شرح چھل حدیث امام مھدی (عج)

مؤلف: علی اصغررضوانی
متن احادیث


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے البتہ اس میں موجود مطالب کی یا دیگر غلطیوں کا ذمہ دار ادارہ نہیں ہے


شرح چھل حدیث امام مھدی (عج)

مؤلف : رضوانی، علی اصغر

مترجم / مصحح : اقبال حیدر حیدری

ناشر : انصاریان (ایران)

نشر کی جگہ : قم

نشر کا سال : ۲۰۰۷

جلدوں کی تعداد : ۱

صفحات : ۱۲۰

سائز : رقعی

زبان : اردو


مقدمہ مترجم

خداوندعالم نے ہمیشہ نوع بشر کی ہدایت کے لئے کوئی نہ کوئی انتظام کیا ہے، یہ ایک سنت الٰہی ہے اور سنت الٰہی میں کبھی تبدیلی نہیں آسکتی۔ جناب آدم (ع) سے لے کر ختمی مرتبت حضرت رسول اکرم (ص) تک تمام انبیاء علیہم السلام انسان کی ہدایت کے لئے اس دنیا میں رنج و الم اور مصائب برداشت کرتے رہے، اور جب یہ نبوت کا سلسلہ ختم ہونے لگا تو رسول اسلام (ص) نے اس ہدایت کے سلسلہ کو امامت کی شکل میں آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا:

اِنِّی تَارِكٌ فِیْكُمُ الثَّقَلَیْنِ كَتَابَ اللهِ وَ عِتْرَتِی؛ مَا اِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِمَا لَنْ تَضِلُّوْا بَعْدِی اَبَداً ۔ ۔ ۔ “۔(۱)

”بے شک میں تمھارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: ایک کتاب خدا اور دوسرے میری عترت، جب تک تم ان دونوں سے متمسک رھو گے میرے بعد ہرگز گمراہ نہیں ہوگے“۔

حضرت رسول اکرم (ص) جانتے تہے کہ میرے بعد امت ،گمراھی کا شکار ہوجائے گی لہٰذا اپنی امت کو گمراھی سے بچانے اور اس کی ہدایت کے لئے ایسا نسخہ پیش کیا جو حقیقت میں ہدایت کا ضامن ہے، مسلمانوں نے قرآن کو ظاہری طور پر لے لیا لیکن عترت رسول کو چھوڑ دیا جبکہ حدیث رسول دونوں سے تمسک کا حکم دیتی ہے اور اسی صورت میں ہدایت ممکن ہے۔ حضرت علی علیہ السلام نے لوگوں کی لاکھ ہدایت کرنی چاھی لیکن ان کے دلوں میں بغض و حسد بہر ا ہوا تھا، جس کی وجہ سے ان کی آنکھوں پر پردے پڑے ہوئے تہے۔ آنحضرت (ص) نے اپنے بعد آنے والے ائمہ (علیہم السلام) کا نام بنام تعارف کرایا اور امام کی معرفت کے سلسلہ میں یہ مشھور و معروف حدیث ارشاد فرمائی،جسے شیعہ اور اہل سنت نے آنحضرت (ص) سے نقل کی ہے :

مَنْ مَاتَ وَ لَمْ یَعْرِفْ اِمَامَ زَمَانِهِ مَاتَ مِیْتَةً جَاهِلِیَةً ۔ “(۲)

”جو شخص اپنے زمانہ کے امام کی معرفت اور انھیں پہچانے بغیر مرجائے تو اس کی موت جاہلیت (کفر) کی موت ہوگی“۔

اس سلسلہ امامت کی آخری کڑی حضرت امام مھدی علیہ السلام ہیں ، جو دنیا کی ہدایت کرتے ہیں، لیکن آج ہمارے امام ہماری نظروں سے غائب ہیں، ہم اسی امام کے ظھور کے منتظر رہتے ہیں اور جمعہ کے دن دعائے ندبہ میں امام علیہ السلام کے فراق میں مزید آنسو بھاتے ہیں۔

لیکن امام علیہ السلام کی صحیح معرفت کے بغیر راہ انتظار کو طے کرنا ممکن نہیں ہے، لہٰذا امام مھدی علیہ السلام کے اسم گرامی اور نسب کی شناخت کے علاوہ ان کی عظمت اور ان کے رتبہ کی کافی مقدار میں شناخت بھی ضروری ہے۔

”ابو نصر“ امام حسن عسکری علیہ السلام کے خادم؛ امام مھدی علیہ السلام کی غیبت سے پھلے امام عسکری علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے، امام مھدی علیہ السلام نے ان سے سوال کیا: کیا مجہے پہچانتے ہو؟ انھوں نے جواب دیا: جی ھاں، آپ میرے مولا و آقا اور میرے مولا و آقا کے فرزند ہیں! امام علیہ السلام نے فرمایا: میرا مقصد ایسی پہچان نہیں ہے!؟ ابو نصر نے عرض کی: آپ ھی فرمائیں کہ آپ کا مقصد کیا تھا۔

امام علیہ السلام نے فرمایا:

”میں پیغمبر اسلام (ص) کا آخری جانشین ہوں، اور خداوندعالم میری (برکت کی) وجہ سے ہمارے خاندان اور ہمارے شیعوں سے بلاؤں کو دور فرماتا ہے“۔(۳)

لہٰذا ہماری ذمہ داری ہے کہ اپنے امام کی شخصیت اور صفات کو اچھی طرح پہچانیں تاکہ ہم آپ کے حقیقی انتظار کرنے والوں میں شمار ہوں۔

ممکن ہے بعض لوگوں کے ذھنوں میں یہ سوال پیدا ہوکہ کس طرح ایک انسان کی اتنی طولانی عمر ہوسکتی ہے؟!(۴)

اس سوال کی وجہ یہ ہے کہ آج کل کے زمانہ میں عام طور پر ۸۰ سے ۱۰۰ سال کی عمر ہوتی ہے، لہٰذا ایسی عمر کو دیکھنے اور سننے کے باوجود اتنی طولانی عمر پر یقین کس طرح کرے، ورنہ تو طولانی عمر کا مسئلہ عقل اور سائنس کے لحاظ سے بھی کوئی ناممکن بات نہیں ہے، دانشوروں نے انسانی بدن کے اعضا کی تحقیقات اور جائزے سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ انسان بہت زیادہ طولانی عمر پاسکتا ہے، یھاں تک کہ اس کو بڑھاپے اور ضعیفی کا احساس تک نہ ہو۔

چنانچہ برنارڈ شو نامی دانشور کا کھنا ہے:

”ماہر ین اور دانشوروں کے نزدیک یہ ایک مسلم الثبوت حقیقت ہے کہ انسان کی عمر کے لئے کوئی حد معین نہیں کی جاسکتی، یھاں تک کہ طول عمر کے لئے بھی کوئی حد معین نہیں ہوسکتی“۔(۵)

اسی طرح پر وفیسر ”اٹینگر“ کا کھنا ہے:

”ہماری نظر میں عصر حاضر کی ترقی اور ہمارے شروع کئے کام کے پیش نظر اکسویں صدی کے لوگ ہزاروں سال زندگی بسر کرسکتے ہیں“۔(۶)

قارئین کرام! مذکورہ دانشوروں کے نظریہ سے یہ بات معلوم ہوجاتی ہے کہ انسان ہزاروں سال زندگی بسر کرسکتا ہے، دوسری طرف ہم اس خدا کو مانتے ہیں جو ہر چیز پر قادر ہے، لہٰذا اس کی قدرت کے پیش نظر تقریبا ۱۱ سوسال سے زیادہ عمر گزار لینا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔

خداوندعالم ہمیں امام زمانہ علیہ السلام کی صحیح معرفت حاصل کرنے اور آپ کی غیبت کے زمانہ میں اپنے فرائض پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین یا رب العالمین)رَبّنا تَقبّل مِنّا اِنَّكَ اَنتَ السَّمِیْعُ العَلِیْم ۔

اقبال حیدر حیدری - حوزہ علمیہ قم

____________________

۱. بحار الانوار، ج۲، ص ۱۰۰۔

۲. بحار الانوار، ج ۵۱، ح ۷، ص ۱۶۰۔

۳. کمال الدین، ج۲، باب ۴۳، ح۱۲، ص ۱۷۱۔

۴. اس وقت ۱۴۲۷ ہجری قمری ہے اور چونکہ امام زمانہ علیہ السلام کی تاریخ پیدائش ۲۵۵ ہجری قمری ہے لہٰذا اس وقت آپ کی عمر مبارک ۱۱۷۲ سال ہے۔

۵. راز طول عمر امام زمان علیہ السلام، علی اکبر مھدی پور ص ۱۳۔

۶. مجلہ دانشمند، سال ۶، ش۶، ص ۱۴۷۔


حدیث نمبر ۱: اہل بیت علیہم السلام ، مرکز حق ہیں

“الْحَقُ مَعَنٰا فَلَنْ یُوحِشَنٰا مَنْ قَعَدَ عَنّٰا، وَ نَحْنُ صَنٰائِعُ رَبِّنٰا، وَالْخَلْقُ بَعْدُ صَنٰائِعُنٰا” (۷)

”حق، ہم اہل بیت (علیہم السلام) کے ساتھ ہے، کچھ لوگوں کا ہم سے جدا ہونا ہمارے لئے وحشت کا سبب نہیں ہے، کیونکہ ہم پروردگار کے تربیت یافتہ ہیں، اور دوسری تمام مخلوق ہماری تربیت یافتہ ہیں“۔

شرح

اس حدیث مبارک کو شیخ طوسی علیہ الرحمہ نے معتبر سند کے ساتھ ابوعمرو عمری سے امام مھدی (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) سے نقل کیا ہے۔ امام علیہ السلام نے حدیث کے اس فقرہ میں تین نکات کی طرف اشارہ فرمایا ہے:

۱۔ مکمل حق و حقیقت، اہل بیت علیہم السلام کے ساتھ ہے۔

توجہ رہے کہ ”الحقّ معنا“کا جملہ ”اہل البیت مع الحق“ کے جملہ سےلگ ہے؛ کیونکہ پھلے جملہ کا مفھوم یہ ہے کہ اہل بیت علیہم السلام حق و باطل کے تشخص کا بنیادی معیار ہیں، اور حق و باطل کی ایک دوسرے سے پہچان کے لئے اہل بیت علیہم السلام کی سیرت و کردار کی طرف رجوع کیا جائے، برخلاف دوسرے جملہ کے، (کیونکہ دوسرے جملہ کے معنی یہ ہیں کہ اہل بیت علیہم السلام حق کے ساتھ ہیں) اور یھی (پھلے) معنی حدیث ”علیّ مع الحقّ والحق مع علیّ(۸) سے بھی حاصل ہوتے ہیں۔

۲۔ جس کے ساتھ حق ہو تو اسے دوسروں کی روگردانی اور اپنی تنھائی سے خوف زدہ نہیں ہونا چاہئے، اور اپنے ساتھیوں کی کم تعداد یا کثیر تعداد پر توجہ نہیں کرنی چاہئے۔

حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے ہشام سے فرمایا:

”اے ہشام! اگر تمھارے ہاتھ میں اخروٹ ہو اور سب لوگ یہ کھیں کہ تمھارے ہاتھ میں درّ ہے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے؛ کیونکہ تم جانتے ہو کہ تمھارے ہاتھ میں اخروٹ ہے، اور اگر تمھارے ہاتھ میں درّ ہو اور لوگ کہیں کہ تمھارے ہاتھ میں اخروٹ ہے تو اس میں تمھارا کوئی نقصان نہیں ہے؛ کیونکہ تم جانتے ہو کہ تمھارے ہاتھ میں درّ ہے“۔(۹)

اسی طرح حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

”راہ (حق و) ہدایت میں لوگوں کی کم تعداد سے نہ گھبراؤ۔ “(۱۰)

۳۔ اس حدیث کے تیسرے جملہ میں جو چیز بیان ہوئی ہے اس کی مختلف تفسیریں بیان کی گئی ہیں جن کو یکجا جمع کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، ہم ذیل میں ان کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

الف۔ بے شک اہل بیت علیہم السلام عقائد اور دینی اعمال میں لوگوں کے محتاج نہیں ہیں، اور جو کچھ خداوندعالم کی طرف سے رسول اکرم (ص) پر نازل ہوا ہے وہ ان حضرات کے لئے کافی ہے، جبکہ امت ان تمام چیزوں میں اہل بیت علیہم السلام کی محتاج ہے، اور صرف قرآن و سنت ان کے لئے کافی نہیں ہے، نیز اہل بیت علیہم السلام کی طرف رجوع کئے بغیر امت گمراہ اور ہلاک ہے۔

ب۔ اہل بیت علیہم السلام پر خدا وندعالم کی نعمتیں براہ راست او ربغیر کسی واسطہ کے نازل ہوتی ہیں، اور جب خداوندعالم دوسرے لوگوں پر اپنی نعمتیں نازل کرتا ہے تو وہ اہل بیت علیہم السلام کے واسطہ کے بغیر نہیں ہوتیں۔

حدیث نمبر۲ : امام زمانہ(ع) زمین والوں کے لئے امان ہیں

“اِنّی لَاٴَمٰانُ لِاٴَهْلِ الْاٴَرْضِ كَمٰا اَٴنَّ النُّجُومَ اٴَمٰانُ لِاٴَهْلِ السَّمٰاءِ” (۱۱)

”بے شک میں اہل زمین کے لئے امن و سلامتی ہوں، جیسا کہ ستارے آسمان والوں کے لئے امان کا باعث ہیں“۔

شرح

یہ کلام حضرت امام مھدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے اس جواب کا ایک حصہ ہے جس کو امام علیہ السلام نے اسحاق بن یعقوب کے جواب میں لکھا ہے، اسحاق نے اس خط میں امام علیہ السلام سے غیبت کی وجہ کے بارے میں سوال کیا تھا۔ امام علیہ السلام نے غیبت کی علت بیان کرنے کے بعد اس نکتہ کی طرف اشارہ فرمایا کہ غیبت کے زمانہ میں امام کا وجود بے فائدہ نہیں ہے، وجود امام کے فوائد میں سے ایک ادنیٰ فائدہ یہ ہے کہ امام زمین والوں کے لئے باعث امن و امان ہیں، جیسا کہ ستارے آسمان والوں کے لئے امن و سلامتی کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ دوسری صحیح روایات میں اسی مضمون کی طرف اشارہ ہوا ہے۔ جیسا کہ اُن روایات میں بیان ہوا ہے: اگر زمین پر حجت (خدا) نہ ہو تو زمین اور اس پر بسنے والے مضطرب اور تباہ و برباد ہوجائیں۔

امام زمانہ علیہ السلام کو اہل زمین کے لئے امن و امان سے اس طرح تشبیہ دینا جس طرح ستارے اہل آسمان کے لئے امن و امان ہوتے ہیں؛ اس سلسلہ میں شباہت کی چند چیزیں پائی جاتی ہیں جن میں سے دو چیزوں کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:

۱۔ جس طرح تخلیقی لحاظ سے ستاروں کا وجود اور ان کو ان کی جگھوں پر رکھنے کی حالت اور کیفیت، تمام کرّات، سیارات اور کھکشاوں کے لئے امن و امان اور آرام کا سبب ہے، زمین والوں کے لئے امام زمانہ علیہ السلام کا وجود بھی اسی طرح ہے۔

۲۔ جس طرح ستاروں کے ذریعہ شیاطین آسمانوں سے بھگائے گئے ہیں اور اہل آسمان منجملہ ملائکہ کے امان و آرام کا سامان فراہم ہوا ہے اسی طرح حضرت امام زمانہ علیہ السلام کا وجود، تخلیقی اور تشریعی لحاظ سے اہل زمین سے، مخصوصاً انسانوں سے شیطان کو دور بھگانے کا سبب ہے۔

حدیث نمبر۳ : فلسفہ امامت اور صفات امام

“اٴَحْییٰ بِهِمْ دینَهُ، َواَٴتَمَّ بِهِمْ نُورَهُ، وَجَعَلَ بَیْنَهُمْ وَبَیْنَ إِخْوٰانِهِمْ وَبَنِي عَمِّهِمْ َوالْاٴَدْنَیْنَ فَالْاٴَدْنَیْنَ مِنْ ذَوي اٴَرْحٰامِهِمْ فُرْقٰاناً بَیِّناً یُعْرَفُ بِهِ الْحُجَّةُ مَنِ الْمَحْجُوجِ، وَالاِْمٰامُ مِنَ الْمَاٴمُومِ، بِاٴَنْ عَصَمَهُمْ مِنَ الذُّنُوبِ، وَ بَرَّاٴَهُمْ مِنَ الْعُیُوبِ، وَ طَهَّرَهُمْ مِنَ الدَّنَسِ، َونَزَّهَهُمْ مِنَ اللَّبْسِ، وَجَعَلَهُمْ خُزّٰانَ عِلْمِهِ، وَ مُسْتَوْدَعَ حِكْمَتِهِ، وَمَوْضِعَ سِرِّهِ، وَ اٴَیَّدَهُمْ بِالدَّلاٰئِلِ، وَلَوْلاٰ ذٰلِكَ لَكٰانَ النّٰاسُ عَلیٰ سَوٰاءٍ، وَ لَاِدَّعیٰ اٴَمْرَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ كُلُّ اٴَحَدٍ، وَ لَمٰا عُرِفَ الْحَقُ مِنَ الْبٰاطِلِ، وَ لاٰ الْعٰالِمُ مِنَ الْجٰاهِلِ “ (۱۲)

”اوصیائے (الٰہی) وہ افراد ہیں جن کے ذریعہ خداوندعالم اپنے دین کو زندہ رکھتا ہے، ان کے ذریعہ اپنے نور کو مکمل طور پر نشر کرتا ہے، خداوندعالم نے ان کے اور ان کے (حقیقی) بھائیوں، چچا زاد (بھائیوں) اور دیگر رشتہ داروں کے درمیان واضح فرق رکھا ہے کہ جس کے ذریعہ حجت اور غیر حجت نیز امام اور ماموم کے درمیان پہچان ہوجائے۔ اور وہ واضح فرق یہ ہے کہ اوصیائے الٰہی کو خداوندعالم گناھوں سے محفوظ رکھتا ہے اور ان کو ہر عیب سے منزہ، برائیوں سے پاک اور خطاؤں سے دور رکھتا ہے، خداوندعالم نے ان کو علم و حکمت کا خزانہ دار اور اپنے اسرار کا رازدار قرار دیا ہے اور دلیلوں کے ذریعہ ان کی تائید کرتا ہے۔ اگر یہ نہ ہوتے تو پہر تمام لوگ ایک جیسے ہوجاتے، اور کوئی بھی امامت کا دعویٰ کر بیٹھتا، اس صورت میں حق و باطل اور عالم و جاہل میں تمیز نہ ہوپاتی“۔

شرح

یہ کلمات امام مھدی علیہ السلام نے احمد بن اسحاق کے خط کے جواب میں تحریر کئے ہیں، امام علیہ السلام چند نکات کی طرف اشارہ کرنے کے بعد امام اور امامت کی حقیقت اور شان کو بیان کرتے ہوئے امام کی چند خصوصیات بیان فرماتے ہیں، تاکہ ان کے ذریعہ حقیقی امام اور امامت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والوں کے درمیان تمیز ہوسکے:

۱۔ امام کے ذریعہ خدا کا دین زندہ ہوتا ہے؛ کیونکہ امام ھی اختلافات، فتنوں اور شبھات کے موقع پر حق کو باطل سے الگ کرتا ہے اور لوگوں کو حقیقی دین کی طرف ہدایت کرتا ہے۔

۲۔ نور خدا جو رسول خدا (ص) سے شروع ہوتا ہے، امام کے ذریعہ تمام اور کامل ہوتا ہے۔

۳۔ خداوندعالم نے پیغمبر اکرم (ص) کی ذرّیت میں امام کی پہچان کے لئے کچھ خاص صفات معین کئے ہیں، تاکہ لوگ امامت کے سلسلہ میں غلط فہمی کا شکار نہ ہوں، مخصوصاً اس موقع پر جب ذرّیت رسول کے بعض افراد امامت کا جھوٹا دعویٰ کریں۔ ان میں سے بعض خصوصیات کچھ اس طرح ہیں: گناھوں کے مقابلہ میں عصمت، عیوب سے پاکیزگی، برائیوں سے مبرّااور خطا و لغزش سے پاکیزگی وغیرہ، اگر یہ خصوصیات نہ ہوتے تو پہر ہر کس و ناکس امامت کا دعویٰ کردیتا، اور پہر حق و باطل میں کوئی فرق نہ ہوتا، جس کے نتیجہ میں دین الٰہی پوری دنیا پر حاکم نہ ہوتا۔

حدیث نمبر ۴: فلسفہ امامت

“اٴَوَ مٰا رَاٴَیْتُمْ كَیْفَ جَعَلَ اللهُ لَكُمْ مَعٰاقِلَ تَاٴوُونَ إِلَیْهٰا، وَ اٴَعْلاٰماً تَهْتَدُونَ بِهٰا مِنْ لَدُنْ آدَمَ (علیه السلام) “ (۱۳)

”کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خداوندعالم نے کس طرح تمھارے لئے پناہ گاھیں قرار دی ہیں تاکہ ان میں پناہ حاصل کرو، اور ایسی نشانیاں قرار دی ہیں جن کے ذریعہ ہدایت حاصل کرو، حضرت آدم علیہ السلام کے زمانہ سے آج تک“۔

شرح

یہ تحریر اس توقیع(۱۴) کا ایک حصہ ہے جس کو ابن ابی غانم قزوینی اور بعض شیعوں کے درمیان ہونے والے اختلاف کی وجہ سے امام علیہ السلام نے تحریر فرمایا ہے، ابن ابی غانم کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام نے کسی کو اپنا جانشین مقرر نہیں کیاہے، اور سلسلہ امامت آپ ھی پر ختم ہوگیا ہے۔ شیعوں کی ایک جماعت نے حضرت امام مھدی علیہ السلام کو خط لکھا جس میں واقعہ کی تفصیل لکھی، جس کے جواب میں حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی طرف سے ایک خط آیا، مذکورہ حدیث اسی خط کا ایک حصہ ہے۔

امام زمانہ علیہ السلام امامت، وصایت اور جانشینی میں شک و تردید سے دوری کرنے کے سلسلہ میں بہت زیادہ سفارش کرنے کے بعد فرماتے ہیں: وصایت کا سلسلہ ہمیشہ تاریخ کے مسلم اصول میں رہا ہے، اور جب تک انسان موجود ہے زمین حجت الٰہی سے خالی نہیں ہوگی، امام علیہ السلام نے مزید فرمایا:

”تاریخ کو دیکھو! کیا تم نے کسی ایسے زمانہ کو دیکھا ہے جو حجت خدا سے خالی ہو، اور اب تم اس سلسلہ میں اختلاف کرتے ہو“؟!

