@laravelPWA
امام زین العابدین (ع) کی زندگی کا ایک مجموعی خاکہ
  • عنوان: امام زین العابدین (ع) کی زندگی کا ایک مجموعی خاکہ
  • ذریعہ:
  • رہائی کی تاریخ: 13:19:23 8-6-1404

امام زین العابدین (ع) کی زندگی کا ایک مجموعی خاکہ
امام زین العابدین علیہ السلام نے ۶۱ ئھ میں عاشور کے دن امامت کی عظیم ذمہ داریاں اپنے کاندھوں پر سنبھال لیں اور ۹۴ ء ہجری میں آپ کو زہر سے شہید کر دیا گیا ۔اس پورے عرصے میں آپ (ع) اسی مقصد کی تکمیل کے لئے کوشاں رہے اب آپ مذکورہ نقطہ نگاہ کی روشنی میں حضرت(ع) کی جزئیات زندگی کا جائزہ لیجئے کہ آپ (ع) اس ذیل میں کن مراحل سے گزرتے رہے کیا طریقہ کار اپنائے اور پھر کس حد تک کامیابیاں حاصل ہوئیں ۔
وہ تمام ارشادات جو آپ (ع) کے دہن مبارک سے جاری ہوئے ، وہ اعمال جو آپ(ع) نے انجام دیئے وہ دعائیں جو لب مبارک تک آئیں وہ مناجاتیں اور راز و نیاز کی باتیں جو آج صحیفہ کاملہ کی شکل میں موجود ہےں ان سب کی امام (ع) کے اسی بنیادی موقف کی روشنی میں تفسیر و تعبیر کی جانی چاہئے چنانچہ اس پور دور امامت میں مختلف موقعوں پر حضرت (ع) کے موقف اور فیصلوں کو بھی اسی عنوان سے دیکھنا چاہئے مثال کے طور پر ------------ :
۱ ۔ اسیری کے دوران کوفہ میں عبید اللہ ابن زیاد اور پھر شام میں یزید پلید کے مقابلہ میں آپ (ع) کا موقف جو شجاعت و فداکاری سے بھرا ہوا تھا ۔
۲ ۔ مسرف بن عقبہ کے مقابلہ میں -- جس کو یزید نے اپنی حکومت کے تیسرے سال مدینہ رسول (ص) کی تباہی اور اموال مسلمین کی غارت گری پر مامور کیا تھا -- امام (ع) کا موقف نہایت ہی نرم تھا ۔
۳ ۔ عبد الملک بن مروان جس کو خلفائے بنو امیہ میں طاقتور ترین اور چالاک ترین خلیفہ شمار کیا جاتا ہے ، اس کے مقابلہ میں امام (ع) کا موقف کبھی تو بہت ہی سخت اور کبھی بہت ہی نرم نظر آتا ہے -------
اسی طرح --------
۴ ۔ عمر بن عبد العزیز کے ساتھ آپ کا برتاؤ
۵ ۔ اپنے اصحاب اور رفقاء کے ساتھ آپ (ع) کا سلوک اور دوستانہ نصیحتیں اور
۶ ۔ ظالم و جابر حکومت اور اس کے عملے سے وابستہ درباری علماء کے ساتھ امام علیہ السلام کا رویہ؟
ان تمام موقفوں اور اقدامات کا بڑی باریک بینی کے ساتھ مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے میں تو اسی نتیجہ پر بہنچا ہوں کہ اگر اس بنیادی موقف کو پیش نظر رکھتے ہوئے تمام جزئیات و حوادث کا جائزہ لیا جائے تو بڑے ہی معنی خیز حقائق سامنے آئیں گے ۔چنانچہ اگر اسی زاویہ سے امام کی حیات طیبہ کا مطالعہ کریں تو عظیم ہستی ایک ایسا انسان نظر آئے گی جو اس روئے زمین پر خدا وند وحدہ لا شریک کی حکومت قائم کرنے اور اسلام کو اس کی اصل شکل میں نافذ کرنے کو ہی اپنا مقدس مقصد سمجھتے ہوئے اپنی تمام ترکوشش و کاوش بروئے کار لاتا رہا ہے اور جس نے پختہ ترین اور کار آمد ترین کا رگردگی سے بہرہ مند ہوکر نہ صرف یہ کہ اسلامی قافلہ کو اس پر اگندگی اور پریشاں حالی سے نجات دلائی ہے جو واقعہ عاشور کے بعد دنیا ئے اسلام پر مسلط ہو چکی تھی بلکہ قابل دید حد تک اس کو آگے بھی بڑھایا ہے ۔ دو اہم اور بنیادی فریضے جو ہمارے تمام ائمہ علیہم السلام کو سونپے گئے تھے ( ہم ابھی ان کی طرف اشارہ کریں گے ) ان کو امام سجاد علیہ السلام نے بڑی خوش اسلوبی سے جامہ عمل پہنایا ہے ۔ آپ (ع) پوری سیاسی بصیرت اور شجاعت و شہامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہایت ہی احتیاط اور باریک بینی سے اپنے فرائض انجام دیتے رہے یہاں تک کہ تقریبا ۳۵ سال کی انتھک جد و جہد اور الٰہی نمایندگی کی عظیم ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے بعد آپ (ع) سرفراز و سر بلند اس دارفانی سے کوچ کر گئے اور اپنے بعد امامت و ولایت کا عظیم بار اپنے فرزندو جانشین امام محمد باقر علیہ السلام کے سپرد فرمادیئے۔
چنانچہ امام محمد باقر علیہ السلام کو منصب امامت اور حکومت اسلامی کی تشکیل کی ذمہ داریوں کا سونپا جانا روایات میں بڑے ہی واضح الفاظ کے ساتھ موجود ہے ۔ ایک روایت کے مطابق امام زین العابدین علیہ السلام نے اپنے فرزندوں کو جمع کیا اور محمد بن علی (ع) یعنی امام محمد باقر علیہ السلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
” یہ صندوق اور یہ اسلحہ سنبھالو یہ تمھارے ہاتھوں میں امانت ہے “
اور جب صندوق کھولا گیا تو اس میں قرآن اور کتاب تھی۔
میرے خیال میں اسلحہ سے ، انقلابی قیادت و رہبری کی طرف اشارہ ،اور قرآن و کتاب ، اسلامی افکار و نظریات کی علامت ہے اور یہ چیزیں امام (ع) نے اپنے بعد آنے والے امام کی تحویل میں دے کر نہایت ہی اطمینان و سکون کے ساتھ آگاہ و بیدار انسانوں اور خدا وند عالم کی نظر میں سر فراز وسرخ رواس دنیا کو خیر باد کہا ہے ۔
یہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی حیات طیبہ کا ایک مجموعی خاکہ ہے اب اگر ہم تمام جزئیات زندگی کا تفصیلی جائزہ لینا چاہیں تو صورت حال کو پہلے سے مشخص کر لینا چاہئے ۔
حضرت (ع) کی حیات مبارکہ میں ایک مختصر سا دور وہ بھی ہے جس کو منارہ زندگی سے تعبیر کرنا غلط نہ ہوگا ۔ میں چاہتا ہوں کہ سب سے پہلے اسی کا ذکر کروں اور پھر امام کی معمول کے تحت عادی زندگی ، اس زمانہ کے حالات و کو ائف اور ان کے تقاضوں کی تشریح کروں گا۔
در اصل امام علیہ السلام کی زندگی کاوہ مختصر اور تاریخ ساز دور ، معرکہ کربلا کے بعد آپ (ع) کی اسیری کازمانہ ہے جومدت کے اعتبار سے مختصرلیکن واقعات وحالات کے اعتبارنہایت ہی ہیجان اور وسبق آموز ہے جہاںاسیری کے بعد بھی آپ کا موقف بہت ہی سخت اور مزاحمت آمیز رہتاہے ۔بیما راورقید ہونے کے باوجودکسی عظیم مردمجاہد کے ماننداپنے قول وفعل کے ذریعہ شجاعت و دلیری کے بہترین نمونہ پیش کئے ہیں ۔اس دوران امام کا طرز عمل حضرت (ع) کی بقیہ عام زندگی سے -- جیسا کہ آپ آگے ملاحظہ فرمائیں گے -- بالکل مختلف نظر آتا ہے ۔ امام علیہ السلام کی زندگی کے اصلی دور میں آپ (ع) کی حکمت عملی مستحکم بنیاد پرپڑے ہی جچے تلے انداز میں نرم روی کے ساتھ اپنے مقصد کی طرف آگے بڑھنا ہے حتی کہ بعض وقت عبد الملک بن مروان کے ساتھ نہ صرف ایک محفل میں بیٹھے ہوئے نظر آئے ہیں بلکہ اس کے ساتھ آپ (ع) کا رویہ بھی نرم نظر آتا ہے جب کہ اس مختصر مدت ( ایام اسیری ) میں امام (ع) کے اقدامات بالکل کسی پر جوش انقلابی کے مانند نظر آتے ہیں جس کے لئے کوئی معمولی سی بات بھی برداشت کر لینا ممکن نہیں ہے لوگوں کے سامنے بلکہ پھرے مجمع میں بھی مغرور و بااقتدار دشمن کا دندان شکن جواب دینے میں کسی طرح کا تامل نہیں کرتے ۔
