یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


کتاب کا نام: کربلا کی خاک پر سجدہ

مولف: سید رضا حسینی نسب

مترجم: محمد اصغر صادقی

ناشر: مجمع جہانی اہل بیت (ع)

پیشکش: مہدی (عج) مشن


مقدمہ آیت اللہ جعفر سبحانی دامت برکاتہ

مٹی پر سجدہ کرنا روح عبادت ہے

اسلامی محققین اپنی بصیرت کی بنا پر اس نتیجے تک پہنچے ہیں کہ تمام موجودات اپنے خالق سے ایک خاص رابطہ رکھتی ہیں ۔ اگر اس رابطہ کو خالق سے توڑ دیا جائے۔ تو پھر ان موجودات کا وجود ہی فنا کی نذر ہو جائے گا ۔ خداوند عالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے ” اے لوگو تم سب کے سب خدا کے محتاج ہو اور ( صرف ) خدا ہی (تمام لوگوں ) سے بے نیازاور حمد و ثنا کا مستحق ہے “(۱)

اسی لئے کہا جاتا ہے کہ اپنے کو پہچاننا خدا کو پہچاننا ہے کیونکہ حقیقت وجود انسان بھی اس ذات غنی و حمید سے مربوط ہے ۔ بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ انسان اپنے کو پہچانے اور اس حقیقی رابطہ کو فراموش کر دے جو اس کے ا ور رب جلیل کے درمیاں موجود ہے ۔

لہٰذا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ” خدا کو بھولنا خود کو فراموش کرنے کے مترادف ہے“ جیسا کہ قرآن مجید اس چیز کی طرف اس آیہ شریفہ میںاشارہ کررہا ہے (اور ان لوگوں جیسے نہ ہوجاؤ جو خدا کو بھلا بیٹھے تو خدا نے انھیں ایسا کردیا کہ وہ اپنے آپ کو بھول گئے۔(۲)

انسان کو ان لوگوں جیسا نہیں ہونا چاہئے جنھوں نے خدا کو بھلا دیا کیونکہ قرآن خود ان کو جواب دیتا ہے کہ انھوں نے اپنی ہستی کو بھلا دیا ہے ۔یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ وہ نمک کھائے اور نمک دان کو بھول جائے ؟!یہ ناشکری کی آخری حد ہے۔خالق و مخلوق کا رابطہ یہ وہ حقیقت ہے جس تک محققین دلیل و برہان کے ذریعہ پہنچے ہیں۔اور عرفاء سیر وسلوک کے ذریعہ کشف و شہود کی منازل کو طے کرنے کے بعد بصیرت کی نگاہوں سے اس رابطہ کا مشاہدہ کیا ہے۔جبکہ بہت سارے عام لوگوں نے بھی فطرت کی طرف رجوع کرکے اس حقیقت کو درک کیا ہے کہ انسانی وجود کا دارو مدار ہر لحاظ سے اسی بے نیازخدا سے رابطہ کے او پر قائم ہے ۔واضح ہے، کہ خدا کی پہچان انسان کے بدن میں ایک جنبہ روحی کی حیثیت سے تجلی اور خودنمائی کرتی ہوئی خدا کے سامنے فروتن و خاضع ہوتی ہے ۔اس لئے کہ تمام کی تمام شریعتیں اور عبادتیں مثلا نماز و روزہ اس لئے ضروری قرار دئے گئے ہیں کہ عقلاء فکر و تدبر سے اور عرفاء کشف و شھود سے اور ایک عام انسا ن ا پنی فطرت کی طرف رجوع کرکے خدا وند عالم کی بارگاہ میں سر بسجود ہو ۔ اسلام کا مقدس نظام گذشتہ شریعتوں کا خلاصہ ا ور نچوڑ ہے ۔

خود یہ نماز انسان کی حس اولیہ کو جلاء و روشنی بخشتی ہے، ہم اس کا احساس نہیں کرسکتے، کیونکہ نماز ایک عبادت توقیفی ہے۔ لہٰذا اسکی تمام خصوصیات کو خداوند عالم ہی جانتا ہے ۔

فقہ امامیہ میں یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ نماز پڑھنے والا صرف زمین ( پتھر ا ور خاک ) اور جو چیز اس سے اگتی ہے اس پر سجدہ کرے ان شرائط کی پابندی کرنا علماء امامیہ کی نظر میں ضروری و لازمی ہے ، اور اس کا فلسفہ یہ ہے کہ زمین ونباتات پرسجدہ فروتنی و خاکساری کی عظیم تجلی گاہ ہے جو نماز کا پہلا مقصد ہے کہ انسان خداوند جلیل کے سامنے اپنے کو ذلیل و حقیر اور پست و نادار شمار کرے جیسا کہ گذشتہ آیت میں ذکر ہوا ہے ۔(فاطر ۱۵ )

اب سونے ،چاندی اور قیمتی کپڑے اور لباس پرسجدہ کرنا کیا فروتنی و انکسار ی کے ساتھ سازگاری رکھتا ہے ؟! اس لئے اہل بیت (ع) کے چاہنے والے ، کارخانہ ، مراکز ، مسافرت اور ہر وہ جگہ جہاں پر انکو یہ اندیشہ ہو کہ مٹی نہ ملے گی وہاں اپنے ساتھ پاک و پاکیزہ مٹی لے جاتے ہیں تاکہ نماز کے وقت خدا کے سامنے ( خاک ریز ہوں ) خاک پر سجدہ کریں لہٰذا ایسا کام بدعت اور اسلام میں نوآوری کا باعث نہیں ہے۔ بلکہ عین فروتنی ہے، کیونکہ بزرگان ما سلف کے درمیان بھی ایسی ہی رسم موجود تھی ۔بلکہ واجب ہے کہ انسان ایسا کرے تاکہ نماز تمام شرائط کیسا تھ انجام دی جا سکے ۔ اور یہ بھی کتنی پیاری چیز ہے کہ بعض افراد اپنے گھروں میں ، جھولیوں میں تھوڑی خاک رکھے رہتے ہیں ،تاکہ مجبوری میں اس پر تیمم کر کے اپنے فریضہ سے سبکدوش ہو سکیں ۔ اس لئے کہ ہر وقت انسان کی دسترسی پاک مٹی تک نہیں ہوتی ہے اور جیسا کہ قرآن کہتا ہے: <صعیداً طیباً >پاک مٹی پر تیمم کر کے اپنے فریضہ کو انجام دو ۔ (کہنا پڑیگا ) علماء اہل سنت زمین اور اس سے اُگنے والی چیزوں پر سجدہ کرنے کے فلسفہ سے آگاہی نہیں رکھتے بلکہ وہ صحابہ و تابعین کی سنت و سیرت سے بھی لا علم ہیں اس کتاب میں خاک پر سجدہ کرنے کا فلسفہ صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ، اگر وہ لوگ اسکو دقت اور توجہ سے مطالعہ کریں تو مجبور ہو کر اپنے فریضہ کی ادائیگی میں تجدید نظر اور تبدیلی کی سونچ میں پڑ جائں گے ۔تعجب ہے بہت سارے نادان اور نام نہاد علماء کا خیال خام یہ ہے کہ شیعہ خود مٹی کی عبادت کرتے ہیں جبکہ یہ بات بدیہی اور واضح ہیکہ شیعہ خضوع و خشوع اور فروتنی کے لئے خاک پر سجدہ انجام دیتے ہیں ۔

جس طریقے سے مسلمانوں کے تمام فرقے کسی نہ کسی چیز پر سجدہ کرتے ہیں، (ہم نہیں کہتے کپڑے کی پوجا کرتے ہو ) اسی طرح ہم بھی دو چیزوں پر ( زمین اور اس سے اگنے والی چیز ) سجدہ کرتے ہیں ، جس طریقے سے وہ لوگ کپڑے و کتان پر سجدہ کرنے کو خودکپڑے کی عبادت نہیں کہتے تو ہم مٹی پر سجدہ کرتے ہیں کہاں سے مٹی کی عبادت ہو جائے گی! قارئین محترم آپ حضرات کے سامنے یہ تمام بحثیں وضاحت و تفصیل کے ساتھ پیش کی جا رہی ہے ۔ پڑھیئے اور محظوظ ہویئے ۔ہم مولف عالیقدر حجةالاسلام و المسلمین جناب سید رضا حسینی نسب کے شکر گذار ہیں کہ انھوں نے اس کتاب کے لکھنے اور تحقیق و تتبع کرنے میں بڑی زحمت برداشت کی ۔ اور دوست عزیز جناب آقای حاجی حسن محمدی پرویزیان کے بھی شکر گذار ہیں کہ انکی بیکراں سفارش اور تاکید کے ساتھ یہ کتاب لکھی گئی اورحکم الدال علی الخیر کفاعله ( کار خیر کی راہنمائی مثل انجام دینے کے ہے ) کے مطابق وہ بھی اس ثواب عظیم و اجر جزیل میں مولف ارجمند کے ساتھ شریک ہیں ۔ درگاہ خدا میں دست بدعا ہیں کہ یہ رسالہ اتحاد و بھائی چارگی اور تمام مسلمانوں کے درمیان حسن تفاہم کا باعث بنے ۔

جعفر سبحانی

قم موسسہ امام صادق (ع)

۲۵ /۵/ ۱۳۶۹ مطابق ۲۵ محرم الحرام ۱۴۱۱ ھئ

____________________

(۱) فاطر/۱۵۔<یَا اَیهَا النَّاسُ اَنتُم الفُقرَاءُ اِلیَ اللّهِ وَاَللّهُ هُوَا الغَنیُّ الحَمِیدُ

(۲) حشر/۱۹ <وَلَا تَکُونوُا کَا لّذِینَ نَسُو اللَّهِ فَانَسَاهُم اَنفُسَهُم >


پیش گفتار

سجدہ اسلام اور اہل اسلام کی نگاہ میں انسان کا خالق کی بارگاہ میں نہایت فروتنی و بردباری کے ساتھ سر جھکا نے کا نام ہے جو آدمیت کے لئے ” عبودیت “ کی معراج ہے ۔ ا سی لئے قرآن مجید نہ فقط انسان کو ،بلکہ دنیا کی تمام چیزوں کو سجدہ کرنے والے کے عنوان سے تعبیر کرتا ہے ، جیسا کہ قول خداوند عالم ہے :( وَلِلَّهِ یَسْجُدُ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ ) اور جو کچھ زمین و آسمان میں ہے ، سب اس کیلئے سجدہ کرتے ہیں۔(۱)

اس بارے میں تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ نماز کی ہر رکعت میں دو سجدے واجب اور فرض ہیں اورانھیں انجا م دینا ضروریات دین و اسلام میںسے ہے لیکن اسکی کیفیت اوراسے انجام دینے کے طریقے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں ۔

تشیع : اس مذہب کے افراد سنت و سیرت نبی (ص)اور آپکے اہل بیت طاہرین (ع)و اصحاب آنحضرت (ص)اور تابعین کی عملی سیرت کی روشنی میں سجدہ اللہ کے لئے فقط زمین اور جو چیز ا س سے اگتی ہے ۔

(سوائے کھانے اور پینے والی چیزوں ) اس پر انجام دیتے ہیں ۔حقیقتاً آئندہ بحثوں سے اندازہ ہو جائیگا ، کہ یہی روش بندگی صحیح اور رسول (ص) و آل رسول (ع)و اصحاب کرام کی پسندیدہ ہے لہٰذا انکی اتباع و پیروی کرتے ہوئے ہم زمین پر سجدہ کرتے ہیں ۔

اہل سنت و الجماعت : اس مذہب کے افراد محل سجدہ کے بارے میں مزید وسعت کے قائل ہیں لہٰذا وہ کہتے ہیں کہ سجدہ فقط زمین پر ضروری نہیں ہے بلکہ کھانے اور پہننے والی چیزوں پر بھی درست ہے ۔ بیان کردہ مطالب سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ سنی وشیعہ دونوں گروہ ، خدا کے سامنے فقط خضوع و خشوع اور اسکی رضا و خوشنودی کے لئے اسکی بارگاہ میں سجدہ کرتے ہیں ، جس میں کوئی اختلا ف نہیں ہے لیکن بعض مولفین نے گمان کیا ہے کہ مٹی پر سجدہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ مٹی کی عبادت ہے اور مٹی کی عبادت کرنا شرک ہے ، لہٰذا مٹی پر سجدہ کرنے والے مشرک ہیں جبکہ انکا یہ خیال بالکل بے بنیاد اور انکا یہ تصور باطل ہے ، جسکی حقیقت مثل سراب ہے ۔ ہم آیندہ بحثوں میں شیعہ امامیہ کے نظریات اور انکے دلائل قارئین کے سامنے پیش کریںگے انصاف خود اہل نظر کے ہاتھ ہے

و ما علینا الا البلاغ

مولف

____________________

(۱) سورہ رعد /۱۵<وَ ِللّٰهِ یَسجُدُ َمن ِفی السّمٰوَاتِ وَ الاَرضِ >


۱ ۔ شیعوں کا نظریہ

دوستداران اہل بیت (ع)، سنت اور سیرت معصومین (ع) کی پیروی کرتے ہوئے صرف زمین اور جو چیز اس سے اگتی ہے ( لیکن کھانے اور پہننے والی نہ ہو ) اس پر سجدہ اللہ کے لئے کرتے ہیں ، اور درگاہ خدائے یکتا و لازوال میں مزیدخشوع و خضوع ا ور فروتنی کے لئے خاک کربلاپر سجدہ کرتے ہیں اس لئے کہ خدا کے سامنے خاک پر سجدہ کرنا انسان کی فروتنی و خاکساری کی دلیل ہے جس سے انسان مقام بندگی و عبودیت کے بلند مرتبے اور اپنی پیدائش کے پہلے مقصد سے قریب ہوتا ہے ۔

بعض نے یہ گمان کیا ہے کہ مٹی پر سجدہ کرنا خود مٹی کی عبادت ہے اور مٹی کی عبادت کرنا شرک ہے ۔ ( پس مٹی پر سجدہ کرنے والے مشرک ہیں ) لہٰذا وہ مقام اعتراض میں یہ کہتے ہیںکہ شیعہ کیوں مٹی پر سجدہ کرتے ہیں ؟ ان کے جواب میں ہم یہ بتانا چاہینگے کہ یہ دو جملے الگ الگ ہیں ۔

۱ ۔السجود لله یعنی سجدہ فقط اللہ کے لئے کرنا ۔

۲ ۔السجود علی الارض یعنی زمین پر سجدہ کرنا ،ان دونوں جملوں میں فرق واضح ہے لیکن جو معترض ہے وہ ان دو نوں جملوں میں فرق نہیں کرتا ہے ۔ جبکہ دونوںکے معنی روشن ہیں ایک ہے اللہ کے لئے سجدہ کرنا اور دوسرے کامطلب زمین پر سجدہ کرنایا دوسر ے الفاظ میں دونوں کو ملا کر کہیں ”زمین پر اللہ کے لئے سجدہ کرنا“ لہٰذا ہم ایسا ہی کرتے ہیں ( یعنی زمین پر اللہ کے لئے سجدہ کرتے ہیں ) یہ بنیادی بات بھی ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ دنیا کے تمام مسلمان کسی نہ کسی چیز پر سجدہ کرتے ہیں جبکہ ا ن کا سجدہ خداکے لئے ہوتا ہے اور اسی طرح تمام حاجی حضرات مسجد الحرام کے پتھروں پر سجدہ کرتے ہیں جبکہ انکامقصد خدا کے لئے سجدہ کرنا ہے ۔

اس بیان کی روشنی میں خاک ( مٹی ) اور گھانس پر سجدہ کرنے کا مطلب خود اسکو سجدہ کرنا نہیں ہے بلکہ عبادت و سجدہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے لئے ہے ۔ یہیں سے دونوں جملوں کا فرق واضح ہو جاتا ہے کہ مٹی پر سجدہ کرنااور اللہ کے لئے سجدہ کرنا جدا ہے۔لہٰذا ہم اپنی بات کو مزید واضح کرنے کے لئے امام مکتب تشیع حضرت جعفر (ع) کے اقوال کا سہارا لیتے ہوئے اور وضاحت کرنا چاہتے ہیں :ہشام کہتے ہیں کہ میں نے جن چیزوں پر سجدہ کرنا صحیح ہے ان کے متعلق امام جعفر صادق (ع) سے سوال کیا ۔ تو حضرت (ع) نے ارشاد فرمایا : سجدہ فقط زمین اور جو چیز زمین سے اُگتی ہے ( سوائے کھانے اور پینے والی چیزوں کے ) اسی پر سجدہ کرنا چاہئے میں نے عرض کیا مولا آپ پر میری جان فدا ہو ۔ اس کی علت کیا ہے ؟ فرمایا: اس لئے کہ سجدہ خضوع و فروتنی اورعبادت پروردگار عالم ہے ، اور کھانے و پینے والی چیزوں میں یہ صلاحیت نہیں پائی جاتی کی اس سے خدا کی بارگاہ میں خضوع و فروتنی حاصل کی جا سکے ۔ اس لئے کہ اہل دنیا کھانے اور پینے کے غلام ہیں جبکہ انسان سجدہ کی حالت میں خدا کی عبادت کرتا ہے کیونکہ جو معبود اہل دنیا کو حیران اور سرگردان کئے ہو اسکے اوپر پیشانی رکھ کر خدا کی بارگاہ میں آئے بہتر نہیں ہے ( اس لئے کہ تذلل اور اپنے کو پست و بے تکبر خدا کے سامنے پیش کرنے کا نام سجدہ ہے ) زمین پر سجدہ کرنا بہتر ہے کیونکہ خدائے بزرگ و برتر کے حضور میں خضوع و خشوع کے لئے یہی حا لت سب سے زیادہ بہترہے۔(۱)

