یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
امامت اورائمہ معصومین کی عصمت
مصنف: رضاکاردان
مترجم: سيد قلبي حسين رضوي
پیش لفظ
امامت کے بارے میں دو مشخص نظریے ہیں
پہلانظریہ:
جمہور،یعنی اہل سنّت کا ہے،جومعتقد ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی شخص کواپنے بعد،اپنے جانشین کے طورپر معرفی نہیں کیاہے اور یہ امت کی ذمہ داری تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ان کے جانشین کومنتخب کریں۔
دوسرانظریہ :
شیعہ امامیہ کا نظریہ ہے کہ وہ امامت کوخداکی طرف سے منصوب اور معین جانتے ہیں او عقیدہ رکھتے ہیں کہ امامت نبوت ہی کا ایک سلسلہ ہے اور امام کو نصب اورپیغمبرکے مانند معین کر نا خدائے متعال کی ذمہ داری ہے۔
شیعوں کے پاس اپنے نظریہ کو ثابت کرنے کے لئے ،عقل،کتا ب و سنّت کے حوالے سے بہت سے قطعی دلائل موجود ہیں ،جوکلام،تفسیر اور احادیث کی کتابوں میں بیان کئے گئے ہیں۔
اس مقدمہ میں شیعوں کے عقلی نظریہ کواس مسئلہ کے بارے میں عقل کے حکم کے مطابق واضح کیا گیا ہے۔
اس سلسلہ میں جو اقتباسات پیش کئے گئے ہیں وہ انسان کی فطری تحقیق اورغور وخوض کا نتیجہ ہے:
۱ ۔ہم جانتے ہیں کہ اسلام ایک لافانی دین ہے ،جو ہرزمانہ کے تمام لوگوں کے لئے نازل ہوا ہے۔
۲ ۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے،اس دین مبین کی تبلیغ اور ترقی کے سلسلہ میں ہر ممکن کو شش کی اور اپنے تمام وسائل سے کام لیا اوراس سلسلہ میں کوئی لمحہ فروگزاشت نہیں کیا اور اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک غیرمعمولی اور ناقابل توصیف ایثاروجانثاری کا مظاہرہ کرتے رہے کی۔چنانچہ یہ مضمون کئی آیات میں بیان ہوا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے ایمان کے لئے اپنی جان کی قربانی دینے کے لئے نکلتے تھے:
( لعلّک باخع نفسک ان لایکونوا مؤمنین ) (شعراء/۳)
”کیاآپ اپنے نفس کو ہلاکت میں ڈال دیں گے اس لئے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لارہے ہیں۔“
( فلعلّک باخع نفسک علی آثارهم ان لم یؤمنوا بهذا الحدیث اسفاً ) (کہف/۶)
”توکیاآپ شدت افسوس سے ان کے پیچھے اپنی جان خطرے میں ڈال دیں گے اگریہ لوگ اس بات پر ایمان نہ لائے۔“
۳ ۔اس راہ میں بہترین اورباعظمت انسانوں کی ایک بڑی تعدادنے قربانی دے کرشہادت کاجام نوش کیاہے۔
۴ ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،انسانوں کی سعادت کے لئے مختلف ابعادمیں جوکچھ مؤثر جانتے تھے ان کے لئے بیان فرماتے تھے،شیعہ اورسنّی کے فقہی فروعات او ر جزئی مسائل کے بارے میں احادیث اوراسلامی فقہ کی کتابوں میں جو کچھ وارد ہوا ہے وہ اس کا بیّن ثبوت ہیں۔
۵ ۔پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک ایسی حالت میں رحلت فرمائی کہ ابھی اسلام حجاز کے تمام حدودتک بھی نہیں پھیلاتھا،چہ جائے کہ اس پیغام و شریعت کی دنیابھرمیں رسائی ہو تی ۔
۶ ۔ایسی طاقتیں موجودتھیں کہ جن کی طرف سے اسلام کے وجوداوراس کی تبلیغ و بقاء کے لئے خطرہ کا احساس کیا جاتاتھا،بالخصوص اس لئے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی اورانہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کو نہ صرف قبول نہیں کیاتھا،بلکہ ان میں سے بعض نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کے مقا بلہ میں نامناسب رد عمل کا اظہاربھی کیا،جیسے کہ ایران کے بادشاہ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خط ہی پھاڑ ڈالا۔
۷ ۔اس قسم کی طاقتوں کا سرکچلنے اور انھیںزیر کر نے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعدمسلمانوں کی ایک طاقتور فوج اور قطعی وفیصلہ کن رہبری کی ضرورت تھی۔
۸ ۔اقتدارپرستی اور جاہ طلبی انسان کے باطنی امور کا ایک ایسامسئلہ ہے ،کہ جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کے اصحاب بھی مستثنیٰ نہیں تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گرد جمع ہوئے مسلمان ،جوآپ سے بے پناہ عشق ومحبت کرتے تھے،لیکن اس کے باوجود ان میں بھی بہت سے ایسے افراد موجودتھے جن کے وجود کی گہرائیوں میں پوری طرح اسلام نفوذ نہیں کرچکا تھااورا ب بھی جاہلیت کے رسم و رواج نیز،قومی اور خاندانی تعصبات کی حکو مت ان کے وجود پر سایہ فگن تھی اورہر آن یہ خطرہ لاحق تھاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآ وسلم کی رحلت کے بعد خلافت کی لالچ میں وہ ایک دوسرے سے بر سر پیکار ہو جائیں۔چنانچہ بعض احادیث میں انحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ اپنے اصحاب سے فرماتے تھے کہ:”میں اپنے بعدتمہارے مشرک ہونے سے نہیں ڈرتاہوں لیکن اس چیز سے ڈرتاہوں کہ تم لوگ امور دنیاکے لئے ایک دوسرے کی رقابت کروگے۔(۱) “
۹ ۔ایسے منافقین بھی موجودتھے جو ہمیشہ اسلام ومسلمین کے خلاف سازشوں میں مشغول
____________________
۱۔صحیح بخاری،ج۴،باب فی الحوض،ص۱۴۲،دارلمعرفتہ،بیروت
رہتے تھے اور اس سلسلہ میں کوئی لمحہ فروگزاشت نہیں کرتے تھے،لہذا یہ خطرہ موجود تھاکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحلت کے بعد یہ لوگ اسلامی خلافت میں نفوذ کریں اورشائد ان منافقین کا ایک گروہ ابتداء اسلام ہی سے اسی لالچ کی بناء پردعوت اسلام قبول کئے ہوئے تھا۔
ہم تاریخ میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ قبائل کے بعض سردار،پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے انھیں اسلام کی دعوت دینے پر شرط رکھتے تھے کو آئندہ اسلامی حکومت میں ان کے کردار کو ملحوظ نظر رکھا جائے:
سیرئہ ابن ہشام میں یوں نقل ہواہے:
”پیغمبر اسلام (ص)،بنی عامر کے پاس تشریف لے گئے اور انھیں خدائے عزّو جل کی طرف دعوت دی اور اپنا تعارف کرایا۔ ان میں سے ایک نے آنحضرت (ص)سے یوں کہا:
”اٴراٴیت ان نحن بایعناک علی امرک ثم اظهرک اللّٰه علی من خالفک ایکون لنا الامر من بعدک؟ قال: الامر الی اللّٰه یضعه کیف یشاء “(۱)
”اگرہم آپ کی بیعت لیں اور آپ کی دعوت پر لبیک کہیں تو کیا آپاپنے مخالفین پرغلبہ حاصل کر نے کے بعداپنی خلا فت کے اختتام پر خلا فت کی بھاگ ڈور ہمیں سپرد کریں گے؟ آنحضرت صلی ا للہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب میں فرمایا:اس کااختیارخداکے ہاتھ میں ہے،وہ جسے چاہے اسے اس عہدہ پر مقرر کرے گا۔“
____________________
۱۔سیرئہ ابن ہشام،ج۲،ص۴۲۵،داراحیائ التراث العربی بیروت،الروض الانف ،۴،ص۱۳۸،السیرةالنبویة،سید احمدزینی دحلان،ج ۱،ص۲۸۳،داراحیائ التراث العربی ،بیروت۔
۱۰ ۔یہ قضیہ ثابت شدہ اور مسلّم فطری امر ہے کہ جوبھی چند افراد کے امور کی زمام ہاتھ میں لئے ہو،انھیں سرپرست کے بغیرنہیں چھوڑتاہے،حتی اگراس کے تحت نظر بھیڑبکریاں بھی ہوں ،تووہ انھیں بھی بے سرپرست نہیں چھوڑتاہے۔
جب خلیفہ دوم اپنی زندگی کے آخری لمحات بسر کر رہے تھے تو عبداللہ بن عمرنے ان سے کہا:
”انّ الناس یتحدّثون انّک غیر مستخلف و لو کان لک راعیابل اوراعی غنم ثمّ جاء و ترک رعیته راٴیت ان قد فرّط و رعیةالناس اشدّ من رعیه الابل والغنم ماذا تقول اللّٰه عزّوجل اذلقیته ولم تستخلف علی عباده (۱) “
”لوگ یہ کہتے ہیں کہ آپ اپناجانشین مقررنہیں کررہے ہیں جبکہ آپ کے نزدیک اونٹوں نیزبھیڑ،بکریوں کیلئے کوئی نہ کوئی ساربان اورچرواہاہوتااوروہ مویشوں کوچھوڑکرچلاجاتا توآپ اسے قصوروارٹھراتے۔اوریہ بات مسلّم ہے کہ لوگوں کاخیال رکھنااونٹ اوربھیڑکی حفاظت و رکھوالی سے زیادہ اہم ہے۔جب خداکے بندوں کے لئے کسی جانشین کو مقررکئے بغیر آپ اس دنیاسے چلے جائیں گے تو آپ اپنے خدائے متعال کوکیاجواب دیں گے؟“
ام المو منین عائشہ بھی اس قضیہ سے استنادکرتے ہوئے ابن عمرسے کہتی ہیں:
”یابنیّ بلغ سلامی وقل له لاتدع امة محمد بلا راع استخلف علیهم ولاتدعهم بعدک هملاً فانی اخشی علیهم الفتنة “(۲)
”عمرکومیراسلام کہنااوراس سے کہدیناکہ امت) محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
____________________
۱۔الریاضی النضرة، ج ۲،ص۳۵۳،دارالندوةالجدیدةبیروت،سنن بیہقی ،ج۸،ص۱۴۹، دارالمعرفة بیروت، حلیةالاولیاء،ج۱ص۴۴،دارالفکر
۲۔الامامةوالسیا سة،ج۱،ص۲۳
کواپنے بعد بے مہار اور سرپرست نہ چھوڑ ے اس لئے کہ میں ان میں فتنہ برپا ہونے سے ڈرتی ہوں۔“
اس کے علاوہ بھی روایت ہے کہ عبداللہ بن عمرنے اپنے باپ سے کہا:
”اے کاش!آپ اپنا ایک جانشین مقررکردیتے اگر آپ اپنی طرف سے کسی کو قیّم اور سرپرست کے عنوان سے لوگوں کے پاس بھیجتے ہیں تو کیا اس بات کوپسندنہیں کرتے ہیں کسی کواپناجانشین مقررکردیں؟انہوں نے جواب میں کہا:کیوں نہیں؟ابن عمرنے کہا: جب آپ اپنی بھیڑوں کے لئے ایک نگراں اور سر پرست مقررکر تے ہیں توکیا آپ اس بات کو پسندنہیں کرتے اپنی جگہ پرکسی کومقررکردیں؟“(۱)
معاویہ بھی یزید کی جانشینی کے سلسلہ میں اس سے استنباط کرتے ہوئے کہتاہے:
”انیّ ارهب ان داع امة محمدی بعدی کا لضاٴن لاراعی لها “(۲)
”میں ڈرتاہوں کہیں ام )محمد (ص))کواپنے بعدچرواہے کے بغیربھیڑبکریوں کی طرح چھوڑدوں۔“
۱۱ ۔پیغمبراسلام (ص)،جب کبھی سفر پر تشریف لے جاتے تھے تو ہمیشہ اپنی جگہ پر کسی کو جانشین مقرر فرماتے تھے اورکبھی مدینہ کو اپنے جانشین کے بغیر نہیں چھوڑتے تھے سیرت اورتاریخ کی کتابوں میں یہ مطلب بیان ہوا ہے اورجن اشخاص کوآنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اپنا جانشین مقرر فرمایا ہے ،ان کے نام بھی کتا بوں میں درج ہیں ۔
سیرئہ ابن ہشام میں پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے غزوات بیان کئے گئے ہیں،اس سلسلہ میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف سے مدینہ میں مقررکئے گئے آپ کے جانشینوں کی فہرست
____________________
۱۔طبقات ابن سعد ،ج۳،ص۳۴۳،دار بیروت للطباعة والنشر۔
۲۔تاریخ طبری ،ج۳،جزء۵،ص۱۵۴،مؤسسہ عزالدین للطباعة والنشر،الامامة والسیاسة،ج۱ص۱۸۴ ،منشورات الشریف الرضی
حسب ذیل ذکرکی گئی ہے:
۱ ۔غزوئہ بواط میں :سائب بن عثمان بن مظعون(۱)
۲ ۔غزوئہ عشیرہ میں :اباسلمةبن عبدالاسد(۲)
۳ ۔غزوئہ سفوان یعنی بدراولیٰ میں :زیدبن حادثہ(۳)
۴ ۔غزوئہ بدرکبریٰ میں :ابالبابہ(۴)
۵ ۔غزوئہ بنی سلیم میں :سباع بن عرفطة(۵)
۶ ۔غزوئہ سویق میں :عبدالمنذر)ابولبابہ)(۶)
۷ ۔غزوئہ ذی امر میں :عثمان بن غفان(۷)
۸ ۔غزوئہ فرع میں :ابن ام مکتوم(۸)
۹ ۔غزوئہ بنی قینقاع میں :بشیربن عبدالمنذر(۹)
۱۰ ۔غزوئہ احدمیں :ابن ام مکتوم(۱۰)
۱۱ ۔غزوئہ بنی النضیر میں :ابن ام مکتوم(۱۱)
۱۲ ۔غزوئہ ذات الرقاع میں :ابوذرغفاری یاعثمان بن عفان(۱۲)
۱۳ ۔غزوئہ بدر،دوم:عبداللہ بن عبداللہ بن ابی بن سلول انصاری(۱۳)
۱۴ ۔غزوئہ دومةالجندل میں :سباع بن عرفطة(۱۴)
____________________
۱۔سیرئہ ابن ہشام،ج۲،ص۲۴۸۔ ۲۔سیرئہ ابن ہشام ج،۲،ص۲۵۱ ۳۔سیرئہ ابن ہشام ،ج۲،ص۱ ۴۔سیرئہ ابن ہشام ج،۲ص۲۶۳و۲۶۴ ۵۔ج۳ص۴۹ ۶۔ج۳،ص۵۰ ۷۔ج۳،ص۴۹ ۸۔ج۳،ص۵۰ ۹۔ج۳،ص۵۲
۱۰۔ج۳،ص۶۸ ۱۱۔ج۳،ص۲۰۰ ۱۲۔ج۳،ص۲۱۴
۱۳۔سیرئہ ابن ہشام ج۳،ص۲۲۰ ۱۴۔سیرئہ ابن ہشام ج۳،ص۲۲۴
۱۵ ۔غزوئہ خندق میں :ابن ام مکتوم(۱)
۱۶ ۔غزوئہ بنی قریظہ میں :ابن ام مکتوم(۲)
۱۷ ۔غزوئہ بنی لحیان میں :ابن ام مکتوم(۳)
۱۸ ۔غزوئہ ذی قرةمین:ابن ام مکتوم(۴)
۱۹ ۔غزوئہ بنی المصطلق میں :ابوذرغفاری(۵)
۲۰ ۔حدیبیہ میں :نمیلةبن عبداللہ لیثی(۶)
۲۱ ۔غزوئہ خیبر میں :نمیلةابن عبداللہ لیثی(۷)
۲۲ ۔فتح مکہ میں :کلثوم بن حصین(۸)
۲۳ ۔غزوئہ حنین میں : عتاب بن اسید(۹)
۲۴ ۔غزوئہ تبوک میں :محمدبن مسلمةانصاری یاسباع بن عرفطة(۱۰)
صحیح اورمشہورروایت یہ ہے کہ غزوئہ تبوک میں پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نیحضرت علی بن ابیطالب علیہ السلام کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔اس مطلب کے سلسلہ میں تاریخ اوراحادیث کی دسیوں کتابیں گواہ ہیں۔
۲۵ ۔حجتہ الوداع میں :ابودجانہ انصاری یاسباع بن عرفطہ(۱۱)
سریہ وہ جنگیں ہیں کہ جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہ نفس نفیس خود شرکت نہیں فرمائی ہے ،ایسی جنگوں میں پیغمبر )ص )کسی نہ کسی کوبہ حیثیت کمانڈر مقررفرماتے
____________________
۱۔سیرئہ ابن ہشام ،ج ۳،ص۲۳۱ ۲۔سیرئہ ابن ہشام،ص۲۴۵ ۳۔سیرئہ ابن ہشام،ص۲۹۲
۴۔سیرئہ ابن ہشام ص۳۲۱ ۵۔سیرئہ ابن ہشام،ص۳۰۲ ۶۔سیرئہ ابن ہشام،ص۳۲۱
۷۔سیرئہ ابن ہشام،ص۳۴۲ ۸۔سیرئہ ابن ہشام ،ج۴،ص۴۲ ۹۔سیرئہ ابن ہشام،ج۴،ص۹۳
۱۰۔سیرہ ابن ہشام، ج ۴، ص ۸۳ ۱۱۔سیرئہ ابن ہشام،ج۴،ص۲۴۸،داراحیائ التراث العربی،بیروت
تھے۔یہاں تک کہ بعض جنگوں میں چندافرادکوکمانڈر کی حیثیت سے مقررفرماتے تھے،تاکہ کسی نا خوشگوارواقعہ پیش آنے کی صورت میں بلافاصلہ ترتیب سے دوسراشخص آگے بڑھ کرکمانڈری سنبھا لے۔جنگ موتہ میں پیغمبر نے زیدبن حارثہ کوکمانڈرمقررفرمایاتھا۔کسی مشکل سے دو چار ہونے کی وجہ سے ان کی جگہ پرجعفربن ابیطالب اوران کے بعدعبداللہ بن رواحہ کو کمانڈر کی حیثیت سے مقرر کیا تھا۔(۱)
بئرمعونہ میں آنحضرت (ص)نے چالیس افرادکوبھیجااورعبدالمنذربن عمرکوان کاامیر قراردیا(۲) ۔اورداستان رجیع میں فقہ کی تعلیم کے لئے چھ افرادکوبھیجااورمرثدبنابی مرثدعنوی کوان کاسردارقراردیا(۳) ۔
اب،جبکہ مذکورہ مطالب نیزان میں غور و حوض کرنے سے معلوم ہو جاتاہے کہ پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کا اصل مقصدامت کی تربیت کرناتھا،چنانچہ قرآن مجیدنے فرمایاہے:
( ویزکیهم ویعلمهم الکتاب والحکمته ) (۴)
”وہ ان کے نفوذکوپاکیزہ بناتاہے اور انھیں کتاب وحکمت کی تعلیم دیتاہے۔“
آنحضرت (ص)،اپنی مسافرتوں کے درمیان چاہے وہ جس قدربھی مختصرہوتی تھی،اپناجانشین مقررکرنے میں کوتاہی نہیں فرماتے تھے اورکسی بھی گروہ کوکہیںروانہ کرتے وقت انھیں بے سرپرست نہیں چھوڑتے تھے آپاپنے مستقبل کے بارے میں پوری طرح آگاہ تھے،اس سلسلہ میں اپ کی پیشین گوئیاں موجودہیں،جن کے بارے میں شیعہ واہل سنّت کے بڑے محدثین نے اپنی حدیث کی کتابوں میں ذکرکیاہے۔اس لئے آپ اپنے بعداپنی شریعت پرحملہ آورہونے والے فتنوں سے آگاہ تھے،چنانچہ آپنے اس سلسلہ میں
____________________
۱۔سیرئہ ابن ہشام،ص،۵
۲۔سیرئہ ابن ہشام،ج۳، ص۱۹۴
۳۔سیرئہ ابن ہشام،ج۳،ص۱۸۳
۴۔آل عمران/۱۶۴
خودخبردی ہے۔ان سب حقائق کے روشن ہونے کے بعدکیاآپاپنی جانشینی اورخلافت )جوآپکے بعداہم ترین مسئلہ اورآپ کے لئے فکرمندترین موضوع تھا)کے بارے میں کسی قسم کامنصوبہ نہیںرکھتے تھے اوراپنے بعدکسی کواپنے جانشین کی حیثیت سے منصوب و معین نہیں کرتے اور پوری طرح سے اس سے غافل وبے خیال رہتے ؟!! کیا ایسا ممکن ہے ؟!
خداوندمتعال نے اپنے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کورسالت کے لئے مبعوث کیا ہے اورآپ کی یوں توصیف کی ہے:
( ولقد جاء کم رسول من انفسکم عزیز علیه ماعنتّم حریص علیکم بالمؤمنین رؤف رحیم ) (توبہ/۱۲۸)
”یقیناتمہارے پاس وہ پیغمبرآیاہے کہ جوتمھیں میں سے ہے اوراس پرتمہاری ہرمصیبت شاق ہے وہ تمہاری ہدایت کے بارے میں حرص رکھتاہے اورمؤمنین کے حال پرشفیق اورمہربان ہے“
یہ ایک ایسامسئلہ ہے جسے عقل سلیم اوربیدارضمیرہرگزقبول نہیں کرتاہے اورقرآن وسنت کی قطعی دلالت اس کے برخلاف ہے۔
اس بناء پرشیعہ امامیہ کاعقیدہ یہ ہے کہ پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بعد ہونے والے امام اورخلیفہ کا اعلان اور انتخاب خدا وند عالم کی جانب سے فرمایاہے اوریہ مسئلہ قرآن مجید اورپیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی احادیث میں بیان ہواہے۔
اس کتاب میں قرآن مجیدکی چندایسی آیات پربحث وتحقیق کی گئی ہے جوامامت اورائمہ علیہم السلام کی خصوصیات کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔
مذکورہ آیات حسب ذیل ہیں:
۱ ۔آیہ ابتلا
۲ ۔آیہ مباھلہ
۳ ۔آیہ اولی الامر
۴ ۔آیہ ولایت
۵ ۔آیہ صادقین
۶ ۔آیہ تطھیر
۷ ۔آیہ علم الکتاب)آیہ شہادت)
ان آیات میں پہلے،خودآیتوں کے بارے میں بحث وتحقیق کی گئی ہے اور اس کے بعدان سے مربوط احادیث کوبیان کیاگیاہے اوران احادیث سے آیات کی دلالت میں استفادہ کیاگیا ہے۔
چونکہ اہم ان مباحث میں اہل سنت سے بھی مخاطب ہیں،اس لئے ان کے علماء اور مفسرین کانظریہ اوران کی احادیث بھی بیان کرکے علمی طورسے ان پر بحث کی گئی ہے اور اس سلسلہ میں موجود شبہات اوراعتراضات کو بیان کرنے کے بعدان کاجواب دیاگیا ہے۔
پہلاباب :
امامت آیہ ابتلاء کی روشنی میں
( ( وإذاابتلیٰ ابرهیم ربّه بکلمات فاٴتمّهنّ قال إنّی جاعلک للنّاس إماماً قال ومن ذرّیّتی قال لا ینال عهدی الظالمین ) ) (بقرہ/۱۲۴)
”اوراس وقت کویادکروجب خدا نے چندکلمات کے ذریعہ ابراھیم علیہ السلام کاامتحان لیااورانھوںنے پوراکردیاتواس)خدا)نے کہا:ہم تم کولوگوں کا قائداورامام بنارہے ہیں۔)ابراھیم علیہ السلام)نے کہا گیا یہ عہدہ میری ذریت کو بھی ملے گا؟ارشادہواکہ یہ عہدئہ امامت ظالمین تک نہیں پہونچے گا۔“
اس آیہء کریمہ سے دو بنیادی مطلب کی طرف اشارہ ہو تاہے:
۱ ۔منصب امامت،نبوت ورسالت سے بلندترہے۔
۲ ۔منصب امامت،ظالموں اورستم گاروں کونہیں ملے گا۔
یہ مطلب تین باتوں پرمشتمل ہے:
پہلی بات:منصب امامت کابلندمرتبہ ہو نا۔
دوسری بات:منصب امامت ظالموں اورستم گاروں کونہیں ملے گا۔
تیسری بات:منصب امامت کازبان امامت سے تعارف۔
پہلی بات
منصب امامت کابلند مرتبہ ہو نا
ہم اس آیہء شریفہ میں دیکھتے ہیں کہ خدائے متعال نے حضرت ابراھیم علیہ السلام سے بڑھاپے کے دوران نبوت رسالت کو سالہا سال گزرنے کے بعدان کی عمرکے آخری مرحلہ میں امتحان لیااور انھوں نے اس امتحان الہٰی کوقبول کیا اورکامیابی کے ساتھ مکمل کردکھا یا امامت کاعہدہ وہ ارتقائی درجہ تھا جواس عظیم ا متحان اورصبروثبات کے بعدانھیںعطاکیاگیا۔
آیہء کریمہ سے اس مطلب کو بہتر طریقہ سے واضح کرنے کے لئے،درج ذیل چند بنیادی نکات کی وضاحت ضروری ہے:
۱ ۔حضرت ابراھیم علیہ السلام کے امتحان اوران کی امامت کے درمیان رابطہ کیسا ہے؟
۲ ۔اس آیہء کریمہ میں بیان کیاگیاامتحان،کس قسم کا امتحان تھا؟
۳ ۔کیایہ کہا جاسکتاہے کہ،حضرت ابراھیم علیہ السلام کو عطا کئے گئے عہدہ امامت سے مرادان کا وہی منصب نبوت ورسالت ہی ہے؟
۴ ۔حضرت ابراھیم علیہ السلام کوعطا کی گئی امامت،کس چیزپردلالت کرتی ہے؟
امتحان اورمنصب امامت کارابطہ
آیہء کریمہ:( واذابتلیٰ ابراهیم ربّه بکلمات فاٴتمّهنّ قال انّی جا علک للناس إماماً ) میں لفظ”إذ“ظرف زمان ہے اوراس کے لئے ایک متعلق کی ضرورت ہے۔”إذ“کامتعلق کیاہے؟
پہلااحتمال یہ ہے کہ”إذ“کامتعلق”اذکر“)یادکرو)ہے،جومخذوف اورپوشیدہ ہے،یعنی:اے پیغمبر (ص)!یاداس وقت کو کیجئے جب پروردگارنے ابراھیم علیہ السلام کا چندکلمات کے ذریعہ سے امتحان لیا۔
اس احتمال کی بنیادپرچنداعتراضات واردہیں:
۱ ۔مستلزم حذف وتقدیر)متعلق کو مخذوف اور مقدر ماننا)خلاف اصل ہے۔
۲ ۔”( إنی جاعلک للناس إماماً ) “کا اس کے پہلے والے جملہ سے منقطع ہو نا حرف عطف کے بغیرہونا لازم آتاہے۔
وضاحت:جملہء”قال انّی جاعلک“کابظاہرسیاق یہ ہے کہ وہ اپنے پہلے والے جملہ سے علٰحیدہ اورمنقطع نہیں ہے اورمعنی ومضمون کے لحاظ سے قبل والے جملہ سے وابستہ ہے،اورچونکہ اس کے لئے حرف عطف ذکرنہیں ہواہے،اس لئے بظاہر اس جملہ کے آنے سے پہلاجملہ مکمل ہوتا ہے،اوران دونوں فقروں کے درمیان ارتباط کلمہ”إذ“کے”قال“سے متعلق ہونے کی بناپرہے۔اسی صورت میں ایہء شریفہ کامعنی یوں ہوتا ہے:”جب ابراھیم علیہ السلام سے ان کے پروردگار نے امتحان لیا،توان سے کہا:میں تم کولوگوں کے لئے امام قرار دیتاہوں۔“اس بناپریہ امتحان حضرت ابراھیم علیہ السلام کو منصب امامت عطا کرنے کے لئے ایک وسیلہ اور ذریعہ تھا۔
آیہء کریمہ کے اس مطلب پر قطعی گواہ کے لئے ایک دوسری آیت ہے کہ اس میں پیغمبروں کے ایک گروہ کے لئے صبروامامت کے درمیان رابطہ بخوبی بیان ہوا ہے:
( وجعلنا منهم ائمته یهدون بامرنا لماّصبروا وکانوا بآیاتنایوقنون ) (سجدہ/۲۴)
”اورہم نے ان میں سے کچھ لوگوں کوامام اورپیشواقراردیاہے جوہمارے امرسے لوگوں کی ہدایت کرتے ہیں،اس لئے کہ انہوں نے صبرکیاہے اورہماری آیتوں پریقین رکھتے تھے۔“
اس آیہء شریفہ میں ان پیغمبروں کوامامت ملنے کاسبب صبرویقین بیان کیاگیاہے اور یہ رابطہ حضرت ابرھیم علیہ السلام کے امتحان اورامامت کے درمیان رابطہ کوزیربحث آیت میں واضح اورروشن کرتاہے۔
حضرت ابراھیم علیہ السلام کاامتحان
حضرت ابراھیم علیہ السلام کے امتحانات اور ان کی یہ آزمائشیں کن مسائل اور امور سے متلق تھیں کہ جس کا نتیجہ امامت کا عظیم عطیہ قرار پایاتھا۔
آیہء شریفہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ امتحان چند کلمات کے ذریعہ لیا گیا اورحضرت ابراھیم علیہ السلام نے انھیں مکمل کر دکھایا۔بظاہریہ کلمات ایک خاص قسم کے فرائض اوراحکام تھے کہ جن کے ذریعہ حضرت ابراھیم علیہ السلام کا امتحان لیاگیا۔
قرآن مجیدمیں ،حضرت ابراھیم علیہ السلام کی تاریخ کے سلسلہ میں جوچیز”واضح وروشن امتحان“کے عنوان سے بیان ہوئی ہے،وہ ان کا اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کااقدام ہے:( إن هذا لهوالبلائ المبین ) (۱) بیشک یہ بڑا واضح و روشن متحان ہے)یہ)بیٹے کوذبح کرنے کااقدام)حقیقت میں وہی کھلاامتحان ہے۔یہ امتحان حضرت ابراھیم علیہ السلام کے اپنے پروردگار کے حضورمیں ایثاروقربانی اورمکمل تسلیم ہونے کامظہرتھا۔
اس مطلب کی طرف اشارہ کر نا ضروری ہے کہ حضرت ابراھیم علیہ السلام کایہ امتحان ان کی پیری اور بڑھاپے میں انجام پایاہے اور وہ بھی اس وقت جب ان کا بیٹاجوانی کے مرحلہ میں داخل ہوچکاتھا۔حضرت ابراھیم علیہ السلام اپنی جوانی کا مرحلہ طے کرنے تک صاحب اولادنہیں تھے۔جب بڑھاپے کے مرحلہ میں پہنچے اور اولادسے ناامیدہوئے، توخدائے متعال
____________________
۱۔ صا فات/۱۰۶
نے انھیں اسماعیل واسحاق نام کے دو بیٹے عطاکئے اور یہ اس حالت میں تھاکہ جب ان کی نبوت اور رسالت کو سالہاسال گزرچکے تھے۔
کیااس آیت میں امامت سے مرادان کی وہی نبوت ورسالت نہیں ہے؟
خدائے متعال نے جوامامت حضرت ابراھیم علیہ السلام کوعطاکی،کیاوہ،وہی ان کی نبوت ورسالت تھی،جیساکہ بعض مفسرین نے بیان کیا ہے،یایہ امامت کوئی دوسراعہدہ ہے؟
اس سے پہلے بیان کئے گئے مطلب سے یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ امامت،درج ذیل دودلائل کے پیش نظرحضرت ابراھیم علیہ السلام کے پاس پہلے سے موجودنبوت ورسالت کے علاوہ تھی:
پہلے یہ کہ:یہ آیہء شریفہ اس بات پردلالت کرتی ہے کہ یہ امامت، حضرت ابراھیم علیہ السلام کوبہت سے امتحانات کے بعد عطاکی گئی ہے،کہ ان امتحانات کا ایک واضح وروشن نمونہ ان کااپنے بیٹے کو ذبح کرنے کااقدام تھاجبکہ نبوت ورسالت انھیں پہلے دی جاچکی تھی۔
دوسرے یہ کہ:آیہء کریمہ میں ”جاعلک“اسم فاعل ہے اور ادبی لحاظ سے اسم فاعل صرف اسی صورت میں اپنے مابعد پر عمل کر سکتا ہے اور کسی اسم کومفعول کے عنوان سے نصب دے سکتا ہے،جب ماضی کے معنی میں نہ ہو، ۱ بلکہ اسے حال یامستقبل کے معنی میں ہوناچاہئے۔اس بنا پرآیہء شریفہ:( إنیّ جاعلک للنّاس إماماً ) میں فاعل”جاعل“ کے دومفعول ہیں)ایک ضمیر”کاف“اوردوسرا”اماماً“)اس لئے ماضی کوملحوظ نظر نہیں قرار دیا جا سکتا۔
____________________
۱-البھجتہ المرضیتہ،مکتبتہ المفید،ج۲،ص۵-۶
یہ امامت کس چیزپردلالت کرتی ہے؟
ہمیں آیہء شریفہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ امامت کا مفہوم پیشوائی اور قیادت ہے اوراس کامعنی نبوت ورسالت سے متفاوت ہے۔امام،وہ ہے جودوسروں کا پیشواہواورانسانوں کے آگے آگے چلے، جسے خدائے متعال نے متعلق طور پر لوگوں کے لئے امام قراردیاہے اورتمام انسانی پہلوؤں سے لوگوں کے لئے اسوہ اور نمونہ بنایاہے لوگوں کو چا ہئے کہ تمام ابعاد حیات میں اس سے ہدایت حاصل کریں اوراس کی اقتداء و پیروی کر یں۔
حضرت ابراھیم علیہ السلام کو یہ مقام)امامت)رسالت ملنے کے سالہا سال بعد تمام بڑے امتحانات الہٰی میں کامیابی حاصل کرنے کے بعدعطاکیاگیا ہے۔اس سے صاف ظاہر ہوتاہے کہ امامت کا مرتبہ اور درجہ نبوت ورسالت کے مساوی نہیں ہے بلکہ ان سے بالا تر ہے۔
اس بحث کا نتیجہ یہ ہوگاکہ:جب یہ ثابت ہواکہ امامت کا درجہ و مرتبہ نبوت سے بالاتر ہے اورنبوت کے لئے قطعی دلائل کی بنیادپرعصمت کی شرط لازمی ہے،پس جوچیز نبوت سے برتر وبلندترہو،بدرجہ اولٰی اس کے لئے بھی عصمت کاشرط ہوناضروری ہوگا۔
دوسری بات:
منصب امامت ظالموں کونہیں ملے گا
یہ آیہء شریفہ عصمت امامت پر دلا لت کرتی ہے کیونکہ آیت کے جملہ لاینال عھدی الظالمین یعنی:”میراوعدہ)امامت)ظالموں تک نہیں پہونچے گا“سے استفادہ ہوتاہے کہ ظالم مقام امامت تک نہیں پہو نچ سکتا۔
جب خدائے متعال نے فرمایا: إنیّ جاعلک للناس إماماً ”میں تجھے لوگوں کے لئے امام قرار دیتاہوں“ حضرت ابراھیم علیہ السلام نے عرض کیا: ومن ذرّیّتی؟ ”کیامیری ذریت اور اولادمیں سے بھی کوئی اس مقام تک پہنچے گا؟“پروردگارعالم نے فرمایا: لاینال عھدی الظالمین میرا وعدہ ظالموں تک نہیں پہنچے گا۔
اس جملہ سے درج ذیل نکات حاصل ہوتے ہیں:
۱ ۔امامت وعدئہ الہٰی ہے۔
۲ ۔یہ وعدہ ظالموں تک نہیں پہونچ سکتا،چونکہ ہر گناہ ظلم شمارہوتاہے، ۱ لہذاجومعصوم نہیں ہے،وہ گناہوں میں گرفتارہوگا۔
اس بناء پر آیہء شریفہ کی یہ دلالت کہ ہرامام کواپنے عہدہ امامت میں گناہوں سے پاک ہونا چاہئے،واضح اور ناقابل انکار ہے۔
کیا اس جملہ سے یہ استفادہ کیاجاسکتاہے کہ:جن لوگوں نے امامت کے عہدہ پر فائز ہونے سے پہلے اگرکوئی ظلم کیاہووہ امامت کے عہدہ پر فائزہوسکتے ہیں یانہیں؟
۱ ۔چونکہ ہرگناکبیرہ یاصغیرہ کیفرالہٰی کامستحق ہے،اس لئے گناہ گار گناہ کے ذریعہ اپنے اوپرظلم کرتاہے۔
دوسرے الفاظ میں :مشتق کا عنوان)جسے ظالم)زمانہ حال میں ظہور رکھتاہے اوریہ اس شخص پرلاگونہیں ہوتاہے جوپہلے اس صفت سے متصف تھالیکن زمانہ حال میں اس میں وہ صفت نہیں ہے۔اس بناء پر اس آیہء شریفہ کے مطابق،جوخلافت کے عہدہ پرفائزہونے کے دوران ظالم ہو،وہ امامت کے عہدہ پرفائز نہیں ہو سکتالیکن جو پہلے کبھی ظالم تھا،لیکن اس عہدہ پر فائزہونے کے وقت ظالم نہیں ہے،وہ امامت کے عہدہ پرفائزہوسکتاہے۔
اعتراض کے جواب میں دوباتیں
پہلی بات جواس اعتراض کے جواب میں پیش کی گئی ہے وہ ایک عظیم محقق مرحوم حاج شیخ محمدحسین اصفہانی کی ہے کہ جسے مرحوم علامہ سید محمدحسین طباطبائی نے تفسیرالمیزان میں ذکرکیاہے: ۱
حضرت ابراھیم علیہ السلام کی ذریت چارگروہوں میں تقسیم ہوتی ہے:
۱ ۔وہ گروہ جو امامت پر فائز ہونے سے پہلے ظالم تھے اوراس مقام پر فائزہونے کے بعدبھی ظالم رہے۔
۲ ۔وہ گروہ جوامامت کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے عادل تھے اورامامت کے عہدہ پر فائزہونے کے بعد ظالم بن گئے۔
۳ ۔وہ گروہ،جوامامت کے عہدہ پرفائزہونے سے پہلے ظالم تھے اورامامت کا عہدہ سنبھالنے کے بعدعادل ہوگئے۔
۴ ۔وہ گروہ جوامامت کے عہدہ پرفائزہونے سے پہلے اوراس کے بعددونوںزمانوں میں عادل تھے۔حضرت ابراھیم علیہ السلام اپنی اس عظمت کے پیش نظرپہلے دوگرہوں کے لئے کہ،جوا پنے عہدہ امامت کے دوران ظالم ہوں،ہرگزامامت کی درخواست
_____________________
۱۔تفسیر المیزان ،ج۱،ص۲۷۷،دارالکتب الاسلامیہ۔
نہیں کریں گے۔ اس بناپر( ومن ذرّیّتی ) ”میری اولادسے؟“کاجملہ صرف تیسرے اورچوتھے گروہ پرصادق آتا ہے،اورخدائے متعال بھی جواب میں فرماتاہے( لاینال عهدی الظالمین ) ”میراوعدہ ظالموں تک نہیں پہو نچ سکتا۔“اس جملہ کے پیش نظر تیسراگروہ جوپہلے ظالم تھالیکن امامت کا عہدہ سنبھالنے کے دوران عادل ہوگیا،وہ بھی خارج ہوجاتا ہے اوراپنی اولاد کے بارے میں کئے گئے سوال کے جواب میں صرف چوتھے گروہ کو امامت دی جاتی ہے۔
دوسری بات مرحوم طبرسی کی ہے جوتفسیرمجمع البیان میں ذکر ہوئی ،وہ کہتے ہیں:ہم اس بات کوقبول کرتے ہیں کہ جوفی الحال ظالم نہیں ہے اس پر ظالم کاعنوان حقیقت میں اطلاق نہیں ہوتاہے،لیکن یہ بات قابل ذکر ہے کہ جس نے پہلے ظلم کیا ہے،ظلم کرنے کے دوران اس پر ظالم کاعنوان حقیقت میں صادق تھا،مذکورہ آیت ایسے افراد کوبھی مشتمل ہے۔یعنی ایساشخص اب امامت کے لئے شائستہ نہیں ہے اورامامت پرفائزنہیں ہوسکتاہے اور”لا ینال“کا جملہ چونکہ مضارع منفی ہے،اس لحاظ سے اس پردلالت کرتاہے۔
اس بناپر،جس نے زندگی میں ایک لمحہ کے لئے بھی گناہ کیاہے،وہ امامت کے عہدے پرفائزنہیں ہوسکتاہے،چونکہ اس وقت ظالم اور ستم گارہے اورآیہء شریفہ کہتی ہے:( لاینال عهدی الظالمین ) ”میرا عہدہ ظالموں کو نہیں پہنچے گا۔“
اس طرح یہ واضح ہوگیا کہ آیہء شریفہ دوجہتوں سے اماموں کی عصمت پرحتی عہدہ امامت پر فائز ہونے سے پہلے بھی دلالت کرتی ہے۔اورامامت کے منصب پرفائز ہونے والاشخص اپنی پوری عمرملکہء عصمت سے وابستہ ہوتاہے۔اوراس طرح یہ بھی واضح ہوگیاکہ امامت ایک الہٰی منصب ہے جو خدائے متعال کی طرف سے عطا کیاجاتاہے،یعنی یہ خدائے متعال کی ایک ایسی نعمت ہے کہ جس کو وہ جوشائستہ و سزا وار جانتا ہے اسی کو عطا کر تا ہے۔
تیسری بات
منصب امامت کازبان امامت سے تعارف
آیہء شریفہ کوبیان کرنے کے بعدمناسب ہے کہ امامت کی حقیقت کے سلسلہ میں ہمارے آٹھویں امام حضرت امام موسی الرضا علیہ السلام کی بیان کی گئی ایک حدیث پیش کیجائے:
اٴبو محمدالقاسم بن العلاء-رحمه-رفعه عن عبدالعزیزبن مسلم قال:کنّامع الرضا-علیه السلام-بمرو،فاجتمعنافی الجامع یوم الجمعة فی بدء مقدمنا،فاٴدارواامرالامامته وذکرواکثرةاختلاف الناس فیها فدخلت علی سیدی-علیه السلام-فاٴعلمته خوض الناس فیه،فتبسم-علیه السلام-ثم قال:یاعبدالعزیزجهل القوم وخذعواعن آرائهمإن اللّٰه عزّوجلّ لم یقبض نبیّه (ص)حتی اٴکمل له الدین وانزل علیه القرآن فیه تبیان کلّ شیء،ٍ بیّن فیه الحلال والحرام والحدود والاحکام وجمیع مایحتاج الیه النّاس کملاً فقال عزّوجلّ( مافرّطنافی الکتاب من شیءٍ ) (۱) واٴنزل فی حجة الوداع،وهی آخرعمره(ص):( اٴلیوم اٴکملت لکم دین واٴتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دیناً ) (۲) وامرالامامةمن تمام الدینولم یمض(ص)حتیّ بیّن لامته معالم دینهم واٴوضع لهم سبیلهم، وترکهم علی قصد سبیلالحق،و اقام لهم علیّا علما ًو
_____________________
ا۔انعام/۳۸
۲۔مائدہ/۳
إماماً و ماترک لهم شیئاً یحتاج إلیه الامته إلاّبیّنه فمن زعم ان اللّٰه عزّوجلّ لم یکمل دینه فقد ردّ کتاب اللّٰه و من ردّ کتاب اللّٰه فهو کافر به هل یعرفون قدر الإمامة و محلّها من الامّة فیجوز فیها اختیارهم؟ إنّ الامامة اٴجلّ قدراً و اٴعظم شاٴنا و اعلی مکاناً و اٴمنع جانباً و ابعد غوراً من اٴن یبلغها النّاس بعقولهم اٴوینالو بآرائهم اٴویقیموا إماماً باختیارهم
إنّ الإمامة خص اللّٰه عزّوجلّ بها إبراهیم الخلیل - علیه السلام - بعد النبوة و الخلّة مرتبة ثالثة و فضیلة شرّفه بها و اٴشاد بها ذکره فقال:( إنّی جاعلک للنّاس اماماً ) فقال الخلیل- علیه السلام سروراًبها:( ومن ذرّیّتی ) قال اللّٰه تعالی:( ولاینال عهدی الظالمین ) (۱) فابطلت هذه الآیة إمامة کلّ ظالم إلی یوم القیامة و صارت فی الصفوه ثمّ اٴکرم اللّٰه تعالی باٴن جعلها فی ذرّیّته اهل الصفوة و الطهارة فقال:( و وهبنا له إسحاق و یعقوب نافلة وکلّا جعلنا صالحین وجعلناهم اٴئمّه یهدون باٴمرنا واٴوحینا إلیهم فعل الخیرات وإقام الصلوةوإیتائ الزکوة وکانوا لنا عابدین ) (۲)
فلم تزل فی ذرّیّته یرثها بعض عن بعض قرناً فقرناً حتی ورّثها اللّٰه تعالی النبیّیصلىاللهعليهوآلهوسلم فقال جلّ وتعالی:( إنّ اٴولی الناس بإبراهیم للّذین اتّبعوه وهذا النبیّی والّذین آمنوا واللّٰه )
____________________
۱۔بقرہ/۱۲۴
۲۔انبیاء/۷۳۔۷۲
( ولیّ المؤمنین ) (۱)
فکانت له خاصّةفقلّدها( ص) علیاً-علیه السلام-باٴمراللّٰه تعالی علی رسم مافرض اللّٰه فصارت فی ذرّیّته الاٴصفیاء الذین آتاهم اللّٰه العلم والإیمان بقوله تعالی:( وقال الّذین اٴو تو االعلم والإیمان لقد لبثتم فی کتاب اللّٰه إلی یوم البعث ) (۲) فهی فی ولد علیّ - علیه السلام - خاصّة إلی یوم القیامة،إذ لا نبیّی بعد محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم فمن اٴین یختار هؤلائ الجّهال
إنّ الإمامة هی منزلة الاٴنبیاء وإرث الاٴوصیاءإنّ الإمامة خلافة اللّٰه وخلافة الرسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ومقام اٴمیرالمؤمنین -علیه السلام - ومیراث الحسن والحسین -علیها السلام - انّ الإمامة زمام الدّین ونظام المسل مین وصلاح الدنیا وعزّالمؤمنین إنّالإمامةاُس الإسلام النامی و فرعه السّامی بالإمام تمام الصلاة و الزکاة والصیام والحج والجهاد وتوفیرالفیء والصدقات وإمضاء الحدود والاٴحکام ومنع الثغور والاٴطرافالإمام یحلّ حلا ل اللّٰه ویحرّم حرام اللّٰه و یقیم حدود اللّٰه و یذّب عن دین اللّٰه ویدعو إلی سبیل ربّه بالحکمة الموعظة الحسنة و الحجّة البالغة الإمام کالشمس الطالعة المجللّة بنورها للعالم وهی فی الاٴفق بحیث لاتنالها الاٴیدی والاٴبصار
الإمام البدرالمنیر والسراج الزاهر والنور الساطع والنجم الهادی فی غیاهب الدجی واجواز البلدان والقفار ولجج البحارالإمام الماء العذب علی الظماء والدالّ علی الهدی والمنجی من الرّدی الإمام النار علی الیفاع الحارّ لمن اصطلی به والد لیل فی المهالکمن فارقه فهالک
____________________
۱- آل عمران/۶۸
۲-روم/۵۶
الإمام السحاب الماطروالغیث الهاطل والشمس المضیئةوالسماء الظلیلة والاٴرض البسیطة والعین الغزیرةوالغدیروالروضة
الإمام الاٴنیس الرفیق والوالد الشفیق واالاٴخ الشقیق والاٴم البرّة بالولد الصغیر ومفزع العباد فی الداهیة النآد
الإمام اٴمین اللّٰه فی خلقه وحجّته علی عباده وخلیفته فی بلاده والداعی إلی اللّٰه والذابّ عن حرام اللّٰه
الإمام المطهّرمن الذنوب والمبرّاٴ عن العیوب المخصوص بالعلم الموسوم بالحلم نظام الدّین و عزّالمسلمین وغیظ المنافقین و بوار الکافرین
الإمام واحد دهره، لا یدانیه اٴحد ولا یعادله عالم ولایوجد منه بدل ولا له مثل و لا نظیر مخصوص بالفضل کلّه من غیر طلب منه له و لا اکتساب بل اختصاص من المُفضل الوهّاب فمن ذا الذی یبلغ معرفة الإمام اٴو یمکنه اختیاره؟!! هیهات هیهات! ضلّت العقول وتاهت الحلوم وحارت الاٴلباب و خسئت العیون و تصاغرت العظماء و تحیّرت الحکماء و تقاصرت الحلماء و حصرت الخطباء و جهلت الاٴلبّاء و کلّت الشعراء وعجزت الاٴدبائ وعییت البلغاء عن وصف شاٴن من شاٴنه اٴوفضیلة من فضائله واٴقرّت بالعجز و التقصیر و کیف یوصف بکلّه اٴو ینعت بکنهه اٴو یفهم شیئ من اٴمره اٴویوجدمن یقوم مقامه یغنی غناه؟!
لا، کیف واٴنّی؟ و هو بحیث النجم من ید المتناولین و وصف الواصفین! فاٴین الاختیار من هذا؟ و اٴین العقول عن هذا؟ و اٴین یوجد مثل هذا؟! اٴتظنّون ان ّذلک یوجد فی غیرآل الرسول محمد( ص) کذبتهم - واللّٰه - اٴنفسهم و منّتهم الاٴباطبل فارتقوا مرتقاً صعباً دحضاً تزلّ عنه إلی الحضیض اٴقدامهم راموا إقامة الإمام بعقول حائرة ناقصة و آرا مضلّة فلم یزدادوا منه إلاّ بُعداً( قاتلهم اللّٰه اٴنّی یؤفکون ) ؟ ولقد راموا صعبا و قالوا إفکاً و ضلّواضلا لاً بعیداً و وقعوا فیالحیرة إذ ترکوا الإمام عن بصیره( زیّن لهم الشیطان اٴعمالهم عن السبیل و کانوا مستبصرین ) (۱)
رغبوا عن اختیار اللّٰه و اختیار رسول اللّٰهصلىاللهعليهوآلهوسلم واٴهل بیته إلی اختیارهم و القرآن ینادی( همو ربّک یخلق مایشاء و یختار ما کان لهم الخیرة سبحان اللّٰه و تعالی عماّ یشرکون ) (۲) وقال عزّوجلّ:( و ما کان لمؤمن و لا مؤمنة إذا قضی اللّٰه و رسوله اٴمراً اٴن یکون لهم الخیرة من اٴمرهم ) (۳) الآیة و قال:( مالکم کیف تحکمون )
____________________
۱۔نمل/۲۴
۲۔قصص/۶۸
۳۔احزاب/۳۶
( اٴم لکم کتاب فیه تدرسون إن ّلکم فیه لمّا تخیّروناٴم لکم اٴیمان علینا بالغة إلی یوم القیامة إنّ لکم لما تحکمون سلهم اٴیّهم بذلک زعیم اٴم لهم شرکاء فلیاٴتوا به شرکائهم إن کانوا صادقین ) (۱) وقال عزّوجل:( اٴفلایتدبّرون القرآن اٴم علی قلوب اٴقفالها ۵ اٴم طبع اللّٰه علی قلوبهم فهم لا یفقهون ) (۲) اٴم( قالوا سمعنا و هم لا یسمعون إنّ شرّ الدوابّ عند اللّٰه الصمّ البکم الذین لا یعقلون و لو علم اللّٰه فیهم خیراً لاٴسمعهم و لو اٴسمعهم لتولّوا و هم معرضون ) (۳) اٴم( قالوا سمعنا و عصینا ) (۴) بل هو فضل اللّٰه یؤتیه من یشاء و اللّٰه ذوالفضل العظیم فکیف لهم باختیار الإمام؟! و الإمام عالم لا یجهل وراع لاینکل معدن القدس والطهارة و النسک و الزهادة و العلم والعبادة مخصوص بدعوة الرسولصلىاللهعليهوآلهوسلم ونسل المطهرةالبتول لامغمز فیه فی نسب و لا یدانیه ذو حسب فی البیت من قریش، و الزروة من هاشم و العترة من الرسولصلىاللهعليهوآلهوسلم و الرضا من اللّٰه عزّوجلّ شرف الاٴشرف و الفرع من عبد مناف نامی العلم کامل الحلم مضطلع بالإمامة عالم بالسیاسة مفروض الطاعة قائم باٴمر اللّٰه عزّوجلّ ناصح لعباداللّٰه حافظ لدین اللّٰه
إنّا لاٴنبیاء والاٴئمة - صلوات اللّٰه علیهم - یوفّهم اللّٰه و یؤتیهم من مخزون علمه و حکمه ما لایؤتیه غیرهم فیکون علمهم فوق علم
____________________
۱۔قلم/۴۱۔۳۶
۲۔محمد/۲۴
۳۔توبہ/۸۷
۴۔انفال/۲۳۔۲۱ ۵۔بقرہ/۹۳
اٴهل الزمان فی قوله تعالی( : اٴفمن یهدی إلی الحقّ اٴحقّ اٴن یُتّبع اٴمّن لایهّدی إلاّ اٴن یُهدی فمالکم کیف تحکمون ) (۱) و قوله تبارک و تعالی( ومن یؤت الحکمة فقد اٴُوتی خیراً کثیراً ) (۲) و قوله فی طالوت( إنّ اللّٰه اصطفاه علیکم و زاده بسطة فی العلم و الجسم و اللّٰه یؤتی ملکه من یشاء و اللّٰه واسع علیم ) (۳) و قال لنبیهصلىاللهعليهوآلهوسلم ( اٴنزل علیک الکتاب و الحکمة و علّمک مالم تکن تعلم و کان فضل اللّٰه علیک عظیماً ) (۴) و قال فی الاٴئمّة من اٴهل بیت نبیّه و عترته و ذریّته صلوات اللّٰه علیهم -:( اٴم یحسدون الناس علی ما آتاهم اللّٰه من فضله فقد آتینا آل ابراهیم الکتاب و الحکمة و اتيناهم ملکاً عظیماً فمنهم من آمن به ومنهم من صدّ عنه و کفی بجهنم سعیراً ) (۵) و إنّ العبد إذا اختاره اللّٰه عزّ و جلّ لاٴُمور عباده شرح صدره لذلک و اٴودع قلبه ینابیع الحکمة و اٴلهمه العلم إلهاماً فلم یعی بعده بجواب و لا یحیر فیه عن صواب فهو معصوم مؤیّد فوفّق مسدّد قد اٴُمن من الخطایا و الزلل والعثار یخصّه اللّٰه بذلک لیکون حجّته علی عباده و شاهد علی خلقه و ذلک فضل اللّه یؤتیه من یشائ و اللّٰه ذوالفضل العظیم
فهل یقدرون علی مثل هذا فیختارونه؟ اٴو یکون مختارهم بهذه الصفة فیقدّمونه؟ تعدّوا - و بیت اللّٰه - الحقّ و نبذوا کتاب اللّٰه
____________________
۱۔یونس/۳۵
۲۔بقرہ/۲۶۹۳۔بقرہ۲۴۷۴۔سورئہ نسائ سے اقتباس/۱۱۳
۵۔نساء/ ۵۵۔۵۶
وراء ظهورهم کاٴنهم لا یعلمون و فی کتاب اللّٰه الهدی والشفائفنبذوه و اتّبعوا اٴهواء هم فذمّهم اللّٰه و مقّتهم و اٴتعسهم فقال جلّ و تعالی:( و من اٴضّل ممّن اتّبع هواه بغیر هدی من اللّٰه إنّ اللّٰه لایهدی القوم الظالمین ) (۱) وقال:( فتعساٴلهم واٴضلّ اٴعمالهم ) (۲) و قال:( کبُر مقتاً عند اللّٰه وعند الّذین آمنوا کذلک یطبع اللّٰه علی کلّ قلب متکبّر جبّار ) (۳) وصلی اللّٰه علی النبیّ محمد وآله وسلّم تسلیماً کثیراً“(۴)
عبدالعزیزبن مسلم سے روایت ہے کہ:ہم مسجدمرومیں حضرت امام رضاعلیہ السلام کی خدمت میں تھے۔وہاں پہنچنے کے ابتدائی دنوں میں جمعہ کے دن جامع مسجدمیں جمع ہوئے تھے۔حضارنے مسئلہء امامت کے بارے میں گفتگوکی اوراس موضوع کے بارے میں موجود بہت سے اختلافات کو بیان کیاگیا۔
میں نے اپنے مولا)امام رضا علیہ السلام)کی خدمت میں لوگوں کی اس گفتگو کے بارے میں وضاحت کی۔حضرت علیہ السلام نے ایک مسکراہٹ کے بعدیوںفرمایا:اے عبدالعزیز!ان لوگوںنے نادانی کا راستہ اختیارکیاہے اور اپنے نظریات کی جانب دھوکہ میں ہیں۔
خدائے عزّوجل نے اپنے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کواس دنیاسے اس وقت تک نہیں اٹھایاجب تک ان کے لئے دین کومکمل نہیں کر لیااورقرآن مجیدکہ،جوہرچیزکوواضح کرنے والی کتاب ہے اورجس میں حلال وحرام،حدوداحکام اورانسان کی تمام ضرورتیں مکمل
____________________
۱۔قصص/۵۰
۲۔محمد /۸
۳۔غافر/۳۵
۴۔اصول کافی،مترجم،ج۱،ص۲۸۳،اصول کافی غیرمترجم،ج۱،ص۱۹۸،عیون اخبار الرضا۴،ج۱،ص۲۱۶۔
طورپربیان ہوئی ہیںنازل نہیں کر لی اورفرمایا( مافرّطنا فی الکتاب من شیء ) ”ہم نے کتاب میں کوئی چیزنہیں چھوڑی ہے“)پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے حجہ الوداع میں جوآپکی عمرکے آخری ایام میں انجام پایاآیہء( اٴلیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دیناً ) نازل فرمائی۔اس طرح دین کوکامل فرمایااورامامت دین کا تکملہ ہے۔)خدا نے)پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کوتب تک اس دنیاسے نہیں اٹھالیاجب آپنے امت کے لئے دینی امور واضح کر دیئے حق کاوہ راستہ دکھلادیاجس پران کوچلناتھااورحضرت علی علیہ السلام کواپنے بعد امت کے لئے رہبرکے طورپر پہنچوا دیا،حتی کہ امت کی ضرورت کی کسی چیزکوبیان کئے بغیرنہیں چھوڑا۔پس،ان اوصاف کے پیش نظرجو یہ تصورکرے کہ خدائے متعال نے اپنے دین کومکمل نہیں کیاہے،اس نے خدا کی کتاب سے انکارکیاہے،اورایساآدمی کافرہے۔کیایہ لوگ امت کے در میان امامت کی عظمت وبلندی نیز اس کی کلیدی حیثیت کوجاننے کاشعوررکھتے ہیں تاکہ اس سلسلہ میں کوئی رائے قائم کرسکیں؟بیشک امامت اس سے کہیں زیادہ گراں بہا،عظیم الشاں،بلندمرتبہ اورعمیق ترہے کہ لوگ اسے اپنی عقلوں سے درک کریںنیزاپنی رائے اوراپنے اختیارسے امام منتخب کریں۔
امامت ایک ایساخاص عہدہ ہے جوخدائے متعال کی طرف سے خُلّ نیزنبوت ورسالت کے منصب کے بعدحضرت ابراھیم علیہ السلام کو عطاکیاگیا،اوراس سے مذکورہ دو نوںعہدوں سے بلنداورافضل قراردیتے ہوئے خدا وند عالم نے فرمایا:( إنیّ جاعلک للناّس إماماً ) یعنی:”میں تجھے لوگوں کے لئے امام قراردیتاہوں“۔حضرت ابراھیم علیہ السلام نے خوش ہوکرکہا:( ومن ذرّیّتی ) ”کیامیری ذریت کوبھی یہ عہدہ ملے گا؟“خدائے متعال نے فرمایا:( لاینال عهدالظالمین ) ”میرا وعدہ )امامت)ظالموں تک نہیں پہنچے گا۔“ اس آیہء شریفہ نے ہرظالم کے لئے عہدہ امامت کوقیامت تک کے لئے مستردکردیا اوراس)امامت)کوممتازاورمنتخب افراد میں متعین قراردیا--یہاں تک کہ پیغمبراسلام (ص)نے اسے وراثت میں حاصل کیا آپنے بھی اسے خداکے حکم سے علی علیہ السلام اور ان کی معصوم نسلوں میں قراردیا کہ جو اہل علم و ایمان تھے اوریہ مقام ان کے معصوم فرزندوں میں قیامت تک رہے گا۔پس یہ نا دان کیسے امام کوانتخاب کرسکتے ہیں۔؟!!امامت انبیاء کی عظمت و منزلت اور اولیائے الہٰی کی وراثت ہے۔امامت،خدائے متعال اورپیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی جانشین اورامیرالمؤمنین علیہ السلام کی عظمت نیزحسن وحسین علیہماالسلام کی وارثت ہے۔امامت،دین کی زمامداری،مسلمانوں کی حکمت عملی ،دنیا کی بہتری اورمؤمنین کی عزت ہے۔صرف امامت کے ذریعہ نماز،روزہ،حج،زکواةاورجہادکومکمل طورپرانجام دیاجاسکتاہے اورامام کے ذریعہ حدوداوراحکام الہٰی کا نفاذ ممکن ہے اورسرحدوں کی حفاظت کی جاسکتی ہے۔
یہ امام ہی ہے جوخدا کے حلال کوحلال اوراس کے حرام کوحرام بتاتاہے،خداکے حدود کوجاری کرتاہے،دین خداکادفاع کرتاہے اورلوگوں کوخداکے راستہ کی طرف اپنی حکمت عملی،اچھی نصیحت اورمحکم ومتقن دلا ئل سے دعوت دیتاہے۔
امام ایک آفتاب کے مانند ہے جوطلوع ہوکرپوری دنیا کوروشنی میں غرق کر دیتاہے چو نکہ وہ ایک بلندی پرمستقرہوتاہے لہذااس تک لو گوں کی نظریں اور آلودہ ہاتھ نہیں پہنچ سکتے ہیں۔
امام، ماہ تابان ،شمع فروزان، چمکتانوراوردرخشاں ستارہ ہے جو شدیدتاریکیوں شہہ راہوں اورگزرگاہوں،شہروں اورگلی کوچوں ، صحراؤں اور سمندروں کے گردابوں میں )جہالت و آزمائش نیز دربدری کے زمانہ میں ) لوگوں کی ہدایت کرنے والا ہوتاہے۔
امام،پیاسوں کے لئے ٹھنڈاپانی اورگمراہوں کی ہدایت کے لئے راہنماو ایک دلیل ہے۔
امام،ایک ابر باران ،موسلا دھاربارش،چمکتا ہواسورج،سایہ دارچھت،وسیع وعریض زمین،ابلتاہواچشمہ،نیزجھیل اورگلستان کے مانند ہوتاہے۔
امام،خداکے بندوں کے لئے انتہائی سختیوں میں ،ہمدم و مونس، مہربان باپ،برابرکابھائی،غمخوارماں اور خدا کی پناہ گاہ ہوتاہے۔
امام،خداکے بندوں میں خداکاامانتدار،اس کے بندوں پرحجت الہٰی اوراس کے ملک میں اس کاجانشین ہوتاہے۔
امام،خداکی طرف دعوت دینے والااورحریم الہٰی)حدود،مقدرات اوراحکام)کادفاع کرنے والاہوتاہے۔
امام،گناہوں سے پاک ،عیوب اوربرائیوں سے منّزہ ہوتا ہے۔
امام علم میں یگانہ،حلم وبردبادی میں یکتا،نظام، دین نیزمسلمانوں کی عزت،منافقون کے واسطے غضب اورکافروں کے لئے ہلاکت ہے۔
امام،)فضائل اورانسانی اقدارکے حوالے سے)بے مثال ہوتاہے۔کوئی بھی عظمت و بزرگی کے اعتبار سے اس)امام)کے برابرنہیں ہوسکتاہے اورکوئی عالم اس کے مساوی نہیں ہوسکتا ہے اورکسی کو اس کاجانشین اور متبادل قرارنہیں دیاجاسکتاہے۔اورامام وہ ہے کہ،جس کوتلاش وکوشش کے بغیرتمام فضیلتیںخداکی طرف سے عطاہوتی ہیں۔
پس،کون ہے جو امام کوپہچان سکتاہے۔ اور اس کو چننے اور منتخب کرنے کی قدرت رکھتا ہے افسوس!افسوس!)اس سلسلہ میں )
عقلیں گم ہیں،نظریںناتواں ہیں،بڑے چھوٹے ہوگئے ہیں،حکماء اورفلاسفہ حیراں و سرگرداں ہیں،اورخطباء،عقلاء،شعراء،ادباء اورمبلغین،خستہ وعاجزہیں،کہ اس)امامت) کی کوئی شان یااس کی فضیلتوں میں سے کسی فضیلت کی توصیف کریں۔یہ مقام کیسے توصیف کے حدودمیں اسکتاہے جبکہ امام ستارہ کے مانند ہے اورانسان کی توصیف کے دائرہ امکان سے دورہے۔
کیاتم لوگ تصور کرتے ہو کہ یہ خصوصیتیں پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خاندان کے علاوہ کسی اورمیں موجودہوسکتی ہیں؟!
