@laravelPWA
امام مہدی عج ابن خلد و ن کی نگاہ میں
  • عنوان: امام مہدی عج ابن خلد و ن کی نگاہ میں
  • ذریعہ:
  • رہائی کی تاریخ: 1:18:26 10-6-1404


جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے کہ سب سے پہلا شخص جس نے امام مہدی کے بارے میں نقل کی گئیں احادیث کو ضعیف قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے وہ ابن خلدون ہے اور نظریہ دیا کہ مہدی دراصل وہی حضرت عیسی ہیں جو آخری زمانے میں آسمان سے نازل ہوں گے اور بعد میں اس سے متاثر ہو کر چند ایک دوسرے افراد نے بھی یہی عقیدہ اپنایا اورامام مہدی عج کے ظہور کے عقیدہ کو صرف شیعوں کے من گھڑت عقیدے کے طور پرذکر کیا حالانکہ بہت سی آیات اور رویات اس بات کی نفی کرتی ہیں اور واضح طور پر بتاتی ہیں کہ
اس امت کا مہدی حضرت رسول اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت علی اورحضرت فاطمہ علیھماالسلام کی اولاد میں سےہوں گے جیسے کہ عنقریب واضح ہو جائے گا اور خود اہل سنت کے بزرگ علماء نے ابن خلدون پر اعتراض کرتے ہوئے ابن خلدون کے اس نظریے کو اس کی ذاتی رائے سے تعبیر کیا ہے کہ جس کی مسلمانوں کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ


اولا۔۔شیعہ کے تمام علماء اور اہل سنت کے اکثر علماء نے مہدویت کے بارے میں نقل کی گئیں احادیث کو صحیح اور متواتر مانا ہے پس ابن خلدون اپنے ایک نظریہ کی بنیاد پر کیسے تمام احادیث کو رد کر سکتا ہے

ثانیا۔۔خود ابن خلدون نے کہا ہے ، جو احادیث محدثین نے بیان کی ہیں سوائے بہت کم کے باقی سب خدشہ دار ہیں تو کہا جا سکتا ہے کہ وہی جو بہت کم ہیں وہی حجت اور اس عقیدے کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں

ثالثا۔۔ ایک اندازے کے مطابق شیعہ اور سنی کتابوں میں تقریبا ۶ ہزار کے نزدیک مہدویت کے موضوع پر احادیث وارد ہوئی ہیں کیا سب احادیث کی ابن خلدون نے جانچ پڑتال کی ہے تا کہ مان لیں کہ سب چھہ ہزار احادیث ضعیف ہیں اور ان کا کوئی اعتبار نہیں کیا جاسکتا ہے

رابعا۔۔ ابن خلدون ایک مورخ ہے نہ ایک رجالی تا کہ راویوں کی جرح و تعدیل میں صاحب نظر ہو اور ہم اس کی بات کو مان لیں یہ اصلا عقلی نہیں ہے کہ ہم اسکی بات مان لیں جو ایک مضمون کا اسپیشلسٹ ہی نہیں ہے پس ابن خلدون کی بات بھی ایک مورخ کے قول کی سی حیثیت رکھتی ہے اس سے زیادہ نہیں

خامسا۔ خود بہت سے اہل سنت کے علماء نے ابن خلدون پر اعتراض کیا ہے اور اس بات کو اس کی ذاتی رائے قرار دی ہے جس کو تمام اہل سنت کی طرف نسبت دینا درست نہیں ۔

اہل سنت کے بہت بڑے عالم اور مفسر قران جلال الدین سیوطی اپنی کتاب،، العرف الوردی فی اخبار المہدی،، میں لکھتے ہیں تمام مسلمان اس چیز پر عقیدہ رکھتے ہیں کہ آخری زمانے میں اہل بیت رسول میں سے ایک مرد ظہور کرے گا جو عدل و انصاف کا قیام کرے گا یہاں تک کہ کہتاہے کہ یہ روایات متواتر ہیں اور محمد بن جعفر الکتانی کی کتاب ،، نظم المثناتر من الحدیث المتواتر ،ص ۱۴۴ سے ان بیس بزرگ اصحاب کا نام ذکر کرتاہے کہ جن سے امام مہدی کے بارے احادیث نقل ہوئی ہیں ، العرف الوردی فی اخبار المہدی ،ص ۱۔۳

پھر اسی کتاب میں دوسرے صفحہ سے لے کر صفحہ چار تک جلال الدین سیوطی مختلف اہل سنت کے علماء کے نظریےان کی کتابوں سے نقل کرتا ہےہم قارئین کے لیے اس کی عین عبارت کو نقل کرتےہیں

(۱)فی شرح الرسالة ،،،للشیخ جسوس ما نصه ،ورد خبر المهدی فی احادیث ذکر السخاوی انها وصلت الی حد التواتر ۔۔۔شیخ جسوس شرح الرسالہ میں لکھتے ہیں امام مہدی کے بارے میں روایات ذکر ہوئی ہیں سخاوی نے کہا ہے کہ یہ روایات تواتر کی حد تک پہنچی ہوئی ہیں کہ جس کے جھوٹے یا جعلی ہونے کا امکان نہیں اور انسان کو یقین حاصل ہو جاتا ہے کہ خود پیغمبر نے فرمایا ہے

