ساتویں ذوالحجۃ کے (واقعات) میں سے ایک اہم واقعہ امام کاظم(ع) کو(سنہ 179 ھ) بصرہ کے قیدخانے میں بھیجا جانا ہے
اسیری اور قیدخانہ
امام کاظمؑ، اپنے دورِ امامت میں کئی مرتبہ عباسی خلفا کے ہاتھوں اسیر ہو کر زندان چلے گئے۔ پہلی بار مہدی عباسی کے دور حکومت میں خلیفہ کے حکم سے امام کو مدینہ سے بغداد لے جایا گیا۔[۱] ہارون عباسی نے امامؑ کو دو مرتبہ قید کیا لیکن تاریخ پہلی مدتِ قید کے بارے میں خاموش ہے جبکہ دوسری مدتِ قید سنہ 179 سے 183 ہجری تک ثبت کی گئی ہے جو امامؑ کی شہادت پر تمام ہوئی۔[۲]
دوسری مرتبہ ہارون عباسی نے 20 شوال سنہ 179 میں امامؑ کو مدینہ سے گرفتار کیا[۳] اور7 ذی الحجہ کو بصرہ میں عیسی بن جعفر کے قیدخانے میں قید کئے گئے۔[۴]
شیخ مفید کا کہنا ہے کہ ہارون نے سنہ 180ھ میں عیسی بن جعفر کے نام ایک خط لکھا جس میں امام کو قتل کرنے کا کہا، لیکن اس نے نہیں مانا۔[۵] کچھ عرصہ بعد آپ کو بغداد میں فضل بن ربیع کی زندان میں منتقل کیا گیا۔ امامؑ نے اپنی عمر کے آخری لمحات کو فضل بن یحیی اور سندی بن شاہک کے قید خانے میں گزارے۔[۶]
امام کاظمؑ کے زیارت نامے میں الْمُعَذَّبِ فِي قَعْرِ السُّجُون؛ وہ جسے زندان کے تہہ خانے کی کال کوٹھڑیوں میں اذیت دی گئی کی عبارت سے آپ کو سلام دیا گیا ہے۔[۷]زیارت نامے میں آپ کے زندان کو ظُلَم المطامیر سے بھی یاد کیا گیا ہے۔ مطمورہ اس قیدخانے کو کہا جاتا ہے چو کنویں کی مانند ہو اور جس میں پاؤں پھیلانے اور سونے کی جگہ نہ ہو، اسی طرح چونکہ بغداد دریائے دجلہ کے قریب ہے اس لئے اس کے بیسمنٹ مرطوب ہوتے تھے اور نمی (مطمورہ) پائی جاتی تھی۔ [۸]
عباسی خلفا کے ہاتھوں امام کاظمؑ کی گرفتاری کے اسباب میں مختلف اقوال نقل ہوئے ہیں چنانچہ مؤرخین نے بیان کیا ہے کہ عباسی دربار کے وزیر یحیی برمکی کی حسادت یا پھر امامؑ کے بھائی علی بن اسماعیل بن جعفر کی ہارون عباسی کے پاس چغل خوری اور بہتان تراشی آپؑ کی گرفتاری کا سبب بنے۔[۹]
کہا گیا ہے کہ ہارون شیعوں کی امام کاظمؑ کے ہاں آمد و رفت سے بہت حساس تھا اسے یہ خوف لاحق تھی کہ شیعوں کا امامت پر عقیدہ اس کی حکومت کو کمزور کرے گا۔[۱۰] اسی طرح یہ بھی کہا گیا ہے کہ امام کاظمؑ کی گرفتاری کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ امام کی طرف سے تقیہ کرنے کا کہنے کے باوجود هشام بن حکم جیسے بعض شیعہ رعایت نہیں کرتے تھے۔[۱۱] ان نقل کے مطابق ہشام بن حکم کے مناظرے امام علیہ السلام کو زندان لے جانے کا باعث بنے۔[۱۲]
---
1. ابنجوزی، تذکرة الخواص، 1418ق، ص313.
2. رسول جعفریان، حیات فکری و سیاسی آئمہ، ص 393.
3. کلینی، الکافی، 1407ق، ج1، ص476.
4. صدوق، عيون أخبار الرضا(ع)، 1378ق، ج1، ص86.
5. شیخ مفید، الارشاد، 1413ھ۔ ج2، ص239.
6. شیخ عباس قمی، الانوار البہیہ، ص 192 – 196.
7. مجلسی، بحارالانوار، 1403ق، ج99، ص17.
8. زندگانی امام موسی کاظم علیهالسلام، موسسه فرهنگی هدایت.
9. شیخ مفید، الارشاد، 1413ق، ج2، ص237-238؛ اربلی، کشف الغمه، 1421ق، ج2، ص760ِ؛ ابوالفرج اصفهانی، مقاتل الطالبیین، 1419ق، ص415-414.
10. صدوق، عیون اخبار الرضا، 1378ق، ج1، ص101.
11. صدوق، کمال الدین، 1395ش، ج2، ص361-363؛ جعفریان، حیات فکری و سیاسی امامان شیعه، 1381ش، ص398-400.
12. کشّی، رجال، 1409ق، ص270ـ 271؛مامقانی، تنقیح المقال، بیتا، ج3، ص298.