اذان میں ’’ حی علی خیر العمل ‘‘ کی شرعی حیثیت
گروہ بندی مناظرے
مصنف آل البیت محققین
کتاب کی زبان اردو
پرنٹ سال 1404



بسم الله الرحمن الرحیم

نام : اذان میں ’’حی علی خیر العمل ‘‘ کی شرعی حیثیت

اہل بیت علیہم السلام کی رکاب میں ،عالمی مجلس اہل بیت ( ۱۹)

موضوع : فقہ

مولف :شیخ عبد الامیر سلطانی۔تحقیقی کمیٹی ۔

مترجم : شیخ محمد علی توحیدی

نظرثانی:شیخ سجاد حسین-

کمپوزنگ:شیخ غلام حسن جعفری

اشاعت :اول ۲۰۱۸ –

ناشر: عالمی مجلس اہل بیت علیہم السلام ۔

جملہ حقوق محفوظ ہیں


فہرست

عرضِ مجلس ۲

تمہید ۴

اذان کی تشریع : اہل سنت کے نقطہ نظر سے ۶

مذکورہ روایات کا تحقیقی جائزہ ۱۰

چوتھی جہت : بخاری اور دوسروں کی روایات میں تعارض موجود ہے۔ ۱۴

پہلی روایت کا جائزہ ۱۶

دوسری روایت کا جائزہ ۱۶

تیسری روایت کا جائزہ ۱۸

چوتھی جہت : بخاری اور دوسروں کی روایات میں تعارض موجود ہے۔ ۲۰

پہلی روایت کا جائزہ ۲۱

دوسری روایت کا جائزہ ۲۱

تیسری روایت کا جائزہ ۲۲

چوتھی روایت کا جائزہ ۲۲

پانچویں حدیث کا جائزہ۔ ۲۵

الف۔ مسند امام احمد بن حنبل کی روایات ۲۵

ب۔ مسند دارمی کی روایات ۲۶

ج۔ امام مالک کی الموطا میں مذکور روایات ۲۶

د۔ طبقات ابن سعد کی روایت ۲۷

ھ۔ سنن بیہقی کی روایت ۲۸

و۔ دار قطنی کی روایت ۲۹

اذان کی تشریع اہل بیت(ع) کی نظر میں ۳۲

حیّ علی خیر العمل کی جزئیت کا اثبات ۳۵

پہلی دلیل : اصحاب رسول سے مروی نصوص ۳۵

۱ ۔عبد اللہ بن عمر سے مروی روایات ۳۵

۲ ۔سہل بن حنیف کی روایات ۳۶

۳ ۔ بلال سے منقول روایات ۳۶

۴ ۔ابو مخدورہ سے مروی روایات ۳۷

۵ ۔ابن ابی مخدورہ سے منقول روایت ۳۸

دوسری دلیل : اہل بیت اطہار علیہم السلام سے مروی صحیح روایات ۴۱

حیّ علی خیر العمل کی جزئیت کے بارے میں علماء کے اقوال ۴۵

اذان اور اقامت سے حیّ علی خیر العمل کو حذف کر نے کی وجہ ۴۸

خلاصہ بحث ۵۳


اہل ا لبیت علیہم السلام قرآن کے آئینے میں:

إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا(سورةٔ احزاب/ ۳۲)

ترجمہ :اے اہل بیت! اللہ کا ارادہ بس یہی ہے کہ وہ آپ سےہر طرح کی ناپاکی کو دور رکھےاور آپ کو ایسے پاک و پاکیزہ رکھے جیسے پاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔

اہل بیت رسول علیہم السلام ،سنت نبوی کے آئینے میں:

’’ اِنِّیْ تَارِکٌ فِیْکُمُ الثَّقْلَیْنِ کِتَابَ اللهِ وَعِتْرَتِیْ اَهْلَ بَیْتِیْ مَا اِنْ تَمَسَّکْتُمْ بِهِمَا لَنْ تضلُّوْا بَعْدِیْ ‘‘(صحاح و مسانید)

ترجمہ:میں تمہارے درمیان دوگرانقدر چیزیں چھوڑے جارہاہوں۔ وہ اللہ کی کتاب اور میری عترت یعنی میرےاہل بیت ہیں۔ جب تک تم ان سے تمسک رکھوگے تب تک تم میرے بعد ہرگز گمراہ نہیں ہوگے ۔


عرضِ مجلس

اہل بیت علیہم السلام کا علمی و فکری ورثہ جسے مکتب اہل بیت نے اپنے دامن میں سمیٹا ہے اور اہل بیت کے پیروکاروں نے اسے ضائع ہونے سے بچایا ہے ایک ایسے مکتب فکر کی تصویر پیش کرتا ہے جو معارف ِاسلامیہ کی مختلف جہات کو محیط ہے ۔اس مکتب فکر نے اسلامی معارف کے اس صاف سرچشمے سے سیراب ہونے کے لائق نفوس کی ایک کھیپ کو پروان چڑھایا ہے ۔اس مکتب فکر نے امت مسلمہ کو ایسے عظیم علماء سے نوازا ہے جو اہل بیت علیہم السلام کے نظریاتی نقش قدم پر چلے ہیں ۔اسلامی معاشرے کے اندر اور باہر سے تعلق رکھنے والے مختلف فکری مناہج اور مذاہب کی جانب سے اُٹھنے والے سوالات ،شبہات اور تحفظات پر ان علماء کی مکمل نظر رہی ہے ۔

یہ علماء اور دانشور مسلسل کئی صدیوں تک ان سوالات اور شبہات کے معقول ترین اور محکم ترین جوابات پیش کرتے رہے ہیں ۔ عالمی مجلس اہل بیت نے اپنی سنگین ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے ان اسلامی تعلیمات و حقائق کی حفاظت کی خاطر قدم بڑھایا ہے جن پر مخالف فِرق و مذاہب اور اسلام دشمن مکاتب و مسالک کے اربابِ بست و کشاد نے معاندانہ توجہ مرکوز رکھی ہے ۔

عالمی مجلس اہل بیت نے اس سلسلے میں اہل بیتعلیہم السلام اور مکتب اہلبیت کے ان پیروکاروں کے نقش قدم پر چلنے کی سعی کی ہے جنہوں نے ہر دور کے مسلسل چیلنجوں سے معقول ،مناسب اور مطلوبہ انداز میں نمٹنے کی کوشش کی ہے ۔ اس سلسلے میں مکتب اہل بیت کے علماء کی کتابوں کے اندر محفوظ علمی تحقیقات بے نظیر اور اپنی مثال آپ ہیں کیونکہ یہ تحقیقات بلند علمی سطح کی حامل ہیں ،عقل و برہان کی بنیادوں پر استوار ہیں اور مذموم تعصبات و خواہشات سے پاک ہیں نیز یہ بلند پایہ علماء و مفکرین کو اس انداز میں اپنا مخاطب قرار دیتی ہیں جو عقل سلیم اور فطرت سلیمہ کے ہاں مقبول اور پسندیدہ ہے ۔

عالمی مجلس اہل بیت کی کوشش رہی ہے کہ حقیقت کے متلاشیوں کے سامنے ان پربار حقائق اور معلومات کے حوالے سے گفتگو ،ڈائیلاگ اور شبہات و اعتراضات کے بارے میں بے لاگ سوال و جواب کا ایک جدید اسلوب پیش کیا جائے ۔ اس قسم کے شبہات و عتراضات گذشتہ ادوار میں بھی اٹھائے جاتے رہے ہیں اور آج بھی انہیں ہوا دی جارہی ہے ۔

اسلام اور مسلمانوں سے عداوت رکھنے والے بعض حلقے اس سلسلے میں انٹرنیٹ وغیرہ کے ذریعے بطور خاص جدو جہد کررہے ہیں ۔اس بارے میں مجلس اہل بیت کی یہ پالیسی رہی ہے کہ لوگوں کے جذبات اور تعصبات کو مذموم طریقے سے بھڑکانے سے اجتناب برتا جائے جبکہ عقل و فکر اور طالبِ حق نفوس کو بیدار کیا جائے تاکہ وہ ان حقائق سے آگاہ ہوں جنہیں اہل بیت علیہم السلام کا نظریاتی مکتب پورے عالم کے سامنے پیش کرتا ہے اور وہ بھی اس عصر میں جب انسانی عقول کے تکامل اور نفوس و ارواح کے ارتباط کا سفر منفرد انداز میں تیزی کے ساتھ جاری و ساری ہے ۔

یہاں اس بات کی طرف اشارہ ضروری ہے کہ زیر نظر تحقیقی مباحث ممتاز علماء اور دانشوروں کی ایک خاص کمیٹی کی کاوشوں کا نتیجہ ہیں ۔ہم ان تمام حضرات اور ان ارباب ِعلم و تحقیق کے شاکر اور قدر دان ہیں جن میں سے ہر ایک نے ان علمی مباحث کے مختلف حصوں کا جائزہ لے کر ان کے بارے میں اپنے قیمتی ملاحظات سے نوازا ہے ۔

ہمیں امید ہے کہ ہم نے اپنی ان ذمہ داریوں میں سے بعض کو ادا کرنے میں ممکنہ کوشش سے کام لیا ہے جو ہمارے اس عظیم رب کے پیغام کو پہنچانے کے حوالے سے ہمارے اوپر عائد ہوتی ہیں جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور برحق دین کے ساتھ بھیجا ہے تاکہ وہ اسے تمام ادیان پر غالب کرے اور گواہی کے لیے تو اللہ ہی کافی ہے ۔

عالمی مجلس اہل بیت شعبہ ثقافت" اذان میں ’’حی علی خیر العمل ‘‘کی شرعی حیثیت


تمہید

مسلمانوں کے درمیان اس بارے میں اختلاف واقع ہوا ہے کہ کیا اذان میں ’’حی علی الفلاح‘‘ کے بعد ’’حی علی خیر العمل ‘‘ کہنا اذان کا حصہ ہے یا نہیں ؟ ایک طبقہ فکر کا نظریہ ہے کہ اذان میں ’’حی علی خیر العمل ‘‘ کہنا درست نہیں ہے ۔ برادران اہل سنت کا عام نظریہ یہی ہے ۔ان میں سے بعض نےاس عمل کو لفظ ’’ مکروہ ‘‘سے یاد کیا ہے اور اس کی وجہ یہ بیان کی ہے کہ چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت سے یہ عمل ثابت نہیں ہے اس لئے اذان میں اس کا اضافہ مکروہ ہے ۔(۱)

اس کے بر خلاف مکتب اہل بیت اور اس کے پیروکاروں کا نظریہ ہے کہ یہ جملہ اذان اور اقامت دونوں کا حصہ ہے جس کے بغیر نہ اذان درست ہے نہ اقامت۔ ان کے ہاں اس حکم پر اجماع قائم ہے(۲)

جس کا بطور مطلق کوئی مخالف نہیں ۔ وہ اس پر اجماع کے علاوہ اہل بیت علیہم السلام سے مروی بہت ساری روایات سے بھی استدلال کرتے ہیں ۔ ان روایات میں علی اور محمد بن حنفیہ سے مروی حدیث نبوی نیز ابو ربیع ، زرارہ ، فضیل بن یسار اور محمد بن مہران سے مروی امام ابو جعفر الباقر علیہما السلام کی روایت شامل ہیں ۔

ان کے علاوہ وہ ابن سنان ،معلی بن خنیس ، ابو بکر حضرمی اور کلیب اسدی کی امام ابو عبداللہ صادق علیہ السلام سے مروی روایات نیز ابو بصیر کی امام باقر یا امام صادق علیہما السلام سے مروی روایت اور عکرمہ سے مروی ابن عباس کی روایت سے بھی استدلال کرتے ہیں ۔(۳)

ان اختلافات کے معاملے میں ہمارے سامنے مکتب اہل بیت اور ان کے پیرو کاروں کے موقف کو اپنانے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ۔ اس سلسلے میں ہم صرف مذکورہ اجماع پر اکتفا نہیں کریں گے بلکہ اہل بیت علیہم السلام سےمروی احادیث سے بھی استد لال کریں گے کیونکہ اہل بیت ثقلین میں سے ایک ہیں جن سے اللہ نے ہر قسم کی پلیدی کو دور کیا ہے ۔

اجماع اور احادیث ائمہ کے علاوہ ہم اہل سنت کے ہاں مذکور متعدد دلائل وشواہد سے بھی استدلال کریں گے ۔

اس موضوع بحث کی تفصیلات میں جانے اور اس بارے میں دلائل و شواہد کا ذکر کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم فریقین کے ہاں اذان کی تشریع (قانون سازی)کے بارے میں تحقیقی گفتگو کریں کیونکہ اس بحث کا ’’حی علی خیر العمل ‘‘ کی جزئیت سے گہرا تعلق ہے ۔ اس بحث کے دوران اس موضوع سے مربوط بہت سے حقائق سے بھی پردہ ہٹ جائے گا ۔

---حوالہ جات:

۱ ۔دیکھئے سنن بیہقی ،ج۱،ص ۶۲۵ نیز البحر الرائق ،ج۱،ص ۲۷۵ ، از شرح المہذب ۔

۲ ۔ دیکھئے سید مرتضی کی الانتصار ،ص ۱۳۷ ۔

۳ ۔ دیکھئےشیخ حر عاملی کی وسائل الشیعة اور آغابروجردی کی جامع احادیث الشیعة نیز مجلسی کی بحار الانوار اور حاج میرزا محدث نوری کی مستدرک الوسائل ،ابواب الاذان ۔


اذان کی تشریع : اہل سنت کے نقطہ نظر سے

۱ ۔ ابو داؤد نے عباد بن موسی ختلی اور زیاد بن ایوب سے نقل کیا ہے ( عباد کی روایت کامل تر ہے ) کہ انہوں نے ہشیم سے اور اس نے ابو بشر سے نیز زیاد نے ابو بشر سے ، اس نے ابو عمیر بن انس سے اور اس نے اپنے انصاری چچاؤں سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز کی طرف لوگوں کو بلانے کے لئے کوئی طریقہ سوچ رہے تھے ۔ پس آپ سے کہا گیا : نماز کے وقت کوئی جھنڈا نصب کیجئے ۔ جب لوگ اسے دیکھیں گے تو ایک دوسرے کو اطلاع دیں گے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ تجویز پسند نہیں آئی ۔ تب کسی نے آپ ؐ کو بگل ( کے استعمال) کی تجویز دی ۔

( زیاد کہتا ہے : اس سے مراد یہودیوں کی بگل ہے)

آپ نے یہ تجویز بھی پسند نہیں کی اور فرمایا: اس کا تعلق یہودیوں سے ہے ۔

پھر آپ کو ’’ ناقوس ‘‘ کے بارے میں کہا گیا تو ا ٓپ نے فرمایا : یہ نصاریٰ کی علامت ہے ۔

عبداللہ بن زید کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے منصوبے کی فکر تھی ۔ اس نے خواب میں اذا ن کا مشاہدہ کیا ۔ صبح اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاکر آپ کو اس کی خبر دی اور کہا : یا رسول اللہ! میں نیند اور بیداری کی درمیانی حالت میں تھا کہ کسی نے آ کر مجھے اذان سکھائی ۔