امام علیہ السلام نے حدیث کے اس سلسلہ میں امامت کے دو فائدے شمار کئے ہیں:

۱۔ امام، مشکلات اور پریشانیوں کے عالم میں ملجا و ماویٰ اور پناہ گاہ ہوتا ہے۔

۲۔ امام،لوگوں کو دین خدا کی طرف ہدایت کرتا ہے۔

کیونکہ امام معصوم علیہ السلام نہ صرف یہ کہ لوگوں کو دین اور شریعت الٰہی کی طرف ہدایت کرتے ہیں بلکہ مادّی اور دنیوی مسائل میں ان کی مختلف پریشانیوں کو بھی دور کرتے ہیں۔

حدیث نمبر۵ : علم امام کی قسمیں

“عِلْمُنٰا عَلیٰ ثَلاٰثَهِ اٴَوْجُهٍ: مٰاضٍ وَغٰابِرٍ وَحٰادِثٍ، اٴَمَّا الْمٰاضِي فَتَفْسیرٌ، وَ اٴَمَّا الْغٰابِرُ فَموْ قُوفٌ، وَ اٴَمَّا الْحٰادِثُفَقَذْفٌ في الْقُلُوبِ، وَ نَقْرُ في الْاٴَسْمٰاعِ، وَهُوَ اٴَفْضَلُ عِلْمِنٰا، وَ لاٰ نَبيَّ بَعْدَ نَبِیِّنٰا” (۱۵)

”ہم (اہل بیت) کے علم کی تین قسمیں ہوتی ہیں: گزشتہ کا علم، آئندہ کا علم اور حادث کا علم۔ گزشتہ کا علم تفسیر ہوتا ہے، آئندہ کا علم موقوف ہوتا ہے اور حادث کا علم دلوں میں بہر ا جاتا اور کانوں میں زمزمہ ہوتا ہے۔ علم کا یہ حصہ ہمارا بہترین علم ہے اور ہمارے پیغمبر (ص) کے بعد کوئی دوسرا رسول نہیں آئے گا“۔

شرح

یہ الفاظ امام زمانہ علیہ السلام کے اس جواب کا ایک حصہ ہیں جس میں علی بن محمد سمری (علیہ الرحمہ) نے علم امام کے متعلق سوال کیا تھا۔

علامہ مجلسی علیہ الرحمہ کتاب ”مرآة العقول“ میں ان تینوں علم کے سلسلہ میں فرماتے ہیں:

”علم ماضی سے وہ علم مراد ہے جس کو پیغمبر اکرم (ص) نے اپنے اہل بیت علیہم السلام سے بیان کیا ہے؛ نیز یہ علم ان علوم پر مشتملہے جو گزشتہ انبیاء علیہم السلام اور گزشتہ امتوں کے واقعات کے بارے میں ہیں اور جو حوادثات ان کے لئے پیش آئے ہیں اور کائنات کی خلقت کی ابتداء اور گزشتہ چیزوں کی شروعات کے بارے میں ہیں۔

علم ”غابر“ سے مراد آئندہ پیش آنے والے واقعات ہیں؛ کیونکہ غابر کے معنی ”باقی“ کے ہیں، غابر سے مراد وہ یقینی خبریں ہیں جو کائنات کے مستقبل سے متعلق ہیں، اسی وجہ سے امام علیہ السلام نے اس کو ”موقوفہ“ کے عنوان سے یاد کیا ہے جو علوم کائنات کے مستقبل سے تعلق رکھتے ہیں وہ اہل بیت علیہم السلام سے مخصوص ہیں، موقوف یعنی ”مخصوص“۔

”علم حادث“ سے مراد وہ علم ہے جو موجودات اور حالات کے ساتھ ساتھ بدلتا رہتا ہے، یا مجمل چیزوں کی تفصیل مراد ہے۔ ۔ ۔ ”قَذْفُ في الْقُلُوبِ “، سے خداوندعالم کی طرف سے عطا ہونے والا وہ الھام مراد ہے جو کسی فرشتہ کے بغیر حاصل ہوا ہو۔

نَقْرُ في الْاٴَسْمٰاعِ “، سے وہ الٰہی الھام مراد ہے جو کسی فرشتہ کے ذریعہ حاصل ہوا ہو۔

تیسری قسم کی افضلیت کی دلیل یہ ہے کہ الھام (چاہے بالواسطہ ہو یا بلا واسطہ) اہل بیت علیہم السلام سے مخصوص ہے۔

الٰہی الھام کی دعا کے بعد ممکن ہے کوئی انسان (ائمہ علیہم السلام کے بارے میں) نبی ہونے کا گمان کرے، اسی وجہ سے امام زمانہ علیہ السلام نے آخر میں اس نکتہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) کے بعد کوئی پیغمبر نہیں آئے گا“۔(۱۶)

حدیث نمبر ۶: امام کا دائمی وجود

“اٴَنَّ الْاٴَرْضَ لاٰ تَخْلُو مِنْ حُجَّةٍ ،إِمّٰا ظٰاهِراً وَ إِمّٰا مَغْمُوراً” (۱۷)

”بے شک زمین کبھی بھی حجت خدا سے خالی نہیں رہے گی، چاہے وہ حجت ظاہر ہو یا پردہ غیب میں“۔

شرح

یہ حدیث امام مھدی علیہ السلام کی اس توقیع کا ایک حصہ ہے جو آپ نے عثمان بن سعید عمری اور ان کے فرزند محمد کے لئے تحریر فرمائی ہے۔ امام علیہ السلام بہت زیادہ تاکیدوں کے بعد ایک مطلب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: روئے زمین پر ہمیشہ حجت خدا کا ہونا ضروری ہے اور کبھی بھی کسی ایسے لمحہ کا تصور نہیں کیا جاسکتا جو امام معصوم کے وجود سے خالی ہو۔

انسان اور دیگر موجودات کے لئے امام کی ضرورت بالکل اسی طرح ہے جیسے پیغمبر اکرم (ص) کی ضرورت ہے۔ معصوم شخصیت کی ضرورت (چاہے پیغمبر ہوں یا امام) مختلف نظریات سے قابل تحقیق ہے۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ خدا کی طرف سے قوانین کا ہونا اور اس کی تفسیر معصوم کے ذریعہ ہونا ضروری ہے۔ علم کلام کی کتابوں میں عقلی دلائل کے ساتھ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ انسان کو اپنی دنیوی زندگی کی بھلائی اور آخرت میں سعادت و کامیابی حاصل کرنے کے لئے رسول کی ضرورت ہے، انسان کے لئے دین اور اس کی صحیح تفسیر کی ضرورت جاودانی ہے۔ پیغمبر اسلام(ص) دین اسلام کو خدا کے آخری دین کے عنوان سے لے کر آئے اور آپ نے تمام احکام و مسائل کو واضح کیا ۔ پیغمبر اکرم (ص) کی وفات کے بعد کے زمانہ کے لئے بھی انھیں عقلی دلائل کے ذریعہ ایسی شخصیات کا ہونا ضروری ہے جو علم اور عصمت وغیرہ میں پیغمبر اکرم (ص) کے مثل ہوں۔ اور ایسی شخصیتیں ائمہ معصومین علیہم السلام کے علاوہ کوئی نہیں ہیں۔

امام زمانہ علیہ السلام اس اہم نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس وجہ سے کہ لوگ حق کو قبول کرنے میں سستی اور کم توجھی کا شکار ہیں، ایسا نہیں ہے کہ تمام ائمہ (علیہم السلام) حکومت تک پھنچ جائیں یا لوگوں کے درمیان حاضر رھیں، جیسا کہ گزشتہ انبیاء اور اوصیائے الٰہی حکومت تک نہیں پھنچ پائے ہیں اور ان میں سے بعض حضرات ایک مدت تک غیبت کی زندگی بسر کرتے رہے ہیں۔

حدیث نمبر ۷: مشیت الٰہی اور رضائے اہل بیت علیہم السلام

قُلُوبُنٰا اٴَوعِیَةٌ لِمَشِیَّةِ اللهُ، فاِذَا شَاءَ اللهُ شِئنَا، وَاللهُ یَقُولُ: ( وَ مٰا تْشٰاوٴُونَ إِلّا اٴَنْ یَشٰاءَ اللهُ ) (۱۸) (۱۹)

”ہمارے دل مشیت الٰہی کے لئے ظرف ہیں، اگر خداوندعالم کسی چیز کا ارادہ کرے اور اس کو چاہے تو ہم بھی اسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں اور اسی کو چاہتے ہیں۔ کیونکہ خداوندعالم کا ارشاد ہے: ”تم نہیں چاہتے مگر وھی چیز جس کا خدا ارادہ کرے“۔

شرح

امام زمانہ علیہ السلام اس کلام میں ”مقصِّرہ“(۲۰) و ”مفوِّضہ“(۲۱) کی تردیدکرتے ہوئے کامل بن ابراھیم سے خطاب فرماتے ہیں:

”وہ لوگ جھوٹ کہتے ہیں، بلکہ ہمارے دل رضائے الٰہی کے ظرف ہیں، جو وہ چاہتا ہے ہم بھی وھی چاہتے ہیں، اور ہم رضائے الٰہی کے مقابل مستقل طور پر کوئی ارادہ نہیں کرتے“۔

حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام نے ایک حدیث کے ضمن میں بیان فرمایا ہے:

”بے شک خداوندعالم نے ائمہ (علیہم السلام) کے دلوں کو اپنے ارادہ کا راستہ قرار دیا ہے؛ پس جب بھی خداوندعالم کسی چیز کا ارادہ کرے، ائمہ بھی اسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں، اور یہ خداوندعالم کا فرمان ہے : ”تم نہیں چاہتے مگر وھی جس کا خداوندعالم ارادہ کرے“۔(۲۲)

امام مھدی علیہ السلام کی اس حدیث سے متعدد نکات معلوم ہوتے ہیں جن میں سے چند نکات کی طرف ذیل میں اشارہ کیا جاتا ہے:

۱۔ دل، خداوندعالم یا شیطان کے ارادوں کا ظرف ہوتا ہے۔

۲۔ ائمہ علیہم السلام معصوم ہیں؛ کیونکہ ان حضرات کا ارادہ وھی خداوندعالم کا ارادہ ہوتا ہے، اور جن کی ذات ایسی ہو تو ایسی ذات ھی صاحب عصمت ہوتی ہے۔

۳۔ اہل بیت علیہم السلام کا ارادہ خداوندعالم کے ارادہ پر مقدم نہیں ہوتا، نیز خدا کے ارادہ سے موخر بھی نہیں ہوتا۔ لہٰذا اہل بیت علیہم السلام کی بنسبت ہمارا رویہ بھی اسی طرح ہونا چاہئے۔

۴۔ جب تک خداوندعالم کسی چیز کا ارادہ نہ کرلے اہل بیت علیہم السلام بھی اس چیز کا ارادہ نہیں کرتے۔

حدیث نمبر ۸: نماز کے ذریعہ شیطان سے دوری

“مٰا اٴَرْغَمَ اٴَنْفَ الشَّیْطٰانِ اٴَفْضَلُ مِنَ الصَّلاٰةِ، فَصَلِّهٰا وَاٴَرْغِمْ اٴَنْفَ الشَّیْطٰانِ” (۲۳)

”نماز کی طرح کوئی بھی چیز شیطان کی ناک کو زمین پر نہیں رگڑتی، لہٰذا نماز پڑھو اور شیطان کی ناک زمین پر رگڑ دو“۔

شرح

یہ کلام امام زمانہ علیہ السلام نے ابوالحسن جعفر بن محمد اسدی کے سوالات کے جواب میں ارشاد فرمایا۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر شیطان کی ناک رگڑنے (یعنی شیطان بر غلبہ حاصل کرنے) کے لئے بہت سے اسباب پائے جاتے ہیں جس میں سب سے اہم سبب نماز ہے؛ کیونکہ نماز مخلوق سے بے توجہ اور خداوندعالم کی طرف مکمل توجہ اور اس کی یاد و ذکر کا نام ہے جیسا کہ خداوندعالم ارشاد فرماتا ہے:

( اٴَقِمْ الصَّلاَةَ لِذِكْرِى ) (۲۴)

”میرے ذکر کے لئے نماز قائم کرو“۔

وہ نماز جو ایسی ہو کہ انسان کو فحشاء اور برائیوں سے روکتی ہو، جس کے نتیجہ میں انسان ہوائے نفس اور شیطان پر غالب ہوجاتا ہے۔

حدیث نمبر ۹: اول وقت نماز پڑھنا

“مَلْعُونُ مَلْعُونُ مَنْ اٴَخَّرَ الْغَدٰاةَ إِلیٰ اٴَنْ تَنْقَضيِ الْنُجُومْ” (۲۵)

”معلون ہے ملعون ہے وہ شخص جو نماز صبح میں (جان بوجھ کر) اتنی تاخیر کرے جس کی وجہ سے (آسمان کے) ستارے ڈوب جائیں“۔

شرح

یہ حدیث امام مھدی علیہ السلام کی اس توقیع کا ایک حصہ ہے جس کو محمد بن یعقوب کے سوال کے جواب میں تحریر فرمایا ہے۔ امام زمانہ علیہ السلام نے اس توقیع میں اول وقت نماز پڑھنے پر بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے، اور جو لوگ نماز صبح کو اجالا ہونے اور ستاروں کے غروب ہونے تک ٹالتے رہتے ہیں، ان پر امام علیہ السلام نے لعنت کی ہے۔

اس حدیث اور دوسری احادیث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ نماز کے تین وقت ہوتے ہیں:

۱۔ فضیلت کا وقت: فضیلت کا وقت وھی نماز کا اول وقت ہے، جس کو روایات میں ”رضوان اللہ“ (یعنی خوشنودی خدا) سے تعبیر کیا گیا ہے اور یھی نماز کا بہترین وقت ہوتا ہے؛ کیونکہ:

الف) اس وقت میں خداوندعالم کی طرف سے نماز بجالانے کا حکم صادر ہوا ہے اور احکام الٰہی کو جتنی جلدی ممکن ہوسکے انجام دینا مطلوب (اور پسندیدہ) ہے۔

ب) نماز ، در حقیقت ایک محدود موجود اور بالکل محتاج وجود کا لامحدود موجود سے رابطہ اور خدا سے فیضیاب ہونے کا نام ہے، اور یہ انسان کے فائدے کے لئے ہے جس میں جلدی کرنا مطلوب (اور پسندیدہ) ہے۔

ج) امام زمانہ علیہ السلام اول وقت نماز پڑھتے ہیں، اور جو لوگ اس موقع پر نماز پڑھتے ہیں تو خداوندعالم امام زمانہ علیہ السلام کی برکت سے ان کی نماز کو بھی قبول کرلیتا ہے؛ البتہ تمام افق کا اختلاف اس سلسلہ میں اہمیت نہیں رکھتا؛ دوسرے لفظوں میں یہ کھا جائے کہ ایک وقت پر نماز پڑھنا مراد نہیں ہے بلکہ ایک عنوان کے تحت ”یعنی اول وقت نماز ادا کرنا“ مراد ہے، البتہ ہر شخص اپنے افق کے لحاظ سے اول وقت نماز پڑہے۔

۲۔ آخرِ وقت: جس کو روایت میں ”غفران اللہ“ (یعنی خدا کی بخشش) سے تعبیر کیا گیا ہے، نماز کے اول وقت سے آخر وقت تک تاخیر کرنے کے سلسلہ میں مذمت وارد ہوئی ہے؛ لہٰذا امام زمانہ علیہ السلام ایسے شخص پر لعنت کرتے ہیں اور اس کو رحمت خدا سے دور جانتے ہیں۔

ایک دوسری روایت میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے بیان ہوا ہے:

”اول وقت پر نماز پڑھنا خوشنودی خدا کا باعث اور آخر وقت میں نماز ادا کرنا ایسا گناہ ہے کہ جسے خداوندعالم معاف کردیتا ہے“۔(۲۶)

۳۔ خارجِ وقت: نماز کا وقت گزرنے کے بعد نماز پڑھنا جس کو اصطلاح میں ”قضا“ کھا جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص نماز کو وقت کے اندر نہ پڑھ سکے، تو پہر اس کی قضا بجالانے کا حکم ہوا ہے؛ اور یہ نماز ایک جدید حکم کی بنا پر ہوتی ہے۔ حالانکہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر آخر وقت تک نماز کو ٹالتا رہے تو اس نے خدا کی معصیت کی ہے، اور اس کو اسے توبہ کرنی چاہئے، ورنہ خداوندعالم کے عذاب کا مستحق قرار پائے گا؛ لیکن اگر بھولے سے نماز نہیں پڑھ سکا اور اس میں اس کی کوئی غلطی بھی نہ ہو تو پہر وہ عذاب الٰہی کا مستحق نہیں ہوگا۔

حدیث نمبر ۱۰: سجدہ شکر

“سَجْدَةُ الشُّكْرِ مِنْ اٴَلْزَمِ السُّنَنِ وَ اٴَوْجَبِهٰا فَإِنَّ فَضْلَ الدُّعٰاءِ وَالتَّسْبِیْحِ بَعْدَ الْفَرٰائِضِ عَلَی الدُّعٰاءِ بِعَقیبِ النَّوٰافِلِ، كَفَضْلِ الْفَرٰائِضِ عَلَی النَّوٰافِلِ، وَ السَّجْدَةُ دُعٰاءُ وَ تَسْبِیحْ” (۲۷)

”سجدہ شکر، مستحبات میں بہت ضروری اور مستحب موکد ہے۔ ۔ ۔ بے شک واجب (نمازوں) کے بعد دعا اور تسبیح کی فضیلت، نافلہ نمازوں کے بعد دعاؤں پر ایسے فضیلت رکھتی ہے جس طرح واجب نمازیں، مستحب نمازوں پر فضیلت رکھتی ہیں، اور خود سجدہ، دعا اور تسبیح ہے“۔

شرح

یہ حدیث مبارک امام زمانہ علیہ السلام کے اس جواب کا ایک حصہ ہے جو محمد بن عبد اللہ حمیری نے آپ سے سوالات دریافت کئے تہے۔ امام زمانہ علیہ السلام اس حدیث میں ایک مستحب یعنی سجدہ شکر کی طرف اشارہ فرماتے ہیں، واجب نمازوں کے بعد دعا و تسبیح کی گفتگو کرتے ہوئے اور نافلہ نمازوں کی نسبت واجب نمازوں کی فضیلت کی طرح قرار دیتے ہیں، نیز سجدہ اور خاک پر پیشانی رکھنے کے ثواب کو دعا و تسبیح کے ثواب کے برابر قرار دیتے ہیں۔

قرآنی آیات اور احادیث کی تحقیق کرنے سے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ تمام واجبات اور مستحبات برابر نہیں ہیں؛ مثال کے طور پر تمام واجبات میں نماز کی اہمیت سب سے زیادہ ہے؛ کیونکہ دیگر اعمال،نماز کے قبول ہونے پر موقوف ہیں۔ اسی طرح مستحبات کے درمیان (اس حدیث کے مطابق) سجدہ شکر کی اہمیت تمام مستحبات سے زیادہ ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ سجدہ شکر، نعمتوں میں اضافہ کی کنجی ہے؛ یعنی جب انسان کسی نعمت کو دیکھنے یا پانے پر خدا کا شکر بجالاتا ہے تو اس کی نعمت باقی رہتی ہے اور دیگر نعمتیں نازل ہوتی ہیں۔ یہ نکتہ قرآن مجید میں صاف صاف بیان ہوا ہے۔

( لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَاٴَزِیدَنَّكُمْ ) (۲۸)

”اگر تم میرا شکر کرو گے تو میں (نعمتوں میں) اضافہ کردوں گا“۔

امام مھدی علیہ السلام نے اس حدیث میں چند نکات کی طرف اشارہ فرمایا ہے:

۱۔ سجدہ شکر کے لئے کوئی خاص زمانہ اور خاص جگہ نہیں ہوتی، لیکن اس حدیث کے پیش نظر واجب اور مستحب نمازوں کے بعد اس کا بہترین موقع ہوتا ہے۔

۲۔ سجدہ، انسان کے کمال اور خداوندعالم کے سامنے نھایت خشوع و خضوع کا نام ہے، اس موقع پر انسان خود کو نہیں دیکھتا، اور تمام عظمت و کبریائی کو خداوندعالم سے مخصوص جانتا ہے؛ لہٰذا انسان کی یہ حالت بہترین حالت ہوتی ہے، مخصوصاً جبکہ انسان زبان و دل سے خداوندعالم کا ذکر اور اس کا شکر ادا کرتا ہوا نظر آتا ہے۔

۳۔ واجب نمازوں کے بعد دعا اور تسبیح کا ثواب مستحب نمازوں کے بعد دعا او رتسبیح کے ثواب سے بہت زیادہ ہے ، جیسا کہ مستحب نمازوں سے کھیں زیادہ فضیلت واجب نمازوں کی ہے۔

۴۔ امام زمانہ علیہ السلام اس فقرہ سے کہ ”سجدہ ، دعا اور تسبیح ہے“، یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ خود سجدہ بھی ایک قسم کی تسبیح اور دعا ہے، جس طرح نماز کے بعد ذکر خدا پسندیدہ عمل اور مستحب ہے اسی طرح سجدہ کرنا بھی مستحب ہے؛ کیونکہ دعا اور تسبیح کا مقصد بھی خداوندعالم کے حضور میں خشوع و خضوع ہے، اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ ھدف سجدہ میں کامل اور مکمل طور پر موجود ہے۔

____________________

۷. الغیبة، شیخ طوسی، ص۲۸۵، ح۲۴۵؛ احتجاج، ج۲، ص۲۷۸؛ بحار الانوار، ج۵۳، ص۱۷۸، ح۹۔

۸. احتجاج، ج ۱، ص۹۷، بحار الانور، ج ۲۹، ص۲۴۳، ح ۱۱۔

۹. تحف العقول، ص۳۸۶؛ بحار الانور، ج۷۵، ص۳۰۰، ح۱۔

۱۰. نهج البلاغہ، حکمت ۲۰۱ ؛ بحارالانور، ج۶۴، ص۱۵۸، ح ۱ ۔

۱۱. کمال الدین، ج ۲، ص ۴۸۵، ح ۱۰؛ الغیبة، شیخ طوسی، ص۲۹۲، ح۲۴۷؛ احتجاج، ج۲، ص۲۸۴؛ اعلام الوری، ج۲، ص۲۷۲، کشف الغمة، ج ۳، ص ۳۴۰، الخرائج والجرائح، ج ۳، ص ۱۱۱۵، بحار الانوار، ج ۵۳، ص ۱۸۱، ح ۱۰۔

۱۲. الغیبة، طوسی، ص ۲۸۸، ح ۲۴۶، احتجاج، ج ۲، ص ۲۸۰، بحار الانوار، ج ۵۳، ص ۱۹۴۔ ۱۹۵، ح ۲۱۔

۱۳. الغیبة، شیخ طوسی، ص ۲۸۶، ح ۲۴۵، احتجاج، ج ۲، ص ۲۷۸، بحار الانوار، ج ۵۳، ص ۱۷۹، ح ۹۔

۱۴. توقیع ، امام زمانہ علیہ السلام کے اس خط کو کھا جاتا ہے جس کو آپ نے کسی کے جواب میں بقلم خود تحریر کیا ہو۔ (مترجم)

۱۵. دلائل الامامة، ص ۵۲۴، ح ۴۹۵، مدینة المعاجز، ج ۸، ص ۱۰۵، ح ۲۷۲۰۔

۱۶. دیکھئے: مرآة العقول، ج۳، ص ۱۳۶ تا۱۳۷۔

۱۷. کمال الدین، ج ۲، ص ۵۱۱، ح ۴۲، الخرائج والجرائح،ج ۳، ص ۱۱۱۰، ح۲۶، بحار الانوار، ج ۵۳، ص ۱۹۱، ح ۱۹۔

۲۰. ”مقصِّرہ“ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اہل بیت علیہم السلام کے لئے ولایت الٰہی میں سے کسی شئے کو بالکل نہیں مانتے۔

۲۱. ”مفوِّضہ“سے مسلمانوں کا وہ گروہ مراد ہے جن کا عقیدہ یہ ہے کہ خداوندعالم نے کائنات کو خلق کرنے کے بعد اپنے ارادہ کو ائمہ کے حوالہ کردیا ہے، ائمہ جس طرح چاھیں اس کائنات میں دخل و تصرف کرسکتے ہیں۔

۲۲. تفسیر علی بن ابراھیم، ج۲، ص ۴۰۹، بصائر الدرجات، ص۵۳۷، ح۴۷، بحار الانوار، ج۵، ص۱۱۴، ح ۴۴۔

۲۳. کمال الدین، ج ۲، ص ۵۲۰، ح ۴۹، فقیہ، ج ۱، ص۴۹۸، ح ۱۴۲۷، تہذیب الاحکام، ج ۲، ص ۱۷۵، ح ۱۵۵، الاستبصار، ج ۱، ص ۲۹۱، ح ۱۰، الغیبة، طوسی، ص۲۹۶، ح ۲۵۰، احتجاج، ج۲، ص۲۹۸، بحار الانوار، ج۵۳، ص ۱۸۲، ح ۱۱، وسائل الشیعة، ج ۴، ص ۲۳۶، ح ۵۰۲۳۔

۲۴. سورہ طہ، آیت ۱۴۔

۲۵. الغیبة، طوسی، ص ۲۷۱، ح ۲۳۶، احتجاج، ج۲، ص ۲۹۸، بحار الانوار، ج۵۲، ص۱۶، ح۱۲، وسائل الشیعة، ج ۴، ص۲۰۱، ح ۴۹۱۹۔

۲۶. من لا یحضرہ الفقیہ، ج ۱، ص ۲۱۷، بحار الانوار، ج۷۹، ص۳۵۱، ح۲۳۔

۲۷. احتجاج، ج۲، ص ۳۰۸؛ بحار الانوار، ج۵۳، ص۱۶۱، ح۳؛ وسائل الشیعة، ج ۶، ص۴۹۰، ح ۸۵۱۴۔

۲۸. سور ہ ابراھیم، آیت۷۔


حدیث نمبر ۱۱: تسبیح خاک شفا کی فضیلت

“مِنْ فَضْلِه، اٴَنَّ الرَّجُلَ یَنْسیٰ التَّسْبیحَ وَیُدِیرُ السُّبْحَةَ فَیُكْتَبُ لَهُ التَّسْبِیحُ” (۲۹)

”(تربت سید الشھداء) کی فضیلت یہ ہے کہ جب خاک شفا کی تسبیح ہاتھ میں لے کر گہمائی جائے تو اس کا ثواب تسبیح و ذکر کا ثواب ہوتا ہے اگرچہ کوئی ذکر و دعا بھی نہ پڑھی جائے“۔

شرح

یہ حدیث ان جوابات میں سے ہے جن کو امام زمانہ علیہ السلام نے محمد بن عبد اللہ حمیری کے سوالوں کے جواب میں ارشاد فرمائی ہے، موصوف نے امام زمانہ علیہ السلام سے سوال کیا تھا کہ کیا امام حسین علیہ السلام کی قبر کی مٹی سے تسبیح بنانا جائز ہے؟ اور کیا اس میں کوئی فضیلت ہے؟

امام زمانہ علیہ السلام نے سوال کے جواب کے آغاز میں فرمایا:

”تربت قبر حسین علیہ السلام (یعنی خاک شفا) کی تسبیح بنا سکتے ہو، جس سے خداوندعالم کی تسبیح کرو؛ کیونکہ تربت امام حسین علیہ السلام سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے، اس کے فضائل میں سے ایک یہ ہے کہ اگر کوئی ذکر بھی نہ کہے اور فقط تسبیح کو گہماتا رہے تو بھی اس کے لئے تسبیح کا ثواب لکھا جاتا ہے“۔

ھاں پر تربت حسینی یا خاک شفا کے بارے میں دو نکتوں کی طرف اشارہ کرنا مناسب ہے:

۱۔ تربت قبر حسین علیہ السلام ان تربتوں میں شمار ہوتی ہے جن کو خداوندعالم نے مبارک قرار دیا ہے؛ کیونکہ یہ اس زمین کا حصہ ہے جس میں حضرت سید الشھداء امام حسین علیہ السلام کا پاک و مبارک جسم دفن ہے۔ خاک شفا کی تسبیح کے مستحب ہونے کے اغراض و مقاصد میں سے یہ بھی ہے کہ جس وقت انسان خاک شفا کی تسبیح کو ہاتھ میں لیتا ہے، تو خداوندعالم کی بارگاہ میں حضرت امام حسین علیہ السلام کی فداکاری اور قربانی کو یاد کرتا ہے ، اور یہ کہ انسان عقیدہ اور خدا کی راہ میں کس طرح فداکاری اور ظالموں کا مقابلہ کرسکتا ہے۔ انسان اس حال میں ان پاک و مقدس ارواح کو یاد کرتا ہے جو معشوق حقیقی کی راہ میں اپنی جان قربان کرچکی ہیں اور ملکوت اعلیٰ (بارگاہ رب العزت) کی طرف پرواز کرچکی ہیں۔ اس عالم میں انسان کے اندر خضوع و خشوع پیدا ہوتا ہے ، اور اس کی نظر میں دنیا اور اس کا ساز و سامان حقیر دکھائی دیتا ہے، نیز اس کے نفس میں مخصوص عرفانی اور معنوی حالت پیدا ہوتی ہے اور یہ حضرت امام حسین علیہ السلام کی تربت کے ارتباط اور توسل کی بنا پر ہے؛ اسی وجہ سے ہم احادیث میں پڑھتے ہیں کہ تربت حسینی پر سجدہ کرنے سے ساتوں پردے ہٹ جاتے ہیں۔

۲۔ تربت حسینی کے منجملہ فوائد اور برکات میں سے ایک فائدہ اور برکت یہ ہے (جس کو اہل بیت علیہم السلام نے ہمیشہ لوگوں کے سامنے بیان کیا ہے) کہ امام حسین علیہ السلام کی مظلومیت لوگوں پر واضح ہوجائے؛ کیونکہ جب نمازی ہر روز نماز کے بعد تسبیح خاک شفا سے فیضیاب ہوتے وقت جب اس کی نظر خاک شفا پر پڑتی ہے تو امام حسین علیہ السلام اور آپ کے اصحاب و اہل حرم کی فداکاریوں کو یاد کرتا ہے، جبکہ یہ بات معلوم ہے کہ ایسے نمونوں کو یاد کرنا (نفسیاتی لحاظ سے) انسان کے نفس میں عجیب و غریب تربیتی اور معنوی اثر پیدا کرتا ہے، اور انسان کو (سچا) حسینی بنا دیتا ہے اور انسانی وجود میں انقلاب حسینی کی روح اور خون کو حرکت میں لاتا ہے۔

حدیث نمبر ۱۲: لوگوں کی حاجت روائی کرنا

“مَنْ كٰانَ في حٰاجَةِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ كٰانَ اللهُ فِي حٰاجَتِهِ” (۳۰)

”جو شخص خداوندعالم کی حاجت(۳۱) کو پورا کرنے کی کوشش کرے تو خداوندعالم بھی اس کی حاجت روائی اور اس کی مرادوں کو پوری کردیتا ہے“۔

شرح

اس حدیث کو شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے اپنے پدر بزگوار سے، انھوں نے سعد بن عبد اللہ سے، انھوں نے ابوالقاسم بن ابو حلیس (حابس) سے انھوں نے حضرت امام مھدی علیہ السلام سے نقل کیا ہے۔ امام علیہ السلام نے حلیسی کے خلوص اور عام طور پر اس اخلاقی نکتہ کی طرف اشارہ فرمایا ہے: جو شخص خداوندعالم کی حاجت کو پورا کرنے کی کوشش کرے تو خداوندعالم بھی اس کی حاجت روائی کرتا ہے اور اس کی مرادوں کو پوری کردیتا ہے۔

اگرچہ خداوندعالم کی حاجت سے مراد اس حدیث کے دوسرے حصہ میں حضرت امام حسین علیہ السلام کی خلوص نیت کے ساتھزیارت کرنا ہے، لیکن امام زمانہ علیہ السلام نے اس کو ایک عام قانون کی صورت میں بیان کیا ہے اور امام حسین علیہ السلام کی زیارت کو اس کا ایک مصداق قرار دیا ہے، یعنی اگر انسان ان کاموں کو انجام دے جن کا انجام دینا مطلوب اور جن کے سلسلہ میں خدا کا حکم ہو، اس وجہ سے اس کو ”خداوندعالم کی حاجت اور طلب“ کھا جاسکتا ہے، لہٰذا خداوندعالم بھی انسان کے کاموں کی اصلاح کردیتا ہے۔

اس بات کی یاددھانی مناسب ہے کہ خداوندعالم کسی چیز کا محتاج نہیں ہے بلکہ وہ قاضی الحاجات یعنی حاجتوں کا پورا کرنے والا ہے اور تمام مخلوق سراپا اس کی محتاج ہے۔ جیسا کہ خداوندعالم نے ارشاد فرمایا:

( یَااٴَیُّهَا النَّاسُ اٴَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَی اللهِ وَاللهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِیدُ ) (۳۲)

”انسانو! تم سب اللہ کی بارگاہ کے فقیر ہو اور اللہ صاحب دولت اور قابل حمد و ثنا ہے“۔

اس حدیث میں خداوندعالم کی حاجت کی طرف اشارہ ہوا، اس کی وجہ یہ ہے کہ خداوندعالم کی حاجت مخلوق کی حاجت میں ہے، دوسرے لفظوں میں یوں کھا جائے کہ جس شخص نے لوگوں کی حاجت روائی کی گویا اس نے خدا کی حاجت پوری کی ہے۔

اس حدیث میں دوسرا احتمال یہ پایا جاتا ہے کہ ”خدا کی حاجت“ سے مراد خداوندعالم کے احکام مراد ہوں، چاہے وہ امر ہو یا نھی، جن کو خداوندعالم چاہتا ہے، اور اگر کوئی شخص خدا کے احکام کی اطاعت کرے تو خداوندعالم بھی اس کی حاجت پوری کرتا ہے۔

حدیث نمبر ۱۳: استغفار، بخشش کا ذریعہ

“إِذٰا اسْتَغْفَرْتَ اللهَ، فَاللهُ یَغْفِرُ لَكَ” (۳۳)

”اگر تم خدا سے استغفار کروگے تو خداوندعالم بھی تم کو معاف کردےگا“۔

شرح

شیخ کلینی علیہ الرحمہ اس حدیث شریف کو امام زمانہ علیہ السلام کی احادیث کے ضمن میں بیان کرتے ہیں۔ حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ یمانی نام کا ایک شخص سامرہ میں آتا ہے۔ امام زمانہ علیہ السلام کی طرف سے اس کے لئے ایک تھیلی پھنچتی ہے جس میں دو دینار اور دو لباس تہے، لیکن وہ ان کو کمترین ھدیوں میں شمار کرتے ہوئے ردّ کردیتا ہے، لیکن کچھ دنوں بعد اپنے اس کام پر شرمندہ ہوتا ہے، اور ایک خط لکھ کر معذرت خواھی کرتا ہے، اور اپنے دل میں توبہ کرتے ہوئے یہ نیت کرتا ہے کہ اگر دوبارہ (امام علیہ السلام کی طرف سے) کوئی ھدیہ ملے گا تو اس کو قبول کرلوں گا۔ چنانچہ کچھ مدت بعد اس کو ایک ھدیہ ملتا ہے، اور امام علیہ السلام یمانی کے لئے اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

”تم نے ہمارا ھدیہ ردّ کرکے غلطی کی ہے، اگر تم خدا سے مغفرت طلب کرو تو خداوندعالم تمھیں معاف کردے گا“۔

اس توقیع مبارک میں د و نکات کی طرف اشارہ ہوا ہے:

۱۔ امام زمانہ علیہ السلام اسرار اور مخفی باتوں کا علم رکھتے ہیں، یھاں تک کہ لوگوں کے دل کی نیت سے بھی آگاہ ہیں؛ لہٰذا حضرت امام صادق علیہ السلام آیہ شریفہ( قُلْ اعْمَلُوا فَسَیَرَی اللهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُولُهُ وَالْمُؤْمِنُونَ ) (۳۴) کے ذیل میں بیان ہونے والی حدیث میں فرماتے ہیں:

”مومنین سے مراد، ائمہ (معصومین علیہم السلام) ہیں“۔

۲۔ خداوندعالم سے طلب مغفرت کرنا گناھوں کی بخشش کا سبب ہے۔ اور چونکہ طلب ایک امرِ قلبی کا نام ہے اور لفظوں کی صورت میں بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ صرف طلب مغفرت (شرمندگی اور دوبارہ گناہ نہ کرنے کے عزم کے ساتھ) گناھوں کی بخشش اور توبہ کے لئے کافی ہے۔ البتہ مکمل توبہ کے لئے کچھ خاص شرائط ہیں جن کی طرف حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے ایک حدیث کے ضمن میں اشارہ فرمایا ہے۔(۳۵)

حدیث نمبر ۱۴: ایک دوسرے کے حق میں استغفار کرنا

“لَوْلاٰ اسْتِغْفٰارُ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ لَهَلَكَ مَنْ عَلَیْهٰا” (۳۶)

”اگر تم میں ایک دوسرے کے لئے طلب مغفرت نہ ہوتی تو زمین پر بسنے والے تمام لوگ ہلاک ہوجاتے “۔

شرح

امام مھدی علیہ السلام ابن مہزیار سے ایک طولانی خطاب میں اپنے شیعوں کو ایک دوسرے کے حق میں استغفار کرنے کی رغبت دلاتے ہیں؛ کیونکہ اس کام کے فوائد اور برکتیں زمین اور اس پر بسنے والوں سے عذاب کا دور رھنا ہے۔

قرآنی آیات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں عذاب الٰہی سے محفوظ رھنے کے لئے دو سبب پائے جاتے ہیں:

۱۔ پیغمبر اکرم (ص) کا وجود مبارک: جیسا کہ خداوندعالم ارشاد فرماتا ہے:

( مٰا كٰانَ اللهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَاٴَنْتَ فِیْهِمْ ) (۳۷)

”حالانکہ جب تک تم ان کے درمیان موجود ہو تو خدا ان پر عذاب نہیں کرےگا“۔

۲۔ استغفار: جیسا کہ خداوندعالم ارشاد فرماتا ہے:

( مٰا كٰانَ اللهُ لِیُعَذِّبَهُمَْ وهُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ ) (۳۸)

”اور اللہ ان لوگوں پر جب وہ توبہ و استغفار کرتے رھیں ہرگز عذاب نہیں کرے گا“۔

اس حدیث سے بھی دو نکات معلوم ہوتے ہیں:

الف) گناہ، اسی دنیا میں ھلاکت اور عذاب کا سبب ہوتا ہے۔

ب) استغفار، بخشش کا سبب ہے، خصوصاً اگر ایک دوسرے کے حق میں استغفار کیا جائے۔

حدیث نمبر ۱۵: انسان کا امام غائب سے فیض حاصل کرنا

“اٴَمّٰا وَجْهُ الْاِنْتِفٰاعِ بِي فِي غَیْبَتِي فَكَالْاِنْتِفٰاعِ بِالشَّمْسِ إِذٰا غَیَّبَتْهٰا عَنِ الْاٴَبْصٰارِ السَّحٰابُ” (۳۹)

”لیکن میری غیبت میں مجھ سے فیض حاصل کرنا اسی طرح ہے جس طرح بادلوں کے پیچہے چھپے سورج سے فیض حاصل کیا جاتا ہے“۔

شرح

امام زمانہ علیہ السلام کا یہ کلام اس حدیث کا آخری حصہ ہے جس کو آپ نے اسحاق بن یعقوب کے جواب میں تحریر فرمایا ہے، شیخ صدوق اور شیخ طوسی علیہما الرحمہ نے اس حدیث کو نقل کیا ہے۔ اس حدیث مبارک میں امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کبریٰ کو بادلوں کے پیچہے چھپے سورج سے تشبیہ دی ہے۔

اس تشبیہ میں بہترین نکات پائیں جاتے ہیں، جن میں بعض کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:

۱۔ امام مھدی علیہ السلام نے اپنے کو سورج کے مشابہ قرار دیا ہے، جس طرح سورج موجودات کے لئے آب حیات اور نور و حرارت وغیرہ کا باعث ہوتا ہے اور اس کے نہ ہونے کی صورت میں تمام موجودات کی زندگی سامان سفر باندھ لیتی ہے، اسی طرح معاشرہ کی معنوی زندگی اور اس کی بقاء بھی امام زمانہ علیہ السلام کے وجود سے وابستہ ہے۔ بعض اسلامی روایات میں بیان ہوا ہے کہ ائمہ معصومین علیہم السلام خلقت ِمخلوق کا اصلی ترین مقصد ہیں۔

