مناسك حج
گروہ بندی احکام فقہی اور توضیح المسائل
مصنف آیت اللہ العظميٰ سید علي خامنہ اي حفظہ اللہ
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


مناسك حج

ولى امر مسلمين و مرجع تقليد

حضرت آيت اللہ العظمى سيد على خامنہ اى (دام ظلہ الوارف)

مترجم:

معارف اسلام پبلشرز


نام كتاب :مناسك حج

مترجم : معارف اسلام پبلشرز

ناشر :نور مطاف

اشاعت :پہلى

سنہ اشاعت : رمضان المبارك ۱۴۲۷ ھ_ق

تعداد :دوہزار

Web : www.maaref-foundation.com

E-mail: info@maaref-foundation.com

جملہ حقوق طبع بحق معارف اسلام پبلشرز محفوظ ہيں _


و اذن فى الناس بالحج يا توك رجالا و على كل ضامر يا تين من كل حج عميق

(سورہ حج آيت ۲۷)

حج بيت اللہ كے باعظمت اعمال مختلف پہلوؤں سے قابل توجہ ہيں_ خاص طور پر ان كا عبادى پہلو خصوصى ظرافت كا حامل ہے چنانچہ حجاج كرام اعمال حج كو شروع سے آخر تك مراجع عظام كے فتاوى كے مطابق انجام دينے كو بڑى اہميت ديتے ہيں_يہ كتاب جو قارئين محترم كے ہاتھوں ميں ہے يہ مناسك حج كے سلسلے ميں رہبر انقلا ب حضرت آيت اللہ العظمى خامنہ اى (دام ظلہ) كے جديد ترين فتاوى كا ترجمہ ہے_

ہمارى دعا ہے كہ اسكے ترجمے اور تصحيح و غيرہ كے سلسلے ميں جن لوگوں


نے زحمات اٹھائي ہيں خدا تعالى انہيں اجر جزيل عطا فرمائے اور ہم راہبر معظم كے دفتر كے بھى شكر گزار ہيں جنہوں نے اس سلسلے ميں ہمارى مدد كى _

آخر ميں خدا تعالى كے تہ دل سے شكرگزار ہيں كہ اس نے ہميں اس گرانبہا كام كوانجام دينے كيلئے توفيق عظيم عنايت فرمائي_

اللهم عجل لوليك الفرج واجعلنا من اعوانه و انصاره

معارف اسلام پبلشرز

رمضان المبارك ۱۴۲۷


مقدمہ:

شرعاً حج سے مراد خاص اعمال كا مجموعہ ہے اور يہ ان اركان ميں سے ايك ركن ہے كہ جن پر اسلام كى بنياد ركھى گئي ہے جيسا كہ امام محمدباقر (ع) سے روايت ہے :

''بنى الاسلام على خمس على الصلوة و الزكاة و الصوم و الحج و الولاية''

اسلام كى بنياد پانچ چيزوں پر ركھى گئي ہے نماز ، زكات ، روزہ ، حج اور ولايت پر _

حج چاہے واجب ہو چاہے مستحب بہت بڑى فضيلت اور كثير اجر ركھتا ہے اور اسكى فضيلت كے بارے ميں پيغمبر اكرم (ص) اور اہل بيت (عليہم السلام) سے كثير روايات وارد ہوئي ہيں چنانچہ امام صادق (ع) سے روايت ہے:

''الحاج والمعتمر وفد الله ان سا لوه اعطاهم وان


دعوه اجابهم و ان شفعوا شفعهم و ان سكتوا ابتدا هم و يعوضون بالدرهم الف الف درهم ''

حج اور عمرہ كرنے والے اللہ كا گروہ ہيں اگر اللہ سے سوال كريں تو انہيں عطا كرتاہے اور اسے پكاريں تو انہيں جواب ديتاہے، اگر شفاعت كريں تو انكى شفاعت كو قبول كرتاہے اگرچھپ رہيں تو از خود اقدام كرتاہے اور انہيںايك درہم كے بدلے دس لاكھ درہم ديئے جاتے ہيں_

وجوب حج كے منكر اور تارك حج كا حكم

حج كا وجوب كتاب و سنت كے ساتھ ثابت ہے اور يہ ضروريات دين ميںسے ہے اور جس بندے ميںاسكى آئندہ بيان ہونے والى شرائط كامل ہوں اور اسے اسكے وجوب كا بھى علم ہو اس كا اسے انجام نہ دينا كبيرہ گناہ ہے_


اللہ تعالى اپنى محكم كتاب ميں فرماتا ہے:

''وللہ على الناس حج البيت من استطاع اليہ سبيلا و من كفر فان اللہ غنى عن العالمين''

اور لوگوں پر واجب ہے كہ محض خدا كيلئے خانہ كعبہ كا حج كريں جنہيں وہاں تك پہنچنے كى استطاعت (قدرت) ہو اور جس نے با وجود قدرت حج سے انكار كيا تو ( ياد ركھئے كہ ) خدا سارے جہان سے بے پروا ہے_

اور امام صادق سے روايت ہے :

جو شخص دنيا سے اس حال ميں چل بسے كہ اس نے حجةا لاسلام انجام نہ ديا ہو جبكہ كوئي حاجت اس كيلئے مانع نہ ہو يا ايسى بيمارى ميں بھى مبتلا نہ ہو جسكے ساتھ حج كى طاقت نہ ركھتا ہو اور كوئي حاكم ركاوٹ نہ بنے تو وہ يہودى يا نصرانى ہوكر مرے_

حج كى اقسام:

جو حج مكلف انجام ديتا ہے يا تو اسے اپنى طرف سے انجا م ديتا ہے يا


كسى اور كى طرف سے _اس دوسرے كو ''نيابتى حج '' كہتے ہيں اور پہلا يا واجب ہے يا مستحب اور واجب حج يا بذات خود شريعت ميں واجب ہوتا ہے تو اسے ''حجة الاسلام'' كہتے ہيں اور يا كسى اور سبب كى وجہ سے واجب ہوتا ہے جيسے نذر كرنے كى وجہ سے يا حج كو فاسد كردينے كى وجہ سے _

اور حجة الاسلام اورنيابتى حج ميں سے ہر ايك كى اپنى اپنى شرائط اور احكام ہيں كہ جنہيں ہم پہلے باب ميں دو فصلوں كے ضمن ميں ذكر كريںگے_

نيز حج كى تين قسميں ہيں تمتع ، افراد ، قران

حج تمتع ان لوگوں كا فريضہ ہے كہ جن كا وطن مكہ مكرمہ سے اڑتاليس ميل تقريباً نوے كيلوميٹر دور ہے اور حج افراد اور قران ان لوگوں كا فريضہ ہے كہ جن كا وطن يا تو خود مكہ ہے يا مذكورہ مسافت سے كم فاصلے پر اور حج تمتع ، حج قران و افراد سے بعض اعمال و مناسك كے اعتبار سے مختلف ہے اور اسے ہم دوسرے باب ميں چند فصول كے ضمن ميں بيان كريں گے_


باب اول:

حَجة الاسلام اورنيابتى حج كے بارے ميں


فصل اول : حجة الاسلام

مسا لہ ۱_ جو شخص حج كى استطاعت ركھتا ہو اس پر اصل شريعت كے اعتبار سے پورى عمر ميں صرف ايك مرتبہ حج واجب ہوتا ہے اوراسے ''حجة الاسلام'' كہا جاتا ہے_

مسا لہ ۲_ حجة الاسلام كا وجوب فورى ہے يعنى جس سال استطاعت حاصل ہوجائے اسى سال حج پر جانا واجب ہے اور كسى عذر كے بغير مؤخر كرنا جائز نہيں ہے اور اگر اسے مؤخر كرے تو گناہ گار ہے اور حج اسكے ذمے ثابت ہوجائيگا اور اسے آئندہ سال انجام دينا واجب ہے و على ہذا القياس_


مسا لہ۳_ اگر استطاعت والے سال حج كوانجام دينا بعض مقدمات پر موقوف ہو _جيسے سفر كرنا اور حج كے وسائل و اسباب كو مہيا كرنا_ تو اس پر واجب ہے كہ ان مقدمات كو حاصل كرنے كيلئے اس طرح مبادرت سے كام لے كہ اسے اسى سال حج كو پالينے كا اطمينان ہو_

اور اگر اس ميں كوتاہى كرے اور حج كو بجا نہ لائے تو گناہ گار ہے اور حج اسكے ذمے ميں ثابت اور مستقر ہو جائيگا اور اس پر اسے بجا لانا واجب ہے اگر چہ استطاعت باقى نہ رہے_

حجة الاسلام كے وجوب كے شرائط

حجة الاسلام مندرجہ ذيل شرائط كے ساتھ واجب ہوتا ہے:

پہلى شرط :

عقل پس مجنون پر حج واجب نہيں ہوتا_


دوسرى شرط:

بلوغ پس نابالغ پر حج واجب نہيں ہوتا اگر چہ وہ بلوغ كے قريب ہو اور اگر نابالغ بچہ حج بجا لائے تو اگر چہ اس كا حج صحيح ہے ليكن يہ حجة الاسلام سے كافى نہيں ہے_

مسا لہ ۴:اگر بچہ احرام باندھ كر مشعر ميں وقوف كو بالغ ہونے كى حالت ميں پالے اور حج كى استطاعت بھى ركھتاہو تو اس كا يہ حج حجة الاسلام سے كافى ہے_

مسا لہ۵: وہ بچہ جواحرام باندھے ہوئے ہے اگر محرمات ( جو كام احرام كى حالت ميں حرام ہيں ) ميں سے كسى كام كاارتكاب كرے تو اگر وہ كام شكار ہو تو اس كا كفارہ اسكے ولى پر ہوگا اور اسكے علاوہ ديگر كفارات تو ظاہر يہ ہے كہ وہ نہ تو ولى پر واجب ہيں اور نہ ہى بچے كے مال ميں :

مسا لہ ۶: بچے كے حج ميں قربانى كى قيمت اسكے ولى پر ہے_

مسا لہ ۷: واجب حج ميں شوہر كى اجازت شرط نہيں ہے پس بيوى پر حج


واجب ہے اگر چہ شوہر سفر حج پر راضى نہ ہو _

مسا لہ ۸_ مستطيع شخص سے حجة الاسلام كے صحيح ہونے ميں والدين كى اجازت شرط نہيں ہے _

تيسرى شرط :

استطاعت اور يہ مندرجہ ذيل امور پر مشتمل ہے_

الف : مالى استطاعت

ب : جسمانى استطاعت

ج : سربى استطاعت (راستے كا با امن اور كھلا ہونا)

د : زمانى استطاعت

ہر ايك كى تفصيل

الف : مالى استطاعت :

يہ متعدد امور پر مشتمل ہے_


۱_ زاد و راحلہ

۲_ سفر كى مدت ميں اپنے اہل و عيال كے اخراجات

۳_ ضروريات زندگي

۴_ رجوع الى الكفاية

مندرجہ ذيل مسائل كے ضمن ميں انكى تفصيل بيان كرتے ہيں:

۱_ زاد و راحلہ

زاد سے مراد ہر وہ شے ہے كہ جسكى سفر ميں ضرورت ہوتى ہے جيسے كھانے پينے كى چيزيں اور اس سفر كى ديگر ضروريات اور راحلہ سے مراد ايسى سوارى ہے كہ جسكے ذريعے سفر طے كيا جا سكے _

مسا لہ ۹_ جس شخص كے پاس نہ زاد و راحلہ ہے اور نہ انہيں حاصل كرنے كيلئے رقم اس پر حج واجب نہيں ہے اگر چہ وہ كما كر يا كسى اور ذريعے سے انہيں حاصل كرسكتا ہو _


مسا لہ ۱۰_ اگر پلٹنے كا ارادہ ركھتا ہو تو شرط ہے كہ اسكے پاس اپنے وطن يا كسى دوسرى منزل مقصود تك واپس پلٹنے كے اخراجات ہوں_

مسا لہ ۱۱_ اگر اسكے پاس حج كے اخراجات نہ ہوں ليكن اس نے حج كے اخراجات يا انكى تكميل كى مقداركے برابر كسى شخص سے قرض واپس لينا ہواورقرض حال ہو يا اسكى ادائيگى كا وقت آچكا ہو اور مقروض مالدارہو اور قرض خواہ كيلئے قرض كا مطالبہ كرنے ميں كوئي حرج بھى نہ ہو تو قرض كا مطالبہ كرنا واجب ہے _

مسا لہ ۱۲_ اگر عورت كا مہر اسكے شوہر كے ذمے ميں ہو اور وہ اسكے حج كے اخراجات كيلئے كافى ہو تو اگر شوہر تنگدست ہو تو يہ اس سے مہر كا مطالبہ نہيں كر سكتى اور مستطيع بھى نہيں ہوگى ليكن اگر شوہر مالدار ہے اور مہر كا مطالبہ كرنے ميں عورت كا كوئي نقصان بھى نہ ہو تو اس پر مہر كا مطالبہ كرنا واجب ہے تا كہ اسكے ساتھ حج كر سكے ليكن اگر مہر كا مطالبہ كرنے ميں عورت كا كوئي نقصان ہو مثلاً يہ لڑائي جھگڑے اور طلاق تك منتج ہو تو عورت پر مطالبہ كرنا واجب نہيں ہے اور عورت مستطيع بھى نہيں ہو گى _


مسا لہ ۱۳_ جس شخص كے پاس حج كے اخراجات نہيں ہيں ليكن وہ قرض ليكر اسے آسانى سے ادا كر سكتا ہو تو اس پر واجب نہيں ہے كہ وہ قرض ليكر اپنے آپ كو مستطيع بنائے ليكن اگر قرض لے لے تو اس پر حج واجب ہو جائيگا_

مسا لہ ۱۴_ جو شخص مقروض ہے اور اسكے پاس حج كے اخراجات سے اتنا اضافى مال نہ ہو كہ جس سے وہ اپنا قرض ادا كر سكے تو اگر قرض كى ادائيگى كا وقت مخصوص ہو اور اسے اطمينان ہے كہ وہ ا س وقت اپنے قرض كو ادا كرنے پر قادر ہوگا تو اس پر واجب ہے كہ انہيں اخراجات كے ساتھ حج بجا لائے _

اور يہى حكم ہے اگر قرض كى ادائيگى كا وقت آچكا ہو ليكن قرض خواہ اسے مؤخر كرنے پر راضى ہو اور مقروض كو اطمينان ہو كہ جب قرض خواہ مطالبہ كريگا اس وقت يہ قرض كى ادائيگى پر قادر ہوگااور مذكورہ دو صورتوں كے علاوہ اس پر حج واجب نہيں ہے_

مسئلہ ۱۵_ جس شخص كو شادى كرنے كى ضرورت ہے اس طرح كہ اگر


شادى نہ كرے تو اسے مشقت ياحرج كا سامنا ہوگا اور اس كيلئے شادى كرنا ممكن بھى ہو تو اس پر حج واجب نہيں ہوگا مگر يہ كہ اس كے پاس حج كے اخراجات كے علاوہ شادى كرنے كا انتظام بھى ہو _

مسئلہ ۱۶_ اگر استطاعت والے سال ميں اسے سفر حج كيلئے سوارى نہ ملتى ہو مگر اسكى رائج اجرت سے زيادہ كے ساتھ تو اگر يہ شخص زائد مال دينے پر قادر ہو اور يہ اس كے حق ميں زيادتى بھى نہ ہو تو اس پر اس زائدمال كا دينا واجب ہے تا كہ حج بجالا سكے پس صرف مہنگائي اور كرائے كا بڑھ جانا استطاعت كيلئے مضر نہيں ہے _ ليكن اگر يہ زائد مال كے دينے پر قادر نہيں ہے يا يہ اسكے حق ميں زيادتى ہو تو واجب نہيں ہے اور يہ مستطيع بھى نہيں ہوگا اور يہى حكم ہے سفر حج كى ديگر ضروريات كے خريدنے يا انكے كرائے پر لينے كا نيز يہى حكم ہے اگر يہ حج كے اخراجات كيلئے كوئي چيز بيچنا چاہتا ہے ليكن اسے خريدار صرف وہ ملتا ہے جو اسے اسكى رائج قيمت سے كم پر خريد تا ہے _

مسئلہ ۱۷_ اگر كوئي شخص يہ سمجھتا ہو كہ اگر وہ اپنى موجودہ مالى حيثيت كے


ساتھ حج پر جانا چاہے تو وہ اس طرح حج كيلئے استطاعت نہيں ركھتا جيسے ديگر لوگ حج بجالاتے ہيں ليكن اسے احتمال ہے كہ تلاش و جستجو كرنے سے اسے ايسا راستہ مل جائيگا كہ يہ اپنى موجودہ مالى حيثيت كے ساتھ حج كيلئے مستطيع ہو جائيگا تو اس پر تلاش و جستجو كرنا واجب نہيں ہے كيونكہ استطاعت كا معيار يہ ہے كہ يہ حج كيلئے اسى طرح استطاعت ركھتا ہوجو ديگر لوگوں كيلئے متعارف ہے _

ہاں ظاہر يہ ہے كہ اگر اسے اپنے مستطيع ہونے ميں شك ہو اور جاننا چاہتا ہو كہ استطاعت ہے يا نہيں تو اس پر واجب ہے كہ اپنى مالى حيثيت كے بارے ميں جستجو كرے

۲_ سفر كى مدت ميں اپنے اہل و عيال كے اخراجات

مسئلہ۱۸_ مالى استطاعت ميں يہ شرط ہے كہ يہ حج سے واپس آنے تك اپنے اہل و عيال كے اخراجات ركھتا ہو


مسئلہ ۱۹_ اہل و عيال _ كہ مالى استطاعت ميں جنكے اخراجات كا موجود ہونا شرط ہے _سے مراد وہ لوگ ہيں كہ جنہيں عرف عام ميں اہل و عيال شمار كيا جاتا ہے اگر چہ شرعاً اس پر ان كا خرچہ واجب نہ بھى ہو _

۳_ ضروريات زندگي:

مسئلہ ۲۰_ شرط ہے كہ اسكے پاس ضروريات زندگى اور وہ چيزيں ہوں كہ جنكى اسے عرفاً اپنى حيثيت كے مطابق زندگى بسر كرنے كيلئے احتياج ہے البتہ يہ شرط نہيں ہے كہ بعينہ وہ چيزيںاس كے پاس موجود ہوں بلكہ كافى ہے كہ اس كے پاس رقم و غيرہ ہو كہ جسے اپنى ضروريات زندگى ميں خرچ كرنا ممكن ہو _

مسئلہ ۲۱_ عرف عام ميں لوگوں كى حيثيت مختلف ہوتى ہے چنانچہ رہائشے كيلئے گھر كا مالك ہونا جسكى ضروريات زندگى ميں سے ہے يا يہ عرف ميں اسكى حيثيت كے مطابق ہے يا كرائے كے ، يا عاريہ پر ليئے ہوئے يا

-
موقوفہ گھر ميں رہنا اس كيلئے حرج يا سبكى كا باعث ہو تو اسكے لئے استطاعت كے ثابت ہونے كيلئے گھر كا مالك ہونا شرط ہے _

مسئلہ ۲۲_ اگر حج كيلئے كافى مال ركھتا ہوليكن اسے اسكى ايسى لازمى احتياج ہے كہ جس ميں اسے خرچ كرنا چاہتا ہے جيسے گھر مہيا كرنا يا بيمارى كا علاج كرانا يا ضروريات زندگى كو فراہم كرناتو يہ مستطيع نہيں ہے اور اس پر حج واجب نہيں ہے_

مسلئہ ۲۳_ يہ شرط نہيں ہے كہ مكلف كے پاس خود زاد و راحلہ ہوں بلكہ كافى ہے كہ اس كے پاس اتنى رقم و غيرہ ہو كہ جسے زاد و راحلہ ميں خرچ كرنا ممكن ہو _

مسئلہ ۲۴_ اگر كسى شخص كے پاس ضروريات زندگى _گھر ، گھريلو سامان ، سوارى ، آلات صنعت و غيرہ _ كى ايسى چيزيں ہيں جو قيمت كے لحاظ سے اسكى حيثيت سے بالاتر ہيں چنانچہ اگر يہ كر سكتا ہو كہ انہيں بيچ كر انكى قيمت كے كچھ حصے سے اپنى ضروريات زندگى خريد لے اور باقى قيمت كو حج كيلئے


خرچ كرے اور اس ميں اسكے لئے حرج ، كمى يا سبكى بھى نہ ہو اور قيمت كا فرق حج كے اخراجات يا انكى تكميل كى مقدار ہو تو اس پر ايسا كرنا واجب ہے اور يہ مستطيع شمار ہوگا _

مسئلہ ۲۵_ اگر مكلف اپنى زمين يا كوئي اور چيز فروخت كرے تا كہ اسكى قيمت كے ساتھ گھر خريدے تو اگر اسے گھر كے مالك ہونے كى ضرورت ہو يا يہ عرف كے لحاظ سے اسكى حيثيت كے مطابق ہو تو زمين كى قيمت وصول كرنے سے يہ مستطيع نہيں ہو گا اگر چہ وہ حج كے اخراجات يا انكى تكميل كى مقدار ہو_

مسئلہ ۲۶_ جس شخص كو اپنى بعض مملوكہ چيزوں كى ضرورت نہ رہے مثلا اسے اپنى كتابوں كى ضرورت نہ رہے اور ان كى قيمت سے مالى استطاعت مكمل ہوتى ہو يا يہ مالى استطاعت كيلئے كافى ہو تو ديگر شرائط كے موجود ہونے كى صورت ميں اس پر حج واجب ہے_


۴_ رجوع الى الكفاية:

مسئلہ ۲۷_ مالى استطاعت ميں '' رجوع الى الكفاية'' شرط ہے ( مخفى نہ رہے كہ يہ شرط حج بذلى ميں ضرورى نہيں ہے جيسا كہ اسكى تفصيل عنقريب آجائيگى )اور اس سے مراد يہ ہے كہ حج سے پلٹنے كے بعد اسكے پاس ايسى تجارت ، زراعت ، صنعت ، ملازمت ، يا باغ ، دكان و غيرہ جيسے ذرائع آمدنى كى منفعت ہو كہ جنكى آمدنى عرف ميں اسكى حيثيت كے مطابق اسكے اور اسكے اہل و عيال كے معاش كيلئے كافى ہو اور اس سلسلے ميں دينى علوم كے طلاب( خدا تعالى ان كا حامى ہو ) كيلئے كافى ہے كہ پلٹنے كے بعد انہيں وہ وظيفہ ديا جائے جو حوزات علميہ ( خدا تعالى انكى حفاظت كرے) ميں انكے درميان تقسيم كيا جاتا ہے_

مسئلہ ۲۸_ عورت كيلئے بھى رجوع الى الكفاية شرط ہے بنابراين اگر اس كا شوہر ہو اور يہ اسكى زندگى ميں حج كى استطاعت ركھتى ہو تو اس كيلئے ''رجوع الى الكفاية'' وہ نفقہ ہے جسكى وہ اپنے شوہر كے ذمے ميں مالك


ہے ليكن اگر اس كا شوہر نہيں ہے تو حج كيلئے اسكے مستطيع ہونے كيلئے مخارج حج كےساتھ ساتھ شرط ہے كہ اسكے پاس ايسا ذريعہ آمدنى ہو جواسكى حيثيت كے مطابق اسكى زندگى كيلئے كافى ہو ورنہ يہ حج كيلئے مستطيع نہيں ہوگى _

مسئلہ ۲۹_ جس شخص كے پاس زاد و راحلہ نہ ہو ليكن كوئي اور شخص اسے دے اور اسے يوں كہے تو ''حج بجالا اور تيرا اور تيرے اہل و عيال كا خرچہ مير ے ذمے ہے ''تو اس پر حج واجب ہے اور اس پر اسے قبول كرنا واجب ہے اور اس حج كو حج بذلى كہتے ہيں اور اس ميں '' رجوع الى الكفايہ '' شرط نہيں ہے نيز خود زاد و راحلہ كا دينا ضرورى نہيں ہے بلكہ قيمت كا دينا بھى كافى ہے _

ليكن اگراسے حج كيلئے مال نہ دے بلكہ صرف اسے مال ہبہ كرے تو اگر وہ ہبہ كو قبول كرلے تو اس پر حج واجب ہے ليكن اس پر اس مال كو قبول كرنا واجب نہيں ہے پس اس كيلئے جائز ہے كہ اسے قبول نہ كرے اور اپنے آپ كو مستطيع نہ بنائے_


مسئلہ ۳۰_ حج بذلى ، حجة الاسلام سے كافى ہے اور اگر اسكے بعد مستطيع ہوجائے تو دوبارہ حج واجب نہيں ہے_

مسئلہ ۳۱_ جس شخص كو كسى ادارے يا شخص كى طرف سے حج پر جانے كى دعوت دى جاتى ہے تو اگر اس دعوت كے مقابلے ميں اس پركسى كام كو انجام دينے كى شرط لگائي جائے تو اسكے حج پر حج بذلى كا عنوان صدق نہيں كرتا_

مالى استطاعت كے عمومى مسائل

مسئلہ ۳۲_جس وقت حج پر جانے كيلئے مال خرچ كرنا واجب ہوتا ہے اسكے آنے كے بعد مستطيع كيلئے اپنے آپ كو استطاعت سے خارج كرنا جائز نہيں ہے بلكہ احوط وجوبى يہ ہے كہ اس وقت سے پہلے بھى اپنے آپ كو استطاعت سے خارج نہ كرے _

مسئلہ ۳۳_ مالى استطاعت ميں شرط نہيں ہے كہ وہ مكلف كے شہر ميں


حاصل ہو بلكہ اس كا ميقات ميں حاصل ہو جانا كافى ہے پس جو شخص ميقات تك پہنچ كر مستطيع ہو جائے اس پرحج واجب ہے اور يہ حجة الاسلام سے كافى ہے _

مسئلہ ۳۴_ مالى استطاعت اس شخص كيلئے بھى شرط ہے جو ميقات تك پہنچ كر حج پر قادر ہو جائے پس جو شخص ميقات تك پہنچ كر حج پر قادر ہو جائے جيسے قافلوں ميں كام كرنے والے و غيرہ تو اگر ان ميں استطاعت كى ديگر شرائط بھى ہوں جيسے اہل و عيال كا نفقہ ، ضروريات زندگى اور اسكى حيثيت كے مطابق جن چيزوں كى اسے اپنى زندگى ميں احتياج ہوتى ہے اور ''رجوع الى الكفاية'' تو اس پر حج واجب ہے اور يہ حجة الاسلام سے كافى ہے ورنہ اس كا حج مستحبى ہو گا اور اگر بعد ميں استطاعت حاصل ہوجائے تو اس پر حجة الاسلام واجب ہو گا _

مسئلہ ۳۵_اگركسى شخص كو حج كے راستے ميں خدمت كيلئے اتنى اجرت كے ساتھ اجير بنايا جائے كہ جس سے وہ مستطيع ہو جائے تو اجارے كو قبول


كرنے كے بعد اس پر حج واجب ہے البتہ يہ اس صورت ميں ہے جب اعمال حج كو بجالانا اس خدمت كے ساتھ متصاوم نہ ہو جو اسكى ڈيوٹى ہے ورنہ يہ اسكے ساتھ مستطيع نہيں ہوگا جيسا كہ عدم تصادم كى صورت ميں اس پر اجارے كو قبول كرنا واجب نہيں ہے _

مسئلہ ۳۶_ جو شخص مالى استطاعت نہ ركھتا ہو اور نيابتى حج كيلئے اجير بنے پھر اجارے كے بعد مال اجارہ كے علاوہ كسى اور مال كے ساتھ مستطيع ہو جائے تو اس پر واجب ہے كہ اس سال اپنے لئے حجة الاسلام بجالائے اور اجارہ اگر اسى سال كيلئے ہو تو باطل ہے ورنہ اجارے والا حج آئندہ سال بجالائے _

مسئلہ ۳۷_ اگر مستطيع شخص غفلت كى وجہ سے يا جان بوجھ كر مستحب حج كى نيت كرلے اگر چہ اعمال حج كى تمرين كے قصد سے تا كہ آئندہ سال اسے بہتر طريقے سے انجام دے سكے يا اس لئے كہ وہ اپنے آپ كو غير مستطيع سمجھتا ہے پھر اس كيلئے ظاہر ہو جائے كہ وہ مستطيع تھا تو اسكے اس حج


كے حجة الاسلام سے كافى ہونے ميں اشكال ہے پس احوط كى بنا پر اس پر آئندہ سال حج كو بجالانا واجب ہے_مگر يہ كہ اس نے شارع مقدس كے اس حكم كى اطاعت كا قصدكيا ہو جو اس وقت ہے اس وہم كے ساتھ كہ وہ حكم، حكم استحبابى ہے تو پھر اس كا حج حجة الاسلام سے كافى ہے _

ب_ جسمانى استطاعت:

اس سے مراد يہ ہے كہ جسمانى لحاظ سے حج كو انجام دينے كى قدرت ركھتا ہو پس اس مريض اور بوڑھے پر حج واجب نہيں ہے جو حج پر جانہيں سكتے يا جن كيلئے جانے ميں حرج اورمشقت ہے _

مسئلہ ۳۸_ جسمانى استطاعت كا باقى رہنا شرط ہے پس اگر راستے كے درميان ميں احرام سے پہلے بيمار ہو جائے تو اگر اس كا حج پر جانا استطاعت والے سال ميں ہو اور بيمارى اس سے سفر كو جارى ركھنے كى قدرت كو سلب كرلے تو اس سے منكشف ہو گا كہ اس ميں جسمانى استطاعت نہيں تھى اور


ايسے شخص پر حج كيلئے كسى كو نائب بنانا واجب نہيں ہے ليكن اگر يہ حج كے اس پر مستقر ہونے كے بعد حج پر جا رہا ہو اور بيمارى كى وجہ سے سفر كو جارى ركھنے سے عاجز ہو جائے اور آئندہ سالوں ميں بھى اسے بغير مشقت كے حج پر قادر ہونے كى اميد نہ ہو تو اس پر واجب ہے كہ كسى اور كو نائب بنائے اور اگر اسے اميد ہو تو اس سے خود حج كو بجالانے كا وجوب ساقط نہيں ہوگا_اور اگر احرام كے بعد بيمار ہو تو اسكے اپنے خاص احكام ہيں _

ج_ سربى استطاعت:

اس سے مراد يہ ہے كہ حج پر جانے كا راستہ كھلا اور باامن ہو پس اس شخص پر حج واجب نہيں ہے كہ جس كيلئے راستہ بند ہو اس طرح كہ اس كيلئے ميقات يا اعمال حج كى تكميل تك پہنچنا ممكن نہ ہو اسى طرح اس شخص پر بھى حج واجب نہيں ہے كہ جس كيلئے راستہ كھلا ليكن نا امن ہو چنانچہ اس راستے ميں اسے اپنى جان ، بدن ، عزت يا مال كا خطرہ ہو _


مسئلہ ۳۹_ جس شخص كے پاس حج كے اخراجات ہوں اور وہ حج پرجانے كيلئے تيارہوجائے جيسا كہ حج كيلئے اپنا نام لكھو ادے ليكن چونكہ اسكے نام قرعہ نہيں نكلا اسلئے اس سال حج پر نہ جا سكا تو يہ شخص مستطيع نہيں ہے اور اس پر حج واجب نہيں ہے ليكن اگر آئندہ سالوں ميں حج كرنا اس سال اپنا نام لكھوانے اور مال دينے پر موقوف ہو تو احوط وجوبى يہ ہے كہ اس كام كو انجام دے _

