قرآن کے قاریوں کی اقسام؛
القُرّاءُ ثلاثةٌ : قارئٌ قَرَأَ (القرآنَ) لِيَستَدِرَّ بهِ المُلوكَ و يَستَطيلَ بهِ علَى الناسِ فذاكَ مِن أهلِ النارِ، و قارئٌ قَرَأَ القرآنَ فَحَفِظَ حُروفَهُ و ضَيَّعَ حُدودَهُ فذاكَ مِن أهلِ النارِ ، و قارئٌ قَرَأَ (القرآنَ) فاستَتَرَ بهِ تَحتَ بُرنُسِهِ فهُو يَعمَلُ بمُحكَمِهِ و يُؤمِنُ بمُتَشابِهِهِ و يُقيمُ فَرائضَهُ و يُحِلُّ حَلالَهُ و يُحَرِّمُ حَرامَهُ فهذا مِمَّن يُنقِذُهُ اللّه ُ مِن مُضِلاّتِ الفِتَنِ و هُو مِن أهلِ الجَنّةِ و يُشَفَّعُ فيمَن شاءَ،
حضرت امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہیں:
قاری تین طرح کے ہیں:
وہ قاری جو قرآن پڑھتا ہے تا کہ اس کے ذریعے سے بادشاہوں سے فائدہ اٹھا سکے اور لوگوں پر فخر کرے، ایسا آدمی جہنمیوں میں سے ہے۔
اور وہ قاری جو قرآن پڑھتا ہے اور اس کے حروف کا خیال رکھتا ہے اور اس کے معانی کو چھوڑ دیتا ہے، یہ بھی جہنمیوں میں سے ہے۔
اور وہ قاری جو قرآن پڑھتا ہے اور اس کے ذریعے اپنی ٹوپی کے نیچے چھپ جاتا ہے اور اس کی محکم آیات پر عمل کرتا ہے اور اس کی متشابہ آیات پر ایمان لاتا ہے اور اس کے فرائض کو قائم کرتا ہے اور اس کے حلال کو، حلال اور حرام کو، حرام سمجھتا ہے، پس یہ (قاری) ان میں سے ہے جسے اللہ فتنہ کی گمراہیوں سے نجات دیتا ہے اور وہ جنتیوں میں سے ہے اور جس کی چاہے گا، وہ شفاعت کرے گا۔
الخصال، ص 143، 165