امام علیہ السلام کے اس قول سے ثابت ہوتا ہے کہ زمین اور مٹی پر سجدہ کرنا خدا کے حضور فروتنی و خضوع کی جہت سے ہے، اور فروتنی و تذلل و بے مایہ گی خدا کے سامنے اسکی عبادت سے بہت سادہ سازگاری اور نزدیکی رکھتی ہے ۔ لہٰذا علامہ امینی رحمۃ اللہ علیہ ۔ اپنی کتاب ”سیر تنا وسنتنا “ میں اس حقیقت کو فاش کرتے ہیں ”سجدہ عظمت ِپروردگار کے سامنے فروتنی و تذلل کے ساتھ بجالانے کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے ، اس لئے نماز پڑھنے والے کو چاہئے کہ نماز میں سجدہ کے لئے زمین کو انتخاب کرے اور سجدہ کی حالت میں پیشانی و ناک کو زمین پر رکھے تاکہ اس کو اپنی حقیقت اور کم مائیگی و پست سرشت کی طرف یاد دہانی ہو سکے کہ مٹی سے بنا ہے اور پھر مٹی میں واپس لوٹ کر جانا ہے ، اور پھر اسی سے اٹھایا جائیگا اور خدا کی یاد تازہ رہے پند و نصیحت سے عبرت حاصل کرے اپنے کئے پر نادم و شرمندہ ہو تاکہ فروتنی اور خاکساری اور خواہش بندگی زیادہ سے زیادہ پیدا ہو سکے ، اور خود خواہی و سرکشی سے پرہیز یعنی تاریکی سے روشنی کی طرف نکل آئے ۔ کہ انسان دوست و قرین مٹی ہے خدا وندعالم کے سامنے ) ذلیل و پست و حاجتمند کے سواء اور کچھ نہیں ہے“(۲)

۲ ۔ زمین پر سجدہ کرنے کے دلائل

سوال : ایک سوال یہاں پر اور پیدا ہوتا ہے کہ شیعہ فقط زمین اور اس سے اگنے والی چیزوں پر ہی کیوںسجدہ کرتے ہیں ؟ اور دوسری کسی چیز پر سجدہ نہیں کرتے ؟ جواب : اس سوال کے جواب میں ہم کہیں گے کہ جس طرح کسی بھی عبادت کے لئے ضروری ہے کہ خداوندعالم پیغمبر (ص)کے ذریعہ اس عبادت کو لوگوں تک پہونچائے اسی طرح یہ بھی ضروری ہے ،کہ اسکے شرائط و احکام بھی خدا اپنے رسول (ص) کے ذریعہ ہی لوگوں پہونچائے ۔ اس لئے کہ رسول خدا (ص) قرآن کے حکم کے مطابق تمام لوگوں کے لئے اسوہ اور نمونہ عمل ہیں ۔ لہٰذا تمام مسلمانوں کے لئے بھی ضروری ہے کہ انہیں سے تمام دینی احکام کو سیکھیں ۔

اس بنا پر پیغمبر اسلام (ص) سے منقول متعدد حدیثیں اور آپ کی سیرت عملی اور آپ کے اصحاب و تابعین کے طریقہ عملی اور انکی روش جو عام طور سے اہل سنت کی روائی کتابوں میں موجود ہے انہیں ہم قارئین کرام کے سامنے انشاء اللہ تفصیل سے پیش کرینگے ۔ اور پھر ہرشخص یہ گواہی دینے پر مجبور ہو جائیگا کہ حقیقت کیا ہے؟ نیز یہ بھی واضح ہو جائگا کہ آنحضرت (ص) و آپ کے اہل بیت (ع) اور اصحاب و تابعین کا وطیر ہ یہ تھا کہ وہ زمین، یا ا س سے اگنے والی چیزوں پر سجدہ کرتے تھے ،ٹھیک اسی طرح جیسے آج شیعہ حضرات اکی سیرت پر چلتے ہوئے پابند عمل ہیں ۔

۳ ۔ خاک پر سجدہ پیغمبر (ص) کی سنت ہے

حضور ختمی مرتبت (ص)کے اقوال و احادیث دنیا کے تمام مسلمانوں کی نگاہ میں حجت اور ایسے چشمے کے مانند ہیں کہ ہر شخص اس سے استفادہ کرنے اور اسے اپنی زندگی کا لائحہ عمل قرار دینے کو لازم و واجب سمجھتا ہے ۔

جس طرح شیعہ حضرات تمام امور زندگی میں بالخصواسلام کے بنیادی احکام کے استخراج کے سلسلہ میں اپنا مرکزو مآخذپیغمبر (ص)کی احادیث کو قرار دیتے ہیں اسی طرح سے سجدہ کے احکام میں بھی آنحضرت (ص)کے اقوال کی اتباع کرتے ہیں۔ علمائے اسلام نے زمین اور اس سے اگنے والی چیزوں پر سجدہ کرنے کے متعلق بہت ساری روایتوں کو آنحضرت (ص) سے نقل فرمایا ہے جن میں سے ہم چند احادیث کو بطور تبرک نقل کرتے ہیں ۔

۱ ۔محدثین حضرات نے حضور پاک (ص) سے روایت کی ہے کہ آنحضرت (ص) نے ارشاد فرمایا:” زمین میرے لئے سجدہ کی جگہ اور پاکیزگی کا ذریعہ قرار دی گئی ہے“(۳)

یہ روایت مختلف الفاظ میں حدیثوں کی متعدد کتابوں میںدرج ہے جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے ۔

۲ ۔ مسلم بن حجاج اپنی صحیح میں نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت (ص)نے فرمایا : تمام زمین ہمارے لئے سجدہ گاہ اور پاکیزگی کا ذریعہ قرار دی گئی ہے۔(۴)

۳ ۔ بیہقی اپنی سنن میں حضور (ص)سے اسطرح نقل کرتے ہیں :زمین میرے لئے پاک و پاکیزگی اور سجدہ کی جگہ قرار دی گئی ہے ۔(۵)

۴ ۔ اور بحار الانوار میں اس طرح منقول ہے ۔” زمین آپ (ص)اور آپ کی امت کے لئے سجدہ گاہ اور پاک و پاکیزہ قرار دی گئی ہے“(۶)

۵ ۔ اور مصباح المسند میں مرقوم ہے حضور اکرم (ص) نے فرمایا : تمام زمین میرے اور میری امت کے لئے سجدہ گاہ اور پاک و پاکیزگی کا ذریعہ قرار دی گئی ہے ۔(۷)

مذکور روایات کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی سطح چاہے خاک اور پتھریا گھانس ہو اس پر سجدہ کرنا صحیح ہے اور وہ پاکیزگی کا ذریعہ قرار دی گئی ہے ۔ (ہم اسکی و ضاحت آئندہ بیان کرینگے )لہٰذا بغیر کسی معقول عذر کے کسی کو اس حد سے تجاوز کا حق نہیں ہے ۔ یہاں پر لفظ ” جعل “ قانون بنانے کے معنی میں ہے جیسا کہ عبارت سے بخوبی روشن ہے ۔اس سے سمجھ میں آتا ہے کہ زمین پر سجدہ کرنا اسلام کے پیروکاروں کے لئے خدا کا حکم ہے ۔ اور اس کی اتباع کرنا ہر مسلمان کے اوپر واجب ہے ۔

____________________

(۱) بحار الانوار ج۸۲/ص/۱۴۷ باب (ما یصح السجود علیہ)”وہ چیزیں جن پر سجدہ کرنا صحیح ہے“ طبع بیروت موسسہ الوفا سال ۱۴۰۳ھ۔ ۱۹۸۳نقل از(علل الشرایع):

عن هشام بن الحکم قال قلت لابی عبد الله (ع) : اخبرنی عما یجوز السجود علیه و عما لایجوز ؟ قال السجود لایجوز الا علیٰ الارض او ما انبتت الارض الا ما اکل او لبس فقلت له : جعلت فداک ، ما العلةفی ذالک ؟ قال : لاٴن السجود هو الخضوع للّه عزوجل فلا ینبغی ان یکون علی ما یوٴکل و یلبس ، لان اٴبناء الدنیا عبید ما یاکلون ویلبسون ، والساجد فی سجوده فی عبادة الله عزوجل ، فلا ینبغی ان یضع جبهة فی سجوده علی معبود اٴبناء الدنیا الذین اغتروا بغرورها ، والسجود علی الارض افضل ، لانه اٴبلغ فی التواضع و الخضوع لله عزوجل

(۲) سیرتنا وسنتنا ص/۱۲۵

والانسب بالسجدة التی ان هی الا التصاغر و التذلل تجاه عظمة المولی سبحانه ووجاه کبریائه : ان تتخذ الارض لدیها ،مسجدا یعفر المصلیٰ بها خده ویرغم اٴنفه لتذکر الساجد للّه طینته الوضعیة الخسیسة التی خلق منها و الیها یعود و منها یعاد تارة اخری ، حتی یتعظ بها ویکون علی ذکر من وضاعة اصله ، لیتاٴنی له خضوع روحی و ذل فی الباطن وانحطاط فی النفس واندفاع فی الجوارح الی العبود یة و تقاعس عن الترفّع و الانانیة ، ویکون علی بصیرة من ان المخلوق من التراب حقیق و خلیق بالذل و المسکنة لیس الا

(۳)صحیح بخاری ج/۱ کتاب الصلۃ ص ۹۱، سنن بیہقی ج/۱ص/۲۱۲،باب تیمم بالصعید الطیب، اقتضاء صراط المستقیم (ابنتیمیہ)ص/۳۳۲، صحیح مسلم ج/۱ ص/۳۷۱، سنن نسائی ج۱باب تیمم بالصعید ص۲۱۰ ،سنن ترمزی ج۲ ص ۱۳۱،۱۳۳ج۴ ص۱۲۳۔”جعلت لی الارض مس جداً و طهوراً

(۴) صحیح مسلم ج۱ ص۳۷۱و سیرتناو سنتنا میں نسائی ، ترمذی ، اور ابو داود سے نقل کرتے ہوئے :”جعلت لنا الارض کلها مسجداً و طهوراً

(۵)سنن بیہقی ج۶ ص۲۹۱: ”جعلت لی الارض طیبة و طهوراً و مسجداً

(۶) بحار الانوار ج/۸۳ ص/۲۷۷ : ”جعلت لک ولامتک الارض کلها مسجداً وطهوراً

(۷) مصباح المسند ، شیخ قوام الدین : ”وجعلت الارض کلها لی ولامتی مسجداً وطهوراً


۴ ۔ حکم رسول خدا (ص) زمین پر سجدہ کرو

حضور اکرم (ص) سے منقول بہت زیادہ روایتیں اس دلالت کرتی ہیں کہ آنحضرت (ص) مسلمانوں کو زمین پر سجدہ کرنے کا حکم دیتے تھے جس کے ثبوت کے لئے چند احادیث کو قارئین کرام کی خدمت میں پیش کرتے ہیں ۔

۱ ۔ زوجہ رسول (ص) ام سلمہ نقل کرتی ہیں :کہ آنحضرت (ص) نے ارشاد فرمایا: اپنے چہرے کو اللہ کی عبادت کے لئے زمین پر رکھو ۔(۱)

۲ ۔ صاحب المصنف، خالد جہمی سے نقل کرتے ہیں-- - : پیغمبر (ص) نے صہیب کو دیکھاکہ خاک پر سجدہ کرنے سے گریز کر رہا ہے تو آپ نے فرمایا :اے صہیب! اپنے چہرے کو زمین پر رکھ ۔(۲)

۳ ۔ کتاب ارشاد الساری میں ہے کہ پیغمبر ختمی مرتبت (ص) نے معاذ سے یہ فرمایا :” اپنے چہرے کو خاک پر رکھا کرو“(۳)

۴ ۔ کنز العمال، الاصابہ، اور اسدا لغابہ میں منقول ہے کہ پیغمبر (ص) نے ( رباح نامی شخص سے) فرمایا : اے رباح اپنی پیشانی خاک پر رکھا کرو ۔(۴)

اسی کے مثل اور بہت کثرت سے روایات فریقین ( سنی و شیعہ ) کی کتابوں میں موجود ہیں جن میں لفظ ۔

” ترب “ ( جو ارشاد پیغمبر (ص) میں ذکر ہوا ہے ) سے دو باتیں واضح ہوجاتی ہیں ۔

۱ ۔انسان کو چاہئے کہ سجدہ کی حالت میں پیشانی ” تراب “ خاک پر رکھے

۲ ۔ حضور (ص) کا حکم ہے کہ زمین پر سجدہ کرو۔ جس پر تمام حالات میں عمل ضروری ہے ا س لئے کہ” ترب “ تراب سے بنایا گیا ہے جسکے معنی ہیں خاک(مٹی) اور حضرت (ص) نے اسکو امر کے طور پراستعمال کیا ہے یعنی خاک پر پیشانی رکھو ۔ خاک پر سجدہ کرنے کا فلسفہ یہ ہے کہ انسان نہایت فروتنی و خضوع کے ساتھ درگاہ خدا میں اپنے سر کو سجدہ میں رکھ دے یہ روش انسان کو تکبر و غر ور اور خودپسندی و سرکشی سے نجات دلاتی ہے ۔

حضور سرورکائنات (ص) نے ارشاد فرمایا :جب بھی تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے ،اپنی پیشانی اور ناک کو زمین پر رکھے تاکہ خدا کے سامنے انسان کی ناتوانی اور ذلت و کمزوری ظاہر ہوسکے ۔(۵)

سجدے کی حالت میں عمامہ ہٹانے کا حکم

زمین پر سجدہ کرنے کے دلائل میں سے حضور ختمی مرتبت (ص) کا وہ حکم بھی ہے جو آپ نے سجدہ کی حالت میں پیشانی سے دستار ہٹانے کے بارے میں دیا تھا، محدثین نے کثرت سے ایسی حدیثوں کو ذکر کیا ہے جو یہ بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت (ص) نے ان لوگوں کو جو حالت سجدہ میں (عمامہ ) پگڑی کے کناروں کا سہارا لیا کرتے تھے ، ان کو سختی سے منع فرمایا ،لہٰذا قارئین محترم کی سہو لت کے لئے چند روایتوں کو بطور تبرک پیش کرتے ہیں ۔

۱ ۔ صالح سبائی کہتے ہیں: کہ رسول خدا (ص) نے اپنے پہلو میں ایک شخص کو سجدے کی حالت میں پیشانی پر عمامہ باندھے ہوئے دیکھا تو اس کی پیشانی سے عمامہ ہٹا دیا ۔(۶)

۲ ۔ عیاذ بن عبد اللہ قرشی کہتے ہیں : حضرت (ص) نے ایک شخص کو عمامے کے کناروں پر سجدہ کرتے ہوئے دیکھا تو ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا اپنے عمامے کو اتار دے اور پھر پیشانی کی طرف اشارہ فرمایا ۔(۷)

۳ ۔ کنز العمال اور سنن بیہقی میں امیر المومنین علی (ع) سے منقول ہے کہ جب بھی تم میں کوئی نماز پڑھنا چاہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ سجدہ میں پیشانی سے عمامہ کو ہٹالے ۔(۸)

۴ ۔ بحار الانوار میں دعائم الاسلام سے یہ نقل ہے کہ روایات میں ذکر ہے کہ حضرت رسول خدا (ص) نے نماز پڑھنے والوں کو کپڑے اور عمامہ کے کناروں پر سجدہ کرنے سے منع فرمایا ہے ۔(۹)

ان تمام روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت (ص) کے زمانہ میں بھی کپڑوں پر سجدہ کرنا ممنوع اور زمین پر سجدہ کرنا واجب تھا ۔ اس لئے اگر کوئی شخص پگڑی یا دامن کے کناروں پر سجدہ کر تا تھا تو اسکو آنحضرت (ص) اس کام سے منع فرماتے تھے ورنہ اگر سجدہ تمام چیزوں پر صحیح ہوتا تو آنحضرت (ص) کی طرف سے ایسی نہیں اور ممانعت نہ ہوئی ہوتی۔

سجدہ حضور (ص) کی نگاہ میں

تمام مسلمانوں کو یقین ہے کہ نبی کریم (ص) تمام لوگوں سے افضل و برتر ہیں اور آپ (ص) کا طور طریقہ ، رفتارگفتار و اخلاق بھی دنیا کے تمام لوگوں سے اچھا اور پسندیدہ ہونا چاہئے تاکہ ہر کلمہ گو کے لئے ان کی سیرت صاف و شفاف پانی کی طرح صاف اور روز کی طرح روشن اور اندھیری رات میں روشن چراغ کے مانند فروزاں رہے اور ہر انسان اپنی زندگی کے ہر مرحلے میں اس پاک و پاکیزہ سیرت سے درس حاصل کرسکے جیساکہ قرآن مجید آنحضرت (ص) کے اخلاق حسنہ کی توصیف اسطرح کر رہا ہے ۔

( لَقَد کَانَ لَکُم فِی رَسُولِ اللّٰهِ اُسوَة حَسَنَة لِمَن کَانَ یَرجُوا اللّٰه والیَومَ الآخِرَ وَ ذَکَرَ اللّٰه کَثِیراً ) (۱۰) ۔

”مسلمانوں تمہارے واسطے تو خود رسول ایک اچھا نمونہ تھے ( مگر ہاں ) یہ اس شخص کے واسطے ہے جو خدا اور روز آخرت کی امید رکھتا اور اللہ کو بہت یاد کرتا ہو “

لہٰذا ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہر چیز کی طرح زمین پر سجدہ کے مسئلہ میں بھی آنحضرت (ص) کی سیرت اور آپکی روش کی پیروی کریں اور انکے طریقہ کو اپنے لئے نمونہ عمل قرار دیں ۔ لہٰذا اب احادیث کی روشنی میں اہل سنت کی کتابوں سے ہم حضرت (ص) کی عملی سیرت بیان کر رہے ہیں ۔

جو روایات اس بارے میں موجود ہیں ان سے استفادہ ہوتا ہے کہ آنحضرت (ص) زمین اور اس سے اگنے والی چیزیں جیسے گھانس یا چٹائی وغیرہ پر سجدہ کیا کرتے تھے ۔ شیعہ حضرات نے جو راہ اختیار کی ہے ، یہ وہی راستہ جو نبی کریم (ص) اور آپ کے اہل بیت (ع) کی پیروی سے حاصل ہوا ہے اس بنا پر ہم متعلقہ روایتوں کو دو حصوں میں بیان کریں گے۔

پہلا حصہ : وہ حدیثیں جنمیں یہ ذکر ہوا ہے کہ آنحضرت (ص) زمین اور خاک وغیرہ پر سجدہ کرتے تھے ۔

دوسرا حصہ : وہ حدیثیں جنمیں یہ ذکر ہے کہ آنحضرت (ص) گھانس اور اس سے بنی ہوئی چیزیں جیسے چٹائی وغیرہ پر سجدہ کرتے تھے ۔

پہلی قسم کی روایتیں : اس قسم کی چند روایتوں کو آپکی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔

۱ ۔ وائل بن حجر کہتے ہیں : کہ حضرت (ص) جس وقت سجدہ کرتے تھے تو اپنی پیشانی اور ناک کو زمین پر رکھا کرتے تھے ۔(۱۱)