د_زمانى استطاعت:

اس سے مراد يہ ہے كہ ايسے وقت ميں استطاعت حاصل ہو جس ميں حج كو درك كرنا ممكن ہو پس اس بندے پر حج واجب نہيں ہے كہ جس پر اس طرح وقت تنگ ہو جائے كہ وہ حج كو درك نہ كر سكتا ہو يا سخت مشقت اور سخت حرج كے ساتھ درك كر سكتا ہو _


دوسرى فصل :نيابتى حج

نائب و منوب عنہ كى شرائط كو بيان كرنے سے پہلے حج كى وصيت اور اس كيلئے نائب بنانے كے بعض موارد اور ان كے احكام كو ذكر كرتے ہيں _

مسئلہ ۴۰_ جس پر حج مستقر ہو جائے پھر وہ بڑھا پے يا بيمارى كى وجہ سے حج پر جانے سے عاجر ہو يا اس كيلئے حج پر جانے ميں عسر و حرج ہو اور بغير حرج كے قادر ہونے سے مايوس ہو حتى كہ آئندہ سالوں ميں بھى تو اس پر نائب بنانا واجب ہے ليكن جس پر حج مستقر نہ ہوا تواس پر نائب بنانا واجب نہيں ہے _

مسئلہ ۴۱_ نائب جب حج كو انجام دے دے تو منوب عنہ كہ جو حج كو


انجام دينے سے معذور تھا اس سے حج كا وجوب ساقط ہو جائيگا اور اس پر دوبارہ حج بجا لانا واجب نہيں ہے اگر چہ نائب كے انجام دينے كے بعد اس كا عذر ختم بھى ہو جائے _ہاں اگر نائب كے عمل كے دوران ميںاس كا عذر ختم ہو جائے تو پھر منوب عنہ پر حج كا اعادہ كرنا واجب ہے اور ايسى حالت ميں اس كيلئے نائب كا حج كافى نہيں ہے _

مسئلہ ۴۲_ جس شخص پر حج مستقر ہے اگر وہ راستے ميں فوت ہو جائے تو اگر وہ احرام اور حرم ميں داخل ہونے كے بعدفوت ہو تو يہ حجة الاسلام سے كافى ہے اور اگر احرام سے پہلے فوت ہو جائے تو اس كيلئے يہ كافى نہيں ہے اور اگر احرام كے بعد ليكن حرم ميں داخل ہونے سے پہلے فوت ہو تو احوط وجوبى كى بناپريہ كافى نہيں ہے _

مسئلہ ۴۳_ جو شخص فوت ہو جائے اور اسكے ذمے ميں حج مستقر ہو چكا ہو تو اگر اس كا اتنا تركہ ہو جو حج كيلئے كافى ہو اگر چہ ميقات سے ، تو اس كى طرف سے اصل تركہ سے حج كيلئے نائب بنانا واجب ہے مگر يہ كہ اس نے


تركہ كے تيسرے حصے سے مخارج حج نكالنے كى وصيت كى ہو تو يہ اسى تيسرے حصے سے نكالے جائيں گے اور يہ مستحب وصيت پر مقدم ہوں گے اور اگر يہ تيسرا حصہ كافى نہ ہو تو باقى كو اصل تركہ سے ليا جائيگا_

مسئلہ ۴۴_ جن موارد ميں نائب بنانا مشروع ہے ان ميں يہ كام فوراً واجب ہے چاہے يہ نيابت زندہ كى طرف سے ہو يا مردہ كى طرف سے _

مسئلہ ۴۵_ زندہ شخص پر شہر سے نائب بنانا واجب نہيں ہے بلكہ ميقات سے نائب بنا دينا كافى ہے اگر ميقات سے نائب بنانا ممكن ہو ورنہ اپنے وطن يا كسى دوسرے شہر سے اپنے حج كيلئے نائب بنائے اسى طرح وہ ميت كہ جسكے ذمے ميں حج مستقر ہو چكا ہے تو اسكى طرف سے ميقات سے حج كافى ہے اور اگر نائب بنانا ممكن نہ ہو مگر ميت كے وطن سے يا كسى دوسرے شہر سے تو يہ واجب ہے اور حج كے مخارج اصل تركہ سے نكالے جائيں گے ہاں اگر اس نے اپنے شہر سے حج كرانے كى وصيت كى ہو تو وصيت كو نافذ كرنا واجب ہے اور ميقات كى اجرت سے زائد كو تركہ كے تيسرے حصے


سے نكالا جائيگا _

مسئلہ ۴۶_ اگر وصيت كرے كہ اسكى طرف سے استحباباً حج انجام ديا جائے تو اسكے اخراجات تركہ كے تيسرے حصے سے نكالے جائيں گے _

مسئلہ ۴۷_ جب ورثاء يا وصى كو ميت پر حج كے مستقر ہونے كا علم ہو جائے اور اسكے ادا كرنے ميں شك ہو تو ميت كى طرف سے نائب بنانا واجب ہے ليكن اگر استقرار كا علم نہ ہو اور اس نے اسكى وصيت بھى نہ كى ہو تو ان پر كوئي شے واجب نہيں ہے _

نائب كى شرائط :

۱_ بلوغ ، احوط كى بناپر ،پس نابالغ كا حج اپنے غير كى طرف سے حجة الاسلام كے طور پر كافى نہيں ہے بلكہ كسى بھى واجب حج كے طور پر _

۲_ عقل ، پس مجنون كا حج كافى نہيں ہے چاہے وہ دائمى ہو يا اسے جنون كے دورے پڑتے ہوں البتہ اگر جنون كے دورے كى حالت ميں حج انجام


دے _

۳_ ايمان ، احوط كى بناپر ،پس مؤمن كى طرف سے غير مؤمن كا حج كافى نہيں ہے _

۴_ اس كا حج كے اعمال اور احكام سے اس طرح واقف ہونا كہ اعمال حج كو صحيح طور پر انجام دينے پر قادر ہو اگر چہ اس طرح كہ ہر عمل كے وقت معلم كى راہنمائي كے ساتھ اسے انجام دے_

۵_ اس سال ميں خود اس كا ذمہ واجب حج كے ساتھ مشغول نہ ہو ہاں اگر اسے اپنے اوپر حج كے وجوب كا علم نہ ہو تو اسكے نيابتى حج كے صحيح ہونے كا قائل ہونا بعيد نہيں ہے _

۶_ حج كے بعض اعمال كے ترك كرنے ميں معذور نہ ہو _ اس شرط اور اس پر مترتب ہونے والے احكام كى وضاحت اعمال حج ميں آجائيگي_

مسئلہ ۴۸_نائب بنانے كے كافى ہونے ميں شرط ہے كہ نائب كے منوب عنہ كى طرف سے حج كے بجا لانے كا وثوق ہو ليكن يہ جان لينے كے


بعد كہ اس نے حج انجام دے ديا ہے اس بات كا وثوق شرط نہيں ہے كہ اس نے حج كو صحيح طور پر انجام ديا ہے بلكہ اس ميں اصالة الصحة كافى ہے (يعنى اس كا عمل صحيح ہے)_

منوب عنہ كى شرائط :

منوب عنہ ميں چند چيزيں شرط ہيں_

اول : اسلام ، پس كافر كى طرف سے حج كافى نہيں ہے _

دوم : يہ كہ منوب عنہ فوت ہو چكا ہو يا بيمارى يا بڑھاپے كى وجہ سے خود حج بجالانے پر قادر نہ ہو يا خود حج بجالانے ميں اسكے لئے حرج ہو اور آئندہ سالوں ميں بھى بغير حرج كے حج پر قادر ہونے كى اميد نہ ركھتا ہو البتہ اگر نيابت واجب حج ميں ہو _ ليكن مستحب حج ميں غير كى طرف سے نائب بننا مطلقا صحيح ہے _


چند مسائل :

مسئلہ ۴۹_ نائب اور منوب عنہ كے درميان ہم جنس ہونا شرط نہيں ہے پس عورت مرد كى طرف سے نائب بن سكتى ہے اور مرد عورت كى طرف سے نائب بن سكتا ہے _

مسئلہ ۵۰_ صرورہ ( جس نے حج نہ كيا ہو) صرورہ اور غير صرورہ كى طرف سے نائب بن سكتا ہے چاہے نائب يا منوب عنہ مرد ہو ياعورت _

مسلئہ ۵۱_ منوب عنہ ميں نہ بلوغ شرط ہے نہ عقل_

مسلئہ ۵۲_ نيابتى حج كى صحت ميں نيابت كا قصد اور منوب عنہ كو معين كرنا شرط ہے اگر چہ اجمالى طور پر ليكن نا م كا ذكر كرنا شرط نہيں ہے_

مسئلہ ۵۳_ اس بندے كو اجير بنانا صحيح نہيں ہے كہ جسكے پاس، حج تمتع كے اعمال كو مكمل كرنے كا وقت نہ ہو اور اس وجہ سے اس كافريضہ حج افراد كى طرف عدول كرنا ہو ہاں اگر اجير بنائے اور اتفاق سے وقت تنگ ہو جائے تو اس پر عدول كر نا واجب ہے اور يہ حج تمتع سے كافى ہے اور اجرت كا بھى


مستحق ہو گا _

مسئلہ ۵۴_ اگر اجير احرام اور حرم ميں داخل ہونے كے بعد فوت ہو جائے تو پورى اجرت كا مستحق ہو گا البتہ اگر اجارہ منوب عنہ كے ذمہ كو برى كرنے كيلئے ہو جيسا كہ اگر اجارہ مطلق ہو اور اعمال كو انجام دينے كے ساتھ مقيد نہ ہو تو ظاہر حال يہى ہوتا ہے _

مسئلہ ۵۵_ اگر معين اجرت كے ساتھ حج كيلئے اجير بنايا جائے اور وہ اجرت حج كے اخراجات سے كم پڑ جائے تو اجير پر حج كے اعمال كو مكمل كرنا واجب نہيں ہے جيسے كہ اگر وہ حج كے اخراجات سے زيادہ ہو تو اس كا واپس لينا جائز نہيں ہے_

مسئلہ ۵۶_ نائب پر واجب ہے كہ جن موارد ميں اسكے حج كے منوب عنہ سے كافى نہ ہونے كا حكم لگايا جائے _ نائب بنانے والے كو اجرت واپس كردے البتہ اگر اجارہ اسى سال كے ساتھ مشروط ہو ورنہ اس پر واجب ہے كہ بعد ميں منوب عنہ كى طرف سے حج بجالائے _


مسئلہ ۵۷_ جو شخص حج كے بعض اعمال انجام دينے سے معذور ہے اسے نائب بنانا جائز نہيں ہے اور معذور وہ شخص ہے جو مختار شخص كے فريضے كو انجام نہ دے سكتا ہو مثلاً تلبيہ يا نماز طواف كو صحيح طور پر انجام نہ دے سكتا ہو يا طواف اور سعى ميں خود چلنے كى قدرت نہ ركھتا ہو يا رمى جمرات پر قادر نہ ہو ، اس طرح كہ اس سے حج كے بعض اعمال ميں نقص پيدا ہوتا ہو ، پس اگر عذر اس نقص تك نہ پہنچائے جيسے صرف بعض تروك احرام كے ارتكاب ميں معذور ہو تو اسكى نيابت صحيح ہے _

مسئلہ ۵۸_ اگر نيابتى حج كے دوران ميں عذر كا طارى ہونا نائب كے اعمال ميں نقص كا سبب بنے تو اجارے كا باطل ہو جانا بعيد نہيں ہے اور اس صورت ميں احوط وجوبى يہ ہے كہ اجرت اور منوب عنہ كى طرف سے دوبارہ حج بجالانے پر مصالحت كريں_

مسئلہ ۵۹_ جو لوگ مشعر الحرام ميں اختيارى وقوف سے معذور ہيں انہيں نائب بنانا صحيح نہيں ہے پس اگر انہيں اس طرح نائب بنايا جائے تو وہ


اس پر اجرت كے مستحق نہيں ہوں گے جيسے كار وانوں كے خدام كہ جو كمزور لوگوں كے ہمراہ رہنے اور كاروان كے بعض كاموں كو انجام دينے پر مجبور ہوتے ہيں چنانچہ طلوع فجر سے پہلے ہى مشعر سے منى كى طرف نكل جاتے ہيں پس اگر ايسے لوگوں كو نيابتى حج كيلئے اجير بنايا جائے تو ان پر اختيار ى وقوف كو درك كرنا اور حج كو بجالانا واجب ہے _

مسلئہ ۶۰_معذور نائب كے حج كے كافى نہ ہونے ميں فرق نہيں ہے كہ وہ اجير ہو يا مفت ميں حج كوانجام دے رہا ہو اور كافى نہ ہونے ميں كوئي فرق نہيں ہے كہ خود نائب اپنے معذور ہونے سے جاہل ہو يا منوب عنہ اس سے جاہل ہو اور اسى طرح ہے اگر ان ميں سے كوئي ايك اس بات سے جاہل ہو كہ يہ ايسا عذر ہے كہ جسكے ساتھ نائب بنانا جائز نہيں ہوتا جيسا كہ اس بات سے جاہل ہو كہ مشعر الحرام ميں وقوف اضطرارى پر اكتفا كرنا صحيح نہيں ہے _

مسئلہ ۶۱_ نائب پر واجب ہے كہ وہ تقليد ياا جتہاد كے لحاظ سے اپنے


فريضے پر عمل كرے _

مسئلہ ۶۲_ اگر نائب احرام اور حرم ميں داخل ہونے كے بعد فوت ہو جائے تو يہ منوب عنہ سے كافى ہے اور اگر احرام كے بعد ليكن حرم ميں داخل ہونے سے پہلے فوت ہو تو احوط وجوبى كى بناپركافى نہيں ہے اور اس حكم كے لحاظ سے كوئي فرق نہيں ہے كہ نائب اجير ہو يا مفت ميں كام انجام دے رہا ہو يا اسكى نيابت حجة الاسلام ميں ہو يا كسى اور حج ميں _

مسئلہ ۶۳_ جس شخص نے اپنى طرف سے حجة الاسلام انجام نہيں ديا اسكے لئے احوط استحبابى يہ ہے كہ نيابتى حج كے اعمال مكمل كرنے كے بعد جب تك مكہ ميں ہے اپنے لئے عمرہ مفردہ بجالائے اگر يہ كر سكتا ہو _

مسئلہ ۶۴_ نيابتى حج كے اعمال سے فارغ ہونے كے بعد نائب كيلئے اپنى طرف سے اور غير كى طرف سے طواف كرنا جائز ہے اسى طرح اس كيلئے عمرہ مفردہ بجا لانا بھى جائز ہے _

مسئلہ ۶۵_ جيسا كہ حج كيلئے نائب ميں احوط كى بنا پر ايمان شرط ہے اسى


طرح اعمال حج ميں سے ہر اس كام ميں بھى شرط ہے كہ جس ميں نيابت صحيح ہے جيسے طواف ، رمى ،قرباني_

مسئلہ ۶۶_ نائب پر واجب ہے كہ وہ اعمال حج ميں منوب عنہ كى طرف سے نيابت كا قصد كرے اور اس پر واجب ہے كہ منوب عنہ كى طرف سے طواف النساء كو انجام دے _


باب دوم :

حج و عمرہ كے اعمال كے بارے ميں


حج و عمرہ كى اقسام

گز ر چكا ہے كہ حج كى تين اقسام ہيں حج تمتع اور يہ اس شخص كا فريضہ ہے كہ جسكے اہل مكہ سے اڑتاليس ميل تقريبا نوے كيلوميٹر دور ہوں اور حج قران و افراد ،اور يہ دونوں اس شخص كا فريضہ ہيں جسكے اہل مكہ ميں ہوں يا مذكورہ مسافت سے كَم فاصلے پر ہوں_ حج تمتع ، قران و افراد سے اس بات ميں مختلف ہے كہ يہ ايك عبادت ہے جو عمرہ اور حج سے مركب ہے اور اس ميں عمرہ حج سے پہلے ہوتا ہے اور عمرہ اور حج كے درميان كچھ مدت كا فاصلہ ہوتا ہے كہ جس ميںانسان عمرہ كے احرام سے باہر آجاتا ہے اور جو كچھ مُحرم كيلئے حرام ہوتا ہے حج كا احرام باندھنے سے پہلے اس كيلئے حلال ہو جاتا


ہے اس لئے اسے حج تمتع كا نام دينا مناسب ہے پس عمرہ حج تمتع كى ايك جز ہے اور اس كا نام عمرہ تمتع ہے اور حج دوسرا جز ہے اور ان دونوں كو ايك سال ميں انجام دينا ضرورى ہے _ جبكہ حج افراد اور قران ميں سے ہر ايك ايك عبادت ہے جو فقط حج سے عبارت ہے اور عمرہ ان دونوں سے ايك ، دوسرى مستقل عبادت ہے كہ جسے عمرہ مفردہ كہا جاتا ہے اسى لئے بعض اوقات عمرہ مفردہ ايك سال ميں انجام پاتا ہے اور حج افراد و قران دوسرے سال ميں اور عمرہ ، مفردہ ہو يا تمتع اس كے مشتركہ احكام ہيں كہ جنہيں ہم حج و عمرہ تمتع اور حج قران و افراد ،انكے عمرہ اور ان كے درميان فروق كو بيان كرنے سے پہلے ذكر كرتے ہيں _

چند مسائل:

مسئلہ ۶۷_عمرہ ،حج كى طرح كبھى واجب ہوتا ہے اور كبھى مستحب _


مسئلہ ۶۸_عمرہ بھى حج كى طرح اصل شريعت ميں اور عمر بھر ميں ايك دفعہ اس پر واجب ہوتا ہے كہ جس ميں حج والى استطاعت ہو اور يہ بھى حج كى طرح فوراً واجب ہوتا ہے _ اور اس كے وجوب ميں حج كى استطاعت شرط نہيں ہے بلكہ صرف عمرے كى استطاعت كافى ہے اگر چہ حج كيلئے استطاعت نہ بھى ہو جيسا كہ اس كا عكس بھى اسى طرح ہے پس جو شخص صرف حج كيلئے استطاعت ركھتاہو اس پر حج واجب ہے نہ عمرہ يہ اس شخص كيلئے ہے كہ جس كے اہل مكہ ميںہوں يا مكہ سے اڑتاليس ميل سے كم فاصلہ پر ہوں اور رہے وہ لوگ جو مكہ سے دور ہيں كہ جن كا فريضہ حج تمتع ہے توان ميں حج كى استطاعت سے ہٹ كر صرف عمرہ كى استطاعت متصور نہيں ہے اور اسى طرح اس كا عكس كيونكہ حج تمتع ان دونوں سے مركب ہے اور ان دونوں كا ايك ہى سال ميں اكٹھا واقع ہونا ضرورى ہے _

مسئلہ ۶۹_ مكلف كيلئے مكہ مكرمہ ميں بغير احرام كے داخل ہونا جائز نہيں ہے پس جو شخص حج كے مہينوں كے علاوہ داخل ہونا چاہے اس پر عمرہ مفردہ كا


احرام باندھنا واجب ہے اور اس حكم سے دو مورد مستثنى ہيں _

الف : جس كا كام ايسا ہو كہ اس كا مكہ ميں آنا جانا زيادہ ہے _

ب : جو شخص حج تمتع ياعمرہ مفردہ كے اعمال مكمل كرنے كے بعد مكہ سے خارج ہوجائے تو اس كيلئے سابقہ عمرہ كے اعمال بجالانے سے ايك ماہ تك بغير احرام كے مكہ ميں دوبارہ داخل ہونا جائز ہے _

مسئلہ ۷۰_ حج كى طرح عمرہ كو بھى مكرر كرنا مستحب ہے اور دو عمروں كے درميان كوئي معين فاصلہ كرنا شرط نہيں ہے اگر چہ احوط يہ ہے كہ اگر اپنے لئے دو عمرے بجالائے تو ان كے درميان ايك ماہ كا فاصلہ كرے اور اگر دو شخصوں كى طرف سے ہوں يا ايك اپنى طرف سے اور دوسرا كسى اور كى طرف سے ہو تو مذكورہ فاصلہ معتبر نہيں ہے بنابراين اگر دوسرا عمرہ نيابت كے ساتھ ہو تو نائب كيلئے اس پر اجرت لينا جائز ہے اور يہ منوب عنہ كے واجب عمرہ مفردہ سے كافى ہے اگر اس پر واجب ہو _


حج تمتع اور عمرہ تمتع كى صورت

حج تمتع دو كاموں سے مركب ہے ايك عمرہ اور يہ حج سے پہلے ہوتا ہے اور دوسرا حج اور ہر ايك كے مخصوص اعمال ہيں_

عمرہ تمتع كے اعمال مندرجہ ذيل ہيں _

۱_ كسى ميقات سے احرام باندھنا

۲_ طواف كعبہ

۳_ نماز طواف

۴_ صفا و مرہ كے درميان سعي

۵_ تقصير

حج تمتع كے اعمال مندرجہ ذيل ہيں:

۱_ مكہ مكرمہ سے احرام باندھنا

۲_ نو ذى الحج كے ظہر سے غروب تك عرفات ميں وقوف كرنا

۳ _ دس ذى الحج كى رات سورج كے طلوع ہونے تك مشعر الحرام


ميں وقوف كرنا

۴_ عيد والے دن (دس ذى الحج) جمرة عقبہ كو كنكرياں مارنا

۵_ قرباني

۶_ حلق يا تقصير

۷_ گيارہويں كى رات منى ميں گزارنا

۸_گيارہويں كے دن تينوں جمرات كو كنكرياں مارنا

۹_ بارہ ذى الحج كى رات منى ميں گزارنا

۱۰_ بارہويں كے دن تينوں جمرات كو كنكرياں مارنا

۱۱_ طواف حج

۱۲_ نماز طواف

۱۳_ سعي

۱۴_ طواف النسائ

۱۵_ نماز طواف


حج افراد اور عمرہ مفردہ

صورت كے لحاظ سے حج افراد حج تمتع سے مختلف نہيں ہے مگر يہ كہ قربانى حج تمتع ميں واجب ہے اور حج افراد ميں مستحب ہے _عمرہ مفردہ تو يہ عمرہ تمتع كى طرح ہے مگر بعض امور ميں كہ جنہيں ہم مندرجہ ذيل مسائل كے ضمن ميں بيان كرتے ہيں_

مسئلہ ۷۱_ عمرہ تمتع ميں تقصير بھى ضرورى ہے جبكہ عمرہ مفردہ ميں تقصير اور حلق كے درميان اختيار ہے البتہ يہ مردوں كيلئے ہے ، ليكن عورتوں كيلئے ہر صورت ميں تقصير ہى ضرورى ہے _

مسئلہ ۷۲_ عمرہ تمتع ميں طواف النساء اور اسكى نماز واجب نہيں ہيں اگرچہ احوط يہ ہے كہ طواف النساء اور اسكى نماز كو رجاء كى نيت سے انجام دے ليكن يہ دونوں عمرہ مفردہ ميں واجب ہيں _

مسئلہ ۷۳_ عمرہ تمتع صرف حج كے مہينوں ميں واقع ہو سكتا ہے اور وہ ''شوال ، ذيقعد اور ذى الحج'' ہيں جبكہ عمرہ مفردہ تمام مہينوں ميں ہو سكتا


ہے_

مسئلہ ۷۴_ عمرہ تمتع ميں ضرورى ہے كہ احرام ان مواقيت ميں سے ايك سے باندھا جائے كہ جن كا ذكر آنے والا ہے ليكن عمرہ مفردہ كا ميقات ادنى الحل ہے اس كيلئے جو مكہ كے اندر ہے اگر چہ اس كيلئے ان مواقيت ميں سے ايك سے احرام باندھنا بھى جائز ہے ليكن جو شخص مكہ سے باہر ہے اور عمرہ مفردہ بجا لانا چاہتا ہے وہ انہيں مواقيت ميں سے ايك سے احرام باندھے گا_

حج قران

صورت كے لحاظ سے حج قران حج افراد كى طرح ہے مگر حج قران ميں واجب ہے كہ احرام كے وقت قربانى اپنے ہمراہ ركھے پس اس لئے اس پر اپنى قربانى كو ذبح كرنا واجب ہے_جيسے كہ حج قران ميں احرام تلبيہ كے ساتھ بھى ہو جاتا ہے اور اشعار يا تقليد كے ساتھ بھى جبكہ حج افراد ميں احرام


فقط تلبيہ كے ساتھ ہو سكتا ہے _

حج تمتع كے عمومى احكام :

حج تمتع ميں چند چيزيں شرط ہيں:

پہلى شرط : نيت اور وہ يہ ہے كہ عمرہ كے احرام كے شروع سے ہى حج تمتع كا قصد كرے ورنہ صحيح نہيں ہے _

دوسرى شرط : يہ كہ حج اور عمرہ دونوں حج كے مہينوں ميںہوں

تيسرى شرط : يہ كہ حج اور عمرہ دونوں ايك سال ميں ہوں

چوتھى شرط : يہ كہ عمرہ اور حج دونوں كو ايك شخص اور ايك شخص كى طرف سے انجام دے پس اگر ايك ميت كى طرف سے حج تمتع كيلئے دو شخصوں كو اجير بنايا جائے ايك كو حج كيلئے اور دوسرے كو عمرے كيلئے تو يہ ميت كيلئے كافى نہيں ہے_


مسئلہ ۷۵_ جس شخص كا فريضہ حج تمتع ہے اس كيلئے اختيا ر ى صورت ميںافراد يا قران كى طرف عدول كرنا جائز نہيں ہے_

مسئلہ ۷۶_ جس شخص كا فريضہ حج تمتع ہے اور اسے علم ہے كہ وقت اتنا تنگ ہے كہ عمرہ كو مكمل كركے حج كو درك نہيں كر سكتا چاہے عمرے ميں داخل ہونے سے پہلے يہ علم ركھتا ہو يا اسكے بعد اسے اس كا علم ہو تو اس پر واجب ہے كہ حج تمتع سے حج افراد كى طرف عدول كرے اور اعمال حج كو مكمل كرنے كے بعد عمرہ مفردہ بجا لائے _

مسئلہ ۷۷_ جو عورت حج تمتع بجالانا چاہتى ہے اگر ميقات سے احرام باندھتے وقت حيض كى حالت ميں ہو تو اگر اسے يہ احتمال ہو كہ وہ ايسے وقت ميں پاك ہو جائيگى كہ جس ميں غسل ، طواف ، نماز طواف ، سعى اور تقصير پھر حج كيلئے احرام اور عرفہ والے دن كو زوال سے درك كرنے كى وسعت موجود ہو تو عمرہ تمتع كا احرام باندھے پس اگر ايسے وقت ميں پاك ہو جائے جو عمرہ كو مكمل كرنے اور حج كو درك كرنے كى وسعت ركھتا ہو تو ٹھيك ورنہ


اپنے عمرہ كو حج افراد كى طرف پلٹا لے اور اسكے بعد عمرہ مفردہ بجالائے اور يہى اس كيلئے حج تمتع سے كافى ہے ليكن اگر ميقات سے احرام باندھتے وقت پاك ہو پھر راستے ميں يا مكہ ميں داخل ہونے كے بعد عمرہ كو بجالانے سے پہلے اسے حيض آجائے اور ايسے وقت ميں پاك نہ ہو كہ جس ميں عمرہ كو مكمل كركے حج كو درك كرسكے تو اسے اختيار ہے كہ اپنے عمرہ كو حج افراد كى طرف پلٹا دے اور اسكے بعد عمرہ مفردہ بجا لائے اور يہى اس كيلئے حج تمتع سے كافى ہے يا يہ كہ منى سے پلٹنے تك طواف اور نماز طواف كو بجا نہ لائے اور سعى و تقصير كو بجالائے اور اسكے ذريعے عمرہ كے احرام سے خارج ہو جائے پھر حج تمتع كا احرام باندھ كر عرفہ اور مشعر كو درك كرے اور منى كے اعمال سے فارغ ہونے كے بعد اعمال حج كو مكمل كرنے كيلئے مكہ آئے اور طواف عمرہ اور اسكى نماز كى قضا كرے طواف حج ، اسكى نماز اور سعى كو انجام دينے سے پہلے يا اسكے بعد _اور يہ اس كيلئے حج تمتع سے كافى ہے اوراس پر كوئي اور شے واجب نہيں ہے _


پہلاحصہ :

اعمال عمرہ كے بارے ميں


پہلى فصل :مواقيت

اور يہ وہ مقامات ہيں كہ جنہيں احرام كيلئے معين كيا گيا ہے اور يہ مندرجہ ذيل ہيں :

اول : مسجد شجرہ اور يہ مدينہ منورہ كے قريب ذو الحليفہ كے علاقہ ميں واقع ہے اور يہ اہل مدينہ اور ان لوگوں كا ميقات ہے جو مدينہ كے راستہ حج كرنا چاہتے ہيں_

مسئلہ۸ ۷_ احرام كو مسجد شجرہ سے جحفہ تك موخر كرنا جائز نہيں ہے مگر ضرورت كى خاطر مثلا اگر بيمارى ، كمزورى و غيرہ جيسا كوئي عذر ہو _

مسئلہ ۷۹_ مسجد شجرہ كے باہر سے احرام باندھنا كافى نہيں ہے ہاں ان


تمام جگہوں سے كافى ہے جنہيں مسجد كا حصہ شمار كيا جاتا ہے حتى كہ وہ حصہ جو نيا بنايا گيا ہے _

مسئلہ ۸۰_ عذر ركھنے والى عورت پر واجب ہے كہ مسجد سے عبور كى حالت ميں احرام باندھے البتہ اگر مسجد ميں ٹھہرنا لازم نہ آئے ليكن اگر مسجد ميں ٹھہرنا لازم آئے اگر چہ بھيڑو غيرہ كى وجہ سے اور احرام كو عذر كے دور ہونے تك مؤخر نہ كر سكتى ہو تو اس كيلئے ضرورى ہے كہ وہ جحفہ يااسكے بالمقابل مقام سے احرام باندھے _ البتہ اس كيلئے ميقات سے پہلے كسى بھى معين جگہ سے نذر كے ذريعے احرام باندھنا بھى جائز ہے _

مسئلہ۸۱_ اگر شوہر بيوى كے پاس حاضر نہ ہو تو بيوى كا ميقات سے پہلے احرام باندھنے كى نذر كا صحيح ہونا شوہر كى اجازت كے ساتھ مشروط نہيں ہے ليكن اگر شوہر حاضر ہو تو احوط وجوبى يہ ہے كہ اس سے اجازت حاصل كرے پس اگر اس صورت ميں نذر كرے تو اسكى نذر منعقد نہيں ہوگى _

دوم: وادى عقيق _ يہ اہل عراق و نجد اور جو لوگ عمرہ كيلئے اس سے


گزرتے ہيں ان كا ميقات ہے اور اسكے تين حصے ہيں ''مسلخ'' اور يہ اسكے شروع كے حصے كا نام ہے ''غمرہ'' اور يہ اسكے درميان والے حصے كا نام ہے ''ذات عرق'' اور يہ اسكے آخر والے حصے كا نام ہے اور ان سب مقامات سے احرام كافى ہے _

سوم : جحفہ : اور يہ اہل شام ، مصر ، شمالى افريقہ اور ان لوگوں كا ميقات ہے جو عمرہ كيلئے اس سے گزرتے ہيں _ اور اس ميں موجود مسجد و غيرہ سب مقامات سے احرام باندھنا كافى ہے _

