کہ سبق پڑھیںاور مطالعہ کریں اور علم حاصل کرنے میں سنجید گی کا مظا ہرہ کریںاور تمام وسائل سے استفادہ کریں اور ایسا نہیںہے کہ کوئی کو شش وجستجو،محنت اور علم حاصل کرنے کی دشواریوں کے بغیر عالم بن جائے،چنانچہ کام ،کوشش وجستجواور محنت ورنج برداشت کئے بغیردنیوی سرمایہ بھی حاصل نہیں کر سکتا ہے۔
تمام وہ نعمتیں جن کا انسان طالب ہے،خدائے متعال کے اختیار میں ہیں اور اسباب وسائل ان کوتعین کرنے والے نہیں ہیں۔بلکہ یہ ایسے اسباب ہیں کہ خدائے متعال نے ان کونعمتوں تک پہنچنے کے لئے وسیلہ قرار دیا ہے،اور چونکہ خدائے متعال انہی وسائل واسباب کے ذریعہ ہمیں اپنی مطلو بہ نعمتوں اور رزق تک پہنچاچاہتا ہے،لہذا ہم پر فرض بنتاہے کہ ان سے استفادہ کریں ،اگر چہ یہ بھی ممکن ہے کہ کبھی کسی کام اور کوشش کے بغیر جب ہم اسباب ووسائل سے کافی محروم ہوجائیں ،خدائے متعال بعض منافع اور نعمتوں کواس طرح ہمارے اختیار میں قرار دیتا ہے کہ ہم اس کا بالکل تصور نہیں کرتے تھے۔اس کے مقابلہ میں ممکن ہے کہ کام وکوشش اور وسائل سے استفادہ کرنے کے بعد بھی اپنے مقاصد تک نہ پہنچ پائیں اور نا کام رہیں ، کہ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہمیں وسائل کے بارے میں خوش فہمی نہیں رکھنی چاہئے ،بلکہ انسان کوصرف خدا پر بھروسہ اور امید رکھنی چاہئے اور اس پر اعتماد رکھتے ہوئے وسائل واسباب سے استفادہ کرنا چاہئے اور انسان امید رکھے کہ خدائے متعال اس کا رزق اس تک پہنچا ئے گا۔مذکورہ مطالب کے پیش نظر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:اگرلوگوں میں تواناترین بننا چاہتے ہو توخداپر بھروسہ کرو اور اپنے قلبی رابطہ کو اس کے ساتھ مستحکم کرو،تاکہ اس کے اعتماد اور ارتباط کے سایہ میں اطمینان خاطر حاصل کر و اور خدا کی قدرت لایزال پر بھروسہ کرو ،وہ ہر کام پر قادر ہے اور سختیوں اور مشکلات میں انسان کا بہترین یاور ومددگار ہے .وہ دشمن کے ساتھ جنگ میں انسان کے باذئو ں کوقدرت بخشتا ہے اور دشمن کے بڑے لشکر کو مومن انسان کے لئے خزاں کے پتوں کی طرح گرا دیتاہے۔
جی ہاں ،اس اعتماد وارتباط کے پیش نظر یقین ہے کہ مولائے متقیان علی علیہ السلام،وہ انسان کامل جو خدا کی بندگی اورعبادت میں نیز رازونیاز کے دوران اس کی بار گاہ میں کانپتے تھے اور بیہوش ہوکر زمین پر گرپڑتے تھے او رخدا کے خوف سے بے تاب ہوجاتے تھے ۔ لیکن دشمن کے ساتھ مقابلہ میں آپ کی تیویوں پر بل بھی نہیں آتے تھے او ر خوف تو آپ کے قرب بھی نہیں آتا تھا اور دشمن آپ کے سامنے سے دم دباکر بھاگئے تھے اور آپ خدائے متعال اور اس کی بے نہایت قدرت سے الہام اخذ کرتے تھے اور قدرت کی طرف سے وہ پشت پناہی ہوتی تھی کہ ضعف و سستی کا تصور نہیں ہوتا تھا اور تمام چیزیں ان کے عزم و ارادہ سے انجام پاتی تھیں۔ جنگ جمل میں اپنے بیٹے محمد بن حنفیہ کے ہاتھ میں پرچم اسلام تھماتھے ہوئے فرماتے ہیں:
''تزول الجبال و لا تزل عضّ علی ناجذک اعر الله جمجمتک تدفی الارض قدمک ارم ببصرک اقصی القوم و غضّ بصرک و اعلم انّ النصر من عند الله سبحانه'' (۲۲)
''پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں ،لیکن تم اپنی جگہ سے نہ ہلنا(تم کو میدان کارزار میں پہاڑوں سے زیادہ مستحکم اور قوی ہوناچاہئے) اپنے دانتوں کو آپس میں دبا کے رکھنا اور اپنے سر کو خدا کے سپر د کردینا او راپنے قدم زمین میں میخ کی طرح نصب کردینا (میدان کارزار میں ثابت قدم رہنا اور دشمن سے خوف زدہ نہ ہونا) دشمن کی صف کے آخری حصہ پر نگاہ رکھنا او رجان لینا کامیابی خدائے متعال کی طرف سے ہے۔''
اگر انسان خدا پر بھروسہ نہ رکھے تو اس کے باطن میں ہمیشہ اضطراب ، پریشانی اور تذبذب ہوگا اور اس کی زندگی پریشانی اور اضطراب میں مبتلارہے گی اور اسے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا، کیونکہ وہ سچے اور اطمینان بخش پشت پناہی سے غافل ہے اور جھوٹے اور متزلزل پشت پناہی پر اعتماد کئے ہوئیہے۔ اس لئے توانائی حاصل کرنے کے لئے ہمیں خدا پر بھروسہ کرناچاہئے۔
تقوی اور توکل کے درمیان رابطہ
حدیث کو جاری رکھتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
''یا اباذر؛ لو انّ الناس کلهم اخذوا بهذه الایه لکفتهم: ( و من یتق اللّٰه بجعل له مخرجا و یرزقه من حیث لا یحتسب و من یتوکل علی اللّٰه فهو حسبه ان الله بالغ امره قد جعل اللّٰه لکل شی ء قدرا ) (طلاق ٢۔٣)
اے ابوذر! اگر سب لوگ اس آیہ مبارکہ پر عمل کرتے توان کے لئے کافی تھا:
(اور جو بھی اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لئے نجات کی راہ پیدا کرتا ہے۔ اور اسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جس کا خیال اسے بھی نہیں ہوتاہے اور جوخدا پر بھروسہ کرے گا خدا اس کے لئے کافی ہے بیشک خدا اپنے حکم کا پہنچانے والا ہے اس نے ہر شے کے لئے ایک مقدار معین کردی ہے)
(آیہ مبارکہ میں تقوی اور توکل دونوں ذکر ہوئے ہیں اور یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ ان دونوں کے در میان گہرا تعلق اور رابطہ ہے اور ممکن نہیں ہے یہ ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں ۔ شاید تقوی کا پہلے ذکر آنا اس لئے ہے کہ تقوی کا حاصل ہونا توکل تک پہنچنے کا مقدمہ ہے اور جب تک انسان متقی نہیں بنتا خدا پر توکل کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا ہے)
بیشک تمام آسما نی اور زمینی امور خدائے متعال کے ہاتھ میں ہیں اور خدا کی قدرت کے مقابلہ میں کوئی قدرت وجود نہیں رکھتی ہے۔ یہ وہ ہے جو اپنے ارادہ سے کائنات کی تدبیر کرتاہے اور تمام چیزیں اس کے ارادہ اور رائے کے مطابق انجام پاتی ہیں۔ پس ہمیں صرف اس پر اعتماد کرنا چاہئے اور نیازمندی کا ہاتھ اسی کی طرف پھیلانا چاہئیاور اپنے اندر غیر خدا کی بے نیازی کو زندہ کرناچاہئے۔ چونکہ خدائے متعال نے ہمیں دوسروں کا احترام کرنے کا حکم دیا ہے، اور ان کی نیکیوں کے مقابلہ میں شکریہ ادا کرنے کو کہا ہے ، لہذا ہم فرضیۂ الٰہی کی بنیاد پر ان کا احترام کرتے ہیں، لیکن اس تصور سے کہ کسی دوسری راہ سے کوئی چیز نہیں ملی، چاپلوسی اور خوشامد سے پرہیز کرنا چاہئے۔ جو خدائے متعال پر اعتماد و توکل رکھتا ہے وہ اپنے رزق کی امید خداسے رکھتا ہے، اس لئے دوسروں کی چاپلوسی کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتاکہ بلا وجہ کسی کے سامنے جھکے اور سرخم کرے تا کہ وہ اس کی مدد کریں۔ چاپلوسی اور کسی کے سامنے سر جھکانا انسان کی عزت نفس کے منافی ہے۔
جی ہاں! خدائے متعال او راولیائے دین نے ہمیں حکم دیا ہے کہ، بعض افراد ، جن کا ہم پر بڑاحق ہے ،جیسے ماں باب اور اساتذہ کے سامنے خضوع و خشوع سے پیش آئیں۔ اور اسی طرح تاکید کی گئی ہے کہ سادات او رپیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ذریت کے سامنے تواضع او رخشوع سے پیش آئیں، کہ ان کا احترام پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ان کی نسبت کی وجہ او رخدا و رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے احترام کی غرض سے ہے، نہ دنیوی اور مادی طمع سے۔
خدائے متعال نے ماں باپ کے ساتھ نیکی اور احترام کرنے اور ان کے سامنے خضوع و خشوع کے ساتھ پیش آنے کے لئے اپنی عبادت و بندگی کے مرتبہ کے بعد ذکر فرمایاہے:
( وقضی ربک الاتعبدواالاایاه وبالوالدین احسانا اما یبلغن عندک الکبر احدهما او کلا هما فلاتقل لهمااف ولاتنهرهماوقل لهما قولا کریماواخفض لهما جناح الذل من الرحمة وقل رب ارحمهماکما ربیانی صغیر ) (اسراء ٢٣۔٢٤)
''اور تمھارے پروردگار کا فیصلہ ہے کہ تم سب اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا برتاؤ کرو اور اگر تمہارے سامنے ان دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بوڑھے ہوجائیں تو خبردار ان سے اف بھی نہ کہنا او رانھیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان سے ہمیشہ شریفانہ گفتگو کرنا۔ اور ان کے لئے خاکساری کے ساتھ اپنے کاندھوں کو جھکادینا اوران کے حق میں دعا کرتے رہنا کہ پروردگار ان دونوں پر اسی طرح رحمت نازل فرماجس طرح کہ انہوں نے بچپن میں مجھے پالا ہے۔''
اما م سجاد علیہ السلام استاد اور معلم کے حق کے بارے میں فرماتے ہیں:
''حق سائسک بالعلم التعظیم له و التوقیر لمجلسه و حسن الاستماع الیه و الاقبال علیه و ان لا ترفع علیه صوتک و لا تجیب احدا یساله عن شی حتی یکون هو الذی یجیب و لا تحدث فی مجلسه احدا و لا تغتاب عنده احدا ..۔''(۲۳)
''جو تجھے علم سکھاتاہے اور تیری روح کی پرورش کرتاہے، اس کا حق یہ ہے کہ اس کہ تعظیم کرو اس کی مجلس کا احترام کرو اس کے بیانات کو اچھی طرح سے سنو، اس کی طرف متوجہ رہو اور اس کے سامنے بلند آواز سے بات نہ کرو اور اس کی مجلس میں کسی دوسرے کے ساتھ بات نہ کرو اور اس کے سامنے کسی کی غیبت نہ کرو۔''
اگر کوئی دنیا اور مادیات کی لالچ میں کسیکے سامنے خضوع کر ے تو اس نے چاپلوسی کی ہے اور اس کے کام کا باطن شرک ہے، وہ حقیقت میں خدا کو نا تواں سمجھتاہے اس لئے دوسروں پر طمع کرتا ہے۔
جو خدا کو پہچانتا ہے اور خدا کے بارے میں اس کی معرفت مکمل ہے اور اس پر بھروسہ کرتاہے اور خدا کے اس بیان کو کا ن لگاکے سنتاہے کہ اس نے فرمایا ہے:
( الیس الله بکاف عبده ) ) (زمر ٣٦)
''کیا خدائے متعال بندہ کے لئے کافی نہیں ہے؟''
تووہ دوسروں سے امید نہیں رکھے گا تا کہ ان کے سامنے جھکے۔ وہ صرف خدائے متعال پر توکل اور اعتماد کرتاہے اور اسی حالت میں اپنے فریضہ پر بھی عمل کرتاہے۔ اگر اس کا فریضہ کام کرنا ہے، توو ہ کا م کرتا ہے، اگر اس کا فریضہ سبق پڑھنا ہے تووہ سبق پڑھتاہے او ر اگر اس کا فریضہ راہ خدا میں جہاد کرنا ہے تو وہ جہاد کرتاہے اور نتیجہ کو خداوند متعال پر چھوڑتاہے۔
حضرت اما م خمینی رحمة اللہ علیہ بارہا فرماتے تھے:
''ہمارا فرض ہے کہ ہم مبارزہ کریں، لیکن یہ کہ ہم کامیاب ہوں یا نہ ہوںیہ خدا پر ہے، جووہ چاہے اور مصلحت جانے وہی واقع ہوگا۔''
____________________
١۔ طلاق / ٢۔٣
۲۔ بحار الانوار ، ج ٧١،ص ٤٢٤
۳۔ نہج البلاغہ(فیض الاسلام) حکمت ١٠٩ص ١١٣٩
۴۔ بحار الانوار،ج ٢، ص ٤٦
۵۔ بحار الانوار،ج٩٧،ص ٣٦٨
۶۔ بحار الانوار،ج١ ٢،ص ١٠٩
۷۔اصول کافی، ج ٣، ص ١٧٤
۸۔نہج البلاغہ(فیض الاسلام)حکمت ١٩٧،ص ١١٧٩
۹۔ اصول کافی(با ترجمہ) ج ٣، ص ١٧٩
۱۰۔ بحار الانوار ،ج ٧٥،ص ٥٣
۱۱۔ غررالحکم (ترجمہ محمد علی انصاری) ص ٤٧٩
۱۲۔ نہج البلاغہ (فیض الاسلام ) خطبہ٢٤، ص ٨٧
۱۳۔ نہج البلاغہ (فیض الاسلام) خطبہ ٢٢٤، ص ٧٢٩
۱۴۔ ابن عباس کی روایت کے مطابق یہ آیت اور سورہ اسراء کی ٧٣ ویں آیت اس وقت نازل ہوئی ہے کہ امیہ بن خلف اورابوجہل کے علاوہ قریش کا ایک گروہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم سے کہا: آپ ہمارے خداؤں پرہماری طرح ہاتھ پھیروتا کہ ہم آپ کی دین کی طرف مائل ہوجائیں اس وقت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لئے قوم سے دوری سخت تھی آپصلىاللهعليهوآلهوسلم مائل تھے کہ وہ اسلام قبول کریں.( المیزان ، موسسہ مطبوعاتی اسماعیلیان ،ج ١٥،ص ١٧٧)
۱۵۔بحار الانوار ،ج٢١،ص١٥٣
۱۶۔بحار الانوار ، ج ٧١، ص ١٣٨
۱۷۔ نہج البلاغہ (فیض الاسلام ) خطبہ ٢١٨، ص ٧١٩
۱۸۔ بحار الانوار، ج ٧١، ص ١٥١
۱۹۔ مستدرک الوسائل ج ١١ ، ٢١٧
۲۰۔مہدی نراقی،جامع السعادات ،ج٣،ص٢٨ ٢۔٢٢٩
۲۱۔بحار الانوار،ج١،ص٢٢٥
۲۲۔ نہج البلاغہ (فیض الاسلام) خطبہ ١١، ص ٦٢
۲۳۔ بحار االانوار، ج ٢، ص ٤٢
سنتیسواں درس:
تقدیرات الہی ، سچّے اعتقاد اور صحیح خود باوری کا اثر
* ۔حق کے سامنے تسلیم ہوجانا، پریشانیوں کے برطرف ہونے کاسبب
* ۔ قضاو قدر پر ایک نظر
* ۔ یقین کی اہمیت اور اس کے مراتب
* ۔ اولیائے الہی اور تقدیرات الہی پر رضامندی
* ۔ مقام صبر اور اس کی اہمیت پر ایک نظر
* ۔ خدا کی مرضی کو اپنی مرضی پر ترجیح دینے کا اثر
تقدیرات الٰہی ، سچّے اعتقاد اور صحیح خود باوری کا اثر
''یا اباذر؛ یقول اللّٰه جل ثناوه و عزتی و جلالی لایوثر عبدی هوای علی هواه الا جعلت غناه فی نفسه و همومه فی آخرته و ضمّنت السمٰوات و الارض رزقه و کففت علیه ضیعته و کنت له من وراء تجارة کل تاجر. یا اباذر؛ لو انّ ابن ادم فرّ من رزقه کما یفرّ من الموت لأدرکه رزقه کما یدرکه الموت''
گزشہ چند جلسوں میں بحث کا محور تقوی تھا او ر بیان ہوا کہ اگر کوئی باتقوی ہوتو اسے اپنی رزق کے بارے میں پریشان نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ خدائے متعال اس کے سامنے نجات کی راہیں کھولتا ہے جب اسے کوئی پیجیدہ مشکل درپیش ہوتی ہے اس کے لئے راہ نجات قرار دیتا ہے اور اس کے لئے رزق کو ایسی راہ سے پہنچاتا ہے جس کا اسے گما ن تک نہیں ہوتا۔ حقیقت میں جناب ابوذر سے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نصیحتوں کے گزشتہ حصہ میں ، تقوی کے رزق کے ساتھ ربط کو پیش کیا گیا ، چونکہ انسان حلال و پاک اور وسیع رزق کا طالب ہے، اب اگر اسے معلوم ہوجاتاہے کہ تقوی رزق کی وسعت کا سبب بنتاہے، تو اس میں تقوی حاصل کرنے کا شوق پیدا ہوتاہے۔
حق کے سامنے تسلیم ہونا پریشانیوں کے برطرف ہونے کاسبب:
یہ سوال پیدا ہوتاہے، کہ مومن کو اپنی روزی کے بارے میں کس قدر فکر مندرہنا چاہئے،کس قدر اسے اپنی زندگی کو وسعت اور آسودہ بنانے کی فکر میں ہوناچاہئے اور اس فکر میں ہو کہ اپنے رزق کو کیسے اور کس راہ سے حاصل کرے؟ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ انسان اپنی زندگی میں کچھ حاجتیں رکھتاہے کہ اگر وہ پوری نہ ہوں تو زندگی کو جاری رکھنا اس کے لئے ممکن نہیں ہے. من جملہ ان چیزوں میں سے ایک روزی ہے جس پر انسان کی زندگی کا دارومدار ہے، فطری طور پر جو اپنی زندگی سے دلچسپی رکھتا ہے وہ اپنے رزق کی فکرمیں بھی ہوتاہے۔ چنانچہ ہم نے اس سے پہلے بھی ذکر کیا کہ، رزق صرف خوراک تک محدود نہیں ہے بلکہ تمام مادی و معنوی نعمتیں جو خدائے متعال نے اس دنیا میں انسان کو عطا کی ہیں ، سب رزق شمارہوتی ہیں: لباس،گھر، بیوی، استاد او رعلم بھی رزق ہیں۔
اس وسیع نظریہ کے مطابق جو ہم رزق کو تمام مادی ومعنوی نعمتوں پر مشتمل جانتے ہیں، اور اطمینان رکھتے ہیں کہ ہر شخض اپنا رزق حاصل کرنے کے لئے مجبور ہے، فطری بات ہے کہ ہر شخص کو اپنی رزق کے بارے میں فکر مند ہونا چاہئے، لیکن انسان کی فکراور پریشانی کی مقدار اس کی معرفت و ایمان کے مراتب پر منحصر ہے۔ یعنی جس طرح انسان کا ایمان اور اس کی معرفت یکساں نہیں ہے، اس طرح ان کا فکرمندہو نا بھی ایک حد میں نہیں ہے، جس قدر انسان کا ایمان اس کی معرفت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اس کی فکر اور پریشانیاں بھی کم ہوتی جاتی ہیں یہاں تک کہ بعض بزرگوں کی تعبیر کے مطابق بعض اولیاء خدا معرفت کی اس منزل تک پہنچے ہوئے ہیں کہ بالکل اپنی فکر میں نہیں ہوتے ہیں۔ قرآن مجید کی آیات میں جو تسلیم کا مقام بیان ہواہے اسی مرتبہ پر وہ فائز ہیں. خدائے متعال فرماتاہے:
( فلاوربک لایومنون حتی یحکموک فیما شجر بینهم ثمّ لایجدوا فی انفسهم حرجا ممّا قضیت ویسلموا تسلیما ) (نسائ/٦٥)
''پس تمہارے پروردگار کی قسم یہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک آپ کو اپنے اختلاف میں حکم نہ بنائیں اور پھر جب آپ فیصلہ کردیں تو اپنے دل میں کسی طر ح کی تنگی کا احساس نہ کریں اور آپ کے فیصلہ کے سامنے سرا پا تسلیم ہوجائیں''
انسان تسلیم کی منزل میں ایک ایسے مرحلہ تک پہونچ جاتاہے کہ مکمل طور پر خداکے حضور میں تسلیم ہوجاتاہے اور اپنے لئے کوئی چیز نہیں چاہتاہے اور اپنی خواہشات کو فراموش کردیتا ہے اور صرف اس پر توجہ رکھتا ہے جو خدا کی مرضی ہو، اگر انسان اس مرتبہ تک پہونچ جائے ، تووہ پریشانیوں سے رہائی پاجاتاہے اور اس پر مسائل آسان ہوجاتے ہیں:
''اوحی اللّٰه تعالی الی داود: یا داود! ترید و ارید و انّما یکون ما ارید فان اسلمت لما ارید یکفیک ماترید وان لم تسلم بما ارید اتعبتک فیما ترید ثم لا یکون الا ماارید'' (۱)
''خدائے متعال نے حضرت داؤد کو وحی کی : اے داؤد! تم ایک چیز چاہتے ہواور ارادہ کرتے ہو اور میں بھی ایک چیز چاہتاہوں اور جو میں چاہتا ہوں وہ واقع ہوتاہے، پس اگر میری چاہت کے مقابلہ میں تم تسلیم ہوجاؤ تو جوتم چاہو گے وہ تمہیںملے گا اور اگر میری مرضی کے مقابلہ میں تسلیم نہ ہوتے ہو تو میں تمہیں تمہاری چاہت کے بارے میں رنج سے دوچار کروں گا او راس کے بعد وہی واقع ہوگا جسے میں چاہتاہوں''
بعض لوگ مقام تسلیم ،کو مقام رضاسے بالاتر جانتے ہیں ، کیونکہ وہ معتقد ہیں کہ مقام رضا میں انسان جو کچھ خدا انجام دیتا ہے، اسے اپنی خواہش کے مطابق پاتاہے، اس بناپر اپنے مزاج پر نظر رکھتاہے۔ لیکن مقام تسلیم میں اپنے مزاج اور جو کچھ اس کے مخالف وموافق ہے سب کو خدا پر چھوڑ تاہے اور اسے توکل کے مرتبہ سے بالاتر جانتا ہے، کیونکہ توکل امور زندگی میں خدا پر اعتماد کے معنی میں ہے، اور خدا کو اپنا وکیل بنانا ہے ، اس بنا پر بندہ بھی اپنے آپ سے تعلق رکھتا ہے، لیکن تسلیم کے مرتبہ میں اپنے سے متعلق امور سے ہاتھ کھینچتے ہوئے ہر چیز کو خدا ئے متعال کے سپرد کرتاہے۔(۲)
خدائے متعال مومنوں کو مقام تسلیم کی طرف دعوت دیتے ہوئے فرماتاہے:
( یا ایهاالذین آمنوا ادخلوا فی السّلم کافّة و لا تتبّعوا خطوات الشیطان انّه لکم عدوّ مبین ) (بقرہ/٢٠٨)
''ایمان والو! تم سب مکمل طریقہ سے اسلام میں داخل ہوجاؤ اور شیطانی اقدامات کا اتباع نہ کرو کیوں کہ وہ تمھارا کھلا ہوادشمن ہے''
مرحوم علامہ طباطبائی اس آیت کے ضمن میں فرماتے ہیں:
کلمات ''تسلم'' و ''اسلام'' اور ''تسلیم'' ایک معنی میں ہے۔ اور کلمہ ''کافة'' کلمہ ''جمیعا'' کے معنی میں تاکید پر دلالت کرتاہے،اور چونکہ آیت میں مومنین سے خطاب ہے اور وہ ''سلم'' میں داخل ہونے کے لئے مامور ہوئے ہیں، پس نتیجہ کے طور پر آیت میں حکممعاشرے کے تمام لوگوں او رفردفرد سے مربوط ہے۔ لہذا فردفرد پر بھی واجب ہے ا ور تمام لوگوں پر واجب ہے کہ دین خدا میں چون و چرا نہ کریں اور خدا اور اس کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حکم کے سامنے تسلیم ہوجائیں۔ اسی طرح چونکہ خطاب خاص کر مومنین سے ہواہے، اور جس ''سلم'' کے بارے میں مومنین کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ خدا اور اس کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے مقابلہ میں تسلیم ہوجائیں۔ پس جس ''سلم''کے بارے میں ان کو دعوت ہوئی ہے وہ یہ کہ خدا پر ایمان لانے کے بعد اس کے حضور میں تسلیم ہوجائیں اور اپنے لئے قرین مصلحت اور مطلق العنان ہونے کے قائل نہ ہوں اور خدا اور اس کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جوراستہ بیان فرمایاہے اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ اخیتار نہ کریں۔ کوئی قوم ہلاک نہیں ہوئی ہے، مگر یہ کہ اس نے خدا کی راہ کو چھوڑدیا ہو اور نفسانی خواہشات کی پیروی کی ہو اور ایسے راستہ کو اختیار کیا ہو کہ جس کے بارے میں خدا کی طرف سے کوئی دلیل نہیں تھی ۔(۳)
جی ہاں! جو لوگ مقام تسلیم تک پہنچے ہیں، وہ اپنے لئے کوئی خواہش نہیں رکھتے اور ان کی مرضی خدا کی مرضی ہوتی ہے۔ وہ اس فکر میں نہیں ہوتے کہ ان کی روزی کس طرح اور کس راستہ سے حاصل ہو۔ وہ اس فکر میں ہوتے ہیں کہ کسی طرح خدا کی بندگی کریں کہ وہ زیادہ سے زیادہ راضی ہوجائے۔ یقینا یہ گروہ نجات اور سعادت تک پہونچنے والا ہے امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
''کل من تمسک بالعروة الوثقی فهو ناج''
''جس نے خدائے متعال کی مضبوط رسی کو پکڑلیا اس نے نجات پائی''
جب معصوم سے سوال کیا گیا کہ خدا کہ مضبوط رسی کو پکڑنے کے کیا معنی ہے؟ تو فرمایا: وہ خدا کے مقابلہ میں تسلیم ہونا ہے(۴)
اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ مقام تسلیم کاتصور کرناہمارے لئے مشکل ہے۔ ہم اس معنی کو سمجھنے سے قاصر ہیں کیسے کہ انسان ایمان و معرفت کے ایک ایسے مرحلہ تک پہنچ جاتاہے کہ اپنے آپ کو فراموش کردیتاہے اور صرف خدا کی مرضی پر نظر رکھتا ہے، لیکن اس مقام سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور یقینی طور پر ہم جانتے ہیں کہ خدا کے خاص بندے اس مرحلہ یعنی مقام تسلیم و تفویض تک پہنچے ہیں۔
قضا و قدر پر ایک نظر:
مقام تسلیم تک پہنچنے والوں کے علاوہ، کچھ لوگ اس سے ادنی درجہ پر فائز ہوئے ہیں کہ منجملہ ان میں وہ لوگ ہیں جو ''علم الیقین'' کے مرحلہ تک پہنچے ہیں اور جانتے ہیں کہ اس کائنات کے تمام چھوٹے بڑے حوادث ایک مستحکم نظام کے تحت ہیں کہ جو خدائے متعال کی طرف سے مقدر ہوئے ہیں، اور تقدیر کے علاوہ ، حتمی قضا کے مرحلہ تک بھی پہنچے ہیں۔ یعنی تقدیرات کے علاوہ کہ جو خدا کے توسط سے انجام پاتی ہیںا ور قابل تغییر ہیں تمام امور قضائے قطعی کے مرحلہ تک بھی پہنچے ہوئے ہیں ، کہ جن میں کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوتی ہے.
