تاریخ وہابیت

مؤلف: علي اصغرفقیهى
متن تاریخ


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


کتاب:تاریخ وہابیت

مؤلف : فقیهى، علي اصغر

مترجم / مصحح : اقبال حیدر حیدری

ناشر : مجمع جهانی اهل بیت (ع)

نشر کی جگہ : قم (ایران)

نشر کا سال : ۲۰۰۶

زبان : اردو


مقدمہ مولف

۱۴ذی الحجہ ۱۳۳ھ مکہ معظمہ میں ”باب الصفا“ کے سامنے ایک ایرانی جوان ”ابو طالب یزدی“ کو بے بنیاد الزام کی بناپر قتل کردیا گیا، اور جب یہ خبر مبہم طریقہ سے ایران پہونچی، تو سب لوگ بہت حیران وپریشان ہوگئے، اس زمانہ میں ایرانیوں کو اس فرقہ (وہابیت ) کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں تھی کہ اس فرقہ کے ماننے والے، ائمہ علیهم السلاماور بزرگان دین کی قبروں کو کیوں منہدم کرتے ہیں، اور کیوں ان کی زیارتوں سے روکتے ہیں؟ لیکن مذکورہ واقعہ نے ایرانیوں کو مجبور کردیا تاکہ یہ پتہ لگائیں کہ اس فرقہ کے عقائد اور نظریات کیا ہیں؟ اسی زمانہ میں حقیر ”حکیم نظامی کالج“ قم میں تدریس کے فرائض انجام دے رہا تھا، اور ہمارا موضوع بھی ”تاریخ“ تھا،اسی وجہ سے اس فرقہ خصوصاً اس کے عقائد کے بارے میں سوالات ہوتے رہتے تھے، شروع میں تو ہم نے زبانی جوابات دئے، لیکن اس کے بعد ان کے عقائد کے بارے میں مقالات لکھنا شروع کئے جو اس وقت قم القدسہ کے مشہور ومعروف اخبار ”استوار“ میں نشر ہوئے، جن میں ہم نے باقاعدہ مدارک ومنابع کے ساتھ ان کے عقائد کی تحقیق کی،چنانچہ ان مقالات کا سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ تقریباً(۵۰)مقالے قارئین کرام تک پہونچ گئے، وقت کی ضرورت کے تحت ایک بک ایجنسی نے ان اخباروں میں چھپے تمام مقالات کو جمع کرکے ایک مختصر کتاب ”تاریخ وعقائد وہابیت “ کی شکل میں شائع کی، چنانچہ اس سلسلہ میں حقیر نے اسی وقت سے مزید تحقیق کی اور مدارک کو جمع کر کے ایک ضخیم کتاب بنام ”وہابیان“ برادران ایمانی کی خدمت میں پیش کی، جس کا پہلا ایڈیشن ۱۹۷۳ ء، میں اور دوسرا ایڈیشن ۱۹۸۳ء میں چھپ چکا ہے اور اس وقت یہ تیسرا ایڈیشن تصحیح اور اضافات کے ساتھ آپ حضرات کی خدمت میں حاضر ہے۔(۱)

قارئین کرام اورصاحب نظر حضرات سے گذارش ہے کہ اگر کوئی غلطی یا نقص اورکمزوری دکھائی پڑے تو اس سے چشم پوشی نہ کرتے ہوئے حقیر کو ہر ممکن طریقہ سے مطلع فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔

والسلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ۔

علی اصغر فقیھی - قم

۱۴ محرم الحرام ۱۴۰۷ھ / مطابق اگست ۱۹۸۵ء

____________________

۱. قارئین کرام !اس کتاب کا چوتھا ایڈیشن۱۹۹۸ء میں ۵۰۰۰ کی تعداد میں بھی چھپ چکا ہے۔ (مترجم)


پہلا باب: وہابیت کے بانی

وہابی فرقہ کہاں سے اور کیسے وجود میں آیا؟ سب سے پہلے وہابی فرقہ کوبنانے والا اور اس کو نشرکرنے کے لئے انتھک کوشش کرنے والا شخص محمد بن عبد الوہاب ہے جو بارہویں صدی ہجری کے نجدی علماء میں سے تھا۔ (اس کی سوانح حیات اسی کتاب کے تیسرے باب میں بیان ہوگی)۔

لیکن یہ معلوم ہونا چاہئے کہ وہابیت کے عقائدکو وجودبخشنے والا یہ پہلا شخص نہیں ہے بلکہ صدیوں پہلے یہ عقیدے مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتے رہے ہیں، لیکن یہ ایک نئے فرقہ کی صورت میں نہیں تھے اور نہ ہی ان کے زیادہ طرفدار تھے۔(۲)

ان میں سے :چوتھی صدی میں حنبلی فرقہ کے مشہور ومعروف عالم دین ”ابومحمد بَربہاری“ نے قبور کی زیارت سے منع کیا، لیکن خلیفہ عباسی نے اس مسئلہ کی بھرپور مخالفت کی ۔

حنبلی علماء میں سے ”عبد اللہ بن محمد عُکبَری“ مشہور بہ ابن بطّہ (متوفی ۳۸۷ھ) نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت اور شفاعت کا انکار کیا۔(۳) اس کا اعتقاد تھا کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر منور کی زیارت کے لئے سفر کرنا گناہ ہے، اسی بناپر اس سفر میں نماز تمام پڑھنا چاہئے اور قصر پڑھنا جائز نہیں ہے۔(۴)

اسی طرح اس کا یہ بھی عقیدہ تھا کہ اگر کوئی شخص انبیاء اور صالحین کی قبور کی زیارت کے سفر کو عبادت مانے، تو اس کا عقیدہ اجماع اور سنت پیغمبر اکرمکے خلاف ہے۔(۵)

ساتویں اور آٹھویں صدی کے حنبلی علماء کا سب سے بڑا عالم ”ابن تیمیہ“ ہے اور محمد بن عبد الوہاب نے اکثر اوراہم عقائد اسی سے اخذ کئے ہیں۔

ابن تیمیہ کے دوسرے شاگرد؛ جن میں سے مشہور ومعروف ابن قیم جوزی ہے اس نے اپنے استاد کے نظریات وعقائد کو پھیلانے کی بہت زیادہ کوششیں کی ہیں۔

شیخ محمد بن عبد الوہاب کا سب سے اہم کارنامہ یہ تھا کہ اپنے عقائد کو ظاہر کرنے کے بعد ان پر ثابت قدم رہا اور بہت سے نجدی حکمرانوں کو اپنے ساتھ میں ملالیا اور ایک ایسا نیا فرقہ بنالیاجس کے عقائد اہل سنت کے کے چاروں فرقوں سے مختلف تھے، اس میں شیعہ مذہب سے بہت زیادہ اختلاف تھا جب کہ وہ حنبلی مذہب سے دیگر مذاہب کے مقابلہ میں نزدیک تھا۔


ان کو وہابی کیوں کہا گیا؟ وہابی لفظ فرقہ وہابیت کے بانی کے باپ یعنی عبد الوہاب سے لیا گیا ہے لیکن خود وہابی حضرات اس کو صحیح نہیں مانتے۔

سید محمود شکری آلوسی(وہابیت کی طرفداری میں ) کہتا ہے:وہابیوں کے دشمن ان کو وہابی کہتے ہیں جبکہ یہ نسبت صحیح نہیں ہے بلکہ اس فرقہ کی نسبت اس کے رہبر محمد کی طرف ہونا چاہئے، کیونکہ اسی نے ان عقائد کی دعوت دی ہے، اس کے علاوہ شیخ عبد الوہاب اپنے بیٹے (محمدابن عبد الوہاب) کے نظریات کا سخت مخالف تھا۔(۶)

صالح بن دخیل نجدی (المقتطف نامی مجلہ مطبع مصرمیں ایک خط کے ضمن میں ) اس طرح لکھتا ہے:

”اس کے بعض معاصرین وہابیت کی نسبت صاحب دعوت (یعنی محمد بن عبد الوہاب) کے باپ کی طرف حسد وکینہ کی وجہ سے دیتے تھے تاکہ وہابیوں کو بدعت اورگمراہی کے نام سے پہچنوائیں، اور خود شیخ کی طرف نسبت نہ دی (اور محمدیہ نہیں کہا) اس وجہ سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس مذہب کے ماننے والے پیغمبر اکرم کے نام کے ساتھ کسی طرح کی شرکت نہ سمجھ بیٹھیں۔(۷)

مشہور ومعروف مصری مولف احمد امین، اس سلسلہ میں یوں رقمطراز ہے:

”محمد بن عبد الوہاب اوراس کے مرید اپنے کو موحّد کھلاتے تھے، لیکن ان کے دشمنوں نے ان کو وہابی کانام دیا ہے، اور اس کے بعد یہ نام زبان زد خاص و عام ہوگیا“۔(۸)

قبل اس کے کہ محمد بن عبد الوہاب کے اعتقادات کے بارے میں تفصیلی بحث کی جائے مناسب ہے بلکہ ضروری ہے کہ پہلے سلفیہ کے بارے میں کچھ مطالب ذکر کئے جائیں جو وہابیت کی اصل اور بنیاد مانے جاتے ہیں، اس کے بعد بربہاری اور ابن تیمیہ کے مختصر اعتقادات اورنظریات جو وہابیوں کی اصل اور بنیاد ہیں ؛ ذکر کئے جائیں۔

سلفیّہ کسے کہتے ہیں؟

سلفیہ(۹) حنبلی مذہب کے پیروکاروں کا ایک گروہ تھاجوچوتھی صدی ہجری میں وجود میں آیا، یہ لوگ اپنے اعتقادات کو احمد حنبل کی طرف نسبت دیتے تھے، لیکن بعض حنبلی علماء نے اس نسبت کے سلسلے میں اعتراضات کئے ہیں۔

اس زمانہ میں سلفیوں اور فرقہ اشاعرہ کے درمیان کافی جھگڑے اوربحثیں ہوتی رہتی تھیں، اور دونوں فرقے کہتے تھے کہ ہم مذہب سلف صالح کی طرف دعوت دیتے ہیں۔

سلفیہ، فرقہ معتزلہ کے طریقہ کی مخالفت کرتا تھا، کیونکہ معتزلہ اپنے اسلامی عقائد کو یونانی منطق سے متاثر فلاسفہ کی روش بیان کرتے تھے، اور سلفیہ یہ چاہتے تھے کہ اسلامی عقائد اسی طریقہ سے بیان ہوں جو اصحاب اور تابعین کے زمانہ میں تھا،یعنی جومسئلہ بھی اسلامی اعتقاد کے متعلق ہو اس کو قرآن وحدیث کے ذریعہ حل کیا جائے، اور علماء کو قرآن مجید کی دلیلوں کے علاوہ دوسری دلیلوں میں غور وفکر سے منع کیا جائے۔

سلفیہ چونکہ اسلام میں عقلی اور منطقی طریقوں کو جدید مسائل میں شمار کرتے تھے جو صحابہ اور تابعین کے زمانہ میں نہیں تھے لہٰذا ان پر اعتقاد نہیں رکھتے تھے، اور صرف قرآن وحدیث کی نصوص اور ان نصوص سے سمجھی جانے والی دلیلوں کو قبول کرتے تھے، ان کا ماننا یہ تھا کہ ہمیں اسلامی اعتقادات اور دینی احکام میں چاہے وہ اجمالی ہوں یا تفصیلی، چاہے وہ بعنوان اعتقادات ہوں یا بعنوان استدلال قرآن کریم اور اس سنت نبوی جوقرآنی ہو اور وہ سیرت جو قرآن وسنت کی روشنی میں ہو؛ کے علاوہ کوئی دوسرا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہئے۔

سلفیہ دوسرے فرقوں کی طرح توحید کو اسلام کی پہلی اصل مانتے تھے، لیکن بعض امور کو توحید کے منافی جانتے تھے جن کو دوسرے اسلامی فرقے قبول کرتے تھے، مثلاً کسی مخلوق کے ذریعہ خدا کی بارگاہ میں توسل کرنا یا اس کو وسیلہ قراردینا، حضرت پیغمبر اکرمکے روضہ مبارک کی طرف منھ کرکے زیارت کرنا، اور روضہ اقدس کے قرب وجوار میں شعائر (دینی امور) کو انجام دینا، یا کسی نبی اللہ یا اولیاء اللہ کی قبر پر خدا کو پکارنا ؛ وغیرہ جیسے امور کو توحید کے مخالف سمجھتے تھے، اور یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ یہ امور(مذکورہ امور کو توحید کے مخالف سمجھنا) سلف صالح کا مذہب ہے اور اس کے علاوہ تمام چیزیں بدعت ہیں جو توحید کے مخالف اور منافی ہیں۔

صفات ثبوتیّہ اور سَلبیّہ

سلفیوں کا کہنا یہ ہے :خداوندعالم کے صفات ثبوتیہ اور صفات سلبیہ کے بارے میں علماء کے درمیان صرف فکر و نظر میں اختلاف ہے،حقیقت واصل میں نھیں، اور یہ اختلاف اس بات کا سبب نہیں ہوتا کہ دوسرے تمام فرقے ایک دوسرے کو کافر کھیں۔ خود سلفیہ (برخلاف اختلاف) اپنے کسی مخالف فرقہ کو کافر نہیں کہتے تھے۔

وہ خداوندعالم کے صفات وذات کے سلسلہ میں جو کچھ قرآن مجید میں وارد ہوا ہے اس پر عقیدہ رکھتے ہیں چنانچہ خداوندعالم کی محبت،غضب ،غصہ، خوشنودی، ندا اور کلام کے معتقد ہیں، ساتھ ہی وہ خدا وندعالم کا لوگوں کے درمیان بادلوں کے سایہ میں نازل ہونے، اس کے عرش پر مستقرہونے کا بھی اعتقاد رکھتے ہیں، اور بغیر کسی تاویل وتفسیر کے خداوندعالم کے لئے چھرے اور ھاتھوں کے قائل ہیں،یعنی آیات صرف کے ظاہری معنی کو اخذ کرتے ہیں، لیکن خداوندعالم کی ذات گرامی کو مخلوقات کی طرح ھاتھ پیر اور چھرہ رکھنے سے پاک و منز ّہ مانتے ہیں۔(۱۰)

بربَہاری کا واقعہ

ابو محمد حسن بن علی بن خَلَفِ بربہاری جو بغدادی حنبلیوں کا رئیس تھا؛اور کچھ خاص نظریات رکھتا تھا،اگر کوئی شخص اس کے عقائد اور نظریات کی مخالفت کرتا تھا تواس کی شدت سے مخالفت کرتا تھا، اور اپنے ساتھیوں کو بھی اس کے ساتھ سختی کرنے کا حکم دیتا تھا۔ اس کے ساتھی لوگوں کے گھروں کو ویران کردیتے تھے ۔ لوگوں کو خرید و فروخت سے بھی روکتے تھے، اور اگر کوئی اس کی باتوں کو نہیں مانتا تھا تو اس کو بہت زیادہ ڈارتے تھے۔

بربہاری کے کاموں میں سے ایک کام یہ بھی تھا کہ حضرت امام حسین ں پر نوحہ وگریہ وزاری، اور کربلا میں آپ کی زیارت سے کو منع کرتا تھااور نوحہ ومرثیہ پڑھنے والوں کے قتل کا حکم دیتا تھا۔

چنانچہ ”خِلب“نام کا ایک شخص نوحہ اور مرثیہ پڑھنے میں بہت ماہر تھا، جس کا ایک قصیدہ تھا جس کا پہلا مصرعہ یہ ہے:

اَیُّها الْعَیْنَانِ فَیضٰا وَاسْتَهِّلاٰ لاٰ تَغِیْضٰا

جو امام حسین ں کی شان میں پڑھا کرتا تھا، ہم نے اس کو کسی ایک بڑے گھرانے میں سناہے، اس زمانہ میں حنبلیوں کے ڈر سے کسی کو حضرت امام حسین ں پر نوحہ ومرثیہ پڑھنے کی جرات نہیں ہوتی تھی، اور مخفی طور پر یا بادشاہ وقت کی پناہ میں امام حسین ں کی عزاداری بپا ہوتی تھی۔

اگرچہ ان نوحوں اور مرثیوں میں حضرت امام حسین علیه السلام کی مصیبت کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا تھا اور اس میں سلف کی مخالفت بھی نہیں ہوتی تھی،لیکن اس کے باوجودجب بربہاری کو اطلاع ہوئی تو اس نے نوحہ خوان کو تلاش کرکے اس کے قتل کا حکم دیدیا۔

اس زمانہ میں حنبلیوں کا بغداد میں اچھا خاصا رسوخ تھا جس کی بناپریہ لوگ ہمیشہ فتنہ وفساد کرتے رہتے تھے۔(۱۱) جس کا ایک نمونہ محمد ابن جَرِیر طبری صاحب تاریخ پر حملہ تھا:

طبری، اپنے دوسرے سفر میں طبرستان سے بغداد پہونچے اور جمعہ کے روز حنبلیوں کی جامع مسجد میں پہونچے وہاں پر ان سے احمد حنبل اور اس حدیث کے بارے میں جس میں خدا کے عرش پر بیٹھنے کا تذکرہ ہے، نظریہ معلوم کیا گیا، تو اس نے جواب دیاجو احمد حنبل کی مخالفت بھی نہیں تھی، لیکن حنبلیوں نے کہا: علماء نے اس کے اختلافات کو اہم شمار کیا ہے، اس پر طبری نے جواب دیا: میں نے نہ خوداس کو دیکھا ہے، اور نہ اس کے کسی مودر اعتماد صحابی سے ملاقات کی ہے جو اس بارے میں مجھ سے نقل کرتا،اور خدا وندعالم کے عرش پر مستقر ہونے والی بات بھی ایک محال چیز ہے۔

جس وقت حنبلیوں اور اہل حدیث نے اس کی یہ بات سنی تواس پر حملہ شروع کردیا، اور اپنی دوا توں کو اس کی طرف پھینکنا شروع کردیا، وہ یہ سب دیکھ کر وہاں سے نکل بھاگے، حنبلیوں کی تعداد تقریباً ایک ہزار تھی انھوںنے ان کے گھر پرپتھروں سے حملہ کردیا یہاں تک کہ گھر کے سامنے پتھروں کا ایک ڈھیر لگ گیا۔

بغداد کی پولیس کا افسر ”نازوک“ ہزار سپاہیوں کا لشکر لے کر وہاں پہونچا اور طبری صاحب کو ان کے شر سے نجات دلائی، اورپورے ایک دن وہاں رہا، اور حکم صادر کیا کہ اس کے گھر کے سامنے سے پتھروں کا ڈھیر ہٹایا جائے۔(۱۲)

حنبلی مذہب کے علماء مثلاً ابن کثیر اور ابن عماد وغیرہ نے بربہاری کے بارے میں بہت باتیں بیان کی ہیں جن میں سے بعض مبالغہ ہیں، ابن کثیر اس کو ایک زاہد، فقیہ اور واعظ کہتے ہوئے لکھتا ہے: چونکہ بربہاری کو اپنے باپ کی میراث کے سلسلے میں ایک شبہ پیدا ہوا جس کی بناپر اس نے میراث لینے سے انکار کردیا جبکہ اس کے باپ کی میراث ستّر ہزار (اور ابن عماد کے قول کے مطابق ۹۰ہزار) درہم تھی۔

اسی طرح ابن کثیرکا قول ہے : خاص وعام کے نزدیک بربہاری کا بہت زیادہ احترام ا ور عزت تھی، ایک روز وعظ کے دوران اس کو چھینک آگئی تو تمام حاضرین نے اس کے لئے دعائے رحمت کرتے ہوئے جملہ ”یرحمک اللہ“کھا جو چھینک آنے والے کے لئے کہنا مستحب ہے، اور یہ آواز گلی کوچوں تک پہونچی، اور جو بھی اس آواز کو سنتاتھا یرحمک اللہ کہتا تھا، اور اس جملہ کو تمام اہل بغداد نے کہنا شروع کردیا، یہاں تک کہ یہ آواز خلیفہ کے محل تک پہونچی، خلیفہ کو یہ شور شرابہ گراں گذرا اور کچھ لوگوں نے اس کے بارے میں مزید بدگوئی کی جس کے نتیجہ میں خلیفہ نے اس کو گرفتار کرنے کی ٹھان لی لیکن وہ مخفی ہوگیا اور ایک ماہ بعد اس کا انتقال ہوگیا۔(۱۳)

لیکن خلیفہ وقت کے ناراض ہونے اور اس کو گرفتار کرنے کے ارادہ کی اصل وجہ یہ تھی کہ وہ عام عقیدوں کی مخالفت کرتا تھا اسی وجہ سے خلیفہ نے اس کے خلاف اپنا مشہور ومعروف حکم صادر کیا جس کی طرف بعد میں اشارہ کیا جائے گا۔

ابو علی مُسكُویہ۳۲۳ھ کے حالات میں کہتا ہے کہ اسی سال بَدرخَرشنی (صاحب شُرطہ) نے بغداد میں یہ اعلان کروایا کہ ابو محمد بربہاری(۱۴) کے مریدوں میں کوئی بھی دوآدمی ایک جگہ جمع نہ ہوں، بدر خرشنی نے اس کے مریدوں کو جیل میں ڈلوادیا لیکن بربہاری وہاں سے بھاگ نکلا یا مخفی ہوگیا، اس کی وجہ یہ تھی کہ بربہاری اور اس کے پیروکار ہمیشہ فتنہ وفساد کرتے رہتے تھے۔ اس گروہ کے سلسلے میں خلیفہ الراضی کا ایک فرمان صادر ہوا جس میں بربہاری کے مریدوں کے عقائد مثلاً شیعوں کی طرف کفر وضلالت کی نسبت دینا اور ائمہ کی قبور کی زیارت وغیرہ کو ناجائز ماننا جیسے امور کا تذکرہ تھا اور ان کو اس بات سے ڈرایا گیا تھا کہ یا تو وہ اس کام سے باز آجائیں، ورنہ ان کی گردن قلم کردی جائے گی،اور ان کے گھر اورمحلوں کو آگ لگادی جائے گی(۱۵)

ابن اثیر حنبلیوں کے بغداد میں فتنہ وفساد کے بارے میں اس طرح رقمطراز ہے کہ۳۲۳میں حنبلیوں نے بغداد میں کافی اثر ورسوخ پیدا کرلیا اور قدرت حاصل کرلی، بدرخرشنی صاحب شرطہ نے دسویں جمادی الآخر کو فرمان صادر کیا کہ بغداد میں یہ اعلان کردیا جائے کہ بربہاری کے مریدوں میں سے دو آدمی ایک ساتھ جمع نہیں ہوسکتے، اور اپنے مذہب کے بارے میں کسی سے مناظرہ کرنے کابھی حق نہیں رکھتے، اور ان کا امام جماعت نماز صبح ومغرب وعشاء میں بسم اللہ کو بلند اور آشکار کھے۔ لیکن بدرخرشنی کا یہ کام مفید ثابت نہیں ہوا بلکہ بربہاری کے مریدوں میں مزید فتنہ وفساد پھیل گیا۔

ان کاایک کام یہ تھا کہ وہ نابینا حضرات جو مسجدوں میں اپنی پناہ گاہ بنائے ہوئے تھے ان کو اس کام کے لئے آمادہ کرتے تھے کہ جو بھی شافعی مذہب مسجد میں داخل ہو، اس کو اتنا مارو کہ وہ موت کے قریب پہونچ جائے۔

ابن اثیر خلیفہ راضی کے حنبلیوں کے بارے میں فرمان سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے یوں تحریر کرتاہے کہ خلیفہ راضی نے بربہاری کے مریدوں پر سختی کی اور ان کو ڈرایا، کیونکہ وہ خدا وندعالم کی مثل اور تشبیہ کے قائل تھے اور خداوند عالم کو ھتھیلیوں اور دوپیر اور سونے کے جوتے اور گیسوں والا مانتے تھے اور کہتے تھے کہ خداوند عالم آسمانوں میں اوپر جاتا ہے اور دنیا میں نازل ہوتا ہے، اسی طرح منتخب ائمہ پر طعنہ زنی کرتے تھے اور شیعوں کو کفر وگمراہی کی نسبت دیتے تھے، اور دیگر مسلمانوں کو کھلی بدعتوں کی طرف دعوت دیتے تھے جن کا قرآن مجید میں کہیں تذکرہ تک نھیں، اور ائمہ علیهم السلام کی زیارت کو منع کرتے تھے اور زائرین کے عمل کو ایک برے عمل سے یاد کرتے تھے۔(۱۶)

بربہاری۳۲۹ھ میں ۹۶سال کی عمر میں مرگیا، وہ کسی عورت کے گھر میں چھپا ہوا تھا، اور اس کو اسی گھر میں بغیر کسی دوسرے کی اطلاع کے غسل وکفن کے بعد دفن کردیا گیا۔(۱۷)

ابن اثیر اس سلسلہ میں کہتا ہے : بر بھاری حنبلیوں کا رئیس جو مخفی طور پر زندگی گذار رہا تھا۳۲۹ ھ میں (۷۶)سال کی عمر میں فوت ہوا، اور اس کو ” نصر قشوری “ کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔(۱۸)

قارئین کرام!آپ حضرات نے ملاحظہ فرمایا کہ بربہاری کے بارے میں خلیفہ الراضی کا فرمان ان عقائد کی طرف اشارہ ہے جو بعد میں ابن تیمیہ اور محمد بن عبد الوہاب کے ذریعہ ظاہر ہوئے، (اور فرقہ وہابیت تشکیل پایا)

بربہاری کے عقائد اورنظریات کا خلاصہ

مسئلہ زیارت اورچند دوسرے مذکورہ مسائل کے علاوہ بربہاری کے کچھ اور بھی عقائد تھے ہم یہاں صرف ابن عماد حنبلی کے قول کو نقل کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں:

بربہاری نے شرح کتاب السنة میں کہا: اس زمانہ میں جو کچھ بھی لوگوں سے سنو، اس کو قبول کرنے میں جلدی نہ کرو، اور اس کے مطابق عمل نہ کرو، یہاں تک کہ کسی دوسرے سے یہ معلوم کرلوکہ اس سلسلہ میں اصحاب پیغمبریا علماء اسلام نے نظریہ بیان کیا ہے یا نھیں؟ اور اگر معلوم ہوگیا کہ ان باتوں پر اصحاب پیغمبر یا علماء کرام میں سے کسی نے فرمایا ہے تو اس پر عمل کیا جائے لیکن اس کے علاوہ دوسری باتوں پر عمل نہ کرو، ورنہ مستحق جہنم ہوجاؤ گے۔

خداوندعالم کے بارے میں کچھ نئی نئی باتیں پیدا ہوگئی ہیں جو بدعتیں اورگمراہی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے،(لہٰذا ان کو قبول نہیں کرنا چاہئے) خداوندعالم کے بارے میں صرف وھی باتیں کھی جاسکتی ہیں جن کو خود خداوندعالم نے قرآن مجید میں اپنے بارے میں بیان فرمایا ہے یا پیغمبر اکرم نے اصحاب کے مجمع میں ان کو بیان فرمایا ہے۔

ہم لوگوں کو چاہئے کہ خدا وندعالم کا روز قیامت ان ہی سر کی آنکھوں سے دیدار کا عقیدہ رکھیں، روز قیامت خود خداوندعالم بغیر کسی پردہ اور حجاب کے لوگوں کے حساب وکتاب کے لئے سب کے سامنے آئے گا۔

اسی طرح یہ ایمان بھی رکھنا ضروری ہے کہ پیغمبر اکرم (ص)کے لئے روز قیامت ایک حوض ہوگا، اور تمام دیگرپیغمبروں کا بھی ایک حوض ہوگا، سوائے صالح پیغمبر کے ،کہ ان کا حوض ان کے ناقہ (اونٹنی)کے پستان ہوںگے۔

اسی طرح یہ عقیدہ بھی رکھنا ضروری ہے کہ حضرت رسول اکرم (ص)روز قیامت پل صراط پر تمام گناہکاروں اور خطا کاروں کی شفاعت کریں گے، اور ان کو نجات دلائیںگے،نیز تمام پیغمبروں، صدّقین اور شہداء وصالحین کو روز قیامت حق شفاعت ہوگا۔

اسی طرح اس بات پر بھی ایمان رکھنا ضروری ہے کہ خداوندعالم نے جنت وجہنم کو خلق کررکھا ہے اور جنت ساتویں آسمان پر ہے اور اس کی چھت عرش ہے، اور دوزخ زمین کے ساتویں طبقہ میں ہے۔

نیز اسی طرح یہ عقیدہ بھی ضروری ہے کہ حضرت عیسیٰ ں آسمان سے زمین پر تشریف لائیں گے، اور دجّال کو قتل کریں گے اور شادی کریں گے، اور قائم آل محمد (عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف) کے پیچھے نماز پڑھیں گے، اس کے بعد اس دنیا سے چلے جائیں گے۔

جو شخص کسی بدعت گزار کی تشییع جنازہ میں شرکت کرے تو وہ وہاں سے واپس لوٹ آنے تک خدا کا دشمن ہے، وغیرہ وغیرہ ۔(۱۹)

ابن تیمیہ

اس کا نام ابو العباس احمد بن عبد الحلیم حرّانی (متولد۶۶۱ ھ متوفی۷۲۸ھ) تھا اور ابن تیمیہ کے نام سے مشہور تھا، وہ ساتویں اور آٹھویں صدی ہجری کے مشہور ومعروف حنبلی علماء میں سے تھا، لیکن چونکہ اس کے نظریات اور عقائد دوسرے تمام مسلمانوں کے برخلاف تھے جن کووہ ظاہر کرتا رہتا تھا جس کی بناپر دوسرے علماء اس کی سخت مخالفت کرتے رہتے تھے، اسی وجہ سے وہ مدتوں تک زندان میں رہا اور سختیاں برداشت کرتا رہا، چنانچہ اسی شخص کے نظریات اور عقائد بعد میں وہابیوں کی اصل اور بنیاد قرار پائے ہیں۔

ابن تیمیہ کے حالات زندگی دوستوں اور دشمنوں دونوں نے لکھے ہیں اور ہر ایک نے اپنی نظر کے مطابق اس کاتعارف کرایاہے، اسی طرح بعض مشہور علماء نے اس کے عقائد اور نظریات کے بارے میں کتابیں بھی لکھی ہیں جن میں سے بعض اب بھی موجود ہیں، اس سلسلہ میں جوسب سے قدیم اورپرانی کتاب لکھی گئی ہے اور جس میں ابن تیمیہ کے حالات زندگی کو تفصیل کے ساتھ لکھاہے اور اس کی بہت زیادہ عظمت واہمیت بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہیں، وہ ابن کثیر کی کتاب البدایہ والنھایہ ہے ،اسی طرح عمربن الوَردی نے اپنی تاریخی کتاب میں ، صلاح الدین صفدی نے اپنی کتاب الوافی بالوفَیات میں ، ابن شاکر نے فوات الوفَیات میں اور ذھبی نے اپنی کتاب تذکرة الحفاظ میں ابن تیمیہ کی بہت زیادہ تعریف وتمجید کی ہے۔(۲۰)

لیکن دوسری طرف بہت سے لوگوں نے اس کے عقائد ونظریات کی سخت مذمت اور مخالفت کی ہے، مثلاً ابن بطوطہ نے اپنے سفر نامہ ”تحفة النُظّار“ میں ، عبد اللہ بن اسعد یافعی نے ”مرآة الجنان“میں ، تقی الدین سبکی(آٹھویں صدی ہجری کے علماء میں سے) نے” شفاء السِقام فی زیارة خیر الانام “ اور” درّة المفیدہ فی الردّ علی ابن تیمیہ“میں ، ابن حجر مکی نے کتاب ”جوھر المنظم فی زیارة قبر النبی المکرم“ اور ”الدُّرَرُ الکامنہ فی اعیان الماة الثامنہ“ میں ، عز الدین بن جماعہ اور ابو حیان ظاہری اندلسی، کمال الدین زَملکانی (متوفی ۷۲۷ھ)(۲۱) نے کتاب ” الدّرَةُ المضیئة فی الرد علی ابن تیمیہ“ حاج خلیفہ کی” کشف الظنون“کی تحریر کے مطابق، ان تمام لوگوں نے ابن تیمیہ کی سخت مخالفت کی ہے اور اس کے عقائد کو ناقابل قبول کہا ہے۔

قاضی اِخنائی(۲۲) ابن تیمیہ کے ہم عصر)نے” المقالة المرضیة“ میں اور دوسرے چند حضرات نے بھی ابن تیمیہ کی شدت کے ساتھ مخالفت کی ہے اور اس کے عقائد کی سخت مذمت کرتے ہوئے ان کو مردود اور ناقابل قبول جانا ہے۔(۲۳)

اسی زمانہ میں ابن تیمیہ نے (نبی اکرم (ص)سے) استغاثہ کا انکار کیا،اس پر اس کے ہم عصر عالم علی ابن یعقوب بکری(متوفی۷۲۴ھ) نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے استغاثہ کے سلسلہ میں ایک کتاب لکھی جس میں اس بات کو ثابت کیا کہ جن موارد میں خداوندعالم سے استغاثہ کیا جاسکتا ہے ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بھی استغاثہ کرنا جائز ہے۔ ابن تیمیہ نے اس کتاب کی ردّمیں ایک کتاب لکھی جو اس وقت بھی موجود ہے۔(۲۴)

ابن تیمیہ کے ایک اور ہم عصر بنام شیخ شھاب الدین بن جُھبُل (شافعی) متوفی۷۳۳ھ نے ایک رسالہ لکھا جس میں خداوندعالم کے لئے جھت وسمت کو مضبوط ومحکم دلیلوں کے ذریعہ مردود اور باطل قرار دیاہے۔(۲۵)

ابن تیمیہ کے طرفدار لوگ کہتے ہیں:چونکہ ابن تیمیہ بہت سے علوم اور قرآن وحدیث میں مھارت رکھتا تھا جس کی بناپر اس وقت کے حکمراں اور بادشاہ نیز دیگر علماء اس کا بہت زیادہ احترام کرتے تھے اور اس کی اہمیت کے قائل تھے، اسی وجہ سے دوسرے علماء کو اس سے حسد ہونے لگا جس کی وجہ سے اس کے عقائد کو فاسد اور کفر آور کہنے لگے۔

ابن تیمیہ کے مخالف افراد کہتے ہیں: اس نے مسلمانوں کے اجماع کے خلاف اپنی آواز اٹھائی اوروہ خداوندعالم کے دیدار اور اس کے لئے جھت وسمت کا قائل ہوا، نیز اولیاء اللہ کی قبور کی زیارت سے ممانعت کی، وغیرہ وغیرہ۔

متاخرین میں بھی ابن تیمیہ کے طرفدار اور مخالفوں نے ابن تیمیہ کے حالات زندگی میں کتابیں لکھی ہیں فارسی زبان میں اب تک جو کتابیں اس کے بارے میں لکھی گئی ہیں ”کتابنامہ دانشوران“ میں ان کتابوں کو شمار کیا گیا ہے۔

عصر حاضر میں عرب کے ایک مشہور مولف محمد ابو زَھرہ نے ”ابن تیمیہ حیاتہ وعصرہ وآرائہ وفقہہ“ نامی کتاب لکھی جس میں ابن تیمیہ کے حالات زندگی کو تفصیل کے ساتھ لکھا ہے،اور اس کے احوال زندگی کے تفصیلی اور دقیق گوشوں کے علاوہ اس کے عقائد اور نظریات کا تجزیہ وتحلیل بھی کیا ہے۔

ہندوستانی دانشوروں میں ابو الحسن علی الحسنی ندوی نے بھی اردو زبان میں ”خاصٌ بحیاةِ شیخ الاسلام الحافظ احمد بن تیمیہ“نامی کتاب ۱۳۷۶ھ میں لکھی ہے جس کاسعید الاعظمی ندوی نے عربی میں ترجمہ کیا ہے جو ۱۳۹۵ھ میں کویت سے چھپ چکی ہے، یہ کتاب ابن تیمیہ کے حالات زندگی اور عقائد ونظریات پر مشتمل ہے۔

محمد بہجة البیطار نامی شخص نے بھی حیاة الشیخ الاسلام ابن تیمیہ نامی کتاب لکھی، جو۱۳۹۲ھ میں لبنان سے چھپ چکی ہے۔

ابن تیمیہ کے حالات زندگی کا خلاصہ مختلف کتابوں اور منابع کے پیش نظر اس طرح ہے:

”ابن تیمیہ ربیع الاول۶۶۱ھ کو حَرّان(عراق کا مُضَرنامی علاقہ) میں پیدا ہوا، اس کا باپ حنبلیوں کے بڑے عالموں میں سے تھا جو مغلوں کے ظلم وستم کی وجہ سے شام چلا گیا تھا۔

ابن تیمیہ کے والد بیس سال کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے اور ابن تیمیہ نے اپنے باپ کی جگہ تدریس کے عہدہ سنبھالا، اور۶۹۱ھ میں حج کے لئے گیا۔

چند سال بعد جس وقت وہ قاہرہ میں قیام پذیر تھااس نے خداوندعالم کے صفات کے بارے میں ایک انوکھا فتویٰ دیا جس کی بناپر اس وقت کے علماء مخالفت کرنے لگے، جس کے نتیجہ میں اس کو تدریس کے عہدہ سے محروم کردیا گیا، اسی طرح اس نے سیدة نفیسہ(حضرت امام حسین ں کی اولاد میں سے مصر میں ایک قبر ہے جس کی مصریوں کے نزدیک بہت زیادہ اہمیت ہے)کے بارے میں کچھ کہا جس کی بناپر عوام الناس بھی اس سے برہم ہوگئے۔(۲۶)

اسی زمانہ میں اسے لوگوں کو مغلوں سے جنگ کرنے کے لئے آمادہ کرنے پر مامور کیا گیا، جس کی بناپر وہ شام چلا گیا اور چند جنگوں میں شرکت کی۔

۲۹۹ھ میں اس نے غازان خان مغل کے مقابلہ میں ایک زبردست اقدام کیا اور لوگوں کو مغل سپاہیوں سے (جو شام تک پہونچ چکے تھے) لڑنے کے لئے بہت زیادہ تحریک کیا۔(۲۷)

ابن تیمیہ کی غازان خان سے ملاقات

جس وقت غازان خان دمشق کے نزدیک پہونچا تو دمشق کے لوگ کافی حیران وپریشان تھے، یکم ربیع الاول۶۹۹ھ بروز شنبہ ظھر کے وقت شھر دمشق سے نالہ وفریاد کی آوازیں بلند ہونے لگیں۔ عورتیں بے پردہ گھروں سے نکل پڑیں اور مرددکانیں چھوڑچھوڑ کر بھاگ نکلے، ان حالات میں لوگوں نے قاضی القضاة اور شیخ الاسلام تقی الدین سبکی ابن تیمیہ اور شریف زین الدین(۲۸) نیز دیگر بڑے بڑے امراء اور فقھاء کو غازان کے پاس امان کی در خواست کرنے کے لئے بھیجا ۔ جس وقت لوگوں کے یہ تمام نمائندے ”بُنْک“ نامی جگہ پر غازان کے پاس پہونچے دیکھا کہ وہ گھوڑے پر سوار چلا آرہا ہے، یہ تمام لوگ اس کے سامنے زمین پر اتر آئے اور ان میں سے بعض لوگ زمین پر جھک کربوسہ دینے لگے ۔ غازان رکا، اور اس کے بعض ساتھی گھوڑوں سے اترگئے، اہل دمشق کے نمائندوں نے کسی ایک مترجم کے ذریعہ اس سے امان کی درخواست کی، اور اپنے ساتھ لائی ہوئی غذا پیش کی، جس پر غازان نے کوئی توجہ نہ کی، لیکن امان کی درخواست کو قبول کرلیا۔(۲۹)

ابن تیمیہ کی مغلوں سے دوسری ملاقات اس وقت ہوئی جب مغل بیت المقدس کے قرب وجوار میں تباہی اور غارت گری کے بعد دمشق لوٹے، تو ان کے ہمراہ بہت سے اسیر بھی تھے، اس موقع پر بھی ابن تیمیہ نے ان سے اسیروں کی رہائی کی درخواست کی، چنانچہ ان کو رہا کردیا گیا۔(۳۰)

جس وقت مغل دمشق سے باہر نکل آئے،اور امیر اَرجْوُاس وہاں کا حاکم ہوا ،تو اس نے ابن تیمیہ کے کہنے کی وجہ سے مغلوں کے بنائے ہوئے شراب خانوں کو بند کرادیا، شراب کو زمین پر بھا دیا، اور شراب کے ظروف توڑڈالے۔(۳۱)

وہ باتیں جن پر اعتراضات ہوئے

پہلی بارجب لوگوں نے ابن تیمیہ کے پریہ پر اعتراض ماہ ربیع الاول۶۹۸ھ میں کیا کیونکہ اس نے رسالہ حمویہ میں خداوندعالم کی صفات کے بارے میں ایک فتویٰ دیا جس کی وجہ سے اکثر فقھاء اس کے مقابلہ کے لئے کھڑے ہوگئے، اس سے بحث وگفتگو کی، اور اس کو اس نظریہ کے اظھار سے روکا۔(۳۲)

اس سلسلہ میں ” صَفَدی“ کہتا ہے کہ ربیع الاول۶۹۸ھ میں شافعی علماء میں سے بعض لوگ ابن تیمیہ سے مقابلہ کے لئے کھڑے ہوگئے اور خداوندعالم کے بارے میں اس کی باتوں کو باطل اور مردود قرارد یا، رسالہ حمویہ میں اس کے صادر کردہ فتویٰ کو ناقابل قبول گردانا، اور اس سے بحثوگفتگو کے بعد دمشق شھر میں یہ اعلان کرادیا کہ حمویہ کے عقائد باطل اور بے بنیاد ہیں، اور اس سلسلہ میں ابن تیمیہ کو بھی اپنے عقائد کے اظھار سے رو ک دیا گیا(۳۳) اور مالکی قاضی کے حکم سے اس کو بحث وگفتگو کے جلسہ سے جیل بھجوادیاگیا، اور جب قاضی مالکی کو اس بات کی خبر ہوئی کہ جیل میں بھی کچھ لوگ اس سے ملاقات کے لئے آمدورفت کرتے ہیں تو اس پر سختی کرنے کا حکم صادر کردیا، کیونکہ اس کا کفر ظاہر اور آشکار ہوتا جارہا تھا۔

عید فطر کی شب میں اس کو جیل کے بُرج سے نکال کر ایک کویں میں منتقل کردیا گیا، اور دمشق میں یہ اعلان کرادیا گیا کہ جو شخص بھی ابن تیمیہ کے عقائد کا طرفدار ہوگا اس کی جان ومال حلال ہے، خصوصاً اگرایساشخص فرقہ حنبلی کا طرفدار ہوگا۔ حاکم کے اس حکم کو ابن الشِّھاب محمود نے جامع مسجد میں سب کے سامنے پڑھکر سنایا۔ اس کے بعدتمام حنبلیوں کو ایک جگہ جمع کیا اور انھوں نے سب کے سامنے یہ گواہی دی کہ ہم لوگ شافعی مذہب کے پیروں ہیں،(یعنی ابن تیمیہ کے طرفدار نھیںھیں)۔(۳۴)

ابن تیمیہ اسی کنویں میں قید تھا یہاں تک کہ ”مُہَنّا“ امیر آل فضل نے اس کی سفارش کی اور(۲۳)ربیع الاول کو زندان سے آزاد ہوا، اس کے بعد جبل نامی قلعہ میں اس کے اور دیگر فقھاء کے درمیان بحث وگفتگو ہوئی اور ایک تحریر لکھی گئی کہ ابن تیمیہ خود کو اشعری مذہب کھلائے، اور خود اس نے ایک تحریر پیش کی جس میں اس طرح لکھا ہوا تھا:

میں اس چیز کا اعتقاد رکھتا ہوں کہ قرآن کریم ایسے معنی ہے جو خداوندعالم کی ذات پر قائم ہے اور وہ خدا کی صفات میں سے ایک قدیمی صفت ہے، اور قرآن مخلوق نہیں ہے اور حرف اور آواز نہیں ہے، اور اس آیہ شریفہ( اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَویٰ ) (۳۵) کا مطلب ظاہر نہیں ہے اور میں اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر ہوں، بلکہ خدا کے علاوہ اس کے معنی کوئی نہیں جانتا، اور میرا وہ فتویٰ جو خدا کے نزول (خدا کا آسمان یا عرش سے نازل ہونا) کے بارے میں تھا بالکل وھی ہے جو مذکورہ آیت( اسْتَویٰ ) کے بارے میں کہا۔ اس تحریر کے آخر میں مرقوم تھا: کتبہ احمد بن تیمیہ ۔

اس موقع پرجلسہ میں موجود تمام فقھاء نے گواہی دی کہ ابن تیمیہ نے ۲۵ربیع الاول۷۰۷ھ کو اپنے اختیار اور اپنی مرضی سے مذکورہ مطالب کے علاوہ اپنے عقائد سے توبہ کرلی ہے ۔(۳۶)

یہ تھی ابن حجر کی گفتگو، لیکن ابن الوَردی کابیان ہے کہ ابن تیمیہ نے مدتوں تک کسی معین مذہب کے مطابق فتویٰ نہیں دیا، بلکہ اس کا فتویٰ وھی ہوتا تھا جودلیل سے اس پر ثابت ہو جاتا تھا اس نے وھی بات کہہ دی جس کو علمائے قدیم اور جدید سبھی نے اپنے دل میں رکھا لیکن اس کو زبان پرجاری کرنے سے پر ھیز کیا، لیکن حب ابن تیمیہ نے اس سلسلہ میں اپنی زبان کھولی تو اس وقت کے مصر وشام کے علماء نے اس کی مخالفت شروع کردی،اور اس سے مناظرہ اور مقابلہ کرنے کے لئے کھڑے ہوگئے، لیکن وہ بغیر کسی خوف وھراس کے ہر وہ چیز جو اس کے اجتھاد کے مطابق ہوتی تھی اس کو پیش کردیتا تھا۔(۳۷)

شعبان المعظم۷۲۶ھ میں ایک بار پھر علماء نے ابن تیمیہ کی مخالفت شروع کردی، کیونکہ ابن تیمیہ نے زیارت کے خلاف فتوی دیا تھا۔(۳۸)

ابن تیمیہ نے یہ فتویٰ دیا کہ پیغمبروں کی قبور کی زیارت کے قصد سے سفر نہیں کرنا چاہئے، چنانچہ مختلف علماء نے اس کا جواب دیتے ہوا کہا : چونکہ اس کا مطلب عظمت ِ نبوت کو گرانا ہے، لہٰذا اس طرح کا فتویٰ دینے والا کافر ہے، دوسرے لوگوں نے فتویٰ دیا کہ ابن تیمیہ نے اس فتوے میں غلطی کی ہے لیکن یہ غلطی ان غلطیوں میں سے ہے جو قابل بخشش ہیں، چنانچہ اس امر کی عظمت اور اہمیت زیادہ ہوگئی، اور ابن تیمیہ کو الجبل نامی قلعہ میں دوبارہ قید کردیا گیا وہاں وہ بیس ماہ سے زیادہ قید رہا، قید کی مدت میں اس کو لکھنے پڑھنے سے بھی محروم رکھاگیا۔(۳۹)

ابن تیمیہ ،مفسروں کی طرح منبر سے گفتگو کرتا تھااور ایک گھنٹہ میں قرآن وحدیث اور لغت سے وہ مطالب بیان کرتا تھا کہ دوسرے لوگ کئی گھنٹوں میں وہ مطالب بیان کرنے سے عاجز تھے، گویا یہ تمام علوم اس کے سامنے ہوتے تھے کہ جہاں سے بھی بیان کرنا چاہے فوراً ان مطالب کو بیان کردیتا تھا، اسی وجہ سے اس کے طرفدار اس کے بارے میں بہت غلو سے کام لیتے تھے، اور خود (ابن تیمیہ) بھی اپنے اوپر رشک کرتا تھا اورخود پسند ہوگیا تھا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دیگر تمام علماء سے اپنے قدم آگے بڑھائے اور گمان کرلیا کہ وہ مجتہد ہوگیا ہے، چنانچہ قدیم وجدید تمام چھوٹے بڑے علماء پر اعتراضات کیا کرتا تھا، یہاں تک کہ اس نے عمر کو بھی ایک مسئلہ میں خطاکار اور قصوروار ٹھھرایا، اور جب یہ خبر شیخ ابراہیم رَفّی کے پاس پہونچی تووہ بہت ناراض ہوئے اور اس کو برابھلا کہا، لیکن جس وقت ابن تیمیہ کو شیخ کے پاس حاضر کیا گیا تو اس نے معافی چاہی اور توبہ واستغفار کی۔

ابن تیمیہ نے ۱۷مقامات پر حضرت علی ں پر بھی اعتراض کیا، وہ چونکہ حنبلی مذہب سے بہت زیادہ لگاو رکھتا تھا لہٰذا اشاعرہ کو برا کہتا تھا یہاں تک کہ غزالی کو گالی بھی دیتا تھا ،

اسی وجہ سے بہت سے لوگوں نے اس کا مقابلہ کیا یہاں تک کہ قریب تھا اس کو قتل کردیں۔(۴۰)

ابن تیمیہ کے سلسلہ میں لوگ متعدد گروہوں میں تقسیم ہوگئے تھے، بعض لوگ کہتے تھے کہ وہرسالہ حمویہ اور واسطیہ میں خدا کے بارے میں جسم کا قائل ہوا ہے جس میں ابن تیمیہ کا یہ کہنا تھا کہ خداوندعالم کے ھاتھ، پیر اور چھرہ رکھنا اس کی حقیقی صفات میں سے ہے، اور یہ کہ خدا بذات خود عرش پر مستقر ہے۔

دوسرا گروہ ابن تیمیہ کو زندیق (کافر) جانتا تھا کیونکہ ابن تیمیہ کا یہ کہنا تھا کہ پیغمبر اکرمسے استغاثہ نہیں کیا جاسکتا، لہٰذایہ لوگ کہتے تھے کہ ابن تیمیہ نے اس قول سے پیغمبر اکرم (ص)کی توھین کی ہے اور آنحضرت (ص)کی عظمت گھٹائی ہے۔

تیسرا گروہ اس کو منافق کہتا تھا کیونکہ اس نے حضرت علی ں کی شان میں جسارت کی ہے نیز اسی طرح کی دوسری باتیں کھیں، جبکہ پیغمبر اکرم (ص)نے حضرت علی ں کے بارے میں یہ حدیث بیان کی ہے: ”لایبغضک الاالمنافق “ (اے علی (ع)!تم سے کوئی دشمنی نہیں کرے گا مگر یہ کہ وہ منافق ہو)، ابن تیمیہ نے عثمان کے بارے میں کہا کہ عثمان دولت پسند تھے، نیز اسی طرح ابوبکر کے بارے میں بھی ایسے ہی کلمات کھے ہیں۔(۴۱)

قارئین کرام! س بات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ خود ابن حجر نے اس حدیث نبوی کو بیان کیا ہے جس کو صحیح مسلم نے ابومعاویہ سے اس نے اَعمش سے اس نے عدیّ بن ثابت سے اس نے زرّ سے اس نے حضرت علی ں سے روایت کی ہے کہ انھوں نے فرمایا:

وَالَّذِیْ فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَاَ النَّسْمَةَ انَهُ لَعَهِدَ النَبِیُّ اِلَیَّ اَنْ لاٰ یُحِبُّنِی. اِلاّٰ مُومِنٌ وَلاٰ یُبْغِضُنی اِلاّٰ مُنَافِقٌ(۴۲)

”قسم اس پروردگار کی جس نے دانہ کو شگافتہ کیا اور انسان کو خلق کیا، پیغمبر اکرمصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے وصیت کی اور کہا کہ تم کو کوئی دوست نہیں رکھے گا مگر یہ کہ مومن ہو اور تم کو کوئی دشمن نہیں رکھے گا مگر یہ کہ منافق ہو“۔

افعی کہتے ہیں : ابن تیمیہ نے بہت عجیب وغریب مسائل بیان کئے جو اہل سنت کے نظریات کے مخالف تھے اور انھیں کی وجہ سے اس کوقید ہوئی، اس کا سب سے عجیب فتوی یہ تھا کہ اس نے پیغمبر اکرم (ص)کی زیارت سے منع کیا، اور اس نے بڑے بڑے صوفیوں کی شان میں جسارت کی مثلاً حجة الاسلام ابو حامد غزالی، ابو القاسم قُشَیری، ابن عَرِیف اور شیخ ابو الحسن شاذلی وغیرہ ۔(۴۳)

ابن تیمیہ کی بحث وگفتگو کا انداز

جیسا کہ معلوم ہے کہ ابن تیمیہ بحث وگفتگو میں زبان درازی اور اس ڈالی سے اس ڈالی چھلانگ لگانے کا زیادہ ماہر تھا اورموضوع بحث سے ہٹ کر دوسرے موضوعات میں چلاجاتا تھا جس کی بناپرمد مقابل کو گفتگو کرنے کا موقع کم ملتا تھا اسی وجہ سے اس سے بحث کرنے کے لئے ماہر اور سخنور افراد کا انتخاب کیا جاتا تھا۔

تاج الدین سبکی کااس سلسلہ میں بیان ہے:مسئلہ حمویہ (ابن تیمیہ کا خدا کے بارے میں جھت وسمت کو ثابت کرنے کا فتویٰ) کے سلسلہ میں منعقدہ جلسہ میں کہ جس میں امیر تَنگزُ بھی موجود تھا علماء حاضرین نے امیر سے درخواست کی کہ شیخ صفی الدین ہندی اُرْموی جو تقریر میں مھارت رکھتے ہیں اور تمام مطالب کی طرف توجہ رکھتے ہیں اور کسی بھی مسئلہ کو بیان کرتے وقت اس میں کوئی شک وشبہ کی گنجائش نہیں چھوڑتے ان کو بھی اس جلسہ میں بلایا جائے۔

شیخ صفی الدین جلسہ میں حاضر ہوئے اور مناظرہ شروع ہوا، ابن تیمیہ اپنی عادت کے مطابق موضوع سے ہٹا تو صفی الدین نے اس سے کہا: اے تیمیہ کے بیٹے میں دیکھ رہا ہوں کہ جب میں تم کو پکڑنا چاہتاہوں تو تم ایک چڑیا کی طرح ایک شاخ سے دوسری شاخ پر اڑجاتے ہو، آخر کار اس مناظرہ کے نتیجہ میں ابن تیمیہ کو زندان بھیج دیا گیا۔(۴۴)

تاج الدین سبکی نے ابن تیمیہ کے حالات زندگی کو لکھتے ہوئے ایسے نظریات بیان کئے ہیں جو لوگوں کے نظریہ کے خلاف تھے۴۵ شام کے حکمرانوں نے اس سے مناظرہ وبحث کرنے کے بعد اس کو ایک شافعی عالم کے ساتھ قاہرہ بھیج دیا، وہاں پر بھی بحث وگفتگو اور مناظرات ہوئے، چنانچہ ابن تیمیہ نے مختلف اسلامی مذاہب کے علماء سے تفصیلی گفتگو اور مناظرات کئے، جس کے نتیجہ میں یہ طے پایا کہ ابن تیمیہ کو الجبل نامی قلعہ(شام کے ایک پھاڑی علاقہ) میں ایک کنویں میں قید کردیا جائے، لیکن چھ مھینے بعد اس کو قید سے رہائی ملی، لیکن چونکہ اس کے مقابلہ میں بادشاہ اور حاکم وقت تھے، اور یہ شخص بھی اپنے عقائد کے بیان کرنے سے باز نہیں آتا تھا، لہٰذا دوبارہ قید میں ڈال دیا گیا، لیکن ایک مدت کے بعد پھر آزاد ہوا اور درس وتدریس میں مشغول ہوگیا، اس کے بعد قاہرہ سے دمشق جاپہنچا لیکن وہاں پہونچنے کے بعد اس پر علماء کی طرف سے کفر کا فتویٰ صادر ہوگیا اور پھر زندان بھیجدیا گیا۔

ابن تیمیہ خود اپنی کتاب فتاوی الکبری جلد پنجم کے شروع میں اس طرح لکھتا ہے : ماہ رمضان المبارک۷۲۶ھ میں قضّات اور حکمرانوں کی طرف سے ایک انجمن کے تحت دوافراد میرے پاس آئے اور مجھ سے کہا کہ آپ بحث کے لئےقضّات کے پاس چلیں۔

ابن تیمیہ ان کے سلوک پر اعتراض اور سخت شکوہ وشکایات کرتا ہے، اور گزشتہ جلسوں کی طرف اشارہ کرنے کے بعد قضات سے مخاطب ہوکر کہتا ہے کہ میں نے اپنے عقائد لکھ دئے ہیں آپ حضرات جو بھی جواب دینا چاہیں لکھ دیں، ابن تیمیہ مذکورہ مسئلہ کو نقل کرنے کے بعد اس طرح کہتا ہے کہ قضات نے ایک کاغذ پریہ تحریر کیا: ابن تیمیہ کو چاہئے کہ خداوندعالم سے جھت وسمت کی نسبت سے انکار کرے اور لوگوں میں اس طرح کی باتیں نہ کرے کہ کلام خدا (قرآن مجید) حرف اور آواز ہے جو خداوندعالم کی ذات سے تعلق رکھتاہے، بلکہ یہ حرف اور مخلوق کی آواز ہے، اور اس کو یہ عقیدہ رکھنا چاہئے کہ خدا کی طرف انگلی سے حسّی طور پر اشارہ نہیں کرسکتے، اور صفات خداوندعالم سے متعلق احادیث کو نہ پڑھے، نیز ان احادیث کو دوسرے شھروں میں لکھ کر نہ بھیجے۔

ابن تیمیہ نے مذکورہ باتوں کا تفصیلی تذکرہ کیا ہے اور ہر ایک کا جواب دیا ہے، لیکن گویا ابن تیمیہ کا جواب مخالفوں کو مطمئن نہیں کرسکا کیونکہ انھوں نے اس کا پیچھا نہیں چھوڑا، اور بار بار اس کو قید کی سزا ہوتی رہی، آخر کار وہ ماہ شوال۷۲۸ھ میں زندان میں ہی مرگیا، آخری بار زیارت کو ممنوع قرار دینے کے سلسلہ میں زندان میں گیاتھا۔(۴۶)

شوکانی کا بیان ہے: قاضی مالکی کے فتوے کے مطابق ابن تیمیہ کوزندان میں بھیج دیا گیا،تو اس کے بعد دمشق میں یہ اعلان کرادیا گیا کہ جو کوئی اس کے عقائد کا طرفدار پایا گیا اس کی جان ومال حلال ہے۔(۴۷)

جیسا کہ ظاہر ہے ابن تیمیہ کے مقابلہ میں اس زمانہ کے اکثر علماء تھے لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بہت سے طرفدار بھی تھے جو اس کے بہت زیادہ گرویدہ تھے، چنانچہ اس کے جنازہ میں شرکت کرنے والوں کی تعداد دولاکھ تک بتائی جاتی ہے، اور یہ کہ بعض لوگوں نے اس کے غسل کے پانی کو بطور تبرک پیا، اور اس سے متعلق چیزوں کو قابل احترام سمجھا۔(۴۸)

لوگ رومالوں اور عماموں کو بطور تبرک اس کے جنازے سے مس کرتے تھے۔(۴۹)

ان تمام باتوں کے مدّ نظر یہ بات کھی جاسکتی ہے کہ اس کے چاہنے والوں کی ایک بڑی تعداد شام میں باقی رہی، یہاں تک کہ محمد بن عبد الوہاب کے زمانہ تک اس کے ماننے والے شام میں باقی رہے، وھی محمد بن عبد الوہاب جس نے وہابیت کو ایک فرقہ کی شکل بخشی، شیخ محمد عبدہ (عصر حاضر کے مشہور مولف) کے احتمال کے مطابق محمد بن عبد الوہاب نے اپنے عقائد میں ابن تیمیہ کی تقلید کی ہے۔

حافظ وَھبہ کے قول کے مطابق جو سعودی عرب کے حکومتی افراد میں سے ہے؛ابن تیمیہ کی کوششیں کامیاب نہ ہوسکیں کیونکہ اس وقت کے حکمراں اور بادشاہ اس کے مخالف تھے لیکن وھی ابن تیمیہ کے عقائد اور نظریات تقریباً چارصدی کے بعد محمد بن عبد الوہاب کے ذریعہ اور بادشاہ وقت محمد بن سعود کی پشت پناہی کے سبب بارہویں صدی میں عملی شکل اختیار کرگئے(۵۰) ،(اور ایک نیا فرقہ وجود میں آگیا۔)

ابن تیمیہ کے فقھی عقائد و نظریات

ابن تیمیہ کے حالات زندگی کے آخرمیں اور اس کے عقائد کی گفتگو سے پہلے اس بات کی طرف یاد دہانی ضروری ہے کہ وہ خود اوراس کے باپ کا حنبلی علماء میں شمار ہوتا تھا لیکن فقھی مسائل میں وہ احمد حنبل یا دوسرے مذاہب کی پیروی کا پابند نہ تھا اورمختلف فقھی مسائل میں انھیں مسائل کو انتخاب کرتاتھا جو خود اس کی نظر میں صحیح ہوتے تھے، یہاں تک کہ شیعوں کی شدید مخالفت کے باوجود اس نے بعض مسائل میں شیعوں کی پیروی بھی کی ہے۔(۵۱)

مثلاً طلاق کے مسئلہ(۵۲) میں اس کا فتویٰ یہ تھا کہ اگر کوئی اپنی بیوی کو اس لفظ کے ساتھ طلاق دے ”انتِ طالق ثلاثاً “ (یعنی میں نے تجھے تین طلاقیں دیں) تو یہ تین طلاق واقع نہیں ہوتی بلکہ صرف ایک طلاق واقع ہوتی ہے۔(۵۳) (شیعہ مراجع عظام کا فتویٰ بھی یھی ہے)

اسی طرح ابن تیمیہ بعض جگہ شیعوں کی فقھی نظر کو بیان کرتا ہے اور امام محمد باقر ں اور امام جعفر صادق ں نیز دیگر ائمہ علیهم السلامکی روایات کو نقل کرتا ہے۔(۵۴)

اسی طرح فتاوی الکبری (ابن تیمیہ کے فتووں کا مجموعہ) میں بعض مسائل کے بارے میں ایسے فتوے بیان کئے جواہل سنت کے ائمہ اربعہ کے فتووں سے بالکل جدا تھے۔(۵۵)

اس سلسلہ میں ایک بات یہ ہے کہ ابن تیمیہ حنبلی مذہب کو دوسرے مذاہب پر ترجیح دیتا تھا کیونکہ اس مذہب کو قرآن واحادیث سے نزدیک پاتا تھا(۵۶) یہ باتبعد میں بیان کی جائے گی کہ ابن تیمیہ اور اس کی پیروی کرنے والے (وہابی) قرآن وحدیث کے ظاہر سے تمسک کرتے رہے ہیں۔

____________________

۲. وہابی حضرات اپنے فرقہ کو نیا فرقہ نہیں کہتے بلکہ کہتے ہیں یہ فرقہ ”سَلَف صالح“ کا فرقہ ہے اور اسی وجہ اپنے کو سَلَفیہ کہتے ہیں۔

۳. ابن بطّہ کی سوانح حیات کتاب المنتظم، تالیف ابن جوزی جو ۳۸۷ھ میں وفات پانے والوں کے سلسلہ میں ھے اور سمعانی کی انساب میں بطّی اور عکبری (بغداد سے دس فرسنگ کے فاصلہ پر ایک جگہ کا نام ہے) دونوں لفظوں کے تحت بیان ہوئی ہے، نیز خطیب بغدادی نے بھی اپنی کتاب تاریخ بغداد ج۱۰ ص ۳۷۱ میں ابن بطہ کے حالات بیان کئے ہیں اور اس پر کچھ اعتراضات بھی کئے ہیں کہ ابن جوزی نے ان اعتراضات کا جواب بھی دیا ہے۔ (منتظم ج۷ص۱۹۳) ،ابن ماکولا نے بھی لفظ بطہ کے ذیل میں ابن بطہ کے حالات زندگی کو مختصر طور پر لکھا ہے۔ (الاکمال ج۱ص۳۳۰) ۴. کتاب الرد علی الاخنائی تالیف ابن تیمیہ ص۲۷۔

۳. ابن بطّہ کی سوانح حیات کتاب المنتظم، تالیف ابن جوزی جو ۳۸۷ھ میں وفات پانے والوں کے سلسلہ میں ھے اور سمعانی کی انساب میں بطّی اور عکبری (بغداد سے دس فرسنگ کے فاصلہ پر ایک جگہ کا نام ہے) دونوں لفظوں کے تحت بیان ہوئی ہے، نیز خطیب بغدادی نے بھی اپنی کتاب تاریخ بغداد ج۱۰ ص ۳۷۱ میں ابن بطہ کے حالات بیان کئے ہیں اور اس پر کچھ اعتراضات بھی کئے ہیں کہ ابن جوزی نے ان اعتراضات کا جواب بھی دیا ہے۔ (منتظم ج۷ص۱۹۳) ،ابن ماکولا نے بھی لفظ بطہ کے ذیل میں ابن بطہ کے حالات زندگی کو مختصر طور پر لکھا ہے۔ (الاکمال ج۱ص۳۳۰) ۴. کتاب الرد علی الاخنائی تالیف ابن تیمیہ ص۲۷۔

۵. کتاب الرد علی الاخنائی تالیف ابن تیمیہ ص۳۰۔

۶. تاریخ نجد ص ۱۱۱۔ شیخ عبد الوہاب کی مخالفت کے علاوہ اس کا بھائی شیخ سلیمان بھی محمد بن عبد الوہاب کا سخت مخالف تھا، ہم انشاء اللہ اس بارے میں تفصیلات بعد میں بیان کریں گے،اور باپ بیٹے کے درمیان بہت سے مناظرات اور مباحثات بھی ہوئے، لہٰذااس فرقہ کی اس کی طرف کیسے نسبت دی جاسکتی ہے جو خود ان نظریات کا سخت مخالف ہو۔

۷. دائرة المعارف فرید وجدی ج۱۰ ص ۸۷۱ بہ نقل از مجلہ المقطف ص ۸۹۳۔

۸. زعماء الاصلاح فی العصر الحدیث ص ۱۰۔

۹. یہ لوگ خود کو اس وجہ سے سلفیہ کہتے تھے کہ ان کا ادعایہ تھا کہ وہ لوگ اپنے اعمال واعتقادات میں سلف صالح یعنی اصحاب پیغمبر اور تابعین (وہ لوگ جو خود تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت نہ کرسکے لیکن انھوں نے اصحاب پیغمبر کے ذریعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کلام اور گفتگو کو سنا ہے) کی پیروی کرتے ہیں۔

۱۰. خلاصہ از کتاب ا لمذاہب الاسلامیہ ص ۳۱۱ ۔

۱۱. نشوار المحاضرہ ج۲ ص ۱۳۴وھی مدرک:بربہاری کے مریدوںنے بغداد میں ایک مسجد بنائی جو فتنہ وفساد کا مرکز تھی اسی وجہ سے دوسرے لوگ اس کو مسجد ضَرار کہتے تھا، (اور اس مسجد کو پیغمبر اکرمکے ذریعہ گرائی جانے والی مسجد ضرار کی طرح جانتے تھے) چنانچہ اس وقت کے وزیر علی ابن عیسیٰ سے شکایت کی جس کی بناپر اس نے اس مسجد کے گرانے کا حکم صادر کردیا۔

۱۲. ارشاد یاقوت ج۶ ص ۴۳۶۔

۱۳. البدایہ والنھایہ ج۱۱ص ۲۰۱۔

۱۴. بربہاری، بھار کی طرف نسبت ہے، جوحشیش کی طرح ایک قسم کی دوائی ہے ،اور وہ ہندوستان میں پائی جاتی ہے۔ (سمعانی مادہ بربہاری)

۱۵. تجارب الامم ج۵ ص ۳۲۲، خلیفہ کا فرمان اس کتاب میں موجود ہے، خلیفہ کے فرمان سے ظاہر یہ ہوتا ہے کہ بربہاری کے مرید زائرین قبور ائمہعلیهم السلامکو بدعت گذار گردانتے تھے، لیکن ایک عام آدمی کی قبر کی زیارت کا حکم دیتے تھے، جس کو رسول اللہسے کوئی نسبت بھی نہیں تھی۔

۱۶. الکامل ج۶ ص ۲۴۸۔ خلیفہ الراضی کے فرمان میں خداوندعالم کے بارے میں بربہاری کے مریدوں کے نظریات کو اجمالی اورمختصر طور پر ذکر کیا گیاہے، لیکن ابن اثیر نے جیسا کہ متن سے معلوم ہوا ان کی باتوں کی وضاحت کی ہے، ابو الفداء نے بھی اپنی تاریخ (ج۲ص۱۰۳) میں خلیفہ کے فرمان کے بارے میں اس طرح نقل کیا ہے کہ تم یہ گمان کرتے ہو کہ تمھارا بدنما چھرہ خداوندعالم کے چھرہ کی طرح ہے، اور تمھاری شکل وصورت خداوندعالم کی طرح ہے، اور خداوند عالم کے لئے گُندہے ہوئے بالوں کا ذکر کرتے ہو اور کہتے ہو کہ خداوندعالم آسمانوں میں اڑتا ہے ،اوپر جاتا ہے اور کبھی نیچے آتا ہے۔

۱۷. المنتظم ابن الجوزی ج۶ ص ۳۲۔

۱۸. الکامل ج۶ ص ۲۸۲۔

۱۹. خلاصہ از شذرات الذھب ابن عماد ج ۲ ص ۳۲۱۔

۲۰. ذھبی نے ایک خط کے ضمن میں (جس کو مرحوم علامہ امینی صاحب نے اپنی کتاب الغدیر ج۵ ص ۸۷ میں ذکر کیا ہے، ابن تیمیہ کے عقائد کے سلسلہ میں جو مسلمانوں میں شدید اختلاف کا سبب ہوئے) اس کو نصیحت کی ہے۔ اور جیسا کہ ذھبی کی تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ ذھبی ابن تیمیہ کے عقائد اور نظریات سے زیادہ متفق نہیں تھا، چنانچہ اس نے اپنی کتاب العِبَرمیں ابن تیمیہ کے عقائد وغیرہ کا ذکر کرتے ہوئے (جو علماء کرام کی مخالفت کا سبب بنے) ابن تیمیہ کی باتوں کو فتنہ وفساد سے تعبیر کیا ہے۔ ص ۳۰۔

۲۱. سبکی کی تحریر اس طرح ہے: زملکانی نے ابن تیمیہ کی ردّ میں دومسئلوں(طلاق اور زیارت)کے بارے میں ایک کتاب لکھی ہے، (طبقات الشافعیہ ج۹ ص ۱۹۱۔ )

۲۲. اِخْناء ْ، مصر کا ایک قدیمی شھر ہے۔

۲۳. رسالة العقیدة الواسطیہ، ابن تیمیہ پراس کے چند ہم عصر علماء نے اعتراضات کئے ہیں، خود اس نے رسالہ المناظرہ فی العقیدة الواسطیہ میں اس کے مفصل جوابات تحریر کئے ہیں۔ (مجموعة الرسائل جلد اول ص ۴۱۵ سے)

۲۴. فتح المجید ص ۲۳۰۔

۲۵. مذکورہ رسالہ کی عبارت کو سبکی نے طبقات الشافعیہ ج ۹ ص ۳۵ میں نقل کیا ہے۔

۲۶. صَفَدی ج۷ ص ۱۹۔

۲۷. ابن شاکر جلد اول ص ۷۲۔

۲۸. زین الدین سے مراد، شریف زین الدین قمی ہے ،جس کوغازان خان نے دوسرے تین لوگوں کے ساتھ دمشق کے لئے روانہ کیا تھا۔ (السلوک جلد اول ازق ۳ ص ۸۹۰)

۲۹. مقریزی در السلوک جلد اول از قسم ۳ ص ۸۸۹

۳۰. مقریزی در السلوک جلد اول از قسم ۳ ص ۸۹۶۔

۳۱. مقریزی در السلوک جلد اول از قسم ۳ ص ۹۰۰۔

۳۲. الدرر الکامنہ جلد اول ص ۱۵۵۔

۳۳. الوافی بالوفیات ج۷ ص ۲۲،رسالہ حمویہ کی بحث عقائد ابن تیمیہ کے ضمن میں آئے گی۔

۳۴. ابن حجر جلد اول ص ۱۵۷، ذھبی۷۰۵ھ کے تاریخی واقعات کے بارے میں رقمطراز ہے کہ اسی سال ابن تیمیہ کا فتنہ رونما ہوا، اور یہ سب کچھ اس کے عقیدہ واسطیہ کی وجہ سے ہوا، جس کی وجہ سے بعض لوگ اس کے طرفدار اور بعض لوگ اس کی مخالفت میں کھڑے ہوگئے، تین جلسوں میں عقیدہ واسطیہ کو پڑھا گیا، آخر کار اس کو مصر بھیج دیا گیا، اور وہاں قاضی مالکی کے حکم سے وہ اس کے بھائی کو زندان میں ڈال دیا گیا، اس کے بعد ابن تیمیہ کو اسکندریہ میں شھر بدر کردیا گیا، ابن تیمیہ پر مصر میں یہ اعتراضات اٹھائے گئے کہ وہ کہتا ہے کہ خداوندعالم بطور حقیقی عرش پر مستقر ہے اور گفتگو کرتا ہے، اس کے بعد دمشق اور اس کے قرب وجوار میں یہ اعلان کرادیا گیا کہ جو کوئی بھی ابن تیمیہ کے عقیدہ کا طرفدار ہوگا اس کی جان ومال حلال ہے، (ذیل العبر ص ۳۰، ۳۱)

۳۵. سورہ طٰہٰ آیت ۵۔

۳۶. ابن حجر جلد اول ص ۱۵۸۔

۳۷. تاریخ ابن الوردی ج۲ ص ۴۱۰۔

۳۸. ابن حجر جلد اول ص ۱۵۹، ابن الوردی کہتا ہے کہ جب لوگوں نے اس کی یہ تحریر دیکھی، جس میں لکھا ہوا تھا پیغمبر انبیاء اور صالحین کی قبور کی زیارت ممنوع ہے، توسلطان کے حکم سے اس کو زندان بھیج دیا گیا اور اس کو فتویٰ دینے سے بھی روکا گیا،ابن قیّم جوزی بھی زندان میں اس کے ساتھ تھا۔ (تاریخ ابن الوردی ج۲ ص ۳۹۹)

۳۹. ابن الوردی، ج۲ ص ۴۱۲،۴۱۳،ابن تغری بردی کہتا ہے کہ ابن تیمیہ کو زندان میں لکھنے پڑھنے سے محروم کردیا گیا یہاں تک کہ اس کے پاس کوئی قلم وکاغذ اور کتاب تک نہ چھوڑی (ج۹ ص۲۷۲)

۴۰. ابن حجرجلد اول ص ۱۶۴، ابن تیمیہ ،محي الدین عربی اور ابن فارض پر بھی اعتراض کیا تھا اور صوفیوں کی سخت مخالفت کرتا تھا نیز علمائے اہل کلام اور اہل فلسفہ یونان بالخصوص مرحوم ابن سینا اور ابن سبعین سے ٹکرایاہے۔

۴۱. ابن حجر جلد اول صفحہ ۱۶۵،۱۶۶ کا خلاصہ ۔

۴۲. صحیح مسلم، جلد اول ص ۶۱۔

۴۳. مرآت الجنان ج۴ ص ۲۷۸۔

۴۴. طبقات الشافعیہ، ج۹ص ۱۶۳، یہ تھا صفی الدین اور ابن تیمیہ کا مناظرہ، لیکن ابن تیمیہ کے طرفدار مثلاً ابن کثیر وغیرہ نے اس مناظرہ کے بارے میں کہاہے : صفی الدین مناظرہ میں ابن تیمیہ کا مقابلہ نہ کرسکا، کیونکہ اس کی معلومات اتنی زیادہ نہیں تھی کہ ابن تیمیہ کا مقابلہ کرسکے۔

۴۵. ابن تیمیہ، صفدی اور ابن تغری بَردی (جو ابن تیمیہ کے طرفداروں میں سے ہیں) ؛ کی تحریر کے مطابق اپنے مخالفوں کو نازیبا الفاظ سے نوازتا تھا، (الوافی ج۷ ص ۱۹، النجوم الزاہرہ ج۹ ص ۳۶۷، اسی طرح منھاج السنہ میں علامہ حلّیکے لئے توھین آمیز کلمات کھے، جلد اول ص ۱۳)

۴۶. فوات الوفیات جلد اول ص ۷۷، اور الوافی بالوفیات ج۷ ص ۱۸۔

۴۷. البدر الطالع، جلد اول ص ۶۷۔

۴۸. ابن کثیر ج ۱۴ ص ۱۳۶۔

۴۹. ابن الوردی ج۲ ص ۴۰۶، یھی مولف لکھتا ہے کہ ابن تیمیہ کے جنازے میں شرکت کرنے والے دولاکھ مرد اور ۱۵ہزار عورتیں تھیں۔

۵۰. جزیزة العرب فی القرن العشرین ص ۳۳۵۔

۵۱. ابن تیمیہ شیعوں سے اپنی تمام تر مخالفتوں کے باوجود اپنی کتاب منھاج السنہ جو کہ شیعہ عقائد کی ردّ میں لکھیھے بعض اوقات اپنی اسی کتاب میں شیعہ اثنا عشری کا دفاع بھی کیا ہے، ان مقامات میں (جلد اول منھاج السنہ ص ۲۵)پر شیعوں اپنی تمام شدید تہم توں اور توھینوں کے بعد کہتا ہے : ممکن ہے یہ چیزیں شیعہ اثناعشری میں موجود نہ ہوں اور اسی طرح فرقہ زیدیہ میں بھی نہ ہوں، اوران (تہم توں) میں سے اکثر غلات اور عوام الناس میں پائی جائیں۔

۵۲. ابو زھرہ کابیان ہے: ہمارے بھائی ملک ایران کے لوگ شیعہ اثنا عشری ہیں، جن کی فقہ قائمبالذات،اصیل وریشہ دار ہے اور فروع کے علاوہ اصول کے بھی قائل ہیں اورہمارے مصر کے جدید قوانینمیں شیعہ اثنا عشری فقہ سے اقتباس کیا گیا ہے منجملہ ان میں سے وارث کے لئے وصیت کے جائز ہونے کا مسئلہ ہے، (کتاب شرح حال ابن تیمیہ ص ۱۷۰)

۵۳. ابن عماد ج۲ ص ۸۵ ،اور ابن شاکر جلد اول ص ۷۴، ابن شاکر کے بقول ابن تیمیہ کا مسئلہ طلاق کے بارے میں بھی ایک رسالہ تھا۔

۵۴. فتاوی الکبری ج۳ ص ۲۰ وغیرہ۔

۵۵. فتاوی الکبری ج ۳ ص ۹۵، شیخ محمد بہجة البیطار کے قول کے مطابق ابن تیمیہ کے تقریباً۱۰۰ کے نزدیک مخصوص فتوے تھے جو دوسروں سے بالکل مختلف تھے۔ (حیاة شیخ الاسلام ابن تیمیہ ص ۴۶)


دوسرا باب: ابن تیمیہ کے عقائد

ہم اس حصہ میں ابن تیمیہ کے ان عقائد کو مختصر طور پر بیان کریں گے جن کی وجہ سے مختلف فرقوں کے علماء اس کے مقابلہ کے لئے کھڑے ہوئے ۔

۱۔ توحید ابن تیمیہ کی نظر میں

ابن تیمیہ کہتا ہے :جس توحید کو پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لے کر آئے ہیں وہ صرف خداوندعالم کے لئے الوھیت کو ثابت کرتی ہے اور بس، اس طریقہ سے کہ انسان شھادت اور گواہی دے کہ اس خدا کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے، صرف اسی کی عبادت کرے اور اسی پر توکل اور بھروسہ کرے اور صرف اسی کی وجہ سے کسی کو دوست رکھے یا کسی کو دشمن قرار دے، خلاصہ یہ کہ انسان اپنے ہر کام کو خدا کی خوشنودی کے لئے انجام دے، یہ وہ توحید ہے جس کو خداوندعالم نے قرآن مجید میں اپنے لئے ثابت کیا ہے۔

لیکن خدا کو مجرد یگانہ جاننا یعنی یہ عقیدہ رکھنا کہ اس عالم کو خدائے واحد نے خلق فرمایا ہے یہ توحید نہیں ہے، اسی طرح اگر کوئی خدا کے صفات کا اقرار کرے اور اس کو تمام عیوب سے پاک ومنزہ مانے یا اقرار کرے کہ خداوندعالم تمام مخلوقات کا خالق ہے، ایسا شخص موحد (مسلمان بمعنی عام) نہیں ہے مگر یہ کہ شھادت دے کہ اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور اقرار کرے کہ صرف وھی عبادت کا مستحق ہے اور بس(۵۷)

توحید الوھیت اور توحید ربوبیت

ابن تیمیہ نے توحید کی دوقسم کی ہیں :

۱۔ توحید الوھیت ،

۲۔ توحید ربوبیت ،

اور ان کے بارے میں کہا ہے : چونکہ تمام اسلامی فرقے توحید الوھیت سے جاہل ہیں، اسی وجہ سے غیر خدا کی عبادت کرتے ہیں، اور توحید سے صرف توحید ربوبیت کو پہچانتے ہیں، اور توحید ربوبیت سے اس کی مراد خدا کی ربوبیت کا اقرار کرنا ہے یعنی یہ اقرار کرنا کہ تمام چیزوں کا خالق خداوندعالم ہے ۔ وہ یہ کہتا ہے کہ مشرکین بھی اسی معنی کو اعتراف کرتے ہیں۔

عنی تو حید سے اس کی خالقیت کے قائل ہیں (بلکہ ہمیں چاہئے کہ توحید الوھیت یعنی اس کی خالقیت کا اعتراف کئے بغیر خدا کی خدائی کو قبول کریں)

یہ قول ابو حامد بن مرزوق سے نقل ہوا ہے کہ اولاد آدم جب تک اپنی سالم فطرت پر باقی ہیں ان کی عقل میں یہ بات مسلم ہے کہ جس کی ربوبیت ثابت ہے وھی مستحق عبادت بھی ہے، لہٰذا کسی کے ربوبیت ثابت ہوجانے کا ملازمہ یہ ہے کہ اس کی عبادت کی جائے۔(۵۸)

ہم اسی کتاب میں یہ بات بیان کریں گے کہ ابن تیمیہ غیر خدا سے ہر قسم کا توسل اور استغاثہ، یا انبیاء واولیاء کو شفیع قرار دینا، اسی طرح قبور کی زیارت اور وہاں پر دعا کرنا، مثلاً یہ کہنا ”یا محمد“

اور پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صالحین کی قبور کے نزدیک نماز پڑھنا نیز ان کی قبور پر قربانی کرنا، یہ سب کچھ توحید کے مخالف و منافی اور باعث شرک جانتا ہے۔

لہٰذا اس بناپرابن تیمیہ کی نظر میں موحّد وہ شخص ہے جو اگر کوئی چیز طلب کرے توبراہ راست خدا سے طلب کرے اور کسی کو بھی واسطہ یا شفیع قرار نہ دے، اور کسی بھی عنوان سے غیر خدا کی طرف توجہ نہ کرے۔

۲۔ کفر وشرک کے معنی میں وسعت دینا

بعض وہ اعمال جو تمام مسلمانوں کے درمیان جائز بلکہ مستحب بھی ہیں،ابن تیمیہ کی نظر میں شرک اوربے دینی کا سبب ہیں، مثلاً اگر کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کی زیارت کے لئے سفر کرے اور اس کے سفر کا اصل مقصد مسجد النبی میں جانا نہ ہو، تو ایسا شخص سید مرسلینکی شریعت سے خارج ہے۔(۵۹)

اور اگر کوئی شخص طلب حاجت کی غرض سے پیغمبریا کسی دوسرے کی قبر کی زیارت کرے ،اس کوخدا کاشریک قرار دے اور اس سے کوئی چیز طلب کرے تو اس کا یہ عمل حرام اور شرک ہے۔(۶۰)

اسی طرح اگر کوئی قبور سے نفع کا امیدوار ہو اور ان کو بلا ومصیت دفع کرنے والا تصور کرے، تو اس کا حکم بت پرستوں کی طرح ہے جس طرح بت پرست،بتوں سے حصول نفع ونقصان کے قائل ہیں۔(۶۱)

اسی طرح جو لوگ قبور کی زیارت کے لئے جاتے ہیں تو اس کا مقصد بھی مشرکین کے قصد کی طرح ہوتا ہے ،کہ وہ لوگ بتوں سے وھی چیز طلب کرتے ہیں جو ایک مسلمان خدا سے طلب کرتا ہے۔(۶۲)

اسی طرح سے ابن تیمیہ کا کہنا ہے:

اگر کوئی انسان غیر خدا کو پکارے اور غیر خدا کی طرف جائے (یعنی ان کی قبور کی زیارت کے لئے سفر کرے) اور مردوں کو پکارے چاہے وہ پیغمبر ہوں یا غیر پیغمبر، تو گویا اس نے خدا کے ساتھ شرک کیا۔(۶۳)

ابن تیمیہ کی نظر میں کفر اور شرک کا دائرہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے جس کو ہم نے ذکر کیا، کیونکہ وہ جناب تو یہاں تک فرماتے ہیں کہ اگر کوئی مسجد کا پڑوسی ہو ،اور اپنے کام وغیرہ کی وجہ سے نماز جماعت میں شریک نہ ہوسکے، تو اس کو توبہ کرائی جائے گی اگر توبہ نہ کرے تو اس کا قتل واجب ہے۔(۶۴)

گذشتہ مطلب کی وضاحت

شوکانی صاحب جو ابن تیمیہ کے طرفداروں اور وہابیوںکے موافقین میں سے ہیں، کہتے ہیں:صاحب نجد کے ذریعہ ہم تک پہونچنے والی چیزوں میں سے ایک یہ ہے کہ ”جو کوئی شخص نماز جماعت میں شریک نہ ہو اس کا خون حلال ہے“جبکہ یہ بات قانون شریعت کے برخلاف ہے۔(۶۵)

اہل سنت کے سلف صالح اور ائمہ اربعہ اور عام اسلامی مذاہب کے پیشوا نماز کو گھر یا مسجد کے علاوہ کسی دوسری جگہ پڑھتے تھے، مثلاً امام مالک ،شروع میں نماز کے لئے مسجد میں جایا کرتے تھے لیکن بعض وجوہات کی بناپر مسجد میں جانا ترک کردیا، اور گھر ہی میں نماز پڑھنے لگے، لیکن جب اس بارے میں لوگوں نے ان پر اعتراضات کرنے شروع کردئے تو کہتے تھے: میں اس کی وجہ اوردلیل نہیں بتاسکتا۔(۶۶)

احمد ابن حنبل پر بھی جب خلیفہ وقت کا غضب اور قھر پڑنے لگا تو انھوں نے بھی مسجد جانا ترک کردیا، یہاں تک کہ نماز یا دوسرے کام کے لئے بھی مسجد میں نہیں جاتے تھے۔(۶۷)

مصر کے سابق مفتی اور الازھر یونیورسٹی کے سابق صدر شیخ محمود شلتوت صاحب کہتے ہیں: مسلمانوں کو اختیار ہے کہ جہاں بھی نماز پڑھنا چاہیں پڑھیں،چاہے مسجد ہو یا گھر جنگل ہو یا کارخانہ یا کتابخانہ، خلاصہ یہ کہ جہاں بھی نماز کا وقت ہوجائے، وھیں پر نماز ادا کرلےں، نیز انھیں اختیار ہے کہ چاہے نماز کو فرادیٰ پڑھیں، البتہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا نماز کا بہترین طریقہ ہے۔ اس کے بعد جناب شلتوت صاحب نماز جماعت کے فوائد بیان کرتے ہیں۔(۶۸)

ابن تیمیہ کی باقی گفتگو

ابن تیمیہ اس شخص کے بارے میں کہتا ہے کہ جو نماز ظھر کو مغرب تک اور نماز مغرب کو آدہی رات تک تاخیر سے پڑھے گویا وہ کافر ہے، اور اگر کوئی اس کام کو کفر نہ مانے، تو اس کی بھی گردن اڑادی جائے۔(۶۹)

نیزاسی طرح کہتا ہے: اگر کوئی شخص چاہے وہ مرد ہو یا عورت نماز نہ پڑھے تو اس کو نماز پڑھنے کے لئے کہا جائے اور اگر قبول نہ کرے تو اکثر علماء اس بات کو واجب جانتے ہیں کہ اس سے توبہ کرائی جائے اور اگر توبہ نہ کرے تو اس کو قتل کردیا جائے چاہے وہ شخص نماز کے وجوب کا اقرار کرتا ہو۔(۷۰)

اسی طرح وہ بالغ جو نماز پنجگانہ میں سے کسی ایک نماز کو ادا کرنے سے پرہیز کرے یا نماز کے کسی ایک مسلّم واجب کو ترک کرے تو ایسے شخص سے توبہ کرائی جائے اوراگر توبہ نہ کرے تو اس کو قتل کردیا جائے۔(۷۱)

ابن تیمیہ مخلوقات میں سے کسی چیز کی قسم کہانے یا غیرخدا کے لئے نذر کرنے کو بھی شرک(۷۲) جانتا تھا،جس کی تفصیل انشاء اللہ بعد میں ذکر ہوگی۔

۳۔ خدا کے دیدار اور اس کے لئے جھت کا ثابت کرنا

ابن تیمیہ کی معروفترین کتاب منھاج السنہ ہے، ابن تیمیہ نے اس کتاب کو منھاج الکرامة فی اثبات الامامة(۷۳) تالیف مرحوم علامہ حلّی(متوفی ۷۲۶) کی ردّ میں لکھا ہے، اس نے پہلے علامہ حلی کے اعتقادات کو ایک ایک کرکے نقل کیا ہے اوراس کے بعد ان کو ردّ کرنے کی کوشش کی ہے، منجملہ علامہ حلی کے اس نظریہ کو نقل کیا کہ خدا کو دیکھا نہیں جاسکتا اورحواس خمسہ کے ذریعہ درک نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ وہ خود فرماتا ہے:

( لاٰتُدْرِكُهُ الاَبْصَاْرُ وَهو یُدْرِكُ الاَبْصَاْرَ ) (۷۴)

”نگاہیں اس کودرک نہیں کرسکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک رکھتا ہے“۔

وہ علامہ حلّی مرحوم کا یہ قول نقل کرنے کے بعد کہ خداوندعالم جھت و مکان نہیں رکھتا، اس طرح کہتا ہے: اہل سنت سے منسوب تمام افراد خدا کے دیدار کے اثبات پر اتفاق رکھتے ہیں، اور سلف(علمائے قدیم) کا اس بات پر اجماع ہے کہ روز قیامت خدا کو ان ہی سر کی آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے، لیکن دنیا میں اس کو نہیں دیکھا جاسکتا، ہاں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں اختلاف ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس دنیا میں خدا کا دیدار کیا ہے یا نھیں، اورمذکورہ آیہ شریفہ کے بارے میں کہتا ہے کہ ادراک کے بغیر خدا کا دیدار ہونا ممکن ہے۔

ابن تیمیہ نے خداوندعالم کے دیدار اور جھت وسمت کو ثابت کرنے کے لئے تفصیلی بحث کی ہے اور ظاہر آیات واحادیث سے استدلال کیا ہے۔(۷۵)

چنانچہ ابن تیمیہ نے اس مسئلہ کو ثابت کرنے کے لئے رسالہ حمویہ لکھا ہے، ابن تیمیہ اس مسئلہ کے بارے میں مذکورہ رسالہ میں کہتا ہے: تمام نصوص (قرآنی آیات واحادیث) اس مسئلہ پر دلالت کرتی ہیں کہ خداوندعالم عرش اور آسمان کے اوپر رہتا ہے، اور اس کی طرف انگلی سے اشارہ کیا جاسکتا ہے، روز قیامت خداوندعالم کو دیکھا جاسکتا ہے، اور یہ کہ خداوندعالم مسکراتا ہے، اور اگر کوئی شخص خدا کے آسمان میں ہونے کا اعتقاد نہ رکھے، تو اس سے توبہ کرانی چاہئے اگر توبہ قبول کرلی تو ٹھیک ورنہ اس کی گردن اڑادینی چاہئے۔

اسی طرح وہ کہتا ہے: قرآن مجید کی ظاہری آیات کے مطابق خداوندعالم اعضاء وجوارح رکھتا ہے، لیکن خدا وندعالم کی فوقیت اور اس کے اعضاء وجوارح کو مخلوق (انسان) کے اعضاء وجوارح سے مقایسہ نہیں کیا جاسکتا، چنانچہ اسی مسئلہ کے ضمن میں کہتا ہے:

بعض لوگوں نے آیہ ذیل( اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَویٰ ) (۷۶) (وہ رحمن عرش پر اختیار واقتدار رکھنے والا ہے) میں استویٰ کے معنی ”استویٰ” (بلندی) کے کئے ہیں جو باطل اور بے بنیاد ہیں، اور اس طرح کی تاویلات دوسری زبانوں کی کتب ضلال (گمراہ کن کتابوں) سے ترجمہ ہوکر علماء علم کلام کے ذریعہ عربی زبان میں داخل ہوگئی ہیں۔(۷۷)

رویت خدا کے بارے میں ابن قیّم کا نظریہ

ابن تیمیہ کے شاگرد اور ہم فکرابن قیّم نے اس سلسلہ میں ایک طویل قصیدہ کہا ہے، جس کا نام کافیة الشافیہ ہے جس کی شرح حنبلی علماء میں سے احمد بن ابراہیم نے دوجلدوں میں توضیح المقاصد کے نام سے لکھی ہے، ابن قیّم لکھتا ہے کہ اہل بہشت خداوندعالم کا دیدار کریں گے اور اس کے چھرہ مبارک پر نظر کریں گے، اس نے اسی موضوع کو اپنے اشعار میں بیان کیا:

”وَیَرَوْنَهُ سُبْحَانَهُ مِنْ فوَقِهم

رُوْیَا الْعِبَادِ كَمَاْ یُریَ الْقَمَرَانِ

هٰذَا تَوَاتَرَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ لَمْ

ُنْكِرهُ اِلاّٰ فَاْسِدُ الاِیْمَانِ“

”اہل بہشت خداوندعالم کو اپنے سر کے اوپر سے دیکھیں گے، جس طرح چاندوسورج کو دیکھتے ہیں،یہ بات حضرت رسول اکر م صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بطور تواتر نقل ہوئی ہے، اور اس بات کا انکار وھی کرتا ہے جن کا ایمان فاسد ہے“

شارح (صاحب توضیح المقاصد) کہتا ہے کہ تمام انبیاء و مرسلین،صحابہ وتابعین اور ائمہ اسلام کااس بات(کہ اہل بہشت خدا کا دیدار کریں گے) پر اتفاق ہے، لیکن بعض اہل بدعت فرقے مثلاً جُہم یہ، معتزلہ، باطنیہ اور رافضیہ خدا کے دیدار کے منکر ہیں۔

خدا کے دیدا ر کا مسئلہ قرآن مجید میں بطور واضح اور بطور اشارہ دونوں طریقوں سے بیان ہوا ہے مثال کے طور پر درج ذیل آیات:

( وُجُوْهٌ یَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ اِلیٰ رَبِّها نَاظِرَةٌ ) (۷۸)

( واتَّقُوْا اللّٰهَ وَاعْلَمُوْا اَنَّكُمْ مُلاٰقُوْهُ ) (۷۹)

( تَحِیَّتهم یَوْمَ یَلْقَوْنَهُ سَلاٰمٌ ) (۸۰)

( فَمَنْ كَانَ یَرْجُو لِقَاءَ رَبِّه ) (۸۱)

”لہٰذا جو بھی اس کی ملاقات کا امیدوار ہے اسے چاہئے کہ عمل صالح کرے“۔

ابن قیّم اپنے مذکورہ قصیدہ میں کہتا ہے:

بَیْنَاهم فِیْ عَیْشِهم وَسُرُوْرِهم ْ

وَنَعِیْمِهم فِی لَذَّةٍ وَتَهٰانٍ

وَاِذَا بنُوْرٍ سَاطِعٍ قَدْ اُشْرِقَتْ

مِنْهُ الْجِنَانُ قَصِیُّها وَالدَّان. ی

رَفَعُوْا اِلَیْهِ رُوسَهم فَرَاوْهُ نُوْ

رَالرَّبِّ لاٰیَخْفٰی عَلَی اِنْسَانٍ

وَاِذَا بِرَبِّهم تَعَالیٰ فَوْقَهم

قَدْ جَاءَ لِلتَّسْلِیْمِ بِالاِحْسٰانِ

قَالَ اَلسَّلاٰمُ عَلَیْكُمْ فَیَرَوْنَهُ

جَهْراً تَعٰالَی الرَّبُ ذُوْالسُّلْطَانِ(۸۲)

ترجمہ اشعار:

”جس وقت اہل بہشت جنت میں عیش وآرام اور بہشتی نعمتوں میں غرق ہوں گے اور ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہے ہوں گے،اچانک ایک نور چمکے گا جو تمام جنت کو روشن ومنو ر کردے گا، اس وقت تمام لوگ اوپر کی طرف اپنا سر اٹھائیں گے، تو پتہ چلے گا کہ یہ تو خدا کا نور ہے جو کسی پر بھی مخفی وپوشیدہ نہیں ہے، اسی حالت میں وہ خدا کو اپنے سروں کے اوپر دیکھیں گے،جو اہل بہشت کو سلام کرنے کے لئے حاضر ہوا ہے، اس وقت خداوندعالم ان سے خطاب کرے گا: السلام علیکم، اس موقع پر اہل بہشت خدا کو واضح طور پر دیکھیں گے“۔

ابن قیم نے اس سلسلہ میں ابن ماجہ سے ایک روایت کو سند کے طور پر نقل کیا ہے،اس کے بعد ابن قیم کہتا ہے:

وکذاک یسمعهم لذیذ خطابه

سبحانه بتلاوة الفرقان

فکانّهم لم یسمعوه قبل ذا

هذا رواه الحافظ الطبرانی

هذا سماع مطلق وسماعنا

القرآن فی الدنیا قنوع ثانی(۸۳)

”خداوندعالم اہل بہشت کے لئے مترنم اور دلکش آواز میں ایک طریقہ سے قرآن پڑھے گاکہ ایسی تلاوت کو اہل بہشت نے اس سے پہلے کبھی نہیں سنا ہوگا، اور اس کی روایت طبرانی نے بھی کی ہے، قرآن کو بطور مطلق اور بطور حقیقی سننا یھی ہے اور جو کچھ ہم نے دنیا میں سنا ہے وہ کوئی دوسری قسم تھی“۔

شارح نے طبرانی کی روایت کو نقل کیا ہے، جس کے مطابق اہل بہشت ہر روز دوبار خدا کی بارگاہ میں پہونچےں گے، اور خداوندعالم ان کے لئے قرآن پڑھے گا، درحالیکہ کہ اہل بہشت اپنی مخصوص جگہ (یاقوت وزبرجد اور زمرّد جیسے قیمتی پتھروں کے منبروں پر)تشریف فرماہوں گے،ان کی آنکھوں نے اس سے بھتر کوئی چیز نہیں دیکھی ہوگی اور نہ ہی اس سے زیادہ دلنشین آواز سنی ہوگی، چنانچہ اس واقعہ کے بعد اپنے اپنے حجروں میں چلے جائیں گے اور دوسری صبح ہونے کا انتظار کریں گے تاکہ پھر اسی طرح کا واقعہ پیش آئے اوردوبارہ خدا کی اسی طرح آواز سنیں ۔

شیخ عبد العزیز محمد السلمان

مدرّس مدرسہ پیشواے دعوت وہابیت ریاض (مراد محمد بن عبد الوہاب کا مدرسہ ہے جو اسی کے نام سے ہے) سے ابن تیمیہ کے رسالہ عقیدہ واسطیہ کے بارے میں سوال ہوا توشیخ عبد العزیز محمد السلمان نے جواب دیا: اس بات پر ہمارا پورا یقین ہے کہ روز قیامت اہل بہشت خدا کو واضح طور پر اپنی انھی آنکھوں کے ذریعہ دیکھیں گے، اور اس کی زیارت کریں گے، خداوندعالم ان سے گفتگو کرے گا اور اہل بہشت بھی اس سے گفتگو کریں گے، جس کی طرف قرآن مجید میں یہ آیت اشارہ کرتی ہے:

( وُجُوْهٌ یَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ اِلیٰ رَبِّها نَاظِرَةٌ )

(”اس دن بعض چھرے شاداب ہوں گے، اپنے پرور دگار کودیکھ رہے ہوں گے“۔)

حدیث کا مضمون کچھ اس طرح ہے: جلد ہی تم اپنے پروردگار کا دیدار کروگے جس طرح چودہویں کے چاند کو دیکھتے ہو۔

شیخ عبد العزیز اس کے بعد کہتے ہیں: آیہ مبارکہ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ روز قیامت مخلص مومنین درحالیکہ ان کے چھرے نورانی اور نعمت خدا کی وجہ سے خوش وخرم ہونگے اوراپنے خدا کا واضح اور آشکار طورسے دیدار کریں گے۔(۸۴)

یاد دہانی

ابن تیمیہ اور ابن قیّم جوزی کی باتوں سے یہ نتیجہ نکلتاہے کہ خداوندعالم صاحب جسم ومکان ہے اور اعضاء وجوارح رکھتا ہے، جیسا کہ ابن تیمیہ معتقد ہے کہ خداوندعالم آسمان کے اوپر اور عرش پر تشریف فرما ہے، اور اپنی مخلوق سے جدا ہے، اوریہ معنی حق ہیں کہ چاہے اس کو مکان (جگہ) کا نام دیا جائے یامکان کا نام نہ دیا جائے۔(۸۵)

اور جیسا کہ یہ بھی معلوم ہے کہ ان باتوں کانتیجہ خداوندعالم کے لئے مکان اورجگہ ثابت ہونا ہے، کیونکہ اس نے یہ بھی کہا ہے کہ اس کی طرف انگلی سے بھی اشارہ کیا جاسکتا ہے، اور یہ بات مسلّم ہے کہ جس کے لئے ایک معین مکان اورجگہ ہو اور اس کی طرف انگلی سے اشارہ کیا جاسکتاہو،اس کے لئے ھاتھ پیر آنکھ اور چھرہ اور دوسرے اعضاء بھی ہونا چاہئے، جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ خداوندعالم کو جسم وجسمانیت والا فرض کریں۔(۸۶)

اس سلسلہ میں مرحوم علامہ حلی کا بیان اس طرح ہے: شیعوں کا اعتقاد یہ ہے کہ صرف خداوندعالم کی ذات گرامی ہے جو صفت ازلی اور قدیم سے مخصوص ہے، اور اس کے علاوہ ہر چیز حادث ہے (یعنی پہلے وجود نہیں تھی بعد میں پیدا ہوئی ہے)، اسی طرح شیعوں کا عقیدہ یہ ہے کہ خداوندعالم جسم وجوھر نہیں ہے، کیونکہ ہر مرکب اپنے جزء کا محتاج ہوتا ہے اور چونکہ مرکب کا جزء خود اس کے علاوہ ہے، نیز خداوندعالم عَرَض بھی نہیں ہے اور اس کے لئے کوئی خاص مکان اور جگہ بھی نہیں ہے، کیونکہ اگر اس کے لئے مکان ہوگا تو پھر خداوندعالم حادث ہوجائے گا، اس کے علاوہ یہ کہ خداوندعالم اپنی مخلوق میں کسی کی شبیہ یا کوئی مخلوق خدا کی شبیہ نہیں ہے اورخدا ہر طرح کی شباہت سے پاک ومنزہ ہے۔

خداوندعالم کے بارے میں شیعوں کا اعتقاد یہ بھی ہے کہ خداوندعالم کو دیکھانھیںجاسکتا، اور یھی نہیں بلکہ اس کو کسی بھی حواس کے ذریعہ درک نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ خود خداوندعالم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:

( لاٰتُدْرِكُهُ الاَبْصَاْرُ وَهو یُدْرِكُ الاَبْصَاْرَ ) (۸۷)

”نگاہیں اس کو پانھیں سکتیں اور وہ نگاہوں کا برابر ادراک رکھتا ہے“۔

مرحوم علامہ حلّی خواجہ نصیر الدین طوسی کی کتاب” تجرید الاعتقاد“ کی شرح میں اس طرح فرماتے ہیں: خداوندعالم کا واجب الوجود ہونا اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اس کی ذات گرامی کو دیکھا نہیں جاسکتا، چنانچہ اکثر عقلاء نے اسی بات کو قبول کیا ہے کہ خدا وندعالم کو دیکھنا ناممکن ہے، لیکن وہ لوگ جو خداوندعالم کو جسم وجسمانیت والا مانتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ خداوندعالم کو دیکھنا ممکن ہے، جبکہ اگر خداوندعالم کو مجرد مانا جائے تو اس کو دیکھنا محال ہے.

فرقہ اشاعرہ نے تمام عقلاء کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خداوندعالم کا دکھائی دینا اس کے مجرد الوجود ہونے سے کوئی منافات اور مخالفت نہیں رکھتا، البتہ خدا کے نہ دکھائی دینے پر ان کی دلیل یہ ہے کہ خداوندعالم کے واجب الوجود ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی ذات گرامی مجرد ہو، اور اس سے جھت وسمت اور مکان کی نفی کی جائے، جس کی بناپر ضروری ہے کہ اس کے دیکھنے کی نفی کی جائے، کیونکہ جس چیز کو دیکھنا ممکن ہے اس کے لئے جھت اور سمت کا ہونا ضروری ہو اور اس کی طرف اشارہ کیا جائے کہ وہ وہاں ہے یا یہاں ہے، اور ایسی چیز انسان کے مقابلہ میں ہو، یا انسان کے مقابلہ کی مثل ہو، جبکہ ایسا نہیں ہے لہٰذا خداوندعالم کو نہیں دیکھا جاسکتا۔(۸۸)

رویت خدا کے سلسلہ میں شیعوں کے اعتقادات اور ان کے دلائل اور برہان نیز مخالفین کے اعتراضات کے جوابوں کے لئے علامہ حلّی کی مذکورہ دو کتابوں اور شیعوں کی دوسری کلامی کتابوں کی طرف رجوع کیا جائے، اور اس بات پر توجہ رکھنا چاہئے کہ وہ چیزیں جو بہت سی ملل ونحل کی کتابوں مثلاً کتاب الفِصَل ابن حزم،اور ملل ونحل شھرستانی میں شیعوں کی طرف بہت سی باتوں کی نسبت دی گئی ہے، وہ کسی بھی صورت میں صحیح نہیں ہیں، اور لکھنے والوں کے تعصب اور خود غرضی کا نتیجہ ہے ۔

امام الحرمین جُوَینی کا نظریہ

امام الحرمین عبد الملک جوینی پانچویں صدی کے مشہور اور بہت بڑے شافعی علماء میں سے تھے، وہ خداوندعالم کی صفات سلبیہ کو بیان کرتے وقت کہتے ہیں: خداوندعالم کسی بھی جھت وسمت سے مخصوص ہونے، یا کسی محاذات (یعنی کسی چیز کے مقابلہ میں واقع ہونا) کی صفت سے متصف ہونے سے پاک ومنزہ ہے، کیونکہ ہر وہ چیز جو جھت رکھتی ہے وہ کسی ایک جگہ اور مکان میں ہوتی ہے اور جوچیز کسی مکان یا جگہ میں ہو تو وہ اس کی قابلیت رکھتی ہے کہ کوئی جوھر اس سے ملاقات کرے یا کوئی چیز اس سے جدا ہوجائے اور جو چیزیں اس طرح سے ہوتی ہیںوہ ان دونوں(اجتماع وافتراق) سے خالی نہیں ہوسکتیں، اور جو چیز اجتماع اور افتراق سے خالی نہ ہو (یعنی کسی جوھر کے ساتھ جمع ہویا اس سے جدا ہوجائے) تو وہ بھی اس جوھر کی مانند حادث ہے، لہٰذا ثابت یہ ہوتا ہے کہ خداوندعالم ہر طرح کے مکان وجھت سے پاک ومنزہ ہے اور کسی جسم سے ملاقات نہیں کرسکتا۔

اگر کوئی سوال کرے کہ آیہ مبارکہ ”اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَویٰ“ سے کیا مراد ہے؟

توہم ارا جواب یہ ہوگا کہ استویٰ سے مراد خداوندعالم کا قھر وغلبہ اور اس کی عظیم عظمت ہے، اور جس وقت عرب کہتے ہیں: استوی فلان علی المملکة یعنی فلاں شخص تمام مملکت پر غلبہ پاگیا، یہ بھی اسی طرح ہے چنانچہ عربی شاعر کہتا ہے:

قَدْاِسْتَویٰ بِشْرٌ عَلَی الْعِراقِ مِنْ غَیْرِ سَیْفٍ وَدَمٍ مُهْرَاقِ (۸۹)

(بشر(بشر ابن مروان)بغیر خوں ریزی کے عراق پر غلبہ پاگیا۔)

یہ بات معلوم ہونا چاہئے کہ پہلے آخرت میں خدا کے دیدار کا نظریہ موجود تھا، چنانچہ ”مرجئہ“نامی فرقہ کے بعض افراد اس طرح کا اعتقاد رکھتے تھے، اسی طرح بعض لوگ خدا کو صاحب جسم یہاں تک کہ اعضاء وجوارح والا تصور کرتے تھے(۹۰) ( تعالی اللّٰه عما یقولون علواً کبیراً ) ۔

۴۔ خدا کا آسمانِ دنیا سے زمین پر اترنے کا عقیدہ

ابن بَطُوطہ (مشہور تاریخ نویس) دمشق کی توصیف بیان کرتے ہوئے کہتا ہے:

دمشق کے حنبلی عظیم فقھاء میں سے ایک تقی الدین ابن تیمیہ تھا جو مختلف فنون میں مھارت رکھتا تھا، اور اہل دمشق کو منبر سے وعظ ونصیحت کرتا تھا، ایک مرتبہ اس نے ایک بات ایسی کھی، جس کو اس وقت کے علماء نے قبول نہیں کیا، اور اس کو برا سمجھا، اور اس وقت کے مصری بادشاہ ملک ناصرکو خبر دی کہ ابن تیمیہ ایسی ایسی باتیں کہہ رہاہے، ملک ناصر نے حکم دیا کہ اس کو قاہرہ روانہ کردیا جائے، اور جب ابن تیمیہ قاہرہ لایا گیا تو اس وقت ملک ناصر نے قضات وفقھاء کو بلایا، جس میں سب سے پہلے شرف الدین زاوی مالکی نے آغاز سخن کیا، اور ابن تیمیہ کے عقائد کو شمار کرنا شروع کیا، (بحث وگفتگو کے بعد) ملک ناصر نے حکم سنایا کہ ابن تیمیہ کو زندان میں ڈال دیا جائے، چنانچہ چند سال ابن تیمیہ کو زندان میں رہنا پڑا، لیکن اس نے وہاں رہکر تفسیر میں ایک کتاب بنام”البحر المحیط“ لکھی جو تقریباً چالیس جلدوں پر مشتمل تھی،اور جب زندان سے آزاد ہوا تو پھر وھی اپنا پرانا عقیدہ لوگوں کے سامنے بیان کرنا شروع کیا جس کی پھر علماء نے مخالفت کی، میں (ابن بطوطہ) اس وقت شام میں تھا جب ابن تیمیہ نے جمعہ کے دن جامع مسجد کے منبر پر تقریر کی اور لوگوں کو وعظ ونصیحت کی ،تو میں بھی اس وقت مسجد میں تھا، اس نے اپنی گفتگو کے دوران کہا کہ خداوندعالم آسمان دنیا(پہلے آسمان) پر اسی طرح نا زل ہوتا ہے جس طرح میں نیچے آتا ہوں، یہ کہہ کر ابن تیمیہ منبر کے ایک زینے سے نیچےاتر آیا۔(۹۱)

جب اس نے یہ کلمات زبان پر جاری کئے تو ایک مالکی عالم بنام ابن الزہراء اس کی مخالفت کے لئے کھڑا ہوگیا اور اس کی باتوں سے انکار کرنے لگا، یہ دیکھکر لوگوں نے ابن تیمیہ پر حملہ شروع کردیا اور اس پر جوتوں کی بارش ہونے لگی، یہاں تک کہ اس کا عمامہ بھی گرپڑا، جب عمامہ گرا تو اس کے نیچے سے حریر کی ایک ٹوپی نکلی، جس کو دیکھ کر لوگ مزید برہم ہوگئے کہ ایک فقیہ اور حریر کی ٹوپی پہنے ہوئے ہے، اس کے بعد اس کو عزالدین ابن مسلم (حنبلی قاضی) کے پاس لے گئے، مذکورہ قاضی نے اس کی باتوں کو سن کر اس کوتعزیر (شرعی تنبیہ)کرنے کے بعد اس کو زندان کے لئے روانہ کردیا، مالکی اور شافعی قاضیوں کو اس حنبلی قاضی کا یہ حکم ناگوار گذرا انھوں نے اس بات کی خبر ملک الامراء سیف الدین تنکیز تک پہونچائی، سیف الدین نے اس موضوع اور ابن تیمیہ کی دوسری باتوں کو تحریر کر کے اس پر چند گواہوں اور قاضیوں کے دستخط لے کر ملک ناصر کو بھیج دیا، ملک ناصر نے حکم دیا کہ ابن تیمیہ کو زندان میں بھیج دیا جائے ،چنانچہ وہ قید میں رہا یہاں تک کہ اس دنیا سے چل بسا۔(۹۲)

ابن تیمیہ نے رسالہ عقیدہ واسطیہ میں ایک حدیث ذکر کی ہے جس میں تحریر ہے کہ خداوندعالم ہر شب آسمان دنیا (آسمان اول) پر نازل ہوتا ہے۔(۹۳)

۵۔ انبیاء علیهم السلام کا بعثت سے قبل معصوم ہونا ضروری نہیں

ابن تیمیہ، علامہ حلّی کے اس نظریہ کو کہ انبیاء کا اول عمر سے آخر عمر تک گناہ کبیرہ وصغیرہ سے معصوم ہونا ضروری ہے اور اگر معصوم نہ ہوںتو ان پر اعتماد اور بھروسہ نہیں کیا جاسکتا، کا جواب دیتے ہوئے کہتا ہے : انبیاء علیهم السلامکا بعثت سے قبل گناہوں سے معصوم ہونا ضروری نہیں ہے، اور اپنی اس بات کو ثابت کرنے کے لئے دلیلیں بھی لاتا ہے۔(۹۴)

ابن تیمیہ کا اعتقاد یہ تھا کہ انبیاء علیهم السلامکی عصمت فقط امور تبلیغ میں ہوتی ہے، اوراس نے اس سلسلہ میں ایک رسالہ بھی لکھاہے۔(۹۵)

۶۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد

ابن تیمیہ اپنے عقائد اورنظریات کے مخالف احادیث کو ضعیف اور غیر صحیح بتاتاہے، مثلاً اس نے اس حدیث شریف ”مَنْ حَجَّ فَزَارَ قَبْرِی بَعْدَ مَوْتِی كَاْنَ كَمَنْ زَاْرَنِی فِی حَیَاتِي “ (جس نے میری رحلت کے بعد حج کیا اور میری قبر کی زیارت کی گویا اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی) کو ضعیف بتاتے ہوئے کہا ہے کہ چونکہ اس حدیث کا راوی حَفص بن سلیمان موثق نہیں ہے، لہٰذا اس حدیث کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔

اسی طرح یہ حدیث شریف:

مَنْ حَجَّ وَلَمْ یَزُرْنِی فَقَدْ جَفَانی “ (جو شخصحج بجالائے اور میری قبر کی زیارت نہ کرے گویا اس نے مجھ پر جفا کی) اور یہ حدیث شریف ”مَنْ زَارَ قَبْری. وَجَبَتْ لَہُ شفَاعَتی. “ (جو شخص میری زیارت کرے، مجھ پر اس کی شفاعت کرنا واجب ہے)اس نے ان دونوں احادیث کے راویوں کو بھی قبول نہیں کیا ہے۔(۹۶)

ابن تیمیہ اس طرح کی احادیث کے مضامین کو رد کرتے ہوئے کہتا ہے: جو کوئی شخص حضرت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت کرے وہ (آنحضرت (ص)کی طرف) ہجرت کرنے والوں میں شمار ہوتا ہے،اور جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی زیارت کرے اور تمام واجبات کو انجام بھی دے تو بھی اصحاب پیغمبر کے مانند نہیں ہوسکتا، چہ جائیکہ ان کاموں کو انجام دے جونافلہ ہیں یا سرے سے قربت اوراستحباب بھی نہیں رکھتیں۔(۹۷)

(اس کا مقصد آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبرِ مطھر کی زیارت کرنا ہے)

اسی طرح ابن تیمیہ کہتا ہے کہ بعض لوگ رسول اکرمکی وفات کے بعد یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت کی ہے اور ان سے احادیث اور فتووںکے بارے میں سوال کیا اور ہمیں جواب بھی ملا ہے، اور بعض لوگوں کو یہ وہم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر مطھر کھلی اور حضرت رسول خداظاہر ہوئے یا ایسے ہی دوسرے واقعات، میں (ابن تیمیہ)نے بہت سے ایسے لوگوں کو دیکھا جن کے لئے ایسے واقعات رونما ہوئے یا انھوں نے راستگو افراد سے ایسے واقعات سنے، بعض لوگ ان واقعات کو صحیح سمجھتے ہیں اور ان کو آیات الٰھی جانتے ہیںاور یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ ایسے واقعات دیندار اورصالح افراد کے لئے رونما ہوتے ہیں، جبکہ یہ نہیں جانتے کہ یہ سب شیطانی

کام ہیں، اور جب کسی کے پاس کافی علم نہیں ہوتا تو اس کو شیطان گمراہ کردیتا ہے۔(۹۸)

ابن تیمیہ ایک دوسرے مقام پر اس طرح کہتا ہے: جو کوئی شخص حضرت رسول اکرمکے مرنے کے بعد ان کے وجود کو ان کی زندگی کے جیسا مانے، تو اس نے بہت بڑی غلطی کی ہے،(۹۹)

۷۔ روضہ رسول دعا اور نماز کی حرمت کے بارے میں ابن تیمیہ کا نظریہ

ابن تیمیہ صاحب کہتے ہیں: ایسی کوئی حدیث نہیں ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر مطھر کی زیارت کے مستحب ہونے پر دلالت کرے۔(۱۰۰) اسی وجہ سے خلفاء (ظاہراً خلفائے راشدین مراد ہیں) کے زمانہ میں کوئی شخص بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کے نزدیک نہیں جاتا تھا، بلکہ مسجد النبیمیں داخل ہوتے وقت اور وہاں سے نکلتے وقت فقط آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کیا کرتے تھے، اس کے بعد ابن تیمیہ کہتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر مطھر کے نزدیک ہوجانا بدعت ہے(۱۰۱) نیز آنحضرت کی قبر منور کی طرف رخ کر کے بلند آواز میں سلام کرنا بھی جائز نہیں ہے۔

ابن تیمیہ، ان باتوں کو نقل کرنے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر مطھر کے بارے میں اس طرح کہتے ہیں:

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جسد حضرت عائشہ کے حجرہ میں دفن ہوا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج کے حجرے مسجد کے مشرق میں قبلہ کی طرف تھے اور حضرت عائشہ کے مرنے کے بعد ولید بن عبد الملک بن مروان کی خلافت کے زمانہ تک ان کے حجرے میں تالا لگا ہوا تھا، ولید نے عمر بن عبد العزیز (مدینہ میں ولید کا نائب)کو خط لکھا کہ پیغمبر (ص)کی ازواج کے تمام حجرے ان کے وارثوں سے خرید لئے جائےں اور ان کو گراکر مسجد النبی کا حصہ قرار دیدیا جائے۔

اس کے بعد ابن تیمیہ کہتے ہیں: جب تک عائشہ زندہ تھیں لوگ ان کے پاس احادیث سننے کے لئےجاتے تھے لیکن کوئی بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کے نزدیک نہیں جاتا تھا، نہ نماز کے لئے اور نہ دعا کے لئے، اس وقت قبر پر کوئی پتھر وغیرہ نہیں تھا بلکہ موٹی ریت کا فرش تھا۔(۱۰۲)

اور آپ (حضرت عائشہ) کسی کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر والے حجرے میں نہیں جانے دیتی تھیں،اور کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کے پاس جاکر دعا کرے یا نماز پڑھے،(۱۰۳)

لیکن بعض جاہل اورنادان افراد آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے تھے اور نالہ وفریاد کرتے تھے اور ایسی باتیں کہتے تھے جن کے بارے میں منع کیا گیاہے، البتہ یہ تمام چیزیں حجرے کے باہر ہوتی تھیں، اورکسی کوبھی اتنی جرات نہیں ہوتی تھی کہ وہ قبر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نزدیک ہو، اوروہاں نماز پڑھے یا دعا کرے، کیونکہ جناب عائشہ کسی کو بھی اتنی اجازت نہیں دیتی تھیں کہ کوئی قبر کے نزدیک جاکر نماز پڑھے یا دعا کرے، جناب عائشہ کے بعد تک اس حجرے کے دروازہ پر تالا تھا یہاں تک کہ ولید بن عبد الملک نے اس حجرہ کو مسجد النبیمیں شامل کروادیا، اور اس کے دروازے کو بند رکھا اور اس کے چاروں طرف ایک دیوار بنادی گئی۔(۱۰۴)

حجرے کے اندر قبر مطھر پر نہ تو کوئی پتھر ہے اور نہ ہی کوئی تختی اور نہ ہی کوئی گل اندود(ایسا مادّہ جس کو درودیوار پر ملا جاتا ہے تاکہ خراب نہ ہوں)تھا بلکہ قبر مطھرموٹی ریت سے چھپی ہوئی تھی۔(۱۰۵)

ان مطالب کے ذکر کرنے سے ابن تیمیہ کا مقصود آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر مطھر کے پاس نماز پڑھنا اور دعا کرنا بت پرستی کی مانند اور شرک کے حکم میں تھا، ابن تیمیہ نے ان باتوں کو ثابت کرنے کے لئے چند احادیث کا سھار ا بھی لیا ہے۔

روضہ رسول اکرم کے بارے میں وضاحت

طبری، قاسم ابن محمد سے روایت کرتے ہیں کہ میں جناب عائشہ کے پاس گیا، اور عرض کی اے اماں جان! پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے پاس جو دو لوگ دفن ہیں، مجھے ان کی زیارت کرائےے، جناب عائشہ نے مجھے ان تینوں قبروںکو دکھایا، جو نہ زمین سے اونچی تھیں اور نہ ہی زمین کے برابر(یعنی تھوڑی سی بلند تھیں) اور ان پر لال رنگ کے سنگریزے یا لال رنگ کا ریت (بالو) بچھا ہوا تھا، اور میں نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر مبارک سب سے آگے تھی اور ابوبکر کی قبر ان کے پیچھےتھی اورعمر کی قبر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیروں کی طرف تھی۔(۱۰۶)

فاسی کہتے ہیں کہ جس وقت عمر بن عبد العزیز نے مسجد کی وسعت کے لئے حجرہ کو گرایا، اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر مبارک زمین سے چار انگشت بلند تھی اور اس کے اوپر ھلکے لال رنگ کے سنگریزوں کا فرش تھا۔(۱۰۷)

اسی طرح فاسی نے عبد اللہ بن محمد عقیل سے روایت کی ہے کہ وہ قبر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس گیا اور کچھ دیر تک وہاں رہا،اور اس نے دیکھا کہ ابوبکر کی قبر رسول اکرم کے قدموں کے پاس ہے اور عمر کی قبر ابوبکر کے پیروں کی طرف ہے۔(۱۰۸)

اس بحث کے دوران یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سمہودی کی نقل کے مطابق جناب فاطمہ بنت امام حسن مجتبیٰں اور ان کے شوھر حسن (حسن مثنیٰ)، حضرت فاطمہ دختر پیغمبر (ص)کے حجرے میں رہتے تھے، (جس وقت ولید نے حکم دیا کہ مسجد میں توسیع کی جائے) اس وقت ان دونوں کو مذکورہ حجرے سے نکالا گیا، اور اس حجرے کو گرادیا گیا۔ حسن بن حسن (یعنی حسن مثنیٰ) نے اپنے بڑے بیٹے جعفر کو حکم دیا کہ مسجدمیں جاکر بیٹھ جاؤ اور وہاں سے نہ اٹھنایہاں تک کہ یہ دیکھ لو کہ وہ پتھر جس کے اوصاف انھوں نے بتائے تھے قبرپر رکھتے ہیں یا نھیں؟جناب جعفر نے اپنے باپ کے کہنے پر عمل کیا توکیا دیکھاکہ ستون کو اونچاکردیا گیا اور پتھر کو باہر لایا گیا،انھوں نے جب یہ خبر جب اپنے والد محترم کو پہونچائی، تو وہ فوراً سجدے میں گئے اور کہا کہ یہ وہ پتھر تھا جس پر رسول اکرمنماز پڑھتے تھے، حضرت امام رضاںفرماتے ہیں کہ حضرت فاطمہ زہرا = کے دونوں بچوں حضرت امام حسن وامام حسین +کی ولادت اسی پتھر پر ہوئی، اور حسین بن عبد اللہ بن عبد اللہ بن الحسین جو آل علی (ع) میں بھتبلند علمی مقام رکھتے تھے، جب ان کے بدن کے کسی حصّے میں درد ہوتا تھا تو اس پتھر سے سنگریزوں کو ہٹا کر اپنے بدن کو مس کرتے تھے، (اور ان کے اعضاء بدن کا درد ختم ہوجاتا تھا) یہ پتھر حضرت رسول اکرمکی قبر کی دیوار سے متصل تھا۔(۱۰۹)

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کے صندوق کے بارے میں

اسی طرح سمہودی تحریر کرتے ہیں: آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر مطھر کے صندوق کی ابتداء کے بارے میں صرف یہ جانتا ہوں کہ مسجد میں پہلی بار آگ لگنے(۱۱۰) سے پہلے(یعنی۶۵۴ھ) صندوق موجود تھا، کیونکہ جس وقت تعمیر مسجد کے متولی نے اس کو اس کی جگہ سے نکالا، اس کے نیچے صندوق عتیق کے ستون ظاہر ہوئے تھے جس پر آگ کے نشان موجود تھے، گویا مسجد کی تجدید کے وقت اس عتیق کے صندوق کو نئے صندوق کے اندر رکھا گیا تھا، ابن سمہودی کی بات تائید چھٹی صدی کے مشہور ومعروف سیاّح ابن جبیر کے بیان سے ہوتی ہے جیساکہ لکھتا ہے:

”وہ آبنوس کا صندوق ( Apnus ) جس پر صندل کی لکڑی کا کام تھااور چاندی کے ورق سے سجایا گیا تھا آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سرہانے موجود ہے، جس کی لمبائی پانچ بالشت، عرض تین بالشت اور اونچائی چار بالشت ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کے سامنے چاندی کی ایک میخ (کیل) ہے، جس کے سامنے کھڑے ہوکر لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کیا کرتے ہیں۔

دروازے کے نزدیک تقریباً بیس عدد قندیل چھت میں لگی ہوئی تھیں، جس میں سے دوعدد سونے کی اور باقی چاندی کی ہیں۔ روضہ مقدس کے اندر کا ایک حصہ پرسنگ مرمرکا فرش ہے، اور قبلہ کی طرف ایک محراب نما جگہ ہے جس کو بعض لوگ حضرت فاطمہ زھر ا = کا گھر اور بعض لوگ اس کوحضرت فاطمہ زہرا= کی قبر مطھر کہتے ہیں، اسی طرح روضہ رسولکے سامنے ایک بڑا صندوق شمع اور چراغ جلانے کے لئے ہے اورہر شب میں اس میں چراغ جلائے جاتے ہیں۔(۱۱۱)

ابن بطوطہ، جس نے تقریباً ابن جبیر سے دوصدی بعد اورسمہودی سے دوصدی قبل مدینہ منورہ اورمسجد رسول کودیکھا ہے، وہ بھی تقریباً ابن جبیر ہی کی طرح روضہ رسول اسلام کی توصیف کرتا ہے ۔

قبر مطھر کی چادر کو معطر کرنا

قبر کے اطراف قندیلیں لٹکانا اور قیمتی اشیاء ہدیہ کرنا

سمہودی حضرت رسول خداکے روضہ مطھر اور قبر منور چادراور اس کو معطّر کرنے کی بحث کے دوران چند روایت ذکرکرنے کے بعد اس طرح رقمطراز ہیں کہ ھارون الرشید کے زمانہ میں خیزران (ھارون کی ماں) نے حکم دیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر مطھر کو زعفران اور دوسرے بہترین عطریات سے معطّر کیا جائے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر مطھر پر حریر کے جالی دارکپڑوں کی چادرڈا لی جائے ۔(۱۱۲)

سمہودی ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں:پہلے رسول اکرمکی دو سوم قبر کو زعفران اور عطر لگایا جاتا تھا لیکن۱۷۰ھ میں خیزران کے حکم سے پوری قبر کو معطّر کیا جانے لگا۔

سمہودی کی باتوں سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کو ڈھکنے کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف تھا، لیکن اس پر چادرڈالنے کا معمول تھا۔

۷۶۰ھ میں یعنی سلطان اسماعیل بن ملک ناصر قَلاوُون کے زمانہ میں مصر میں بیت المال کے ذریعہ ایک دیھات خریدا گیا تاکہ اس کی آمدنی سے ہر پچاس سال کے بعد خانہ کعبہ کا غلاف اور حضرت رسول خدا کی قبر مطھر اور منبر کی چادر بدلی جاسکے۔

اس کے بعد سمہودی کہتے ہیں:

” آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر مطھر کو سونے چاندی کی قندیلوں اور فانوسوں اور شیشہ کی بہت قیمتی اشیاء سے زینت کی گئی تھی، جن کا حکم خانہ کعبہ کی قیمتی اشیاء کی طرح ہے۔(۱۱۳)

سُبْکی نے آنحضرت (ص)کی قبر مطھر اور روضہ اقدس کی قیمتی قندیلوں کے بارے میں ایک کتاب بنام ”تَنْزِلُ الْسَكِیْنَة عَلیٰ قَنَادِیْلِ الْمَدِیْنَة لکھی ہے۔(۱۱۴)

سمہودی حرم مطھر اور روضہ رسولپرلگی قندیلوں کے ذکر کے بعد کہتے ہیں کہ آنحضرت کے حجرہ شریف پر قندیلوں کا لگایا جانا ایک معمول کام تھا، اور یہاں پر اس طرح زینت کرنا دوسرے مقامات پر مقدم اوربھتر ہے۔

ہم یشہ بہت سے علمائے کرام اور زاہد حضرات آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت کے لئے آئے ہیں لیکن ہم نے نہیں سنا کہ کسی نے اس کام سے منع کیا ہو، اور علماء کا منع نہ کرنا خود اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کام جائز ہے۔(۱۱۵)

حرم مطھر اور روضہ رسول کی قندیلیں کبھی کبھی اتنی زیادہ ہوجاتی تھیں کہ جو قدیم ہوجاتی تھیں ان کو فروخت کردیا جاتا تھا اور ان کی قیمت کو حرم کی تعمیرات میں صرف کردیا جاتا تھا، چنانچہ۷۰۵ھ میں روضہ رسول (ص)کے خادمین کے رئیس نے بادشاہ سے اجازت مانگی کہ بعض قندیلوں کو بیچ دیا جائے اور ان کی درآمد سے باب السلام میں کچھ تعمیر کرا دی جائے، اور جب اس وقت کے بادشاہ نے اجازت دی تو ان قندیلوں کو فروخت کردیاگیا،ان میں سے دو عدد سونے کی قندیلیں تھیں وہ ایک ہزار درہم کی فروخت ہوئیں۔(۱۱۶)

حجرے کے اوپر گنبد کے بارے میں

سمہودی جس کی کتاب تاریخ مدینہ اور مسجد النبی میں بہترین اور معتبر ترین کتاب مانی جاتی ہے گنبد روضہ نبوی کے بارے میں اس طرح رقمطراز ہے: مسجد النبی میں لگنے والی پہلی آگ سے پہلے یعنی۶۵۴ھ سے قبل آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حجرے پر کوئی گنبد یا قبّہ نہیں تھا بلکہ چھت کے اوپر قبر کے سیدہ میں نصف قد آدم اینٹوں کی دیوار تھی تاکہ اس حجرے کی چھت مسجد النبی کی دوسری عمارت سے الگ دکھائی دے، لیکن۶۷۸ھ میں ملک منصور قلاوون صالحی نے اس حجرے کے اوپر ایک قبّہ بنوایاجس کا نیچے والا حصہ مربع اور اوپر آٹھ گوشے تھے۔(۱۱۷)

حرم مطھر کے دروازے کس زمانہ میں بند کئے گئے؟

جس وقت۸۲۲ھ میں نجم الدین حجی شام کے قاضی نے اپنے کاروان کے ساتھ فریضہ حج انجام دیا اور روضہ رسول اکرم (ص)کی زیارت کی، اس وقت روضہ رسولکے اندر لوگوں کی بھیڑ دیکھی تو فتویٰ صادر کردیا کہ روضہ رسول کے دروازے بند کردئے جائیں،۸۲۸ھ میں مذکورہ قاضی نے اپنے فتوے کے بارے میں اس وقت کے سلطان سے حمایت چاہی چنانچہ اس نے بھی اس کی حمایت میں حکم صادر کردیا ،جس کی وجہ سے حرم کے دروازے بند ہوگئے۔

میں (سمہودی)نے قول مجد پرحافظ جمال الدین بن الخیاط یمنی کے ھاتھ کا حاشیہ دیکھا، جس میں اس طرح لکھا تھا کہ ملک اشرف بَر سْبای،جوکہ مصر وشام کا حاکم تھا اس کے زمانہ میں حرم اور روضہ مطھرکے اطراف میں جالیوں والے درلگائے گئے، اور۸۳۰ھ کے بعد سے لوگ ان جالیوں کے پیچھے سے کھڑے ہوکر زیارت رسول اکرمکیا کرتے تھے، اور کوئی بھی اندر داخل نہیں ہوتا تھا۔

اس موقع پر سمہودی اپنی رائے کا اظھار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بھتر تو یہ تھا کہ حرم مطھر کے بعض دروازوں کو کھلا رکھتے اور بعض جاہل اور بے ادب لوگوں کے لئے دروازوں پر نگھبان کھڑا کردیتے، تاکہ وہ بے ادب اور جاہل لوگوں کو حرم مطھر میں داخل نہ ہونے دیں، نہ یہ کہ بالکل ہی دروازے بند کردئے جائیں،اور دوسرے لوگوں کو بھی زیارت سے محروم کردیا جائے، جبکہ آنحضرتکی زیارت سے لوگوں کو روکنا یعنی تمام مسجد کی تعطیل کرنا ہے۔(۱۱۸)

لیکن شوکانی قبر رسولکے اطراف کے دروازہ بند ہونے کے سلسلہ میں یوں رقمطراز ہیں کہ اصحاب اور تابعین نے جب یہ دیکھا کہ مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے تو مسجد النبی میں توسیع کی ضرورت کو محسوس کیا اور مسجد میں توسیع کی گئی، ا ور اس توسیع میں امھات المومنین (ازواج رسول (ص))کے حجرے یہاں تک کہ جناب عائشہ کا وہ حجرہ جس میں رسول اللہدفن تھے، وہ بھی شامل ہوگیا، قبر مطھر کے چاروں طرف اونچی اونچی دیواریں ہیں تاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر منور دکھائی نہ دے، اس وجہ سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ عوام الناس آپ کی قبر کی طرف نماز پڑھنے لگیں، اور ممنوعہ کام (غیر خدا کی عبادت) نہ ہوجائے۔(۱۱۹)

مسجد النبی کے فرش کے سنگریزوں کے بارے میں

اس بحث کے اختتام پر بھتر ہے کہ اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا جائے کہ مسجد النبیکا لال رنگ کے سنگریزوں سے فرش حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ سے ہے اور اب بھی اسی رنگ کا ہے، ابوداود نے اپنی سنن میں ابو ولید سے روایت کی ہے کہ ابن ولید نے ابن عمر سے سوال کیا کہ مسجد النبی کے فرش کی جگہ سنگریزے ڈالنے کی وجہ کیا ہے؟ تو ابن عمر نے اس طرح جواب دیا کہ ایک رات جب بارش آئی تو دوسرے روز صبح کو زمین گیلی تھی، چنانچہ جو شخص بھی مسجد میں آتا تھا اپنے ساتھ ایک مقدار سنگریزے لاتا تھا اور ان کو مسجد میں ڈال کر پھیلادیا کرتا تھا اور انھیں کے ا وپر نماز پڑھا کرتا تھا، نماز کے تمام ہونے کے بعد حضرت رسول اکر م (ص)نے فرمایا کہ یہ کام کتنا اچھا ہے، اور اب کسی کو اپنے لائے ہوئے سنگریزوں کو مسجد سے باہر لے جانے کا کوئی حق نہیں ہے۔(۱۲۰)

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر مطھر کی زیارت اور بوسہ لینے کے سلسلے میں ایک اور وضاحت

جناب سمہودی جن پر تمام اہل سنت اور وہابی حضرات بھی اعتماد کرتے ہیں، انھوں نے بہت سے ایسے موارد ذکر کئے ہیں کہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کے نزدیک جاتے تھے اور قبر مطھر کے اوپر ھاتھ رکھتے تھے، یہاں تک کہ لوگ (تبرک کے لئے) آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کی مٹی اٹھالیتے تھے اور جب سے جناب عائشہ کے حکم سے دیوار بنادی گئی اس کے بعد بھی لوگ دیوار میں موجود سوراخوں کے ذریعہ قبر مطھر کی مٹی اٹھالیا کرتے تھے۔(۱۲۱)

سمہودی انس بن مالک سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص جو قبر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ھاتھ رکھے ہوئے تھا میں نے اس کو منع کیا، اس کے بعد بعض علماء کا قول نقل کرتے ہیں کہ اگر صاحب قبر سے مصافحہ کرنے کے قصد سے قبر پر ھاتھ رکھا جائے تو کوئی حرج نہیں ہے۔

اسی طرح سمہودی ”تحفہ ابن عساکر“ سے نقل کرتے ہیں کہ مقدس قبور کو مس کرنا یا ان کو بوسہ دینا اور ان کاطواف کرنا جیسے جاہل ونابلد لوگ ان کا طواف کرتے ہیں، ان سب کا سنت نبوی سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ مکروہات میں سے ہے۔

اس کے بعد وہ ابی نُعیم سے روایت کرتے ہیںکہ ابن عمر قبر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ھاتھ رکھنے کو مکروہ جانتے تھے، اس کے بعد کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن احمد بن حنبل نے اپنے باپ سے سوال کیا کہ لوگ رسول اسلام کے منبر پر ھاتھ پھیر تے ہیں، اس کو چومتے ہیں اور اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر مطھر کو مس کرتے ہیں اور بوسہ دیتے ہیں، اس سوال کے جواب میں احمد نے کہا کہ کوئی حرج نہیں ہے، اسی طرح جناب سُبکی نے ابن تیمیہ کی ردّ کرتے ہوئے کہا ہے کہ رسول اکرم کی قبر مطھر کو مس نہ کرنے کا مسئلہ اجماعی نہیں ہے کیونکہ مطلّب بن عبد اللہ سے مروی ہے کہ مروان بن الحکم نے جب ایک شخص کو دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر سے چمٹا ہواہے، تو مروان نے اس شخص کی گردن کو پکڑکر کہا کہ معلوم ہے توکیا کر رہا ہے؟ اس شخص نے اس کی طرف اپنا رخ کرکے کہا: میں لکڑی اور پتھر کے پاس نہیں آیا ہوں بلکہ پیغمبر اکرم (ص)کے پاس آیا ہوں، اس وقت دین پر ماتم کیا جانا چایئے جب دین کی باگ ڈور نااہلوں کے ھاتھ میں ہو، یہ مذکورہ شخص ابوایوب انصاری تھے، اس موقع پر سُبکی کہتے ہیں کہ اگر اس روایت کی سند کو صحیح مان لیا جائے تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر مطھر کو مس کرنا مکروہ بھی نہیں ہے۔

ایک دوسری روایت کے مطابق جناب بلال جب شام سے آنحضرت (ص)کی زیارت کے لئے مدینہ تشریف لائے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر منور کے نزدیک روتے ہوئے گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر پر اپنے رخساروں کو مَل رہے تھے، اور ایک دوسری روایت کے مطابق جب حضرت علیںنے رسول اکرم (ص)کو دفن کیا توجناب فاطمہ زہرا = تشریف لائیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر مطھر کے سامنے کھڑی ہوئیں اور قبر سے ایک مٹھی خاک اٹھائی اور اپنی آنکھوں سے مس کرکے رونا شروع کیا، اور ایک دوسری روایت کے مطابق ابن عمر اپناداہنے ھاتھ قبر منور پر رکھتے تھے اور اسی طرح جناب بلال اپنے رخساروں کو قبر مطھر پر رکھتے تھے، عبد اللہ ابن احمد حنبل نے کہا کہ یہ سب چیزیں بھر پور محبت کا ثبوت ہیں اور یہ تمام چیزیں ایک طرح سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا احترام اور تعظیم ہیں۔(۱۲۲)

قبر اورروضہ مقدسہ کے بارے میں ابن تیمیہ کی باقی گفتگو

ابن تیمیہ کے دلیلوں میں سے سَلَف صالح (اصحاب پیغمبر) اور تابعین کا عمل بھی ہے، لیکن عجیب بات یہ ہے کہ یھی ابن تیمیہ زیارت کے بارے میں سلف صالح کے عمل کو قبول نہیں کرتے، اور کہتے ہیں کہ سلف صالح کا عمل کافی نہیں ہے بلکہ کسی دوسری دلیل کا ہونا بھی ضروری ہے۔(۱۲۳) یہاں تک کہ ابن تیمیہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کو دیکھنا بھی ممنوع قرار دیا۔(۱۲۴)

وہ قبر مطھر اور روضہ مبارک کے بارے میں اس طرح کہتا ہے کہ کوئی بھی زائر کسی بھی طریقہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کی زیارت نہیں کرسکتا، اور قبر کے چاروں طرف بھی اتنی گنجائش نہیں ہے کہ تمام زائرین وہاں جمع ہوسکیں، اور جس حجرے میں حضرت رسول اللہ کی قبر مبارک ہے اس میں کوئی جالی وغیرہ نہیں ہے کہ اس سے آپ کی قبر کو دیکھا جاسکے، اور لوگوں کو بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر مطھر کو دیکھنے سے ممانعت کی گئی ہے،خداوندعالم نے جن چیزوں کے ذریعہ اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر منّت رکھی ہے ان میں سے سب سے بڑی چیز یہ ہے کہ آپ کو آپ کے حجرے میں دفن کیا گیا جو مسجد النبیکے قریب ہے اور جو شخص نماز پڑھنا چاہتا ہے اس کو چاہئے کہ مسجد میں نماز ادا کرے جہاں نماز پڑھناجائز ہے۔(۱۲۵)

اس کے بعد ابن تیمیہ صاحب کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کے نزدیک نہ کوئی قندیل لٹکی ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی پردہ ہے، اور نہ ہی کسی شخص کے لئے یہ ممکن ہے کہ آپ کی قبر کو زعفران یا عطر کے ذریعہ معطر کرے یا کوئی شخص نذر کے لئے شمع یا چادر وغیرہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر مبارک پر چڑھائے،(۱۲۶) یھی ابن تیمیہ ایک دوسری جگہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر اوردوسری قبروں میں کوئی فرق نہیں ہے، صرف آپ کی مسجد دوسری مسجدوں سے افضل ہے۔(۱۲۷)

۸۔ قبروں کی زیارت کے لئے سفر کرنا حرام ہے

ابن تیمیہ کا کہنا ہے کہ اس حدیث شریف کے پیش نظر”لاٰ تُشدُّ الرِّحَالُ اِلاّٰ اِلٰی ثَلاٰثَةِ مَسٰاجِدَ، اَلْمَسْجِدُ الْحَرَامُ وَمَسْجِدی هٰذَا وَالْمَسْجِدُ الاَقْصیٰ “(تین مسجدوں کی زیارت کے لئے سفرکرنا جائز ہے : ۱۔ مسجد الحرام (خانہ کعبہ)،۲۔ میری یہ مسجد ،اور ۳۔ مسجد اقصیٰ (بیت المقدس)اور دوسری مساجد یا انبیاء یا اولیاء اللہ اور صالحین کی قبروں کی زیارت کے لئے سفر کرنا بدعت اور ناجائز ہے)۔

اسی طرح ابن تیمیہ کاکہنا ہے کہ قبور کی زیارت کی غرض سے سفر کرنا اور عبادت کے قصد سے زیارت کرنا، چونکہ عبادت یا واجب ہوتی ہے یا مستحب اور سبھی علماء کا اتفاق ہے کہ قبور کی زیارت کے لئے سفر کرنا نہ واجب ہے اور نہ ہی مستحب، تو زیارت کے لئے سفر کرنا بدعت ہوگا۔

اس کے بعد کہتے ہیں: خلفائے اربعہ کے زمانہ تک بلکہ جب تک ایک بھی صحابی رسول زندہ رہا کوئی بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور دوسرے انبیاء، اولیاء اور صالحین کی قبروں کی زیارت کے لئے نہیں جاتا تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی بیت المقدس کی زیارت کے لئے تشریف لے جاتے تھے لیکن وھیں پر موجود جناب ابراہیم خلیل اللہ کی قبر کی زیارت نہیں کرتے تھے اور کوئی بھی اپنی زندگی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کی زیارت کے لئے نہیں جاتا تھا، ابن تیمیہ اس بحث کے ذریعہ شیعوں پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ رافضی لوگوں نے صالحین کی قبور کو مسجد بنالیا ہے اور وہاں نمازیں پڑھا کرتے ہیں، اور قبروں کے لئے نذر کرتے ہیں اور بعنوان حج ان کی زیارت کے لئے جاتے ہیں، اورخانہ مخلوق کے سفر کو بیت الحرام (خانہ کعبہ) کے حج سے افضل سمجھتے ہیں اور اس (زیارت)کو حج اکبر کہتے ہیں اور ان کے علماء نے اس سلسلہ میں بہت سی کتابیں بھی لکھیں ہیں،ان میں ایک شیخ مفید (چوتھی اورپانچویں صدی کے مشہور ومعروف عالم) ہیں جنھوں نے ”مناسک حج المشاہد“ نامیکتاب لکھی ہے۔(۱۲۸)

چنانچہ ابن تیمیہ ایک دوسری جگہ کہتے ہیں:

”اگر کوئی یہ اعتقاد رکھے کہ انبیاء اور صالحین کی قبروں کی زیارت کرنا، خداوندعالم کی رضا اور خوشنودی کا سبب ہے، تو اس کا یہ اعتقاد اجماع کے بر خلاف ہے۔(۱۲۹) اور حقیقت تو یہ ہے کہ اسلام میں قبور کی زیارتکے مسئلہ کا کوئی وجود نھیں۔(۱۳۰) یہاں تک کہ اس مسئلہ میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ زیارتوں کے لئے سفر کرنے(ابن تیمیہ کے بقول حج قبور) کا گناہ کسی کو ناحق قتل کرنے سے بھی زیادہ ہے، کیونکہ کبھی کبھی یہ عمل اور یہ زیارت باعث شرک اور ملت اسلامی سے خارج ہونے کا سبب بنتی ہے۔(۱۳۱) اور اگر کوئی شخص یہ نذر کرے کہ مثلاً میں خلیل الرحمن یا آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کی یا کوہ طوریا غارِ حراء یا اس طرح کی دوسری جگہوں کی زیارت کے لئے جاؤں گا، تو ایسی نذر پر عمل کرنا ضروری نہیں ہے۔(۱۳۲)

زیارت قبور کے سلسلے میں اجماع اور اتفاق کی وضاحت

خود ابن تیمیہ کے زمانہ سے اور اس کے بعد مختلف فرقوں کے علماء نے ابن تیمیہ کے عقائد بالخصوص زیارت قبور کے سلسلہ میں سفر کی حرمت کے بارے میں ابن تیمیہ کے نظریات کے جوابات اور اس کی ردّ تفصیل کے ساتھ لکھی ہیں مثلاً مالکی فرقہ کے قاضی اِخنائی (جوکہ ابن تیمیہ کے معاصرین میں سے تھے) نے ابن تیمیہ کے عقائد کی ردّ لکھی ہے جس کا نام ”المقالة المرضیّہ“ جو حرمت سفر زیارت قبور کے سلسلہ میں ابن تیمیہ کے عقائد کی ردّ ہے، یہ کتاب جس وقت ابن تیمیہ کے ھاتھوں میں پہونچی تو اس نے اس کاجواب لکھا جس کا نام ”کتاب الردّ علی الاخنائی“ رکھا جو اس وقت بھیموجود ہے۔

قاضی اخنائی نے جیسا کہ ابن تیمیہ نے ان سے نقل کیا کہ ابن تیمیہ کا نظریہ مسلمانوں کے اجماع کے خلاف ہے اور انبیاء اولیاء اور صالحین کی قبروں کی زیارت کے لئے سفر کرنا مستحب سفر ہے، اس لحاظ سے یہ سفر مسجد پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرح ہے اور اگر کوئی یہ کھے کہ مذکورہ تین مسجدوں کے علاوہ سفر کرنا صحیح نہیں ہے تو اس کی یہ بات اجماع کے خلاف ہے، اور گویا اس شخص نے کھلے عام خدا اور پیغمبروں سے دشمنی کے لئے قیام کیا ہے۔

ایک دوسری جگہ پر اخنائی کہتے ہیں کہ بعض علمائے کرام نے پیغمبر اکرم(ص) کی قبر کی زیارت کو واجب قرار دیا ہے، خلاصہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت کے مستحب ہونے میں کسی کو بھی شک وشبہ نہیں ہے، چنانچہ مسند ابی شَیبہ میں یہ حدیث شریف وارد ہوئی ہے:

قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمْ: ”مَنْ صَلّٰی عَلَیّٰ عِنْدَ قَبْرِیْ سَمِعْتُهُ وَمَنْ صَلّٰی نَاِئیاً سَمِعْتُهُ(۱۳۳)

حضرت رسول اکرمنے ارشاد فرمایا: جو شخص میری قبر کے نزدیک مجھ پر صلوات بھیجے تو میں اس کو سنتا ہوں اور اگر کوئی دور سے بھی مجھ پر صلوات بھیجے تو میں اس کی صلوات بھی سنتا ہوں۔

قارئین کرام!یہاں پر دو باتوں کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے:

پہلی بات یہ ہے کہ یہ دونوں (ابن تیمیہ اور اخنائی) ایک دوسرے کے عقیدے کو مسلمین کے اجماع کے بر خلاف جانتے ہیں ۔(۱۳۴) اور دوسری بات یہ ہے کہ ابن تیمیہ کی بہت سی چیزوں کا مدرک اور سند امام مالک اور اس کے پیروکار حضرات کی تحریریں ہیں، لیکن اس کے باجود اکثر وہ لوگ جو ابن تیمیہ کی مخالفت کے لئے اٹھے، وھی علماء ہیں جن کا تعلق مالکی مذہب سے تھا اورجنھوں نے دمشق اور قاہرہ میں ابن تیمیہ سے بحث وگفتگو اور مناظرے کئے اور ابن تیمیہ کو زندان میں بھجواءے ۔

آئےے اپنی بحث کی طرف پلٹتے ہیں:ابن شاکر کہتے ہیں کہ شدِّ رِحال (مذکورہ مساجد کے علاوہ سفر کرنے کی حرمت) کا موضوع ان اہم مسائل میں سے ہے جن کی وجہ سے اس زمانہ کے علمائے کرام کو مخالفت کے لئے کھڑا ہونا پڑا۔(۱۳۵)

مرحوم علامہ عبد الحسین امینی رحمة اللہ علیہ زیارت قبور کے بارے میں بحث کرتے ہوئے اہل سنت کی کتابوں سے بہت سی ا حادیث کو نقل کرتے ہیں اور انھوں نے ایسی باون(۵۲) قبروں کا شمار کرایا ہے جو گذشتہ زمانہ سے آج تک اہل سنت کی زیارت گاہ بنی ہوئی ہیں، اور اس بات پر خود ان کی کتابوں سے حوالے بھی بیان کئے ہیں۔(۱۳۶)

شیعوں کی طرف دی گئی نسبتوں کی وضاحت

قدیم زمانہ سے شیعوں کی طرف ایک جھوٹی نسبت یہ دی گئی ہے کہ شیعہ حضرات اپنے اماموں اور رہبروں کی قبروں کی زیارت کو حج بیت اللہ کی طرح مانتے ہیں، یہ تہم ت اور دوسری تہم تیں جو مختلف بھانوں سے شیعوں پرلگائی گئی ہیں، یہ سب ”سلجوقیوں“کے زمانہ میں زیادہ رائج ہوئی ہیں، اس طرح کہ جب” نظام الملک“ اسماعیلہ فدائیوں کے ھاتھوں قتل ہوا، اس دور میں حسن صباح اور اس کے ساتھیوں نے قدرت حاصل کرلی، اس وقت سلجوقی بادشاہوں کو بہت زیادہ نگرانی وپریشانی تھی اور خوف ووحشت کی وجہ سے ان کی راتوں کی نیند یں حرام ہوچکی تھیں، اس موقع پر شیعوں کے دشمنوں نے موقع پایااور سلجوقی بادشاہ کے کانوں میں یہ بات بھر دی کہ شیعہ (یا ان کے بقول رافضی) تمھارے سخت دشمن ہیں، چنانچہ سلجوقی بادشاہوں کو شیعوں کے قتل عام اور ان کے شھروں کو تباہ وبرباد نیز شھروں میں آگ لگانے پر اُکسایا گیا، (اور اس نے ایسا ہی کیا) جس کے نمونے نظم اور نثر کی کتابوں میں کثرت سے دیکھے جاسکتے ھی، چنانچہ کتاب تاریخ مذہبی قم میں اس طرح کے بعض واقعات موجود ہیں یہاں تک کہ اس وقت کے مشہور ومعروف شیعہ علماء کو بھی قتل کیا گیا۔

خلاصہ یہ کہ شیعوں کے دشمنوں نے ان پر باطنی (یعنی اسماعیلی اور حسن صباح کے تابع ہونے) جیسی تہم ت لگاکر سلجوقی بادشاہوں کو شیعوں کے قتل وغارت پر مجبور کردیا تاکہ وہ شیعوں کے قتل وغارت میں ذرہ برابر بھی کوئی کمی نہ چھوڑےں، نیز شیعوں سے مزید دشمنی پیدا کرنے کے لئے شیعوں کے خلاف بہت سی دوسری تہم تیں بھی لگائیںجن میں سے ایک زیارت قبور بھی ہے، جس کے بارے میں یہ کہا کہ شیعہ زیارت قبور (ائمہ) کو حج کی طرح سمجھتے ہیں، سلجوقی زمانہ میں جس شخص نے آشکارا طور پر شیعوں کی طرف یہ نسبت دی ہے اس کا نام ابوبکر محمد راوندی (چھٹی صدی کا مورخ) ہے جو شیعوں سے اپنی دشمنی کو ثابت کرتے ہوئے ان پر بہت سی ناجائز تہم تیں لگاتے ہوئے اس طرح کہتا ہے کہ بہت سے کاشی (یعنی کاشان کے) لوگوں کو حاجی کہا جاتا ہے جنھوں نے نہ تو خانہ کعبہ کو دیکھا ہے اور نہ ہی بغداد، کو صرف ان لوگوں نے طوس کی طرف سفر کیا ہے۔(۱۳۷) طوس کی طرف سفر کرنے سے اس کا مقصد حضرت امام علی رضاںکی زیارت ہے۔

اس کے بعد سے یہ عظیم تہم تیں ان لوگوں کی کتابوں میں کم وزیاد پائی جانے لگیں جو تعصب یاشیعوں کے عقائد سے ناآشنائی کی وجہ سے دشمنی کرتے تھے، منجملہ ان کے عرب کا ایک مورخ اور سیّاح بنام محمد ثابت جس نے تقریباً چالیس سال پہلے ایران کا سفر کیا اور خصوصاً مشہد مقدس گیا،اس طرح لکھتا ہے کہ شاہ عباس کبیر (مشہور صفوی بادشاہ) چونکہ اس کو عرب اچھے نہیں لگتے تھے اسی وجہ سے اس نے ایرانیوں کو حج سے روکا اور لوگوں کو امام رضاںکی زیارت کی ترغیب دلائی اور کہا کہ وہ اسی کو اپنا کعبہ قرار دیں، اور وہ خود بھی پاپیادہ حضرت امام رضاںکی زیارت کے لئے گیا، اسی وجہ سے یہ لوگ آج کل بہت کم حج کے لئے جاتے ہیں، اور مشہدی (امام رضاںکی زیارت کرنے والے) کو حاجی پر ترجیح دیتے ہیں، وغیرہ وغیرہ ۔(۱۳۸)

قارئین کرام!جیسا کہ معلوم ہے کہ یہ سیّاح مورخ، ایران آنے سے پہلے بعض کتابوں کے پڑھنے کے بعد اپنے ذہن میں شیعوں کے خلاف بعض تہم تیں لئے بیٹھا تھا، اسی وجہ سے اپنے مشاہدات کو تعصب کی نظر سے دیکھتا تھااوربغیر کسی غور وفکر کے ان کو انھیں تہم توں پر حمل کرتا تھا، چنانچہ بغیر غور وفکر کے اپنے سفر نامے میں لکھتا تھا، اسی وجہ سے اس کے سفر نامے میں بہت سی چیزیں حقیقت کے خلاف موجود ہیں۔

اگر وہ ذرا بھی انصاف سے کام لیتا تو اس کو معلوم ہوجاتا کہ عربوں سے شاہ عباس کی دشمنی کی کوئی دلیل نہیں ہے اور شاہ عباس عربوں کا دشمن کیوںہوتا؟! کیونکہ بہت سے تاریخی مدارک اس کے خلاف موجود تھے، اسی طرح شاہ عباس کی ایرانیوں کو حج سے روکنے پر بھی کوئی دلیل نہیں ہے، اور اس کے مشہد مقدس کا پاپیادہ سفر کرنے کی وجہ اس کی نذر تھی، اس کے علاوہ کسی بھی تاریخی سند میں کوئی بات بیان نہیں ہوئی، اور یہ بات کس طرح ممکن ہے کہ ایک دیندار بادشاہ شاہ عباس جس نے بہت سے کار خیر انجام دئے پانی کے لئے کنویں کھدوائے بہت سی مسجدیں بنوائیں، ایسا شخص حج جیسے اہم واحب سے اور اگر محمد ثابت صاحب تھوڑی سی بھی تحقیق کرتے اور لوگوں کے ساتھ کچھ دن زندگی بسر کرتے تو انھیں ایرانیوںکے بارے میں معلوم ہوجاتا کہ ایرانی اس شخص کا جو مكّہ معظمہ کی زیارت اور حج سے مشرف ہوتا ہے کس قدر احترام کرتے ہیں اور صرف حاجی ایک ایسا لقب ہے جو تمام ایرانیوں میں احترام کے لئے کہا جاتا ہے، بڑے بڑے اور جید علماء کرام کے لئے بھی شروع میں حاجی لگایا جاتا ہے اور عام لوگوں کو بھی احترام کی وجہ سے حاجی کہا جاتا ہے۔

اسی طرح اس کو معلوم ہوجاتا کہ ہر ایرانی کی یہ دلی تمنا ہوتی ہے کہ وہ مکہ ومدینہ کی زیارت سے مشرف ہو، اور اس بات کو سبھی حضرات جانتے ہیں کہ کسی بھی زمانہ میں ایرانی حاجیوں کی تعداد کسی بھی اسلامی ملک سے کم نہیں رہی، اور حاجیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے ایران میں امیر الحاج معین کیا جاتا ہے، اور سعودی عرب کی رپورٹ کے مطابق ایرانی حجاج کی تعداد پہلے نمبر پر ہوتی ہے، اور امکانات اور دیگر وسائل سفر وغیرہ کے لحاظ سے بھی پہلا درجہ ہوتا ہے۔

مذکورہ مورخ کی بے توجھی کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ کرنا مناسب ہے کہ موصوف روضہ امام رضاںمیں صحن عتیق کے ایوان میں لگے فیروزوں کی باتیں کرتے ہوئے اس طرح کہتے ہیں کہ فیروزوں کی کان فارس کے علاقہ فیروزآباد میں ہے وہاں ایک پھاڑ ہے جس کے ایک اہم حصہ میں فیروزے پائے جاتے ہیں۔

جب کہ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ ایران میں فیروزہ کی کان نیشاپور میں ہے اور فارس کے علاقہ فیروز آباد میں کبھی کوئی فیروزہ کی کان نہیں تھی، ظاہراً اس مورخ کو فیروزآباد کے پہلے جز فیروز نے اس غلطی میں پھنسادیا ہے۔

اس سلسلہ میں ابن تیمیہ کی بات کتنی تعجب خیز ہے جبکہ وہ شیعوں کی فقہ سے کافی معلومات رکھتا ہے اور اپنے بعض مسائل میں شیعوں کے نظریہ کو اختیار کرتا تھا، اس کے باوجود کس طرح دوسروں سے متاثر ہوگیا اور وہ تہم تیں جو لوگوں نے چند صدی قبل شیعوں پر لگائی گئی تھیں،اور ائمہ اور بزرگا ن دین کی زیارتوں کو جنھیںشیعہ متفق علیہ (سنی شیعہ) روایتوں کے مطابق مستحب مانتے اور ان پر تاکید کرتے ہیں ابن تیمیہ نے یہ کیسے گمان کر لیا کہ شیعہ ان کو خانہ کعبہ کے حج کے برابرقرار دیتے ہیں۔(۱۳۹)

عجیب بات تو یہ ہے کہ اس نے اس عقیدہ کو شیخ مفید (جو خود سنی مولفوں کے مطابق شیعوں کے عظیم فقھاء اور متکلمین میں سے ہیں)کی طرف نسبت دی ہے۔

کیا یہ ممکن ہے کہ شیخ مفید زیارت کو جو کہ ایک مستحب کام ہے حج بیت اللہ کے برابر قرار دے دیںجو ہر مستطیع پر واجب ہے، یا اس سے بڑی بات کہیں کہ زیارت حج اکبر ہے۔ ؟!