۲ ۔ ابن عباس کہتے ہیں : پیغمبر (ص) نے پتھر پر سجدہ کیا ہے ۔(۱۲)

۳ ۔ ام المومنین عائشہ سے منقول ہے کہ میں نے کبھی بھی حضرت (ص) کو (سجدہ کی حالت میں) پیشانی پر کوئی چیز رکھتے نہیں دیکھا ۔(۱۳)

حضرت عائشہ کی بات کا خلاصہ یہ ہے کہ آنحضرت (ص) نے ہمیشہ زمین پر سجدہ کیا اور جو بھی چیز زمین اور پیشانی کے درمیان فاصلہ ہو ئی اس سے اجتناب فرمایا ہے۔

۴ ۔ احمد بن شعیب نسائی اپنی سنن میں ابو سعید خدری ( نبی (ص) کے صحابی ) سے نقل کرتے ہیں : کہ میں نے اپنی ان دونوں آنکھوں سے آنحضرت (ص) کی پیشانی اور ناک پر پانی اور مٹی کے اثرات دیکھے ہیں ۔(۱۴)

اس مضمون سے ملتی جلتی متعدد حدیثیں صحیح بخاری ،سنن بیہقی ، سنن ابی داود وغیرہ میں بھی وارد ہوئی ہیں ۔

ان جیسی دیگر حدیثوں سے بخوبی روشن ہوتا ہے کہ آنحضرت (ص) بارش کے موسم میں بھی ( دیگر تمام چیزوں پرسجدہ کرنے بجائے ) زمین پر سجدہ کرنے کو ترجیح دیتے تھے ۔ جیسا کہ بیان ہوا پانی اور مٹی کے اثرات آپکی پیشانی مقدس پر نقش ہو جاتے تھے ۔

۵ ۔ صاحب مجمع الزوائد ،ابن زہرہ سے نقل کرتے ہیں :کہ ایک دن بارش کے موسم میں آنحضرت (ص) نے ایسا سجدہ کیا کہ پانی اور مٹی کے اثرات کو میں نے ان کی پیشانی پر مشاہدہ کیا ۔(۱۵)

اور دوسری روایتیں ایسی بھی وارد ہوئی ہیں :کہ آنحضرت (ص) شدید جاڑے یا بارش کے موسم میں اپنی عبا یا لباس کوفقط اپنے ہاتھوں یا پیروں کی جگہ رکھتے تھے۔ ان احادیث سے یہ استفادہ ہوتا ہے کہ آپ (ص) حالت اضطرار ( جیسے شدید جاڑے اور برسات کے موسم ) میں بھی اپنی پیشانی اور زمین کے درمیان کسی کپڑے وغیرہ سے فاصلہ نہیں قرار دیتے تھے ۔ کیونکہ ہمیں ایسی کوئی حدیث دیکھنے کو نہیں ملی جس میں یہ ذکر ہو کہ حضرت (ص) نے جاڑے اور بارش کی وجہ سے پیشانی پر عمامہ باندھ کر نماز پڑ ھی ہے۔

۶ ۔ابن عباس کہتے ہیں : میں نے دیکھا کہ رسولخدا (ص) صبح کی ٹھنڈک ، سفید چادر میں ( لپٹے ہوئے ) نماز پڑھ رہے تھے ، اور اسی عبا کے ذریعہ اپنے ہاتھو ں اورپیروں کو اس شدید سردی اور زمین کی ٹھنڈک سے بچاتے تھے ۔(۱۶)

۷ ۔دوسرے مقام پر کہتے ہیں : میں نے آنحضرت (ص) کو بارش کے موسم میں( نماز کی حالت میں) دیکھا کہ آپ سجدہ کرتے وقت گیلی مٹی سے بچنے کیلئے اپنے دونوں ہاتھوں کو عبا پر رکھ لیا کرتے تھے۔(۱۷)

۸ ۔ابن ماجہ اپنی سنن میں عبداللہ بن عبد الرحمن سے نقل کرتے ہیں:کہ رسول خدا (ص) ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمارے ساتھ مسجد بنی عبد الاشہل میں نماز پڑھی سجدہ کی حالت میں دونوں ہاتھوں کو چادر پر رکھ لیا کرتے تھے ۔(۱۸)

۹ ۔اسی طرح چند واسطوں کے ذریعہ ثابت بن صامت سے یہ نقل کرتے ہیں کہ پیامبر گرامی (ص) مسجد بنی عبد الاشہل میں عبا اوڑھے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے سجدہ کی حالت میں ٹھنڈے پتھروں سے اپنے ہاتھوں کو محفوظ رکھنے کے لئے انھیںچادر پر رکھ لیا کرتے تھے۔(۱۹)

دوسری قسم کی روایتیں : یہ وہ روایتیں ہیں جو یہ بیان کرتی ہیں کہ” حضرت گھانس یا اس سے بنی ہوئی چیزیں جیسے چٹائی وغیرہ پر سجدہ ادا کرتے تھے“ اس طرح کی روایتوں کو سنی اور شیعہ دونوں علمائوں نے اپنی اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے ۔ یہاں ۱ پر ہم اہلسنت کی معتبر کتابوں سے کچھ حدیثوں کو پیش کررہے ہیں۔

۱ ۔ ابو سعید کہتے ہیں :میں حضور کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا جب آپ چٹائی پر نمازپڑھ رہے تھے ۔(۲۰)

۲ ۔ انس بن مالک و ابن عباس اور آنحضرت (ص) کی بعض بیبیاں جیسے ام المومنین عائشہ جناب و ام سلمہ و حضرت میمونہ نے روایت کی ہے کہ پیغمبر (ص) خمرہ (ایک قسم کی چٹائی ہے جو کھجور کے پتوں سے بنائی جاتی ہے ) پر سجدہ کرتے تھے۔(۲۱)

۳ ۔ ابو سعید خدری سے یہ بھی نقل ہے کہ :میں نے آنحضرت (ص) کو چٹائی پرنماز پڑہتے ہوئے اور اسی پر سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔(۲۲)

۴ ۔ فتح الباری میں زوجہ رسول عائشہ سے مروی ہے کہ آنحضرت (ص) کے پاس ایک چٹائی تھی جسے بچھا کر آپ اسکے او پر نماز پڑھا کرتے تھے ۔(۲۳)

۵ ۔ بحار الانوار میں حضرت علی بن ابی طالب (ع) سے منقول ہے : کہ آنحضرت (ص) نے چٹائی پر نماز پڑھی ۔(۲۴)

۶ ۔ انس کہتے ہیں حضور اکرم (ص) خمرہ ( چٹائی) پر نماز پڑھتے اور اسی پر سجدہ کیاکرتے تھے ۔(۲۵)

۷ ۔ صحیح مسلم اور دوسری کتابوں میں انس سے منقول ہے کہ آنحضرت (ص) سب سے زیادہ خوش اخلاق تھے ،اگرکبھی نماز کا وقت ہوتا اور آپ ہمارے گھرمیں ہوتے تو حکم کرتے کہ زمین پر بچھی چٹائی کو صاف کریں اور پانی چھڑکیں پھر آپ نماز پڑھاتے تھے اور ہم آپکی امامت میں نماز پڑھتے تھے وہ چٹائی کھجور کے پتوں کی بنی ہوئی تھی ۔(۲۶)

۸ ۔ مسلم بن حجاج و احمد بن حنبل و ابو عبد اللہ بخاری اور دوسرے علماء نے نقل کیا ہے کہ انس بن مالک کہتے ہیں: ” وہ چٹائی جو پرانی ہونے کی وجہ سے کالی ہو گئی تھی میں نے اسے پانی سے صاف کیا اور اس وقت حضرت (ص) نے اس پر کھڑے ہو کر نماز پڑھی“ ۔(۲۷)

۹ ۔مسلم بن حجاج اپنی صحیح میں نقل کرتے ہیں : کہ ابو سعید خدری کہتے ہیں :میں آنحضرت (ص) کے پاس پہنچا تو دیکھا کہ آپ نماز میں مشغول ہیں اورجس چٹائی پر نماز پڑھ رہے ہیں اسی پر سجدہ (بھی) کر رہے ہیں ۔(۲۸)

۱۰ ۔ انس بن مالک سے روایت ہے ، پیغمبر (ص) جب کبھی ام سلیم کی ملاقات کے لئے تشریف لاتے اور نماز کا وقت ہو جاتا تو ہمارے فرش پرکہ جو چٹائی کا تھا پانی چھڑک کر نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے تھے ۔(۲۹)

مندرجہ ذیل روایات کی روشنی میں حضرت رسو ل خدا (ص) کی سیرت اور آپ کا وطیرہ کھل کر سامنے آجاتا ہے ، کہ آپ ہمیشہ زمین( مٹی) اور گھانس یا جو چیزیں اس سے بنائی جاتی ہے جیسے چٹائی وغیرہ پر سجدہ کیا کرتے تھے ، اوردوسرے یہ کہ ان روایات میں کہیں بھی نہیں ملتا کہ آنحضرت (ص) نے کسی کھائی اور پہنے جانے والی چیزوں پر سجدہ کیا ہو ۔

یہ وہی طریقہ ہے جس کو شیعہ حضرات نے اختیار کیا ہے ، اور وہ اسی کے اوپر گامزن ہیں اس لئے کہ شیعہ حضرات وحی الٰہی اور قرآن مجیدکے بعد سرورکائنات اور ائمہ اطہار (ع) کی سنت و سیرت کے پابند ہیں اور تمام مسلمانوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی پیروی کریں اور ان کے حدود سے خارج نہ ہوں ۔

____________________

(۱) کنز العمال ،ج۷،طبع حلب ،ص۴۶۵،کتاب الصلۃ ۔”ترّب وجهک لللّه

(۲) المصنف ،ج۱،ص۳۹۲ ۔ ”رآی النّبی (ص) صهیباً یسجد کانّه یتّقی التّراب فقال له النّبی (ص) : ترّب وجهک یا صهیب ‘ ‘

(۳)ارشاد الساری ، ج۱ ص۴۰۵ ۔ ”قال (ص) لمعاذ : عفّر وجهک فی التّراب

(۴) کنز العمال ج۴/ص۹۹/۲۱۲دوسرا طبع، ج۷/ص۳۲۴ ،الاصابۃ ج۱/ص/۵۰۲،شمارہ /۲۵۶۲۔اسد الغابۃ ج۲/ ص/۱۶۱ ۔ ”قال النّبی (ص) یا رباح ترّب

(۵) النھایۃ (ابن اثیر ) ج۲ مادہ رغم ۔ ”اذا صلیٰ احدکم فلیلزم جبهته و انفه الارض حتیٰ تخرج منه الرغم ان یظهر ذله وخضوعه

(۶) سنن بیہقی ج۲/ص۱۰۵۔ ”ان رسول اللّه (ص) رای رجلاً یسجد بجنبه وقد اعتم علیٰ جبهته،فحسر رسول اللّه (ص) عن جبهته “۔

(۷) سنن بیہقی ج۲/ص۱۰۵۔ ”رای رسول اللّه (ص)رجلاً یسجد علیٰ کور عمامته فاوما بیده: ارفع عمامتک و اوما الیٰ جبهته

(۸) کنز العمال ج۴/ص۲۱۲ ۔ ط دیگر ج۸/ ص۸۶ سنن بیہقی ج۲/ ص ۱۰۵۔ ”اذا کان احدکم یصلی فلیحسر العمامة عن وجهه

(۹) بحار الانوار ج۸۵/ص۱۵۶۔ ”عن النبی (ص)انه نهیٰ ان یسجد المصلی علیٰ ثوبه او علیٰ کمه او علیٰ کور عمامته

(۱۰) سورہ احزاب آیت ۲۱ <لَقَدکَانَ لَکُم فِی رَسُولِ اَللّه اُسوَة حَسَنَة لِمَن کَانَ یَرجُوا اللّهِ وَ اَلیَومِ الآخِرَ وَ ذِکرُ اللّهَ کَثِیراً >

(۱۱) احکام القرآن (جصاص حنفی ) ج۳/ص/۲۰۹طبع بیروت۔ ”رایت النبی (ص) اذا سجد وضع جبهته و انفه علیٰ الارض

(۱۲) سنن بیہقی ، ج۲/ ص/۱۰۲: ” ان النبی (ص)سجد علی الحجر “

(۱۳) المصنف ج۱/ ص/ ۳۹۷ وکنز العمال ج۴/ ص/ ۲۱۲ دوسری طبع میں :ج۸ /ص/۸۵ : ”ما راٴیت رسول اللّه (ص) متقیا وجهه بشیء “ تعنی فی السجود

(۱۴) سنن نسائی ج۲ /ص/ ۲۰۸ ، السجود علی الجبین : ”بصرت عینای رسول اللّه (ص) علی جبینه واٴنفه اٴثر الماء والطین

(۱۵)مجمع الزوائد ،ج۲/ ص/ ۱۲۶ : ”سجد رسول اللّٰه (ص) فی یوم مطیر حتی انی لا انظر الی اٴثر ذلک فی جبهته وارنبته

(۱۶)سنن بیہقی ،ج۲/ ص/۱۰۶: ”راٴیت رسول اللّه (ص) یصلی فی کساء اٴبیض فی غدة باردة یتقی بالکساء برد الارض بیده ورجلہ “

(۱۷) سیرتنا وسنتنا (ص) ۱۳۲ ۔احمد ابن حنبل کے حوالہ سے ”لقد راٴیت رسول اللّه (ص) فی یوم مطیر وهو یتقی الطین اذا سجد بکساء علیه یجعله دون یدیه الی الارض اذا سجد

(۱۸)سنن ابن ماجہ ج/۱باب السجود علی الثیاب فی الحر و البرد ،ص۳۲۸ ”جائنا النبی (ص) فصلی بنا فی مسجد بنی عبد الاشهل ، فراٴیته واضعاً یدیه علی ثوبه اذا سجد

(۱۹)سنن ابن ماجہ ، ج/ ۱ ص/ ۳۲۸ ۔”ان رسول اللّه (ص) فی بنی عبد الاشهل وعلیه کساء متلفف به ، یضع یدیه علیه یقیه برد الحصی

(۲۰) سنن بیہقی ، ج۲/ ص/ ۴۲۱ ،کتاب الصلات ، باب الصلة علی الحصیر ” دخلت علی رسول اللّٰه (ص) وهو یصلی علی حصیر

(۲۱)سنن ابن ماجہ ، ج۱ باب الصلۃ علی الخمرۃ ،ص ۳۲۸و سنن بیہقی ،ج/۲ص/ ۴۲۱ و مسند احمد ، ج۱: ”کان رسول اللّٰه (ص) یصلی علی الخمرة

(۲۲)سیرتنا وسنتنا ،ص ۱۳۰ ۔ بحوالہ صحیح مسلم۔ ”فراٴیته یصلی علی حصیر یسجد علیه

(۲۳)فتح الباری ،ج۱ ص/۴۱۳۔ ”ان النبی (ص) کان له حصیر یبسطه ویصلی علیه

(۲۴)بحار الانوار ج۸۵ ص/ ۱۵۷۔”ان رسول الله (ص) صلی علی حصیر

(۲۵)معجم اوسط و صغیر طبرانی۔ ”کان رسول اللّه (ص) یصلی علی الخمرة ویسجد علیها

(۲۶)صحیح مسلم ج۱ص ۴۵۷ و سنن بیہقی ج۲ص/ ۴۳۶ و مسند احمد ج۳ ص/ ۲۱۲ غیرہ ”کان رسول اللّه(ص) احسن الناس خلقا فربما تحضر الصلة وهو فی بیتنا فیاٴمر بالبساط الذی تحته فیکنس ثم ینضح ثم یوٴم رسول اللّه (ص) ونقوم خلفه فیصلی بنا وکان بساطهم من جرید النخل

(۲۷)صحیح مسلم ج۱ص۴۵۷ وصحیح بخاری ج۱ ص ۱۰۷ ۔۲۱۸ و مسند احمد ج۳ ص۱۳۰ وغیرہ :” قال انس بن مالک : فقمت الی حصیر لنا قد اسود من طول ما لبس فنضحته بماء فقام علیه رسول اللّٰه (ص) فصلّی لنا “

(۲۸) صحیح مسلم ج۱ص۴۵۸ ”عن ابی سعید الخدری:انه دخل علیٰ رسول اللّّٰه (ص) فوجده یصلّی علیٰ حصیر یسجد علیه

(۲۹)طبقات الکبریٰ ج۸ ص۳۱۲ و سنن ابی داود ج۱ ص ۱۷۷:وعن انس بن مالک قال :”کان النبی (ص) یزور ام سلیم احیاناً فتدرکه الصلة فیصلی علی بساط لنا وهو حصیر ینضحه بالماء “


۵ ۔ اصحاب پیغمبر کا طریقہ

اصحاب کے بیانات :

صحابہ کرام کا وطیرہ بھی یہی تھا کہ وہ لوگوں کو زمین پر سجدہ کرنے کا حکم دیتے اور پہنی جانے والی چیزوں پر سجدہ کرنے سے منع فرماتے تھے ۔ لہٰذا ہم فقط دو اصحاب پیغمبر (ص) کے اقوال آپ حضرات کے سامنے پیش کرنے پر اکتفاکرینگے ۔

۱ ۔ سنن کبر ائے بیہقی میں حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام سے یہ حدیث منقول ہے: کہ حضرت (ع) نے فرمایا جب کوئی سجدہ میں جانا چاہے تو عمامہ کو پیشانی سے ہٹالے ۔(۱)

۲ ۔ حاکم نیشاپوری نے مستدرک میں اور بیہقی نے سنن الکبریٰ میں ابن عباس سے یہ نقل کیا ہے کہ جو شخص سجدہ کی حالت میں اپنی پیشانی اور ناک کو زمین سے نہ لگائے اسکی نماز صحیح اور قابل قبول نہیں ہے ۔(۲)

اصحاب کی سیرت

تمام اسلامی علماء اور محدثین نے احادیث کی کتابوں میں سجدہ سے متعلق اصحاب اور تابعین پیغمبر (ص) کی عملی سیرت کو کم و بیش بیان کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اصحاب و تابعین اختیاری حالت میں زمین ( حتیٰ پتھر و خاک ) پر سجدہ کیا کرتے تھے اور لباس یا کپڑے وغیرہ پر سجدہ کرنے سے گریز کرتے تھے ۔ اس ضمن میں بعض احادیث قارئین کی خدمت میں پیش کی جارہی ہیں ۔

۱ ۔ نافع کہتے ہیں : کہ عبداللہ بن عمر سجدہ میں پیشانی کو زمین تک پہونچانے کے لئے عمامہ اتارتے تھے(۳)

۲ ۔ ابن سعد اپنی کتاب طبقات الکبریٰ میں نقل کرتے ہیں : کہ مسروق بن اجدع سفر کے دوران مٹی کے ٹھیکرے کو اپنے ساتھ رکھتے تھے تاکہ کشتی میں پر سجدہ کر سکیں ۔(۴)

واضح ر ہے کہ مسروق بن اجدع تابعین رسول اور ابن مسعود کے خاص اصحاب میں سے تھے ، اور صاحب طبقات الکبریٰ نے انکو اہل کوفہ کے راویوں میں طبقہ اولیٰ کی فہرست میںذکر کیا ہے کہ جنھوں نے رسول ا سلام (ص) کے بعد ابو بکر و عمر و عثمان و علی اور عبد اللہ بن مسعود وغیرہ سے بالمشافحہ روایت نقل کی ہے ۔

صدر اسلام کی شخصیتوں کا یہ طریقہ کار ان لوگوں کی باتوں کو کہ جو خاک کربلا ساتھ رکھنے کو بدعت اور شرک سے تعبیر کرتے ہیں بے بنیاد قرار دیتا ہے اور ان بزرگان اسلام کا ہمیشہ مٹی پر سجدہ کرنا اور سفر میں اسے ساتھ لے جانا اس بات کی دلیل ہے کہ تمام چیزوں پر سجدہ کرنا صحیح نہیں ہے ، ورنہ معروف و مشہور تابعی مسروق بن اجد ع ٹھیکرے کے ٹکڑے کو اپنے ساتھ کیوں رکھتے ؟کیا شیعوں کے علاوہ صدر اسلا م ان بزرگو ں کی پیروی کوئی اور کرتا ہے ؟!