چہارم :يلملم : اور يہ اہل يمن اور ان لوگوں كا ميقات ہے جو اس سے گزرتے ہيں اور يہ ايك پہاڑ كا نام ہے اور اسكے سب حصوں سے احرام باندھنا كافى ہے _

پنجم : قرن المنازل اور يہ اہل طائف اور ان لوگوں كا ميقات ہے جو عمرہ كيلئے اس سے گزرتے ہيں اور اس ميں مسجد و غير مسجدسے احرام باندھنا كافى ہے _


مذكورہ مواقيت كے بالمقابل مقام

جو شخص مذكورہ مواقيت ميں سے كسى سے نہ گزرے اور ايسى جگہ پر پہنچ جائے جو ان ميں سے كسى كے بالمقابل ہو تو وہيں سے احرام باندھے اور بالمقابل سے مراد يہ ہے كہ مكہ مكرمہ كے راستے ميں ايسى جگہ پر پہنچ جائے كہ ميقات اسكے دائيں يا بائيں ہو كہ اگر يہ اس جگہ سے آگے بڑھے تو ميقات اسكے پيچھے قرار پاجائے_

مذكورہ مواقيت وہ ہيں كہ جن سے عمرہ تمتع كرنے والے كيلئے احرام باندھنا ضرورى ہے _

حج تمتع و قران و افراد كے مواقيت مندرجہ ذيل ہيں:

اول : مكہ معظمہ اور يہ حج تمتع كاميقات ہے _

دوم : مكلف كى رہائشے گا ہ _ اور يہ اس شخص كا ميقات ہے كہ جسكى رہائشے گاہ ميقات اور مكہ كے درميان ہے بلكہ يہ اہل مكہ كا بھى ميقات ہے اور ان پر واجب نہيں ہے كہ مذكورہ مواقيت ميں سے كسى ايك پر آئيں _


چند مسائل :

مسئلہ ۸۲ _ اگر ان مواقيت اور انكى بالمقابل جگہ كا علم نہ ہو تو يہ بينہ شرعيہ كے ساتھ ثابت ہو جاتے ہيں يعنى دو عادل گواہ اسكى گواہى دے ديں يا اس شياع كے ساتھ بھى ثابت ہو جاتے ہيں جو موجب اطمينان ہو اور جستجو كركے علم حاصل كرنا واجب نہيں ہے اور اگر نہ علم ہو نہ گواہ اور نہ شياع تو ان مقامات كوجاننے والے شخص كى بات سے حاصل ہونے والا ظن و گمان كافى ہے _

مسئلہ ۸۳ _ ميقات سے پہلے احرام باندھنا صحيح نہيں ہے مگر يہ كہ ميقات سے پہلے كسى معين جگہ سے احرام باندھنے كى نذر كرلے جيسے كہ مدينہ يا اپنے شہر سے احرام باندھنے كى نذر كرے تو اس كا احرام صحيح ہے _

مسئلہ ۸۴ _ اگر جان بوجھ كر يا غفلت يا لا علمى كى وجہ سے بغير احرام كے ميقات سے گزر جائے تو اس پر واجب ہے كہ احرام كيلئے ميقات كى طرف پلٹے _


مسئلہ ۸۵_ اگر غفلت ، نسيان يا مسئلہ كا علم نہ ہونے كى وجہ سے ميقات سے آگے گزر جائے اور وقت كى تنگى يا كسى اور عذر كى وجہ سے ميقات تك پلٹ بھى نہ سكتا ہو ليكن ابھى تك حرم ميں داخل نہ ہوا ہو تو احوط وجوبى يہ ہے كہ جس قدر ممكن ہو ميقات كى سمت كى طرف پلٹے اور وہاں سے احرام باندھے اور اگر حرم ميں داخل ہو چكا ہو تواگر اس سے باہر نكلنا ممكن ہو تو اس پر يہ واجب ہے اور حرم كے باہر سے احرام باندھے گا اور اگر حرم سے باہرنكلنا ممكن نہ ہو تو حرم ميں جس جگہ ہے وہيں سے احرام باندھے _

مسئلہ ۸۶_ اپنے اختيار كے ساتھ احرام كو ميقات سے مؤخر كرنا جائز نہيں ہے چاہے اس سے آگے دوسرا ميقات ہو يا نہ _

مسئلہ ۸۷ _ جس شخص كو مذكورہ مواقيت ميں سے كسى ايك سے احرام باندھنے سے منع كرديا جائے تو اس كيلئے دوسرے ميقات سے احرام باندھنا جائز ہے _

مسئلہ ۸۸_ جدہ مواقيت ميں سے نہيں ہے اور نہ يہ مواقيت كے


بالمقابل ہے لذا اختيار ى صورت ميں جدہ سے احرام باندھنا صحيح نہيں ہے بلكہ احرام باندھنے كيلئے كسى ميقات كى طرف جانا ضرورى ہے مگر ي ۴ہ كہ اس پر قدرت نہ ركھتا ہو تو پھر جدہ سے نذر كركے احرام باندھے_

مسئلہ ۸۹_ اگر ميقات سے آگے گزر جانے كے بعد مُحرم متوجہ ہو كہ اس نے صحيح احرام نہيں باندھا پس اگر ميقات تك پلٹ سكتا ہو تو يہ واجب ہے اور اگر نہ پلٹ سكتا ہو مگر مكہ مكرمہ كے راستے سے تو '' ادنى الحل'' سے عمرہ مفردہ كا احرام باندھ كر مكہ ميں داخل ہو اور اعمال بجا لانے كے بعد عمرہ تمتع كے احرام كيلئے ، كسى ميقات پر جائے _

مسئلہ ۹۰_ ظاہر يہ ہے كہ اگر حج كے فوت نہ ہونے كا اطمينان ہو تو عمرہ تمتع كے احرام سے خارج ہونے كے بعد اور حج بجا لانے سے پہلے مكہ مكرمہ سے نكلنا جائز ہے اگر چہ احوط استحبابى يہ ہے كہ ضرورت و حاجت كے بغير نہ نكلے جيسے كہ اس صورت ميں احوط يہ ہے كہ نكلنے سے پہلے مكہ ميں حج كا احرام باندھ لے مگر يہ كہ اس كام ميں اس كيلئے حرج ہو تو پھر اپنى


احتياج كيلئے بغير احرام كے باہر جا سكتا ہے اور جو شخص اس احتياط پر عمل كرنا چاہے اور ايك يا چند مرتبہ مكہ سے نكلنے پر مجبور ہو جيسے كاروانوں كے خدام وغيرہ تو وہ مكہ مكرمہ ميں داخل ہونے كيلئے پہلے عمرہ مفردہ كا احرام باندھ ليں اور عمرہ تمتع كو اس وقت تك مؤخر كرديں كہ جس ميں اعمال حج سے پہلے عمرہ تمتع كو انجام دينا ممكن ہو پھر ميقات سے عمرہ تمتع كيلئے احرام باندھيں پس جب عمرہ سے فارغ ہو جائيں تو مكہ سے حج كيلئے احرام باندھيں _

مسلئہ ۹۱_ عمرہ تمتع اور حج كے درميان مكہ سے خارج ہونے كا معيار موجودہ شہر مكہ سے خارج ہونا ہے پس ايسى جگہ جاناكہ جو اس وقت مكہ مكرمہ كا حصہ شمار ہوتى ہے اگر چہ ماضى ميں وہ مكہ سے باہر تھى مكہ سے خارج ہونا شمار نہيں ہو گا _

مسئلہ ۹۲_ اگر عمرہ تمتع كو انجام دينے كے بعد مكہ سے بغير احرام كے باہر چلا جائے تو اگر اسى مہينے ميں واپس پلٹ آئے كہ جس ميں اس نے عمرہ كو انجام ديا ہے تو بغير احرام كے واپس پلٹے ليكن اگر عمرہ كرنے والے مہينے كے


غير ميں پلٹے جيسے كہ ذيقعد ميں عمرہ بجالاكر باہر چلا جائے پھر ذى الحج ميں واپس پلٹے تو اس پر واجب ہے كہ مكہ ميں داخل ہونے كيلئے عمرہ كا احرام باندھے اور حج كے ساتھ متصل عمرہ تمتع ، دوسرا عمرہ ہو گا _

مسئلہ ۹۳_ احوط وجوبى يہ ہے كہ عمرہ تمتع اور حج كے درميان عمرہ مفردہ كو انجام نہ دے ليكن اگر بجا لائے تو اس سے اسكے سابقہ عمرہ كو كوئي نقصان نہيں ہوگا اور اس كے حج ميں بھى كوئي اشكال نہيں ہے _


دوسرى فصل :احرام

مسئلہ ۹۴_ احرام كے مسائل كى چار اقسام ہيں:

۱_ وہ اعمال جو احرام كى حالت ميں يا احرام كيلئے واجب ہيں_

۲_ وہ اعمال جواحرام كى حالت ميں مستحب ہيں_

۳_ وہ اعمال جو احرام كى حالت ميں حرام ہيں _

۴_ وہ اعمال جو احرام كى حالت ميں مكروہ ہيں_

۱_ احرام كے واجبات

اول : نيت

اور اس ميں چند امور معتبر ہيں :


الف : قصد،يعنى حج يا عمرہ كے اعمال كے بجالانے كا قصد كرنا پس جو شخص مثلاً عمرہ تمتع كا احرام باندھنا چاہے وہ احرام كے وقت عمرہ تمتع كو انجام دينے كا قصد كرے_

مسئلہ ۹۵_ قصد ميں اعمال كى تفصيلى صورت كو دل سے گزارنا معتبر نہيں ہے بلكہ اجمالى صورت كافى ہے پس اس كيلئے جائز ہے كہ اجمالى طور پر واجب اعمال كو انجام دينے كا قصد كرے پھر ان ميں سے ايك ايك كو ترتيب كے ساتھ بجالائے _

مسئلہ ۹۶_ احرام كى صحت ميں محرمات احرام كو ترك كرنے كا قصد كرنا معتبر نہيں ہے بلكہ بعض محرمات كے ارتكاب كا عزم بھى اسكى صحت كو نقصان نہيں پہنچاتا ہاں ان محرمات كے انجام دينے كا قصد كرنا كہ جن سے حج يا عمرہ باطل ہو جاتا ہے جيسے جماع _ بعض موارد ميں _تو وہ اعمال كے انجام دينے كے قصد كے ساتھ جمع نہيں ہو سكتا بلكہ يہ احرام كے قصد كے منافى ہے_


ب : قربت اور اللہ تعالى كيلئے اخلاص ،كيونكہ عمرہ ، حج اور ان كا ہر ہر عمل عبادت ہے پس ہر ايك كو صحيح طور پر انجام دينے كيلئے ''قربةً الى اللہ ''كا قصد كرنا ضرورى ہے _

ج _ اس بات كى تعيين كہ احرام عمرہ كيلئے ہے يا حج كيلئے اور پھر يہ كہ حج ، حج تمتع ہے يا قران يا افراد اور يہ كہ اس كا اپنا ہے يا كسى اور كى طرف سے اور يہ كہ يہ حجة الاسلام ہے يا نذر كا حج يا مستحبى حج _

مسئلہ ۹۷_ اگر مسئلہ سے لاعلمى يا غفلت كى وجہ سے عمرہ كے بدلے ميں حج كى نيت كرلے تو اس كا احرام صحيح ہے مثلاً اگر عمرہ تمتع كيلئے احرام باندھتے وقت كہے '' حج تمتع كيلئے احرام باندھ رہا ہو ں ''قربةً الى اللہ '' ليكن اسى عمل كا قصد ركھتا ہو جسے لوگ انجام دے رہے ہيں يہ سمجھتے ہوئے كہ اس عمل كا نام حج ہے تو اس كا احرام صحيح ہے _

مسئلہ ۹۸_ نيت ميں زبان سے بولنا يا دل ميں گزارنا شرط نہيں ہے بلكہ صرف فعل كے عزم سے نيت ہو جاتى ہے_


مسئلہ ۹۹_ نيت كا احرام كے ہمراہ ہونا شرط ہے پس سابقہ نيت كافى نہيں ہے مگر يہ كہ احرام كے وقت تك مستمر رہے _

دوم : تلبيہ

مسئلہ ۱۰۰_ احرام كى حالت ميں تلبيہ ايسے ہى ہے جيسے نماز ميں تكبيرة الاحرام پس جب حاجى تلبيہ كہہ دے تو مُحرم ہو جائيگا اور عمرہ تمتع كے اعمال شروع ہو جائيں گے اور يہ تلبيہ در حقيقت خدائے رحيم كى طرف سے مكلفين كو حج كى دعوت ، كا قبول كرنا ہے اسى لئے اسے پورے خشوع و خضوع كے ساتھ بجالانا چاہيے اور تلبيہ كى صورت على الاصح يوں ہے _ ''لَبَّيكَ اَللّهُمَّ لَبَّيكَ لَبَّيكَ لَا شَريكَ لَكَ لَبَّيكَ ''

اگر اس مقدار پر اكتفا كرے تو اس كا احرام صحيح ہے اور احوط استحبابى يہ ہے كہ مذكورہ چا رتلبيوں كے بعديوں كہے : ''انَّ الْحَمْدَ وَ النّعْمَةَ لَكَ وَ الْمُلْكَ لَا شَريكَ لَكَ لَبَّيكَ''


اور اگر مزيد احتياط كرنا چاہے تو يہ بھى كہے :

''لَبَّيْكَ اللّهُمَّ لَبَّيْكَ انَّ الْحَمْدَ وَ النّعْمَةَ لَكَ وَ الْمُلْكَ لَا شَريكَ لَكَ لَبَّيكَ

اور مستحب ہے كہ اسكے ساتھ ان جملات كا بھى اضافہ كرے جو معتبر روايت ميں وارد ہوئے ہيں :

لَبَّيْكَ ذَا الْمَعارج لَبَّيْك لَبَّيْكَ داعياً الى دار السَّلام لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ غَفَّارَ الذُنُوب لَبَّيْكَ لَبَّيكَ ا َهْلَ التَّلْبيَة لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ ذَا الْجَلال وَالإكْرام لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ تُبْديُ ، وَالْمَعادُ إلَيْكَ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ تَسْتَغْنى وَ يُفْتَقَرُ إلَيْكَ لَبَّيْك، لَبَّيْكَ مَرْهُوباً وَ مَرْغُوباً إلَيْكَ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ إلهَ الْحَقّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ ذَا النَّعْمَائ وَالْفَضْل: الْحَسَن الْجَميل لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ كَشّافَ الْكُرَب الْعظام لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ عَبْدُكَ وَ ابْنُ عَبْدَيْكَ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ يا كَريمُ لَبَّيْكَ

مسئلہ ۱۰۱_ ايك مرتبہ تلبيہ كہنا واجب ہے ليكن جتنا ممكن ہو اس كا تكر ار كرنا مستحب ہے _


مسئلہ ۱۰۲_ تلبيہ كى واجب مقدار كو عربى قواعد كے مطابق صحيح طور پر ادا كرنا واجب ہے پس صحيح طورپر قادر ہو تے ہوئے اگر چہ سيكھ كر يا كسى دوسرے كے دہروانے سے _غلط كافى نہيں ہے پس اگر وقت كى تنگى كى وجہ سے سيكھنے پر قادر نہ ہو اور كسى دوسرے كے دہروانے كے ساتھ بھى صحيح طريقے سے پڑھنے پر قدرت نہ ركھتا ہو تو جس طريقے سے ممكن ہو ادا كرے اور احوط يہ ہے كہ اسكے ساتھ ساتھ نائب بھى بنائے_

مسئلہ ۱۰۳_ جو شخص جان بوجھ كر تلبيہ كو ترك كردے تو اس كا حكم اس شخص والا حكم ہے جو جان بوجھ كر ميقات سے احرام كو ترك كردے جو كہ گزرچكا ہے _

مسئلہ ۱۰۴_ جو شخص تلبيہ كو صحيح طور پر انجام نہ دے اور عذر بھى نہ ركھتا ہو تو اس كا حكم وہى ہے جو جان بوجھ كر تلبيہ كو ترك كرنے كا حكم ہے _

مسئلہ ۱۰۵_ مكہ مكرمہ كے گھروں كو ديكھتے ہى _ اگر چہ ان نئے گھروں كو جو اس وقت مكہ كا حصہ شمار ہوتے ہيں _ تلبيہ كو ترك كردينا واجب ہے على الاحوط


اور اسى طرح روز عرفہ كے زوال كے وقت تلبيہ كو روك دينا واجب ہے _

مسئلہ ۱۰۶_ حج تمتع ، عمرہ تمتع ، حج افراد اور عمرہ مفردہ كيلئے احرام منعقد نہيں ہو سكتا مگر تلبيہ كے ساتھ ليكن حج قران كيلئے احرام تلبيہ كے ساتھ بھى ہو سكتا ہے اور اشعار يا تقليد كے ساتھ بھى اور اشعار صرف قربانى كے اونٹ كے ساتھ مختص ہے ليكن تقليد اونٹ كو بھى شامل ہے اور قربانى كے ديگر جانوروں كو بھى _

مسلئہ ۱۰۷_ اشعار ہے اونٹ كى كہان كے اگلے حصے ميں نيزہ مار كر اسے خون كے ساتھ لتھيڑنا تا كہ پتا چلے كہ يہ قربانى ہے اور تقليد يہ ہے كہ قربانى كى گردن ميں دھاگہ يا جوتا لٹكا دياجائے تا كہ پتا چلے كہ يہ قربانى ہے_

سوم : دو كپڑوں كا پہننا

اور يہ تہبند اور چادر ہيں پس محرم پر جس لباس كا پہننا حرام ہے اسے اتار كر انہيں پہن لے گا پہلے تہبند باندھ كر دوسرے كپڑے كو شانے پر ڈال


لے گا _

مسئلہ ۱۰۸_ احوط وجوبى يہ ہے كہ دونوں كپڑوں كو احرام اور تلبيہ كى نيت سے پہلے پہن لے _

مسئلہ ۱۰۹_ تہبند ميں شرط نہيں ہے كہ وہ ناف اور گھٹنوں كو چھپانے والا ہو بلكہ اس كا متعارف صورت ميں ہونا كافى ہے _

مسئلہ ۱۱۰_ تہبند كا گردن پر باندھنا جائز نہيں ہے ليكن اسكے بكسوا (پن) اورسنگ و غيرہ كے ساتھ باندھنے سے كوئي مانع نہيں ہے اسى طرح اسے دھاگے كے ساتھ باندھنے سے بھى كوئي مانع نہيں ہے _ (اگر چادر كے اگلے حصے كو باندھنا متعارف ہو) اسى طرح اسے سوئي اور پن كے ساتھ باندھنے سے بھى كوئي مانع نہيں ہے _

مسئلہ ۱۱۱_ احوط وجوبى يہ ہے كہ دونوں كپڑوں كو قربةًالى اللہ كے قصد سے پہنے _

مسئلہ ۱۱۲_ ان دو كپڑوں ميں وہ سب شرائط معتبر ہيں جو نمازى كے


لباس ميں معتبر ہيں پس خالص ريشم، حرام گوشت جانور سے بنا يا گيا ، غصبى اور اس نجاست كے ساتھ نجس شدہ لباس كافى نہيں ہے كہ جو نماز ميں معاف نہيں ہے _

مسئلہ ۱۱۳_ تہبند ميں شرط ہے كہ اس سے جلد نظر نہ آئے ليكن چادر ميں يہ شرط نہيں ہے جبتك چادر كے نام سے خارج نہ ہو _

مسئلہ ۱۱۴_ دو كپڑوں كے پہننے كا وجوب مرد كے ساتھ مختص ہے اور عورت كيلئے اپنے كپڑوں ميں احرام باندھنا جائز ہے چاہے وہ سلے ہوئے ہوں يا نہ ،البتہ نمازى كے لباس كے گذشتہ شرائط كى رعايت كرنے كے ساتھ _

مسئلہ ۱۱۵_ شرط ہے كہ عورت كے احرام كا لباس خالص ريشم كا نہ ہو _

مسئلہ ۱۱۶_ دونوں كپڑوں ميں يہ شرط نہيں ہے كہ وہ بُنے ہوئے ہوں_ اور نہ بُنے ہوئے ميں يہ شرط ہے كہ وہ كاٹن يا اُون و غيرہ كا ہو بلكہ چمڑے ، نائلون يا پلاسٹك كے لباس ميں بھى احرام باندھنا كافى ہے البتہ اگر ان پر


كپڑا ہونا صادق آئے اور ان كا پہننا متعارف ہو اسى طرح نمدے و غيرہ ميں احرام باندھنے سے بھى كوئي مانع نہيں ہے _

مسئلہ ۱۱۷_ اگرا حرام باندھنے كے ارادے كے وقت جان بوجھ كرسلا ہوا لباس نہ اتارے تو اسكے احرام كا صحيح ہونا اشكال سے خالى نہيں ہے پس احوط وجوبى يہ ہے كہ اسے اتارنے كے بعد دوبارہ نيت كرے اور تلبيہ كہے_

مسئلہ ۱۱۸_ اگر سردى و غيرہ كى وجہ سے سلا ہوا لباس پہننے پر مجبور ہو تو قميص و غيرہ جيسے رائج لباس سے استفادہ كرنا جائز ہے ليكن اس كا پہننا جائز نہيں ہے بلكہ اسكے اگلے اور پچھلے حصے يا اوپرى اور نچلے حصے كو الٹا كركے اپنے اوپر اوڑھ لے _

مسئلہ ۱۱۹_ محرم كيلئے حمام ميں جانے ، تبديل كرنے يا دھونے و غيرہ كيلئے احرام كے كپڑوں كا اتارنا جائز ہے _

مسئلہ ۱۲۰_ محرم كيلئے سردى و غيرہ سے بچنے كيلئے دوسے زيادہ كپڑوں كا


اوڑھنا جائز ہے پس دو يا زيادہ كپڑوں كو اپنے شانوں كے اوپر يا كمركے ارد گرد اوڑھ لے _

مسئلہ ۱۲۱_ اگر احرام كا لباس نجس ہوجائے تو احوط وجوبى يہ ہے كہ اسے پاك كرے يا تبديل كرے _

مسئلہ ۱۲۲_ احرام كى حالت ميں حدث اصغر يا اكبر سے پاك ہونا شرط نہيں ہے پس جنابت يا حيض كى حالت ميں احرام باندھنا جائز ہے ہاں احرام سے پہلے غسل كرنا مستحب مؤكد ہے اور اس مستحب غسل كو غسل احرام كہاجاتا ہے اور احوط يہ ہے كہ اسے تر ك نہ كرے_

۲_ احرام كے مستحبات

مسئلہ ۱۲۳_ مستحب ہے احرام سے پہلے بدن كا پاك ہونا ،اضافى بالوں كا صاف كرنا ،ناخن كاٹنا _ نيز مستحب ہے مسواك كرنا اور مستحب ہے احرام سے پہلے غسل كرنا ، ميقات ميں يا ميقات تك پہنچنے سے پہلے_ مثلاً مدينہ


ميں _ اور ايك قول كے مطابق احوط يہ ہے كہ اس غسل كو ترك نہ كيا جائے اور مستحب ہے كہ نماز ظہر يا كسى اور فريضہ نماز يا دوركعت نافلہ نماز كے بعد احرام باندھے بعض احاديث ميں چھ ركعت مستحب نماز وارد ہوئي ہے اور اسكى زيادہ فضيلت ہے اور ذيقعد كى پہلى تاريخ سے اپنے سر اورداڑھى كے بالوں كو بڑھانا بھى مستحب ہے _

۳_ احرام كے مكروہات

مسئلہ ۱۲۴_ سياہ ،ميلے كچيلے اور دھارى دار كپڑے ميں احرام باندھنا مكروہ ہے اور بہتر يہ ہے كہ احرام كے لباس كا رنگ سفيد ہو اور زرد بستر يا تكيے پر سونا مكروہ ہے اسى طرح احرام سے پہلے مہندى لگانا مكروہ ہے البتہ اگر اس كا رنگ احرام كى حالت ميں بھى باقى رہے _اگر اسے كوئي پكارے تو ''لبيك'' كے ساتھ جواب دينا مكروہ ہے اور حمام ميں داخل ہونا اور بدن كو تھيلى و غيرہ كے ساتھ دھونا بھى مكروہ ہے _


۴_ احرام كے محرمات

مسئلہ ۱۲۵_ احرام كے شروع سے لے كر جبتك احرام ميں ہے محرم كيلئے چند چيزوں سے اجتناب كرنا واجب ہے _ ان چيزوں كو '' محرمات احرام '' كہا جاتا ہے _

مسئلہ ۱۲۶_ محرمات احرام بائيس چيزيں ہيں _ان ميں سے بعض صرف مرد پر حرام ہيں _ پہلے ہم انہيں اجمالى طور پر ذكر كرتے ہيں پھر ان ميں سے ہر ايك كو تفصيل كے ساتھ بيان كريں گے اور ان ميں سے ہر ايك پر مترتب ہونے والے احكام كو بيان كريں گے_

احرام كے محرمات مندرجہ ذيل ہيں:

۱_ سلے ہوئے لباس كا پہننا

۲_ ايسى چيز كا پہننا جو پاؤں كے اوپر والے سارے حصے كو چھپالے

۳_ مرد كا اپنے سر كو اور عورت كا اپنے چہرے كو ڈھانپنا

۴_ سر پر سايہ كرنا


۵_ خوشبو كا استعمال كرنا

۶_ آئينے ميں ديكھنا

۷_ مہندى كا استعمال كرنا

۸_ بدن كو تيل لگانا

۹_ بدن كے بالوں كو زائل كرنا

۱۰_ سرمہ ڈالنا

۱۱_ ناخن كاٹنا

۱۲_ انگوٹھى پہننا

۱۳_ بدن سے خون نكالنا

۱۴_ فسوق ( يعنى جھوٹ بولنا ، گالى دينا ، فخر كرنا)

۱۵_جدال جيسے ''لا واللہ _ بلى واللہ ''كہنا

۱۶_ حشرات بدن كومارنا

۱۷_ حرم كے درختوں اور پودوں كواكھيڑنا

۱۸_ اسلحہ اٹھانا


۱۹_ خشكى كا شكار كرنا

۲۰_ جماع كرنا اور شہوت كو بھڑ كانے والا ہر كام جيسے شہوت كے ساتھ

ديكھنا بوسہ لينا اور چھونا

۲۱_نكاح كرنا

۲۲_استمنا كرنا

مسئلہ ۱۲۷_ ان ميں سے بعض محرمات ويسے بھى حرام ہيں اگر چہ محرم نہ ہو ليكن احرام كى حالت ميں ان كاگناہ زيادہ ہے_

محرمات احرام كے احكام :

۱_ سلے ہوئے لباس كا پہننا

مسئلہ ۱۲۸_ احرام كى حالت ميں مردپر سلے ہوئے كپڑوں كا پہننا حرام ہے اور اس سے مراد ہر وہ لباس ہے كہ جس ميں گردن ، ہاتھ يا پاؤں داخل


ہو جائيں جيسے قميص، شلوار ، كوٹ ، جيكٹ،نيچے كا لباس ، عبا اور قبا و غيرہ اور اسى طرح بٹن لگے ہوئے كپڑے_

مسئلہ ۱۲۹_ سابقہ مسئلہ كے موضوع كے بارے ميں فرق نہيں ہے كہ وہ لباس سلا ہواہو يابُنا ہوا يا انكى مثل _

مسئلہ ۱۳۰_ كمربند ،و ہ تھيلى كہ جس ميں پيسے ركھے جاتے ہيں اور گھڑى كے پٹے و غيرہ كے پہننے ميںكوئي اشكال نہيں ہے كہ جنہيں لباس شمار نہيں كياجاتا اگر چہ يہ سلے ہوئے ہوں_

مسئلہ ۱۳۱: سلے ہوئے بستر يا اس لباس پر بيٹھنے اور سونے سے كوئي مانع نہيں ہے كہ جس كا پہننا حرام ہے جيسے كہ انكا بستر بنانے سے بھى كوئي مانع نہيں ہے_

مسئلہ۱۳۲_ لحاف اور استرو غيرہ كوشانے پر ركھنے ميں كوئي اشكال نہيں ہے اگر چہ اس كے اطراف سلے ہوئے ہوں جيسے كہ احرام كے كپڑوں كے اطراف كے سلے ہوئے ہونے سے بھى كوئي مانع نہيں ہے _


مسئلہ ۱۳۳_ اگر جان بوجھ كر سلا ہوا لباس پہنے تو ايك بكرے كا كفارہ دينا واجب ہے اور اگر سلے ہوئے متعد د كپڑے پہنے جيسے پينٹ اور كوٹ پہنے يا قميص اور اندرونى لباس پہنے تو اس پر ہر ايك كيلئے الگ كفارہ ہو گا _

مسئلہ ۱۳۴_ اگر سردى و غيرہ كى وجہ سے ان كپڑوں كو پہننے پر مجبور ہوجائے كہ جنہيں پہننا حرام ہے تو گناہ نہيں ہے ليكن احوط يہ ہے كہ ايك بكرا كفارے ميں دے _

مسئلہ ۱۳۵_ عورتوں كيلئے ہر قسم كاسلا ہوالباس پہننا جائز ہے اور اس ميں كفارہ نہيں ہے ہاںان كيلئے دستانے پہننا جائز نہيں ہے_

۲_ اس چيز كا پہننا جو پاؤں كے اوپر والے پورے حصے كو چھپالے_

مسئلہ ۱۳۶_ مرد پر احرام كى حالت ميں موزوں اور جوراب كا پہننا حرام ہے اور احوط وجوبى ہر اس چيز كے پہننے سے اجتناب كرنا ہے جو پاؤں


كے اوپر والے پورے حصے كو چھپالے جيسے جو تا اور موزہ و غيرہ _

مسئلہ ۱۳۷_ اس چوڑى پٹى والے جوتے كے پہننے ميں كوئي اشكال نہيں ہے كہ جو پاؤں كے پورے اوپر والے حصے كو نہيں ڈھانپتا _

مسئلہ۱۳۸_ بيٹھنے يا سونے كى حالت ميں پاؤںپر لحاف و غيرہ كے ركھنے ميں كوئي اشكال نہيں ہے اسى طرح اگر احرام كا لباس پاؤں پر آپڑے تو بھى اشكال نہيں ہے _

مسئلہ۱۳۹_ اگر محرم ايسے جوتے و غيرہ كو پہننے پر مجبور ہو كہ جو پاؤں كے پورے اوپر والے حصے كو ڈھانپ ليتا ہے تو اس كيلئے يہ جائز ہے ليكن اس حالت ميں احوط وجوبى يہ ہے كہ اسكے اوپر والے حصے كو چيردے_

مسئلہ ۱۴۰_ اگر گذشتہ مسئلہ ميں مذكور موزہ اور جوراب و غيرہ پہنے تو كفارہ نہيں ہے اگر چہ جوراب كے سلسلے ميں احوط استحبابى ايك بكرے كا كفارہ ديناہے _

مسئلہ ۱۴۱_مذكورہ حكم ( موزے اور جوراب و غيرہ كے پہننے كى حرمت )


مردوں كے ساتھ مختص ہے ليكن عورتوں كيلئے بھى احوط استحبابى اسكى رعايت كرنا ہے _

۳_ مرد كا اپنے سر اور عورت كا اپنے چہرے كو ڈھا نپنا

مسئلہ ۱۴۲_ مرد كيلئے ٹوپى ، عمامے ، رومال اور توليے وغيرہ كے ساتھ اپنے سر كو ڈھانپنا جائز نہيں ہے_