روای کہتا ہے : اس سے قبل عمر بن خطاب نے بھی یہی خواب دیکھا تھا لیکن موصوف نے اسے بیس دنوں تک مخفی رکھا۔ اس کے بعد رسول اللہ کو بتا یا تو آپ نے فرمایا : تو نے مجھے کیوں نہیں بتا یا ؟ بولے : عبداللہ بن زید نے مجھ پر سبقت کی تو مجھے شرم آگئی ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے بلال ! اٹھو اور عبداللہ بن زید تمہیں جو حکم دے وہ کرو ۔ پس بلال نے اذان دی ۔ ابو بشر کہتا ہے : ابو عمیر نے مجھے خبر دی کہ انصار کے خیال میں اگر اس دن عبداللہ بن زید بیمار نہ ہو تا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے مؤذن بنا دیتے ۔

۲ ۔ابو داؤد نے محمد بن منصور طوسی سے نقل کیا ہے کہ اس نے یعقوب سے ، اس نے اپنے والد سے ، اس نے محمد بن اسحاق سے ، اس نے محمد بن ابراہیم ابن حارث تیمی سے ، اس نے محمد بن عبداللہ بن زید بن عبد ربہ سے اور اس نے ابو عبداللہ بن زید سے نقل کیا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ناقوس تیار کرنے کا حکم دیا تا کہ اسے بجا کر لوگوں کو نماز کے لئے جمع کیا جا سکے تو میں نے ( خواب میں ) ایک شخص کو دیکھا جس کے ہاتھ میں ناقوس تھا ۔ میں نے کہا : اے بندہ خدا ! کیا اس ناقوس کو بیچو گے ؟ اس نے کہا : تم اس سے کیا کرو گے ؟ میں نے کہا : ہم اس سے لوگوں کو نماز کے لئے بلائیں گے ۔ اس نے کہا : کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز کی نشاندہی نہ کروں ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ۔ اس نے کہا : یوں کہو :

الله اکبر، الله اکبر، الله اکبر،الله اکبر،اشهد ان لا اله الا الله، اشهد ان لا اله الا الله، اشهد ان محمدا رسول الله، اشهد ان محمدا رسول الله ،حی علی الصلاة، حی علی الصلاة ،حی علی الفلاح ، حی علی الفلاح ، الله اکبر،الله اکبر ، لا اله الله الا الله، لا اله الله الا الله ۔

اس کے بعد وہ مجھ سے تھوڑا پیچھے ہٹ گیا پھر کہنے لگا : تم نماز کی اقامت یوں کہو :

الله اکبر، الله اکبر، اشهد ان لا اله الا الله،اشهد ان محمدا رسول الله، حی علی الصلاة، حی علی الفلاح ،قد قامت الصلاة، قد قامت الصلاة ، الله اکبر،الله اکبر، لا اله الله الا الله ۔

پھر جب صبح ہوئی تو میں نے رسول اللہ کے پاس آکر آپ کو اپنا خواب سنایا ۔ آپ نے فرمایا : انشا ءاللہ یہ خواب سچا ہے ۔ پس بلال کے ساتھ جاؤ اور اسے وہ سکھاؤ جو تم نے دیکھا ہے تا کہ وہ اسی کےمطابق اذان دے ۔ اس کی آواز تجھ سے بہتر ہے ۔

پس بلال کے ساتھ چلا ۔ پھر میں اسے سکھا تا گیا اور وہ اذان دیتا گیا ۔ عمر بن خطاب نے اپنے گھر میں اسے سنا چنانچہ وہ اپنی چادر کھینچتے ہوئے نکلے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! قسم ہے اس کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے ! بہ تحقیق میں نے بھی وہی خواب دیکھا ہے جو اس نے دیکھا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ کا شکر ہے ۔(۱)

ابن ماجہ نے اسے درج ذیل دو سندوں کے ساتھ نقل کیا ہے :

۳ ۔ ہم سے ابو عبید محمد بن میمون مدنی نے بیان کیا کہ اسے محمد بن سلمہ حرا نی نے ، اسے محمد بن اسحاق نے ، اسے محمد بن ابرا ہیم تیمی نے ، اسے محمد بن عبد اللہ بن زید نے اور اسے اس کے والد نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بگل ( کے استعمال ) کا ارادہ کیا پھر آپ کے حکم سے ناقوس تیار کیا گیا ۔ تب عبد اللہ بن زید نے خواب دیکھا....

۴ ۔ ہم سے محمد بن خالد بن عبداللہ واسطی نے نقل کیا کہ اسے اس کے والد نے ، اسے عبد الرحمان بن اسحاق نے ، اسے زہری نے ، اسے سالم نے اور اسے اس کے والد نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے انہیں نماز کے لئے بلانے کی ترکیب کے بارے میں مشورہ کیا تو لوگوں نے بگل کی تجویز دی لیکن آپ نے یہود سے ( مشابہت ) کی وجہ سے اسے ناپسند کیا ۔ پھر لوگوں نے ناقوس کی تجویز دی لیکن آپ نے نصاری ( سے مشابہت ) کی وجہ سے اسے ناپسند کیا ۔ پھر اسی رات ایک انصاری نےجس کا نام عبد اللہ بن زید تھا اور عمر بن خطاب نے خواب میں اذان کا مشاہدہ کیا ۔

زہری کہتا ہے : بلال نے نماز صبح کی اذان میں الصلاة خیر من النوم کا اضا فہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی تا ئید کی۔(۲)

اسے تر مذی نے درج ذیل سند کے ساتھ نقل کیا ہے :

۵ ۔ ہم سے سعد بن یحیی بن سعید اُموی نے بیا ن کیا کہ اسے اس کے والد نے ، اسے محمد بن اسحاق نے ، اسے محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی نے ، اسے محمد بن عبد اللہ بن زید نے اور اسے اس کے والد نے خبر دی کہ جب صبح ہوئی تو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور میں نے آپ کو اس خواب کے بارے میں بتا یا ۔الخ

۶ ۔ تر مذی کہتے ہیں کہ اس حدیث کو ابراہیم بن سعد نے محمد بن اسحاق سے نقل کیا ہے جو اس حدیث سے زیادہ کامل اور زیادہ طویل ہے ۔ اس کے بعد ترمذی کہتے ہیں : عبد اللہ بن زید سے مراد ابن عبد ربہ ہے ۔ ہم نے نہیں دیکھا کہ اس نے اس واحد حدیث جو اذان کے بارے میں ہے کے علاوہ رسول اللہ سے کوئی اور صحیح روایت نقل کی ہو ۔(۳)

یہ وہ روایات ہیں جنہیں سنن کے مو لفین نے نقل کیا ہے ۔ ان سنن کا شمار صحاح ستہ میں ہو تا ہے ۔ چونکہ ان معروف سنن کی اہمیت دیگر کتب مثلا سنن دارمی ، دار قطنی، طبقات ابن سعد اور سنن بیہقی کی روایات سے زیادہ ہے اس لئے ان کی خاص حیثیت کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے ان معروف سنن کی رویات کو دیگر کتب میں مذکور روایات سے جدا کیا منتخب کیا ہے ۔

---حوالہ جات:

۱ ۔ دیکھئے سنن ابو داؤد ،ج ۱ ،ص ۱۳۴ ۔ ۱۳۵ ،حدیث نمبر ۴۹۸ ۔ ۴۹۹ ۔

۲ ۔ دیکھئے سنن ابن ماجہ ،ج ۱ ،ص ۲۳۳ ، باب بدء الاذان ،نمبر ۷۰۷ ۔

۳ ۔ دیکھئے سنن ترمذی ،ج ۱ ،ص ۳۶۱ ، باب ماجاء فی بدء الاذان ،نمبر ۱۸۹ ۔


مذکورہ روایات کا تحقیقی جائزہ

یہاں ہم مذکورہ بالا روایات کے متن اور سند کا تنقیدی جائزہ لیں گے تاکہ اذان کی تشریع کے بارے میں حقیقتِ حال کھل کر سامنے آئے ۔اس کے بعد ہم دیگر کتابوں میں مذکور نصوص کا تذکرہ کریں گے ۔مذکورہ بالا روایات کئی جہات سے قابل استدلال نہیں ہیں اور درجہ اعتبار سے ساقط ہیں ۔

پہلی جہت : یہ روایات مقام نبوت کی منافی ہیں

اللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جن مقاصد کے لئے مبعوث کیا ان میں سے ایک یہ تھا کہ آپ مختلف اوقات میں مومنین کے ساتھ نماز قائم کریں ۔اس مقصد کا قدرتی تقاضا یہ ہے کہ اللہ تعالی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس مقصد کی تکمیل کا طریقہ بھی سکھائے ۔بنابریں اس بات کا کوئی مطلب نہیں بنتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طویل ایام تک یا ابو داؤد کی پہلی روایت کے مطابق بیس دنوں تک اپنی ذمہ داری کو عملی جامہ پہنانے کے معاملے میں حیران وسرگردان رہیں چنانچہ آپ کبھی کسی کی طرف اور کبھی کسی کی طرف رجوع کریں تاکہ وہ آپ کو آپ کے مقصد تک رسائی کے اسباب کی شناخت میں رہنمائی فراہم کریں ۔

یہ بات آپ کے مقام نبوت کی منافی ہے کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالی آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں فرماتا ہے :

وکان فضل الله علیک عظیما ً۔(۱)

ٓپ پر اللہ کا بڑا فضل و کرم ہے ۔یہاں فضل سے مراد علم ہے کیونکہ اس سے قبل فرمایا گیا : وعلّمک مالم تکن تعلمْ( یعنی اللہ نے آپ کو وہ کچھ سکھایا جسے آپ نہیں جانتے تھے۔ )

یادرہے کہ نماز اور روزہ عبادت ہیں اور یہ جنگ اور قتال کی طرح نہیں ہیں جن کے بارے میں گاہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اصحاب سے مشورہ فرماتے تھے ۔

جنگ کی کیفیت کے بارے میں لوگوں سے آپ کا مشورہ اس وجہ سے نہ تھا کہ (نعوذ باللہ ) آپ کو بہتر طریقے کا علم نہ تھا بلکہ مشورہ لینے کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کے دل جیتے جائیں جیساکہ ارشاد الہی ہے :

وَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ۔(۲)

(اگر آپ تند خواور سنگدل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے منتشر ہوجاتے ۔پس آپ ان سے درگذر کریں ، ان کے لئے مغفرت طلب کریں اور معاملات میں ان سے مشورہ کریں ۔پھر جب آپ عزم کرچکیں تو اللہ پر بھروسہ کریں ۔)

کیا یہ دین کی کمزوری اور توہین نہیں ہے کہ اذان و اقامت جیسے نہایت اہم عبادات کی بنیاد عام لوگوں کے خواب وغیرہ ہوں ؟

بنابریں یہ کہے بغیر چارہ نہیں کہ خواب کو اذان کی تشریع یعنی اسے اسلامی شریعت کا حصہ بنانے کی وجہ قرار دینا جھوٹ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تہمت ہے ۔

اس بات کا بہت زیادہ احتمال ہے کہ عبد اللہ بن زید کے چچوں نے ہی اس خواب کی ترویج اور نشر و اشاعت کی ہو تاکہ یہ ان کے گھرانوں اور قبیلوں کے لئے فضیلت کاباعث بنے ۔اسی لئے ہم بعض مسانیدمیں دیکھتے ہیں کہ عبد اللہ بن زید کے چچیرے اس حدیث کے راوی ہیں اور جن لوگوں نے ان پر اعتماد کیا ہے انہوں نے ان کے ساتھ حسن ظن کی بناپر ایسا کیا ہے ۔

دوسری جہت : ان روایات میں باہمی تعارض موجود ہے۔

اذان کی ابتداء اور اسے شریعت کا حصہ بنانے کے بارے میں مذکور روایات کے اندر کئی زاویوں سے تعارض پایا جاتا ہے ۔

الف ۔ پہلی روایت ( ابو داؤ د کی روایت ) کے مطابق حضرت عمر بن خطاب نے عبداللہ بن زید سے بیس دن پہلے خواب میں اذان کا مشاہدہ کیا تھا ۔

لیکن چوتھی روایت ( ابن ماجہ کی روایت ) کے مطابق حضرت عمر نے اسی رات یہ خواب دیکھا تھا جس رات عبداللہ بن زید نے خواب دیکھا تھا ۔

ب۔ روایت میں عبداللہ بن زید کے خواب کو اذان کی تشریع کا سرچشمہ قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے جب اذان سنی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور بولے کہ خود انہوں نے بھی وہی خواب دیکھا ہے اور حیاء کی وجہ سے انہوں نے اسے نقل نہیں کیا ۔

ج۔ بعض روایات کے مطابق حضرت عمر بن خطاب کا خواب نہیں بلکہ وہ خود اذان کے بانی ہیں کیونکہ انہوں نے ہی نماز کے لیے آواز دینے کی تجویز دی تھی جو اذان سے عبارت ہے ۔سنن ترمذی میں مذکور ہے : جب مسلمان مدینہ آئے تو بعض مسلمانوں نے کہا : یہودیوں کی بگل کی طرح بگل سے کام لینا

چا ہئے۔ تب عمر بن خطاب نے کہا : کیا آپ لوگ کسی آدمی کو نہیں بھیج سکتے جو بلند آواز سے نماز کا اعلان کرے ؟ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے بلال ! اٹھو اور پکار کر نماز کا اعلان کرو یعنی اذان دو ۔

ہاں ابن حجر نے کہا ہے کہ نماز کی ندا سے مراد ’’ الصلاة جامعة ‘‘( ۳) ہے لیکن اس تفسیر کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے ۔

د۔ بعض روایات کی رو سے اذان کی تشریع کا سر چشمہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ بیہقی نے روایت کی ہے : کچھ لوگوں نے کہا کہ ناقوس بجایا جائے یا آگ روشن کی جائے ۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلال کو حکم دیا کہ وہ اذان ( کے جملوں) کوجفت کی صورت میں اور اقامت ( کے جملوں ) کو طاق کی صورت میں پڑھے ۔ بیہقی کہتے ہیں :

اسے بخاری نے محمد بن عبد الوہاب سے جبکہ مسلم نے اسحاق بن عمار سے نقل کیا ہے ۔(۴)

روایات کے اندر اس قدر زیادہ اختلافات کی موجودگی میں ان پر کیسے اعتماد کیا جاسکتا ہے ؟

تیسری جہت : خواب دیکھنے والے چودہ تھے

حلبی کی روایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اذان والا خواب صرف عبد اللہ بن زید یا عمر بن خطاب نے نہیں دیکھا تھا بلکہ عبد اللہ بن ابو بکر نے دعویٰ کیا کہ اس نے بھی ان دونوں کی طرح کا خواب دیکھا تھا ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ سات انصاریوں نے اور بقولے بارہ افراد(۵) نے یہ دعوی کیا ہے کہ انہوں نے بھی خواب میں اذان کا مشاہدہ کیا ہے ۔

یاد رہے کہ شریعت ایسی چیز نہیں جس میں ہر کسی کو دخل اندازی کا حق ہو ۔ اگر شریعت اور احکام دین خوابوں کی بنیاد پر استوار ہوں تو اسلام کا خدا ہی حافظ ہے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کا سرچشمہ وحی ہے لوگوں کے خواب نہیں ۔

---حوالہ جات:

۱ ۔نساء/۱۱۳۔

۲ ۔ دیکھیے سورہ آلعمران /۱۵۹۔

۳ ۔ دیکھئے ابن حجر کی فتح الباری ،ج۲، ص۸۱،مطبوعہ دار المعرفہ ۔

۴ ۔ دیکھئے سنن بیہقی ،ج۱،ص ۶۰۸۔

۵ ۔دیکھئے حلبی کی السیرة النبویہ ،ج۲،ص ۹۵۔


چوتھی جہت : بخاری اور دوسروں کی روایات میں تعارض موجود ہے۔

صحیح بخاری کی روایت صریحا کہتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشورے کی نشست میں بلال کو حکم دیا کہ وہ بلند آواز سے نماز کا اعلان کرے ۔

جب نبی یہ حکم دے رہے تھے تو حضرت عمر وہاں حاضر تھے ۔

چنانچہ بخاری ابن عمر سے نقل کرتےہیں : جب مسلمان مدینہ آئے تو وہ جمع ہوکر نماز کے وقت کا انتظار کرتے تھے اور نماز کے لئے آواز دینے کا کوئی سلسلہ نہیں تھا ۔

ایک دن انہوں نے اس بارے میں گفت وشنید کی ۔ پس ان میں سے بعض نے کہا : آپ بھی نصاریٰ کے ناقوس کی طرح ناقوس سے استفادہ کریں ۔ادھر بعض نے کہا : نہیں بلکہ یہودیوں کی طرح بگل بجانا چاہیے ۔تب عمر نے کہا : کیا آپ لوگ کسی آدمی کو نہیں بھیج سکتے جو پکار کر نماز کا اعلان کرے ؟

پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے بلال ! اُٹھو اور نماز کا اعلان کرو ۔(۱)

جن احادیث میں خواب کا ذکر ہے وہ صریحا ً بتاتی ہیں کہ مشورے کے (کم از کم ) ایک دن بعد جب عبد اللہ بن زید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذان کے بارے میں اپنے خواب کی خبر دی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فجر کے وقت بلال کو اذان دینے کا حکم دیا تھا ۔

اس وقت حضرت عمر حاضر نہیں تھے بلکہ انہوں نے اپنے گھر میں اذان کی آواز سنی تھی اور وہ اپنی چادر گھیسٹتے ہوئے نکلے تھے ۔اس وقت وہ کہہ رہے تھے : اے اللہ کے رسول ! قسم ہے اس کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے بہ تحقیق میں نے بھی وہی خواب دیکھا ہے جو اس نے دیکھا ہے ۔

یہاں ہمارے لئے اس بات کی گنجائش نہیں کہ ہم بخاری کی روایت کو ’’الصلاة جامعة ً ‘‘ کے اعلان پر حمل کریں اور خواب والی روایات کو اذان کے اعلان پر حمل کریں کیونکہ ایک تو یہ جمع بلا دلیل ہے ، ثانیاً اگر نبی نے بلال کو بلند آواز سے ’’الصلاة جامعة ً‘‘ کہنے کا حکم دیا ہو تو اس سے گتھی سلجھ سکتی ہے اور شک دور ہوسکتا ہے خاص کر اس صورت میں کہ الصلاة جامعة کا تکرار کیا گیا ہو ۔ اس صورت میں شک و تردّد کا موضوع ہی ختم ہوجاتا ہے ۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلال کو بلند آواز سے شرعی اذان دینے کا حکم دیا تھا ۔(۲)

مذکورہ بالا چار جہات میں ہم نے ان احادیث کے متن اور مضمون کا تحقیقی جائزہ لیا ہے ۔اس جائزے سے بطور کافی یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ یہ احادیث قابل وثوق اور معتبر نہیں ہیں ۔

اس کے بعد اب ہم یہاں ان احادیث کی اسناد کا یکے بعد دیگرے جائزہ لیں گے ۔

یہ احادیث یا تو ’’موقوف ‘‘ ہیں جن کی سند رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک متصل نہیں یا مسند ہیں جن کے راوی مجہول ،مجروح ،ضعیف اور متروک ہیں ۔

یہاں ہم سابقہ ترتیب کے مطابق وضاحت پیش کریں گے ۔

---حوالہ جات:

۱ ۔ دیکھئے صحیح بخاری ،ج۱،ص ۳۰۶ ، باب بدء الاذان ،مطبوعہ دارالقلم ،لبنان ۔

۲ ۔ دیکھئے علامہ سید عبد الحسین شرف الدین عاملی کی النص والاجتہاد ،ص ۲۰۰، مطبوعہ اسوہ ۔


پہلی روایت کا جائزہ

یہ ابو داؤد کی روایت ہے جو ضعیف ہے کیونکہ :

۱ ۔ یہ روایت ایک مجہول راوی یا کئی مجہول راویوں پر منتہی ہوتی ہے کیونکہ سلسلہ سند میں کہا گیا ہے : اس کے انصاری چچوں سے

۲ ۔اسے ابو عمیر بن انس نے اپنے چچوں سے نقل کیا ہے جس کے بارے میں ابن حجر کہتا ہے : اس نے روئت ہلال اور اذان کے بارے میں اپنے انصاری چچوں سے جو رسول کے اصحاب تھے روایت کی ہے ۔

ابن سعد اس کے بارے میں کہتے ہیں : وہ ثقہ تھا لیکن اس کی احادیث کی مقدار کم ہے ۔

ابن عبد البرّ کہتے ہیں : وہ مجہول ہے اور اس (کی روایت) سے استدلال نہیں کیا جاسکتا ۔(۱)

مزی رقمطراز ہیں : اس نے دو چیزوں یعنی رویت ہلال اور اذان کے بارے میں یہی کچھ نقل کیا ہے۔

اس کے علاوہ اس سے کوئی چیز منقول نہیں ہے ۔(۲)

دوسری روایت کا جائزہ

اس حدیث کی سند میں ایسے راوی موجود ہیں جن کی روایت سے استدلال نہیں کیا جاسکتا مثلاً :

۱ ۔ابو عبد اللہ محمد بن ابراہیم بن حارث بن خالد تیمی جس کی وفات ۱۲۰ ھ کے آس پاس واقع ہوئی ۔

ابو جعفر عقیلی نے عبد اللہ بن احمد بن حنبل سے نقل کیا ہے : میں نے اپنے والد ( احمدبن حنبل ) کو (محمد بن ابراہیم تیمی مدنی کا ذکر کرنے کے بعد ) یہ کہتے سنا : اس کی روایت میں گڑ بڑ ہے ۔

وہ منکراحادیث نقل کرتا ہے ۔(۳)

۲ ۔محمد بن اسحاق بن یسار بن خیار ۔اہل سنت اس کی روایات سے استدلال نہیں کرتے اگرچہ سیرت ابن ہشام کا دار و مدار اسی ( ابن اسحاق ) پر ہے ۔

احمدبن ابی خیثمہ کہتے ہیں : جب یحیی بن معین سے ابن اسحاق کے بارے میں پوچھا گیا تو یحیی نے کہا : وہ میری نظر میں ضعیف اور سقیم ہے ۔وہ قوی راوی نہیں ہے ۔ابو الحسن میمونی کا بیان ہے : میں نے یحیی بن معین کو یہ کہتے سنا : محمد بن اسحاق ضعیف ہے ۔ نسائی نے کہا ہے : وہ قوی نہیں ہے ۔(۴)

۳ ۔ عبد اللہ بن زید۔ اس کے بارے میں یہی کافی ہے کہ وہ بہت کم روایت کرتا ہے ۔ ترمذی کہتے ہیں : ہمیں معلوم نہیں ہے کہ حدیثِ اذان کے علاوہ اس نے رسول اللہ سے کوئی صحیح حدیث نقل کی ہو ۔ حاکم کہتے ہیں : درست یہ ہے کہ وہ اُحد میں قتل ہوئے ۔

عبد اللہ کی ساری روایات منقطع (وہ روایات جن کا سلسلۂ سند نبی یا صحابہ تک نہ پہنچے ) ہیں ۔

ابن عدی کہتے ہیں : حدیث اذان کے علاوہ ہمیں اس کی کسی روایت کا علم نہیں جو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کی ہو ۔(۵)

زندی نے بخاری سے روایت کی ہے : ہمیں حدیث اذان کے علاوہ اس کی کسی حدیث کا علم نہیں ۔(۶)

حاکم کہتے ہیں : عبد اللہ بن زید وہی ہے جس نے خواب میں اذان کا مشاہدہ کیا اور مسلمان فقہاء نے اسے قبول کیا ۔ صحیحین نے اس روایت کو نقل نہیں کیا ہے کیونکہ نقل کرنے والوں نے اس کی اسانید میں اختلاف کیا ہے ۔(۷)

---حوالہ جات:

۱ ۔دیکھئے ابن حجر کی تہذیب التہذیب ،ج۱۲،ص ۱۸۸، نمبر ۸۶۷ ۔

۲ ۔دیکھئے جمال الدین مزّی کی تہذیب الکمال ،ج۳۴،ص ۱۴۲ ،نمبر۷۵۴۵ ۔

۳ ۔ دیکھئے تہذیب الکمال ،ج۲۴،ص ۳۰۴ ۔

۴ ۔ایضا ،ج۲۴،ص ۴۲۳، نیز دیکھئے تاریخ بغداد ،ج۱،ص ۲۲۱ ۔۲۲۴ ۔

۵ ۔ دیکھئے سنن ترمذی ،ج۱،ص ۳۶۱ نیز ابن حجر کی تہذیب التہذیب ،ج۵،ص ۲۲۴ ۔

۶ ۔ دیکھئے جمال الدین مزّی کی تہذیب الکمال ،ج۱۴،ص ۵۴۱ ، مطبوعہ موسسة الرسالہ ۔

۷ ۔ دیکھئےمستدرک حاکم ،ج۳،ص ۳۳۶ ۔


تیسری روایت کا جائزہ

اس کی سند محمد بن اسحاق یسار اور محمد بن ابراہیم تیمی پر مشتمل ہے ۔ ان دونوں کے بارے میں آپ جان چکے ہیں ۔

آپ یہ بھی جان چکے ہیں کہ عبد اللہ بن زید نے بہت کم روایت کی ہے اور اس کی ساری روایات منقطعہ (جن کا سلسلہ نبی یا صحابہ تک نہ پہنچے ) ہیں ۔

چوتھی روایت کا جائزہ

۱ ۔ اس روایت کا ایک راوی عبد الرحمن بن اسحاق بن عبد اللہ مدنی ہے ۔

یحیی بن سعید قطان کہتے ہیں : میں نے مدینہ میں اس کے بارے میں پوچھا اور دیکھا کہ وہاں کے لوگ اس کی تعریف نہیں کرتے ۔ علی بن مدینی بھی کہتے ہیں : علی کا بیان ہے : جب سفیان سے عبد الرحمن کے بارے میں پوچھا گیا تو میں نے سفیان سے سنا : وہ( عبد الرحمن ) قدری تھا ۔

(اس کا تعلق مذہب قدریہ سے تھا ) چنانچہ مدینہ والوں نے اسے شہر بدر کردیا ۔ پس وہ ہمارے پاس یہاں (شام ) آگیا جو ولید کی قتل گاہ ہے ۔لیکن ہم اس کے ساتھ نہیں رہتے۔

ابو طالب کہتے ہیں : میں نے احمد بن حنبل سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا : اس نے ابو زناد سے منکر احادیث نقل کی ہیں ۔

احمد بن عبد اللہ عجلی کہتے ہیں : اس کی روایت لکھی تو جاتی ہے لیکن قوی نہیں ہے ۔

ابو حاتم کہتے ہیں : اس کی حدیث لکھی تو جاتی ہے لیکن اس سے استدلال نہیں کیا جاتا ۔

بخاری کہتے ہیں : اس کے حافظے پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ۔مدینہ میں اس کے کسی شاگرد کا سراغ نہیں ملتا سوائے موسی زمعی کے ۔ موسی نے اس سے کچھ چیزیں نقل کی ہیں جن میں سے بعض میں اضطراب پایا جاتا ہے ۔ ( اضطراب یہ ہے کہ راوی کو متن یا راویوں کی ترتیب یاد نہ ہو۔ مترجم)

دار قطنی کا بیان ہے : وہ ضعیف ہے ۔ اس پر قدری ہونے کا الزام ہے ۔ احمد بن عدی کہتے ہیں : اس کی روایت ناقابل قبول چیزوں پر مشتمل ہے اور اس کی متابعت نہیں کی جاسکتی ۔(۱)

۲ ۔ محمد بن عبد اللہ واسطی ۔ اس کا تعارف جمال الدین مزی یوں پیش کرتے ہیں : ابن معین کاکہنا ہے : اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ابن معین اس کی ان روایات کو ردّ کرتا ہے جو اس نے اپنے باپ سے نقل کی ہیں ۔

ابو حاتم کہتے ہیں : میں نے یحیی بن معین سے پوچھا تو اس نے کہا : وہ ایک برا اور جھوٹا آدمی ہے ۔اس نے منکرات کو نقل کیا ہے ۔ابو عثمان سعید بن عمر بردعی نے کہا ہے : میں نے اس (ابو زرعہ) سے محمد بن خالد کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا : وہ برا آدمی ہے ۔ ابن حبان نے اپنی کتاب الثقات میں اس کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے : وہ خطا اور اشتباہ کا مرتکب ہوتا ہے ۔(۲)

شوکانی اس روایت کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں : اس کی سند سخت ضعیف ہے ۔(۳)

---حوالہ جات:

۱ ۔دیکھئے جمال الدین مزی کی تہذیب الکمال ،ج۱۶،ص ۵۱۵ ،حدیث نمبر ۳۷۵۵۔

۲ ۔ایضا ،ج۲۵،ص ۱۳۸ ،حدیث نمبر ۵۱۷۷۔

۳ ۔دیکھئے شوکانی کی نیل الاوطار ،ج۲،ص ۴۲۔


چوتھی جہت : بخاری اور دوسروں کی روایات میں تعارض موجود ہے۔

صحیح بخاری کی روایت صریحا کہتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشورے کی نشست میں بلال کو حکم دیا کہ وہ بلند آواز سے نماز کا اعلان کرے ۔

جب نبی یہ حکم دے رہے تھے تو حضرت عمر وہاں حاضر تھے ۔

چنانچہ بخاری ابن عمر سے نقل کرتےہیں : جب مسلمان مدینہ آئے تو وہ جمع ہوکر نماز کے وقت کا انتظار کرتے تھے اور نماز کے لئے آواز دینے کا کوئی سلسلہ نہیں تھا ۔ایک دن انہوں نے اس بارے میں گفت وشنید کی ۔ پس ان میں سے بعض نے کہا : آپ بھی نصاریٰ کے ناقوس کی طرح ناقوس سے استفادہ کریں ۔ادھر بعض نے کہا : نہیں بلکہ یہودیوں کی طرح بگل بجانا چاہیے ۔تب عمر نے کہا : کیا آپ لوگ کسی آدمی کو نہیں بھیج سکتے جو پکار کر نماز کا اعلان کرے ؟ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے بلال ! اُٹھو اور نماز کا اعلان کرو ۔(۱)