قضا حکم قطعی او رفیصلہ دینے کے معنی میں ہے اور قدر اندازہ اور حد کو تعیین کرنے کے معنی میں ہے۔ حوادثِ دنیا اس لحاظ سے کہ ان کا واقع ہونا علم و مشیت الہی میں قطعی ہے، قضائے الہی کاانجام پاناہے اور اس لحاظ سے کہ حدود ، اندازہ اور زمان ومکان کی موقعیت معین ہے تقدیر الہی مقدر ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ بعض اوقات قضاو قدر کی واضح اور صحیح تفسیر نہ ہونے کی وجہ سے اس میں بعض ابہامات پائے جاتے ہیں اور بہت سے لوگ گمان کرتے ہیں کہ قضاو قدر جبر کے مساوی ہے۔ خلاصہ کے طور پر عرض کرنا چاہتے ہیں کہ جبر کا مسئلہ قضا وقدر سے کوئی رابطہ نہیں رکھتا ہے اور قضا و قدر پر اعتقاد اس معنی میں نہیں ہے کہ انسان اپنے فرائض کو چھوڑدے اور خیال کرے کہ سب چیزیں پہلے سے ہی طے شدہ ہیں اور اس پر کوئی تکلیف نہیں ہے۔ ہمارا اعتقاد ہے کہ قاعدہ علیت عمومی اور اسباب و مسببات کا نظام کائنات او رتمام وقائع و حوداث پر حکم فرماہے، اور ہر حادثہ نے، ضرورت ، وجوب، قطعیت، وجود، شکل اور مکانی وزمانی خصوصیات اور اپنے وجود کی تمام خصوصیا ت کو اپنی علت سے حاصل کیا ہے اور من جملہ اسباب و علل میں ، خود شخص کا ارادہ بھی ہے اور قضا و قدر اس وقت مستلزم جبر ہوگا، جب خود بشر اور اس کے ارادے کو اس میں دخیل نہ جانیں اور قضا و قدر کو بشر کی قدرت ، طاقت اور ارادہ کاجانشین تصور کریں ۔ حقیقت میں یعنی قضاو قدر الٰہی نظامِ سبب و مسبب کہ جو اس جہان میں جاری ہے اس کا سر چشمہ ارادہ اور علم الہی سے اس کے علاوہ قضاء و قدر الہی کوئی چیز نہیں ہے البتہ انسان کا ارادہ وانتخاب بھی من جملہ اسباب و علل ہے۔ اس بنا پر قضاو قدر پر اعتماد انسان کی تکلیف سے منافات نہیں رکھتا ہے۔
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیاگیا کہ شفا پانے کی غرض سے جن تعویذوں کا استفادہ کیا جاتاہے، کیا وہ قضا وقدر الہی کو روک سکتے ہیں؟ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جواب میں فرمایا:
''انّها من قدر اللّٰه'' (۵)
یہ خود قد ر الہی ہیں (یعنی بیماریوں کو شفابخشنے میں ان کا اثر بھی قضاو قدر الہی ہے)
حضرت علی علیہ السلام ایک ٹیڑھی دیوار کے نیچے بیٹھے تھے، اس کے بعد وہاں سے اٹھ کرایک دوسری دیوار کے سایہ میں بیٹھ گئے، حضرت سے کہا گیا:
''یا امیر المومنین اتفرّ من قضاء اﷲ؟ فقال: افرّمن قضاء اﷲ الی قدر اﷲ'' (۶)
''اے امیر المومنین ! کیا آپ قضائے الہی سے فرار کرتے ہیں؟ حضرت نے جواب میں فرمایا: قضائے الہی سے قدر الہی میں پناہ لیتاہوں۔''
یعنی ایک قسم کی قضا و قدر سے دوسری قسم قضاو قدر میں پناہ لیتا ہوں: اگر میں بیٹھا رہوں اور میرے سر پر دیوار گرجائے تو مجھے قضاو قدر الہی کی سزا ملے گی کیونکہ علل و اسباب کی روداد کے دوران اگر کوئی انسان ٹوٹی دیوار کے نیچے بیٹھے اور وہ دیوار اس کے سر پر گرے اور اسے صدمہ پہنچے تویہ خود قضا و قدر الہی ہے اور اگر خود اس سے دور ہوجائے، اس خطرہ سے محفوظ رہے تو یہ بھی قضاو قدر الہی ہے۔
قابل توجہ مطلب یہ ہے کہ اسباب و علل، صرف اسباب مادی و عمومی سے مخصوص نہیں ہیں اور ان ظاہری اسباب ۔ جن کوہم جانتے ہیں۔ کے علاوہ معنوی اور غیر عادی اسباب بھی موجود ہیں۔ منجملہ ان کی دعا اس دنیا کے علل میں سے ایک ہے جو انسان کے مقدر میں موثر ہے۔ دوسرے الفاظ میں دعا قضا و قدر کی زنجیر کی کڑیوں میں سے ایک کڑی ہے کہ کسی حادثہ کو رونما کرنے میں موثر ہوسکتے ہیں یا کسی قضا و قدر کو روک سکتے ہیں، اس لئے فرمایا گیا ہے:
''الدعاء یردّ القضاء و لو ابرم ابراما'' (۷)
''دعا قضا کو لوٹادیتی ہے چاہے جس قدر بھی وہ قضا محکم ہو۔''
اس قسم کی احادیث نظام کلی عالم اور تما م علل و اسباب اعم از مادی و معنوی پر ناظر ہیں۔ ایسے موارد کی ناظر ہیں، کہ معنوی علل و اسباب، مادی علل و اسباب کو ماندکردیتے ہیں۔ جو انسان صرف مادی اور محسوس علل و اسباب کو دیکھتا ہے اور خیال کرتاہے کہ سبب انہی چیزوں تک محدود ہے اور وہ نہیں جانتا کہ ہزاروں دوسرے علل و اسباب بھی ممکن ہے اور قضا و قدر کے حکم کے ساتھ سرگرم ہیں اور جب وہ اسباب و علل درمیان میں ہوتے ہیں تو مادی اسباب و علل ماند پڑتے ہیں اور بے اثر ہوجاتے ہیں:
( و اذا یریکموهم اذا لتقیتم فی اعینکم قلیلا و یقللکم فی اعینهم لیقضی اللّٰه امرا کان مفعولا و الی اللّٰه ترجع الامور ) (انفال/٤٤)
''اس وقت کو یاد کرو جب خدا دشمنوں سے مقابلہ کے دقت تمھاری نظروں میں دشمنوں کو کم دکھلا رہاتھا ( تا کہ تمہارے دل مضبوط ہوجائیں) اور ان کی نظروں میں تمھیں کم کرکے دکھلارہاتھا تا کہ اس امرکا فیصلہ کردے اور تمام امور کی بازگشت خدا کی طرف ہے ''۔
بعض لوگ معرفت و یقین کے ایک ایسے مرحلہ تک پہنچ گئے ہیں کہ وہ جانتے ہیں کہ کائنات خدا ئے متعال کے توسط سے ایک دقیق اور حساب شدہ نظام کی بنیاد پر چلتی ہے، اور ہر روداد و ہر حادثہ کا واقع ہونا قضا و قدر کی بنیاد پر ہے اوروہ جانتا ہے کہ تمام چیزیں منجملہ روزی خدائے متعال کے توسط سے مقدر ہوتی ہے اور جس چیز کو خداوند مقدر فرماتاہے انسان اس سے محروم نہیں ہے وہ واقع نہیں ہوتی ہے اور انسان اسے حاصل نہیں کرسکتا ہے۔ البتہ جیسا کہ ہم نے کہا اس دقیق و حکیمانہ نظام پر اعتقاد رکھنا تکلیف کے منافی نہیں ہے۔
انسان کے لئے ممکن ہے کہ وہ جبر اور کاہلی میں مبتلا ہوئے بغیر قضا و قدر اور توحید افعالی پر اعتقاد رکھے اور گھر میں بیٹھ کر کہے کہ اب جبکہ ہر چیز خدا کی طرف سے مقدر ہے اور ہم سے کوئی کام انجام نہیں پاسکتاہے۔ قضاو قدر او ر توحید افعالی اور اس قسم کے مسائل پر اعتقاد ، مادی و معنوی مسائل کے بارے میں کوشش و فعالیت اور فردی اجتماعی فرائض کوانجام دینے کی ضرورت کے ساتھ منافی نہیں ہے۔ بہر حال اگر کوئی معرفت کی اس حد تک پہنچ جائے تواس کے لئے کسی قسم کا خدشہ نہیں ہوگا۔
یقین کی اہمیت اور اس کے مراتب:
اب جبکہ مقام یقین کی بات آگئی تو مناسب ہے یقین کی تعریف اور اس کے مراتب کی طرف ایک سرسری اشارہ کیا جائے:
یقین ایک ثابت و پائدار اور مطابق واقع اعتقاد ہے جو قابل زوال نہیں ہے اور انسان کے لئے آرام و سکون کا سرمایہ ہے. بیشک یقین معرفت اور ایک معمولی اعتماد سے برتر ہے اور شریف ترین اور بلند ترین انسانی فضیلت میں اس کا شمار ہے اور بہت کم لوگ میں جو اس مرحلہ تک پہونچ سکے ہیں اور یہ وہ عظیم سرمایہ ہے کہ جو بھی اسے حاصل کرلیتا ہے تو گویا اس نے ایک بڑی سعادت تک رسائی حاصل کرلی ہے۔ جو یقین کے مقام تک پہنچاہے وہ خدا کے علاوہ کسی اور چیز پرتوجہ نہیں کرتاہے وہ صرف خدائے متعال پر بھروسہ کرتاہے اور غیر خدا کومؤثر نہیں جانتا حقیقت میں یقین کا مرحلہ مراحل اسلام، نیز ایمان و تقوی کے بعد حاصل ہوتاہے ، چنانچہ حضرت امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:
''الایمان فوق الاسلام بدرجة و التقوی فوق الایمان بدرجة والیقین فوق التقوی بدرجة وما قسم فی الناس شیء اقل من الیقین'' (۸)
''ایمان اسلام سے ایک درجہ برتر ہے اور تقوی ایمان سے ایک درجہ بر تر ہے اور یقین تقوی سے ایک درجہ برتر ہے اور خدا کے بندوں میں یقین سے کم تر کوئی چیز تقسم نہیں ہوئی ہے.''
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
''پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ، لوگوں کے ساتھ نماز صبح پڑھی ، اس وقت مسجد میں آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کی نظر ایک جوان پر پڑی جو اونگھ رہاتھا او راس کا سرنیچے گررہا تھا۔ اس کے چہرے کا رنگ زرد پڑا تھا، اس کا جسملاغرہوچکا تھا اور اس کی آنکھیں گہرائی میں چلی گئی تھیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے فرمایا: اے جوان! تم نے کیسے صبح کی؟
عرض کی: اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ )یقین کے ساتھ! پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس کی بات سن کر تعجب کیا اور فرمایا: ہر یقین کی ایک حقیقت ہے، تمھارے یقین کی حقیقت کیا ہے؟اس نے عرض کیا: یا رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم :میرے یقین کی حقیقت نے مجھے غمگین کردیا ہے۔راتوں کو مجھے(عبادت کے لئے) بیدار رکھا ہے اور دن کو پیاسا (روزہ دار) رہنے پر مجبور کیا ہے، ظاہری زندگی سے بے رغبت ہوچکا ہوں۔ گویا دیکھ رہاہوں کہ عرش الہی حساب و کتاب کے لئے آمادہ ہے او رلوگ محشور ہورہے ہیں اور میں بھی ان میں موجود ہوں۔ گویا اہل بہشت کودیکھ رہا ہوں کہ بہشت کی نعمتوں سے بہرہ مند ہورہے ہیں، ایک دوسرے سے سرگرم او رتختوں پرتکیہ لگائے بیٹھے ہیں۔ گویا اہل جہنم کو دیکھ رہا ہوں کہ جہنم کے عذاب میں مبتلا ہیں اور فریاد بلند کرتے ہوئے مدد چاہتے ہیں. گویا اس جہنم کی وحشتناک آواز کو سن رہا ہوں جو اس وقت میرے کا نوں میں گو نج رہی ہے۔
اس کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: یہ وہ بندہ ہے جس کے دل کو خدا ئے متعال نے ایمان سے منور فرمایاہے۔
اس کے بعد اس جوان سے کہا: یہ جو حالت رکھتے ہو اس پر پائدار رہنا او راسے کھونہ دینا۔ اس کے بعد اس جوان نے کہا: اے اللہ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ، خدا سے میرے لئے دعا فرمائیںکہ اس کی راہ او رآپ کی رکاب میں مجھے شہادت نصیب ہو۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے لئے دعا کی اور زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ وہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک جنگ میں شرکت کرنے کیلئے باہر گیا اور نو افراد کے بعد شہید ہوگیا، وہ دسواں شہید تھا ۔(۹)
یقین کے تین مراحل ہیں:
١۔ علم الیقین
٢۔ عین الیقین
٣۔ حق الیقین
قرآن مجید میں مذکورہ تینوں مراحل کا واضح طور پر ذکر آیا ہے:
( کلا لو تعلمون علم الیقین لترون الجحیم ثم لترونها عین الیقین'' ) (تکاثر /٥۔٧)
''دیکھو اگر تمہیں یقینی علم ہوجاتا ، تم جہنم کو ضرور دیکھتے پھر اسے اپنی چشم بصیرت اور نگاہ یقین سے دیکھتے''
( ان هذا لهو حق الیقین ) (واقعہ/٩٥)
یہ (جہنم کا وعدہ) البتہ یقینی اور حقیقت ہے۔
١۔ علم الیقین: سے مراد پائدار اعتقاد اور واقع کے مطابق یقین ہے، جو لازم و ملزوم کے استدلال کی راہ سے حاصل ہوتاہے، جیسے دھویں کا مشاہدہ کرکے آگ کے وجود کا یقین ۔(۱۰)
خدا ئے متعال قرآن مجید میں فرماتا ہے:
( سنریهم آیاتنا فی الآفاق و فی انفسهم حتی یتبیّن لهم انه الحق اولم یکف بربک انه علی کل شی ء شهید ) (فصّلت/ ٥٣)
''ہم عنقریب اپنی نشانیوں کو تمام اطراف عالم میں اور خود ان کے نفس کے اندر دکھلائیں گے تا کہ ان پر یہ بات واضح ہوجائے کہ وہ بر حق ہے اور کیا پروردگار کے لئے یہ بات کافی نہیں ہے کہ وہ ہر شے کا گواہ اور سب کا دیکھنے والاہے۔''
اس آیت میں آفاقی و انفسی آیات کے ذریعہ خداکے وجود پر استدلال ہواہے۔
٢۔ عین الیقین: مراد یہ ہے وہ اعتقادات جو مطلوب کودیکھنے اور چشم بصیرت سے حاصل ہوتے ہیں ۔ یہ دیکھنا، روشنی اوراجالے میں ظاہری آنکھوں سے دیکھنے سے زیادہ قوی ہے۔(۱۱)
یقین کے اس مرحلے کے بارے میں اشارہ کرتے ہوئے توحید صدوق میں آیا ہے:
''جاء حبر الی امیر المؤمنین علیه السلام فقال: یا امیر المؤمنین هل رایت ربک حین عبدته؟ فقال: ویلک، ما کنت اعبد ربا لم اره. قال: و کیف رایته؟ قال: ویلک لاتدرکه العیون فی مشاهدة الابصار و لکن رأته القلوب بحقائق الایمان'' (۱۲)
''اہل کتا ب کا ایک دانشمند امیرالمومنین کے پاس آیا اور کہا: اے امیرالمومنین ! کیا عبادت کے دوران آپ نے اپنے پرودگار کو دیکھاہے؟ علی علیہ السلام نے جواب میں فرمایا: افسوس ہو تم پر، میں اس پروردگا ر کی عبادت نہیں کرتا ہوں جسے میں نے نہ دیکھا ہو۔ اس نے کہا: خدا کو کیسے دیکھا؟جواب میں فرمایا: افسوس ہو تم پر ، آنکھیں اپنے مشاہدہ میں اسے درک نہیں کرتی ہیں (خدائے متعال ظاہری آنکھوں سے دیکھا نہیں جاسکتا ) بلکہ (چشم بصیرت اور) ایمان حقیقی ا و راسخ دل نے اس کو دیکھاہے''
٣۔ حق الیقین: وہ اعتقاد راسخ ہے جو خود شی کو پانے اس کے ساتھ حقیقی رابطہ پیداکرنے سے حاصل ہوتاہے، اس طرح کہ صاحب یقین اپنی چشم بصیرت سے نور کے فیوضات کو اس کی طرف سے مشاہدہ کرتاہے۔
اس مرحلہ کا نتیجہ فنا فی اللہ اور اس کے عشق و محبت میں محو ہونا ہے ، ایسے کہ اپنے لئے کسی استقلال اور اہمیت کا قائل نہیں ہوتا ،یہ مرحلہ آگ میں کودکر جلنے کے مانند۔(۱۳)
حدیث قدسی میں آیا ہے:
''...و ما یتقرب الیّ عبد من عبادی بشی ء احبّ الیّ ممّا افترضت علیه و انّه لیتقرب الیّ بالنّا فلة حتی احبّه فاذا احببته کنت اذا سمعه الذی یسمع به و بصره الذی یبصربه و لسانه الّذی ینطق به و یده الذی یبطش بها'' (۱۴)
''میرا بندہ واجب کی ہوئی چیز سے محبوب تر کسی چیز سے مجھ سے نزدیک نہیں ہوتاہے اور نافلہ کے ذریعہ مجھ سے قریب ہوتاہے تاکہ اسے دوست رکھوں ۔ جب میں اسے دوست بنالیتاہوں تومیں اس کا کان ہوجاتاہوں جس سے وہ سنتا ہے اور اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور میں اس کی زبان ہوجاتا ہوں جس سے وہ بولتاہے اور میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتاہے''
امام سجاد علیہ السلام دعائے ابوحمزہ ثمالی میں فرماتے ہیں:
''اللهّم انّی اسئلک ایمانا تباشر به قلبی و یقینا صادقا حتّی اعلم انه لن یصیبنی الا ما کتبت و رضّنی من العیش بما قسمت لی یا ارحم الرّاحمین''
''خدایا ! تجھ سے اسے ایمان کی درخواست کرتاہوں جس سے میرا دل وابستہ ہو (یعنی باطنی او رقلبی ایمان نہ ایما ن سطحی و زبانی) اور مجھے ایسے اعتقاد پرثابت قدم رکھ تا کہ سچا یقین پیدا کرسکوں اور مجھے اس کے سوا کچھ نہ ملے جسے تم نے میرے لئے مقدر کر رکھا ہے اور مجھے اس پر راضی اور خوشحال بنانا جو تونے مجھے عطا کیاہے (وہی زندگی جو مجھے عنایت کی ہے) اے رحم کرنے والوں میں سب سے رحم کرنے والے۔''
امام علیہ السلام خدائے متعال سے ایک واقعی اور پائدار ایمان کی درخواست کرتے ہیں جو یقین کے مرحلہ تک پہنچاہو اور حقیقت میں ایمان کے آخری مرحلہ کی درخواست کرتے ہیں، چونکہ اس کے بعد فرماتے ہیں: ''و یقینا صادقا...'' جس یقین صادق کو امام خدا سے چاہتے ہیں وہ اہم ترین عنایت و نعمت الہی ہے، جو یقین صادق اور حق الیقین کے نتیجے میں انسان کوایک ایسا قلبی اعتقاد حاصل ہوتاہے کہ پروردگا ر عالم کی قدرت کے علاوہ کسی طاقت کو کا ئنات پر حاکم نہیں جانتاہے اور وہ تمام امور کو خدا کی طرف منسوب کرتا ہے اور ہمیشہ اپنے آپ کو خدا کے حضور میں دیکھتا ہے اور وہ اس بات کی طرف متوجہ ہے کہ کوئی ناشائستہ کردار اس سے سرزد نہ وہ اور خدا کی مرضی کے خلاف کوئی عمل انجام نہ پائے۔
روایتوں میں یقین کا مرتبہ انسان کے لئے خداکی ایک بڑی نعمت ذکر ہوئی ہے اور جیسا کہ پہلے نقل ہوا کہ امام رضا علیہ السلام نے فرمایا ہے :
''انسان کے درمیان یقین سے کم تر کوئی چیز تقسیم نہیں ہوئی ہے، یعنی بہت کم ہیں ایسے لوگ ہیں جو یقین کے مرحلہ تک پہنچے ہیں۔''
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
''لا یجد عبد طعم الایمان حتی یعلم انّ ما اصابه لم یکم لیخطئه و انّ ما اخطاه لم یکن لیصبه و انّ الضّار النافع هو الله عزّوجل''ّ (۱۵)
''کوئی بھی بندہ ایمان کے مزہ کو نہیں چکھتاہے یہاں تک جان لے کہ جو کچھ اسے ملاہے ،وہ اس سے دور نہیں ہوگا اور جو کچھ اس سے دور ہواہے وہ اسے نہیں ملے گا اور یہ کہ نفع اورنقصان پہنچانے والا تنہا خدائے متعال ہے''
اگر انسان یقین و معرفت کی اس بلند مرحلہ تک پہنچ جائے کہ یقین کرے کہ ہر مصیبت و مشکلات اور ہر خیر جواسے ملاہے، ممکن نہیں تھا کہ اسے نہ ملے اور جو کچھ اسے نہیں ملا ہے،وہ ملنے والا نہیں تھا، تو وہ اپنے اندر ایک خاص آرام و سکون کا احساس کرتاہے اور ایمان کی حلاوت پاتاہے۔ اور جو معرفت کی اس حد تک پہنچ جائے، اگر چہ وہ مادی و معنوی لذتوں کا خوہشمند ہے، لیکن وہ جانتا ہے کہ ہر چیز کے لئے ایک حساب و کتاب ہے اور ایک خاص نظام کی بنیاد پر اسے ملنی ہے اور ایسا نہیں ہے کہ جو بھی چاہے اسے ملے گا اور جو نہ چاہے اس سے روک دیاجائے گا۔ بہت سے چیزیں جنھیں انسان نہیں چاہتا ہے، وہ خدا کی مصلحت کی بنیاد پر اس کے لئے مقدر ہوتی ہے اور اس کے بر عکس بھی ممکن ہے ایسے چیزیں جنھیں ہم چاہتے ہیں ، لیکن مصلحت الہی کا تقاضانہیں ہے کہ وہ چیزیں ہمیں ملیں، لہذا جتنی بھی جستجو کریں ہم ان تک نہیں پہنچتے۔
اولیائے الہی اور تقدیرات الہی پر رضا مندی:
یقین کی منزل تک پہنچنے کے بعد انسان اپنی خواہشات او رمطالبات کو نظر انداز کرتاہے اور خداکی مرضی پر امید رکھتا ہے اور اس کے بعد اپنے وقت کو حاصل نہ ہونے والی آرزوؤں اور خواہشات کے بارے میں سوچنے پر صرف نہیں کرتاہے اور صرف اپنے فرائض اور تکالیف انجام دینے کا عزم و ارادہ کرتاہے۔ وہ اس فکر میں ہوتاہے کہ خدائے متعال اس سے کیا چاہتاہے او رجو کچھ اس کے لئے مقدر (تقدیر میں ) ہے اسی پر راضی ہوتاہے۔ اہل یقین اس کے علاوہ کہ وہ جانتے ہیں جوان کے مقدر میں ہے وہ انھیں ملے گا، یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کے لئے خیر مقدرات الہی میں ہے ۔ یعنی احسن نظام کے بارے میں آگاہ ہیں اور جانتے ہیں کہ جو کچھ خدائے متعال نے مقدر فرمایاہے وہ ان کے لئے بہترین ہے ، اور خداکی طرف سے مقدر ہوئی چیز، نظام کلی عالم کا ایک جز ہے اور وہ بہترین نظام ہے اور ایک خاص اسباب و شرائط او رخاص زمان و مکان کے پیش نظر جو کچھ ہوا ہے اس سے بہتر انجام پانا ممکن نہیں ہے ۔جی ہاں! جو معرفت کی اس حد تک پہونچا ہے کہ وہ یقین رکھتے ہیں جو بھی خدا چاہے گا وہ انھیں ملے گا، وہ ا پر خوش ہوتے ہیں اور فکرمند نہیں ہوتے: انھیں اگر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ کھلے دل سے اس کا استقبال کرتے ہیں ، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان کی خیر اسی میں ہے جو رونما ہواہے، یہ مقام رضاہے۔
مقام رضا کے مالک وہ ہوتے ہیں جو یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ تمام تقدیرات الہی بندوں کے فائدہ میں ہے، اس سلسلہ میں فراوان حدیثیںپائی جاتی ہیںمن جملہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
''عجب للمرء المسلم لا یقضی اللّٰه عزّوجل له قضاء الّا کان خیرا له و ان قرض بالمقاریض کان خیرا له و ان ملک مشارق الارض و مغاربها کان خیرا له'' (۱۶)
''میں تعجب میں ہوں اس مسلمان کے بارے میں کہ خدائے متعال اس کے لئے اس کے سواء کوئی سرنوشت و تقدیر معین نہ کرے مگر یہ کہ اس میں اس کے لئے خیر ہو، اگر اس کے بدن کے قینچی سے ٹکڑے ٹکڑے کردے تو بھی اس میں اس کے لئے خیر ہے اور اگر اسے تمام مشرق و مغرب کی زمینوں کا مالک بنادے تو بھی اس میں خیر ہے''
اما م فرماتے ہیں کہ تمام تقدیرات جو خدانے مومن کے لئے معین کی ہیں وہ خیر ہیں، خواہ وہ ظاہر میں پسندیدہ ہوں یا نا پسندیدہ۔ ناپسندیدہ حوادث جو پیش آتے ہیں وہ یا تو اس کی صلاح کے لئے یا اخروی صلاح کے لئے ۔جو بھی اس قسم کی معرفت پیدا کرے کہ جو پیش آئے اس سے خوش اور اسی پر راضی رہے ، بندگی کے مقام پر کوتاہی نہ کرے، اپنے فریضہ کو انجام دے، تو اس کویہ فکر و پریشانی نہیں ہوتی کہ اس کا رزق کم ہے یا زیادہ یا یہ کہ کیا پیش آنے والاہے، اس پر خائف نہیں ہوتاہے ، اس نے اپنے کام کو خدا کے سپرد کردیا ہے اور خود عبادت و بندگی میں مصروف ہے اورتہہ دل سے جانتا ہے جو بھی پیش آتاہے اسی میں خیر و بھلائی ہے اور وہ اس کے سواکچھ نہیں دیکھتا ہے۔
وہ تمام حوادث اور رودادوں پر خوش فہمی سے نظر ڈالتا ہے اور مصیبتوں او رمشکلا ت پر راضی ہوتاہے۔ اگر جیل میں ڈال دیا جائے تو شکوہ نہیں کرتا، روایت کی تعبیر کے مطابق اگر اس کے بدن کے قینچی سے ٹکڑے ٹکڑے کئے جائیں ،تو ہی خوش ہوتاہے، کیونکہ وہ اپنی خیر کو اسی میں دیکھتاہے۔
ہم نے انقلاب اور جنگ کے دوران ایسے افراد کو دیکھاہے جو کچھ انھیں پیش آتاتھا اس کا کھلے دل سے استقبال کرتے تھے ۔محاذ جنگ پر ایسی مائیں ، باپ ، بھائی، بہنیں اور شہید کی بیوی بچے ہوتے تھے کہ ان کے عزیزوں کے ٹکڑے ٹکڑے ہوئے بدن یا جلے ہوئے جنازے ان کے پاس لائے جاتے تھے، لیکن و ہ ہنسی خوشی او رفخر کے ساتھ اس روداد پر خدا کا شکر بجالاتے تھے!
تقدیرات الہی پر راضی ہونے او رپیش آنے والی مصیبتوں پر خوش ہونے کے بارے میں کہنا آسان ہے، لیکن میدان عمل میں اترنابہت مشکل ہے۔ اس معنی کودر ک کرنا بہت دشوار ہے، کیسیبعض خدا کے بندے ایسے بلند مقام تک پہنچتے ہیں کہ رونما ہونے والے حوادث کے بارے میں انھیں کسی قسم کی کوئی پریشانی لاحق نہیں ہے ، ان کے لئے کوئی فرق نہیں ہے کہ کل کیا پیش آنے والا ہے ، ان کا رزق ملے گا یا نہیں۔ اگر ان کاکوئی عزیز محاذ جنگ پر گیا ہے تو انھیںاس کے قتل ہونے کی کوئی فکر و پریشانی نہیں ہے یا اگر خود فداکاروں کے ہمراہ محاذ جنگ کا رخ کیا ہے ، تواسے گھربارکی کوئی فکرنہیں ہے، کیونکہ جس نے اپنے جان اور پوری ہستی کو اخلاص کی ہتھیلی پر رکھا ہے، شہادت کے لئے آمادہ ہے، تو وہ گھر بارکی فکر میں نہیں ہو سکتاہے کیا اچھا ہوتااگر جمالِ یار کے متوالے زندہ بچ کر صحیح و سالم اپنے گھر واپس لوٹتے، اور ان بلند معنوی جذبات او رخصوصیات کو حفظ کرکے قضائے الہی او رتسلیم کے بارے میں لوگوں کو ہمیشہ فداکاری و رضامندی کا سبق دیتے اور ان کی زبان پر یہ ہوتا:
گردرددہد بہ ما و گر راحت دوست
از دوست ہرآنچہ آید نیکوست
مارانبود نظربہ نیکی و بدی
مقصود رضا و خوشنودی اوست
(مجھے دوست کی طرف سے درد ملے یا آرام و سکون ، دوست کی طرف سے جو بھی ملے اچھائی ہے۔
ہمیں نیکی و بدی سے سروکارنہیں ہے، بلکہ ہمارامقصود اس(خدا) کی رضا و خوشنودی ہے)
مرحوم ملامہدی نراقی فرماتے ہیں: قضائے الہی پر راضی ہونا دین کے بلند ترین مقامات اور مقربین کے شریف ترین منازل میں سے ہے اور یہ پروردگار کا عظیم دروازہ ہے۔ جو اس دروازہ سے داخل ہوجائے ، بہشت میں وارد ہوتا ہے۔ مقام رضا کی اہمیت اس حد تک ہے کہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم سے نقل کی گئی ایک روایت میں آیا ہے کہ قیامت کے دن خدائے متعال میری امت میں سے ایک گروہ کو ایسے بال و پر عطا کرے گا جن کے ذریعہ وہ اپنی قبروں سے بہشت کی طرف پرواز کریں گے اور من پسند بہشت کی نعمتوں سے استفادہ کریں گے۔ملائکہ ان سے سوال کریں گے: کیا تم نے حساب لینے کی موقف کو دیکھا؟ وہ کہیں گے: ہم سے کوئی حساب نہیں مانگا گیا۔ ان سے پوچھیںگے: کیا تم لوگوں نے پل صراط کو عبور کیا؟ جواب میں کہیںگے :ہم نے کوئی پل صراط نہیں دیکھا۔ پوچھیںگے: کیا جہنم کودیکھا؟ کہیںگے :ہم نے کسی جہنم کو نہیں دیکھا۔ ملائکہ ان سے سوال کریںگے: تم لوگ کس کی امت سے ہو؟ جواب دیں گے : ہم امتِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہیں.