شیخ مفید اور دوسرے عظیم علماء کی تو اور بات ہے یہ بات تو عوام الناس اور جاہل شیعہ بھی نہیں کہہ سکتا،اور نہ صرف یہ کہ کوئی ایسا عقیدہ نہیں رکھتا بلکہ یہ بات تو ان کے کانوں میں بھی نہیں پڑی ہے۔

اس بحث کے آخر میں یہ بات عرض کرنا ضروری ہے کہ کسی بھی کتاب میں چاہے وہ رجالی ہو یا تاریخی یا بیو گرافی مذکورہ کتاب ”مناسک حج المشاہد“کا کوئی ذکر موجود نہیں ہے جوطرف منسوب ہوئی ہے، نہ معلوم ابن تیمیہ نے اس کتاب کو کس خواب میں دیکھا ہے جس کی نسبت شیخ مفید کی طرف دیدی۔(۱۴۰)

ایک یاد دہانی

ہم نے بار بار اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ابن تیمیہ چونکہ شیعوں سے بہت زیادہ دشمنی اور عناد رکھتا تھا اسی وجہ سے اس نے ان باطل عقیدوں کی نسبت شیعوں کی طرف دی ہے جبکہ وہ خود اچھی طرح جانتا تھا کہ شیعہ جو کچھ بھی کہتے ہیںیا جس چیزپر اعتقاد رکھتے ہیں ان سب کو انھوں نے اپنے ائمہ علیهم السلام کے ذریعہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے حاصل کیا ہے ،ابن تیمیہ تقریباً اکثر مقامات پر شیعوں کو رافضی کہتا ہے اور جیسا کہ معلوم ہے کہ یہ نام شیعوں کے دشمن بدنام کرنے اور طعنہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

ہم یہاں پر رافضی کے بارے میں کتاب ”الاسلام بین السنة والشیعہ“ سے کچھ چیزیں خلاصہ کے طور پر بیان کرنا مناسب سمجھتے ہیں:

رافضی کون لوگ ہیں؟

بھت سے لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات آتی ہے کہ رافضی فرقہ، شیعوں اور اہل سنت سے الگ ایک فرقہ ہے، یہاں تک کہ بعض مولفین نے اس مسئلہ میں غلط فہم ی کی ہے اور وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ یہ فرقہ سنیوں کا ہے یا شیعوں کا،بعض شیعہ عوام اس کو اہل سنت کا فرقہ تصور کرتے ہیں (جبکہ حقیقت یہ ہے کہ رافضی نہ سنی فرقہ ہے نہ شیعہ)، لہٰذا ہم یہاں پر اس بارے میں علمی اور تاریخی گفتگو کرتے ہیں:

”رفض“کے معنی ہر اس چیز کو چھوڑنے کے ہیں جو وحی کے ذریعہ نازل ہوئی ہو، یا بت پرستی اور قدیم افسانوں کی طرف پلٹنے کو بھی رفض کہا جاتا ہے اور یہ بھی وحی کو ترک کرنے کے معنی میں سے ہے۔(۱۴۱)

اور یہ بات مسلمانوں سے مخصوص نہیں ہے بلکہ تمام الٰھی ادیان میں ایسی بیماریاں تھی جن کی وجہ سے وہ انحراف اور تباہی میں مبتلا ہوئے ۔ (اس جگہ بعض مولفین نے مثالیں پیش کی ہیں مثال کے طور پر جناب موسیٰ ں، جناب عیسیٰں کے دین کے ماننے والوں نے وحی کی تعلیمات کو چھوڑکر انحراف اور شرک اختیار کیا)

اسلام میں اس طرح کا انحراف سب سے پہلے عبد اللہ ابن سبا جو کہ حِیری یمانی یہودی تھا، اس کے ذریعہ ایجاد ہوا یہ شخص صدر اول میں اسلام لایا تھا.(۱۴۲)

یہ شخص (عبد اللہ ابن سبا) خود اسرائیلی فکر رکھتا تھا چنانچہ اس نے اسلام قبول کرنے کے بعد اس طرح کے کارنامے شروع کئے،اور حضرت علی ںکے بارے میں اس طرح غلو کیا کہ پہلے تو آپ کو پیغمبر کہا اور اس کے بعد آپ کو خدا کہنے لگا۔

عبد اللہ ابن سبا اور اس کے مرید اسلام اور اس کی تعلیمات اور خود امام ںسے بہت دور تھے ان کا کہنا تھا کہ حضرت علیںپیغمبر تھے لیکن جبرئیل نے غلطی کی کہ حضرت علیں کو پیغمبری دینے کے بجائے حضرت محمد (ص)کو دیدی۔

ھی لوگ وہ ہیں جو جناب جبرئیل کے دشمن ہیں، اور یھی کام یعنی جبرئیل کے ساتھ دشمنی اور جبرئیل پر غلطی کی تہم ت لگانا وغیرہ،اس طرح کے عقائد گذشتہ مذہبوں مثلاً یونانی ستارہ پرست اور برہمنی عقائد ہیں یہ وہ مذاہب ہیں جو وحی کا انکار کرتے ہیںاور کہتے ہیں کہ خدا اور بندوں کے درمیان کوئی وحی نہیں ہے، اسی وجہ سے خداوندعالم نے اس خطرناک بیماری کی طرف اشارہ کیا ہے:

( قُلْ مَنْ كَانَ عَدُوّاً لِجِبْرِیْلَ فَاِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلٰی قَلْبِكَ بِاِذْنِ اللّٰهِ مُصَدِّقاً لِمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَهُدیً وَبُشْریٰ لِلْمُومِنِیْنَ ) (۱۴۳)

”اے رسول کہہ دیجئے کہ جو شخص بھی جبرئیل کا دشمن ہے اسے معلوم ہونا چاہئے کہ جبرئیل نے خدا کے حکم سے آپ کے دل پر قرآن اتارا ہے جو سابق کتابوں کی تصدیق کرنے والا، ہدایت اور صاحبان ایمان کے لئے بشارت ہے“۔

حضرت علی علیه السلام کے بارے میں عبد اللہ ابن سبا کی باتیں اور اس کے غلونے حضرت کو ناراض کردیا، چنانچہ آپ کو بہت تکلیف پہونچی جس کی بناپرحضرت نے ارشاد فرمایا جس کو سید رضی نے نہج البلاغہ میں بیان کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: دو گروہ میری دوستی اور دشمنی کی وجہ سے ھلاک ہوئے، پہلا گروہ وہ جس نے میری محبت میں غلو کیا اور دوسرا وہ جس نے میرے ساتھ سخت دشمنی کی (مراد ناصبی ہیں جنھوں نے حضرت علی ںپر کفر کی نسبت لگائی)۔(۱۴۴)

اور الحمد اللہ ان دونوں فرقوں میں سے آج کوئی بھی باقی نہیں ہے جیسا کہ علامہ سید محسن امین نے اس چیز کی طرف اشارہ کیا ہے۔

عبد اللہ ابن سبا اور اس کے تابعین کا عقیدہ یہ بھی تھا کہ حضرت علیں نہیں مرے، ور آپ کی شان اس سے کہیں بلند وبالا ہے کہ آپ کو موت آئے، آپ بادلوں کے اوپر رہتے ہیں اور بجلی کی چمک کے وقت جو آواز نکلتی ہے وہ آپ ہی کی آواز ہوتی ہے، اور یھی نہیں بلکہ عبد اللہ ابن سبا اور اس کے مطیع حضرت علی کو خدا بھی کہتے ہیں۔

عبد اللہ ابن سبا مسلمانوں کے درمیان وہ پہلا شخص ہے جس نے انسانی الوھیت کا حکم کیا ہے اور اس کے بعد اس کے مریدوں نے اس کام کو آگے بڑھایا، یہ لوگ در حقیقت ان عظیم ہستیوں کو خدا کی طرح نہیں کہتے تھے بلکہ ان کے بارے میں یہ کہتے تھے کہ یہ حضرات قدرت الہٰی کے مظھر ہیں۔(۱۴۵)

شیعہ روایات کے مطابق حضرت علی ںنے عبد اللہ ابن سبا اور اس کے مریدوں کو توبہ کرائی اور چونکہ اس نے توبہ نہیں کی لہٰذا اس کے قتل کا حکم صادر کردیا۔

واقعاً ان تمام باتوں کے پیش نظر بھی ابن تیمیہ سے تعجب ہے کہ اس نے ان فاسد اور کفر آمیز عقائدکی (جو بغدادی اور شھرستانی وغیرہ نے نقل کئے ہیں) شیعوں کی طرف نسبت دیدی، اور بعض عقائد تو ایسے ہیں کہ شاید ان کے پیرو بھی نہ ہوں اوراگر ہوں بھی تو شیعہ اثنا عشری ان سے ہمیشہ بیزار رہے ہیں، لیکن پھر بھی ابن تیمیہ نے ان تمام کو شیعوں کی طرف نسبت دیتے ہوئے ان پر حملہ کیا ہے۔(۱۴۶)

ابن تیمیہ نے شیعوں پر تہم تیں لگانے میں جن کتابوں سے استفادہ کیا ہے وہ سب سے پہلے کتاب العثمانیہ جاحظ اور اس کے بعد الفرق بین الفِرق تالیف بغدادی ہے، کیونکہ اس نے اپنی کتاب منھاج السنة میں جو باتیں بیان کیں ہیں وہ بالکل وھی ہیں جو کتاب العثمانیہ میں بیان کی گئی ہیں۔

۹۔ ابن تیمیہ کی نظر میں حضرت رسول اکرم (ص) اور دوسروں کی زیارت کرنا

ابن تیمیہ نے اپنے فتووں میں کہا ہے کہ اگر قبور پر نماز اور دعا کی جائے تو یہ کام ائمہ مسلمین کے اجماع اور دین اسلام کے خلاف ہے اور اگر کوئی شخص یہ گمان کرے کہ مشاہد اور قبور پر نمازپڑھنا اور دعاکرنا مسجدوں سے افضل ہے توایسا شخص کافر ہے۔(۱۴۷)

ابن تیمیہ مسجد النبی اور آنحضرت (ص)کی قبر کے بارے میں کہتا ہے کہ مسجد النبی اور آنحضرت کی قبر کی زیارت بذات خود ایک نیک اور مستحب عمل ہے اور اس طرح کے سفر میں نمازیں قصر پڑھی جائیں گی(یعنی اس کا یہ سفر، سفر معصیت نہیں ہے کہ اگر سفر معصیت ہوتو نماز پوری پڑھنا ضروری ہے) اور اس طرح کی زیارت (جو مسجد النبی کی زیارت کے ضمن میں ہو) بہترین اعمال میں سے ہے اور اسی طرح قبور کی زیارت کرنا مستحب ہے جیسا کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بقیع اور شہدائے اُحد کی زیارتوں کے لئے جایا کرتے تھے اور اپنے اصحاب کو بھی اس عمل کی ترغیب دلاتے تھے چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایاکہ جس وقت زیارت کے لئے جایا کرو تو اس طرح کہا کرو:

اَلسَّلاٰمُ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الدِّیَارِ مِنَ الْمُومِنِیْنَ وَالْمُسْلِمِیْنَ وَاِنَّا اِنْ شَاءَ اللّٰهُ بِكُمْ لاٰحِقُوْنَ وَیَرْحَمُ اللّٰهُ الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنَّا وَمِنْكُمْ وَالْمُسْتَاخِرِیْنَ وَنَسْئَلُ اللّٰهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِیَةَ، اَللّٰهم لاٰتَحْرِمْنَا اَجْرَهم وَلاٰ تَفِتْنَا بَعْدَهم وَاغْفِرْ لَنَاوَلَهم

”سلام ہو تم پر اے مسلمین ومومنین، اور انشاء اللہ ہم بھی تم سے ملحق ہونے والے ہیں، خدا رحمت کرے ان لوگوں پر جو اس دیار میں ہم سے پہلے آئے یا بعد میں آئیں گے ،میں اپنے لئے اور تمھارے لئے خداوندعالم سے عافیت کا طلبگار ہو ں، بارالہٰا! ہم پر اجر ثواب کو حرام نہ کر، اور ہمیں اور ان لوگوں کو بخش دے“۔

قارئین کرام! جب عام مومنین کی قبروں کی زیارت جائز ہو تو پھر انبیاء، پیغمبروں اور صالحین کی قبور کی زیارت کا ثواب تو اور بھی زیادہ ہوگا، لیکن اس سلسلہ میں ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی کا دوسرے انبیاء سے یہ فرق ہے کہ آپ کے اوپر ہر نماز میں صلوات اورسلام بھیجنا ضروری ہے، اسی طرح اذان اور مسجد میں داخل ہوتے وقت کی دعا یہاں تک کہ کسی بھی مسجد میں داخل ہونے کی دعا اور مسجد سے باہر نکلتے وقت آپ پر سلام بھیجا جاتا ہے، اسی وجہ سے امام مالک نے کہا کہ اگر کوئی شخص یہ کھے کہ میں نے حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کی زیارت کی ہے تو اس کا یہ کہنا مکروہ ہے، اور قبور کی زیارت سے مراد صاحب قبر پر سلام ودعا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر یہ سلام و دعا ،کامل ترین انداز میں ،نمازاذان اوردعا کے وقت درود وسلام بھیجنا ہے،۱۴۸ اور اسی لئے کبھی یہ اتفاق نہیں ہوا کہ اصحاب پیغمبرآنحضرت (ص)کی قبر مطھر کے نزدیک نہیں گئے ،اور کبھی انھوں نے حجرے کے اندر سے یا حجرے کے باہر سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کی زیارت نہیں کی، لہٰذا اگر کوئی شخص فقط آنحضرت کی قبر کی زیارت کی وجہ سے سفر کرے اور اس کا قصد مسجد النبیمیں نماز پڑھنا نہ ہو، تو ایسا شخص بدعتی اورگمراہ ہے۔(۱۴۹)

ابن تیمیہ نے اس سلسلہ میں صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کی زیارت کے لئے سفر کرنے والوں کے لئے، چند قول نقل کئے ہیںکہ چونکہ یہ سفر، سفر معصیت ہے لہٰذا کیا نماز پوری ہوگی یا قصر۔(۱۵۰)

ابن بطوطہ کے قول کے مطابق ابن تیمیہ قائل تھا کہ چونکہ یہ سفر، سفر معصیت ہے لہٰذاکیا نماز پوری پڑھنا ضروری ہے؟(۱۵۱)

اسی طرح ابن تیمیہ کہتا ہے: مسلمانوں کے ائمہ اربعہ نے خلیل خدا جناب ابراہیم کی قبراور دیگر انبیاء کی قبروں کی صرف زیارتوں کے لئے سفر کرنے کو مستحب نہیں جانا ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص ایسے سفر کے لئے نذر کرے تو اس نذر پر عمل کرنا واجب نہیں ہے۔(۱۵۲)

اس کے بعد زیارت کے طریقہ کے بارے میں کہتا ہے کہ اگر زیارت سے کسی کا مقصد صاحب قبر کے لئے دعا کرنا ہو تو اس کی یہ زیارت صحیح ہے لیکن اگر کوئی کام حرام ہو جیسے (صاحب قبر کو) خدا کا شریک قرار دینا، (گویا ابن تیمیہ کی نظر میں صاحب قبر سے استغاثہ کرنا اور اس کو شفیع قرار دینا شرک کا باعث ہے) یا اگر کوئی کسی کی قبر پر جاکر روئے، نوحہ خوانی کرے یا بے ہودہ باتیں کھے تو اس کی یہ زیارت باتفاق علماء حرام ہے، لیکن اگر کوئی شخص کسی رشتہ دار اور دوستوں کی قبر پر جاکر ازروئے غم آنسو بھائے تو اس کا یہ کام مباح ہے البتہ اس شرط کے ساتھ کہ اس گریہ کے ساتھ ندبہ اورنوحہ خوانی نہ ہو۔(۱۵۳) اسی طرح مَردوں کے لئے زیارت کرنا مباح ہے، البتہ عورتو ںکے بارے میں اختلاف ہے کہ وہ قبور کی زیارت کرسکتی ہیں یا نھیں؟(۱۵۴)

البتہ ابن تیمیہ صاحب کفار کی قبور کی زیارت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ان کی زیارت کرنا جائز ہے تاکہ انسان کو آخرت کی یاد آئے، لیکن جب کفار کی قبور کو دیکھنے کے لئے جائے تو ان کے لئے خدا سے استغفار کرنا جائز نہیں ہے۔(۱۵۵)

اسی طرح ابن تیمیہ صاحب کا عقیدہ یہ بھی ہے کہ قبور کے نزدیک نماز پڑھنا یا قبروں پر بیٹھنا (یا ان کے برابر بیٹھنا) اور قبروں کی زیارت کو عید قرار دینا یعنی کئی لوگوں کا ایک ساتھ مل کر زیارت کے لئے جانا جائز نہیں ہے،(۱۵۶) چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کے پاس آنحضرت پر صلوات اور سلام بھیجنا ناجائز ہے کیونکہ یہ کام گویا آنحضرت کی قبر پر عید منانا ہے۔(۱۵۷)

ھی نہیں بلکہ جناب کا عقیدہ تو یہ بھی ہے کہ وہ احادیث جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت کے بارے میں وارد ہوئی ہیں وہ تمام علمائے حدیث کی نظر میں ضعیف بلکہ جعلی ہیں، اسی طرح موصوف فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر مبارک پر ھاتھ رکھنا یا قبر کو بوسہ دینا جائز نہیں ہے اور مخالف توحید ہے،(۱۵۸) اور اسلامی نظریہ کے مطابق کوئی ایسی قبر یا روضہ نہیں ہے جس کی زیارت کے لئے جایا جائے، اور قبور کی زیارت کا مسئلہ تیسری صدی کے بعد پیدا ہوا ہے یعنی اس سے قبل زیارت قبور کا مسئلہ موجود نہیں تھا۔(۱۵۹)

سب سے پہلے جن لوگوں نے زیارت کے مسئلہ کو پیش کیا اور اس سلسلہ میں حدیثیں گڑھیں، وہ اہل بدعت اور رافضی لوگ ہیں جنھوں نے مسجدوں کو بند کرکے روضوں کی تعظیم کرنا شروع کردی، چنانچہ روضوں پر شرک، جھوٹ اور بدعت کے مرتکب ہوتے ہیں۔(۱۶۰)

جب ابن تیمیہ سے زیارت کے بارے میں سوال کیا گیا اور اس کے جواب کو شام کے قاضی شافعی نے دیکھا تو اس نے اسی جواب کے نیچے لکھا کہ میں نے ابن تیمیہ کے جواب اور سوال میں مقابلہ کیا اور وہ چیز جو ابن تیمیہ اور ہمارے درمیان اختلاف کا باعث بنتی ہے وہ یہ ہے کہ اس نے انبیاء کرام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبور کی زیارت کو معصیت اورگناہ کہا ہے۔

لیکن ابن کثیر نے اس مطلب کو ذکر کرنے کے بعد کہا کہ ابن تیمیہ کی طرف اس مذکورہ بات کی نسبت دینا صحیح نہیں ہے (یعنی اس نے زیارت کو معصیت قرار نہیں دیا)، ابن کثیر صاحب جو ابن تیمیہ کے مشہور ومعروف طرفدار مانے جاتے ہیں مسئلہ زیارت میں ابن تیمیہ کے نظریہ کی توجیہ اور تصحیح کرتے ہیں۔(۱۶۱)

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ائمہ علیهم السلام کی قبروں کی زیارت کے بارے میں وضاحت

ابن تیمیہ اپنے نظریات میں عام طور پر تمام قبور اورخاص طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کی زیارت کے مسئلہ میں بہت زیادہ ہٹ دہرمی سے کام لیتا ہے، اسی وجہ سے اپنی دو کتابوں”الجواب الباہر“ اور ”الرد علی الاخنائی“ میں جب بھی اس طرح کے مسئلہ کو بیان کرتا ہے اور کسی مدرک اور سند کو ذکر کرتا ہے تو اس کو کئی کئی بار اور مختلف انداز سے تکرار کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور وہ احادیث جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کی زیارت کو مستحب قرار دیتی ہیں ان کو ضعیف اور جعلی بتاتا ہے، ان احادیث میں سے جن کو اہل سنت نے مختلف طریقوں سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل کیا ہے منجملہ وہ حدیث جس میں آنحضرت نے فرمایا: ”مَنْ زَارَ قَبْرِی وَجَبَتْ لَہُ شَفَاعَتِی“ (جس شخص نے میری قبر کی زیارت کی اس کی شفاعت مجھ پر واجب ہے)، اس حدیث کو صحیح نہیں مانتا، جبکہ زیارت سے متعلق احادیث صحاح ستہ اور اہل سنت کی معتبر کتابوں میں موجود ہیں اورمختلف طریقوںسے نقل کی گئی ہیں اور بہت سے علماء نے ان کو صحیح شمار کیا ہے اور ان احادیث کے مضامین پر عمل بھی کیا ہے(۱۶۲)

ہم یہاں پر ان احادیث کے چند نمونے بیان کرنا مناسب سمجھتے ہیں:

امام مالک (مالکی مذہب کے امام) اپنی کتاب ”موطاء“ میں عبد اللہ ابن دینار سے روایت کرتے ہیں کہ ابن عمر جب بھی کسی سفر پر جاتے تھے یا سفر سے واپس آتے تھے تو آنحضرت (ص)کی قبر پر حاضر ہوتے تھے اور وہاں نماز پڑھتے تھے اور آپ پر درود وسلام بھیجتے تھے اور دعا کرتے تھے، اسی طرح محمد (ابن عمر) نے کہا:اگر کوئی مدینہ میں آتا ہے تو اس کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس حاضر ہوناضروری ہے۔(۱۶۳)

ابو ھریرہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ خدا نے مجھے اپنی والدہ گرامی کی قبر کی زیارت کرنے کی اجازت عطا فرمائی ہے،(۱۶۴)

اسی طرح ابوبکر نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی ہے جو شخص جمعہ کے دن اپنے ماں باپ یا ان میں سے کسی ایک کی زیارت کرے اور ان کی قبر کے پاس سورہ یٰس پڑھے تو خدا اس کو بخش دیتا ہے۔(۱۶۵)

اسی طرح عبد اللہ بن ابی ملیکہ کی روایت ہے کہ اس نے کہا:میں نے دیکھا کہ ایک روز جناب عائشہ قبرستان سے واپس آرہی ہیں تو میں نے ان سے عرض کیا اے ام المومنین ! کیا پیغمبر اکرم نے قبور کی زیارت سے منع نہیں فرمایا تھا؟! تو انھوں نے جواب دیا کہ ٹھیک ہے پہلے ایسا ہی حکم کیا تھا لیکن بعد میں خود انھوں نے حکم فرمایا کہ قبروں کی زیارت کے لئے جایا کرو۔(۱۶۶)

اسی طرح پیغمبر اکرم (ص)کی ایک دوسری حدیث جس میں آپ نے فرمایا : جو شخص میری زیارت کے لئے آئے اور اس کے علاوہ اور کوئی دوسرا قصد نہ رکھتا ہو، تو مجھ پر لازم ہے کہ میں روز قیامت اس کی شفاعت کروں۔(۱۶۷)

جناب سمہودی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کی زیارت کے بارے میں (۱۷)حدیثیں سند کے ساتھ ذکر کی ہیں، جن میں سے بعض کوہم زیارت کے بارے میں وہابیوں کےعقیدہ کے بیان کریں گے۔

اسی طرح سمہودی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت کے آداب کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے:

ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ بن الحسین السامری حنبلی نے، اپنی کتاب ”المُستَوعِب“ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کی زیارت کے سلسلہ میں آداب زیارت کے باب میں لکھا ہے کہ جب زائر قبر کی دیوار کی طرف آئے تو گوشہ میں کھڑا ہوجائے اور قبر کی طرف رخ یعنی پشت بقبلہ اس طرح کھڑا ہو کہ منبر اس کی بائیں طرف ہو، اور اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سلام ودعا کی کیفیت بیان کی ہے، اور اس دعا کو ذکر کیا ہے:

”اَللّٰهم اِنَّكَ قُلْتَ فِی كِتَابِكَ لِنَبِیِّكَ عَلَیْهِ السَّلاٰمُ: ( وَلَوْاَنَّهم اِذْظَلَمُوْا اَنْفُسَهم جَاْوكَ فَسَتَغْفرُوْا اللّٰهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهم الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوْا اللّٰهَ تَوَّاباً رَحِیْماً ) وَاِنِّی قَدْ اَتَیْتُ نَبِیّكَ مُسْتَغْفِراً وَاَسْالُكَ اَنْ تُوْجِبَ لِیَ الْمَغْفِرَةَ كَمَا اَوْجَبْتَها لِمَنْ اَتَاهُ فِی حَیَاتِهِ، اَللّٰهم اِنِّي اَتَوَجَّهَ اِلَیْكَ بِنَبِیِّكَ “۔

”خداوندا !تو نے اپنی کتاب میں اپنے پیغمبر (ص)کے لئے فرمایاہے: اے کاش جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا تو آپ کے پاس آتے اور خود بھی اپنے گناہوں سے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے حق میں استغفار کرتے، تو یہ خدا کو بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا اور مھربان پاتے،

میں اپنے گناہوں کی بخشش کے لئے تیرے نبی کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوا ہوں، اور تجھ سے اپنے گناہوں کی مغفرت چاہتا ہوں اور امید ہے کہ تو مجھے معاف کردے گا ،جس طرح لوگ تیرے نبی کی حیات میں ان کے پاس آتے تھے اور تو ان کو معاف کردیتا تھا، اے خدائے مھربان میں تیرے نبی کے وسیلہ سے تیری بارگاہ میں ملتمس ہوتا ہوں“۔

حنفی عالم دین ابومنصور کرمانی کہتے ہیں کہ اگر کوئی تم سے آکر یہ کھے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک میرا سلام پہونچادینا، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوکر اس طرح کہنا کہ آپ پر سلام ہو فلاں فلاں شخص کا، اور انھوںنے آپ کو خدا کی بارگاہ میں شفیع قرار دیا ہے تاکہ آپ کے ذریعہ خداوندعالم کی مغفرت اور رحمت ان کے شامل حال ہو، اور آپ ان کی شفاعت فرمائیں۔

سمہودی مذاہب اسلامی کے معتبر اور قابل اعتماد علماء میں سے ہیں، انھوں نے اپنی کتاب کے تقریباً(۵۰)صفحے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر مطھر کی زیارت اور اس کے آداب اور قبر مطھر سے توسل سے مخصوص کئے ہیں، اور متعدد ایسے واقعات بیان کئے ہیں کہ لوگ مشکلات اور بلا میں گرفتارہوئے اور آپ کی قبر مطھر پر جاکر نجات مل گئی ۔(۱۶۸)

مرحوم علامہ امینی نے زیارت قبر پیغمبر (ص)کی فضیلت اور استحباب کے بارے میں جہاں اہل سنت سے بہت سی روایات نقل کی ہیں وھیں تقریباً چالیس سے زیادہ مذاہب اربعہ کے بزرگوں کے قول بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت کے بارے میں نقل کئے ہیں۔(۱۶۹)

قارئین کرام!یہاں پر مناسب ہے کہ محمد ابوزَھرَہ عصر جدید کے مصری مولف کا قول نقل کیا جائے، وہ کہتے ہیں: ابن تیمیہ نے اس سلسلہ (زیارت آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) میں تمام مسلمانوں سے مخالفت کی ہے بلکہ جنگ کی ہے۔

روضہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت،دراصل پیغمبر کی عظمت، آپ کے جھاد، مقام توحید کی عظمت کو بلند کرنے میں کوشش اور شرک اور بت پرستی کی نابودی کی کوششوں کی یاد دلاتی ہے، خود ابن تیمیہ روایت کرتے ہیں کہ سَلفِ صالح جب آپ کے روضہ کے قریب سے گذرتے تھے تو آپ کو سلام کرتے

نافع، غلام اور راوی عبد اللہ ابن عمر سے مروی ہے کہ عبد اللہ ابن عمر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر پر سلام کرتے تھے اور میں نے سیکڑوں بار ان کو قبر منور پر آتے دیکھا اور میں نے یہ بھی دیکھا کہ اپنے ھاتھ کو منبر رسول سے مس کرتے ہیں، وہ منبر جس پر آنحضرت (ص)بیٹھا کرتے تھے ،پھر وہ اپنے ھاتھ کو اپنے منھ پر پھیرلیا کرتے تھے ،اسی طرح ائمہ اربعہ جب بھی مدینہ آتے تھے تو آنحضرت کی قبر کی زیارت کیا کرتے تھے۔(۱۷۰)

عمومی طور پر دوسری قبروں کی زیارت کے بارے میں ابن ماجہ نے روایت نقل کی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

زُوْرُوْا الْقُبُوْرَ فَاِنَّها تُذَكِّرُكُمُ الآخِرَةَ “۔

”قبروں کی زیارت کے لئے جایا کرو کیونکہ قبروں کی زیارت تمھیں آخرت کی یاددلائے گی“۔

اسی طرح جناب عائشہ کی روایت کے مطابق پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبروں کی زیارت کی اجازت عطا فرمائی ہے۔(۱۷۱)

ابن مسعود سے منقول ایک اورروایت میں ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

كُنْتُ نَهَیْتُكُمْ عَنْ زِیَارَةِ القُبُوْرِ، فَزُوْرُوْها فَاِنَّها تُزَهِّدُ فِی الدُّنْیَا وَتُذَكِّرُ الٓاخِرَةَ “۔

”پہلے میں نے تم کو قبروں کی زیارت سے منع کیا تھا لیکن (اب اجازت دیتا ہوں کہ) قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ قبروں کی زیارت دنیا میں زہد پیدا کرے گی اور آخرت کی یاد دلائے گی“۔

اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک اور روایت ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ قبروں کی زیارت کیا کرو کیونکہ قبروں کی زیارت تمھیں موت کی یاد دلاتی ہے۔(۱۷۲)

سخاوی کہتے ہیں کہ آنحضرت خود بھی زیارت قبور کے لئے جاتے تھے اور اپنی امت کے لئے بھی اجازت دی کہ وہ بھی زیارت کے لئے جایا کریں، جبکہ پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبور کی زیارت سے منع فرمایا تھا۔

قبروں کی زیارت کرنا ایک سنت ہے اور جو شخص بھی زیارت کرتا ہے اس کو ثواب ملتا ہے البتہ زائر کو حق بات کے علاوہ کوئی بات زبان پر جاری نہیں کرنا چاہئے، اور قبروں کے اوپر نہیں بیٹھنا چاہئے، اور ان کو بے اہمیت قرار نہیں دینا چاہئے اور ان کو اپنا قبلہ بھی قرار نہیں دینا چائے ۔

چنانچہ روایت میں وارد ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی والدہ گرامی اور عثمان بن مظعون کی قبروں کی زیارت کی اور عثمان بن مظعون کی قبر پر ایک نشانی بنائی تاکہ دوسری قبروں سے مل نہ جائے۔

اس کے بعد سخاوی کہتے ہیں کہ َمردوں کے لئے قبور کی زیارت کے مستحب ہونے پر دلیل اجماع ہے جس کو عَبدرَی نے نقل کیا ہے اور نُوو ی شارح صحیح مسلم نے کہا ہے کہ یہ قول تمام علمائے کرام کا ہے۔

ابن عبد البِرّ اپنی کتاب ”استذکار“ میں ابوھریرہ کی حدیث پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل کرتے ہوئے اس طرح کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جس وقت قبرستان میں جاتے تھے ،تو اس طرح فرماتے تھے:

اَلسَّلاٰمُ عَلَیْكُمْ دَارَ قومٍ مُومِنِیْنَ وَاِنَّا اِنْ شَاءَ اللّٰه بِكُم لاحقُونَ، نَسْالُ اللّٰهَ لَنَا وَلَكُمُ الْعَافِیَةِ “۔

اس حدیث کے مضمون کے مطابق قبروں پر جانے اوران کی زیارت کرنے کے سلسلہ میں علما کا اجماع واتفاق ہے کہ مَردوں کے لئے جائز ہے اوراس سلسلہ میں متعدد احادیث موجود ہیں۔

لیکن عورتوں کے سلسلہ میں خصوصی طور پر صحیح بخاری میں نقل ہوا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا کہ ایک قبر کے پاس بیٹھی گریہ کر رہی ہے تو آپ نے اس سے فرمایا کہ اے کنیز خداپرہیزگار رہواور صبر کرو، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس عورت کو منع نہیں کیا کیونکہ اگر عورتوں کا قبور کی زیارت کرنا اور وہاں پرگریہ کرنا حرام ہوتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کو منع فرماتے۔(۱۷۳)

اسی طرح زیارت کے بارے میں ایک حدیث جلال الدین سیوطی نے بیہقی سے نقل کی اور انھوں نے ابوھریرہ سے نقل کی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شہدائے احد کے بارے میں خاص طور پر فرمایا :

اَشْهَدُاَنَّ هٰولاٰءِ شُهْدَاٌ عِنْدَ اللّٰهِ فَاتُوهم وَزُوْرُوْهم وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِه. لاٰیُسَلِّمُ عَلَیْهم اَحَدٌ اِلٰی یَومَ القِیَامَةِ اِلاّٰ رَدُّوْا عَلَیْهِ

”میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ حضرات خدا کی بارگاہ میں شھید ہیں ،ان کی قبروں پر جاؤ اور ان کی زیارت کرو، قسم اس خدا کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، تا روز قیامت اگر کوئی شخص ان کو سلام کرے گا تو یہ ضرور اس کا جواب دیں گے“

اسی طرح وہ روایت جس کو حاکم نے صحیح مانا ہے اور اس کو بیہقی نے بھی نقل کیاہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شہدائے احد کی قبور کی زیارت کے لئے جاتے تھے تو کہتے تھے:

اَللّٰهم اِنَّ عَبْدَكَ وَنَبِیَّكَ یَشْهَدُ اَنَّ هٰولاٰءِ شُهَدَاءٌ وَاِنَّهُ مَنْ زَارَهم اَوْ سَلِّمْ عَلَیْهم اِلٰی یَومَ الْقَیَامَةِ رَدُّوْا عَلَیْهِ

”خداوندا !تیرا بندہ اور تیرا نبی گواہی دیتا ہے کہ یہ شہداء راہ حق ہیں ،اوراگر کوئی ان کی زیارت کرے یا (آج سے) قیامت تک ان پر سلام بھیجے تویہ حضرات اس کے سلام کا جواب دیں گے۔(۱۷۴)

واقدی کہتے ہیں: پیغمبر اکرم:صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر سال شہداء احد کی زیارت کے لئے جایا کرتے تھے اور جب اس وادی میں پہونچتے تھے تو بلند آواز میں فرماتے تھے:

اَلسَّلاٰمُ عَلَیْكُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ “۔

”سلام ہو تم پر اس چیز کے بدلے جس پر تم نے صبر کیا اورتمھاری کیا بہترین آخرت ہے“۔

ابوبکر، عمر اورعثمان بھی سال میں ایک مرتبہ شہداء احد کی زیارت کے لئے جایا کرتے تھے، اورجناب فاطمہ دختر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوتین دن میں ایک دفعہ احد جایا کرتی تھیںاور وہاں جاکر گریہ وزاری اور دعا کرتی تھیں۔

اسی طرح سعد بن ابی وقّاص بھی قبرستان میں پیچھے کی طرف سے دا خل ہوتے اور تین بار سلام کرتے تھے۔

واقدی کہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مُصْعَب بن عُمَیر جو کہ شہداء احد میں سے ہیں، کے پاس سے گذرے تو ٹھھرگئے ان کے لئے دعا کی اور یہ آیہ شریفہ پڑھی:

( رِجَالٌ صَدَقُوْا مَاعَاهَدُوْا اللّٰهَ عَلَیْهِ فَمِنْهم مَنْ قَضٰی نَحْبَهُ وَمِنْهم مَنْ یَنْتَظِرُ وَمَابَدَّلُوا تَبْدِیلاً ) ۔(۱۷۵)

”مومنین میں سے ایسے بھی مرد میدان ہیں جنھوں نے اللہ سے کئے وعدہ کو سچ کردکھایا، ان میں سے بعض اپنا وقت پورا کرچکے ہیں اور بعض اپنے وقت کا انتظار کررہے ہیں، اور ان لوگوں نے اپنی بات میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے“۔

اس کے بعد فرمایا: میں خدا کے حضور میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ لوگ خدا کی بارگاہ میں شھید ہیں،ان کی قبور کی زیارت کے لئے جایا کرو اور ان پر درود وسلام بھیجا کرو، کیونکہ وہ

(بھی) سلام کا جواب دیتے ہیں۔ اس کے بعد واقدی نے ان اصحاب کے نام شمار کئے ہیں جو شہداء احد کی زیارت کے لئے جایا کرتے تھے نیزان کی زیارت کی کیفیت اور طریقہ بھی بیان کیا ہے۔(۱۷۶)

اب رہا شیعوں کے یہاں مسجدوں کو تعطیل کرنے کا مسئلہ تو ہم اس سلسلہ میں یہ کہیں گے کہ یہ بھی ان تہم توں میں سے ہے جو قدیم زمانہ سے چلی آرہی ہے اور اس کی اصل وجہ بھی شیعوں سے دشمنی اور بغض وعناد ہے، چنانچہ بعض مولفین نے اپنی اپنی کتابوں میں اسے بغیر کسی تحقیق کے بیان کردیا، اور شیعوں سے بد ظنی کی بناپر اس نظریہ کو اپنی کتابوں میں بھی داخل کردیا ،جبکہ حقیقت یہ ہے کہ شروع ہی سے شیعوں کی مساجد سب سے زیادہ آباد اور پررونق رہی ہیں جیسا کہ کتاب تاریخ مذہبی قم کے مولف نے بھی بیان کیا ہے، آج بھی دنیا کی سب سے بہترین ،خوبصورت اور قدیمی ترین مساجد کو ایران میں دیکھا جاسکتا ہے،جو گذشتہ صدیوں سے اسی طرح باعظمت باقی ہیں۔

اور یہ مسجدیںجونماز جماعت کے وقت بھر جاتی ہیں اس کی داستانیں زبان زد خاص وعام ہیں، اس وقت شھروں ،قصبوں اور دیھاتوں میں ایسی ہزاروں مسجدیں ہیں جن میں بہترین فرش وغیرہ موجود ہیں ۔

جب بھی کوئی مسافرایران آتا ہے تو وہ ایران کے پایہ تخت” تھران“ میں ضرور جاتا ہوگا تھران میں سیکڑوں مسجد یں ہیں جن میں بہترین وسائل اور کتابخانے ہیں ۔ یہ مسجدیںکسی بھی وقت نمازیوں سے خالی نہیں ہوتیں اور ان سب میں وقت پر نماز جماعت قائم ہوتی ہے، اور تھران کے علاوہ بھی دوسرے شھروں مثلاً مشہد، قم، اصفھان، شیراز وغیرہ میں کسی بھی جگہ دیکھ لیں کہیں پر بھی مسجدیںمعطّل نہیں ہوئی ہیں بلکہ اپنی پوری شان وشوکت کے ساتھ بھری ہوئی ہیں،اور تمام مساجد میں نماز جماعت قائم ہوتی ہے۔

خلاصہ یہ کہ چاہے ایران میں جو شیعت کا مرکز ہے یا دوسرے علاقوں میں کوئی بھی زمانہ ایسا نہیں گذرا جہاں پر مسجد غیر آباد ہو، اور شیعہ مسجدوں کی رونق دوسر ے فرقوں سے کم رہی ہو۔

قبور کے نزدیک نماز پڑھنا

صحیح مسلم میں قبور کے نزدیک آنحضرت (ص)کے نماز پڑھنے کے بارے میں بہت سی روایات بیان ہوئی ہیں۔(۱۷۷)

ابن اثیراس حدیث ”نَهٰی عَنِ الصَّلاٰةِ فِیْ الْمَقْبَرَةِ “کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ مقبروں میں نماز کو ممنوع قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ مقبروں کی مٹی، خون اور مردوں کی نجاست سے مخلوط ہوتی ہے لیکن اگر کسی پاک قبرستان میں نماز پڑھی جائے تو صحیح ہے، اس کے بعد ابن اثیرکھتے ہیں کہ ”لاتجعلوا بیوتکم مقابر“(یعنی اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ)گذشتہ حدیث کی ہی طرح ہے یعنی تمھارے گھر نماز نہ پڑھے جانے میں قبرستان کی طرح نہ ہوجائیں، کیونکہ جو مرجاتا ہے وہ پھر نماز نہیں پڑھتا، چنانچہ مذکورہ معنی پر درج ذیل حدیث دلالت کرتی ہے: ”اِجْعَلُوا مِنْ صَلاٰتِكُمْ فِی بُیُوْتِكُمْ وَلاٰ تَتَّخِذُوْا قُبُوْراً “ (اپنے گھروں کو قبرستان کی طرح قرار نہ دو کہ کبھی اس میں نماز نہ پڑھو بلکہ کچھ نمازیں گھروں میں بھی پڑھا کرو)بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اس حدیث کے معنی یہ ہیں کہ اپنے گھروں کو قبرستان قرار نہ دو کہ اس میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے ،لیکن پہلے والے معنی بھتر ہیں ۔(۱۷۸)

شوکانی نے خطابی کی کتاب ”معالم السنن “ کے حوالہ سے مقبروں میں نماز پڑھنے کو جائز قراردیا ہے اسی طرح اس نے حسن (حسن بصری) سے نقل کیا ہے کہ انھوں نے مقبرہ میں نماز پڑھی، اوریہ بھی کہا کہ رافعی وثوری (سفیان ثوری) اور اوزاعی اور ابوحنیفہ قبرستان میں نماز پڑھنے کو مکروہ جانتے تھے لیکن امام مالک نے قبرستان میں نماز پڑھنے کو جائز قرار دیاہے۔

امام مالک کے بعض اصحاب نے یہ دلیل پیش کی کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک سیاہ اور فقیر عورت کی قبر کے نزدیک نما ز پڑھی ہے،(۱۷۹) مالک کی روایت کاخلاصہ یہ ہے کہ ایک غریب عورت بیمار ہوئی، اس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب یہ مرجائے تو مجھے خبر کرنا، لیکن چونکہ اس کو رات میں موت آئی توآپ کو خبر نہیں کی گئی اور اس عورت کو رات ہی میں دفن کردیا گیا، جب دوسرا روز ہوا تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی قبر پر گئے اوراس پر نماز پڑھی اور چار تکبیریں کہیں ۔(۱۸۰)

ندبہ اور نوحہ خوانی کے بارے میں وضاحت

ابن تیمیہ نے میت پر ،نوحہ خوانی اورگریہ کرنے کو ممنوع قرار دیا ہے، اور وہابی حضرات بھی اس طرح کے کاموں کو گناہان کبیرہ میں شمار کرتے ہیں۔(۱۸۱)

جبکہ احمد ابن حنبل اور بخاری کی روایت کے مطابق جب عمر کو ضربت لگی تو صُھیب (غلام عمر) نے چلانا شروع کیا: ” وااخاہ، وا صاحباہ“اس وقت جناب عمر نے کہا کہ کیا تم نے نھیںسنا کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر میت پر گریہ کیا جائے تو اس گریہ کی وجہ سے اس پر عذاب ہوتا ہے؟!

جناب ابن عباس کہتے ہیں کہ جب عمر کا انتقال ہوا، تو میں نے اس بات کو جناب عائشہ کے سامنے پیش کیا تو انھوں نے فرمایا: بخدا جناب رسول خدا نے کبھی اس طرح کی کوئی بات نہیں کھی ہے بلکہ انھوں نے تو یہ فرمایا ہے کہ اگر کفار پر اس کے اہل خانہ گریہ کریں تو اس کے عذاب میں اضافہ ہوتا ہے۔(۱۸۲)

اسی طرح میت پر رونے اور گریہ کرنے کے جائز ہونے پر صاحب ”منتقی الاخبار“ نے انس بن مالک سے یہ ورایت نقل کی ہے کہ جب رسول گرامی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا انتقال ہوا تو حضرت فاطمہ زہرا(ع)نے فرمایا:

یَا اَبَتَاهُ، اَجَابَ رَبّاً دَعَاهُ، یَا اَبَتَاهُ جَنَّةُ الْفِرْدُوْسِ مَاوَاهُ، یَا اَبَتَاهُ اِلٰی جِبْرِیْلَ نَنْعَاهُ “۔

”اے میرے پدر محترم آپ نے دعوت حق پر لبیک کھی اور جنت الفردوس کو اپنا مقام بنالیا،اور جناب جبرئیل نے آپ کی وفات کی خبر سنائی“۔

اسی طرح انس سے ایک دوسری روایت کے مطابق جب جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی روح جسم سے پرواز کر گئی تو جناب ابوبکر حجرے میں تشریف لائے اور اپنے منھ کو آنحضرت کی دونوں آنکھوں کے پیچ رکھا اور آنحضرت کے دونوں رخساروں پر اپنے دونوں ھاتھوں کو رکھا اور کہا: ”وانبیاہ وا خلیلاہ وا صفیاہ“ اس روایت کو احمد ابن حنبل نے بھی نقل کیا ہے۔(۱۸۳)

ھی نہیں بلکہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی متعدد بار اپنے رشتہ داروں اور اصحاب کے انتقال پر گریہ فرمایا ہے، جیسا کہ انس بن مالک نے روایت کی ہے کہ جب آپ کی ایک بیٹی اس دنیا سے چلی گئی تو آپ اس کی قبر پر بیٹھ گئے درحالیکہ آپ کی چشم مبارک سے آنسوںبہہ رہے تھے، اور ایک مقام پر جب آپ کی بیٹی کا ایک بیٹامرنے کے نزدیک تھا تو آپ نے گریہ شروع کیا۔(۱۸۴)

اسی طرح جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جنگ احد میں اپنے چچا حمزہ کو شھید پایا تو گریہ کیا اور جب آپ کو یہ معلوم ہوا کہ جناب حمزہ کو مُثلہ کردیاگیا (یعنی آپ کے ناک وکان اور دوسرے اعضاء کاٹ لئے گئے) تو آپ چیخیں مار مار کر روئے۔(۱۸۵)

اور جب جناب حمزہ کی شھادت واقع ہوئی اور جناب صفیہ دخترعبد المطلب نے جناب حمزہ کے لاشہ کو تلاش کرنا شروع کیا تو انصار نے آپ کو روکا، اس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان کو آزاد چھوڑدو، جب جناب صفیہ نے اپنے بھائی کی لاش پائی تو رونا شروع کیا، جس وقت آپ گریہ کرتی تھیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی گریہ کرتے تھے اور جب آپ چیخیں مارتی تھیں تو رسول گرامی بھی چیخیں مارتے تھے ۔(۱۸۶)

جب جناب فاطمہ زہرا = جناب حمزہ کے اوپر گریہ کرتی تھیں توپیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی گریہ کرتے تھے، اسی طرح جب جناب جعفر بن ابی طالب جنگ موتہ میں شھید ہوئے تو رسول گرامیجناب جعفر کی زوجہ اسماء بنت عمیس کے پاس گئے اور ان کو تعزیت پیش کی، اس موقع پر جناب فاطمہ زہرا= تشریف لائیں درحالیکہ آپ گریہ کررہی تھیں اور کہتی جاتی تھیں: ”واعماہ“ (ھائے میرے چچا) اس موقع پر حضرت پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ جعفر جیسے مَرد پر گریہ کرنا چاہئے،(۱۸۷)

مزید یہ کہ نافع نے ابن عمرسے روایت کی ہے کہ جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جنگ احد سے واپس ہوئے تو انصار کی عورتیں اپنے شھید شوھروں پر گریہ کر رہی تھیں اس وقت پیغمبر نے فرمایا حمزہ پر کوئی گریہ کرنے والا نہیں ہے ،یہ کہہ کر آپ سوگئے،جب بیدار ہوئے تو دیکھا کہ عورتیں یوں ہی گریہ کر رہی ہیں آپ نے فرمایا: ورتیں آج جو گریہ کریں تو حمزہ پر کریں۔(۱۸۸)

ابن ہشام اورطبری نے اس سلسلہ میں کہا ہے کہ جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بنی عبد الاشھل وظفر کے گھروں میں سے ایک گھر کی طرف گذرے تو وہاں سے جنگ احد میں ہوئے شھیدوں پر رونے کی آوازیں سنائی دیں تو اس پر آنحضرت کی آنکھیں بھی آنسووں سے بھرآئیں اور آپ گریہ کرتے ہوئے فرماتے تھے: جناب حمزہ پر کوئی رونے والا نھیں،یہ سن کر سعد بن مُعاذ واُسید بن حُضَیر بنی عبد الاشھل کے گھروں میں گئے اور اپنی اپنی عورتوں کو حکم دیا کہ جناب حمزہ پر بھی گریہ کریں۔

اسی طرح ابن اسحاق کا بیان ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جنگ احد سے مدینہ واپس پہونچے، تو”حَمنَہ دختر جَحش“ راستہ میں ملی اور جب لوگوں نے اس کو اس کے بھائی عبد اللہ ابن جحش کی شھادت کی خبر سنائی تو اس نے کہا:( انا للّٰه وانا الیه راجعون ) اور اس کے لئے خداوندکریم کی بارگاہ میں طلب مغفرت کی، اس بعد کے اس نے اپنے ماموں حمزہ ابن عبد المطلب کی شھادت کی خبر سنی، اس نے پھر وھی آیت پڑھی اور ان کے لئے بھی استغفار کیا، لیکن جب اس کو اس کے شوھر مصعب بن عمیر کی شھادت کی خبر سنائی گئی تو اس نے چیخیں ماریں ،اور جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حمنہ کو اپنے بھائی اور ماموں کی شھادت پر صبر اور اپنے شوھر کی شھادت پر نالہ وشیون کرتے دیکھا تو فرمایا: بیوی کی نظر میں شوھر کی اہمیت کچھ اور ہی ہوتی ہے۔(۱۸۹)

اور جب جناب ابوبکر اس دنیا سے گئے تو جناب عائشہ نے ابوبکر کے لئے نوحہ وگریہ کی مجلس رکھی جب جناب عمر نے عائشہ کو اس کام سے روکا، تو جناب عائشہ اوردیگر عورتوں نے اس بات کو نہ مانا،چنانچہ جناب عمر نے ابوبکر کی بہن ام فروہ کو چند تازیانے بھی مارے، اس کے بعد گریہ کرنے والیعورتیں وہاں سے مجبوراً اٹھ کر چلی گئیں۔(۱۹۰)

حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گفتگو اور عورتوں کا گریہ کرنا

واقدی کہتے ہیں کہ جنگ احد میں سعد بن ربیع شھید ہوگئے، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ تشریف لائے اور وہاں سے ” حمراء الاسد“ گئے، جابر ابن عبد اللہ کہتے ہیں کہ ایک روز صبح کا وقت تھا میں آنحضرت کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا، چنانچہ جنگ احد میں مسلمانوں کے قتل وشھادت کی باتیں ہونے لگیں، منجملہ سعد بن ربیع کا ذکر آیا تو اس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اٹھو ! سعد کے گھر چلتے ہیں، جابر کہتے ہیں کہ ہم بیس افراد ہونگے جو آنحضرت کے ساتھ سعد کے گھر گئے وہاں پر بیٹھنے کے لئے کوئی فرش وغیرہ بھی نہ تھا چنانچہ سب لوگ زمین پر بیٹھ گئے اس وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سعد بن ربیع کا ذکر کیا اور ان کے لئے خدا سے طلب رحمت کی اور فرمایا کہ میں نے خود دیکھا ہے کہ اس روز سعد کے بدن کو نیزوں نے زخمی کررکھا تھا، یہاں تک کہ ان کو شھادت مل گئی، جیسے ہی عورتوں نے یہ کلام سنا تو رونا شروع کردیا، اس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آنکھوں سے بھی آنسوجاری ہوگئے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان عورتوں کو رونے سے منع نہیں فرمایا۔(۱۹۱)

اس سلسلہ میں شافعی کا نظریہ

کتاب ”الاُم“ تالیف شافعی میں ”بکاء الحیّ علی المیت“ (زندہ کا میت پر گریہ کرنا)کے تحت اس طرح بیان ہوا ہے کہ جناب عبد اللہ ابن عمر کی طرف سے جناب عائشہ سے کہا گیا کہ کسی میت پر زندہ کا گریہ کرنا اس پر عذاب کا باعث ہوتا ہے، تو جناب عائشہ نے کہا کہ ابن عمر نے جھوٹ نہیں کہا لیکن اس سے غلطی، یا بھول چوک ہوئی ہے، (یعنی اصل حدیث یہ ہے کہ)پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے جب ایک یہودی عورت کا جنازہ آیا در حالیکہ اس کے رشتہ دار اس پر روتے جارہے تھے تو آپ نے فرمایا کہ یہ لوگ رو رہے ہیں جبکہ ان کے رونے کی وجہ سے یہ قبر میں عذاب میں مبتلا ہے۔

ابن عباس کہتے ہیں کہ جب جناب عمر کو ضربت لگی اور ان کا غلام صُھیب رونے لگا اور کہنے لگا:”وا اخیاہ وا صاحباہ“ تو عمر نے اس سے کہا تو روتا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے میت پر اہل خانہ کا گریہ کرنا اس کے لئے عذاب کا باعث ہوتا ہے، جناب ابن عباس کہتے ہیں کہ جب عمر اس دنیا سے چلے گئے تو میں نے اس بات کو جناب عائشہ سے دریافت کیا۔ عائشہ نے کہا خدا کی قسم پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس طرح نہیں فرمایا بلکہ آپ نے یہ فرمایا ہے کہ کفار کی میت پر اس کے اہل خانہ کا گریہ اس کے عذاب کو زیادہ کردیتا ہے، اس کے بعد جناب عائشہ نے فرمایا کہ تمھارے لئے قرآن کافی ہے کہ جس میں ارشاد ہوتا ہے:( ولا تزر وازةوزر اخریٰ ) (۱۹۲) (اور کوئی نفس دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا) س کے بعد جناب ابن عباس نے بھی کہا:( واللّٰه اضحک وابکی ) (۱۹۳)

شافعی نے مذکورہ مطالب کو ذکر کرنے کے بعد آیات وروایات کے ذریعہ مذکورہ روایت”ان المیت لیعذب“۔ کے صحیح نہ ہونے کو ثابت کیا ہے۔(۱۹۴)

۱۰۔ غیر خدا کی قسم کہانا

ابن تیمیہ کا کہنا یہ ہے کہ اس بات پر علماء کا اتفاق ہے کہ باعظمت مخلوق جیسے عرش وکرسی، کعبہ یا ملائکہ کی قسم کہانا جائز نہیں ہے، تمام علماء مثلاً امام مالک، ابوحنیفہ اور احمد ابن حنبل (اپنے دوقولوں میں سے ایک قول میں ) اس بات پر اعتقاد رکھتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قسم کہانا بھی جائز نہیں ہے اور مخلوقات میں سے کسی کی قسم کہانا چاہے وہ پیغمبر کی ہو یا کسی دوسرے کی جائز نہیں ہے اور منعقد بھی نہیں ہوگی، (یعنی وہ قسم شرعی نہیں ہے اور اس کی مخالفت پر کفارہ بھی واجب نہیں ہے) کیونکہ صحیح روایات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

خدا کے علاوہ کسی دوسرے کی قسم نہ کہاؤ، ایک دوسری روایت کے مطابق اگر کسی کو قسم کہانا ہے تو اس کو چاہئے کہ یا تو وہ خدا کی قسم کہائے یا پھر خاموش رہے یعنی کسی غیر کی قسم نہ کہائے، اور ایک روایت کے مطابق خدا کی جھوٹی قسم، غیر خدا کی سچی قسم سے بھتر ہے، چنانچہ ابن تیمیہ کہتا ہے کہ غیر خدا کی قسم کہانا شرک ہے۔(۱۹۵)

البتہ بعض علماء نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قسم کو استثناء کیا ہے اور آپ کی قسم کو جائز جانا ہے، احمد ابن حنبل کے دو قولوں میں سے ایک قول یھی ہے، اسی طرح احمد ابن حنبل کے بعض اصحاب نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے۔

بعض دیگر علماء نے تمام انبیاء کرام کی قسم کو جائز جانا ہے، لیکن تمام علماء کا یہ قول کہ انھوں نے بلا استثنیٰ مخلوقات کی قسم کہانے سے منع کیا ہے صحیح ترین قول ہے۔(۱۹۶)

ابن تیمیہ کا خاص شاگرد اور معاون ابن قیّم جوزی کہتا ہے : غیر خدا کی قسم کہانا گناہان کبیرہ میں سے ہے، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص بھی غیر خدا کی قسم کہاتا ہے وہ خدا کے ساتھ شرک کرتا ہے، لہٰذا غیر خدا کی قسم کہانا گناہ کبیرہ میں سر فھرست ہے۔(۱۹۷)

غیر خدا کی قسم کے بارے میں وضاحت

مرحوم علامہ امین فرماتے ہیں کہ صاحب رسالہ (ابن تیمیہ) کا یہ قول کہ غیر خدا کی قسم کہانا ممنوع ہے، یہ ایک بکواس کے سوا کچھ نہیں ہے کیونکہ اس نے اپنی بات کو ثابت کرنے کے لئے صرف ابوحنیفہ، ابو یوسف، ابن عبد السلام اور قدوری کے اقوال کو نقل کئے ہیں، گویا تمام ممالک اور ہر زمانہ کے تمام علماء صرف انھیں چار لوگوں میں منحصر ہیں، اس نے شافعی، مالک اور احمد ابن حنبل کے اقوال کو کیوںبیان نہیں کیا اور اس نے عالم اسلام کے مشہور ومعروف بے شمار علماء جن کی تعداد خدا ہی جانتا ہے کے فتوے نقل کیوں نہیں کئے۔

حق بات تو یہ ہے کہ غیر خدا کی قسم کہانا نہ مکروہ ہے اور نہ حرام، بلکہ ایک مستحب کام ہے اور اس بارے میں بہت سی روایات بھی موجود ہیں، اس کے بعد مرحوم علامہ امین نے صحاح ستہ سے چند روایات نقل کی ہیں۔(۱۹۸)

موصوف اس کے بعد فرماتے ہیں کہ غیر خدا کی قسم کہانا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اصحاب وتابعین کے زمانہ سے آج تک تمام مسلمانوں میں رائج ہے، خداوندعالم نے قرآن مجید میں اپنی مخلوقات میں سے بہت سی چیزوں کی قسم کہائی ہے، خود پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اصحاب رسول وتابعین میں ایسے بہت سے مواقع موجود ہیں جن میں انھوں نے اپنی جان یادوسری چیزوں کی قسم کہائی ہے، اور اس کے بعد مرحوم علامہ امین نے ان بہت سے واقعات کو باقاعدہ سند کے ساتھ بیان کیا ہے جن میں مخلوق کی قسم کہائی گئی ہے۔(۱۹۹)

ایک دوسری جگہ پر کہتے ہیں کہ وہ احادیث جو غیر خدا کی قسم سے منع کرتی ہیں یاتو ان کو کراہت پر حمل کیا جائے یا وہ احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ غیر خدا کی قسم منعقد نہیں ہوتی اور اس میں نھی، نھی ارشادی ہے، اور اس طرح کی قسمیں مکروہ ہیں حرام نھیں، جبکہ وہابیوں کے امام احمد ابن حنبل نےپیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قسم کے جواز پر فتویٰ دیا ہے۔

شعرانی احمد بن حنبل کے قول کو نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر کسی نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قسم کہائی تو اس کی وہ قسم منعقد ہے بلکہ پیغمبر کے علاوہ بھی دوسروںکی قسم کہانا اس قسم کے منعقد ہونے کا سبب بنتا ہے۔(۲۰۰)

۱۱۔ مقدس مقامات کی طرف سفر کرنا

ابن تیمیہ کاکہناہے: مقدس مقامات کی طرف سفر کرنا حج کے مانند ہے، ہر وہ امت جن کے یہاں حج کا تصور پایا جاتا ہے جیسے عرب کے مشرکین لات وعزّیٰ ومنات اور دوسرے بتوں کی طرف حج کے لئے جایا کرتے تھے، لہٰذا اس طرح کے روضوں کی طرف سفر کرنا گویا حج کرنے کی طرح ہے جس طرح مشرکین اپنے خداؤں کے پاس حج کے لئے جاتے تھے۔(۲۰۱)

بدعتی لوگ انبیاء اور صالحین کی قبور کی طرف بعنوان حج جاتے ہیں، ان کی زیارت کرنا شرعی جواز نہیں رکھتا، جس سے ان کا مقصد صاحب قبر کے لئے دعا کرنا ہو، بلکہ اس زیارت سے ان کا مقصد صاحب قبر کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہوتاہے کہ وہ حضرات خدا کے نزدیک عظیم مرتبہ اور بلند مقام رکھتے ہیں اور ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ صاحب قبر کو نصرت اور مدد کے لئے پکارےں، یا ان کی قبروں کے پاس خدا کو پکاریں، یا صاحب قبر سے اپنی حاجتیں طلب کریں۔(۲۰۲)

جو لوگ قبور کی زیارت کے لئے جاتے ہیں (یا ابن تیمیہ کے بقول :قبروں پر حج کے لئے جاتے ہیں) تو ان کا قصد بھی مشرکین کے قصد کی طرح (عبادت مخلوق، یعنی بتوں کی پوجا) ہوتا ہے، اور وہ بتوں سے وھی طلب کرتے ہیں جو اہل توحید (مسلمان) خدا سے طلب کرتے ہیں۔

۱۲۔ شیعوں کے بارے میں

ابن تیمیہ کا کہنا ہے: کفار ومشرکین جو اپنے مقدس مقامات پر جانے کے لئے سفر کرتے ہیں، اور یھی ان کا حج ہے اور قبر کے نزدیک اسی طرح خضوع وتضرع کرتے ہیں جس طرح سے مسلمان خدا کے لئے کرتے ہیں، اہل بدعت اور مسلمانوں کے گمراہ لوگ بھی اسی طرح کرتے ہیں، چنانچہ ان گمراہ لوگوں میں رافضی بھی اسی طرح کرتے ہیںکہ اپنے اماموں اوربزرگوں کی قبور پر حج کے لئے جاتے ہیں، بعض لوگ ان سفروں کے لئے اعلان کرتے ہیںاور کہتے ہیں آئیے حج اکبر کے لئے چلتے ہیں، اور اس سفر کے لئے علمِ حج ساتھ لیتے ہیں اور ایک منادی کرنے والا حج کے لئے دعوت دیتا ہے اور اسی طرح کا علم اٹھاتے ہیں جس طرح مسلمان حج کے لئے ایک خاص علم اٹھاتے ہیں، یہ فرقہ مخلوق خدا کی قبور کو حج اکبر اور حج خانہ خدا کو حج اصغر کہتا ہے۔(۲۰۳)

ابن تیمیہ ایک دوسری جگہ پر ان موارد کا ذکر کرتا ہے جن میں بعض افراد کچھ مقدس مقامات کے سفر کو سفر حج کی طرح مانتے ہیں، لیکن وہاں یہ ذکر نہیں کرتا کہ یہ لوگ کس مذہب کے پیرو ہیں اور کس فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں، منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ وہ لوگ اس مقام پر جاتے ہیں جہاں پر کوئی ولی اللہ اس زمین پر نازل ہوا ہے وہاں پر حج کے لئے جاتے ہیں اور حج کی طرح احرام باندہتے ہیں اور لبیک کہتے ہیں ،جیسا کہ مصر کے بعض شیوخ مسجد یوسف میں حج کے لئے جاتے ہیں، اور احرام کا لباس پہنتے ہیں، اوریھی شیخ زیارت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے بعنوان حج جاتا ہے اور وہاں سے مکہ معظمہ بھی نہیں جاتا کہ اعمال حج بجالائے اور مصر واپس پلٹ جاتا ہے۔(۲۰۴)

مذکورہ مطلب کے بارے میں وضاحت

بارہا یہ بات کھی جاچکی ہے کہ شیعوں کی نظر میں حج صرف خانہ خدا بیت اللہ الحرام کا حج ہے جو مکہ معظمہ میں ہوتا ہے اور اس کے علاوہ کسی چیز کو حج کے برابر اور حج کی جگہ نہیں مانتے، اور یہ ان مسلم چیزوں میں سے ہے کہ اگر کوئی شخص ذرہ برابر بھی فقہ شیعہ سے باخبر ہو، تو اس پریہ بات مخفی نہیں ہوگی، اور دوسرے مقامات کو خانہ کعبہ کی جگہ قرار دینا اور وہاں حج کی طرح اعمال بجالانا ان لوگوں کے ذریعہ ایجاد ہوا ہے جو شیعوں کے مخالف اور شیعوں کے دشمن شمار ہوتے ہیں۔ ان میں سے تیسری صدی کے مشہور ومعروف مورخ یعقوبی کے مطابق عبد الملک بن مروان ہے کہ،جب عبد اللہ ابن زبیر کے ساتھ اس کی جنگ ہوتی ہے تو وہ شام کے لوگوں کو حج سے منع کردیتا ہے کیونکہ عبد اللہ ابن زبیر شامی حجاج سے اپنے لئے بیعت لے رہے تھے، یہ سن کر لوگوں نے چلانا شروع کیا اور عبد الملک سے کہا کہ ہم لوگوں پر حج واجب ہے اور تو ہمیں حج سے روکتا ہے، ؟ تو اس وقت عبد الملک نے جواب دیا کہ یہ ابن شھاب زھری ہے جو آپ حضرات کے سامنے رسول اللہ کی حدیث سناتے ہیں:

لاٰ تُشَدُّ الرِّحَالُ اِلاّٰ اِلیٰ ثَلاٰثَةِ مََسَاجِدَ: اَلْمَسْجِدُ الْحَرَامُ وَمَسْجِدِیْ وَمَسْجِدُ بیت الْمُقَدَّسْ (مسجد اقصیٰ)“

”ان تین مسجدوں کے علاوہ کسی دوسری مسجد کے لئے رخت سفر نہیں باندھا جاسکتا: مسجد الحرام، مسجد النبی، مسجد اقصیٰ، لہٰذا مسجد اقصیٰ مسجد الحرام کی جگہ واقع ہوگی، اور یہ صخرہ (بڑا اور سخت پتھر) جس پر پیغمبر اکرم (ص)نے معراج کے وقت اپنے پیر رکھے تھے خانہ کعبہ کی جگہ ہے۔

اس کے بعد اس نے حکم دیا کہ اس پتھر پر ریشمی پردہ لگایا جائے (خانہ کعبہ کے پردہ کی طرح) اور وہاں کے لئے خادم اور نگھبان (محافظ) معین کردئے گئے اور جس طرح خانہ کعبہ کا طواف کیا جاتا ہے اسی طرح اس پتھر کا بھی طواف ہونے لگا، اور جب تک بنی امیہ کا دور رہا یہ رسم برقرار رہی۔(۲۰۵)

اور جیسا کہ معلوم ہے کہ عبد الملک بن مروان کی یہ یادگار بنی امیہ کے ختم ہونے کے بعد بھی صدیوں رائج رہی، چنانچہ ناصر خسرو پانچوی صدی کا مشہور ومعروف سیّاح شھر بیت المقدس کی اس طرح توصیف کرتا ہے: بیت المقدس کو اہل شام اور اس کے اطراف والے قدس کہتے ہیں اور اس علاقہ کے لوگ اگر حج کے لئے نہیں جاسکتے تو اُسی موقع پر قدس میں حاضر ہوتے ہیںاور وہاں توقف کرتے ہیں اور عید کے روز قربانی کرتے ہیں، یھی ان کا وطیرہ ہے، ہر سال ماہ ذی الحجہ میں وہاں تقریباً بیس ہزار لوگ جمع ہوتے ہیںاپنے بچوں کو لے جاتے ہیں اور ان کے ختنے کرتے ہیں۔(۲۰۶)

ان ہی لوگوں میں متوکل عباسی بھی ہے (یہ وھی متوکل ہے جس نے روضہ امام حسین ں پر پانی چھوڑا تاکہ قبر کے تمام آثار ختم ہوجائیں) اس نے شھر سامرہ (عراق) میں خانہ کعبہ بنوایا، اور لوگوں کو حکم دیا کہ اس کا طواف کریں اور وھیں دو مقامات کا ” منیٰ“ و”عرفات“ نام رکھا اس کا مقصد یہ تھا کہ فوج کے بڑے بڑے افسر حجپر جانے کے لئے اس سے جدانہ ہوں۔(۲۰۷)

یہ تھے دو نمو نے، اگر ان کے علاوہ کوئی ایسا مورد پایا جائے تو وہ بھی انھیں کی طرح ہے، اور کبھی کوئی ایسا واقعہ رونما نہیں ہوا جس میں کسی شیعہ مذہب کے ماننے والے نے اس طرح کا کوئی کارنامہ انجام دیا ہو۔

شیعوں کی نظر میں زیارت قبور، ایک اور وضاحت

پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے، یہ سب ناروا تہم تیں اور نادرست نسبتیں جو شیعوں کی طرف دی گئیں ہیں یہ اسی زمانہ کی ہیں جب گذشتہ صدیوں میں شیعوں سے دشمنی اور تعصب برتا جاتا تھا خصوصاً چوتھی، پانچوی اور چھٹی صدی میں کہ جب شیعہ اور سنی حكّام کے درمیان بہت زیادہ دشمنی اور تعصب پایا جاتا تھا، اسی وجہ سے بعض غرضی، کینہ پرور اور موقع پرست لوگوں نے موقع غنیمت جان کر شیعوں کے خلاف مزید تعصب اور دشمنی ایجاد کی اور متعصب حكّام کو مزیدبھڑکایا تاکہ شیعوں کے خلاف ان کی دشمنی اور زیادہ ہوجائے۔

اگر کوئی شخص شیعوں کی فقہ اور اسی طرح زیارت مشاہد مقدسہ کے اعمال کے بارے میں جو قدیم زمانہ سے معمول اور رائج ہیں باخبر ہو تو اس کو بخوبی معلوم ہوجائے گا کہ کسی بھی زمانہ میں شیعوں کے نزدیک بزرگان دین کی قبور کی زیارت حج نہیں سمجھی گئی اور ان کا عقیدہ صرف یہ ہے کہ زیارت ایک مستحب عمل ہے، اس کے علاوہ اور کوئی تصور نہیں پایا جاتا، وہ قبور کے پاس دعا اور سلام کے علاوہ کوئی دوسری چیز نہیں کہتے، اور اس طرح کی زیارت کو اہل سنت بھی جائز جانتے ہیں۔

شیعوں کی فقھی اور حدیثی کتابیں بہت زیادہ ہیں اور ہر انسان ان کا مطالعہ کرسکتا ہے، اور یہ محال اور ناممکن ہے کہ کسی شیعہ عالم نے زیارت کے سفر کو حج کے برابر جانا ہو، اگر کوئی شخص شیعہ فقھی کتابوں کا بغور مطالعہ کرے تو اس کو معلوم ہوجائے گاکہ شیعوں کی نظر میں حج بیت اللہ کی کتنی عظمت اور اہمیت ہے، اور حج کے صحیح ہونے کے لئے کہ حج سنت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مطابق انجام پائے کتنی دقت اور احتیاط کی جاتی ہے، اور یہ بات حج کے زمانہ میں اچھی طرح سے واضح و روشن ہوجاتی ہے جب ایران اور دوسرے ممالک سے لاکھوں شیعہ حاجی حج کے لئے جاتے ہیں۔

ہاں پر ایک اہم نکتہ جس پر شیعہ مخالفین نے قدیم زمانہ سے توجہ نہیں کی وہ یہ ہے کہ شیعہ کون ہیں؟

ظاہراً ابن تیمیہ اور اس کے پیروکاروہابیوں نے غُلات (غلو کرنے والے) اور دوسرے فرقوں جن کو شیعہ بھی کافر سمجھتے ہیں ان سب کو شیعہ سمجھ لیا ہے اور افسوس کے ساتھ کہا جاتا ہے کہ بعض مذاہب اربعہ کے ماننے والے بھی اس غلطی کے مرتکب ہوئے ہیں اور شیعوں کی حقیقت سے باخبر ہوئے بغیر اپنے ذہن میں موجود نا درست افکار و خیالات کی بنا پر انھوں نے شیعوں پر مزید تہم تیں لگائیں، جبکہ حق وانصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ان جیسے افراد کو اس مسئلہ پر توجہ کرنا چاہئے تھی کہ شیعوں نے اپنے تمام عقائد، احادیث اور وسیع فقہ کو ائمہعلیهم السلام کے ذریعہ خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے حاصل کیا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ اہل سنت کے چاروں فرقوں کے امام، شیعوں کے ائمہ کے علم وکمال اور صدق وتقویٰ اور دوسرے بلند مراتب پر یقین رکھتے ہیں اور ان کو اپنے سے زیادہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسب علم میں نزدیک سمجھتے ہیں، یہاں تک کہ خود ابن تیمیہ نے بعض اوقات اپنے نظریات کو شیعوں کے ائمہ کے قول سے مستند کیا ہے اور شیعہ فقہ سے مدد لی ہے، جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اس چیز کا ذکر کیا ہے ،ان تمام چیزوں کے پیش نظر ایک حق پسند اور بے غرض انسان پر حقیقت واضح اور روشن ہے کہ کس طرح ممکن ہے کہ ایسے مذہب کے تابع لوگ جن کے ائمہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سب سے زیادہ قریب ہوںاور دینی حقائق کو اچھی طرح جانتے ہوں، کوئی ایسا عقیدہ رکھتے ہوں جو اسلام کے مسلمات کے برخلاف اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیمات سے دور ہو؟اور وہ بھی حج بیت اللہ الحرام کا ترک کرنا کہ شیعہ عقیدہ کے مطابق اگر کوئی حج بیت اللہ الحرام کے واجب ہونے پر اعتقاد نہ رکھے تو وہ کافر ہے!!

بھر حال جیسا کہ معلوم ہوتا ہے اسی زمانہ سے کہ جب شیعہ اور سنی حاکموں کے درمیان سخت عناد اور دشمنی اپنے اوج پر تھی، اس بحرانی دور میں اگر کوئی شخص دین کے خلاف کوئی کام کرتا تھا تو اہل غرض افراد اس کو شیعہ کہنے لگتے تھے، اس طرح لوگوں کے ذہن شیعوں کی طرف سے بھر دئے گئے، چنانچہ شیعوں کے معمولی کاموں کو بھی الٹا کرکے پیش کرنے لگے مثلاً اسی موضوع کولے لیں جسے ابن تیمیہ نے نقل کیا ہے کہ رافضی زیارت کے سفر کے لئے حج کی طرح علم بلند کرتے ہیں اور لوگوں کو حج کی طرف دعوت دیتے ہیں، اس بات کو تقریباً یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اس کی وجہ شاید وھی رسم تھی جو زمانہ قدیم میں رائج تھی کہ جب کوئی کاروان زیارت کے لئے جاتا تھاتوایک منادی کے ذریعہ اعلان کرایا جاتا تھاکہ جو سفر کا ارادہ رکھتا ہو چاہے تجارت کے لئے ہو یا زیارت کے لئے یا کسی اور کسی کام کے لئے وہ تیار ہوجائے، اور یہ رسم موٹر گاڑیاں وغیرہ چلنے سے پہلے شاید تمام ہی دنیا میں رائج تھی، اور اس کی وجہ بھی معلوم ہے کہ اس زمانہ میں اکیلے سفر کرنا بہت خطرناک ہوتا تھا۔

اسی معمولی اور سادہ کام کو شیعہ دشمنوں نے اس طریقہ سے بیان کیا کہ جو لوگ شیعہ علاقوں سے دور زندگی بسر کرتے ہیں اور شیعوں سے اختلاف نظر رکھتے ہیں اس کو حقیقت اور صحیح سمجھ لیں۔

حق بات یہ ہے کہ اگر کسی مذہب کو پہچاننا ہے تو اس مذہب کی صحیح اور مستند کتابوں سے یا ان کے ساتھ زندگی کرنے یا اس فرقہ کے علماء اور بابصیرت لوگوں سے سوال وجواب کے ذریعہ پہچانے، نہ کہ ان تہم توں اور ذہنی تصورات کے ذریعہ جو خود غرض یا بے اطلاع لوگوں کے ذریعہ لگائی گئی ہیں۔

یہ بات مسلم ہے کہ شیعوں کے نزدیک بزرگان دین کی قبور کی زیارت ایک مستحب عمل ہے اور ان زیارتوں میں دعائیں ہوتی ہیں جن کا مضمون توحید خداوندعالم اور صاحب قبر پر سلام اور اس کے فضائل ہوتے ہیں، ہم یہاں پر زیارت کے چند نمونے پیش کرتے ہیں تاکہ ان لوگوں پر حقیقت واضح ہوجائے جو شیعوں کے بارے میں زیارت سے متعلق بدگمانیاں رکھتے ہیں،ہم یہاں پر زیارت کے موقع پرجو دعا یا ذکر زبان پر جاری کرتے ہیں بیان کرتے ہیں، جب زائرین کرام امام علی ابن موسی الرضاںکی زیارت کے لئے مشہد مقدس جاتے ہیں اور روضہ مبارک میں وارد ہوتے ہیں تو یہ دعا پڑھنا مستحب ہے:

بِسْمِ اللّٰهِ وَبِاللّٰهِ وَفِی سَبِیْلِ اللّٰهِ وَعَلٰی مِلَّةِرَسُوْلِ اللّٰهِ (ص) اَشْهَدُ اَنْ لاٰ اِلٰهَ اِلاّٰاللّٰهُ وَحْدَهُ لاٰ شَرِیْكَ لَهُ وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَرَسُوْلُهُ اَللّٰهم صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمّدٍ ۔ “

”شروع کرتا ہوں اللہ کے نام اور اسی کی مددسے نیزاسی کے راستہ اور ملت رسول اللہ میں قدم بڑھاتا ہوں، اور گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی خدا نھیں، وہ وحدہ لا شریک ہے، اورشھادت دیتا ہوں کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خدا کے بندے اور رسول ہیں، بار الہٰا ! محمد وآل محمد پر اپنی رحمت نازل فرما“۔

اور وہاں پڑھی جانے والی دعاؤں میں سے زیارت اہل قبور بھی اس طرح سے ہے:

اَلسَّلاٰمُ عَلٰی اهلِ الدِّیَارِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ وَالْمُومِنِیْنَ مِنْ اَهْلِ لاٰ اِلٰهَ اِلاَّ اللّٰهُ رَحِمَ اللّٰهُ الْمُسْتَقْدِمِیْنَ مِنَّا وَالْمُسْتَاخِرِیْنَ وَاِنَّا اِنْشَاءَ اللّٰهُ بَكُمْ لاٰحِقُوْنَ اَلسَّلاٰمُ عَلَیْكُمْ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ “۔

”سلام ہو مسلمانوں اور لا الہ الا اللہ پر ایمان لانے والوں کے شھر (خموشاں) پر، خدا رحمت کرے اس دیار میں ہم سے پہلے آنے والوں اور بعد میں آنے والوں پر، انشاء اللہ ہم بھی اسی دیار سے ملحق ہونے والے ہیں، تم پر سلام اور خدا کی رحمت وبرکات ہو“۔

اسی طرح وہاں پڑھی جانی والی دعائے استغفار اس طرح ہے:

اَسَتَغْفِرُ اللّٰهَ الَّذِیْ لاٰ اِلٰهَ اِلاَّ هو الْحَيُّ الْقَیُّوْمُ اَلرَّحْمٰنُ الرَّحِیْم ذُوْالْجَلاَلِ وَالاِكْرَام وَاَتُوْبُ اِلَیْهِ وَاَسْئَلُهُ اَنْ یُصَلِّیَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَاَنْ یَتُوْبَ عَلَیَّ تَوْبَةَ عَبْدٍ ذَلِیْلٍ خَاضِعٍ خَاشِعٍ فَقِیْرٍ مِسْكِیْنٍ مُسْتَكِیْنٍ، لاٰیَمْلِكُ لِنَفْسِهِ نَفْعاً وَلاٰ ضَراً وَلاٰ مَوْتاً وَلاٰ حَیٰوةً وَلاٰنُشُوْراً ۔ “

”میں توبہ اوراستغفار کرتا ہوں اس اللہ سے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں جو حیّ وقیّوم، رحمن و رحیم اور صاحب عظمت و جلالت ہے، اور میں اسی کی بارگاہ میں تو بہ کرتا ہوں، اور اسی سے سوال کرتا ہوں کہ محمد و آل محمد پر درود وسلام بھیج، اوراپنے اس خاضع، خاشع، فقیر، مسکین بندے کی توبہ قبول کر، جو خود اپنے نفس کے لئے کسی نفع ونقصان اور موت وحیات نیز حشر ونشر کا مالک نہیں ہے“۔

قارئین کرام !آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ شیعہ حضرات قبور کی زیارت کے موقع پر اس طرح کی دعائیں پڑھتے ہیں، شیعہ حضرات کی دعاؤں اور اذکار کی کتابوں میں سب سے اہم کتاب صحیفہ سجادیہ ہے کہ اگر کوئی شخص اس کتاب میں موجود ہ دعاؤں میں صحیح غور وفکر کرے تو اس کو معلوم ہوجائے گا کہ حقیقت توحید کیا ہے ؟

خدا کے سامنے حقیقی خضوع وخشوع کیسے کیا جاتا ہے اس کتاب میں ایسے مطالب موجود ہیں جو دوسری کتابوں میں بمشکل تمام پائے جاتے ہیں، شیعہ حضرات خصوصاً علمائے کرام مقدس روضوں پر صحیفہ سجادیہ سے اس طرح کی دعائیں پڑھتے ہیں:

اِلٰهِیْ مَنْ حَاوَلَ سَدَّ حَاجَتِه. مِنْ عِنْدَكَ فَقَدْ طَلَبَ حَاجَتَهُ فِیْ مَظَانِّها وَاِنِّیْ طَلَبْتُهُ مِنْ جِهَتِها وَمَنْ تَوَجَّهَ بِحَاجَتِه. اَلیٰ اَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ اَوْ جَعَلَ سَبَبَ نَجْحِها دُوْنَكَ فَقَدْ تَعَرَّضَ لِلْحِرْمَانِ وَاسْتَحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَوَاتَ الإحْسَاْنِ “۔

” بار الٰھا ! جس نے تجھ سے اپنی حاجت طلب کرنے کا ارادہ کیا اس نے اپنی حاجت کو صحیح جگہ سے طلب کیا لہٰذا میں تیرے در کا سوالی ہوں اور جس نے اپنی حاجت کو کسی غیر سے طلب کیا یا کامیابی کو تیرے علاوہ کسی غیر کے در پر تلاش کیا وہ محروم رہا اور تیرے احسان کے فوت ہونے کا سبب بنا“۔

اسی طرح صحیفہ سجادیہ کی ایک دوسری دعا:

اِلٰهِیْ خَابَ الوَافِدُوْنَ عَلٰی غَیْرِكَ وَخَسِرَ الْمُتَعَرِّضُوْنَ اِلاَّ لَكَ وَضَاعَ الْمُلِمُّوْنَ اِلاَّ بِكَ وَاَجْدَبَ الْمُنْتَجِعُوْنَ اِلاَّ مَنِ انْتَجَعَ فَضْلَكَ “۔

”پالنے والے تیرے علاوہ دوسرے سے رغبت رکھنے والا انسان ذلیل ہے اور تیرے علاوہ دوسروں کی طرف توجہ کرنے والا خسارہ میں ہے، نیز تیرے علاوہ کسی دوسرے سے لَو لگانے والا نقصان میں ہے، اور تیرے علاوہ کسی کی ذات سے امید رکھنے والادہوکے میں ہے“

صحیفہ سجادیہ کی ایک اور دعا: ”تَبَارَكْتَ وَتَعَالَیْتَ لاٰ اِلٰهَ اِلاَّ اَنْتَ، صَدَّقْتُ رُسُلَكَ وَآمَنْتُ بِكِتَابِكَ وَكَفَرْتُ لِكُلِّ مَعْبُوْدٍ سِوَاكَ وَبَرِئْتُ مِمَّنْ عَبَدَ غَیْرَكَ“

”خداوندا!تیری ذات، گرامی اور بابرکت ہے، اور ہر برائی سے پاک و پاکیزہ ہے تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں میں تیرے انبیاء کی تصدیق کرتا ہوں، ان پر ایمان رکھتا ہوں نیز تیری کتاب (قرآن) پر بھی ایمان رکھتا ہوں، اور تیرے علاوہ دوسرے تمام معبودوں کا انکار کرتا ہوں، نیز تیرے علاوہ کسی غیر کی عبادت کرنے والوں سے برائت اور دوری کا اعلان کرتا ہوں“۔

شیعوں کے نزدیک مقدس روضوں پر قرآن پڑھنا مستحب ہے کہاور اس کا ثواب صاحب قبر کو ہدیہ کرنا مستحب ہے اور اگر زیارت کرتے وقت نماز کا وقت ہوجائے اور قریب کی مسجد میں نماز جماعت ہورہی ہے تو اس زیارت کو روک کر نماز جماعت میں حاضر ہونا مستحب ہے، اور اسی طرح یہ بھی مستحب ہے کہ روضوں کے اندر بے ہودہ الفاظ اور ناشائستہ کلمات زبان پر جاری نہ کرے اور دنیاوی امور کے بارے میں باتیں نہ ہوں، اور زائر کو چاہئے کہ فقیروں کو صدقہ دے اور محتاجوں کی مدد اور نصرت کرے، اور وہاں پر زیادہ نہ ٹھھرے۔

روضہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت کی کیفیت، شیعوں کی نظر میں

مستحب ہے جب انسان مسجد النبی میں وارد ہو تو دورکعت نماز تحیت مسجد بجالائے اور داہنی طرف کے ستون کے نزدیک اس طرح روبقبلہ کھڑا ہوکہ بایاں شانہ قبر مطھر کی طرف ہو اور داہنا شانہ منبر کی طرف کرکےاس طرح کھے:

”اَشْهَدُ اَنْ لاٰ اِلٓهَ اِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُلاٰ شَرِیْكَ لَهْ وَ اَشْهَدُ اَنَّ مَُحَمّداً عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَاَشهَدُ اَنّكَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وانَّكَ مُحَمّدُ بْنُ عَبْدِاللّٰهِ وَاَ شْهَدُ اَنَّكَ قَدْ بَلَّغْتَ رِسَالاٰ تِ رَبِّكَ وَنَصَحْتَ لِامَّتِكَ وَجَاهَدْتَ فِی سَبِیْلِ اللّٰهِ وَعَبَدْتَ اللّٰهَ حَتّٰی اَتیٰكَ الْیَقِیْنُ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَادَّیْتَ الَّذِیْ عَلَیْكَ مِنَ الْحَقِّ وَاَنَّكَ قَدْ رَوفْتَ بِالْمُومِنِیْنَ وَغِظْتَ عَلٰی الْكٰافِرِیْنَفَبَلَّغَ اللّٰهُ بِكَ اَفْضَلَ شَرَفِ مَحَلِّ الْمُكّرَ مِیْنَ،اَ لْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ اِسْتَنْقَذْ نَا بِكَ مِنَ الشِّرْ كِ وَالضَّلاٰ لَةِ

اَللّٰهم فَاجْعَلْ صَلَوَاتكَ وَصَلَوَاتِ مَلاٰئِكَتِكَ الْمُقَرَّ بِیْنَ وَاَنْبِیَائِكَ الْمُرْسَلِیْنَ وَعِبَادِكَ الصَّا لِحِیْنَ وَاهلَ السَّمٰوٰتِ وَالارْضِیْنَ وَمَنْ سَبَّحَ لَكَ یَارَبَّ الْعَالَمِیْنَ مِنَ الاوَّلِیْنَ وَالآٰخِرِیْنَ عَلیّٰ مُحَمَّدٍعَبْدِكَ وَرَسُوْلِكَ وَنَبِیْكَ وَاَمِیْنِكَ وَنَجِیِّكَ وَحَبِیْبِكَ وَصَفِیِّكَ وَخَاصَّتِكَوَصَفْوَتِكَ وَخَیْرَتِكَ مِنْ خَلْقِكَ

اَللّٰهم اَعْطِهِ الدَّرَجَةَ الرَّفِیْعَةَ،وَآتِهِ الْوَسِیْلَةَ مِنَ الْجَنَّةِ وَابْعَثْهُ مُقَاماً مَحْمُوْداً یَغْبِطُهُ بِهِ الاوَّلُوْنَ وَالآخِرُوْنَ اَللّٰهم اِنَّكَ قُلْتَ:

( وَلَوْاَنَّهم اِذْظَلَمُوْا اَنْفُسَهم جَاْءُ وكَ فَسَتَغْفرُوْا اللّٰهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهم الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوْا اللّٰهَ تَوَّاباً رَحِیْماً ) (سورہ نساء ۶۴)

وَاِنِّیْ اَتَیْتُكَ مُسْتَغْفِراً تٰائِباً مِنْ ذُنُوْبِیْ، وَاِنِّیْْ اَتَوَجَّهُ بِكَ اِلٰی اللّٰهِ رَبِّی وَ رَبِّكَ لِیَغْفِرلی ذُنُوْبی “۔

ترجمہ زیارت:

”میں گواہی دیتا ہوں کہ اس اللہ کے علاوہ کوئی معبود نھیں، وہ وحدہ لا شریک ہے، اور شھادت دیتا ہوں کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول اور جناب عبد اللہ کے فرزند ہیں۔

میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ نے اپنے پرور دگار کے تمام احکام کو کما حقہ پہونچایا، اپنی امت کی اصلاح فرمائی، خدا کی راہ میں جھاد کیااور خدا کی عبادت کی یہاں تک کہ حکمت وموعظہ حسنہ کے ذریعہ یقین کے بلند درجات تک پہونچ گئے، آپ نے اپنے تمام حقوق ادا کردئے، آپ مومنین پر بڑے مھربان اور رحم دل ہیں جس طرح کفار اور مشرکین پر غضب ناک اور سخت دل ہیں، تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے آپ کی بدولت ہمیں شرک وگمراہی سے نجات دی۔

بار الہٰا!ان پر درود و رحمت نازل فرما، نیز تمام ملائکہ مقربین، انبیاء مرسلین، بندگان صالحین، اہل سماوات وزمین، اور تیری تسبیح کرنے والی تمام مخلوق کا دردو وسلام ہو تیرے بندہ اور تیرے رسول پر، تیرے ہم راز اور امین پر، تیرے حبیب وصفی پر، تیرے خاص اور منتخب پراور مخلوقات میں سب سے بلندوبھتر پر۔

بار الہٰا!اپنے رسول کو بلند وبالا درجات عنایت فرما، اور آپ کوہم ارے لئے جنت تک پہنچنے کا وسیلہ قرار دے، نیز آپ کو اس مقام محمود پر فائز فرماجس پر تمام مخلوقات رشک اور ناز کریں، خداوندا! تو نے فرمایا ہے :

( وَلَوْاَنَّهم اِذْظَلَمُوْا اَنْفُسَهم جَاْءُ وكَ فَسَتَغْفرُوْا اللّٰهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهم الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوْا اللّٰهَ تَوَّاباً رَحِیْماً )

”اے کاش جب ان لوگوں نے اپنے نفس پر ظلم کیا تھا تو آپ کے پاس آتے اور خود بھی اپنے گناہوں سے استغفار کرتے اور رسول بھی ان کے حق میں استغفار کرتے، تو یہ خدا کو بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا اور مھربان پاتے“۔

بتحقیق میں آپ کی بارگاہ میں اپنے گناہوں سے توبہ اور استغفار کے لئے آیا ہوں، اور آپ کے ذریعہ خدا کی بارگاہ میں متوجہ ہوتا ہوں تاکہ میرا اور آپ کاپرور دگار میرے گناہوں کو بخش دے“۔

شیعوں کی دوسری زیارتیں بھی اسی طرح کی ہیں، جو دعاؤں اوراذکار کی کتابوں میں تفصیلی طور پر بیان کی گئی ہیں ،اور جن میں سے چند جملے ہم پہلے بھی ذکر کرچکے ہیں۔

۱۳۔ صالحین کی قبور کے بارے میں

ابن تیمیہ کاکہنا ہے: بعض لوگ گمان کرتے ہیں کہ جن شھروں میں انبیاء وصالحین کی قبور ہیں وہ اس زمین سے بلاء اور خطرات کو دور کرتے ہیں مثلاً اہل بغداد قبر احمد ابن حنبل، بشر حافی اور منصور بن عمارکی وجہ سے، اہل شام قبور انبیاء (منجملہ خلیل خداجناب ابراہیم ں)(۲۰۸) ، اسی طرح اہل مصر قبر نفیسہ اور دیگر چند قبر وں کے ذریعہ، نیز اہل حجاز مرقد پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، اور اہل بقیع کی وجہ سے بلاء اور مصیبتوں سے محفوظ ہیں، جبکہ یہ تمام غلط اور اسلام وقرآن، سنت اور اجماع کے خلاف ہے، کسی جگہ کسی کی قبر ہوناکسی حادثہ سے امان میں رہنے کے لئے کوئی تاثیر نہیں رکھتا، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وجود مقدس آپ کی زندگی میں امان کا سبب تھا، آپ کی وفات کے بعدنہیں ہے۔(۲۰۹)

جو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہمیں قبور سے فائدہ پہنچتا ہے اور شھر میں قبور کا ہونا دفع بلا کا سبب بنتا ہے، ایسے لوگ گویا قبور کو بتوں کی جگہ مانتے ہیں، ان کا قبور کی طرف سے نفع ونقصان کا عقیدہ بالکل کفار کے عقیدہ کی طرح ہے جو بتوں کو نفع ونقصان پہنچانے والا مانتے ہیں۔(۲۱۰)

۱۴۔ قبروں پراوران کے اطراف عمارت بنانا، اور ان کو مسمار کرنے کی ضرورت

ابن تیمیہ کا کہنا ہے:مسجد، صرف خدا کی عبادت کے لئے بنائی جاتی ہے، اور مخلوق کی قبروں کے اطراف میں مسجد بنانا صحیح نہیں ہے، اسی طرح ان مخلوقین کے لئے مسجد بنانا یا مخلوق کے گھروں (یعنی ان کی قبروں) کی طرف سفر کرنا جائز نہیں ہے۔(۲۱۱)

چنانچہ بقیع اور دیگر قبور کے بارے میں ابن تیمیہ کہتا ہے کہ اگر وہاں دعا، تضرع، طلب حاجت، استغاثہ اور اس طرح کی دوسری چیزیں انجام دی جائیں تو ان کاموں سے روکنا ضروری ہے، اور جو عمارتیں ان قبور کے اطراف میں بنائی گئی ہیں ان کو ویران اورمسمار کرنا ضروری ہے، اور اگر پھر بھی وہاں مذکورہ کام انجام دئے جائیں تو قبروں کو اس طرح سے مسمار کردیا جائے کہ نام ونشان تک باقی نہ رہے۔(۲۱۲)

۱۵۔ نماز کے لئے مصلّیٰ بچھانا

ابن تیمیہ کا کہنا ہے:اگر نماز پڑھنے والے کا قصد یہ ہو کہ مصلّے کے اوپر نماز پڑھی جائے تو یہ سَلَف مھاجرین، انصاراور تابعین کی سنت کے خلاف ہے کیونکہ وہ سب لوگ زمین پر نماز پڑھتے تھے اور کسی کے پاس بھی نماز کے لئے مخصوص مصلّیٰ نہیں ہوتا تھا، جیسا کہ امام مالک نے بھی کہا ہے کہ نماز کے لئے مصلّیٰ بچھانا بدعت ہے۔(۲۱۳)

اسی طرح موصوف کاکہنا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی نماز پڑھنے کے لئے مصلّیٰ نہیں بچھاتے تھے اور صحابہ بھی یا ننگے پیر یا جوتے پہن کرنماز پڑھتے تھے اور ان کی نماز زمین پر یا چٹائی یا اسی طرح کی چیزوں پر ہوتی تھی۔(۲۱۴)

۱۶۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے توسل کرنا، ان سے حاجت طلب کرنا اور ان کو شفیع قرار دینا

ابن تیمیہ کامذکورہ امور کے بارے میں کہنا ہے کہ اگر کوئی زیارت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے جاتا ہے لیکن اگر اس کا قصد دعا اور سلام نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے حاجت طلب کرنا ہے اور ا س کے لئے وہاں پر اپنی آواز بلند کرناہے تو ایسے شخص نے گویا رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اذیت دی ہے اور خود اپنے اوپر ظلم وستم کیا ہے۔

اس بحث کے ضمن میں ابن تیمیہ نے ان احادیث پیغمبر کو بھی بیان کیا ہے جن کا مضمون یہ ہے کہ جس شخص نے میری وفات کے بعد میری زیارت کی گویا اس نے میری زندگی میں میری زیارت کیاور انھوں نے ان تمام احادیث کو باطل، جعلی اور ضعیف شمار کیا ہے۔(۲۱۵)

کسی اہل قبر سے توسل (اس کے وسیلہ سے دعا) کرنے کے بارے میں ابن تیمیہ کا کہنا ہے کہ بعض زائرین قبور ایسے ہوتے ہیں جن کا قصد یہ ہوتا ہے کہ ان کی حاجت پوری ہو، کیونکہ وہ صاحب قبر کو خدا کی بارگاہ میں صاحب عظمت سمجھتے ہیں اور اس کو بارگاہ خداوندی میں واسطہ قرار دیتے ہیں اور اس کے لئے نذر اور قربانی کرتے ہیں اور ان کو صاحب قبر کے لئے ہدیہ کرتے ہیں اور بعض زائرین اپنے مال کا ایک حصہ صاحب قبر کے لئے معین کرتے ہیں، اسی طرح بعض گروہ صاحب قبر سے محبت اور اس کے دیدار کے شوق میں اس کی زیارت کے لئے جاتے ہیں اور اس کی قبر کی طرف سفر کوایسا سمجھتے ہیں جیسے صاحب قبرکی زندگی میں اس کی طرف سفر کیا ہو، اور جب اس صاحب قبر کی زیارت کرلیتے ہیں جس سے وہ محبت رکھتے ہیں تو اپنے دل میں سکون وآرام اور اطمینان محسوس کرتے ہیں، اس طرح کے لوگ ایسے بت پرست ہیں جو بتوں کو خدا کی طرح مانتے ہیں۔(۲۱۶)

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے توسل کے بارے میں وضاحت

سمہودی سُبکی کے قول کو نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ محبوب کا ذکر کرنا دعا کی قبولی کا سبب بنتا ہے، چنانچہ اسی کام کو توسل کہا جاتا ہے، اوراستغاثہ، شفیع قرار دینا اور توجہ کرنا بھی۔

توسل کا یہ مسئلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی میں متعدد بار رونما ہوا ہے چنانچہ نسائی اور ترمذی نے عثمان بن حُنیف سے روایت نقل کی ہے کہ جب ایک نابینا شخص رسول اسلام (ص)کی خدمت میں اپنی شفا کے لئے حاضر ہوا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس نابینا کو حکم دیا کہ یہ دعا پڑھو:

اَللّٰهم اِنِّیْ اَسْئَلُكَ وَ اَتَوَجَّهُ اِلَیْكَ بِنَبِیِّكَ مُحَمَّدٍ نَبِیِّ الرِّحْمَةِ،یَا مُحَمَّدُ اِنِّیْ تَوَجَّهْتُ بِكَ اِلٰی رَبِّیْ فِی حَاجَتِیْ لِتَقْضِیَ لِیْ، اَللّٰهم شَفِّعْهُ لِیْ

”خدا وندا!میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے پیغمبر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے واسطہ سے جو نبی رحمت ہیں، اورمیں تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں، اے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں اپنی حاجت کی قبولی میں آپ کے وسیلہ سے خدا کی بارگاہ میں متوجہ ہوتا ہوں تاکہ میری حاجت روا ہو، اے خدائے مھربان حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو میرا شفیع قرار دے“۔

طبرانی نے بھی اسی طرح کی حدیث ایسے مرد کے بارے میں نقل کی ہے جو وفات پیغمبراکرمکے بعد عثمان بن عفان کے زمانہ میں ایک حاجت رکھتا تھا اورعثمان بن حنیف نے اس کو مذکورہ دعا پڑھنے کے لئے کہا، (اور جب اس نے بھی مذکورہ دعا کو پڑھا تو اس کی حاجت پوری ہوگئی)

اسی طرح بیہقی نے ایک روایت نقل کی ہے کہ جب جناب عمر کے زمانہ میں قحط پڑاتوسب لوگوں نے مل کر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر سے توسل کیا اور ان میں سے ایک شخص نے پیغمبر اکرم کی قبر کے سامنے کھڑے ہوکر کہا:

یَاْ رَسُوْلَ اللّٰهِ اِسْتَسْقِ لِامَّتِكَ فَاِنَّهم قَدْ هَلَكُوْا

”اے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)اپنی امت کے لئے خدا سے بارش طلب کریں کیونکہ آپ کی امت پانی نہ ہونے کی وجہ سے ھلاک ہوئی جاتی ہے“

اسی طرح امام مالک کا مسجد النبی میں ابوجعفر کے ساتھ ایک مناظرہ ہوا، اس میں انھوں کہا) کہ قبر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف رخ کرکے کھڑے ہو اور ان کو اپنا شفیع قرار دو۔(۲۱۷)

اسی طرح جناب عمر خشک سالی اور قحط کے زمانہ میں حضرت رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا جناب عباس سے توسل کرتے ہیں اور اس طرح بارگاہ خداوندی میں عرض کرتے ہیں:

اَللّٰهم كُنَّا نَتَوَسَّلُ اِلَیْكَ بِنَبِیِّنَا فَتُسْقِیْنَا، وَاِنَّا نَتَوَسَّلُ اِلَیْكَ بِعَمِّ نَبِیِّنَا فَاسْقِنَا(۲۱۸)

”خدا وندا! ہم قحط کے زمانہ میں تیرے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے توسل کرتے تھے اور تو ہمیں سیراب کردیتا تھا ،اور اب پیغمبر کے چچا سے توسل کرتے ہیں، بارِ الہٰا تو ہمیں سیراب فرما“

ایک دوسری روایت کے مطابق، عمر نے لوگوں سے کہا کہ جناب عباس کو خدا کی بارگاہ میں وسیلہ قرار دو، خود ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ اصحاب پیغمبر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں آپ سے توسل کرتے تھے اور آپ کی وفات کے بعد جس طرح آپ سے متوسل ہوتے تھے اسی طرح آپ کے چچاجناب عباس سے بھی توسل کرتے تھے،ابن تیمیہ کا کہنا ہے کہ امام احمد ابن حنبل اپنی دعاؤں میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے متوسل ہوتے تھے، اور امام احمد ابن حنبل کا بھی (ان کے دو نظریوں میں ایک) یھی نظریہ تھاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قسم کہانا اور ان سے توسل کرنا، جائز ہے۔(۲۱۹) یہ اور اس طرح کی بہت سی مثالیں جو اہل سنت کے چار مذاہب کی صحاح ستہ اور دوسری معتبر کتابوں میں موجودہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص)سے توسل کرنا ان سے شفاعت کرنا اورپیغمبر کے علاوہ دوسروں مثلاً آنحضرتکے چچا سے توسل کرنا بھی سلف کی سیرت رہی ہے۔

توسل اور استغاثہ کے بارے میں نَبھانی کا نظریہ

شیخ یوسف نبھانی، سُبکی کا قول نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرمسے توسل اور استغاثہ کرنا اور آپ کو شفیع قرار دینا جائز بلکہ بھتر ہے اور یہ چیز ہر دیندار کو معلوم ہے، اور انبیاء ومرسلین بھی اس پر عمل کیا کرتے تھے، اور اسی طرح سَلف صالح، علمائے کرام اور عوام الناس کی بھی یھی سیرت رہی ہے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے توسل کرنا ہر حال میں جائز ہے، چاہے آپ کی خلقت سے پہلے ہو، یا آپ کی خلقت کے بعد چاہے آپ کی زندگی میں ہو یا آپ کی وفات کے بعد، عالم برزخ میں ہو یا قیامت کے روز۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے توسل یہ ہے کہ انسان خداوندعالم سے اپنی حاجت روائی کے لئے اس کی بارگاہ میں خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یا ان کی عظمت اور بزرگی کو وسیلہ قرار دے، یہ تینوں قسم کا توسل جائز ہے اور ان کے بارے میں صحیح احادیث بیان ہوئی ہیں، اور ان میں کوئی فرق نہیں ہے کہ لفظ توسل استعمال ہو یا لفظ شفاعت یا استغاثہ۔

اس کے بعد نبھانی خود اس سلسلے میں کہتے ہیں کہ وہ تمام مسلمان جو قبور کی زیارت کے لئے جاتے ہیں، اور خدا کے صالح بندوں مخصوصاً انبیائے الٰھی، بالخصوص سردار انبیاء حضرت محمد مصطفی سے استغاثہ کرتے ہیں اگر چہ زیارت اور استغاثہ کرتے وقت ان کی عظمت کو مدنظر رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اس کے باوجود یہ جانتے ہیں کہ وہ خدا کے بندے ہیںجو خود اپنے لئے یا دوسروں کے لئے نفع ونقصان کے مالک نہیں ہیں، لیکن خدا کے سب سے محبوب اور مقرب بندے ہیں جن کو خداوندعالم نے اپنے دین اور شریعت کی تبلیغ کے لئے اپنے اوراپنے بندوں کے درمیان واسطہ قرار دیا ہے، اورخدا کے بندے بھی ان کی نبوت اور ان کی عظمت پر ایمان و عقیدہ رکھتے ہیں اور ان حضرات کوتمام مخلوق میں خدا کا مقرب ترین بندہ تصور کرتے ہوئے ان کو اپنے گناہوں کی بخشش، حاجت کی برآوری کے لئے بارگاہ خداوندی میں وسیلہ اور واسطہ قرار دیتے ہیں۔

زیارت قبر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے سفر کرنا یا آنحضرت سے استغاثہ کرنا تمام علمائے اسلام اور عوام الناس کے نزدیک ضروریات دین میں سے ہے، یہاں تک کہ بعض مالکی علماء کے نزدیک جیسا کہ ابن حجر اور سُبکی سے نقل ہوا ہے کہ جو لوگ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کی زیارت کرنے میں مانع ہوتے تھے ان کو کافر جانتے تھے۔

اور یہ بات کسی پر مخفی نہیں ہے کہ امت محمدی کے تمام علماء (فقھاء، محدثین، متکلمین اور صوفی حضرات)، تمام مذاہب کے خاص وعام قول وفعل سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے توسل، استغاثہ، شفاعت اور طلب حاجت کرنے پر اتفاق رکھتے ہیں، چاہے دنیاوی امور میں ہوں یا اخروی امور میں ، اسی طرح آپ کی زیارت کے سفر کو چاہے نزدیک سے ہو یا دور ترین علاقہ سے ایک مستحب کام سمجھنے پر اتفاق رکھتے ہیں، اور وہ بھی اس طرح کہ ان کی نظر میں زیارت کا مسئلہ ایک ایسی چیز ہے جس کی دین میں ضرورت کو سبھی جانتے ہیں اور کسی پر بھی یہ بات مخفی نہیں ہے، یہاں تک کہ اس کے خلاف ہونے کو تصور تک بھی نہیں کرتے، اورانھوں نے ان سب چیزوں کو قدیم علماء اوربزرگوں سے حاصل کیا ہے اور اس کو افضل ترین عبادتوں میں سے شمار کرتے ہیں، اور اگر کچھ لوگ اس مسئلہ میں مخالفت کرتے ہیں تو ان میں سب سے پہلے ابن تیمیہ اور اس کے چند شاگرد ہیں ،جبکہ ان میں ہر ایک کے مقابلہ میں علماء کی ایک کثیر تعداد موجود ہے جنھوں نے ان کے نظریہ کو باطل اور ردّ کیا ہے، اور صرف یھی کہنا کافی ہے کہ حق اکثر علماء کے ساتھ ہے جس کی پیروی کرنا واجب ہے۔

اگر توسل (جس طرح کہ ابن تیمیہ اور اس کے شاگرد کہتے ہیں) شرک ہوتا تو پھر سَلف صالح اور خَلف امت سے یہ کام صادر نہ ہوتا، جبکہ تمام اصحاب اور سلف صالح آنحضرت سے توسل کرتے تھے، ان میں سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعائیں اس طرح ہیں:

اَللّٰهم اِنِّی اَسْالُكَ بِحَقِّ السَّائِلِیْنَ عَلَیْكَ

اور یہ دعا آشکار اور واضح طور پر توسل کا ایک نمونہ ہے، اورپیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ دعا اپنے اصحاب کو تعلیم دی، اوراس کے پڑھنے کا حکم صادر فرمایا۔

ابن ماجَہ نے صحیح سند کے ساتھ ابو سعید خُدْری سے روایت کی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص گھر سے نماز کے لئے نکلے تو اس دعا کو پڑھے:

اَللّٰهم اِنِّی اَسْالُكَ بِحَقِّ السَّائِلِیْنَ عَلَیْكَ، وَاَسْالُكَ بِحَقِّ مَمْشَایَ هٰذَا اِلَیْكَ فَاِنِّی لَمْ اَخْرُجْ اَشِراً وَلاٰ بَطَراً وَلاٰ رِیَاءً وَلاٰسُمْعَةً، خَرَجْتُ اِتَّقَاءَ سَخَطِكَ وَابْتِغَاءَ رِضَائِكَ فَاسْالُكَ اَنْ تُعِیْذَنی مِنَ النَّارِ، وَاَنْ تَغْفِرَ لی ذُنُوْبی فَاِنَّهُ لاٰ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلاّٰ اَنْتَ“

ترجمہ دعا ”بار الہٰا!میں تجھ سے سوال کرنے والوں کے وسیلہ سے سوال کرتا ہوں، اور تیری راہ میں اٹھنے والے قدموں کو وسیلہ قرارد دیتا ہوں، میں کسی فتنہ وفساد کے لئے نہیں نکلا ہوں بلکہ تیرے غضب سے بچنے کے لئے اور تیری رضا کو حاصل کرنے کے لئے نکلا ہوں، بار الہٰا!تو مجھے آتش جہنم سے محفوظ رکھ اور میرے گناہوں کو بخش دے، کیونکہ تیرے علاوہ میرے گناہوں کو کوئی نہیں بخش سکتا“۔

خداوندعالم اس دعا کے پڑھنے والے پر توجہ کرتا ہے اور اس کے لئے ستر ہزار فرشتے طلب بخشش کرتے ہیں۔

جلال الدین سیوطی نے جامع کبیر میں اور بعض دوسرے علماء کرام نے نقل کیا ہے کہ تمام سَلف صالح جس وقت مسجد میں نماز پڑھنے کے لئے جایا کرتے تھے تو مذکورہ حدیث کو پڑھا کرتے تھے، اوراس حدیث میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ جملہ” بِحَقِّ السَّائِلِیْنَ عَلَیْكَ“ ہر سوال کرنے والے بندہ مومن سے توسل کیا ہے، اس حدیث کو ابن السنّی نے بھی صحیح سند کے ساتھ جناب بلال، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے موذن سے نقل کیا ہے اور حافظ ابو نعیم اور بیہقی نے اپنی کتاب ” دَعَوات“ میں (تھوڑے اختلاف کے ساتھ) بیان کیا ہے۔

توسل کے بارے میں رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک حدیث کو طبرانی نے (جامع)کبیر واوسط میں اور ابن حنّان اورحاکم نے بھی نقل کیاہے، جس کابعض حصہ اس طرح ہے کہ جب فاطمہ بنت اسد (حضرت علی ں)کی مادر گرامی کی وفات ہوئی تو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے لئے اس طرح دعا فرمائی:

اِغْفِرْ لِامِّی فَاطِمَةَ بِنْتِ اَسَدٍ وَ وَسِّعَ عَلَیْها مَدْخَلَها بِحَقِّ نَبِیِّكَ وَالانْبِیَاءِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِی(۲۲۰)

”خداوندا!، میری ماں فاطمہ بنت اسد سے در گذر فرما، اور ان کے لئے قبر کو وسیع فرما،تجھے تیرے پیغمبر کا واسطہ اور ان انبیاء کا واسطہ جو مجھ سے پہلے گذر چکے ہیں۔(۲۲۱)

جب ابن تیمیہ سے یہ سوال کیا گیا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر صلوات ودرود آہستہ بھیجنا بھتر ہے یا بلند آواز میں ؟ اور یہ جو جناب ابن عباس سے مروی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر بلند آواز میں صلوات بھیجی جائے، تو کیا یہ حدیث صحیح ہے ؟ تو اس کے جواب میں ابن تیمیہ نے کہا: مذکورہ حدیث علماء کے نزدیک جھوٹی اور جعلی ہے اور اس سلسلہ میں کوئی بھی حدیث ہو جھوٹی ہے، کیونکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر صلوات بھیجنا دعا اور ذکر کی منزل میں ہے اور دعا و ذکر آہستہ اور خفی آواز میں ہونا چاہئے۔(۲۲۲)

۱۸۔ قبور کے پاس مسجد بنانا اور قرآن مجید رکھنا

ابن تیمیہ کے فتووں میں سے ایک فتویٰ یہ بھی ہے کہ جہاں قبر ہو وہاں پر مسجد بنانا جائز نہیں ہے، اسی طرح مسجد میں کسی میت کو دفن کرنا بھی جائز نہیں ہے، اور اگر پہلے سے کسی مسجد میں میت دفن ہوئی ہو تو اس قبر کو توڑ کر زمین کے برابر کردینا چاہئے (تاکہ اس کا نام ونشان باقی نہ رہے) اور اگر مسجد میں کوئی تازہ میت دفن ہو تو اس قبر کو کھول کر اس میت کو نکال لیا جائے، نیز اگر کوئی مسجد میت دفن ہونے کے بعد بنائی جائے تو یا تو مسجد کو گراکر ختم کردیا جائے یا قبر کی شکل کو ختم کردیا جائے، اسی طرح اگر قبر کے نزدیک کوئی مسجد بنائی جائے تو نہ اس میں واجب نماز پڑھی جاسکتی ہے اور نہ ہی مستحب نماز(۲۲۳)

قبور کے نزدیک تلاوت کی غرض سے قرآن رکھنا ایک بری بدعت ہے، کیونکہ سلف صالح کے درمیان ایسی کوئی بات نہیں ملتی، اور یہ بھی قبور کے نزدیک مسجد بنانے کے حکم میں ہے ۔(۲۲۴)

۱۹۔ ہر نئی چیز بدعت ہے

ابن تیمیہ اس حدیث سے تمسک کرتے ہیں جس کا مضمون یہ ہے کہ ہر نئی چیز سے پرہیز کرو کیونکہ ہر نئی چیز بدعت ہے، اورہر بدعت گمراہی ہے، چنانچہ اس حدیث کے ضمن میں کہتا ہے کہ سلف صالح دینی امور میں کہ یہ عمل واجب ہے یا مستحب یا مباح، اس وقت تک کچھ نہیں کہتے تھے جب تک قرآن وسنت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کوئی دلیل شرعی نہ مل جائے۔(۲۲۵)

خلاصہ یہ کہ ابن تیمیہ کے فتووں میں کسی چیز کے بدعت ہونے کی دلیل یہ ہے کہ وہ کام پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں نہیں تھا یا اس پر سلف صالح نے عمل نہیں کیا ہے مثلاً نماز کے لئے مصلّیٰ بچھانا، یا نماز کے بعد امام اورماموم کا باہم دعا کرنا،(۲۲۶) اور اسی طرح کی دوسری بہت سی چیزیں ہیںجن سے اس کی کتاب الفتاوی الکبری کی پانچ جلد یںبھری پڑی ہیں۔

ابن تیمیہ کی نظر میں ھر اس چیزکہ جس پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں عمل نہیں ہوابدعت ہونے کی ایک دوسری دلیل یہ ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس دنیا سے نہیں گئے مگر یہ اپنی امت کے لئے اپنے دین کو مکمل طور پر بیان کردیا اور سب کام کو عملی کرکے دکھادیا،(۲۲۷)

۲۰۔ ابن تیمیہ کے عقائد پر ایک کلی نظر

وہابیوں کے مشہور ومعروف مولف حافظ وَھبہ نے ابن تیمیہ کے عقائد کا چارا مور میں خلاصہ کیا ہے:

۱۔ کتاب خدا اور سنت نبوی کی طرف رجوع، اورصفات خدا سے متعلق آیات اور احادیث کو سمجھنے کے لئے سلف صالح (صحابہ پیغمبر اور تابعین)کی پیروی، اور فلاسفہ، متکلمین اور صوفیوں کے راستہ پر نہ چلنا، کیونکہ ان کا راستہ سلف صالح کے موافق نہیں ہے۔

۲۔ منکرات اور بدعتوں سے مقابلہ اور جنگ، خصوصاً ان چیزوں سے جو موجب شرک بنتی ہیں، مثلاً قبر پر ھاتھ رکھنا، یا قبور کے نزدیک نماز پڑھنا، اسی طرح مردوں سے حاحت طلب کرنا اور غیر خدا سے مدد طلب کرنا ،یا بعض درختوں اورپتھروں کو متبرک سمجھنا جن سے بعض لوگ خیر وشر کی امید رکھتے ہیں۔

۳۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں مبالغہ اورغلو نہ کرنا، اور صرف آنحضرت کی راہنمائیوں کی پیروی کرنا۔

۴۔ اس کااعتقاد رکھناکہ اجتھاد کے دروازے کھلے ہوئے ہیں، اور متعصب مقلدوں سے اعلان جنگ کرنا۔

یہ چند چیزیں ابن تیمیہ کے عقائد کو تشکیل دیتی ہیں، جن کے تحقق کے لئے وہ زندگی بھر کوشش میں رہا، یہ ابن تیمیہ کے وھی عقائد ہیں جن کی طرف محمد بن عبد الوہاب نے نجد میں دعوت دینا شروع کی۔(۲۲۸)

جن لوگوں نے ابن تیمیہ کے راستہ کو اپنایا ہے

خود ابن تیمیہ کے زمانہ میں بعض لوگ اس کی طرفداری کیاکرتے تھے، جن میں سے چند علماء (خصوصاً حنبلی علماء) اس کے ہم عقیدہ تھے اور ابن تیمیہ کی مدح وستائش کیا کرتے تھے ان میں سے بعض اس کے شاگرد بھی تھے جنھوں نے اس کی زندگی اور اس کی موت کے بعد اس کے عقائد کو نشر کرنے کی کوشش کی، اور اپنے استاد کے نظریات اور افکار کو اپنی کتابوں اور رسالوں میں لکھا، جن میں سب سے مشہور ومعروف شمس الدین محمد ابن ابوبکر حنبلی، مشہور بہ ابن قیّم جوزی (متوفی۷۵۱ھ) تھا،کہ اس کتاب میں ابن تیمیہ کے عقائد کے نقل کے ضمن میں مکرر ان کی کتابوںکی طرف استناد کیا گیا ہے،ان ہی شاگردوں میں سے ایک دوسرے شمس الدین محمد معروف بہ عماد (متوفی۷۴۴ھ)بھی ہے۔

متاخرین میں دو لوگوں نے سب سے زیادہ اس کے عقائد اور افکار کو پھیلانے کی کوشش کی ہے، جن میں سے پہلے محمد بن عبد الوہاب، فرقہ وہابی کا بانی ہے جس کے بارے میں ہم اسی کتاب کے آئندہ صفحات میں گفتگو کریں گے۔

دوسرے محمد بن علی شَوکانی ہے ،اس کے حالات ونظریات کو اسی جگہ مختصر طور پر بیان کردینا مناسب ہے:

محمد بن علی شوکانی صَنعانی

شوکانی نے اپنی اور اپنے باپ کی سوانح حیات ”البدر الطالع“(۲۲۹) نامی کتاب میں لکھی ہے کتاب ”نیل الاوطار“ میں بھی ان کے حالات زندگی بیان کئے گئے ہیں، ہم یہاں پر دونوں کتابوں سے اقتباس کرتے ہوئے ان کی زندگی کے حالات مختصر طور پربیان کرتے ہیں، اور نیل الاوطار ،اورارشاد الفُحول کتابوں سے اس کے عقائد کے چند نمونے پیش کرتے ہیں:

شوکانی، شوکان نامی دیھات کی طرف منسوب ہے جو یمن کے پایہ تخت ”صنعاء “کے نزدیک ہے، اس کی پیدائش ذیقعدہ۱۱۷۳ھ میں ہوئی، صنعا شھر میں چند اساتید کے پاس قرآن کی تعلیم حاصل کی اس کے بعد چند کتابوں منجملہ کافیہ وشافیہ ابن حاجب، اور تہذیب وتلخیص تفتازانی وغیرہ حفظ کرنے میں مشغول ہوا۔(۲۳۰)

شوکانی جس وقت سے مکتب میں تھا اسی وقت سے تاریخی و ادبی کتابیںپڑھنے کا بہت شوقین تھا،چنانچہ اس نے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد مزید علم حاصل کرنے کی ٹھان لی، اور یمن کے چند مشہور اساتید منجملہ اپنے باپ کے سامنے زانوئے ادب تہ کیا اوران سے اصول وفقہ، نحو اور دوسرے علوم حاصل کرنے میں مشغول ہوا، (چنانچہ اس نے اپنے استادوں کے نام اور جن سے جو جو کتابیں پڑھی ہیں کاایک ایک کرکے ذکر کیا ہے)

وہ جس وقت مختلف علوم کو حاصل کرنے میں مشغول تھا انھیں کتابوں کو دوسرے طلباء کو پڑھاتا بھی تھا، جس کی بناپربھت جلد ہی فتوی دینا شروع کردیا، اور صنعاء اور دوسرے شھروں سے جو استفتاء ات ہوتے تھے ان کے جوابات دیتا تھا، اس وقت اس کی عمر بیس سال تھی۔ اورجب تیس سال کی عمر ہوگئی تو دوسروں کی تقلید کرنا بالکل چھوڑ دی کیونکہ وہ مکمل طور پر مجتہد ہوگیا تھا۔ چند سال تک شھر صنعاء کے قاضی شھر بھی رہا اور بہت سے کتابیں بھی لکھی ہیںجن کو خود موصوف نے البد ر الطالع میں ذکر کیا ہے، آخر کار اس نے ایک قول کے مطابق۱۲۵۰ھ اور ایک قول کے مطابق۱۲۵۵ھ میں انتقال کیا۔(۲۳۱)

شوکانی کا مذہب اور اس کا عقیدہ

شوکانی نے سب سے پہلے فقہ کی تعلیم زیدیہ مذہب کے مطابق حاصل کی اور اسی کے مطابق کتاب بھی تالیف کی، اور فتوے بھی دئےے، یہاں تک رہبری کی منزل تک پہونچ گئے، اور حدیث میں اپنے زمانہ کے علماء پر برتری اور افضلیت حاصل کی، یہاں تک کہ تقلید کی قید سے رہائی حاصل کی، یعنی درجہ اجتھاد تک پہنچے، لیکن ان کے جو فتوے ہوتے تھے اس زمانہ کے علماء ان کی مخالفت کرتے تھے، ان کا عقیدہ سلف صالح کا عقیدہ تھا، یعنی خدا وندعالم کے قرآن اوراحادیث میں وارد ہونے والے صفات کوظاہر پر حمل کرتے تھے، اور (ان کی) تاویل کی مخالفت کرتے تھے، انھوں نے سلف صالح کے سلسلہ میں ایک رسالہ ”اَلتُّحْف بِمذہبِ السَّلَفَ“ نام سے بھی لکھا، جو چھپ بھی چکا ہے۔(۲۳۲)

شوکانی کے تفصیلی فتوے اس کی مشہور ومعروف کتاب نیل الاوطار میں بیان ہوئے ہیں، ان میں سے ایک فتویٰ یہ ہے کہ تارک الصلوٰة ،چاہے ترک صلوٰة کو مباح جانے یا نہ جانے، کافر ہے اور اس کو قتل کرنا واجب ہے۔(۲۳۳)

شوکانی کے عقائد کے چند نمونے

۱۔ قرآن واحادیث میں مجاز:

جمہور کا یہ نظریہ ہے کہ عربی زبان میں مجاز(یعنی وہ لفظ جس کا استعمال غیرحقیقی معنی میں ہوتا ہے اور قرینہ کے بغیر اس کے معنی سمجھ میں نہیں آتے) کا استعمال ہوتا ہےاسی طرح یہ قرآن مجید میں بھی موجود ہے، اور جس طرح قرآن مجید میں مجاز کا استعمال بہت زیادہ ہواہے اسی طرح احادیث میں بھی مجاز کافی استعمال ہوا ہے۔(۲۳۴)

۲۔ تاویل :

اکثر فروع میں تاویل کا وجود پایا جاتا ہے، لیکن اصول عقائد اور صفات خدا میں تاویل کے سلسلہ میں تین قول ہیں:

پہلا قول: یہ ہے کہ ان چیزوں میں تاویل ممکن نہیں ہے اور بغیر کسی تاویل کے ظاہر پر حمل کیا جائے، یہ قول ”مُشَبِّہَہ“ کا ہے(۲۳۵)

دوسرا قول :یہ ہے کہ یہ چیزیں تاویل رکھتی ہیں لیکن ہمیں چاہئے کہ ان تاویلوں سے پرہیز کریں، تشبیہ یا تعطیل کا عقیدہ رکھے بغیر، کیونکہ خداوندعالم نے فرمایا ہے :( وَمَا یَعْلَمُ تَاوِیْلَهُ اِلاّٰ اللّٰهُ ) (۲۳۵) یعنی خدا کے علاوہ کوئی دوسرا تاویل نہیں جانتا۔

ابن برہان نے کہا کہ یھی قول سلف صالح کا بھی ہے، چنانچہ شوکانی نے اپنا نظریہ ذکر کیا اور سلف صالح کے راستہ کو اپنایا، یعنی تاویل کا وجود ہے لیکن ہم اس سے پرہیز کرتے ہیں۔(۲۳۷)

شوکانی کا مطلب یہ ہے کہ ظاہر آیات کی بناپر خدا کو دیکھا جاسکتا ہے، یا چند دوسری آیات کے پیش نظر خدا کو آنکھ، کان،ھاتھ اورچھرے والا مانا جاسکتاہے۔

تیسرا قول:یہ ہے کہ مذکورہ امور میں تاویل ہوسکتی ہے، ابن برہان کے قول کے مطابق ان تینوں اقوال میں سے پہلا قول باطل ہے اور دوسرے دو قول اصحاب سے نقل ہوئے ہیں، اور تیسرا قول (تاویل کو قبول کرنا) حضرت علی، ابن عباس اور ابن مسعود اور ام سلمیٰ سے نقل ہوا ہے۔

۳۔ اباحت کی اصل:

(۲۳۸) شوکانی صاحب نے بعض شافعی علماء اورمحمد ابن عبد اللہ بن عبد حکم نیزبعض متاخرین سے اصل اباحت کو نقل کیا ہے، اور علمائے جمہور سے اصل منع کو نقل کیا ہے، لیکن خوداپنے استدلال کے ذریعہ اصل اباحت کو قبول کیا ہے۔

۴۔ قبور کے بارے میں :شوکانی نے ابن تیمیہ کے دادا مَجْد الدین عبد السلام بن عبد اللہ حرانی معروف بہ ابن تیمیہ کی ”منتقی الاخبار “ نامی کتاب کی شرح ”نیل الاوطار“ میں قبور کے بارے میں وھی سب کچھ کہا ہے جو ابن تیمیہ نے اس سے پہلے کہا تھا، لیکن اس سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ، اور اپنے زمانہ کے علماء پر اعتراض کرتے ہوئے کہ یہ لوگ زیارت قبور سے منع کیوں نہیں کرتے اور بے توجھی کا شکار ہیں؟!

موصوف کا زیارت قبور کے سلسلہ میں کہنا ہے کہ جاہل عوام قبور کے بارے میں وھی عقیدہ رکھتے ہیں جو بت پرست لوگ بتوں کے بارے میں رکھتے ہیں، اور ان کو بتوں کی طرح نفع ونقصان پہنچانے والا مانتے ہیں، ان لوگوں نے قبور کو اپنا مقصد اور اپنی حاجات روائی کا مرکز بنارکھا ہے۔ یہ لوگ قبور سے وھی طلب کرتے ہیں جو خدا کے بندے خدا سے طلب کرتے ہیں، یہ لوگ قبور کی زیارت کے لئے سفر کرتے ہیں اور قبور کی مٹی تبرک کے طور پر لے جاتے ہیں اور ان سے استغاثہ کرتے ہیں۔

اس موقع پر شوکانی صاحب افسوس کے ساتھ کہتے ہیں کہ کوئی نہیں جو خدا کے لئے ان لوگوںکوڈرائے اور دینی غیرت کو کام میں لائے کہ ان کو ان برے اور کفر آمیز اعمال سے روکے، نہ کوئی عالم ہے نہ کوئی استاد، نہ کوئی شاگردہے، نہ کوئی حاکم اور امیر، نہ کوئی سلطان ہے اورنہ کوئی وزیر!

بعض مطمئن لوگوں نے ہم کو خبر دی ہے کہ بعض قبور کی زیارت کرنے والے افراد اگر ان کو کسی جگہ قسم کہانی پڑے تو خدا کی جھوٹی قسم کہالیتے ہیں لیکن اگر ان سے کہا جائے کہ تم اپنے پیر اورمرشد یا جس پر اعتقاد رکھتے ہو ان کی قسم کہاؤ تو ان کی قسم کہانے کے لئے تیار نہیں ہوتے، اور مجبوراً حق بات کا اعتراف کرلیتے ہیں ۔

اوریہ اس بات کی واضح و روشن دلیل ہے کہ ان کا شرک ان مشرکین سے بھی زیادہ ہے جو خدا کو”ثانی اثنین یا ثالث ثلاثه(۲۳۹) (دو میں سے دوسرا یا تین میں سے تیسرا)مانتے ہیں۔

اس کے بعد شوکانی جی! علماء اورمسلم بادشاہوں سے خطاب فرماتے ہیں: دین کے لئے کفر سے زیادہ بڑی مصیبت اور کیا ہوگی اور غیر خدا کی پوجا سے بڑھ کر آفت کیا ہوگی،؟ ممکن ہے بعض مسلمان ان مصیبتوں میں پھنس جائیں تو پھریہ عالم اسلام پر سب سے بڑی مصیبت کا وقت ہوگا، اس موقع پر شوکانی صاحب اپنے آپ سے خطاب کرتے ہوئے ان اشعار کو پڑھتے ہیں:

”لَقَدْ اَسْمَعْتَ لَوْ نَادَیْتَ حَیًّا وَلٰكِنْ لاٰحَیَاةَ لِمَنْ تُنَادِی.

وَلَوْ نَاراً نَفَخْتَ بِها اَضَاتْ وَلٰكِنْ اَنْتَ تَنْفَخُ فِی رَمَادٍ“(۲۴۰)

”اگر تم اپنی آواز زندہ تک پہونچانے کی کوشش کرتے تو وہ آواز سن لیتے، لیکن تم جن کو پکار رہے ہو، وہ زندہ نہیں ہیں“

”جس وقت آگ کو پھونکتے ہیںتووہ نور اورروشنی دیتی ہے، لیکن تم تو مٹی اور خاکستر میں پھونک مار رہے ہو، (تو نور اور روشنی کیسے ملے گی؟!) “

قارئین کرام! یہ تھے شوکانی صاحب کے نظریات جن کو آپ نے ملاحظہ فرمایا،لیکن افسوس کہ شوکانی صاحب نے یہ وضاحت نہیں کی کہ جو لوگ خدا کی جھوٹی قسم کہاتے ہیں اور جس پر وہ اعتقاد رکھتے ہیں ان کی جھوٹی قسم نہیں کہاتے، یا وہ جو بتوں کی طرح قبور کی پوجا کرتے ہیں اور خدا کی طرف توجہ کرنے کے بجائے قبور سے طلب حاجت کرتے ہیںاور ان کو نفع ونقصان پہونچانے میں مستقل تصور کرتے ہیں، یہ لوگ کون ہیں اور کہاں رہتے ہیں؟۔

____________________

۵۷. فتح المجید ص ۱۵،۱۶۔

۵۸. التوسل بالنبی ص ۲۰ ۔

۵۹. کتاب الرد علی الاخنائی تالیف ابن تیمیہ ص ۱۸،۲۱۔

۶۰. کتاب الرد علی الاخنائی تالیف ابن تیمیہ ص ۵۲۔

۶۱. کتاب الرد علی الاخنائی تالیف ابن تیمیہ ص ۵۶۔

۶۲. کتاب الرد علی الاخنائی تالیف ابن تیمیہ ص ۵۹۔

۶۳. کتاب الرد علی الاخنائی تالیف ابن تیمیہ ص ۶۱،۶۷۔

۶۴. فتاویٰ الکبریٰ جلد اول ص ۳۶۶، سعود بن عبد العزیز نجد کے مشہور بادشاہ (متوفی۱۲۲۹) نے ہر علاوہ میں امام جماعت مقرر کئے تھے، البتہ یہ امام جماعت دوم تھے یعنی اگر کوئی کسی عذر کی وجہ سے پہلی جماعت میں شریک نہ ہوسکے تو اس دوسرے امام کی اقتداء کرے، یعنی ہر حال میں نماز جماعت میں شرکت کرے، (ابن بشر جلد اول ص ۱۶۹) اسی طرح آل سعودمیں سے ترکی نامی حاکم نے بھی ہر مسجد میں دو امام جماعت مقرر کئے تھے جن میں سے پہلا عام نماز جماعت کے لئے ہوتا تھا اور دوسرا ان لوگوں کے لئے جو کام وغیرہ کی وجہ سے اول وقت نماز جماعت میں شریک نہ ہوسکیں، اس کا مطلب یہ تھا کہ کوئی انسان بھی نماز کو فرادیٰ نہ پڑھے اور سب کے سب نماز با جماعت پڑھیں۔

۶۵. البد رالطالع ج۲ ص ۶۔

۶۶. ابن الندیم ص ۲۸۰،ابن خلکان ج۳ ص۲۵۸۔

۶۷. صفدی ج ۶ ص ۳۶۸۔

۶۸. الاسلام عقیدة وشریعة ص ۹۴۔

۶۹. کتاب الایمان ص ۲۹۳۔

۷۰. السیاسة الشرعیہ ص ۱۲۹۔

۷۱. مجموعة الرسائل (الوصیة الکبریٰ) جلد اول ص ۳۲۱۔

۷۲. فتح المجید ص ۱۶۳۔

۷۳. حاج خلیفہ نے کتاب کا نام ”منھاج الاستقامہ“ لکھا ہے، (کشف الظنون ج۲ ص۱۸۷۰) لیکن حقیقت یہ ہے کہ منھاج الکرامہ صحیح ہے، اورخود علامہ حلی نے مقدمہ میں فرمایا ہے : ”سمیتھا منھاجالکرامة فی معرفة الامامة“ حاج خلیفہ نے ابن تیمیہ کی کتاب منھاج السنة کی گفتگو کرتے ہوئے اس کتاب کا نام ”منھاج الکرامة“ بیان کیا ہے۔

۷۴. سورہ انعام آیت ۱۰۳۔

۷۵. منھاج السنہ ج۲ ص ۲۴۰تا۲۷۸،اورالفتاوی الکبری ج۵ ص ۵۴۔

۷۶. سورہ طٰہ آیت۵۔

۷۷. رسالة العقیدة الحمویہ، مجموعة الرسائل کے ضمن میں جلد اول ص ۴۲۹ اوراس کے بعد۔

۷۸. سورہ قیامة آیت ۲۲،۲۳۔

۷۹. سورہ بقرہ آیت ۲۲۳۔

۸۰. سورہ احزاب آیت ۴۴۔

۸۱. سورہ کہف آیت ۱۱۰۔

۸۲. توضیح المقاصد ج۲ ص ۵۷۳۔

۸۳. توضیح المقاصد ج۲ ص ۵۸۲۔

۸۴. الاسئلة والاجوبة الاصولیة علی العقیدة الواسطیہ، ص ۱۹۸۔

۸۵. منھاج السنة ج۲ ص ۱۰۶۔

۸۶. جس سے اس کا مرکب ہونا لازم آتا ہے اور مرکب اپنے اجزاء کا محتاج ہوتا ہے، لہٰذا خداوندعالم جسم رکھنے میں اپنے دوسرے اعضاء کا محتاج ہوا، اور جو محتاج ہو وہ خدا نہیں ہوسکتا، کیونکہ محتاج ہونا بندہ کی صفت ہے خدا کی نھیں، اس کی صفت تو بے نیاز ی ہے،مترجم)

۸۷. سورہ انعام آیت ۱۰۳۔ منھاج الکرامہ ص ۸۲(درمقدمہ جلد اول منھاج السنہ)

۸۸. شرح تجریدالا عتقاد ص ۲۸۱

۸۹. لمع الادلہ فی عقائد اہل السنة والجماعة، تالیف امام الحرمین ص ۹۴، ۹۵، امام الحرمین کی بات تمام علماء کے لئے حجت ہے۔

۹۰. مقالات الاسلامین ابو الحسن اشعری ص۲۳۳،۲۷۱،۲۹۰،۳۴۰۔ ابن تیمیہ نے خدا کے دیدار کے بارے میں چند رسالے بھی لکھے ہیں،(ابن شاکر جلد اول ص ۷۹

۹۱. ابن تیمیہ کا بیان ہے کہ خداوندعالم آسمانوں کے اوپر رہتا ہے ،(العقیدة الحمویة الکبریٰ درضمن مجموعة الرسائل جلد اول ص ۴۲۹)اور آسمان دنیا (آسمان اول پر) نیچے آتا ہے ۔ وہ اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ خداوند عالم آسمانوں پر رہتا ہے اور عرش پر مستقر ہے (بطور حقیقی اوربغیر کسی تاویل وتفسیر کے) اور اس چیز کا جواب دیتے ہوئے کہ خدا کے صفات کو کس طرح ظاہر پر حمل کیا جاسکتا ہے، جبکہ وہ تشبیہ کا بھی منکر ہے اور اس کا بھی قائل ہے کہ عورتیں بھی بہشت میں خداوندعالم کا دیدار کریں گی، اس نے اسی طرح کے مسائل پر چند رسالے تحریر کئے ہیں۔ (صفدی ج۷ص۲۵)

۹۲. رحلہ ابن بطوطہ جلد اول ص ۵۷،یہ تھی ابن بطوطہ کی باتیں، لیکن شیخ محمد بہجت البیطار ابن بطوطہ کی ان باتوں کا انکار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس وقت ابن بطوطہ دمشق میں تھا ابن تیمیہ زندان میں تھا(حیاة ابن تیمیہ ص ۳۶)لیکن یہ بات مسلم ہے کہ ابن بطوطہ ۷۲۶ھ میں دمشق میں وارد ہوا ہے اور ابن تیمیہ اسی سال قید ہواہے اور ممکن ہے کہ ابن بطوطہ نے جو باتیں نقل کی ہیں ابن تیمیہ کے قید ہونے کے بعد کی ہوں۔

۹۳. العقیدة الواسطیہ، مجموعہ الرسائل الکبریٰ جلد اول ص ۳۹۸۔

۹۴. منھاج السنہ ج۲ ص ۳۰۸،۳۱۱۔

۹۵. ابن شاکر جلد اول ص ۷۹، اس موقع پر ابن تیمیہ کی اس بات کو نقل کر ضروری ہے کہ، موصوف فرماتے ہیں کہ وہ جناب خضر جن کو حضرت موسیٰ ںکی مصاحبت ملی وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت سے قبل وفات پاچکے تھے،کیونکہ اگر زندہ ہوتے تو ان کو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونا ضروری تھا، (مجموعہ الرسائل ج۲ص۶۶)،جبکہ صفدی کے مطابق جناب خضر نے احمد ابن حنبل (تیسری صدی کا درمیانی زمانہ) کے پاس ایک شخص کے ذریعہ پیغام پہونچایاتھا۔ (الوافی بالوفیات ج۶ص ۳۶۴)

۹۶. کتاب الرد علی الاخنائی ص ۲۷،۲۸۔

۹۷. الجواب الباہر، تالیف ابن تیمیہ ،ص۵۰۔

۹۸. الجواب الباہر ص ۵۴،۵۵۔

۹۹. الرد علی الاخنائی ص ۵۴۔ یہاں پر اس نکتہ کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ وہابیوں کے عقائد کی شرح کرتے ہوئے ان احادیث کا ذکر آئے گا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر منور کی زیارت اور آپ کی وفات کے بعد آپ کی حیات طیبہ اور آپ کے علم سے متعلق ہیں ۔

۱۰۰. کتاب الرد علی الاخنائی ص ۷۷۔

۱۰۱. درحالیکہ اہل سنت کے نزدیک احادیث کی صحیح ترین کتاب صحیح بخاری کے مولف نے خود فرمایا ہے کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر مطھر کے پاس بیٹھ کر تاریخ لکھی ہے۔ (ابو الفداء جلد ۲ص ۶۱)

۱۰۲. فاسی، شفاء الغرام(ج۲ ص ۳۹۱) میں تحریر ہے: آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبرکا فرش لال سنگریزوں سے تھا۔ شوکانی کہتے ہیں: علماء کہتے ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس وجہ سے کہ کہیں ان کی یا کسی دوسرے کی قبر کو مسجد کانہ قرار نہ دیں لوگوں کو منع فرمایا ہے کہ کہیں لوگ آپ کی تعظیم میں مبالغہ کی وجہ سے کفر میں مبتلا نہ ہوجائیں، اور کہیں یہ تعظیم گذشتہ امتوں کی طرح باعث گمراہی و ضلالت نہ ہوجائے۔ (نیل الاوطار ج۲ ص ۱۳۹)

۱۰۳. فاسی، اسی طرح کہتے ہیں کہ حضرت عائشہ کے زمانہ میں لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کی مٹی تبرک کے طور پر اٹھالیتے تھے، (شفاء الغرام ج۲ص ۳۹۱)

۱۰۴. دروازے کے بند ہونے کی علت کے بارے میں سمہودی کہتے ہیں: امام حسن ابن علی ں نے چونکہ وصیت کی تھی کہ ان کے جنازے کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کے پاس دفن کریںاور جب امام حسنں کا انتقال ہوا، اور امام حسینں نےاپنے بھائی کی وصیت کے مطابق عمل کرنا چاہا تو ایک گروہ اس کام میں مانع ہوا، اور امام حسینں سے جنگ کی، اسی وجہ سے عبد الملک بن مروان (یا کسی دوسرے خلیفہ) کے حکم سے اس حجرہ کو چاروں طرف سے بند کردیا گیا، (وفاء الوفاء جلد اول ص ۳۸۸) لیکن امام حسنں کی شھادت اور خلافت عبد الملک کے درمیان جو فاصلہ ہے اس کے پیش نظر دروازہ کے بند ہونے کی یہ وجہ معلوم نہیں کہ صحیح بھی ہو، مگر یہ کہ دروازہ کو معاویہ کے حکم سے بند کیا گیا ہو۔

۱۰۵. الجواب الباہر فی زوّار المقابر تالیف ابن تیمیہ ص ۱۰- ۱۳.