جن احادیث میں خواب کا ذکر ہے وہ صریحا ً بتاتی ہیں کہ مشورے کے (کم از کم ) ایک دن بعد جب عبد اللہ بن زید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذان کے بارے میں اپنے خواب کی خبر دی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فجر کے وقت بلال کو اذان دینے کا حکم دیا تھا ۔اس وقت حضرت عمر حاضر نہیں تھے بلکہ انہوں نے اپنے گھر میں اذان کی آواز سنی تھی اور وہ اپنی چادر گھیسٹتے ہوئے نکلے تھے ۔اس وقت وہ کہہ رہے تھے : اے اللہ کے رسول ! قسم ہے اس کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے بہ تحقیق میں نے بھی وہی خواب دیکھا ہے جو اس نے دیکھا ہے ۔

یہاں ہمارے لئے اس بات کی گنجائش نہیں کہ ہم بخاری کی روایت کو ’’الصلاة جامعة ً ‘‘ کے اعلان پر حمل کریں اور خواب والی روایات کو اذان کے اعلان پر حمل کریں کیونکہ ایک تو یہ جمع بلا دلیل ہے ، ثانیاً اگر نبی نے بلال کو بلند آواز سے ’’الصلاة جامعة ً‘‘ کہنے کا حکم دیا ہو تو اس سے گتھی سلجھ سکتی ہے اور شک دور ہوسکتا ہے خاص کر اس صورت میں کہ الصلاة جامعة کا تکرار کیا گیا ہو ۔ اس صورت میں شک و تردّد کا موضوع ہی ختم ہوجاتا ہے ۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلال کو بلند آواز سے شرعی اذان دینے کا حکم دیا تھا ۔(۲)

مذکورہ بالا چار جہات میں ہم نے ان احادیث کے متن اور مضمون کا تحقیقی جائزہ لیا ہے ۔اس جائزے سے بطور کافی یہ ثابت ہوجاتا ہے کہ یہ احادیث قابل وثوق اور معتبر نہیں ہیں ۔

اس کے بعد اب ہم یہاں ان احادیث کی اسناد کا یکے بعد دیگرے جائزہ لیں گے ۔

یہ احادیث یا تو ’’موقوف ‘‘ ہیں جن کی سند رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک متصل نہیں یا مسند ہیں جن کے راوی مجہول ،مجروح ،ضعیف اور متروک ہیں ۔

یہاں ہم سابقہ ترتیب کے مطابق وضاحت پیش کریں گے ۔

پہلی روایت کا جائزہ

یہ ابو داؤد کی روایت ہے جو ضعیف ہے کیونکہ :

۱ ۔ یہ روایت ایک مجہول راوی یا کئی مجہول راویوں پر منتہی ہوتی ہے کیونکہ سلسلہ سند میں کہا گیا ہے : اس کے انصاری چچوں سے

۲ ۔اسے ابو عمیر بن انس نے اپنے چچوں سے نقل کیا ہے جس کے بارے میں ابن حجر کہتا ہے : اس نے روئت ہلال اور اذان کے بارے میں اپنے انصاری چچوں سے جو رسول کے اصحاب تھے روایت کی ہے ۔

ابن سعد اس کے بارے میں کہتے ہیں : وہ ثقہ تھا لیکن اس کی احادیث کی مقدار کم ہے ۔

ابن عبد البرّ کہتے ہیں : وہ مجہول ہے اور اس (کی روایت) سے استدلال نہیں کیا جاسکتا ۔(۳)

مزی رقمطراز ہیں : اس نے دو چیزوں یعنی رویت ہلال اور اذان کے بارے میں یہی کچھ نقل کیا ہے۔ اس کے علاوہ اس سے کوئی چیز منقول نہیں ہے۔(۴)

دوسری روایت کا جائزہ

اس حدیث کی سند میں ایسے راوی موجود ہیں جن کی روایت سے استدلال نہیں کیا جاسکتا مثلاً :۔ابو عبد اللہ محمد بن ابراہیم بن حارث بن خالد تیمی جس کی وفات ۱۲۰ ھ کے آس پاس واقع ہوئی ۔

ابو جعفر عقیلی نے عبد اللہ بن احمد بن حنبل سے نقل کیا ہے : میں نے اپنے والد ( احمدبن حنبل ) کو (محمد بن ابراہیم تیمی مدنی کا ذکر کرنے کے بعد ) یہ کہتے سنا : اس کی روایت میں گڑ بڑ ہے ۔ وہ منکراحادیث نقل کرتا ہے ۔(۵)

۲ ۔محمد بن اسحاق بن یسار بن خیار ۔اہل سنت اس کی روایات سے استدلال نہیں کرتے اگرچہ سیرت ابن ہشام کا دار و مدار اسی ( ابن اسحاق ) پر ہے ۔احمدبن ابی خیثمہ کہتے ہیں : جب یحیی بن معین سے ابن اسحاق کے بارے میں پوچھا گیا تو یحیی نے کہا : وہ میری نظر میں ضعیف اور سقیم ہے ۔وہ قوی راوی نہیں ہے ۔ابو الحسن میمونی کا بیان ہے : میں نے یحیی بن معین کو یہ کہتے سنا : محمد بن اسحاق ضعیف ہے ۔ نسائی نے کہا ہے : وہ قوی نہیں ہے ۔(۶)

۳ ۔ عبد اللہ بن زید۔ اس کے بارے میں یہی کافی ہے کہ وہ بہت کم روایت کرتا ہے ۔ ترمذی کہتے ہیں : ہمیں معلوم نہیں ہے کہ حدیثِ اذان کے علاوہ اس نے رسول اللہ سے کوئی صحیح حدیث نقل کی ہو ۔ حاکم کہتے ہیں : درست یہ ہے کہ وہ اُحد میں قتل ہوئے ۔عبد اللہ کی ساری روایات منقطع (وہ روایات جن کا سلسلۂ سند نبی یا صحابہ تک نہ پہنچے ) ہیں ۔

ابن عدی کہتے ہیں : حدیث اذان کے علاوہ ہمیں اس کی کسی روایت کا علم نہیں جو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کی ہو ۔(۷)

زندی نے بخاری سے روایت کی ہے : ہمیں حدیث اذان کے علاوہ اس کی کسی حدیث کا علم نہیں ۔(۸)

حاکم کہتے ہیں : عبد اللہ بن زید وہی ہے جس نے خواب میں اذان کا مشاہدہ کیا اور مسلمان فقہاء نے اسے قبول کیا ۔ صحیحین نے اس روایت کو نقل نہیں کیا ہے کیونکہ نقل کرنے والوں نے اس کی اسانید میں اختلاف کیا ہے ۔(۹)

تیسری روایت کا جائزہ

اس کی سند محمد بن اسحاق یسار اور محمد بن ابراہیم تیمی پر مشتمل ہے ۔ ان دونوں کے بارے میں آپ جان چکے ہیں ۔آپ یہ بھی جان چکے ہیں کہ عبد اللہ بن زید نے بہت کم روایت کی ہے اور اس کی ساری روایات منقطعہ (جن کا سلسلہ نبی یا صحابہ تک نہ پہنچے ) ہیں ۔

چوتھی روایت کا جائزہ

۱ ۔ اس روایت کا ایک راوی عبد الرحمن بن اسحاق بن عبد اللہ مدنی ہے ۔

یحیی بن سعید قطان کہتے ہیں : میں نے مدینہ میں اس کے بارے میں پوچھا اور دیکھا کہ وہاں کے لوگ اس کی تعریف نہیں کرتے ۔ علی بن مدینی بھی کہتے ہیں : علی کا بیان ہے : جب سفیان سے عبد الرحمن کے بارے میں پوچھا گیا تو میں نے سفیان سے سنا : وہ( عبد الرحمن ) قدری تھا ۔(اس کا تعلق مذہب قدریہ سے تھا ) چنانچہ مدینہ والوں نے اسے شہر بدر کردیا ۔ پس وہ ہمارے پاس یہاں (شام ) آگیا جو ولید کی قتل گاہ ہے ۔لیکن ہم اس کے ساتھ نہیں رہتے۔

ابو طالب کہتے ہیں : میں نے احمد بن حنبل سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا : اس نے ابو زناد سے منکر احادیث نقل کی ہیں ۔

احمد بن عبد اللہ عجلی کہتے ہیں : اس کی روایت لکھی تو جاتی ہے لیکن قوی نہیں ہے ۔

ابو حاتم کہتے ہیں : اس کی حدیث لکھی تو جاتی ہے لیکن اس سے استدلال نہیں کیا جاتا ۔

بخاری کہتے ہیں : اس کے حافظے پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا ۔مدینہ میں اس کے کسی شاگرد کا سراغ نہیں ملتا سوائے موسی زمعی کے ۔ موسی نے اس سے کچھ چیزیں نقل کی ہیں جن میں سے بعض میں اضطراب پایا جاتا ہے ۔ ( اضطراب یہ ہے کہ راوی کو متن یا راویوں کی ترتیب یاد نہ ہو۔ مترجم)

دار قطنی کا بیان ہے : وہ ضعیف ہے ۔ اس پر قدری ہونے کا الزام ہے ۔ احمد بن عدی کہتے ہیں : اس کی روایت ناقابل قبول چیزوں پر مشتمل ہے اور اس کی متابعت نہیں کی جاسکتی ۔(۱۰)

۲ ۔ محمد بن عبد اللہ واسطی ۔ اس کا تعارف جمال الدین مزی یوں پیش کرتے ہیں : ابن معین کاکہنا ہے : اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ابن معین اس کی ان روایات کو ردّ کرتا ہے جو اس نے اپنے باپ سے نقل کی ہیں ۔

ابو حاتم کہتے ہیں : میں نے یحیی بن معین سے پوچھا تو اس نے کہا : وہ ایک برا اور جھوٹا آدمی ہے ۔اس نے منکرات کو نقل کیا ہے ۔ابو عثمان سعید بن عمر بردعی نے کہا ہے : میں نے اس (ابو زرعہ) سے محمد بن خالد کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا : وہ برا آدمی ہے ۔ ابن حبان نے اپنی کتاب الثقات میں اس کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے : وہ خطا اور اشتباہ کا مرتکب ہوتا ہے ۔(۱۱)

شوکانی اس روایت کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں : اس کی سند سخت ضعیف ہے ۔(۱۲)

---حوالہ جات:

۱ ۔ دیکھئے صحیح بخاری ،ج۱،ص ۳۰۶ ، باب بدء الاذان ،مطبوعہ دارالقلم ،لبنان ۔

۲۔ دیکھئے علامہ سید عبد الحسین شرف الدین عاملی کی النص والاجتہاد ،ص ۲۰۰، مطبوعہ اسوہ ۔

۳۔دیکھئے ابن حجر کی تہذیب التہذیب ،ج۱۲،ص ۱۸۸، نمبر ۸۶۷ ۔

۴۔دیکھئے جمال الدین مزّی کی تہذیب الکمال ،ج۳۴،ص ۱۴۲ ،نمبر۷۵۴۵ ۔

۵۔ دیکھئے تہذیب الکمال ،ج۲۴،ص ۳۰۴ ۔

۶ ۔ایضا ،ج۲۴،ص ۴۲۳، نیز دیکھئے تاریخ بغداد ،ج۱،ص ۲۲۱ ۔۲۲۴ ۔

۷۔ دیکھئے سنن ترمذی ،ج۱،ص ۳۶۱ نیز ابن حجر کی تہذیب التہذیب ،ج۵،ص ۲۲۴ ۔

۸۔ دیکھئے جمال الدین مزّی کی تہذیب الکمال ،ج۱۴،ص ۵۴۱ ، مطبوعہ موسسة الرسالہ ۔

۹۔ دیکھئےمستدرک حاکم ،ج۳،ص ۳۳۶ ۔

۱۰۔دیکھئے جمال الدین مزی کی تہذیب الکمال ،ج۱۶،ص ۵۱۵ ،حدیث نمبر ۳۷۵۵۔

۱۱ ۔ایضا ،ج۲۵،ص ۱۳۸ ،حدیث نمبر ۵۱۷۷۔

۱۱ ۔دیکھئے شوکانی کی نیل الاوطار ،ج۲،ص ۴۲۔

۱۲ ۔دیکھئے شوکانی کی نیل الاوطار ،ج۲،ص ۴۲۔


پانچویں حدیث کا جائزہ۔

اس کے تین راوی درج ذیل ہیں :

۱ ۔ محمد بن اسحاق بن یسار

۲ ۔ محمد بن حارث تیمی

۳ ۔ عبد اللہ بن زید

ان میں پہلے دو راویوں کا تنقیدی جائزہ آپ ملاحظہ کرچکے ہیں اور یہ بھی دیکھ چکے ہیں کہ یہ دونوں کسی تیسرے شخص سے جو کچھ نقل کرتے ہیں اس کی سند منقطع ہوتی ہے ۔ اس بیان کی روشنی میں چھٹی حدیث کی صورتحال بھی واضح ہوجاتی ہے ۔اس لئے اس پر تبصرے کی ضرورت نہیں جیساکہ آپ خود ملاحظہ کر سکتے ہیں ۔

یہ وہ احادیث ہیں جو کتب صحاح میں سے بعض کے اندر مذکور ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر مآخذ میں جو کچھ مذکور ہے ان میں سے ہم مسند امام احمد ،مسند دارمی ،مسند دار قطنی ،امام مالک کی موطا ،طبقات ابن سعد اور سنن بیہقی کی روایات کا تذکرہ کریں گے ۔

الف۔ مسند امام احمد بن حنبل کی روایات

امام احمد بن حنبل نے اذان کے خواب کو اپنی مسند میں عبد اللہ بن زید سے تین اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے ۔(۱)

پہلی سند ۔اس سلسلہ کا ایک راوی زید بن حباب بن ریان تیمی ( متوفی ۲۰۳ ھ) ہے ۔

اس کے بارے میں علمائے رجال وحدیث نے کہا ہے کہ وہ کثرت سے غلطی اور خطا کرتا تھا ۔ وہ سفیان ثوری سے ایسی احادیث نقل کرتا ہے جو سند کے لحاظ سے ’’غریب‘‘ ہیں ۔ابن معین کہتے ہیں : اس نے ثوری سے جو احادیث نقل کی ہیں وہ مقلوب ہیں ۔(۲)

(مقلوب وہ حدیث ہے جس کے راوی نے حدیث کے الفاظ، جملوں اور راویوں کو ادھر اُدھر کردیا ہو ۔مترجم)

اس سلسلہ سند کا ایک راوی عبد اللہ بن محمد بن زید بن عبد ربہ ہے ۔ صحاح اور مسانید میں اس کی بس یہی ایک روایت منقول ہے اور اس میں اس کے اپنے خاندان کی فضیلت مذکور ہے ۔ اسی لئے اس پر اعتماد میں کمی واقع ہوئی ہے ۔

دوسری سند میں محمد بن اسحاق بن یسار شامل ہے جس کا حال آپ جان چکے ہیں ۔

تیسری سند میں محمد بن ابراہیم حارث تیمی اور محمد بن اسحاق شامل ہیں ۔یہ سند عبد اللہ بن زید پر منتہی ہوتی ہے جس کی روایت بہت کم ہے ۔

دوسری روایت میں خواب اور بلال کو اذان سکھانے کے ذکر کے بعد مذکور ہے : بلال رسول اللہ کے پاس آئے ۔انہوں نے دیکھا کہ آپ سورہے ہیں ۔بلال نے بلند آواز سے پکار کر کہا :

الصلاة خیر من النوم

(نماز نیند سے بہتر ہے۔) اس کے بعد یہ جملہ نماز صبح کی اذان کا حصہ قرار پایا ۔

ب۔ مسند دارمی کی روایات

دارمی نے اپنی مسند میں اذان کے خواب کو تین اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے۔ یاد رہے کہ یہ تینوں ضعیف ہیں ۔