ملائکہ انھیں قسم دلاکے پوچھیںگے : تم لوگ دنیا میں کیا کرتے تھے اور کس طرح کا عقیدہ و تصور رکھتے تھے؟ کہیںگے : ہم میں دو خصلتیں تھیں او رخدا ئے متعال نے ہمیں انہی دو خصلتوں کی وجہ سے اپنی ان رحمتوں سے نوازا ہے اور نتیجہ میں اس مقام پر پہنچایا ہے:
''کنّا اذا خلونا نستحیی ان نعصیه ونرضی بالیسیر مما قسّم لنا'' (۱۷)
پہلی خصلت یہ کہ ہم خلوت میں ہو نے کے باوجود بھی معصیت انجام دینے میں خدا سے شرم و حیا محسوس کر تے تھے ۔دوسری یہ کہ ہم اس پر راضی تھے جو خدا نے ہمارے مقدر میں رکھا تھا۔(۱۸)
خدا ئے متعال مقام رضا پرپہنچے ہوئے افراد کے بارے میں فرماتا ہے:
( یا ایتها النفس المطمئنة ار جعی الی ربک راضیة مرضیة ) (فجر٢٧۔٢٨)
یہ آیۂ شریفہ مقام رضا واطمینان کو بیان کرتی ہے جو انسان سے ہر قسم کے اضطراب ،پریشانی اور تشویش کے دور ہونے کا سبب ہے ۔اس مقام کی خصوصیت یہ ہے کہ انسان راضی بھی ہے مرضی بھی ،یہ معنی دوسری آیت میں یوں بیان ہوا ہے :
( رضی اللّٰه عنهم ورضوا عنه ) ۔۔۔۔) (فائدہ١١٩)
'' پروردگار ان سے راضی ہے اور وہ بھی پرور دگارسے راضی ہیں ''
کلمہ((راضیة))اور((مرضیہ کے با رے میں علا مہ طبا طبائی رحمة اللہ علیہ اس آیہ مبارکہ کے ضمن میں فر ماتے ہیں:
''اگر خدائے متعال نے نفس مطمئنہ کو''راضیہ'' و ''مرضیہ'' سے توصیف فرمایاہے وہ اس لئے ہے کہ پروردگار سے دل کے اطمینان و سکون حاصل کرنے کا تقاضا ہے کہ انسان خداسے راضی ہو اور جو بھی قضا و قدر اس کے لئے مقدر فرمائے، اس پر کسی قسم کا اعتراض نہ کرے، خواہ وہ قضا و قدر تکوینی ہو یامکتوبی کہ جسے خدانے شرعی حیثیت دی ہو۔ پس کوئی بھی غضب و غصہ پیدا کرنے والا حادثہ اسے خشمگین نہیں کرتاہے اور کوئی گناہ اس کا دل کو منحرف نہیں کرتاہے او رجب بندہ خدائے متعال سے راضی ہوگیا تو قہری طور پر خدائے متعال بھی اس سے راضی ہو گا، چونکہ بندہ کا خدا کی بندگی کی حالت سے خارج ہونے کے علاوہ کوئی اور عامل اسے غضبناک نہیں کرتاہے اور جب خدا کا بندہ عبودیت کی راہ میں قدم رکھتا ہے تو خدا کی رضامندی کا حقدار بن جاتاہے، لہذا خدائے متعال نے کلمہ ''راضیہ'' و ''مرضیہ'' کو استعمال کیاہے''
لہذا انسان کے لئے مکمل اطمینان و آرام اس وقت حاصل ہوتاہے جب وہ خدائے متعال سے راضی ہوتاہے۔ دوسرے سے راضی ہونااس معنی میں ہے کہ انسان اس کی صفات و افعال کو پسند کرتاہے اور شخص موحد کو جب معلوم ہوتاہے کہ اس کائنات کے تمام امور تدبیر الہی کے تحت ہیں اور جب وہ مقام رضا تک پہونچ جاتاہے، تووہ کسی بھی حادثہ و روداد سے پریشان نہیں ہوتاہے، کیونکہ وہ اس حادثہ کو خدائے متعال کی طرف سے دیکھتا ہے اور اس کے ارتباط کو ذات حق سے درک کرتاہے۔ وہ جانتا ہے کہ خدا کے اذ ن ، ارادہ او رمشیت کے بغیر کوئی حادثہ رونما نہیں ہو سکتااور ناراض نہ ہونے کے علاوہ ، اس کے پیش نظر کہ وہ حادثہ خدا کی مرضی کی بنیاد پر رونما ہواہے، اس سے خوش ہوتاہے۔
حقیقت میں مقام رضا مقام صبر سے بالاتر ہے، چونکہ صبر ناراضگی سے بھی سازگارہے؛ انسان دانت پیس کر صبر کرتاہے، کیونکہ وہ حادثہ اس کے لئے تلخ ہے۔ لیکن جو شخص مقام رضا تک پہنچا ہے، وہ سختی اور دشواری کودرک نہیں کرتاہے تا کہ اس پر صبر کرے ، بلکہ تمام چیزیںاس کے لئے شیریں ہوتی ہیں، جو بھی پیش آئے اسے پسند ہے،پریشانی کی اس کے لئے کوئی بات نہیں ہے۔
یقینا اس مقام کے بارے میں تصور کرناہمارے لئے مشکل ہے،چہ جائے کہ ہم اس مقام کو حاصل کریںکیسے ممکن ہے ایک انسان اپنی صحت و سلامتی سے بھی راضی ہو اور بیماری سے بھی راضی ہو! اگر دولت مند ہے تو اپنی دولت سے بھی راضی ہے اور اگر فقیر ہوجائے تو اپنی فقیری سے بھی راضی ہے! اس سے بڑھکر یہ کہ ، جو افراد مقام رضا تک پہنچے ہیں، انھوں حالت نفسانی ،(فطرت)اور رضایت نفسانی یعنی وہ اعمال کہ جو ظاہراً رضایت سے سازگاری نہیں رکھتے ہیں دونوں کو جمع کیا ہے :
یقینا ائمہ اطہار علیہ السلام من جملہ اما م حسین علیہ السلام مقام رضا کے بالاترین مرحلہ پر فائز تھے اور ہم دیکھتے ہیں جو کچھ انھیں پیش آتاتھا، اس لحاظ سے کہ خداکی طرف سے تھا راضی تھے، لیکن پھر بھی ناراض تھے یہی وجہ ہے کہ انھوں نے شمشیر بکف ہو کر جہاد کیا اور آخری لمحۂ حیات تک جنگ کرتے رہے۔ یہ جہاد کرنا اس وجہ سے تھا کہ وہ بنی امیہ کی حکومت سے راضی نہیں تھے۔ کیسے ممکن ہے انسان ایک حادثہ سے اس لحاظ سے کہ خدا کی طرف سے ہے راضی بھی ہواور ناراض بھی!۔ ان دو کے درمیان فرق کرنا دشوار ہے اور انسان کو چاہئے کہ تکامل کے ان مراحل تک پہونچ جائے تاکہ مراتب او رحیثیتوں کو ایک دوسرے سے جدا کر سکے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ انسان کا نفس مراتب طولی کے اعتبار سے مختلف صورتوں کا مالک ہوتا کہ ایک مرتبہ میں حوادث کو اس کے فاعل قریب کی حیثیت سے دیکھے اور اس کیرفتار سے ناراض ہو۔ ان کے انجام دئے جانے والے گناہ ، ظلم اورخیانتوں سے ناراض ہواور ان پر حملہ آور ہوجائے، اور عین اسی حالت میں دوسرے مرتبہ پر اس کانفس شاد و مسرورہو۔
ذہن کو اس مطلب و مفہوم سیقریب کرنے کے لئے ایک مثال پیش کرتا ہوں: فرض کریں کسی کے سرمیں درد ہے اور طبیب اس کے لئے ایک کڑوی دوا تجویز کرتاہے ، یہاں پر انسان چونکہ اپنی سلامتی چاہتاہے اس لئے اس دوا کو کھاتا ہے، اس لحاظ سے اس کے کھانے پر راضی ہے، لیکن اس لحاظ سے کہ یہ دوا تلخ ہے ناراض ہے۔ اگر کسی کے ہاتھ میں انفکشن ہوگیا ہے اگر اسے نہ کاٹاجائے تو وہ مرض اس کے سارے بدن میں سراعت کرجائیگا اور اس کی جان خطرے میں پڑجائیگی تو وہ شخص اپنے ہاتھ یا پیر کے کاٹے جانے پر راضی ہوجاتاہے کیونکہ اسی میں اس کی جان کا تحفظہے اور وہ عمل اس کے لئے ناراض کنندہ نہیں ہے، لیکن اس لحاظ سے کہ ایک ہاتھ سے محروم ہوجائیگاناراض ہے خاص کر درد واذیت اور وہ پریشانیاں جو آ پریشن کے بعد رونما ہوتی ہیں۔ حقیقت میں انسان کے اندر اس دورخی حالت او رخاصیت کا وجود عجیب و غریب ہے کہ ایک ہی لمحہ میں ، ایک حادثہ کے بارے میں دو مختلف حالتوں سے روبرو ہوتا ہے البتہ ان دونوںحالتوں کا وجوددوسرے دو مختلف عوامل کا حاصل اور نتیجہ ہے ، جب وہ سوچتا ہے کہ ہاتھ کا کاٹاجانا اس کی سلامتی کاسبب ہے،تو خوش ہوتاہے اور اس لحاظ سے کہ اپنے ایک ہاتھ سے محروم ہورہاہے اور در د کی سختی کررہا برداشت کرتاہے ،تو ناراض ہوتا ہے۔
مذکورہ مثال کے پیش نظر ہم عرض کرتے ہیں: جس انسان کی معرفت کمال تک پہنچ گئی ہے، وہ جانتا ہے کہ دنیا کے حوادث خدائے متعال کے ارادہ کے بغیر رونما نہیں ہوتے ہیں.لہذا وہ اس لحاظ سے کہ وہ حوادث خدا کے ارادہ سے رونما ہوئے ہیں راضی ہے، لیکن اس لحاظ سے کہ وہ حوادث ایک ظالم کے توسط سے انجام پائے ہیںا ور وہ اس ظالم کی پستی و ، انحطاط نیز اس کے جودی نقص کی علامت ہے، لہٰذا ناراض ہے کہ ایک انسان کو کیوں اس قدر جاہل و گناہگار ہوکہ اس طرح کے نازیبا اور ناشائستہ عمل کا مرتکب ہو ۔ لہذا ممکن ہے انسان ایک حادثہ کے بارے میں دونظر یہ رکھتا ہو اور ہر نظر یہ کے مقابلہ میں متناسب رد عمل دکھائے۔
مومن کو اس جہت سے خوش ہونا چاہئے کہ حوادث ومصائب خدا کے ارادہ او رمشیت سے رونما ہوئے ہیں، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ خدا ئے متعال کسی کام کو حکمت کے بغیر انجام نہیں دیتا ہے او ر احسن نظام کا تقاضا ہے کہ حوادث کو اپنی جگہ پر مناسب شرائط سے جس طرح واقع ہونا چاہئے اسی صورت میں رونما ہو۔ جب اسے معلوم ہواکہ خدائے متعال حکیم و دانا ہے اور لغو و بیہودہ کام انجام نہیں دیتاہے، تو وہ جانتا ہے کہ جو کچھ اس دنیا میں رونما ہوتاہے ، اس جہت سے کہ ایک ہم آہنگ اور کامل نظام کے تحت ہے، جو مخلوقات عالم کے لئے تکامل کاسبب ہے او رانسان ان گوناگوں حوادث کے سایہ میں خداوند متعال سے نزدیک ہوتا ہے اور ایسے کمالات تک پہونچتاہے جو دنیوی لذتوں سے قابل موازنہ نہیں ہے، لہذا مومن مجموعی حوادث کی نسبت کلی طور پر خوش بینہے۔ یہاں تک اس نظریہ کے مطابق پیغمبروں او رائمہ کے قتل ہونے سے بھی ناراض نہیں ہوتاہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ شہادت کے درجۂ رفیعہ پر فائز ہوکر ایک بلند مرتبہ پر پہونچ گئیہیںاور اسی طرح ان کی شہادت دین کی ترقی اور پیش رفت کا سبب بنی ہے۔
سیدالشہدا ء حضرت اما م حسین علیہ السلام اپنی شہادت کے ذریعہ بلند تر ین مقام تک پہنچے اور آن کی شہادت اسلام کے بقا او رپیش رفت کا سبب بنی اور اس امر کا بھی سبب بنی کہ دوسرے لوگ بھی آپ کی معرفت او ریاد کے سایہ میں معنوی کمالات تک پہونچیںاو رصحیح زندگی او ردنیوی و اخروی سعادت کی راہ کو پہچان لیں۔ اگر آپ شہید نہ ہوتے، تو نہ آپ اس مقام تک پہنچتے ، نہ اسلام زندہ ہوتااور نہ ہم امام شناس ہوتے تا کہ آپ کی شفاعت ہمیں نصیب ہو۔ اس جہت سے ہمیں آپ کی شہادت سے خوش ہونا چاہئے کہ یہ تقدیر الہی ہے اور ایک احسن و اصلح نظام کی کڑی میں مؤثر ہے ۔ لیکن غمگین اور آنسو بہانا انسانی جذبات او رہمدردی کی جہت سے ہے، چونکہ انسان ایک مہربان اور ہمدرد مخلوق ہے اور اس کی ہمدردی کا تقاضا ہے کہ جب اس کے محبوب کو کوئی مصیبت او ر مشکل پیش آئے تو وہ غمگین ہو۔
جی ہاں، ضعیف افراد وہ چاقت نہیں رکھتے ہیں جو ان حیثیتوں کو ایک دوسرے سے جدا کریں اور پھر ایک دوسرے کی ردیف میں قرار دیں او ربعض اوقات ان کے وجود کا عقلانی اور جذباتی پہلو ایک دوسرے سے تزاحم و تضاد کا حامل ہوتا ہے، اس جہت سے وہ ان دونوں کو آپس میں جمع نہیں کرسکتے۔ لیکن جن کا نفس کامل ہے ، وہ ان دنوں حیثیتوں کو ایک دوسرے سے جدا کرتے ہیں اور حیثیتوں کا جدا ہونا سبب بن جاتاہے کہ مختلف حالات حتی ایک ہی حادثہ کے بارے میں اور ایک ہی زمانہ میں خودبخود رونما ہوں، کہ البتہ یہ نفس کے گوناگوں مراتب سے مربوط ہے کہ ایک جہت سے نفس شادہوتاہے اور دوسری سے غمگین ہوتاہے.
جی ہاں ، جو شخص مقام رضا پر فائز ہے وہ خوشیوں او رغموں کو، اس جہت سے کہ تقدیر الہی ہے دل و جان سے قبول کرتاہے اور ان پر راضی ہوتاہے۔
مقامِ صبر اور اس کی اہمیت پر ایک نظر:
بہر حال مقام ،رضااور معرفت و یقین ، ایک عظیم نعمت اور بلند عطیہ ہے کہ انسان تمام تقدیرات الہی پر راضی و خوشنود ہو، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ پروردگا راس کی بھلائی چاہتاہے۔ لیکن ہر شخص اس مقام پر فائز نہیں ہوتاہے او ریہ معرفت آسانی کے ساتھ حاصل نہیں ہوتی ہے اور اسے حاصل کرنے کے لئیتہذیب نفس اور بہت زیادہ کوشش کی ضرورت ہے ۔ اگر کوئی اس بلند مقام تک نہیں پہونچ سکا،تو مختصر طور پر اسے جان لینا چاہئے کہ تقدیرات الہی انسان کے لئے خیر ہے اگر چہ مشکلات اور سختیوں کو برداشت کرنااس کے لئے تلخ و دشوار ہے، لیکن اسے صبر و تحمل کا مظاہر کرنا چاہئے اور خودکو صبر کے زیور سے مزیّن کرناچاہئے ۔ جو مومن رضا کے مقام تک نہیں پہنچاہے، لیکن حوادث کے مقابلہ میں صابر اور ثابت قدم ہے، اگر چہ وہ نہیں چاہتاہے کہ تلخ حوادث دنیا میں رونما ہوں، اور وہ اپنے فرائض پر عمل کرتا ہے اور اپنے فریضہ کی انجام دہی میں کوئی کوتاہی نہیں کرتاہے، اگر کبھی دشمن کے ساتھ جہاد و مبارزہ کا موقع آگیا تو وہ اپنے فریضہ الہی کے تحت جہاد و مبارزہ کے لئے اٹھ کھڑا ہوتا ہے باوجودیکہ وہ تلخ حوادث سے خوش نہیں ہے او ردل سے راضی نہیں ہے ، لیکن اسے قبول کرتاہے او راگر سختی و پریشانی بھی ہوئی تو اسے برداشت کرلیتا ہے ، یہ اس کے لئے ہے جومقام رضا تک نہیں پہنچا ہے، اس لئے کہ مقام صبر مقام رضا سے کمتر ہے ، لہٰذا مطلوب ہے.
صبر ، مفاہیم اخلاقی میں سے ایک ہے کہ اخلاق اسلامی میں اس پر بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔ جو کچھ اس لفظ سے ذہن میں آتا ہے، وہ ایک نفسانی حالت ہے جو بعض خاص افراد کے لئے مشکلات، مصیبتوں کے وقت پیش آتی ہے۔
حوادث سے روبرو ہوتے وقت، لوگوں کے حالات متفاوت ہوتے ہیں۔ بعض لوگ ایسے حوادث کے مقابلہ میں فورارونا پیٹناشروع کردیتے ہیں ،یہ پریشان کن حالت ان کی زندگی پربھی اثر انداز ہوتی ہے اور انھیں ان کے امور اور فعالیتسے معطل کر کے رکھ دیتی ہے ،ایسے لوگ بے صبر و کمزور تصور کئے جاتیہیں اس کے بر خلافبعض افراد سختیوں اور مشکلات کے مقابلہ میں بہت صابر آزما ہو تے ہیں اور آرام و سکون کا مظاہرہ کرتے ہیں اور تلخ حوادث ان طبیعت میں کوئی خاص تبدیلی رونما نہیں کر تے،یہ لوگ صبر وتحمل والے ہوتے ہیں ۔یہ لوگ اگر چہ تلخ حوادث کے بارے میں دل سے راضی نہیں ہوتے ، لیکن انھیں برداشت کرتے ہوئے صبرو تحمل کامظاہرہ کرتے ہیں ۔نا مناسب حوادث کا استقبال نہیں کرتے ،ان کادل نہیں چاہتا ہے کہ وہ محا ذ جنگ پر جائیں اورشہید ہوجائیں وہ بارودی سرنگوں پرجانا نہیں چاہتے ہیں ، لیکن جب فریضہ و تکلیف کا تقاضا ہوتا ہے کہ محاذجنگ پر جائیں، ایسی صورت میں روگردانی نہیں کرتے ہیں، ان کے ماں باپ نہیں چاہتے ہیں کہ ان کا فرزند محاذ جبگ پر جائے لیکن جب شرعی فریضہ کے سخت جہاد واجب ہوجاتا ہے تو وہ اپنے بیٹوں کے درمیان حائل نہیں ہوتے ہیںاور صبر کرتے ہیں اور اپنے دانت پیستے ہیں اورجانتے ہیں کہ انسان صبر وتحمل سے مشکلات اورمصیبتوں پر قابو پا سکتا ہے اور بہتر صورت میں منزل مقصود کو طے کرسکتا ہے اور اپنی زندگی کو منظم کر کے اخروی سعادت کوحاصل کرسکتا ہے ۔
بعض اوقات صبر کی غلط تفسیر کی جاتی ہے اور وہم وگمان کیا جاتا ہے کہ سختیوں کے مقابلہ میں صبر کرنایعنی ذلت کے سامنے تسلیم ہوجا نا ہے اور دوسروں کے حق میں رونما ہو نے والے ہر حادثہ وظلم کے مقابلہ میں غیر جانب داری کا مظاہرہ کر نا ہے ۔یہ تفسیر اورتصور غلط ہے اور مفہوم صبر سے لا علمی کا نتیجہ ہے ۔اسلا می لغت میں صبر،یعنی سختی کے مقابلہ میں برداشت کرنا اور انسان کو باطل کی طرف کھینچنے اور کمال کی راہ میں مانع بننے والے عامل کے مقابلہ میں استقامت کا مظاہرہ کر ناہے۔یہ عامل کبھی داخلی ہو تے ہیں اور کبھی خارجی ۔خواہ وہ عوامل انسان کو حرکت کرنے کی دعوت کرے ،لیکن ناحق حرکت،اور خواہ اسے سکون کی دعوت دیں چاہے یہ توقف ناحق ہی ہو، مثلا انسان گرسنگی اور بھوک کے وقت کھانے کی طرف تمایل رکھتا ہے اب اگر اسے جو غذا فراہم و دستیاب ہے وہ غیر شرعی ہے یا مشکوک ہے ،یہاں پر غریزہ اشتہا ہمیں دعوت کرتی ہے کہ ہم اس غذا کو کھا لیں ،لیکن اسے کھانا نا حق ہے اور اسکے مقا بلہ میں استقامت کا مظاہر کرنا صبرہے۔
محاذ جنگ پر دشمن نے حملہ کیا ۔ہر طرف سے بمباری ہورہی ہے ،نفس کہتا ہے بھاگ جائواور اپنے آپ کو میدان کارزار سے باہر نکال لو ،لیکن خدائے متعال فرماتاہے استقامت کرو تاکہ اسلام کی فتح ہوجائے ،یہاں پر نفسانی عامل جو انسان کو فرار کرنے کی دعوت دیتا ہے ،اس کے مقا بلہ میں استقامت،دکھانا صبر ہے۔
کبھی خارجی عامل انسان کوکسی ناحق چیز کی طرف دعوت دیتا ہے اور وہ بیرونی عامل کبھی انسان کے توسط سے رونما ہو تا ہے اور کبھی غیر انسان کی جانب سے کہ جسے تقدیرات الہی سے تعبیر کرتے ہیں۔مثلا زلزلہ آتا ہے اور گھر کی چھت گر جاتی ہے۔اگر ہم اس حادثہ کے موقع پر تحمل کا مظاہرہ کریں اور اپنے فر یضہ پر عمل کریں تو ہم نے صبر کیا ہے ۔پس روایات میں ذکرشدہ صبر کی مشترک تقسیم (مصیبت پر صبر اوراطاعت پر صبر)اپنے آپ پر کنٹرول کرنا اور خلاف حق اقدام نہ کرنا ہے،اور انسان کو باطل کی طرف دعوت کرنے والے عامل کے مقابلہ میں استقامت کر ناہے۔
جب صبر کی اہمیت واضح و روشن ہوگئی تو ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کی زندگی اوراس کے تکا مل وترقی کی راہ میں صبر کا کونسا کردار ہے اور اس کے علاوہ ہمیں معلوم ہو تا ہے کہ انسان کو کس وسیلہ سے تکامل وترقی حاصل ہو تی ہے ۔انسان کاتکا مل اور اس کی ترقی اس کے اختیاری اعمال کے تحت ہی ممکنہے ، یعنی جب دو متضاد کششوں کے درمیان مقا بلہ ہو اور انسان اس کشش کا انتخاب کرے جو اسے کمال کی طرف لے جائے،تو انسان کا کمال اور اس کا جوہر ظاہر ہوتاہے ایسی صورت میں انسان کو چاہئے کہ جس میں خدا کی مرضی ہواسے انتخاب کرے. لہٰذا انسان کاتکامل اور اس کی ترقی دو متضاد کششوں کی معرکہ آرائی ہی ممکن ہے ۔ ایسے میدانوںمیں انسان کوایسی چیزکا انتخاب کرناچاہئے جس میں خدا کی مرضی ہو. اگر اس صورت انسان کا میں ایمان اوراس کا فطری شوق زیادہ طاقتور ہوگا تو وہ اسے حق کی طرف دعوت دے گا اوروہ اپنے لائق کمال تک پہونچے گا، لیکن اگر نفسانی اور شیطانی عنصر زیادہ طاقتور ہوا، تو دوکششوں کے درمیان جنگ میں انسان پسل جائے گااور ایک ایسی سمت کی طرف جھکتا چلا جائیگا جس میں اس کے لئے زلت و پستی ہے ۔ یہ در حقیقت وہی آزمائش کا معنی ہے۔
(''تبارک الذی بیدہ الملک و ہو علی کل شی ء قدیر۔ الّذی خلق الموت و الحیاة لیبلوکم ایّکم احسن عملا...) (ملک/١۔٢)
''بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھوں میں سارا ملک ہے اور وہ ہر شی پر قادر و مختار ہے۔ اس نے موت و حیات کو اس لئے پیدا کیا ہے تا کہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں حسن عمل کے اعتبار سے سب سے بہتر کون ہے''
جی ہاں، ہم اپنے تکامل و ترقی کی راہ میں ایسے عوامل سے روبرو ہیں، جو ہمیں گوناگوں جہات کی طرف دعوت کردیتے ہیں۔ عقلانی، ملکوتی، او رالہی عوامل ہمیں ایک طرف دعوت کردیتے ہیں اور نفسانی ، حیوانی او رشیطانی عوامل ہمیں دوسری طرف دعوت کردیتے ہیں۔ صحیح انتخاب یہ ہے کہ ہم باطل کی طرف دعوت کردینے والے عوامل کے مقابلہ میں استقامت کریں۔ پس حقیقت میں اگر ہماری زندگی تکامل وترقی چاہتی ہے تو صبر کے ساتھ توام ہونی چاہئے۔
ایک روایت میں آیا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا کہ صبر کیا ہے؟ جبرئیل نے عرض کی:
''یصبر فی الضّراء کما یصبر فی السّراء و فی الفاقة کما یصبر فی الغنی، و فی البلاء کما یصبر فی العافیة فلا یشکوا حاله عند الخلق بما یصیبه من البلائ'' (۱۹)
''صبر یہ ہے کہ سختیوں اور پریشانیوں میں تحمل و استقامت کا مظاہرہ کرو،تونگری و خوشحال کی طرح فقر و افلاس میں بھی ثابت قدم رہو، صحت و سلامتی کی طرح حالت بیماری میں بھی استوار رہو، لہٰذا صابر وہ ہے جو مصیبت اور پریشانیوں میں خلق خدا کے سامنے گلہ مند نہ ہو ۔''
جی ہاں، جو لوگ مقام یقین تک نہیں پہنچے ہیں تا کہ واضح طور پر پاسکیں اس بات کو درک کرسکیں جو کچھ پیش آرہا ہے وہ سب خیر ہے، وہ بلائوں کا دل کھول کر استقبال نہیں کرسکتے ، انھیں چاہے کہ وہ صبر و تحمل سے کام لیں اور خدا سے دعا کریں کہ وہ ان کے مطالبات کو پورا کرے اور نامناسب حوادث کے رونما ہونے پر بردباری کا مظاہرہ کریں۔ جیسا کہ ہم نے کہا ، جو رضا کے مقام تک پہنچاہے وہ حوادث او رمصیبتوں سے رنجیدہ نہیں ہوتا، بلکہ خوشی کا اظہار کرتا ہے اور خدا کا شکر بجا لاتا ہے۔ اگر اس کا بیٹا شہید ہوتاہے، تو کہتا ہے: الحمد للہ ، کاش میرے پاس دوسرا بیٹا ہوتا اسے بھی محاذ جنگ پر بھیجتا تاکہ وہ بھی شہید ہوتا! نہ صرف رنجید ہ نہیں ہوتا ہے بلکہ فخر کرتا ہے اور اپنے اوپر نازکرتاہے او رشکر بجالاتا ہے۔ لیکن بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو اس حد تک نہیں پہنچے ہیں اور خدائے متعال نے بھی فرمایاہے:
''...و قلیل من عبادی الشّکور'' (سبائ/١٣)
''میرے شکر گزار بندے کم ہیں.''
جو رضا کی منزل تک نہیں پہنچے ہیں تا کہ مصیبتوں کے مقابلہ میں اعتراض کے لئے لب کشائی نہ کریں اور شکر کریں، اگر نامناسب حوادث پر صبر کریں تو خدائے متعال انھیں صابروں کی اجر و ثواب دیتا ہے۔ صبر کریں گریہ و زاری نہ کریں او راطمینان کا مظاہرہ کریں، اس امید سے کہ خدائے متعال انھیں پاداش دے گا۔ اگر چہ بلائیں اور مصیبتں ان کے لئے تلخ ہیں، لیکن ان تلخیوں کو برداشت کرلیں، اس شخص کے مانند جو تلخ دوا کھاتا ہے اور اس سے لذت کا احساس نہیں کرتاہے ، لیکن جانتا ہے کہ اس کے کھانے سے صحت یاب ہوگا۔ جیسے کوئی شخص مجبور ہے آپریشن کے ذریعہ اس کے بدن کا ایک عضو، مثلا ایک پیر کو کاٹ لیا جائے، اس کے لئے اگرچہ یہ مشکل ہے، لیکن چونکہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے اس لئے قضا کے سامنے تسلیم ہوتاہے، او رحاضر ہوتا ہے، اس کا پیر کاٹ لیا جائے تا کہ اس کے بدلے اس کی جان بچ جائے۔
خدا کی مرضی کو اپنی مرضی پر ترجیح دینے کا اثر:
مذکورہ بیان کے پیش نظر ، قرآن مجید کی بعض آیات اور روایت میں ، ان افراد کی تربیت و تہذیب کے لئے (جو دل میں آرزورکھتے ہیں اور ابھی مقام تسلیم ورضا تک نہیں پہنچے ہیں) وعدہ کیاگیا ہے کہ اگر تقوی کو اپنا شعار بنالیا تو خدائے متعال تمہارے دنیوی مطالبات کو پوراکرے گااور اس سلسلہ میں پیغمبر اسلامصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں:
''یا اباذر؛ یقول اللّٰه جلّ ثناؤه و عزّتی و جلالی لایؤثر عبدی هوای علی هواه الا جعلت غناه فی نفسه و همومه فی اخرته...''
''اے ابوذر! خدائے تبارک و تعالی فرماتاہے: مجھے اپنی عزّت و جلال کی قسم میرا بندہ میری مرضی کو اپنی مرضی پر ترجیح نہیں دیتا ہے مگر یہ کہ میں اسے بے نیاز کردیتا ہوں او رایسا کرتاہوں کہ اس کی فکر اور خود وہ امور اخروی میں مصروف ہوجائے.''
خدائے متعال مطلب کی تاکید کے لئے قسم کھاتاہے،کیونکہ اس بات کا قبول کرناعام لوگوں کے لئے آسان نہیں ہے، اسی لئے قسم کھاتاہے تا کہ لوگ باور کریں فرماتاہے، اگر کبھی میری مرضی او رمیرے بندہ کی درمیان تزاحم و تضاد پیدا ہو اور اس نے میری مرضی کو ترجیح دی (اگر اس کی مرضی خدا کی مرضی کے مطابق ہے، اس کی مرضی بھی واقع ہوتی ہے اور خدا کی مرضی بھی گفتگو اس میں ہے کہ اس کی مرضی خدا کی مرضی کے ساتھ جمع نہیں ہوتی ہے) تو اس کے لئے چند چیزوں کی ضمانت دیتا ہوں: پہلے یہ کہ اس کے دل میں دوسروں سے بے نیازی کا احساس ڈالتا ہوں ۔ البتہ انسان ہمیشہ خدا کا محتاج ہوتاہے او رخداسے نیاز مند ی کا احساس بھی اس میں ہے او رہوناچاہئے ۔ انسان کے شرف و افتخار کی انتہا اس میں ہے کہ وہ احساس کرے کہ خداکی بارگاہ کا فقیر ہے اور جان لے کہ اس کا نیازمند ہے اور خود کو غیر خدا کامحتاج تصور نہ کریں:
با دادہ حق اگر تو راضی باشی
از ہمچو ویی کی متقاضی باشی
(اگر خدا کے دئے ہویئے پر تم راضی ہوجاؤگے تو تم اس سے کب متقاضی ہو گے؟)
اس کے پیش نظر کہ انسان کی خواہشات عام طور پر دوسروں کے ذریعہ پوری ہوتی ہیں، وہ اپنے آپ کو دوسروں کا محتاج تصور کرتاہے، اور دوسروں کے سامنے ضرورت کا احساس کرنا انسان کو ذلیل و خوار کردیتا ہے ، اور جس حد تک انسان اپنے کو دوسروں کے سامنے محتاج تصور کرتا ہے اسی اعتبار سے اس کے سامنے خاشع و متواضع نظر آتا ہے ، کبھی ایسا ہوتا ہے کہ تملق اور چاپلوسی کرتا ہے اور کبھی درخواست و التماس کرتاہے۔ اپنے کودوسروں کے سامنے حقیر اور چھوٹابنادیتاہے تا کہ وہ اس کے مطالبات پورے کرے ا گر انسان اپنے رابطہ کو خدا ئے متعال سے مستحکم کر ے اور اس کی مرضی اور چاہت کو اپنی مرضی پرترجیح دے، تو خداوند متعال اس میں دوسروں سے بے نیازی کا جذبہ پیدا کردیتاہے اور اس کے مقاصد پورے ہونے کے لئے کافی وسائل مہیا کرتا ہے ۔ البتہ وہ وسائل مقاصد او راہداف کو حاصل کرنے کے لئے آلہ و اوزار کی حیثیت رکھتیہیں، انسان کا فرض ہے کہ ان وسائل کو استعمال میں لائے او ران سے بہرہ مند ہونے کے لئے خداکا شکر بجا لائے، اگر دوسرے انسان بھی من جملہ اس کے دنیوی مقاصد تک رہنمائی کرنے کے لئے واسطہ اور وسیلہ تھے ، تو ان کا بھی شکر یہ ادا کرناچاہئے۔ اگر چہ وہ ان وسائل سے استفادہ کرتاہے لیکن اسیصرف اپنے آپ کو خدا کا محتاج جانتا چاہئے اور غیر از خداکی طرف محتاج نہ ہونے کا احساس نہیں چاہئے۔
غیر سے غنی اور بے نیاز ہونے کااحساس ایک عظیم نعمت ہے جوانسان کو شخصیت بخشتا ہے۔ البتہ جو کچھ بیان ہواہے اس سے یہ گمان نہ کیا جائے کہ دوسروں کے سامنے تواضع و انکساری کا مظاہرہ نہیں کرناچاہئے۔ انسان کو خدائے متعال کے برابر بھی اور اس کی مخلوق کے سامنے بھی تواضع و انکساری سے پیش آنا چاہئے۔ جو اسلامی معارف سے آشنا نہیں ہیں وہ تصور کرتے ہیں اسلام نے ہم سے چاہاہے کہ حتی خدا کے سامنے بھی ذلت و حقارت کا احساس نہ کریں! ایسے لوگوں نے اسلام ہی کو نہیں پہچاناہے او راس کے بارے میں ایک باطل تصور رکھتے ہیں۔اسلام کی بنیاد بندگی پر ہے.انسان کا انتہائی فخر اس میں ہے کہ خدا کے حضور میں ذلّت او رچھوٹے پن کااحساس کرے، اپنی پیشانی او رچہرے کو خاک پر رکھے۔ انسان کا کمال اس میں ہے کہ خود کو ذات باری تعالی کے سامنے ذلیل سمجھے، چونکہ خدائے متعال انسان کے کمال و بلندی کو چاہنے والاہے، اس لئے اس سے کہاہے کہ اس کے سامنے ذلّت کااحساس کرو اپنی حاجتوں اور ضرورتوں کواس کی بارگاہ میں پیش کرو، چونکہ تکامل وسعادت خداکی بندگی میں مضمر ہے، اس کے برعکس ، دوسروں کے سامنے احساس کمتری و ذلت کا مظاہرہ نہ کرے اور خود کوان کا محتاج نہ جانے۔ کیونکہ اگر اس نے اپنے آپ کو ان کا محتاج جان لیا، تو خواہ نخواہ ضرورت و محتاجی کے احساس کی وجہ سے ذلّت کا احساس بھی کرے گا۔
جس قدر انسان یہ احساس کرتاہے کہ اس کا کام دوسروں کے ذریعہ انجام پاتاہے، اسی قدر خود کو ان کے سامنے حقیر تصور کرتاہے، اگر چہ زبان سے نہ کہے لیکن دل میں اپنے آپ کو ذلیل و خوار محسوس کرتاہے۔ لیکن اگر مومن نے ایمان کی برکت سے اپنا کام خدا پر چھوڑدیا اور اپنے آپ کو صرف خدا کا محتاج جانا تو وہ دل میں بھی دوسروں کی نیازمندی کا احساس نہیں کرتاہے۔ اگر چہ ممکن ہے خدائے متعال اپنے بندہ کے ہاتھ سے اس کی احتیاج و ضرورت کو بر طرف کرے اور انسان سے چاہے کہ اس کا شکریہ بحالائے، لیکن وہ اپنے آپ کو صرف خدا کا محتاج جانتاہے۔ حضرت ابراہیم علی نبینا و علیہ السلام کی داستان میں آیا ہے کہ جب نمرود کے حکم سے بہت ساری آگ اکٹھا کی گئی کہ جس کے شعلہ اس قدر عظیم تھے کہ لوگ اس کے نزدیک جانے کی جرأت نہیں کرتے تھے، اس کی حرارت دور کے فاصلہ سے بھی افراد کو جلادیتی تھی، یہا ں تک کہ مجبور ہوئے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو منجنیق کے ذریعہ دورسے آگ کے اندرپھینکیں اس سخت اور دشوار حالت میں جب حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ میں ڈالے گئی تو جبرئیل امین ان کی مدد کے لئے ان کے پاس آئے او رفرمایا:
ہل لک حاجة؟ کیا میرے لائق کوئی حاجت ہے؟
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب میں فرمایا:
''امّا الیک فلا' '(۲۰) ''تجھ سے کوئی حاجت نہیں رکھتا ہوں''
حضرت ابراھیم علیہ السلام نے فرمایا: ضرورت مند ہوں او ر مدد کا محتاج اور خواہشمند ہوں، لیکن غیر خدا سے نہیں، خدا میرے اسرار سے آگاہ ہے او رمیری حاجتوں کو جانتا ہے وہ جو بہتر سمجھے گا انجام دے گا۔ جب حضرت ابراھیم علیہ السلام اس سخت امتحان میں پاس ہوئے تو خدائے متعال نے انھیں خلت کے مقام پر فائز کیا اور انھیں اپنا خلیل اور دوست بنادیا ۔
لیکن غنی اور بے نیا زی کے مقام پر پہنچنا دوسروں کے لئے کوئی آسان کام نہیں ہے ،صرف خداکی مہربانی اور اس کی عنایت سے انسان اس مقام تک پہنچ سکتا ہے ،لیکن خدائے متعال نے اس مقام تک پہنچنے کے مقدمات کو انسان کے اختیار میں قراردیا ہے اور من جملہ ان مقدمات میں سے جیسا کہ عرض کیا گیا ،یہ ہے کہ جب انسان کے لئے اپنی مرضی اور خدا کی مرضی میں سے ایک کو اختیار کرنے کا وقت آتا ہے تو وہ اپنی مرضی پر خدا کی مرضی کو ترجیح دیتا ہے اورپہلے مرحلہ میں وہ لوگو ں سے غنی اور بے نیاز ہونے کا احساس کرتا ہے ۔
دوسر ے یہ کہ :پھر وہ دنیوی امور کے بارے میں فکر مند نہیں رہتا ہے اور اپنے دنیوی خیر وصلاح کو خدا کے سپرد کردیتا ہے صرف آخرت کے بارے میں فکر مند ہوتا ہے اوراس کا ہم وغم آخرت کے بارے میں ہوتاہے۔ وہ اس فکر میں ہوتاہے کہ اس کا انجام کیا ہوگا، کیااس نے اپنے اخروی فریضہ پر عمل کیاہے؟ لہٰذا عوہ ہمیشہ آخرت کی فکر میں رہتاہے.