۱۰۶. تاریخ طبری ج۴ ص ۲۱۳۱(حلقہ اول)

۱۰۷. شفاء الغرام ج۲ ص۳۹۱۔

۱۰۸. شفاء الغرام ج۲ ص۳۹۳۔

۱۰۹. وفاء الوفاء باخبار دار المصطفیٰ ج۱ص ۴۰۸۔

۱۱۰. آگ لگنے کی تفصیل وفاء الوفا جلد اول ص ۴۲۷ میں موجود ہے۔

۱۱۱. رحلہ ابن جبیر ص ۱۴۸ اوراس کے بعد۔

۱۱۲. وفاء الوفاء جلد اول ص ۴۱۵۔

۱۱۳. وفاء الوفا ء بہ اخبار دار المصطفیٰ جلد اول ص ۴۱۶۔

۱۱۴. وفاء الوفاء جلد اول ص ۴۲۲۔

۱۱۵. وفاء الوفاء جلد اول ص ۴۲۴، آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر مطھر کی پوشش کے بارے میں یہ کہا قابل ذکرہے کہ اس وقت بھی آپ کی قبر مطھر پر ایک ضخیم (بھاری)کپڑا پڑا ہوا ہے، جس کو ضریح مبارک کی جالیوں سے دیکھا جاسکتا ہے ،گویا ملک سعود کے زمانہ سے دس پندرہ سال پہلے سے ہی یہ چادرپڑی ہوئی تھی

۱۱۶. ابن کثیر البدایة والنھایہ ۳۸۔ ج۱۴ ص

۱۱۷. وفاء الوفاء جلد اول ص ۴۳۵۔

۱۱۸. وفاء الوفاء جلد اول ص ۴۴۱، اس وقت بھی روضہ مطھر کے دروازے بند ہیں اور صرف روضہ مبارک کی جالی نما چاروں طرف کی دیواروں کے ذریعہ اندر دیکھا جاسکتا ہے، لیکن چونکہ اندر اندہیرا ہے لہٰذا بہت ہی کم دکھائی پڑتا ہے۔

۱۱۹. نیل الاوطار ج۲ص۱۴۰۔

۱۲۰. وفاء الوفاء جلد اول ص ۴۷۲، فتاوی الکبریٰ ج۲ ص ۳۳۔

۱۲۱. وفاء الوفاء جلد اول ص ۳۸۵۔

۱۲۲. وفاء الوفاء ج۲ ص ۱۴۰۲ سے۔

۱۲۴. کتاب الرد علی الاخنائی ص ۹۹۔

۱۲۵. ابن قیم جوزی ،(ابن تیمیہ کا مشہور ومعروف شاگرد) کہتا ہے:قبور کے پاس نماز میت کے علاوہ دوسری نمازیں پڑھنا ممنوع ہے اور جائز نہیں ہے۔ (اعلام الموقعین ج۲ص ۳۴۷)

۱۲۷. الرد علی الاخنائی ص ۱۴۵

۱۲۸. کتاب الجواب الباہر ابن تیمیہ کا ص ۱۴ سے ۱۹ تک کا خلاصہ۔

۱۲۹. کتاب الرد علی الاخنائی ص ۱۳۔

۱۳۱. کتاب الرد علی الاخنائی ص ۱۵۵۔ بعد میں زیارت کے سلسلہ میں مسند احمد حنبل میں ذکر شدہ روایات کی طرف اشارہ کیا جائے گا۔

۱۳۲. مجموعة الرسائل الکبریٰ ج۲ ص۵۹۔

۱۳۳. کتاب الردّ علی الاخنائی، ص ۸، ۳۴، ۱۳۱۔

۱۳۴. ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ اجماع سے میری مراد مخالف پر علم نہ ہونا ہے نہ یہ کہ مخالف کی بالکل نفی کرنا۔ (الرد علی الاخنائی ص ۱۹۵)

۱۳۵. فوات الوفیات جلد اول ص ۷۴۔

۱۳۶. الغدیر، ج۵ ص ۱۸۴

۱۳۷. راحة الصدور ص ۳۹۴، غزنویوں اور سلجوقیوں کے زمانہ میں شیعوں کو دشمنی کی وجہ سے عدالتی محکمہ میں نہیں رکھا جاتا تھا اور ان کو آل بویہ کی حکومت میں کسی عہدہ پر رکھنا گناہ سمجھا جاتا تھا، اس سلسلے میں کتاب آل بویہ اور تاریخ مذہبی قم میں تفصیل کے ساتھ واقعات موجود ہیں۔

۱۳۸. جولة فی ربوع شرق الادنی (مذکورہ مورخ کے سفر ناموں میں سے ایک سفر نامہ) ص ۱۶۱۔

۱۳۹. ممکن ہے کہ ابن تیمیہ کی شیعوں سے شدید دشمنی کی ایک وجہ یہ بھی ہو کہ ابن تیمیہ چونکہ ”دروزیوں“ (اسماعیلیوں کا ایک غلو کرنے والا فرقہ)کا سخت دشمن تھا، اور اس فرقہ کو شیعہ فرقوں میں شمار کرتا تھا، اور ”قلقشندی“(صبح الاعشی ج۱۳ ص۲۴۸) کے کہنے کے مطابق دروزیوں اور نصیروں سے جنگ کرنا ”اَرْمنیوں“ سے جنگ کرنے سے بھی زیادہ واجب ہے،ابن تیمیہ اور اس کے مریدوں کا گمان یہ تھا کہ دروزیوں نے شام ومصر پر مغلوں کے حملوں میں ان کا ساتھ دیا ہے لہٰذا وہ مغلوں کے ہمراہ و ہمراز ہیں۔ ابن تیمیہ نے نصیروں سے جنگ کے بارے میں تفصیلی فتویٰ صادر کیا ہے(الفتاوی الکبریٰ جلد اول ص۳۵۸)، اور جیسا کہ معلوم ہے کہ ابن تیمیہ کے زمانہ میں نصیریوں نے قدرت حاصل کرلی تھی اور اپنے عقائد ونظریات کو کھلے عام لوگوں کے سامنے بیان کرتے تھے، چنانچہ مشہور مورخ ذھبی نے۷۱۷ھ کے واقعات میں اس طرح لکھا کہ ایک جبلی شخص (حلب کے علاقہ جَبَلہ کی طرف منسوب) ظاہر ہوا جو کبھی یہ کہتا تھا کہ میں محمد مصطفی ہوں، اور کبھی یہ کہتا تھا کہ میں علی ہوں، یہاں تک کہ کبھی یہ دعویٰ کرتا تھا کہ میں امام منتظرہوں، اور وہ تمام لوگوں کو کافر سمجھتا تھا، اور اس کے مرید کہتے تھے ”لا الہ الا علی“ اور لوگوں کا خون بھانا حلال سمجھتے تھے،نیز اسی طرح کی دوسری چیزیں اس سے صادر ہوتی تھیں، (ذیل العبر ص ۹۱) چنانچہابن تیمیہ نے ان تمام کاموں کو شیعوں کے کہاتے میں شمار کیاہے۔

۱۴۰. یہاں پر یہ کہناچاہئے کہ ابن تیمیہ چونکہ شیعوں سے بہت دشمنی اور عناد رکھتا تھااسی وجہ اس نے اپنی کتابوں میں شیعوں کے اصولی عقائد(حقیقی معنی میں ) کو بیان کرنے کے بجائے ہر ان باطل عقائد اور کفر آور باتوں کو ان ملل ونحل کی کتابوں سے نقل کرکے جو مختلف فرقوں کی طرف سے لکھی گئی تھیں، اور شاید جن کا اس وقت کوئی نام ونشان بھی باقی نہ ہو، (البتہ مذکورہ کتابوں کے بارے میں بھی اختلاف موجود ہے) ان کو شیعوں کے عقائد کا حصہ بنا کر ذکر کیا ہے، اور اگر کسی نے اپنے شیخ یا پیر کے بارے میں چاہے وہ زندہ ہویا مردہ کسی بھی طرح کی غلوکی بات کھی تو اس کو شیعوں کے عقائد میں شمار کرلیا، (اس سلسلہ میں منھاج السنة جلد اول کا پہلا حصہ اور جلد دوم کے آخری حصہ کی طرف رجوع فرمائیں)، جبکہ حق وانصاف کا تقاضا یہ تھا کہ شیعوں کے عقائد کو ان کی کلامی کتابوں منجملہ شرح تجرید عقائد ومنھاج الکرامة علامہ حلّی سے نقل کیا جاتا، (جبکہ ابن تیمیہ نے منھاج الکرامة کی رد کرتے ہوئے شیعو ں پر حملوں میں کوئی کسر باقی نہ رکھی) چنانچہ اگر ان کتابوں میں اس طرح کی کوئی بات یا غلو ہوتا توپھر اس کو یہ حق تھا کہ ان کو شیعہ کے حساب میں رکھتا۔

۱۴۱. جیسا کہ مشہور ہے کہ کلمہ رافضی جناب زید بن علی کے قیام کے وقت سے شیعوں پر اطلاق ہوا ہے، معلوم نہیں کہ صحیح ہے بھی یانھیں،کیونکہ اس سے پہلے بھی یہ کلمہ شیعہ مخالفوں کی طرف سے شیعوں کے لئے کہا جاتا تھا۔

۱۴۲. بعض شیعہ محققین نے داستان عبد اللہ ابن سبا کو صرف ایک افسانہ اورمن گھڑت کہانی بتایا ہے اور خود اس کے وجود کو بھی جعلی کہاہے یعنی اس طرح کا کوئی آدمی تھا ہی نھیں، اس سلسلہ میں علامہ سید مرتضیٰ عسکری صاحب نے ایک تفصیلی کتاب تالیف کی ہے مزید آگاہی کے لئے مذکورہ کتاب کی طرف رجوع فرمائیں۔

۱۴۳. سورہ بقرہ آیت ۹۷۔

۱۴۴. ”ہَلَكَ فِیَّ رَجُلانِ: مُحِبٌّ غَالْ، وَمُبْغِضٌ قَالْ“ (نہج البلاغہ کلمات قصار حضرت امیر المومنین(ع)

۱۴۵. کتاب ”الاسلام بین السنة والشیعہ جلد اول ص ۹۸سے ۱۱۲تک کاخلاصہ ،مذکورہ کتاب میں رفض اور رافضی کے بارے میں ایک تازہ بیان ہے لہٰذا ضروری ہے کہ اس سلسلے میں کافی دقت اور تحقیق ہونا چاہئے۔

۱۴۶. عبد اللہ ابن سبا اور اس کے مریدوں سے مزید آگاہی کے لئے اور دوسرے غلو کرنے والے فرقوں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے ”الفَرقُ بین الفِرق“ ص ۳۳۳، تالیف بغدادی کی طرف رجوع فرمائیں، اور عبد اللہ ابن سبا کا وجود ہی خیالی ہے اس بات کی تحقیق کے لئے علامہ عسکری دامت برکاتہ کی کتاب عبد اللہ ابن سبا نامی کتاب کی طرف رجوع کریں۔

۱۴۷. الفتاوی الکبری ج۲ص ۴۳۱۔

۱۴۸. الجواب الباہر ص ۱۴،۱۵، ۲۲،۲۵۔

۱۴۹. الجواب الباہر ص ۱۴،۱۵، ۲۲،۲۵۔

۱۵۰. الجواب الباہر ص ۱۴،۱۵، ۲۲،۲۵۔

۱۵۱. رحلہ ابن بطوطہ جلد اول ص ۵۸۔

۱۵۲. الفتاوی الکبریٰ ج ۲ ص ۲۱۹۔

۱۵۳. الجواب الباہر، ص ۴۵۔

۱۵۴. الرد علی الاخنائی ص ۲۳، شاید یھی وجہ رہی ہو کہ آج کل بقیع اور دوسرے قبرستانوں میں عورتوں کو جانے سے روکا جاتا ہے، صاحب فتح المجید کہتے ہیں (ص۲۲۵) کہ عورتوں کے لئے قبور کی زیارت مستحب نہیں ہے محمد بن عبد الوہاب نے اپنی توحید نامی کتاب میں جناب ابن عباس سے یہ روایت نقل کی ہے جو عورتیں قبور کی زیارت کے لئے جاتی ہیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان پر لعنت کی ہے۔

۱۵۵. الجواب الباہر ص ۴۴،۴۷،۵۱۔

۱۵۶. الجواب الباہر ص ۴۴،۴۷،۵۱۔

۱۵۷. الجواب الباہر ص ۴۴،۴۷،۵۱۔

۱۵۸. کتاب الرد علی الاخنائی ص ۳۰،۳۱۔

۱۵۹. کتاب الرد علی الاخنائی ص ۶۶۔

۱۶۰. کتاب الرد علی الاخنائی ص۳۲۔

۱۶۱. البدایہ والنھایہ ج ۱۴ ص ۱۲۴۔

۱۶۲. ان میں سے احمد ابن حنبل کی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت ہے کہ آنحضرت نے فرمایا: ”نھیتکم عن زیارة القبور فزوروہا فان فی زیارتھا عظة وعبرة“(میں پہلے تم کو زیارت سے منع کرتا تھا لیکن اس وقت کہتا ہوں کہ قبروں کی زیارت کے لئے جایا کرو کیونکہ قبور کی زیارت سے انسان کو پند اورنصیحت حاصل ہوتی ہے) احمد ابن حنبل نے اس حدیث کو چند طریقوں سے نقل کیا، (مسند احمد ابن حنبل ج۵ ص۳۵۶، ۳۵۷،۳۵۹، اور ددوسرے چند مقامات پریہ حدیث نقل ہے)

۱۶۳. موطاء ص ۳۳۴، طبع دوم، مصر۔

۱۶۴. صحیح مسلم ج۳ ص ۶۵، سنن ابی داود ج۳ ص ۲۱۲۔

۱۶۵. شرح جامع صغیر، سیوطی ص ۲۹۸۔

۱۶۶. فتح المجید ص ۲۵۵۔

۱۶۷. شفاء الغرام ج ۲ ص ۳۹۷۔

۱۶۸. وفاء الوفاء باخبار دار المصطفیٰ ج۴ ص۱۳۷۱ سے ۱۴۲۲تک۔

۱۶۹. الغدیر ج ۵ ص۱۰۹ ۔ اوراس کے بعد ۔

۱۷۰. المذاہب الاسلامیہ ص ۳۴۳۔

۱۷۱. سنن ابن ماجہ جلد اول ص ۵۰۰۔

۱۷۲. سنن ابن ماجہ جلد اول ص ۵۰۱۔

۱۷۳. سخاوی حنفی ،کتاب ”تحفة الاحباب“ ص ۴،۵۔

۱۷۴. الخصائص الکبریٰ جلد اول ص ۵۴۶،۵۴۷۔

۱۷۵. سورہ احزاب آیت ۲۴۔

۱۷۶. کتاب المغازی جلد اول ص ۳۱۳،۳۱

۱۷۷. صحیح مسلم ج ۳ ص ۵۵، منجملہ یہ حدیث کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک میت کی قبر پر دفن ہونے کے بعد نماز پڑھی اور چار تکبیریں کہیں اور دوسری روایت کے مطابق: آنحضرت (ص)ایک تازہ قبر کے پاس پہونچے اور اس پر نماز پڑھی اور اصحاب نے بھی آپ کے پیچھے صف باندہ لی ۔

۱۷۸. النھایہ ج ۴ ص۴ ۔

۱۷۹. نیل الاوطار جلد اول ص ۱۳۶۔

۱۸۰. موطاء ابن مالک ص ۱۱۲،۱۱۳۔ اس حدیث کو بخاری نے بھی نقل کیا ہے ۔

۱۸۱. فتح المجید ص ۳۷۳۔

۱۸۲. مسند احمد، جلد اول ص۴۱،۴۲، مسند عمر، وصحیح بخاری ج۲ ص ۷۹۔

۱۸۳. منتقی الاخبار، تالیف ابن تیمیہ حنبلی (ابن تیمیہ کے دادا) ہمراہ نیل الاوطار، شوکانی ج۴ ص ۱۶۱۔

۱۸۴. صحیح بخاری ج۲ ص ۹۶۔

۱۸۵. ابن عبد البر، کتاب استیعاب جلد اول ص ۲۷۴۔

۱۸۶. مغازی واقدی جلد اول ص ۲۹۰،” اِذَا بَكَتْ صَفِیِّةُ یَبْكٰی، وَاِذَا نَشَجَتْ یَنْشَجْ“

۱۸۷. استیعاب جلد اول ص۲۱۲۔

۱۸۸. مسند احمد ابن حنبل ج۲ ص ۴۰، نُویری کہتے ہیں کہ جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انصار کو اپنے شھیدوں پر روتے دیکھا تو آپ نے بھی گریہ کیا اور کہا کہ جناب حمزہ پر کوئی رونے والی نہیں ہے (نھایة الارب ج ۱۷ ص ۱۱۰)

۱۸۹. سیرة النبی ج ۳ ص ۵۰، تاریخ طبری جلد ۳ ص ۱۴۲۵، حدیث ۱۔

۱۹۰. تاریخ طبری ج۴ ص ۲۱۳۱، ۲۱۳۲،(حلقہ اول)

۱۹۱. المغازی جلد اول ص ۳۲۹،۳۳۰،دیار بکری کابیان ہے کہ جناب حمزہ پر نوحہ وگریہ کے بعد سے پیغمبر اکرمنے رونے سے منع کردیا، دوسرے روز انصار کی عورتیں آپ کی خدمت میں آئیں اور کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ آپ نے رونے سے منع فرمایا ہے جبکہ ہمیں اپنے مردوں پر رونے سے سکون وآرام کا احساس ہوتا ہے، تب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم نوحہ وگریہ کرو تو اپنے چھروں پر طمانچہ نہ مارو اور اپنے چھروں کو نہ نوچو اور اپنے سروں کو نہ منڈواؤ اوراپنے گریبان چاک نہ کرو، (تاریخ الخمیس جلد اول ص ۴۴۴)

۱۹۲. سورہ انعام آیت ۱۶۴۔

۱۹۳. جملہ سورہ والنجم آیت ۴۴ سے اقتباس ہے۔<وانّه هُوَاضحک وابٰکی>، اور یہ کہ اس نے ہنسایا بھی ہے اور رلایا بھی ہے)

۱۹۴. کتاب الاُمّ شافعی ج۸ ص ۵۳۷۔

۱۹۵. الجواب الباہر ص ۲۲۔

۱۹۶. الرد علی الاخنائی ص ۱۶۴، والفتاویٰ الکبریٰ جلد اول ص ۳۵۱۔

۱۹۷. اعلام الموقعین ج۴ ص ۴۰۳۔

۱۹۸. کشف الارتیاب ص ۳۳۰۔

۱۹۹. کشف الارتیاب ص ۳۳۶۔

۲۰۰. کشف الارتیاب ص ۳۴۲۔

۲۰۱. الرد علی الاخنائی ص ۵۷۔

۲۰۲. الرد علی الاخنائی ۵۹۔

۲۰۳. الجواب الباہر فی زوار المقابر ص ۳۷، ۳۸۔

۲۰۴. کتاب الرد علی الاخنائی ص ۱۵۹، صاحب فتح المجید کہتے ہیں (ص ۴۹۹) بعض لوگ جو قبور کا حج کرتے ہیں اپنے حج کو کامل کرنے کے لئے تقصیر کرتے ہیں اور اپنا سر منڈواتے ہیں، لیکن موصوف نے بھی یہ نہیں بیان کیا کہ یہ کون لوگ ہیں کس فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں اور کہاں کے رہنے والے ہیں۔

۲۰۵. تاریخ یعقوبی ج۲ ص ۲۶۱۔

۲۰۶. سفر نامہ ناصرخسرو، ص ۲۴۔

۲۰۷. احسن التقاسیم ص ۱۲۲۔

۲۰۸. ھلی جنگ عظیم تک شام کا علاقہ میں سوریہ لبنان اور فلسطین بھی شامل تھے، یہ تینوں ملک پہلی جنگ عظیم کے بعد الگ الگ ہوئے ہیں۔

۲۰۹. الجواب الباہر ص ۸۳۔

۲۱۰. الرد علی الاخنائی ص ۵۶۔

۲۱۱. الجواب الباہر ص ۳۸، ۳۹۔

۲۱۲.الرد علی الاخنائی ص ۹۹۔

۲۱۳. الفتاویٰ الکبریٰ ج ۲ ص ۳۳۔

۲۱۴. الفتاویٰ الکبریٰ جلد اول ص ۱۳۱۔

۲۱۵. الجواب الباہر ص ۵۰۔

۲۱۶. الرد علی الاخنائی ص ۵۹، ابن تیمیہ نے ایک دوسری جگہ کہا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی مُردے کو پکارے تو پہلے اس کو توبہ کرائی جائے اوراگر توبہ قبول نہ کرے تو اس کی گردن اڑادی جائے، (مجموعة الرسائل جلد اول ص ۳۱۵)

۲۱۷. وفاء الوفاء ج۴ ص ۱۳۷۱۔

۲۱۸. صحیح بخاری ج۲ ص ۳۳۔

۲۲۰. چونکہ جناب فاطمہ بنت اسد نے بچپن میں پیغمبر اکرمکوپالا تھا اور ان کی دیکھ بھال کی تھی لہٰذا آنحضرت آپ کو ماں کہہ کر پکارتے تھے۔

۲۲۱. اقتباس از کتاب شواہد الحق فی الاستغاثہ بسید الخلق، تالیف شیخ یوسف نبھانی،بیروت میں حقوق کے محکمہ عالی کے سابق رئیس، ص ۱۳۹تا ۱۵۴۔

۲۲۲. الفتاوی الکبریٰ جلد اول ص ۱۹۷۔

۲۲۳. الفتاوی الکبریٰ جلد ۲ ص ۲۲۷۔

۲۲۴. لفتاوی الکبریٰ جلد اول ص ۲۰۸۔

۲۲۵. الجواب الباہر ص ۴۱۔

۲۲۶. الفتاوی الکبریٰ جلد اول ص ۲۱۹،اس سلسلہ میں مزید وضاحت ”وہابیوں کے عقائد“ کے بارے میں بیان ہوگی، انشاء اللہ۔

۲۲۷. الفتاوی الکبریٰ جلد اول ص ۲۱۹،اس سلسلہ میں مزید وضاحت ”وہابیوں کے عقائد“ کے بارے میں بیان ہوگی، انشاء اللہ۔

۲۲۸. جزیرة العرب فی القرن العشرین، ص ۲۳۱، ۲۳۲۔

۲۲۹. البدرالطالع جلد اول ص ۴۷۹و ج۲ ص ۲۱۴۔

۲۳۰. اس زمانہ کا دستور یہ تھا کہ بچوں کے لئے اس طرح کی کتابوں کو حفظ کرنا ضروری تھا ،چاہے اس کے معنی سمجھیں یا نہ سمجھیں۔

۲۳۱. شوکانی کا اپنے باپ کے بارے میں کہناہے کہ وہ اپنی زندگی کے تمام حالات میں سلف صالح کے راستہ پر چلے ہیں۔

۲۳۲. شوکانی کی سوانح حیات نیل الاوطار کی نویں جلد کے آخر میں موجود ہے۔

۲۳۳. نیل الاوطار جلد اول ص ۳۷۰۔

۲۳۴. ارشاد الفحول ص ۲۲،۲۳۔ ۲۳۴

۲۳۵. مُشَبِّہَہ“اس گروہ کو کہتے ہیں کہ جنھوں نے خدا کو انسان کی مانند اور شبیہ مانا ہے، صاحب ”بیان الادیان“ نے اس فرقہ کی دس قسمیں بیان کی ہیں.

۲۳۷. ارشاد الفحول ص ۱۷۶، ابن تیمیہ اور وہابیوں کا نظریہ بھی یھی ہے۔

۲۳۸. ارشاد الفحول ص ۲۸۴، وہابیوں اورایک دوسرے گروہ کے علاوہ تمام ہی فرقے اصل اباحت کو قبول کرتے ہیں، اصل اباحت کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی چیز کے منع کے بارے میں کوئی آیت یا حدیث نہ ہو تو وہ کام مباح اور جائز ہے، اور اصل منع یہ ہے کہ جب تک کسی چیز کے بارے میں جواز ثابت نہ ہوجائے اس وقت تک وہ ممنوع ہے۔

۲۳۹. یہاں سورہ نحل کی آیت ۵۱،اور سورہ مائدہ کی آیت نمبر ۷۳ کی طرف اشارہ ہے۔

۲۴۰. نیل الاوطار ج۴ ص ۱۳۱،۱۳۲۔


تیسرا باب:

شیخ محمد ابن عبد الوہاب، وہابی فرقہ کا بانی

وہابی فرقہ محمد بن عبد الوہاب بن سلیمان بن علی تمیمی نجدی کی طرف منسوب ہے اور یہ نسبت اس کے باپ عبد الوہاب کی طرف دی گئی ہے، لیکن جیسا کہ پہلے بھی عرض ہوچکا ہے کہ وہابی اس نسبت کو نہیں مانتے، اور کہتے ہیں کہ یہ نام ہمارے مخالفوں اوردشمنوں کی طرف سے رکھا گیا ہے بلکہ صحیح تو یہ ہے کہ ہم کو(شیخ محمد کی طرف نسبت دے کر محمدیہ کہا جائے۔)

شیخ محمد بن عبد الوہاب۱۱۱۵ھ میں ” عُیَیْنَہ“ شھر(نجد کے علاقہ)میں پیدا ہوا، اس کے باپ شھر کے قاضی تھے، محمد بن عبد الوہاب بچپن ہی سے تفسیر، حدیث، اور عقائد کی کتابوں سے بہت زیادہ لگاؤ رکھتا تھا، چنانچہ حنبلی فقہ کی تعلیم اپنے باپ سے حاصل کی،کیونکہ اس کے باپ حنبلی علماء میں سے تھے، وہ اپنی جوانی کے عالم سے اہل نجد کے بہت سے کاموں کو برا سمجھتا تھا،جب وہ مکہ معظمہ حج کرنے کے لئے گیا، تومناسک حج بجالانے کے بعد مدینہ بھی گیا،(۲۴۱)

جب وہاں اس نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روضہ کے پاس لوگوں کو استغاثہ کرتے ہوئے دیکھا تو اس نے لوگوں کو اس سے منع کیا، اس کے بعد وہاںسے نجد پلٹ آیا اور وہاں سے شام جانے کے قصد سے بصرہ گیا، لیکن بعض وجوہات کی بنا پر ایک مدت تک بصرہ میں ہی قیام کیا اس دوران وہاں کے لوگوں کے بہت سے اعمال کی مخالفت کرتارہا، لیکن لوگوں نے اس کو پریشان کرنا شروع کیا یہاں تک کہ اس کو گرمی کی ایک سخت دوپھرمیں اپنے شھر سے باہر نکال دیا۔

بصرہ اور شھر زُبَیر کے درمیان گرمی اورپیاس اور پیدل چلنے کی وجہ سے موت سے نزدیک تھا کہ ھلاک ہو جاتا کہ اُدہر سے زبیر شھر کے ایک شخص کا گذر ہوا، اس نے محمد بن عبد الوہاب کو عالموں کے لباس میں دیکھ کر اس کی جان بچانے کی کوشش کی اور اس کو پانی پلایا، اور اس کو اپنے گدہے پر بٹھا کر اپنے شھر لے گیا، اس کے بعد وہ شام جانا چاہتا تھا لیکن چونکہ شام تک جانے کے لئے زادِ راہ کافی نہ تھا لہٰذا اپنے ارادہ کو بدل کر اَحساء جاپہونچا، اور پھر وہاںسے نجد کے شھر ”حُرَیْمَلِہ“ چلا گیا۔

اسی اثنا میں (۱۱۳۹ھ) اس کے باپ عبد الوہاب بھی عیینہ سے حریملہ پہونچ گئے، وہاںمحمد بن عبد الوہاب نے اپنے باپ سے پھرکچھ کتابیں پڑھیں، اس دوران نجد کے لوگوں کے عقائد کے خلاف بولنا شروع کیا جس کی بناپر باپ اوربیٹے میں لڑائی جھگڑے ہونے لگے، اسی طرح اس کے اور اہل نجد کے درمیان اختلاف اور جھگڑے ہوتے رہے، یہ سلسلہ چند سال تک چلتا رہا، ۱۱۵۳ھ میں اس کے باپ شیخ عبد الوہاب کا انتقال ہوگیا۔(۲۴۲)

شیخ محمد بن عبد الوہاب کا ایران کا سفر

فارسی زبان میں سب سے پرانی کتاب جس میں محمد بن عبد الوہاب اور وہابیوںکے عقائد کے بارے میں تذکرہ ملتا ہے تحفة العالم تالیف عبد اللطیف ششتری ہے، جس کی ہم اصل عبارت بھیذکر کریںگے، مذکورہ کتاب میں شیخ محمد بن عبد الوہاب کے اصفھان کے سفر کے بارے میں سفر کا تذکرہ موجود ہے۔

ایک دوسری کتاب بنام ”مآثر سلطانیہ“ تالیف عبد الرزاق دُنبلی ہے، جس میں محمد بن عبد الوہاب کے کافی عرصہ تک اصفھان میں رہنے کا تذکرہ ملتا ہے اور اس شھر کے مدارس میں رہ کر اس کے اصول اور صرف ونحو کی تعلیم حاصل کرنے کا تذکرہ موجود ہے جس کا خلاصہ اسی کتاب کے پانچویں باب میں بیان کیا جائے گا۔

میرزا ابوطالب اصفھانی جو محمد بن عبد الوہاب کے تقریباً ہم عصر تھے وہ بھی اس کے اصفھان میں تحصیل علم وحکمت کرنے کے بارے میں لکھتے ہیں اور عراق و خراسان کے اکثر شھروں یہاں تک کہ غزنین کی سرحد تک کے سفر کے بارے میں بھی لکھا ہے، اس کی تفصیل بھی پانچویں باب میں بیان ہوگی، انشاء اللہ تعالیٰ۔

اسی طرح کتاب ناسخ التواریخ جلد قاجاریہ ہے جس میں کربلا معلی پر وہابیوں کے حملہ کو۱۲۱۶ھ (فتح علی شاہ کی بادشاہت کے زمانہ میں ) تفصیل سے بیان کیا ہے، مذکورہ کتاب میں محمد بن عبد الوہاب کے بارے میں یوں لکھا ہے کہ عبد الوہاب (صحیح نام محمد بن عبد الوہاب)عرب کے دیھاتی علاقہ کا رہنے والا تھا اور اس نے بصرہ کا سفر کیا اور وہاں محمد۲۴۳ نامی ایک عالم دین سے ایک مدت تک تحصیل علم کیا، اور اس کے بعد وہاں سے ایران کا سفر کیا اور اصفھان میں قیام کیا اور وہاں کے علماء سے علم نحو وصرف اور اصول وفقہ میں مھارت حاصل کی اور شرعی مسائل میں اجتھاد شروع کیا اوراصول دین اور فروع دین میں اپنا اجتھاد اس طرح بیان کیا کہ خدائے وحدہ لاشریک نے انبیاء اور رُسل بھیجے اور آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قرآن لے کر آئے اور اپنا دین پیش کیا اور آپ کے بعد تمام خلیفہ مجتہد تھے، مجتہدین کتاب خدا سے شرعی مسائل کو اخذ کرتے ہیں اس نے بہت سی چیزوں کو

بدعت قرار دیامنجملہ ان کے ائمہ کی قبور پر قبہ بنوانااور ان کو زر وسیم سے مزین کرنا، اور متبرک قبروں پر نفیس اور قیمتی چیزوں کو وقف کرنا، مرقدوں کا طواف کرنا اور ان کو چومنا وغیرہ کو شرک سمجھا اور ان جیسے کام کرنے والوں کا بت پرست کا نام دیا، وغیرہ وغیرہ ۔(۲۴۴)

امریکن رائیٹر ”لوٹروپ اسٹووارڈ “ نے بھی محمد بن عبد الوہاب کے ایران سفر کے بارے میں لکھا ہے۔(۲۴۵)

جناب احمد امین صاحب کسی مدرک اورمآخذ کاذکر کئے بغیر اس طرح کہتے ہیں: شیخ محمد بن عبد الوہاب نے بہت سے اسلامی ممالک کا سفر کیا اور تقریباً چار سال تک بصرہ میں ، پانچ سال بغداد میں ، ایک سال کردستان میں اور دوسال ہمدان میں قیام کیا، اور اس کے بعد اصفھان گیا، اور وہاں پر فلسفہ اشراق اور صوفیت کی تعلیم حاصل کی، وہ وہاں سے قم بھی گیا اور وہاں سے اپنے ملک واپس چلا گیا اور تقریباً آٹھ مھینے تک لوگوں سے دور رہا اور جب ظاہر ہوا تو اپنا جدید نظریہ لوگوں کے سامنے پیش کیا۔(۲۴۶)

دعوت کا اظھار

شیخ محمد بن عبد الوہاب نے اپنے باپ کے مرنے کے بعد اپنے عقائد کو ظاہر کرنا شروع کردیا اور لوگوں کے بہت سے اعمال کو ممنوع قرار دینے لگا، ”حُرِیْمَلِہ“ کے کچھ لوگو ں نے اس کی پیروی کرنا شروع کردی اور یہ اسے شھرت ملنے لگی شھر حریملہ کے دو مشہور قبیلے تھے جن میں سے ہر ایک کا دعویٰ یہ تھا کہ ہم رئیس ہیں، ان میں سے ایک قبیلہ کا نام حَمیان تھا ان کے پاس ایسے غلام تھے جو فحشاء ومنکر اور فسق وفجور میں مرتکب رہا کرتے تھے۔

چنانچہ شیخ محمد بن عبد الوہاب نے ان کو امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کرنا چاہا، لیکن جیسے ہی ان کو پتہ چلا تو انھوں نے یہ طے کرلیا کہ آج رات میں مخفی طریقہ سے شیخ محمد بن عبد الوہاب کو قتل کردیا جائے یہاںتک کہ اسی پروگرام کے تحت ایک دیوار کے پیچھے چھپے ہوئے تھے کہ اچانک بعض لوگوں کو ان غلاموں کے پروگرام کا پتہ چل گیااور انھوں نے شور مچانا شروع کردیا جس کی بناپر غلاموں کو مجبوراً بھاگنا پڑا، اور شیخ محمد بن عبد الوہاب کی جان بچ گئی، اس کے بعد شیخ محمد بن عبد الوہاب حریملہ سےشھر ”عیینہ“ چلا گیا، اس وقت شھر عیینہ کا رئیس عثمان بن حمد بن معمر نامی شخص تھا عثمان نے شیخ کو قبول کرلیا اور اس کا احترام کیا اور اس کی نصرت ومدد کرنے کا فیصلہ کرلیا،اس کے مقابلہ میں شیخ محمد بن عبد الوہاب نے بھی یہ امید دلائی کہ تمام نجد پر غلبہ حاصل کرکے سب کو اس کا مطیعبنادے گا۔

شیخ محمد بن عبد الوہاب نے اس کے بعد سے (اپنے عقیدہ کے مطابق) امر بالمعروف اور نھی عن المنکر پورے زور وشور سے کرنا شروع کردیا، اور لوگوں کے ناپسند اعمال پر شدت سے اعتراض کرنے لگا، شھر عیینہ کے لوگوں نے بھی اس کی پیروی کرنا شروع کردی، اس نے حکم دیا کہ وہ درخت جن کو لوگ احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں کاٹ دیئے جائےں چنانچہ ایسے سبھی درختوں کو کاٹ دیا گیا اور اسی طرح زید بن الخطاب کی قبر پر بنے گنبد اور عمارت کو گرا دیا گیا۔(۲۴۷)

زید کی قبر جبلیہ میں (عیینہ کے نزدیک) تھی شیخ محمد بن عبد الوہاب نے عثمان سے کہا کہ آو زید کی قبر اور اس کے گنبد کو گراتے ہیں تو اس موقع پر عثمان نے کہا آپ جو کچھ کرنا چاہیں کریں، ویران کردیں، اس پر شیخ محمد بن عبد الوہاب نے عثمان سے کہا ہم اس وقت اس کی قبر کو منہدم کرسکتے ہیں کہ جب تم ہماری مدد کرو۔

عثمان نے ۶۰۰افراد کو اس کے ساتھ بھیج دیا جب یہ لوگ وہاں پہنچے تو جبلیہ شھر کے لوگوں نے ممانعت کرنا چاہی لیکن چونکہ عثمان کے مقابلہ میں جنگ نہیں کرسکتے تھے لہٰذا پیچھے ہٹ گئے، عثمان نے شیخ سے کہا میں قبر کو توڑنے میں ھاتھ نہیں لگاؤنگا، تو اس موقع پر شیخ محمد بن عبد الوہاب خود آگے بڑھااور تبر کے ذریعہ قبر کو ڈھا کر زمین کے برابر کردیا۔

اسی دوران ایک عورت شیخ کے پاس آئی اور اعتراف کیا کہ اس نے زنا محصنہ (شوھر دار عورت کا زنا)کیا ہے، شیخ محمد بن عبد الوہاب نے اس کی عقل کو پرکھنا شروع کیا تو اس کو صحیح پایا پھر اس عورت سے کہا کہ شاید تجھ پر تجاوز اور ظلم ہوا ہے لیکن اس عورت نے پھر اس طریقہ سے اعتراف کیا کہ اس کو سنگ سار کرنے کی سزا ثابت ہوتی تھی، چنانچہ شیخ محمد بن عبد الوہاب نے اس کو سنگسار کئے جانے کا حکم صادر کردیا۔(۲۴۸)

شیخ محمد بن عبد الوہاب سے امیر اَحساء کی مخالفت

شیخ محمد بن عبد الوہاب کے عقائداور اس کے نظریات کی خبر سلیمان بن محمد احساء کے حاکم شھر کو پہونچی اس نے عیینہ شھر کے امیر عثمان کو ایک خط لکھا کہ جو شخص تمھارے پاس ہے اس نے جو کچھ کہا یا جو کچھ کیا میرا خط پہنچتے ہی اس کو قتل کردےا جائے اور اگر تو نے یہ کام نہ کیا تو جو خراج احساء سے تیرے لئے بھیجتا ہوں اس کو بند کردونگا، جبکہ یہ خراج ۱۲۰۰ سونے کے سكّے اور کچھ کہانے پینے کی چیزوںاور لباس کی شکل میں تھا۔

جس وقت امیر احساء کا یہ سخت خط عثمان کے پاس پہنچا وہ اس کی مخالفت نہ کرسکا چنانچہ شیخ محمد بن عبد الوہاب کو اپنے پاس بلایا اور کہا کہ ہم میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ امیر احساء کا مقابلہ کرسکیں، شیخ نے اس کو جواب دیا کہ اگر تم میری مدد کروگے تو تمام نجد کے مالک ہوجاؤگے! عثمان نے اس سے روگرانی کی اور کہا: احساء کے امیر نے تمھارے قتل کا حکم دیا ہے لیکن میری غیرت گوارا نہیں کرتی کہ میں تمھیں اپنے شھر میں قتل کردوں، تم اس شھر کو چھوڑ دو، اور اس کے بعد فرید ظفری نامی شخص کو معین کیا کہ اس کو عیینہ شھر سے باہر چھوڑدے۔

شیخ محمد اور آل سعود کے درمیان تعلقات کا آغاز

جس وقت شیخ محمد بن عبد الوہاب کو شھر عیینہ سے باہر نکال دیا گیا، وہوہاں سے دِرْعِیَّہ شھر (نجد کا مشہور شھر)کی طرف چل پڑا ،اور یہ۱۱۶۰ھ کا زمانہ تھا عصر کے وقت وہاں پہونچا اور وہاں عبد اللہ بن سُویلم نامی شخص کے یہاں مہم ان ہوگیا، اس وقت درعیہ شھر کا حاکم محمد ابن سعود (آل سعود کا دادا) تھا محمد ابن سعود کی بیوی موضیٰ بنت ابی وحطان آل کثیر سے تھی جو بہت زیادہ عقلمند اور ہوشمند تھی۔ اور جب یہ عورت شیخ محمد کے حالات سے باخبر ہوئی، تو اس نے اپنے شوھر سے یہ کہا کہ اس شخص کو خدا کی طرف سے بھیجی ہوئی ایک نعمت اور غنیمت سمجھو جس کو خدا نے ہمارے پاس بھیجا ہے اس کو غنیمت جانو اور اس کا احترام کرو اور اس کی مدد کو غنیمت شمار کرو۔

محمد بن سعود نے اپنی بیوی کی پیش کش کو مان لیا چنانچہ عبد اللہ بن سویلم کے گھر شیخ محمد بن عبد الوہاب سے ملاقات کے لئے گیا اور اس کی بہت زیادہ عزت اور تعریف کی، اس نے بھی محمد کو تمام نجد پر غلبہ پانے کی بشارت دی اور حضرت پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے اصحاب کی سیرت، امربالمعروف اور نھی عن المنکر نیز راہ خدا میں جھاد کے بارے میں گفتگو کی اور اسی طرح اس کو یادہانی کرائی کہ ہر ایک بدعت(۲۴۹) گمراہی ہے،اور اہل نجد بہت سی بدعتوں کے مرتکب ہوتے ہیں اور ظلم کے مرتکب ہوتے ہیں اور اختلافات اور تفرقہ سے دوچار ہیں۔

محمد بن سعود نے شیخ محمد بن عبد الوہاب کی باتوں کو اپنے دین اور دنیا کے لئے مصلحت اور غنیمت شمار کیا اور ان سب کو قبول کرلیا، اس نے بھی محمد بن عبد الوہاب کو بشارت دی کہ وہ اس کی ہر ممکن مدد ونصرت کرے گا، اور اس کے مخالفوں سے جھاد کرے گا، لیکن اس کی دوشرط ہوگی پہلی یہ کہ جب اس کا کام عروج پاجائے تو شیخ اس سے جدا نہ ہو اور کسی دوسرے سے جاکر ملحق نہ ہوجائے اور دوسری شرط یہ کہ اس کو یہ حق حاصل ہو کہ جو مالیات اور خراج ہر سال شھر درعیہ والوں سے لیتا تھا اس کو لیتا رہے، چنانچہ محمد بن عبد الوہاب نے اس کی پہلی شرط کو مان لیا اور دوسری شرط کے بارے میں کہا :

”ہم یں امید ہے کہ خداوندعالم کی مدد سے وہ خراج جو تم وصولتے ہو اس سے کہیں زیادہ فتوحات اور غنائم تم کو پہونچیں گی۔

اس طرح محمد بن عبد الوہاب اور محمد بن سعود نے ایک دوسرے کی بیعت کی اور یہ طے کرلیا کہ اپنے مخالفوں سے جنگ اور امر بالمعروف ونھی عن المنکر اور (اپنے عقائد کے مطابق)دین کے احکام و عقائد کو نافذ کریں گے، اس کے بعد قرب وجوار کے قبیلوں کے رئیسوں نے بھی ان کی حمایت کی(۲۵۰) ”فِلیپ حتّی“ و”گلدزیھر “ اور دیگر رائٹروں نے اس بات کو لکھا ہے کہ محمد بن عبد الوہاب نے محمد بن سعود کو اپنا داماد بنالیا(۲۵۱) اور یہ بات طے ہے کہ اگر یہ نئی رشتہ داری صحیح ہو تو پھردونوں میں بہت قریبی تعلقات ثابت ہوجاتے ہیں۔

عثمان کا پشیمان ہونا

یہ کہا جاتا ہے کہ عثمان بن معمر عیینہ کے حاکم نے جب محمد بن عبد الوہاب کو اپنے شھر سے باہر نکال دیا اور ابن سعود درعیہ شھر کے حاکم نے محمد بن عبد الواہاب کی نصرت اور مدد کی اور ان دونوں کی ملی بھگت عروج پر پہونچنے لگی تو عثمان نے اپنے کئے پر پشیمانی کا اظھار کیا اور یہ کوشش کی کہ محمد بن عبد الوہاب کو دوبارہ اپنے شھر عیینہ میں لے آئے، چنانچہ وہ اپنے کچھ دوستوں کو لے کر درعیہ شھر میں شیخ محمد بن عبد الوہاب کے پاس پہنچا،اور ترغیب دلائی کہ دوبارہ شھر عیینہ واپس چلا آئے لیکن شیخ نے اپنی واپسی کو محمد ابن سعود کی اجازت پر چھوڑ دیا، محمد ابن سعود کسی قیمت پر بھی راضی نہیں ہوا، یہ دیکھ کر عثمان اپنے وطن لوٹ آیا درحالیکہ بہت پریشان اور خوفزدہ تھا۔

محمد بن عبد الوہاب کا درعیہ کے لوگوں میں موثر ہونا

جس وقت محمد بن عبد الوہاب درعیہ میں آیا اور محمد ابن سعود سے مل گیا اس وقت درعیہ شھر کے لوگ اتنے غریب اور حاجت مند ہوتے تھے کہ اپنے کہانے کے لئے ہر روز کام کے لئے جاتے تھے تاکہ اپنے روازنہ کا خرچ پورا کرسکیں اور اس کے بعد شیخ کے جلسہ میں وعظ ونصیحت سننے کے لئے حاضر ہوا کرتے تھے۔

ابن بشر نجدی یوں رقمطراز ہے کہ میں نے شھر درعیہ کو اس تاریخ کے بعدسعود کے زمانہ میں دیکھا ہے اس زمانہ میں لوگوں کے پاس بہت زیادہ مال ودولت تھی اور ان کے اسلحے بھی زروسیم سے مزین ہوتے تھے اور بھتر ین سواری ہوتی تھی، نیز بہترین کپڑے پہنتے تھے خلاصہ یہ کہ ان کے پاس زندگی کے تمام وسائل اور سامان تھے ۔

میں ایک روز وہاں کے بازار میں تھا میں نے دیکھا کہ ایک طرف مرد ہیں اور دوسری طرف عورتیں، اس بازار میں سونا چاندی، اسلحہ، اونٹ، گھوڑے، گوسفند، بہترین کپڑے، گوشت گندم اور دوسری کہانے پینے کی چیزیں اتنی زیادہ تھیں کہ زبان ان کی توصیف بیان کرنے سے قاصر ہے، تاحد نظر بازار تھا، میں خریداروں اور بیچنے والوں کی آواز کی گونج شہد کی مکھیوں کی طرح سن رہا تھا، کوئی کہتا تھا :میں نے بیچا، تو کوئی کہتا تھا:میں نے خریدا۔(۲۵۲)

البتہ ابن بشر نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ یہ اتنی مال ودولت کہاں سے آئی؟! لیکن جیسا کہ تاریخ کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مال ودولت کا عظیم حصہ ان مختلف شھروں پر حملہ کرکے ان کے اموال کو غنیمت کے طور پر لوٹ لینے کی بناپر تھا کیونکہ خود ابن بشر سعود بن عبد العزیز (متوفی۱۲۲۹ھ) کے حالات زندگی کے بارے میں کہتا ہے کہ جب وہ دوسرے شھروں پر حملہ کرتا تھا تو صرف نابالغ بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کو چھوڑتا تھا بقیہ سب کو تہہ تیغ کردیتا تھا اور ان کے تمام مال ودولت کو لوٹ لیتا تھا۔(۲۵۳)

شیخ محمد اور شریف مکہ

۱۱۸۵ھ میں امیر عبد العزیز(۲۵۴) اور محمد بن عبد الوہاب نے شیخ عبد العزیز حصینی کے ذریعہ کچھ تحفے امیر مکہ شریف احمد بن سعید کی خدمت میں بھیجے ۔ شریف احمد نے امیر نجد سے کہا کہ پہلے علماء نجد میں سے کسی کو ہمارے پاس بھیجو تاکہ ہمیں یہ معلوم ہوجائے کہ نجدیوں کے عقائد کیا ہیں؟شیخ عبد العزیز جب مکہ پہنچا تو اس نے مکی علماء سے بعض مسائل میں بحث کی۔

ابن غَنّام، نجدی مورخ کہتا ہے کہ اس مناظرہ اور بحث میں حنبلیوں کی کتابیں لائی گئیں اور مکی علماء مطمئن ہوگئے کہ نجدیوں کا طریقہ کار قبور اور ان کے گنبدوں کے گرانے، لوگوں کو صالحین سے دعا اور شفاعت طلب کرنے سے روکنے کے بارے میں صحیح ہے، یہ سب دیکھ کر شیخ عبد العزیز کو باکمال احترام نجد واپس بھیج دیا گیا۔

۱۲۰۴ھ میں امیر عبد العزیز اور شیخ محمد بن عبد الوہاب نے شریف غالب کی درخواست کے مطابق دوبارہ شیخ عبد العزیز حصینی کو مکہ بھیجا، لیکن اس مرتبہ مکہ کے علماء اس سے بحث کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔

ابن غنام نجدی کہتا ہے کہ شریف غالب نے نجدیوں کی دعوت اور ان کے عقائد کو قبول کرلیا، ممکن ہے یہ ایک تظاہر اور دکھاوا ہو، تاکہ اس طرح سے وہ نجدیوں کے جنگ کرنے اور ا ن کی دعوت کو ختم کرنے کے اپنے ارادہ کو مخفی رکھ سکے۔

اس سلسلہ میں سید دَحلان کہتے ہیں کہ امیر نجد نے شریف مسعود کے زمانہ میں حج کرنے کی اجازت مانگی، کیونکہ اس نے اس سے پہلے نجد کے(۳۰)علماء کو مکہ معظمہ بھیجا تھا اور شریف مسعود سے درخواست کی تھی کہ علماء حرمین شریفین کا نجدی علماء سے مناظرہ کرائے لیکن شریف مسعود نے قاضی شرع کو حکم دیا کہ نجدیوں کے کفر کا فتویٰ صادر کردے اور پھر حکم دیا کہ ان نجدی علماء کو قید خانے میں ڈال کر ان کے پیروں میں زنجیر ڈالدی جائے۔ چنانچہ اسی طرح کے واقعات کافی عرصہ تک ہوتے رہے۔(۲۵۵)

شیخ محمد بن عبد الوہاب کی سیرت اور اس کا طریقہ کار

اس سلسلہ میں ابن بشر کہتا ہے کہ جس وقت محمد بن عبد الوہاب نے درعیہ شھر کو اپنا وطن قرار دیا اس وقت اس شھر کے بہت سے لوگ جاہل تھے اور نماز وزکوٰة کے سلسلہ میں لاپرواہی کرتے تھے، نیز اسلامی مراسم کے انجام دینے میں کوتاہی کرتے تھے، چنانچہ شیخ محمد بن عبد الوہاب نے سب سے پہلے ان کو ”لا الہ الا اللّٰہ“ کے معنی سکھائے کہ اس کلمے میں نفی بھی ہے اور اثبات بھی اس کا پہلا حصہ (لاالہ) تمام معبودوں کی نفی کرتا ہے اور اس کا دوسرا حصہ (الا اللہ) خدائے وحدہ لاشریک کی عبادت کو ثابت کرتا ہے، اس کے بعد شیخ محمد بن عبد الوہاب نے ان کو ایسے اصول بتائے جن کے ذریعہ سے خدا کے وجود پر دلیل حاصل ہوجائے مثلاً چاند وسورج، ستاروںاور دن رات کے ذریعہ خدا کو سمجھا جاسکتا ہے، اور ان کو یہ بتایا کہ اسلام کے معنی خدا کے سامنے تسلیم ہونے، اور اس کی منع کردہ چیزوں سے

اجتناب کرنے کے ہیں، اسی طرح ان کو اسلام کے ارکان بتائے اور یہ بتایا کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام اور نسب کیا ہے، اور بعثت اورہجرت کی کیفیت بتائی اور یہ بتایا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سب سے پہلی دعوت کلمہ ”لا الہ الا اللّٰہ“تھا اور اسی طرح بعث اور قیامت کے معنی لوگوں کو بتائے اور مخلوق خداچاہے جو بھی ہو، سے استغاثہ کرنے کی ممانعت میں بہت مبالغہ کیا۔

شیخ محمد بن عبد الوہاب نے اس کے بعد نجد کے رؤساء اور قاضیوں کو خط لکھا اور اس میں لکھا کہ اس کی اطاعت کریں اور اس کے مطیع وفرمانبردار بن جائیں، جس کے جواب میں بعض لوگوں نے قبول کرلیا اور بعض نے اس کی اطاعت کرنے سے انکار کردیا اور شیخ کی دعوت کا مذاق اڑایا اور اس پر الزام لگایا کہ شیخ تو جاہل ہے اور معرفت بھی نہیں رکھتا، بعض لوگوں نے اس کو جادو گر بتایا جبکہ بعض لوگوں نے اس پر بری بری تہم تیں بھی لگائیں۔

شیخ محمد بن عبد الوہاب نے اہل درعیہ کو جنگ کا حکم دیدیا جنھوں نے کئی مرتبہ اہل نجد سے جنگ کی، یہاں تک کہ ان کو شیخ کی اطاعت پر مجبور کردیا، اور آل سعود، نجد اور اس کے قبیلوں پر غالب آگیا۔

محمد بن عبد الوہاب کاغنائم جنگی کو تقسیم کرنے کا طریقہ یہ تھا کہ وہ خود جس طرح چاہتا تھا انجام دیتا تھا اور اس کو خرچ کرتا تھا کبھی کبھی بہت سارا مال جو غنائم جنگی میں ملتا تھا اس کو صرف دو یا تین لوگوں میں تقسیم دیتا تھا، کیونکہ جتنے بھی جنگی غنائم ہوتے تھے وہ شیخ کے پاس رہتے تھے، یہاں تک امیر نجد بھی اس کی اجازت سے ہی ان غنائم میں دخل وتصرف کرتا تھا۔

اس کے علاوہ امیر نجد اگر اپنے سپاہیوں کو مسلح کرنا چاہتا تھا اور اس سلسلہ میں کوئی بھی قدم اٹھانا چاہتا تھا وہ سب کچھ شیخ محمد بن عبد الوہاب کی اجازت سے کیا کرتا تھا۔(۲۵۶)

چنانچہ اس سلسلہ میں آلوسی کہتے ہیں کہ جس طرح نجد کے لوگوں نے محمد بن عبد الوہاب کی اطاعت کی، گذشتہ علماء میں کسی کی بھی اس طرح اطاعت نہیں ہوئی، اور واقعاً یہ بات عجیب ہے کہ اس کے مرید آج تک (آلوسی کے زمانہ تک) اس کوچار اماموں(ابوحنیفہ، شافعی، مالک اور احمد ابن حنبل) کی طرح مانتے تھے، اوراگر کسی نے اس کو برا کہدیا تو اس کو قتل کردیتے تھے۔

زَینی دحلان کہتے ہیں: محمد بن عبد الوہاب کے کاموں میں سے ایک کام یہ تھا کہ جوشخص بھی اس کی پیروی کا دم بھرتا تھا اس کو ثبوت کے طور پر اپنا سر منڈوانا پڑتا تھا جب کہ یہ کام تو کسی بھی خوارج اور بدعت گذار فرقوں نے انجام نہیں دیا،سید عبد الرحمن اَہدل مفتی زَبِید کہتے ہیں کہ وہابیوں کی ردّ میں کوئی کتاب لکھنے کی ضرورت ہی نہیں ہے بلکہ ان کے لئے یہ حدیث رسول کافی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا کہ ”سیماہم التحلیق“ ۔ اتفاق سے ایک عورت جس کو شیخ کی اطاعت پر مجبور کیا گیا تھا اس نے شیخ محمد بن عبد الوہاب سے کہا کہ تو جب عورتوں کو سرمنڈوارنے پر مجبور کرتا ہے تو پھر مردوں کو بھی اپنی داڑھی منڈوانے پر مجبور کر، کیونکہ عورتوں کے سر کے بال اور مردوں کی داڑھی دونوں زینت ہوتے ہیں، شیخ کے پاس اس عورت کے سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔(۲۵۷)

جس وقت محمد بن عبد الوہاب نے لوگوں کو سرنہ منڈوانے پر قتل کرادیاتو اس موقع پر سید مُنعِمی نے اس کی ردّ میں چند اشعار کھے جس کا مطلع یہ ہے:

” اَفِی حَلْقِ رَاسِی بِالسَّكَاكِیْنَ وَالْحَدِّ

حَدِیْثٌ صَحِیْحٌ بِالاسْانِیْدِ عَنْ جَدِّیْ؟“

(کیا چاقو سے سرمنڈوانے کے بارے میں میرے جد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے صحیح اسناد کے ساتھ کوئی حدیث موجود ہے۔)(۲۵۸)

شیخ محمد بن عبد الوہاب کا انجام

جس وقت محمد بن عبد الوہاب کے مریدوں نے شھر ریاض کو فتح کرلیا اور ان کا ملک وسیع ہوگیا اور تقریباً سب جگہ امن وامان برقرار ہوگیا اور سبھی سراٹھانے والوں کو اپنا مطیع بنالیا، تو محمد بن عبد الوہاب نے لوگوں کے امور اور غنائم جنگی کو عبد العزیز ابن محمد ابن سعود کے سپرد کردیا اور خود عبادت اور تدریس میں مشغول ہوگیا، لیکن پھر بھی عبد العزیز اوراس کے باپ محمد نے اس کو نہیں چھوڑا بلکہ تمام کام اس کے صلاح ومشورہ سے کرتے رہے، اور یھی سلسلہ چلتا رہا، یہاںتک کہ۱۲۰۶ھ میں شیخ محمد کا انتقال ہوگیا۔

محمد بن عبد الوہاب نے بہت سی کتابیں تالیف اور تصنیف کی منجملہ اس کی کتاب توحید، تفسیر قرآن، کتاب کشف الشبھات اور بعض دیگر فقھی فتووں اور اصول کے رسالے ہیں۔(۲۵۹)

مکہ معظمہ میں مکتبہ نہضت اسلامی نے شیخ کی تمام کتابوں کو نشر کیا ہے۔(۲۶۰)

چند ملاحظات

شیخ محمد بن عبد الوہاب کے حالات زندگی میں درج ذیل چند مطلب قابل غورہیں:

پہلا مطلب:یہ کہ اس نے جدید تعلیم کہاں سے اورکیسے حاصل کی؟ جبکہ اس کا باپ حنبلی علماء میں سے تھا اور اپنے بیٹے کے عقائد کی سخت مخالفت کرتا تھا، اس بناپر اس ماحول میں اس طرح کے نظریات کی جگہ ہی باقی نہیں رہتی،اس وقت نجد میں بھی علمی مرکز بہت کم تھے جن میں وہ اس طرح کے نظریات مثلاً ابن تیمیہ کے نظریات کو حاصل کرتا، لہٰذا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس طرح کے نظریات اس کے ذہن میں کیسے آئے؟

اس سلسلہ میں یہ بات کھی جاسکتی ہے کہ چونکہ وہ بچپن ہی سے کتابیں پڑھنے کا شوقین تھا اور چونکہ اس کا باپ حنبلی عالم تھا لہٰذا اس کے پاس علی القاعدہ گذشتہ حنبلی علماء منجملہ ابن تیمیہ کی کتابیں موجود تھیں، چنانچہ محمد بن عبد الوہاب نے ان کتابوں کا دقت اور غوروفکر کے ساتھ مطالعہ کیا،اور آہستہ آہستہ اس کے ذہن میں اس طرح کے نظریات پیدا ہوئے جن کو ہم بعد میں بیان کریں گے۔(۲۶۱)

بھر حال یہ بات مسلّم ہے کہ محمد بن عبد الوہاب کے نظریات ابن تیمیہ کے نظریات سے حاصل شدہ تھے، چنانچہ وہابیوں کے بڑے بڑے علماء اور دوسرے علماء نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے، منجملہ سلطان عبد العزیز بن سعود، نے ذیقعدہ۱۳۳۲ھ میں فرقہ ”اخوان“ کو ایک خط لکھاہے جس میں اس بات کی طرف اشارہ موجود ہے کہ محمد بن عبد الوہاب نے اسی چیز کو بیان کیا ہے جس کو ابن تیمیہ اور اس کے شاگرد ابن قیم جوزی نے بیان کیا تھا۔(۲۶۲)

اسی طرح حافظ وَھبہ کاکہنا ہے کہ ان دونوں (ابن تیمیہ اور محمد بن عبد الوہاب) کے عقائد اور ان کی خدا کی طرف دعوت میں بہت زیادہ شباہت موجود ہے، اور مصلح نجدی یعنی محمد بن عبد الوہاب کے لئے ابن تیمیہ بہت بڑی سر مشق تھا،۲۶۳ ان کے علاوہ، دائرة المعارف کے مطابق شیخ محمد بن عبد الوہاب اور دمشق کے علماء کے درمیان تعلقات تھے اور یہ بات طبیعی ہے کہ حنبلیوں سے تعلقات رکھنے کی وجہ سے اس نے ان کی تالیفات خصوصاً ابن تیمیہ اور اس کے شاگرد خاص ابن قیم جوزی سے استفادہ کیا ہے۔(۲۶۴)

سب سے اہم بات یہ ہے کہ برٹن کے میوزیم میں ابن تیمیہ کے بعض رسائل، محمد بن عبد الوہاب کی تحریریں موجود ہیں جن سے یہ انداز ہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے ابن تیمیہ کی کتابوں کو پڑھا ہے اور ان سے نسخہ برداری کی ہے۔(۲۶۵)

دوسرا مطلب:یہ ہے کہ محمد بن عبد الوہاب کی نجد میں ترقی اور پیشرفت کی کیا وجہ تھی، کیونکہ اس کے عقائد وھی تھے جو ابن تیمیہ کے تھے لیکن ابن تیمیہ کی شدید مخالفتیں ہوئیں اور اس کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا یہاں تک کہ زندان میں بھی جانا پڑا، لیکن پھر بھی اپنے عقائد کو پایہ تکمیل تک نہیں پہونچا سکا خصوصاً بزرگوں کی قبور کوویران اور مسمار کرنے کے مسئلہ میں ۔(۲۶۶)

لیکن اس کے برعکس شیخ محمد بن عبد الوہاب کو نجد میں اپنے نظریات کو پھیلانے میں مشکلات کا سامنا نہیں ہوا اور کچھ ہی مدت میں اس نے اپنے بہت سے مرید پیدا کرلئے اور ان کے ذریعہ اپنے عقائد کو عملی جامہ پہنادیا،اور قبروں کو ویران کردیا، اور ان درختوں کو بھی کاٹ ڈالا جن کا لوگ احترام کرتے تھے، نیز دوسرے اسی طرح کے کام انجام دینے میں اسے کامیابی حاصل ہوئی۔

ہاں اہم بات یہ ہے کہ ابن تیمیہ اور محمد بن عبد ا لوہاب کے ماحول میں بڑا فرق ہے، کیونکہ ابن تیمیہ نے اپنے عقائد کو ان شھروں میں پیش کیا جن میں مذاہب اربعہ کے بڑے بڑے علماء، درجہ اول کے قاضی اور بااثر لوگ رہتے تھے چنانچہ جیسا کہ ہم نے ابن تیمیہ کے حالات زندگی میں بیان کیا اس کو مختلف مذاہب کے علماء اور قضات کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا، اور ان سے بحث ومناظرات کرنے پڑے اور متعدد بار زندان میں جانا پڑا یہاں تک کہ زندان میں ہی اس کا انتقال ہوا۔

لیکن شیخ محمد بن عبد الوہاب نے نجد میں اپنے عقائد کو پھیلایا اور شاید اس زمانہ اوراس علاقہ کے عظیم علماء خود شیخ محمد بن عبد الوہاب کا باپ اور اس کا بھائی شیخ سلیمان تھے۔ اگرچہ شروع میں ان دونوں حضرات نے اس کی سخت مخالفتیں کیں، لیکن عوام الناس کے حالات کے سامنے ان کی مخالفتوں کا کوئی اثر نہ ہوا، نجدیوں نے اپنے جھل کی بناپر اس کے خرافی عقائد کااتباع کیا، کیونکہ یہ لوگ نھایت سادہ اور بھولے تھے اورمذہبی اختلافات سے ان کے ذہن خالی اور صاف تھے اور کسی بھی نئی اور جدید چیز کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے، اوروہ بھی گرم اورموثر بیان اور اثر انداز طریقہ سے جو کہ شیخ محمد بن عبد الوہاب کی خصوصیات میں سے تھا۔

ایک دوسری چیز جو اس کی ترقی کا باعث بنی وہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں موجود نجد کے علماء میں کوئی بھی ایسا نہ تھا جو شیخ محمد بن عبد الوہاب کے برابر اثرانداز ہو۔(۲۶۷)

ایک دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ اس زمانہ میں اہل نجد کسی خاص حکومت کے زیر نظر نہیں تھے ان کی زندگی قبیلہ والی زندگی تھی، اور ہر کام میں ہر قبیلہ کے افراد اپنے قبیلہ کے امیر یا شیخ کے تابع ہوتے تھے اور اگر کسی قبیلہ کا رئیس اورامیر کسی نظریہ کو قبول کرلیتا تھا تو اس قبیلہ کے تابع افراد بھی شیخ کے اتباع میں ان نظریات کو قبول کرلیتے تھے، اسی اصل کے مطابق، جب کسی قبیلہ کا رئیس کسی بھی طرح محمد بن عبد الوہاب کے ساتھ ہوجاتا تھا تو اس قبیلہ کے دوسرے افراد بغیر کسی چون وچرا کے محمد بن عبد الوہاب کی گفتگو سے متاثر ہوجاتے تھے، اور شیخ کی باتوں کو پوری عقیدت کے ساتھ قبول کرلیتے تھے اور اگر دینی احکام سے متعلق کوئی بات ہوتی تھی تو اس کو ٹھوس عقیدہ کی طرح مان لیاکرتے تھے۔

یہ بات بھی کہنا ضروری ہے کہ محمد بن عبد الوہاب کو اپنے عقائد کے بیان کے شروع میں بہت سی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا جن کی وجہ قبیلوں کے درمیان موجود اختلافات تھی لیکن جن اسباب کو ہم نے بیان کیا ان کی بناپر وہ سب مشکلیں دور ہوگئیں۔

محمد بن عبد الوہاب اور ابن تیمیہ کے درمیان چند فرق

محمد ابو زھرہ نے محمد بن عبد الوہاب اورابن تیمیہ میں چند فرق بیان کئے ہیں اور وہ فرق اس طرح ہیں:

وہابیوں نے ابن تیمیہ کی دعوت میں کچھ بھی اضافہ نہیں کیا لیکن اس کو شدت کے ساتھ پھیلایا اور عملی طور پر وہ کام انجام دئے جن کو ابن تیمیہ بھی نہیں کرسکے تھے، وہ چیزیں ان چند امور میں خلاصہ ہوتی ہیں:

۱۔ ابن تیمیہ کا عقیدہ یہ تھا کہ عبادت فقط وہ ہے جس کو قرآن اور سنت نے بیان کیا ہے، لیکن وہابیوں نے اس پر اکتفاء نہیں کی بلکہ عادی اور معمولی چیزوں کو بھی اسلام سے خارج کردیا، مثلاً تمباکو نوشی کو بھی حرام قرار دیدیا اور اس کی حرمت میں بہت زیادہ سختی کی، چنانچہ وہابی حضرات جس کو بھی سگریٹ وغیرہ پیتا دیکھتے ہیں اس کو مشرکین کی طرح سمجھتے ہیں، ان کا یہ نظریہ خوارج کی طرح ہے کہ جو شخص بھی گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا کافر ہوگیا۔

۲۔ شروع میں چائے اور قہوہ کی حرمت کا فتویٰ دیا لیکن جیسا کہ معلوم ہوتا ہے بعد میں اس کی حرمت میں لاپرواہی کی۔(۲۶۸)

۳۔ وہابیوں نے فقط لوگوں کو ان اعمال کی دعوت ہی نہیں دی بلکہ اگر کسی نے ان کے نظریات کو نہیں قبول کیا توان سے جنگ وجدال کی، اور ان کا نعرہ یہ تھا کہ بدعتوں سے جنگ کرنا چاہئے، میدان جنگ میں ان کا رہبر (شروع میں ) محمد بن سعود (خاندان سعود کا جد اعلیٰ) محمد بن عبد الوہاب کا داماد تھا۔

۴۔ وہابی جس گاوں اور شھر کو فتح کرلیتے تھے اس شھر کے روضوں اور قبروں کو ویران کرنا شروع کردیتے تھے، اسی وجہ سے بعض یورپی رائٹروں نے ان کو (عبادت گاہوںکے ویران کرنے والوں) کا لقب دیا ہے، جبکہ ان کی یہ بات مبالغہ ہے کیونکہ ضریحوں اور عبادتگاہوں میں فرق ہے، لیکن جیسا کہ معلوم ہے کہ یہ لوگ اگر قبور کے نزدیک کسی مسجد کو دیکھتے تھے تواس کو بھی ویران کردیتے تھے۔

۵۔ ان کاموں پر بھی اکتفاء نہ کی بلکہ وہ قبریں جو مشخص اور معین تھیں یا ان پر کوئی نشانی ہوتی تھی ان کو بھی مسمار کردیا اور جب ان کو حجاز پر فتح ملی تو انھوں نے تمام اصحاب کی قبور کو مسمار کردیا، چنانچہ اس وقت صرف قبور کے نشانات باقی ہیں(۲۶۹) اور ان قبور کی زیارت کی اجازت فقط اس طرح دی گئی کہ زائر فقط اتنا کہہ سکتا ہے :

السلام علیک یا صاحب القبر

۶۔ وہابیوں نے چھوٹی چھوٹی چیزوں پر بھی اعتراضات کئے اور ان کے منکر ہوئے جو نہ تو بت پرستی تھیں اور نہ ہی بت پرستی پر تمام ہوتی تھیں مثلاً فوٹو وغیرہ لینا، بہت سے علماء نے اپنے فتووں اوررسالوں میں اس کی (حرمت)کو ذکر کیا ہے لیکن ان کے حاکموں نے اس مسئلہ پر توجہ نہیں کی۔

۷۔ وہابیوں نے بدعت کے معنی میں ایک عجیب انداز اپنایا، اور اس کے معنی میں وسعت دی، یہاں تک کہ روضہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر پردہ لگانا بھی بدعت قرار دیدیا، اور روضہ رسول پر لگے پرانے پردوں کو بدلنا بھی ممنوع قرار دیدیا جس کے نتیجہ میں وہاں موجود تمام پردے پرانے ہوگئے۔(۲۷۰)

قارئین کرام!:

”حق بات تو یہ ہے کہ وہابیوں نے ابن تیمیہ کے عقائد کو عملی بنایااور اس راستہ میں اپنی پوری طاقت صرف کردی، انھوں نے بدعت کے معنی میں وسعت دی یہاں تک کہ وہ کام جن سے عبادت کا کوئی مطلب نہیں ان کو بھی بدعت قرار دیدیا، جبکہ تحقیقی طور پر بدعت ان چیزوں کو کہا جاتا ہے کہ جن کی دین میں کوئی اصل اور بنیاد نہیں لیکن ان کاموں کو انجام دینے والے ان کو عبادت کے قصد سے انجام دیتے ہیں، اور ان کے ذریعہ سے خدا کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتے ہیں، اس بناپر کوئی بھی روضہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر پردوں کو عبادت کے قصد سے نہیں لگاتا، بلکہ ان کو زینت کے لئے لگاتے ہیں جس طرح مسجد نبوی میں دوسری چیزوں کو زینت کے لئے لگایا گیا ہے۔

عجیب بات تو یہ ہے کہ یہ لوگ روضہ نبوی پر پردے لگانے کو منع کرتے ہیں لیکن دوسری مسجدوں میں پردے لگانے کو عیب نہیں مانتے۔ ایک دوسری بات یہ ہے کہ وہابی علماء اپنے نظریات اور عقائد کو مکمل طور پر صحیح جانتے ہیں اور دوسروں کے عقائد کو غلط اور غیر صحیح مانتے ہیں۔(۲۷۱)

____________________

۲۴۱. شیخ عبد الرحمن بن حسن بن محمد بن عبد الوہاب نے اپنے اس رسالہ میں جس میں اس نے اپنے دادا کی سوانح حیات لکھی، کہتا ہے کہ شیخ محمد بن عبد الوہاب مکہ سے شام کے حاجیوں کے ساتھ شام جانا چاہتا تھا لیکن کچھ مشکل در پیش آئی، جس کی بناپر اس نے وہاں جانے کا قصد چھوڑ کر مدینہ کا رخ کیا۔ ابن اثیر نے اس رسالہ کو(ج۲ص۲۳ کے بعد) ذکرکیا ہے۔

۲۴۲. آلوسی کی کتاب تاریخ نجد، ص ۱۱۱تا۱۱۳ کا خلاصہ۔

۲۴۳. محمد سے مراد شیخ محمد مجموعی ہے (بصرہ میں مجموعہ شھر سے منسوب) محمد بن عبد الوہاب نے ایک مدت تک اس کے پاس تعلیم حاصل کی ہے ۔

۲۴۴. ناسخ التواریخ قارجاریہ جلد اول ص ۱۱۸۔

۲۴۵. امروز جھان اسلام جلد اول ص ۲۶۱۔

۲۴۶. زعماء الاصلاح فی عصر الحدیث ص(۱۰)میں شیخ محمد بن عبد الوہاب کے دوسرے سفروں کو بھی بیان ہے مثلاً اسلامبول (ترکی)، ہندوستان، اگرچہ ہماری نظر میں اس بات پر کوئی محکم دلیل پر نہیں ہے، کتاب حافظ وھبہ ص(۳۳۶)میں اس طرح موجود ہے کہ محمد بن عبد الوہاب نے ایران کا بھی سفر کیا ہے، اور وہاں پر فلسفہ اشراق اور بندوقیں بنانے نیز بہت سے جنگی فنون بھی حاصل کئے۔

۲۴۷. زید، عمر ابن الخطاب کے بھائی تھے جو ابوبکر کی خلافت کے زمانہ میں جنگ یمامہ (مسیلمہ کذاب سے مسلمانوں کی جنگ) میں قتل ہوئے تھے ۔

۲۴۸. ابن بشر جلد اول ص ۹،۱۰۔

۲۴۹. بدعت سے مراد کسی عقیدہ یا عمل کا ظاہر کرناجو دین کے خلاف ہو اور اس کو دین میں داخل کرنا ۔

۲۵۰. عثمانی مولفوں میں سے ایک ” سلیمان فائق بک“نےاپنی کتاب تاریخ بغداد (ص ۱۵۲)میں محمد بن عبد الوہاب اور آل سعود کے رابطہ کو دوسری طرح بیان کیا ہے، لیکن جیسا کے اوپرکی عبارت میں موجود ہے وہ ظاہراً صحیح دکھائی دیتا ہے۔

۲۵۱. تاریخ عرب ص ۹۲۶،اور العقیدة والشریعة فی الاسلام ص ۲۶۷۔

۲۵۲. عنوان المجد فی تاریخ نجد ص ۱۳۔

۲۵۳. عنوان المجد جلد اول ص ۱۷۰۔

۲۵۴. امیر نجد، جس کے حالات زندگی بعد میں بیان ہوں گے ۔

۲۵۵. جزیرة العرب فی القرن العشرین کے ص(۲۲۸)کا خلاصہ۔

۲۵۶. عنوان المجد جلد اول ص ۱۴، ۱۵۔

۲۵۷. فتنة الوہابیة ص ۷۶،۷۷۔

۲۵۸. التوسل بالنبی وجھلة الوہابیین، ص ۲۵۱۔

۲۵۹. تاریخ نجد آلوسی ص ۱۱۹۔

۲۶۰. کتاب دراسات اسلامیہ ص ۳۹۱۔

۲۶۱. شوکانی کاکہنا ہے کہ بعض لوگوں کا عقیدہ یہ ہے کہ امیر نجد خوارج کے راستے پر چلا ہے لیکن ہمارے لحاظ سے یہ بات صحیح نہیں ہے، کیونکہ اس نے جو کچھ بھی سیکھا ہے محمد بن عبد الوہاب سے سیکھا ہے جو حنبلی مذہب تھا، اور ابن تیمیہ وابن قیم جیسے لوگوں کے اجتھاد پر عمل کرتا تھا، (البدر الطالع ج۲ ص ۶)

۲۶۲. صلاح الدین مختار ج۲ ص ۱۵۴۔

۲۶۳. جزیرة العرب فی القر ن العشرین ص ۳۳۱۔

۲۶۴. دائرة المعارف اسلامی جلد اول ص ۱۱۳۔

۲۶۵. زعماء الاصلاح فی العصر الحدیث ص ۱۳۔

۲۶۶. ایسے بہت ہی کم موارد ہیں جن کو ابن تیمیہ نے عملی جامہ پہنایا ہے، منجملہ ان میں سے یہ ہے کہ ماہ رجب۷۰۴ھ میں اپنے چند دوستوں کے ساتھ جن میں چند سنگ تراش بھی موجود تھے ایک تاریخی مسجد میں گیا جہاں پر ایک پتھر تھا جو لوگوں کی زیارت گاہ تھا اور لوگ وہاں پر جاکر نذر کیا کرتے تھے، اس پتھر کو توڑ ڈالا اور وہاں پر ایک شخص رہتا تھا جس کے بال بڑے بڑے مونچھیں لمبی لمبی،اور ناخن بھی بڑے بڑے تھے اور ”دلق“ (درویشوں اور قلندروں کا لباس) بھی بہت لمبا چوڑا پہنے ہوئے تھا اور حشیش پیتا تھا، اس کو توبہ کرائی اور اس کے سر کے بال اورمونچھیں منڈوائیں اور اس کے مخصوص لباس کو پارہ پارہ کردیا، (ابن کثیر ج ۱۴، ص ۳۳،۳۴)

۲۶۷. دائرة المعارف اسلامی (ج۱۵، ص۴۷۹) کی تحریر کے مطابق ”عارض“ کا علاقہ کہ ”درعیہ“ اور ”عیینہ“ دونوں شھر اس کا جزتھے محمد بن عبد الوہاب کے زمانہ میں علوم اسلامی کا مرکز تھا جس میں بہت سے بڑے علماء پیدا ہوئے ہیں۔

۲۶۸. ظاہر ہے کہ تمباکو نوشی اور چائے وغیرہ جس طرح وہابیوں کے زمانہ میں تھی، ابن تیمیہ کے زمانہ میں رائج نہیں تھی،مقصد یہ ہے کہ جو چیزیں سلف صالح کے زمانہ میں نہیں تھیں ان کو وہابیوں نے عملی طور پر ممنوع قرار دیا، تمباکو نوشی اور چائے وغیرہ کی کوئی خاص وجہ نہیں تھی۔

۲۶۹. گلدزیھر (العقیدة والشریعة فی الاسلام ص ۲۶۷) کے مطابق وہابیوں کا قیام ابن تیمیہ کے مقاصد کو عملی جامہ پہناناتھا۔

۲۷۰. ابو زھرہ، اس مطلب کو ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ عبد العزیز آل سعود نے حکم دیا کہ روضہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پرانے پردوں کو ہٹاکر نئے پردے لگادئے جائیں لیکن مسجد نبوی کی تعمیر نو کے تکمیل ہونے تک پردوں کے بدلے جانے کو روک دیا، (ص ۳۵۱) یہاں پر یہ عرض کردینا ضروری ہے کہ” ملک سعود“جانشین سلطان عبد العزیز نے روضہ منورہ پر پردہ لگوائے تھے۔

۲۷۱. لمذاہب الاسلامیہ ص ۳۵۱،اور اس کے بعد۔


چوتھا باب:

وہابیوں کے عقائد

ہاں پر ہمارا مقصد وہابیوں کے تمام عقائد کو بیان کرنا نہیں ہے بلکہ ہم صرف ان عقائدوں کو بیان کریں گے جن کی وجہ سے یہ لوگ مشہور ہوئے اور جن کی بناپر دوسروں سے جدا ہوئے ہیں اور جن کی وجہ سے دوسرے فرقوں کے علماء نے ان کے جوابات لکھنے شروع کئے ہیں۔

۱۔ توحید کے معنی اور کلمہ ”لا الہ الا اللّٰہ“ کا مفہوم

شیخ محمد بن عبد الوہاب اور اس کے پیرو کاروں نے توحید اور کلمہ ”لا الہ الا اللّٰہ “ کے معنی اس طرح بیان کئے ہیں جن کی روشنی میں کوئی دوسرا شخص موحّد (خدا کو ایک ماننے والا) موجود ہی نہیں ہے، چنانچہ محمد بن عبد الوہاب اس طرح کہتا ہے:

”لا الہ الا اللّٰہ “ میں ایک نفی ہے اور ایک اثبات، اس کا پہلا حصہ (لا الہ) تمام معبود کی نفی کرتا ہے(۲۷۲) اور اس کا دوسرا حصہ (الا اللہ) خدائے وحدہ لاشریک کی عبادت کو ثابت کرتا ہے۔(۲۷۳)

اسی طرح محمد بن عبد الوہاب کا کہنا ہے کہ توحید وہ مسئلہ ہے جس پر خداوند عالم نے بہت زیادہ تاکید کی ہے،اور اس کا مقصد، عبادت کو صرف خداوندکریم سے مخصوص کرنا ہے۔ سب سے بڑی چیز جس سے خداوندعالم نے نھی کی ہے وہ شرک ہے جس کا مقصد غیر خدا کو خدا کا شریک قرار دینا ہے۔(۲۷۴)

اسی طرح وہ خداوندعالم کے صفات کی شرح کرتے ہوئے کہتا ہے کہ خداوندعالم کسی بھی ایسے شخص کا محتاج نہیں ہے جو بندوں کی حاجتوں کو اس سے بتائے یا اس کی مدد کرے یا بندوں کی نسبت خدا کے لطف و مھربانی کو تحریک کرے۔(۲۷۵)

اس بناپر وہابیوں نے قبور کی زیارتوں اور غیر خداکو پکارنے کو ممنوع قرار دیا مثلاً کوئی کھے ”یا محمد“(۲۷۶) اسی طرح غیر خدا کو خدا کی بارگاہ میں وسیلہ قرار دینا یا قبور کے پاس نمازیں پڑھنایا اس طرح کی دوسری چیزیں جن کو ہم بعد میں بیان کریں گے، ان سب کو شرک قرار دیدیاہے، اس سلسلہ میں وہ سنی اور شیعہ کے درمیان کسی فرق کے قائل نہیں ہیں۔

محمد بن عبد الوہاب کا نظریہ یہ تھا کہ جو لوگ عبد القادر،عروف كَرخی، زید بن الخطاب اور زُبیر کی قبروں سے متوسل ہوتے ہیں وہ مشرک ہیں(۲۷۷) اسی طرح جواہل سنت شیخ عبد القادر کو شفیع قرار دیتے ہیں ان پر بھی بہت سے اعتراضات کئے ہیں۔(۲۷۸)

آلوسی کاکہنا ہے کہ جوشخص حضرات علی، حسین، موسیٰ کاظم، اور محمد جواد(علیهم السلام)کے روضوں پر اور اہل سنت عبدالقادر ،حسنِ بصری اور زبیر وغیرہ کی قبروں پر زیارت کرتے ہوئے اور قبور کے نزدیک نماز پڑھتے ہوئے اور ان سے حاجت طلب کرتے ہوئے دیکھے تو اس کو یہ بات معلوم ہوجائے گی کہ یہ لوگ سب سے زیادہ گمراہ ہیں اور کفر وشرک کے سب سے بلند درجے پر ہیں۔(۲۷۹)

اس بات کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ شیعہ اور سنی قبروں کی زیارت کے لئے جاتے ہیں اور وہاں پر نمازیں پڑھتے ہیں اور صاحب قبر کو وسیلہ قرار دیتے ہیں لہٰذا کافر ہیں، اسی عقیدہ کے تحت دوسرے وہابی تمام ممالک کو دار الکفر (کافر کے ممالک)کھتے ہیں اور اس ملک کے رہنے والوں کو اسلام کی طرف دعوت دیتے تھے۔

۱۲۱۸ھ میں سعود بن عبد العزیز امیر نجد اہل مکہ کے لئے ایک امان نامہ لکھتا ہے جس کے آخر میں لوگوں کے خطاب کرتے ہوئے اس آیت کو لکھتا ہے:

( قُلْ یَا اَهْلَ الْكِتَابِ، تَعَالَوْا اِلٰی كَلِمَةٍ سَوَاء بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اَلاّٰ نَعْبُدَ اِلاّٰ اللّٰه وَلاٰ نُشْرِكَ بِهِ شَیْئاً وَلاٰ یَتَّخِذ بَعْضُنَا بَعْضاً اَرْبَاباً مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوْااشْهِدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ ) (۲۸۰)

”اے پیغمبرآپ کہہ دیں کہ اے اہل کتاب آو اور ایک منصفانہ کلمہ پر اتفاق کرلیں کہ خدا کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں، کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں، آپس میں ایک دوسرے کو خدا کا درجہ نہ دیں، اوراگر اس کے بعد بھی یہ لوگ منھ موڑیں تو کہہ دیجئے کہ تم لوگ بھی گواہ رہنا کہ ہم لوگ حقیقی مسلمان اور اطاعت گذار ہیں“

اسی طرح وہابی علماء میں سے شیخ حَمَد بن عتیق نے اہل مکہ کے کافر ہونے یا نہ ہونہ کے بارے میں ایک رسالہ لکھا جس میں بعض استدلال کے بناپر ان کو کافر شمار کیا،(۲۸۱) البتہ یہ اس زمانہ کی بات ہے جب وہابیوں نے مکہ شھر کو فتح نہیں کیا تھا۔

جن شھروں یاعلاقوں کے لوگوں میں جو نجدی حاکموں کے سامنے تسلیم ہوجاتے تھے ،ان سے ”قبول توحید “ کے عنوان سے بیعت لی جاتی تھی۔(۲۸۲)

کلّی طور پر وہابیوں نے اکثر مسلمانوں کے عقائد اور ان کے درمیان رائج معاملات کو دین اسلام کے مطابق نہیں جانتے تھے۔ گویا اسی طرح کے امور باعث بنے کہ بعض مستشرقین منجملہ ”نیبھر اہل ڈانمارک“نے گمان کیا کہ شیخ محمد بن عبد الوہاب پیغمبر تھا۔(۲۸۳)

توحید سے متعلق وہابیوں کے نظریات کے بارے میں شیخ عبد الرحمن آل شیخ کی گفتگو کو بیان کرنامناسب ہے، موصوف کہتے ہیں کہ ”لا الہ الا اللّٰہ“ کے معنی خدا کی یگانیت کے ہیں یعنی انسان کو چاہئے کہ فقط اور فقط خدا کی عبادت کرے اور عبادت کو خدا کے لئے منحصر مانے اور غیر خدا سے بیزاری اختیار کرے۔(۲۸۴)

اس سلسلہ میں حافظ وھبہ بھی کہتے ہیں کہ ”لا الہ الا اللّٰہ“کے معنی : خدا کے علاوہ تمام معبودوں کو ترک کرنا ہے، لہٰذا انسان کی توجہ صرف خدا پر ہونا چاہئے اور اگر کسی غیر خدا کی عبادت کی جائے تو گویا اس نے غیر خدا کو خدا کے ساتھ شریک قرار دیا،چاہے اس کام کا کرنے والا اس طرح کا کوئی ارادہ بھی نہ رکھتا ہو، تو ایسا شخص مشرک ہے خواہ وہ اپنے شرک کو شرک مانے یا اس کو توسل کانام دے۔

اس کے بعد حافظ وھبہ اپنی گفتگو کوجاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہابیوں کو اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ اگر کوئی کھے”یا رسول اللہ“،”یا ابن عباس“ ،”یا عبد القادر“وغیرہ اور ان کلمات کے کہنے سے اس کا قصدان کا فائدہ پہونچانایانقصان کو دور کرنا ہو یا اس کے مدّ نظر ایسے امور ہوں جن کو صرف خدا ہی انجام دے سکتا ہے، تو ایسا شخص مشرک ہے اور اس کا خون بھانا واجب ہے اور اس کا مال مباح ہے۔(۲۸۵)

قارئین کرام ! ہماری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ محمد بن عبد الوہاب توحید کی طرف دعوت دیتا تھا اورجو (اس کی بتائی ہوئی توحید کو)قبول کرلیتا تھا اس کی جان اور مال محفوظ ہوجاتی تھی اور اگر کوئی اس کی بتائی ہوئی توحید کو قبول نہیں کرتا تھا اس کی جان ومال مباح ہوجاتے تھے، وہابیوں کی مختلف جنگیں، چاہے وہ حجاز کی ہوں یا حجاز کے باہر مثلاً یمن، سوریہ اور عراق کی جنگیں،اسی بنیاد پر ہوتی تھیں اور جنگ میں جس شھر پر غلبہ ہوجاتا تھا وہ پورا شھر ان کے لئے حلال ہوجاتا تھا ،ان کو اگر اپنے املاک اور تصرف شدہ چیزوں میں قرار دینا ممکن ہوتا تو ان کو اپنی ملکیت میں لے لیتے تھے ورنہ جو مال ودولت اور غنائم جنگی ان کے ھاتھ آتاا سی پر اکتفا کرلیتے تھے۔(۲۸۶)

اور جو لوگ اس کی اطاعت کو قبول کرلیتے تھے ان کے لئے ضروری تھا کہ دین خدا ورسول کو (جس طرح محمد بن عبد الوہاب کہتا تھا)قبول کرنے میں اس کی بیعت کریں، اور اگر کچھ لوگ اس کے مقابلے میں کھڑے ہوتے تھے تو ان کو قتل کردیا جاتا تھا، اور ان کا تمام مال تقسیم کرلیا جاتا تھا، اسی پروگرام کے تحت مشرقی احساء کے علاقہ میں ایک دیھات بنام ”فَصول“ کے تین سو لوگوں کوقتل کردیا گیا اوران کے مال کو غنیمت میں لے لیاگیا، اسی طرح احساء کے قریب ”غُرَیْمِیْل“ میں بھی یھیکارنامے انجام دئے۔(۲۸۷)

اس سلسلہ میں شوکانی صاحب کہتے ہیں کہ محمد بن عبد الوہاب کے پیروکار ھراس شخص کو کافر جانتے تھے جو حکومت نجد میں نہ ہو یا اس حکومت کے حکام کی اطاعت نہ کرتا ہو، اس کے بعد شوکانی صاحب کہتے ہیں کہ سید محمد بن حسین المُراجل(جو کہ یمن کے امیر حجاج ہیں) نے مجھ سے کہا کہ وہابیوں کے کچھ گروہمجھے اور یمن کے حجاج کو کافر کہتے ہیں اور یہ بھی کہتے ہیں کہ تمھارا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہے مگر یہ کہ امیر نجد کی خدمت میں حاضر ہو تاکہ وہ دیکھے کہ تم کس طرح کے مسلمان ہو۔(۲۸۸)

وہابیوں کی نظر میں وہ دوسرے امور جن کی وجہ سے مسلمان مشرک یا کافر ہوجاتا ہے

وہابی لوگ توحید کے معنی اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ان کے علاوہ کوئی دوسرا مسلمان باقی نہیں بچتا، وہ بہت سی چیزوں کو توحید کے خلاف تصور کرتے ہیں جن کی وجہ سے ایک مسلمان دین سے خارج اورمشرک یا کافر ہوجاتا ہے،یہاں پر ان میں سے چند چیزوں کو بیان کیا جاتا ہے:

۱۔ اگر کوئی شخص اپنے سے بلا دور ہونے یا اپنے فائدہ کے لئے تعویذ باندہے یا بخار کے لئے اپنے گلے میں دہاگا باندہے، تو اس طرح کے کام شرک کا سبب بنتے ہیں اور توحید کے بر خلاف ہیں۔(۲۸۹)

۲۔ محمد بن عبد الوہاب نے عمر سے ایک حدیث نقل کی ہے جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی غیر خدا کی قسم کہائے تو اس نے شرک کیا، اورایک دوسری حدیث کے مطابق خدا کی جھوٹی قسم غیر خدا کی سچّی قسم سے بھتر ہے، لیکن صاحب فتح المجید اس بات کی تاویل کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ خدا کی جھوٹی قسم کہانا گناہ کبیرہ ہے، جبکہ غیر خدا کی سچی قسم شرک ہے جو گناہ کبیرہ سے زیادہ سنگین ہے۔(۲۹۰)

۳۔ اگر کسی شخص کو کوئی خیر یا شر پہونچا ہے، وہ اگر اسے زمانہ کانتیجہ جانے اور اس کو گالی وغیرہ دے تو گویا ا اس نے خدا کو گالی دی ہے کیونکہ خدا ہی تمام چیزوں کا حقیقی فاعل ہے۔(۲۹۱)

۴۔ ابو ھریرہ کی ایک حدیث کے مطابق یہ کہنا جائز نہیں ہے کہ اے خدا اگر تو چا ہے تو مجھے معاف کردے یا تو چاہے تو مجھ پر رحم کردے، کیونکہ خدا وندعالم اس بندے کی حاجت کو پورا کرنےکے سلسلہ میں کوئی مجبوری نہیں رکھتا۔(۲۹۲)

۵۔ کسی کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے غلام اورکنیز کو ”عبد“ اور ”امہ“ کھے اور یہ کھے ”عبدی“ یا ”اَ مَتی“کیونکہ خداوندعالم تمام لوگوں کا پروردگار ہے اور سب اسی کے بندے ہیں اور اگر کوئی اپنے کو غلام یا کنیز کا مالک جانے، اگرچہ اس کا ارادہ خدا کے ساتھ شرکت نہ بھی ہو، لیکن یھی ظاہری اور اسمی شراکت ایک قسم کا شرک ہے، بلکہ اسے چاہئے کہ عبد اور امہ کے بدلے” فتیٰ“ اور ”فتاة“یا غلام کھے۔(۲۹۳)

۶۔ جب انسان کو کوئی مشکل پیش آجائے تو اسے یہ نہیں کہنا چاہئے کہ اگر میں نے فلاں کام کیا ہوتا تو ایسا نہ ہوتا، کیونکہ ”لفظ اگر“ کے کہنے میں ایک قسم کا افسوس ہے اور ”لفظ اگر “ میں شیطان کے لئے ایک راستہ كُھل جاتا ہے اور یہ افسوس وحسرت اس صبر کے مخالف ہے جس کو خدا چاہتا ہے، جبکہ صبر کرنا واجب ہے اور قضا وقدر پر ایمان رکھنا بھی واجب ہے۔(۲۹۴)

کسی پر کفر کا فتویٰ لگانے کے بارے میں چند صفحے بعد وضاحت کی جائے گی۔

تو پھر موحّد کون ہے؟

جناب آقائے مغنیہ، محمد بن عبد الوہاب کی کتابوں اور دوسرے وہابیوں کی کتابوں سے یہ نتیجہ حاصل کرتے ہیں کہ وہابیوں کے لحاظ سے کوئی بھی انسان نہ موحد ہے اورنہ مسلمان ! مگر یہ کہ چند چیزوں کو ترک کرے، ان میں سے چند چیزیں یہ ہیں:(۲۹۵)

۱۔ انبیاء اور اولیا ء اللہ کے ذریعہ خدا سے توسل نہ کرے اورجب ایسا کام کرے مثلاً یہ کھے کہ اے خدا تجھ سے تیرے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وسیلہ سے توسل کرتا ہوں مجھ پر رحمت نازل فرما، تو ایسے شخص نے مشرکوں کا راستہ اپنایاہے، اوراس کا عقیدہ مشرکوں کے عقیدہ کی طرح ہے۔(۲۹۶)

۲۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت کی غرض سے سفر نہ کرے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر پر ھاتھ نہ رکھے اور آپ کی قبر کے پاس دعانہ مانگے نمازنہ پڑھے، اسی طرح آنحضرت کی قبر کے اوپر عمارت وغیرہ نہ بنائے، اور اس کے لئے کچھ نذر وغیرہ نہ کرے۔(۲۹۷)

۳۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شفاعت طلب نہ کرے، اگرچہ خدا وندعالم نے آنحضرتاور دوسرے انبیاءعلیهم السلامکو شفاعت کا حق عطا کیا ہے لیکن ہمیں ا ن سے شفاعت طلب کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔

چنانچہ ایک مسلمان کے لئے یہ کہنا جائز ہے :”یَا اَللّٰهُ، شَفِّعْ لی مُحَمَّداً “ (اے خدامحمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو میرا شفیع قرار دے، لیکن یہ کہنا جائز نہیں ہے ”یَا مُحَمَّد اِشْفَعْ لی عِنْدَ اللّٰ ہ“ (اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خدا کے نزدیک ہماری شفاعت کریں۔(۲۹۸)

اور اگر کوئی شخص حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شفاعت طلب کرتا ہے تو ایسا شخص بالکل ان بت پرستوں کی طرح ہے جو بتوں سے شفاعت طلب کرتے تھے۔(۲۹۹)

۴۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قسم نہ کہائے اور آپ کو نہ پکارے،آپ کو لفظ ”سیدنا“کہہ کر نہ پکارے، اپنی زبان پر اس طرح کے کلمات جاری نہ کرے کہ ”یا محمد وسیدنا محمد“ کیونکہ آنحضرت اور دیگر مخلوق کی قسم کہانا شرک اکبر اور ہمیشہ جہنم میں رہنے کا باعث ہے۔(۳۰۰)

اسی طرح شیخ محمد بن عبد الوہاب کاکہنا ہے کہ غیر خدا کے لئے نذر کرنا اورغیر خدا سے پناہ مانگنا یااستغاثہ کرنا شرک ہے۔(۳۰۱)

۲۔ صرف شھادتین کا اقرار کرنا مسلمان بننے کا سبب نہیں

شیخ عبد الرحمن آل شیخ (محمد بن عبد الوہاب کا پوتا) اس طرح کہتا ہے کہ” عُبّاد قبور“(اس سے مراد قبور کی زیارت کرنے والے ہیں) در حالیکہ کلمہ ”لا الہ الا اللّٰہ“ کو زبان پر جاری کرتے ہیں نماز پڑھتے اور روزہ رکھتے ہیں لیکن چونکہ محبت اور عبادت میں دوسروں کو خدا کا شریک قرار دیتے ہیں،لہٰذا یہ لوگ کوئی بھی عمل انجام دیں اور کوئی بھی گفتگو کریں باطل ہے اور چونکہ یہ مشرک ہیںلہٰذا ان کا کوئی بھی کام قبول اور صحیح نہیں ہے۔(۳۰۲)

اس سلسلہ میں حافظ وھبہ کہتے ہیں :وہابیوں کے علاوہ دوسرے فرقے معتقد ہیں کہ جس شخص نے بھی کلمہ ”لا الہ الا اللّٰہ محمد رسول اللّٰہ “کا اقرار کرلیا اس کی جان ومال محفوظ اور محترم ہے، لیکن ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ عمل کے بغیراس اقرار کا کوئی فائدہ نہیں اور نہ اس کا کوئی اعتبار ہے، لہٰذا اگر کوئی شھادتین کا اقرار کرے لیکن مردوں کو پکارے یا ان سے استغاثہ کرے یا ان سے حاجت طلب کرے یا ان سے یہ تقاضا کرے کہ ان سے مشکلات کو برطرف کرے توایسا شخص کافر اور مشرک ہے اور اس کی جان ومال حلال اورمباح ہے۔(۳۰۳)

اس سلسلہ میں آلوسی بھی اپنا نظریہ پیش کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کلمہ لا الہ الا اللّٰہ کی شھادت دے لیکن غیر خدا کی عبادت کرے (یعنی زیارت قبور کرے) اگرچہ وہ نماز پڑھتا ہو روزہ رکھتا ہو اور اسلام کے دوسرے اعمال بجالاتا ہو، لیکن ایسے شخص کی شھادت قبول نہیں ہے۔

اس کے بعد آلوسی کابیان ہے : کفر کی دو قسمیں ہیں اول کفر مطلق، یعنی ان تمام چیزوں کا انکار کرنا جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لے کر آئے ہیں، دوسرے کفر مقید یعنی ان میں سے بعض چیزوں کا انکار کرنا۔ وہ کفر مقیّد کے اثبات کے لئے اصحاب کے عمل کو دلیل کے عنوان سے پیش کرتا ہے، کہ جو لوگ زکوٰة ادا نہیں کرتے تھے جبکہ کلمہ شھادتین کا اقرار کرتے تھے اورنماز و روزہ اور حج بجالاتے تھے پھر بھی اصحاب ان کو کافر سمجھتے تھے۔(۳۰۴)

آلو سی اپنی باتوں سے اس طرح نتیجہ نکالتے ہیں کہ قبور کی عبادت کرنے والوں(یعنی زائرین قبور) کو صرف اس وجہ سے کہ وہ نماز پڑھتے ہیں روزہ رکھتے ہیں اور بعث وقیامت پر ایمان رکھتے ہیں، مسلمان نہیں کہا جاسکتابلکہ وہ مشرک ہیں۔

یہ بات طے ہے کہ یہ باتیں محمد بن عبد الوہاب کی کتابوں سے اخذ شدہ ہیں اور محمد بن عبد الوہاب کی کتابوں اور رسالوں میں تفصیل کے ساتھ بیان ہوئی ہیں۔(۳۰۵)

اس سلسلہ میں وضاحت

غیر وہابیوں کا اس بات پر عقیدہ ہے کہ جو شخص زبان پر شھادتین جاری کرے اور نماز روزہ بجالائے زکوٰة ادا کرے اور دین اسلام کے ضروریات کا معتقد ہو تو اس کا شمار مسلمانوں کی فھرست میں ہوگا، اور اس کی جان ومال محفوظ ہے، اور ان کا یہ عقیدہ سیرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عین مطابق اور اسلام کے مسلمات میں سے ہے،اس سلسلہ میں صحیح بخاری، مسند احمد ابن حنبل اوردوسری معتبر کتابوں میں متعدد احادیث بیان ہوئی ہیں، گذشتہ زمانہ سے آج تک تمام مسلمانوں کے فرقوں کی سیرت بھی یھی رہی ہے، اور مختلف مذاہب کے علمائے اسلام کا اس سلسلہ میں اتفاق اور اجماع ہے:

احمد ابن حنبل عمر اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں:

اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتلَ النَّاْسَ حَتّٰی یَقُوْلُوا : لاٰ اِٰلهَ اِلاّٰ اللّٰه فَمَنْ قاَلَ لاٰ اِلٰهَ اِلاّٰ اللّٰه فَقَدْ عَصُُمَ مِنِّی مَالُهُ وَنَفْسُهُ اِلاّٰ بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلٰی اللّٰهِ تَعَالیٰ(۳۰۶)

”خدا وندعالم نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ کلمہ” لا الہ الا اللّٰہ“ زبان پر جاری کریں اور جس شخص نے بھی کلمہ لا الہ الا اللّٰہکا اقرار کرلیا اس کی جان ومال محفوظ ہے مگر یہ کہ کوئی دوسرا حق درمیان میں ہو، اور اس کا حساب خدا کے ھاتھ میں ہے۔

شیخ محمود شَلتُوت (جامع الازھر کے سابق سربراہ) کہتے ہیں کہ خدائے وحدہ لاشریک اورپیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت کا اقرار (اَشْهَدُ اَنْ لاٰ اِلَهَ اِلاّٰ اللّٰهَ وَاَنَّ مُحَمَّداً رَسُوْلُ اللّٰهِ ) انسان کے لئے ایک کلید ہے وہ جس سے اسلام میں داخل ہوسکتا ہے اور اس پر اسلامی احکام جاری ہونگے۔(۳۰۷)

کسی کے بارے میں کفر کا فتویٰ لگانا

وہابیوں اور ابن تیمیہ کے عقائد کی بحث میں یہ بات بیان ہوچکی کہ یہ لوگ اپنے علاوہ سبھی دوسرے مسلمانوں کو کافر اورمشرک کہتے ہیں، اور دوسروں پر بہت جلد کفر کا فتویٰ لگا دیتے ہیں، جبکہ خود رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اصحاب اور مختلف فرقوں کے بڑے بڑے علماء کا طریقہ یہ نہیں تھا، جن چیزوں کو یہ لوگ کفر وشرک کا باعث سمجھتے ہیں، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے اصحاب اور دینی رہبروں کی نظر میں وہ امور موجب کفر وشرک نہیں تھے۔

اگر مسلمان ہونے کے لئے شھادتین کا اقرار کرنا کافی نہ ہواورتوحید کا مفہوم ابن تیمیہ اور اس کے ہمنواوں نے ہی صحیح سمجھا ہے، تو پھر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ کے زمانہ جاہلیت کے اکثرعرب تھے جن میں سے بعض لوگ مولفة القلوب تھے، ان کے اسلام کو کس طرح قبول کیا جاسکتا ہے، جبکہ صحاح ستہ اور اہل سنت کی دوسری معتبر کتابوں اور دوسرے فرقوں کی کتابوں کے لحاظ سے وہ لوگ جو صرف زبان سے شھادتین کا اقرار کرتے تھے، ان کومسلمان تصور کیا جاتا تھا، جبکہ صدر اسلام میں اکثر لوگ یہاں تک کہ خود اصحاب کرام اسلام کے صحیح معنی سے آگاہ نہیں تھے اور صرف زبان سے کلمہ شھادتین کہنے پر ان کی جان ومال محفوظ ہوجاتا تھا اور ان کو مسلمان حساب کیا جاتا تھا، لیکن وہابیوں کا کہنا یہ ہے کہ جو شخص کلمہ شھادتین کا اقرار کرے اور نماز پڑھے، روزہ رکھے، حج بجالائے اور اسلام کی دوسری ضروریات کو قبول کرتے ہوئے ان پربھی عمل کرے لیکن اگردینی بزرگوں کی قبور کی زیارت کے لئے جائے تو ایسا شخص مشرک ہے کیونکہ اس نے غیر خدا کو خدا کی عبادت میں شریک قرار دیا ہے، جبکہ اگر کسی بھی زائر سے چاہے وہ شیعہ ہو یا سنی ،یہ سوال کریں کہ تم کس لئے زیارت کے لئے جاتے ہو؟ تو اس کا جواب یہ ہوگا : وہ خدا کا خاص بندہ ہے اور اس نے خدا کے وظائف دوسروں سے بھتر انجام دئے ہیں اور ہم خدا کی خوشنوی کے لئے اس کی قبر کی زیارت کے لئے جاتے ہیں۔ اس کے لئے دعا کرتے ہیں اور اس کی تعظیم کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ بات واضح ہے کہ کسی ایسے شخص کے بارے میں کفر و شرک کا فتویٰ لگانا حقیقت اسلام کے مخالف اور سیرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نیز سلف صالح اور دینی رہبروں کی سیرت کے خلاف ہے۔

اس موقع پر مناسب ہے کہ کسی کے بارے میں کفر و شرک کے فتوے لگانے کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، اصحاب اوردینی رہبروں کی سیرت کی روشنی میں کتاب”الاسلام بین السنة والشیعہ“ سے کچھ چیزیں بیان کردی جائیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ کسی موحد اور مسلمان کے کفر کا فتویٰ اتنی آسانی سے نہیں لگایا جاسکتا، اور کروڑوں مسلمانوں کو ایسی چیزوں کی وجہ سے جو کبھی بھی توحید اور عبادت خدا کے منافی نہیں ہیں، بڑی آسانی سے کافر نہیں کہا جا سکتا ۔

کسی پر کفر کا حکم لگانا خدا کا کام ہے

اسلام قول اور فعل کے ذریعہ ظاہر ہوتا ہے اور انھیں اقوال اور افعال کی وجہ سے میراث کا مسئلہ بھی جاری ہوتا ہے، اور لوگوں کا نماز پڑھنا زکوٰة دینا حج بجالانا وغیرہ ایسے امور ہیں جن کے ذریعہ انسان کفر سے نکل کر ایمان کی منزل میں آجاتا ہے۔(۳۰۸)

ہاں پر چند دینی رہبروں کے اقوال آپ کی خدمت میں پیش کرتے ہیں:

”میں کسی اہل قبلہ کو کافر نہیں جانتا“(۳۰۹)

”پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد لوگوں میں بہت سے مسائل میں اختلاف پیدا ہوگیا اور مختلف فرقے پیدا ہوگئے، اسلام ان سب کو ایک جگہ جمع کردیتا ہے اور سب پر مسلمان کا اطلاقہوتا ہے“(۳۱۰)

”میں کسی اہل قبلہ کے کفر کا فتویٰ نہیں دیتا“(۳۱۱)

”میں کسی بھی عنوان شھادتین کہنے والوں کو کافر نہیں کہتا“(۳۱۲)

”اگر میرے بدن کا گوشت درندے کہالےں، میں اس کو اس چیز سے بھتر سمجھتا ہوں کہ خدا سے اس حال میں ملاقات کروں کہ کسی ایسے شخص سے دشمنی رکھوں جو خدائے وحدہ لاشریک اور نبوت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اعتقاد رکھتا ہو“(۳۱۳)

”میں کسی بھی اسلامی مذہب سے تعلق رکھنے والوں کو کافر نہیں کہہ سکتا“(۳۱۴)

”کسی بھی موحد انسان سے دشمنی جائز نہیں ہے اگرچہ اس کو ہوا وہوس نے حق سے منحرف ہی کیوں نہ کر دیا ہو“(۳۱۵)

آخر کلام میں ہم حضرت امام صادق ںکے کلام کو پیش کرتے ہیں، چنانچہ آپ نے فرمایا: ”مسلمان،مسلمان کا بھائی ہے اور ہر مسلمان اپنے مسلمان بھائی کی آنکھ، آئینہ ،اور راہنما ہے جس سے وہ خیانت نہیں کرتا اور نہ ہی اس کو دہوکہ دیتا، اور نہ ہی اس کی غیبت کے لئے اپنا منھ کھولتا ہے۔

اس سلسلہ میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرت اور آنحضرت کا فرمان کہ آپ نے فرمایا کہ جو شخص اس حال میں مرے کہ خدا کے علاوہ کسی کو خدا نہ جانے تو ایسا شخص بہشت میں داخل ہوگا۔(۳۱۶)

ہم دیکھتے ہیں کہ جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مُعاذ بن جَبَل کو یمن میں تبلیغ کے لئے بھیجا تاکہ لوگوں کو خدا کی طرف بلائےں تو آپ نے ان سے تاکید کی کہ خدا پر ایمان کی حقیقت اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کے اعتراف پر اکتفاء کرنا، پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے کہا: تم اس قوم کے پاس جارہے ہو جو اہل کتاب ہیں، ان کو یہ بتانا کہ تم پر خداوندعالم نے روزانہ پانچ وقت کی نمازیں واجب کی ہیں اور اگر وہ لوگ قبول کرتے ہیں تو پھر ان کے مالداروں سے کہنا کہ تم پر زکوٰة واجب ہے تاکہ وہ فقیروں میں تقسیم کی جائے۔

جو شخص اپنے دل میں اس بات کا معتقد ہو کہ جنت ودوزخ خدا کے حکم اور اس کے فرمان کے تحت ہے اور کسی پر کفر اور ایمان کا حکم لگانا اور انسان کے دل کی گھرائیوں کا حال جانناخدا سے مخصوصھے، ایسے شخص نے چاہے وہ کتنا بڑا ہو،عالم ہو یامعجز نما ہو اس نے ان اعتقادات کے باوجود خدا کے سامنے بزرگی وبڑائی کی جرات کی ہے ۔

اسی طرح جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سنا کہ ان کے ربیب اُسامہ بن زید نے میدان جنگ میں اس شخص کو قتل کردیا جس نے زبان پرکلمہ توحید جاری کیا تھا، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بہت ناراض ہوئے اور جب اُسامہ بن زید نے یہ عذر پیش کیا کہ اس نے جان کے خوف سے یہ کلمہ زبان پر جاری کیا تھا (یعنی صرف اپنی جان بچانے کے لئے کلمہ پڑھا تھا) تو آپ نے اُسامہ کے عذر کو قبول نہیں کیا اور فرمایا کہ کیا تم نے اس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا کہ اس کا یہ شھادتین کا اقرار اعتقاد سے تھا یا خوف سے؟ اور یہ بات معلوم ہے کہ ایمان کی جگہ انسان کا دل ہوتا ہے اور دل کے اسرار سے صرف خدا ہی واقف ہوتا ہے کوئی دوسرا ان سے واقف نہیں ہوسکتا۔

اسی طرح جب عمر نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عبد اللہ ابن اُبیّ (جو منافقوں کا سردار تھا) کے قتل کی اجازت مانگی، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم یہ کام کروگے تو لوگ یہ کہیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ہی اصحاب کو قتل کررہے ہیں، گویا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی اس بات سے عمر اور دوسرے لوگوں کو یہ سمجھانا چاہتے تھے کہ اسلام فقط ظاہر پر حکم کرتا ہے چاہے شک اور تردید کے ساتھ ہو۔(۳۱۷)

شیخ سلیمان جو محمد بن عبد الوہاب کے بھائی تھے اور محمد بن عبد الوہاب کے سخت مخالفین میں شمار ہوتے تھے، انھوں نے اپنے بھائی محمد بن عبد الوہاب جو تمام مسلمانوں کو کافر و مرتد کہتا تھا کی ردّ میں ایک کتاب ”الصواعق الالٰھیہ“لکھی جس میں(۵۲) حدیثیں ایسی لکھی ہیں جس میں ہر اس شخص کو مسلمان کہا گیا ہے جس نے زبان پرکلمہ لا الہ اللہ کو جاری کیا اور بہت سی ایسی حدیثیں لکھیں جس میں ہر اس شخص کو کافر کہا گیا ہے جو کسی مسلمان کو کافر کھے۔(۳۱۸)

۳۔ خداوند عالم کے لئے جھت کا ثابت کرنا

وہابی، ابن تیمیہ کی پیروی کرتے ہوئے کیونکہ وہ قرآن اور احادیث کے ظاہر پر عمل کرتے ہیں اور تاویل و تفسیر کے قائل نہیں ہیں بعض آیات اور احادیث کے ظاہر سے تمسک کرتے ہوئے خداوندعالم کے لئے جھت کو ثابت کرتے ہیں اور اس کو اعضاء وجوارح والا مانتے ہیں۔

اس سلسلہ میں آلوسی کاکہنا ہے : وہابی ان احادیث کی تصدیق کرتے ہیںجن میں خداوند عالم کے آسمانِ دنیا (آسمان اول) پر نازل ہونے کا تذکرہ ہے، وہ کہتے ہیں کہ خداوندعالم عرش سے آسمان دنیا پر نازل ہوتا ہے اور یہ کہتا ہے:هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ ؟کیا کوئی استغفار کرنے والا ہے کہ میں اس کے استغفار کو قبول کروں۔

اسی طرح وہ یہ بھی اقرار کرتے ہیں کہ خداوندعالم روز قیامت عالم محشر میں آئے گا کیونکہ خود اس نے فرمایا ہے:

( وَجَاءَ رَبُّكَ وَالْمَلَكُ صَفّاً صَفّاً ) (۳۱۹)

”اور تمھارا پرور دگار اور فرشتے صف در صف آجائیں گے“۔

خدا اپنی مخلوق سے جس طرح بھی چاہے قریب ہوسکتا ہے جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:

( وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ ) (۳۲۰)

”اور ہم اس کی رگ گردن سے زیادہ قریب ہیں۔ “

آلوسی ایک دوسری جگہ کہتے ہیں کہ اگرچہ وہابی خداوندعالم کے لئے جھت کوثابت کرتے ہیں لیکن مُجسِمّہ نہیں ہیں(۳۲۱) (یعنی خدا کو جسم والانھیں مانتے) اور کہتے ہیں کہ روز قیامت مومنین بغیر کسی کیفیت اور احاطہ کے خداوندعالم کا دیدار کریں گے ۔(۳۲۲)

اسی طرح وہابی لوگ بعض آیات کے ظاہر کو دیکھتے ہوئے خداوند عالم کے لئے اعضاء وجوارح ثابت کرتے ہیں مثلاً اس آیہ شریفہ

( بَلْ یَدَاهُ مَبْسُوْطَتَاْنِ ) (۳۲۳)

(خدا کے دونوں ھاتھ تو کھلے ہیں)سے خداوندعالم کے لئے دو ھاتھ ثابت کرتے ہیں اور اسی طرح اس آیہ شریفہ( وَاْصْنَعِ الْفُلْكَ بِاَعْیُنِنَا ) (۳۲۴) کے ظاہر سے خدا کے لئے دو آنکھیں اور اس آیہ کریمہ( فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ ) (۳۲۵)

کے ذریعہ خدا کے لئے چھرہ اور صورت ثابت کرتے ہیں۔

اور خدا کے لئے انگلیوں کو ثابت کرنے کے لئے ان کے پاس ایک روایت ہے جس کو محمد بن عبد الوہاب نے کتاب توحید کے آخر میں بیان کیا ہے:

اِنَّ اللّٰهَ جَعَلَ السَّمَوٰاتِ عَلٰی اِصْبَعٍ مِنْ اَصَابِعِه وَالاَرْضَ عَلٰی اِصْبَعٍ وَالشَّجَرَ عَلٰی اِصْبِعٍ اِلٰی آخِرِه(۳۲۶)

خداوندعالم نے آسمانوں کو اپنی ایک انگلی پر اور زمین کو ایک انگلی پر اسی طرح درختوں کو ایک انگلی پر اٹھا رکھا ہے۔

خداوند عالم کی صفات کے بارے میں

صاحب فتح المجید کہتے ہیں: تمام اہل سنت والجماعت چاہے متقدمین ہوں یا متاخرین، ان کا عقیدہ یہ ہے کہ خدا کے وہ صفات جن کو خود خدانے قرآن مجید میں بیان کیا ہے یا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خدا کو ان صفات سے متصف کیا ہے،وہ خداوندعالم کے لئے ثابت اور مسلّم ہیں لیکن خداوندعالم کو ان صفات میں کسی مخلوق کے مانند قرار نہیں دیا جاسکتا۔

کیونکہ خداوندعالم اپنے صفات میں مانند اورشبیہ رکھنے سے پاک ومنزہ ہے، جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:

( لَیْسَ كَمِثْلِهِ شَئْيٌ وَهو السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ ) (۳۲۷)

”اس کا جیسا کوئی نہیں وہ سب کی سننے والا اور ہر چیز کا دیکھنے والا ہے“۔

جس طرح خداوندعالم ایک حقیقی ذات ہے جس کی کوئی شبیہ نھیں، اسی طرح خداوندعالم کے حقیقی صفات بھی ہیں جن سے مخلوق کی کوئی صفت شباہت نہیں رکھتی، اگر کوئی شخص ان چیزوں کا منکر ہوجائے جن کو خداوندعالم نے خود سے متصف کیا ہے یا اس کے ظاہری معنی کی تاویل اور تفسیر کرے (مثلاً یہ کھے کہ اس آیت میں( یَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَیْدِیْهم ) میں ھاتھ سے مراد خدا کی قدرت ہے) ایسے شخص کا مذہب جہمی(۳۲۸) ہے، اور اس کا راستہ مومنین کے راستہ سے الگ ہے۔(۳۲۹)

۴۔ گذشتہ انبیاء کے بارے میں

شیخ محمد بن عبد الوہاب اپنی کتابوں اور رسالوں میں نبوت کی گفتگو کرتے ہوئے جناب نوح کو پہلا نبی کہتا ہے:

اَوَّلُهم (اَوَّلُ الاَنْبِیَاءْ) نُوْحٌ وَآخِرُهم مُحَمَّد صلی الله علیه و آله وسلم “

”انبیاء میں سب سے پہلے جناب نوحںاور آخری نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں“

اور اس سلسلہ میں قرآن مجید کی آیت کو دلیل کے طورپر بیان کیا ہے مثلاً یہ آیہ کریمہ:

( اِنَّا اَوْحَیْنَا اِلَیْكَ كَمَا اَوْحَیْنَا اِلٰی نُوْحٍ وَالنَّبِیِّیّْنَ مِنْ َبعْدِه ) (۳۳۰)

”ہم نے آپ پر وحی نازل کی جس طرح نوح اور ان کے بعد کے انبیاء کی طرف وحی کی تھی“۔

۵۔ شفاعت اور استغاثہ

شیخ محمد بن عبد الوہاب کہتا ہے:خداوندعالم نے جن عبادتوں کا حکم کیا ہے وہ یہ ہیں: اسلام، ایمان، احسان، دعا، خوف ورجا، توکل، رغبت، زہد،استقامت، استغاثہ، قربانی اور نذر، یہ تمام چیزیں صرف خدا وندعالم کے لئے ہیں۔(۳۳۱)

شفاعت کے بارے میں حافظ وھبہ کہتے ہیں کہ وہابی روز قیامت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شفاعت کے منکر نہیں ہیں اور جیسا کہ بہت سی روایات میں وارد ہوا ہے ،وہ شفاعت کو دوسرے انبیاء،

فرشتوں، اولیاء اللہ اور(معصوم) بچوںکے لئے بھی مانتے ہیں، لیکن شفاعت کو اس طرح طلب کیا جائے کہ بندہ خدا سے درخواست کرے کہ پیغمبر کو اس کا شفیع قرار دے مثلا ًیوںکھے:

اَللّٰهم شَفِّعْ نَبِیِّنَا مُحَمَّداً فِیْنَا یَوْمَ الْقِیَامَة، اَللّٰهم شَفِّعْ فِیْنَا عِبَادَكَ الصَّاْلِحِیْنَ“

”خداوندا ! ہمارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو روز قیامت ہمارا شفیع قرار دے، خداوندا ! اپنے صالح بندوں کو ہمارا شفیع قرار دے“۔

لیکن ”یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ، یَا وَلِیّ اللّٰهِ اَسْالُكَ الشَّفَاعَةَ “ یا اسی طرح کے دوسرے الفاظ مثلاً ”یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ اَدْرِكْنِی، یَا اَغِثْنِی “زبان پر جاری کرنا خدا کے ساتھ شرک ہے۔(۳۳۲)

ابن قیم کہتا ہے کہ شرک کے اقسام میں سے ایک قسم مُردوں سے استغاثہ کرنا یا ان کی طرف توجہ کرنا بھی ہے، مُردے کسی کام پر قادر نہیں ہیں، وہ خود تو اپنے لئے نفع ونقصان کے مالک ہیں نھیں، پھرکس طرح استغاثہ کرنے والوں کی فریاد کو پہونچ سکتے ہیں، یا خدا کی بارگاہ میں شفاعت کرسکتے ہیں؟۔

شیخ صُنعُ اللہ حنفی کہتا ہے کہ آج کل مسلمانوں کے درمیان ایسے گروہ پیدا ہوگئے ہیں جو اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ اولیاء اللہ کی کرامتوں میں سے ایک کرامت یہ بھی ہے کہ وہ اپنی زندگی یا موت کے بعد بھی بعض تصرفات کرسکتے ہیں مثلاً جو لوگ مشکلات اور پریشانیوں کے وقت ان سے استغاثہ کرتے ہیں وہ ان کی مشکلات کو دور کردیتے ہیں، یہ لوگ قبور کی زیارتوں کے لئے جاتے ہیں، اور وہاںطلب حاجت کرتے ہیں، اور ثواب کی غرض سے وہاں پر قربانی و نذر وغیرہ کرتے ہیں۔

شیخ صنع اللہ یہاں پر اس طرح اپنا عقیدہ بیان کرتا ہے کہ ان باتوں میں افراط وتفریط بلکہ ہمیشگی عذاب ہے اور ان سے شرک کی بو آتی ہے۔(۳۳۳)

ابن سعود ذی الحجہ ۱۳۶۲ھ میں مکہ معظمہ میں کی جانے والی اپنی تقریر میں کھتا ہے کہ ”عظمت اور کبریائی خداوندعالم سے مخصوص ہے اور اس کے علاوہ کوئی معبود نھیں، اور یہ باتیں ان لوگوں کی ردّ میں ہیں جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پکارتے ہیں اور ان سے حاجت طلب کرتے ہیں۔

جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کچھ بھی اختیار اور قدرت نہیں ہے اور توحید خداوندعالم سے مخصوص ہے، اور اسی کی عبادت ہونا چاہئے اور امید اور خوف اور تمنا خدا وندعالم سے ہونی چاہئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت اسی طرح دیگر انبیاءعلیهم السلامکی نبوت، صرف لوگوں کو توحید کا سبق پڑھانے کے لئے تھی۔(۳۳۴)

شیخ صنع اللہ کہتے ہیں کہ ظاہری اور معمولی کاموں میں استغاثہ جائز ہے،مثلاً جنگ، یا دشمن اور درندہ کے سامنے کسی سے مدد طلب کی جاسکتی ہے، لیکن معنوی امور میں کسی سے استغاثہ کرنا مثلاً انسان پر یشانیوں کے عالم میں ، بیماری کے، یا غرق ہونے کے خوف سے یا روزی طلب کرنے میں کسی دوسرے سے استغاثہ نہیں کرسکتا بلکہ ان چیزوں میں صرف خدا سے استغاثہ کرنا چاہئے اور کسی غیرخدا سے استغاثہ جائز نہیں ہے۔(۳۳۵)

زینی دحلان محمد بن عبد الوہاب کا قول نقل کرتے ہیں کہ اگر کوئی شخص پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یا دوسرے انبیاءعلیهم السلامسے استغاثہ کرے یا ان میں سے کسی ایک کو پکارے، یا ان سے شفاعت طلب کرے تو ایسا شخص مشرکوں کی طرح ہے، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور دیگر انبیاء کی قبروںکی زیارت بھی خدا کے ساتھ شرک ہے، اور زیارت کرنے والے مشرکوں کی طرح ہیں جو بتوں کے بارے میں کہتے تھے:

( مَانَعْبُدُهم اِلاّٰ لِیُقَرِّبُونَا اِلَی اللّٰهِ زُلْفٰی ) (۳۳۶)

”ہم ان کی پرستش صرف اس لئے کرتے ہیں کہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کردیں گے“۔

محمد بن عبد الوہاب اس بارے میں مزید کہتے ہیں کہ جو لوگ اہل قبور سے شفاعت طلب کرتے ہیں ان کا شرک زمان جاہلیت کے بت پرستوں کے شرک سے بھی زیادہ ہے۔(۳۳۷)

استغاثہ کے بارے میں وضاحت

سید احمد زینی دحلان (مکہ معظمہ کے مفتی) گذشتہ مطلب کے بعد اس طرح کہتے ہیں:ان عقائد کی ردّ میں لکھی گئی کتابوں میں مذکورہ استدلال کو باطل اور غیر صحیح قرار دیاگیا، کیونکہ جو مومنین پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اوردیگر اولیاء اللہ سے استغاثہ کرتے ہیں وہ نہ ان کو خدا سمجھتے ہیں اورنہ ہی خدا کا شریک، بلکہ ان کا تو اعتقاد یہ ہوتا ہے کہ یہ سب خدا کی مخلوق ہیں اور ان کو کسی بھی صورت میں مستحق عبادت نہیں مانتے، برخلاف مشرکین کے جن کے بارے میں مذکورہ اور دیگر آیات نازل ہوئیں ہیں کہ وہ خود بتوں کو مستحق عبادت سمجھتے تھے، اور ان بتوں کے لئے ایسی عظمت کے قائل تھے جس طرح خدا کی عظمت کے قائل ہوتے ہیں، لیکن مومنین کرام انبیاءعلیهم السلامکو مستحق عبادت نہیں جانتے اور ان کے لئے خدا سے مخصوص عظمت کے بھی قائل نہیں ہیں، بلکہ ان کا عقیدہ تو صرف یہ ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور دیگر انبیاء کرام خدا کے ولی اور اس کے منتخب بندے ہیں، اور خود خداوندعالم ان کے وجود سے اپنے دیگر بندوں پر رحم کرتا ہے، لہٰذا ابنیاءعلیهم السلام اور اولیاء اللہ کی قبروں کی زیارت صرف ان حضرات سے تبرک حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہے۔(۳۳۸)

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پکارنے اور آنحضرت سے استغاثہ کرنے کے بارے میں مرحوم علامہ الحاج سید محسن امین صاحب کتاب ”خلاصة الکلام“ سے نقل کرتے ہیں کہ مسیلمہ کذاب سے جنگ کے دوران اصحاب رسول کا نعرہ ”وامحمداہ، وامحمداہ“ تھا اور جس وقت عبد اللہ ابن عمر کے پیر میں درد ہوا تو اس سے کہا گیا کہ جس کو تم سب سے زیادہ چاہتے ہو اس کو یاد کرو، تو اس نے ”وامحمداہ“ کہا اور اس کے پیر کا درد ختم ہوگیا، اسی طرح دوسرے واقعات ہیں جن میں آنحضرت سے استغاثہ کو بیان کیا گیا ہے،(۳۳۹)

شفاعت کے سلسلہ میں انس بن مالک اس طرح روایت کرتے ہیں:

لِكُلِّ نَبِیٍّ دَعْوَةٌ قَدْ دَعَا بِها فَاسْتُجِیْبَ، فَجَعَلْتُ دَعْوَتِی شَفَاعَةً لِاُمَّتِی یَوْمَ الْقِیَامَةِ“

”ھر نبی کے لئے خداوندعالم نے کچھ مستجاب دعائیں معین کی تھیں اور ان کی وہ دعائیں قبول ہوگئیں لیکن میں نے اپنی دعا کو روز قیامت میں اپنی امت کی شفاعت کے لئے باقی رکھا ہے“

اسی طرح ابوھریرہ سے ایک دوسری روایت ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں:

لِكُلِّ نَبِیٍّ دَعْوَةٌ یَدْعُوْ بِها وَاُرِیْدُ اَنْ اَخْتَبِیَ دَعْوَتِی شَفَاعَةً لِاُمَّتِی فِیْ الآخِرَةِ(۳۴۰)

”ھر پیغمبر نے خداوندعالم سے کچھ نہ کچھ دعائیں کی ہیں اور میں نے اپنی دعا کو روز قیامت میں اپنی امت کی شفاعت کے لئے باقی رکھا ہے“۔

شیخ عبد الرحمن آل شیخ کی تحریر کے مطابق قیامت کے دن مخلوق خدا، انبیاءعلیهم السلام کے پاس جمع ہوکر عرض کریں گی کہ آپ خدا کے نزدیک ہماری شفاعت کریں، تاکہ روز محشر کی مشکلات سے نجات حاصل ہوجائے۔(۳۴۱)

۷۔ غیر خدا کو ”سید“ یا ”مولا “ کہہ کر خطاب کرنا شرک ہے

مرحوم علامہ امین ، ہدیة السنیہ رسالہ سے نقل کرتے ہیں کہ صاحب رسالہ نے زیارت قبور کی حرمت بیان کرنے کے بعد اس طرح کہا ہے کہ قبروں میں دفن شدہ لوگوں کو پکارنا اور ان سے استغاثہ کرنا یا ”یَا سَیّدی وَمَولای اِفْعَل كَذَا وَکذَا “ (اے میرے سید ومولا میری فلاں حاجت روا کریں) جیسےالفاظ سے پکارنا، اور اس طرح کی چیزوں کو زبان پر جاری کرنا گویا ”لات وعزّیٰ“ کی پرستش ہے۔(۳۴۲)

اس سلسلہ میں محمد بن عبد الوہاب کہتا ہے کہ مشرکین کا لفظ ”الہ“ سے وھی مطلب ہوتا تھا جو ہمارے زمانہ کے مشرکین لفظ ”سید “ سے مرادلیتے ہیں۔(۳۴۳)

خلاصة الکلام میں اس طرح وارد ہوا ہے کہ محمد بن عبد الوہاب کے گمان کے مطابق اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو ”مولانا“ یا ”سیدنا“ کھے تو ان الفاظ کا کہنے والا کافر ہے۔(۳۴۴)

مذکورہ مطلب کی وضاحت

مرحوم علامہ امین مذکورہ گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ کسی غیر خدا کو ”سید“ کہہ کر خطاب کرنا صحیح ہے اور اس میں کوئی ممانعت بھی نہیں ہے کیونکہ اس طرح کی گفتگو میں کوئی شخص بھی اس شخص کے لئے مالکیت حقیقی کا ارادہ نہیں کرتا، اس کے علاوہ قرآن مجید میں چند مقامات پر غیر خدا کے لئے لفظ سید استعمال ہوا ہے، مثلاً جناب یحییٰ ابن زکریاں کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے:

( وَسَیّداً وَحَصُوْرا ) (۳۴۵)

(سردار اور پاکیزہ کرداروالے جناب یحییٰ تھے) اسی طرح دوسری آیت میں( وَاَلْفِیَا سَیِّدَها لَدیَ الْبَابِ ) (۳۴۶)

(اور ان دونوں نے اس کے سردار کو دروازے پر ہی دیکھ لیا)

احادیث رسول(ص) میں بھی غیر خدا کے لئے لفظ ”سید“بھت زیادہ استعمال ہوا،یہاں تک کہ تواتر کی حدتک بیان ہوا ہے۔

ان احادیث کے چند نمونے یہاںذکر کئے جاتے ہیں:

اس روایت کو بخاری نے جناب جابر سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

”مَنْ سَیّدُكُمْ یَا بَنِی سَلْمَة؟“

اے بنی سلمہ تمھارا سید وسردار کون ہے؟

اسی طرح ابوھریرہ سے ایک روایت میں وارد ہوا ہے:

”اَنَا سَیِّدُ وُلْدِ آدَم یَومَ القِیَامَةِ“

میں تمام اولاد آدم کا سید وسردار ہوں۔

اسی طرح ایک دوسری روایت میں حضرت نے فرمایا:

”اَنَا سَیِّدُ وُلْدِ آدَمَ وَعَلِیّ سَیِّدُ الْعَرَبْ“

میں تمام اولاد آدم کا سید وسردار ہوں اور علی ںتمام عرب کے سید وسردار ہیں۔

ابو سعید خدری پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی ہے جس میں آپ نے فرمایا:

”اَلْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ سَیِّدَا شَبَابِ اَهْلِ الْجَنَّةِ“

حسن اور حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔ اور اسی طرح دوسری روایتیں۔

اس کے بعد علامہ امین صاحب فرماتے ہیں کہ وہ روایات جن سے اس چیز کا وہم وگمان ہوتا ہے کہ لفظ سید کو کسی غیر خدا پر اطلاق کرنا صحیح نہیں ہے ان روایات کا مقصد ”سید حقیقی“ ہے جیسا کہ ہم نے پہلے بھی بیان کیا ہے۔(۳۴۷)

اس بات پر توجہ رکھنا ضروری ہے کہ اس حدیث”اَلْحَسَنُ وَالْحُسَیْنُ سَیِّدَا شَبَابِ اَهْلِ الْجَنَّةِ“ کو ابن تیمیہ نے نقل کیا ہے اور اس حدیث کے ذےل میں یہ بھی کہا کہ صحیح احادیث پیغمبر اکرممیں وارد ہوا ہے کہ آپ نے امام حسن ں کے بارے میں فرمایا: ”اِنَّ ابْنِی هَذَا سَیِّدٌ(۳۴۸) (بے شک یہ میرا بیٹا سید و سردار ہے) اسی طرح شرح مناوی بر جامع صغیر سیوطی میں چند روایتیں نقل ہوئیں ہیں جن میں غیر خدا پر سید کا لفظ استعمال ہوا ہے، منجملہ یہ جملہ:

سَیِّدُ الشُّهْدَاءِ عِنْدَ اللّٰهِ یَوْمَ القِیَامَةِ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ المُطَّلِبْ“

”جناب حمزہ بن عبد المطلب قیامت کے دن خدا کے نزدیک سید الشہداء ہیں“

اسی طرح یہ حدیث بھی بیان ہوئی ہے:

سَیِّدُ الْقَوْمِ خَادِمُهم، وَسَیِّدُ النَّاسِ آدَمُ وَسَیِّدُ الْعَرَبِ مُحَمَّدٌ وَسَیِّدُ الرُّوْمِصُهَیْبٌ وَسَیِّدُ الْفُرْسِ سَلْمَانٌ وَسَیِّدُ الْحَبَشَةِ بَلاٰلٌ، وَسَیِّدُ الْجِبَالِ طُوْرِ سِیْنَا وَسَیِّدَاتُ نِسَاءِ اَهْلِ الْجَنَّةِ اَرْبَع مَرْیَمْ وَفاَطِمَةُ وَخَدِیْجَةُ وَآسِیّة(۳۴۹)

(کسی قوم کا سردار اس کا خادم ہے، انسانوں کے سردار جناب آدم ںعربوں کے سردار حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اہل روم کے سردار صھیب، اہل فارس کے سردار جناب سلمان، افریقہ کے سردار جناب بلال، اور پھاڑوں کا سردار طور سینا، اور جنت میں عورتوں کی سردار چارہیں جناب مریم، جناب فاطمہ زہرا، جناب خدیجہ اور جناب آسیہ ہیں۔)

اس سلسلہ میں دوسری بات یہ ہے کہ سعودی بادشاہوں کے لئے متعدد بار لفظ” مولای “ نثر ونظم دونوں میں استعمال ہوا ہے منجملہ ”ام القریٰ“ نامی اخبار مطبوعہ مکہ(۳۵۰) میں عبد العزیز کو کئی بار”مولای“ کہا گیا ہے اس قصیدہ کے ضمن میں جو عید قربان کے موقع پر تبریک وتہنیت پیش کرنے کے لئے کہا گیا جس میں دو مقام پر ”اَمولای“ (اے میرے مولا) کہا گیا ہے، اور وہاں کے اخباروں اور مجلوں میں یہ بات عام ہے۔

لیکن انبیاءعلیهم السلام، اولیاء اور صالحین کو اس طرح خطاب کرنا در حقیقت ان سے حاجت طلب کرنا نہیں ہے بلکہ ان سے یہ چاہتے ہیں کہ ان کی درخواست کو وہ حضرات خدا وندکریم سے طلب کریں، مثلاً جس وقت ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ میری مدد کریں یعنی آپ خدا سے یہ چاہیں کہ وہ میری مدد کرے، اس طرح کی تفسیروں کو خود وہابی تسلیم کرتے ہیں، مثلاً ان آیات کے بارے میں جن میں خداوندعالم نے بہت سی مخلوقات کی قسم کہائی ہے کہتے ہیں ان مخلوق سے مراد ” مخلوقات کا خدا“ ہے نہ کہ خود وہ مخلوقات۔

۸۔ قبور کے اوپر عمارت بنانا، وہاں پر نذر اورقربانی کرنا وغیرہ

شیخ عبد الرحمن آل شیخ کاکہناہے کہ احادیث پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں ہر اس شخص کے لئے لعنت کی گئی ہے جو قبروں پر چراغ جلائے یا قبروں پر کوئی چیز لکھے یا ان کے اوپر کوئی عمارت بنائے۔(۳۵۱)

حافظ وھبہ کا کہنا ہے کہ قبروں کے بارے میں چار چیزوں پر توجہ کرنا ضروری ہے:

۱۔ قبروں پر عمارت وغیر ہ بنانا اوران کی زیارت کرنا۔

۲۔ وہ اعمال جو بعض لوگ قبروں کے پاس انجام دیتے ہیں مثلاً دعا کرنا نماز پڑھنا وغیرہ۔

۳۔ قبروں پر گنبد اور ان کے نزدیک مساجد بنانا۔

۴۔ قبروں کی زیارت کے لئے سفر کرنا۔

قبروں کی زیارت، ان سے عبرت حاصل کرنا یا میت کے لئے دعا کرنا اور ان کے ذریعہ آخرت کی یاد کرنا، اگر سنت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مطابق ہو تو مستحب ہے، لیکن قبور کے لئے سجدہ کرنا یا ان کے لئے جانور ذبح کرنا یا ان سے استغاثہ کرنا شرک ہے، اسی طرح ان پر اور وہاں موجود عمارت پر رنگ وروغن کرنا یہ تمام چیزیں بدعت ہیں جن سے منع کیا گیاہے، اسی وجہ سے وہابیوں نے مکہ اور مدینہ میں موجود قبروں کی عمارتوں کو مسمار کردیا ہے، جیسا کہ ایک صدی پہلے (حافظ وھبہ کی کتاب لکھنے سے ایک صدی قبل جو تقریباً ۱۴۰سال پہلے کا واقعہ ہے) مکہ اورمدینہ کی قبروں پر موجود تمام گنبدوںکو مسمارکردیاگیا، اسی طرح حافظ صاحب کہتے ہیں کہ قبروں کی زیارت کے لئے سفر کرنا بھی بدعت ہے۔(۳۵۲)

قبروں کے پاس اعتکاف کرنابھی شرک کے اسباب میں سے ہے بلکہ خود یہ کام شرک ہے،(۳۵۳) سب سے پہلے رافضی لوگ شرک اور قبور کی عبادت کے باعث ہوئے ہیں، اور یھی وہ لوگ ہیں جنھوں نے سب سے پہلے قبروں کے اوپر مسجدیں بنانا شروع کی ہیں۔(۳۵۴)

وہابیوں کے نزدیک نہ یہ کہ صرف قبور کی زیارتوں کے لئے سفر کرنا حرام ہے بلکہ یہ لوگصاحب قبر کے لئے فاتحہ پڑھنے کو بھی حرام جانتے ہیں، (اور جس وقت انھوں نے حجاز کو فتح کرلیا جس کی شرح بعد میں بیان ہوگی)جب بھی کسی شخص کو قبروں پر فاتحہ پڑھتے دیکھتے تھے اس کو تازیانے لگاتے تھے، ۱۳۴۴ھ میں جس وقت حجاز پرتازہ تازہ غلبہ ہوا تھا تو اس وقت سید احمد شریف سنوسی کو (جوکہ مشہورومعروف اسلامی شخصیت تھیں) حجاز سے باہر کردیا کیونکہ ان کو مکہ معظمہ میں جناب خدیجہ کی قبر پر کھڑے ہوکرفاتحہ پڑھتے دیکھ لیا تھا۔(۳۵۵)

اسی طرح وہابی حضرات ایک روایت کے مطابق قبروں پر چراغ اور شمع جلانے کو بھی جائز نہیں جانتے، اسی وجہ سے جس وقت سے انھوں نے مدینہ منورہ پر غلبہ پایا اس وقت سے روضہ نبویپر چراغ جلانے کو منع کردیا۔(۳۵۶)

شیخ محمد بن عبد الوہاب کا کہنا ہے کہ جو شخص کسی غیر خدا سے مدد طلب کرے یا کسی غیر خدا کے لئے قربانی کرے یا اس طرح کے دوسرے کام انجام دے تو ایسا شخص کافر ہے۔(۳۵۷)

اسی طرح اس نے قبروں پر چراغ جلانا وہاں پر نماز پڑھنا یا قربانی کرنا وغیرہ جیسے مسائل کو زمان جاہلیت کے مسائل میں شمار کیا ہے۔(۳۵۸)

شیخ عبد الرحمن آل شیخ (شیخ محمد بن عبد الوہاب کا پوتا)کھتا ہے کہ مشرک لوگ جو نام بھی اپنے شرک کے اوپر رکھیں ،وہ بھر حال شرک ہے، مثلاً مُردوں کا پکارنے، یا ان کے لئے قربانی یا نذر کرنے کو محبت وتعظیم کانام دیں ،یا وہ نذر جو قبروں کے مجاروں اور خادموں کے لئے کی جاتی ہے یہ کام بھی ہندوستان کے بت خانوں کی طرح ہے، اسی طرح قبروں پر شمع جلانے کی نذر یا چراغ کے تیل کی نذر کرنا بھی باطل ہے مثلاً خلیل الرحمن ،دیگر انبیاء اوراولیاء اللہ کی قبروں پرشمع اورچراغ جلانے کی نذر کرنے کے باطل ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے، اور اس طرح کی شمع جلانا حرام ہے چاہے کوئی ان کی روشنائی سے فائدہ اٹھائے یا نہ اٹھائے.(۳۵۹)

قبور کے اوپر عمارت بنانا، وہاں پر نذر اور قربانی کرنا وغیرہ کے بارے میں وضاحت

جیسا کہ معلوم ہے کہ صدر اسلام کے بعد سے قبروں کے اوپر عمارتیں بنانا اور قبروں پر تختی لکھ کر لگانا رائج تھا، چنانچہ علامہ امین اس سلسلہ میں کہتے ہیں کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جسد مبارک کو ایک حجرے میں دفن کیا گیا اور اگر قبرکے اوپر عمارت کا وجود جائز نہیں تھا تو پھراصحاب رسول اور سلف صالح نے اس حجرے کو کیوں نہ گرایا ،جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر تھی،اور نہ صرف یہ کہ اس حجرے کو نہیں گرایا بلکہ چند بار اس حجرے کو دوبارہ تعمیر کیا گیا۔(۳۶۰)

اسی طرح ھارون الرشید نے حضرت امیر المومنین علی ں کی قبر مبارک پر گنبد بنوایا، اور ایسی ہی دوسری عمارتیں مختلف قبروں پر بنائی گئیں، اور کسی نے بھی اعتراض نہ کیاجن کا تذکرہ تاریخی کتب میں موجود ہے ۔

مجموعی طورپر قبروں گنبد وبارگاہ بنوانا تمام اسلامی فرقوں کی سیرت رہی ہے اور ابن تیمیہ اور اس کے مریدوں کے علاوہ کسی نے بھی اس کی مخالفت نہیں کی، خود ابن تیمیہ نے بہت سی قبروں کے گنبد کی طرف اشارہ کیا ہے جو اس کے زمانہ میں لوگوں کی نظر میں محترم اورمشخص تھے، مثلاً مدینہ منورہ میں وہ گنبد جوجناب عباس (پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچاکی قبر)پر تھا اس کے نیچے سات افراد یعنی، جناب عباس،امام حسن، علی ابن الحسین (امام زین العابدین)، ابو جعفر محمد ابن علی (امام باقر) اور جعفر بن محمد (امام صادق) علیهم السلام دفن ہیں، کہتے ہیں کہ فاطمہ زہرا = کی قبر بھی اسی گنبد کے نیچے ہے اور امام حسین ں کا سر بھی یھیں دفن ہوا ہے۔(۳۶۱)

ابن تیمیہ اور اس کے اصحاب کہتے ہیں کہ قبروں پر عمارت بنانے کی بدعت پانچویں صدی کے بعد پیدا ہوئی ہے اور جس وقت بھی ان کو مسمار کرنے کا موقع آجائے اس کام میں ایک دن کی بھی تاخیر کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ یہ عمارتیں لات وعزّیٰ کی طرح ہیں بلکہ شرک کے لحاظ سے لات و عزّیٰ سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔(۳۶۲)

قبروں پر صاحب قبر کے نام کی تختی لگانا آج تک رائج ہے، کیونکہ ایسے شواہد موجود ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سن ہجری کی ابتدائی صدیوں میں قبروں پر پتھر اور تختیاں لگائی جاتی تھیں۔

مثلاً مسعودی حضرت امام جعفر صادق ںکی وفات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ آپ بقیع میں دفن ہیں جہاں آپ کے پدر بزرگوار اور جد امجد بھی دفن ہیں اور آپ کی قبر پر مرمر کا ایک پتھر ہے جس پر یہ عبارت لکھی ہے:

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ مِبُیْدِ الاُمَمِ وَمُحْیِ الرَّمَمِ، هَذَاقَبْرُفَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللّٰهِ (ص) سَیِّدَةِ نِسَاءِ الْعَالَمِیْنَ، وَقَبْرُ الْحَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ وَعَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ وَقَبْرُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ وَجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَلَیْهم السَّلاٰمُ(۳۶۳)

ابن جبیر (چھٹی صدی ہجری کا مشہور ومعروف سیّاح)کھتا ہے کہ بقیع میں جناب فاطمہ بنت اسد کی قبر پر اس طرح لکھا ہوا ہے:

مَاضَمّ قَبْرُ اَحَدٍ كَفَاطِمَةَ بِنْتِ اَسَد رَضِی اللّٰهُ عَنْها وَعَنْ بَنِیْها

(فاطمہ بنت اسد کی قبر کے مانند کسی دوسرے کو ایسی قبر نصیب نہیں ہوئی)

اسی طرح وہ لکھتا ہے کہ جناب بلال (حضرت پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے موذن) کی قبر جو کہ دمشق میں واقع ہے، ان کی قبر پر جناب بلال کے نام کی تاریخ لکھی ہوئی ہے اور ایک دوسری تاریخ لکھی ہوئی ہے جس کی عبارت اس طرح سے ہے:

هَذَا قَبْرُ اَوْسِ بْنِ اَوْسِ الثَّقَفِیّ

اور اسی طرح شہداء دمشق کی قبور پرقدیمی تاریخ لکھی ہوئی ہے (ظاہراً اس کا مقصد تاریخ کا پتھر ہے) جس میں اس طرح لکھا ہوا ہے:

فِی هَذَا الْمَوْضِع قَبْرُ جَمَاعَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ

ان کے نام بھی لکھے ہوئے ہیں۔(۳۶۴)

اسی طرح سمہودی روایت کرتے ہیں کہ عقیل ابن ابی طالب نے گھر میں ایک کنواںکھودا، اس کے دوران اس میں سے ایک پتھر نکلا جس پر اس طرح لکھا ہوا تھا: ”قَبْرُ اُمِّ حَبِیْبَةِ بِنْتِ صَخْرِ بْنِ حَرْبٍ “جب جناب عقیل نے اس پتھر کو دیکھا تو انھوں نے اس کنویں کو بند کردیا اور اس کے اوپر ایک عمارت بنادی اسی طرح ایک اور پتھر دریا فت ہوا جس پر لکھا ہوا تھا: ”اُمِّ سَلْمَةٍ زَوْجِ النَّبِیِّصلی الله علیه و آله وسلم “ اور ایک قول کے مطابق بقیع سے ایک پتھر نکلا جس کے اوپر اس طرح لکھا ہوا تھا : ”هَذَا قَبْرُ اُمِّ سَلْمَةٍ زَوْجِ النَّبِیِّ صلی الله علیه و آله وسلم(۳۶۵)

سنن ابن ماجہ میں حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ حدیث ”نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اَنْ یُكْتَبَ عَلَی الْقُبُوْرِ“ ذکر کرنے کے بعد اس طرح تحریر ہے کہ سِندی نے حاکم کا قول نقل کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنی کتاب مستدرک میں مذکورہ حدیث بیان کرنے کے بعد کہا کہ اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن اس پر عمل نہیں ہو ا ہے اور تمام ائمہ کی قبور پر لکھا جاتا ہے اور یہ وہ کام ہے جس کو خلف (بعد والوں) نے سلف (اصحاب وتابعین) سے لیا ہے(۳۶۶) اور قبروں کے پتھروں پر لکھنے کے علاوہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ کے بعد سے قبروںپر نشانی لگائی جاتی تھی جس طرح کہ خود پیغمبر اکرمنے عثمان بن مظعون کی قبر پر ایک پتھر کے عنوا ن سے نشانی لگایا۔(۳۶۷)

اسی طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے بیٹے ابراہیم کی قبر پر پانی چھڑکا اور ایک نشانی بنائی۔(۳۶۸)

اب رہی بات کسی کے لئے گوسفند ذبح کرنا تو اس سلسلہ میں بھی علامہ امین فرماتے ہیں کہ کسی غیر خدا کے لئے اس نیت سے قربانی یا نحر کرنا کہ اس قربانی سے غیر خدا کا تقرب حاصل ہو(۳۶۹) اور قربانی کرتے وقت خدا کے نام کے بجائے غیر خدا کا نام لیا جائے اور اس غیر خدا کو خدا کی طرح قرار دیا جائے، تو یہ کام کفر اور شرک ہے، اور یہ اسی قسم کی قربانی ہے جس کو وہابیوں نے گمان کیا ہے کہ دوسرے اسلامی فرقے اسی کو انجام دےتے ہیں،جبکہ اس کا یہ گمان صحیح نہیں ہے اور حقیقت سے دور ہے، کیونکہ وہ قربانی جس کو مسلمان قبور کے نزدیک انجام دیتے ہیں وہ خدا کے لئے ہوتی ہے اور اس قربانی کا قصد اس کے علاوہ کچھ اور نہیں ہوتا کہ میں اس ذبح کو خدا کی خوشنودی کے لئے انجام دیتا ہوں اور اس کے گوشت کو فقراء اور خدا کے بندوں پر تصدق کرونگا اور اس کا ثواب صاحب قبر کے لئے ہدیہ کروں گا، اور اس طریقہ پر کی جانے والی قربانی صحیح اور بھتر ہے اور یھی قربانی خدا کی اطاعت شمار ہوگی، چاہے اس کا ثواب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یا دیگر انبیاءعلیهم السلامیا اپنے ماں باپ یا کسی دوسرے کو ہدیہ کرے، کیونکہ قربانی سے کسی مسلمان کا قصد بت پرستوں کی طرح نہیں ہے کہ وہ لوگ قربانی کو تقرب کا وسیلہ جانتے ہیں۔

اور نذر کے سلسلہ میں جواب بھی بالکل اسی طرح ہے جس کا ہم نے ابھی ذکر کیا ہے۔

قبور کے پاس چراغ اور شمع جلانے کے مسئلہ میں عرض ہے کہ جن روایات کے ذریعہ وہابی یہ ثابت کرتے ہیں کہ قبور پر چراغ جلانا حرام ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ ان روایات کی سند ضعیف ہے، اور اگر بالفرض ان کی سند کو صحیح مان بھی لیں کہ تو اس کا جائز نہ ہونا یا اس وجہ سے ہے کہ قبروں پر شمع جلانے میں کوئی فائدہ تصور نہیں کیا جاسکتا، لہٰذا گویا شمع جلانا یعنی مال کو ضایع کرنا ہے، یا ان روایات کا مقصد غیر انبیاء اور اولیاء اللہ کی قبروں پر شمع جلانے کی ممانعت ہے۔

لیکن قبروں پر قرآن یادعا پڑھنے والوں کے لئے یا زائرین کی سہولت کے لئے یا ان لوگوں کے لئے جو پوری پوری رات قبروں کے پاس رہتے ہیں تو ایسے موارد کے لئے شمع جلانا نہ مکروہ ہے اور نہ حرام، بلکہ نیک کام میں مدد کے عنوان سے ہے کیونکہ خداوندعالم نیکیوں میں مدد کرنے کا حکم دیتا ہے:”( تَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْویٰ“ )

دوسری بات یہ ہے کہ تِرمذی جناب ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک رات کسی قبر پرگئے تو آپ کے لئے وہاں چراغ روشن کیا گیا، اور عزیزی (شرح جامع صغیر) کے بقولقبروں پر چراغ جلانے کی ممانعت وہاں کے لئے ہے کہ جہاںکو ئی زندہ اس سے کوئی فائدہ اٹھانے والا نہ ہو۔(۳۷۰)

اس کی وضا حت کہ رافضیوں نے ہی قبور کی عبادت اور شرک کی ابتداء کی ہے اور قبروں پر مسجد کے بانی بھی یھی ہیں

افسوس کی بات تو یہ ہے کہ کبھی کبھی عقیدہ ،سلیقہ یا احادیث کے سمجھنے میں اختلاف ،تفرقہ، دشمنی اور تعصب کا سبب بن جاتا ہے اور اس صورت میں چا ہے مخالف کی دلیل کتنی ہی منطقی کیوں نہ ہو، اس کو قبول نہیں کیا جاتا، اور جو کچھ بھی وہ کھے اس کو غلط تصور کیا جاتا ہے، جس وقت سے شیعہ مذہب بعض وجوہات کی بناپر بہت سے اسلامی فرقوں کی نظر اعتراض کا نشانہ قرار پایا ہے، (جیسا کہ ہم نے اس کتاب میں چند مرتبہ بیان بھی کیا ہے) شیعوں کے معمولی سے کام کو بھی الٹا پیش کیا جا تاہے، اور اس کے علاوہ مختلف تہم تیں لگانے میں بھی کوئی کمی نہیں کی جا تی۔

منجملہ زیارت کا مسئلہ جس پر ابن تیمیہ اور وہابیوں نے نامعلوم کتنے اعتراضات کر ڈالے، جبکہ قبور کی زیارت مختلف اسلامی فرقے انجام دیتے آئے ہیں اور انجام دے رہے ہیں، اور مذاہب اربعہ کے بزرگوں کی بہت سی قبروں کا دوسری صدی کے بعد سے عام وخاص کی طرف سے احترام کیا جارہاہے اور ان کی زیارت ہوتی آئی ہے۔

ہاں تک کہ آج بھی مسجد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں آنحضرت کے روضہ مطھر اور ضریح کے سامنے بہت سے لوگ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ابوبکر وعمر کی زیارت پڑھتے ہیں اور ان زیارتوں کے وھی جملے ہیں جن کو شیعہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ائمہ کی ضریحوں کے پاس پڑھتے ہیں، عجیب بات ہے کہ یھی کام اگر دوسرے اسلامی فرقے انجام دیں تو ان پر اعتراض نہیں ہوتا لیکن اگر یھی کام ہم انجام دیں تو کیونکہ شیعہ ہیں اس وجہ سے زیارت کو عبادت کہہ دیا جاتا ہے، اور اس زیارت کا کرنے والا مشرک کھلاتا ہے، معلوم نھیںشیعہ زیارتوں میں کیا کہتے ہیں جو دوسرے نہیں کہتے، یا کیا نہیں کہتے جو دوسرے کہتے ہیں۔(۳۷۱) اب رہی یہ بات کہ شیعہ حضرات نے ہی قبروں کی عبادت اور شرک کی بنیاد ڈالی ہے، اور قبروں پر مساجد بنانا شروع کی ہیں، جیسا کہ یہ بات شیخ عبد الرحمن محمد بن عبد الوہاب کے پوتے سے نقل ہوئی ہے، موصوف فتح المجید کے حاشیے میں اس طرح کہتے ہیں کہ عبیدیوں (جو خود کو جھوٹ موٹ فاطمی کہتے ہیں) نے ہی سب سے پہلے قبروں کے پاس مسجدیں بنانا شروع کی، جیسا کہ قاہرہ شھر میں امام حسینںکے لئے ایک عظیم گنبد، عمارت اور اس کے برابر میں ایک عظیم الشان مسجد بنائی۔

مذکورہ مطلب کے بارے میں اس بات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ قبور کی زیارت، اسی طرح قبروں پر عمارت یا گنبد بنانا، یہ کام شیعوں سے مخصوص نہیں ہے بلکہ شروع ہی سے اسلامی فرقے اپنے بزرگوں کی قبروں پر بہترین عمارتیں بنایا کرتے تھے ان کے لئے بہت سی چیزیں وقف بھی کیا کرتے تھے اور ان کی زیارت کے لئے بھی جایا کرتے تھے اب بھی یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔

بغداد میں ابوحنیفہ کی قبر پر ایک قدیمی بڑا اور سفید گنبد اب بھی موجود ہے، جس کی ابن جُبیر نے توصیف بھی کی ہے،(۳۷۲) اور آج بھی ابو حنیفہ کی قبر کا گنبدبھت خوبصورت ہے جس کی دور اور نزدیک سے ہزاروں لوگ زیارت کے لئے جاتے ہیں، اسی طرح احمد ابن حنبل کی قبر(۳۷۳) اوربغداد میں شیخ عبد القادر جیلانی کی قبر، اسی طرح مصر کے قرافہ شھر میں امام شافعی کی قبرمذاہب اربعہ کے بزرگوں کی بہت سی قبریں مختلف اسلامی ملکوں میں زیارتگاہیں بنی ہوئی ہیں۔

نجد اور حجاز میں وہابیوں کے غلبہ سے پہلے بھی بہت سے گنبداور عمارتیں موجود تھیں جن کی زیارت کے لئے لوگ جایا کرتے تھے اور ان کے اوپر بہت زیادہ عقیدہ رکھتے تھے، لہٰذا یہ دعویٰ کرنا کہ قبروں کی زیارت کی ابتداء کرنے والے شیعہ ہیں باطل اور بے بنیاد ہے۔

اسی طرح قبروں پر اور ان کے اطراف میں عمارتیں بنانا بھی شیعوں سے مخصوص نہیں ہے، بلکہ شروع ہی سے یہ کام مختلف اسلامی فرقوں سے چلا آرہا ہے، اور قبروں پر عمارتوں کا رواج تھا:

ابن خلکان کہتا ہے:۴۵۹ھ میں شرف الملک ابو سعد خوارزمی ،ملک شاہ سلجوقی کے مستوفی (حساب دار) نے ابو حنیفہ کی قبر پر ایک گنبد بنوایا، اور اس کے برابر میں حنفیوں کے لئے ایک مدرسہ بھی بنوایا، ظاہراً ابو سعد نے مذکورہ عمارت ”آلُپ ارسلان سلجوقی“ کی طرف سے بنوائی ہے(۳۷۴)

اسی طرح ”ابن عبد البِرّ“ (متوفی۴۶۳ھ)کی تحریر کے مطابق، جناب ابو ایوب انصاری کی قبر قسطنطیہ (اسلامبول) کی دیوار کے باہر ظا ھرہے اور لوگوں کی تعظیم کا مر کزھے اور جب بارش نہیں ہوتی تو وہاں کے مسلمان ان سے متوسل ہوتے ہیں۔(۳۷۵)

ابن الجوزی۳۸۹ھ کے واقعات کو قلمبند کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اہل سنت مُصعب بن الزبیر کی قبر کی زیارت کے لئے جاتے ہیں جس طرح شیعہ حضرات امام حسین ں کی قبر کی زیارت کے لئے جاتے ہیں۔(۳۷۶)

ابن جُبیر، چھٹی صدی کا مشہور ومعروف سیاح اس طرح کہتا ہے کہ مالکی فرقہ کے امام، امام مالک کی قبر قبرستان بقیع میں ہے، جس کی مختصر سی عمارت اور چھوٹا ساگنبد ہے اور اس کے سامنے جناب ابراہیم فرزند رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر ہے جس پر سفید رنگ کا گنبد ہے۔(۳۷۷)

مذاہب اربعہ کے بزرگوں کی قبروں پر گنبدہونا، ان پر عمارتیں بنانا،ان کے لئے نذر کرنا، وہاں پر اعتکاف کرنا ،ان سے توسل کرنا ،صاحب قبر کی تعظیم وتکریم کرنا اوروہاں دعا کے قبول ہونے کا اعتقاد رکھنا بہت سی تاریخی کتابوں میں موجود ہے اور اس وقت بھی قاہرہ، دمشق اور بغداد اور دوسرے اسلامی علاقوں میں ان کے بہت سے نمونے اور قبروں پر مراسم ہوتے ہیں جنھیںآج بھی دیکھاجاسکتا ہے۔

لیکن یہ کہنا کہ شیعوں نے سب سے پہلے قبروں پرمسجدیں بنائی ہیں، یعنی قبروں کو مسجد قرار دیا ہے تو اس سلسلہ میں چند چیزوں کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے:

۱۔ شیعہ عقیدہ کے مطابق قبرستان میں نماز پڑھنا مکروہ ہے لہٰذا مقبروں کو مسجد کے حکم میں جاننا ان کے عقیدوں کے مطابق نہیں ہے، (جبکہ ہم نے ابن تیمیہ کے عقائد میں اس بات کو بیان کیا ہے کہ امام مالک مقبروں میں نماز کو جائز جانتے تھے اور ابوحنیفہ اور دوسرے لوگ قبرستان میں نماز پڑھنے کو مکروہ جانتے تھے)

۲۔ شیعہ حضرات جو مسجدیں قبروں کے پاس بناتے ہیں وہ مقبروں سے کچھ فاصلہ پر اور مقبروں سے جدا ہوتی ہیں، وہ مسجد راس الحسینںجس پر بعض حضرات خصوصاً صاحب فتح المجید، شدت سے اعتراضات کرتے ہیں مقبرہ سے بالکل جدا ہے اور صرف مقبرہ کے ایک در سے مسجد میں وارد ہوا جاسکتا ہے، یعنی نماز پڑھنے کی جگہ جدا ہے اور زیارت گاہ جدا ہے، خلاصہ یہ کہ جو مسجدیں شیعوں نے مقبروں کے پاس بنائی ہیں ان کا فاصلہ مسجد النبوی اور قبر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فاصلے سے زیادہ ہے۔