مسئلہ ۱۴۳_ احوط وجوبى يہ ہے كہ مرد اپنے سر كے اوپر كوئي ايسى چيز نہ ركھے اور نہ لگائے جو اسكے سر كو ڈھانپ لے جيسے مہندى ،صابون كى جھاگ يا اپنے سر كے اوپر سامان اٹھانا و غيرہ _

مسئلہ ۱۴۴_ كان ،سر كا حصہ ہيں پس مرد كيلئے احرام كى حالت ميں انہيں ڈھانپنا جائز نہيں ہے _

مسئلہ ۱۴۵_سركے بعض حصے كو اس طرح ڈھانپنا كہ اسے عرف ميں سر كا ڈھانپنا كہا جائے جائز نہيں ہے جيسے ايك چھوٹى سى ٹوپى اپنے سركے


درميان ميں ركھے ورنہ كوئي اشكال نہيں ہے جيسے قرآن و غيرہ كو اپنے سركے اوپر ركھے يا اپنے سركے بعض حصے كو بالتدريج تو ليے كے ساتھ خشك كرے اگر چہ احوط اس سے بھى اجتناب كرنا ہے _

مسئلہ ۱۴۶_ مُحرم كيلئے اپنے سر كو پانى ميں ڈبونا جائز نہيں ہے اور ظاہر يہ ہے كہ اس مسئلہ ميں مرد اور عورت كے درميان فرق نہيں ہے ليكن اگر ڈبوئے تو كفارہ نہيں ہے _

مسئلہ ۱۴۷_ احوط وجوبى كى بناپر سر كو ڈھانپنے كا كفارہ ايك بكرى ہے _

مسئلہ ۱۴۸_ اگر غفلت، بھول كر يا لا علمى كى وجہ سے سر كو ڈھانپے تو كفارہ نہيں ہے _

مسئلہ ۱۴۹_عورتوں كيلئے احرام كى حالت ميں اس طرح چہرے كو ڈھانپنا جائز نہيں ہے كہ جيسے وہ حجاب يا چہرے كو چھپانے كيلئے كرتى ہيں _ اس بناپر چہرے كے بعض حصے كو ڈھانپنا كہ جس پر چہرے كا ڈھانپناصدق كرے جيسے پردے يا چھپانے كيلئے رخساروں كو ناك ، منہ اور ٹھوڑى


سميت ڈھانپنا تو يہ پورے چہرے كو ڈھانپنے كى طرح ہے پس يہ بھى جائز نہيں ہے _

مسئلہ ۱۵۰_ احرام كى حالت ميں عورتوں كيلئے ماسك كا استعمال جائز ہے _

مسئلہ ۱۵۱_ چہرے كے اوپر ، نيچے يا دونوں اطراف كو اتنى مقدار ڈھانپنا كہ جتنا رائج گھونگھٹ كے ذريعے ہوتا ہے اور جس طرح عورتيں نماز كے وقت سر كوڈھانپنے كيلئے كرتى ہيں كہ جس پر چہرے كا ڈھانپنا صادق نہيں آتا اشكال نہيں ركھتا چاہے يہ نماز ميں ہو يا غير نماز ميں _

مسئلہ ۱۵۲_ چہرے كو پنكھے و غيرہ ( جيسے رسالہ ، كاغذ) كے ساتھ ڈھانپنا حرام ہے ہاں چہرے پر ہاتھ ركھنے ميں كوئي اشكال نہيں ہے _

مسئلہ ۱۵۳_ محرم عورت كيلے اپنى چادر كو اپنے چہرے پر اس طرح ڈالنا جائز ہے كہ وہ اسكے ناك كے اوپر والے كنارے كے بالمقابل تك اسكے چہرے كے بعض حصے اور اسكى پيشانى كو ڈھانپ لے ليكن احوط اس سے


اجتناب كرنا ہے اگر اجنبى كے ديكھنے كى جگہ ميں نہ ہو _

مسئلہ ۱۵۴_ سابقہ مسئلہ ميں احوط يہ ہے كہ مذكورہ پردے كو اس طرح نہ چھوڑدے كہ وہ اسكے چہرے كو چھورہا ہو _

مسئلہ ۱۵۵_ چہرے كو ڈھانپنے ميں كفارہ نہيں ہوتا اگر چہ يہ احوط ہے_

۴_ مردوں كيلئے سايہ كرنا _

مسئلہ ۱۵۶ _ مرد كيلئے احرام كى حالت ميں چلتے ہوئے اور منزليں طے كرتے ہوئے ( جيسے ميقات اور مكہ كے درميان چلنا اور مكہ و عرفات كے درميان چلنا و غيرہ) سايہ كرنا جائز نہيں ہے ہاں اگر راستے ميں كہيں رك جائے يا منزل مقصود تك پہنچ جائے جيسے گھر يا ريسٹورينٹ ميں داخل ہوجائے تو سايہ كرنے ميں كوئي اشكال نہيں ہے پس سفر كے دوران چھت والى گاڑى ميں سوار ہونا جائز نہيں ہے _

مسئلہ ۱۵۷_ احوط و جوبى يہ ہے كہ محرم مكہ پہنچنے كے بعد اور اعمال عمرہ كو


بجالانے سے پہلے متحرك سائے سے اجتناب كرے جيسے چھت والى گاڑى ميں سوار ہونا يا چھترى كا استعمال كرنا اور اسى طرح حج كا احرام باندھنے كے بعد عرفات اور مزدلفہ كى طرف جاتے ہوئے البتہ اگر دن كے وقت سفر كرے اور مزدلفہ سے منى كى طرف جاتے ہوئے اور اسى طرح عرفات اور منى كے اندر چلتے ہوئے _

مسئلہ ۱۵۸_ سابقہ دومسئلوں ميں مذكور حكم دن ميں سايہ كرنے كے ساتھ مختص ہے بنابراين رات كے وقت چھت والى گاڑى ميں سوار ہونے سے كوئي مانع نہيں ہے اگر چہ احتياط يہ ہے كہ سايہ سے استفادہ نہ كرے_

مسئلہ ۱۵۹: بارانى اور ٹھنڈى راتوں ميں احوط يہ ہے كہ چھت والى گاڑى و غيرہ ميں سوار ہوكر اپنے اوپرسايہ نہ كرے_

مسئلہ ۱۶۰_ ديوار، درخت اور ان جيسے سايہ سے استفادہ كرنے ميں كوئي اشكال نہيں ہے حتى كہ دن كے دوران بھى اسى طرح ثابت سايہ جيسے سرنگ اور پُل كے نيچے سے عبور كرنا _


مسئلہ ۱۶۱_ محرم پر سايہ سے استفادہ كرنے كى حرمت مردوں كے ساتھ مختص ہے پس عورتوں كيلئے يہ ہر صورت ميں جائز ہے _

مسئلہ ۱۶۲_ سايہ كرنے كا كفارہ ايك بكرى ہے _

مسئلہ ۱۶۳_ اگر بيمارى يا كسى اور عذر كى وجہ سے سايہ كرنے پر مجبور ہو تو ايسا كرنا جائز ہے ليكن ايك بكرى كفارہ ميں دينا واجب ہے _

مسئلہ ۱۶۴_ احرام ميںسايہ كرنے كا كفار ہ ايك مرتبہ واجب ہے اگر چہ باربار سايہ كرے پس اگر عمرہ كے كفارہ ميں ايك سے زيادہ مرتبہ سايہ كرے تو اس پر ايك سے زيادہ كفارہ واجب نہيں ہے اور اسى طرح حج كے احرام ميں_

۵_ خوشبو كا استعمال:

مسئلہ ۱۶۵_ احرام كى حالت ميں ہر قسم كى خوشبو كا استعمال كرنا حرام ہے جيسے كستوري،اگر كى لكڑي، گلاب كا پانى اور رائج خوشبو ئيں_


مسئلہ ۱۶۶_ اس لباس كا پہننا جائز نہيں ہے كہ جسے پہلے سے معطر كيا گيا ہے جب اس سے عطر كى خوشبو اٹھ رہى ہو _

مسئلہ ۱۶۷_ احوط كى بناپر خوشبودار صابون كا استعمال كرنا جائز نہيں ہے اور اسى طرح خوشبو دار شيمپو_

مسئلہ ۱۶۸_ احوط وجوبى خوشبودار چيز كے سونگھنے سے اجتناب كرنا ہے اگر چہ اس پر خوشبو كا عنوان صدق نہ كرتا ہو جيسے گلاب كے پھول يا خوشبودار سبزيوں اور پھلوں كو سونگھنا_

مسئلہ ۱۶۹_ محرم كيلئے ايسا كھانا كھانا جائز نہيں ہے كہ جس ميں زعفران ڈالا گيا ہو _

مسئلہ ۱۷۰_ سيب اور مالٹے جيسے خوشبودار پھلوں كے كھانے ميں كوئي اشكال نہيں ہے ليكن احوط وجوبى يہ ہے كہ انہيں سونگھے نہ_

مسئلہ ۱۷۱_ اگر خوشبو كو جان بوجھ كر استعمال كرے تو احوط وجوبى يہ ہے كہ كفارے ميں ايك بكرى دے اگر چہ وہ كھانے ميں ہو جيسے زعفران


ياكھانے ميں نہ ہو_

مسئلہ ۱۷۲_ محرم كيلئے بدبو سے اپنے ناك كو روكنا جائز نہيں ہے ہاں بدبو والى جگہ سے نكل جانے ميں كوئي اشكال نہيں ہے اور اسى طرح اس سے عبور كرنا _

۶_ آئينے ميں ديكھنا:

مسئلہ ۱۷۳: احرام كى حالت ميں زينت كى غرض سے آئينے ميں ديكھنا حرام ہے ليكن اگر كسى اور غرض سے ديكھے جيسے گاڑى كا ڈرائيور گاڑى چلاتے وقت اسكے آئينے ميں ديكھتا ہے تو كوئي اشكال نہيں ہے_

مسئلہ ۱۷۴_ صاف و شفاف پانى يا ديگران صيقل كى ہوئي چيزوں ميں ديكھنا كہ جن ميں شے كى تصوير نظر آتى ہے آئينے ميں ديكھنے كا حكم ركھتا ہے پس اگر زينت كى غرض سے ہو تو جائز نہيں ہے_

مسئلہ ۱۷۵_ اگر ايسے كمرے ميں رہتا ہو كہ جس ميں آئينہ ہے اور اسے علم ہو كہ بھول كر اسكى آنكھ آئينے پر پڑجائيگى تو آئينے كو اپنى جگہ برقرار ركھنے


ميں كوئي اشكال نہيں ہے ليكن بہتر يہ ہے كہ آئينے كو كمرے سے نكال دے يا اسے ڈھانپ دے_

مسئلہ۱۷۶_ عينك پہننے ميں كوئي اشكال نہيں ہے اگر يہ زينت كيلئے نہ ہو_

مسئلہ ۱۷۷_ احرام كى حالت ميں تصوير اتارنے ميں كوئي اشكال نہيں ہے_

مسئلہ ۱۷۸_ آئينے ميں ديكھنے كا كفارہ نہيں ہے ليكن احوط وجوبى يہ ہے كہ اس ميں ديكھنے كے بعد تلبيہ كہے_

۷_ انگوٹھى پہننا:

مسئلہ ۱۷۹: احوط وجوبى يہ ہے كہ محرم انگوٹھى كے پہننے سے اجتناب كرے البتہ اگر اسے زينت شمار كيا جائے_

مسئلہ ۱۸۰_ اگر انگوٹھى زينت كيلئے نہ ہو بلكہ استحباب كے قصد سے انگوٹھى پہنے يا كسى دوسرى غرض سے تو اسكے پہننے ميں كوئي اشكال نہيں ہے _

مسئلہ ۱۸۱_ احرام كى حالت ميں انگوٹھى پہننے كا كفارہ نہيں ہے _


۸_ مہندى اور رنگ كا استعمال كرنا :

مسئلہ ۱۸۲_ احوط وجوبى يہ ہے كہ اگر زينت شمار ہو تو محرم مہندى كے استعمال اور بالوں كو رنگنے سے اجتناب كرے بلكہ ہر اس شے سے جسے زينت شمار كيا جاتا ہے _

مسئلہ ۱۸۳_ اگر احرام سے پہلے اپنے ہاتھوں ، پيروں اور ناخنوں پر مہندى لگائے يا اپنے بالوں كو رنگ كرے اور احرام كے وقت تك ان كا اثر باقى رہے تو اس ميں كوئي اشكال نہيں ہے _

مسئلہ ۱۸۴_ مہندى اور رنگ كے استعمال كرنے ميں كفارہ نہيں ہے _

۹_ بدن پر تيل لگانا :

مسئلہ ۱۸۵_ محرم كيلئے اپنے بدن اور بالوں پر تيل لگانا جائز نہيں ہے چاہے وہ تيل خوبصورتى كيلئے استعمال كيا جاتا ہو يا نہ اور چاہے خوشبودار ہو يا نہ _


مسئلہ ۱۸۶_ اگر خوشبودارتيل كى خوشبو احرام كے وقت تك باقى رہے تو احرام سے پہلے بھى ايسا تيل لگانا حرام ہے _

مسئلہ ۱۸۷_ تيل( گھي) كے كھانے ميں كوئي اشكال نہيں ہے البتہ اگر اس ميں خوشبو نہ ہو _

مسئلہ ۱۸۸_ اگر تيل لگانے پر مجبور ہو جيسے يہ علاج كى غرض سے ہو يا دھوپ كے نقصان سے بچنے كيلئے يا اس پسينے سے بچنے كيلئے كہ جو بدن كے جلنے كا موجب بنتا ہے تو كوئي اشكال نہيں ہے _

مسئلہ ۱۸۹_ خوشبو والا تيل لگانے كا كفارہ احوط كى بناپر ايك بكرى ہے اور اگر خوشبو والا نہ ہو تو ايك فقير كوكھانا كھلانا اگر چہ ان سب موارد ميں كفارے كا واجب نہ ہونا بعيد نہيں ہے _

۱۰_ بدن كے بالوں كو زائل كرنا:

مسئلہ ۱۹۰_ محرم كيلئے سر اور بدن كے بالوں كو زائل كرنا حرام ہے اور


اس ميں كم اور زيادہ بالوں كے درميان كوئي فرق نہيں ہے حتى كہ ايك بال بھى _اسى طرح فرق نہيں ہے كہ كاٹ كر زائل كرے يا نو چ كر نيز كوئي فرق نہيں ہے كہ اپنے سر اور بدن كے بال زائل كرے يا كسى اور كے سر اور بدن كے بال زائل كرے_

مسئلہ ۱۹۱_ وضو، غسل يا تيمم كى حالت ميں بالوں كے گرنے كى وجہ سے اس پر كوئي شے نہيں ہے البتہ اگر زائل كرنے كے قصد سے نہ ہو _

مسئلہ ۱۹۲_ اگر بالوں كے زائل كرنے پر مجبور ہو جيسے آنكھ كے بال جب اسكى اذيت كا باعث ہوں يا سر كے بال جب درد كا سبب ہوں تو كوئي اشكال نہيں ہے _

مسئلہ ۱۹۳_ اگر محرم جان بوجھ كر بغير ضرورت كے اپنا سر مونڈے تو اس پر ايك بكرى كا كفارہ ہے ليكن اگر غفلت ، بھولنے يا مسئلہ سے لاعلمى كى وجہ سے ہو تو كوئي كفارہ نہيں ہے _

مسئلہ ۱۹۴_ اگر اپنا سر مونڈنے پر مجبور ہو تو اس كا كفارہ بارہ مد طعام ہے


جو چھ مساكين كو ديا جائيگا يا تين دن كے روزے يا ايك بكرى ہے _

مسئلہ ۱۹۵_ اگر محرم قينچى يامشين كے ساتھ اپنے سر كے بال كاٹے تو احوط وجوبى ايك بكرى كا كفارہ دينا ہے _

مسئلہ ۱۹۶_ اگر اپنے چہرے پر ہاتھ لگائے پس ايك يا زيادہ بال گرجائيں تو احوط استحبابى يہ ہے كہ مٹھى بھر گندم ، آٹا اور ان جيسى كسى چيز كا فقير كو صدقہ دے _

۱۱_ سرمہ ڈالنا:

مسئلہ ۱۹۷: اگر زينت شمار كيا جائے تو محرم كيلئے سرمہ ڈالنا جائز نہيں ہے اسى طرح پلكوں پر مسكارا ( MASCARA )لگانا جيسا كہ عورتيں زينت كيلئے كرتى ہيں اور اس ميں سياہ اور غير سياہ رنگ كے درميان كوئي فرق نہيں ہے_

۱۲_ ناخن تراشنا:

مسئلہ ۱۹۸_ محرم كيلئے ناخن كاٹنا حرام ہے اور اس ميں ہاتھوں اور


پاؤںكے ناخنوں كے درميان كوئي فرق نہيں ہے اور نہ پورے يا بعض ناخنوں كے كاٹنے ميں اور نہ انكے كاٹنے ، تراشنے اور اكھيڑنے كے درميان چاہے يہ قينچى كے ساتھ ہو يا چھرى كے ساتھ ياكسى اور ذريعے سے _

مسئلہ ۱۹۹_ اگر ناخن كاٹنے پر مجبور ہوجائے تو اس ميں كوئي اشكال نہيں ہے جيسے اگر ناخن كا كچھ حصہ ٹوٹ جائے اور باقى حصہ تكليف كا باعث ہو _

مسئلہ ۲۰۰_ كسى دوسرے كے ناخن كاٹنے ميں كوئي اشكال نہيں ہے_

مسئلہ ۲۰۱_ احرام كى حالت ميںناخن كاٹنے كا كفارہ مندرجہ ذيل ہے_

_ اگر اپنے ہاتھ پاؤں كا ايك يا زيادہ ناخن كاٹے تو ہر ايك كے بدلے ايك مد طعام كفارہ دينا ہوگا _

_ اگر ہاتھ يا پاؤں كے سب ناخن كاٹے تو ايك بكرى كفارہ دينا ہوگى _

_ اگر ايك ہى نشست ميں ہاتھ اور پاؤں كے پورے ناخن كاٹے تو ايك بكرى كفارہ ميں دينا ہوگى اور اگر ہاتھ كے ناخن ايك نشست ميں اور


پاؤں كے دوسرى نشست ميں كاٹے تو دو بكرياں كفارے ميں دينا ہوںگي_

۱۳_ بدن سے خون نكالنا

مسئلہ ۲۰۲_ احوط وجوبى يہ ہے كہ محرم ايسا كام نہ كرے جس سے اسكے بدن سے خون نكل آئے _

مسئلہ ۲۰۳_ احرام كى حالت ميں ٹيكا لگانے سے كوئي مانع نہيں ہے ليكن اگر اسكى وجہ سے بدن سے خون نكل آتا ہوتو احوط وجوبى يہ ہے كہ اس سے اجتناب كيا جائے مگر ضرورت كے موارد ميں_

مسئلہ ۲۰۴_ احوط وجوبى يہ ہے كہ داڑھ نكالنے سے اجتناب كيا جائے البتہ اگر يہ خون نكلنے كا موجب بنے مگر ضرورت اور احتياج كى صورت ميں_

مسئلہ ۲۰۵_ بدن سے خون نكالنے كى صورت ميںكفارہ نہيں ہے اگر چہ


ايك بكرى كفارے ميںدينا مستحب ہے_

۱۴_ فسوق:

مسئلہ ۲۰۶_ فسوق كا معنى ہے جھوٹ بولنا، گالياں دينا اور دوسروں كے مقابل فخر كرنااس بناپر پس احرام كى حالت ميں جھوٹ بولنے اور گالى دينے كى حرمت غير احرام كى حالت سے زيادہ ہے _

ليكن دوسروں كے مقابل فخر كرنا تو يہ احرام كى حالت كے بغير حرام نہيں ہے ليكن احرام كے دوران ميں جائز نہيں ہے _

مسئلہ ۲۰۷_ فسوق ميں كفارہ واجب نہيں ہوتا ليكن استغفار كرنا واجب ہے _

۱۵_ جدال

مسئلہ ۲۰۸_ دوسروں كے ساتھ جدال كرنا اگر لفظ '' اللہ '' كے ساتھ قسم اٹھانے پر مشتمل ہو تو محرم پر حرام ہے جيسے دوسروں كے ساتھ نزاع كرتے


ہوئے '' لا واللہ '' يا '' بلى واللہ '' كہنا_

مسئلہ ۲۰۹_ احوط وجوبى يہ ہے كہ اس لفظ كے ساتھ قسم اٹھانے سے اجتناب كيا جائے كہ جسے ديگر زبانوں ميں لفظ '' اللہ'' كاترجمہ شمار كيا جاتا ہے جيسے فارسى ميں لفظ '' خدا'' ہے اور اسى طرح احوط وجوبى يہ ہے كہ جھگڑتے وقت اللہ تعالى كے ديگر ناموں كے ساتھ قسم اٹھانے سے اجتناب كيا جائے جيسے '' رحمن، رحيم ، قادر ، متعال و غيرہ'' _

مسئلہ۲۱۰_ اللہ تعالى كے علاوہ ديگر مقدس چيزوں كى قسم اٹھانا احرام كے محرمات ميں سے نہيں ہے _

مسئلہ ۲۱۱_ اگر سچى قسم اٹھائے تو پہلى اور دوسرى مرتبہ ميں استغفار واجب ہے اور اس پر كفارہ نہيں ہے ليكن اگر دومرتبہ سے زيادہ كرے تو كفارے ميں ايك بكرى دينا واجب ہے _

مسئلہ ۲۱۲_ اگر جھوٹى قسم اٹھائے تو پہلى اور دوسرى مرتبہ ميں ايك بكرى كفارہ ميں دينا واجب ہے ليكن احوط يہ ہے كہ دوسرى مرتبہ ميں دو بكرياں


دے اور اگر دومرتبہ سے زيادہ كرے توكفارہ ميں ايك گائے دينا واجب ہے_

۱۶_ حشرات بدن كو مارنا:

مسئلہ ۲۱۳_ احوط كى بناپر احرام كى حالت ميں جوؤں كو مارنا جائز نہيں ہے _ اوراسى طرح كے ديگر حشرات جيسے پسُّو

۱۷_ حرم كے پودوں اور درختوں كو كاٹنا:

مسئلہ ۲۱۴_ حرم ميں اگنے والے درختوں اور گھاس كو قطع كرنا ، كاٹنا اور توڑنا حرام ہے اور اس ميں محرم اور غير محرم كے درميان كوئي فرق نہيں ہے _

مسئلہ ۲۱۵_ مذكورہ حكم سے وہ مستثنى ہے كہ جو چلنے كى وجہ سے ٹوٹ جائے يا جانوروں كو چارہ ڈالٹے كيلئے كاٹا جائے _

مسئلہ ۲۱۶_ حرم سے گھاس كاٹنے پر كفارہ نہيں ہے بلكہ صرف استغفار واجب ہے ليكن اگر اس درخت كو كاٹے كہ جس كاكاٹنا حرام ہے تو احوط وجوبى يہ ہے كہ ايك گائے كفارے ميں دے _


۱۸_ اسلحہ اٹھانا:

مسئلہ ۲۱۷_ محرم كيلئے اسلحہ اٹھانا جائز نہيں ہے _

مسئلہ ۲۱۸_ اگر اپنى جان و مال يا كسى دوسرے كى جان كى حفاظت كيلئے اسلحہ اٹھانے كى ضرورت ہو تو يہ جائز ہے_

۱۹_ خشكى كا شكار كرنا:

مسئلہ ۲۱۹_ احرام كى حالت ميں خشكى كا شكار كرنا حرام ہے مگر جب اسكى طرف سے تكليف پہنچانے كاخوف ہو اسى طرح پرندوں اور ٹڈى كا شكار كرنا بھى حرام ہے _

مسئلہ ۲۲۰_ محرم كيلئے شكار كا گوشت كھانا حرام ہے چاہے اس نے خود اسے شكار كيا ہو يا كسى اور نے اور چاہے شكار كرنے والا محرم ہو يا مُحل _

مسئلہ ۲۲۱_ دريائي جانوروں كے شكار كرنے ميں كوئي اشكال نہيں ہے جيسے مچھلى كا شكار كرنے اور انكے كھانے ميں بھى كوئي اشكال نہيں ہے_


مسئلہ ۲۲۲_ پالتو جانوروں كے ذبح كرنے اور كھانے ميں كوئي اشكال نہيں ہے جيسے بكري، مرغى و غيرہ _

مسئلہ ۲۲۳_ حرم كے دائرے كے اندر جانور كا شكار كرنا جائز نہيں ہے چاہے محرم ہو يا مُحل_

احرام كى حالت ميں شكار كرنے اور اسكے كفارات كے احكام بہت زيادہ ہيں اور چونكہ موجودہ دور ميں يہ پيش نہيں آتے اسلئے ہم ان سے صرف نظر كرتے ہيں _

۲۰_ جماع

مسئلہ ۲۲۴_ احرام كى حالت ميں جماع اور بيوى سے ہر قسم كى لذت حاصل كرنا حرام ہے جيسے اسكے بدن كو چھونا ، اسكى طرف شہوت كے ساتھ ديكھنا اور اسے بوسہ دينا_

مسئلہ ۲۲۵_ مياں بيوى ميں سے ہر ايك كا دوسرے كى طرف ديكھنا اور


اسكے ہاتھ كو چھونا جائز ہے اگر شہوت اور لذت سے نہ ہو_

مسئلہ ۲۲۶_ انسان كے محارم جسے باپ، ماں ، بھائي ، بہن اور چچا، پھوپھى و غيرہ احرام كى حالت ميں بھى مَحْرَمْ ہى رہتے ہيں_

مسئلہ ۲۲۷_ بيوى كے ساتھ جماع كرنے كا كفارہ ايك اونٹ ہے اور بعض موارد ميں اس سے حج باطل ہوجاتا ہے اور اسكى تفصيل فقہ كى مفصل كتابوں ميں مذكور ہے_

مسئلہ ۲۲۸_ ديگر لذات ميںسے ہر ايك كيلئے ايك كفارہ ہے كہ جنكى تفصيل فقہى كتابوں ميں مذكور ہے_

۲۱_ عقد نكاح:

مسئلہ ۲۲۹_ احرام كى حالت ميں اپنے لئے يا كسى اور كيلئے عقد كرنا حرام ہے حتى اگر وہ غير ،مُحل ہو اور ايسا عقد باطل ہے_

مسئلہ ۲۳۰_ عقد كى حرمت اور اسكے باطل ہونے ميں عقد دائم


اورموقت كے درميان كوئي فرق نہيں ہے _

۲۲_ استمنائ

مسئلہ ۲۳۱_ احرام كى حالت ميں استمناء كرنا حرام ہے اور اس كا حكم جماع والا حكم ہے_

اور اس سے مراد يہ ہے كہ انسان اپنے ساتھ ايسا كام كرے كہ جس سے اسكى شہوت برانگيختہ ہوجائے يہاں تك كہ منى نكل آئے _

محرمات احرام كے كفارات كے احكام

مسئلہ ۲۳۲_ اگر غفلت كى وجہ سے يا بھول كر احرام كے محرمات ميں سے كسى كا ارتكاب كرے تو كفارہ واجب نہيں ہے مگر شكار كيونكہ اس ميں ہر حال ميں كفارہ واجب ہے _

مسئلہ ۲۳۳_ عمرہ ميں شكار كے كفارے كے ذبح كرنے كا مقام مكہ


مكرمہ ہے اور حج ميں منى ہے اور احوط يہ ہے كہ ديگر كفارات ميں بھى اسى ترتيب كے مطابق عمل كيا جائے ليكن اگر مكہ يا منى ميں كفارہ كو ذبح نہ كرے تو كسى دوسرى جگہ ذبح كردينا كافى ہے حتى كہ حج سے لوٹنے كے بعد اپنے شہر ميں _

مسئلہ ۲۳۴_ جس پر كفارہ واجب ہو اس كيلئے اسكے گوشت سے كچھ كھانا جائز نہيں ہے ليكن حج كى واجب يا مستحب يا نذر كى قربانى سے كھانے ميں كوئي اشكال نہيں ہے _

مسئلہ ۲۳۵_ محرمات احرام كا كفارہ فقير كو دينا واجب ہے_

مكہ مكرمہ كى طرف جانا

مسئلہ ۲۳۶_ ميقات سے احرام باندھ كر حجاج عمرہ كے باقى اعمال كى انجام دہى كيلئے مكہ مكرمہ كى طرف جاتے ہيں اور مكہ پہنچنے سے پہلے حرم كا


علاقہ شروع ہوجاتا ہے اور حرم كے علاقے ميں داخل ہونے كيلئے اسى طرح مكہ مكرمہ اور مسجدالحرام ميں داخل ہونے كيلئے بہت سارى دعائيں اور آداب وارد ہوئے ہيں ہم ان ميں سے بعض كو ذكر كرتے ہيں جو شخص ان سب آداب اور مستحبات پر عمل كرناچاہتا ہے وہ مفصل كتابوں كى طرف رجوع كرے_

حرم ميں داخل ہونے كى دعا

مسئلہ ۲۳۷_حرم ميں داخل ہوتے وقت يہ دعا مستحب ہے_

اللّہُمَّ انَّكَ قُلْتَ فى كتَابكَ الْمُنْزَل وقَوْلُكَ الْحَقُّ (وَ ا َذّنْ فى النَّاس بالْحَجّ يَا تُوكَ رجالاً وَ عَلى كُلّ ضامر: يَا تينَ منْ كُلّ فَجّ: عَميق:) اللّہُمَّ وَ انّى ا َرْجُو ا َنْ ا َكُونَ ممَّنْ ا َجَابَ دَعْوَتَكَ وَ قَدْ جئْتُ منْ شُقَّة: بَعيدَة: وَ منْ فَجّ: عَميق: سَامعاً لندَائكَ وَ مُسْتَجيباً


لَكَ مُطيعاً ل-اَمْركَ وَ كُلُّ ذَلكَ بفَضْلكَ عَلَيَّ وَ احْسَانكَ الَيَّ فَلَكَ الْحَمْدُ عَلى مَا وَفَّقْتَنى لَہُ ا َبْتَغى بذلكَ الزُّلْفَة عنْدَكَ وَالقُرْبَةَ الَيْكَ وَالمَنْزلَةَ لَدَيْكَ وَالمَغْفرَةَ لذُنُوبى وَالتَّوْبَةَ عَلَيَّ منْہَا بمَنّكَ اللّہُمَّ صَلّ عَلى مُحَمَّد: وَ آل مُحَمَّد: وَحَرّمْ بَدَنى عَلى النَّار وَآمنّى منْ عَذَابكَ وَ عقَابكَ برَحْمَتكَ يَا ا رْحَمَ الرَّاحمينَ_

مسجد الحرام ميں داخل ہونے كے مستحبات

مسئلہ ۲۳۸_ مسجدالحرام ميں داخل ہوتے وقت مندرجہ ذيل اعمال مستحب ہيں _

۱_ مكلف كيلئے مستحب ہے كہ مسجدالحرام ميں داخل ہونے كيلئے غسل كرے_


۲_ مستحب ہے كہ مسجدالحرام ميں داخل ہوتے وقت وہ دعائيں پڑھے جو احاديث ميں وارد ہوئي ہيں_


تيسرى فصل :

طواف اور نماز طواف كے بارے ميں

طواف:

يہ عمرہ كا دوسرا واجب عمل ہے پس عمرہ كا احرام باندھ كر عمرہ كے باقى اعمال بجالانے كيلئے مكہ معظمہ كى طر ف جائے اور پہلا عمل جو انجام دے گا وہ خانہ كعبہ كے اردگرد سات چكر لگاكر اس كا طواف ہے _