''و ضمنت السّماوات و الارض رزقه و کففت علیه ضیعته و کنت له من وراء تجاره کل تاجر''
''آسما ن و زمین کو اس کے رزق کا ضامن قراردیتا ہوں اور اس کے کسب معاش کی حفاظت کرتاہوں او رمیں اس کے لئے ہرتاجر کی تجارت سے برتر ہوں۔''
تیسرے یہ کہ : جومیری مرضی کو اپنی مرضی پرترجیح دیتاہے ، تو میں بھی اس کے مطالبات کو پورا کرتاہوں اور زمین و آسمان کو اس کے رزق کا ضامن قرار دیتا ہوں او رانھیں حکم دیتاہوں کہ اس کی روزی کا انتظام کریں۔
چوتھے یہ کہ: اس کے کاروبار کو آفات او رنقصانات کے مقابلہ میں تحفظ بخشتا ہوں۔ ہرکوئی اپنی زندگی چلانے کے لئے کسی کسب معاش کو اپنا تاہے اور کسی شغل کا انتخاب کرتاہے تا کہ اس کے نتیجہ میں کوئی درآمد حاصل ہوسکے، فطری بات ہے کسب و کار اور کھیتی باڑی و...اور اس کے باقی رہنے اور پھل دینے کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی ہے ۔ کہاں سے معلوم کہ باغ میوے دے گا، زراعت فصل کے مرحلہ تک پہنچ جائیگی، گائے اور گوسفند زندہ رہیں، کہاں سے معلوم کہ بلا و آفات انسان کے کام، کاج کو متاثر نہ کرے گی؟ جو خدا کی مرضی کو اپنی مرضی پر ترجیح دیتاہے خدائے متعال ضمانت دیتاہے کہ اس کے کاروبار،اس کی زراعت اورگائے اور بکریوں بلاء و آفات اور خسارے سے محفوظ رکھے گا تا کہ موقع آنے پر نتیجہ او رپھل دے سکیں۔
پانچویں یہ کہ : میں ہر کار و بار او رتجارت میں اس کی مدد کرتاہوں تا کہ نقصان سے دوچار نہ ہو۔ جو ہمیشہ دنیا کی فکر میں ہوتے ہیں وہ کوشش کرتے ہیںکہ کسی ایسے شخص سے معاملہ کریں جس سے زیادہ فائدہ حاصل ہو۔ ایسے معاملہ و تجارت کا انتخاب کرتے ہیں جس میں بیشتر نفع ہو۔ ہمیشہ فکرمند رہتے ہیں کہ تجارت میں نقصان نہ ہوجائے یا منافع کم نہ ہوجائے ۔ خدا ئے متعال فرماتاہے کہ جو ہماری مرضی کو اپنی مرضی پر ترجیح دیتاہے میں اس کے ہرتجارت او رمعاملہ کی پشت پناہی کرتاہوں تا کہ بیشتر نفع کمائے، اس کے ہر معاملہ میں میرے ہاتھ اس کی مدد کرتے ہیں۔ بجائے اس کے وہ خود فکر کرے، تدبیر کر ے اور پلان تیار کرے کہ کس سے اور کس طرح معاملہ کرے تاکہ زیادہ سے زیادہ نفع کمائے، میں اس کی ہر تجارت میں حمایت کرتاہوں اور اس کے منافع کو تحفظ بخشتا ہوں۔
اس کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم اس نکتہ کی طرف اشارہ فرماتے ہیں کہ مومن کا ایسا یقین ہوناچاہئے کہ جس کے ذریعہ وہ اپنی روزی کے بارے میں فکر مند نہ رہے اور جان لے کہ جو کچھ خدائے متعال نے اس کے لئے مقدر کیاہے وہ اسے ملے گا، آپصلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے ہیں:
''با اباذر؛ لو انّ ابن ادم فرّ من رزقه کما یفرّ من الموت لادرکه رزقه کما یدرکه الموت''
''اے ابوذر! اگر بنی آدم اپنی روزی سے اسی طرح فرار کر ے جس طرح وہ موت سے فرار کرتاہے تو اس کی روزی اسی طرح اس تک ضرور پہنچ جائے گی جس طرح موت اس تک پہچنتی ہے۔''
انسان کو موت پسند نہیں ہے ، وہ اس سے فرار کرتاہے ، لیکن بالاخرموت اسے نگل لیتی ہے۔ اس طرح اگر وہ اپنی روزی سے فرار کرے تو روزی اس تک پہونچ جائیگی اور اس کے جو مقدر میں ہے اس سے اسے راہ فرار نہیں ہے۔ لیکن اگر کوئی زیادہ کو شش کرتا ہے تو یہ، معلوم نہیں ہے اس کا رزق زیادہ ہوجائے گا،اس لئے کہ ایسے بھی بہت سے افرادگزرے ہیں جنہوں نے بہت زیادہ سعی و کوشش کی لیکن پھر بھی بھوکے موت کی سوگئے اس سلسلہ میں دولتمند ترین افراد کے بارے میں عجیب و غریب داستانیں نقل ہوئی ہیں کہ اپنی زندگی میں ایسے حوادث او رروداد سے روبرو ہوئے ہیں کہ جس کے نتیجہ میں انھیں مرتے دم بھوک کے نتیجہ میں اپنے جوتے چبانے پر مجبور ہونا پڑاہے!او ردوسری طرف ایسے افراد بھی گزرے ہیں کہ جنھوں نے زیادہ کوشش نہیں کی ، لیکن خدائے متعال نے انھیں ایک عظیم ثروت و دولت سے نواز اہے اور جوان کے مقدر میں تھا وہ انھیںملا۔
انسان کو فریضہ انجام دینے اور معاش کی تلاش میں کوتاہی نہیں کرنی چاہئے او راسے قضا و قدر کے بہانے سے سستی نہیں دکھانی چاہئے ، کیونکہ خدائے متعال سست اور کاہل انسان سے بیزار ہے۔ لیکن اگر علم حاصل کرنے اور شغل کے انتخاب کرنے میں مختار ہو اور اس کا فریضہ ان دو میں سے ایک کو منتخب کرناہو تو، اگر کافی معرفت رکھتا ہے تو ایسے شخص کے لئے در آمد کا کم ہونا اس بات کا سبب نہیں ہوسکتا ہے کہ وہ علم حاصل کرنے کے لئے نہ جائے ، بلکہ خداکی طرف سے مقدر شدہ رزق پر اس کا ایمان، اسے مجبور کرتاہے کہ اطمینان کے ساتھ علم حاصل کرے اور مطمئن رہے کہ اس کا رزق اسے ضرور ملے گا او رجو کچھ اس کے مقدر میں ہے وہ اس سے محروم نہیں ہوگا.
____________________
١۔بحار الانوار ، ج ٨٢، ص ٣٦
٢۔ جامع السعادت، ج ٣، ص ٢١١، ٢١٢
۳۔ المیزان (دار الکتاب الاسلامیہ)ج ٢، ص ١٠٣
۴۔ بحارالانوار، ج ٢، ٢٠٤
۵۔ بحارا لانوار، ج ٥، ص ٨٧
۶۔ توحید صدوق(موسسة النشر الاسلامی) ص ٣٦٩
۷۔
۸۔ اصول کافی، ج ٣، ص ٨٧
۹۔ اصول کافی، ج ٣، ص ٨٩
۱۰۔ جامع السعادت، ج ١، ص ١٢٣
۱۱۔ جامع السعادت ، ج١، ص ١٢٤
۱۲۔ توحید صدوق(موسسہ النشر الاسلامی) ص ١٠٩
۱۳۔
۱۴۔
۱۵۔ اصول کافی ، ج ٣، ص ٩٧
۱۶۔ اصول کافی ، ج ٣، ص١٠٢
۱۷۔بحارلانوار،ج١٠٣،ص٢٥
۱۸۔جامع السعادات ،ج٣،ص٢٠٢
۱۹۔ بحار الانوار ،ج٧٧ص٢٠
۲۰۔ بحار الانوار ج١٢ص٣٥
اڑتیسواں درس
خدا کی معرفت اوراس کا حکیمانہ نظام
* ۔انسان اور اس کا خدا سے رابطہ۔
* ۔مشکلات اورآسائش میں خداکیطرف توجہ کرنے کی ضرورت۔
* ۔خدا سے مدد چاہنے اور اس سے درخواست کی ضرورت۔
* ۔خدا کی حکیما نہ تدبیرکی معرفت اور یقین کا نتیجہ۔
* ۔انسان کی معنوی بلندی اور تکامل میں مشکلات کا رول۔
* ۔قناعت اور لوگوں سے بے نیازی۔
خدا کی معرفت اور اس کا حکیمانہ نظام
''یا اباذر!الا اعلمک کلمات ینفعک اللّٰه عزو جل بهن ؟قلت:بلی یارسول اللّٰه قال :احفظ اللّٰه یحفظک ، احفظ اللّٰه تجده امامکتعرف الی اللّٰه فی الرخاء یعرفک فی الشدة واذاسالت فاسال اللّٰه عزو جل واذا استعنت فاستعن باللّٰه فقد جری القلم بما هو کائن الی یوم القیامة ،فلو ان الخلق کلهم جهدوا ان ینفعک بشی ء لم یکتب لک ماقدروا علیه ولوجهدوا ان یضروک بشی ء لم یکتبه اللّٰه علیک ماقدروا علیه
فان استطعت ان تعمل للّٰه عزوجل بالرضا والیقین فافعل و ان لم تستطع فان فی الصبر علی ماتکره خیرا کثیرا وان النصر مع الصبر والفرج مع الکرب وان مع العسر یسرا
یا اباذر!استغن بغنیا للّٰه یغنک اللّٰهفقلت:وماهو یا رسول اللّٰه ؟ قال:غداء ة یوم وعشاء ةلیلة،فمن قنع بما رزقه اللّٰه فهو اغنی الناس''
انسان اور اس کاخداسے رابطہ:
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نصیحتوں کا یہ حصہ ،خداسے رابطہ ،مشکلات میں اسکی طرف توجہ ، اس سے مددمانگنے اور دوسروں سے بے نیازی کے بارے میں ہے ۔خداسے رابطہ کے بارے میں کہنا چاہئے کہ:انسان کواس لئے پیدا کیاگیا ہے تاکہ وہ قرب الہی کے مقام تک پہنچ جائے لہذا اس کی تمام سر گرمیاں خداسے رابطہ کو تحفظ بخشنے کے سلسلے میں ہونی چاہئے۔ اگر وہ اپنی توانائیوں کو دوسرے امورمیں صرف کرتاہے، تو اس نے انھیں ضائع کیا ہے ۔ تمام باطنی اورظاہری توانائیوںاور ساری نعمتوں کوخداسے رابطہ کی راہ میں استعمال کرنا چاہئے ،گویا یہ راستہ کافی وسیع اور مختلف صورتوں میں ہے کہ ان میں سے ہر ایک ہماری روح کی مختلف جہتوں میں سے کسی ایک جہت سے مربوط ہے ،کیونکہ خدائے متعال نے ہماری روح کو مختلف چہروں ،پہلوئوں اور گوناگون حیثیتوںسے سزاوار کیا ہے یہتمام پہلوایک سمت میں معین کئے گئے ہیں اور سب کا رخ خدا کی طرف ہے ۔ایسا نہیں ہے کہ ہمارے وجودی پہلوئوں میں سے ایک پہلو خدا کی جہت میں ہے اور دیگر تمام پہلو ایسے نہیں ہیں۔
انسان کے وجودی پہلوئوںکے بارے میں کچھ تقسیم بند یاں ہوئی ہیں ،مثال کے طور پر کہا جاتا ہے کہ وجود انسانی کا ایک پہلو خداسے رابطہ کے لئے ہے اور اس کا ایک پہلو اپنے آپ سے رابطہ کے لئے ہے اور ایک پہلو دوسرے انسانوں سے رابطہ کے لئے ہے اور اسکا ایک اور پہلو تمام مخلوقات سے رابطہ کے لئے ہے ۔یہ تقسیم بندی انسان سے مربوط احکام کی نظرسے صحیح ہو سکتی ہے انسان کے اپنے آپ سے رابطہ کے پہلو میں بیان ہوتاہے کہ کونسی چیز یں اس کے بدن کے لئے نفع بخش ہیں اور کونسی چیز مضر ہیں، فلاں چیز حلال ہے اور فلاںچیز حرام۔ انسان کے بعض احکام خداسے رابطہ کو معین کرتے ہیں،جیسے نماز اور روزہ انسان کے بعض احکام مخلوق سے رابطہ کو معین کرتے ہیں ،جیسے ماں باپ سے بر تائو،رشتہ داروں،دوستوں اور دشمنوں سے بر تائو۔
یہ تقسیم بندی قابل قبول ہے،لیکن اس امر کی طرف توجہ رکھنا چاہئے کہ انسانی حیثیتوںکی یہ تقسیم بندی اس معنی میں نہیں ہے کہ ہم خدا کی بارگاہ میں تقرب کے علاوہ کوئی اور مقصد رکھتے ہوں،بلکہ اعتراف کرناچاہئے کہ ہمارے تمام وجودی پہلو ان میں مو جودہ اختلاف کے باوجود ایک نقطہ پر منتہی ہوئے ہیں ۔یعنی وہی رابطہ جو انسان دوسرے انسانوں سے رکھتا وہی خدا اور دوسروں سے رکھنا چاہئے ۔
ہمارے کاموں کی صورت میں فرق ہے:ایک کام نماز کی صورت میں ہے اور ایک سبق پڑھانے کی صورت میں یا درس پڑھنے کی صورت میں یاروز مرہ کے امور انجام دینے کی صو رت میں ، لیکن یہ سب امور ہمارے لئے اسی وقت اور اسی حالت میں مفید ہیں کہ جب خداکے لئے ہوں،لہذا انسان کے اپنے تمام کام حتی اس کے تفکرات خدا کے لئے ہونا چاہئے اور وہ اس کے علاوہ کسی کونہ چاہے،نہ طلب کرے اور نہ ڈھونڈے۔
یارب زتوآنچہ من گدامی خواہم
افزون زہزار پاد شاہ می خواہم
ہر کس زدرتو حاجتی می خواھد
من آمدہ ام از تو ترامی خواہم
(اے پروردگار ! میں بھکاری ،جو تم سے مانگنا چاہتا ہوں وہ ہزاروں بادشا ہوں سے زیادہ چاہتا ہوں ، ہر کوئی تیرے در سے کوئی حاجت چاہتا ہے، میں آیا ہوںاورخود تجھے چاہتا ہوں)
انسان جو اپنے مادی وجوداور مادی زندگی کے تمام پہلوئوں کی ضرورتوں کو پو را کر نے کیلئے جو محدود کششیں رکھتا ہے ،اس کے علاوہ اپنی نا محدود زندگی ،نامحدود مقصد، نامحدودجمال و کمال اور نامحدود توانائی کے لئے بھی کچھ کششیں رکھتا ہے ۔حقیقت میں انسان کی وجودی عمارت بے نہایت مقصد کے لئے تعمیر کی گئی ہے اور بے نہایت عالم کی طرف حر کت کرنے کے لئے انسان کے اندر فطرتیں معین کی گئی ہیں اور جو کچھ دنیا کے بارے میں محدود ہو تاہے یہ اس کا مقد ماتی پہلو ہے اور اس لئے ہے کہ انسان کی حرکت کاانجن ر کنے نہ پائے اور اپنی راہ کو خداکی طرف جاری رکھے۔
یادرکھنا چاہئے جو چیز انسان کو انسان بناتی ہے وہ خدا سے انسان کارابطہ ہے ، کیونکہ انسان کا انتہائی کمال خدا سے رابطہ میں منحصر ہے اور یہ رابطہ پہچان اور عمل سے حاصل ہوتا ہے ، اس کے بغیر انسان دوسرے حیوانات کی فہرست میں ہوتا ہے بلکہ ان سے پست تر:
( اولئک کا لانعام بل هم اضل ) (اعراف١٧٩)
''یہ(گمراہ)چو پایوں جیسے ہیںبلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں''
اس کے درمیان ،انبیاء اور اولیائے الہی کا وجود ان کے علمی آثار،سنت وسیرت اور ان سے ظاہر ہونے والی طاقتیں ان کے خدا سے رابطہ کی نشانیاں تھیں ۔البتہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ عقلی تجزیہ کے مطابق ہر شئے کا وجود ، خالق سے عین رابطہ ہے اور ممکن نہیں ہے کی خالق اپنی مخلوق سے رابطہ نہ رکھے ، لیکن یہ رابطہ تکوینی ہے کہ جونظام ہستی کے مجموعہ میں واقع ہوا ہے اور ناقابل گریز ہے اور کوئی بھی مخلوق ممکن نہیں ہے خدا سے تکوینی رابطہ نہ رکھے ۔بالاخر اس تکوینی رابطہ کے علاوہ انسان ایک اور خصوصیت رکھتا ہے اور خدائے متعال نے یہ قدرت اسے عنایت کی ہے کہ وہ اپنی عقل،فہم وشعورکی برکت سے اس رابطہ کودرک کرسکتا ہے اور اسکی قدر وقیمت اس میں ہے کہ وہ اس رابطہ کو بہتر اورزیادہ عمیق صورت میں درک کرے ۔
عام طور پر شناخت کا آغاز اور خدا سے رابطہ علم حصولی کے ذریعہ ہو تا ہے جو فکر اور عقلی وفلسفی استدلال کو بروئے کار لاکر حاصل ہوتا ہے۔لیکن یہ معرفت و شناخت آخری اور نقطۂکمال کی انتہا نہیں ہے اور اسے مقصد و منزل تک نہیں پہنچاتی ہے اور اس میں راسخ اعتقاد و یقین ایجاد نہیں کرتی ہے۔مکمل شناخت ،شناخت حضوری ہے۔یعنی انسان ایک ایسے مقام پر پہونچ جاتاہے جہاں سے پورے وجود سے خدا سے رابطہ کو درک کرتاہے ،بلکہ وہ خداسے خود عین رابطہ ہوتا ہے ،نہ یہ کہ صرف جان لے۔ دین کا مقصد یہ ہے کہ انسان کو ایسے مقام تک پہنچا دے ۔امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا :
''مارأیت شیئاً الا و رأیت اللّٰه قبله وبعده ومعه''
''میں نے کسی چیز کو نہیںدیکھا ،مگر یہ کہ اس سے پہلے اس کے بعد اور اس کے ساتھ خدائے متعال کو دیکھا''
اگر انسان کوجو کمال تک کوشش کرتا ہےاس دنیا میں یہ معرفت مکمل طورپر حاصل نہ ہوئی،تو اسے ایسے مواقع فراہم کر نا چاہئے تاکہ دوسری دنیا میں اس رابطہ کو مکمل طور پر حاصل کرسکے ۔ اس جہت سے دین کی زبان میں اور احادیث اہل بیت علیہم السلام میں ، خداسے رابطہ کے سلسلہ میں ''رویت'' سے تعبیر کیا گیا ہے۔اور کہاگیا ہے کہ بہشتیوں کی بالا ترین نعمت یہ ہے کہ اپنے کمال کے درجہ کے مطابق انوار الہی کے مشا ہدہ سے فیضاب ہو تے ہیں ۔جو بلند ترین مقامات تک پہنچے ہیں ان کے لئے ہمیشہ انوار الہی کا مشاہدہ میسر ہوتا ہے اور جن کامقام پست ہے ،ان کے لئے کمتر تجلیات الہی حاصل ہوتی ہیں ۔
نقل کیاگیا ہے کہ ایک تہرانی عالم دین جو ایک متقی و پرہیزگارشخص تھے کینسر کی بیماری کی وجہ سے اس دنیاسے چلے گئے مرحوم کے ایک رشتہ دار نے جو ان سے بہت زیادہ محبت و عقیدت رکھتے تھے ان کو خواب میں دیکھا اور اپنے خواب کو حقیقت میں ایک سچا خواب قم کے ایک عالم دین کی خدمت میں یوں بیان کیا:جب میں نے ان کو خواب میں دیکھا توان سے سوال کیا :کیا آپ اس دنیا (برزخ )میں ائمہ اطہاراور امام حسن علیہم السلام کی زیارت کرتے رہیں؟انھوںنے جواب میں کہا:کیا کہتے ہو!اس دنیا میں ہمارے اور سید الشہداء علیہ السلام کے درمیان تیس ہزار سال کا فاصلہ ہے،ہمیں تیس ہزارسال انتظار کرنا ہے تاکہ انکی زیارت کر سکیں !
جی ہاں!دیکھنا چاہئے انسان اپنادل کس کے سپرد کرتاہے اور انسان کی قدروقیمت اس چیز کی وجہ سے ہے جس چیز کو اس نے اپنادل حوالے کیا ہے ۔جس کادل باغ اور گھر سے تعلق رکھتا ہو،اسکی قدرومنزلت اسی حدمیں ہے لیکن اگر اس کادل خداسے متعلق ہو اوراس کے دل کا رابطہ خدا سے ہے،تو اس کی قیمت بے بہا ہے ،پھر وہ دنیا کی محدود اور ناپائدار تعلقات کی قید میں نہیں ہوتا ہے، وہ خدا کے علاوہ تمام لوگوں اور چیزوں سے دل کھینچ لیتا ہے:
آنکس کہ ترا شناخت جان را چہ کند
فرزند وعیال وخانمان را چہ کند
دیوانہ کنی ہردو جہانش بخشی
دیوانہ تو ہر دو جہا نرا چہ کند
جس نے تجھے پہچان لیا اس کو اپنی جان کے ساتھ کیا کام ہے ۔اپنے اہل و عیال اور خاندان سے اسے کیا لینا دینا ہے ۔(پہلے تو اپنی محبت میں ) دیوانہ کرتے ہو اور پھر دونوں جہاں بخشتے ہوتیرے دیوانہ کودونوں جہاں سے کیاکام ہے!
لہٰذا انسان کی حقیقی قدرومنز لت خداسے اس کے رابطہ اوراس کے تقرب میں ہے ،نہ مادی لذتوں اور سرمایہ میں ۔انسان کی انسانیت اس کے درک اور قلبی توجہات میں ہے ،دیکھنا چاہئے کہ اس کادل کہاں پر رابطہ بر قرار کر چکا ہے اور جس قدر اسکا رابطہ خدائے متعال سے عمیق تر ہوگا اتنا ہی محکم و مستحکم تر ہوگا۔جب انسان اس دنیائے فانی سے رخصت ہونے لگتا ہے تو انوار الہی اس کے لئے بیشتر تجلی کرتے ہیں اور عطیا ت و نعمات الہی سے وہ زیادہ سے زیادہ بہرہ مند ہو تا ہے اس لئے پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
'' یا اباذر!الا اعلمک کلما ت ینفعک اللّٰه عزوجل بهن ؟قلت:بلی یارسول اللّٰه.قال:احفظ الله یحفظک''
''اے ابوذر!کیا میں تجھے ایسی باتیں نہ سکھا ئو ںکہ خدائے متعال ان کی برکت سے تجھے نفع پہنچا ئے ؟میں نے عرض کی: جی ہاں، اے اللہ کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ۔آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:خدائے متعال سے اپنے رابطہ کو حفظ کرو تاکہ خدائے متعال اپنے رابطہ کوتیرے ساتھ حفظ کرے''
جتنی بھی نصیحتیں اب تک بیان ہوئیں فائدہ منداور نفع بخش تھیں ،پس یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جناب ابوذر کو توجہ دلاتے ہیں کہ تیرے لئے ایسی باتیں بیان کروں کہ خدائے متعال ان کی وجہ سے تجھے بخشے گا ۔گویا اس کا یہ معنی ہے کہ یہ باتیں گزشتہ مطالب کا خلاصہ اور منتخب مجموعہ ہے اور اس کی خاص اہمیت ہے اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جناب ابوذر کو ان کی طرف توجہ دلاتے ہیں ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جناب ابوذر کو یاد دہانی کراتے ہیں کہ خدائے متعال نے تمھارے اور اپنے درمیان ایک تکوینی رابطہ رکھا ہے اور یہ رابطہ اعظم الو ہیت اور تمہارے جیسے بندہ حقیر کے درمیان استوار ہے، کوشش کرو یہ رابطہ بر قرار رہے اور ٹوٹنے نہ پائے۔ اگر اس رابطہ کو تحفظ بخشنے کیلئے تم نے تلاش وکوشش کی تو خدا وند متعال بھی تمھاری حفاظت کرے گا ۔ اس مفہوم کو حافظ نے اپنے ایک خوب صورت شعر میں یوں بیان کیا ہے :
گرت ہواست کہ معشو ق نگسلد پیوند نگہدار سر رشتہ تا نگہدارد
اس سے بڑھ کر کونسی سعادت ہو سکتی ہے کہ ایک بندئہ حقیر جو دنیا میں کسی چیز میں شمار نہیں ہوتا خالق کائنات سے رابطہ رکھتا ہے اور اس سے بڑھ کر کونسی نعمت ہوسکتی ہے!پس اس کی حفاظت کے لئے کوشش کرنی چاہئے تاکہ اس کی وجہ سے خدا کی عنایتیں ہمیشہ اس پر نازل ہوتی رہیں لیکن اگر اس کی حفاظت کے لئے کو شش نہ کی اور بندگی کی رسم بجانہ لایا ،تو اسے خدائے متعال کی مہر بانیاں اور عنایتیں حاصل کرنے کی تو قع نہیں رکھنا چاہئے ۔
شاید بعض لوگوں کے لئے یہ امر مبہم ہو کہ میرے اور خدا کے درمیان کس قسم کا رابطہ ہے کہ میں اس کی حفاظت کروں ،میں جو اس عالم خاکی میں زندگی کرتا ہوں اورخدائے متعال اور عرش الہی کے درمیان کونسا رابطہ ہو سکتا ہے۔ اس ابہام کو دور کرنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
''احفظ اللّٰه تجده امامک''
''خدا سے اپنے رابطہ کی حفاظت کرو تاکہ اسے اپنے سامنے پائو ''
یعنی تمھارے اورخداکے درمیان کوئی فاصلہ نہیں ہے وہ ہمیشہ تمھارے پاس حاضر ہے اور تجھ سے جدا نہیں ہے۔
( ( وهو معکم اینما کنتم والله بماتعملون بصیر ) (حدید٤)
''ور وہ تمہارے ساتھ ہے تم جہاں بھی رہو وہ تمہارے اعمال کادیکھنے والا ہے''
اس بنا پر انسان کو خداکی عنایات میں شامل رہنا چاہئے تاکہ وہ بلائوں،شیطان کے شراور نفسانی وسوسوں سے اس کی حفاظت کرے (پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیان میں حفاظت کرنا مطلق ہے اور اس میں انسان کو ہر مادی ومعنوی خطرہ سے حفاظت کرنا شامل ہے) خداکے ساتھ اپنے رابطہ کو محفوظ رکھنا چاہئے اوراسے کمزور ہونے نہیں دینا چاہئے۔
مشکلات اور آسائش میں خداکی طرف توجہ کرنے کی ضرورت :
پھر پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فر ماتے ہیں:
'' تعرف الی اللّٰه فی الرخاء یعر فک فی الشدة''
''گنجائش کے وقت اپنے آپ کو خدائے تعالے سے آشنا کروتاکہ وہ تجھے تنگدستی کی حالت میں پہچانے۔''
اس کے پیش نظر کہ خدائے متعال بے نہایت قدرت رکھتا ہے اور جو کچھ کائنات میں انجام پاتا ہے اسکے ارادہ ومشیت سے ہے اور اس کے ارادہ کے دائرہ سے کوئی چیزخارج نہیں ہے ،ہرحالت میں انسان کو اس کی طرف توجہ رکھنی چاہئے. اگر مشکل اور گرفتاری سے دوچار ہے تو صرف خدا کی طرف توجہ کرے اور اس سے مشکلات کو دورکرنیکی درخواست کرے اسی طرح جب آسائش نصیب ہو توخدا کو مد نظررکھے ،کیونکہ آسائش کی نعمت کو خدائے متعال نے اس کے اختیار میں قرار دیا ہے۔
فطری بات ہے کہ جب انسان کسی گرفتاری اور نامناسب حادثہ سے دو چار ہوتا ہے تو خدائے متعال کی طرف رخ کرتا ہے ،چنانچہ پروردگار عالم مشرکین کے بارے میں فرماتا ہے:
( فا ذا رکبوا فی الفلک دعوااللّٰه مخلصین له الدین فلما نجیهم الی البر اذاهم یشر کون ) (عنکبوت٦٥)
''پھر جب یہ لو گ کشتی میں سوار ہوتے ہیں(اور کشتی خطرے سے دو چار ہوتی ہے)تو ایمان وعقیدہ کے پورے اخلاص کے ساتھ خدا کو پکارتے ہیں پھرجب وہ نجات پاکر خشکی میں پہونچ جاتے ہیں تو مشرک ہوجاتے ہیں ''
یہ کوئی کمال نہیں ہے کہ انسان سختیوں ومشکلات اور ہر طرف سے بلائوں کے حملوں کے وقت خداکی طرف توجہ کرے ،البتہ ایسے لوگ بھی ہیں جو بارگاہ الہی سے اتنے دور ہو چکے ہیں کہ حتی مصیبتوں میں بھی خدا کو یاد نہیں کرتے،لیکن جس کے دل میں ذرّہ برابر بھی ایمان ہے تو کم ازکم سختی اور مشکل کے وقت خدا کو یاد کرتا ہے .پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:اگر چاہتے ہوکہ ہر وقت خدا کو یاد کرو ، وہ تجھے جواب دے اور تیری فریاد رسی کرے ،توآرام و آسایش کے وقت خداسے اپنے رابطہ کی حفاظت کرو اور اس سے آشنائی حاصل کرنا ،چونکہ اگر اس وقت اس سے ناآشنا ہوئے ، تو یہ تو قع نہ رکھنا کہ وہ گرفتاری کے وقت تیری فریاد رسی کرے گا،آرام وآسائش کے وقت خدا کو یاد کرو ، تاکہ مشکلات میں اس کو پکارتے وقت وہ تجھے لبیک کہے۔
ہم سب،کم وبیش،اپنی اپنی زندگی میں مشکلات اور مصیبتوں میں مبتلا ہوتے ہیں،اور تھوڑی دیر یا زمانے کے بعد اس سے نجات اور جھٹکا رہ پاجاتے ہیں ،لیکن ہم بہت ہی سادگی کے ساتھ ان قضیوں پس پشت ڈال دیتے ہیںاور اس رہائی اور آسائش کی نعمت جسے خدائے متعال نے ہمیں مشکلات کے بعد ہمیں عنا یت کی تھی اس کے بارے میں غور و فکر نہیں کرتے ۔جبکہ بلائیں اور مشکلات انسان کو بیدار کرنے اور اسے خدا کی طرف توجہ دلا نے کے لئے ہوتی ہیں تاکہ وہ نعمتوں کی قدر کو جان لے۔
اگر ہمارے لئے کوئی خطر ناک صورت حا ل پیش آجاتی ہے۔مثلا ہمارا کوئی عزیز سخت بیما ر ہوجاتا ہے امیدوں کے تمام دروازے ہمارے لئے بند ہوجاتے ہیں اور شدید خطرے سے دو چار ہوتے ہیں،اگر اس مایوسی و ناامیدی کے عالم میں کسی نے ہماری مدد کردی ،ایک طبیب یا ڈاکٹر اچانک آگیا اور اس نے ہمارے بیمار کا علاج کردیا اور اسے ہلاک ہونے سے بچالیااور اسی طرح سیکڑوںحوادث جو ہمارے لئے پیش آتے ہیں اور ہم اس سے نجات پاجاتے ہیں،ہمیں غور کرنا چاہئے کہ ان مشکلات سے رہائی کے بارے میں ہم کیا اخذ کیا ہے ؟کیا ان سب کو ہم اتفاقی سمجھیں اور کہیں کہ اتفاقا ایسا ہوا ہے ؟ ہر گز ایسا نہیں ہے بلکہ یہ سب خدائے متعال کی مہر بانیاں ہیں ،خدائے متعال کی مہر بانیاں اور عنایتیں ہمارے شامل حال ہوتی ہیں اور ہم ان خطرات سے بچ جاتے ہیں۔