۳۔ قبروں کے پاس مسجدیں بنانا شیعوں سے مخصوص نہیں ہے بلکہ مختلف فرقے قدیم زمانہ سے قبروں کے پاس مسجدیں بناتے آئے ہیں، منجملہ ابن جوزی کی تحریر کے مطابق (محرم۳۸۶ھ کے واقعات کے ضمن میں ) اہل بصرہ نے یہ دعویٰ کیا کہ ایک تازہ مردہ (ان کے عقیدے کے مطابق زُبیر بن العَوّام) کو قبر سے نکالا اور اس کے بعد اس کو کفن پہنایا اور زمین میں دفن کردیا، اور ابوالمِسک نے اس کی قبر پر ایک عمارت بنائی اور اس کو مسجد قرار دیدیا۔(۳۷۸) اسی طرح بصرہ میں بھی طلحہ (جو کہ جنگ جمل میں قتل ہوئے) کی قبر پر ایک گنبد بنایااور اس کے پاس ایک مسجد اورعبادتگاہ بھی بنائی گئی۔(۳۷۹)

لیکن یہ کہنا کہ سب سے پہلے فا طمیوں نے قبر کے پاس (راس الحسینں) مسجد بنائی اس سلسلہ میں بھی دو چیزوں کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے:

۱۔ مَقریزی کی تحریر کے مطابق، حضرت امام حسینںکا سر عسقلان سے شام لانا ۸جمادی الآخر۵۴۸ھ بروز یکشنبہ ہے اور وہاں پر عمارت کا بننا۵۴۹ھ میں تھا۔(۳۸۰)

اور یہ بات طے ہے کہ اس زمانہ میں فاطمی ختم ہوتے جارہے تھے اور اس وقت کی باگ ڈور ان کے وزیروں کے ھاتھوں میں تھی اور اس زمانہ کا صاحب اقتداروزیر ”طلایع بن رُزّیک “ معروف تھا کہ خلیفہ وقت اس کی قید میں اسیر تھا، اور ان دونوں کے درمیان اس قدر جنگ وجدال تھی کہ خلیفہ طلایع کو قتل کرنے کے مختلف پروگرام بناتا رہا یہاں تک کہ ایک پروگرام کے تحت اس کو قتل کردیا۔(۳۸۱)

اور یہ طلایع وھی ہے جو حضرت امام حسین ںکا سر قاہر ہ لے کر آیا اور موجودہ جگہ لاکر دفن کیا۔(۳۸۲)

۲۔ لیکن جومسجد ”راس الحسین ںسے متصل ہے وہ کسی بھی وقت فا طمیوں سے مربوط نہیں رہی بلکہ سلسلہ فاطمی کے خا تمہ کے بر سوں بعد اور صلاح الدین ایوبی جو سادات کو نیست و نابود کرنے والا تھا اسی کے زمانہ میں اس کے وزیر قاضی فاضل عبد الرحیم (متوفی۵۹۶ھ) کے ھا تھوں بنائی گئی اورمسجد کے برابر میں ایک وضو خانہ بنایا اور ایک سقاخانہ بھی بنوایا، اور بہت سی چیزوں کو وقف کیا۔(۳۸۳)

۹۔ قبر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت

اس سے قبل ابن تیمیہ کے عقائد میں بیان ہوچکا ہے کہ وہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کی زیارت کے بارے میں کہتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کی زیارت کے مستحب ہونے کے بارے میں کوئی حدیث وارد نہیں ہوئی ہے، اور زیارت کے بارے میں جو احادیث وارد ہوئی ہیں وہ سب غیر صحیح اور جعلی ہیں، اور اگر کوئی یہ عقیدہ رکھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وجود ان کی زندگی کی طرح ان کی وفات کے بعد بھی ہے تو گویا اس نے بہت بڑی غلطی کی ہے۔

چنانچہ وہابی حضرات بھی اسی طرح کا عقیدہ رکھتے ہیں بلکہ ابن تیمیہ سے بھی ایک قدمآگے ہیں۔

خلاصہ یہ کہ وہابیوں کے یہاں زیارت نام کا کوئی عمل نہیں ہے، چنانچہ اسی نظریہ کے تحت تمام قبریں مسمار کردی گئیں اور روضہ رسول کو بھی اس کی حالت پر چھوڑ دیا گیا، اور اس وقت اس طرح ہے کہ کوئی بھی آپ کی قبر مطھر کے نزدیک نہیں ہوسکتا ہے اور آپ کی قبر مطھر ہر گز دکھا ئی نہیں دیتی ۔

روضہ منورہ کے چاروں طرف دیوار ہے اور ہر طرف ایک حصے میں جالی لگی ہوئی ہے اور ان جالیوں کے پاس وہاں کے شرطے (محافظ) کھڑے رہتے ہیں اوراگر کوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روضہ کی جالی کے نزدیک ہونا یا ھاتھ لگانا چاہتا ہے تو وہ روک دیتے ہیں، اور اگر کوئی شرطوں کی غفلت کی وجہ سے جالیوں کے اندر سے جھانک کر دیکھتا بھی ہے تو پہلے تو وہاں تاریکی نظر آتی ہے اور جب اس کی آنکھیں کام کرنا شروع کرتی ہیں تواندر دکھائی دیتا ہے کہ ایک ضخیم پردہ ہے جو قبر کے چاروں طرف زمین سے چھت تک موجود ہے لہٰذا قبر مطھر کو بالکل دیکھا نہیں جاسکتا۔

ابن تیمیہ اور اس کے پیرو کاروں کا عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کی زیارت کرنا حرام ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اوردوسروںکی قبر میں فرق کے قائل ہونے کے بارے میں ابن تیمیہ کے عقائد کی بحث میں تفصیل سے بیان ہوچکا ہے لہٰذا تکرار کی ضرورت نہیں ہے۔

مرقد مطھر حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت کے استحباب کے بارے میں وضاحت

ہاں پر ان چند حدیثوں کو بیان کرنا ضروری ہے جو قبر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت کے مستحب ہونے پر دلالت کرتی ہیں اور وہ احادیث بھی جو دلالت کرتی ہیں کہ جو لوگ حضرت کو سلام کرتے ہیںآنحضرت ان کے سلام کا جواب دیتے ہیں، تاکہ معلوم ہوجائے کہ ابن تیمیہ اور اس کے پیروکاروں کا حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کی زیارت سے متعلق عقیدہ ان تمام احادیث کے مخالف ہے جو خود اہل سنت کے طریقوں سے بیان ہوئی ہیں۔

تقی الدین سُبکی (متوفی۷۵۶ھ) نے کتاب ”شفاء السُقام فی زیارة خیر الانام “کے باب اول میں تقریباً پندرہ حدیثیں زیارت قبر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں بیان کی ہیں، مثلاً:

۱ ”مَنْ زَارَنِی مُتَعَمِّداً كَانَ فِیْ جَوَارِیْ یَوْمَ الْقِیَامَةِ“

(جو شخص اپنے ارادے اور قصد سے میری زیارت کرے، ایسا شخص روز قیامت میرا پڑوسی اور میری پناہ میں ہوگا)

۲ ”مَا مِنْ اَحَدٍ مِنْ اُمَّتِی لَهُ سَعَةٌ ثُمَّ لَمْ یَزُرْنِی فَلَیْسَ لَهُ عُذْرٌ“

(جو شخص قدرت رکھتے ہوئے بھی میری زیارت نہ کرے تو اس کا کوئی عذر بھی قابل قبول نہیں ہے۔)(۳۸۴)

اسی طرح جناب نور الدین سَمُہودی نے اپنی معروف کتاب ”وفاء الوفاء باخبار المصطفیٰ میں پیغمبر اکرمکی زیارت سے مربوط فصل میں تقریباً(۱۷)حدیثیں بیان کی ہیں منجملہ ان کی دار قطنی اور بیہقی سے ابن عمر کی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے حدیث کہ آپ نے فرمایا:

۳”مَنْ زَارَ قَبْرِیْ وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَتِیْ“

(جس شخص نے میری قبر کی زیارت کی مجھ پراس کی شفاعت واجب ہے)

سمہودی نے مذکورہ حدیث کی مختلف اسناد بیان کی ہیں۔

اسی طرح ایک دوسری حدیث جس کو بزّازنے عبد اللہ بن ابراہیم غفاری سے اور انھوں نے عبداللہ ابن عمر سے اور انھوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل کیاہے :

۴ ”مَنْ زَارَ قَبْرِیْ حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِی“

(جس شخص نے میری قبر کی زیارت کی تو اس پرمیری شفاعت جائز ہے)

اسی طرح ابن عمر سے طبرانی کی روایت کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

۵ ”مَنْ جَاءَ نِی زَائِراً لاٰ تَحْمِلُهُ حَاجَةٌ اِلاّٰ زِیَارَتِی كَانَ حَقّاً عَلَیَّ اَنْ اَكُوْنَ لَهُ شَفِیْعاً یَوْمَ الْقِیَامَةِ“

(جو شخص میری زیارت کے لئے آئے اورکوئی دوسری غرض نہ رکھتا ہو، تو مجھ پر روز قیامت اس کی شفاعت کرنا واجب ہے)

اسی طرح دار قطنی اور طبرانی ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

۶ ”مَنْ حَجَّ فَزَارَ قَبْرِیْ بَعْدَ وَفَاتِیْ كَانَ كَمَنْ زَارَنِیْ فِی حَیَاتِیْ“

(جو شخص میری وفات کے بعد حج کرے اور اس کے بعد میری زیارت کرے تو گویا اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی ہے)

اسی طرح ابن عدی ابن عمر کے ذریعہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ حدیث نقل کرتے ہیں :

۷”مَنْ حَجَّ الْبیت وَلَمْ یَزُرْنِی فَقَدْ جَفَانی “

(جو شخص حج بجالایا اور میریزیارت کے لئے نہیں آیا تو بتحقیق اس نے مجھ پر جفا کی)

اسی طرح دار قطنی نے حاطب سے روایت کی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

۸ ”مَنْ زَارَنِیْ بَعْدَ مَوْتِیْ فَكَانَّمَا زَارَنِی فِیْ حَیَاتِی“

(جس نے میری وفات کے بعد میری زیارت کی گویا اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی)

اسی طرح ابو الفتوح سعید بن محمد الیعقوبی نے ابوھریرہ سے روایت کی ہے کہ آنحضرت نے فرمایا :

۹ ”مَنْ زَارَنِیْ بَعْدَ مَوْتِی فَكَاَنَّمَا زَارَنِی وَاَنَا حَیٌّ وَمَنْ زَارَنِی كُنْتُ لَهُ شَهِیْداً اَوْ شَفِیْعاً یَوْمَ الْقِیَامَةِ“

(جس شخص نے میری وفات کے بعد میری زیارت کی، گویا اس نے میری زندگی میں میری زیارت کی، اور جس شخص نے میری زیارت کی میں روز قیامت اس کا گواہ یا اس کا شفیع بنوں گا)

اسی طرح ابن ابی الدنیا نے انس بن مالک سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا:

۱۰ ” مَنْ زَارَنِیْ بِالْمَدِیْنَةِ كُنْتُ لَهُ شَهِیْداً وَ شَفِیْعاً یَوْمَ الْقِیَامَة(۳۸۵)

(جو شخص مدینہ میں میری زیارت کرے، روز قیامت میں اس کا گواہ اور شفیع ہونگا)

۱۱ ” مَنْ زَارَنِیْ بِالْمَدِیْنَةِ مُحْتَسِباً كُنْتُ لَهُ شَهِیْداً وَ شَفِیْعاً یَوْمَ الْقِیَامَة(۳۸۶)

(جو شخص ثواب کی خاطر مدینہ میں میری زیارت کرے تو روز قیامت میں اس کے نیک عمل کی شھادت اورگواہی دوں گا اور اس کی شفاعت کروں گا)

نیز اسی طرح وہ دوسری روایتیں جن کو سمہودی نے حضرت امیر المومنین اور ابن عباس اور بکر بن عبد اللہ سے نقل کیا ہے۔

صاحب کتاب” عمدة الاخبار“ وہابیوں کی معتبر کتابوں سے نقل کرتے ہیں کہ سید الاولین والآخرین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کی زیارت ان نیکیوں میں سے ہے کہ اگر کوئی فطرت سلیم رکھتا ہو، اس میں شک نہیں کرسکتا، وہ بھی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کی زیارت جن کیعظمت اور بزرگیقرآن مجید میں چند مرتبہ بیان کی ہے۔

اور اس کے بعد موصوف نے قرآن مجید کی وہ آیات ذکر کی ہیں جن میں آنحضرت کی عظمت بیان کی گئی اور اسی طرح چند وہ احادیث بھی بیان کی ہیںجو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مربوط تھیں اور اس کے بعد کہتے ہیں:

وہ دلیلیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر شریف کی زیارت کے جائز ہونے پر دلالت کرتی ہیں بہت زیادہ ہیں، جیساکہ ہم نے بعض کی طرف اشارہ کیا اور ابوھریرہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :

” قبروں کی زیارت کیا کرو، کیونکہ قبروں کی زیارت تمھیں آخرت کی یاد دلاتی ہے“۔

فضیلت زیارت قبور کی بحث کرتے ہوئے موصوف کہتے ہیں کہ صالحین کے برابر میں دفن ہونا مستحب ہے ۔

اسی طرح شب میں قبروں کی زیارت مستحب ہے، کیونکہ جناب مُسلِم نے جناب عائشہ سے روایت کی ہے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کے وقت قبرستان بقیع میں جایا کرتے تھے۔(۳۸۷)

آنحضرت کی وفات کے بعد آپ پر سلام بھیجنے کے بارے میں ابو داؤدصحیح سند کے ساتھ ابوھریرہ سے روایت کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

”مَا مِنْ اَحَدٍ یُسَلِّمُ عَلَیَّ اِلاّٰ رَدَّ اللّٰهُ رُوْحِی حَتّٰی اَرِدَ عَلَیْهِ السَّلاٰمَ“

(اگر کو ئی شخص مجھ پر سلام بھیجتا ہے،تو خداوندعالم میری روح پلٹا دیتا ہے تاکہ میں سلام کرنے والوں کو سلام کا جواب دوں)(۳۸۸)

مُنذری نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کے علم کے بارے میں روایت کی ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

عِلْمِیْ بَعْدَ وَفَاتِی كَعِلْمِیْ فِی حَیَاتِیْ “

(میرا علم میری وفات کے بعد بھی ایسا ہی ہے جیسا میری زندگی میں ہے)

بیہقی کہتے ہیں کہ انبیاءعلیهم السلامکی وفات کے بعد ان کی حیات کے ثبوت پر بھی بہت سی صحیح روایات موجود ہیں۔(۳۸۹)

۱۰۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظمت

آلوسی، اگرچہ وہابیوں کی بہت زیادہ حمایت کرنے والے اور طرفدار ہیں، لیکن انھوں نے حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظمت کے سلسلہ میں تفصیل سے گفتگو کی ہے، چنانچہ موصوف فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظمت دوسرے تمام لوگوں سے مطلق طور پر بلند و بالاہے اور یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی قبر میں بھی زندہ ہیں، اور جو شخص بھی حضرت کو سلام کرتا ہے آنحضرت اس کے سلام کو سنتے ہیں، اور آپ کی وفات کے بعد کی زندگی شہداء کی زندگی سے روشن ترہے کیونکہ خداوندعالم قرآن مجید میں ان کی بہترین زندگی کے بار ے میں ارشاد فرماتا ہے:

( وَلاٰ تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتاً بَلْ اَحْیَاءٌ عِنْدَ رَبِّهم یُرْزَقُوْنَ ) (۳۹۰)

” اور خبر دار راہ خدا میں قتل ہونے والوں کو مردہ خیال نہ کرو، وہ زندہ ہیں اور اپنے پرور دگار کے یہاں سے رزق پارہے ہیں“۔

اگرچہ ابن تیمیہ اپنے فتووں کے ضمن میں کہتے ہیں کہ قبر میں مردے بھی گفتگو کرتے ہیں اور دوسروں کی باتوں کو سنتے ہیں اور قبر میں ا ن سے سوال وجواب بھی ہوتےھیں۔(۳۹۱) لیکن اس کے باوجود جیسا کہ ہم نے ان کی کتاب ”الرد علی الاخنائی“سے یہ بات نقل کی تھی کہ وہ زیارت سے متعلق تمام حدیثوں کو جعلی اور ضعیف بتاتے ہیں، یھی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ اگر کوئی یہ اعتقاد رکھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد ان کا وجود ان کی زندگی کے مثل ہے تو اس نے بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔ اور اسی کے مثل بلکہ اس سے زیادہ سخت بات محمد بن عبد الوہاب اور اس کے پیروکاروں نے کھی، لہٰذا یہاں پر یہ بات کھی جاسکتی ہے کہ آلوسی صاحب کا نظریہ ابن تیمیہ اور اس کے پیروکاروں کے نظریہ کے مخالف ہے۔

حافظ وھبہ صاحب وہابیوں کے عقائد کے بارے میں ان کی طرف سے دفاع کرتے ہوئے آنحضرت کی عظمت کے بارے میں کھتے ہیں، کہ شیخ محمد بن عبد الوہاب اور اس کے تابع افراد کی طرف نسبت دی گئی کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف کراہت کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور آپ کی اور دیگر انبیاء کی عظمت گھٹاتے رہتے تھے، جس طرح کہ یہ نسبت ابن تیمیہ اور اس کے تابع افراد کی طرف بھی دی گئی ہے، اس نسبت کی وجہ یہ ہے کہ اہل نجد (وہابی) اس حدیث رسول پر اعتقاد رکھتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:

”لاٰ تَشُدُّوْا الرِّحَالَ اِلاّٰ اِلٰی ثَلاَثةَ مَسَاجِدَ، اَلْمَسْجِدُ الْحَرَامُ وَمَسْجِدِیْ هَذَا، وَالْمَسْجِدُ الاَ قْصیٰ“

عنی تین مسجدوں کے علاوہ سفر کرنا جائز نہیں : مسجد الحرام خانہ کعبہ، مسجد النبی، اور مسجد الاقصی بیت المقدس۔

اسی حدیث کی بناپروہ انبیاءعلیهم السلاماور صالحین کی قبور کی زیارت کو بدعت کہتے ہیں اور کسی بھی صحابی اور تابعین نے یہ کام انجام نہیں دیا، اورپیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی اس کام کا حکم نہیں دیا ہے۔

اسی طرح اہل نجد (وہابی حضرات)نے قبر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور دوسروں کی قبروں کے سامنے دعا کرنے، یا آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یا دوسروں کی قبر کے پاس سجدہ کرنے، ان کی قبروں پر ھاتھ پھیرنے، اوراپنے اوپر قبر کے اطراف کی مٹی ملنے، خلاصہ یہ کہ ہر اس کام کو جس میں استغاثہ کی بو آتی ہو، ممنوع قرار دیدیا۔

تیسری بات یہ ہے کہ وہ قبروں کے اوپر بنے گنبدوں کے مسمار کرنے کا فتویٰ دیتے ہیں اور ان کے نزدیک قبر کے لئے کوئی چیز وقف کرنا بھی باطل ہے۔

چوتھے یہ کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں بُوصِیری کے ” قصیدہ بردہ“ پر اعتراض کرتے ہیں اور اس کا انکار کرتے ہیں، مثلاً یہ شعر:

یَا اَكْرَمَ الْخَلْقِ مَالِی مَنْ اَلُوذُبِهِ سِوَاكَ عِنْدَ حُلُوْلِ الْحَادِثِ الْعَمَمِ

(اے مخلوق خدا میں سب سے کریم، میں بڑی اور عظیم مشکلات کے وقت آپ کی پناہ گاہ کے علاوہ کوئی پناگاہ نہیں رکھتا)

اسی طرح یہ مصرع: ”وَمِنْ عُلُوْمِكَ عِلْمُ اللَّوْحِ وَالْقَلِمِ

(اے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کے علوم میں سے، علم لوح وقلم بھی ہے)

اور یہ شعر:

اِنْ لَمْ تَكُنْ فِیْ مَعَادِیْ آخِذاً بِیَدِیْ فَضْلاً وَاِلاّٰ فَقُلْ یَا زَلَّةَ الْقَدَمِ(۳۹۲)

(اگر آپ نے روز قیامت اپنے فضل وکرم سے میراہاتھ نہ تھاما تو میرے پاوں لڑکھڑائیں گے۔)

کیونکہ یہ باتیں غلو اور بے ہودہ ہیں جو قرآن اور احادیث صحیح کے خلاف ہیں، حافظ وھبہ اس کے بعد اس طرح کہتے ہیں کہ وہابیوں کا یہ بھی اعتقاد ہے کہ ان باتوں پر اعتقاد رکھنے والا شخص مشرک اور کافر ہے۔

یہ تھیں وہ چند چیزیں جن کی وجہ سے وہابیوں کے دشمنوں نے ا ن پر یہ تہم ت لگائی کہ یہ لوگ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کراہت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، اسی طرح دوسری نسبتیں بھی دیں مثلاً وہابی یہ کہتے ہیں کہ ہمارا عصا پیغمبر سے بھتر ہے۔

حافظ وھبہ مذکورہ بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیںکہ حقیقت یہ ہے کہ اہل نجد (وہابی حضرات) سب سے زیادہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت کرتے ہیں لیکن غلو کو برا سمجھتے ہیں اور ہر طرح کی بدعت سے مقابلہ کرتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت یہ ہے کہ انسان آپ کی بتائی ہوئی ہدایتوں اور راہنمائیوں پر عمل کرے، لیکن بدعتوں کا انجام دینا اور دینی امور کوترک کرنا یا ہوا وہوس کا پیچھا کرنا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور دین اسلام کی توھین ہے نہ یہ کہ اس کو پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت کا نام دیا جائے۔(۳۹۳)

گویا حافظ وھبہ جیسے مشہور ومعروف اور جھاندیدہ شخص بعض افراطی اور متعصب وہابیوں کے غیر منطقی اور ناپسند عقائد کا دفاع کرنا چاہتے ہیں اور ان کو اس طرح بیان کرتے ہیں تاکہ سامنے والا ان کو اچھا سمجھے، اور لوگوں کو یہ بتائے کہ وہابیوں کی طرف یہ نسبتیں ان کے دشمنوں کی طرف سے دی گئی ہیں۔

۱۱۔ سَلف صالح کے بارے میں وہابیوں کا عقیدہ

سلطان عبد العزیز بن سعود ،کا بادشاہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس وقت کے وہابی علماء میں بھی شمار ہوتا تھا، چنانچہ مکہ معظمہ میں اس نے ذی الحجہ ۱۳۶۲ھ میں لوگوں کے سامنے ایک مفصل تقریر کی جس میں کہا کہ حضرت رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بہت جلد ہی میری امت کے(۷۳)فرقے ہوجائیں گے اور ایک فرقہ کے علاوہ سب جہنمی ہونگے، تو اس پر اصحاب نے سوال کیا وہ فرقہ کونسا ہے؟تو اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جواب میں فرمایا: وہ لوگ جو میرے اور میرے اصحاب کے راستہ پر چلیں گے“ اس کے بعد ابن سعود کہتے ہیں کہ خداوندعالم نے اپنے دین کی خلفائے اربعہ اور دوسرے سلف صالح کے ذریعہ تائید کی ہے۔(۳۹۴)

وہابی حضرات، خلفائے اربعہ کے بارے میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ یہ حضرات سلف صالح کے منتخب افراد ہیں، اور ان کی فضیلت بھی خلافت کی ترتیب کے لحاظ سے ہے (یعنی سب سے افضل ابوبکر ان کے بعد عمر) اورخلفاء اربعہ کے بعد ”عشرہ مبشرہ“(۳۹۵) کے باقی لوگ افضل ہیں،اور ان کے بعد اہل بدر (جنگ بدر میں شرکت کرنے والے حضرات) اور ان کے بعد ”اہل بیعت شجرہ“(۳۹۶) افضل ہیں۔

تعجب کی بات تو یہ ہے کہ وہابی حضرات جس طرح کے فضائل اور مناقب حضرت علی ں کے بارے میں بیان کرتے ہیں کسی ایک صحابی حتیٰ خلیفہ اول کے بارے میں بھی بیان نہیں کرتے۔(۳۹۷)

محمد بن عبد الوہاب نے، اپنی کتاب توحید میں کسی صحابی یا خلیفہ کے لئے کوئی منقبت بیان نہیں کی مگر یہ کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جنگ خیبر میں حضرت علی ں کے لئے فرمایا تھا:

”کل میں علم اس کو دوںگا جو خدا ورسول کو دوست رکھتا ہوگا اورخدا ورسول بھی اس کو دوست رکھتے ہونگے، اور خداوندعالم نے فتح خیبر کو بھی اس سے مخصوص قرار دیا ہے“۔(۳۹۸)

اس حدیث کو ابن تیمیہ نے بھی ذکر کیا ہے،(۳۹۹) اور موصوف یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ حدیث پیغمبر حضرت علیںکے ظاہری اور باطنی ایمان پر شھادت دیتی ہے اور اسی طرح اس سے خدا ورسول سے آپ کی دوستی ثابت ہوتی ہے اور مومنین پر واجب ہے کہ حضرت علیںکو دوست رکھیں۔(۴۰۰)

۱۲۔ اہل بیت پیغمبر علیهم السلام کے بارے میں

ابن تیمیہ اپنے فتووں میں کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی چادر علی، فاطمہ حسن، اور حسینعلیهم السلامپر اڑھائی اورفرمایا:

اَللّٰهم هٰولاٰءِ اَهْلُ بیت ی فَاْذهب الرِّجْسَ عَنْهم وَطَهِّرْهم تَطْهِیْراً(۴۰۱)

(اے خدا یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے تمام برائیوں کو دور کرکے پاک وپاکیزہ قرار دے جیسا کہ پاک رکھنے کا حق ہے)

ابن تیمیہ ایک دوسری جگہ کہتے ہیں:کہ ہم ان لوگوں میں سے ہیں جو اہل بیت پیغمبرعلیهم السلامکو دوست رکھتے ہیں اور روز غدیر خم آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وصیت کا پاس رکھتے ہیں کہ آپ نے فرمایاتھا:

”میں تم کو اپنے اہل بیت کی یاد دلاتا ہوں“ اور اس جملہ کی کئی مرتبہ تکرار بھی فرمائی تھی۔(۴۰۲)

اسی طرح ابن تیمیہ کہتے ہیں کہ اہل بیت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بہت سے حقوق ہیں جن کی رعایت کرنا واجب ہے، ان حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ ان حضرات کو خمس اور غنیمت دیا جائے اور ان میں سے ایک حق یہ ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد ان پر صلوٰت بھیجی جائے ،اور اسی طرح آل محمد(سلام اللہ علیہم )وہ ہیں جن پر صدقہ حرام ہے۔(۴۰۳)

اور اہل بیت علیهم السلام کے بارے میں آلوسی صاحب کہتے ہیں کہ ہمارا عقیدہ وھی ہے جو قرآن اور حدیث میں آیا ہے اور ہم ان فضائل اہل بیت علیهم السلامکو مانتے ہیں جو ان کی شان میں نازل ہوئے ہیں، لیکن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے اہل بیت علیهم السلامکی شان میں مبالغہ کرنے والوں کی مخالفت کرتے ہیں، آل پیغمبر علیہم السلام سے محبت اور دوستی ایمان کو معین کرنے والی ہے اور یھی حضرات خدا کے نور ہیں اور ان پر صلوٰت بھیجنا نماز کے صحیح ہونے کی شرط ہے۔

اس کے بعد جناب آلوسی صاحب کہتے ہیں کہ نجد کے علماء اورحکام نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ عوام الناس کو اس بات سے روکےں کہ جو کچھ آل پیغمبر اور اصحاب کے بارے میں واقعات پیش آئے ہیں ان کے بارے میں بحث وگفتگو نہ کریں تاکہ وہ تعصب نہ پیدا ہو جو حق وحقیقت سے دوری کا سبب نہ بنے، در حالیکہ وہابی حضرات اہل بیت علیهم السلامکی دوستی اور ان کی محبت میں غلو نہیں کرتے۔(۴۰۴)

شیخ عبد العزیز، جو مدرسہ پیشواے دعوت وہابی(یعنی محمد بن عبد الوہاب) ریاض کے مدرس تھے، وہ کہتے ہیں: کہ اہل بیت پیغمبر وہ حضرات ہیں جن پر صدقہ حرام ہے اور ان میں سب سے افضل علی، فاطمہ، حسن اور حسینعلیهم السلامھیں ۔ اوراس کے بعد احمد بن حنبل کی روایت نقل کرتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ” پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی چاد ر اپنے اہل بیت :علی ،فاطمہ، حسن اور حسینعلیهم السلام پر اڑھائی اور اس آیت کی تلاوت کی :

( اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُذْهب عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبیت وَیُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیْراً ) (۴۰۵)

اور اس کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

”اَللّٰهم هٰولاٰءِ اَهْلُ بیتی وَاَهْلُ بیتیْ اَحَقُّ“

(خدا وندا! یہ میرے اہل بیت ہیں اور میرے اہل بیت دوسر وں سے زیادہ اہل حق اور شائستہ تر ہیں۔)

لہٰذا، اہل بیت سے دوستی اور ان سے محبت کرنا ہم پر واجب ہے، یہ حضرات ہی پیغمبر اکرم کے اقرباء اور رشتہ دار ہیں، اس کے علاوہ اسلام میں سابقہ بھی زیادہ رکھتے ہیں، اور انھوں نے دین کو پھیلانے میں بہت سے مصائب کو برداشت کیا ،وغیرہ وغیرہ، لہٰذا ان سے دوستی اور محبت کرنا، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا احترام اور قرآن وسنت کے احکامات کی پیروی کرنا ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:

( قُلْ لاٰ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْراً اِلاّٰ الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰی ) (۴۰۶)

”(اے میرے رسول) آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں چاہتا علاوہ اس کہ میرے اقرباء سے محبت کرو“۔

۱۳۔ اصول دین اورفروع دین

آلوسی کے بقول وہابیوں کی نظر میں اصول دین وھی ہیں جو مذہب اہل سنت والجماعت کے ہیں اور ان کا طریقہ وھی سَلَف صالح (اصحاب پیغمبر اورتابعین) کا طریقہ ہے۔ وہ آیات اوراحادیث کوظاہر پر حمل کرتے ہیں، اس کے حقیقی معنی کو خدا پر چھوڑدیتے ہیں، اور ان کا عقیدہ یہ بھی ہے کہ خیر وشر صرف خدا کے ارادہ پر منحصر ہے ۔ بندہ اپنے افعال کو خلق کرنے پر (بھی) قادر نہیں ہے۔ ثواب اور جزا ،خدا کے فضل وکرم کی بدولت ہے ۔ کیفر و عذاب اس کے عدل کے مطابق ہے، اور ہمارا اعتقاد یہ ہے کہ روز قیامت خدا کا دیدار ہوگا۔(۴۰۷) لیکن فروع دین میں ،امام احمد ابن حنبل کے تابع ہیں، اور مذہب اربعہ میں سے کسی پر کوئی اعتراض نہیں کرتے، لیکن دوسرے مذہب مثلاً شیعہ اور زیدیہ کی سخت مخالفت کرتے ہیں۔

نیز اگر ان کے لئے یہ بات مسلّم ہوجائے کہ کوئی مسئلہ اہل سنت کے کسی ایک مذہب کا (غیر از حنبلی) تائید شدہ ہے اوراس کے بارے میں قرآن مجید یا غیر منسوخ سنت سے نص وارد ہوئی ہے اور اس کے مقابلہ میں کوئی اس سے مضبوط معارض بھی نہیں ہے، تو اس مسئلہ میں اسی مذہب کی پیروی کریں گے اور اس میں احمد ابن حنبل کے مذہب کی پیروی نہیں کریں گے۔

وہابی حضرات کسی کے مذہب کے بارے میں نہ تفتیش کرتے ہیں اور نہ ہی تحقیق کرتے ہیںمگر یہ کہ کسی مذہب کا کوئی کام مذاہب اربعہ کے بطور آشکار مخالف ہو، اسی طرح بعض مسائل میں اجتھاد کو قبول کرتے ہیں،(۴۰۸) (یعنی بعض مسائل میں مقلد ہو اور بعض مسائل میں مجتہد)، چنانچہ ابن سعود اصول دین اور فروع دین کے بارے میں کہتا ہے کہ ہم لوگ اصول دین میں قرآن کریم کے تابع ہیں اور فروع دین میں امام احمد ابن حنبل کے مذہب کے پیرو ہیں، اور کسی کو بھی دینی امور میں اپنی رائے پر عمل کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔(۴۰۹)

۱۴۔ قرآن و حدیث کے ظاہر پر عمل کرنااور تاویل کی مخالفت(۴۱۰)

ابن تیمیہ، جس کے نظریات اور فتووں پر وہابیوں کی بنیاد رکھی گئی ہے کہتے ہیں : تمام لوگوں پر خدا اور اس کے رسول کے کلام کو اصل قرار دینا اور اس کی پیروی کرنا واجب ہے، چاہے وہ ان کے معنی کو سمجھیں یا نہ سمجھیں۔

اسی طرح لوگوں کو چاہئے کہ قرآنی آیات اور کلام پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اعتقاد اور ایمان رکھیں، چاہے اس کے حقیقی معنی کو نہ سمجھتے ہوں،اور خدا و رسول اللہ کے کلام کے علاوہ کسی دوسرے کے کلام کو اصل قرا ر دینا جائز نہیں ہے، اور جب تک غیر خدا ورسول کے کلام کے معنی معلوم نہ ہوجائیں ان کی تصدیق کرنا واجب نہیں ہے، وہ کلام اگر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کلام سے موافق ہے تو قبول ورنہ باطل اورمردود ہے۔(۴۱۱)

حافظ وھبہ اس سلسلہ میں کہتے ہیں:وہابیوں کا اعتقاد یہ ہے کہ اسلام کے صحیح عقائد جس طرح سے قرآن وسنت میں وارد ہوئے ہیں انھیں اسی طرح سے باقی رکھا جائے، اور اس میں کسی طرح کی کوئی تاویل کرنا جائز نہیں ہے۔

علمائے نجد کی کتابیں ان لوگوں کے نظریات کی ردّ سے بھری ہوئی ہیں جنھوں نے تاویل کا سھارا لیا ہے، یا جو لوگ دینی عقائد کو فلسفی نظریات سے مطابقت کرتے ہیں،(۴۱۲)

(مقصود علمائے علم کلام ہیں)۔ وہابیوں کے قرآن وحدیث کی تاویل کی مخالفت میں ہم نے پہلے آلوسی کا نظریہ بیان کیا کہ موصوف قرآن کی آیات اور احادیث کو ان کے ظاہر پر حمل کرتے ہیں، اور ان کے حقیقی معنی کو خداوندعالم پر چھوڑدیتے ہیں، نیز خدا کے دیدار کے مسئلہ میں ہم یہ بات عرض کر چکے ہیں کہ وہابی حضرات بعض آیات قرآنی کے ظاہر کی وجہ سے خدا کے دیدار کے قائل ہیں یہاں تک کہ خداوندعالم کے لئے اعضائے(بدن)کے قائل ہیں۔

۱۵۔ اجتھاد اور تقلید

حافظ وھبہ، ابن تیمیہ کی دعوت کردہ چیزوں کے سلسلہ میں اس طرح کہتے ہیں: ابن تیمیہ کے عقیدہ کے مطابق اجتھاد کی دونوں قسمیں کھلی ہیں، اور انھوں نے متعصب مقلدوں کے لئے اعلان جنگ کیا ہے، اس کے بعد حافظ وھبہ کہتے ہیں کہ محمد بن عبد الوہاب کے نظریات کی بنیاد اور اساس ابن تیمیہ کا یھی نظریہ تھا۔(۴۱۳)

اور جیسا کہ یہ بات معلوم ہے اور اسی بات کو آلوسی نے بھی نقل کیا ہے کہ وہابی حضرات خود کو اصول میں مذہب اہل سنت کے تابع اور فروع دین میں مذہب احمد ابن حنبل کے تابع سمجھتے ہیں، اور اہل سنت کے دوسرے مذاہب سے تقلید کو منع نہیں کرتے اور خود بھی بعض مسائل میں اہل سنت کے دوسرے مذاہب (حنبلی مذہب کے علاوہ) کی تقلید کرنے میں کوئی حرج نہیں مانتے، اسی طرح اجتھاد میں ”تبعیض“ کے قائل ہیں یعنی انسان بعض مسائل میں اجتھاد کرے اور بعض مسائل میں تقلید کرے۔(۴۱۴)

حافظ وھبہ کہتے ہیں کہ نجدی علماء اپنی علمی حیات میں گذشتہ علماء کی تحریرں پر اعتماد کرتے ہیں، (یعنی اپنی طرف سے دخل وتصرف نہیں کرتے) اسی بناپر علماء کی کتابیں اوررسالے،منجملہ محمد بن عبد الوہاب اور اس کے بیٹوں کی کتابیں اسلوب و بیان کے اعتبار سے زیادہ علمی نہیں ہیں اور مصدرو مآخذکی حیثیت والی کتابیں بھی نایاب تھیں؟یہ لوگ مطلق اجتھاد کا دعویٰ نہیں کرتے بلکہ اپنے کو احمد ابن حنبل، ابن تیمیہ اور اس کے شاگرد ابن قیّم کا مقلد سمجھتے ہیں۔(۴۱۵)

وہابی حضرات کا ایک عقیدہ یہ بھی ہے کہ اگر کسی چیز کے بارے میں کوئی نص (قرآنی آیات یا احادیث) موجود ہو تو پھر وہاں تقلید جائز نہیں ہے، چاہے وہ تقلید احمد ابن حنبل کی ہو یا ابوحنیفہ، شافعی یا امام مالک کی ہولیکن اگر کسی مقام پر کوئی نص موجود نہ ہو تو احمد ابن حنبل کی تقلید کو جائز جانتے ہیں، یعنی احمد ابن حنبل کا نظریہ ایک ایسی اصل ثابت ہے کہ جب کوئی دلیل نہ ہو تو پھر ان کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ یہ اصل اہل سنت کے نزدیک مثل قیاس ہے اور شیعوں کے نزدیک مثل عقل ہے، اس صورت میں وہابی ایک ہی زمانہ میں مجتہد بھی ہوتے ہیں اور مقلد بھی۔

ملک عبد العزیز نے۱۳۵۵ھ میں مکہ معظمہ میں اپنی تقریر میں اس طرح کہا کہ ہمارا مذہب دلیل کا پیرو ہے جب تک دلیل موجود ہے، اوراگر دلیل موجود نہ ہو تو اجتھاد کی باری آتی ہے اور اس صورت میں ہم احمد ابن حنبل کے اجتھاد کی پیروی کرتے ہیں۔(۴۱۶)

۱۶۔ جوچیزیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اصحاب کے زمانہ میں نہیں تھیں۔ ۔ ۔

حافظ وھبہ کہتے ہیں:جو چیزیں قدیم زمانہ سے نجدی علماء کے پاس موجود ہیں وہ ان کی بہت زیادہ پابندی کرتے ہیں، خصوصاً وہ چیزیں جو دین سے متعلق ہیں، چنانچہ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ عقائد جس طرح سے قرآن وحدیث میں بیان ہوئے ہیں ان کو اسی حالت پر باقی رکھنا چاہئے اور ان میں کسی طرح کی کوئی تبدیلی کرنا جائز نہیں ہے۔

وہابی حضرات کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ(جو بہترین زمانہ تھا) میں جو چیزیں موجود تھیں وھی سب کے لئے کافی ہیں اسی طرح ہمارے لئے بھی کافی ہیں، قارئین کرام ملاحظہ فرمائیں کہ وہابی علماء کی کتابوں میں سے وہ کتابیں بھی ہیں جو ان فرقوں کی ردّ میں لکھی گئی ہیں جو تاویل کا سھارا لیتے ہیں یا اپنے دینی عقائد کو فلاسفہ کے نظریات سے تطبیق دیتے ہیں۔

وہابی لوگ تصویر لینے کو بھی حرام کہتے ہیں (اور ظاہراً تصویر کی دونوں قسموں کو حرام جانتے ہیں کہ چاہے وہ ھاتھ کے ذریعہ بنائی جائے یا کیمرے کے ذریعہ فوٹو لیا جائے)((فِیلبی کہتا ہے کہ جب ایک بہت بڑے عالم دین نے قاہرہ جانا چاہاتو مصر کی حکومت سے بہت زیادہ اصرار کیا کہ ان کو پاسپورٹ پر فوٹو لگانے سے معاف کرے۔(۴۱۷)

یہ لوگ فلسفہ اور منطق پڑھنے کو بھی حرام قرار دیتے ہیں، اسی لئے نجدی علماء میں منطق اور فلسفہ سے آشنائی رکھنے والے بہت کم ملےں گے۔

ہاں تک کہ لغت عرب اور ادبیات عرب میں ماہر افراد بھی بہت کم ہیں اسی طرح علوم بیان ،اشتقاق اور بلاغت کے جاننے والے بھی بہت ہی کم ملیں گے، ان کی معلومات تو صرف تاریخی (تاریخ سیرہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور سیرہ خلفاء راشدین تک محدود)ہوتی ہے، اور تاریخ میں بھی دوسری تاریخو ںسے کوئی مطلب نہیں ہوتا، چاہے وہ قدیمی تاریخ ہوں یا تاریخ اسلام۔ جزیرة العرب میں کوئی نئی چیز کشف نہیں ہوئی ہے فقط بادشاہوں اور شاہزادوں کے خاندان اس فکر میں رہتے ہیں کہ آج کل کی کتابیں نئے انداز کی ہوں تاکہ ان کو پڑھا جائے وہ یہ چاہتے ہیں کہ نئی کتابوں کے ذریعہ تاریخ اور قانون اسی طرح لغت عرب کے آداب وغیرہ سے آگاہ ہوں۔(۴۱۸)

۱۳۴۹ھ میں علماء نجدنے فریاد وفغاں بلند کی اور مکہ معظمہ میں ایک جلسہ رکھا گیا جس میں ”ادارہ معارف“(محکمہ تعلیم)مکہ پر اعتراض کیا گیا اور اس کے خلاف قرار داد پاس کی، ان سب کاموں کی وجہ یہ تھی کہ مذکورہ ادارے نے مدارسکے ”کورس“ میں انگریزی اور جغرافیہ کو شامل کر لیا تھا جس میں زمین کے گھومنے اوراس کے کرویت ہونے کی باتیں ہیں۔(۴۱۹)

جس وقت” شریف غالب “۱۲۲۱ھ میں (جیسا کہ بعدکی تفصیل سے معلوم ہوگا)وہابیوں کے مقابلہ میں تسلیم ہوا،اوراس پر یہ شرط رکھی گئی کہ جو کچھ بھی تیسری صدی کے بعد سے مسلمانوں میں پیدا ہوا، ان سب کو چھوڑدے، جن میں سے بعض چیزیں یہ ہیں :

اپنی مشکلات کے دورکرنے کے لئے غیر خدا کی طرف متوجہ ہونا، چاہے وہ زندہ ہوں یا مردہ، اسی طرح قبروں پر گنبد بنانا، قبروں کو بوسہ دینا یا قبروں کے سامنے خشوع وخضوع کرنا اورقبر میں سوئے مردوں کو پکارنا، قبروں کے اطراف طواف کرنا، اسی طرح قبروں کے لئے نذر اور قربانی کرنا، قبور پر اجتماعات کرنا یا عورتوں اور مردوں کا ایک ساتھ زیارت کرنا۔(۴۲۰)

وہابی حضرات صرف اسی چیز کو قبول کرتے ہیں جو سنت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مطابق ہو، اسی طرح جو چیزیں خلفائے راشدین اور صحابہ وتابعین یا وہ لوگ جو اجتھاد کے درجہ تک پہونچ گئے ہیں (یعنی تیسری صدی کے آخر تک) ان کے موافق ہو، ان ہی کو قبول کرتے ہیں، اسی بناپر ان کا عقیدہ یہ ہے کہ جو چیزیں تیسری صدی کے بعد وجود میں آئی ہیں وہ سب بدعتیں اور حرام ہیں اوران سب کوختم اور نیست ونابود کرنا واجب ہے۔

آلوسی کی تحریر سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ وہابی حضرات دوسرے فرقوں کی کتابوں کو باطل جانتے تھے اسی وجہ سے ان کو نابود کردیتے تھے۔ آلوسی اس سلسلہ میں کہتے ہیں :

یہ کام ”عرب کے بدو اور جاہل لوگ“کیا کرتے تھے، جن کو ایسے کاموں سے روکا جاتا تھا۔(۴۲۱)

تمباکو نوشی حرام ہے

جس وقت وہابیوںنے حجاز پر غلبہ حاصل کیا اس سے پہلے مکہ میں تمباکو نوشی رائج تھی، صاحب تاریخ مکہ کہتے ہیں کہ۱۱۱۲ھ میں تمباکو مصر سے مکہ لایا گیا اور اسی وقت سے تمباکو نوشی کا آغاز ہوگیا، اور کچھ ہی مدت میں مکہ میں كُھلے عام تمباکو نوشی ہونے لگی۔

۱۱۴۹ھ میں شریف مسعود (شریف مکہ) نے تمباکو نوشی کی شدید مخالفت کی اور حکم دیا کہ مکہ معظمہ کے بازاروں اور قہوہ خانوں میں کوئی تمباکو نوشی نہ کرے، اور شھر کے حاکم کو بھی حکم دیا کہ اگر کوئی شخص کھلے عام تمباکو نوشی کرتا ہوا پایا جائے تو اس کو سزا دی جائے، حاکم نے تمام گلی کوچوں میں پھرہ لگادیا کہ کوئی تمباکو نوشی نہ کرے، لیکن وہ سب اپنے گھروں میں جمع ہوکر تمباکو نوشی کیا کرتے تھے تاکہ حاکم ان کو نہ دیکھ سکے۔

شریف مسعود نے تمباکو نوشی سے کیوں منع کیا اس کی دو وجھیں تھیں، ایک تو یہ کہ ان کا خود کا عقیدہ یہ تھا کہ تمباکو نوشی حرام ہے، اوردوسری وجہ لوگوں نے یہ بتائی ہے کہ علماء اوربزرگان دین کے سامنے تمباکو نوشی ایک طرح سے بے احترامی ہے، لہٰذا اس نے تمباکو نوشی کو حرام قرار دیدیا۔

بھر حال مکہ کے شریف غالب نے بھی۱۲۲۱ھ میں تمباکو نوشی کو ممنوع قرار دیا۔(۴۲۲) شاید مکہ کے شریفوں نے تمباکو نوشی کو مذہبی پہلو کی بنا پر ممنوع قرار نہ دیاہو، لیکن وہابیوں نے جب حجاز پر قبضہ کرلیا تو تمباکو نوشی کو اس غرض سے ممنوع قرار دیا کہ تمباکو نوشی شروع کی تین صدیوں میں نہیں تھی لہٰذا تمباکو نوشی حرام ہے۔ اسی وجہ سے نجد کے حكّام تمباکو نوشی سے روکنے کا حکم دیتے تھے، مثلاً سعود بن عبد العزیز نے۱۲۲۲ھ میں پانچویں سفر حجمیں یہ اعلان کرادیا کہ مکہ کے بازاروں میں تمباکو نوشی ممنوع ہے، اسی طرح سعود نے یہ حکم بھی دیا کہ مکہ کے بازاروں میں کچھ لوگ نماز کے وقت یہ کہتے پھریں،”الصلوٰة، الصلوٰة(۴۲۳)

اسی طرح ترکی بن عبد اللہ (سعودی حاکم) نے نجد کے لوگوں کو ایک نصیحت آمیز خط لکھا جس میں گھٹیا زندگی اور تمباکو نوشی کے لئے ایک جگہ جمع ہونے سے منع کیا گیا تھا۔(۴۲۴)

علامہ امین عامِلی اس طرح فرماتے ہیں :حجاز میں تمباکو نوشی کو برا سمجھا جاتا تھا یہاں تک کہ تمباکو نوشی کرنے و الے کی پٹائی بھی کی جاتی تھی اور بعض اوقات تو قید خانہ میں بھی جانا پڑتا تھا، اسی موقع پر حجاز کے کسٹم آفس نے تمباکو کے لئے ٹیکس مقرر کر دیا تھا۔(۴۲۵)

عبد العزیز کے زمانہ میں نجد کا سفر کرنے والا ”امین ریحانی“ اس طرح کہتا ہے کہ نجد میں بلکہ ابن سعود کی تمام حدود میں تمباکو نوشی ممنوع ہے، کوئی بھی ”اَحساء“، ”عارِض“ اور”قصِیم“ کے بازاروں میں کھلے عام تمباکو نوشی اورسیگریٹ وغیرہ نہیں پی سکتاتھا، لیکن احساء اور قصیم میں گھروں کے اندر تمباکو نوشی ہوتی ہے۔

لیکن وہاں کے شیوخ لاپرواہی کرتے ہیں میں نے خود ریاض میں دیکھا ہے کہ بعض لوگوں نے بادشاہ کے نزدیکی لوگوں کے سامنے مخفی طور پرسگریٹ پی، جس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ متعصب علماء کی طرح تمباکو نوشی کی ممانعتکے قائل نہیں ہیں۔(۴۲۶)

ابن سعود، غیروں کے سیگریٹ وغیرہ پینے کے سلسلہ میں تجاہل کرتا تھا اور ان کی کوئی مخالفت نہیں کرتا تھا۔(۴۲۷)

اس کے بعد سے سعودی عرب کے اخبارات بھی تمباکو نوشی کی حرمت کے بجائے اس کے نقصانات کو بیان کرتے تھے اور یہ لکھتے تھے کہ لوگوں کو سگریٹ وغیرہ بالکل نہیں پینا چاہئے یا کم سے کم پینا چاہئے۔(۴۲۸)

ان کے نزدیک کچھ اور بدعتیں

محمد بن عبد الوہاب کا پوتا اپنی کتاب ”ہدیہ السنیہ“میں کہتا ہے کہ ہر وہ چیز جو پیغمبر اکرم کے زمانہ میں نہیں تھی اور تیسری صدی ہجری کے بعد پیدا ہوئی ہے بدعت اورناپسند ہے،(۴۲۹) مثلاً چاروں مذہبوںکے اماموںکے لئے مسجدوں میں چار محراب بنانا، اورماذنہ سے شب جمعہ اورروز جمعہ نیز شب دوشنبہ میں مُردوں کو یادکرنا، اور ان کے لئے دعائے مغفرت کرنا، اور گلدستہ اذان پر قرآن کی تلاوت کرنا اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر صلوٰت بھیجنا، اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روز ولادت پر آپ کی سیرت کا جلسہ کرنا، نیز آپ کے ولادت کے موقع پرمترنم لہجہ میں صلوٰت اور قصیدہ پڑھنا، اور مردو ں کے لئے نماز کے بعد فاتحہ پڑھنا، یا جنازوں کو لے جاتے وقت فاتحہ پڑھنا، اسی طرح قبروں پر پانی چھڑکنا، اور ذکر خدا میں اپنی آواز بلند کرنا، عبادتگاہوں اور تکیوں میں اسلحہ اور علم وغیرہ لٹکانا، ان تمام چیزوں کو وہابی حضرات حرام جانتے ہیں۔

”فتنة الوہابیة“ نامی کتاب میں اس طرح موجود ہے کہ وہابی لوگ اذان کے بعد پیغمبر اکرم پر صلوٰت بھیجنے سے منع کرتے ہیں، چنانچہ ایک نابینا شخص نے اس ممانعت کے بعد بھی اذان کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر صلوٰت بھیجی تو اس کو محمد بن عبد الوہاب کے پاس لے گئے اس نے اس شخص کو قتل کرنے کا حکم دیدیا۔(۴۳۰)

کٹّر وہابیوں کے نزدیک دوسری حرام چیزیں یہ ہیں :لمبی موچھیں رکھنا، کپڑوں کوقدیم زمانہ کے معمولی اندازہ سے لمبا پہننا، یہ لوگ سب سے پہلے لمبی مونچھوں والے اور لمبے لباس والے کو تذکر دیتے تھے اور اس کے بعد جس مقدار میں بھی مونچھیں یا اس کا لباس لمبا دکھائی دیتاتھا اس کو کاٹ دیا کرتے تھے۔(۴۳۱)

ہم انشاء اللہ فرقہ اخوان کی بحث کے ضمن میں بیان کرےں گے کہ یہ لوگ سروں پر عقال (وہ ریسمان جو عرب اپنے سر پر چادر وغیرہ کو باندہنے کے لئے باندہتے ہیں) باندہنے کو جائز نہیں جانتے، اسی طرح نئی ٹکنالوجی کے استعمال کو بھی ممنوع قرار دیتے ہیں جیسے ٹیلی فون یا ٹیلی گراف وغیرہ۔

کسی چیز میں ”اصل“ حرمت ہے یا اباحت

وہابیوں اور دوسرے فرقوں میں ایک اہم فرق یہ ہے کہ دوسرے فرقے اصل اباحت پر عمل کرتے ہیں یعنی ہر اس چیز کو حلال اورمباح جانتے ہیں جس کے بارے میں قرآن مجید یا سنت نبوی میں اس کی حرمت پر کوئی دلیل نہ ہو، لہٰذا چائے یا قہوہ کا پینا، یا انگریزی ٹماٹر اور آلو کا کہانا جائز ہے اسی طرح وہ جدید چیزیں جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یا اصحاب کے زمانہ میں موجود نہیں تھی یا ان سے استفادہ نہیں کیا جاتا تھا ان سب کا استعمال جائز ہے کیونکہ ان کی حرمت کے بارے میں کوئی دلیل نہیں ہے۔

لیکن وہابی حضرات مذکورہ چیزوں میں اصل حرمت کو معتبر جانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر وہ چیزحرام ہے جس کے بارے میں حلال اور مباح ہونا معلوم نہ ہو، لہٰذا ان چیزوں کا انجام دیناجائز نہیں ہے۔

چنانچہ اسی اصل کی بناپر ہر نئی چیز کی مخالفت کیا کرتے تھے یہاں تک کہ بادشاہ کے گھر کے ٹیلی فون کے تار وغیرہ بھی کاٹ ڈالے، اور مدارس میں جغرافیہ کی تعلیم کی مخالفت کی، اور اسی طرح کے دوسرے مسائل جن کے بارے میں اس کتاب کے آٹھویں باب ”جمعیة الاخوان“ میں توضیح دی گئی ہے۔

گلد زیھر کے قول کے مطابق، وہابی لوگ ان چیزوں کو بھی حرام جانتے ہیں، جن کو مذاہب اربعہ کے پیروکاروں نے مباح اور مستحب جانا ہے، لہٰذا یہ لوگ اہل سنت کے حدود سے خارج ہوگئے اور ان کے کارنامے صدر اسلام کے خوارج کی طرح ہیں۔

گلد زیھر، جو خود وہابیوں کا طرفدار ہے وہابیوں کی اہل سنت سے جدائی کو ثابت ہونے کے سلسلہ میں اپنی گذشتہ باتوں کو اس طرح آگے بڑھاتا ہے:بارہویں عیسوی صدی (چھٹی ہجری صدی) سے تمام اہل سنت غزالی کی بات کو آخری بات اورسنی مذہب کا آخری فیصلہ سمجھتے ہیں لیکن وہابی حضرات اپنی فقھی اور کلامی بحثوں میں غزالی کی باتو ںکی مخالفت کرتے ہیں، اور یہ مخالفت ابھی بھی(گلد زیھر کا زمانہ بیسوی صدی کے شروع کا زمانہ) جاری ہے۔(۴۳۲)

چند ملاحظات

وہابیوں کے عقائد کی بحث کے اختتام پر چند نکتوں کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے، تین ملاحظات خلاصةً پیش خدمت ہیں:

ہر وہ چیز جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اصحاب کے زمانہ میں (پہلی تین ہجری صدیوں میں ) نہیں تھی اور بعد میں پیدا ہوئی وہ سب حرام اور بدعت ہے،۔ واقعاً اگر ایسا ہی عقیدہ ہو تو یہ چیز دین اسلام میں انجماد کا سبب ہے جو دین مبین اسلام کی حقیقت اور اس کے جاودانی ہونے سے ہم آہنگ نہیں ہے۔

وہ دین جو جدید علم اور ٹکنالوجی اور نئی نئی ایجادات سے ہم آہنگ نہ ہو کس طرح عالمی اور جاودانی ہوسکتا ہے؟!

یہ وہ مطالب ہیں جن پر وہابی مذہب کے بارے میں تحقیق کرنے والوںنے اپنی اپنی کتابوں میں اشارہ کیا ہے۔

اس سلسلہ میں اور اسی طرح کے دوسرے مسائل میں وہابیت کی طرف مائل ہونے والے افراد نے ان چیزوں پر اعتراضات کئے ہیں، ہم یہاں پر ان میں سے چند چیزوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

آلوسی جو مذہب وہابی کے پکے طرفداروں میں ہیں، وہ حکومت سعود بن عبد العزیز کی شرح کرتے ہوئے اس طرح کہتے ہیں:

سعود نے اگرچہ عرب کی بڑی بڑی شخصیتوں کو اپنی اطاعت پر مجبور کرلیا تھا، لیکن اس نے لوگوں کو حج بیت اللہ الحرام سے روکا، اور سلطان (سلطان عثمانی) پر خروج کیا اور فرقہ وہابی کے علاوہ دوسرے اسلامی فرقہ کو کافر کہنے میں غلو کیا، اور بہت سے اسلامی احکام میں بہت شدت اور سخت گیری کی، چنانچہ اس کے زمانہ میں نجدی علماء اکثر امور کو ظاہر پر حمل کرتے تھے۔

اگر کوئی شخص انصاف سے کام لے تو نجدی علماء اورعوام الناس کا مسلمانوں سے جنگ وجدال کو جھاد کا نام دینے اور مسلمانوں کو حج سے روکنے سے قطع نظر، عراق اور سوریہ کو لوگوں کی غیر خدا کی قسم کہانے، اور صالحین کی قبروں کو سونے اور چاندی سے زینت کرنے، نیزوہاں پر نذر کرنے، یا اس طرح کی اور دوسری چیزیں جن کو شارع مقدس نے ممنوع قرار دیا ہے ان سب کو چھوڑکر اسے درمیانی راستہ اختیار کرنا چاہئے۔

خلاصہ یہ کہ مسلمانوں کے لئے دین میں افراط وتفریط (کمی اور زیادتی کرنا) جائز نہیں ہے، گذشتہ صالحین کی پیروی کرنا ضروری اور بھتر ہے، اور ایک دوسرے کو کفر کی نسبت دینے سے پر ھیز کرنا چاہئے جو خدا وندعالم کے خشم وغضب کا باعث ہے۔

ھی آلوسی صاحب عبد اللہ بن سعود کے حالات زندگی میں اس طرح کہتے ہیں: عبداللہ نے اپنے ماسبق کی طرح عرب کے قبیلوں کو دین اسلام کی تعلیمات سے آگاہ کیا اور پانچوں وقت کی نمازِجماعت میں شرکت کرنے پر آمادہ کیا، لیکن سلطان (سلطان عثمانی) کے ساتھ جو جسارت کی اس میں اس نے خطا اور غلطی کی، وہ اگر نجد اوراس کے تابع علاقوں پر اکتفاء کرتا تو اس کے لئے بھتر تھا اور اس سے زیادہ ترقی کرتا، خصوصاً ان قبیلوں کی تعلیم وتربیت میں ثواب عظیم کا مالک ہوتا جو حیوانوں کی طرح یا اس سے بھی پست تر تھے۔(۴۳۳)

امریکن رائٹر ”لوٹروپ سٹوڈارڈ“ وہابیوں کی طرفداری کرتا ہوا ان کی بہت زیادہ تعریف وتمجید کرتا ہے اور وہابیوں کے وجود کو مسلمانوں میں بیداری کا سبب مانتا ہے اور اس طرح کہتا ہے کہ وہابیوں کی دعوت خالص اصلاح کی دعوت تھی، جس میں شک وہم اور شبھات کو دور کرنا مقصود تھا۔ درمیانی صدیوں میں دین کی جو مختلف تفسیریں اورمختلف حاشیہ پیدا ہوگئے تھے ان کو ختم کیا اور بدعتوں اور اولیاء اللہ کی پرستش کو نابود کیا، خلاصہ یہ کہ یہ لوگ اس پرانے دین کی طرف پلٹنا چاہتے تھے جو شروع میں تھا، اور وہ اسلام کی حقیقت اور اس کے جوھر کو پیش کرنا چاہتے تھے یعنی اس توحید کو لوگوں کے سامنے بیان کرناچاہتے تھے جس کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لے کر آئے تھے ۔ انھوں نے اس قرآن کو اپنا رہبراور پیشوا قرار دیا جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوا، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ قرآن کی تاویل اور تفسیر نہ کی جائے، (چنانچہ محمد بن عبد الوہاب کہتا تھا کہ) اس کے علاوہ تمام چیزیں باطل ہیں اور ان کا اسلام سے کوئی تعلق نھیں، دین کے ارکان اور واجبات اور قواعد مثلاً نماز وروزہ وغیرہ کی پابندی کرنے کو مناسب سمجھتا تھا، یہ لوگ (وہابی حضرات) اپنی زندگی میں غیر معمولی سادگی رکھتے تھے، ابریشمی کپڑے اور مختلف قسم کے کہانوں، شراب نوشی اور قہوہ پینا اورافیون اور تمباکو نوشی یا ہر وہ چیز جو اسراف کا سبب ہو یا عقل کے لئے نقصان دہ ہو، ان سب چیزوں کو حرام جانتے تھے۔

”لوٹروپ سٹوڈارڈ“ اس کے بعد کہتا ہے: میں نے جو کچھ کہا وہ ا ن کی ساری باتیں نہیں ہیں بلکہ یہ لوگ ان دینی عمارتوں کو جو مختلف چیزوں سے زینت کی جاتی ہیں ان کو بھی حرام جانتے ہیں، اور اسی وجہ سے انھوں نے مرقد مطھر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر بنے گنبد کو ویران کردیا اور مسجد نبوی پر بنے گلدستوں کو گرادیا، (قارئین کرام! اگر چہ اس کی یہ بات غلط ہے، کیونکہ انھوں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کے گنبد اور مسجد کے گلدستوں کو نہیں گرایا اور اس کی وجہ ہم وہابیوں کی تاریخ میں بیان کریں گے)۔

چنانچہ انھوں نے دینی واجبات اور قواعد وآداب سے شدید لگاؤ کی وجہ سے ان چیزوں کی نسبت افراط کا راستہ انتخاب کیا یعنی ان چیزوں میں زیادہ روی کی اور انھیں چیزوں کے اثر کی بنا پر بعض اہل دقت لوگوں نے وہابیوں کے راستہ کو دلیل اور برہان قرار دیا کہ اسلام در حقیقت آج کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے اورمعاشرہ کی موجودہ ترقی و تبدیلی کے موافق اور زمانہ کے ساتھ سازگار نھیںھے۔(۴۳۴)

اسی طرح چودہویں صدی کے عثمانی مولفین میں سے ”سلیمان فائق بک“ وہابیوں کے بارے میں اس طرح کہتے ہیں کہ اگرچہ وہابیوں کے مذہبی اعتقادات اہل سنت والجماعت، سلف صالح اور وہ لوگ جو احتیاط کی طرفمائل ہیں ان کے اعتقادات سے کوئی اختلاف نہیں رکھتے لیکن ان کے مذہبی کٹّر پن نے ان کو راہ راست سے منحرف کردیا یہاں تک کہ اپنی مرضی سے حلال یا حرام کا فتویٰ دیتے ہیں، مثلاً انھوں نے صالحین کی قبر کی زیارت اور ان کی روحانیت سے متبرک ہونے کو بھی حرام قرار دیا ہے، اور جو لوگ تمباکو نوشی کرتے ہیں ان کے کفر کا بھی فتویٰ دیا، اور ان کا تعصب اور کٹّرپن اس درجے پر پہونچاکہ اپنے علاوہ دوسرے تمام اسلامی فرقوں کے کفر کا فتویٰ صادر کردیا، العیاذ باللہ۔(۴۳۵)

ہاںعرب کے مشہور ومعروف مولف”احمد امین“ کی اس بات کو نقل کرنا مناسب ہے، وہ کہتے ہیں کہ اس وقت محمد بن عبد الوہاب کے زمانہ کو دسیوں سال گذر چکے ہیں اور بہت سے بھادروں اور جنگجو جوانوں نے اس سے مقابلہ میں جنگیں لڑیں ہیں لیکن ان کا کیا نتیجہ ہوا؟ مسلمانوں کے تمام فرقے قبروں اور ضریحوں سے توسل کرنے اور ان سے حاجت طلب کرنے کے سلسلہ میں اسی پرانی حالت پر باقی ہیں جس طرح کے محمد بن عبد الوہاب کے زمانہ سے پہلے تھے اور اسی زمانہ کی طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور دوسری ولادتوں پر جشن محفلیں کرتے ہیں، (اگرچہ اس طرح کی محفلوں کی رونق کم ہوگئی ہے) صرف بعض خاص الخاص لوگوں میں اس کی دعوت کا اثر ہوا ہے، اسی طرح آج کل کے پڑھے لکھے جوان، بزرگوں کی قبور اور ان کے مزار وں کی پناہ حاصل نہیں کرتے اور اپنے آباء واجداد کی طرح قبروں سے متوسل نہیں ہوتے، لیکن یہ جوان ایسے ہیں جو اپنے آباء واجداد کی طرح خدا سے بھی متوسل نہیں ہوتے اور اس سے بھی التجا نہیں کرتے۔(۴۳۶)

اس بحث کے اختتام پر اس بات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے کہ امریکن رائٹروں کی کتابوں کو پڑھ کر کوئی یہ خیال نہ کرلے کہ اسلام ایک جامد دین ہے اور ترقی یافتہ زمانہ سے ہم آہنگ نہیں ہے ،ضروری ہے کہ دیگر اسلامی فرقوں کے نزدیک اصل اباحہ اور مسئلہ اجتھاد کو بھی پیش نظر رکھیں:مثلاً شیعہ مذہب میں ہر چیز میں ”اصل اباحت“ ہے، یعنی ہر وہ چیز جس کے بارے میں حرمت پر دلیل موجود نہ ہو، جائز اور مباح ہے، اور اس کے انجام دینے میں کوئی ممانعت نہیں ہے، اسی طرح دوسرے فرقے بھی (وہابی کے علاوہ) اصل اباحہ کو قبول کرتے ہیں،دوسری بات یہ ہے کہ شیعہ مذہب کے مجتہدین ہر نئی چیز کا حکم چاروں دلیلوں (قرآن، سنت، اجماع اور عقل) کے ذریعہ استنباط کرتے ہیں، لہٰذا دین اسلام جو خود فکر وعلم اور عقل کا دین ہے ہر زمانہ اور ہر جگہ سے ہم آہنگ ہے اور دنیا کا کوئی بھی مسئلہ ایسا نہیں ہے اور نہ ہوگا جس میں شیعہ مجتہدین مسئلہ کا حکم شرعی استنباط نہ کرسکیں۔

محمد بن عبد الوہاب کے عقائد کے بارے میں

جب سے محمد بن عبد الوہاب نے اپنے عقائد کا اظھار کیا اور لوگوں کو ان کے قبول کرنے کی دعوت دی، اسی وقت سے بڑے بڑے علماء نے اس کے عقائد کی پر زور مخالفت کی، شدید مخالفت کرنے والوں میں سب سے پہلے خود اس کے پدر محترم عبد الوہاب تھے اور اس کے بعد ان کے بھائی جناب شیخ سلیمان بن عبد الوہاب تھے اور یہ دونوں حنبلی علماء میں سے تھے، شیخ سلیمان نے تو محمد بن عبد الوہاب کی رد میں کتاب ”الصواعق الا لٰھیة فی الرد علی الوہابیة“تالیف کی، اور اس کے عقائد کو باقاعدہ دلیلوں کے ذریعہ ردّ کیا ہے۔

زینی دحلان کہتے ہیں کہ شیخ محمد بن عبد الوہاب کے پدر گرامی ایک صالح عالم دین تھے، اور اس کے بھائی شیخ سلیمان نے شروع ہی سے یعنی جب سے محمد بن عبدالوہاب تحصیل علم میں مشغول تھا اور اس کی باتوں اور اس کے کاموں سے یہ اندازہ لگایا لیا تھا کہ یہ اس طرح کا خیال اورنظریہ رکھتا ہے اسی وقت سے اس پر لعن وملامت کیا کرتے تھے اور اس کو ہمیشہ اس کام سے روکتے رہتے تھے۔(۴۳۷)

شیخ محمد بن عبد الوہاب کے سب سے بڑے مخالف اس کے بھائی شیخ سلیمان صاحب کتاب”الصواعق الالٰھیة فی الرد علی الوہابیة“ تھے، چنانچہ شیخ سلیمان اپنے بھائی کی باتوں کو ردّ کرتے ہوئے کہتے ہیں :یہ کام (جن کو وہابی لوگ شرک اورکفر کا باعث سمجھتے ہیں) احمد ابن حنبل اور ائمہ اسلام کے زمانہ سے پہلے موجود تھے، جبکہ بعض لوگ اس وقت بھی ان کے منکر تھے اور ان سب کو ائمہ اسلام نے سنا لیکن کسی ایک روایت میں یہ نہیں آیا ہے کہ انھوں نے ان اعمال کو بجالانے والوں کو مرتدّ یا کافر کہا ہو یا ان سے جھاد کرنے کا حکم دیا ہو، یا مسلمانوں کے ملک کو جس طرح تم کہتے ہو بلاد شرک یا دار ا لکفر کہا ہو، اسی طرح ائمہ(۴۳۸) کے زمانہ کو(۸۰۰)سال کی مدت گذر رہی ہے، کسی بھی عالم دین سے کوئی روایت نہیں ہے کہ ان کاموں کو کفر اور شرک جاتا ہو،(۴۳۹)

خدا کی قسم تمھاری باتوں کا نتیجہ یہ ہوگا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تمام امت احمد ابن حنبل کے زمانہ سے چاہے عالم ہوں یا عوام الناس، چاہے حاکم ہوں یا عام لوگ، سب کے سب کافر اور مرتدّ ہیں،( اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَیْهِ رَاجِعُوْنَ ) ، شیخ سلیمان بہت افسوس کرتے ہوئے کہتے ہیں :” اللہ کی پناہ“،!کیا تم سے پہلے کسی نے دین اسلام کو نہیں سمجھا تھا،(۴۴۰)

صواعق الالٰھیہ کے علاوہ اور د وسری کتابیں محمد بن عبد الوہاب کے عقائد کی ردّ میں لکھی گئی ہیں جنھوں نے محمد بن عبد الوہاب کے عقائد کو ایک ایک کرکے نقل کیا اور ان کو باقاعدہ دلیلوں کے ساتھ ردّ کیا ہے، ان میں سے صاحب اعیان الشیعہ علامہ سید محسن حسینی عامِلی کیکتاب ”کشف الارتیاب فی اتباع محمد ابن عبد الوہاب“ ہے، یہ کتاب اپنی صنف میں بہترین کتاب ہے۔

وہابیت کے طرفداروں میں سے عبد اللہ قصِیمی مصری نے کتاب ”کشف الارتیاب“ کی ردّ ”الصّراع بین الوثنیة والاسلام“ لکھی، اور اس کتاب کے جواب میں محمد خُنیزی نجفی نے ”الدعوة الاسلامیہ“ نامی کتاب لکھی جس کی چند جلدیں چھپ بھی چکی ہیں۔

اسی طرح وہابیوں کی ردّ میں لکھی جانے والی کتاب ”منہج الرشاد“ تالیف علامہ شیخ محمد حسین کاشف الغطاء ہے۔

وہابیوں کی ردّ میں لکھی جانے والی ایک اور کتاب ”شواہد الحق فی الاستغاثة بسید الخلق“ تالیف شیخ یوسف نبھانی ہے، یہ کتاب ابن تیمیہ اور محمد بن عبد الوہاب دونوں کی ردّ میں لکھی گئی ہے۔

اسی طرح وہابیوں کی ردّ میں لکھی جانے والی کتابوں میں سے ”مصباح الانام وجلاء الظلّام“ تالیف سید علوی بن احمدبھی ہے، بنابر نقل ابی حامد بن مَرزوق کتاب”التوسل بالنبی وجھلة الوہابیین“ھے۔

اسی طرح علماء ازھر میں سے شیخ محمد نجیت مطیعی صاحب کی کتاب ”تطھیر الفواد من دنس الاعتقاد“ ہے۔

اسی طرح وہابیوں کی ردّ میں لکھی جانے والی کتابوں میں علامہ عراق جمیل افندی صِدقی زِھاوی کی کتاب ”الفجر الصادق فی الردّ علیٰ منکری التوسل والکرامات والخوارق“ بھی ہے۔

انھیں کتابوں میں ”ضیاء الصدور لمنکر التوسل باہل القبور“ تالیف ظاہر شاہ میان بن عبد العظیم بھی ہے۔

کتاب ”المنحة الوھبیة فی الردّ علی الوہابیة“ تالیف داود بن سلیمان نقشبندی بغدادی بھی وہابیوں کی ردّ میں لکھی گئی ہے۔

اسی طرح کتاب ”اشد الجھاد فی ابطال دعویٰ الاجتھاد“ تالیف شیخ داود موسوی بغدادی بھی ہے جو کتاب ”منحة الوھبیة“ کے ساتھ چھپ چکی ہے۔

اسی طرح ایک رسالہ ”کشف النور عن اصحاب القبور“ تالیف عبد الغنی افندی نابُلِسی وہابیت کی ردّ میں چھپ چکا ہے۔

کتاب ”الاصول الاربعة فی تردید الوہابیة“ تالیف خواجہ محمد حسن جان صاحب سرہندی (فارسی زبان میں )چھپ چکی ہے۔

اسی طرح کتاب ”سیف الابرار علی الفجار“ تالیف محمد عبد الرحمن حنفی (فارسی زبان میں چھپ چکی ہے)، (جو وہابیوں کے طرفدار نذیر حسین کے فتووں کی ردّ ہے۔)

اسی طرح ایک رسالہ ”سیف الجبار المسلول علی الاعداء الابرار“ تالیف شاہ فضل رسول قادری ہے (جو عربی اور فارسی زبانوں میں ہے۔

کتاب ”مدارج السنیة فی ردّ علی الوہابیة“ بھی وہابیوں کی ردّ میں لکھی گئی ہے جس کو عامر قادری معلم دار العلوم کراچی، نے تالیف کیا ہے (یہ کتاب عربی زبان میں اردو ترجمہ کے ساتھ چھپ چکی ہے)

اسی طرح وہابیوں کی ردّ میں لکھی گئی کتابوں میں ایک کتاب ”تھَكُّم المقلدین بمن ادّعی تجدید الدین“ تالیف محمد بن عبد الرحمن بن عفالق ہے جس میں وہابیوں کی تمام باتوں کا جواب دیا گیا ہے اور اس میں علوم شرعی اور ادبی سوال کئے گئے ہیں۔ (زینی دحلان کے قول کے مطابق)

اسی طرح کتاب ”البراہین الجلیة“ تالیف سید محمد حسن قزوینی ہے جو وہابیوں کی ردّ میں لکھی گئی ہے۔

وہابیوں کی ردّ میں لکھی جانے والی کتابو ں میں ایک ”کشف النقاب عن عقائدابن عبد الوہاب“ تالیف سید علی نقی(نقّن صاحب) ہندی بھی ہے ۔

اسی طرح کتاب ”ازھاق الباطل فی ردّ الفرقة الوہابیة“ تالیف امام الحرمین محمد بن داود ہمدانی تیرہویں صدی کے علماء میں سے۔(۴۴۱)

اسی طرح ”لمعات الفریدة فی المسائل المفیدة“ نامی کتاب تالیف سید ابراہیم رفاعی ہے۔

”ھذی ہی الوہابیة“ نامی کتاب تالیف شیخ جواد مغنیہ بھی ان کتابوں میں سے ایک بہترین کتاب ہے۔

اسی فھرست میں ”الدولة المکیة بالمادة الغیبیة“ تالیف احمد رضا خانصاحب قادری بھی ہے۔

رسالہ ”الاوراق البغدادیة فی الحوادث النجدیة“ تالیف سید ابراہیم راوی رفاعی ہے۔

انھیں کتابوں میں مشہور ومعروف کتاب ”الغدیر“ تالیف مرحوم علامہ شیخ امینی کی کتاب کا ایک حصہ وہابیوں کی ردّ میں لکھا گیا ہے۔

محمد بن عبد الوہاب کے عقائد کو ردّ کرنے والی کتابوں میں سید احمد زینی دحلان مفتی مكّہ معظمہ کی کتاب ”الفتوحات الاسلامیہ“ بھی ہے جس میں محمد بن عبد الوہاب پر شدید حملہ کیا ہے۔

اس مذکورہ کتاب میں زینی دحلان نے محمد بن سلیمان کردی کی بعض ان باتوں کا بھی ذکر کیا ہے جن کو موصوف نے محمد بن عبد الوہاب کی ردّ میں بیان کیا ہے۔(۴۴۲)

زینی دحلان کے وہابیت کی ردّ میں لکھے گئے چندمستقل کتابیں اب بھی باقی ہیں جن میں سے ”فتنة الوہابیة“ اور ”الدرر السنیة فی الردّ علی الوہابیة“ ہیں۔

ہاں پر یہ بات قابل توجہ ہے کہ آخری سالوں میں جو کتابیں وہابیوں کی ردّمیں لکھی گئی ہیں ان میں سے اکثرترکی،ہندوستان اور پاکستان کے حنفی علماء کی ہیں،اور اس سلسلہ میں آج کل ترکی(استامبول) سے بہت زیادہ کتابیں اور رسالے چھپے ہیں، اور شاید اس کی وجہ یہ رہی ہو کہ وہابیوں کے سب سے زیادہ حملے ابوحنیفہ کے عقائد اور ان کے نظریات پر ہوئے ہیں۔

ایک یاد دہانی

مختلف علماء کی طرف سے محمد بن عبد الوہاب کی ردّ یا اس کو نصیحت کے طور پر لکھی جانے والی کتابیں ان سے کہیں زیادہ ہیں جن کو ہم نے بیان کیا ہے، ان تمام کا ذکر کرنا مشکل تھا، ان کتابوں کا ذکر محمد بن عبد الوہاب کی ردّ میں لکھی گئی مذکورہ بالا کتابوں میں موجودہے منجملہ: ان کے کتاب ”التوسل الی النبی“ تالیف ابی حامد بن مرزوق میں ۴۲ایسی کتابو ںکا ذکر کیا ہے جو وہابیت کی ردّ میں لکھی گئی ہیں، ہم یہاں پر ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

۱۔ مقالہ شیخ محمد ابن سلیمان كُردی، جو محمد بن عبد الوہاب کے استاد، رسالہ شیخ سلیمان بن عبد الوہاب برادر محمد بن عبد الوہاب (ظاہراً رسالہ سے مراد ”الصواعق الالٰھیہ“ ہے)

۲۔ کتاب ”تجرید سیف الجھاد لمدعی الاجتھاد“ تالیف عبد اللہ ابن عبد اللطیف شافعی ،(یہ بھی محمد بن عبد الوہاب کے استاد ہیں)

۳۔ ”الصواعق والرعود“ تالیف عفیف الدین عبد اللہ بن داود حنبلی، اس کتاب پر بصرہ، بغداد، حلب، احساء اور دیگر ملکوں کے مشہور ومعروف علماء نے تقریظ لکھی ہے اور اس کتاب کی تائید کی ہے۔

۴۔ رسالہ احمد ابن علی بصری شافعی۔

۵۔ رسالہ عبد الوہاب بن احمد برکات شافعی مكّی۔

۶۔ رسالہ ”الصّارم الہندی فی عنق النجدی“ تالیف شیخ عطای مکی۔

۷۔ رسالہ ”السیوف الصقال فی اعناق من انکر علی الاولیاء بعد الانتقال“ بیت المقدس کے ایک عالم دین کی تالیف۔

۸۔ ”تحریض الاغنیاء علی الاستغاثة بالانبیاء والاولیاء“ تالیف عبد اللہ ابن ابراہیم مقیم طائف۔

۹۔ ”الانتصار للاولیاء الابرار“ تالیف طاہر حنفی، اہل طائف، (بقول سید علوی ابن احمد حداد)

۱۰۔ سید علوی بن احمد حدّاد کہتے ہیں کہ حرمین شریفین کے عظیم علماء، نیز بغداد، بصرہ، احساء، حلب، یمن اور دیگر اسلامی شھروں کے علماء نے وہابیت کی ردّ میں نظم اور نثر دونوں میں بہت سی کتابیں لکھیں، ان سب کو میں نے بحرین کے قبیلہ آل عبد الرزّاق کے ایک حنبلی شخص کے پاس دیکھا اور چونکہ میں سفر میں تھا اس وجہ سے ان کو لکھنا ممکن نہیں تھا لیکن میں نے ان سب کا مطالعہ کیا۔

۱۱۔ کتاب ”سعادة الدارین“ تالیف شیخ ابراہیم سمنودی۔

۱۲۔ ”غوث العباد ببیان الرشاد“ تالیف شیخ مصطفی حمامی مصری۔

۱۳۔ ”النُّقول الشرعیہ فی الردّ علی الوہابیہ“تالیف شیخ حسن شطّی حنبلی دمشقی ۔

۱۴۔ رسالہ ”توسل بالانبیاء والاولیاء“تالیف شیخ محمد حسنین مخلوف۔

۱۵۔ ”المقالات الوافیة فی الردّ علی الوہابیة“ تالیف حسن خزبک۔

۱۶۔ ”الاقوال المرضیة فی الرد علی الوہابیہ“ تالیف شیخ عَطا الكَسَم دمشقی۔(۴۴۳)

بعض مذکورہ کتابوں سے کچھ اقتباسات

وہابیوں کی ردّ میں لکھی جانے والی کتابوں سے ہم نے پہلے کچھ چیزیں بیان کی ہیں یہاں پرکچھ دیگر کتابوں سے بعض اقتباسات نقل کرتے ہیں:

دار العلوم کراچی کے مدرس عامر قادری صاحب کہتے ہیں :

ہم نے وہابیوں کا یہ عقیدہ سنا کہ غیر خدا کو پکارنا شرک ہے، ہم یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم اور دیگر اولیاء کرام کو پکارنا جائز ہے، اب رہا دلیل کا مسئلہ تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے استغاثہ کرنے کی دلیل عبد الرحمن بن سعد کی وہ روایت ہے کہ جب عبد اللہ ابن عمر کا پیر”بے حِس“ہوگیا تو ان سے کسی نے کہا کہ جس کو تم سب سے زیادہ دوست رکھتے ہو اس کو پکارو! تو انھوں نے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پکارا، (اور ان کا پیر صحیح وسالم ہوگیا) اور ایک روایت کے مطابق ابن عباس کا پیر بے حس ہوا، اور جب انھوں نے پکارا ”یامحمداہ“ (تو ان کا پیر صحیح وسالم ہوگیا) اب رہا ولی اللہ کو پکارنے کا مسئلہ تو ولی اللہ نبی کے تابع ہیں۔ (یعنی جس دلیل کے ذریعہ پیغمبر اور نبی سے استغاثہ کرنا صحیح ہے اسی طرح اس کے ولی سے استغاثہ کرنا صحیح اور جائز ہے)(۴۴۴)

پیغمبر اور اولیاء اللہ سے توسل کرنا مستحکم دلیلوں کے ذریعہ ثابت ہے، کیونکہ خداوندعالم نے فرمایا ہے:( وَابْتَغُوْا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ ) (۴۴۵) (خدا تک پہونچنے کے لئے وسیلہ تلاش کرو)۔

وہابی کہتے ہیں کہ کسی کو بھی حق شفاعت حاصل نھیں،چاہے پیغمبر ہو یا ولی، اور اگر کوئی ان کے لئے شفاعت کا قائل ہو تو وہ مشرک اور ابوجھل کی طرح ہے۔

ہم کہتے ہیں کہ شفاعت کے بارے میں قرآن مجید کی یہ آیت دلالت کرتی ہے کہ خداوندعالم ارشاد فرماتا ہے:

( وَلاٰ تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهُ اِلاّٰ لِمَنْ اَذِنَ لَهُ ) (۴۴۶) ۔

”اس کے یہاں کسی کی سفارش کام آنے والی نہیں ہے مگر وہ جس کو خود اجازت دیدے“۔

نیز ارشاد رب العزت ہے( مَاْ مِنْ شَفِیْعٍ اِلاّٰ مِنْ بَعْدِ اِذْنِه. ) (۴۴۷)

”کوئی اس کی اجازت کے بغیر شفاعت کرنے والا نہیں ہے“۔

قرآن کریم کی دلیلوں کے بعد احادیث نبوی کے ذریعہ شفاعت پر دلیل موجود ہے، مثلاً جناب عفان کی وہ روایت جس میں تین گروہ شفاعت کرنے والے ہیں: پہلے انبیاء ان کے بعد علماء اور ان کے بعد شہداء، (جامع الصغیر ج(۲)ص ۲۰۷)

اسی طرح یہ حدیث شریف: کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

شَفَاعَتِیْ لِاهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ اُمَّتی “(مشکوٰة ص ۴۹۴)

میں اپنی امت کے گناہ گاروں کی شفاعت کروں گا۔

نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:

وَشَفَاعَتِی لِاهْلِ الذُّنُوْبِ مِنْ اُمَّتی “(جامع الصغیر ج۲ ص۳۳)

میں اپنی امت کے اہل ذنوب (گناہگاروں) کی شفاعت کرونگا۔

لہٰذا ثابت یہ ہوا کہ انبیاء کرام اور اولیاء اللہ قیامت کے دن گناہگاروں کی شفاعت کریں گے، اور جو لوگ وہابیوں کی طرح شفاعت کے منکر ہوں گے ان کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شفاعت نصیب نہیں ہوگی، کیونکہ ”فتح الباری“ میں یہ حدیث موجود ہے کہ ”مَنْ كَذَّبَ بِالشَّفَاعَةِ فَلاٰ نَصِیْبَ لَهُ فِیْها “ (جو شخص شفاعت کا انکار کرے اس کو شفاعت نصیب نہیں ہوگی۔(۴۴۸)

اسی طرح خواجہ محمد حسن خان صاحب ہندی حنفی اپنی کتاب ”رسالہ الاصول الاربعة فی تردید الوہابیة“ میں جو فارسی زبان میں ہے ہندوستان میں وہابیت کے طرفدار لوگوں کی کتابوں اور رسالوں اور دوسرے لوگوں کی کتابوں سے نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں:

” وہابیوں کے عقائد کی فھرست تقریباً(۲۵۰)تک پہنچی ہے اور ان میں سے موصوف نے بعض کو بیان کیا ہے،(۴۴۹) ان میں سے کچھ یہ ہیں کہ یہ فرقہ توحید کو اپنے سے مخصوص کرتا ہے اور دوسرے تمام فرقوں کو مشرک فی التوحید جانتا ہے، اور ان کا عقیدہ یہ ہے کہ خداوندعالم کو جھت اور مکان سے پاک ومنزّہ جاننا ایک بدعت اورگمراہی ہے، اسی طرح ان کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ تمام انبیاء احکام کی تبلیغ میں معصوم نہیں ہیں، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعظیم صرف اپنے بڑے بھائی کی تعظیم کے برابر ہونی چاہئے، اور یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قبر میں حیات نہیں رکھتے، اسی طرح انبیاء اور اولیاء اللہ کچھ بھی قدرت نہیں رکھتے، اور وہ سنتے بھی نہیں ہیں۔ ان کا عقیدہ یہ بھی ہے کہ فقہ کی رائج کتابیں پڑھنے سے انسان کافر ہوجاتا ہے لہٰذا ان کتابوں کا جلانا ضروری ہے،(مشکلات کے وقت پیغمبروں، شھیدوں اور فرشتوں کو پکارنا شرک ہے، لہٰذا اس زمانہ کے تمام لوگ کافر ہیں) آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روضہ مقدس کے سامنے بطور تعظیم کھڑا ہونا شرک ہے۔(۴۵۰)

اس کے بعد موصوف وہابیوں کے عقائد کی ردّ کرتے ہیں، اور قبور کی زیارت کے سلسلہ میں امام محمد بن ادریس شافعی کا قول نقل کرتے ہیں کہ حضرت امام موسیٰ ابن جعفرںکی قبر دعا کے قبول ہونے میں مجرّب ہے، اور ذھبی کی کتاب” تذکرة الحفاظ“ سے نقل کرتے ہیں کہ اہل سنت کے بزرگ حضرات جب خراسان میں حضرت امام رضاںکی قبرپر زیارت کے لئے جاتے ہیں تو کس قدر خضوع، خشوع اور تضرع کرتے ہیں، حافظ ابن حجر عسقلانی اپنی کتاب ”تہذیب التہذیب“ (جلد(۷)ص۳۸۸) میں اس طرح لکھتے ہیں:

”قَالَ (اِیِ الْحَاكِم) وَسَمِعْتُ اَبَابَكْرٍ مُحَمَّدِ بِنْ المُومِّل یِقُوْلُ خَرَجْنَا مَعَ اِمَاِم الْحَدِیْثِ اَبِی بَكْرِ بْنِ خُزِیْمَة وَعَدِیْلِهِ اَبِی عَلِیٍّ الثَّقَفِی مَعْ جَمَاعَةٍ مِنْ مَشَایِخنَا وَهم اِذْ ذَاكَ مُتَوَافِرُوْنَ اِلٰی قَبْرِ عَلِیِّ ابْن مُوسٰی الرِّضَا ں بِطُوْس، قَالَ فَرَایْتُ مِنْ تَعْظِیْمِهِ یِعْنی اِبْنَ خُزِیْمَةِ لِتِلْكَ الْبُقْعَةِ وَتَوَاضِعِه لَها وَتَضَرّعِهِ عِنْدَها مَاتَحَیَّرنَا“

(حاکم نیشاپوری) کہتے ہیں کہ میں نے محمد بن مومّل کو یہ کہتے سنا ہے : میں علم حدیث کے ماہر ابوبکر بن خزیمہ اور ابو علی ثقفی (ان کا علم بھی انھیں کی طرح ہے) اور ان کے بہت سے استاد کے ساتھ تھا جو حضرت امام رضا ں کی طوس میں زیارت کے لئے جارہے تھے اس وقت میں نے ابن خزیمہ کو اس قدر تعظیم، تواضع اور تضرع کرتے دیکھا کہ مجھے تعجب ہونے لگا۔

مشہور ومعروف محدث ابو حاتم بن حبان حضرت امام علی الرضا ں کے زندگی نامہ میں اس طرح لکھتے ہیں :

” مَا حَلَّتْ بی شِدَّةٌ فی وَقْتِ مَقَامی بِطُوْسْ وَزُرْتُ قَبْرَ عَلِیِّ ابْنِ مُوْسٰی الرِّضَا(ع) صَلَٰواتُ اللّٰهِ عَلٰی جَدِّهِ وَعَلَیْهِ وَدَعُوْتُ اللّٰهَ تَعٰالیٰ اِزَالَتَها عَنِّی اِلاّٰ اَسْتُجِیْبَ لِی وَزَالَتْ عَنِّی تِلْكَ الشِّدَّةُ وَهَذَا شَئْيٌ جَرَّبتُهُ مِرَاراً

”جس وقت میں طوس میں تھا کبھی کوئی ایسا واقعہ پیش نہ آیا کہ میں پریشان رہا، کیونکہ میں حضرت امام علی ابن موسی الرضا+ کی قبر کی زیارت کرتا تھا اور خدا سے رفع مشکل کے لئے دعا کرتا تھا تو میری دعا قبول ہوجاتی تھی اور میری مشکل بھی دور ہوجاتی تھی اور میں نے اس چیز کا بار بار تجربہ کیا ہے“۔

مذکورہ کتاب کے مولف نے قبروں کی زیارت کے سلسلہ میں اور بھی دوسری چیزیں نقل کی ہیں مثلاً ابوحنیفہ اور معروف کرخی کی قبروں کی زیارت کے بارے میں بیان کیا ہے۔(۴۵۱)

اسی طرح عراق کے مشہور ومعروف مولف اور شاعر جمیل صدقی زھاوی بھی ہیں، چنانچہ موصوف کہتے ہیں :

” محمد بن عبد الوہاب اپنے ان عقائد کو پیش کرنے سے پہلے ان لوگوں کے بارے میں جنھوں نے نبوت کا دعویٰ کیا مطالعہ کا بے حد شوقین تھامثل مسیلمہ کذاب، سجاح، اسود عنسی اور طُلیحہ اسدی وغیرہ جیسا کہ بعض مشہور ومعروف مولفین نے اس بات کو لکھا ہے کہ، ظاہراً وہ پیغمبری کا دعویٰ کرنا چاہتا تھالیکن اتنی جرات نہ کرسکا۔ اس کا طریقہ یہ تھا کہ اپنے شھر کے لوگوں کو انصار اورجو دوسرے شھروں سے اس کے پاس آتے تھے ان کو مھاجر ین کہتا تھا، اور جو شخص اس کے عقائد کو قبول کرلیتا تھا اگر اس نے اپنا واجب حج کرلیا ہے تو اس کو دوبارہ حج کرنے کا حکم دیتا تھا، کیونکہ اس نے پہلا حج اس صورت میں انجام دیا تھا جب وہ مشرک تھا، اور اسی طرح جو شخص اس کے مذہب میں وارد ہوتا تھا اس کے لئے یہ شھادت دےنا ضروری تھا کہ میں پہلے کافر تھا اور اس کے ماں باپ بھی کافر مرے اور گذشتہ علماء بھی کافر تھے، اور اگر وہ ان باتوں کی شھادت نہیں دیتا تھا تو اس کو قتل کردیا جاتا تھا۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امت میں اپنے سے چھ سو سال پہلے والے تما م لوگوں کو کافر سمجھتا تھا، چاہے کوئی کتنا بھی بڑا متقی اور پرہیزگار ہی کیوں نہ ہو، لیکن اگر اس کی پیروی نہیں کرتا تھا تو اس کو کافر اور مشرک شمار کیا جاتا تھا اور اس کی جان ومال سب حلال تھا، اور اگر کوئی اس کی پیروی کا دم بھرلیتا تھا تو چاہے کتنا بھی فاسق وفاجر ہو اس کو مومن حساب کیا جاتا تھا۔

اسی طرح محمد بن عبد الوہاب کوشش کرتا تھا کہ کسی طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظمت کو کم رنگ کرے، اس کے بعض اصحاب نے یہ بات نقل کی ہے کہ وہ کہتا تھاکہ میرا یہ عصا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بھتر ہے کیونکہ پیغمبر اس وقت دنیا میں نہیں ہیں اور کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہونچاسکتے (نعوذ باللہ) جبکہ یہ بات مذاہب اربعہ کے نزدیک کفر ہے۔

وہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر شب جمعہ اور گلدستہ اذان پر صلوات بھیجنے کو منع کرتا تھا اور اگر کوئی آنحضرت پر صلوات بھیجتا تھا تو اس کو سخت سے سخت سزا دی جاتی تھی، اور اس کی دلیل یہ تھی کہ یہ سب کچھ توحید کے منافی اور مخالف ہے۔

اسی نظریہ کے تحت اس نے ان کتابوں کو جلا ڈالا جن میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر صلوات کے جائز ہونے پر دلیل دی گئی تھی، مثلاً ”دلائل الخیرات“ تالیف محمد بن سلیمان جزولی۔

اسی طرح فقہ وتفسیر اور احادیث کی ان کتابوں کو بھی جلا ڈالا جو اس کے عقیدہ کے خلاف تھیں، اور اپنے اصحاب کو اپنی سمجھ کے مطابق قرآن کی تفسیر کرنے کی اجازت دیدیتا تھا۔(۴۵۲) (جبکہ تفسیر بالرائے سبھی فرقوں کے نزدیک ناقابل قبول ہے)

اس کے بعد زھاوی نے وہابیوں کے عقائد کی ردّ میں ان کے عقل وقیاس اور اجماع (جس کو ابوحنیفہ اور دوسرے لوگوں نے تسلیم کیا ہے) سے انکار، کسی مجتہد کی تقلید کرنے والوں دوسرے مسلمانوں کو کافر کہنے اور پیغمبروں اور اولیاء اللہ سے توسل کی مخالفت اور ان کے دوسرے عقیدوں کا تفصیل کے ساتھ مدلل جواب دیا ہے۔

سید احمد زینی دحلان مفتی مکہ معظمہ نے اپنی کتاب ”الدرر السنیہ“ میں محمد بن عبد الوہاب کے عقائد کو ردّ کرتے ہوئے اس سے ہوئی بحث وگفتگو کو ذکر کیا ہے، مثلاً:

شیخ محمد بن عبد الوہاب مسجد درعیہ میں خطبہ دیتا ہے اور ہر خطبہ میں کہتا ہے کہ پیغمبر اکرم سے توسل کرنا کفر ہے۔

خود محمد بن عبد الوہاب کے بھائی شیخ سلیمان نے بھی اس کے نظریات کی شدت سے مخالفت کی ہے، ایک دن شیخ سلیمان نے محمد بن عبد الوہاب سے اسلام کے ارکان کے بارے میں سوال کیا، اور جب اس نے جواب دیا کہ پانچ ہیں تو شیخ سلیمان نے کہا تو پھر تو نے ارکان اسلام کو چھ کیوں قرار دیا؟! چھٹا رکن تو نے یہ کہاہے کہ اگر کوئی تیری پیروی نہ کرے تو وہ کافر ہے۔ (۱)

ایک روز کسی شخص نے اس(محمد بن عبد الوہاب) سے سوال کیا:ماہ رمضان المبارک کی ہر رات میں کتنے لوگ آتش جہنم سے آزاد ہوتے ہیں؟ تو اس نے کہا : ایک لاکھ انسان، اور ماہ رمضان کی آخری تاریخ میں اتنی تعداد میں آزاد ہوتے ہیں جتنے پورے مھینہ میں آزاد ہوئے ہیں، یہ سنکر اس شخص نے کہا کہ تیری پیروی کرنے والے تو ان کے یک صدم(۴۵۳) بھی نہیں ہیں، پھر یہ جہنم کی آگ سے آزادہونے والے کون لوگ ہیں ؟ تو تو صرف اپنے پیروکاروں کو مسلمان سمجھتا ہے؟۔

ایک قبیلہ کے سردار نے جو شیخ محمد بن عبد الوہاب کو پریشان کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا، اس سے سوال کیا کہ کوئی تیرا قابل اعتماد شخص جس کو تو سچّا مانتا ہے ،اگر وہ تجھے خبر دے کہ فلاں پھاڑ کے پیچھے تیری جان کے دشمن چھپے ہوئے ہیں اور وہ تجھ کو قتل کرنا چاہتے ہیں، اورتو ایک ہزار لوگوں کو ان سے لڑنے کے لئے بھیجے، لیکن وہ واپس آکر یہ کہیں کہ وہاں تو کوئی بھی نہیں ہے، تو تو کس کی بات کو صحیح مانے گا اس ایک شخص کی خبر کو، یا ان ہزار لوگوں کی خبر کو؟!

اس وقت محمد بن عبد الوہاب نے کہا میں ان ہزار لوگوں کی بات کو مانوں گا، اس وقت اس شخص نے کہا کہ تمام کے تمام علمائے نجد چاہے وہ زندہ ہوں یا مردہ، سبھی نے اپنی اپنی کتابوں میں تیری باتوں کی تکذیب اور ردّ کی ہے، لہٰذا تجھے ان کی باتوں کو ماننا چاہئے، اس بات کو سن کر محمد بن عبد الوہاب لاجواب ہوگیا اور کچھ جواب نہ بنا۔

ایک شخص نے اس سے سوال کیا کہ جس دین کی تم دعوت دیتے ہو، یہ متصل ہے یا منفصل؟اس وقت محمد بن عبد الوہاب نے جواب دیا کہ میرے استاد اور دوسرے تمام استاد آج سے چھ سو سال پہلے سے مشرک تھے، اس وقت اس شخص نے جواب میں کہا تو گویا تیرا یہ دین منفصل (جدا) ہوا، نہ کہ متصل، تم نے یہ دین کس سے حاصل کیا؟(۴۵۴)

زینی دحلان اپنی کتاب میں ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں کہ اس (محمد بن عبد الوہاب) کے برے کاموں میں سے ایک یہ تھا کہ اس نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کی زیارت کو ممنوع قرار دیا لیکن اس کے باوجود ”احساء“ کے لوگ قبر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت کے لئے گئے اور جب شیخ محمد بن عبد الوہاب کو اس بات کی خبر پہونچی تو چونکہ ان لوگوں کا واپسی کا راستہ شھر ”درعییہ“ (جہاں پر محمد بن عبد الوہاب رہتا تھا) سے ہی تھا اس نے حکم دیا کہ ان زائرین کی داڑھی مونڈ دی جائے (چنانچہ ان سب کی داڑھی مونڈ دی گئی) اور ان لوگوں کوان کی سواری پر الٹا بٹھا کر درعیہ سے احساء تک پہنچایا گیا۔

محمد بن عبد الوہاب نے سنا کہ ایک گروہ جو اس کی پیروی نہیں کرتا، بہت دور دراز علاقہ سے زیارت اورحج کے لئے روانہ ہواہے، اور اس کا راستہ درعیہ شھر سے ہی ہے،جب وہ گروہ درعیہ شھر کے قریب پہنچا تو انھوں نے سنا کہ شیخ محمد بن عبد الوہاب اپنے ایک مرید سے کہہ رہاتھاہے کہ مشرکین (زائرین قبر رسول) کو مدینہ جانے دو، اور مسلمانوں (وہابیوں) کو ہمارے ہی پاس رہنے دو۔

وہ (محمد بن عبد الوہاب) پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر صلوات بھیجنے سے منع کرتا تھا، اور اگر کوئی شخص آنحضرت پر صلوات بھیجتا تھا اور اس کی آواز اس کے کانوں میں پہونچ جاتی تھی تو بہت ناراض ہوتا تھا، اور اس کو بہت سخت سزا دیتا تھا، یہاں تک کہ ایک نابیناشخص جو بہت ہی دیندار موذن تھا اور اس کی آواز بھی بہت اچھی تھی اس نے اس کی باتوں کو نہیں مانا اور پیغمبر اکرم پر صلوات بھیجی تو اس کو قتل کردیا گیا۔(۴۵۵)

شیخ سلیمان (برادر محمد بن عبد الوہاب) کی چند باتیں

جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیاکہ محمد بن عبد الوہاب کے بھائی اور اس کے باپ اس کی بہت زیادہ مخالفت اوراس سے مقابلہ کیا کرتے تھے، اسی وجہ سے شیخ سلیمان کو درعیہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنا پڑی کیونکہ جب ان کے اختلافات زیادہ بڑھے تو شیخ سلیمان کو اپنی جان کا خطرہ پیداہوگیا تھا،چنانچہ وہاں سے مدینہ منورہ چلے گئے، اور مدینہ جاکر شیخ سلیمان نے ”الصواعق الالہٰیہ“ لکھی اور شیخ محمد بن عبد الوہاب کے پاس بھیجی، شیخ سلیمان کی بعض باتیں ہم نے گذشتہ مطالب میں بیان کیں ہیںیہاں پرموصوف کی چند دیگر باتیں ذکر کرتے ہیں:

۱۔ ہر مذہب کے علماء نے ان اقوال اور افعال کو بیان کیا ہے جن کے ذریعہ ایک مسلمان مرتدّ ہوجاتا ہے، لیکن کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ جس نے غیر خدا کے لئے نذر کی یا غیر خدا سے حاجت طلب کی وہ مرتد ہوجائے گا، اسی طرح کسی نے بھی ایسے شخص کے مرتد ہونے کا حکم نہیں لگایا جس نے غیر خدا کے لئے قربانی کی ہو، یا کسی کی قبر کو مس کیا یا قبر کی مٹّی کو (بعنوان تبرک) اٹھایاہو، اور جس طرح تم کہتے ہو اگر ایساہی ہے تو دلیل لاؤ اور بیان کرو، کیونکہ علم کو چھپانا جائز نہیں ہے، لیکن تم نے اپنے گمان کی بناپر عمل کیا ہے اور مسلمانوں کے اجماع سے خارج ہوگئے ہو، اور تم نے اپنے اس قول سے کہ جو شخص بھی مذکورہ اعمال بجالائے وہ کافر ہے اور اگر کوئی ان اعمال کو بجالانے والے کو کافر نہ جانے وہ بھی کافر ہے، تو اس طرح تو تم نے تمام امت محمدی کو کافر قرار دیدیا، جبکہ تمام خاص وعام جانتے ہیں کہ یہ اعمال (نذر، قربانی اور زیارت وغیرہ) سات سو سال سے تمام اسلامی ممالک میں رائج ہیں چاہے اہل علم ان کاموں کو انجام نہ دیتے ہوں لیکن اس طرح کے اعمال بجالانے والوں کو کافر نہیں کہتے، اور ان پر مرتد کے احکام جاری نہیں کرتے، بلکہ ان پر مسلمانوں کے احکام جاری کرتے ہیں۔

تمھارے قول کے مطابق تمام اسلامی شھر بلاد کفر اور مرتدین کا شھر ہے، یہاں تک کہ تم نے حرمین شریفین کو بھی بلاد کفر کا نام دیدیاہے۔ جبکہ صحیح احادیث کے مطابق جس میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے واضح طور پر ارشاد فرمایا کہ یہ دو (مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ) شھر ہمیشہ اسلامی شھر ہیں، اور ان شھروں میں بتوں کی پوجا نہیں ہوگی، اور آخر الزمان میں جب دجّال تمام شھروں پر قبضہ کرلے گا وہ بھی ان دونوں شھروں میں داخل نہیں ہوسکتا، لیکن تمھاری نظر میں تمام شھر دار الحرب (جن سے جنگ کرنا جائزھے) ہیں، اوران کے رہنے والے کافر ہیں اور تم سب کو بت پرست جانتے ہو اورتمام امت اسلامی کو مشرک اوردین اسلام سے خارج سمجھتے ہو، ”( فَاِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَیْهِ رَاجِعُوْنَ ) ۔ “(۴۵۶)

۲۔ ہر وہ خاص وعام جو کہ احادیث اور روایات سے تھوڑی بہت آشنائی رکھتا ہے اس کے لئے یہ بات واضح ہے کہ وہ کام جن کی وجہ سے تم اسلامی ممالک کو بلاد کفر اور ان کے رہنے والوں کو کافر سمجھتے ہو،اگر یہ اعمال اسی طرح ہیں جس طرح تم کہتے ہو، تو پھر یہ بہت بڑی بت پرستی ہوئی،اور ان شھروں کے رہنے والے کافر ہوگئے، اور تمھارا عقیدہ ہے جو شخص ان کو کافر نہ سمجھے وہ بھی کافر ہے، (تو پھر اس طریقہ سے کوئی مسلمان ہی نہیں بچا) جبکہ یہ بات معلوم ہے کہ علماء اور امراء نے کسی کو بھی کافر نہیں کہا اور ان پر مرتد کے احکام جاری نہیں کئے۔

جبکہ مذکورہ اعمال اکثر اسلامی ممالک میں بطور آشکار ہوتے ہیں اور ایک کثیر تعداد نے اس راستہ کو اختیار کیا ہے اور تمام شھروں سے ان مقدس مقامات کاسفر کرتے ہیں، ان سب کے باوجود کوئی ایک عالم دین یا اہل شمشیرنے تمھاری طرح اپنی زبان نہیں کھولی، تمام علماء نے ان لوگوں پر اسلام کے احکام جاری کئے ہیں۔

لہٰذا اگر ان اعمال کے مرتکب تمھارے گمان کے مطابق کافر اوربت پرست ہوں اور علماء اور حکام نے ان پر اسلام کے احکامات جاری کئے ہوں، تو اس بات کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ علماء کافر ہوئے، کیونکہ جو شخص اہل شرک اور کافر لوگوں کو کافر نہ جانے وہ خود کافر ہے، اور اس صورت میں وہ امت محمدی میں شمار نہیں ہوگا اور یہ بات حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مخالف ہے۔(۴۵۷)

۳۔ شیخ سلیمان کی پوری کتاب میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ شیخ محمد جو عام مسلمانوں کو (اپنے مریدوں کے علاوہ) کافر قرار دیتا ہے اس کو ردّ کریں چنانچہ اس سلسلہ میں (۵۲)حدیثیں اس مضمون کی بیان کی ہیں جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ مسلمان ہونے کا معیار زبان پر کلمہ شھادتین جاری کرنا اور ضروریات دین کو بجالانا ہے، اور اسی طرح ا ن حدیثوں میں مسلمانوں کو کافرکہنے سے روکا اور ڈرایاگیا ہے اور اس سلسلہ میں صحاح ستہ اور دیگر مشہور کتابوں سے احادیث نقل کی ہیں۔(۴۵۸)

وہابی مذہب اور حنبلی مذہب

یہ بات ظاہر ہے اور اس میں کسی قسم کا شک نہیں ہے کہ وہابی مذہب، حنبلی مذہب سے بنا ہے اور وہابی رہبر عام طور پر ان لوگوں میں سے تھے کہ جنھوں نے قبروں کی زیارت اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور دیگر اولیاء اللہ سے توسل اوراستغاثہ کو ممنوع قرار دیا مثلاً ابو محمد بربہاری، ابن بطّہ، ابن تیمیہ، اور اس کا مشہور ومعروف شاگر ابن قیم جوزی، محمد بن عبد الوہاب(۴۵۹) یہ سب کے سب حنبلی علماء میں شمار ہوتے تھے، اسی وجہ سے وہابی اپنے کو اہل سنت والجماعت اور حنبلی مذہب میں شمار کرتے ہیں، لیکن ڈاکٹر عبد الرحمن زکی کے نظریہ کے مطابق وہابی حضرات حنبلیوں سے دوطریقہ سے فرق رکھتے ہیں پہلا یہ کہ اہل سنت کے چاروں اماموں (امام مالک، ابوحنیفہ، شافعی اور احمد ابن حنبل) کے علاوہ کسی دوسرے کی تقلید کو ممنوع قرار دیتے ہیں اور دوسرے یہ کہ دیگر مذہب منجملہ شیعہ حضرات کے مذہب کو قبول نہیں کرتے۔

دوسری بات یہ کہ وہابی (جیسا کہ ہم نے پہلے بھی ذکر کیا ہے) بعض فرعی مسائل میں ہر اس رائے پر یقین کرتے ہیں اور اس پر عمل بھی کرتے ہیں جس میں قرآن وغیر منسوخ سنت سے دلیل موجود ہو اور اس کے مقابلہ میں اس سے مضبوط کوئی مخصص اور معارض بھی نہ ہو اور (احمد ابن حنبل کے علاوہ) کسی ایک امام سے صادر ہو، تو اس مسئلہ میں احمد ابن حنبل کو چھوڑ دیتے ہیں۔

ڈاکٹر عبد الرحمن زکی مذکورہ بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہابی مذہب بھی دوسرے مذہبی، سیاسی، اجتماعی طریقوں سے متاثرہوا ہے ۔ متاثرہونے سے ان کی مراد مذہب میں اختلاف اور اس کی تعلیم کوسمجھنا اور اس کے نظریات کو جاری کرنا ہے۔

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ عبد العزیز آل سعود بادشاہ جو وہابیوں کا امام بھی تھا، ۱۹۳۴ ھ میں جب اس کی جنگ یمن کے امام یحيٰ (زیدی مذہب) سے ہوئی، اور جنگ کے بعد دونوں نے آپس میں اخوت اور بھائی چارگی کا عہد نامہ کیا اور اس عہد نامہ کو قبول بھی کیا کہ یحيٰ بادشاہ یمن کا شرعی حاکم ہے، یہ اعتراف کرنا گویا زیدی مذہب کا اعتراف کرنا ہے۔

قارئین کرام !آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ مذکورہ اعتراف وہابیوں کی اس بات کے برخلاف ہے کیونکہ یہ لوگ مذاہب اربعہ کے علاوہ کسی کو نہیں مانتے ۔(۴۶۰)

البتہ وہابیوں میں گذشتہ دو فرق کے علاوہ اور بھی دوسرے فرق پائے جاتے ہیں، منجملہ یہ کہ احمد بن حنبل اور اس کے پیروکاربھی بعض ان چیزوں کی مخالفت کرتے ہیں جن کی وہابی مخالفت کرتے ہیں، لیکن کبھی کبھی حنبلیوںنے مثلاً بر بھاری کے زمانہ میں بہت زیادہ شدت عمل اختیار کی، لیکندوسرے اسلامی فرقوں کے کفر کا فتویٰ نہیں دیا، اور اسلامی شھروں کو بلاد کفر سے تعبیر نہیں کیا، اور کسی ایسے شخص کو کافر اور مشرک نہیں کہا جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر یا دیگر اولیا ء اللہ کی قبروں کی زیارت کے لئے جائے۔ اسی طرح انھوں نے نماز جماعت کے ترک کرنے والوں کے قتل کا حکم صادر نہیں کیا۔

حُسن اتفاق یہ ہے کہ زمانہ کے ساتھ ساتھ ان کے یہ خطرناک نظریات(جس کے نتائج میں سے ایک یہ ہے کہ مسلمان ایک دوسرے سے جدا ہوگئے اور دوسرے اسلامی ممالک کو دار الکفر شمار کرنے لگے) کم بیان ہوتے ہیں، اور اس وقت سعودی عرب کے اخباروں میں دنیا بھر کے مسلمانوں کو چاہے وہ عرب ہوں یا عجم، سفید ہوں یا کالے، سب کو مسلمان بھائی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔(۴۶۱) اور ان آخری چند سالوں میں حجاج بیت اللہ الحرام کے ساتھ جو برتاو کیا جاتا ہے وہ ہماری بات کی تائید ہے ،(کہ ایک دوسرے کو مسلمان بھائی کہہ کر خطاب کیا جاتا ہے۔)

محمد بن عبد الوہاب کی اولاد

محمد بن عبد الوہاب کے چار بیٹے تھے جن کے نام عبد اللہ، حسن، حسین اور علی تھے، جنھوں نے اس کے مرنے کے بعد اپنے باپ کے عقائد اور نظریات کو پھیلانے کے لئے قیام کیا، اور ان کو ”اولاد شیخ“ کہا جاتا تھا ان میں سب سے بڑا بیٹا عبد اللہ تھا اس کے بھی دو بیٹے باقی بچے، سلیمان اور عبد الرحمن، سلیمان کا کٹّر پن اپنے باپ سے بھی زیادہ تھا، آخر کار۱۲۳۳ھ میں جیسا کہ بعد میں تفصیل بیان ہوگی ابراہیم پاشا کے ھاتھوں قتل کردیا گیا اور اس کے بھائی عبد الرحمن کو مصر سے شھر بدر کردیا گیا جو ایک مدت کے بعد انتقال کر گیا۔

حسین بن محمد بن عبد الوہاب سے عبد الرحمن باقی بچا وہ وہابیوں کی شروع کی حکومت میں ایک مدت تک مکہ کا قاضی رہا ۔ اس نے تقریباً سو سال کی عمر پائی ۔ شیخ کی اکثر نسل اسی حسین کے ذریعہ باقی ہے، جو اس وقت (یعنی زینی دحلان کے زمانہ میں تقریباً سو سال پہلے) درعیہ شھر میں مقیم ہیں جن کو اولاد شیخ کہا جاتا ہے۔(۴۶۲)

____________________

۲۷۲. رسالہ ہدیہ طیبہ ص ۸۲، ورسالہ عقیدة الفرقة الناجیہ ص ۱۹۔

۲۷۳. اس کی یہ بات ظاہراً ابن تیمیہ کی بات سے ماخوذ ہے کہ ابن تیمیہ نے بھی اسی بات کو کتاب العبودیہ ص ۱۵۵ میں کہا ہے۔

۲۷۴. ثلاث رسائل ص ۶، شیخ عبد الرحمن آل شیخ نے کہا ہے کہ اگر کوئی خدا کی محبت میں کسی دوسرے کو خدا کا شریک قرار دے، (یعنی کسی دوسرے سے بھی محبت کرے) تو گویا اس نے دوسرے کو خدا کی عبادت میں شریک قرار دیا ہے اور اس کو خدا کی طرح مانا ہے، اور یہ وہ شرک ہے جس کو خدا معاف نہیں کرے گا، اگر کوئی شخص صرف خدا کو چاہتا ہے یاکسی دوسرے کو خدا کے لئے چاہتا ہے تو ایسا شخص موحد ہے، لیکن اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو خدا کے ساتھ دوست رکھتا ہے تو ایسا شخص مشرک ہے، (فتح المجید ص ۱۱۴)

۲۷۵. آلوسی ص ۴۵۔

۲۷۶. اس سلسلہ میں مرحوم علامہ حاج سید محسن امین فرماتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مطلق طور پرغیر خدا سے طلب حاجت کرنا یا ان کو پکارنا، ان کی عبادت نہیں ہے اور اس میں کوئی ممانعت بھی نہیں ہے، اس بناپر اگر کوئی شخص کسی دوسرے کو پکارتا ہے تاکہ اس کے پاس جائے یا اس کی مدد کرے یا کوئی چیز اس کو دے یا اس کی کوئی ضرورت پوری کرے، اس طرح کے کام غیر خدا کی عبادت حساب نہیں ہوتے، اور کسی طرح کا کوئی گناہ بھی نہیں ہے، اور آیہ شریفہ<فَلاٰ تَدْعُوامَعَ اللّٰه اَحَداً > (جو وہابیوں کی دلیل ہے)کامقصد مطلق دعا نہیں ہے بلکہ جس چیز سے نھی کی گئی ہے وہ یہ ہے جس سے کوئی چیز طلب کررہے ہو یا جس کو پکار رہے ہو اس کو خدا کی طرح قادر اور مختار نہ مانو، (کشف الارتیاب ص ۲۸۲)

۲۷۷.

۲۷۸. کشف الشبھات ص ۴۰۔

۲۷۹. تاریخ نجد ص ۸۰۔

۲۸۰. سورہ آل عمران آیت ۷۵، امان نامہ کی عبارت تاریخ وہابیان میں بیان ہوگی۔

۲۸۱. حافظ وھبہ ص ۳۴۶، شوکانی کی تحریر کے مطابق اہل مکہ بھی وہابیوں کو کافر کہتے تھے، (البدر الطالع ج۲ ص۷)

۲۸۲. تاریخ المملکة العربیة السعودیة جلد اول ص ۴۳۔

۲۸۳. جزیرة العرب فی القرن العشرین ص ۳۳۹، نجدی مورخ شیخ عثمان بن بشر اکثر مقامات پر وہابیوں کو مسلمانوں سے تعبیر کرتا ہے گویا فقط وھی لوگ مسلمان ہیں اور دوسرے مسلمان کافر یا مشرک ہیں، (عنوان المجد نامی کتاب میں رجوع فرمائیں) اسی طرح وہ کہتا ہے کہ ۱۲۶۷ھ میں قطر کے لوگوں کی فیصل بن ترکی کے ھاتھوں پر بیعت اسلام اور جماعت میں داخل ہونے کی بیعت تھی، (ج۲ ص ۱۳۲)

۲۸۴. فتح المجید ص ۱۱۰۔

۲۸۵. جزیرة العرب فی القرن العشرین ص ۳۳۹،”ابن وردی“ کہتا ہے کہ جس وقت مصر کے بادشاہ نے مغلوں کی کثرت سپاہ کو دیکھا تو اپنی زبان سے یہ جملہ کہا ”یا خالد بن ولید“، اس وقت ابن تیمیہ صاحب بھی تشریف رکھتے تھے انھوں نے اس کام سے روکا اورکھا کہ یہ نہ کہہ، بلکہ ”یامالک یوم الدین“ کہہ۔ (جلد ۲ص ۴۱۱)

۲۸۶. جزیر ة العرب ص ۳۴۱۔

۲۸۷. تاریخ المملکة العربیہ، جلد اول ص ۵۱۔

۲۸۸. البد ر الطالع ج ۲ ص ۵،۶۔

۲۸۹. کتاب التوحید ص ۱۲۱۔

۲۹۰. کتاب التوحید ص ۴۲۵، غیر خدا کی قسم کے بارے میں ابن تیمیہ کے عقائد کے ذیل میں وضاحت کی گئی ہے۔

۲۹۱. فتح المجید ص ۴۳۶۔

۲۹۲. فتح المجید ص ۴۶۴، یہ حدیث مسند احمد، مسند ابوھریرہ جلد دوم ص ۲۴۳ میں اس طرح ہے: ”اِذَا دَعَا اَحَدُكُمْ فَلاٰیَقُلْ:اللهم اِغْفِرْ لِی اِنْ شِئْتَ وَلٰكِنْ لِیَعْزَمْ بِالْمَسْئَالَةِ فَاِنَّهُ لاٰ مُكْرِه لَهُ

۲۹۳. فتح المجید ص ۴۶۶۔

۲۹۴. فتح المجید ص ۴۷۵۔

۲۹۵. ھٰذی ہی الوہابیہ ص ۷۴،مطبوعہ بیروت۔

۲۹۶. کتاب تطھیر الاعتقاد تالیف شیخ محمد بن عبد الوہاب، ص ۳۶، اور اس کے نو رسائل، ص ۴۵، پر بھی یہ بات بیان کی گئی ہے۔

۲۹۷. بنقل از تطھیر الاعتقاد ص ۳۰، ۴۱۔

۲۹۸. نقل از منشور سلطان عبد العزیز، بتاریخ۱۳۲۳ھ، شیخ محمد بن عبد الوہاب کہتا ہے کہ مسلمان کو چاہئے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شفاعت کو خدا سے طلب کرے، مثلاً اس طرح کھے:”اَللّٰهم لاٰ تَحْرِمْنِی شَفَاعَتَهُ، اَللّٰهم شَّفِعهُ لِی “۔ (کشف الشبھات ص ۴۴)

۲۹۹. نوعدد رسائل عملیہ سے منقول ص ۱۱۰،۱۱۴۔

۳۰۰. نقل از فتح المجید ص ۴۱۴۔

۳۰۱. کتاب التوحید ص ۱۴۱،۱۴۲۔

۳۰۲. فتح المجید، شرح کتاب توحید محمد بن عبد الوہاب ص ۱۰۶۔

۳۰۳. جزیرة العرب فی القرن العشرین ص ۳۴۱۔

۳۰۴. اصحاب کے گذشتہ عمل سے مراد ابوبکر کی عرب کے قبیلوں سے جنگ ہے کہ جب بعض لوگ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد زکوٰة دینے سے انکار کردیا تو جناب ابوبکر نے ان کو مرتد کہا، اور ان سے جنگ کی۔

۳۰۵. منجملہ ثلاث رسائل، مخصوصاً کشف الشبھات ص ۵۰اوراس کے بعد تک۔

۳۰۶. مسند احمد ابن حنبل جلد اول ص ۱۹، ۳۵ مسند عمر۔

۳۰۷. الاسلام عقیدة وشریعة ص ۳۰۔

۳۰۸. منقول از امام باقر

۳۰۹. قول ابوحنیفہ۔

۳۱۰. قول ابو الحسن اشعری۔

۳۱۱. قول ابن تیمیہ۔

۳۱۲. قول اوزاعی۔

۳۱۳. قول ابن عینیہ۔

۳۱۴. قول ابو الحسن رویانی۔

۳۱۵. قول سفیان ثوری۔

۳۱۶. ”مَنْ مَاتَ وَهو یَعْلَمُ اَنْ لاٰ اِلَهَ اِلاّٰ اللّٰه، دَخَلَ الْجَنَّةَ “ نقل از مختار صحیح مسلم وشرح نووی طبع مصر، ناشر سعادت۔

۳۱۷. کتاب الاسلام بین السنة والشیعہ جلد اول ص ۳۳ تا ۳۶ کا خلاصہ، بنقل از مختار صحیح مسلم اور شرح نووی ص۸۴، ۸۸، ۴۷، ۵۱، کی روایات۔

۳۱۸. الصواعق الا لٰھیہ ص ۵۵، تا ۶۳۔

۳۱۹. سورہ فجر آیت ۲۳۔

۳۲۰. سورہ ق، آیت ۱۵، اس سلسلہ میں ابن تیمیہ کی کتابوں اور رسالوں خصوصاً رسالہ العقیدة الحمویہ کی طرف رجوع فرمائیں۔

۳۲۱. تاریخ نجد ص ۹۰،۹۱۔

۳۲۲. تاریخ نجد ص ۴۸، معلوم نہیں خداوندعالم کو کس طرح بغیر کیفیت اور احاطہ کے دیکھا جاسکتا ہے؟

۳۲۳. سورہ مائدہ آیت ۶۴۔

۳۲۴. سورہ ہود آیت ۳۷۔

۳۲۵. سورہ بقرہ آیت ۱۰۹۔

۳۲۶. کتاب التوحید فتح المجید کے ساتھ ص ۵۲۰،۵۲۱۔

۳۲۷. سورہ شوریٰ آیت ۱۱۔

۳۲۸. فرقہ جہم یہ، جُهم بن صفوان (دوسری صدی کے نصف اول)کے پیروکار ہیں، جو جبر، ایمان اور صفات خدا کے بارے میں مخصوص عقائد رکھتے ہیں

۳۲۹. الفتاوی الکبریٰ، ج ۲ص ۲۹۶، ۲۹۸ ۔

۳۳۰. سورہ نساء آیت ۱۶۳،ثلاث رسائل ص ۲۲، مختصر سیرة الرسول ص ۶، عقیدة الفرقة الناجیہ ص ۳۳، البتہ وہابیوں کے علاوہ بعض دوسرے فرقے بھی اس طرح کا عقیدہ رکھتے ہیں۔

۳۳۱. ثلاث رسائل ص ۸۔

۳۳۲. جزیرة العرب فی القرن العشرین ص ۳۳۹،۳۴۰۔

۳۳۳. فتح المجد ص ۱۷۳۔

۳۳۴. ”اُمُّ القریٰ“ اخبار، مطبوعہ مکہ، بتاریخ ۱۱ ذی الحجہ۱۳۶۲ھ، شیخ محمد بن عبد الوہاب کہتا ہے کہ اصحاب پیغمبر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں آپ کے وسیلہ سے دعا طلب کرتے تھے لیکن آپ کی وفات کے بعد بالکل کسی نے یہ کام نہیں کیا، مثلاً کسی نے بھی آپ کی قبر کے پاس دعا نہیں کی، یہاں تک کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کے پاس خدا کو پکارنے سے بھی انکار کیا ہے۔ (کشف الشبھات ص ۵۹)

۳۳۵. فتح المجید ص ۱۷۵۔

۳۳۶. سورہ زمر آیت ۳۔

۳۳۷. کشف الشبھات ص ۴۷،۴۸۔

۳۳۸. الفتوحات الاسلامیہ ج۲ ص ۲۵۸۔

۳۳۹. کشف الارتیاب ص ۳۰۰۔

۳۴۰. صحیح بخاری ج۸ ص ۸۲،۸۳۔

۳۴۱. فتح المجید، ص ۲۱۵۔

۳۴۲. زمان جاہلیت کے عرب کے دوبتوں کا نام۔

۳۴۳. کشف الشبھات ص ۳۴۔

۳۴۴. کشف الارتیاب ص ۳۴۳۔

۳۴۵. سورہ آل عمران آیت ۳۴۔

۳۴۶. سورہ یوسف آیت ۲۵۔

۳۴۷. کشف الارتیاب ص ۳۴۴۔

۳۴۸. الفتاوی الکبریٰ، ج ۲ص ۲۹۶، ۲۹۸ ۔

۳۴۹. شرح جامع صغیر ج ۲ ص ۵۷،۵۸۔

۳۵۰. بتاریخ ۱۱ذی الحجہ ۱۳۶۲ھ، اسی طرح ابن تیمیہ اور محمد بن عبد الوہاب کی کتابوں میں متعدد مقامات پر سید المرسلین اور سیدة نساء العالمین استعمال ہوا ہے۔

۳۵۱. فتح المجید ص ۲۵۷۔

۳۵۲. جزیرة العرب فی القرن العشرین، ص ۳۴۰، ہم انشاء اللہ وہابیوں کی تاریخ کے ضمن میں یہ بات بیان کریں گے کہ تقریباً ڈیڑھ صدی پہلے چونکہ وہ لوگ مکہ اورمدینہ پر قابض تھے اسی وقت انھوں نے بعض قبروں کی کی عمارتیں مسمار کردیں۔

۳۵۳. فتح المجید ص ۲۲۷۔

۳۵۴. کتاب التوحید ص ۲۴۶،فتح المجید کے ساتھ۔

۳۵۵. کشف الارتیاب ص ۶۶۔

۳۵۶. کشف الارتیاب ص ۴۲۴۔

۳۵۷. ہدیہ طیبہ، ص ۸۳۔

۳۵۸. مسائل الجاہلیہ ص ۵۰۔

۳۵۹. فتح المجید شرح کتاب توحید محمد بن عبد الوہاب، ص ۱۴۵، ۱۶۳، ۱۶۴۔

۳۶۰. بخاری صاحب نے اپنی صحیح (ج۲ص ۱۲۲)میں یوں تحریر کیا کہ ولید بن عبد الملک کے زمانہ میں جب روضہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دیواریں گر گئیں تو اس نے اس کو دوبارہ بنوایا۔

۳۶۱. الفتاوی الکبریٰج۴ ص۴۴۹۔

۳۶۲. کشف الارتیاب، ص ۳۵۸، بقیع میں موجود قبریں جو قدیم الایام سے موجود تھیں، اور مسمار ہونے پہلےائمہ علیهم السلام کی قبروںکی وضعیت ”وہابیوں کی تاریخ“ کے تحت بیان ہوگی، انشاء اللہ۔

۳۶۳. مروج الذھب، ج۲ ص ۲۸۵، ۲۸۷،۳۳۲ھ کی تالیف۔

۳۶۴. رحلہ ابن جبیر ص ۱۵۴، ۲۲۸،۲۲۹۔

۳۶۵. وفاء الوفاء ج ۳ ص ۹۱۲، ام حبیبہ بنت ابوسفیان، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیوی تھیں، اور صخر ابوسفیان کا نام ہے۔

۳۶۶. سنن ابن ماجہ جلد اول ص ۴۹۸۔

۳۶۷. سنن ابن ماجہ جلد اول ص ۴۹۸۔

۳۶۸. استیعاب ،ابن عبد البر، جلد اول ص ۲۶۔

۳۶۹. صاحب فتح المجید (محمد بن عبد الوہاب کی کتاب توحید کی شرح میں ) اس طرح کہتا ہے: ”لَوْذُبِحَ لِغَیْرِ اللّٰہِ مُتَقَرِّباًاِلَیْہِ یَحْرُمُ“ (اگر کسی غیر خدا کے لئے قربانی کیا جائے اور اس قربانی سے اس غیر خدا کا تقرب مقصود ہو تو وہ قربانی حرام ہوجائے گی)اور اس کتاب کے حاشیے میں کہتا ہے کہ یہ شرک بھی شرک اکبر ہے، جبکہ یہ بات معلوم ہے کہ وہ قربانی جو مسلمان قبور کے نزدیک کرتے ہیں اس سے ان کا قصد صرف خوشنودی خدا ہوتی ہے، صاحب قبر کا تقرب مقصود نہیں ہوتا۔

۳۷۰.کشف الارتیاب ص ۳۴۶، ۴۲۴۔

۳۷۱. ائمہعلیهم السلام کی قبروں کی زیارت شیعوں کے نزدیک کیا ہے، ابن تیمیہ کے عقائد کے عنوان کے تحت بیان ہوچکی ہے۔

۳۷۲. رحلہ ابن جبیر ص ۱۸۰۔

۳۷۳. ابن خلکان کہتے ہیںامام احمد ابن حنبل کی قبر مشہور ہے اور زائرین ان کی زیارت کے لئے جاتے ہیں۔ (جلد اول ص ۴۸)

۳۷۴. وفیات الاعیان ج۵ ص ۴۶، ۴۷۔

۳۷۵. استیعاب جلد اول ص ۴۰۴، عجیب بات تو یہ ہے کہ علمائے اہل سنت نے قبور کے لئے کرامات بھی ذکر کی ہیں، جیسا کہ ذھبی نے۷۲۵ھ کے واقعات میں بیان کیا ہے کہ قبر احمد ابن حنبل کو سیلاب نے چاروں طرف سے گھیر لیا لیکن جس حجرے میں ضریح تھی اس کے اندر داخل نہیں ہوا، جبکہ پانی حجرے کے دورازے سے ایک ھاتھ اونچا تھا۔ (دول الاسلام ج ۴ ص ۱۷۸)

۳۷۶. المنتظم ج۷ ص ۲۰۶۔

۳۷۷. رحلہ ابن جبیر ص ۱۵۳، ابن بطوطہ نے بقیع کی قبروں کا ذکرکرتے ہوئے عثمان کی قبر کے گنبد کی بزر گی کی بھی توصیف کی ہے، (جلد اول ص۷۶)

۳۷۸. المنتظم ج۷ ص ۱۸۷۔

۳۷۹. رحلہ ابن بطوطہ جلد اول ص ۱۱۶۔

۳۸۰. خطط ج ۲ ص ۲۸۴۔

۳۸۱. ابن خلکان ج۲ ص ۲۰۹۔

۳۸۲. خطط، ج ۲ ص ۲۸۴۔ لیکن ابوبکر دواداری نے کنز الدّرر ج۶، ص۵۴۹، میں حضرت امام حسینںکا سر دفن ہونے کی تاریخ۵۴۴ھ بیان کی ہے اور اس سلسلہ میں اس طرح لکھتا ہے: حضرت امام حسین (ع) کا سر یزید کے زمانہ میں مختلف شھروں میں گہم ایا گیا، اور پھر عسقلان میں دفن کردیا گیا، اور جب عسقلان پر (صلیبی جنگ میں ) غیروں کا قبضہ ہوا، عباس وزیر ظافر فاطمی اس بات سے آگاہ ہوا، اور جب اس کے لئے یہ ثابت ہوگیا کہ امام حسینںکا سر عسقلان میں دفن ہوا ہے تو اس نے انگریزوں سے خط وکتابت کی کہ امام حسینںکا سر ان کے حوالے کردیں، اور عسقلان شھر ان ہی کے قبضے میں رہے، چنانچہ انھوں نے سر لے لا کر قاہرہ میں دفن کردیا۔

۳۸۳. خطط ج ۲ ص۲۸۵۔

۳۸۴. شفاء السقام ص ۳، ۳۴۔

۳۸۵. وفاء الوفاء ج۲ ص ۱۳۳۶ ۔

۳۸۶. شرح جامع صغیر ص ۲۹۷، باب سوم کتاب شِفاء الِسقام تالیف سُبکی سے اصحاب ا ور دوسرے ان افراد کا ذکر کیا ہے جو لوگ صرف آنحضرت کی زیارت کے لئے مدینہ منورہ مشرف ہوئے اور زیارت کے علاوہ ان کاکوئی دوسرا قصدنہ تھا ان میں سے جناب بلال (رسول خدا کے موذن) جو شام سے مدینہ زیارت رسول کے لئے تشریف لائے، (شفاء السقام ص ۱۴۳)

۳۸۷. عمدة الاخبار شیخ احمد عباسی دسویں صدی کے علماء میں سے ہیں ۔ انھوںنے ص ۲۲، ۲۶، زیارت قبور سے متعلق حدیث کو احمد ابن حنبل سے چند طریقوں سے نقل کیا ہے، (مسند احمد ج۳، ص ۲۳۷اور ۲۵۰،وج۵ ص ۳۵۰، ۳۵۵، ۳۵۶، ۳۵۷، ۳۵۹) وسنن ابی داود، ج۳ ص ۲۱۲، بخاری ج۲ ص ۱۲۲، وجامع الصغیر سیوطی جلد اول ص ۱۶۲۔

۳۸۸. سمہودی ج ۴ ص ۱۳۴۹، وکتاب مجموعة التوحید ص ۵۲۲۔

۳۸۹. سمہودی ج۴ص ۱۳۵۲، موصوف نے اس سلسلہ میں تفصیل سے بیان کیا ہے اور اس بات کو ثابت کرنے کے لئے مختلف طریقوں سے احادیث نقل کی ہیں۔

۳۹۰. تاریخ نجد وحجاز ص ۵۰، سورہ آل عمران آیت ۱۶۹۔

۳۹۱. الفتاوی الکبریٰ ج۲ ص ۲۱۷، توجہ فرمائیں کہ جب معمولی انسان اس طرح ہے تو پھر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات گرامی کی شان کیا ہوگی۔

۳۹۲. ابو عبد اللہ شرف الدین محمد ابن سعید بو صیری، جو ساتویں صدی کے مشہور ومعروف شعراء کرام میں سے تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان مبارک میں ”بُردہ “نامی ایک بہت عظیم الشان قصیدہ کہا جو عربی زبان کے مشہور قصیدوں میں سے ہے جس کا پہلا شعر اس طرح ہے:

۳۹۳. جزیرة العرب فی القرن العشرین ص ۳۴۳، ۳۴۴، عصا کا موضوع اور وہابیوں کی اس سے بھی لمبی لمبی باتیں سننے کے لئے کشف الارتیاب تالیف علامہ امین ص۱۳۹،،کی طرف رجوع فرمائیں۔

۳۹۴. مکہ معظمہ سے نشر ہونے والا”ام القریٰ“ نامی اخبار، شمارہ نمبر ۹۸۹۔

۳۹۵. اہل سنت کی روایت کے مطابق پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مھاجرین اور قریش کے دس افراد کو بہشت کی بشارت دی، جن میں سے چاروں خلیفہ، اورباقی افراد اس طرح ہیں: طلحہ، زبیر، عبد الرحمن بن عوف ،سعد بن ابی وقّاص، ابو عبیدہ جرّاح اور سعید بن زید۔

۳۹۶. بیعت شجرہ جو بیعت رضوان بھی کھی جاتی ہے اس سے مراد یہ ہے کہ ہجرت کے چھٹے سال پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ مکہ معظمہ کی طرف عمرہ کے لئے جارہے تھے اور جس وقت مکہ کے نزدیک ”حُدیبیہ“ پہنچے تو مشرکین مکہ نے اجازت نہیں دی، اس موقع پر آپ کے اصحاب نے جن کی تعداد تقریباً ایک ہزار تھی حضرت کے ھاتھوں پر بیعت کی کہ اگر مشرکین سے جنگ لڑنی پڑی تو اس سے منھ نہیں پھیریں گے اور ڈٹ کر جنگ کریں گے۔

۳۹۷. ھذٰہ ہی الوہابیة ص ۱۰۰۔

۳۹۸. کتاب التوحید محمد بن عبد الوہاب (رسا لہ دہم) ص ۱۳۱۔

۳۹۹. الفتاوی الکبری جلد اول ص ۳۷۰۔

۴۰۰. فتح المجیدص ۹۵۔

۴۰۱. الفتاوی الکبریٰ جلد اول ص ۲۶۲۔

۴۰۲. عقائد الواسطیہ ابن تیمیہ (رسالہ نہم از مجموعة الرسائل جلد اول ص ۴۰۸۔

۴۰۳. رسالہ الوصیة الکبریٰ (رسالہ ہفتم مجموعة الرسائل الکبریٰ جلد اول ص ۳۰۳)۔

۴۰۴. تاریخ نجدص ۴۷۔

۴۰۵. سورہ شوریٰ ۲۳۔

۴۰۶. الاسئلة والاجوبة فی العقیدة الواسطیہ ص ۲۵۷۔ ،

۴۰۷. ظاہراً آیہ مبارکہ:<وُجُوْهٌ یَوْمَئِذٍ نَاضِرَةٌ اِلیٰ رَبِّها نَاظِرَةٌ > (اس دن بعض چھرے شاداب ہوں گے، اپنے پرور دگار کی(نعمتوںکی طرف)دیکھ رہے ہوں گے“۔ (سورہ قیامة آیت ۲۲،۲۳)سے استدلال کرتے ہیں جس کے بارے میں ”ابن تیمیہ کی نظر میں خدا کے دیدار“ کے عنوان سے پہلے بحث ہوچکی ہے۔

۴۰۸. تاریخ نجد ص ۴۸۔

۴۰۹. وہ خط جو ابن سعود نے ذیقعدہ ۱۳۳۲ھ کو فرقہ ”اخوان“ کے لئے لکھا اس خط کی عبارت کتاب ”تاریخ المملکة العربیة السعودیہ“ (ج ۲ ص ۱۵۵) اور جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایاکہ یہ بات آلوسی کی گذشتہ بات سے تھوڑی مختلف ہے ۔

۴۱۰. سب سے پہلے جس فرقہ نے قرآن وحدیث کے ظواہر سے تمسک کرنے کا نعرہ لگایا وہ ہے فرقہ ”ظاہریہ“ ہے۔ یہ لوگ داود ظاہری اصفھانی (تیسری صدی) کے پیروکارہیں، (فقھاء کے طبقات کے بارے میں ، شیخ ابواسحاق شیرازی کی کتاب طبقات الفقھاء کی طرف رجوع فرمائیں)

۴۱۱. الفتاویٰ الکبریٰ ج۵ ص ۱۷، ابن تیمیہ کی نظر میں قرآن مجید کی بعض آیتوں کی تاویل، اور محکم ومتشابہ آیات کے بارے میں اس کے نظریات کو ”رسالة الا کلیل“ میں ملاحظہ فرمائیں۔

۴۱۲. جزیرة العرب فی القرن العشرین ص ۱۴۵۔

۴۱۳. جزیرة العرب فی القرن العشرین ص ۲۳۱۔ اجتھاد اور تقلید، ابن تیمیہ کی نظر میں ، اس سلسلہ میں کتاب ”رفع الملام“ (ص۱۴۱، اور اس کے بعد) رجوع فرمائیں۔

۴۱۴. تاریخ نجد ص ۴۸ ملاحظہ فرمائیں۔

۴۱۵. جزیرة العرب ص ۱۴۸۔

۴۱۶. ھذہ ہی الوہابیة ص ۱۰۳،لیکن وہابیوں کے مخالف کہتے ہیں کہ وہابی حضرات اجتھادِ مطلق کو مانتے ہیں، اور اپنے کو مذاہب اربعہ کی پیروی کے محتاج نہیں مانتے، اور قرآن کریم اور سنت نبوی کو اپنے لئے کافی سمجھتے ہیں۔ وہابیوں کے مخالفوں نے ان باتوں کی ردّ میں دلیلیں بھی قائم کی ہیں، چنانچہ اس سلسلہ میں مستقل کتابیں بھی لکھیں گئی ہیں، جن میں سے بعض کی طرف اس کتاب کی عبارت میں اشارہ کیا گیا ہے۔

۴۱۷. تاریخ نجد ص ۳۵۶۔

۴۱۸. جزیرة العرب فی القرن العشرین ص۱۵۰، اور یہ کتاب تقربیاً چالیس سال پہلے تالیف ہوئی ہے(یعنی اب سے تقریباً ساٹھ سال پہلے) اور اس مدت میں سعودی عرب اور جزیرہ عربستان بہت بدل گیا ہے خصوصا عصر حاضر کا کلچر نافذ ہوگیا ہے۔

۴۱۹. جزیزةالعرب فی القرن العشرین ص ۱۴۵۔

۴۲۱. تاریخ نجد ص ۴۹۔

۴۲۲. تاریخ مکہ ج۲ ص ۵۲، ۷۶، ۱۳۵۔

۴۲۳. ابن بشر جلد اول ص ۱۴۳۔

۴۲۴. خط کی عبارت ”تاریخ نجد“ ص ۱۰۵ میں موجود ہے۔

۴۲۵. کشف الارتیاب ص ۶۶، لیکن آج کل حجاز میں حقہ اور سیگریٹ نوشی عام ہے اور ان چیزوں پر کوئی ممانعت بھی نہیں ہے اور دنیا کے دوسرے علاقوں کی طرح کھلے عام بازراوں میں سیگریٹ بکتی ہیں، (عجیب بات تو یہ ہے کہ تمباکو نوشی کو حرام جانتے ہیں کیونکہ یہ چیز رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں نہیں تھی، لیکن اس کے مقابلہ میں چائے اور قہوہ کو حرام نہیں کہتے جبکہ یہ بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں نہیں تھی، (کشف الارتیاب ص ۱۴۶کی طرف رجوع فرمائیں)

۴۲۶. ملوک العرب ج ۲، ص۷۴، گلدزیھر کہتا ہے کہ وہابیوں کے نزدیک سیگریٹ اورقہوہ (چائے) پیناگناہان کبیرہ میں شمار کیا جاتا ہے، (ص۲۶۷)

۴۲۷. ملوک العرب ج ۲ ص ۷۵۔

۴۲۸. مجلہ قافلہ الزیت، شمارہ ۹ سال ۱۹۵۴ء۔

۴۲۹. ظاہراً ابو ھریرہ کی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس حدیث کے ذریعہ استدلال کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:

۴۳۰. فتنة الوہابیة، تالیف سید احمد زینی دحلان، ہمراہ با کتاب الصواعق شیخ سلیمان ص ۷۷۔

۴۳۱. جزیرة العرب فی القرن العشرین ص ۳۱۵، جبرتی۱۲۲۲ھ کے واقعات کے ضمن میں کہتا ہے کہ وہابی لوگوں نے حج کے اعمال بجالانے کے بعد یہ اعلان کرایا کہ اپنی داڑھی منڈانے والا شخص حرمین شریفین میں داخل نہیں ہوسکتا، اور اعلان کرنے والا اعلان کے ضمن میں اس آیت کو بھی پڑھتا تھا:<یَا اَیُّها الَّذِیْنَ آمَنُوْا اِنَّمَا الْمُشْرِكُوْنَ نَجَسٌ فَلاٰ یَقْرَبُوْا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ بَعْدَ عَامِهم هٰذَا > (ایمان والو! مشرکین صرف نجاست ہیں لہٰذا خبر دار اس سال کے بعد مسجد الحرام میں داخل نہ ہونے پائیں)(تاریخ جبرتی ج۳ ص ۱۹۱) قارئین کرام! آپ حضرات نے ملاحظہ فرمایا کہ داڑھی منڈانے والوں کو مشرک کہا گیا۔ ظاہراً ٹھڈی کا منڈوانا حرام ہے اور دوسرے حصہ کا منڈوانا حرام نہیں ہے۔

۴۳۲. العقیدة والشریعة فی الاسلام ص ۲۶۹، معلوم یہ ہوتا ہے کہ ابن تیمیہ اور وہابیوں کا غزالی اور اس جیسے افراد سے مقابلہ گویاتصوف اور عرفان سے مقابلہ ہے کیونکہ یہ لوگ تصوف اور عرفان کے علماء مانے جاتے تھے۔

۴۳۳. تاریخ نجد ص ۹۸، ۹۹۔

۴۳۴. حاضر العالم الاسلامی جلد اول ص ۲۶۴۔

۴۳۵. تاریخ بغداد ص ۱۵۶۔

۴۳۶. زعماء الاصلاح فی العصر الحدیث ص ۲۵۔

۴۳۷. لفتوحات الاسلامیہ ج۲ص۳۵۷۔

۴۳۸. ائمہ سے اس کی مراد اہل سنت کے چار امام، اور وہ لوگ ہیں جن کی باتوں کو اہل سنت حجت سمجھتے ہیں اور ۸۰۰ سال سے اس کی مراد تیسری صدی کا آخر اور شیخ سلیمان کا زمانہ یعنی بارہویں صدی ہجری ہے۔

۴۳۹. ”الصواعق الالہٰیة فی الرد علی الوہابیة“ ص ۳۸

۴۴۰. ”الصواعق الالہٰیة فی الرد علی الوہابیة“ ص ۳۸۔

۴۴۱. جس کا مولف کے ھاتھ کا لکھا ہوا قلمی نسخہ، کتابخانہ جناب آقای سےد مہدی لاجوردی، قم میں موجود ہے۔

۴۴۲. الفتوحات الاسلامیہ ج ۲ ص ۲۶۰۔

۴۴۳. التوسل بالنبی ص ۲۴۹تا ۲۵۳۔

۴۴۴. مدار ج السنیہ ص ۱۵۔

۴۴۵. سورہمائدہ آیت ۳۵۔

۴۴۷. سورہ یونس آیت ۳

۴۴۸. مدارج السنیہ ص ۶۳۔

۴۴۹. الاصول الاربعہ ص ۶۔

۴۵۰. الاصول الاربعہ ص ۲ سے ۵تک۔

۴۵۱. الاصول الاربعہ ص ۳۵، ۳۶۔

۴۵۲. الفجر الصادق ص ۱۷، ۱۸۔

۴۵۳. اور جب شیخ سلیمان اور محمد بن عبد الوہاب میں کافی اختلافات ہونے لگے تو چونکہ شیخ سلیمان کو اپنی جان کا خطرہ ہوگیا تھا اس وجہ سے انھوں نے مدینہ منورہ جاکر پناہ لے لی، اور اس کے خلاف ایک کتاب لکھی (ظاہراً کتاب الصواعق مراد ہے) اور اس کے لئے بھیجی، اسی طرح بہت سے حنبلی علماء نے اس کے عقائد کی رد میں کتابیں لکھیں اور اس کے پاس بھیجیں، لیکن کوئی بھی کتاب اس کے لئے مفید واقع نہیں ہوئی، (الدرر السنیہ، ص ۴۰)

۴۵۴. الدرر السنیہ، ص ۳۹، ۴۰۔

۴۵۵. الدرر السنیہ، ص ۴۱، ابوحامد بن مرزوق کہتے ہیں کہ ۱۳۴۳ھ میں جب سعودی لوگ مکہ معظمہ میں وارد ہوئے، میں صبح کے وقت قبرستان معلّا کی طرف جارہا تھا،میں نے ایک مكّی شخص کو دیکھا کہ مقام سعی کی طرف جارہا ہے اور کہہ رہا ہے:”اَللّٰهم صَلِّ وَسَلِّمْ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّد“

۴۵۶. الصواعق الالہٰیہ ص ۷۔

۴۵۷. الصواعق، ص ۳۹، ظاہراً حدیث نبوی سے مراد وہ حدیث پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہو جو صحیح مسلم میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے وارد ہوئی ہے، کہ آپ نے فرمایا: ”اِنَّ اللّٰهَ زَوَیٰ لِیَ الارْضَ فَرَاَیْتُ مَشَارِقَها وَمَغَارِبها وَاِنَّ اُمَّتِی لَیَبْلُغ مُلْكَها مَازُوِیَ لِی مِنْها الی آخر۔ “

۴۵۸. الصواعق ص ۵۵ تا ۶۳۔

۴۶۰. المسلمون فی العالم الیوم ج ۳ ص ۶۳، ۶۴۔ جیسا کہ معلوم ہوتا ہے کہ وہابی تقلید کے مسئلہ (جیسا کہ دوسرے اسلامی فرقوں میں رائج ہے) کے مخالف ہیں، اور یہ لوگ خود کو اتنی اجازت دیتے ہیں کہ مسائل میں اجتھاد کریں، اور قرآنی آیات کی بھی اپنی رائے کے مطابق تفسیر کریں۔

۴۶۱. ”البلاد“ نامی اخبار چاپ جدہ، بتاریخ ۱۶ ذی الحجہ۱۳۸۶ھ کے ایک مضمون میں اسی طرح موجود ہے۔

۴۶۲. الدرر السنیہ ص ۵۳۔


پانچواں باب:

قدیم ایرانی کتابوں میں وہابیت کا ذکر

وہابیت کے آغاز سے آج تک، ایرانی لوگوں نے وہابیوں کے عقائد اور ان کی تاریخ کی شناخت کے بارے میں تین وجوہات کی بنا پر توجہ کی ہے:

اول) ۱۲۱۶ھ میں جب وہابیوں نے نجف اور کربلا پر حملہ کیا (جس کی تفصیل وہابیوں کی تاریخ کے عنوان میں پیش کی جائے گی)جس سے صرف خاص حضرات ہی مطلع ہوپائے عوام کو اس کی خبر تک نہ ہوئی، کیونکہ اس زمانہ میں اخبار، ٹیلی فون، ٹیلیگراف یا اس طرح کے ذرائع ابلاغ نہیں تھے اور اس وقت کے لوگ بڑی بے خبری کے عالم میں زندگی گذاررہے تھے۔

دوم) ۱۳۴۴ھ میں قبرستان بقیع کی قبروں کا مسمار کرنا، اور مرقد مطھر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مسمار کر دئے جانے کی بے بنیاد خبر مشہور ہوگئی تھی، چونکہ اس زمانہ میں اخبار وغیرہ موجود تھے جس کی وجہ سے بہت جلد ہی عوام کو اطلاع ہوگئی، اورعوام نے مختلف صورتوں میں اعتراضات اور مظاہرے کئے، (جس کی تفصیل وہابیوں کی تاریخ کے عنوان میں بیان ہوگی)

سوم) ۱۳۶۲ھ میں ابو طالب یزدی کے قتل کاواقعہ، اس واقعہ کی تفصیل بھی بعد میں بیان کی جائے گی۔

لیکن وہابیوں کے عقائد کا سب سے قدیم تذکرہ ایرانی کتابوں (فارسی زبان میں ) مولف کی اطلاع کے مطابق عبد اللطیف شوشتری صاحب کی کتاب تحفة العالم میں ہے، کیونکہ موصوف نے تحفة العالم کو ۱۲۱۶ھ میں (یعنی محمد بن عبد الوہاب کے مرنے کے تقریباً دس سال کے بعد) جس سال وہابیوں نے نجف پر حملہ کیا ہے، لکھی ہے، اور اس کے بعد موصوف نے اس کتاب پر تتمہ ”ذیل التحفہ“ کے نام سے اضافہ کیا ہے، اس تتمہ میں وہابیوں کے بارے میں تفصیل دی گئی ہیں جسے ہم اس کو لفظ بلفظ نقل کرتے ہیں:(۴۶۳)

”مجھے عبد العزیز خان(۴۶۴) کے کٹّرپن کی اطلاع ملی تو اس وقت میں بمبئی میں تھا کہ اس نے ۱۸ذی الحجہ کو عرب لشکر کے ساتھ کربلائے معلیٰ پر حملہ کردیا، (ہم وہابیوں کی تاریخ میں اس بات کو تفصیل سے بیان کریں گے کہ خود عبد العزیز نے کربلا پر حملہ نہیں کیا تھا بلکہ اس نے اپنے بیٹے سعود کو حملہ کے لئے بھیجا تھا) اور تقریباً چار پانچ ہزار شیعہ مومنین کو قتل کردیا، اور وہاں پر ایسے ایسے کارنامے انجام دئے جن کو لکھنے سے قلم کو شرم آتی ہے، شھر کو بالکل غارت کردیا اور مال ودولت کو غنیمت کے طور پر لوٹ لیا، اور اپنی ریاست شھر ”درعیہ“ واپس لوٹ گئے، جب بات یہاں تک پہونچ گئی تو کیا وہابیوں کے بارے میں قلم اٹھایا جانا اور وہابیوں کے بارے میں لکھا جانا مناسب نہیں ہے تاکہ قارئین کرام ان کے مذہب اور ان کے عقائد سے مکمل طور پر آگاہ ہوجائیں:

اپنے وطن میں کچھ عربی علوم حاصل کرنے اور ایک حد تک حنفی فقہ (حنبلی فقہ صحیح ہے) حاصل کرنے کے بعد اصفھان آیا اور وہاں فلسفہ اور حکمت کے نامور علماء سے ”یونانکدہ“ میں حکمت کی تعلیم حاصل کی، اور بعض مسائل میں جہاں عوام الناس کے قدم بھر حال لڑکھڑا جاتے ہیں کچھ بصیرت حاصل کرلی۱۱۷۱ھ (۱۱۵۳ھ صحیح ہے) میں اپنے وطن واپس چلا گیایا اس تاریخ سے ایک دوسال پہلے یا بعد میں کیونکہ اس کی واپسی کی صحیح تاریخ معلوم نہیں ہے،وہاں پہنچنے کے بعد اپنی ہی طرف دعوت دینی شروع کردی، اس کا طریقہ حنفی (حنبلی صحیح ہے) تھا اصول میں امام اعظم ابوحنیفہ کا مقلد تھا (صحیح احمد بن حنبل ہے) اور فروع میں خود اپنی رائے پر عمل کرتا تھا۔