۲۔ جس طرح سورج منجملہ مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ موجودات کے لئے نور و حرارت سے فیضیاب ہونے میں واسطہ ہے۔ اسی طرح امام علیہ السلام کا وجود بھی مخلوقکے فیض حاصل کرنے میں ایک عظیم واسطہ ہے، اور خداوندعالم کا فیض جیسے نعمت اور ہدایت وغیرہ اسی واسطہ کے ذریعہ مخلوقات تک پھنچتا ہے۔

۳۔ جس طرح لوگ بادلوں کے پیچہے سے سورج کے نکلنے کا انتظار کرتے ہیں تاکہ اس سے مکمل اور کامل طور پر فائدہ اٹھاسکیں، امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت کے زمانہ میں بھی مومنین آپ کے ظھور کا انتظار کرتے ہیں اور ان کے ظھور سے نا امید نہیں ہوتے۔

۴۔ امام زمانہ علیہ السلام کے وجود کا منکر بالکل اسی طرح ہے جیسے کوئی بادلوں کے پیچہے چھپےسورج کا منکر ہوجائے۔

۵۔ جس طرح بادل سورج کو مکمل طریقہ سے نہیں چھپاتے اور سورج کا نور زمین اور زمین والوں تک پھنچتا رہتا ہے، اسی طرح غیبت بھی امام علیہ السلام کے فیض پھنچانے میں مکمل مانع نہیں ہے، لہٰذا (بہت سے مومنین) آپ کے وجود مبارک سے فیضیاب ہوتے رہتے ہیں، توسل: امام علیہ السلام سے فیضیاب ہونے کے منجملہ راستوں میں سے ایک راستہ ہے۔

۶۔ جس طرح بعض علاقوں میں معمولاً بادل چھائے رہتے ہیں، لیکن کبھی کبھی سورج بادلوں کو چیرتے ہوئے ان کے درمیان سے نمایاں ہوجاتا ہے اور بہت سے لوگ سورج کو دیکھ لیتے ہیں اگرچہ تھوڑی ھی دیر کے لئے ھی کیوں نہ ہو، اسی طرح بعض مومنین امام زمانہ علیہ السلام کی خدمت مبارک میں حاضر ہوتے ہیں اور آپ کے وجود سے (براہ راست) فیضیاب ہوتے ہیں، چنانچہ اس طرح عام لوگوں کے لئے امام علیہ السلام کا وجود ثابت ہوجاتا ہے۔

۷۔ جس طرح سورج سے دیندار اور بے دین لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں اسی طرح امام زمانہ علیہ السلام کے وجود کی برکتیں پوری دنیا کے شامل حال ہوتی ہیں، اگرچہ لوگ آپ کو نہ پہچانیں اور آپ کی قدر نہ جانیں۔

۸۔ جس طرح سورج کی کرنیں دروازوں اور کھڑکیوں کے اندازہ کے مطابق کمرے میں آتی ہیں اور لوگ اسی مقدار میں اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اسی طرح امام زمانہ علیہ السلام کے وجود کی برکتوں سے فیضیاب ہونا بھی انسان کی قابلیت اور صلاحیت کی بنا پر ہوتا ہے۔ انسان جس قدر اپنے سے موانع اور پردوں کو دور کرتا ہے اور اپنے دل (کی آغوش) کو مزیدپھیلاتا ہے اتنا ھی آپ کے وجود کی برکتوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاتا ہے۔

۹۔ جس طرح بادل سورج کو ختم نہیں کرتے اور صرف سورج کے دیکھنے میں رکاوٹ پیدا کرتے ہیں، امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت بھی صرف آپ کے دیدار میں مانع ہے۔

حدیث نمبر ۱۶: امام علیہ السلام کے ظھور میں تاخیر کی وجہ

“وَلَوْ اٴَنَّ اٴشْیٰاعَنٰا (وَ فَّقَهُمُ اللهُ لِطٰاعَتِهِ) عَلَی اجْتِمٰاعٍ مِنَ الْقُلُوبِ فِي الْوَفٰاءِ بِالْعَهْدِ عَلَیْهِمْ لَمٰا تَاٴَخَّرَ عَنْهُمُ الْیُمْنَ بِلِقٰائِنٰا، وَ لَتَعَجَّلَتْ لَهُمُ السَّعٰادَةُ بِمُشٰاهَدَتِنٰا عَلیٰ حَقِّ الْمَعْرِفَةِ وَ صِدْقِهٰا مِنْهُمْ بِنٰا، فَمٰا یَحْبِسُنٰا عَنْهُمْ إِلاّٰ مٰا یَتَّصِلُ بِنٰا مِمّٰا نَكْرَهُهُ وَلاٰ نُوٴْثِرُهُ مِنْهُمْ” (۴۰)

”اگر ہمارے شیعہ (خدا ان کو اطاعت کی توفیق دے) اپنے عھد و پیمان کو پورا کرنے کی کوشش میں ہمدل ہوںتو پہر ہماری ملاقات کی برکت میں تاخیر نہیں ہوتی، اور ہمارے دیدار کی سعادت جلد ھی نصیب ہوجاتی، ایسا دیدار جو حقیقی معرفت اور ہماری نسبت صداقت پر مبنی ہو، ہمارے مخفی رھنے کی وجہ ہم تک پھنچنے والے اعمال کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں ہے جبکہ ہمیں ان سے ایسے اعمال کی امید نہیں ہے“۔

شرح

یہ اس خط کے جملے ہیں جس کو امام زمانہ علیہ السلام نے شیخ مفید علیہ الرحمہ کے لئے بھیجا تھا۔ امام علیہ السلام نے اس خط میں شیخ مفید علیہ الرحمہ کو چند سفارشیں کرنے اور اپنے شیعوں کے لئے کچھ احکام بیان کرنے کے بعد اس اہم چیز کی طرف اشارہ کیا جو غیبت کا سبب ہوئی ہے۔ امام علیہ السلام شیعوں کے درمیان خلوص اور ہمدلی نہ ہونے کو اپنی غیبت کا سبب شمار کرتے ہیں۔

تاریخ کے پیش نظر یہ بات واضح ہے کہ جب تک لوگ نہ چاھیں اور سعی و کوشش نہ کریں تو حق اپنی جگہ قائم نہیں ہوپاتا، اور حکومت اس کے اہل کے ہاتھ وں میں نہیں آتی۔ حضرت علی ، امام حسن اور امام حسین علیہم السلام کی تاریخ اس بات پر بہترین دلیل ہے۔ اگر لوگ حضرت علی علیہ السلام کی خلافت پر اصرار کرتے تو پہر آج تاریخ کا ایک دوسرا رخ ہوتا، لیکن اس وقت کے لوگوں میں دنیا طلبی اور خوف و وحشت وغیرہ اس بات کا سبب بنی کہ ہمیشہ تک دنیا والوں مخصوصاً شیعوں کو ظلم و ستم کے علاوہ کچھ دیکھنے کو نہ ملا۔ افسوس کہ ہماری کوتاھی اور ہمارے بُرے کام اس بات کا سبب ہوئے کہ وہ محرومیت اب تک چلی آرھی ہے۔

اس حدیث کے مطابق امام زمانہ علیہ السلام کے ظھور کی تعجیل کے سلسلہ میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے اور اپنے رشتہ داروں پر امام علیہ السلام کو مقدم کریں، اور اسلامی احکام کو جاری کریں اور اسلام کی تبلیغ کے ذریعہ دنیا والوں کے سامنے امام زمانہ علیہ السلام کا تعارف کرائیں، اور دلوں کو امام کی طرف متوجہ کریں، تاکہ خدا کی مشیت سے بہت جلد ھی لوگوں میں امام زمانہ علیہ السلام کو قبول کرنے کا زمینہ ہموار ہوجائے۔

اس حدیث مبارک سے چند چیزیں معلوم ہوتی ہیں:

۱۔ خداوندعالم نے شیعوں سے عھد و پیمان لیا ہے کہ ائمہ معصومین علیہم السلام کی پیروی کریں اور یھی پیروی امام زمانہ علیہ السلام کی ملاقات کے شرف کا سبب ہے۔

۲۔ شیعوں کے بُرے اعمال اپنے امام سے دوری کا سبب بنے ہیں؛ لہٰذا ہمارے نیک اعمال امام زمانہ علیہ السلام سے رابطہ میں موثر واقع ہوسکتے ہیں۔

حدیث نمبر ۱۷: غیبت، منجملہ تقدیرات الٰہی میں سے ہے

“اٴَقْدٰارُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ لاٰ تُغٰالَبُ وَإِرٰادَتُهُ لاٰ تُرَدُّ وَ تَوْفیقُهُ لاٰ یُسْبَقُ” (۴۱)

”جو چیزیں خداوندعالم نے مقدّر فرمادی ہیں وہ کبھی مغلوب نہیں ہوتیں، اور اس کا ارادہ کبھی ردّ نہیں ہوتا، اور اس کی توفیق پر کوئی چیز سبقت حاصل نہیں کرسکتی“۔

شرح

یہ حدیث امام زمانہ علیہ السلام کے اس کلام کا حصہ ہیں جس کو آپ نے اپنے دو نائبوں عثمان بن سعید اور ان کے فرزند محمد ابن عثمان کے لئے بھیجے گئے خط میں تحریر کیا تھا۔ امام علیہ السلام اس توقیع میں اپنی غیبت کے مسئلہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یہ موضوع تقدیر الٰہی ہے اور خدا کا حتمی و یقینی ارادہ اس سے متعلق ہے۔

امام مھدی علیہ السلام نے اس توقیع میں چند نکات کی طرف اشارہ فرمایا ہے:

۱۔ کوئی بھی شخص تقدیر الٰہی کے مقابلہ میں کامیاب نہیں ہوسکتا؛ کیونکہ وہ ”مقدِّر کلّ قَدَر“ ہے اور اس کی قدرت تمام قدرتوں سے بلند و بالا ہے۔

۲۔ اگر خداوندعالم کسی چیز کے بارے میں حتمی ارادہ کرلے تو پہر اس کے ارادہ پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور اس کے نافذ کرنے میں مانع نہیں ہوسکتا؛ کیونکہ اس کے ارادہ سے اوپر کسی کا ارادہ نہیں ہوسکتا۔ جیسا کہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی دعا میں ہم پڑھتے ہیں:

”پروردگارا! حمد و ثنا تجھ سے مخصوص ہے کیونکہ تو ایسا صاحب قدرت ہے جو کبھی مغلوب نہیں ہوتا“۔(۴۲)

حدیث نمبر ۱۸: زمانہ غیبت میں فقھا کی طرف رجوع کرنا

“اٴَمَّا الْحَوٰادِثُ الْوٰاقِعَةُ فَارْجِعوُا فیهٰا إِلٰی رُوٰاةِ حَدیثِنٰا، فَإِنَّهُمْ حُجَّتِي عَلَیْكُمْ وَ اٴَنَا حُجَّةُاللهِ عَلَیْهِمْ” (۴۳)

”لیکن ہر زمانہ میں پیش آنے والے حوادث (اور واقعات) میں ہماری احادیث بیان کرنے والے راویوں کی طرف رجوع کرو، کیونکہ وہ تم پر ہماری حجت ہیں اور میں ان پر خدا کی حجت ہوں“۔

شرح

یہ حدیث ان مطالب کا ایک حصہ ہے جس کو امام زمانہ علیہ السلام نے اسحاق بن یعقوب کے سوالات کے جواب میں ارشاد فرمایا ہے۔ اس حدیث شریف میں امام علیہ السلام زمانہ غیبت میں اپنے شیعوں کو رونما ہونے والے حوادث کے موقع پر ان کی ذمہ داری کی طرف اشارہ فرماتے ہیں۔

امام مھدی علیہ السلام اپنے شیعوں کو شرعی یا معاشرتی مسائل کو سمجھنے کے لئے روایان حدیث (کہ جو فقھائے شیعہ ہیں) کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیتے ہیں؛ کیونکہ یھی حضرات حدیث کو اچھی طرح سمجھتے ہیں، اور خاص و عام، محکم و متشابہ اور صحیح و باطل کو پہچانتے ہیں۔

امام زمانہ علیہ السلام کی نظر میں ”راویان حدیث“ وہ لوگ نہیں ہیں جو فقط روایت کو نقل کرتے ہیں بغیر اس کے اس کو صحیح طور پر سمجہے ہوئے ہوں؛ کیونکہ ایسے افراد شرعی و غیر شرعی مشکلات کو حل نہیں کرسکتے۔

عصر غیبت میں فقھا کی طرف رجوع کرنا کوئی مستحب کام نہیں ہے بلکہ ایک واجب شرعی ہے؛ کیونکہ فقھائے کرام امام زمانہ علیہ السلام کی طرف سے اس کام کے لئے مقرر ہوئے ہیں اور امام علیہ السلام کے فرمان کی مخالفت نہیں کی جاسکتی۔

حدیث نمبر ۱۹: زکوٰة، نفس کو پاک کرنے والی ہے

“اٴمّٰا اٴَمْوٰالُكُمْ فَلاٰ نَقْبَلُهٰا إِلّا لِتَطَهَّرُوْا، فَمَنْ شٰاءَ فَلْیَصِلْ وَ مَنْ شٰاءَ فَلْیَقْطَعْ، فَمٰا آتٰانِي اللهُ خَیْرٌ مِمّٰا آتٰاكُمْ” (۴۴)

”لیکن تمھارے مال کو ہم صرف اس وجہ سے قبول کرلیتے ہیں تاکہ تم پاک ہوجاؤ۔ لہٰذا جو چاہے ادا کرے جو چاہے ادا نہ کرے۔ خداوندعالم نے جو چیزیں ہم کو عطا کی ہیں ان چیزوں سے بہتر ہے جو تمھیں عطا کی ہیں“۔

شرح

یہ حدیث ان مطالب کا ایک حصہ ہے جن کو امام زمانہ علیہ السلام نے اسحاق بن یعقوب کے سوالات کے جواب میں اپنی توقیع میں تحریر فرمایا ہے۔ اسحاق بن یعقوب کہتے ہیں: میں نے کچھ سوالات جمع کئے اور آپ کے دوسرے نائب خاص محمد بن عثمان عمری کی خدمت میں پیش کئے، اور ان سے گزارش کی کہمیرے ان سوالات کو امام زمانہ علیہ السلام کی خدمت میں پھنچا دیجئے اور ان کے جوابات کی بھی درخواست کیجئے۔ امام زمانہ علیہ السلام نے ایک توقیع میں اپنے قلم سے چند چیزوں کی یاد دھانی کے بعد اس طرح فرمایا:

”لیکن تمھارے مال کو ہم صرف اور صرف اس وجہ سے قبول کرلیتے ہیں تاکہ تم پاک ہوجاؤ۔ لہٰذا جو چاہے اپنا مال بھیجے جو چاہے نہ بھیجے ۔ خداوندعالم نے جو چیزیں ہم کو عطا کی ہیں ان چیزوں سے بہتر ہے جو تمھیں عطا کی ہیں“۔

امام زمانہ علیہ السلام اپنے اس کلام مبارک میں اس نکتہ کی طرف اشارہ فرماتے ہیں کہ مالی واجب حقوق کو ادا کرنے کا فائدہ خود انسان تک پھنچتا ہے، اور امام علیہ السلام اس مال کو اس وجہ سے قبول کرتے ہیں تاکہ خود ادا کرنے والا پاک و پاکیزہ ہوجائے، نہ یہ کہ امام خود اس چیز کا محتاج ہوتا ہے۔ قرآن کریم نے زکوٰة سے متعلق، آیت میں اس نکتہ کی طرف اشارہ کیا ہے:

( خُذْ مِنْ اٴَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّیهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَیْهِمْ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَهُمْ ) (۴۵)

”(اے پیغمبر!) آپ ان کے اموال میں سے زکوٰة لے لیجئے تاکہ اس کے ذریعہ یہ پاک ہوجائیں اور انھیں دعائیں دیجئے کہ آپ کی دعا ان کے لئے تسکین قلب کا باعث ہوگی“۔

حدیث نمبر ۲۰: مالی واجبی حقوق کو ادا کرنے کا فائدہ تقویٰ ہے

“ اٴَنَّهُ مَنِ اتَّقیٰ رَبَّهُ مِنْ اخْوٰانِكَ فِي الدِّینِ وَ اٴَخْرَجَ مِمّٰا عَلَیْهِ إِلیٰ مُسْتَحِقّیهِ، كٰانَ آمِناً مِنَ الْفِتْنَةِ الْمُبْطِلَةِ، وَ مِحَنِهَا الْمُظْلِمَةِ الْمُظِلَّةِ وَ مَنْ بَخِلَ مِنْهُمْ بِمٰا اٴَعٰارَهُ اللهُ مِنْ نِعْمَةِ عَلیٰ مَنْ اٴَمَرَهُ بِصِلَتِهِ، فَإِنَّهُ یَكُونُ خٰاسِراً بِذٰلِكَ لِاٴُوْلاٰهُُ وَآخِرَتِهِ” (۴۶)

”بے شک کہ جو شخص اپنے دینی بھائی کے حقوق کے سلسلہ میں حکم الٰہی کا احترام کرے اور اپنے ذمہ مالی حقوق کو اس کے مستحق تک پھنچائے تو ایسا شخص باطل راہ کی طرف لے جانے والے فتنوں سے اور خطرناک بلاؤں سے محفوظ رہتا ہے، اور جو شخص بخل سے کام لے اور خداوندعالم

نے جن نعمتوں کو اس کے پاس امانت رکھا ہے ان میں سے مستحق کو نہ دے، تو ایسا شخص دنیا و آخرت میں گھاٹا اٹھانے والا ہوگا“۔

شرح

یہ کلام حضرت امام زمانہ علیہ السلام کے اس دوسرے خط کا ایک حصہ ہے جس کو آپ نے شیخ مفید علیہ الرحمہ کے نام لکھا ہے۔ امام علیہ السلام نے خط کے اس حصہ میں واجبی مالی حقوق کو ان کے مستحق تک پھنچانے اور اس کام کی خیر و برکت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ امام علیہ السلام ان لوگوں کے لئے جو اہل تقویٰ ہیں اور ان کے ذمہ مالی حقوق ہیں (جیسے خمس اور زکوٰة وغیرہ) اگر وہ ان کو مستحق تک پھنچائیں تو امام علیہ السلام اس بات کی ضمانت لیتے ہیں کہ وہ اس خدا پسند عمل کے نتیجے میں فتنوں اور بلاؤں سے محفوظ رھیں گے، اور جو لوگ مالی حقوق کی ادائیگی میں کوتاھی سے کام لیں اور حقوق شرعیہ ادا کرنے میں کنجوسی کریں تو ان کے نصیب میں دنیا و آخرت کے گھاٹے کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا۔ حقوق شرعی ادا کرتے وقت شیطان انسان کو بھکاتا ہے اور اس کو فقر و تنگدستی سے ڈراتا ہے۔ امام زمانہ علیہ السلام اپنے اس بیان سے ہمیں یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ واقعیت اور حقیقت یہ ہے کہ خمس و زکوٰة وغیرہ کی ادائیگی نہ کرنا فقر و تنگدستی کا باعث ہے نہ کہ راہ خدا میں خیرات کرنا۔

مالی واجب حقوق کو ادا کرنا بلکہ مستحب حقوق کو ادا کرنے سے نہ صرف یہ کہ انسان کے مال میں برکت ہوتی ہے بلکہ اس کی معنوی روزی میں بھی اضافہ ہوتا ہے، اس طرح اس کو اندھیری راھوں میں چراغ ہدایت مل جاتا ہے تاکہ راستہ کو گڑہے سے تمیز دے سکے۔

____________________

۲۹. احتجاج، ج۲، ص ۳۱۲، بحار الانوار، ج۵۳، ص۱۶۵، ح۴۔

۳۰. کمال الدین، ج ۲، ص ۴۹۳، ح ۱۸، الخرائج والجرائح، ج ۱، ص ۴۴۳، ح۲۴، بحار الانوار، ج۵۱، ص۳۳۱، ح ۵۶۔

۳۱. خدا کی حاجت سے کیا مراد ہے؟ اس کی وضاحت چند سطروں کے بعد ملاحظہ فرمائیے۔

۳۲. سور ہ فاطر، آیت۱۵۔

۳۳. کافی، ج ۱، ص ۵۲۱، ح ۱۳، کمال الدین، ج ۲، ص ۴۹۰، ح ۱۳، ارشاد، ج ۲، ص ۳۶۱، اعلام الوری، ج۲، ص۲۶۴، کشف الغمة، ج ۳، ص۲۵۱، بحار الانوار، ج۵۱، ص۳۲۹، ح ۵۲، مدینة المعاجز، ج ۸، ص ۸۵۔

۳۴. سور ہ توبہ، آیت۱۰۵۔ ترجمہ آیت: ” پیغمبر کہہ دیجئے کہ تم لوگ عمل کرتے رھو کہ تمھارے عمل کو اللہ ،رسول اور صاحبان ایمان سب دیکھ رہے ہیں۔ ۔ ۔ “۔

۳۵. تفسیر برہا ن، ج۲، ص۸۳۸، ح ۲۔(۳) دیکھئے: نهج البلاغہ، حکمت ۴۱۷، بحار الانوار، ج۶، ص ۳۶ تا ۳۷، ح ۵۹۔

