@laravelPWA
روزے کا حکم
  • عنوان: روزے کا حکم
  • ذریعہ:
  • رہائی کی تاریخ: 19:47:29 8-6-1404

قالَ اللّه ُ تَبارَكَ وَتَعالى:
 ارشاد باری تعالی ہے سورہ بقرہ آیات ۱۸۳ سے ۱۸۵ تک
 
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
 
اے ایمان والو! تم پر روزے کا حکم لکھ دیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر لکھ دیا گیا تھا تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔
 
أَيَّامًا مَعْدُودَاتٍ ۚ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۚ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ ۖ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ ۚ وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ ۖ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ
( یہ روزے) گنتی کے چند دن ہیں، پھر اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں مقدار پوری کر لے اور جو لوگ روزہ رکھنے میں مشقت محسوس کرتے ہیں وہ فدیہ دیں جو ایک مسکین کا کھانا ہے، پس جو اپنی خوشی سے نیکی کرے تو اس کے لیے بہتر ہے اور اگر تم سمجھو تو روزہ رکھنا تمہارے لیے بہتر ہے۔

۱۸۴-وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ :
یعنی روزہ رکھنے میں خود تمہاری بہتری ہے۔ اس بہتری کو ہمارے علم کے ساتھ مربوط فرمایا۔ چنانچہ کل کی نسبت آج کا انسان روزے کے طبی، اخلاقی اور نفسیاتی فوائد کو بہتر سمجھ سکتا ہے۔
أَيَّامًا مَعْدُودَاتٍ:
گنتی کے چند دن، یعنی ماہ رمضان۔ کیونکہ بارہ مہینوں میں سے ایک ماہ گنتی کے چند دن ہی ہوتے ہیں۔ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سال میں چند دن یعنی ایک ماہ کے روزے رکھنا کوئی پر مشقت کام نہیں ہے۔

روزے کا حکم بیان فرمانے کے بعد مسافر اور مریض کے لیے فرمایا کہ اگر وہ ان معدود ایام میں روزہ نہ رکھ سکیں تو اس مقدار کو دوسرے دنوں میں پورا کر سکتے ہیں کیونکہ مقررہ دنوں میں نہ سہی لیکن اصل روزہ تو ہر حال میں بجا لانا ہو گا۔
 
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَىٰ وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ ۖ وَمَنْ كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِنْ أَيَّامٍ أُخَرَ ۗ يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
 
رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور ایسے دلائل پر مشتمل ہے جو ہدایت اور(حق و باطل میں)امتیاز کرنے والے ہیں، لہٰذا تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے وہ روزہ رکھے اور جو بیمار اور مسافر ہو وہ دوسرے دنوں میں مقدار پوری کرے، اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور تمہیں مشقت میں ڈالنا نہیں چاہتا اور وہ چاہتا ہے کہ تم مقدار پوری کرو اور اللہ نے تمہیں جس ہدایت سے نوازا ہے اس پر اللہ کی عظمت و کبریائی کا اظہار کرو شاید تم شکر گزار بن جاؤ۔
185۔ فقہ جعفری کے مطابق حالت سفر اور حالت مرض میں روزہ ہوتا ہی نہیں ہے، بعد میں قضا رکھنا ہو گا۔ جو لوگ روزہ رکھنے میں غیر معمولی مشقت محسوس کرتے ہیں وہ فی روزہ فدیہ دیں جو ایک مسکین کا کھانا ہے۔
رمضان، "رمض" سے مشتق ہے جو سخت تپش کے معنوں میں ہے۔
 حدیث میں آیا ہے کہ رمضان کو یہ نام اس لیے دیا گیا ہے کہ یہ ایمان کی تپش سے گناہوں کو جلا دیتا ہے۔
اس آیت میں ارشاد فرماتا ہے کہ قرآن رمضان میں نازل ہوا جبکہ عملاً قرآن 23 سالوں میں تدریجاً نازل ہوا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وضاحت یہ ہے کہ قرآن قلب رسول پر شب قدر میں نازل ہوا۔ بعد میں بیانِ احکام کے لیے وحی کا انتظار کرنے کا حکم تھا۔ چنانچہ رمضان میں نزول کے لیے انزل فرمایا جو یکبارگی نزول کے معنوں میں ہے اور 23 سالوں والے نزول کے لیے نزلنہ تنزیلا فرمایا تنزیل تدریجی نزول کے معنوں میں ہے۔
 واضح رہے" اَنزَلَ" اور" نَزَّلَ" کے درمیان یہ فرق ایک نظریہ ہے۔ راقم کا نظریہ نہیں ہے۔
وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ:
یہ ایک کلی قانون ہے جس کے تحت ہر وہ عمل جس میں عسر و حرج لازم آئے وہ ارادﮤ الٰہی میں شامل نہیں ہے۔ لہٰذا وہ نافذ نہیں ہے۔
رمضان المبارک خدا کا مہینہ ہے جبکہ روزہ اس ذات کی مہمانی
روزہ معصیتوں کو محو کرتا ہے اور قیامت  کی یاد دہانی
رمضان المبارک صبر اور استقامت کی تعلیم اور ایمانِ محکم اورمضبوط ارادے کو پروان چڑھانے کا درس دیتاہے۔ اسی مہینے میں انسانوں کے نامہ اعمال کی فائل کا جائزہ لیا جاتا ہے اور اگلے سال کے پروگراموں کو مشخّص اور تعین کیا جاتا ہے۔
سال کے آخری امتحان کے اختتام پر جن لوگوں نے شب قدر کو دعاؤں اور استغفار سے زندہ رکھا اور پاسنگ گریڈ اور نمبر حاصل  حاصل کیا، وہ "عید الفطر" کے تعلیمی  اور تربیتی دورے کے اختتام پر فتح کے تمغے وصول کرتے ہیں اور ضرورت مندوں کو تحائف دیتے ہیں۔
اب اس عظیم اور پر برکت مہینے کی آمدپر ائمه معصومين عليهم السلام، کے ارشادات سے الہام لیکر ہم روزہ داروں کے لئے انہی ذوات مقدسہ کے نورانی چالیس منتخب گوہربار احادیث  کے ترجمہ کوپیش کررہے ہیں۔
 ہم ان  نورانی ذوات مقدسہ کے نورانی کلام سے سیکھ کر حضرت حقّ یعنی خدائےمتعال کی دعوت پر لبیک کہ کر اس ذات گرامی کے تربیتی کیمپ میں  بعنوان مہمان ِ خداشریک ہوں۔
رَبَّنا تَقَبَّل مِنّا إنَّك أنتَ السَّميعُ العَليمُ