@laravelPWA
درباری علماء پرامام سجاد علیہ السلام کی سخت تنقید
  • عنوان: درباری علماء پرامام سجاد علیہ السلام کی سخت تنقید
  • ذریعہ:
  • رہائی کی تاریخ: 14:55:45 8-6-1404

درباری علماء پرامام سجاد علیہ السلام کی سخت تنقید 
  امام زین العابدین علیہ السلام کے حالات اور طرز زندگی سے متعلق مسائل کی تشریح کرتے ہوئے ہم اپنی بحث کے اس موڑ پر آپہنچے ہیں جہاں زمین ایک ایسی عظیم اسلامی تحریک مہمیزکرنے کے لئے ہموار ہوچکی ہے ۔ 
جس کا حکومت علوی اور حکومت اسلامی پرمنتھی ہوناممکن نظر آنے لگا ہے اس صورت حال کو بطور مختصر ہم یوں بیان کر سکتے ہیں کہ امام علیہ السلام کے طریقہ و روش میں کچہ لوگوں کے لئے ( معارف اسلامی کا (بیان و وضاحت کچہ لوگوں کے لئے خود کو منظم و مرتب کرنے کی تلقین اور کچہ افراد وہ بھی تھے جن کے لئے عمل کی راہیں معین و مشخص ہو جاتی تھیں یعنی اب تک کے معروضات کی روشنی میں امام سجاد علیہ السلام کی تصویر کاجو خاکہ ابہر کر سامنے آتا ہے اس کے تحت حضرت (ع) اپنے تیس ،پینتیس سال اس کوشش میں صرف کردیتے ہیں کہ عالم اسلام کے شدت کے ساتھبرگشتہ ماحول کو ایک ایسی سمت کی طرف لے جائیں کہ خود آپ (ع)کے لئے یا آپ (ع)کے جانشینوں کے لئے اس بنیادی ترین جد و جہد اور فعالیت کے لئے موقع فراہم ہو سکے جس کے تحت ایک اسلامی معاشرہ اور الٰہی حکومت قائم ہو سکے ۔ 
چنانچہ اگر امام سجاد علیہ السلام کی ۲ ۵ سالہ سعی و کوشش ،ائمہ علیہم السلام کی زندگی سے جد اکر لی جائے تو ہرگز وہ صورت حال تصور نہیں کی جاسکتی جس کے نتیجہ میں امام صادق علیہ السلام کو اولا حکومت بنی امیہ اور پھر حکومت بنی عباس کے خلاف اتنی کہلی ہوئی واضح پالیسی اپنانے کا موقع ہاتھ آیا ۔ 
  ایک اسلامی معاشرہ وجود میں لانے کے لئے فکری و ذہنی طور پر زمین ہموار کرنا تمام چیزوں سے زیادہ لازم و ضروری ہے ۔ 
اور یہ ذہنی و فکری آمدگی ،اس وقت کے ماحول اور حالات میں جس سے عالم اسلام دو چار تھا ،وہ کام تھا جو یقینا ایک طویل مدت کا طالب ہے اور یہی وہ کام ہے جو امام زین العابدین علیہ السلام نے تمام تر زحمت اور صعوبت و مصیبت کے باوجود اپنے ذمہ لیا تھا ۔ 
  اس عظیم ذمہ داری کے دوش بدوش امام سجاد علیہ السلام کی زندگی میں ایک اور تلاش و جستجو جلوہ گر نظر آتی ہے جو در اصل سابق کی تیار کردہ زمین کو مزید ہموار کرنے کی طرف امام (ع) کے ایک اور اقدام کی مظہر ہے اس طرح کی کوششوں کا ایک بڑا حصہ سیاسی نوعیت کا حامل ہے اور بعض اوقات بے حد سخت شکل اختیار کر لیتا ہے ۔ 
  اس کا ایک نمونہ امام علیہ السلام کا حکومت و قت سےوابستہ اور ان کے کار گزار محدثوں پر کڑی تنقید ہے ۔ 
  موجو دہ بحث میں اسینکتہ پر روشنی ڈالنا مقصود ہے ۔ 
۷۹
  آئمہ علیہم السلام کی زندگی سے متعلق ولولہ انگیز ترین بحثوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اسلامی معاشرہ کی فکر و ثقافت کو رنگ عطا کرنے والے افراد یعنی علماء (۱) و شعراء کے ساتھ ان بزرگواروں کا برتاؤ کیسا رہا ہے ؟ اصل میں عوام کی فکری و ذہنی تربیت و رہبری ان ہی لوگوں کے ہاتھ میں تھی ،خلفاء بنی امیہ و بنی عباس معاشرہ کو جس رخ پر لے جانا پسند کرتے تھے یہ لوگ عوام کو اسی راہ پر لگا دیتے تھے گویا خلفاء کی اطاعت اور تسلیم کا ماحول پیدا کرنا ان ہی حضرات کا کام تھا چنانچہ ایسے افراد کے ساتھ کیا روش اور طرز اپنایا جائے دیگر ائمہ علیہم السلام کی طرح امام سجادعلیہ السلام کی زندگی کا بھی ایک بڑا ہی اہم اور قابل توجہ پہلو ہے۔ 
  حدیث گڑھنا ظالموں کی ایک ضرورت 
جیسا کہ ہم جانتے ہیں خلفائے ظلم و جور کے سامنے ،اسلام کا عقیدہ رکہنے والوں پر اپنی حکومت قائم رکہنے کے لئے اس کے علاوہ کوئی دوسرا چارا ہی نہیں تھا کہ وہ جو کچہ بھی انجام دینا چاہتے ہیں 
----------- 
(۱)-یہاں علماء سے مراد اس زمانہ کے علمائے دین ہیں جن میں محدثین ،مفسرین ( قراء ، قاضی صاحبان اور زاہد منشی سب ہی شامل تھے ۔ 
اس کی طرف لوگوں کے قلبی ایمان کو جذب کریں کیوں کہ اس وقت زمانہ صدر اسلام گزرے ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے تھے لوگوں کے دلوں میں اسلام کا عقیدہ و ایمان باقی تھا اگر لوگوں کو یقین پیدا ہو جاتا کہ یہ جو ظالم کی انہوں نے بیعت کی ہے درست نہیں ہے 
  یا یہ خلیفہ  رسول اللہ (ص) کی خلافت کے لائق نہیں ہے یقینا اپنے آپ کو ان کے حوالے نہ کرتے۔ 
  اور اگر یہ بات ہم سب کے لئے قبول نہ کریں تو بھی اسلامی معاشرے میں یقینا ایسے افراد کثرت سے پائے جاتے تھے جو پورے ایمان قلبی کے ساتھ خلفاء کے دربار کی غیر اسلامی صورت حال کو تحمل کر رہے تھے یعنی ان کا خیال تھا کہ یہی اسلامی شان ہے ۔ 
یہی وجہ تھی کہ خلفائے جور نے اپنے دور کے زیادہ سے زیادہ دینی علماء اور محدثین کے خدمات سے استفادہ کیا اور ان لوگوں کو جو کچہ وہ چاہتے تھے اس کے لئے آمادہ کیا اور پھر ان سے کہا کہ ان کی مرضی کے مطابق خود پیغمبر اسلام (ص (اور ان کے بزرگ اصحاب سے جعلی حدیثیں روایت کریں ۔ 

https://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=47