طواف كے بارے ميں بحث ايك تو اسكى شرائط كے بارے ميں ہے اور دوسرى اسكے واجبات كے بارے ميں _


طواف كى شرائط

طواف ميں چند چيزيں شرط ہيں_

اول : نيت

دوم: حدث سے پاك ہونا

سوم : خبث سے پاك ہونا

چہارم : مردوں كيلئے ختنہ

پنجم: شرمگاہ كو چھپانا

ششم: موالات

پہلى شرط نيت

يعنى عمرہ يا حج كے طواف كو قربةً الى اللہ بجالانے كا قصد كرے پس اس قصد كے بغير _اگر چہ بعض چكروں ميں _طواف كافى نہيں ہے_


مسئلہ ۲۳۹_ نيت ميں قربت اور اللہ تعالى كيلئے اخلاص شرط ہے پس عمل كو بجالائے گا اللہ تعالى كے حكم كى اطاعت كرنے كيلئے لذا اگر رياء كيلئے انجام دے تو نافرمانى كا مرتكب ہوگا اور اس كا عمل باطل ہے_

مسئلہ ۲۴۰_ نيت ميں اس بات كى تعيين كرنا شرط ہے كہ يہ عمرہ مفردہ كا طواف ہے يا عمرہ تمتع كا ياحج كا ،پھر آيا حجة الاسلام كا طواف ہے يا حج استحبابى كا يا نذر والے حج كا ، اور اگر حج ميں نائب ہو تو اس كا بھى قصد كرے_

مسئلہ ۲۴۱_ نيت كو بولنا يا اسے دل سے گزارنا واجب نہيں ہے بلكہ عمرہ كے طواف كو اللہ تعالى اور اسكے حكم كى اطاعت كرنے كيلئے بجالانا كافى ہے اور طواف كى حالت ميں ذكر ، خشوع، حضور قلب اور اس سلسلے ميں وارد ہونے والى دعاؤں كو پڑھنے كى تسلسل كے ساتھ پابندى كرنى چاہيے_


دوسرى شرط : حدث اكبر اور اصغر سے پاك ہونا

مسئلہ ۲۴۲_ واجب طواف كى حالت ميں جنابت، حيض اور نفاس سے پاك ہونا واجب ہے اور طواف كيلئے وضو بھى واجب ہے_

وضاحت : واجب طواف وہ طواف ہے جو عمرہ اور حج كے اعمال كا جز ہوتا ہے اسى لئے مستحب حج و عمرہ ميں بھى طواف كو واجب شمار كيا جاتا ہے _

مسئلہ ۲۴۳_ اگر حدث اكبر يا اصغر والا شخص طواف كرے تو اس كا طواف صحيح نہيں ہے اگر چہ وہ جاہل ہو يا اس نے بھول كر ايسا كيا ہو بلكہ اس پر طواف اور اسكى نماز كا تدارك كرنا واجب ہے حتى كہ اگر طہارت كے نہ ہونے كى طرف التفات عمرہ يا حج كے اعمال سے فارغ ہونے كے بعد ہو _

مسئلہ ۲۴۴_ مستحب طواف ميں وضو شرط نہيں ہے ليكن احوط كى بناپر جنابت، حيض يا نفاس كى حالت ميں طواف حكم وضعى كے اعتبار سے صحيح نہيں ہے اور اسكے ساتھ ساتھ حكم تكليفى كے اعتبار سے جنب، حيض يا نفاس كى حالت ميں مسجدالحرام ميں داخل ہونا حرام ہے _


وضاحت: طواف مستحب وہ طواف ہوتا ہے كہ جو عمرہ اور حج كے اعمال سے مستقل اور عليحدہ ہوتا ہے چاہے اپنى طرف سے طواف كرے يا كسى كى نيابت ميں _ اور يہ كام ان كاموںميں سے ايك ہے جو مكہ ميں مستحب ہيں پس انسان كيلئے جس قدر طواف كرنا ممكن ہو اچھا ہے اور اجر و ثواب كا موجب ہے _

مسئلہ ۲۴۵_ اگر محرم اپنے طواف كے دوران ميں حدث اصغر ميں مبتلا ہوجائے تو اسكى چند صورتيں ہيں

۱_ يہ كہ حدث چوتھے چكر كے نصف تك پہنچنے سے پہلے عارض ہو (يعنى خانہ كعبہ كے تيسرے ركن كے بالمقابل پہنچنے سے پہلے) تو اس طواف كو منقطع كردے اور طہارت كے بعد طواف كااعادہ كرے

۲_ يہ كہ حدث چوتھے چكر كے نصف كے بعد ليكن اسے مكمل كرنے سے پہلے عارض ہو تو طواف كو منقطع كرے اور طہارت كے بعد طواف كو وہيں سے جارى ركھے البتہ اگر اس سے موالات عرفى ميں خلل وارد نہ ہوتا


ہو ورنہ تمام و اتمام كے قصد كے ساتھ اس كااعادہ كرے (يعنى اس نيت كے ساتھ سات چكر لگائے كہ اگر پچھلے چكر صحيح ہيں تو اس كے باقى چكر كى كمى ان ميں سے پورى ہوجائے گى اور اگر وہ باطل ہيں تو يہ سات چكر ايك نيا طواف ہے ) اور اس كيلئے يہ بھى جائز ہے كہ اسے بالكل كالعدم كر كے نئے سرے سے طواف كرے_

۳_ يہ كہ حدث چوتھا چكر مكمل كرنے كے بعد عارض ہو تو طواف كو منقطع كر كے طہارت كرے اور پھر وہيں سے طواف كو جارى ركھے ليكن اگر اس سے موالات عرفيہ كو نقصان نہ پہنچا ہو ورنہ احوط يہ ہے كہ اسے مكمل كرے اور پھر اس كا اعادہ بھى كرے اور اس كيلئے جائز ہے كہ اس طواف كو بالكل ختم كر كے نئے سرے سے طواف بجالائے جيسے كہ اس كيلئے جائز ہے كہ تمام و اتمام كے قصد كے ساتھ سات چكر بجالائے_

مسئلہ ۲۴۶_ اگر طواف كے دوران ميں حدث اكبر عارض ہوجائے تو اس پر واجب ہے كہ فوراً مسجد الحرام سے نكل جائے پھر اگر يہ چوتھے چكر كے نصف تك پہنچنے سے پہلے ہو تو طواف باطل ہے اور غسل كے بعد اس كا


اعادہ كرنا واجب ہے اور اگر نصف تك پہنچنے كے بعد اور چوتھا چكر مكمل كرنے سے پہلے ہو تو اگر موالات عرفيہ ميں خلل وارد نہ ہوا ہو تو وہيں سے طواف كو جارى ركھے ورنہ احوط يہ ہے كہ اسے مكمل كرے اور پھر اعادہ بھى كرے اور اس كيلئے جائز ہے كہ تمام واتمام كے قصدكے ساتھ پورا طواف بجالائے جيسا كہ اسكے لئے يہ بھى جائز ہے كہ سابقہ چكروں كو بالكل كالعدم كركے غسل كے بعد نيا طواف بجالائے اور اگر چوتھا چكر مكمل كرنے كے بعد عا رض ہو تو اس كا حكم وہى ہے جو طواف كے دوران ميں چوتھا چكر مكمل كرنے كے بعد حدث اصغر كے عارض ہونے كا ہے جو كہ ابھى ابھى گزرا ہے _

مسئلہ ۲۴۷_ جو شخص وضو يا غسل كے ترك كرنے ميں معذور ہو اس پر ان دونوں كے بدلے ميں تيمم كرنا واجب ہے_

مسئلہ ۲۴۸_ اگر كسى عذر كى وجہ سے وضو يا غسل نہ كرسكتا ہو تو اگر اسے آخرى وقت تك اس عذر كے دور ہونے كا علم ہے جيسے كہ وہ مريض جو جانتا ہے كہ آخرى وقت تك شفا ياب ہوجائيگا تو اس پر واجب ہے كہ اپنا عذر دور ہونے تك صبر كرے پس وضو يا غسل كے ساتھ طواف بجالائے بلكہ اگر


اسے اپنے عذر كے مرتفع ہونے كى اميد ہو تو بھى احوط وجوبى ہے كہ صبر كرے يہاں تك كہ وقت تنگ ہوجائے يا اپنے عذركے مرتفع ہونے سے مايوس ہوجائے اور اسكے بعد تيمم كركے طواف بجالائے _

مسئلہ ۲۴۹_ جس شخص كا فريضہ تيمم يا جبيرہ والا وضو ہے اگر حكم سے لاعلمى كى وجہ سے مذكورہ طہارت كے بغير طواف يا اسكى نماز كو بجالائے تو اس پر واجب ہے كہ اگر ممكن ہو خود ان كا اعادہ كرے ورنہ نائب بنائے _

مسئلہ ۲۵۰_ اگر عمرہ مفردہ كے احرام كے بعد عورت كو حيض آجائے اور پاك ہونے كا انتظار نہ كر سكتى ہو تا كہ غسل كر كے اسكے اعمال كو انجام دے تو اس پر واجب ہے كہ طواف اور نماز طواف كيلئے نائب بنائے ليكن سعى اور تقصير كو خود بجالائے اور ان سب كے ساتھ احرام سے خارج ہو جائے اور يہى حكم ہے كہ ا گر حيض كى حالت ميں احرام باندھے ليكن اگر حيض كى حالت ميں عمرہ تمتع كا احرام باندھے يا عمرہ تمتع كا احرام باندھنے كے بعد اسے حيض آجائے اور پاك ہونے كا انتظار نہ كرسكتى ہو تا كہ غسل كر كے عمرہ كا


طواف اور اسكى نماز بجالائے تو اس كا حكم اور ہے كہ جس كا ذكر گزرچكا ہے_

مسئلہ ۲۵۱_ عمرہ كے اعمال ميں سے صرف طواف اور نماز طواف ميں حدث سے پاك ہونا واجب ہے ليكن عمرہ كے باقى اعمال ميں حدث سے طہارت شرط نہيں ہے اگر چہ افضل يہ ہے كہ انسان ہر حال ميں با طہارت ہو _

مسئلہ ۲۵۲_ اگر طہارت ميں شك ہو تو اسكى ذمہ دارى درج ذيل ہے_

۱_ اگر طواف كو شروع كرنے سے پہلے وضو ميں شك ہو تو وضو كرے_

۲_ اگر اس پر غسل واجب ہو اور طواف كو شروع كرنے سے پہلے اسكے بجالانے ميں شك كرے تو اس پر واجب ہے كہ غسل كو بجالائے_

۳_ اگر با وضو ہو اور شك كرے كہ اس كا وضو باطل ہوا ہے يا نہيں تو وضو واجب نہيں ہے _

۴_ اگر با طہارت ہو اور شك كرے كہ جنب ہوا ہے يا نہيں يا عورت شك كرے كہ اسے حيض آيا ہے يا نہيں تو ان پر غسل واجب نہيں ہے _


۵_ اگر طواف سے فارغ ہونے كے بعد طہارت ميں شك كرے تو اس كا طواف صحيح ہے ليكن اس پر واجب ہے كہ نماز طواف كيلئے طہارت حاصل كرے_

۶_ اگر طہارت كى حالت ميں طواف كو شروع كرے اور اثناء ميں حدث كے طارى ہونے اور نہ ہونے ميں شك كرے جيسے كہ شك كرے كہ اس كا وضو باطل ہوا ہے يا نہيں تو اپنے شك كى پروا نہ كرے اور طہارت پر بنا ركھے_

۷_ اگر طواف كے اثناء ميں شك كرے كہ اس نے وضو كى حالت ميں طواف كو شروع كيا تھا يا نہيں تو يہاں پر اسكى سابقہ حالت اگر وضو ہو تو اس پر بناركھے اور اپنے شك كى پر وا نہ كرے اور اس كا طواف صحيح ہے ليكن اگر اسكى سابقہ حالت وضو نہ ہو يا اس ميں بھى شك كرے كہ سابق ميں وضو ركھتا تھا يانہيں تو اس پرواجب ہے كہ وضو كر كے نئے سرے سے طواف بجالائے_

۸_ اگر اس پر غسل واجب ہو اور طواف كے اثنا ميں شك كرے كہ غسل


كو بجالايا تھا يا نہيں تو اس پر واجب ہے كہ فوراً مسجد سے نكل جائے اور غسل كر كے نئے سرے سے طواف بجالائے_

تيسرى شرط: بدن اور لباس كا خبث سے پاك ہونا

مسئلہ ۲۵۳_واجب ہے كہ طوا ف كى حالت ميں بدن اور لباس خون سے پاك ہوں اور احوط وجوبى يہ ہے كہ يہ دونوں باقى نجاسات سے بھى پاك ہوں ہاں جوراب، رومال اور انگوٹھى كا پاك ہونا شرط نہيں ہے_

مسئلہ ۲۵۴:درہم سے كم خون اور اسى طرح پھوڑے پھنسى كا خون جس طرح نماز كے بطلان كا سبب نہيں بنتا اسى طرح طواف كو بھى باطل نہيں كرتا_

مسئلہ ۲۵۵_ اگر بدن نجس ہو اور طواف كو مؤخر كرنا ممكن ہو يہاں تك كہ اسے نجاست سے پاك كرلے تو طواف كو مؤخر كرنا واجب ہے جبتك اس كا وقت تنگ نہ ہوجائے _


مسئلہ ۲۵۶_ اگر بدن يا لباس كى طہارت ميں شك كرے تو اس كيلئے انہيں كے ساتھ طواف كرنا جائز ہے اور اس كا طواف صحيح ہے ليكن اگر جانتا ہو كہ پہلے نجس تھا اور شك كرے كہ اس نے اسے پاك كيا ہے يا نہيں تو اس كيلئے اس كے ساتھ طواف كرنا جائز نہيں ہے _

مسئلہ ۲۵۷_ اگر طواف سے فارغ ہونے كے بعد اپنے بدن يا لباس كى نجاست كى طرف متوجہ ہو تو اس كا طواف صحيح ہے _

مسئلہ ۲۵۸_ اگر طواف كے دوران ميں اس كا بدن يا لباس نجس ہوجائے جيسے كہ لوگوں كى بھيڑ كے نتيجے ميں اس كا پاؤں زخمى ہوجائے اور طواف كو منقطع كئے بغير اسے پاك بھى نہ كرسكتا ہو تو اس پرواجب ہے كہ طواف كو منقطع كر كے اپنے بدن يا لباس كو پاك كرے پھر فوراً پلٹ آئے اور جہاں سے طواف كو چھوڑا تھا وہيں سے اسے جارى ركھے اور يہ صحيح ہے _

مسئلہ ۲۵۹_ اگر طواف كے دوران ميں اپنے بدن يا لباس ميں نجاست ديكھے اور نہ جانتا ہو كہ كيا يہ نجاست طواف كو شروع كرنے سے پہلے تھى يا


طواف كے دوران ميںعارض ہوئي ہے تو سابقہ مسئلہ كا حكم يہاں بھى لاگو ہوگا_

مسئلہ ۲۶۰_ اگر طواف كے دوران ميں اپنے بدن يا لباس كى نجاست كى طرف متوجہ ہو اور اسے يقين ہو كہ يہ نجاست طواف كو شروع كرنے سے پہلے تھى تو اس كا حكم سابقہ مسئلہ والا ہے_

مسئلہ ۲۶۱_ اگر اپنے بدن يا لباس كى نجاست كو بھول كر اسى حالت ميں طواف كرلے اور طواف كے دوران ميں اسے ياد آئے تو اس كا حكم گذشتہ تين مسائل والا ہے _

مسئہ ۲۶۲_ اگر اپنے بدن يا لباس كى نجاست كو بھول كر اسى حالت ميں طواف كرلے اور طواف سے فارغ ہونے كے بعد ياد آئے تو طواف صحيح ہے ليكن اگر نماز طواف كو نجس بدن يا لباس كے ساتھ بجالائے تو اس پر واجب ہے كہ طہارت كے بعد اسے نئے سرے سے پڑھے_


اور اس مسئلہ ميں احوط يہ ہے كہ طہارت كے بعد طواف كا بھى نئے سرے سے اعادہ كرے_

چوتھى شرط : ختنہ

يہ صرف مرد كے طواف كى صحت ميں شرط ہے نہ عورت كے _پس ختنہ نہ كئے ہوئے شخص كا طواف باطل ہے چاہے وہ بالغ ہو يا نہ _

پانچويں شرط: شرم گاہ كو چھپانا

مسئلہ ۲۶۳_ احوط وجوبى كى بناپر طواف كى صحت ميں شرمگاہ كو چھپانا شرط ہے_

مسئلہ ۲۶۴_ اگر طواف كے دوران ميں عورت اپنے سر كے تمام بالوں كو نہ چھپائے يا اپنے بدن كے بعض حصوں كو ظاہر كرے تو اس كا طواف صحيح ہے اگر چہ اس نے حرام كام كيا ہے _


چھٹى شرط: طواف كى حالت ميں لباس كاغصبى نہ ہو نا

مسئلہ ۲۶۵_ طواف كى صحت ميں شرط ہے كہ لباس غصبى نہ ہو پس اگر غصبى لباس ميں طواف بجالائے تو احوط وجوبى كى بناپر اس كا طواف باطل ہے_

ساتويں شرط: موالات

مسئلہ ۲۶۶_ احوط وجوبى كى بناپر طواف كے اجزا كے درميان موالات عرفيہ شرط ہے يعنى طواف كے چكروں كے درميان اتنا فاصلہ نہ كرے كہ جس سے ايك طواف بر قرار نہ رہے _ اور وہ صورت اس مستثنے ہے كہ جب نصف طواف يعنى ساڑھے تين چكروں سے گزرنے كے بعد نماز وغيرہ كيلئے طواف كو منقطع كرے_


مسئلہ ۲۶۷_ جو شخص نماز فريضہ كى خاطر اپنے واجب طواف كو منقطع كرے تو اگر نصف كے بعد منقطع كرے توجہاں سے اسے منقطع كيا تھا وہيں سے مكمل كرے اور اگر اس سے پہلے منقطع كيا ہو تو اگر زيادہ فاصلہ ہوجائے تو احوط يہ ہے كہ طواف كا اعادہ كرے ورنہ اس احتياط كا واجب نہ ہونا بعيد نہيںہے اگر چہ ہر حالت ميںاحتياط اچھا ہے اور اس ميں فرق نہيں ہے كہ نماز فرادى ہو يا جماعت كے ساتھ اور نہ اس ميں كہ وقت تنگ ہو يا وسيع _

مسئلہ ۲۶۸_ مستحب بلكہ واجب طواف كو بھى منقطع كرنا جائز ہے اگر چہ احوط يہ ہے كہ واجب طواف كو اس طرح منقطع نہ كرے كہ جس سے موالات عرفيہ فوت ہوجائے _


طواف كے واجبات

طواف ميں سات چيزيں شرط ہيں :

اول: حجر اسود سے شروع كرنا يعنى اسكے بالمقابل جگہ سے شروع

۱۳۰ كرے _يہ شرط نہيں ہے كہ طواف حجر اسود كے شروع سے ہو كہ اپنے پورے بدن كے ساتھ جحر اسود كے سب اجزا كے سامنے سے گزرے بلكہ عرفاً ابتدا صدق كرنا كافى ہے اسى لئے حجر اسود كے كسى بھى نقطہ سے آغاز كرنا صحيح ہے ہاں واجب ہے كہ اسى جگہ پر ختم كرے جہاں سے شروع كرے پس اگر درميان سے شروع كرے تو وہيں پر ختم كرے _

دوم: ہر چكر كو حجر اسود پر ختم كرنا :

مسئلہ ۲۶۹_ واجب نہيں ہے كہ ہر چكر ميں ٹھہر كر دوبارہ شروع كرے بلكہ كافى ہے كہ بغير ٹھہرے اس طرح سات چكر لگائے كہ ساتويں چكر كو اس جگہ ختم كرے جہاں سے پہلا چكر شروع كيا تھا ہاں احتياطاً كچھ مقدار زيادہ كرنے سے كوئي مانع نہيں ہے تا كہ يقين ہوجائے كہ اس نے اسى نقطے پر ختم كيا ہے جہاں سے آغاز كياتھا پس زائد كو احتياط كى نيت سے بجالائے_

مسئلہ ۲۷۰_ واجب ہے كہ طواف اسى طرح كرے جيسے سب مسلمان


كرتے ہيں پس حجر اسود كے بالمقابل سے آغاز كرے اور اسى پر ختم كردے_ وسوسہ كرنے والوں كى دقت كے بغير اور ہر چكر ميں حجر اسود كے مقابل ميں ٹھہر نا واجب نہيں ہے_

سوم: طواف بائيں جانب ہوگا اس طرح كے طواف كے دوران خانہ كعبہ حاجى كى بائيں طرف ہو اور اس سے مقصود طواف كى سمت كو معين كرنا ہے _

مسئلہ ۲۷۱_ خانہ كعبہ كے بائيں جانب ہونے كا معيار صدق عرفى ہے نہ دقت عقلى پس حجر اسماعيل عليہ السلام اور چار اركان كے پاس پہنچتے وقت تھوڑاسا مڑنا طواف كى صحت كو نقصان نہيں پہنچاتا پس ان كے پاس پہنچتے وقت اپنے كند ھے كو موڑنے كى ضرورت نہيں ہے _

مسئلہ ۲۷۲_ اگر كچھ مقدار طواف رائج صورت سے ہٹ كر بجالائے جيسے كہ طواف كے دوران ميں كعبہ كو چومنے كيلئے اسكى طرف رخ موڑلے يا بھيڑ اس كا رخ يا پشت كعبہ كى طرف كردے يا كعبہ كو اسكى دائيں جانب


كردے تو اس كا طواف صحيح نہيں ہے بلكہ اس مقدار كا تدارك كرنا واجب ہے _

چہارم: حجر اسماعيل عليہ السلام كو اپنے طواف كے اندر داخل كرنا اور اسكے باہر سے طواف كرنا _

مسئلہ ۲۷۳_ اگر اپنا طواف حجر اسماعيل عليہ السلام كے اندر سے يا اسكى ديوار كے اوپر سے بجالائے تو اس كا طواف باطل ہے اور اس كا اعادہ كرنا واجب ہے اور اگر كسى چكر ميں حجر كے اندر سے طواف كرے تو صرف وہى چكر باطل ہوگا _

مسئلہ ۲۷۴_ اگر جان بوجھ كر حجر كے اندر سے طواف بجالائے تو اس كا حكم جان بوجھ كر طواف كو ترك كرنے والا حكم ہے اور اگر بھول كر ايسا كرے تو اس كا حكم بھول كر طواف كو ترك كر نے والاحكم ہے اور ان دونوں كا بيان آجائيگا _

پنجم : طواف كے دوران ميں خانہ كعبہ اور اسكى ديوار كى نچلى جانب كى


بنياد جسے ''شاذروان'' كہاجاتاہے،سے باہر رہنا_

مسئلہ ۲۷۵_ حجر اسماعيل عليہ السلام كى ديوار پر ہاتھ ركھنے ميں كوئي حرج نہيں ہے جيسے كہ كعبہ كى ديوار پر ہاتھ ركھنا بھى ايسا ہى ہے _

ششم: مشہور قول كے مطابق شر ط ہے كہ طواف خانہ كعبہ اور مقام ابراہيم عليہ السلام كے درميان ہو اور ديگر جوانب سے ان دو كے درميان كے فاصلے كى حدود ميں ہو ليكن اقوى يہ ہے كہ يہ شرط نہيں ہے پس اسے مسجدالحرام ميں اس مقدار سے پيچھے انجام دينا جائز ہے بالخصوص جب شديد بھيڑ مانع ہوہاں اولى يہ ہے كہ اگر مانع نہ ہو تو طواف مذكورہ مطاف كے اندر ہو _

مسئلہ ۲۷۶_ بعيد نہيںہے كہ زمين اور كعبہ كى چھت كے بالمقابل والى فضا ميں طواف كافى ہو ليكن يہ احتياط كے خلاف ہے _

اگر صرف اوپر والى چھت( دوسرى منزل) ميں طواف كرنے پر قادر ہو تو احوط وجوبى يہ ہے كہ خود ''اوپر والى منزل'' پر طواف بجالائے اور كسى


كونائب بنادے جو اسكى طرف سے مسجدالحرام كے صحن ميں طواف بجالائے _

ہفتم : طواف كے سات چكر ہيں _

طواف كے ترك كرنے، اس ميں كمى كرنے يا اس ميں شك كرنے كے بارے ميں چند مسائل_

مسئلہ ۲۷۷_ طواف ايك ركن ہے كہ جسے اسكے فوت ہونے كے وقت تك جان بوجھ كر ترك كرنے سے عمرہ باطل ہو جاتا ہے اور اس ميں فرق نہيں ہے كہ اس حكم كو جانتا ہو يا نہ _

مسئلہ ۲۷۸_ مكہ ميں داخل ہونے كے بعد فوراً طواف كرنا واجب نہيں ہے بلكہ اس وقت تك مؤخر كرسكتا ہے كہ جس سے عرفات كے اختيارى وقوف كا وقت تنگ نہ ہو ( عرفات ميں اختيارى وقوف نوذى الحج كى ظہر سے ليكر غروب تك ہوتا ہے ) اس طرح كہ اس كيلئے طواف اور اس پر مترتب ہونے والے اعمال كو انجام دينے كے بعد مذكورہ وقوف كو درك كرنا


ممكن ہو _

مسئلہ ۲۷۹_ اگر اپنے طواف كو باطل كردے _ جيسے كہ گذشتہ حالت ميں يا ديگر حالات ميں كہ جنہيں ہم بيان كريںگے _ تو احوط يہ ہے كہ عمرہ كو حج افراد ميں تبديل كردے اور اس كے بعد عمرہ مفردہ كو بجالائے پھر اگر اس پر حج واجب تھا تو آئندہ سال عمرہ اور حج بجالائے _

مسئلہ ۲۸۰_ اگر بھول كر طواف كو ترك كردے اور طواف كا وقت گزرنے سے پہلے ياد آجائے تو طواف اور نماز طواف كو بجالائے اور ان كے بعد سعى كا اعادہ كرے _

مسئلہ ۲۸۱_ اگر بھول كر طواف كوترك كردے اور اس كا وقت گزرنے كے بعد ياد آئے تو جس وقت اس كيلئے ممكن ہو طواف اور نماز طواف كى قضا كرنا واجب ہے ليكن اگر اپنے وطن واپس پلٹنے كے بعد ياد آئے تو اگر اسكے لئے بغير مشقت اور حرج كے لوٹنا ممكن ہو تو ٹھيك ورنہ نائب بنائے اور طواف اور نماز طواف كى قضا كے بعد اس پر سعى كا اعادہ كرنا واجب نہيں


ہے_

مسئلہ ۲۸۲_ طواف كو ترك كرنے والے كيلئے وہ چيزيں حلال نہيں ہيں كہ جنكى حليت طواف پر موقوف ہے چاہے جان بوجھ كر ترك كرے يا بھول كر جبتك خود يا اپنے نائب كے ذريعے طواف كو بجانہ لائے اور اسى طرح وہ شخص جو اپنے طواف كو بھول كر كم كردے_

مسئلہ ۲۸۳_ جو شخص بيمارى يا شكستگى و غيرہ كى وجہ سے طواف كا وقت گزرنے سے پہلے خود طواف كرنے سے عاجز ہو حتى كہ كسى اور كى مدد سے بھى توواجب ہے كہ اسے اٹھا كر طواف كرايا جائے البتہ اگر يہ ممكن ہو ورنہ اس پر واجب ہے كہ نائب بنائے _

مسئلہ ۲۸۴_ اگر طواف اور انصراف يعنى مطاف سے خارج ہونے كے بعد چكروں كے كم يازيادہ ہونے ميں شك كرے تو اپنے شك كى پروا نہ كرے اور صحت پر بنا ركھے _


نماز طواف :

يہ عمرہ كے واجبات ميں سے تيسرا و اجب ہے_

مسئلہ ۲۸۵_ طواف كے بعد دو ركعت نماز طواف واجب ہے اور اس ميں جہر و اخفات كے درميان اختيار ہے اور نيت ميںاسى طرح معين كرنا واجب ہے جيسے كہ طواف كى نيت ميں گزر چكا ہے اور اسى طرح قربت اور اخلاص_

مسئلہ ۲۸۶_ واجب ہے كہ طواف اور نماز طواف كے درميان فاصلہ نہ كرے اور فاصلے كے صدق كرنے اور نہ كرنے كا معيار عرف ہے _

مسئلہ ۲۸۷_ نماز طواف ، نماز صبح كى طرح ہے اور حمد كے بعد ہر سورت پڑھنا جائز ہے سوائے چار سور عزائم كے _اور مستحب ہے كہ پہلى ركعت ميں حمد كے بعد سورہ توحيد پڑھے اور دوسرى ركعت ميں حمد كے بعد سورہ جحد (قل يا ايہا الكافرون) پڑھے_

مسئلہ ۲۸۸_ واجب ہے كہ نماز مقام ابراہيم عليہ السلام كے پيچھے اور


اسكے قريب ہو البتہ اس شرط كے ساتھ كہ اس ميں دوسروں كيلئے مزاحمت نہ ہو اور اگر اس پر قادر نہ ہو تو مسجدالحرام ميں مقام ابراہيم كے پيچھے نماز پڑھے اگر چہ اس سے دور ہو بلكہ بعيد نہيں ہے كہ مسجد الحرام كى كسى بھى جگہ ميں نماز بجالانا كافى ہو _

مسئلہ ۲۸۹_ اگر جان بوجھ كر نمازطواف كو ترك كرے تو اس كا حج باطل ہے ليكن اگر بھول كر ترك كرے تو اگر مكہ مكرمہ سے خارج ہونے سے پہلے ياد آجائے اور نماز كو اسكى جگہ پر انجام دينے كيلئے وہاں جانا اس كيلئے شاق نہ ہوتو مسجد الحرام كى طرف پلٹے اور نماز كو اسكى جگہ پر انجام دے ليكن اگر مكہ مكرمہ سے خارج ہونے كے بعد ياد آئے تو جہاں ياد آئے وہيں پر نماز پڑھ لے_

مسئلہ ۲۹۰_ سابقہ مسئلہ ميں جاہل قاصر يا مقصر كا حكم وہى ہے جو بھولنے والے كا ہے _

مسئلہ ۲۹۱_اگر سعى كے اثناء ميں ياد آئے كہ اس نے نماز طواف نہيں


پڑھى تو سعى كو منقطع كر كے نماز كى جگہ پر نماز بجالائے پھر پلٹے اور جہاں سے سعى كو منقطع كيا تھا اسے وہيں سے جارى ركھے _

مسئلہ ۲۹۲_ اگر مرد كى نماز طواف عورت كى نماز كے بالمقابل ہوتو اگر مرد عورت سے تھوڑى سى مقدار بھى آگے ہو تو ان دونوں كى نماز كى صحت ميں كوئي اشكال نہيں ہے اور اسى طرح ہے كہ ان كے درميان فاصلہ ہو اگرچہ ايك بالشت كا _

مسئلہ ۲۹۳_ نماز طواف ميں جماعت كا مشروع ہونا معلوم نہيں ہے _

مسئلہ ۲۹۴_ ہر مكلف پر واجب ہے كہ وہ صحيح نماز كو سيكھے تا كہ اپنى ذمہ دارى كو صحيح طرح سے انجام دے سكے بالخصوص جو شخص حج كرنا چاہتا ہے_


