بسم اللہ الرحمن الرحیم
5⃣ پانچویں پارہ میں موجود موضوعات کا تعارف
پچھلے پارے کی بات کے تسلسل میں نکاح موقت (متعہ) کی اجازت "فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً" (نساء،۲۴)
اس کے علاوہ گیارہ باتیں ہیں:
1. خانہ داری کی تدابیر
2. امامت اور اولیاء کا تعیُّن
3. وسیلے کی تائید
4. حضرت علی(ع) اور اہلبیت(ع) کی فضیلت
5. عدل اور احسان
6. جہاد کی ترغیب
7. منافقین کی مذمت
8. قتل کی سزائیں
9. ہجرت اور صلاۃ الخوف
10. ایک قصہ
11. سیدھے راستے پر چلنے کی ترغیب
������توضیح؛������������
1- خانہ داری کی تدابیر:
پہلی ہدایت تو یہ دی گئی کہ مرد سربراہ ہے عورت کا،
پھر نافرمان بیوی سے متعلق مرد کو تین تدبیریں بتائی گئیں:
* ایک یہ کہ اس کو وعظ و نصیحت کرے،
* نہ مانے تو بستر الگ کردے،
* اگر پھر بھی نہ مانے تو انتہائی اقدام کے طور پر حد میں رہتے ہوئے اس سے ایک کم مدت کے لئے اظہار بے رغبتی کرے. (کیونکہ "پٹائی کرنا" جو آیت میں موجود ہے اس کی اپنی خاص تفسیر ہے.)
۲. امامت اور اولیاء کا تعیُّن
آیہ اولی الامر (آیت نمبر ۵۹) میں اللہ، رسول(ص) اور اولی الامر کی ولایت کا اعلان۔ جو کہ خود اہلسنت مفسرین کے مطابق حضرت علی علیه السلام اور ان کی اولاد میں سے معصوم امام(علیهم السلام) ہیں۔
۳. رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ) کو وسیلہ قرار دینے کا ذکر
۴. حضرت علی(ع) اور بقیہ اہلبیت(ع) کی فضیلت
آیت نمبر ۶۹ میں حضرت امام علی(ع)، جناب حمزہ(ع) اور جناب جعفرطیار(ع) کی فضیلت 'شھداء، صدیقین و صالحین' کہہ کے بیان کی گئی۔
5- عدل واحسان:
عدل و احسان کا حکم دیا گیا تا کہ اجتماعی زندگی بھی درست ہوجائے۔
6- جہاد کی ترغیب:
جہاد کی ترغیب دی کہ موت سے نہ ڈرو،وہ تو گھر بیٹھے بھی آسکتی ہے، نہ جہاد میں نکلنا موت کو یقینی بناتا ہے، نہ گھر میں رہنا زندگی کے تحفظ کی ضمانت ہے۔
7- منافقین کی مذمت:
منافقین کی مذمت کرکے مسلمانوں کو ان سے چوکنا کیا ہے کہ خبردار! یہ لوگ تمھیں بھی اپنی طرح کافر بنانا چاہتے ہیں۔
8- قتل کی سزائیں:
قتل کی سزائیں بیان کرتے ہوئے بڑا سخت لہجہ استعمال ہوا کہ مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرنے والا ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں جلے گا، مراد اس سے جائز سمجھ کر قتل کرنے والا ہے۔
9- ہجرت اور صلاۃ الخوف:
جہاد کی ترغیب دی تھی، اس میں ہجرت بھی کرنی پرتی ہے اور جہاد ار ہجرت میں نماز پڑھتے وقت دشمن کا خوف ہوتا ہے، اس لیے صلاۃ الخوف بیان ہوئی۔
10- ایک قصہ:
ایک شخص جو بظاہر مسلمان مگر در حقیقت منافق تھا اس نے چوری کی اور الزام ایک یہودی پر لگادیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ تک یہ واقعہ پہنچا، آپ(ص) پر آیت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ چور وہ مسلمان نما منافق ہے، چنانچہ وہ چور مکہ بھاگا اور کھلا کافر بن گیا۔
11- سیدھے راستے پر چلنے کی ترغیب:
شیطان کی اطاعت سے بچو، وہ گمراہ کن ہے، ابوالانبیاء ابراہیم علیہ السلام کی اتباع کرو، عورتوں کے حقوق ادا کرو، منافقین کے لیے سخت عذاب ہے۔