نظام خلقت میں جو کچھ واقع ہوتا ہے ،سب ارادئہ الہی کے نتیجہ میں ہے اور کوئی چیز خدا کی مرضی کے خلاف واقع نہیں ہو تی ۔اگر انسان کو کوئی نعمت ملتی ہے یا کوئی بلا اس سے دور ہوتی ہے ،سب خدائے متعال کے ارادہ سے ہے ۔ وہ اسباب اور شرائط کو فراہم کرتا ہے ،خواہ وہ اسباب معمولی ہوں یا غیر معمولی خواہ ہم انھیں جانیں یانہ جانیں۔( اگر چہ جب ہم غیر معمولی اسباب جنھیں ہم اتفاق سے تعبیر کر تے ہیںپر توجہ کرتے ہیں تو متأ ثر ہوتے ہیں )یہ خدائے متعال ہے جو ہمیشہ انسان کو رزق پہنچا تا ہے ،خواہ معمولی اسباب کے ذریعہ جیسے کسب معاش یا خواہ غیر معمولی اسباب کے ذریعہ ،جیسے مائدہ آسمانی ۔ انسان کی مشکلات کا دور ہونابھی خدائے متعال کے توسط سے ہے ،خواہ معمولی راستوں سے یاغیر معمولی راستوں سے ۔
ایک تقسیم بندی کے ذریعہ انسانوں کو خدا کی طرف توجہ کے لحاظ سے تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
پہلا گروہ :وہ لوگ ہیں جو ہرحالت میں ،خواہ خوشحالی اور آسائش میں یا گرفتاری اور بلا میں خدائے متعال کی طرف توجہ رکھتے ہیں اورقرآن مجید کی تعبیر کے مطابق صبح وشام اس کی یاد میں مصروف ہیں اور صرف مشکلاتمیں اسے یاد نہیں کر تے ہیں:
( واذکر ربک فی نفسک تضر عا وخیفة ودون الجهرمن القول بالغدو والاصال ولاتکن من الغافلین ) (اعراف٢٠٥)
''اور خداکو اپنے دل ہی دل میں بغیر منھ سے آواز نکالے ہوئے تضرع اور تنہائی کے عالم میں بھی کم بلند آواز سے صبح وشام یاد کرو اور خبردار غافلوں میں نہ ہوجائو''
( فی بیوت اذن اللّٰه ان ترفع ویذکر فیها اسمه یسبح له فیها بالغد و والا صال ) (نور٣٦)
(یہ چراغ)ان گھروں میں (جیسے مساجد،انبیاء اوراولیاء کے گھر)ہے ،جن کے بارے میں خدا کاحکم ہے کہ انکی بلندی کا احترام کیا جائے اور ان میں اس کے نام کاذکر کیا جائے کہ ان گھروں میں صبح وشام اس کی تسبیح کرنے والے ہیں۔
اس گروہ کی ہر حالت میں خدا کی یاد میں ہونے کا راز یہ ہے کہ خد اکی طرف سے تمام نعمتیں حاصل کرنے کے باوجود بھی اس سے بے نیاز نہیں ہیں،اور کم از کم ان نعمتوں کی پائد اری کے لئے خود کو خدا کا محتاج جانتے ہیں،چونکہ وہ اپنے مراتب میں اختلاف کے مطا بق خدا سے اپنی نیاز مندی کو درک کرتے ہیں ،لہذا ان کے لئے نعمت و بلا میں کوئی فرق نہیں ہے وہ شائستہ بندے ہیں اور ہمیشہ خدائے متعال کو مد نظر رکھتے ہیں اورخداکی طرف سے بھی ان پر توجہ ہوتی ہے ۔
دوسراگروہ:اکثر مو منین اس گروہ میں شامل ہیں .یہ وہ لوگ ہیں کہ نعمت وآسائش کی حالت میں کم و بیش غفلت میں مبتلا ہوتے ہیں،لیکن جب کوئی مشکل اور گرفتاری پیش آتی ہے تو بیدار ہوجاتے ہیں اورخدا کی نسبت نیاز مندی کا احساس کرتے ہیں .یہ لوگ بھی نسبتا اچھے ہیں ،لیکن خدائے متعال ان سے شکوہ کر تا ہے کہ کیوں جب ہم انھیں کوئی نعمت عطا کرتے ہیں تو ہمیں فراموش کردیتے ہیں اورجب وہ نعمت ان سے چھین لی جاتی ہے تو ہماری(خدا متعال کی)طرف متوجہ ہوتے ہیں:
( و اذا انعمنا علی الانسان اعرض ونئابجانبه و اذا مسه الشر فذودعا ء عریض ) (فصلت٥١)
اور ہم جب انسان کو نعمت دیتے ہیں تو ہم سے کنارہ کش ہوجاتا ہے اورپہلو بدل کر الگ ہو جاتا ہے اور جب سخت موقع آتا ہے تو خوب لمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے ۔
تیسرا گروہ: یہ وہ لوگ ہیں جوکسی بھی حالت میں ،حتی مصیبت اوربلائوں میں بھی خدا کی طرف رخ نہیں کرتے اس گروہ کے بعض افراد بلائوں کو خداکی طرف سے جانتے ہیں ،لہذا جب وہ بلائیں ان پر نازل ہوتی ہیں دعا کے لئے ہاتھ اٹھا تے ہیں کیونکہ ان بلائوں کو غیر طبیعی اسباب کی پیداوار اور خدا کا قہر و غضب جانتے ہیں ۔قوم یونس کی طرح کہ جب ان کے لئے عذاب کا وقت آگیا اور نزدیک تھا ان پر عذاب نازل ہو جائے ،چونکہ وہ جانتے تھے کہ وہ عذاب خدا کی غضب کی نشانی ہے اس لئے ہوش میں آگئے اور تو بہ کی ،اور خدا ئے متعال نے بھی انھیں نجات دی ۔
اس گرو ہ کے اکثر لوگ بلائوں کے بارے میں یہ تصور نہیں کرتے ہیں کہ خدا کی طرف سے ہے،لہذا وہ خداکی طرف توجہ نہیں کرتے ہیں ، خدائے متعال ان لوگوں کی سرزنش کرتے ہوئے فرماتا ہے:
( فلولا اذجاء هم بأسنا تضرّعوا ولکن قست قلو بهم وزین لهم الشیطان ماکانوا یعملون ) (انعام٤٣)
پھر ان سختیوں کے بعد انھوں نے کیوں فریاد نہیںکی، بات یہ ہے کہ ان کے دل سخت ہو گئے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال کو ان کے لئے آراستہ کر دیا ہے ۔دوسری جگہ فرما تے ہیں:
( ثم قست قلو بکم من بعد ذلک فهی کالحجا ر ة او اشد قسوة وان من الحجارة لما یتفجر منه الا ٔنها ر وان منها لما یشقق فیخر ج منه الما ء وان منها لما یهبط من خشیةاللّٰه وما اللّٰه بغافل عما تعملون ) (بقرہ٧٤)
'' پھر تمہارے دل سخت ہو گئے جیسے پتھر یا اس سے بھی کچھ زیادہ سخت کہ پتھروں میں سے بعض سے نہریں بھی جاری ہو جاتی ہیں اور بعض شگافتہ ہو جاتے ہیں تو ان سے پانی نکل آتا ہے اور بعض خوف خداسے گر پڑتے ہیں،لیکن اللہ تمھارے اعمال سے غافل نہیں ہے''
خدا سے درخواست کرنے اور مدد چاہنے کی ضرورت:
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بارے میں کہ انسان کو صرف خدائے متعال سے درخواست کرنی چاہئے اورخداکے علاوہ کسی اورسے مدد نہیں مانگنی چاہئے ، فرما تے ہیں :
''و اذا سالت فاسال اللّٰه عزوجل واذا استعنت فا ستعن باللّٰه ، فقد جری القلم بما هو کائن الی یوم القیامة''
اگر درخواست کرنا چاہتے ہو تو خدائے متعال سے درخواست کرو ۔ اور کسی سے مدد چاہتے ہو تو پروردگار سے مدد مانگو کیو نکہ قیامت تک رونما ہونے والا سب کچھ لکھا جا چکا ہے ۔
طبعی بات ہے کہ انسان کی کچھ حاجتیں ہیں اور وہ ان کو پورا کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ہے ، اور اپنی تمام خواہشا ت کو پورا نہیںکر سکتا ہے۔لہذ اخواہ نخواہ کسی کے پیچھے دوڑتا ہے کہ اس کی مدد کرے اور اس کی ضرو رتوں کو پورا کرے ۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جناب ابوذر سے فرماتے ہیں کہ اگر کسی سے کوئی چیز مانگنا چاہتے ہو تو خدائے متعال سے مانگو ۔جب دیکھتے ہو کہ کسی چیز کے حاجت مند ہو اور خود اس کو پورا نہیں کرسکتے ہواور کسی اور سے مدد مانگنے پر مجبور ہو تو خدائے متعال سے مانگو ،کیونکہ تیری حاجت کے بارے میں اس سے بہتر کوئی آگاہ نہیں ہے اور اس کی طرح کوئی یہ طاقت نہیں رکھتا ہے کہ تیری حاجتوں کو پورا کرسکے .پوری ھستی اس کی ملکیت ہے اور اس کی قدرت تمام چیزوں پر تسلط رکھتی ہے اگر کوئی امر واقع ہو نا چاہتا ہے تو وہ اس کے ارادہ و مشیت سے واقع ہو تا ہے اس کے علاوہ خدائے متعال ہر شخصسے زیادہ اپنی مخلوق اور اپنے بندہ سے محبت رکھتا ہے اور اس کی بھلائی چاہتا ہے ،اس لئے خود اپنے بندہ کو حکم دیا ہے کہ اس کو پکارے اور اسی سے مدد کی درخواست کرے .ہم دعائے افتتاح میں پڑھتے ہیں:
''اللهم اذنت لی فی دعائک و مسئلتک''
''پر وردگارا !تم نے مجھے اجازت دی ہے کہ تجھے پکا روں اور تجھ سے درخواست کروں''
فطری و طبیعی بات ہے جب خدائے متعال انسان کے لئے دعاومناجات کا دروازہ کھولتا ہے ، تو اس کا جواب دینے اور قبول کرنے کیلئے آمادہ ہے اور اس کے علاو ہ خدائے متعال انسان کو ہمیشہ اپنی نعمتوں سے نواز تا ہے ۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے اسکی جملہ نعمتوں میں بلائوںسے رہائی اور ان کو دورکرنا بھی ہے یہ نعمت بھی خداکے توسط سے انسان متواترخداکی مہربانیوں اور محبتوں کامرہون منت ہے اور ا سے جانناچاہئے کہ صرف خدا اس کی مدد کرنے پر قادر ہے اور کائنات میں اس کی اجازت کے بغیرکوئی کام انجام نہیں پاتا ہے ،لہذا صرف اس سے مدد مانگنی چاہئے ۔ ہم دعائے افتتاح کے ایک دوسرے حصے میں پڑھتے ہیں:
''فکم یا الهی من کربة قد فرجتها و هموم قد کشفتها و عثرة قد اقلتهاورحمة قد نشرتها وحلقة بلاء قدفککتها''
پروردگارا!کتنی زیادہ مصیبتوںکو تونے مجھ سے دور کیا اوراسے برطرف کردیا ، میری لغزشوں کو معاف فرمایا ،رحمتوں کو پھیلا یا اور بلائوں کے حلقہ کو توڑدیا ۔
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :
''اذا اراد احدکم ان لا یسال ربه شیئا الا اعطاه فلییاس من الناس کلهم ولا یکون له رجا ء الا عنداللّٰه فاذا علم اللّٰه عزوجل ذلک من قلبه لم یسال اللّٰه شیئا الا اعطاه''
چونکہ اگر تم میں سے کسی نے یہ چاہا کہ جس چیز کی پروردگار سے درخواست کرے وہ اسے مل جائے تو اسے لوگوں سے ناامید ہوجانا چاہئے اورجو خدا کے پاس ہے اس کے علاوہ کسی چیز کی امید نہیں رکھنا چاہئے ،چونکہ خدائے متعال اس کے دل پر نظر رکھتا ہے اورجو بھی اس سے چاہتاہے ، عطا کرتا ہے
ہم میں سے ہر ایک کم از کم روزانہ کہتا ہے :''ایاک نستعین''لیکن ہم عمل میں ایسے نہیں ہیں۔جیسے کہ ہم بہت سے لوگوں کا عمل یہ ثابت کرتاہے کہ ہم صرف خدا سے مدد نہیں چاہتے ہیںبلکہ دوسروں سے بھی مدد طلب کرتے ہیں ۔البتہ ایسے لوگ بھی ہیںجو اس بات میں صادق ہیں اور جب''ایاک نعبدوا وایاک نستعین''کہتے ہیں تو حقیقت میں اسی کی عبادت کرتے ہیں اور صرف اسی سے مدد طلب کرتے ہیں ۔لیکن ہم سچ نہیں کہتے ہیں اور ہمیشہ خدا کے بندوں کے سامنے ہاتھ پھیلا تے ہیں ۔ مصیبتوں اور مشکلات میں امید رکھتے ہیں کہ ماں ،باپ ،بھائی،بہن اور دوست و احباب ہماری مددکریں اور کبھی اپنی امید اور توقع کا اظہار بھی کر دیتے ہیں۔
پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تاکید فرماتے ہیں کہ صرف خدائے متعال سے درخواست کرو اور اسی سے مدد چاہو ۔اس کے بعد جناب ابو ذر کو قضاو قدر اور تقدیر ات الہی کی طرف توجہ دلاتے ہیں اس سے پہلے بھی اس کے بارے میں بحث ہوئی ہے ۔تقدیرات الہی اور قضاوقدر پراعتقاد کے فوائد میں سے ایک یہ ہے کہ اگر انسان کو آرام وآسائش ،دولت اور خوشحال کرنے والا کوئی واقع پیش آتاہے تو بہت زیادہ اترتا نہیںہے اسی طرح پریشانی اور ناگواری کے کوئی واقعات پیش آتے ہیں تو بہت زیادہ رنجیدہ اور کبیدہ خاطر نہیں ہو تاہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جو کچھ پیش آتا ہے وہ تقدیرات الہی ہے، اس سے فرارنہیں کیاجاسکتا ۔
( مااصاب من مصیبة فی الارض ولا فی انفسکم الا فی کتاب من قبل ان نبراها ان ذلک علی اللّٰه یسیر ) (حدید٢٢)
زمین میں کوئی بھی مصیبت (قحط،آفت،فقروظلم)وارد ہوتی ہے یا تمہارے نفسسے تم کو پہچتی ہے تو دنیا میں وارد ہونے سے پہلے وہ کتاب الہی(لوح محفوظ)میں ثبتہوچکی ہے اوریہ خدا کے لئے بہت آسان شے ہے۔
یہ تصورنہ کیا جائے کہ خدائے متعال اپنے بے شماربندوں میں سے ہر بندہ کے لئے ،پوری تاریخ میں جو کچھ اس کے لئے واقع ہوا ہے یاواقع ہو گا وہ کس طرح مقدر کر تاہے !کیو نکہ یہ کام اسکے لئے آسان ہے جیسیہی وہ ارادہ کرتاہے تمام معلومات جو اس کے پاس موجود ہے لوح محفوظ میں بھی در ج ہے۔پھر بعدوالی آیت میں اس مطلب کی دلیل یوں ذکرکرتا ہے:
( لکیلا تاسوا علی مافاتکم ولاتفرحوابما اتکم والله لا یحب کل مختال فخور ) (حدید٢٣)
یہ تقدیر اس لئے ہے کہ جوتمھارے ہاتھ سے نکل جائے اس کا افسوس نہ کرو اورجو مل جائے اس پر غرور نہ کرو کہ اللہ اکڑ نے والے مغرور افراد کوپسند نہیں کر تا ہے ۔
تقدیرات الہی پراعتقاد کے من جملہ فوائد میں سے ایک یہ بھی ہے کہ انسان کی نظر ہمیشہ خدا پر ہو تی ہے،کیونکہ وہ جانتاہے کہ جس چیز کواس نے مقد ر بنایا ہے وہ اس میں تبدیلی لا سکتا ہے ،غیر از خدا دوسرے اس سلسلہ میں کچھ نہیں کرسکتے ہیں ،کہ کوئی ان سے امید رکھے ۔اگر اس کے لئے کوئی ناخوشگوار واقعہ اور مصیبت پیش آئے،تو وہ جانتا ہے کہ خدا نے اپنی حکمت کے پیش نظر اسے مقدر فرمایاہے ۔یا اگر اس سے کوئی چیز چھین لی جاتی ہے ،تو وہ جانتا ہے کہ وہ لوح محفوظ میں لکھی گئی ہے اور خدا کے حکیمانہ تد بیر کی بنیاد پر اس قسم کے واقعات رو نما ہونے چاہئے ،اس لئے ناراض نہیں ہو تا ہے اور پھر بھی بارگا ہ الہی میں اپنے ہاتھ پھیلا تا ہے اور اس سے چاہتا ہے اس کی مشکلات اور گرفتاریوں کو دور کرے ۔اگر ہمیں کوئی نعمت عطا ہو تو ہمیں مست و مغرور نہیں ہو ناچاہئے اور خدائے متعال کو نہیں بھولنا چاہئے ،بلکہ اس حالت میں بیشترخداکی طرف توجہ کریںاور اس نعمت کے عطاہونے پرشکر بجا لائیں اور بار گاہ الہی میں اپنی تواضع اور گدائی کی حالت کی حفاظت کریں ، نہ یہ کہ قارون کے مانندان نعمتوں کواپنی تلاش و جستجو کا نتیجہ جان لیں :
( قال انما او تیته علی علم عندی اولم یعلم ان اللّٰه قد اهلک من قبله من القرون من هواشد منه قوة واکثر جمعا ) ۔۔۔)(قصص٧٨)
قارون نے کہا کہ مجھے یہ سب کچھ میرے علم کی بنا پر دیا گیا ہے تو کیا اسے یہ معلوم نہیں ہے کہ اللہ نے اس سے پہلے بہت سی نسلوں کو ہلاک کردیاہے جو اس سے زیادہ طاقتور اور مال کے اعتبار سے دولت مند تھیں اور ایسے مجرموں سے تو ان کے گناہوں کے بارے میں سوال بھی نہیں کیا جاتا ہے.
جان لو جو کچھ تمھارے پاس ہے وہ تقدیر الہی کی بنیاد پر تجھے ملا ہے اور خدائے متعال نے اس کے اسباب فراہم کئے ہیں ، اس بنا پر اگر کسی سے مدد کی درخواست کرنا چاہتے ہو ،تو اس سے مدد طلب کرو کہ تمام امور جس کے ہاتھ میں ہیں اور تمام کام اس کی تقدیر کے مطابق انجام پاتے ہیں ،اگر وہ مصلحت جان لے تو اپنے مقدرات میں تبدیلی لا سکتا ہے،بہر حال تمہیں اس کے سامنے ہاتھ پھیلانا چاہئے اور اسی کی رحمت سے امید باندھنی چاہئے اور جب کسی بلا یامصیبت میں مبتلا ہو جائو تو، تم میں کوئی خاص تبدیلی رو نما نہیں ہونی چاہئے ،کیونکہ وہ بلا و مصیبت ایک حساب شدہ پرو گرام کے تحت اور حکیمانہ تدبیرکی بنیاد پر رو نما ہوئی ہے لہٰذا گریہ وزاری نہ کرو اور اپنے گریبان چاک نہ کرو کہ کیوںایسا ہوا ؟!ہمارے جزع فزع اور آہ وزاری سے خدائے متعال اپنے حکیمانہ تدبیرسے صرف نظر نہیں کریگا۔
اگر کوئی نعمت تجھے عطا کی گئی ہے ،تو یہ تصور نہ کرو کہ اسے تم نے اپنی فطانت اور زیرکی سے حاصل کیا ہے بلکہ تقدیرات الہی اورخداکی حکیمانہ تدبیر کے سبب وہ نعمت تجھے ملی ہے اس کے علاوہ یہ تیرے امتحان وآزمائش کے لئے ہے کہ تم اس نعمت سے کیا کرتے ہوپس قضا وقدر پر اعتقاد کے فوائدمیں سے ایک یہ ہے کہ انسان جان لے کہ جو کچھ واقع ہو تاہے وہ حکیمانہ تدبیر کی بنیاد پر ہوتا ہے اوراگر اس نے کسی قسم کی کمی بیشی کا مشاہدہ کیا تو زیادہ ناراض نہیں ہو تا ہے ،کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جس نے اس نظام کو قائم کیا ہے ،اس نے اس تقدیرکوتدبیر قرار دیا ہے ،وہ اپنے کئے پر اس سے آگاہ تھا اور اپنے بندوںکی بھلائی اور مصلحت سے واقف تھا۔مذکورہ مطالب کے پیش نظرپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآ لہ وسلم جناب ابو ذرکو خداسے مدد مانگنے کی تاکید کرنے کے بعد انھیں تقدیرات الہی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں:
''فقد جری القلم بما هو کائں الی یوم القیا مة''
کیونکہ جو کچھ قیا مت تک واقع ہوگا ، قلم اس پر جاری ہو چکا ہے
ہم نے اس سے پہلے بھی یاددہانی کرائی ہے اور یہاںپربھی تاکید کر رہے ہیںکہ ہمیں قضا و قدراور معارف الہی کے مسئلہ سے ناجائز فائدنہیں اٹھانا چاہئے ۔ایسا نہ ہو کہ ہم بیان معارف میں پوشید ہ حکمتوں سے غافل ہو جائیں اور فکر کریں کہ جو کچھ ہونا ہے وہ واقع ہوکر رہے گا ، اور ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے! پس ہم کنارہ کشی کریں اور اپنے فرائض اور ذمہ داریوںسے پہلو تہی کریں !بلکہ ہمیں جاننا چاہئے ہماری تلاش وکوشش بھی تقدیرات الہی کے زمرے میں ہے ،اس بناپر ہمیں بیشتر کوشش و جستجو کرنی چاہئے اور اپنے فرائض کے بارے میں بیشتر عزم و ارادہ کا مظاہرہ کرنا چاہئے ایسا نہ ہو کہ قضاو قدرپر بھروسہ کر کے فرائض و تکلیف سے پہلو تہی اختیار کی جائے اور سستی وکاہلی کو اپنا یا لیا جائے ، یہ شیطان کے وسوسے میں سے ہے۔
قضا وقدر پر اعتقاد اس امر کا سبب بننا چاہئے کہ ہم خدا کی طرف بیشتر توجہ کریں اور صرف اس کادامن تھا رہیں اور بیہودہ طور پر دوسروں کے پیچھے نہ جائیں اور ان کی چاپلوسی نہ کریں اور اپنی ذاتی غرض کے لئے اپنے فرائض او رتکا لیف کو ترک نہ کریں۔ ایسا نہ ہو کہ ہم شیطان کے دھو کے میں آئیں اور تصور کریں ،اب جب کہ سب چیزیں مقدر ہیں ، ہما رے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے، لہذا گوشہ نشینی اختیار کریں ،اگر علم حاصل کرنے میں مشغول ہیںتو ا سے چھوڑ دیں ،اپنی جگہ پر کہیں کہ اگر مقدر میں ہوگا ہم عالم بن جائیں، توخواہ درس پڑھیں یانہ پڑھیںعالم تو ہو ہی جائیں گے !حقیقت میں اگرمقدر میں عالم ہونا ہے از راہ تعلیم تو اگر ہم درس پڑھیں گے تب عالم بن جائیں اور اگر ہم درس نہ پڑھیںتو عالم نہیں بنیں گے البتہ ممکن ہے کسی تلاش و محنت کے بغیر ہی کوئی علم انسان کو عطا ہو جائے تو یہ فضل الہی ہے جو کبھی انسان کو نصیب ہو تا ہے ،لیکن بہر حال انسان کواپنے فریضہ کو انجام دینے کی راہ میں کو شش کرنی چاہئے اور کسی بھی کوشش سے فروگزاشت نہیں کرنا چاہئے
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حدیث کو جاری رکھتے ہوئے اپنے گذشتہ بیانات کی تاکید میں فرماتے ہیں:
''فلوانّ الخلق کلّهم جهدوا ان ینفعوک بشی ء لم یکتب لک ماقدروا علیه ولو جهدواان یضروک بشیء لم یکتبه الله علیک ما قدروا علیه''
اگر تمام انسان تجھے کوئی فائدہ پہنچانا چاہیں جسے خدائے متعال نے تیرے مقدرمیں نہیں لکھا ہے تو وہ اس کی قدرت نہیں رکھتے ہیں،اسی طرح اگر تمام لوگ تجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہیںجسے خدا نے تمھارے لئے نہ لکھا ہو تو وہ ہرگز ایسا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں۔
اگر خدائے متعال کی مر ضی وارادہ کسی کام سے متعلق ہو تو، دنیا کی تمام قابل تصور طاقتیں اسے روک نہیں سکتی ہیں :
( واللّٰه غالب علی امره ولکن اکثر الناس لا یعلمون ) (یوسف٢١)
اور اللہ اپنے کام پر غلبہ رکھنے والا ہے یہ اور بات ہے اکثر لوگوں کو اس کا علم نہیں ہے
ایک دوسری آیت میں فرماتا ہے :
( و ان یمسسک اللّٰه بضرّ فلا کاشف له الاّ هو وان یمسسک بخیر فهو علی کل شی ء قدیر ) (انعام١٧)
اگر خداکی طرف سے تم کو کوئی نقصان پہنچ جائے تو اس کے علاوہ کوئی ٹالنے والا بھی نہیں ہے اور اگر وہ خیر دے تو وہی ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے ۔
اس لحاظ سے آخری فیصلہ اور قطعی وحتمی ارادہ خدائے متعال کے ہاتھ میں ہے ، پس اگر کوئی چیز چاہتے ہو تو اس سے مانگو جس کے پاس اس قسم کا ارادہ و قدرت موجود ہو ایسے افراد کے پیچھے نہ جائو جو تمھارے مانند دوسروں کے گدا ہوں اور وہ کوئی کام نہ کرسکیںاور جان لو کہ اگر خدائے متعال نہ چاہے تو کوئی تمھاری مدد نہیں کرسکتا ہے ۔
خدا کی حکیمانہ تد بیر کی معر فت اور یقین کا نتیجہ:
آخری نکتہ جس کی ،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جناب ابو ذر کو یاد دہانی کراتے ہیں ، کہ اگر اپنے اندر یہ وصف پیدا کرلو تو اس کا بہت زیادہ ثمرہ اور فائدہہے ،وہ نکتہ یہ ہے کہ خدا کے بارے میں اس کی معرفت یقین کی منزل تک پہنچ جا ئے .یقین پیدا کرے کہ جو کچھ خدا نے مقدر کیا ہے وہ واقع ہوگا اور جو مقدر میں نہیں ہے وہ انجام نہیں پائے گا اور جو مقدر ہے وہ لغو اور بیہودہ نہیں ہے بلکہ وہ حکیما نہ تدبیر کے مطا بق انجام پاتا ہے ۔اس معر فت و شناخت سے مو من اطمینان پیدا کر تا ہے کہ جو کچھ واقع ہو تا ہے وہ اسکی مصلحت میں ہے ،کیونکہ خداوند متعال اپنے بندہ کا ضرر و نقصان نہیں چاہتا ہے بالخصوص اس بندہ کے لئے جس نے اپنا کام خدا کے سپرد کیا ہے ۔ وہ اطمینان کے ساتھ اپنافریضہ انجام دینے کی کوشش کرتا ہے، وہ مطمئنہے کہ جو واقع ہوتا ہے وہ حکمت الہی کے موافق ہے اور اس کی مصلحت اور نفع میں ہے ،خواہ وہ ظاہرا ًخوش گوار ہو یا نا خوش گوار۔وہ جانتا ہے کہ جو کچھ قضاو قدرالہی کی بنیاد پر رونما ہو تا ہے اس میں خیر ہے اور تقدیرات الہی میں شر کے لئے کو ئی جگہ نہیں ہے۔ فطری بات ہے کہ اگر انسان یقین اور معرفت کے اس مرحلہ تک پہنچ جائے کہ دنیا کے تمام حوادث اور روداد کو خیر اور حکیمانہ تدبیرالہی کے تناظر میں دیکھے تو جو بھی واقع ہو گا اس پر راضی اور مطمئن ہوگا اور جو بھی واقع ہوگا وہ خیر ہے اور انسان خیر سے خوشحال ہوتا ہے اور ممکن نہیں ہے وہ اسے برا لگے۔
البتہ یہ یقین اور و معرفت اور یہ ایمان کا بلند درجہ آسانی کے ساتھ حاصل نہیں ہو تا ہے اور ہرآدمی اس قسم کے ایمان کو آسانی کے ساتھ اپنے دل میں پیدا نہیں کر سکتا ہے اور ہر کوئی یہ لیاقت نہیں رکھتا کہ اس مقام تک پہنچ جائے ۔ جو شخض اس قسم کے مقام تک پہنچنا چاہے اسے چاہئے کہ وہ تہذیب نفس کے لئے سخت کو شش کرے اور ایک ایسے مرحلہ پر پہنچ جائے کہ اپنے نفس پر مکمل طور پر کنٹرول حاصل کرلے اور الہی احکام پر عمل کر نے کے لئے اور اولیائے الہی کی سیرت سے سبق حاصل کرے نیز انسانیت کے عالی مراتب تک پہنچ جائے تاکہ ہمیشہ اپنی مر ضی پر خدا کی مر ضی کو تر جیح دے اورفطری بات ہے کہ ہر کوئی اس مقام تک پہنچ سکتا ہے.پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تاکید کرتے ہیں کہ اگر کسی یقین و معرفت کی منزل کو اس حد تک درک کرلیاکہ حوادث کو اپنی صلاح اور خیر کے تناظر میں دیکھے اور ناخوشگوار حالت پر رنجیدہ و کبیدہ خاطر نہ ہو اور کم از کم تلخ اور ناخوشگوار حوادث کے مقابلہ میں صبر اور بردباری کا مظاہرہ کر تا ہو۔ا سے جاننا چاہئے کہ مقدرکے مطابق انجام پانے والے حوادث کے مقا بلے میں کمز وری اور بے صبری کا کوئی فائدہ نہیں ہے انسان جس قدر بے تا بی کرے ،خداکی مرضی کے مطا بق انجام پانے والا حادثہ انجا م پائے گااور اس کو روکنے کے لئے ہم کچھ نہیں کر سکتے ہیں
اگر اس کے لئے کو ئی مصیبت پیش آئے ،کسی بیماری یا فقر میں مبتلا ہوجائے ،زلزلہ یاسیلاب کے نتیجہ میں اس کا سب کچھ لٹ جائے ،یا کوئی اور حادثہ پیش آجائے،تو وہ صبر کر ے اور برداشت کو اپنا پیشہ قرار دے ،تو اس صورت میں وہ خدا کی عنایتوںکا حقدار و مستحق ہے ۔البتہ اگر کسی حادثہ کی پہلے سے پیش بینی (اطلاع) سے پہلے ہو تو کچھ مقدمات کے بارے میں غور و حوض کر کے اسے روکا جاسکتا ہے تو انسان پر فرض ہے اسے روکے ۔ لیکنبہتسے ترقی یافتہ مما لک بھی تمام امکا نات اور جدید ترین وسائل کے باوجود یسے ناگہانی حادثات و آفات سے روبرو ہوتے ہیں کہ جس کی پہلے سے اطلاع اور پیش بینی ممکن نہیں ہوتی اور وہ اسکے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتے ہیں .چنانچہ مشہور ہے کہ جاپان سب سے زیادہ زلز لہ زلزلہ کی زد میں آ نے والا ملک ہے ،اور سے مقابلہ کرنے کیلئے مدافعت کرنے والی عمارتیں وہاں تعمیر کی گئی ہیں،متو قع مصیبت اور حادثہ سے متاثر ہونے والوں کی بر وقت امداد کے لئے پہلے سے ہی وسائل آمادہ رکھے گئے ہیں ،کیو نکہ وہ ملک اس سلسلہ میں کافی رکھتا ہے اور وہ لوگترقی یافتہ ہیں اور اس پر کافی سرمایہ بھی خرچ کرتیہیں ۔اس کے باوجود مشاہدہ کیا گیا ہے کہ دنیا ایک سب سے افسوس ناک اور خطر ناک زلزلہ جاپان میں آیا اور اس کے نقصانات ان نقصات سے کہیں زیادہ تھے جو دوسرے پسماندہ ممالک میں زلزلوں سے ہواکر تے ہیں