۳۶. دلائل الامامة، ص۲۹۷۔

۳۷. سورہ انفال، آیت ۳۳۔

۳۸. سورہ انفال، آیت ۳۳۔

۳۹. کمال الدین، ج۲، ص۴۸۵، ح۱۰،الغیبة، شیخ طوسی، ص۲۹۲، ح۲۴۷، احتجاج، ج۲ ، ص۲۸۴،اعلام الوری، ج۲، ص۲۷۲، کشف الغمة، ج۳، ص۳۴۰، الخرائج و الجرائح، ج۳، ص۱۱۱۵، بحار الانوار، ج۵۳، ص۱۸۱، ح۱۰۔

۴۰. احتجاج، ج۲، ص۳۱۵، بحار الانوار، ج۵۳، ص۱۷۷، ح۸۔

۴۱. کمال الدین، ج۲، ص۵۱۱، ح۴۲، الخرائج و الجرائح، ج۳، ۱۱۱۱، بحارالانوار، ج۵۳، ص۱۹۱، ح۱۹۔

۴۲. صحیفہ سجادیة، دعا ۴۹، شمارہ۱۴، مہج الدعوات، ص۲۲۲، بحار الانوار، ج۹۲، ص۴۲۸، ح۴۳۔

۴۳. کمال الدین، ج۲، ص۴۸۴، ح۱۰، الغیبة، شیخ طوسی، ص۲۹۱، ح۲۴۷، احتجاج، ج۲ ، ص۲۸۴،اعلام الوری، ج۲، ص۲۷۱، کشف الغمة، ج۳، ص۳۳۸، الخرائج و الجرائح، ج۳،ص۱۱۱۴، بحار الانوار، ج۵۳، ص۱۸۱، ح۱۰، وسائل الشیعہ، ج۲۷، ص۱۴۰، ح۳۳۴۲۴۔

۴۴. کمال الدین، ج۲، ص۴۸۴، ح۴، الغیبة، طوسی، ص۲۹۰، ح۲۴۷، احتجاج، ج۲ ، ص۲۸۳،اعلام الوری، ج۲، ص۲۷۱، کشف الغمة، ج۳، ص۳۳۹، الخرائج و الجرائح، ج۳،ص۱۱۱۴، بحارالانوار، ج۵۳، ص۱۸۰، ح۱۰۔

۴۵. سورہ توبہ،آیت۱۰۳۔

۴۶. احتجاج، ج۲، ص۳۲۵، بحار الانوار، ج۵۳، ص۱۷۷، ح۸۔


حدیث نمبر ۲۱: تعجیل فرج (ظھور) کے لئے د عا

“اٴَكْثِرُوْا الدُّعٰاءَ بِتَعْجیلِ الْفَرَجِ، فإِنَّ ذٰلِكَ فَرَجُكُمْ” (۴۷)

”میرے ظھورکے لئے کثرت سے دعا کیا کرو، کیونکہ اس میں خود تمھارے لئے آسائش ہے“۔

شرح

یہ کلام منجملہ ان مطالب میں سے ہے جن کو حضرت امام مھدی علیہ السلام نے اسحاق بن یعقوب کے سوالوں کے جواب میں بیان کیا ہے۔ اس حدیث میں حضرت امام زمانہ علیہ السلام نے تعجیل فرج کے لئے کثرت سے دعا کرنے کا حکم دیا ہے۔ امام علیہ السلام کا یہ حکم مطلب کی اہمیت کو واضح کرتا ہے؛ کیونکہ شیعوں کا مشکلات اور بلاؤں سے محفوظ رھنا حضرت امام مھدی علیہ السلام کے ظھور کے زیر سایہ ھی ممکن ہے؛ جب تک امام علیہ السلام غیبت کی زندگی بسر کررہے ہیں، شیعہ بھی ظالم و جابر حكّام کے ظلم کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔

اس حدیث مبارک میں موجود چند نکات کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:

۱۔ شیعوں کے لئے فرج اور آسانیاں ہیں، اور وہ ظلم و ستم اور آزار و اذیت سے ایک دن رہا ئی حاصل کریں گے۔ وہ سنہر ا دن ہوگا جب وہ اپنے مولا و آقا کی حکومت کے زیر سایہ آرام و سکون کے ساتھ روحانی زندگی بسر کریں گے۔

۲۔ امام زمانہ علیہ السلام کے ظھور کے سلسلہ میں ”بداء“ واقع ہوتا ہے؛ دوسرے الفاظ میں یوں کھا جائے کہ آپ کے ظھور میں عجلت یا تاخیر ہوسکتی ہے، آپ کے ظھور میں تعجیل کا ایک سبب آپ کے ظھور کے لئے دعا کرنا ہے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ جب تک دل کی گہر ائیوں سے دعا نہ کی جائے تو پہر آپ کے ظھور کا راستہ ہموار کرنے میں موثر نہیں ہوگی۔ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ دل و جان سے امام کے لئے دعا کریں اور ان کو پکاریں، اور میدان عمل میں بھی امام زمانہ علیہ السلام کے ظھور کا زمینہ فراہم کرنے کی کوشش کرتے رھیں۔

حدیث نمبر ۲۲: شیعوں کی رعایت

“إنّٰا غَیْرُ مُهْمِلِیْنَ لِمُرٰاعٰاتِكُمْ، وَ لاٰ نٰاسینَ لِذِكْرِكُمْ، وَ لَوْلاٰ ذٰلِكَ لَنَزَلَ بِكُمُ الَّلاٴْوٰاءُ وَاصْطَلَمَكُمُ الْاٴَعْدٰاءُ” (۴۸)

”ہم تمھاری سرپرستی اور دیکھ بھال میں کوتاھی نہیں کرتے، اور تمھاری یاد کو کبھی نہیں بھلاتے، اگر ہم ایسا نہ کرتے تو تم پر بلائیں اور مصیبتیں نازل ہوجاتیں اور دشمن تم کو بالکل نیست و نابود کردیتے“۔

شرح

امام زمانہ علیہ السلام نے شیخ مفید علیہ الرحمہ کے لئے دو توقیع بھیجی ہیں پھلی توقیع میں امام علیہ السلام نے اپنے شیعوں کو بشارت دی ہے کہ ہم تم لوگوں پر ہمیشہ توجہ رکھتے ہیں اور تمھاری رعایت کرتے ہیںاور تم کو کبھی نہیں بھلاتے، اسی وجہ سے تم دشمن کے خطروں سے محفوظ ہو، شیعہ ظلم کا مقابلہ کرنے اور ہمیشہ حق و حقیقت کی پیروی کرنے کی وجہ سے ظالم و ستمگر حكّام اور مخالفین کے ظلم کا نشانہ بنے رہے ہیں؛ لہٰذا ان کے لئے ایسی شخصیت کا ہونا ضروری ہے جو سختیوں اور پریشانیوں میں ان کی مدد کرے، اور ان کو نابود ہونے سے نجات دے۔ اس توقیع میں امام زمانہ علیہ السلام اپنے شیعوں کو بشارت دیتے ہیں کہ اگرچہ میں غیبت کی زندگی بسر کر رہا ہوں لیکن پہر بھی تمھاری حمایت کرتا ہوں، اور کبھی بھی دشمن کے نقشوں کو پورا نہیں ہونے دیتا، اور مذھب شیعہ اور شیعوں کو نابودی سے بچا لیتا ہوں۔ تاریخ کے دامن میں (بہت سے) ایسے واقعات موجود ہیں کہ امام علیہ السلام کی امامت کے زمانہ میں جب بھی کوئی مشکل اور پریشانی پیش آئی ہے تو امام زمانہ علیہ السلام نے مدد کی ہے، اور یہ تمام واقعات امام علیہ السلام کے وعدوں کی صداقت کے مکمل نمونے ہیں۔

حدیث نمبر ۲۳: شیعوں سے بلاؤں کا دور کرنا

“ اٴَنَا خٰاتَمُ الْاٴَوْصِیٰاءِ، وَ بِي یَدْفَعُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ الْبَلاٰءَ عَنْ اٴَهْلي وَ شیْعَتِى” (۴۹)

”میں خاتم الاوصیاء ہوں اور خداوندعالم میرے سبب اور وسیلہ سے میرے اہل اور میرے شیعوں سے بلاؤں کو دور کرتا ہے“۔

شرح

اس حدیث مبارک کو شیخ صدوق علیہ الرحمہ اور شیخ طوسی علیہ الرحمہ نے ابو نصر خادم سے نقل کیا ہے۔ ابونصر کہتے ہیں:

”جب میں امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو امام علیہ السلام نے مجھ سے سوال کیا: ”کیا مجہے پہچانتے ہو؟“ میں نے عرض کیا: ”جی ھاں“، پہر دریافت فرمایا: ”میں کون ہوں؟“ میں نے عرض کیا: ”آپ میرے مولا و آقا اور میرے مولا و آقا کے بیٹے ہیں“، امام علیہ السلام نے فرمایا: ”میں نے تم سے یہ سوال نہیں کیا ہے!“، میں نے عرض کیا: ”خداوندعالم مجہے آپ پر قربان کرے! آپ اپنا تعارف خود ھی فرما دیجئے۔ “، اس وقت امام علیہ السلام نے فرمایا: ”میں خاتم الاوصیاء ہوں اور خداوندعالم میرے سبب سے میرے اہل بیت اور میرے شیعوں سے بلاؤں کو دور کرتا ہے“۔

حدیث کے اس حصہ میں امام علیہ السلام نے دو نکات کی طرف اشارہ فرمایا ہے:

۱۔ امام علیہ السلام خاتم الاوصیاء ہیں اور وصایت و امامت آپ پر ختم ہوگئی ہے، ممکن ہے کہ یھاں پر وصایت سے مراد وہ وصایت ہو جو فرزند جناب آدم علیہ السلام، ھابیل یا شیث سے شروع ہوکر امام زمانہ علیہ السلام پر ختم ہوئی ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ ”وصایت کے خاتمہ“ سے مراد وہ وصایت ہو جو حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام سے شروع ہوئی ہے۔ بہر حال آپ کے بعد کوئی امام نہیں ہوگا، جو شخص بھی نبوت کا دعویٰ کرے وہ دعویٰ باطل اور ایسا دعویٰ کرنے والا جھوٹا ہے۔

۲۔ ہمیشہ تاریخ میں امام علیہ السلام کے شیعہ مصائب اور بلاؤں میں مبتلا رھیں گے۔ امام زمانہ علیہ السلام اس حدیث مبارک میں فرماتے ہیں:

”صرف میری وجہ سے خداوندعالم میرے اہل بیت اور میرے شیعوں سے بلاؤں کو دور کرتا ہے“۔

اس کلام میں دو احتمال پائے جاتے ہیں:

الف) اس سے مراد امام علیہ السلام کی غیبت کا زمانہ ہو؛ اس صورت میں مراد یہ ہے کہ شیعہ غیبت کے زمانہ میں امام زمانہ علیہ السلام کے توسل سے بلاؤں اور مشکلات سے نجات پاسکتے ہیں۔

امام زمانہ علیہ السلام اپنی توقیع میں شیخ صدوق علیہ الرحمہ سے فرماتے ہیں:

”ہم تمھاری سرپرستی اور دیکھ بھال میں کوتاھی نہیں کرتے، اور تمھیں کبھی نہیں بھلاتے، اگر ہم ایسا نہ کرتے تو تم پر بلائیں اور مصیبتیں نازل ہوجاتیں اور دشمن تم کو بالکل نیست و نابود کردیتے“۔(۵۰)

ب) اس سے مراد آپ کے ظھور کا زمانہ ہو؛ اس صورت میں مقصود یہ ہے کہ خداوندعالم آپ کے ظھور سے اور تمام ظالموں پر غلبہ کے ذریعہ آپ کے اہل بیت اور شیعوں سے مصائب اور بلاؤں کو دور کرتا ہے۔

(اس کے علاوہ) ان دونوں احتمال کو ایک ساتھ جمع بھی کیا جاسکتا ہے؛ وہ اس طرح کہ امام زمانہ علیہ السلام غیبت اور ظھور کے زمانے میں اپنے شیعوں سے مشکلات اور بلاؤں کو دور کرتے ہیں۔

حدیث نمبر ۲۴: دعا قبول ہونے کی امید

“رَبِّ مَنْ ذَا الَّذي دَعٰاكَ فَلَمْ تُجِبْهُ، وَ مَنْ ذَا الَّذي سَاٴَلَكَ فَلَمْ تُعْطِهِ، وَ مَنْ ذَا الَّذي نٰاجٰاكَ فَخَیَّبْتَهُ، اٴَوْ تَقَرَّبَ إِلَیْكَ فَاٴَبْعَدْتَهُ” (۵۱)

”پروردگارا! کون ہے ایسا شخص جس نے تجھ سے دعائیں مانگی ہوں اور تونے اس کی حاجت روائی نہ کی ہو، اور کون ہے ایسا شخص جس نے تجھ سے درخواست کی ہو لیکن تو نے اس کو عطا نہ کیا ہو، اور کون ہے ایسا شخص جس نے تجھ سے مناجات کی ہو اور تو نے اس کو ناامید کیا ہو، یا خود کو تجھ سے نزدیک کرنے کی کوشش کی ہو اور تو نے اس کو دور کر دیاھو؟!“

شرح

یہ فقرہ مشھور و معروف ”دعائے علوی“ کا ایک حصہ ہے۔ محمد بن علی علوی حسینی مصری ایک مکاشفہ(غیبی اسرار کا ظاہر ہونا) میں حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی خدمت میں مشرف ہوئے اور آپ سے یہ دعا حاصل کی جس کو پڑھنے سے انھوں نے اپنی مراد پالی۔

امام علیہ السلام نے اس دعا (جو انسان میں امید کی کرن پیدا کرتی ہے) میںانسان کو یہ سبق دیتے ہیں کہ بارگاہ خداوندی میں حاضر ہونا اور دعا کرنے سے ناامید نہ ہو؛ کیونکہ خداوندعالم کسی کو بھی خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا اور کسی بھی دعا کو شر ف قبولیت کے بغیر نہیں چھوڑتا۔

ھاں پر ممکن ہے کہ کوئی یہ سوال کرے: ”(اگر ایسا ہے تو) انسان کی بہت سی دعائیں کیوں قبول نہیں ہوتیں؟ بہت سے انسان مرادیں مانگتے ہیں لیکن وہ پوری نہیں ہوتیں، وغیرہ وغیرہ، لہٰذا اس حدیث کا مقصد کیا ہے؟“

اس سوال کے جواب میں ہم کہتے ہیں:

پھلے یہ کہ انسان بعض اوقات کسی چیز کو پسند نہیں کرتا جبکہ اس میں اس کی بھلائی ہوتی ہے یا کسی چیز کو طلب کرتا ہے جس میںاس کی صلاح نہیں ہوتی؛ لیکن پہر بھی خداوندعالم سے اس چیز کو طلب کرتا ہے۔ ایسی صورت میں خداوندعالم اس کی دعا ظاہری طور پر قبول نہیں کرتا، لیکن اس کے بدلے دوسری نعمتیں عطا کرتا ہے، یا اس کے گناھوں کو بخش دیتا ہے۔

دوسرے یہ کہ مرادوں کا پورا ہونا شرائط کے موجود ہونے اور موانع کے نہ ہونے سے وابستہ ہوتا ہے۔ شرائط نہ ہونے اور موانع ہونے کی صورت میں انسان چاہے جتنی دعا کرے اس کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ اسی طرح دعا کے لئے بھی کچھ آداب ہیں جن کی رعایت بہت ضروری ہے، اور ان کی رعایت کئے بغیر دعا قبول نہیں ہوتی۔ جس کی پھلی شرط ”عبدخدا“ ہونا ہے، دوسری شرط یہ ہے کہ انسان نے کسی کا دل نہ دکھایا ہو۔ جو شخص کسی کا دل دکھاتا ہے وہ کس طرح امید رکھتا ہے کہ اس کی دعائیں قبول ہوں؟ دل شکستہ کی بددعا بہت جلد بارگاہ خداوندی میں پھنچتی اور مستجاب ہوتی ہے۔

حدیث نمبر ۲۵: دوسروں کے مال کا احترام کرنا

“فَلاٰ یَحِلُّ لِاٴَحِدٍ اٴَنْ یَتَصَرَّفَ مِنْ مٰالِ غَیْرِهِ بِغَیْرِ إذْنِهِ” (۵۲)

”کسی انسان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ مالک کی اجازت کے بغیر اس کے مال کو استعمال کرے“۔

شرح

یہ حدیث امام زمانہ علیہ السلام کے اس جواب کا ایک حصہ ہے جس کو آپ نے اسدی کے سوالوں کے جواب میں تحریر فرمایا ہے۔

امام علیہ السلام نے اس مطلب کی طرف اشارہ کیا ہے جس کی طرف درج ذیل آیہ مبارکہ میں اشارہ ہوا ہے، اس آیت میں خداوندعالم نے حکم دیا ہے:

( لاَتَاٴْكُلُوا اٴَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلاَّ اٴَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ ) (۵۳)

”(اے ایمان والو! ) آپس میں ایک دوسرے کے مال کو ناحق طریقہ سے نہ کھایا کرو،مگر یہ کہ باہمی رضامندی سے معاملہ کرلو “۔

مسلمانوں کا مال، ان کی جان اور عزت کی طرح محفوظ رھنا چاہئے، دوسروں کو یہ حق نہیں ہے کہ کسی کے مال کی طرف بری نگاہ سے دیکہے۔ دوسرے کے مال کا مالک بن جانا اگر شرعی اور عرفی اسباب (جیسے تجارت، رضایت، عطا و بخشش، ارث، کرایہ یا شریعت میں بیان شدہ قوانین) کے تحت نہ ہو تو پہر مشکلات کے علاوہ کوئی نتیجہ نہیں ہوگا۔ اس آیہ مبارکہ اور حدیث شریفہ میں یہ حکم دیا گیا ہے کہ دوسروں کے مال کو ان کی اجازت یا ان کی مرضی سے استعمال کرنا چاہئے اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ دوسروں کے مال پر قبضہ کرلے اور اس کا مالک بن جائے۔

حدیث نمبر ۲۶: حضرت زہر ا (ع) امام مھدی علیہ السلام کے لئے نمونہ

“وَ في إِبْنَةِ رَسُولِ اللهِ (ص) لِي اٴُسْوَةٌ حَسَنَةٌ” (۵۴)

”بنت پیغمبر اکرم (ص) (جناب فاطمہ زہر ا سلام اللہ علیھا) میرے لئے بہترین نمونہ ہیں“۔

شرح

شیخ طوسی علیہ الرحمہ اپنی کتاب ”الغیبة“ میں امام حسن عسکری علیہ السلام کی جانشینی کے بارے میں شیعوں کی ایک جماعت کے ساتھ ابن ابی غانم قزوینی کے اختلاف کو بیان کرتے ہیں۔ ابن ابی غانم، امام حسن عسکری علیہ السلام کی جانشینی کا عقیدہ نہیں رکھتا تھا۔ بہت سے شیعوں نے امام زمانہ علیہ السلام کو خط لکھ کر ابن ابی غانم اور شیعوں کے مسئلہ کو بیان کیا۔

امام زمانہ علیہ السلام نے اپنے دست مبارک سے خط لکھا اور اپنے شیعوں کےلئے فتنہ و فساد اور ضلالت سے محفوظ رھنے، روح یقین اور سرانجام بخیر ہونے کی دعا کرتے ہوئے نیز چند چیزوں کی یاد دھانی کے بعد فرماتے ہیں:

”جناب فاطمہ زہر ا سلام اللہ علیھا بنت رسول اس مسئلہ میں میرے لئے بہترین نمونہ ہیں“۔

اس سلسلہ میں کہ امام زمانہ علیہ السلام نے حضرت فاطمہ زہر ا سلام اللہ علیھا کی کس رفتار یا گفتار کو اپنے لئے سر مشق قرار دیا ہے، چند مختلف احتمالات پائے جاتے ہیں۔ ہم یھاں پر ان میں سے صرف تین احتمال کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

۱۔ حضرت زہر ا سلام اللہ علیھا نے اپنی بابرکت عمر کے آخر ی لمحات تک کسی ظالم کی بیعت نہ کی۔ اسی طرح امام زمانہ علیہ السلام نے بھی کسی ظالم و ستمگر حاکم کی بیعت نہیں کی ہے۔

۲۔ اس خط کے لکہے جانے کا سبب یہ ہے کہ بعض شیعوں نے آپ کی امامت کو قبول نہیں کیا ہے۔ چنانچہ امام زمانہ علیہ السلام فرماتے ہیں:

”اگر میں کرسکتا تھا یا مجہے اس چیز کی اجازت ہوتی تو ایسا کام کرتا کہ تم پر حق مکمل طور پر واضح ہوجاتا اور تمھارے لئے ذرا بھی شک باقی نہ رہتا؛ لیکن میرے لئے حضرت فاطمہ زہر ا سلام اللہ علیھا نمونہ ہیں۔ آپ نے جب یہ دیکھ لیا کہ حضرت علی علیہ السلام کی حکومت کو غصب کرلیا گیا تو بھی آپ نے خلافت کو حاصل کرنے کے لئے غیر معمولی اسباب کا سھارا نہیں لیا۔ میں بھی انھیں کی پیروی کرتا ہوں، اور اپنے حق کو ثابت کرنے کے لئے غیر معمولی راستہ کو طے نہیں کرتا“۔

۳۔ امام زمانہ علیہ السلام نے اپنے جواب میں فرمایا:

”اگر تمھاری ہدایت اور امداد کی نسبت ہمارا شتیاق اور بہت محبت نہ ہوتی تو ہم نے جو ظلم برداشت کئے ہیں تم لوگوں سے منھ موڑ لیتے“۔

امام زمانہ علیہ السلام حضرت فاطمہ زہر ا سلام اللہ علیھا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کھنا چاہتے ہیں: جیسا کہ حضرت فاطمہ زہر ا سلام اللہ علیھا پر دشمنوں نے ظلم و ستم کئے اور اس سلسلہ میں مسلمانوں نے بھی خاموشی اختیار کی، لیکن ان میں سے کوئی چیز بھی سبب نہ بنی کہ آپ نے مسلمانوں کے حق میں دعائے خیر سے ہاتھ کھیچ لیا ہو، بلکہ آپ دوسروں کے لئے پھلے دعائیں کیا کرتی تھیں ۔ اسی طرح میں بھی ان تمام ظلم اور انکار کو برداشت کرتا ہوں، اور تمھارے لئے ہم دردی، رھنمائی اور دعا وغیرہ کو ترک نہیں کرتا۔

حدیث نمبر ۲۷: شک میں ڈالنے کی ممانعت

“لاٰ عُذْرَ لِاٴَحَدٍ مِنْ مَوٰالینٰا فی التَّشْكِیْكِ فیمٰا یُوٴَدِّیهِ عَنّٰا ثِقٰاتُنٰا” (۵۵)

”جو (چیزیں) موثق راوی تمھارے لئے ہم سے روایات نقل کرتے ہیں ان میں شک ڈالنے کے سلسلہ میں ہمارے شیعوں میں سے کسی کا کوئی عذر (قبول) نہیں ہے“۔

شرح

یہ کلام امام زمانہ علیہ السلام کی اس توقیع کاایک حصہ ہے جس کو آپ نے ”احمد بن ھلال عبرتائی“ کے بارے میں اور اس سے دوری کے سلسلہ میں ”قاسم بن علا“ کے لئے تحریر فرمایا ہے۔

فقھائے کرام نے اصول کی استدلالی کتابوں میں ”خبر واحد کی حجیت“ کو ثابت کرنے کے لئے اس روایت سے تمسک کیا ہے؛ کیونکہ حقیقت میں امام علیہ السلام نے اس روایت میں ان لوگوں کی روایت قبول کرنے اور ان کی پیروی کرنے کی تاکید فرمائی جو ثقہ اور مورد اطمینان ہوں اور اہل بیت علیہم السلام کی سنت کو نقل کرتے ہوں۔

مضمون حدیث سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ کسی شخص کو یہ حق نہیں ہے کہ جن روایات کو اہل بیت علیہم السلام کے ثقہ راوی بیان کریں ان میں شک کرے اور ان پر عمل نہ کرے، مگر اس صورت میں جب ان کے غلط ہونے کا علم ہوجائے، کیونکہ یہ ثقہ حضرات ان اصحاب میں سے ہیں جو اہل بیت علیہم السلام کی تعلیمات کی نشر و اشاعت میں واسطہ ہیں، اور ان کی روایات میں شک کرنا اس بات کا سبب بنتا ہے کہ اہل بیت علیہم السلام کی جانب سے کوئی چیز ہم تک نہ پھنچے۔

قابل ذکر ہے کہ وثاقت کے مختلف درجے ہوتے ہیں جن میں سے بعض عدالت کے برابر بلکہ عدالت سے بھی بالاتر ہوتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام نے اہل کوفہ کے نام خط میں حضرت مسلم بن عقیل کے لئے جو الفاظ استعمال کئے ہیں وہ عدالت سے بھی مافوق ہیں؛ چنانچہ امام حسین علیہ السلام نے فرمایا:

”میں تمھاری طرف اپنے بھائی، چچا زاد اور اپنے خاندان کی مورد وثوق شخصیت مسلم بن عقیل کو بھیج رہا ہوں“۔(۵۶)

حدیث نمبر ۲۸: شک و شبھات میں مبتلا نہ ہونا

“لاٰ تَشُكَّنَّ فَوَدَّ الشَّیْطٰانُ اٴَنَّكَ شَكَكْتَ” (۵۷)

”ہرگز اپنے اندر شک و شبھات پیدا نہ ہونے دو، کیونکہ شیطان تو یھی چاہتا ہے کہ تم شک میں مبتلا ہوجاؤ“۔

شرح

شیخ کلینی علیہ الرحمہ اپنی سند کے ساتھ حسن بن نضر سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ جس وقت میں امام حسن عسکری علیہ السلام کے بیت الشرف میں داخل ہوا، ایک سانولے رنگ کے شخص کو دیکھا جو وھاں پر کھڑا ہوا تھا۔ اس نے مجھسے کھا: ”کیا تم حسن بن نضر ہو؟“ میں نے کھا: ”ھاں“، اس نے کھا: ”اندر آجاؤ“، چنانچہ میں امام علیہ السلام کے بیت الشرف میں وارد ہوگیا، اس کے بعد میں نے ایک کمرہ پر پردہ لٹکا دیکھا اور کمرے کے اندر سے آوزا آئی:

”اے حسن بن نضر! جو نعمتیں خداوندعالم نے تم کو عطا کی ہیں ان پر شکر گزار رھو، اور اپنے اندر شک و شبھات کو جگہ نہ دو، کیونکہ شیطان یھی چاہتا ہے کہ تمھارے اندر شک پیدا ہو۔ ۔ ۔ “۔

چونکہ حسن بن نضر اور شیعوں کی ایک جماعت آپ کی وکالت اور دوسرے امور میں شک کرتے تہے۔ (کیونکہ) امامت اور اسلامی معاشرہ کی رھبری (جو اعتقادی مسائل میں سے ہے) میں شک کرنا دین کی تباھی کا سبب ہوتا ہے، اسی وجہ سے امام علیہ السلام نے شک و تردید سے ڈرایا ہے۔

اس حدیث مبارک سے چند نکات معلوم ہوتے ہیں:

۱۔ چونکہ امام زمانہ علیہ السلام حسن بن نضر کے دل کی باتوں سے باخبر تہے ، جس سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ امام علیہ السلام علم غیب جانتے ہیں۔

۲۔ امام زمانہ علیہ السلام اگرچہ غیبت کے عالم میں زندگی بسر کررہے ہیں لیکن پہر بھی اپنے شیعوں کی نسبت فکر مند رہتے ہیں، اور شیعوں کو پریشانی، گمراھی اور بلاؤں سے نجات دیتے ہیں۔

۳۔ اعتقادی مسائل میں شک کرنے کے بہت سے نقصانات ہیں؛ کیونکہ یہ کسی چیز پر پابند نہ رھنے اور دینی یقین نہ ہونے کا سبب ہوتا ہے، ہمیں اپنے اور دوسرے لوگوں کے ایمان کو مستحکم کرنا چاہئے اور اگر شک و شبھات پیدا ہوجائیں تو ان کو جوابات دے کر دور کرنا چاہئے۔

۴۔ شیطان کے بھکانے کا ایک راستہ لوگوں کے دینی عقائد کے سلسلہ میں شک و شبھات پیدا کرنا ہے، اس حدیث کے مطابق انسان کی اس حالت کو شیطان بہت پسند کرتا ہے۔

۵۔ انسان کو اپنی ذات اور معاشرہ کے لوگوں سے شک و شبھات کو دور کرنا چاہئے، جیسا کہ امام علیہ السلام نے بھی یھی کوشش کی ہے کہ حسن بن نضر اور شیعوں کے ایک گروہ سے شک و شبھات کو دور فرمائیں۔ قرآن کریم نے ۱۵ مقامات پر شک کی مذمت کی ہے، اور شک کرنے والے کو غور و فکر کی دعوت دی ہے، کیونکہ غور و فکر کے نتیجہ میں انسان سے شک دور ہوجاتا ہے اور وہ یقین کی منزل پر فائز ہوجاتا ہے۔

حدیث نمبر ۲۹: امام زمانہ علیہ السلام کا انکار کرنے والوں کا حکم

“لَیْسَ بَیْنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَبَیْنَ اٴَحَدٍ قِرٰابَةٌ، وَمَنْ اٴَنْكَرَنِي فَلَیْسَ مِنِّی، وَسَبِیلُهُ سَبیلُ ابْنِ نُوحٍ” (۵۸)

”خداوندعالم کی کسی سے کوئی رشتہ داری نہیں ہے، جو میرا انکار کرے وہ مجھ سے نہیں ہے اور اس کا راستہ فرزند نوح کے راستہ کی طرح ہے“۔

شرح

یہ کلام امام زمانہ علیہ السلام کے ان جوابات کا ایک حصہ ہے جن کو اسحاق بن یعقوب کے سوالوں کے جواب میں لکھا ہے۔ ان سوالات میں سے ایک سوال یہ بھی تھا کہ اس شخص کا حکم کیا ہے جو اہل بیت علیہم السلام اور پیغمبر اکرم (ص) کی نسل سے ہو نیز اس کا شمار امام زمانہ علیہ السلام کے چچا زاد بھائیوں میں ہوتا ہے لیکن وہ امام زمانہ علیہ السلام کا منکر ہے، موصوف نے سوال کیا: کیا جو شخص آپ کا منکر ہے اور نسل رسول سے ہے کیا وہ گمراہ ہے یا نھیں؟ امام علیہ السلام نے اس سوال کے جواب میں اس نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

”خداوندعالم کی کسی سے کوئی رشتہ داری نہیں ہے، جس کی وجہ سے وہ کسی کی رعایت کرے؛ لہٰذا اگر کوئی خدا کی نافرمانی کرے (چاہے وہ کوئی بھی ہو) اس کا سر انجام نار جھنم ہے۔

خدا کی نافرمانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ اپنے زمانہ کے امام کی امامت اور اس کے وجود کا انکار کرے۔ جو اس راستہ پر چلے اس نے فرزند نوح کا راستہ طے کیا ہے۔ وہ جس کی بھی پناہ حاصل کرے اس کو نجات نہیں مل سکتی؛ جس طرح پھاڑ کی بلند چوٹی فرزند نوح کو نجات نہ دے سکی“۔

اس حدیث کی وہ روایت بھی تائید کرتی ہے جس کو شیعہ و سنی کتب احادیث نے بیان کیا ہے، جس میں پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:

”میرے اہل بیت کی مثال نوح کی کشتی جیسی ہے جو اس میں سوار ہوگیا وہ نجات پاگیا اور جس نے اس سے روگرانی کی وہ غرق ہوگیا“۔(۵۹)

حدیث نمبر ۳۰: امام زمانہ علیہ السلام کو اذیت پھنچانے والے

“قَدْ آذٰانٰا جُهَلاٰءُ الشِّیْعَةِ وَحُمَقٰاوٴُهُمْ، وَمَنْ دِینُهُ جِنٰاحُ الْبَعُوضَةِ اٴَرْجَحُ مِنْهُ” (۶۰)

”کم عقل اور نادان شیعہ اور جن کی دینداری سے مضبوط مچہر کے بال و پر ہوتے ہیں، ہم کو اذیت اور تکلیف پہچاتے ہیں“۔

شرح

یہ کلام حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی اس توقیع کا ایک حصہ ہے جس کو آپ نے محمد بن علی بن ھلال کرخی کے لئے بھیجا ہے۔ یہ توقیع اس غالی گروہ کی ردّ میں ہے جو ائمہ علیہم السلام کو خداوندعالم کے علم اور اس کی قدرت میں شریک مانتے ہیں!

شیعوں کا ایک فریضہ یہ (بھی) ہے کہ ائمہ علیہم السلام کو اسی طرح مانیں کہ جس طرح سے ہیں، نہ عام لوگوں کی طرح، لہٰذا نہ ان کی عظمت گھٹائیں اور نہ خداوندعالم کی قدرت وغیرہ میں ان کو شریک قرار دیں۔

حضرات ائمہ علیہم السلام کی عظمت متعدد روایات میں بیان ہوئی ہیں، لہٰذا ان کا مطالعہ کریں اور ائمہ معصومین علیہم السلام کے سلسلہ میں اپنے نظریہ کی اصلاح کریں۔

اہل غلو کی رفتار و گفتار اس بات کا سبب ہوئی ہے کہ مخالفوں نے شیعوں کو کافر کھنا شروع کردیا، اور بعض لوگوں نے شیعوں کے نجس اور واجب القتل ہونے کا فتویٰ دےا۔

حضرت امیر المومنین علیہ السلام نهج البلاغہ میں ایک حدیث کے ضمن میں فرماتے ہیں:

”میرے سلسلہ میں دو طرح کے لوگ ہلاک ہوجائیں گے: ایک وہ جو مجھ سے دوستی میں زیادہ روی کرے، دوسرے وہ جو میری دشمنی میں میری عظمت گھٹائے“۔(۶۱)

____________________

۴۷. کمال الدین، ج۲، ص۴۸۵، ح۴، الغیبة،طوسی، ص۲۹۳، ح۲۴۷، احتجاج، ج۲ ، ص۲۸۴، اعلام الوری، ج۲، ص۲۷۲، کشف الغمة، ج۳، ص۳۴۰، الخرائج و الجرائح، ج۳،ص۱۱۱۵، بحارالانوار، ج۵۳، ص۱۸۱، ح۱۰۔

۴۸. احتجاج، ج۲، ص۳۲۳، الخرائج الحرائج، ج۲، ص۹۰۳، بحارالانوار، ج۵۳، ص۱۷۵، ح۷۔

۴۹. کمال الدین، ج۲، ص۴۴۱، ح۱۲، الغیبة، طوسی، ص۲۴۶، ح۲۱۵، بحار الانوار، ج۵۲، ص۳۰، ح۲۵۔

۵۰. احتجاج، ج۲، ص۳۲۳، الخرائج والجرائج، ج۲، ص۹۰۳، بحارالانوار، ج۵۳، ص۱۷۵، ح۷۔

۵۱. مہج الدعوات، ص۲۸۱، البلد الامین، ص۳۹۳، بحار الانوار، ج۹۲، ص۲۶۷، ح۳۴۔

۵۲. کمال الدین، ص۵۲۱، ح۴۹، احتجاج، ج۲، ص۲۹۹، بحار الانوار، ج۵۳، ص۱۸۳، ح۱۱، وسائل الشیعہ، ج۹، ص۵۴۰تا ۵۴۱، ح۱۲۶۷۰۔

۵۳. سورہ نساء، آیت ۲۹۔

۵۴. الغیبة، طوسی، ص۲۸۶، ح۲۴۵، احتجاج، ج۲، ص۲۷۹، بحارالانوار، ج۵۳، ص۱۸۰، ح۹۔

۵۵. رجال کشّی،ج۲، ص۸۱۶، بحار الانوار ، ج۵۰، ص۳۱۸ تا ۳۱۹، ح۱۵، وسائل الشیعة، ج۱، ص۳۸، ح۶۱۔

۵۶. الارشاد، شیخ مفید، ج۲، ص۳۹؛ اعلام الوری، ج۱، ۴۳۶؛ بحار الانوار، ج۴۴، ص۳۳۴۔

۵۷. کافی، ج۱، ص۵۱۸، ح۴، بحار الانوار، ج۵۱، ص۳۰۹، ح۲۵۔

۵۸. کمال الدین، ص۴۸۴، ح۳،ا لغیبة، طوسی، ص۲۹۰، ح۲۴۷، احتجاج، ج۲ ، ص۲۸۳، کشف الغمة، ج۳، ص۳۳۹، اعلام الوری، ج۲، ص۲۷۰، الخرائج والجرائح، ج۳، ص۱۱۱۳، بحار الانوار، ج۵۳، ص۱۸۰، ح۱۰۔

۵۹. بصائر الدرجات، ص ۳۱۷، ح۴؛ مستدرک حاکم، ج۳، ص ۱۵۱۔

۶۰. احتجاج، ج۲ ، ص۲۸۹، بحار الانوار، ج۲۵، ص۲۶۷، ح۹۔

۶۱. نهج البلاغہ، حکمت ۴۶۹؛ بحار الانوار، ج۳۹، ص ۲۹۵، ح۹۶۔


حدیث نمبر ۳۱: تکلف اور زحمت میں ڈالنے سے ممانعت

“لاٰ تَتَكَلَّفُوا عِلْمَ مٰا قَدْ كُفیتُمْ” (۶۱)

”جس چیز کا علم تم سے طلب نہیں کیا گیا ہے اس سلسلہ میں خود کو زحمت و مشقت میں نہ ڈالو“۔

شرح

اس حدیث کو حضرت امام زمانہ علیہ السلام نے اسحاق بن یعقوب کے سوال کے جواب میں تحریر کیا ہے۔

اس حدیث شریف سے چند نکات معلوم ہوتے ہیں جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:

۱۔ تمام لوگ عقل اور فہم و شعور کے لحاظ سے برابر نہیں ہیں، بعض لوگ فلسفی، عقلی اور استدلالی مطالب کو سمجھ سکتے ہیں لیکن بعض میں اتنی قابلیتنھیں ہوتی؛ لہٰذا ہر انسان اپنی استعداد اور فہم و شعور کے لحاظ سے سمجھنے کی کوشش کرے، اور اس سے زیادہ اپنے کو زحمت میں نہ ڈالے؛ کیونکہ نمونہ کے طور پر جو شخص عرفانی مطالب کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا اگر ان بحثوں میں واردھو گا تو یقینا بہت سی مشکلات سے دوچار ہوگا اور بہت ممکن ہے کہ وہ گمراہ بھی ہوجائے۔

۲۔ شارع مقدس اسلام نے بعض مطالب کو نہیں واضح کرنا چاھا ہے، امام علیہ السلام اس روایت میں فرماتے ہیں:

”اسی مقدار پر قناعت کروجتنا تمھارے لئے واضح ہے اور جو چیزیں تم سے مخفی رکھی گئیں ہیںان کو سمجھنے کے لئے خود کو زحمت میں نہ ڈالو“۔

مثال کے طور پر بہت سے لوگ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ امام زمانہ علیہ السلام کھاں رہتے ہیں؟ وغیرہ وغیرہ، ان چیزوں کا علم ہم سے مخفی ہے۔ جو بات ہم پر واضح ہے وہ یہ ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام زندہ ہیں۔ ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم آپ کے ظھور کے لئے حالات فراہم کریں۔ ہمیں اس طرح کی چیزوں کی معلومات حاصل کرنے کے لئے خود کو زحمت میں نہیں ڈالنا چاہئے، کیونکہ ان چیزوں کا ہمارے لئے کوئی فائدہ نہیں ہے؛ لہٰذا اس کا علم بھی ہمیں نہیں ہے۔

۳۔ اسی طرح مثال کے طور پر اگر کسی کا کپڑا پاک ہے اور یہ شک کرے کہ نجس ہوا ہے یا نھیں؟ تو اس لباس کو پاک سمجہے؛ لیکن بعض لوگ اس پر اکتفا نہیں کرتے اور خود کو زحمت میں ڈالتے ہیں اور احتمالی نجاست کو ڈھونڈنے کے لئے تمام کپڑوں کو دیکھتے ہیں تاکہ علم حاصل ہوجائے! لیکن ہم سے ایسا علم طلب نہیں کیا گیا ہے۔

حدیث نمبر ۳۲: توحید کا اقرار اور غلو کی نفی

“إِنَّ اللهَ تَعٰالٰی هُوَ الَّذی خَلَقَ الْاٴَجْسٰامَ وَقَسَّمَ الْاٴَرْزٰاقَ، لِاٴَنَّهُ لَیْسَ بِجِسْمٍ وَلٰا حٰالٌّ فی جِسْمٍ، لَیْسَ كَمِثْلِهِ شیءٌ وَهُوَ السَّمِیْعُ الْعَلیمُ، وَاٴَمَّا الْاٴَئِمَّةُ عَلَیْهِمُ السَّلاٰمْ فَإِنَّهُمْ یَسْاٴَلُوْنَ اللهَ تَعٰالٰی فَیَخْلُقُ، وَیَسْاٴَلوُنَهُ فَیَرْزِقُ، إِیجٰابًا لِمَسْاٴَلَتِهِمْ وَإِعْظٰاماً لِحَقِّهِمْ” (۶۳)

”صرف خداوندعالم نے ھی جسموں کو خلق کیا اور اس نے ان کو روزی تقسیم کی ہے؛ کیونکہ وہ جسم یا جسم میں سمانے والا نہیں ہے، کوئی چیز اس کے مثل نہیں ہے، وہ سننے والا اور عالم ہے، لیکن جب ائمہ معصومین علیہم السلام خداوندعالم سے کسی چیز کی درخواست کرتے ہیں تو خداوندعالم اس کو خلق کرتا ہے۔ وہ جب خدا سے طلب کرتے ہیں تو وہ ان کو عطا کردیتا ہے۔ خدا یہ کام اس لئے کرتا ہے کہ اس نے اپنے لئے ضروری قرار دیا ہے کہ ان حضرات کی دعاؤں کو قبول کرے، اور ان کی شان کو بلند فرمائے“۔