۳ ۔ رزین کہتے ہیں : علی بن عبد اللہ بن عباس نے میرے پاس لکھا : کہ میرے لئے کوہ مروہ کے پتھر کی ایک تختی بھیجدے تاکہ میں اسپر سجدہ کیا ۔(۵)

علی بن عبد اللہ بن عباس جو تابعین سے ہیں انکے خط سے دو چیزیں معلوم ہوتی ہیں ۔

الف : علی بن عبد اللہ بن عباس کا پتھر پر سجدہ کرنے کا پابند ہونا جو زمین کا جزء ہے،اور اپنے ساتھ اس کو رکھنا توحیدا ور خدا کی عبادت کے عین مطابق ہے اور یہ باعث شرک نہیں اور نہ پتھر کی پوجا ہے ۔

ب : ان کے علاوہ صدر اسلام کی بزرگ شخصیتیں پاک اور مقدس سر زمین کے ٹکڑے ( جیسے مروہ ) کو اپنے ساتھ رکھتی تھیں اور وہ اس پر سجدہ کرنے کو ترجیح دیتے تھے ، اور اس کو بطور تبرک مس کرتے اور چومتے تھے ۔

اس بنا پر جو لوگ شیعوں کو زمین پر سجدہ کرنے اور خاک شفاء کو اپنے ساتھ رکھنے کی بنا پر مشرک اور اس عمل کو غیر خدا کی عبادت کہتے ہیں ، ان کی یہ باتیں بے بنیاد ہیں اور وہ ایسے جاہل ہیںجو حضور اکرم (ص) کے اصحاب اور تابعین کے حالات سے بھی آگاہی نہیں رکھتے ہیں ۔

۴ ۔ ابی امیہ کہتا ہے : ابو بکر زمین پر سجدہ کیا کرتے تھے ( یا نماز پڑھا کرتے تھے)(۶)

۵ ۔ ابو عبیدہ کہتا ہے: ابن مسعود زمین کے علاوہ کسی چیز پر سجدہ نہیں کرتے تھے( یا نماز نہیں پڑھتے تھے)(۷)

۶ ۔ عبد اللہ بن عمر سے نقل ہوا ہے: کہ وہ عمامہ کے کنارے پر سجدہ کرنے کو پسند نہیں کرتے تھے بلکہ اسے ہٹا دیتے تھے ۔(۸)

۷ ۔ بیہقی عبادہ بن ثابت کے متعلق کہتے ہیں : کہ جب بھی وہ نماز پڑھتے تو اپنی پیشانی سے عمامہ کو ہٹالیتے تھے۔(۹)

مذکورہ روایات سے معلوم اور بخوبی واضح ہوتا ہے کہ اسلام کے ابتدائی زمانہ میں جب سجدہ کا حکم نازل ہوا تو، تمام مسلمان اور بالخصوص آنحضرت (ص) زمین پر سجدہ کیا کرتے تھے ، اور اگر کوئی سجدہ کی حالت میں زمین یا پیشانی پر کپڑا رکھتا تو آنحضرت (ص) سختی سے اسے منع فرماتے تھے ۔ لہٰذا یہ بات یقینی ہے کہ آنحضرت (ص) کی سیرت ، صحابہ کا طریقہ، اور تابعین کی روش، یہی تھی کہ وہ زمین کے اجزاء خاک اور پتھر یا گھانس کی بنی ہوئی چٹائی پر سجدہ کیا کرتے تھے ۔

اس بارے میں اور بہت سی روایات بھی موجود ہیں جو یہ بیان کرتی ہیں کہ گرمی کے موسم میں عرب کی شدید گرمی ، بدن جھلسا دینے والی سورج کی تپش اور تپتی ہوئی زمین، اور پتھروںپر اس حال میں سجدہ کرنا نہایت دشوار ہے ، ایسے حالات میں بھی صحابہ کرام پتھرا رو زمین پر سجدہ کرنے کے پابند تھے اسی لئے جلتے ہوئے پتھر کو ہاتھ میں لے کر ٹھنڈا ہی سجدہ کر تے تھے ۔ اس مقام پرہم قارئین کرام کے لئے صدر اسلام کے مسلمانوں کی سیرت اور اکرتے ، یا پھر کسی دوسرے طریقہ سے ٹھنڈا کر کے اس پر سجدہ کر تے تھے ، ورنہ پھر اسی تپتی ہوئی زمین پرنکے سجدہ کے طریقے پر مشتمل چند روایات پیش کررہے ہیں ۔ ۸ ۔ جابر بن عبد اللہ انصاری کہتے ہیں :کہ میں حضور سرور کائنات (ص) کے ساتھ نماز ظہر پڑھنے کے لئے ایک مٹھی پتھرلیکر ٹھنڈا کر تا تھا تا کہ اس پر سجدہ کر سکوں۔(۱۰)

یہ حدیث بہت سی کتابوں میں مذکور ہے۔ جیسے احمد بن حنبل کی مسند ، سنن بیہقی ، کنز العمال ، سنن نسائی ، و سنن داود اور مختلف الفاظ و عبارت کے ساتھ جابر اور انس وغیرہ سے منقول ہے ۔

بیہقی اپنی سنن میں مذکورہ روایت کو انس سے نقل کرنے کے بعد اپنے استاد سے اسطرح نقل کرتے ہیں :استاد نے فرمایا: اگرپہنے ہوئے لباس پر سجدہ جائز ہوتا تو ہاتھ سے پتھر ٹھنڈا کرنے سے زیادہ آسان یہی تھا کہ اپنے لباس پر ہی سجدہ کر لیا جائے۔(۱۱)

یہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ صدر اسلام کے مسلمانوں اور اصحاب آنحضرت (ص) لباس و پوشاک پر سجدہ کرنے کو جائز نہیں جانتے تھے ، ورنہ سجدہ کے لئے کنکروں کو ٹھنڈا کرنے پر کوئی وجہ نہ ہوتی کہ پتھر کو ہاتھ میں لیکر ٹھنڈا کریں اور پھر اسی پر سجدہ بجالائیں اگر کپڑوں پر سجدہ جائز ہوتا تو ہر ایک مسلمان و صحابی جلتی ہوئی زمین پر کپڑے رکھکر نماز پڑھ لیتا اور پتھرٹھنڈا کرنے کی نوبت بھی نہ آتی ۔

۹ ۔ انس کہتے ہیں : میں آنحضرت (ص) کے ساتھ گرمی میں نمازپڑھتے تھے تو ہم میں سے ایک شخص ہاتھ میں کچھ کنکر لیکر اسے ٹھنڈا کر دیتا تھا تا کہ اس کے سرد ہونے پر سجدہ کرسکیں ۔(۱۲)

اس بارے میں بہت زیادہ روایتیں موجود ہیں کہ اصحاب پیغمبر (ص) زمین کی شدید گرمی سے تنگ آکر رسول (ص) کی خدمت میں شکایت لیکر حاضر ہوئے تاکہ آنحضرت (ص) زمین کے علاوہ کسی اور چیز پر سجدہ کرنے کی اجازت دیدیں ، مگر حضور (ص) نے زمین کے علاوہ اور کسی چیز پر سجدہ کرنے کی اجازت نہ دی۔ہر منصف مزاج انسان کو معلوم ہے اگر کپڑے موکٹ و قالین پر سجدہ کرنا جائز ہوتا تو بیشک آنحضرت (ص) مسلمانوں کو اس پر سجدہ کرنے کی اجازت دیدیتے ۔

ہم یہاں پر ایسی کثیر روایتوں میں سے فقط چند حدیثوں کو بطور نمونہ پیش کرنا چاہیں گے تاکہ اپنا مدعی ( شیعہ حق پر ہیں ) ثابت ہو جائے ۔

۱۰ ۔ بیہقی نے خباب بن ارت سے سیہ روایت نقل کی ہے : ہم نے شدید گرمی اور پیشانی و ہاتھوں کے جلنے کی شکایت ، آنحضرت (ص) کی خدمت میں پیش کی مگر حضرت (ص) نے ہماری فریاد کو قبول نہ کیا ۔(۱۳)

۱۱ ۔ مسلم بن حجاج نے بھی خباب بن ارت سے یہ روایت کی ہے : ہم نے حضور پاک (ص) کی خدمت میں جھلسا دینے والی شدید گرمی کی شکایت کی مگر حضرت (ص) نے ہماری شکایت قبول نہ فرمائی۔

( یعنی کوئی دوسرا راہ حل نہ نکالا )۔(۱۴)

____________________

(۱) السنن الکبریٰ ج۲ ص ۱۰۵۔ ”اذا کان احدک(م یصلی فلیحسر العمامة عن جبهته

(۲) مستدرک حاکم ج۱ ص ۲۷۰ و سنن بیہقی ج۲ ص ۱۰۳،۱۰۴۔ ”من لم یلزق اٴنفه مع جبهته الارض اذا سجد لم تجز صلاته

(۳) سنن بیہقی ج۲ ص ۱۰۵ طبع ۱ (حیدرآباد دکن )کتاب الصلة ، باب الکشف عن السجدة فی السجود ” ان ابن عمر کان اذا سجدو علیه العمامة یرفعها حتی یضع جبهته بالارض “

(۴) الطبقات الکبری ، ج۶ ص ۷۹ طبع بیروت :مسروق بن اجدع کے احوال میں : ”کان مسروق اذا خرج یخرج بلبنة یسجد علیها فی السفینة

(۵) اخبار مکۃ ( ازرقی ) ج۳ ص ۱۵۱ :(رزّین کے حوالے سے ) ”کتب الی علی بن عبد اللّه بن عباس ان ابعث الیّ بلوح من احجار المروة اٴسجد علیه

(۶) المصنف ج ۱ ص ۳۹۷ ۔”ان ابا بکر کان یسجد او یصلی علی الارض ۔۔۔۔“

(۷) المصنف ج۱ ص ۳۶۷ و مجمع الزوائد ج ۲ ص ۵۷ :بحوالہ طبرانی ۔”ان ابن مسعود لا یسجد او قال : لا یصلی الا علی الارض

(۸) سنن بیہقی ج۲ ص ۱۰۵ و المصنف ج۱ ص ۴۰۱۔”عن عبد اللّه بن عمر انه کان یکره ان یسجد علی کور عمامته حتی یکشفها

(۹) سنن بیہقی ج۲ ص ۱۰۵۔”انه کان اذا قام الی الصلة حسر العمامة عن جبهته

(۱۰)مسند احمد ج۱/ ص ۳۸۸ ۔۴۰۱ ۔ ۴۳۷ ۔ ۴۶۲۔”کنت اصلی مع رسول اللّٰه (ص) الظهر فآخذ قبضة من حصی فی کفی لتبرد حتی اسجد علیها من شدة الحر “ اور اس کی مثل سنن بیہقی ج/۱ ص/ ۴۳۹ ، میں وارد ہوئی ہے ۔

(۱۱) سنن بیہقی ج۲ /ص ۱۰۵ ، ۱۰۶: ”قال الشیخ : ولو جاز السجود علی ثوب متصل به ، لکان ذلک اسهل من تبرید الحصی فی الکف ووضعها للسجود

(۱۲)سنن بیہقی ج۲/ ص ۱۰۶۔ ”کنا نصلی مع رسول الله (ص) فی شدة الحر فیاٴخذ احدنا الحصباء فی یده فاذا برد وضعه وسجد علیه

(۱۳) سنن بیہقی ج۱/ص ۴۳۸ و ج ۲/ ص ۱۰۵ ۔ ۱۰۷۔ ”شکونا الی رسول اللّٰه (ص) شدة الرمضاء فی جباهنا واٴکفنا فلم یشکنا

(۱۴) صحیح مسلم ج۱/ ص۴۳۳۔ ”عن خباب قال : اٴتینا رسول اللّٰه (ص) فشکونا الیه حّر الرّمضاء فلم یشکنا


۶ ۔ سجدہ اہل بیت علیہم السلام کی نظر میں

شیعوں کے ائمہ معصومین علیہم السلام ایک طرف تو”حدیث ثقلین“ کے مطابق قرین قرآن ہیں کہ جنکی جدائی نا ممکن ہے اور دوسری طرف وہ سنت آنحضرت (ص) اور آپ کی سیرت کو تمام لوگوں سے زیادہ اور بہترطریقہ سے جاننے والے ہیں انھوں نے اپنے اقوال میں اس بات پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے ، کہ سجدہ فقط زمین اور اس سے اُگنے والی چیزوں پر کرنا جائز ہے ( اور صرف کھانے، پہننے والی چیزوں پر سجدہ صحیح نہیں ہے ) ائمہ اطہار (ع) کی روایات ذکر کرنے سے پہلے بہتر یہ ہے کہ ان دلیلوں کو بیان کر دیا جائے۔ جو عترت رسول کی اتّباع اور ان کی پیروی لاز م ہونے پر دلالت کرتی ہیں ۔

کلام اہل بیت (ع) کی حجت اور انکی اتباع کے واجب ہونے کے دلائل

سنی و شیعہ محدثین کا اتفاق ہے” کہ رسول اکرم (ص) نے اپنے بعد دو عظیم گرانبہا میراث ہمارے درمیان میں چھوڑی ہیں “ اور تمام مسلمانوں کو انکی پیروی کا حکم دیا ہے اور لوگوں کی فلاح اور ہدایت کو انھیں کے ساتھ تمسک ( وابستگی ) میں قرار دی ہے ۱ ۔ اللہ کی کتاب قرآن مجید ۔ ۲ ۔ آپ کے اہل بیت و عترت پاک علیہم السلام اس سلسلہ کی چند حدیثوں کو آپ کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے ۔

۱ ۔ ترمذی نے اپنی صحیح میں جابر بن عبد اللہ انصاری سے اور انھوں نے رسول اکرم (ص) سے روایت نقل کی ہے: میں تمھارے درمیان دو سنگین چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں اگر تم نے مضبوطی سے انھیں پکڑ ے رکھا تو ہر گز گمراہ نہ ہوگے۔ ایک کتاب خدا اور دوسرے میری عترت۔(۱)

۲ ۔ ترمذی اپنی صحیح میں اس حدیث کو بھی نقل کرتے ہیں : میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جارہا رہوں ، اگر ان کو پکڑے رکھا تو ہر گز میرے بعد گمراہ نہ ہوگے اور ا ن میں سے ہر ایک دوسرے پر برتری رکھتی ہے ، کتاب خدا زمین سے آسمان تک متصل ہے ، اور میری عترت و اہل بیت یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوںگے یہاں تک کہ حوض کوثرپر میرے پاس آپہونچیں ، اس میں غوروفکر کرو میرے بعد انکے ساتھ کیا سلوک و برتاو کروگے ۔(۲)

۳ ۔مسلم بن حجاج اپنی صحیح میں رسول اسلام (ص) سے یہ حدیث نقل کرتے ہیں : اے لوگو! میں انسان ہوں قریب ہے خدا کا بھیجا ہوا فرشتہ( ملک الموت ) میرے پاس آئے اور میں اس کے جواب میں لبیک کہدوں میں تمھارے درمیان دو گراں بہا چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک اللہ کی کتاب جس میں نور ہدایت ہے پس اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑلو اور اس سے وابستہ رہنا حضرت (ص) نے یہ فرما کر قرآن سے تمسک کی ترغیب دی پھر فرمایا:اور میرے اہل بیت (ع) ، میں تمہیں اپنے اہل بیت (ع) کے لئے تاکید کرتا ہوں ، میں تمہیں اہل بیت (ع) کے لئے تاکیدکرتا ہوں ،میں تمہیں اپنے اہل بیت (ع) کے لئے تاکید کرتا ہوں ۔(۳)

۴ ۔ متعدد محدثین نے آنحضرت (ص) سے نقل فرمایاہے: حضرت (ص) نے ارشاد فرمایا : ” میں تمھارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں۔ ایک کتاب خدا دوسرے میری عترت ۔ یہ ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہونگے ، یہاں تک کہ ( قیامت میں ) میرے پاس حوض کوثر پر آپہونچیں ۔(۴)

مذکورہ روایات کے مضمون پر مشتمل اسقدر زیادہ حدیثیں ہیں جو اس کتاب کی گنجائش سے باہر ہیں محقق التحر یر سید میر حامد حسین ( ہندی ) رحمۃ اللہ علیہ نے ان روایات بیشتراسنادکو اپنی کتاب عبقات الانوار میں جمع کیا ہے ۔

ان روایات کی روشنی میں یہ صاف ظاہر ہے۔ کہ اہل بیت (ع) کے دامن سے تمسک،اور ان کی اتباع ،قرآن مجید اور سنت پیغمبر (ص) کی پیروی کے مترادف ہے۔ اور ضروریات دین اسلام ہے ۔ لہٰذا ان کے دامن کو چھوڑ دینا ضلالت وگمراہی کا باعث ہے ۔