آخر کار بعض اصول میں بھی امام اعظم کی تقلید کرنا چھوڑ دی اور جو کچھ اس کی نظر میں صحیح نظر آتا وھی کرتا اور کہتا تھا اسی بناپر عوام کو عمل کرنے کی دعوت دیتا تھا، اور اس وقت کے تمام اسلامی فرقوں اور یہود ونصاریٰ کو مشرک، کافر اور بت پرست کہتا تھا، اس کی دلیل یہ تھی کہ چونکہ مسلمان قبر پیغمبر اکرمکی تعظیم کرتے ہیں اور آنحضرت کی طرح دیگر ائمہ ہدیٰ کی قبروں کی تعظیم وتکریم کرتے ہیں، ان کے روضوں پر (جو کہ پتھر اورمٹی سے بنے ہیں) جاکر ان سے دنیاوی اور اخروی حاجتیں طلب کرتے ہیں،صاحب قبر سے توسل کرتے ہیں ان کی قبروں کے سامنے سجدے کرتے ہیں، ان کے روضوں میں جاکر اپنا سر نیاز خم کرتے ہیں، یہ لوگ در حقیقت بتوں کی پوجا اور بت پرستی کرتے ہیں، گرچہ وہ اس کام کو بت پرستی نہیں کہتے بلکہ ان حضرات کو اپنا قبلہ کہتے ہیں جو خدا اوران کے درمیان ایک واسطہ اور وسیلہ ہیں جس طرح یہود ونصاریٰ بھی اپنے معابد اور کلیسا میں جناب موسیٰںاور جناب عیسیٰ ں کی تصویریں لگاتے ہیں اور ان کی پوجا کرتے ہیں اور ان کو اپنا شفیع قرار دیتے ہیں، لیکن خدا پرستی (مسلمان ہونا) یہ ہے کہ فقط ذات واجب (خداوندعالم) کو سجدہ کیا جائے اور صرف اسی کی عبادت کی جائے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک قرار نہ دیا جائے۔

خلاصہ یہ کہ بعض قبیلوں کے جاہل افراد نے اس کی اطاعت کی اور نجد میں یہ شخص مشہور ہوگیا، اور اس کا ہمیشہ یہ نعرہ ہوتا تھا کہ رسول کے روضہ کو، اسی طرح ائمہ کرام کے روضوں کو مسمار کردیا جائے، اور جب بھی موقع مل جائے ان سب کو گراکر زمین کے برابر کردیا جائے یہاں تک کہ ان کے نام ونشاں بھی باقی نہ رہیں، لیکن اجل نے اس کو فرصت نہ دی اور وہ اس دنیا سے چل بسا۔

اس کا وصی عبد العزیز(۴۶۵) یا اس کا بیٹا مسعود (سعود صحیح ہے)جو اس وقت (تحفة العالم کی تالیف کے وقت) خلیفہ اور اس کا جانشین ہوا، اور اس کو امیر المسلمین کہا جانے لگا، اس نے صرف نجد کے علاقہ پر اکتفاء نہیں کی بلکہ دور دراز کے علاقوں میں اپنی اس دعوت کو پیش کیا اور اس کو پھیلانے کی بھر پور کوشش کی، اور اپنی اتباع کرنے والوں کو حکم د ے دیا کہ دوسرے تمام فرقوں کی جان ومال حلال ہے اور جہاںجہاں سے بھی ان کا گذر ہو وہاں کے لوگوں کو قتل کرکے ان کے مال ودولت کو غنیمت سمجھ کر لوٹ لو، لیکن ان کی عورتوں کو ھاتھ نہ لگاؤ بلکہ ان کی طرف آنکھ اٹھاکر بھی نہ دیکھو، اور جنگ کے وقت اپنے مجاہدوں کے لئے ایک رقعہ خازن جنت کے نام لکھ کر مجاہدوں کی گردن میں ڈال دیا جاتا تھا ،کہ اس کی روح نکلتے ہی فوراً اس کو جنت میں بھیج دیا جائے اور مرنے کے بعد وھی اس کے اہل خانہ کا کفیل ہوتا تھا ،چنانچہ مجاہدین پروانہ جنت کو دیکھ کر بہشت کے لالچ میں میدان جنگ میں ڈٹ کر مقابلہ کیا کرتے تھے کیونکہ اگر ان کو فتح حاصل ہوگی تو مال غنیمت ھاتھ آئے گا اوراگر قتل ہوجائیں گے تو اس رقعہ کے ذریعہ فوراً داخل بہشت ہوجائیں گے۔

اس سے قبل نجد،ا لحسا، قطیف اور بصرہ کے چار فرسخ تک عُمان کے نزدیک اور بنی عُتبہ تک غلبہ اس نے حاصل کیا اور لوگوں کا قتل عام کیا ،پھرکیاتھا لوگوں نے (مجبوراً) اس کے عقیدہ کو مان لیا، یہاں تک کہ اس کی شان وشوکت اور شھرت دنیا بھر میں پھیل گئی، اس کی فتح کو سلطان روم (عثمانی بادشاہ) اور بادشاہ عجم (فتح علی شاہ) کے گوش زدکیا گیا لیکن کسی نے توجہ نہ کی اور اس کے فتنہ وفساد کو ختم کرنے کی کوشش نہ کی۔(۴۶۶) اس کے فتووں کے ایک رسالے کو ہم نے اس کے ایک مرید کے پاس دیکھا ہے“ پھر صاحب تحفة العالم نے مذکورہ عربی رسالے کی عبارت کو تحریر کیا ہے۔(۴۶۷)

قارئین کرام کی معلومات کے لئے عرض ہے کہ سید عبد اللطیف شوشتری صاحب کتاب تحفة العالم مدتوں تک ہندوستان میں رہے اور محمد بن عبد الوہاب بانی وہابیت کے ہم عصر تھے۔

وہابیت کے موضوع پر گفتگو کرنے والوں میں مرحوم میرزا ابو القاسم قمی معروف بہ میرزائے قمی (متولد۱۱۵۰ھ متوفی۱۲۳۱ھ) ایران کے عظیم الشان عالم ہیں آپ بھی محمد بن عبد الوہاب کے ہم عصر تھے اور جس وقت وہابیوں نے کربلا پر حملہ کیا اس وقت آپ بڑھاپے کی منزلیں طے کر رہےتھے ۔

مرحوم میرزائے قمی نے ایک خط کے ضمن میں لکھا ہے (جو آج بھی باقی ہے) جس میں وہابیوں کے بارے میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:

یہ لوگ اہل سنت اورحنبلی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں میں نے (وہابیت ) کے بارے میں اس وقت سنا جب کہ میری عمر(۲۲) سال کی تھی،اور میں نجف اشرف میں تھا مجھے یہ خبر دی گئی کہ عیینہ شھر کے نزدیک شھر درعیہ میں ایک شخص جس کا نام محمد بن عبد الوہاب ہے اور اس نے عراق عرب کا (اور عراق عجم کا بھی) سفر کیا اور وہاں پر موجود عتبات عالیہ میں شیعوں کو دیکھا اور ان کو وہاں روضوں میں ضریحوں کو بوسہ لیتے ہوئے ان کی تعظیم وتکریم کرتے ہوئے ہیں اور وہاں نماز بھی پڑھتے ہوئے دیکھا، اس (محمد بن عبد الوہاب) نے ان کو مشرک کہااورکھاکہ شیعہ لوگ اپنے اماموں کی پرستش کرتے ہیں ان کے سامنے رکوع اور سجدے کرتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، اس نے اس ڈر سے کہ کہیں اس پر اہل بیت علیهم السلامکی عداوت کی تہم ت نہ لگ جائے اور یہ کہ اس کی باتیں شیعوں سے مخصوص نہیں ہیں بلکہ اس نے ایک قاعدہ کلی قرار دیتے ہوئے کہا

”کسی شخص کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ کسی غیر خدا کو خدا کا شریک قرار دے، عبادت ہو یا استعانت طلب حاجت ہو یا قربانی کرنا، جو شخص بھی غیر خدا سے حاجت طلب کرے یا غیر خدا کے لئے قربانی کرے وغیرہ تو ایسا شخص مشرک ہے، سعود پدر عبد العزیز (سعود پسر عبد العزیز صحیح ہے) اس کا ناصر ومدد گار بن گیا اور عبد العزیز کے بعد سعود کی باری آئی اس نے بر سر حکومت آتے ہی اعلان کردیا کہ جس کا مذہب بھی ہمارے مذہب کے علاوہ ہوگا اس کا قتل واجب ہے، چنانچہ اس نے ہزاروں شیعہ علماء اور عوام الناس کو حضرت امام حسین ں (روحی فداہ) کے جوار میں قتل کر ڈالا، اس وقت میری عمر تقریباً اسّی سال کو پہونچ رہی ہے۔ الخ۔(۴۶۸) اس آخری جملے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مرحوم میرزای قمی نے یہ خط اپنی عمر کے آخری حصے میں لکھا ہے۔

میرزا عبد الرزاق دُنبُلی (۱۱۶۷- ۔ ۱۱۴۲ھ) بھی ان حضرات میں سے ہیں جن کی پیدائش بھی اسی وقت کی ہے کہ جب فرقہ وہابیت وجود میں آیا، اورجس وقت وہابیوں نے کربلائے معلی اور نجف اشرف پر حملہ کیا تو ان کی کافی عمر گذر چکی تھی موصوف نے اپنی کتاب ”مآثر سلطانیہ میں ص(۸۲)پر)۱۲۱۶ھ کے واقعات کے ضمن میں وہابیوں کے بارے میں تفصیلی بحث کی ہے اور کربلا ئے معلی پر ان کے حملے کا بھی ذکر کیا ہے، ہم یہاں پر ان کی باتوں کا خلاصہ پیش کرتے ہیں:

عبد العزیز کے مختصر حالات زندگی

عبد العزیز اپنے قبیلہ کا سردار تھا اس کے مختصر حالات اس طرح ہیں کہ وہ اپنے قبیلہ کا رئیس تھا اور اس کا استاد عبد الوہاب (محمد بن عبد الوہاب صحیح ہے) اسی قبیلہ سے تھا جس نے شیخ محمد بصری(مراد شیخ محمد مجموعی ہے جس کے بارے میں ہم نے پہلے بیان کیا ہے) سے تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد مزیدتعلیم حاصل کرنے کی غرض سے اصفھان گیا وہاں رہ کر اس نے فقہ واصول، نحو وصرف میں چند سال اپنی عمر گذاری اور اپنے خیال خام میں یہ سوچ لیا کہ میں تمام مذاہب کے عقائد سے آگاہ ہوگیا ہوں۔

اس کا اعتقاد یہ تھا کہ واجب تعالیٰ (خدا وندعالم کی ذات گرامی) ایک ہے، ان نے انبیاءعلیهم السلام کو بھیجا کتابیں نازل کیں، اور ان میں کوئی شک نہیں ہے، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد صرف قرآن مجید کافی ہے اور ہر زمانہ میں مذہب وملت کی مشکلات کو دور کرنے کے لئے مجتہدین موجود تھے، مثلاً حضرت ابو بکر، عمر اور عثمان اور ان کے بعد امیر المومنین حیدر کرار ں، اور جب شافعی، ابوحنیفہ اور حضرت امام صادق ںجیسی شخصیات مجتہد ہوں تو یہ حضرات کتاب خدا سے مسائل کو استنباط کرتے ہیں تاکہ عوام الناس ان پر عمل کرسکے۔

اسی طرح اس کا عقیدہ یہ بھی تھا کہ قبور پر گنبد بنانا اور ان کے لئے ہدیہ لانا اور نذر کرنا اوران کی ضریحوں کو سونے چاندی سے زینت کرنا اور اسی طرح ان کی زیارت کرنا ان کو بوسہ دینا، یا ان کی تربت سے سجدہ گاہ بنانا اور ان پر نماز پڑھنا، یہ سب شریعت اسلام میں بدعت اور شرک ہے اور ان کاموں کا کرنے والا شخص کفار کی طرح ہے، اور ایسے لوگ اس گروہ کی طرح ہیں جن کو خداوندعالم نے قرآن مجید میں مشرک کہا ہے جو کہ اپنے ہی ھاتھوں سے بت بناتے تھے اور ان کو خدا کی بارگاہ میں وسیلہ مانتے تھے اور ان کی عبادت و پرستش کیا کرتے تھے، اگرچہ وہ لوگ خدا کی وحدانیت کو قبول کرتے تھے، لیکن ان بتوں کواللہ کی بارگاہ میں اپنا شفیع اوروسیلہ قرار دیتے تھے، ان بتوں کو مستقل طور پر خدا تصور نہیں کرتے تھے،اور اسی طرح کے دوسرے مسائل میں اپنا اجتھاد دکھانا شروع کیا، اصفھان سے وہ اپنے قبیلہ میں چلا گیا، اور اپنے شیخ سے اسی طرح کی باتیں کہہ ڈالیں۔

اُدہرعبد العزیز چونکہ اس کے ذہن میں ریاست بسی ہوئی تھی اوریہ طے ہے کہ جس کے ذہن میں ریاست اور برتری سما جائے تو اس کے لئے یہ چیز نئے دین اورنئے مذہب کے ذریعہ جلد سے جلد حاصل ہوسکتی ہے، چنانچہ اس کی باتیں قبول ہونے لگی اور اس نے مذہب اور سنت کو ترک کردیا اور عربوں کو اپنے اس نئے دین کی طرف دعوت دینا شروع کردیا۔(۴۶۹)

اوروہ چونکہ ائمہ علیهم السلامکے روضوں کی زیارت کو بد ترین بدعت شمار کرتا تھا اس وجہ سے اس نے تمام روضوں کو مسمار کرادیا اور چونکہ زائرین کو مشرک اوربت پرست سمجھتا تھااس لئے ان کو قتل کرادیتا تھا، اس نے کئی مرتبہ نجف اشرف پر بھی حملہ کا ارادہ کیا اور خیال کیا کہ نور حق (حضرت علی ں) کو خاموش کردیگا لیکن خدا کی قدرت اور قبیلہ خزاعہ (خزاعل) کے لوگوں کو اطلاع ملنے نیز قلعہ کے سنگین ہونے کی بنا پر وہ ناکام رہ گیا، کیونکہ نادر شاہ افشار کے دورسے اس شہنشاہ ذی وقار (مراد فتح علی شاہ ہے) کے زمانہ تک ایرانیوں کو راحت ملی اور جن لوگوں کو شھر بدر کردیا گیا تھا وہ واپس لوٹ آئے اور انھوں نے بھی شھر کا دفاع کیا۔

تقریباً(۶۰)سال کے عرصے سے سرمایہ دار اور مالدار افراد نے ایران اور ہندوستان سے (فتنہ وفساد کی خاطر) اپنے وطن کو چھوڑ کر ائمہ معصومینعلیهم السلامکے روضوں کو اپنے لئے پناہ گاہ بنالیا تھا، تاکہ ان روضوں کی برکت سے ان کی جان ومال محفوظ رہے، ایسے لوگوں کی اکثریت نجف، کاظمین اور کربلا ئے معلی میں رہنے لگی، اور انھوں نے ان مقامات کو اپنا وطن قرار دید یا جو عبادت اورزہد وتقویٰ کی جگہ تھی اور عالم آخرت پر توجہ کرنے کا مقام تھا نہ کہ مال دنیا جمع کرنے کی جگہ، اور نہ ہی وہ عیش وآرام کی جگہ جس کی فطرت انسان تقاضا کرتی ہے، اس طرح رباخوری کا لالچ اور بری بری بدعتوں کا ایجاد کرنا اور اس طرح کے برے برے اعمال وافعال کا انجام دینا کہ اگر کسی دوسرے اسلامی ملک میں انجام دئے جاتے تو ان پر بہت ملامتیں پڑتیں بلکہ ان کو سزا دی جاتی، آہستہ آہستہ تمام عتبات عالیہ خصوصاً کربلائے معلی میں لاپرواہی اس حد تک پہونچ گئی کہ شریعت کی حرام کردہ چیزیں، حلال اور وہ گناہ جو چوری چپے روا نہ تھے ان کو برملا اور کھلے عام انجام دیا جانے لگا، نہ ہی خدا سے شرم اور نہ ہی حجت اللہ(ائمہ (ع))سے حیا جو مخفی چیزوںاور دلوں کے اسرار سے بھی آگاہ ہیں، کتنی عظیم خطا اور غلطی اور کیاکیا فحشا ومنکر،مال دنیا کو جمع کرنے میں مشغول افراد نے جوار ائمہ (ع)میں نہیں انجام دی ،یہ لوگ سال میں ایک دفعہ بھی روضہ مبارک کی زیارت کے لئے نہیں جاتے تھے۔

عبد العزیز نجف اشرف پر حملہ کرنے سے ناکام رہا اس نے کربلائے معلی میں قتل وغارت کا پروگرام بنالیا، اور چونکہ کربلا میں کوئی قلعہ نہیں تھا چنانچہ اس نے سعود کو بارہ ہزار کا لشکر دیکر کربلا کے لئے روانہ کیا، سعود نے۱۲۱۶ھ میں عید غدیر کی صبح کربلا پر حملہ کردیا، اور تمام پیرو جوان کو تہہ تیغ کردیا کثیر تعداد میں لوگ زخمی بھی ہوئے اور تمام عورتوں کو بہت ستایاالبتہ ان کی آبرو ریزی نہیں کی، حضرت امام حسینںکی ضریح مطھر اور صندوق منور کو توڑ ڈالا، اور وہاں کی ساری قیمتی قندیلوں، اور گرانبھا فرش نیز دیگر تمام اسباب کو غارت کرادیا، روضوںکے آئینوں کو توڑ ڈالا، یہاں تک کہ در ودیوار کو بھی ویران کردیا، زر وجواہرات جوخزانہ خانہ میں موجودتھے سب کو لوٹ لیا، گلی کوچوں سے خون کی ندی بہہ رہی تھی، اور ایک بار پھر وہاں روز عاشور کاسا واقعہ رونما ہوگیا،اس حادثے میں قتل ہونے والوں کی تعداد معتبر ذرایع کے مطابق پانچ ہزار اور کس قدر مال واسباب غارت کیا گیا خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔

قتل وغارت کے سات آٹھ گھنٹے بعد تمام لوٹا ہواسامان اونٹوں پر لادکر درعیہ شھر کی طرف لوٹ گئے۔(۴۷۰)

میرزا ابو طالب خان اصفھانی صاحب بھی اسی زمانہ میں موجود تھے اور کربلاپر حملے کے گیارہ مھینے بعد وہ کربلائے معلی پہونچے انھوں نے اس حادثہ کی روداد ان لوگوں سے سنی ہے جو اس حادثہ کے عینی شاہد تھے، چنانچہ موصوف نے اس واقعہ کی تفصیل اپنے سفر نامہ میں لکھی ہے نیز مختصر طور پر وہابیوں کی تاریخ بھی ذکر کی ہے، موصوف فرماتے ہیں :(۴۷۱)

”اس فرقہ کا بانی عبد الوہاب (محمد بن عبد الوہاب) جو دجلہ (نجد صحیح ہے) کا رہنے والا تھا، ابراہیم نامی شخص کے پاس جو کہ درعیہ کے ایک دیھات میں بنی حرب سے تھا ،منھ بولے بیٹے کی طرح پرورش پائی، اور اپنے دوستوں اور رشتہ داروں میں ذھین اور عقلمندی میں معروف تھا، اور بہت زیادہ سخی تھا اس کے ھاتھ میں جو کچھ بھی آتا تھا اس کو اپنے ساتھیوں کو دیدیتا تھا،اس نے اپنے وطن میں عربی اور فقہ حنفی (حنبلی صحیح ہے) کو پڑھا، اور اس کے بعد اصفھان کا سفر کیا اور وہاں کے مشہور ومعروف حکمت کے اساتید سے کچھ تعلیم حاصل کی، اس کے بعد عراق، خراسان اورغزنین کی سرحد تک سیر کی اور اپنے وطن واپس چلا گیا۔

۱۱۷۱ھ (۱۱۵۳ھ صحیح ہے) سے اس نے اپنے عقائد لوگوں کے سامنے پیش کرنا شروع کیا، شروع شروع وہ اصول میں امام اعظم ابوحنیفہ (احمد ابن حنبل صحیح ہے) کا مقلد تھا اور فروع میں اپنے نظریہ کے مطابق عمل کرتا تھا لیکن بعد میں اس نے اصول میں بھی تقلید کرنا چھوڑ دی اوراپنی من پسند چیز پر عمل کرتا تھا اور اسی کی طرف لوگوں کو دعوت بھی دیتا تھا جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ دوسرے تمام اسلامی فرقوں کو مشرک اور بت پرستوں کے دائرے میں مانتا تھا، بلکہ انھیں وہ عزّیٰ اور هبل کی عبادت کرنے والے کفار سے بھی بدتر کہتا تھا، کیونکہ کفار پر جب مصیبت اور بلا نازل ہوتی ہے تو وہ بے اختیار خالق کی طرف رجو ع کرتے ہیں، اور مسلمان مشکلات کے وقت صرف حضرت محمدمصطفی اور حضرت علیںاور دیگر ائمہ (ع)اور صحابہ کو پکارتے ہیں،اور عام مسلمان جوتعظیم پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ائمہ کی قبر کی زیارت کرتے ہیں اور خدا کی بارگاہ میں ان حضرات سے توسل کو بت پرستی کا نام دیتا ہے اور کہتا ہے:۔

ان کا یہ کام بتوں کی عبادت سے کوئی فرق نہیں کرتا کیونکہ بت پرست بھی مثلاً چین اور ہندوستان میں بتوں کے مجسمہ کو خالق نہیں کہتے بلکہ ان کو اپنا قبلہ مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ خدا کے نزدیک ہمارے شفیع ہیں۔

ھی حال یہود ونصاریٰ کا بھی ہے جو حضرت موسیٰںاور حضرت عیسیٰںکی تصویروں کی پرستش کرتے ہیں، خدا پرستی تو یہ ہے کہ کسی کی شرکت کے بغیر خدا وندعالم کی عبادت کی جائے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک قرار نہ دیا جائے۔

خلاصہ یہ ہے کہ نجد کے بعض قبیلے اس کے مرید ہوگئے اور آہستہ آہستہ اس کا مذہب دوسرے علاقوں میں شھرت پانے لگا۔

اس کا نظریہ تھا کہ روضہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ائمہ معصومین علیهم السلام کی قبروں کو گرادیا جائے اور جب بھی موقع ملے اس کام کو ضرور انجام دیا جائے لیکن موت نے اس کو فرصت نہ دی اوروہ یہ حسرت لے کر ہی اس دنیا سے رخصت ہوا۔

اس کی موت کے بعد اس کا بیٹا محمد اس کے دین کا امام اور مفتی قرار پایا محمد دونوں آنکھوں سے اندہا ابھی تک زندہ ہے اوراپنے گھر میں گوشہ نشین ہے۔(۴۷۲)

عبد العزیز سلسلہ وہابیت کا پہلا خلیفہ اور اس کا بیٹا سعود (ابو طالب خان اصفھانی کی نقل کے مطابق)

عبد العزیز بن سعود بھی مذکورہ ابراہیم کا پرورش کردہ تھا جب وہ مسند خلافت پر بیٹھااور اسے امیر المسلمین کہا جانے لگا نیز وھی صاحب لشکر اور صاحب حکم بن گیا، عبد العزیز لمبے قد اور بھاری جسم کا انسان تھا،(۷۰)سال کی عمر ہوچکی تھی لیکن کمزوری نہیں آئی تھی، بلکہ چالیس سال سے اس کے خاندان میں سے کوئی نہیں مرا تھا اور یہ کہتے تھے کہ جب تک یہ دین مستحکم نہیں ہوگا ہم میں سے کوئی نہیں مرے گا، اور اس بات پر لوگوں کا عقیدہ راسخ ہوگیا تھا، اس کا ایک بیٹا ہے جو بہت بھادر اور عقلمند ہے اس کا نام سعود بن عبد العزیز ہے جو بڑا جنگجو اور اس کا قائم مقام ہے۔

خلاصہ یہ کہ عبد العزیز ہفتہ میں دو دفعہ محمد بن عبد الوہاب کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا اور اس سے دینی مسائل معلوم کرتا تھا اور اس کے فتووں کی بدولت اس نے دیگر ملکوں پر چڑھائی کی اور نماز اور دوسرے احکام میں اس کی اقتدا کرتا تھا، اور اس طریقہ میں وہ (ابن) عبد الوہاب سے بھی زیادہ سخت ثابت ہواہے لہٰذا اس نے بھی نجد پر اکتفاء نہ کی بلکہ دور دراز کے علاقوں میں بھی اس فرقہ کو پھیلانے کی کوشش کی اور اس راستہ میں اپنے پیروکاروں کے لئے دوسرے فرقوں کی جان ومال اور ناموس کو بھی حلال اور مباح کردیا، اور ان سے یہ قول وقرار کیا کہ اگر وہ اس راستہ میں قتل ہوجائیں تو وہ خود ان کی بیوی بچوں کا کفیل ہوگا اور جنت میں جانے کی ضمانت بھی لیتاتھا اسی لئے جب مجاہدین کو رخصت کرتا تھا تو خازن جنت کے نام ایک رقعہ لکھ کر دیتا تھا جو اس مجاہد کے گلے میں ڈال دیا جاتا تھا، تاکہ مرنے کے فوراً بعدبغیر سوال وجواب کے سیدہے جنت الفردوس میں بھیج دیا جائے، اس کے احکام اس طرح سے نافذ ہوتے تھے کہ واقعاً تعجب ہوتا ہے، وہ زمین پر بیٹھ کر لوگوں کے درمیان فیصلہ کرتا تھا، تمام ملک کی درآمد کو صرف فوجی ضروریات پر خرچ کرتا تھا اس کے پاس صدر اسلام کی طرح عرب کے مختلف قبیلوں پر مشتمل ایک عظیم لشکر تھا جب بھی وہ فرمان جاری کرتاتھا سارا لشکر ثواب اور مال غنیمتحاصل کرنے کے لئے فوراً تیار ہوجاتا تھا۔

خمس اس کا حصہ ہوتا تھا اور باقی تمام مال،مال غنیمت شمار کیا جاتا تھا، سبھی کم کہانے والے اور ھلکے جسم والے زحمت کش لوگ ہیں، صرف چند خرموں پر اپنا پورا دن گذار دیتے ہیں اور ایک عبامیں سالوں گذار دیتے ہیں،ان کے سب کے سب گھوڑے نجدی اور معروف ومشہور نسل کے ہوتے ہیں بلکہ نجدی گھوڑوں کو کہیں باہر نہیں جانے دیتے، وہ اب تک مکہ ومدینہ اور مسقط کے علاوہ جزیرة العرب کے تمام شھروں کو فتح کرچکا ہے، حرمین (مکہ ومدینہ) کو چھوڑنے کا سبب یہ ہے کہ چونکہ وہ خانہ کعبہ کا بہت زیادہ احترام کرتا ہے اور کسی بھی قبیلہ کے حجاج ہوں سب کو کہانا کھلاتا ہے اوران کی رخصتی کے وقت بدرقہ(۴۷۳) کرتا ہے۔

حجاج کے قافلوں کے لئے شرط یہ ہے کہ اس کی ولایت سے گذریں ورنہ جو لوگ جاچکے ہیں ان کو واپس لوٹا لیا جائے گا اور دوسری بات یہ ہے کہ شریف ِمکہ بھی اسی کے افراد میں سے ہے، اور اس نے استانبول کے امراء کے دباو میں موجودیت کا اظھار کر دیا ہے ۔

اسی وجہ سے ان علاقوں پر بھی عبد العزیز نے فتح حاصل کرنے کی ٹھا ن لی اور اپنے بیٹے سعود کو بے شما رلشکر کے ساتھ وہاں بھیجا اس نے پہلے تو طائف کے لوگوں کا قتل عام کیا اور ان کے گھروں میں آگ لگادی اور ایک کثیر تعداد کو اسیر کرلیا، اورچونکہ اس وقت حج کا زمانہ تھا وہاں رکا، لیکن ایک ناگھانی بلا کی طرح مکہ کو بھی فتح کرلیا، اور وہاں کے بعض متبرکہ چیزوں کو نابود کرڈالا، اور اس کے بعد ”جدّہ“ پہونچا، وہاں پہونچتے ہی اس کا محاصرہ کرلیا،لیکن شریف ِ مکہ مخفی طریقہ سے ایک جھاز پر سوار ہو کر ”بحرقلزم“(۴۷۴) بھاگ گیا۔

چنانچہ وہاں کے لوگوں نے کچھ مال دیکراس سے صلح کرلی ،اور چونکہ سعود عُمّان کا ارادہ رکھتا تھا اسی وجہ سے اس نے اسی کو غنیمت جانا اورپھر وہاں سے عمان کی طرف چلا گیا، اسی دوران شریف دوبارہ جدّہ اور مكّہ واپس چلاآیا، تھوڑے لوگ جو اس کی ولایت میں تھے انھوں نے اس کو قتل کردیا اور بھاگ نکلے، اس وقت سعود مسقط کی طرف بڑھا، اوروہاں کے بادشاہ سے جنگ کی، چنانچہ وہاں کی عوام الناس نے بھی اس کے مذہب کو قبول کرلیا اور اپنے بادشاہ سے بغاوت کی اور وہاں کے سلطان کا بھائی بھی وہابی ہوگیا اور اس کو امام المسلمین کا لقب دیا گیا، اور جب بادشاہ کے پاس اپنے قلعہ اور شھر کے اطراف کے علاوہ کچھ باقی نہ بچا، یہ دیکھ کر سعود نے یقین کرلیا کہ یہ بادشاہ اب خود بخود تسلیم ہوجائے گا لہٰذا مزید کوئی حملہ نہ کیا، اسی طرح بصرہ اور حلّہ کے لوگوں میں وہابیوں کے خوف ووحشت کی وجہ سے رات کی نیند حرام ہوگئی اسی طرح کربلا اورنجف میں راتوں کو لوگ پھرہ دینے لگے، اورنجف کے روضہ کی قیمتی چیزوں کو کاظمین میں لے جاکر محفوظ کر دیا گیا ۔

ایسا معلوم ہوتا تھا کہ عنقریب بصرہ بھی فتح ہوجائے گا کیونکہ بصرہ سے تین فرسخ پہلے تک اس کا قبضہ ہوچکا تھا اور ”عتوب“ نامی قبیلہ پر دوسال پہلے ہی سے قبضہ تھا یہ لوگ پانی کے جھاز چلانے والے تھے اور ان کی زمینی طاقت، دریائی طاقت کی وجہ سے بڑھ گئی تھی، چنانچہ بصرہ کو فتح کرنے کے بعد بغدا د اوراس کے بعد استانبول کا علاقہ فتح ہونا آسان تھا۔(۴۷۵)

ایک اور قدیم ایرانی آثار جس میں وہابیوں کے عقائد کے بارے میں گفتگو ہوئی ہےکتاب ”بستان السیاحہ“ تالیف حاج زین العابدین شیروانی (متولد۱۱۹۴ھ، متوفی۱۲۵۳ھ)ھے جو فتح علی شاہ کے زمانہ کے مشہور ومعروف صوفی تھے، موصوف نے امیر سعود ابن عبد العزیز سے نجد میں ملاقات بھی کی ہے، (سعود بن عبد العزیز کے حالات زندگی آل سعود کی تاریخ میں بیان ہوں گے، انشاء اللہ) موصوف نے اپنی ملاقات میں اس سے وہابی مذہب کے بارے میں سوالات کئے اورسعود نے اس کے سوالوں کا جواب دیا، ہم یہاں پر بستان السیاحہ کی اصل عبارت نقل کرتے ہیں:

”راقم (زین العابدین شیروانی) نے امیر سے سوال کیا کہ وہابی مذہب کی حقیقت کیا ہے؟ اور اس فرقہ کا مُحدِّث (ایجاد کرنے والا) کون ہے؟

امیر نے جواب میں کہا کہ وہابی مذہب کوئی نئی ایجاد نہیں ہے لیکن چونکہ محمد بن عبد الوہاب نے اس مذہب کو رائج کیا ہے اس وجہ سے لوگوں کی زبان پر یہ بات ہے (کہ اس مذہب کا بانی محمد بن عبد الوہاب ہے) ورنہ یہ کوئی نیامذہب نہیں ہے بلکہ وھی سلف کا مذہب ہے، اس کا اعتقاد یہ ہے کہ خداوندعالم کے علاوہ کوئی مستحق عبادت نہیں ہے،اور انبیاءعلیهم السلاماوراولیاء اللہ کی شفاعت کا عقیدہ بے معنی ہے اور اسی طرح انبیاءعلیهم السلام اور اولیاء اللہ کی قبروں پر گنبد بنانا بدعت ہے اور وہ چیزیں جو حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں نہیں تھیں وہ بدعت اورگمراہی ہیں۔

اسی طرح انبیاء، ملائکہ اور اولیاء اللہ سے شفاعت طلب کرنا شرک ہے اور جو چیز حضرت رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ میں نہیں تھی وہ بدعت ہے اور بدعت گمراہی ہے مثلاً حقّہ پینا یا مردوں کو عورتوں کا لباس پہننا اور مساجد اورمعابد کی زینت کرنا اسی طرح قرآن اور دوسری کتابوں کو (سونے کے پانی سے) تذھیب کرنا، انبیاء اور اولیاء اللہعلیهم السلام کی قبروں کو مزین کرنا، لمبی داڑھی رکھنااور کپڑوں میں عورتوں کی شبیہ بنانا، اور کسی کے سامنے اپنے سر کو جھکانا یا روضوں کو بوسہ دینا، اسی طرح ٹیکس وغیرہ لینا، بہت زیادہ لمبے یا چھوٹے کپڑے پہننا اور اسی طرح عورتوں کو زیندار گھوڑے پر سوار کرنا، یہ تمام کی تمام چیزیں بدعت ہیں۔

حقیر (زین العابدین شیروانی) نے ایک کتاب دیکھی ہے جس میں وہابیوں نے اپنے مذہب کو قرآن اور احادیث کے ذریعہ ثابت کیا ہے۔(۴۷۶)

وہابیوں کا تذکرہ دوسری قدیم ایرانی کتابوںمثلاً ناسخ التواریخ، روضة الصفا، ناصری اور منتظم ناصری میں بھی موجود ہے جس کو ہم وہابیوں کے کربلائے معلی اور نجف اشرف پر حملہ کی بحث میں بیان کریں گے۔

قارئین کرام !جیسا کہ آپ حضرات نے ملاحظہ فرمایا کہ وہابیوں کے بارے میں اس وقت کے ایرانی علماء کی معلومات بہت کم تھی اور ایک حد تک نادرست تھی، شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اس زمانہ میں وہابیوں کا دور دراز کے علاقوں سے اتنا زیادہ واسطہ نہیں تھا، اور دوسری بات جو میرزا ابوطالب صاحب نے بھی لکھا ہے کہ عثمانی حكّام کے بہکانے کی وجہ سے لوگ وہابیوں کے امور کو قابل حفظ و ضبط نہیں جانتے تھے۴۷۷ درحالیکہ وہابیوں کی خبریں عثمانی سر زمین (ترکی) سے گذر کر ایران پہونچتی تھیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس وقت مواصلاتی نظام (اخبار وغیرہ) کے وسائل بہت محدود اور کم تھے اور ان پر اعتماد بھی نہیں کیا جاسکتا تھا، اور خبروں کو ایک طرف سے دوسری طرف صرف مسافروں کے ذریعہ پہونچایا جاتا تھا، اور مسافرین بھی جو چیزیں مشہور ہوتی تھیں اسی پر اکتفاء کرتے تھے اور کبھی ایسا ہوتا تھا کہ وہ خود بعض چیزوں کا اپنی طرف سے اضافہ کردیا کرتے تھے، ان تمام چیزوں کے باوجود ابو طالب کی تحریر کے مطابق بعض نئی چیزیں واضح ہوتی ہیں جو وہابیوں کی تاریخ کی تحقیق میں موثر ثابت ہوسکتی ہیںخاص طور سے اس لئے بھی کہ یہ چیزیں ان لوگوں کے قلم سے ہیں جو وہابیت کی پیدائش کے زمانہ میں زندگی بسرکرتے تھے، اور مذکورہ واقعات انھیں کے زمانہ میں رونما ہوئے لہٰذا تاریخی اعتبار سے ان کی ایک خاص اہمیت ہے۔

____________________

۴۶۳. مذکورہ عبارت قدیم فارسی کا ترجمہ ہے لہٰذا جسے ذرا سا دخل وتصرف کے ساتھ انجام دیا گیا ہے، مترجم۔

۴۶۴ .عبد العزیز کو خان کا لقب دینے کی وجہ یہ ہے کہ مولف کتاب تحفة العالم اس علاقہ کے تحت تاثیر واقع ہوگئے تھے کیونکہ خان کا لقب اس زمانہ میں ہندوستان اور ایران میں رائج تھا جبکہ نجد میں اس کا نام ونشان بھی نہیں تھا۔

۴۶۶. وہابیوں کی تاریخ کی تفصیل کے دوران،ان کے مقابل سلطان عثمانی کے اقدامات اور فتح علی شاہ کی کوششوں کے بارے میں بیان کیا جائے گا۔

۴۶۷. ذیل التحفة ص ۸ سے ۔

۴۶۸. ہم یہ ضروی سمجھتے ہیں کہ جناب آقای مدرسی طباطبائی کا شکریہ ادا کریں جنھوں نے مذکورہ خط سے آگاہ کیا اور مجھے وہ کتاب دکھائی جس میں اصلی خط کا عکس موجود ہے۔

۴۶۹. ہم نے پہلے یہ بات عرض کی ہے کہ سب سے پہلے محمد بن عبد الوہاب اور محمد بن سعود (جو کہ عبد العزیز کا باپ تھا) میں بہت زیادہ رابطہ پیدا ہوا، نہ کہ عبد العزیز اور محمد بن عبد الوہاب میں ۔

۴۷۰. مآثر سلطانیہ، ص ۸۲ سے ۸۵تک۔ کربلا و نجف پروہابیوںکے حملہ کے بارے میں بیان کیا جائے گاکہ پہلے کربلاپر حملہ کیا اور ان کا سردار امیر سعود ابن عبد العزیز تھا۔

۴۷۱. کربلا پر وہابیوں کے حملہ کی شرح جس طرح کے میرزا ابو طالب نے لکھی ہے بعد میں بیان ہوگی.

۴۷۲. موصوف کی یہ بات بالکل غلط ہے کیونکہ مسلّم یہ ہے کہ اس مذہب کا بانی محمد بن عبد الوہاب ہے نہ کہ عبد الوہاب، اور جیسا کہ ہم نے عرض کیا کہ خود عبد الوہاب اپنے بیٹے کا شدید مخالف تھا، اسی طرح محمد کا نابینا ہونا اور اس کی اور عبد العزیز کی پرورش ابراہیم نامی شخص (قبیلہ بنی حرب) کے گھر میں یہ بھی ایسی بات ہے کہ مولف کی نظر میں اس کا کوئی دوسرا ثبوت نہیں ملتا، اور جیسا کہ معلوم ہوتا ہے کہ میرزا ابوطالب کی بعض باتیں وھی ہیں جن کو سید عبد اللطیف شوشتری نے بیان کیا ہے اور چونکہ یہ دونوں مولف ہم عصر تھے ظاہراً یہ مطالب ابو طالب صاحب نے شوشتری صاحب کی کتاب سے لئے ہیں۔

۴۷۳. بدرقہ سے یہاں مراد یہ ہے کہ ان کے ساتھ کچھ سپاہی بھیجا وہ راستہ میں رہزنوں کے شر سے محفوظ رہیں۔

۴۷۴. بحر قلزم دریائے سرخ کو کہا جاتا ہے۔

۴۷۵. سفر نامہ میرزا ابو طالب (مسیر طالبی) ص ۴۰۹

۴۷۶. بستان السیاحہ ص ۶۰۲، لفظ نجد کے ذیل میں ، شیروانی حدائق السیاحہ (۵۴۵)میں انھیں چیزوں کو تھوڑے سے فرق کے ساتھ لکھتے ہیں مثلاً سعود بن عبد العزیز سے ملاقات کرنے کے بجائے شیخ عبد اللہ بن سعود سے ملاقات کو ذکر کیا ہے۔

۴۷۷. سفر نامہ میرزا ابو طالب ص ۴۰۹۔


چھٹا باب:

وہابی مذہب کے نشر واشاعت کامرکز

قارئین کرام! جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا جن عقائد اور تعلیمات کو محمد بن عبد الوہاب نے ظاہر کیا ان سب کا اظھار ابن تیمیہ کرچکا تھا، لیکن ابن تیمیہ نے ان عقائد کا اظھار اس علاقہ میں کیا تھاجہاں پر ان عقائد اور نظریات کے قبول کرنے کا ماحول نھیںتھا، لیکن جس ماحول میں محمد بن عبد الوہاب نے انھیں عقائد کو بیان کیا وہ ماحول ان عقائد کو قبول کرنے کے لئے مختلف طریقوں سے آمادگی رکھتا تھا یعنی ان عقائد کو قبول کرنے کے لئے راستہ ہموار تھا اور اتفاقاً وہاں کے حکمراں افراد نے بھی اس کا ساتھ دینا شروع کردیا، اگرچہ شروع شروع میں بہت سی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن حالات کے مناسب ہونے کی وجہ سے بہت جلد مشکلات پر کامیاب ہوا اور اسے اپنے کام میں کامیابی حاصل ہوگئی۔

نجد کی سر زمین شیخ محمد بن عبد الوہاب کے لئے اتنی ہموار تھی کہ اس نے ان عقائد اور تعلیمات کو پھیلانا شروع کردیا اور اس میں کامیاب ہوگیا لیکن اس کے بعد جو واقعات پیش آئے ان سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے علاقے اس کی باتوں کو قبول کرنے کے لئے آمادہ نہیں تھے، اسی وجہ سے دوسرے علاقوں میں وہابیت کی تبلیغ زیادہ کارآمد ثابت نہیں ہوئی، جس کی بناپر اس کا دائرہ صرف حجاز تک محدود ہوکر رہ گیا، اور اس کی تعلیمات دوسرے علاقوں میں زیادہ نہیں پھیلی، لیکن وہابیت کی طرفداری میں دوسرے لوگوں نے مختلف علاقوں میں وہابیت کو پھیلانے کا کام شروع کیا ۔

ان تمام چیزوں کے پیش نظر مناسب ہے کہ پہلے نجد کی سرزمین پر محمد بن عبد الوہاب کے نظریات پیش کرنے سے پہلے اور پیش کرنے کے بعد کے ماحول کی بررسی اور تحقیق کی جائے اور اس کے بعد ان دو طاقتوں کابھی ذکر کیا جائے جن کی وجہ سے نجد اورحجاز میں یہ نظریات پھیلائے گئے، یعنی خاندان آل سعود اور جمعیة الاخوان، اور اس کے بعد نجد وحجاز کے دوسرے علاقوں میں ان عقائد کا پھیلنا اور اس سلسلہ میں ہونے والی کوششوںکو بیان کیا جائے، ہماری اس کتاب کے آئندہ صفحات انھیں چیزوں سے مخصوص ہیں۔

سرزمین نجد

”نجد“ جزیرہ نما عربستان کا وہ بڑا علاقہ ہے جوآج سعودی عرب کے علاقہ میں شمار کیا جاتا ہے، لفظ نجد کے معنی ”اونچی زمین“کے ہیں کیونکہ سر زمین نجد قرب وجوار کے علاقوں سے بلندی پر واقع ہے اس وجہ سے اس کو نجد کہا جاتا ہے، نجد کا مرکز، شھر ریاض ہے جو عارض کے علاقہ میں ہے اور اس وقت سعودی عرب کا پائے تخت ہے، نجد کے دو ا ور مشہور شھر ”عنیزہ“ اور ”بریدہ“ قصیم علاقہ میں ھیں، اسی طرح شھر” زلفیٰ“ ”سدیر“علاقہ میں ، شھر ”شقراء“”وشم“ علاقہ میں اور شھر ”درعیہ“ عارض کے علاقہ میں نجد کے دوسرے شھر ہیں۔

نجد کی سرحد جنوب کی طرف سے یمامہ اور احقاف سے اور مشرق کی طرف سے عراق، احساء اور قطیف سے، شمال کی طرف سے صحرائے شام سے اور مغرب کی طرف سے حجاز کے علاقوں سے ملی ہوئی ہے۔

علامہ آلوسی کہتے ہیں کہ نجد کا علاقہ عرب کے علاقوں میں سے بہترین علاقہ ہے اس کی آب وہوا معتدل اور سر سبز ہے، محصول (اناج) کی فراوانی، بہترین پانی اور صاف ہوا اس سر زمین کی خصوصیات میں سے ہیں،نجد کے دَرّے (دو پھاڑوں کے درمیانی راستہ) پہلوں کے باغوں کی طرح ہیں اور یہاں کے گودال پانی سے بھرے حوض کی طرح ہیں.(۴۷۸)

قدیم اور جدید شعراء نے شھر نجد کی ہمیشہ توصیف کی ہے،(۴۷۹) اور اس کے بعد جناب آلوسی نے نجد کی مدح میں کھے گئے اشعاربھی بیان کئے ہیں۔

”یاقوت حموی“ کہتے ہیں کہ جس قدر نجد کی توصیف اور اس کے شوق دیدار میں اشعار کھے گئے ہیں کسی علاقہ کے لئے اتنے شعر نہیں کھے گئے،(۴۸۰) یاقوت حموی نے بھی ان اشعار میں سے چند نمونے پیش کئے ہیں، اور شایداس کی وجہ یہ ہو کہ اکثر شعراء نجد کے رہنے والے نہیں تھے اور زمانہ جاہلیت کے اشعار میں شھر نجد کی توصیف سے متاثر ہو کر اشعار کہہ ڈالے، سر زمین نجد کی یاد، در حقیقت اس زمانہ کی یاد ہے کہ جب وہاں کی زندگی خوش وخرم اورعیش وآرام اور وہاں کے علاقے سر سبز تھے، یھی نہیں بلکہ بعض فارسی شعراء نے بھی اس توصیف سے متاثر ہوکر، نجد اور وہاں کے لوگوں کے بارے میں اشعار کھے ہیں۔

نجد کے عوام

جناب آلوسی صاحب نجد کے لوگوں کے بارے میں اس طرح کہتے ہیں :نجد کے لوگ دو گروہ میں تقسیم ہوتے ہیں ”شھر نشین“(۴۸۱) ور ”بادیہ نشین“ (دیھاتی)، جبکہ اس علاقے میں شھر نشینکم ہیں اور دیھاتی علاقوں میں زیادہ لوگ رہتے ہیں، اسی طرح اکثر دوسرے عرب علاقے بھی ہیںجو دیھاتی زندگی کو شھری زندگی پر ترجیح دیتے ہیں، شھری افراد تجارت، کھیتی، خرمے کے باغات، اونٹ، گائیں اور بھیڑ بکریوں کو پالنے سے اپنی زندگی گذارتے ہیں، اور ان کی خوراک گھی، گوسفند گائے کا دودہ، گندم جَو، چاول، مکئی،تِل وغیرہ ہیں، اس طرف دیھاتیوں کا معاش زندگی بھیڑ بکریاں، گائے اور اونٹ پالنا تھاوہ اونٹ کا گوشت کہاتے اور اس کا دودہ پیتے تھے، اسی طرح جنگلی چوھے اورخرگوش کا بھی استعمال کرتے تھے۔

نجد کے اکثر لوگ ” ملخ“ (ٹڈّی) کہاتے ہیں اور ٹڈّی ہی ان کی وہ بہترین خوراک ہے جو اپنے لئے ذخیرہ کرتے ہیںاور یھی ان کے نزدیک بہترین، لذیذ ترین اورمنتخب غذا ہے، اسی طرح قہوہ کے بہت زیادہ شوقین ہیں، اور خوب بناتے بھی ہیں، نجدی لوگ دور دراز کے علاقوں مثلاً یورپ کے علاقوں میں سیر وسفر کو پسند نہیں کرتے، اسی وجہ سے ان کے یہاں تجارت کرنے والے کم پائے جاتے ہیں۔

اسی طرح آلوسی صاحب کہتے ہیں کہ نجدی لوگوں نے آثار تاریخی اور پرانے زمانہ کی تختیاں، وہ لکھے ہوئے پتھر جن کے بارے میں ان کا گمان یہ ہے کہ یہ ”حِمیری“ (یمن کے قدیم باشاہوں کا سلسلہ) کے زمانہ کے ہیں، اور ”سدوس“ میں عارض کے علاقہ میں موجود ہیںان کو نابود کرکے زمین کے برابر کردیا تاکہ کوئی یورپی سیّاح ان کو دیکھنے کے لئے ان کے ملک کا سفر نہ کرے۔(۴۸۲)

خلاصہ یہ کہ اہل نجد کی (آلوسی کے زمانہ میں )یہ خصوصیت تھی کہ نہ تو جلدی سے کسی دوسری جگہ جانے کے لئے تیار ہوتے تھے اور نہ ہی کسی غیر ملکی خصوصاً یورپین افراد کا اپنے ملک میں آنا پسند کرتے تھے۔

نجدی شھریوں کا لباس معمولی کپڑے اورعباوقبا ہوتی ہے اہل علم حضرات عمامہ (جس کا تحت الحنک ظاہر رہتا ہے) باندہتے ہیں اور عوام الناس عقال (سر پر باندہی جانے والی ڈوری) سر پر باندہتے ہیں اور جوتے بھی پہنتے ہیں اور ایک عصا ھاتھ میں رکھتے ہیں اور بہترین عطریات خصوصاً مشک وعنبر استعمال کرتے ہیں۔

آلوسی صاحب نجدیوں کے اخلاق کے بارے میں کہتے ہیں:

ان لوگوں کا اخلاق قدیم عربوں کی طرح ہے یعنی اپنے وعدہ کو وفا کرتے ہیں اور غیرت اور حفظ ناموس کا بہت زیادہ خیال رکھتے ہیں، شریف بھی ہوتے ہیں اور مہم انوں کی حمایت کرتے ہیں سچائی اور شجاعت نیز حسن خلق میں بھی مشہور ہیں۔

نجدی لوگوں کی شکل وصورت بھی خوبصورت ہوتی ہے اور عام طور پر ان کا رنگ گندمی ہوتا ہے۔(۴۸۳)

وہابیت کی دعوت کے وقت نجدی شھریوں اور خانہ بدوشوں کی حالت

حافظ وھبہ، وہابیت کی دعوت کے وقت نجدیوں کی حالت کو اس طرح بیان کرتے ہیں:

”خانہ بدوشوں کا کام غارت گری، رہزنی کے علاوہ کچھ اور نہیں تھا اور ان کاموں کو اپنے لئے فخر ومباحات کاباعث سمجھتے تھے اگر کوئی خانہ بدوش کمزور ہوتا تھا تواس کی زبان حال یہ ہوتی تھی کہ مال خدا کا مال ہے ایک دن میرا ہے، تو دوسرے دن کسی دوسرے کا، صبح کے وقت غریب و فقیر ہے تو شام کے وقت مالدار اور صاحب ثروت۔

تجارتی لوگ ان کو ٹیکس ادا کرنے کی صورت میں ان کے علاقے سے صحیح وسالم گذر سکتے تھے، یا اس کاروان کا خانہ بدوشوں میں کوئی آشنا اور دوست ہو، خانہ بدوشوں کا یہ وطیرہ تھا کہ اپنے کو خطرہ میں نہیں ڈالتے تھے اور جب انھیں یہ احساس ہوجاتا تھا کہ سامنے خطرہ ہے یا ان کے مقابلہ میں دفاع کرنے والے طاقتور ہیں تو اس کو لوٹنے سے باز رہتے تھے، ان کو سچائی اوردوستی سے کوئی واسطہ نہیں تھا ریا کاری اور نفاق ان کی فطرت کا ایک حصہ تھا، کبھی کبھی بدو عرب ان لوگوں کے لئے بھی مصیبت بن جاتے تھے جن سے دوستی کا دم بھرتے تھے، یعنی جب ان کو اپنے امیر یا حاکم کی شکست دکھائی دینے لگتی تھی توسب سے پہلے یھی لوگ اس کے مال ودولت کو غارت کردیتے تھے اور کہتے تھے کہ اگر اس کے مال ودولت کا غارت ہونا یا اس کا گرفتار ہونا معلوم ہے تو خود ہم ہی اس کام کے سب سے زیادہ مستحق ہیں۔(۴۸۴)

نجد کا علاقہ عرب کے دوسرے علاقوں کی طرح خرافات اور غلط عقائد کا مرکز تھا جو صحیح اصول دین کے مخالف تھے اس علاقہ میں بعض اصحاب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبریں تھیں وہاں کے لوگ ان کی زیارت کے لئے جایا کرتے تھے، ان سے حاجت طلب کیا کرتے تھے، اپنی مشکلات کے دور ہونے کے لئے ان کو وسیلہ بناتے تھے، مثلاً ”جُبَیْلَہ“ نامی علاقہ میں زید بن الخطاب کی قبر تھی وہاں لوگ جایا کرتے تھے تاکہ ان کے حالات اچھے ہوجائےں اور ان کی حاجتیں پوری ہوجائیں۔

اس کے علاوہ ”منفوحہ“ شھر میں ایسا ہوتا تھا کہ جن لڑکیوں کی اس وقت تک شادی نہیں ہوئی ہوتی تھی وہ ایک خرمے کی نر درخت سے اس عقیدہ کے ساتھ متوسل ہوتی تھیں کہ اسی سال ان کی شادی ہوجائے اور اسی عقیدہ کے تحت لڑکیاں اس درخت کے سامنے کھڑی ہوکر کہا کرتی تھیں:

یَا فَحْلَ الْفَحُوْلِ اُرِیْدُ زَوْجاً قَبْلَ الْحُلُوْلِ“

(اے سب نروں سے بھتر وبرترنر !میں سال تمام ہونے سے پہلے پہلے اپنے لئے شوھر چاہتی ہوں)

”درعیہ“ شھر میں ایک غار تھاجس کو مقدس مانا جاتا تھا، اس کے بارے میں یہ کہا جاتاہے کہاس پھاڑ پر ایک لڑکی کو پناہ ملی ہے جو ایک ستمگر حاکم کے شکنجہ میں گرفتار ہوگئی تھی اور اس پھاڑ نے پھٹ کر اپنے دامن میں اس لڑکی کو پناہ دی تھی۔

نجد کے علاقہ میں کسی قسم کاقاعدہ اور قانون نھیںتھا، حكّام اور ان کے کارندے جو کچھ بھی چاہتے تھے کر گذرتے تھے، کسی کے پاس اگر کوئی حکومت ہوتی تھی تو اس کو دوسری حکومتوں سے کوئی تعلق نہیں رہتا تھا۔

ادہر شھری افراد، خانہ بدوشوں سے ہمیشہ جنگ وجدال کرتے رہتے تھے مالدار لوگ جب یہ احساس کرلیتے تھے کہ ان کے مقابلہ میں ضعیف لوگ ہیں تو ان پر ظلم وستم کر نا شروع کردیتے تھے۔(۴۸۵)

نجدیوں کے اخلاقی و معاشرتی حالات کا خلاصہ

حافظ وھبہ صاحب نے (تقریباً چالس سال پہلے) نجدیوں کے اخلاق کو مورد بحث قرار دیا ہے، یہاں پر اس کا بیان کرنا مناسب ہے ۔

”جزیرة العرب کے اکثر لوگ خصوصاً خانہ بدوش قبیلوں کو دوسرے علاقوں میں رائج القاب اور آداب کا علم نہیں ہوتا تھا اسی وجہ سے دوسروں سے ہم کلام ہوتے وقت یہاں تک کہ بادشاہوں اور حكّام سے گفتگو کے دوران بھی ان کا نام لے کر پکارتے تھے یا ان کے معمولی لقب سے مخاطب کیا کرتے تھے۔

آقا اپنے نوکر یا خادم کو ” لونڈے“ کہہ کر خطاب کرتے تھے اور جس وقت کسی گھر کے بزرگ کو قہوہ کی طلب ہوتی تھی تو وہ چلا کر کہا کرتا تھا: قہوہ لاؤ، ان کا خادم جب اس جملے کو سنتا تھا تو وہ بھی اس جملے کو بلند آواز سے کہا کرتا تھا اور اسی طرح دوسرے لوگ بھی بعینہ اسی جملے کی تکرار کیا کرتے تھے یہاں تک کہ جو قہوہ اور چائے بنانے اور لانے والا ہوتا تھا اس تک یہ آواز پہونچ جاتی تھی، وہ چائے لیکر حاضر ہوجاتا تھا، البتہ ابن سعود بادشاہ مذکورہ آواز لگانے کے بجائے بجلی کی گھنٹی استعمال کیا کرتا تھا لیکن یھی جناب جب شکار کے وقت ان کو کسی چیز کی ضرورت ہوتی تھی تو اپنے خادموں کو بلند آوازسے پکارتے تھے اور جب دوسرے لوگ اس آواز کو سنتے تھے تو وہ بھی اسی نام کو پکارتے تھے یہاں تک کہ یہ آواز خادم کے کانوں تک پہونچ جاتی تھی۔

غلام اورنوکر اپنے آقا کو عمّو اورآقا کی بیوی کو عمہ (چچی) کہہ کر خطاب کیا کرتے تھے، اور جب دسترخوان لگایا جاتا تھا تو سب کے سب چاروں طرف بیٹھ جاتے تھے اورخادم اونچی آواز میں کہتا تھا کہ ”سَمِّ“یعنی بسم اللہ کریں، اور اگر کوئی مہم ان آتا تھا تو حسب مراتب اس کو قہوہ پیش کیا جاتا تھااگر کوئی عظیم ہستی ہوتی تھی تو اس کو کئی کئی مرتبہ قہوہ پیش کیا جاتا تھا، عجیب بات تو یہ ہے کہ کوئی بھی قہوہ پینے سے انکار نہیں کرسکتا تھا۔

بیس سال پہلے (اس بات کو حافظ وھبہ نے تقریباً چالیس سال پہلے لکھا ہے لہٰذا تقریباً ساٹھ سال پہلے)شھریوں اور خانہ بدوشوں کے درمیان چائے کا رواج ہوچکا تھا اور خانہ بدوش چائے کو بہت زیادہ کھولاتے تھے تاکہ اس کا رنگ تیز اورمزہ کڑوا ہوجائے۔

نجد اورصحرائے عربستان میں رسم ہے کہ جب کوئی سفر سے واپس پلٹتا ہے تو چھوٹے اپنے بڑے کی ناک اور پیشانی یا شانوں کو بوسہ دیتے ہیں، اسی طرح حجاز میں ایک دوسرے کے ھاتھوں کو بوسہ دینے کی رسم تھی لیکن جس وقت سے ”اخوان اور نجد کے علماء“ (بعد میں تفصیل بیان ہوگی) حجاز میں وارد ہوئے ،تو انھوں نے ھاتھ چومنے پر پابندی لگادی لیکن چند سال بعد اسی کام کو جائز قرار دیدیا، اور اس وقت (کتاب جزیرة العرب فی القرن العشرین کی تالیف کا زمانہ) سے حجاز کے لوگ بادشاہوں اورقضات کے ھاتھوں کا بوسہ لیتے ہیں اوراس کام کو عیب شمار نہیں کرتے۔(۴۸۶)

مکہ کے اشراف اپنے کو اس سے کہیں بلند سمجھتے تھے کہ وہ لوگوں کی طرف اپنے ھاتھوں کوچومنے کے لئے بڑھائیں بلکہ اکثر لوگ ان کے کپڑوں کے کسی ایک حصہ کو چوم لینے پر ہی اکتفاء کیا کرتے تھے ۔(۴۸۷)

ان کے درمیان مہم ان کے احترام کا ایک طریقہ یہ تھا کہ اس کے سامنے قہوہ پیش کیا جاتا تھا اور نجد کے علاقہ میں مہم ان کے لئے چار پانچ قطرے کپ میں ڈالے جاتے تھے یہ عمل کئی مرتبہ انجام دیتے یہاں تک کہ خود مہم ان منع کردے، قہوہ کو بہت کڑوا بنایا جاتا تھا اور مہم ان کے لئے سادہ قہوہ لایا جاتا تھا اور سب سے پہلے میزبان یا اس کا خادم اسے خود پی کر دیکھتا تھا تاکہ اس بات کا اندازہ لگالیا جائے کہ قہوہ ٹھیک بنا ہے یا نھیں۔

مہم انداری میں گلاب یا” عُود“(ایک خوشبو دار لکڑی جس کے جلانے پر بہترین خوشبو ہوتی ہے) کا دہواں اس بات کی نشانی سمجھی جاتی تھی کہ اب مہم ان کے لئے یہاں ٹھھرناجائز نہیں ہے بلکہ رخصت ہونا بھتر ہے۔

ان کے درمیان کہانا کہانے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک بڑا ظرف دسترخوان پر لاکر رکھا جاتا ہے اور اگر مہم ان زیادہ ہوں تو چند برتن لائے جاتے ہیں اور سب لوگ اپنے اپنے ظرف کو اٹھاکر چمچہ کے بغیر ھاتھوں سے ہی کہانا شروع کردیتے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایک ہی ظرف میں بادشاہ، شیخ، وزیر اور خادم ایک ساتھ کہانا کہالیں، اور اگر کوئی دوسروں سے پہلے ہی سیر ہوجاتا ہے تو وہ دسترخوان سے اس وقت تک نہیں اٹھتا جب تک دوسرے سبھی لوگ کہانے سے فارغ نہ ہوجائیں، اور جب سب لوگ کہانا کہالیتے ہیں تو سب ایک ساتھ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اوراگرکوئی نادانی یا غلطی کی وجہ سے اچانک پہلے ہی اٹھ جاتا ہے تو دوسرے لوگ بھی اس کے ساتھ کھڑے ہوجاتے ہیں چاہے وہ سیر ہوئے ہوںیا نہ، لیکن عبد العزیز نے اس عادت کو ختم کردیا اور انھیں اس بات کی اجازت دی کہ جو شخص بھی سیر ہوجائے وہ دسترخوان سے اٹھ سکتا ہے، لیکن یہ عادت نجد میں اب بھی جاری ہے۔

نجد میں عام طور پر عورتیں مردوں کے ساتھ بیٹھ کر ایک دسترخوان پر کہانا نہیں کہاتیں اور اگر کوئی عورت اپنے شوھر کے ساتھ یا بڑے بچوں کے ساتھ بیٹھ کر کہانا کہالے تو اس کو بہت بڑا عیب سمجھا جاتا ہے، البتہ چھوٹے بچے اپنے ماں باپ کے ساتھ کہانا کہاسکتے ہیں لیکن لڑکیا ں اگر بڑی ہوجاتی ہیں تو وہ اپنی ماں کے ساتھ کہانا کہائیں گی، یہ عادت نجد میں اب بھی جاری ہے اور حجاز میں صرف ان گھرانوں میں یہ عادت پائی جاتی ہے جن کی نجد میں رشتہ داریاں ہیں۔

عرب کے شیخ اپنے بچوں کو تیر اندازی، گھوڑسواری اور شکار کے علاوہ کچھ سکھاتے ہی نھیں، یہاں تک کہ بعض لوگوں کا نظریہ تو یہ ہے کہ بچوں کو پڑھانا معیوب ہے۔(۴۸۸)

چنانچہ جب ایک امیر نے دیکھا کہ اس کا لڑکا پڑھنے جانے لگا تو اس نے کہا کہ یہ لڑکا دیوانہ ہوگیا ہے کیونکہ حکومت اورتعلیم ایک دوسرے سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔(۴۸۹)

عربوں میں صنعت کچھ اس طرح ہے: زرگری، نجاری، آہنگری (لوہارکا کام) بُنائی، بندوقوں کی مرمت کرنااور حیوانوں کی ڈاکٹری اور بعض وہ چیزیں جو طبّ کا حصہ ہیں مثلاً حجامت (بدن کا خراب خون نکالنا) اور زخموں کی مرہم پٹّی کرنا وغیرہ، لیکن صنعت گری عربوں میں اچھے کام نہیں سمجھے جاتے تھے اسی وجہ سے یہ کام کرنے والے یا تو عرب نہیں ہوتے تھے یا پھر عرب کے غیر مشہور قبیلوں سے تعلق رکھتے تھے، اور وہ جب کسی کو برا بھلا کہتے تھے تو اس کو ”ابن الصانع“(صنعت گر زادہ) کہتے تھے اوراس لفظ کو اس طرح ادا کرتے تھے کہ ان تمام معنی کو شامل ہو۔

اس کے بعد حافظ وھبہ صاحب کہتے ہیں کہ عجیب بات تو یہ ہے کہ عرب اب بھی اونٹ، گوسفند چَرانے اور گدہوں کی پرورش کو، خرید وفروخت اور دیگر صنعت گری اور تجارت پر ترجیح دیتے ہیں۔(۴۹۰) یہ تھی عرب کے امیر طبقہ کی زندگی، جس کے ضمن میں معمولی افراداور خانہ بدوشوں کی زندگی کے حالات بھی معلوم ہوگئے۔

نجد کے عربوں کی عادات و اطوار کے پیش نظر وہابیت کی ترقی اور پیشرفت کا کافی تک اندازہ لگایا جاسکتا ہے، نجدی اپنے حاکم کے تابع ہوتے تھے اور ان کے حكّام ہمیشہ دوسروں پر غلبہ پانے کی فکر میں رہتے تھے، اور جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ شیخ محمد بن عبد الوہاب کو شروع میں بہت سی مشکلات اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن جس وقت محمد ابن سعود (نجد ی حاکم) اس کی مدد کے لئے تیار ہوگیا تو اس کی ترقی کے راستے ہموار ہونے لگے اور اس کے بہت سے لوگ مرید بن گئے ۔

دوسری بات یہ ہے کہ شیخ محمد بن عبد الوہاب اپنے مخالفین سے جنگ کو جھاد کا نام دیتا تھا اسے اپنا بنیادی مقصد قرار دے رکھا تھاکہ جب وہ دوسرے علاقوں اور قبیلوں پر غلبہ کرلیتے تھے تو ان کے مال کو لوٹ لیا کرتے تھے اوران کی زمینوں پر قبضہ کرلیا کرتے تھے، اور چونکہ بادنشین (خانہ بدوشوں) کی عادت ہی یھی تھی اسی وجہ سے فوراً اس کے پیچھے پیچھے ہوجایا کرتے تھے خصوصاً ان میں سے اکثر ایک دوسرے کے دشمن ہوا کرتےتھے اور ایک قبیلہ دوسرے قبیلہ پر حملہ کرنے کے لئے تیار رہتا تھا۔(۴۹۱)

ایک دوسری بات یہ کہ شیخ محمد بن عبد الوہاب رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ کے اسلام اور سلف صالح کی سیرت پر عمل کرنے کی دعوت دیتا تھا اور اس طرح کی باتیں کرتا تھا کہ سننے والوں کا عقیدہ یہ ہوجاتا تھا کہ اگر ہم لوگ اس کی اطاعت کریں تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب اورتابعین کی طرح ہوجائیں گے اور عربوں کے درمیان اس طرح کی تقریروں کے ذریعہ یہ بات ان کے ذہن نشین کرادی کہ صرف وھی حقیقی مسلمان اور اہل بہشت ہیں، اور اگر اس کے ساتھ رہکر قتل ہوجائیں یا کسی کو قتل کردیں تو دونوں صورتوں میں ان کی ہی کامیابی ہے۔

اس زمانہ میں نجد کا علاقہ ایک بیک ورڈ علاقہ تھا اوربمشکل کوئی وہاں جاتا تھا یانجدیوں میں سے کوئی باہر سفر کے لئے نکلتا تھا، نجد کے لوگ سادہ تھے اور تمام دوسری جگہوں سے بے خبر، دنیا میں جو کچھ بھی ہوتا تھا ان کو اس کی خبر نہیں ہوتی تھی، ان کو بہت ہی کم اعتقادی مسائل کی تعلیم دی گئی تھی، ظاہر سی بات ہے کہ اس طرح کے لوگوں میں محمد بن عبد الوہاب کی باتیں بہت جلدی موثر ہوگئیں، اور بہت ہی کٹّر پن سے اس کا دفاع کرنے لگے، یہاں تک کہ اس کے اس راستہ میں اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں کرتے تھے۔

قارئین کرام!اگر یہ فرض کرلیں کہ وہابیت کی داغ بیل نجدیوں کے ماحول کے علاوہ کسی دوسری جگہ پر ڈالی جاتی تو کیا پھر بھی اتنی ترقی حاصل ہوسکتی تھی؟! ظاہراً اس کا جواب” نھیں“ ہے، کیونکہ جس طرح سے ہم کتاب کے آخر میں بیان کریں گے کہ وہابیوں کی یہ دعوت نجد کے علاوہ صرف چند علاقوں میں محدود رہی، اور گھٹیا قسم کے لوگوں نے اس کو پھیلانے کی کوشش کی،یہاں تک کہ پنجاب (ہندوستان) میں بھی وھی طریقہ کار اپنایا گیا جونجد میں شیخ محمد بن عبد الوہاب اور اس کے مریدوں کا تھا، لیکن ان میں سے کسی کی کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔(۴۹۲)

____________________

۴۷۸. گویا نجد کے علاقہ کی توصیف دوسرے خشک علاقوں کو مدّ نظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔

۴۷۹. تاریخ نجد ص ۹۔

۴۸۱. شھر نشین سے یہاں مراد وہ لوگ ہیں جو اپنی زندگی ایک معین جگہ گذار تے ہیں اوران کے مقابلہ میں وہ لوگ ہیں جو خانہ بدوش ہیں۔

۴۸۲. تاریخ نجد ص ۲۸، اس کے باوجود بھی تقریباً اسّی سال پہلے چند یورپی سیّاح ”ڈوٹی“ اور ”بارُننلدہ“ ،” شَمّر“نامی پھاڑ پر گئے جو کہ آل رشید (نجد کا حاکم) کی قیام گاہ تھی (جو بعد میں آل سعود کے ھاتھوں میں چلی گئی) اور اس سر زمین کا مشاہدہ کیا، اسی طرح۱۸۷۹ء میں ”لیڈی آن بلینٹ“ نے اپنے شوھر ”ولفر“ کے ساتھ جو انگریزی کا مشہور شاعر تھا مذکورہ پھاڑ، اور نجد وحجاز کے بعض دوسرے علاقوں کا سفر کیا اور اپنے مشاہدات کو اپنے سفر نامے میں لکھا جس کی کئی جلدیں ہیں،انھوں نے اپنے سفر نامے میں بہت سے آثار قدیمہ کا ذکر کیا ہے، مذکورہ سفر نامہ کی بہترین تو صیف وہ ہےجس کو مولف نے ایرانی کاروان کے ایک حاجی سے بیان کی ہے (ص۲۴۹، اور اس کے بعد جس کا عربی میں بھی ترجمہ ہے) ضمیمہ نمبر ۴۰ ،مجلہ کا گیارہواں سال،صفحہ ۷۵ کا حاشیہ، جس میں ایران اورنجد کی مستقل حکومت کے رابطے کے بارے میں تحقیق کی گئی ہے (البتہ یہ اقتباس ”احمد جائسی عرب کا مشہور ومعروف مولف“ کی کتاب سے ہے، وہ اپنی کتاب میں اس طرح لکھتا ہے کہ ”شارل ھویر“ فرانس کا مشہور ومعروف سیّاح جب انیسویں صدی میں آثار قدیمہ کی اپنی ریسرچ کے لئے دوسری مرتبہ نجد میں آتا ہے ”توحائل شھر میں محمد رشید سے ملاقات کے لئے جاتا ہے محمد رشید نے ایک شخص کو اس کے ساتھ بھیجا، لیکن جب وہ امارت کی سرحد سے باہر نکلا تو اس کو قتل کردیا گیا، اور اس کی ساری لکھی ہوئی چیزوں کو آگ لگادی گئی اور اس کا سامان لوٹ لیا گیا۔

۴۸۳. تاریخ نجد ص ۴۱، آلوسی صاحب نے جس طرح نجدیوں کی توصیف کی ہے وہ ان کے زمانہ تک کی ہے ورنہاس وقت نجدیوں کے طریقہ زندگی اور مال ودولت میں بہت زیادہ فرق آگیا ہے، صرف خانہ بدوش افراد میں تقریباً وھی صفات باقی ہیں چنانچہ حج کے زمانہ میں ان میں سے بعض لوگ اسی حالت میں آتے ہیں اوران کو بدُو کہا جاتا ہے۔

۴۸۴. جزیرة العرب فی القرن العشرین ص ۳۱۳، چنانچہ وہابیوں کی حکومت آنے کے بعد بھی یہ لوگ عہد شکنی کرتے رہتے تھے اور وہابیوں کے دشمنوں کے ساتھ مل جاتے تھے، اور ایک دوسرے کے سامنے برائیاں اور فتنہ وفسادبرپا کرتے رہتے تھے، (تاریخ نجد ابن بشر جلد اول ص ۱۹، ۲۱۲ پر رجوع فرمائیں)

۴۸۵. جزیرة العرب فی القرن العشرین ص ۳۳۶، ۳۳۷۔

۴۸۶. بہت سی وہ چیزیں جن کو اخوان اور علمائے نجد نے حرام قرار دیا تھا مثلاً تمباکو نوشی یا نئی نئی اختراعات سے استفادہ کرنا، چنانچہ زمانہ کے ساتھ ساتھ جائز ہوگئیں۔

۴۸۷. شرفائے مکہ نے اس خصلت کو عباسی خلفاء سے سیکھا ہے جن کا کہنا یہ تھا کہ ایک معمولی انسان ہمارے ھاتھوں کو چومنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور ان کے وزیروں کو اتنا تکبر ہوتا تھا کہ کہتے تھے کہ ایک معمولی انسان یہاں تک کہ کتابوں کے مولفین اس لائق نہیں کہ ہمارے احترام کے لئے ہمارے پیروں کے سامنے کھڑے ہوں، ان تمام تفصیلات کے لئے مولف کی کتاب ”تاریخ عضد الدولہ دیلمی“ میں چوتھی صدی کے حالات ملاحظہ فرمائیں۔

۴۸۸. بنی امیہ کے خلیفہ کہتے تھے کہ علم حاصل کرنا غلاموں اورنوکروں کا وظیفہ ہے اوروہ اس سے کہیں بلند وبالا ہیں کہ علم حاصل کرنے جائیں، ہمارے لئے تو حکومت اور فرمان صادر کرنا مخصوص ہے، ہم نے ظاہراً آقای ذبیح اللہ کی کتاب میں پڑھا ہے کہ قرون وسطیٰ میں یورپ کے ا شراف بھی اس بات پر فخر کرتے تھے کہ ہم جاہل ہیں۔

۴۸۹. حافظ وھبہ صاحب اس جگہ کہتے ہیں کہ ہم بہت خوش ہیں کہ اس زمانہ میں بعض شیخ اپنے لڑکوں کو تعلیم کے لئے بیروت اور اسکندریہ بھیجنے لگے ہیں۔

۴۹۱. نجدیوں کا اپنے مخالفوں منجملہ عثمانیوں سے جنگ کی تاریخ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب لوگ ایمان اور عقیدے کے تحت جنگ نہیں کرتے تھے کیونکہ بارہا ایسا اتفاق ہوا ہے کہ جب لشکر والوں نے دیکھا کہ ان کا سردار کمزور پڑگیا تو دشمن کے لشکر سے جاملتے تھے، چنانچہ کتاب ”تاریخ مکہ“ اور ”تاریخ المملکة العربیة السعودیہ“ میں ایسے بہت سے واقعات بیان کئے گئے ہیں۔

۴۹۲. اس موضوع کو سمجھنے کے لئے شیخ محمد بن عبد الوہاب اورابن تیمیہ کی حالات زندگی کی آخری بحث کی طرف رجوع فرمائیں۔


ساتواں باب:

تاریخ آل سعود

اس بات میں کوئی شک ہی نہیں کہ نجد وحجاز میں وہابیت کے پھیلنے کی اصل وجہ خاندان ”آل سعود“ ہے، یہاں تک کہ آل سعود نے وہابیت کو اپنے ملک کا رسمی (سرکاری) مذہب قرار دیدیا، اور اسی کی مدد سے محمد بن عبد الوہاب نے اپنے مذہب کی تبلیغ و ترویج شروع کی اور نجد کے دوسرے قبیلوں کو اپنا مطیع بنایا، یہ آل سعود ہی تھے جس نے محمد بن عبد الوہاب کے مرنے کے بعد اس کے عقائد اور نظریات کو پھیلانے میں اپنی پوری طاقت صرف کردی، اور کسی بھی مشکل کے مقابلہ میں ان کے حوصلے پست نہ ہوئے۔

اسی وجہ سے وہابیوں کی تاریخ میں آل سعود کی تاریخ اہم کردار رکھتی ہے، خاندان آل سعود، حافظ وھبہ کی تحریر کے مطابق قبیلہ ”عَنَزَہْ“ سے تعلق رکھتا تھاجن کی نجد علاقہ میں چھوٹی سی حکومت تھی، جن کی جزیرہ نما عربستان میں کوئی حیثیت نہیں تھی، لیکن جب محمد بن عبد الوہاب، محمد بن سعود کے پاس گیا اور دونوں نے آپس میں ایک دوسرے کی مدد اور نصرت کرنے کا وعدہ کیا تو محمد بن سعود کے ساتھ سعودی عرب کے دوسرے امیروں اور قبیلوں کے سرداروںمیں جنگ اور لڑائیاں ہونے لگیں، عوام کی اکثریت سعودی امیر کی اطاعت کرتی تھی، لیکن آہستہ آہستہ آل سعود کی حکومت بڑھتی چلی گئی اور نجد اوردوسرے علاقوں میں اس کا مکمل طور پر قبضہ ہوگیا اور وہابیت کے پھیلنے میں بڑی موثر ثابت ہوئی۔

اسی زمانہ سے آج تک یعنی تقریباً(۲۴۰)سال سے نجد کی حکومت اور تقریباً ۲۴۵سال سے نجد اور حجاز کی حکومت اس خاندان کے ھاتھوں میں ہے، صرف تھوڑی مدت کے لئے آل رشید نے نجد پر حکومت کی تھی اور عبد الرحمن بن سعود کو نجد سے باہر نکال دیا تھا (جس کی تفصیل انشاء اللہ بعد میں بیان ہوگی) ورنہ ان کی حکومت کو کوئی طاقت ختم نہ کرسکی یہاں تک کہ عثمانیوں اور محمد علی پاشا کی حکومت نے بھی ان کی حکومت اوران کے نفوذ کو کلی طور پر ختم نہیں کیا۔

آل سعود کی حکومت کا آغاز

خاندان آل سعود کا تعلق عشیرہ مقرن کے قبیلہ (”عَنَزَہ “یا”عُنَیْزَہ“) سے تھا جو نجد اور اس کے اطراف مثلاً قطیف اور احساء میں رہتے تھے۔

سب سے پہلے ان میں سے جو شخص ایک چھوٹی سے حکومت کا مالک بنا اس کا نام ”مانع“ تھا کیونکہ وہ ”یمامہ“ کے امیر کا رشتہ دار تھا جس نے اس کو ”درعیہ“ کے دو علاقوں پر حاکم بنا دیا،مانع کی موت کے بعد اس کی ریاست اس کے بیٹوں کو مل گئی، چنانچہ مانع کے بعد اس کے بیٹے”ربیعہ“ نے حکومت کی باگ ڈورسنبھالی، اس نے آہستہ آہستہ اپنی حکومت کو وسیع کیا اس کے بھی موسیٰ نام کا ایک بیٹا تھا جو بہت ہوشیار اور بھادر تھا، چنانچہ موسیٰ نے اپنے باپ کے ھاتھوں سے حکومت چھین لی اور قریب تھا کہ اس کو قتل کردیتا، یہاں تک کہ اس کی طاقت روز بروزبڑھتی گئی وہ اسی علاقہ کے اطراف میں موجود آل یزید کی حکومت کو گراکر اس پر بھی قابض ہوگیا۔

اس طرح آل مقرن یا قبیلہ عنیزہ نے اپنے لئے ایک مختصر سی حکومت بنالی اور نجد اوراس کے قرب وجوار میں شھرت حاصل کرلی، لیکن جیسا کہ عرض کیا جاچکا ہے کہ اس حکومت کی کوئی خاص حیثیت نہیں تھی یہاں تک کہ محمد بن سعود کی حکومت بنی اور محمد بن عبد الوہاب اور محمد بن سعود میں معاہدہ ہوا۔

”دائرة المعارف اسلامی“ نے درعیہ میں وہابیوں (یا آل سعود) کی حکومت کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے:

۱۔ وہابیت کے آغاز سے مصریوں کے حملہ تک (۱۸۲۰ء) اس وقت درعیہ شھر دار السلطنت تھا۔

۲۔ ترکی اور فیصل آل سعود نے دوبارہ حکومت حاصل کی اس زمانہ ابن رشید حائل کا حاکم تھا(یعنی۱۸۲۰ء سے۱۹۰۲ء تک) اس وقت حکومت کا مرکز ریاض تھا۔

۳۔ ۱۹۰۲ء جب ابن سعود نے آل رشید سے حکومت کو چھین کر اپنے قبضہ میں لے لےا،(۴۹۳) چنانچہ اس وقت سے سعودی حکومت نے بہت تیزی کے ساتھ پیشرفت اور ترقی کی ہے ،سعوی حکومت کو مذکورہ تین حصوں پر تقسیم کرنامناسب ہے کیونکہ ان تینوں حصوں میں ھر حصے کی کیفیت ایک دوسرے سے جدا ہے۔

محمد ابن سعود کون تھا؟

محمد بن عبد الوہاب کے حالات زندگی میں مختصر طور پر بیان کیا گیا کہ محمد بن سعود نے وہابیت کو پھیلانے میں بہت کوشش کی، اور اس بات کی طرف بھی اشارہ کیاگیاکہ محمد بن عبد الوہاب نے اس کو دوسرے علاقوں پر غلبہ پانے کے سنھرے خواب دکھائے ۔

محمد بن سعود نے اپنے مقصد تک پہونچنے کے لئے حسن انتخاب اور اس راستہ میں مستحکم پائیداری کا ثبوت دیا جس کی وجہ سے وہ کبھی مشکلات کے سامنے مایوس نہیں ہوا، اور نہ ہی اس کو مشکلات کا احساس ہوا، اور یہ بات سب کو معلوم ہے کہ جو لوگ ایک طولانی عرصے سے اپنے عقائد پر عمل کرتے آئے ہیں اوردوسروں کے عقائد کو باطل سمجھتے رہے ہیں ان کے سامنے نئے عقائد کو پیش کرنا اوران کو قبول کرانا کوئی آسان کام نہیں تھا، اسی وجہ سے شیخ محمد بن عبد الوہاب اور محمد بن سعودکو شروع شروع میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔(۴۹۴)

حافظ وھبہ صاحب کہتے ہیں کہ۱۱۸۷ھ محمد بن سعود کے لئے بہت سختی کا سال تھا کیونکہ ”عر عر بن خالدی“ احساء کے حاکم، اور” سید حسن بن ھبة اللہ“ نجران کے حاکم نے آپس میں معاہدہ کیا کہ درعیہ شھر پر حملہ کریں اور ان کے نئے مذہب کو نیست ونابود کردیں، اور اس مذہب کے مروّج افراد کو بھی درہم وبرہم کردیں، ادہر سے عرعر اور دوسرے مخالفوں کی فوج ابھی تک نہیں پہونچی تھی کہ محمد بن سعود نے دیکھا کہ اس کا بیٹا ”حائر“ (خرج اور ریاض کا درمیانی علاقہ) علاقہ میں شکست کہاچکا ہے، یہ سب کچھ دیکھ کر محمد بن سعود کوبڑی فکر لاحق ہوئی، لیکن شیخ محمد بن عبد الوہاب نے اس کی حوصلہ افزائی کی۔

اور اسی دوران شیخ محمد بن عبد الوہاب اور محمد بن سعود اور امیر نجران میں صلح ہوگئی(۴۹۵) لہٰذا محمد بن سعود کے لئے در پیش خطرہ ٹل گیا۔

”دائرة المعارف اسلامی “ نامی کتاب اس سلسلہ میں یوں رقمطراز ہے کہ۱۱۵۹ھ میں محمد بن سعود نے محمد بن عبد الوہاب سے مل کر قرب جوار کے علاقوں پر حملہ کردیا اور ان کے تمام مال ودولت کو غارت کرایا، ان سب چیزوں کو دیکھ ان کے دوسرے قرب جوار کے امراء مثلاً بنی خالد (حاکم احساء) یا آل مکرّمی (حاکم نجران) نے ان سے چھیڑ خوانی شروع کی لیکن وہ پھر بھی وہابیت کی پیشرفت کو نہ روک سکے، اور اشراف مکہ(۴۹۶) بھی وہابیوں کو دین سے خارج سمجھتے تھے، لہٰذا ان کو اماکن متبرکہ کی زیارت کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔

زینی دحلان صاحب کہتے ہیں کہ وہابیوںنے کچھ لوگوں کو شریف مسعود کے پاس بھیجا تاکہ ان کو حج کی اجازت مل جائے اور ان کامقصد یہ تھا کہ یہ لوگ اپنے عقائد کو حرمین شریفین کے افراد کے سامنے پیش کریں، البتہ انھوں نے اس سے پہلے بھی تیس علماء پر مشتمل ایک وفد ان کے پاس بھیجا تھا تاکہ مکہ ومدینہ کے لوگوں کے عقائد کو فاسد اور باطل ثابت کیا جاسکے۔

ہاں تک کہ وہابیوں کو حج کی اجازت کے بدلے معین مقدار میں سالانہ ٹیکس دینا بھی منظور تھا، مکہ اور مدینہ کے لوگوں نے وہابیت کے بارے میں سنا تھا، لیکن ان کی حقیقت کے بارے میں معلومات نہیں رکھتے تھے اور جب نجدی علماء (وہابی گروپ) مکہ پہونچے تو شریف مسعود نے حرمین کے علماء کو ان لوگوں سے مناظرہ کرنے کا حکم دیدیا، مناظرے کے بعد شریف مکہ نے اپنے قاضی شریح کو حکم دیا کہ ان لوگوں کے کفر پر ایک تحریر لکھ دے، چنانچہ ان سبھوںکے گلے میں طوق اور پیروں میں زنجیریں ڈال کر زندان بھیج دیا گیا۔(۴۹۷)

۱۱۶۲ھ میں اشراف مکہ نے وہابیوں کے بارے میں تفصیلی رپورٹ عثمانی بادشاہ کے سامنے پیش کی، اور یہ سب سے پہلا موقع تھا کہ عثمانی بادشاہ وہابیت سے آگاہ ہوا، آخر کار محمد بن سعود۱۱۷۹ھ میں تیس سال حکومت کرنے کے بعد اس دنیا سے چل بسا۔(۴۹۸)

عبد العزیز بن محمد بن سعود

عبد العزیز (تاریخ پیدائش۱۱۷۹ھ متوفی۱۲۱۸ھ) محمد بن سعود کا بڑا بیٹا تھا اس نے باپ کے مرنے کے بعد حکومت کی باگ ڈور سنبھالی، اور اپنی حکومت کی توسیع اور وہابیت کی تبلیغ میں بہت کوشش کی، اس نے اپنی حکومت کے تیس سالوں میں ہمیشہ اپنے قرب وجوار کے قبائل سے جنگ وجدال کی،۱۲۰۸ھ میں احساء کے علاقہ کو فتح کیا، یا حافظ وھبہ کے قول کے مطابق :سپاہ اسلام نے احساء کے حاکم بنی خالد کو نیست و نابود کیا،اور احساء اور قطیف کے فتح کرنے کے بعد وہابیوں نے خلیج فارس کے سواحل کا رخ کیا۔

عبد العزیز اور شریف مکہ

ہم نے پہلے یہ بیان کیا کہ محمد بن عبد الوہاب نے کچھ افراد کو اپنے عقائد کو پیش کرنے اور حج کی اجازت کے لئے شریف مسعود کے پاس بھیجا، لیکن شریف مسعود نے ان کی گرفتاری کا حکم صادر کردیا اور ان کے کفر کا حکم دیدیا، اور انھیں حج کی اجازت بھی نہ دی۔

وہابی لوگ شریف مسعود کی موت تک (۱۱۶۵ھ) اعمال حج سے محروم رہے، اور جب شریف مسعود کی موت کے بعد اس کے بھائی مساعد بن سعید نے مکہ کی حکومت حاصل کی تو ایک بار پھر وہابیوں نے حج کی اجازت کے لئے کچھ افراد کو ان کے پاس بھیجالیکن اس نے بھی حج کی اجازت نہیں دی۔

۱۱۸۴ھ میں مساعد شریف مکہ کا بھی انتقال ہوگیا اور اس کا بھائی احمد اس کی جگہ پر بیٹھا تو ایک بار پھر نجدی علماء نے کچھ افراد پر مشتمل وفد کو احمد کے پاس بھیجا تاکہ حج کی اجازت حاصل کریں، اس نے بھی مکی علماء کو وہابی علماء کے عقائد کا پتہ لگانے کا حکم دیا، چنانچہ انھوں نے وہابی علماء کو ”زندیق“(بے دین) قرار دیدیا،اور شریف نے ان کو اعمال حج کی اجازت نہیں د ی۔

۱۱۸۶ھ میں شریف سُرور بن شریف مساعد نے مکہ کی حکومت اپنے چچا کے ھاتھوں سے چھین لی(۴۹۹) اور و ھابیوں کوجزیہ دینے کی شرط پرحج کی اجازت دیدی، لیکن ان لوگوں نے جزیہ دینے سے انکار کردیا،(۵۰۰) اور یہ حق ان کو۱۲۰۲ھ تک حاصل رہالیکن اسی سال شریف غالب، شریف سرور کا جانشین بنا، اور اس نے مذکورہ حق کو ان سے سلب کرلیا، اور عبد العزیز سے آمادہ جنگ ہوگیا۔

عبد العزیز کی بھی ہمیشہ یھی کوشش تھی کہ کسی طرح سے مکہ کو فتح کرلے، اور کسی بھانہ کی تلاش میں تھا، چنانچہ جب اس نے شریف غالب کو آمادہ جنگ دیکھا تو اس نے بھی اپنے لشکر کو مکہ کی طرف روانہ کردیا، اور جب شریف غالب اور عبد العزیز کے درمیان جنگ چھڑی تو یہ جنگ تقریباً نو سال تک جاری رہی، اور اس مدت میں تقریباً پندرہ بڑے حملے ہوئے جس میں کسی ایک کو بھی فتح حاصل نہ ہوئی۔

اس سلسلہ میں ”تاریخ المملکة العربیة السعودیہ“ کے مولف کہتے ہیں :۱۲۰۵ھ میں شریف غالب نے نجدیوں سے لڑنے کے لئے اپنے بھائی عبد العزیز کی سرداری میں دس ہزار کا لشکربھیجا جس کے پاس بیس توپیں بھی تھی، لیکن پھر بھی مذکورہ لشکر فتح یاب نہ ہوسکا۔

مذکورہ کتاب کے مولف نے نجدی وہابیوں کی طرفداری میں بہت مبالغہ کیا ہے، چنانچہکھا جاتا ہے کہ شریف غالب کے عظیم لشکر جس کے ساتھ حجاز، شَمّر اور مُطیّروغیرہ کے بہت لوگ ”قصر بسّام“ کو فتح کر نے کی غرض سے ان کے لشکر میں شامل ہوگئے تھے، جبکہ ان کے فقط تیس لوگ دفاع کرتے تھے اور اسی طرح وہ شعراء نامی علاقہ کو ایک مھینہ محاصرہ کے بعد بھی اس پر قبضہ نہ کرسکے جبکہ اس علاقہ میں چالیس افراد سے زیادہ نہیں تھے۔(۵۰۱)

آخر کار۱۲۱۲ھ میں ”غزوة الخرمہ“ نامی حملہ میں عبد العزیز، شریف غالب کے لشکر پر غالب ہوگیا، لیکن جیسا کہ حافظ وھبہ صاحب کہتے ہیں کہ اس وقت کی سیاست اس بات کا تقاضا کرتی تھی کہ دونوں فریقوں میں صلح برقرار ہوجائے، اور نجدیوں کے لئے صرف حج کا راستہ کھول دیا جائے،۱۲۱۴ھ میں امیر نجد حج کے لئے روانہ ہوا یہ سب سے پہلا موقع تھا کہ کسی نجدی امیر نے اعمال حج انجام دئے، اس سے پہلے یعنی۱۲۱۳ھ میں صرف نجدی عوام حج کے لئے جا چکے تھے۔

بھر حال صلح نامہ پر کچھ ہی مدت تک عمل ہوا، اور پھر یہ صلح ختم ہوگئی، کیونکہ ان میں سے ایک دوسرے پر تہم ت لگاتا تھا کہ اس نے صلح کی شرطوں اورصلح نامہ پر صحیح سے عمل نہیں کیا ہے، نجدیوں کی یہ عام سیاست تھی کہ پورے جزیرة العرب میں ہماری بتائی ہوئی توحیدنافذ ہو، اور ان کے تمام مخالفین ختم ہوجائیں۔

چنانچہ چند سال کچھ آرام سے گذرے، اور۱۲۱۵ھ میں عبد العزیز اور اس کا بیٹا نجد کے بہت سے لوگوں (زن ومرد اور بچوں) کے ساتھ حج کے ارادے سے نکلا اور ابھی سات منزل ہی طے کی تھیں کہ تھکن کا احساس ہونے لگا، اور اسی وجہ سے نجد میں واپس آگئے، لیکن سعود نے جاکر اعمال حج انجام دئے مکہ پہونچ کر شریف مکہ سے ملاقات کی۔(۵۰۲)

اس سفر کا نتیجہ یہ ہوا کہ ”عسیر“، ”تھامہ“ اور ”بنی حرب“ کے قبیلے سعود سے مل گئے اور جب شریف غالب نے یہ خبر سنی تو بہت ناراض ہوا، اسی اثنا میں سعود اور شریف غالب کے کارندوں میں کسی بات پر کچھ اختلاف ہوگیا تو ایک بار پھر دونوں میں جنگ کی تیاریاں شروع ہوگئیں، اوریہ جنگ بھی کئی سال تک ہوتی رہی، اور دونوں فریقوں کے درمیان تیرہ جنگی واقعات پیش آئے ،وہابیوں کی طاقت ہر لحاظ سے شریف غالب کی طاقت سے زیادہ تھی، اسی وجہ سے وہابیوں نے شریف غالب پر دائرہ تنگ کردیا، چنانچہ نجدیوں طائف شھر (مکہ کے نزدیک) پر قبضہ کرلیا۔

جمیل صدقی زھاوی، فتح مکہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہابیوں کے سب سے برے کاموں میں سے (مسلمانوں) کا قتل عام ہے جس میں چھوٹے بڑوں کے علاوہ وہ شیر خوار بچے بھی ہیں جن کو ان کی ماوں کے سینہ سے چھین کر ان کے سروتن میں جدائی کردی، اور ایسے بچوں کو بھی تہہ تیغ کردیا جو قرآن پڑھنے میں مشغول تھے، اور جب گھروں میں کوئی باقی نہیں بچتا تھا تووہاں سے مسجدوںاور دکانوںکا رخ کیا کرتے تھے اور وہاں پر موجود تمام لوگوں کو قتل کردیتے تھے یہاں تک کہ جو لوگ رکوع اور سجدے کی حالت میں ہوتے تھے ان کو بھی قتل کردیا کرتے تھے(۵۰۳) یھی نہیں بلکہ ان کے گھروں میں جو کتابیں قرآن مجید، صحیح بخاری وصحیح مسلم اور حدیث وفقہ کی دوسری کتابیں ہوتی تھیں ان سب کو باہر پھینک کر پامال کردیتے تھے، یہ واقعہ۱۲۱۷ھ میں رونما ہوا،(۵۰۴) اس کے بعد ان لوگوں نے مکہ کا رخ کیا لیکن چونکہ حج کا زمانہ تھا اور اس موقع پر وہاں حملہ کرتے تو تمام حجاج مل کران سے جنگ کے لئے تیار ہوجاتے اسی وجہ سے انھوں نے حج کا زمانہ گذر جانے تک صبر کیا، اور جب حجاج اپنے اپنے وطن لوٹ گئے تو انھوں نے مکہ پر حملہ شروع کردیا۔(۵۰۵)

نجدی علماء کے نام مکی علماء کا جواب

شاہ فضل رسول قادری (ہندی) متوفی۱۲۸۹ھ سیف الجبار نامی کتاب میں اس خط کو پیش کرتے ہیں جس کو نجدی علماء نے طائف میں قتل وغارت کے بعد مکی علماء کے نام لکھا ہے ،اور اس کے بعد مکی علماء کا جواب بھی نقل کیا، اور خود موصوف نے بھی بعض جگہوں پر فارسی زبان میں کچھ توضیحات دیں ہیں، مکہ کے علماء نجدیوں کے خط کا جواب دینے کے لئے نماز جمعہ کے بعد خانہ کعبہ کے دروازہ کے پاس کھڑے ہوئے اور اس مسئلہ کے بارے میں گفتگو کی اس جلسہ کے صدر جناب احمد بن یونس باعلوی نے ان کی باتوں کو قلم بند کرنے کے لئے کہا، (چنانچہ وہ خط لکھا گیا)

نجدیوں کی باتیں اور مکی علماء کا جواب

شاہ فضل قادری کی توضیحات کے ساتھ تقریباً(۸۹)ستونوں (ھر صفحہ میں دو ستون) میں ذکر ہوا ہے، یہ باتیں جو ہم ذکر کریں گے وہ نجدیوں کے خط کے باب اول (باب الشرک) اور باب دوم (باب البدعة) سے متعلق ہیں۔

اس خط کو لکھنے والے احمد بن یونس باعلوی خط کے آخری حصے میں لکھتے ہیں، کہ باب اول کے بارے میں ہمارا نظریہ تمام ہوا، نماز عصر کا وقت قریب آگیا، اور نماز پڑھی جانے لگی اور علماء اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے، شیخ عمر عبد الرسول اور عقیل بن یحيٰ علوی اور شیخ عبد الملک اور حسین مغربی اس خط کا املاء بول رہے تھے۔

اور جب علماء نماز سے فارغ ہوئے تو دوسرے باب (یعنی باب البدعة) کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی کہ اچانک طائف کے ستمدیدہ اورمظلوم لوگ مسجد الحرام میں وارد ہوئے اور لوگوں کو اپنی روداد سنائی اور ان کو یہ خبر بھی دی کہ نجدی مکہ میں بھی آئےں گے، اور یہاں آکر قتل وغارت کریں گے۔

چنانچہ اہل مکہ نے جب یہ خبر سنی تو بہت پریشان ہونے لگے گویا کہ قیامت آنے والی ہے، علماء مسجد الحرام کے منبر کے پاس جمع ہوگئے اور جناب ابوحامد منبر پر تشریف لے گئے اور نجدیوں کا خط اور اس کا جواب لوگوں کو پڑھ کر سنانے لگے۔

اور اس کے بعد علماء، قضات اور مفتیوں سے خطاب کیا آپ حضرات نے نجدیوں کی باتوں کو سنا اور ان کے عقائد کو جان لیا اب ان کے بارے میں آپ لوگوں کی کیا رائے ہے؟۔

اس وقت تمام علماء، قضات اوراہل مکہ اور دوسرے اسلامی ملکوں سے آئے حاجی مفتیوں نے نجدیوں کے کفر کا فتویٰ دیا اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہا کہ امیر مکہ پر ان سے مقابلہ کے لئے جلدی کرنا واجب ہے اور تمام مسلمانوں پر بھی ان کی حمایت اور مدد کرنا واجب ہے، اور ان کے مقابلہ میں شرکت کرنا واجب ہے اور اگر کوئی شخص بغیر عذر خواہی کے جنگ سے منھ موڑے گا تو وہ شخص گناہکار ہے،اور ان لوگوں سے جنگ کرنے والا مجاہد ہے اور اسی طرح ان کے ھاتھوں سے قتل ہو نے والا شخص شھید ہوگا۔

علماء اور مفتیوں نے اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے مذکورہ فتوے پر اپنی اپنی مھر لگائی، اور نماز مغرب کے بعد شریف مکہ کے حضور میں پہونچے اور سب لوگوں نے مل کر یہ طے کرلیا کہ جنگ کے لئے تیار ہوجائیں اور کل صبح کے وقت نجدیوں سے مقابلہ کرنے کے لئے حدود حرم سے خارج ہوجائیں۔(۵۰۶)

لیکن شریف غالب مکہ میں نہ رہ سکے، اسی بنا پر اپنے بھائی عبد المعین کو مکہ میں اپنا جانشین بنایا اور خود جدّہ بندرگاہ نکل گئے، لیکن عبد المعین سعود سے مل بیٹھا اور ایک خط لکھ کر اس سے امان چاہی، اور اس نے اپنے خط میں یہ بھی لکھا کہ اہل مکہ آپ کی پیروی کرنے کے لئے حاضر ہیں، اور وہ خود بھی سعود کی طرف سے مکہ کا والی ہونا پسند کرتا ہے۔

شریف کے بھیجے ہوئے افراد سب لوگ بزرگ ہستیاں تھیں، اور ”وادی السّیل“ (طائف اور مکہ کے درمیان) میں سعود سے ملاقات کی۔

چنانچہ ان کے درمیان ضروری گفتگو انجام پائی، اس گفتگو کے بعد سعود نے عبد المعین کی اس پیشکش کو بھی قبول کرلیاجو اس نے اپنے خط میں لکھی تھی، اور اہل مکہ کو دین خدا و رسول کی طرف دعوت دی، اور اپنے ایک خط میں عبد المعین کو مکہ کا والی مقرر کیا، عبد المعین کے بھیجے ہوئے افراد بھی صحیح وسالم مکہ پلٹ گئے، سعود کا خط ۷محرم الحرام۱۲۱۸ھ کو روز جمعہ مفتی مالکی کے ذریعہ سب کے سامنے پڑھا گیا۔

خط کی عبارت اس طرح ہے:

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمْ

” مِنْ سُعُوْدْ بِنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ اِلٰی كَافَّةِ اَهْلِ مَكَّةَ وَالْعُلَمَاءِ وَالاَغَاوٰاتِ وَقَاضِی السُّلْطَانِ

اَلسَّلاٰمُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْهُدیٰ اَمَّا بَعْد:

فَاَنْتُمْ جِیْرَانُ اللّٰهِ وَسُكَّانُ حَرَمِه، آمِنُوْنَ بِامْنِه، اِنَّمَا نَدْعُوكُمْ لِدِیْنِ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهِ

( قُلْ یَا اَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا اِلٰی كَلِمَةٍ سِوَاءٍ بَیْنَنَا وَبَیْنَكُمْ اَنْ لاٰ نَعْبُدَ اِلّٰا اللّٰهَ وَ لاٰ نُشْرِكَ بِه شَیْئاً وَلاٰ یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضاً اَرْبَاباً مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ، فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوْااَشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ )

فَاَنْتُمْ فِی وَجْهِ اللّٰهِ وَ وَجْهِ اَمِیْرِ الْمُسْلِمِیْنَ سُعُوْد بِنْ عَبْدِ الْعَزِیْزِ وَاَمِیْرُكُمْ عَبْدُ الْمُعِیْنِ بْنُ مُسَاعِدِ فَاسْمَعُوْا لَهُ وَاَطِیْعُوْا مَا اَطَاع َاللّٰهَ وَالسَّلاٰمْ“

(شروع کرتا ہوں اس اللہ کے نام سے جو بڑا رحمن اور رحیم ہے ،یہ خط سعود بن عبد العزیز کی طرف سے تمام اہل مکہ، علماء، خواجگان(۵۰۷) اور سلطان عثمانی کی طرف معین قاضی کی طرف، سلام ہو ان لوگوں پر جنھوں نے ہدایت کا اتباع کر لیا ہے ،اما بعد: (بعد از حمد خدا اور درود سلام بر پیغمبر اکرم)

تم لوگ خدا کے ہمسایہ اور پڑوسی ہو اور اس کی امان، خانہ خدا میں رہتے ہو، خدا کی امان سے امان میں ہو، ہم تم کو دین خدا اوردین رسول اللہ کی دعوت دیتے ہیں۔

”اے پیغمبرآپ کہہ دیں کہ اے اہل کتاب آو اور ایک منصفانہ کلمہ پر اتفاق کرلیں کہ خدا کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کریں، کسی کو اس کا شریک نہ بنائیں، آپس میں ایک دوسرے کو خدا کا درجہ نہ دیں، اوراگر اس کے بعد بھی یہ لوگ منھ موڑیں تو کہہ دیجئے کہ تم لوگ بھی گواہ رہنا کہ ہم لوگ حقیقی مسلمان اور اطاعت گذار ہیں“

تم لوگوں کو چاہئے کہ خدا اور سعود امیر مسلمین کی راہ پر چلو، اور تمھارا والی عبد المعین بن مساعد ہے اس کی باتوں کو سنو، اورجب تک وہ خدا کی اطاعت کرے تم سب اس کی اطاعت کرو والسلام۔)

سعود(۸)محرم کوبحالت احرام مکہ میں وارد ہوا، طواف اور سعی کے بعد شریف غالب کے باغ میں مہم ان ہوا، اس کے بعد مسجد الحرام گیا اور لوگوں کے سامنے ایک تقریر کی جس میں اہل مکہ کو توحید کی دعوت دی، اور ایک دوسری تقریر کے درمیان تمام لوگوں کے لئے یہ حکم صادر کیا کہ جتنی قبروں پر بھی گنبد ہیں سب کو گرادو۔(۵۰۸)

اس سلسلہ میں ”جبرتی“ کہتا ہے کہ بہت سے اہل مکہ دوسرے حجاج کے ساتھ وہابیوں کے سامنے سے بھاگ نکلے، کیونکہ لوگ وہابیوں کے عقائد کے برخلاف عقائد رکھتے تھے، مکہ کے علماء اور عوام الناس وہابیوں کو خوارج اور کافر کہتے تھے، صرف اہل مکہ ہی نہیں بلکہ دوسرے لوگ بھی ان عقائد کے برخلاف اظھار عقیدہ کرتے تھے۔

اس کے بعد وہابیوں کے رئیس (سعود) نے یمن کے امیر حجاج کو بھی ایک خط لکھا اورکئی صفحات میں اپنے عقائد لکھ کر بھیجا، سعود نے اس خط میں جس کو جبرتی نے نقل کیا ہے، اس بات پر توجہ دلائی کہ جو لوگ مُردوں سے لَو لگاتے ہیں ان سے حاجت طلب کرتے ہیں، قبروں کے لئے نذر یا قربانی کرتے ہیں یا ان سے استغاثہ کرتے ہیں، یہ نہ کریں اس نے لوگوں کو بہت ڈرایا دہمکایا، اسی طرح انبیاءعلیهم السلاماولیاء اللہ کی قبور کی تعظیم کرنا قبروں پر گنبد بنانا، ان پر چراغ جلانا قبروں کے لئے خدمت گذار معین کرنا وغیرہ وغیرہ ان سب کی شدت کے ساتھ ممانعت کردی، قبروں کی گنبدوں کو ویران اور مسمار کرنے کو واجب قرار دیا، ساتھ ساتھ یہ بھی اعلان کیا کہ جو شخص بھی ہمارے عقائد کو قبول نہیں کرے گا ہم اس سے جنگ کریں گے۔(۵۰۹)

زینی دحلان کہتے ہیں کہ وہابی افراد مکہ میں چودہ دن رہے، اس دوران انھوں نے وہاں کے مسلمانوں سے توبہ کرائی اور اپنے خیال خام میں انھوں نے لوگوں کے اسلام کو تازہ کیا اور جو عقائد مثلاً توسل اور زیارات، شرک تھے ان سب کو ممنوع قرار دیا۔(۵۱۰)

اپنے قیام کے نویں دن وہابیوں نے کثیر تعداد میں لوگوں کو جمع کیا جن کے ھاتھوں میں بیلچے (پھاوڑے)تھے تاکہ اس علاقہ میں موجود قبروں کی گنبدوں کو مسمار کردیں، سب سے پہلے انھوں نے قبرستان ”معلی“(۵۱۱) جہاں بہت سی گنبدیں تھیں،سب کو مسمار کردیا اس کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جائے ولادت اسی طرح ابوبکر اور حضرت علیںکی جائے ولادت، اسی طرح جناب خدیجہ کی گنبد، نیز چاہ زمزم پر موجود قبہ اور خانہ کعبہ کے اطراف میں موجود تمام قبروں کو نیز خانہ کعبہ سے اونچی تمام عمارتوں کو مسمار کردیا۔

اس کے بعد ان تمام مقامات کو مسمار کردیا جہاں پر خدا کے صالح بندوں کے کچھ بھی آثار تھے، وہابی حضرات جس وقت قبروں اور گنبدوں کو مسمار کرتے تھے تو طبل بجاتے تھے اور رجز پڑھتے تھے، اور صاحب قبور کو برے برے الفاظ سے یاد کرتے تھے، چنانچہ انھوں نے تین دن کے اندر تمام آثار اور قبور کو نیست ونابود کردیا۔(۵۱۲)

ابن بشر صاحب کہتے ہیں کہ سعود تقریباً بیس دن سے زیادہ مکہ میں رہا اور اس کے ساتھی صبح سویرے ہی قبروں اور گنبدوں کو گرانے کے لئے نکل جاتے تھے یہاں تک کہ یہ کام دس دن میں تمام ہوگیا، اور یہ لوگ اس کام میں خدا کا تقرب سمجھتے تھے یہاں تک کہ انھوں نے تمام قبور کو منہدم کردیا۔(۵۱۳)

سعود کے دیگر کارنامے اور شریف غالب کی واپسی

سعود نے ایک انوکھا حکم یہ صادر کیا کہ نماز عشاء کے علاوہ مذاہب اربعہ کے پیروکاروں کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ ایک ساتھ مسجد الحرام میں نماز میں شریک ہوں، بلکہ صبح کی نماز میں شافعی ظھر کی نماز میں مالکی عصر کی نماز میں حنفی مغرب کی نماز میں حنبلی اور نماز جمعہ مفتی مکہ سے مخصوص کردی گئی۔(۵۱۴)

سعود نے یہ بھی حکم صادر کیا کہ محمد بن عبد الوہاب کی کتاب کشف الشبھات کو مسجد الحرام میں پڑھایا جائے اور تمام خاص وعام اس میں شریک ہوں۔

سعود ۲۴دن مکہ میں رہا اس کے بعد شریف غالب کی گرفتاری کے لئے جدہ روانہ ہوا، اور اس علاقہ کو گھیر لیا لیکن چونکہ جدّہ کے اطراف میں اونچی اونچی پھاڑیاں ہیں اور ان کے دفاع کے وسائل بھی بہت مضبوط تھے جس کی بناپر سعود، شریف غالب کو گرفتار نہ کرسکا اور مایوس ہوکر نجد پلٹ گیا۔

شریف غالب نے مکہ میں سعود کے نہ ہونے سے فائدہ اٹھایا اور مکہ واپس آگئے، اور اپنے بھائی عبد المعین کی طرح بغیر کسی روک ٹوک کے شھر کو اپنے قبضہ میں کر لیا،(۵۱۵) لیکن وہابی راضی نہ تھے کہ مکہ معظمہ ان کے ھاتھوں سے چلا جائے، شریف غالب بھی چاہتے تھے کہ پہلے کی طرح مکہ میں حکمرانی کریں ،اسی وجہ سے دونوں میں ایک بار پھر جنگ کا بازار گرم ہوگیا، ذیقعدہ۱۲۲۰ھ تک یہ جنگ چلتی رہی، پھر صلح ہوگئی، جس میں طے پایا کہ وہابی لوگ صرف حج کے لئے مکہ معظمہ میں داخل ہونگے اور پھر واپس چلے جایا کریں گے۔

شریف غالب بھی وہابیوں سے جنگ کرتے ہوئے تھک چکے تھے اپنے اندر مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں پارہے تھے، اور اپنی پہلی حکمرانی پر باقی بھی رہنا چاہتے تھے،لہٰذا اس کے پاس ظاہری طور پر وہابی مذہب کو قبول کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا، اور یہ کہ وہابی حضرات جو چاہیں عمل کرےں، اور صلاح الدین مختار کے قول کے مطابق خدا اور اس کے رسول کے دین کو قبول کرنے میں سعود کی بیعت کریں۔(۵۱۶)

شریف غالب نے اپنے خلوص کو سعود کے نزدیک ثابت کرنے کے لئے لوگوں کو حکم دیا کہ جو گنبد اور مقبرے باقی رہ گئے ہیں ان سب کو گرادیا جائے کیونکہ بعض مقبروں کو وہابیوں نے نہیں گرایا تھا چنانچہ اس نے مکہ معظمہ اور جدّہ میں کوئی مقبرہ نہیں چھوڑا، لیکن پھر بھی شریف غالب کے ھاتھوں کچھ ایسے کام ہوتے رہتے تھے جن کی وجہ سے سعود اس سے بد گمان رہتا تھا۔

شریف غالب کے قابل توجہ کاموں میں سے ایک یہ تھا کہ وہ تاجر لوگوں سے ٹیکس لیتا تھا اور سعود اعتراض کرتا تھا تو یہ کہتا تھا کہ یہ لوگ مشرک ہیں (اس کا مقصد یہ تھا کہ چونکہ یہ لوگ وہابی نہیں ہیںلہٰذا مشرک ہیں) اور میں یہ ٹیکس مشرکوں سے لے رہا ہوں مسلمانوں سے نھیں۔(۵۱۷)

مدینہ پر قبضہ

۱۲۲۰ھ میں سعود نے مدینہ پر بھی قبضہ کرلیا، اور روضہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قیمتی چیزوں کواپنے قبضے میں لے لیا،اس نے عثمانی بادشاہوں کی طرف سے مکہ اورمدینہ میں معین کئے گئے قاضیوں کو بھی شھر سے باہر نکال دیا۔(۵۱۸)

صلاح الدین مختار صاحب کی تحریر کے مطابق جس وقت مدینہ کی اہم شخصیات نے یہ دیکھ لیا کہ شریف غالب سعود سے بیعت کرنے کے خیال میں ہے تو انھوں نے سعود کو پیشکش کی کہ اہل مدینہ دین خدا ورسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور سعود کی اطاعت کو قبول کرلے، یعنی ان کی بیعت کو قبول کرلے، انھوں نے یہ پیش کش کرنے کے بعد مدینہ منورہ میں موجود گنبدوں اور مقبروں کو گرانا شروع کردیا۔(۵۱۹)

اس طرح وہابیوں نے ایک بہت بڑی حکومت تشکیل دی کہ جس میں نجد اور حجاز شامل تھے اور عثمانی کارندوں کو باہر نکال دیا، نیز عثمانی بادشاہوں کا ذکر خطبوں سے نکال دیا، اور وہ اسی پر قانع نہیں ہوئے بلکہ عراق کا رخ کیا مخصوصاً عراق کے دو مشہور شھر کربلائے معلی اور نجف اشرف پر حملے کئے۔

کربلا اور نجف اشرف پر وہابیوں کاحملہ

ابتداسے ہی آل سعوداور عراقیوں میں جو اس زمانہ میں عثمانی بادشاہ کے تحت تھے، لڑائی جھگڑے ہوتے رہتے تھے اور وہابی لوگ عراق کے مختلف شھروں پر حملہ کرتے رہتے تھے، لیکن عراق کے دومشہور شھر نجف اور کربلا پر حملہ ایسا نہیں تھا جو مختلف شھروں پر ہوتا رہتا تھا، بلکہ اس حملہ کا انداز کچھ اور ہی تھا اور اس حملہ میں مسلمانوں کا قتل عام اور حضرت امام حسینںکے روضہ مبارک کی توھین کے طریقہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے مذکورہ کاموں کا بنیادی مقصد ان کے مذہبی عقائد تھے اور وہ بھی شدت اور تعصب کے ساتھ، کیونکہ انھوں نے تقریباً دس سال کی مدت میں کئی مرتبہ ان دونوں شھروں پر حملہ کیا ہے۔

ہم نے پہلے بھی عرض کیا ہے کہ ابن تیمیہ اور اس کے مرید اس وجہ سے شیعوں سے مخالفت اور دشمنی رکھتے تھے کہ ان کو قبروں پر حج کرنے والے یا قبروں کی عبادت کرنے والے کہا کرتے تھے اور بغیر کسی تحقیق کے ان کا گمان یہ تھا کہ شیعہ حضرات اپنے بزرگوں کی قبروں کی پرستش کرتے ہیں اور خانہ کعبہ کا حج کرنے کے بجائے قبور کا حج کرتے ہیں، اور اسی طرح کے دوسرے امور جن کی تفصیل ہم نے پہلے بیان کی ہے، سب کی بڑی وضاحت کے ساتھ تردید بھی کردی ہے۔

بھر حال چونکہ یہ دو شھر،(کربلا اور نجف اشرف) شیعوں کے نزدیک خاص اہمیت کے حامل تھے اور ہیں، اس بناپر ان دونوں زیارتگاہوں پر بہت بہترین، اور عمدہ گنبدیں بنائی گئی ہیں اوربھت سا نذر کا سامان اوربھت سی چیزیں ان روضوں کے لئے وقف کرتے ہیں اور ہر سال ہزاروں کی تعداد میں دور اور نزدیک سے مومنین کرام زیارت کے لئے جاتے ہیں، اور جیسا کہ پہلے بھی عرض کرچکے ہیںوہابی لوگ اپنی کم علمی کی وجہ سے بہت سے شبھات اوراعتراضات کے شکار تھے جن کی بناپر شیعوں سے بہت زیادہ تعصب رکھتے تھے اور ہمیشہ ایسی چیزوں کی تلاش میں رہتے تھے جن کے ذریعہ اپنے مقصد تک پہونچ سکیں۔

دائرة المعارف اسلامی کی تحریر کے مطابق، ”خزائل نامی شیعہ قبیلہ“ کی طرف سے نجدی قبیلہ پر ہوئی مار پیٹ کو انھوں نے کربلا اور نجف پر حملہ کرنے کا ایک بھانہ بنا لیا۔(۵۲۰)

کربلا اور نجف پر وہابیوں کے حملے۱۲۱۶ھ میں عبد العزیز کے زمانہ سے شروع ہوچکے تھے جو۱۲۲۵ھ سعود بن عبد العزیز کی حکومت کے زمانہ تک جاری رہے۔

ان حملوں کی تفصیل وہابی اور غیر وہابی مولفوں نے لکھی ہے اور اس زمانہ کی فارسی کتابوں میں بھی یہ واقعات موجود ہیں، نجف اشرف کے بعض علمائے کرام جو ان حملوں کے خود چشم دید گواہ ہیں اور ان میں سے بعض اپنے شھر کے دفاع میں مشغول تھے انھوں نے ان تمام چیزوں کو اپنی کتابوں میں لکھاہے جن کو خود انھوں نے دیکھا ہے یا دوسروں سے سنا ہے، ہم یہاںپر ان کی کتابوں سے بعض چیزوں کو نقل کرتے ہیں:

کربلا پر حملہ

وہابی مولف صلاح الدین مختار اس سلسلہ میں کہتے ہیں:

”۱۲۱۶ھ میں امیر سعود (ابن عبد العزیز) نے اپنی پوری طاقت کے ساتھ نجد اور عشایر کے لوگوں کے ساتھ اوراسی طرح جنوب ،حجاز اور تھامہ وغیرہ کے لوگوں کی ہمراہی میں عراق کا رخ کیا اور ذیقعدہ کو شھر کربلا پہونچ کر اس شھر کو گھیر لیا، اور اس لشکر نے شھر کی دیوار کو گرادیا، اور زبردستی شھر میں داخل ہوگئے کافی لوگوں کو گلی کوچوں میں قتل کرڈالا اور ان کے تمام مال ودولت لوٹ لیا، اور ظھر کے وقت تک شھر سے باہر نکل آئے اور ” ماء الابیض “ نامی جگہ پر جمع ہوکر غنیمت کی تقسیم شروع ہوئی اور مال کا پانجواں حصہ (یعنی خمس) سعود نے لے لیا اور باقی مال کو اس طرح اپنے لشکر والوں میں تقسیم کیا کہ پیدل کو ایک اور سوار کو دوحصّے ملے“۔(۵۲۱)

پھر چند صفحہ بعد لکھتے ہیں کہ امیر عبد العزیز بن محمد بن سعود ایک عظیم لشکر کو اپنے بیٹے سعود کی سرداری میں عراق بھیجا جس نے ذیقعدہ۱۲۱۶ھ میں کربلا پر حملہ کیا۔

صلاح الدین مختار صاحب، ابن بشر(۵۲۲) کی باتوں کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ امیر سعود نے اس شھر پر حملہ کیا جس کا شیعوں کی نظر میں احترام کرنا ضروری ہے۔(۵۲۳)

شیخ عثمان بن بشر نجدی مورخ مذکور واقعہ کی تفصیل اس طرح بیان کرتے ہیں کہ ذی قعدہ۱۲۱۶ھ میں سعود بھاری لشکر کے ساتھ جس میں بہت سے شھری اور خانہ بدوش (نجد، جنوب، حجاز اور تھامہ وغیرہ کے) تھے حضرت امام حسین کی بارگاہ کربلا کا رخ کیا اور شھر کے باہر پہونچ کر پڑاو ڈال دیا۔

مذکورہ لشکر نے شھر کی دیوار کوگرادیااور شھر میں داخل ہوگئے اور شھر میں پہونچنے کے بعد گھروں اوربازاروں میں موجود لوگوں کا قتل عام کردیا، اور حضرت امام حسین ں کی گنبد کو بھی گرادیا، اور آپ کی قبر پر موجود ہ صندوق (ضریح) جس پر یاقوت اور دیگر جواہر ات لگے ہوئے تھے اس پر قبضہ کرلیا، اور ان کے تمام مال ودولت، اسلحہ، لباس، فرش، سونا چاندی بہترین اور نفیس قرآن کو مال غنیمت میں لے لیا نیز اس کے علاوہ تمام چیزوں کو غارت کردیا، اور ظھر کے وقت شھر سے باہرنکل گئے، اس حملہ میں وہابیوں نے تقریباً دو ہزار لوگوں کو قتل کیا ۔(۵۲۴)

شیعوں کے عظیم عالم دین مرحوم علامہ سید جواد عاملی ،نجف اشرف پر وہابیوں کے حملہ کے چشم دید گواہ ہیں، وہ وہابی مذہب کی پیدائش کے ضمن میں اس طرح فرماتے ہیں کہ۱۲۱۶ھ میں حضرت امام حسین ں کے روضہ مبارک کو غارت کردیا چھوٹے بڑوں کو قتل کر ڈالا لوگوں کے مال ودولت کو لوٹ لیا خصوصاً حضرت امام حسین ں کے روضہ کی بہت زیادہ توھین کی اور اس کو گراڈالا۔(۵۲۵)

جن شیعہ مولفوں نے کربلا کے قتل عام کی تاریخ(۱۸)ذی الحجہ (عید غدیر)۱۲۱۶ ھ ق۔ بیان کی ہے ان میں سے ایک صاحب ”روضات الجنات“بھی ہیں جنھوں نے مولیٰ عبد الصمد ہمدانی حائری کے حالات زندگی کے ضمن میں فرمایاہے: بروز چھار شنبہ(۱۸)ذی الحجہ (عید غدیر)۱۲۱۶ ھ ق۔ کا دن تھا کہ وہابیوں نے مرحوم ہمدانی کو اپنی مکاریوں کے ساتھ گھر سے نکالا اور شھید کردیا۔(۵۲۶)

لیکن اس واقعہ کی تفصیل ڈاکٹر عبد الجواد کلید دار (جو خود کربلا کے رہنے والے ہیں) اپنی کتاب تاریخ کربلا وحائر حسینی میں ”تاریخِ کربلائے معلی“ (ص ۲۰، ۲۲)سے کچھ اس طرح نقل کرتے ہیں :

” ۱۲۱۶ھ میں وہابی امیر سعود نے اپنے بیس ہزار جنگجو بھادروں کا لشکر تیار کیا اور کربلا شھر پر حملہ ور ہوا، اس زمانہ میں کربلا کی بہت شھرت اور عظمت تھی اور ایرانی ،ترکی اورعرب کے مختلف ممالک سے زائرین آیا کرتے تھے، سعود نے پہلے شھر کو گھیرا اور اس کے بعد شھر میں داخل ہوگیا، اور دفاع کرنے والوں کاشدید قتل عام کیا، شھر کے اطراف میں خرمے کی لکڑیوں اور اس کے پیچھے مٹی کی دیوار بنی ہوئی تھی جس کو انھوں نے توڑ ڈالا۔

وہابی لشکر نے ظلم اور بربریت کا وہ ناچ ناچا جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا، یہاںتک کہ کہا یہ جاتا ہے کہ ایک ہی دن میں انھوں نے بیس ہزار لوگوں کا قتل عام کیا۔(۵۲۷)

اور جب امیر سعود کا جنگی کام ختم ہوگیا تو وہ حرم مطھر کے خزانہ کی طرف متوجہ ہوا، یہ خزانہ بہت سی نفیس اور قیمتی چیزوں سے بھرا ہوا تھا، وہ سب اس نے لوٹ لیا، کہا یہ جاتا ہے کہ جب ایک خزانہ کے دروازہ کو کھولا تو وہاں پر کثیر تعداد میں سكّے دکھائی دئے اور ایک گوھر درخشان جس میں بیس تلواریں جو سونے سے مزین تھیں اور قیمتی پتھر جڑے ہوئے تھے اسی طرح سونے چاندی کے برتن اور فیروزہ اور الماس کے گرانبھا پتھر تھے ان سب کو لوٹ لیا، اسی طرح چار ہزار کشمیری شال، دوہزار سونے کی تلواریں اور بہت سی بندوقیں اور دیگر اسلحوں کو غارت کرلیا۔

اس حادثہ کے بعد شھر کربلا کی حالت یہ تھی کہ شاعر لوگ اس کے لئے مرثیہ کہتے تھے، اور جو لوگ اپنی جان بچا کر بھاگ نکلے تھے، شھر میں لوٹ آئے، اور بعض خراب شدہ چیزوں کے ٹھیک کرنے کی کوشش کرنے لگے۔

”لونکریک“ نے اپنی تاریخ (چھار قرن از عراق)میں لکھا ہے کہ اس واقعہ کو دیکھ کر اسلامی ممالک میں ایک خوف ووحشت پھیل گئی۔(۵۲۸)

مذکورہ مولف دوسری جگہ پر ”لونکریک“ سے نقل کرتے ہوئے اس طرح لکھتے ہیں وہابیوں کے کربلا سے نزدیک ہونے کی خبر۲نیسان(جولائی)۱۸۰۱ء کو شام کے وقت پہونچی اس وقت کربلا کے لوگوں کی کثیرتعداد زیارت کے لئے (عید غدیر کی مناسبت سے) نجف اشرف گئی ہوئی تھی، جو لوگ شھر میں باقی تھے انھوں نے جلدی سے شھر کے دروازے بند کردئے، وہابیوں کی تعداد ۶۰۰پیدل اور(۴۰۰)سوار تھے، چنانچہ شھر سے باہر آکر جمع ہوگئے اور اپنے خیمہ لگادئے اوراپنے کہانے پینے کی چیزوں کو تین حصوں میں تقسم کیا اور ”باب المخیم“ نامی محلہ کی طرف سے دیوار توڑ کر ایک گھر میں داخل ہوگئے اوروہاں سے نزدیک کے دروازے پر حملہ کردیا اور پھر شھر میں داخل ہوگئے ۔

اس موقع پر خوف ودہشت کی وجہ سے لوگوں نے ناگھانی طور پر بھاگنا شروع کردیا، وہابیوں نے حضرت امام حسین ں کے روضہ کا رخ کیا، اور وہاں پر توڑ پھوڑ شروع کردی، اور وہاں پر موجود تمام نفیس اور قیمتی چیزوں کو جن میں سے بعض ایران کے بادشاہوں اور دیگر حكّام نے نذر کے طور پر بھیجی تھی ان تمام چیزوں کو غارت کرلیا، اسی طرح دیوار کی زینت اور چھت میں لگے سونے کو بھی ویران کرڈالا، قیمتی قالینوں ،قندیلوں اور شمعدانوں وغیرہ کو بھی لوٹ لیا، اور دیواروں میں لگے جواہرات کو بھی نکال لیا۔

ان کے علاوہ ضریح مبارک کے پاس تقریباً ۵۰لوگوں کو اور صحن میں ۵۰۰لوگوں کو قتل کردیا، وہ لوگ جس کو بھی پاتے تھے وحشیانہ طریقہ سے قتل کردیا کرتے تھے، یہاں تک کہ بوڑھوں اور بچوں پر بھی کوئی رحم نہیں کیا، اس حادثہ میں مرنے والوں کی تعداد کو بعض لوگوں نے ایک ہزار اوربعض لوگوں نے پانچ ہزار بتائی ہے۔(۵۲۹)

سید عبد الرزاق حسنی صاحب اس سلسلہ میں فرماتے ہیں کہ۱۲۱۶ھ میں وہابیوں کے لشکر نے جس میں (۶۰۰)اونٹ سوار اور(۴۰۰)گھوڑے سوار تھے کربلا پر حملہ کردیا اور یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب اکثر لوگ نجف اشرف کی زیارت کے لئے گئے ہوئے تھے۔

حملہ آوروں نے حضرت امام حسینں اور جناب عباسں کے روضوں کو بہت زیادہ نقصان پہونچایا، اور ان دونوں روضوں میں جوکچھ بھی تھا وہ سب غارت کردیا، اور ساری قیمتی چیزیں جیسے قیمتی پتھر ”ساج“ کی لکڑی، بڑے بڑے آئینے اور جن ہدیوں کو ایران کے وزیروں اور بادشاہوں نے بھیجا تھا ان سب کو لوٹ لیا، اور در ودیوار میں لگے قیمتی پتھروں کو ویران کردیا اور چھت میں لگے سونے کو بھی لے گئے اور وہاں پر موجود تمام قیمتی اور نفیس قالینوں، قندیلوں اور شمعدانوں کو بھی غارت کرلیا۔(۵۳۰)

قارئین کرام!جیسا کہ آپ حضرات نے ملاحظہ کیا کہ مختلف کتابوں نے وہابیوں کی تعداد اور مقتولین کی تعداد میں اختلاف کیا ہے ۔ لیکن وہابی مولف کی تحریر کے مطابق جس کو ہم نے پہلے ذکر کیا ہے اور دوسرے شواہد کی بناپر وہابیوں کی تعداد بیس ہزار اورمرنے والوں کی تعداد پانچ ہزار سے زیادہ صحیح دکھائی دیتی ہے۔

حسینی خزانہ کے بارے میں

حاج زین العابدین شیروانی صاحب جو تقریباً محمد بن عبد الوہاب کے ہم عصر تھے اور ایک طولانی مدت سے کربلا میں مقیم تھے اور کربلا پر وہابیوں کا حملہ ا نہیں کے زمانہ میں رونما ہوا ہے، موصوف اپنی کتاب ” حدائق السیاحہ“ میں وہابیوں کے حملے کی تفصیل اس طرح لکھتے ہیں: ”روضہ امام حسین ں کا تمام زر وزیور، قندیلیں، سونے اور چاندی کے ظروف اورجواہر وغیرہ سب وہ (وہابی) ظالم لوٹ لے گئے اور باقی تمام دوسری چیزیں غارت کردیں، سوائے وہ سامان جو ان کے پہونچنے سے پہلے پہلے کاظمین پہونچادیا گیا تھا بچ گیا۔

میر عالم صاحب جو دکھن (ہند وستان) کے نوابوںمیں سے تھے انھوں نے اس واقعہ کے بعد کربلا شھر کے چاروں طرف دیوار بنوائی اور اس کے قلعہ کو گچ (چونے) اور اینٹوں سے مضبوط کرایا، اسی طرح آقا محمد خان شھریار ایران نے وہابیوں کے حملے سے پہلے حضرت امام حسین ں کے روضہ کو بنایا اور اس کے گنبد کو سونے کی اینٹوں سے بنوایا۔(۵۳۱)

وہابیوں کے نجف اشرف پر حملے کے ضمن میں یہ بات بیان کی جائے گی کہ جب نجف کے علماء اور اہم لوگوں کو یہ پتہ چلا کہ وہابی نجف پر بھی حملہ کرنے والے ہیں تو انھوں نے حضرت امیر المومنینں کے خزانہ کو کاظمین پہونچادیا۔

لیکن حضرت امام حسین (ع) کے خزانہ کو کاظمین لے جانے کے بارے میں صرف جناب شیروانی صاحب نے نقل کیا ہے اس کے علاوہ اگر کسی نے بیان کیا ہو، تومولف کی نظر وں سے نہیں گذرا، جبکہ تمام لکھنے والوں نے یھی لکھا ہے کہ کربلائے معلی کا سب سامان غارت کردیا گیا،جیسا کہ ہم نے وہابیوں کے کربلا پر حملہ کے ضمن میں اشارہ بھی کیاہے، اور یھی بات صحیح بھی دکھائی دیتی ہے کیونکہ ساکنین کربلا کو اس حملہ کے بارے میں کوئی خبر نہیں تھی وہ بالکل بے خبر تھے تو کس طرح وہ سامان کاظمین لے جانا ممکن ہوسکتا ہے۔

اور ادہر سے یہ بھی معلوم ہے کہ کربلا کے مومنین خصوصاً جوان اور کار آمد لوگ وہابیوں کے حملے سے ایک یا دو دن پہلے ہی عید غدیر کی مناسبت سے نجف اشرف زیارت کے لئے گئے تھے اور اگر ان لوگوں کو وہابیوں کے اس حملہ کا ذرا سا بھی احتمال ہوتا تو یہ لوگ اپنے شھر کو چھوڑ کر نہ جاتے اور عورتوں اور بچوں اوربوڑھوں کو دشمن کے مقابلے میں چھوڑ کر نہ جاتے۔ ظاہر ہے کہ کاظمین اس خزانہ کا منتقل کرنا اسی صورت میں ممکن تھا جب ان کو اس حملہ کی خبر ہوتی یا اس کا احتمال دیتے۔(۵۳۲)

کربلا ئے معلی پر وہابیوں کا حملہ، عثمانی مولفوں کی نظر میں

”شیخ رسول کرکوکلی“ تیرہویں صدی ہجری کی ابتداء کے عثمانی مولف نے۱۱۳۲ھ سے ۱۲۳۷ھ تک کے عراق، ایران اور عثمانی واقعات پر مشتمل ایک کتاب اسلامبولی ترکی میں لکھی ہے، اور موسیٰ کاظم نورس نے مذکورہ کتاب کا عربی میں ترجمہ کیا ہے جو ”دوحة الوزرا“ کے نام سے طبع ہوچکی ہے۔

کتاب”دوحة الوزرا“ میں ایسے واقعات موجود ہیں جو خود مولف کے زمانہ میں رونما ہوئے، اور شاید بہت سے واقعات کے وہ خود بھی شاہد ہوں، لہٰذا اس کتاب کے واقعات خاص اہمیت کے حامل ہیں۔

اس کتاب کے تفصیلی اور دقیق مطالب میں سے عراق پروہابیوں کے حملے بھی ہیں اور بغداد کے والیوں کی طرف سے ہونے والی تدبیروں اور عراق کے حکام کی طرف سے نجد کے علاقہ پر لشکر کشی کرنا بھی موجود ہے لہٰذا ہم یہاں پر کربلائے معلی پر وہابیوں کے حملہ کو اس کتاب سے نقل کرتے ہیں:

۱۲۱۴ھ میں قبیلہ خزائل اور وہابیوں کے درمیان نجف اشرف میں ہوئی لڑائی اور وہابیوں کے تین سو کے قریب ہوئے قتل کو دےکھتے ہوئے عبد العزیز سعودی بادشاہ نے عراق کے حکام کو ایک خط لکھا کہ جب تک مقتولین کی دیت ادا نہ کی جائے اس وقت تک عراق اور نجد میں ہوئی صلح باطل ہے۔(۵۳۳)

سلیمان پاشا والی بغداد نے صلح نامہ کو برقرار رکھنے کے لئے عبد العزیز کے پاس ”عبد العزیزبیک شاوی“ (اپنے ایک اہم شخص) کو بھیجا جو حج کا بھی قصد رکھتا تھا اس کو حکم دیا کہ اعمال حج کے بجالانے کے بعد وہابی امیر کے پاس جائےں اور اس سے صلح نامے کو باطل کرنے سے پرہیز کرنے کے بارے میں گفتگو کریں۔

عبد العزیز بیک نے والی بغداد کے حکم کے مطابق عمل کیااور سعودی امیر عبد العزیز سے گفتگو کی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا، آخر میں عبد العزیز نے یہ پیشکش کی کہ وہابیوں کے بھے خون کے بدلے میں نجد کے عشایر کو ”شامیہ“ (عنّہ اور بصرہ کے درمیان) علاقہ میں اپنے چارپایوں کو چرانے دیا جائے، اوراگر ان کو روکا گیا تو پھر صلح نامہ کے پیمان کو توڑنے میں کوئی حرج نہیں ہوگا۔

جب عبد العزیز شاوی، عبد العزیز وہابی کو قانع کرنے سے ناامید ہوگئے تو انھوں نے ایک قاصد بغداد کے والی کے پاس بھیجا اور اس کو گفتگو کی تفصیل سے آگاہ کیا اور یہ بھی بتایاکہ وہابی لوگ اپنے مقتولین کا انتقام لینے کی غرض سے عراق کا رخ کرچکے ہیں ۔

والی بغداد نے وہابیوں کے احتمالی حملہ کی وجہ سے کافی انتظامات کئے، کئی مھینہ گذر جانے کے بعد بھی وہا بی حملہ کرنے کے لئے نہیں آئے۔

۱۲۱۶ ھ میں شھر بغداد میں وباپھیل گئی اور آہستہ آہستہ یہ وبا شھر کے قرب وجوار میں بھی پھیلنے لگی، یہ دیکھ کر شھر کے لوگ بھاگ نکلے، اسی وقت شیخ حمود رئیس قبیلہ منتفق نے والی شھر کو خبر دار کیا کہ سعود بن عبد العزیز اپنے ایک عظیم لشکر کے ساتھ عراق پر حملہ کرنے کے لئے آرہا ہے۔

بغداد کے والی نے علی پاشا کو حکم دیا کہ وہ وہابیوں کو روک دے اور قتل غارت نہ ہونے دے، علی پاشا ”دورہ“ نامی علاقہ کی طرف چلے تاکہ دوسرے لشکر بھی اس سے ملحق ہوجائیں، راستہ میں بعض عشایر کا لشکر بھی اس سے ملحق ہوگیا۔

ادہر جب علی پاشا اپنے لشکر کو وہابیوں سے مقابلہ کرنے کے لئے تیار کررہے تھے تو ان کو یہ خبر ملی کہ وہابیوں نے کربلا پر حملہ کردیا ہے اور وہاں پر بہت زیادہ قتل وغارت کرڈالاہے، جس میں تقریباً ایک ہزار لوگوں کو تہہ تیغ کردیا، اس وقت علی پاشا نے محمد بیک شاوی کو وزیر کے پاس بھیجا تاکہ اس کو مذکورہ واقعہ سے خبردار کرے اور یہ خبر پاتے ہی فوراً وہ کربلا کی طرف روانہ ہوئے تاکہ حملہ آوروں پر کامیابی حاصل کرے اور ان سے اس قتل وغارت کا انتقام لے، اور شھر کو دشمنوں کے پنجہ سے نجات دلائے، لیکن ابھی علی پاشا شھر حلہ میں ہی پہونچے تھے کہ اس کو خبر ملی کہ وہابی لوگ قتل وغارت کے بعد ”اخیضر“ نامی علاقہ کی طرف چلے گئے ہیں، یہ سننے کے بعد علی پاشا بعض وجوہات کی بناپر حلّہ میں ہی رہ گئے، کیونکہ جب انھوں نے یہ خبر سن لی کہ وہابی لشکر کربلا سے نکل چکا ہے تو ان کا کربلا جانا بے فائدہ تھا پھر بھی احتیاط کے طور پر مختصر سے لوگوں کو کربلا بھیج دیا۔

چنانچہ وہابیوں کے حملہ کے خوف سے نجف اشرف کے خزانہ کو بغداد بھیج دیا اور مذکورہ خزانہ کو حضرت امام موسی کاظم ں کے روضہ میں رکھ دیا گیا، مذکورہ خزانہ کو لے جانے والے محمد سعید بیک تھے، اور یہ خبریں نیز وہابیوں کے حملہ کے سلسلہ میں ہوئی تدبیروں کو ایرانی حکومت کے پاس پہونچادیا گیا۔(۵۳۴)

شھر کربلا پر وہابیوں کی کامیابی کے وجوہات

جیسا کہ ہم بعد میں بیان کریں گے کہ وہابیوں نے نجف اشرف پر بھی حملہ کیا اورنجف کو فتح کرنے کی بہت کوششیں کی لیکن وہ لوگ اپنے اس مقصد میں کامیاب نہ ہوسکے، لیکن کربلا شھر میں انھوں نے جو کچھ کرنا چاہا وہ با آسانی کرڈالا، مولف کی نظر میں اس کی کچھ وجوہات ہیں جن کو چند چیزوں میں خلاصہ کیا جاسکتا ہے:

۱۔ سلیمان پاشا والی بغداد ا ور عثمانی بادشاہ کی طرف سے معین شدہ کربلا کے حاکم عمر آقا نے شھر کی حفاظت کے لئے کوئی خاص کام انجام نہیں دیا، بلکہ کچھ بھی نہ کیا، اسی وجہ سے سلیمان پاشا نے اس سے مواخذہ کیا، اور سرانجام اس کو قتل کردیا گیا۔(۵۳۵)

۲۔ شھر کربلا کی دیوار اور اس کا برج زیادہ مضبوط نہیں تھا اور اس کے علاوہ اس کی حفاظت کرنے والوں کی تعداد بھی بہت کم تھی۔(۵۳۶)

۳۔ سب سے اہم وجہ یہ تھی کہ اکثر مرد اورجوان حضرات عید غدیر کی مناسبت سے نجف اشرف زیارت کے لئے گئے ہوئے تھے اور شھر کا دفاع کرنے والا کوئی نہیں تھا دشمنوں کے مقابلہ میں فقط عورتیں بچے اور بوڑھے باقی تھے، جو کچھ بھی نہیں کرسکتے تھے۔

۴۔ صاحب مفتاح الکرامة کے قول کے مطابق جس وقت وہابیوں نے شھر کربلا پر حملہ کیا بعض شیعہ قبیلوں میں اختلاف پایا جاتا تھا جیسے قبیلہ خزاعل وآل بعیج اور آل جشعم وغیرہ میں شدید اختلاف تھا اور آپس میں چھوٹے موٹے واقعات ہوتے رہتے تھے۔(۵۳۷) جس کی بناپر ان میں وہابیوں سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں تھی۔

ہم دیکھتے ہیں کہ انھیں وہابیوں نے جب دوسرے شھروں پر حملہ کرنا چاہا تو لاکھ کوشش کی لیکن پھر بھی کسی شھر میں داخل نہ ہوسکے کیونکہ وہاں پر یہ سب وجوہات نہیں تھیں ۔

وہابیوں کے کربلا پر دوسرے حملے

وہابیوں نے تقریباً بارہ سال تک کربلا اور قرب وجوار کے علاقوں پر موقع موقع سے حملہ کیا ہے اورلوگوں کا قتل عام کیا نیز وہاں پر موجود مال و دولت غارت کی ہے جن میں سے سب سے پہلا حملہ ۱۲۱۶ ھ کا تھا جس کی تفصیل گذر چکی ہے۔

صلاح الدین مختار صاحب، ان حملوں میں سے ایک حملہ کے بارے میں اس طرح بیان کرتے ہیں : ” ماہ جمادی الاوّل۱۲۲۳ھ میں امیر سعود بن عبد العزیز نے دوبارہ اپنے عظیم لشکر کے ساتھ عراق کا رخ کیا جس میں بہت سے علاقے مثلاً نجد، حجاز، احسا، حبوب، وادی دواسر، بیشہ، رینہ، طائف اور تھامہ کے افراد شامل تھے، وہ سب سے پہلے کربلا پہنچا اس وقت کربلا شھر کی باہر کی دیوار اوربرجِ مستحکم ہوچکی تھی ،کیونکہ کربلا پر ہوئے پہلے حملہ نے اہل کربلا کو اپنے دفاع کی خاطر شھر کی دیوار کو مضبوط اور مستحکم بنانے پر مجبور کردیا۔

وہابیوں کے لشکر نے شھر پر گولیاں چلائیں لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلا، اور چونکہ اہل شھر نے ایسے وقت کے لئے اپنے دفاع کی بہت سی چیزوں کو جمع کر رکھا تھا لہٰذا انھوں نے اپنے شھر کا دفاع کیا، امیر نے یہ دیکھ کر اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ اپنے ساتھ لائی ہوئی سیڑھیوں کا استعمال کریں چنانچہ انھوں نے سیڑھیاں لگا کر دیوار پر چڑھنا شروع کیا۔

وہابی لشکر کربلا میں داخل ہونا ہی چاہتا تھا لیکن اس طرف سے اہل کربلا اپنے دفاع میں لگے ہوئے تھے، انھوں نے ان پر حملہ کیا، جس کی وجہ سے وہ لوگ کربلا پر حملہ کی فکر چھوڑ کر نکل بھاگے،(۵۳۸) ابن بشر صاحب نے (گویا صلاح الدین مختار نے اس واقعہ کی تفصیل انھیں سے نقل کی ہے) مذکورہ واقعہ کو۱۲۲۲ھ میں نقل کیا ہے اور اس طرح کہتے ہیں کہ گولیوں سے حملہ کی وجہ سے بہت سے (سپاہ سعود کے) سپاہی قتل ہوئے اور جب سعود نے دیکھا کہ کربلا شھر کی دیوار مضبوط اور مستحکم بنی ہوئی ہے اس نے ان کو کربلا پر حملہ کرنے سے روکا اور عراق کے دوسرے علاقوں کا رخ کیا ۔(۵۳۹)

مرحوم علامہ سید محمد جواد عاملی صاحب نے بھی مفتاح الکرامہ کی ساتویں جلد کے آخر میں اس طرح بیان کیا ہے کہ یہ کتاب رمضان المبارک۱۲۲۵ھ کی نویں تاریخ کی آدہی رات میں ختم ہوئی جبکہ ہمارا دل بہت پریشان تھا کیونکہ ”عُنَیْزَہ“ کے عربوں نے جو وہابی خارجیوں کے عقائد سے متاثر تھے، نجف اشرف کے اطراف اور قرب وجوار نیز حضرت امام حسین ں کے روضہ پر حملہ کیا اور

وہاں پر قتل وغارت کا کھیل کھیلا، اس وقت کے مقتولین کی تعداد ۱۵۰افراد بتائی جاتی ہے اگرچہ بعض لوگ اس تعداد کو اس سے بھی کم بتاتے ہیں۔(۵۴۰)

”عبد اللہ فیلبی“ صاحب کہتے ہیں کہ کربلا پر وہابیوں کے اس حملہ نے شیعوں کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگوں کو تعجب اور حیرانی میں ڈال دیا، لیکن اس حملہ کے انتقام میں ایک بہترین محاذبن گیا جس کی بنا پر سعودی حکومت کو کافی نقصان اٹھانا پڑا۔(۵۴۱)

وہابیوں کے کربلا پر حملے کاذکر ایرانی کتابوں میں

بعض ان ایرانی علماء نے اس حادثہ کو اپنی کتابوں میں لکھا ہے جو وہابیوں کے حملہ کے وقت یا اس کے نزدیک زندگی بسر کرتے تھے ،یہاںان کی بعض تحریروں کو ہوبہو یا خلاصہ کے طور پر نقل کرنا زیادہ مناسب ہے۔(۵۴۲)

(مولف کی اطلاع کے مطابق) ایرانی مولفوں میں سب سے قدیمی کتاب جس میں اس حادثہ کے بارے میں تحریر ہے وہ میرزا ابو طالب اصفھانی کی کتاب ہے، موصوف وہابیوں کے کربلامیں قتل عام کے گیارہ ماہ کے بعد کربلا پہونچے ہیں، اورجس وقت وہاں پہونچے ہیں صرف یھی واقعہ زبانزد خاص وعام تھا چنانچہ موصوف اس سلسلہ میں یوں رقمطراز ہیں:

کربلا میں وہابیوں کے حملہ کا ذکر

۱۸ ذی الحجہ (عید غدیر) کو کربلا کے اکثر اور معتبر افراد نجف اشرف میں حضرت امیر المومنین علی ں کی مخصوص زیارت کے لئے گئے ہوئے تھے، ادہر ۲۵۰۰۰ کا وہابی لشکر (عربی گھوڑوں اور بہترین اونٹوں پر سوار) شھر کربلا میں داخل ہوا، جس میں سے بعض لوگ زائرین کے لباس میں پہلے ہی سے شھر میں داخل ہوچکے تھے اور شھر کا حاکم عمر آقا ان کے ساتھ ملا ہوا تھا(یعنی ان سے سانٹھ گانٹھ کئے ہوئے تھا ”یہ بات حاشیہ سے نقل ہوئی ہے“) جس کی وجہ سے وہابی لوگ پہلے ہی حملے میں شھر میں داخل ہوگئے اور یہ نعرے بلند کئے، ”اقتلوا المشرکین“ و ” اذبحوا الکافرین“،یہ سن کر عمر آقا ایک دیھات کی طرف بھاگ نکلا، لیکن بعد میں اپنی کوتاہیوں کی بناپر سلیمان پاشا کے ھاتھوں قتل کیا گیا۔

وہ لوگ قتل وغارت کے بعد گنبد کی سونے کی اینٹوں کو اکھاڑنا چاہتے تھے لیکن چونکہ یہ اینٹیں بہت مضبوطی سے لگائی گئی تھیں، لہٰذا جب ان کو اکھاڑ نہ سکے تو گنبد کے اندر کا حصہ کلھاڑیوںوغیرہ سے توڑ ڈالا اور عصر کے وقت بے خوف وخطر اپنے وطن کو لوٹ گئے، تقریباً پانچ ہزار لوگوں کو قتل کیا اور زخمیوں کی تعداد تو بے شمار تھی منجملہ میرزا حسن ایرانی شاہزادہ، میرزا محمد طبیب لکھنوی وعلی نقی لاہوری اور ان کے ساتھ میرزا قنبر علی وکنیز وغلام وغیرہ،اور حضرت امام حسین ں کے روضہ مبارک اور شھر کا جتنا بھی قیمتی سامان تھا سب غارت کردیا۔

اس قتل وغارت میں حضرت امام حسین ں کے صحن میں مقتولین کا خون بہہ رہا تھا اور صحن مبارک کے تمام حجرے مقتولین کی لاشوں سے بھرے پڑے تھے، حضرت عباس ں کے روضہ اور گنبد کے علاوہ، اور کسی کو بھی اس حادثہ سے نجات نہیں ملی، اس حادثہ کی وجہ سے لوگوں میں اس قدر خوف ووحشت تھی کہ میں اس حادثہ کے گیارہ مھینہ بعد کربلائے معلی گیا ہوں لیکن پھر بھی اس حادثہ میں اتنی تازگی تھی کہ صرف یھی حادثہ لوگوں کی زبان پر تھا، اور جو لوگ اس حادثہ کو بیان کرتے تھے وہ حادثہ کو بیان کرتے کرتے رونے لگتے تھے اور اس حادثہ کی وہ درد بھری داستان تھی کہ سننے والوں کا بھی رُواں کھڑا ہوجاتا تھا۔

لیکن اس حادثہ کے مقتولین کو بڑی بے غیرتی سے قتل کیا گیا تھا بلکہ جس طرح گوسفند کاہاتھ پیر باندہنے کے بعد بے رحم قصّاب کے حوالے کردیاجاتا ہے اس طرح سے ان لوگوں کو ذبح کیا گیا۔

اور جس وقت وہابی لشکر شھر سے باہر نکل گیا اس وقت اطراف کے اعراب نے ان کے پلٹنے کا شور مچایا اور جب شھر کے لوگ دفاع کے لئے شھر سے باہر باغات کی طرف پہونچے تو خود وہ اعراب گروہ گروہ کرکے شھر میں داخل ہوئے اور وہابیوںسے بچا ہوا تمام سامان غارت کردیا، اس طرح شب وروز لوٹ مار ہوتی رہی، اور اس وقت جو شخص بھی شھر میں داخل ہوتا تھا وہ قتل ہوجاتا تھا، اور جب ہم نے وہابی مذہب کے اصول وفروع اور اس کے ایجاد کرنے والے کا حسب ونسب معلوم کیا تو کسی نے نہیں بتایا، کیونکہ اس شھر کے رہنے والے افراد عثمانی بادشاہوں کے تحت تاثیر اور نسبتاً کم عقلی کی وجہ سے ان کے بارے میں نہیں جانتے تھے اور اس کے معلوم کرنے کی ضرورت بھی نہیں سمجھتے تھے۔(۵۴۳)

سید عبد اللطیف شوشتری نے کتاب ”تحفة المعالم“ میں شھر کربلا پر وہابیوں کے حملے کا ذکر کیا ہے اور وہابیوں کے بعض عقائد کو لکھا ہے جس کو ہم نے باب پنجم میں ذکر کیا ہے، یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ مذکورہ کتاب ”تحفة المعالم“۱۲۱۶ھ کی تالیف ہے یعنی جس سال کربلائے معلی پر وہابیوں کا حملہ ہوا ہے اور اس کتاب کا ضمیمہ دوسال بعد بنام ”ذیل التحفة“ کے نام سے لکھا گیا ہے۔

مرحوم میرزائے قمی کا وہ خط جس میں وہابیوں کے بارے میں ان کے کربلا کے حملہ کے ضمن میں ذکر ہوا ہے جس کو ہم نے عبد الرزاق دنبلی کی تفصیل کے ساتھ باب پنجم میں بیان کیا ہے۔

اس سلسلہ میں رضا خان ہدایت صاحب یوں رقمطراز ہیں کہ۱۲۱۶ھ کے آخری حصے میں (۱۸)ذی الحجہ عید غدیر صبح کے وقت سعود اور اس کے لشکر نے حضرت امام حسین ں کے روضہ مبارک پر حملہ کردیا اور بے خبری کے عالم میں شھر پر قبضہ کرلیا، اس وقت شھر کے بہت سے افراد زیارت امام علی (ع) کے لئے نجف اشرف گئے ہوئے تھے اور صرف کمزور اوربوڑھے زاہد و عابد حضرات موجود تھے وہ لوگ روضہ امام حسین ں میں نماز اور عبادت میں مشغول تھے وہابیوں نے تجّار اور حرم میں ساکن افرادکے کئی لاکھ تومان غارت کردلئے اور بہت زیادہ کفر اور الحاد کا مظاہرہ کیا اورتقریباً چھ گھنٹوں میں سات ہزار علماء اورمحققین کو قتل کرڈالا، اور عورتوں اور بچوں اور بوڑھوں پر وہ ظلم کیا کہ ان کے خون سے سیلاب جاری تھا، حق پرست اور متقی لوگ جو حضرت امام حسین ں کے ساتھ رہکر شھادت کے درجہ پر فائز ہونا چاہتے تھے لیکن اس زمانہ میں نہیں تھے انھیں حضرت کی بارگاہ میں جام شھادت مل گیا اور شہدائے کربلا کے ساتھ ملحق ہوگئے۔(۵۴۴)

”میرزا محمد تقی سپھر “رقمطراز ہیں :”عبد العزیز نے جس وقت نجف اشرف کا رخ کیا اور حضرت کے روضہ مبارک پر حملہ کرنا چاہا اورنجف اشرف کے گنبد کو گرانا چاہا اور وہاں پر زیارت کرنے والوں کو جنھیں وہ اپنے خیال میں بت پرست جانتا تھا ان سب کو قتل کرنا چاہا تو اس نے سعود کی سرداری میں ایک لشکر تیار کیا اور نجف کی طرف روانہ کیا اس لشکر نے نجف اشرف کا محاصرہ کرلیا، قلعہ پر کئی حملے بھی کئے لیکن کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی، مجبوراً اس نے واپسی کا ارادہ کیا اور وہاں سے کربلا ئے معلی کا رخ کیا بارہ ہزار کے لشکر کے ساتھ طوفان کی طرح کربلائے معلی پر حملہ کردیا وہ دن عید غدیر کا دن تھا۔

شھر میں داخل ہونے کے بعد انھوں نے پانچ ہزار لوگوں کا خون بھایا حضرت امام حسین کی ضریح مقدس کو بھی توڑ ڈالا، وہاں موجود قیمتی سامان جومختلف ممالک کے شیعوں کے ذریعہ بطور نذر وہاں آیا تھا سب غارت کردیا بہترین قندیلوں کو توڑ ڈالا سونے کی اینٹوں کو حرم مطھر کے دالان سے نکال لیا حرم مطھر میں ہر ممکن توڑ پھوڑ کی، اور چھ گھنٹے کی اس قتل وغارت کے بعد شھر سے باہر نکل گئے اورنفیس اور قیمتی سامان کو اپنے اونٹوں پر لاد کر درعیہ شھر کی طرف نکل گئے۔(۵۴۵)