شرح

شیخ طوسی علیہ الرحمہ اپنی کتاب الغیبة میں نقل کرتے ہیں کہ شیعوں کی ایک جماعت نے اہل بیت علیہم السلام کی عظمت کے سلسلہ میں اختلاف کیا۔ جن میں سے بعض لوگوں کا عقیدہ تھا کہ خداوندعالم نے قدرت خلق اور رزق و روزی کو ائمہ معصومین (علیہم السلام) کے حوالہ کردیا ہے۔ ان کے مقابل دوسرے گروہ کا عقیدہ یہ تھا کہ یہ چیز ائمہ معصومین (علیہم السلام) کے لئے محال ہے، اور خداوندعالم کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ خلقت اور رزق کے مسئلہ کو ائمہ علیہم السلام کے حوالہ کردے؛ کیونکہ صرف خداوندعالم کی ذات ھی جسموں کو خلق کرنے پر قادر ہے۔

اس مسئلہ میں شیعوں کے درمیان بہت زیادہ اختلاف ہوگیا تھا۔ چنانچہ اس مجمع میں موجود ایک شخص نے کھا : ”تم لوگ ابو جعفر محمد بن عثمان عمری (امام علیہ السلام کے دوسرے نائب خاص) کے پاس کیوں نہیں جاتے، اور اس سلسلہ میں ان سے سوال کیوں نہیں کرلیتے تاکہ تم پر حقیقت واضح ہوجائے۔ وھی ہمارے اور امام زمانہ علیہ السلام کے درمیان واسطہ ہیں“۔

شیعوں کے دونوں گروہ اس بات پر آمادہ ہوگئے، اور ایک خط لکھا جس میں اس اختلاف کے بارے میں سوال کیا۔ امام علیہ السلام نے ان کے جواب میں تحریر فرمایا:

”خالق کو جسم نہیں ہونا چاہئے اور رازق کو روزی نہیں کھانی چاہئے؛ نتیجہ یہ ہے کہ ہم چونکہ صاحب جسم ہیں، اور روزی کھاتے ہیں، لہٰذا ہم نہ خالق ہیں اور نہ رازق؛ لیکن خداوندعالم نے ہمارے رتبہ کو بلند قرار دیا ہے، وہ ہماری درخواستوں کو قبول کرتا ہے؛ لہٰذا جب ہم کوئی دعا کرتے ہیں تو وہ اس کو قبول کرتا ہے، نہ یہ کہ ہم خداسے درخواست کے بغیر خود اس کام کی قدرت رکھتے ہوں“۔

حدیث نمبر ۳۳: امام زمانہ علیہ السلام کی محبت

“فَلْیَعْمَلْ كُلُّ امْرِءٍ مِنْكُمْ بِمٰا یَقْرُبُ بِهِ مِنْ مَحَبَّتِنٰا، وَیَتَجَنَّبُ مٰا یُدْنِیهِ مِنْ كَرٰاهَتِنٰا وَسَخَطِنٰا” (۶۴)

”لہٰذا تم میں سے ہر شخص کو ایسے کام کرنا چاہئے جو ہماری محبت اور دوستی میں اضافہ کا سبب بنیں، اور جو چیزیں ہمیں ناپسند ہیں، اور جو چیزیں ہماری ناراضگی و کراہت کا سبب بنتی ہیں ان سے پرھیز کرے“۔

شرح

یہ تحریر امام زمانہ علیہ السلام کے خط کا ایک حصہ ہے جس کو آپ نے شیخ مفید علیہ الرحمہ کے لئے لکھی ہے۔ امام زمانہ علیہ السلام نے موصوف کی تائید اور شیعوں کے لئے بعض سفارش تحریر کرتے ہوئے فرمایا ہے:

”تم شیعوں میں سے ہر شخص کو ایسا کام کرنا چاہئے جس سے ہم اہل بیت (علیہم السلام) کی محبت اور دوستی میں اضافہ ہواور جو چیزیں ہمیں نا پسند ہیں، اور ہماری ناراضگی و کراہت کا سبب بنتی ہیں ان سے پرھیز کریں“۔

یہ بات واضح ہے کہ اہل بیت علیہم السلام کی محبت اور کراہت انفرادی اور ذاتی پھلو نہیں رکھتی، بلکہ اس کا معیار رضائے الٰہی ہے؛ کیونکہ جب اہل بیت علیہم السلام یہ مشاھدہ کرتے ہیں کہ ان کے شیعہ اور ان سے نسبت رکھنے والے ایسے کام کرتے ہیں جن سے خداوندعالم راضی اور خوشنود ہوتا ہے، اور جن کاموں سے خدا غضبناک ہوتا ہے ان سے پرھیز کرتے ہیں تو یہ حضرات خوش ہوتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں۔ امام علیہ السلام کے اسی خط میں ہم دیکھتے ہیں کہ شیخ مفید علیہ الرحمہ کی شان میں کتنے بہترین الفاظ استعمال کئے گئے ہیں:

خدا کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے۔ (خدا کی حمد و ثنا کے بعد) سلام ہو تم پر اے ہمارے دوست اور مخلص دیندار! تم ہمارے مقام (اور عظمت) پر یقین رکھتے ہو، بے شک ہم تمھارے وجود کی بنا پر اس خدا کا شکر بجا لاتے ہیں جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے۔ اور اس کی بارگاہ سے اپنے مولا و آقا حضرت محمد مصطفی (ص) اور ان کی آل طاہر ین (علیہم السلام) پر درود کی درخواست کرتے ہیں۔ (خداوندعالم اپنی نصرت و مدد کی توفیق جاری رکہے، اور ہماری نسبت سچ باتوں کی وجہ سے خداوندعالم آپ کو عظیم اجر و ثواب عنایت فرمائے) کہ ہمیں اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ آپ کو خط لکھنے کے شرف سے نوازیں“۔(۶۵)

ہمارے لئے ضروری ہے کہ اگر ہم اپنے مولا و آقا حضرت امام زمانہ علیہ السلام کی محبت کو حاصل کرنا اور آپ کے غضب اور ناراضگی سے دور رھنا چاھیں تو ایسا کوئی کام نہ کریں جس کی بنا پر آپ سے دور ہوجائیں اور آپ کی عنایت اور توجہ سے محروم ہوجائیں؛ دوسری طرف سے ہماری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ہم ایسے اعمال انجام دیں اور ایسا کردار اپنائیں جن کے ذریعہ آپ سے زیادہ نزدیک ہوجائیں۔

حدیث نمبر ۳۴: ھدفِ بعثت

“إِنَّ اللهَ تَعٰالٰی لَمْ یَخْلُقِ الْخَلْقَ عَبَثاً، وَلاٰ اٴَهْمَلَهُمْ سُدیً، بَلْ خَلَقَهُمْ بِقُدْرَتِهِ، وَ جَعَلَ لَهُمْ اٴَسْمٰاعاً وَ اٴَبْصٰاراً وَ قُلُوباً وَ اٴَلْبٰاباً، ثُمَّ بَعَثَ إِلَیْهِمْ النَّبِیِّیْنَ (علیهم السلام) مُبَشَّرینَ وَ مُنْذِرینَ، یَاٴُ مُرُونَهُمْ بِطٰاعَتِهِ وَ یَنْهَوْنَهُمْ عَنْ مَعْصِیَتِهِ، وَ یُعَرِّفُونَهُمْ مٰا جَهَلُوهُ مِنْ اٴَمْرِ خٰالِقِهِمْ وَ دِینِهِمْ، وَ اٴَنْزَلَ عَلَیْهِمْ كِتٰاباً “ (۶۶)

”بے شک خداوندعالم نے لوگوں کو بیھودہ خلق نہیں فرمایا ہے، اور بے کار نہیں چھوڑ دیا ہے؛ بلکہ ان کو اپنی قدرت سے خلق فرمایا ہے اور ان کو آنکھ، کان، دل اور عقل دی ہے؛ اس کے بعد ان کی طرف بشارت دینے والے اور ڈرانے والے انبیاء کو بھیجا تاکہ لوگ خدا کی اطاعت کریں اور اس کی نافرمانی سے پرھیز کریں، اور اپنے خدا و دین کی نسبت جن چیزوں سے جاہل ہیں ان کو سیکھیں، اور ان کے لئے کتاب نازل کی ہے۔ ۔ ۔ “۔

شرح

یہ مطالب امام زمانہ علیہ السلام کے اس جواب کا ایک حصہ ہیں جس کو احمد بن اسحاق کے جواب میں تحریر فرمایا ہے۔

احمد بن اسحاق کہتے ہیں:

”بعض شیعہ حضرات میرے پاس آئے اور جعفر بن علی کے ادعا کی خبر دی کہ وہ خود کو امام حسن عسکری علیہ السلام کے بعد امام قرار دیتے ہوئے لوگوں کو اپنی طرف دعوت دیتا تھا، وہ دعویٰ کرتا تھا کہ تمام علوم منجملہ حلال و حرام کا علم میرے پاس ہے“۔

احمد بن اسحاق نے ایک خط میں ان تمام چیزوں کو لکھا اور امام زمانہ علیہ السلام کے لئے روانہ کیا۔ امام علیہ السلام نے جواب میں چند چیزوں کی یاددھانی کی جیسے خلقت انسان کا مقصد اور انبیاء علیہم السلام کی رسالت کا ھدف، تاکہ لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ ہر کس و ناکس امت کی رھبری اور امامت کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا ؛ اسی طرح لوگوں کو یہ نکتہ بھی معلوم ہوجائے کہ (ہم) خدا کی طرف سے ہمیشہ امتحان گاہ میں ہیں، اور ان کی تمام رفتار و گفتار اور ان کے عقائد کے بارے میں سوال ہوگا۔ ایسا نہیں ہے کہ انسان کو اس کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہو تاکہ دوسرے حیوانات کی طرح زندگی گزارے، اور ایک مدت بعد اپنے کو نابود ہوتا دیکہے، بلکہ انسان کو سوچنے سمجھنے کے وسائل (آنکھ، کان، دل و دماغ) عطا کئے گئے ہیں تاکہ ان کی مدد اور انبیاء علیہم السلام کی نصرت سے کائنات کے حقائق کو سمجھ لیں کہ کس طرح ہمیں زندگی بسر کرنا ہے، اور اس دنیا میں سعادت اور کامیابی تک پھنچنے کے لئے کونسا راستہ طے کرنا ہے۔

امام زمانہ علیہ السلام کے خط کے اس حصہ کا مقصد یہ ہے کہ انسان تنھا اپنے راستہ کا انتخاب نہیں کرسکتا، لہٰذا خداوندعالم نے انبیاء علیہم السلام کو مبعوث کیا تاکہ لوگوں کی مدد کریں اور ان کو دائمی سعادت تک پھنچادیں، اور ابدی بدبختی سے نجات دیں۔ خداوندعالم نے بھی قرآن مجید میں اس مقصد کی طرف اشارہ کیا ہے:

( هُوَ الَّذِی بَعَثَ فِی الْاٴُمِّیِّیْنَ رَسُولًا مِنْهُمْ یَتْلُو عَلَیْهِمْ آیَاتِهِ وَیُزَكِّیهِمْ وَیُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِی ضَلَالٍ مُبِیْنٍ ) (۶۷)

”اس خدا نے مکہ والوں میں ایک رسول بھیجا جو انھیں میں سے تھا تاکہ ان کے سامنے آیات کی تلاوت کرے اور ان کے نفوس کو پاکیزہ بنائے اور انھیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اگرچہ یہ لوگ بڑی كُھلی ہوئی گمراھی میں مبتلا تہے“۔

آج کی دنیا کے حالات نے اس نکتہ کو بالکل واضح کردیا ہے۔ واقعاً بے ہودہ بھانوں کے ذریعہ کتنے مظلوموں کا خون بھا دیا جاتا ہے اور کتنا مال اور دولت دیوانہ پن میں غارت کردی جاتی ہے۔

حدیث نمبر ۳۵: درخواست حاجت کی کیفیت

“مَنْ كٰانَتْ لَهُ إِلَی اللهِ حٰاجَةٌ فَلْیَغْتَسِلْ لَیْلَةَ الْجُمُعَةِ بَعْدَ نِصْفِ اللَّیْلِ وَ یَاٴُ تي مُصَلاّٰهُ” (۶۸)

”جو شخص خداوندعالم کی بارگاہ میں کوئی حاجت رکھتا ہے تو اسے چاہئے کہ شب جمعہ آدھی رات کے بعد غسل کرے، اور خدا سے مناجات کے لئے اپنی جانماز پر گریہ و زاری کرے“۔

شرح

ابو عبد اللہ حسین بن محمد بزروفی کہتے ہیں: امام زمانہ علیہ السلام کی طرف سے ایک توقیع پھنچی جس میں لکھا ہوا تھا:

”جو شخص خداوندعالم کی بارگاہ میں کوئی حاجت رکھتا ہو تو اس کو چاہئے کہ شب جمعہ آدھی رات کے بعد غسل کرے اور اپنی جا نماز پر آئے، دو رکعت نماز پڑہے اور جب( إِیَّاكَ نَعْبُدُ وَإِیَّاكَ نَسْتَعِینُ ) پر پھنچے تو اس کو سو مرتبہ پڑہے اور پہر سورہ حمد کو تمام کرے، اس کے بعد سورہ توحید کو ایک مرتبہ پڑہے، پہر رکوع و سجدہ بجالائے اور رکوع و سجود کے ذکر کو سات مرتبہ پڑہے۔ اور پہر دوسری رکعت بھی اسی طرح پڑہے، اور نماز کے بعد (یہ) دعا پڑہے (جس کو کفعمی علیہ الرحمہ نے باب ۳۶ کے شروع میں بیان کیا ہے) اور دعا کے بعد سجدہ میں جائے اور خدا کی بارگاہ میں گریہ و زاری کرے اور پہر اپنی حاجت طلب کرے۔ کوئی مرد و عورت ایسا عمل انجام دے اور خلوص دل سے دعا کرے تو اس کے لئے باب اجابت کھل جائیں گے اور اس کی حاجت کچھ بھی ہو پوری ہوجائے گی، مگر یہ کہ اس کی حاجت قطع تعلق کے لئے ہو“۔

اس حدیث سے چند نکات معلوم ہوتے ہیں:

۱۔ بغیر مقدمہ کے خدا سے حاجت کی درخواست نہیں کرنی چاہئے؛ کیونکہ ممکن ہے کہ انسان کے اندر کچھ موانع پائے جاتے ہوں جن کی وجہ سے انسان کی دعا باب اجابت سے نہ ٹکرائے، جن میں سے ایک مانع گناہ ہے۔

۲۔ دعا اور مغفرت کے لئے صرف استغفار کافی نہیں ہے، بلکہ توحید کا اقرار اس کے مراتب کے ساتھ ساتھ اور تسبیح و ذکر خدا بھی اس سلسلہ میں موثر ہیں۔

۳۔ دعا کے قبول ہونے کے لئے جگہ اور وقت بھی موثر ہیں؛ لہٰذا امام زمانہ علیہ السلام نے حکم دیا ہے کہ حاجت مند شخص شب جمعہ جو پورے ہفتہ میں بہترین شب ہے اور وہ بھی آدھی رات جو شب و روز میں بہترین وقت ہے، ہمیشہ نماز پڑھنے کی جگہ (جا نماز) جو مومن کے لئے بہترین جگہ ہے، قرار پائے اور نماز کے بعد اپنی حاجتوں کو خدا سے طلب کرے۔

حدیث نمبر۳۶: سر انجام بخیر ہونا

“اٴَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الْعَمیٰ بَعْدَ الْجَلاٰءِ، وَ مِنَ الضَّلاٰلَةِ بَعْدَ الْهُدیٰ، وَ مِنْ مُوبِقٰاتِ الْاٴَعْمٰالِ وَ مُرْدِیٰاتِ الْفِتَنِ” (۶۹)

”بینائی کے بعد نابینائی سے، ہدایت کے بعد گمراھی سے اور خطرناک بلاؤں نیز فتنہ و فساد سے خدا کی پناہ طلب کرتا ہوں“۔

شرح

یہ تحریر ،امام زمانہ علیہ السلام کی اس توقیع کا ایک حصہ ہے جس کو آپ نے اپنے پھلے اور دوسرے نائب عثمان بن سعید عمری اور ان کے فرزند محمد کے لئے تحریر کی ہے۔ امام زمانہ علیہ السلام غیبت کے سلسلہ میں چند چیزوں کی سفارش کرنے کے بعد اور اس سلسلہ میں شیعوں کے دل ثابت قدم رھنے کی تاکید کے بعد چند چیزوں میں خدا کی پناہ طلب کرتے ہیں جن میں سے ہر ایک ہمارے لئے ایک عظیم درس ہے:

۱۔ امام زمانہ علیہ السلام ہدایت کے بعد گمراھی سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں؛ کیونکہ اگر کسی شخص کی ہدایت ہوجائے اور وہ حق و حقیقت کو سمجھ لے، لیکن ایک مدت بعد اس سے منحرف ہوجائے تو اس پر حجت تمام ہے، اور ایسا شخص یقینی طور پر تلافی نہ ہونے والے گھاٹے میں مبتلا ہوجائے گا۔ ایسے شخص نے مستحکم سعادت کو معرفت کے بعد چھوڑ دیا ہے اور اپنے لئے ابدی عذاب کو خرید لیا ہے۔

۲۔ اسی طرح امام علیہ السلام ان بُرے اعمال سے پناہ مانگتے ہیں جو انسان کو ھلاکت و نابودی میں مبتلا کردیتے ہیں؛ کیونکہ انسان کے لئے ہمیشہ اپنے ایمان سے ہاتھ دھونے کا خطرہ پایا جاتا ہے۔ ہوا و ہوس اور شیطانی وسوسے انسان کے مرنے تک ساتھ نہیں چھوڑ تے۔ لہٰذا (حدیث کے) اس حصہ سے ایمان کی اہمیت اور مشکلات کو سمجھا جاسکتا ہے۔

۳۔ امام علیہ السلام ان خطرناک اور ہلاک کنندہ فتنوں سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں جن سے انسان، عزت کی بلندی سے قعر ذلت میں پھنچ جاتا ہے۔ قرآنی حکم کے مطابق انسان ہمیشہ امتحان کی منزل میں ہے۔ جیسا کہ خداوندعالم ارشاد فرماتا ہے:

( اٴَحَسِبَ النَّاسُ اٴَنْ یُتْرَكُوا اٴَنْ یَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لاَیُفْتَنُونَ وَلَقَدْ فَتَنَّا الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۔ ۔ ۔) (۷۰)

”کیا لوگوں نے یہ خیال کر رکھا ہے کہ وہ صرف اس بات پر چھوڑ دئے جائیں گے کہ وہ یہ کہہ دیں کہ ہم ایمان لے آئے اور ان کا امتحان نہیں ہوگا۔ بے شک ہم نے اس سے پھلے والوں کا بھی امتحان لیا ہے۔ ۔ ۔ “۔

یہ امتحانات مختلف قسم کے ہوتے ہیں اور ان میں سے کوئی ھلکا اور کوئی بھاری قسم کا ہوتا ہے۔ کبھی یہ امتحان انسان کے جان و مال کا ہوتا ہے اور کبھی یہ امتحان دین کے سلسلہ میں ہوتا ہے۔ ۔ ۔ ،لہٰذا ان تمام امتحانات میں چاہے وہ چھوٹے ہوں یا بڑے سب میں خدا پر بہر وسہ کرنا چاہئے اور ان امتحانات میں خداوندعالم کی ذات سے کامیابی طلب کرنی چاہئے۔

حدیث نمبر۳۷: باطل پر حق کی پیروزی

“اٴَبَی اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْحَقِّ إِلاّٰ إِتْمٰاماً، وَلِلْبٰاطِلِ إِلاّٰ زَهُوقاً” (۷۱)

”خداوندعالم کا یقینی ارادہ یہ ہے کہ (عنقریب یا تاخیر سے) حق کا سر انجام کامیابی، اور باطل کا سرانجام نابودی ہو“۔

شرح

یہ تحریر، امام زمانہ علیہ السلام کے اس جواب کا حصہ ہے جس کو آپ نے احمد بن اسحاق اشعری قمّی کے نام لکھی ہے۔ اس خط میں امام علیہ السلام نے (اپنے چچا) جعفر کے دعوے کو ردّ کرتے ہوئے اپنے کو امام حسن عسکری علیہ السلام کا وصی قرار دیا اور اپنے پدر بزرگوار کے بعد امام کے عنوان سے اپنا تعارف کرایا ہے؛ پہر امام اس نکتہ کی طرف اشارہ فرماتے ہیں کہ سنت الٰہی یہ ہے کہ حق و حقیقت کی مدد کرے اور اس کو بلند و بالا مقام تک پھنچائے، اگرچہ ہمیشہ حق و حقیقت کا مقابلہ ہوتا رہا ہے؛ دوسری طرف سنت الٰہی یہ ہے کہ باطل (اگرچہ ایک طولانی مدت تک اس کا بول بالا ہو لیکن) نابود ہوکر رہے گا، اور صرف اس کے نام کے علاوہ کچھ باقی نہ بچے گا، فرعون وغیرہ جیسے افراد کا اسر انجام اس بات کو بالکل واضح کردیتا ہے؛ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہمیشہ حق و حقیقت کی تلاش میں رھیں اور اس راہ میں موجود مشکلات اور پریشانیوں سے نہ گھبرائیں، اور کبھی بھی باطل کے فریب دینے والے ظاہر سے دل نہ لگائیں؛ کیونکہ حق ہمیشہ کامیاب ہے اور باطل نابود ہوتا ہے۔