خداکی قسم! ان کی نفسانی خواہشات نے انھیں جھوٹ بولنے پر مجبورکیاہے اورباطل تصورات نے انھیں منحرف کیا ہے۔
انہوںنے بلندیوں پر قدم رکھااورآخرکاران کے قدم ڈگمگائے اوروہ پستیوں میں جاگرے ہیں۔انہوںنے اپنی گمراہ کن اورپریشان عقلوں سے امام منتخب کرناچاہالیکن دوری،گمراہی اورانحراف کے علاوہ انھیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔
انہوںنے خدائے متعال،رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نیزآپ کے اہل بیت )علیہم السلام) کے انتخاب کے علاوہ خودانتخاب کرنا چاہا،جبکہ قرآن مجید،ان کے لئے یوں فرماتا ہے:( وربّک یخلق مایشاء ویختارماکان لهم الخیرة ) ”تیرا پروردگارجسے چاہتاہے خلق کرتاہے اورمنتخب کرتاہے،ان کے لئے انتخاب کا حق نہیں ہے،وہ اس بات سے منزّہ وپاک ہے کہ جس کالوگ اسے شریک قراردیتے ہیں“)خدائے متعال مزیدفرماتاہے:)( وما کالمؤمن ولا مؤمنة إذ قضی اللّٰه و رسوله اٴمراً اٴن یکون لهم الخیر من اٴمرهم ) ۔۔۔ ”اورکسی مؤمن مردیا عورت کواختیار نہیں ہے کہ جب خداورسولخداکسی امر کے بارے میں فیصلہ کردیں تو وہ بھی اپنے امورکے بارے میں صاحب اختیار ہو جائے“
پس وہ کیسے امام کو انتخاب کرسکتے ہیںجبکہ امام ایک ایسادانشور ہے جس کے حدود میں نادانی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔وہ ایک ایساسرپرست ہے،جس میں خوف اورپلٹنے کاسوال ہی پیدانہیں ہوتا۔وہ تقدس،پاکیزگی،زہدواطاعت،علم و عبادت کامرکزہے،پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دعائیں حضرت فاطمہئ بتول کی پاکیزہ اولادسے مخصوص ہے۔ وہ یہ کہ اس مقدس سلسلہ میں عیب جوئی کی کوئی گنجائش نہیں ہے اورکوئی بھی خاندانی شرف اس کے برابرنہیں ہے۔وہ خاندان قریش وہاشم اور پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی عترت سے ہیں جو خدا کے پسندیدہ ہیں۔وہ اشراف الاشراف عبد مناف کی اولادسے ہیں۔وہ علم وآگہی کے وارث اور مکمل بردباری کے مالک ہیں۔رہبری میں قدرتمنداورسیاست سے آگاہ ہیں۔خداکے حکم کے مطابق ان کی اطاعت کرنا واجب ہے۔وہ امرخداپرسختی سے قائم،نیزخدائے متعال کے بندوں کے حق میں خیرخواہ اوردین کے محافظ ہیں۔
خدائے متعال نے انبیاء اورائمہ کوتوفیق عطا کی ہے اوراپنے علم وحکمت کے خزانہ سے جوچیزدوسروں کونہیں دی ہے، وہ انھیںعطاکی ہے۔اس لحاظ سے ان کی عقل اپنے زمانہ کے لوگوں کی عقلوں سے افضل ہے کہ خدائے متعال نے فرمایاہے: افمن یھدی إلی الحقّ کیا جو حق کی طرف ہدایت کرتاہے و ہ اطاعت کے لئے زیادہ شائستہ و سزاوار ہے یاوہ جوخود راہنمائی کے بغیرراستہ پر گامزن نہیں ہے؟تم لوگوں کوکیا ہواہے؟کیسے حکم کرتے ہو؟خدائے متعال فرماتاہے ومن یؤت الحکمة۔۔۔ ” جسے حکمت دے دی گئی ہے اس نے بہت سی نیکیاں پالی ہیں۔“طالوت کے بارے میں خدائے عزّوجل کافرمان ہے: إنّ للّٰہ اصطفائ علیکم۔۔۔ انہیں اللہ نے تمھارے لئے منتخب کیاہے اورعلم وجسم میں وسعت عطافرمائی ہے اوراللہ جسے چاہتا ہے اپناملک عطاکرتا ہے کہ وہ صاحب وسعت بھی ہے اورصاحب علم بھی۔
(خدائے متعال نے)اپنے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم سے فرمایا:( واٴنزل اللّٰه علیک الکتاب والحکمة ) ۔۔۔ ”اوراللہ نے آپ پر کتاب اورحکمت نازل کی ہے اورآپ کوان تمام باتوں کاعلم دے دیا ہے کہ جن کاآپ کوعلم نہ تھا،اورآپ پرخداکابہت بڑافضل ہے“۔اوراہل بیت اطہاراورعترت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ائمہ کے بار ے میں فرمایا:( اٴم یحسدون النّاس علی ماآتاهم اللّٰه من فضله ) ۔۔۔ ”یاوہ ان لوگوں سے حسدکرتے ہیںجنھیں خدانے اپنے فضل وکرم سے بہت کچھ عطا کیاہے توپھر ہم نے آل ابراھیم(علیہ السلام)کوکتاب وحکمت اورملک عظیم عطا کیاہے۔پھران میں سے بعض ان پر ایمان لے آئے اوربعض نے انکارکردیااوران کے لئے جہنم کی دھکتی ہوئی آگ ہے۔“
حقیقت میں جب خداوند متعال اپنے کسی بندہ کواپنے بندوں کے امورکی اصلاح کے لئے منتخب کرتاہے،تواس کے سینہ میں وسعت عطا کرتاہے،اس کے دل میں حکمت کے چشمے قراردیتاہے اوراسے ایک ایسے علم سے نواز تاہے کہ اس کے بعدکسی سوال کا جواب دینے میں عاجز نہیں ہوتااورراہ حق سے منحرف نہیں ہوتا ہے۔پس اس )امام)معصوم کو خدائے متعال کی طرف سے توفیق اور تائیدحاصل ہوتی ہے۔ہرقسم کی خطا،لغز ش اورفروگذاشت سے محفوظ ہوتاہے۔خدائے متعال نے اسے ان صفات کا امتیازبخشاہے تاکہ وہ اس کے بندوں پر حجت اور اس کی مخلوقات پرگواہ رہے اوریہ بخشش وکرم خدا کی طرف سے ہے وہ جسے چاہتاعطا کرتا ہے اورخداوند متعال بڑا کریم ہے۔
کیالوگوں میں یہ طاقت ہے کہ اس قسم کے کسی شخص کا انتخاب کریں یاان کا منتخب کردہ نمائندہ اس قسم کا ہو؟بیت اللہ کی قسم! ان لوگوں نے حق سے تجاوزکیا ہے اور نادانی کی صورت میں کتاب خدا سے منہ موڑلیاہے،جبکہ ہدایت اورشفاکتاب خدا میں ہے۔انہوں نے کتاب الہٰی کوچھوڑکراپنی خواہشات نفسانی کی پیروی کی ہے۔ خدائے متعالی نے بھی ان کی مذمت کی اورانھیں دشمن قراردیتے ہوئے قعر مذلت میں ڈال دیااورفرمایا:( ومن اٴضلّ ممن هواه بغیر هدی من اللّٰه ) ۔۔۔ ”اوراس سے زیادہ گمراہ کون ہے جوہدایت الہی کے علاوہ اپنی خواہشات کااتباع کرلے جبکہ اللہ ظالم قوم کی ہدایت کرنے والا نہیں ہے۔“اورفرمایا:( فتعساً لهم واٴضلّ اعمالهم ) ۔۔۔ ”وہ نا بود اور ھلاک ہو جائیں اوران کے اعمال برباد ہو جائیں۔“اورفرمایا:( کبر مقتاً عنداللّٰه ) ۔۔۔
”وہ اللہ اورصاحبان ایمان کے نزدیک سخت نفرت کے حقدار ہیں اوراللہ اس طرح ہرمغروراورسرکش انسان کے دل پرمہر لگاتا ہے۔“خدا کی بے شماررحمتیں اور درودوسلام حضرت محمد اوران کے خاندان پر۔
دوسراباب :
امامت آیہء مباہلہ کی روشنی میں
نجران کے عیسائی اوران کاباطل دعویٰ
( فمن حاجّک فیه من بعد ما جاء ک من العلم فقل تعالوا ندعُ ُ اٴبنائنا و اٴبناء کم و نسائنا و نسائکم و اٴنفسنا و اٴنفسکم ثمّ نبتهل فنجعل لعنة اللّٰه علی الکاذبین ) (آل عمران/۶۱)
”(پیغمبر!)علم کے آجانے کے بعدجو لوگ تم سے)حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں )کٹ حجتی کریں،ان سے کہ دیجئے کہ چلوہم لوگ اپنے اپنے فرزند،اپنی عورتوں اوراپنے اپنے نفسوں کودعوت دیں اورپھرخداکی بارگاہ میں دعا کریں اورجھوٹوں پرخداکی لعنت کریں“
آیہء شریفہ میں گفتگونجران کے عیسائیوں کے بارے میں ہے کہ وہ حضرت عیسی علیہ السلام کوخداجانتے تھے اوران کے بغیرباپ کے پیداہونے کی وجہ سے ان کے خدا ہونے کی دلیل تصورکرتے تھے۔اس سے پہلی والی آیت میں ایاہے:
( إنّ مثل عیسی عند اللّٰه کمثل آدم خلقه من تراب ثمّ قال له کن فیکون ) (آل عمران/۵۹)
”بیشک عیسی کی مثال اللہ کے نزدیک آدم جیسی ہے کہ انھیں مٹی سے پیداکیااورپھرکہا کہ ہوجاؤ تو وہ خلق ہوگئے۔“
مذکورہ آیت ان کے دعوے کوباطل کرتی ہے۔یعنی اگرتم لوگ حضرت عیسی بن مریم علیہماالسلام کے بارے میں بغیرباپ کے پیداہونے کے سبب ان کے خدا ہونے کے قائل ہوتوحضرت آدم علیہ لسلام ماں اورباپ دونوں کے بغیرپیداہوئے ہیں،اس لئے وہ زیادہ حقدار وسزاوارہیں کہ تم لوگ ان کی خدائی کے معتقدہوجاؤ۔
اس قطعی برہان کے باوجود انہوں نے حق کوقبول کر نے سے انکارکیااوراپنے اعتقادپرڈٹے رہے۔
بعدوالی آیت میں خدائے متعال نے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے مخاطب کر کے حکم دیاکہ انھیں مباہلہ کرنے کی دعوت دیں۔
اگرچہ اس آیت)آیہء مباہلہ)کے بارے میں بہت سی بحث ہیں،لیکن جوبات یہاں پرقابل توجہ ہے،وہ اہل بیت علیھم السلام،خاص کرحضرت علی علیہ السلام کے بارے میں چندنکات ہیں،جوآنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ مباہلہ کے لئے آئے تھے۔
مذکورہ آیہء شریفہ اوراس سے مربوط احادیث کی روشنی میں ہونے والی بحثیں مندرجہ ذیل پانچ محورپر استوارہے:
۱ ۔پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم مامورتھے کہ مباہلہ کے لئے کن لوگوں کواپنے ساتھ لائیں؟
۲ ۔ان کے میدان مباہلہ میں حاضرہونے کامقصدکیاتھا؟
۳ ۔آیہء شریفہ کے مطابق عمل کرتے ہوئے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کن افراد کواپنے ساتھ لائے؟
۴ ۔آیہء مباہلہ میں حضرت علی علیہ السلام کامقام اوریہ کہ آیہء شریفہ میں حضرت علی علیہ السلام کونفس پیغمبر (ص)کہا گیاہے نیزاس سے مربوط حدیثیں۔
۵ ۔ان سوالات کا جواب کہ مذکورہ آیت کے ضمن میں پیش کئے جاتے ہیں۔
پہلامحور
آیہء مباہلہ میں پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہمراہ
پہلی بحث یہ کہ پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کو مباہلہ کے سلسلہ میں اپنے ساتھ لے جانے کے لئے کن افرادکودعوت دینی چاہئے تھی،اس سلسلہ میں ایہء شریفہ میں غوروخوض کے پیش نظردرج ذیل چندمسائل ضروری دکھائی دیتے ہیں:
الف:”ابنائنا“اور”نسائنا“سے مرادکون لوگ ہیں؟
ب:”انفسنا“کامقصودکون ہے؟
۔۔۔( تعالوا ندع اٴبنائناو اٴبنا ئکم ) ۔۔۔
ابناء ابن کاجمع ہے یعنی بیٹے،اورچونکہ”ابناء کی“ضمیرمتکلم مع الغیر یعنی ”نا“ کی طرف نسبت دی گئی ہے(۱) اوراس سے مرادخودآنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں،اس لئے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کوکم ازکم تین افراد،جوان کے بیٹے شمارہوں،کومباہلہ کے لئے اپنے ہمراہ لاناچاہئے۔
۔۔۔( ونسائنا ونسائکم ) ۔۔۔
”نساء“اسم جمع ہے عورتوں کے معنی میں اورضمیرمتکلم مع الغیر یعنی ”نا“کی طرف اضافت دی گئی ہے۔اس کاتقاضایہ ہے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے گھرانے میں موجود تمام عورتوں(چنانچہ جمع مضاف کی دلالت عموم پرہوتی ہے) یاکم ازکم تین عورتوں کو)جوکم سے
____________________
۱۔اس آیہء شریفہ میں استعمال کئے گئے متکلم مع الغیر والی ضمیریں،معنی کے لحاظ سے یکساں نہیں ہیں۔”ندع“میں پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اورطرف مباہلہ وآنحضرت علیہ السلام یعنی نصاریٰ مقصودہے،اور”ابناء“،”نساء“و”انفس“اس سے خارج ہیں۔اور”ابنائنا،”نسائنا“اور”انفسنا“میں خودپیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقصودہیں اورطرف مباہلہ اورابناء،نسائ اور انفس بھی اس سے خارج ہیں۔”نبتھل“ میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور طرف مباہلہ اور ابناء،نساء اورانفس سب داخل ہیں۔
کم جمع کی مقدار اور خاصیت ہے)مباہلہ کے لئے اپنے ساتھ لاناچاہئے۔
اس بحث میں قابل ذکرہے،وہ”ابنائناونسائناوانفسنا“کی دلالت کااقتضاہے اوربعدوالے جوابات محورمیں جومباہلہ کے ھدف اورمقصدپربحث ہوگی وہ بھی اس بحث کاتکملہ ہے۔
لیکن”ابناء“اور”نساء“کے مصادیق کے عنوان سے کتنے اورکون لوگ مباہلہ میں حاضرہوئے،ایک علیحدہ گفتگوہے جس پرتیسرے محورمیں بحث ہوگی۔
( وانفسنا وانفسکم ) ۔۔۔
انفس،نفس کی جمع ہے اورچونکہ یہلفظ ضمیرمتکلم مع الغیر”نا“(جس سے مقصودخودآنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ذات ہے)کی طرف مضاف ہے،اس لئے اس پر دلالت کرتاہے کہ پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کو)جمع کے اقتضاکے مطابق)کم ازکم تین ایسے افراد کومباہلہ کے لئے اپنے ساتھ لاناچاہئے جوآپ کے نفس کے زمرے میں آتے ہوں۔ کیا”انفسنا“خودپیغمبراکرم) ص)پرقابل انطباق ہے؟
اگر چہ”انفسنا“ میں لفظ نفس کا اطلاق اپنے حقیقی معنی میں صرف رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم کے نفس مبارک پرہے،لیکن آیہء شریفہ میں موجود قرائن کے پیش نظر”انفسنا“میں لفظ نفس کوخودآنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم پراطلاق نہیں کیاجاسکتا ہے اور وہ قرائن حسب ذیل ہیں:
۱ ۔”انفسنا“جمع ہے اورہرفرد کے لئے نفس ایک سے زیادہ نہیں ہوتاہے۔
۲ ۔جملہء( فقل تعالواندع ) آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کواس کے حقیقی معنی میں دعوت دینے کاذمہ دارقراردیتا ہے اورحقیقی دعوت کبھی خودانسان سے متعلق نہیں ہوتی ہے،یعنی انسان خودکودعوت دے،یہ معقول نہیں ہے۔
اس بنائ پر،بعض لوگوں نے تصورکیاہے کہ”فطوّعت لہ نفسہ“یا”دعوت نفسی“جیسے استعمال میں ”دعوت“)دعوت دینا )جیسے افعال نفس سے تعلق پیداکرتے ہیں۔یہ اس نکتہ کے بارے میں غفلت کانتیجہ ہے کہ یہاں پریا تو یہ”نفس“خودانسان اوراس کی ذات کے معنی میں استعمال نہیں ہواہے،یا”دعوت سے مراد “(دعوت دینا)حقیقی نہیں ہے۔بلکہ”فطوّعت لہ نفسہ قتل اخیہ“کی مثال میں نفس کامقصودانسان کی نفسانی خواہشات ہے اوراس جملہ کا معنی یوں ہے ”اس کی نفسانی خواہشات نے اس کے لئے اپنے بھائی کوقتل کرناآسان کردیا“اور”دعوت نفسی“کی مثال میں مقصوداپنے آپ کوکام انجام دینے کے لئے مجبوراورآمادہ کرناہے اوریہاں پردعوت دینا اپنے حقیقی معنی میں نہیں ہے کہ جونفس سے متعلق ہو۔
۳ ۔”ندع“اس جہت سے کہ خودپیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پرمشتمل ہے اس لئے نفس پردلالت کرتاہے اوریہ ضروری نہیں ہے،کہ دوسروں کودعوت دینے والا خودمباہلہ کا محورہو،اوروہ خودکوبھی دعوت دے دے۔
دوسرامحور:
مباہلہ میں اہل بیت رسول (ص)کے حاضر ہونے کامقصد
پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کوکیوں حکم ہوا کہ مباہلہ کر نے کے واسطے اپنے خاندان کوبھی اپنے ساتھ لائیں،جبکہ یہ معلوم تھاکہ مباہلہ دوفریقوں کے درمیان دعویٰ ہے اوراس داستان میں ایک طرف خودپیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اور دوسری طرف نجران کے عیسائیوں کے نمائندے تھے؟
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے نزدیک ترین رشتہ داروں کے میدان مباہلہ میں حاضر ہونے کامقصدصرف آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بات سچی ہونے اوران کی دعوت صحیح ہونے کے سلسلہ میں لوگوں کواطمینان ویقین دکھلانا تھا،کیونکہ انسان کے لئے اپنے عزیز ترین اشخاص کو اپنے ساتھ لاناصرف اسی صورت میں معقول ہے کہ انسان اپنی بات اوردعویٰ کے صحیح ہونے پرمکمل یقین رکھتاہو۔اوراس طرح کااطمینان نہ رکھنے کی صورت میں گویا اپنے ہاتھوں سے اپنے عزیزوں کوخطرے میں ڈالناہے اورکوئی بھی عقلمند انسان ایسااقدام نہیں کرسکتا۔
پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے تمام رشتہ داروں میں سے صرف چنداشخاص کے میدان مباہلہ میں حاضرہونے کے حوالے سے یہ توجیہ صحیح نہیں ہوسکتی ہے،کیونکہ اس صورت میں اس خاندان کامیدان مباہلہ میں حاضرہونااور اس میں شرکت کرناان کے لئے کسی قسم کی فضیلت اورقدرمنزلت کاباعث نہیں ہوسکتاہے،جبکہ آیہء شریفہ اوراس کے ضمن میں بیان ہونے والی احادیث میں غوروخوض کرنے سے معلوم یہ ہوتاہے کہ اس ماجرامیں پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہمراہ جانے والوں کے لئے ایک بڑی فضیلت ہے۔
اہل سنت کے ایک بڑے عالم علامہ زمخشری کہتے ہیں:
”وفیه دلیل لاشیئ اقویٰ منه علی فضله اصحاب الکساء “(۱)
”آیہء کریمہ میں اصحاب کساء)علیہم السلام)کی فضیلت پرقوی ترین دلیل موجود ہے“
آلوسی کاروح المعانی میں کہناہے:
”و دلالتها علی فضل آل اللّٰه و رسوله صلىاللهعليهوآلهوسلم ممّا لایمتری فیهامؤمن والنصب جازم الایمان “(۲)
”آیہ کریمہ میں ال پیغمبر (ص)کہ جو آل اللہ ہیں ان کی فضیلت ہے اوررسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم کی فضیلت،ایسے امور میں سے ہے کہ جن پرکوئی مؤمن شک و شبہ نہیں کر سکتا ہے اور خاندان پیغمبر (ص)سے دشمنی اور عداوت ایمان کونابودکردیتی ہے“
اگرچہ آلوسی نے اس طرح کی بات کہی ہے لیکن اس کے بعد میں آنے والی سطروں میں اس نے ایک عظیم فضیلت کو خاندان پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم سے موڑ نے کی کوشش کی ہے۔(۳)
اب ہم دیکھتے ہیں کہ خداوند متعال نے کیوں حکم دیاکہ اہل بیت علہیم السلام پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ مباہلہ کر نے کے لئے حاضر ہوں؟اس سوال کے جواب کے لئے ہم پھرسے آیہء شریفہ کی طرف پلٹتے ہیں ۔۔۔( فقل تعالوا ندع اٴبناء ناو اٴبناء کم و نساء نا و نسائکم واٴنفسنا واٴنفسکم ثمّ نبتهل فنجعل لعنة اللّٰه علی الکاذبین )
آیہء شریفہ میں پہلے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے’ابناء“،”نسا ء“ اور”انفس“کودعوت دینااورپھردعاکرنااورجھوٹوں پرخداکی لعنت قراردینابیان ہواہے۔
____________________
۱۔تفسیرالکشاف،ج۱،ص۳۷۰،دارالکتاب العربی ،بیروت۔
۲۔روح المعانی،ج۳،ص۱۸۹،دارئ احیائ التراث العربی ،بیروت۔
۳۔اس کے نظریہ پراعتراضات کے حصہ میں تنقید کریں گے۔
آیہء مباہلہ میں اہل بیت رسول)ص)کی فضیلت وعظمت کی بلندی
مفسرین نے کلمہ”ابتھال“کودعامیں تضرع یانفرین اورلعنت بھیجنے کے معنی میں لیاہے اوریہ دونوں معنی ایک دوسرے سے منا فات نہیں رکھتے ہیں اور”ابتھال“کے یہ دونوں معافی ہوسکتے ہیں۔
آیہء شریفہ میں دوچیزیں بیان کی گئی ہیں،ایک ابتھال جو”نبتھل“کی لفظ سے استفادہ ہو تاہے اوردوسرے ”ان لوگوں پرخدا کی لعنت قراردیناجواس سلسلہ میں جھوٹے ہیں“( فنجعل لعنةالله علی الکاذبین ) کاجملہ اس پردلالت کرتاہے اوران دونوں کلموں میں سے ہرایک کے لئے خارج میں ایک خاص مفہوم اورمصداق ہے دوسرا فقرہ جوجھوٹوں پرخداکی لعنت قراردیناہے پہلے فقرے ابتہال پر”فاء“کے ذریعہ کہ جو تفریع اور سببیت کے معنی میں ہے عطف ہے۔
لہذا،اس بیان کے پیش نظرپیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم اورآپ کے اہل بیت علیہم السلام کا تضرع)رجوع الی اللہ)ہے اورجھوٹوں پرخداکی لعنت اورعقوبت کامرتب ہونا اس کامعلول ہے،اوریہ ایک بلند مقام ہے کہ خداکی طرف سے کافروں کوہلاک کرنااورانھیں سزادیناپیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم اورآپ کے اہل بیت علیہم السلام کے ذریعہ انجام پائے۔یہ مطلب آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اہل بیت)علیہم السلام)کی ولایت تکوینی کی طرف اشارہ ہے،جوخداوندمتعال کی ولایت کے برابر ہے۔
اگرکہاجائے کہ:( فنجعل لعنةالله ) میں ”فاء“اگرچہ ترتیب کے لئے ہے لیکن ایسے مواقع پر”فاء“کے بعدوالاجملہ اس کے پہلے والے جملہ کے لئے مفسرقرار پاتاہے اور وہ تر تیب کہ جس پر کلمہ ”فاء“ دلالت کرتا ہے وہ تر تیب ذکری ہے جیسے:
( ونادیٰ نوح ربّه فقال ربّ إنّ ابنی من اٴهلی ) )ہود/۴۵)
”اورنوح نے اپنے پروردگارکو آواز دی کہ پروردگارامیرافرزندمیری اہل سے ہے۔“
یہاں پرجملہء”فقال۔۔۔“جملہ ”فنادیٰ“ کوبیان )تفسیر)کرنے والاہے۔جواب یہ ہے:
اولاً:جس پرکلمہ”فاء“دلالت کرتاہے وہ ترتیب وتفریع ہے اوران دونوں کی حقیقت یہ ہے کہ”جن دوجملوں کے درمیان”فاء“نے رابطہ پیداکیاہے،ان دونوں جملوں کا مضمون ہے کہ دوسرے جملہ کامضمون پہلے جملہ پرمترتب ہے“
اوریہ”فاء“کاحقیقی معنی اورتفریع کالازمہ ہے۔یعنی ترتیب ذکری پر”فاء“کی دلالت اس کے خارج میں دومضمون کی ترتیب کے معنی میں نہیں ہے،بلکہ لفظ اور کلام میں ترتیب ہے لہذا اگراس پرکوئی قرینہ مو جودنہ ہوتوکلام کواس پرحمل نہیں کر سکتے۔اس صورت میں ایہء شریفہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خاندان کے لئے ایک عظیم مر تبہ پردلالت رہی ہے کیونکہ ان کی دعاپیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دعا کے برابرہے اورمجموعی طور پریہ دعااس واقعہ میں جھوٹ بولنے والوں پر ہلاکت اورعذاب ا لہٰی نازل ہو نے کا باعث ہے۔
دو سرے یہ کہ:جملہء”فنجعل لعنة اللّٰہ“میں مابعد”فاء“جملہء سابق یعنی ”نبتھل“کے لئے بیّن اورمفسّرہونے کی صلاحیت نہیںرکھتاہے،کیونکہ دعاکرنے والے کا مقصدخداسے طلب کر ناہے نہ جھوٹوں پرلعنت کر نا۔اس صفت کے پیش نظراس کو لعنت قرار دینا )جو ایک تکوینی امر ہے) پہلے پیغمبراسلام (ص)اورآپکے اہل بیت علیہم السلام سے مستندہے اوردوسرے”فاء“تفریع کے ذریعہ ان کی دعاپر متو قف ہے۔گویااس حقیقت کا ادراک خودنجران کے عیسائیوں نے بھی کیاہے۔اس سلسلہ میں ہم فخررازی کی تفسیر میں ذکرکئے گئے حدیث کے ایک جملہ پرتوجہ کرتے ہیں:
”۔۔۔فقال اٴسقف نجران: یامعشرالنصاریٰ! إنّی لاٴری وجوهاً لوساٴلو الله اٴن یزیل جبلاً من مکانه لاٴزاله بها فلا تباهلوا فتهلکوا ولایبقی علی وجه الاٴرض نصرانّی إلیٰ یوم القیامة ۔“(۱)
”نجران کے) عسائی)پادریان نورانی چہروں کودیکھ کرانتہائی متائثرہوئے اور بو لے اے نصرانیو!میں ایسے چہروں کودیکھ رہاہوں کہ اگروہ خدا سے پہاڑ کے اپنی جگہ سے ٹلنے کا٘ مطالبہ کریں تووہ ضرور اپنی جگہ سے کھسک جا ئیں گے۔اس لئے تم ان سے مباہلہ نہ کرنا،ورنہ ھلاک ہوجاؤگے اورزمین پرقیامت تک کوئی عیسائی باقی نہیں بچے گا۔“
غورکرنے سے معلوم ہوتاہے کہ آیہء شریفہ کے مضمون میں درج ذیل امورواضح طور پربیان ہوئے ہیں:
۱ ۔پیغمبراکرم (ص)،اپنے اہل بیت علیہم السلام کواپنے ساتھ لے آئے تاکہ وہ آپ کے ساتھ اس فیصلہ کن دعامیں شر یک ہوں اورمباہلہ آنحضرت (ص)اورآپ کے اہل بیت علیہم السلام کی طرف سے مشترک طور پر انجام پائے تاکہ جھوٹوں پرلعنت اورعذاب نازل ہونے میں مؤثرواقع ہو۔
۲ ۔آنحضرت (ص)اورآپکے اہل بیت (ع)کاایمان و یقین نیز آپ کی رسالت اور دعوت کا مقصد تمام لوگوں کے لئے واضح ہوگیا۔
۳ ۔اس واقعہ سے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اہل بیت علیہم السلام کا بلند مرتبہ نیز اہل بیت کی آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے قربت دنیاوالوں پرواضح ہوگئی۔
اب ہم یہ دکھیں گے کہ پیغمبراسلام)ص)”ابنائنا“)اپنے بیٹوں)”نسائنا“)اپنی عورتوں)اور”انفسنا“)اپنے نفسوں)میں سے کن کواپنے ساتھ لاتے ہیں؟
____________________
۱۔التفسیر الکبیر،فخر رازی،ج۸،ص۸۰،داراحیائ التراث العربی۔
تیسرامحور
مباہلہ میں پیغمبر (ص)اپنے ساتھ کس کو لے گئے
شیعہ اور اہل سنّت کااس پراتفاق ہے کہ پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم مباہلہ کے لئے علی، فاطمہ، حسن اورحسین علیہم السلام کے علاوہ کسی اورکواپنے ساتھ نہیں لائے۔اس سلسلہ میں چندمسائل قابل غورہیں:
الف:وہ احادیث جن میں پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اہل بیت علیہم السلام کامیدان مباہلہ میں حاضرہونابیان کیاگیاہے۔
ب:ان احادیث کا معتبراورصحیح ہونا۔
ج۔اہل سنّت کی بعض کتابوں میں ذکرہوئی قابل توجہ روایتیں۔
مباہلہ میں اہل بیت رسول)ص)کے حاضر ہونے کے بارے میں حدیثیں ۱ ۔اہل سنّت کی حد یثیں:
چونکہ اس کتاب میں زیادہ تر روئے سخن اہل سنّت کی طرف ہے لہذااکثرانھیں کے منابع سے احادیث نقل کی جائیں گی۔نمو نہ کے طورپراس حوالے سے چنداحادیث نقل کی جا رہی ہیں:
پہلی حدیث:
صحیح مسلم(۱) سنن ترمذی(۲) اورمسنداحمد(۳) میں یہ حدیث نقل ہوئی ہےجس کی متفق اور مسلم لفظیں یہ ہیں:
____________________
۱۔صحیح مسلم،ج۵،ص۲۳کتاب فضائل الصحابة،باب من فضائل علی بن ابیطالب،ح۳۲،موسسئہ عزالدین للطباعةوالنشر
۲۔سنن ترمذی،ج۵،ص۵۶۵ دارالفکر ۳۔مسنداحمد،ج،۱،ص۱۸۵،دارصادر،بیروت
”حدثنا قتیبة بن سعید و محمد بن عباد قالا: حدثنا حاتم) و هو ابن اسماعیل) عن بکیر بن مسمار، عن عامر بن سعد بن اٴبی وقاص، عن اٴبیه، قال: اٴمر معاویه بن اٴبی سفیان سعدا ًفقال: ما منعک اٴن تسب اٴبا التراب؟ فقال: اٴماّ ما ذکرتُ ثلاثاً قالهنّ له رسواللّٰهصلىاللهعليهوآلهوسلم فلن اٴسبّه لاٴن تکون لی واحدة منهنّ اٴحبّ إلیّ من حمرالنعم
سمعت رسول للّٰهصلىاللهعليهوآلهوسلم یقول له لماّ خلّفه فی بعض مغازیه فقال له علیّ: یا رسول اللّٰه، خلّفتنی مع النساء والصبیان؟ فقال له رسول اللّٰه( ص) :اٴما ترضی اٴن تکون منّی بمنزلة هارون من موسی إلاّ انه لانبوة بعدی؟
و سمعته یقول یوم خیبر: لاٴُعطیّن الرایة رجلاً یحبّ اللّٰه و رسوله و یحبّه اللّٰه و رسوله قال: فتطاولنا لها فقال: اُدعو الی علیاً فاٴُتی به اٴرمد، فبصق فی عینه ودفع الرایة إلیه،ففتح اللّٰه علیه
ولماّنزلت هذه الایة( فقل تعا لواندع ابنائناوابنائکم ) دعا رسول اللّٰه-صلی اللّٰه علیه وسلم –علیاًوفاطمةوحسناًوحسیناً فقال:اللّهمّ هؤلائ اٴهلی“
”قتیبةبن سعید اور محمد بن عبادنے ہمارے لئے حدیث نقل کی،-- عامربن سعدبن ابی وقاص سے اس نے اپنے باپ)سعد بن ابی وقاص)سے کہ معاویہ نے سعدکوحکم دیااورکہا:تمھیں ابوتراب)علی بن ابیطالب علیہ السلام)کودشنام دینے اور برا بھلا کہنے سے کو نسی چیز مانع ہوئی)سعدنے)کہا:مجھے تین چیزیں)تین فضیلتیں)یادہیں کہ جسے رسول خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا ہے،لہذامیں انھیں کبھی بھی برابھلا نہیں کہوں گا۔اگرمجھ میں ان تین فضیلتوں میں سے صرف ایک پائی جاتی تووہ میرے لئے سرخ اونٹوں سے محبوب ترہوتی:
۱ ۔میں نے پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے سنا ہے ایک جنگ کے دوران انھیں)حضرت علی علیہ السلام)مدینہ میں اپنی جگہ پررکھاتھااورعلی(علیہ السلام)نے کہا:یارسول اللہ!کیاآپمجھے عورتوں اوربچوں کے ساتھ مدینہ میں چھوڑرہے ہیں؟ )آنحضرت (ص)نے) فرمایا:کیاتم اس پرراضی نہیں ہوکہ میرے ساتھ تمہاری نسبت وہی ہوجو ہارون کی)حضرت)موسی)علیہ السلام )کے ساتھ تھی،صرف یہ کہ میرے بعد کوئی پیغمبرنہیں ہو گا؟
۲ ۔میں نے)رسول خدا (ص))سے سنا ہے کہ آپ نے روز خیبر علی کے با رے میں فرمایا:بیشک میں پرچم اس شخص کے ہاتھ میں دوں گاجوخدا ورسول (ص)کو دوست رکھتاہے اورخداورسول (ص)اس کو دوست رکھتے ہیں۔)سعدنے کہا):ہم)اس بلندمرتبہ کے لئے)سراٹھاکر دیکھ رہے تھے)کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم اس امر کے لئے ہمیں مقررفرماتے ہیںیانہیں؟)اس وقت آنحضرت (ص)نے فرمایا: علی (علیہ السلام) کو میرے پاس بلاؤ ۔ علی (علیہ السلام) کو ایسی حالات میں آپکے پاس لایا گیا، جبکہ ان کی آنکھوں میں دردتھا،آنحضرت (ص)نے اپنا آب دہن ان کی آنکھوں میں لگا یااورپرچم ان کے ہاتھ میں تھمادیااورخدائے متعال نے ان کے ذریعہ سے مسلمانوں کوفتح عطاکی۔
۳ ۔جب یہ آیہء شریفہ نازل ہوئی( : قل تعالو اندع اٴبناء نا و اٴبنائکم و نسائنا و نسائکم و اٴنفسنا و اٴنفسکم ) ۔۔۔ توپیغمبراکرم (ص)نے علی،فاطمہ،حسن اورحسین) علیہم السلام )کوبلاکرفرمایا:خدایا!یہ میرے اہل بیت ہیں۔“
اس حدیث سے قابل استفادہ نکات:
۱ ۔حدیث میں جوآخری جملہ آیاہے:”الّٰلہمّ ھٰؤلاء ا ھلی“خدایا!یہ میرے اہل ہیں،اس بات پردلالت کرتاہے”ابناء“”نساء“اور”انفس“جوآیہء شریفہ میں ائے ہیں،وہ اس لحاظ سے ہے کہ وہ پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل ہیں۔
۲ ۔”ابناء“”نساء“و”انفس“میں سے ہرایک جمع مضاف ہیں)جیساکہ پہلے بیان کیاگیا)اس کا اقتضایہ ہے کہ آ نحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کواپنے خاندان کے تمام بیٹوں،عورتوں اور وہ ذات جو آپ کا نفس کہلاتی تھی،سب کومیدان مباہلہ میں لائیں،جبکہ آپ نے”ابناء“میں سے صرف حسن وحسیںعلیہما السلام کواور”نساء“سے صرف حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہاکواور”انفس“سے صرف حضرت علی علیہ السلام کواپنے ساتھ لایا۔اس مطلب کے پیش نظرجوآپ نے یہ فرمایا:”خدایا،یہ میرے اہل ہیں“اس سے معلوم ہوتاہے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اہل صرف یہی حضرات ہیں اورآنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیویاں اس معنی میں اپکے اہل کے دائرے سے خارج ہیں۔
۳ ۔”اہل“اور”اہل بیت“کے ایک خاص اصطلاحی معنی ہیں جوپنجتن پاک کہ جن کوآل عبااوراصحاب کساء کہاجاتاہے،ان کے علاوہ دوسروں پر اس معنی کااطلاق نہیں ہو تاہے۔یہ مطلب،پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بہت سی احا دیث سے کہ جو آیہء تطہیر کے ذیل میں ذکر ہوئی ہیں اور اس کے علاوہ دوسری مناسبتوں سے بیان کی ہیں گئی بخوبی استفادہ کیا جاسکتاہے۔
دوسری حدیث:
فخررازی نے تفسیرکبیرمیں ایہء مباہلہ کے ذیل میں لکھاہے:
”روی اٴنّه - علیه السلام - لماّ اٴورد الدلائل علی نصاری نجران،ثمّ إنّهم اٴصروا علی جهلهم، فقال - علیه السلام - إنّ اللّٰه اٴمرنی إن لم تقبلوا الحجّة اٴن اٴباهلکم فقالوا: یا اٴبا القاسم، بل نرجع فننظر فی اٴمرنا ثمّ ناٴتیک
فلمّا رجعوا قالوا للعاقب - وکان ذاراٴیهم - :یا عبدالمسیح، ماتری؟ فقال: و اللّٰه لقد عرفتم یا معشر النصاری اٴنّ محمداً نبیّ مرسل و لقد جاء کم بالکلام الحق فی اٴمر صاحبکم و اللّٰه ما باهل قوم نبیاً قط فعاش کبیرهم و لا نبت صغیرهم! و لئن فعلتم لکان الا ستئصال ، فإن اٴبیتم إلاّ الإصرار علی دینکم و الإقامة علی ما اٴنتم علیه فوادعوا الرجل و انصرفوا إلی بلادکم
و کان رسول اللّٰه( ص) خرج وعلیه مرط من شعراٴسود، وکان قد احتضن الحسین واٴخذ بید الحسن، و فاطمه تمشی خلفه وعلی - علیه السلام - خلفها، و هو یقول:إذا دعوت فاٴمّنوا فقال اٴسقف نجران: یا معشر النصاری! إنّی لاٴری وجوها ًلو ساٴلوا اللّٰه اٴن یزیل جبلاً من مکانه لاٴزاله بها! فلا تباهلوا فتهلکوا، و لا یبقی علی وجه الاٴض نصرانیّ إلی یوم القیامة ثمّ قالوا: یا اٴبا القاسم! راٴینا اٴن لا نباهلک و اٴن نقرّک علی دینک فقال:- صلوات اللّٰه علیه - فإذا اٴبیتم المباهلة فاسلموا یکن لکم ما للمسلمین، و علیکم ما علی المسلمین، فاٴبوا، فقال: فإنیّ اٴُناجزکم القتال، فقالوا مالنا بحرب العرب طاقة، ولکن نصالک علی اٴن لا تغزونا و لاتردّنا عن دیننا علی اٴن نؤدّی إلیک فی کل عام اٴلفی حلّة:اٴلفاٴ فی صفر و اٴلفافی رجب، و ثلاثین درعاً عادیة من حدید، فصالحهم علی ذلکوقال: والّذی نفسی بیده إنّ الهلاک قد تدلّی علی اٴهل نجران، ولولاعنوالمسخوا قردة و خنازیر و لاضطرم علیهم الوادی ناراً ولاستاٴ صل اللّٰه نجران واٴهله حتی الطیر علی رؤس الشجر و لما حالا لحوال علی النصاری کلّهم حتی یهلکوا و روی اٴنّه - علیه السلام -لمّ خرج فی المرط الاٴسود فجاء الحسن -علیه السلام - فاٴدخله، ثمّ جائ الحسین -علیه السلام - فاٴدخله ،ثمّ فاطمة - علیها السلام - ثمّ علی - علیه السلام - ثمّ قال:( إنّما یرید اللّٰه لیذهب عنکم الرجس اهل البیت و یطهّرکم تطهیراً ) واعلم اٴنّ هذه الروایة کالمتّفق علی صحّتها بین اٴهل التّفسیر والحدیث“(۱)
”جب پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نجران کے عیسائیوں پردلائل واضح کردئے اور انہوں نے اپنی نادانی اورجہل پراصرارکیا،تو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:خدائے متعال نے مجھے حکم دیاہے اگرتم لوگوں نے دلائل کوقبول نہیں کیا تو تمہارے ساتھ مباہلہ کروں گا۔“)انہوں نے)کہا:اے اباالقاسم!ہم واپس جاتے ہیں تاکہ اپنے کام کے بارے میں غوروفکرکرلیں،پھرآپکے پاس آئیں گے۔
____________________
۱۔تفسیرکبیرفخر رازی،ج۸،ص،۸،داراحیائ التراث العربی۔
جب وہ)اپنی قوم کے پاس)واپس چلے گئے،انھوں نے اپنی قوم کے ایک صاحب نظر کہ جس کا نام”عاقب“تھا اس سے کہا:اے عبدالمسیح!اس سلسلہ میں آپ کانظریہ کیا ہے؟اس نے کہا:اے گروہ نصاریٰ!تم لوگ محمد(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کوپہنچانتے ہواورجانتے ہووہ ا للہ کے رسول ہیں۔اورآپ کے صاحب)یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام)کے بارے میں حق بات کہتے ہیں۔خداکی قسم کسی بھی قوم نے اپنے پیغمبرسے مباہلہ نہیں کیا،مگر یہ کہ اس قوم کے چھوٹے بڑے سب ہلاک ہو گئے ۔چنانچہ اگرتم نے ان سے مباہلہ کیاتو سب کے سب ہلاک ہوجاؤگے۔ اس لئے اگراپنے دین پرباقی رہنے کے لئے تمھیں اصرار ہے توانہیں چھوڑکراپنے شہر واپس چلے جاؤ۔پیغمبراسلام (ص))مباہلہ کے لئے)اس حالت میں باہرتشریف لائے کہ حسین(علیہ السلام)آپکی آغوش میں تھے،حسن(علیہ السلام)کاہاتھ پکڑے ہوئے تھے،فاطمہ (سلام اللہ علیہا)آپکے پیچھے اورعلی(علیہ السلام)فاطمہ کے پیچھے چل رہے تھے۔آنحضرت (ص)فرماتے تھے:”جب میں دعامانگوں تو تم لوگ آمین کہنا“نجران کے پادری نے کہا:اے گروہ نصاریٰ!میں ایسے چہروں کودیکھ رہاہوں کہ اگرخداسے دعا کریں کہ پہاڑاپنی جگہ سے ہٹ جائے تو وہ اپنی جگہ چھوڑ دے گا ۔لہذاان کے ساتھ مباہلہ نہ کرنا،ورنہ تم لوگ ہلاک ہوجاؤگے اور روی زمین پرقیامت تک کوئی عیسائی باقی نہیں بچے گا۔اس کے بعد انہوں نے کہا: اے اباالقاسم! ہمارا ارادہ یہ ہے کہ آپ سے مباہلہ نہیں کریں گے۔پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:اب جبکہ مباہلہ نہیں کررہے ہوتومسلمان ہوجاؤتاکہ مسلمانوں کے نفع ونقصان میں شریک رہو۔انہوں نے اس تجویزکوبھی قبول نہیں کیا۔
آنحضرت (ص)نے فرمایا:اس صورت میں تمھارے ساتھ ہماری جنگ قطعی ہے۔انہوں نے کہا:عربوں کے ساتھ جنگ کرنے کی ہم میں طاقت نہیں ہے۔لیکن ہم آپ کے ساتھ صلح کریں گے تاکہ آپ ہمارے ساتھ جنگ نہ کریں اورہمیں اپنادین چھوڑنے پرمجبورنہ کریں گے،اس کے بدلہ میں ہم ہرسال آپ کودوہزارلباس دیں گے،ایک ہزار لباس صفرکے مہینہ میں اورایک ہزارلباس رجب کے مہینہ میں اورتیس ہزارآ ہنی زرہ اداکریں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی اس تجویزکوقبول کر لیااس طرح ان کے ساتھ صلح کرلی۔اس کے بعدفرمایا:قسم اس خداکی جس کے قبضہ میں میری جان ہے،اہل نجران نابودی کے دہانے پرپہو نچ چکے تھے،اگرمباہلہ کرتے توبندروں اورسوروں کی شکل میں مسنح ہوجاتے اورجس صحرامیں سکونت اختیار کر تے اس میں آگ لگ جاتی اورخدا وندمتعال نجران اوراس کے باشندوں کو نیست و نابود کر دیتا،یہاں تک کہ درختوں پرموجودپرندے بھی ہلاک ہوجاتے اورایک سال کے اندراندرتمام عیسائی صفحہء ہستی سے مٹ جاتے۔روایت میں ہے کہ جب پیغمبراکرم (ص)، اپنی پشمی کالی رنگ کی عبا پہن کر باہرتشریف لائے)اپنے بیٹے)حسن(علیہ السلام)کوبھی اس میں داخل کر لیا،اس کے بعدحسین(علیہ السلام) آگئے انہیں بھی عبا کے نیچے داخل کیا اس کے بعدعلی و فاطمہ )علیہما السلام) تشریف لائے اس کے بعد فرمایا:( إنّمایریداللّه ) ۔۔۔ ”پس اللہ کاارادہ ہے اے اہل بیت کہ تم سے ہر طرح کی کثافت وپلیدی سے دوررکھے اوراس طرح پاک وپاکیزہ رکھے جو پاک وپاکیزہ رکھنے کاحق ہے۔“علامہ فخر رازی نے اس حدیث کی صحت و صدا قت کے بارے میں کہا ہے کہ تمام علماء تفسیر و احادیث کے نزدیک یہ حدیث متفق علیہ ہے۔“
حدیث میں قابل استفادہ نکات:
اس حدیث میں درج ذیل نکات قابل توجہ ہیں:
۱ ۔اس حدیث میں رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اہل بیت کاحضور اس صورت میں بیان ہواہے کہ خودآنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم آگے آگے)حسین علیہ السلام)کوگود میں لئے ہوئے ،حسن(علیہ السلام)کاہاتھ پکڑے ہوئے جوحسین(علیہ السلام)سے قدرے بڑے ہیں اورآپکی بیٹی فاطمہ سلام اللہ علیہاآپکے پیچھے اوران کے پیچھے(علیہ السلام) ہیں۔یہ کیفیت انتہائی دلچسپ اور نمایاں تھی۔کیو نکہ یہ شکل ترتیب آیہء مباہلہ میں ذکرہوئی تر تیب و صورت سے ہم آہنگ ہے۔اس ہماہنگی کا درج ذیل ابعادمیں تجزیہ کیاجاسکتاہے:
الف:ان کے آنے کی ترتیب وہی ہے جوآیہء شریفہ میں بیان ہوئی ہے۔یعنی پہلے ”ابناء نا“اس کے بعد”نسائنا“اورپھرآخرپر”ا نفسنا“ہے۔
ب:یہ کہ رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے چھوٹے فرزندحسین بن علی علیہماالسلام کوآغوش میں لئے ہوئے اوراپنے دوسرے فرزندخورد سال حسن بن علی علیہماالسلام کاہاتھ پکڑے ہوئے ہیں،یہ آیہء شریفہ میں بیان ہوئے”بناء نا“ کی عینی تعبیرہے۔
ج۔بیچ میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کاقرارپانااس گروہ میں ”نساء نا“کے منحصربہ فردمصداق کے لئے آگے اورپیچھے سے محافظ قرار دیا جا نا،آیہء شریفہ میں ”نساء نا“کی مجسم تصویر کشی ہے۔
۲ ۔اس حدیث میں پیغمبراکرم (ص)نے اپنے اہل بیت علیہم السلام سے فرمایا:اذادعوت فاٴ منوا “یعنی:جب میں دعاکروں توتم لوگ آمین(۱) کہنااوریہ وہی
____________________
۱۔دعا کے بعد آمین کہنا،خدا متعال سے دعا قبول ہونے کی درخواست ہے۔
چیزہے جوآیہء مباہلہ میں ائی ہے:( نبتهل فنجعل لعنةالله علی الکاذبین )
یہاں پر”ابتھال“)دعا)کوصرف پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نسبت دی گئی ہے،بلکہ”ابتھال“پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے دعاکی صورت میں اورآپ کے ہمراہ آئے ہوئے اعزّہ واقر باکی طرف سے آمین کہنے کی صورت میں محقق ہونا چاہئے تاکہ )اس واقعہ میں )جھوٹوں پرہلاکت اورعقوبت الہٰی واقع ہونے کاسبب قرارپائے،جیساکہ گزر چکا ہے۔
۳ ۔گروہ نصارٰی کی طرف سے اہل بیت علیہم السلام کی عظمت وفضیلت کا اعتراف یہاں تک کہ ان کے نورانی و مقدس چہروں کو دیکھنے کے بعد مباہلہ کرنے سے انکار کر دیا۔
تیسری حدیث:
ایک اورحدیث جس میں ”ابنائنا“،”نسائنا“اور”انفسنا“کی لفظیں صرف علی،فاطمہ،حسن اورحسین علیہم السلام پر صادق آتی ہیں،وہ حدیث”مناشد یوم الشوری“ہے۔اس حدیث میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام،اصحاب شوریٰ)عثمان بن عفان،عبدالرحمن بن عوف،طلحہ،زبیراورسعدبن ابی وقاص) سے کہ جس دن یہ شورٰی تشکیل ہوئی اورعثمان کی خلافت پرمنتج و تمام ہوئی،اپنے فضائل کی طرف اشارہ کرتے ہو ئے فرماتے ہیں۔اس طرح سے کہ ان تمام فضیلتوں کو یاد دلاتے ہوئے انہیں خداکی قسم دیتے ہیں اور ان تمام فضیلتوں کو اپنی ذات سے مختص ہونے کاان سے اعتراف لیتے ہیں۔حدیث یوں ہے:
”اٴخبر نا اٴبو عبد اللّٰه محمد بن إبرهم، اٴنا ابوالفضل اٴحمد بن عبدالمنعم بن اٴحمد ابن بندار، اٴنا اٴبوالحسن العتیقی، اٴنا اٴبوالحسن الدارقطنی، اٴنا اٴحمد بن محمد بن سعید، اٴنا یحی بن ذکریا بن شیبان، اٴنا یعقوب بن سعید، حدثنی مثنی اٴبو عبداللّٰه،عن سفیان الشوری، عن اٴبن إسحاق السبیعی، عن عاصم بن ضمرةوهبیرة و عن العلاء بن صالح، عن المنهال بن عمرو، عن عبادبن عبداللّٰه الاٴسدی و عن عمروبن و اثلة قالوا: قال علیّ بن اٴبی طالب یوم الشوری: واللّٰه لاٴحتجنّ علیهم بمالایستطیع قُرَشیّهم و لا عربیّهم و لا عجمیّهم ردّه و لا یقول خلافه ثمّ قال لعثمان بن عفان ولعبدالرحمن بن عوف و الزبیر و لطلحة وسعد - و هن اٴصحاب الشوری و کلّهم من قریش، و قد کان قدم طلحة - اُنشدکم باللّٰه الذی لا إله إلّاهو، اٴفیکم اٴحد وحّد اللّٰه قبلی؟ قالوا:اللّهمَّ لا قال: اٴنشدکم باللّٰه، اٴفیکم اٴحد اٴخو رسول اللّٰه - صلی اللّٰه علیه وسلم - غیری، إذ آخی بین المؤمنین فاٴخی بینی و بین نفسه و جعلنی منه بمنزلة هارون من موسی إلّا اٴنی لست بنبیً؟قالوا:لاقال:اٴنشدکم باللّٰه،اٴفیکم مطهَّرغیری،إذسدّ رسول اللّٰهصلىاللهعليهوآلهوسلم اٴبوابکم و فتح بابی و کنت معه فی مساکنه ومسجده؟ فقام إلیه عمّه فقال: یا رسول اللّٰه، غلّقت اٴبوابنا و فتحت باب علیّ؟ قال: نعم، اللّٰه اٴمر بفتح با به وسدّ اٴبوابکم !!! قالوا:اللّهمّ لا قال: نشدتکم باللّٰه، اٴفیکم اٴحد اٴحب إلی للّٰه و إلی رسوله منّی إذ دفع الرایة إلیّ یوم خیر فقال : لاٴعطینّ الرایة إلی من یحبّ اللّٰه و رسوله و یحبّه اللّٰه و رسوله، و یوم الطائر إذ یقول: ” اللّهمّ ائتنی باٴحب خلقک إلیک یاٴکل معی“، فجئت فقال: ” اللّهمّ و إلی رسولک ، اللّهمّ و إلی رسولک“
غیری؟(۱) قالوا:اللّهمّ لا قال:نشدتکم باللّٰه، اٴفیکم اٴحد قدم بین یدی نجواه صدقة غیری حتی رفع اللّٰه ذلک الحکم؟ قالوا: اللّهمّ لاقال:نشدتکم باللّٰه، اٴفیکم من قتل مشرکی قریش و العرب فی اللّٰه و فی رسوله غیری؟ قالوا:اللّهمّ لاقال: نشدتکم باللّٰه، اٴفیکم اٴحد دعا رسول اللّٰهصلىاللهعليهوآلهوسلم فیالعلم و اٴن یکون اُذنه الو اعیة مثل ما دعالی؟ قالوا: اللّهمّ لا قال: نشدتکم باللّٰه، هل فیکم اٴحد اٴقرب إلی رسول اللّٰهصلىاللهعليهوآلهوسلم فی الرحم و من جعله و رسول اللّٰهصلىاللهعليهوآلهوسلم نفسه و إبناء اٴنبائه وغیری؟ قالوا:اللّٰهم لا“(۲)
اس حدیث کومعاصم بن ضمرةوہبیرةاورعمروبن وائلہ نے حضرت )علی علیہ السلام) سے روایت کی ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے شوریٰ کے دن یوں فرمایا:
”خداکی قسم بیشک میں تمہارے سامنے ایسے استدلال پیش کروں گا کہ اھل عرب و عجم نیز قریش میں سے کوئی شخص بھی اس کومستردنہیں کرسکتااورمذھبی اس کے خلاف کچھ کہہ سکتا ہے۔میں تمھیں اس خداکی قسم دلاتاہوں جس کے سوا کوئی خدانہیں ہے،کیاتم لوگوں میں کوئی ایسا ہے جس نے مجھ سے پہلے خدائے واحدکی پرستش کی ہو۔؟ انہوں نے کہا: خدا شاہد ہے! نہیں۔ آپ(ع)نے فرمایا:تمھیں خداکی قسم ہے،کیاتم لوگوں میں میرے علاوہ کوئی ہے،جورسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کا بھائی ہو،جب)آنحضرت (ص)نے)مؤمنین کے درمیان اخوت اوربرادری برقرارکی،اورمجھے اپنا بھائی بنایااور میرے بارے
____________________
۱۔شائدمقصودیہ ہوکہ”خداوندا!تیرے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے نزدیک بھی محبوب ترین مخلوق علی)علیہ السلام ہیں۔“
۲۔تاریخ مدینہ دمشق،ج۴۲،ص۴۳۱،دارالفکر
میں یہ ارشاد فر ما یا کہ:” تمہاری نسبت مجھ سے ویسی ہی جیسے ہارون کی موسی سے تھی سوائے اس کے کہ میں نبی نہیں ہوں “۔
انہوں نے کہا:نہیں۔فرمایا:تمھیں خداکی قسم دے کر کہتاہوں کہ کیامیرے علاوہ تم لوگوں میں کوئی ایساہے جسے پاک وپاکیزہ قراردیاگیاہو،جب کہ پیغمبرخداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمھارے گھروں کے دروازے مسجدکی طرف بندکردئیے تھے اورمیرے گھرکادروازہ کھلارکھا تھااورمیں مسکن ومسجدکے سلسلہ میں انحضرت (ص)کے ساتھ )اور آپ کے حکم میں )تھا،چچا)حضرت)عباس اپنی جگہ اٹھے اورکہا:اے اللہ کے رسول !ہمارے گھروں کے دروازے بند کر دئیے اورعلی) علیہ السلام )کے گھرکاادروازہ کھلارکھا؟
پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:یہ خدائے متعال کی طرف سے ہے کہ جس نے ان کے دروازہ کوکھلارکھنے اورآپ لوگوں کے دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا؟
انہوں نے کہا:خداشاہدہے،نہیں۔فرمایا:تمھیں خداکی قسم دلاتاہوں،کیا تمہارے درمیان کوئی ہے جسے خدااوررسول مجھ سے زیادہ دوست رکھتے ہوں،جبکہ پیغمبر (ص)نے خیبرکے دن علم اٹھاکرفرمایا”بیشک میں علم اس کے ہاتھ میں دونگاجوخداورسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کودوست رکھتاہے اورخدااوررسول اس کودوست رکھتے ہیں“اورجس دن بھنے ہوئے پرندہ کے بارے میں فرمایا:”خدایا!میرے پاس اس شخص کو بھیج جسے توسب سے زیادہ چاھتا ہے تاکہ وہ میرے ساتھ کھا نا کھائے۔“اوراس دعاکے نتیجہ میں ،میں اگیا۔میرے علاوہ کون ہے جس کے لئے یہ اتفاق پیش آیا ہو؟
انہوں نے کہا:خداشاہد ہے،نہیں۔
فرمایا:تمھیں خداکی قسم دلاتاہوں،کیاتم لوگوں میں میرے علاوہ کوئی ہے،جس نے پیغمبر سے سرگوشی سے پہلے صدقہ دیاہو،یہاں تک کہ خدائے وند متعال نے اس حکم کو منسوخ کر دیا؟
انہوں نے کہا۔خدا شاہدہے نہیں۔
فرمایا:تمھیں خداکی قسم ہے،کیاتم لوگوں میں میرے علاوہ کوئی ہے،جس نے قریش اورعرب کے مشرکین کوخدااوراس کے رسول (ص)کی راہ میں قتل کیاہو؟
انہوں نے کہا:خدا گواہ ہے،نہیں۔
فرمایا:تمھیں خداکی قسم ہے،کیاتم لوگوں میں میرے علاوہ کوئی ہے،جس کے حق میں پیغمبراکرم (ص))افزائش)علم کے سلسلہ میں دعاکی ہواوراذن واعیہ)گوش شنوا)کا خدا سے مطالبہ کیاہو،جس طرح میرے حق میں دعاکی؟انہوں نے کہا:خدا گواہ ہے،نہیں۔فرمایا:تمھیں خداکی قسم ہے،کیاتم لوگوں میں کوئی ہے جوپیغمبراکرم (ص)سے رشتہ داری میں مجھ سے زیادہ نزدیک ہواورجس کوپیغمبرخدا (ص)نے اپنا نفس،اس کے بیٹوں کواپنے بیٹے کہاہو؟انہوں نے کہا:خدا گواہ ہے،نہیں۔“
اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ اس حدیث میں مباہلہ میں شریک ہو نے والے افراد،کہ جنھیں پیغمبراکرم (ص)اپنے ساتھ لائے تھے وہ،علی،فاطمہ،حسن،وحسین )علیہم السلام)کی ذات تک محدود ہیں۔
حدیث کامعتبرراورصحیح ہونا:
ا ہل سنت کی احادیث کے بارے میں ہم صرف مذکورہ احادیث ہی پراکتفاکرتے ہیں،اوران احادیث کے مضمون کی صحت کے بارے میں یعنی مباہلہ میں صرف پنجتن آل عبا)پیغمبر کے علاوہ علی،فاطمہ حسن وحسین علیہم السلام)ہی شا مل تھے اس حوالے سے صرف حاکم نیشابوری کے درج ذیل مطالب کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
وہ اپنی کتاب”معرفةعلوم الحدیث“(۱) میں پہلے آیہء مباہلہ کے نزول کوابن عباس سے نقل کرتاہے اور وہ انفسنا سے حضرت علی علیہ السلام،”نسائنا“سے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہااور”ابناء نا“سے حسن وحسین علیہما السلام مراد لیتا ہے۔اس کے بعدابن عباس اور دوسروں سے اس سلسلہ میں نقل کی گئی روایتوں کومتواترجانتے ہوئے کے اہل بیت(ع)کے بارے میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس فرمائش:”هؤلائ اٴبنائناواٴنفسنا ونسائنا “کے سلسلہ میں یاددہانی کراتاہے۔
چنا نچہ اس باب میں اصحاب کے ایک گروہ جیسے جابربن عبداللہ،ابن عباس اور امیرالمؤمنین کے حوالے سے مختلف طرق سے احادیث نقل ہو ئی ہیں،اس مختصرکتاب میں بیان کرنے کی گنجائش نہیں ہے،اس لئے ہم حاشیہ میں بعض ان منابع کی طرف اشارہ کرنے ہی پر اکتفاکرتے ہیں(۲)
____________________
۱۔معر فة علوم الحدیث،ص۵۰،دارالکتب العلمیة،بیروت
۲۔احکام القرآن /جصاص/ج۲/ص۱۴دارالکتاب العربی بیروت، اختصاص مفید/ص۵۶/من منشورات جماعة المدرسین فی الحوزة العلمیة، اسباب النزول /ص۶۸/دارالکتب العلمیة بیروت،اسد الغابة/ ج۴/ ص۲۵/ داراحیائ التراث العربی بیروت الا صابہ/ج۲/جزء ۴/ص۲۷۱، البحر المحیط/ج۳/ ص۴۷۹/ داراحیائ التراث العربی بیروت،البدایة و النھایة/ ج۵/ ص۴۹ دارالکتب العلمیة بیروت، البرھان/ ج۱/ص۲۸۹/ مؤسسہ مطبوعاتی اسماعیلیان، التاج الجامع للاصول/ ج۳/ ص۳۳۳/داراحیاء التراث العربی بیروت، تاریخ مدینہ دمشق/ج۴۲/ص۱۳۴/ دارالفکر، تذکرہ خواص الامة/ ص۱۷/ چاپ نجف، تفسیر ابن کثیر/ج۱/ص۳۷۸/دارالنعرفة بیروت،تفسیربیضاوی/ج۱/ص۱۶۳/دارالکتب العلمیة بیروت، تفسیرخازن) الباب التاویل) /ج۱/ص۲۳۶/دارالفکر، تفسیر الرازی/ج۸/ص۸۰/داراحیاء التراث العربی بیروت، تفسیرالسمر قندی) بحرالعلوم)/ج۱ص/۲۷۴دارالکتب العلمیة بیروت، تفسیر طبری/ ج۳ /ص۳۰۱۔۲۹۹/دالفکر،تفسیر طنطاوی/ ج۲/ ص۱۳۰/ دارالمعارف القاہرة، تفسیر علی بن ابراہیم قمی /ج۱/ص۱۰۴، تفسیر الماوردی/ ج۱/ ص۳۸۹و۳۹۹/ مؤسسة ظالکتب الثقافیة/ دارالکتب العلمیة بیروت، التفسیر المنیر/ج۳/ ص۲۴۵ ،۲۴۸، ۲۴۹/ دارالفکر، تفسیرالنسفی) در حاشیہئ خازن)/ ج۱/ ص۲۳۶/دارالفکر،تفسیر النیشابوری/ج۳/ص۲۱۳/دارالمعرفة بیروت،تلخیص المستدرک/ج۳/ص۱۵۰/دارالمعرفة بیروت،جامع احکام القرآن/قرطبی/ج۴/ص۱۰۴/دارالفکر، جامع الاصول/ج۹/ص۴۶۹داراحیاء التراث العربی،الجامع الصحیح للترمذی/ج۵/ص۵۹۶/دارالفکر، الدرالمنثور/ج۲/ص۲۳۳۔۲۳۰/دارالفکر، دلائل النبوة ابونعیم اصفہانی/ص۲۹۷، ذخائر العقبی/ص۲۵/مؤسسةالوفائ بیروت، روح المعانی/ج۳/ص۱۸۹/داراحیائ التراث العربی، الریاض النضرة/ج۳/ص۱۳۴/دارالندوة الجدید بیروت، زاد المسیر فی علم التفسیر/ج۱/ص۳۳۹/دارالفکر، شواہد التنزیل/حاکم حسکانی/ج۱/ص۱۶۷۔۱۵۵/مجمع احیائ الثقافة الاسلامیة، صحیح مسلم/ج۵/ص۲۳/کتاب فضائل الصحابة/باب فضائل علی بن ابی طالب /ح۳۲/مؤ سسة عزّالدین، الصواعق المحرقة/ص۱۴۵/مکتبة القاہرة، فتح القدیر/ج۱/ص۳۱۶/ط مصر )بہ نقل احقاق)، فرائد السمطین/ج۲/ص۲۳،۲۴/مؤ سسةالمحمودیبیروت، الفصول المہمة/ص۲۵۔۲۳،۱۲۶۔۱۲۷/منشورات الاعلمی، کتاب التسہیل لعلوم التنزیل /ج۱/ص۱۰۹/دارالفکر، الکشاف/ج۱/دارالمعرفة بیروت، مدارج النبوة/ص۵۰۰بمبئی)بہ نقل احقاق)،المستدرک علی الصحیحن/ج۳/ص۱۵۰/دارالعرفةبیروت،مسند احمد/ج۱/ص۱۸۵/دار صادربیروت، مشکوةالمصابیح/ج۳/ص۱۷۳۱/المکتب الاسلامی، مصابیح السنة/ج۴/ص۱۸۳/دارالمعرفة بیروت، مطالب السئول/ص۷/چاپ تہران، معالم التنزیل /ج۱/ص۴۸۰/دارالفکر، معرفة اصول الحدیث/ص۵۰/دارالکتب العلمیة بیروت، مناقب ابن مغازلی /ص۲۶۳/المکتبة الاسلامیة تہران
۲ ۔شیعہ امامیہ کی احادیث
شیعہ روایتوں میں بھی اس واقعہ کے بارے میں بہت سی فراوان احادیث موجود ہیں،یہاں پرہم ان میں سے چنداحادیث کونمونہ کے طورپرذکرکرتے ہیں:
پہلی حدیث
امام صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ،جب نجران کے عیسائی پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے پاس آئے،ان کی نمازکا وقت ہو گیاوہیں پرگھنٹی بجائی اور)اپنے طریقہ سے)نماز پڑھنا شروع کےا۔اصحاب نے کہا:اللہ کے رسول یہ لوگ آپکی مسجد میں یوںعمل کررہے ہیں!آپ نے فرما یا: انھیں عمل کر نے دو۔
جب نمازسے فارغ ہوئے،پیغمبراکرم (ص)کے قریب آئے اورکہا:ہمیں آپ کس چیزکی دعوت دیتے ہو؟
آپنے فرمایا:اس کی دعوت دیتاہوں کہ،خدائے واحدکی پرستش کرو، میں خدا کارسول ہوں اورعیسیٰ خدا کے بندے اور اس کے مخلوق ہیںوہ کھاتے اورپیتے ہیں نیزقضائے حاجت کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا:اگروہ خدا کے بندے ہیں تواس کاباپ کون ہے؟
پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم پروحی نازل ہوئی کہ اے رسول ان سے کہدیجئے کہ وہ حضرت آدم علیہ السلام کے بارے میں کیاکہتے ہیں؟وہ خداکے بندے اوراس کی مخلوق ہیں اورکھاتے اورپیتے ہیںاورنکاح کرتے ہیں۔
آپنے فرمایا:اگرخداکے ہربندے اورمخلوق کے لئے کوئی باپ ہوناچاہئے توآدم علیہ السلام کا باپ کون ہے؟وہ جواب دینے سے قاصررہے۔خدائے متعال نے درج ذیل دوآیتیں نازل فرمائیں:
( إنّ مثل عیسی عند اللّٰه کمثل آدم خلقه من تراب ثم قال له کن فیکون فمن حاجّک فیه من بعد ماجاء ک من العلم قل تعالوا ندع اٴبناء نا واٴبنائکم ونسائنا ونسائکم واٴنفسنا واٴنفسکم ) (آل عمران /۶۱)
”عیسی کی مثال اللہ کے نزدیک آدم جیسی ہے کہ انھیں مٹی سے پیداکیااورپھرکہاہوجاتو وہ پیداہوگئےاے پیغمبر!علم کے آجانے کے بعدجولوگ تم سے کٹ حجتی کریں ان سے کہدیجئے کہ ٹھیک ہے تم اپنے فرزند،اپنی عورتوں اوراپنے نفسوں کو بلاؤاور ہم بھی اپنے فرزند،اپنی اپنی عورتوں اور اپنے نفسوں کو بلاتے ہیں پھرخداکی بارگاہ میں دونوں ملکردعاکریں اورجھوٹوں پرخداکی لعنت کریں“
پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا:”میرے ساتھ مباہلہ کرو،اگر میں نے سچ کہاہوگاتوتم لوگوں پرعذاب نازل ہوگااوراگرمیں نے جھوٹ کہاہوگاتومجھ پر عذاب نازل ہوگا“
انہوں نے کہا:آپنے منصفانہ نظریہ پیش کیاہے اورمباہلہ کوقبول کیا۔جب وہ لوگ اپنے گھروں کولوٹے،ان کے سرداروں نے ان سے کہا:اگرمحمد (ص)اپنی قوم کے ہمراہ مباہلہ کے لئے تشریف لا ئیں ،تووہ پیغمبرنہیں ہیں،اس صورت میں ہم ان کے ساتھ مباہلہ کریں گے،لیکن اگر وہ اپنے اہل بیت)علیہم السلام)اوراعزہ کے ہمراہ تشریف لا ئیں توہم ان کے ساتھ مباہلہ نہیں کریں گے۔
صبح کے وقت جب وہ میدان مباہلہ میں اگئے تودیکھاکہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ علی،فاطمہ،حسن اورحسین علیہم السلام ہیں۔اس وقت انہوں نے پوچھا:یہ کون لوگ ہیں؟ان سے کہاگیا:وہ مردان کاچچا زادبھائی اورداماد علی بن ابیطالب ہیں اور وہ عورت ان کی بیٹی فاطمہ ہے اوروہ دوبچے حسن اورحسین )علیہماالسلام)ہیں۔
انہوں نے مباہلہ کر نے سے انکار کیا اورآنحضرت (ص)سے کہا:”ہم آپ کی رضایت کے طا لب ہیں۔ہمیں مباہلہ سے معاف فرمائیں۔“آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کے ساتھ صلح کی اورطے پایاکہ وہ جزیہ اداکریں۔(۱)
دوسری حدیث
سیدبحرانی،تفسیر”البرہان“میں ابن بابویہ سے اورحضرت امام رضا علیہ السلام سے روایت نقل کرتے ہیں:
”حضرت)امام رضا علیہ السلام)نے مامون اور علماء کے ساتھ)عترت وامت میں فرق اورعترت کی امت پرفضیلت کے بارے میں )اپنی گفتگو میں فرمایا:جہاں پر خدائے متعال
____________________
۱۔تفسیر علی بن ابراھیم،مطبعة النجف ،ج۱،ص۱۰۴،البرہان ج۱،ص۲۸۵
ان افرادکے بارے میں بیان فرماتاہے جو خدا کی طرف سے خاص طہار ت و پاکیزگی کے مالک ہیں،اور خدااپنے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کوحکم دیتاہے کہ مباہلہ کے لئے اپنے اہل بیت کو اپنے ساتھ لائیں اورفرماتاہے: ۔۔۔( فقل:تعالوا ندع اٴبنائنا واٴبنائکم ونسائنا ونسائکم واٴنفسنا واٴنفسکم ) ۔۔۔
علماء نے حضرت سے کہا: آیہ میں ’انفسنا“سے مرادخودپیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم ہیں!امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:آپ لوگوں نے غلط سمجھا ہے۔بلکہ”انفسنا“ سے مرادعلی بن ابیطالب(علیہ السلام)ہیں۔اس کی دلیل یہ ہے کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے بنی ولیعہ سے فرمایا: ”اٴولاٴبعثنّ إلیهم رجلاً کنفسی “یعنی:”بنی ولیعہ کواپنے امورسے دست بر دار ہو جا ناچاہئے، ورنہ میں اپنے مانندایک مردکوان کی طرف روانہ کروں گا۔“
”ابنا ء نا“ کے مصداق حسن وحسین)علیہماالسلام)ہیں اور”نساء نا“سے مراد فاطمہ (سلام اللہ علیہا) ہیں اوریہ ایسی فضیلت ہے،جس تک کوئی نہیں پہونچ سکااوریہ ایسی بلندی ہے جس تک انسان کاپہنچنااس کے بس کی بات نہیں ہے اوریہ ایسی شرافت ہے جسے کوئی حاصل نہیں کرسکتاہے۔یعنی علی(علیہ السلام)کے نفس کواپنے نفس کے برابرقراردیا۔(۱)
تیسری حدیث
اس حدیث میں ،ہارون رشید،موسی بن جعفر علیہ السلام سے کہتاہے:آپ کس طرح اپنے آپ کوپیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اولادجانتے ہیں جبکہ انسانی نسل بیٹے سے پھیلتی ہے اورآپ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیٹی کے بیٹے ہیں؟
امام )علیہ السلام )نے اس سوال کا جواب دینے سے معذرت چاہی ۔ہارون نے کہا:اس مسئلہ میں اپ کواپنی دلیل ضروربیان کرنا ہو گی آپ فرزندان،علی علیہ السلام کا یہ دعوی
____________________
۱۔تفسیر البرہان،ج۱،ص۲۸۹،مؤسسہئ مطبو عاتی اسما عیلیان
ہے آپ لوگ قرآن مجیدکامکمل علم رکھتے ہیں نیز آپ کا کہنا ہے کہ قرآن مجیدکاایک حرف بھی آپ کے علم سے خارج نہیں ہے اوراس سلسلہ میں خداوندمتعال کے قول: ۔۔۔( ما فرّطنا فی الکتاب من شیء ) ۔۔۔(۱)
سے استدلال کرتے ہیں اوراس طرح علماء کی رائے اوران کے قیاس سے اپنے آپ کوبے نیاز جانتے ہو!
