بسم اللہ الرحمن الرحیم
������������ دسواں پارہ
اس پارے میں دو حصے ہیں:
������ ۱ ۔ سورۂ انفال کا بقیہ حصہ
������ ۲ ۔ سورۂ توبہ کا ابتدائی حصہ
������ (۱) سورۂ انفال کے بقیہ حصے میں چھ باتیں یہ ہیں:*
▪۱ ۔ خمس کا حکم
▪۲ ۔ غزوۂ بدر کے حالات
▪۳ ۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت کے چار اسباب
▪۴ ۔ جنگ سے متعلق ہدایات
▪۵ ۔ ہجرت اور نصرے کے فضائل
▪۶ ۔ اس دنیا میں انسان کے اختیار رکھنے کی تائید
● ۱ ۔ خمس کا حکم:
زکوة کی طرح خمس جو کہ ایک مالی فریضہ ہے، اس کے مصارف بیان ہوئے جو نبی صلوة اللہ علیہ وآلہ اور ان کی آل (یعنی سادات)، یتیم، مسکین، مسافر اور مجاہدین ہیں۔
● ۲ ۔ غزوۂ بدر کے حالات:
▪(۱) کفار مسلمانوں کو اور مسلمان کفار کو تعداد میں کم سمجھے اور ایسا اس لیے ہوا کہ اس جنگ کا ہونا اللہ کے ہاں طے ہوچکا تھا۔
▪(۲) شیطان مشرکین کے سامنے ان کے اعمال کو مزین کرکے پیش کرتا رہا دوسری طرف مسلمانوں کی مدد کے لیے آسمان سے فرشتے نازل ہوئے۔
▪(۳) کفار غزوۂ بدر میں ذلیل و خوار ہوئے۔
● ۳ ۔ اللہ تعالیٰ کی نصرت کے چار اسباب:
▪(۱) میدان جنگ میں ثابت قدمی۔
▪(۲) اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے۔
▪(۳) اختلاف اور لڑائی سے بچ کر رہنا۔
▪(۴) مقابلے میں نا موافق امور پر صبر۔
● ۴ ۔ دشمن سے مقابلے کیلئے ہدایات:
دشمن سے مقابلے کیلئے آیت۴۵-۴۷ میں سات ہدایات دی گئیں۔
● ۵ ۔ ہجرت اور نصرت کے فضائل:
▪(۱) مہاجرین و انصار سچے مومنین ہیں
▪(۲) گناہوں کی مغفرت
▪(۳) رزق کریم کا وعدہ
- اس کے علاوہ آیت۶۲ میں رسول اللہ کی تائید و نصرت کا ذریعہ اور آیت۶۴ میں حضور کے تابع کا ذکر کیا جس کو احادیث نے حضرت علی کی ہی شخصیت کو بیان کیا ہے۔
-آیت۷۵ میں بعض رشتے داروں برتر ہونے کا ذکر کیا، یہ حکم مھاجرین و انصار کا ایک دوسرے کا بھائی بننے کے موقع پہ جب آقا علیہ السلام نے حضرت علی کو اپنا بھائی بنایا اس وقت نازل ہوا۔
● ۶ ۔ یہ دنیا مکمل جبر و ظلم کے نظام پہ نہیں چل رہی بلکہ انسان خود اپنے اعمال سے نعمتوں کو کھو دیتا ہے۔ (آیت۵۳)
������ (۲) سورۂ توبہ کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے، اس میں دو باتیں یہ ہیں:
● ۱ ۔ مشرکین اور اہل کتاب کے ساتھ جہاد
اس سورہ کے مشرکین سے اعلان برائت کی آیات کا ابلاغ حضور نے اپنے بھیجے قاصد کے بجائے حضرت علی کے ذریعے کروایا۔
مشرکین سے جو معاہدے ہوئے تھے ان سے براعت کا اعلان ہے، مشرکین کو حج بیت اللہ تعالیٰ سے منع کردیا گیا، اہل کتاب کے ساتھ قتال کی اجازت دی گئی۔
البتہ سوائے حرام مہینوں کے جو کہ رجب، ذیقعدہ، ذی الحجہ اور محرم ہیں۔
● ۲ ۔ مسلمانوں اور منافقوں کے درمیان امتیاز
منافقوں اور مسلمانوں میں امتیاز کرنے والی بنیادی چیز غزوۂ تبوک بنی، رومیوں کے ساتھ مقابلہ جو وقت کے سپر پاور تھے اور شدید گرمی اور فقر و فاقہ کے موقع پر پھل پکے ہوئے تھے، مسلمان سوائے چند کے سب چلے گئے، جبکہ منافقین نے بہانے تراشنے شروع کردیے، پارے کے آخر تک منافقین کی مذمت ہے، یہاں تک فرمادیا کہ اے پیغمبر! آپ ان کے لیے ستر بار بھی استغفار کریں تو بھی اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت نہیں کرے گا اور اگر ان میں کسی کا انتقال ہوجائے تو آپ اس کی نماز جنازہ بھی نہ پڑھیے گا، پھر ان مسلمانوں کا بھی ذکر ہے جو کسی عذر کی وجہ سے اس غزوے میں نہ جاسکے۔
اس کے علاوہ چند اہم نکات اس سورہ کے اس پارے میں ذکر ہوئے ہیں اور اہلبیت کی فضیلتیں:
▪ جس طرح سے ہدایت کی طرف بلانے والے امام ہیں، اسی طرح سے ائمہ کفر بھی ہیں اور حضرت علی کے دور خلافت میں ان سے جنگ کرنے والے مسلمانوں کے گروہ 'ناکثین' کا ذکر (آیت۱۲)
▪ مشرکوں کو مسجد آباد کرنے کا حق نہیں ہے۔(۱۷)
▪ مسجد کو آباد کرنے کی اہمیت (۱۸)
▪ مومنین کہ جن کا مصداق احادیث نے حضرات علی و عباس کو بیان کیا، کیلئے سکینہ (قلبی سکون) کا نزول (۲۶)
▪ حاجیوں کے ساقی ہونے اور مسجد کو آباد کرنے سے زیادہ فضیلت جہاد فی سبیل اللہ کی ہے اور یہ فضیلت حضرت علی کو حاصل ہے۔ اس آیت کا شان نزول بھی حضرت علی کی اس فضیلت کا بیان ہے۔
▪ اسلام کے پوری دنیا میں مکمل غلبہ پانے کی نوید جو کہ امام مہدی (ع) کے آنے میں متحقق ہوگی۔(۳۳)
▪ مصارف زکوة کا بیان (۶۰)
(توجہ: اس خلاصہ میں اہلبیت کے بارے میں نقل کئے جانے والے تمام مطالب اہلسنت کی کتب میں بھی آئے ہیں اور طلب کرنے پہ مع متن فراہم کئے جا سکتے ہیں۔)
زیادہ سے زیادہ شئیر کریں اور ثواب حاصل کریں۔
التماس دعا