پس حوادث مقدر ہیں اور رونما ہوتے ہیں ۔لوگ اس سے بے خبر ہیں ۔ ان حوادث کا امر ایک ایسے مدبر عالم کے ہاتھوں میں ہے کہ کائنات اسکی تدبیر سے چلتی ہے ۔وہ جانتا ہے کہ کس فارمولے کے مطابق ،کب اورکہاں زلزلہ آنا چاہئے ۔اور کہاں سیلا ب آنا چاہئے۔ممکن ہے خدا نہ کرے ہما رے لئے بھی کوئی مصیبت نازل ہو جائے ،اب اگر ہم خدا کی حکیمانہ تدبیر اور خداکے احسن نظام پر یقین اور معرفت رکھتے ہیں تو ناراض نہیں ہوں گے،کیونکہ ہم الہی تدبیروںپر حسن ظن رکھتے ہیں اور سب کو خیر اور اپنی اصلاح کے ذریعہ جانتے ہیں .جب ہم کمی اور کسی کمزوری کا مشاہدہ کرتے ہیں تو اس سے ناراض ہو تے ہیں ،لیکن اگر ہم اسے سو فیصدی اپنی مصلحت اور بھلائی میں دیکھیں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ ہم اس سے ناراض ہو جائیںاور ہمیں غصہ آئے۔ممکن ہے کوئی انسان تکلیف اوربیماری کی شدت سے تڑ پے اور درد اسے فرصت نہ دے،لیکن جب دیکھتا ہے وہ بیماری اس کے حق میں بہتر ہے اور اس کے لئے صلاح کا باعث ہے تو اس کی آئوبھگت کر تا ہے بالکل اسی طرح کہ جس کا دانت خراب ہو گیا ہے اور اسے نکالوانا چاہتاہے۔وہ دانت نکالنے کے لئے خود پیشکش کر تا ہے اور اس کے لئے پیسے بھی صرفہے ،کیونکہ وہ اس کام کو اپنی مصلحت میں جانتا ہے اور کبھی ناراض نہیں ہو تا ہے کہ اس کاکیوں دانت کو نکالا گیا،کیونکہ وہ جانتا ہے خراب شدہ دانت بدن کے لئے مضر ہے اور اسے نکالاجاناچا ہئے۔ کبھی انسان ایسی تکلیف اور بیما ری میں مبتلا ہو تا ہے کہ اسے علاج کر نے کے لئے کسی دوسرے ملک جانے کی ضرورت ہوئی ہے اور لاکھوں روپیہ خرچ کرنا پڑ تا ہے ، یا اپنی صحت یا بی کے لئے مجبور ہوتا ہے اپنے بدن کے کسی عضو سے محروم ہو جائے اور اس کے معالجہ کے لئے پیسے بھی خرچ کرتا ہے یا جس کے کسی اعضاء کے کاٹے جانے پر راضی ہوجا تا ہے ،لیکن اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ وہ مقام رضا تک پہنچا ہے اور دل سے اس کے لئے آمادہ ہے جو اسے در پیش ہے اور کسی قسم کا شکوہ نہیں رکھتا ہے ۔ بلکہ ممکن ہے پیش آنے والی چیز سے گلہ مند ہو ،اگر جرأت ہوتیتو خدا سے شکوہ کے لئے لب کشائی کرتا ۔چنانچہ ضعیف الایمان افراد پر جب کوئی مصیبت آتی ہے تو اپنی طاقت کو کھو دیتے ہیں اور حتی خدائے متعال سے بھی شکوہ کر تے ہیں اسی مطلب کے پیش نظر پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فر ما تے ہیں :
''فان استطعت ان تعمل للّٰه عز وجل بالر ضا والیقین فافعل وان لم تستطع فان فی الصبر علی ما تکر ه خیراً کثیر اًوان النصر مع الصبر والفرج مع الکرب وانّ مع العسر یسرا''
''پس اگر تم اپنی رضا و یقین کے ساتھ خداکے لئے کو ئی کام انجام دے سکتے ہو تواسے انجام دو اور اگر انجام نہیں دے سکتے توجس چیز سے تمہیں نفرت ہے اس پر صبر وتحمل کرنے میں تمھارے لئے فراوان خیر ہے ۔کامیا بی صبر کے ساتھ ہے اور آسائش و آسودگیغم واندوہ کے ساتھ ہے ۔ بیشک ہر دشواری کے ساتھ آسانی بھی ہے۔''
اگر مقام رضا تک تمہارے لئے پہونچنا ممکن ہوتا کہ البتہ رضا،یقین کے سایہ میں حاصل ہو تی ہے اور جب تک انسان مقام یقین تک نہیں پہونچتاہے وہ مقدرات الہی پر راضی نہیں ہو سکتا ہےتم کتنے خوش قسمت ہو کہ انسانیت کے بہترین مقام تک پہونچ گئے .اس لئے انسان کا بہترین مقام اور خصو صیت یہ ہے کہ وہ تقدیر ات الہی پر راضی ہواور تہہ دل سے خوش ہو اورکسی قسم کا گلہ وشکوہ نہ کرے ۔پس کو شش کرو کہ تمھاری رفتار رضا و یقین کی بنیاد پر ہو۔ اس صورت میں تلخ و شریں حوادث کے لئے اپنے آپ کوآمادہ کرسکتے ہو اور کسی قسم کی ناراضگی اور شکوہ سے عاری ہو ۔لیکن اگر اس حد تک نہیں پہنچے اور نا راضگیوں اور ناخوشگوارحوادث کے بارے میں اپنے لئے توجیہ نہیں کرسکتے کہ جس کی وجہ سے راضی ہوسکو،تو سختیوں کے مقابلہ میں صابر بننے کی کوشش کرو ، گریہ وزاری نہ کرو اور اپنے آرام وسکون کی حفاظت کرو .اگر ان مشکلات کے بارے میں دل سے راضی نہ ہو سکے ،تو جان لو کہ یہ تمھاری معرفت کی کمی ہے کہ مقام رضا تک نہیں پہونچ سکے ہو ،کم از کم بے تابی نہ کرو اس لئے کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے اپنی عقل وایمان کی حفاظت کرو۔ جان لو کہ اگر تم نے مصیبتوںاور مشکلات کے مقابلہ میں صبر کیا تو خدائے متعال تمہیں فراوان خیر عنایت کرے گا۔
انسان کی معنوی بلندی اورتکامل میں مشکلات کا رول :
اس کے بعد اپنی بات کی تاکید فرماتے ہیں :صبر و شکیبائی کے سائے میں کامیابی ہے اور ہر غم واندوہ کے ساتھ راحت و آسودگی ہے اور ہر سختی کے ساتھ آسانی بھی ہے ۔قرآن مجید میں خدائے متعال بھی فرماتا ہے:
( فان مع العسریسراان مع العسریسرا ) (انشراح٥۔٦)
ہاں زحمت کے ساتھ آسانی بھی ہے ۔بیشک تکلیف کے ساتھ سہولت بھی ہے ۔
قرآن مجید میں بہت کم کوئی مطلب دوبار تکرار ہو ا ہے اور وہ بھی صرف تاکید ''انّ''سے.یہ خدائے متعال کی اس مطلب کے بارے میں توجہ اور عنایت کی دلیل ہے ۔خدائے متعال مذکورہ آ یہ شریفہ میں فرما تا ہے :ہر سختی کے ساتھ آسانی ہے ،یہ نہیں فرماتا ہے کہ ہر سختی کے بعد آسانی ہے ،گویا آسانی خود سختی کے اندر پو شیدہ ہے۔
خدا ئے متعال سورہ ''انشراح'' میں محبت آمیزلہجہ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہ جو گویا آزردہ خاطر۔تسلی دیتا ہے اور آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو آرام و اطمینان دلاتا ہے کہ کس طرح خدائے متعال نے ان کے کندھوں سے سنگین بوجھ کو اٹھا کر،دشواریوںکو آسانیوں میں تبدیل کیا ہے ۔ اس کے بعد فرما تاہے :ہر رنج و سختی کے ساتھ آسانی ہے ، پس اگر فراغت ملے تو اپنے آپ کو پھر سے زحمتوں میں ڈالنا اور کوشش کو پھر سے شروع کرنا حقیقت میں خدائے متعال اس نکتہ کی طرف اشارہ کر تاہے کہ سختیاں اور مصیبتیں انسان کے کمال و پیش رفت کا مقدمہ ہیں ،جواس کے لئے توانائی حاصل کرنے کا سبب بنتی ہیں ۔ اس لحاظ سے مصیبتیںاور سختیاںانسان کے تکامل وترقی کے لئے ضروری ہیں:
( لقد خلقنا الانسان فی کبد ) (بلد٤)
''بیشک ہم نے انسان کورنج و مشقت میں رہنے والا بنایا ہے۔''
یہ آیہ شریفہ انسان کی خلقت اور تکا مل ترقی میں رنج و مصیبت کے اہم رول کو بیان کرتی ہے ۔اگر اس کے علاوہ کچھ اور ہو تا تو خدائے متعال جو مہر بانیوں اور رحمتوں کا سر چشمہ ہے اور اپنے بندے کے لئے ہمیشہ خیر و سعادت چاہتا ہے اسے رنج و مصیبت سے دوچار نہ کرتا ۔
مذ کورہ مطالب کے علاوہ ،خدائے متعال اپنے بندوں کی متواتر آزمائش کر تا ہے تاکہ شائستہ افراد کی پہچان کی جاسکے ،اس سلسلہ میں خدائے متعال نے انسانوں کی تر بیت و پرورش کے لئے دو پرو گرام مقرر فرما ئے ہیں:عبادات کا تشر یعی پرو گرام اور مصائب ومشکلات کا تکوینی پرو گرام ۔بالآخر جو احکام الہی کی صحیح معنوں میں پیروی کرتے ہیں اور سختیوں اور دشوایوں کو دل وجان سے قبول کرتے ہیں ،ان کی رحمت اورمعرفت الہی کی طرف راہنمائی کی جاتی ہے:
( ولنبلونکم بشی ء من ا لخوف والجو ع ونقص من الاموال والانفس و الثمرات وبشر الصابرین الذین اذا اصابتهم مصیبة قالوا انا للّٰه وانا الیه راجعون ) (بقرہ١٥٥۔١٥٦)
اور ہم یقینا تمھیں تھوڑے خوف تھوڑی بھوک اور اموال، نفوس اورثمرات کی کمی سے آزمائیں گے اور اے پیغمبر!ان صبر کرنے والوں کوبشارت دیں جو مصیبت پڑ نے کے بعد یہ کہتے ہیں ہم اللہ ہی کے لئے ہیں اور اسی کی بارگاہ میں واپس جانے والے ہیں.۔
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرما تے ہیں :
((ان اللّٰه عزو جل لیتعاهد المومنین بالبلا ء کما یتعاهد الرجل اهله بالهدیة من الغیبة ۔۔۔))(۲)
خدائے متعال اپنے بندہ پر مہر بانی کر تاہے اور اس کے لئے بلائوں کو تحفہ کے طور پر پیش کرتاہے ،
اسی طرح جیسے ایک مرد سفر سے اپنے بال بچوں کے لئے تحفے لاتا ہے۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مسلمان کے گھر مد عو ہو ئے۔آپصلىاللهعليهوآلهوسلم جب میز بان کے گھر میں داخل ہوئے تو ایک مرغی کودیکھا کہ جس نے دیوار کے اوپر انڈا دیا تھا اور وہ انڈا ایک میخ پر رک گیا اور زمین پر نہیں گرا ، رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تعجب میں پڑگئے۔میز بان نے کہا :آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے تعجب کیا؟اس خدا کی قسم جس نے آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کو پیغمبری کے لئے مبعوث فرمایا ہے ،مجھے کبھی نقصان نہیں پہنچا ہے !رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جیسے یہ جملہ سنا ،آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کھڑ ے ہو گئے اور اس شخص کے گھر میں کھانا نہیں کھایا اور فرمایا :جس نے کبھی کوئی مصیبت نہ دیکھی ہو اس پر خدا کی مہر بانی نہیں ہو تی ہے!
اس بناپر اگر بلائوںکو صحیح نگاہ سے دیکھا جائے ،تو ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ سختیاں اور بلا ئیں تربیت اور بیداری کا رول انجام دیتی ہیں ۔مشکلات اور سختیاں سوئے ہوئے اور بے حرکت انسانوں کو بیدار و ہوشیارکر دیتی ہیں اور ان کے عزم وارادہ کو ابھار تی ہیں اور حقیقت میں سختیاں انسان کواستقامت و مقامت کی قدرت بخشتی ہیں۔انسان کی دنیوی زندگی کی خاصیت سختیوں کے ساتھ ہے ،اس میں جس قدر انسان کی قوت مقاومت میں اضافہ ہو گا اسی اعتبار سے اس کے تکامل میں اضافہ ہو تا جائیگا اور رفتہ رفتہ اس کی فطانت اور پوشیدہ قابلیتیں ظاہر ہو تی جائیں گی اور یہ لطف وعنایت الہی کی دلیل ہے۔مولانا رومی اس سلسلہ میں فرماتے ہیں:
گندمی را زیر خاک انداختند
پس ز خاکش خوشہ ہابرساختند
بار دیگر کوفتندش ز آسیا
قیمتش افزون و نا ن شد جانفرا
با ز نان را زیردندان کوفتند
گشت عقل وجان وفہم سود مند
( گندم کے ایک دانہ کوزیر خاک رکھا جاتا ہے ،پھر اس کے خوشے نکل آ تے ہیں،پھر اس گندم کے دانے کو چکی میں پیسا جاتاہے ،اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے پھر وہ روٹی میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، پھر اس روٹی کودانتوں سے چبایا جا تاہے،پھروہ فائدہ بخش عقل،جان وشعورمیں تبدیل ہوجاتے ہیں)
(۔۔۔( سیجعل اللّٰه بعد عسر یسرا ) ۔)(طلاق٧)
''...عنقریب خدا تنگی کے بعد وسعت عطا کرے گا.''
یہ آیت ان افراد کے لئے قابل توجہ ہے جن کی ظرفیت کم ہے اور جب وہ سختی اور مصیبت میں گرفتار ہو تے ہیںتو نا امید ی سے دوچار ہوتے ہیںاور خیال کرتے ہیں سب کچھ لٹ گیا ہے۔حتی ، دعا اور اولیا ئے الہی سے تو سل اورخدا سے التجا کی طرف بھی رخ نہیںکر تے اور اپنے لئے تمام دروازے بند دیکھتیہیں .مو من کومصیبتوںکے مقابلہ میں بیقرار ہو کر اپنے ہوش نہیںکھو نا چاہئے،بلکہ اسے اپنے آرام وسکون کی حفاظت کرنی چاہئے اور جاننا چاہئے کہ ہر سختی کے بعد ایک آسانی ہے اور خدائے متعال نے ایسا مقدرنہیں کیا ہے کہ اس کا بندہ ہمیشہ سختیوں سے مقابلہ کرتا رہے اور پوری زندگی سختیوںاور مشکلات میں گزارے ۔بلکہ اگر خدا ئے متعال سختی کو قرار دیتا ہے تو اس کے بعد آرام وآسائش کو بھی قرار دیتا ہے اور اس کے انتظار میں رہنا چاہئے۔
قناعت اور لوگوں سے بے نیازی:
اس بحث کے اختتام پر پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حد یث کے اس حصہ میں فرماتے ہیں :
''یا اباذر!استغن بغنی الله یغنک الله''
''اے ابو ذر !خدا داد دولت کے توسط سے بے نیازی کی جستجو کرو تاکہ خداتجھے بے نیاز کردے۔''
گویا اس بیان سے پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کا مقصود جناب ابوذر کے لئے صحیح طور پر واضح نہیں تھا۔چونکہ معلوم ہے کہ جو شخص دولت حاصل کرتا ہے وہ اپنے آپ کو بے نیاز سمجھتا ہے اورکسی کی تلاش میں نہیں جاتا اور اس میں کوئی مفہوم نہیں ہے کہ ایسے شخص کو کہا جائے کہ اپنے کوبے نیاز شمار کرواور کسی کی طرف اپنا ہاتھ نہ پھیلاو۔پس قطعا پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے کلام میں کوئی راز مضمر ہے اور اس میں کوئی نکتہ پوشیدہ ہے ۔ اسی جہت سے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے مقصود کے بارے میں جناب ابوذر سوال کرتے ہیں اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم جواب میں فرماتے ہیں:
''غدا ء ة یوم و عشا ء ةلیلة،فمن قنع بمارزقه الله فهو اغنی الناس''
''(خدا کی دولت کا مقصودجس سے تم اپنے کو دوسروں سے بے نیاز سمجھتے ہو) تمھاری شب وروز کی غذا ہے جو شخص خدا کی دی ہوئی ہرچیز پر قناعت کرے وہ غنی ترین لوگوں میں سے ہے۔ ''
آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے ہیں:جب آج دن کے لئے تیرے پاس غذا موجود ہے تو دوسروں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلاو اور اس فکر میں نہ رہوکہ کل کیا ہو گا ۔جو کچھ اس وقت تمھارے ہاتھ میں ہے اسی پر قناعت کرو اور اس کے علاوہ اپنے کو بے نیاز جانو اور دل میں دوسروں کی نیاز مندی کا تصورتک نہ کرو اگر نیاز مندی کا احساس کیا اور کل کی بہبودی کی فکر میں رہے تو خود کو دوسروں کا محتاج بنا یا ہے اور کل کی بہبودی کے لئے وسائل حاصل کرنے کی غرض سے دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے پرمجبور ہوگے اور اس طرح ذلیل ہو گے ، کیونکہ جو بھی دوسروں کے سامنے اپنی نیازمندی کا ہاتھ پھیلا تا ہے وہ ذلیل ہوتا ہے ۔لہٰذا اگر عزیز اور سر بلند رہنا چاہتے ہو اسی رزق پر قانع وراضی رہو جسے خدائے متعال نے تمھارے لئے مقدر کیا ہے ۔ اگر انسان طمع اورلالچ میں مبتلا ہوا،تو جس قدر آرام وآسائش کے وسائل اس کے لئے فراہم ہو جائیں،پھر بھی وہ اسی فکر میں رہتا ہے کہ کیا کروں تاکہ اپنے مال ودولت میں اضافہ کروں اور اپنے لئے مزید و سائل و امکا نات حاصل کروں ۔وہ اس طرزتفکر کی وجہ سے ہمیشہ اپنے آپ کودوسروں کا محتاج پاتا ہے اور اپنے بارے میں سوچنے کی فرصت پیدانہیں کرتاہے تاکہ کمالات انسانی کے بارے میں غورو فکر کرے۔ کہ کس لئے پیدا کیاگیا ہے ،اپنی آخرت کے لئے کیا کیا ہے ۔ وہ دنیا میں طمع اورلالچ کے دام میں گرفتار ہوتا ہے اور ایک لمحہ بھی فراغت وآسائش سے نہیں گزار تااور بالآخر زاد راہ کے بغیرخالی ہاتھ اس دنیاسے رخت سفر باندھتا ہے ۔
اگر انسان آج کے رزق پر مطمئن ہو جائے اورخود کو بے نیاز کرلے اور دوسروں کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائے، تو وہ اپنا وقت اپنی ترقی ،بلندی اور کمال حاصل کر نے کے لئے صرف کر سکتا ہے ۔ اپنے قناعت کے سرمایہ سے کہ جس کو اس نے ذخیرہ کر رکھا ہے اسے مواقع فراہم کرلے تاعبادت، تحصیل علم ، جہاد ، خدمت خلق بالآخر خداکی مرضی کے مطابق اور اپنی آخرت کے لئے ہر مفید کام کو انجام دے ۔
حضرت امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں:
''اظهر الیاس من الناس فان ذلک من الغنا ۔۔۔ ''(۳)
''لوگوں سے ناامیدی کا احساس ظاہری کرو،کیونکہ یہ حالت غنی اور بے نیاز ہونے کا نتیجہ ہے۔''
اور حضرت امیرا لمؤمنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں :
''اشرف الغنی ترک المنی'' (۴)
''بالا ترین بے نیاز ی طولانی آرزئوںسے دوری ہے ''
انسان کو لو گوں کے پاس موجودہ چیزوں سے زیادہ اس پر امیدرکھنی چاہئے جو خدا کے پاس موجود ہے اور یہ نفس و خلق سے بے نیازی تب تک حاصل نہیں ہو سکتی ہے جب تک کہ انسان خدائے متعال پر اطمینان ،اس پر تو کل، دوسروں پر اعتماد نہ کرنا اور نفع و نقصان کے خداکے ہاتھ میں ہونے کا یقین پیدا نہ کرے اور جان لے کہ جو بندوں کے حق میں ہے اسے خدا انجام دیتا ہے ،اور جوان کی صلاح میں نہیں ہے اس سے انھیں باز رکھتا ہے ،اس صورت میں بندہ دوسروں سے بے نیاز ہوتا ہے ،حتی اگر اس کا ہاتھ مال دنیا سے خا لی بھی ہوتو بھی اپنے آپ کودولت مند تصور کرتاہے ،چنانچہ نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے ہیں :
''لیس الغنا فی کثرة العر ض انما الغنی غنی النفس'' (۵)
'' دولت مندی اور غنی ہونازیادہ مال میں نہیں ہے اور بیشک دولت مندی نفس کی بے نیازی میں ہے۔''
____________________
۱۔اصول کافی.ج٣،ص٢١٩
۲۔اصول کافی ،ج٣ص٣٥٤
۳۔ بحار الانوار،ج ٧١،ص ١٨٥
۴۔ نہج البلا غہ (فیض الاسلام)حکمت ٣٣، ص ١١٠٣
۵۔بحار الانوار ج١٠٣،ص٣٠
انتا لیسواں درس:
خدا کی نظر میں قدرو منزلت کا معیار
* ۔ایمان وعمل صالح اور انسان کی بلندی کا معیار۔
* ۔اسلام کی نظر میں مفید اورقابل قدرمشغلے۔
* ۔ثقافتی اور مذہبی پرو گراموں میں اخلاص کی اہمیت۔
* ۔نیت اور اندرونی رجحانات کی اہمیت۔
* ۔محر ک اور نیت کوصحیح وسالم بنانے کا راستہ۔
خدا کی نظرمیں قدرو منزلت کا معیار
''یااباذر!ان الله عز وجل یقول:انی لست کلا م الحکیم اتقبل ولکن همه وهوا ه،فا ن کان همه وهواه فیما احب وارضی جعلت صمته حمد الی وذکراو]وقارا[ وان لم یتکلمیااباذر!ان الله تبارک وتعالی لا ینظرالی صورکم ولا الی اموالکم و اقوالکم ولکن ینظر الی قلو بکم واعما لکمیا اباذر! التقوی هیهنا ،التقوی هیهنا واشار الی صدره''
چنا نچہ ملاحظہ فرمایا کہ گزشتہ بحثوںکا محورتقوی تھا ۔ان بحثوںمیں تقوی کی اہمیت اور انسان کی زندگی میں اس کے آثارکے بارے میں بحث کی گئی ہے اسکے علاوہ تقوی کے اخروی ثمرات کے بارے میں بھی ذکر کیا گیا ہے ،چونکہ ممکن ہے بعض افراد تقوی کے بارے میں غلط تصور رکھتے ہوں اور حقیقی تقوی اورظاہر و تصوراتی تقوی کے درمیا ن فرق نہ کرسکیں ، اس لئے اس بحث میں اعمال و رفتا ر کی قدر و قیمت کے معیارپر بحث کی جائے گی ۔
بہت سے لوگوں کی عادت ہے کہ وہ افراد کے متعلق ظاہری بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں ۔ اگر کوئی زیادہ عبادت کر تا ہے ،ذکر خدا بجالاتا ہے ،قرآن پڑھتا ہے اور نماز کو اول وقت انجام دیتاہے،تو اسے باتقوی جانتے ہیں ۔یااگرکوئی طہارت کے بعض مسائل کی زیاد ہ رعایت کر تا ہے اسے ایک باتقوی شخص کی حیثیت سے پہنچا نتے ہیں یہ سرسری نتیجہ نکا لنا صحیح نہیں ہے۔قدر وقیمت کے معیا ر کو پہنچاننے کے لئے علمائے اخلاق نے کام کے اچھے یا برے ہونے اور انسان کی قدر وقیمت کے معیا رکے بارے میں نظری اور بنیادی بحث کی ہے۔ ہم یہاں پر اس کی طرف اشارہ کریں گے:
ایمان وعمل صالح اور انسان کی بلندی کا معیار
قرآن مجید کی نظر میں انسان کی قدرو قیمت ایمان اور عمل صالح ہے ، شاید قرآن مجید کے ایسے کم صفحات ملیں گے جن میں ان دو مسئلوں کاذکر نہ آیا ہو:
( و اما من امن وعمل صالحافله جزاء الحسنی وسنقول له من امرنا یسرا ) (کہف ٨٨)
''اور جس نے ایمان اور عمل صالح اختیار کیاہے اس کے لئے بہترین جزا ہے اورمیں بھی اس کے امور کو اسی پر آسان کردوںگا۔''
دوسری جگہ فرماتا ہے :
( الا من تاب وٰامن وعمل صالحا فاولئک یدخلون الجنة ولا یظلمون شیئا ) (مریم ٦٠)
''علاوہ ان کے جنہوں نے توبہ کرلی ایمان لے آئے اور عمل صالح انجام دیاوہ جنت میں داخل ہوگے اور ان پر کسی طرح کاظلم نہیں کیا جائیگا۔''
انسان دو مد مقابل اوصاف اور مقام کا مالک ہے :ان میں سے ایک صاحبان تقوی اور صاحبان فضیلت ، یعنی انبیائ، صالحین، اولیائ، صدیقین اور شہداسے مربوط ہے ۔اسی لئے حضرت آدم مسجود ملائکہ قرار پائے اور اسی وجہ سے انسان ایک ایسے مقام پرپہنچا تا ہے،جہاں پراس کے وصف میں کہا گیا ہے:
( فی مقعد صد ق عندملیک مقتدر ) (القمر٩٥٥)
''اس پاکیزہ مقام پرجو صاحب اقتدار بادشاہ کی بارگاہ میں ہے۔''
اس نقطۂ اور پہلو کے مدمقابل،زوال،پستی اور خداسے دوری ہے جب کوئی انسان خدا کی بندگی و عبادت اور انفرادی واجتماعی فرائص کو انجام دینے،خلاصہ یہ کہ انسانیت کے اصول سے جب انسان پہلو تہی اختیار کرلیتا ہے اور زوال کی راہ پر قدم رکھتا ہے توایک ایسی جگہ پر پہنچ جاتا ہے ،جہاں پر وہ حیوانوں سے بھی بدتر ہو جاتاہے:
( ان هم الاکا لانعام بل هم اضل ) (فرقان٤٤)
''یہ سب جانوروں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی کچھ زیادہ ہی گمراہ ہیں''
انسان کے ملکوتی والٰہی پہلوؤں کے لحاظ سے قدر ومنزلت کے بعد اس کا وجود ہے جواس کے دل کا سرچشمہ ہے اور وہاں سے دوسرے اعضاو جوارح پر جاری ہو تا ہے ۔خدا کی یاد میں زبان کا ایک کردار ہے، آنکھ کا قرآن مجید کی تلاوت میں ،کانوںکا حق بات کے سننے میں اور ہاتھ اور پائوں کا خدا کی راہ میں گامزن ہونے کے لئے ایک اہم رول ہے ۔پس اگر ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن مجید میں خدا کے ذکر کی اس قدرتعریف کی گئی ہے ،یااگرانسان کے لئے واجب قرار پایا ہے کہ روزانہ پانچ وقت نماز پڑھے ،وہ اس جہت سے ہے کہ انسان کی زندگی کی ذ کر خدا کے بغیر کوئی قیمت نہیں ہے اور صرف اسی راہ سے قرب الہی تک پہنچ سکتا ہے۔
اسلام اور تمام الہی ادیان انسان کیلئے دو متضاد اقدار ،مثبت ومنفی کے بے حد قائل ہیں ۔ یہ ایک ایسی چیز ہے جوانسان کے معمولی معیا روں سے قابل درک نہیں ہیں اور صرف الٰہی معیاروں سے قابل تو جیہ ہیں ۔اس کے علاوہ اسلام نہ صرف انسان کی مجموعی عمر کے لئے اس قسم کی قدر وقیمت کا قائل ہے بلکہ اس کی عمرکے گھنٹوں کے لئے بھی اس قدر واہمیت کا قائل ہے ،یعنی اسلام کہتا ہے : انسان ایک گھنٹے کے اندراپنے وجودی قدر ومنزلت کو لامتناہی منزلتک پہنچاسکتا ہے،وہ ہمیشہ کے لئے اپنے آپ کو خوش قسمت بنا سکتا ہے اور ابدی و بے نہایت سعادت تک پہنچ سکتا ہے اور ایک گھنٹے کے اندرشقاوت اور بے نہایت بدقسمتی کو بھی اپنے لئے فراہم کرسکتاہے۔پس اسلام کی نظرمیں قدر ومنزلت کا معیار انسان کی صلا حیت،اور خود کی شا ئستگی اوراسکی صالح نیت ہے اورحتی اسلام کی نظر میں ایک شخص کا معاشرے کے لئے مفید ہونا قدرومنزلت کامعیار نہیں ہے ،اگر چہ معاشرہ فرد کے لئے جس اہمیت کا قائل ہے وہ اس فرد کا معاشرے کے لئے مفید ہونے کے اعتبار سے ہے ،اسلام نہ صرف ایسے فرد کے لئے قدر وقیمت کا قائل نہیں ہے بلکہ اس کے لئے منفی تصور رکھتا ہے،چونکہ وہ شخص اندر سے فاسد ہے اور اپنے دلفریب وپسندیدہ ظاہر کے پیچھے ایک گری ہوئی اور پست وآلودہ ذہنیت رکھتا ہے۔
اس بنا پر ممکن ہے ایک فرد معاشرے کے لئے زیادہ فائدہ مند ہو،لیکن خود بدبخت اس عالِم دین کے مانندجولوگوںکودینی معارف سکھا تا ہے اور لوگ اس سے استفادہ کرتے ہیں اور سعادت حاصل کرتے ہیں،لیکن وہ خودبدبخت ہے چونکہ وہ اپنے علم پرعمل نہیں کر تاہے ،اس لئے جہنم میں جائے گا۔یا اس دولت مند کے مانندجو اپنامال معاشرے پر خرچ کر تاہے اور عوام کی بہبودی کے خدمت انجا م دیتا ہے ،لیکن اس کا مقصدشہرت حاصل کر نا اور لوگوں کے درمیان سر بلند ہوناہے اس لئے یقینااس کا کام اسلام کی نظر میں کوئی قدرو قیمت نہیںرکھتا ہے ۔جو چیز انسان کے وجوداور اس کے اعمال کو قدرو قیمت بخشتی ہے،وہ اس کا ابدیت اور عالم بے نہایت سے رابطہ ہے یہ رابطہ ایک قلبی رابطہ ہے اور نیت و خداسے دل کی تو جہ کے ذریعہ حاصل ہو تا ہے۔