حضرت)امام مو سی کاظم علیہ السلام)نے ہارون کے جواب میں اس آیہء شریفہ کی تلاوت فرمائی جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کوحضرت ابراھیم علیہ السلام کی ذریت تایاگیا ہے:
( و من ذرّیّته داود و سلیمان و اٴیوب و یوسف و موسی و هارون و کٰذلک نجزی المحسنین زکریا و یحی و عیسی وإلیاس ) ۔۔۔(۱)
”اورپھرابراھیم کی اولاد میں داؤد،سلیمان،ایوب،یوسف،موسیٰ اورہارون قراردیا اورہم اسی طرح نیک عمل کرنے والوں کوجزادیتے ہیں۔اورزکریا،یحیٰ،عیسیٰ اورالیاس کو بھی رکھاجوسب کے سب نیک عمل انجام دینے والے ہیں ۔“
اس کے بعد امام (علیہ السلام)نے ہارون سے سوال کیا:حضرت عیسیٰ(علیہ السلام)کاباپ کون تھا؟اس نے جواب میں کہا:عیسیٰ(علیہ السلام)بغیرباپ کے پیداہوئے ہیں۔امام (ع)نے فرمایا:جس طرح خدائے متعال نے جناب عیسی کوحضرت مریم(سلام اللہ علیہا)کے ذریعہ ذریت انبیاء)علیہم السلام)سے ملحق کیاہے اسی طرح ہمیں بھی اپنی والدہ حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہاکے ذریعہ پیغمبراکرم (ص)سے ملحق فرمایاہے۔
اس کے بعد حضرت(ع)نے ہارون کے لئے ایک اور دلیل پیش کی اور اس کے لئے
____________________
۱۔انعام/۳۸
۲۔انعام/۸۴۔۵
آیہء مباہلہ کی تلاوت کی اورفرمایا:کسی نے یہ دعوی نہیں کیاہے کہ مباہلہ کے دوران، پیغمبراکرم (ص)نے علی،فاطمہ،حسن اورحسین علیہم السلام کے علاوہ کسی اورکو زیر کساء داخل کیاہو۔اس بناء پر آیہء شریفہ میں ”ابنائنا“سے مرادحسن وحسین) علیہماالسلام) ”نسائنا“سے مرادفاطمہ (سلام اللہ علیہا) اور”انفسنا“سے مرادعلی علیہ السلام ہیں۔(۱)
چوتھی حدیث
اس حدیث میں کہ جسے شیخ مفیدنے”الاختصاص“میں ذکرکیاہے۔موسی بن جعفرعلیہ السلام نے فرمایا:پوری امت نے اس بات پراتفاق کیاہے کہ جب پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اہل نجران کومباہلہ کے لئے بلایا تو زیر کساء)وہ چادر جس کے نیچے اہل بیت رسول تشریف فرما تھے (علی، فاطمہ،حسن اورحسین علیہم السلام کے علاوہ کوئی اور نہیں تھا۔اس بنائ پرخدائے متعال کے قول:( فقل تعالوا ندع اٴبنائنا و اٴبناء کم و نساء نا و نسائکم و اٴنفسنا و اٴنفسکم ) میں ”ابنائنا“سے حسن وحسین)علیہماالسلام)”نسائنا“سے فاطمہ سلام اللہ علیہااور ”انفسنا“سے علی بن ابیطالب علیہ السلام مرادہیں۔(۲)
شیخ محمدعبدہ اوررشیدرضاسے ایک گفتگو
صاحب تفسیر”المنار“پہلے تو فر ما تے ہیں کہ”روایت ہے کہ پیغمبراکرم (ص)نے مباہلہ کے لئے علی(ع)وفاطمہ(س)اوران کے دو نوں بیٹوں کہ خدا کا ان پر درودو سلام ہوکاانتخاب کیااورانھیں میدان میں لائے اور ان سے فرمایا:”اگرمیں دعا کروں تو تم لوگ آمین کہنا“روایت کوجاری رکھتے ہوئے اختصار کے ساتھ مسلم اورترمذی کو بھی نقل کرتے ہیں اس کے بعد کہتے ہیں:
____________________
۱۔البرہان ،ج۱،ص۲۸۹،مؤسسہ مطبو عاتی اسماعیلیان
۲۔الاختصاص،ص۵۶،من منشورات جماعةالمدرسین فی الحوزةالعلمیة
استادامام)شیخ محمدعبدہ)نے کہاہے:اس سلسلہ میں روایتیں متفق علیہ ہیں کہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نے مباہلہ کے لئے علی(ع)فاطمہ(س)اوران کے بیٹوں کومنتخب کیا ہے اورآیہء شریفہ میں لفظ”نسائنا“ فاطمہئ کے لئے اورلفظ”انفسنا“ کا استعمال علی کے لئے ہواہے۔لیکن ان روایتوں کاسرچشمہ شیعہ منابع ہیں)اورانہوں نے یہ احادیث گھڑلی ہیں)اور اس سے ان کا مقصدبھی معلوم ہے۔وہ حتی الامکان ان احادیث کو شائع و مشہور کرنا چاہتے ہیں اوران کی یہ روش بہت سے سنّیوں میں بھی عام ہو گئی ہے!لیکن جنہوں نے ان روایتوں کوگھڑا ہے،وہ ٹھیک طریقہ سے ان روایتوں کو آیتوں پر منبطق نہیں کرسکے ہیں،کیونکہ لفظ”نساء“کا استعمال کسی بھی عربی لغت میں کسی کی بیٹی کے لئے نہیں ہواہے،بالخصوص اس وقت جب کہ خود اس کی بیویاں موجودہوں،اور یہ عربی لغت کے خلاف ہے اوراس سے بھی زیادہ بعید یہ ہے کہ ”انفسنا“سے مراد علی (ع)کو لیا جائے“ ۱
استاد محمدعبدہ کی یہ بات کہ جن کا شمار بزرگ علماء اورمصلحین میں ہوتا ہے انتہائی حیرت انگیزہے۔باوجوداس کے کہ انھوں نے ان روایتوں کی کثرت اوران کے متفق علےہ ہونے کو تسلیم کیا ہے،پھربھی انھیں جعلی اور من گھڑت کہاہے۔
کیاایک عام مسلمان ،چہ جائیکہ ایک بہت بڑاعالم اس بات کی جرائت کرسکتاہے کہ ایک ایسی حقیقت کوآسانی کے ساتھ جھٹلادے کہ جورسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم کی صحیح ومعتبر سنّت میں مستحکم اور پائداربنیادرکھتی ہو؟!اگرمعتبرصحاح اورمسانیدمیں صحیح سندکے ساتھ روایت نقل ہوئی ہے وہ بھی صحیح مسلم جیسی کتاب میں کہ جواہل سنّت کے نزدیک قرآن مجیدکے بعددومعتبرترین کتابوں میں سے ایک شمارہوتی ہے،اس طرح بے اعتبارکی جائے،تومذاہب اسلامی میں ایک مطلب کوثابت کرنے یامستردکرنے کے سلسلہ میں کس منبع و ماخذپراعتماد کیا جا سکتا ہے ؟اگر ائمہ
___________________
۱۔المنار،ج ۳،ص۳۲۲،دارالمعرفة بیروت
مذاہب کی زبانی متوا تراحادیث معتبرنہیں ہو ں گی توپھرکونسی حدیث معتبرہوگی؟!
کیاحدیث کوقبول اورمستردکرنے کے لئے کوئی قاعدہ و ضابط ہے یاہرکوئی اپنے ذوق وسلیقہ نیزمرضی کے مطابق ہرحدیث کوقبول یامستردکرسکتاہے؟کیایہ عمل سنّت رسول (ص)کے ساتھ زیادتی اوراس کامذاق اڑانے کے مترادف نہیں ہے؟
شیخ محمدعبدہ نے آیہء شریفہ کے معنی پردقت سے توجہ نہیں کی ہے اورخیال کیاہے کہ لفظ ”نسائنا“حضرت فاطمہ زہراء )سلام اللہ علیہا )کے بارے میں استعمال ہواہے۔جبکہ”نسائنا“خوداپنے ہی معنی میں استعمال ہواہے،رہاسوال رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیویوں کا کہ جن کی تعداداس وقت نوتھی ان میں سے کسی ایک میں بھی وہ بلند مرتبہ صلاحیت موجودنہیں تھی اورخاندان پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم میں تنہاعورت،جوآپ کے اہل بیت میں شمارہوتی تھیں اورمذکورہ صلاحیت کی مالک تھیں،حضرت فاطمہ زہراء (سلام اللہ علیہا)تھیں،جنھیں انحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم اپنے ساتھ مباہلہ کے لئے لے گئے۔(۱)
”انفسنا“کے بارے میں اس کتاب کی ابتداء میں بحث ہوچکی ہے انشا اللہ بعد والے محور میں بھی اس پرتفصیل سے روشنی ڈالی جائیگی ۔
ایک جعلی حدیث اوراہل سنّت کااس سے انکار
مذکورہ روایتوں سے ایک دوسرامسئلہ جوواضح ہوگیاوہ یہ تھاکہ خامس آل عبا)پنجتن پاک علیہم السلام)کے علاوہ کوئی شخض میدان مباہلہ میں نہیں لایاگیا تھا۔
مذکورہ باتوں کے پیش نظربعض کتابوں میں ابن عساکر کے حوالے سے نقل کی گئی روایت کسی صورت میں قابل اعتبار نہیں ہے،جس میں کہاگیاہے کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ابوبکراوران کے فرزندوں،عمراوران کے فرزندوں،عثمان اوران کے فرزندوں اورعلی علیہ السلام اوران کے
____________________
۱۔اس سلسلہ میں بحث ،آیہء تطہیرکی طرف رجوع کیا جائے ۔
فرزندوں کواپنے ساتھ لائے تھے۔
ایک تو یہ کہ علماء ومحققین،جیسے آلوسی کی روح المعانی(۱) میں یادہانی کے مطابق،یہ حدیث جمہورعلماء کی روایت کے خلاف ہے،اس لئے قابل اعتمادنہیں ہے۔
دوسرے یہ کہ اس کی سندمیں چند ایسے افرادہیں جن پرجھوٹے ہونے کاالزام ہے،جیسے:سعیدبن عنبسہ رازی،کہ ذہبی نے اپنی کتاب میزان الاعتدال(۲) میں یحییٰ بن معین کے حوا لے سے کہاہے کہ:”وہ انتہائی جھوٹ بولنے والا ہے“اورابوحاتم نے کہاہے کہ:”وہ سچ نہیں بولتاہے۔“اس کے علاوہ اس کی سندمیں ھیثم بن عدی ہے کہ جس کے با رے میں ذہبی کاسیراعلام النبلاء(۳) میں کہناہے:ابن معین اورابن داؤدنے کہاہے:”وہ انتہائی جھوٹ بولنے والاہے“اس کے علاوہ نسائی اوردوسروں نے اسے متروک الحدیث جانا ہے۔
افسوس ہے کہ مذکورہ جعلی حدیث کاجھوٹامضمون حضرت امام صادق اورحضرت امام باقر )علیہماالسلام)سے منسوب کر کے نقل کیاگیاہے!
____________________
۱۔روح المعانی،ج۳،ص۱۹۰،داراحیائ التراث ا لعربی
۲۔میزان الاعتدال،ج۲،ص۱۵۴،دارالفکر
۳۔سیراعلام النبلاء،ج۱۰،ص۱۰۴،مؤسسہ الرسالہ
چھوتھامحور
علی(ع)نفس پیغمبر (ص)ہیں
گزشتہ بحثوں میں یہ واضح ہوچکا ہے کہ”انفسنا“سے مرادکاخودپیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نہیں ہوسکتے ہیں اورچونکہ مذکورہ احادیث کی بناء پرمباہلہ میں شا مل ہونے والے افرادمیں صرف علی،فاطمہ،حسن اورحسین علیہم السلام تھے،لہذاآیہء شریفہ میں ”انفسنا“کامصداق علی علیہ السلام کے علاوہ کوئی اور نہیں ہوسکتاہے۔یہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی واضح بلکہ برترین فضیلتوں میں سے ہے۔
قرآن مجید کی اس تعبیرمیں ،علی علیہ السلام ،نفس پیغمبر (ص)کے عنوان سے پہچنوا ئے گئے ہیں۔چونکہ ہرشخص کاصرف ایک نفس ہوتا ہے،اس لئے حضرت علی علیہ السلام کاحقیقت میں نفس پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونا بے معنی ہے۔معلوم ہوتاہے کہ یہ اطلاق،اطلاق حقیقی نہیں ہے بلکہ اس سے مرادماننداورمماثلت ہے۔چونکہ یہاں پریہ مماثلت مطلق ہے اس لئے اس اطلاق کاتقاضاہے کہ جوبھی خصوصیت اورمنصبی کمال پیغمبراکرم (ص)کی ذات میں موجود ہے وہ حضرت علی علیہ السلام میں بھی پاےاجانا چاہئے،مگر یہ کہ دلیل کی بناء پرکوئی فضیلت ہو،جیسے آپ پیغمبرنہیں ہیں۔رسا لت و پیغمبری کے علاوہ دوسری خصوصیات اورکمالات میں آپ رسول کے ساتھ شریک ہیں،من جملہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی امت کے لئے قیادت وزعامت اورآنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی سارے جہاں،یہاں تک گزشتہ انبیاء پرافضلیت۔اس بناء پرآیہء شریفہ حضرت علی علیہ السلام کی امامت پردلالت کر نے کے علاوہ بعد از پیغمبر ان کی امت کے علاوہ تمام دوسرے انبیاء سے بھی افضل ہو نے پر دلالت کرتی ہے۔
آیت کے استدلال میں فخررازی کابیان
فخررازی نے تفسیرکبیرمیں لکھاہے:
”شہرری میں ایک شیعہ اثناعشری شخص(۱) معلم تھاا س کاخیال تھاکہ حضرت علی(علیہ السلام) حضرت محمدمصطفی (ص)کے علاوہ تمام انبیاء)علیہم السلام)سے افضل وبرترہیں، اور یوں کہتاتھا:جوچیزاس مطلب پردلالت کرتی ہے،وہ آیہء مباہلہ میں خدا وندمتعال کایہ قول( واٴنفسنا واٴنفسکم ) ہے کیونکہ”انفسنا“ سے مرادپیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نہیں ہیں،کیونکہ انسان خودکونہیں پکارتاہے۔اس بناء پر نفس سے مرادآنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے علاوہ ہے اوراس بات پر اجماع ہے کہ نفس سے مرادعلی بن ابیطالب(علیہ السلام) ہیں لہذاآیہ شریفہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نفس علی(علیہ السلام)سے مراد درحقیقت نفس پیغمبر (ص)ہے،اس لئے ناچار آپ کا مقصدیہ ہے کہ نفس علی نفس رسول کے مانندہے اوراس کالازمہ یہ ہے کہ
____________________
۱۔یہ بزرگ مرد،کہ جس کے بارے میں فخررازی نے یوں بیان کیاہے،جیسے کہ اس کی زندگی کے حالات کی تشریح کتابوں میں کی گئی ہے،شیعوں کے ایک بڑے مجتہداورعظیم عقیدہ شناس اورفخر رازی کے استادتھے۔مرحوم محدث قمی اس کے بارے میں لکھتے ہیں:شیخ سدید الدین محمودبن علی بن الحسن حمصی رازی ،علّامہ فاضل، متکلم اور علم کلام میں کتاب”التعلیق العراقی“کے مصنف تھے۔شیخ بہائی سے ایک تحریرکے بارے میں روایت کرتاہے کہ وہ شیعہ علماء ومجتہدین میں سے تھے اورری کے حمص نامی ایک گاؤں کے رہنے والے تھے،کہ اس وقت وہ گاؤںویران ہوچکاہے۔ )سفینة البحار،ج۱،ص۳۴۰،انتشارات کتاب خانہ محمودی)
مرحوم سیدمحسن امین جبل عاملی کتاب”التعلیق العراقی،یاکتاب المنقذمن التقلید“کے ایک قلمی نسخہ سے نقل کرتے ہیں کہ اس پرلکھا گیاتھا:”انهامن إملائ مولانا ا لشیخ الکبیر العالم سدید الدّین حجّةالاسلام والمسلمین لسان الطائفةوالمتکلمین اسد المناظرین محمودبن علی بن الحسن الحمصی ادام اللّٰه فی العزّبقائ هوکبت فی الذّلّ حسدته واعداه ۔۔۔“یعنی :یہ نسخہ استاد بزرگ اوردانشورسدیدالدین حجةالاسلام والمسلمین، مذہب ش یعیت کے تر جمان اور متکلمین،فن منا ظرہ کے ماہرمحمود بن علی بن الحسن الحمصی کااملا ہے کہ خدائے متعال اس کی عزت کو پائدار بنادے اور اس کے حاسدوں اور دشمنوں کو نابودکردے۔ )اعیا الشیعہ ،ج۱۰،ص۵ہ۱،دارالتعارف للمطبو عات،بیروت)
فیروزآبادی کتاب”القاموس المحیط“میں کہتاہے:”محمودبن الحمصی متکلم اخذ عنہ الامام فخر الدین“)القاموس المحیط،ج۲،ص۲۹۹،دار المعرفة،بیروت)
فیروزآبادی کی اس عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عظیم عقیدہ شناس فخررازی کا استاد تھالیکن فخررازی نے اس بات کی طرف اشارہ نہیں کیا ہے۔
یہ نفس تمام جہت سے اس نفس کے برابرہے۔اوراس کلیت سے صرف دوچیزیں خارج ہیں:ایک نبوت اوردوسرے افضلیت،کیونکہ اس پر سب کااتفاق ہے کہ علی(علیہ السلام)پیغمبرنہیں ہیں اور نہ ہی وہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم سے افضل ہیں۔ان دومطالب کے علاوہ،دوسرے تمام امور ومسائل میں یہ اطلاق اپنی جگہ باقی ہے اوراس پراجماع ہے کہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام انبیائے الہٰی سے افضل ہیں،لہذاعلی(علیہ السلام)بھی ان سب سے افضل ہوں گے۔“
مزید اس نے کہاہے:
”اس استدلال کی ایک ایسی حدیث سے تائید ہوتی ہے،جس کو موافق ومخالف سب قبول کرتے ہیں اوروہ حدیث وہ قول پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ہے کہ جس میں اپ نے فرمایا:جوآدم(علیہ السلام)کو ان کے علم میں ،نوح(علیہ السلام)کوان کی اطاعت میں اورابراھیم(علیہ السلام)کو ان کی خُلّت میں ،موسیٰ(علیہ السلام)کوان کی ہیبت میں اورعیسیٰ (علیہ السلام) کو ان کی صفوت میں دیکھناچاہے تواسے علی بن ابیطالب(علیہ السلام)پرنظرڈالناچاہئے۔“
فخررازی نے اپنی بات کوجاری رکھتے ہوئے مزید لکھاہے:
”شیعہ علماء مذکورہء آیہء شریفہ سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ علی(علیہ السلام)تمام اصحاب سے افضل ہیں۔کیونکہ جب آیت دلالت کرتی ہے کہ نفس علی (علیہ السلام)نفس رسول (ص)کے مانند ہے،سواء اس کے جو چیزدلیل سے خارج ہے اورنفس پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمام اصحاب سے افضل ہے،لہذانفس علی(علیہ السلام)بھی تمام اصحاب سے افضل قرار پائیگا“
فخررازی نے اس استدلال کے ایک جملہ پراعتراض کیا ہے کہ ہم اس آیہء شریفہ سے مربوط سوالات کے ضمن میں آیندہ اس کاجواب دیں گے۔
علی(ع)کونفس رسولجاننے والی احادیث
حضرت علی علیہ السلام کونفس رسول (ص)کے طورپرمعرفی کرنے والی احادیث کوتین گروہوں میں تقسیم کیاجاسکتاہے:
پہلاگروہ:وہ حدیثیں جوآیہء مباہلہ کے ذیل میں بیان ہوئی ہیں:
ان احادیث کا ایک پہلو خامس آل عبا علیہم السلام کے مباہلہ میں شرکت سے مربوط تھا کہ جس کو پہلے بیان کیاگیاہے اوریہاں خلاصہ کے طورپرہم پیش کرتے ہیں:
الف:ابن عباس آیہء شریفہ کے بارے میں اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں:”وعلی نفسہ“”علی(ع)نفس پیغمبر)ص)ہیں۔“یہ ذکرآیہء مباہلہ میں ایاہے۔(۱)
ب:شعبی ،اہل بیت،علہیم السلا م کے بارے میں جابر بن عبداللہ کا قول نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں:”ابناء نا“ سے حسن وحسین)علیہم السلام)”نساء نا“سے جناب فاطمہ(سلام اللہ علیہا)اور”انفسنا“سے علی بن ابیطالب)علیہ السلام ) مرادہیں۔(۲)
ج:حاکم نیشابوری،عبداللہ بن عباس اوردیگر اصحاب سے،پیغمبراکرم (ص)کے ذریعہ مباہلہ میں علی،فاطمہ،حسن اورحسین علیہم السلام کو اپنے ساتھ لانے والی روایت کومتواترجانتے ہیں اورنقل کرتے ہیں کہ”ابناء نا“سے حسن وحسین علیہم السلام،”نساء نا“سے فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہااور”انفسنا“سے علی بن ابیطالب علیہ السلام مرادہیں۔(۳)
د۔حضرت علی علیہ السلام کی وہ حدیث،جس میں اپ(ع)اصحاب شوریٰ کوقسم دے کراپنے فضائل کا ان سے اقرار لیا ہے آپ فرماتے ہیں:
____________________
۱۔معرفةعلوم الحدیث،ص۵۰،دارالکتب العلمیہ،بیروت
۲۔اسباب النزول،ص۴۷،دارالکتب العلمیہ،بیروت
۳۔معرفةعلوم الحدیث،ص۵۰،دارالکتب العلمیہ،بیروت
”نشدتکم اللّٰه هل فیکم اٴحد اٴقرب إلیر سول اللّٰه صلىاللهعليهوآلهوسلم فی الرحم ومن جعله رسول اللّٰه نفسه وإبناء ه غیری ؟“(۱)
”یعنی:میں تمھیں خداکی قسم دیتاہوں!کیا تم لوگوں میں قرابت اور رشتہ داری کے لحاظ سے کوئی ہے جومجھ سے زیادہ رسول اللہ (ص)کے قریب ہو؟کوئی ہے جسے آنحضرت (ص)نے اپنانفس اوراسکے بیٹوں کواپنابیٹاقراردیاہو؟انہوں نے جواب میں کہا:خداشاہدہے کہ ہم میں کوئی ایسا،نہیں ہے۔“
دوسراگروہ:وہ حدیثیں جوقبیلہء بنی ولیعہ سے مربوط ہیں:یہ احادیث اصحاب کے ایک گروہ جیسے ابوذر،جابربن عبداللہ اورعبداللہ بن حنطب سے نقل ہوئی ہیں۔ان حدیثوں کامضمون یہ ہے کہ پیغمبراکرم (ص)نے)ابوذر کے بقول) فرمایا:
”ولینتهینّ بنوولیعه اٴولاٴبعثَنّ إلیهم رجلاًکنفسی یمضی فیهم اٴمری فیقتل المقا تله ولیسبی الذریة ۔۔۔(۲)
قبیلہء بنی ولیعہ کواپنے امور سے باز آجاناچاہئے،اگر انھوں نے ایسانہیں کیاتو میں ان کی طرف اپنے مانند ایک شخص کوبھیجوں گا جومیرے حکم کوان میں جاری کرے گا۔جنگ کرنے والوں کو وہ قتل کرے گااوران کی ذرّیت کواسیربنائے گا۔
عمر،جو میرے پیچھے کھڑے ہو ئے تھے انہوں،نے کہا:آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کااس سے مرادکون ہے؟میں نے جواب دیاتم اور تمہارادوست)ابوبکر) اس سے مرادنہیں ہے تو اس نے
____________________
۱۔تاریخ مدینتہ دمشق،ج۴۲،ص۴۱۳۱،دارالفکر
۲۔السنن الکبیر للنسائی،ج۵،ص۱۲۷،دارالکتب العلمیہ،بیروت۔
اس کے محقق نے اس ضمن میں کہاہے:اس حدیث کی سند میں موثق راوی موجود ہیں۔
المنصف لابن ابی شیبتہ، ج ۶ ، ص ۳۷۴ ، دارالتاج، المعجم الاوسط للطبرانی،ج ۴ ،ص ۴۷۷ ،مکتبة المعارف،الریاضی۔یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ”المعجم الاوسط“میں عمداً یا غلطی سے ”کنفسی“کے بجائے”لنفسی“آیا ہے،اورھیثمی نے مجمع الزوائد میں طبرانی سے ” کنفسی“روایت کی ہے۔مجمع الزوائد۔مجمع الزوائد ھیثمی ،ج ۷ ،ص ۱۱۰ ،دارالکتاب العربی و ص ۲۴۰ ،دارالفکر۔
کہاکون مرادہے؟میں نے کہا:اس سے مرادوہ ہے جواس وقت اپنی جوتیوں کو پیوندلگانے میں مصروف ہے۔کہا تو پھرعلی(علیہ السلام)ہیں جواپنی جویتوں کوٹانکے میں مصروف ہیں۔تیسراگروہ:وہ حدیثیں جوپیغمبر)ص)کے نزدیک محبوب ترین افراد کے بارے میں ہیں۔
بعض ایسی حدیثیں ہیں کہ جس میں پیغمبراکرم صلصلىاللهعليهوآلهوسلم سے سوال ہوتاہے کہآپ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟جواب کے بعدآنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے علی(علیہ السلام)کی محبوبیت یاافضلیت کے بارے میں سوال کیاجاتاہے۔پیغمبراکرم (ص)اپنے اصحاب سے مخاطب ہوکرفرماتے ہیں:”إنّ هذایساٴلنی من النفسی “یعنی:یہ سوال مجھ سے خود میرے بارے میں ہے!یعنی علی(علیہ السلام)میرانفس ہے۔(۱) ان میں سے بعض احادیث میں ،حضرت فاطمہ زہرا(سلام اللہ علیہا)پیغمبراسلام (ص)سے سوال کرتی ہیں،کیاآپنے علی(علیہ السلام)کے بارے میں کچھ نہیں فرمایاہے؟آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
”علیّ نفسی فمن راٴیته اٴن یقول فی نفسه شیئاً (۲) “
یعنی:علی(علیہ السلام)میرانفس ہے تم نے کس کودیکھاہے،جواپنے نفس کے بارے میں کچھ کہے؟یہ احادیث عمروعاص،عائشہ اورجد عمروبن شعیب جیسے بعض اصحاب سے نقل ہوئی ہیں۔
اس طرح کی حدیثیں مختلف زبانوں سے روایت ہوئی ہیں اوران کی تعدادزیادہ ہے۔جس سے یہ استفادہ ہوتاہے کہ علی علیہ السلام،نفس پیغمبر (ص)ہیں اورآیہ شریفہ کی دلالت پرتاکیدکرتی ہے، سواء اس کے کہ کوئی قطعی ضرورت اورخارجی دلالت کی وجہ سے اس اطلاق سے خارج ہوا جائے)جیسے نبوت جواس سے خارج ہے)لہذاآنحضرت (ص)کے
____________________
۱۔جامع الاحادیث،سیوطی،ج۱۶،ص۲۵۷۔۲۵۶،دارالفکر،کنز العمال،ج۱۳،ص۱۴۳۔۱۴۲،مؤسسہ الرسالہ
۲۔مناقب خوارزمی،ص۱۴۸،مؤسسہ النشرالاسلامی،مقتل الحسین علیہ السلام،ص۴۳،مکتبہ المفید۔
دوسرے تمام عہدے من جملہ تمام امت اسلامیہ پر آپ (ص)کی فضیلت نیز قیادت وزعامت ا س اطلاق میں داخل ہے۔
پانچواں محور
آیت کے بارے میں چندسوالات اور ان کے جوابات
آلوسی سے ایک گفتگو:
آلوسی،اپنی تفسیر”روح المعانی(۱) “ میں اس آیہء شریفہ کی تفسیر کے سلسلہ میں کہتاہے:
”اہل بیت پیغمبر (ص)کے آل اللہ ہونے کی فضیلت کے بارے میں اس آیہء شریفہ کی دلالت کسی بھی مومن کے لئے ناقابل انکارہے اوراگرکوئی اس فضیلت کوان سے جداکرنے کی کوشش کرتا ہے تویہ ایک قسم کی ناصبیت وعنادہے اورعناد و ناصبیت ایمان کے نابود کر نے کاسبب ہے۔“
شیعوں کااستدلال
اس کے بعد)آلوسی)آیہء مذکورہ سے رسول خدا (ص)کے بعدعلی علیہ السلام کے بلافصل خلیفہ ہونے کے سلسلہ میں شیعوں کے استدلال کوبیان کرتاہے اوراس روایت سے استنادکرتاہے کہ آیہء کریمہ کے نازل ہونے کے بعد پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم مباہلہکے لئے علی،فاطمہ،اورحسنین علیہم السلام کو اپنے ساتھ لائے،اس کے بعدکہتاہے:
”اس طرح سے”ابناء نا“کا مراد سے حسن وحسین)علیہماالسلام)،”نساء نا“سے مرادفاطمہ(سلام اللہ علیہا)اور”انفسنا“سے مرادعلی(علیہ السلام)ہیں۔جب علی(علیہ السلام)نفس رسول قرار پائیں گے تو اس کا اپنے حقیقی معنی میں استعمال محال ہو گا)کیونکہ
____________________
۱۔روح المعانی،ج۳،ص۱۸۹،داراحیائ التراث العربی
حقیقت میں علی علیہ السلام خودرسول اللہ (ص)نہیں ہوسکتے ہیں) لہذا قھراً اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے مساوی اورمماثل ہیں۔چونکہ پیغمبراسلام (ص)امورمسلمین میں تصرف کرنے کے سلسلہ میں افضل اوراولٰی ہیں،لہذا جو بھی ان کے مماثل ہو گاوہ بھی ایساہی ہوگا۔اس طرح سے پوری امت کے حوالے سے حضرت علی(علیہ السلام)کی افضیلت اورامت پر ان کی سرپرستی اس آیہء شریفہ سے ثابت ہوتی ہے۔“
شیعوں کے استدلال کے سلسلہ میں الوسی کاپہلااعتراض
اس کے بعدآلوسی شیعوں کے استدلال کاجواب دیتے ہوئے کہتاہے:شیعوں کے اس قسم کے استدلال کاجواب یوں دیاجاسکتاہے:
ہم تسلیم نہیں کرتے ہیں کہ ”انفسنا“سے مراد حضرت امیرالمؤمنین (علیہ السلام)ہوں گے،بلکہ نفس سے مرادخودپیغمبر (ص)ہی ہیں اورحضرت امیر (علیہ السلام) ”ابنائنا“میں داخل ہیں کیونکہ دامادکوعرفاًبیٹاکہتے ہیں۔
اس کے بعدشیعوں کے ایک عظیم مفسرشیخ طبرسی کابیان نقل کرتاہے کہ انہوں نے کہاہے کہ”انفسنا“سے مرادخودپیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نہیں ہوسکتے ہیں،کیونکہ انسان کبھی بھی اپنے آپ کونہیں بلاتاہے،اس نے)شیخ کی)اس بات کوہذیان سے نسبت دی ہے؟!
اس اعتراض کاجواب
آلوسی اپنی بات کی ابتداء میں اس چیز کو تسلیم کرتاہے کہ آیہء کریمہ پیغمبر (ص)وکے خاندان کی فضیلت پر دلالت کرتی ہے اور اس فضیلت سے انکار کو ایک طرح کے بغض و عناد سے تعبیر کرتاہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس عظیم فضیلت کوآنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خاندان سے منحرف کرنے کے لئے کس طرح وہ خودکوشش کرتاہے اوراپنے اس عمل سے اس سلسلہ میں بیان کی گئی تمام احادیث کی مخا لفت کرتا ہے اورجس چیز کوابن تیمیہ نے بھی انجام نہیں دیاہے)یعنی”انفسنا“کے علی علیہ السلام پرانطباق سے انکارکرنا)اسے انجام دیتا ہے۔
اگرچہ ہم نے بحث کی ابتداء میں ”انفسنا“کے بارے میں اوریہ کہ اس سے مراد خودپیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نہیں ہوسکتے ہیں،بیان کیاہے،لیکن یہاں پر بھی اشارہ کرتے ہیں کہ اگر”انفسنا“سے مرادخودپیغمبراسلام (ص)ہوں اورعلی علیہ السلام کو”ابناء نا“کے زمرے میں داخل کر لیا جائے تو یہ غلط ہے اور دوسرے یہ کہ خلاف دلیل ہے۔
اس کاغلط ہونااس لحاظ سے ہے کہ آیہء شریفہ میں ”بلانا اپنے“حقیقی معنی میں ہے۔اور جوآلوسی نے بعض استعمالات جیسے”دعتہ نفسہ“کورائج ومرسوم جا ناہے،اس نے اس نکتہ سے غفلت کی ہے کہ اس قسم کے استعمالات مجازی ہیں اوران کے لئے قرینہ کی ضرورت ہوتی ہے اور آیہء مذکورہ میں کوئی ایسا قرینہ موجودنہیں ہے،بلکہ یہاں پر”دعتہ نفسہ“کے معنی اپنے آپ کو مجبوراورمصمم کرناہے نہ اپنے آپ کو بلانااورطلب کرنا۔
اس کے علاوہ”ابنائنا“ کے زمرے میں امیرالمؤمنین(علیہ السلام)کو شامل کر نا صرف اس لئے کہ وہ آنحضرت (ص)کے داماد تھے گویالفظ کو اس کے غیر معنی موضوع لہ میں ہے اور لفظ کواس کے معانی مجازی میں بغیر قرینہ کے حمل کر تاہے۔
اس لئے”ابناء نا“کا حمل حسنین علیہما السلام کے علاوہ کسی اورذات پر درست نہیں ہے اور”انفسنا“کا لفظ حضرت علی علیہ السلام کے علاوہ کسی اورپر منطتبق نہیں ہو تاہے۔
اگرکہاجائے کہ:کونسامرجح ہے کہ لفظ ”ندع“کا استعمال اس کے حقیقی معنی میں ہو اور”انفسنا“کااستعمال حضرت علی علیہ السلام پر مجازی ہو؟بلکہ ممکن ہے کہا جائے”انفسنا“خودانسان اوراس کی ذات پراطلاق ہو جوحقیقی معنی ہے اور”ندع“کے معنی میں تصرف کر کے ”نحضر“کے معنی لئے جائیںیعنی اپنے آپ کوحاضرکریں۔
جواب یہ ہے کہ:اگر”ندع“ کا استعمال اپنے حقیقی معنی ہےں ہوتوایک سے زیادہ مجاز در کارنہیں ہے اوروہ ہے”انفسنا“کا حضرت علی علیہ السلام کی ذات پراطلاق ہو نالیکن اگر”ندع“کو اس کے مجاز ی معنی پر حمل کریں تو اس سے دوسرے کا مجاز ہونابھی لازم آتاہے یعنی علی علیہ السلام کا ”ابناء نا“پراطلاق ہونا،جوآنحضرت صلی (ص)کے داماد ہیں اوراس قسم کے مجاز کے لئے کوئی قرینہ موجودنہیں ہے۔
لفظ ”انفسنا“ کے علی علیہ السلام کی ذات پر اطلاق ہونے کا قرینہ ”ندع“ و ”انفسنا“ کے درمیان پائی جا نے والی مغایرت ہے کہ جوعقلاًوعرفاً ظہور رکھتی ہے۔اس فرض میں ”ندع“بھی اپنے معنی میں استعمال ہواہے اور”ابناء نا“بھی اپنے حقیقی معنی میں استعمال ہواہے۔
لیکن یہ کہ آلوسی کی بات دلیل کے خلاف ہے،کیونکہ اتنی سا ری احادیث جونقل کی گئی ہیںوہ سب اس بات پردلالت کرتی تھیں کہ”انفسنا“سے مرادعلی علیہ السلام ہیں اوریہ دعویٰ تواترکے ذریعہ بھی ثابت ہے(۱) لہذاوہ سب احادیث اس قول کے خلاف ہیں۔
شیعوں کے استدلال پرآلوسی کادوسرااعتراض
شیعوں کے استدلال پرآلوسی کادوسراجواب یہ ہے:اگرفرض کریں کہ”انفسنا“کا مقصداق علی(علیہ السلام)ہوں،پھربھی آیہء شریفہ حضرت علی(ع)کی بلافصل خلافت پر دلالت نہیں کرتی ہے۔کیونکہ”انفسنا“ کااطلاق حضرت علی(ع)پراس لحاظ سے ہے کہ نفس کے معنی قربت اورنزدیک ہو نے کے ہیں اوردین و آئین میں شریک ہونے کے معنی میں ہے اوراس لفظ کا اطلاق حضرت علی(ع)کے لئے شاید اس وجہ سے ہوان کا پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ دامادی کارشتہ تھااوردین میں دونوں کا اتحادتھا۔اس کے علاوہ اگرمقصودوہ شخص ہوجوپیغمبراکرم
____________________
۱۔معرفةعلوم الحدیث،ص۵۰،دارالکتب العلمیہ،بیروت
(ص)کے مساوی ہے تو کیامساوی ہونے کامعنی تمام صفات میں ہے یابعض صفات میں ؟اگر تمام صفات میں مساوی ہونامقصود ہے تواس کالازمہ یہ ہوگاکہ علی(علیہ السلام)پیغمبر (ص)کی نبوت اورخاتمیت اورتمام امت پرآپکی بعثت میں شریک ہیں اوراس قسم کامساوی ہونامتفقہ طورپرباطل ہے۔اوراگرمساوی ہونے کامقصدبعض صفات میں ہے یہ شیعوں کی افضلیت وبلا فصل امامت کے مسئلہ پردلالت نہیں کرتاہے۔
اس اعتراض کا جواب
آلوسی کے اس اعتراض واستدلال کا جواب دیناچند جہتوں سے ممکن ہے:
سب سے پہلے تو یہ کہ:”نفس کے معنی قربت و نزدیکی“اوردین وآئین میں شریک ہوناکسی قسم کی فضیلت نہیں ہے،جبکہ احادیث سے یہ معلوم ہوتاہے کہ یہ اطلاق حضرت علی علیہ السلام کے لئے ایک بہت بڑی فضیلت ہے اور جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوا ہے ایک حدیث کے مطابق سعدبن ابی وقاص نے معاویہ کے سامنے اسی معنی کوبیان کیااوراسے حضرت علی علیہ السلام کے خلاف سبّ وشتم سے انکار کی دلیل کے طورپر پیش کیاہے۔
دوسرے یہ کہ :نفس کے معنی کا اطلاق دین و آئین میں شریک ہونایارشتہ داری وقرابتداری کے معنی مجازی ہے اوراس کے لئے قرینہ کی ضرورت ہے اوریہاں پرایسا کوئی قرینہ موجودنہیں ہے۔
تیسرے یہ کہ:جب نفس کے معنی کااطلاق اس کے حقیقی معنی میں ممکن نہ ہوتواس سے مرادوہ شخص ہے جوآنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جانشین ہواوریہ جا نشینی اورمساوی ہو نا مطلقاًہے اوراس میں پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمام اوصاف اورعہدے شامل ہیں،صرف نبوت قطعی دلیل کی بناء پراس دائرہ سے خارج ہے۔
چوتھے یہ کہ:اس صورت میں آلوسی کی بعد والی گفتگو کے لئے کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی ہے کہ مساوات تمام صفات میں ہے یا بعض صفات میں ،کیونکہ مساوات تمام صفات میں اس کے اطلاق کی وجہ سے ہے،صرف وہ چیزیں اس میں شامل نہیں ہیں جن کو قطعی دلیلوں کے ذریعہ خارج و مستثنی کیا گیا ہے جیسے نبوت و رسالت ۔لہذا پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی افضیلت اور امت کی سر پرستی نیز اسی طرح کے اور تمام صفات میں حضرت علی علیہ السلام پیغمبر کے شریک نیز ان کے برابر کے جا نشین ہیں ۔
شیعوں کے استدلال پر آلوسی کا تیسرا عتراض
آلوسی کا کہنا ہے:اگریہ آیت حضرت علی(علیہ السلام) کی خلافت پر کسی اعتبار سے دلالت کرتی بھی ہے تواس کا لازمہ یہ ہوگا کہ:حضرت علی(ع)پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانہ میں امام ہوں اوریہ متفقہ طورپر باطل ہے۔ییی
اگر یہ خلافت کسی خاص وقت کے لئے ہے تو سب سے پہلی بات یہ کہ اس قید کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے اور دوسرے یہ کہ اہل سنت بھی اسے قبول کرتے ہیں یعنی حضرت علی(ع)ایک خاص وقت، میں کہ جوان کی خلافت کازمانہ تھا،اس میں وہ اس منصب پرفائزتھے۔
اس اعتراض کاجواب
سب سے پہلی بات یہ کہ :حضرت علی علیہ السلام کی جانشینی آنحضرت صل (ص)کے زمانہ میں ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جو بہت سی احادیث سے ثا بت ہے اورا س کے لئے واضح ترین حدیث،حدیث منزلت ہے جس میں حضرت علی علیہ السلام کو پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم
کی نسبت کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ان کی مثال ایسی ہی تھی جیسے ہارون کی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے، واضح ر ہے کہ حضرت ہارون حضرت موسیٰ علیہ السلام کی زندگی میں ان کے جانشین تھے کیوں کہ قرآن مجید حضرت ہارون علیہ السلام کے بارے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا قول ذکر کرتا ہے کہ آپ نے فرمایا ”اخلفنی فی قومی“(۱) ” تم میری قوم میں میرے جانشین ہو۔“
اس بناء پر جب کبھی پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم حاضر نہیں ہو تے تھے حضرت علی علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانشین ہو تے تھے )چنانچہ جنگ تبوک میں ایساہی تھا)اس مسئلہ کی حدیث منزلت میں مکمل وضاحت کی گئی ہے۔(۲)
دوسرے یہ کہ:حضرت علی علیہ السلام کا نفس پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم قرار دیا جانا جیسا کہ آیہء شریفہ مباہلہ سے یہ مطلب واضح ہے،اوراگر کوئی اجماع واقع ہو جائے کہ آنحضرت کی زندگی میں حضرت علی علیہ السلام آپ کے جانشین نہیں تھے،تویہ اجماع اس اطلاق کوآنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زندگی میں مقید و محدود کرتا ہے۔ نتیجہ کے طور پریہ اطلاق آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رحلت کے وقت اپنی پوری قوت کے ساتھ باقی ہے۔
لہذایہ واضح ہوگیا کہ آلوسی کے تمام اعتراضات بے بنیاد ہیں اورآیہء شریفہ کی دلالت حضرت علی علیہ السلام کی امامت اور بلافصل خلافت پر بلا منا قشہ ہے۔
فخررازی کا اعتراض:
فخررازی نے اس آیہء شریفہ کے ذیل میں محمودبن حسن حصمی(۳) کے استدلال کو ،کہ جو انھوں نے اسے حضرت علی علیہ السلام کی گزشتہ انبیاء علیہم السلام پرافضلیت کے سلسلہ میں پیش کیا ہے،ٰٰنقل کرنے کے بعد)ان کے استدلال کو تفصیل سے ذکر کیا ہے)اپنے اعتراض کو یوں ذکر کیا ہے:
ایک تویہ کہ اس بات پراجماع قائم ہے کہ پیغمبر (ص)غیرپیغمبرسے افضل ہو تا ہے۔
دوسرے: اس بات پر بھی اجماع ہے کہ)علی علیہ السلام)پیغمبرنہیں تھے۔مذکورہ ان
_____________________
۱۔اعراف /۱۴۲
۲۔اس سلسلہ میں مصنف کا پمفلٹ”حدیث غدیر،ثقلین ومنزلت کی روشنی میں امامت“ملاحظ فرمائیں۔
۳۔شیعوں کاایک بڑا عقیدہ شناس عالم جس کا پہلے ذکرآیا ہے۔
دومقدموں کے ذریعہ ثابت ہو جاتا ہے کہ آیہء شریفہ حضرت علی(علیہ السلام)کی گزشتہ انبیاء)علیہم السلام)پرافضلیت کو ثابت نہیں کرتی ہے۔
فخررازی کے اعتراض کا جواب
ہم فخررازی کے جواب میں کہتے ہیں:
پہلی بات یہ کہ ا س پر اجماع ہے کہ ہر ”نبی غیر نبی سے افضل ہے“اس میں عمومیت نہیں ہے کہ جس سے یہ ثابت کریں کہ ،ہر نبی دوسرے تمام افرادپر حتی اپنی امت کے علاوہ دیگر افراد پر بھی فوقیت وبرتری رکھتا ہے بلکہ جو چیز قابل یقین ہے وہ یہ کہ ہر نبی اپنی امت سے افضل ہوتا ہے۔اور اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے یہ کہاجائے:”مرد عورت سے افضل ہے“ ا ور یہ اس میں معنی ہے کہ مردوں کی صنف عورتوں کی صنف سے افضل ہے نہ یہ کہ مردوں میں سے ہرشخص تمام عورتوں پرفضیلت وبر تری رکھتا ہے۔اس بناء پراس میں کوئی منافات نہیں ہے کہ بعض عورتیں ایسی ہیں جو مردوں پر فضیلت رکھتی ہیں۔
دوسرے یہ کہ:مذکورہ مطلب پر اجماع کاواقع ہونا ثابت نہیں ہے،کیونکہ شیعہ علماء نے ہمیشہ اس کی مخالفت کی ہے اوروہ اپنے ائمہ معصو مین) علیہم السلام) کو قطعی دلیل کی بناء پر گزشتہ انبیاء سے برتر جانتے ہیں۔
ابوحیان اندلسی نے تفسیر”البحرالمحیط ۱“ میں شیعوں کے استدلال پرآیت میں نفس سے مراد تمام صفات میں ہم مثل اور مساوی ہو ناہے)فخررازی ۲ کا ایک اور اعتراض نقل
کیا ہے جس میں یہ کہا ہے:
”نفس کے اطلاق میں یہ ضروری نہیں ہے تمام اوصاف میں یکسانیت ویکجہتی
____________________
۱۔البحرالمحیط،ج۲،ص۴۸۱،مؤسسہ التاریخ العربی ،داراحیائ التراث العربی
۲۔اگرابوحیان کارازی سے مقصودوہی فخررازی ہے توان اعتراضات کواس کی دوسری کتابوں سے پیداکرناچاہئے،کیونکہ تفسیرکبیرمیں صرف وہی اعتراضات بیان کئے گئے ہیں جوذکرہوئے۔
ہو،چنانچہ متکلمین نے کہا ہے:” صفات نفس میں یک جہتی اوریک سوئی یہ متکلمین کی ایک اصطلاح ہے،اورعربی لغت میں یکسانیت کابعض صفات پر بھی اطلاق ہوتا ہے۔عرب کہتے ہیں:”ہذامن انفسنا“یعنی:یہ”اپنوں میں سے ہے،یعنی ہمارے قبیلہ میں سے ہے۔“
اس کاجواب یہ ہے کہ تمام صفات یابعض صفات میں یکسا نیت ویکجہتی یہ نہ تو لغوی بحث ہے اور نہ ہی کلامی ،بلکہ یہ بحث اصول فقہ سے مربوط ہے،کیونکہ جب نفس کا اس کے حقیقی معنی میں استعمال نا ممکن ہو تو ا سے اس کے مجازی معنی پر عمل کرنا چاہے اور اس کے حقیقی معنی سے نزدیک ترین معنی کہ جس کو اقرب المجازات سے تعبیرکیا جاتا ہے )کواخذ کر نا چا ہیئے اور”نفس“کے حقیقی معنی میں اقرب المجازات مانندو مثل ہوناہے۔
یہ مانندو مثل ہونامطلق ہے اوراس کی کوئی محدودیت نہیں ہے اوراس اطلاق کاتقاضاہے کہ علی علیہ السلام تمام صفات میں پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے مانندو مثل ہیں،صرف نبوت ورسالت جیسے مسائل قطعی دلائل کی بناپراس مانندو مثل کے دائرے سے خارج ہیں۔اس وضاحت کے پیش نظرتمام اوصاف اورعہدے اس اطلاق میں داخل ہیں لہذامن جملہ تمام انبیاء پرفضیلت اورتمام امت پرسرپرستی کے حوالے سے آپ (علیہ السلام)علی الاطلاق رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ما نندہیں۔
ابن تیمیّہ کا اعتراض
ابن تیمیّہ حضرت علی علیہ السلام کی امامت پرعلامہ حلی کے استدلال کوآیہء مباہلہ سے بیان کرتے ہوئے کہتاہے:
”یہ کہ پیغمبراکرم (ص)مباہلہ کے لئے علی،فاطمہ اورحسن وحسین )علیہم
السلام)کو اپنے ساتھ لے گئے یہ صحیح حدیث میں ایاہے(۱) ،لیکن یہ علی(علیہ السلام)کی امامت اور ان کی افضلیت پردلالت نہیں کر تاہے،کیونکہ یہ دلالت اسی صورت میں ہوسکتی ہے جب آیہء شریفہ علی(علیہ السلام)کے پیغمبر (ص)کے مساوی ہونے پردلالت کرے حالانکہ آیت میں ایسی کوئی دلالت نہیں ہے کیونکہ کوئی بھی شخص پیغمبر (ص)کے مساوی نہیں ہے،نہ علی(علیہ السلام)اورنہ ان کے علاوہ کوئی اور۔
دوسرے یہ کہ”انفسنا“کالفظ عربی لغت میں مساوات کا معنی میں نہیں ایاہے(۲) اورصرف ہم جنس اور مشابہت پردلالت کرتاہے۔اس سلسلہ میں بعض امور مشابہت،جیسے ایمان یادین میں اشتراک کافی ہے اوراگرنسب میں بھی اشتراک ہوتواور اچھا ہے۔ اس بناپرآیہ شریفہ ۔۔۔( اٴنفسنا واٴنفسکم ) ۔۔۔ میں ”انفسنا“ سے مرادوہ لوگ ہیں جودین اورنسب میں دوسروں سے زیادہ نزدیک ہوں۔اس لحاظ سے آنحضرت (ص)۔ بیٹوں میں سے حسن وحسین)علیہما السلام)اور عورتوں میں سے فاطمہ زہرا(سلام اللہ علیہا)اورمردوں میں سے علی)علیہ ا لسلام)کواپنے ساتھ لے گئے اورآنحضرت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے لئے ان سے زیادہ نزدیک ترکوئی نہیں تھا۔دوسرے یہ کہ مباہلہ اقرباء سے انجام پاتاہے نہ ان افرادسے جوانسان سے دورہوں،اگرچہ یہ دوروالے افرادخداکے نزدیک افضل وبرترہوں۔
____________________
۱۔ابن تیمیہ نے قبول کیا ہے کہ آیہء شریفہ میں ”انفسنا“مذکورہ حدیث کے پیش نظر علی علیہ السلام پرانطباق کرتاہے
۲۔ابن تیمیہ نے اپنی بات کے ثبوت میں قرآن مجیدکی پانچ آیتوں کوبیان کیاہے،من جملہ ان میں یہ آیتیں ہیں:
الف۔( و لولا إذسمعتموه ظن المؤمنون والمؤمنات باٴنفسهم خیراً ) نور/۱۲”آخرایساکیوں نہ ہواکہ جب تم لوگوں نے اس تہمت کوسناتومومن ومومنات اپنے بارے میں خیرکاگمان کرتے“مقصودیہ ہے کہ کیوں ان میں سے بعض لوگ بعض دوسروں پراچھاگمان نہیں رکھتے ہیں۔
ب۔( ولا تلمزوا اٴنفسکم ) حجرات/۱۱ ”آپس میں ایک دوسرے کوطعنے بھی نہیں دینا“
ابن تیمیہ کہ جس نے رشتہ کے لحاظ سے نزدیک ہونے کا ذکرکیاہے اوردوسری طر ف پیغمبر (ص)کے چچاحضرت عباس کہ جورشتہ داری کے لحاظ سے حضرت علی علیہ السلام کی بہ نسبت زیادہ قریب تھے اورزندہ تھے۔ کے بارے میں کہتاہے:
”عباس اگرچہ زندہ تھے،لیکن سابقین اولین)دعوت اسلام کو پہلے قبول کر نے والے) میں ان کا شمارنہیں تھااورپیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے چچیرے بھائیوں میں بھی کوئی شخص علی(علیہ السلام)سے زیادہ آپ سے نزدیک نہیں تھا۔اس بنا پرمباہلہ کے لئے علی(علیہ السلام)کی جگہ پرُ کر نے والاپیغمبر (ص)کے خاندان میں کوئی ایسا نہیں تھا کہ جس کو آپ انتخاب کرتے یہ مطلب کسی بھی جہت سے علی(علیہ السلام)کے آنحضرت (ص)سے مساوی ہونے پردلالت نہیں کرتاہے۔“
ابن تیمیّہ کے اعتراض کا جواب
ابن تیمیہ کاجواب چندنکتوں میں دیاجاسکتاہے:
۱ ۔ اس کا کہناہے:”پیغمبر (ص)کے مساوی ومانند کوئی نہیں ہوسکتا ہے“۔اگرمساوی ہونے کا مفہوم و مقصدتمام صفات،من جملہ نبوت و رسالت میں ہے تویہ صحیح ہے۔لیکن جیسا کہ بیان ہوا مساوی ہونے کا اطلاق پیغمبر (ص)کی ختم نبوت پر قطعی دلیلوں کی وجہ سے مقید ہے اوراس کے علاوہ دوسرے تمام امورمیں پیغمبر کے مانند و مساوی ہونا مکمل طورپراپنی جگہ باقی ہے اوراس کے اطلاق کو ثابت کرتا ہے دوسری طرف سے اس کی یہ بات کہ”انفسنا“کا لفظ عربی لغت میں مساوات کے معنی کا اقتضاء نہیں کر تا ہے“صحیح نہیں ہے اگرچہ اس نے قرآن مجید کی چند ایسی آیتوں کو بھی شاہد کے طورپر ذکرکیا ہے جن میں ”اٴنفسهم یااٴنفسکم “کا لفظ استعمال ہوا ہے،حتی کہ ان آیتوں میں بھی مساوی مراد ہے۔مثلاًلفظ”ولاتلمزوا اٴنفسکم “یعنی”اپنی عیب جوئی نہ کرو“جب لفظ”انفس“کا اطلاق دوسرے افرادپرہوتاہے،تومعنی نہیںرکھتاہے وہ حقیقت میں خودعین انسان ہوں۔ناچاران کے مساوی اورمشابہ ہونے کامقصد مختلف جہتوں میں سے کسی ایک جہت میں ہے اور معلوم ہے کہ وہ جہت اس طرح کے استعمالات میں کسی ایمانی مجموعہء یاقبیلہ کے مجموعہ کا ایک جزو ہے۔
اس بناء پران اطلاقات میں بھی مساوی ہونے کالحاظ ہوا ہے ،لیکن اس میں قرینہ موجودہے کہ یہ مساوی ایک خاص امر میں ہے اوریہ اس سے منافات نہیں رکھتاہے اور اگر کسی جگہ پرقرینہ نہیں ہے تومساوی ہونے کا قصد مطلق ہے،بغیراس کے کہ کوئی دلیل اسے خارج کرے۔
۲ ۔ابن تیمیہ نے قرابت یا رشتہ داری کو نسب سے مر تبط جانا ہے،یہ بات دودلیلوں سے صحیح نہیں ہے:
سب سے پہلے بات تو یہ، مطلب آیہء شریفہ ”نسائنا ونسا ئکم“سے سازگار نہیں ہے،کیونکہ ”نسائنا“کا عنوان نسبی رشتہ سے کوئی ربطہ نہیں رکھتا ہے۔البتہ یہ منافی نہیں ہے کہ حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دختر گرامی تھیں اورآپ سے نسبی قرابت رکھتی تھیں،کیونکہ واضح ہے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ”بنا تنا“ ”ہماری“ بٹیاں)جو نسبی قرابت کی دلیل ہے)کے ذریعہ تعبیر نہیں کیا گیا ہے،بلکہ ”نساء نا“کی تعبیر آئی ہے،اس لحاظ سے چونکہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا اس خاندان کی عورتوں میں سے ہیں اس لئے اس مجموعہ میں شامل ہیں۔اس کے علاوہ کوئی اور عورت کہ جو اس لائق ہوکہ مباہلہ میں شریک ہو سکے وجود نہیں رکھتی تھی ۔(۱)
دوسرے یہ کہ اگرمعیارقرابت نسبی اور رشتہ داری ہے توآنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے چچاحضرت عباس(ع)اس جہت سے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم سے زیادہ نزدیک تھے لیکن اس زمرے میں انھیں شریک نہیں کیاگیاہے!