یہاں ہم صرف اسانید کا ذکر کریں گے ۔

۱ ۔ محمد بن حمید نے سلمہ سےاور اس نے محمدبن اسحاق سے نقل کیا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم .....الخ

۲ ۔اس سند کی روسےمحمد بن حمید نے سلمہ سے، اس نے محمد بن اسحاق سے ،اس نے محمد بن ابراہیم حارث تیمی سے ،اس نے محمد بن عبد اللہ بن زید بن عبد ربہ سے اور اس نے اپنے باپ سے اس حدیث کو نقل کیا ہے ۔

۳ ۔ اس سند کی روسے محمد بن یحیی نے یعقوب بن ابراہیم بن سعد سے ،اس نے ابن اسحاق سے اور اس نے ان راویوں سے نقل کیا ہے جن کا ذکر دوسری سند میں ہوچکا ہے ۔(۳)

تبصرہ ۔ پہلی سند منقطع ہے جبکہ دوسری اور تیسری سند کا راوی محمد بن ابراہیم حارث تیمی ہے جس کا حال آپ جان چکے ہیں ۔اس کے علاوہ ان دونوں کے دوسرے راوی ابن اسحاق کا ذکر بھی ہوچکا ہے ۔

ج۔ امام مالک کی الموطا میں مذکور روایات

امام مالک نے الموطا میں اذان کے خواب کو یحیی سے نقل کیا ہے ۔ اس سند کی روسے یحیی نے مالک سے اور اس نے یحیی بن سعید سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ارادہ کیا تھا کہ (نماز کا اعلان کرنے کے لئے ) دو لکڑیاں لی جائیں اور انہیں ایک دوسرے پر مارا جائے....(۴)

تبصرہ : اس روایت کی سند منقطع ہے ۔ یحیی بن سعید سے مراد یحیی بن سعید بن قیس ہے جو سنہ ۷۰ ھ میں پیدا ہوئے اور ۱۴۳ ھ میں ہاشمیہ میں وفات پاگئے۔(۵)

د۔ طبقات ابن سعد کی روایت

محمد بن سعد نے اپنی کتاب الطبقات میں(۶)

اس حدیث کو کئی اسانید کے ساتھ نقل کیا ہے جو موقوفہ ہیں ۔ (موقوفہ وہ سند ہے جو صحابی پر منتہی ہو ۔مترجم ) ان سے استدلال درست نہیں ہے ۔ پہلی سند نافع بن جبیر پر منتہی ہوتی ہے ۔نافع نوے کی دہائی میں اور بقولے ۹۹ ھ میں وفات پاگیا تھا ۔

دوسری سند عروہ بن زبیر پر ختم ہوتی ہے جو ۲۹ ھ میں پیدا ہوا اور ۹۳ ھ میں وفات پاگیا ۔

تیسری سند زید بن اسلم پر منتہی ہوتی ہے ۔زید ۱۳۶ ھ میں وفات پاگیا تھا ۔

چوتھی سند سعید بن مسیب (متوفی ۹۴ ھ ) اور عبد الرحمن بن ابی لیلی (متوفی ۹۲ ھ یا ۹۳ ھ ) پر ختم ہوتی ہے ۔

ذہبی نے عبد اللہ بن زید کے بارے میں لکھا ہے : سعید بن مسیب اور عبد الرحمن بن ابی لیلی نے اس سے نقل کیا ہے جبکہ ان دونوں کی ملاقات نہیں ہوئی تھی ۔(۶)

ابن سعد نے اس حدیث کو درج ذیل سند کے ساتھ بھی نقل کیا ہے ۔

اس سند کی روسے احمد بن محمد بن ولید ازرقی نے مسلم بن خالد سے ، اس نے عبد الرحیم بن عمر سے ، اس نے ابن شہاب سے ، اس نے سالم بن عبد اللہ بن عمر سے اور اس نے عبداللہ بن عمر سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو جمع کرنے کے لئے کوئی چیز بنانے کا ارادہ کیا... یہاں تک کہ ایک انصاری عبد اللہ زید نے خواب دیکھا ۔اسی رات عمر بن خطاب نے بھی یہی خواب دیکھا … (پھر راوی کہتا ہے : پس بلال نے صبح کی اذان میں الصلاة خیرٌ من النّوم کا اضافہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی تائید فرمائی ۔

یہ سند درج ذیل راویوں پر مشتمل ہے ۔

۱ ۔ مسلم بن خالد بن مرّہ جسے ابن جرحہ کہا جاتا ہے ۔یحیی بن معین نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔علی ابن مدینی کہتے ہیں : اس کی کوئی حیثیث نہیں ۔ بخاری فرماتے ہیں : اس کی روایت منکر ہے ۔ نسائی فرماتے ہیں : وہ قوی نہیں ہے ۔ابو حاتم کا بیان ہے : وہ قوی نہیں ہے ، وہ منکر احادیث نقل کرتا ہے ۔ اس کی حدیث لکھی جاتی ہے لیکن اس سے استدلال نہیں کیا جاتا ۔آپ اس کا تعارف کرائیں لیکن اسے قبول نہ کریں ۔(۷)

۲ ۔ محمد بن مسلم بن عبید اللہ بن عبد اللہ بن شہاب زہری مدنی ( ۵۱ ھ۔ ۱۲۳ ھ) ۔انس بن عیاض عبید اللہ بن عمر سے نقل کرتے ہیں کہ اس نے کہا : میں دیکھا کرتا تھا کہ زہری (حدیث کی ) کتاب دیتا تو ہے لیکن نہ اسے پڑھتا ہے اور نہ اسے پڑھ کر سنایا جاتا ہے ۔جب اس سے کہا جاتا ہے : کیا ہم اسے آپ کی طرف سے نقل کریں تو وہ کہتا ہے : ہاں ۔

ابراہیم بن ابو سفیان قیسرانی نے فریانی سے نقل کیا ہے کہ اس نے سفیان ثوری کو یہ کہتے سنا : میں زہری کے پاس آیا تو اس نے خاص توجہ نہیں دی ۔ میں نے اس سے کہا : اگر آپ ہمارے اساتید کے پاس آتے تو کیا وہ آپ کے ساتھ ایسا برتاؤ کرتے ؟ اس نے کہا :اسی طرح بیٹھے رہو ۔

پھر وہ اندر گیا اور میرے لئے ایک کتاب لے کر باہر نکلا اور کہنے لگا : یہ لے لو اور اسے میری طرف سے نقل کرو ‘‘ لیکن میں نے اس سے ایک حرف بھی نقل نہیں کیا ۔(۸)

ھ۔ سنن بیہقی کی روایت

بیہقی نے اذان کے خواب کو مختلف اسانید کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ان سب میں کمزوری یا کمزوریاں پائی جاتی ہیں ۔ یہاں ہم ان اسانید کے کمزور راویوں کی طرف اشارہ کرتے چلیں گے ۔

پہلی سند کا راوی ابو عمیر بن انس ہے جس نے اپنے انصاری چچوں سے روایت کی ہے ۔

ابو عمیر ابن انس کے بارے میں آپ جان چکے ہیں ۔ اس کے بارے میں ابن عبد البر رقمطراز ہیں : وہ مجہول الحال ہے ۔ اس کی روایت سے استدلال درست نہیں ۔ وہ اپنے چچوں کے نام سے مجہول الحال راویوں سے روایت کرتا ہے ۔(۱۰)

اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ یہ لوگ صحابہ ہیں اگرچہ ہم ہرصحابی کو عادل سمجھیں ۔اگر یہ فرض بھی کرلیا جائے کہ اس کے چچے صحابہ تھے تب بھی کسی صحابی کی موقوف روایات ( وہ روایات جن کا سلسلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر منتہی نہ ہوتا ہو ) حجت نہیں ہیں کیونکہ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ اس صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہو ۔

دوسری سند درج ذیل راویوں پر مشتمل ہے جن کی روایت حجت نہیں ہے :

۱ ۔ محمد بن اسحاق بن یسار

۲ ۔ محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی

۳ ۔ عبداللہ بن زید

ان سب کے بارے میں آپ قبل ازیں بخوبی جان چکے ہیں ۔

تیسری سند کا ایک راوی علی بن شہاب زہری ہے جو سعید بن مسیب متوفی ۹۴ ھ سے اور وہ عبد اللہ بن زید سے نقل کرتا ہے جبکہ آپ جان چکے ہیں کہ اس نے عبد اللہ بن زید کو نہیں پا یا تھا ۔(۱۱)

و۔ دار قطنی کی روایت

دار قطنی نے اذان کے خواب کو کئی اسانید کے ساتھ نقل کیا ہے جو یہ ہیں :

پہلی سند : ہمیں محمد بن یحیی بن مرد اس نے خبر دی کہ اس نے ابو داؤد سے ، اس نے عثمان بن ابی شیسہ سے ، اس نے حماد بن خالد سے ، اس نے محمد بن عمر و سے ، اس نے محمد بن عبد اللہ سے اور اس نے اپنے چچا عبد اللہ بن زید سے نقل کیا ہے کہ

دوسری سند : ہمیں محمد بن یحیی نے خبر دی کہ اس نے ابو داؤد سے ، اس نے عبد اللہ بن عمر سے ، اس نے عبد الرحمن بن مہدی سے اس نے محمد بن عمرو سے اور اس نے عبد اللہ بن محمد سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا : میرے دادا عبدا للہ بن زید نے یہ روایت....(۱۲)

ان دونوں سندوں کا ایک راوی محمد بن عمر وہے ۔ اس سے مراد یا تو محمد بن عمر و انصاری ہے جس سے اس روایت کے سوا صحاح و مسانید میں کوئی اور روایت منقول نہیں ہے۔ چنانچہ ذہبی کہتے ہیں : وہ غیر معروف ہے یا ابو سہیل محمد بن عمرو انصاری ہے جسے یحیی بن قطان ،ابن معین اور ابن عدی نے ضعیف قرار دیا ہے ۔(۱۳)

تیسری سند : ابو محمد بن ساعد نے ہمیں خبر دی کہ اسے حسن بن یونس نے ، اسے اسود بن عامر نے اور اسے ابوبکر بن عیاش نے خبر دی کہ اعمش نے عمر و بن مرة سے ، اس نے عبد الرحمن بن ابی لیلی سے اور اس نے معاذ بن جبل سے نقل کیا ہے کہ ایک انصاری ( یعنی عبد اللہ بن زید ) نبی کے پاس آیا اور کہنے لگا : میں نے خواب دیکھا(۱۴)

تبصرہ : یہ سند منقطع ہے کیونکہ حضرت معاذ بن جبل ۱۸ ھ یا ۲۰ ھ میں وفات پاگئے تھے جبکہ عبد الرحمن بن ابی لیلی ۱۷ ھ میں پیدا ہوئے تھے ۔ علاوہ ازین دارقطنی نے عبد الرحمن کو ضعیف قرار دیتے ہوئے کہا ہے : اس کی حدیث ضعیف ہے اور اس کی یا ددا شت خراب ہے اور یہ بات ثابت نہیں ہے کہ ابن ابی لیلی نے عبد اللہ بن زید سے حدیث سنی ہو ۔(۱۵)

اذان کےخواب سے مربوط روایات کی بحث یہاں مکمل ہوگئی اور یہ بات واضح ہو گئی کہ یہ کہنا درست نہیں کہ اذان کو شریعت کا حصہ بنانے کی وجہ عبد اللہ بن زید یا عمر بن خطاب یا کسی اور کا خواب تھا نیز اس خواب پر مشتمل احادیث کے درمیان تعارض پایا جا تا ہے ، ان کی اسناد درست نہیں ہیں اور ان کے ذریعے کوئی چیز ثابت نہیں ہوسکتی ۔

علاوہ ازیں ہم اس بحث کے آغاز میں کہہ چکے ہیں کہ یہ بات عقل سے بھی منافات رکھتی ہے ۔

---حوالہ جات:

۱- مسند امام احمدبن حنبل ،ج۴،ص ۶۳۲ ،۶۳۳ ،ح۱۶۰۴۱ ،۱۶۰۴۲ ،۱۶۰۴۳ ۔

۲ ۔دیکھئے ذہبی کی میزان الاعتدال ،ج۲،ص ۱۰۰ ، حدیث نمبر ۲۹۹۷۔

۳ ۔دیکھئے سنن دارمی ،ج۱،ص ۲۸۷، باب بدء الاذان ۔

۴۔دیکھئے مالک کی الموطا ،ص ۴۴ ،باب ماجاء فی النداء للصلاة ،نمبر ۱۔

۵ ۔دیکھئے ذہبی کی سیراعلام النبلاء ،ج۵،ص ۴۶۸،احوال نمبر ۲۱۳۔

۶ ۔ دیکھئے ابن سعد کی الطبقات الکبری ،ج۱،ص ۲۴۶۔۲۴۷ ۔

۷ ۔ دیکھئے ذہبی کی اعلام النبلاء ،ج۲،ص ۳۷۵،نمبر ۷۹ ۔اس کی تفصیل آگے آئے گی ۔

۸۔دیکھئے جمال الدین مزی کی تہذیب الکمال ،ج۲۷، ۵۰۸ ، نمبر ۵۹۲۵۔

۹ ۔ایضا ،ج۲۶،ص ۴۳۹ ۔ ۴۴۰۔

۱۰۔دیکھئے ابن حجر کی التہذیب ،ج ۱۲،ص ۱۸۸،نمبر ۸۶۷ ۔

۱۱ ۔ دیکھئے سنن بیہقی ،ج۱،ص ۵۷۵ ،نمبر ۱۸۳۷ ۔

۱۲ ۔ دیکھئے سنن دار قطنی ،ج۱،ص ۲۴۵ ، نمبر ۵۷ ۔

۱۳ ۔ دیکھئے ذہبی کی میزان الاعتدال،۳/۶۷۴،ح۸۱۷،۸۱۸ نیز جمال الدین مزی کی تہذیب الکمال ،ج۲۶،ص ۲۲۰ ، حدیث ۵۵۱۶ نیز ابن حجر کی تہذیب التہذیب ،ج۹،ص ۳۷۸ ، حدیث ۶۲۰ ، مطبوعہ دار صادر ۔

۱۴۔ دیکھئے سنن دار قطنی ،ج۱،ص ۲۴۲ ، حدیث ۳۱ ۔

۱۵ ۔ دیکھئے سنن دار قطنی ،ج۱،ص ۲۴۲ ، حدیث ۳۱ ۔


اذان کی تشریع اہل بیت(ع) کی نظر میں

جب ہم اذان کی تشریع کے سرچشمے کے بارے میں اہل بیت علیہ السلام سے مروی ا حادیث کا مطالعہ کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ان میں مذکورہ قابل اعتراض پہلو یعنی مقام نبوت کے ساتھ منافات کا پہلو نہیں پایا جاتا ۔

ابو عبد اللہ صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : جب جبرائیل اذان کا حکم لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں اترے تو اس وقت آنحضرت کا سر مبارک علی کی گود میں تھا ۔پس جبرائیل نے اذان دی اور اقامت کہی ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھ گئے تو آپ نے فرمایا : اے علی ! کیا آپ نے سن لیا ؟