پس اگر خدا کے لئے کوئی کام انجام دیا جاتا ہے،اس کی قیمت بے نہایت ہے،خواہ ظاہر میں وہ کام چھوٹا ہو یا بڑا۔ فطری بات ہے کہ جس قدر خدا کے بارے میں انسان کی معرفت ز یادہ ہوگی اور کام کو اخلاص کے ساتھ انجام دیا جائیگا اسی اعتبار سے ،اس کی قدر وقیمت زیادہ ہو گی ،اس کے برعکس جس قدر اس کاخلوص کم تر ہوگااوراس کی توجہ لوگوں کی طرف اور ان کا دل جیتنے کے لئے اور شہرت وجاہ طلبی پر مر کوز ہو،کی اس کی اہمیت اور وقعت کم ہوتی جائیگی اگر چہ حجم کے لحاظ سے عظیم بھی ہو ،نتیجہ کے طور پر جو چیز انسان کی زندگی کو قدر واہمیت بخشتی ہے ،وہ حقیقت میں خدا کی طرف توجہ ہے ۔اگر انسان خدائے متعال کی یاد میں ہو تواس کے لئے کام انجام دے سکتا ہے،اس کے بغیر ممکن نہیں ہے وہ خدا کے لئے کام کرے اور نتیجہ کے طورپر اس کے کام کی کوئی قدر وقیمت نہیں ہو گی۔
اسلام کی نظر میں مفید اور قابل قدر مشغلے:
بہت سے لوگ یہ تصور کرتے ہیںکہ ہر وہ کام جو معاشرے کے لئے مفید ہے،اس کی معنوی قدر قیمت بھی زیادہ ہے اور اس کام کا انسان کی معنوی بلندی اور روحی کمالات پر بہت زیادہ اثر ہو۔وہ تصور کرتے ہیںکہ وہ کام خدا کے لئے یا خدا کی راہ میں ہے جو لوگوں کے لئے سود مند ہو اور اس لحاظ سے وہ زیادہ ترکام کے حجم کو اہمیت دیتے ہیں ۔کہتے ہیں کہ فلاںنے کس قدر اپنا سر مایہ خرچ کیا ہے اور ہسپتال یا مسجد کی تعمیر کرائی ہے ۔یہ تصور اور نظریہ بہت ہی سطحی ہے۔صحیح ہے کہ اچھے کام کے معیاروں میں سے ایک یہ ہے کہ کام معاشرہ اور لوگوں کے لئے مفید ہو،لیکن ایسا نہیں ہے کہ ہر اچھا کام جو حسن فعلی رکھتا ہے ،وہ انجام دینے والے کے لئے کمال کا سبب بنے ،بلکہ وہ کام کمال کا سبب بنتا ہے جو حسن فعلی کے علاوہ وہی عمل کی نیکی ہے حسن فاعلی بھی رکھتا ہو ۔یعنی فاعل کی نیت اور اس کے کام کرنے کا مقصد خدا اور اس کی مرضی کے لئے ہو۔اسلام کی نظر میں کام کا خدا کے لئے ہو نے اورخدا کی راہ میں ہو نے اور اسکی انسان کی بلندی وکمال میں اس کا موثر ہونا ،اس میں نہیں ہے کہ وہ کام صرف لوگوںکے لئے سود مند ہو۔بلکہ خدائی کام کا معیار یہ ہے کہ انسان اس کام کوخدا کی مرضی کے لئے انجام دے اورخدائی محرک اسے وہ کام انجام دینے پر مجبو ر کرے۔
خدا کی راہ میں ہونا ،یعنی کام ایک ایسی راہ اور جہت میں قرار پائے جس کی انتہا خدائے متعال ہو ،اور جب تک مقصد و ہدف خدائے متعال نہ ہو اسے خدائی راستہ نہیں کہا جاسکتا۔اگر مقصد لوگوں کی توجہ حاصل کرنا ہے ،تو راہ بھی لوگوں کی توجہ جلب کرنے کیلئے ہے۔اس وقت کام خداکے لئے اور اس کی راہ میں انجام پاتا ہے کہ فاعل کی توجہ اس کو انجام دیتے وقت خدا کی طرف ہواور یہ اس کے لئے ممکن ہے جو خدائے متعال کو پہچانتا ہواور اس کے تقرب کی قدر وقیمت کو سمجھتا ہو۔
اگر چہ کام کے نیک ہونے اور کام کے حسن کا ایک معیار، اسکا لوگوں کے لئے سودمند ہونا بھی ہے،اور جو بھی اپنے کام سے معاشرے کی زیادہ خدمت کرے گا،اس کاکام نیک ہے ۔
ہمیں قرآن مجیدکی آیتوںپرغور کرنے سے معلوم ہوتا ہے،کہبعض کام جو ہماری نظر میں اچھے ہیں،نہ صرف قرآن مجیدنے ان کی تمجید نہیں کی ہے ،بلکہ انھیں پست اور ناپسندکے طورپر بیان کیا ہے۔من جملہ ان میں سے دوسروں کوانفاق کرنا ہے کہ ہم اسے نیک اور اچھے کاموں میں شمار کرتے ہیں اور اگر کسی کو رفاہی اور امدادی امور انجام دیتے ہوئے دیکھتے ہیںتواس کی ستائش کرتے ہیں جبکہ بعض خالص نیت نہ رکھنے والے انفاق کرنے والوں کی قرآن مجید نے سرزنش کی ہے اور وہ قیا مت کے دن پشیمان ہوں گے اورکف افسوس ملیںگے کہ کیوں اپنے مال کولوگوں کی توجہ حاصل کرنے کے لئے ہم نے خرچ کیا ۔ممکن ہے دنیا میں لوگ انھیں ستائش کریں ،اس کی تصویر کو درودیوار پر نصب کریں یا حتی اس کا یاد گاری مجسمہ بھی بنائیں ،تاکہ سب لوگ اسے ایک خیر کے عنوان سے پہچان لیں۔ لیکن قر آن مجید ان کے بارے میں فرماتا ہے:
( یا ایها الذین آمنوا لا تبطلوا صد قا تکم با لمن والأذی کا لذی ینفق ما له رئاء الناس ) ۔۔. )(بقرہ ٢٦٤)
''ایمان والو !اپنے صدقات کومنت گزاری اور اذیت سے بر باد نہ کرو اس شخص کی طرح جو اپنے مال کو دنیا والوں کو دکھانے کے لئے صرف کرتا ہے۔''
اگر انفاق ، ریااور خودنمائی کی غرض سے ہو خدا اور معاد پر ایما ن کی بناء پر نہ ہو ،تو اس کی کوئی قدر وقیمت نہیں ہے ۔اس ریا کی مثال اس شخص کی جیسی ہے جو بیج کو زرخیز ز مین کے بجائے ایک ہموار پتھر پر رکھ کر اس کے اوپرتھوڑی سی مٹی ڈالتا ہے اورمنتظر رہتا ہے سبز ہوکر اس سے پھل حاصل ہوگا! وہ اس سے غا فل ہو تا ہے کہ ایک تیز ہوا یابارش سے وہ مٹی دُھلجائے گی !اس بنا پر اس قسم کاانفاق کرنے والوں کو،ان کے خرچ کئے گئے پیسوں اورمحنتوں کے عوض میں کچھ نہیں ملے گا، کیو نکہ ان کاعمل خدا اور آخرت پر ایمان کی بنیاد نہیں تھا۔
یہ لوگ خود نمائی ،دوسروں سے مقابلہ اور رقابت نیز اپنی نیک نامی اور شہرت کے لئے انفاق اور معاشرے میں خدمت کرتے ہیں کہ لوگ ان کی ستائش کریں ۔ اگر کوئی شخص کسی عہدے پر فائز ہے، لوگوں کانمائندہ ہے ، تو یہ اس لئے خدمت کرتا ہے کہ لوگ اسے دوسرے انتخاب میں ووٹ دے کر پھر سے انتخاب کریں یا اگر کوئی انتظامی منصب رکھتا ہے تو اس لئے خد مت کرتا ہے کہ اسے ترقی ملے ۔پس اس قسم کے افراد کے انفاق کی خدا کے نزدیک ذرہ برابر قدر وقیمت نہیں ہے اوراس کا اخروی سعادت پرکوئی اثرنہیں پڑتاہے ۔ اس بنا پر اچھے اورشائستہ کام کاملاک جو انسان کے لئے آخرت میں سعادت کا سبب بنے یہ ہے کہ وہ کام ایمان کے ساتھ ہمراہ ہو اور اس کاسر چشمہ ایمان ہو ۔ اس جہت سے خدائے متعال قرآن مجید میں ایمان کو عمل صالح کے ساتھ منسلک کرتے ہوئے فر ماتا ہے :
( وبشر الذین آمنوا وعملوا الصالحات انّ لهم جنات تجری من تحتها الانهار ) ۔۔۔) (بقرہ ٢٥)
''پیغمبر !آپ ایمان اورعمل صالح والوں کو بشارت دیں کہ ان کے لئے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔''
( والذین امنواوعملواالصالحات اولئک اصحاب الجنة هم فیها خا لدون ) (بقرہ٨٢)
''اور وہ لوگ جو ایمان لائے اورنیک عمل انجام دیا وہ اہل جنت ہیں اوروہیں ہمیشہ رہیں گے''
خدائے متعال دوسری جگہ فرماتا ہے:
( من عمل صالحا من ذکر او انثی وهو مومن فلنحیینه حیواة طیبة و لنجزینهم اجرهم باحسن ماکانوا یعملون ) ) (نحل٩٧)
''جو شخص بھی نیک عمل کرے گا وہ مردہو یاعورت بشرطیکہ صاحب ایمان ہو ہم اسے پاکیزہ حیات عطا کریں گے اور انھیں ان اعمال سے بہتر جزا دیں گے جووہ زندگی میں انجام دے رہے تھے۔ ''
اس بناپر ایمان وعمل کے درمیان رابطہ محفوظ ہونا چاہئے ،کیونکہ صرف وہ عمل خدا کی طرف پہونچنے والا ہو سکتا ہے ،جس کا سر چشمہ خداپر ایمان واعتقاد ہو۔
( الذی یوتی ماله یتز کی وما لاحد عنده من نعمة تجزی الا ابتغاء وجه ربه الا علی ) (لیل١٨.٢٠)
''جو اپنے مال کو (خدا کی راہ میں )دے کرپاکیزگی کا اہتمام کرتا ہے۔جبکہ اس کے پاس کسی کا کوئی احسان نہیںہے جس کی جزا دی جائے، سوائے یہ کہ وہ خدائے بزرگ کی مرضی کا طلبگار ہے''
وہ انفاق کرتاہے .زکوٰة دیتا ہے ،لیکن اس کاارادہ خود نمائی، لوگوں کی توجہ جلب کر نا، اور ان سے تشکر اور قدر دانی حاصل کرنا نہیں ہوتا ہے حتی اگر لوگ اسے برابھلا بھی کہتے ہیں ، وہ اپنے کام سے ہاتھ نہیں کھینچتا ہے چونکہ خدا نے فرمایا ہے کہ انفاق کرو لہذا وہ انفاق کرتا ہے:
( و یطعمون الطعام علی حبه مسکینا ویتیما واسیرا ) ) (انسان٨)
((یہ اس کی محبت میں مسکین،یتیم،اور اسیر کو کھانا کھلاتے ہیں))
مذکورہ آیت کے ضمن میں فرماتا ہے :
( انّما نطعمکم لو جه اللّٰه لا نرید منکم جزاء ولا شکو را ) (انسان٩)
(کہتے ہیں) ''ہم صرف اللہ کی مرضی کی خاطر تمھیں کھلاتے ہیںورنہ نہ تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ ''
پس اگر ہمارے عمل کا سر چشمہ ایمان ہو اور وہ کام خداکے لئے ہو ،تو صالح ہوتا ہے،لیکن اگرتقرب الہی کی نیت کے بغیر انجام دیاجائے اور غیر خدا کی نیت کے ساتھ ہو ، تو ایک بے روح اور مردہ جسم کے مانندہے ،جس کے ڈھانچے کو ہم نے بنایا ہے ،لیکن روح نہیں رکھتا ہے تاکہ تحول اور ترقی کا سبب بنے ، اور طبعی طور پر بے روح بدن کیطرح گلکر نابود ہوجاتاہے ۔پس جس عمل میں روح نہ ہو،نہ صرف وہ نمو نہیں کرتاہے،بلکہ خرابیاںبھی ایجاد کرتاہے ۔ اس لئے یہ طرز تفکر صحیح نہیںہے کہ جوبھی کام عام لوگوں کے مفادمیں ہو اور معاشرے کے لئے خدمت شمار ہو تا ہے اسے ہم اچھا جان لیں اور اس کے ساتھ اس کی نیت اور اس کے مقصد کو مدنظر نہ رکھیں۔
مذکورہ مطالب صرف عام لوگوں سے مخصوص نہیں ہیں ،بلکہ بعض تعلیم یافتہ بھی عمل کی شائستگی اور اچھا ئی اس میں جانتے ہیں کہ ظاہری عدالت کی بنیاد پر عام لوگوں کی خدمت اور منفعت کے لئے انجام دیا جائے ،جبکہ عمل کی خوبی اوراچھائی اور انسان کی سعادت کے لئے موثر ہونے کا معیار دوسری چیز ہے۔
ظاہرپرست اور سرسری نظررکھنے والا انسان کام کے حجم اوراس کے اجتماعی اثرات کو اپنے فیصلہ کامعیار قرار دیتا ہے ،لیکن یہ الہی معیا ر نہیں ہے اورخدائے متعال کام کے حجم پر نظرنہیںرکھتا ہے ۔وہ نہیں دیکھتا ہے کہ کس قدر پیسہ خرچ ہواہے ، کس قدر توانائی صرف ہوئی ہے،بلکہ وہ دیکھتا ہے یہکام کتنا خدا کے لئے انجام دیا گیا ہے اور اسی اعتبار سے وہ کام انسان کی سعادت کا باعث ہوگا۔لیکن عبادات میں قصد قربت کی شرط سے مراد یہ ہے کہ اگر ذرہ برابر بھی نیت میں غیر خدا شا مل ہو جائے یعنی اس عمل میں کسی کو خدا کاشریک قرار دے ،تو وہ عمل باطل ہو جاتا ہے۔تعبدی واجبات اور مستحبات اور وہ اعمال جن میں قصدقربت ضروری ہے ،وہ صرف خدا کے لئے انجام دیا جائے اور اگر انسان نے ایسے کسی کام میں خودنمائی کی ،اور لوگوںکی خوشنودی کے لئے آداب کی رعایت کی، نیزنماز کو آب وتاب کے ساتھ بجا لائے اور مقصدلوگوںکی توجہ جلب کر ناہو،تونہ صرف اس کا عمل باطل ہے بلکہ حرام ہے اور سزا کابھی مستحقہے ۔حتی عمل کا وہ حصہ جو خدا کے لئے انجام دیا گیا ہے، وہ بھی قبول نہیںہوتا ہے،کیونکہ خدائے متعال فرماتا ہے:
''انا خیرشریک من اشرک معی غیری فی عمله لم اقبله الا ما کان خالصا'' (۱)
''میں بہترین شریک ہوںجو شخص اپنے عمل میں میرے ساتھ کسی اور کو شریک قرار دے اس کے عمل کو میں قبول نہیں کرتا ہوں ،اس عمل کے سوا جو خالص ہو''
پس اگر کسی نے تعبدی عمل میں غیر خدا کو خدا کے ساتھ شریک قرار دیا ہے ،تو چونکہ یہ عمل خالص نہیں ہے
ضائع ہو جاتاہے ممکن ہے ایک عمر تلاش و کوشش کے بعدانسان کے دن سیاہ ہو جائیں اور بدبخت ہو جائے ، جیسے ایک عمر اس نے علم حاصل کرنے میں بسرکی اس خیال میں خداکے لئے علم حاصل کر تا تھا ،لیکن جب وہ اپنی نیت کو ٹٹو لتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کامقصدمقام اور عہدہ حاصل کر نا تھا یا اپنی اجتماعی حیثیت کو بنانا تھا، وہ اس لئے کوشش کرتا تھا کہ لوگ اسے نیک اور پارسا جان لیں اور لوگوں میں شہرت پائے یاکسی عہدے پر فائز ہو جائے۔
اگراس قسم کاشخص کہے : میں نے لوگوں کی خدمت کی ہے ،بہت سے فقیروں کوبھوک سے نجات دلائی ہے ، بہت سے بیماروں کے لئے علاج ومعالجہ کے وسائل فراہم کئے ہیں اور میں نے مدرسہ وہسپتال بنائے ہیں، توخدائے متعال اسے فرماتاہے :ان میں سے کوئی چیز تمھارے فائدے کی نہیںہے ،تمھارا اجرو ثواب وہی لوگوں کا تمہاری تعریفیں کرنا،تمھاری تصویر کودیواروں پرنصب ہونا ، جرائد واخباروں میں تمہاری شہرت کا اعلان ہونا اور وہ ستائش ہے جوتمھاری ایک خیراورنیک انسان کی حیثیت سے کی گئی ہے۔!
پس عمل کی شائستگی و پستی کا ملاک ومعیاراس کے دل سے مربوط ہے۔دیکھنا چاہئے کہ ان امور کوانجام دینے کا سرچشمہ کیا تھا،کیا سر چشمہ دنیا کی محبت ہے یا خدا کی محبت؟اگرکام خداکے لئے مخلصانہ انجام دیا ہے تو انسان کی بلندی اور کمال کاموجب ہے اگر ایسا نہیں ہے تونہ صرف انسان کی بلندی اور روحی کمال کا سبب نہیں ہے ،بلکہ ممکن ہے زوال اور اس کی تنزلی کا باعث ہو۔اگر وہ کام عبادات کے زمرے میں ہوگا تو ریا کے ذریعہ باطل بھی ہو جائیگا اوراگر امور تو صلی سے وابستہ تھا اور قصد قربت اس میں شرط نہ تھی تو وہ اپنی قدروقیمت کھو دیتا ہے، اورجوثواب قصد قربت کی وجہسے اس پر مرتب ہوتا ہے وہ نہیں ملتاہے۔پس ہر وہ کام جو لوگوں اور اسلا می یاغیر اسلامی معاشرے کے نفع سے مربوط ہے،وہ قدر وقیمت کا حامل نہیں ہے۔حتی کام کی قدرو قیمت صرف اس لئے نہیں ہے کہ دین اور دیندارو ں کے لئے فائدہ مند ہے بلکہ ،ممکن ہے انسان ایک کام انجام دے کہ جو دین کے لئے سودمندہو ،لیکن نہ صرف یہ کہ خود اس کے لئے کوئی فائدہ نہیں ہیبلکہ مضر بھی ہو ، کیونکہ اس کا یہ کام اخلاص کی بنا پر نہیں تھا ۔
تاریخ اسلام میں کتنے ایسے افراد گز رے ہیں جنہوں نے کچھ ایسے کام انجام دئے ہیں جو دین کے لئے مفید تھے اور کبھی دین کی تر ویج اور نشر کا سبب بھی بنے ہیں لیکن چونکہ وہ قصد قربت نہیں رکھتے تھے اس لئے وہ کام ان کے لئے سود مند نہیں تھے،ان کا قصد کشور کشائی ،شہرت حاصل کرنا اور لوگوں میں اپنے لئے محبوبیت پیدا کرناتھا کہ ان میں سے کوئی بھی کام انسان کے کمال وبلندی کاسبب نہیں بن سکتا ایک روایت میں آیا ہے:
''ان اللّٰه یؤید هذا الدین برجل فاجر'' (۲)
''خدائے متعال کبھی اپنے دین کوفاسد شخص کے توسط سے تائید کرا تاہے''
ممکن ہے پور ی تاریخ میں کچھ فاسق وفاجر حکام نے،اپنے شخصی اغرض اورشہوت طلبی کی بنا پراپنی مملکت کووسعت بخشنے کیلئے کشور کشائی کی ہو اور وہ اسطرح دین اسلام کی ترویج کا سبب بھی بنے ہوںاور اگرچہ ان کا یہ کام دین اسلام کے لئے مفید تھا ،لیکن خود ان کے لئے فائدہ مند نہیں تھا۔اس بناء پر اندرونی عوامل اور نیت کے نقش کو ملحوظ نظر رکھنا چاہئے اوردیکھنا چاہئے کہجو چیز امور کی اہمیت و منزلت کا باعث ہے وہ صرف خدائی عنصر اور الٰہی انگیزہ ہے،اورممکن ہے کوئی کام ظاہر میں حقیراورپست نظرآئے،لیکن چونکہ شائستہ اورخالص الٰہی انگیزہ کے تحت انجام دیا گیا ہے ،اسلئے وہ مقدس اور قیمتی ہے۔
ثقافتی اور مذہبی پروگراموں میں اخلاص کی اہمیت:
اس سلسلہ میں دین کے مبلغین اورمروجین کو توجہ کرنی چاہئے کہ تبلیغ اور دینی اورمذہبی پروگراموںکے انعقاد میں نیز ،مذہبی مراکز کی تاسیس اور ان امور کیطرف دوسروں کوتشویق کرنے میں ان کامحرک اور نیت خالص ہونی چاہئے۔یہ ممکن ہے کہ تبلیغات اوراپنے موعظوںسے دوسروں کی صحیح راستہ پر رہنمائی کریںاور انھیں دینی وثقافتی مسائل کی طرف جذب کریں اور مسجد تعمیر کرنے اور مذہبی مراکزتاسیس کر نے میں تلاش اورعزم وارادہ کا مظاہرہ کریں اس طرح ثقافتی مسائل کی ترویج کے لئے ،اور معاشرے کے ثقافتی پہلوئوں کو مقدار و کیفیت کے اعتبار سے فروغ دینے کے لئے ماحول ساز گار بنائیں ۔لیکن انھیں یہ تصور نہیں کرنا چاہئے کہ ان کی یہ سر گر میاں ہمیشہ خودان کے لئے سود مند ثابت ہو ں گی اور قطعاان سے اخروی اعتبار سے فائدہ اٹھائیںگے ۔وہ سر گرمیاں اس وقت ہمارے لئے مفید ہیں اور ہمارے لئے کمال وبلندی کا سبب ہیجب ہمارا مقصد خدائے متعال ہو۔ہماری فعالیت اور کوشش صرف تر ویج دین کے لئے ہو اور ان سے ہمارے ذاتی اغراض وابستہ نہ ہوں تو اس صورت میں ہمیں ایک عظیم سعادت ملے گی ،لیکن اگر ہمارے ذاتی اورمادی اغراض، ہماری فعالیت اورکوشش کاسبب بنے ہوں،تو ہمیں اپنے کام کے بارے میں خدائے متعال سے کوئی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔پس ہمیں اس نکتہ سے غافل نہیں ہو نا چاہئے اورخیال نہیں کرنا چاہئے کہ جب کسی کام کا بہت اچھا نتیجہ نکلے ، تو ہمارے لئے بھی مفید ہے اور ہم مغرور ہو جائیں ،بلکہ ہمیں اپنی نیت کوٹٹو لنا چاہئے ،اس صورت میں نہ صرف ہم مغرورنہ ہو ںگے بلکہ ممکن ہے شرمندہ بھی ہو جائیں ۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مطلب کے بارے میں فرماتے ہیں:
''یا اباذر!ان اللّٰه عز وجل یقول: انی لست کلا م الحکیم اتقبل ولکن همه وهواه ،فان کان همه وهواه فیما احب وارضی جعلت صمته حمدا لی وذکرا ووقاراوان لم یتکلم''
''اے ابوذر!خدائے عزوجل فرماتا ہے:میں دانشمند حکیم کی اس بات کو قبول نہیں کرتا ہوں جووہ زبان پرجاری کرتا ہے ،بلکہ اس کو قبول کرتا ہوں جواس کے دل میں ہے اور وہ اس کا ہدف مقصد ہے۔ اگر اس کا ارادہ وقصدوہ ہو جسے میں چاہتا ہوں اورجس پر راضی ہوں ،تواس کی خاموشی کو بھی اپنے ذکروحمدوثناکے طور پر قبول کرتا ہوں ،اگر چہ اسنے بات نہ کی ہو۔''
جولوگ حکمت آمیز باتوں کو سیکھ کرلوگوں کو بتاتے ہیں ،ان کی لوگوں کی طرف سے ستائش وتمجید کی جاتی ہے اور لوگ انھیں حسن ظن سے دیکھتے ہیں اور ان کے لئے شائستہ مقام کے قائل ہو جاتے ہیں البتہ انسان کافریضہ یہ ہے کہ دوسروں کے بارے میں حسن ظن رکھے ،لیکن بولنے والے کواپنے بارے میں دیکھنا چاہئے کہ اس کے کام پر کس قدر اطمینان کیا جا سکتا ہے ۔کیا جس وقت اچھی اور نصیحت آموز باتیں کر تا ہے ،تو خدا اسے قبول کرتا ہے اور اسکا تقرب حاصل کرتاہے یا نہیں ؟خدائے متعال نے خوداس سوال کا جواب دیا ہے کہ مجھے حکیمانہ باتوں سے کوئی کام نہیں ہے بلکہ میں اس مقصد و نیت کو دیکھتا ہوں جو اس بات کے پس پردہ پوشیدہ ہے ۔میں افراد کے میلا نات اوررحجا نات کو دیکھتا ہوں۔ میں یہ دیکھتا ہوں کہ بات کرتے وقت اس کا دل لوگوں کی طرف متوجہ ہے تا کہ لوگ اس کے بیان کی ستائش کریں اوراس سے خوش ہوں ،یا یہ کہ وہ صرف اپنے فریضہ کودیکھتا ہے اور اس فکر میں ہے کہ اپنے فریضہ پرعمل کرے اوراس کو اس سے کوئی سرو کار نہیں کہ لوگ اس کی باتوں سے خوش ہوں یا خوش نہ ہوں، حتی اگر اس کی باتیں انھیں بری بھی لگتی ہیں جب بھی وہ اپنے فریضہ کو انجا م دینے میں کوتاہی نہیں کرتا ۔
پس جب اسکے میلانات اوررحجانات میری مرضی کے مطابق ہوں ،تو میں اسکی خاموشی پر بھی اس کو ذکر اورحمدوثنا کا ثواب بخشتا ہوں ،کیونکہ اس کادل میری طرف متوجہ ہے اوروہ ایسا کام انجام دیناچاہتاہے جو میری مرضی کے مطابق ہے ۔وہ جب میری مرضی کوخاموشی میں دیکھتا ہے تو خاموشی اختیار کرتا ہے،اس لحاظ سے اسکی خاموشی عبادت ہے،اورممکن ہے اس کی یہ خاموشی دوسروں کی عبادتوں سے زیادہ ثواب رکھتی ہو اور اسکی روحی اورمعنوی تکامل ترقی میں زیادہ مؤثر ہو جس کی باتیں اور جس کے کام لوگوں کے لئے ہوںاور اس کادل لوگوں کیطرف متو جہ ہو،وہ کوئی فضیلت وثواب حاصل نہیں کرتاہے۔ اس کاثواب وہی لوگوں کی تعریف وتمجید ہے ،کیو نکہ اس نے خداکے لئے کام ہی نہیں کیا ہے کہ وہ اسیجزا دے ۔
مذکورہ مطالب اور عمل کی ہویت وماہیت میں اندورونی محرکات ومیلا نات کے اثرات کی شناخت کے پیش نظر اگر ہم نے مشا ہدہ کیاکہ کوئی شخص اپنے فریضہ کو تشخیص دینے کے بعد بات کرتا ہے،اگر چہ لوگ اسے پسند بھی نہ کریں ،توہمیں جاننا چاہئے کہ اس کا مقصدو ہدف الہی تھا ،اس لحاظ سے اس کاعمل اور بیان بلند قدروقیمت کا حاملہے ۔لیکن اگر بات کرنے میں لوگوں کو مد نظررکھے اور یہ بھی جانتاہو کہ اس بات کے کہنے پرخدائے متعال بھی راضی ہے، لیکن چونکہ اجتماعی شرائط کے تحت حالات کے نا مساعد ہونے کی وجہ سے بات نہیں کر تاہے ،اورڈرتاہے کہ لوگ اس کی بات سے ناراض ہو جائیں ،تواس کا انگیزہ و ہدف خدائی نہیں ہے اوراس کادل لوگوں کی مرضی کا پابند ہے ،اس جہت سے اگر دوسرے مواقع اور فرصتوں میں بھی بات کرے، تواس کی باتوں کا کوئی فائدہ اور کوئیقدروقیمت نہیں ہے ،کیونکہ اسکی توجہ لوگوں کی طرف ہے۔
نیت اور اندورونی رجحانات کی اہمیت:
''یا اباذر!ان اللّٰه تبارک وتعالی لا ینظر الی صورکم ولا الی اموالکم و اقوالکم ولکن ینظر الی قلوبکم واعما لکم''
''اے ابوذر!خداوند تبارک وتعا لی تمہاری چیزوں یا تمہارے مال ودولت (اور باتوں)کو نہیں دیکھتا ہے ،بلکہ وہ تمہارے دلوں اور اعمال کی طرف دیکھتاہے۔''
(اصطلاح''صورکم''کے بعداصطلاح ''اقوالکم'' کااستعمال مناسب ترو صحیح تر لگتا ہے البتہ اصطلاح ''اموالکم'' کا استعمال بھی ممکن ہے صحیح ہو۔)
خدائے متعال افراد کے ظاہر پر نگاہ نہیں کرتا ہے کہ وہ کیا کہتے ہیں اور کیادعوی کرتے ہیں ۔ یعنی کس کی پیشانی پر سجدہ کے نشان نمایاں ہے یا کس نے کون سالباس پہنا ہے،اس پرنظر نہیں کر تا ہے بلکہ افرادکے دلوں پر نظر ڈالتا ہے اور ان کے اعمال کو دیکھتاہے کہ کس قدر وہ اپنے دعوے میں سچاہے ۔ وہ دیکھتاہے کہ جو کچھ اس کے دل میں ہے کیا وہ اسکے ظاہر سے بہتر ہے،یاخدانخواستہ اس کا باطن پلید اور آلودہ ہے اورظاہرخوشنما!کہ اس صورت میں نہ صرف خدائے متعال اسے کوئی ثواب نہیں دیتاہے بلکہ اسے منافقین کے زمرے میں قرار دیتاہے ۔
حدیث کا یہ حصہ دل ہلا دینے والا اور متنبہکر نے والا ہے اوراگران انتباہات پر سنجیدہ گی سے غور کیا جائے تو اس صورت میں اپنے بارے میں بہت سے فیصلے کو تبدیل کرنا پڑے گا ۔(البتہ دوسروں کے بارے میں ہمیں حسن ظن رکھنا چاہئے ) اگر انسان اپنی نیتوں کوٹٹو لے ،تواسے معلوم ہوگاکہ اس میں بہت سی خامیاں ہیں اور وہ خدا کے لئے خالص نہیں ہے،کم از کم اسکی نیتوں کا ایک حصہ غیرالٰہی ہے اور وہ کسی دوسرے انسان کوخدائے متعال کا شریک قرار دیتا ہے اورخدائے متعال نے خود فرما یا ہے کہ اگر کسی نے کسی دوسرے کومیراشریک قرار دیا،تو اپنے حصہ کوشریک پر ہی چھوڑتا ہوں۔( یعنی اسے چاہئے کہ اس کی جزا شریک سے دریافت کرے)
ہمیں دیکھنا چاہئے کہ جو ہم بات کرتے ہیں جوکام انجام دیتے ہیں ،سبق پڑھتے ہیں ،موعظہ کرتے ہیں یاجونماز ہم باجماعت پڑھتے ہیں انمیں ہماری نیت اورغرض کیاہے .کیا ہم اس لئے نماز جماعت کے لئے جاتے ہیں کہ خدااسے پسند کرتاہے ،یااس کے علاوہ دوسرے اغراض و مقاصدہیں؟اگر ہمارے عبادی کام خالص نہ ہوں اور ان میں غیر الہی اغراض شامل ہوں تو ہمارے دیگرتمام کاموں میں بھی نیت خا لص نہیں ہوگی۔اس کے علاوہ اگر ہمارے عبادی اعمال وفرائض خالص نہ ہوںتو وہ اصلا باطل ہیں ۔ممکن ہے لوگوں کی ہدایت کرنے والوںکی عبادتوں میں ر یا ، ظاہرداری ،اور نفسانی اغراض کی دخالت جیسی آفتیں ، دوسروں سے زیادہ پائی جاتی ہوں ۔ایک مزدوراور کسب معاش کرنے والاجو روز مرہ کے کام اور تکان کے بعد،سورج ڈوبتے ہی ایک مختصرنماز پڑھتاہے ،وہ ریا نہیں کرتاہے۔لیکن جو امامت جماعت کی ذمہ داری انجام دیتاہے اور لوگوں کو موعظہ، علوم دینی کی تعلیم اوردوسروں کی ہدایت میں وقت صرف کرتا ہے ،اس کے لئے ریا کا مسئلہ اورغیرالٰہی عناصر و مقاصدمیں آلودہ ہونا واقعی طور پر حساس ہے اس لئے کہ ریا میں آلودہ ہونے کی صورت میں ممکن ہے انسا ن دنیوی ضرر سے بھی دوچارہو گا اور آخروی نقصان سے بھی اٹھانا پڑے گا۔
اس کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بیان کہ ظاہری رفتارواعمال اورتقوی کادعوی کرناتقوی کی دلالت نہیں ہے اورتقوی ایک ایسی خصوصیت ہے کہ جو افراد کے باطن اور اس کے دل کے اندر پایا جاتا ہے اور یہ عمل کی بلندی اورنیت ومقصدکے خالص ہونے کا معیار ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے سینہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
''یا اباذر!التقوی هیٰهنا،التقوی هیٰهنا''