حدیث نمبر ۳۸: سنت پر عمل کرنا مودت کی بنیاد ہے

“إِجْعَلُوا قَصْدَ كُمْ إِلَیْنٰا بِالْمَوَدَّةِ عَلَی السُّنَّةِ الْوٰاضِحَةِ، فَقَدْ نَصَحْتُ لَكُمْ، وَ اللهُ شٰاهِدٌ عَلَيَّ وَ عَلَیْكُمْ” (۷۲)

”ہم (اہل بیت عصمت و طھارت) سے اپنی محبت و دوستی کا مقصد احکام الٰہی کا نفاذ اور سنت پر عمل کی بنیاد قرار دو؛ بے شک ہم نے ضروری سفارشوںاور لازم موعظوں کو انجام دیا ہے، خداوندعالم ہم اور تم سب پر گواہ ہے“۔

شرح

ابن ابی غانم قزوینی اور شیعوں کی ایک جماعت کے درمیان امام حسن عسکری علیہ السلام کی جانشینی پر اختلاف ہوا، ابن ابی غانم کا عقیدہ یہ تھا کہ امام عسکری علیہ السلام نے اپنی وفات تک کسی کو اپنا جانشین معین نہیں کیا، لیکن شیعوں کی جماعت اس کی مخالفت کررھی تھی اور وہ لوگ اس بات کے قائل تہے کہ امام حسن عسکری علیہ السلام نے اپنا جانشین معین کیا ہے؛ لہٰذا امام زمانہ علیہ السلام کی خدمت میں ایک خط لکھا گیا اور اس موضوع کو آپ کے سامنے پیش کیا۔ امام علیہ السلام نے اپنے دست مبارک سے ایک خط لکھا جس میں مذکورہ حدیث بھی ہے۔

امام زمانہ علیہ السلام نے اس خط میں تقویٰ و پرھیزگاری کا حکم کرنے کےبعد فرمایا:

”ہمارے سامنے تسلیم رھو، اور جس چیز کے بارے میں نہیں جانتے اس کو ہماری طرف پلٹا دو( یا ہم سے سوال کرو) کیونکہ ہم پر حقیقت حال بیان کرنا لازم ہے۔ ۔ ۔ دائیں بائیں گمراہ نہ ہو، ہماری نسبت محبت و دوستی اور ہمارے احکام کی اطاعت میں ثابت قدم رھو کہ یھی شریعت محمدی ہے“۔

اس حدیث سے یہ بات اچھی طرح معلوم ہوجاتی ہے کہ صرف محبت کا دعویٰ کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ حقیقی محبت کرنے والا انسان وہ ہے جو اپنے محبوب کے حکم کو عملی جامہ پھنائے۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:

”مذاھب، تم کو دور نہ کردیں، خدا کی قسم! ہمارا شیعہ وہ ہے جو خداوندعالم کی اطاعت کرے“۔(۷۳)

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

”ہمارے شیعہ، اہل تقویٰ، کوشش کرنے والے، اہل وفا اور امانت دار، زاھد، عابد اور دن رات میں ۵۱ رکعت نماز پڑھنے والے ہیں، راتوں کو (عبادت کے لئے) بیدار رہتے ہیں اور دن میں روزہ رکھتے ہیں؛ اپنے مال کی زکوٰة دیتے ہیں، خانہ خدا کا حج کرتے ہیں، اور ہر حرام کام سے پرھیز کرتے ہیں“۔(۷۴)

اسی طرح حضرت امام صادق علیہ السلام نے ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا:

”جو شخص اپنی زبان سے کہے کہ میں شیعہ ہوں، لیکن وہ میدان عمل میں ہماری مخالفت کرتا ہو، تو وہ شخص ہمارا شیعہ نہیں ہے۔ ہمارے شیعہ وہ ہیں جو دل و جان سے ہمارے موافق ہیں اور ہمارے آثار و اعمال کو اپنے لئے نمونہ قرار دیتے ہوئے ہماری پیروی کرتے ہیں“۔۷۵

حدیث نمبر ۳۹: وقف کا حکم

“وَ اٴَمّٰا مٰا سَاٴَلْتَ عَنْهُ مِنْ اٴَمْرِ الْوَقْفِ عَلیٰ نٰاحِیَتِنٰا وَ مٰا یَجْعَلُ لَنٰا ثُمَّ یَحْتٰاجُ إلَیْهِ صٰاحِبُهُ، فَكُلُّ مٰا لَمْ یُسَلَّمْ فَصٰاحِبُهُ فیهِ بِالْخِیٰارِ، وَ كُلُّ مٰا سُلِّمَ فَلاٰ خِیٰارَ فیهِ لِصٰاحِبِهِ، إِحْتٰاجَ إِلَیْهِ صٰاحِبُهُ اٴَوْ لَمْ یَحْتَجْ” (۷۶)

”تم نے ہم سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے کسی چیز کو ہمارے لئے وقف کردیا ہو لیکن بعد میں وہ خود اس چیز کا محتاج ہوگیا ہو؟ ایسے شخص کا حکم یہہے کہ اگر اس نے جو چیز ہمارے لئے وقف کی ہے لیکن ابھی تک اس کو دیا نہیں ہے، تو وہ مختار ہے اور وقف سے صرف نظر کرسکتا ہے؛ لیکن اگر اس کو دے دیا ہے تو اس کا وقف قطعی ہوچکا ہے، جس کے بعد وہ اس کو واپس نہیں لے سکتا ہے، چاہے وہ اس کا محتاج ہو یا نہ ہو“۔

شرح

یہ کلام امام زمانہ علیہ السلام کی اس توقیع کا ایک حصہ ہے جس کو ابو الحسن محمد بن جعفر اسدی کے سوالوں کے جواب میں رقم کیا ہے۔

وقف کا حکم دیگر معاملات سے مختلف ہے۔ اگر کوئی شخص کسی چیز کو فروخت کردے، اور اس کی قیمت خریدار سے لے لے، لیکن بعد میں پشیمان ہوجائے اور معاملہ نہ کرنا چاہے تو وہ قیمت کو واپس لے کر معاملہ ختم کرسکتا ہے؛ لیکن وقف کا حکم ایسا نہیں ہے۔ جب کوئی چیز وقف ہوجائے اور واقف اس چیز کو موقوف علیہ (یعنی جن لوگوں کے لئے وہ چیز وقف کی گئی ہے) کو نہ دے تو اس وقف سے صرف نظر کرسکتا ہے، اور اپنے مال کو اپنی ملکیت میں واپس لے سکتا ہے، لیکن اگر موقوفہ مال موقوف علیہ کے ہاتھ وں میں پھنچ گیا ہے تو وہ وقف یقینی اور نافذ ہوجاتا ہے اور واقف اس مال کو واپس نہیں لے سکتا۔

اس حکم میں کوئی فرق نہیں ہے کہ موقوف علیہ کون ہے؟ امام معصوم ہو یا عام آدمی؛ اسی طرح یہ بھی کوئی فرق نہیں ہے کہ وقف شدہ مال کم ہو یا زیادہ۔

حدیث نمبر ۴۰: حُسن عاقبت

“وَالْعٰاقِبَةُ بِجَمیلِ صُنْعِ اللهِ سُبْحٰانَهُ تَكُونُ حَمِیدَةً لَهُمْ مَا اجْتَنَبُوا الْمَنْهِيَّ عَنْهُ مِنَ الذُّنُوبِ” (۷۷)

” جب تک ہمارے شیعہ گناھوں سے دور رھیںاس وقت تک خداوندعالم کے لطف و کرم سے سرانجام بخیر ہوگا “۔

شرح

یہ حدیث اس خط کا ایک حصہ ہے جس کو امام زمانہ علیہ السلام نے شیخ مفید علیہ الرحمہ کے نام لکھی تھی۔ امام علیہ السلام نے اس حدیث میں ایک اہم نکتہ کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اگر ہمارے شیعہ حُسن عاقبت اور نیک سر انجام چاہتے ہیں تو اس کا سبب خداوندعالم کا خاص لطف اور اس کی توجہ ہے، لہٰذا جن گناھوں کو خداوندعالم نےحرام قرار دیا ہے ان سے پرھیز کیا جائے؛ کیونکہ ہر عمل کی مخصوص تاثیر ہوتی ہے، ہمارا نفس ہمارے کاموں اور ہماری باتوں یھاں تک کہ ہماری سوچ کے مطابق بنتا اور سنورتا ہے۔ جو لوگ گناہ کرنے سے نہیں ڈرتے (چاہے گناہ کم ہوں یا زیادہ، چھوٹا گناہ ہو یا بڑا) تو ان کو معلوم ہونا چاہئے کہ انھوں نے اپنی حقیقت کو سیاہ کرڈالا ہے، اور ان کے لئے نور و پاکیزگی کا کوئی مقام نہیں ہے۔ گناہ ایک ایسی آگ ہے جوتمام نیک کاموں کے ثواب کو ختم کر ڈالتی ہے۔ انسان برسوں کوشش کرتا ہے اور نیک کام انجام دے کر ثواب حاصل کرتا ہے، لیکن ایک گناہ کے ذریعہ اپنی تمام زحمتوں پر پانی پھیر دیتا ہے؛ اسی وجہ سے امام زمانہ علیہ السلام نے اس حدیث میں گناہ کے خطرہ سے آگاہ کیا ہے۔

____________________

۶۲. کمال الدین، ج۲، ص۴۸۵، ح۱۰، احتجاج، ج۲ ، ص۲۸۴، بحار الانوار، ج۵۳، ص۱۸۱، ح۱۰۔

۶۳. الغیبة، طوسی، ص۲۹۴، ح۲۴۸، احتجاج، ج۲ ، ص۲۸۵، بحار الانوار، ج۲۵، ص۳۲۹، ح۴۔

۶۴. احتجاج، ج۲ ، ص۳۲۳ تا ۳۲۴، بحار الانوار، ج۵۳، ص۱۷۶، ح۷۔

۶۵. احتجاج، ج۲ ، ص۳۲۲ ، بحار الانوار، ج۵۳، ص۱۷۵، ح۷۔

۶۶. الغیبة، طوسی، ص۲۸۸، ح۲۴۶، احتجاج، ج۲ ، ص۲۸۰، بحار الانوار، ج۵۳، ص۱۹۴، ح۲۱۔

۶۷. سورہ جمعہ، آیت ۲۔

۶۸. مصباح، کفعمی، ص۳۹۶۔

۶۹. کمال الدین، ج۲، ص۵۱۱، ح۴۲، الخرائج و الجرائج، ج۳، ص۱۱۱۰، بحار النوار، ج۵۳، ص۱۹۰تا۱۹۱، ح۱۹۔

۷۰. سورہ عنکبوت،آیت ۲ تا ۳۔

۷۱. الغیبة، طوسی، ص۲۸۷، ح۲۴۶، احتجاج، ج۲، ص۲۷۹، بحار النوار، ج۵۳، ص۱۹۳، ح۲۱۔

۷۲. الغیبة، طوسی، ص۲۸۶، ح۲۴۵، احتجاج، ج۲ ، ص۲۷۹، بحار الانوار، ج۵۳، ص۱۷۹، ح۹۔

۷۳. کافی، ج۲، ص۷۳، ح۱، وسائل الشیعة، ج۱۵، ص۲۳۳، ح۲۰۳۶۰۔

۷۴. بحار الانوار، ج۶۵، ص۱۶۷، ح۲۳، وسائل الشیعة، ج۴، ص۵۷، ح۴۴۹۸۔

۷۵. بحار الانوار، ج۶۵، ص۱۶۴، ح۱۳، وسائل الشیعة، ج۱۵، ص۲۴۷، ح۲۰۴۰۹۔

۷۶. کمال الدین، ج۲، ص۵۲۰، ح۴۹، بحار الانوار، ج۵۳، ص۱۸۲، ح۱۱۔

۷۷. احتجاج، ج۲، ص۳۲۵، بحار الانوار، ج۵۳، ص۱۷۷، ح۸۔


فہر ست منابع

۱۔ قرآن مجید

۲۔ اختیار معرفة الرجال، (رجال کشّی) محمد بن حسن طوسی (رہ) ، موسسة آل البیت (علیہم السلام) لاحیاء التراث، ۱۴۰۴ قمری، قم۔

۳۔ إعلام الوری باعلام الھدیٰ، فضل بن حسن طبرسی(رہ) ، موسسة آل البیت (علیہم السلام) لاحیاء التراث، ۱۴۱۷ قمری، قم۔

۴۔ الاحتجاج؛ احمد بن علی طبرسی (رہ) ، دار النعمان۔

۵۔ الارشاد فی معرفة حجج اللہ علی العباد؛ شیخ مفید (رہ) ، کنگرہ شیخ مفید، ۱۴۱۲ قمری، قم۔

۶۔ الاستبصار؛ محمد بن حسن طوسی(رہ) ، دار الکتب الاسلامیة، ۱۳۶۳ شمسی، تہر ان۔

۷۔ البرہا ن فی تفسیر القرآن، سید ھاشم بحرانی(رہ) ، بنیاد بعثت، ۱۴۱۵ قمری، تہر ان۔

۸۔ البلد الامین؛ ابراھیم بن علی کفعمی(رہ) ،

۹۔ الخرائج و الجرائح؛ قطب الدین راوندی (رہ) ؛ موسسة الامام المھدی (عج) ، قم۔

۱۰۔ الصحیفة السجادیة؛ امام سجاد علیہ السلام، دفتر نشر الھادی، ۱۳۷۶ شمسی، قم۔

۱۱۔ الغیبة؛ محمد بن حسن طوسی(رہ) ، موسسة المعارف الاسلامیہ، ۱۴۱۱ قمری، قم۔

۱۲۔ المستدرک علی الصحیحین، حاکم نیشاپوری، دار المعرفة، ۱۴۰۶ قمری، بیروت، لبنان۔

۱۳۔ المصباح؛ ابراھیم بن علی کفعمی(رہ) ، انتشارات رضی، ۱۴۰۵ قمری ،قم۔

۱۴۔ الھدایة الکبریٰ؛ حسن بن حمدان خصیبی (رہ) ، موسسة البلاغ، ۱۴۱۱ قمری، بیروت، لبنان۔

۱۵۔ بحار الانوار؛ علامہ محمد باقر مجلسی(رہ) ، موسسة الوفا،۱۴۰۳ قمری، بیروت، لبنان۔

۱۶۔ بصائر الدرجات الکبریٰ؛ محمد بن الحسن الصفار(رہ) ، موسسہ اعلمی، ۱۳۶۲ شمسی، تہر ان۔

۱۷۔ تحف العقول عن آل الرسول (ص) ؛ ابن شعبہ حرانی، جامعہ مدرسین، ۱۴۰۴ قمری، قم۔

۱۸۔ تفسیر قمی؛ علی بن ابراھیم قمی(رہ) ، موسسہ دار الکتاب، ۱۴۰۴ قمری، قم۔

۱۹۔ تفصیل وسائل الشیعة؛ شیخ حرّ عاملی(رہ) ، موسسة آل البیت علیہم السلام لاحیاء التراث ، ۱۴۱۴ قمری، قم۔

۲۰۔ تہذیب الاحکام؛ محمد بن حسن طوسی(رہ) ، دار الکتب الاسلامیة، ۱۳۶۵ شمسی، تہر ان۔

۲۱۔ دلائل الامامة، محمد جریر طبری(رہ) ، موسسہ بعثت، ۱۴۱۳ قمری، قم۔

۲۲۔ کافی؛ محمد بن یعقوب کلینی(رہ) ، دار الکتب الاسلامیہ، ۱۳۸۸ قمری، تہر ان۔

۲۳۔ کشف الغمة فی معرفة الائمة؛ علی بن عیسیٰ بن ابی الفتح إربلی(رہ) ، دار الاضواء، ۱۴۰۵ قمری، بیروت، لبنان۔

۲۴۔ کمال الدین و تمام النعمة؛ شیخ صدوق(رہ) ، جامعہ مدرسین، ۱۴۰۵ قمری، قم۔

۲۵۔ مدینة المعاجز؛ سید ھاشم بحرانی، موسسة المعارف الاسلامیة، ۱۴۱۶ قمری، قم۔

۲۶۔ من لا یحضرة الفقیہ، شیخ صدوق، جامعہ مدرسین، ۱۴۰۴ قمری، قم۔

۲۷۔ مہج الدعوات؛ سید ابن طاووس(رہ) ، انتشارات دار الذخائر، ۱۴۱۱ قمری، قم۔

۲۸۔ نهج البلاغہ سید رضی، تحقیق شیخ محمد عبدہ، دار المعرفة، بیروت، لبنان۔


فہرست

مقدمہ مترجم ۴

حدیث نمبر ۱: اہل بیت علیہم السلام ، مرکز حق ہیں ۷

شرح ۷

حدیث نمبر۲ : امام زمانہ(ع) زمین والوں کے لئے امان ہیں ۸

شرح ۸

حدیث نمبر۳ : فلسفہ امامت اور صفات امام ۹

شرح ۹

حدیث نمبر ۴: فلسفہ امامت ۱۰

شرح ۱۰

حدیث نمبر۵ : علم امام کی قسمیں ۱۱

شرح ۱۱

حدیث نمبر ۶: امام کا دائمی وجود ۱۲

شرح ۱۲

حدیث نمبر ۷: مشیت الٰہی اور رضائے اہل بیت علیہم السلام ۱۳

شرح ۱۳

حدیث نمبر ۸: نماز کے ذریعہ شیطان سے دوری ۱۳

شرح ۱۴

حدیث نمبر ۹: اول وقت نماز پڑھنا ۱۴

شرح ۱۴


حدیث نمبر ۱۰: سجدہ شکر ۱۵

شرح ۱۶

حدیث نمبر ۱۱: تسبیح خاک شفا کی فضیلت ۱۹

شرح ۱۹

حدیث نمبر ۱۲: لوگوں کی حاجت روائی کرنا ۲۰

شرح ۲۰

حدیث نمبر ۱۳: استغفار، بخشش کا ذریعہ ۲۱

شرح ۲۱

حدیث نمبر ۱۴: ایک دوسرے کے حق میں استغفار کرنا ۲۲

شرح ۲۲

حدیث نمبر ۱۵: انسان کا امام غائب سے فیض حاصل کرنا ۲۳

شرح ۲۳

حدیث نمبر ۱۶: امام علیہ السلام کے ظھور میں تاخیر کی وجہ ۲۴

شرح ۲۴

اس حدیث مبارک سے چند چیزیں معلوم ہوتی ہیں: ۲۵

حدیث نمبر ۱۷: غیبت، منجملہ تقدیرات الٰہی میں سے ہے ۲۵

شرح ۲۶

حدیث نمبر ۱۸: زمانہ غیبت میں فقھا کی طرف رجوع کرنا ۲۶

شرح ۲۶

حدیث نمبر ۱۹: زکوٰة، نفس کو پاک کرنے والی ہے ۲۷


شرح ۲۷

حدیث نمبر ۲۰: مالی واجبی حقوق کو ادا کرنے کا فائدہ تقویٰ ہے ۲۸

شرح ۲۸

حدیث نمبر ۲۱: تعجیل فرج (ظھور) کے لئے د عا ۳۱

شرح ۳۱

حدیث نمبر ۲۲: شیعوں کی رعایت ۳۱

شرح ۳۲

حدیث نمبر ۲۳: شیعوں سے بلاؤں کا دور کرنا ۳۲

شرح ۳۲

حدیث نمبر ۲۴: دعا قبول ہونے کی امید ۳۳

شرح ۳۴

حدیث نمبر ۲۵: دوسروں کے مال کا احترام کرنا ۳۴

شرح ۳۵

حدیث نمبر ۲۶: حضرت زہر ا (ع) امام مھدی علیہ السلام کے لئے نمونہ ۳۵

شرح ۳۵

حدیث نمبر ۲۷: شک میں ڈالنے کی ممانعت ۳۷

شرح ۳۷

حدیث نمبر ۲۸: شک و شبھات میں مبتلا نہ ہونا ۳۷

شرح ۳۸

حدیث نمبر ۲۹: امام زمانہ علیہ السلام کا انکار کرنے والوں کا حکم ۳۹


شرح ۳۹

حدیث نمبر ۳۰: امام زمانہ علیہ السلام کو اذیت پھنچانے والے ۴۰

شرح ۴۰

حدیث نمبر ۳۱: تکلف اور زحمت میں ڈالنے سے ممانعت ۴۲

شرح ۴۲

حدیث نمبر ۳۲: توحید کا اقرار اور غلو کی نفی ۴۲

شرح ۴۳

حدیث نمبر ۳۳: امام زمانہ علیہ السلام کی محبت ۴۴

شرح ۴۴

حدیث نمبر ۳۴: ھدفِ بعثت ۴۵

شرح ۴۵

حدیث نمبر ۳۵: درخواست حاجت کی کیفیت ۴۶

شرح ۴۶

حدیث نمبر۳۶: سر انجام بخیر ہونا ۴۷

شرح ۴۷

حدیث نمبر۳۷: باطل پر حق کی پیروزی ۴۸

شرح ۴۸

حدیث نمبر ۳۸: سنت پر عمل کرنا مودت کی بنیاد ہے ۴۹

شرح ۴۹

حدیث نمبر ۳۹: وقف کا حکم ۵۰


شرح ۵۰

حدیث نمبر ۴۰: حُسن عاقبت ۵۱

شرح ۵۱

فہر ست منابع ۵۳

شرح چھل حدیث امام مھدی (عج)

شرح چھل حدیث امام مھدی (عج)

مؤلف: علی اصغررضوانی
زمرہ جات: متن احادیث
صفحے: 14