کوفہ کا درندہ صفت خونخوار حاکم ، عبد اللہ ابن زیاد جس کی تلوار سے خون ٹپک رہا ہے جو فرزند رسول (ص) امام حسین علیہ السلام اور ان کے اعوان و انصار کا خون بہا کر مست و مغرور اور کامیابی کے نشہ میں بالکل چور ہے اس کے مقابلہ میں حضرت (ع) ایسا بے باک اور سخت لب و لہجہ اختیار کرتے ہیں کہ ابن زیاد آپ (ع) کے قتل کا حکم جاری کر دیتا ہے چنانچہ اگر جناب زینب سلام اللہ علیہا ڈھال کے مانند آپ (ع) کے سامنے آکر یہ نہ کہتیں کہ میں اپنے جیتے جی ایسا ہرگز نہ ہونے دوں گی اور ایک عورت کے قتل کا مسئلہ درپیش نہ آتا نیز یہ کہ قیدی کے طور پر دربار شام میں حاضر کرنا مقصود نہ ہوتا تو عجب نہیں ابن زیاد امام زین العابدین علیہ السلام کے خون سے بھی اپنے ہاتھ رنگین کر لیتا۔
بازار کوفہ میں آپ (ع) اپنی پھوپھی جناب زینت (ع)اوراپنی بہن جناب سکینہ کے ساتھ ہم صدا ہو کر تقریر کرتے ہیں لوگوں میں جوش و خروش پیدا کرتے ہیں اور حقیقتوں کا انکشاف کر دیتے ہیں ۔
اسی طرح شام میں چاہے وہ یزید کا دربار ہو یا مسجد میں لوگوں کا بے پناہ ہجوم ، بڑے ہی واضح الفاظ میں دشمن کی سازشوںسے پردہ اٹھاکر حقائق کا برملا اظہار کرتے رہتے ہیں چنانچہ حضرت (ع) کے ان تمام خطبوں اور تقریروں میں اہلبیت (ع)کی حقانیت ، خلافت کے سلسلہ میں ان کا استحقاق اور موجودہ حکومت کے جرائم اور ظلم و زیادتی کا پردہ چاک کرتے ہوئے نہایت ہی تلخ اور درشت لب و لہجہ میں غافل و ناآگاہ عوام کو جھنجوڑنے اور بیدار کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔
یہاں ان خطبوں کو نقل کرکے امام (ع) کے فقروں کی گہرائی پیش کرنے کی گنجائش نظر نہیں آتی کیوں کہ یہ خود ایک مستقل کام ہے اور اگر کوئی شخص ان خطبوں کی تشریح و تفسیر کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ ان بنیادی حقائق کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک ایک لفظ کی تحقیق اور چھان بین کرے ۔ یہ ہے امام (ع) کی اسارت اور قید و بند کی زندگی جو جرات و ہمت اورشجاعت و دلاوری سے معمور نظر آتی ہے ۔
رہائی کے بعد
ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کون سی وجوہات تھیں جن کے پیش نظر امام علیہ السلام کے موقف میں ایسی تبدیلی پیدا ہوگئی کہ اب قید سے چھوٹ کر آپ نہایت ہی نرم روی کا مظاہرہ کرنے لگتے ہیں تقیہ سے کام لیتے ہیں ۔ اپنے تیز و تند انقلابی اقدامات پر دعا اور نرم روی کا پردہ ڈال دیتے ہیں تمام امور بڑی خاموشی کے ساتھ انجام دیتے ہیں جب کہ قید و بند کے عالم میں آپ نے ایسے دلیرانہ عزائم کا اظہار اور مخاصمت آمیز اقدام فرمایا ہے؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ ایک استثنا ئی دور تھا یہاں جناب امام سجاد علیہ السلام کو فرائض امامت کی ادائیگی اور حکومت الٰہی و اسلامی کی تشکیل کے لئے مواقع فراہمی کے ساتھ ہی ساتھ عاشور کو بہنے والے بے گناہوں کے خون کی ترجمانی بھی کرنی تھی ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہاں حضرت سجاد علیہ السلام کے دہن میں ان کی اپنی زبان نہ تھی بلکہ شمشیر سے خاموش کر دی جانے والی حسین (ع) کی زبان اس وقت کوفہ و شام کی منزلوں سے گزر نے والے اس انقلابی جوان کو ودیعت کر دی گئی تھی ۔