____________________
۱۔جیساکہ پہلے بیان کیاگیاہے۔
اس لحاظ سے قرابت،یعنی نزدیک ہونے سے مرادپیغمبراکرم (ص)سے معنوی قرابت ہے۔جس کاابن تیمیّہ نے مجبورہوکراعتراف کیاہے اورکہتاہے:
”علی(علیہ السلام)سابقین اوراولین میں سے تھے،اس لحاظ سے دوسروں کی نسبت آنحضرت (ص)سے زیادہ نزدیک تھے۔“
احادیث کی روسے مباہلہ میں شامل ہو نے والے افرادپیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے خاص رشتہ دارتھے کہ حدیث میں انھیں اہل بیت رسول علیہم السلام سے تعبیرکیاگیاہے۔
ان میں سے ہرایک اہل بیت پیغمبر)علیہم السلام)ہونے کے علاوہ ایک خاص عنوان کا مالک ہے،یعنی ان میں سے بعض”ابنائنا“کے عنوان میں شامل ہیں اوربعض”نسائنا“کے عنوان میں شامل ہیں اوربعض دوسرے”انفسنا“کے عنوان میں شامل ہیں۔
مذکورہ وضاحت کے پیش نظریہ واضح ہوگیاکہ”انفسنا“کے اطلاق سے نسبی رشتہ داری کا تبادر وانصراف نہیں ہوتاہے اورعلی علیہ السلام کاپیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے مانندومساوی ہو ناتمام صفات،خصوصیات اورعہدوں سے متعلق ہے،مگریہ کہ کوئی چیزدلیل کی بنیادپراس سے خارج ہوئی ہو۔
اہل بیت علیہم السلام کے مباہلہ میں حاضر ہو نے کامقصدواضح ہوگیاکہ مباہلہ میں شریک ہونے والے افرادکی دعارسول خد اصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دعاکے برابرتھی اوران افراد کی دعاؤں کا بھی وہی اثرتھاجوآنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دعاکاتھااوریہ اس مقدس خاندان کے لئے ایک بلندوبرترمرتبہ ومقام ہے۔
تیسراباب:
امامت،آیہ اولی الامر کی روشنی میں
( یا اٴیّها الّذین آمنوا اٴطیعوا اللَّه و اٴطیعوا الرسول واولی الاٴمر منکم فإن تنازعتم فی شیءٍ فردوه إلی اللّٰه و الرّسول إن کنتم تؤمنون با اللّٰه و الیوم الاٴخر، ذلک خیر و اٴحسن تاٴویلاً ) (نساء/۵۹)
”اے صاحبان ایمان!اللہ کی اطاعت کرورسول اوراولوالامرکی اطاعت کرو جوتمھیں میں سے ہیں پھراگرآپس میں کسی بات میں اختلاف ہوجائے تواسے خدااوررسول کی طرف پلٹادواگرتم اللہ اورروزآخرت پرایمان رکھنے والے ہو۔یہی تمھارے حق میں خیراورانجام کے اعتبارسے بہترین بات ہے۔“
خداوندمتعال نے اس آیہ شریفہ میں مومنین سے خطاب کیاہے اورانھیں اپنی اطاعت، پیغمبراسلام (ص)کی اطاعت اوراولی الامر کی اطاعت کرنے کاحکم فرمایاہے۔
یہ بات واضح ہے کہ پہلے مرحلہ میں خداوندمتعال کی اطاعت،ان احکام کے بارے میں ہے کہ جوخداوندمتعال نے انھیں قرآن مجیدمیں نازل فرمایاہے اورپیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان احکام کولوگوں تک پہنچایاہے،جیسے کہ یہ حکم:( اٴقیمواالصلوٰ ةوآتواالزکوٰة ) پیغمبر (ص)کے فرامین کی اطاعت دو حیثیت سے ممکن ہے :
۱ ۔وہ فرمان جوسنّت کے عنوان سے آنحضرت)ص)کے ذریعہ ہم تک پہنچے ہیں:
یہ اوامراگرچہ احکام الٰہی ہیں جو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم پر بصورت وحی نازل ہوئے ہیں اورآنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے انھیں لوگوں کے لئے بیان فرمایاہے،لیکن جن مواقع پریہ اوامر”امرکم بکذااوانّہاکم من ہذا“)میں تم کو اس امرکا حکم دیتا ہوںیااس چیزسے منع کرتاہوں)کی تعبیرکے ساتھ ہوں)کہ فقہ کے باب میں اس طرح کی تعبیریں بہت ہیں )ان اوامراورنواہی کوخودآنحضرت (ص)کے اوامر ونواحی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے نتیجہ کے طور پر ان کی اطا عت آنحضرت کی اطاعت ہوگی،چونکہ مذکورہ احکام خداکی طرف سے ہیں،اس لئے ان احکام پرعمل کرنا بھی خداکی اطاعت ہوگی۔
۲ ۔وہ فرمان،جوآنحضرت)ص)نے مسلمانوں کے لئے ولی اورحاکم کی حیثیت سے جاری کئے ہیں۔
یہ وہ احکام ہیں جوتبلیغ الہی کا عنوان نہیںرکھتے ہیں بلکہ انھیں انحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس لحاظ سے جاری فرمایاہے کہ آپ مسلمانوں کے ولی،سرپرست اورحاکم تھے،جیسے جنگ وصلح نیزحکومت اسلامی کوادارہ کرنے اورامت کی سیاست کے سلسلہ میں جاری کئے جا نے والے فرامین۔
آیہء شریفہ میں( واٴطیعواالرّسول ) کاجملہ مذکورہ دونوں قسم کے فرمانوں پرمشتمل ہے۔
تمام اوامرونواہی میں پیغمبر(ص)کی عصمت
پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی عصمت کوثابت کرنے کے بارے میں علم کلام میں بیان شدہ قطعی دلائل کے پیش نظر،آنحضرت (ص)ہر شی کا حکم دینے یا کسی چیز سے منع کرنے کے سلسلہ میں بھی معصوم ہیں۔آپ(ع)نہ صرف معصیت وگناہ کا حکم نہیں دیتے ہیں،بلکہ آنحضرت (ص)،امرونہی میں بھی خطا کر نے سے محفوظ ہیں۔
ہم اس آیہء شریفہ میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اطاعت مطلق اورکسی قیدوشرط کے بغیربیان ہوئی ہے۔ اگرآنحضرت (ص)کے امرونہی کرنے کے سلسلہ میں کوئی خطاممکن ہوتی یااس قسم کااحتمال ہوتا تو آیہء شریفہ میں انحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اطاعت کا حکم قید و شرط کے ساتھ ہوتا اورخاص مواقع سے مربوط ہوتا۔
ماں باپ کی اطاعت جیسے مسائل میں ،کہ جس کی اہمیت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اطاعت سے بہت کم ہے،لیکن جب خدائے متعال والدین سے نیکی کرنے کاحکم بیان کرتا ہے، تو فرماتا ہے:
( و وصّینا الاٴنسان بوالدیه حسناً و إن جاهدک لتشرک بی مالیسلک به علم فلا تطعهما ) (عنکبوت/۸)
”اورہم نے انسان کوماں باپ کے ساتھ نیکی کا برتاؤکرنے کی وصیت کی ہے اوربتایا ہے کہ اگروہ تم کومیراشریک قرار دینے پرمجبورکریں کہ جس کہ کاتمھیں علم نہیں ہے توخبرداران کی اطاعت نہ کرنا۔“
جب احتمال ہوکہ والدین شرک کی طرف ہدایت کریں توشرک میں ان کی اطاعت کرنے سے منع فرماتاہے،لیکن آیہء کریمہ( اُولیّ الاٴمر ) میں پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اطاعت کوکسی قیدوشرط سے محدودنہیں کیاہے۔
پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اطاعت کوکسی قیدوشرط کے بغیرتائیدوتاکیدکرنے کے سلسلہ میں ایک اورنکتہ یہ ہے کہ قرآن مجیدکی متعددآیات میں انحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اطاعت خداوندمتعال کی اطاعت کے ساتھ اورلفظ”اطیعوا“کی تکرارکے بغیرذکرہوئی ہے۔آیہء شریفہ( واٴطیعوااللّٰه والرّسول لعلّکم ترحمون ) یعنی”خدااوررسول کی اطاعت کروتاکہ موردرحمت قرارپاؤ “مذکورہ میں صرف ایک لفظ”اطیعوا“کاخدااورپیغمبردونوں کے لئے استعمال ہونا اس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اطاعت کا واجب ہوناخداکی اطاعت کے واجب ہونے کے مانندہے۔اس بناء پرپیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے امرپراطاعت کرناقطعی طورپراطلاق رکھتا ہے اورناقابل شک وشبہ ہے۔
اُولوالاامرکی اطاعت
ائمہ علیہم السلام کی امامت و عصمت کے سلسلہ میں آیةمذکورہ سے استفادہ کر نے کے لئے مندرجہ چندابعادپرتوجہ کرناضروری ہے:
ا۔اولوالامرکامفہوم
۲ ۔اولوالامرکامصداق
۳ ۔اولوالامراو رحدیث ”منزلت“حدیث”اطاعت“اورحدیث”ثقلین“
۴ ۔شیعہ اورسنی منابع میں اولوالامرکے بارے میں چنداحادیث
اولوالامرکامفہوم
اولو الامر کا عنوان ایک مرکب مفہوم پرمشتمل ہے۔اس جہت سے پہلے لفظ”اولوا“ اور پھر لفظ ”الامر“پرتوجہ کرنی چاہئے:
اصطلاح”اولوا“صاحب اور مالک کے معنی میں ہے اورلفظ”امر“دومعنی میں ایاہے: ایک ”فرمان“ کے معنی میں دوسرا”شان اورکام“کے معنی میں ۔”شان وکام“کامعنی زیادہ واضح اور روشن ہے،کیونکہ اسی سورئہ نساء کی ایک دوسری آیت میں لفظ”اولی الامر“بیان ہواہے:
( و إذجاء هم اٴمر من الاٴمن اٴو الخوف اٴذاعوا به و لوردّوه إلی الرّسول و إلی اٴولی الاٴمر منهم لعلمه الذین یستنبطونه منهم ) ۔۔(نساء/۸۳)
”اورجب ان کے پاس امن یاخوف کی خبرآتی ہے توفوراًنشرکردیتے ہیں حالانکہ اگررسولاورصاحبان امرکی طرف پلٹادیتے توان میں ایسے افراد تھے کہ جوحقیقت حال کاعلم پیداکرلیتے-“
اس آیہء شریفہ میں دوسرامعنی مقصودہے،یعنی جولوگ زندگی کے اموراوراس کے مختلف حالتوں میں صاحب اختیارہیں،اس آیت کے قرینہ کی وجہ سے”اولی الامر“کالفظ مورد بحث آیت میں بھی واضح ہوجاتاہے۔
مورد نظرآیت میں اولوالامرکے مفہوم کے پیش نظر ہم اس نکتہ تک پہنچ جاتے ہیں کہ”اولوالامر“کا لفظ صرف ان لوگوں کو شامل ہے جو در حقیقت فطری طورپرامورکی سرپرستی اورصاحب اختیارہونے کے لائق ہیں اورچونکہ خداوندمتعال ذاتی طورپرصاحب اختیارہے اورتمام امورمیں سرپرستی کااختیاررکھتاہے،اس لئے اس نے یہ سرپرستی انھیں عطاکی ہے ۔خواہ اگربظاہرانھیں اس عہدے سے محروم کر دیاگیا ہو،نہ ان لوگوں کوجوزوروزبردستی اورناحق طریقہ سے مسلط ہوکرلوگوں کے حکمران بن گئے ہیں۔اس لئے کہ صا حب خانہ وہ ہے جوحقیقت میں اس کامالک ہو چا ہے وہ غصب کر لیا گیا ہو،نہ کہ وہ شخص جس نے زورو زبر دستی یامکروفریب سے اس گھرپرقبضہ کر لیا ہے۔
اولوالامرکا مصداق
اولوالامرکے مصادیق کے بارے میں مفسرین نے بہت سے اقوال پیش کئے ہیں۔اس سلسلہ میں جونظریات ہمیں دستیاب ہوئے ہیںوہ حسب ذیل ہیں:
۱ ۔امراء
۲ ۔اصحاب پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم
۳ ۔مہاجرین وانصار
۴ ۔اصحاب اورتابعین
۵ ۔چاروخلفاء
۶ ۔ابوبکروعمر
۷ ۔علماء
۸ ۔جنگ کے کمانڈر
۹ ۔ائمہء معصومین)علیہم السلام)
۱۰ ۔علی(علیہ السلام)
۱۱ ۔وہ لوگ جوشرعی لحاظ سے ایک قسم کی ولایت اورسرپرستی رکھتے ہیں۔
۱۲ ۔اہل حل وعقد
۱۳ ۔امرائے حق(۱)
ان اقوال پرتحقیق اورتنقیدکرنے سے پہلے ہم خودآیہء کریمہ میں موجودنکات اورقرائن پرغورکرتے ہیں:
آیت میں اولوالامرکامرتبہ
بحث کے اس مرحلہ میں ایہء شریفہ میں اولوالامرکی اطاعت کرنے کی کیفیت قابل توجہ ہے:
پہلانکتہ: اولوالامرکی اطاعت میں اطلاق آیہء شریفہ میں اولوالامرکی اطاعت مطلق طور پرذکرہوئی ہے اوراس کے لئے کسی قسم کی قیدوشرط بیان نہیں ہوئی ہے،جیساکہ رسول اکرم صلصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اطاعت میں اس بات کی تشریح کی گئی۔
یہ اطلاق اثبات کرتاہے کہ اولوالامرمطلق اطاعت کے حامل و سزاوارہیں اوران کی اطاعت خاص دستور،مخصوص حکم یا کسی خاص شرائط کے تحت محدودنہیں ہے،بلکہ ان کے تمام اوامرونواہی واجب الاطاعت ہیں۔
____________________
۱۔تفسیرالبحرالمحیط،ج۳،ص۲۷۸،التفسیرالکبیر
دوسرانکتہ:اولوالامرکی اطاعت،خدااوررسولکی اطاعت کے سیاق میں یعنی ان تین مقامات کی اطاعت میں کوئی قیدوشرط نہیں ہے اوریہ سیاق مذکورہ اطلاق کی تاکیدکرتاہے۔
تیسرانکتہ:اولوالامرمیں ”اطیعوا“کاتکرارنہ ہونا۔گزشتہ نکات سے اہم تراس نکتہ کامقصدیہ ہے کہ خدا ورسولکی اطاعت کے لئے آیہء شریفہ میں ہرایک کے لئے الگ سے ایک”اطیعوا“لایاگیاہے اور فرمایاہے: ۔۔۔( اٴطیعواللّٰه واٴطیعواالرّسول ) لیکناولوالامرکی اطاعت کے لئے”اطیعوا“کے لفظ کی تکرارنہیں ہوئی ہے بلکہاولی الامر”الرسول“پرعطف ہے،اس بناپروہی”اطیعوا“جورسول کے لئے آیا ہے وہ اولی الامرسے بھی متعلق ہے۔
اس عطف سے معلوم ہوتاہے کہ”اولوالامر“اور”رسول“کے لئے اطاعت کے حوالے سے دوالگ الگ واجب نہیں ہیں بلکہ وجوب اطاعت اولوالامر وہی ہے جو وجوب اطاعت رسولہے یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اولوالامر کی اطاعت تمام امر ونہی میں رسول اکرم (ص)کی اطاعت کے مانندہے اوراس کانتیجہ گناہ وخطاسے اولوالامرکی عصمت،تمام اوامرونواہی میں رسول کے مانندہے۔
اس برہان کی مزیدوضاحت کے لئے کہاجاسکتاہے:آیہء شریفہ میں رسول اکرم صلصلىاللهعليهوآلهوسلم اوراولوالامرکی اطاعت کے لئے ایک”اطیعوا“سے زیادہ استعمال نہیں ہوا ہے اوریہ”اطیعوا“ایک ہی وقت میں مطلق بھی ہواورمقیّدبھی یہ نہیں ہوسکتاہے یعنی یہ نہیں کہا جاسکتاہے کہ یہ”اطیعوا“رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بارے میں مطلق ہے اوراولوالامرکے بارے میں مقیّدہے،کیونکہ اطلاق اور قیدقابل جمع نہیں ہیں۔اگر”اطیعوا“پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بارے میں مطلق ہے اورکسی قسم کی قیدنہیں رکھتا ہے،)مثلاًاس سے مقیّدنہیں ہے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کا امرونہی گناہ یا اشتباہ کی وجہ سے نہ ہو)تواولوالامر کی اطاعت بھی مطلق اوربلا قید ہو نی چاہئے ورنہ نقیضین کاجمع ہونا لازم ہوگا۔
ان نکات کے پیش نظریہ واضح ہوگیاکہ آیہء کریمہ اس امر پر دلالت کر تی ہے کہ اس آیت میں ”اولوالامر“پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے مانند معصوم ہیں۔
یہ مطلب کہ”اولوالامر کی اطاعت“آیہء کریمہ میں مذکورہ خصوصیات کے پیش نظر،اولوالامر کی عصمت پر دلالت ہے،بعض اہل سنّت(۱) مفسرین،من جملہ فخررازی کی توجہ کا سبب بنا ہے۔اس لحاظ سے یہاں پران کے بیان کاخلاصہ جواس مطلب پر قطعی استدلال ہے کی طرف اشارہ کرنا مناسب ہے:
آیہء اولوالامر کے بارے میں فخررازی کا قول
فخررازی نے بھی”اولوالامر“کی عصمت کو آیہء شریفہ سے استفادہ کیا ہے ان کے بیان کا خلاصہ حسب ذیل ہے:
”خداوند متعال نے آیہء کریمہ میں ”اولوالامر“ کی اطاعت کو قطعی طورپرضروری جانا ہے،اورجس کسی کے لئے اس قسم کی اطاعت واجب ہواس کاخطاواشتباہ سے معصوم ہو ناناگزیر ہے،کیونکہ اگر وہ خطاواشتباہ سے معصوم نہ ہو اور بالفرض وہ خطا کا مر تکب ہو جائے تو ،اس آیت کے مطابق اس کی اطاعت کرنی ہوگی!اوریہ ایک امر خطا واشتباہ کی اطاعت ہوگی،جبکہ خطااوراشتباہ کی نہی کی جاتی ہے لہذا انہیں چاہے کر اس کے امر کی پیروی کیجائے، کیونکہ اس قسم کے فرض کا نتیجہ فعل واحد میں امرونہی کا جمع ہو نا ہے )جو محال ہے)(۲) ۔
فخررازی اولوالامرکی عصمت کوآیہء سے استدلال کرنے کے بعد،یہ مشخص کرنے کے لئے کہ اولوالامر سے مراد کون لوگ ہیں کہ جن کامعصوم ہونا ضروری ہے کہتا ہے:
____________________
۱۔غرائب القرآن،نیشا بوری،ج۲،ص۴۳۴،دارالکتب العلمیة بیروت،تفسیرالمنار،شیخ محمدعبدہ ورشیدرضا،ج۵،ص۱۸۱دارالمعرفةبیروت
۲۔التفسیرالکبیر،آیت کے ذیل میں
” اولوالامر سے مرادشیعہ امامیہ کے ائمہ معصو مین علیھم السلام(ع)نہیں ہو سکتے
ہیں،بلکہ اس سے مراداہل حل وعقد)جن کے ذمہ معاشرہ کے اہم مسائل کے حل کرنے کی ذمہ داری ہے)کہ جواپنے حکم اورفیصلے میں معصوم ہوتے ہیں اوران کے فیصلے سوفیصد صحیح اورمطابق واقع ہوتے ہیں“۔
فخررازی کاجواب
یہ بات کہ اولوالامر سے مراد اہل حل وعقد ہیں اور وہ اپنے حکم اور فیصلہ میں معصوم ہیں،مندرجہ ذیل دلائل کے پیش نظر صحیح نہیں ہے:
۱ ۔آیہء کریمہ میں ”اولوالامر“کا لفظ جمع ا ور عام ہے کہ جو عمو میت و استغراق پر دلالت کر تا ہے۔اگر اس سے مراد اہل حل وعقد ہوں گے تو اس کی دلالت ایک مجموعی واحد پر ہو گی اور یہ خلاف ظاہر ہے۔
وضاحت یہ ہے کہ آیہء کریمہ کاظاہریہ بتاتاہے کہ ایسے صاحبان امرکی اطاعت لازم ہے جن میں سے ہر کوئی، واجب الاطاعت ہو ،نہ یہ کہ وہ تمام افراد ) ایک مشترک فیصلہ کی بنیاد پر)ایک حکم رکھتے ہوں اور اس حکم کی اطا عت کر نا واجب ہو ۔
۲ ۔عصمت،ایک تحفظ الہٰی ہے،ایک ملکہ نفسانی اورحقیقی صفت ہے اوراس کے لئے ایک حقیقی موصوف کاہوناضرودری ہے اوریہ لازمی طور پرایک امرواقعی پر قائم ہو نا چاہئے جبکہ اہل حل وعقدایک مجموعی واحدہے اورمجموعی واحد ایک امراعتباری ہو تا ہے اورامر واقعی کا امراعتباری پر قائم ہونا محال ہے۔
۳ ۔مسلمانوں کے درمیان اس بات پر اتفاق نظر ہے کہ شیعوں کے ائمہ اورانبیاء کے علاوہ کوئی معصوم نہیں ہے۔
ائمہء معصومین )ع )کی امامت پر فخررازی کے اعتراضات
اس کے بعد فخررازی نے شیعہ امامیہ کے عقیدہ، یعنی”اولوالامر“سے مرادبارہ ائمہ معصومین ہیں،کے بارے میں چنداعتراضات کئے ہیں:
پہلا اعتراض:ائمہء معصومین )علیہم السلام) کی ا طاعت کا واجب ہونا یا مطلقاً ہے یعنی اس میں ان کی معرفت وشناخت نیزان تک رسائی کی شرط نہیں ہے،تو اس صورت میں تکلیف مالایطاق کا ہو نا لازم آتا ہے،کیونکہ اس فرض کی بنیاد پر اگر ہم انھیں نہ پہچان سکیں اوران تک ہماری رسائی نہ ہو سکے،تو ہم کیسے ان کی اطاعت کریں گے؟یا ان کی شناخت اور معرفت کی شرط ہے،اگر ایسا ہے تویہ بھی صحیح نہیں ہے ،کیونکہ اس بات کا لازمہ ان کی اطاعت کا واجب ہونامشروط ہوگا،جبکہ آیہء شریفہ میں ان کی اطاعت کا واجب ہو نا مطلقاً ہے اوراس کے لئے کسی قسم کی قیدوشرط نہیں ہے ۔
جواب:ائمہء معصومین کی اطاعت کے واجب ہونے میں ان کی معرفت شرط نہیں ہے تاکہ اگرکوئی انھیں نہ پہچانے تواس پران کی اطاعت واجب نہ ہو،بلکہ ان کی اطاعت بذات خودمشروط ہے۔نتیجہ کے طور پر انھیں پہچاننا ضروری ہے تاکہ ان کی اطاعت کی جاسکے اوران دونوں کے درمیان کافی فرق ہے۔
مزیدوضاحت:بعض اوقات شرط، شرط وجوب ہے اور بعض اوقات شرط،شرط واجب ہے۔مثلاً وجوب حج کے لئے استطاعت کی شرط ہے اورخوداستطاعت وجوب حج کی شرط ہے۔اس بناء پر اگر استطاعت نہ ہو توحج واجب نہیں ہو گا۔لیکن نمازمیں طہارت شرط واجب ہے،یعنی نماز جو واجب ہے اس کے لئے طہارت شرط ہے۔اس بناء پر اگرکسی نے طہارت نہیں کی ہے تووہ نماز نہیں پڑھ سکتا ہے،وہ گناہ کا مرتکب ہوگا،کیونکہ اس پر واجب تھاکہ طہارت کرے تاکہ نماز پڑھے۔لیکن حج کے مسئلہ میں ،اگراستطاعت نہیںرکھتا ہے تواس پر حج واجب نہیں ہے اور وہ کسی گناہ کا مرتکب نہیں ہوا ہے۔
اس سلسلہ میں بھی پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اورامام(ع)دونوں کی اطاعت کے لئے ان کی معرفت کی شرط ہے۔اس لحاظ سے ان کی معرفت حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ ان کی اطاعت کی جاسکے۔پس ان کی اطاعت کاوجوب مطلقاًہے،لیکن خوداطاعت مشروط ہے۔
خدائے متعال نے بھی قطعی دلالت سے اس معرفت کے مقدمات فراہم کئے ہیں۔جس طرح پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم قطعی دلائل کی بناپرپہنچانے جاتے ہیں،اسی طرح ائمہ معصومین علیہم السلام کو بھی جوآپکے جانشین ہیں قطعی اورواضح دلائل کی بناپر جیسا کہ شیعوں کے کلام اورحدیث کی کتابوں میں مفصل طورپرآیاہے اوران کے بارے میں معرفت اورآگاہی حاصل کرناضروری ہے۔
دوسرااعتراض:شیعہ امامیہ کے عقیدہ کے مطابق ہرزمانہ میں ایک امام سے زیادہ نہیں ہوتا ہے،جبکہ”اولوالامر“جمع ہے اورمتعدداماموں کی اطاعت کوواجب قراردیتاہے۔
جواب:اگرچہ ہرزمانے میں ایک امام سے زیادہ نہیں ہوتاہے،لیکن ائمہ کی اطاعت مختلف ومتعددزمانوں کے لحاظ سے ہے،اوریہ ہرزمانہ میں ایک امام کی اطاعت کے واجب ہونے کے منافی نہیں ہے۔نتیجہ کے طورپرمختلف زمانوں میں مومنین پرواجب ہے کہ جس آئمہ معصوم کی طرف سے حکم ان تک پہنچے،اس کی اطاعت کریں۔
تیسرااعتراض:اگرآیہء شریفہ میں ”اولوالامر“سے مراد آئمہ معصومین ہیں توآیہ شریفہ کے ذیل میں جوحکم دیاگیاہے کہ اختلافی مسائل کے سلسلہ میں خدائے متعال اوررسول (ص)کی طرف رجوع کریں،اس میں ائمہ معصومین(ع)کی طرف لوٹنے کا بھی ذکرہوناچاہئے تھا جبکہ آیت میں یوں کہاگیاہے:( فإن تنازعتم فی شیءٍ فردّوه إلی اللّٰه والرّسول ) ”پھراگرآپس میں کسی بات میں اختلاف ہوجائے تواسے خدااور رسولکی طرف ارجاع دو۔“جبکہ یہاں پر”اولوالامر“ذکرنہیں ہواہے۔
جواب:چونکہ ائمہ معصومین علیہم السلام اختلافات کو حل کرنے اوراختلافی مسائل کے بارے میں حکم دینے میں قرآن مجیداورسنّت (ص)کے مطابق عمل کرتے ہیں اورکتاب وسنّت کے بارے میں مکمل علم وآگاہی رکھتے ہیں،اس لئے اختلافی مسائل میں کتاب و سنت کی طرف رجوع کرناخدا اوررسولکی طرف رجوع کرناہے۔اسی لئے”اولوالامر“کاذکر اور اس کی تکرارکرنایہاں پرضروری نہیں تھا۔
جملہء شرطیہ میں ”فائے تفریع“
ایک اورنکتہ جو”اولوالامر“کے معنی کو ثابت کرنے کے لئے بہت مؤثرہے وہ جملہئ شرطیہ میں اطیعو اللّٰہ واطیعوالرّسول واولی الامر کے بعد”فائے تفریع“کا پایا جا نا ہے۔
یہ جملہء شرطیہ یوں ایاہے:( فإن تنازعتم فی شیءٍ فردّوه إلی اللّٰه و رسول ) اختلافی مسائل کوخدائے متعال اوررسول (ص)کی طرف پلٹانے کاوجوب،خدا،رسولاوراولی الامرکی اطاعت کے وجوب پرمتفرع ہواہے،اوراس بیان سے بخوبی سمجھ میں آتاہے کہ اختلافی مسائل کوخدااوررسول (ص)ی طرف پلٹانے میں اولوالامرکی اطاعت دخالت رکھتی ہے۔یہ تفریع دوبنیادی مطلب کی حامل ہے:
۱ ۔اولوالامرکی عصمت :اس لحاظ سے کہ اگراولوالامرخطااورگناہ کامرتکب ہو گااور اختلافی مسائل میں غلط فیصلہ دے گا تواس کے اس فیصلہ کاکتاب وسنت سے کوئی ربط نہیں ہوگاجبکہ تفریع دلالت کرتی ہے کہ چونکہ اولی الامرکی اطاعت ضروری ہے لہذا چاہیئے کہ،اختلافی مسائل کوخدااوررسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی طرف پلٹا یا جائے۔
۲ ۔کتاب وسنت کے بارے میں کامل ووسیع معلو مات:اس لحاظ سے اگراولی الامر کتاب وسنت کے ایک حکم سے بھی جاہل ہواوراس سلسلہ میں غلط حکم جاری کرے تواس حکم میں اس کی طرف رجوع کرناگویاکتاب وسنت کی طرف رجوع نہ کرنے کے مترادف ہے۔جبکہ”فائے تفریع“سے یہ سمجھ میں آتاہے کہ اولی الامرکی اطاعت مسلسل اختلافی مسائل کوکتاب وسنت کی طرف پلٹانے کاسبب ہے۔اس لئے آیہء شریفہ میں فائے تفریع، کاوجوداولی الامر کے تعین کے لئے کہ جس سے مرادائمہ معصومین (ع)واضح قرینہ ہے۔
مذکورہ نکات سے استفادہ کی صورت میں اب تک درج ذیل چندمطالب واضح ہوگئے:
۱ ۔آیہء شریفہ میں ”اولی الامر“سے مرادجوبھی ہیں ان کاامرونہی کر نے میں گناہ اورخطاسے معصوم ہونا ضروری ہے۔
۲ ۔اولی الامرکا انطباق اہل حل وعقدپر صحیح ودرست نہیں ہے۔)جیساکہ فخررازی کا نظریہ ہے)
۳ ۔اب تک جوکچھ ثابت ہوچکا ہے اس کے پیش نظراگر”اولی الامر“کے بارے میں ہمارے بیان کئے گئے گیارہ اقوال پرنظرڈالیں،توآیہء کریمہ کی روشنی میں ”اولی الامر“سے مراد تنہاشیعہ امامیہ کا نظریہ قابل قبول ہے اوریہ امران کے علاوہ دوسروں کے عدم عصمت پراجماع ہونے کی بھی تاکیدکرتاہے۔
ظالم حکام اولوالامرنہیں ہیں
اولوالامرکے مفہوم میں اشارہ کیاگیاکہ اولوالامرمیں صرف وہ لوگ شامل ہیں،جوامت کی سرپرستی ان کے امور کے مالک ہوں،اوریہ عنوان ان پر بھی صادق ہے کہ جنھیں ظلم اورناحق طریقہ سے امت کی سرپرستی سے علیحدہ کیاگیاہے۔اس کی مثال اس مالک مکان کی جیسی ہے،جس کے مکان پرغاصبانہ قبضہ کرکے اسے نکال باہرکر دیاگیاہو۔
دوسرانکتہ جو”اولوالامر“کے مقام کی عظمت اور اس کے بلند مر تبہ ہونے پر دلالت کرتا ہے وہ”اولوالامر“کاخداورسول (ص)کے او پرعطف ہوناہے۔مطلقاً وجوب اطاعت میں خدا ورسول کے ساتھ یہ اشتراک و مقا رنت ایک ایسا رتبہ ہے جوان کے قدرومنزلت کے لائق افراد کے علاوہ دوسروں کے لئے میسرنہیں ہے۔
یہ دواہم نکتے)مفہوم”اولوالامر“اوروجوب اطاعت کے سلسلہ میں الوالامرکا خداورسولپرعطف ہونا) خود”اولوالامر“کے دائرے سے ظالم حکام کے خارج ہونے کوواضح کرتا ہے۔
زمخشری کاتفسیرالکشاف(۱) میں اس آیہء شریفہ کے ذیل میں کہناہے:
”خدااوررسول (ص)ظالم حکام سے بیزارہیں اوروہ خداورسول کی اطاعت کے واجب ہونے پرعطف کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں۔ان کے لئے شائستہ ترین نام”اللصوص المتغلبہ“ہے۔یعنی ایسے راہزن کہ جو لو گوں کی سر نوشت پرزبردستی مسلط ہوگئے ہیں۔“
اس بیان سے معروف مفسرقرآن،طبری کے نظریہ کاقابل اعتراض ہوناواضح ہوجاتاہے،جس نے ظالم کام کو بھی اولوالامر کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے ان کی اطاعت کے ضروری ہونے کی طرف اشارہ کیاہے۔
اولوالامرکے بارے میں طبری کا قول
مناسب ہے کہ ہم اس سلسلہ میں طبری کے بیان اورا ستدلال کی طرف اشارہ کریں:
اٴولی الاٴقوال فی ذلک بالصواب قول من قال:”هم الاٴمراؤالو لاةلصحة الاٴخبارعن رسول اللّٰهصلىاللهعليهوآلهوسلم بالاٴمربطاعته الاٴئمّة والولاةفیماکان طاعة وللمسلمین مصلحة“
____________________
۱۔الکشاف،ج۱،ص۲۷۷۔۲۷۶،دارالمعرفة،بیروت
کالذی حدثنی علی بن مسلم الطوسی قال:ثنا ابن اٴبی فدیک قال:ثنی عبداللّٰه ابن محمدبن عروة،عن هشام بن عروة،عن اٴبی صالح السمان،عن اٴبی هریرة:اٴن النبیّ-صلىاللهعليهوآلهوسلم وسلم-قال:سیلیکم بعدی ولاة،فیلیکم البرّببرّه،والفاجر بفجوره
فاسمعوالهم واٴطیعوافی کل ماوافق الحق وصلوّاوراء هم!فإن اٴ حسنوا فلکم ولهم،وإن اٴساؤوافلکم وعلیهم!
وحدثنا ابن المثنی قال:ثنا یحیی بن عبیداللّٰه قال:اٴخبرنی نافع،عن عبداللّٰه،عن النبیّ-( ص) -قال:علی المرء المسلم الطا عة فیما اٴحبّ وکره إلاّاٴن یؤمر بمعصیةٍ،فمن اٴمربمعصیة فلا طاعة حدثناابن المثنی قال:ثنی خالدبن عبیداللّٰه،عن نافع،عن اٴبی عمر،عن النبیّ-( ص) -نحوه(۱)
طبری نے تمام اقوال میں سے اس قول کو ترجیح دی ہے کہ جس میں ”اولوالامر“سے مرادمطلق حکام)نیک وبد)لیا گیاہے۔اوراس سلسلہ میں ان دواحادیث سے استدلال کیا ہے،جن میں حکمران اور فرمانرواؤں کی اطاعت کو مطلق طور پر ضروری جا ناکیا گیا ہے۔
نہ صرف”اولی الامر“کا مفہوم اوراس کا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر عطف ہونااس نظریہ کو مسترد کرتا ہے،بلکہ ایسی صورت میں طبری کے نظریہ پر چند اعتراضات بھی وارد ہوتے ہیں:
پہلا اعتراض:یہ احادیث قابل اعتبار اورحجت نہیں ہیں،کیونکہ حدیث کی سند میں پہلے ابن ابی فدیک کا نام ہے کہ اہل سنّت کے رجال وحدیث کے ایک امام،ابن سعدکا اس کے بارے میں کہنا ہے:
__________________
۱۔تفسیرطبری،ج۵،ص۹۵،دارالمعرفة،بیروت
”کان کثیرالحدیث ولیس بحجة “(۱)
”اس سے کافی احادیث رو ایت ہوئی ہیں اور)اس کی بات) حجت نہیں ہے“
ابن حبان نے اسے خطا اوراشتباہ کرنے والا جانا ہے۔(۲) اس کے علاوہ اس کی سند میں عبداللہ بن محمد بن عروة ہے کہ جس کا علم رجال کی معروف کتابوں میں موثق ہونا ثابت نہیں ہے۔
دوسری حدیث کی سند میں بھی بعض ضعیف اور مجہول افراد پائے جاتے ہیں،جیسے یحییٰ بن عبیداللہ،کے متعلق اہل سنت کے ائمہء رجال جیسے ابوحاتم،ابن عیینہ، یحییٰ القطان،ابن معین ،ابن شیبہ،نسائی اوردار قطبنی نے اسے ضعیف اور قابل مذمت قراردیا ہے۔(۳)
دوسرااعتراض:ان احادیث کا آیہء ”اولی الامر“ سے کوئی ربط نہیں ہے اور یہ احادیث اس آیت کی تفسیر نہیں کرتی ہیں۔
تیسرااعترض:طبری کی یہ تفسیرقرآن مجید کی دوسری آیات سے تناقص رکھتی ہے،من جملہ یہ آیہء شریفہ:
( لاتطیعوااٴمرالمسرفین الذین یفسدون فی الاٴرض ولا یصلحون ) (شعراء/ ۱ ۵۲۔۱۵۱)
”اورزیادتی کرنے والوں کے حکم کی اطاعت نہ کرو،جوزمین میں فساد برپاکرتے ہیں اوراصلاح کے در پی نہیں ہیں“
علماء بھی اولوالامرنہیں ہیں
”اولوالامر“کا مفہوم سرپرستی اورولایت کو بیان کرتا ہے اورعلماء کا کردار لوگوں کووضاحت اور آگاہی دینے کے علاوہ کچھ نہیں ہے، کیونکہ :
___________________
۱۔الطبقات الکبری،ج۵،ص۴۳۷،داربیروت للطباعةوالنشر
۲۔کتاب الثقات،ج۹،ص۴۲،مؤسسةالکتب الثقافیة
۳۔تہذیب التہذیب ،ج۱۱،ص۲۲۱،دارالفکر
ایک تو،”اولوالامر“کے عنوان سے صاحبان علم وفقہ ذہن میں نہیں آتے ہیں مگریہ کہ خارج سے اس سلسلہ میں کوئی دلیل موجود ہو جس کے روسے علماء اوردانشوروں کو سر پرستی حاصل ہو جائے اوریہ دلالت آیت کے علاوہ ہے جنہوں نے اس قول کو پیش کیاہے،وہ اس لحاظ سے ہے کہ لوگ اپنی زندگی کے معاملات میں علماء کی اطاعت کرکے ان کی راہنمائی سے استفادہ کریں۔
دوسرے یہ کہ:اس آیہء شریفہ سے قبل والی آیت میں خداوند متعال نے حکام کے فرائض بیان کئے ہیں:
( وإذا حکمتم بین الناس اٴن تحکموا بالعدل )
”جب کوئی فیصلہ کرو توانصاف کے ساتھ کرو“
زیر بحث آیت میں ”اولوالامر“ کی نسبت لوگوں کی ذمہ داریوں کوبیان کیا گیا ہے اوراس سے واضح ہوتا ہے کہ ”اولوالامر“سے مراد مذکورہ صفات کے حامل وہی حکام ہیں،نہ علمائ
تیسرے یہ کہ:اگراس سے مراد علماء ہیں توکیا یہ علماء بہ طور عام اور بہ حیثیت مجموعی مراد ہیں یا یہ کہ بہ حیثیت استغراقی،ان میں ہرفرد ولی امر ہے اوراس کی اطاعت واجب ہے؟
اگر پہلا فرض مراد ہے ،تواس پر اعتراض اہل حل وعقد والے قول اورفخررازی کے نظریہ کے سلسلہ میں بیان ہوچکا ہے،اوراگردوسری صورت مراد ہے توآیہء شریفہ میں مطلقا طور پر کس طرح ان کی اطاعت واجب ہو ئی ہے،جبکہ اگرایسا ہے تواس کے ضوابط اورشرائط قرآن وحدیث میں بیان ہونے چاہئے تھے۔
چوتھے یہ کہ: پچھلی آیت میں ”فائے تفریع “کی وضاحت میں آیہء شریفہ کے بعد والے جملہ میں آیاہے:( فإنّ تنازعتم فی شیئٍ فردّوه إلی اللّٰه والرّسول ) یہ جملہ فائے تفریع کے ذریعہ پہلے والے جملہ سے مر بوط ہے کہ اس کے معنی اختلافی صورت میں خدا اوررسول کی طرف رجوع کر ناخدا ورسول نیز اولی الامر کی مطلقاً اطاعت کے وجوب پر متفرع ہے۔ اس جملہ سے واضح ہو جا تاہے کہ اختلافی مسائل میں خدااوررسول کی طرف رجوع کر نا ضروری ہے،یہ رجوع کر نا’اولوالامر“ کی اطاعت ہی کے ذریعہ ممکن ہے۔اوربعد والے جملہ میں لفظ ”اولوالامر“کو نہ لانے کا مقصد بھی اسی مطلب کو واضح کرتا ہے یعنی تنہا”اولوالامر“ ہے جوکتاب وسنت کے معانی و مفاہیم نیز تمام پہلوؤں سے آگاہ ہے لہذا اختلافی مسائل میں اس کی طرف رجوع کر نا درحقیقت خدااوررسولکی طرف رجوع کر نا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ مطلقاً یعنی بہ طور کلی علماء ایسے نہیں ہیں سواء ان لو گوں کے کہ جو منجانب اللہ گناہ وخطاء سے محفوظ ہیں۔
آیہء کریمہ کے بارے میں چند دیگر نکات
اس قول کے بارے میں کہ”اولوالامر“سے مراد علماء ہیں ،مفسرین کے بیانات میں بعض قابل غور باتیں دیکھنے میں آتی ہیں ،شائستہ نکات کو ملحوظ رکھتے ہو ئے آیت میں غور وخوص ان اعتراضات کو واضح کر دیتا ہے پہلا نکتہ: فإنّ تنازعتم میں مخاطبین وہی ہیں جو( یاایّها الذین آمنوا ) میں مخاطبین ہیں۔”آیت میں مخاطب مو منین “کا اولوالامر کے درمیان تقابل کا قرینہ متقاضی ہے کہ”الذین آمنوا“”اولوالامر“ کے علاوہ ہوں کہ جس میں حاکم و فر مانروااولوالامر اور مطیع وفرمانبردارمومنین قرار دیئے جائیں ۔
دوسرانکتہ:اس نکتہ کے پیش نظر،مو منین کے اختلا فات ان کے آپسی ا ختلا فات ہیں نہ ان کے اور اولوالامر کے درمیان کے اختلافات۔
تیسرانکتہ: یہ کہ مو منین سے خطاب مورد توجہ واقع ہو اور اس کو اولی الامر کی طرف موڑ دیا جائے ،یہ سیاق آیت کے خلاف ہے اوراس تو جہ کے بارے میں آیہء شریفہ میں کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔
چند نظریات پرتنقید
قرطبی اورجصّاص نے جملہ( فإن تنازعتم فی شیءٍ فردّوه إلی اللّٰه والرّسول ) کواس پر دلیل قراردیا کہ”اولوالامر“ سے مرادعلماء ہیں،اورچونکہ جو علماء نہیں ہیں وہ خدا ورسولکی طرف پلٹانے کی کیفیت کو نہیں جانتے ہیں،اس لحاظ سے خدائے تعالیٰ نے علماء کوخطاب کیا ہے اورانھیں جھگڑے اوراختلاف کی صورت میں حکم دیاہے کہ اختلافی مسئلہ کو خدا اور رسول کی طرف پلٹادیں۔ ۱
ابوالسعود نے اپنی تفسیر میں اس قول کو پیش کیا ہے اورمذکورہ دومفسروں نے جو کچھ کہا ہے،اس کے خلاف ہے:جملہء”فإن تنازعتم“اس کی دلیل ہے کہ اولوالامر سے مراد علماء نہیں ہو سکتے ہیں،کیونکہ مقلد مجتہد کے حکم کے بارے میں اس سے اختلاف نہیں کرسکتا ہے!مگر یہ کہ ہم کہیں کہ جملہ”فإن تنازعتم“کا مقلدین سے کوئی ربط نہیں ہے اوریہ خطاب صرف علماء سے ہے اوراس سلسلہ میں کسی حد تک التفات ملا حظہ کیا گیا ہے لیکن ےہ بھی بعید ہے۔ ۲
قرطبی اورجصّاص کے لئے یہ اعتراض ہے کہ وہ التفات)توجہ) کے قائل ہوئے ہیں اور جملہ ”تنازعتم“ کو علماء سے خطاب جاناہے جبکہ بظاہر یہ ہے کہ’ ’تنازعتم“ کا خطاب تمام مومنین سے ہے اوراس التفات کے بارے میں کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔
ابوالسعودکا اشکال یہ ہے کہ اس نے آیہء شریفہ میں اختلاف کو ”اولوالامر“سے مراد علماء ہو نے کی صورت میں اختلاف بین علماء اور مقلدین سمجھا ہے ،جبکہ مؤ منین سے خطاب ہے،چونکہ مؤ منین آیہء شریفہ میں اولوالامر کے مقابلہ میں قراردئے گئے ہیں ،لہذاان کے اختلافات ان کے آپسی اختلافات ہوں گے،نہ کہ علماء کے فرض کر نے کی صورت میں اولوالامر
____________________
۱۔جامع احکام القرآن،ج۵،ص۲۶۰،دارالفکر۔احکام القرآن جصاص،ج۲،ص۲۱۰،دارالکناف العربی۔
۲۔ارشاد العقل السلیم ،تفسیر ابوالسعود،ج۲،ص۱۹۳،داراحیائ التراث العربی ،بیروت۔
کے ساتھ یہاں تک واضح ہوا کہ مذکورہ نکات کے پیش نظر”اولوالامر“سے مرادعلمائنہیں ہوسکتے ہیں۔قرطبی اورجصاص کا نظریہ بھی صحیح نہیں ہے،جنھوں نے التفات کا سہارالے کر اس قول کوصحیح قراردینے کی کوشش کی ہے اورابوالسعود کا نظریہ بھی درست نہ ہونے کی وجہ سے اس کامستردہونا واضح ہے۔
اصحاب اور تابعین بھی اولوالامر نہیں ہیں۔
آیہء شریفہ میں چند دوسرے ایسے نکات بھی موجود ہیں کہ جن کی روشنی میں اصحاب یا اصحاب وتابعین یا مہا جرین وانصار کا اولوالامر نہ ہوناثابت کیا جاسکتا ہے:
۱ ۔آیہء شریفہ میں عموماً مؤ منین سے خطاب کیا گیا ہے اور ایسے افراد کہ جن کی اطاعت کرنا مؤمنین کے لئے بطور مطلق واجب ہے،ان کا ذکر ہے لہذا مؤمنین وہ لوگ ہیں کہ جن کی شان اطاعت وفرمانبرداری ہے اورخدا ورسول نیز اولوالامر کی شان مو منین کے اوپر مطلقاًاختیار اور فرمانروائی ہے ،ان دونوں کا)مفہوم)ایک دوسرے کے مد مقابل واقع ہو نا واضح قرینہ ہے کہ مؤ منین ”اولوالامر“کے علاوہ ہیں۔مؤمنین کی حیثیت صرف فرمانبرداری ہے،اوران کے مقابل یعنی خداورسول نیزاولوالامر کی حیثیت فرماں روائی ہے۔
یہ مغایرت جس چیزکی تاکید کرتی ہے ،وہ یہ ہے کہ اولوالامرکا تذکرہ خداورسول کے ساتھ ایک سیاق میں واقع ہے اورآیت میں خدا اورسولکی حیثیت سواء مطاع )جس کی اطاعت کی جائے )کے کچھ نہیں ہے،لہذا اولوالامرکی بھی و ہی حیثیت ہو نی چا ہئے۔
اس مطلب کا تقاضا یہ ہے کہ اولوالامر،اصحاب ،تابعین یا مہاجرین وانصارکے زمرے سے نہیں ہوں گے کیوں کہ ایسی صورت میں مذکورہ مغایرت موجود نہیںر ہے گی،حالانکہ جو مؤ منین آیہء شریفہ کے نزول کے وقت اس کے مخاطب واقع ہوئے ہیں وہ،وہی اصحاب ،مہاجرین اور انصا رہیں۔
۲ ۔دوسرانکتہ یہ ہے کہ اگر اولوالامر کے مصداق اصحاب ہوگے، تو کےا یہ تمام اصحاب بہ حیثیت مجموعی ہیں ےا بنحواستغراقی ؟
مزید واضح لفظوں مےں کیا اصحاب مےں سے ہر ایک فرد بہ طورمستقل اولوالامر ہے او ر قوم کی سرپرستی کا اختیاررکھتاہے، یا تمام اصحاب بہ حیثیت مجموعی اس عہدے کے مالک ہیں؟ فطری بات ہے کہ دوسری صورت کے اعتبار پر سب کا اجماع اور اتفاق ہوگا؟
دوسرا فرض )یعنی عام بہ حیثیت مجموع) ظاہر کے خلاف ہے، جیسا کہ فخررازی کے بیان میں اس کی وضاحت ہو چکی ہے ، او ر پہلا فرض یعنی اصحاب میں سے ہر ایک بہ طور مستقل صاحب ولایت ہوگا، یہ بھی ظاہر اور اصحاب کی سیرت کے خلاف ہے ۔ کیونکہ اصحاب کے زمانہ میں ایسا کچھ نہیں تھا کہ ہر ایک دوسرے کے لئے )وہ بھی مطلقاً) وجوب اطاعت کا مالک ہوا۔
اس کے علاوہ اصحاب علمی اور عملی لحاظ سے ایک دوسرے سے کافی مختلف تھے۔ان میں کافی تعداد میں ایسے افراد بھی تھے جن میں علمی اور اخلاقی صلاحیتوں کا فقدان تھا۔مثال کے طور پر ولیدبن عقبہ(۱) کے فاسق ہو نے کے بارے میں آیت نازلی ہوئی ہے کہ جس کی خبر کی تحقیق واجب وضروری ہے ان حالات کے پیش نظر کس طرح ممکن ہے کہ ” اولوالامر“کے مصداق بہ طور مطلق اصحاب یا مہاجرین و انصار ہوں؟
سریہ کے سردار بھی اولوالامر کے مصداق نہیں ہیں:
اسی طرح”اولوالامر“ کے مصداق سریہ(۲) کے کمانڈو بھی نہیں ہیں کیونکہ جو کچھ ہم نے بیان کیا، اس کے علاوہ ”اولوالامر“ کا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر عطف ہونا، ”اولوالامر“کی مطلق اطاعت کے و اجب ہونے پر دلالت کر تا ہے اور جملہ ”فإن تنازعتم“ کامتفرع ہو نا، خدا و
____________________
۱۔ اصحاب کے بارے میں مصنف کی کتاب ” عدالت صحابہ در میزان کتاب و سنت “ ملاحظہ ہو
۲۔جن جنگوں میں پیغمبراکرم صلی للہ علیہ وآلہ وسلم نے ذاتی طورپر شرکت نہیں کی ہے،انھیں سریہ کہتے ہیں۔
پیغمبر اور اولوالامرکی مطلق اطاعت نیز”اولوالامر“ کی عصمت پر دلیل ہیں ۔سریہ کے کمانڈ معصوم نہیں ہیں،اس سلسلہ میں اصحاب اورتابعین کی طرف سے کچھ آثار نقل ہوئے ہیں جواس مطلب کی تائید کرتے ہیں۔ہم یہاں پر ان آثار میں سے چند کی طرف اشارہ کررہے ہیں:
۱ ۔ابن عباس سے ایک حدیث میں روایت کی گئی ہے:آیہء”اولی الامر“ایک ایسے شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے،کہ جسے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ایک سریہ میں )سرپرست و سر براہ کے عنوان سے) بھیجا تھا۔(۱) اس حدیث کی سند میں حجاج بن محمد کا نام آیا ہے کہ ابن سعد نے اس کے بارے میں کہا ہے:
”کان قد تغیّرفی آخر عمره “
”یعنی:آخر عمر میں اس کا حافظہ مختل ہوگیا تھا۔
اورابن حجر نے کہا ہے کہ اس نے اسی حالت میں روایت کی ہے(۲) فطری بات ہے کہ اس کیفیت و حالت کے پیش نظر اس کی روایت معتبر نہیں ہوسکتی ہے۔
۲ ۔ایک دوسری حدیث میں میمون بن مہران سے روایت ہوئی ہے کہ”اولوالامر“ وہ لوگ ہیں جوسریہ)جنگوں) میں شرکت کرتے تھے۔(۳) اس حدیث کی سند میں عنبسة بن سعیدضریس کا نام ہے کہ ابن حبان نے اس کے بارے میں کہا ہے:
”کان یخطی(۴) “
”یعنی :وہ مسلسل خطا کا مرتکب ہوتاتھا۔“
____________________
۱۔تفسیر طبری،ج۵،ص۹۲،دارالمعرفة،بیروت
۲۔تہذیب التہذیب،ج۲،ص۱۸۱
۳۔تفسیر طبری ،ج۵،ص۹۲،دارالمعرفة،بیروت
۴۔تہذیب التہذیب،ج۸،ص۱۳۸
طبری نے ایک حدیث میں سدی سے نقل کیا ہے(۱) کہ اس نے آیہء ”اولوالامر“ کو اس قضیہ سے مرتبط جانا ہے کہ ایک سریہ)جنگ) میں خالد بن ولیدکوکمانڈر مقرر کیا گیا تھااورس سریہ میں عماریاسر بھی موجود تھے اور انہوں نے ایک مسلمان کو دئے گئے امان کے سلسلہ میں خالد سے اختلاف رای کا اظہارکیا تھا۔(۲)
یہ حدیث بھی صحیح نہیں ہے،کیونکہ ایک تو یہ مرسل ہے اوردوسرے سدی کے بارے میں یحییٰ بن معین ا ورعقیلی سے نقل ہو ا ہے کہ وہ ضعیف ہے اورجوزجانے اسے کافی جھوٹا بتا یا ہے ۔(۳)
۳ ۔بخاری نے آیہء ”اولوالامر“ کی تفسیر میں جو حدیث ذکر کی ہے وہ یوں ہے:
”حدثناصدقة بن الفضل،اٴخبرناحج ابن محمّد،عن ابن جریح،عن یعلی بن مسلم،عن سعید بن جبیرعن ابن عباس رضی اللّٰه عنهما:”اٴطیعوااللّٰه واٴطیعوالرّسول واٴولی الاٴمرمنکم“قال:نزلت فی عبداللّٰه بن حذافة ابن قیس بن عدی اذبعثه النبی صلىاللهعليهوآلهوسلم فی سریة ۔(۴)
اس حدیث میں سعیدبن جبیران نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ آیہء( اٴطیعوااللّٰه واٴطیعواالرّسول واٴولی الاٴمرمنکم ) عبداللہ بن حذافہ کے بارے میں نازل ہو ئی ہے،جب رسول خدا (ص)نے اس سے ایک سریہ کے لئے روانہ کیا۔
چونکہ یہ حدیث فتح الباری میں ابن حجر کے کلام سے اخذ کی گئی ہے اس لئے احتمال ہے کہ یہ روایت سنید بن داؤد مصیصی سے روایت ہوئی ہو جیسا کہ ابن سکن سے منقول ہے نہ کہ صدقہ بن
____________________
۱۔تفسیر طبری ،ص۹۲،دارالمعرفة
۲۔تفسیر طبری ،ص۹۲،دارالمعرفہ
۳۔تہذیب التہذیب،ج۱،ص۲۷۳
۴۔صحیح بخاری،ج۳،ص۳۷۶،کتاب التفسیر،باب قولہ اطیعواللّٰہ۔۔۔ ح۱۰۱۰،دارالقلم ،بیروت
فضل سے جیسا کہ اکثر نے نقل کیا ہے اور موجودہ صحیح بخاری میں بھی اسی کے حوآلے سے آیا ہے اورسنید بن داؤد کو ابی حاتم ونسائی نے ضعیف جانا ہے۔(۱)
اس بناپر ایک تو یہ بات مسلّم ویقینی نہیں ہے کہ بخاری میں موجود روایت صدقہ بن فضل سے ہوگی،بلکہ ممکن ہے سنید سے ہو جبکہ وہ ضعیف شمار ہو تا ہے۔
دوسرے یہ کہ:اس کی سند میں حجاج بن محمدہے کہ ابن سعد نے اس کے بارے میں کہا ہے:
”کان قد تغیرفی آخرعمره “
”یعنی:آخر عمر میں اس کا حافظہ مختل ہوگیا تھا۔“
اور ابن حجر نے کہاہے:اس نے اسی حالت میں روایت کی ہے۔(۲)
ابوبکراورعمربھی اولوالامر کے مصداق نہیں ہیں
مذکورہ وجوہ کے پیش نظر واضح ہوگیا کہ ابوبکر اور عمربھی ”اولوالامر“کے مصداق نہیں ہیں نیزان وجوہ کے علاوہ دین وشریعت سے متعلق سوالات کے جوابات میں ان کی لا علمی ناتوانی اوراحکام الٰہی کے خلاف ان کا اظہار نظر بھی اس کا بین ثبوت ہے کہ جو تاریخ وحدیث کی کتابوں میں کثرت سے درج ہے۔اس سلسلہ میں کتاب الغدیر کی جلد ۶ اور ۷ کی طرف رجوع کیا جاسکتاہے۔
اہل سنت کی بعض کتابوں میں درج یہ حدیث کہ جس میں ان کی اقتداء کرنے کااشارہ ہواہے:”إقتدوا بالذین من بعدی ابی بکر وعمر “کئی جہات سے باعث نزاع ہے۔من جملہ یہ کہ اس کی سند میں عبدالملک بن عمیر ہے کہ تہذیب الکمال(۳) میں احمد بن حنبل
____________________
۱۔فتح الباری،ج۸،ص۲۵۳
۲۔تہذیب التہذیب،ج۲،ص۱۸۱
۳۔تہذیب الکمال،ج۱۸،ص۳۷۳،موسسہ الرسالة
سے اس کے بارے میں یوں نقل ہوا ہے:عبد الملک بن عمیر بہت زیادہ مضطرب البیان ہے اس سے منقول میں نے ۵۰۰ سو روایتیں دیکھی ہیں کہ جن میں اکثر غلط ہیںعبدالملک بن عمیر مضطرب الحدیث جداًمااٴری له خمساًئة حدیث، وقد غلط فی کثیرمنها “ اور احمد بن خلیل نے بھی اس کے ضعیف ہونے کے بارے میں اشارہ کیا ہے۔اور ابو حاتم سے نقل کیا ہے:)عبدالملک)لیس بحافظ۔۔۔تغیرحفظہ قبل موتہ“عبدالملک کا حافظ درست نہیں ہے اور موت سے پہلے اس کا حا فظ کھو گیا تھا۔
اورترمذی(۱) کی سند میں سالم بن علاء مرادی ہے کہ ابن معین اور نسائی نے اسے ضعیف جانا ہے۔(۲) اس کے علاوہ ترمذی کی سند میں سعید بن یحییٰ بن سعید الاموی ہے کہ ابن حجر نے صالح بن محمد سے نقل کیا ہے:”إنّه کان یغلط “یعنی:”وہ مسلسل غلطی کرتا تھا۔(۳) ‘
اس کے علاوہ اگر اس قسم کی احادیث ثابت ہوتیں توابو بکر اورعمر سقیفہ میں ان سے استدلال کرتے اورخلافت کے لئے اپنی صلاحیت ثابت کرتے جبکہ اس قسم کی کوئی چیز قطعی طورپر نقل نہیں ہوئی ہے اور یہ قطعی طورپرثابت ہے کہ مذکورہ حدیث صاد ر نہیں ہوئی ہے اور جعلی ہے۔
او لیاء شرعی(باپ)بھی اولوالامر کے مصداق نہیں ہیں:
باپ،دادا و غیرہ کہ جو ولایت شرعی رکھتے ہیں وہ بھی بہ طور مطلق ”اولوالامر“ نہیں ہیں۔گزشتہ موارد میں ذکر شدہ مطالب سے بھی یہ مسئلہ واضح ہو جاتاہے۔
____________________
۱۔سنن ترمذی ،ج۵،ص۵۷۰،ح۳۶۶۳
۲۔میزان الاعتدال،ج۲،ص۱۱۲،دارالفکر
۳۔تہذیب التہذیب ،ج۴،ص۸۶
”اولوالامر“اورحدیث منزلت،حدیث اطاعت اورحدیث ثقلین
حدیث منزلت:
حا کم حسکانی(۱) نے”شواہد التنزیل(۲) “ میں آیہء اولوالامر کی تفسیر میں ایک حدیث نقل کی ہے اوراپنی سند سے مجاہد سے روایت کی ہے:
”واٴُلی الاٴمرمنکم“قال:نزلت فی اٴمیرالمؤمنین حین خلّفه رسول اللّٰه بالمدینة، فقال:اٴتخلفنی علی النساء والصبیان؟ فقال: اٴما ترضی اٴن تکون منّی بمنزلة هارون من موسی،حین قال له ”اٴخلفنی فی قومی واٴصلح“فقال اللّٰه: ”واٴُولی الاٴمر منکم“ فقال: هوعلی بن ابی طالب، ولاّه اللّٰه الامر بعد محمد فی حیاته حین خلّفه رسول اللّٰه بالمد ینة،فاٴمراللّٰه العباد بطاعته وترک خلافه “
”(آیہء شریفہ کے بارے میں ) ۔۔۔( واٴولی الاٴمرمنکم ) ۔۔۔ مجاہد نے یوں کہا ہے:آیہء شریفہ امیرالمؤمنین علی(علیہ السلام) کے بارے میں نازل ہوئی ہے،جب رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے انھیں مدینہ میں اپنا جانشین مقرر کیا۔اس وقت علی(علیہ السلام)نے کہا :کیامجھے عورتوں اور بچوں پر جانشین قرا ر د ے ر ہے ہیں؟پیغمبر (ص)نے فرمایا:کیا تم پسند نہیں کرتے ہو کہ تمھاری نسبت میرے
____________________
۱۔حاکم حسکانی اہل سنّت کے بڑے محدثین میں سے ہے۔ذہبی اس کے بارے میں کہتاہے:
الحسکانی القاضی المحدث ابوالقاسم عبیداللّٰہ بن عبداللّٰہ ۔۔۔ محمد بن حساکان القرشی العامری اللنیسا بوری الحنفی الحاکم، و یعرف با بن الحذاء ، شیخ متقن ذو عنایة تامة بعلم الحدیث، حسکانی،قاضی محدث ابوالقاسم عبیداللہ بن عبداللہ محمد بن حسکانی قر شی عامری نیشابوری حنفی مذہب وحاکم ،ابن خداء کے نام سے معروف ہے۔ وہ علم حدیث کے بارے میں قوی اور متقن استاد)شیخ) ہے۔
۲۔شواہد التنزیل ،ج۲،ص۱۹۰،مؤسسہ الطبع والنشر
ساتھ وہی ہے جو ہارون کی نسبت موسیٰ(علیہ السلام) سے تھی جب موسیٰ(علیہ السلام)نے اپنی قوم سے کہا( اٴخلفنی فی قومی ) ”میری قوم میں میرے جانشین ہو اوراصلاح کرو“)اس آیہء شریفہ میں )خدا وند متعال نے فرمایا ہے:( واٴولی الاٴمر منکم ) ”اولوالامر“)کامصداق)علی بن ابیطالب(علیہ السلام)ہیں کہ خداوند متعال نے انھیں پیغمبر (ص)کی حیات میں اپ کے بعدامت کے لئے سرپرست قرار دیاہے،جب انھیں مدینہ میں اپناجانشین مقرر فرمایا۔لہذا خداوند متعال نے اپنے بندوں کوان کی اطاعت کرنے اوران کی مخالفت ترک کرنے کاحکم دیا ہے۔
اس حدیث میں ،اس مجاہد نامی تابعی دانشور اورمفسرنے آیہء شریفہ”اولی الامر“کی شان نزول کے لئے وہ وقت جانا ہے کہ جب پیغمبراکرم (ص)نے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کو مدینہ میں اپنا جانشین قراردیا تھا۔
اس حدیث میں ہارون کی وہ تمام منزلتین جو وہ موسیٰ کے حوالے سے رکھتے تھے،علی علیہ السلام کے لئے رسول خدا (ص)کے حوالے سے قراردی گئی ہیں۔من جملہ ان میں سے ایک موسیٰ(علیہ السلام)کی نسبت سے ہارون کی جانشینی ہے۔یہ جانشینی،جس کا لازمہ پوری امت کے لئے حضرت علی علیہ السلام کی اطاعت کا واجب ہونا ہے،علی علیہ السلام کے لئے معین کی گئی ہے۔
یہ نکتہ قابل توجہ ہے کہ اس ان نزول سے قطع نظر،حدیث منزلت فریقین )شیعہ وسنی) کے درمیان ثابت اورمسلّم احادیث میں سے ہے،اس طرح کہ حدیث منزلت کو بیان کرنے کے بعد مذکورہ شان نزول کے سلسلہ میں حاکم حسکانی کا کہنا ہے:
”وهذاهوحدیث المنزلة الّذی کان شیخاًابوحازم الحافظ یقول: خرجته بخمسةآلاف إسناد “
یہ وہی حدیث منزلت ہے کہ ہمارے شیخ)ہمارے استاد)ابوحازم حافظ)اس کے بارے میں )کہتے ہیں:میں نے اس)حدیث)کو پانچ ہزار اسنادسے استخراج کیا ہے۔“
لہذا،اس حدیث کے معتبر ہونے کے سلسلے میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں ہے۔ ابن عسا کر جیسے بڑے محدثین نے اپنی کتابوں میں اسے اصحاب کی ایک بڑی تعدادسے نقل کیا ہے۔(۱)
یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ علی علیہ السلام ،پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعد امت میں سب سے افضل اور سب سے اعلم نیز آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حیات اورآپ کی رحلت کے بعد آپ کے جانشین ہیں۔
حدیث اطاعت:
دوسری دلیل جو”اولوالامر“کو علی علیہ السلام پر منتطبق کرنے کی تاکید کرتی ہے،وہ”حدیث اطاعت“ ہے۔یہ حدیث گوناگوں طریقوں سے مختلف الفاظ میں نقل ہوئی ہے:
حاکم نیشا پوری نے اپنی کتاب ”المستدرک علی الصحیحین(۲) میں اسے نقل کیا ہے اورذہبی نے ذیل صفحہ تلخیص کرتے ہوئے اس کے صحیح ہو نے کی تائیدکی ہے۔
حدیث کا متن یوں ہے:
”قال رسول اللّٰه- ( ص ) من اٴطاعنی فقداطاع اللّٰه ومن عصانی فقد عصی اللّٰه ومن اٴطاع علیّاً فقد اٴطاعنی ومن عصی علیاًفقدعصانی “
”پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی اس نے خداکی اطاعت کی اور جس نے میری نافرنی)معصیت)کی گویا اس نے خدا کی نافرمانی کی
____________________
۱۔شواہد التنزیل ،ج۲،ص۱۹۵،مؤسسة الطبع والنشر
۲۔المستدرک ،ج۳،ص۱۲۱،دارالمعرفة،بیروت
ہے۔اور جس نے علی (علیہ السلام) کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جو نے علی(علیہ السلام) سے نافرمانی کرے گا اس نے مجھ سے نافرمانی کی ہے۔
اس حدیث میں پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآله نے علی علیہ السلام کی اطاعت کو اپنی اطاعت سے متلازم قراردیا ہے اوراپنی اطاعت کوخدا کی اطاعت سے متلازم جا ناہے۔اس کے علاوہ حضرت علی علیہ السلام کی نافرمانی کو اپنی نافرمانی سے تعبیر کیا ہے اوراپنی نافرمانی کو خدا کی نافرمانی قراردیا ہے۔
یہ حدیث واضح طور پر علی علیہ السلام کے لئے پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے مانند واجب الاطاعت ہونے کی دلیل ہے۔اس کا مضمون آیہء شریفہ” اولوالامر“ کے مضمون کی طرح ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اولوالامر کی اطاعت گویا رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اطاعت ہے۔حقیقت میں یہ حدیث آیہء شریفہء اولی الامر کے حضرت علی بن ابیطالب علیہ السلام پر انطباق کے لئے مفسر ہے۔
اسی طرح یہ حدیث حضرت علی علیہ السلام کی عصمت پر بھی دلالت کرتی ہے کیونکہ اطاعت حکم اورامرپر متفرع ہے کیونکہ جب تک کوئی حکم و امر نہیں ہوگااطاعت موضوع ومعنی نہیں رکھتی ہے اور حکم وامر ارادہ پر مو قو ف ہے،اورارادہ شوق نیزدرک مصلحت در فعل کا معلول ہے۔جب حدیث کے تقاضے کے مطابق علی علیہ السلام کی اطاعت پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اطاعت کے ملازم ،بلکہ اس کا ایک حصہ ہے،تواس کا امر بھی پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کا امر اور اس کا ارادہ بھی آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کا ارادہ اوراس کا درک مصلحت بھی عین درک مصلحت پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ہوگا اوریہ حضرت علی علیہ السلام کی عصمت کے علاوہ کوئی اورچیز نہیں ہے۔
حدیث ثقلین:
ایک اور دلیل جو آیہ شریفہ”اولوالامر“کو پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اہل بیت علیہم السلام (ائمہء معصوم)پرانطباق کی تاکید کرتی ہے،وہ حدیث ثقلین ہے۔یہ حدیث شیعہ وسنی کے نزدیک مسلّم اور قطعی ہے اور بہت سے طریقوں اور اسناد سے احادیث کی کتابوں میں نقل ہوئی ہے اگر چہ یہ حدیث متعدد مواقع پر مختلف الفاظ میں نقل ہوئی ہے ،لیکن اس میں دوجملے مر کزی حیثیت رکھتے ہیں اوریہ دوجملے حسب ذیل ہیں:
”إنی تارک فیکم الثقلین :کتاب اللّٰه وعترتی اهل بیتی ماإن تمسکتم بهما لن تضلّواابداًوإنّهمالن یفترقا حتی یرداعلی الحوض (۱)
”میں تم میں دوگرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں:ایک کتاب خدااور دوسرے میری عترت کہ جواہل بیت (علیہم السلام)ہیں اگر تم انھیں اختیار کئے رہو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے۔یہ دونوں کبھی جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثرپرمیرے پاس وارد ہوں گے ۔“
ابن حجر نے اپنی کتاب”الصواق المحر قة(۲) میں اس حدیث کے بارے میں کہاہے:
”ثقلین سے تمسک کرنے کی حدیث کے بارے میں بہت سے طریقے ہیں۔یہ حدیث بیس سے زیادہ اصحاب سے نقل ہوئی ہے۔
ان طریقوں میں سے بعض میں آیاہے کہ آنحضرت (ص)نے اسے اس وقت مدینہ میں ارشاد فرمایا کہ جب آپبسترعلالت پرتھے اوراصحاب آپ کے حجرئہ مبارک میں اپ کے گرد جمع تھے۔بعض دوسرے طریقوں سے نقل ہواہے کہ آنحضرت (ص)نے اسے غدیر خم میں بیان فرمایا ہے۔بعض دوسرے منابع میں ایاہے کہ آنحضرت (ص)نے اسے طائف سے واپسی
___________________
۱۔صحیح ترمذی، ج۵، ص۶۲۱۔۶۲۲دارالفکر۔ مسنداحمد، ج۳، ص۱۷و۵۹وج۵، ص۱۸۱و۸۹ ۱دارصادر، بیروت۔مستدرک حاکم ج۳،ص۱۰۹۔۱۱۰،دارالمعرفة،بیروت۔حضائص النسائی ، ص۹۳، مکتبةنینویٰ۔ اس کے علاوہ اس اسلسلہ میں دوسرے بہت سے منا بع کے لئے کتاب اللہ واھل البیت فی حدیث ثقلین“کی طرف رجوع کر سکتے ہیں۔
۲۔الصواعق المحرقة،ص۱۵۰،مکتبة القاہرة
کے موقع پر فرمایاہے۔ان سب روایتوں کے درمیان کوئی منافات نہیں ہے۔کیونکہ ممکن ہے قرآن وعترت کی اہمیت کے پیش نظران تمام مواقع اور ان کے علاوہ دوسرے مواقع پر بھی اس حدیث کو بیان فرمایا ہوگا۔
شیعوں کے ایک بہت بڑے عالم،علامہ بحرانی نے اپنی کتاب ”غایةالمرام(۱) میں حدیث ثقلین کو اہل سنت کے ۳۹ طریقوں سے اور شیعوں کے ۸۲ طریقوں سے نقل کیا ہے۔
اس حدیث شریف میں پہلے،امت کوگمراہی سے بچنے کے لئے دوچیزوں)قرآن مجید اور پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اہل بیت علہیم السلام )سے تمسک اور پیروی کرنے کی تاکید کی گئی ہے، جو اس بات پردلالت ہے کہ اگر ان دونوں کی یاان میں سے کسی ایک کی پیروی نہیں کی گئی تو ضلالت وگمراہی میں مبتلا ہو نا یقینی ہے اور یہ کہ پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اہل بیت) علیہم السلام) اور قرآن مجید ایک دوسرے کے لئے لازم وملزوم ہیں اورہرگزایک دوسرے سے جد انہیں ہوں گے۔یہ دو جملے واضح طورپر دلالت کرتے ہیں کہ،اہل بیت علیہم السلام ،جن میں سر فہرست حضرت علی علیہ السلام ہیں ،لوگوں کوچاہیئے وہ قرآن مجید کے مانندان سے متمسک رہیں اوران کے اوامر کی اطاعت کر یں ۔اور یہ کہ وہ قرآن مجید سے کبھی جدا نہیں ہوں گے ،واضح طورپر ان کی عصمت کی دلیل ہے،کیونکہ اگروہ گناہ وخطا کے مرتکب ہو تے ہیں تو وہ قرآن مجید سے جدا ہوجائیں گے،جبکہ حدیث ثقلین کے مطابق وہ کبھی قرآن مجید سے جدا نہیں ہوں گے۔
شیعہ وسنی منابع میں اولوالامر سے متعلق حدیثیں
آیہء شریفہ”اولوالامر“کے علی علیہ السلام اورآپ (ع)کے گیارہ معصوم فرزندوں )شیعوں کے بارہ اماموں)پرانطباق کی دلائل میں سے ایک اوردلیل،وہ حدیثیں ہیں،جو شیعہ و سنی کی حدیث کی کتابوں میں درج ہوئی ہیں اور اولوالامرکی تفسیر علی)علیہ السلام)،اورآپ(ع)کے بعدآپ(ع)کے گیارہ معصوم اماموں کی صورت میں
____________________
۱۔غا یةالمرام،ج۲،ص۳۶۷۔۳۰۴
کرتی ہیں۔ہم یہاں پر ان احادیث میں سے چند نمونے پیش کرتے ہیں:
پہلی حدیث:
ابرھیم بن محمدبن مؤیدجومنی(۱) کتاب”فرائدالسبطین(۲) ‘ میں اپنے اسناد سے اورشیخ صدوق ابن بابویہ قمی کتاب”کمال الدین(۳) ‘ میں سلیم بن قیس سے روایت کرتے ہیں:
”میں نے خلافت عثمان کے زمانہ میں مسجد النبی (ص)میں دیکھا کہ حضرت علی(علیہ السلام)مسجد میں تشریف فر ماتھے اور کچھ لوگ آپس میں گفتگو کرنے میں مشغول تھے۔وہ قریش اوران کے فضائل نیز ان کے سوابق اور جوکچھ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے قریش کے بارے میں فرمایا ہے، کے بارے میں گفتگو کرر ہے تھے اوراسی طرح انصار کی فضیلت اوران کے شاندار ماضی اورقرآن مجید میں ان کے بارے میں خدا وند متعال کی تعریف و تمجیدکا ذکر رہے تھے اورہر گروہ اپنی اپنی فضیلت گنوا رہا تھا۔
اس گفتگو میں دوسو سے زیادہ لوگ شریک تھے ان میں حضرت علی(علیہ السلام)سعد بن ابی وقاص،عبدالرحمن بن عوف،طلحہ،زبیر،مقداد،ابوذر،حسن وحسین )علیہما السلام)اورابن عباس-بھی شامل تھے۔
____________________
۱۔ذہبی ،کتاب”المعجم المختص بالمحدثین“ص۶۵،طبع مکتبةالصدیق سعودی،طائفمیں لکھاہے:”ابراھیم بن محمد۔۔۔الامام الکبیر المحدث شیخ المشایخ“ یعنی:بہت بڑے امام محدث اور استادالاسا تذہ ۶۴۴ئ ہجری میں پیدا ہوئے اور۷۲۲ئ ہجری میں خراسان میں و فات پائی ۔ابن حجرکتاب”الدررالکامنہ“ج۱،ص۶۷ میں کہتے ہیں:“وسمع بالحلة وتبریز-----وله رحلة واسعة وعنی بهذاالشان وکتب وحصل وکان دینا وقوراً ملیح الشکل جید القرا ۔۔۔“یعنی: حلہ اور تبریزمیں )حدیث کے اساتذہ کے دوسرے شہروں کے بارے میں )سنا ہے۔۔۔ علم حدیث کے بارے میں ایک خاص مہارت رکھتے تھے۔۔۔اور متدین ،باوقار،خوبصورت اوراچھی قرائت کے مالک تھے۔
۲۔فرائدالبطین ،ج۱،ص۲۱۲،مؤسسہ المحمودی للطباعة والنشر،بیروت اسماعیل با شا کتاب ایضاح المکنون میں کشف الظنون،ج۴،ص۱۸۲،دارالفکر کے ذیل میں کہتا ہے:فرائد السبطین،فی فضائل المرتضیٰ والبتول والسبطین لابی عبداللّٰہ ابراھیم بن سعد الدین محمد بن ابی بکر بن محمدبن حمویہ الجوینی۔۔۔فرغ منہ سنة۷۱۶
۳۔کمال الدین،ص۲۷۴
یہ جلسہ صبح سے ظہرتک جاری رہا اورعلی) علیہ السلام) بدستور خاموش بیٹھے رہے یہاں تک کہ لوگوں نے آپ(ع) کی طرف مخاطب ہوکر آپ سے کچھ فرمانے کی خواہش ظاہر کی۔
حضرت علی(علیہ السلام)نے فرمایا:تم دونوں گروہوں میں سے ہرایک نے اپنی فضیلت بیان کی اور اپنی گفتگو کا حق ادا کیا۔میں قریش وانصاردونوں سے یہ پوچھنا چاہتاہوں:خدا وند متعال نے یہ فضیلت تمھیں کس کے ذریعہ عطاکی ہے؟ کیا تم لوگ اپنی اوراپنے قبیلے کی خصوصیات کی وجہ سے ان فضیلتوں کے مالک بنے ہو؟ یاکسی دوسرے کی وجہ سے یہ فضیلتیں تمھیں عطا کی گئی ہیں؟
انہوں نے کہا:خدا وندمتعال نے محمد (ص)اورآپ کے اہل بیت)علیہم السلام)کے طفیل میں ہمیں یہ فضیلتیں عطا کی ہیں۔
حضرت علی (علیہ السلام) نے فرمایا:صحیح کہاتم لوگوں نے اے گروہ انصار وقریش!کیا تم نہیں جانتے ہو کہ جوکچھ تم کوخیر دینا وآخرت سے ملا ہے وہ صرف ہم اہل بیت(ع)کی وجہ سے تھا؟ اس کے بعدحضرت علی (علیہ السلام)نے اپنے اور اپنے اہل بیت )علیہم السلام)کے بعض فضائل گنوائے اوران سے تصدیق اور گواہی چاہی انہوں نے گواہی دی،آپ(ع)نے من جملہ فرمایا:
فانشدکم اللّٰہ،اتعلمون حیث نزلت( یااٴیّهاالذین آمنوا اٴطیعواللّٰه واٴطیعواالرسّول واٴُولی الاٴمر منکم ) (۱) وحیث نزلت ا( ٕنّماولیّکم اللّٰه ورسوله والّذین آمنواالذین یقیمون الصلوة ویؤ تون الزکوة وهمصراکعون ) (۲) وحیث نزلت( اٴم حسبتم اٴن تترکواولماّ یعلم اللّٰه الّذیم جاهدوامنکم ولم یتّخذ وا من دون اللّٰه ولا رسوله ولاالمؤمنین ولیجة ) (۳) قال الناس:یا رسول اللّٰه،خاصة فی بعض
____________________
۱۔نساء/۵۹ ۲۔مائدہ/۵۵
۳۔توبہ/۱۶
المؤمنین اٴم عامة لجمیعهم؟فاٴمراللّٰه - عزّوجلّ - نبیّه( ص) اٴن یُعلّمهم ولاةاٴمرهم واٴن یفسّر لهم من الولایة مافسّرلهم من صلا تهم وزکاتهم وحجهم،فینصبنی للناس بغدیر خمثمّ خطب وقال:اٴیّهاالنّاس،إنّ اللّٰه اٴرسلنی برسالة ضاق بها صدری وظننت اٴن الناس مکذبیفاوعدنی لاُ بلّغها اٴولیعذّبنیثمّ اٴمرفنودی بالصلاة جامعةثمّ خطب فقال:اٴیّهاالناس،اٴتعلمون اٴنّاللّٰه - عزّوجل - مولای اٴنامولی المؤمنین،واٴنا اٴولی بهم من اٴنفسهم؟
قالوا:بلی یارسول اللّٰهقال:قُم یاعلیّفقمت فقال:”من کنت مولاه فهذاعلیّ مولاه،اللّهمّ وال من والاه،وعادمن عاداه“
فقام سلمان فقال:یارسول اللّٰه،ولاء کماذا؟فقال:ولاء کولایتی، منکنت اٴولی به من نفسه فاٴنزل اللّٰه تعالی ذکره:( الیوم اٴکملت لکم دینکم واٴتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الإسلام دیناً ) (۱)
فکبّرالنبّی( ص) وقال:اللّٰه اٴکبر!تمام نبوّتی وتمام دین اللّٰه علیُّ بعدیفقام اٴبوبکر و عمر فقالا: یارسول اللّٰه،هؤلاء الآیات خاصّةفی علیّ؟قال:بلی،فیه وفی اٴوصیائی إلی یوم القیامةقالا:یارسول اللّٰه، بیّنهم لناقال:علیّ اٴخی ووزیری ووارثی ووصیّی وخلیفتی فی اُمّتی وولّی کل ّمؤمن بعدی ثمّ ابنی الحسن ثمّ الحسین ثمّ تسعة من ولدابنی الحسین واحد بعد واحد،القرآن معهم وهم مع القرآن لایفارقونه ولایفارقهم حتی
____________________
۱۔مائدہ/۳
یردوا علیّ الحوض
فقالوا کلّهم:اللّهمّ نعم،قد سمعناذلک وشهدناکماقلت سواء وقال بعضهم:قدحفظناجلّ ماقلت ولم نحفظه کلّه،وهؤلاء الّذین حفظوااٴخیارناواٴفاضلنا
یعنی:میں تمھیں خدا کی قسم دلاتاہوں،کیا تم جانتے ہو کہ جبخداوندمتعال کا یہ فر مان:( یا اٴیّهاالذین آمنوااٴطیعواللّٰه واٴطیعوا الرّسول واولی الاٴمرمنکم ) نازل ہوا اورجب یہ آیہء شریفہ نازل ہوئی:( إنّما ولیّکم اللّٰه ورسول ) ۔۔۔ )یعنی بس تمہاراولی اللہ ہے اوراس کا رسول اور وہ صاحبان ایمان جو نمازقائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوٰة دیتے ہیں)اسی طرح جب یہ آیہء شریفہ نازل ہوئی:( اٴم حسبتم اٴن تترکوا ) ۔۔۔ )یعنی :کیاتمہارا خیال ہے کہ تم کواسی طرح چھوڑدیا جائے گا جب کہ ابھی ان لو گوں نے کہ جنھوں نے تم میں سے جہاد کیا ہے اور خدا و رسول نیز مومنین کے علا وہ کسی کو اپنا محرم راز نہیں بنا یا ہے مشخص نہیں ہو ئے ہیں؟ تو لوگوں نے کہا:یارسول اللہ!کیا یہ آیتیں بعض مؤمنین سے مخصوص ہیں یا عام ہیں اوران میں تمام مؤ منین شامل ہیں؟
خداوند متعال نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا:تاکہ ان)مو منین) کے امور کے سلسلہ میں ان کے سرپرست کا اعلان کردیں اورجس طرح نماز،زکوٰةاورحج کی ان کے لئے تفسیربیان کی ہے،مسئلہ ولایت وسر پرستی کو بھی ان کے لئے واضح کردیں۔)اورخدا نے حکم دیا)تاکہ غدیر خم میں مجھے اپنا جا نشین منصوب کریں۔
اس کے بعدپیغمبر خداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبہ پڑھااورفرمایا:
”اے لوگو!خدا وند متعال نے مجھے ایک ایسی رسالت سونپی ہے کہ جس کی وجہ سے میرا سینہ تنگی محسوس کر رہا ہے اورمیں نے گمان کیا کہ لوگ میری اس رسالت کو جھٹلادیں گے۔پھر مجھے خدا نے تہدید دی کہ یا میں اس)رسالت) کوپہنچاؤں یا اگر نہیں پہونچاتا تووہ مجھے عذاب کرے گا۔“
اس کے بعد پیغمبراکرم (ص)نے حکم دیا اورلوگ جمع ہو گئے اورآپنے خطبہ پڑھا اور فرمایا: اے لوگو! کیاتم جانتے ہوکہ خداوند متعال میرامولا)میراصاحب اختیار)ہے اورمیں مؤمنین کامولاہوں اورمجھے ان کی جانوں پرتصرف کا زیادہ حق ہے ؟انہوں نے کہا:ہاں،یارسول اللہ۔فرمایا:اے علی(علیہ السلام)کھڑے ہوجاؤ!میں کھڑا ہوا۔فرمایا:جس جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی(ع)بھی مولا ہیں۔خداوندا!اس کو دوست رکھ جو علی(ع)کودوست رکھے اوراس کو اپنا دشمن قرار دے جوعلی(ع)سے دشمنی کرے۔
سلمان اٹھے اورکہا:یارسول اللہ!یہ کونسی ولایت ہے؟پیغمبر (ص)نے فرمایا:یہ ولایت وہی ہے جو میں رکھتاہوں ۔جس کی جان کے بارے میں ،میں اولیٰ ہوں علی(ع)بھی اسی طرح اس کی جان کے بارے میں اولیٰ ہے۔اس کے بعدخدا وند متعال نے یہ آیہء شریفہ نازل فرمائی:( الیوم اٴکملت لکم دینکم ) ۔۔۔ یعنی:”آج میں نے تمہارے لئے دین کو کامل کردیااوراپنی نعمتوں کوتمام کردیاہے اورتمہارے لئے دین اسلام کو پسندکر لیا۔“
اس کے بعد ابوبکراورعمراٹھے اورکہا:یارسول اللہ ! کیا یہ آیتیں علی(ع)سے مخصوص ہیں؟فرمایا:جی ہاں،یہ علی(ع)اور میرے قیامت تک کے دوسرے اوصیاء سے مخصوص ہیں۔انہوں نے کہا:یارسول اللہ!ان کو ہمارے لئے بیان کر دیجئے آنحضرت نے فرمایا: میرابھائی علی،امت کے لئے میراوزیر،وارث،وصی اورجانشین ہے اورمیرے بعد ہرمؤمن کا سرپرست ہے۔اس کے بعد میرے فرزندحسن وحسین(ع)اس کے بعد یکے بعد دیگرے میرے حسین(ع)کے نوفرزند ہیں۔قرآن مجید ان کے ساتھ ہے اور وہ قرآن مجید کے ساتھ ہیں۔وہ قرآن مجید سے جدا نہیں ہوں گے اورقرآن مجیدان سے جدا نہیں ہوگا یہاں تک کہ حوض کوثرپرمجھ سے ملیں گے۔اس کے بعد علی علیہ السلام نے اس مجمع میں موجود ان لوگوں سے،کہ جومیدان غدیر میں موجوتھے اورپیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ان با توں کواپنے کا نوں سے سن چکے تھے،کہا کہ اٹھ کراس کی گواہی دیں۔
زیدبن ارقم،براء بن عازب،سلمان،ابوذراورمقداداپنی جگہ سے کھڑے ہوئے اور کہا :ہم شہادت دیتے ہیں اورپیغمبر (ص)کے بیانات یاد ہیں کہ آنحضرت منبرپرکھڑے تھے اوران کے ساتھ آپ(ع)بھی ان کی بغل میں کھڑے تھے اورآنحضرتفرمارہے تھے:
”اے لوگو! خداوند متعال نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہارے لئے امام کہ جو میرے بعد تم لوگوں کی رہنمائی اور سر پرستی کرے اورمیراوصی اورجانشین ہو،کو نصب کروں،اس کونصب کروں جس کی اطاعت کوخداوند متعال نے اپنی کتاب میں واجب قراردیا ہے نیزاس کی اطاعت کواپنی اورمیری اطاعت کے برابرقراردیا ہے کہ جس سے)آیہ اولوالامرکی طرف اشارہ ہے) اے لوگو!خداوند متعال نے تمھیں نماز،زکوٰة،روزہ اورحج کا حکم دیا ۔میں نے تمہارے لئے اس کی تشریح ووضاحت کی ۔اوراس نے تمھیں ولایت)کا ایمان رکھنے) کابھی حکم دیااورمیں ، تمھیں گواہ بناتا ہوں کہ یہ ولایت اس)شخص)سے مربوط ہے )یہ جملہ بیان فرماتے وقت آنحضرت اپنادست مبارک علی(ع)کے شانہ پر رکھے ہوئے تھے)اوران کے بعداس کے دونوں بیٹوں)حسن وحسین(ع))اوران کے بعد ان کے فرزندوں میں سے ان کے جانشیوں سے مربوط ہے--“
حدیث مفصل و طولانی ہے۔ہم نے اس میں سے فقط اتنے ہی حصہ پراکتفا کیا کہ جوآیہء شریفہ”اولوالامر“سے مربوط ہے ۔محققین مذکورہ منابع میں مفصل حدیث کا مطلعہ کرسکتے ہیں۔
دوسری حدیث
یہ وہ حدیث ہے جسے مرحوم شیخ صدوق نے ”کمال الدین(۱) ‘ میں جابر بن یزید جعفی سے روایت کی ہے وہ کہتا ہے:
”میں نے سنا کہ جابر بن عبداللہ انصاری کہتے تھے:جب خدا وند متعال نے اپنے پیغمبر (ص)پر یہ آیہء شریفہ:( یاایّهاالذین آمنوااٴطیعواللّٰه واٴطیعواالرسول واولی الاٴمرمنکم ) نازل فرمائی،تو میں نے کہا:یارسول اللہ!ہم نے خدا اوراس کے رسولتو کو پہچان لیا۔اب وہ اولوالامرکہ جن کی اطاعت کو خداوندمتعال نے آپ کی اطاعت سے مربوط قراردیا ہے،وہ کون ہیں؟
آنحضرت (ص)نے فرمایا:”اے جابر!وہ میرے جانشین ہیں اورمیرے بعد مسلمانوں کے امام ہیں۔ان میں سب سے پہلے علی بن ابیطالب، پھرحسن وحسین،پھر علی بن حسین،پھر محمد بن علی،جوتوریت میں باقر کے نام سے معروف
____________________
۱۔کمال الدین،ص۲۵۳
ہیں اوراے جابر!تم جلدی ہی اس سے ملاقات کروگے لہذاجب انھیں دیکھنا توانھیں میرا سلام پہنچانا۔پھرصادق جعفر بن محمد،پھر موسیٰ بن جعفر،پھر علی بن موسیٰ،پھر محمدبن علی،پھر علی بن محمد،پھرحسن بن علی،پھر میراہم نام اورہم کنیت)جو)زمین پر خدا کی حجت اورخدا کی طرف سے اس کے بندوں کے در میان باقی رہنے والا حسن بن علی)عسکری)کا فر زندہے،جس کے ذریعہ خدا وند متعال مشرق ومغرب کی زمین کو فتح کرے گا۔وہ شیعوں او ر ان کے چاہنے والوں کی نظروں سے غائب ہوگا۔وہ ایسی غیبت ہوگی کہ ان کی امامت پر خدا کی طرف سے ایمان کے سلسلہ میں آزمائے گئے دلوں کے علاوہ کوئی ثابت قدم نہیں رہے گا“
تیسری حدیث:
یہ حدیث اصول کافی ۱ میں برید عجلی سے روایت کی گئی ہے وہ کہتے ہیں:
”امام باقر(علیہ السلام) نے فرمایا:خدا وند متعال نے)آیہء شریفہ)( یا اٴیّها الذین آمنوا اٴطیعو اللّٰه و اٴطیعوا الرسول و اولی الاٴمر منکم ) کے بارے میں صرف ہماراقصد کیاہے۔تمام مؤمنین کو قیامت تک ہماری)ائمہ معصومین) اطاعت کرنے کا کاحکم دیا ہے۔“
اس کے علاوہ شیعہ وسنی منابع میں اوربھی احادیث نقل کی گئی ہیں جن میں ”اولوالامر“سے مراد ائمہء معصو مین کو لیا گیا ہے۔اہل تحقیق،”فرائد السمطین“اور”ینا بیع المودة“جیسی سنی کتابوں اور”اصول کافی“،”غا یةالمرام“اور”منتخب الاثر“ جیسی شیعوں کی کتابوں کی طرف رجوع کرسکتے ہیں۔
____________________
۱۔اصول کافی،ج۱،ص۲۱۷
چوتھا باب:
امامت آیہء ولایت کی روشنی میں
( ( إنّماولیکم اللّٰه ورسوله والّذین آمنواالّذین یقیمون الصلوٰةویؤ تون الزکوٰة وهم راکعون ) ) ( مائدہ/۵۵)
”بس تمہاراولی اللہ ہے اوراس کا رسول اوروہ صاحبان ایمان ہیں،جونمازقائم کرتے ہیں اورحالت رکوع میں زکوٰةدیتے ہیں“۔
امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی امامت اوربلافصل ولایت کے سلسلہ میں شیعہ امامیہ کی ایک اوردلیل آیہء شریفہ ولایت ہے۔آیہء شریفہ کے استدلال کی تکمیل کے سلسلہ میں پہلے چندمو ضوعات کا ثابت کرنا ضروری ہے:
۱ ۔آیہ شریفہ میں ”إنما“ حصر کے لئے ہے۔
۲ ۔آیہ ئ شریفہ میں لفظ ”ولی“ حص کے معنی اولی بالتصرف اورصاحب اختیار نیزسرپرست ہو نے کے ہے۔
۳ ۔آیت میں ”راکعون“سے مراد نماز میں رکوع ہے، نہ کہ خضوع وخشوع۔
۴ ۔اس آیہء شریفہ کے شان نزول میں ، کہ جوامیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں ہے، ذکر ہواہے کہ حضرت(ع)نے رکوع کی حالت میں زکوٰةدی ،)یعنی اپنے مال کوخداکی راہ میں انفاق کیاہو)ثابت ہو۔
اس باب میں ہم ان موضوعات کوثابت کرنے کی کوشش کریں گے اورآخر پر اس آیہء شریفہ سے مربوط چند سوالا ت کا جواب دیں گے۔
لفظ”إنما“کی حصر پر دلالت
علما ئے لغت اورادبیات نے اس بات کی تاکید کیہے کہ لفظ”إنما“حصرپر دلالت کرتا ہے۔یعنی عربی لغت میں یہ لفظ حصر کے لئے وضع کیا گیا ہے۔
ابن منظورنے کہاہے:اگر ”إنّ“پر”ما“کا اضافہ ہو جائے تو تعیین وتشخیص پر دلالت کرتاہے۔جیسے خداوند متعال کا قول ہے:( إنّماالصدقات للفقراء والمساکین ) ۔۔۔(۱) چونکہ اس کی دلا لت اس پر ہے کہ حکم مذکور کو ثابت کرتا ہے اوراس کے غیر کی نفی کرتا ہے۔(۲)
جوہری نے بھی اسی طرح کی بات کہی ہے۔(۳)
فیروزآبادی نے کہاہے:”انّما“،”إنّما“کے مانند مفید حصرہے۔
اور یہ دونوں لفظ آیہء شریفہء:( قل إنّمایوحی إلیّ اٴنّماإلٰهکم إلٰه واحد ) (۴) میں جمع ہوئے ہیں۔(۵)
ابن ہشام نے بھی ایساہی کہا ہے۔(۶)
اس لئے اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے کہ لغت کے اعتبار سے لفظ”إنّما“کوحصرکے لئے وضع کیا گیاہے۔اگرکوئی قرینہ موجو ہوتواس قرینہ کی وجہ سے غیرحصرکے لئے استفادہ کیا
جاسکتا ہے،لیکن اس صورت میں ”إنّما“کااستعمال مجازی ہوگا۔
”ولیّ“کے معنی کے بارے میں تحقیق
”ولّی“ولایت سے مشتق ہے۔اگرچہ یہ لفظ مختلف معانی میں استعمال ہوا ہے لیکن اس کے موارد استعمال کی جستجو و تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا اصلی معنی سر پرستی ،اولویت
____________________
۱۔توبہ/۶۰
۲۔لسان العرب،ج۱،ص۲۴۵
۳۔صحاح اللغة،ج۵،ص۲۰۷۳
۴۔انبیاء/۱۰۸ ۵۔القاموس المحیط،ج۴،ص۱۹۸،دارالمعرفة،بیروت۔
۶۔مغنی اللبیب ،ج۱،ص۸۸،دارالکتب العلمیة بیروت
اورصاحب اختیار ہو نے کے ہے۔
ابن منظورکا”لسان العرب“میں کہنا ہے”الولیّ ولیّ الیتیم الّذی یلی اٴمره ویقوم بکفایته،وولیّ المرئةالّذی یلی عقدالنکاح علیهاوفی الحدیث:اٴیّماامرئة نکحت بغیرإذن مولیها فنکاحهاباطلوفی روایة:”ولیّها“اٴی متولّی اٴمرها “(۱)
یتیم کا ولی وہ ہے جو یتیم کے امور اور اس کی کفالت کا ذمہ دار ہے اوراس کے امورکی نگران کرتا ہے۔عورت کا ولی وہ ہے کہ جس کے اوپر اس کے عقد ونکاح کی ذمہ داری ہو۔
حدیث میں آیا ہے:جوبھی عورت اپنے مولا)سرپرست)کی اجازت کے بغیرشادی کرے تواس کا نکاح باطل ہے۔ایک روایت میں لفظ”ولیھا‘ ‘کے بجائے لفظ”مولیھا“آیا ہے کہ جس کے معنی سرپرست اورصاحب اختیار کے ہیں۔
فیومی”المصباح المنیر“میں کہتا ہے:
”الولیّ فعیل به معنی فاعل من ولیه إذقام بهومنه اللّٰه ولیّ الّذین آمنوا ،والجمع اٴولیاء،قال ابن فارس:وکلّ من ولی اٴمراٴحد فهوولیّهوقد یطلق الولیّ اٴیضاًعلی المعتق والعتیق،وابن العم والناصروالصدّیقویکون الولیّ بمعنی مفعول فی حق المطیع،فیقال:المؤمن ولیّ اللّٰه“ ۔(۲)
”فعیل)کے وزن پر(ولی فاعل کے معنی میں ہے ) ۔(۳) کہا جاتا ہے):ولیہ یہ اس
_____________________
۱۔لسان العرب ،ج۱۵،ص۱۰۴،دار احیاء التراث العربی ،بیروت
۲۔المصباح المنیر،ج۲،ص۳۵۰،طبع مصطفی البابی الحلبی واولادہ بمصر
۳۔”فعیل“صفت مشبہ ہے۔کبھی فاعل کے معنی میں بھی استعمال ہوتاہے، جیسے ”شریف“ اورکبھی مفعول کے معنی میں آتا ہے۔فیومی نے اپنے بیان میں اس کی طرف اشار ہ کیا ہے کہ آیہء شریفہ میں ”فعیل“فاعل کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔چنانچہ مؤمن کو کہا جاتا ہے”ولی خدا“ یعنی جس کے امورکی تدبیر خدا کے ہاتھ میں ہے اور وہ ا سے اپنے الطاف سے نواز تا ہے۔
صورت میں ہے جب کسی کے امو ر کے لئے عملاً قیام کرے اس کے کام کواپنے ذمہ لے لے۔ آیہء شریفہ:( اللّٰه ولیّ الذین آمنوا ) میں ولایت اسی کی ہے۔یعنی خداوند متعال مؤمنین کے امور کے حوالے سے صاحب اختیارا ور اولی بالتصرف ہے۔ابن فارس نے کہا ہے:جو بھی کسی کے امورکاذمہ دار ہوگا وہ اس کا ”ولی“ہوگا۔اور بعض اوقات”ولی“)دوسرے معانی میں جیسے) غلام کوآزاد کرنے والا،آزاد شدہ غلام ،چچازاد بھائی،یاوراوردوست کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے۔
ان بزرگ ماہرین لغت کے بیان سے استفادہ کیا جاسکتا ہے کہ یاور اوردوست جیسے مفاہیم ولی کے حقیقی معنی نہیں ہیں بلکہ کبھی کبھی ان معنوں میں استعمال ہو تا ہے اوراس قسم کا استعمال مجازی ہے۔
”ولی“کے معنی میں یہ جملہ معمولاًلغت ۱ کی کتابوں میں بہ کثرت نظر آتا ہے وہ ناقابل اعتناء ہے ”من ولی امر احدفہوولیہ“یعنی:”جو کسی کے کام کی سر پرستی اپنے ذمہ لے لے وہ اس کا ولی ہے“
ان معانی کے پیش نظر،ایسا لگتا ہے کہ لفظ”ولی“کا حقیقی اور معروف ومشہور معنی وہی صاحب اختیاروسر پرست ہو ناہے۔ قرآن مجید میں اس لفظ کے استعمال پر جستجو و تحقیق بھی اسی مطلب کی تائید کرتی ہے۔
ہم لفظ”ولی“کے قرآن مجید میں استعما ل ہونے کے بعض موارد کا ذکر کرکے بعض دوسرے موارد کی طرف اشارہ کرتے ہیں:(۱)
____________________
۱۔لسان العرب،ج۱۵،ص۴۱۰،المصباح المنیر،ج۲،ص۳۵۰طبع مصطفٰی البابی الحلبی بمصر،النہا یةج۵،ص۲۲۸المکتبة العلمیة،بیروت،منتہی الارب ،ج۴،ص۱۳۳۹،انتشارات کتابخانہ سنائی،مجمع البحرین،ج۲ص۵۵۴،دفتر نشر فرھنگ اسلامی،الصحاح،ص۲۵۲۹،دارالعلم للملابین، المفردات، ص۵۳۵، دفتر نشر کتابمعجم مقا ییس اللغة،ج۶،ص۱۴۱۔
چند بنیادی نکات کی یاد دہانی
یہاں پر چند نکات کی طرف اشارہ کرناضروری ہے:
پہلانکتہ:عام طور پر لغت کی کتابوں میں ایک لفظ کے لئے بہت سے موارداستعمال اور مختلف معانی ذکر کئے جاتے ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ لفظ ہر معانی کے لئے الگ الگ وضع کیا گیا ہے اوروہ لفظ مشترک ہے اوران معانی میں سے ہرایک،اس کا حقیقی معنی ہے لفظی اشتراک)یعنی ایک لفظ کے کئی معانی ہوں اور ہر معنی حقیقی ہو )اصول کے خلاف ہے۔اور علم لغت اورادبیات کے ماہرین نے جس کی وضاحت کی ہے وہ یہ ہے کہ اصل عدم اشتراک ہے۔
۱ ۔قرآن مجید میں لفظ”ولی“کے استعمال کے مواقع:
الف۔( اٴللّٰه ولی الذّین آمنوا یخرجهم من الظلمات إلی النور ) (بقرہ/ ۲۵۷)” اللہ صاحبان ایمان کا ولی ہے وہ انہیں تاریکوں سے نکال کرروشنی میں لے آ تاہے۔“
ب۔( انّ ولی اللّٰه الذّی نزل الکتاب و هو یتولّی الصالحین ) (اعراف/ ۱۹۶)” بیشک میرا مالک ومختار وہ خدا ہے جس نے کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک بندوں کاولی ووارث ہے۔“
ج۔( ام إتّخذ وا من دونه اٴولیائ فاللّٰه هوالولی وهو یحیی الموتی ) (شوریٰ/ ۹)” کیاان لوگو ں نے اس کے علاوہ کو اپنا سر پرست بنایا ہے جب کہ وہی سب کاسرپرست ہے اور وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے۔“
د۔( قل اٴغیراللّٰه اٴتخذوا ولیاًفاطرالسموات والارض وهو یطعم ولا یطعم ) ۔۔۔ (انعام/ ۱۴)” آپ کہئے کہ کیا میں خد ا کے علاوہ کسی اورکواپنا ولی بنالوں جب کہ زمین وآسمان کاپیداکرنے والا وہی ہے، وہی سب کوکھلاتاہے اس کوکوئی نہیں کھلاتاہے۔“
ہ ۔( و انت ولینا فاغفر لنا وارحمنا وانت خیرالغافرین ) )اعراف/ ۱۵۵)” توہمارا ولی ہے،ہمیں معاف کردے اورہم پررحم کر کہ توبڑابخشنے والاہے۔“
و۔( فإن کان الذی علیه الحق سفیهاًاو ضعیفاًاولا یستطیع ان یمل هو فلیملل ولیه بالعدل ) )بقرہ/ ۲۸۲)” اب اگر حق اس کے خلاف ہو اوروہ نادان یاکمزورہو اور اس کو لکھنے کی صلا حیت نہ ہو تو اس کے ولی کو چاہئیے کہ عدل و انصاف کے ساتھ اسے لکھے۔
ز۔( ومن قتل مظلوماً فقدجعلنا لولیه سلطاناً ) )اسراء/ ۳۳)” جومظلوم قتل ہوتاہے ہم اس کے ولی کوبدلہ کااختیاردیتے ہیں۔
دوسر ی آیات: یوسف/ ۱۰۱ ، ہود/ ۱۱۳ ، شوریٰ/ ۴۶ ،فصلت/ ۳۱ ، نحل/ ۶۳ ، بقرہ/ ۱۰۷ و ۱۲۰ توبہ/ ۷۴ و ۱۱۶ ، عنکبوت/ ۲۲ ،شوریٰ/ ۸ و ۳۱ ،نساء/ ۴۵ ،
۷۵،۸۹،۱۲۳ و ۱۷۳ ،احزاب/ ۱۷ و ۶۵ ،فتح/ ۲۲) مذکورہ ۱۵ آیات میں ولی اورنصیرایک ساتھ استعمال ہوئے ہیں نساء/ ۱۱۹ ، مریم/ ۵ ،سباء/ ۴۱ ، نمل ۴۹ ،نساء/ ۱۳۹ ،یونس/ ۶۲ ، اسراء/ ۹۷ ،الزمر/ ۳ ، شوریٰ/ ۶ ، ممتحنہ/ ۱ ،آل عمران/ ۱۷۵ ،انفال/ ۴۰ ،محمد/ ۱۱ بقرہ/ ۲۸۶ ،توبہ/ ۵۱ ،حج/ ۷۸ ۔
کتاب”مغنی اللبیب“کے مصنف،جمال الدین ابن ہشام مصری،جواہل سنت میں علم نحو کے بڑے عالم مانے جاتے ہیں جب آیہء شریفہ( إنّ اللّه وملائکته یصلّون علی
النّبی ) (۱) میں قرائت رفع(ملائکتُہ)کی بنیاد پر بعض علمائے نحو جو”إنّ“کی خبر)یصلّی ہے)کو محذوف اورمقدر جانتے ہیں،نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں:
”واماّقول الجماعةفبعیدمن جهات:إحداهااقتضاؤه للإشترا والاٴصل عدمه لما فیه من الإلباس حتیّ إنّ قوماًنفوهثمّ المثبتون له یقولون:متی عارضه غیره ممّایخالف الاٴصل کالمجاز قدّم علیه (۲) “
”ان کی بات کئی جہتوں سے حقیقت سے بعید ہے۔اول اس لحاظ سے کہ ان کے بیان کا لازمہ یہ ہے کہ صلاة کو مشترک لفظی تسلیم کریں جبکہ اشتراک خلاف اصل ہے یہاں تک کہ بعض نے اسے بنیادی طو ر پر مسترد کیا ہے اور جنہوں نے اسے ثابت جا نا ہے انھوں نے اسے مجاز اور اشتراک کی صورت میں مجاز کو اشتراک پر مقدم جانا ہے۔“
فیروزآبادی،صاحب قاموس نے بھی صلوٰت کے بارے میں ایک کتاب لکھی ہے کہ جس میں آیہء شریفہ( إنّ اللّه وملا ئکته یصلّون علی النبیّ ) ۔۔۔ کے بارے میں تحقیق کی ہے اورمذکورہ بیان کو ابن ہشام سے نقل کیا ہے۔(۳)
اس بناء پر،ولایت کے مفہوم میں )جو کئی معانی ذکر ہوئے ہیں)سے جو معنی قدر متیقّن اوریقینی ہیں وہ سرپرستی اورصاحب اختیار ہو نے کے ہیں،اور دوسرے معانی جیسے،دوستی اوریاری اس کے حقیقی معنی کے حدود سے خارج ہیں اور ان کے بارے میں اشتراک لفظی کا سوال ہی پیدا
____________________
۱۔احزاب/۵۶
۲۔مغنی اللبیب،ج۲،باب پنجم،ص۳۶۵
۳۔الصلوةوالبشرفی الصلوة علی خیرالبشر،ص۳۳،دار الکتب العلمیة،بیروت
نہیں ہوتا۔
لہذا اگر مادئہ ”ولی“قرینہ کے بغیر استعمال ہو تو وہ سرپرستی اورصاحب اختیار ہو نے کے معنی میں ہوگا۔
دوسر ا نکتہ بعض اہل لغت نے مادہ ”و لی“کو ایک اصل پر مبنی جانا ہے اورمفہوم کا اصلی ریشہ)جڑ) کو ”قرب“ قراردیا ہے۔اور بعض مفسرین نے کلمہ”ولی“کو اسی بنیاد پرذکر کیا ہے، اس سلسلہ میں چندمطالب کی طرف توجہ کر نا ضروری ہے:
سب سے پہلے اس بات کو ملحوظ رکھناچاہئے کہ لغوی معنی کے اس طرح کی تحلیل اوراس کاتجزیہ ایک حدس وگمان اور خوامخواہ کے اجتہاد کے سواء کچھ نہیں ہے اوراس پرکوئی دلیل نہیں ہے۔
دوسرے یہ کہ وہ چیز جومعنی کے سمجھنے اوراس لفظ سے تبادر کے لئے معیار ہے وہ اس کے استعمال کازمانہ ہے۔بیشک بہت سے مواقع پر”ولی“کے معنی سے قرب کامفہوم ذہن میں پیدا نہیں ہوتاہے۔بعض مواقع پرکہ جہاں قرینہ موجودہوجیسے”المطرالولی“)وہ بارش جوپہلی بارش کے بعدیااس کے بہت قریب واقع ہو ئی ہو )میں اس قسم کے استعمال کوقبول کیا جاسکتا ہے۔
اس بناپراگرفرض بھی کر لیاجائے کہ”قرب“اس معنی کی اصلی بنیادتھی اورآغاز میں لفظ”ولی“کامفہوم”قرب“کے معنی میں استعمال ہوتا تھا،لیکن موجودہ استعمال میں وہ معنی متروک ہو چکاہے اوراب اس کااستعمال نہیں ہے۔
تیسرا بعض اہل لغت جیسے ابن اثیرنے”النہایة ۱“ میں اورابن منظورنے”لسان العرب ۲“ میں ”ولی“ کے معنی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”ولی“ خداکے
____________________
۱۔النہا یة،ج۵،ص۲۲۸
۲۔لسان العرب ،ج۱۵،ص۱۰۶
ناموں میں سے ایک نام ہے اوریہ ناصرکے معنی میں ہے اورکہاگیاہے کہ اس کے معنی امورجہان کے متولی و منتظم کے ہیں۔
اس بیان سے استفادہ ہوتاہے کہ”ولی“جوخداکے ناموں میں سے ایک نام ہے،ان کے نزدیک ناصرکے معنی میں ہے،جبکہ مطلب صحیح نہیں ہے کیو نکہ اگر ”ولی“کے معنی ناصر کے
ہوں گے)چونکہ”ولی“کاایک مادہ اورایک ہیئت ہے،اوراس کامادہ”ولی“”ول ی“وہیئت فعیل ہے)تواس کاتقاضایہ ہے کہ مادہ”ولی“نصرکے معنی میں اوراس کی ہیئت)ہیئت فعیل) فاعل کے معنی میں ہے۔
ایک بات یہ کہ یہ دونوں نظریہ، بغیردلیل کے ہیں اوردوسرے یہ کہ:فعیل صفت مشبہ ہے جس کی دلا لت ثبوت پرہے جبکہ فاعل حدوث پردلالت کرتاہے اوریہ دونوں مفہوم کے اعتبار سے ایک دوسرے کے متغائیرہ ہیں۔
اس لئے”ولی“اسم الہی، اسی صاحب اختیاراورکائنات کے امورمیں متولی کے معنی میں ہے کہ جس کو دونوں اھل لغت نے اپنے مختارنظریہ کے بعد“قیل“کے عنوان سے بیان کیاہے۔
چوتھانکتہ:قرآن مجیدکی بہت سی آیتوں میں ”ولی“،”نصیر“ کے مقابلہ میں آیاہے، جیسے( ومالکم من دون اللّٰه من ولیّ ولانصیرا ً ) (۱) تمہارے لئے اس کے علاوہ نہ کوئی سرپرست ہے اورنہ مددگار“
اگر”نصیر“،”ولی“کے معنی میں ہوتاتواس کے مقابلہ میں قرارنہیں دیا جا تااوران دونوں لفظوں کاایک دوسرے سے مقابلہ میں واقع ہو نااس بات کی دلیل ہے کہ مفہوم کے لحاظ سے یہ دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
_____________________
۱۔بقرہ/۱۰۷
پانچواں نکتہ:بعض افرادنے قرآن مجید کی بہت سی آیات کے بارے میں یہ تصورکیا ہے کہ ولی اورولایت نصرت اورمددکے معنی میں استعما ل ہوا ہے،جیسے:( مالکم من ولایتهم من شیء ) (۱) جب کہ ولایت سے مراد”نصرت کی ولایت“ہوسکتاہے نہ یہ کہ ولایت”نصرت“کے معنی میں ہے،کیونکہ نصرت ومددولایت و سر پرستی کی علا متوں میں سے ایک
علا مت ہے اس لحاظ سے ولایت کامعنی سرپرستی کے علاوہ کچھ نہیں ہے اوراس سے نصرت ویاری میں سرپرستی مرادہے۔
”ولی“کے معنی کے سلسلہ میں جوکچھ بیان کیاگیا،اس کے پیش نظر،آیہء کریمہ میں صرف سرپرست اورصاحب اختیارہی والا معنی مراد ہے۔
اس کے علاوہ آیہء شریفہ میں قطعی ایسے قرینہ موجودہیں کہ جس سے مراد ”دوست“اور”یاور“نہیں ہوسکتے ہیں۔اس کی مزیدوضاحت سوالات کے جواب میں ائے گی۔
رکوع کے معنی
لغت میں ”رکوع“کے معنی جھکنااورخم ہوناہے۔اسی لئے نمازمیں جھکنے کو”رکوع“کہتے ہیں۔(۲)
زبیدی”تاج العروس(۳) “ میں کہتاہے:
”اگررکوع کوتنگدستی اورمفلسی کے لئے استعمال کیاجائے اور ایسے شخص کوجوامیری کے بعدفقیری اورتنگدستی میں مبتلا ہو جا ئے اورزوال سے دوچارہو تواسے”رکع
____________________
۱۔انفال/۷۲
۲۔الصاح جوہری،ج۳،ص۱۲۲۲،دارالعلم للملابین،القاموس المحیط،فیروزآبادی،ج۳، ص۳۱، دارالمعرفہ، بیروت،المنیر،فیومی،ص۲۵۴،ط مصر،جمھرة اللغة،ابن درید،ج۲، ص۱۷۷۰کتاب العین، خلیل بن احمد فراہیدی،ج۱،ص۲۰۰
۳۔تاج العروس،ج۲۱،ص۱۲۲،دارالہدایة للطباعة والنشر والتوزیع۔
الرجل“کہتے ہیں اوریہ استعمال مجازی ہے۔“
اس لئے رکوع کاحقیقی معنی وہی جھکنااورخم ہوناہے اوراگراسے دوسرے کسی معنی،جیسے زوال اورخضوع میں استعمال کیاجائے تویہ اس کے مجازی معنی ہیں اوراس کے لئے قرینہ کی ضرورت ہے۔
آیہء ولایت کی شان نزول
شیعہ اوراہل سنّت تفسیروں کے منابع میں موجودبہت سی احادیث کے مطابق یہ آیہ شریفہ حضرت علی بن ابیطالب علیہ السلام کے بارے میں ناز ل ہو ئی ہے اور الذین آمنوا۔۔۔ سے مرادوہی حضرت(ع)ہیں۔
ہم اس سلسلہ میں ایک حدیث کو درج کرتے ہیں،جس کوثعلبی ۱ نے اپنی تفسیر ۲ میں سنی محدثین اور مفسرین سے نقل کیا ہے اورشیعوں کے بڑے مفسرشیخ طبرسی نے بھی اس کو”مجمع البیان ۳“ میں درج کیاہے:
”عن عبایة بن الربعی قال:بیناعبداللّٰه بن عباس جالس علی شفیرزمزم إذااٴقبل رجل متعمّم بالعمامة؛فجعل ابن عباس لایقول:”قال رسول اللّٰه( ص) إلاّقال الرجل:قال رسول اللّٰه( ص) “!!فقال ابن عباس:ساٴلتک باللّٰه،من اٴنت؟قال:فکشف العمامةعن وجهه وقال:یا اٴیّهاالناس،من عرفنی فقد عرفنی ومن لم یعرفنی فاٴنا “
جندب من جنادةالبدری،اٴبوذرالغفاری،سمعت رسول اللّٰه
___________________
۱ ۔ثعلبی کے بارے میں ذہبی کا قول دوسرے اعتراض کے جواب میں بیان کیاجائے گا۔
۲” الکشف والبیان“ج ۴ ،ص ۸۱ ۔ ۸۰ ،داراحیائ التراث العربی
۳ ۔مجمع البیان،ج ۳ ،ص ۳۲۴
( ص) بها تین وإلاّصمّتا،وراٴیته بها تین وإلاّفعمیتا،یقول:علیّ قائد البررة،وقاتل الکفرة،منصورمن نصره،مخذول منخذ لهاٴماّ إنّی صلّیت مع رسول اللّٰهصلىاللهعليهوآلهوسلم یوماًمن الاٴیاّم صلاةالظّهر،فدخل سائل فی المسجدفلم یعطه اٴحد،فرفع السائل یده إلی السّماء وقال:اللّهمّ اٴشهد إنّی ساٴلت فی مسجدرسول اللّٰه فلم یعطنی احد شیئاً - وکان علیّ راکعاً - فاٴومی إلیه بخنصره الیمنی - وکان یتختّم فیها - فاٴقبل السائل حتیّاٴخذالخاتم من خنصره!وذلک بعین النبیّی
فلماّ فرغ النّبیّی( ص) من الصلاةرفع یده إلیالسّماء وقال:اللّهمّ إنّ اٴخی موسی ساٴلک فقال:( ربّ اشرح لی صدری ویسّرلی امری،واٴجعل لی وزیراً من اٴهلی هارون اٴخی اشدد به اٴزری ) فاٴنزلتَ علیه قرآناًناطقاً( سنشدّعضدک باٴخیک ونجعل لکما سلطا ناً )
اللّهمّ واٴنامحمّدنبیّک وصفیکاللّهمّ فاشرح لی صدری ویسّرلی اٴمری،واٴجعل لی وزیراًمن اٴهلی علیّاً اشددبه ظهری
قال اٴبوذر:فواللّٰه مااستتمّ رسول اللّٰه الکلمة حتّی اُنزل علیه جبرئیل من عنداللّٰه،فقال یامحمّد!إقراٴ،فقال:ومااٴقراٴ؟قال:إقراٴ:، ”إنّما ولیّکم اللّٰه ورسوله إلی راکعون“الآیة
”عبایہ بن ربیع سے روایت ہے کہ اس نے کہا:اس وقت جب عبداللہ بن عباس)مسجد الحرام میں )زمزم کے کنارے بیٹھے تھے ) اور پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے حدیث روایت کررہے تھے)اچانک ایک عمامہ پوش شخص آپہونچا)اوررسول خدا (ص)سے اس طرح حدیثیں نقل کرنا شروع کیں)کہ جب عبداللہ ابن عباس کہتے تھے:”قال رسول اللہ، (ص)“وہ شخص بھی کہتاتھا:”قال رسول اللہ (ص)۔“ابن عباس نے کہ:تمھیں خدا کی قسم ہے یہ بتاؤکہ تم کون ہو؟اس شخص نے اپنے چہرے سے نقاب ہٹائی اورکہا:اے لوگو!جومجھے پہچانتاہے،وہ پہچانتاہے،اورجومجھے نہیں پہچانتامیں اسے اپنے بارے میں بتادیناچاہتاہوں کہ میں جندب،جنادئہ بدری کابیٹا،ابوذرغفاری ہوں۔میں نے رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم سے اپنے ان دونوں)کانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے)کا نوں سے سنا اگریہ با ت صحیح نہ ہو تو)میرے کان)بہرے ہو جائیں اوران دونوں انکھوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) آنکھوں سے دیکھا اگر یہ با ت درست نہ ہو تو میری آنکھیں اندھی ہوجائیں)میں نے سنا اور دیکھا) فرما رہے تھے: علی (علیہ السلام) نیکوں کے پیشوااور کافروں کے قاتل ہیں۔جوان کی مددکرے گااس کی خدا نصرت کرے گا،اورجوانھیں چھوڑدے گاخدااسے بھی چھوڑدے گا۔
ایک دن میں رسول خدا (ص)کے ساتھ ظہرکی نمازپڑھ رہاتھاکہ ایک سائل نے اہل مسجد سے سوال کیا،کسی نے اس کی حاجت پوری نہیں کی۔سائل نے اپنے ہاتھآسمان کی طرف بلند کئے اورکہا:
خداوندا! تو گواہ رہناکہ میں نے مسجدالنبی میں سوال کیااورکسی نے میری حاجت پوری نہیں کی۔علی(علیہ السلام)رکوع کی حالت میں تھے،اپنی چھوٹی)انگلی جس میں انگوٹھی تھی)سے اس کی طرف اشارہ کیا۔سائل نے سامنے سے آکرانگوٹھی آپ(ع)کے ہاتھ سے نکال لی۔رسول خدا (ص)اس واقع کے شاہد اور گواہ ہیں جب پیغمبراسلام (ص)نمازسے فارغ ہوئے آسمان کی طرف رخ کرکے عرض کی:خداوندا!میرے بھائی موسیٰ(علیہ السلام) نے تجھ سے سوال کیا اور کہا”پروردگارا!میرے سینے کوکشادہ کردے،میرے کام کو آسان کر دے اور میری زبان کی گرہوں کوکھول دے،تا کہ یہ لوگ میری بات سمجھ سکیں اور میرے اہل میں سے میرے بھائی ہارون کومیراوزیرقراردیدے،اس سے میری پشت کومضبوط کردے،اسے میرے کام میں شریک بنادے۔“)اس کی درخواست کو بر لا)اور تو نے اس داستان کے بارے میں قرآن مجیدمیں یوں فرمایا:”ہم تمھارے بازؤں کوتمھارے بھائی)ہارون)سے مضبوط کردیں گے اورتمھیں ان پرمسلط کردیں گے۔“
خداوندا!میں تیرا بر گزیدہ پیغمبرہوں،خداوندا!میرے سینے کوکشادہ کردے،میرے کام کوآسان کر،میرے اہل میں سے میرے بھائی علی(ع)کومیر اوزیرقراردے اوراس سے میری پشت کومضبوط کر۔)ابوذرکہتے ہیں:)خدا کی قسم رسول خدا (ص)نے ابھی اپنی بات تمام بھی نہیں کی تھی کہ جبرئیل امین خداکی طرف سے نازل ہوئے اورکہا:اے محمد!پڑھئے!) آنحضرت نے) کہا:کیا پڑھوں؟ )جبرئیل نے کہا)پڑھئیے: إ( نّماولیکم اللّٰه ورسوله ) ۔۔۔ “
شیخ طبرسی نے اس حدیث کے خاتمہ پرکہاہے:اس روایت کوابواسحاق ثعلبی نے اپنی تفسیر میں اسی سند سے)کہ جیسے میں نے ذکرکی ہے)نقل کیاہے۔اس شان نزول کو بیان کر نے والی بہت ساری حدیثیں ہیں ان میں سے بعض کوہم دوسری مناسبتوں کے سلسلہ میں بیان کریں گے اوران میں سے بعض دوسری احادیث کے حوالہ ابن تیمہ کے جواب کے ذیل میں عرض کریں گے۔ان احادیث کے پیش نظرواضح ہو گیا کہ یہ شان نزول قطعی ہے اوراس میں کسی قسم کے شک وشبہ کی گنجا ئش نہیں ہے۔
آیہء ولایت کے بارے میں چند سوالات اوران کے جوابات
آیہء ولایت کے بارے میں چندسوالات کئے جا تے ہیں،مناسب ہے ہم اس باب میں ان کے جوابات دیں۔
۱ ۔کیاآیت میں ”ولی“کامعنی دوست نہیں ہے؟
یہ آیہء کریمہ ایسی آیات کے سیاق میں ہے کہ جس میں مومنین کے لئے یہودونصاریٰ کو اپنے ولی قراردینے سے نہی کی گئی ہے۔چونکہ ان آیات میں ولی’یاور“یا’دوست“کے معنی میں ہے،اس آیت میں بھی اس کے معنی اسی سیاق کے تحت درج ہے،لہذا اسی معنی میں ہونا چاہئے۔اگرایسا نہ ما نیں توسیاق واحدمیں تفکیک لازم آ ئیگی۔
اس لئے اس آیت کے معنی یوں ہوتے ہیں:”بس تمہارایاوریادوست اللہ اوراس کا رسول اور وہ صاحبان ایمان ہیں جو نمازقائم کرتے ہیں اورحالت خضوع اورانکساری میں زکوٰةدیتے ہیں۔“
جواب:
اوّل یہ کہ:آیہء شریفہ میں سیاق کا پا یا جا نامنتفی ہے،کیونکہ آیہء کریمہ) چنانچہ اس کی شان نزول کے سلسلہ میں پہلے اشارہ کیا جا چکا ہے اوراس کی مزیدوضاحت آگے کی جائے گی) ایک مستقل شان نزول رکھتی ہے۔نزول کامستقل ہونا اس معنی میں ہے کہ یہ آیت اپنے معانی و مفا ہیم کے لحاظ سے دوسری آیات سے مربوط نہیں ہے۔
بیشک قرآن مجیدکی آیات کی تر تیب وتنظیم،جس طرح اس وقت موجود ہے،ا سی اعتبار سے ہم اس کی قرائت کرتے ہیں باوجود اس کے کہ ان میں نزول کی تر تیب کے لحاظ سے تناقض پایا جاتا ہے۔یہاں تک بعض سورہ یا آیات کہ جوپہلے نازل ہوئی ہیں وہ موجودہ ترتیب میں قرآن کے آخر میں نظر آتی ہیں،جیسے:مکی سورے کہ جوقرآن مجیدکے آخری پارے میں
مو جودہیں اور بہت سی آیات اورسور ے اس کے برعکس ہیں جیسے:سورئہ بقرہ کہ جوموجودہ تر تیب کے لحاظ سے قرآن مجیدکادوسراسورہ ہے جب کہ یہ مدینہ میں نازل ہونے والاپہلاسورہ ہے۔
لہذا مو جودہ تر تیب زمانہ نزول کے مطابق نہیں ہے،اورمعلوم ہے کہ آیات کے ظہور کے پیش نظرترتیب کا معیار زمانہ نزول ہے۔
اگریہ کہاجائے کہ:آیات اورسورتوں کی تنظیم،پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زیرنظرانجام پائی ہے اورآنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے آیات کی مناسبت اورمعنوی نظم کو مدنظررکھتے ہوئے ہرآیہ اورسورہ کواپنی مناسب جگہ پرقراردیاہے۔اس لئے موجودہ تر تیب کا زمانہ نزول سے مختلف ہو ناسیاق کے لئے ضرر کا باعث نہیں ہے۔
جواب میں کہنا چا ئے:اگر چہ یہ نظریہ صحیح ہے کہ موجودہ صوت میں قرآن مجید کی آیات کی تنظیم اور ترتیب آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی نگرانی میں انجام پائی ہے۔اس کی دلیل یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر میں کوئی مصلحت تھی جس کے پیش نظرہر آیت یا سورہ کو ایک خاص جگہ پر قرار دیا جائے،لیکن اس کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی یہ مصلحت نظم ومناسبت کی رعایت اورآیات کے ایک دوسرے سے معنوی رابطہ کی وجہ سے مر بوط ہے ۔
اس لحا ظ سے ہر آیت کا نزول اگر اس کی پچھلی آیات سے دلیل کی بنا پر ثابت ہوجائے تو اس میں سیاق کاوجود ہے اورجس کسی آیت کا نزول مستقل یا مشکوک ہو تو اس آیت کا گزشتہ آیت سے متصل ہونا اس کے سیاق کا سبب نہیں بن سکتا ہے۔ زیر بحث آیت کا نزول بھی مستقل ہے اور مذکورہ بیان کے پیش نظر اس میں سیاق موجود نہیں ہے۔
دوسرے یہ کہ: اگر سیاق پا یابھی جائے پھر بھی گزشتہ آیت میں ثابت نہیں ہے کہ ”ولی“کا معنی دوست اور ناصر کے ہیں جیسا کہ فرماتا ہے:
( یاایّهاالّذین آمنوالا تتخذواالیهود والنصاریٰ اولیاء بعضهم اولیائ بعض ) ۔۔۔ )مائدہ/۵۱)
”ایمان والو!یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا ولی وسر پرست نہ قرار دو کہ یہ خودآپس میں ایک دوسرے کے ولی ہیں ۔“
اس آیت میں بھی) ہمارے مذکورہ اشارہ کے پیش نظر)ولایت،سر پرستی اورصاحب اختیار کے معنی میں ہے۔
تیسرے یہ کہ:اگر آیہء کریمہ میں موجودولایت دوستی یا نصرت کے معنی میں ہو تواس سے یہ لازم آ ئے گا کہ اس کا مفہوم خلاف واقع ہو، کیونکہ اس صورت میں اس کے معنی یوں ہوں گے ” بس تمہارا مدد گار یادوست اللہ اور اس کا رسول اور وہ صاحبان ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور رکوع کی حالت میں زکواة دیتے ہیں۔“جبکہ معلوم ہے کہ مومنین کے مدد گاراوردوست ان افراد تک محدود نہیں ہیں جورکوع کی حالت زکواة دیتے ہیں بلکہ تمام مومنین ایک دوسرے کے مدد گاراوردوست ہیں!