بولے : ہاں ۔ فرمایا : کیا آپ کو یاد ہو گیا ؟ بولے : جی ہاں ۔ فرمایا : بلال کو بلا کر اسے سکھائیں ۔ پس علی علیہ السلام نے بلال کو بلایا اور انہیں سکھا یا ۔(۱)

ان دو روایتوں میں موجود فرق یہ ہے کہ پہلی روایت کی رو سے جبرائیل کوئی نافلہ انجام دینا چاہتے تھے ۔ اس کے بر خلاف دوسری روایت کی رو سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی نافلہ کے بارے میں بتا نا اور اسے آپ کو سکھا نا چاہتے تھے ۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے علی علیہ السلام سے فرمایا : بلال کو بلا کر اسے یہ چیز سکھائیں ۔

اس نظرئے کی تائید ان روایات سے ہوتی ہے جنہیں عسقلانی نے ذکر کیا ہے ۔عسقلانی ان کی اسانید کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے کہتے ہیں : بعض احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اذان کی شرعی حیثیت ہجرت سے پہلے مکی دور ہی میں طے ہوچکی تھی ۔ان میں سے ایک حدیث کو طبرانی نے سالم بن عبد اللہ بن عمر سے نقل کیا ہے ۔روایت کے مطابق سالم اپنے والد (عبد اللہ بن عمر ) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا : جب نبی معراج کے سفر پر لے جائے گئے تو اللہ نے آپ پر اذان کی وحی فرمائی ۔پس آپ نے بلال کو اذان سکھائی ۔(روایت کی سند میں طلحہ بن زید واقع ہوا ہے جو متروک ہے ۔ (متروک وہ راوی ہے جس پر جھوٹ بولنے کا الزام ہو ۔مترجم) عسقلانی کی یہ روایات اذان کی تشریع کےبارے میں واضح طور پر اہل بیت علیہم السلام کے موقف پر دلالت کرتی ہیں اور اس بات کی نفی کرتی ہیں کہ اذان کا حکم عبد اللہ بن زید یا حضرت عمر بن خطاب کے خواب پر مبنی ہے ۔چنانچہ امام صادق علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے ان لوگوں پر لعنت فرمائی جو یہ گمان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبد اللہ بن زید سے اذان سیکھی تھی ۔آپ فرماتے ہیں :

تمہارے نبی پر وحی اترتی ہے لیکن تم یہ خیال کرتے ہو کہ آنحضرت نے عبد اللہ بن زید سے اذان سیکھی ہے ۔(۲)

۱ ۔ عسقلانی نے بزاز سے روایت کی ہے کہ علی علیہ السلام نے فرمایا : جب اللہ نے اپنے رسول کو اذان سکھانے کا ارادہ کیا تو جبرئیل آپ کے پاس براق نامی سواری لے کر آئے اور آنحضرت اس پر سوار ہوئے ۔(۳)

۲ ۔ حدیث معراج میں ابو جعفر (امام باقر) علیہ السلام سے مروی ہے : پھر اللہ نے حکم دیا تو جبرئیل نے دو دو (جملوں) کی صورت میں اذان پڑھی اور اقامت بھی دو دو کر کے پڑھی اور اپنی اذان میںحیّ علی خیر العمل کہا ۔پھر محمد نے آگے بڑھ کر لوگوں کی نماز کی امامت کی ۔(۴)

۳ ۔ ابو عبد اللہ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : جب رسول اللہ معراج پر لے جائے گئے تو نماز کا وقت ہوگیا اور جبرئیل نے اذان کہی ۔(۵)

۴ ۔ عبد الرزاق نے معمر سے ،اس نے ابن حماد سے ،اس نے اپنے باپ سے ،اس نے اپنے جدّ سے اور اس نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ نے حدیث معراج میں فرمایا : پھر جبرئیل نے کھڑے ہوکر اپنے دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی اپنے کان میں ڈالی اور دو دو (جملوں ) کی صورت میں اذان پڑھی جس کےآخر میںحیّ علی خیر العمل کو دو دو بار پڑھا ۔(۶)

---حوالہ جات:

۱۔ دیکھئے حر عاملی ،محمد بن حسن کی وسائل الشیعہ الی تحصیل مسائل الشریعة ،ج۴،ص ۶۱۲، ابواب الاذان والاقامة ،حدیث ۲۔

۲ ۔ دیکھئے ایضا ،،ج۴،ابواب الاذان والاقامہ ،حدیث ۳۔

۳۔ دیکھئے فتح الباری فی شرح البخاری ،ج۲،ص ۷۸،مطبوعہ دار المعرفہ ،لبنان ۔

۴۔دیکھئے محمد بن حسن حر عاملی کی وسائل الشیعہ ،ابواب الاذان والاقامة ، باب ۱۹،ح ۲۔

۵۔ دیکھئے ایضا ، باب ۱۹،ح۱ ۔

۶۔ دیکھئے سید ابن طاؤس کی سعد السعود،ص ۱۰۰ ، بحار الانوار ،ج۷۱،ص ۱۰۷ ماخو ذ از سعد السعود ،نیز آقاحسین بروجردی کی جامع احادیث الشیعہ ،ج۲،ص ۲۲۱ ۔


حیّ علی خیر العمل کی جزئیت کا اثبات

درج ذیل دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ

’’حیّ علی خیر العمل ‘‘

اذان اور اقامت کا جزء ہے ۔نیز اس جملے کے بغیر اذان و اقامت درست نہیں ہیں۔

پہلی دلیل : اصحاب رسول سے مروی نصوص

ان میں سے بعض وہ نصوص ہیں جو صحیح اسناد کے ساتھ بعض اصحاب سے مروی ہیں ۔ان اصحاب میں سے کچھ یہ ہیں :

۱ ۔ عبد اللہ بن عمر

۲ ۔ سہل بن حنیف

۳ ۔ بلال

۴ ۔ ابو محذورہ

۵ ۔ ابن ابی محذورہ

۶ ۔ زید بن ارقم

۱ ۔عبد اللہ بن عمر سے مروی روایات

الف ۔ نافع سے مروی ہے کہ ابن عمر گاہے حیّ علی الفلاح پڑھنے کے بعدحیّ علی خیر العمل کہتے تھے ۔(۱)

ب۔ لیث بن سعد سے مروی ہے کہ نافع نے کہا : ابن عمر سفر میں اذان نہیں بلکہ حیّ علی الفلاح کہتے تھے اور گاہےحیّ علی خیر العمل کہتے تھے۔(۲)

ج۔لیث بن سعد سے مروی ہے کہ نافع نے کہا : ابن عمر اپنی اذان میں گاہے

’’حیّ علی خیر العمل ‘‘

کا اضافہ کرتے تھے ۔(۳)

د۔ نسیرا بن ذعلوق نے بھی ابن عمر سے یہی بات نقل کرتے ہوئے کہا ہے : وہ سفر میں ایسا کرتے تھے ۔(۴)

ھ۔ عبد الرزاق نے یحیی سے ،اس نے ابو کثیر سے اور اس نے کسی مرد سے نقل کیا ہے کہ ابن عمر اذان میں

حی علی الفلاح

کہنے کے بعد

حیّ علی خیر العمل

کہتے تھے ۔پھر

الله اکبر ،الله اکبر ،لا اله الّا الله

کہتے تھے ۔(۵)

اسے ابن ابی شیبہ نے(۶) ابن عجلان اور عبید اللہ سے نقل کیا ہے اور کہا ہےکہ ان دونوں نے نافع سے اور اس نے ابن عمر سے نقل کیا ہے ۔

۲ ۔سہل بن حنیف کی روایات

الف ۔ بیہقی نے روایت کی ہے کہ اذان میں

حی علی خیر العمل

کہنا ابو امامہ سہل بن حنیف سے مروی ہے ۔(۷)

ب۔ ابن وزیر نے محب طبری شافعی کی کتاب اِحکام الاَحکام سے یہ الفاظ نقل کیے ہیں :

صدقة بن یسار سے مروی ہے کہ ابو امامہ سہل بن حنیف اذان میں

حی علی خیر العمل

کہتے تھے ۔ اسے سعید بن منصور نے نقل کیا ہے ۔(۸)

۳ ۔ بلال سے منقول روایات

الف۔ عبد اللہ بن محمد بن عمار سے مروی ہے کہ اس نے حفص بن عمر کے دو بیٹوں عمار اور عمر سے، انہوں نے اپنے آباء سے ، انہوں نے اپنے اجداد سے اور انہوں نے بلال سے نقل کیا ہے کہ وہ صبح کو پکار کر کہتے تھے :

حی علی خیر العمل ۔

پس نبی نے حکم دیا کہ وہ اس کے بدلے

الصلاة خیر من النوم

کہے ۔ پس اس نے

حی علی خیر العمل

کہنا ترک کردیا ۔(۹)

لیکن اس روایت کا آخری حصہ قابل تنقید ہے کیونکہ

الصلاة خیر من النوم

کی عبارت نبی کے بعد اذان میں شامل کی گئی تھی جیسا کہ بہت سی روایات میں صریحا مذکور ہے ۔

انشا ء اللہ آئندہ مباحث میں ہم ان روایات کی طرف اشارہ کریں گے ۔(۱۰)

ب۔ مروی ہے کہ بلال صبح کی اذان دیتے تھے تو

حی علی خیر العمل

بھی کہتے تھے ۔(۱۱)

۴ ۔ابو مخدورہ سے مروی روایات

الف ۔ محمد بن منصور نے اپنی کتاب الجامع میں اپنی سند کے ساتھ بعض پسندیدہ لوگوں سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایک موذن ابو مخدورہ نے کہا : رسول اللہ نے مجھے حکم دیا کہ میں اذان میں

’’حی علی خیر العمل ‘‘

کہوں ۔(۱۲)

ب۔ عبد العزیز بن رفیع نے ابو مخدورہ سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا : میری نوجوانی کے ایام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : اپنی اذان کے آخرمیں

حی علی خیر العمل

کہو ۔(۱۳)

۵ ۔ابن ابی مخدورہ سے منقول روایت

الشفاء میں ہذیل بن بلال مدائنی سے مروی ہے : میں نے ابو محذورہ کے بیٹے کو یہ کہتے سنا:

حی علی الفلاح،حی علی خیر العمل ۔(۱۴)

۶ ۔زید بن ارقم سے منقول روایات

مروی ہے کہ زید نے اذان میں

حی علی خیر العمل

کہا ۔(۱۵)

حلبی کہتے ہیں : ابن عمر اور علی ابن حسین سے نقل ہوا ہے کہ وہ دونوں اپنی اذانوں میں

حی علی الفلاح

کے بعد

حی علی خیر العمل

کہتے تھے ۔(۱۶)

علاؤ الدین حنفی اپنی کتاب ’’التلویح فی شرح الجامع الصحیح‘‘ میں لکھتے ہیں :

حی علی خیر العمل

کے بارے میں ابن حزم کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن عمر اور ابو امامہ سہل بن حنیف سے بطور صحیح مروی ہے کہ وہ دونوں

حی علی خیر العمل

کہتے تھے ۔ اس کے بعد وہ کہتے ہیں : علی بن حسین بھی ایسا ہی کرتے تھے ۔(۱۷)

ابن نباح اپنی اذان میں

حی علی خیر العمل

کہتے تھے ۔(۱۸)

--حوالہ جات:

۱- دیکھئےسنن بیہقی ،ج۱،ص ۶۲۴ ،حدیث ۱۹۹۱ ۔

۲- دیکھئےسنن بیہقی ،ج۱،ص ۶۲۴ ،حدیث ۱۹۹۱ ۔

۳ ۔ دیکھئےسنن بیہقی ،ج۱ ،ص۴۲۴ ،نیز دلائل الصدق ،ج۳،حصہ ۲،ص ۱۰۰ ۔یہ عرفی کی الفقہ الاسلامی ،ص ۳۸ ،سے ماخوذ ہے ۔عرفی نے اسے شرح تجرید سے لیا ہے ۔اسے ابن ابی شیبہ نے نقل کیا ہے اور الشفاء میں اس کا ذکر کیا ہے جیساکہ صعدی کی البحر الذخار کے ھوالے سے جواہر الاخبار والآثار میں مذکور ہے ۔

۴ ۔ دیکھئے سنن بیہقی،ج۱،ص ۶۲۵ ، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ،لبنان ۔

۵۔ دیکھئے سنن بیہقی،ج۱،ص ۴۶۰ ۔

۶۔ دیکھئے سنن بیہقی،ج۱،ص ۱۴۵ ، نیز عبد الرزاق کی حاشیہ مصنف ،ج۱،ص ۴۶۰ ، از بیہقی ۔

۷ ۔ دیکھئےسنن بیہقی،ج۱،ص ۴۲۵۔

۸ ۔ دیکھئے دلائل الصدق ،ج۳،حصہ ۲،ص۱۰۰ ،از مبادیٔ الفقة الاسلامی ،ص ۳۸،مطبوعہ سال ۱۳۵۴ ھ۔

۹ ۔ دیکھئےمجمع الزوائد ،ج۱،ص ۳۳۰ ، ازتفسیرطبرانی ،المصنف ،ج۱،ص ۴۶۰ ، حدیث ۱۷۸۶ ، سنن بیہقی ،ج۱،ص ۶۲۵ ، حدیث ۱۹۹۱ ، منتخب الکنز حاشیہ المسند ،ج۳،ص ۲۷۶ ، از ابو شیخ، کتاب الاذان نیز دلائل الصدق ،ج۳،حصہ ۲،ص ۹۹ ۔

۱۰ ۔ دیکھئے امام مالک کی الموطا ،ص ۴۶،سنن دار قطنی ،مصنف عبد الرزاق ،ج۱،ص ۴۷۴، اور ۴۷۵ ، حدیث ۱۹۹۴ ،حدیث ۱۸۲۷ ،۱۸۲۹،۱۸۳۲ ،المنتخب حاشیہ المسند ،ج۳،ص ۲۷۸۔ اس میں مذکور ہے : یہ بدعت ہے ۔ترمذی اور ابو داؤد وغیر ہ نے بھی کہا ہے : یہ بدعت ہے ۔

۱۱ ۔ دیکھئےمنتخب کنزالعمال حاشیہ المسند ،ج۳،ص ۲۷۹ ، دلائل الصدق ،ج۳،ص ۹۹ ، حصہ ۲، از کنزالعمال ،ج۴،ص ۲۶۶ ۔

۱۲ ۔ دیکھئےالبحر الذخار ،ج۲،ص ۱۹۲،جواہر الاخبار والآثار اسی صفحے کے حاشیے میں ۔

۱۳ ۔ دیکھئےذہبی کی میزان الاعتدال ،ج۱،ص ۱۳۹ ، نیز عسقلانی کی لسان المیزان ،ج۱، ۲۶۸ ۔

۱۴ ۔ دیکھئےذہبی کی میزان الاعتدال ،ج۱،ص ۱۳۹ ، نیز عسقلانی کی لسان المیزان ،ج۱، ۲۶۸ ۔

۱۵۔دیکھئے الامام الصادق والمذاہب الاربعة ،ج۵،ص ۲۸۳ ۔

۱۶۔دیکھئےالسیرة الحلبیہ ،باب الاذان ،ج۲،ص ۹۸ ، مطبوعہ المکتبة الاسلامیة ۔

۱۷۔دیکھئے دلائل الصدق ،ج۳،ص۱۰۰ ،حصہ ۲، عرفی کی مبادیٔ الفقہ الاسلامی سے ماخوذ ،ص ۳۸،مطبوعہ ۱۳۵۴ھ نیز المحلی ،ج۳،ص ۱۶۰ ۔