قارئین کرام!جناب سپھر صاحب کی یہ عبارت دوسرے مولفوں سے فرق کرتی ہے،اسلئے کہ وہابیوں نے پہلے کربلا ئے معلی پر حملہ کیا اس کے بعد نجف اشرف پر حملہ کیا ہے مگر یہ احتمال دیا جائے کہ ان کی مراد قبیلہ خزاعل کے ذریعہ دفع شدہ حملہ ہو جس کی تفصیل انشاء اللہ بعد میں آئے گی۔

وہابیوں کا خط فتح علی شاہ کے نام

میرزا ابو طالب کی تحریر کے مطابق کربلا کا حادثہ سلطان روم (بادشاہ عثمانی) اوربادشاہ عجم (فتح علی شاہ) کے کانوں میں کئی دفعہ پہونچایا گیالیکن ان میں سے کسی نے کبھی کوئی قدم نہیں اٹھایا لہٰذا عبد العزیز کے حوصلے اور بلند ہوگئے اور حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرح دنیا بھر کے بادشاہوں کو خط لکھنا شروع کیا، یہاں پرہم عبد العزیز کے ذریعہ فتح علی شاہ کو لکھے گئے خط کا ترجمہ پیش کرتے ہیں:” اعوذباللّٰه من الشیطان الرجیم بسم اللّٰه الرّحمٰن الرحیم، من عبد العزیز امیر المسلمین الی فتح علی شاه ملک عجم:

حضرت رسول خدا محمد بن عبد اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد ان کی امت میں بت پرستی رائج ہوگئی ہے،کربلا ونجف میں لوگ قبور کی زیارت کے لئے جاتے ہیں جو پتھر اور مٹی سے بنائی گئی ہیں، وہاں جاکرقبروں کے سامنے سجدہ کرتے ہیں ان سے حاجت طلب کرتے ہیں، مجھ حقیر کو یہ معلوم ہے کہ سیدنا علی اور حسین ان کاموں سے بالکل راضی نہیں ہیں،میں نے دین مبین اسلام کی اصلاح کے لئے کمر ہمت باندہ لی ہے اور اللہ کی توفیق سے اب تک نجد، حجاز اورعرب کے دوسرے علاقوں میں اسلام کی اصلاح کردی ہے، لیکن ہماری دعوت کربلا اور نجف کے لوگوں نے تسلیم نہ کی چنانچہ ہم نے دیکھ لیا کہ اب اس کے علاوہ کوئی چارہ باقی نہیں رہ گیا ہے ہم ان سب کو تہہ تیغ کردیں یھی ان کے لئے مناسب بھی تھا،آپ نے سنا بھی ہوگا، اسی بناپر اگر آپ بھی اسی طرح کا عقیدہ رکھتے ہیں تو آپ کو توبہ کرنا چاہئے کیونکہ اگر کوئی توبہ نہیں کرتا اور اپنے کفر وشرک پر بضد ہوتا ہے تو ہم اسے کربلا کے لوگوں کی طرح سبق سکھادیتے ہیں، والسلام علی من تبع الہدیٰ۔(۵۴۶)

فتح علی شاہ کے اقدامات

میرزا عبد الرزاق صاحب یوں رقمطراز ہیں کہ اس (کربلا کے) حادثہ کے بعد فتح علی شاہ نے اسماعیل بیک بیات غلام کو (بغداد میں عثمانی بادشاہ کا والی) سلیمان پاشا کے پاس تفصیل لکھ کر بھیجا،کہ اگر دولت عثمانی کو کوئی اعتراض نہ ہو تو ایران کا لشکر آپ کی مدد ونصرت کے لئے آسکتا ہے تاکہ فتنہ وہابیت کو خاموش کردیا جائے کیونکہ ابھی ان کی ساکھ نہیں جمی ہے لہٰذا کوئی خاص قدم اٹھایا جائے، اس خط کے جواب میں سلیمان پاشا نے عرض کیا کہ عثمانیہ حکومت کے حکم کے مطابق یہ طے ہوچکا ہے کہ ایسے اسباب اور وسائل فراہم کئے جائیں کہ اس بدنھاد فرقہ کا نام ونشان تک مٹادیا جائے، آپ کی محبت کا شکریہ، ایران کے لشکر کی کوئی ضرورت نہیں ہے، اور روضوں کی تعمیر اور تلف شدہ مال کو عوض کرنا ہماری حکومت کی ذمہ داری ہے، اتفاقاً اسی دوران سلیمان پاشا صاحب اس دنیا سے چل بسے۔(۵۴۷)

کتاب منتظم ناصری میں اس طرح تحریر ہے :

”جس وقت کربلائے معلی میں مومنین کے قتل عام کی خبر فتح علی شاہ ایران (جن کی بادشاہت کو ابھی چند ہی سال گذرے تھے) کو پہونچائی گئی،(۵۴۸) تو اس نے خبر کو سننے کے بعد اسماعیل بیک بیات کو بغداد کے والی سلیمان پاشا کے پاس بھیجا اور اس سے کہا کہ وہابیوں کے شرکو ختم کرڈالو، سلیمان پاشا نے قبول کرلیا لیکن سیلمان بک اتفاق سے کچھ ہی دنوں کے بعد اس دنیا سے کوچ کرگئے۔(۵۴۹)

رضا قلی خان مذکورہ موضوع کو تفصیلی طور پر اس طرح نقل کرتے ہیں:

”جس وقت فتح علی شاہ اس خبر سے آگاہ ہوئے، تو انھوں نے سب سے پہلے اسماعیل بیک بیات کو سلیمان پاشا کے پاس بھیجا اس کے بعداس نے حاج حیدر علی خان، حاج ابراہیم خان شیرازی کے بھتیجے جو عباس میرزا کے نائب الوزراء تھے ان کو مصر کا سفیر بناکر بھیجا اور ایک محبت بھرا خط جس کے ساتھ ایک خراسانی تلوار ”گوھر نشان“ محمد علی پاشا کے پاس بھیجی جو اس وقت مصر کے حاکم تھے اور اس سے درخواست کی کہ وہابیوں کے فتنہ کو دفع کرنے میں ہر ممکن کوشش کریں اور اگر ضرورت ہو تو وہابیوں کا قلع قمع کرنے کے لئے ایران کا لشکر دریا اور خشکی کے راستہ سے نجد کی طرف بھیج دیاجائے۔

جس وقت ایران کا سفیر مصر پہونچا اورمحمد علی پاشا حقیقت ِ حال سے آگاہ ہوا تو اپنے ربیب (بیوی کے ساتھ دوسرے شوھر کا بچہ) ابراہیم پاشا کو وہابیوں کے شر کو ختم کرنے کے لئے معین کیا تاکہ درعیہ شھر کو نیست ونابود کردے اور عبد اللہ بن مسعود کو گرفتار کرکے زنجیر میں باندہ کر اسلامبول (عثمانی بادشاہوں کا پائے تخت) روانہ کرے، لیکن عثمانی بادشاہ کے حکم سے قتل ہوگیا اور ایران کا سفیر اپنی جان بچاکر شام (سوریہ) کے راستہ سے تبریز (ایران کا شھر) میں وارد ہوا اور عباس میرزا نائب السلطنہ کی خدمت میں پہنچا۔(۵۵۰)

ہم یں فتح علی شاہ کے اقدامات کا ذکرغیر ایرانیوں کی تحریروں میں نہیں ملا، اور ”سیاق تاریخ“ میں وضاحت کی جائے گی کہ محمد علی پاشا کا وہابیوں سے برسر پیکار ہونا عثمانی بادشاہ کے حکم سے تھا لیکن پھر بھی یہ بات کھی جاسکتی ہے کہ اس سلسلہ میں فتح علی شاہ کے اقدامات بھی بے تاثیر نہیں تھے۔

حادثہ کربلا کے بعد عبد العزیز کا قتل

ماہ رجب المرجب۱۲۱۸ھ میں عبد العزیز امیر سعود کا باپ مسجد درعیہ میں نماز کے وقت قتل کردیا گیا اس کا قاتل عثمان نامی شخص ”عماریہ موصل“ علاقہ کا رہنے والا تھا اور اسے سعود بن عبد العزیز کو قتل کرنے کے لئے قربة الی اللہ بھیجا گیا تھا (سعود نے۱۲۱۶ھ میں کربلا شھر پر حملہ کرکے قتل وغارت کیا تھا) لیکن چونکہ سعود کو قتل کرنا مشکل ہورہا تھا، لہٰذا اس نے اس کے باپ عبد العزیز کا خاتمہ کر ڈالا، عثمان ایک فقیر کے بھیس میں شھر درعیہ میں داخل ہوا اور اس نے اپنے کو ایک مھاجربتلایا اور بہت زیادہ عبادت اور زہد وتقویٰ کا اظھار کیا اور خود کو عبد العزیز کا مطیع اور فرمانبردار بتلایا،لہٰذا عبد العزیز بھی اس کو بہت چاہنے لگا اور اس کو بہت سا مال ودولت عطا کرنے لگا، لیکن عثمان کا مقصد تو صرف اس کو قتل کرنا تھا۔

نماز عصر کی ادائیگی کے وقت جب عبد العزیز سجدہ میں گیا تو قاتل تیسری صف میں کھڑا تھا اور اپنے ساتھ خنجر چھپائے ہوئے تھا عبد العزیز کی طرف بڑھا اور اس کے پیٹ کو چاک کرڈالا، مسجد میں ھل چل مچ گئی بہت سے لوگ بھاگ نکلے اور بہت سے لوگ قاتل کے پکڑنے کے لئے اس کے پیچھے دوڑے، اس وقت عبد اللہ بن محمد بن سعود، یعنی عبد العزیز کے بھائی نے قاتل کو مار ڈالا اور عبد العزیز کو اپنے محل میں لے گیا لیکن کچھ ہی دیر کے بعد عبد العزیز اس دنیا سے چل بسا۔(۵۵۱)

ابن بشر صاحب عبد العزیز کے قتل کے واقعہ کے ذیل میں کہتے ہیں کہ عبد العزیز کا قاتل ایک قول کے مطابق کربلا کا رہنے والا شیعہ مذہب تھا، کیونکہ سعود نے جب کربلا پر حملہ کرکے وہاں پر قتل وغارت کیا تو وہ شخص اپنے شھر میں ہوئے قتل وغارت کا بدلے لینے کے لئے وہاں پہنچا وہ سعود کو قتل کرنا چاہتا تھا لیکن جب وہ سعود کو قتل نہ کرسکا، تو اس نے سوچا کہ سعود کو قتل کرنا تو مشکل ہے لہٰذا اس کے باپ عبد العزیز ہی کو کیوں نہ قتل کردیا جائے، اس کے بعد ابن بشر صاحب کہتے ہیں کہ یھی قول حقیقت سے نزدیک ہے۔(۵۵۲) دائرة المعارف اسلامی میں بھی اس طرح تحریر ہے کہ عبد العزیز کا قاتل شیعہ مذہب اور عماریہ کا رہنے والا تھا۔(۵۵۳)

عبد العزیز کے قتل کے بعد اس کا بیٹا اور جانشین جس وقت مسجد میں نماز کے لئے جاتا تھا تو اپنے ساتھ چند افراد کو اپنی حفاظت کے لئے رکھتا تھا اور جب وہ نماز کے لئے کھڑا ہوتا تھا تو یہ لوگ اس کے پیچھے کھڑے ہوتے تھے تاکہ اس پر کوئی حملہ نہ کرسکے۔(۵۵۴)

نجف اشرف پر وہابیوں کا حملہ

سعود بن عبد العزیز نے کئی مرتبہ نجف اشرف پر حملہ کا پروگرام بناکر حملہ کیا اورہر حملہ میں جو لوگ اس کو شھر کے باہر مل جاتے تھے ان کو قتل کردیتا تھا لیکن شھر میں داخل نہیں ہوسکا۔

اس کے نجف اشرف پر جلدی جلدی حملہ کرنے کی وجہ یہ تھی کہ اس نے نجف اشرف کے قریب ”رحبہ“ نامی جگہ کو اپنی چھاونی بنالیا تھا۔

اور جس وقت سعود رحبہ سے نجف اشرف پر حملہ کرنا چاہتا تھا تو نجف اشرف کے افراد آگاہ ہوجاتے تھے اور شھر کے دروازوں کو بند کردیتے تھے اور سعود شھر کی چھار دیواری کے باہر چلتا تھا اور اگر کوئی وہاں اس کو مل جاتا تھا تو اس کو قتل کردیتا تھا اور اس کے سر کو دیوار کے اس طرف پھینک دیتا تھا۔

اور کبھی کبھی اس کے افراد جن کی تعداد دس یا اس سے زیادہ ہوتی تھی نجف کے لوگوں کوغافل کرکے شھر میں داخل ہوجاتے تھے اور شھر میں قتل وغارت کردیا کرتے تھے۔(۵۵۵)

وہابیوں کا قبیلہ خزاعل سے ٹکراؤجس کی بناپر وہابی، شھر نجف کی نسبت بھڑک اٹھے

۱۲۱۴ھ میں نجد سے ایک وہابی گروہ جس میں کچھ سوار بھی تھے بغداد پہنچا، اس کاروان کے پاس جو کچھ تھا اس کو بیچ ڈالا اور جوکچھ خریدنا تھا خرید لیا، اور اپنے وطن کو واپس جانے لگے، انھیں کے ساتھ بعض عراقی بھی حج کی ادائیگی کے لئے روانہ ہوگئے اور جس وقت وہ نجف پہونچے۔(۵۵۶) وہاں پر قبیلہ خزاعل کے کچھ شیعہ مذہب لوگ موجود تھے، چنانچہ جب انھوں نے قبیلہ خزاعل کے رئیس کو حرم مطھر حضرت علی ں کا بوسہ لیتے دیکھا تو اس پر حملہ کرنے لگے، یہاں تک کہ اس کا خون زمین پر گرنے لگا، اس وجہ سے قبیلہ خزاعل اور وہابیوں کے درمیان جھگڑا ہوگیا اور یہ جھگڑا تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہا، اور دونوں طرف سے تقریباًسو سو افراد مارے گئے۔

عراقی حجاج کا سامان اوروہابیوں کے اونٹ اور گھوڑے غارت ہوگئے اور وہابیوں میں سے جو شخص بھی باقی بچا وہ نجد کی طرف بھاگا اور عراقی حجاج بھی بغداد واپس ہوگئے۔

اس واقعہ کے بعد وہابیوں اور نجف اشرف کے لوگوں میں بغض وحسد کی ایک لھر سی دوڑ گئی۔(۵۵۷)

پہلا واقعہ

۱۲۱۶ھ میں جب وہابیوں نے کربلا ئے معلی پر حملہ کیا اور اس کو ویران کردیا اس کے بعد نجف اشرف کا رخ کیا۔

اس واقعہ کو ”براقی“ اس کے چشم دید گواہ شخص سے اس طرح نقل کرتے ہیں :

” سعود نجف اشرف آیا اور اس کا محاصرہ کرلیا دونوں طرف سے گولیاں چلنے لگی، نجف کے پانچ افراد قتل ہوگئے جن میں سے ایک میرے چچا سید علی حسنی معروف بہ” ببراقی“ تھے۔

چونکہ اہل نجف وہابیوں کے کرتوت سے جو انھوں نے کربلا اور مکہ ومدینہ میں انجام دئے واقف تھے لہٰذا بہت پریشان اورمضطرب تھے عورتیں گھروں سے باہر نکل آئیں، اور جوانوںاور بزرگوں کو غیرت دلانے کے لئے بہت سے جملے کہنے لگیں، تاکہ وہ اپنے شھر اور ناموس سے دفاع کریں اور ان کی غیرت جوش میں آئے۔

تمام لوگ گریہ وزاری میں مشغول، خدا کی پناہ مانگ رہے تھے، اور حضرت علی ں سے مدد طلب کررہے تھے، اس وقت خدا نے ان کی مدد کی اور دشمن وہاں سے بھاگ نکلے اور تمام لوگ اپنے اپنے گھروں کوچلے گئے۔(۵۵۸)

نجف اشرف کے علماء اور طلاب کے دفاع کا دوسرا واقعہ

نجف اشرف کے لوگوں کو یہ احساس ہوگیا تھا کہ وہابی لوگ پیچھا چھوڑنے والے نہیں ہیں، اور آخر کار نجف پر بھی حملہ کریں گے، اس بناپر انھوں نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ حرم حضرت امیر المومنین ں کے خزانہ کو بغداد منتقل کردیا، تاکہ حرم نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خزانہ کی طرح غارت نہ ہو،(۵۵۹) اور اس کے بعد اپنی جان اوراپنے شھر سے دفاع کے لئے تیار ہوگئے۔

شھر نجف سے دفاع کرنے والوں کے سردار، شیعہ بزرگ عالم دین علامہ شیخ جعفر کاشف الغطاء تھے جن کے ساتھ دیگر علماء بھی تھے، مرحوم کاشف الغطاء نے اسلحہ جمع کرنا شروع کیا، اور دفاع کے سلسلہ میں جس چیز کی بھی ضرورت سمجھی اس کو جمع کرلیا۔

اس تیاری کے چند دن بعد وہابیوں کا لشکر شھر سے باہر آکر اس امید میں جمع ہوگیا کہ کل صبح ہوتے ہی شھر پر حملہ کردیں گے اور قتل وغارت کریں گے، لہٰذا ساری رات شھر کی دیوار کے باہر گذار دی۔ کاشف الغطاء کے حکم سے شھر کے دروازوں کو بند کردیا گیا اوران کے پیچھے بڑے بڑے پتھر رکھ دئے گئے، اس زمانہ میں شھر کے دروازے چھوٹے ہوتے تھے، مرحوم شیخ کاشف الغطاء نے شھر کے ہر دروازے پر کچھ جنگجو جوانوں کو معین کیا اور باقی جنگجو افراد شھر کی دیوار کی حفاظت میں مشغول ہوگئے۔ اس وقت نجف اشرف کی دیوار کمزور تھی اور ہر چالیس پچاس گز کے فاصلہ پر ایک برج تھا کاشف الغطاء نے ہر برج میں دینی طلباء کو بھر پور اسلحہ کے ساتھ تعینات کردیا ۔

شھر کے دفاع کرنے والوں کی تمام تعداد(۲۰۰)سے زیادہ نہیں تھی، کیونکہ وہابیوں کے حملہ سے ڈر کر بہت سے لوگ بھاگ نکلے تھے اور عراق کے دوسرے علاقوں میں پناہ لینے چلے گئے تھے، صرف علماء میں مشہور حضرات باقی بچے تھے مثلاً شیخ حسین نجف اور شیخ خضر شلال، سید جواد صاحب مفتاح الکرامہ، شیخ مہدی ملا کتاب اور دوسرے بعض منتخب علماء حضرات، جو سب کے سب کاشف الغطاء کی مدد کررہے تھے، اور یہ سب لوگ مرنے اور مارنے پر تیار تھے، کیونکہ دشمنوں کی تعداد بہت زیادہ اور خود ان کی تعداد بہت کم تھی، لیکن تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ دشمن جس نے یہ طے کرلیا تھا کہ صبح ہوتے ہی حملہ کردیا جائے گا، ابھی صبح بھی نہ ہونے پائی تھی کہ وہ سب پراکندہ ہوگئے۔

صاحب کتاب ”صدف“ (ص ۱۱۲) جو خود اس واقعہ کے چشم دید گواہ ہیں وہابیوں کے لشکر کی تعداد ۱۵۰۰۰ذکر کرتے ہیں جن میں سے ۷۰۰لوگ قتل کردئے گئے۔

ابن بشر، نجدی مورخ نے نجف اشرف پر وہابیوں کے حملہ کے بارے میں کہا ہے کہ۱۲۲۰ھ میں سعود نے اپنے عظیم لشکر کے ساتھ مشہد معروف عراق (مقصود نجف اشرف ہے) کا رخ کیا اور وہاں پہونچ کر اپنے سپاہیوں کو شھر کے چاروں طرف پھیلا دیا، اور شھر کی دیوار کو گرانے کا حکم دیدیا، جب اس کے سپاہی شھر کی دیوار کے نزدیک ہو ئے تو انھوں نے دیکھا کہ ایک بہت بڑی خندق ہے جس سے نکلنا مشکل ہے، لیکن دونوں طرف سے گولیوں اور تیروں کی وجہ سے وہابی لشکر(ابن بشر کے قول کے مطابق مسلمانوں کے لشکر) کے بہت سے لوگ مارے گئے، یہ دیکھ کر وہ لوگ شھر سے پیچھے ہٹ گئے اور دوسرے علاقوں میں قتل وغارت کرنے کے لئے روانہ ہوگئے۔(۵۶۰)

خلاصہ یہ کہ نجف اشرف کے اوپر وہابیوں کے حملوں کا سلسلہ جاری رہا لیکن انھیں کوئی کامیابی نہیں مل پا تی تووہ مجبور ہوکر لوٹ جاتے تھے، اہل نجف وہابیوںکے شر سے رہائی کے لئے خدا کی پناہ مانگتے تھے اورحضرت علی ں سے متوسل ہوتے تھے، جس کی بنا پر ان کی ہمیشہ مدد ہوتی رہی۔(۵۶۱)

مرحوم سید محمد جواد عاملی جو خود اس واقعہ کے چشم دید گواہ اور دفاع کرنے والوں میں سے تھے، مفتاح الکرامہ کی پانچویں جلد کے آخر میں یوں رقمطراز ہیں کہ ماہ صفر کی نویں تاریخ کو نماز صبح کے ایک گھنٹہ پہلے وہابیوں نے اچانک ہم پر دہاوا بول دیا یہاں تک کہ ان میں سے بعض لوگ شھر کی دیوار پر بھی چڑھ گئے اور قریب تھا کہ وہ شھر پر قبضہ کرلیتے۔

لیکن حضرت امیر المومنین علی ں سے معجزہ رونما ہوا، اور ان کے کرم سے کچھ ایسا ہوا کہ دشمن کے بہت سے لوگ مارے گئے اور وہ بھاگنے پر مجبور ہوگئے،(۵۶۲) اگرچہ علامہ عاملی نے واقعہ کی تفصیل بیان نہیں کی ہے۔

اسی طرح علامہ موصوف جلد ہفتم کے آخر میں کہتے ہیں کہ اس کتاب کا یہ حصہ ماہ رمضان المبارک کی نویں تاریخ۱۲۲۵ھ کی تاریخ آدہی رات میں تمام ہوا جبکہ ہمارا دل مضطرب اور پریشان ہے کیونکہ ”عُنَیْزَہ“ کے وہابیوں نے نجف اشرف اور کربلائے معلی کو گھیر رکھا تھا۔(۵۶۳)

”رَحبہ“ کے بارے میں ایک وضاحت

نجف اشرف پر حملہ کر نے کے لئے وہابیوں نے ”رَحبہ“ کو اپنی چھاؤنی بنا لیا تھا،رحبہ نجف اشرف کے نزدیک ایک سر سبز وشاداب علاقہ ہے ،یہ علاقہ ایک ثروتمند اور مالدار شخص سید محمود رَحباوی سے متعلق تھا، جب بھی وہابی لوگ نجف اشرف پر حملہ کرنا چاہتے تھے تو سب سے پہلے مقام رحبہ میں جمع ہوتے تھے، اور سید محمود ان کا بہت احترام کرتا تھا، نیز ان کی خاطر ومدارات کرتا تھا، اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ اسی شخص نے نجف اشرف پر حملہ کرنے کی راہنمائی بھی کی تھی۔

مرحوم کاشف الغطاء جو دفاع کرنے والوں کے سرپرستوں میں سے تھے، ان کو جب اس بات کا علم ہوا تو انھوں نے سید محمود کو پیغام بھجوایا :

جب تم یہ احساس کرو کہ وہابی لشکر نجف اشرف پر حملہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ضرور آگاہ کردینا، تاکہ ہم غفلت میں نہ رہیں، بلکہ دفاع کے لئے تیار رہیں۔ سید محمود نے جواب دیا کہ میں ایک ثروت مند آدمی ہوں اور بہت سی پراپرٹی رکھتا ہوں میں وہابیوں کے منھ میں ایک لقمہ کی طرح ہوں لہٰذا میں ڈرتا ہوں، کاشف الغطاء نے اس کا یہ جواب دیکھ کر مجبوراً نجف کے کچھ جوانوں کو اسلحہ کے ساتھ معین کیا اور ان کی تنخواہ بھی مقرر کی، تاکہ یہ جوان اس طرف سے شھر پر ہونے والے حملہ کا خیال رکھیں۔(۵۶۴)

اس کے بعد سے ایک طولانی مدت تک خصوصاً عراق پر ملک فیصل کے انتخاب کے بعد سے (یعنی پہلی عالمی جنگ کے بعد) عراق پر نجدیوں کے حملے ہوتے رہتے تھے، جس میں کافی قتل وغارت ہو تی رہتی تھی لیکن یہ حملے تقریباً سیاسی جھت رکھتے تھے ان حملوں کا مذہب سے کوئی تعلقنھیں تھا،منجملہ ان کے ۱۲رجب المرجب کی شب کو نجد کے ”جمعیة الاخوان“ نامی گروہ نے عراقی قبیلہ ”منتفق“ پر حملہ کیاجس میں بہت نقصانات ہوئے جن کی فھرست حکومت عراق کی طرف سےمعاینہ کمیٹی نے اس طرح بیان کی ہے کہ اس حملہ میں ۶۹۴لوگ مارےگئے،۱۳۰گھوڑے،۲۵۳۰اونٹ،۳۸۱۱ گدہے، ۳۴۰۱۰ گوسفنداور(۷۸۱)گھر غارت ہوئے، جس گروہ نے یہ حملہ کیا وہ ”دویش“ (اخوان کے روسا) کے پیروکار تھے۔

اہل عراق وہابیوں کے حملوں سے تنگ آچکے تھے، لہٰذا انھوں نے مجبور ہوکر حکومت سے یہ مطالبہ کیا کہ اس طرح کے حملوں کی روک تھام کے لئے کوئی ٹھوس قدم اٹھائے، اس حالت کو دیکھ کر بہت سے وزیروں نے استعفاء دیدیا، اس کے بعد انگلینڈ کی حکومت نے ”سر پرسی کاكْس“ کو بھیج کر عراق اور ابن سعود کی حکومت کے درمیان صلح کرادی۔

کربلا میں ایک عظیم انجمن کی تشکیل

حکومت عراق اور انگلینڈ کی تدبیروں سے عراقی عوام مطمئن نہ ہوسکی، اور وہابیوں کے دوبارہ حملہ کوروکنے کے لئے صحیح اور مطمئن راستہ کا انتخاب کرنا چاہا، چنانچہ سب لوگوں نے علماء کی طرف رجوع کیا۔

نجف اشرف کے علماء نے مشہور ومعروف مجتہد حاج شیخ مہدی خالصی جن کا حکومت عراق میں اچھاخاصا رسوخ تھاان کو ٹیلیگرام کے ذریعہ ان سے درخواست کی کہ عراق کے تمام قبیلوں کے سرداروں کو ۱۲شعبان (۱۲۴۰ھ)کو کربلائے معلی میں جمع کریں۔

مرحوم خالصی صاحب نے اس درخواست پر عمل کرتے ہوئے مختلف قبیلوں کے سرداروں کو تقریباً(۱۵۰)ٹیلیگرام بھیجے جن میں انھیں کربلا میں مذکورہ تاریخ پر آنے کی دعوت دی گئی تھی اور خود بھی نہم شعبان کو کاظمین سے کربلا کے لئے روانہ ہوگئے۔

اور اس طرح کربلا میں ایک عظیم کانفرس ہوئی جس کی عراقی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی، اس کانفرس میں مختلف قبیلوں کے لوگوں نے شرکت کی، شرکت کرنے والوں کی تعداد دو لاکھ (اور ایک قول کے مطابق تین لاکھ) کے نزدیک اندازہ لگایا جاتا تھا، یہ عظیم کانفرس در حقیقت عراق میں انگلینڈ سے قطع رابطہ کے لئے تھی۔

اس کانفرس کے متعدد جلسات دوسرے مقامات پر بھی ہوئے، اور اس کا آخری جلسہ حضرت امام حسین ںکے صحن مطھر میں ہوا، جس میں دو نسخوں میں قطعنامہ لکھا گیا اور دستخط کئے گئے تاکہ ایک نسخہ ملک فیصل کو دیا جائے اور ایک علماء کے پاس رہے۔

مذکورہ قطعنامہ کا خلاصہ اس طرح ہے کہ دستخط کرنے والے خود اپنی اور اپنے ان موکلین کی طرف سے جو ”جمعیة الاخوان“ والے مسئلے میں جو(۱۲)سے پندرہ شعبان۱۲۴۰ھ تک جاری رہے،جمع ہوئے۔

جمعیة الاخوان نے ہمارے مسلمان بھائیوں کا قتل عام اور مال واسباب کو غارت کیا اسی وجہ سے ہم لوگوں نے قاطعانہ طور پر یہ طے کرلیا ہے کہ روضات مقدسات کے تحفظ کے لئے ہر ممکن کوشش کری اورجمعیة الاخوان کے حملوں کو ناکام کرنے کے لئے ہر ممکن طریقے اپنائیں اور جمعیة الاخوان کے حملوں سے متاثر ہوئے افراد کی ہر ممکن مدد کریں اور ان تمام چیزوں کا فیصلہ سب سے پہلے اعلیٰ حضرت ملک فیصل سے تعلق رکھتاہے لہٰذا ہم جنابعالی سے درخواست کرتے ہیں کہ اخوان کے قتل وغارت کے پیش نظر اس ملت کی ہر ممکن مدد کریں۔

ملک فیصل نے مذکورہ قطعنامہ کا نرم اور محبت آمیز جواب دیا، لیکن پھر بھی عراق کے حالات میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی، اورآخر کار مرحوم خالصی کو عراق سے مکہ اور وہاں سے ایران کے لئے جلا وطن کردیا گیا موصوف۱۲۴۳ھ میں مشہد مقدس میں اس دنیا سے چل بسے اور ان کو امام رضا ں کے جوار میں دفن کردیا گیا۔

مرحوم خالصی کی جلا وطنی کے بعد نجف اورکربلا کے تقریباً تیس بزرگ عالموں کو (جو ایرانی الاصل تھے) ایران میں بھیج دیا گیا اور اس طرف سے نجدیوں کے عراق پر حملے بھی نہیں رکے، جیسا کہ نجدیوں نے کانون اول۱۹۲۴(۵۶۵) میں عراق کے سرحدی علاقوں کے بعض قبیلوں پر حملہ کیا اور تقریباً(۱۶)لوگوں کو قتل کیا اور بہت سے چوپایوں کو اٹھا لے گئے، اور اس حملہ کے چار دن کے بعد دوبارہ حملہ کیا اور بعض لوگوں کو قتل کیا اور تقریباً ۱۵۰خیموں کو غارت کردیا۔(۵۶۶)

مذکورہ مطلب کے بارے میں چند توضیحات

۱۔ مرحوم علامہ شیخ آقا بزرگ تھرانی نے حضرت آیت اللہ حاج میرزا حسین نائینی کے حالات زندگی میں اس طرح بیان کیا ہے :

” جب عراق پر انگریزوں کا قبضہ ہوا ۶ ۷) اس وقت ملک فیصل بادشاہ تھے،اور یہ طے پایا کہ مجلس شورائے ملی (پارلیمنٹ) تشکیل دیا جائے اور وزیروں کا انتخاب کیا جائے، تو اس وقت آیت اللہ نائینی، آیت اللہ آقا سید ابو الحسن اصفھانی، آقای شیخ مہدی خالصی اور سید محمد فیروز آبادی نے انتخابات کے طریقہ کار پر اعتراضات کئے، چنانچہ انھیں اعتراضات کی بدولت شیخ مہدی خالصی کو ایران جلا وطن کردیا گیا،(۵۶۸) یہ دیکھ کر شیعہ حضرات میں جوش وولولہ بھڑک اٹھا، نجف اور کربلا کے علماء نے انجمن سے گفتگو کی جس کے بعد یہ طے ہوا کہ ہم لوگ بھی اعتراض کے طور پر عراق سے چلے جائیں،چنانچہ مرحوم نائینی اورمرحوم اصفھانی نے ایران مھاجرت کی اور قم میں سکونت اختیار کرلی، اس وقت اس شھر (قم) کے رہبر آیت اللہ آقائے شیخ عبد الکریم یزدی حائری تھے، چنانچہ موصوف نے ان لوگوں کا بہت اکرام واحترام کیااور اپنے شاگردوںسے عرض کیا کہ ان لوگوں کے درس میں شرکت کریں،عراق کے حالات صحیح ہوگئے تویہ دونوں عالم دین نجف واپس چلے گئے۔(۵۶۹)

۲۔ پہلی عالمی جنگ کے بعد عراق پر انگریزوں کا قبضہ ہوگیا اور جب انھوں نے اپنی طرف سے عراق کا حاکم معین کرنا چاہا تو اس وقت عراق کے لوگوں نے اس سلسلہ میں قیام کیا منجملہ یہ کہ ماہ ربیع الثانی ۱۳۳۷ھ میں حضرت آیت اللہ میرزا محمد تقی شیرازی سے ایک فتویٰ لیا جس کی تحریر اس طرح ہے:

”ما یقول شیخنا وملاذنا حضرة حجة الاسلام والمسلمین آیت اللّٰه فی العالمین الشیخ میرزا محمد تقی الحائری الشیرازی متع اللّٰه المسلمین بطول بقائه، فی تکلیفنا معاشر المسلمین بعد ان منحتنا الدولة المفخّمة البرطانیة العظمیٰحق انتخاب امیر لنا نستظّل بظلّه ونعیش تحت رایته ولوائه، فهل یجوز لنا انتخاب غیرالمسلم للامارة والسلطنة علیناام یجب علینااختیار المسلم؟ بینّوا تُوجروا ۔ “

فتویٰ کا ترجمہ :

”ہم ارے بزرگ اور ہماری پناہ گاہ حضرت حجة الاسلام والمسلمین حضرت آیت اللہ فی العالمین شیخ میرزا محمد تقی حائری شیرازی ،خداوندعالم مسلمانوں کو آپ کی طول عمر سے مستفید کرے، درج ذیل مسئلہ میں جنابعالی کی کیا رائے ہے، برٹین کی بزرگ حکومت ہمارے لئے حاکم معین کرنا چاہتی ہے تاکہ ہم اس کے زیر سایہ زندگی کریں، کیا ہمارے لئے اس غیر مسلم کو اپنی حکومت کے لئے منتخب کرنا جائز ہے کہ وہ ہم پر حکومت کرے یا ہم پر کسی مسلمان کا انتخاب کرنا ضروری ہے؟ حضرت عالی سے درخواست ہے کہ آپ اس سلسلہ میں اپنا فتویٰ صادرفرمائیں، خداوندعالم آپ کو اس کا اجرو ثواب عنایت فرمائے۔

علامہ حائری شیرازی نے اس استفتاء کے ذیل میں یہ عبارت لکھی:

لیس لاحد من المسلمین ان ینتخب ویختار غیر المسلم للامارة والسلطنة علی المسلمین “(محمد تقی الحائری الشیرازی)

”کسی مسلمان کا اپنے لئے کسی غیر مسلم حاکم کا انتخاب کرنا جائز نہیں ہے“۔(۵۷۰)

۳۔ اسی طرح کربلا ئے معلی میں بھی مجتہدین کرام نے فتوے صادر کئے ”جو شخص بھی غیر مسلم کی حکومت سے رغبت رکھتا ہو وہ دین سے خارج ہے“ یہ تمام فتوے اس بات کی علامت تھے کہ لوگوں کے اندر وطن کے سلسلہ میں جوش وولولہ پیدا ہو، اور عراق پر انگریزوں کی حکومت کے بر خلاف کوئی ٹھوس قدم اٹھایا جاسکے۔(۵۷۱)

اس وقت بھی جمعیة الاخوان کے وہابی گروہ کی طرف سے عراق پر حملے ہوتے رہتے تھے جس کی بناپر لوگوں میں خوف ووحشت پیدا ہوا، اسی لئے نجف اشرف میں بھی اجتماعاتہوئے، جس میں یہ طے ہوا کہ علامہ اکبر آقا شیخ مہدی خالصی مقیم کاظمین سے درخواست کی جائے کہ کربلا میں ایک انجمن بنائی جائے اور عراق کے مختلف قبیلوں کی اہم شخصیات کو نیسان(۵۷۲) کی پہلی تاریخ۱۹۲۲ کربلائے معلی میں بلایا جائے۔

مرحوم خالصی نے اس درخواست کو قبول کر لیا، ظاہری طور پراجتماع کامقصد یہ تھاکہ وہابیوں کے حملہ سے متعلق کچھ تدبیریں سوچی جائیں،(۵۷۳) لیکن یہ تمام جلسات اس انجمن کے تشکیل پانے کا مقدمہ بنے جو حضرت امام حسین ں کے روضہ میں بنائی گئی، مذکورہ جلسہ میں تقریباً دو لاکھ کا مجمع تھا(۵۷۴) جس کی تفصیل پہلے گذر چکی ہے۔

۴۔ سرطان(۵۷۵) کی ۱۳ویں تاریخ۱۳۰۲ھ (مطابق۲۰ ذیقعدہ۱۳۴۱ھ) کو علمائے نجف اور کربلا کی طرف سے تھران ٹیلیگرام بھیجے گئے کہ انگریزوں کے اصرار کی وجہ سے نجف اور کربلا کے تقریباً تیس علمائے کرام کو جلا وطن کردیا گیاہے اور ان کو ایران بھیجا جارہا ہے، شاید ان علمائے کرام کے جلا وطن ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے انگریزوں کے خلاف انتخابات کے سلسلہ میں فتوے صادر کئے ہیں، اور عراق اور انگلینڈ کی حکومت کے خلاف اقدامات کئے ہیں۔

چنانچہ سرطان کی(۱۵)تاریخ ۱۳۰۲ (۲۲ ذی قعدہ۱۳۴۱ھ) کو یہ تمام علماء کرمانشاہ (ایران) میں وارد ہوئے اور ان کا بہت احترام واکرام کیا گیا، اور اس وقت کی حکومت سے اجازت ملنے کے بعد (۲۱ ذی الحجہ۱۳۴۱ھ) کو کرمانشاہ سے ہمدان شھر کی طرف روانہ ہوگئے، اور ہمدان میں بہت کم رکنے کے بعدشھر قم میں وارد ہوئے اور وہاںپر ان تمام علماء کرام نے قیام کیا۔

مرحوم خالصی جو حجاز بھیج دئے گئے تھے، ایران کی حکومت کی سفارش اور انگلینڈ کی حکومت کیسمجھوتے سے یہ بات طے پائی کہ ان کے بارے میں کوئی قطعی فیصلہ ہونے پر ان کو حجاز سے ایران کی طرف روانہ کیا جائے۔(۵۷۶)

سعود بن عبد العزیز

کھا یہ جاتا ہے کہ عبد العزیز ۱۲۱۸ھ میں قتل ہوا، اور اس کے بعد اس کا بیٹا سعود اس کا جانشین قرار پایا،سعود کو سعودی عرب کے طاقتور بادشاہوں میں شمار کیا جاتا ہے، کیونکہ اس نے اپنے زمانہ اور اپنے باپ کے زمانہ میں سعودی حکومت کی توسیع کے لئے بہت زیادہ سعی وکوشش کی تھی، سعود ہمیشہ سے اپنے قرب وجوار کے علاقوں پر حملہ کرتا رہتا تھا اس کا جزیرة العرب اور دوسرے علاقوں میں اچھاخاصا رسوخ تھا جس کی بنا پر وہ تمام علاقوں پر حملہ ور ہوتا رہتا تھا، شاید اسی وجہ سے سعودی مولفین نے اس کو ”کبیر“ کا لقب دیا ہے۔(۵۷۷)

سعود کے زمانہ میں وہابی مذہب حجاز کے علاقہ میں بھی پھیل گیا، اور اس کی وجہ شریف غالب ہے جو ہمیشہ یہ چاہتا تھا کہ حجاز کے علاقہ پر پہلے کی طرح اپنا نفوذ باقی رکھے، اور اسی چیز کے پیش نظر شریف غالب وہابیوں کے مقابلے میں تسلیم ہوگیا جس کی بنا پر حجاز میں مذہب وہابی پھیلتا چلا گیا۔(۵۷۸)

صاحب تاریخ مکہ کہتے ہیں کہ۱۲۲۰ھ میں شریف غالب نے یہ قبول کرلیا کہ اس کی حکومت نجدیوں (آل سعود) کے تابع رہے، اور اس نے ایسے کام انجام دئے جو وہابیوں کے لحاظ سے صحیح تھے، مثلاً تمباکو نوشی کو ممنوع قرار دیا اور یہ حکم بھی صادر کردیا کہ تمام لوگ نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں نماز جماعت میں شریک ہوں، اور موذن حضرات فقط اذان کہیں اور اذان کے بعد (پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر) سلام بھیجنے، اور اذان کے ضمن میں نصیحت اور طلب رحمت سے پرہیز کریں،۱۲۲۱ ھ میں سعود کے حکم سے یہ اعلان کرادیاگیا کہ کسی بھی حاجی کو اپنی داڑھی کے بال کٹوانے کا حق نہیں ہے۔(۵۷۹)

ابن بشر صاحب کہتے ہیں کہ جب سعود اپنے ساتویں حج(۱۲۲۵ھ میں ) کے لئے آئے تو اس وقت میں حاضر تھا میں نے دیکھا کہ سعود حالت احرام میں ایک اونٹ پر سوار ہے، اور ایک بلیغ خطبہ ارشاد ہورہا ہے، میں نے دیکھا شریف غالب ایک گھوڑے پر سوار اس کی طرف آئے اور شریف غالب کے ساتھ فقط ایک آدمی تھا، سعود خطبہ دے رہے تھے لیکن جب شریف غالب کو دیکھا تو اونٹ سے نیچے آگئے اور اس کے ساتھ معانقہ کیا اور اس کے بعد مکہ میں وارد ہوئے ،اس نے کچھ لوگوں کو بازار میں معین کیا تاکہ نماز کے وقت لوگوں کو نماز کے لئے کھیں، اور ایسے بہت ہی کم لوگ دکھائی دیتے تھے جو نماز میں شرکت نہ کرتے ہوں، اور اس سفر کے دوران کسی کو تمباکو نوشی، یا دوسرے ممنوعہ کام کرتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔(۵۸۰)

عثمانیوں کی آل سعود سے جنگیں

خاندان آل سعود نے جب سے اپنی حکومت بنائی اسی وقت سے ان کا یہ نظریہ تھا کہ جزیرة العرب کے قرب وجوار کے تمام علاقے ان کی حکومت کے تحت آجائیں، اور ایک وسیع حکومت بن جائے، اور ان سب کو ایک پرچم کے نیچے جمع کرلےں، اور ایک وسیع اور قدرت مند بادشاہت تشکیل دی جائے،اور اسی وجہ سے ”قسطنطنیہ“ کے عثمانی بادشاہوں میں خوف ووحشت پیدا ہوگئی جس کی بنا پر انھوں نے آل سعود سے جنگ کرنا شروع کردی، اور اس سلسلہ میں شدت عمل اختیار کیا۔(۵۸۱)

خاندان سعود اور آل عثمان کے درمیان دشمنی کی دوسری وجوہات بھی تھیں جن کی وجہ سے ان میں دشمنی بڑھتی گئی انھیں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ محمل جو ہر سال بہت ہی اہتمام کے ساتھ حرمین شریفین میں بھیجی جاتی تھی اس کو وہابیوں نے روک دیا تھا (محمل کی تفصیل باب ہشتم جمعیة الاخوان کی بحث میں بیان کی جائے گی) اور ان وجوہات میں سے ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ سعود نے حکم دیا کہ اب تک جو عثمانی بادشاہ کا نام خطبوں میں لیا جاتا تھا اب اس کو ترک کردیا جائے، اور ان سب سے بھی اہم وجہ یہ تھی کہ سعود نے اپنے ایک خط میں جو دمشق کے والی کے نام بھیجااس میں لکھا تھاکہ نہ صرف یہ کہ تمھیں وہابی مذہب قبول کرنا ہوگا بلکہ سلطان عثمانی کو بھی یہ مذہب قبول کرنا ہوگا۔

ان کے علاوہ وہابی لوگ ان علاقوں کی طرف بھی ھاتھ بڑھاتے رہتے تھے جو عثمانی حکومت کے زیر تحت ہوتے تھے، چنانچہ ان تمام وجوہات اور اسی طرح کی دوسرے اسباب کی بناپر عثمانی درباریوں نے حجاز پر حملہ کر نے کی ٹھان لی (تاکہ وہابیوں کو نیست ونابود کردیا جائے) اور اس کام کی ذمہ داری مصر کے والی علی پاشا کو سونپ دی گئی ۔(۵۸۲)

جب۲۶ ۱۲ھ شروع ہوا تو امیر سعود کی پیشرفت اور ترقی کو دیکھ کر عثمانی بادشاہ بہت پریشان ہوا کیونکہ سعود نے نجد، حجاز، یمن اور عُمّان پر قبضہ کرکے ایک وسیع عربی ملک بنالیا تھا۔

عثمانی سلطان نے ماہ ذی قعدہ۱۲۲۶ھ میں ایک عظیم لشکر جنگی ساز وسامان کے ساتہم صر کی طرف روانہ کیا، اس وقت مصر کا والی محمد علی پاشا تھا، عثمانی سلطان نے لشکر کا سردار محمد علی پاشا کو بنایا،(۵۸۳) اور حکم دیا کہ اس لشکر کے علاوہ مصر سے بھی ایک لشکر تیار کرو۔

محمد علی پاشا نے مصر اور مغرب (ممکن ہے مغرب سے مراد مراکش یا الجزائر اورتیونس ہو،) سے بھی ایک لشکر تیار کیا اور اپنے بیٹے احمد طوسون کی سرداری میں دریا کے راستہ سے نجد کی طرف روانہ کیا چنانچہ طوسون نے ” ینبع بندرگاہ“ دریائے سرخ کے سواحل میں (مدینہ منورہ سے نزدیک ترین بندرگاہ) پر حملہ کردیا اور اس کو آسانی سے اپنے قبضہ میں لے لیا، اور جس وقت سعود کو یہ معلوم ہوا کہ مذکورہ بندرگاہ پر قبضہ ہوچکا ہے، تو اپنے تحت تمام علاقے والوں کو چاہے وہ شھری ہوں یا بادیہ نشین سب کو حکم دیدیا کہ جلد سے جلد مدینہ کی طرف حرکت کریں۔

دیکھتے ہی دیکھتے اٹھارہ ہزار کا لشکر تیار ہوگیا اس لشکر کی سرادری اپنے بیٹے امیر عبد اللہ کے سپرد کی، امیر عبد اللہ نے تُرک لشکر سے مقابلہ کیا اور چند حملوں کے بعد ترک لشکر کو شکست دیدی، طوسون نے مذکورہ بندرگاہ ترک کردی۔(۵۸۴) ابن بشر صاحب کہتے ہیں کہ اس جنگ میں ترکی لشکر کے چار ہزار اور سعودی لشکر کے چھ سو افراد قتل ہوئے۔(۵۸۵)

دوسرا حملہ

۱۲۲۷ھ میں محمد علی پاشا نے پہلے لشکر سے بڑا اور طاقتور لشکر حجاز کے لئے روانہ کیا اور اس لشکر یا شکست خوردہ لشکر کے باقی لوگوں نے مدینہ کو چاروں طرف سے گھیر لیا اور چاروں طرف توپیں لگادیں، اور شھر کی دیوار کے نیچے گڈھے کھودنے شروع کردئے اور وہاں ”بارود“رکھ کر آگ لگادی جس کے نتیجہ میں دیوار گر گئی، اور ترکی لشکر نے شھر پر قبضہ کرلیا۔

اس حملہ میں سعودیوں کے چار ہزار لوگ مارے گئے، یہ دیکھ کر مدینہ کے حاکم نے صلح کی مانگ کی، اور کچھ ہی مدت کے بعد مصری لشکر نے مکہ کا بھی رخ کیا، شریف غالب نے جو عہد وپیمان سعود سے کررکھا تھا اس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ترکی اور مصری لشکر سے سمجھوتہ کرلیا اور اپنے سپاہیوں کو ترکی لشکر کے ساتھ مل جانے کا حکم دیدیا، احمد طوسون کسی جنگ کے بغیر شھر مکہ پر قبضہ کے بعد وہاں کے قصر میں داخل ہوگیا۔

اس کے دوسرے سال (یعنی ۱۲۲۸ھ) میں خود محمد علی پاشا ایک عظیم لشکر کے ساتھ جن میں مصری حجاج کے کاروان بھی شامل تھے، مکہ میں داخل ہوا،شریف غالب اپنے معمول کے مطابق اس کے احترام میں اس کے پاس گیا، اس سے پہلی ملاقات میں تومحمد علی پاشا نے اس کو بڑے احترام سے بٹھایا، لیکن بعد میں ہونے والی ملاقاتوں میں سے ایک ملاقات کے دوران اس نے اس کو گرفتار کرنے اور اس کے مال پر قبضہ کرنے کا حکم دیدیا، اور خود شریف غالب کو جلا وطن کرکے ”جزیرہ سالونیک“ (یونان) میں بھیج دیا، شریف غالب وھیں رہے یہاں تک کہ۱۲۳۱ھ میں طاعون کی بیماری کی وجہ سے انتقال کرگئے۔(۵۸۶)

وهابیوں کا مسقط پر حمله اور امام مسقط کا فتح علی شاه سے مدد طلب کرنا

۱۲۲۶ھ کے واقعات کی تفصیل کے بارے میں جناب ”سپھر“ صاحب کہتے ہیں کہ اس جماعت (وہابی لوگ) کی قدرت میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا تھا، یہاں تک کہ انھوں نے سر زمین بحرین کو بھی اپنے قبضہ میں لے لیا، اور اس کے بعد مسقط میں بھی قتل وغارت کا منصوبہ بنالیا۔

امام مسقط نے فارس کے فرمان گذار شاہزادہ حسین علی میرزا کو اطلاع دی اور یہ درخواست کی کہ صادق خان دولوی قاجار جو عربوں سے جنگ کا تجربہ رکھتے تھے، وہ ایران کی فوج کے ساتھ مسقط آجائیںاور وہاں سے اپنے ساتھ مزید لشکر لے کر ”درعیہ“شھر پر حملہ ور ہوجائیں۔

امیر سعود نے ایرانی لشکر سے مقابلہ کرنے کے لئے سیف بن مالک اور محمد بن سیف کی سرکردگی میں اپنا ایک عظیم لشکر بھیجا،جنگ شروع ہوگئی، اس جنگ میں سیف بن مالک اور محمد بن یوسف کو بہت زیادہ زخم لگے یہ دونوں وہاں سے بھاگ نکلے، اور وہابیوں کے لشکر کے بہت سے لوگ مارے گئے، اور اس جنگ میں امام مسقط کو فتحیابی حاصل ہوئی انھوں نے اس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے شاہزادہ حسین علی کی قابلیت کی داد تحسین دیتے ہوئے کچھ ہدایا اور تحائف بھیجے، فتح علی شاہ کواسواقعہ کی خبر(۲۰)ربیع الاول کو پہونچی۔(۵۸۷)

قارئین کرام! جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا اس واقعہ کی تفصیل ”سپھر“ صاحب نے۱۲۲۶ھ کے واقعات میں نقل کی ہے، لیکن ”جبرتی“ صاحب نے اس واقعہ کو۱۲۱۸ھ کے واقعات میں ذکر کیا ہے وہ لکھتے ہیں:

وہابیوں نے مکہ اورجدّہ کو خالی کردیاکیونکہ ان کو یہ اطلاع مل گئی تھی کہ ایرانیوں نے ان کے ملک پر حملہ کرکے بعض علاقوں پر قبضہ کرلیا ہے۔(۵۸۸)

ممکن ہے کوئی یہ کھے کہ نجد پر ایرانیوں کے کئی بار حملے ہوئے ہیں، جیسا کہ آپ حضرات نے ”آقائے سپھر“ کی تحریر میں دیکھا کہ انھوں نے ” صادق خان دولو“ کے بارے میں یہ کہا ہے کہ وہ عربوں سے جنگ کرنے کا تجربہ رکھتے تھے،(۵۸۹) لہٰذا اس بات کا احتمال دیا جاسکتا ہے کہ جبرتی صاحب نے آقائے سپھر کے ذکر شدہ حملہ کے علاوہ دوسرے حملہ کی طرف اشارہ کیا ہو، بھر حال۱۲۲۷ھ میں نجد کی حکومت نے ایران کی حکومت سے صلح کی درخواست کی، اورظاہراً اسی کے بعد سے طرفین کے مابین کوئی اہم حادثہ پیش نہیں آیا۔

سعود کا انتقال

امیر سعود گیارہ جمادی الاول۱۲۲۹ھ میں مثانہ کی بیماری کی وجہ سے مرگیا، معلوم ہونا چاہئے کہ سعود نے محمدبن عبد الوہاب سے دو سال درس پڑھا تھا اور علم تفسیر، فقہ اور حدیث میں مھارتحاصل کرلی تھی اور وہ بعض لوگوں کو درس بھی دیتا تھا۔(۵۹۰)

امیر عبد اللہ بن سعود اور عثمانیوں کے درمیان دوبارہ حملے

سعودکے مرنے کے بعد اس کے بیٹے عبد اللہ کی بیعت کے لئے عرب کے تمام علاقوں سے لوگ آتے تھے اور عبد اللہ کے ھاتھوں پر بیعت کررہے تھے ا ور اپنی اطاعت گذاری کا اظھار کررہے تھے، اسی اثنا میں محمد علی پاشا جو مکہ میں تھے، وہابیوں سے مقابلہ کے لئے ایک عظیم لشکرتیار کرلیا۔

طرفین میں کئی جنگیں ہوئیں، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں نے آپس میں صلح کرلی، لیکن چونکہ عثمانی سلطان اور محمد علی پاشا کا دلی ارادہ یہ تھا کہ وہابیوں کی حکومت کو نیست ونابود کردیا جائے ادہر نجد اور حجاز کے لوگوں نے مصر میں جاکر امیر عبد اللہ کی بدگوئیاں کرنا شروع کردی، (اس وقت مصر کے والی محمد علی پاشا تھے)، اسی وجہ سے محمد علی پاشا نے ترکوں اور مصریوں اور اہل مغرب(۵۹۱) ، شام(۵۹۲) اور عراق کے لوگوں پر مشتمل ایک عظیم لشکر آمادہ کیا اور چونکہ اس کا بیٹا طوسون۱۲۳۱ھ میں انتقال کرچکا تھا اس وجہ سے اس مرتبہ لشکر کی سرداری اپنے دوسرے بیٹے ابراہیم پاشا (یا ایک قول کے مطابق بیوی کے ساتھ آیا ہوا دوسرے شوھر کا بیٹا ابراہیم پاشا) کے حوالہ کی، ابراہیم پاشا اس بھادر لشکر کے ساتھ مصر سے روانہ ہوا، اور سب سے پہلے مدینہ منورہ کارخ کیا اور اس کو مع قرب وجوار کے اپنے قبضہ میں لے لیا، اور اس کے بعد ”آب حناکیہ“ کا رخ کیا اور وہاں پر قتل وغارت شروع کیا۔

ابراہیم پاشا کا اس علاقہ میں اس طرح رعب و دبدبہ تھا کہ ان میں سے بعض لوگ اس کی اطاعت کا اظھارکرنے لگے تھے، اور انھوں نے اس کے ساتھ مل کر جنگ کرنے کا بھی اعلان کیا، ابراہیم پاشانے ۱۲۳۲ھ کے شروع تک حناکیہ میں قیام کیا اور اس کے بعد نجد کے علاقہ ”رَجلہ“ پر حملہ کیا۔ لیکن اس کے بعد امیر عبد اللہ نے ایک عظیم لشکر تیار کیا، اور جن قبیلوں نے ابراہیم پاشا کی اطاعت قبول کرلی تھی ان کی نابودی کے لئے حجاز گیا لیکن جیسے ہی مذکورہ قبیلوں نے امیر عبد اللہ کو ایسا کرتے دیکھا تو حناکیہ میں جاکر ابراہیم پاشا کے یہاں پناہ لے لی۔(۵۹۳)

دونوں طرف میں لڑائی جھگڑے ہوتے تھے تو ان میں اکثر نقصان امیر عبد اللہ کا ہوتا تھا اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم پاشا کا لشکر تعداد کے لحاظ سے بھی اورتوپ اور دیگر اسلحہ وغیرہ کے لحاظ سے بھی امیر عبد اللہ کے لشکر سے طاقتور تھا،(۵۹۴) ابراہیم پاشانے آہستہ آہستہ ”رَسّ“ نامی علاقہ اور ”عنیزہ اور ”خبرا“ شھروں پر بھی قبضہ کرلیا، اور شھر ”شقراء“ کو بھی صلح کے ذریعہ اپنے قبضہ میں کرلیا تھا ۔

خلاصہ یہ کہ ابراہیم پاشا آگے بڑھتا رہا اور نجد وحجاز کے دوسرے علاقوں پر قبضہ کرتا رہا، اس کی پیشرفت اور ترقی قتل وغارت کے ساتھ ہوتی تھی،آخر کارابراہیم پاشا نے امیر عبد اللہ کے دار السلطنت شھر ”درعیہ“ کو گھیر لیا، اور بہت سے حملے کرنے کے بعد اس شھر کو بھی اپنے قبضے میں لے لیا، اور امیر عبد اللہ کی بہت سی اہم شخصیتوں کو توپ کے سامنے کھڑا کرکے ان پر توپ کے گولے چلا دئے، یہ سب دیکھ کر امیر عبد اللہ نے بھی اس کے سامنے ھتھیار ڈال دئے۔

اور جیسے ہی نجد فتح ہونے کی یہ خبر مصر پہونچی تو خوشیاں منانے کی وجہ سے توپ کے تقریباً ایک ہزار گولے داغے گئے، اورسات دن تک مصر کے علاقوں میں چراغانی کی گئی۔

مصر میں امیر عبد اللہ اور حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خزانہ

ابراہیم پاشا نے دو دن کے بعد عبد اللہ کو خبر دی کہ تیار ہوجاؤ تاکہ تمھیں اسلامبول سلطان عثمانی کی خدمت میں پیش کردیا جائے، اسے ایک لشکر کے ساتھ روانہ کردیا گیا اور یہ تاکید کردی کہ راستہ میں اس کی عثمانی سلطان کے دربار عالی تک پہونچنے تک بھر پور حفاظت کی جائے۔

ابن بشر صاحب کہتے ہیں کہ امیر عبد اللہ کو ان کے تین یا چار ساتھیوں کے ساتھ(۵۹۵) (اور زینی دحلان کے بقول بہت سے نجدی رؤسا کے ساتھ) درعیہ سے روانہ کیا گیا، اورمحرم۱۲۳۴ھ میں مصر میں پہونچا دیا گیا، اور ان کے لئے ایک جگہ تیار کی گئی تاکہ دیکھنے والے اس کو دیکھ سکیں، اورجب عبد اللہ محمد علی پاشا کے سامنے لایا گیا توپاشاصاحب اس کے احترام میں کھڑے ہوگئے، اور ان کو اپنی بغل میں بٹھایا، اور اس سے گفتگو کے دوران سوال کیا کہ ابراہیم پاشا کو کیسا پایا؟!

توامیرعبد اللہ نے جواب دیا کہ اس نے اپنے وظیفہ میں کوئی کوتاہی نہیں کی، اورضروری کوشش کو بروئے کار لائے، ہم بھی اسی طرح تھے، لیکن خداوندعالم نے جو مقرر کردیا تھا وھی انجام پایا، اس کے بعد محمد علی پاشا نے اس کو بہترین کپڑے پہنوائے۔

امیرعبد اللہ کے ساتھ ایک چھوٹا سا صندوق بھی تھا، محمد علی پاشا نے سوال کیا کہ یہ کیا ہے؟

تو عبد اللہ نے جواب دیا کہ اس کو میرے باپ نے حجرے سے (پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روضہ سے) لیا تھا اور میں اس کو سلطان (عثمانی سلطان) کے پاس لے جارہا ہوں۔

محمد علی پاشا کے حکم سے اس صندوق کو کھولا گیا، تو دیکھا کہ اس میں قرآن مجید کے تین نسخے تھے اور یہ قرآن بادشاہ کے خزانہ سے متعلق تھے اور اب تک کسی نے ایسے قرآن نہیں دیکھے تھے، اسی طرح اس صندوق میں مروارید اورزمرّدکے تین سو بڑے بڑے دانے بھی تھے، اسی طرح ایک سونے کا ظرف بھی تھا، محمد علی پاشا نے سوال کیا کہ کیا آپ نے حجرے سے ان کے علاوہ دوسری چیزیںبھی لی تھیں ؟

تب اس نے جواب دیا کہ یہ چیزیں میرے باپ کے پاس تھیںاور وہ جو کچھ بھی حجرے میں آتا تھا صرف وھی نہیں اٹھاتے تھے بلکہ اہل مدینہ اور حرم مطھر کے خادمین بھی اس کو اٹھالیتے تھے۔

محمد علی پاشانے کہا کہ یہ بات صحیح ہے کیونکہ ہم نے بھی ان میں کی بہت سی چیزیں شریف مکہ کے پاس دیکھی ہیں۔(۵۹۶)

امیر عبد اللہ کو پھانسی

اس کے بعد محمد علی پاشا نے امیر عبد اللہ کو اسلامبول کے لئے روانہ کردیا وہاں اس کو اور اس کے ساتھیوں کو بازار میں گہم ا کر باب ہمایوں (بادشاہ کا محل) کے سامنے پھانسی پر لٹکادیاگیا اور اس کے ساتھیوں کو شھر اسلامبول کے دوسرے علاقوں میں پھانسی دیدی گئی۔

شھر درعیہ کی بربادی اور آل سعود اور آل شیخ کی مصر کی طرف جلا وطنی

جس وقت دونوں طرف سے جنگ ہورہی تھی خصوصاً جس وقت درعیہ شھر کو گھیر کر اس پر قبضہ کرلیا گیا اسی وقت خاندان سعود اور خاندان شیخ محمد بن عبد الوہاب کے بعض لوگوں کو قتل کردیا گیا یا ان کو پھانسی دیدی گئی، انھیں میں سے شیخ سلیمان بن عبد اللہ بن شیخ محمد بن عبد الوہاب تھے جس وقت ابراہیم پاشا نے اہل درعیہ سے مصالحت کی تو اس کو ڈراتے ہوئے لایا گیا تاکہ اس کی توھین بھی ہوجائے اس کے سامنے” رباب “نامی موسیقی بجوائی گئی اور اس کے بعد اس کو قتل کردیا گیا۔

ابراہیم پاشا تقریباً نو مھینے تک درعیہ میں رہے اور اس مدت میں حکم دیا کہ تمام آل سعود اور خاندان شیخ محمد بن عبد الوہاب کو مصر میں جلاوطن کرکے بھیج دیا جائے، اوراس کے حکم کے مطابق ان دونوں خاندان کے افراد عورتوں اور بچوں سمیت تمام تر حفاظت کے ساتھ مصر روانہ کردئے گئے۔

ماہ شعبان ۱۲۳۴ھ میں محمد علی پاشا نے ابراہیم پاشا کو ایک خط میں درعیہ شھر کو بالکل نیست ونابود کردئے جانے اور بالکل زمین سے ہموار کرنے کا حکم دیدیا۔(۵۹۷)

ابراہیم پاشا نے اہل شھر کو شھر خالی کرنے کا حکم دیا، اور اس کے بعد ابراہیم پاشا کے سپاہیوں نے حکومتی محل اور دیگر لوگوں کے گھروں اور کجھور کے درختوں کو نیست ونابود کرنا شروع کیا،یھی نہیں بلکہ جن کو خالی نہیں کیا گیا تھا ان مکانوں کو بھی گرادیتے تھے، باغات کو کاٹ ڈالا، گھروں میں آگ لگادی، خلاصہ یہ کہ شھر درعیہ زمین کا ایک ڈھیر دکھائی دیتا تھا۔

ابراہیم پاشا نے درعیہ شھر کے علاوہ نجد کے دوسرے علاقوں میں موجود تمام قلعوں اور مستحکم عمارتوں کو گرانے کے لئے ایک لشکر منتخب کیا اور انھیں حملوں کے درمیان ایک نجدی نے ابراہیم پاشا پر حملہ کردیااور ایک خنجر کے ذریعہ اس پر وار کیا لیکن یہ خنجر اس کے کپڑوں اور گھوڑے کی زین میں گھس کر رہ گیا اور خود ابراہیم پاشا کو کوئی نقصان نہیں پہونچا۔

اس کے بعد سے ایک بار پھرنجد کے علاقہ میں افرا تفری پھیل گئی اور مختلف علاقوں کے قبیلے ایک دوسرے کی جان کے پیچھے پڑگئے، اس کے بعد ابراہیم پاشا مدینہ واپس چلے گئے اور وہاں سے شام کا رخ کیا اوروہاں بھی بعض علاقوں کو فتح کیا۔(۵۹۸)

ابراہیم پاشا کا مصر میں داخل ہونا اور اس کا عجیب غرور

ابراہیم پاشا اس عظیم فتح وپیروزی اور وہابیوں کو شکست دینے کے بعد محرم الحرام۱۲۳۵ھ میں مصر میں وارد ہوا تو منا دی کرنے والوں نے یہ اعلان کیاکہ شھر مصر (یعنی قاہرہ)میں سات شب وروز تک چراغاں کیا جائے اور کوچہ وبازار میں خوشیاں منائی جائیں۔

چنانچہ لوگوں نے اس سلسلہ میں ہر ممکن کوشش کی اورعیسائیوں نے اپنے محلوں اور مسافر خانوں میں نمائش کے طور پر بہت سی عجیب وغریب چیزیں ایجاد کیں مثلاً مختلف قسم کی عجیب وغریب تصویریں اورمجسمہ بناکر نمائش لگائی۔

ابراہیم پاشا کے استقبال کے لئے ایک موکب (سواروں اور پیادہ لوگوں کا لشکر)تیار کیا گیا، درحالیکہ اس نے بہت لمبی داڑھی رکھنا شروع کی تھی ،باب النصر سے وارد ہوا، اس کا باپ محمد علی پاشا بڑے فخر کے ساتھ اپنے بیٹے کے موکب کو دیکھنے کے لئے حاضر ہوا۔

چراغانی، شب زندہ داری، آتش بازی، توپ داغنا، میوزک اور دوسرے کھیل اور سرگرمی سات شب وروز تک جدید اور قدیم(۵۹۹) مصر اور مصر کے دوسرے علاقوں میں جاری رہے۔

ابراہیم پاشا اس سفر سے واپسی پر خود کو بہت بڑا سمجھنے لگا تھا اور اتنے غرور میں رہتا تھا جس کا کوئی تصور نہیں کیا جاسکتا تھا، اس کا غرور اس وقت ظاہر ہوا کہ جب اہم شخصیات اس کی خدمت میں سلام اورتہنیت کے لئے حاضر ہوئےں تو یہ جناب اپنی جگہ سے کھڑے تک نہ ہوئے، اور سلام کا جواب تک نہ دیا یہاں تک کہ اشارہ تک بھی نہ کیابلکہ اسی حال میں بیٹھا ہوا مسخرہ کرتا رہا، لہٰذا وہ لوگ وہاں سے ناراض ہوکر واپس ہوگئے۔(۶۰۰)

وہابی اسیروں کو فروخت کرنا

جناب جبرتی صاحب کہتے ہیں کہ محرم۱۲۳۵ھ میں مغرب اور حجاز کے کچھ سپاہی مصر میں وارد ہوئے جن کے ساتھ وہابی اسیر بھی تھے، جن میں عورتیں، لڑکیاں اورلڑکے بھی تھے، یہ سپاہی ان اسیروںکو جو شخص بھی خریدنا چاہے اس کو فروخت کردیتے تھے، جبکہ یہ اسیر مسلمان بھی تھے اور آزاد بھی۔(۶۰۱)

اور شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ وہابیوں کے مخالف ان کو خارجی سمجھ رہے تھے دوسرا احتمال جس کو جبرتی نے بھی دیا ہے کہ عثمانی سپاہیوں کا کوئی دین و مذہب نہ تھا، ان کے ساتھ شراب کے ظروف بھی موجودہوتے تھے کبھی ان کے لشکر سے اذان کی آواز سنائی نہیں دیتی تھی، نہ ہی ان کو نماز پڑھتے دیکھا گیا،ان کے ذہن میں بھی نہیں تھا کہ ہم دین اسلام کے لئے جنگ کررہے ہیں، جب عثمانی سپاہیوں کے قتل شدہ لاشے ملتے تھے تو ان میں سے بہت سے لوگ ختنہ شدہ بھی نہیں تھے۔(۶۰۲)

مذکورہ باتوں کے پیش نظر عثمانی سپاہی اپنی ان صفات کے باعث وہابیوں میں سے جس کو اسیر بناتے تھے اس زمانہ کے رواج کے تحت اپنے غلاموں کی طرح فروخت کردیتے تھے اور اسیروں کے مذہب و دین کے بارے میں کوئی فکر نہیں کرتے تھے۔

لیکن چونکہ یہ اسیر حجازی اورمغربی سپاہیوں کے ھاتھوں میں ہوتے تھے شاید پہلا والا احتمال حقیقت سے زیادہ نزدیک ہو، اسی طرح دوسرے ایسے مواقع بھی آئے ہیں جن میں عثمانی سپاہیوں نے وہابی عورتوں اور بچوں کی خوارج ہونے کے لحاظ سے خرید وفروخت کی ہے۔(۶۰۳)

آل سعود کی حکومت کا دوبارہ تشکیل پانا

اسلامبول میں امیر عبد اللہ کو پھانسی لگنے اور آل سعود اورآل شیخ محمد بن عبد الوہاب کے مصر میں جلا وطن ہونے کے بعد گمان یہ کیا جاتا تھا کہ عثمانی بادشاہ، محمد علی پاشا اور ابراہیم پاشا نے وہابیوں اور خاندان آل سعود کی حکومت تباہ کر کے اپنی حکومت قائم کرلےں، لیکن کوئی بس نہ چلا اور دونوں خاندان کے بعض افراد بھاگ نکلے اور بعد میں حکومت آل سعود کو تشکیل دیا۔

ان بھاگنے والوں میں سے ایک امیر ترکی بن امیر عبد اللہ بن محمد بن سعود تھا، دوسرا اس کا بھائی زید تھا اسی طرح علی بن محمد بن عبد الوہاب تھا یہ لوگ پہلے قطر اور عُمّان گئے، معلوم ہونا چاہئے کہ امیر ترکی وھی شخص ہے جس نے بعد میں سعودی حکومت کو دوبارہ زندہ کیا ہے۔(۶۰۴)

۱۲۳۴ھ کے آخر میں جب ابراہیم پاشا کے حکم سے درعیہ شھر کو نیست ونابود کردیا گیا اس وقت محمد بن مُشارِی بن مَعمر، سعود بن عبد العزیز کا بھانجا درعیہ سے ”عُیَنْیَہ “ بھاگ نکلا تھااور (جب ابراہیم پاشا وہاںسے چلاگیا) تو دوبارہ درعیہ واپس آگیا اور چونکہ آل سعود سے رشتہ داری تھی،لہٰذا اس نے حکومت نجد کو اپنے ھاتھوں میں لےنے کی ٹھان لی۔

اس نے درعیہ شھر کو دوبارہ بنوانا شروع کیا اور بہت سا جنگی ساز وسامان تیار کیا، اور بہت سارا مال اکٹھّا کیا اور آل سعود کے بادشاہوں کی طرح لوگوں کو توحید کی دعوت دینا شروع کردیا، قرب وجوار کے شھروںدیھاتوں اور قبیلوں کے سرداروں کو خط لکھنے شروع کئے اور اپنے دیدار کے لئے بلایا، بعض لوگوں نے اس کی دعوت پر لبیک کہا، اور بہت سے لوگوں نے اس کی مخالفت کی۔

ابن معمر نے اپنی حسن تدبیر سے مخالفوں پر کامیابی حاصل کرلی اسی دوران ترکی بن عبد اللہ اور اس کا بھائی درعیہ میں داخل ہوئے پہلے تو ترکی نے اس کی موافقت کی اور اس سے مل کر رہا اور اس کے بعد بعض واقعات کی بنا پر ایک دوسرے میں لڑائی جھگڑے ہونے لگے، سر انجام ترکی نے ابن معمر کو پھانسی دیدی۔

اس زمانہ میں (یعنی۱۲۳۵ھ میں ) ایک بار پھر نجد کاماحول خراب ہوگیا وہاں افرا تفری پھیل گئی، اور پہلے کی طرح مختلف قبیلوں میں جنگیں ہونے لگیں، اسی زمانہ میں انگلینڈ کی دریائی فوج نے (جن کے پاس دریائی کشتیوں پر توپ وغیرہ بھی لگی ہوئی تھی) ”راس الخیمہ“ پر حملہ کرکے شھر پر قبضہ کرلیا، وہاں کے لوگ بھاگ نکلے اور انگلینڈ کی فوج نے شھر کو ویران کردیا۔(۶۰۵)

امیر ترکی

۱۲۳۶ھ سے عثمانی بادشاہ نے امیر ترکی پر حملہ کرنا شروع کردیا، اس کی وجہ جیسا کہ پہلےاشارہ کیا جاچکا ہے عثمانی بادشاہ کو یہ ڈر تھا کہ کہیں یہ لوگ ایک عربی بڑی حکومت نہ بنالیں (اور پھر اس پر حملہ نہ کردیں) اُدہر امیر ترکی کی حکومت آہستہ آہستہ مضبوط ہوتی گئی اور اس کا دائرہ وسیع ہوتا گیا، جسے دیکھ کر عثمانی بادشاہ نے حسین بک کی سرداری میں ایک ترک لشکر نجد کی طرف روانہ کیا ،اس وقت امیر ترکی نے اپنا دار السلطنت ”ریاض“ کو بنالیا تھا (جو آج بھی سعودی عرب کا پائے تخت ہے) ۔

امیر ترکی اور حسین بک میں بہت خونین جنگیں ہوئیں اور ان جنگوں میں ترکی کمزور ہونے لگا اور نزدیک تھا کہ شکست کہا جائے ایک جنگ میں ترکی کے بیٹے فیصل کو گرفتار کرکے مصر بھیج دیا گیا ،لیکن آخر کار ترکی کو کامیابی ملی اور وہ حکومت پر قابض ہوگیا اور اسی زمانہ میں اس کا بیٹا فیصل بھی مصر سے بھاگ نکلا اور اپنے باپ سے آکر ملحق ہوگیا۔

ترکی بادشاہ کا زمانہ ایسا تھاجس میں ہمیشہ مختلف قبیلوں میں لڑائی اور دیگرمشکلات سامنے آتی رہیں یہاں تک کہ اس کے بھانجے مشاری بن عبد الرحمن بن سعود نے اچانک۱۲۴۹ھ میں اس کو قتل کردیا ۔

قارئین کرام !یہ بھی معلوم رہے کہ مشاری وہ شخص تھا جس کو ابراہیم پاشا نے جلا وطن کرکے مصر بھیج دیا تھا، اور وہ وہاں سے بھاگ کر اپنے ماموں کی پناہ میں چلا گیا تھا، اور جس وقت سے مشاری اپنے ماموں کی پناہ میں پہونچا تھا، ترکی اس کا بہت احترام واکرام کرتا تھا اور اس کو شھر ”منفُوحہ“ کی ولایت دیدی تھی، لیکن چونکہ مشاری کو حکومت کرنے کا شوق تھا، لہٰذااس نے ترکی کے ساتھ خیانت کی، لیکن وہ بھی بہت جلد فیصل کے ھاتھوں اسکے باپ کے انتقام میں قتل کردیاگیا۔

فیصل بن ترکی

امیر ترکی کے قتل ہونے کے بعد اس کا غلام ”زوید“ ریاض سے ”اَحساء“ فیصل بن ترکی کے پاس گیا اورتمام واقعہ بتلایا کہ تمھارے باپ کو قتل کردیا گیا ہے، واقعہ کو سن کر فیصل نے اپنے باپ کے انتقام میں ریاض پر حملہ کردیا ادہر شھر کا دفاع کرنے والوں میں سے ایک گروہ نے اس کی طرفداری کی، چنانچہ اس نے چند حملوں کے بعد شھر ریاض کو اپنے قبضہ میں لے لیا، اور مشاری اور اس کے چند ساتھیوں کو بھی قتل کر ڈالا۔

فیصل۱۲۵۰ھ کے شروع میں اپنے باپ کی جانشینی میں نجد کی حکومتکا بادشاہ بنا، قرب وجوار کے حكّام نے آکر اس کے ھاتھوں پر بیعت کی اور نجد کی حکومت ملنے پر اس کو مبارک بادپیش کی۔

آل رشید

امیرفیصل نے۱۲۵۱ھ میں صالح بن عبد المحسن کو جو ”جبل شَمَّر“ کا والی تھا معزول کرکے اس کی جگہ عبد اللہ بن علی بن الرشید کو مقرر کیا، جس وقت عبد اللہ جبل شمر کے دار السلطنت،شھر ”حائل “ پہونچا تو اس کے اور آل علی میں جو سابق امیر صالح بن عبد المحسن کے ساتھی تھے شدید اختلاف پیداہوگیا، اور دونوں میں لڑائی ہونے لگی، آخر کار ابن الرشید نے صالح کو اس کے محل میں گھیر لیا لیکن بعد میں اس کو امان دیدی، اور اس کو شھر سے باہر نکال دیا، اور فیصل کو خط لکھا کہ اختلاف اور جھگڑوں کی ابتداء آل علی کی طرف سے ہوئی تھی، چنانچہ فیصل نے بھی اس کی تصدیق اور تائید کی۔

اس کے بعد سے آل رشید جبل شمر پر مستقر ہوگئے اور انھوں نے بھی اپنے علاقہ میں توسیع کرنا شروع کردی، یہاں تک کہ اسی خاندان کے ایک حاکم بنام محمد نے ریاض پر بھی غلبہ حاصل کرلیا، اور عبد العزیز سعودی امیر کو بھی نجد سے باہر نکال کر کویت بھیج دیا، لیکن ان سب کے باوجود اس کی قدرت کچھ ہی مدت کے بعد جواب دے گئی اور عبد العزیز بن سعود نے اس پر حملے شروع کردئے، اور ۱۳۳۶ھ میں کلی طور پر اس (آل رشید) کا صفایا کردیا۔

آل رشید کے قدرتمند حاکم محمد کے دورمیں (یعنی۱۲۸۵ھ سے ۱۳۱۵ھ تک) شمر نامی پھاڑ پر یورپی سیّاحوں کو گھومنے پھرنے کی اجازت مل گئی، اور جیسا کہ ہم نے پہلے بھی عرض کیا ہے کہ کئی یورپی سیاحوں نے اس علاقہ کا نزدیک سے دیدار کیاہے۔(۶۰۶)

نجد پر ترکوں کا دوبارہ حملہ اور فیصل کو گرفتار کرکے جلا وطن کرنا

مصر کے سپاہیوں کا ایک گروہ احمد پاشا کی سرداری میں مکہ میں مقیم تھا، احمد بن عون نے شریف مکہ احمد پاشا کو ”عَسِیْر“ نامی (نجد کے نزدیکی علاقہ) پر حملہ کرنے کے لئے ابھارا، اور اس نے حملہ کرنے کا پروگرام بنالیا، پہلے تو عسیر کے لوگوں نے فرمانبرداری کا اظھار کیا لیکن موقع پاکر مصریوں کو نیست ونابود کردیا۔

چنانچہ ایک بار پھر مصری فوج نے نجد پر حملہ کیا اورشھر ریاض کو اپنے قبضے میں لے لیا اور امیر فیصل احساء کی طرف بھاگ گیا۔

قارئین کرام!جیسا کہ نجد پر عثمانیوں کے حملوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عثمانی اور مصری فوج آسانی کے ساتھ نجد کو اپنے قبضہ میں لے لیا کرتی تھی، لیکن ان کو وہاں رہنے میں بڑی مشکلوں کا سامنا تھا، جیسے وہاں کی آب وہوا جو مصری اور ترکی فوج کے لئے مناسب نہیں تھی، یا مختلف قبیلوں کی طرف سے ہونے والی مشکلات کی وجہ سے پریشان ہوتے تھے یادوسری وجوہات، بھر حال عثمانی لشکر نجد کو فتح کرنے کے بعد اس کو اس کے حال پر چھوڑ کر واپس ہوجاتے تھے۔(۶۰۷)

اس بار بھی ایسا ہی ہوا ریاض اورنجد میں عثمانی لشکر کمزور ہونے لگا ادہر فیصل احساء سے ریاض واپس آگیا لیکن وہ پھر بھی ریاض پر قبضہ نہ کرسکا۔

۱۲۵۴ھ میں خورشید پاشا مصری سپاہ کے سردار نے ملا سلیمان کی سرداری میں ایک طاقتور لشکر ”قصیم“ نامی علاقہ سے ریاض کے لئے بھیجا، اور حکم دیا کہ اسماعیل آقا جو مصر کے سابق سردار تھے ان کو واپس بھیج دو، اور ایک مدت کے بعد خود خورشید پاشا ”عنیزہ“ شھر میں آئے، اور خورشید پاشا اور فیصل کے درمیان گئی ایک حملے ہوئے جس کے نتیجہ میں فیصل کو سر تسلیم خم کرنا پڑا، اور اس کو مصر کے لئے روانہ کردیا۔

فیصل کا مصر سے فرار

صلاح الدین مختار صاحب، مصر سے فیصل کے بھاگنے کے بارے میں دو قول بیان کرتے ہیں جن میں سے ایک قول ابن بشر کا ہے جو انھوں نے کتاب عنوان المجد فی تاریخ نجد، سے لیا ہے کہ فیصل اپنے بھائی اور چچا زاد بھائی اوراپنے دو بیٹوں عبد اللہ اورمحمد کے ساتھ اس محل سے بھاگ نکلے جس میں ان کو رکھا گیا تھا، ان کا بھاگنے کا طریقہ یہ تھا کہ مذکورہ محل کی دیوارمیں (۷۰)گز کی اونچائی پر ایک موری تھی، انھوں نے کسی مخفی طریقہ سے باہر سے ایک رسی منگائی اور اس رسی کے ذریعہ باہر نکل گئے اور وہاں پر ان کے لئے پہلے سے گھوڑے تیار تھے ان پر بیٹھ کر شمّر نامی پھاڑ کی طرف بھاگ نکلے۔

دوسرا قول امین ریحانی صاحب کا (کتاب نجد الحدیث میں ) ہے، کہ خود محمد علی پاشا نے اس کو زندان سے رہا کردیا تاکہ امیر نجد کے عنوان سے اپنے وطن لوٹ جائے، (اس قول کے مطابق فرار کا نام دیا جانا صحیح نہیں ہے)

لیکن صلاح الدین مختار صاحب نے ابن بشر کے قول کو صحیح مانا ہے کیونکہ یہ فیصل کے ہم عمر تھے۔(۶۰۸)

بھر حال جب فیصل نجد میں واپس پہونچ گئے تو انھوں نے کوہ شمّر کو اپنا دار الحکومت بنایا، اس وقت اس کے بنی اعمام (چچا کی اولاد) میں سے عبد اللہ بن ثنیان نامی ایک شخص ۱۲۵۷ھ میں جنگ وجدال کے بعد ریاض کے علاقہ پر حکمرانی کررہا تھا، فیصل نے اس کو بعض واقعات کی بنا پر گرفتار کرکے زندان بھیج دیا، آخر کار یہ شخص زندان میں ہی مرگیا۔

امیر فیصل کا شمار آل سعود کے سب سے طاقتور بادشاہوں میں ہوتا ہے،اور اسی نے فتنہ وفساد کی آگ کو خاموش کیا اور کئی سال سے پھیلے افرا تفری کے ماحول کا خاتمہ کرکے امن وامان قائم کیا اور اپنی حکومت میں اضافہ کیا، ۱۲۶۸ھ کے بعد ایک بار پھر نجد کے مختلف علاقوں میں آشوب اور اختلاف برپا ہوا ان سب کو ختم کرنے کے لئے فیصل نے بہت کوشش کی۔

آخر کار ماہ رجب۱۲۸۲ھ میں فیصل کا انتقال ہوگیا، اور اس کے مرنے کے بعد سعودی حکومت میں اختلاف شروع ہوگیا۔

حکومت آل سعود

فیصل سے عبد العزیز بن سعود تک

فیصل کے بعد اس کا بیٹا عبد اللہ تخت حکومت پر بیٹھا، اس دوران یعنی۱۲۸۲ھ سے ۱۲۸۳ھ تک امن وامان برقرار رہا، لیکن عبد اللہ کے بھائی سعود نے اس کی نافرمانی کرنا شروع کردی، اور قرب وجوار کے بعض حكّام سے مدد چاہی، آخر کار عبداللہ کے لشکر (جو اس کے دوسرے بھائی محمد کے ما تحت تھا) اور سعود کے لشکر میں جنگ ہونے لگی، چنانچہ سعود کو کئی زخم لگ گئے جن کی بناپر اس کو شکست ہوئی اور وہ وہاں سے احساء کی طرف بھاگ نکلا اور پھر وہاں سے عُمان چلاگیا۔

۱۲۸۷ھ میں سعود وہاں سے بھی بھاگ لیا اور بحرین میں آل خلیفہ کے امیروں کی پناہ لے لی، اور ان سے اپنے بھائی عبداللہ کے مقابلہ کے لئے مدد چاہی، بحرین کے حكّام نے اس کو مدد دینے کاوعد ہ دیا، ادہر سے عبد اللہ کے دوسرے مخالف افراد منجملہ قبیلہ عَجمان اور آل مُرّہ سعود کے ساتھ مل گئے۔

اور اس کے بعد دونوں میں جنگ ہوئی اور اس جنگ میں محمد کو شکست ہوئی سعودنے اس کو گرفتار کرکے زندان بھیج دیا اوراحساء اورریاض کو اپنے قبضہ میں لے لیا، ادہر ایک مدت کے بعد (عثمانیوں کی طرف سے)والی بغداد نے عبد اللہ کی کمک کے طور پر فریق پاشا کی سرداری میں ایک لشکر نجد کے لئے روانہ کیا، اس لشکر نے عبد اللہ کی ہمراہی میں سعود کو زبر دست شکست دی۔

اُدہر عثمانیوں نے بھی مدحت پاشا کی سرداری میں ایک لشکر کو بھیج دیا یہ لشکر شیخ مبارک الصباح (کویت کے امیروں میں سے ایک امیر)کی مدد سے دریائی راستہ سے بندرگاہ عقیر (خلیج فارس کے بندرگاہوں میں سے ایک بندر گاہ جو بحرین کے مقابل ہے)میں داخل ہوا۔

ان لشکروں کی آمد ورفت کے دوران کسی نے چپکے سے عبد اللہ کو یہ خبر دی کہ مدحت پاشا کا اصلی مقصد تمھیں گرفتار کرنا اور عثمانی حکومت کے سامنے تسلیم کرانا ہے، یہ سننے کے بعد عبد اللہ بڑی چالاکی سے عثمانی لشکر کے درمیان سے غائب ہوگئے اور ریاض جا پہونچے اور اپنے ہدف کو آگے بڑھایا، چنانچہ اس وقت اس نے آل شمّر پر حملہ کردیا اور وہاں کے بہت سے لوگوں کو قتل کردیا۔

۱۲۹۰ھ میں سعود نے ریاض پر حملہ کردیااور اپنے بھائی عبد اللہ کو شکست دیدی، اوروہکویت کی طرف بھاگ نکلا، ادہر سعود کو قبیلہ ”عُتَیْبَہ“ سے ہوئی جنگ میں زبر دست شکست کا منھ دیکھنا پڑا، اور ریاض واپس پلٹ آیا، ماحول اسی طرح خراب رہا،۱۲۹۱ھ میں فیصل بن ترکی کا چوتھا بیٹا امیر عبد الرحمن جو بغداد میں تھا، احساء آیا اور اس نے بھی آنے کے بعد لشکر اورطاقت کو جمع کرنا شروع کیا چونکہ اس وقت قرب وجوار میں عثمانی لشکر کا قبضہ تھا،اسی لئے عبد الرحمن نے سب سے پہلے شھر ”ہفوف“ میں موجود عثمانی سپاہ سے جنگ کی اور اس کے بعد ان کویتوں پر حملہ کیا جنھوں نے مدحت پاشا کی مدد کی تھی اوران کو ”کوت ِ ابراہیم“ اور”کوتِ حصار“ نامی جگہوںپر گھیر لیا۔

کویت کے لوگوں نے والی بغداد سے مدد چاہی اس نے ان کی مدد کے لئے ایک لشکر بھیجا،عبد الرحمن نے اس لشکر سے شکست کہائی، وہاں سے ریاض کی طرف بھاگ نکلا، اور (ذی الحجہ۱۲۹۱ھ) میں امیر سعود جو شھر حُریملہ چلا گیا تھا وھیں پراس کا انتقال ہوگیا، اور عبد الرحمن اس کی حکومت پر قابض ہوگیا۔

۱۲۹۳ھ میں سعود کے بیٹے، (اپنے چچا) عبد الرحمن کی مخالفت میں کھڑے ہوئے اور وہ مجبوراً ریاض سے بھاگ کر عتیبہ گاوں میں اپنے بھائی عبد اللہ سے ملحق ہوگیا، عبد اللہ نے اس کابڑا احترام کیا ۔

اس کے بعد عبد اللہ نے اپنے جنگجو لوگوں اور عبد الرحمن کے ساتھ ریاض کی طرف حرکت کی، ادہر سعود کی اولاد بغیر کسی جنگ کے ریاض چھوڑ کربھاگی، عبد اللہ نے ریاض پر قبضہ کرلیا، عبد الرحمن اور اس کا دوسرا بھائی محمد ،عبد اللہ کے کسی کام میں مخالفت نہیں کرتے تھے۔

اس کے بعد سے۱۳۰۸ھ تک آل سعود کی حالت مختلف جنگوں اورفسادات کی وجہ سے بہت زیادہ بحرانی رہی، جن کی بناپر وہ ضعیف اورکمزور ہوتے چلے گئے، جس کے نتیجہ میں آل رشید ان پر غالب ہوگئے اور محمد بن عبد اللہ الرشید نے ریاض پر قبضہ کرلیا اور نجد کی حکومت اپنے ھاتھوں میں لے لی،اور عبد الرحمن اپنے اہل خانہ کے ساتھ جن میں اس کا جوان بیٹا عبد العزیز الرشید بھی تھا کویت کی طرف روانہ ہوئے، لیکن محمد الصباح شیخ کویت نے ان کو کویت میں داخل ہونے سے روک دیا، مجبوراً عبد الرحمن نے نجد کے دیھاتی علاقہ (الرّبع الخالی) کا رخ کیا اور پہلے بنی مُرّہ پھر قبیلہ عجمان (جو اپنے کو ایرانی الاصل مانتے تھے) کے یہاں قیام کیا اور اس کے بعد قطر کی طرف حرکت کی اور دومھینہ وھیں قیام کیا۔

سلطان عبد الحمید (عثمانی سلطان)نے عبد الرحمن سے دوستی کا ارادہ کرلیا، اس نے ہر مھینہ سونے کے ساٹھ لیرے عبد الرحمن کے لئے معین کئے اور پھر امیر کویت نے اس کو پناہ دیدی، اور عبد الرحمن قطر سے کویت پہونچ گئے، اوروھیں پر رہے یہاں تک کہ اس کے بیٹے عبد العزیز (جیسا کہ بعد میں شرح دی جائے گی) نے سر زمین نجد کو اس افرا تفری کے ماحول سے نجات دی اورعربی سعودی حکومت تشکیل دی۔

صلاح الدین مختار صاحب، امین ریحانی سے نقل کرتے ہیں کہ حاکم احساء نے سلطان عثمانی کی طرف سے ڈاکٹر زخور عازار لبنانی کے ذریعہ عبد الرحمن کو پیغام بھیجا کہ اگر تم سلطان کی اطاعت کا اعلان کرو تو تمھیں ریاض کی حکومت مل جائے گی، لیکن عبد الرحمن نے اس پیشکش کو قبول کرنے سے عذر خواہی کی۔(۶۰۹)

عبد العزیز بن عبد الرحمن معروف بہ ابن سعود

جس وقت عبد العزیز اوراس کے باپ عبد الرحمن کویت میں رہتے تھے، انگلینڈ کی حکومت نے عرب کے شیوخ کی خوشنودی کے لئے سلطان عثمانی سے بہت سخت مقابلہ اورجنگ کی۔

عبد الحمید دوم سلطان عثمانی، نے احساس کیا کہ شیخ کویت انگلینڈ کی طرف مائل ہے، یہ دیکھتے ہوئے اس نے عبد العزیز الرشید امیر شمّر کی مدد کے لئے ھاتھ بڑھایا جو شیخ کویت کا دشمن تھا، اور عبد العزیز الرشید کو خبر دی کہ اگر وہ کویت کو اپنے علاقوں میں ملحق کرنا چاہتے ہیں تو اس کو کوئی اعتراض نہیں ہے، یہ سن کر عبد العزیز الرشید بہت خوشحال ہوئے، کیونکہ اس کا عقیدہ یہ تھا کہ اگر اس بندرگاہ کو بھی اپنے علاقوں میں شامل کرلے گا تو حکومت آل رشید مستحکم اور مضبوط ہوجائے گی، اور اسی چیز کے پیش نظر۱۹۰۰ء(۱۳۱۷ھ) میں شَمّر کے جنگجووں کے ساتھ کویت پر حملہ کے لئے تیار ہوگیا۔

امیر کویت چونکہ اس سے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتا تھا لیکن اس کے پاس مال ودولت بہت تھی اسی وجہ سے عشایر عَجمان، ضُفَیر اورمنتفق کو اپنے ساتھ میں لے لیا اور آل سعود سے بھی نصرت اور مدد چاہی اور ان کو وعدہ دیا کہ ریاض کی حکومت ان کو واپس کردیگا، ادہر عبد العزیز بن عبد الرحمن کو بھی اپنے ارادے سے آگاہ کیا، آخر کار شیخ مبارک بن الصباح امیر کویت اور عبد الرحمن آل سعود اور اسکے بیٹے عبد العزیز نے میٹنگ اور آپس میں صلاح ومشورہ کیا، جس میں یہ طے پایا کہ ابن الرشید کا خاتمہ کردیا جائے۔

۱۳۱۸ھ میں طرفین میں سخت جنگ ہوئی، اور امیر کویت کو بہت بری ھار کا منھ دیکھنا پڑا، اور ابن الرشید نے کویت کے دروازہ تک حملہ کیا لیکن اچانک اس کو پیچھے ہٹنا پڑا کیونکہ دریائی راستہ سے انگلینڈ کی سپاہ اس کے راستہ میں آگئی، چنانچہ انگلینڈ کی فوج کے سردار نے اس سے نصیحت کے طور پر کہا کہ پلٹ جانے میں ہی تمھاری بھلائی ہے، اوراگرتم نے اس کے علاوہ کوئی قدم اٹھایا تو ہم تمھیں اپنی بڑی بڑی اورپر قدرت توپوں کے ذریعہ نیست ونابود کردیں گے، اورتمھارے تمام ساتھیوں کو ھلاک کردیں گے، ابن الرشید نے عثمانی حکومت سے مدد طلب کی، لیکن ادہر استامبول اور لندن میں پہلے سے عہدوپیمان ہوچکا تھااور لندن نے عثمانی حکومت کو ابن الرشید کی مدد نہ کرنے پر قانع کردیا تھا۔

ان واقعات سے اصل فائدہ انگلینڈ نے اٹھایا اس نے اپنے لئے خلیج فارس میں ہندوستان کے راستہ میں اپنے رہنے کا ٹھکانہ بنالیا، اورشیخ کویت کو بھی حملوں کے خطرات سے امان مل گئی۔(۶۱۰)

عبدالرحمن اور اس کا بیٹا عبد العزیز کویت میں رہتے رہے اور عبد العزیز نے اس مدت میں علوم دینی کے درس میں شریک ہونا شروع کردیا۔

عبد العزیز کا ریاض پر قبضہ

جتنی مدت عبد العزیز کویت میں رہا ہمیشہ نجد مخصوصاً ریاض کی یاد میں رہا، اور چونکہ اس پر آل رشید کا قبضہ تھا، اسی وجہ سے وہ بہت پریشان رہتا تھا، اور ہمیشہ اس پریشانی کے بارے میں غور وفکر کرتا رہتا تھا، آخر کار اپنے باپ اور شیخ کویت سے گفتگو کرکے اس نتیجہ پر پہونچا کہ وہ ریاض پر حملہ کردے، چنانچہ جب اس کی عمر اکیس سال کی ہوئی تو اس نے۱۳۱۹ھ میں ایک تاریک رات میں اپنے کچھ وفادار ساتھیوں منجملہ اپنے بھائی امیر محمد اور پھوپھی کے لڑکے امیر عبد اللہ کے ساتھ ریاض پر حملہ کردیا۔ چند شجاعانہ حملے کرکے شوال۱۳۱۹ھ میں ریاض پر قبضہ کرلیا (ان تمام شجاعانہ حملوں کا تذکرہ وہابی کتابوں میں موجود ہے) اسی فتح کے دن ریاض کے موذنوں نے نماز ظھر کے وقت ریاض میں یہ اعلان کیا کہ حکم اور فرمان پہلے درجہ میں خداوندعالم کے لئے اورپھر عبد العزیز بن عبد الرحمن کے لئے ہے۔(۶۱۱)

عبد العزیز نے ریاض پر قبضہ کے بعد آل رشید کی حکومت کے خاتمہ کی ٹھان لی، اور۱۳۲۰ھ میں نجد کے جنوبی علاقہ پرقبضہ کرلیا اسی طرح۱۳۲۱ھ میں سَدیر، وَشم اور قَصِیم پر بھی قبضہ کرلیا، عبد العزیز اور آل رشید کے درمیان حملہ ہورہے تھے، عثمانی حکومت، آل رشید کی طرفداری میں کچھ نہ کچھ مداخلت کرتی رہتی تھی، اس کے بعد ۱۳۲۴ ھ میں عثمانی تُرک، نجد سے نکل گئے، اور اسی سال ابن مُتعب امیر آل رشید بھی قتل کردیا گیا، اورعبد العزیز، آل رشید کی طرف سے کافی حد تک آسودہ خاطر ہوگیا۔

۱۳۲۸ھ میں عبد العزیز معروف بہ ابن سعود کا تین طرف سے مقابلہ تھا:

۱۔ آل رشید سے۔

۲۔ اس کے چچازاد بھائی سے جو نجد کے جنوب میں مخالفت کے لئے قیام کر چکا تھا۔

۳۔ شریف مکہ شریف حسین سے۔

ہوا ہے، عبد العزیز کی کامیابی کی سب سے اہم وجہ یہ تھی کہ ریاض میں اس کے بہت سے چاہنے والے موجود تھے۔

عبد العزیز نے پہلے دو دشمنوں کے ساتھ تلوار سے فیصلہ کیا لیکن تیسرے دشمن کے مقابلہ میں سیاست سے کام لیا، اور اس کا یہ پہلا ٹکراو تھا جو ابن سعود اور شریف حسین کے درمیان ہوا۔

۱۳۳۰ھ میں عثمانی حکومت کمزور ہونے لگی کیونکہ بڑی بڑی حکومتوں کی طرف سے اس کا محاصرہ ہوچکا اور اس کو دشمن کی فوج سے منھ کی کہانی پڑی، اور ”بالکن“ کی جنگ کی وجہ سے دوری اختیار کرنی پڑی، ادہر عبد العزیز بن سعود نے اس فرصت کو غنیمت جانا اور احساء پر حملہ کردیا اور یہ علاقہ چونکہ عثمانی حکومت کے زیر اثر تھا اس کو ان کے پنجے سے نجات دلائی، اوراپنی حکومت کا دائرہ خلیج فارس کے کناروں تک وسیع کر لیا، اورانگلینڈ سے سیاسی تعلقات بنالئے، اور یہ تعلقات ہمیشہ مستحکم اور مضبوط ہوتے رہے۔(۶۱۲)

پہلی عالمی جنگ اور اس کے بعد

۱۹۱۴ء (مطابق با ۱۳۳۳ھ) میں عالمی جنگ شروع ہوگئی، عثمانی حکومت جرمن کے ساتھ ہوگئی، اور ابن سعود نے چاہا کہ اس فرصت سے فائدہ اٹھائے اور عرب دنیا کو متحد کرنے کی کوشش کرے، چنانچہ اس سلسلہ میں اس نے عرب کے تمام شیوخ اور حاکموں کو خط لکھے لیکن کسی نے بھی نے اس کی پیشکش پر توجہ نہ کی، چنانچہ ابن الرشید نے اپنے کو عثمانی حکومت کی پناہ میں رکھا اور ابن سعود نے انگلینڈ سے دوستی کو ترجیح دی۔

۱۹۱۵ء (مطابق ۱۳۳۴ھ) میں قَطِیف میں انگلینڈ کے ساتھ معاہدہ ہوا جس میں یہ طے پایا تھا کہ وہ (ابن سعود) کسی بھی حکومت سے رابطہ بر قرار نھیںکرسکتا، اور اس بات کو حافظ وھبہ(جو سعودی سیاستمداروں اور وہاں کے صاحب نظر لوگوں میں سے ہیں) نے بھی لکھاہے، اسی وجہ سے ابن سعود کے اس وقت کے مشاورین کو بھی دنیا میں رونما ہونے والے واقعات کی کوئی خبر نہیں تھی اور اس بہترین فرصت سے استفادہ کرنے کی بھی ان میں صلاحیت نہ تھی۔

بھر حال اس غلطی کا تدارک اور جبران جدّہ معاہدہ مورخہ۱۹۲۷ء کی وجہ سے ہوگیا جس کی بدولت ابن سعود کو دوسری حکومتوں سے رابطہ برقرار کرنے یا کسی بھی حکومت کے ساتھ پیمان اتحاد کرنے کا حق حاصل ہوگیا تھا، چنانچہ اسی حق کی بدولت ابن سعود ”حائل“ پر مسلط ہوگیا اور اپنے سب سے بڑے نجدی دشمن یعنی ابن الرشید صفایاکر دیا۔(۶۱۳)

ابن سعود اور شریف حسین

ابن سعود نے آہستہ آہستہ سر زمین نجد کے تمام علاقوں میں نفوذ میں کرلیا، اور جیسا کہ ہم نے پہلے بھی عرض کیا کہ اس نے اپنے سب سے بڑے دشمن ابن الرشید کو بھی نابود کردیا، اور ان قبیلوں کو بھی پسپا کردیا جو کسی بھی حال میں امن وامان برقرار ہونے نہیں دیتے تھے، یہاں تک کہ قبیلہ عجمان کو بھی مغلوب کرلیا جو نجد کا بہت شجاع اور دلیر قبیلہ تھا اور اب چونکہ اس کو نجد کی داخلی پریشانیوں کا سامنا نہیں تھا لہٰذا اس نے منصوبہ بنالیا کہ اپنی حکومت میں توسیع کرے اور حجاز کو بھی اپنے ماتحت کرلے، اور حرمین شریفین (مکہ ومدینہ) کو بھی اپنی حکومت سے ملحق کرلے۔

اس زمانہ میں اور دوسری وجوہات بھی تھیں جن کے سبب ابن سعودکو پیشرفت اور ترقی ہوئی، ان میں سے ایک ”جمعیة الاخوان“ نامی انجمن کی تشکیل تھی، جو دل وجان سے اس کی مدد کرتی تھی اور اس کے ہدف اور مقصد کے تحت اپنی جان کی بازی لگاکر کچھ بھی کرنے کے لئے تیار تھی (اگرچہ کبھی کبھی اس کے لئے بعض مشکلات بھی پیدا کردیتی تھی جن کی تفصیل اخوان سے مربوط بحث میں بیان کی جائے گی) لیکن ابن سعود کے مقابلہ میں حجاز پر قبضہ کرنے کے لئے شریف حسین جیسا طاقتور اور بھادر انسان موجود تھا جس کے ہوتے ہوئے حجاز اور حرمین شریفین پر قبضہ کرنا بہت مشکل کام تھا۔

ہاں پر ابن سعود کااور شریف حسین میں مقابلے کی تفصیل بیان کرنے سے شرفائے مکہ مخصوصاً شریف حسین کے بارے میں مختصر طور پر تفصیل بیان کرنا مناسب ہے۔

شرفائے مکہ

مکہ معظمہ کے والیوں کو چوتھی صدی ہجری سے شریف کا لقب دیا جانے لگا، جبکہ اس سے پہلے ان کو صرف والی کہا جاتا تھا، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے سب سے پہلے والی جو مکہ معظمہ کے لئے معین ہوئے وہ ”عَتّاب بن اَسِید“ تھے جو سپاہ اسلام کے ذریعہ فتح مکہ کے بعد آٹھویں ہجری میں مکہ کے والی بنائے گئے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد سے چوتھی صدی ہجری کے وسط تک مکہ کے والیوں کو خلفاء معین کیا کرتے تھے، (اس مدت میں خلفاء کے علاوہ دوسرے لوگ بھی اس مقدس شھر کو حسرت بھری نگاہوں سے دیکھتے تھے تو اس وقت کی وضعیت کچھ اورہوتی تھی) تقریباً۳۸۵ھ میں مصر کے مقتدر (طاقتور) والی ”اَخْشِیْدِی“ جو خلفائے عباسی کی طرف سے تھا، اس کے انتقال کے بعد سے اور خلفاء فاطمی کے مصر پر قبضے سے پہلے سادات حسنی میں سے ایک شخص بنام ”جعفر بن محمد بن الحسن (از اولاد حسن مثنّیٰ) نے مکہ پر غلبہ حاصل کیا اور ”المعزّ لدین اللہ فاطمی“ کے مصر پر قبضے کے بعد جعفر نے اس کے نام کا خطبہ دیا(۶۱۴) جعفر کے بعد ان کا بیٹا ان کا جانشین ہوا، اور اس کے بعد سے مکہ کی ولایت سادات آل ابی طالب سے مخصوص تھی جو اشراف یا شرفائے مکہ کے نام سے مشہور تھے۔(۶۱۵)

مکہ کے شرفاء چار طبقوں میں تقسیم ہوتے تھے تین طبقوں نے۳۵۸ھ سے ۵۹۸ھ تک مکہ شھر پرفرمانروائی کی اور چوتھے طبقے نے جو ” آل قَتادہ “کے نام سے مشہور تھا۵۹۸ھ سے ۱۳۴۴ھ تک ولایت کی ،اس سلسلہ کے آخری شریف، شریف حسین کو ابن سعود نے حجاز سے باہر نکال دیا اور خود مکہ کا والی بن بیٹھا۔

۹۲۲ھ میں جس وقت سلطان سلیم عثمانی نے مصر کو فتح کرلیا تو شریف مکہ نے اس کی اطاعت کرلی اور جب تک عثمانیوں میں طاقت اور قدرت رہی شرفائے مکہ ان کی اطاعت کرتے رہے لیکن جس وقت سے عثمانیوں کا زوال شروع ہوا، خود کو سلطان کا خادم ظاہر کرنے والے حجاز کے علاقوں میں اپنا سكّہ جمانے کی کوشش میں لگ گئے۔(۶۱۶)

شرفائے مکہ کی تاریخ میں ہمیشہ جنگیں اور لڑائی وغیرہ ہوتی رہی ہیں جن کی تفصیل تاریخی کتب میں موجود ہے، چنانچہ دوستوں اور دشمنوں کے قلم اس سلسلہ میں مختلف چیزیں بیان کرتے ہیں ۔

شریف حسین

شریف حسین، مکہ کے شریف خاندان کی آخری کڑی تھے جن کی پیدائش اسلامبول میں ۱۲۷۰ھ میں ہوئی، اور جس وقت ان کے والد (شریف علی) مکہ کے والی منتخب ہوئے یہ بھی اپنے باپ کے ساتھ مکہ پہونچ گئے،۱۲۹۹ھ میں ان کے چچا شرف عون(۶۱۷) مکہ کے والی بنے تو شریف عون کی درخواست (عثمانی حکومت) کے مطابق شریف حسین کو اسلامبول بلوالیا گیا، موصوف اسلامبول میں رہے یہاں تک کہ۱۹۰۸ء میں ان کو مکہ کا والی بناکر بھیج دیا گیا، حسین کی ذمہ داری عرب ممالک میں ماحول کو سازگار کرنے کی تھی اور امن وامان قائم کرنے اور اس علاقہ میں عثمانیوں کے نفوذ کو مضبوط بنانے کی کوشش کرنے کی تھی۔

سابق شرفاء خود کو لوگوں سے الگ رکھتے تھے اور لوگوں سے تکبر اور جبروتی سلوک کرتے تھے، لیکن شریف حسین ان کے برخلاف ایک متواضع اور عادل انسان تھے وہ مکہ کے لوگوں کوبھت چاہتے تھے اور ان کے فائدوں کی خاطر دفاع کرتے تھے اسی طرح بلند ہمت اورپاک دامنی کے مالک تھے۔(۶۱۸)

عثمانیوں اور انقلاب حجاز سے شریف حسین کی مخالفت

عثمانی ترکوں نے دسویں صدی ہجری (سلطان سلیم کے زمانہ) سے عرب کی سر زمین پر اپنے نفوذ میں اضافہ کیا اور عرب کے اہم علاقے یا بعض امور میں عرب کے تمام علاقے عثمانی حکومت کے ما تحت تھے لیکن عربوں نے عثمانی حکومت کے برخلاف ہمیشہ آواز اٹھائی اور قیام کرتے رہے، اور مختلف علاقوں جیسے عَسِیر، نجد اور سوریہ سے علم مخالفت بلند ہوتے رہے۔

حافظ وھبہ صاحب کہتے ہیں کہ اس حقیقت کاانکار نہیں کیا جاسکتاہے کہ عثمانی افراد جنگجو اور فاتح تھے، لیکن اہل علم و ثقافت نہیں تھے بلکہ ہمیشہ جنگ وجدال اور ویران گری کرتے تھے، جس کی بنا پر ترک اور عرب علاقے جو ایک طولانی مدت تک ان کے زیر اثر رہے وہ پسماندگی کے عالم میں رہےبلکہ تنزّل ہی کرتے رہے، یھی وجہ تھی کہ عرب اور ترک کے آزادی خواہ افراد ایک دوسرے کے ساتھ متحد ہوگئے اور مخفی طور پر کمیٹیاں بنانے لگے، اور آشوب برپا کرنے لگے، یہاں تک کہ سلطان عبد الحمید (سلطان عثمانی) کی حکومت ختم ہوگئی اور عثمانی حکومت کی طرف سے قانونی حکومت کا اعلان ہو گیا۔

عرب کے جوانوں کو یہ امید تھی کہ ہماری اس سر زمین میں قوانین کی وجہ سے کچھ اصلاحات انجام پائیں گی، لیکن ان کی امید کے برخلاف عثمانیوں نے اپنا رویہ ذرہ برابر بھی نہیں بدلا، اور گذشتہ زمانہ کی طرح عثمانی حكّام ،حاکم اور عرب محکوم رہے ،انھیں ان تمام وجوہات کی بناپر عربوں نے اپنے حقوق حاصل کرنے کی سوچی، اور مخفی کمیٹیوں کے علاوہ سیاسی پارٹیاں بھی بنائیں جن میں سے چند ایک اہم پارٹیاں اس طرح ہیں:

”جمعیت قَحطانی“ جو۱۹۰۹ء میں اسلامبول میں تشکیل پائی۔

”جمعیت عہد“ جوجمعیت قحطانی کا ایک حصہ تھی۱۹۱۳ء میں تشکیل پائی۔

”جمعیت لامر کزیہ“ جو۱۹۱۲ء میں مصرمیں سید رشید رضا اور ان کے ساتھیوں کے ذریعہ وجود میں آئی۔

چنانچہ آہستہ آہستہ ان جمعیتوں کے شعبہ جات دوسرے عربی شھروں میں بھی کھلنے لگے، مثلاً بغداد، دمشق، حلب، حمص، حماة اور بیروت وغیرہ میں ۔

۱۹۱۲ھ اور۱۹۱۳ھ میں عربی اور عثمانی اخباروں میں شدید مقابلہ بازی شروع ہوگئی، بعض عثمانی مقالہ نگار اپنے مقالوں میں عربوں پر طعنہ کرتے تھے اور ان میں سے کچھ لوگوں پر جو اصلاحات کا دم بھرتے تھے اتھام اور تہم ت لگاتے تھے کہ تم لوگ تو غیروں کے قبضے میں ہو، اور ایسی جماعتوں انگریز ادارہ کررہے ہیں۔

ادہر عربی طالب علم پیرِس میں ایک انجمن بنانے کی فکر میں پڑگئے، اسی طرح مصر کی ”لامرکزی جمعیت“ کو پیشکش کی کہ عربوں کو ان کے حقوق ملنے چاہئے، چنانچہ اس جمعیت کی شورائے عالی نے ان کی اس پیش کش کو قبول کرلیا، اور اپنی طرف سے کچھ نمائندے بھی پیرِس بھیج دیئے اور۱۹۱۳ء میں پیرِس کی جمعیت جغرافیائی کے بڑے ھال میں طلباء کی انجمن تشکیل پائی۔

ان تمام چیزوں کو دیکھتے ہوئے عثمانیوں نے مزید شدت عمل اختیار کرلی اور بیروت میں بعض اصلاح طلب افراد کو گرفتار کرلیا، لیکن عوام کی طرف سے عکس العمل یہ ہوا کہ بازاز بند ہوگئے، چنانچہ عثمانیوں نے سوچا کہ کسی دوسرے راستہ کو اپنایا جائے اور وہ یہ کہ عربوں کے ساتھ ظاہری طور پر صلح ودوستی کی جائے لیکن اس کے ساتھ ساتھ کچھ دوسری تدبیریں بھی کی جائیں، اور ان کا یہ حیلہ کارگر بھی ثابت ہوا، اوروہ یہ کہ خود اصلاح طلب لوگوں میں اختلاف ہوگیا، مذکورہ تدبیر یہ تھی کہ ان میں سے بعض لوگوں کو بلند مقام دیا جائے مثلاً سید عبد الحمید زہراوی جو پیرس انجمن کے صدر تھے ان کو مجلس اعیان کا ممبر بنادیا گیا اور دوسرے چند اصلاح طلب جوانوں کو اہم کاموں میں مشغول کردیا گیا۔

ہ دیکھ کر عرب کے جوانوں میں ان کی نسبت غصہ بھڑک اٹھا اور انھوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ انھوں نے امانت میں خیانت کی ہے (جس کی وجہ سے ان لوگوں کو یہ بڑے بڑے عہدے مل گئے) جبکہ ہم لوگوںکو ان پر اعتماد تھا۔

ان تمام واقعات کو کچھ ہی دیر گذری تھی کہ عالمی جنگ شروع ہوگئی،(۶۱۹) اور جیسا کہ ہم بعد میں بیان کریں گے عثمانی حکومت کی حالت بدل گئی۔

انقلاب کی ابتدا اور خلافت شریف حسین کی داستان

عثمانی حکومت کے عہدہ داروں کے درمیان یہ بات مشہور ہوگئی تھی کہ شریف حسین مخفی طور پر کچھ خاص کام انجام دے رہے ہیں اور اپنے کو ترکوں سے الگ کرنا چاہتے ہیں، اور ان کے لڑکوںنے مصر سے گذرتے وقت ”بالُرد كِیچنر“ (انگلینڈ کا مشہور ومعروف سیاستمدار) سے گفتگو کیھے تاکہ ان کی اس سلسلے میں مدد کرے، اور اسی طرح یہ بات بھی مشہور ہوئی کہ شریف حسین کا ارادہ صرف ترکوں سے جدا ہونے کا نہیں ہے بلکہ اس کی کوشش عثمانیوں سے حکومت بھی چھین لےنے کی ہے۔

عثمانیوں نے اس احتمالی خطرے سے نپٹنے کے لئے اپنے ایک شخص ”وُھیب بک“ کو حجاز کا والی بناکر بھیجا تاکہ وہ جاکر اس مہم کو ختم کردے۔

شریف کے خلاف جو منصوبے بنائے جاتے تھے وہ ان سب سے آگاہ ہوجا تے تھے اور اپنی دور اندیشی سے وہ ان کے جال سے بچنے کی کوشش کرتے رہتے تھے، اس موقع پر عثمانی حکومت انگلینڈ اور فرانس کی ضدمیں جرمنی کے ساتھ متحد ہوگئی، اوران دونوں ملکوں سے اعلان جنگ کردیا تھا، ادہر انگلینڈ کی حکومت نے شریف حسین سے (لرد کیچنرکے ذریعہ) ہوئی گفتگو کو آگے بڑھایا اور دونوں نے آپس میں اپنا ایک پروگرام بنالیا۔(۶۲۰)

اس کے بعد برٹین کے حکومتی افراد اور شریف حسین کے درمیان خط وکتابت ہونے لگی، چنانچہ ان خطوط کی عبارت کتاب جزیرة العرب فی القرن العشرین اور ۲کتاب الثورة العربیة الکبریٰ میں موجود ہے۔(۳)

ان خطوں میں سے ایک خط جس پر ”سر آرٹرماکماہون“ کے دستخط ہیں اس طرح وضاحت کی گئی ہے کہ انگلینڈ عربی ممالک کا استقلال چاہتا ہے اور جب خلافت کا مسئلہ بیان ہوگا تو وہ اس کو پاس کردیگا، اسی طرح ماکماہون ایک دوسرے خط میں لکھتا ہے کہ ہم ایک بار پھر اس بات کو واضح طور پر کہتے ہیں کہ بادشاہ کبیر برٹین اس بات پر راغب ہیں اور خوش آمد کہتے ہیں کہ خلافت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نسبت رکھنے والے عرب کے ایک حقیقی شخص کوھی ملنی چاہئے۔

مختلف وجوہات کی بناپر شریف حسین نے عثمانیوں کی مخالفت شروع کردی، ان میں سب سے اہم انگریزوں کا وہ وعدہ تھا جس میں مدد کا عہد وپیمان کیا گیا تھا۔

اس سلسلہ میں ”کولو نل لُورَنس“ نامی انگریز(۶۲۱) کی کوششوں کو بھی مد نظر رکھا جائے جو مدتوں سے حجاز میں رہا اور کافی عرصے سے جزیرہ نما عربستان میں عربی لباس پہن کر گھوما کرتا تھااور حجاز کے انقلاب کے وقت یعنی۱۳۳۴ھ میں شریف حسین اور اس کے دوستوں نے ”لورنس“ جو انگلینڈ کے ٹیلیفون آفس میں کام کرتا تھا، اس سے درخواست کی کہ مدینہ اور اس کے قرب وجوار میں ہورہی جنگ کی مکمل طریقہ پر رپورٹ پیش کرے اور دونوں طرف سے میدان جنگ کی ضرورتوں کو بیان کرے تاکہ ضروری سامان بھیجا جاسکے، لورنس (مدینہ میں ) فیصل اور شریف حسین کے بیٹے علی سے ملحق ہوگیا، اور سپاہ کی مدد کرنے لگا، اور اپنے مشاہدات اور جستجو کے نتائج کو بہت جلد بھیج دیتا تھا، یھی نہیں بلکہ انگلینڈ کی مدد بھی یکے بعد دیگرے پہونچتی رہی، چنانچہ شریف حسین کی مدد کے لئے چار ہوائی جھاز بھیجے گئے۔(۶۲۲)

بھر حال پہلے مدینہ اور پھر مکہ میں شریف حسین اور عثمانی سپاہیوں میں جنگ کا آغاز ہوا، اس وقت مدینہ میں عثمانی لشکر کا سردار عثمانی حکومت کانامور شخص فخری پاشا تھا۔

ہ لشکر عثمانی حکومت کی طرف سے مضبوط اور طاقتورہوتا رہا، شریف بھی اپنی طاقت کو جمع کرنے میں مشغول رہا اور قرب وجوار کے روسا سے مدد طلب کرتا رہا اور شریف کے بیٹوں نے بھی اپنے باپ کی ہر ممکن مدد کی چاہے وہ سیاسی ہو یا کسی دوسرے طریقہ سے۔

لڑائی کا آغاز(۹)جنوری۱۹۱۶ء کو مدینہ میں شروع ہوا، فخری پاشا نے شریف کے لشکر کو شکست دیدی، اس کے بعد بھی مقابلہ ہوتا رہا، اور چونکہ فخری پاشا بہت قدرتمند تھا شریف نے مجبوراً انگلینڈ سے مدد مانگی، چار مھینے کی لگاتار گفتگو کے بعد مصر اورانگلینڈ کے کچھ سپاہی اس کی مدد کے لئے پہونچے جبکہ شریف کی امید یں اس سے کہیں زیادہ تھیںاور یھیں سے انگلینڈ کی بنسبت شریف حسین کی مایوسی شروع ہوگئی۔

شریف نے طاقت اور قوت کو جمع کرنے کی بہت کوشش کی، ادہر عالمی جنگ بھی ختم ہونے والی تھی اور اس جنگ کے خاتمہ پر عثمانی حکومت کا بھی خاتمہ ہوجانا تھا۔

ادہر عالمی جنگ ختم ہوئی، ادہر شریف حسین نے مدینہ میں فخری پاشا کو گھیر لیا (کیونکہ عالمی جنگ کے آخر میں عثمانی حکومت اس حالت میں پہونچ گئی تھی کہ فخری پاشا کی مدد نہیں کرسکتی تھی) چنانچہ اسی مدت میں ترک فوج کو حجاز سے واپس بلالیا گیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شریف حسین نے بغیر کسی زحمت اور مشکل کے حجاز پر اپنا سكّہ جمالیا۔

قاضی القضاة اور مجلس شیوخ کے صدر کا تقرر

۷ ذی الحجہ ۱۳۳۴ھ میں شریف حسین کی طرف سے دو حکم جاری کئے گئے جن کی وجہ سے لوگوں نے اس کی حکومت کو مستقل ہونے کا پیش خیمہ تصور کیا اس وقت یہ تصور کیا جارہا تھا کہ(۸)یا ۱۱ذی الحجہ کو جب اس کی خدمت میں مبارک باد پیش کرنے جائیں گے تو وہ لوگوں سے اپنی خلافت کے بارے میں بیعت لے گا۔

ان دو فرمان کی عبارت سید رشید رضا (مدیر مجلہ المنار) کے سفر نامہ میں موجود ہے : شریف حسین نے اپنے پہلے فرمان میں شیخ عبد اللہ سراج (مفتی حنفی) کو قاضی القضاة کے عہدہ پر فائز کیا اوراس کو وکیل الوکلاء بھی بنایا (شریف حسین کا بیٹا امیر علی رئیس الوزراء تھا یعنی عبد اللہ سراج کو نائب رئیس الوزراء بنایا) اور اسی فرمان میں امیر عبد اللہ (شریف حسین کا دوسرا بیٹا) کو وزیر خارجہ اور نائب وزیر داخلہ معین کیا، اور عبد العزیز بن علی کو وزیر دفاع بنایا، شیخ علی مالکی کو معارف کا وزیربنایا اسی طرح شیخ یوسف بن سالم (سابق شھردار) کو وزیر منافع عمومی بنایا نیز شیخ محمد بن امین (حرم شریف کے سابق مدیر) کو اوقاف کی وزارت دی۔

گویا شریف حسین نے اپنے اس فرمان میں وزیروں کی کابینہ بنالی۔

شریف حسین نے دوسرے فرمان میں جو شیخ عبد اللہ سے خطاب تھا شیخ محمد صالح شَیبی(خانہ کعبہ کے کلید دار)کو تقریباً پارلیمنٹ جیسی مجلس تشکیل دینے کا حکم دیتے ہوئے ان کو اس کا صدر بنایا۔

سید رشید رضا صاحب جن سے یہ بات نقل ہوئی ہے ان لوگوں میں سے ہیں جنھوں نے شریف حسین کی حکومت کے مستقل ہونے میں بہت کوشش کی ہے، اور اس سلسلہ میں خود شریف کے سامنے ایک زبردست تقریر بھی کی، ان تمام چیزوں کے باوجود شریف حسین نے حکومت اور خلافت کے لئے اعلان نہیں کیا اور لوگوں نے دیکھا کہ خطیب جمعہ نے حسب معمول سلطان عثمانی کے لئے دعا کرائی۔(۶۲۳)

شریف حسین کی حکومت نے چند سال کے بعد کافی حد تک استحکام پیدا کرلیالیکن جیسا کہ بعد میں تفصیل سے بیان ہوگا زیادہ دنوں تک نہ چل سکی۔

عثمانی بادشاہوں کی داستان خلافت

عصر حاضر کے بعض مولفین نے یورپی مولفین سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب عثمانی سلطان سلیم کے ھاتھوں مصر فتح ہوا تو۹۲۲ء میں مصر کے عباسی خلیفہ نے خلافت کو محمد المتوکل علی اللہ کے سپرد کردیا اورخلافت کی باگ ڈور اس کے حوالے کردی۔

لیکن اس زمانہ کی لکھی گئی تاریخ مصر وشام اور ان لوگوں کی کتابوں سے جو ان واقعات کے شاہد تھے مذکورہ بات کی تصدیق نہیں ہوتی، مثلاً ابن ایاس مصر میں اور ابن طولون شام میں تھے اور ہر روز اپنی آنکھوں دیکھے واقعات یا مورد اعتماد لوگوں سے سنے واقعات کولکھتے رہتے تھے،چنانچہ ان لوگوں نے ان باتوںکو نہیں بیان کیا، اور عباسی خلیفہ سے سلطان سلیم پر حکومت کو منتقل ہونے کے بارے میں نہیں لکھا ہے، بلکہ ابن ایاس کی تحریر سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ سلطان سلیم قبل اس کے کہ مصر کو فتح کرے اپنے کو خلیفہ تصور کرتا تھا (لیکن اس کے القاب میں خلافت کا ذکر نہیں ہوتا تھا اور خطبوں میں اس کا نام خلیفہ کے عنوان سے نہیں لیاجاتا تھا)۔

سلطان سلیم نے، امیر طومان بائی مصر کے حاکم کے نام ایک خط میں اس طرح لکھا :

”مصر کا خراج (مالیات اور ٹیکس) جس طرح بغداد کے خلفاء کے پاس بھیجا جاتا تھا وہ میرے پاس بھیجا جائے کیونکہ میں روئے زمین پر خدا کا خلیفہ ہوں، اور میں حرمین شریفین کی خدمت کرنے میں تجھ سے بھتر ہوں۔(۶۲۴)

حقیقت یہ ہے کہ اس زمانہ میں خلافت کو کھیل بنا رکھا تھا وہ اس طرح کہ سلطان سلیم اپنے کو مصر کے خلیفہ عباسی کا جانشین ہونے میں کوئی فخر اور عظمت نہیں سمجھ رہا تھا، اسی طرح بغداد میں خلافت عباسی کے ختم ہوجانے کے چند سال بعد ایک شخص نے یہ دعویٰ کیا :

میں خلفائے عباسی کی اولاد میں ہوں، اس وقت کے مصر پر حکومت کرنے والے بادشاہوں کا لوگوں میں کوئی معنوی اثر نہ تھا تو انھوں نے اس شخص کو پاکر یہ طے کیا کہ مصر میں خلافت عباسی تشکیل دی جائے چنانچہ اس شخص کو خلیفہ عباسی کے عنوان سے خلیفہ بنادیاگیا۔ جس کے نتیجہ میں ایک طرح کی خلافت عباسی مصر میں وجود میں آگئی جو کئی صدی تک جاری رہی، جبکہ یہ خلافت اس وقت کے بادشاہوں کے کھیل کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔

اور جس وقت سلطان سلیم نے۹۲۲ء میں مصر اور شام پر حملہ کیا تو خلیفہ محمد المتوکل علی اللہ سلطان سلیم کے سامنے تسلیم ہوگیا اورسلطان سلیم نے اس کومع ساتھیوں کے اسلامبول روانہ کردیا، چنانچہ وہ چند سال تک وہاں رہا شروع میں تواس پر سلطان کا لطف وکرم ہوتا رہا، لیکن بعد میں اس سے دستبردار ہوگیا۔

سلطان نے اس سے خلافت چاہی ہو، یہ بات معتبر مدارک اور کتابوں میں نہیں ملتی (البتہ جہاں تک مولف کی نظر ہے)۔

اگرچہ عصرحاضر کے بعض مولفین کی کتابوں میں یہ بات دیکھنے کو ملتی ہے، منجملہ محمد کردعلی کی کتاب خطط الشام میں ” نامق کمال“ کے حوالہ سے نقل کیا گیا ہے کہ خلیفہ عباسی نے جامع ”ایاصوفیہ“ (اسلامبول) میں سب کے سامنے واضح طور پر خلافت کو اپنے سے آل عثمان پر منتقل کردی ہے۔(۶۲۵)

ہ بات مسلم ہے کہ سلطان سلیم کواس کی آخری عمر تک (۹۲۶ھ) خلیفہ کا عنوان نہیں دیا جاتا تھا اور نہ ہی اس کا نام خطبوں میں خلیفہ کے عنوان سے ذکر ہوتا تھا، بلکہ محمد المتوکل علی اللہ خلیفہ تھا۔

قارئین کرام! اس سلسلہ میں ابن طولون۹۲۶ ھ کے بارے میں کہتا ہے:

”محرم کا چاند نمودار ہوا درحالیکہ محمد متوکل علی اللہ عباسی خلیفہ تھا۔(۶۲۶)

ہ بات طے ہے کہ اگر مصر یا اسلامبول میں خلافت کی تفویض عمل میں آتی تو اس تاریخ سے پہلے ہوتی ۔

سلطان سلیم کے چند صدی بعد یعنی بارہویں صدی ہجری سے اور سلطان عبد الحمید کے زمانہ سے عثمانی سلاطین بعض وجوہات کی بنا پر اپنے کو خلیفہ، امام المومنین وغیرہ جیسے القابوںسے نوازنے لگے،(۶۲۷) اور ان کے خاتمہ تک یہ القاب کم وبیش ان کے لئے استعمال ہوتے رہے، لیکن عرب ان کو خلافت کا غاصب کہتے رہے ۔

خلافت کی امانتیں اور دوسرے آثار جو ”توپ قاپی“ میوزیم میں موجود ہیں

دوسری مشہور بات یہ ہے کہ مصر کے عباسی خلیفہ نے خلافت کی امانتیں اور حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کچھ چیزیں (یا آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منسوب چیزیں) سلطان سلیم کے سپرد کردیں یا سلطان سلیم نے اس سے لے لیں، مذکورہ چیزوں کے بارے میں یہ وضاحت کردینا ضروری ہے کہ شام میں خلافت بنی امیہ اور بغداد میں بنی العباس اور مصر میں خلافت عباسی کے تمام خلفاء اس بات کا دعویٰ کرتے آئے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور خلفاء اربعہ سے متعلق کچھ چیزیں ان کے پاس ہیں ،اور اس وقت خلافت کی یھی پہچان تھی جو شخص بھی خلیفہ بنے یہ مذکورہ چیزیں اس کے پاس ہونی چاہئیں۔

مولف کی نظر میں سب سے پہلی دلیل مسعودی کی وہ تحریر ہے جس میں بنی امیہ سے بنی عباس کی طرف خلافت جانے کے بارے میں بیان کیا گیا ہے اور وہ یہ کہ جب مروان (بنی امیہ کا آخری خلیفہ) قتل ہوا، عامر بن اسماعیل جو مروان کا قاتل تھا، وہاں پہونچا جہاں مروان کی لڑکیاں اور عورتیں تھیں کیا دیکھا کہ وہاں پر ایک خادم تلوار لئے کھڑا ہے۔

اسماعیل کے ساتھیوں نے اس (خادم) کو گرفتار کرلیا، اور جب اس سے اس بات کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے کہا کہ مجھے مروان نے حکم دے رکھا ہے کہ اگرکبھی میرا قتل ہوجائے تو اس کی بیویوں اور لڑکیوں کو قتل کردوں، اس کے بعد اس خادم نے کہا کہ اگر تم مجھے قتل کردو گے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی میراث سے محروم ہوجاؤ گے، اس کے بعدوہ خادم ان کو ایک جگہ لے کر آیا اوروہاں سے مٹی (ریت) ہٹا کر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ”بُردَہ“(۶۲۸) (ایک خط دار عبا) اور عصا نکالا جس کو مروان نے دفن کر رکھا تھا،

عامر بن اسماعیل نے ان کو عبد اللہ بن علی کے سپرد کیا اوراس نے سفاح کو دیدیا۔(۶۲۹)

ان کے علاوہ کچھ دوسری چیزیں بھی تھیں جن کو عباسی خلفاء محفوظ رکھتے تھے منجملہ پیغمبر اکرمکی ریش مبارک کے بال، عثمان کا قرآن ،جن کے بارے میں مصر کے خلفائے عباسی یہ ادعا کرتے تھے کہ یہ چیزیں مغلوں کے حملوں سے محفوظ ر ہیں، اور انھیں چیزوںاور دیگر قیمتی اشیاء کو سلطان سلیم مصر سے اسلامبول لے گیا یا ایک قول کے مطابق(۶۳۰) المتوکل علی اللہ نے ”بُردہ“ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ریش مبارک کے چند بال اور عمر کی تلوار سلطان سلیم کو دئے،(۶۳۱) اس سامان میں ایک شمشیر بھی تھی جس کو خلفاء حضرت رسول اللہ کی تلوار بتاتے تھے، چنانچہ اسی قول کے مطابق قاضی رشید بن الزبیر کہتے ہیں کہ خلیفة الراضی کے پاس مذکورہ سامان میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شمشیر بھی تھی(۶۳۲) پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بعض منسوب چیزیں غیر خلفاء کے پاس بھی پائی گئی ہیں، منجملہ یہ کہ (ابن طولون کی تحریر کے مطابق)(۱۶)ربیع الآخر۹۲۱ھ میں چند لوگ بیت المقدس سے دمشق میں داخل ہوئے جن کے پاس رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منسوب کچھ چیزیں تھی منجملہ ایک کاسہ آب، اور عصاء کا کچھ حصہ اور یہ دونوں چیزیں ٹوٹی ہوئی تھیں، اور ایک شخص ان کو اپنے سر پر رکھے ہوئے تھا، اور ان کے سامنے علم اٹھائے ہوئے تھے اور طبل بجارہے تھے، ملک الامراء، قضات، صوفی لوگ اور دوسرے لوگ ان کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے، اور بہت سے لوگ ان چیزوں کو دیکھنے کے لئے جمع ہوجاتے تھے۔

میں (ابن طولون) نے ان چیزوں کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے جواب دیا کہ یہ پانی کا ظرف اور عصا کا ایک حصہ ابن ابی اللطف کے باپ کے پاس تھے اور یہ چیزیں قلقشندی خاندان سے ان کے پاس پہونچی تھیں، چنانچہ ملک الامراء نے ان چیزوں کوبطور عاریہ مانگا تاکہ ان کے ذریعہ متبرک ہوسکے، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ یہ سب چیزیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نہیں تھی بلکہ لیث بن سعد کی تھیں۔(۶۳۳)

اسی طرح ابن ایاس کی تحریر کے مطابق جس وقت سلطان مصر ”حلب“ سے سلطان سلیم کا مقابلہ کرنے کے لئے نکلاتو خلیفہ اس کے داہنی طرف کھڑا تھا، اور اس کے چاروں طرف چالیس اہم شخصیات کھڑی تھیں جن کے پاس حریر کے کپڑے سے بنے غلاف میں ایک ایک قرآن مجید تھا، جس کو وہ اپنے سر پر رکھے ہوئے تھے جن میں ایک قرآن مجید عثمان کے ھاتھ کا لکھا ہوا بھی تھا۔(۶۳۴)

اسی طرح ا بن طولون صاحب کہتے ہیں کہ سلطان سلیم جس وقت دمشق پہونچے اور ”جامع اموی“ میں اور ” مقصورہ“ (مسجد کی وہ جگہ جہاں پر سلطان یا امام نماز پڑھا کرتے تھے) میں جاکر نماز پڑھی توانھوں نے عثمان کے (ھاتھوں کے لکھے ہوئے) قرآن کی بھی تلاوت کی۔(۶۳۵)

خلاصہ یہ ہے کہ سلطان سلیم نے مذکورہ چیزوں کو جمع کیا چاہے وہ خلفاء کے پاس ہوں یا دوسرے افراد کے پاس، اور اس کے بعد یہ چیزیں عثمانی سلاطین کے پاس موجود رہیں، اور جب عثمانی حکومت کا خاتمہ ہوا اور ”ترکی جمہوریت“ کا آغاز ہواتو یہ تمام چیزیں شھر اسلامبول میں (بسفور کے کنارے جامع یاصوفیہ کے نزدیک) ” توپ قاپی قلعہ “ میں رکھ دی گئیں، جو شخص بھی ان کو دیکھناچاہے وہ دیکھ سکتا ہے۔(۶۳۶)

شریف حسین کی حکومت

۶ محرم الحرام ۱۳۵۳ھ مطابق(۳)دسمبر۱۹۱۸ء بروز پنجشنبہ مکہ میں شریف حسین کی عرب کے بادشاہ کے عنوان سے بیعت کی جانے لگی، اور اس کے تین دن بعدانھوں نے اپنے تینوں بیٹوں کو درج ذیل عہدوں پر معین کیا:

امیر علی، رئیس الوزراء ۔

امیر فیصل، وزیر داخلہ ۔

امیر عبد اللہ، وزیر خارجہ ۔(۶۳۷)

شریف حسین نے اپنی مرضی کے مطابق چند سال تک حکومت کی لیکن درج ذیل دلیلوں کی وجہ سے اس کی حکومت کی بنیاد متزلزل ہوگئی:

۱۔ انگلینڈ اور فرانس کی حکومتوں نے شریف حسین کی بادشاہت کو تسلیم نہ کیا بلکہ ایک مدت کے بعد اس کی حکومت کو فقط حجاز پر قابل قبول سمجھا۔

۲۔ اس کے مد مقابل دشمن بہت قوی تھا مثلاً ابن سعود جو اپنی تمام تر طاقت حجاز کی حکومتچھیننے میں صرف کررہا تھا، جبکہ شریف اس کو کوئی اہمیت نہیں دے رہا تھا۔

۳۔ ایک عربی حکومت بنانے کے سلسلے میں اس نے عرب کے شیوخ اور امراء سے کسی طرح کی کوئی گفتگو نہیں کی تھی اور خود ہی سب کچھ انجام دیدیا، اور ظاہر ہے اس صورت میں ان میں سے کوئی بھی اس کی اطاعت نہیں کرتا تھا۔

شریف حسین نے وزیروں کو معین کرنے میں جلد بازی سے کام لیا، جیسا کہ پہلے بھی انقلاب کے شروع میں جلدی بازی سے کام لیا تھا اور اس کے تمام مقدمات مکمل ہونے سے پہلے کام شروع کردیا اور عثمانی فوج کے ساتھ جنگ شروع کردی۔(۶۳۸)

شریف حسین اور مسئلہ خلافت

شریف حسین نے ۱۳۴۲ھ تک تقریباً اپنی مرضی کے مطابق حکومت کی اور اس مدت میں اس کے دو بیٹوں نے بھی حکومت کی، جن میں سے ایک ملک فیصل جس کو عراق کی حکومت ملی اور امیر عبد اللہ جس کو مشرقی اردن کی حکومت پر مقرر کیا گیا ۔(۶۳۹)

چنانچہ اسی سال (یعنی ۱۳۴۲ھ میں ) شریف حسین نے خلافت بھی حاصل کرلی، اس طرح کہ مشرقی اردن میں اپنے بیٹے امیر عبد اللہ کے پاس سفر کیا وہاں کے مختلف قبیلوں کے لوگ اس کے دیدار کے لئے آتے رہے اور اس کو خلافت کے لئے انتخاب کرنے کا نظریہ پیش کرتے رہے، جس کے نتیجہ میں ان قبیلوں کے نمائندوں کا ایک جلسہ ہوا، اور شریف حسین کو مسلمانوں کا خلیفہ منصوب کردیا گیا، اور مشرقی اردن کی حکومت نے یہ اعلان کردیا :” شریف حسین کی خلیفة المسلمین کے عنوان سے بیعت کی جائے، یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مصطفی کمال” جدید ترکی کابانی“(جو عثمانی خلیفہ بھی تھا) کو ترکیہ سے نکال دیا گیا اور خلافت کے خاتمہ کا اعلان کردیا گیا۔

ابھی شریف حسین(جس کو ملک العرب کہا جاتا تھا) کے ساتھ امیر المومنین کا لقب اضافہ نہیں ہوا تھا کہ تخت خلافت پر مسند نشین ہونے کی غرض سے مکہ پلٹ آئے۔(۶۴۰)

اس سلسلہ میں سید عبد الرزاق حسنی کہتے ہیں جس وقت ترکوں نے خلافت کے عہدہ کو ختم کردیا، اور عثمانی خاندان کو ترکی سے باہر نکالدیا،اس وقت ملک حسین کو خلافت کے لئے منتخب کرنے کی باتیں ہونے لگی، اور جس وقت وہ اپنے دوسرے بیٹے امیر عبد اللہ کے پاس جدید اردن کی جانچ پڑتال کے لئے گیا اس وقت نوری سعید وزیر دفاع عراق کی سرپرستی میں ایک ھیئت اس کے دیدار کے لئے گئی۔

عراق کے لوگوں نے شریف کے بیٹے ملک فیصل جو جلد ہی عراق کے سلطان بنے تھے ٹیلیگرام کے ذریعہ شریف حسین کی خلافت کے بارے میں اپنے اعتماد کا اظھار کردیا، اس نے بھی عراقیوں کے حسن ظن کا شکریہ کا ٹیلیگرام کے ذریعہ کیا، ادہر ملک فیصل نے بھی(۱۲) شعبان۱۳۴۲ھ ایک اعلان میں ان تمام لوگوں کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے اس کے باپ ملک حسین کو خلفة المسلمین اور امیر المومنین کی حیثیت سے مبارکباد اور تہنیت کے پیغام دئے تھے۔(۶۴۱)

ابن سعود کا حجاز پر حملہ کرنا

شریف حسین کی بادشاہت تقریباً آٹھ سال تک باقی رہی، لیکن مختلف وجوہات کی بناپر جن میں سے بعض کو ہم نے بیان بھی کیا ہے، اس حکومت کی چولیں ھلنے لگیں اس مدت میں ابن سعود نے بھی کوئی روک ٹوک نہیں کی، جس کی وجہ سے یہ سمجھا جارہا تھا کہ وہ گوشہ نشین ہوگیا ہے، لیکن ابن سعود دوراندریشی کررہا تھا اور حجاز پر حملہ کرنے کے لئے بہترین فرصت کا منتظر تھا۔

ابن سعود کی سب سے زیادہ توجہ دو چیزوں کی طرف تھی ایک یہ کہ اگر اس نے حجاز پر حملہ کیا تو کیا انگلینڈ کی حکومت خاموش رہے گی اور دوسری طرف اس کے دوبیٹے ملک فیصل عراقی حاکم اور ملک عبد اللہ اردن کا حاکم ہر حال میں اپنے باپ کی مدد کریں گے۔

انگلینڈ کے بارے میں جیسا کہ تاریخ مکہ کے مولف لکھتے ہیں کہ(۶۴۲) ”اس کی استعماری چال اس بات کا تقاضا کرتی تھی کہ ”عقبہ بندرگاہ“ حجاز سے جدا ہوجائے اور مشرقی اردن سے ساتھ ملحق ہو جائے جو امیر عبد اللہ بن شریف حسین کی حکومت کے زیر اثر ہے۔

لیکن اس سلسلہ میں شریف حسین انگریزوں کی سخت مخالفت کرتا تھا جس کی بناپر انھوں نے بھی اس کے ہمیشگی دشمن ابن سعود کے مقابلہ میں تنھا چھوڑ دیا، آخر کار ابن سعود نے حجاز پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنالیا، اور اسی پروگرام کے تحت ماہ ذیقعدہ ۱۳۴۲ھ کے شروع میں اس نے اپنے باپ عبد الرحمن کی سرپرستی میں ریاض میں علماء اور روسا کی ایک انجمن تشکیل دی۔

عبد الرحمن نے سب سے پہلے گفتگو کا آغاز کیا کہ ہمارے پاس کچھ خطوط آئے ہیں جن میں ہم سے حج بجالانے کی درخواست کی گئی ہے، اور میں نے ان خطوط کو اپنے بیٹے عبد العزیز کے حوالے کردیا ہے اور وھی تمھارا امام ہے۶۴۳ جو بھی چاہتے ہو اس سے کہو۔

اس کے بعد ابن سعود نے خطاب کیا اور کہا تمھارے خطوط ہمارے پاس پہونچے اور میں تمھاری شکایتوں سے آگاہ ہوا، ہر چیز کا ایک جگہ پر خاتمہ ہوجاتا ہے، اور ہر کام بموقع انجام دیا جانا چاہئے، ابن سعود کی تقریر کے بعد آپس میں گفتگو ہوئی جس کے نتیجہ میں حاضرین نے حجاز پر حملہ کرنا طے کیا، کیونکہ تین سال سے شریف حسین نے نجدیوں کو حج کرنے کی اجازت نہیں دی تھی۔

چنانچہ ابن سعود نے اپنے منصوبے کے تحت” سلطان بن بجاد“کی سرداری میں حملہ کے لئے ایک لشکرمکہ کی طرف روانہ کیا اس لشکر نے کئی حملوں کے بعد ماہ صفر ۱۳۴۳ھ میں طائف کو فتح کرلیا۔

صلاح الدین مختار کے بقول شریف حسین (شریف حسین کو سلطنت پر پہونچنے کے بعد ملک حسین کہا جانے لگا) نے جب اپنی حالت کمزور دیکھی، جدّہ میں برٹین کے سفیر سے مدد چاہی، چنانچہ اس سفیر نے وعدہ دیا کہ وہ اس کی درخواست کو انگلینڈ پہونچائے گا۔

شریف حسین جدّہ سے مکہ واپس چلا گیا اور انگلینڈ کی مدد کا انتظار کرتا رہا، ادہر انگلینڈ کی حکومت نے اپنے سفیر کو جواب دیا کہ ابن سعود اور شریف میں جنگ ایک مذہبی جنگ ہے اورہم اس میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے، لیکن اگر حالات ان کے درمیان صلح کرانے کی اجازت دیں تو ہم اس چیز کے لئے تیار ہیں۔(۶۴۴)

ملک علی کو سلطنت ملنا

اس وقت مکہ میں ”حزب وطنی“ کے نام سے ایک انجمن بنائی گئی جس کا اصل مقصد حجاز کو افرا تفری کے ماحول سے نکالکر امن وامان قائم کرنا، چنانچہ اس انجمن نے یہ طے کیا کہ ملک حسین حکومت سے ہٹ جائے اور اس کی جگہ اس کا بیٹا ملک علی حجاز کا بادشاہ بنے۔

چنانچہ” حزب وطنی“ انجمن نے چھار ربیع الاول ۱۳۴۳ھ میں تقریباً ایک سو چالیس علماء، اہم شخصیات اور تاجروں کے دستخط کراکے ملک حسین کو ٹیلیگرام کیا اور اپنی رائے کا اظھار کیا۔ ملک حسین نے مجبوراً اس پیشکش کو قبول کرلیا، اس کے دوسرے دن حزب وطنی انجمن نے ملک علی جو جدّہ میں تھا ٹیلیگرام بھیج کر مکہ بلالیا چنانچہ ملک علی نے ۵ربیع الاول کو حکومت کی باگ ڈور اپنے ھاتھوں میں لے لی، لیکن اس تبدیلی کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا، کیونکہ ابن سعود ملک علی کو بھی اسی نگاہ سے دیکھتا تھا جس نگاہ سے اس کے باپ ملک حسین کو دیکھتا تھا(۶۴۵) لہٰذا سر زمین حجاز کے حالات اسی طرح خراب رہے۔

شریف حسین کا انجام

شریف حسین حکومت چھوڑ کر مکہ سے جدّہ کی طرف روانہ ہوئے اور دس ربیع الاول کو جدّہ پہونچ گئے ماہ ربیع الاول کی(۱۶)ویں شب میں اپنے غلاموں کے ساتھ کشتی سے عقبہ بندرگاہ کے لئے روانہ ہوئے، اور اپنے مقصد پر پہونچنے کے بعد بھی ملک علی کی ترقی اور پیشرفت کے لئے کوشش کرتے رہے، اس کی حکومت کو سر سبز دیکھنا چاہتے تھے۔

اسی مدت میں انگلینڈ کی حکومت نے اپنے امیر البحر کے ذریعہ ملک حسین کو اخطاریہ (اَلٹی میٹم) دیا کہ تین ہفتوں کی مدت میں عقبہ بندرگاہ کو چھوڑ دےں، اور جہاں جانا چاہیں وہاںچلے جائیں۔

شروع میں انھوں نے اس دہمکی کو نہیں مانا لیکن کچھ مدت گذرنے کے بعد اور کچھ واقعات کی بناپر جن کو ہم بیان نہیں کرسکتے مجبور ہوگیا اور کشتی پر سوار ہوکر جزیرہ ”قبرس“ کے لئے روانہ ہوگیا۔

شریف حسین اس قدر انگلینڈ کی حکومت سے بدظن ہوگئے تھے کہ اپنے مخصوص باورچی کے علاوہ کسی دوسرے کے ھاتھ کا کہانا نہیں کہاتے تھے تاکہ کوئی ان کو (انگلینڈ کی حکومت کے اشارہ پر) زھر نہ دیدے۔

شریف حسین۱۹۳۱ء تک قبرس میں رہے اور اسی سال بیمار ہوئے اور جب ان کی بیماری بڑھتی گئی،وہ عَمّان (اپنے بیٹے امیر عبد اللہ کی حکومت کے پائے تخت) چلے گئے، اور اسی سال وھیں پر انتقال کیا اور بیت المقدس میں ” قدس شریف قبرستان“ میں دفن کردئے گئے۔(۶۴۶)

ابن سعود مکہ میں

اس وقت مدینہ، جدّہ اور بندرگاہ ینبع کے علاوہ تمام سر زمین ابن سعود کے اختیار میں تھی، اور دونوں طرف سے نمائندوں کی آمد ورفت ہوتی رہی تاکہ آپس میں صلح اوردوستی ہوجائے لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ ابن سعود ۱۰ربیع الثانی ۱۳۴۳ھ کو ریاض سے عمرہ کے لئے مکہ کی طرف روانہ ہوا، اور دوسرے حكّام منجملہ امام یحيٰ یمن کے بادشاہ کو خط لکھا کہ اپنی طرف سے مکہ میں کچھ نمائندے بھیجےں تاکہ عالم اسلام کے تمام نمائندے ایک جگہ جمع ہوکر یہ طے کریں کہ مسجد الحرام اور خانہ کعبہ کو سیاسی معاملات سے کس طرح دور رکھا جائے۔

ابن سعود کے ساتھ بہت سے سپاہی، علمائے نجد، اور محمد بن عبد الوہاب کے خاندان والے نیز دوسرے قبیلوں کے سردار بھی تھے، چوبیس روز کی مدت میں مکہ کے قریب پہونچے اور جس وقت عرفات پھاڑ کے علاقہ میں پہونچے تو ”ابن لُوی“ نے جو مکہ میں اس کے لشکر کا سردار تھا تقریباً ایک ہزار اخوان لوگوں کے ساتھ اس کے استقبال کوگیا۔

ابن سعود گھوڑے سے نیچے اترا، اور مسجد الحرام کی طرف چلا، وہاں پہونچ کر طواف کیا اور جس وقت وہ مکہ میں پہونچا تو ماہ جمادی الاول کی ساتویں تاریخ تھی۔

علمائے مکہ اور علمائے نجد میں مناظرہ

دوسرے روز مکہ کے علماء جن میں سب سے اہم شخصیت شیخ عبد القادر شیبی کلید دار خانہ کعبہ۶۴۷ تھے ابن سعود کے دیدار کے لئے آئے، ابن سعود نے علماء کو مخاطب کرتے ہوئے ایک تقریر کی، جس میں محمد بن عبد الوہاب کی دعوت کی طرف یاددہانی کرائی، اور کہا کہ ہمارے دینی احکام احمد بن حنبل کے اجتھاد کے مطابق ہیں، اور اگر آپ لوگ بھی اس بات کو مانتے ہیں تو آئےے آپس میں بیعت کریں کہ کتاب خدا اور سنت خلفائے راشدین پر عمل کریں۔

تمام لوگوں نے اس بیعت کی موافقت کی، اس کے بعد مکی علماء میں سے ایک عالم دین نے ابن سعود سے درخواست کی کہ کوئی ایسا جلسہ ترتیب دیں جس میں علمائے مکہ اور علمائے نجد اصول اور فروع کے بارے میں مباحثہ اور مناظرہ کریں، اس نے بھی اس پیش کش کو قبول کرلیا، اور(۱۱)جمادی الاول کو پندرہ علمائے مکہ اور سات علمائے نجد ایک جگہ جمع ہوئے اور کافی دیر تک بحث وگفتگو ہوتی رہی اور آخر میں علمائے مکہ کی طرف سے ایک بیانیہ نشر کیا گیا جس میں یہ لکھا گیا تھا کہ اصول کے بارے میں ہم میں اور نجدی علماء میں کوئی فرق نہیں ہے منجملہ یہ کہ جو شخص اپنے اورخدا کے درمیان کسی کو واسطہ قرار دے کافر ہے، اور اس کو تین دفعہ توبہ کے لئے کہا جائے اگر توبہ نہیں کرتا تو اس کو قتل کردیا جائے، اسی طرح قبروں کے اوپر عمارت بنانا، وہاں چراغ جلانا قبور کے پاس نماز پڑھنا حرام ہے، اسی طرح اگر کوئی کسی غیر خدا کو اس کی جاہ ومنزلت کے ذریعہ پکارتا ہے تو وہ گویا بدعت کا مرتکب ہوا ہے، اور شریعت اسلام میں بدعت حرام ہے۔(۶۴۸)

جدّہ پر قبضہ

تقریباً ایک سال تک یعنی ماہ جمادی الاول ۱۳۴۴ھ تک ابن سعود اور ملک علی کے درمیان جدّہ میں جنگیں ہوتی رہیں، لیکن ماہ جمادی الاول کے آخر میں ملک علی نے جدّہ چھوڑنے اور اس کو ابن سعود کو دینے کا فیصلہ کرلیا، اور اس کام کے بدلے جدّہ میں انگلینڈ کے سفیر ”گُورْدون“ کے ذریعہ ابن سعود کو کچھ پیش کش کی گئی، چنانچہ پہلی جمادی الثانی کو ابن سعود اور انگلینڈ کے سفیر میں ملاقات ہوئی اور سفیر نے ملک علی کی سترہ شرائط پر مشتمل پیش کش کو ابن سعود کے حوالہ کیا، اور ابن سعود نے ان شرائط کو قبول کرلیا، اس کے بعد چھارم جمادی الثانی کو سفیر نے ابن سعود کو خبر دی کہ ملک علی انگلینڈ کی ”کورن فِلاوِر“ نامی کشتی پر سوار ہوکر عَدَن کے لئے روانہ ہورہے ہیں اور وہاں سے عراق جانے کا قصد کرلیا،

۶ جمادی الثانی کو ملک علی مذکورہ کشتی پر سوار ہوکر عدن کے لئے روانہ ہوگئے اور ساتویں دن کی صبح کو ابن سعود جدّہ پہونچ گئے، اور جب شھر کے قریب پہونچے تو ”كَندرہ“ نامی محلہ میں بہت زبر دست استقبال ہوا۔(۶۴۹)

مدینہ پر قبضہ

جس وقت ابن سعود مکہ سے جدہ کے راستہ میں ”بَحرہ“ نامی مقام پر پہونچا تو امیر مدینہ ”شریف شحات“ کی طرف سے ایک مخصوص قاصد آیا اور ایک خط ابن سعود کو دیا جس میں امیر مدینہ نے اس کی اطاعت پر مبنی پیغام بھیجا تھا اور اس خط میں ابن سعود کو لکھا تھا کہ اپنی طرف سے کسی کو مدینہ کا والی اور امیر بناکر روانہ کردے، چنانچہ ابن سعود یہ خط دیکھ کر مکہ واپس پلٹ آیا اور اپنے تیسرے بیٹے امیر محمد کو مدینہ کا امیر بناکر روانہ کیا، اور(۲۳)ربیع الثانی کو امیر محمد اپنے کچھ سپاہیوں کے ساتھ مدینہ میں وارد ہوا، اور اہالی مدینہ کو اپنے آنے کا ہدف سنایا۔

لیکن ملک علی کی طرف سے معین کردہ سردارِ لشکر نے قبول نہ کیا لیکن غذا اور وسائل کی قلت ملک علی بھی اس کی مدد کرنے سے قاصر تھا دو مھینہ کی پائیداری کے بعدشھر مدینہ امیر محمد کے حوالہ کردیا، چنانچہ امیر محمد نے(۱۹)جمادی الاول ۱۳۴۴ھ کی صبح کو مدینہ شھر پر قبضہ کرلیا۔(۶۵۰)