(۲)فی شرح المواهب نقلا عن ابی الحسن الآٓبری فی ،،مناقب الشافی ، قال تواتر الاخبار ان المهدی من هذه الامة و ان عیسی یصلی خلفه ذکر ذ لک ردا للحدیث ابن ماجه عن انس ولا مهدی الا عیسی ۔۔۔۔شرح المواھب میں ابوالحسن الآبری سے منقول ہے کہ امام مہدی کے بارے میں بیان کی گئیں روایات متواتر ہیں جو کہ بیان کرتی ہیں کہ مہدی اسی امت میں سے ہوگا اور حضرت عیسی ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے اور یہ بات اس لیے کہی ہے کہ اس حدیث کو رد کیا جا سکے جو ابن ماجہ نے انس سے نقل کی ہے کہ جس میں آیا ہے کہ مہدی وہی حضرت عیسی ہیں( بعض اہل سنت کے علماء جیسے ابن خلدون ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ جو رویات میں امام مہدی کے ظہور کے بارے میں آیا ہے وہ حضرت عیسی ہیں وہی مہدی ہیں اور اس پرد لیل وہ روا یت لے کر آتے ہیں کہ جو ابن ماجہ نے انس سے نقل کی ہے کہ جس کو خود اہل سنت کے علماء بھی قبول نہیں کرتے جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا )

(۳)فی مغانی الوفا بمعانی الاکتفا ء قال الشیخ ابوا لحسن الآبری قد تو اترت الا خبار و استفاضت بکثرة رواتها عن المصطفی ۔۔ صل الله علیه (وآله )وسلم۔ بمجی ء المهدی ، وانه سیملک سبع سنین وانه یملاالارض عدلا ۔۔۔مغا نی الوفا بمعانی الاکتفاء میں شیخ ابوالحسن الآبری سے نقل ہے کہ روایات تواتر کے ساتھ بتاتی ہیں اور مصطفی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بہت سے راویوں نے نقل کیا ہے کہ مہدی کا ظہور ہو گا اور سات سال حکومت کریں گے اور زمین کو عدل سے پر کر دیں گے

(۴)فی شرح عقیده الشیخ محمد بن احمد السفارینی الحنبلی ، ما نصه ، وقد کثرت بخروجه الروایات حتی بلغت حدالتواتر المعنوی و شاع ذلک بین علماء السنة حتی عد من معتقد اتهم ، ثم ذکر بعض الاحادیث الواردة فیه عن جماعة من الصحابة وقال بعد ها ۔ روی عمن ذکر من الصحابه من غیر من ذکر منهم بروایات متعددة ، عن التابعین من بعدهم مما یفید مجموعة العلم القطعی ، فالایمان بخروج المهدی واجب ،کما هو مقرر عند اهل العلم ، ومدون فی عقاید اهل السنتة والجماعة۔۔۔

شیخ محمد بن احمد سفارینی حنبلی نے شرح العقیدہ میں لکھا ہےکہ جس کی عبارت یہ ہے امام مہدی کے ظہور کے بارےمیں اتنی زیادہ روایا ت نقل ہوئی ہیں کہ جو تواتر معنوی کی حد کو پہنچتی ہیں اور علماء اہل سنت کے درمیان اتنی عام ہیں حتی کہ یہ اہل سنت کے عقاید میں شمار ہوتا ہے پھر سفارینی ان احادیث کو ذکر کرتا ہے کہ جو امام مہدی کے بارےمیں بزرگ اصحاب سے نقل ہوئی ہیں ان احادیث کو نقل کرنے کے بعد کہتا ہے کہ جو احادیث صحابہ سے امام مہدی کے بارے میں نقل ہوئی ہیں وہ بہت زیادہ ہیں اور اسی طرح جو تابعین سے نقل ہوئی ہیں یہ سب علم قطعی اور یقین پیدا کرنے کے لیے کافی ہیں پس مہدی کے ظہور پر ایمان رکھنا واجب ہے جس طرح کہ اہل علم کے نزدیک یہ ثابت ہے اور اہل سنت والجماعۃ کی عقاید کی کتابوں میں یہ بات لکھی جاچکی ہے اور بیان کی جاچکی ہے ۔(العرف الوردی فی اخبارالمهدی ،جلال الدین سیوطی،ص ۳)
پس سفارینی کے قول کے مطابق امام مہدی کے ظہور کا عقیدہ صرف شیعوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہے جیسا کہ بعض اہل سنت کے علماء نے شیعوں کی طرف نسبت دیتے ہوے کہا کہ یہ صرف شیعوں کا من گھڑت عقیدہ ہے حالانکہ منصف مزاج مسلمانوں کے لیے واضح ہو گیا ہے کہ مہدی کے ظہور کا عقیدہ صرف شیعہ مذھب کا نہیں بلکہ اسلام کی تعلیمات کا حصہ ہے اور یہ ایک ایسی مسلمہ حقیقت ہے جس کا کوئی مسلمان انکار نہی کر سکتاہاں البتہ مذھب شیعہ ہی وہ مذھب ہے جس نے مہدویت کو دنیا میں متعارف کروایا ہے اور امام مہدی کے ظہورکے تمام خدوخال کو وضاحت کے ساتھ خود معصومین علیھم السلام نے اور شیعہ علماء نے طول تاریخ میں بیان کیے ہیں۔