۱۸۔دیکھئےوسائل الشیعہ ،ج۴،ص ۶۴۵ ، باب کیفیة الاذان ،حدیث ۱۲، جامع احادیث الشیعہ اور قاموس الرجال ۔


دوسری دلیل : اہل بیت اطہار علیہم السلام سے مروی صحیح روایات

امام علی سے مروی حدیث ۔ مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے : جان لو کہ تمہارے اعمال میں سب سے اچھا عمل نماز ہے ۔ آپ نے بلال کو حکم دیا کہ وہ اذان میں

’’حی علی خیر العمل ‘‘

کہے۔ یہ روایت الشفاء میں مذکور ہے ۔

(دیکھئےجواہر الاخبار والآثار ماخوذ از لجة البحر الزخار ،ج ۲ ،ص ۱۹۱ ، الامام الصادق والمذاہب الاربعہ ،ج ۵ ،ص ۲۸۴ )

امام علی بن الحسین سے منقول روایات

الف ۔ حاتم بن اسماعیل سے مروی ہے کہ جعفر بن محمد ( صادق)علیہما السلام نے اپنے والد (امام باقر ) علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ علی بن حسین

( سجاد)علیہ السلام اپنی اذان میں

حی علی الفلاح

کہنے کے بعد

’’حی علی خیر العمل ‘‘

کہتے تھے۔ وہ فرماتے تھے : پہلی اذان یہی ہے ۔(۱)

یہاں امام علی بن حسین علیہما السلام کے قول ’’ یہی پہلی اذان ہے ‘‘سے مراد صرف یہی لیا جاسکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اذان یہی تھی ۔(۲)

ب۔ حلبی ، ابن حزم اور دیگر نے بھی علی بن الحسین سے یہی نقل کیا ہے ۔

ج۔ علی بن حسین علیہما السلام سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موذن کی آواز سنتے تھے تو اس کی طرح دہراتے تھے لیکن جب وہ

حی علی الصلاة، حی علی الفلاح

اور

حی علی خیر العمل

کہتا تو آپ فرماتے تھے :

لا حول و لا قوة الا بالله۔۔(۳)

د۔ محمد بن علی نے اپنے پدر گرامی علی بن حسین علیہما السلام سے نقل کیا ہے کہ آپ

حی علی الفلاح

کے بعد

حی علی خیر العمل

کہتے تھے ۔(۴)

امام باقر سے منقول روایات

الف ۔ امام باقر علیہ السلام نے فرمایا :

حی علی خیر العمل

کا جملہ اذان کا حصہ تھا لیکن عمر بن خطاب نے لوگوں کو اس سے اجتناب برتنے کا حکم دیا تا کہ لوگ نماز پر بھروسہ اور اکتفا کرتے ہوئے ۔ جہاد سے پہلو تہی نہ کریں ۔(۵)

ب۔ مروی ہے کہ ابو جعفر ( امام باقر )علیہ السلام نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں

’’حیّ علی خیر العمل ‘‘

اذان کا حصہ تھا ۔ ابو بکر کے عہد اور عمر کے ابتدائی دور میں بھی یہی حکم رائج رہا ۔ اس کے بعد عمر نے اسے اذان و اقامت سے حذف کرنے کا حکم دیا ۔ جب مو صوف سے اس بارے میں استفسار ہوا تو بولے : جب عوام الناس یہ سنیں کہ سب سے اچھا عمل نماز ہے تو وہ جہاد میں سستی برتیں گے اور اس سے پہلو تہی کریں گے ۔(۶)

اسی قسم کی روایت جعفر بن محمد الصادق علیہ السلام سے بھی مروی ہے ۔(۷)

یا د رہے کہ

حی علی خیر العمل

کا جملہ مدتوں تک علویوں ، اہل بیت علیہم السلام اور ان کے شیعوں کا نعرہ رہا ، یہاں تک کہ شہید فخ حسین بن علی کے انقلاب کے آغاز میں عبد اللہ افطس بن حسن اس مینار پر چڑھ گئے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سرہانے کی جانب جنازوں و الی جگہ کے پاس واقع تھا ۔ عبد اللہ نے موذن سے کہا : اذان میں

حی علی خیر العمل

کہو ۔ جب موذن نے عبد اللہ کے ہاتھ میں تلوار دیکھی تو اس نے یہ جملہ کہا ۔

عمر ی ( جو منصور سے پہلے مدینے کا والی تھا ) نے یہ سنا تو اسے خطرے کا احساس ہوا ۔

اس نے خوف و ہراس کی حالت میں چیخ کر کہا : دروازہ بند کرو اور مجھے تھوڑا پانی پلاؤ۔(۸ )

تنوخی نے ذکر کیا ہے کہ ابو الفرج نے اسے بتا یا کہ اس نے لوگوں کو اپنی اذانوں کے اندر

حی علی خیر العمل

کا جملہ کہتے سنا ہے ۔(۹)

حلبی کا کہنا ہے : بعض لوگ کہتے ہیں کہ آل بویہ کے دور حکومت میں

رافضی حیعلتین (حیّ علی الصلاة ، حیّ علی الفلاح )

کے بعد

حیّ علی خیر العمل

کہتے تھے ۔جب سلجوقیوں کی حکومت آئی تو انہوں نے موذنوں کو اس سے روک دیا اور اس کی جگہ صبح کی اذان میں دو مرتبہ

الصلاة خیرمن النوم

کہنے کا حکم دیا ۔یہ ۴۴۸ ھ کا واقعہ ہے ۔( ۱۰)

---حوالہ جات:

۱۔دیکھئے سنن بیہقی ،ج۱،ص ۶۲۵ ، حدیث ۱۹۹۳، دلائل الصدق ،ج۳،ص۱۰۰ ، حصہ ۲، از مبادی الفقہ الاسلامی ،ص ۳۸ ، از المصنف ابن ابی شیبہ اور جواہر الاخبار والآثار ،ج۲،ص ۱۹۲۔

۲ ۔دیکھئے دلائل الصدق ،ج۳،ص۱۰۰ ، حصہ ۲، از مبادی الفقہ الاسلامی ،ص ۳۸ ۔

۳۔ دیکھئے دعائم الاسلام ،ج۱،ص ۱۴۵ ، البحار ،ج۸۴،ص ۱۷۹ ۔

۴ ۔ دیکھئے صعدی کی جواہر الاخبار والآثار ،ج۲،ص ۱۹۲ ۔

۵۔ دیکھئےالبحر الزخار ،نیز جواہر الاخبار والآثار ،ج۲،ص ۱۹۲

۶ ۔دیکھئےدعائم الاسلام ،ج۱،ص ۱۴۲ ، بحار الانوار ،ج۸۴،ص ۱۵۶ ۔

۷- دیکھئےدعائم الاسلام ،ج۱،ص ۱۴۲ ، بحار الانوار ،ج۸۴،ص ۱۵۶

۸- دیکھئےمقاتل الطالبیین،ص ۴۴۶

۹- دیکھئےنشوار المحاضرات ،ج۲،ص ۱۳۳

۱۰- دیکھئےنشوار المحاضرات ،ج۲،ص ۱۳۳


حیّ علی خیر العمل کی جزئیت کے بارے میں علماء کے اقوال

رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ اہل بیت علیہم السلام سے مروی صریح فرمودات کی روشنی میں شیعہ علماء و فقہاء کا یہ عقیدہ ہے کہ

حیّ علی خیر العمل

کا جملہ اذان اور اقامت کا جزو ہے اور اس جملے کے بغیر اذان و اقامت درست نہیں ہیں ۔

ان علماء میں شیخ مفید اور سید مرتضی بھی شامل ہیں ۔سید مرتضی ؒ الانتصار میں فرماتے ہیں : (امامیہ کا دوسروں سے الگ اور منفرد موقف یہ ہے کہ وہ اذان اور اقامت میں

حیّ علی الفلاح کے بعدحیّ علی خیر العمل

کہتے ہیں ۔اس حکم کی دلیل فرقہ حقہ کا اجماع ہے ۔(۱)

اہل سنت کی روایت ہے(۲)

کہ عصر رسول کے بعض ایام میں ایسا ہوتا رہا لیکن بعد میں یہ حکم منسوخ ہوا۔

جو لوگ نسخ کا دعوی کرتے ہیں ان کی ذمہ داری ہے کہ دلیل پیش کریں لیکن وہ اس سے عاجز ہیں ۔(۳)

حیّ علی خیر العمل

کو اذان اور اقامت کا جزو سمجھنے والے علماء میں شیخ طوس،(۴)

قاضی عبد العزیز بن البراج طرابلسی ،(۵)

ابن ادریس حلی،(۶)

علامہ حلی ،(۷)

محقق اردبیلی،(۸)

شیخ یوسف بحرانی ،(۹)

اور شیخ محمد حسن نجفی(صاحب جواہر ) شامل ہیں ۔

شیخ محمد حسن نجفی (صاحب جواہر ) فرماتے ہیں : بہر حال ہمارے ہاں فتوی کے لحاظ سے عظیم شہرت کا حامل قول اشہر یہ ہے کہ اذان اٹھارہ جملوں پر مشتمل ہے ،نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ ۔اس کے بارے میں اجماع کا دعوی ممکن ہے بلکہ المدارک میں مذکور ہے کہ یہ شیعہ علماء کا نظریہ ہے جس میں مجھے کوئی مخالف نہیں آیا ۔

التذکرة میں اور نہایة الاحکام سے منسوب قول کے مطابق یہ ہمارے علماء کا نظریہ ہے ۔الذکری ٰ میں اسے اصحاب (شیعہ علماء) کا عمل بتایا گیا ہے ۔

المسالک میں مذکور ہے : شیعہ مذہب اور علمائے شیعہ کا اس میں کوئی اختلاف نہیں جیساکہ المہذب سے نقل ہوا ہے ۔اس سے بڑھ کر الغنیہ کے بیان سے ظاہر ہے کہ اس پر امامیہ کا اجماع ہے ۔

پس اذان کے اٹھارہ جملے یہ ہیں : چار دفعہ تکبیر ،اس کے بعد توحید کی شہادت ،پھر رسالت کی شہادت پھر حی علی الصلاة ،پھر حی علی الفلاح ،پھرحیّ علی خیر العمل ،پھر تکبیر اور پھر تہلیل ۔ان میں سے ہر جملے کو دو دو بار پڑھنا ہوگا بلکہ المعتبر اور التذکرہ میں نیز البحار ،المنتہی اور الناصریات سے حکایت شدہ قول کی بنا پر اذان کے اخر میں دو دفعہ

لا الٰه الّا الله

پڑھنے پر اجماع قائم ہے بلکہ کہتے ہیں کہ المنتہی کے قول کے مطابق پہلے (تکبیر ) کو چار بار پڑھنے پر اجماع ہے۔

رہی اقامت تو اس کے جملوں کے بارے میں علمائے شیعہ کے قول کو عظیم شہرت حاصل ہے بلکہ التذکرہ نے اسے ’’ہمارا ‘‘ قول قرار دیا ہے ۔المنتہی اور النہایہ سے مروی ہے کہ ان دونوں نے اس قول کو ہمارے علماء کا قول قرار دیا ہے ۔المہذب سے مروی ہے کہ اس میں ہمارے علماء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے ۔الذکری کے قول کے مطابق ہمارے علماء اور المسالک کے مطابق طائفہ شیعہ اس پر عمل پیرا ہیں اور وہ یہ کہ اقامت کے جملے دو دو بار پڑھے جاتے ہیں نیز اقامت میںحیّ علی خیر العمل اور تکبیر کے درمیان قد قامت الصلاة دو بار پڑھا جاتا ہے ۔

آخر میں

لا اله الا الله

کو صرف ایک بار پڑھنا ہوگا ۔ یو ں اقامت کے جملے سترہ بنتے ہیں ۔(۱۰)

حوالہ جات:

۱-( دیکھئے شیخ مفید علیہ الرحمہ (متوفی ۴۱۳ ھ) کی المقنعة ،باب فصول الاذان و الاقامة )

۲- (دیکھئےالمدونة الکبری ،ج۱،ص ۷۵، بدایة المجتہد ،ج۱،ص ۱۲۱ )

۳-(دیکھئے سید مرتضی( متوفی ۴۳۶ ھ ) کی الانتصار،ص۳۵ ۔آج بھی زیدیہ اسی بات کے قائل ہیں )

۴- (دیکھئےشیخ طوسی (متوفی سال ۴۶۰ ھ )کی الخلاف ،ج۱،ص ۲۷۸ ۔۲۷۹ ،کتاب الصلاة،مسألة ۱۹ اور ۲۰ )

۵-(دیکھئے قاضی ابن براج( متوفی سال ۴۸۱ ھ) کی المہذب ،ج۱ ،ص ۸۸ ،باب الاذان والاقامة)

۶-(دیکھئےابن ادریس حلی (متوفی ۵۹۸ )کی السرائر ،ج۱،ص ۲۱۳ ، کتاب الصلاة،احکام الاذان والاقامة)

۷-(دیکھئےعلامہ یوسف ابن مطہر حلی (متوفی ۷۲۶ ھ )کی تذکرة الفقہاء ،ج۳،ص ۴۱ ، مسألہ ۱۵۶ ، عدد فصول الاذان والاقامة )

۸- (دیکھئے محقق اردبیلی (متوفی سال ۹۹۳ ھ )کی مجمع الفائدة والبرہان ،ج۲،ص ۱۷۰ ، کتاب الصلاة ،کیفیة الاذان والاقامة)

۹-(دیکھئے شیخ یوسف بحرانی (متوفی سال ۱۱۸۶ ھ ) کی الحدائق الناضرة ،ج۷،ص ۳۶۲ ، فصول الاذان والاقامة )

۱۰- (دیکھئے شیخ محمد حسن نجفی (متوفی ۱۲۶۶ ھ )کی معرکة الآراء کتاب جواہر الکلام ،ج۹،ص ۸۲۔۸۱ فی فصول الاذان والاقامة )


اذان اور اقامت سے حیّ علی خیر العمل کو حذف کر نے کی وجہ

گزشتہ مباحث سے واضح ہوچکا کہحیّ علی خیر العمل کا جملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں اذان اور اقامت کا حصہ تھا ۔جب خلیفہ دوم کا دور آیا تو خلیفہ نے چاہا کہ لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کو خیر العمل (سب سے اچھا عمل ) سمجھیں تاکہ اس کی طرف راغب ہوں اور ان کی توجہ جہاد پر مرکوز رہے ۔خلیفہ نے سوچا کہ پنجگانہ نمازوں سے پہلے اذان میں نماز کو خیر العمل کہہ کر پکارنا جہاد کی اہمیت کے منافی ہے ۔

خلیفہ دوم کو خطرہ محسوس ہوا کہ اگر اذان اور اقامت میںحیّ علی خیر العمل پڑھنے کا سلسلہ جاری رہے تو اس کے باعث لوگ جہاد سے پہلو تہی کریں گے کیونکہ اگر لوگوں کو پتہ چل جائے کہ نماز سب سے اچھا عمل ہے تو لوگ ثواب کمانے کے لئے اسی پر اکتفاء کریں گے کیونکہ نماز ایک آسان اور آرام دہ عمل ہے اور جہاد کو خیر باد کہیں گے کیونکہ یہ ایک خطرناک اور مشکل کام ہے اور نماز کے مقابلے میں اس کی فضیلت بھی کم ہے ۔