رسول اسلام (ص) کے فرمان کے مطابق اہل بیت طاہرین (ع) کی اتباع اور انکی پیروی واجب و ضروری ہے ۔

یہیں سے ایک سوال وجود میں آتا ہے۔ کہ پھر وہ اہل بیت پیغمبر (ص) کون لوگ ہیں ؟ کہ جن کی اطاعت حکم رسول کے مطابق ہم واجب ہے۔

لہٰذا اس مسئلہ کی مزیدوضاحت کے لئے روایات کی روشنی میں عترت پیغمبر (ص) کے معنی جستجو کریں گے۔

آنحضرت (ص) کے اہل بیت (ع) کون ہیں ؟

مذکورہ روایات سے پتہ چلتا ہے کہ حضور سرورکائنات (ص) نے تمام مسلمانوں کو اپنی عترت کی پیروی کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اور ان کو قرآن کریم کے مساوی اور برابر قرار دیا ہے ۔ نیز انہیں اپنے بعد امت کا رہبر قرار دیتے ہوئے واضح طور پر فرمایا: یہ دونوں قرآن و عترت ہر گز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہونگے، لہٰذا اہلبیت (ع) وہی حضرات ہو سکتے ہیں جو قول رسول کے مطابق قران کے برابر ہوں اور عصمت کے درجہ پر فائز ہوں ۔چنانچہ ان حضرات کی اچھی طرح معرفت کے لئے ہم کچھ روایتوں کو قارئین کرام کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔

۱ ۔ مسلم بن حجاج اپنی صحیح میں حدیث ثقلین کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں یزید بن حیان نے زید بن ارقم ( حضرت (ص) کے خاص صحابی ) سے دریافت کیا ہیں: کہ آنحضرت (ص) کے اہل بیت (ع) کون لوگ ہیں ؟ کیا اہل بیت (ع) سے مراد آنحضرت (ص) کی بیویاں ہیں ؟

زید بن ارقم جواب میں فرماتے ہیں :”لا واٴیم اللّه ان المراٴة تکون مع الرجل العصر من الدهر ثم یطلقها فترجع الیٰ اٴبیها وقومهااٴهل بیته اٴصله وعصبته الذین حرموا الصدقة بعده“ ۔(۵) نہیں ہر گز ایسا نہیں ہے ۔ خدا کی قسم عورت مرد کے ساتھ کچھ مدت کے لئے رہتی ہے۔ اور اگر مرد اسے طلاق دیدے تو وہ اپنے باپ اور رشتہ داروں کے یہاں واپس چلی جاتی ہے ( لہٰذا اس سے بیوی مراد نہیں ہو سکتی ) بلکہ اہل بیت (ع) سے مراد وہ لوگ ہیں جو حضرت (ص) کے اصل قرابتدارا ور رشتہ دار ہوں ( کہ جدا کرنے سے جدا نہ ہو سکیں ) اور آپ کے بعد ان پر صدقہ حرام ہے ۔

اس روایت سے صاف ظاہرہے کہ عترت ( کہ جن کی پیروی کرنا قران کی پیروی کی طرح واجب ہے ) سے مراد آنحضرت (ص) کی بیویاں نہیں ہیں ۔

بلکہ اس سے مراد وہ حضرات ہیں جو آپ سے جسمانی رشتے اور نسبت کے علاوہ ہے بھر پور معنوی رابطہ بھی رکھتے ہوں ۔ تاکہ قرآن کے برابر ہو کر قرآن کی طرح مرجع خلائق قرار پائیں۔

۲ ۔ پیغمبر اسلام (ص) نے فقط ان کے اوصاف و خصوصیات کو بیان کرنے پراکتفا نہیں کیا ہے بلکہ ان کی تعداد ( کہ بارہ ہونگے ) بھی ذکر فرمائی ہے ۔(۶)

مسلم اپنی صحیح میں جابر بن سمرہ سے بیان کرتے ہیں : میں نے آنحضرت (ص) کو فرماتے ہوئے سنا ” کہ اسلام بارہ خلفاء سے مزین ہوگا “ پھر آپنے کچھ کہا جو میری سمجھ میں نہ آسکا۔ تو میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ حضرت (ص) نے اس کے بعد کیا فرمایا ہے ؟ تو انھوں نے جواب میں کہا کہ وہ سب کے سب قریش سے ہوںگے ۔

ایسے ہی مسلم بن حجاج نے اپنی صحیح میں دوسرے مقام پر رسولخدا (ص) کی یہ حدیث تحریر فرماتے ہیں :”قال رسول اللّٰه (ص)لا یزال امر الناس ما ضیاً ما ولیٰهم اثنا عشر رجلاً ۔(۷)

اس وقت تک لوگوں کے تمام کام صحیح طریقہ سے انجام پائیں گے جب تک انہیں بارہ افراد کی ولایت و سرپرستی حاصل رہے ۔

یہ دونوں روایتیں شیعوں کے اس عقیدہ پر دلیل ہیں کہ رسول (ص) کے بعد بارہ امام ہونگے، کیونکہ یہی بارہ امام ہیں جو تمام خلائق کے مرجع اور اسلام کی عزت و شوکت و سربلندی کا سبب ہیں۔ ان کے علاوہ عالم اسلام میں کوئی بھی اس حدیث کا مصداق نظر نہیں آتا ۔

قطع نظر ان ابتدائی تین خلفاء کے کہ جو مسلمانوں کی اصطلاح میں خلفاء راشدین کے نام سے مشہور ہیں ۔ بنی امیہ اور بنی عباس کے یا دوسرے حکمرانوں کی بداعمالیاں جو تاریخ کے دامن میں بد نما داغ کی طرح ثبت ہیںجو اسلام اور اہل اسلام کے لئے باعث ننگ و عار ہیں جنہیں کسی بھی طرح حضور کا خلیفہ قرار نہیں دیا جا سکتا لہٰذا حضور ختمی مرتبت (ص) کے اہل بیت (ع) سے مراد صرف وہی بارہ امام ہیں کہ جن کی شناخت آنحضرت (ص) نے کرا ئی تھی کہ یہ تمام مسلمانوں کی پنا گاہ اور انکا مر کز و مرجع ہیں، سنت رسول (ص) کے محافظ اور آپ کے علوم کے خزانہ دار ہیں ۔ ۳ ۔ حضرت امیر المومنین علی ابن ابیطالب (ع) بھی مسلمانوں کے رہنمااور ہادی کو بنی ہاشم سے ہی جانتے ہیں جو شیعوں کے بار ہ اماموں (ع) کے اوپر محکم دلیل ہے جیسا کہ فرماتے ہیں: ”ان الائمة من قریش فی هذا البطن من بنی هاشم لا تصلح علیٰ من سواهم ولا تصلح الولة من غیرهم ۔“(۸)

ائمہ علیہم السلام کو خدا نے قریش اور بنی ہاشم سے قرار دیا ہے ،اور دوسرے حضرات کہ لوگوں پر حکمرانی کا حق نہیں ہے لہذا ان کے علاوہ اور ہر ایک کی حاکمیت بے بنیاد ہے ۔

نتیجہ

ان روایات سے دو چیزوں کی حقیقت روشن ہو تی ہے ۔

۱ ۔ قران کی اطاعت کے ساتھ اہل بیت (ع) (عترت) سے تمسک اور وابستگی اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری بھی واجب ہے ۔

۲ ۔ اہل بیت (ع) جو قرین قرآن اور لوگوں کا مرجع قرار دئے گئے ان کی صفات مندرجہ ذیل ہیں ۔

الف ۔ تمام کے تمام قریش اور بنی ہاشم سے ہیں ۔

ب۔ رسول خدا (ص) سے ان کی ایسی قرابتداری ہے کہ رسول (ص) کی طرح ان پر بھی صدقہ حرام ہے ۔

ج۔ یہ مقام عصمت پر فائز ہیں۔( ورنہ اپنے عمل کی وجہ سے قرآن سے جدا ہو جاتے) اسی لئے رسول اسلام (ص) نے فرمایا: قرآن و عترت ایک دوسرے سے ہر گز جدا نہیں ہونگے یہاں تک کہ ( قیامت میں ) حوض کوثر پر میرے پاس پہونچ جائیں ۔

د۔ یہ تعداد میں بارہ ہیں تاکہ رسول خدا (ص) کے بعد یکے بعد دیگرے مسلمانوں کی ولایت و سرپرستی سنبھالیں ۔

ھ۔ یہ بارہ خلفائے الٰہی ،اسلام کے لئے باعث عزت و سر بلندی و قطب زمین ہیں ۔ان صفات کو مد نظر رکھتے ہوئے روز روشن کی طرح واضح ہو جاتا ہے ۔کہ آنحضرت (ص) کے اہل بیت (ع) اور آپ کی عترت جس کی اتباع و پیروی کا حکم دیا گیا ہے وہ بارہ امام وہی ہیں کہ شیعہ ان کی پیروی و تمسک کر کے فخر کرتے ہیں ۔اور وہ بارہ خلفائے الٰہی یہ ہیں ۔

۱ ۔ حضرت علی بن ابی طالب (ع) (المرتضی)

۲ ۔ حضرت حسن بن علی (ع) (مجتبیٰ )

۳ ۔حضرت حسین بن علی (ع) ( شہید کربلا )

۴ ۔حضرت علی ابن الحسین (ع) (زین العابدین )

۵ ۔حضرت محمد بن علی (ع) (باقر )

۶ ۔حضرت جعفر بن محمد (ع) ( صادق )

۷ ۔ حضرت موسیٰ بن جعفر (ع) (کاظم )

۸ ۔حضرت علی بن موسیٰ (ع) (رضا)

۹ ۔ حضرت محمد بن علی (ع) ( تقی )

۱۰ ۔ حضرت علی بن محمد (ع) ( نقی )

۱۱ ۔حضرت حسن بن علی (ع) ( عسکری)

۱۲ ۔ حضرت امام مہدی (ع) ( قائم )

اسلامی محدثین نے تواتر سے نقل کیا ہے :کہ آنحضرت (ص)نے آپ کو مہدی موعود کے نام سے یاد فرمایا ہے :” صلوٰات اللّٰہ علیھم اجمعین ۔“

۷ ۔ سجدہ ائمہ طاہرین (ع) کی نظر میں

جب اہل بیت (ع) کی حقانیت و وثاقت ہر اعتبار سے ثابت ہو گئی تو ہم اپنے قارئین کی خدمت میں بطور تبرک ان حضرات کی چند احادیث نقل کرنے کا شرف حاصل کر رہے ہیں ۔

۱ ۔ امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : زمین اور اس سے اگنے والی چیزوں پر سجدہ جائز ہے ۔ اور کھانے او رپہننے والی اشیاء پر سجدہ صحیح نہیں ہے ۔(۹)

۲ ۔ دوسرے مقام پر فرماتے ہیں : زمین پر سجدہ اللہ کا حکم اور واجب ہے ۔ اور چٹائی پر سجدہ کرنا آنحضرت (ص) کی سنت ہے۔(۱۰)

۳ ۔ امام صادق علیہ السلام اس ضمن میں مزید ارشاد فرماتے ہیں : کہ دوسری کسی چیز پر سجدہ صحیح نہیں سوائے زمین اور اس سے اگنے والی چیزوں کے مگر یہ کہ وہ کھائی جاتی ہو یا وہ روئی وغیرہ ہو (کہ اس پر سجدہ صحیح نہیں ہے )۔(۱۱)

۴ ۔ کتاب وسائل الشیعہ میں ہماری نگاہ اس مقام پر ٹھہرتی ہے کہ اسحاق بن فضیل نے امام جعفر بن محمد الصادق علیہ السلام سے چٹائی اور بوریا پر سجدہ کرنے کے متعلق دریافت کیا؟ تو امام (ع) نے جواب میں فرمایا: صحیح ہے ،لیکن خود زمین پر سجدہ کرنا مجھے پسندہے ، کیونکہ حضرت رسولخدا (ص) ایسا ہی کرتے اور سجدہ کی حالت میں پیشانی زمین پر رکھتے تھے ، لہٰذا میں وہی پسند کرتا ہوں جو حضرت (ص) پسند فرماتے تھے ۔(۱۲)

۵ ۔ ایک شخص نے امام محمد باقر علیہ السلام سے سوال کیا ۔ کیا چٹائی وبوریا اور گھانس پر سجدہ کرنا درست ہے ؟ امام (ع) نے فرمایا: ہاں صحیح ہے ۔(۱۳)

۶ ۔حلبی کہتے ہیں میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے کپڑے، چادر وغیرہ (جو بالوںسے بنی ہو )پر سجدہ کرنے کے متعلق دریافت کیا تو حضرت (ع)

نے فرمایا اس پر سجدہ نہ کرو ۔مگر ہاں اس پر کھڑے رہو اور زمین پر سجدہ کرو تو پھر کوئی حرج نہیں ہے ، یا پھر اس پر چٹائی پھیلا کر چٹائی پر سجدہ کرو ۔(۱۴)

مذکورہ روایات سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ اہل بیت اطہار (ع) کی نظر میں فقط زمین یا جو اس سے اُگے اسی پر سجدہ کرنا صحیح ہے اور کھانے پینے کی چیزوں پر سجدہ کرنا صحیح نہیں ہے۔ جیسا کہ آنحضرت (ص) کی احادیث سے اور آپ کی سیرت اور اصحاب و تابعین کے طور طریقہ سے ہمیں معلوم ہو تا ہے ۔

ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ائمہ اطہار (ع) جو بھی شرعی احکام بیان کرتے ہیں وہی ہے جو رسول خدا (ص) سے حاصل کئے ہیں کیونکہ شیعوں کی نگاہ میں شریعت اور قانون سازی کا حق فقط خداوند متعال کو حاصل ہے، اور پیغمبر (ص) کا کام اس مقدس قانون اور دینی احکام کو لوگوں تک پہنچانا ہے ۔ جیسا کہ واضح ہے کہ رسول خدا (ص) (اور دیگر انبیاء (ع))اللہ اور بندوں کے درمیان وحی اور تشریع (احکام الٰہی)کو پہنچانے کے لئے ایک رابطہ ہیں ۔لہٰذا یہیں سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ اگر شیعہ اہل بیت (ع) کی احادیث و اقوال کو اپنی فقہ (احکام شرعی)کا منبع و مدرک قرار دیتے ہیں تو یہ فقط اس لئے ہے کہ ان کے اقوال در حقیقت آنحضرت (ص) کی احادیث کی عکاسی کرتے ہیں ۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں : میرا حدیث میرے والد کی حدیث ہے اور ان کی حدیث میرے دادا علی بن الحسین (ع) کی حدیث ہے اور ان کی حدیث حسین ابن علی (ع) کی حدیث ہے اور حسین ابن علی (ع) کی حدیث حسن ابن علی (ع) کی حدیث ہے اور حسن ابن علی (ع) کی حدیث امام علی علیہ السلام کی حدیث ہے اور حضرت علی (ع) کی حدیث،کلام رسول خدا (ص) ہے اوررسول خدا (ص) کا کلام ، کلام الٰہی ہے۔(۱۵)

ایک مقام پر کسی نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے یہی سوال کیا تو آپ نے اس کے جواب میں یہ ارشاد فرمایا :”مَهما اٴجبتک فِیهِ بِشَیءٍ فَهُوَ عَن رَسُول اَللّٰه (ص) لسنا نَقُولُ بِرَاٴیناَ مِن شَیءٍ ۔“(۱۶)

”جو میں نے تمھیں جواب دیا ہے وہی رسولخدا (ص)کا جواب ہے ہم اپنی طرف سے کوئی بات نہیں کہتے ہیں “اس روایت کی روشنی میں دو نکتے بدیہی طور پر واضح ہوتے ہیں :

الف : اہل بیت (ع) کی نظر میں زمین اور جو چیز اس سے اگتی ہے اس پر سجدہ کرنا صحیح ہے (بس شرط یہ ہے کہ وہ کھانے یا پہننے کی نہ ہو) لیکن خاک و مٹی جو زمین ہی کا

ایک حصہ ہے اس پر سجدہ کرنا زیادہ فضیلت کا باعث ہے ۔کیونکہ سجدہ کی مصلحت یہ ہے۔ کہ انسان بارگاہ بے نیاز میں سراپا خضوع و تذلل و بردباری کے ساتھ سر بسجود ہوجائے ۔

ب : احادیث و اقوال اہل بیت (ع) ۔ متواتر روایات کے مطابق حجت و معتبر ہیں۔ اور ا ن سے سرپیچی احکام رسول خدا (ص) کی مخالفت ہے ۔ اس لئے کہ رسول خدا (ص) نے حدیث ثقلین اپنی عترت اور اہل بیت (ع) کے کلام و فرمان کی ضمانت خود اپنے اوپر لی ہے ۔ لہٰذا ان کی عترت کے کلما ت، رسول خدا (ص) کے کلام کے سوا کچھ نہیں ہیں ۔

ان تمام بحثوں اور استدلالوںسے چودہویں رات کے چاند کی طرح یہ روشن ہوجاتاہے کہ شیعوں کا زمین یا خاک پر سجدہ کرنا بجا ہے ۔

____________________

(۱)صحیح ترمذی ، کتاب المناقب ، باب مناقب اہل بیت النبی (ص) ، ج/۵ طبع بیروت ، ص/ ۶۶۲ ، حدیث ۳۷۸۶۔”یا ایهّا النّاس انّی قد ترکت فیکم ما ان اٴخذتم به لن تضلوا کتاب اللّٰه وعترتی اهل بیتی

(۲)مدرک سابق ، ص/ ۶۶۳ ، حدیث ۳۷۸۸۔

(۳) صحیح مسلم ، جزء ۷ باب فضائل علی ابن ابی طالب (ع) ، ط مصر ، ص/ ۱۲۲ ۔ ۱۲۳ ۔

(۴) مستدرک حاکم ، جزء ۳ ص/ ۱۴۸ ۔ الصواعق المحرقۃ ، باب ۱۱ فصل اول ص/ ۱۴۹ اور اسی طرح کے مضمون پر مشتمل دیگر احادیث درج ذیل کتابوں میں بھی دیکھی جاسکتی ہے :” مسند احمد ، جزء ۵ ص/ ۱۸۲ و ۱۸۹ ۔ ” کنز العمال ، جزء اول ، باب الاعتصام بالکتاب و السنۃ ، ص/ ۴۴ ۔