مگریہ کہ آیہ کریمہ میں ”راکعون“کے معنی”خداکی بارگاہ میں خضوع وخشوع کرنے والے کے ہیں اوریہ معنی مجازی ہیں اوررکوع کے حقیقی معنی جھکنے اور خم ہو نے کے ہیں ان مطالب کے پیش نظر،سیاق کی بات یہاں پر موضوع بحث سے خارج ہے اور اس کے وجودکی صورت میں بھی معنی مقصود کوکوئی ضررنہیں پہنچاتاہے ۔
۲ ۔مذکورہ شان نزول )حالت رکوع میں حضرت علی(ع)کاانفاق کر نا)ثابت نہیں ہے۔
بعض افراد نے آیہ شریفہ کی شان نزول پراعتراض کیاہے اور کہا ہے کہ یہ واقعہ)امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کا نماز کی حالت میں انفاق کرنا اوراس سلسلہ میں ایت کا نازل ہونا)ثابت نہیں ہے۔رہی یہ با ت کہ ثعلبی نے اس داستان کو نقل کیاہے تووہ صحیح اورغیر صحیح روایتوں میں تمیزکرنے کی صلاحیت نہیںرکھتاہے،اوربڑے محدثین،جیسے طبری اورابن حاتم وغیرہ نے اس قسم کی جعلی داستانوں کونقل نہیں کیاہے؟!
جواب :
یہ شان نزول شیعہ واہلسنت کی تفسیر اورحدیث کی بہت سی کتابوں میں نقل ہوئی ہے اور ان میں سے بہت سی کتابوں کی سندمعتبرہے۔چونکہ ان سب کو نقل کرنے کی یہاں گنجائش نہیں ہے،اس لئے ہم ان میں سے بعض کے حوالے حاشیہ میں ذکرکرتے ہیں(۱)
____________________
۱۔ احقاق الحق/ج۳/ص۳۹۹ تا۴۱۱، احکام القرآن جصاص/ج۲/ص۴۴۶، اربعین ابی الفوارس/ص۲۲مخطوط، ارجح المطالب/ص۱۶۹طبع لاہور )بہ نقل احقاق الحق) ، اسباب النزول/ص۱۳۳انتشارات شریف رضی، اصول کافی/ج۱/ص۱۴۳/ح ۷ وص۱۴۶/ح۱۶وص۲۲۸/ح۳ المکتبةالاسلامیہ ، انساب الاشراف/ج۲/ص۳۸۱دار الفکر، البدا یة والنہایة)تاریخ ابن کثیر)/ج۷/ص۳۷۱دارالکتب العلمیہ، بحرالعلوم)تفسیر السمر قندی)/ج۱/ص۴۴۵ دارالکتب العلمیة بیروت البحر المحیط/ج۳/ص۵۱۴مؤ سسةالتاریخ عربی، تاریخ مدینة دمشق/ج۴۲/ص۳۵۶و۳۵۷دارالفکر، ترجمة الامام امیرالمؤ منین/ج۲/ص۴۰۹و۴۱۰دار التعارف للمطبو عات، التسہیل لعلوم التنذیل/ج۱۰ص۱۸۱دارالفکرتفسیرابن کثیر/ج۲/ص۷۴دارالمعرفة بیروت، تفسیر بیضاوی/ج۱/ص۲۷۲دار الکتب العلمیہ، تفسیر الخازن/ج۱/ص۴۶۸دار الفکر، تفسیر فرات/ج۱/ص۱۲۳۔۱۲۹، تفسیر القرآن /ابن ابی حاتم/ج۴/ص۱۱۶۲المکتبةالاہلیہ بیروت، تفسیر کبیر فخررازی/ج۶/جزء۱۲/ص۲۶داراحیائ التراث العربی بیروت، جامع احکام القرآن ۔ج۶/ص۲۲۱و۲۲۲دارالفکر، جامع الاصول/ج۹/ص۴۷۸/ح۶۵۰۳داراحیائ التراث العربی، جامع البیان طبری/ج۴/جزء ۶/ص۱۸۶دار المعرفة بیروت، الجواہر الحسان/ج۲/ص۳۹۶داراحیائ التراث العربی بیروت، حاشیةالشہاب علی تفسیربیضاوی /ج۳/ص۲۵۷دار احیائ التراث العربی بیروت، حاشیةالصاوی علی تفسیرجلالین /ج۱/ص۲۹۱ دار الفکر، الحاوی للفتاوی مکتبة القدس قاہرہ)بہ نقل احقاق الحق)، الدر المنثور/ج۳/ص۱۰۵و۱۰۶ دارالفکر، ذخائر العقبی/ص۸۸ مؤسسة الوفائ بیروت، روح المعانی /ج۶/ص۱۶۷ داراحیائ التراث العربی، الریاض النضرة /ج۲/ص۱۸۲دار الند وة الجدیدة، شرح المقاصد تفتازانی/ج۵/ص۲۷۰و۲۷۱، شرح المواقف جر جانی/ج۸/ص۳۶۰، شرح نہج البلاغہ/۱بن ابی الحدید، شواہد التنزیل /ص۲۰۹ تاص۲۴۸)۲۶حدیث)، غرائب القرآن نیشاپوری/ج۲/جزء۶/ص۶۰۶/دار الکتب العلمیة بیروت، فتح القدیر)تفسیر شوکانی)/ج۲ص۶۶/دار الکتب العلمیة بیروت، فرائد السمطین /ابراہیم بن محمد جوینی /ج۱/ص۱۸۷وص۱۹۵/مؤسسة المحمودی، الفصول المہمة/ص۱۲۳و۱۲۴/منثورات الا علمی تہران، الکشاف /زمخشری/ج۱/ص۳۴۷دار المعرفة بیروت، کفایة الطالب/ص۲۴۹وص۲۵۰/داراحیائ تراث اہل البیت، کنزالعمال/ج۱۳/ص۱۰۸وص۱۶۵/مؤسسةالرسالة، اللباب فی علوم الکتاب /ج۷/ص۳۹۰ وص۳۹۸/دارالکتب العلمیة بیروت، مجمع الزوائد/ج ۷/ص۸۰/دارالفکر۔ المرا جعات/ص۲۵۷،مرقاة المفاتیح/ج۱۰/ص۴۶۲/دارالفکر مطالب السؤول/ج۱/ص۸۶ و۸۷، معالم التنزیل/ج۲/ص۴۷ المعجم الاوسط/ج۷/ص۱۲۹وص۱۳۰/مکتبة المعارف الریاض، معرفة علوم الحدیث/ص۱۰۲/دارالکتب العلمیة بیروت منا قب ابن مغازلی/ص۳۱۱/المکتبة الاسلامیة، مناقب خوارزمی/ص۲۶۴ وص۲۶۵وص۲۶۶/مؤسسة النشر الاسلامی، مواقف ایجی /ج۸/ص۳۶۰ نظم درر السمطین/ص۸۶/مطبعة القضاء)بہ نقل احقاق الحق)، النکت والعیون)تفسیر الماوردی)/ج۲/ص۴۹/مؤسسة الکتب الثقا فیةنورالابصار/ص۸۶ و۸۷/دارالفکر
اس قسم کے معتبرواقعہ کوجعلی کہنا،امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی مقدس بار گاہ میں جسارت اور ان بڑے محدثین کی توہین ہے کہ جنہوں نے اس حدیث کواپنی کتابوں میں درج کیاہے!اور ثعلبی کے متعلق اس طرح کے گستاخانہ اعترا ضات کہ وہ صحیح اورغیر صحیح احادیث میں تمیز دینے کی صلا حیت نہیں رکھتاہے،جب کہ اہل سنت کے علمائے رجال نے اس کی تعریف تمجیدکی ہے اوروسیع پیمانے پر اس کو سر اہا اور نوازاہے۔ہم یہاں پرنمونہ کے طورپران میں سے صرف دوبزرگوں کے نظریات پیش کرتے ہیں:
علمائاہل سنت میں علم رجال کے ماہر نیز مشہور ومعروف عالم دین اورحدیث شناس،ذہبی،ثعلبی کے بارے میں یوں کہتے ہیں:
”الإمام الحافظ العلا مة شیخ التفسیر کان اٴحد اٴو عیة العلم وکان صادقاً موثقاًبصیراً بالعربیة “(۱)
”یعنی:وہ امام،حافظ،علامہ،استادتفسیرنیز ایک علمی خزانہ ہیں۔وہ سچّے،قابل اعتماداورعربی ب کے حوالے سے وسیع معلو مات اور گہری نظررکھنے والے ہیں۔“
۲ ۔عبدالغافر نیشابوری”منتخب تاریخ نیشاپوری“ کہتے ہیں:
”احمد بن محمدبن ابراهیمالمقریء المفسر الواعظ،الادیب،الثقة،الحافظ،صاحب التصانیف الجلیلة من
____________________
۱۔سیر اعلام النبلاء،ج۱۷،ص۴۳۵،مؤسسہ الرسالة،بیروت
تفسیر،الحاوی لانواع الفوائد من المعانی والإشارات، وهو صیحع النقل موثق به ۔“(۱)
”عبد الغافر نے ان کی اس عبارت میں توصیف کی ہے کہ احمدبن محمدبن ابراھیم مقریء)علم قرات کے ماہر)،مفسر،واعظ،ادیب،قابل اعتماد،حافظ نیز معانی اوراشارات پر قابل قدرکتابوں کے مصنف تھے۔ان کی احادیث صحیح اورقابل اعتمادہیں۔“
ثعلبی کے باوثوق ہونے اوران کی عظمت کے علاوہ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے سائل کو انگوٹھی دینے کی داستان کو صرف ثعلبی ہی نے نقل نہیں کیاہے۔بلکہ یہ واقعہ شیعہ اوراہل سنت کے حدیث اورتفسیر کی بہت سی کتابوں میں درج ہے۔یہاں تک کہ طبری اورابن حاتم نے بھی اس داستان کونقل کیاہے،جن کے بارے میں معترض نے کہاتھا:”یہ لوگ اس قسم کی داستانیں نقل نہیں کرتے ہیں“۔مناسب ہے ہم یہاں پران دو نوں افرادکی روایتوں کونقل کریں:
ابن کثیرنے اپنی تفسیرمیں بیان کیاہے:
”قال إبن ابی حاتم۔۔۔وحد ثناابو سعید الاشجّ،حدثناالفضل بندکین ابونعیم الاحول،حدثناموسی بن قیس عن سلمة بن کھیل
قال: تصدّق علی بخاتمہ وہوراکع فنزلت( إنّما ولیکم اللّٰه ورسوله والّذین آمنواالذین یقیمون الصلوٰةویؤتون الزکوٰة وهم راکعون ) ۲
اس حدیث میں ابن کثیرابن ابی حاتم کی کتاب سے صحیح سند کے ساتھ سلمتہ بن کہیل سے، حضرت علی علیہ السلام کے متعلق حالت رکوع میں اپنی انگوٹھی کو بہ طور صدقہ دینے کا واقعہ نقل
____________________
۱۔تاریخ نیشابوری ،ص۱۰۹ ۲۔تفسیر ابن کثیر،ج۲،ص۷۴
کرتاہے اورکہتاہے:اس قضیہ کے بعدآیہء شریفہ( إنّماولیّکم اللّٰه ) ۔۔۔ نازل ہوئی۔ابن جریر طبری نے بھی اپنی تفسیر میں روایت نقل کی ہے:”حدثنامحمدابن الحسین قال:حدثنااحمدبن المفضل قال:حدثنااٴسباط عن السدّیعلی بن اٴبی طالب مرّ به سائل وهوراکع فی المسجد فاٴعطاه خاتمه “(۱)
اس روایت میں بھی حضرت علی علیہ السلام کی طرف سے حا لت رکوع میں اپنی انگشتری کو راہ خدا میں دینے کو بیان کیا گیا ہے۔
۳ ۔کیا”إنمّا“حصرپردلالت کرتاہے؟
فخررازی نے کہاہے کہ”إنّما“حصرکے لئے نہیں ہے۔اس کی دلیل خدا وندمتعال کایہ قول ہے کہإنّمامثل الحیاة الدنیاکماء انزلناہ من السماء۔۔۔ ۲ یعنی:زندگانی دنیا کی مثال صرف اس بارش کی ہے جسے ہم نے آسمان سے نازل کیا“
بیشک دینوی زندگی کی صرف یہی ایک مثال نہیں بلکہ اس کے لئے اور بھی دوسری مثالیں ہیں،اس لئے اس آیت میں ”إنّما“حصرپردلالت نہیں کرتاہے۔
جواب:
اول یہ کہ:جس آیہء شریفہ کو فخررازی نے مثال کے طورپرپیش کیاہے،اس میں بھی ”إنمّا“حصر کے طور پراستعمال ہواہے۔لیکن حصر دوقسم کاہے:حصرحقیقی میں مخاطب کے خیال اورتصور کی نفی کی جا تی ہے، مثلا اگر کوئی کہے :”زید کھڑا ہے “ اس کے مقا بلہ میں کہاجا تا ہے:
”إنّماقائم عمرو“یعنی کھڑا شخص صرف عمروہے نہ زید۔ اس جملہ کامقصد یہ نہیں ہے کہ دنیا میں کھڑے انسان عمرومیں منحصرقراردئے جائیں،بلکہ مقصودیہ ہے کہ مقابل کے اس تصور کو زائل کیاجائے کہ زیدکھڑاہے اوراسے یہ سمجھایاجائے کہ صرف عمروکھڑاہے۔
____________________
۱۔تفسیرطبری ،ج۶،ص۱۸۶،دار المعرفة،بیروت
۲۔سورئہ یونس/۲۴
آیہ کریمہ بھی اس مطلب کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ دنیا کی زندگانی کو صرف آسمان سے برسنے والے پانی کی مثال اورتشبیہ دینی چاہئے جس کے برسنے کے نتیجہ میں ایک پودااگتا ہے اور سرانجام وہ پودا خشک ہو جاتاہے،کیونکہ یہ مثال دنیاوی زندگی کے فانی اور منقطع ہو نے کی حکایت کر تی ہے ،نہ یہ کہ اس کے لئے ایک ایسی مثال پیش کی جائے جو اس کے دوام،استمرار اوربقا کی حکایت کرتی ہو۔
دوسرے یہ کہ:لغوی وضع کے لحاظ سے ”إنّما“حصر کے لئے ہے لیکن قرینہ موجود ہونے کی صورت میں غیر حصر کے لئے بھی بہ طورمجاز استعمال ہو سکتا ہے۔فخررازی کی طرف سے بہ طوراعتراض پیش کی گئی آیت میں اگر”انما“غیرحصر کے لئے استعمال ہوا ہے تو وہ قرینہ موجود ہونے کی وجہ سے بہ طورمجازی استعمال ہو اہے۔اس لئے اس آیہء شریفہ میں ”إنّما“کا حقیقی معنی وہی حصر،مقصودہے۔
۴ ۔کیا”الذین آمنوا“کا اطلاق علی علیہ السلام کے لئے مجازی ہے؟
اگر”الذین آمنوا“کہ جوجمع ہے اس سے مراد علی علیہ السلام ہوں گے تولفظ جمع کا استعمال مفرد کے معنی میں ہو گا۔یہ استعمال مجازی ہے اور مجازی استعمال کو قرینہ کے بغیر قبول نہیں کیا جاسکتا ہے۔
جواب:
اول یہ کہ:شیعہ امامیہ کی احادیث کے مطابق”الذین آمنوا“صرف امیرالمؤ منین علیہ السلام سے مخضوص نہیں ہے بلکہ اس میں دوسرے معصوم ائمہ بھی شامل ہیں۔ہماری احادیث کے مطابق تمام ائمہء معصومین اس کرامت وشرافت کے مالک ہیں کہ رکوع کی حالت میں سائل کو انگوٹھی دیں۔(۱)
____________________
۱۔اصول کافی،ج۱ص۱۴۳،ح۷وص۱۴۶،ح۱۶ وص۲۲۸،ح۳ المکیة الاسلامیہ۔کمال الدین ،ح۱،ص۲۷۴۔۲۷۹ دار الکتب الاسلا میة فرائد السبطین ،ج۱،ص۳۱۲،ح۲۵ مؤسسہ المحمودی لطاعة والنشر۔ینا بیع المودة،ص۱۱۴۔۱۱۶
دوسرے یہ کہ:بالفرض اس موضوع سے ایک خاص مصداق یعنی حضرت علی علیہ السلام کاارادہ کیا گیا ہے اور یہ استعمال مجازی ہے،اس مجازی استعمال کے لئے وہ احادیث قرینہ ہیں جو اس کی شان نزول میں نقل کی گئی ہیں اور بیان ہو ئیں۔
۵ ۔کیا حضرت علی علیہ السلام کے پاس انفاق کے لئے کوئی انگوٹھی تھی؟
جیسا کہ مشہور ہے حضرت علی(علیہ السلام) فقیر اورغریب تھے اوران کے پاس کوئی قیمتی انگوٹھی نہیں تھی۔
جواب:
احادیث اورتاریخ گواہ ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام غریب اور فقیر نہیں تھے۔ حضرت(ع)اپنے ہاتھوں سے اور اپنی محنت وکوشش کے ذریعہ نہریں کھودتے تھے اور نخلستان آباد کرتے تھے،اپنے لئے مال ودولت کی ذخیرہ اندوزی نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے مال کوخدا کی راہ میں انفاق کرتے تھے۔
۶ ۔کیا)راہ خدا میں ) انگوٹھی انفاق کرنا حضور قلب)خضوع وخشوع) کے ساتھ ھم آھنگ وسازگارہے؟
حضرت علی (علیہ السلام)نمازکی حالت میں مکمل طور پرحضور قلب کے ساتھ منہمک ہو تے تھے۔جو اس طرح حضور قلب کے ساتھ یاد خدا میں ڈوبا ہوا ہووہ دوسرے کی بات نہیں سن سکتا۔اس خشوع وخضوع کے پیش نظر حضرت(ع)نے کیسے سائل کے سوال اوراس کے مدد کے مطالبہ کوسن کر اپنی انگوٹھی اس کوانفاق کی!
جواب:
حضرت علی علیہ السلام اگر چہ فطری طورپر)نمازمیں خاص حضورقلب کی وجہ سے) دوسروں کی بات پر توجہ نہیں کرتے تھے،لیکن اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ مقلب القلوب اوردلوں کو تغیر دینے والا خداوند متعال،سائل کے سؤال کے وقت آپ(ع)کی توجہ کواس کی طرف متوجہ کرے تاکہ اس صدقہ کوجوایک اہم عبادت ہے آیہء شریفہ کے نزول کا سبب قرار دے اوریہ آیہء شریفہ آپ(ع)کی شان میں نازل ہو۔
اس آیت کی شان نزول سے مربوط احادیث)جن میں سے بعض بیان کی گئیں) اس بات کی دلیل ہیں کہ آپ(ع)نے سائل کی طرف متو جہ ہو کرمذکورہ صدقہ کو اپنے ہاتھوں سے دیاہے۔
۷ ۔کیا انفاق،نمازکی حالت کو توڑ نے کا سبب نہیں بنتا؟
نماز کی حالت میں انگوٹھی انفاق کرنا،نمازکی ظاہری حالت کوتوڑنے کا سبب ہے۔اس لئے حضرت(ع)سے اس قسم کا فعل انجام نہیں پاسکتا ہے۔
جواب:
جو چیزنماز کی حالت کو توڑ نے کا سبب ہے وہ فعل کثیر ہے اوراس قسم کامختصر فعل نمازکو توڑنے کاسبب نہیں ہو سکتاہے۔شیعہ فقہا اس قسم کے امورکونمازکو باطل کرنے کاسبب نہیں جانتے ہیں۔
ابوبکرجصاص کتاب”احکام القرآن“ ۱ میں ”باب العمل الیسیرفی الصلاة‘کے عنوان سے آیہء کریمہ کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:اگرآیہء شریفہ سے مراد رکوع کی حالت میں صدقہ دینا ہے تویہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نماز کے دوران چھوٹے اورجزئی کام مباح ہیں۔پیغمبر اکرم (ص)سے نمازکی حالت میں چھوٹے اورجزئی کام کے جائز ہونے کے سلسلہ میں چند احادیث روایت ہوئی ہیں جیسے وہ حدیثیں جو اس بات پردلالت کرتی ہیں کہ آنحضرت (ص)نے نماز کی حالت میں اپنے جوتے اُتارے اوراپنے ریش مبارک پر ہاتھ پھیرااوراپنے ہاتھ سے )کسی جگہ کی طرف)اشارہ فرمایا۔اس لئے نماز کی حالت میں صدقہ
____________________
۱۔احکام القرآن ،ج۲،ص۴۴۶،دار الکتب العلمیہ،بیروت
دینے کے مباح ہونے کے بارے میں آیہء شریفہ کی دلالت واضح اورروشن ہے۔
قرطبی”جامع“ احکام القرآن ۱ میں کہتے ہیں:طبری نے کہا ہے کہ یہ)امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے توسط سے نماز کی حالت میں انگوٹھی کا بہ طور صدقہ دینا)اس بات کی دلیل ہے کہ چھوٹے اورجزئی امور نمازکو باطل نہیں کرتے ہیں،کیونکہ صدقہ دینا ایسا امر تھاجو نماز کی حالت میں انجام دیا گیا ہے اور نماز کو باطل کرنے کا سبب نہیں بنا۔
۸ ۔کیا مستحبی صدقہ کو بھی زکوٰة کہاجاسکتاہے؟
فخررازی نے کہا ہے کہ زکوٰة، کے نام کا اطلاق ”زکوٰة“واجب کے لئے ہے اورمستحب صدقہ پرزکوٰة اطلاق نہیں ہوتاہے،اس کی دلیل یہ ہے کہ خداوند متعال نے)بہت سے مواقع پر)فرمایا ہے:( وآتواالزکوٰة ) یعنی:زکوٰةاداکرو۔فعل امر واجب پر دلالت کرتا ہے۔
اب جب کہ زکوٰة، کا اطلاق صدقہ واجبہ کے لئے ہو تا ہے تواگرعلی(علیہ السلام)نے واجب زکوٰة کونماز کی حالت میں ادا کیا ہے توآپ(ع)نے ایک واجب امرکواپنے اول وقت سے موخیر کیا ہے اور یہ اکثر علماء کے نزدیک گناہ شمار ہوتا ہے۔اس لئے اس کی حضرت علی(علیہ السلام)کی طرف نسبت نہیں دی جاسکتی ہے۔اگر یہ کہا جائے کہ:زکوٰة سے مراد مستحب صدقہ ہے،تویہ اصل کے خلاف ہے،کیونکہ آیہء شریفہآتواالزکوٰة سے یہ استفادہ ہوتاہے کہ جوبھی صدقہ زکوٰة کا عنوان رکھتا ہے وہ واجب ہے۔
جواب:
اول یہ کہ:آیہء شریفہ میں ذکر کی گئی زکوٰة سے مرادبیشک زکوٰہ مستحب ہے اورشان نزول کی حدیثیں اس مطلب کی تائیدکرتی ہیں۔لیکن یہ کہنا کہ”آیہء شریفہ“( آتواالزکوٰة ) میں زکوٰة سے مرادزکوٰة واجب ہے اس لئے جس چیز پرزکوٰةاطلاق ہو گا وہ
____________________
۱۔”جامع الاحکام القرآن“،ج۶،ص۲۲۱،دارالفکر
واجب ہو گا“اس کاصحیح نہ ہونا واضح اورعیان ہے کیونکہ ایک طرف جملہء وآتواالزکوٰة میں وجوب پر دلالت کرنے والا لفظ”آتوا“فعلامرہے اور لفظ زکوٰة کا استعمال ماہیت زکوٰة کے علاوہ کسی اورچیز میں نہیں ہواہے۔اور ماہیت زکوٰة،واجب اورمستحب میں قابل تقسیم ہے اوریہ تقسیم کسی قرینہ کے بغیرواقع ہوتی ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وجوب واستحباب لفظ کے دائرے سے خارج ہے۔دوسری طرف سے شیعہ وسنی احادیث اورفقہاکے فتوؤں میں زکوٰة کی دوقسمیں ہیں،زکوٰةواجب اورزکوٰةمستحب لہذا یہ کہنا کہ جوبھی زکوٰةہو گی واجب ہوگی اس اطلاق کے خلاف ہے۔
دوسرے یہ کہ:آیہء شریفہ میں بہ صورت فعل امر”آتوا “نہیں آیاہے بلکہ جملہ”یؤ تون الزکوٰة“اخبارہے نہ انشاء۔اور یہ کہ آیہ شریفہ میں صدقہ سے مرادمستحب صدقہ ہے،اس کی بعض اہل سنت فقہا اورمفسرین تصدیق کرتے ہیں۔
جصاص”احکام القرآن“میں کہتے ہیں( یؤتون الزکوٰةوهم راکعون ) کاجملہ اس بات پردلالت کرتاہے کہ مستحب صدقہ کوزکوٰةکہاجاسکتاہے،کیونکہ علی(علیہ السلام)نے اپنی انگوٹھی کوصدقہ مستحبی)زکوٰة مستحبی)کے طورپرانفاق کیاہے اوراس آیہء شریفہ میں :( وماآتیتم من زکوٰةتریدون وجه اللّٰه فاٴولئک هم المضعفون ) (۱) یعنی:جوزکوٰةدیتے ہو اوراس میں رضائے خداکاارادہ ہوتاہے توایسے لوگوں کودگنا جزا دی جا تی ہے“
لفظ”زکوٰة“صدقہء واجب اورصدقہء مستحب دونوں کوشامل ہوتا ہے۔”زکوٰة کا اطلاق“واجب اورمستحب دونوں پرمشتمل ہوتاہے،جیسے نماز کا اطلاق صرف نمازواجب کے لئے مخصوص نہیں ہے بلکہ مستحب نماز بھی اس میں شامل ہے۔(۲)
____________________
۱۔سورہ روم/۳۹
۲۔احکام القرآن،ج۲،ص۲۴۶
۹ ۔کیا رکوع میں زکوٰة دینے کی کوئی خاص اہمیت ہے؟
اگررکوع سے مرادنمازکی حالت میں رکوع ہے تویہ قابل مدح وستائش نہیں ہے،کیونکہ رکوع میں انفاق کرنایانمازکی کسی دوسر ی حا لت میں انفاق کرنا اس میں کوئی فرق نہیں ہے؟
جواب:
یہ کہ آیہء شریفہ میں رکوع امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی زکوٰة کے لئے ظرف واقع ہوا ہے،یہ اس لحاظ سے نہیں ہے کہ اس حالت میں انفاق کرنا قابل تمجیدوستائش یا کسی خاص تعریف کا باعث ہے بلکہ یہ اس لحاظ سے ہے کہ سائل کا سوال حضرت(ع)کے رکوع کی حالت میں واقع ہواہے اورعلمائے اصول کی اصطلاح کے مطابق”اس سلسلہ میں قضیہ،قضیہ خارجیہ ہے اور رکوع کا عنوان کوئی خصو صیت و موضوعیت نہیں رکھتاہے۔“اور تعریف وتمجید اس لحاظ سے ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے اس حالت میں اس عبادی عمل کو انجام دیا ہے۔اگرحضرت(ع) نے رکوع میں یہ انفاق انجام نہ دیا ہو تو وہ سائل ناامیدی اور محرومیت کی حالت میں مسجد سے واپس چلاجاتا۔
۱۰ ۔کیا اس آیت کامفہوم سابقہ آیت کے منافی ہے؟
فخررازی کاکہناہے:اگریہ آیت علی(علیہ السلام)کی امامت پردلالت کرے گی تو یہ
آیت اپنے سے پہلے والی آیت کے منافی ہوگی کہ جوابوبکر کی خلافت کی مشروعیت پردلالت کرتی ہے۔
جواب:
اس سے پہلے والی آیت ابوبکر کی فضیلت اوران کی خلافت کی مشروعیت پرکسی قسم کی دلالت نہیں کرتی ہے۔اس سے پہلے والی آیت یوں ہے:
( یاایّهاالّذین آمنوامن یرتدّمنکم عن دینه فسوف یاٴتی اللّٰه بقوم یحبّهم ویحبّونه إذلّةٍ علی المؤمنین اٴعزّة علی الکافرین یجاهدون فی سبیل اللّٰه ولا یخافون لومة لائم ) ۔۔۔ (سورہ مائدہ/۵۴)
”اے ایمان والو!تم میں سے جو بھی اپنے دین سے پلٹ جائے گا تو عنقریب خدا ایک ایسی قوم کو لا ئے گا جس کو وہ دوست رکھتا ہو گا اور وہ لو گ بھی خدا کو دوست رکھتے ہوں گے، مؤمنین کے لئے متوا ضع اورکفارکے لئے سر سخت ہو ں گے،راہ خدا میں جہاد کرنے والے اورکسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروانہیں کریں گے-“
فخررازی نے کہاہے:یہ آیت ابوبکر کی خلافت کی مشروعیت پردلالت کرتی ہے،کیونکہ خدا وند متعال نے مؤمنین سے خطاب کیاہے کہ اگر وہ اپنے دین سے پلٹ جائیں گے توآیت میں مذکورصفات کی حا مل ایک قوم کولا ئے گاتاکہ وہ ان کے ساتھ جنگ کریں ۔پیغمبر (ص)کے بعد جس نے مرتدوں سے جنگ کی وہ تنہاابوبکرتھے۔چونکہ یہ آیت ابوبکرکی تعریف وتمجید شمار ہوتی ہے،لہذاان کی خلافت کی مشروعیت پر بھی دلالت کرتی ہے۔
فخررازی نے ابوبکر کی خلافت کو شر عی جواز فراہم کر نے کے لئے آیت میں اپنی طرف سے بھی ایک جملہ کا اضافہ کیاہے۔
آیہء شریفہ میں یہ فر مایاگیاہے:اگر تم مؤمنین میں سے کوئی بھی اپنے دین سے پلٹ جائے گاتوخداوندمتعال عنقریب ایسی ایک قوم کو بھیجے گا جن میں مذکورہ اوصاف من جملہ خداکی راہ میں جہاد کرنے کا وصف ہوگا۔
آیہء شریفہ میں یہ نہیں آیاہے کہ”وہ مرتدوں سے جنگ کریں گے“لیکن فخررازی نے اس جملہ کو اپنے استدلال کے لئے اس میں اضافہ کیاہے۔
دوسری متعدد آیتوں میں بھی اس آیت کے مضمون سے مشابہ آیا ہے کہ اگر تم لوگ کافر ہوگئے توخدا وند متعال ایسے افراد کو بھیجے گا جوایسے نہیں ہوں گے۔ملا حظہ ہو:
۱۔( فإن یکفربها هؤلائ فقدوکلّنابهاقوماً لیسوابهابکافرین )
(سورئہ انعام/ ۸۹)
”اگریہ لوگ ان سے کفر اختیار کر تے ہیں)انکارکرتے ہیں)توہم ان پرایک ایسی قوم کو مسلط کر دیں گے کہ جو کفر اختیار کر نے والے نہیں ہوں گے)انکارکرنے والی نہیں ہے)
۲۔( وإن تتولّوا یستبدل قوماً غیرکم ثم لا یکونوااٴمثالکم )
(سورئہ محمد/ ۳۸)
”اوراگرتم منہ پھیر لوگے تووہ تمھارے بدلے دوسری قوم کوبھیج دے گاجواس کے بعدتم جیسے نہ ہوں گے۔
۳۔( إلاّ تنفروایعذّبکم عذاباً اٴلیماً ویستبدل قوماً غیرکم ولا تضرّوه شیئاً ) (سورئہ توبہ/۳۹)
”اگر تم راہ خدا میں نہ نکلو گے توخدا تمھیں دردناک عذاب میں مبتلاکرے گااورتمھارے بدلے دوسری قوم کو لے آئے گا اورتم اسے کوئی نقصان نہیں پہنچاسکوگے۔“
لہذااس آیت کامضمون بھی مذکورہ مضامین کے مشابہ ہے،اورآیت میں کسی قسم کی ایسی دلالت موجود نہیں ہے کہ خداوند متعال ایک قوم کو بھیج دے گا جومرتدوں سے جنگ کرے گی۔
۱۱ ۔کیاآیت میں حصرائمہ معصومین )علیہم السلام)کی امامت کے منافی ہے؟
اگر آیہء شریفہ علی(علیہ السلام)کی امامت پر دلالت کرتی ہے تویہ امامیہ مذہب کے عقایدسے متناقض ہے جس طرح اہل سنت مذہب سے اس کاتناقض ہے،کیونکہ شیعہ صرف علی(ع)کی امامت کے معتقد نہیں ہیں بلکہ بارہ اماموں کی امامت پر بھی اعتقادرکھتے ہیں؟
جواب:
اول یہ کہ:مذکورہ قطعی شواہدکی بنیاد پرہمیں یہ معلوم ہواکہ آیہء شریفہ میں ولایت سے مرادسرپرستی اوررکوع سے مراد”نمازکارکوع“ہے۔اس سے واضح ہوجاتاہے کہ آیت میں پایا جا نے والاحصر،حصراضافی ہے نہ حصر حقیقی ،کیونکہ یہ بات واضح ہے کہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم اورائمہ معصو مین)علیہم السلام)کے علاوہ کچھ دوسرے اولیاء بھی ہیں،جیسے فقہا،حکام، قاضی،باپ،دادااوروصی۔اگرہم یہاں حصرسے حصرحقیقی مرادلیں توآیت ان تمام اولیاء کی ولایت کی نفی کرے،جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔یہ بذات خود ایک قرینہ ہے کہ آیہ کریمہ میں موجودحصر، حصراضافی ہے اوراس سے مرادرسول اکرم (ص)کے بعدحضرت علی علیہ السلام کی سر پرستی و ولایت ہے۔موجودہ دلائل کے پیش نظر دوسرے ائمہ علیہم السلام کی امامت ثابت ہے اوراس میں کسی قسم کا منافات نہیں ہے۔
دوسرے یہ کہ:شیعہ امامیہ اوراہل سنت کی کتا بوں میں موجود متعدد روایات کےمطابق( الذین آمنوا ) سے مرادصرف حضرت علی علیہ السلام نہیں ہیں(۱) بلکہ تمام ائمہ معصو مین مذکورہ مستحبی زکوٰةکوحالت رکوع میں دینے میں کامیاب ہوئے ہیں اورآیہء کریمہ نے آغازہی میں امامت کو ان سچے اماموں میں منحصرکردیاہے۔
۱۲ ۔کیاعلی)علیہم السلام)پیغمبراکرم (ص)کے زمانہ میں بھی سرپرستی کے عہدہ پرفائزتھے؟
اگرآیہء شریفہ علی(ع) کی امامت پر دلالت کرے گی تواس کالازمہ یہ ہوگاکہ علی(علیہ السلام) پیغمبراکرم (ص)کی حیات کے دوران بھی ولی وسرپرست ہیں جبکہ ایسانہیں ہے۔
____________________
۱۔اصول کافی،ج۱،ص۱۴۳،ح۷وص۱۴۶،ح۱۶وص۲۲۸،ح۳الحکمتبةالاسلامیہ۔کمال الدین،ج۱،ص۲۷۴۔۲۷۹،دارالکتب الاسلامیة فرائدالسمطین ،ج۱،ص۳۱۲،ح۲۵۰،موسستہ المحمودی للطباعة ونشر۔ینابیع المودة،ص۱۱۴۔۱۱۶
جواب:
اول یہ کہ حضرت علی علیہ السلام بہت سے دلائل کے پیش نظر پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زندگی میں بھی ولی وسر پرست تھے۔لیکن یہ سر پرستی جانشینی کی صورت میں تھی۔یعنی جب بھی پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نہیں ہوتے تھے،علی علیہ السلام آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے جانشین ہوا کرتے تھے۔حدیث منزلت اس کا واضح ثبوت ہے اس طرح سے کہ وہ تمام منصب و عہدے جو حضرت ہارون علیہ السلام کے پاس حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نسبت سے تھے ،وہ سب حضرت علی علیہ السلام کے لئے پیغمبر اکرم)ص)کی نسبت سے اس حدیث کی روشنی میں ثابت ہو تے ہیں۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کوہ طور کی طرف روانہ ہوتے وقت اپنے بھائی سے مخاطب ہوکر فرمایا:( إخلفنی فی قومی ) ”میری قوم میں تم میرے جانشین ہو“۔یہ خلافت کوہ طور پر جانے کے زمانہ سے مخصوص نہیں ہے ،جیساکہ محققین اہل سنت نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے۔(۱) ا س بناء پرحضرت علی علیہ السلام پیغمبراکرم (ص)کے جانشین تھے۔
دوسرے یہ کہ:فرض کریں کہ یہ ولایت کسی دلیل کی وجہ سے پیغمبراکرم (ص)کے زمانہ میں حضرت علی علیہ السلام کے لئے ثابت نہیں ہے تواس صورت میں پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حیات کے بعد آیہء ولایت کا اطلاق مقید ہو گااوراس دلیل کی بناپریہ ولایت پیغمبراسلام (ص)کی رحلت کے وقت سے حضرت علی علیہ السلام کے لئے ثابت ہو جا ئے گی۔
۱۳ ۔کیا حضرت علی (علیہ السلام) کوآیہء ولایت کے پیش نظرچوتھا خلیفہ جاناجاسکتاہے؟
فرض کریں آیہء شریفہ علی (علیہ السلام) کی امامت پر دلالت کرتی ہے تویہ بات حضرت علی(علیہ السلام)سے پہلے تینوں خلفاء کی خلافت کے منافی نہیں ہے،کیونکہ اجماع اورشوریٰ کی بناپرپہلے ہم ان خلفاء کی خلافت کے قائل ہوں گے اور پھر ان خلا فتوں کے بعد آیہء ولایت پر عمل کریں گے جوحضرت(ع)کی امامت بیان کرنے والی ہے۔
_____________________
۱۔شرح مقاصد،تفتازانی ،ج۵،ص۲۷۶،منشورات الشریف الرضی
جواب:
سب سے پہلے یہ کہ:مسئلہ خلافت کے سلسلہ میں اجماع اورشوریٰ کے ذریعہ استدلال و استنادا سی صورت میں صحیح ہے جب اجماع وشوریٰ کے اعتبار کے لئے معتبر دلیل موجود ہو۔اوراس سلسلہ میں اہل سنت کی طرف سے پیش کیا جانے والا استدلال شیعہ امامیہ کے نزدیک صحیح نہیں ہے۔
دوسرے یہ کہ:جس شوریٰ اوراجماع کا دعویٰ کیا گیاہے،وہ کبھی امت میں واقع نہیں ہواہے۔
تیسرے یہ کہ:اجماع اورشوریٰ کی دلیل اسی صورت میں صحیح ہے کہ مسئلہ کے بارے میں کوئی نص موجود نہ ہواوراگر کسی مسئلہ کے بارے میں خدا کی طرف سے کوئی نص موجود ہے تواس مسئلہ میں نہ اجماع کسی کام کاہے اورنہ شوریٰ۔چنانچہ خداوند متعال فرماتاہے:( وماکان لمؤمن ولامؤمنة اذ اقضی اللّٰه ورسوله اٴ مراً اٴن یکون لهم الخیرة من امرهم ) (۱)
”یعنی کسی مومن مردیا عورت کویہ اختیارنہیں ہے کہ جب خداورسول کسی امر کے
بارے میں فیصلہ کردیں تووہ بھی اس امر کے بارے میں اپنا اختیارجتائے“
۱۴ ۔کیاحضر ت علی (علیہ السلام)نے کبھی آیہء ولایت کے ذریعہ احتجاج واستدلال کیا ہے؟
اگرآیہء ولایت علی (علیہ السلام) کی ولایت پردلالت کرتی ہے توکیوں حضرت (ع)نے اپنی امامت کے لئے اس آیت سے استدلال نہیں کیا؟جبکہ آپ(ع)نے شوریٰ کے دن اوردوسرے مواقع پراپنے حریفوں کے سا منے اپنے بہت سے فضائل بیان کئے ہیں۔
____________________
۱۔سورئہ احزاب/۳۶
جواب:
بعض بزرگ شیعہ وسنی محدثین نے ایسے مواقع کی طرف اشارہ کیا ہے جن میں حضرت علی علیہ السلام نے اپنی امامت کے سلسلہ میں دلائل پیش کرتے ہوئے من جملہ آیہء ولایت کو بھی بیان کیا ہے۔
ان میں سے ابراھیم بن محمدجوینی نے فرائدالسمطین(۱) میں اور)شیعہ علماء میں سے)ابن بابویہ نے کمال الدین(۲) میں نقل کیا ہے کہ:”حضرت علی علیہ السلام نے عثمان کی خلافت کے دوران ایک دن مسجدالنبیصلىاللهعليهوآلهوسلم میں مھاجر وانصار کی ایک جماعت کے سامنے اپنے فضائل بیان کرتے ہوئے اپنی شان میں ایہء ولایت کے نزول کی طرف اشارہ فرمایا۔“
ہم نے اس مفصل حدیث کوآیہء ”اولی لامر“ کی بحث کے آخرمیں ذکرکیاہے۔ کتاب”فرائدالسمطین“کے مصنف کی شخصیت کو پہنچاننے کے لئے آیہء ”اولی الامر“کی تفسیر کے آخری حصہ کی طرف رجوع کیا جائے۔
____________________
۱۔فرائد اسمطین ،ج۱،ص۳۱۲،مؤسسہ المحمودی للطبا عة والنشر
۲۔کماالدین،۱ ،ص۲۷۴
پانچواں باب :
آیہء صادقین کی روشنی میں اما مت
( یاایّهاالذین آمنوااتقوااللّٰه وکونوامع الصادقین ) (سورئہ توبہ/۱۱۹)
”اے صا حبا ن ایمان!اللہ سے ڈرواورصادقین کے ساتھ ہوجاؤ“
جس آیہء شریفہ کے بارے میں ہم بحث وتحقیق کرنا چاہتے ہیں،اس پر سر سری نگاہ ڈالنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ایک اخلاقی پہلوہے مذ کورہ آیت میں تقوی کاحکم دینے کے بعد مو منین سے یہ کہا جا رہا ہے کہ صادقین کے ساتھ ہوجاؤ۔لیکن یہ بات یاد رہے کہ ہمیں ہمیشہ سرسری نگاہ کرنے سے پرہیز کرنا چاہئے۔ قرآن مجید کا ارشادہے:
( فارجع البصرهل تریٰ من فطورثمّ ارجع البصرکرّتین ) (سورہ ملک/۳۔۴)
”پھر نظراٹھاکردیکھوکہیں کوئی شگاف تو نہیں ہے۔اس کے بعدباربارنگاہ ڈالو “
خاص کر قرآن مجید میں اس کے بلندمعارف تک رسائی اوراس کے مفاہیم کی گہرائیوں تک پہنچنے کے لئے اس امر کی رعا یت بہت ضروری ہے چنانچہ بعض مواقع پر خودقرآن نے تدبرکرنے کاحکم فرمایاہے۔ہمیشہ اور بار بارغوروخوض کی ضرورت ہے۔ اس لئے قرآن مجید کے سلسلہ میں ابتدائی اورسرسری نگاہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس کی آیتوں پر تدبر اور غورو خوض کرناچاہئے۔
اگرہم اس آیہ کریمہ کا اس نقطہ نظر سے مطا لعہ کریں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ اس آیت کریمہ میں قرآن مجید کے ایک عظیم اور اصلی معارف، یعنی اما مت و رہبری کے مسئلہ ، کو بہترین تعبیر میں پیش کیا گیا ہے۔
اس لحاظ سے امامت سے مربوط آیات کی بحث و تحقیق میں یہ آیہ کریمہ بھی نمایاں اور قابل توجہ ہے۔ اس آیہ شریفہ کے سلسلہ میں بحث و تحقیق چند محوروں پرمشتمل ہے:
۱ ۔آیت کے مفردات اور مفاہیم کی تحقیق۔
۲ ۔مذکورہ آیت کااس سے پہلے والی آیات سے ربط
۳ ۔اس آیت کامسئلہ رہبری سے ربطہ اور اس کے قرائن کی چھان بین پڑتال۔
۴ ۔علما ء ومفسرین کے بیانات
۵ ۔شیعہ،سنی احادیث وروایات
آیت کے بارے مفردات میں بحث
اس حصہ میں جن الفاظ کی تحقیق ضروری ہے وہ لفظ”صدق“اور”صادقین“ہیں۔اس سلسلہ میں پہلے ہم ان کے لغوی معنی پر ایک نظرڈالیں گے اور ان کے بعد اس کے قرآنی استعمالات پر بحث کریں گے۔
استعمالا ت لغوی
اس سلسلہ میں ہم دو اہل لغت کے بیانات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
۱ ۔ ابن منظور نے ”لسان العرب(۱) “ میں لفظ”صدق“کے مختلف استعمالات کویوں بیان کیاہے:
الصدق:نقیض الکذب،سچ،جھوٹ کی ضدہے۔
رجل صدق:نقیض رجل سوء ۔اچھاانسان برے انسان کی ضدہے۔یعنی اچھائی اور برائی کی صفتیں ایک دوسرے کی ضدہیں۔
وکذالک ثواب صدق وخمارصدق،اسی طرح کہا جاتا ہے اچھا لباس اوراچھابرقعہ۔
ویقال: رجل صدق،مضاف بکسرالصادومعناه نعم الرجل هو نیزاسی
____________________
۱۔لسان العرب ،ج۱۰،ص۳۰۹۔۳۰۷
طرح حالت اضا فت میں صاد کے کسرے کے ساتھ استعمال ہو تا ہے”رجل صدق“یعنی وہ ایک اچھا مردہے۔
رجل صدق اللقاء وصدق النظر، خوش اخلاق مرداور خوش بین انسان۔
والصّدق:بالفتح الصلب من الرماح وغیرها، ورمح صدق:مستو،وکذالک سیف صدق :
صاف اورسیدھا نیزہ ،اوراسی طرح سیدھی تلوارکو بھی صدق کہتے ہیں۔
عن ابن درستویہ:قال إنّما لصدق الجامع للاوصاف المحمودة۔ابن درستویہ کا کہنا ہے کہ”صدق“اس شخص کوکہاجاتاہے جس میں تمام پسندیدہ اوصاف موجودہوں۔
قال الخلیل:الصدق:الکامل کلّ شیءٍ ۔خلیل نے کہاہے کہ ہرمکمل چیزکو”صدق“کہتے ہیں۔
۲ ۔”مفردات قرآن(۱) “ میں راغب کاکہناہے:ویعبّرعن کل فعل فاضل ظاهراًوباطناًًبا لصدق،فیضاف إلیه ذٰلک الفعل الّذی یوصف به نحو قوله ۔۔۔“ہروہ کام جوظاہروباطن کے اعتبارسے اچھا اور پسندیدہ ہو اسے”صدق“ سے تعبیر کیا جاتا ہے اوراس کے موصوف کی”صدق“کی نسبت )اضافت) دی جاتی ہے۔استعما لات قرآ نی کے وقت ہم اس کے شاہدپیش کریں گے۔
استعمالات قرآنی
قرآن مجید میں ہمیں بہت سی ایسی آیات نظر آتی ہیں جن میں لفظ”صدق“کوایسی چیزوں کی صفت قرار دیا گیاہے جوگفتگووکلام کے مقولہ نہیں ہےں۔نمونہ کے طور پر درج ذیل آیات ملاحظ ہوں:
____________________
۱۔مفردات فی القرآن،ص۲۷۷،دارالمعرفة،بیروت
”( وبشّرالّذین آمنوا اٴنّ لهم قدم صدق عندربّهم )
(سورہ یونس/ ۲)
اس آیہء شریفہ میں ’ صدق“،”قدم“کی صفت واقع ہے۔
ولقدبوّاٴنا بنی اسرائیل مبوّاٴصدق )سورئہ یونس/ ۹۳)
اس آیہء شریفہ میں ”صدق“کو”جگہ“کی صفت قرار دیا گیاہے۔
وقل ربّ اٴدخلنی مدخل صدق واٴخرجنی مخرج صدق سورئہ اسراء/ ۸۰)
اس آیہء شریفہ میں ”مدخل“ و ”مخرج“ یااسم مکان)داخل اورخارج کرنے کی جگہ) ہیں یا مصدر) خودکوداخل کرنایاخارج کرنا)ہیں۔بہرحال کسی طرح بھی مقولہ کلام سے نہیں ہے۔
فی مقعد صدق عند ملیک مقتدر (سورئہ قمر/ ۵۰)
اس آیہ شریفہ میں ”صدق“،”مقعد“)جگہ اوربیٹھنے)کی صفت ہے۔
( لیس البرّاٴن ُتوَلّوُاوجوهکم قبل المشرق والمغرب ولکنّ البرّمن آمن باللّٰه والیوم الآخروالملائکة والکتاب والنبیّین وآتی المال علی حبّه ذوی القربی والیتامیٰ والمساکین وابن السبیل والسائلین وفی الرقاب واقام الصلوة وآتی الزکوةوالموفون بعهدهم إذاعاهدواوالصابرین فی الباٴسائ والضرّاء وحین الباٴس اولئک الّذین صدقواواٴُولئک هم المتّقون ) )سورئہ بقرہ/ ۱۷۷)
اس آیہء شریفہ میں خداوندمتعال نے پہلے نیکیوں کوعقائد کے شعبہ میں یعنی خدا،قیامت،فرشتوں،آسمانی کتابوں اورانبیاء پرایمان کے سلسلہ میں اس کے بعدعمل کے شعبہ میں یعنی اپنے رشتہ داروں،محتاجوں،ابن سبیل اورسائلوں کوانفاق کرنا،خداکی راہ میں بندوں کو آزادکرنانیزایفائے عہدکرنا وغیرہ وغیرہ کی طرف اشارہ کیاہے۔اس کے بعداخلاقی شعبہ میں یعنی مشکلات و پریشاں نیوں میں صبروتحمل استقامت و پائیداری کا مظا ہرہ کر نے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔اورمذکورہ تینوں شعبوں میں نیکیاں کرنے والوںصد ق وتقویٰ کے ذریعہ تعریف کرتاہے۔
لغت اورآیات کریمہ میں مذکورہ استعمالات کے پیش نظرواضح ہوجاتاہے کہ”صدق“کاایک ایساوسیع مفہوم ہے کہ جس کا دائرہ صرف مقولہء،کلام،وعدہ وخبرتک محدود نہیں ہے،بلکہ یہ فکرواندیشہ عقا ئد و اخلا قیات نیزانسانی رفتارجیسے دیگر مواردپربھی اطلاق کرتا ہے اوراس کااستعمال ان موا رد میں حقیقی ہے۔
اس آیت کا گزشتہ آیات سے ربط
اس آیت سے پہلی والی آیت )جیساکہ تفسیر وحدیث کی کتابوں میں آیا ہے )ان مومنین کے بارے میں ہے کہ جنہوں نے پیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہمراہ جنگ تبوک میں جانے سے انکار کیا تھا اوراس کے بعدنادم اورپشیمان ہوکرانھوں نے توبہ کرلی تھی،مسلمانوں نے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے حکم سے ان کے ساتھ اپنے رشتہ نا طے توڑ دئے تھے،یہاں تک کہ ان کی بیویوں نے بھی ان سے بات کرنا چھوڑدی تھی۔
انہوں نے جب شہر سے باہرنکل کربارگاہ الٰہی میں التماس والتجا کی اور خدا کی بار گاہ میں توبہ کی تو خدا وند متعال نے ان کی توبہ قبول کی اوروہ پھرسے اپنے لوگوں اوراپنے خانوادوں میں واپس لوٹے۔
بعد والی آیت میں بھی خدا وند متعال فرماتا ہے”اہل مدینہ اوراس کے اطراف کے لوگوں کو نہیں چا ہئیے کہ پیغمبر خدا (ص)کی مخالفت اوران سے رو گردانی کریں۔ اس کے بعد خدا کی راہ میں مشکلات و پریشا نیاں،بھوک وپیاس کی سختیاں برداشت کرنے کی قدرواہمیت کی طرف بھی اشارہ کرتاہے۔
اس آیہء شریفہ)زیر بحث آیت)میں مؤمنین کومخاطب کرکے انھیں تقویٰ و پر ہیز گاری کا حکم دیا گیا ہے،اورانھیں اس بات کا پیغام دیا گیا ہے کہ وہ”صادقین“کے ساتھ ہوجائیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ آیہء شریفہ میں ”صادقین“سے مراد کون لوگ ہیں؟
اس آیت کا ائمہ معصومین(ع)کی امامت سے ربط
ابتدائی نظر میں )جیسا کہ”صدق“ کا مفہوم بیان کرتے ہوئے اشارہ کیا گیا ) ایسالگتاہے کہ جملہ کونوامع الصادقین سے مرادسچوں کے ساتھ ہونے کاحکم ہے۔
قابل غور بات اورجو چیز ضروری ہے وہ سچ بولنااورجھوٹ بولنے سے پر ہیز کر نا ہے۔ لیکن سچ بولنے والوں کے ساتھ ہونا یہ شر عی واجبات میں سے نہیں ہے،جبکہ سچوں کے ساتھ ہونے کا یہ آیہ شریفہ میں حکم ہواہے اور یہ امروجوبی ہے اور جملہ( کونوامع الصادقین ) کا وقوع”إ تقوااللّٰہ“کے سیاق میں ہے کہ جس میں تقوائے الٰہی کا حکم تھالہذایہ بیشک وجوب کے لئے ہے اوراس سے وجوب کی مزیدتاکیدہوتی ہے۔
مفہوم صدق کی وسعت کے پیش نظرمقولہ کلا م و گفتگو تک محدودیت نہیں ہے بلکہ اس کا دائرہ فکرو عقائد،اخلاق وکردار نیزرفتار و عمل تک پھیلا ہواہے کہ جس میں صادقین سے ہونے کو آیہء کریمہ میں واجب قرار دیا گیاہے،ہم اس نتیجہ پرپہنچتے ہیں کہ صادقین کے ساتھ ہونے سے مرادجسمانی معیت اورہمراہی نہیں ہے بلکہ ہمراہی ہراس چیز میں ہے جس میں صحت وسچائی پا ئی جاتی ہو اورآیہء کریمہ میں صادقین سے مرادوہ لوگ ہیں جوصدق مطلق کے مالک ہیں نہ مطلق صدق کے۔او رصدق مطلق وہ ہے جوہر جہت سے سچااورصحیح ہواورفکروعقائد،گفتاروکرداراور اخلاقیات کے لحاظ سے کسی طرح کا انحراف نہ رکھتاہو۔اس طرح کا شخص معصوم کے علاوہ کوئی اور نہیں ہوسکتاہے۔اس طرح کے انسان کے ساتھ ہونے کامطلب اس کے افکار و عقائد، کردارواخلاق کی پیروی کر نا ہے۔
چونکہ مسلمانوں کااس بات پراجماع ہے کہ چودہ معصومین علیہم السلام کے علاوہ کوئی صاحب عصمت اور صدق مطلق کا مالک نہیں ہے،اس لئے”صادقین“ سے مرادپیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ائمہ معصومین علیہم السلام ہوں گے۔
علماء ومفسرین کے بیانات کی تحقیق
اس سلسلہ میں ہم صرف دوبزرگ علماء کے بیانات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
علامہ بہبہانی کا قول:
پہلا قول شیعہ امامیہ کی ایک عظیم شخصیت وبزرگ عالم دین،گراں قدرمفکرمرحوم علامہ محقق سید علی بہبہانی کاہے۔وہ اپنی عظیم کتاب”مصباح الھدایہ“)کہ جوواقعاًامامت کے بارے میں ایک بے نظیرکتاب ہے )میں آیہء شریفہ کی تشریح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”وقداستفاضت الروایات من طریقناوطریق العامةاٴنّ الصادقین هم اٴهل بیت النبیّی المطهّرون“وقد ذکرفی غایة المرام عشرةخبارمن طریقنا وسبعة اٴخبار من طریق العامة(۱)
اٴقول:ویدّل علی اختصاص الصادقین فی الآیةالکریمه فی الاٴئمّة المعصومین الطبّین من آل محمد( ص) وعدم إرادة مطلق الصادقین منهکمادلّت علیه الروایات المستفیضة من الطر فین:اٴنّه لوکان المراد بالصدق مطلق الصدقالشامل لکلّ مرتبة منه المطلوب من کلّ مؤ من،وبالصادقین المعنی العام الشامل
____________________
۱۔نمایة المرام ،ص۲۴۸
لکلّ من اتّصف بالصدق فی اٴیّ مرتبة کان،،لوجب اٴن یعبّرمکان”مع“ بکلمة”من“ضرورةاٴنّه یجب علی کلّ مؤمن اٴن یتحرزعن الکذب و یکون مع الصادقینفالعدول عن کلمة ”من“إلی”مع“ یکشف عن اٴن المراد ”باالصدق“مرتبةمخص صةو”باالصادقین“ طائفة معینةومن المعلوم اٴنّ هذه المرتبة مرتبة کاملة،بحیث یستحقالمتصفون بها اٴن یتبعهم سائر المؤمنین جمیعاً،وهذاالمرتبة الکاملة التی تکون بهذه المثا بة لیست إلاّ العصمة والطهارة التی لم یتطرّق معها کذب فی القول والفعل،إذفی الاٴمّة من طهّره اللّٰه تعالی واٴذهب عنه الرجس!وهم اٴهل بیت النبیّی بنصّایة التطهیرواتّفاق جمیع المسلمین
فلواٴُرید من الصّادقین غیر المعصومین لزم اٴن یکون المعصومون ماٴمورین بمتا بعة غیر المعصومین المتطرّق فیهم الکذب و لو جهلاً اٴو سهواً و هو قبیح عقلاً ، و تعیّن اٴن یکون المراد الصادقین المطهّرین الحائزین جمیع مراتب الصدق قولاً و فعلاً،ولا یصدق ذلک إلاّ علی اٴهل بیت النبیّیصلىاللهعليهوآلهوسلم الّذین اٴذهب اللّٰٰه عنهم الرجس و طهرَّهم تطهیراً، و إلیه یشیر قول مولانا الرضا( علیه السلام) ”هم الاٴئمّة الصدیقون بطا عتهم“(۱)
و یدلّ علی کونهم اٴئمّة کمانبّه علیه مولانا الرضا( علیه السلام) فی هذه الروایة اٴمره سبحانه وتعالی جمیع المؤ منین بعد اٴمرهم بالاٴتّقاء عن محارمه باٴن یکونوا مع الصادقین، و لا یصدق الکون
___________________
۱۔فی المصدر:”والصدیقون بطا عتہم “فراجع
معهم إلا باٴن یکونوا تحت طاعتهم ،متحرّزین عن مخا لفتهم ولیس للإمامة معنی إلاّافتراض طاعة الإمام علی الماٴموم من قبله تعالی،بل لا تعبیراٴقرب إلی معنی الإمامة من اٴمر المؤمنین باٴن یکونوامعه،إذ حقیقة الإئتمام عبارة عن متابعة الماٴموم إمامه وعدم مفارقته عنه ۔(۱)
شیعہ اور اہل سنّت سے مستفیض(۲) روایتیں نقل ہوئی ہیں کہ آیہء شریفہ میں صادقین سے مراد)پیغمبراسلام (ص))کے اہل بیت علیہم السلام ہیں۔مرحوم بحرانی نے اپنی کتاب ”غایة المرام“ میں شیعہ طریقہ سے دس احادیث اورسنی طریقہ سے سات احادیث نقل کی ہیں۔
آیہء کریمہ میں ”صادقین“سے مراد)جیساکہ فریقین کی احادیثوں میں ایاہے )ائمہء معصومین علیہم السلام ہیں اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر ”صدق“)سچائی)کہ جو”صادقین“کے عنوان میں ماخوذہے،اس سے مرادمطلق سچائی ہے کہ جوہرمرتبہ کو شامل ہے اور”صادقین“کے زمرے میں ہروہ شخص شامل ہوکہ جو صفت صدق کے کسی بھی مرتبہ سے متصف ہے تو آیہء کریمہ کی تعبیر ”کو نوا من الصا دقین“ہونی چا ہئے تھی اوراسصورت میں اس آیت کے معنی یہ ہو تے کہ ہرمسلمان پر ضروری ہے کہ وہ سچ بو لنے والوں سے ہو اورجھوٹ سے پرہیزکرے۔
یہ جو”مع الصادقین“تعبیرہے،یہ خوداس بات کی دلیل ہے کہ”صدق“سے مراد ایک خاص مرتبہ و مقام ہے اور”صادقین“سے مرادایک مخصوص اور ممتازگروہ)اورصادقین کے ساتھ ہونے کا معنی ان کی پیروی کرنا)ہے۔
صفت صد ق کا کا مل اور نہائی مرتبہ وہی عصمت وطہارت ہے جس کی وجہ سے گفتار وکردار میں سچائی مکمل طورپرمحقق ہوتی ہے۔
____________________
۱-”مصباح الہدایة“ص۹۳۔۹۲،مطبع سلمان فارسی قم
۲۔سے دس تک کی احادیث پر”حدیث مستفیض“اطلاق ہوتا ہے
(اس مطلب کاقطعی ثبوت یہ ہے کہ)اگر”صادقین“سے مرادائمہ معصومین(ع)کے علاوہ کوئی اورہوں تواس فرض کی بنیادپرکہ آیہء تطہیرکی نص مو جود ہے اورتمام مسلمانوں کا اہل بیت کے معصوم ہو نے پر اتفاق ہے ،اس کالازمہ یہ ہوتا کہ تمام انسان حتی کہ ائمہ معصو مین بھی غیرمعصوم کی اطاعت وپیروی کریں اوریہ عقلاًقبیح ہے۔لہذایہ مرتبہ)عصمت وطہارت)پیغمبر (ص)کے خاندان کے علاوہ کہیں اورنہیں پایا جاسکتاہے۔
دوسراثبوت یہ ہے کہ خدا وند متعال نے آیت کی ابتداء میں تمام مؤمنین کو تقویٰ اورگناہوں سے اجتبا ب کر نے کاحکم دیاہے اوراس کے بعد انہیں”صادقین“ کے ساتھ ہونے کا فرمان جاری کیا ہے،اوران کے ساتھ ہونے کا مطلب ان کی اطاعت کرنے اوران کی نافرمانی نہ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور امامت کے معنی بھی اس کے علاوہ کچھ نہیں ہےں کہ ماموم پر امام کی اطاعت واجب ہے۔
اگرہم امامت واطاعت کی صحیح تعبیر کرناچاہیں توبہترین تعبیریہ ہے کہ امام کے ساتھ ہونا اوراس کی پیروی و اطا عت سے جدانہ ہو ناہے۔
فخررازی کا قول
دوسراقول اہل سنت کے مشہورومعرو ف علا مہ فخررازی کاہے۔وہ آیہء شریفہ کی تفسیر میں کہتے ہیں:
”و فی الآیة مسائل: المساٴلة الاٴولی: اٴنّه تعالی اٴمرالمؤمنین بالکون مع الصادقین! و متی وجب الکون مع الصادقین فلا بدّمن وجود الصادقین فی کلّ وقت، و ذلک یمنع من إطباق الکلّ علی الباطل، و متی إمتنع إطباق الکلّ علی الباطل وجب إذا اٴطبقوا علی شیء اٴن یکونوا محقّین فهذا یدل علی اٴنّ إجماع الاٴمّة حجّة
فإن قیل: لمَ لا یجوز اٴن یقال: المراد بقوله:( کونوا مع الصادقین ) اٴی کونوا علی طریقة الصادقین، کما اٴنّ الرجل إذا قال لولده: ”کن مع الصالحین“ لا یفید إلاّ ذلک؟
سلّمنا ذلک، لکن نقول: إن ّ هذا الاٴمر کان موجوداً فی زمان الرسول فقط، فکان هذا اٴمراً بالکون مع الرسول، فلا یدّل علی وجود صادق فی سائر الاٴز منة
سلّمنا ذلک لکن لم لا یجوز اٴن یکون الصادق هو المعصوم الذی یمتنع خلوّ زمان التکلیف عنه کما تقو له الشیعة؟
و الجواب عن الاول: اٴنّ قوله:( کونوا مع الصادقین ) اٴمر بموافقة الصادقین، و نهی عن مفارقتهم، و ذلک مشروط بوجود الصادقین وما لا یتمّ الواجب إلاّ به فهو واجب فدّلت هذه الآیة علی وجود الصادقین و قوله: ” إنّه عدول عن الظاهر من غیر دلیل
قوله: ” هذا الاٴمر مختصّ بزمان الرسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اٴنّ التکالیف المذکورة فی القرآن متوجهة إلی المکلّفین إلی قیام القیامة، فکان الاٴمر فی هذا التکلیف کذلک