چوتھى فصل :سعي

يہ عمرہ كے واجبات ميں سے چوتھا واجب ہے _

مسئلہ ۲۹۵_ طواف كى دوركعتوںكے بعد صفا و مروہ كے درميان سعى واجب ہے سعى سے مراد ان كے درميان اس طرح چلنا ہے كہ صفا سے شروع كرے اور پہلا چكر مروہ پر ختم كردے پھر دوسرا چكر مروہ سے شروع كر كے صفا پر ختم كرے اور اسى طرح سات چكر لگائے اور ساتواں چكر مروہ پر ختم كردے اور مروہ سے شروع كر كے صفا پر ختم كرنا صحيح نہيں ہے _

مسئلہ ۲۹۶_ سعى ميںنيت شرط ہے اور نيت ميں قربت ، اخلاص اور تعيين سب معتبر ہے جو احرام كى نيت ميں گزرچكا ہے _


مسئلہ ۲۹۷_ سعى ميں حدث اور خبث سے پاك ہونا شرط نہيں ہے_

مسئلہ ۲۹۸_ سعى كو طواف اور نماز طواف كے بعد انجام ديا جاتا ہے پس اسے ان دو پر مقدم كرنا صحيح نہيںہے _

مسئلہ ۲۹۹_ سعى كو اپنے اختيار كے ساتھ طواف اور نماز طواف سے بعد والے دن تك مؤخر كرنا جائز نہيں ہے البتہ رات تك مؤخر كرنے سے كوئي مانع نہيںہے _

مسئلہ ۳۰۰_ ہر چكر ميں صفا اور مروہ كے درميان پورى مسافت طے كرناواجب ہے البتہ ان كے اوپر چڑھنا واجب نہيں ہے _

مسئلہ ۳۰۱_ سعى كے دوران مروہ كى طرف جاتے ہوئے مروہ كى طرف رخ كرنا واجب ہے اور اسى طرح صفا كى طرف رخ كرنا پس اگر سعى كے دوران پشت كرے يعنى الٹا چلے تو اسكى سعى صحيح نہيں ہے ہاں اپنے چہرے كو دائيں ، بائيں يا پيچھے كى طرف موڑنا مضر نہيں ہے _

مسئلہ ۳۰۲_ واجب ہے كہ سعى عام راستے ميں ہو _


مسئلہ ۳۰۳_ اوپر والى منزل ميں سعى كرنا صحيح نہيں ہے جبتك يہ محرز نہ ہوجائے كہ يہ دو پہاڑوں كے درميان ہے نہ ان سے اوپر اور جو شخص صرف اوپر والى منزل ميں سعى كرنے پر قادر ہو تو يہ كافى نہيں ہے بلكہ ضرورى ہے كہ كسى كو نائب بنائے جو اسكى طرف سے پہلى منزل پر سعى بجالائے _

مسئلہ ۳۰۴_ سعى كے دوران استراحت كى خاطر صفا و مروہ كے اوپر يا ان كے درميان بيٹھنا اور ان پر سونا جائز ہے بلكہ يہ بغير عذر كے بھى جائز ہے _

مسئلہ ۳۰۵_ قدرت ركھنے كى صورت ميں واجب ہے كہ خود سعى بجالائے اور پيدل چلتے ہوئے اور سوار ہوكر سعى كرنا بھى جائز ہے اور پيدل چلنا افضل ہے _ پس اگر خود سعى كرنا ممكن نہ ہو تو كسى سے مدد لے جو اسے سعى كرائے يا اسے اٹھا كرسعى كرائي جائے اور اگر يہ بھى ممكن نہ ہو تو نائب بنائے _


سعى كے ترك كرنے اور اس ميں كمى بيشى كرنے كے بارے ميں چند مسائل

مسئلہ ۳۰۶_ سعى طواف كى طرح ركن ہے اور اسے جان بوجھ كر يا بھول كر ترك كرنے كا حكم وہى ہے جو طواف كوترك كرنے كا ہے اور اس كا ذكر گزرچكا ہے _

مسئلہ ۳۰۷_ جو شخص بھول كر سعى كو ترك كر كے اپنے عمرہ سے مُحل ہوجائے اوراپنى بيوى كے ساتھ جماع كرلے تو احوط وجوبى كى بناپر سعى كے بجالانے كے ساتھ ساتھ ايك گائے كا كفارہ دينا بھى واجب ہے _

مسئلہ ۳۰۸_ اگر بھول كر سعى ميں ايك يا زيادہ چكر كا اضافہ كردے تو اسكى سعى صحيح ہے اور اس پر كوئي شے نہيں ہے اور حكم سے جاہل حكم كو بھولنے والے كى طرح ہے _

مسئلہ ۳۰۹_ جو شخص سعى كى نيت سے اپنى سعى ميں سات چكروں كا


اضافہ كردے_ اس طرح كہ وہ سمجھتا تھا آنا جانا ايك چكر ہے _ تو اس پر اعادہ واجب نہيں ہے اور اسكى سعى صحيح ہے اور يہى حكم ہے اگر سعى كے دوران اسكى طرف متوجہ ہوجائے تو جہاں سے ياد آئے زائد كو منقطع كردے _

مسئلہ ۳۱۰ _ جو شخص بھول كر سعى ميں كمى كردے تو اس پر واجب ہے كہ جب يادآئے اسے مكمل كرے پس اگر اپنے شہر پلٹنے كے بعد ياد آئے تو اس پر واجب ہے كہ سعى كو مكمل كرنے كيلئے دوبارہ وہاں جائے مگر يہ كہ اس كام ميں اس كيلئے مشقت اور حرج ہو تو كسى دوسرے كو نائب بنائے _


پانچويں فصل: تقصير

يہ عمرہ كے واجبات ميں سے پانچواں ہے _

مسئلہ ۳۱۱_ سعى كو مكمل كرنے كے بعد تقصير واجب ہے اور اس سے مراد ہے سر، داڑھى يا مونچھوں كے كچھ بالوں كا كاٹنا يا ہاتھ يا پاؤں كے كچھ ناخن اتارنا _

مسئلہ ۳۱۲_ تقصير ايك عبادت ہے كہ جس ميں انہيں شرائط كے ساتھ نيت واجب ہے جو احرام كى نيت ميں ذكر ہوچكى ہيں_

مسئلہ ۳۱۳_ عمرہ تمتع سے مُحل ہونے كيلئے سر كا منڈانا تقصير سے كافى نہيںہے بلكہ اس سے محل ہونے كيلئے تقصير ہى ضرورى ہے پس اگر تقصير سے


پہلے سرمنڈا لے تو اگر اس نے جان بوجھ كر ايسا كيا ہو تو نہ فقط يہ كافى نہيں ہے بلكہ سرمنڈانے كى وجہ سے اس پر ايك بكرى كا كفارہ دينا بھى واجب ہے ليكن اگر اس نے عمرہ مفردہ كيلئے احرام باندھا ہو تو حلق اور تقصير كے درميان اسے اختيار ہے _

مسئلہ ۳۱۴_ عمرہ تمتع كے احرام سے مُحل ہونے كيلئے بالوں كو نوچنا تقصير سے كافى نہيں ہے بلكہ اس سے محل ہونے كيلئے تقصير ہى ضرورى ہے جيسے كے گزرچكا ہے پس اگر تقصير كى بجائے اپنے بالوں كو نوچے تو اگر اسے جان بوجھ كر انجام دے تو نہ فقط يہ كافى نہيں ہے بلكہ اس پر بال نوچنے كا كفارہ بھى ہوگا _

مسئلہ ۳۱۵_ اگر حكم سے لاعلمى كى وجہ سے تقصير كى بجائے بالوں كو نوچے اور حج كو بجالائے تو اس كا عمرہ باطل ہے اور جو حج بجالايا ہے وہ حج افراد واقع ہوگا اور اس وقت اگر اس پر حج واجب ہو تو احوط وجوبى يہ ہے كہ اعمال حج ادا كرنے كے بعد عمرہ مفردہ بجالائے پھر آئندہ سال عمرہ تمتع اور حج


بجالائے اور يہى حكم ہے اس بندے كا جو حكم سے لاعلمى كى وجہ سے تقصير كے بدلے اپنے بال مونڈ دے اور حج بجالائے _

مسئلہ ۳۱۶_ سعى كے بعد تقصير كى انجام دہى ميں جلدى كرنا واجب نہيں ہے _

مسئلہ ۳۱۷_ اگر جان بوجھ كر يا لاعلمى كى وجہ سے تقصير كو ترك كر كے حج كا احرام باندھ لے تو اقوى يہ ہے كہ اس كا عمرہ باطل ہے اور اس كا حج حج افراد ہوجائيگا اور احوط وجوبى يہ ہے كہ حج كے بعد عمرہ مفردہ كو بجالائے اور اگر اس پر حج واجب ہو تو آئندہ سال عمرہ اور حج كا اعادہ كرے _

مسئلہ ۳۱۸_ اگر بھول كر تقصير كو ترك كردے اور حج كيلئے احرام باندھ لے تو اس كا احرام ، عمرہ اور حج صحيح ہے اور اس پر كوئي شے نہيں ہے اگر چہ اسكے لئے ايك بكرى كا كفارہ دينا مستحب ہے بلكہ احوط اس كا ترك نہ كرنا ہے _

مسئلہ ۳۱۹_ عمرہ تمتع كى تقصير كے بعد اس كيلئے وہ سب حلال ہوجائيگا جو


حرام تھا حتى كہ عورتيں بھى _

مسئلہ ۳۲۰_ عمرہ تمتع ميں طواف النساء واجب نہيں ہے اگر چہ احوط يہ ہے كہ رجاء كى نيت سے طواف النساء اور اسكى نماز كو بجالائے ليكن اگر اس نے عمرہ مفردہ كيلئے احرام باندھا ہو تو اس كيلئے عورتيں حلال نہيںہوںگى مگر تقصير يا حلق كے بعد طواف النساء اور نماز طواف كو بجالانے كے بعد اور اس كا طريقہ اور احكام طواف عمرہ سے مختلف نہيں ہيں كہ جو گزرچكا ہے _

مسئلہ ۳۲۱_ ظاہر كى بناپر ہر عمرہ مفردہ اور ہر حج كيلئے الگ طور پر طواف النساء واجب ہے مثلا اگر دو عمرہ مفردہ بجالائے يا ايك حج اور عمرہ مفردہ بجالائے تو اگر چہ اس كيلئے عورتوں كے حلال ہونے ميں ايك طواف النساء كا كافى ہونا بعيد نہيں ہے مگر ان ميں سے ہر ايك كيلئے الگ طواف النساء واجب ہے _


دوسرا حصہ:

اعمال حج كے بارے ميں


پہلى فصل :احرام

يہ حج كے واجبات ميں سے پہلا واجب ہے _ شرائط ، كيفيت ، محرمات، احكام اور كفار ات كے لحاظ سے حج كا احرام عمرہ كے احرام سے مختلف نہيںہے مگر نيت ميں پس اسكے ساتھ اعمال حج كو انجام دينے كى نيت كريگا اور جو كچھ عمرہ كے احرام كى نيت ميں معتبر ہے وہ سب حج كے احرام كى نيت ميں بھى معتبر ہے اور يہ احرام نيت اور تلبيہ كے ساتھ منعقد ہوجاتا ہے پس جب حج كى نيت كرے اور تلبيہ كہے تو اس كا احرام منعقد ہوجائيگا _ ہاں احرام حج بعض امور كے ساتھ مختص ہے جنہيں مندرجہ ذيل مسائل كے ضمن ميں بيان كرتے ہيں :


مسئلہ ۳۲۲_ حج تمتع كے احرام كا ميقات مكہ معظمہ ہے اور افضل يہ ہے كہ حج تمتع كا احرام مسجدالحرام سے باندھے اور مكہ معظمہ كے ہر حصے سے احرام كافى ہے حتى كہ وہ حصہ جو نيا بنايا گيا ہے _ ليكن احوط يہ ہے كہ قديمى مقامات سے احرام باندھے ہاں اگر شك كرے كہ يہ مكہ كا حصہ ہے يا نہيں تو اس سے احرام باندھنا صحيح نہيں ہے _

مسئلہ ۳۲۳_ واجب ہے كہ نوذى الحج كو زوال سے پہلے احرام باندھے اس طرح كہ عرفات ميں وقوف اختيارى كو پاسكے اور اسكے اوقات ميں سے افضل ترويہ كے دن( آٹھ ذى الحج) زوال كا وقت ہے _ اور اس سے پہلے احرام باندھنا جائز ہے بالخصوص بوڑھے اور بيمار كيلئے جب انہيں بھيڑ كى شدت كا خوف ہو _ نيز گزرچكا ہے كہ جو شخص عمرہ بجالانے كے بعد كسى ضرورت كى وجہ سے مكہ سے خارج ہونا چاہے تو اس كيلئے احرام حج كو مقدم كرنا جائز ہے _

مسئلہ ۳۲۴_ جو شخص احرام كو بھول كر عرفات كى طرف چلاجائے تو اس


پر واجب ہے كہ مكہ معظمہ كى طرف پلٹے اور وہاں سے احرام باندھے اور اگر وقت كى تنگى يا كسى اور عذر كى وجہ سے يہ نہ كرسكتا ہو تو اپنى جگہ سے ہى احرام باندھ لے اور اس كا حج صحيح ہے اور ظاہر يہ ہے كہ جاہل بھى بھولنے والے كے ساتھ ملحق ہے _

مسئلہ ۳۲۵_ جو شخص احرام كو بھول جائے يہاں تك كہ حج كے اعمال مكمل كرلے تو اس كا حج صحيح ہے _ اور حكم سے جاہل بھى بھولنے والے كے ساتھ ملحق ہے اور احوط استحبابى يہ ہے كہ لاعلمى اور بھولنے كى صورت ميں آئندہ سال حج كا اعادہ كرے _

مسئلہ ۳۲۶: جو شخص جان بوجھ كر احرام كو ترك كردے يہاں تك كہ وقوفبالعرفات اور وقوف بالمشعر كى فرصت ختم ہوجائے تو اس كا حج باطل ہے _

مسئلہ ۳۲۷_ جس شخص كيلئے اعمال مكہ كو وقوفين پر مقدم كرنا جائز ہو اس پر واجب ہے كہ انہيں احرام كى حالت ميں بجالائے پس اگر انہيں بغير احرام كے بجالائے تو احرام كے ساتھ ان كا اعادہ كرنا ہوگا _


دوسرى فصل :عرفات ميں وقوف كرنا

يہ حج كے واجبات ميں سے دوسرا واجب ہے اور عرفات ايك مشہور پہاڑ ہے كہ جسكى حد عرنہ ، ثويہ اور نمرہ كے وسطسے ليكر ذى المجاز تك اور ما زمين سے وقوف كى جگہ كے آخر تك اور خود يہ حدود اس سے خارج ہيں_

مسئلہ ۳۲۸_ وقوف بالعرفات عبادت ہے كہ جس ميں انہيں شرائط كے ساتھ نيت واجب ہے كہ جو احرام كى نيت ميں گزرچكى ہيں_

مسئلہ ۳۲۹_ وقوف سے مراد اس جگہ ميں صرف حاضر ہونا ہے چاہے سوار ہو يا پيدل يا ٹھہرا ہوا_

مسئلہ ۳۳۰_ احوط يہ ہے كہ نوذى الحج كے زوال سے غروب شرعى


(نماز مغرب كا وقت) تك ٹھہرے اور بعيد نہيں ہے كہ اسے زوال كے اول سے اتنى مقدار مؤخر كرنا جائز ہو كہ جس ميں نماز ظہر ين كو انكے مقدمات سميت اكٹھا ادا كيا جاسكے_

مسئلہ ۳۳۱_ مذكورہ وقوف واجب ہے ليكن اس ميںسے ركن صرف وہ ہے جس پر وقوف كا نام صدق كرے اور يہ ايك ياد و منٹ كے ساتھ بھى ہوجاتا ہے اگر اس مقدار كو بھى اپنے اختيار كے ساتھ ترك كردے تو حج باطل ہے اور اگر اتنى مقدار وقوف كرے اور باقى كو ترك كردے يا وقوف كو عصر تك مؤخر كردے تو اس كا حج صحيح ہے اگرچہ جان بوجھ ايسا كرنے كى صورت ميں گناہ گار ہے _

مسئلہ ۳۳۲_ غروب سے پہلے عرفات سے كوچ كرنا حرام ہے پس اگر جان بوجھ كر كوچ كرے اور عرفات كى حدود سے باہر نكل جائے اور پلٹے بھى نہ تو گناہ گار ہے اورايك اونٹ كا كفارہ دينا واجب ہے ليكن اس كا حج صحيح ہے اور اگر اونٹ كا كفارہ دينے سے عاجز ہو تو اٹھارہ روزے ركھے اور احوط


يہ ہے كہ اونٹ كو عيد والے دن منى ميں ذبح كرے اگر چہ اسے منى ميں ذبح كرنے كا معين نہ ہونا بعيد نہيں ہے اور اگر غروب سے پہلے عرفات ميں پلٹ آئے تو كفارہ نہيں ہے _

مسئلہ ۳۳۳_ اگر بھول كر يا حكم سے لاعلمى كى وجہ سے غروب سے پہلے عرفات سے كوچ كرے تو اگر وقت گزرنے سے پہلے متوجہ ہوجائے تو اس پر واجب ہے كہ پلٹے اور اگر نہ پلٹے تو گناہ گارہے ليكن اس پر كفارہ نہيں ہے ليكن اگر وقت گزرجانے كے بعد متوجہ ہو تو اس پر كوئي شے نہيں ہے _


تيسرى فصل :مشعرالحرام ( مزدلفہ) ميں وقوف كرنا

يہ حج كے واجبات ميں سے تيسرا ہے اور اس سے مراد غروب كے وقت عرفات سے مشعر الحرام كى طرف كوچ كرنے كے بعد اس مشہور جگہ ميں ٹھہرنا ہے_

مسئلہ ۳۳۴_ وقوف بالمشعر عبادت ہے كہ جس ميں انہيں شرائط كے ساتھ نيت معتبر ہے جو احرام كى نيت ميں ذكر ہوچكى ہيں_

مسئلہ ۳۳۵_ واجب وقوف كا وقت دس ذى الحج كو طلوع فجر سے طلوع آفتاب تك ہے اوراحوط يہ ہے كہ عرفات سے كوچ كرنے كے بعد رات كو وہاں پہنچ كر وقوف كى نيت كے ساتھ وہاں وقوف كرے _


مسئلہ ۳۳۶_ مشعر ميں طلوع فجر سے ليكر طلوع آفتاب تك باقى رہنا واجب ہے ليكن ركن اتنى مقدار ہے جسے وقوف كہا جائے اگر چہ يہ ايك يا دو منٹ ہو _اگر اتنى مقدار وقوف كرے اور باقى كو جان بوجھ كر ترك كردے تو اس كا حج صحيح ہے اگر چہ فعل احرام كا مرتكب ہوا ہے ليكن اگر اپنے اختيار كے ساتھ اتنى مقدار وقوف كو بھى ترك كردے تو اس كا حج باطل ہے _

مسئلہ ۳۳۷_ عورتوں ، بچوں، بوڑھوں ،كمزوروں اور صاحبان عذر_ جيسے خوف يا بيماري_ كيلئے اتنى مقدار وقوف كرنے كے بعد كہ جس پر وقوف صدق كرتا ہے عيد كى رات مشعر سے منى كى طرف كوچ كرنا جائز ہے اسى طرح وہ لوگ جو ان كے ہمراہ كوچ كرتے ہيں اور انكى احوال پرسى كرتے ہيں جيسے خدام اور تيمار دارى كرنے والے _

تنبيہ : وقوفين ميں سے ايك يادونوں كو درك كرنے كے اعتبار سے اور اختياراً يا اضطراراً جان بوجھ كر، لاعلمى سے يا بھول كر فرداً يا تركيباً بہت سارى تقسيمات ہيں كہ جو مفصل كتابوں ميں مذكور ہيں_


چوتھى فصل :كنكرياں مارنا

يہ حج كے واجبات ميں سے چوتھا اور منى كے اعمال ميں سے پہلا ہے _ دس ذى الحج كو جمرہ عقبہ ( سب سے بڑا) كوكنكرياں مارناواجب ہے _

كنكرياں مارنے (رمي) كى شرائط

كنكرياں مارنے (رمي) ميں چند چيزيں شرط ہيں :

اول: نيت اپنى تمام شرائط كے ساتھ جيسے كہ احرام كى نيت ميں گزرچكا ہے_

دوم: يہ كہ رمى اسكے ساتھ ہو جسے كنكرياں كہا جائے پس نہ اتنے


چھوٹے كے ساتھ صحيح ہے كہ وہ ريت ہو اور نہ اتنے بڑے كے ساتھ كہ جو پتھر ہو _

سوم : يہ كہ رمى عيدوالے دن طلوع آفتاب اورغروب آفتاب كے درميان ہو البتہ جس كيلئے يہ ممكن ہو _

چہارم: يہ كہ كنكرياں جمرے كو لگيں پس اگر نہ لگے يا اسے اسكے لگنے كا گمان ہو تو يہ شمار نہيں ہوگى اور اسكے بدلے دوسرى كنكرى مارنا واجب ہے اور اس كا لگے بغير صرف اس دائرے تك پہنچ جانا جو جمرے كے اردگرد ہے كافى نہيں ہے_

پنجم: يہ كہ رمى سات كنكريوں كے ساتھ ہو

ششم: يہ كہ پے در پے كنكرياں مارے پس اگر ايك ہى دفعہ مارے تو صرف ايك شمار ہوگى چاہے سب جمرے كو لگ جائيں يا نہ _

مسئلہ ۳۳۸_ جمرے كو رمى كرنا جائز ہے اس پر لگے ہوئے سيمنٹ سميت_ اسى طرح جمرہ كے نئے بنائے گئے حصے پر رمى كرنا بھى جائز ہے


البتہ اگر عرف ميں اسے جمرہ كا حصہ شمار كيا جائے_

مسئلہ ۳۳۹_ اگر متعارف قديمى جمرہ كے آگے اور پيچھے سے كئي ميٹر كا اضافہ كر ديں تو اگر بغير مشقت كے سابقہ جمرہ كو پہچان كر اسے رمى كرنا ممكن ہو تو يہ واجب ہے ورنہ موجودہ جمرہ كى جس جگہ كو چاہے رمى كرے اور يہى كافى ہے _

مسئلہ ۳۴۰_ ظاہر يہ ہے كہ اوپر والى منزل سے رمى كرنا جائز ہے اگرچہ احوط اس جگہ سے رمى كرنا ہے جو پہلے سے متعارف ہے_

كنكريوں كى شرائط:

كنكريوں ميں چند چيزيں شرط ہيں :

اول : يہ كہ وہ حرم كى ہوں اور اگر حرم كے باہر سے ہوں تو كافى نہيں ہيں_

دوم: يہ كہ وہ نئي ہوں كہ جنہيں پہلے صحيح طور پر نہ ماراگيا ہو اگرچہ گذشتہ سالوں ميں _


سوم: يہ كہ مباح ہوں پس غصبى كنكريوں كا مارنا جائز نہيں ہے اور نہ ان كنكريوں كا مارنا جنہيں كسى دوسرے نے جمع كيا ہو اسكى اجازت كے بغير ہاں كنكريوں كا پاك ہونا شرط نہيں ہے _

مسئلہ ۳۴۱_ عورتيں اور كمزور لوگ _ كہ جنہيں مشعر الحرام ميں صرف وقوف كا مسمى انجا م دينے كے بعد منى كى طرف جانے كى اجازت ہے اگر وہ دن كو رمى كرنے سے معذور ہوں تو ان كيلئے رات كے وقت رمى كرنا جائز ہے بلكہ عورتوں كيلئے ہر صورت ميں رات كے وقت رمى كرنا جائز ہے البتہ اگروہ اپنے حج كيلئے رمى كر رہى ہوں يا ان كا حج نيابتى ہو ليكن اگر عورت صرف رمى كيلئے كسى كى طرف سے نائب بنى ہو تو رات كے وقت رمى كرنا صحيح نہيں ہے اگر چہ دن ميں رمى كرنے سے عاجز ہو بلكہ نائب بنانے والے كيلئے ضرورى ہے كہ وہ ايسے شخص كو نائب بنائے جو دن كے وقت رمى كر سكے اگر اسے ايسا شخص مل جائے _اور ان لوگوں كى ہمراہى كرنے والا اگر وہ خود معذور ہو تو اس كيلئے رات كے وقت رمى كرنا جائز ہے ورنہ اس پر واجب


ہے كے دن وقت رمى كرے _

مسئلہ ۳۴۲ _ جو شخص عيد والے دن رمى كرنے سے معذور ہے اس كيلئے شب عيد يا عيد كے بعد والى رات ميں رمى كرنا جائز ہے اور اسى طرح جو شخص گيارہويں يا بارہويں كے دن رمى كرنے سے معذور ہے اسكے لئے اسكى رات يا اسكے بعد والى رات رمى كرنا جائز ہے _

پانچويں فصل :قربانى كرنا

يہ حج كے واجبات ميں سے پانچواں اورمنى كے اعمال ميں سے دوسرا عمل ہے

مسئلہ ۳۴۳_ حج تمتع كرنے والے پر قربانى كرنا واجب ہے اور قربانى تين جانوروں ميں سے ايك ہوگى اونٹ ، گائے اور بھيڑ بكرى اور ان جانوروں ميں مذكر اور مونث كے درميان فرق نہيں ہے اور اونٹ افضل ہے اورمذكورہ جانوروں كے علاوہ ديگر حيوانات كافى نہيں ہيں_

مسئلہ ۳۴۴_ قربانى ايك عبادت ہے كہ جس ميں ان تمام شرائط كے ساتھ نيت شر ط ہے كہ جو احرام كى نيت ميں گزر چكى ہيں_


مسئلہ ۳۴۵_ قربانى ميں چند چيزيں شرط ہيں :

اول: سن: اونٹ ميں معتبر ہے كہ وہ چھٹے سال ميں داخل ہو اور گائے ميں معتبر ہے كہ وہ تيسرے سال ميں داخل ہو احوط وجوبى كى بناپر_ اور بكرى گائے كى طرح ہے ليكن بھيڑ ميں معتبر ہے كہ وہ دوسرے سال ميں داخل ہو احوط وجوبى كى بناپر _مذكورہ حد بندى چھوٹا ہونے كى جہت سے ہے پس اس سے كمتر كافى نہيں ہے ليكن بڑا ہونے كى جہت سے تو مذكورہ حيوانات ميںسے بڑى عمر والا بھى كافى ہے _

دوم : صحيح و سالم ہونا

سوم: يہ كہ بہت دبلا نہ ہو

چہارم: يہ كہ اسكے اعضا پورے ہوں پس ناقص كافى نہيں ہے جيسے خصى اور يہ وہ ہے كہ جسكے بيضے نكال ديئےائيں ہاں جسكے بيضے كوٹ ديئے جائيں وہ كافى ہے مگر يہ كہ خصى كى حد كو پہنچ جائے _ اور دم كٹا ، كانا ، لنگڑا ، كان كٹا اور جس كا اندر كا سينگ ٹوٹا ہوا ہو وہ كافى نہيںہے _ اسى طرح اگر


پيدائشےى طور پر ايسا ہو تو بھى كافى نہيںہے پس دہ حيوان كافى نہيں ہے كہ جس ميں ايسا عضو نہ ہو جو اس صنف كے جانوروں ميںعام طور پر ہوتا ہے اس طرح كے اسے اس ميں نقص شمار كيا جائے _

ہاں جس كا باہر كا سينگ ٹوٹا ہوا ہو وہ كافى ہے ( باہر كا سينگ اندر والے سينگ كے غلاف كے طور پر ہوتا ہے ) اور جسكا كان پھٹا ہوا ہو يا اسكے كان ميں سوراخ ہو اس ميں كوئي حرج نہيںہے _

مسئلہ ۳۴۶_ اگر ايك جانور كو صحيح و سالم سمجھتے ہوئے ذبح كرے پھر اس كے مريض يا ناقص ہونے كا انكشاف ہو تو قدرت كى صورت ميں دوسرى قربانى كو ذبح كرنا واجب ہے _

مسئلہ ۳۴۷_ احوط يہ ہے كہ قربانى جمرہ عقبہ كو كنكرياں مارنے سے مؤخر ہو _

مسئلہ ۳۴۸_ احوط وجوبى يہ ہے كہ اپنے اختيار كے ساتھ قربانى كو روز عيد سے مؤخر نہ كرے پس اگر جان بوجھ كر ، بھول كر يا لاعلمى كى وجہ سے كسى


عذر كى خاطر يا بغير عذر كے مؤخر كرے تو احوط وجوبى يہ ہے كہ اگر ممكن ہو اسے ايام تشريق ميں ذبح كرے ورنہ ذى الحج كے ديگر دنوں ميں ذبح كرے اور اس ميں رات اور دن كے درميان فرق نہيں ہے ظاہر كى بناپر _

مسئلہ ۳۴۹_ ذبح كرنے كى جگہ منى ہے پس اگر منى ميں ذبح كرنا ممنوع ہو تو اس وقت ذبح كرنے كيلئے جو جگہ تيار كى گئي ہے اس ميں ذبح كرنا كافى ہے _

مسئلہ ۳۵۰_ احوط وجوبى يہ ہے كہ ذبح كرنے والا مؤمن ہو ہاں اگر واجب كى نيت خود كرے اور نائب كو صرف رگيں كاٹنے كيلئے وكيل بنائے تو ايمان كى شرط كا نہ ہونا بعيد نہيں ہے _

مسئلہ ۳۵۱_ شرط ہے كہ خود ذبح كرے يا اسكى طرف سے وكيل ذبح كرے ليكن اگر كوئي اور شخص اسكى طرف سے ذبح كرے بغير اسكے كہ اس نے پہلے سے اسے وكيل بنايا ہو تو يہ محل اشكال ہے پس احوط يہ ہے كہ يہ كافى نہيں ہے _


مسئلہ ۳۵۲_ ذبح كرنے كے آلے ميں شرط ہے كہ وہ لوہے كا ہو اور سٹيل ( يہ فولاد ہوتا ہے كہ جسے ايك ايسے مادہ كے ساتھ ملايا جاتا ہے جسے زنگ نہيں لگتا ) لوہے كے حكم ميں ہے _

ليكن اگر شك ہو كہ يہ آلہ لوہے كا ہے يا نہيں تو جب تك معلوم نہ ہو كہ يہ لوہے كا ہے اسكے ساتھ ذبح كرنا كافى نہيں ہے _


چھٹى فصل :تقصير يا حلق

يہ حج كے واجبات ميں سے چھٹا اور منى كے اعمال ميں سے تيسرا ہے _

مسئلہ ۳۵۳_ ذبح كے بعد سر منڈانا يا بالوں يا ناخنوں كى تقصير كرنا واجب ہے _عورت كيلئے تقصير ہى ضرورى ہے پس اس كيلئے حلق كافى نہيں ہے اور احوط يہ ہے كہ تقصير ميں بال بھى كاٹے اورناخن بھى _ ليكن مرد كو حلق اور تقصير كے درميان اختيار ہے اور اس كيلئے حلق ضرورى نہيں ہے ہاں جس نے پہلے حج نہ كيا ہو اس كيلئے احوط حلق ہے _