(۵)صحیح مسلم ، جزء ۷ باب فضائل علی ابن ابی طالب ، ط مصر ، ص/ ۱۲۳ ۔

(۶)صحیح مسلم ، ج/۶ ص/ ۳ ، ط مصر۔

(۷) گذشتہ حوالہ۔

(۸) نہج البلاغہ (صبحی صالح) ، خطبہ ۱۴۴۔

(۹) وسائل الشیعہ ، ج/ ۳ ص/ ۵۹۱ ، کتاب الصلۃ ، ابواب ما یسجد علیہ ، حدیث ۱۔ ”السجود لا یجوز الا علی الارض او علی ما انبتت الارض الا ما اکل او لبس

(۱۰)وسائل الشیعہ ، ج/۳ ص/ ۵۹۳ ، کتاب الصلۃ ابواب ما یسجد علیہ ، حدیث ۷۔ ”السجود علی الارض فریضة وعلی الخمرة سنة

(۱۱)وسائل الشیعہ ، ج/۳ ص/ ۵۹۲ و بحار الانوار ، ج/ ۸۵ ص/ ۱۴۹ ۔ ”لا یسجد الا علی الارض او ما اٴنبتت الارض الا الماکول و القطن و الکتان

(۱۲) وسائل الشیعہ ،ج/۳ ص/ ۶۰۹۔ ”وعن اسحاق بن الفضیل انه ساٴل اٴبا عبد اللّٰه عن السجود علی الحصیر و البواری ، فقال : لاباس وان یسجد علی الارض اٴحب الیّ ، فان رسول اللّٰه (ص) کان یحبّ ذلک ان یمکن جبهته من الارض ، فانا احب لک ما کان رسول اللّٰه (ص) یحبه

(۱۳)وسائل الشیعہ ، ج/۳ ص/ ۵۹۳ ۔”۔۔۔۔ان رجلاً اٴتی ابا جعفر ( الامام الباقر) وساٴله عن السجود علی البوریا و الخصفة و النبات ، قال : نعم

(۱۴)وسائل الشیعہ ، ج/۳ ص/ ۵۹۴ : ”عن ابی عبد اللّٰه قال ساٴلته عن الرجل یصلی علی البساط و الشعر و الطنافس قال : لا تسجد علیه وان قمت علیه و سجدت علی الارض فلاباٴس ، وان بسطت علیه الحصیر و سجدت علی الحصیر فلا باٴس

(۱۵)جامع احادیث الشیعۃ، ج۱ ص ۱۲۷۔”حدیثی حدیث ابی (ع) و حدیث ابی (ع) حدیث جدی (ع) و حدیث جدی (ع) حدیث الحسین (ع) و حدیث الحسین (ع) حدیث الحسن (ع) و حدیث الحسن (ع) حدیث امیر المومنین (ع) و حدیث امیر المومنین (ع) حدیث رسول اللّٰه (ص) و حدیث رسول اللّٰه (ص) قول اللّٰه عز و جل

(۱۶) جامع احادیث الشیعۃ ج۱ ص۱۲۹ ۔


۸ ۔ مجبوری کی حالت میں سجدہ

گذری ہوئی بحثوں اور دلیلوں سے بہت حد تک یہ واضح ہو گیا کہ انسان کو اختیاری حالت میں زمین ( اور جو چیز اس سے اگتی ہے ) پر ہی سجدہ کرنا چاہئے کیونکہ:

۱ ۔ زمین اور سطح زمین پر سجدہ کرنا سنت نبی (ص) اور آپ کا حکم ہے ۔

۲ ۔ زمین پر سجدہ کرنا آنحضرت (ص) کی سیرت اور عملی روش ہے ۔

۳ ۔ زمین پر سجدہ کرنا حضور (ص) کے اصحاب کے حکم کے مطابق ہے ۔

۴ ۔ زمین پر سجدہ کرنا سیرت صحابہ اور تابعین اور صدر اسلام کے مسلمانوں کا وطیرہ ہے ۔

۵ ۔ زمین پر سجدہ کرنا ،اہل بیت اطہار (ع)کا حکم ہے ۔

۶ ۔ زمین پر سجدہ کرنا حضور کی عترت پاک (ع) کی سیرت عملی ہے ۔

یہاں پر ایسی روایتوں کو بیان کرناچاہتا ہوں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ انسان جب بالکل تحمل نہ کر سکے جیسااتنی شدید گرمی یاایسی شدید سردی ہو کہ جو ناقابل برداشت ہویاکسی دوسرے معقول و شرعی عذر کی بنا پر لباس کے کناروں یا کپڑے کے ٹکڑوں پر سجدہ کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔

جیسا کہ ہم نے بیان کیا کہ روایات اضطراری حالات میں زمین کے علاوہ دوسری چیز پر سجدہ کرنے کو درست کہتی ہیں لیکن مسلمانوں ( اہل سنت ) نے ایسی حدیثوں سے یہ گمان کیا ہے کہ یہ احادیث و روایات تمام حالات کے لئے ہیں یعنی چاہے کوئی عذر ہو یا نہ ہو جب بھی کپڑوں اور اس جیسی چیزوں پر سجدہ کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں۔ ان لوگوں نے آنحضرت (ص) کی سنت اور آپ کے اصحاب کی سیرت کی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے یہ کہا-: انسان کے لئے فقط زمین اور جو چیز اس سے اگتی ہے اس پر سجدہ کرنا ضروری نہیں ہے ، بلکہ ہر حال میں ان چیزوں کے علاوہ شئے پر بھی سجدہ کرنا صحیح ہے ، جیسے قالین ،کپڑا اور دوسری کھانے کی چیزیں ، اسی لئے ضروری ہے کہ ہم ان روایات کو بھی بیان کردیں جو حالت اضطرار پر بالصریح دلالت کرتی ہیں ، تاکہ اس مسئلہ کی حقیقت ہر شخص پر کچھ اور واضح ہو جائے ۔

۱ ۔ ابو عبد اللہ بخاری اپنی صحیح میں اس روایت کو انس سے نقل کرتے ہیں: (بلکہ انھوں نے اپنی کتاب میں پورے ایک باب کو شدید گرمی میں لباس پر سجدہ کرنے کے بارے مخصوص کیا ہے ) انس کہتے ہیں: ہم لوگ رسول اللہ (ص) کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے تو ایک شخص گرم زمین پر سجدہ نہ کرسکا تو اس نے لباس پھیلا کر اس پر سجدہ کیا ۔

۲ ۔ بخاری دوسرے مقام پر انس سے ہی نقل کرتے ہیں ، ہم گرمی کے موسم میں آنحضرت (ص) کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے ۔اور گرم زمین کی تاب نہ لا کر اپنے کپڑوں پر سجدہ کر تے تھے تاکہ اس سے محفوظ رہ سکیں ۔(۱)

۳ ۔ مسلم بن حجاج مذکورہ روایت کو اس طرح نقل کرتے ہیں ، جب ہم گرمی کے موسم میں آنحضرت (ص) کے پیچھے نماز پڑھتے اور ہم میں سے کوئی گرم زمین پر سجدہ نہ کرسکتا تو کپڑا پھیلا کر اس پر سجدہ کر لیتا تھا ۔(۲)

۴ ۔ مسلم بن حجاج دوسرے مقام پر ایک صحابی سے اس طرح نقل کرتے ہیں: ہم شدید گرمی میں آنحضرت (ص) (ص)کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے (اتفاق ) سے ایک شخص جلتی زمین پر پیشانی نہ رکھ سکتا تھا تو اس نے اپنے لباس کو پھیلا کر اس پر سجدہ کیا ۔(۳)

ان روایات کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ انسان اضطراری حالت میں زمین کے علاوہ دوسری چیزوں پر سجدہ کر سکتا ہے ، اس لئے کہ روایت کی تعبیر یہ ہے کہ” شدید گرمی یا کڑاکے کی ٹھنڈک“ جیسا کہ وہ خود بیان کرتے ہیں کہ صدر اسلام میں مسلمان گرمی کی تاب نہ لا کر کپڑوں پر سجدہ کر لیا کرتے تھے تا کہ پیشانی سوزش زمین سے محفوظ رہ سکے ۔(۴)

اسی لئے ابن حجر مکی کہتے ہیں : مذکورہ روایات اس نکتہ کی طرف آگہی کرتی ہیں کہ سجدہ میں اصل یہ ہے کہ پیشانی زمین پر رکھا جائے کیونکہ لباس وغیرہ پر سجدہ کرنا (مجبوری کی حالت ) اور طاقت نہ ہو نے کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔(۵)

حالت اضطرار کا حکم اہل سنت کی کتابوں سے مخصوص نہیں ہے۔بلکہ یہ حکم ہماری کتابوں میں بھی موجود ہے۔ کہ شدید گرمی اور کڑاکے کی ٹھنڈک میں جب انسان زمین پر سجدہ کرنے سے معذور ہو تو کپڑے وغیرہ پر سجدہ کر سکتا ہے ۔

صاحب وسائل الشیعہ نے اپنی کتاب میں مکمل ایک باب ” جواز السجود علیٰ الملابس وعلیٰ ظہر الکف فی حال الضرورۃ “(حالت ضرورت میں کپڑے اور ہاتھ کی ہتھیلی پر سجدہ کرنا جائز ہے ) کے نام سے قائم کر رکھا ہے۔اور ائمہ طاہرین (ع) کی روایتوں کو اس میں تفصیل سے بیان کیا ہے ۔ ان میں بعض احادیث کو قارئین کرام کے سامنے بطور تبرک پیش کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہوں ۔

۱ ۔عیینہ کہتے ہیں : میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا کہ اگر میں شدید گرمی میں مسجد جاوں اور (گرم ) پتھر پر سجدہ کرنے سے دل مائل نہ ہو تو کیا میں کپڑا پھیلا کراس پر سجدہ کر سکتا ہوں؟امام (ع) نے فرمایا:ہاں کوئی حرج نہیں ہے۔(۶)

۲ ۔قاسم بن فضیل کہتے ہیں : میں نے امام رضا (ع) سے کہا میری جان آپ پر فدا ہو کیا کوئی شخص گرمی و سردی سے بچاؤ کے لئے آستین پر سجدہ کر سکتا ہے ؟ امام (ع) نے جواب میں فرمایا: ہاں کوئی حرج نہیں ہے ۔(۷)

۳ ۔ کچھ شیعوں نے امام جعفرصادق علیہ السلام سے دریافت کیا کہ اگر ہم ایسی جگہ ہوں جہاں شدید ٹھنڈک کی بنا پر پانی جم کر برف ہو گیا ہو تو کیا ہم ( نماز میں ) اس پر سجدہ کر سکتے ہیں ؟ امام (ع) نے فرمایا : نہیں بلکہ برف سے (بچاؤ ) کے لئے روئی یا کتان رکھ لو ۔(۸)

نتیجہ

انسان تمام احادیث سے دو باتوں کا پتہ چلتا ہے ۔

۱ ۔ اختیاری اور امکانی صورت میں ضروری ہے کہ زمین اور گھانس پر سجدہ کیا جائے۔اور یہی حکم اس وقت ہے جب کسی کا عذر بر طرف ہوجائے ۔

۲ ۔ صرف اضطراراورعذر کی صورت میں ہی لباس کے کناروں پر سجدہ کرنا صحیح ہے ، جیسے شدید گرمی و سردی وغیرہ میں۔

اسی لئے شیعہ حضرات اہل بیت اطہار (ع) اور سنت رسول اکرم (ص) اور سیرت مسلمان صدر اسلام و تابعین کی روش کی پیروی و اتباع کرتے ہوئے زمین کے اجزاء پتھر اور مٹی پر سجدہ کرتے ہیں ۔ اور کپڑا یا لباس اور کھانے وغیرہ کی چیزوں پر سجدہ کرنے سے اجتناب کرتے ہیںاورفروتنی و انکساری کی بنا پر مٹی پر سجدہ کرنے کو اور دوسری تمام چیزوں پر ترجیح دیتے ہیں ۔ اسی لئے ائمہ طاہرین (ع) اور صحابہ و تابعین کی تاسی و پیروی کرتے ہوئے وہ پاک و پاکیزہ مٹی کو سجدہ کے لئے اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ تاکہ اس پر سجدہ کر کے درگاہ خدائے لایزال میں خضوع و انکساری و خاکساری کی علیٰ منازل کو درک کرسکیں ۔

واضح ر ہے کہ فقط یہ طریقہ شیعہ حضرات سے مخصوص نہیں ہے بلکہ اہل سنت کی مشہور شخصیتوں نے بھی اسی راستے کو اختیار کیا ہے لہٰذا نمونے کے طور پر انکے چند بزرگانوں کا اجمالی تذکرہ کیا جا رہا ہے ۔

۱ ۔ اسلامی مورخین و محدثین نے نقل کیا ہے کہ عمر بن عبد العزیز ( اموی خلیفہ) فقط چٹائی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ تھوڑی مٹی بھی اس پر رکھتا اور نماز میں اس پر سجدہ کیا کرتا تھا ۔(۹)

۲ ۔صاحب فتح الباری عروہ بن زبیر سے نقل کرتے ہیں کہ وہ زمین کے علاوہ اور کسی چیز پر سجدہ کرنے کو پسند نہیں کرتے تھے ۔(۱۰)

۳ ۔ جیسا کہ پہلے بھی اشارہ ہوا ہے کہ صاحب ( الطبقات الکبریٰ ) کہتے ہیں: مسروق بن اجدع ( تابعی ) سفر میں ایک کھپرے کا ٹکڑا ساتھ رکھتے تھے تاکہ کشتی میں اس پر سجدہ کر سکیں ۔(۱۱)

اس بنا پر شیعوں کا یہ طریقہ کہ ہمیشہ زمین اور اس سے اگنے والی چیزوں (جو کھانے اور پہننے والی نہ ہو ) پر سجدہ کرنا اور پاک و پاکیزہ اور مقدس مٹی کودرگاہ خدا میںتذلل و فروتنی کے لئے تمام چیزوں پر ترجیح دینا نہ فقط یہ کہ یہ شرک وغیرہ سے دورہے بلکہ توحید اور خدا پرستی کے بالکل مطابق ہے اور اس کے مقابلہ میں جو بھی نظریات پائے جاتے ہیں وہ سب بے بنیاد اور بدعت ہیں۔ ان اقوال و نظریات کے باطل ہونے کے لئے مذکورہ دلیلوں کی روشنی میں سنت اور سیرت آنحضرت (ص) اور اقوال و سیرت صحابہ کرام و تابعین عظام اور اہل بیت اطہار (ع) کی عملی زندگی کافی ہے اور مندرجہ ذیل روایت اسکی بہترین گواہ ہے۔

حافظ ابوبکر بن ابی شیبہ ، اپنی کتاب ( المصنف ) ج/ ۲ میں سعید بن مسیب و محمد بن سیرین سے نقل کرتے ہیں :کہ نماز ( طنفسۃ) چادر پر پڑھنا نئی چیز بدعت ہے اور رسول خد ا (ص) سے سند صحیح کے ساتھ روایت منقول ہے: کہ نئی چیز کا دین میں داخل کرنا بد ترین چیز ہے ۔ اور ہر نئی چیز کا دین میں داخل کرنا بدعت ہے۔(۱۲)

____________________

(۱) صحیح بخاری ج۱ ص۱۴۳ ، ۱۰۷ اور دوسری جگہ پر ص۱۰۱ ۔ اور جلد ۲ ص۸۱ پرنقل کرتے ہیں کہ : ”کنا اذا صلینا خلف رسول اللّٰه (ص) بالظهائر، فسجدنا علی ثیابنا اتقاء الحر

کنا نصلی مع النبی (ص) فی شدة الحر فاذا لم یستطع احدنا ان یمکن جبهته من الارض بسط ثوبه فسجد علیه“

(۲) سیرتنا و سنتنا ص/ ۱۳۱بحوالہ مسلم۔ ”کنا اذا صلینا مع النبی (ص) فلم یستطع احدنا ان یمکن جبهته من الارض من شدة الحر طرح ثوبه ثم سجد علیه

(۳) سیرتنا و سنتنا ص/۱۳۱۔ ”کنانصلی مع رسول اللّٰه فی شدة الحر فاذا لم یستطع احدنا ان یمکن جبهته من الارض بسط ثوبه فسجد علیه

(۴)الفتح ج/۱ ص/ ۴۱۴ ۔ ”وفیه اشارة الی ان مباشرة الارض عن السجو هو الاصل لانه علق بعدم الاستطاعة

(۵)سیرتنا و سنتنا ، ص/ ۱۳۱ بحوالہ نیل الاوطار ۔ ”الحدیث یدل علی جواز السجود لاتقاء حر الارض ، وفیه اشارة الی ان مباشرة الارض عند السجود هی الاٴصل ، لتعلیق بسط ثوب بعدم الاستطاعة

(۶) وسائل الشیعہ ج/۳ ، کتاب الصلۃ ، ابواب ما یسجد علیہ ، باب ۴ ، حدیث ۱ ۔ ”قلمت لاٴبی عبد اللّٰه علیه السلام : ادخل المسجد فی الیوم الشدید الحر فاکره ان اصلی علی الحصی ، فاٴبسط ثوبی فاٴسجد علیه ؟ قال : نعم لیس به باٴس “

(۷) گذشتہ حوالہ، حدیث ۲۔ ”قلت للرضا علیه السلام : جعلت فداک ، الرجل یسجد علی کمه من اذی الحر و البرد ؟ قال: لاباس به

(۸) گذشتہ حوالہ، حدیث ۷۔ ”قلت لاٴبی جعفر علیه السلام : انا نکون بارض باردة یکون فیها الثلج افنسجد علیه ؟ قال: لا ولکن اجعل بینک و بینه شیئاً قطناً او کتاناً

(۹) فتح الباری ، ج/۱ ص/ ۴۱۰ و شرح الاحوذی ، ج/۱ ص/ ۲۷۲ ۔ ”عمربن عبدالعزیزالخلیفة الاموی کان یکتفی بالخمرة،بل یضع علیهاالتراب ویسجد علیه

(۱۰) گذشتہ حوالہ ۔ ”روی عن عروه بن الزبیر انه کان یکره الصلة علی شیء دون الارض

(۱۱) الطبقات الکبریٰ ، ج/۶ ص/ ۷۹ طبع بیروت ، مسروق بن اجدع کے احوال میں ۔ ”کان مسروق اذا خرج یخرج بلبنة یسجد علیها فی السفینة