بنابریں خلیفہ ثانی حضرت عمر نے اپنی دانست میں بہتر سمجھا کہ مذکورہ مصلحت کے پیش نظر اس جملے کو اذان اور اقامت سے حذف کردیا جائے ۔خلیفہ نے شریعت مقدسہ کے حکم کی پابندی کے مقابلے میں مذکورہ مصلحت کو ترجیح دی ۔چنانچہ حضرت عمر نے منبر سے اعلان کیا : تین چیزیں رسول اللہ کے عہد میں جائز تھیں لیکن میں ان تین سے منع کرتا ہوں اور انہیں حرام قرار دیتا ہوں ۔میں ان کے ارتکاب پر سزا دوں گا ۔ (وہ تین یہ ہیں : ) عورتوں کے ساتھ متعہ ،حج کے دوران تمتع اور

حیّ علی خیر العمل ۔

قوشجی نے اپنی کتاب شرح التجرید میں امامت کی بحث کے آخر میں اس کی تصریح فرمائی ہے ۔ یاد رہے کہ قوشجی مذہب اشاعرہ کے متکلمین کے ائمہ میں سے ایک شمار ہوتے ہیں ۔قوشجی نے حضرت عمر کے اس موقف کی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا ہے : کسی مجتہد کا اجتہادی مسائل میں دوسرے مجتہدین کی مخالفت کوئی نئی چیز نہیں ہے ۔(۱)

ابن شاذان نے برادران اہل سنت والجماعت کی خدمت میں عرض کیا ہے :

رسول اللہ کے عہد میں ،حضرت ابو بکر کے دور میں اور خلافتِ فاروقی کے ابتدائی دورمیں اذان کے اندرحیّ علی خیر العمل کہہ کر پکارا جاتا رہا ۔

پھر حضرت عمر بن خطاب نے کہا : مجھے خوف ہے کہ اگر

حیّ علی خیر العمل

( نما زسب سے اچھا عمل ہے ) کہا جائے تو لوگ نماز پر اکتفاء کریں گے اور جہاد کو چھوڑیں دیں گے ۔ پس خلیفہ نے حکم دیا کہ

اذان سے

حیّ علی خیر العمل

کو حذف کیا جائے ۔(۲)

مروی ہے کہ عکرمہ نے کہا : اس اقدام سے عمر کا مقصود یہ تھا کہ لوگ نماز پر بھروسہ کرتے ہوئے جہاد کو چھوڑ دیں گے۔اسی لئے انہوں نے اسے(حیّ علی خیر العمل کو ) نما زسے حذف کردیا ۔(۳)

عضدی نے ابن حاجب کی کتاب مختصر الاصول کی جو شرح لکھی ہے اس کے حاشیے میں سعدالدین تفتازانی کہتے ہیں :

حیّ علی خیر العمل

عہد رسول میں ثابت تھا اور عمر نے ہی لوگوں کو اس سے اجتناب کا حکم دیا تھا اس خوف سے کہ کہیں لوگ نماز پر بھروسہ اور اکتفا کرتے ہوئے جہاد سے پہلو تہی نہ کریں ۔(۴)

تبصرہ : اولاً اگر یہ جملہ

(حیّ علی خیر العمل )

جہاد سے پہلو تہی کا موجب ہوتا تو شریعت کو اس کا حکم ہی نہیں دینا چاہیے تھا کیونکہ یہ مذکورہ نظرئے کی روسے ایک دائمی خرابی کا موجب ہے ۔ اسی خیال سے اہل سنت نے اسے آج تک چھوڑ رکھا ہے ۔

ثانیا ً : اگر اذان میں

حیّ علی خیر العمل

کہنا سچ مچ نقصان دہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (جس نے قیصر و کسری کی شکست کی خوشخبری سنائی تھی ) کو اس نقصان کا سب سے زیادہ ادراک اور احساس ہونا چاہیے تھا ۔

ثالثاً : جنگوں میں صحابہ کے شجاعت آمیز کارنامے اس موہوم تصور کی نفی کرتے ہیں کیونکہ اصحاب ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رکاب میں راہ خدا میں جنگ کرتے تھے اور

حیّ علی خیر العمل

کا تکرار انہیں جہاد سے نہیں روکتا تھا جیساکہ قرآن کریم نے اس حقیقت کو صریحا بیان فرمایا ہے ۔(۵)

اشعری مکتب فکر کے ماہر علمِ کلام قوشجی نے حضرت عمر کے موقف کی صفائی یوں پیش کی ہے :

اجتہادی مسائل میں ایک مجتہد کا دوسرے مجتہدین کی مخالفت کوئی نئی چیز نہیں ۔(۶)

یہ ایک غیر معقول توجیہ ہے کیونکہ اگر ہم غور کریں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی خواہش کے تحت بات نہیں کرتے بلکہ وحی کے مطابق گفتگو فرماتے ہیں

'ان هو الّا وحی یوحیٰ"۔

علامہ شرف الدین عاملی اس تاویل کے بارے میں فرماتے ہیں :

عذر یہ پیش کی جاتی ہے کہ خلیفہ ثانی نے سوچا : جب لوگ یہ سنیں گے کہ نماز سب سے اچھا عمل ہے تو وہ نماز پر بھرسہ کرتے ہوئے جہاد کو خیر باد کہیں گے جیساکہ خلیفہ نے خود بتایا ہے ۔

قوشجی کے قول : ’’اجتہاد ی مسائل میں ایک مجتہد کا دوسرے مجتہدین کی مخالفت کوئی نئی چیز نہیں ہے ‘‘ پر یہ اعتراض وارد ہوتا ہے کہ یہ ایک غیر معقول عذر تراشی ہے کیونکہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا صریح فرمان دیا ہے اور رسول کے صریح فرمان (نص) کی مخالفت جائز نہیں ہے

۔پس لوگوں کے افعال کے بارے میں رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکام کی مخالفت حرام ہے کیونکہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس چیز کو حلال قرار دیں وہ قیامت تک حلال ہے اور آپ جس چیز کو حرام قرار دیں وہ بھی قیامت تک حرام ہے ۔یہی حال آپ کے سارے احکام کا ہے خواہ وہ احکام تکلیفی ہوں یا وضعی ۔اس بات پر سارے مسلمانوں کا اجماع ہے جس طرح آپ کی نبوت پر ان کا اجماع ہے۔ کسی مسلمان نے اس کے خلاف کوئی لفظ نہیں کہا ہے ۔

قرآن کریم نے اس حقیقت کی تصریح کرتے ہوئے فرمایا ہے :

"وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا وَاتَّقُوا اللّٰهَ إِنَّ اللّٰهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ"۔(۷)

رسول تمہیں جو کچھ دے دیں اسےلے لو اور وہ تمہیں جس چیز سے روکیں اس سے اجتناب کرو اور اللہ سے ڈرو ۔بے شک اللہ سخت سزادینے والاہے۔

نیز ارشاد ربانی ہے :

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَن يَعْصِ اللّٰهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِينًا ۔(۸)

کسی مومن اور مومنہ کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ جب اللہ اور رسول کسی امر کا فیصلہ کریں تو وہ اس میں اپنی مرضی سے کام لیں ۔ جس نے اللہ اور رسول کی نافرمانی کی بتحقیق وہ کھلی گمراہی میں مبتلا ہوگیا ۔

ایک اور جگہ ارشاد الہی ہے :

" فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا "۔(۹)

نہیں تیرے رب کی قسم!یہ لوگ صاحب ِایمان نہیں ہوسکتے جب تک اپنے باہمی اختلافات کے فیصلے کا اختیار آپ کو نہ دیں پھر آپ کے فیصلے سے انہیں کوئی قلبی تنگی محسوس نہ ہو بلکہ وہ مکمل طور پر (آپ کے آگے ) سر تسلیم خم ہوں ۔

نیز ارشاد الہی ہے :

إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ‎ ﴿١٩﴾‏ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ ‎ ﴿٢٠﴾‏ مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ ‎ ﴿٢١﴾(۱۰)

یہ صاحب عرش کے ہاں مقرب ایک طاقتور اور معزز فرستادے کا کلام ہے ۔

ایک اور جگہ فرماتا ہے :

إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ‎ ﴿٤٠﴾‏ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍۚ قَلِيلًا مَّا تُؤْمِنُونَ ‎ ﴿٤١﴾‏ وَلَا بِقَوْلِ كَاهِنٍۚ قَلِيلًا مَّا تَذَكَّرُونَ ‎ ﴿٤٢﴾‏ تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ ‎ ﴿٤٣﴾(۱۱)

بے شک یہ ایک مکرم فرستادے کا کلام ہے ۔ یہ کسی شاعر کاکلام نہیں ۔ تم لوگ بہت کم ایمان رکھتے ہو ۔ یہ کسی کاہن کا قول نہیں ۔ تم لوگ بہت کم نصیحت قبول کرتے ہو ۔ یہ رب العالمین کی طرف سے اتا را ہوا ہے ۔

ایک اور جگہ ارشاد فرماتا ہے :

وَمَا يَنطِقُ عَنِ الْهَوَىٰ ‎ ﴿٣﴾‏ إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْيٌ يُوحَىٰ ‎ ﴿٤﴾

(۱۲)

رسول اپنی خواہشات کے تحت بات نہیں کرتے ۔ یہ تو بس نازل شدہ وحی ہے ۔ اسے زبردست قوت والے نے سکھا یا ہے ۔

پس رسول کا کلام قرآن کریم کی طرح ہے ۔ جس کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے ۔

’’ لَّا يَأْتِيهِ الْبَاطِلُ مِن بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَامِنْ خَلْفِهِ تَنزِيلٌ مِّنْ حَكِيمٍ حَمِيدٍ‘‘(۱۳)

با طل اس کے آگے پیچھے سے اس کے پاس نہیں پھٹک سکتا ۔ یہ صاحبِ حکمت اور لا ئقِ حمد ( خدا ) کی طرف سے نازل کیا گیا ہے ۔

پس جو شخص ان آیات پر ایمان رکھتا ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کی تصدیق کرتا ہو وہ آنحضرت کے فرمودات سے ذرہ برابر بھی دور نہیں ہوسکتا ۔ ہم یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ ان لوگوں نے سنت رسول سے عمداً دوری اختیار کی ہو البتہ انہوں نے تاویل و توجیہ سے کا م لیا ہے ۔(۱۴)

بعض شواہد جن سے

"حیّ علی خیر العمل "

کی جز ئیت کی مزید تا ئید ہو تی ہے

زر کشی البحر المحیط میں ر قمطراز ہیں : دیگر اختلافی مسائل کی طرح اس مسئلے میں بھی اختلاف ہے ۔ ابن عمر جو اہل مدینہ کے معتمد تھے اذان ( کے جملوں ) کو ایک ایک دفعہ پڑھنے نیز اذان میں

"حیّ علی خیر العمل "

پڑھنے کے قائل تھے ۔

کتاب السنام میں مذکور ہے : درست بات یہ ہے کہ شریعت نے

"حیّ علی خیر العمل "

کو اذان کا حصہ قرار دیا ہے ۔

الروض النظیر میں مذکور ہے : بہت سے مالکی ، حنفی اور شافعی علماء کا کہنا ہے کہ

"حیّ علی خیر العمل "

اذان کے الفاظ میں شامل ہے ۔

شو کانی نے کتاب الاحکام سے نقل کیا ہے : ہمارے ہاں یہ درست ہے کہ

"حیّ علی خیر العمل "

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں اذان کا حصہ تھا۔ عمر کے دور سے پہلے یہ جملہ اذان میں کہا جا تا تھا۔ پھر عمر کے دور میں حذف ہوا ۔(۱۵)

اب تک جو کچھ بیان ہو ا اس سے واضح ہوچکا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،حضرت ابو بکر اورحضرت عمر کے دور حکومت کے کچھ عرصے تک اذان میں ’’حیّ علی خیر العمل ‘‘ کہنے کا عمل جاری رہا ۔ پھر حضرت عمر نے اپنی رائے سے اسے حذف کیا ۔ حضرت عمر نے جس وجہ سے

"حیّ علی خیر العمل "

کو اذان سے حذف کیا تھا اس کے پیش نظر عصر حاضر میں اس روش کو جاری رکھنے کی وجہ سمجھ سے بالا تر ہے کیونکہ حضرت عمر کے زمانے میں موجود سبب آج مفقود ہے ۔ پس ہم سب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اہل بیت علیہم السلام کی سنت اور روش کی متابعت کیوںنہ کریں ؟

خلاصہ بحث

اب تک جو دلائل و شواہد بیان ہوئے ان سے واضح اور ظاہر ہو تا ہے کہ :

۱ ۔"حیّ علی خیر العمل "

اذان و اقامت کا باقاعدہ حصہ ہے ۔

۲ ۔ عصر رسول میں نیز خلیفہ اول بلکہ خلیفہ ثانی کے دور خلافت کے کچھ عرصے تک اس پر عمل ہوتا رہا ۔

۳ ۔ خلیفہ ثانی نے اپنی ذاتی رائے سے ایک ناقص دلیل کو بنیاد بنا کر اس جملے کو حذف کرنے کا حکم دیا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اذان کا حصہ قرار دیا تھا ۔

---حوالہ جات:

۱ ۔ دیکھئے قوشجی کی شرح التجرید ،ص ۴۸۴ ۔

۲ ۔ الایضاح ،ص ۲۰۱ ۔۲۰۲ ۔

۳ ۔دیکھئے علامہ محمد باقر مجلسی (متوفی ۱۱۱۱ ھ) کی بحارالانوار ،ج۸۴،ص۱۳۰،نیز علل الشرائع،ج۲،ص۵۶۔

۴ ۔دیکھئے دلائل الصدق ،ج۳،ص ۱۰۰،حصہ ۲، عرفی کی مبادیٔ الفقہ الاسلامی ،ص۳۸ سے ماخوذنیز سید ہاشم معروف کی سیرة المصطفی ،ص ۲۷۴ ، ماخوذ از الروض النضیر،ج۲،ص ۴۲ ۔

۵ ۔دیکھئے سورہ توبہ /۱۱۱ ۔۱۱۲ ۔

۶ ۔دیکھئے قوشجی کی شرح تجرید ،ص ۴۸۴ ۔

۷ ۔ دیکھئے :حشر/۷۔

۸ ۔ دیکھئے :احزاب/۳۶۔

۹ ۔ دیکھئے :نساء/۶۵ ۔

۱۰ ۔ دیکھئے :تکویر /۱۹ ۔۲۱ ۔

۱۱ ۔ دیکھئے :الحآقة /۴۰ ۔۴۳۔

۱۲ ۔دیکھئے :نجم/۳۔۵۔

۱۳ ۔دیکھئے فصلت/۴۲۔

۱۴ ۔ دیکھئے : النص والاجتہاد ،خطبة الکتاب ۔

۱۵ ۔دیکھئے : شوکانی یمنی زیدی کی نیل الاوطار ،ج۲،ص ۳۲۔ فرقہ زیدیہ بھی اذان و اقامت میںحیّ علی خیر العمل کہنے کے س ہیں ۔


http://alhassanain.org/urdu /