مسئلہ ۳۵۴_ حلق اور تقصير ميں سے ہر ايك عبادت ہے پس ان دونوں ميں رياء سے خالص نيت اور اللہ تعالى كى اطاعت كا قصد واجب ہے پس اگر مذكورہ نيت كے بغير حلق يا تقصير كرے تو اس كيلئے وہ چيزيں حلال نہيں


ہوں گى جو ان كے ساتھ حلال ہوتى ہيں _

مسئلہ ۳۵۵_ اگر تقصير يا حلق كيلئے كسى دوسرے سے مدد لے تو اس پر واجب ہے كہ نيت خود كرے _

مسئلہ ۳۵۶_ احوط وجوبى يہ ہے كہ حلق عيد كے دن ہو اور اگر اسے روز عيد انجام نہ دے تو اسے گيا رہويں كى رات يا اسكے بعد انجام دے اور يہ كافى ہے _

مسئلہ ۳۵۷_ جو شخص كسى وجہ سے قربانى كو روز عيد سے مؤخر كردے اس پر حلق يا تقصير كومؤخر كرنا واجب نہيں ہے بلكہ بعيد نہيں ہے كہ انہيںعيدوالے دن ہى انجام دينا واجب ہو پس اس ميںاحتياط كو ترك نہ كيا جائے ليكن اس صورت ميں طواف حج و غيرہ مكہ كے پانچ اعمال كو قربانى سے پہلے انجام دينا محل اشكال ہے _

مسئلہ ۳۵۸_ واجب ہے كہ حلق يا تقصير منى ميں ہو پس اختيارى صورت ميںغير منى ميںجائز نہيں ہے _


مسئلہ ۳۵۹_ اگر جان بوجھ كر يا بھول كر يا لاعلمى كى وجہ سے منى سے باہر حلق يا تقصير كرے اور باقى اعمال كو انجام دے دے تو اس پر واجب ہے كہ حلق ياتقصير كيلئے منى كى طرف پلٹے اور پھر ان كے بعد والے اعمال كا اعادہ كرے اور يہى حكم ہے اگر تقصير يا حلق كو ترك كر كے منى سے نكل جائے _

مسئلہ ۳۶۰_ اگر عيد والے دن قربانى كرسكتا ہو تو واجب ہے كہ عيد والے دن پہلے جمرہ عقبہ كو رمى كرے پھر قربانى كرے اور اسكے بعد حلق يا تقصير كرے اور اگر جان بوجھ كر اس ترتيب پر عمل نہ كرے تو گناہ گار ہے ليكن ظاہر يہ ہے كہ اس پر بالترتيب اعمال كا اعادہ كرنا واجب نہيں ہے اگرچہ تو ان ركھنے كى صورت ميں اعادہ كرنا احتياط كے موافق ہے اور لاعلمى اور بھولنے كى صورت ميں بھى يہى حكم ہے اور اگر عيد والے دن منى ميں قربانى نہ كرسكتا ہوتو اگر اسى دن اس ذبح خانہ ميں قربانى كرسكتا ہو جو اس وقت منى سے باہر قربانى كيلئے مقرر كياگيا ہے تو بھى احوط كى بناپر واجب ہے كہ قربانى كو حلق يا تقصير پر مقدم كرے پھر ان ميں سے ايك كو بجالائے


اور اگر يہ بھى نہ كرسكتا ہو تو احوط وجوبى يہ ہے كہ عيد والے دن حلق يا تقصير كرنے كى طرف مبادرت كرے اور اسكے ذريعے احرام سے مُحل ہوجائے ليكن مكہ كے پانچ اعمال كو قربانى كے بعد تك مؤخر كردے _

مسئلہ ۳۶۱_ حلق يا تقصير كے بعد مُحرم كيلئے وہ سب حلال ہوجاتا ہے جو احرام حج كى وجہ سے حرام ہوا تھا سوائے عورتوں اور خوشبوكے_


ساتويں فصل : مكہ مكرمہ كے اعمال

مكہ معظمہ ميں پانچ اعمال واجب ہيں طواف حج ( اسے طواف زيارت كہا جاتا ہے ) نماز طواف ،صفا و مروہ كے درميان سعى ، طواف النساء اور نماز طواف

مسئلہ ۳۶۲_ عيد والے دن كے اعمال سے فارغ ہونے كے بعد جائز بلكہ مستحب ہے كہ حج كے باقى اعمال ، دو طواف انكى نمازيں اور سعى كو انجام دينے كيلئے اسى دن مكہ معظمہ كى طرف لوٹ جائے اور اسے ايام تشريق كے آخر تك بلكہ ماہ ذى الحج كے آخر تك مؤخر كرنا بھى جائز ہے _

مسئلہ ۳۶۳_ طواف ، نماز طواف اور سعى كى كيفيت وہى ہے جو عمرہ كے طواف اسكى نماز اور سعى كى ہے بغير كسى فرق كے مگر نيت ميں پس يہاں پر ان


كے ذريعے حج كو انجام دينے كى نيت كريگا _

مسئلہ ۳۶۴_ اختيارى صورت ميںمذكورہ اعمال كو وقوف بالعرفات، وقوف بالمشعر اور منى كے اعمال پر مقدم كرنا جائز نہيں ہے ہاں بعض گروہوں كيلئے انكا مقدم كرنا جائز ہے _

اول: خواتيں جب انہيں مكہ معظمہ كى طرف لوٹنے كے بعد حيض يا نفاس آنے كاخوف ہو اور پاك ہونے تك ٹھہرنے پر بھى قادر نہ ہوں _

دوم : وہ مرد اورعورتيں جو مكہ پلٹنے كے بعد بھيڑ كى كثرت كى وجہ سے طواف كرنے سے عاجز ہوں يا وہ جو مكہ لوٹنے سے ہى عاجز ہيں_

سوم: وہ بيمار لوگ كہ جو مكہ معظمہ لوٹنے كے بعد بھيڑ كى شدت يا بھيڑ كے خوف سے طواف كرنے سے عاجز ہوں _

مسئلہ ۳۶۵_ اگر مذكورہ تين گروہوں ميں سے كوئي شخص دو طواف ،انكى نماز اور سعى كو مقدم كردے پھر عذر بر طرف ہوجائے تو اس پر واجب نہيں ہے كہ ان كا اعادہ كرے اگر چہ اعادہ كرنا احوط ہے _


مسئلہ ۳۶۶_ جو شخص كسى عذر كى وجہ سے مكہ كے اعمال كومقدم كرے جيسے مذكورہ تين گروہ تو اس كيلئے خوشبو اور عورتيں حلال نہيں ہوں گى بلكہ اس كيلئے سب محرمات تقصير يا حلق كے بعد حلال ہوں گے _

مسئلہ ۳۶۷_ طواف النساء اور اسكى نماز دونوں واجب ہيں ليكن ركن نہيں ہيں پس اگر انہيں جان بوجھ كر ترك كردے تو حج باطل نہيں ہوگا ليكن اس كيلئے عورتيں حلال نہيں ہوں گى _

مسئلہ ۳۶۸_ طواف النساء مردوں كے ساتھ مختص نہيں ہے بلكہ خواتين اور غير خواتين پر بھى واجب ہے پس اگر اسے مرد ترك كردے تو اسكے لئے عورتيں حلال نہيں ہوں گى اور اگر عورت ترك كردے تواس كيلئے مر د حلال نہيں ہوں گے _

مسئلہ ۳۶۹_ اختيارى صورت ميں سعى كو طواف حج اور اسكى نماز پر مقدم كرنا جائز نہيں ہے اور نہ طواف النساء كوان دونوں پر اور نہ سعى پر پس اگر ترتيب كى مخالفت كرے تو اعادہ كرے _


مسئلہ ۳۷۰_ اگر بھول كر طواف النساء كو ترك كردے اور اپنے شہر ميں پلٹ آئے تواگر بغير مشقت كے لوٹ سكتا ہو تو يہ واجب ہے ورنہ نائب بنائے اوراس كيلئے عورتيں حلال نہيں ہوںگى مگر خود اس كے يا اس كے نائب كے طواف بجالانے كے ساتھ اوراگر اسے جان بوجھ كر ترك كرے توبھى يہى حكم ہے _

مسئلہ ۳۷۱_ احرام حج كے ساتھ وہ سب چيزيں حرام ہو جاتى ہيں جو عمرہ كے احرام كے محرمات ميں گزرچكى ہيں اور پھر بالتدريج اور تين مرحلوں ميں حلال ہوں گى _

اول: حلق يا تقصير كے بعد ہر چيز حلال ہو جاتى ہے سوائے عورتوں اور خوشبو كے حتى كہ شكار بھى حلال ہوجاتا ہے اگر چہ يہ حرم ميں ہونے كى وجہ سے حرام ہوتا ہے

دوم: سعى كے بعد خوشبو حلال ہوجاتى ہے _

سوم: طواف النساء اور اسكى نماز كے بعد عورتيں حلال ہوجاتى ہيں _


آٹھويں فصل: منى ميں رات گزارنا

يہ حج كے واجبات ميں سے بارہواں اور منى كے اعمال ميں سے چوتھا ہے _

مسئلہ ۳۷۲_ واجب ہے كہ گيارہويں اور بارہويں كى رات منى ميں گزارے پس اگر دو طواف ، انكى نماز اور سعى كو بجالانے كيلئے عيد كے دن مكہ معظمہ چلا گيا ہو تو اس پر منى ميں رات گزارنے كيلئے لوٹنا واجب ہے _

مسئلہ ۳۷۳_ مندرجہ ذيل گروہ مذكورہ راتوں كومنى ميں بسر كرنے كے وجوب سے مستثنے ہيں _

الف: بيمار اور انكى تيمار دارى كرنے والے بلكہ ہر صاحب عذر شخص كہ جس كيلئے اس عذر كے ہوتے ہوئے منى ميں رات گزار نا شاق ہو _


ب: جس شخص كو مكہ ميں اپنے قابل اعتنا مال كے ضائع ياچورى ہوجانے كا خوف ہو _

ج: جو شخص مكہ ميں فجر تك عبادت ميں مشغول رہے اور صرف ضرورت كى خاطر غير عبادت ميں مشغول ہوا ہو جيسے ضرورت كے مطابق كھنا پينايا دوبارہ وضو كرنا_

مسئلہ ۳۷۴_ منى ميں رات بسر كرنا عبادت ہے كہ جس ميں گذشتہ تمام شرائط كے ساتھ نيت واجب ہے _

مسئلہ ۳۷۵_ رات كوغروب سے آدھى رات تك رہنا كافى ہے اور جس شخص نے بغير عذر كے رات كاپہلا آدھا حصہ منى ميں نہ گزارا ہو اس كيلئے احوط وجوبى يہ ہے كہ رات كا دوسرا نصف وہاں گزارے اگر چہ بعيد نہيں ہے كہ اختيارى صورت ميں بھى رات كے دوسرے نصف كا وہاں گزارنا كافى ہو _

مسئلہ ۳۷۶_ جو شخص مكہ مكرمہ ميںعبادت ميں مشغول نہ رہا ہو اورمنى


ميں رات گزارنے والے واجب كام كو بھى ترك كردے تو اس پر ہر رات كے بدلے ايك بكرى كفارہ ميں دينا واجب ہے اور احوط كى بناپر اس ميں فرق نہيں ہے كہ عذر ركھتا ہو يا نہ ، جاہل ہو يا نسيان كا شكار يا ان كا غير _

مسئلہ ۲۷۷_ جس شخص كيلئے بارہويں كے دن كوچ كرنا جائز ہو اور منى ميں ہو تو اس پر واجب ہے كہ زوال كے بعد كوچ كرے اور زوال سے پہلے كوچ كرنا جائز نہيں ہے _


نويں فصل :تين جمرات كو كنكرياں مارنا

يہ حج كے واجبات ميں سے تيرہواں اور منى كے اعمال ميں سے پانچواں ہے اور تين جمرات كو كنكرياں مارنا كيفيت اور شرائط كے اعتبار سے عيد والے دن جمرہ عقبہ كو كنكرياں مارنے سے مختلف نہيں ہے_

مسئلہ ۳۷۸_ جو راتيں منى ميں گزارنا واجب ہے ان كے دنوں ميں تين جمرات اولى ، وسطى اور عقبہ كو كنكرياں مارنا واجب ہے_

مسئلہ ۳۷۹_ كنكرياں مارنے كا وقت طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تك ہے پس اختيارى صورت ميں رات كے وقت كنكرياں مارناجائز نہيں ہے اور اس سے وہ شخص مستثنى ہے جو عذر ركھتا ہے كہ اسے اپنے مال، عزت اور جان پر خوف ہے اور چرواہا اور اسى طرح كمزور لوگ


جيسے عورتيں ، بوڑھے اور بچے كہ جنہيں اپنے آپ پر بھيڑ كى شدت كا خوف ہے تو ان سب كيلئے رات كے وقت كنكرياں مارنا جائز ہے _

مسئلہ ۳۸۰_ جو شخص صرف دن كے وقت كنكرياں مارنے سے عذر ركھتا ہے نہ رات كے وقت تو اس كےلئے نائب بنانا جائز نہيں ہے بلكہ اس پر واجب ہے كہ رات كے وقت خود كنكرياں مارے، گذشتہ رات ميں يا آئندہ رات ميں ليكن جو شخص كنكرياں مارنے سے عذر ركھتا ہے حتى رات كے وقت بھى جيسے بيمار شخص تو اس كيلئے نائب بنانا جائز ہے ليكن احوط وجوبى يہ ہے كہ اگر آئندہ رات عذر برطرف ہوجائے تو خود كنكرياں مارے _

مسئلہ ۳۸۱_ جو شخص خود كنكرياں مارنے سے عذر ركھتا ہے اگر اس كيلئے كسى كونائب بنائے اور وہ نائب اس كام كو انجام دے دے ليكن اسكے بعد كنكرياں مارنے كا وقت گزرنے سے پہلے اس كا عذر مرتفع ہوجائے تو اگر نائب بناتے وقت اپنے عذر كے مرتفع ہونے سے مايوس تھا يہاں تك كہ نائب اس كا عمل انجام دے دے تو نائب كا عمل كافى ہے اور اس پر خود اس كا


اعادہ كرنا واجب نہيں ہے ليكن وہ شخص كہ جو عذر كے مرتفع ہونے سے مايوس نہيں ہے اس كيلئے اگر چہ عذر كے طارى ہونے كے وقت نائب بنانا جائز ہے ليكن اگر بعد ميں اس كا عذر مرتفع ہوجائے تو اس پر واجب ہے كہ خود اس كا اعادہ كرے _

مسئلہ ۳۸۲_ تين جمرات كو كنكرياں مارنا واجب ہے ليكن يہ ركن نہيں ہے _

مسئلہ ۳۸۳_ كنكرياں مارنے ميں ترتيب واجب ہے اس طرح كہ پہلے جمرہ سے شروع كرے پھر در ميان والے كو كنكرياں مارے اور پھر آخرى كو پس ہر جمرہ كو سات كنكرياں مارے اسى طريقے كے ساتھ جو گزر چكا ہے _

مسئلہ ۳۸۴_ اگر تين جمرات كو كنكرياں مارنا بھول جائے اور منى سے كوچ كرجائے تو اگر ايام تشريق ميں ياد آجائے تو اس پر واجب ہے كہ منى ميں واپس آئے اور خود كنكرياں مارے البتہ اگر اس كيلئے يہ ممكن ہو ورنہ كسى


دوسرے كو نائب بنائے ليكن اگر ايام تشريق كے بعد ياد آئے يا جان بوجھ كر كنكرياں مارنے والے عمل كو ايام تشريق كے بعد تك مؤخر كردے تو احوط وجوبى يہ ہے كہ واپس پلٹے اور خود كنكرياں مارے يا اس كا نائب كنكرياں مارے پھر آئندہ سال اسكى قضا كرے اگر چہ كسى كو نائب بناكر _اور اگر تين جمرات كو كنكرياںمارنا بھول جائے يہاں تك كہ مكہ معظمہ سے خارج ہوجائے تو احوط وجوبى يہ ہے كہ آئندہ سال اسكى قضا كرے اگر چہ كسى كو نائب بنا كر _

مسئلہ ۳۸۵_ جمرات كو چاروں اطراف سے كنكرياں مارنا جائز ہے اور شرط نہيں ہے كہ پہلے اور درميان والے ميں قبلہ رخ ہو اور آخرى ميں قبلہ كى طرف پشت كرے _


متفرق مسائل :

س۱: مسجدالحرام كا فرش قليل پانى كے ساتھ پاك كيا جاتا ہے اس طرح كہ نجاست پر قليل پانى ڈالا جاتا ہے كہ جس سے عام طور پر نجاست كے باقى رہنے كا علم ہوتا ہے تو كيا مسجد كے فرش پر سجدہ كرنا جائز ہے يا نہيں ؟

ج: اس سے عام طور پر مسجد كى ہر جگہ كے نجس ہونے كا علم نہيں ہوتا اور جستجو كرنا واجب نہيں ہے پس فرش پر سجدہ كرنا صحيح ہے _

س ۲: كيا خانہ كعبہ كے اردگرد دائرے كى صورت ميں نماز جماعت كافى ہے؟

ج: جو شخص امام كے پيچھے يا دائيں بائيں كھڑا ہو اسكى نماز صحيح ہے اور احوط استحبابى يہ ہے كہ جو شخص امام كے دائيں بائيں كھڑا ہو وہ اس فاصلے كى رعايت كرے جو امام اور


كعبہ كے درميان ہے پس امام كى نسبت كعبہ كے قريب تر كھڑا نہ ہو ليكن جو شخص خانہ كعبہ كى دوسرى طرف امام كے بالمقابل كھڑا ہوتا ہے اسكى نماز صحيح نہيںہے _

س۳: كيا مكہ معظمہ اور مدينہ منورہ ميں اہل سنت كے امام كے پيچھے جماعت كے ساتھ نماز پڑھنا كافى ہے ؟

ج : ان شاء اللہ كافى ہے _

س۴: جس شخص نے مكہ معظمہ ميں دس دن ٹھہرنے كى نيت كى ہے تو عرفات ، مشعر اور منى ميںاور ان كے درميان مسافت طے كرتے ہوئے اسكى نماز كا حكم كيا ہے ؟

ج: جس شخص كى نيت يہ ہے كہ عرفات كى طرف جانے سے پہلے دس دن مكہ معظمہ ميں رہيگا اور اسكے ساتھ ايك چار ركعتى صحيح نماز بھى پڑھ لے تو جبتك نيا سفر نہ كرے نماز


پورى پڑھے گا اور ٹھہرنے كاحكم ثابت ہونے كے بعد عرفات ، مشعرالحرام اور منى كى طرف جانا سفر نہيں ہے _

س۵: كيا قصر و اتمام كے درميان اختيار والا حكم مكہ اور مدينہ ميں بھى جارى ہوگا يا يہ فقط مسجد الحرام اور مسجد نبوى كے ساتھ مختص ہے اور كيا انكى پرانى اور نئي جگہوں كے درميان كوئي فرق ہے يا نہيں ؟

ج: قصر اور اتمام كے درميان اختيار والا حكم ان دو شہروں كى ہر جگہ ميں جارى ہوگا اور ظاہر يہ ہے كہ پرانى اور نئي جگہوں كے درميان كوئي فرق نہيں ہے اگر چہ احوط يہ ہے كہ اس مسئلہ ميں ان دوشہروں كى پرانى جگہوں پر اكتفا كرے بلكہ صرف مسجدوں پر _پس نماز قصر پڑھے مگر يہ كہ دس دن ٹھہرنے كى نيت كرے_

س ۶: جو شخص مشركين سے برائت كے پروگرامميں شركت نہ كرے اسكے


حج كا حكم كيا ہے ؟

ج: اس سے اسكے حج كى صحت كو نقصان نہيں پہنچتا اگر چہ اس نے اپنے آپ كو دشمنان خدا سے اعلان برائت كے پروگرام ميں شركت كرنے كى فضيلت سے محروم كرديا ہے_

س ۷: كيا حيض يا نفاس والى عورت كيلئے اس ديوار پر بيٹھنا جائز ہے جو مسجدالحرام كے برآمدے اور سعى كرنے كى جگہ كے درميان واقع ہے يہ جانتے ہوئے كہ يہ ان كے درميان مشترك ہے؟_

ج: اس ميں كوئي اشكال نہيں ہے مگر جب ثابت ہو جائے كہ وہ مسجدالحرام كا حصہ ہے

س۸: جس شخص كو چاند ديكھنے كى وجہ سے دو وقوف اور روز عيد كے درك كرنے ميں شك ہو اسكے حج كا كيا حكم ہے اور كيا اس پر حج كا اعادہ واجب


ہے يا نہيں ؟

ج: سنى قاضى كے نزديك ذى الحج كا چاند ثابت ہونے اور اسكى طرف سے چاند ثابت ہوجانے كے فيصلے كے مطابق عمل انجام دينا كافى ہے پس اگر لوگوں كى پيروى كرتے ہوئے دو وقوف كو درك كرلے تو اس نے حج كو درك كرليا اور يہ كافى ہے _

س۹: بعض فتاوى ميں آيا ہے كہ آپ مكہ مكرمہ كے ہوٹلوں ميں جماعت قائم كرنے كى اجازت نہيں ديتے تو كيا آپ كى طرف سے ان رہائشے گاہوں اور گھروں ميں جماعت قائم كرنے كى اجازت ہے كہ جن ميں عام طور پر قافلے آتے ہيں يہ جانتے ہوئے كہ ان قافلوں كى اپنى مستقل رہائشے گاہ اور اپنى مستقل جماعت ہوتى ہے پس يہ حجاج كيلئے مسجدالحرام ميں نماز ترك كرنے كا ذريعہ نہيں بنتے _

ج: ہمارى طرف سے ان رہائشے گا ہوں اور گھروں ميں


جماعت قائم كرنے كى اجازت نہيںہے اگر يہ دوسروں كى توجہ كے مبذول كرنے كا موجب بنے اور مسجد ميں مسلمانوں كے ساتھ انكى نماز ميں شركت نہ كرنے كى وجہ سے تنقيد كا سبب بنے_

س ۱۰: ڈرائيور حضرات بھيڑسے بچنے كيلئے منى اور مزدلفہ تك پہنچنے والے بعض شاق راستوں اور سرنگوں سے اندرونى راستوں كے طور پر استفادہ كرتے ہيں پس ان جگہوں تك پہنچنے كيلئے مكہ كے بعض محلوں سے ہوتے ہوئے ايسے راستوں سے جاتے ہيں جو منى كے اندر سے گزرتے ہيں تو كيا اسے مكہ سے نكلنا شمار كيا جائيگا يا نہيں ؟

ج: ظاہر يہ ہے كہ نكلنے كے جائز نہ ہونے كى دليل اس سے منصرف ہے بہرحال اس سے عمرہ اور حج كى صحت كو نقصان نہيں پہنچتا_

س ۱۱: كاروانوں كے خدام جو عيد والے دن عورتوں اور كمزور لوگوں


كے ہمراہ ہوتے ہيں اور ان كے ہمراہ فجر سے پہلے ہى مشعرالحرام سے كوچ كرجاتے ہيں اگر ان كيلئے طلوع فجر سے پہلے پلٹنا اور وقوف اختيارى كو درك كرنا ممكن ہو تو كيا يہ ان پر واجب ہے يا نہيں ؟ اور اگر ان كيلئے پلٹنا ممكن نہ ہو ليكن دن كے وقت جمرہ عقبہ كو كنكرياں مارنے كيلئے پلٹنا ممكن ہو تو كيا عورتوں اور كمزور لوگوں كى متابعت ميں ان كيلئے بھى رات كے وقت كنكرياں مارنا كافى ہے يا ان پر واجب ہے كہ دن كے وقت كنكرياں ماريں؟اور پلٹنے اور وقوف اختيارى كو درك كرنے كى صورت ميں كيا يہ انہيں نائب بنانے كے امكان كيلئے كافى ہے يا وہ محض رات كو نكل آنے سے صاحبان عذر ميں سے شمار ہوں گے كہ جنہيں نائب بنانا جائز نہيں ہے_

ج۱: وقوف اختيارى كو در ك كرنے كيلئے ان پر پلٹنا واجب نہيںہے_

۲ _ رات ميں كنكرياں مارنا ان كيلئے كافى نہيں ہے مگر يہ كہ دن ميں ايسا كرنے سے عذ ر ركھتے ہوں_

-
۳_ نائب كى نسبت احوط يہ ہے كہ وہ رات كے وقت مشعر الحرام سے نہ نكلے اگر چہ پلٹ كر مشعر الحرام كے اختيارى وقوف كو درك كرلے ہاں اگر فرض كريں كہ وہ عذر نہيں ركھتا اور اختيار كے برخلاف نكلے تو اگر پلٹ آئے اور اختيارى اور پورے واجب وقوف كو درك كرلے تو يہ اسكى نيابت كيلئے مضر نہيں ہے_

س ۱۲: جو شخص شب عيد اور مزد لفہ ميں معمولى سا وقوف كرنے كے بعد عورتوںاور مريضوں كے ہمراہ ہوتاہے كيا اس پر واجب ہے كہ انہيں مكہ پہنچانے كے بعد فجر سے پہلے مزدلفہ كى طرف پلٹ آئے يا اس كيلئے طلوع فجر اور طلوع آفتاب كے درميان وقوف كرلينا كافى ہے يا اس كيلئے وہى معمولى سا وقوف ہى كافى ہے جبكہ اس كے ساتھ تھكن ، مشقت اور ٹريفك كى وہ پابندياں بھى ہوتى ہيں جو انتظاميہ نافذ كرتى ہے اور كيا نيابتى حج كرنے والے اور اسكے غير كے درميان كوئي فرق ہے؟


ج: جو شخص صاحبان عذر كى نگرانى اور تيمار دارى كيلئے ان كے ہمراہ كوچ كرتاہے اس پر طلوع فجر اور طلوع شمس كے درميان وقوف كرنا واجب نہيں ہے بلكہ اس كيلئے رات كے اضطرارى وقوف پر اكتفا كرنا جائز ہے ہاں جو شخص نيابتى حج انجام دے رہا ہے اس كيلئے يہ جائز نہيں ہے اور اس پر اختيارى اعمال كو انجام دينا واجب ہے_

س ۱۳ : كيا اختيارى صورت ميں نذر كےساتھ ميقات سے پہلے احرام باندھنا جائز ہے جبكہ انسان جانتاہو كہ وہ سايہ ميں جانے پر مجبور ہوجائيگا جيسے اگر نذر كركے اپنے شہر سے احرام باندھے اور پھر دن كے وقت ہوائي جہاز ميں سوار ہوجائے؟

ج: نذر كركے ميقات سے پہلے احرام باندھنا جائز ہے اور دن كے وقت سايہ ميں جانا حرام ہے اور ايك عنوان كاحكم دوسرے عنوان تك سرايت نہيں كرتا_


س ۱۴ : ايك شخص فوج ميں كام كرتاہے اور بعض اوقات جبرى حكم كے ذريعے اسكى ڈيوٹى لگائي جاتى ہے جيسے كسى اہم كام كيلئے فوراً مكہ پہنچنا اور اس نے پہلے عمرہ نہيں كيا ہوتا اور تنگى وقت كى وجہ سے احرام كى حالت ميں مكہ ميں داخل نہيں ہوسكتا تو كيا وہ اس صورت ميں گناہ گار ہوگا كيا اس پر كفارہ ہے؟

ج: سوال كے فرض ميں اس كيلئے بغير احرام كے مكہ مكرمہ ميں داخل ہونا جائز ہے اور اس سلسلے ميں اس پر كوئي شے نہيں ہے_

س ۱۵: اگر ماہ ذيقعد ميں مكہ ميں عمرہ مفردہ بجالائے اور پھر ذى الحج ميں دوبارہ مكہ ميں داخل ہونا چاہے جبكہ ابھى اس عمرے كو دس دن نہ ہوئے ہوں تو كيا اس كيلئے نيا احرام باندھنا ضرورى ہے يا وہ بغير احرام كے داخل ہوسكتاہے؟


ج: احوط كى بناپر اس وقت اس كيلئے احرام باندھنا ضرورى ہے _

س ۱۶: ايك شخص جدہ ميں رہتاہے اور مكہ مكرمہ ميں كام كرتاہے يعنى وہ چھٹى كے دنوں كے علاوہ تسلسل كے ساتھ ہر دن مكہ جاتاہے يا آدھا ہفتہ جاتاہے يعنى تين دن مكہ جاتاہے اور چار دن نہيں جاتا اگرچھٹى كے ايام يا چار دن ختم ہوجائيں تو كيا اس كيلئے دوبارہ عمرہ كرنا واجب ہے؟

ج: سوال كى مفروضہ صورت ميں عمرہ كرنا واجب نہيں ہے_

س ۱۷: اگر عمرہ ختم ہوجائے اور انسان مكہ ميں ہى ہو تو كيا اس پر نيا عمرہ كرنا واجب ہے؟ اور كہاں سے ؟ كيا حرم كى حدود سے يا مسجد تنعيم سے؟

ج: جبتك وہ مكہ مكرمہ ميں ہے نياعمرہ بجالانا واجب نہيں ہے اور اگر نيا عمرہ بجالانا چاہے تو ضرورى ہے كہ اطراف


حرم سے ادنى الحل كى طرف جائے اور يا پھر مسجد تنعيم جائے_

س ۱۸: ايك شخص ٹيكسى كا ڈرائيور ہے اور سوارى اسے مكہ جانے كا كہتى ہے يہ جانتے ہوئے كہ ڈرائيور نے پہلے عمرہ نہيں كر ركھا كيا اس پر واجب ہے كہ احرام كى حالت ميں داخل ہو اور اگر بغير احرام كے داخل ہو تو اس كا كيا حكم ہے ؟

ج: سوال كى مفروضہ صورت ميں اس پر واجب ہے كہ مكہ مكرمہ ميں داخل ہونے كيلئے احرام باندھے اور عمرہ مفردہ كے اعمال بجالائے اور اگر بغير احرام كے مكہ ميں داخل ہوجائے تو فعل حرام كا مرتكب ہوا ہے ليكن اس پر كفارہ نہيں ہے_

س ۱۹: جو شخص سخت بھيڑكے وقت كئي مستحب طواف كرتاہے اس طرح كے ان


حجاج كو مزاحم ہوتاہے جو واجب طواف كرتے ہيں تو كيا اس پر كوئي اشكال ہے بالخصوص اگر اسكے پاس مستحب طواف كيلئے وسيع وقت ہو_

ج: اس پر كوئي اشكال نہيں ہے ہاں اولى بلكہ احوط يہ ہے كہ اس بھيڑ كے ہوتے ہوئے مستحب طواف نہ كرے_

س ۲۰:جو شخص استطاعت كى وجہ سے حج افراد كو بطور واجب بجالاتاہے يا اسے بطور مستحب انجام ديتاہے اور اس سے پہلے متعدد دفعہ عمرہ كرچكاہو تو كيا اس پر ايك نيا عمرہ واجب ہے جو اس حج كے متعلق ہو؟

ج: عمرہ واجب نہيں ہے مگر جن موارد ميں تمتع سے افراد كى طرف عدول كرنا ہو_

س ۲۱: جس شخص نے حج افراد كيلئے طواف باندھا ہوا ہے كيا وہ طواف حج اور سعى كے بعد اپنے اختيار كےساتھ مكہ سے نكل كر جدہ جاسكتاہے؟ كہ پھر سيدھا عرفہ ميں حجاج كے ساتھ ملحق ہوجائے؟