چنانچہ اگر اس منزل میں امام زین العابدین علیہ السلام خاموش رہ جاتے اور اس جرات و ہمت اور جواں مردی و بیباکی کے ساتھ حقائق کی وضاحت کرکے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی نہ کر دیئے ہوتے تو آئندہ آپ (ع) کے مقاصد کی تکمیل کی تمام راہیں مسدود ہو کر رہ جاتیں کیوں کہ یہ امام حسین علیہ السلام کا جوش مارتا ہوا خون ہی تھا جس نے نہ صرف آپ (ع) کے لئے میدان ہموار کر دیا بلکہ تاریخ تشیع میں جتنی بھی انقلابی تحریکیں برپا ہوئی ہیں ان سب میں خون حسین علیہ السلام کی گرمی شامل نظر آتی ہے چنانچہ امام زین العابدین علیہ السلام سب سے پہلے لوگوں کو موجودہ صورت حال سے خبر دار کر دینا ضروری سمجھتے ہیںتاکہ آئندہ اپنے اسی عمل کے پر تو میں بنیادی و اصولی ،عمیق و متین طولانی مخالفتوں کا سلسلہ شروع کر سکیں اور ظاہر ہے تیز و تند زبان استعمال کئے بغیر لوگوں کو متنبہ اور ہوشیار کرنا ممکن نہ ہوتا ۔
اس قید و بند کے سفر میں حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کا کردار جناب زینت سلام اللہ علیہا کے کردار سے بالکل ہم آہنگ ہے دونوں کا مقصد حسینی انقلاب اور پیغامات کی تبلیغ و اشاعت ہے اگر لوگ اس بات سے واقف ہو جائیں کہ حسین علیہ السلام قتل کر دیئے گئے ،کیوں قتل کر دیئے گئے؟ اور کس طرح قتل کئے گئے تو آئندہ اسلام اور اہلبیت علیہم السلام کی دعوت ایک نیا رنگ اختیار کر لے گی لیکن اگر عوام ان حقیقتوں سے ناواقف رہ گئے تو انداز کچھ اور ہوگا۔
لہٰذ ا معاشرہ میں ان حقائق کو عام کر دینے اور صحیح طور پر حسینی (ع) انقلاب کو پہچنوانے کے لئے اپنا تمام سرمایہ بروئے کا ر لاکر جہاں تک ممکن ہو سکے اس کام کو انجام دینا ضروری تھا ۔ چنانچہ حضرت سید سجاد علیہ السلام کا وجود بھی جناب سکینہ (ع) ،جناب فاطمہ صغریٰ (ع) ، خود جناب زینب سلام اللہ علیہا بلکہ ایک ایک قیدی کے مانند ( اپنی اپنی صلاحیت کے اعتبار سے) اپنے اندر ایک پیغام لئے ہوئے ہے ۔ ضروری تھا کہ یہ تمام انقلابی قوتیں مجتمع ہو کر غربت و بیکسی میں بہا دیئے جانے والے حسینی (ع) خون کی سرخی کربلا سے لے کر مدینہ تک تمام بڑے بڑے اسلامی مراکز میں پھیلادیں ۔
جس وقت امام سجاد علیہ السلام مدینہ میں وارد ہوں لوگوں کی بے چین و متجسس سوالی نگاہوں ، چہروں اور زبانوں کے جواب میں آپ (ع) ان کے سامنے حقائق بیان کریں اور یہ امام کی آئندہ مہم کا نقشہ اول ہے ۔اسی لئے ہم نے امام زین العابدین علیہ السلام کے اس مختصر دور حیات کو ایک استثنائی دور سے تعبیر کیا ہے ۔
اس مہم کا دوسرا دور اس وقت شروع ہوتا ہے جب آپ (ع) مدینہ رسول (ص) میں ایک محترم شہری کی حیثیت سے اپنی زندگی کا آغاز کرتے ہیں اور اپنا کا م پیغمبر اسلام (ص)کے گھر اور آپ (ع) کے حرم ( مسجد النبی (ص)) سے آغاز کرتے ہیں ۔ حضرت امام سجاد علیہ السلام کے آئندہ موقف اور طریقہ کار کو سمجھنے کے لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے کی حالت و کیفیت اور اس کے تقاضوں پر بھی ایک تحقیقی نظر ڈال لی جائے چنانچہ اس موضوع پر آگے روشنی ڈالیں گے ۔
