نوحہ و مرثیہ خوانی ، ماتم و گریہ و زاری کا ثبوت اہلسنت کتب سے/ قسط_چہارم
نوحہ و مرثیہ خوانی ، ماتم اور گریہ و زاری کو ہم پہلے بہی واضح کر چکے ہیں اور ثابت بہی کر چکے ہیں کہ یہ کوئی بدعت نہیں ہے کیونکہ اگر ہم اسے فقط تین دن تک منانا تصور بہی کر لیں تو بہی یہ قرآن و حدیث کے خلاف ہے کیونکہ تین دن کا عقیدہ رکہنے والے حضرت یعقوب علیہ السلام کا چالیس سال رو رو کر آنکہیں سفید کرنے پر کیا فتویٰ لگائیں گے؟؟
اس کے علاوہ متعدد امثال موجود ہیں جیسا کہ ہم نے پہلے بہی واضح کیا ہے کہ یہ ایک فطری عمل ہے اس کو بدعت بدعت نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ سنت بہی ہے ، باقی اب ہم امام حسین علیہ السلام کی شہادت پر نوحہ و مرثیہ خوانی اور ماتم کو ثابت کریں گے، شہادتِ امام حسین علیہ السلام سے پہلے بہی اور بعد میں بہی رسول الله ص نے گریہ و زاری کی ہے نیز غمِ حسین علیہ السلام میں رونا ثواب کا کام ہے جیسا کہ امام حسین علیہ السلام خود فرماتے ہیں:
متن روایت احمد بن حنبل،بسند صحیح :
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِسْرَائِیلَ، قَالَ: رَأَیتُ فِی کتَابِ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ رَحِمَهُ اللَّهُ بِخَطِّ یدِهِ، نا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قثنا الرَّبِیعُ بْنُ مُنْذِرٍ، عَنْ أَبِیهِ، قَالَ: کانَ حُسَینُ بْنُ عَلِی، یقُولُ: مَنْ دَمَعَتَا عَینَاهُ فِینَا دَمْعَهً، أَوْ قَطَرَتْ عَینَاهُ فِینَا قَطْرَهً، أَثْوَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ الْجَنَّةَ...
[الحدیث صحیح] فضائل الصحابه لابن حنبل، ج ۲، ص ۶۷۵، ح ۱۱۵۴
"سیدنا حسین ابن علی ع سے روایت ہے کہ ہمارے حق میں جس شخص کی آنکہ سے ایک آنسو یا ایک قطرہ ٹپک پڑا الله اسے جنت میں ٹہہرائے گا"
اب چونکہ واقعہ کربلا میں ہونے والے ظلم سے کوئی بہی انکار نہیں کر سکتا کہ جنابِ رسول خدا ص کے بعد ان کی اہلبیت ع سے یہ سلوک اور وہ اہلبیت ع جن کو رسول الله ص نے امت کیلئے کشتی نجات قرار دیا اسی لئے غمِ حسین و اہلبیت علیہم السلام ایک فطری عمل ہے کہ خداوند نے ان کے پیروکاروں اور ماننے والوں کے دل میں ان کی مودت ڈال دی ہے اور جنابِ رسول خدا ص سے تو امام حسین علیہ السلام کا رونا بہی برداشت نہیں ہوتا تہا تو ان کی شہادت اور پہر نبی زادیوں کا پردہ چہن جانا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنانا کیسے برداشت ہو گا جنابِ رسول خدا ص خود فرماتے ہیں:
حدثنا علي بن عبد العزيز ، ثنا أبو نعيم ، ثنا عبد السلام بن حرب ، عن يزيد بن أبي زياد ، قال : خرج النبي صلى الله عليه وسلم من بيت عائشة رضي الله عنها ، فمر على بيت فاطمة ، فسمع حسينا يبكي رضي الله عنه ، فقال : " ألم تعلمي أن بكاءه يؤذيني ؟ "
[المعجم الكبير للطبراني، باب الحاء، حدیث 2778]
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/ المناقب
"یزید بن ابی زیاد کہتے ہیں: نبی کریم صلى الله عليه و اله وسلم حضرت عائشہ کے گہر سے نکلے تو حضرت فاطمہ سلام الله عیلہا کے گہر کے پاس سے گزرے تو آپ ص نے حضرت امام حسین ع کو روتے ہوئے سنا تو آپ ص نے فرمایا: اے بیٹی! کیا تو نہیں جانتی کہ اس (حسین ع) کے رونے سے مجہے تکلیف ہوتی ہے"