ج: طواف اور سعى كے بعدجدہ يا كسى اور جگہ جانے سے مانع نہيں ہے ليكن اگر اس كى وجہ سے اسے دو وقوف كے فوت ہوجانے كا خوف نہ ہو_

س ۲۲: شرعى مسافت كہ جسكے ساتھ حج افراد جائز ہوتاہے سولہ فرسخ ہے تو يہ مسافت كہاں سے شمار كى جائيگي؟

الف: كيا آپ كى رائے ميں مكہ قابل توسيع ہے اور ہر وہ جگہ جسے عرف ميں مكہ كہا جاتاہے وہ مكہ كا حصہ ہے؟

ب: جو مكلف مكہ سے سولہ فرسخ سے كم فاصلے پر رہتاہے كيا وہ اپنے گھر سے احرام باندھے گا يا مدينہ كى كسى جگہ سے؟

ج: كيا آپ كى نظر ميںمسافت كا آغاز مكلف كے شہر كے آخر سے ہوگا؟

ج: الف) مسافت مكلف كے شہر يا ديہات كے آخر سے


شہر مكہ كے شروع تك حساب كى جائيگى اور شہر مكہ قابل توسيع ہے اور مسافت كے حساب كرنے كا معيار وہ جگہ ہے جسے اس وقت عرف ميں شہر مكہ كى ابتدا كہا جاتاہے_

ب: اس كيلئے اپنے شہر كى ہر جگہ سے احرام باندھنا جائز ہے اگر چہ اولى اور احوط يہ ہے كہ اپنے گھر سے احرام باندھے_

ج: ابھى ابھى گزراہے كہ مسافت كا معيار اسكے اپنے شہر اور موجودہ شہر مكہ كے درميان كى مسافت ہے اگر چہ احوط يہ ہے كہ اپنے گھر سے مسافت كى ابتدا كا حساب كرے_

س ۲۳: عمرہ كرنے والا شخص جو مدينہ منورہ يا اسكے مضافات ميں رہتاہے كيا اس كيلئے جائز ہے كہ وہ مكہ مكرمہ جانے كے قصد سے جدہ آئے اور پھر احرام كيلئے ادنى الحل جيسے مسجد تنعيم كا قصدكرے_


ج: اگر وہ مدينہ سے نكلتے وقت عمرہ كا قصد ركھتاہو تو اس پر لازم ہے كہ مسجد شجرہ سے احرام باندھے اور اس كيلئے بغير احرام كے ميقات سے آگے جانا جائز نہيں ہے اگر چہ مكہ مكرمہ جاتے ہوئے جدہ سے گزرنے كا ارادہ ركھتاہو اور اگر بغير احرام كے ميقات سے گزر كرجدہ پہنچ جائے پھر عمرہ كا ارادہ كرے تو اس پر واجب ہے كہ وہ احرام باندھنے كيلئے كسى ميقات پر جائے اور اس كيلئے جدہ اور ادنى الحل سے احرام باندھنا صحيح نہيں ہے كيونكہ ادنى الحل صرف ان لوگوں كيلئے عمرہ مفردہ كا ميقات ہے جو مكہ مكرمہ ميں رہتے ہيں _

س ۲۴: مدينہ يا اسكے مضافات سے دو راستے جدہ كى طرف جاتے ہيں ايك حجفہ كے قريب سے گزرتاہے كہ جسكے ساتھ محاذات (مقابل) بن جاتاہے اور دوسرا جو كہ تيز راستہ ہے ، جحفہ كے مقابل سے گذرتاہے ليكن


وہ جحفہ سے سو كيلوميٹر سے بھى زيادہ دور ہے اور سيدھا راستہ نہيں ہے تو كيا اسے بھى محاذات (مقابل) شمار كيا جائيگا يا نہيں؟

ج: محاذات اور مقابل سے مراد يہ ہے كہ مكہ مكرمہ كى طرف جانے والا شخص راستے ميںايسے نقطے پر پہنچ جائے كہ جسكى دائيں يا بائيں جانب ميقات ہو اس بناپر پس نقطہ محاذات كے اعتبار سے دو راستوں كے درميان كوئي فرق نہيں ہے_

س ۲۵: دوسرى صورت ميں اگر بالفرض وہ محاذات نہ بنتى ہو تو جو شخص اس راستے سے جارہاہے كيا اس كيلئے جائز ہے كہ وہ ادنى الحل جاكر وہاں سے عمرہ مفردہ يا حج كا احرام باندھے ؟

ج: ميقات اور اسكى بالمقابل جگہ سے بغير احرام كے گزرنا جائز نہيں ہے اور ادنى الحل سے احرام باندھنا بھى صحيح نہيں ہے جيسے كہ ابھى ابھى گزراہے _


س۲۶: جس شخص كو ميقات سے احرام باندھنے ميں اپنے يا اپنے اہل و عيال پر خوف كا وہم ہو كيا اس كيلئے ادنى الحل سے احرام باندھنا جائز ہے؟

ج: اگر ميقات ميں احرام باندھنے سے كوئي عذر ہو جو ميقات سے گزرنے كے بعد زائل ہوجائے تو اس پر واجب ہے كہ احرام باندھنے كيلئے ميقات كى طرف واپس پلٹے البتہ اگر ممكن ہوورنہ اپنى جگہ سے احرام باندھے اگر اسكے آگے كوئي ميقات نہ ہو اور كسى دوسرے ميقات پر جانے كى قدرت بھى نہ ركھتاہو_

س ۲۷: كيا احرام كى حالت ميں رات كے وقت بارش سے بچنے كيلئے كسى چيز كے نيچے جانا جائز ہے ؟

ج: احوط مراعات كرناہے_

س ۲۸: جو شخص مقام ابراہيم كے پيچھے قرآن كريم يا مستحب نمازيں پڑھنا


چاہتاہے يا دعاء كيلئے بيٹھنا چاہتاہے جب كہ اس كيلئے ان چيزوں كو مسجد الحرام كى دوسرى جگہوں ميں انجام دينا بھى ممكن ہے تو كيا بھيڑ كے باوجود اس كيلئے يہ كام جائز ہے جبكہ طواف كى واجب نماز پڑھنے والوں كيلئے مشكل كا باعث ہو_

ج: اولى بلكہ احوط يہ ہے كہ مذكورہ چيزوں كو اس جگہ بجالائے جہاں بھيڑ نہ ہو_

س ۲۹: كيا حاجى ( مرد يا عورت) كيلئے احرام كى حالت ميں پانى كو زائل كرنے كيلئے اپنے چہرے كو توليے سے پونچھنا جائز ہے ؟

ج: اس كام ميں مرد كيلئے تو ہر صورت ميں كوئي حرج نہيں ہے اور عورت كيلئے بھى كوئي حرج نہيں ہے اگر اس پر چہرے كو ڈھانپنا صدق نہ كرے اس طرح كہ يہ كام توليے كو بالتدريج اپنے چہرے پر گزارنے كے ساتھ ہو ورنہ اس كيلئے يہ جائز نہيں ہے بہر حال چہرے كو ڈھانپنے ميں كفارہ


نہيں ہے_

س ۳۰: حاجى كيلئے جائز ہے كہ حج كے موقع پر منى ميں رات گزارنے كى بجائے مكہ مكرمہ ( حرم ) ميں عبادت كے ساتھ رات گزارے تو كيا كھانا كھانا، نہانا، قضائے حاجت يا مومن كے جنازہ كى تشييع كرنا ايسے كام ہيں جو عبادت كےساتھ مشغول ہونے كو باطل كرديتے ہيں؟

ج: ضرورت كے مطابق كھانے پينے ميںمشغول ہونا اور كسى احتياج كى وجہ سے باہر جانا اور وضو يا واجب غسل بجالانا عبادت كے ساتھ مشغول ہونے كو نقصان نہيں پہنچاتا_

س ۳۱: سابقہ سوال ميں مذكور مصروفيات اگر عبادت كو باطل كرديں تو كيا كفارہ بھى ہے ؟

ج: اگر ايسے كام ميں مشغول ہو جو عبادت نہيں ہے اگر چہ


مكہ مكرمہ ميں، اور ضروريات ميں سے بھى شمار نہ كيا جاتاہوجيسے كھانا پينا اور كوئي ضرورت پورى كرنا تو اس پر كفارہ واجب ہے _

س۳۲: كيا چند ماہ تك مال كو جمع كرنا حج كى استطاعت كو حاصل كرنے كيلئے كافى ہے ؟ بالخصوص اگر وہ جانتاہو كہ وہ اس طريقے كے علاوہ مستطيع نہيں ہوسكتا_

ج: استطاعت كا حاصل كرنا واجب نہيں ہے ليكن اگر انسان حجة الاسلام كرنا چاہتاہو تو اس سے كوئي مانع نہيں ہے كہ وہ كسى جائز طريقے سے مال حاصل كرے يا اپنى منفعت سے ذخيرہ كرتارہے يہاں تك كہ اس كے حج كا خرچ جمع ہوجائے مگر جب وہ اپنى منفعت سے ذخيرہ كرے اور اس پر خمس كا سال گزر جائے تو اس پر اس كا خمس دينا واجب ہے _


س ۳۳: كيا والدين كو ملنا :معاشرتي، شرعى يا ذاتى ضرورت شمار ہوتى ہے اور اگر ايسا ہے تو كيا جو شخص استطاعت ركھتا ہے اس كيلئے جائز ہے كہ وہ اپنا مال والدين كو ملنے كيلئے خرچ كردے جب ملنے كيلئے سفر و غيرہ كى ضرورت ہو اور حج كو مؤخر كردے؟

ج: مستطيع پر واجب ہے كہ حج كرے اور اپنے آپ كو استطاعت سے خارج كرنا جائز نہيں ہے اور صلہ رحمى صرف ملنے ميں منحصر نہيں ہے بلكہ رشتہ داروں كى احوال پرسى اور صلہ رحمى ديگر طريقوں سے بھى ممكن ہے جيسے خط لكھنا يا ٹيليفون كرنا و غيرہ ہاں اگر والدين كہ جو دوسرے شہر ميں ہيں ان سے ملنا اسكى اپنى حالت اور انكى حالت كے پيش نظر ضرورى ہو اس طرح كہ اسے اسكى عرفى ضروريات ميں سے شمار كيا جائے اور اسكے پاس اتنا مال بھى نہ ہو جو والدين كى ملاقات اور حج كے اخراجات دونوں كيلئے كافى ہو تو وہ اس حالت ميں مستطيع ہى نہيں


ہے_

س۳۴: اگر دودھ پلانے والى عورت مستطيع ہوجائے ليكن اسكے حج پر جانے سے شيرخوار بچے كو نقصان پہنچتاہو تو كيا وہ حج كو ترك كرسكتى ہے؟

ج: اگر نقصان اس طرح ہو كہ دودھ پلانے والى كيلئے شير خوار كے پاس رہنا ضرورى ہے يا اس سے دودھ پلانے والى عورت كيلئے حرج ہے تو اس پر حج واجب نہيں ہے _

س ۳۵:جو عورت سونے كے كچھ زيورات كى مالك ہے اوروہ انہيںپہنتى ہے اور اسكے پاس اسكے علاوہ كوئي دوسرا مال نہيں ہے اگر وہ انہيں بيچ دے تو وہ حج كرنے پر قادر ہوجاتى ہے تو كيا عورتوں كے زيورات استطاعت سے مستثنى ہيں يا اس پر واجب ہے كہ وہ حج كے اخراجات كيلئے انہيں بيچے اور انكے ساتھ وہ مستطيع ہوگي_؟

ج: اگر ان زيورات كو وہ پہنتى ہو اور وہ اسكى حيثيت سے


زيادہ نہ ہوں تو اس پرحج كيلئے انہيں بيچنا واجب نہيں ہے اور وہ مستطيع نہيں ہوگي_

س ۳۶: ايك عورت حج كيلئے استطاعت ركھتى ہے ليكن اس كا شوہر اسے اسكى اجازت نہيں ديتا تو اسكى ذمہ دارى كيا ہے ؟_

ج: واجب حج ميں شوہر كى اجازت معتبر نہيں ہے ہاں اگر شوہر كى اجازت كے بغير حج پر جانے سے عورت حرج ميں مبتلا ہوتى ہو تو وہ مستطيع نہيں ہے اور اس پر حج واجب نہيں ہے_

س ۳۷: اگر شادى كے عقد كے وقت ميرے شوہر نے مجھے حج كرانے كا وعدہ ديا ہو تو كيا ميرے ذمے ميں حج مستقر ہوجائيگا؟

ج: صرف اس سے حج ذمے ميں مستقر نہيں ہوتا_

س ۳۸: كيا حج كى استطاعت حاصل كرنے كيلئے ضروريات زندگى ميں تنگى


لانا جائز ہے ؟

ج: يہ جائز ہے ليكن شرعا واجب نہيں ہے البتہ يہ تب ہے جب تنگى اپنے آپ پر كرے ليكن جن اہل و عيال كا خرچ اس پر واجب ہے ان پر معمول كى حد سے تنگى كرنا جائز نہيں ہے_

س ۳۹:ماضى ميں ميرى طرف سے دين كى پابندى اور اس كا اہتمام كوئي اچھا نہيں تھا اور ميرے پاس اتنا مال تھاجو سفر حج كيلئے كافى تھا ( يعنى ميں مستطيع تھا) ليكن اپنى اس حالت كيوجہ سے ميں حج پر نہيں گيا تو اس وقت ميرے لئے كيا حكم ہے؟جبكہ اس وقت ميرے پاس لازمى رقم نہيں ہے _ جيسا كہ اسكے دو راستے ہيں ايك ادارہ حج ميں نام لكھوا كر اور ايك دوسرا راستہ كہ جس ميں زحمت زيادہ ہے تو كيا حكومت كے ہاں نام لكھوا دينا كافى ہے ؟

ج: اگر آپ ماضى ميں مستطيع تھے اور فريضہ حج كى ادائيگى


كيلئے سفر پر قادر تھے اسكے باوجود آپ نے حج كو مؤخر كيا تو آپ پر حج مستقر ہوچكاہے اور آپ پر ہر جائز اور ممكن طريقے سے حج پر جانا واجب ہے البتہ جبتك عسر وحرج نہ ہو اور اگر آپ سب جہات سے مستطيع نہيں تھے تو سوال كى مفروضہ صورت ميں آپ پر حج واجب نہيں ہے_

س ۴۰: جب مسجدالحرام خون يا پيشاب كے ساتھ نجس ہوجاتى ہے تو جو لوگ اسے پاك كرنے پر مامور ہيں وہ ايسے طريقے كو استعمال كرتے ہيں جو پاك نہيں كرتا تو رطوبت ہونے يا نہ ہونے كى صورت ميں مسجد كى زمين پر نماز پڑھنے كا كيا حكم ہے ؟

ج: جبتك سجدے والى جگہ كے نجس ہونے كا علم نہ ہو نماز پڑھنے ميں كوئي حرج نہيں ہے _

س ۴۱: كيا مسجد نبوى ميں جائے نماز پر سجدہ كرنا صحيح ہے؟ بالخصوص روضہ


شريفہ ميں كہ جہاں كوئي ايسى چيز ركھنا جس پر سجدہ كرنا صحيح ہے _جيسے كاغذ يادرخت كى شاخوں سے بنى ہوئي جائے نماز _توجہ كو جذب كرتاہے اور نمازى لوگوں كى نظروں كا نشانہ بنتاہے جيسے كہ اس سے مخالفين كو مذاق اڑانے كا بھى موقع ملتاہے_

ج: كسى ايسى چيز كا ركھنا كہ جس پر سجدہ صحيح ہے اگر تقيہ كے خلاف ہو تو جائز نہيں ہے اور اس پر واجب ہے كہ ايسى جگہ كا انتخاب كرے كہ جس ميں مسجد كے پتھروں پريا كسى ايسى چيز پر سجدہ كرسكے كہ جس پر سجدہ كرنا صحيح ہے البتہ اگر اس كيلئے يہ ممكن ہو ورنہ تقيةً اسى جائے نماز پر سجدہ كرے_

س ۴۲: اذان و اقامت كے وقت دو مسجدوںسے نكلنے كا كيا حكم ہے جبكہ اہل سنت برادران انكى طرف جارہے ہوتے ہيں اور اس وقت ہمارے نكلنے كے بارے ميں باتيں كررہے ہوتے ہيں ؟

ج: اگر دوسروں كى نظر ميں يہ كام نماز كو اسكے اول وقت


ميں قائم كرنے كو ہلكا سمجھنا شمار ہوتاہو تو جائز نہيں ہے بالخصوص اگر اس ميں مذہب پر عيب لگتاہو_

س ۴۳: ايك شخص اپنے شہر پلٹنے كے بعد متوجہ ہوتاہے كہ عمل كے دور ان اس كا احرام نجس تھا تو كيا وہ احرام سے خارج ہے يانہيں ؟

ج: اگر وہ موضوع يعنى عمل كى حالت ميں اپنے احرام ميں نجاست كے وجود سے جاہل ہو تو وہ احرام سے خارج ہے اور اس كا طواف اور حج صحيح ہے ؟

س ۴۴: جسمكلفنے كسى كو نائب بنايا ہو كہ اسكى طرف سے قربانى كرے تو كيا نائب كے پلٹنے اور اسكے يہ خبر دينے سے پہلے كہ قربانى ہوچكى ہے اس كيلئے تقصير يا حلق كرنا جائز ہے ؟

ج: اس پر واجب ہے كہ انتظار كرے يہاں تك كہ نائب كى طرف سے قربانى ہوجانے كا انكشاف ہوجائے ليكن


اگر حلق يا تقصير ميں جلدى كرے اور اتفاقاً يہ نائب كى طرف سے قربانى ہو جانے سے پہلے ہو تو اس كا عمل صحيح ہے اور اس پر اعادہ واجب نہيں ہے _

س۴۵: جس مكلف نے اپنى طرف سے قربانى كرنے كيلئے كسى كو نائب بنايا ہوا ہے كيا اس كيلئے نائب كى طرف سے اسے ذبح كرنے كى خبر پہنچنے سے پہلے سونا جائز ہے ؟

ج: اس سے كوئي مانع نہيں ہے _

س۴۶: موجودہ دور ميں منى ميں قربانى كو ذبح كرنا ممكن نہيں ہے بلكہ اس كيلئے انہوں نے منى سے باہر ليكن منى كے قريب ہى ايك جگہ معين كرركھى ہے اور دوسرى جانب سے قربانى كے جانور كہ جن كيلئے بڑى رقوم خرچ كى جاتى ہيں كہاجاتاہے كہ ان كاگوشت وہيں پھينك دياجاتاہے اور وہ گل سٹر كر ضائع ہوجاتاہے جبكہ اگر انہيں ديگر ممالك ميں ذبح كيا جائے تو ان كا


گوشت ضرورت مند فقرا كو ديا جاسكتاہے تو كيا حاجى كيلئے جائز ہے كہ وہ اپنے ملك ميں قربانى كرے اور كسى كے ساتھ طے كرلے كہ وہ اسكى طرف سے قربانى كردے يا ديگر ممالك ميں اور ٹيليفون كے ذريعے قربانى كرلے يا اسے مقررہ جگہ پر ہى ذبح كرنا واجب ہے اور كيا اس مسئلہ ميں اس مرجع كى طرف رجوع كرنا جائز ہے جو اسكى اجازت ديتاہے جيسے كے بعض بزرگ فقہاء سے يہ منقول ہے ؟

ج: يہ كام جائز نہيں ہے اور قربانى صرف منى ميں ہوسكتى ہے اور اگر يہ ممكن نہ ہو توجہاں اس وقت قربانى كى جاتى ہے وہيںكى جائيگى تا كہ قربانى كے شعائر كى حفاظت كى جاسكے كيونكہ قربانى شعائر اللہ ميں سے ہے _

س ۴۷: اگر حكومت منى كے اندر قربانى كرنے پر پابندى لگادے تو كيا حجاج كيلئے مكہ مكرمہ سے باہر قربانى كرنا جائز ہے اور كيا مكہ كے اندر قربانى كرنا كافى ہے ؟


ج: حج كى قربانى كافى نہيں ہے مگر منى ميں ہاں اگر اس ميں قربانى كرنے پر پابندى لگ جائے تو اس كيلئے جو جگہ تيار كى گئي ہے وہاں قربانى كرنا كافى ہے جيسے كہ اس صورت ميں مكہ كے اندر قربانى كرنا بھى كافى ہے ليكن اگر قربانى كى جگہ كا منى سے فاصلہ اتنا ہى ہو جتنا اس جگہ كا ہے جو قربانى كيلئے تيار كى گئي ہے يا اس سے كم ہو_

۴۸: ايسے خيراتى ادارے موجود ہيں جو حاجى كى نيابت ميں قربانى كرتے ہيں اور پھر اسے ضرورتمند فقرا كے حوالے كرديتے ہيں اس سلسلے ميں راہبر معظم كى رائے كيا ہے اور كيا جناب عالى كى نظر ميں اسكى شرائط ہيں ؟

ج: قربانى كى ان شرائط كا احراز كرنا ضرورى ہے كہ جو مناسك ميں ذكر ہوچكى ہيں _

س ۴۹: كيا قربانى كو ذبح كرنے كے بعد اسے ان خيراتى اداروں كو دينا


جائز ہے جو اسے فقرا تك پہنچاتے ہيں ؟

ج: اس ميں كوئي حرج نہيں ہے _

س ۵۰: صفا و مروہ كے درميان سعى كرتے وقت صفا و مروہ كے پہاڑوں كے پاس لوگوں كى بڑى تعداد جمع ہوجاتى ہے جو سعى كرنے والوں كى بھيڑ كا سبب بنتى ہے تو كيا سعى كرنے والے پر واجب ہے كہ وہ ہر چكر ميں خود پہاڑ تك جائے يا سنگ مر مر سے بنى ہوئي پہلى بلندى كافى ہے كہ جو چلنے سے عاجز لوگوں كے راستے كے ختم ہونے كے ساتھ شروع ہوتى ہے ؟

ج: اس حد تك چڑھنا كافى ہے كہ جسكے ساتھ يہ صدق كرے كہ يہ پہاڑ تك پہنچاہے اور اس نے دو پہاڑوں كے درميان كے پورے فاصلے كى سعى كى ہے _

س ۵۱: كيا عمرہ مفردہ اور حج تمتع كيلئے ايك طواف النساء كافى ہے ؟

ج: عمرہ مفردہ اور حج تمتع ميں سے ہر ايك كيلئے الگ


طواف النساء ہے پس ايك طواف دو طواف سے كافى نہيں ہے ہاں مُحل ہونے كيلئے ايك طواف كا كافى ہونا بعيد نہيں ہے_

س ۵۲: جو شخص بارہويں كى رات منى ميں بسر كرے اور آدھى رات كے بعد كوچ كرے تو كيا اس پر واجب ہے كہ زوال سے پہلے اسكى طرف واپس پلٹ آئے تا كہ يہ بھى وہ كو چ كرسكے جو وہاں پر موجود لوگوں كيلئے زوال كے بعد واجب ہوتاہے اور اس بات سے كوئي مانع ہے كہ وہ صبح كے وقت منى آكر جمرات كو كنكرياں مارلے پھر مكہ پلٹ جائے يا اس پر وہيں رہنا واجب ہے ؟ بالخصوص جب وہ اپنے اختيار كے ساتھ ظہر كے بعد جمرات كو كنكرياں مارنے اور مغرب سے پہلے منى سے نكلنے پر قادرہے_

ج : جو شخص منى ميں ہے اس پر واجب ہے كہ زوال كے بعد كوچ كرے اگر چہ اس طرح كے زوال كے بعد جمرات


كو كنكرياں مارنے كيلئے مكہ سے آجائے اور كنكرياں مارنے كے بعد غروب سے پہلے كوچ كرجائے پس آدھى رات كے بعد مكہ جانا جائز ہے ليكن كنكرياں مارنے كيلئے بارہويں كے دن پلٹ آئيگا اور زوال كے بعد كوچ كرےگا_

س ۵۳: آيت اللہ گلپايگانى (قدس سرہ) كے اعمال حج كى كتاب ميں اعمال حج سے متعلقہ بہت سارے مستحبات مذكور ہيں _ ان مستحبات پر عمل كرنے كے سلسلے ميں جناب كى كيا رائے ہے؟

ج: قصد رجاء كے ساتھ ان پر عمل كرنے ميں كوئي حرج نہيں ہے_

س ۵۴: كيا اس آب زمزم سے وضو كرنا جائز ہے جو پينے كيلئے مخصوص ہے_

ج: مشكل ہے اور احتياط كى رعايت كرنا ضرورى ہے _

دعای عرفه

اس کتاب کے صفحہ ۲۱۹ سے ۲۴۷ تک دعا عرفہ ہے


فہرست

مقدمہ: ۷

وجوب حج كے منكر اور تارك حج كا حكم ۸

حج كى اقسام: ۹

نيز حج كى تين قسميں ہيں تمتع ، افراد ، قران ۱۰

باب اول: ۱۱

حَجة الاسلام اورنيابتى حج كے بارے ميں ۱۱

فصل اول : حجة الاسلام ۱۲

حجة الاسلام كے وجوب كے شرائط ۱۳

پہلى شرط : ۱۳

دوسرى شرط: ۱۴

تيسرى شرط : ۱۵

ہر ايك كى تفصيل ۱۵

الف : مالى استطاعت : ۱۵

۱_ زاد و راحلہ ۱۶

۲_ سفر كى مدت ميں اپنے اہل و عيال كے اخراجات ۲۰

۳_ ضروريات زندگي: ۲۱

۴_ رجوع الى الكفاية: ۲۴

مالى استطاعت كے عمومى مسائل ۲۶

ب_ جسمانى استطاعت: ۲۹


ج_ سربى استطاعت: ۳۰

د_زمانى استطاعت: ۳۱

دوسرى فصل :نيابتى حج ۳۲

نائب كى شرائط : ۳۵

منوب عنہ كى شرائط : ۳۷

چند مسائل : ۳۸

باب دوم : ۴۴

حج و عمرہ كے اعمال كے بارے ميں ۴۴

حج و عمرہ كى اقسام ۴۵

چند مسائل: ۴۶

حج تمتع اور عمرہ تمتع كى صورت ۴۹

حج افراد اور عمرہ مفردہ ۵۱

حج قران ۵۲

حج تمتع كے عمومى احكام : ۵۳

پہلاحصہ : ۵۶

اعمال عمرہ كے بارے ميں ۵۶

پہلى فصل :مواقيت ۵۷

مذكورہ مواقيت كے بالمقابل مقام ۶۰

چند مسائل : ۶۱

دوسرى فصل :احرام ۶۶


۱_ احرام كے واجبات ۶۶

اول : نيت ۶۶

دوم : تلبيہ ۶۹

سوم : دو كپڑوں كا پہننا ۷۲

۲_ احرام كے مستحبات ۷۶

۳_ احرام كے مكروہات ۷۷

۴_ احرام كے محرمات ۷۸

محرمات احرام كے احكام : ۸۰

۱_ سلے ہوئے لباس كا پہننا ۸۰

۲_ اس چيز كا پہننا جو پاؤں كے اوپر والے پورے حصے كو چھپالے_ ۸۲

۳_ مرد كا اپنے سر اور عورت كا اپنے چہرے كو ڈھا نپنا ۸۴

۴_ مردوں كيلئے سايہ كرنا _ ۸۷

۵_ خوشبو كا استعمال: ۸۹

۶_ آئينے ميں ديكھنا: ۹۱

۷_ انگوٹھى پہننا: ۹۲

۸_ مہندى اور رنگ كا استعمال كرنا : ۹۳

۹_ بدن پر تيل لگانا : ۹۳

۱۰_ بدن كے بالوں كو زائل كرنا: ۹۴

۱۱_ سرمہ ڈالنا: ۹۶

۱۲_ ناخن تراشنا: ۹۶


۱۳_ بدن سے خون نكالنا ۹۸

۱۴_ فسوق: ۹۹

۱۵_ جدال ۹۹

۱۶_ حشرات بدن كو مارنا: ۱۰۱

۱۷_ حرم كے پودوں اور درختوں كو كاٹنا: ۱۰۱

۱۸_ اسلحہ اٹھانا: ۱۰۲

۱۹_ خشكى كا شكار كرنا: ۱۰۲

۲۰_ جماع ۱۰۳

۲۱_ عقد نكاح: ۱۰۴

۲۲_ استمنائ ۱۰۵

محرمات احرام كے كفارات كے احكام ۱۰۵

مكہ مكرمہ كى طرف جانا ۱۰۶

حرم ميں داخل ہونے كى دعا ۱۰۷

مسجد الحرام ميں داخل ہونے كے مستحبات ۱۰۸

تيسرى فصل : ۱۱۰

طواف اور نماز طواف كے بارے ميں ۱۱۰

طواف: ۱۱۰

طواف كى شرائط ۱۱۱

پہلى شرط نيت ۱۱۱

دوسرى شرط : حدث اكبر اور اصغر سے پاك ہونا ۱۱۳


تيسرى شرط: بدن اور لباس كا خبث سے پاك ہونا ۱۲۰

چوتھى شرط : ختنہ ۱۲۳

پانچويں شرط: شرم گاہ كو چھپانا ۱۲۳

چھٹى شرط: طواف كى حالت ميں لباس كاغصبى نہ ہو نا ۱۲۴

ساتويں شرط: موالات ۱۲۴

طواف كے واجبات ۱۲۶

اول: حجر اسود سے شروع كرنا يعنى اسكے بالمقابل جگہ سے شروع ۱۲۶

دوم: ہر چكر كو حجر اسود پر ختم كرنا : ۱۲۶

سوم: طواف بائيں جانب ہوگا اس طرح كے طواف كے دوران خانہ كعبہ حاجى كى بائيں طرف ہو اور اس سے مقصود طواف كى سمت كو معين كرنا ہے _ ۱۲۷

چہارم: حجر اسماعيل عليہ السلام كو اپنے طواف كے اندر داخل كرنا اور اسكے باہر سے طواف كرنا _ ۱۲۸

پنجم : طواف كے دوران ميں خانہ كعبہ اور اسكى ديوار كى نچلى جانب كى ۱۲۸

ہفتم : طواف كے سات چكر ہيں _ ۱۳۰

نماز طواف : ۱۳۳

چوتھى فصل :سعي ۱۳۶

سعى كے ترك كرنے اور اس ميں كمى بيشى كرنے كے بارے ميں چند مسائل ۱۳۹

پانچويں فصل: تقصير ۱۴۱

دوسرا حصہ: ۱۴۵

اعمال حج كے بارے ميں ۱۴۵

پہلى فصل :احرام ۱۴۶


دوسرى فصل :عرفات ميں وقوف كرنا ۱۴۹

تيسرى فصل :مشعرالحرام ( مزدلفہ) ميں وقوف كرنا ۱۵۲

چوتھى فصل :كنكرياں مارنا ۱۵۴

كنكرياں مارنے (رمي) كى شرائط ۱۵۴

كنكريوں كى شرائط: ۱۵۶

پانچويں فصل :قربانى كرنا ۱۵۸

دوم : صحيح و سالم ہونا ۱۵۹

سوم: يہ كہ بہت دبلا نہ ہو ۱۵۹

چھٹى فصل :تقصير يا حلق ۱۶۳

ساتويں فصل : مكہ مكرمہ كے اعمال ۱۶۷

آٹھويں فصل: منى ميں رات گزارنا ۱۷۱

نويں فصل :تين جمرات كو كنكرياں مارنا ۱۷۴

متفرق مسائل : ۱۷۸

حج كا حكم كيا ہے ؟ ۱۸۱

دعای عرفه ۲۱۱