امام زین العابدین علیہ السلام نے اپنی تحریک کس طرح شروع کی ، آپ (ع) کا مقصد اور طریقہ کار کیا تھا ان تمام باتوں کو معلوم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ اس وقت کی حکمراں سیاسی مشینری سے بیزار و متنفر مخالفین کے مجموعی حالات اور بنی امیہ کے بارہ میں ان کے خیالات ساتھ ہی ساتھ اہلبیت کی کلی صورت حال پر ایک نظر ڈال لی جائے اور یہ امام زین العابدین علیہ السلام کی زندگی کا ایک مستقل باب ہے چنانچہ اگر تفصیل کے ساتھ اس موضوع پر گفتگو ممکن ہوئی تو امام علیہ السلام کی زندگی سے متعلق بہت سی مشکلات اور الجھنےں حل ہو جائیں گی ۔ اوربعد اس کے حضرت (ع) کی طرف سے کئے جانے والے اقدامات کی خصوصیات پر روشنی ڈالی جائے گی (البتہ ہم نہیں کہہ سکتے کہ کس حد تک تفصیل میں جانا ہمارے لئے ممکن ہوگا)
ماحول
جب عاشور کا المناک حادثہ رو نما ہوا ،پوری اسلامی دنیا میں جہاں جہاں بھی یہ خبر پہنچی خصوصا عراق اور حجاز میں مقیم ائمہ علیہم السلام کے شیعوں اور طرفداروں میں ایک عجیب رعب و دحشت کی فضا پیدا ہو گئی کیوں کہ یہ محسوس کیا جانے لگا کہ یزیدی حکومت اپنی حاکمیت کو مسلط کرنے کے لئے کچھ بھی کر سکتی ہے حتیٰ اس کو عالم اسلام کی جانی پہچانی عظیم ،مقدس اور معتبر ترین ہستی فرزند رسول(ص)حسین ابن علی علیہما السلام کو بے دردی کے ساتھ قتل کرنے میں بھی کسی طرح کا کوئی دریغ نہیںہے ۔اور اس رعب و وحشت میں جس کے آثار کو فہ و مدینہ میں کچھ زیادہ ہی نمایاں تھے ، جو کچھ کمی رہ گئی تھی وہ بھی اس وقت پوری ہو گئی جب کچھ ہی عرصہ بعد بعض دوسرے لرزہ خیز حوادث رو نما ہوئے جن میں سر فہرست حادثہ ” حرہ“ ہے ۔
اہلبیت طاہرین علیہم السلام کے زیر اثر علاقوں یعنی حجاز (خصوصا مدینہ) اور عراق ( خصوصا کوفہ) میں بڑا ہی گھٹن کا ماحول پیدا ہو گیا تھا تعلقات و ارتباطات کافی کمزور ہو چکے تھے ۔ وہ لوگ جو ائمہ طاہرین علیہم السلام کے طرفدار تھے اور بنو امیہ کے خلافت و حکومت کے زبردست مخالفین میں شمار ہوتے تھے بڑی ہی کس مپرسی اور شک و شبہ کی حالت میں زندگی بسر کر رہے تھے ۔
امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک روایت منقول ہے کہ حضرت (ع) گزشتہ ائمہ کے دور کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
”ارتدالناس بعد الحسین (ع)الا ثلاثة “
یعنی امام حسین علیہ السلام کے بعد تین افراد کے علاوہ سارے لوگ مرتد ہو گئے ، ایک روایت میں پانچ افراد اور بعض دوسری روایتوں میں سات افراد تک کا ذکر ملتا ہے ۔
ایک روایت جو خود امام زین العابدین علیہ السلام سے منقول ہے اور جس کے راوی ابو عمر مہدی ہیں امام علیہ السلام فرماتے ہیں :
”ما بمکة والمدینة عشرین رجلا یحبنا “(۲)
پورے مکہ و مدینہ میں بیس افراد بھی ایسے نہیں ہیں جو ہم سے محبت کرتے ہوں ۔
ہم نے یہ دونوں حدیثیں اس لئے نقل کی ہیں کہ اہلبیت طاہرین علیہم السلام اوران کے طرفداروں کے بارہ میں عالم اسلام کی مجموعی صورت حال کااندازہ لگایاجاسکے ۔دراصل اس وقت ایسی خوف وہراس کی فضاپیداہوگی تھی کہ ائمہ (ع)کے طرفدارمتفرق وپراگندہ مایوس ومرعوب زندگی گزاررہے تھے اور کسی طرح کی اجتماعی تحریک ممکن نہ تھی ۔ البتہ جیسا کہ امام جعفر صادق علیہ السلام مذکورہ بالا روایات میں ارشاد فرماتے ہیں :
”ثم ان الناس لحقوا و کثروا “
پھر آہستہ آہستہ لوگ اہل بیت علیہم السلام سے ملحق ہوتے گئے اور تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا ۔

https://alhassanain.org/urdu/?com=book&id=47