������ لہذٰا بدعت بدعت کے نعرے لگانے سے بہتر ہے کہ اپنے اندر مودت اہلبیت ع پیدا کریں ، جن کے دل میں آل محمد ص کی محبت ہو گی ان سے اہلبیت ع پر کیا گیا ظلم و ستم برداشت نہیں ہوتا اور خودبخود آنکہوں سے اشک جاری ہو جاتے ہیں یہی تو درحقیقت سنت رسول الله ص ہے اب ہم کچہ حقائق بیان کریں گے جس سے شہادت امام حسین علیہ السلام پر نوحہ و مرثیہ خوانی اور ماتم ثابت ہو گا اور ان شاءاللہ تعصب کی عینک اتار کر پڑہنے والے مسلمان بدعت بدعت کے نعرے نہیں لگائیں گے باقی ہدایت دینا پروردگارِ عالم کا کام ہے۔
������ شہادتِ امام حسین ع پر ماتم کا ثبوت ������
������ جب اسیرانِ کربلا میدان کار زار کے پاس سے گزرے اور انہوں نے وہاں حضرت امام حسین ع اور آپ ع کے اصحاب کو پڑے ہوئے دیکہا تو عورتیں روئیں اور چلائیں اور جنابِ زینب بنت علی علیہ السلام نے روتے ہوئے اپنے بہائی امام حسین ع کا مرثیہ پڑہا:
اے محمد! اے محمد! الله تعالیٰ اور آسمان کے فرشتے آپ ص پر درود پڑہیں ، حسین ع خون میں لتہڑا اور مقطوع الاعضاء ہو کر میدان میں پڑا ہے ، اے محمد! آپ ص کی بیٹیاں قیدی ہیں اور آپ ص کی ذریت قتل ہوئی پڑی ہے جس پر صبا خاک اڑاتی ہے"
������ راوی بیان کرتا ہے خدا کی قسم زینب بنت علی ع نے ہر دوست اور دشمن کو رلا دیا
"قرة بن قیس نے بیان کیا ہے کہ جب عورتیں مقتولین کے پاس سے گزریں تو وہ چلائیں اور انہوں نے اپنے رخساروں پر تمانچے مارے"
������بحوالہ:
[البدایہ والنہایہ ، ابن کثیر ، جلد ہشتم ، باب: 61 ہ میں رونما ہونے والے حالات و واقعات / صفحہ 248 ، نفیس اکیڈمی]
������جب بنو ہاشم کی عورتوں نے (امام حسین ع کی شہادت کا) اعلان سنا تو ان کی گریہ و نوحہ کی آوازیں بلند ہو گئیں اور عمرو بن سعید کہنے لگا:
"یہ حضرت عثمان بن عفان کی بیویوں کے رونے کا بدلہ ہے"
������بحوالہ:
[البدایہ والنہایہ ، ابن کثیر ، جلد ہشتم ، باب: 61 ہ میں رونما ہونے والے حالات و واقعات / صفحہ 252 ، نفیس اکیڈمی]
������ تو یہاں پہ قاتلان حسین ع کا مقصد بہی بینقاب ہوا کیونکہ مولا علی علیہ السلام کے خلاف جنگ جمل و صفین کا بہی یہی ڈرامہ تہا کہ علی علیہ السلام سے خلیفہ عثمان بن عفان کا بدلہ لیا جائے اب کربلا میں پہر وہی مقصد اسی طرح تاریخ طبری میں بہی واضح ہے:
"عبدالملک کہتا ہے میں نے قتلِ حسین ع کی ندا کر دی اس کو سن کر زنان بنی ہاشم نے اپنے اپنے گہروں میں جیسا نوحہ و ماتم قتلِ حسین ع پر کیا میں نے کبہی نہ سنا تہا"
اس پر عمرو بن سعید نے ہنس کر ایک شعر عمرو بن سعدی کا پڑہا اور شعر پڑہ کر کہا:
"عثمان بن عفان کے قتل پر جو فریاد و زاری ہوئی تہی یہ نوحہ و ماتم اسی کے بدلہ میں ہے"
������بحوالہ:
[تاریخ طبری ، امام ابن جریر طبری ، جلد چہارم حصہ اوّل / صفحہ 241 ، نفیس اکیڈمی]
������ نیز اسی صفحہ پر امام حسین ع کی شہادت کی خبر سن کر حضرت ام لقمان بنت عقیل کا نوحہ و مرثیہ بہی ہے
������ جب اسیرانِ کربلا کو ابن زیاد کی طرف کوفہ روانہ کیا گیا تو اس وقت بہی ان بیبیوں نے شہدائے کربلا کا ماتم کیا اور اپنے منہ پیٹے ملاحظہ فرمائیں:
"جب یہ بیبیاں امام حسین بن علی ع کی لاش اور ان کے عزیزوں اور فرزندوں کی لاشوں کی طرف سے گزریں تو وہ آہ و نالہ کرنے لگیں اور اپنے منہ پیٹنے لگیں"
������بحوالہ:
[تاریخ طبری ، امام ابن جریر طبری ، جلد چہارم حصہ اوّل / صفحہ 232 ، نفیس اکیڈمی]
������ "واقدی کہتا ہے اسیرانِ کربلا مدینہ کے قریب پہنچے تو مدینہ میں کوئی بہی باقی نہ رہا سب چیخ و پکار کرتے ہوئے باہر نکل آئے ، زینب بنت عقیل بن ابی طالب اس حالت میں باہر آئیں کہ ان کا چہرہ کہلا ہوا تہا ، بال پریشان تہے (بکہرے ہوئے) وہ وامحمداہ فریاد کر رہی تہیں واحسیناہ وااخوتاہ وا اہلاہ وامحمداہ ، ہائے حسین ہائے میرے بہائی ہائے میرے عزیز"
