@laravelPWA
اذان و اقامت
  • عنوان: اذان و اقامت
  • ذریعہ:
  • رہائی کی تاریخ: 3:51:21 9-6-1404

اذان و اقامت

۱سوال: آیا مؤذن کی اذان مکمل ہونے سے پہلے نماز شروع کی جا سکتی ہے؟
جواب: اگر نماز کا وقت داخل ہوجانے کا اطمئنان ہو تو جائز ہے۔
۲سوال: میں نے اس گمان پر کے اذان ہوگئی ہے فرض نماز پڑھ لی اب میرا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر معلوم ہو کہ نماز وقت داخل ہونے سے پہلے پڑہی ہے تو نماز کا اعادہ کرنا ضروری ہے۔
۳سوال: اگر میں نے اقامت میں کوئی خطاء کی ہو اور اسہی استمرار میں نماز مکمل کرلی، تو کیا میری نماز صحیح ہوگی؟
جواب: اقامت کہنا مستحب ہے اور اسکا ترک کرنا جائز ہے۔اور اقامت میں خطاء سے نماز باطل نہیں ہوتی۔
۴سوال: کیا روزانہ کی نمازوں کے علاوہ دیگر نمازوں ، جیسے نماز جعفر طیار یا نماز آیات اور نماز وحشت قبر کیلیئے بھی اذان و اقامت کہی جاتی ہے؟
جواب: اذان و اقامت کا مورد صرف روزانہ کی فرض نمازیں ہیں ۔ اس کے علاوہ دیگر واجب نمازوں اور نوافل کیلئے اذان و اقامت کی مشروعیت نہیں ہے۔
۵سوال: ایک شخص اقامت کو نماز میں داخل کردیتا تھا ،اس طرح کہ تکبیرۃ الاحرام کہ بعد اقامت کہ کلمات پڑھتا تھا تو اب اسکی گزشتہ نمازوں کا کیا حکم ہے؟
جواب: اگر وہ جاھل قاصر تھا اور اپنے جاھل رہنے میں معذور تھا تو اس کی گزشتہ نمازیں صحیح ہیں۔
۶سوال: اگر مؤذن اذان میں کچھ بھول جائے یا بھول کر اذان کے شروع میں (اشھد ان لا الٰہ اللہ ) نہ کہا ہو تو نماز کا کیا حکم ہے ؟
جواب: اس پر کچھ واجب نہیں ،اور نماز صحیح ہے۔
۷سوال: بعض جگہوں پر متعارف ہے کہ جب بھی سورج یا چاند گرھن ہوتا ہے تو لوگوں کو منتبہ کرنے کیلئے اذان دی جاتتی ہے تو کیا اسکی مشروعیت ہے؟
جواب: اس امر کے لیئے اذان کی مشروعیت پر کوئی دلیل وارد نہیں ہوئی ہے۔
۸سوال: جب میں مسجد میں داخل ہوا تو وہاں لوگ اذان و اقامت کہ چکے تھے البتہ ابھی نماز شروع نہیں ہوئی تھی بلکہ ہونے والی تھی، تو کیا میرے لیئے مستحب ہے کہ میں اذآن و اقامت پڑھ لوں پھر جماعت میں شامل ہوں؟
جواب: اس صورت میں آپ کے لیئے اذآن و اقامت دونوں ساقط ہیں۔
۹سوال: میں نے ایک شخص کو اذان و اقامت کہتے ہوئے سنا کہ جو اپنے لیئے کہہ رہا تھا تو کیا اس صورت میں میرے لیئے اذآن واقامت ساقط ہوجاتی ہے یا استحباب باقی رہتا ہے؟
جواب: اگر انسان کسی دوسرے شخص کو اذآن و اقامت کہتے ہوئے سنے تو سننے والے سے اذان و اقامت ساقط ہوجائے گی اس معنی میں کہ اس کہی ہوئی اذان و اقامت پر اکتفاء کر سکتا ہے البتہ شرط یہ ہے کہ اسکی نماز اور اذآن میں زیادہ فاصلہ نہ ہو اور اس نے تمام کلمات کو سنا ہو یا اگر کچھ کلمات نہ سنے ہوں تو ان کو خود پورا کر لیا ہو۔ اس میں کوئی فرق نہیں کہ اذآن و اقامت کہنے والا امامت جماعت کرے یا سننے والے کی امامت میں نماز پڑھے یا دونوں اپنی اپنی فرادہ نماز پڑھیں۔
۱۰سوال: کیا قضاء نمازوں میں اذآن و اقامت کو عمدا ترک کیا جا سکتا ہے؟
جواب: جائز ہے کہ اذآن و اقامت کے بغیر ، تکبیرۃ الاحرام کہہ کر نماز شروع کردی جائے،اذان و اقامت مستحب تاکیدی ہیں مگر واجب نہیں لہذا انکو ترک کرنے سے نماز پر ضرر نہیں۔
۱۱سوال: کیا اذآن و اقامت کہنا خواتین کے لیئے بھی اسہی طرح مستحب مؤکد ہے جیسا کہ مرد کیلیئے یا اس سے کم درجہ کی تاکید ہے؟
جواب: اذآن و اقامت مستحب مؤکد ہے مگر خواتین کے لئے اسکی تاکید ثابت نہیں ہے۔
۱۲سوال: کیا ایسے شخص کی اذان پر اکتفاء کیا جاسکتا ہے کہ جس کی زبان سے بعض حروف بدل جاتے ہوں (جیسے س کو ثاء ) تلفظ کرتا ہو۔
جواب: ہاں کافی ہے۔
۱۳سوال: اشھد ان علیا ولی اللہ کے ساتھ اشھد ان علیا و ابناءہ المعصومین حجج اللہ یا اشھد ان علیا حجۃ اللہ جیسے جملہ کا اضافہ کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: کوئی حرج نہیں ہے.
۱۴سوال: ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر ہونے والی اذان، نماز کا وقت ہو جانے کے لیے کافی ہے؟
جواب: نماز کا وقت داخل ہونےکا اطمینان ہونا ضروری ہے۔
۱۵سوال: کیا جمعہ کے روز خطبے کو طول دینے کی خاطر ظہر کی اذان پندرہ مینٹ پہلے کہی جا سکتی ہے؟
جواب: اذان اول وقت کہی جائے گی، وقت سے پہلے نہیں۔
۱۶سوال: اذان و اقامت کا کیا حکم ہے؟ دونوں میں سے کون واجب ہے؟
جواب: دونوں مستحب موکد ہیں.
۱۷سوال: اگر دو نماز کے درمیان دس مینٹ کے قریب دعا وغیرہ کا فاصلہ ہو جائے تو کیا پھر بھی دوسری نماز کے لیے اذان ساقط ہے؟ اور اگر ان شرایط میں کوئی اذان کہتا ہے تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب: اس حالت میں بھی اذان ساقط ہے اور اگر کوئی کہتا ہے تو اس سے اس کی نماز پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
۱۸سوال: نماز جماعت کے وقت مسجد میں، ماموم یا فرادیٰ نماز پڑھنے والے کے لیے، مستحب عمل کے طور پر اذان و اقامت کا کہنا کیا حکم رکھتا ہے؟
جواب: ایسے موقعوں پر اگر جماعت سے نماز پڑھ رہے ہیں تو اذان و اقامت ساقط ہے۔