الثانی : اٴنّ الصیغة تتناولال اٴوقات کلّها بدلیل صحة الاستثناء الثالث: لمّا لم یکن الوقت المعین مذکوراً فی لفظ الآیة لم یکن حمل الآیة علی البعض اٴولی من حمله علی الباقی فإماّ اٴن لا یحمل علی شیء من الاٴوقات فیفضی إلی التعطیل و هو باطل ! اٴو علی الکلّ فهو المطلوبو الرابع: و هو اٴنّ قوله:( یا اٴیّها الّذین آمنوا اتّقوا اللّٰه ) اٴمر لهم بالتقوی و هذا الاٴمر إنّما یتناول من یصحّ منه اٴن لا یکون متّقیاً، و إنّما یکون کذلک لو کان جائز الخطاٴ فکانت الآیة دالّة علی اٴنّ من کان جائز الخطاٴ وجب کونه مقتدیاً بمن کان واجب المعصمة، و هم الّذین حکم اللّٰه تعالی بکونهم صادقین فهذ ایدّل علی اٴنّه واجب علی جائز الخطاٴ کونه مع المعصوم عن الخطاٴ حتی یکون المعصوم عن الخطاٴ مانعا لجائز الخطاٴ عن الخطاٴ! و هذا المعنی قائم فی جمیع الاٴزمان، فوجب حصوله فی کل الازمان
قوله:”لم لا یجوزاٴن یکون المراد هو کون المؤمن مع المعصوم الموجود فی کلّ زمان“
قلنا:نحن نعترف باٴنّه لابدّ من معصوم فی کلّ زمان،إلا اٴناّ نقول: ذلک المعصوم هو مجموع الاٴمّة و اٴنتم تقولون ذلک المعصوم واحد منهم فنقول: هذا الثانی باطل، لاٴنّه تعالی اٴوجب علی کلّ واحدمن المؤمنین اٴن یکون مع الصادقین،وإنّما یمکنه ذلک لو کان عالماً بان ذلک الصادق من هو ،لاالجاهلباٴنّه من هو
فلو کان ماٴموراً بالکون معه کان ذلک تکلیف مالا یطاق، واٴنّه لا یجوز، لکنّا لا نعلم إنساناً معیّناً موصوفاً بوصف العصمة، و العلم
باٴنّا لانعلم هذا الانسان حاصل بالضرورة، فثبت اٴنّ قوله: وکونوا مع الصادقین لیس اٴمراً بالکون مع شخص معیّن
و لمّا بطل هذا بقی اٴنّ المراد منه الکون مع مجموع الاُمّة، وذلک یدل علی اٴنّ قول مجموع الاُمّة حقّ و صواب ، و لا معنی لقولنا،”الإجماع حجة“إلاّ ذلک“(۱)
ترجمہ:
”خداوند متعال نے مو منین کو صادقین کے ساتھ ہو نے کا حکم دیا ہے۔اس مطلب کا لازمہ یہ ہے کہ ہرزمانہ میں صادقین کاوجودہو اور یہ اس بات کے لئے ما نع ہے کہ پوری امت کسی باطل امر پر ا تفاق کر ے ۔اس لئے اگر پوری امت کسی چیز پر اتفاق کرتی ہے تو ان کا یہ اتفاق صحیح و بر حق ہو گا اوریہ،اجماع امت کے حجت ہونے کی دلیل ہے۔
اگر کہا جائے:صادقین کے ساتھ ہو نے کا مقصد یہ کیوں نہیں ہے کہ صادقین کے طریقہ کار کی پیروی کرے ،چنانچہ اگر ایک باپ اپنے بیٹے سے کہے:”صالحین کے ساتھ ہو جاؤ“یعنی صالحین کی روش پر چلو )اور یہ امر اس بات پر دلالت نہیں کرتا ہے کہ ہرزمانہ میں صادقین کا وجود ہو)
جواب یہ ہے کہ:یہ خلاف ظاہر ہے،کیونکہ وکون امع الصادقین یہ ہے کہ پہلے ان صادقین کا و جود ہو جن کے ساتھ ہو نے کا حکم دیا گیا ہے۔
مزید اگریہ کہا جائے کہ:یہ جملہ صرف رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے زمانہ میں موضوعیت رکھتا تھا،کیونکہ اس زمانہ میں صرف آنحضرت (ص)کی ذات صادق کے عنوان سے مو جود تھی اور یہ اس بات پردلالت نہیں کرتاہے کہ ہرزمانہ میں صادقین موجود ہوں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ:یہ خطاب قرآن مجید کے دوسرے خطابوں کے مانندقیامت تک
____________________
۱۔التفسیر الکبیر ،فخررازی ،ص۲۲۱۔۲۲۰،دار احیاء التراث العربی ،بیروت
کے لئے تمام مکلفین سے متعلق و مر بوط ہے اوراس میں ہر زمانہ کے مکلفین سے مخطاب ہے اور یہ خطاب رسول اللہ (ص)کے زمانہ سے مخصوص نہیں ہے۔اس کی دلیل یہ ہے کہ یہ استثناء صحیح ہے)اوراستثناء کے صحیح ہو نے کی دلیل ہمیشہ مستثنی منہ میں عمومیت کا پا یا جا تا ہے ) ۔
اس کے علاوہ خدا وند متعال نے پہلے مرحلہ میں مؤ منین کو تقویٰ کا حکم دیا ہے،اور یہ انھیں تمام افراد کے لئے تقویٰ کا حکم ہے کہ جن کے لئے امکان ہے کہ متقی نہ ہوں اوراس خطاب کے مخاطبین وہ لوگ ہیں جو جائزالخطاء ہیں۔لہذاآیہء شریفہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جائز الخطاء افراد کو ہمیشہ ایسے لوگوں کے ساتھ ہونا چاہئے کہ جو خطا سے معصوم ہوں تاکہ وہ معصوم لوگ انھیں خطا سے بچا سکیں۔اور اس طرح کاامکان ہرزمانہ میں ہے۔اس لئے آیہء شریفہ تمام زمانوں سے متعلق ہے اورصرف پیغمبر (ص)کے زمانہ سے مخصوص نہیں ہے۔
یہاں تک فخررازی کے بیان سے یہ بات واضح ہو جا تی ہے کہ صادقین سے مراد خطا سے معصوم افراد ہیں اور یہ افراد ہر زمانہ میں موجود ہیں اوریہ مطلب صحیح اور نا قابل اشکال ہے۔ لیکن فخررازی کاکہنا ہے:
”معصوم”صادقین“ امت کے مجموعی افراد ہیں اور یہ امت کے خاص اورمشخص افراد نہیں ہو سکتے ہیں کیونکہ اس صورت میں ہر ایک پر لازم ہے کہ ان معین مشخص افراد کو پہچانے ان کی معرفت حاصل کرے تا کہ ان کے ساتھ ہو جائے جبکہ یہ معرفت اورآگا ہی ممکن نہیں ہے اورہم ایسے خاص افراد کو نہیں پہچانتے ہیں کہ جو خطا و غلطی سے پاک اورمعصوم ہوں۔ لہذااس بات کے پیش نظر معصوم صادقین سے مراد مجموعہ امت ہے کہ جس کا نتیجہ اجماع کی حجیّت ہے۔“
فخررازی کے قول کا جواب
فخررازی کے بیان میں دونمایاں نکتے ہیں:
پہلانکتہ:یہ ہے کہ معصوم صادقین سے مراد مشخص و معیّن افراد نہیں ہو سکتے ہیں کیونکہ ہمیں ان کے بارے میں علم وآگاہی نہیں ہے۔
اس قول کا صحیح نہ ہو نا واضح و روشن ہے،کیونکہ شیعہ اما موں کی عصمت کی دلیلوں کی طرف رجوع کرنا ہرایک کے لئے ممکن ہے،جن احادیث میں ان معصوم اما موں کاصراحتاًنام لیا گیا ہے،وہ تواتر کی مقدار سے زیادہ ہیں نیزیہ حدیثیں بعض سنی منابع اور بے شما ر شیعہ منابع میں ذکر ہوئی ہیں۔
دوسرا نکتہ:یہ کہ” معصوم صادقین سے مراد تمام امت ہے“اس پر بہت سا رے اعتراضات ہیں ذیل کے عبا رت میں ملا حظہ ہو:
۱ ۔چودہ معصومین(ع)کی عصمت کے علاوہ کسی اور کی عصمت کا قول تمام مسلمانوں کے قطعی اجماع کے خلاف ہے
۲ ۔آیہ شریفہ میں صادقین کے عنوان )جو ایک عام عنوان ہے )سے جو چیز ظاہر ہے وہ اس کااستغراقی اورشمولی ہو نا ہے نہ کہ مجموعی ہونا اور فخررازی کے کلام سے جو بات ظاہر اور واضح ہے کہ عصمت مجموعہ امت کی صورت میں ہے نہ جمیع امت کی صورت میں اور”مجموعہ“ایک اعتباری عنوان ہے جووحدت افراد کو ایک دوسرے سے منسلک کر دیتا ہے۔عنوان عام میں اصل”استغراقی ہو نا“ہے،کیونکہ عام مجموعی مجازہے اور اسے قرینہ کی ضرورت ہے جبکہ اصالةالحقیقة کا تقاضا یہ ہے کہ عام،جس کا حقیقی عنوان استغراقی ہو نا ہے اس پر حمل ہو۔
۳ ۔عصمت ایک حقیقی عنوان ہے اوراسے ایک حقیقی موضوع کی ضرورت ہے،اور عام مجموعی ایک اعتباری موضوع ہے اورحقیقی موجود کا اعتباری موضوع پر قائم ہو نا محال ہے۔
۴ ۔فخررازی کا قول”( یاایهاالذین آمنوا ) “اور صا دقینکے درمیان ایک دوسرے مقابل ہو نے کا جو قرینہ پا یا جا تا ہے اس کے خلاف ہے اور ان دو عناوین کے درمیان مقا بلہ کا تقاضا ہے کہ وہ مومنین کہ جن کو خطاب کیا جا رہا ہے وہ دوسرے ہوں اور وہ صادقین جوان کے مقا بل میں قرار دیئے گئے ہیں اور جن کے ساتھ ہو نے کا حکم دیا گیا ہے وہ دوسرے ہوں۔
۵ ۔صادقین سے مراد مجموعہ امت )عام مجموعی) ہونا خود فخررازی کے بیان سے متناقص ہے،کیونکہ اس نے اس مطلب کی توجیہ میں کہ صادقین کا اطلاق فقط پیغمبر (ص)کی ذات میں منحصر نہیں ہے ،کہاہے:
”آیہء شریفہ اس پہلو کو بیان کر نے والی ہے کہ ہرزمانے میں ایسے مؤ منین کا وجود رہا ہے کہ جو جائزالخطا ہوں اور ایسے صادقین بھی پائے جاتے رہے ہیں کہ جوخطا سے محفوظ اورمعصوم ہوں اور ان مؤمنین کو چاہئیے کہ ہمیشہ ان صادقین کے ساتھ ہوں۔“
لہذا فخر رازی نے ان مؤمنین کو کہ جن کوخطاب کیا گیا ہے جائز الخطا اور صادقین کو خطا سے معصوم فرض کیا ہے۔
اس آیت کے بارے میں شیعہ اورسنّی احادیث
حاکم حسکانی(۱) نے تفسیر”شواہد التنزیل(۲) “ میں چند ایسی حدیثیں ذکرکی ہیں،جن سے ثابت ہو تا ہے کہ آیہ شریفہ میں ”صادقین“ سے مراد (ص)اورحضرت علی بن ابیطالب علیہ السلام یاپیغمبراکرم (ص)کے اھل بیت(ع)ہیں۔یہاں پرہم ان احادیث میں سے صرف
____________________
۱۔اہل سنت کے بڑے مشہور معروف عالم دین، ذہبی نے حسکانی کے بارے میں کہاہے:”شیخ متقن ذوعنایة تامة بعلم الحدیث،وکان معمّراً عالی الاسناد۔تذکرة الحفاظ،ج۳،ص۱۲۰۰،دارالکتب العلمیة بیروت۔یعنی:متقن اورمحکم اسناد میں علم حدیث کے بارے میں خاص اہمیت و توجہ کے کامل رکھتے ہیں۔انہوں نے ایک طولانی عمر گذاری ہے اور)حدیث میں )عالی اسنادکے مالک تھے ۔
۲۔شواہد التنزیل،ج۱،ص۳۴۱
ایک کی جا نب اشارہ کرتے ہیں:
”حدثنایعقوب بن سفیان البسوی قال:حدثناابن قعنب،عن مالک بن اٴنس،عن نافع،عن عبداللّٰه بن عمرفی قوله تعالی:
( اتقوااللّٰه ) قال:اٴمراللّٰه اصحاب محمد( ص) باٴجمعهم اٴن یخافوا للّٰه،ثمّ قال لهم :( کونوامع الصادقین ) یعنی محمداً واهل بیته“(۱)
”یعقوب بن سفیان بسوی نے ابن قنعب سے،اس نے مالک بن انس سے،اس نے نافع سے اس نے عبداللہ بن عمر سے روایت کی ہے کہ خداوندمتعال کے اس قول:”اتقوااللّٰہ“کے بارے میں کہا:خداوندمتعال نے پیغمبراکرم (ص)کے تمام اصحاب کوحکم دیاکہ خداسے ڈریں۔اس کے بعدان سے کہا’:’صادقین“یعنی پیغمبر (ص)اور ان کے اہل بیت علیہم السلام کے ساتھ ہوجائیں۔“
اسی حدیث کوشیعوں کے عظیم محدث اوربزرگ عالم دین ابن شہر آشوب(۲) نے تفسیر یعقوب بن سفیان سے،مالک بن انس سے،نافع بن عمرسے روایت کی ہے۔
شیعوں کے ایک بہت بڑے محدث کلینی نے اس سلسلہ میں اصول کافی میں یوں روایت کی ہے:
”عن ابن اُذینه،عن برید بن معاویةالعجلی قال: اٴباجعفر-علیه السلام-عن قول اللّٰه عزّوجلّ: ( اتقوااللّٰه وکونوامع الصادقین ) قال: إیاّ نا عنی“ ۔(۳)
___________________
۱۔شواہد التنزیل،ج۱،ص۳۴۵،ح۳۵۷
۲۔ذہبی نے تاریخ اسلام میں ۵۸۱ئھ سے ۵۹۰ئھ کے حوادث کے بارے میں بعض بزرگ علماء )ابن ابی طی)کی زبانی اس کی تمجیدکی ہے اور اسے اپنے زمانہ کے امام اورمختلف علوم میں بے مثال شمار کیا ہے اورعلم حدیث میں اسے خطیب بغدادی کے ہم پلہ اورعلم رجال میں یحیی بن معین کے مانند قراردیاہے اور اس کی سچائی وسیع معلو مات نیز،کثرت خشوع وعبادت اورتہجدکا پابند ہو نے سے متصف کیاہے۔مناقب،ابن شہرآشوب،ج۳،ص۱۱۱،ذوی القربیٰ
۳۔اصول کافی ،ج۱،ص۲۰۸،مکتبةالصدق
”ابن اذینہ نے برید بن معاویہ عجلی سے روایت کی ہے انھوں نے کہا:میں نےخداوندمتعال کے قول( اتقوااللّٰه وکونوامع الصادقین ) کے بارے میں امام باقر(علیہ السلام)سے سوال کیا،حضرت(ع)نے فرمایا:خداوندمتعال نے اس سے صرف ہمارے)اہل بیت پیغمبرعلیہم السلام کے)بارے میں قصدکیاہے۔“
اہل سنّت کے ایک بہت بڑے محدث جوینی نے ایک روایت میں یوں نقل کیا ہے:
”ثمّ قال علیّ( علیه السلام) :اٴنشدکم اللّٰه اٴتعلمون اٴنّ اللّٰه اٴنزل( یااٴیّهاالّذین آمنوااتّقوااللّٰه وکونوامع الصادقین ) فقال سلمان:
یارسول اللّٰه،عامّة هذااٴم خاصّة؟قال:اٴماّ المؤمنون فعامّة المؤمنین اٴمروابذلک،واٴمّاالصادقون فخاصّة لاٴخی علیّ واٴوصیائی من بعد إلی یوم القیامة قالوا:اللّهمّ نعم“(۱)
”اس کے بعد علی(علیہ السلام) نے فرمایا:تمھیں خداکا واسطہ دے کر کہتا ہوں۔کیاتم جانتے ہو،جب یہ آیہء یا ایّہاالذین آمنوا اتقوااللّٰہ وکونوامع الصادقین نازل ہوئی،توسلمان نے آنحضرت سے کہا :یارسول اللہ! (ص)کیا یہ آیت اس قدرعمومیت رکھتی ہے تمام مؤمنین اس میں شامل ہو جا ئیںیا اس سے کچھ خاص افراد مراد ہیں؟پیغمبر (ص)نے فرمایا:جنہیںیہ حکم دیا گیا ہے اس سے مرادعام مؤمنین ہیں،لیکن صادقین سے مرادمیرے بھائی علی(علیہ السلام)اوراس کے بعدقیامت تک آنے والے میرے دوسرے اوصیاء ہیں؟انہوں نے جواب میں کہا:خداشاہدہے،جی ہاں۔“
البتہ اہل سنت کی حدیث وتفسیرکی بعض کتا بوں میں چند دوسری ایسی روایتیں بھی نقل
___________________
۱۔فرائدالسبطین ،ج۱،ص،۳۱۷،مؤسسہ المحمودی للطبا عة والنشر ،بیروت،کماالدین ،ص۲۶۴۔بحار الا نور ،ج۳۳ص۱۴۹۔مصباح الہدایة،ص۹۱طبع سلمان الفارسی۔قابل ذکر ہے کہ مؤخر الذکر مد رک میں بجائے ”انشدکم اللّٰہ“’اسالکم باللّٰہ“آیا ہے۔
ہوئی ہیں،جن میں ”صادقین“سے مرادکے بارے میں ابوبکروعمریا پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دوسرے اصحاب کو لیا گیا ہے۔البتہ یہ روایتیں سندکے لحاظ سے قابل اعتماد نہیں ہیں۔ہم ان میں سے بعض کی طرف اشارہ کرتے ہیں:
۱ ۔ابن عساکرنے ضحاک سے روایت کی ہے کہ:( یاایّهاالذین آمنوااتقوااللّٰه وکونوامع الصادقین ) قال:مع ابی بکروعمراصحابهما (۱) “
آیہء شریفہ میں ”صادقین“سے ابوبکر،عمراوران کے اصحاب کا قصد کیا گیا ہے ۲ ۔طبری نے سعیدبن جبیرسے ایک اورروایت نقل کی ہے کہ”صادقین“سے مراد ابوبکروعمرہیں۔(۲)
ان احادیث کاجواب:
پہلی حدیث کی سندمیں جویبربن سعیدازدی ہے کہ ابن حجرنے تہذیب التہذیب(۳) میں علم رجال کے بہت سارے علما،جیسے ابن معین،ابن داؤد،ابن عدی اورنسائی کے قول سے اسے ضعیف بتا یاہے،اورطبری(۴) نے اسی روایت کوضحاک سے نقل کیاہے کہ اس کی سندمیں بھی جویبرہے۔
دوسری روایت کی سندمیں اسحاق بن بشرکاہلی ہے کہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں(۵) ابن ابی شیبہ،موسی بن ہارون،ابوذرعہ اوردارقطنی کی روایت سے اسے جھوٹا اور حدیث روایت سے اسے جھوٹااورحدیث جعل کرنے والابتایاہے۔
دوسرے یہ کہ:اس کے بعدکہ ہم نے خود آیہء شریفہ اوراس کے شواہد سے جان لیاکہ آیت میں ”صادقین“ سے مرادوہ معصوم ہیں جن کے ساتھ ہونے کا ہمیں حکم دیا گیاہے،اور یہ بات ہم جانتے ہیں کہ جو بھی مسلمانوں کے اتفاق نظر سے معصوم نہ ہووہ اس آیت)صادقین کے دائرے) سے خارج ہے۔
____________________
۱۔تاریخ مدینةدمشق،ج۳۰،ص۳۱۰دارالفکر
۲۔جامع البیان،ج ۱۱،ص۴۶
۳۔تہذیب التہذیب، ج۲ص۱۰۶دارالفکر۔
۴۔جامع البیان،ج۱۱،ص۴۶
۵۔میزان الاعتدال،ج۱،ص۱۸۶،دارالفکر
چھٹاباب :
امامت آیہء تطہیرکی روشنی میں
( إنّمایریداللّٰه لیذهب عنکم الرجس اٴهل البیت ویطهّرکم تطهرا ) (سورہرئہ احزاب/ ۳۳)
”بس اللہ کاارادہ یہ ہے اے اہل بیت!تم سے ہرقسم کی برائی کودوررکھے اوراس طرح پاک وپاکیزہ رکھے جوپاک وپاکیزہ رکھنے کاحق ہے۔“
ایک اورآیت جوشیعوں کے ائمہء معصومین(ع)کی عصمت پر دلالت کرتی ہے وہ آیہ تطہیرہے۔یہ آیہء کریمہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپکے اہل بیت علیہم السلام،یعنی حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیہااورشیعہ امامیہ کے بارہ معصوم اماموں کی عصمت پردلالت کرتی ہے۔
آیہء کریمہ کی دلالت کو بیان کرنے کے لئے اس کے چند پہلوقابل بحث ہیں:
۱ ۔آیہء کریمہ میں لفظ”إنّما“فقط اورانحصارپردلالت کرتاہے۔
۲ ۔آیہء کریمہ میں ارادہ سے مرادارادہ،تکو ینی ہے نہ ارادہ تشریعی۔
۳ ۔آیہء کریمہ میں ”اہل بیت“سے مرادصرف حضرت علی،فاطمہ،وحسن وحسین )علیہم السلام)اوران کے علاوہ شیعوں کے دوسرے ائمہ معصو مین علیہم السلام ہیں اورپیغمبراسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیویاں اس سے خارج ہیں۔
۴ ۔آیہء کریمہ کے بارے میں چندسوالات اوران کے جوابات
”إنّما“حصرکا فائدئہ دیتا ہے
جیساکہ ہم نے آیہء ولایت کی تفسیرمیں اشارہ کیاکہ علمائے لغت وادبیات نے صراحتاًبیان کیاہے لفظ”إنّما“حصرپردلالت کرتاہے۔لہذااس سلسلہ میں جوکچھ ہم نے وہاں بیان کیااس کی طرف رجوع کیاجائے۔اس سلسلہ میں فخررازی کے اعتراض کاجواب بھی آیہ ولایت کے اعتراضات کے جوابات میں دے دیاگیاہے۔
آیہء تطہیرمیں ارادے سے مرادارادہ تکوینی ہے نہ تشریعی
آیہء شریفہ کے بارے میں بحث کادوسراپہلویہ ہے کہ:آیہء شریفہ میں جوارادہ ذکر کیاگیاہے،اس سے مرادارادہ تکوینی ہے نہ ارادہ تشریعی۔خداوندمتعال کے ارادے دوقسم کے ہیں:
۱ ۔ارادہ تکوینی:اس ارادہ میں ارادہ کامتعلق اس کے ساتھ ہی واقع ہوتاہے،جیسے، خداوندمتعال نے ارادہ کیاکہ حضرت ابراھیم علیہ السلام پرآگ ٹھنڈی اورسالم)بے ضرر)ہو جائے توایساہی ہوا۔
۲ ۔ارادہ تشریعی:یہ ارادہ انسانوں کی تکالیف سے متعلق ہے۔واضح ر ہے کہ اس قسم کے ارادہ میں ارادہ اپنے مراداورمقصودکے لئے لازم وملزوم نہیں ہے۔خداوندمتعال نے چاہاہے کہ تمام انسان نماز پڑھیں، لیکن بہت سے لوگ نماز نہیں پڑھتے ہیں۔تشریعی ارادہ میں مقصود اور مراد کی خلات ورزی ممکن ہے، اس کے برعکس تکوینی ارادہ میں ارادے کی اپنے مراد اور مقصود سے خلاف ورزی ممکن نہیں ہے۔
اس آیہ شریفہ میں ارادے سے مراد ارادہ تکوینی ہے نہ تشریعی اور اس کے معنی یہ ہے کہ:خداوند متعال نے ارادہ کیاہے کہ اہل بیت)علیہم اسلام)کو ہرقسم کی ناپاکی من جملہ گناہ و معصیت سے محفوظ رکھے اورانھیں پاک و پاکیزہ قراردے۔
خداوندمتعال کے اس ارادہ کے ساتھ ہی اہل بیت اطہارسے ناپاکیاں دور نیزمعنوی طہارت اور پاکیزہ گی محقق ہوگئی ،خداوندمتعال نے یہ ارادہ نہیں کیاہے کہ وہ خود اپنے آپ کو گناہ کی پلیدی اور ناپاکی سے محفوظ رکھیں اورخداوندمتعال کے حکم اور فرائض پر عمل کرکے اپنے آپ کوپاک وپاکیزہ بنائیں۔
آیہ تطہیر میں ارادہ کے تکوینی ہونے کے دلائل:
۱ ۔ارادہ تشریعی فریضہ شرعی کے مانند،دوسروں کے امورسے متعلق ہوتا ہے، جبکہ آیہ شریفہ میں ارادہ کا تعلق ناپاکی اور پلیدی کودورکرنے سے ہے جو ایک الہی فعل ہے جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس آیہ شریفہ میں ارا دے سے مرادارادہ،تشریعی نہیں ہے۔
۲ ۔ انسانوں کوپلیدی اور ناپاکیوں سے دور رہنے اورپاک وپاکیزہ ہونے کے بارے میں خداوند متعال کا تشریعی ارادہ پیغمبر اکر (ص)کے اہل بیت (ع)سے مخصوص نہیں ہے بلکہ خدا وند متعال کا یہ ارادہ ہے کہ تمام انسان ناپاکیوں سے محفوظ رہیں اورطہارت وپاکیزگی کے مالک بن جائیں۔جبکہ آیہ تطہیرسے استفادہ ہوتاہے کہ یہ ارادہ صرف پیغمبراکرم (ص)کے اہل بیت علیہم السلام سے مخصوص ہے اور یہ اس کلمہ حصر کی وجہ سے ہے کہ جو آیہ شریفہ کی شروع میں آیا ہے۔ اس سے بالکل واضح ہو جا تا ہے کہ ارادہ کامتعلق)جوناپا کیوں سے دوری اورخداکی جا نب سے خاص طہا رت ہے )خارج میں متحقق ہے۔
۳ ۔آیہ شریفہ شیعوں اورسنیوں کے تفسیرواحادیث کی کتا بوں میں مذکوربے شمار احادیث اورروایتوں کے مطابق اہل بیت پیغمبر (ص)کی فضیلت وستائش کی ضامن ہے۔ اگرآیہ شریفہ میں ارادہ الہی سے مراد،ارادہ تشریعی ہوتاتویہ آیت فضیلت وستائش کی حامل نہیں ہوتی۔اس بناپر،جوکچھ ہمیں اس آیہ شریفہ سے معلوم ہوتاہے،وہ اہل بیت پیغمبر (ص)سے مخصوص طہارت و پاکیزگی اوران کاپلیدی اورناپاکیوں سے دور ہو ناارادہ الٰہی کے تحقق سے مر بوط ہے۔اوریہ ان منتخب انسانوں کے بارے میں خداکی جانب سے عصمت ہے۔ اس ارادہ الٰہی کے تکوینی ہونے کا ایک اورثبوت وہ احادیث ہیں جو خاص طور سے خدا وند متعال کی طرف سے اہل بیت علیہم السلام کی طہارت پر دلالت کرتی ہیں۔ہم یہاں پر ان احادیث میں سے دوحدیثوں کونمونہ کے طورپرذکرکرتے ہیں:
” واخرج الحکیم الترمذی والطبرانی وابن مردویه وابونعیم والبیهقی معاً فی الدلائل عن ابن عباس رضی الله عنهما قال رسول الله -( ص) - انّ اللّه قسّم الخلاق قسمیں فجعلنی فی خیرهما قسماً، فذلک قوله( واصحاب الیمین ) (۱) ( واصحاب الشمال ) (۲) فاٴنامن اٴصحاب الیمین واٴناخبراٴصحاب الیمین ثمّ جعل القسمین اٴثلاثاً،فجعلنی فی خیرها ثلثاً،فذلک قوله :( واٴصحاب المیمنة مااٴصحاب المیمنةواٴصحاب المشئمة مااٴصحاب المشئمةالسابقون ) (۳) فاٴنامن السابقین واٴناخیرالسابقین، ثمّ جعل الاٴثلاث قبائل،فجعلنی فی خیرها قبیلة،وذلک قوله:( وجعلنا کم شعوباًوقبائل لتعارفواإنّ اٴکرمکم عنداللّٰه اٴتقاکم ) (۴) واٴنااٴتقی ولدآدم واٴکرمهم عنداللّٰه تعالی ولافخر،ثمّ جعل القبائل بیوتاًوجعلنی فی خیرها بیتاً،فذلک قوله: ا( ٕنّما یریداللّٰه لیذهب عنکم الرجس اٴهل البیت ویطهّرکم تطهیراً ) (۵) فاٴناواٴهل بیتی مطهّرون من الذنوب“(۶)
____________________
۱۔سورئہ واقعہ/۲۷ ۲۔سورئہ واقعہ/۴۱ ۳۔سورئہ واقعہ/۸۔۱۰ ۴۔سورئہ حجرات/۱۳ ۵۔سورئہ/احزاب/۳۳
۶۔الدرالمنثور، ج ۵، ص ۳۷۸، دارالکتاب، العلمیہ، بیروت، فتح، القدیر، شوکافی، ج ۴، ص ۳۵۰ دارالکتاب العلمیہ، بیروت۔المعروفہ و التاریخ، ج ۱، ص ۲۹۸
”حکیم ترمذی،طبرانی،ابن مردویہ،ابو نعیم اور بیہقی نے کتاب”الدلائل‘میں ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ پیغمبراکرم (ص)نے فرمایا:خداوندمتعال نے اپنی مخلوقات کودو حصوں میں تقسیم کیا ہے اور مجھ کوان میں سے برترقراردیاہے اورخداوندمتعال کاقول یہ ہے:( و اصحاب الیمین ) ( واصحاب الشمال ) اور میں اصحاب یمین میں سے سب سے افضل ہوں۔اس کے بعدمذکورہ دوقسموں)اصحاب یمین اوراصحاب شمال)کوپھرسے تین حصوں میں تقسیم کیااورمجھ کوان میں افضل ترین لو گوں میں قرار دیا اور یہ ہے خدا وند کریم کا قول:( واٴصحاب المیمنةمااٴصحاب المیمنة واٴصحاب المشئمة مااٴصحاب المسئمةوالسابقون السابقون ) اورمیں سابقین اور افضل ترین لو گوں میں سے ہوں۔اس کے بعدان تینوں گروہوں کوکئی قبیلوں میں تقسیم کردیا،چنانچہ فر ما یا:
( وجعلناکم شعوباًوقبائل لتعارفواإنّ اکرمکم عنداللّه اٴتقاکم )
”اورپھرتم کو خاندان اور قبائل میں بانٹ دیاتاکہ آپس میں ایک دوسرے کوپہچان سکوبیشک تم میں سے خداکے نزدیک زیادہ محترم وہی ہے جوزیادہ پرہیزگارہے“ اورمیں فرزندان آدم میں پرہیزگار ترین اور خدا کے نزدیک محترم ترین بندہ ہوں اورفخرنہیں کرتاہوں۔
”اس کے بعدقبیلوں کوگھرانوں میں تقسیم کر دیااورمیرے گھرانے کوبہترین گھرانہ قرار دیااورفرمایا( انمّا یرید اللّه لیذهب عنکم الرجس اهل البیت ویطهّرکم تطهیراً ) ”بس اللّہ کاارادہ یہ ہے اے اہل بیت!تم سے ہر طرح کی آلودگی وبرائی کودوررکھے اور اس طرح پاک وپاکیزہ رکھے جوپاک و پاکیزہ رکھنے کاحق ہے“پس مجھے اورمیرے اہل بیت کو )برائیوں) گناہوں سے پاک قراردیاگیاہے۔“
۲ ” حدثني الحسن بن زید، عن عمربن علي، عن اٴبیه عليّ بن الحسین قال خطب الحسن بن علي الناس حین قتل عليّ فحمداللّه و اٴثنی علیه ثمّ قال:لقد قبض في هذه اللیلة رجل لایسبقه الاٴوّلون بعمل و لایدرکه الآخرون، و قدکان رسول اللّهصلىاللهعليهوآلهوسلم یعطیه رایته فیقاتل وجبرئیل عن یمینه ومیکائیل عن یساره حتی یفتح اللّه علیه، وما ترک علی اٴهل الاٴرض صفراء ولابیضاء إلّا سبع مائة درهم فضلت عن عطایاه اٴراد اٴن یبتاع بهاخادماً لاٴهله
ثمّ قال: اٴیّها الناس! من عرفني فقد عرفني ومن ُلم یعرفنيفاٴنا الحسن بن علي واٴنا ابن النبيّ واٴنا ابن الوصيّ واٴناابن البشیر، واٴنا ابن النذیر، واٴناابن الداعي إلی اللّه باذنه، واٴنا ابن السراج المنیر، و اٴنا من اٴهل البیت الّذی کان جبرئیل ینزل إلیناویصعدمن عندنا، و اٴنامن اٴهل البیت الّذی کان جبرئیل ینزل إلینا و یصعدمن عندنا، واٴنا من اٴهل البیت الّذی اٴذهب اللّه عنهم الرجس وطهّرهم تطهیراً و اٴنا من اٴهل البیت الّذی افترض اللّه مودّتهم علی کلّ مسلم، فقال تبارک و تعالی لنبیة:( قل لااٴسئلکم علیه اٴجراً،إلّاالمودّة فی ا لقربی و من یقترف حسنة نزدله فیهاحسناً ) (۱) فاقتراف الحسنة مودّتنااٴهل البیت(۲) “
____________________
۱۔ سورہ شوریٰ/۲۳
۲۔مستدرک الصحیحین، ج۳،ص۱۷۲، دارالکتب العلمیہ، بیروت
”عمربن علی نے اپنے باپ علی بن حسین (علیہ السلام)سے روایت کی ہے انہوں نے کہا: حسن بن علی (علیہ السلام)نے)اپنے والدگرامی)حضرت علی علیہ السلام کی شہادت کے بعدلوگوں کے در میان ایک خطبہ دیا جس میں ۔حمدوثنائے الہی کے بعدفرمایا:
آج کی شب ایک ایساشخص اس دنیا سے رحلت کرگیاکہ گزشتہ انسانوں میں سے کسی نے ان پرسبقت حاصل نہیں کی اورنہ ہی مستقبل میں کوئی ا س کے مراتب و مدا رج تک پہو نچنے والا ہے۔
پیغمبراسلام (ص)اسلامی جنگوں میں ان کے ہاتھ پرچم اسلام تھما کر انہیں جنگ کے لئے روانہ کر تے تھے، جبکہ اس طرح سے کہ جبرئیل)امورتشریعی میں فیض الہٰی کے وسیلہ)ان کی دائیں جانب اورمیکائیل)امورارزاق میں فیض الہٰی کے ذریعہ)ان کی بائیں جانب ہوا کرتے تھے۔او روہ جنگ سے فتح کامرانی کے حاصل ہو نے تک واپس نہیں لوٹتے تھے۔
انھوں نے اپنے بعد زر وجواہرات میں سے صرف سات سودرہم بہ طور ”تر کہ“ چھوڑے جو صدقہ و خیرات کے بعد باقی بچ گئے تھے اور وہ اس سے اپنے اہل بیت کے لئے ایک خادم خریدناچاہئے تھے۔
اس کے بعدفرمایا:اے لوگو!جو مجھے پہچانتا ہے، وہ پہنچاتا ہے اورجونہیں پہچانتاوہ پہچان لے کہ میں حسن بن علی (ع) ہوں، میں پیغمبر کافرزندہوں، ان کے جانشین کا فرزند، بشیر)بشارت دینے والے)ونذیر)ڈرانے والے)کافرزندہوں،جوخداکے حکم سے لوگوں کوخداکی طرف دعوت دیتاتھا،میں شمع فروزان الٰہی کا بیٹاہوں، اس خاندان کی فرد ہوں کہ جہاں ملائکہ نزول اور جبرئیل رفت وآمد کر تے تھے۔میں اس خاندان سے تعلق رکھتا ہوں کہ خدائے متعال نے ان سے برائی کودورکیاہے اورانھیں خاص طور سے پاک وپاکیزہ بنایاہے۔میں ان اہل بیت میں سے ہوں کہ خداوندمتعال نے ان کی دوستی کوہرمسلمان پرواجب قراردیاہے اورخدا وندمتعال نے اپنے پیغمبرسے فرمایا:” اے پیغمبر!کہدیجئے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت کے بد لے کسی اجرت کا مطا لبہ نہیں کر تا ہوں سواء اس کے کہ میرے قرابتداروں سے محبت کرواورجوشخص بھی کوئی نیکی دے گا ہم اس کی نیکیوں کی جزامیں اضافہ کردیں گے ”لہذانیک عمل کاکام انجام دینا ہی ہم اہل بیت(ع)کی دوستی ہے۔“
ان دواحادیث سے یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ اہل بیت علیہم السلام کے بارے میں خداکی مخصوص طہارت کے خارج میں متحقق ہو نے سے مرادان کی عصمت کے علاوہ کوئی اورچیز نہیں ہے۔اور یہ بیان واضح طور پر اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ آیہء شریفہ میں ارادہ سے مراد ارادہ،تکوینی ہے۔
آیہء تطہیر میں اہل بیت علیہم السلام
اس آیہء شریفہ کی بحث کاتیسراپہلویہ ہے کہ آیہء کریمہ میں ”اہل البیت“سے مراد“کون ہیں؟اس بحث میں دوزاویوں سے توجہ مبذول کرناضروری ہے:
۱ ۔اہل بیت کا مفہوم کیاہے؟
۲ ۔اہل بیت کے مصادیق کون ہیں؟
اگرلفظ”اہل“کا استعمال تنہاہوتویہ مستحق اورشائستہ ہو نے کامعنی دیتاہے اوراگراس لفظ کی کسی چیز کی طرف اضافت ونسبت دی جائے توا س اضا فت کے لحاظ سے اس کے معنی ہوں گے۔مثلاً”اہل علم“اس سے مرادوہ لوگ ہیں جن میں علم ومعرفت موجودہے اور”اہل شہروقریہ“سے مرادوہ لوگ ہیں جواس شہریاقریہ میں زندگی بسرکرتے ہیں،اہل خانہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس گھر میں سکونت پذیر ہیں،مختصریہ کہ:”اہل“کامفہوم اضافت کی صورت میں مزید اس شی کی خصوصیت پردلالت کرتاہے کہ جس کی طرف اس کی نسبت دی گئی ہے۔۔۔
لفظ”بیت“میں ایک احتمال یہ ہے کہ بیت سے مراد مسکن اور گھرہواور دوسرااحتمال یہ ہے کہ بیت سے مراد حسب ونَسَب ہوکہ اس صورت میں ”اہل بیت“کامعنی خاندان کے ہوں گے۔ایک اوراحتمال یہ ہے کہ” اہل بیت “میں ”بیت“سے مراد،خا نہ نبوت ہواور یہاں پر قابل مقبول احتمال یہی موخرالذکراحتمال ہے،اس کی وضاحت انشاء اللہ آیندہ چل کر آئے گی۔
ان صفات کے پیش نظر”اہل بیت“سے مرادوہ افراد ہیں جواس گھرکے محرم اسرار ہوں اورجوکچھ نبی (ص)کے گھرمیں واقع ہوتاہے اس سے واقف ہوں۔
اب جبکہ”اہل بیت“کامفہوم واضح اورمعلوم ہوگیا توہم دیکھتے ہیں کہ خارج میں اس کے مصادیق کون لوگ ہیں اور یہ عنوان کن افرادپر صادق آتاہے؟
اس سلسلہ میں تین قول پائے جاتے ہیں:
۱ ۔”اہل بیت“سے مرادصرف پیغمبراکرم (ص)کی بیویاں ہیں۔(۱)
۲ ۔”اہل بیت“سے مراد خودپیغمبر،علی وفاطمہ،حسن وحسین )علیہم السلام)نیزپیغمبر (ص)کی بیویاں ہیں۔(۲)
۳ ۔شیعہ امامیہ کانظریہ یہ ہے کہ”اہل بیت“سے مرادپیغمبر (ص)آپکی دختر گرامی حضرت فاطمہ زہرا(سلام اللہ علیہا)اوربارہ ائمہ معصومین) علیہم السلام)ہیں۔
بعض سنی علماء جیسے:طحاوی نے”مشکل ا لآثار“میں اورحاکم نیشابوری نے”المستدرک“میں ”اہل بیت“سے صرف پنجتن پاک )علہیم السلام )کو مراد لیاہے۔
”اہل بیت“کوواضح کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اس سلسلہ میں دوجہات سے
____________________
۱۔تفسیرابن کثیر،ج۳،ص۲۹۱
۲۔تفسیرابن کثیر،ج۳،ص۴۹۲
بحث کریں:
۱ ۔آیہء شریفہ کے مفاد کے بارے میں بحث۔
۲ ۔آیہء شریفہ کے ضمن میں نقل کی گئی احادیث اورروایات کے بارے بحث۔
آیت کے مفاد کے بارے میں بحث
آیت کے مفہوم پر بحث کے سلسلہ میں درج ذیل چند نکات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے:
اول یہ کہ:لغوی اور عرفی لحاظ سے”اہل بیت“کا مفہوم پنجتن پاک کے عنوان کوشامل ہے۔
دوسرے یہ کہ آیہء شریفہ میں ضمیر”عنکم)جوجمع مذکر کے لئے ہے)کی وجہ سے اہل بیت کے مفہوم میں پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیویاں شامل نہیں ہیں۔
تیسرے یہ کہ:بہت سی ایسی روایتیں مو جودہیں جن میں ”اہل بیت“کے مرادسے پنجتن پاک)علیہم السلام)کو لیاگیاہے۔لہذایہ قول کہ اہل بیت سے مرادصرف پیغمبراکرم (ص)کی بیویاں ہیں،ایک بے بنیاد بلکہ برخلاف دلیل قول ہے۔یہ قول عکرمہ سے نقل کیا گیا ہے وہ کہتاتھا:
”جوچاہتا ہے،میں اس کے ساتھ اس بابت مباہلہ کرنے کے لئے تیار ہوں کہ آیہ شریفہ میں ”اہل بیت کا مفہوم“پیغمبر (ص)کی بیویوں سے مختص ہے(۱)“
اے کاش کہ اس نے)اس قول کی نسبت اس کی طرف صحیح ہونے کی صورت میں )مباہلہ کیاہوتا اورعذاب الہٰی میں گرفتار ہواہوتا!کیونکہ اس نے پنجتن پاک(ع)کی شان میں نقل کی گئی ان تمام احادیث سے چشم بستہ انکار کیا ہے جن میں آیہء تطہیرکی شان نزول بیان کی گئی ہے۔
____________________
۱۔روح المعانی ،ج۲۲،ص۱۳،داراحیائ التراث العربی،بیروت
لیکن دوسرے قول کہ جس کے مطابق”اہل بیت کے مفہوم“میں پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیویاں نیزعلی،فاطمہ،حسن اورحسین)علیہم السلام)شامل ہیں کوبہت سے اہل سنت،بلکہ ان کی اکثریت نے قبول کیا۔
اور انھوں نے،اس نظریہ کو ثابت کر نے کے لئے آیات کے سیاق سے استدلال کیا ہے۔اس کی وضاحت یوں کی ہے کہ آیہء تطہیرسے پہلے والی آیتیں اور آیت تطہیر کے بعد والی آیتیں پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیویوں سے متعلق ہیں۔چونکہ آیہء تطہیر ان کے درمیان میں واقع ہے،اس لئے مفہوم اہل بیت کی صلا حیت اورقرینہء سیاق کے لحاظ سے،اس میں پیغمبراکرم (ص)کی بیویاں شامل ہیں۔
ابن کثیر نے اپنی تفسیر،قرینہء سیاق کے پیش نظر آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیویوں کو یقینی طو رپر اہل بیت کی فہرست میں شامل جاناہے۔
سیاق آیہء تطہیر
کیا آیہء تطہیر کے سیاق کے بارے میں کیا گیا دعویٰ قابل انعقادہے؟اورپیغمبر (ص)کی بیویوں کے اہل بیت کے زمرے میں شامل ہونے کو ثابت کرسکتاہے؟مطلب کوواضح کرنے کے لئے درج ذیل چند نکات کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے:
اول یہ کہ:چند آیات کے بعد صرف ایک آیت کا واقع ہو نا سیاق کے واقع ہو نے کا سبب نہیں بن سکتا ہے اوردوسری طرف سے یہ یقین پیدا نہیں کیا جاسکتا ہے کہ یہ آیتیں ایک ساتھ ایک مر تبہ نازل ہوئی ہیں،کیونکہ سیاق کے واقع ہو نے کے سلسلہ میں شر ط یہ ہے کہ آیات کا نزول ایک دوسرے کے ساتھ انجام پایا ہو۔لہذاہم شک کرتے ہیں اورممکن نہیں ہے کہ ہم سیاق کو احراز)متعین)کر سکیں جبکہ موجودہ قرآن مجیدکی تر تیب نزول قرآن کی ترتیب کے متفاوت ہے،اس لئے اس مسئلہ پرکبھی اطمینان پیدانہیں کیا جا سکتا ہے کہ آیہء تطہیر کا نزول پیغمبر (ص)کی بیویوں سے مربوط آیات کے بعد واقع ہواہے۔
اگریہ کہا جائے کہ:اگرچہ یہ آیتیں ایک ساتھ نازل نہیں ہوئی ہیں،لیکن ہرآیہ اورسورئہ کو پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی مو جودگی میں ان کی نظروں کے سامنے ایک خاص جگہ پرانھیں رکھا گیا ہے،اس لئے آیات کا ایک دوسرے کے ساتھ معنوی رابطہ کے پیش نظران آیات میں سیاق واقع ہو اہے لہذاپیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیویاں پنجتن پاک علیہم السلام کے ساتھ اہل بیت کے زمرے میں شامل ہوں گی۔
اس کا جواب یہ ہے کہ:اس پر کوئی دلیل نہیں ہے کہ آیہء تطہیر کا اس خاص جگہ پرواقع ہو ناآیات کے معنوی پیوند کے لحاظ سے ہے اور وہ چیز کہ جس پر دلیل قائم ہے صرف یہ ہے کہ پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے کسی مصلحت کے پیش نظر اس آیت کواپنی بیویوں سے مربوط آیات کے درمیان قراردیا ہے،لیکن یہ کہ مصلحت صرف آیات کے درمیان معنوی رابطہ کی وجہ سے ہے اس پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ممکن ہے اس کی مصلحت آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیویوں کے لئے ایک انتباہ ہوکہ تمہارااہل بیت“کے ساتھ ایک رابطہ اور ہے ،اس لئے اپنے اعمال کے بارے میں ہوشیار رہنا،نہ یہ کہ وہ خود”اہل بیت“کی مصداق ہیں۔
دوسرے یہ کہ:آیہء کریمہ میں کئی جہتوں سے یہ ثابت ہو تا ہے کہ آیہء تطہیر کا سیاق اس کی قبل اور بعد والی آیات کے سیاق سے متفاوت ہے اوریہ دو الگ الگ سیاق ہیں اور ان میں سے ہر ایک ،ایک مستقل حیثیت رکھتا ہے جس کا دوسرے سے کوئی ربط نہیں ہے۔وہ جہتیں حسب ذیل ہیں:
پہلی جہت:پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیوں سے مربوط آیات کا سیاق سرزنش کے ساتھ ہے)چنانچہ آیت ۲۸ کے بعدغورکرنے سے معلوم ہو تا ہے)اوران آیات میں پیغمبراکرم (ص)کی بیویوں کی کسی قسم کی ستائش اور تعریف نہیں کی گئی ہے،جبکہ آیہء تطہیر کے سیاق میں فضیلت وبزرگی اورمدح و ستا ئش ہے اورآیہ تطہیر کے ذیل میں ذکر ہو نے والی احادیث سے یہ مطلب اور بھی زیادہ روشن و نمایاں ہو جا تا ہے۔
دوسری جہت:یہ کہ آیہء تطہیر کی شان نزول مستقل ہے اورآنحضرت (ص)کی بیویوں سے مربوط آیات کی شان نزول بھی مستقل ہے چنانچہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیویوں نے اپنے حق سے زیادہ نفقہ کاتقاضا کیا تھا لہذا مذکورہ آیتیں اسی مناسبت سے نازل ہوئی ہیں۔اس شان نزول کے بارے میں مزیدآگاہی حاصل کرنے کے لئے شیعہ وسنی تفسیروں کی طرف رجوع کیا جاسکتا ہے۔
اس سلسلہ میں پہلے ہم آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیویوں سے مربوط آیات کی طرف اشارہ کر تے ہیں کہ اور اس کے بعد اس حدیث کا ترجمہ پیش کریں گے جسے ابن کثیر نے ان آیات کی شان نزول کے سلسلہ میں ذکر کیا ہے:
( یااٴیّهاالنبیّ قل لازواجک ان کنتنّ تردن الحیوةالدنیا وزینتها فتعالین اٴُمّتعکنّ واٴُسرّحکنّ سراحاًجمیلاًوإن کنتنّتردن اللّٰه ورسوله والدار الآخرة فإنّ اللّٰه اٴعدّ للمحسنات منکنّ اٴجراً عظیماًیانساء النبیّ من یاٴت منکنّ بفاحشة مبیّنة یضاعف لها العذاب ضعفین وکان ذلک علی اللّٰه یسیراًً ومن یقنت منکنّ للّٰه ورسوله وتعمل صالحاً نؤتهااجرهامرّتین واٴعتد نا لهارزقاً کریماًیانساء النبیّ لستنّ کاٴحد من النساء إن اتقیتنّ فلا تخضعن بالقول فیطمع الذی فی قلبه مرض وقلن قولاً معروفاًوقرن فی بیوتکنّ ولا تبرّجن الجا هلیة الاُولی واٴقمن الصلوة وء اتین الزکوة واٴطعن اللّٰه ورسوله إنّما یرید اللّٰه لیذهب عنکم الرجس اٴهل البیت ویطهّرکم تطهیراًواذکرن مایتلی فی بیوتکنّ من آیات اللّٰه والحکمةإنّ اللّٰه کان لطیفاًخبیرا ) (احزاب/ ۲۸ ۔ ۳۴)
”پیغمبر!آپ اپنی بیویوں سے کہد جئے کہ اگر تم سب زندگانی دنیااوراس کی زینت کی طلبگارہوتوآؤمیں تمہارامہرتمھیں دیدوں اورخوبصورتی کے ساتھ رخصت کردوں اوراگراللہ اور رسول اورآخرت کی طلبگار ہو تو خدا نے تم میں سے نیک کردار عورتوں کے لئے اجر عظیم قرار دیا ہے ۔اے زنان پیغمبرجو بھی تم میں سے کھلی ہوئی برائیوں کاارتکاب کرے گااس کو دھرا عذاب کر دیا جائے گا اوریہ بات خد اکے لئے بہت آسان ہے۔اورجوبھی تم میں سے خدااوررسول کی اطاعت کرے اورنیک عمل انجام دے اسے دہرا اجر عطا کیا جائے گا اورہم نے اس کے لئے بہترین رزق فراہم کیا ہے ۔اے زنان پیغمبر!تم اگر تقویٰ اختیار کرو تو تمھارامرتبہ عام عورتوں کے جیسا نہیں ہے،لہذا کسی آدمی سے نازکی)دل لبھانے والی کیفیت) سے بات نہ کرو کہ بیمار دل افراد کوتمہاری طمع پیدا ہو اور ہمیشہ شائستہ و نیک باتیں کیا کرواور اپنے گھروں میں بیٹھی رہواور جاہلیت کے زما نہ کی طرح بناؤ سنگار نہ کرواور نماز قائم کرو اورزکوةادا کرو اوراللہ اوراس کے رسول کی اطاعت کرو۔بس اللہ کا ارادہ ہے اے اہل بیت!کہ تم سے ہر طرح کی برائی کو دور رکھے اوراس طرح پاک وپاکیزہ رکھے جوپاک وپاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔اورازواج پیغمبر!تمھارے گھروں میں جن آیات الہٰی اور حکمت کی باتوں کی تلاوت کی جاتی ہے انھیں یادرکھو خدا لطیف اور ہرشے سے آگاہ ہے۔“
ابن کثیر نے ابی الزبیر سے اوراس نے جابر سے روایت کی ہے:
”لوگ پیغمبر (ص)کے گھر کے سامنے بیٹھے تھے،اسی حالت میں ابوبکراورعمرآگئے اورداخل خا نہ ہونے کی اجازت چاہی۔پہلے انھیں اجازت نہیں دی گئی۔جب انھیں اجازت ملی اور وہ خا نہ رسول میں ہوئے توانہوں نے کیادیکھاکہ آنحضرت (ص)بیٹھے ہوئے ہیں اورآپ کی بیویاں بھی آپکے گردبیٹھی ہوئی ہیں اورآنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم ،خاموش تھے۔عمر نے آنحضرت (ص)کو ہنسا نے کے قصد سے کہا:یارسول اللہ!اگرآپ دیکھتے کہ بنت زید) اس سے مراد عمر کی زوجہ ہے) نے جب مجھ سے نفقہ کا تقاضا کیا تو میں نے کیسی اس کی پٹائی کی!یہ سن کرپیغمبراکرم (ص)ایسا ہنسے کہ آپکے دندان مبارک ظاہر ہوگئے۔پیغمبر (ص)نے فرمایا:یہ )میری بیویاں)میرے گردجمع ہوئی ہیں ا ور مجھ سے)بیشتر)نفقہ کا تقاضا کرتی ہیں۔اس وقت ابوبکرعائشہ کو مار نے کے لئے آگے بڑھے اور عمر بھی اٹھے اوردونوں نے اپنی اپنی بیٹیوں سے نصیحت کر تے ہو ئے کہا:تم پیغمبر (ص)سے ایسی چیزکامطالبہ کرتی ہوجوپیغمبر کے پا س نہیں ہے؟آنحضرت (ص)نے انھیں مار نے سے منع فرمایا۔اس قضیہ کے بعد آنحضرت (ص)کی بیویوں نے کہا:ہم آج کے بعد سے پیغمبر (ص)سے کبھی ایسی چیز کا تقاضا نہیں کریں گے،جوان کے پاس موجود نہ ہو۔خدا وند متعال نے مذکورہ آیات کو نازل فرمایا جس میں آنحضرت (ص)کی بیویوں کو پیغمبر کی زوجیت میں باقی رہنے یا انھیں طلاق کے ذریعہ آنحضرت کو چھوڑ کے جا نے کا اختیار دیا گیاہے۔(۱) “
یہ تھی،آنحضرت (ص)کی ازواج سے مربوط آیات کی شان نزول۔جبکہ آیہء تطہیر کی شان نزول پنجتن آل عبا اورائمہ معصومین (علیہم السلام) سے متعلق ہے۔اس سلسلہ میں شیعہ وسنی تفسیر اورحدیث کی کتا بوں میں کافی تعداد میں روایتیں نقل ہوئی ہیں ۔ہم ان میں سے چند ایک کا ذکر احادیث کے باب میں کریں گے۔
____________________
۱۔تفسیر ابن کثیر،ج۳،ص۴۹۱
اس شان نزول اورپیغمبراکرم (ص)کی ازواج سے مربوط آیات کی شان نزول میں احتمالاً کئی سالوں کا فاصلہ ہے۔اب کیسے ان آیا ت کے در میان وحدت سیاق کے قول کو تسلیم کیا جا سکتا ہے اورکیاان دو مختلف واقعات کو ایک سیاق میں ضم کرکے آیت کے معنی کی توجیہ کی جاسکتی ہے؟
تیسری جہت:یہ کہ سیاق کے انعقادکو مختل کرنے کاایک اورسبب پیغمبراکرم (ص)کی بیویوں سے مربوط آیات اور آیہء تطہیر کے ضمیروں میں پا یا جا نے والا اختلاف ہے۔مجموعی طورپر مذکورہ آیات میں جمع مونث مخاطب کی ۲۲ ضمیریں ہیں۔ان میں سے ۲۰ ضمیریں ایہء تطہیرسے پہلے اوردوضمیریں ایہء تطہیر کے بعداستعمال ہوئی ہیں،جبکہ آیہء تطہیر میں مخاطب کی دوضمیریں ہیں اوردونوں مذکر ہیں۔اس اختلاف کے پیش نظر کیسے سیاق محقق ہوسکتا ہے؟
اعتراض:آیہء تطہیرمیں ”عنکم“اور”یطھّرکم“سے مراد صرف مرد نہیں ہیں،کیونکہ عورتوں کے علاوہ خود پیغمبر (ص)علی ،حسن وحسین (علیہم السلام) بھی اس میں داخل تھے۔اس لئے”کم“کی ضمیر آئی ہے اورعربی ادبیات میں اس قسم کے استعمال کو ”تغلیب“کہتے ہیں اوراس کے معنی یہ ہیں کہ اگر کسی حکم کا ذکرکرنا چاہیں اوراس میں دوجنس کے افراد شامل ہوں،تو مذکر کو مونث پر غلبہ دے کر لفظ مذکر کو ذکر کریں گے اوراس سے دونوں جنسوں کا ارادہ کریں گے۔
اس کے علاوہ،مذکرکی ضمیرکا استعمال ایسی جگہ پر کہ جہاں مونث کا بھی ارادہ کیا گیا ہے قرآن مجید میں اور بھی جگہوں پر دیکھنے میں آیا ہے،جیسے درج ذیل آیات میں( قالو ااٴتعجبین من اٴمراللهرحمت اللهوبرکاته عليکم اٴهل البیت ) (۱) کہ حضرت ابراھیم) علیہ السلام) کی زوجہ سے خطاب کے بعد جمع مذکر حاضر کی ضمیر اور اہل بیت کا عنوان ذکر ہوا ہے۔
( قال لاهله امکثوا ) (۲) کہ حضرت موسی علیہ اسلام کے اہل خاندان )کہ جس سے
____________________
۱۔ ہود/۷۳
۲۔قصص/۲۹
مرادان کی زوجہ ہے) کے ذکرکے بعد ضمیرجمع مذکر حاضر کے ذریعہ خطاب کیا گیا ہے۔
جواب: ہر کلام کا اصول یہ ہے کہ الفاظ کو اس کے حقیقی معنی پر حمل کیا جائے اور”اصالة الحقیقة“ایک ایسا عقلائی قاعدہ ہے کہ جس کے ذریعہ ہر لغت وزبان کے محاورات و مکالمات میں استناد کیا جاتاہے۔
اس عقلائی قاعدے کی بنیاد پر جس لفظ کے بارے میں یہ شک پیدا ہو کہ وہ اپنے حقیقی معنی میں استعمال ہوا ہے یا نہیں، اسے اس کے حقیقی معنی پر حمل کرنا چاہے۔ اس لحاظ سے آیہء تطہیر میں دو جگہ پراستعمال ہوئی”کم“کی ضمیرسے مراد اس کے حقیقی معنی ہیں اور یہ کہ آ یہ شریفہء مذکور میں تمام افراد اہلبیت مذکر تھے، صرف قرینہ خارجی اور آیت کی ذیل میں روآیت کی گئی احادیث کی وجہ سے قطعی طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اہل بیت کی فہرست میں حضرت فاطمہ زہراسلام الله علیہابھی شامل ہیں، اور ان کے علاوہ کوئی مونث فرد اہل بیت میں شامل نہیں ہے۔ اور آیہ شریفہ میں قاعدئہ”اقرب المجازات“جاری ہوگا۔
لیکن شواہدکے طور پر پیش کی گئی آیات میں قرینہ کی وجہ سے مونث کی جگہ ضمیر مذکر کا استعمال ہوا ہے اوریہ استعمال مجازی ہے اور ایک لفظ کا مجازی استعمال قرینہ کے ساتھ دلیل نہیں بن سکتا ہے کہ قرینہ کے بغیر بھی یہ عمل انجام دیا جائے اور جیسا کہ کہا گیاکہ اصل استعمال یہ ہے کہ لفظ اس کے حقیقی معنی میں استعمال ہواور ایسا نہ ہونے کی صورت میں قاعدہ”اقرب المجازات“کی رعآیت کی جانی چاہئے۔
آیہ تطہیر کے بارے میں احادیث
ش یعہ اور اہل سنت کے منابع میں بڑی تعداد میں ذکر ہونے والی احادیث سے واضح طور پریہ معلوم ہوجاتا ہے کہ آیہ تطہیر میں ”اہل بیت“سے مراد صرف پنجتن پاک) علیہم السلام) ہیں اور ان میں پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیویاں کسی جہت سے شامل نہیں ہیں۔ اس سلسلہ میں مذکورہ
منابع میں اتنی زیادہ حدیثیں نقل ہوئی ہیں کہ حاکم حسکانی(۱) نے اپنی کتاب”شواہد التنزیل“ کے صفحہ ۱۸ سے لیکر ۱۴۰ تک انہی احادیث سے مخصوص کیا ہے۔(۲) ہم ذیل )حاشیہ) میں اہل سنت
____________________
۱۔ذہبی،تذکرةالحافظ،ج۲،ص۱۲۰۰پر کہتا ہے:حاکم حسکانی علم حدیث کے کامل عنایت رکھنے والاایک محکم اورمتقن سند ہے۔
۲۔ اسدالغابة/ج۵ص۵۲۱/داراحیائ التراث العربی ،بیروت، الاصابة/ج۲/ص۵۰۹/دارالفکر، اضوائ البیان /ج۶/ص۵۷۸/عالم الکتب بیروت، انساب الاشراف/ج۲/ص۳۵۴/دارالفکر، بحار الانوار،ج۳۵،ازص۲۰۶،باب آیة تطہیر تاص۲۳۲ مؤسسة الوفائ بیروت، تاریخ بغداد /ج۹/ص۱۲۶/ وج۱۰/ص۲۷۸/دارالفکر، تاریخ مدینہ دمشق/ج۱۳/ص۲۰۳و ۲۰۶و۲۰۷وج۱۴/ ص۱۴۱و۱۴۵، تفسیر ابن ابی حاتم /ج۹/ص۳۱۲۹/المکتبة المصربة بیروت، تفسیر ابی السعود/ ج۷/ ص۱۰۳/دارالحیائ التراث العربی بیروت، تفسیر البیضاوی/ج۲۳/ص ۳۸۲/دارالکتاب العلمیة، تفسیر فرات الکوفی/ج۱/ص۳۳۲ تا۳۴۲/مؤسسة النعمان، تفسیر القرآن العظیم ابن کثیر/ج۳/ص۵۴۸/دارالکتب العلمیة بیروت، تفسیر اللباب ابن عادل دمشقی/ج۱۵/ص۵۴۸/ دارالکتاب العلمیة بیروت، تفسیر الماوردی/ج۴/ص۴۰۱/دارالمعرفة بیروت، التفسیر المنبر/ج۲۳/ص۱۴/دارالفکرالمعاصر، تھذیب التھذیب/ج۲/ص۲۵۸/دارالفکر، جامع البیان/ طبری/ج۲۲/ص۵/دارالمعرفة بیروت، جامع احکام القرآن/ قرطبی/ج۱۴/ص۱۸۳/دارالفکر، الدار المنثور/ج۶/ص۶۰۴/دارالفکر، ذخائر العقبی/ص۲۱تا۲۴، روح البیان/ج۷/ص۱۷۱/داراحیائ التراث العربی، روح المعانی/ آلوسی/ج۲۲/ص۱۴/دار احیائ التراث العربی/الریاض النضرة/ج۲)۴-۴)/ص۱۳۵/دار الندوة الجدیدة بیروت، زاد المسیر/ ابن جوزی/ج۶/ص۱۹۸/ دارالفکر، سنن الترمذی/ج۵/ص۳۲۸-۳۲۷و ۶۵۶/ دارالفکر، السنن الکبری / بیھقی/ ج۲ / ص۱۴۹/ دارالمعرفة بیروت، سیر اعلام النبلاء/ ذہبی/ج۳/ص۲۵۴و ۲۸۳/ مؤسسة الرسالة بیروت، شرح السنة بغوی/ج۱۴/ص۱۱۶/المکتب الاسلامی بیروت، شواہد التنزبل/ج۲/ص۸۱-۱۴۰/ موسسة الطبع و النشر لوزرارة الارشاد، صحیح ابن حبان/ج۱۵/ص۴۴۲ الٰی ۴۴۳/موسسة الی سالة بیروت، صحیح مسلم/ج۵/ص۳۷/ کتاب الفضائل باب فضائل / مؤسسة عزالدین بیروت، فتح القدیر/ شوکانی/ج۴/ص۳۴۹تا۳۵۰/ دار الکتاب العلمیة بیروت، فرائد السمطین/ جوینی/ج۱/ص۳۶۷/مؤسسة المحمودی بیروت، کفایة الطالب/ص۳۷۱تا۳۷۷/داراحیاء تراث اہل البیت، مجمع الزوائد/ج۹/ص۱۶۶-۱۶۹/دارالکتب العربی بیروت، المستدرک علی الصحیحین /ج۲/ص۴۱۶وج۳/ص۱۴۷/دارالمعرفة بیروت، مسند ابی یعلی/ج۱۲/ ص۳۴۴و۴۵۶/ دار الہامون للتراث، مسند احمد/ج۴/ص۱۰۷وج۶/ص۲۹۲/دارصادر بیروت، مسند اسحاق بن راہویہ/ ج۳/ص۶۷۸/مکتبة الایمان مدینة المنورة، مسندطیالسی/ص۲۷۴/ دارالکتب اللبنانی، مشکل الآثار/ طحاوی/ج۱/ص۳۳۵/دارالباز، المعجم الصغیر/طبرانی/ج۱/ص ۱۳۵/ دارالفکر، المعجم الاوسط/طبرانی/ج۲/ص۴۹۱/ مکتبة المعارف ریاض، المعجم لکبیر/طبرانی/ ج۲۳/ ص۲۴۵و۲۸۱و ۲۸۶و ۳۰۸و۳۲۷و۳۳۰و۳۳۳و۳۳۴و۳۳۷و۳۵۷و۳۹۳و۳۹۶، المعرفة و التاریخ بسوی/ ج۱/۳۹۸، المنتخب من مسند عبد بن حمید/ص۱۷۳ و ۳۶۷/عالم الکتب قاہرہ مناقب ابن مغازلی/ص۳۰۱-۳۰۲/ المکتبةالاسلامیة