قبروں اور روضوں کی ویرانی

ہم نے اس بات کی طرف پہلے بھی اشارہ کیا ہے کہ وہابیوں کے قدم جہاں بھی جاتے تھے وہاں پر موجود تمام روضوں اور مقبروں کو مسمار کردیا کرتے تھے، اور جب بھی حجاز کے شھروں پر قبضہ کیا ہے انھوں نے یہ کام انجام دیا ہے۔

مکہ کے بعض روضوں اور مقابر کو پہلی ہی دفعہ میں قبضہ ہونے کے بعد مسمار کرچکے تھے، جیساکہ ہم نے پہلے عرض کیا ہے، اور اس وقت مکہ اور قرب وجوار میں باقی بچے تمام روضوں اور مقبروںکو مسمار کردیا، یہاں تک کہ حجاز کے جس علاقہ میں بھی مقبرے تھے سب کو گراکر خاک کردیا، سب سے پہلے طائف میں موجود عبد اللہ بن عباس کی گنبد کو گرادیا، اور اس کے بعد مکہ میں موجود حضرت عبد المطلب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دادا، جناب ابوطالب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا، جناب خدیجہ پیغمبر اکرم کی زوجہ کے روضوں کو مسمار کیا، اسی طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور جناب فاطمہ زہرا (س) کی جائے ولادت پر بنی عمارتوں کو بھی مسمار کردیا۔

اسی طرح جدّہ میں جناب حوّا (یا جناب حوّا سے منسوب) کی قبر کو مسمار کردیا، خلاصہ یہ کہ مکہ اور جدہ کے علاقے میں موجود تمام مزاروں کو گرادیا، اسی طرح جب مدینہ پر ان کا قبضہ تھا جناب حمزہ کی مسجد اور ان کے مزار کو اور اسی طرح شھر سے باہر شہداء احد کے مقبروں کو بھی مسمار کردیا۔

قبرستان بقیع کی تخریب

جس وقت مدینہ منورہ وہابیوں کے قبضہ میں چلا گیا، مکہ معظمہ کا شیخ ”عبد اللّٰہ بِن بُلْیَہِدْ“ وہابیوں کا قاضی القضاة ماہ رمضان میں مدینہ منورہ آیا اور اہل مدینہ سے وہاں موجود قبروں کو منہدم کرنے کے بارے میں سوال کیا کہ تمھارا اس سلسلہ میں کیا نظریہ ہے؟ کچھ لوگوں نے تو ڈر کی وجہ سے کوئی جواب نہ دیا، لیکن بعض لوگوں نے ان کے گرانے کو ضروری کہا۔

اس سلسلہ میں مرحوم علامہ سید محسن امین کہتے ہیں کہ شیخ عبد اللہ کا سوال کرنے کا مقصد حقیقت میں سوال کرنا نہیں تھا کیونکہ وہابیوں کی نظر میں تمام روضوں کو یہاں تک پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روضہ مبارک کو مسمار کرنے میں کوئی شک وتردید نہیں تھی اور یہ کام تو ان کے مذہب کی اصل بنیاد تھی، اس کا سوال اہل مدینہ کی تسکین کے لئے تھا۔

سوال کا جواب ملنے پر مدینہ اور قرب وجوار کے تمام روضوں، مزارات اور ضریحوں کو ویران کردیاگیا یہاں تک کہ بقیع میں دفن ائمہ علیهم السلامکی گنبد کو بھی ویران کردیاگیا جس میں جناب عباس عموئے پیغمبر اکرم بھی دفن تھے اور دیوار اور قبروں پر بنی ضریحوں کو بھی گرادیاگیا، اسی طرح پیغمبر اکرم کے پدر بزرگوار جناب عبد اللہ (ع) اور مادر گرامی جناب آمنہ کی گنبدوں کو بھی توڑ ڈالا، اسی طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج کے گنبد، اور عثمان بن عفان اور اسماعیل بن جعفر الصادق ں کی گنبدوں، نیز امام مالک کی گنبد کو بھی منہدم اور مسمار کردیاگیا، خلاصہ یہ کہ مدینہ اور اس کے قرب وجوار اور ”ینبع“ میں کوئی بھی قبر باقی نہیں چھوڑی گئی۔(۶۵۱)

قبروں کی ویرانی پر ایران اور دیگر اسلامی ملکوں کا ردّ عمل

جس وقت روضوں کی ویرانی بالخصوص ائمہ بقیع کی قبروں کے انہدام کی خبر دوسرے اسلامی ملکوں میں پہونچی، تو سب مسلمانوں کی نظر میں یہ ایک عظیم حادثہ تھا، چنانچہ ایران عراق اور دیگر ممالک سے ٹیلیگرام کے ذریعہ اعتراض ہوئے، درس کے جلسے اور نماز جماعت تعطیل ہوگئی، اور اس سلسلہ میں اعتراض کے طور پر عزاداری ہونے لگی، ان میں سب سے اہم اور غمناک خبر یہ تھی کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گنبد پر بھی گولیاں چلائی گئیں (یہاں تک کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر اقدس بھی مسمار کردی گئی) لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ آخری بات صحیح نہیں ہے جس کا انکار خود وہابیوں نے بھی کیا (یعنی پیغمبر اکرم کی قبر مسمار نہیں کی گئی)۔(۶۵۲)

ایران کی حکومت نے اس سلسلہ میں بہت زیادہ اہتمام کیااور علماء کی موافقت سے یہ بات طے ہوئی کہ ایران سے کچھ نمائندے باقاعدہ طور پر حجاز جائیں اور وہاں جاکر نزدیک سے حقیقت کا پتہ لگائیں اور یہ نمائندے حجاز میں وہابیوں کے اس کارنامہ کی تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔

مرحوم علامہ عاملی مذکورہ مطلب کی شرح میں اس طرح فرماتے ہیں کہ ایران کے علماء نے ایک اجتماع کیا اور انہدام بقیع کو ایک عظیم حادثہ شمار کیامیں اس وقت دمشق میں تھا لہٰذا خراسان کے ایک عالی قدر عالم نے مجھے ٹیلیگرام کے ذریعہ اس حقیقت سے باخبر کیا۔(۶۵۳)

بقیع، انہدام سے پہلے

ہم نے اپنے حج کے سفر نامے میں قبور ائمہعلیهم السلامکو منہدم ہونے سے پہلے کی وضعیت کو تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے، اور منہدم ہونے سے پہلے اوربعد کی فوٹو بھی پیش کی ہے، یہاں پر موضوع کی مناسبت سے اس بارے میں کچھ تفصیل بیان کرتے ہیں:

۱۳۴۴ھ سے پہلے بقیع میں دفن ائمہعلیهم السلام اور دیگر قبور پر گنبد تھے جن میں فرش، پرد ے چراغ، شمعدان اور قندیلیں بھی تھیں، جو حضرات اس تاریخ سے پہلے وہاں گئے ہیں انھوں نے وہاں پر موجود تمام روضوں کی تفصیلات اپنے سفر ناموں میں بیان کی ہے، اور اس سلسلہ میں بعض حضرات نے وہاں کی گنبدوں اور قبور سے متعلق فوٹو بھی دئے ہیں۔

ان مولفین میں میرزا حسین فراہانی بھی ہیں جو ۱۳۰۲ھ میں سفر حج کے لئے گئے، موصوف قبور بقیع کے بارے میں اس طرح رقمطراز ہیں:

بقیع کا قبرستان ایک وسیع قبرستان ہے، جو مدینہ کی مشرقی دیوار سے متصل ہے اور اس کے چاروں طرف پتھرسے تین گز اونچی دیواربنی ہوئی ہے، جس کے چار دروازے ہیں اس کے دو دروازے مغرب کی طرف ہیں اور ایک دروازہ جنوب کی طرف اور چوتھا دروازہ مشرق کی طرف ہے جو شھر کے باہر باغ کی گلی میں ہے، اور اس قبرستان میں اتنے لوگوں کو دفن کیا گیا ہے کہ یہ قبرستان زمین سے ایک گز اونچا ہوگیا ہے، اور جس وقت حجاج آتے ہیں اس زمانہ میں قبرستان کے دروازے مغرب کے وقت تک کھلے رہتے ہیں جو بھی جانا چاہے جاسکتا ہے، لیکن حج کے دنوں کے علاوہ پنجشنبہ کی ظھر کے وقت کھلتا ہے اور جمعہ کے دن غروب تک کھلا رہتا ہے، اور اس کے علاوہ بند رہتا ہے، مگر یہ کہ کوئی مرجائے اور اس کو وہاں دفن کرنا ہو۔

اس قبرستان میں شیعہ اثنا عشر ی کے چار ائمہعلیهم السلامکی قبریں ہیں جو(۸)گوشوں کی ایک بڑی گنبد کے نیچے دفن ہیں، اور یہ گنبد اندرسے سفیدہے، معلوم نہیں کہ یہ گنبد کب سے بنی ہوئی ہے لیکن محمد علی پاشا مصری نے ۱۳۳۴ھ میں عثمانی سلطان محمود خان کے حکم سے ان کی مرمت کرائی تھی، اور اس کے بعد سے ہر سال عثمانی سلاطین کی طرف سے بقیع میں موجود تمام بقعوں کی مرمت ہوتی ہے۔

اس بقعہ کے بیچ میں ایک بڑی ضریح ہے جو بہترین لکڑی سے بنی ہے اور اس بڑی ضریح کی وسط میں لکڑی کی دو دوسر ی ضریح بھی ہیں ان دونوں ضریحوںمیں پانچ حضرات دفن ہیں :

۱۔ حضرت امام حسن مجتبیٰں، ۲۔ حضرت امام سجادں، ۳۔ حضرت امام محمد باقر ں ۴۔ حضرت امام جعفر صادق ں، ۵۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا جناب عباس ں، (بنی عباس انھیں کی اولادہیں) اس بقعہ مبارک کے وسط میں دیوار کی طرف ایک اور قبر ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ جناب فاطمہ زہرا = کی قبر ہے۔

جناب فاطمہ زہرا = کی قبر تین مقامات پر مشہور ہے:

۱۔ بقیع کے اس حجرے میں جس کو بیت الاحزان کہا جاتا ہے، اور اسی وجہ سے بیت الاحزان میں جناب فاطمہ زہرا = کی زیارت پڑھی جاتی ہے۔

۲۔ دوسرے یھی بقعہ کہ جہاں پر شیعہ سنی زیارت پڑھتے ہیں، اسی قبر کے سامنے ایک گنبد پر زرگری سے تیار کردہ پردہ لگا ہوا جس پر لکھا ہے سلطان احمد بن سلطان محمد بن سلطان ابراہیم ،۱۱۳۱ھ ۔

اس روضہ میں اورکوئی زینت نہیں ہے مگر یہ کہ دو عدد چھوٹے ”چھل چراغ“، چند دہات کی شمعدان، اور وہاں کا فرش چٹائی کا ہے اور چار پانچ افراد متولی اور خدام ہیں ،جو موروثی پوسٹ پر قابض ہیں اور کوئی خاص کام نہیں کرتے بلکہ ان کا کام حجاج سے پیسے لینا ہے۔

اہل سنت حجاج بہت کم وہاں زیارت کے لئے جاتے ہیںلیکن ان کے لئے زیارت کرنے میں کوئی ممانعت نہیں ہے اور ان سے پیسہ بھی نہیں لیا جاتا، لیکن شیعہ حضرات سے پیسہ لے کر تب اندر جانے دیا جاتا ہے، شیعہ زائرین کو تقریباً ایک ”قران“ سے پانچ ”شاہی“(۶۵۴) تک خادموں کو دینا پڑتا ہے، زائرین سے لئے گئے پیسہ میں سے نائب الحرم اور سید حسن پسر سید مصطفی کا بھی حصہ ہوتا تھا، البتہ پیسہ دینے کے بعد زیارت اور نماز میں کوئی تقیہ نہیں ہوتا تھا، زیارت کو کھلے عام پڑھا جاسکتا تھا، اور شیعہ زائرین کو پھر کسی کا کوئی خوف نہیں ہوتا تھا، اس روضہ کے پیچھے ایک چھوٹا سا روضہ ہے جو حضرت فاطمہ زہرا=کا بیت الاحزان ہے۔

اس کے بعد مرحوم فراہانی بقیع کی دیگر قبروں کی توصیف کرتے ہیں جن پر عمارت بنی ہوئی ہے۔(۶۵۵)

اسی طرح میر زا فرہاد جو۱۲۹۲ھ میں حج کے لئے سفر کرچکے ہیں اپنے سفر نامہ ”ہدایة السبیل“ میں کہتے ہیں:

”میں (پیغمبر کی زیارت کے بعد)باب جبرئیل سے باہر نکلا اور ائمہ بقیع علیهم السلامکی زیارت کے لئے مشرف ہوا کہ ائمہ اربعہ کی ضریح بڑی ضریح کے درمیان ہے، اور جناب عباس پیغمبر اکرمکے چچا کی قبر اسی ضریح میں ہے، لیکن ائمہ کی ضریح دوسری ضریحوں سے جدا ہے۔

وہاں کے متولی نے روضہ کے دروازہ کو کھولا اور میں نے اس ضریح کا طواف کیا، پیروں کی طرف صندوق اورضریح کے درمیان بہت کم جگہ ہے جس کی وجہ سے انسان بمشکل وہاں سے نکل سکتا ہے۔(۶۵۶)

نائب الصدر شیرازی جو۱۳۰۵ھ میں حج سے مشرف ہوئے ہیں، اپنے سفر نامہ ”تحفة الحرمین“ میں اس طرح کہتے ہیں :بقیع میں داہنی طرف ایک مسجد ہے جس کے اوپر یہ لکھا ہے:

”هٰذٰا مَسْجِدُ اُبَیّ بِنْ كَعْبَ وَصَلیّٰ فِیْهِ النَّبِیّ غَیْرَ مَرَّةٍ“

(یہ مسجد ابی بن کعب ہے جس میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے متعدد بار نماز پڑھی ہے،)

بقیع میں چار ائمہ:امام حسن مجتبیٰ ں، امام زین العابدین ں، امام محمد باقر ں، امام جعفر صادق ں کی قبر ایک ہی ضریح میں ہے۔

کھا یہ جاتا ہے جناب عباس بن عبد المطلب بھی وھیں دفن ہیں، اسی طرح دیوار کی طرف ایک پردہ دار قبرہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ جناب فاطمہ زہرا (س) کی قبر ہے۔(۶۵۷)

ابراہیم رفعت پاشا جو۱۳۲۰ھ، ۱۳۲۱ھ اور ۱۳۲۵ھ میں مصر کے رئیس حجاج تھے انھوں نے اپنے سفر نامہ ”مرآة الحرمین“ میں بقیع میں دفن مشہور ومعروف حضرات مثلاً پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ وغیرہ کی تفصیل بیان کی ہے، وہ کہتے ہیں کہ اہل بیت (بقیع میں مدفون ائمہ مراد ہیں) کا قبہ دوسرے قبوں سے بلند ہے۔

رفعت پاشا نے ان تمام روضوں کے فوٹو بھی دئے ہیں اور یہ بھی دکھایا ہے کہ ائمہ اہل بیت کا روضہ دوسرے روضوں سے بلند تر اور خوبصورت بنا ہوا ہے۔(۶۵۸)

بقیع میں ائمہ علیهم السلام کی قبروں کے انہدام کے سلسلہ میں یہ بات بیان کرنا بہت ضروری ہے کہ ان قبروں پر قدیم زمانہ (پہلی صدی) سے گنبد، بارگاہ اور سنگ قبر موجود تھے، ہم نے پہلے بھی قبور پر عمارتوں کے سلسلہ میں مسعودی صاحب مروج الذھب اور سمہودی صاحب وفاء الوفاء کی عبارتوں کو ذکر کیا کہ حضرت فاطمہ زہرا = اور بقیع میں دفن ائمہ علیهم السلامکی قبور پرتحریر موجود تھی، اور اس بات کی تائید کہ پہلی صدیوں میں ائمہ علیهم السلامکی قبروں پر گنبد تھے ابن اثیر کی وہ تفصیل ہے جو انھوں نے ۴۹۵ھ کے واقعات میں ذکر کی ہے کہ اس سال قم سے ایک معمار مجد الملک بلاسانی (براوستانی صحیح ہے) نامی کو حضرت امام حسن مجتبیٰ ں اور عباس بن عبد المطلب کے قبہ کی مرمت کے لئے بھیجا گیا، اور یہ شخص منظور بن عمارہ والی مدینہ کے ھاتھوں قتل ہوا۔(۶۵۹)

اس بات سے معلوم ہوتا ہے کہ پانچویں صدی سے ائمہ بقیع اور جناب عباس عموئے پیغمبر اکرمکی قبروں پر گنبد تھے، اور ان کی مرمّت کرانے کا مطلب یہ ہے کہ ایک طویل زمانہ سے یہ عمارتیں موجود تھیں اور خراب ہونے کی وجہ سے ان کی مرمت کی ضرورت پیدا ہوئی۔

سمہودی متوفی۹۱۱ھ نے بھی بقیع کی قبور کے بارے میں پہلی صدی سے دسویں صدی تک کی تفصیل بیان کی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ جناب عباس پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، حسن بن علی (ع) اور بقیع میں دیگر دفن شدہ حضرات کی قبروں پر بہت اونچی گنبد ہے۔

اسی طرح ابن نجار کہتے ہیں کہ اس گنبد (قبور ائمہعلیهم السلام) کی عمارت بہت قدیمی اور بلند ہے، اس عمارت کے دو دروازے ہیں کہ ان میں ایک دروازہ ہر روز کھلتا ہے، ابن نجار نے اس عمارت کے بانی کا نام ذکر نہیں کیا ہے لیکن ”مطری“ صاحب کہتے ہیں کہ اس عمارت کا بانی ”خلیفة الناصر احمد بن المستضی“ ہے۔

قارئین کرام! ”مطری“ صاحب کا یہ نظریہ صحیح نہیں دکھائی دیتا، کیونکہ ابن نجار اورخلیفہ ناصر دونوں ہمعصر تھے اور ابن نجار نے اس عمارت کو قدیمی بتایا ہے لیکن میں (سمہودی) نے اس بقعہ کی محراب میں لکھا دیکھا کہ یہ عمارت منصور مستنصر باللہ کے حکم سے بنائی گئی ہے، لیکن نہ تو اس کا نام اور نہ ہی عمارت کی تاریخ لکھی ہوئی ہے۔

سمہودی صاحب اس کے بعد کہتے ہیں کہ قبر عباس اور حسن ں زمین سے اونچی ہے اور ان کا مقبرہ وسیع ہے اور اس کی دیواروں میں خوبصورت لوح اور تختی بہترین طریقہ سے لگائی گئی ہیں، اور آخر میں سمہودی صاحب نے بقیع میں موجود دوسری عمارتوں کا بھی ذکر کیا ہے۔(۶۶۰)

اسی طرح ابن جبَیر چھٹی صدی کے مشہور ومعروف سیاح نے بھی جناب عباس اور حضرت امام حسن ں کی قبراور ان پر موجود بلند گنبد اور اس کے اندر کی خوبصورتی کی توصیف کی ہے۔(۶۶۱)

مقدس مقامات کے لئے ایک اسلامی انجمن کی تشکیل

ابن سعود نے مکہ اور مدینہ پر قبضہ کرنے کے بعد یہ سوچا کہ ان دونوں شھروں پر حکمرانی کرنے کے لئے عالم اسلام کے مشورے سے کوئی قدم اٹھائے۔

اسی منصوبہ کے تحت مختلف اسلامی ملکوں سے مثلاً ترکی، ایران، افغانستان اور یمن سے اسی طرح دیگر سر زمینوں کے روسا مثلاً مصر، عراق، مشرقی اردن سے نیز امیر عبد الکریم ریفی، حاج امین الحسینی مفتی بزرگ فلسطین، ٹونس، دمشق اور بیروت کے والیوں کو دعوت دی تاکہ اس عظیم کانفرس میں شرکت کریں یا اپنے نمائندے بھیجیں، (تاکہ ان دونوں شھروں کی حکومت کے بارے میں غور وفکر کیا جاسکے) اور یہ دعوت ۱۰ربیع الثانی ۱۳۴۴ھ میں دی گئی۔

لیکن اکثر لوگوں نے اس دعوت کو قبول نہیں کیااور صرف چند ملکوں نے اس کو قبول کیا اور مذکورہ انجمن کی تشکیل میں شرکت کی، شرکت کرنے والوں میں ہندوستان کے مسلمان بھی تھے،(۶۶۲) سب نے مل کر یہ طے کیا کہ حجاز میں ایک ایسی جمہوری حکومت تشکیل دی جانی چاہئے جس میں تمام مسلمانوں کو شریک کیا جائے، اور یہ بھی طے ہوا کہ اس کا اہم خرچ بھی ہم خود قبول کریں گے،(۶۶۳) لیکن یہ پیش کش مختلف وجوہات کی بناپر عملی نہ ہو سکی۔

ایران کے شرکت نہ کرنے کی وجہ

مرحوم علامہ عاملی کی تحریر کے مطابق ایران نے مذکورہ کانفرس میں اپنا نمائندہ بھیجنے کا منصوبہ بنالیا تھا لیکن جیسے ہی بقیع میں قبور ائمہ علیهم السلامکی ویرانی کی اطلاع پہونچی، تواعتراض کے طور پر ایران نے اپنا نمائندہ نہ بھیجنے کا فیصلہ کرلیا، اور اپنے حاجیوں کو بھی حج کے لئے نہیں بھیجا تاکہ کہیں ان کے لئے کوئی خطرہ درپیش نہ ہو، اور جب۱۳۴۶ھ میں کوئی خطرہ نہ دکھائی دیا تو حاجیوں کو حج کرنے کی اجازت دے دی گئی۔(۶۶۴)

حجاز میں ابن سعود کی سلطنت

مذکورہ انجمن کا کوئی نتیجہ حاصل نہ ہواتو مکہ معظمہ کے تیس علماء جدّہ پہونچے اور ان کے حضور میں ایک انجمن تشکیل دی گئی، اور ۲۲جمادی الثانیہ۱۳۴۴ھ کو اتفاق رائے سے یہ طے ہوا کہ سلطان عبد العزیز آل سعود کی حجاز کے بادشاہ کے عنوان سے بیعت کی جائے، اور اس کو یہ اطلاع دی کہ وہ بیعت کے لئے کوئی وقت معین کرے۔

۲۵ربیع الثانی بروز جمعہ نماز جمعہ کے بعد باب الصفا (مسجد الحرام کے ایک دروازے) کے پاس جمع ہوئے اور ابن سعود بھی تشریف لائے اور ایک پروگرام کے ضمن میں سید عبد اللہ دملوجی نے جو ابن سعود کے مشاورین میں سے تھا، بیعت کے طریقہ کار کو لوگوں کے سامنے بیان کیا،(۶۶۵) (خوشی کا یہ عالم تھا کہ) اس موقع پر توپ کے ایک سو ایک گولے داغے گئے۔

اس طریقہ سے ابن سعود نجد وحجاز کا بادشاہ بن گیا اور سب سے پہلے اس کو رسمی طور پر قبول کرنے والا” روس“ تھا، اس کے بعد انگلینڈ، فرانس، ہولینڈ، ترکی اور اس کے بعد دوسری حکومتوں نے قبول کرنا شروع کیا۔

سلطان عبد العزیز بن سعود نے اپنی حکومت کو مضبوط بنانے کے لئے بہت زیادہ کوشش کی، اور اس سلسلہ میں بہت سی حکومتوں سے معاہدے کئے، اور بہت سی شورش اور بلووں کو منجملہ فیصل الدرویش کی شورش کو ختم کیا اور اپنے تمام مخالفوں کو نیست ونابودکردیا، ایک دفعہ اس پر مسجد الحرام میں طواف کے وقت چار یمنیوں (زیدی مذہب) نے حملہ کردیا لیکن وہ زندہ بچ گیا، اور آخر کار ملک میں امن وامان قائم ہوگیا جو اس ملک میں بے نظیر تھا۔(۶۶۶)

ابن سعود اور ادریسی حکمراں

جس وقت ابن سعود نے حجاز کو اپنے تصرف اور قبضہ میں کرلیا، اس وقت امام یحيٰ (امام یمن) نے سید حسن ادریسی کے زیر ولایت عسیر نامی جگہ(جو نجدکے علاقہ میں تھا) پر حملہ کردیا اور وہاں کی اکثر چیزوں کو نابود کردیا، یہ دیکھ کر ادریسی افراد خوف زدہ ہوگئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ امام یحيٰ کے حملوں سے آل ادریس کی ولایت خطرے میں پڑجائے، اس وجہ سے ابن سعود کو خطوط لکھے اور اپنی طرف سے اس کے پاس نمائندے بھیجے، جس کے نتیجے میں (۱۴)ربیع الثانی ۱۳۴۵ھ کو دونوں کے درمیان معاہدہ ہوا جس میں یہ طے ہوا کہ عسیر کی امارت ابن سعود کی حمایت میں ہے، اس معاہدہ میں ۱۴بند تھے جس کے دوسرے بند میں امیر ادریس کو ابن سعود کی اجازت کے بغیر کسی بھی ملک سے گفتگو کرنے کی اجازت نہیں تھی اور تیسرے بند کے مطابق امیر ادریس کو یہ بھی حق حاصل نہیں تھا کہ کسی کے ساتھ اعلان جنگ کرے یا کسی کے ساتھ صلح کرے، مگر یہ کہ آل سعود کی اجازت سے ہو، اور اس کے چھٹے بند کے مطابق امیر ادریس کو عسیرکے داخلی امور میں تصرف کرنے کا حق دیا گیا تھا۔

لیکن ماہ رجب ۱۳۵۱ھ میں ادریسیوں نے ابن سعود کے خلاف شورش کردی، چنانچہ ابن سعود نے حجاز اور نجد سے لشکر تیار کرکے عسیر کی طرف روانہ کیا، جس کے نتیجہ میں وہاں کے حالات صحیح ہوگئے، اس وقت ابن سعود نے موقع کو غنیمت شمار کیا اور عسیر میں ادریسیوں کی فرمان روائی کے خاتمہ کا اعلان کردیا، اور اس کے بعد عسیر بھی سعودی عرب کا ایک استان (اسٹیٹ) بن گیا، اور سیدحسن ادریسی کے لئے عسیر میں قیام نہ کرنے کی شرط پر ماہانہ دوہزار سعودی ریال مقرر کئے ۔(۶۶۷)

تیل نکالنے کا معاہدہ

ابن سعود کے سب سے اہم کاموں میں سے ایک کام مشرقی علاقہ احساء (ظھران) میں تیل نکالنے کا معاہدہ ہے۔

سب سے پہلا معاہدہ مئی ۱۹۳۳ء میں سعودی کی عربی تیل کمپنی اور امریکی کی ”آرامکو“ نامی کمپنی کے درمیان ہوا، جس پر سعودیہ کی طرف سے شیخ عبد اللہ سلیمان اور مذکورہ کمپنی کی طرف سے ”ھاملٹن“ نے دستخط کئے۔(۶۶۸)

اسم گذاری

۱۷ جمادی اول۱۳۵۱ھ میں سلطان عبد العزیز آل سعود نے ایک فرمان بشمارہ ۲۷۱۶صادر کیا کہ(۲۱)جمادی الاول سے ہمارا ملک ”المملکة العربیة السعودیة“ کے نام سے پکارا جائے اور جب ملک کا نام تبدیل ہوگیا تو حکومت کے وزیروں اور ارکان نے یہ طے کیا کہ سلطان عبد العزیز کے سب سے بڑے بیٹے امیر سعود کو ولی عہدی کے لئے منصوب کردیا جائے۔

۱۶محرم۱۳۵۲ھ کو بادشاہ نے فرمان صادر کردیا اور وزراء کابینہ اور مجلس شوریٰ نے امیر سعودکی ولی عہدی کی بیعت کرنے کا وقت معین کردیا۔

ابو طالب یزدی کا واقعہ

ذی الحجہ ۱۳۶۲ھ میں ابو طالب یزدی کومکہ میں قتل کردیا گیا ،اور مکہ میں رونما ہونے والے دوسرے واقعات جو قارئین کرام کے لئے بہت مفید ہیں تفصیل اور اس کی اصلی وجہ بیان کی جاتی ہے :

چنانچہ ۱۴ذی الحجہ ۱۳۶۲ھ کو مکہ معظمہ میں یہ اعلان منتشر ہوا:

”بلاغ رسمی رقم(۸۲) جریمة منکرة:

القتالشرطة القبض فی بیت اللّٰه الحرام فی یوم(۱۲) ذی الحجة۱۳۶۲ علی المدعو عبده طالب بن حسین الایرانی من المنتسبین الی الشیعةفی ایران وهو متلبس باقذر الجرائم واقبحها وهی حمل القاذورات وهو یلقیها فی المطاف حول الکعبة المشرفة بقصد ایذاء الطائفین واهانة هذا المکان المقدس وبعد اجراء التحقیق بشانه وثبوت هذا الجرم القبیح منه فقد صدر الحکم الشرعی بقتله وقد نفذ حکم القتل فیه فی یوم السبت(۱۴) ذی الحجة ۱۳۶۲ ولذا حرر

ایک رسمی اعلان شمارہ(۸۲)بھیانک جرم۔

۱۲ ذی الحجہ ۱۳۶۲ھ کو پولیس نے بیت اللہ الحرام میں شیعہ مذہب سے تعلق رکھنے والے ایک ایرانی بنام طالب بن حسین کو گرفتار کیاہے، جس نے بہت برا کام انجام دیاہے، اس نے کچھ کوڑا کرکٹ اپنے ساتھ لیا اور طواف کرنے والوں کی اذیت کے لئے مطاف (طواف کرنے کی جگہ) میں ڈالدیا،تحقیقات اور گناہ ثابت ہوجانے کے بعد شرعی طور پر(۱۴)ربیع الاول کو اس کے قتل کے حکم پر عمل ہو گیا۔(۶۶۹)

جب یہ خبر ایران پہونچی تو اس سے لوگ بہت ناراض ہوئے اور سب لوگ تعجب کرنے لگے۔

کسی کو بھی حقیقت کا پتہ نہیں تھا یہاں تک کہ اس سال گئے ہوئے ایرانی حجاج بھی حج سے واپس پلٹ آئے، انھوںنے حقیقت کو اس طرح بیان کیا :

” ابو طالب یزدی کا طواف کے وقت سر چکرانے لگا، اور قے آنے لگی، تو انھوں نے طواف کرنے والوں کے راستہ میں گندگی نہ پھیلنے کی وجہ سے اس کو اپنے دامن میں لے لیا، جس کی وجہ سے ان کا لباس احرام گندہ ہوگیا“۔(۶۷۰)

چند مصری اور سعودی حاجیوں نے ان کو پکڑ کر وہاں کی پولیس کے حوالہ کردیا اور انھیں لوگوں نے عدالت میں گواہی بھی دی، کہ یہ شخص اپنے ساتھ میں گندگی اٹھائے ہوئے تھا اور مطاف کو گندا کررہا تھا۔

سوال یہ پید اہوتا ہے کہ جن لوگوں نے ابو طالب یزدی کو اس طریقہ سے دیکھا ان کے ذہن میں فوراً یہ بات کیسے آئی کہ ابو طالب مطاف کو گندا کرنا چاہتا ہے، اور بیت اللہ الحرام کی توھین کرنا چاہتا ہے، اس تصور کی اصل وجہ کیا تھی؟!

اور کیا یہ فقط ان کا تصور تھا، یا ان چند لوگوں نے عمداً کسی خاص مقصد کے تحت یہ الزام اور تہم ت لگائی؟!

ہ موضوع واقعاً پیچیدہ اورمبہم دکھائی دیتا ہے اور یہ بات روشن نہیں ہے کہ یہ واقعہ ایک اتفاق ہے یا اس کے پیچھے کسی کا ھاتھ ہے؟ اور دوسری تعجب خیز بات یہ ہے کہ کون شخص عاقل ایسا ہوسکتا ہے کہ مسلمان ہوکراتنی مشکلات کے ساتھ کتنی آرزوں اور تمناوں کے بعد حج سے مشرف ہونے کے لئے وہاں جاتا ہے، اوراس زمانہ میں سفر حج میں کتنی مشکلات تھیں(۶۷۱) ان تمام مشکلات کو برداشت کرنے کے بعد حج کے لئے پہونچے اور اتنے شرمناک کام انجام دے، ؟!

اس کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عدالت پر یہ کیسے ثابت ہوا کہ یہ شخص ایسا ارادہ رکھتا تھا؟ کیونکہ نہ عدالت اس کی زبان کو سمجھتی تھی اور نہ ہی وہ عدالت کی زبان سمجھتے تھے، کس نے ان کا دفاع کیا، کیا کوئی فارسی جاننے والا وکیل ان کا دفاع کررہا تھا؟ ان تمام باتوں کے علاوہ الزام اور فیصلہ میں صرف دو دن کا وقت لگا، در حالیکہ اسلامی نظریہ کے مطابق قتل کے سلسلہ میں ہر طرح کی احتیاط کرنی چاہئے، کہ کہیں غلطی کے سبب کسی بے گناہ شخص کی جان نہ چلی جائے ۔

قارئین کرام! حقیقت تویہ ہے کہ ابوطالب کے قتل کی اصل وجہ معلوم نہ ہوسکی، یہاں تک کہ چند سال پہلے شیخ حر ّ عاملی صفویہ دور کے عظیم الشان عالم دین کی سوانح حیات کا مطالعہ کیااور کتاب ”خلاصة الاثر“ کے مطالعہ میں ابو طالب کے واقعہ کی طرح ایک اور واقعہ ملا اور یہ بات سمجھ میں آئی کہ یہ واقعہ ابوطالب کے واقعہ سے بڑاگھرا تعلق رکھتا ہے اوراگر غور وفکر کی جائے تو کسی نتیجہ پر پہونچا جاسکتا ہے۔

شیخ حرّ عاملی کا مکہ معظمہ میں ایک واقعہ اور اس سے متعلق فریب کاری

جب ۱۰۸۷ھ یا ۱۰۸۸ھ میں شیخ محمد بن الحسن معروف بہ حرّ عاملی مکہ معظمہ پہونچے، تو عثمانی تُرکوں نے بعض ایرانیوں کو خانہ کعبہ میں گندگی پھیلانے کے جرم میں قتل کردیا، چنانچہ شیخ حرّ عاملی، سیدموسیٰ (مکہ کے حسینی اشراف میں سے) کی پناہ میں چلے گئے، اور سید موسیٰ نے ان کو کسی اپنے مورد اعتماد شخص کے ساتھ یمن بھجوادیا۔

صاحب خلاصة الاثر اس واقعہ کے ضمن میں اس طرح ذکر کرتے ہیں کہ یہ بہت بڑی ذلت اور رسوائی ہے، میں یہ تصور کرسکتا کہ اگر کسی شخص نے اسلام کی بُو یا عقل کی بُو بھی سونگھی ہو تو وہ ایسا برا کام کرسکتاہے۔

واقعہ اس طرح ہے کہ خانہ کعبہ کے بعض خادموں نے دیکھا کہ کعبہ شریف ایک جگہ سے گندا ہوگیا ہے اور یہ خبر مشہور ہوگئی، اور اس کا ہر طرف چرچا ہونے لگا، چنانچہ مکہ کی اہم شخصیات شریف برکات اور شریف مکہ، اور محمد میرزا قاضی مکہ کے پاس گئے اور مذکورہ واقعہ کے بارے میں گفتگو ہونے لگی، آخر کار ان کے ذہن میں یہ بات آئی کہ یہ کام رافضیوں کا ہے، اور یہ طے کرلیاکہ جو لوگ رافضی مشہور ہیں ان کو قتل کردیا جائے، چنانچہ اس سلسلہ میں فرمان صادر کردیاگیا۔

عثمانی تُرک اور بعض اہل مکہ مسجد الحرام میں آئے، اور پانچ شیعہ منجملہ ایک بوڑھے اور زاہد وعابد انسان سید محمد مومن کو قتل کردیا ۔(۶۷۲)

صاحب تاریخ مکہ مذکورہ واقعہ کے بارے میں اس طرح لکھتے ہیں کہ شوال۱۰۸۸ھ میں صبح کے وقت لوگوں نے خانہ کعبہ کو (پاخانہ مانندکسی چیز سے) گندا پایا، اور لوگوں نے ایک قدیمی عقیدہ کے تحت ”میں نہیں جانتا کہ کس طرح ان کی عقل اس طرح کے عقید ہ کی اجازت دیتی ہے“ شیعوں پر اس کام کا الزام لگادیا، چنانچہ عثمانی تُرکوں اور بعض اہل مکہ نے مل کر شیعوں پر حملہ کردیا بہت سے لوگوں پر پتھراو کیا اور چند لوگوں کو تہہ تیغ کر ڈالا۔

اسی طرح سید دحلان، تاریخ عصامی سے نقل کرتے ہیں کہ موصوف نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ جس چیز سے خانہ کعبہ کو گندا کیا گیا تھا وہ پاخانہ نہیں تھا بلکہ وہ دال کا سالن تھا لیکن اس سے بدبو آرہی تھی۔(۶۷۳)

سید دحلان لکھتے ہیں :چاہے یہ بات صحیح ہو یا نہ ہو، حقیقت یہ ہے کہ اسلام سب مسلمانوں کو اگرچہ اعتقادی لحاظ سے ایک دوسرے میں اختلاف ہے، لیکن سب کو اتحاد اور دوستی کی دعوت دیتا ہے، تاکہ ایک راستہ پر چلیں، اس دین مبین کے ماننے والوں کو یہ بات زیبا نہیں دیتی کہ اپنے مخالفوں پر بعض وہم وخیال کی بناپر تہم تیں لگائیں۔

مولف تاریخ مکہ مذکورہ واقعہ کو ذکر کرنے کے بعد کہتے ہیں کہ میں (اس علاقہ کی) عوام الناس سے بہت ناراض ہوں کہ وہ ایسا عقیدہ رکھتے ہیں کہ شیعہ عجم (ایرانیوں) نے خانہ کعبہ کو گندا کیا جبکہ وہ اپنے حج کو مقبول سمجھتے ہیں۔

اس کے بعد اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر ہم عقل ومنطق سے کام لیں اور صحیح طریقہ سے غور وفکر کریں تو اس نتیجہ پر پہونچ سکتے ہیں کہ اگر ان تہم توں کو صحیح مانا جائے تو اس طرح توھر سال ایرانی حجاج کی تعداد کے برابر کعبہ گندا ہوجانا چاہئے تھا، جبکہ حقیقت اور واقعیت اس کے برخلاف ہے لیکن کیا کریں کہ دشمنی کی وجہ سے اپنی عقل بھی کھوبیٹھتے ہیں۔(۶۷۴)

ایک دوسرا واقعہ

صاحب تاریخ مکہ کہتے ہیں کہ شریف محمد بن عبداللہ کے زمانہ۱۱۴۳ھ میں شیعوں پر ایک اور مصیبت آپڑی، جوہم اری نظر میں مسلمانوں کی ان مصیبتوں میں سے ہیں جن کی وجہ سے مسلمان آگ میں جل رہے ہیں اور جس کی بناپر مسلمانوں میں اختلاف اور تفرقہ ہو رہا ہے۔

گذشتہ سال شیعہ حاجیوں کے قافلے بعض وجوہات کی بنا پر حج کے ایام کے بعد مکہ پہونچے، اورمجبورا ً اگلے سال یعنی۱۱۴۴ھ کے حج کے زمانہ تک وہ وہاں رکے رہے تاکہ حج کرکے ہی واپس جائیں، (اس مدت میں ) بعض عوام الناس نے یہ وہم کیا کہ شیعوں نے خانہ کعبہ کو گندا کیا ہے لہٰذا ان پر حملہ کردیا اور عوام الناس کے حملہ کی وجہ سے پولیس نے بھی حملہ کیا، اور سب ساتھ میں قاضی کے گھر پر پہونچے، فتنہ گروں کی بھیڑ کو دیکھ کر قاضی صاحب اپنے گھر سے فرار ہوگئے کہ کہیں یہ بھیڑ مجھ پر بھی حملہ نہ کردے، اس کے بعد وہاں کے مفتی کے گھر پر پہونچے اور اس کو گھر سے باہر نکال لیا اسی طرح دوسرے علماء کو ان کے گھروں سے نکال کر وزیر کے پاس لے گئے اور اس سے درخواست کی کہ آپ فیصلہ کریں، جب کہ یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ فیصلہ کا مد مقابل کون ہے؟مذکورہ وزیر نے یہ حکم صادر کردیا کہ مذکورہ شیعوں کو مکہ معظمہ سے باہر نکال دیا جائے، اور اس کے بعد اس بازار میں آئے، جہاں پر شیعہ مقیم تھے اور ان کو نکالنے اور ان کے گھروں کو ویران کرنے کا شور کرنے لگے، اور دوسرے روز امیر مکہ کے پاس گئے تاکہ وہ شیعوں کے بارے میں مذکورہ وزیر کے حکم کی تائید کرے، پہلے تو امیر مکہ نے اس کام سے پرہیز کیا لیکن عوام الناس کے فتنہ وفساد کے ڈر سے مذکورہ حکم کی تائید کردی۔

ان شیعوں میں سے بعض لوگ طائف اور بعض لوگ جدّہ چلے گئے تاکہ فتنہ وفساد خاموش ہوجائے، ادہر فتنہ وفساد پھیلانے والے سرغنوں کو گرفتار کر لیاگیا، اورپھر شیعوں کو اجازت دی گئی کہ وہ مکہ میں لوٹ آئیں ۔

سید دحلان صاحب تاریخ رضی سے نقل کرتے ہیں کہ مذکورہ واقعہ میں جو کچھ بھی ہوا وہ سب کچھ متعصب بدمعاشوں اور عثمانی تُرکوں کا کام تھا اور اہل مکہ اس کام سے راضی نہیں تھے، اور عوام کی یھی نادانی ہمیشہ سے مسلمانوں کے درمیان اختلاف اور تفرقہ کا باعث بنی ہے۔(۶۷۵)

ان حادثات کی اصل وجہ

حکومت صفویہ کے آغاز سے ایران اور عثمانی حکومت کے درمیان ہوئی جنگوں کی چھان بیناور تحقیق کے نتائج سے اس روش اور طریقہ کا پتہ چلتا ہے جو عثمانی علماء نے ایران کے مقابلہ میں اختیارکر رکھی تھی، کیونکہ وہ لوگ دشمنی میں ایرانیوں پر کسی بھی طرح کی تہم ت لگانے سے پرہیز نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ ایران سے ہونے والی جنگ کو جھاد کا درجہ دیتے تھے، اورایرانی شیعوں کے قتل کو مباح اور جائز جانتے تھے بلکہ غیر شیعہ ایرانیوں کے بارے میں بھی ان کا یھی نظریہ تھا اور ان کو اسیر کرنے، ان کی عورتوں اور بچوں کو فروخت کرنے کے بارے میں فتویٰ دیتے رہتے تھے۔

شاہ اسماعیل،حکومتِ صفوی کے بانی کے زمانہ میں جب عثمانیوں اور ایرانیوں کے درمیان جنگ وغیرہ ہوتی رہتی تھی تو اس وقت عثمانی علماء اپنی مساجد میں دعا کے لئے جلسہ رکھتے تھے اور شاہ اسماعیل پر لعنت کرتے تھے۔

عثمانی مولف ”ابن طولون” شاہ اسماعیل اور سلطان سلیم عثمانی کے ہم عصر بھی ہیں، کہتے ہیں کہ۹۲۳ھ میں ہم (۳۶۰)قاریوں کے ساتھ مسجد اموی دمشق (جو عثمانیوں کے تحت اثر تھی) میں چالیس دن تک سورہ انعام کی تلاوت کیاکرتے تھے، اور جب اللہ کے دو ناموں کے درمیان پہونچتے تھے تو صوفی اسماعیل (مراد شاہ اسماعیل ہے) پر لعنت کیا کرتے تھے۔(۶۷۶)

اس کے بعد قاہرہ کے آٹھ علاقوں مثلاً مقبرہ شافعی، لیث، سیدة نفیسہ، شیخ عمر بن فارض،ابو الحسن دینوری، شیخ ابو الخیر کلیباتی،مقیاس، جامع الازھر میں سلطان سلیم کی کامیابی کے لئے قرآن مجیدختم کیاکرتے تھے ۔(۶۷۷)

اور جب شاہ اسماعیل پر بدد عا کرنے اور سلطان سلیم کی کامیابی کے دعا کرنے سے کوئی نتیجہ نہ نکلا، تو اپنے مقاصد کے پیش نظر ایران کو دار الحرب ہونے کا اعلان کردیا، اور اس کام سے عثمانی سپاہیوں کو صفویہ بادشاہوں سے لڑنے کا جذبہ اور لالچ بڑھ گیا، اسی زمانہ میں سلطان سلیم نے اپنے علماء سے ایک فتویٰ لیا جس میں یہ بات تحریر تھی کہ شرعی لحاظ سے شاہ اسماعیل کا قتل جائز ہے،(۶۷۸) اس کے علاوہ خود سلطان سلیم نے اپنے ایک خط کے میں جواس نے تبریز سے لکھا اور ایران پر حملے اور شاہ اسماعیل کو قتل کرنے کے بارے میں تھا ،لکھا کہ ہم نے مشہور فقھاء اور علماء کو دعوت دی اور ان سے شاہ اسماعیل سے جنگ کے بارے میں فتویٰ لیا، سبھی فقھاء اورعلماء نے فتویٰ دیاہے کہ جو شخص بھی اس کے سپاہیوں (یعنی شاہ اسماعیل کے سپاہیوں) کے مقابلہ میں کوشش کرے تو اس کی یہ سعی و کوشش مشکور ہے اور ان کے مقابلہ میں جھاد کرے تو اس کا یہ عمل مبرور ہے، کیونکہ علماء نے ان کے کفر، الحاد اور ارتداد کا فتویٰ صادر کیاہے۔(۶۷۹)

شاہ تہم اسب صفوی اپنے تذکرہ میں اس بات کی طرف اس طرح اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم نے سیادت پناہ امیر شمس الدین کو ایلچی بنا کر استانبول بھیجا تاکہ رستم پاشا اور وہاں کے دیگر سرداروں سے گفتگو کرےں، لیکن تمام علمائے روم(۶۸۰) نے فتویٰ دیدیا کہ ایران کے تمام لوگوں

کی جان ومال حلال ہے چاہے وہ سپاہ ہو، یا عوام الناس، مسلمان ہو یا یہودی اور ارمنی، اور ان سے جنگ کرنا ”غزّ“ ہے۔(۶۸۱)

ہم نے کہا یہ فتویٰ تو بہت اچھا ہے !! ہم تو نماز وروزہ اور حج وزکات اور دیگر ضروریات دین کو قبول کرتے ہیں اور ان پر عمل کرتے ہیں، لیکن پھر بھی یہ لوگ ہمیں کافر کہتے ہیں، خدا یا توھی ان کے اور ہمارے درمیان فیصلہ کر۔(۶۸۲)

ہ سلسلہ نادر شاہ افشار کے زمانہ تک جاری رہا، اور اس سوال کی تحریر جو افغانیوںکے ایران پر حملے کے بعد شیخ عبد اللہ مفتی قسطنطنیہ سے۱۱۳۵ھ میں اسلامبولی ترکی زبان میں لیا گیا تھا، اور اس کے جواب میں دیا گیا فتویٰ بھی موجود ہے۔(۶۸۳)

مذکورہ فتوے کا خلاصہ یہ ہے کہ ایران دار الحرب ہے اور وہاں رہنے والے افراد مرتد ہیں۔

ہ فتویٰ اس وقت کا ہے کہ جب ایران پر محمود افغان فرمانروائی کررہا تھا اور حالات بہت خراب تھے، عثمانی بادشاہ نے اپنے مقاصد میں کامیاب ہوجانے کے لئے اس وقت کو غنیمت سمجھ کر ایران پر حملہ کے لئے ایک عظیم لشکر روانہ کیا اور اپنے لشکر کے سردار کو یہ حکم دیا کہ محمود افغان سے کچھ نہ کہنا۔(۶۸۴)

قارئین کرام توجہ کریں کہ یہ فتویٰ صرف سپاہیوں کو گمراہ کرنے کے لئے صادر کیا گیا تھا۔

ہ بات قابل توجہ ہے کہ یہ فتویٰ کتنا غیر اصولی، بے بنیاد اور دینی اور انسانی لحاظ سے کس قدر دور تھا عثمانی سپاہی اپنے علماء اور مفتیوں پر اعتقاد رکھتے تھے ،لیکن جب مقام عمل میں آئے تو پھر ان میں خود اس فتوے پر عمل کرنے کی طاقت نہیں تھی یعنی جس وقت ایرانی لوگوں اور ان کے اہل خاندان کو دیکھا تو ان میں کسی بھی ایسی چیز کو نہ پایا جس کی بنا پر اس فتوے میں اتنا شدید ردّ عمل دکھایا گیا تھا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انھوں نے ان ایرانیوں کو مرتد اور دین سے خارج شمار نہیں کیا۔

مندرجہ ذیل عثمانی مولف کے واقعہ سے ہماری بات کی تائید ہوتی ہے :

”عثمانی سپاہیوں نے راستہ میں ایک اصفھانی کاروان پر حملہ کردیااور شیخ الاسلام کے فتوے کے مطابق ان کے مردوں کو قتل کردیا اور ان کی علوی سادات سے اور شریف خاندانوں سے تعلق رکھنے والی عورتوں کو اسیر کرلیا، لیکن مذکورہ فتوے کے برخلاف ان عورتوں کو بہت پاک اوردیندار پایا یہاں تک کہ وہ اپنی حفاظت کے سلسلہ میں نامحرم پر نظر کرنے سے بھی سخت پرہیز کرتی تھیں، ان میں نجابت اورشرافت کی تمام نشانیاں واضح اورآشکار تھیں، ان تمام چیزوں کو دیکھنے کے بعد وہ شش وپنچ میں پڑگئے کہ ایسی عورتوں کو کیسے اسیر کریں اور ان کو غلامی میں کیسے لے لیں، آخر کار ان کو بڑے احترام کے ساتھ کرمانشاہ میں پہونچادیا، اور وہاں کی ایک عظیم ہستی میرزا عبد الرحیم کے حوالے کردیا۔(۶۸۵)

اس طرح کے فتووں کا اثر عثمانی حدود سے باہر تک پہونچا اور ماوراء النھر (تاجکستان اور ازبکستان) تک پہونچ گیا، یہاں تک کہ قاچاریہ بادشاہوں کے زمانہ تک اس کا اثر باقی رہااور ماوراء النھر کے لوگوں نے بادشاہ عثمانی سے جس کو خلیفة الخلفاء کہا جاتا تھا یہ سوال کیا کہ کیا شیعہ لوگوں کو اسیر کرکے ان کی خرید وفروخت کرنا جائز ہے ؟

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر عثمانی اور ازبک سپاہ اور عوام الناس ایران کے لوگوں کو قریب سے دیکھتے تو اس کے برخلاف پاتے جو غلط پروپیگنڈے کی وجہ سے ان کے ذہنوں میں نقش تھا۔

ایرانیوں کو حج سے روکنا

عثمانی بادشاہوں نے گذشتہ فتوے کے علاوہ بھی ایران کی دشمنی میں دوسرے کارنامے انجام دئے ہیں منجملہ یہ کہ۱۰۴۲ھ میں عثمانی بادشاہ نے ایرانیوں کو حج سے روکنے کا حکم صادر کردیا۔(۶۸۶)

اس حکم کو جاری کرنے کے لئے مکہ کے بازاروں میں یہ اعلان کرادیا گیا کہ اس سال آئے ہوئے ایرانی حجاج واپسی کے وقت اپنے برادران کو یہ اطلاع دیدیں کہ وہ آئندہ سال حج کے لئے سفر نہ کریں۔

صاحب تاریخ مکہ اس واقعہ کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں، کہ مجھے ایرانیوں کو حج سے روکنے کی وجہ معلوم نہ ہوسکی مگر وہ تاریخی واقعات جو اس زمانہ میں رونما ہورہے تھے، ایرانیوں نے ۱۰۳۳ھ میں بغداد کو عثمانی قبضہ سے آزاد کرالیا تھا اور ان کو شھر سے باہر نکال دیا تھا، یہاں تک کہ۱۰۴۲ھ میں سلطان مراد عثمانی نے پھر دوبارہ قبضہ کرلیا۔

شاید اس کی وجہ عثمانی بادشاہ اور ایرانیوں کے درمیان شدید اختلافات ہوں اور اسی وجہ سے ایرانی حجاج کو حج سے روکا گیا ہو۔(۶۸۷)

نادر شاہ اور شریف مکہ

۱۱۵۷ھ میں جس وقت ایران کے بادشاہ نادر شاہ افشارنے عثمانی سپاہ پر غلبہ پانے کے بعد عراق کو اپنے قبضہ میں لے لیا،تواس نے ایک عظیم الشان عالم دین کو اپنا خط دے کر امیر مسعود ،شریف مکہ کے پاس بھیجا، خط کا مضمون یہ تھا کہ عثمانی خلیفہ(۶۸۸) نے اس بات کی موافقت کردی ہے کہ مکہ (مسجد الحرام) کے منبر سے ہمارے لئے دعا کی جائے اور وہاں پر ہمارے رسمی مذہب”جعفری“ کو مکہ میں آشکارکیا جائے، (یعنی تقیہ وغیرہ نہ کرنا پڑے) اور ہمارے امام جماعت مذاہب اربعہ کے برابر کھڑے ہوں۔ نادر شاہ نے اس خط میں شریف مکہ کو ڈرایا اوردہمکایا بھی تھا، شریف کو یہ بات بری لگی اور مکہ کے حالات خراب ہوگئے۔

جدّہ میں (عثمانیوں کی طرف سے) تُرک گورنر نے شریف مسعود سے درخواست کی کہ نادر شاہ کے نامہ بر کو اس کے پاس بھیج دے تاکہ اس کو قتل کردیا جائے، لیکن شریف نے یہ کام نہیں کیا، اور کہا کہ میں اس کو اپنے پاس رکھوں گا اور واقعہ کی تفصیل دار الخلافہ (اسلامبول) لکھوں گا، اور جیسا وہ حکم دیں گے ویسا ہی عمل کروں گا۔

شریف کے اس کام سے والی جدّہ راضی نہیں تھا اور اس کا گمان یہ تھا کہ شاید شریف شیعہ مذہب کی طرف رغبت رکھتا ہے، اور جیسے ہی شریف مسعود ،والی کے اس گمان سے باخبر ہوئے توالزامدور کرنے کے لئے حکم صادر کردیا کہ مسجد الحرام کے منبرسے شیعوں پر لعنت کی جائے۔(۶۸۹)

نجف میں نادر شاہ کے حکم سے مسلمانوں میں اتحاد کے لئے ایک عہد نامہ

تاریخ مکہ سے جو باتیں نقل ہوئیں ہیں ان کو مکمل کرنے کے لئے اور موقع کے لحاظ سے یھی مناسب ہے کہ سنی شیعہ اتحاد کے لئے نادر شاہ کے اس عہد نامہ کو بیان کیا جائے جو مذکورہ مقصد کے تحت نجف اشرف میں لکھا گیا اور سنی شیعہ علماء نے اس پر دستخط کئے، ہم نے اس مطلب کو ”یادگار“ نامی مجلہ شمارہ(۶)سال چھارم سے نقل کیا ہے:

نادر شاہ چونکہ صفویہ سلسلہ سے کینہ رکھتا تھا یا اس وجہ سے کہ ایرانی لوگ سنی مذہب قبول کرلیں، لہٰذا ایرانیوں،ترکیوں، افغانیوں میں مذہبی اتحاد قائم کرنا چاہتا تھا، چنانچہ اس نے ایرانیوں کو اہل سنت والجماعت سے قریب کرنے کی بہت کوشش کی، لہٰذا اس نے ماہ اسفند۱۱۴۸ھ ش، میں ایک جلسہ طلب کیا اور خود ہی اس کا صدر بھی بن گیا، اس جلسہ میں تمام ممالک سے آئے ہوئے نمائندوں کو خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے:

” پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ سے چاروں خلیفہ ،خلافت کرتے رہے، اور ہند وروم (عثمانی) اور ترکستان سب ان کی خلافت کے قائل ہیں، اور جس وقت اہل ایران آرام وآسائش کی خاطر ہماری سلطنت کی طرف رغبت کریں تو ان کو اہل سنت والجماعت کا مذہب قبول کرنا ہوگا “۔(۶۹۰)

اس جلسہ میں موجود تمام نمائندوں نے خوف کی وجہ سے اس حکم کو قبول کرلیا، اور اس مسئلہ کے بارے میں ایک عہد نامہ پر سب لوگوں نے دستخط کر دئے، اور یہ عہد نامہ نادری خزانہ کے سپرد کردیا گیا۔

نادر شاہ نے اس عہد نامے کو اپنے سفیر کے ذریعہ سلطان عثمانی کے پاس بھیجا، اور اس کو پانچ پیش کش کیں، کہ اگر اس نے قبول کرلیا تواس سے صلح ہوجائے گی:

۱۔ قضاة، علماء اور دربار ی حضرات، حضرت امام جعفر صادق ں کی تقلید کو پانچویں مذہب میں شمار کریں (یعنی شیعہ مذہب کو بھی مذاہب اربعہ کے ساتھ شامل کریں اور مذاہب خمسہ کھیں)

۲۔ مسجد الحرام میں ارکان اربعہ، مذاہب اربعہ کے اماموں سے مخصوص ہیں، شیعہ مذہب کو بھی کسی ایک رکن میں شریک کیا جائے اور اس مذہب کا امام بھی وہاں نماز پڑھائے۔

۳۔ ہر سال ایران کی طرف سے امیر حج معین ہو جو مصر اور شام کے طریقہ سے ایرانی حجاج کو مکہ پہونچائے اور عثمانی حکومت، ایرانی امیر حاج کے ساتھ مصر اورشام کے امیر حاج جیسا سلوک کرے۔

۴۔ دونوں حکومتوں کے اسیر مکمل طریقہ سے آزاد کئے جائےں اور ان کی خرید وفروخت ممنوع قرار دی جائے۔

۵۔ دونوں حکومتوں کا ایک ایک نمائندہ ایک دوسرے کے پائے تخت میں ہونا چاہئے تاکہ دونوں مملکت کے مسائل مصلحت کے تحت انجام پائےں۔

عبد الباقی خان زنگنہ کے ذریعہ یہ پیش کش ربیع الاول۱۱۴۹ھ استامبول پہونچی عثمانی درباریوں نے جعفری مذہب کو پانچواں مذہب ماننے اور خانہ کعبہ کے ارکان اربعہ میں ان کے امام کو نماز پڑھانے کی اجازت دینے سے انکار کردیا، تو نادر شاہ نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ خود زبردستی ان کو قبول کروائے گا، اور عثمانی حکومت پر حملہ کی غرض سے اپنے توپ خانہ کو کرمانشاہ کے لئے روانہ کردیا۔

اسی زمانہ میں احمد پاشا، والی بغداد (عثمانیوں کی طرف سے) نے اطاعت کا اظھار کیا اسی بناپر نادر شاہ نے نجف، کربلا اورحلہ پر قبضہ کرنے کے لئے اپنے لشکر کو روانہ کیا جس نے آسانی سے ان شھروں پر قبضہ کرلیا، اسی طرح کرکوک اور موصل شھروں کو بھی اپنے قبضہ میں لے لیا، یہ دیکھ کر عثمانی حکومت کو بھی صلح کے لئے تیار ہونا پڑا، اور طے یہ ہوا کہ مذہبی مسائل اور ان کے اختلافات کو دور کرنے کے لئے دوبارہ گفتگو کی جائے، اس کے بعد نادر شاہ شوال ۱۱۵۶ھ میں عتبات عالیہ کی زیارت کرنے کے لئے آمادہ ہوا اور نجف ،کربلا اور کاظمین کی زیارت کی اور بغداد میں ابوحنیفہ کی قبر کی بھی زیارت کی، اس کے بعد کربلا، نجف، حلّہ، بغداد اور کاظمین کے شیعہ سنی علماء کو نجف میں بلایا، تاکہ اپنے ساتھ لائے ہوئے ایران، بلخ، بخارا اور افغانستان کے علماء کے ساتھ بحث وگفتگو اور اختلافی مسائل کو حل کریں۔

گفتگو(۲۴)شوال۱۱۵۶ھ کو تمام ہوئی، اور ایک عہد نامہ لکھا گیا جس کو میرزا مہدی خان منشی الممالک نادر (مولف درہ نادرہ، اور جھان گشائے نادری)نے لکھا اور اس پر دونوں فریقین کے علماء نے دستخط کیا۔

اس عہد نامے کی ترتیب اور تصدیق اس طرح تھی کہ پہلے علمائے ایران نے اس تحریر پر مھر لگائی اس کے بعد عتبات عالیہ کے (شیعہ سنی) علمائے نے مھر لگائی، اس کے بعد علمائے ماوراء النھر اور اس کے بعد علمائے افغان نے مھر لگائی اور سب سے آخر میں بغداد کے مفتی نے ایرانیوں کے اسلام کی تصدیق کی۔

عہد نامہ کی پوری تحریر ”جھان گشائے نادری “میں موجود ہے، لیکن اس عہد نامہ کی تفصیل عبد اللہ بن حسین سویدی بغدادی جو خود مذکورہ شیعہ سنی مناظرہ میں شریک تھے اور اس عہد نامہ پر دستخط بھی کئے تھے، انھوں نے اپنی دو کتابوں میں اس عہد نامے کی تفصیل بیان کی ہے، پہلی کتاب ”النفحہ المسکیة فی الرحلة المکیہ“ اوردوسری کتاب ”الحجج القطعیة لا تفاق الفرق الاسلامیہ“ یہ دونوں کتابیں مصرمیں چھپ چکی ہیں۔

اس عہد نامہ کی ایک کاپی حضرت امیر المومنین ں کی ضریح میں رکھ دی گئی، اور اس کی دوسری کاپیاں اسلامی ممالک بھیج دی گئیں، لیکن اس وقت کے چاپ شدہ نسخوں اور اس کتاب (جھان گشائے نادری) کے قلمی نسخے کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے اور ہم (مدیر مجلہ یادگار اور صاحب مقالہ مرحوم عباس اقبال) نے ان دونوں نسخوں میں فرق پایا ہے یعنی چاپ شدہ مقالہ میں بہت سی چیزیں کم ہیں، مثلاً ایران، عراق، عرب، افغانستان اور ترکستان علماء کے نام اس کتاب (جھان گشائے نادری) میں نہیں ہے، دوسرے یہ کہ علمائے عراق کی تصدیق اصل عہد نامے سے مخلوط ہوگئی ہے، تیسرے یہ کہ افغانی علماء کی تصدیق اس میں نہیں ہے اسی طرح احمد پاشا ،والی بغداد کی تصدیق اور مفتی بغداد آفندی یاسین کی مھر اور دستخط بھی اس میں موجود نہیں ہے۔

ہم ارے (عباس اقبال) فاضل دوست آقای حاج” محمد آقا نَخْجَوانی“ جن کو طلب علم کا بہت شوق تھا انھوں نے اس عہد نامہ کو مکمل طور پر نقل کیا اور نشر کے لئے ہمارے مجلہ یادگار کو دے دیا۔

مذکورہ عہدنامہ کا مکمل نسخہ، حاج محمد آقا نخجوانی کے نسخہ سے ان علماء کے نام ،عہدہ ومنصب اور مھر کے ساتھ ہمارے مجلہ یادگار میں تقریباً(۸) صفحات پر مشتمل چھپ چکا ہے، علماء کے نام اس طرح لکھے گئے ہیں، جائے مھر میرزا بھاء الدین محمد، کرمان کے شیخ الاسلام، یا جائے مھر سید حسینی، پیشنماز کاشان، جائے مھر میرزا ابوالفضل ،شیخ الاسلام قم، جائے مھر دخیل علی، قاضی کربلا، جائے مھر ملا حمزہ، شیخ الاسلام افغانستان، جائے مھر محمد باقر، عالمِ بخاراتاآخر۔

قارئین کرام!آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ اکثر علماء کا عہدہ شیخ الاسلام ہے اور بہت ہی کم ایسے علماء ہیں جو پیشنماز یا قاضی رہیں۔(۶۹۱)

لیکن عثمانی مولفین نے اس واقعہ کی تفصیل دوسرے طریقہ سے بیان کی ہے، چنانچہ شیخ رسول کرکوکلی کہتے ہیں کہ نادر شاہ نے ”دشت مغان“ میں ایک بہت بڑی انجمن تشکیل دی، جس میں شیعوں کی حمایت کی اور اپنے کو شیعوں کا مدافع (دفاع کرنے والا) کہا، لیکن کرد، داغستان، ساکنان کوہستان (کوہستان سے کیا مراد ہے یہ معلوم نہیں ہوسکا) اور افغانستان کے سبھی لوگ اس سے ناراض تھے، جس کے نتیجہ میں اس سے جنگ کرنے کا فیصلہ کرلیا، اور اس گہم سان کی لڑائی میں جو نادر شاہ سے ہوئی نادر شاہ کے سپاہیوں کو شکست ہوئی اور بہت نقصان ہوا، نادر شاہ نے فریقین کا دل رکھنے کے لئے مرقد ابوحنیفہ، علی مرتضی (ں) امام حسین (ں) امام موسیٰ کاظم (ں) کے لئے بڑے قیمتی ہدایا اور تحائف بھیجے، اور یہ بھی اعلان کیا کہ اذان پانچ مرتبہ کھی جائے، اور جملہ ”حی علی خیر العمل“اذان سے نکال دیا جائے،ایساكُردیوںاور افغانیوں کا دل رکھنے کے لئے کیا، اور اس نے عثمانی سلطان کے لئے بہت سے ہد ایا اور تحائف بھی بھیجے۔

اس کے بعد کر کوکلی صاحب کہتے ہیں کہ نادر شاہ نے جنگ کے بعد ایک بار پھر دشت دمغان میں علماء کو جمع کیا تاکہ ان میں موجود اختلافات کو حل کیا جاسکے، جس کے نتیجے میں بادشاہ کی حقیقی طور پر بیعت اور اس کی حمایت ہوئی۔

اس کے بعد نادر شاہ نے ہندوستان پر حملہ کیا اور سلطان محمد (تیموری خاندان کا حاکم) پر غلبہ حاصل کیا اور اس سے خراج لینا طے کیا، اس کے بعد ترکستان، افغانستان، بلخ اور بخارے پر قبضہ کیا، اور ان لوگوں نے عثمانی سلطان سے جو عہد وپیمان کیا تھا اس کو توڑوا ڈالا، اور یہ ظاہر کیا کہ روم (یعنی حکومت عثمانی) پر بغداد کی طرف سے حملہ کرنے والا ہے چند افراد کو احمد پاشا والی بغداد کے پاس بھیجا، تاکہ اس کو اطلاع دے، اور احمد پاشا نے اس لحاظ سے کہ وہ اس کا مہم ان ہے اس کے گذرنے اور وہاں توقف کرنے کی اجازت دیدی، اس وقت نادر شاہ نے کئی ہزار سپاہیوں کو کہانے پینے کا سامان لانے کے لئے بھیجا، اور اس طرح بغداد کا محاصرہ کرلیا، خلاصہ یہ کہ اس نے متعدد حملوں کے بعد پورے عراق پر قبضہ کرلیا، اور اس کے بعد عتبات عالیہ کی زیارت کرنے کے لئے گیا اور حضرت علی کے روضہ کی مرمت اور گنبد پر سونے کے پانی سے زینت کرنے کا حکم دے دیا اور اس کے بعد کربلائے معلی پہونچا اور یہ ظاہر کیا کہ میں تو اہل سنت سے تعلق رکھتا ہوں، اور احمد پاشا کو خط لکھا کہ کسی اہل سنت عالم دین کو بھیج تاکہ شیعہ علماء سے مناظرہ کرے، اور دونوں فرقوں کے درمیان موجود اختلافات ختم ہوجائیں، لہٰذا احمد پاشا نے عبد اللہ سویدی جو ان مسائل میں مھارت رکھتے تھے اور اس کے مورد اعتماد بھی تھے اس کام کے لئے انتخاب کیا۔

سویدی صاحب نے اپنے سفر کی تفصیل کتاب ” النفحة المکیہ والرحلة الملکیہ“۶۹۲ میں لکھی ہے ،اورکرکوکلی نے اسی کتاب سے نقل کیا ہے، منجملہ یہ کہ جس وقت میں نجف میں نادر شاہ کے حضور پہونچا تو اس نے مجھے خوش آمدید کہا، مجھے اس کی عمر ۸۰سال کی لگی، اور پروگرام کے مطابق یہ اجتماع حضرت علیں کے روضہ میں ہو، اس کے بعد کرکوکلی نے سویدی سے ذکر ہوئے ناموں کو اس طرح لکھا کہ ایرانی علماء میں سے علی اکبر ملا باشی ،وغیرہ وغیرہ تھے۔

افغانستان کے علماء میں سے شیخ فاضل ملا حمزہ قلی جائی، جوافغانستان میں حنفی مفتی تھے، اور وہاں کے دیگر علماء کے نام اور ان کے عہدے بھی لکھے ہیں۔

اس کے بعد علمائے ماوارء النھر کے نام ہیں جن کی تعداد سات تھی اور یہ لوگ سویدی کے داہنی طرف بیٹھے تھے اور اس کے بائیں طرف(۱۵)شیعہ علماء تشریف فرما تھے۔

اس وقت ملا باشی نے ایک تقریر کی اور سویدی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ علمائے اہل سنت کے فاضل علماء میں سے ہیں، اور نادر شاہ نے احمد پاشا سے یہ چاہا کہ انھیںہم ارے درمیان فیصلہ کرنے کے لئے بھیجے اور شاہ کی طرف سے وکیل بنا یا گیا کہ جو بھی اس اجتماع میں طے پائے اس پر عمل کیا جائے، کرکوکلی صاحب نے سویدی سے نقل کرتے ہوئے علماء کے درمیان ہونے والی گفتگو کی تفصیل بھی بیان کی ہے، چنانچہ اس گفتگو کا نتیجہ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ اہل سنت علماء نے اس بات کی تصدیق کی کہ شیعہ لوگ، مسلمان ہیں، اور ان کا نفع ونقصان ہمارا نفع ونقصان ہے، یہ طے کرنے کے بعد سب لوگ اپنی جگہ پر کھڑے ہوگئے اور ایک دوسرے سے مصافحہ کرنے لگے اور یہ کہتے جاتے تھے: ”اہلاً باخی“(میرے بھائی خوش آمدید)۔

اس کے دوسرے دن بھی مذکورہ جگہ پر جمع ہوئے اور ایک جریدہ تیار کیا گیاجس کی لمبائی(۷)بالشت سے زیادہ تھی اور اس کے دو حصوں پر عہد نامہ لکھا گیا، ملا باشی نے آقا حسن مفتی سے کہا کہ کوئیایسا شخص اس کو پڑھے جو فارسی زبان جانتا ہو۔

کرکوکلی صاحب نے اس عہد نامے کو عربی زبان میں لکھا ہے اور سویدی کے بعض اعتراض بھی لکھے ہیں، نیز اس کے قول کو نقل کرتے ہیں کہ ان لوگوں کے نام اس میں لکھے ہیں جنھوں نے اس پر اپنی مھر لگائی ہے، اوراس کے بعد سونے کے ظروف میں جو جواہرات سے مزین تھے، مٹھائی لائی گئی، اس کے بعد مجھے شاہ کے پاس لے گئے (سویدی نے اپنی کتاب میں ان باتوں کو ذکر کیا ہے جو اس کے اور شاہ کے درمیان ہوئی ہیں)اور اس نے احوال پرسی، کے بعد کہا:

”کل جمعہ ہے اور میں یہ چاہتا ہوں کہ نماز جمعہ کو مسجد کوفہ میں پڑھوں، اور میں نے فرمان دیدیا ہے کہ صحابہ کے نام بڑے ادب واحترام کے ساتھ اسی ترتیب سے ذکر کئے جائیں جس طرح کہ طے ہوا ہے، اور میں نے یہ حکم بھی دیا ہے کہ بھائی سلطان آل عثمان کے لئے دعا کی جائے اوراس کے بعد مختصر طور پر ہمارے لئے بھی دعا کی جائے، اورگویا یہ سلطان عثمانی کے احترام کی وجہ سے ہے کیونکہ وہ سلطان بن سلطان ہے، جبکہ میرے باپ دادا میں کوئی سلطان نہیں تھا،(۶۹۳) قارئین کرام!ہم نے جو کچھ کرکوکلی کی باتوں کو خلاصہ کے طور پر نقل کیا ہے اگرچہ بعض تاریخی چیزیں غلط اور اشتباہ ہیں لیکن پھر بھی بہت سے اہم تاریخی نکات اس بیان میں موجود ہیں، خصوصاً اگر ان تمام باتوں کی تحقیق کی جائے۔

مذکورہ مطلب سے متعلق چند نکات

ہ بات تاریخی اعتبار سے مسلم ہے کہ نادر شاہ نے شیعہ اور سنی کے درمیان اتحاد اور دوستی قائم کرنے کے لئے بہت کوشش کی، لیکن سلاطین عثمانی کی دشمنی اور عناد اس قدر زیادہ تھی (جیسا کہ بعض نمونے بیان بھی ہوئے ہیں) کہ نادر شاہ کی کوشش ثمر بخش نہ ہوسکی۔

چنانچہ یہاں پر چند نکات کی طرف اشارہ کرنا مناسب ہے:

پہلا نکتہ یہ کہ تاریخ شیعہ میں چاہے صفویہ زمانہ ہو یا دیگر زمانہ، کوئی بھی ایسا شیعہ عالم نہیں مل پائے گا جس نے اسلامی فرقہ سے جنگ کو جھاد کا نام دیا ہو، یا کسی ایک اسلامی سر زمین کو دار الحرب کا نام دیا ہو، یا اسلامی مذاہب کے پیروکاروں کو کافر کہا ہو۔

دوسرا نکتہ یہ ہے کہ عثمانی علماء جو بھی فتویٰ دیتے تھے وہ حکومت کے اشارہ اور اس کے حکم سے ہوتا تھا جبکہ شیعہ تاریخ میں کبھی کوئی ایسا موقع نہیں آیا کہ کسی بادشاہ کے اشارے پر کسی عالم دین نے کوئی فتویٰ دیا ہو، یا کسی شیعہ عالم دین نے بغیر سوچے سمجھے یا صرف تعصب اور اپنے احساسات یا قومی جذبات کی بناپر کوئی فتویٰ دیا ہو۔

تیسرا نکتہ یہ ہے کہ عثمانی حکومت کے علماء اور طلاب، شیعوں کی معتبر کتابوں، تفسیر، فقہ وحدیث، اور کلام وغیرہ سے بہت کم آشنائی رکھتے تھے، اور شاید ان میں سے بہت سے لوگ یہ بھی نہ جانتے ہوں کہ شیعوں کی فقہ کتنی وسیع اور اصیل (خالص) ہے،(۶۹۴) جب کہ اس کے برعکس قضیہ صادق ہے یعنی شیعہ علماء اور طلاب عمومی طور پر دیگر اسلامی مذاہب کی کتابوں سے بخوبی اطلاع رکھتے ہیں، ایران مذہب شیعہ کا مرکز ہے،لیکن کبھی بھی دیگر مذاہب کی کتابوں کے مطالعہ پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

آج یہ بات سب پر واضح اورآشکار ہے کہ ایران کی کتابفروشی (بک ایجنسی) اور کتب خانوں میں تمام اسلامی مذاہب کی کتابیں موجود ہیں اور کوئی بھی ان کا مطالعہ کرسکتا ہے، اس کے علاوہ تھران یونیورسٹی میں حنفی اور شافعی فقہ پڑھائی جاتی ہے کیونکہ ایران میں یہ دو مذہب موجود ہیں، مطلب یہ ہے کہ اگر عثمانیوں کے پاس شیعہ کتابیں ہوتیں اورصرف حقیقت حال سے اطلاع کے لئے ان کی تحقیق کرتے تو پھر شیعہ مذہب کی حقیقت سے باخبر ہوجاتے، نہ یہ کہ بعض اہل غرض کی تہم توں اور گمان کی بنا پر شیعوں کے بارے میں کچھ کہتے۔

نتیجہ

مذکورہ مطلب کو بیان کرنے کا نھائی (آخری) مقصد یہ ہے کہ ۱۰۸۸ھ میں ایرانی حجاج کا قتل عام اور اسی طرح دوسرے واقعات کے پیش نظر، یہ بات مسلّم ہے کہ صفویہ سلطنت کے شروع میں حکومت عثمانی کے وسیع علاقوں میں خصوصاً حرمین شریفین میں ایرانیوں سے دشمنی کو ہوا دی جاتی تھی اور طرح طرح کی ناروا اور جھوٹی تہم تیں لگاکر عثمانیوں کو دشمنی کے لئے ابھارا جاتا تھا، ان تہم توں میں سے ایک نمونہ ابو طالب یزدی کا واقعہ تھا اور اس تہم ت کی وجہ سے بہت سے ایرانی حجاج کا خون بھایاگیاہے۔

عبد العزیز کی موت

سلطان عبد العزیز اپنی عمر کے آخری دس سالوں میں بالکل اپاہج ہوگیا تھا (یعنی چلنے پھرنے کی بھی طاقت نہ تھی)اور ویلچر کے ذریعہ ادہر ادہر جاتا تھا اور قلبی اور مغزی بیماری میں بھی مبتلا ہوگیا تھا، ۱۹۵۳ء میں گرمی کا زمانہ طائف میں گذارنا چاہا، طائف کی آب وہوا معتدل اور بہت اچھی ہے لیکندریا سے اس کی اونچائی ۱۲۰۰ میٹر ہے اس وجہ سے یہ بات اس کے مزاج سے ہم آہنگ نہیں تھی اس کی حالت اور بگڑتی گئی اس کے مخصوص ڈاکٹر کے علاوہ جرمنی کے کئی ڈاکٹر بھی اس کے علاج میں لگے ہوئے تھے لیکن کسی کا بھی علاج کارگر نہ ہوا، اور دوم ربیع الثانی ۱۳۷۳ھ کواس دنیا سے رخت سفر باندہ لیا، اس کے جنازے کو ہوائی جھاز کے ذریعہ ریاض لایا گیا اور وھیں پر دفن کر دیاگیا۔(۶۹۵)

ابن سعود کا اخلاق اور اس کی بعض عادتیں

”امین محمد سعید” جو ابن سعود سے آشنا افراد میں سے تھے اور اس کے اخلاق اورعادتوں سے بڑی حد تک آشنائی رکھتے تھے، انھوںنے ابن سعود کے اخلاق صفات اور روزانہ کے پروگرام کے بارے میں تفصیل سے بیان کیا ہے۔(۶۹۶)

ابن سعود ایک بلند قامت اور صحت مند انسان تھا منھ بھی بہت بڑا تھا اور جب غصے میں بولتے تھے تو ان کے منھ سے کف(جھاگ) نکلتا تھا، چھرہ کا رنگ گندمی اورتھوڑاکالا تھا، اس کی داڑھی کم اور ھلکی تھی اس کی ایک آنکھ میں تکلیف تھی اسی لئے خط یا کتاب پڑھتے وقت چشمہ کا استعمال کرتا تھا، یا اس خط کو آنکھوں سے بہت قریب کرکے پڑھتا تھا، ابن سعود کے لئے خط پڑھنا بہت مشکل تھا، اس کے بدن میں بہت سے زخموں کے نشان پائے جاتے تھے، اور اس کی ایک انگلی فلج تھی۔

اپنے سر پر کوفیہ اور عقال باندہتا تھا اور سفید اور لمبا لباس پہنتا تھا، اور اس کے نیچے ایک پاجامہ بھی ہوتا تھا اور ان کپڑوں کے اوپر ایک عبا بھی ہوتی تھی۔

اسے اعتراف تھا کہ ہم نے علوم (دنیاوی تعلیم) نہیں حاصل کی ہے جو لوگ دنیاوی تعلیم یافتہ ہیں ان کو چاہئے کہ اس سلسلہ میں ہماری راہنمائی کریں۔

اور کبھی بھی کوئی تقریر کرنا ہوتی تھی توخطباء کی روش اور عربی کے قواعد کی رعایت نہیں کرتاتھا، نجدی لہجہ میں گفتگو کرتا تھا اور اکثر اس کی تقریریں مذہبی پہلو رکھتی تھیں اور اپنی تقریروں میں احادیث نبوی اور قرآنی آیات کو شاہد کے طور پر پڑھا کرتا تھا، بیٹھ کر تقریر کیا کرتا تھا، انگشت شھادت اور اس کے ھاتھ میں موجود چھوٹے سے عصا کے ذریعہ اپنے مفہوم کو سمجھانے کے لئے اشارہ کیا کرتا تھا۔

ابن سعود غصہ کے عالم میں بھی ملائم اور نرم مزاج تھا، اور ضرورت کے وقت سنگدل اور غصہ ور تھا، وہ جانتاتھا کہ کہاں پر تلوار کا کام ہے اورکہاں پر بخشش اور احسان کا۔

جس وقت دشمن پشیمانی کا اظھار کرتے تھے وہ ان کو بخش دیتا تھا اور پھر ان کو بہت سا مال دے کر اس کو بلند مقام عطا کرتا تھا، اس کی دور اندیشی اور شدت عمل کا نتیجہ یہ تھا کہ ملک میں بے مثل امن امان قائم ہوگیا کہ ہر شخص اپنی جان ومال کو محفوظ سمجھتا ہے اور اطمینان سے رہتا ہے، اس کی سب سے بڑی وجہ اس کی بیداری اور مجرمین ،راہزنوں اور ظلم وستم کرنے والوں کے بارے میں بہت سخت مزاجی تھی اور ان پر کسی طرح کا کوئی رحم نہیں کرتا تھا اور ان کے بارے میں کسی کی کوئی سفارش بھی قبول نہیں کرتا تھا۔(۶۹۷) (لہٰذا ان سب کا خاتمہ کرکے امن وامان قائم کردیا)

ابن سعود عربی اخبار خصوصاً مصری اخبار پر بہت زیادہ توجہ رکھتا تھا اور جو کچھ مصری اخباروں میں اس کے ملک کے سلسلہ میں لکھا ہوتا تھا اس کو غور سے پڑھا کرتا تھا، وہ اکثر عربی اخباروں اور مجلوں اور لندن سے منتشر ”ٹائمز“ اخبار کا ممبر تھا، اور اس کے پاس کئی ایسے مترجم تھے جو انگریزی اور ہندی اخباروں میں سے ان خبروں کا ترجمہ کرکے پیش کرتے تھے جو ان کے عرب ممالک اور حجاز کے بارے میں ہوتی تھی۔

ابن سعود کے زمانہ میں ہی نجد اور حجاز کے جوانوں کا سب سے پہلا گروہ دنیاوی تعلیم کے لئے مصر اور یورپ کے لئے گیا، ۱۹۲۷ء میں ان افراد کی تعداد(۱۶)تھی۔

اسی طرح اس کے زمانہ میں لوگوں کو گاڑیوں (موٹرس) پر چلنے کی اجازت ملی جبکہ اس سے پہلے ممنوع تھی۔

ابن سعود کے بعد آل سعود کی حکومت

عبد العزیز کے مرنے کے بعد اس کے بیٹے جمع ہوئے اور اس کے ولیعہد ملک سعود کی سعودیہ کے بادشاہ کے عنوان سے بیعت کی، بیعت کے بعد ملک سعود نے اپنے بھائی امیر فیصل کو اپنا ولیعہد مقرر کیا۔

ملک سعود کی بیعت کا پروگرام مکہ معظمہ میں رکھا گیا اور اس نئے بادشاہ سے بیعت کرنے کے لئے مختلف علاقوں سے تقریباً ہزاروں لوگ جمع ہوئے، چنانچہ اہل مکہ نے علماء اور قضات اور اہم شخصیات کے ساتھ ایک تاریخی عہد نامہ لکھا جس میں شرعی طور پر بیعت کی گئی تھی۔

مذکورہ عہد نامہ کی تحریر اس طرح ہے:

”یا امام المسلمین(۶۹۸) الملک سعود بن عبد العزیز بن عبد الرحمٰن الفیصل آل سعود المتوفی یوم الاثنین(۲)ربیع الاول سنة۱۳۷۳

قد عهد الامانة من بعده الیکم واخذت لکم البیعة فی عام ۱۳۵۲ فان امامتکم بذالک منعقدة وثابتة شرعاً، واننا بمناسبة وفاة والدکم عبد العزیز وتولیکم امامة المسلمین من بعده نجدد ونوکد بیعتکم اللتی فی اعناقنا علی العمل بکتاب اللّٰه وسنة رسوله، واقامة العدل فی کل شئي وتحکیم الشریعة الاسلامیه ولکم علینا السمع والطاعة فی العسر والیسر والمنشط والمکره، ونسال اللّٰه لکم العون والتوفیقفیما حملتم من امور المسلیمن وان یحقق علی ایدیکم ما ترجوه الامة الاسلامیة من مجد وتمکینٍ“

چنانچہ ان تمام باتوں کے بعد مفتی بزرگ کی ریاست میں ریاض اور دیگر شھر و دیھات کے علماء نے ابن سعود کے ھاتھوں پر بیعت کی اور اس کی اطاعت کرنے کے بارے میں اقرار کیا۔

۵ربیع الاول ۱۳۷۳ھ پنجشنبہ کو غروب کے وقت ابن سعود مسجد الحرام گیا اور نماز مغرب کی نماز جماعت قائم کرنے کو اپنے ذمہ لیا، اور اس کے بعد خانہ کعبہ کا طواف بجالایا، اوردعا کی، نیز ایک تقریر کی جس میں اپنی حکومت کے منصوبوں کو چاہے وہ اندرونی ہوں یا بیرونی سب لوگوں کے سامنے بیان کئے۔(۶۹۹) ملک سعود نے اپنی سلطنت کے زمانہ میں اپنے ملک کی ترقی کے لئے بہت کوششیں کیں، بہت سے مدرسے اور ھاسپیٹل، بہت سی سڑکیں اور پل وغیرہ بنائے۔

ابن سعود کے اہم کاموں میں سے مسجد الحرام اور مسجد النبی میں توسیع کرنا ہے جس میں ان دونوں مسجدوں کے قرب وجوار کی زمینیں خرید کر مسجدوں سے ملحق کردی، اور دونوں مساجد کے چاروں طرف بڑی بڑی سڑکیں بنوادیں، اس طرح سے کہ اب کوئی بھی عمارت مسجد کی دیوار سے ملی ہوئینھیں ہے ۔

مسجد النبی کی توسیع شوال ۱۳۷۰ھ میں شروع ہوئی اور ابن سعود کے زمانہ میں مکمل ہوئی، چنانچہ اس توسیع اور مرمت کے بعد اس مسجد کی وسعت ۱۶۳۲۷ میٹر ہوگئی ہے۔(۷۰۰)

اسی طریقہ سے ابن سعود کے زمانہ میں ڈرائیورنگ کے قوانین کا بنانا بھی ہے، اوروہ بھی اس طرح کہ اگر کوئی ان قوانین کی خلاف ورزی کرے تو اس کو ایک سال قید کی سزا ہے، اور اگر کسی ڈرائیور کی غلطی کی وجہ سے کوئی شخص مرجائے تو اس کو پھانسی پر لٹکایا جاتا ہے، چنانچہ ان سخت قوانین نے تمام سیاسی لوگوں اور ڈپلومیٹ کو خوف ووحشت میں ڈال دیا تھا۔(۷۰۱)

۱۹۶۱ء مطابق۱۳۸۱ھ ملک فیصل جو ابن سعود کا ولیعہد اور رئیس الوزراء بھی تھا وہ بادشاہ کا قائم مقام ہوگیا اور ایک مدت کے بعد شورائے مشایخ اور مختلف قبیلوں کے سردار اورعلماء کی پیشکش پر بادشاہت کے تمام اختیارات اس کو دیدئے گئے۔

نومبر ۱۹۶۴ء وزیروں کی کابینہ اور قبائل کے روسا اور شیوخ کی پیش کش اور علماء کے فتاویٰ کے مطابق سعودیہ کے بادشاہ کے عنوان سے اس کی بیعت کی گئی۔(۷۰۲)

____________________

۵۲۰. المختار من تاریخ الجبرتی، ص ۶۶۷، ہم نے مذکورہ تمام چیزوں کے بارے میں وضاحت کردی ہے۔

۴۹۳.دائرة المعارف اسلامی جلد اول ص ۱۹۱، عربی ترجمہ۔

۴۹۴. سب سے پہلا شخص جس نے درعیہ شھر پر حملہ کیا اورمحمد بن سعود کے دو بیٹوں فیصل اور سعود کو قتل کرڈالا ”دہام بن دواس تھا، (رسالہ شیخ عبد الرحمن آل شیخ ص ۲۴، جلد ۲ ۔ ابن بشر)

۴۹۵. جزیرة العرب فی القرن العشرین، ۲۴۴۔

۴۹۶. اشراف مکہ سے مراد وہاں کے امیر اور حكّام ہیں جو اس زمانہ میں عثمانی بادشاہوں کی طرف سے معین ہوتے تھے، انشاء اللہ بعد میں ان کے بارے میں گفتگو کی جائے گی۔

۴۹۷. الدرر السنیہ ص ۴۳،۴۴۔

۴۹۸. دائرة المعارف اسلامی جلد اول ص ۱۹۱۔

۴۹۹. الدرر السنیہ ص ۴۴۔

۵۰۰. تاریخ مکہ ج ۲ ص۱۲۴۔

۵۰۱. تاریخ المملکةالعربیة السعودیہ جلد اول ص ۵۲،شوکانی صاحب جن کے زمانہ میں یہ واقعات نمودار ہوئے ہیں، انھوں نے بھی شریف غالب کے حالات میں ان باتوں کی طرف اشارہ کیا ہے، اور اس طرح کہا کہ اگر شریف غالب نجدیوں سے جنگ کرنے کے بجائے کوئی دوسرا کام انجام دیتا تو بھتر ہوتا، کیونکہ جس میں جنگ کرنے کی طاقت نہ ہو تو اس کو جنگ میں بہت سی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کے نتائج بھی خراب ہوتے ہیں۔ (البد ر الطالع ج۲ ص۵)

۵۰۲. تاریخ المملکة العربیة السعودیہ، جلد اول ص ۷۳۔

۵۰۴. الفجر الصادق ص ۲۲۔

۵۰۵. فتنة الوہابیة ص ۷۱۔

۵۰۶. سیف الجبار ص ۲ سے، اور اس آخری حصے کو ستون ۸۸ تا ۹۱ وضاحت دی گئی ہے کہ مکہ کے چاروں طرف کے ایک معین فاصلہ کو حدود حرم کہا جاتا ہے، اور ان حدود میں جنگ اور دوسری بعض چیزیں حرام ہیں۔

۵۰۷. اغاوات کے معنی خواجگان ہیں(جو ظاہراً آغا سے لیاگیا ہے، قدیم زمانہ میں ایران کے خواجہ لوگوں کے لئے لگایا جاتا تھا) اور خواجہ ان لوگوں کو کہا جاتا تھا جو مسجد الحرام (خانہ کعبہ) اور مسجد النبوی کے نظم وضبط کے لئے متعین رہتے ہیںاس طرح کے افراد اب بھی دونوں مسجدوں میں باقی ہیں، قدیم زمانہ میں بعض مالدار افراد (بخارا، سمرقند، سوڈان اور دوسرے علاقوں کے لوگ) نذر کرتے تھے کہ ہم ان مسجدوں میں خدمت کے لئے خواجہ معین کریں گے، اسی بناپر کبھی کبھی ان لوگوں کی تعداد مسجد النبوی میں دو سو سے زیادہ ہوجاتی تھی، اور کبھی کھبی ان لوگوں میں نااتفاقی بھی ہوجاتی تھی اور فتنہ وفساد بھی ہوتا جاتا تھا، جیسا کہ مکہ ومدینہ سے متعلق تاریخوں میں ذکر ہوا ہے، اسی طرح بعض بادشاہ اور مالدار حضرات کچھ زمینوں کو وقف کرتے تھے تاکہ ان کی درآمد سے خواجگان کا خرچ چلتا رہے، انشاء اللہ بعد میں خواجہ لوگوں کے بارے میں مزید وضاحت کی جائے گی۔

۵۰۸. تاریخ مکہ ج ۲ ص ۱۳۱ سے۔

۵۰۹. المختار من تاریخ الجبرتی ص ۵۳۳۔

۵۱۰. فتنة الوہابیہ ص ۷۲۔

۵۱۱. قبرستان معلی یا معلاة مکہ معظمہ کا سب سے قدیمی قبرستان ہے، اور اس وقت تقریباً شھر کے بیچ میں واقع ہے اور اس کے درمیان سے ایک سڑک نکلی ہے جس نے اس کو دو حصوں میں تقسیم کردیا ہے،جس کے ایک حصّے کو مقبرہ معلاة اور دوسرے حصے کو مقبرہ ابوطالب (پدر گرامی حضرت علی ں) کہا جاتا ہے۔

۵۱۲. کشف الارتیاب ص ۲۲، ۲۳، اس سلسلہ میں ”عمر رضا کحالہ“ کہتا ہے کہ مکہ معظمہ میں بہت سے تاریخی آثار موجود تھے، مثلاً پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جائے ولادت اور جناب خدیجہ، حضرت ابو بکرکا گھر وغیرہ جن کو اور دیگر قبور اور گنبدوں کو وہابیوں نے مسمار کردیا، (جغرافیة شبہ جزیرة العرب ص۱۶۱)

۵۱۳. عنوان المجد فی تاریخ نجد جلد اول ص ۱۲۴۔

۵۱۴. اس سے پہلے کا دستور یہ تھا کہ خانہ کعبہ کے ہر رکن میں مذاہب اربعہ کی اپنی نماز جماعت ہوتی تھی۔

۵۱۵. تاریخ مکہ ج ۲ ص ۱۳۱، ۱۳۲ کا خلاصہ۔

۵۱۶. تاریخ المملکة العربیة السعودیہ جلد اول ص ۹۱۔

۵۱۷. المختار من تاریخ الجبرتی، ص ۶۶۷، جبرتی نے شریف غالب کے ذریعہ وہابی مذہب قبول کرنے کی وجھیںبڑی تفصیل سے لکھی ہیں، (تاریخ جبرتی ج۳ ص۱۱۶)

۵۱۸. تاریخ المملکة العربیة السعودیہ جلد اول ص ۹۱۔

۵۱۹. تاریخ المملکة العربیة السعودیہ جلد اول ص ۹۲، جبرتی صاحب۱۲۲۰ھ کے واقعات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تقریباً ڈیڑھ سال تک وہابیوں نے مدینہ کو گھیر رکھا تھا اور شھر میں کہانے پینے کی چیزوں کو نہیں جانے دیا، چنانچہ مدینہ کے افراد مجبوراً ان کے سامنے تسلیم ہوگئے مدینہ پر وہابیوں کا قبضہ ہوگیا، تمباکو نوشی کو شھر میں ممنوع قرار دیدیا، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گنبد کے علاوہ تمام گنبدوں اور مقبروں کو مسمار کردیا، (تاریخ جبرتی ج۳ ص ۹۱)

۵۲۱. تاریخ المملکة العربیة السعودیہ جلد اول ص ۷۳۔

۵۲۲. تیرہویں صدی ہجری کے وہابی مورخ ومولف ۔

۵۲۳. تاریخ المملکہ العربیة السعودیہ جلد اول ص ۷۷، ۷۸۔

۵۲۴. عنوان المجد فی تاریخ نجد جلد اول ص ۱۲۱، ۱۲۲۔

۵۲۵. مفتاح الکرامة، خاتمہ جلد پنجم ص ۵۱۲، طبع مصر۔

۵۲۶. روضات الجنات ج۴ ص ۱۹۸۔

۵۲۷. کتاب ”نزہة الغری“ کے مولف شیخ خضر ثانی سے نقل کرتے ہیں کہ وہابیوں نے حبیب ابن مظاہر کی قبرکی ضریح جو لکڑی سے بنی ہوئی تھی توڑ کر اس میں آگ لگادی، اور اس سے حرم مطھر کے قبلہ کی طرف دالان میں قہوہ (چائے) بنایا، اس کے بعد حضرت امام حسینں کی قبر کی ضریح کو بھی توڑنا چاہتے تھے لیکن چونکہ اس میں لوہا لگا ہوا تھا جس کی بناپر اس کو نہ توڑ سکے۔ (ص۵۲)

۵۲۸. تاریخ کربلا وحائر حسین ص ۱۷۴۔

۵۲۹. تاریخ کربلا وحائر حسین ص ۱۷۲۔

۵۳۰. العراق قدیماً وحدیثاً ص ۱۲۷۔

۵۳۱. حدائق السیاحہ ص ۴۲۷۔

۵۳۲. حضرت امام حسین ں کے خزانہ کے غارت ہونے پر دوسری دلیل یہ ہے کہ شیخ خضر نے بہت سی ان چیزوں کو وہابیوں کے پاس دیکھا ہے جو غارت کرنے کربلا میں آئے تھے، جیسے ایک بڑا قرآن بہت خوبصورت تحریر میں جس پر سونے سے جدول بنے ہوئے تھے، اور حضرت امام حسین (ع)کے خزانہ سے متعلق ھیرے وجواہرات سے مزین تلواریںوغیرہبھی تھیں۔ (نزہة الغریٰ ص۵۲)

۵۳۳. ۱۲۱۳ھ میں علی پاشا والی بغدادکے حکم سے نجد پر حملہ کیا گیا اور اس کے بعد ہوئے واقعات کو دوحة الوزرا میں تفصیل کے ساتھ نقل کیا گیا ہے (ص ۲۰۴ سے) اس کے بعد علی پاشا اور سعود بن عبد العزیز کے درمیان ایک صلح ہوئی جس میں ایک بات یہ تھی کہ عراق سے جانے والے حجاج کو وہابی حضرات کچھ نہ کہیں اور دوسری بات یہ تھی کہ عراق پر حملہ کرنے سے باز رہیں، چنانچہ عبد العزیز نے اپنے خط میں اسی صلح کی طرف اشارہ کیا ہے۔

۵۳۴. دوحة الوزرا، ص ۲۱۳ سے ۲۱۷ تک کا خلاصہ۔

۵۳۵. میرزا ابو طالب اپنے سفر نامے میں (جس کے بعض حصہ کو بعد میں ذکرکیا جائے گا) اس طرح لکھتے ہیںکہ عمر آقا کربلا کا حاکم وہابیوں کا ہم زبان اورہم قول تھا جب وہابیوں نے حملہ شروع کیا اور یہ نعرہ ”اقتلوا المشرکین“ و”اذبحوا الکافرین“ بلند کیا اس وقت عمر آقا ایک دیھات میں جا چھپا، اور آخر کار سلیمان پاشا کے ھاتھوں قتل ہوا۔ (ص۴۰۸)

۵۳۶. میرزا ابو طالب صاحب وہابیوں کے حملہ کے گیارہ مھینہ بعد کربلا پہنچے ،وہ فرماتے ہیں کہ شھر کربلا کی دیوار مٹی کی تھی جس کا عرض بھی کم تھا اور مضبوط بھی نہیں تھی جس کی بناپر وہابی لوگ اس کو گراکر شھر میں داخل ہوگئے تھے۔ (سفر نامہ ص ۴۰۸)

۵۳۷. مفتا ح الکرامة جلد ۷ ص ۶۵۳، گذشتہ چار وجوہات کے علاوہ ایک دوسری وجہ یہ بھی بیان کی جاسکتی ہے کہبغداد اور اس کے قرب وجوار میں طاعون کی بیماری پھیل چکی تھی، (دوحة الوزرا ص ۲۱۶) جس کی بنا پر شھر کے ذمہ دار افراد اپنی جان بچانے کی فکر میں تھے لہٰذا وہ شھر کربلا سے دفاع نہ کرسکے۔

۵۳۸. تاریخ المملکة العربیة السعودیہ جلد اول ص ۹۷، ۹۸۔

۵۳۹. عنوان المجد جلد اول ص ۱۴۲۔

۵۴۰. مفتاح الکرامة ج ۷ ص ۶۵۳۔

۵۴۱. تاریخ نجد ص ۹۹۔

۵۴۲. ان تحریروں میں اگرچہ بعض غلطیاں بھی ہیں لیکن اس کے ساتھ بہت سے دقیق اور باریک نکات بھی ملتے ہیں۔

۵۴۳. مسیر طالبی ص ۴۰۸، ۴۰۹۔

۵۴۴. روضة الصفاء، ناصری ج ۹ ص ۳۸۱۔

۵۴۵. ناسخ التواریخ جلد اول ص ۱۱۹، ۱۲۰۔

۵۴۶. مسیر طالبی یا سفر نامہ میرزا ابو طالب ص ۴۱۲، تاریخ کے مطالعہ سے یہ بات ثابت ہے کہ عبد العزیز نے فتح علی شاہ کے پاس کئی مرتبہ اپنا نمائندہ بھیجا ہے، چنانچہ عبد اللہ بن سعود جس کانام محمد تھا اس کا ایک فوٹو (دیوار پر نقش)فتح علی شاہ کے ساتھ سلام کے باغ گلستان میں اب بھی موجود ہے، (زنبیل حاج فرہاد ص ۱۴۳)

۵۴۷. مآثر سلطانیہ ص ۸۶۔

۵۴۸. دوحة الوزرا کے مولف کہتے ہیں کہ کربلا اور نجف کے حادثات کی اطلاع ایران کی حکومت کو دی گئی۔ (ص ۲۱۷)۔

۵۴۹. منتظم ناصری ج ۳ ص ۷۸۔

۵۵۰. روضة الصفای ناصری ج ۹ ص ۵۸۵، ۵۸۶ کا خلاصہ۔

۵۵۱. ابن بشر جلد اول ص ۱۲۵، وصلاح الدین مختار جلد اول ص ۷۸۔

۵۵۲. عنوان المجد جلد اول ص ۱۲۶۔

۵۵۳. جلد اول ص ۱۹۲، کرکوکلی کہتا ہے (دوحة الوزرا ص ۲۲۷) عبد العزیز کا قاتل اصل افغانی تھا اور وہ بغداد میں رہتا تھا جس کا نام ملا عثمان تھا اس نے دین اسلام اور مسلمانوں کا دفاع کرنے کے لئے نذر کی تھی اورپروگرام کے تحت عبد العزیز کے قتل کا ارادہ کیا تھا اوروہ وہاں جاکر وہابیوں کے بھیس میں رہنے لگاتھا۔

۵۵۴. ابن بشر جلد اول ص ۱۷۲۔

۵۵۵. ماضی النجف وحاضرہا، جلد اول ص ۳۲۴، مولف نُزہة الغری کہتے ہیں کہ وہابیوں نے نجف کے لوگوں پر پانی بند کردیا تھا، (ص۵۳)

۵۵۶. عراق سے نجد اورحجاز کے لئے ایک راستہ ہے جو ایسے جنگل سے گذر تا ہے جہاں پر آب ودانہ کم ہوتا ہے، اور قدیم زمانہ میں ایران اور عراق سے اکثر حجاجاسی راستہ سے جایا کرتے تھے،یہ راستہ” جبل معروف“(اس وجہ سے کہ بلاد الجبل نامی علاقہ سے جو ایران اور عراق کے مرکزی علاقہ میں ہے اسی راستہ سے حجاج حج کے لئے جایا کرتے تھے) کے نام سے مشہور تھا، لیکن آج کل اس سے کوئی نہیں جاتا۔

۵۵۷. ماضی النجف وحاضرہا، جلد اول ص ۳۲۵، یہ واقعہ کتاب ”غرائب الاثر“کے قلمی نسخہ سے نقل ہوا ہے، کرکوکلی کہتا ہے (دوحة الوزراء ص ۲۱۲) وہابیوں نے۱۲۱۴ھ میں نجف اشرف پر حملہ کیا لیکن قبیلہ خزاعل نے اس کا مقابلہ کیا اور وہابیوں کے تین سو لوگوں کو قتل کردیا۔

۵۵۸. ماضی النجف وحاضرہا، ص۳۲۵، ۳۲۶۔

۵۵۹. ”کرکوکلی“ (دوحہ الوزراء ص ۲۱۷ میں ) کہتا ہے کہ حضرت علی ں کے خزانہ کو حضرت امام موسیٰ کاظم ں کے خزانہ میں منتقل کردیا گیا، اسی طرح کتاب ”موسوعة العتبات المقدسہ“ج اول بخش نجف اشرف ،ص ۱۶۶، میں کتاب ” تاریخ العراق بین احتلالین“ سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ۱۲۱۶ھ میں خزانہ امیر المومنین ں کو وہابیوں کے ڈر سے کاظمین میں رکھوادیا گیا، اور اس خزانہ کو لے جانے والے حاج محمد سعید بک دفتری تھے۔

۵۶۰. عنوان المجد فی تاریخ نجد جلد اول ص ۱۳۷۔

۵۶۱. ماضی النجف وحاضرہا، جلد اول ص ۳۲۶۔

۵۶۲. جلد ۵ ص ۵۱۲۔

۵۶۳. مفتاح الکرامہ ج ۷ ص ۶۵۳، ایک بہت ظریف نکتہ یہ ہے جس وقت علامہ مرحوم سید محمد جواد عاملی اسلحہ لئے نجف اشرف سے دفاع کررہے تھے اورہر وقت یہ لگ رہا تھا کہ دشمن اب شھر پر قبضہ کرلے گا اور سب کو قتل کردیگا مال ودولت کو غارت کردے گا، اس وقت بھی موصوف کتاب لکھنے میں مشغول تھے، وہ بھی مفتاح الکرامہ جیسی کتاب جو فقہ شیعہ کی اہم کتابوں میں مانی جاتی ہے، چنانچہ آدہی رات بلکہ صبح تک ان دونوں کاموں میں مشغول رہے، یعنی شھر کا دفاع بھی کیا اور کتاب بھی لکھتے رہے۔

۵۶۴. ماضی النجف وحاضرہا ج۱ص۳۳۰۔

۵۶۵. کانون اول روم کے قدیم مھینوں میں سے ہے جو دسمبر اور جنوری کے مطابق ہوتا ہے، اور بعض عربی ممالک میں آج بھی یہ مھینے انگریزی مھینوں کی جگہ رائج ہیں۔

۵۶۶. کتاب تاریخ الوزرات العراقیہ سے اقتباس، اس کتاب کی پہلی جلد میں مختلف مقامات پر اس طرح کے دوسرے واقعات تفصیل کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں، ہم اپنے قارئین کرام کو یھیں پر یہ بتادیں کہ اسی کتاب کے باب ہشتم میں ” جمعیة الاخوان“ کے بارے میں تفصیل بیان کی جائے گی۔

۵۶۹. طبقات اعلام الشیعہ ،جلد اول کا دوسرا حصہ ص ۵۹۴۔

۵۷۰. سوال وجواب دونوں کتاب ”تراث کربلا“ ص ۲۸۵، پر موجود ہیں۔

۵۷۱. موسوعة عتبات المقدسہ بخش کربلا جلد اول ص ۳۳۶۔

۵۷۲. سریانی مھینوں کا ساتواں مھینہ، جو اپریل سے مطابقت رکھتا ہے، (مترجم)

۵۷۳. موسوعة عتبات المقدسہ بخش کربلا جلد اول ص۳۵۶، وفی بلا دالرافدین ص ۶۹۔

۵۷۴. موسوعة عتبات المقدسہ بخش کربلا جلد اول ص۳۵۸۔

۵۷۵. سریانی سال کا چوتھا مھینہ،جوجولائی سے مطابقت رکھتا ہے، (مترجم)

۵۷۶. تاریخ بیست سالہ ایران، تالیف آقای حسین مکی جلد ۲ ص ۳۴۲ تا ۳۵۳ کا خلاصہ۔

۵۷۷. تاریخ المملکة العربیة السعودیہ، جلد اول ص ۸۶۔

۵۷۸. دائرة المعارف اسلامی جلد اول ص ۱۹۲۔

۵۷۹. تاریخ مکہ جلد ۲ ص ۱۳۵، ۱۳۶۔

۵۸۰. عنوان المجد جلد اول ص ۱۵۳ کاخلاصہ۔

۵۸۱. تاریخ المملکة العربیة السعودیہ جلد اول ص ۱۱۸، عثمانی مولفین میں سے جناب سلیمان فائق بک لکھتے ہیں کہ سعود چاہتا تھا کہ ایک ایسی عربی حکومت بنائے جس میں عراق، حجاز اور شام شامل ہو اور خود اس کا بادشاہ ہو، (ص۳۷)

۵۸۲. دائرة المعارف اسلامی جلد اول ص ۱۹۲، ۱۹۳۔

۵۸۳. سر زمین مصر، سلطان سلیم عثمانی کے زمانہ سے عثمانیوں کے تحت تھی اور جس وقت کی ہم بات کررہے ہیں اس وقت محمد علی پاشا عثمانی سلطان کی طرف سے والی تھا، لیکن آہستہ آہستہ خود وہ اور اس کی اولاد عثمانی سلطنت سے نکلتے چلے گئے ”جرج آنتونیوس“کھتا ہے کہ محمد علی پاشا کے دل میں بادشاہت کا جذبہ تھا اور اتریش کی حکومت پر نگاہ جمائے ہوئے تھا، (یقظة العرب ص ۸۶)

۵۸۴. تاریخ المملکة العربیة السعودیہ جلد اول ص ۱۱۹ کا خلاصہ۔

۵۸۵. عنوان المجد جلد اول ص ۱۵۸۔

۵۸۶. تاریخ المملکة العربیة السعودیہ جلد اول ص ۲۳ا سے ۱۲۹ تک کا خلاصہ۔

۵۸۷. ناسخ التواریخ قاجاریہ جلداول ص ۲۰۶۔

۵۸۸. المختار من تاریخ الجبرتی ص ۵۳۹۔

۵۸۹. مرحوم شمس العلماء گرگانی اپنی کتاب میں جو وہابیوں کے بارے میں لکھی ہے اس میں موصوف نے وہابیوں اور صادق خان کی ریاست میں ایرانی لشکر کے درمیان ہوئی لڑائی جھگڑوں کے بارے میں ، یہاں تک کہ وہابیوں کے ایران پر حملے اور وہابیوں کے فتح علی شاہ کے نام خط اور اس کے جواب کو بھی ذکر کیا ہے، لیکن اس کا مدرک اور ثبوت پیش نہیں کیاہے۔

۵۹۰. تاریخ المملکة العربیة السعودیہ جلد اول ص ۱۳۳۔

۵۹۱. ممکن ہے مغرب سے مراد مراکش ہو یا الجزائر اور ٹیونس کو بھی شامل ہو۔

۵۹۲. اس وقت شام میں ، سوریہ، لبنان، اردن اورفلسطین سب شامل ہوتے تھے،چنانچہ اس وقت کی یہ فعلی تقسیم دوسری عالمی جنگ کے بعد کی ہے۔

۵۹۳. یہ اس وقت کا واقعہ تھا کہ جب ابراہیم پاشا حناکیہ میں موجود تھے۔

۵۹۴. ابن بشر صاحب کہتے ہیں کہ اس وقت توپ کے ہر گولے کو مصر سے درعیہ لے جانے کا کرایہ ۸ریال سعودی ہوتا تھا اور وہ گولہ اتنے وزنی ہوتی تھی کہ ایک اونٹ صرف چھ گولوں کو لے جاسکتا تھا۔ (جلد اول ص ۲۱۸)

۵۹۵. عنوان المجد جلد اول ص ۲۱۰۔

۵۹۶. زینی دحلان، الفتوحات الاسلامیہ ج۲ ص ۲۶۷، ۲۶۸۔

۵۹۷. ابن بشر صاحب کہتے ہیں کہ شھر درعیہ کی اس وقت کی عمارتوں کی عظمت وثروت اور قوت اور وہاں کی جمعیت کی کثرت کی توصیف بیان کرنا مشکل ہے، اس شھر میں ہمیشہ قافلے آتے رہتے تھے اوروہاں کوئی گھرہی ایسا ہوگا جو فروخت کیا جاتا تھا، اس وقت وہاں پر مکانوں کی قیمت سات ہزار ریال، پانچ ہزار ریال، اور چھوٹے چھوٹے مکانوں کی قیمت ایک ہزار ریال ہوتی تھی اسی طرح ایک دکان کا ماہانہ کرایہ ۴۵ ریال ہوتا تھا ۔ (ج اول ص۲۱۶)

۵۹۸. ہم نے محمد علی پاشا اور ابراہیم پاشا کے وہابیوں پر حملوں کی تفصیل، کتاب عنوان المجد ابن بشر نجدی (جلد اول ص ۱۵۷) سے اور تاریخ المملکة العربیة السعودیہ جلد اول ص ۱۴۳ سے ۱۹۳ تک کا خلاصہ نقل کیاہے، ان کے علاوہ کتاب فتوحات الاسلامیہ سید احمد زینی دحلان مفتی مکہ اور کتاب عجائب الآثار جبرتی سے استفادہ کیا ہے۔

۵۹۹. مصر سے مراد شھر قاہرہ ہے جس کے قدیم اور جدید دو حصے تھے۔

۶۰۰. المختار من تاریخ الجبرتی ص۱۰۱۲، ۱۰۱۳۔

۶۰۱. المختار من تاریخ الجبرتی ص۱۰۱۲، ۱۰۱۳۔

۶۰۲. المختار من تاریخ الجبرتی ص ۸۲۳، ابن ایاس نے عثمانی سپاہیوں کے فساد اور برے اعمال کے بارے میں بہت سی داستانیں لکھی ہیں یہاں تک کہ سلطان سلیم کے مصر میں قیام کے وقت نوبت یہ پہونچی کہ قاہرہ شھر میں یہ اعلان کرادیا گیا کہ جب تک عثمانی سپاہی شھر سے خارج نہ ہوجائیں کوئی غلام، کنیز، عورتیں اور ”اَمرد“ (وہ لڑکے جن کے ابھی داڑھی مونچھ نہیں نکلی ہو) لڑکے اپنے گھروں سے باہر نہ نکلےں۔ (بدایع الزہور، جلد ۵ ص ۱۸۸)

۶۰۳. المختار من تاریخ الجبرتی ص۸۲۳۔

۶۰۴. تاریخ المملکة العربیة السعودیہ جلد اول ص ۱۹۴۔

۶۰۵. تاریخ المملکة العربیة السعودیہ جلد اول ص ۱۹۸ سے ۲۰۷ تک کا خلاصہ۔

۶۰۶. غیر عرب مولفوں کے علاوہ انگلینڈ کی” لیڈی بلنٹ“نے اپنے شوھر کے ساتھ شمر اور حائل کی پھاڑیوں کا سفر کیا ہے اس نے اپنے سفر نامہ میں آل رشید کے کارناموں کے بارے میں ایک دقیق تفصیل بیان کی ہے۔ (ص ۱۵۶ سے بعد تک)

۶۰۷. مذکورہ ”بِلنٹ“ نے آج سے تقریباً سو سال پہلے اس علاقہ کا سفر کیا تھا جس وقت نجد پر عثمانیوں کے حملے جاری تھے، چنانچہ وہ اس طرح رقمطراز ہیں کہ عثمانیوں کے پاس اتنا سب کچھ اسلحہ، لشکر اور بہت ساری دولت ہونے کے باوجود بھی وہ جنگلوں میں مسافروں کی جان ومال کو محفوظ نہ رکھ سکے، اور جس مدت میں وہ لو گ وہاں رہے ہیں ان کا نفوذ فقط شھروں میں تھا، یہاں تک کہ دمشق سے حج کے لئے جانے والا راستہ بھی بغیر سپاہ کے یا خطروں کو مول لئے بغیرطے نہیں کیا جاسکتا تھا، (سفری بہ بلاد نجد ص ۲۲۰)

۶۰۸. تاریخ المملکة العربیہ السعودیہ، جلد اول ص ۳۱۸۔

۶۰۹. تاریخ المملکة العربیة السعودیہ جلد اول ص ۳۸۸۔

۶۱۰. تاریخ المملکة العربیة السعودیہ، جلد دوم، ص ۲۵ تا ۲۹ کا خلاصہ۔

۶۱۱. اس واقعہ کی تفصیل کتاب تاریخ المملکة العربیة السعودیہ، جلد دوم از ص ۳۰ تا۴۳، اور کتاب جزیرة العرب فی القرن العشرین از ص ۲۷۲ سے ۲۷۵ تک بیان

۶۱۲. حافظ وھبہ صاحب اس سلسلہ میں کہتے ہیں (ص ۲۷۵، ۲۷۶) کہ انگلینڈ نے ایک سال پہلے یعنی۱۲۱۶ھ میں جدّہ میں اپنی نمایندگی (سفارت) قائم کرلی تھی (تاریخ مکہ ج۲ ص۱۰۱) لیکن امین ریحانی کے بقول :ابن سعود نے اپنی حکومت کے آغاز میں کسی دوسرے ملک کی قونصل اور نمایندگی کو قبول نہیں کیا اور خود انگلینڈ کی نمایندگی بھی (جو اس کے اور انگلینڈ کے وزارت خارجہ کے درمیان واسطہ تھا)بحرین میں تھی۔

۶۱۳. جزیرة العرب فی القرن العشرین ص ۲۷۶، ۲۷۷، انگلینڈ اور سعودی عرب کی حکومت میں رابطہ کا آغاز ۱۹۱۴ء سے ہو چکا تھا جیسا کہ ہم نے اس بات کو پہلے بھی عرض کیا لیکن پہلی عالمی جنگ کے شروع ہوتے ہی یہ رابطہ مستحکم اور مضبوط ہوتا گیااور انگلینڈ کی حکومت کے نمائندہ ہمیشہ ابن سعود کے پاس آتے رہے اور آپس میں گفتگو ہوتی رہی، اور اسی زمانہ میں انگلینڈ کے شریف حسین سے بھی اچھے تعلقات تھے اورانھوں نے حجاز کے انقلاب میں (جس کی شرح بعد میں آئے گی) اس کی مدد کی، جس کی بعض تفصیل تاریخ نجد (تالیف سنٹ جَون فیلبی) ص ۳۱۵ میں ذکر کی گئی ہے۔

۶۱۴. قارئین کرام مزید تفصیل کے لئے شفاء الغرام فاسی جلد ۲ ص ۱۶۲، تا ۱۹۳ پر رجوع فرمائیں۔

۶۱۵. اس زمانہ میں شریف کا اطلاق صرف سید پر ہوتاتھا، اور آل علی ں کے علاوہ کسی کو شریف نہیں کہا جاتا تھا۔

۶۱۶. حافظ وھبہ ص ۱۶۶ سے۔

۶۱۷. تاریخ مکہ کے مطابق شریف عون کے زمانہ میں مسجد الحرام میں کچھ تغیر اورتبدیلی بھی دی گئی منجملہ یہ کہ اس سے پہلے تک عورتوں کے نماز پڑھنے کے لئے ایک مخصوص جگہ تھی اور اس حصے میں ایک دیوار تھی، جس کی وجہ سے عورتوں کی نماز کی جگہ الگ ہوجاتی تھی، لیکن۱۳۰۱ھ میں شریف عون نے اس دیوار کو ختم کردیا۔

۶۱۸. حافظ وھبہ صاحب کہتے ہیں کہ (ص ۱۶۹، ۱۷۰) لیکن صلاح الدین مختار نے شریف حسین کو ایک خود خواہ اور خود پسند انسان بتایا ہے اور کہا ہے کہ جس وقت اس کو ”عقبہ“میں تبعید (جلا وطن) کیا گیا میں اس کے دیدار کے لئے گیا اور جب میں نے اس سے مصافحہ کیا تو اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے مجھے گھور کر دیکھا اور اشارہ کیا کہ میرا ھاتھ چومو، لیکن میں نے نہ چوما، موصوف عقبہ میں موجود بندرگاہ کے منتظمین اور وہاں پر موجود سپاہ کے سردار کے کاموں میں مداخلت کیا کرتے تھے اور اپنے بیٹے کو جو جدّہ میں تھا اس کے لئے فرمان بھیجتے رہتے تھے۔ (ج ۲ ص ۲۹۵)

۶۱۹. جزیرة العرب فی القرن العشرین، ص ۱۷۱، ۱۷۵۔

۶۲۰. حافظ وھبہ ص۱۷۶

۶۲۱. لورنس نے اپنے تمام خاطرات کواپنی کتاب میں جس کا فارسی میں ترجمہ بنام”ہفت رکن حکمت “ کے نام سے ہوا ہے، تفصیل سے لکھا ہے، جس میں حجاز ونجد اور شریف حسین کے واقعات اور انگلینڈ اور عثمانی حکومتوں کی اس علاقہ میں دخالت، اور انگلینڈ نے ان سے کس طرح دوستی کا اظھار کیا اور عثمانی حکومت نے ان سے کس طرح دشمنی اختیار کی، نیز عربوں کے رسم ورواج، وغیرہ کو بھی تفصیل سے لکھاہے۔

۶۲۲. تاریخ مکہ ج۲ ص ۲۲۷،” امین المُمَیّزْ“جو کہ ملک سعود کے زمانہ میں عربستان میں عراق کا سفیر تھا یوں رقمطراز ہے کہ میں نے مسٹر فیلبی (حاج عبد اللہ) سے لورنس کے بارے میں سوال کیا چنانچہ انھوں نے جواب دیا کہ اس کا باپ ایر لینڈ کا لرد تھا اور اس نے انگلینڈ میں کسی عورت سے شادی کی جس سے چار بچے پیدا ہوئے ان میں سے ایک لورنس ہے، اس نے آکسفورڈ میں اپنی تعلیم مکمل کی، اور برٹین کی فوج سے منسلک ہوگیا اور پہلی عالمی جنگ کے زمانہ میں مشرق وسطیٰ آیا، میں نے سب سے پہلے اس سے اردن میں ملاقات کی، اس کو انگلینڈکی طرف سے شریف حسین کی مدد کے لئے بھیجا گیا اور میں تو اس امید میں تھا کہ سعود کا ستارہ اقبال چمکے گا لہٰذا میں ابن سعود سے ملحق رہا۔ فیلبی نے لورنس کے اخلاق اور صفات کے بارے میں بتایا کہ اس طرح کاکوئی شخص ملنا مشکل ہے، کیونکہ یہ شخص بھوک اور پیاس کے عالم میں اونٹ کی طرح اور مشکلات کو برداشت کرنے میں گدہے کی طرح ہے، یہ شخص خشک زمین پر سوجاتا ہے پتھروں کو اپنا تکیہ بنا لیتا ہے، گرمی سردی اور بھوک وپیاس کی اس کی نظر میں کوئی اہمیت نہیں ہے، میں اس کی طرح نہیں ہوسکتا، اس نے عربستان میں بہت سے کام انجام دئے منجملہ عمارتیں، پل اور سڑکیں بنوائیں، بادشاہ کو تخت خلافت پر بٹھایا اور اس کے بعد یہ شخص برٹین چلاگیا، یہ شخص اپنی عرفیت کے نام سے ہوائی فوج میں بھرتی ہوا، اور آخر کار ایک گاڑیایکسیڈینٹ میں مرگیا، (المملکة العربیة السعودیہ کما عرفتھا ص ۲۷۷)

۶۲۳. اقتباس از رحلات رشید رضا، ص ۱۷۳ سے۔

۶۲۴. بدایع الزہور ج ۵ ص ۱۲۵۔

۶۲۵. خطط الشام، ج ۲ ص ۲۲۱۔

۶۲۶. مفاکہة الخلان ج ۲ ص ۹۰۔

۶۲۷. یہاں تک کہ ”فلیب“ کہتا ہے کہ اگرچہ سلیم کے بعض جانشین کو خلیفہ کا لقب دیا جاتا تھا یہاں تک کہ وہاں کے افراد بھی اس کو اسی عنوان سے پکارتے تھے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ لقب صرف بناوٹی تھے، اور ان کی حدود سے باہر ان کی کوئی حیثیت نہیں تھی، سب سے پہلے جس عثمانی بادشاہ کو یہ لقب دیا گیا اور ان کا دینی نفوذ عثمانی حکومت کے باہر علاقوں میں رسمی طور پر پہچنوایا گیا وہ ہے روس اور تُرک کا معاہدہ تھا جو ”پیمان کوچوک کینارجی“ کے نام سے مشہور تھا، جس پر۱۱۸۸ھ مطابق ۱۷۷۴ء میں دستخط ہوئے تھے۔ (تاریخ عرب ص ۸۷۷)

۶۲۸. ثعالبی صاحب کہتے ہیں کہ یہ مذکورہ بردہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کعب بن زھیر کو (ان کے مشہور ومعروف قصیدہ لامیہ کے موقع پر) عطا فرمایا تھا، اورمعاویہ نے اس کو کعب سے چھ سو دینار میں خریدا تھا اور اس کے بعد سے تمام خلفاء اس کو تبرک کے طور پر رکھتے چلے آئے ہیں، (ثمار القلوب ص ۶۱)

۶۲۹. مروج الذھب ج۳ ص ۲۴۶۔

۶۳۰. الاسلام والخلافہ ص۲۵۷، بہ نقل از ابن ایاس۔

۶۳۱. خلافت کا اصل منشاء اور ان کے شعار کے بارے میں درج ذیل کتابوں میں تفصیل سے بیان ہوا ہے : ۱صبح الاعشیٰ ج ۳، ۲۔ مآثر الانافة ج۲ (یہ دونوں کتابیں قلقشندی کی ہیں) اسی طرح مذکورہ چیزوں کے بارے میں مخصوصاً ”بُردہ“ کے سلسلہ میں کتاب احکام السطانیہ، تالیف ماوردی، اور نھایہ ابن اثیر میں تفصیل بیان کی گئی ہے۔

۶۳۲. الذخائر والتحف ص ۱۹۰۔

۶۳۳. مفاکہة الخلان جلد اول ص ۳۸۳، ظاہراً لیث بن سعد کا مقبرہ مراد ہے جو مصر کے اہل سنت کی زیارتگاہ ہے، اور یہ لیث، مالک بن انس (مالکی مذہب امام) کے قریبی دوستوں اور ان کے روایوں میں سے تھے۔

۶۳۴. المختار من بدایع الزہور، ص ۱۰۲۸۔

۶۳۵. مفاکہة الخلان ج ۲ ص ۳۶۔

۶۳۶. ”توپ قاپی“ میوزیم جو پہلے عثمانی بادشاہوں کا اہم محل تھا اس میں کئی حصے ہیں، جس کے ایک حصے میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور خلفاء سے منسوب چیزوں کو رکھا گیا ہے، اوران چیزوں کے علاوہ جو بیان ہوچکی ہیں دوسری چیزیں بھی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور خلفاء سے منسوب موجود ہیں، ان میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ٹوپی اور آپ کا دندان مبارک، اور وہ قرآن بھی وہاں موجود ہے جس پر عثمان کا خون گرا تھا، اسی طرح وہاں ایک دو منھ والی اوربھت چوڑی شمشیر بھی ہے جس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ حضرت علی ں کی تلوار ہے، اور اسی طرح کی دوسری چیزیں بھی اس میوزیم میں موجود ہیں، قارئین کرام کی خدمت میں مزید آگاہی کے لئے عرض ہے کہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منسوب چیزیں خصوصاً آنحضرت کی داڑھی کے بال دنیا کے مختلف ممالک میں موجود ہیں مثلاً دہلی کی جامع مسجد میں ، قاہرہ میں مشہد راس الحسین ں میں ۔

۶۳۷. تاریخ مکہ ج۲ ص ۲۳۰، چنانچہ صاحب تاریخ مکہ کہتے ہیں :

۶۳۸. شریف حسین گویا انگریزوں کے دہوکہ میں آگئے کیونکہ انھوں نے اس کو کچھ وعدے دئے تھے لیکن بعد میں ان پر عمل نہ کیا، اور ٹھیک کارزار کے وقت اس سے جدا ہو کر دوسروں سے ملحق ہوگئے، (قارئین کرام اس سلسلہ میں مزید آگاہی کے لئے کتاب المملکة العربیة السعودیہ اور کتاب موسوعة العتبات المقدسہ بحث مکہ میں رجوع فرمائیں)

۶۳۹. دوسری عالمی جنگ کے بعد عراق کی حکومت مستقل ہوگئی اور مشرقی اردن (یا ماوراء اردن) بادشاہت میں تبدیل ہوگیا اور عبد اللہ کے نام کی جگہ ملک عبد اللہ کے نام سے پکارا جانے لگا۔

۶۴۰. تاریخ مکہ ج۲ ص۲۳۲، اس سے پہلے بھی چند سال پہلے شریف حسین کی خلافت کی باتیں ہوا کرتی تھیں، اور انگریزوں نے بھی اس بات کی موافقت کردی تھی جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے، اور اس کے بعد بھی دوبارہ خلافت کے بارے میں گفتگو ہوئی جیسا کہ ”مجلہ المنھل چاپ مکہ (شمارہ ذی الحجہ ۱۳۷۳ھ) اور مجلہ جمہوریہ مطبوعہ، بمبئی ضمن سلسلہ وار مقالات میں ، بیان ہوا ہے۔

۶۴۱. تاریخ الوزارات العراقیہ جلد اول ص ۱۵۳، ۱۵۴ کا خلاصہ۔

۶۴۲. تاریخ مکہ ج۲ ص ۲۳۶۔

۶۴۳. وہابی لوگ اپنے حاکم کو اپنا امام کہتے تھے۔

۶۴۴. المملکہ العربیة السعودیہ ج۲ ص ۲۹۹، ۳۰۰، ”جرج آنتونیوس“ کے قول کے مطابق انگلینڈ کی حکومت نے کہا تھا کہ اگر دونوں حکومتیں ہم سے یہ درخواست کریں کہ ان دونوں کے درمیان فیصلہ کرادیں تو اس وقت ہم ان کے کام میں مداخلت کرسکتے ہیں۔ (یقظة العرب ص ۴۵۵)

۶۴۵. صلاح الدین مختار ج۲ ص۳۰۰ سے۔

۶۴۶. صلاح الدین مختار، ج۲ ص ۳۰۶، اور۳۱۴ سے ۳۱۶ تک۔

۶۴۷. ازرقی صاحب کی تحریر کے مطابق (اخبار مکہ جلد اول ص ۱۱۰) زمانہ جاہلیت سے ہی خانہ کعبہ کی کلید داری کا اعزاز ”بنی عبد الدار“ کو تھا اور جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتح مکہ کرلیا تو آپ نے اسی خاندان کے لئے اس افتخار کو باقی رکھا اس طرح کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عثمان بن ابی طلحہ (قبیلہ بنی عبد الدار) کو خانہ کعبہ کی کلید (چابی) عطا فرمائی اور فرمایا کہ خدا کی یہ امانت تمھارے پاس ہے اور اگر کوئی اس کو تم سے چھینتا ہے تو وہ ظالم ہے، عثمان پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حضور میں مدینہ منورہ پہونچا اور کلید اپنے پسر عمہ ”شیبہ“ کو دیدی، اس طرح یہ افتخار بنی شیبہ میں باقی ر ھا اور اس وقت سے خانہ کعبہ کی کلیدداری اسی خاندان میں ہے، اور شیبی کے نام سے مشہور ہے، اس سلسلہ میں ابن تیمیہ کہتا ہے (السیاسة الشرعیہ ص ۶) جب جناب عباس نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے خانہ کعبہ کی کلید کی درخواست کی تو بنی شیبہ کو لوٹانے کے لئے یہ آیت نازل ہوئی:< اِنَّ اللّٰهَ یَامُرُكُمْ اَنْ تُوَدُّوْا الامَانَاتِ اِلٰی اَهْلِهٰا > (بے شک اللہ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانتوں کو ان کے اہل تک پہونچا دو) (سورہ نساء آیت ۵۸)

۶۴۸. صلاح الدین مختار، ج۲، ص۳۴۳، ۳۴۴۔

۶۴۹. تاریخ المملکة العربیة السعودیہ، ج۲، ص ۳۵۷، ۳۶۳۔

۶۵۰. صلاح الدین مختار ج۲ ص۳۸۰ تا ۳۸۲ تک کا خلاصہ، اگرچہ عبارت میں جمادی الاول لکھا ہے لیکن ظاہراً جمادی الثانی صحیح ہونا چاہئے کیونکہ امیر محمد ۲۳ ربیع الثانی کو مدینہ میں وارد ہوا ہے اور مدینہ کی سپاہ کے لشکر نے دو مھینہ کے بعد مدینہ کو سپرد کیاہے، لہٰذا دو مھینہ جمادی الثانی میں پورے ہوتے ہیں نہ کہ جمادی الاول میں ۔

۶۵۱. کشف الارتیاب ص ۵۹ تا ۶۱۔

۶۵۲. مرحوم علامہ عاملی کے نظریہ کے مطابق وہابیوں کو اس بات کا ڈر تھا کہ عالم اسلام ان کے مقابلہ کے لئے اٹھ کھڑا ہوگااور اگر یہ ڈر نہ ہوتا تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر مطھر کو بھی مسمار کرنے میں بھی کوئی کمی نہ کرتے۔ جابری انصاری اپنی کتاب تاریخ اصفھان (ص ۳۹۲) میں ۱۳۴۳ھ کے واقعات کے ضمن میں وہابیوں کے حجاز میں قبور کے ویران کرنے کے بارے میں کہتے ہیں کہ حاج امین السلطنہ نے۱۳۱۲ھ میں (ائمہ بقیع علیهم السلام کی لوھے کی ضریح) کو اصفھان میں بنوایا یہ ضریح دوسال میں تیار ہوئی، اور جب وہابی لوگ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کو منہدم کرنے کے لئے آگے بڑھے تو ان میں سے کسی نے یہ آیت پڑھی:<یَا اَیُّها الَّذِیْنَ آمَنُوْا لاٰ تَدْخُلُوا بُیُوْتَ النَّبِی > (اے ایمان لانے والوں خبر دار پیغمبر کے گھروں میں بغیر اجازت داخل نہ ہو)(سورہ احزاب آیت ۵۳) یہ آیت سن کر انھوں نے اس جسارت سے صرف نظر کرلی۔

۶۵۳. کشف الارتیاب ص ۶۰، ایران کے نمائندے موضوع کی تحقیق کے لئے حجاز گئے، یہ حضرات مصر میں ایران کے سفیر اور شام میں ایران کے سفیر کی صدرات میں حجاز گئے۔ (کشف الارتیاب ص ۶۵)

۶۵۴. ” قران “ ایران میں قاچاریہ حکومت کا پیسہ تھا جو چاندی کا ہوتا تھا اور اس کا وزن ۲۴چنوں کے برابر ہوتا تھا، اور” شاہی“قاجاریہ حکومت کے زمانہ میں ۵۰ دینار کے برابر ہوتا تھا۔ (مترجم)

۶۵۵. سفر نامہ فراہانی، ص ۲۸۱ ۔

۶۵۶. ہدایة السبیل ص ۱۲۷۔

۶۵۷. تحفة الحرمین ص ۲۲۷۔

۶۵۸. مرآة الحرمین جلد اول ص ۴۲۶۔

۶۵۹. الکامل ج۸ ص ۲۱۴۔

۶۶۰. وفاء الوفاء بہ اخبار دار المصطفیٰ ج۳ ص۹۱۶۔

۶۶۱. رحلة ابن جبیر ص ۱۵۴۔

۶۶۲. کیونکہ اس وقت ہندوستان پاکستان الگ الگ نہیں ہوئے تھے اور ہندوستان میں مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔

۶۶۳. صلاح الدین مختار ج۲ ص ۳۸۵، ۳۸۶۔

۶۶۴. کشف الارتیاب ص ۶۱، ۶۲ ،۱۳۰۸ھ شمسی میں سعودیہ سے ایران ایک ھیئت آئی اور دونوں ملکوں میں سیاسی تعلقات برقرار ہوئے۔

۶۶۵. ابن سعود سے بیعت کے طریقہ کار کو ”سلطنت ملک سعود“ کی گفتگو میں بیان کیا جائے گا، اسی طرح حجاز کے لوگوں کا خط ابن سعود کے نام اور ابن سعود کا جواب، یہ دونوں ”ملوک المسلمین المعاصرون“ نامی کتاب میں موجود ہے۔ (جلد اول ص ۱۳۶)

۶۶۶. ابن سعود کی بادشاہت کے پہلے سال جو واقعات اور حادثات رونما ہوئے ہیں ان کو کتاب المملکة العربیة السعودیہ، ج۲ ص ۳۸۶ کے بعد سے دیکھا جاسکتا ہے۔

۶۶۷. ملکوک المسلمین المعاصرون، جلد اول ص ۱۳۶ سے ۱۳۸ تک، اس کتاب میں دونوںکے درمیان ہوئے معاہدہ کی عبارت موجود ہے۔

۶۶۸. تاریخ المملکة العربیة السعودیہ ج۲ ص ۴۷۷، ۱۹۳۵ء میں ظھران کے علاقہ میں جب یہ دیکھ لیا گیا کہ تیل کی مقدار بہت ہے اور اس کو فروخت بھی کیا جاسکتا ہے، اور وہاں پر ایک کنویں میں تیل بہت ابلنے لگا، سعودی حکومت۱۹۳۸ء میں تیل نکالنے میں کامیابی حاصل ہوئی، اور اس کے ایک سال بعد اس تیل کی مقدار ایک ملین ٹن تک پہونچ گئی، (تاریخ نجد فیلبی ص ۳۸۹) اسی طرح فیلبی کی تحریر (تاریخ نجد ص ۳۸۵) کے مطابق ۱۹۲۳ء میں ابن سعود کی ”کاکس“ (انگلینڈ کا مشہور ومعروف سیاستمدار) کی سرپرستی میں تیل نکالنے میں تشویق ہوئی تو اس نے مشرقی علاقوں میں تیل کی تلاش کا کام مشرقی کمپنی کے حوالے کیا جبکہ کاکس اس بات پر ترجیح دیتا تھا کہ یہ کام انگلینڈ اور ایران کی حکومت کے حوالے کرے، لیکن بعض وجوہات کی بناپر مذکورہ منصوبہ فیل ہوگیا۔

۶۶۹. عربی اعلان کی عبارت ”ام القریٰ“ نامی اخبار مطبع مکہ بتاریخ ۲۰ ذی الحجہ ۱۳۶۲ھ نمبر ۹۹۰، سال ۲۰ سے نقل کی گئی ہے۔

۶۷۰. جیسا کہ مشہور ہوگیا کہ ابو طالب نے اپنے احرام کے کپڑوں میں قے کو لے لیا، لیکن یہ بات بہت بعید دکھائی دیتی ہے کیونکہ ۱۲ذی الحجہ کو تمام حاجی لباس احرام کو نکال دیتے ہیں۔

۶۷۱. ابوطالب یزدی کا واقعہ دوسری عالمی جنگ کے زمانہ کا واقعہ ہے، اس موقع پر زندگی بسر کرنا بہت مشکل کام تھا خصوصاً حج کے لئے سفر کرنا، اکثر وہ ایرانی جو حج سے مشرف ہونا چاہتے تھے کتنی مشکلات کے بعد کویت پہونچتے تھے اور وہاں سے کسی ٹرک وغیرہ کے ذریعہ وہ بھی خطرناک راستوں سے سعودیہ پہونچتے تھے، مقصد یہ ہے کہ ابو طالب کتنی مشکلات اور زحمات کو برداشت کرکے مکہ معظمہ پہونچے اور ان کے لئے یہ عجیب واقعہ پیش آیا۔

۶۷۲. خلاصة الاثر فی اعیان القرن الحادی عشر، ج۳ ص ۴۳۲، ۴۳۳، سید مومن سے مراد: میر محمد مومن بن دوست محمد حسینی استرابادی ہیں جو ایران سے حجاز پہونچے اور بیت اللہ الحرام کے مجاور ہوگئے تھے، خاتون آبادی اپنی کتاب ”وقائع السنن“ (ص۵۳۳) میں کہتے ہیں کہ میں ۱۰۸۶ھ میں (سید مومن کی شھادت سے دو یا تین سال پہلے) مکہ معظمہ حج کے لئے گیا اورمیں نے سید مومن سے ”اجازہ حدیث“ لیا۔

۶۷۳. مذکورہ موضوع اس بات کی تائید کرتا ہے کہ یہ چیز مسلمانوں میں اختلاف ایجاد کرنے کے سلسلہ میں بہت پہلے سے مشہور ہے ،اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی ھاتھ ضرور ہوتا ہے، جیساکہ ابو طالب کے واقعہ میں بھی کہا گیا ہے۔

۶۷۴. تاریخ مکہ تالیف احمد السباعی ج۲ ص ۴۰۔

۶۷۵. تاریخ مکہ ج۲ ص ۷۱۔

۶۷۶. مفاکہة الخلان ابن طولون ج۲ ص ۷۴، عبارت یہ ہے”واذا وصلوا ابی بین الجلالتین دعوا علی الصوفی المذکور“ مراد یہ ہے کہ جب سورہ انعام کی آیت ۱۲۴ پر پہونچتے تھے اس آیت میں ایک جگہ دو بار کلمہ اللہ آیا ہے<واذا جائتهم آیة قالوا لن نومن حتی نوتی مثل ما اوتی رسل اللّٰه، اللّٰه اعلم حیث یجعل رسالته> پ ہلے والے کلمہ اللہ کے بعد لعنت کرتے تھے اور اگر کسی کے لئے دعا کرنا منظور ہوتا تھا تو دعا کرتے تھے، اور پھر دوسرے کلمہ اللہ سے آیت کو شروع کرتے تھے اور پورا سورہ مکمل کرتے تھے۔

۶۷۷. ابن ایاس ج۵ ص ۲۵۸، ۲۵۹۔

۶۷۸. المختار من بدیع الزہور ص ۱۰۲۳۔

۶۷۹. ابن طولون ج۲ ص ۵۰، ہم انشاء اللہ بعد میں اشارہ کریں گے یہ سب فتویٰ بادشاہ کے حکم(بزور) سے صادر ہوتے تھے، اور اس طرح کے فتوے صادر ہونا عثمانی بادشاہوں کے زمانہ میں رائج تھے۔

۶۸۰. روم سے مراد وہاں کے عثمانی ہیں ۔

۶۸۱. یعنی جھاد راہ خدا کا درجہ رکھتا ہے۔

۶۸۲. تذکرہ شاہ تہم اسب ص ۶۴۔

۶۸۳. سوال اور فتویٰ دونوں کتاب حدیقة الزوراء ابن سویدی ص۹۵ پر موجود ہے۔

۶۸۴. کتاب حدیقة الزوراء ص ۹۴، لیکن یہ سب منصوبے نادر شاہ کے آنے سے نقش بر آب ہوگئے، اور شیخ الاسلام کے فتوے نے مسلمانوں میں اختلاف ایجاد کرنے کے علاوہ کچھ اثر نہ دکھایا۔

۶۸۵. ابن السویدی ص ۹۶۔

۶۸۶. کیونکہ اس وقت حجاز عثمانی بادشاہوں کے قبضے میں تھا۔

۶۸۷. تاریخ مکہ ج ۲ ص ۲۸۔

۶۸۸. سلاطین عثمانی کی خلافت کے بارے میں تفصیل گذر چکی ہے۔

۶۸۹. تاریخ مکہ ج۲ ص۷۷۔

۶۹۰. نقل از جھان گشای نادری۔

۶۹۱. مجلہ یادگار شمارہ ششم، سال چھارم ،ص ۴۳ تا ۵۵ تک کا خلاصہ۔

۶۹۲. مجلہ یاد گار میں اس کتاب کا نام دوسرے طریقہ سے بیان کیا گیا ہے۔

۶۹۳. دوحة الوزرا،کرکوکلی ص ۴۶ تا ۶۳ تک کا خلاصہ، اس کتاب میں تمام جگہ پر مغان کی بجائے صفان لکھا ہے۔

۶۹۴. تاریخ المملکة العربیہ السعودیہ ج۲ص۵۳۵ کا خلاصہ۔

۶۹۵. عثمانی حدود میں شیعہ کتب کا وجود ممنوع تھا، اسی بنا پر بہت کم ایسا ہوتا تھا کہ عثمانی علماء یا طلباء، شیعہ کتابوں کا مطالعہ کریں، اور افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ آج بھی بعض اسلامی ممالک میں یہ ممنوعیت جاری ہے۔

۶۹۶. ملوک المسلمین المعاصرون جلد اول ص ۱۲۰ کاخلاصہ۔

۶۹۷. نجدی مورخ ابن بشر نے بھی اسی طرح کی خصوصیات اور صفات عبد العزیز بن محمد بن سعود (مقتول۱۲۲۸ھ، اور عبد العزیز بن سعود کے دادا)کے لئے بیان کئے ہیں، خصوصاً شدت عمل اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے امن وامان، اور اعراب کا چوری اور رہزنی کے عادتو ںکا چھڑوانا، (عنوان المجد، جلد اول ص ۱۲۶، اور اس کے بعد تک)

۶۹۸. مسلمین سے مراد وہابی ہیں۔

۶۹۹. مجلہ البلاد السعودیہ مطبوعہ مکہ مورخہ ۱۶ ربیع الاول۱۳۷۴ھ۔

۷۰۰. اس وقت مسجد النبی کی توسیع کا کام ختم ہوگیا لیکن مسجد الحرام کی نئی عمارتیں بننا ابھی بھی جاری ہے، البتہ تمام ہونے والی ہے، اور اس جدید عمارت میں صفا ومروہ کے درمیان سعی کرنے کی جگہ جو پہلے ایک تنگ بازار تھا آج وہاں دو طبقہ خوبصورت عمارت بن گئی ہے، جس کا عرض بھی کافی ہے، اس وقت توسیع کے بعد مسجد الحرام کی تمام جگہ برانڈوں اور دوسری منزل سمیت ایک لاکھ میٹرمربع سے بھی زیادہ ہے۔

۷۰۱. المملکة العربیة السعودیہ کما عرفتھا، ص ۱۳۵، ۱۳۶۔

۷۰۲. ملک فیصل ۱۹۷۵ء میں اپنے ایک رشتہ دارکے ھاتھوں شھر ریاض میں قتل کردیا گیا، اور اس کا بھائی ملک خالد اس کا جانشین مقرر ہوا، چند سال پہلے بھی ملک خالد اپنے دوسرے بھائی ملک فہد کی موت کے وقت سعودیہ کی بادشاہت کے لئے مقرر ہوا تھا، اور سعود نے اپنے بھائی فیصل کے حکم سے استعفاء دیا اور ملک سے باہر چلا گیا اور۱۹۶۹ء میں یونان میں انتقال کیا۔


آٹھواں باب:

جمعیة الاخوان یا انجمن امر بالمعروف و نھی عن المنکر

تاریخ وہا بیت کے آخری دور میں ”جمعیة الاخوان“نے دینی احکام اجراء کر نے میں اہم کردار ادا کیا ہے لہٰذایہ مناسب معلوم ہوا کہ اس انجمن کے بارے میں اس کتاب میں ایک مستقل باب کا اضافہ کردیا جائے تا کہ ہما رے قار ئین کو اسکے اکناف وجوانب سے بخوبی آشنائی پیداہو سکے ۔

”جمعیة الاخوان“ کی ابتداء کے اسبا ب کے بارے میں صلاح الدین مختار کا بیان ہے کہ ۔ ملک عبدالعزیز آل سعود نے جب یہ دیکھا کہ انکی قوم صحرا میں پر اکندہ ہے اور یہ لوگ بہت جلد لڑائی جھگڑے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور معمولی سے معمولی بات پر فساد شروع کردیتے ہیں تو انھیں یہ فکر لاحق ہوئی کہ کسی طرح اس جاہل اور جھگڑالو قوم کو متحد کیا جائے اور اپنے اسی منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لئے یہ صورت نکالی کہ اس سلسلہ میں دین سے بھتر کوئی طریقہ کا ر نہیں ہے لہٰذا ان کے درمیان دینی احکامات رائج کر کے ہی انھیں ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جاسکتا ہے ۔

ابن سعود نے اپنے اس منصوبہ کو کامیاب کرنے کے لئے نجدکے ایک عالم شیخ عبداللہ بن محمد بن عبد اللطیف سے یہ خواہش ظاہرکی کہ وہ حنبلی مذہب کے مطابق کچھ دینی کتا بیں لکھیں جن کی زبان اتنی سادہ اور عام فہم ہو کہ یہ بدو (صحرانشین عرب)ان کو باآسانی پڑھ کر سمجھ سکیں، ابن سعودنے اسی طرح شیخ عبداللہ کے بعض شاگردوں کو خطیب اور مبلغ کی حیثیت سے ان قبیلو ں کے درمیان بھیجااور انھوں نے اسی طرح سادہ اور واضح طریقہ سے بدووں کے درمیان دینی احکاما ت بیان کئے جنھیں وہ دل وجان سے یاد رکھتے تھے اور اس طرح تما م بدووں کے درمیان دینی رابطہ کی بنا پر الفت پیدا ہو گئی اور انھیں اسباب کے نتیجہ میں انجمن الا خوان وجود میں آئی ۔

یہ صورت حال اس وقت سامنے آئی جب خود صحرانشین بدو، آل سعود اور آل رشید کی خونریزیوں سے تنگ آچکے تھے اور وہ بھی اس سے کسی طرح اپنی جان چھڑا کر ایک نئی زندگی کی طرف بڑھنا چاہتے تھے لہٰذا وہ مذکورہ تعلیمات کے لئے آمادہ اور تشنہ تھے،یعنی ایسی تعلیمات جو ان کوخونریزی سے روکے، اور امن واتحاد کی طرف دعوت دے، چنانچہ یہ تعلیمات ان کے اوپر بہت اثرانداز ثابت ہوئی کیونکہ وہ قوم،جو جنگل راج کی بدترین تاریکی میں پڑی ہوئی تھی اور چھ ماہ یا سال بھر میں ایک بار بھی نھانے کی عادی نہ تھی، اب صفائی اور طھارت کی طرف سخت تو جہ دینے لگی تاکہ حدیث شریف نبوی” النظافة من الایمان“ یعنی صفائی ایمان کا ایک حصہ ہے، اس پر بخوبی عمل کرسکے ۔

وہ بدّو جو اب تک لوٹ مار اور قتل وغارت گری کوھی اپنی زندگی کا مقصد سمجھتے تھے اب مسلسل ان کی زبان پر یہ دعا جاری تھی : ” اللہم اغننا بحلالک عن حرامک“خدا یا ہمیں اپنی حلال چیزوں کے ذریعہ اپنے محرمات سے مستغنی کردے، چنانچہ اس طریقہ کار کی بنا پر ایک کم نظیر امن وامان قائم ہوگیا اور پھر صورت حال بدل کر یہ ہوگئی کہ اگر کسی کوکوئی چیزیا نقدی وغیرہ راستہ ،جنگل یا کسی اور جگہ دکھائی دیتی تھی تو وہ فوراً پولیس کو ا س کی اطلا ع دیتا تھا۔(۷۰۳)

بدّو تیزی کے سا تھ شھروں کی طرف منتقل ہونا شروع ہو گئے البتہ اس وجہ سے ان کے اندر دینی تعلیمات اور افراط وتفریط نے جنم لیا، جو ابن سعود کی ناراضگی کا سبب قرار پایا اور ملک ابن سعودنے اس کی روک تھام کے لئے علماء سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ ”جمعیة الاخوان“کو ایک خط لکھیں اور انھیں خلاف شریعت کاموں، نیزبے جا تعصبات سے باز رکھیں، خود ملک نے بھی ا پنی طرف سے ان کے لئے ایک پُر زوربیان جاری کیا۔(۷۰۴)

حافظ وھبہ”جمعیة الاخوان“کے بارے میں کھتے ہیں: جب کبھی عراق، مشرقی اردن یا کویت میں جمعیةالاخوان کانام لیا جاتاتھا تو لوگوں پر خوف وھراس طاری ہوجاتا تھا،اور سب لو گ قلعوں یا برجوں کے اندر پناہ لے لیتے تھے عربی ممالک میں خوف و ھراس کون پھیلا تا ہے؟

گذشتہ چند دہائیوں تک الاخوان ان بدووں کو کہا جاتاتھا جنھوںنے خانہ بدوشی کو تر ک کرکے کسی مستقل جگہ سکونت اختیار کرلی اور گارے مٹی سے اپنے لئے گھر بھی بنالئے جنھیں حجرہ کہاجاتاہے گویا وہ اس ابتر زندگی سے اچھی زندگی کی طرف آگئے خیموں کی جگہ یہ مٹی کے گھر پہلی بار ۱۳۳۰ھ میں بنائے گئے جن میں رہنے والے افراد چند مختلف قبیلوں سے تعلق رکھتے تھے ان اعراب نے گذشتہ زندگی کو جاہلیت اور موجودہ جدید دور کو اسلام کا نام دیا ۔(۷۰۵)

سنٹ زان فیلبی (عبد اللہ)نے ”جمعیة الاخوان“ کی ابتد ا کے بارے میں اس طرح لکھا ہے جو لوگ ابن سعود کی طرف سے لوگوں کی رہنمائی و ہدایت اور دین کی طرف را غب کرنے نیزعذاب آخرت سے ڈرانے کے لئے جگہ جگہ تبلیغ کرنے جاتے تھے ان کی یہ کوشش۱۹۱۲ ء مطابق۱۳۳۱ ھ میں نتیجہ خیز ثابت ہوئی اس سال حرب ومطیر نامی قبیلوں کے کچھ لوگوں نے (حرمانامی علاقہ میں (نجد کے قریب) ایک اجتماع کیا ۔

یہ جماعت ابتدا ء میں جس کی کل تعداد(۵۰)افراد سے زیادہ نہ تھی انھوں نے اپنا نام ”جمعیة الاخوان“طے کیا اور اپنا صدر دفتر کویت سے قسیم جانے والی سڑک پر (نجد کے اہم علاقہ میں )بنایا، اور آہستہ آہستہ ان کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ،اور دین کے نام پر ایک مکمل فوج تیار ہو گئی ۔

ابن سعو د کا مقصد صرف یہ تھا کہ ایسی انجمن کے ذریعہ ایک بے باک اور نڈر فوج تیار کی جائے، لہٰذا ملک سعود نے ان کے لئے ہر قسم کے وسائل مھیا کئے جیسے مال و دولت، پہل، کھیتی باڑی کے تمام وسائل ،اورآخر کار دین کا دفاع کرنے کے لئے جنگی سازو سامان بھی ان کے حوالہ کردیاگیا، چنانچہ ”جمعیة الاخوان“ نے تمام قبائل کے درمیا ن قتل غارت گری، رہزنی ،سگریٹ اورحقہ نوشی، اور آرام طلب زندگی کو حرام قرار دیدیا ان کا کل اہتمام اخروی زندگی کے لئے تھا، وہ لوگ اپنے علاوہ دوسرے تمام اسلامی فرقوں کومشرک اور بت پرست سمجھتے تھے ۔

ابھی ۱۹۱۲ عیسوی تمام نہیں ہواتھا کہ ابن سعود نے خود کو ایک ایسی سرفروش اور بے باک فوج کا سربراہ پایا جو شھرمیں رہنے والے بدووںسے وجود میں آئی تھی ایسی فوج جوآخری سانس تک لڑلنے مرنے پرتھی لیکن ایک نا منظم فوج جس میں کسی قسم کا نظم وضبط نہ تھا ،جنگ کے وقت یہ لشکر بھی دوسری منظم اور تر بیت یافتہ فوج کے ساتھ ساتھ رہتا تھا لیکن اس سے بالکل الگ، یہاں تک کہ اسکے پرچم اور جھنڈے اس سے بالکل جداتھے ۔ ”جمعیة الاخوان“ پندرہ سال تک اسی طرح رہی، اور اسکے بعد دولت وآرام نے ان کے اندرایساغرور وتکبر بھر دیا کہ یہ لوگ ابن سعود کی تمام تر کامیابیوں کو اپنا کارنامہ سمجھنے لگے۔(۷۰۶)

”جمعیة الاخوان“ کی تشکیل سے پیدا ہو نے والی مشکلات

یہ خا نہ بدوش اور بدو جب شھری ہو گئے تو آہستہ آہستہ انکا یہ عقیدہ ہو گیا کہ دین صرف وھی ہے جو انھوں نے سیکھا ہے ا ور اسکے علاوہ سب گمراہی ہے اسی بنا پر یہ اپنے علاوہ حتی کہ نجد کے پرانے شھریوں میں سے ہر ایک کو بد گمانی کی نظر سے دیکھتے تھے یہاں تک کہ ابن مسعود کے بارے میں بھی اچھے خیالات نہیں رکھتے تھے ان کایہ نظریہ تھا کہ عمامہ باندہنا سنت ہے لیکن عقال(وہ ڈوری جو بعض عرب سرپر باندہتے ہیں) لگانا بدعت ہے اور بعض نے تو غلو کر کے یہ تک کہہ دیا کہ عقال کفار کا لباس ہے لہٰذا جو عقال لگائے اس سے قطع تعلق کرلیا جائے ۔