''اے ابوذر !تقوی یہاں ہے ،تقوی یہاں ہے''
جوبھی ظاہر میں ،شائستہ اعمال انجام دیتاہے ،نمازیں زیادہ پڑھتاہے اہل ذکراور لوگوں کی خدمت کرنے والا ہے تو یہ سارے امور اس بات کی دلیل نہیں ہیں کہ وہ شخص باتقوی ہے،بلکہ اس کی نیت اور اس کے اندر کے عوامل کو دیکھنا چاہئے اگر خالص خدا کے لئے تھے تو وہ شخص متقی ہے ورنہ ظاہرا تقوی نمائی کرتاہے ۔
ہم نے اس سے پہلے کہا کہ کبھی محر مات سے پرہیز ،تکالیف اور واجبات پر عمل کرنا تقوی ہے اور کبھی اس ملکہ نفسانی کوتقوی کہتے ہیںجو شائستہ وصالح اعمال کا سرچشمہ ہو،اس تصور کے پیش نظر،ہمارے اعمال،ہماری عبادتیں اور دیگر نیکیاں اس وقت تقوی کا مصداق بنیں گی کہ جب ان کا منشا وبنیاد خداکی محبت ہو اور ان کا محرک رضای الہی ہو۔پس ہمیں عمل کی بنیادپرسنجیدگی سے غور کرنا چاہئے ،کیونکہ کوئی بھی کام کسی محرک اورنفسانی انگیزہ کے بغیرانجام نہیں دیا جاتا۔انسان کے اختیاری اعمال اس کے اندرونی ارادے اورنیت کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں اور وہ انگیزہ انسان کے اندر کام کوانجام دینے کاشوق پیدا کرتا ہے اور حقیقت میں وہ رفتار وگفتارہماری نیت وارادہ کامظہر ہے ۔البتہ ممکن ہے انسان کسی کام کو انجام دینے کی نیت رکھتا ہواوراپنے آپ کواس کام کوانجام دینے کیلئے آمادہ کرے ،لیکن اس کام کے خارجی عوامل ایک دفعہ نابو دہو جائیں اور وہ اس کام کوانجام دینے سے قاصر ہو جائے۔اس صورت میں کام کا معنوی اثر اس کے دل میں باقی رہتاہے،اگر چہ خارج میں اسکا کوئی اثر رونما نہیں ہوا ہے۔وہ اثرمعنوی اسکے داخلی میلان اورنیت پر منحصر ہے کہ جس کو روایت میں لفظ (ھم)سے تعبیر کیاگیا ہے۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم فرماتے ہیں:دیکھ لو کہ تمھارے کام کا محرک کہاں سے وابستہ ہے تمھارے داخلی رجحانات کس سمت میں گامزن ہیں۔کیاخدا اوراس کی مرضی پر تمہاری نظر ہے ، یالوگوںاور اپنے دنیوی منافع پر ؟اگر تم نے کام کوغیر الٰہی محرک کے ایماء پر انجام دیا ہے، خواہ وہ کام نیک اور پسندیدہ ہو،لیکن اس میں معنوی اور الہی اثر پیدا نہیں ہوسکتا ،حتی اگر وہ کام دین کی ترویج اور اشاعت کا سبب بھی بنے جب بھی انسان کی سعادت کا سبب نہیں بن سکتا ، کیو نکہ الٰہی نیت اس میں نہیں ہے جو خداکاتقرب حاصل کرنے کاسبب ہو۔خدائے متعال ، عمل کے باطن اوراسکے انجام دئے جانے والے منشا پر نظر رکھتا ہے۔اب اگر وہ منشا و محرک الٰہی تھا تواس عمل کو قبول کرتا ہے ورنہ عمل کو مسترد کردیتا ہے اورعمل کی ظاہر ی صورت سے کوئی سرو کار نہیں رکھتا ہے:
( لن ینال الله لحومها ولادماوها ولکن یناله التقوی منکم ) (حج٣٧)
''خدا تک ان جانوروںکانہ گوشت جانے والا ہے نہ خون ۔اس کی بارگاہ میں صرف تمہارا تقوی جاتاہے۔''
محرک اورنیت کو صحیح وسالم بنانے کاراستہ:
پس صور ت عمل کا خدا سے کوئی ربط نہیں ہے ،بلکہ صورت عمل کالوگوںاورطبیعت سے رابطہ ہے جوچیز عمل کوخدا سے مربوط بناتی ہے وہ انسان کادل اور اسکی نیت ہے۔پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے فرمودات کے پیش نظر ہمیں دیکھنا چاہئے کہ کونسامحرک ہمیں وہ کام انجام دینے کا سبب بنا ہے اگر ہمارے محرکات خالص نہ تھے،ہمیں انھیں خالص کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔البتہ نیتوںاور محرکات کوخالص کرنا ایک مشکل کام ہے اور اسکے لئے مقدمات و مواقع فراہم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اس راہ میں سب سے پہلے ہمیں خدا سے مدد مانگنی چاہئے اورغیر الہی تمایلات کے شائبوں سے اپنے نفس کو پاک کرنے کے لئے عزم وارادہ کی ضرورت ہے ریاضت ،مشق اور خود سازی سے ہمیں یہ مرحلہ حاصل ہو سکتا ہے۔
ممکن ہے جب انسان دیکھے کہ اس کی نیت خالص نہیں ہے اور اس میں غیر الٰہی عنصر شامل ہے تو وہ اپنی نیت کو خالص کرنے کے لئے کوشش کرنے کے بجائے کام کوہی ترک کردے ۔یہ بھی شیطان کاپھندا ہے کہ جو انسان کونیک کام انجام دینے سے روکتا ہے۔مثلا جب عشرئہ محرم آتاہے ،فیصلہ کرتاہے تبلیغ کے لئے جائے ،لیکن جب اپنے انگیزہ اورنیت پرغورو خو ض کرتاہے تواسے ناخالص پاتاہے اورتبلیغ پرجانے سے ہی منصرف ہوجاتا ہے اوراپنے آپ سے کہتا ہے:چونکہ میری نیت خالص نہیں ہے۔اس لئے تبلیغ پر نہیں جائوں گا ۔یہ کام بالکل وہی ہے جو شیطان چاہتاہے۔کیونکہ انسان کا فرض یہ ہے کہ تبلیغ پر جائے اور لوگوں کو ہدایت کرے ،اگر ہم نے شیطان کے وسوسہ کی وجہ سے تبلیغ پر جانا چھوڑ دیا،تو شیطان کوایک مناسب فرصت مل گئی کہ جس میں وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرے۔اس بناپر اگر ہم نے دیکھا کہ ہماری نیت خالص نہیں ہے ،تو ہمیں فریضہ اور تکلیف کوترک نہیں کرنا چاہئے بلکہ ہمیں اپنی نیت کو خالص کرنیکی کوشش کرنی چاہئے۔اگرہماری تبلیغی سر گرمیوں کے عوض ہمیں کچھ پیسہ دیئے گئے تو یا ہم اسے نہ لیں یا اس میں سے تھوڑا بہت قبول کرلیں یااسے ضروری امور میں صرف کرنے کا فیصلہ کریں کہ اگر ہم نے کسی کواپنے سے محتاج ترپایا،تواس کی مدد کردیں گے۔اس قسم کے کام نفسانی خواہشات اورغیر الہی محرکات میں کمی واقع ہونے اور عمل کے خالص تر انجام پانے کاسبب بنتے ہیں۔
میرے ایک دوست نے نقل کیا ہے کہ وہ طالب علمی کے دوران اطراف تہران کے ایک شہر میں تبلیغ کے لئے گیا۔وہاں ایک محترم عالم دین تھے کہ لوگ جنھیں اچھی طرح پہچانتے تھے اور وہ لوگوں میں کافی اثر رسوخ رکھتے تھے۔مجھے اس شہر کے ا طراف میں واقع ایک گائوں میں بھیج دیا گیا۔چونکہ میں تبلیغی کام میں تجربہ نہیں رکھتا تھااورپہلی مرتبہ تبلیغ پر گیا تھا،اس لئے عشرہ کے دوران میری مجلسوں کولوگوں نے پسند نہیں کیا او ر کوئی خاص آئو بھگت بھی نہیں کی،آخر میں ایک مختصرنذرانہمجھے دیا گیا۔تبلیغ کے اختتام پرمیں اور دوسرے مبلغین اس عالم دین سے رخصت ہونے کے لئے ان کے پاس گئے۔اس عالم دین نے انتہائی فروتنی اور تواضع سے ہماری مہمان نوازی کی ،گفتگو ختم ہونے پر مذاق میں ہم سے کہا:دوستو!آؤ ہم اپنی آنکھوں کوبند کر کے جو کچھ اس عشرہ میں بطور زندہ ہمیں ملاہے اسے ایک جگہ جمع کریں اور اس کے بعداسے آپس میں مساوی صورت میں تقسیم کریں !معلوم تھا کہ وہ عالم دین ایک مشہور و معروف شخصیتتھے اور ان کی مجلسیں بھی موثر تھیں اور پیسے بھی انھیں کافی ملے تھے ۔وہ چونکہ جانتے تھے کہ ہمیں کوئی خاص پیسے نہیں ملے ہیں ،اور وہ اس طرح ہماری مددنہیں کرناچاہتے تھے کہ جس سے ہماری شخصیت مجروح ہو ، اس لئے مذاق میں ہم سے اس قسم کا تقاضا کیا۔ہم بھی تہہ دل سے خوش ہوئے،چونکہ انہوں نے مذاق میں ہم سے وہ درخواست کی تھی اس لئے ہمیں برا بھی نہیںلگا ۔ خلاصہ یہ کہ ہم نے اپنی آنکھیں بند کر کے پیسوں کو ایک جگہ جمع کیا ،جب پیسے افراد کے درمیان تقسیم ہوئے تو ہم نے دیکھا کہ ہم میں سے ہر ایک کو اپنی رقم کے کئی گنا پیسے ملے تھے !جی ہاں ،ایسے افراد گزرے ہیں اور موجود بھی ہیں جن میں مادی محر کات ضعیف ہیں یااس قسم کے کام سے ان محرکات کو ضعیف کرنا چاہتے ہیں۔
آخر کار انسان اپنی زندگی میں مشکلات اور ضرورتوں کا سامنا کرتا ہے ،خاص کر گرانی اورمہنگائی ،مادی رحجانات کو ہوا دیتے ہیں ،اب ان محر کات اور رحجانات میں قدرے کمی واقع ہونے کے لئے مناسب ہے کہ ہم نذر کریں اور ارادہ کریں کہ جو کچھ ہمیں بطور نذرانہ ملے گا اس میں ایک حصہ اہم ایسے لوگوں کے حوالہ کریں گے جو ہم سے زیادہ محتاج ہیں، کیونکہ جس طرح ہم سے زیادہ مالدار بہت ہیں اسی طرح ہم سے زیادہ فقیر بھی بہت ہیں جو ہم سے زیادہ محتاج ہیں۔ہمیں کوشش کر نی چاہئے کہ جو کچھ ہمیں ملے اس میں سے کچھ حصہ اپنے سے محتاج ترلوگوں کو پہنچادیں ۔ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ جو چیز اپنے لئے پسند کرتے ہیں وہی دوسروں کے لئے بھی پسند کریں،اس طرح دنیا سے ہماری وابستگی بھی کم ہوگی اور نیکی کاروں کی صفت بھی ہم میں پیدا ہوگی۔
( لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون ) ۔۔۔)(آل عمران٩٢)
''تم نیکی کی منزل تک ہر گز نہیں پہنچ سکتے جب تک اپنی محبوب چیزوں میں سے راہ خدا میں انفاق نہ کرو۔''
جب انفاق کر نا چاہتے ہو تو نئے نوٹ دینے کی کوشش کرو نہ فرسودہ اور پھٹے پرانے نوٹ،کہ یہ امر بھی تمہارے معنوی درجات میں اضافہ کرتاہے اور تمہاری دنیاسے وابستگی کوبھی کم کرتا ہے اور سبب بنتا ہے کہ تمہارے اعمال اس کے بعد خالص تر بن جائیں لہذا جیسے عرض کر چکا ہوں،طے کر لیں کہ جو کچھ ہمیں ملا ہے اس کا ایک حصہ دوسروں کو دیدیں ،کیا بہتر ہوتااگر ہمیں ان پیسوں کی زیادہ ضرورت نہ ہونے کی صورت میں ،اپنے اطراف میں موجود کسی مقروض شخص کو دیدیں ، جس کے گھر میں روزانہطلب گار (قرض دینے والا) آکر اپنے پیسہ کا تقاضا کرتاہے اور وہ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے شرمندگی سے دوچار ہوتا ہے ایسا کیوں نہ کریں کہ سارا پیسہ اسے دیدیں تا کہ وہ اپنا قرضہ چکادے ہم تو قرضدار نہیںہیں ، کیا حرج ہے فرض کریں ہم تبلیغیسفر پر نہیں گئے ۔فرض کریں خدا نہ کرے ہمارے گھر میں ہماراکوئی عزیز بیمار ہواوراس کی بیمارداری کی وجہ سے تبلیغ پرجانا ہمارے نصیب میں نہ ہو ۔اگر کوئی مقروض مسلسل اپنے قرض کو ادا کر نے میں تاخیر کرتا ہے اور اس کی آبرو خطرے میں پڑی ہے اور وہ جانتاہے کہ اگر تبلیغ پر نہیں گیا تو اپناقرض ادا نہیں کرسکتا ہے،تواسے تبلیغ پر جانے سے نہیں روکنا چاہئے ۔بہر حال قرض اداکرنا ایک واجب تکلیف ہے،کیا حرج ہے تبلیغ پر جائے اور اپنی تبلیغی سر گر میوں کے بدلے میں محترمانہ اور شان روحانیت کی رعایت کرتے ہوئے نیز کوئی ایسا کام نہ کرے جس سے روحانیت کی بدنامی ہو،اگر اسے کوئی نذرانہ دیا گیا تو وہ اسے قبول کرلے اگر اسکی نیت یہ ہو کہ تبلیغ پر جائے اگر اسے کوئی نذرانہ دیا گیا تو اس سے اپنا قرض اداکرے گاتو اس نے کوئی خلاف شرع کام انجام نہیں دیا ہے،اگر چہ نفس کو جس کمال تک پہنچنا چاہئے تھا نہیں پہنچتاہے۔لیکن اس کام میں بھی اخلاص کا قصد کیا جا سکتاہے ،کیونکہ قرض ادا کرنا واجب ہے اوراگر اس کی نیت یہ ہوکہ چونکہ خدائے متعال نے واجب کیاہے کہ قرض کو ادا کیاجائے میں راہ خدا کی تبلیغ پر جاتا ہوں تاکہ کچھ پیسے حاصل کروںاور اس سے قرض ادا کروں ،اس طرح اس کاعمل عبادت ہوجائیگا ۔
بہر صورت ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ دینوی تمایلات کو کم کریں اور مال دنیا کی نسبت بے اعتنائی دکھائیں اور دیکھ لیں کہ ہمارے مولا و مقتدا حضرت علی علیہ السلام ہیں کہ جن کی نظرمیں دنیا کی رعنائیاں کس قدر پست وحقیرتھیں فرماتے ہیں:
(دیکھو اس ذات کی قسم کہ جس نے دانے کو شگافتہ کیا اورذی روح چیزیں پیدا کیں ۔اگر بیعت کرنے والوںکی موجودگی اورمدد کرنیوالوں کے وجود سے مجھ پرحجت تمام نہ ہوگئی ہوتی اور وہ عہدنہ ہوتاجو اللہ نے علما سے لے رکھا ہے کہ وہ ظالموںکی شکم پری اور مظلوم کی گرسنگی پر سکون و قرارسے نہ بیٹھیں ، تو میں خلافت کے اونٹ کی باگ ڈور اسی کی پشتپر ڈال دیتا اور اس کے آخر کو اسی پیالے سے سیراب کرتا جس پیالے سے اس کے اول کو سیراب کیا تھا۔)
اس کے بعد آپ نے فرمایا:
''ولألفیتم دنیا کم هذه ازهد عندی من عفطة عنز'' (۳)
''اور تم اپنی دنیاکو میری نظروں میں بکری کی چھینک سے بھی زیادہ ناقابل اعتناپاتے۔''
دوسری جگہ پرفرمایا ہے:
''والله لدنیاکم هذه اهون فی عینی من عراق خنزیرمجزوم'' (۴)
''خداکی قسم:یہ تمہاری دنیا میری نظروں میں سور کی اس بے گوشت ہڈی سے بدتر ہے جو کسی مجزوم و مبروصکے ہاتھ میں ہو''
جزام و برص میں مبتلا شخصکی صورت اس قدر بری اور گھناونی ہوتی ہے کہ کوئی اسکے نزدیک جانا پسند نہیں کرتاہے،خاص کر اس وقت جب بیماری کے سرایت کرنے کا خوف ہو۔ اب اگراس جزام وبرص کے مریض کہ جس کو انسان دیکھنا بھی برداشت نہیں کرتا چہ جائے کہ اس کے ہاتھ میں سورکی ہڈی ہو،کون چاہے گا کہ اس ہڈی کواس کے ہاتھ سے لے !دنیا،اس کی رعنائیاں ،لباس ،گاڑی ،گھر،فرش اور دوسرے دنیوی امکانات و وسائل حضرت علی علیہ السلام کی نظر میں جز ا می کے ہاتھ میں سور کی ہڈی سے بدتر ہے!
ایک دوسری جگہ پر فرماتے ہیں:
''فلتکن الدنیا فی اعینکم اصغر من مثاله القرظ وقراضة اللحم واتعظوا بمن کان قبلکم قبل ان یتعظ بکم من بعدکم وارفظوها ذمیمة فانما قد رفضت من کان اشغف بها منکم'' (۵)
''پس تمہاری نظر میں دنیادرخت سلم کے پتے کے کوڑے سے پست تر ہونی چاہئے (سلم بیابان میں اگنے والا ایک درخت ہے اس کے بدبودار پتے دباغت میں استعمال کئے جاتے ہیں)اور کپڑے کو کاٹتے وقت قینچی سے گرے ہوئے کپڑوں کے ٹکڑوں سے زیادہ چھوٹی ہونی چاہئے ۔اپنے اسلاف کے حالات سے سبق حاصل کرو،اس سے پہلے کہ آنے والی نسل تم لوگوں سے سبق حاصل کرے۔دنیا کو چھوڑدو یہ قابل مذمت اورناپسندیدہ ہے، کیونکہ اس دنیا نے ان لوگوں کے ساتھ وفانہیں کی ہے جو تم لوگوںسے پہلے اس سے محبت کرتے تھے''
البتہ فرائض کو انجام دینے کے لئے اورجس حد میں خدائے متعال راضی ہے اورتمام شرعی حدود کی رعایت کرتے ہوئے انسان کے لئے مباح مال کوحاصل کرنے میں کوئی حرج نہیںہے ۔ ورنہ یہ انتہائی بے غیرتی ہے کہ انسان حیلہ،فریب کاری ،لوگوں کی چاپلوسی،اور دوسروں کی بے احترامی اور اسلام وروحانیت کو خطرے میں ڈال کر مال دنیا حاصل کرنے یااس میں اضافہ کرنے کی کوشش کرے۔کیا خوب ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے ان بیانات کو اپناسر مشق اور نصب العین قرار دیں تاکہ دنیا کے لالچی نہ بنیں ، کیونکہ اگراس پست وحقیر دنیا کی محبت ہمارے دلوں میں جگہ پاگئی ،تو تقوی اورخدا کی محبت ہم سے دور ہو جائے گی ۔جس دل میں دنیا کی محبت جگہ بنالے وہ حضرت علی ںکی نظر میں ایک جزامی کے ہاتھ میں سور کی ہڈی سے پست تر ہے اس دل میں خدا علی علیہ السلام اور حسین کی محبت کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ہمیں دل کی صفائی کرنی چاہئے اور آلودگیوں اورکدورتوں سے پاک کرنا چاہئے تاکہ اس میں خدائے متعال اور امام حسین علیہ السلام کی محبت جگہ بنالے،اور اگردین خدا،الہی اقداراور اسلامی اخلاق کی بات آئے تو دل کو اس کی ہمراہی کرنا چا ہئے تا کہ دوسروں پرشائستہ اثر پڑے۔
وآخر دعوانا ان الحمد للّٰه رب العالمین
وصلی الله علی سیدنا محمدوآله الطیبین الطاهرین
ولعنة الله علی اعدائهم اجمعین
____________________
١۔بحارلانوارج٧٠،ص٢٤٣
۲۔ کافی ج ٥،ص ١٩
۳۔ نہج البلاغہ (فیض الاسلام)خطبہ ٣،ص ٥٢
۴۔ نہج البلاغہ حکمت ٢٢٨،ص١١٩٢
۵۔ نہج البلاغہ خطبہ ٣٢،ص ١٠٨
فہرست
عرض ناشر ۴
اکیسواں درس ۶
تفکر کی اہمیت اور غفلت سے بچنےکے عوامل کے تحفظ کی ضرورت ۶
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تین نصیحتیں: ۷
الف۔ تشییع جنازہ کے وقت آہستہ گفتگو کرنا: ۷
ب) جنگ کے دوران آہستہ گفتگو کرنا: ۱۱
ج) قرآن مجید کی قرائت کے وقت آہستہ آہستہ بات کرنا: ۱۲
بیدار کرنے والے عوامل سے بے توجہی کا انجام: ۱۴
کاہلی اور بیہودہ ہنسنے کی مذمت: ۱۵
عبادت میں تفکر کا اثر: ۱۸
بائیسواں درس: ۲۰
حق و باطل کی وسعت ۲۰
حق و باطل اور اس سے استفادہ کے مواقع: ۲۰
حق و باطل کا ظاہری شکل و صورت: ۲۲
انسان صاحب اختیار ،صاحب انتخاب اور امتحان الٰہی: ۲۳
انسان اور اس کی حق و باطل کی طرف دو اندرونی کشش: ۲۶
حسی اور دنیوی لذتوں کی طرف عمومی تمایل: ۲۹
تئیسواں درس: ۳۳
توحید کے اعتقاد کی عملی صورت ۳۳
حضرت ابراہیم علیہ السلام اور توحید افعالی پر اعتقاد: ۳۴
غیر خدا پر اعتماد، تو حید افعالی پر عدم اعتقاد کا نتیجہ: ۳۵
شیخ انصاری اور شیطان کے پھندے سے فرار: ۳۷
تواضع، عزت و سربلندی کا سبب: ۳۹
حضرت سجاد علیہ السلام نقص اور فقرذاتی کا ادراک: ۴۰
پیغمبر اسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم کے کلام میں حقیقی ایمان کا نتیجہ: ۴۳
چوبیسواں درس: ۴۵
اعمال کے محاسبہ موازنہ کی اہمیت خدائے متعال سے شرم ۴۵
محاسبہ، ایک ناقابل اجتناب ضرورت: ۴۶
مشارطہ' مراقبہ اور محاسبہ ۴۸
الف)۔ مشارطہ ۴۸
ب) ۔ مراقبہ: ۴۹
ج)۔ محاسبہ: ۵۰
محاسبہ نفس کا فائدہ: ۵۱
بُرے اعمال کا نتیجہ، شرمندگی: ۵۵
شرم و حیا کا مفہوم اور اس کی حد: ۵۷
غلط رسم ورواج کے فروغ پانے کے عوامل: ۵۸
پچیسواں درس: ۶۲
بہشت تک پہنچنے کاراستہ اورحیائے الٰہی کے جلوے ۶۲
طولانی آرزوں کی مذمت اورامید سے اس کا فرق: ۶۳
دنیا، وسیلہ یا ہدف ومقصد: ۶۴
غنی مطلق کی طرف توجہ، غیر خدا سے بے نیازی کا سبب: ۶۶
موت کی یاد اور حیائے الٰہی کے جلوے: ۶۹
تزئین و آرائش، اولیاء دین کی سیرت: ۷۳
چھبیسواں درس: ۷۶
مخلصانہ دعا اور شائستہ عمل کا نقش اوراثر ۷۶
دعا کے مفہوم کی طرف ایک اشارہ ۷۶
دعا و درخواست میں انسانوں کے مراتب میں فرق: ۷۸
بارگاہ الہٰی میں فقر و ناتوانی کے اظہار کی اہمیت: ۸۱
شائستہ اعمال کے ساتھ دعا کی ضرورت: ۸۲
شائستہ اورصالح انسان کے وجود کی برکتیں: ۸۵
ستائیسواں درس: ۹۰
خدا وند متعال کے نزدیک مخلص بندے کی قدر و منزلت ۹۰
انسان کی بلندی اور برتری کا معیار: ۹۰
آزادی و اخلاص کا اثر: ۹۴
الف: عامل استقلال ۹۴
ب۔ اخلاص کا عامل: ۹۸
اٹھائیسواں سبق: ۱۰۱
عبادت و بندگی کی عظمت اور اس کے تکوینی اثرات ۱۰۱
انسان کے اعمال کے بارے میں زمین کی گواہی: ۱۰۲
زمین اور بے جان مخلوقات کی ستائش کی کیفیت: ۱۰۲
مخلوقات کا شعور و آگاہی اور ان کا اثر قبول کرنا: ۱۰۵
انوارائمہ اطہار علیہم السلام کی وسعت اور اس کے حدود: ۱۰۶
گواہوں اور شاہدوں کی نظروں سے اعمال کا مخفی نہ ہونا: ۱۰۸
اخلاص، بہترین عمل کا سبب: ۱۱۲
انتیسواں درس: ۱۱۵
انسان کی سب سے بڑی دولت بندگی و عبادت ۱۱۵
دنیا کاانسان کے لئے طفیلی ہونا: ۱۱۶
انسان کامل کی شرافت اور کرامت: ۱۱۷
١۔ صاحبان بہشت: ۱۲۱
الف: انبیاء اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مقام: ۱۲۲
ب۔صالحین کا مقام: ۱۲۴
ج۔ صدیقین کا مقام: ۱۲۴
خدا کے منتخب بندوںکے لئے عصمت کاایک خاص درجہ: ۱۲۶
عصمت کی قسمیں : ۱۲۶
ایمان میں صداقت کی اہمیت اوراس تک پہنچنے کا راستہ: ۱۲۸
تیسواں درس: ۱۳۳
ذکر کی اہمیت ،تربیت ساز معاشرت اور انتخاب دوست کا معیار ۱۳۳
گو شہ نشینی کے فوائد: ۱۳۴
معاشرت اوردوسروں کے ساتھ زندگی گزار نے کے فوائد: ۱۳۶
الفت و برادری ، خداکی ایک مہر بانی: ۱۳۹
دوست کے انتخاب کا معیار : ۱۴۱
غا فلوں کے اجتماع میں ذکر خداکی عظمت: ۱۴۵
گفتگو کرنے کے بارے میں انسان کی ذمہ داری: ۱۴۶
اکتیسواں درس: ۱۵۲
زبان،وسیلہ ہدایت یاوسیلہ گمراہی ۱۵۲
ترقی و بالیدگی کے لئے زبان اور دیگراعضاء و جوارح سے استفادہ : ۱۵۳
زبان سے بہرہ مند ہونے اور اس کے آفات سے بچنے کا طریقہ : ۱۵۵
مزاح میں مشغول کرنے والی اور افراطی باتوں سے پرہیز: ۱۵۸
ہدایت کے طریقوں کا یکساں نہ ہونا: ۱۶۱
بولنے اور دیگر رفتار کے ر دعمل اور نتائج پر ایک نظر: ۱۶۳
محققانہ باتوں کو نقل کرنے کی ضرورت اور افواہوں سے پرہیز : ۱۶۵
بتیسواں درس ۱۷۱
خدا کی عظمت وجلالت کے نمونے ۱۷۱
پیغمبر اسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم اور ائمہ اطہار کی ناشناختہ عظمت و منزلت: ۱۷۲
مومنوں کی عزت واحترام کی ضرورت: ۱۷۸
الف :سن رسیدہ مسلمان کا احترام: ۱۷۹
ب۔ قرآن مجید کے حاملین اور اس پر عمل کرنے والوں کا احترام : ۱۸۲
ج۔باانصاف او رعادل حاکم کا احترام : ۱۸۴
معاشرے میں حکومت اور قانون کی ضرورت : ۱۸۴
صالح او رشائستہ حاکم کے شرائط: ۱۸۶
١۔ اسلام کے بارے میں کافی آگاہی : ۱۸۸
٢۔تقوی: ۱۸۹
٣۔ تدبیر و مدیریت : ۱۸۹
ولی فقیہ، صالح او رشائستہ ترین فرد: ۱۹۰
تینتیسواں درس ۱۹۴
زبان کو محفوظ رکھنے کی ضرورت او راس کے آفات کی مذمت ۱۹۴
اعمال کا ایک دوسرے کے مقابل اثر یا احباط و تکفیر: ۱۹۴
دوسروں کی عیب جوئی کی مذمت: ۱۹۹
چاپلوسی اور بے جاستائش کی مذمت : ۲۰۲
دوسروں کی طعنہ زنی اور زخم زبان کی مذمت: ۲۰۶
اپنی بات پر اصرار کرنے کی مذمت: ۲۰۸
چونتیسواںدرس ۲۱۲
عبادتوں کے جلوے اور اسلام میں مسجدوں کا نقش ۲۱۲
عبادت کا مفہوم اور اس کی وسعت: ۲۱۳
الف۔عبادت کی ایک تقسیم بندی: ۲۱۴
ب:نماز ،کمال بندگی اور تقرب الٰہی: ۲۱۶
مسجد، لقاء اللہ کے عاشقوں کے کی معراج: ۲۲۱
مسجدوں کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنے کی حکمتیں: ۲۲۴
مساجد کی اہمیت کو درک کرنے کی ضرو رت ۲۲۵
اور ان میں حاضر ہو نے کے آداب : ۲۲۵
مسجد میں حاضر ہونے اوراس میں عبادت کرنے کی فضیلت: ۲۳۱
خدا کے محبوب ترین بندے: ۲۳۵
پینتیسواں درس: ۲۳۹
تقوی، زہد اور پرہیزگاری کی منزلت ۲۳۹
تقوی کا مفہوم او رخوف سے اس کا رابطہ: ۲۴۰
تقوی کی اہمیت اور اس کو حاصل کرنے کے راستے: ۲۴۲
مراتب تقوی پر ایک نظر: ۲۴۶
آثار تقوی پر ایک نظر: ۲۴۷
١۔ حقائق کو درک کرنے میں تقوی کے اثرات: ۲۴۷
٤۔خوف و رنج کا دور ہونا۔ ۲۴۹
٥۔ غیبی امداد حاصل کرنا: ۲۵۰
٦۔ عظمت اور قرب الہی کا حاصل ہونا: ۲۵۰
٧۔مشکلات او رپریشانیوں سے رہائی۔ ۲۵۰
٨۔ اعمال کا قبول ہونا۔ ۲۵۱
متقین کے حساب و کتاب کی خصوصیت او ران کی چند دوسری خصوصیات: ۲۵۳
پیغمبر اسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم کے بیان میں زہدو تقویٰ: ۲۵۶
چھتیسواں درس ۲۶۲
پیغمبر اسلام صلىاللهعليهوآلهوسلم کی نظر میں بردباری ،تواضع او ر توکل ۲۶۲
حلم و بردبار ی کا بلند مرتبہ و منزلت : ۲۶۳
حلم و بردباری، اولیائے الہی کے لئے زینت بخش: ۲۶۷
نرمی و تواضع اور چاپلوسی اور خوشامد کے درمیان فرق: ۲۷۰
مشرکوں کے مقابلہ میں پیغمبر صلىاللهعليهوآلهوسلم کانرمی سے پیش نہ آنا: ۲۷۲
توکل کی عظمت و منزلت: ۲۷۷
توکل او رمادی ومعنوی اسباب و عوامل سے استفادہ کرنا ۲۷۹
تقوی اور توکل کے درمیان رابطہ ۲۸۴
سنتیسواں درس: ۲۸۸
تقدیرات الٰہی ، سچّے اعتقاد اور صحیح خود باوری کا اثر ۲۸۸
حق کے سامنے تسلیم ہونا پریشانیوں کے برطرف ہونے کاسبب: ۲۸۹
قضا و قدر پر ایک نظر: ۲۹۱
یقین کی اہمیت اور اس کے مراتب: ۲۹۳
اولیائے الہی اور تقدیرات الہی پر رضا مندی: ۲۹۷
مقامِ صبر اور اس کی اہمیت پر ایک نظر: ۳۰۳
خدا کی مرضی کو اپنی مرضی پر ترجیح دینے کا اثر: ۳۰۷
اڑتیسواں درس ۳۱۳
خدا کی معرفت اور اس کا حکیمانہ نظام ۳۱۳
انسان اور اس کاخداسے رابطہ: ۳۱۴
گرت ہواست کہ معشو ق نگسلد پیوند نگہدار سر رشتہ تا نگہدارد ۳۱۷
مشکلات اور آسائش میں خداکی طرف توجہ کرنے کی ضرورت : ۳۱۸
خدا سے درخواست کرنے اور مدد چاہنے کی ضرورت: ۳۲۱
خدا کی حکیمانہ تد بیر کی معر فت اور یقین کا نتیجہ: ۳۲۶
انسان کی معنوی بلندی اورتکامل میں مشکلات کا رول : ۳۲۹
قناعت اور لوگوں سے بے نیازی: ۳۳۱
انتا لیسواں درس: ۳۳۴
خدا کی نظرمیں قدرو منزلت کا معیار ۳۳۴
ایمان وعمل صالح اور انسان کی بلندی کا معیار ۳۳۵
اسلام کی نظر میں مفید اور قابل قدر مشغلے: ۳۳۷
ثقافتی اور مذہبی پروگراموں میں اخلاص کی اہمیت: ۳۴۱
نیت اور اندورونی رجحانات کی اہمیت: ۳۴۳
محرک اورنیت کو صحیح وسالم بنانے کاراستہ: ۳۴۶