(۱۲)سیرتنا و سنتنا ، ص/ ۱۳۴ : ”وقد اخرج الحافظ الکبیر الثقة ابوبکر بن ابی شیبة باسناده فی المصنف فی المجلد الثانی عن سعید بن المسیب وعن محمد بن سیرین : ان الصلة علی الطنفسة محدث ، وقد صح عن رسول صلی الله علیه وآله وسلم قوله : ” شر الامور محدثاتها ، وکل محدثة بدعة


۹ ۔ خاک کربلا پر سجدہ

شیعہ حضرات، رسول (ص) اور آل رسول (ع) کے اقوال کی اتباع اور ان کی سیرت کی پیروی کرتے ہوئے اللہ کے لئے خاک کربلا پر سجدہ کرتے ہیں اور اسے مستحب جانتے ہیں ۔

خاک کربلا پر سجدہ کرنے کی علت

یہاں پر جو سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ شیعہ دنیا کی ہرمٹی کو چھوڑ کر خاک کربلا پر کیوں سجدہ کرتے ہیں ؟اور تمام مٹیوں پر خاک کربلا کو کیوں ترجیح دیتے ہیں ؟ یہ کیوں اپنی مسجدوں اور گھروں یا حالت سفر میں اس مٹی کو اپنے ساتھ رکھتے ہیں ؟اس سوال کا جواب سنت اور سیرت معصومین علیہم السلام کی روشنی میں دلیلوں کے ساتھ بیان کیا جارہا ہے ۔

۱ ۔ یہ بات واضح ہے کہ شیعہ پاک مٹی یا پتھر اور زمین پر سجدہ کرنے کو جائز سمجھتے ہیں ، لیکن ان زمینوں میں بعض زمینیں شعائر و مقدسات الٰہی یااولیاء اللہ کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے خاص فضیلت اور برتری کی حامل ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ مکہ مکرمہ جو اپنے دامن میں خانہ کعبہ لئے ہو ئے ہے جو اللہ کا گھر اور پروردگار عالم کا حرم ہے اس لئے وہ فضیلت کا حامل ہے کہ کفار و مشرکین کو وہاں جانے سے منع کیا جاتا ہے۔ اس طرف (یثرب) مدینہ منورہ کی سرزمین حرم رسول (ص) اور احادیث کے مطابق مقدس و بافضیلت ہے۔

متعدد روایات کے مطابق ایسی ہی بافضیلت ا ور مقدس زمینوں میں ایک کربلاکی زمین بھی ہے ، جو سبط رسول خدا (ص) حضر ت حسین بن علی (ع) ( اور آپ کے جانثار دوستوں) کی شہادت کا مقام ہے ۔

ہم یہاں پر کچھ معتبر احادیث کو جو فریقین ( سنی اور شیعہ) کی کتابوں میں مذکور ہیں ،نمونے کے طور پر بیان کرینگے تاکہ اس زمین مقدس کی پاکیزگی و شرافت او رمنزلت روشن ہوجائے ۔

ابن حجر ہیثمی نے صواعق محرقہ میں اس طرح روایت کی ہے ۔کہ امام حسین (ع) حضرت رسول خدا (ص) کی خدمت میں تشریف لائے آنحضرت (ص) نے ان کے بوسہ لینے لگے ایک فرشتہ نے (جو آپ کی خدمت میں موجود تھا ) آپ (ص) سے سوال کیا ، کیا آپ حسین (ع) کو چاہتے ہیں؟ آپ (ص) نے فرمایا ہاں ، اس فرشتہ نے کہا: آپ کی امت اس کو شہید کردے گی ، اگر کہیں تو میں اس مقام کی آپ کو زیارت کرادوں جہاں وہ شہید ہوگا،اس کے بعد تھوڑی سی سرخ رنگ کی خاک آپ کی خدمت میں پیش کی ام سلمہ نے اس مٹی کو لے کر دامن میں رکھ لیا”ثابت “ کہتے ہیں اس سر زمین کو کربلا کہتے ہیں۔

اور دوسری حدیث میں وارد ہے: کہ آنحضرت (ص) نے اس مٹی کو سونگھ کر فرمایا: اس مٹی سے ( کرب و بلا) غم و اندوہ کی بو آتی ہے ۔(۱)

ابن سعد نے شعبی سے ایسی ہی روایت نقل کی ہے ، حضرت علی بن ابی طالب، صفین جاتے ہو ئے کربلا سے گذررہے تھے نینوا (جو ساحل فرات پر ایک دیہات ہے )پر پہنچ کر رک گئے۔ اور اس سر زمین کا نام پوچھنے لگے ۔ تو حضرت (ع) کے اس سوال کے جواب میں کہا گیا کہ اس زمین کو کربلا کہتے ہیں ۔ امیر المومنین (ع) رونے لگے اوراس قدر روئے کہ وہ زمین آپ کے اشک سے تر ہو گئی اس وقت فرمایامیں ایک دن آنحضرت (ص) کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آنحضرت (ص) گریہ کر رہے تھے، میں نے پوچھا آپ کے رونے کا سبب کیا ہے ؟ فرمایا تھوڑی دیر پہلے جبرئیل میرے پاس تھے اور انھوں نے یہ خبر دی کی آپ کا حسین (ع) فرات کے کنارے” کربلا “ نامی جگہ پر شہیدکر دیا جائے گا۔ اس وقت جبرئیل نے ایک مٹھی خاک مجھے سونگھنے کے لئے دی۔ میں اپنے آنسووں کو روک نہ سکا ۔(۲)

ابن حجر دوسری جگہ پر اس طرح بیان کرتا ہے : (جبرئیل نے پیغمبر اسلا م (ص) کویہ خبر د ی کہ آپ کی امت اس کو قتل کر ڈالے گی آنحضرت (ص) نے فرمایا میرے فرزند کو ؟ جبرئیل نے جواب دیا ،ہاں ۔اگر آپ چاہیں تو میں آپ کو وہ سر زمین کو دکھاوں کہ جہاں پر وہ قتل کیا جائیگا ، پس انہوں نے عراق کی سرزمین ”طف“ (جسکادوسرا نام کربلا ہے ) کی طرف اشارہ کیا اور وہاں سے سرخ رنگ کی مٹی اٹھاکر حضرت (ص) کو دکھائی اور کہا یہ اس جگہ کی مٹی ہے جہا ں وہ شہید کیا جا ئے گا ۔(۳)

اس موضوع پر شیعہ و سنی کتابوں میں بہت سی حدیثیں وارد ہوئی ہیں! مزیدمعلومات کے لئے ان کتابوں کی طرف مراجعہ فرمائیں ، کنز العمال ، ج/ ۱۳ ، ۱۱۲ ، ۱۱۱ و الخصائص (سیوطی ) ، ج/ ۲ ص/ ۱۲۵ و مناقب ابن مغازلی و بحار الانوار ، ج/ ۴۴ و المعجم الکبیر (طبرانی ) ، ص/ ۱۴۴ و العقد الفرید ، ج/ ۲ و الصواعق المحرقۃ اور بہت سی کتابوں میں یہ روایت موجود ہے ۔

اس طرح کی روایتیں بہت ساری کتابوں میں جیسے صحاح و مسانید اہل سنت میں وارد ہوئی ہیں ،جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ سر زمین کربلا رسول خدا (ص) اور معصومین علیہم السلام اور اسلامی محدثین کی نگاہوں میںمقدس مقام اور قابل احترام ہے۔ اور یہ پاک تربت خ ایک خاص فضیلت و برتری کی حامل ہے ۔

بعض روایتوں میں وارد ہوا ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) کربلا کی مٹی کو سونگھ کر اس مقدس تربت پر آنسو بہاتے ہوئے فرماتے تھے :” طوبیٰ لک من تربۃ۔(۴) خوشابحال اس مٹی کا ۔

دوسری طرف یہ واضح و روشن ہے کہ سجدہ تمام پاک مٹیوں اور پتھروں اور زمینوں پر جائز ہے ۔ تو وہ زمین جو ظاہری طہارت و ، جس پر سجدہ کرنا یقیناً تمام زمینوں سے بہتر و شائستہ تر ہے ۔

مذکورہ دونوں مقدموں سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ مقدس زمینوں جیسے مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور سر زمین کربلا ( کہ جس کی طہارت و قداست کو ثابت کیا گیا ہے۔)پر سجدہ کرنا دوسری زمینوں پر سجدہ کرنے سے بیحد افضل ہے کیونکہ یہ سرزمین یا تو اسلام کی مقدس سر زمینیں ہیں یا خدا وند عالم کے اولیا ء اور اس کی بارگاہ کے مقرب بندوں سے منسوب ہیں اور انہی کی فضیلت و منزلت کی بنا پر ان زمینوں کو یہ مرتبہ حاصل ہوا ہے ۔

۲ ۔ دوسری دلیل : جو ہم یہاں بیان کرنا چاہیں گے وہ ائمہ طاہرین (ع) کی احادیث ہیں جن کی حجیت وحقانیت سنت رسول خدا (ص)کی روشنی میں پچھلی بحثوں سے ثابت ہو چکی ہے ۔اس لئے کہ آنحضرت (ص)نے لوگوں کو اہل بیت (ع) کی پیروی کا حکم دیا ہے۔ اور ان کے اقوال کو قرآن مجید کی طرح حجت و معتبر قرار دیا ہے ۔

۱ ۔ وسائل الشیعہ میں مرقوم ہے، کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کے پاس دیباج کے زرد رنگ کپڑے کی تھیلی تھی۔ جس میں آپ خاک کربلا رکھتے تھے ۔ اور نماز کے وقت مصلے پر پھیلا کر اسی پر سجدہ کیا کرتے تھے ۔(۵)

۲ ۔ اور اسی کتاب میں یہ بھی روایت موجود ہے۔ کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام خاک کربلا کے علاوہ کسی اور چیز پر سجدہ نہیں کرتے تھے ، اور یہ فقط خدا کی بارگاہ میں تذلل و فروتنی و انکساری کی وجہ سے تھا ۔(۶)

یہاں دو نکتہ کی طرف اشارہ ضروری ہے ۔

(الف) اہل بیت طاہرین (ع) کا خاک کربلا پر سجدہ کرنا۔ یا سجدہ کا حکم دینا اس کے مستحب ہو نے کی بنا پر ہے اور تمام علماء و فقہاء اس مسئلہ پر اتفاق نظر رکھتے ہیں کہ تربت کربلا پر سجدہ کرنا مستحب ہے ۔واجب نہیں ، اور اس کی بڑی فضیلت ہے ۔

(ب) اہل بیت طاہرین (ع) اس لئے خاک کربلا پر سجدہ کرتے تھے کہ حضرت امام حسین (ع) کلمہ توحید کی بلندی اور دین خدا کی ترویج کے لئے شہادت کا نذرانہ پیش کیا۔ لہٰذا وہ خداوند عالم کی عنایت و اور اس کی مرضی کے خاص حقدار قرار پائے اس لئے فقہاء اور علماء شیعہ خاک کربلا پر سجدہ کرنے کو محبت خدا اور اسکی خوشنودی کا سبب جانتے ہیں ، اور وہ یہ چاہتے ہیں کہ فروتنی و انکساری کی حالت میں زیادہ سے زیادہ خدا کی خوشنودی کر سکیں جیسا کہ ہم نے دوسری حدیث میں دیکھا کہ امام صادق علیہ السلام درگاہ خدا میں اظہار فروتنی و انکساری کے لئے ہمیشہ خاک کربلا پر سجدہ کیا کرتے تھے ۔

گذشتہ بیان کی روشنی میں یہ واضح ہو گیا کہ پیغمبر (ص) و ائمہ معصومین (ع) جو حدیث ثقلین کے مطابق قرآن مجید کے مساوی و برابر ہیں انکی سیرت کے مطابق خاک کربلا پر سجدہ کرنا بہترین اور بافضیلت ترین عبادت ہے ،اور کیونکہ شیعہ اہل بیت (ع) کی سیرت و سنت پر واقعاً عمل کرنے والے ہیں لہٰذا وہ خاک کربلا پر سجدہ کرنے کو مستحب جانتے ہیں ، اور نماز میں اپنی پیشانی کو سجدہ معبود میں رکھنے کے لئے خاک کربلا کو دوسری تمام چیزوں پر ترجیح دیتے ہیں۔ اور اس طرح نہایت خضوع و خشوع و ذلت و فروتنی کے ساتھ اس کی درگاہ میں حاضرہو کر اس کے سامنے سجدہ کرتے ہیں ۔

۳ ۔ توحید کے مقدس نظام کی حمایت اور اسلام جب بنی امیہ کے ہاتھوں طوفان بدعت تحریف کے سیلاب میں غرق ہو رہا تھا تو اس وقت امام حسین بن علی علیہ السلام اپنے باوفا اعوان و انصار کے ساتھ اس کی حفاظت کے لئے میدان میں ٓآگئے۔ اور اسلام کی بقاء اور رضائے خداوندعالم کے حصول کے لئے اپنی شہادت کا جام نوش فرمانے پر رضامند ہوگئے( آپ نے اسلام کو سیراب کر دیا اگر چہ خود پیاسے شہید ہو گئے )لہٰذا ان کی یاد تازہ رکھنا ۔اور ان کے آثار کو حفاظت کرنا شریعت اسلام کی حفاظت کرنے کے مترادف ہے ، امام حسین (ع) مدینہ سے نکلنے کا مقصد اس طرح بیان کرتے ہیں ، ”میںبلاوجہ اور بدون ہدف نہیں نکلا ۔اور نہ ہی فتنہ و فساد برپا کرنے کے لئے روانہ ہوا ہوں۔ بلکہ میں نکلا ہوں تاکہ اپنے جد رسول خدا (ص) کی امت کی اصلاح کروںاورنیکی کا حکم دوں اور برائی سے منع کروں ۔اور اپنے نانا رسول خد ااور بابا علی مرتضیٰ (ع) کی سیرت کو زندہ کروں۔“(۷)

اے کاش! مسلمان خدا کے لئے سجدہ میں خاک کربلا کی عظمت کو بروئے کار لاتے ہوئے نماز میں اپنی پیشانی کو اس مقدس مٹی پر رکھے کہ جس میں اولیاء اللہ نے دین اسلام کی سربلندی اور کلمہ لاالہ الا اللہ کی برتری کے لئے اپنی جان، مال، اولاد، انصاراور اصحاب حتیٰ اپنا سب کچھ قربان کردیا ۔

اس خاک مقدس پر سجدہ کرنے سے آزادی و شرافت اور دین اسلام و قرآن کی حفاظت کا درس ملتا ہے ۔ اس بنا پر خاک کربلا پر سجدہ کرنا نہ فقط توحید کے دائرہ سے باہر نہیں نکالتا بلکہ یہ دین اسلام کی مخلصانہ حفاظت اور اللہ کی عبادت کا سبق دیتا ہے ، اور مسلمانوں کو بصیرت و آگاہی کی روشنی میں نئے جذبات کے ساتھ فدا کاری و جانبازی اور اسلام و قرآن او رعبادت کردگار کی حفاظت کی طرف دعوت دیتاہے ۔

مذکورہ بحثوں سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ شیعوں کا مٹی اور خاک کربلا پر سجدہ کرنا، پیغمبر (ص) کی سنت و سیرت اور اہل بیت کی سیرت عقل سلیم کے مطابق ایک شرعی و منطقی امرہے ، اور توحید پروردگار کے عین مطابق ہے ۔

آیۃ اللہ علامہ امینی رحمۃاللہ علیہ اپنی بہترین کتاب”سیرتنا و سنتنا“میں فرماتے ہیں:وہ مٹی جس پر سجدہ کرنا جو خدا سے تقرب کا باعث ۔اور اس کی رضا کے حصول کا سبب۔ خضوع و بندگی کے لئے مناسب۔ اور دین خدا اور مقدسات اور حریم اسلام کے تحفظ کا ضامن ہو۔تو کیا ایساسجدہ مناسب نہیں ہے ؟ جو زمین رموز کردگار کی عظمت کا گہوارہ ہو۔اپنے اندر حکمت الٰہی کوسمیٹے ہو۔ اور خدا وندعالم کے سامنے فروتنی کے عظیم اسرار کا مر کز ہو۔ تو کیا ایسی زمین پر سجدہ ا،للہ کی عبادت کے لئے اولی تر نہیں ہے ؟

کیا ہمارے لئے بہتر نہیں ہے کہ ایسی زمین پر سجدہ کریں جو توحید کی پرچم دار اور اس کی راہ میں فدا کاری سکھاتی ہو ؟ کیا ہم ایسی زمین پر سجدہ نہ کریں جو ہمیں مہربانی و رحم دلی و الفت و محبت و شفقت و عطوفت کی طرف دعوت دیتی ہے؟(۸) اسی طرح دوسرے شیعہ عالم دین علامہ کا شف الغطاء رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : شیعہ کربلا کی مٹی پر سجدہ کرنے کو افضل اور مستحب جانتے ہیں شاید اس کا راز یہ ہو کہ مذکورہ دلائل اور وہ روایتیں جو کربلا کی مٹی پر سجدہ کرنے کو افضل قرار دیتی ہیں۔ نظافت و پاکیزگی میںدنیا کی ساری زمینوں کے مقابلہ کربلا کی زمین زیادہ پاک و پاکیزہ ہے ۔ اور ان بلند ہدف و مقصد کے پیش نظر بھی اسی مٹی پر سجدہ کرنا ۔کیونکہ جب انسان نماز میں اپنی پیشانی کو خاک کربلا پر رکھتا ہے تو اس کے ذہن میں ظلم و ستم کے مقابل کھڑے ہونے کی جرات، دین اسلام کی حفاظت کا جذبہ ،اوراس عظیم امام اور ان کے اصحاب و انسار کی قربانی و فداکاری کا تصور ذہن میں گردش کرتا ہے ۔(۹)

خاک کربلا اور اس سے برکت حاصل کرنا

یہاں پر ایک دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ: خاک کربلا پر سجدہ کرنا اس کی افضلیت و برتری کے سبب مستحب قرار دینااس سے بر کت حاصل کر نا نہیں ہے اور اس کو تبرک و شفاء کے لئے پاس میں رکھنا اور چومنا وغیرہ صحیح ہے ؟ یا اولیاء اللہ کے باقی ماندہ آثار کو بوسہ دینا ان کا احترام کرنا توحید پروردگار کے مطابق ہے ؟

اس سوال کے جواب کو ہم اولیاء اللہ اور رہبران اسلام و محبان خدا سے بر کت کے تذکرہ کے ضمن میں بیان کر رہے ہیں آثار اولیائے خدا ،یا شعائر الٰہی کو تبرکا ً و تیمنا ً َچومنا اور مس کرنا کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے ۔بلکہ اس کی شبیہ کوآنحضرت (ص)،اور آپ کے اصحاب کرام کے درمیان دیکھا جا سکتا ہے ۔ نہ فقط رسول خد ا (ص) اور آپ کے اصحاب نے ایسا کیا ہے۔ بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ گذشتہ انبیاء نے بھی اس کو جامہ عمل پہنایا ہے ۔

مسئلہ یہ باقی رہتا ہے کہ اس کی شرعی حالت و نوعیت کیا ہے ؟ تو ہم اس کا جواب خود قرآن مجید سے پیش کر رہے ہیں ۔

۱ ۔ ہم قرآن مجید میں پڑھتے ہیں کہ جب جناب یوسف (ع) نے اپنے بھائیوں سے درگذر کرنے کے بعد ان سے اپنا تعرف کرایا اور یہ فرمایا : میرے اس کپڑے کو لے جا کر میرے والد کے چہرے پر مس کر دو تاکہ ” ان کی گئی ہوئی بصارت واپس آجائے “ اس کے بعد قرآن کہتا ہے ” اس وقت جب بشارت دینے والے نے جناب یعقوب (ع) کے چہرے پر قمیص کو مس کیا پس بینائی واپس آگئی “(۱۰)

یہ کلام پاک اس بات پر گواہ ہے کہ جناب یعقوب (ع) نے حضرت یوسف (ع) کے پیراہن سے تبرک و برکت اور شفاء حاصل کی یعنی جناب یوسف (ع) کی قمیص ان کے والد کی بینائی لوٹانے کا سبب ہوئی ۔پھر کیا کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ ا للہ کے دونوں نبیوں نے دائرہ توحید سے تجاوز کیا ؟ !