ان میں سے اکثرکا یہ نظریہ تھاکہ جو شخص خانہ بدوشی اور بادیہ نشینی کو ترک نہ کرے وہ چاہے جتنابڑامومن ہو وہ مسلمان نہیں ہے اسی بناپر انھیں سلام نہیں کیا کرتے تھے اور نہ ان کے سلام کا جواب دیتے تھے اور ان کے ھاتھ کا ذبیحہ بھی نہیں کہاتے تھے ،کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ انکے علما ء ابن سعود کی چاپلوسی کرتے ہیں اس طرح انھوں نے کتمان حق کیا ہے لہٰذا وہ خطا کار ہیں ۔

ان کا یہ عقیدہ بھی تھا کہ تمام شھری گمراہ ہیں اور ان سے جنگ کرنا واجب ہے اور یہ با ت خدا کی طرف سے انھیں ا لھام ہوئی ہے اس لئے وہ جنگ سے باز رہنے میں کسی کی رائے کو خاطر میں نہ لاتے تھے ۔

کچھ لوگوں نے عبد العزیز پر بھی اعتراض کیا کہ وہ کفار کا دوست اور دین کے معاملہ میں سست ہے،لمبے لمبے کپڑے پہنتاہے اپنی مونچھیں نہیں کٹاتا اور سرپر عقال رکھتا ہے ،مختصر یہ : یہ فرقہ اپنی مرضی کے خلاف ہر شی کو حرام سمجھتا تھا(۷۰۷)

ابن سعود کی چارہ جوئی

یہ سرکش فکرو خیالات ،اور تعصبات ان غلط تبلیغات کا نتیجہ تھے جو شیخ عبداللہ کے شاگردوں نے بدووں کے درمیان اپنی تبلیغ کے دوران پھیلائے تھے ۔

اس سلسلہ میں حافظ وھبہ کا بیان ہے کہ ۱۳۳۵ھ کو تاریخ نجد کا سخت ترین سال کہنا چاہئے کیونکہ اس سال وہاں ایک داخلی فتنہ اٹھنے والا تھا جس میں ایک طرف ”جمعیة الاخوان“ دوسری جانب سعودی حکومت اور عوام الناس تھے ۔

ابن سعود نے نجد کے سر پر منڈلاتے ہوئے اس خطرہ کو ٹالنے کے لئے دینی ماہر طلاب کو اخوان کے درمیان بھیجا تا کہ وہ گذشتہ مبلغین کے پیدا کئے ہوئے فساد کو ختم کرنے کی کو شش کریں۔ نتیجتاً شیخ عبداللہ کے جو شاگرد پہلے سے وہاں موجود تھے اور انھوں نے ہی اس جھالت وگمراہی کے بیج بوئے تھے آہستہ آہستہ میدان ان کے ھاتھ سے نکلتا گیا اور انھیں حجروں (وہ مٹی کے گھرجو”جمعیة الاخوان“ نے اپنے لئے بنوائے تھے)میں رہنے سے منع کردیا گیا ۔

یہ تد بیر اگرچہ بہت سودمند واقع ہوئی لیکن اس سے ”جمعیة الاخوان“ کے ذہنوں میں بھرا ہوا خناس مکمل طریقہ سے ختم نہ ہوسکا اور اگر انھیں سلطان عبدالعزیز کی تلوار اور سطوت وھیبت کا خوف نہ ہوتا تو پورے عربستان میں جنگ کے شعلے بھڑک سکتے تھے۔(۷۰۸)

”جمعیة الاخوان“ کے عادات واطوار

حافظ وھبہ کا بیان ہے کہ ”جمعیة الاخوان“ اب سڑکوں کے محافظ ہیں ان کا عقیدہ ہے کہ مسافرپر ظلم کرنا حرام ہے وہ مسلمان اور پڑوسی کا احترام کرتے ہیں، اورمسلمانوں کے مال میں تصرف کو حرام سمجھتے ہیں ۔

اخوان موت سے نہیں ڈرتے اور (اپنے عقیدہ کے مطابق)شھادت اور خدا تک پہنچنے کے لئے موت کوبہترین ذریعہ سمجھتے ہیں ، وہاں جب کوئی ماں اپنے بیٹے کو جھاد کے لئے روانہ کرتی ہے تو یہ کہتی ہے کہ اب خدا ہمیں اور تمھیں جنت میں ایک دوسرے کا دیدار کرائے ۔ حملہ کرتے وقت انکا نعرہ” ایاک نعبدوایاک نستعین“ہوتا تھا۔

میں (حافظ وھبہ)نے انکی بعض جنگیں دیکھی ہیں اور خود دیکھا ہے کہ یہ لوگ کس طرح موت کے منھ میں کود جاتے ہیں یہ ٹولیوں کی شکل میں دشمن کی طرف بڑھتے ہیںاور اس دم انھیں دشمن کو مارنے کا ٹنے کے علاوہ کوئی فکر نہیں ہوتی ۔

اخوان کے دلوں میں ذرہ برابرا رحم نہیں پایا جاتا ان کے ھاتھ سے کو ئی نہیں بچ سکتا، وہ جہاں جاتے تھے موت کے قاصد ہوتے تھے، جنگ میں اخوان کی قدرت وطاقت اس وقت معلوم ہوئی جب انھوں نے بار بار عراق، کویت اور مشرقی اردن پر حملے کئے، اگرچہ ان کے لیڈر ابن سعود نے ان کو جنگ سے منع کیا تھا اور اس کا یہ حکم تھا کہ لوگوں سے انسانیت کا سلوک کیا جائے کسی کو قتل نہ کیاجائے علماء بھی ان کو اسی بات کی تاکید کرتے تھے کہ قیدیوں کو اور پناہ لینے والوں کو قتل نہ کریں لیکن انھیں کسی بات کی پرواہ نہ تھی ۔ ”جمعیة الاخوان“ کا کوئی آدمی اگرکسی کو راستہ میں دیکھتا تھا کہ اس کی مونچھیں لمبی ہیں تو اسے سنت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پرعمل کرنے کی دعوت دیتا تھا اور پھر اپنے ھاتھ سے اسکی فالتو مونچھیں کاٹ دیتا تھا ۔ اور اگر کوئی گذرنے والا ان کے محلے سے گذرتاتھا تو پھراسے لمبی مونچھیں رکھنے سےروکنے کے لئے یہ لوگ زبر دستی کرتے تھے جس میں نصیحت اور نرمی کا کو ئی پہلو نہیں رہتا تھا ،اسی طرح اگر یہ کسی کے بدن پر لمبے کپڑے دیکھ لیتے تھے تو اس کو قینچی سے کاٹ کر چھوٹا کر دیتے تھے ۔ ان تمام باتوں کے باوجود اور حکومت کے بالمقابل حد سے تجاوز کر نے کے باوجود بھی ابن سعود نے ان کی ایذا رسانیوں سے چشم پوشی کرکے بہت ہی صبر وتحمل اور بر دباری سے کام لیا، ملک کا کہنا تھا کہ آہستہ آہستہ وقت گذ رنے کے ساتھ ساتھ ان کے تعصبات اور شدت میں کمی آجائے گی اور یہ خود بخود راہ راست پر آجائیں گے ۔(۷۰۹)

نئی ایجادات کی مخالفت اور ٹیلیفون کے تاروں کوکاٹ دینا

”جمعیة الاخوان“ جب پہلی بار مکہ میں داخل ہوئے تو انھیں حکومت کی کسی بات کی پرواہ نہ تھی اور ان کی نظر میں جوکام غلط ہوتا تھا وہ اسکو گولی یا ڈنڈوں سے نیست ونا بو د کردیتے تھے اکثر اوقات ابن سعود کو بھی فتنوں سے بچاؤ کی خاطر انکے آگے ھتھیار ڈالنا پڑتا تھا لیکن اگر سلطان کو یہ محسوس ہوجاتا تھا کہ ان کا ساتھ دینے کی وجہ سے حکومت کمزور ہو سکتی ہے تو پھر ان کے ساتھ سختی کی جاتی تھی ۔

ابن سعود نے سب سے پہلے مکہ میں ٹیلیفون کا مشاہدہ کیا تو اسے احساس ہوا کہ یہ بہت فائدہ مند چیز ہے جس کے ذریعہ کاموں کو تیزی سے انجام دیا جاسکتا ہے اور خبر دینے یا خبر پہونچا نے کے نظام میں بہت سرعت پیدا ہو سکتی ہے اس لئے اس نے یہ ارادہ کیا کہ فون کا ایک تا رمکہ اور ”حدّاء“ (فوجی چھاؤنی) کے درمیان اوردوسراتار ”رغامہ“ اور ” حدّا ء“ کے درمیان کھینچ دیا جائے لیکن پھر اپنے ارادہ کو تبدیل کرکے اسے ٹال دیا کیونکہ یہ ممکن تھا کہ تار کھینچتے ہی اخوان بھڑک جائیں اور شورش بر پا کردیں ۔

”جمعیة الاخوان“کے لوگ جہاں کہیں بھی ٹیلیفون کے تار دیکھتے تھے انھیں کا ٹ دیتے تھے، ان کے خیال میں فون ایک حرام چیزھے اور اس کو نابود کر ناواجب ہے، اکثر اوقات جب کہ بادشاہ مکہ میں ہی موجود ہوتا تھا یہ لوگ شاہی محل کے ٹیلیفون کے تار بھی کاٹ دیتے تھے ان کا گمان تھا کہ ٹیلیفون سے سنائی دی جانے والی آواز شیطان کی آواز ہے،اس خیال کو دور کرنے کے لئے فیلبی کے بقول انھیں فون سننے کی دعوت دی گئی لیکن جب انھیں اپنے ساتھی کی زبان میں تلاوت قرآن کی آواز سنائی دی تو بہت حیرت زدہ رہ گئے(۷۱۰) (کیونکہ شیطان قرآن نہیں پڑھتا ہے)۔

اس سے بڑھکریہ کہ جب کسی اخوانی نے سلطان کے ایک نوکر کو سائیکل پر سوار دیکھا تو اسے ایک طمانچہ ماردیا، نجد ی لوگ سائیکل کو شیطان کی گاڑی یا شیطان کا گھوڑا کہتے تھے اور اسے بدعت کہتے تھے ان کا عقیدہ یہ تھا کہ یہ جادو کی طاقت اور شیطانی پیروں کے ذریعہ حرکت کرتی ہے۔(۷۱۱)

آخر کار۱۹۲۶ ء میں سلطان عبدالعزیز کو ان کے سامنے تسلیم ہونا پڑا اور مدینہ کے وائر لیس سسٹم کوروکنا پڑا ۔

اخوان وائرلیس اور ٹیلیگراف کے سلسلے میں بہت حساس تھے ابن سعود پر سخت اعتراضات کرتے تھے حافظ وھبہ کا بیان ہے کہ ۱۳۵۱ ھ میں جب میں ریاض میں تھا تو ابن سعود نے مجھے بتایا کہ۱۳۳۱ ھ میں جب ”جمعیة الاخوان“ کے کچھ علمائے دین کویہ معلوم ہوا کہ ریاض اورنجد کے دوسرے شھروں میں وائر لیس لگا نے کا ارادہ ہے تو انھوں نے مجھ سے کہا کہ اے پیر مرد جس نے بھی تمھیں ہمارے ملک میں وائر لیس لگا نے اور باہر سے اسکے سیٹ منگوانے کا مشوارہ دیا ہے اس نے تمھیں دہوکا دیاہے اور یہ فیلبی(۷۱۲) بھت جلدہمارے اوپر ایسی مصیبت نازل کریگا کہ ہمارا پوراملک ہی انگلینڈ کے قبضہ میں چلا جائیگا ۔(۷۱۳)

جب ریاض میں وائر لیس سسٹم تیار ہوگیا اور اس سے استفادہ ہونے لگا تو لوگ ایک دوسرے سے یہ کہتے تھے کہ وائر یس ایکسچینج خیر و شرکے درمیا ن ایک سرحد ہے، اسی لئے ان کے علماء اپنے قابل اعتماد افراد کو اس کی تفتیش کے لئے بھیجتے تھے کہ وہ وہا ںجاکر شیطان اور اس کے لئے کی جانے والی قربانیوں کو دیکھیں ،لیکن انھیں ایسی کوئی چیز دکھائی نہ دی، ایکسچینج کے ذمہ دار نے مجھ (حافظ وھبہ) سے کہا کہ ایک مدت تک کچھ چھوٹے چھوٹے ”جمعیة الاخوان“ کے ملااور شیوخ اس کے پاس آتے تھے تاکہ اس سے یہ راز معلوم کر سکیں کہ شیاطین کو کب دیکھا جاسکتا ہے اور بڑا شیطان مکہ میں ہے یاریاض میں ؟

اور اس کی اولاد کے نمبرکیا ہیںجو اہم خبریں اس تک پہونچاتے ہیں؟،وہ انھیں جواب دیتا تھا کہ اس کے کا موں میں شیطان کا کوئی دخل نہیں ہے(۷۱۴)

۱۳۴۶ھ میں ملک (بن سعود) نے مجھے (حافظ وھبہ) ایک نجدی عالم کے ساتھ دینی اور دفتری امور کی تفتیش کے لئے مدینہ بھیجا درمیان میں ٹیلیگرف اور وائر لیس کی بات نکل آئی، تو شیخ نے کہا کہ ان سب کاموں میں جناّت سے خدمت لی جاتی ہے اس نے کہا کہ ایک قابل اعتماد شخص نے مجھے بتایا ہے کہ ٹیلیگراف اس وقت کام کرنا شروع کرتا ہے جب اس کے لئے قربانی کی جائے اور قربانی کرتے وقت زبان پر شیطان کا نام جاری کیا جائے ۔(۷۱۵)

اسی طرح کچھ دہائی پہلے ”الارم “والی سب سے پہلی گھڑی کو نجد میں توڑ دیا گیا اور اسے شیطان کا کام قرار دیکر علماء نے اس کے استعمال کو ممنوع قرار دیدیا اور کہا کہ کم ازکم اس سے استفادہ کرنا بدعت ہے، چنانچہ شیخ سعید بن سحمان نے اس کی رد میں ایک رسالہ لکھا جو۱۹۲۳ھ میں مصر میں طبع ہوا ۔(۷۱۶)

لیکن گاڑیاں اور کار وغیرہ کے بارے میں وہابی پہلے یہ کہتے تھے کہ اگر یہ شیطانی کام نہ بھی ہو تب بھی یہ کفار کی ایجادات ہیں لہٰذا غصہ اور اعتراض کے ساتھ انھیں دیکھتے تھے یہاں تک کہ نجد کے متعصب شھر حوطہ میں جب پہلی کار داخل ہوئی تو شھر کے بازار میں اسے کھلے عام آگ لگا دی گئی،(۷۱۷) اس کے علاوہ بھی دوسرے واقعات ہیں جن کو اختصار کی بنا پر ہم ترک کرر ہے ہیں۔(۷۱۸)

ابن سعود نے مسلسل بردباری کے ساتھ اس کو برداشت کیا اور حسن تد بیر سے انھیں ختم کردیا لیکن”جمعیة الاخوان“یا امر بالمعروف نھی عن المنکرکرنے والوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا اور شرعی کاموں میں وہ انھیں کی رائے کے مطابق عمل کرتا تھا۔

۱۹۵۰ھ میں (ریاض پر قبضہ کی پچاسویں سال گرہ کے موقع پر)سلطان نے یہ ارادہ کیا کہ ایک قدرتمند بادشاہ کے عنوان سے جشن طلائی (گولڈن جبلی)منایا جائے تاکہ وہ حکومتیں جن سے اس کے سیاسی تعلقات ہیں اس کی اس بات کی تعریف کریں کہ اس نے اپنی قوم کو صحراوں اور بیابانوںسے نکال کربین الاقوامی پلیٹ فارم پرلاکر کھڑا کردیا ہے اور وہ اس کی خبریں اپنے اپنے ریڈیو سے نشر کریں ۔

اور اسی طرح پورے جزیرة العرب میں عالیشان جشن منائے جائیں ۔ لیکن سلطان کو اس سلسلے میں یہ فکر لاحق تھی کہ شرعاً اس کو یہ اجازت ہے یا نہیں ؟لہٰذا اس نے ریاض کے مفتی اعظم شیخ محمد بن ابراہیم اور دوسرے علماء سے اس سلسلے میں مشورہ کیا ۔

اس کے بارے میں علماء کا فتویٰ یہ تھا کہ سنت پیغمبر اکرم میں اس کا کہیں وجود نہیں ملتا اور یہ یہودیوں اور عیسائیوں کی ایجاد ہے، چنانچہ مدتوں سے جشن کی تیاری ہونے کے باوجود یہ جشن ملتوی کردیا گیا جب کہ جدہ میں باقاعدہ اس کی تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں اور سیاسی سطح پر دعوت نامے بھی تقسیم ہو چکے تھے ۔(۷۱۹)

”جمعیة الاخوان“ کے مفتیوں کی قدرت، دینی احکام کے اجراء میں اب تک اپنی جگہ باقی ہے لیکن جدیدتمدن کے مقابلے کی طاقت اب ان کے اندر باقی نہیں رہ گئی بلکہ وہ خود بھی جدید ترین آلات سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

ابن سعود کا طریقہ کار یہ تھا کہ وہ شدت پسندی پر کسی طرح روک لگانے کے بجائے اس کو اسی طرح چھوڑ دیتاتھا، تاکہ وہ اپنی اصل منزل تک پہونچ جائے اور جیسے ہی اس میں سستی نظر آتی تھی تو اپنے دشمنوںکی سر کوبی کے لئے کسی فرصت کو ھاتھ سے نہ جانے دیتا تھا۔

اسی دور میں جب ابن سعود کا ”جمعیة الاخوان“ کے ساتھ نرم رویہ تھا تو اس کی جانب سے متعین احساء کا حاکم امیر عبداللهبن جلوی اخوانیوں کے ساتھ بہت سختی سے پیش آتاتھا ۔ اور وہ عام طور سے ”جمعیة الاخوان“ کے قبیلوں کے سرداروں کو ان کی شدت پسندی پر سر زنش کرتا تھا اس کا کہنا تھا کہ گذشتہ حالات موجودہ حالات سے بہت بھتر تھے ۔ احسا ء میں ”جمعیة الاخوان“ کے کسی آدمی میں یہ جرات نہیں تھی کہ وہ کسی کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھ سکے ۔ اور ذرا سی غلط حرکت پر اسے سزا ملتی تھی، اس بناپر ”جمعیة الاخوان“ کے کارندے وہاں ناشناختہ طریقوں سے جاتے تھے اور بڑی خاموشی کے ساتھ اپنا کام انجام دیتے تھے۔(۷۲۰)

ابن سعود پر ”جمعیة الاخوان“ کے اعتراضات

روز عید فطر ۱۳۴۳ھ میں نماز عید کے بعد فیصل دویش (”جمعیة الاخوان“ کا ایک لیڈر) اور اس کے کچھ ساتھیوں نے ایک جلسہ کیا اور اس میں فیصل نے ایک تقریر کی جس میں وعظ ونصیحت کے بعد کہا کہ ہمارا مقصد صرف برائیوں اور بدعتوں کو نیست ونابود کرنا ہے ہم شریف مکہ کے راستہ پر چلنے والے ہر شخص کا مقابلہ کریں گے۔

یہ وہ پہلی دہمکی تھی جو ”جمعیة الاخوان“ کے کسی لیڈر کی طرف سے عبد العزیز کو دی گئی تھی، اس کے تقریباً ایک سال بعد”جمعیة الاخوان“ کے تمام لیڈروں کا ایک جلسہ ہوا جس میں انھوں نے یہ عہد کیا کہ وہ دین خدا کی مدد کریں گے، اور راہ خدا میں جھاد کریں گے اور اس کے بعد ملک عبد العزیز پر مندرجہ ذیل اعتراضات بھی کئے:

۱۔ کفار سے دوستی اور دین کے معاملہ میں سستی کرتا ہے، لمبے کپڑے پہنتا ہے، مونچھیں نہیں بنواتا، اور سر پر عقال باندہتا ہے۔

۲۔ اپنے بیٹے کو مصر بھیجا جو مشرکین کا ملک ہے۔

۳۔ اپنے دوسرے بیٹے کو لندن بھیجا ہے۔

۴۔ کار اور ٹیلیگرام استعمال کرتا ہے۔

۵۔ حجاز اور نجد میں ٹیکس لگا رہا ہے۔

۶۔ عراق اور مشرقی اردن کے خانہ بدوشوں کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ مسلمانوں کی سر زمین (نجد وحجاز) میں اپنے چو پائے چراتے پھریں۔

۷۔ کویت سے تجارت بند کررکھی ہے اگر وہ کافر ہیں تو ان سے جنگ کی جائے اور اگر مسلمان ہیں تو پھر ان سے قطع تعلق کس لئے؟

۸۔ احساء اور قطیف کے شیعوں کو مذہب اہل سنت اختیار کرنے پر مجبور کرے۔

سلطان عبد العزیز کو جیسے ہی اس واقعہ کی اطلاع ملی وہ فوراً نجد واپس آگیا تاکہ اس بحران کو تدبیر کے ساتھ حل کرسکے، اس لئے اس نے تمام ”جمعیة الاخوان“کے لیڈروں کو(۲۵)رجب ۱۳۴۵ھ کو ریاض میں ایک جلسہ میں بلایا، چنانچہ ”جمعیة الاخوان“ کے تمام لیڈر مذکورہ تاریخ پر ریاض پہونچ گئے صرف سلطان بن بجاد (”جمعیة الاخوان“ کا ایک لیڈر) اس میں شریک نہیں ہوا، سلطان عبد العزیز نے اس جلسہ میں اپنے احوال وخدمات پر ایک مفصل تقریر کی جس میں اس بات پر زور دیاکہ میں شریعت اسلام کا ایک خادم اور نگھبان ہوں، اور میں اب بھی وھی ہوں جو پہلے تھا، اور جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ میں بدل گیا ہوں، نھیں! میرے اندر کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی ہے، میں ہر لمحہ بیدار اور عربوں نیز مسلمانوں کے حقوق کا پاسباں ہوں۔

المختصر یہ کہ اس اجتماع کا نتیجہ یہ نکلا کہ علمائے مجلس نے اس میں ایک فتویٰ صادر کیا جس میں ”جمعیة الاخوان“ کی تمام مشکلات کا حل پیش کیا گیا تھا اس سے بڑھ کر حاضرین مجلس نے اپنے بادشاہ (ابن سعود) سے اپنی محبت کا اظھار کیا اور بادشاہ نجد کے عنوان سے اس کی بیعت کی جس کے بعد اسے حجاز ونجد اور اس کے اطراف کا قانونی بادشاہ بھی تسلیم کیا گیا۔

مذکورہ فتویٰ جس کی مکمل تحریر حافظ وھبہ نے ذکر کی ہے،یہ اس اجتماع میں حاضر علماء(جن کا نام فتوی میں ذکرہے)کی طرف سے ”جمعیة الاخوان“ کے ان سوالات کا جواب ہے جو انھوں نے ملک عبدالعزیز کے بارے میں کئے تھے جسکا خلاصہ یہ ہے ۔

لیکن ٹیلیگراف یا (وائر یس)(جسے نجدی برقی کہتے تھے) یہ ایک جدید چیز ہے جسکی حقیقت سے ہمیں کوئی آگاہی نہیں ہے اور اس سلسلہ میں کسی بھی عالم سے کو ئی بات سننے میں نہیں آ ئی لہٰذا اس مسئلہ میں ہم کچھ حکم نہیں دے سکتے اور اسکے مباح یا حرام ہونے کا قطعی حکم اس وقت دیا جا سکتا ہے جباس کی واقعیت معلوم ہوجائے ۔

مسجد حمزہ اور ابی رشید کے بارے میں ہمارا فتویٰ یہ ہے کہ امام (سلطان عبدالعزیز)فورا ً ان کو منہدم کردیں، ملکی اور سماجی قو اعدو قوانین جوکچھ بھی حجاز میں موجود ہیں انھیں ختم کیاجائے اور صرف شرعی احکام لاگو کئے جائیں ۔

مصری حجاج اسلحہ اور طاقت کے ساتھ مکہ میں داخل نہ ہو ں ہمارا فتویٰ یہ ہے کہ امام (سلطان) ان کے داخلہ پر پابند ی لگائیں نیزشرک اور منکر ات کے اظھار کی روک تھام کی جائے۔

لیکن محمل، تو اس سلسلہ میں ہمارا فتوی یہ ہے کہ مسجد الحرام میں محمل کے داخلے پر پابندی لگائی جائے اور کسی کو اسے مس کرنے یا چومنے کی اجازت نہ دی جائے اور اگر ممکن ہو اور کسی فساد کا خطرہ نہ ہو، تو پورے شھرمکہ میں ہی اسکے داخلے پر مکمل پابند ی لگا دی جائے،(۷۲۱) (محمل کی تفصیل آئندہ صفحات میں ملاحظ کریں)

رافضیوں کے بارے میں ہمارا فتوی یہ ہے کہ امام (ابن سعود)ان کو اسلام کی بیعت پر مجبور کریں اور ان کے تمام دینی پر وگراموں پر پابند ی لگائی جائے، اسی طرح امام پر لازم ہے کہ وہ احساء میں اپنے نمائند وں کو یہ احکامات جاری کرے کہ وہاں کے تمام شیعوں کو شیخ ابن بشیر (وہابی عالم)کے پاس بلاکر ان سے دین خدا ورسول کی بیعت لے اور انھیں مجبور کرے کہ وہ اہلبیت رسول(علیهم السلام)سے توسل نہ کریں اور دوسری بد عتیں جیسے عزاداری(۷۲۲) یا اپنے دوسرے مذہبی رسومات کو ترک کریں، روضوں کی زیارت پر پابندی لگائی جائے انھیں مجبور کیا جائے کہ نماز پنجگانہ میں مسجد میں حاضر ہو ں اور ان کے لئے سنی امام جماعت اورموذن معین کئے جائیں ،انھیں مجبور کیا جائے کہ اصول دین کوتین مانیں(۷۲۳) اور اگر بد عتوں کے لئے انھوں نے کوئی مخصوص جگہ بنا رکھی ہے اسے بھی مسمارکردیاجائے، اسی طرح وہ اپنی بدعتوں کو مساجد یا کسی دوسری جگہوں پر انجام نہ دیں لہٰذا احساء کے شیعوں میں جوشخص بھی ان احکامات پر عمل نہ کرے اسے اس اسلامی ملک (سعودیہ)سے جلا وطن کردیاجائے ۔

قطیف کے رافضیوں پر بھی ابن بشیر احساء کے رافضیوں کی طرح احکامات جاری کرے،عراق کے رافضی (شیعہ)جو نجد کے دیھا تی علاقوں میں مسلما نوں (وہابیوں)کے ساتھ رہتے ہیں ان کے بارے میں ہمارا فتویٰ یہ ہے کہ امام ان کو مسلمانوں کے علاقوں اور ان کی چراگاہوں میں داخل ہونے سے منع کریں ۔

چنانچہ اس فتوی نے ملک کو مجبور کردیا کہ محمل پر پابندی لگائے اور مسجد حمزہ کومسمار کردیا اور وائریس کا استعمال بھی بند کردےا۔(۷۲۴)

محمل کا واقعہ

ابراہیم رفعت پاشاجو ۱۳۱۸ھ،۱۳۲۰ھ، ۱۳۲۱ ہجری قمری میں مصری محمل، اور حجاج کا سربراہ تھا ،محمل کے بارے میں اس کا بیان ہے کہ محمل ہو دج کی طرح چوکور لکڑی سے بنائی جاتی ہے اور پھر چاروں طرف سے ھلالی شکل میں درمیان میں گنبد کی شکل پیدا کرلیتی ہے اس پر عام طور سے حریر یا کسی دوسرے کپڑے پڑے رہتے ہیں سفرکے دوران اسے اونٹ کی پیٹھ پر باند ھ دیا جاتا ہے۔

سیوطی نے کنزالمدفون میں تحریر کیا ہے کہ سب سے پہلے حجاج بن یوسف ثقفی نے محمل کو مکہ لیجانے کی رسم نکالی ،صاحب دررالفوائدکے بقول عراق، مصر، شام اور یمن سے چار محملیںمکہ لائی جاتی تھیں، اور مختلف سالوں میں کچھ دوسرے علاقوں سے بھی محملیں مکہ جاتی تھی،ان میں خلفائے عباسی کے دور میں عراق کی محمل سب سے عالیشان اور مجلل ہو تی تھی ،شامی محمل دسویں صدی ہجری سے حجاز جاتی تھی ،آخری دور میں سلطان سلیم عثمانی، ایک محمل استامبول (ترکی)سے بھیجاکرتا تھا جس میں ایک خانہ کعبہ کا غلاف بھی رہتا تھا ،دوسری صدی ہجری کے دوسرے حصہ میں یمن سے بھی ایک محمل مکہ آتی تھی ۔ مصری محمل کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ سب سے پہلی بار۶۴۸ھ میں شجرة الدر مصری حاکم (کنیز ملک صالح ومادر ملک جلیل)کے دو رمیں مکہ لائی گئی ،جس کی مختصر داستان یہ ہے کہ سلطان شجرة الدر ایک محمل لیکر خود حج کے لئے آیا ،یہ محمل حریر کے کپڑے اور قیمتی پتھروں سے مزین تھی ،اس کے علاوہ خانہ کعبہ ،اور حجرہ پیغمبر ،کے لئے بھی وہ قیمتی ہدایا لایا تھا ،اور اس کے بعد خانہ کعبہ نیزحجرہ پیغمبرکے لئے قیمتی تحفوں کے ساتھ محمل کا یہ سلسلہ جاری رہا(۷۲۵) اس زمانہ سے ہر سال اس عمل کے لئے خاص اہتمام کرنا قاہرہ کا معمول تھا ا ور جیسا کہ ابن بطوطہ کی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ محمل کے جلوس کے ساتھ شتربان مختلف قسم کی حدی اور موسیقی گایا کرتے تھے اس سے لوگوں کے اندر حج کرنے کا ذوق اورشوق پیدا ہوتا تھا۔(۷۲۶)

ایرانی محمل

سلطان محمد خدا بندہ کے بیٹے سلطان ابو سعید نے عراقی محمل پر حریر چڑھایا اور اس کو سونے چاندی اور ھیرے جواہرات سے مزین کیا جن کی قیمت ڈھائی لاکھ دینار تھی اس کے علاوہ اس محمل کے اوپر ڈالنے والی ایک چادر بھی دی کہ جب بھی اس محمل کو کہیں زمین پر رکھا جاتا تھا تو خز کی یہ چادر اس پر ڈال دی جاتی تھی ۔(۷۲۷)

ایک اور محمل ایران سے مکہ لے جائی جاتی تھی جس کی تفصیل حقیر نے اپنی کتاب تاریخ قم میں بیان کی ہے البتہ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حسن بیگ روملو کی تحریر کے مطابق اس محمل کو۸۷۵ھ کے واقعات کی بناپر ”ارزون حسن“ کے حکم سے تیار کیا گیا اور اس کو ا یک خاص اہتمام کے ساتھ یزد سے قم لایا گیا اور قم میں داخل ہوتے وقت اس کے لئے اہم انتظامات کئے گئے اور وہاں سے اویس بیگ امیر حجاج اور دوسرے حاجیوں کے ساتھ اسے مکہ معظمہ کی جانب روانہ کردیا گیا۔(۷۲۸)

ایک احتمال یہ بھی ہے کہ کئی دہائیوں سے ہمارے سماج میں جو یہ رواج ہے کہ عاشورکے دن یزد، یا ایران کے دوسرے شھروں میں نذر و نیاز کے طبق ایک خاص اہتما م کے ساتھ سجاکر جگہ جگہ لیجاتے ہیں اور آج بھی اس کے اثرات بعض جگہوں پر دیکھنے میں آتے ہیں یہ ان محملوں سے بیحدشباہت رکھتے ہیں اور بہت ممکن ہے کہ یہ رسم اُسی کی دین ہو۔

محمل پر پابندی

۱۳۴۵ھ تک(جس سال علمائے نجد نےمحمل پر پابندی کا فتوی دیا ہے) مصر اور شام سے دو محملیں خاص تزئینات اور اہتمام کے ساتھ مکہ آتی تھیں ،جن کومسجدالحرام کے دروازے تک اونٹ پر لایا جاتا تھا اورپھر وہاں سے کاندہوں پر اٹھاکر مسجدالحرام کے اندر لاتے تھے ،وہاں سے عرفات، مزدلفہ ،اور منیٰ لیجایا جاتا تھا اور اختتامِ حج کے بعد مدینہ اور وہاں سے مصر اور شام واپس لے جایا کرتے تھے۔

محمل کے ہمراہ بہت سارے لوگ سوار یا پیدل چلتے تھے ،اور ایک میوزک کا دستہ باقاعدہ میوزک بجاتے ہوئے اس کے ساتھ چلتا تھا ،اسی طرح اس ملک کے تمام حاجیوں کا سربراہ اور دوسرے تمام حاجی بھی اسی محمل کے ساتھ حج کرنے جاتے تھے ۔

لوگ اس محمل کو مس کرتے تھے اس کا بوسہ لیتے تھے ،محمل کے کاروانوں کی حرکت اس کے احترام اور دیگر رسومات نیز مکہ کے گورنر کی وہاں تشریف آوری کی تمام تفصیلات کے لئے مراة الحرمین نامی کتاب ملاحظہ فرمائیں جو رفعت پاشا کی تالیف ہے ۔(۷۲۹)

مذکورہ کتا ب میں محمل اوراس کے قافلوں کے متعدد فوٹو بھی ہیں ۔

غلاف کعبہ اور غسل کعبہ کی سنت

غلاف کعبہ ،کعبہ کے لئے موقوف غلام وغیرہجیسے موضوعات ہمارے قارئین کے لئے یقیناً دلچسپ ہیں لہٰذا اس مقام پر ان کی مختصر تفصیلات بھی ذکر کی جارہی ہیں۔

غلاف کعبہ

ارزقی کے بقول دور جاہلیت میں سب سے پہلے جس نے کعبہ کے اوپر مکمل غلاف چڑھایا تھا اس کا نام تُبَّعْ(۷۳۰) (یمن کے قدیم بادشاہوں کا لقب) ہے یہ غلاف نطع (بر وزن فرش)ایک قسم کی کہال) سے بنا ہوا تھا اس کے بعد تبع نے اس پر” حِبَرَہ“ (یمن کا ایک خاص قسم کا کپڑا)کے کپڑے کا غلاف چڑھایا۔

اس کے بعد ہر سال کعبہ پر غلاف چڑھانا ایک معمول بن گیا لیکن جس کپڑے سے کعبہ کا غلاف بناتے تھے وہ ایک خاص قسم کا ہوتاتھا بلکہ متعدد کپڑے جوڑ کر ایک غلاف تیار کیا جاتا تھا،اور جب اس کا کوئی حصہ کہنہ ہو جاتا تھا، تو اسی جگہ نیا کپڑا لگا دیا جاتا تھا ،جس زمانہ میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ میں رہتے تھے اور ابھی آپ نے ہجرت نہیں کی تھی تو اس دور میں بھی کعبہ کا غلاف مختلف قسم کے کپڑوں جیسے نطع ،خیش،اور دشت میشان کے مرغوب کپڑوں سے تیار ہوتا تھا۔(۷۳۱)

ایک قول کے مطابق ظہور اسلام سے پہلے دور جاہلیت میں قریش نے یہ طے کیا تھا کہ غلاف کعبہ کی تیاری کے لئے ہر قبیلہ سے اس کی استطاعت کے مطابق کچھ مبلغ وصول کیاجائے، اوریہ رسم ربیعہ بن مغیرہ کے زمانہ تک جاری رہی، کیونکہ ربیعہ کو یمن کی طرف تجارتی مال لے جانے کی وجہ سے کافی فائدہ ہواتھالہٰذا ربیعہ نے قریش سے یہ طے کیا کہ ایک سال وہ تنھا کعبہ پر غلاف چڑھا ئے اور دوسرے سال قریش غلاف چڑھائیں گے چنانچہ پوری زندگی وہ حبرہ یا دوسرے قیمتی کپڑوں کا غلاف چڑھاتا رہا۔(۷۳۲)

اسلامی دور میں کعبہ کا غلاف

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور میں یہ معمول تھا کہ کعبہ کا غلاف(۱۰)محرم الحرام کو تبدیل کیاجاتاتھا کیونکہ تمام حجاج عام طور پر د س محرم تک مکہ سے چلے جاتے تھے(لہٰذا حاجیوں کی بناپر اس کے پارہ پارہ ہونے کا خطرہ نہیں رہتا تھا) لیکن اس کے بعد یہ ہونے لگا کہ غلاف کے اوپری حصہ پر جہاں تک ھاتھ نہیں پہونچتا ہے ۸ذی الحجہ کو اور جہاں تک ھاتھ پہونچ جاتا ہے اس حصہ پر عاشور کے دن غلاف چڑھایا جاتا تھا۔

پیغمبر اکرمصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کعبہ پر یمن کے بنے ہوئے کپڑوں کا غلاف چڑھایا، اس کے بعد حجاج بن یوسف نے دیبا کا غلاف چڑھایا ،معاویہ نے کعبہ پر دو غلاف چڑھائے ایک دیبا کے کپڑے کا بناہوا جسے عاشور کے دن چڑھا یا جاتاتھا، اور دوسرا قباطی (مصر کا بنا ہوا سفید اور باریک کپڑا)جو رمضان کے آخر میں چڑھایا جاتا تھا ۔

زید اور عبداللهبن زبیر نے کعبہ پر خسروانی (بقول بعض خراسانی)دیبا کپڑے کا غلاف چڑھایا عبدالملک مروان بھی ہر سال دیبا کا ہی غلاف کعبہ کے لئے بھیجاکرتا تھااور مدینہ سے گذرتے وقت اسے مسجد نبوی کے ستونوں میں باندہ دیا جاتا تھاکہ سب لوگ اسے دیکھ لیں اور اس کے بعد اسے مکہ لے جاتے تھے۔

دور جاہلیت کے بر خلاف دور اسلام میں اگر کعبہ کا غلاف پرانا ہو جاتا تھا یا کہیں سے پھٹ جاتا تھا تو اسے نکال کر دوسرا کپڑا ڈال دیتے تھے اور کبھی کبھی پرانا غلاف حاجیوں میں تقسیم کر دیا جاتا تھاجیسا کہ عمر نے ایسا ہی کیا تھا ۔(۷۳۳)

خلفاء اپنے اعتبار سے غلاف کو تبدیل کرتے رہتے تھے تیسری اور چوتھی صدی ہجری میں پورے خانہ کعبہ پر غلاف رہتا تھا صرف حجر اسود والے گوشے پر قد آدم سے کچھ بلند حصہ کھلا رکھتے تھےجب حج کا زمانہ نزدیک آتا تھاتو کعبہ پر خرا سان کا بنا ہوا سفید دیبا کا کپڑا ڈال دیتے تھے اور عید قربان کے دن جس دن حاجیوں کا احرام کھل جاتا ہے اس پر خراسانی سرخ دیبا ڈال دیا جاتا تھا۔(۷۳۴)

حاکم عبیدی اور اس کے نواسہ مستنصر(قرن پنجم میں مصر کے فاطمی خلیفہ)نے سفید دیبا سے کعبہ کا غلاف تیار کیا تھا۔

سلطان محمود غزنوی نے ۴۶۶ھ میں کعبہ کے لئے زرد دیباکا غلاف بھیجا تھا(چھٹی صدی ہجری میں )ناصر عباسی کی خلافت کے آغاز کے ساتھ کعبہ پر سبز رنگ کا غلاف چڑھایا گیااسی زمانہ میں غلاف سیاہ کپڑے سے تیار کیا گیا جس کے کنارے زرد رنگ کے تھے اور آج بھی خانہ کعبہ پر اسی طرح کا غلاف چڑھایا ہوا ہے۔(۷۳۵)

بغدادمیں عباسیوں کی حکومت کے خاتمہ کے بعد خانہ کعبہ کا غلاف مصری اور کبھی یمنی بادشاہ بھیجا کرتے تھے ۵۷۰ھ میں مصری شاہ صالح اسماعیل نے مصر میں غلاف کعبہ کے لئے تین دیھات وقف کر دئے تھے جس کی آمدنی سے ہر سال غلاف کعبہ اور ہر پانچویں سال حجرہ و منبر نبوی کا غلاف بناکر بھیجا جاتا تھا-(۷۳۶)

۹۴۷ھ میں سلطان سلیمان عثمانی نے چند دوسرے دیھات خرید کر ملک صالح کے مو قوفات(۷۳۷) کے ساتھ وقف کر دیا اس زمانہ میں غلاف کعبہ کے حاشیہ پر قرآنی آیات تحریر کرنا ایک معمول تھا اور اسے مکہ پہونچانے کا یہ طریقہ تھا کہ تما م حاجیوں کا سر براہ اور سرپرست خاص بڑے اہتمام کے ساتھ اس غلاف کو مکہ لیجاتا تھا۔

سعودی امراء بھی مختلف اوقات میں کعبہ پر غلاف چڑھاتے رہے ہیں جیسے۲۱۸(۱)ھ سے۱۲۲۹ھ تک سعودبن عبد العزیز نے نوبار حج کیا اور ہر سال کعبہ پر دیبا کا غلاف چٹر ھایا ۔(۷۳۸)

دور حاضر میں کعبہ کا غلاف

مذکورہ موقوفات تقریباًچار صدی تک باقی رہے اور غلاف ان کی آمدنی سے تیار ہو تا رہا۱۳ویںصدی ہجری کے اوائل میں محمد علی پاشا نے اس وقف کو ختم کر دیا ،اور اس زمین کو عمومی اموال میں داخل کر دیا ،اوریہ طے کیا کہ اس کی جگہ کعبہ کا غلاف حکومتی خزانے سے تیار کیا جائے گا چنانچہ یہ طریقہ کار امیر الحاج رفعت پاشا کے زمانہ یعنی(۱۳۲۰،۱۳۲۱و۱۳۲۵) ہجری تک اسی طرح جاری رہا۔(۷۳۹)

۱۳۴۰ھ تک کعبہ کا غلاف تقریباً ہر سال مصر سے آتا رہا۱۳۴۱ھ میں مصری حکومت اور شریف حسین کے درمیان اختلاف کی وجہ یہ تھی کہ اس سال مصری محمل ،کعبہ کا غلاف ،گندم(مکہ و مدینہ کے لوگوں کے درمیان تقسیم کرنے کے لئے)اور محمل کے محافظ ،ڈاکٹروں کی ایک طبی ٹیم جب ایک مخصوص کشتی سے جدہ پہنچی تو شریف حسن نے ڈاکٹروں کی طبی ٹیم کو مکہ جانے سے منع کر دیا تو وہ کشتی اپنے پورے ساز وسامان کے ساتھ مصر کی طرف پلٹ گئی ۔

پہلی جنگ عظیم (۱۹۱۸ء۱۹۱۴ ء) میں عثمانی حکو مت کو یہ خطرہ محسوس ہو اکہ شاید انگلینڈ مصری حکومت کو کعبہ کا غلاف بھیجنے سے منع کردے اور خانہ کعبہ غلاف کے بغیر رہ جائے لہٰذااس نے ایک بہت ہی ظریف مضبوط اور خو بصورت غلاف جس کے کنارے پر سونے اور چاندی کا کام تھا کعبہ کے لئے بھیج دیا، لیکن غلاف کعبہ حسب معمول م-صر سے آگیا اور عثمانی حکو مت کا غلاف مدینہ میں رہ گیا ۔ جس وقت مصری محمل اور غلاف مصر واپس چلاگیا تھا اور حج کا وقت بھی کم رہ گیا تھا تو شریف حسن نے امیر مدینہ کوٹیلی گرام کیا کہ عثمانی حکومت والا غلاف کعبہ فوراً ”رابغ بندر گاہ “پر بھیج دے اور خود جدہ سے ایک کشتی جس کا نام رشدی تھا اس نے رابغ بندرگاہ پر بھیج دی، اور اس طرح مذکورہ غلاف بہت سرعت کے ساتھ مدینہ سے مکہ پہونچ گیا، یہ غلاف عین اسی دن مکہ پہونچا جس دن عام طور سے کعبہ کا غلاف تبدیل کیا جاتا تھا یعنی(۱۰)ذی الحجہ کے دن۔

جب ۱۳۴۴ھ میں شریف حسن کے ھاتھ سے حجاز کی حکومت نکل گئی اور عبد العزیز بن سعود نے حجاز پر قبضہ کرلیا تو کعبہ کا غلاف حسب معمول مصر سے آیا، لیکن اسی سال منیٰ میں محمل کا واقعہ پیش آگیا، تو آئندہ سال مصری حکومت نے غلاف نہیں بھیجا اس سال ۱۳۴۵ھ میں ذی الحجہ کی پہلی تاریخ کو ابن سعود نے اپنے وزیر خزانہ شیخ عبد اللہ سلیمان کو یہ حکم دیا کہ ۱۰ذی الحجہ تک غلاف تیار ہوجانا چاہئے، چنانچہ بر وقت غلاف تیار ہوگیا۔(۷۴۰)

غلاف کعبہ کا مخصوص کار خانہ

غلاف کعبہ اگرچہ پہلے نیک اعمال میں شمارکیا جاتا تھا لیکن آہستہ آہستہ اسے بھی حکومتوں نے اپنے لئے ایک سیاسی حربہ بنالیا اسی لئے ابن سعود نے ۱۳۴۶ ھ میں عبداللہ مذکور کو یہ حکم دیا کہ کعبہ کاغلاف بنانے کے لئے ایک مخصوص کار خانہ بنایا جائے اس نے مکہ کے ”محلہ اجیاد“ میں وزارت خزانہ کے دفترکے سامنے ایک ہزار پانچ سو مربع میڑزمین اسی کام کے لئے مخصوص کردی اور چھ مھینہ میں ایک منزلہ عمارت بن کر تیارہو گئی ،تاریخ میں پہلی مرتبہ غلاف کعبہ کی تیاری کے لئے کوئی مخصوص جگہ بنائی گئی تھی۔

اس کے بعد ملک نے یہ حکم دیا کہ غلاف کعبہ کی تیاری کے لئے ہنددستان سے ایسے ماہر کاریگر لائے جائیں جو باقاعدہ اس کو زردوزی کے ساتھ تیار کر سکیں، کاریگروں کی فراہمی کا کام ہندوستان کے ایک عالم شیخ اسماعیل غزانوی نے انجام دیا ۔

رجب ۱۳۴۶ھ کی ابتدا میں ہندوستانی کا ریگر اپنے تمام لوازمات اور وسائل کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے جن کے پاس کپڑا بننے کے بارہ سانچے تھے، اور کپڑا بننے کے ماہر ین اور زردوزوں کی تعداد چالیس تھی اور دوسرے بیس آدمی ان کے معاون تھے اس طرح اسی سال ذیقعدہ کے آخر تک خانہ کعبہ کا غلاف بہترین انداز میں اسی کارخانہ میں تیار ہوگیا ۔ اس کا مخصوص کپڑا کالا اور ریشمی تھا اسکے اندر بنائی میں ہی ”لاالہ الا اللّٰہ محمدرسول اللّٰہ “ھرجگہ تحریر تھا اور دوسرے حصہ پر کوئی نہ کوئی آیت قرآنی نقش تھی ۔(۷۴۱)

پردہ کے شمالی حصہ میں یعنی حجر اسماعیل کی طرف شاہ عبد العزیز کا نام تحریر تھا جس کا مضمون یہ تھا کہ ”یہ پردہ، مکہ معظمہ میں خادم حرمین شریفین اعلی حضرت امام عبد العزیز بن عبد الرحمن فیصل آل سعود شہنشاہ مملکت سعودیہ عربیہ کے حکم سے(۴۶)۱۳ھ میں تیار کیا گیا “۔

رمضان المبارک ۱۳۵۵ھ تک کعبہ کا پردہ اسی کارخانہ میں تیار ہوتا رہا لیکن جب اس سال مصر اور سعودیہ حکومت کے اختلافات ایک معاہدے کے بعد ختم ہوگئے تو پھر یہ طے ہوگیا کہ گذشتہ کی طرح حسب معمول خانہ کعبہ کا پردہ مصر سے آئے گا، لہٰذا حکومت مصر کے اس وعدے کے بعد مکہ کا کارخانہ بند کردیا گیا مصر سے آنے والے پردے پر یہ تحریر درج ہوتی تھی:

”اعلی حضرت بادشاہ مصر، فاروق اول کے حکم سے یہ پردہ تیار کیا گیا، اور اعلی حضرت عبد العزیز آل سعود بادشاہ سعودیہ عربیہ کے عہد میں ۱۳۵۵ھ میں اسے خانہ کعبہ کے لئے ہدیہ کیا گیا“۔

یہ سلسلہ۱۳۸۲ھ تک چلتا رہا اس کے بعد پھر مصری اور سعودی حکومتوں کے درمیان کچھ اختلافات پیدا ہوگئے جس کے نتیجہ میں خانہ کعبہ کے پردہ کی تیاری کے لئے مخصوص کار خانہ دوبارہ شروع ہوگیا اور اب کعبہ شریف کا غلاف اسی کارخانہ میں تیار ہوتا ہے۔(۷۴۲)

خانہ کعبہ کا غلاف آٹھ ٹکڑوں سے تیار ہوتا ہے یعنی کعبہ کی چاروں دیواروں میں سے ہر دیوار کے لئے دو کپڑے ہوتے ہیں جنھیں پہلے مسجد الحرام کے صحن میں پھیلایا جاتا ہے اور ان ٹکڑوں کو ایک ساتھ سل دیا جاتا ہے،پھر ہر دیوار کے غلاف کو لپیٹ دیا جاتا ہے، پھر کچھ لوگ کعبہ کی چھت سے کچھ رسّیاں نیچے پھینکتے ہیں اور ان میں یہ چاروں پردے باندہ دئے جاتے ہیں اور انھیں چھت پر کھینچ لیتے ہیں۔

غلاف کا یہ کام ہر سال(۸)ذی الحجہ کو ہوتا ہے اور پھر(۱۰)ذی الحجہ کو پرانا پردہ اتار کر اس کی جگہ یہ نیا پردہ لگا دیا جاتا ہے اور چند دن کے اندر کعبہ پر لٹکے ہوئے پردے ایک ساتھ سِل دئے جاتے ہیں، کعبہ کے گرد جو پٹکہ ہوتا ہے اس کے آٹھ حصے ہوتے ہیں جن پر آیات قرآنی تحریر ہوتی ہیں اور ان آیات کے درمیانی فاصلہ میں ”یَا حَنَّانُ“”یَا مَنَّانُ“ لکھا رہتا ہے۔

اس پٹکے کے علاوہ (حذام کے نام سے) چار پارچے اور ہوتے ہیں جن پر سورہ قل ھو اللہ نقش ہوتا ہے جن کو ھررکن پرپٹکے کے نیچے سلا جاتا ہے ان کی سلائی کا طریقہ یہ ہے کہ کعبہ کی چھت سے لکڑی کے تختے باندہ کر لٹکادئے جاتے ہیں اور سلائی کرنے والا ان پر بیٹھ کر حذام کی سلائی کرتا ہے۔(۷۴۳)

خادمان و خواجگان

سب سے پہلے معاویہ نے مسجد الحرام کی خدمت کے لئے کچھ غلام معین کئے تھے لیکن اب کعبہ کے خدام اور خواجگان (اَغوات) ہیں جو غلام نہیں ہیں بلکہ ان کے آقاوں نے انھیں آزاد کرکے کعبہ کی خدمت پر لگا دیا ہے، اب انھیں مسجد الحرام کی طرف سے ہر مھینہ تنخواہ ملتی ہے، اوران کی باقاعدہ ایک کمیٹی ہے جس کا ایک منتظم ہوتا ہے، اور منتظم کے انتخاب کا طریقہ یہ ہے کہ جو شخص جتنا زیادہ پرانا خادم ہوتا ہے اس کو اس کا منتظم بنادیا جاتا ہے۔

ان خدام کافریضہ یہ ہے کہ مطاف (طواف کرنے کی جگہ) ،حجر اسماعیل (ع) اور مقام ابراہیم (ع) کی صفائی کریں، لائٹ کی سہولت ہونے سے پہلے یہ لوگ نماز مغرب سے نماز عشاء تک اور طلوع فجر سے لے کر سویراہونے تک شمعدانوں میں شمع روشن کرکے انھیں مسجد کے ستونوں پر لگے ہوئے فانوس کے اندر رکھ دیتے تھے۔ ان کے در میان اس طرح کاہر کام انجام دینے سے پہلے ایک مخصوص رسم ہوتی تھی جو گذشتہ دور سے چلی آرہی ہے ۔

ایک قول کے مطابق ”صلاح الدین ایولی“ یا ”نور الدین کرد“ نے سب سے پہلے مسجد النبوی کے لئے خادم معین کئے تھے۔(۷۴۴)

کعبہ کے اندرونی حصہ کا غسل

کعبہ کے اندرونی حصہ کے غسل کادستور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ (فتح مکہ)سے ابتک جاری ہے اس دور میں عام طور سے کعبہ کوھر سال دوبار غسل دیا جاتاہے ایک بار حج شروع ہونے سے پہلے (یعنی ذیقعدہ کے اواخر میں )اور دوسری بار حاجیوں کے مکہ سے چلے جانے کے بعد۔

غسلِ کعبہ کا طریقہ یہ ہے کہ جس دن کعبہ کی دہلائی کا وقت ہوتاہے کعبہ کے کلید داروں کا سرپرست آل شیبہ(۷۴۵) کے دوسرے کلید داروں کے ساتھ طلوع آفتاب کے کچھ دیر بعد کعبہ کے پاس آتا ہے پھر کعبہ کا دروازہ کھولاجاتا ہے پھر کلید دار اور ان کے ہمراہ افراد آب گلاب سے بھرے ہوئے تشت اور گل سرخ کے عطر سے بھری شیشیاں اور عود و عنبر وغیرہ جیسے عطر لیکر آتے ہیں جو لوگ کعبہ کو غسل دیتے ہیں وہ کشمیری شالوں کی لنگی باندہے رہتے ہیں ۔

اس کے علاوہ یہ بھی معمول ہے کہ کلید د ار کعبہ ،بادشاہوں اور امراء اور وزیروں نیز قاضیوں اور اداروں کے سرپرستوں کو (جو حج کرنے آتے ہیں) اس سعادت میں شرکت کی دعوت دیتاہے جب تمام ضروری وسائل آمادہ ہو جاتے ہیں تو پھر چاہ زمزم پر مامور افراد زمزم سے کچھ بالٹیاں پانی بھر کر کعبہ تک پہونچاتے ہیں کلید دار ان کو کعبہ کے اندر رکھ دیتے ہیں ان تمام انتظامات کے بعد تمام مدعوین کعبہ کے اندر داخل ہوتے ہیں جن کی کمر پر لنگی اور ھاتھ میں جھاڑو ہوتی ہے (یہ جھاڑو اوقاف کا مدیر مھیا کرتا ہے) اور پھر آب گلاب۷۴۶ سے مخلوط آب زمزم سے غسل کعبہ کا کام شروع کرتے ہیں ۔

پہلے کعبہ کے فرش ،اور اس کی دیواروں کو غسل دیا جاتا ہے پھر تا حد قامت ان پر گلاب ملا جاتا ہے ،اور پھر گل سرخ اور دوسرے عطروں سے دیواروں کو معطر کیا جاتا ہے کعبہ کی دہلائی اورزمین اور دیواروں کو خشک کرنے کے بعد تمام جھاڑووں کو وہاں موجود لوگوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے۔(۷۴۷)

”جمعیة الاخوان“ اور ابن سعود کے اختلافات

”فیصل دویش“ جو جمعیة الاخوان کا ایک لیڈر تھا اس نے اخوان کو بھڑکاکر ابن سعود کے خلاف ایسی شورش برپا کی کہ جس نے ابن سعود کو ایک نئی مشکل میں ڈال دیا اس نے اکتوبر۱۹۲۷ء میں اپنی طرف سے کچھ فوج عراق اور نجد کی سرحد پر واقع” بصیہ“ نامی علاقہ میں بھیجی اور اس فوج نے سرحد پر مامور کچھ فوجیوں کو قتل کر ڈالا جس کی وجہ سے سعودیہ اور انگلینڈ کی حکومتوں کے درمیان تناو پیدا ہو گیا تو” سر گلبرٹ کلوٹیون“ کو حکومت انگلینڈ کی طرف سے سعودیہ روانہ کیا گیا تاکہ وہ اس بارے میں سلطان عبدالعزیزسے مذاکرات کرے دونوں کے درمیان جدہ میں کچھ گفتگو تو ہوئی مگر اس کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ برآمد نہ ہو سکا ۔

ان مذاکرات کے بعد سلطان، حجاز سے نجد آیا اور جمادی الاولیٰ ۱۳۴۷ ھ میں ایک جلسہ کا حکم دیا یہ جلسہ ریاض کے شاہی محل میں کیا گیا جس میں تقریباًشھری اور دیھاتی۸۰۰ علماء اور قبیلوں کے سرداروںنے شرکت کی، مگر دویش اور ابن بجاد (جمعیة الاخوان کے اہم لیڈر)نے اس کا بائیکاٹ کیا اور وہ اس میں شریک نہ ہوئے ۔

ابن سعود نے اپنی تقریر کی ابتداء میں جزیرة العرب میں اپنی اتحادی کو ششوں کا تذکرہ کیا اور پھر یہ اعلان کیا کہ میں حکومت سے بالکل الگ ہو رہا ہوں اور یہ عہد کرتا ہوں کہ آپ لوگ آل سعود میں جس کا بھی انتخاب کریں گے میں اس کی بھر پور مدد کروں گا اس نے اپنی تقریر میں انگلینڈ کے ساتھ پیدا ہونے والے اختلاف کا ذمہ دار دویش کو قرار دیا ابن سعود کا یہ استعفیٰ حاضرین نے قبول نہیں کیا اور سب نے اس کی دوبارہ بیعت کر لی۔

اس جلسہ سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ عوام کے جذبات اخوا ن کے خلاف بھڑک اٹھے مگر ابن بجاد اور فیصل دویش کے ساتھیوں نے اس کو کوئی اہمیت ہی نہ دی اور ا خوان کے درمیان یہ مشہور کر دیا کہ ابن سعود جس دین و شریعت کو برباد کررہا ہے یہ اس کی تعمیر نو کرنا چاہتے ہیں،نیز ابن سعود کفار کا دوست اور ہر کام میں ان کا شریک نیز سلطنت و حکومت کا دلدادہ ہے۔

”جمعیة الاخوان“ کے یہ لوگ عراق اور کویت کے علاقوں میں لوٹ مار کرتے تھے یہاں تک کہ نجد ی قافلوں کو بھی لوٹ لیتے تھے اور دوسروں کو کیونکہ کافر سمجھتے تھے لہٰذا اگر انھیں کو ئی مل جاتاتھا تو اسے قتل کر دیتے تھے ابن سعود کو یہ دکھائی دے رہا تھا کہ اس کی تیس سالہ محنت ضائع ہو جائے گی چنانچہاس نے نجد اور ”جمعیة الاخوان“ کے کافی لوگوں کو اپناہمنوا بنا لیا جن کے ساتھ کچھ علماء بھی تھے اور انھوں نے مل کر ابن بجاد اور دویش کا مقابلہ شروع کر دیا ۔

شروع میں ان کے درمیان پیغامات یا مکالمات کی رد وبدل ہوئی تو اسی دور میں جب ابن بجاد کا ایک آدمی اس کا خط لیکر ابن سعود کے پاس پہونچا تو اس نے اس کو سلام تک نہیں کیا (کیونکہ وہلوگ اسے بدعتی سمجھتے تھے)

المختصر یہ کہ آخر کا ر جنگ و جدال کی نوبت پہونچ گئی جنگ کے دوسرے ہی دن ”جمعیة الاخوان“ کے پیر اکھڑ گئے اور وہ میدان سے فرار کر گئے ابن بجاد بھی فرار ہو گیا اور فیصل دویش کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا ابن بجاد نے بھی تین دن کے بعداپنے کو حکومت کے حوالہ کر دیا اور پھر (مارچ۱۹۲۹ ء مطابق۱۳۴۸ھ) میں اسے بھی جیل بھیج دیا گیا ۔(۷۴۸)

”جمعیة الاخوان“ کے ہنگاموں کاخاتمہ

”ابن بجاد “ کو شکست دینے کے بعد ابن سعود حجاز واپس آگیا اس وقت ابن بجاد جیل میں تھا ادہر دویش زخموں کی شدت سے موت کے قریب تھا لیکن اس کی جان بچ گئی اور وہ کویت اور احساء کی سرحدوں کی طرف چلا گیااس نے پھر ایک جماعت اکٹھا کر لی اور دوبارہ فتنہ و فساد شروع کر دیا اور وہ آگے بڑھتا رہا یہاں تک کہ اس منزل تک پہونچ گیا کہ ریاض اور مکہ کے درمیان مواصلاتی نظام ٹوٹنے ہی والا تھا چنا نچہ ابن سعود نے اس کو ختم کرنے کی دوبارہ ٹھان لی ایک سال تک دونوں میں پیغامات کا سلسلہ جاری رہا آخر کار جب دویش نے اپنے اندر مقاومت کی ہمت نہ پائی تو خود کو انگلینڈ کی فوج کے حوالہ کر دیا (کیونکہ وہاں کی فوجیں بھی اس بارے میں مداخلت کر چکی تھیں)اور انگلینڈ کی فوج نے اسے ابن سعود کے حوالہ کردےا چنانچہ اس تاریخ (یعنی۱۹۳۰ء ۱۳۴۹ھ)سے ”جمعیة الاخوان“ کے یہ فتنے مکمل طور سے ختم ہو گئے اور ”جمعیة الاخوان“کے تمام لوگ دوسرے تمام شھریوں کی طرح حکومت کے مطیع بن گئے اور سلطان عبد العزیز نے سکون کی سانس لی اور دوبارہ حکومتی نظام کی تعمیر شروع کردی شھروں کے درمیان فون ،وائرلیس کے رابطے بر قرار کئے ،مکہ و ریاض کے درمیان وائر لیس اور فون کا رابطہ برقرار کیا۔(۷۴۹)

ملک سعود (جانشین عبد العزیز بن سعود) کے دور میں ”جمعیة الاخوان“ کی کل تعداد بیس ہزار تھی جن میں سے دس ہزار افراد حجاز کے اندر اور بقیہ نجد وغیرہ کے علاقوں میں رہتے تھے یہ سب باقاعدہ مسلح ہوتے تھے اور حکو مت سے انھیں وظیفہ (تنخواہ) بھی ملتا تھا البتہ کچھ لوگ صرف اسلحہ ہی لیتے تھے ”جمعیة الاخوان“ کی کاکر دگی اب تک جاری ہے ۔(۷۵۰)

احمد امین کا بیان

مصر کے مشہور و معروف صاحب قلم احمد امین نے وہابیوں کے بارے میں تحقیق کرتے ہوئے جو بیان دیا ہے اس کا نقل کر نا بھی یہاں بیجا نہ ہوگا، موصوف کہتے ہیں کہ وہابیوں نے جدید تمدن اوراپنی خوا ہشات سے مشکلات کے بارے میں کبھی غور ہی نہیں کیا ،ان کے اکثر لوگ دوسرے مسلم ممالک کو صرف اس لئے کہ ان میں (ان کے عقیدہ کے مطابق)بدعتیں رائج ہیں مسلم ملک ہی نہیں مانتے ان کا یہ نظریہ تھاکہ دوسرے مسلم ممالک سے جھاد کرنا واجب ہے جب ابن سعود کوحکومت ملی تو اس کے سامنے دو طاقتیں تھیں جن کا ساتھ دینے کے لئے وہ مجبو ر تھا ایک دینی احکام کے زمام دار جو نجد میں رہتے تھے اور محمد بن عبد الوہاب کی تعلیمات کے سخت پیروتھے اور ہر نئی چیز کی مخالفت کرنا ان کے لئے ضروری تھا ،ٹلیفون ،وائرلیس کاریں گاڑیاں سائیکل جیسی ہر چیز کو بدعت اور دین کے خلاف قرار دیتے تھے۔

اور دوسری طاقت جدید تمدن کی موج تھی جس کے بعض وسائل کو حکومت کی سخت ضرورت تھی، لہٰذا حکومت نے ان دونوں طاقتوں کے درمیان کا راستہ اختیار کیا ،یعنی دوسرے اسلامی ممالک کو مسلمان مانا اور دینی تعلیمات کے ساتھ ساتھ عصری اور دنیوی تعلیمات کو بھی رائج کیا اور حکومت کے نظام کو جدید نظام سے بھی ہم آہنگ کر کے اپنے ملک میں وائرلیس ،گاڑیاں ،جھاز وغیرہ لانے کی اجازت بھی دیدی ا سی طرح کے دوسرے اقدامات بھی کئے واقعاًعلمائے نجد اور رفتار زمانہ نیز صحرائی جھالت اور جدید تمدن کی خواہشات کے درمیان سازگاری پیدا کرنا کتنا مشکل کام تھا۔(۷۵۱)

____________________

۷۰۳. تاریخ المملکة السعودیة ج۲ ص۱۴۶ ۔

۷۰۴. علماء کے خط کا مکمل متن اور ابن سعودکا بیان، صلاح الدین مختار نے ذکر کیا ہے، (ج۲،ص۱۴۹)

۷۰۵. محمد بن عبد الوہاب کا قول ہے (رسالہ الفرقہ الناجیہ ص ۲۸)کہ ہر مسلمان پر بلاد شرک سے بلا د اسلام کی طرف ہجرت کرنا قیامت تک واجب ہے ۔

۷۰۶. تاریخ نجد، ص ۳۰۵تا۳۰۸ سے اقتباس۔

۷۰۷. سید ابراہیم رفاعی کابیان ہے کہ”جمعیة الاخوان“عوام النا س کا ایک گروہ ہے اور جیسا کہ مجھے معلوم ہواہے ان میں سے کوئی بھی قرآن پڑھنے پر قادر نھیںھے ،اور قاری قرآن سے کہا جاتا ہے ،کہ تم قرآن پڑھو، ہم تم کو اسکی تفسیر بتائیں گے۔ (رسالةالاوراق البغدادیہ، ص۲ مطبوعہ بغداد ۔ )

۷۰۸. جزیرةالعرب فی القرن العشرین ص۳۱۳ ۔

۷۰۹. جزیرة العرب فی القرن العشرین، ص ۳۱۴، ۳۱۵۔

۷۱۰. تاریخ نجد ص۳۵۷۔

۷۱۱. حافظ وھبہ ص ۳۱۶۔

۷۱۲. اس سے مراد سنٹ جَون فیلبی ہے جو ابن سعود کا قریبی دوست ہے اور اس نے اظھار اسلام کیا اور اپنا نام عبداللہ رکھ لیا پہلے بھی خلافت شریف حسین کے ذیل میں اسکا مختصر سا تذکرہ گذر چکا ہے۔

۷۱۳. جزیرة العربفی القرن العشرین، ص۳۰۸۔

۷۱۴. جزیرة العرب ص۳۰۹۔

۷۱۵. جزیرةالعرب ص۳۰۷۔

۷۱۶. جزیرة العرب ص۳۰۹۔

۷۱۷. تاریخ نجد، فیلبی، ص ۳۵۶۔

۷۱۸. منجملہ چیچک کا ٹیکہ لگانے کی مخالفت کی۔ (حافظ وھبہ ص۳۰۶۔

۷۱۹. فیلبی ص۴۱۵۔

۷۲۰. جزیرة العرب فی القرن العشرین ص ۳۱۷، اب ”جمعیة الاخوان“ کی وہ شدت پسندی اور ہٹ دہر می ختم ہوچکی ہے اور سعودیہ میں آج ہر طرح کی جدیدترین ٹکنالوجی موجود ہے بلکہ اب تو سعودیہ امریکی فوجوں کے لئے بہترین میزبان اور مغربی ممالک کے قیمتی اسلحوں کی ایک بڑی منڈی ہے اور اسی طرح اسلامی دولت سے عیسائیوں اور یہودیوں کی عیاشی کا سامان مھیا ہورہا ہے کیونکہ جس اسلامی تحریک کی ابتداء ایسی ہوگی تو اس کا انجام بھی بخوبی معلوم ہے۔

۷۲۱. جیسا کہ ہم انشاء اللہ بعد میں بیان کریں گے کہ محمل کا مسئلہ صدیوں پرانا ہے اور مختلف مقامات سے یہ محمل لائی جاتی تھی جن میں سب سے اہم محمل مصر کی ہوتی تھی جس کو ایک خاص اہتمام کے ساتھ مکہ معظمہ لایا جاتا تھا۔ سب سے پہلے وہابیوں نے مکہ میں محمل کے آنے پر۱۲۲۱ھ میں پابندی لگائی، کیونکہ اس زمانہ میں مکہ معظمہ پر ان لوگوں کا قبضہ تھا، جیسا کہ تفصیل بیان ہوچکی ہے۔

۷۲۳. تین اصول دین سے ان کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص اپنے خدا ،دین اور پیغمبر کو پہچانیں، جیسا شیخ محمد بن عبد الوہاب نے اپنے رسالہ ”عقیدة الفرقة الناجیہ“ ص ۹ پر تحریر کیا ہے۔

۷۲۴. حافظ وھبہ ص۳۱۲،۳۱۷،۳۲۱، جیسا کہ معلوم ہے کہ سعود یہ میں احساء اور قطیف دونوں علاقوں میں شیعہ کثرت کے ساتھ آباد ہیں آقای جوادمغنیہ کے بقول جب علامہ محسن امین نے کتاب کشف الارتیاب تالیف کی اور اس میں وہابیوں کے اعتراضات کا علمی جواب دیا تو پھر وہابی احساء اور قطیف کے شیعوں کے بارے میں نرم پڑگئے (ہذی ہی الوہابیہ ص۶)

۷۲۵. مرآة الحرمین ج۲ص۳۰۴، چنانچہ معمول یہ تھا کہ محمل کو سال میں دو مرتبہ گہم ایا جاتا تھا ایک مرتبہ ماہ رجب میں اور دوسری مرتبہ ماہ شوال میں ، اور اس کے لئے محفلوں کا انعقاد کیا جاتا تھا اور جس راستہ سے محمل کا گذر ہوتا تھا اس راستہ کو سجایا جاتا تھا اور اس کی ناکہ بندی کی جاتی تھی اور وہاں کے لوگ اس کو دیکھنے کے لئے جمع ہوجایا کرتے تھے۔ (مرآة ج۲ ص۳۰۹)

۷۲۶. رحلہ ابن بطوطة، جلد اول ص ۲۶۔

۷۲۷. مرآة الحرمین ج۲ ص ۳۰۴۔

۷۲۸. احسن التواریخ ج۱۱ ص۵۱۸۔

۷۲۹. دسویں اور گیارہوں صدی ہجری میں محمل کے احترامات و رسومات کے بارے میں مزید اطلاع کے لئے کتاب بدایع الزہور ابن ایاس ج۴،۵بھی ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔

۷۳۰. یہاں پر تبع سے مراد ”حمیر “بادشاہوں کے سلسلہ کے اسعد ابو کرب ہیں، جو ہجرت سے دو صدی پہلے ہوا کرتے تھے، چنانچہ ان تمام بادشاہوں کو تبع کہا جاتا تھا۔

۷۳۱. اخبار مکہ ج۱،اقتباس از صفحہ ۲۴۹،۲۵۰،لیکن اس سلسلہ میں جناب فاسی صاحب کہتے ہیں کہ خانہ کعبہ پر سب سے پہلے غلاف حضرت اسماعیل (ع)نے چڑھایا ہے، (شفاء الغرام، جلد اول ص ۱۲۱۔ )

۷۳۲. اخبار مکہ معظمہ ص ۲۵۰، ۲۵۱۔

۷۳۳. اخبار مکہ خلاصہ از ص۲۵۲تا۲۵۹۔

۷۳۴. دوسری اور تیسری ہجری میں یہ دیبا کا کپڑا شوشتر (ایران کا ایک شھر)میں تیا ر ہوتا تھا اور ابو علی مسکویہ (تجارب الامم ج۶ص۴۰۷)کے بقول عضد الدولہ دیلمی یہ غلاف بھیجا کرتا تھا۔

۷۳۵. اقتباس از شفاء الغرام، جلد اول ص ۱۲۲۔

۷۳۶. مرآة الحرمین، جلد اول ص ۲۸۴۔

۷۳۷. سلطان سلیمان کے وقف نامہ کی عبارت مرآة الحرمین، جلد اول ص ۲۸۵ پر موجود ہے۔

۷۳۸. ابن بشر، جلد اول۱۲۱۸ھ سے۱۲۲۹ھ کے واقعات کے ضمن میں ۔

۷۳۹. مرآة الحرمین ج۱ ص۲۸۴۔ اور جب ۱۲۲۸ھ میں مصر اور حجاز پر عثمانی بادشاہوں نے قبضہ کر لیا تو پھر یہ ہونے لگا کہ کعبہ کا اندرونی غلاف اور حجرہ پیغمبر کا کپڑا عثمانی بادشاہ بھیجتے تھے اور کعبہ کا بیرونی غلاف حسب معمول مصر سے آتا تھا۔

۷۴۰. محمل کا واقعہ یہ ہے کہ ہر سال مصری حجاج جب منیٰ میں وقوف کرتے تھے تو محمل کے چاروں طرف میوزک بجایا کرتے تھے ،اس سال جب سعودی کارندوںنے انھیں منع کیا تو جھگڑے اور خونریزی کا خطرہ ہوگیا تھا، لیکن خود بادشاہ نے آکر اس کو ختم کرادیا۔

۷۴۱. تاریخ کعبہ ،ص۲۶۲ کااقتباس۔

۷۴۲. تاریخ القویم لمکة وبیت اللہ الکریم، ج۴ ص ۲۲۱ تا ۲۲۴۔

۷۴۳. تاریخ القویم لمکة وبیت اللہ الکریم، ج۴ ص ۲۳۲، ۲۳۳۔

۷۴۴. مرآة الحرمین جلد اول ص ۴۵۹، پرمرقوم ہے: ابن بطوطہ نے کہا کہ ہمارے زمانہ میں عبداللہ غرناطی نے اپنے کو لڑائی جھگڑوں سے بچنے کی خاطر روضہ رسول کے خادموں اورموذنوں میں شامل کرلیا ۔ (ج۱ص۷۴)

۷۴۵. بنی شیبہ کے بارے میں جو کعبہ کے کلید دار تھے ”ابن سعود “ کے حالات زندگی میں تفصیل بیان کی جاچکی ہے۔

۷۴۶. مدتوں سے خانہ کعبہ کے غسل کے لئے ایرانی بہترین گلاب بھیجا جاتا ہے۔

۷۴۷. اریخ کعبہ ص۳۲۶تا۳۲۸،ان دنوں کعبہ کے اندرونی حصہ کا غسل ۶ذی الحجہ کو کاشان (ایران) کےآب گلاب سے ہوتا ہے۔

۷۴۸. جزیرة العرب فی القرن ا لعشرین، ص۳۲۱۔

۷۴۹. جزیرة العرب فی القرن العشرین خلاصہ ۳۲۵، ہم نے ”جمعیة الاخوان“ کے بارے میں اکثر مطالب اسی کتاب سے اخذ کئے ہیں، یہ کتاب ۱۳۴۵ ھ میں تالیف ہو ئی ہے اس کا مولف حافظ وھبہ سعودی عرب کا ایک سیاسی اور با اطلاع انسان تھا جو ان واقعات میں اکثر جگہ خود موجود ہونے کے علاوہ ان کے اندر مداخلت بھی کرتا تھا۔

۷۵۰. مملکة العربیہ السعودیہ کما عرفتھا ص۸۸،نقل از ملک سعود۔

۷۵۱. ز عماء الاصلاح فی العصر الحدیث ص۲۰و۲۱۔


خاتمہ

وہابیت نجد وحجاز کے باہر

وہابیت کے آغاز سے وہابیوں کی یھی کوشش رہی ہے کہ اس مذہب کوپوری دنیا میں پھیلا دیا جائے، اور اسی مقصد کے تحت نجد وحجاز پر غلبہ پانے کے لئے قرب وجوار کے علاقوں پر بھی دست درازی کی، لیکن یہ لوگ اپنی تمام تر کوششوں کے بعد بھی کوئی خاطر خواہ نتیجہ حاصل نہ کرسکے،اور لوگوں نے ان کی دعوت کو قبول نہیں کیا۔

لیکن حجاز پر غلبہ پانے کے بعد چاہے پہلی مرتبہ میں ہو کہ محمد علی پاشا کے حملے کے ذریعہ وہابیوں کے قبضہ سے نکالا گیا، یا دوسری مرتبہ ہو جو جاری رہا، جیسا کہ ہم نے اس کی تفصیل بھی بیان کی، اس بہترین موقع سے انھوں نے فائدہ اٹھایا وہ اس طرح کہ جو لوگ مختلف مقامات سے حج کے زمانہ میں حج وزیارات کے لئے مکہ ومدینہ جاتے تھے اور ان میں اس دعوت کو قبول کرنے کی ذہنیت بھی پائی جاتی تھی ان پر وہابیوں نے کام کرنا شروع کردیا، اور ان کو اپنے عقائد اورنظریات کی تعلیم دینا شروع کی، تاکہ ان کے ذریعہ یہ مذہب دنیا کے تمام گوشوں میں پھیل جائے، اور جیسا کہ آپ حضرات جانتے ہیں کہ دنیا کے مختلف گوشہ وکنار میں ایسے افراد کے ذریعہ ہی یہ مذہب پھیلا ہے جو حج کے لئے مکہ ومدینہ جاتے تھے اور وہابیوں کے تحت تاثیر واقع ہوجاتے تھے۔

قارئین کرام! ہم یہاں دنیا کے مختلف ممالک میں وہابیت پھیلنے کی کیفیت اور طور طریقہ کو بیان کرتے ہیں، توجہ رہے کہ وہابیت کے پھیلانے کی جس قدر کوششیں کی گئیں ہیں اتنی زیادہ وہابیت نہیں پھیلی ہے جو خود وہابیوں کے تصور کے خلاف ہے کیونکہ یہ لوگ تو پوری دنیا میں وہابیت کو پورے آن بان سے پھیلانا چاہتے تھے اور اس کی وجہ بھی ہم پہلے بیان کرچکے ہیں۔

وہابیت ہندوستان میں

سر زمین ہندوستان قدیم زمانہ سے مختلف ادیان اور مذاہب کا مرکز رہا ہے، ہندوستان میں ہر نئے نظریہ کو قبول کرلیا جاتا تھا بشرطیکہ وہ نظریہ جواب دہندہ بھی ہو یعنی لوگوں کی نظر میں کامل ہو ناقص نہ ہو، اسی وجہ سے ہندوستان میں بھی وہابیت کا نفوذ ہونے لگا اور لوگوں میں بہت سی بحث وگفتگو ہوئی۔

چنانچہ مولوی اصغر علی ہندی فیضی صاحب، شیخ حسین حلمی استامبولی کو ایک خط لکھتے ہیں، (اس کی فوٹو کاپی کتاب الصواعق الالہٰیہ مولف شیخ سلیمان نجدی (برادر محمد بن عبد الوہاب) اور کتاب فتنة الوہابیة سید احمد زینی دحلان میں چھپ چکی ہے۔

اس خط میں تحریر تھا کہ ”چند ریک“ نامی یومیہ اخبار کی ایک کاپی آپ کو بھیجی جارہی ہے، جس میں ایک مناظرہ کا خلاصہ موجود ہے جو(۱۴)۷۶ سے ۱۲(۴)۷۶تک شھر ”کالی کاٹ“ میں اہل سنت اور مجاہدین (وہابیوں) کے درمیان ہوا، اس کے بعد اس خط میں تحریر ہے کہ ہمارے ملک میں کچھ بدعت گذار پیدا ہوگئے ہیں مثلاً وہابی ،(جن کا نام مجاہدین ہے) اور ”مردودی“ جن کا نیا نام جماعت اسلامی ہے، اور قادیانی اور اہل قرآن جن کا عقیدہ فقط حفظ قرآن ہے اور احادیث رسول کو نہیں مانتے، اس کے بعد اس خط میں تحریر ہے کہ وہابیوں نے ہمارے ملک میں مدرسے کھولے ہیں مثلاً ”اریکوٹ“ میں مدرسہ ”سُلَّمُ السَّلاٰم“ اور شھر ”بولکل“ میں مدرسہ ”مدینة العلم“اور شھر ”ولانور“ میں مدرسہ” انصاریہ“ ۔

قارئین کرام !اس خط کے ذریعہ یہ بات واضح اور روشن ہوجاتی ہے کہ ہندوستان کے دوسرے اسلامی فرقے شدت کے ساتھ وہابیت سے بر سرِ پیکار تھے، ہم نے پہلے بھی وہابیت کی ردّ میں ہندوستانی علماء کی طرف سے لکھی جانی والی کتابوں کی طرف اشارہ کیا اس وقت ہندوستان میں وہابیت کی ترویج کرنے والے دو علماء کے بارے میں مختصر طور پر بیان کرتے ہیں:

سید احمد هندی

سید احمد بن محمد عرفان (حضرت امام حسن مجتبیٰ ں کی نسل سے) محرم۱۲۰۱ھ کے شروع میں شھر بریلی میں پیدا ہوئے، موصوف نے اپنی تعلیم لکھنو شھر میں شروع کی اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لئے دہلی پہونچے اور وہاں۱۲۲۲ھ تک شاہ عبد العزیز صوفی، شاہ ولی اللہ کے بڑے فرزند کے سامنے زانوئے ادب تہ کئے، کہا یہ جاتا ہے کہ سید احمد نے اپنے نظریات کو شاہ عبد العزیز سے حاصل کئے ہیں جن کی وجہ سے بعد میں بہت شھرت ہوئی۔

چند سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد سید احمد نے لوگوں کو وعظ ونصیحت کی خاطر چند دینی سفر کئے (جس میں اپنے نظریات اور افکار کی تبلیغ کی) سید احمد کے بعض نظریات عربی وہابیوں کے نظریات سے ملتے تھے کیونکہ یہ بھی انبیاء اورمرسلین کی یاد میں جلسہ ومجالس کو عبادتِ خداوندی کے خلاف مانتے تھے۔

سید احمد کے ساتھ سفر میں ان کے شاگردوں میں سب سے قریب دو افراد مانے جاتے تھے ان میں سے ایک ان کے بھتیجے مولوی محمد اسماعیل صاحب جنھوںنے کتاب ”صراط المستقیم“ (اردو) لکھی، چنانچہ یہ کتاب سید احمد کے پیروکاروں کے نزدیک بہت اہم کتاب ہے، ان میں سے دوسرے جناب مولوی عبد الحی ہیں جو عبد العزیز کے داماد تھے۔

سید احمد کی تبلیغ کا اثر تمام جگہوں پر ہونے لگا، اور ہزاروں مسلمان ان کی باتوں کے عاشق ہوگئے، اور خلیفہ حق اور مہدی منتظر کے عنوان سے ان کی بیعت ہونے لگی، مولوی عبد الاحد جنھوںنےسید احمد کی سیرت کے بارے میں ایک کتاب لکھی ہے، اس طرح کہتے ہیں : سید احمد کی تبلیغ کا یہ اثر تھا کہ تقریباً چالیس ہزار ہندو مسلمان ہوگئے ۔

سید احمد۱۲۳۲ھ میں حج کے لئے اپنے وطن سے نکلے اور راستہ میں چند مھینہ کلکتہ میں قیام کیا ان کا یہ سفر دو سال تک جاری رہا، واپسی پر انھوں نے یہ منصوبہ بنا لیا کہ پنجاب میں سکھوں اورہندووں کی حکومت کے خلاف اعلان جھاد کریں ،اور جس وقت کابل اور قندہار کے مسلمانوں نے ان کی مدد کا وعدہ کیا اور وہ مطمئن ہوگئے، تو انھوں نے۱۲۴۱ھ میں اپنے حملے کا آغاز کردیا، ان کے ساتھیوں کی تعداد دس یا گیارہ ہزار تھی جو ان کے ساتھ بھادرانہ طور پر جنگ کرتے تھے۔

سید احمد نے پشاور کے حدود پر بھی حملہ کیا، اور یہ حملے کئی سال تک جاری رہے، آخر کار۱۲۴۶ھ میں بالکوٹ کے علاقہ میں ایک سخت جنگ ہوئی اور سید احمد قتل کردئے گئے، اور ان کے اکثر سپاہی بھاگ نکلے۔(۷۵۲)

اس سلسلہ میں احمد امین صاحب کہتے ہیں کہ جب سید احمد حج کرنے کے لئے گئے تو وہاں پر انھوں نے محمد بن عبد الوہاب کے مذہب کو اختیار کرلیا، اور جب ہندوستان واپس لوٹے تو وہاں انھوں نے وہابیت کی تبلیغ شروع کردی، قبور کی زیارت، کسی کو شفیع قرار دینا وغیرہ کو حرام قرار دیا اور یہ اعلان کیا کہ ہندوستان دار الحرب ہے نہ کہ دار الاسلام، اور یہاں مسلمانوں پر جھاد واجب ہے۔

چنانچہ موصوف اور ان کے پیرو کار انگلینڈ کی حکومت (چونکہ اس وقت ہندوستان انگریزوں کے قبضہ میں تھا) سے مقابلہ کر بیٹھے، طرفین میں مزید دشمنی بڑھتی گئی، اور بہت سے مسلمان مارے گئے جس کا کوئی خاص نتیجہ بھی نہ نکلا۔(۷۵۳)

سید احمد کے بعد ان کے شاگرد کرامت علی ان کے جانشین ہوئے، اور کرامت علی صاحب نے نماز جمعہ کے واجب ہونے کا فتویٰ دیا، لیکن دیار مسلمین کو دار الحرب کا نام نہیں دیا۔(۷۵۴)

قارئین کرام!توجہ رہے کہ یہ سید احمد، مشہور ومعروف سر سید احمد خان کے علاوہ ہیں، یہ دونوں ہم عصر تھے اور دونوں ہندوستان کی آزادی کے لئے انگریزوں سے مقابلہ کررہے تھے، لیکن سر سید احمد خان کا نظریہ تھاکہ جنگ اور خونریزی کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہے، بلکہ وھی حربہ استعمال کیا جائے جو انگریزوں نے اپنا کر ہندوستان اور دوسرے علاقوں پر قبضہ کیا ہے، یعنی علم وصنعت اور ثقافتی ترقی کی جائے اور مدارس کھولے جائیں تاکہ تمام لوگ پڑھ لکھ کر ان کا مقابلہ کرسکےں، یھی سر سید احمد خان تھے جنھوںنے ہندوستان کی مشہور ومعروف” علی گڈھ مسلم یونیورسٹی “ کی بنیاد ڈالی ۔

مولوی اسماعیل دہلوی

خواجہ محمد حسن ہندی مولف کتاب الاصول الاربعة فی تردید الوہابیة (یہ کتاب فارسی میں ہے) کہتے ہیں کہ ہندوستان میں اس فرقہ (وہابیت ) کا سب سے پہلا استاد مولوی اسماعیل دہلوی تھے جو تقریباً ۱۲۵۰ھ میں رونما ہوئے، اور انھوں نے محمد بن عبد الوہاب کی کتاب توحید کو فارسی میں ترجمہ کیا جو ”تقویة الایمان“کے نام سے ہندوستان میں چھپ چکی ہے، اور اس کے بعد مسلمانوں کو بھڑکانے کے لئے کتاب صراط المستقیم اور دوسرے رسالے لکھے، ان کے شاگردوں کی فھرست میں عبد اللہ غزنوی، نذیر حسین دہلوی، صدیق حسن خان بھوپالی، رشید احمد گنگوھی اور مدرسہ دیوبند کے کچھ طلباء بھی ہیں جنھوںنے بہت سے مسلمانوں کو اس جال میں پھنسانے کے لئے بہت سی کتابیں اور رسالے لکھے۔

اس فرقہ نے دو طریقے اپنائے کچھ نے خود کو اہل سنت کہا اور کسی کی تقلید کرنے سے انکار کیا اور گذشتہ علماء، صالحین اور اولیاء کو مشرک اور بدعت گذار کہا۔

اورکچھ نے نفاق کے راستہ کو اپنایا اور اپنے کو پردہ حنفیت (ابو حنیفہ کے تابع) میں اپنے کو چھپا لیا، جو ظاہراً حنفی مذہب ہیں لیکن اعتقاد کے لحاظ سے پہلے والے فرقہ کے ہم آہنگ ہیں، کیونکہ اگر وہ بھی وہابیت کو قبول کرلیتے تو لوگوں کی نفرت کا شکار ہوجاتے، گویا انھوں نے اس مکر وحیلہ سے اپنے مقصود کو حاصل کرنے کے لئے یہ راستہ اختیار کیا، اور واقعاً یہ اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوگئے، لیکن اس فرقہ کا ضرر رساں ہونا مسلمانوں کے عقائد کو خراب کرنے اور مسلمانوں کو اسیر کرنے میں پہلے فرقے سے کہیں زیادہ رہا، اس بناپر ہماری اس کتاب کے مخاطب بھی اسی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔(۷۵۵)

نذیر حسین

نذیر حسین صاحب اسماعیل دہلوی کے شاگرد تھے کہ جنھوں نے بھی دہلی میں وہابیت کی علمبرداری کی، اور وہابیت کے عقائد کے سلسلہ میں فتوے دئے، محمد عبد الرحمن حنفی نے ”سیف الابرار“ نامی کتاب انھیں کے عقائد کی ردّ میں لکھی، جس کے بارے میں ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں، یہ کتاب نذیر حسین کے تقلید نہ کرنے کے فتوے کی ردّ میں لگھی گئی ہے۔

سید محمد سنوسی (شمالی آفریقہ میں )

سید محمد تقریباً ۱۸۰۰ء شھر” مستغانم“ (الجزائر) میں پیدا ہوئے، موصوف پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منسوب ایک اصیل خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔

موصوف کو بچپن ہی سے تعلیم کا بہت شوق تھا اور بڑے متقی اور پرہیزگار تھے، انھوں نے دینی علوم ” فاسی یونیورسٹی“(۷۵۶) میں حاصل کئے،اور اس کے بعد شمالی افریقہ واپس گئے اور بہت سے شھروں کا سفر کیا، اور وہ دینی امور کی اصلاح کے لئے تبلیغ کیاکرتے تھے، اس کے بعد حج کرنے کے لئے مکہ معظمہ گئے، اور اس سفر میں کافی عرصہ تک مکہ معظمہ میں رہے، اور وہابی اساتیذ سے اس مذہب کی تعلیمات حاصل کی اور ۱۸۴۳ء میں شمالی افریقہ واپس چلے گئے، اور ”طرابلس“ (لیبی) میں سکونت اختیار کی، اور وہاں وہابیت کی تبلیغ میں مشغول ہوگئے چنانچہ وہاں کے لوگ بھی دستہ دستہ ان کے پاس آتے تھے، اس وقت طرابلس عثمانیوں کے ماتحت تھا اسی لئے عثمانی حکام، سید محمد کے نفوذ سے خوف ز دہ تھے، رفتہ رفتہ ان دونوں کے درمیان تعلقات خراب ہونے لگے، جس کی بنا پر سید محمد لیبی کے جنوبی صحرائی علاقہ ”واحہ جغبوب“ پہونچ گئے۔

اور آخر کار موصوف ۱۸۵۹ء میں اس دنیا سے چل بسے،جبکہ ان کا یہ مذہب شمالی افریقہ کے بعض اہم علاقوںمیں پھیل چکا تھا، اس کے بعد ان کا بیٹا سید مہدی اپنے باپ کا جانشین ہوا اور باپ کی سیرت پر چلتے ہوئے وہابیت کی تبلیغ میں مشغول ہوگیا۔(۷۵۷)

یہ تھا امریکن رائٹر ”لوتروپ ستوادارد“ کی تحریر کا خلاصہ، اس کے بعد شکیب ارسلان صاحب اس کتاب کے حاشیہ میں کہتے ہیں کہ ”سنوسیوں“ کی یورپیوں سے دشمنی ”اویش“(۷۵۸) کے دوسرے فرقوں سے زیادہ سخت ہے، ان کا نعرہ کفار سے جھاد اور ان کے مقابلہ میں مسلمانوں کو جمع کرنا ہے، سیدی(۷۵۹) محمد علی جو طریقہ سنوسی کے مذہبی رہبر ہیں اپنے فقھی نظریات میں مستقل ہیں اور کسی بھی مذاہب اربعہ کے مقید نہیں ہیں، (لیکن حاشیہ میں یہ وضاحت کی گئی کہ مولف (یعنی شکیب ارسلان) نے سیدی احمد شریف (سیدی محمدبن علی کے پوتے اور خلیفہ)سے اس مسئلہ کی واقعیت کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے دادا سلف صالح (جس طرح سے وہابی لوگ کہتے ہیں) کے تابع تھے بھر حال سید محمد ۱۸۳۹ء میں جب جامع الازھر گئے تو وہاں کے ایک استاد نے ان کو استقلال فکر سے روکا، اور فتویٰ دیا کہ یہ بات شریعت کے خلاف ہے، اسی طرح یہ شبہ بھی پیدا ہوگیا تھا کہ وہ مکہ میں وہابیوں کی صحبت میں رہ کر ان کے اصول کی طرف مائل ہوگئے تھے، (اگرچہ حاشیہ میں کہا گیا ہے کہ سنوسی اس بات کو نہیں مانتے)۔

سید محمد نے پہلے سید احمد بن ادریس فاسی (شیخ قادریہ) سے اتفاق کیا لیکن ان کے انتقال کے بعد اپنا ایک نیا مذہب بنالیا، اور ۱۸۵۵ء میں اپنے مرکز کو ”جغبوب“ میں قرار دیا، آہستہ آہستہ یہ شھر مبشرین اسلام کا سب بڑا مدرسہ بن گیا، اور سنوسیوں کی تعداد (ساٹھ ستر سال پہلے) تقریباً چالیس لاکھ بتائی جاتی تھی، افریقی قبیلوں میں سنوسیوں کے اسلام پھیلانے کا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ چھوٹے سیاہ فام غلاموں کو خریدکر اپنے مدرسہ میں لے جاتے تھے اور وہاں پر ان کی تعلیم وتربیت ہوتی تھی، اور جب وہ کافی بڑے ہوجاتے تھے اور تعلیم و تربیت حاصل کرلیا کرتے تھے تو ان کو آزاد کردیا کرتے تھے تاکہ اپنے قبیلوں میں جاکر لوگوں کی ہدایت کریں، چنانچہ اس مدرسہ سے ہر سال سیکڑوں کی تعداد میں مبلغ نکلتے تھے اور پورے افریقہ میں سومالی سواحل سے لے کر سنگالی سواحل تک یعنی شمال سے غرب افریقہ تک یہ لوگ پھیل جایا کرتے تھے، اور وہاں پر تبلیغی مشن کو آگے بڑھاتے تھے۔

سید محمد اور اس کے جانشین افراد کا اصلی ہدف اور مقصد یہ تھا کہ اگر ہم نے افریقہ میں اسلام پھیلادیا تو پھر انگریزوں کے نفوذ کو ختم کرسکتے ہیں۔(۷۶۰)

قارئین کرام!یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سید محمد سنوسی صاحب وہابی مذہب پھیلارہے تھے یا ایک مستقل مذہب کی تبلیغ کیا کرتے تھے، شواہد اور بہت سے قرائن موجود ہیں کہ وہ اپنے مخصوص مذہب کی تبلیغ کیا کرتے تھے، وہابی مذہب کی تبلیغ نہیں کیا کرتے تھے۔

وہابیت سوڈان میں

سب سے پہلے جو شخص وہابیت کے تحث تاثیر واقع ہوا، اور نجد وحجاز سے باہر اس کی تبلیغ میں قدم اٹھایا ہے وہ ”شیخ عثمان دان فودیو“ مغربی سوڈان کے ”فولا“ (یا فلالی) قبیلہ سے ہیں، چونکہ جب وہ حج کے لئے مکہ معظمہ پہونچے تو وہابیوں کے مذہب سے متاثر ہوئے اور پھر ان سے تعلیم حاصل کرکے اپنے وطن واپس لوٹے اور وہابیت کی تبلیغ شروع کردی، چنانچہ سوڈان میں موجود رسم ورواج جو ان کی نظر میں بدعت دکھادئے ان سب سے مقابلہ کرنا شروع کردیا۔

شیخ عثمان نے اپنے دینی تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے قبیلے کے متفرق افراد کو ایک فلیٹ فارم پر جمع کرلیا اور ان کی مدد سے وہاں کے بت پرست قبیلوں سے جنگ کرنا شروع کردی، ۱۸۰۴ء سے ان کے درمیان جنگوں کاسلسلہ شروع ہوگیااور ۱۸۰۶ء سے پہلے پہلے انھوں نے سوڈان میں ”سوکوتورا“ نامی علاقہ پر اپنی مستقل حکومت تشکیل دی جو وہابی بنیادوں پر قائم تھی اور اس حکومت کا دائرہ ”تمبکتو“ اور دریائے ”چاد“ تک پھیلا ہوا تھا، یہ حکومت ایک صدی تک قائم رہی، لیکن اس کے بعد انگریزوں نے اس پر حملے کرکے اپنے قبضے میں لے لیا۔(۷۶۱)

شیخ عثمان کا ایک نظریہ یہ بھی تھا کہ میت پر دردو اور سلام بھیجنا یا ان اولیاء کی یادگار منانا جو اس دنیا سے گذر چکے ہیں جائز نہیں ہے، اسی طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اپنی زبان سے کی ہوئی تمجید وتعریف کے منکر تھے۔(۷۶۲)

وہابیت ، سوماترا میں

سوماترا سے ۱۸۰۳ء میں تین افراد حج کے لئے گئے اور مدینہ میں قیام کیا اور وہابیوں کے بہت زیادہ تحت تاثیر واقع ہوگئے،اور جب اپنے وطن واپس ہوئے تو وہاں وہابیت کی تبلیغ کرنے لگے،اوران کے نظریہ توحید کوپھیلانا شروع کیا،اور اس سلسلہ میں بہت زیادہ شدت عمل سے کام لیا۔

ان لوگوں نے اولیاء اللہ سے توسل کو حرام قرار دیدیا، نیز شراب خوری، قمار بازی اورقرآن مجید کے دیگر مخالف کاموں سے روکا۔(۷۶۳)

اس زمانہ میں مذہب وہابیت کے ماننے والوں اور غیر مسلموں میں کافی جنگ وجدال ہوئی،۱۸۲۱ء میں ھالینڈ نے (جو انگریزوں کے قبضہ میں تھا) وہاں کے وہابی مسلمانوں سے جنگ کرنا شروع کردی، چنانچہ یہ سلسلہ تقریباً سولہ سال تک جاری رہا، آخر کار ھالینڈ وہابیوں پر غالب آگیا۔(۷۶۴)

وہابیت ،مصر میں

مصر کے شیخ محمد عبدہ وہابیوں کی دو چیزوں پر عقیدہ رکھتے تھے :

ایک بدعتوں سے مقابلہ کرنا دوسرے جھاد کا دروازہ کھلا رہنے کا عقیدہ رکھنا، وہ رواق عباسی جامع الازھر(۷۶۵) میں تفسیر کا درس کہتے تھے، اس موقع سے انھوں نے فائدہ اٹھایا اور پرستش صالحین (یعنی اولیاء اللہ کی یاد گار منانے)، زیارت قبور، شفاعت اورتوسل وغیرہ کے بارے میں کافی کچھ کہا،اسی طرح پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یوم ولادت کے موقع پر جشن منانے کو ممنوع قرار دیا، اور کہا کہ اس جشن کے خرچ کو فقراء کی تعلیم پر خرچ کیا جائے۔

موصوف نے سورہ ”عمّ یتسائلون“ کی تفسیر میں ان تمام ممنوعہ چیزوں کو بیان کیا ہے۔

شیخ محمد عبدہ اور وہابیوں کے دوسرے طرفداروں میں ایک اہم فرق یہ تھا کہ موصوف دین اور دنیا کے بارے میں بہت زیادہ معلومات رکھتے تھے،دنیا بھر کے حالات اور اس کے نشیب وفراز سے آگاہ تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ موصوف فرانس کے کلچر سے کافی اطلاع رکھتے تھے اور یورپ کے متعدد سفر بھی کئے تھے، نیز علمائے فلاسفہ اور مغربی سیاستمداروں کے ساتھ ملاقات رکھتے تھے، اور اسی وجہ سے انھوں نے یہ طے کیا کہ محمد بن عبد الوہاب کی دعوت کو نفسیاتی اور معاشرہ شناسی کے تحت پیش کیا جائے۔ اس سلسلہ میں شیخ محمد عبدہ کی ان کے شاگرد سید محمد رشید رضا نے مدد کی اور ان کے عقائد اور نظریات ”المنار“ نامی مجلہ میں نشر کئے اور عالم اسلام تک پہونچائے۔(۷۶۶)

وہابیت مراکش میں

مراکش میں شیخ ابو العباس تیجانی نے بھی محمد بن عبد الوہاب کی طرح لوگوں کو اس طرح کی بدعتوں اور قبروں کی زیارت سے روکا، چنانچہ بہت سے لوگوں نے اس کی پیروی کی، لیکن وہ اپنی اس دعوت میں کامیاب نہ ہوسکے۔(۷۶۷)


مدارک کتاب

آل شیخ : شیخ عبد الرحمن بن حسن، محمد بن عبد الوہاب کا پوتہ، متوفی۱۲۸۵ھ۔

۱۔ فتح المجید فی شرح کتاب التوحید محمد بن عبد الوہاب، طبع مکہ معظمہ، مکتبہ سلفیہ، پانچواں ایڈیشن۔

۲۔ رسالہ شرح حال جدّ وآغاز دعوت وہابیت ، اس رسالہ کا متن تاریخ ابن بشر ج۲ ص(۲۳)تا(۲۶)پر بھی موجود ہے۔

آلوسی: سید محمود، متوفی ۱۲۷۰ھ ۔

تاریخ نجد، طبع مصر۱۳۴۷ھ۔

آنٹونیوس: (جرج) متوفی ۱۹۴۲ء۔

قظة العرب، طبع بیروت، ۱۹۶۹ء، تیسرا ایڈیشن۔

ابن اثیر : علی بن محمد شیبانی جزری، متوفی ۶۳۰ھ۔

الکامل، طبع مصر، ۱۳۵۶ھ، ناشر منیریہ۔

ابن الاثیر : مبارک بن محمد جزری، متوفی۶۰۶ھ۔

النھایہ، طبع مصر دار احیاء الکتب العربیہ۔

ابن ایاس: محمد بن احمد بن ایاس، متوفی ۹۳۰ھ۔

۱۔ بدایع الزہور فی وقایع الدہور، طبع قاہرہ، ۱۹۶۱ء۔

۲۔ المختار من بدایع الزہور، طبع بیروت،۱۹۶۰ء۔

ابن بشر: عثمان بن بشر نجدی، متوفی ۱۲۸۸ھ۔

عنوان المجد فی تاریخ نجد، طبع ریاض، مطبعة الیوسفیہ۔

ابن بطوطة: محمد بن عبد اللہ طنجی، متوفی۷۷۹ھ۔

تحفة النظار معروف بہ رحلة ابن بطوطہ، طبع مصر۱۹۳۸ء۔

ابن تیمیہ: احمد بن عبد الحلیم حرانی، متوفی۷۲۸ھ۔

۱۔ الایمان، طبع بیروت۔

۲۔ الجواب الباہر فی زوار المقابر، طبع مصر، مطبعہ سلفیہ۔

۳۔ الراعی والرعیة، طبع مصر۔

۴۔ کتاب الرد علی الاخنائی، طبع مصر مطبعہ سلفیہ۔

۵۔ رفع الملام عن ائمة الاسلام، طبع بیروت۔

۶۔ السیاسیة الشرعیہ فی اصلاح الراعی والرعیة، طبع مصر، دار الکتاب العربی۔

۷۔ العبودیة، طبع بیروت۔

۸۔ الفتاوی الکبری، دار المعرفة، طبع بیروت۔

۹۔ مجموعة الرسائل الکبریٰ، طبع بیروت،۱۹۷۲ء، دوسرا ایڈیشن۔

۱۰۔ منھاج السنة النبویہ، طبع قاہرہ، مکتبہ دار المعروبہ۔

ابن جبیر: محمد بن احمد بن جبیر اندلسی، متوفی۶۱۴ھ۔

رحلة ابن جبیر، طبع بغداد ،۳۱۵۶ھ ق

ابن الجوزی: عبد الرحمن بن علی بن الجوزی متوفی۵۹۷ھ۔

المنتظم فی تاریخ الامم، طبع حیدر آباد دکن، ۱۳۵۸ھ۔

ابن حجر: احمد بن علی عسقلانی، متوفی۸۵۲ھ۔

الدرر الکامنة فی اعیان الماة الثامنہ، دار الکتب الحدیثہ، طبع مصر۔

ابن حنبل: احمد بن محمد بن حنبل شیبانی مروزی، متوفی ۲۴۱ھ۔

مسند احمد بن حنبل، طبع مصر، مطبعہ میمنیہ، ۱۳۱۳ھ۔

ابن خلکان: احمد بن محمد، متوفی۶۸۱ھ۔

وفیات الاعیان وانباء ابناء الزمان، طبع مصر، با تصحیح مُحییّ الدین عبد الحمید۔

ابن السویدی: عبد الرحمن بن عبد اللہ السویدی، متوفی ۱۸۰۵ء۔

تاریخ بغداد، یا حدیقة الزوراء فی سیرة الوزراء، بحثی در تاریخ عراق در نیمہ قرن ۱۸، طبع بغداد،۱۹۶۲ء۔

ابن شاکر: محمد بن شاکر حلبی دمشقی ملقب بہ صلاح الدین، متوفی۷۶۴ھ۔

فوات الوفیات، جو وفیات الاعیان ابن خلکان کے خاتمہ میں موجود ہے، با تصحیح و تحقیق مُحییّ الدین عبد الحمید، طبع مصر۔

ابن طولون: شمس الدین محمد صالحی دمشقی حنفی متوفی۹۵۳ھ۔

۱۔ مفاکہة الخلان فی حوادث الزمان، نویں اور دسویں صدی کی مصر اور شام کی تاریخ، طبع قاہرہ، دار الاحیاء الکتب العربیہ ،۱۹۶۲ء۔

۲۔ اعلام الوریٰ، بمن ولیّ نائباً من الاتراک بدمشق الشام الکبریٰ، طبع دمشق، ۱۹۶۴ء۔

ابن عبد البرّ: یوسف بن عبد اللہ بن محمد بن عبد البرّ، متوفی ۴۶۳ھ۔

الاستیعاب فی اسماء الاصحاب، طبع مصر، المکتبة التجاریہ۔

ابن عماد : عبد الحيّ بن عماد الحنبلی، متوفی ۱۰۸۹ء۔

شذرات الذھب فی اخبار من ذھب، بیروت آفسیٹ، المکتبہ التجاری للطباعة والنشر۔

ابن قیم الجوزیہ: محمد بن ابی بکر دمشقی حنبلی،۷۵۱ھ ،ابن تیمیہ کے خاص شاگرد۔

۱۔ اعلام الموقعین، طبع مصر، مطبعہ سعادت، ۱۳۷۴ھ۔

۲۔ الکافیة الشافیة فی الانتصار للفرقة الناجیة، ابن تیمیہ اور خود اپنے اعتقاد اور نظریات کے بارے میں چار ہزار سے بھی زیادہ اشعار کا مجموعہ، ہمراہ با شرح قصیدہ بنام توضیح المقاصد،طبع بیروت، ۱۳۹۲ھ،

ابن کثیر: ابو الفداء اسماعیل بن عمر بن کثیر دمشقی، متوفی ۷۷۴ھ۔

البدایة والنھایة، طبع بیروت ۱۹۶۶ء۔

ابن ماکولا: علی بن ھبة اللہ عجلی ملقب بہ سعد الملک، متوفی۴۷۵ھ۔

الاکمال فی الموتلف والمختلف فی اسماء الرجال، طبع حیدر آباد دکن، ۱۳۸۱ھ۔

ابن ماجہ: محمد بن یزید قزوینی، متوفی۲۷۳ھ۔

سنن ابن ماجہ، (صحاح ستہ میں سے ایک) طبع مصر، دار احیاء الکتب العربیہ۔

ابن الندیم:محمد بن اسحاق (کاتب بغدادی) متوفی ۳۸۵ھ۔

الفھرست، طبع مصر ،۱۳۴۸ھ۔

ابن ہشام: عبد الملک بن ہشام الحمیری، متوفی۲۱۳ھ۔

سیرة النبی (ص) با تصحیح محمد محی الدین، طبع مصر ۔

ابن الوردی: عمر بن مظفر وردی بن عمر شافعی متوفی۷۴۹ھ۔

تاریخ ابن الوردی، مختصر تاریخ ابو الفداء وذیلی بر آن، طبع نجف اشرف،۱۹۶۹ء، مطبعة الحیدریة۔

ابو زھرہ : (محمد) معاصر۔

۱۔ ابن تیمیہ حیاتہ وعصرہ وآرا ئہ وفقہہ، طبع بیروت، دار الفکر۔

۲۔ المذاہب الاسلامیہ، طبع مصر، مکتبة الادب۔

ابو حامد بن مرزوق: التوسل بالنبی (ص) وجھلة الوہابین، طبع استامبول، ۱۳۹۶ھ۔

ابو طالب خان اصفھانی: فتح علی شاہ کے زمانہ میں ایرانی سیاح۔

مسیر طالبی، یا سفر نامہ میرزا ابو طالب، تالیف۱۲۱۹ھ، طبع تھران۱۳۵۲ھ ش،چاپ اول۔

ابو داؤد: سلیمان بن اشعث بن اسحاق سجستانی، متوفی۲۷۲ھ۔

سنن ابی داود، (صحاح ستہ سے) با حواشی وتعلیقات بعنوان عون المعبود، طبع ہندوستان، ۱۳۲۳ھ۔

ابو الفداء: عماد الدین، اسماعیل بن علی شافعی ایوبی، متوفی۷۳۲ھ۔

کتاب المختصر فی اخبار البشر معروف بہ تاریخ ابو الفداء، طبع بیروت دار المکتبة اللبنانیہ۔

ابو المحاسن: یوسف بن تغری بردی مصری، متوفی۸۷۴ھ۔

النجوم الزاہرة فی اخبار مصر والقاہرہ، طبع مصر دار الکتب۔

احمد بن ابراہیم: (علماء حنبلی میں سے)

توضیح المقاصد، در شرح قصیدہ ابن قیم بنام الکافیة الشافیہ، طبع بیروت، ۱۳۹۲ھ۔

احمد امین :(معاصر)

زعماء الاصلاح فی العصر الحدیث، طبع بیروت۔

ازرقی : ابو ا لولید محمد بن عبد اللہ، متوفی تیسری صدی ہجری کے درمیان میں ۔

اخبار مکہ، طبع مکہ معظمہ،۱۹۶۵ھ۔

اشعری: ابو الحسن علی بن اسماعیل ،متوفی ۳۲۴ھ۔

مقالات الاسلامیین، تصحیح وتحقیق محمدمحیی الدین، طبع مصر۔

اعتماد السلطنة: محمد حسن خان قارجاریہ زمانہ کے مورخ۔

منتظم ناصری، طبع تھران، چاپ سنگی۔

امین الریحانی: سوریہ کے ایک عیسائی مورخ، (تقریباً ستر سال قبل)

ملوک العرب، طبع مصر،۱۹۲۴ء۔

امین سعید : معاصر۔

الثورة العربیة الکبریٰ، طبع مصر۔

امین عاملی: علامہ حاج سید محسن، متوفی۱۳۷۱ھ ق۔

کشف الارتیاب عن عقائد محمد بن عبد الوہاب، طبع دمشق،۱۳۴۷ھ۔

امین الممیز:(الحاج)،ملک سعود کے زمانہ میں سعودی عرب میں عراق کا سفیر، (معاصر)

المملکة العربیة السعودیہ کما عرفتھا، طبع بیروت، دار الکتب، ۱۹۶۳ء۔

امین محمد سعید: معاصر۔

ملوک المسلمین المعاصرون ودولہم ، طبع مصر، ۱۹۳۳ء۔

امینی : علامہ حاج شیخ عبد الحسین تبریزی، متوفی ۱۳۹۰ھ۔

۱۔ الغدیر، طبع بیروت ،۱۳۸۷ھ

۲۔ سیرتنا وسنتنا، طبع نجف، ۱۳۸۴ھ۔

باسلامہ: حسین عبد اللہ (معاصر) متوفی۱۳۶۴ھ۔

تاریخ الکعبة المعظمہ، طبع مصر ۱۳۸۴ھ۔

بخاری: محمد بن اسماعیل، متوفی۲۵۳ھ۔

صحیح بخاری، طبع مصر، مطبوعات محمد علی صبیح۔

بلنٹ: ایک انگریز خاتون، جس نے ۱۸۷۹ء میں اپنے شوھر ویل فریڈ کے ساتھ حجاز کا سفر کیا ہے۔

سفر نامہ، جس کا ایک حصہ ”رحلة الی بلاد نجد“ عربی میں ترجمہ ہوکر چھپ چکا ہے، انتشارات دار الیمامہ، ریاض۱۹۶۷ء۔

بیطار: شیخ محمد بہجة۔

حیاة شیخ الاسلام ابن تیمیہ، طبع لبنان، ۱۳۹۲ھ۔

ترمذی: محمد بن عیسیٰ متوفی۲۷۹ھ۔

سنن یا جامع ترمذی (جس کا شمارصحاح ستہ میں ہوتا ہے) شرح احوذی کے ساتھ، طبع ہندوستان،۱۳۴۳ھ۔

تنوخی: (قاضی) محسن بن علی متوفی۳۸۴ھ۔

نشوار المحاضرة، طبع بیروت، ۱۳۹۱ھ۔

تھرانی: علامہ شیخ آقا بزرگ، طبقات اعلام الشیعہ ق،(۲)جلد اول، دار الکتاب عربی۔

جاحظ: عمرو بن بحر بصری، متوفی ۲۵۵ھ۔

العثمانیہ، طبع مصر، مکتبة الجاحظ۔

جبرتی: شیخ عبد الرحمن بن حسن حنفی، متوفی ۱۲۳۷ھ۔

۱۔ عجائب الآثار فی التراجم والاخبار معروف بہ تاریخ جبرتی، طبع بیروت، دار الفارس۔

۲۔ المختار من تاریخ الجبرتی، طبع مصر، ۱۹۵۸ء۔

جمعی از خاورشناسان:(مشرق زمین کے ماہرین کا گروہ)

دائرة المعارف الاسلامی، ترجمہ عربی، طبع مصر۔

جوینی: امام الحرمین، عبد الملک بن عبد اللہ شافعی، متوفی۴۷۸ھ۔

لمع الادلة فی عقائد اہل السنة والجماعة، طبع مصر۱۳۸۵ھ۔

چند تن از خاورشناسان:(مشرقی زمین کے ماہرین)

دراسات الاسلامیہ، ترجمہ عربی، طبع مصر۔

حافظ وھبہ: سعودی عرب کی علمی اور سیاسی شخصیت، (معاصر)

جزیرة العرب فی القرن العشرین، طبع مصر، ۱۳۵۴ھ۔

خلیلی: جعفر،(معاصر)

۱۔ موسوعة العتبات المقدسہ، قسمت کربلا، طبع نجف اشرف،۱۹۶۶ء۔

۲۔ موسوعة العتبات المقدسہ جلد ایک قسمت نجف اشرف، طبع نجف اشرف، ۱۹۶۶ء۔

خواجہ محمد حسن جان صاحب سرہندی۔

الاصول الاربعة فی تردید وہابیہ، طبع استانبول، ۱۹۷۶ء۔

خونساری: سید محمد باقر، متوفی ۱۳۱۳ھ۔

روضات الجنات فی احوال العلماء والسادات، طبع قم، ۱۳۹۰ھ۔

داود بن سلیمان بغدادی:

المنحة الوھبیة فی رد الوہابیة، طبع استانبول، تیسرا ایڈیشن۔

دفتر دار ومزعبی، ھاشم ومحمد علی (معاصر)۔

الاسلام بین السنة والشیعہ، طبع بیروت، ۱۳۶۹ھ۔

دنبلی: میرزا عبد الرزاق، فتح علی شاہ کے زمانہ کے مشہور ومعروف مولف ۔

مآثر سلطانیہ، طبع تبریز، ۱۲۴۱ھ۔

دواداری: ابو بکر بن عبد اللہ، آٹھویں صدی ہجری کے مورخ۔

کنز الدرر وجامع الغرر، طبع قاہرہ، تحقیق صلاح الدین المنجد،۱۳۸۰ھ۔

دیار بکری: حسین بن محمد مالکی، قاضی مکہ معظمہ، متوفی نیمہ دوم دسویں صدی ہجری۔

تاریخ الخمیس فی احوال انفس نفیس، طبع مصر ۱۲۸۳ھ، مطبعہ وھبیہ۔

ذھبی: محمد احمد بن عثمان بن قایماز ترکمانی، متوفی۷۴۸ھ۔

۱۔ دول الا سلام حید ر آباد دکن، ۱۳۶۴ھ۔

۲۔ العبر فی خبر من غبر، طبع کویت، پہلا ایڈیشن۔

۳۔ ذیل العبر، طبع کویت، پہلا ایڈیشن۔

راوندی: محمد بن علی، سلجوقی زمانہ کے مولف۔

راحة الصدور وآیة السرور فی تاریخ آل سلجوق، طبع لِیڈن، (ھلینڈ)

رشید رضا: سید۔

رحلات بیروت، ۱۹۷۱ء۔

رفاعی : سید ابراہیم، معاصر۔

رسالة الاوراق البغدادیہ فی الحوادث النجدیہ، مطبعہ نجاح، بغداد۔

رفعت پاشا: امیر الحجاجِ المصری ،۱۳۲۰ھ۔ ۱۳۲۱ھ۔ ۱۳۲۵ھ۔ میں ۔

مرآة الحرمین، طبع مصر، ۱۳۴۴ھ۔

روملو، حسن بیک: صفویہ زمانہ کے شروع کے مورخ۔

احسن التواریخ، (جلد ۱۲)، طبع تھران، ۱۳۴۹ھ ش۔

زکی :ڈاکٹر عبد الرحمن(معاصر)

المسلمون فی العالم، طبع قاہرہ، ۱۹۵۸ء۔

زھاوی: جمیل افندی صدقی۔

الفجر الصادق فی الردّ علی منکری التوسلِ والخوارق، طبع مصر، ۱۳۲۳ھ۔

زینی دحلان: احمد مکی شافعی، شیخ الاسلام ومفتی مکہ، متوفی ۱۳۰۴ھ۔

۱۔ الفتوحات الاسلامیہ، طبع مصر، ۱۳۵۴ھ۔

۲۔ فتنة الوہابیہ، طبع استانبول، ۱۳۹۶ھ۔

۳۔ الدرر السنیة فی الردّ علی الوہابیة، طبع استانبول، ۱۳۹۶ھ۔

سباعی: شیخ احمد (معاصر)

تاریخ مکہ، طبع مصر، ۱۳۸۰ھ۔

سُبکی: تاج الدین، متوفی۷۷۱ھ۔

طبقات الشافعیة الکبریٰ، طبع مصر، پہلا ایڈیشن، مطبوعہ عیسی البابی الحلبی۔

سُبکی: (تقی الدین)۔

شفاء السقام فی زیارة خیر الانام، طبع استانبول، ۱۳۹۶ھ۔

سپھر: میرزا محمد تقی لسان الملک کاشانی، قاجاریہ دور کے مورخ۔

ناسخ التواریخ، قاجاریہ سے متعلق جلد، چاپ اسلامیہ تھران، ۱۳۴۴ھ۔ ش۔

سخاوی: محمد بن عبد الرحمن شافعی، متوفی۹۰۲ھ۔

تحفة الاحباب وبغیة الطلاب فی الخطط والمزارات، طبع مصر، ۱۳۵۶ھ ۔

سرٹوماس، و، آرنولڈ۔

الدعوة الی الاسلام، ترجمہ عربی طبع مصر، ۱۹۵۷ء۔

سلیمان بن عبد الوہاب: شیخ۔

الصواعق الالہٰیہ فی الرد علی الوہابیة، دوسرا ایڈیشن، طبع استانبول، ۱۳۹۶ھ۔

سلیمان فائق بک: عثمانی مولف، متوفی۱۸۹۶ء۔

تاریخ بغداد (ترکی اسلامبولی) ترجمہ عربی، طبع بغداد، ۱۹۶۲ء۔

سمعانی: عبد الکریم بن ابی بکر تمیمی شافعی، متوفی ۵۶۲ھ۔

الانساب لندن، نسخہ عکسی مرگلیوث۔

سمہودی: نورالدین علی بن عبد اللہ حسینی شافعی، متوفی ۹۱۱ھ۔

وفاء الوفاء بہ اخبار دار المصطفیٰ، طبع مصر، ۱۳۲۶ھ۔ وچاپ ۱۳۷۴ھ۔

سنٹ جَون فیلبی: (عبد اللہ)

تاریخ نجد ودعوة الشیخ محمد بن عبد الوہاب، ترجمہ عربی، طبع بیروت منشورات مکتبة الاہلیہ۔

سیوطی: جلال الدین عبد الرحمن ابی بکر شافعی، متوفی(۹۱۰)ھ۔

۱۔ تاریخ الخلفاء، طبع مصر، ۱۳۵۱ھ۔

۲۔ الخصائص الکبریٰ، طبع مصر، دار الکتب الحدیثة۔

شاہ طہم اسب صفوی: صفویہ زمانہ کے مشہور ومعروف بادشاہ۔

تذکرة برلن۔

شافعی: محمد بن ادریس، شافعی مذہب کے پیشوا اور امام، متوفی ۲۰۴ھ۔

کتاب” الام“، طبع بیروت، دار المعرفة۔

شاہ فضل رسول،قادری۔

سیف الجبار المسلول علی اعداء الابرار، طبع اسلامبول، ۱۳۹۵ھ۔

شلتوت: محمود، جامع الازھر کے سابق صدر، (معاصر)

الاسلام عقیدة وشریعة، طبع قاہرہ، دار القلم۔

شوشتری: سید عبد اللطیف، قاجاریہ زمانہ کے مورخ۔

ذیل تحفة العالم (ذیل التحفة)، طبع بمبی

شوکانی: محمد بن علی یمنی صنعانی، متوفی ۱۲۵۰ھ۔

۱۔ ارشاد الفحول الی تحقیق الحق من الاصول، طبع مصر، ۱۳۵۶ھ۔

۲۔ البدر الطالع، طبع مصر، ۱۳۴۸ھ۔

۳۔ نیل الاوطار من احادیث سید الاخیار، شرح منتقی الاخبار، طبع بیروت، ۱۹۷۳ء۔

شیروانی: حاج زین العابدین متخلص بہ تمکین، فتح علی شاہ کے معاصر۔

۱۔ بستان السیاحة، طبع تھران، پہلا ایڈیشن۔

۲۔ حدائق السیاحة، طبع تھران، ۱۳۴۸ھ،ش۔

صفدی: صلاح الدین، خلیل بن ایبک شافعی، متوفی۷۶۴ھ۔

الوافی بالوفیات، طبع بیروت، ۱۹۶۹ھ، پیش کش جماعتِ ماہرین علم ودانش۔

صلاح الدین مختار : (معاصر)

تاریخ المملکة العربیة السعودیہ، طبع بیروت، ۱۳۹۰ھ۔

طبری: محمد بن جریر آملی، متوفی ۳۱۰ھ۔

تاریخ الرسل والملوک، معروف بہ تاریخ طبری، طبع لیڈن، (ھلینڈ)

ظاہر شاہ، ابن عبد العظیم:

ضیاء الصدور لمنکر التوسل باہل القبور، طبع استانبول۔

عاملی: علامہ سید محمد جواد غروی، متوفی ۱۲۲۶ھ۔

مفتاح الکرامة فی شرح قواعد العلامة، طبع مصر، پہلا ایڈیشن۔

عباسی: شیخ احمد دسویں صدی ہجری،کے علماء میں سے ایک۔

عمدة الاخبار، طبع مصر، مکتبة التجاریہ۔

عباس محمود العقاد: (معاصر)

الاسلام فی القرن العشرین، طبع بیروت،۱۹۶۹ء۔

عبد الرزاق حسنی: سید، عراقی عالم۔

۱۔ تاریخ الوزارات العراقیہ، طبع لبنان، تیسرا ایڈیشن،۱۳۸۵ھ۔

۲۔ العراق قدیماً وحدیثاً، طبع بیروت، ۱۳۹۱ھ۔ چوتھا ایڈیشن۔

عبد القاہر بغدادی: ابو منصور شافعی، متوفی۴۲۹ھ۔

الفرق بین الفِرق، با تصحیح محمد محیی الدین عبد الحمید، طبع مصر۔

عبد العزیز المحمد السلمان:

الاسئلة والاجوبة علی العقیدة الواسطیہ، (عقیدة الواسطیہ سے مراد ابن تیمیہ کے عقائد ہیں)، طبع کویت،۱۳۹۰ھ۔

علامہ حلّی: حسن بن المطھر، ساتویں اورآٹھویں صدی ہجری کے بزرگ شیعہ عالم دین، متوفی۷۲۶ھ۔

۱۔ منھاج الکرامة، اس کتاب کی پوری عبارت ابن تیمیہ کی کتاب منھاج السنة کی پہلی جلد میں (طبع تھران کے مطابق) بیان کی گئی ہے، طبع قاہرہ، ۱۳۸۴ھ۔ ۔

۲۔ شرح تجرید الاعتقاد خواجہ نصیر الدین طوسی، طبع قم۔

فاسی: تقی الدین محمد بن احمد حسینی مکی، متوفی۸۳۲ھ۔

شفاء الغرام باخبار البلد الحرام، طبع مصر، ۱۹۵۶ء۔

فراہانی: سید حسین، ناصر الدین شاہ کے ہم عصر۔

سفر نامہ حج، طبع تھران، ۱۳۴۲ھ ش۔

فرہاد میرزا: (حاج) زمانہ قاجاریہ کے شہزادے۔

سفر نامہ حج، بنام ہدایة السبیل، طبع تھران، ۱۲۹۴ھ۔

فریدی وجدی: (معاصر)

دائرة المعارف القرن العشرین، طبع مصر، دوسرا ایڈیشن۔

فلیب حتی:

تاریخ عرب ترجمہ فارسی ابوالقاسم پایندہ، طبع تبریز، ایران۔

قادری: عامر، مدارج السنیة فی ردّ علی الوہابیة (اردو زبان میں ) باترجمہ عربی، طبع کراچی، پاکستان،۱۹۷۶ء۔

قلقشندی: احمد بن علی، شھاب الدین شافعی، متوفی۸۲۱ھ۔

صبح الاعشیٰ فی صناعة الانشاء، طبع مصر، چاپ عکسی از طبع امیری۔

کحالہ، عمر رضا: (معاصر)

جغرافیة شبہ جزیرة العرب، طبع مصر، دوسرا ایڈیشن، ۱۳۸۴ھ۔

کرد علی : محمد۔

خطط الشام، طبع بیروت، ۱۹۷۰ء۔

کردی: (محمد طاہر مکی شافعی) معاصر۔

التاریخ القویم لمکة وبیت اللہ الکریم، طبع بیروت، ۱۳۸۵ھ۔

کرکو کل لی: شیخ رسول، متوفی۱۲۴۰ھ۔

دوحة الوزراء، (اسلامبولی ترکی زبان میں ) مترجم عربی نورس، طبع بیروت، مطبعہ کرم۔

کلیددار:

تاریخ کربلا وحائر حسین ں، مترجم فارسی: صدر ھاشمی، طبع اصفھان۔

گلدزیھر:

العقیدة والشریعة فی الاسلام مترجمان عربی:ڈاکٹر محمد یوسف موسیٰ، ڈاکٹر حسن علی عبد القادر، عبد العزیز عبد الحق، طبع مصر، دوسرا ایڈیشن۔

لوٹروپ استوڈارڈ: امریکن مستشرق۔

حاضر العالم اسلامی، ترجمہ وتعلیقات مفصل شکیب ارسلان، طبع بیروت، دار الفکر۔

لیڈی ڈرور: ایک انگریز خاتون، پہلی عالمی جنگ کے بعد عراق میں ہونے والے واقعات کے درمیان یہ خاتون عراق میں تھی اور اس کی کتاب عراقی تاریخ کے مدارک میں شمار ہوتی ہے۔

دجلہ وفرات: انگریزی کتاب کا (عربی) ترجمہ، بتوسط فواد جمیل، بنام فی بلاد الرافدین، طبع بغداد، ۱۹۶۱ء۔

مالک بن انس:پیشوا وبانی مذہب مالکی، متوفی۱۷۴ھ۔

الموطا طابع مصر،۱۳۸۷ ھ۔

محبیّ :محمد امین بن فضل اللہ حموی حنفی متوفی۱۱۱۱ ھ۔

خلاصة الاثر فی اعیان القرن الحادی عشر، طبع بیروت، مکتبہ خیاط۔

محمد عبد الرحمن حنفی:

سیف الابرار المسلول علی الفجار، طبع کانپور، ہندوستان، ۱۳۰۰ھ۔

محمد بن عبد الوہاب : بانی مذہب وہابی، متوفی ۱۲۰۶ھ۔

۱۔ کتاب التوحید (متن فتح المجید، نیز رسالہ دہم از مجموعہ کتاب توحید)

۲۔ ثلاث رسائل فی العقیدة الاسلامیہ، طبع مکہ۔

۳۔ عقیدة الفرقة الناجیہ، طبع بیروت، ۱۳۹۱ھ۔

۴۔ کشف الشبھات، طبع مکہ۔

۵۔ مجموعة التوحید، محمد بن عبد الوہاب اوردیگر علماء کے سولہ رسالے پر مشتمل، طبع قطر۔

۶۔ مختصر سیرة الرسول، طبع قطر۔

۷۔ مسائل الجاہلیة، طبع قطر۔

۸۔ ہدیہ طیبہ، (مجموعہ توحید کے ضمن میں ) طبع قطر۔

محمد بن ثابت : (مصری)معاصر۔

جولة فی ربوع شرق الادنی، مصر، ۱۹۵۲ء، تیسرا ایڈیشن۔

مسعودی : علی بن الحسین متوفی ۳۴۵ھ۔

مروج الذھب ومعادن الجوھر، طبع بیروت، دار الاندلس۔

مسکویہ: احمد بن محمد بن یعقوب رازی اصفھانی، متوفی۴۲۱ھ۔

تجارب الامم، طبع مصر، ۱۳۳۳ھ۔

مسلم بن حجاج نیشاپوری قشیری: متوفی۲۶۱ھ۔

جامع صحیح، معروف بہ صحیح مسلم، طبع مصر، مکتبہ محمد علی صبیح۔

مطیعی: شیخ محمد نجیب، از علماء جامع الازھر۔

تطھیر الفواد من دنس الاعتقاد، طبع استانبول، ۱۳۹۶ھ۔

مغینہ: شیخ محمد جواد لبنانی، معاصر۔

ھذی ہی الوہابیہ، طبع بیروت، ۱۹۶۴ء۔

مقدسی: بشاری فلسطینی، چوتھی صدی ہجری کے مشہور سیاح۔

احسن التقاسیم فی معرفة الاقالیم، طبع لیڈن (ھلینڈ)۱۹۰۶ء۔

مقریزی: احمد بن علی مصری، متوفی(۸۴۵)ھ۔

۱۔ خطط، طبع بیروت، منشورات دار احیاء العلوم۔

۲۔ السلوک لمعرفة دول الملوک جلد اول ازقسم سوم، طبع قاہرہ،۱۹۳۹ء۔

مناوی: محمد بن علی مصری، متوفی۱۰۳۱ھ۔

شرح جامع صغیر سیوطی، طبع مصر،۱۳۷۳ھ۔

نائب الصدر الشیرازی حاج: (ناصر الدین شاہ کے زمانہ کے مولف)

تحفة الحرمین، سفر نامہ حج، طبع بمبی۔

ناصر خسرو: ابو معین ناصر بن خسرو قبادیانی، مشہور ومعروف سیّاح، متوفی(۴۸۱)ھ۔

سفر نامہ، طبع تھران، ۱۳۳۵ھ،ش۔

نبھانی : شیخ یوسف بن اسماعیل۔

شواہد الحق فی الاستغاثہ بسید الخلق، طبع بیروت، ۱۳۵۰ھ۔

نجفی: شیخ عبد الحسین، معاصر۔

ماضی النجف وحاضرہا، طبع نجف اشرف، ۱۳۷۸ھ ۔ ۔

نویری احمد بن عبد الوہاب: متوفی۷۳۲ھ۔

نھایة الارب فی فنون الادب، طبع مصر، دار الکتب۔

واقدی: محمد بن عمر : متوفی۲۰۶ھ۔

کتاب المغازی، لندن، ۱۹۶۶ء۔

ہدایت: رضا قلی خان، قاچاریہ زمانہ کا مورخ۔

روضة الصفائے ناصری، (تین جلدیں جن کو ہدایت صاحب نے میر خواند کی روضة الصفا سے ملحق کیا ہے) طبع تھران۔

افعی: عبد اللہ بن اسعد شافعی، متوفی۷۵۵ھ۔

مرآة الجنان، طبع حیدر آباد، ہند ۱۳۳۸ھ۔

اقوت: ابن عبد اللہ رومی حموی، شھاب الدین، متوفی۶۲۶ھ۔

۱۔ ارشاد الاریب الی معرفة الادیب، معروف بہ معجم الادباء، با تصحیح مرگلیوث، طبع مصر، ۱۹۳۰ء۔

۲۔ معجم البلدان، طبع لایپزیگ،۱۸۶۶ء۔

عقوبی: احمد بن ابی یعقوب معروف بہ ابن واضح، متوفی۲۷۸ ھ، ۲۸۴ھ کے درمیان میں ۔

تاریخ یعقوبی، طبع بیروت،۱۳۷۹ھ۔

کتاب ھذا میں درج ذیل اخباروں اور مجلوں سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔

امّ القری اخبار، طبع مکہ۔

مجلہ البلاد السعودیہ، طبع مکہ۔

البلاد اخبار طبع جدّہ۔

عکاظ اخبار طبع جدّہ۔

مجلہ قافلة الزیت، طبع ظھران۔

مجلہ المنھل، طبع مکہ۔

مجلہ یاد گار، طبع تھران۔

مذکورہ کتابوں کے علاوہ دوسری کتابوں اور مدارک سے بھی استفادہ کیا گیا جن کا ذکر صفحات کے نیچے کردیا گیا ہے۔

____________________

۷۵۲. دائرة المعارف اسلامی جلد اول ص ۴۹۶، ۴۹۷، البتہ اس کتاب میں سید احمد کا انگریزوں سے مقابلہ کا ذکر نہیں ہے۔

۷۵۳. زعماء الاصلاح فی الحصر الحدیث ص ۱۲۶۔

۷۵۴. الاسلام فی القران العشرین ص ۸۱۔

۷۵۵. الاصول الاربعة ص ۱، ۲، یہ مذکورہ کتاب اسماعیل دہلوی کے عقائد کے بارے میں ہے۔

۷۵۶. یہ یونیورسٹی قرویین(فاس) کے علاقہ فاس، میں موجود ہے جو عالم اسلام کے لحاظ سے دوسری الازھر کا درجہ رکھتی ہے۔

۷۵۷. خلاصہ از حاضر العالم الاسلامی، جلد اول ص ۱۹۵۔

۷۵۸. سنوسی لوگ اگرچہ احتمال قوی کے مطابق وہابیوں کے طرفدار ہیں، لیکن اویش میں ایک الگ فرقہ شمار کیا جاتا ہے، یہ لوگ اپنے لئے ایک جگہ معین کرتے تھے اور وہاں نماز اور قرئت قرآن کرتے تھے اور لوگوں کے تمام فیصلہ وغیرہ وھیں پر انجام دیتے تھے۔

۷۵۹. شمالی افریقہ میں لفظ ”سیدی“ یا ”مولای“ کو اہم شخصیتوں کے شروع میں لگاتے ہیں جیسے ایران میں آقا، ہندوستان میں مولوی۔

۷۶۰.حاضر العالم الاسلامی ج۲ ص ۳۹۸۔

۷۶۱ .المسلمون فی العالم ج۳ ص ۶۷۔

۷۶۲.الدعوة الی الاسلام ص ۳۶۰۔

۷۶۳. الدعوة الی الاسلام ص ۴۱۰۔

۷۶۴. المسلمون فی العالم ج۳ ص ۶۸، ”سوماترا “مجمع الجزائر انڈونیزی کے جزیروں میں سے ہے۔

۷۶۵. قدیمی جامع الازھر میں رواق یا بہت سے ھال تھے جن کے الگ الگ نام تھے اور بہت سے دوسرے اسلامی ملکوں کے نام سے بھی یہ ھال مخصوص تھے، اور غیر ملکی طلباء کے لئے ہر ھال کے دروازے پر نام لکھا ہوتا تھا، مثلاً ”رواق المغاربہ“ یعنی مراکشی طلباء کا ھال۔

۷۶۶. زعماء الاصلاح فی العصر الحدیث، احمد امین، ص ۲۱تا ۲۴، بعض لوگوں کا یہ نظریہ ہے کہ سید رشید رضا صاحب وہابیت کی طرف مائل نہ تھے، اور شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ جب وہ حجاز گئے، وہاں پر انھوں نے شریف حسین کی طرفداری کی، (رحلات رشید رضا، ص۱۷۳ پر رجوع فرمائیں)، لیکن یہ بات طے ہے کہ بعد میں انھوں نے وہابیت کی طرفداری کرنا شروع کردی، اور اس سلسلہ میں انھوںنے بہت سے مقالات بھی لکھے ہیں، (کشف الارتیاب ص ۶۲ پر رجوع فرمائیں)

۷۶۷. زعماء الاصلاح فی العصر الحدیث احمد امین ص ۱۸۔


فہرست

مقدمہ مولف ۴

پہلا باب: وہابیت کے بانی ۵

سلفیّہ کسے کہتے ہیں؟ ۶

صفات ثبوتیّہ اور سَلبیّہ ۷

بربَہاری کا واقعہ ۸

بربہاری کے عقائد اورنظریات کا خلاصہ ۱۱

ابن تیمیہ ۱۲

ابن تیمیہ کی غازان خان سے ملاقات ۱۴

وہ باتیں جن پر اعتراضات ہوئے ۱۵

ابن تیمیہ کی بحث وگفتگو کا انداز ۱۸

ابن تیمیہ کے فقھی عقائد و نظریات ۲۰

دوسرا باب: ابن تیمیہ کے عقائد ۲۵

۱۔ توحید ابن تیمیہ کی نظر میں ۲۵

توحید الوھیت اور توحید ربوبیت ۲۵

۲۔ کفر وشرک کے معنی میں وسعت دینا ۲۶

گذشتہ مطلب کی وضاحت ۲۷

ابن تیمیہ کی باقی گفتگو ۲۸

۳۔ خدا کے دیدار اور اس کے لئے جھت کا ثابت کرنا ۲۸

رویت خدا کے بارے میں ابن قیّم کا نظریہ ۲۹


ترجمہ اشعار: ۳۰

شیخ عبد العزیز محمد السلمان ۳۱

یاد دہانی ۳۲

امام الحرمین جُوَینی کا نظریہ ۳۳

۴۔ خدا کا آسمانِ دنیا سے زمین پر اترنے کا عقیدہ ۳۴

۵۔ انبیاء علیهم السلام کا بعثت سے قبل معصوم ہونا ضروری نہیں ۳۵

۶۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد ۳۵

۷۔ روضہ رسول دعا اور نماز کی حرمت کے بارے میں ابن تیمیہ کا نظریہ ۳۶

روضہ رسول اکرم کے بارے میں وضاحت ۳۷

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر کے صندوق کے بارے میں ۳۸

قبر مطھر کی چادر کو معطر کرنا ۳۹

قبر کے اطراف قندیلیں لٹکانا اور قیمتی اشیاء ہدیہ کرنا ۳۹

حجرے کے اوپر گنبد کے بارے میں ۴۰

حرم مطھر کے دروازے کس زمانہ میں بند کئے گئے؟ ۴۱

مسجد النبی کے فرش کے سنگریزوں کے بارے میں ۴۱

آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر مطھر کی زیارت اور بوسہ لینے کے سلسلے میں ایک اور وضاحت ۴۲

قبر اورروضہ مقدسہ کے بارے میں ابن تیمیہ کی باقی گفتگو ۴۳

۸۔ قبروں کی زیارت کے لئے سفر کرنا حرام ہے ۴۴

زیارت قبور کے سلسلے میں اجماع اور اتفاق کی وضاحت ۴۵

شیعوں کی طرف دی گئی نسبتوں کی وضاحت ۴۶


ایک یاد دہانی ۴۸

رافضی کون لوگ ہیں؟ ۴۹

۹۔ ابن تیمیہ کی نظر میں حضرت رسول اکرم (ص) اور دوسروں کی زیارت کرنا ۵۱

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ائمہ علیهم السلام کی قبروں کی زیارت کے بارے میں وضاحت ۵۳

قبور کے نزدیک نماز پڑھنا ۵۹

ندبہ اور نوحہ خوانی کے بارے میں وضاحت ۶۰

حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گفتگو اور عورتوں کا گریہ کرنا ۶۲

اس سلسلہ میں شافعی کا نظریہ ۶۲

۱۰۔ غیر خدا کی قسم کہانا ۶۳

غیر خدا کی قسم کے بارے میں وضاحت ۶۴

۱۱۔ مقدس مقامات کی طرف سفر کرنا ۶۴

۱۲۔ شیعوں کے بارے میں ۶۵

مذکورہ مطلب کے بارے میں وضاحت ۶۶

شیعوں کی نظر میں زیارت قبور، ایک اور وضاحت ۶۷

روضہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت کی کیفیت، شیعوں کی نظر میں ۷۰

ترجمہ زیارت: ۷۱

۱۳۔ صالحین کی قبور کے بارے میں ۷۲

۱۴۔ قبروں پراوران کے اطراف عمارت بنانا، اور ان کو مسمار کرنے کی ضرورت ۷۲

۱۵۔ نماز کے لئے مصلّیٰ بچھانا ۷۳

۱۶۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے توسل کرنا، ان سے حاجت طلب کرنا اور ان کو شفیع قرار دینا ۷۳


رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے توسل کے بارے میں وضاحت ۷۴

توسل اور استغاثہ کے بارے میں نَبھانی کا نظریہ ۷۵

۱۸۔ قبور کے پاس مسجد بنانا اور قرآن مجید رکھنا ۷۸

۱۹۔ ہر نئی چیز بدعت ہے ۷۸

۲۰۔ ابن تیمیہ کے عقائد پر ایک کلی نظر ۷۹

جن لوگوں نے ابن تیمیہ کے راستہ کو اپنایا ہے ۷۹

محمد بن علی شوکانی صَنعانی ۸۰

شوکانی کا مذہب اور اس کا عقیدہ ۸۱

شوکانی کے عقائد کے چند نمونے ۸۱

۱۔ قرآن واحادیث میں مجاز: ۸۱

۲۔ تاویل : ۸۱

۳۔ اباحت کی اصل: ۸۲

تیسرا باب: ۹۴

شیخ محمد ابن عبد الوہاب، وہابی فرقہ کا بانی ۹۴

شیخ محمد بن عبد الوہاب کا ایران کا سفر ۹۵

دعوت کا اظھار ۹۶

شیخ محمد بن عبد الوہاب سے امیر اَحساء کی مخالفت ۹۷

شیخ محمد اور آل سعود کے درمیان تعلقات کا آغاز ۹۷

عثمان کا پشیمان ہونا ۹۸

محمد بن عبد الوہاب کا درعیہ کے لوگوں میں موثر ہونا ۹۹


شیخ محمد اور شریف مکہ ۹۹

شیخ محمد بن عبد الوہاب کی سیرت اور اس کا طریقہ کار ۱۰۰

شیخ محمد بن عبد الوہاب کا انجام ۱۰۲

چند ملاحظات ۱۰۲

محمد بن عبد الوہاب اور ابن تیمیہ کے درمیان چند فرق ۱۰۴

چوتھا باب: ۱۰۹

وہابیوں کے عقائد ۱۰۹

۱۔ توحید کے معنی اور کلمہ ”لا الہ الا اللّٰہ“ کا مفہوم ۱۰۹

تو پھر موحّد کون ہے؟ ۱۱۳

۲۔ صرف شھادتین کا اقرار کرنا مسلمان بننے کا سبب نہیں ۱۱۳

اس سلسلہ میں وضاحت ۱۱۴

کسی کے بارے میں کفر کا فتویٰ لگانا ۱۱۵

کسی پر کفر کا حکم لگانا خدا کا کام ہے ۱۱۶

۳۔ خداوند عالم کے لئے جھت کا ثابت کرنا ۱۱۸

خداوند عالم کی صفات کے بارے میں ۱۱۹

۴۔ گذشتہ انبیاء کے بارے میں ۱۲۰

۵۔ شفاعت اور استغاثہ ۱۲۰

استغاثہ کے بارے میں وضاحت ۱۲۲

۷۔ غیر خدا کو ”سید“ یا ”مولا “ کہہ کر خطاب کرنا شرک ہے ۱۲۳

مذکورہ مطلب کی وضاحت ۱۲۳


۸۔ قبور کے اوپر عمارت بنانا، وہاں پر نذر اورقربانی کرنا وغیرہ ۱۲۵

قبور کے اوپر عمارت بنانا، وہاں پر نذر اور قربانی کرنا وغیرہ کے بارے میں وضاحت ۱۲۷

۹۔ قبر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت ۱۳۲

مرقد مطھر حضرت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت کے استحباب کے بارے میں وضاحت ۱۳۳

۱۰۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظمت ۱۳۶

۱۱۔ سَلف صالح کے بارے میں وہابیوں کا عقیدہ ۱۳۸

۱۲۔ اہل بیت پیغمبر علیهم السلام کے بارے میں ۱۳۹

۱۳۔ اصول دین اورفروع دین ۱۴۰

۱۴۔ قرآن و حدیث کے ظاہر پر عمل کرنااور تاویل کی مخالفت(۴۱۰) ۱۴۱

۱۵۔ اجتھاد اور تقلید ۱۴۲

۱۶۔ جوچیزیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اصحاب کے زمانہ میں نہیں تھیں۔ ۔ ۔ ۱۴۳

تمباکو نوشی حرام ہے ۱۴۴

ان کے نزدیک کچھ اور بدعتیں ۱۴۵

کسی چیز میں ”اصل“ حرمت ہے یا اباحت ۱۴۶

چند ملاحظات ۱۴۷

محمد بن عبد الوہاب کے عقائد کے بارے میں ۱۵۰

ایک یاد دہانی ۱۵۳

بعض مذکورہ کتابوں سے کچھ اقتباسات ۱۵۴

شیخ سلیمان (برادر محمد بن عبد الوہاب) کی چند باتیں ۱۵۹

وہابی مذہب اور حنبلی مذہب ۱۶۱


محمد بن عبد الوہاب کی اولاد ۱۶۲

پانچواں باب: ۱۷۴

قدیم ایرانی کتابوں میں وہابیت کا ذکر ۱۷۴

عبد العزیز کے مختصر حالات زندگی ۱۷۷

عبد العزیز سلسلہ وہابیت کا پہلا خلیفہ اور اس کا بیٹا سعود (ابو طالب خان اصفھانی کی نقل کے مطابق) ۱۸۰

چھٹا باب: ۱۸۵

وہابی مذہب کے نشر واشاعت کامرکز ۱۸۵

سرزمین نجد ۱۸۶

نجد کے عوام ۱۸۶

وہابیت کی دعوت کے وقت نجدی شھریوں اور خانہ بدوشوں کی حالت ۱۸۷

نجدیوں کے اخلاقی و معاشرتی حالات کا خلاصہ ۱۸۹

ساتواں باب: ۱۹۴

تاریخ آل سعود ۱۹۴

آل سعود کی حکومت کا آغاز ۱۹۴

محمد ابن سعود کون تھا؟ ۱۹۵

عبد العزیز بن محمد بن سعود ۱۹۷

عبد العزیز اور شریف مکہ ۱۹۷

نجدی علماء کے نام مکی علماء کا جواب ۱۹۹

نجدیوں کی باتیں اور مکی علماء کا جواب ۱۹۹

سعود کے دیگر کارنامے اور شریف غالب کی واپسی ۲۰۲


مدینہ پر قبضہ ۲۰۳

کربلا اور نجف اشرف پر وہابیوں کاحملہ ۲۰۴

کربلا پر حملہ ۲۰۵

حسینی خزانہ کے بارے میں ۲۰۸

کربلا ئے معلی پر وہابیوں کا حملہ، عثمانی مولفوں کی نظر میں ۲۰۹

شھر کربلا پر وہابیوں کی کامیابی کے وجوہات ۲۱۰

وہابیوں کے کربلا پر دوسرے حملے ۲۱۱

وہابیوں کے کربلا پر حملے کاذکر ایرانی کتابوں میں ۲۱۲

کربلا میں وہابیوں کے حملہ کا ذکر ۲۱۲

وہابیوں کا خط فتح علی شاہ کے نام ۲۱۴

فتح علی شاہ کے اقدامات ۲۱۵

حادثہ کربلا کے بعد عبد العزیز کا قتل ۲۱۶

نجف اشرف پر وہابیوں کا حملہ ۲۱۷

پہلا واقعہ ۲۱۸

نجف اشرف کے علماء اور طلاب کے دفاع کا دوسرا واقعہ ۲۱۹

”رَحبہ“ کے بارے میں ایک وضاحت ۲۲۰

کربلا میں ایک عظیم انجمن کی تشکیل ۲۲۱

مذکورہ مطلب کے بارے میں چند توضیحات ۲۲۲

فتویٰ کا ترجمہ : ۲۲۳

سعود بن عبد العزیز ۲۲۴


عثمانیوں کی آل سعود سے جنگیں ۲۲۵

دوسرا حملہ ۲۲۶

وهابیوں کا مسقط پر حمله اور امام مسقط کا فتح علی شاه سے مدد طلب کرنا ۲۲۷

سعود کا انتقال ۲۲۸

امیر عبد اللہ بن سعود اور عثمانیوں کے درمیان دوبارہ حملے ۲۲۸

مصر میں امیر عبد اللہ اور حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خزانہ ۲۲۹

امیر عبد اللہ کو پھانسی ۲۳۰

شھر درعیہ کی بربادی اور آل سعود اور آل شیخ کی مصر کی طرف جلا وطنی ۲۳۰

ابراہیم پاشا کا مصر میں داخل ہونا اور اس کا عجیب غرور ۲۳۱

وہابی اسیروں کو فروخت کرنا ۲۳۲

آل سعود کی حکومت کا دوبارہ تشکیل پانا ۲۳۳

امیر ترکی ۲۳۳

فیصل بن ترکی ۲۳۴

آل رشید ۲۳۴

نجد پر ترکوں کا دوبارہ حملہ اور فیصل کو گرفتار کرکے جلا وطن کرنا ۲۳۵

فیصل کا مصر سے فرار ۲۳۶

حکومت آل سعود ۲۳۶

فیصل سے عبد العزیز بن سعود تک ۲۳۶

عبد العزیز بن عبد الرحمن معروف بہ ابن سعود ۲۳۸

عبد العزیز کا ریاض پر قبضہ ۲۳۹


پہلی عالمی جنگ اور اس کے بعد ۲۴۰

ابن سعود اور شریف حسین ۲۴۱

شرفائے مکہ ۲۴۲

شریف حسین ۲۴۲

عثمانیوں اور انقلاب حجاز سے شریف حسین کی مخالفت ۲۴۳

انقلاب کی ابتدا اور خلافت شریف حسین کی داستان ۲۴۴

قاضی القضاة اور مجلس شیوخ کے صدر کا تقرر ۲۴۶

عثمانی بادشاہوں کی داستان خلافت ۲۴۷

خلافت کی امانتیں اور دوسرے آثار جو ”توپ قاپی“ میوزیم میں موجود ہیں ۲۴۸

شریف حسین کی حکومت ۲۵۰

شریف حسین اور مسئلہ خلافت ۲۵۱

ابن سعود کا حجاز پر حملہ کرنا ۲۵۲

ملک علی کو سلطنت ملنا ۲۵۳

شریف حسین کا انجام ۲۵۳

ابن سعود مکہ میں ۲۵۴

علمائے مکہ اور علمائے نجد میں مناظرہ ۲۵۴

جدّہ پر قبضہ ۲۵۵

مدینہ پر قبضہ ۲۵۵

قبروں اور روضوں کی ویرانی ۲۵۶

قبرستان بقیع کی تخریب ۲۵۶


قبروں کی ویرانی پر ایران اور دیگر اسلامی ملکوں کا ردّ عمل ۲۵۷

بقیع، انہدام سے پہلے ۲۵۸

مقدس مقامات کے لئے ایک اسلامی انجمن کی تشکیل ۲۶۱

ایران کے شرکت نہ کرنے کی وجہ ۲۶۱

حجاز میں ابن سعود کی سلطنت ۲۶۲

ابن سعود اور ادریسی حکمراں ۲۶۲

تیل نکالنے کا معاہدہ ۲۶۳

اسم گذاری ۲۶۳

ابو طالب یزدی کا واقعہ ۲۶۳

ایک رسمی اعلان شمارہ(۸۲)بھیانک جرم۔ ۲۶۴

شیخ حرّ عاملی کا مکہ معظمہ میں ایک واقعہ اور اس سے متعلق فریب کاری ۲۶۵

ایک دوسرا واقعہ ۲۶۶

ان حادثات کی اصل وجہ ۲۶۷

ایرانیوں کو حج سے روکنا ۲۶۹

نادر شاہ اور شریف مکہ ۲۷۰

نجف میں نادر شاہ کے حکم سے مسلمانوں میں اتحاد کے لئے ایک عہد نامہ ۲۷۰

مذکورہ مطلب سے متعلق چند نکات ۲۷۵

نتیجہ ۲۷۵

عبد العزیز کی موت ۲۷۶

ابن سعود کا اخلاق اور اس کی بعض عادتیں ۲۷۶


ابن سعود کے بعد آل سعود کی حکومت ۲۷۷

آٹھواں باب: ۲۹۳

جمعیة الاخوان یا انجمن امر بالمعروف و نھی عن المنکر ۲۹۳

”جمعیة الاخوان“ کی تشکیل سے پیدا ہو نے والی مشکلات ۲۹۵

ابن سعود کی چارہ جوئی ۲۹۶

”جمعیة الاخوان“ کے عادات واطوار ۲۹۶

نئی ایجادات کی مخالفت اور ٹیلیفون کے تاروں کوکاٹ دینا ۲۹۷

ابن سعود پر ”جمعیة الاخوان“ کے اعتراضات ۳۰۰

محمل کا واقعہ ۳۰۲

ایرانی محمل ۳۰۳

محمل پر پابندی ۳۰۳

غلاف کعبہ اور غسل کعبہ کی سنت ۳۰۴

غلاف کعبہ ۳۰۴

اسلامی دور میں کعبہ کا غلاف ۳۰۴

دور حاضر میں کعبہ کا غلاف ۳۰۶

غلاف کعبہ کا مخصوص کار خانہ ۳۰۶

خادمان و خواجگان ۳۰۸

کعبہ کے اندرونی حصہ کا غسل ۳۰۸

”جمعیة الاخوان“ اور ابن سعود کے اختلافات ۳۰۹

”جمعیة الاخوان“ کے ہنگاموں کاخاتمہ ۳۱۰


احمد امین کا بیان ۳۱۱

خاتمہ ۳۱۵

وہابیت نجد وحجاز کے باہر ۳۱۵

وہابیت ہندوستان میں ۳۱۵

سید احمد هندی ۳۱۶

مولوی اسماعیل دہلوی ۳۱۷

نذیر حسین ۳۱۸

سید محمد سنوسی (شمالی آفریقہ میں ) ۳۱۸

وہابیت سوڈان میں ۳۲۰

وہابیت ، سوماترا میں ۳۲۰

وہابیت ،مصر میں ۳۲۱

وہابیت مراکش میں ۳۲۱

مدارک کتاب ۳۲۲

تاریخ وہابیت

تاریخ وہابیت

مؤلف: علي اصغرفقیهى
زمرہ جات: متن تاریخ
صفحے: 28