������ بحوالہ:
[تذكرة الخواص ، امام ابنِ الجوزی ، صفحہ 295]
اس کے علاوہ اسی کتاب میں چند مزید حقائق کی طرف رجوع بہی کر سکتے ہیں:
[تذكرة الخواص ، امام ابنِ الجوزی ، صفحات 277_284_285_300]
������ جنات کا امام حسین ع پر نوحہ کرنا ������
ہم ارے کچہ لوگ یہ اعتراض کر رہے ہوتے ہیں کہ شہید پر رونا نہیں چاہئے نہ ہی نوحہ و مرثیہ خوانی و ماتم کرنا چاہئے جبکہ ہم پہلے ہی یہ تمام چیزیں ثابت کر چکے ہیں اب مقام تفکر ہے شہادتِ امام حسین ع سے پہلے بہی اور بعد جنابِ رسول خدا ص نے گریہ و زاری کی نیز اہلبیت علیہم السلام و کثیر صحابہ کرام رض سے یہ بات ثابت کر چکے ہیں اب چونکہ امام فقط ہمارا نہیں پوری کائنات کی مخلوق کا امام ہوتا ہے اس لئے امام حسین ع کی شہادت پر زمین و آسمان جن و انس سب سے گریہ و زاری کی نوحہ و مرثیہ خوانی کی جیسا کہ جنات نے امام حسین ع پر گریہ و زاری کی بطور نمونہ ہم کچہ حوالہ جات نقل کرتے ہیں:
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَمَّارٍ قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ سَلَمَةَ قَالَتْ: " سَمِعْتُ الْجِنَّ يَبْكِينَ عَلَى حُسَيْنٍ قَالَ: وَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ سَمِعْتُ الْجِنَّ تَنُوحُ عَلَى الْحُسَيْنِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.....
"حضرت ام سلمہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے جنوں کو سنا کہ وہ امام حسین علیہ السلام پر نوحہ کر رہے تہے"
[إسناده حسن]
������ بحوالہ:
[فضائل الصحابہ / احمد بن حنبل/ حدیث 1373]
اس کے علاوہ یہ روایت متعدد کتب میں نقل ہوئی ہے:
������ مجمع الزوائد ہیثمی ، حدیث 15179 ، *رجال الصحیح
������ [المعجم الکبیر للطبرانی ، احادیثِ مبارکہ / 2793_2796_2797_2798_ 2799_2800]
������ [تذكرة الخواص امام ابنِ الجوزی ، صفحہ 298]
������ [البدایہ والنہایہ ، ابن کثیر ، جلد ہشتم ، باب: 61 ہ میں رونما ہونے والے حالات و واقعات / صفحہ 257_256 ، نفیس اکیڈمی]
������ [الاصابہ فی تمییز الصحابہ ، ابن حجر العسقلانی ، ج 1 ، صفحہ 613 ، شمار نمبر 1726]
������ [تاریخ الخلفاء السیوطی ، صفحہ 300 ، مترجم مبشر چشتی سیالوی ]
������ شہادتِ امام حسین ع کی وجہ سے آسمان سرخ ہونا اور خون کی بارش ہونا
������ [دلائل النبوة بیہقی ، جلد 6 ، صفحہ 300__/ الصواعق المحرقہ ، صفحہ 644]
������ امام حسین ع کی شہادت پر ہر شے کے نیچے خون تہا
������ [المعجم الکبیر للطبرانی ، احادیثِ مبارکہ / 2765_2766_2767_2787]
������ [دلائل النبوة بیہقی ، جلد 6 ، صفحہ 300]
اس کے علاوہ اس موضوع پر اہلسنت منابع میں بکثرت روایات موجود ہیں جن میں شہادتِ امام حسین ع کے بعد رونما ہونے والے واقعات کی وضاحت موجود ہے یعنی وہ امام حسین ابن علی علیہ السلام جن کو رسول الله ص نے اپنا خون قرار دیا اور ان کو اپنے جیسا قرار دیا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ان سے محبت کرنے والے ان پر کئے گئے ظلم پر آنسو نہ بہائیں اور نہ ہی احتجاج کریں؟ لہٰذا تمام مسلمان غور و فکر کریں کہ جس حسین ابن علی علیہ السلام کے متعلق رحمتہ اللعالمین خاتم النبیین جناب رسول اکرم ص غمگین پائے جائیں پہر ان کے غم میں آنسو بہانے والوں پر اعتراض کیوں