۲ ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) خانہ کعبہ کے طواف کے وقت حجر اسود کو چومتے یا مس کرتے تھے۔ بخاری اپنی صحیح میں کہتے ہیں : ایک شخص نے عبد اللہ بن عمر سے حجر اسود کے چھونے اور چومنے کے بارے میں سوال کیا ؟ تو انہوں نے کہا:”رَاَیتُ رَسُولَ اللّٰهِ (ص) یَستَلِمَه‘ وَ یُقبِلُه ۔“(۱۱)

میں نے آنحضرت (ص) اسے چھوتے اور چومتے دیکھا ہے ۔ اگر اس پتھر کا چومنا یا اس کو مس کرنا شرک کا باعث ہوتا تو آنحضرت (ص) اس کام کو ہر گز انجام نہ دیتے !

۳ ۔ صحاح و مسانید اور خود تاریخی کتابوں کے درمیان کثرت یہ سے یہ حدیثیں موجود ہیں۔ کہ اصحاب پیغمبر (ص) تبرک کے لئے نبی اکرم (ص) سے متعلق بعض چیزوں کو جیسے آپ (ص) کے وضو کا پانی، لباس، پانی کے برتن وغیرہ کواپنے پاس رکھتے ،چومتے اور آنکھوں پرلگاتے تھے، لہٰذا اس کے غیر شرعی ہونے کے بارے میں معمولی شبہہ بھی نہیں پایا جاتا ہے ، بلکہ یہ کام اصحاب کے درمیان رائج اور پسندیدہ تھا جیسا کہ ہم کثرت سے ایسی روایات دیکھتے ہیں جو اصحاب کی پسندیدگی کے اوپر دلالت کرتی ہیں ۔ اور بطور مثال پیش خدمت ہیں :

(الف ) بخاری اپنی صحیح میں طویل روایت کے ضمن میں بیان کرتے ہیں: ”وَاِذَا تَوَضَّاٴَکَادُوا یَقتَتِلُونَ عَلیٰ وُضُوئِه ۔“

جب بھی حضرت (ص) وضو کرتے تھے تو نزدیک ہوتا تھا کہ مسلمان ( وضو کا پانی لینے کے لئے ) آپس میں جنگ کرنے لگیں گے۔(۱۲)

(ب)”اِنَّ النَّبِیُّ (صلی الله علیه و آله وسلم)کاَنَ یوُتیٰ باِلصِّبیَانِ فَیَبرُکُ عَلَیهِم “ نبی اکرم (ص) کے پاس بچوں کو لایا جاتا اور حضرت برکت کے لئے ان پر اپنا ہاتھ پھیر دیتے تھے۔(۱۳)

(ج) محمد طاہر مکی تحریر کرتے ہیں : ام ثابت کہتی ہیں :آنحضرت (ص) ہمارے گھر تشریف لائے اور کھڑے کھڑے لٹکی ہوئی مشک میں منھ لگا کر پانی پی لیا تو میں اٹھی اور مشک کا دہانہ کاٹ دیا ۔

اس سے آگے اور کہتے ہیں :کہ اس حدیث کو ترمذی نے روایت کیا ہے :اور کہا ہے یہ حدیث صحیح و حسن ہے اور ریاض الصالحین میں شارح حدیث نے اس حدیژ کی تشریح یوں بیان کی ہے : ام ثابت نے مشک کا دہانہ کاٹ کر (بطور تبرک) اپنے پاس رکھا اور اسے برکت حاصل کرتیتھیں ۔ اسی طرحصحابہ کا طریقہ تھا کہ جہاں حضرت(ص) نے منھ لگا کر پانی پیا ہو وہ بھی تبرک کے لئے وہاں سے پانی پیتے تھے ۔(۱۴)

( د) ”کَانَ رَسوُلَ اللّٰهِ (ص)اِذاَ صَلَّی الَغَدَة جَاٰءَ خَدَمُ المَدِینَة بِاِٰنیَتِهِم فِیهَا المَاءُ فَمَا یُوٴتیَ بِاِنَاءٍ اِلاّ غَمَسَ یَدَه‘ فِیهَا فَرُبَّمَا جَاوٴُوهُ فیِ الَغَدة البَارِدَة فَیَغمُسُ یَدَه‘ فِیهَ ۔“(۱۵)

۸ مزید آگاہی کے لئے ان کتابوں کی طرف رجوع کر سکتے ہیں ۔ ۱)_ صحیح بخاری ، کتاب اشربۃ ۔ ۲)_ موطا مالک ، ج/ ۱ ،ص/ ۱۳۸ ۔ ۳)_ اسد الغابۃ،ج/ ۵ ص/ ۹۰ ۔ ۴)_ مسند احمد ، ج/ ۴ ص/ ۳۲ ۔ ۵)_ الاستیعاب ، در حاشیہ (الاصابۃ ) ج/ ۳ ، ص/ ۶۳۱ ۔ ۶)_ فتح الباری ، ج/ ۱ ص/ ۲۸۱ ، ۲۸۲ ۔ ”مدینہ کے خدام نماز صبح کے وقت پانی سے بھرے برتنوں کو لاتے حضرت (ص) ہر ایک برتن میں اپنے مبارک ہاتھ کو ڈال دیتے تھے یہاں تک کہ جاڑے کے موسم میں بھی وہ حضرت کے پاس برتن لاتے تھے اور حضرت (ع) اپنا ہاتھ ان میں ڈبوتے تھے“ان تمام دلائل کی روشنی میں واضح ہو گیا کہ اولیاء اللہ کے آثار (انکی متعلقہ چیزوں وغیرہ ) سے برکت حاصل کرنا اصحاب کی سیرت ہے پس جو لوگ شیعوں کو اس کام کے کرنے پر مشرک اور دو خدا کی عبادت کرنے کے الفاظ سے یاد کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک توحید اور شرک کی صحیح حلاجی نہیں ہوئی ہے۔

شرک اِسے کہتے ہیںکہخدا کی عبادت کے ساتھ کسی دوسرے کو بھی خدا قرار دیدیں ، یا خدا کے کام کو اس کی طرف اس طریقہ سے نسبت دیں کہ وہ اپنے اصل وجود میںمستقل ہے یا وہ کسی چیز کو وجود میں لانے والا ہے یا وہ خدا سے بے نیاز ہے۔

جب کہ شیعہ حضرات اولیاء اللہ کے آثار کو خدا کی مخلوق اور اس کی پیدا کی ہوئی چیز سمجھتے ہیں ۔ اس لئے کہ وہ چیزیں اپنے وجود اور اپنی پیدا ئش میں خدا کی محتاج ہیں ، شیعہ اہل بیت اطہار (ع) سے بے حد محبت اور مودت کی وجہ سے ان کے باقی ماندہ آثار و تبرکات کا احترام کرتے ہیں ۔اگر شیعہ ،رسول (ص) اور آل رسول (ص) کے حرم اور ان کی ضریح کو چومتے اور چھوتے ہیںتو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ خود رسول (ص) اور ان کے اہل بیت (ع) سے محبت کرتے ہیں اور یہ ایک فطری مسئلہ ہے کہ انسان جس چیز کو پسند کرتا ہے اس سے متعلق چیزوں کو بھی خود بخود دوست رکھنے لگتا ہے ۔

شاعر کہتا ہے :

امر علی الدیار دیار سلمیٰ اقبل ذا الجدار و ذاالجدارا

وما حب الدیارشغفن قلبی ولکن حب من سکن الدیارا

میری محبوبہ سلمیٰ کے محلہ سے گذرتا ہوں تو اس دیوار۔ اور اس دیوار کو چومتا ہوں خود وہ محلہ مجھے خوش نہیںکرتا،بلکہ جو اس محلہ میں مقیم ہے اس کی محبت مجھے وجد و سرور میں لاتی ہے ۔ اسی بنا پر سے خاک کربلا پر سجدہ کرنا ،اسے تبرک کے لئے اپنے پاس رکھنا اور چومنا یہ سب اس لئے ہے کہ فرزند رسول خدا (ص) اور آپ کے انصار و اصحاب نے اس زمین پر ( اسلام کے لئے ) جام شہادت نوش فرمایا ہے ۔

یہ لوگ اللہ کے نیک بندے اور محبوب خدا تھے۔ لہٰذا ان کے تذکرہ کو باقی رکھنا اس کا احترام و تکریم کرنا شعائر الٰہی اور قرآن کریم کو زندہ رکھنا اور ان کے احترام کے مترادف ہے ۔ اور قرآن مجید شعائر اللہ کی عزت کرنے والوں کی یوں توصیف کرتا ہے :( وَمَن یُعظِّمُ شَعَائِرَ اللّٰهِ فَاِنَّهاَ مِن تَقوَیٰ القُلوُبِ ) (۱۶)

”اور جو بھی اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے گا اس کے دل کے تقوی کی علامت ہے ۔“

تمت بالخیر

____________________

(۱) الصواعق المحرقہ ، ص/ ۱۹۲ : ”۔۔۔اذ دخل الحسین (ع) فاقتحم فوثب علی رسول اللّٰه (ص) فجعل رسول اللّٰه (ص) یلثمه و یقبله ، فقال له الملک : اٴتحبه ؟ قال : نعم ، قال : ان امتک ستقتله وان شئت اریک المکان الذی یقبل به فاٴراه فجاء بسهلة او تراب اٴحمر ، فاٴخذته ام سلمة فجعلته فی ثوبها قال ثابت : کنا نقول انها کربلاء و اخرجه ایضا ابو حاتم فی صحیحه وروی احمد نحوه وروی عبد بن حمید وابن احمد نحوه ایضاً وزاد الثانی ایضاً انه (ص) شمها وقال : ریح کرب و بلاء

(۲) الصواعق المحرقۃ ، ص/ ۱۹۳ ۔ ”مر علی بکربلاء عند مسیره الی صفین وحاذی نینوی قریة علی الفرات فوقف وساٴل عن اسم هذه الارض فقیل : کربلاء ، فبکی حتی بل الارض من دموعه ثم قال : دخلت علی رسول الله (ص) وهو یبکی فقلت : ما یبکیک ؟ قال : کان عندی جبرئیل آنفاً واٴخبرنی ان ولدی الحسین (ع) یقتل بشاطئی الفرات بموضع یقال له کربلاء ثم قبض جبرئیل قبضة من تراب شمنی ایاه ، فلم املک عینی اٴن فاضتا

(۳) الصواعق المحرقۃ ، ص/ ۱۹۳ ۔ ” ۔۔۔فقال جبرئیل : ستقتله امتک فقال (ص) : ابنی ؟ قال : نعم وان شئت اخبرتک الارض التی یقتل فیها فاٴشار جبرئیل بیده الی الطف بالعراق ، فاٴخذ منها تربة حمراء فاٴراه ایاها وقال : هذه من تربة مصرعه

(۴) تعلیقات احقاق الحق ، ج/۱۱ ص/ ۳۴۷ ، بحوالہ معجم الکبیر ، و تہذیب التہذیب ، وکفایۃ الطالب ( گنجی شافعی ) و مقتل الحسین ( خوارزمی ) و غیر ہ ۔

(۵) وسائل الشیعہ ، ج/۳ ص/ ۶۰۸ ۔ ”کان لابی عبد الله جعفر بن محمد (ع) خریطه من دیباج صفراء فیها من تربة ابی عبد اللّٰه (ع) فکان اذا حضرته الصلة صبَّه علی سجادته و سجد علیه “

(۶) وسائل الشیعہ ، ج/۳ ص/ ۶۰۸ ۔ ”کان الصادق علیه السلام لا یسجد الا علی تربة الحسین “ تذللاً للّه و استکانة له “

(۷) عوالم العلوم ج/۱۷ ص/ ۱۷۹ ، بحار الانوار ج/۴۴ ص/ ۳۲۹ ۔ ”انی ما خرجت اشراً و لا بطراً و لا مفسداً و لا ظالماً و انما خرجت لطلب الاصلاح فی امة جدی ارید ان آمر بالمعروف و انهی عن المنکر و اسیر بسیرة جدی و ابی علی ابن ابی طالب (ع) “

(۸) سیرتنا و سنتا ص ۱۴۱ ۔ ”الیس اجدر بالتقرب الیٰ اللّه و اقرب بالزلفیٰ لدیه و انسب بالخضوع و العبودیة له تعالیٰ امام حضرته وضع صفح الوجه و الجباه علیٰ تربة فی طیهادروس الدفاع عن الله و مظاهر قدسه و مجلی التحامی عن ناموسه ناموس الاسلام المقدس “”الیس الیق باسرار السجدة علیٰ الارض السجود علیٰ تربة فیها سر المنعة و العظمة و الکبریاء و الجلال للّٰه جّل وعلیٰ و رموز العبودیة و التصاغر دون اللّه باجلیٰ مظاهرها و سماتها؟“”الیس احق بالسجود تربة فیها بینات التوحید والتفانی دونه ؟ تدعوا الیٰ رقة القلب و رحمة الضمیر و الشفقة و التعطف “

(۹)الارض و التربة الحسینیة : ”و لعل السرّ فی الزام الشیعة الامامیّة (استحبابا)بالسجود علیٰ التربة الحسینیّة-مضافا الیٰ ماورد فی فضلها و مضافاً انها اسلم من حیث النظافة و النزاهة من السجود علیٰ سائر الاراضی و ما یطرح علیها من الفرش و البواری و الحصر الملوثة و المملوئة غالباً من الغبار و المیکروبات الکامنة فیها مضافاً الیٰ کل ذالک فلعله من جهة الاغراض العالیة و المقاصد السامیة ان یتذکر المصلی حین یضع جبهته علیٰ تلک التربة تضحیة ذلک الامام نفسه و آل بیته و الصفوة من اصحابه فی سبیل العقیدة والمبداٴ و تحطیم الجور و الفساد و الظلم و الاستبداد “

(۱۰) سورہ یوسف آیۃ ۹۳ و۹۶۔ <اذهبوا بقمیصی هٰذا فالقوه علیٰ وجه ابی یات بصیراً ><فلما ان جاء البشیر القاه علیٰ وجهه فارتدّبصیراً >

(۱۱)صحیح بخاری ، جزء ۲ ، کتاب الحج ، باب تقبیل الحجر ، ص/ ۱۵۱ ۔ ۱۵۲ ط مصر ۔

(۱۲) صحیح بخاری ، ج/ ۳ ،باب ما یجوز من الشروط فی الاسلام ، باب الشروط فی الجهاد و المصالحة ، ص/ ۱۹۵ ۔

(۱۳) الاصابۃ ، ج/ ۱ ، خطبہ کتاب ، ص/ ۷ ط مصر ۔

(۱۴) تبرک الصحابۃ ، (محمد طاہر مکی ) فصل اول ، ص/ ۲۹ ، ترجمہ انصاری ۔

(۱۵) صحیح مسلم ، جزء ۷ ،کتاب الفضائل ، باب قرب النبی علیه السلام من الناس و تبرکهم به ، ص/ ۷۹ ۔

(۱۶) سورہ حج ، آیۃ ۳۲۔


فہرست

مقدمہ آیت اللہ جعفر سبحانی دامت برکاتہ ۴

مٹی پر سجدہ کرنا روح عبادت ہے ۴

پیش گفتار ۷

۱ ۔ شیعوں کا نظریہ ۸

۲ ۔ زمین پر سجدہ کرنے کے دلائل ۹

۳ ۔ خاک پر سجدہ پیغمبر (ص) کی سنت ہے ۱۰

۴ ۔ حکم رسول خدا (ص) زمین پر سجدہ کرو ۱۲

سجدے کی حالت میں عمامہ ہٹانے کا حکم ۱۲

سجدہ حضور (ص) کی نگاہ میں ۱۳

۵ ۔ اصحاب پیغمبر کا طریقہ ۱۹

اصحاب کے بیانات : ۱۹

اصحاب کی سیرت ۱۹

۶ ۔ سجدہ اہل بیت علیہم السلام کی نظر میں ۲۳

کلام اہل بیت (ع) کی حجت اور انکی اتباع کے واجب ہونے کے دلائل ۲۳

آنحضرت (ص) کے اہل بیت (ع) کون ہیں ؟ ۲۴

نتیجہ ۲۶

۷ ۔ سجدہ ائمہ طاہرین (ع) کی نظر میں ۲۷

۸ ۔ مجبوری کی حالت میں سجدہ ۳۱

نتیجہ ۳۳


۹ ۔ خاک کربلا پر سجدہ ۳۵

خاک کربلا پر سجدہ کرنے کی علت ۳۵

خاک کربلا اور اس سے برکت حاصل کرنا ۳۹