کے بعض منابع کا ذکرکرتے ہیں کہ جن میں مذکورہ احادیث یا درج ہو ئی ہے یاان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
ان احادیث کے رادیوں کا سلسلہ جن اصحاب پرمنتہی ہو تا ہے وہ حسب ذیل ہیں:
۱ ۔ امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام
۲ ۔ حضرت فاطمہ زہراء سلام الله علیہا
۳ ۔ حسن بن علی علیہ السلام
۴ ۔ انس بن مالک
۵ ۔ براء بن عازب انصاری
۶ ۔ جابربن عبد الله انصاری
۷ ۔ سعد بن ابی وقاص
۸ ۔ سید بن مالک)ابو سعید خدومی)
۹ ۔ عبد اللهبن عباس
۱۰ ۔ عبدالله بن جعفرطیار
۱۱ ۔ عائشہ
۲۱ ۔ ام سلمہ
۱۳ ۔ عمربن ابی سلم
۱۴ ۔ واثلة بن اسقع
۱۵ ۔ ابی الحمرائ
اس کے علاوہ شیعوں کی حدیث اور تفسیر کی کتابوں اور بعض اہل سنت منابع میں درج کی گئی احادیث اور روایتوں سے استفادہ ہو تا ہے کہ ” اہل بیت “سے مراد پیغمبر اسلام (ص)علی، فاطمہ نیز شیعوں کے گیارہ ائمہ معصومین )علیہم السلام )ہیں۔
آیہ تطہیر کے بارے میں احادیث کی طبقہ بندی
آیہ تطہیر سے مربوط احادیث کو اہل سنت کے مصادر میں مطالعہ کرنے اور شیعوں کے منابع میں موجود ان احادیث کا سرسری جائزہ لینے کے بعد انھیں چند طبقوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
۱ ۔ وہ حدیثیں جن میں ” اہل بیت “ کی تفسیر علی و فاطمہ، حسن وحسین علیہم السلام کے ذریعہ کی گئی ہے۔
۲ ۔ وہ حدیثیں جن کا مضمون یہ ہے کہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم نے علی، وفاطمہ،حسن و حسین علیہم السلام کو کساء کے نیچے قرار دیا پھر آیہ تطہر نازل ہوئی ، اور یہ واقعہ ” حدیث کساء “ کے نام سے مشہور ہے ۔ ان میں سے بعض احادیث میں آیا ہے کہ ام سلمہ یا عائشہ نے سوال کیا کہ : کیا ہم بھی اہل بیت میں شامل ہیں؟
۳ ۔ وہ حدیثیں جن میں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ہرروز صبح کو یا روزانہ پانچوں وقت حضرت علی و فاطمہ علیہماالسلام کے کھرکے دروازے پر تشریف لے جاتے تھے اور سلام کر تے تھے نیز آیہ تطہیر کی تلاوت فرماتے تھے۔
۴ ۔ وہ حدیثیں جواس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ آیہ تطہیر پنجتن پاک علیہم السلام یا پنجتن پاک علیہم السلام نیز جبرئیل ومیکائیل کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔
یہاں پرمناسب ہے کہ احادیث کے مذکورہ چارطبقات میں سے چند نمونوں کی طرف اشارہ کیا جاے:
۱ ۔ ”اہل بیت“کی پنجتن پاک سے تفسیر
ذیل میں چند ایسی احادیث بیان کی جاتی ہیں جن میں آیہء تطہیر میں ”اہل بیت“کی تفسیرپنجتن پاک) علیہم السلام )سے کی گئی ہے:
الف:کتاب”المستدرک علی الصحیحین“میں عبداللہ بن جعفر سے روایت کی گئی ہے:
لمّا نظر رسول اللّٰه صلىاللهعليهوآلهوسلم إلی الرحمة هابطة قال: اٴُدعوالی، اٴُدعوالی فقالت صفیة: من یا رسول اللّٰه؟ قال:اٴهل بیتی:علیاً وفاطمه والحسن و الحسین - علیهم السلام - فجیئی بهم،فاٴلقی علیهم النبییّ صلىاللهعليهوآلهوسلم کساء ه ثم رفع یدیه ثمّ قال: ”اللّهمّ هؤلاء آلی فصل علی محمد و علی آل محمد“ و اٴنزل اللّٰه عزّوجلّ ( : إنّما یرید اللّٰه لیذهب عنکم الرجس اهل البیت و یطهّرکم تطهیراً ) هذا حدیث صحیح الاسناد ۔(۱)
”جب پیغمبر خدا (ص)نے رحمت الہی )جو آسمان سے نازل ہوئی تھی) کا مشاہدہ کیا تو فرمایا: میرے پاس بلاؤ!میرے پاس بلاؤ!صفیہ نے کہا:یارسول اللہ کس کو بلاؤں؟آپ نے فرمایا:میرے اہل بیت،علی وفاطمہ، حسن وحسین )علیہم السلام)کو۔
جب ان کو بلایا گیا،تو پیغمبراکرم (ص)نے اپنی کساء )ردا)کوان پر ڈال دیااوراپنے ہاتھ پھیلاکر یہ دعا کی:خدایا!”یہ میرے اہل بیت ہیں۔محمد اور ان کے اہل بیت پر دورد ورحمت نازل کر۔“اس وقت خدا وند متعال نے آیہء شریفہ إنمّا یرید اللہ۔۔۔ نازل فرمائی۔
اس حدیث کے بارے میں حاکم نیشاپوری کا کہنا ہے:
”هذا حدیث صحیح الاسناد ولم یخرجاه ۔“
”اس حدیث کی سند صحیح ہے اگرچہ بخاری اورمسلم نے اپنی صحیحین میں سے نقل نہیں
_____________________
۱۔المستدرک علی الصحیحین،ج۳،ص۱۴۸
کیا ہے۔“(۱)
قابل غوربات ہے کہ حاکم نیشاپوری کا خود اہل سنت کے حدیث ورجال کے بزرگ علماء اور امام میں شمار کیا جاتا ہے ۔
ب:عن ابی سعید الخدری عن اٴُم سلمة قالت: ”نزلت هذه الآیة فی بیتی: ( إنّما یرید اللّهٰ لیذهب عنکم الرجس اٴهل البیت و یطهّرکم تطهیراً ) قلت: یا رسول اللّٰه، اٴلست من اٴهل البیت؟ قال: إنّک إلی خیر، إنّک من اٴزواج رسول اللّٰه صلىاللهعليهوآلهوسلم قالت: و اٴهل البیت رسول اللّٰه و علیّ و فاطمة والحسن والحسن “(۲)
”ابی سعیدخدری نے ام سلمہ سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا:یہ آیت:
( إنّما یرید اللّٰه لیذهب عنکم الّرجس اهل البیت و یطهّرکم تطهیرا ) میرے گھر میں نازل ہوئی میں نے عرض کی یارسول اللہ!کیا میں اہل بیت میں سے نہیں ہوں؟فرمایا:تمھارا انجام بخیر ہے،تم رسولکی بیوی ہوپھرام سلمہ نے کہا:”اہل بیت“رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم علی و فاطمہ، حسن وحسین (علیہم السلام) ہیں۔
____________________
۱۔حاکم نیشاپوری نے اپنی کتاب ”المستدرک علی الصحیحین“میں ان ا حادیث کودرج کیا ہے جو بخاری کے نزدیک صحیح ہو نے کی شرط رکھتی تھیں،لیکن انہوں نے انھیں اپنی کتابوں میں درج نہیں کیا ہے۔جو کچھ ذہبی اس حدیث کے خلاصہ کے ذیل میں ۔ اس کے ایک راوی ۔ملیکی کے بارے میں کہتا ہیں کہ:”قلت: الملیکی ذاھب الحدیث“اس کے عدم اعتماد کی دلیل نہیں ہو سکتی ہے۔کیونکہ اس کے بارے میں جیسا کہ ابن حجر نے”تہذیب التہذیب“ج۶،ص۱۳۲ پر”ساجی“سے نقل کر کے”صدوق“ کی تعبیرکی ہے۔ اس کی صداقت اور سچ کہنے کی دلیل ہے۔اوراس کی مدح میں جوتعبیرات نقل کی گئی ہے وہ اس کی حدیث کے بارے میں ہے اورخود صحیح بخاری ومسلم میں بھی ہم بہت سے ابواب میں ان کے راویوں کوپاتے ہیں کہ بہت سی تعرفیں کی گئی ہیں۔
۲۔تاریخ مدینة دمشق،ج۱۳،ص۲۰۶
۲ ۔آیہء تطہیر کی تفسیرمیں حدیث کساء کی تعبیر
ش یعہ اور اہل سنت کی تفاسیر و احادیث کی کتابوں میں اس مضمون کی فراون حدیثیں موجود ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اہل بیت علیہم السلام کو ایک کساء کے نیچے جمع کیا اور اس کے بعد ان کے بارے میں آیہ تطہیر نازل ہوئی۔ ہم اس کتاب میں ان احادیث میں سے چند ایک کو نمونہ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔
قابل توجہ بات ہے کہ ش یعہ امامیہ کے نزدیک حدیث کساء ایک خاص اہمیت و منزلت کی حامل ہے۔ یہ حدیث مرحوم بحرانی(۱) کی کتاب،”عوالم العلوم“میں حضرت فاطمہ زہرا )سلام الله علیہا) سے روآیت کی گئی ہے اور مختلف زمانوں میں ش یعوں کے نا مور علماء اور فقہا کے نام سے مزّین اسناد کے ساتھ نقل ہوئی ہے۔ نیز یہ حدیث ش یعوں کی مجلسوں اور محفلوں میں پڑھی جاتی ہے اور توسّل اور تبّرک کا ذریعہ قرار دی گئی ہے۔
احادیث کے اس گروہ میں درجہ ذیل تعبیر یں توجہ کا باعث ہیں اور ان تعبیروں میں سے ہر ایک ”اہل بیت “ کے دائرے کو پنجتن پاک )علیہم اسلام) کی ذات میں متعین کرتی ہیں:
۱ ۔”إنّک الی خیر “ یا جملہء”انّک من ازواج النبّی “ سے ضمیمہ کے ساتھ(۲)
۲ ۔”تنحّی، فإنّک علی خیر ۔“(۳)
۳ ۔”فجذبه من یدی ۔“(۴)
۴ ۔”ماقال إنّک من ٍهل البیت ۔“(۵)
۵ ۔”لا،واٴنت علی خیر ۔“(۶)
____________________
۱۔ عوام العوم، جلد حضرت زہراء علیہماسلام۔ ج۱۱،ص ۶۳۸موسسہ الامامم مھدی علیہ اسلام
۲۔الدر المنثور،ج۶،ص۶۳۸،موسسة الامام مھدی
۳۔تفسیرابن کثیر،ج۳،ص۴۹۳
۴۔الدر المنثور،ج۶،ص۱۶۰۴۔المعجم الکبیرج،۲۳،ص۳۳۶ ۵۔تاریخ مدینةدمشق ج۱۴،ص۱۴۵
۶۔تاریخ مدینةدمشق،ج۱۳،ص۰۶ ۲
۶ ۔”فواللّٰه مااٴنعم ۔“(۱)
۷ ۔”مکانک،اٴنت علی خیر ۔“(۲)
۸ ۔”فوددت اٴنّه قال:نعم ۔۔۔“(۳)
۹ ۔”تنحیّ لی عن اٴهل بیتی ۔“(۴)
۱۰ ۔”إنّک لعلی خیر،ولم ید خلنی معهم ۔“(۵)
۱۱ ۔”فواللّٰه ماقال:اٴنت معهم ۔“(۶)
۱۲ ۔”اجلسی مکا نک،فانک علی خیر ۔“(۷)
۱۳ ۔”إنّک لعلی خیر،وهؤلائ اٴهل بیتی ۔“(۸)
۱ ۔”إنک إلی خیر “کی تعبیر
”اٴخرج ابن جریر و ابن حاتم و الطبرانی و ابن مردویه عن اٴمّ سلمة زوج النبیّصلىاللهعليهوآلهوسلم إنّ رسول اللّٰه( ص) کان ببیتها علی منامة له علیه کساء خیبریّ! فجا ء ت فاطمة - رضی اللّٰه عنها - ببرمة فیها خزیره فقال رسول اللّه( ص) : اُدعی زوجک و ابنیک حسناً و حسیناً فدعتهم، فبینما هم یاٴکلون إذنزلت علی رسول اللّٰه( ص) :( إنّما یرید اللّٰه لیذهب عنکم الرجس اٴهل البیت و یطهّرکم تطهیراً ) فاٴخذ النبیّصلىاللهعليهوآلهوسلم بفضلة ازاراه فشّاهم إیاّها، ثمّ اٴخرج یده من الکساء و اٴومابها إلی السماء ثمّ قال: ”اللّهمَّ هؤلاء
____________________
۱۔تفسیرابن کثیر،ج۳،ص۴۹۲،تفسیر طبری ج،۲۲ص،۵
۲۔تاریخ مدینةدمشق،ج۱۴،ص۱۴۱ ۳۔مشکلا آثار،ج۱،ص۳۳۶
۴۔تاریخ مدینةدمشق،ج۱۳،ص۲۰۳
۵۔شواہدالتنزیل،ج۲،ص۶۱
۶۔شواہد التنزیل،ج۲،ص۱۳۴
۷۔شواہدالتنزیل،ج۲،ص۱۹
۸۔المستدرک علی الصحیحین،ج۲،ص۴۱۶
اٴهل بیتی و خاصّتی، فاٴذهب عنهم الرجس و طهّرهم تطهیراً“، قالها ثلاث مرّات
قالت اٴُم سلمة - رضی اللّٰه عنها -: فاٴدخلت راٴسی إلی الستر فقلت: یا رسول اللّٰه، و اٴنا معکم؟ فقال: ”إنّک إلی خیر“مرّتین“(۱)
اس حدیث میں ،حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے توسط سے ایک کھانا حاضرکرنے کے بعدپیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ان سے فرماتے ہیں کہ تم اپنے شوہر علی اوراپنے بیٹے حسن وحسین علیہم السلام کو بلاؤ اور وہ حضرات تشریف لاتے ہیں۔کھانا تناول کرتے وقت آیہء تطہیرنازل ہوتی ہے اور پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے ہیں:”خداوندا!یہ میرے اہل بیت اور میرے خواص ہیں۔تو ان سے ہر طرح کی برائی کو دورکر اورانھیں پاک وپاکیزہ رکھ۔ام سلمہ کہتی ہیں:میں نے بھی سر اٹھاکر کہا: یارسول اللہ کیامیں بھی آپ کے ساتھ ہوں؟حضرت نے دومر تبہ فرمایا:تم نیکی پر ہو۔
یہ نکتہ قابل غور ہے کہ اگر اس آیہء شریفہ کے مطابق حضرت ام سلمہ”اہل بیت“میں ہوتیں،توآنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم صراحتاًانھیں مثبت جواب دیتے۔لیکن قرآن مجید میں موردتائیدقرار پایا گیاآپکا خلق عظیم ہرگزآپکو اس بات کی اجازت نہیں دیتاکہ آپ ام سلمہ کو صراحتاً منفی جواب دیں۔مذکورہ جملہ جو متعدد احادیث میں آیا ہے،اس نکتہ کے پیش نظر پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیویوں کے ”اہل بیت“کے دائرہ سے خارج ہونے کی واضح دلیل ہے۔
____________________
۱۔الدرّالمنثور،ج۶،ص۶۰۳،دارالفکر
۲ ۔”تنحی فإنّک الی الخیر “کی تعبیر
”عن العوام یعنی ابن حوشب،عن ابن عم له قال:دخلت مع اٴبی علی عائشةفساٴلتها عن علیّفقالت:تساٴلنی عن رجل کان من اٴحبّ الناس إلی رسول اللٰه ( ص ) وکانت تحته ابنته واٴحبّ الناس إلیهلقد راٴیت رسول اللّٰه ( ص ) دعا علیّاً و فاطمه و حسناً وحسیناً - رضی اللّٰه عنهم - فاٴلقی علیهم ثوباً فقال: اللّهم هؤلائ اٴهل بیتی، فاٴذهب عنهم الرجس و طهّرهم تطهیراً قالت: فدنوت منهم و قلت: یا رسول اللّٰه، و اٴنا من اٴهل بیتک؟ فقال ( ص ) :تنحیّ،فإنّک علی خیر ۔“(۱)
”عوام بن حوشب نے اپنے چچازاد بھائی سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا:میں اپنے باپ کے ہمراہ عائشہ کے پاس گیا۔میں نے ان سے علی کے بارے میں سوال کیا۔عائشہ نے کہا:تم مجھ سے ایسے شخص کے بارے میں پوچھتے ہو،جو پیغمبرخدا (ص)کے نزدیک محبوب ترین فردہے۔پیغمبراکرم (ص)کی عزیز ترین بیٹی ان کی شریک حیات ہے۔
میں نے رسول خدا (ص)کو دیکھا کہ آپنے علی وفاطمہ،حسن وحسین )علیہم السلام)کو بلایا اوران کے اوپر ایک کپڑے سے سایہ کیا اورفرمایا:خدا وندا!یہ میرے اہل بیت ہیں۔ان سے برائی کو دور رکھ اورانھیں خاص طور سے پاک وپاکیزہ قرار دے۔عائشہ نے کہا:میں ان کے نزدیک گئی اورکہا:یارسول اللہ! کیا میں آپ کے اہل بیت میں سے ہوں؟فرمایا:تم خیرونیکی پر ہو۔“
____________________
۱۔تفسیرابن کثیر،ج۳،ص۲۹۳،دارالمعرفة،بیروت
۳ ۔”فجذبه من یدی “کی تعبیر
”عن اُم سلمة اٴن رسول اللّٰه صلىاللهعليهوآلهوسلم قال لفاطمة: ایتینی بزوجک و ابنیه فجائت بهم، فاٴلقی رسول اللّٰه صلىاللهعليهوآلهوسلم علیهم کساءً فدکیّاً ثمّ وضع یده علیهم ثمّ قال: اللّهمّ إنّ هؤلاء اهل محمد - و فی لفظ آل محمد - ، فاجعل صلواتک و برکاتک علی آل محمد، کما جعلتها علی آل ابراهیم إنّک حمید مجید قالت اٴُم سلمة: فرفعت الکساء لاٴدخل معهم، فجذبه من یدی و قال: إنّک علی خیر ۔“(۱)
”ام سلمہ سے روایت ہے کہ پیغمبرخدا (ص)نے فاطمہ(سلام اللہ علیہا)سے فرمایا:اپنے شوہراوربیٹوں کومیرے پاس بلاؤ۔فاطمہ (سلام اللہ علیہا) نے انھیں بلایا۔پیغمبرخدا (ص)نے فدکی کساء)ایک لباس جو فدک میں بناتھا)کو ان پر ڈال دیااوراس کے بعد اپنا ہاتھ ان پر رکھ کر فرمایا:
خدا وندا!یہ آل محمدہیں۔تو ان پر درود وبرکتوں کا نزول فرما،جس طرح آل ابراھیم پر ناز ل فرمایا ہے،بیشک تو لائق حمد و ستائش ہے۔
ام سلمہ نے کہا:میں نے کساء کا سرا اٹھایا تاکہ زیر کساء ان کے ساتھ ملحق ہو جاؤں۔پس پیغمبر (ص)نے اسے میرے ہاتھ سے کھیچ لیا اور فرمایا:تم خیر ونیکی پر ہو۔“
۴ ۔”ماقال:إنّک من اهل البیت “کی تعبیر
”عن عمرة بنت اٴفعیٰ، قالت: سمعت اٴُم سلمة تقول: نزلت هذه
____________________
۱۔الدر المنثورج۶،ص۶۰۴،دارالفکر۔المعجم الکبیر،ج۲۳،ص۳۳۶
الآیة فی بیتی: ( إنّمایریداللّٰه ) و فی البیت سبعة: جبریل و میکائیل و رسول اللّٰه صلىاللهعليهوآلهوسلم و علی و فاطمه و الحسن و الحسین قالت: و اٴنا علی باب البیت فقلت: یا رسول اللّٰه، اٴلستُ من اٴهل البیت؟ قال: إنّک علی خیر! إنّک من اٴزواج النبی“وماقال:”إنّک من اٴهلالبیت “(۱)
” عمرہ بنت افعی سے روایت ہے کہ اس نے کہا: میں نے ام سلمہ سے سنا ہے کہ وہ کہتی تھیں: یہ آیت انّما یرید الله لیذھب عنکم الرجس اھل البیت میرے گھرمیں اس وقت نازل ہوئی ، جب گھر میں سات افراد تھے: جبرئیل ، میکائیل، پیغمبرخدا (ص)،علی وفا طمہ، حسن و حسین)علیہم السلام)۔ام سلمہ نے کہا: میں گھر کے دروازہ کے پاس کھڑی تھی اور میں نے کہا: یا رسول الله! کیا میں اہل بیت میں سے نہیں ہوں؟ فرمایا: تم نیکی پر ہو، تم پیغمبر کی بیویوں میں سے ہو “ اور آپ نے نہیں فرمایا:” تم اہل بیت میں سے ہو۔“
۵ ۔”لا، وانت علی خیر “کی تعبیر
” عن عطیة، عن اٴبي سعید، عن اٴمّ سلمة اٴن النبیّ ( ص ) غطّی علی علیّ و فاطمه و حسن وحسین کساءً، ثمّ قال: هؤلاء اٴهل بیتی، إلیک لا إلی النار قلت امّ سلمة:فقلت: یا رسول الله، و اٴنا معهم؟ قال: لا، واٴنت علی خیر “(۲)
____________________
۱- مشکل الآثار، ج۱، ص۳۳۳، دارالباز۔ تاریخ مدینة دمشق ج ۱۴،صفحہ۱۴۵ دارالفکر
۲ - تاریخ مدینة دمشق، ج۱۳، ص۲۰۶، دارالفکر۔ حدیث کی سندیوں:
اخبرنا ابو عبد الله الفراوی و ابو المظفر الفشیری، قالا: انا ابوسعد الادیب، انا ابو عمرو بن حمدان ، و اخبرتنا امّ المجتبی العلویّه، قالت: قریئ علی إبراهیم بن منصور انا ابوبکر بن المقریء قالا:انا ابوبعلی، نا محمد بن اسماعیل بن ابي سمینة، نا عبدالله بن داوود، عن فضیل عن عطیة
عطیہ،ابی سعید،ام سلمہ سے روایت ہے کہ پیغمبر اکرم (ص)نے ایک کساء کو علی وفاطمہ،حسن وحسین علیہم السلام پر ڈال دیااور فرمایا:خداوندا!یہ میرے
اہل بیت ہیں تیری بار گاہ میں نہ کہ آگ کی طرف۔ام سلمہ نے کہا:میں نے کہا یارسول اللہ! کیامیں بھی ان کے ساتھ)اہل بیت میں شامل )ہوجاؤں؟فرمایا:نہیں ،تم نیکی پر ہو۔“
سندحدیث کی تحقیق:
”ابو عبدالله فراوی محمدبن فضیل بن احمد“ ذہبی کا اس کے بارے میں کہناہے:” شیخ ، امام، فقہ، مفتی، مسند)علم حدیث کے معروف عالم) خراسان اور فقیہ حرم“ سمعانی کہتے ہیں: میں نے عبدالرشید طبری سے مرومیں سنا کی وہ کہتے تھے: الفراوی ہزار راویوں کے برابر ہے۔)سیر اعلام النبلاء ج ۱۸ ، ص ۷۳ موسسہ الرسالہ) ” ابوسعد ادیب کنجرودی“، ذہبی اس کے بارے میں کہتے ہیں: شیخ، فقیہ، امام، ادیب، نحوی طبیب، مسند خراسانی) سیراعلام النبلاء، ج ۱۸ ، ص ۱۰۱) سمعانی اس کے بارے میں کہتے ہیں: ” وہ ادیب، فاضل، عاقل، خوش رفتار، باوثوق اورسچاتھا“)الانساب ،ج ۵ ، ص ۱۰۰ ، دارالکتب العلمیہ، بیروت۔)
”ابو عمرو بن حمدان“ ذہبی اس کے بارے میں کہتا ہے:“ شیخ صالح ، قابل وثوق ہے )سیراعلام النبلاء، ج ۱۸ ،ص ۷۳)
”ابو بکربن المقری،محمد بن ابراھیم“اس کے بارے میں ذھبی کہتے ہیں:شیخ حافظ اورسچا ہے“)سیراعلام النبلاء،ج ۱۶ ،ص ۳۹۸)
”ابویعلی“صاحب مسند،احمد بن علی بن مثنی،محدث موصل)سیراعلام النبلاء،ج ۱۴۰ ،ص ۱۷۴)
”محمد بن اسماعیل بن ابی سمینہ“ابن حجر نے تہذیب التہذیب میں ابوحاتم وصالح بن محمد سے نقل کیا ہے کہ وہ ثقہ اور قابل اعتماد ہے۔)تہذیب التہذیب،ج ۹ ،ص ۵۰ ،دارالفکر)
”عبداللہ بن داؤد“مزی نے اس کے بارے میں محمد بن سعد سے طبقات میں نقل کیا ہے کہ وہ ثقہ اور عابد تھا)تہذیب الکمال،ج ۴ ،ص ۴۵۸)
”فضل بن غزوان“ابن حجر نے اس کے بارے میں کہا ہے:احمداور ابن معین نے کہاہے:وہ ثقہ ہے۔اورابن حبان نے”کتاب الثقات“میں اس کا ذکر کیا ہے۔تہذیب التہذیب،ج ۸ ،ص ۲۶۷)” عطیہ)بن سعد)اس کے بارے میں تہذیب التہذیب ج ۷ ،ص ۲۰۰ سے استفادہ ہوتا ہے کہ:وہ ابن سعد کی طرف سے قابل وثوق قرار پایا ہے۔اورابن معین نے)ایک روایت میں )اسے شائستہ جانا ہے اورعلم رجال کے بعض علماء نے اس کی تعریفیں کی ہیں اوراس کی حدیثوں کی تائید کی ہے اس کا جرح کرنے والے جیسے نسائی جرح کرنے میں سخت گیر ہیں اہل سنت کے اہل فن ودرایت اور علم حدیث کے علماء جیسے تہانوی نے کتاب”قواعدفی علوم الحدیث“ص ۱۱۷ میں ،اس قسم کی جرح کرنے والے افراد کونا قابل اعتبار جانا ہے اورعطیہ ان افراد میں سے ہیں کہ جنھیں امیرالمؤمنین علی بن ابیطالب کے خلاف سب وشتم سے انکار کرنے پر حجاج کی طرف سے چارسو کوڑے مارے گئے ہیں جودین کے معاملہ میں اس طرح ثابت قدم اورپائیدار ہو،وہ کبھی جھوٹا نہیں ہو سکتا ہے۔ممکن ہے اہل رجال کی اس کے بارے میں جرح و تنقیداس کے شیعہ ہونے کی وجہ سے ہو۔
۶ ۔”فوالله ما انعم “کی تعبیر
”۔۔۔عن الاعمش عن حکیم بن سعدقال:ذکرنا علیّ بن ابی طالب - رضی اللّٰہ عنہ - عندامّ سلمة!قالت:فیہ نزلت: إنّمایرید اللّٰہ۔۔۔ !
”قالت:اٴُم سلمة:جاء النبیّ صلىاللهعليهوآلهوسلم إلی بیتیفجلّلهم نبیّ اللّٰه بکساءفنزلت هذه الآیةفقلت:یارسول اللّٰه، واٴنا؟ قالت:فواللّٰه مااٴنعم، وقال:إنّک إلی خیر ۔“(۱)
اس حدیث میں ،پیغمبراسلام (ص)نے جب علی وفاطمہ،حسن وحسین (علیہم السلام) کو کساء کے نیچے قرار دیا پھر آیہء تطہیر نازل ہوئی۔ام سلمہ نے سوال کیا:یارسول اللہ !کیا میں بھی ہوں ؟لیکن انھوں نے مثبت جواب نہیں سنا،پریشان ہوئیں اوراپنی پریشانی کاان الفاظ میں اظہار کیا:”فواللہ،ماانعم“یعنی:خدا کی قسم پیغمبرخدا (ص)نے نہیں فرمایا:”ہاں“بلکہ صرف یہ فرمایا:”تم نیکی پر ہو۔“
۷ ۔”مکانک،انت علی خیر “کی تعبیر
”عن شهر بن حوشب، عن اٴُم سلمة:إن رسول اللّٰه( ص) اٴخذ ثوباً فجلّله علی علیّ وفاطمةوالحسن والحسین ثمّ قراٴت هذه الآیة:( إنّما یرید اللّٰه لیذهب عنکم الرجس اٴهل البیت ویطهّرکم تطهیراً ) قالت:فجئت لاٴدخل معهم، فقال:مکانک،اٴنت علی
____________________
۱۔جامع البیان طبری،ج۲۲،ص۷،دارالمعرفة،بیروت۔تفسیرابنکثیرج۳ص۴۹۳،دارالمعرفة،بیروت
خیر “(۱)
اس حدیث میں ام سلمہ کہتی ہیں:پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم نے علی وفاطمہ،حسن و حسین)علیہم اسلام)کو ایک پارچہ کے نیچے قرار دیا اور اس کے بعد آیہ تطہیر ک قرات فرمائی۔ جب میں اس پارچہ کے نزدیک گئی تا کہ اس کے نیچے داخل ہو جاوں،تو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: اپنی جگہ پر بےٹھی رہو،تم خیر و نیکی پر ہو۔
____________________
۱۔تاریخ مدینة دمشق،ج۱۴،ص۱۴۱،دارالفکر۔اس حدیث کی سند یوں ہے:”اخبرنا ابوطالب بن ابی عقیل: انا ابو الحسن الخلعی: انا ابو محمد النحاس:انا ابوسعید بن الآعرابی:ناابو سعید عبدالرحمن بن محمدبن منصور:ناحسین الآشقر:نا منصور بن ابی الآسود،عن الآعمش،عن حبیب بن ابی ثابت ،عن شهر بن حوشب،عن ام سلمة “
سند کی تحقیق:
”ابوطالب بن ابی عقیل بن عبدالرحمن ذہبی “نے اسے ایک دیندار بزرگ جانا ہے۔)سیراعلامالنبلاء،ج ۲۰ ،ص ۱۰۸ ،موسةالرسالة)
”اابوالحسن الخلمی علی بن الحسین“ذہبی نے اس کی شیخ امام،فقیہ،قابل اقتداء اور مسند الدیار المصریة جیسے القاب سے تعریف کی ہے)سیراعلام النبلاء،ج ۱۹ ،ص ۷۴)
”ابومحمد النحاس اورذہبی“کا اس کے بارے میں کہنا ہے:شیخ امام،فقیہ،محدث، سچا اورمسندالدیار المصریہ تھا)سیر اعلام النبلاء ج ۱۷ ،ص ۳۱۳)
”ابو سعیدابن ا لآعرابی احمد بن محمدبن زیاد“اورذہبی نے اس کے بارے میں یہ تعبیرات استعمال کی ہیں:امام،محدث،قدوة)یعنی رہبری اور قیادت کے لئے شائستہ)سچا،حافظ اور شیخ الاسلام )سیر اعلام النبلاء ج ۱۵ ،ص ۴۰۷
”ابوسعید عبدالرحمن بن محمد بن منصور“ابن حبان نے کتاب الثقات ج ۸ ،ص ۳۸۳ موسةالکتب الثقافیة میں اس کا نام لیا ہے۔
”حسین ا لآشقرالغزاری“ابن حبان نے اس کا نام کتاب الثقات میں لا یا ہے ۔اور احمدبن حنبل نے اس کے بارے میں کہا ہے:وہ میرے نظر میں جھوٹ بولنے والوں میں سے نہیں ہے اورابن معین سے اس کے سچے ہو نے کے بارے میں سوا ل کیا ۔اس نے جواب میں کہا:جی ہاں)تہذیب التہذیب،ج ۲ ص ۹۱ دارالفکر)
اس کے بارے میں بعض مذمتیں کی گئی ہیں،وہ اس کے مذہب کے بارے میں ہیں اورحجت نہیں ہیں۔”منصور بن ابی ا لآسود“ابن حجر نے اس توثیق)مورد اعتماد ہونے)کو ابن معین سے نقل کیا ہے۔ اور کہا ہے کہ ابن حبان نے اسے کتاب الثقات میں )مورد اعتماد افراد کے زمرہ میں ذکر کیا ہے۔)تہذیب التہذیب ،ج، ۱۰ ص ۲۷۱ ،دارالفکر،
”الآعمش“ کے موثق اورسچے ہو نے میں کلام نہیں ہے اورصحیح بخاری وصحیح مسلم میں اس سے کا فیاحادیث نقل کی گئی ہیں اور اس کی راستگوئی کا یہ عالم تھا کہ بعض اہل سنت علمائے حدیث نے اس کے سچے ہو نے کومصحف سے تشبیہ دیدی ہے )تہذیب التہذیب ج، ۴ ،ص ۱۹۶ ،دارالفکر”حبیب بن ابی ثابت“اس کے موثق اور راستگو ہو نے میں کسی قسم کا شک وشبہ نہیں ہے اور صحاح میں اس سے بہت ساری حدیثیں نقل ہوئی ہیں)تہذیب التہذیب ج ۲ ،ص ۱۵۶)
”شہر بن حوشب“ابن حجر نے،معین،عجلی اور یقوب بن شیبة سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے اسے موثق)قابل اعتماد وثوق) تعبیر کیا ہے)تہذیب التہذیب ج ۴ ،ص ۳۲۵ ،دارالفکر۔)
ایک دوسری حدیث میں یہ تعبیر نقل ہوئی ہے:”اٴنت بمکانک وانت خیر “(۱) ایک اور تعبیرمیں آیا ہے ”اجلسی مکانک، فانک علی خیر “(۲) اپنی جگہ پر بیٹھی رہو،تم خیر پر ہو۔
۸ ۔”فوددت اٴنة قال :نعم “کی تعبیر
”عن عمرة الهمد انیة قالت: اٴتیت اٴ مّ سلمة فسلمت علیها،فقالت: من اٴنت ؟ فقلت :عمرة: یا اٴم المومنین اٴخبرینی عن هذا الرّجل الذّی قتل بین اظهرنا، فمحبً و مبغض ترید علیّ بن اٴبی طالب قالت اٴمّ سلمة:اٴتحبًینه اٴم تبغضیبه؟ قالت ما اٴحبّه ولا اٴبغضه فاٴنزل الله هذه الّایة( انما یرید الله ) … إلی آخرها، ومافی البیت إلا جبرئیل ورسول اللهصلىاللهعليهوآلهوسلم وعلیّ وفاطمه و الحسن والحسین علیهم السلام فقلت : یا رسول الله، اٴنا من اٴهل البیت؟ فقال: إنّ لک عنداللهخیراً، فوددت اٴنه قال: ”نعم“ فکان اٴحبّ إلی من تطلع علیه الشمس و تغربه“(۳)
” عمرہ ہمدانیہ سے روآیت ہے کہ اس نے کہا : میں ام سلمہ کی خدمت میں گئی اور ان سے سلام کیا: انھوں نے پو چھا : تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں عمرہ ہمدانیہ ہوں۔ عمرہ نے ام سلمہ سے کہا:اے ام المئومنین مجھے اس شخص کے بارے میں کچھ بتایئے جسے کچھ مدت پہلے قتل کردیا گیا )مرادعلی بن ابےطالب علیہ السلام ہیں) بعض لوگ انھیں دوست رکھتے ہیں اور بعض دشمن۔
ام سلمہ نے کہا: تم انھیں دوست رکھتی ہو یا دشمن؟ عمرہ نے کیا: میں نہ انھیں دوست
____________________
۱- تاریخ مدینہ دمشق ،ج ۱۴،ص۱۴۵، دارالفکر
۲-شواہد التنذیل، ج۲،ص۱۱۹
۳-مشکل الا ثار،ج۱، ص۳۳۶، طبع مجلس دائرة المعارف النظامیہ بالھند
رکھتی ہوں اور نہ دشمن ) بظاہر یہاں پر آیہ تطہیر کے نزول کے بارے میں چند جملے چھوٹ گئے ہیں اور اس کے بعدکی عبارت یہ ہے) اور خداوند متعال نے یہ آیت( إنما یرید الله ) اس حالت میں نازل فر مائی کی جب گھر میں جبرئل، پیغمبر خدا (ص)، علی وفاطمہ، حسن و حسین )علیہم السلام) کے علاوہ کوئی موجود نہ تھا۔
میں نے کہا: یا رسول الله: کیا میں اہل بیت میں ہوں؟ آنحضرت (ص)نے فرمایا: تیرے لئے خدا کے پاس خیر و نیکی کی صورت میں جزا ہے۔
میری آرزو یہ تھی کہ)میرے سوال کے جواب میں ) آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے: ”جی ہاں“ اور وہ میرے لئے اس سے بہتر تھا جس پر سورج طلوع و غروب کرتا ہے۔“
”فتنحّی لی عن اٴهل بیتی “ کی تعبیر
” عن ابی المعدل عطیة الطفاوي عن اٴبیه، اٴنّ امّ سلمة، حدثتة قالت:بینارسول الله صلىاللهعليهوآلهوسلم في بیتي، إذقال الخادم : إن علیا وفاطمه بالسدًة: قالت: فقال لي: قوميفتنحّي ليعن اٴهل بیتي فد خل عليّ و فاطمة و معهما الحسنوالحسین قالت: فقلت و اٴنا یا رسول الله؟ فقال: واٴنت“ (۱)
اس حدیث میں ام سلمہ سے روآیت ہے، انھوں نے کہا : رسول خدا (ص)میرے گھر میں تشریف فرما تھے کہ خادم نے کہا: علی اور فاطمہ )علیہماالسلام) دروازہ پرہیں۔ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: اٹھو اور میرے اہل بیت سے دور ہو جاؤ اس کے بعد علی او رفاطمہ حسن اور حسین (علیہم السلام) داخل ہوئے اور پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ان کے حق میں دعا کی: ” خدا وند! میرے اہل بیت تیری طرف ہیں نہ کہ آگ کی
____________________
۱- تاریخ مدینة دمشق، ج ۱۳،ص۲۰۳-۲۰۲،دارلفکر
طرف “ام سلمہ نے کہا: یا رسول الله ! میں بھی ؟فرمایا: تم بھی۔
واضح ر ہے کہ پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم پہلے ام سلمہ کو )حدیث میں )اپنے اہل بیت کے مقابلہ میں قرار دیتے ہیں جو ان کے اہل بیت سے خارج ہو نے کا واضح ثبوت ہے۔ اس کے بعد انھیں دعا میں یعنی آگ سے دور رہنے میں شریک فرما تے ہیں۔
۱۰ ۔”إنک لعلی خیر، ولم ید خلنی معهم “کی تعبیر
” عن العوام ین حوشب، عن جميع: التیمی انطلقت مع امّي، إلی عائشة، فد خلت اٴمّي، فذهبت لاٴدخل فحجتني، و ساٴلَتها اٴمّي عن عليّ فقالت: ماظنّک بر جل کانت فاطمة والحسن و الحسین إبناه، و لقد رآیت رسول الله التفع علیهم بثوب و قال: ”اللّهم هولائ اٴهلياٴذهب عنهم الرجس و طهرهم تطهیراٴ“ قلت: یا رسول الله، اٴلست من اٴهلک؟ قال:” انّک لعلی خیر“،”لم ید خلنيمعهم “(۱)
”جم یع تیمی سے روآیت ہے کہ اس نے کہا: میں اپنی والدہ کے ہمراہ عائشہ کے پاس گیا میری والدہ نے ان سے علی)علیہ السلام) کے بارے میں سوال کیا۔ انہوں نے جواب میں کہا: تم کیا خیال کرتی ہو اس شخص کے بارے میں جس کی شریک حیات فاطمہ (علیہماالسلام) اورجس کے بیٹے حسن و حسین )علیہماالسلام) ہوں۔میں نے دیکھا کہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نے ایک کپڑے کے ذریعہ ان پر سایہ کیا اور فرمایا: یہ میرے اہل بیت ہیں۔ خداوندا! ان سے برائی کو دور رکھ اور انھیں خاص
____________________
۱۔شواھدالتنزیل،ج۲،ص۶۲۔۶۱
طریقہ سے پاک و پاکیزہ قرار دے۔ میں نے کہا: یا رسول الله! کیا میں آپ کے اہل سے نہیں ہوں؟ فرمایا: تم نیکی پر ہو۔ اور مجھے ان میں داخل نہیں کیا۔
۱۱ ۔”فوالله ماقال :انت معهم “کی تعبیر
”عن اٴُم سلمة فجمعهم رسول اللّٰه حوله و تحته کسائ خیبریّ، فجلّلهم رسول اللّٰه جمیعاً، ثمّ قال: اللّهمّ هؤلاء اٴهل بیتی فاٴذهب عنهم الرجس وطهّرهم تطهیراً فقلت: یارسول اللّٰه،واٴنا معهم؟ فواللّٰه ما قال: ”و اٴنت معهم“ و لکنّه قال: ” إنّک علی خیر و إلی خیر“ فنزلت علیه: ( إنّما یرید اللّٰه ) (۱)
”اس حدیث میں بھی کہ جو ام سلمہ سے روایت ہے،پیغمبراکرم (ص)نے علی و فاطمہ،حسن وحسین(علیہم السلام) کو کساء کے نیچے قراردیااوران کے حق میں دعاکی۔ام سلمہ نے کہا:یارسول اللہ! کیا میں بھی ان کے ساتھ ہوں؟)چونکہ مثبت جواب نہیں سنا اس لئے کہا:)خدا کی قسم آپ نے نہیں فرمایا:”تم بھی ان کے ساتھ ہو“لیکن فرمایا:”تم نیکی پر ہواورنیکی کی طرف ہو“۔اس کے بعد آیہء( إنّما یریدالله ) نازل ہوئی۔“
۱۲ ۔إنّک لعلی خیر،وهؤلائ اهل بیتی “کی تعبیر
”عن عطائ بن یسار،عن اٴُمّ سلمة -رضی اللّٰه عنها - اٴنّها قالت: فی بیتی نزلت هذه الآیة:( إنّما یرید اللّٰه ) فاٴرسل رسول اللّٰه( ص) إلی علی و فاطمة والحسن والحسین
____________________
۱۔شواھد ا لتنزیل،ج۲،ص۱۳۴۔۱۳۳
فقال: اللّهمّ هؤلائ اٴهل بیتی قالت اٴُمّ سلمة: یارسول اللّٰه،مااٴنامن اٴهل البیت ؟قال:إنّک لعلی خیر،وهؤلائ اٴهل بیتی اللّهمّ اٴهلی اٴحق“هذا حدیث صحیح علی شرط البخاری،ولم یخرجاه ۔(۱)
یہ حدیث بھی ام سلمہ نے روایت کی ہے کہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے علی وفاطمہ ،حسن وحسین) علیہم السلام )کو بلاوابھیجا اوران کے آنے کے بعد فرمایا:
خدا وندا!یہ میرے اہل بیت ہیں ۔ام سلمہ نے کہایا رسول اللہ!کیا میں اہل بیت میں سے نہیں ہوں؟فرمایا:تم خیر ونیکی پر ہواوریہ میرے اہل بیت ہیں۔خداوندا!میرے اہل بیت سزاوار تر ہیں۔
حدیث کو بیان کرنے کے بعدحاکم نیشاپوری کا کہنا ہے:بخاری کے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے،لیکن اس نے اسے ذکر نہیں کیا ہے۔
درعلی و فاطمہ پر آیہء تطہیر کی تلاوت
بعض حدیثیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ پیغمبرخداصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہرروزصبح یاروزانہ نماز پنچگانہ کے وقت در علی و فاطمہ) علیہما السلام) پر آکر آیہء تطہیرکی تلاوت فرماتے تھے۔یہ حدیثیں بھی چند مختلف گرہوں میں منقسم ہیں کہ موضوع کے طولانی ہو نے کے باعث ہم صرف ان کے عنا وین کی طرف اشارہ کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔
بعض احادیث دلالت کرتی ہیں کہ یہ کام ایک ماہ(۲) تک جاری رہا اور بعض احادیث اس
____________________
۱۔المستدرک علی الصحیحین،تفسیر سورئہ احزاب ،ج۲،ص۴۱۶،دارالمعرفة،بیروت
۲۔مندابی داؤد طیالسی ،ص۲۷۴،دارالکتاب ا للبنانی
کی مدت چالیس(۱) روز، بعض چھ مہینے،(۲) بعض سات مہینے(۳) ،بعض آٹھ مہینے(۴) ،بعض نو مہینے(۵) ،بعض د س مہینے اوربعض احادیث میں اس کی مدت سترہ مہینے(۶) بتائی گئی ہے۔
ان احادیث کے بارے میں دو نکتے قابل توجہ ہیں:
۱ ۔یہ حدیثیں) کہ ہرایک ان میں سے ایک خاص مدت کی طرف اشارہ کرتی ہے) ایک دوسرے سے منافات نہیں رکھتی ہیں کیونکہ ہرصحابی جتنی مدت آنحضرت صلی للہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھا،اس نے اسی مدت کو بیان کیا ہے اوراحیاناً اگرایک صحابی نے دومختلف احادیث میں دو مختلف مدتیں بیان کی ہیں،تو ممکن ہے اس نے ایک مرتبہ کم مدت اوردوسری مرتبہ زیادہ مدت کا مشاہدہ کیا ہوگا۔
مثلاً ابوالحمراء نے ایک حدیث میں مذکورہ مدت کو چھ مہینے اوردوسری حدیث میں سات مہینے اورتیسری حدیث میں آٹھ مہینے،یادس مہینے یاسترہ مہینے کی مدت بیان کی ہے ان میں سے کوئی حدیث بھی ایک دوسرے سے منافات نہیں رکھتی ہے۔
۲ ۔پیغمبرخداصلىاللهعليهوآلهوسلم کا اتنی طولانی مدت تک اس عمل کاپے درپے انجام دینا اس حقیقت کی طرف اشارہ ہوسکتا ہے کہ لفظ”اہل بیت کہ“جو اس وقت عرفی معنی میں استعمال ہوتا تھا اب اس کے جدید اوراصطلاحی معنی میں یعنی علی وفاطمہ،حسن وحسین علیہم السلام کے لئے یا
___________________
۱۔مجمع الزوئد ،ج۹،ص۲۶۴،ح۱۴۹۸۷،دارالفکر۔الدرالمنثور ج۶،ص۶۰۶شواہدالتنزیل ،ج۲،ص۴۴،موسة الطبع والنشر لوزرارة الارشاد الاسلامی
۲۔جامع البیان طبری، ج۲۲، ص۵۔۶، دارالمعرفة،بیروت۔مجمع الزوائد، ھیثمی ،ج۹، ص۲۶۶، ح۱۴۹۸۵۔انساب الاشراف،ج۲،ص۳۵۴۔۳۵۵ دارالفکر،المنتخب من مسند احمد،ج ۳،ص۴۹۲، دارالمعرفة،بیروت اوردوسری کتابیں۔
۳۔جامع البیان ،طبری،ج۲۲،ص۶،دارالمعرفة،بیروت۔تفسیر ابن کثیر،ج۳ ص۲۹۲،دارالمعرفة، بیروت۔ فتح القدیر،ج۴،ص۳۵۰،دارالکتب العلمیہ،بیروت
۴۔الدرالمنثور،ج۵،ص۶۱۳،وج۶،ص۶۰۶،دارالفکر۔
۵۔المنتخب من مسند بن حمید،ص۱۷۳،عالم المکتب۔ذخائر المقبی ص۲۵،موسةالوفاء، بیروت۔ الدرالمنثور،ج۶،ص۶۰۲،دارالفکر۔شوھدالتنزیل، ج۲،ص۲۷
۶۔مجمع الزوائد،ج۹،ص۲۶۷،ح۱۴۹۸۶،دارالفکر،شواھد التنزیل ،ج۲،۸۷
رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ضمیمہ کے ساتھ استعمال ہو کردر حقیقت ایک نئی حالت پیدا کرچکا ہے۔اس لفظ کے بارے میں یہ انتہائی مہم نکتہ آیہء تطہیر کے ذیل میں بیان کی گئی تمام احادیث مثلاًحدیث ثقلین وحدیث سفینہ اوران جیسی دوسری حدیثوں میں بہت زیادہ روشن و نمایاں ہے۔
آیہء تطہیر کا پنجتن پاک (علیہم السلام) کے بارے میں نازل ہونا
احادیث کا ایک اورگروہ ہے جن میں آیہء تطہیر کے نزول کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم،علی وفاطمہ،حسن وحسین علیہم السلام کے بارے میں بیان کیا گیا ہے۔ان میں سے بعض احادیث میں یہ مطلب خود پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے،جیسے یہ حدیث:
” عن ابی سعید الخدری قال: قال رسول اللّٰه ( ص ) نزلت هذه الآیة فی خمسة:فیّ و فی علی و حسن وحسین وفاطمة ( إنّما یرید اللّٰه لیذهب عنکم الرجس اهل البیت ویطهّرکم وتطهیراً ) (۱)
____________________
۱۔جامع لبیان ،طبری،ج۲۲،ص۵،دارالمعرفة۔بیروت میں اس حدیث کی سند یوں ہے:حدثنی محمد بن المثنی قال:ثنابکر بن یحیی بن زبان العنزی قال:ثنا)حدثنا) مندل،عن الآعمش عن عطیة عن ابی سعید الخدری ۔
اس سند میں ”بکر بن یحیی بن زبان“ ہے۔چنانچہ ان کا نام تہذیب التہذیب،۱،ص۴۲۸ دارالفکر،میں درج ہے۔ابن حبان نے اسے ”کتاب ا لثقات“)جس میں ثقہ راوی درج کئے گئے ہیں)میں درج کیا ہے۔
ابن حجر نے”مندل“)بن علی) کے بارے میں تہذیب التہذیب ،ج۱۰،ص۲۶۵،میں ذکر کیا ہے کہ یعقوب بن شیبہ اوراصحاب یحیی)بن معین)اور علی بن مدینی نے اسے حدیث میں ضعیف جانا ہے جبکہ وہ خیّر،فاضل اور راستگوہیں اوراسی کے ساتھ ساتھ وہ ضعیف الحدیث بھی ہیں ۔اس بیان سے واضح طور پر معلو م ہو تا ہے کہ جومذمتیں اس کے بارے میں ہوئی ہیں وہ اس کی احادیث کے جہت سے ہے اورجیسا کہ عجلی نے اس کے بارے میں کہا ہے،۔اس کے شیعہ ہونے کی وجہ سے ہیں۔
حدیث کا ایک اورراوی”اعمش“)سلیمان بن مہران) ے کہ اس کے موثق ہونے کے بارے میں رجال کی کتا بوں میں کافی ذکرآیا ہے،من جملہ یہ کہ وہ راستگوئی میں مصحف کے مانند ہے)تہذیب التہذیب،ج۴،ص۱۹۶،دارالفکر)
حدیث کا ایک اورراوی ”عطیہ بن سعد عرفی“ہے کہ اس کے بارے میں ”لا و انت علی خیر “ کی تعبیر کی تحقیق کے سلسلہ میں بیان کی گئی ۔
۔۔۔ابی سعید خدری سے روایت ہے کہ پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے فرمایا: یہ آیت پنجتن پاک(علیہم السلام) کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جس سے مرادمیں ،علی ،حسن،حسین اورفاطمہ )علیہم السلام)ہیں۔
دوسری احادیث میں بھی ابوسعید خدری سے ہی روایت ہے اس نے اس آیت کے نزول کو پنجتن پاک علیہم السلام سے مربوط جانا ہے۔جیسے یہ حدیث :
”عن اٴبی سعید قال: نزلت الآیة فی خمسة نفر - و سمّاهم - ( إنّما یرید اللّٰه لیذهب عنکم الرجس اٴهل البیت و یطهّرکم تطهیراً ) فی رسول اللّٰه و علیّ و فاطمة و الحسن و الحسین علیهم السلام “(۱)
ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ اس نے کہا:آیہء ا( ٕنّمایرید الله ) پانچ افراد کے بارے میں نازل ہوئی ہے:رسول اللہ (ص)علی وفاطمہ،حسن وحسین (علیہم السلام) “
ابوسعید خدری سے اورایک روایت ہے کہ )عطیہ نے)کہا:میں نے اس سے سوال کیا:اہل بیت کون ہیں؟)ابوسعید نے جواب میں )کہا:اس سے مراد پیغمبر (ص)، علی وفاطمہ،حسن وحسین(علیہم السلام) ہیں۔(۲)
اس سلسلہ کی بعض احادیث ام سلمہ سے روایت ہوئی ہیں کہ آیہء شریفہ پنجتن پاک کے بارے میں نازل ہوئی ہے،جیسے مندرجہ ذ یل حدیث:
” عن اٴم سلمة قالت: نزلت هذه الآیة فی رسول الله ّٰ صلىاللهعليهوآلهوسلم و علیّ و فاطمة و حسن و حسین - علیهم السلام - :( إنّما یرید اللّٰه لیذهب عنکم الرجس اٴهل البیت ویطهّرکم تطهیراً ) (۳)
____________________
۱۔تاریخ مدینةدمشق،ج۱۳،ص۲۰۶،دارالفکر
۲۔تاریخ مدینة دمشق،ج۱۳،ص۲۰۷،دارالفکر ۳۔تاریخ مدینة دمشق،ج۱،ص۳۳۲
”ام سلمہ سے روایت ہے کہ اس نے کہا:یہ آیت)آیہء تطہیر) پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم علی و فاطمہ ،حسن و حسین )علیھم السلام)کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔“
آیہء تطہیر اوراس سے مربوط احادیث کے بارے میں دونکتے
اس سلسلہ میں مزید دواہم نکتے قابل ذکر ہیں:
۱ ۔اب تک جوکچھ ہم نے بیان کیا ہے اس سے یہ مطلب واضح ہوجاتا ہے کہ لفظ ”اہل بیت“میں ”بیت“سے مراد رہائشی بیت)گھر) نہیں ہے۔کیونکہ بعض افرادجیسے:ابی الحمراء، واثلہ،ام ایمن اورفضہ اس گھر میں ساکن تھے،لیکن ان میں سے کوئی بھی”اہل بیت“کی فہرست میں شامل نہیں ہے۔
نیزاس کے علاوہ”بیت“سے مراد نَسَب بھی نہیں ہے ۔کیونکہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا عباس ا وران کے فرزند،جن میں بعض نَسَب کے لحاظ سے علی علیہ السلام کی نسبت پیغمبرصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قریب تھے وہ بھی اہل بیت میں شامل نہیں ہیں)البتہ عباس کے بارے میں ایک حدیث نقل کی گئی ہے کہ سوالات کے باب میں اس پر بحث کریں گے)۔
بلکہ اس بیت)گھر)سے مرادنبوت کا”بیت“ہے۔کہ جس میں صرف ”پنجتن آل عبا داخل“ہیں اور وہ اس بیت)گھر)کے اہل اورمحرم اسرار ہیں۔اس سلسلہ میں آیہء شریفہ( فی بیوت اذن اللّٰه اٴن ترفع ویذکرفیهااسمه ) (۱) نور خدا ان گھروں میں ہے جن کے بارے میں خداکی طرف سے اجازت ہے کہ ان کی بلندی کا اعتراف کیا جائے اوران میں خدا کانام لیا جائے)کے ذیل میں بیان کی گئی سیوطی(۲) کی درجہ ذیل حدیث قابل توجہ ہے:
” اٴخرج ابن مردویه عن اٴنس بن مالک و بریده قال: قراٴ رسول اللّٰه هذه الآیة( : فی بیوت اٴذن اللّٰه اٴن ترفع ) فقام إلیه رجل
____________________
۱۔سورئہ نور/۳۶
۲۔الدرالمنثور،ج۶،ص۲۰۲،دارالفکر
فقال قال: اٴیّ بیوتٍ هذه یا رسول اللّٰه؟ قال: بیوت الآنبیاء فقام إلیه اٴبوبکر فقال: یا رسول اللّٰه هذا البیت منها؟ البیت علی وفاطمة؟ قال: نعم من اٴفا ضلها ۔“
”ابن مردویہ نے انس بن مالک اوربریدہ سے روایت کی ہے کہ پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نے اس آیت: فی بیوت اُذن اللہ ۔۔۔ کی قرات فرمائی۔ایک شخص نے اٹھ کرسوال کیا:یہ جوبیوت)گھر)اس آیت میں ذکر ہوئے ہیں ان سے مرادکونسے گھر ہیں؟ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جواب میں فرمایا:انبیاء)علیہما السلام)کے گھر میں ۔ابوبکراٹھے اورکہا:یارسول اللہ!کیا ان میں علی و فاطمہ)علیہا السلام)کا گھر بھی شامل ہے؟ آنحضرت (ص)نے فرمایا:جی ہاںوہ ان سے برتر ہے۔“
۲ ۔ان احادیث پر غورو خوض کرنے سے واضح ہوجاتا ہے کہ ان میں ایک حصر کا استعمال کیا گیاہے اور وہ حصر،حصراضافی کی ایک قسم ہے۔یہ حصر پیغمبراکرم (ص)کی بیویوں اورآپکے دوسرے ر شتہ داروں)جیسے عباس اوران کے فرزندوں)کے مقابلہ میں ہے یہ حصران احادیث کے منافی نہیں ہے،جن میں اہل بیت سے مراد چودہ معصومین علیہم السلام یعنی پیغمبر،علی وفاطمہ،حسن وحسین اوراوردوسرے نوائمہ معصومین )علیہم السلام)کو لیا گیا ہے ۔اول خودآیہء تطہیر کی دلیل سے کہ اس میں صرف( لیذهب عنکم الرجس ویطهرکم ) ۔۔۔ پر اکتفا نہیں کیا گیا ہے بلکہ موضوع کا عنوان”اہل بیت“قراردیاگیا ہے۔ حدیث کساء میں صرف پنجتن پاک کا زیرکساء آنااورپیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے توسط سے ان کے لئے دعا کیا جا نا اس بناپر تھا کہ اس وقت اس محترم خاندان سے صرف یہی پانچ افراد موجود تھے ورنہ شیعوں کے تمام ائمہ معصومین علیہم السلام،من جملہ حضرت مہدی علیہ السلام”اہل بیت“ کے مصداق ہیں۔
چوتھے امام حضرت امام زین العابدین علیہ السلام نے ایک حدیث میں اپنے آپ کو”اہل بیت“کا مصداق جانتے ہوئے آیہء تطہیر سے استناد کیا ہے۔(۱) نیزشیعہ واہل سنت سے حضرت مہدی) عج) کے بارے میں نقل کی گئی بہت سی احادیث کے ذریعہ ان کو پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت میں شمار کیاگیا ہے۔(۲)
حدیث ثقلین )جس کے معتبر ہونے میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے نیز متواتر ہے )میں پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن مجید اوراپنے اہل بیت کے بارے میں فرمایا ہے:
”۔۔۔فانّها لن یفترقا حتی یردا علیّ الحوض (۳) “
”یہ دو )قرآن مجیداوراہل بیت) ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک حوض کوثرپر مجھ سے ملیں گے۔“
اس بیان سے استفادہ ہوتا ہے قرآن مجید اور اہل بیت کے در میان لازم و ملزم ہو نے کا رابطہ قیامت تک کے لئے قائم ہے اور یہ جملہ اہل بیت کی عصمت پردلالت کر تا ہے اور اس بات پر بھی دلالت کرتا ہے کہ ہرزمانے میں اہل بیت طاہرین میں سے کم ازکم ایک شخص ایسا موجود ہوگا کہ جو اقتداء اور پیروی کے لئے شائستہ وسزاوار ہو۔
اہل سنت کے علماء میں بھی بعض ایسے افراد ہیں کہ جنہوں نے حدیث ثقلین سے استد لال کرتے ہوئے اس مطلب کی تائید کی ہے کہ ہرزمانہ میں اہل بیت معصومین (ع)میں سے کوئی نہ کوئی ضرور موجود ہوگا۔(۴)
جن احادیث میں اہل بیت کی تفسیرچودہ معصومین(ع)سے کی گئی ہے،ان میں سے ہم
____________________
۱۔تفسیر ابن کثیر،ج۳،ص۴۹۳
۲۔کتاب منتخب الاثر کی طرف رجوع کیا جائے۔
۳۔حدیث کے مختلف طریقوں سے آگاہی حاصل کرنے کے لئے ”کتاب اللہ واہل البیت فی حدیث الثقلین“کی طرف رجوع کیا جائے۔
۴۔جواھر العقدین،سمھودی،ص۲۴۴،دارالکتب العلمیہ البیروت۔”الصواعق المحرقة“ فصل ”اہل بیت حدیث ثقلین میں “ابن حجر۔
ایک ایسی حدیث کو نمونہ کے طور پر پیش کررہے ہیں،جس کو شیعہ ۱ اورسنی دونوں نے نقل کیا ہے:
ابراھیم بن محمد جوینی نے ”فرائد السمطین ۲“ میں ایک مفصل روایت درج کی ہے۔چونکہ یہ حدیث امامت سے مربوط آیات کی تفسیر کے سلسلہ میں دوسری کتابوں میں درج کی گئی ہے، اس لئے ہم یہاں پر اس سے صرف آیہء تطہیر سے مربوط چند جملوں کی طرف اشارہ کرنے پر اکتفا کرتے ہیں۔
اس حدیث میں حضرت علی علیہ السلام مہاجر وانصار کے بزرگوں کے ایک گروہ کے سامنے اپنے فضائل بیان کرتے ہوئے اپنے اوراپنے اہل بیت کے بارے میں نازل ہوئی قرآن مجید کی چندآیتوں کی طرف اشارہ فرماتے ہیں،من جملہ آیہء تطہیرکی طرف کہ اس کے بارے میں حضرت علی علیہ السلام نے یوں فرمایا:
”اٴیّهاالنّاس اٴتعلمون اٴنّ اللّٰه اٴنزل فی کتابه: ( إنّما یرید اللّٰه لیذهب عنکم الرجس اٴهل البیت و یطهّرکم تطهیراً ) فجمعنی و فاطمة و ابنییّ الحسن و الحسین ثمّ اٴلقی علینا کساءً و قال: اللّهمّ هؤلاء اٴهل بیتی و لحمی یؤلمنی ما یؤلمهم، و یؤذینی ما یؤذیهم، و یحرجنی ما یحرجهم، فاٴذهب عنهم الرجس و طهّرهم تطهیراً ۔
فقالت اٴُمّ سلمة: و اٴنا یا رسول اللّٰه؟ فقال: اٴنت إلی خیر إنّما اُنزلت فی) و فی ابنتی) و فی اٴخی علیّ بن اٴبی طالب و فی ابنیَّ و
____________________
۱۔کمال الدین صدوق،ص۲۷۴
۲۔مؤلف اور کتاب کے اعتبار کے بارے میں تفسیر آیہء ”اولوالامر“کا آخر ملاحظ ہو۔
فی تسعة من ولد ابنی الحسین خاصّة لیس معنا فیها لاٴحد شرک
فقالوا کلّهم: نشهد اٴنّ اٴمّ سلمة حدّثتنا بذلک فساٴلنا رسول اللّٰه فحدّثنا کما حدّثتنا اٴمّ سلمة(۱) “
”اے لوگو!کیا تم جانتے ہو کہ جب خدا وند متعال نے اپنی کتاب سے آیہء:( إنّما یرید الله ) ۔۔۔ کو نازل فرمایا پیغمبر اکرم (ص)نے مجھے،فاطمہ اورمیرے بیٹے حسن وحسین )علیہم السلام)کوجمع کیا اور ہم پر ایک کپڑے کا سایہ کیا اورفرمایا:خداوندا! یہ میرے اہل بیت ہیں۔جس نے انھیں ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا اورجس نے انھیں اذیت پہنچائی اس نے مجھے اذیت پہنچائی ہے جس نے ان پرسختی کی اس نے گویا مجھ پر سختی کی ۔)خدا وندا!)ان سے رجس کو دور رکھ اورانھیں خاص طورپرپاک وپاکیزہ قرار دے۔
ام سلمہ نے کہا:یارسول اللہ!میں بھی؟)رسول خدا (ص)نے)فرمایا:تم خیر ونیکی پرہو، لیکن یہ آیت صرف میرے اورمیری بیٹی )فاطمہ زہرا)میرے بھائی علی بن ابیطالب(علیہ السلام) اور میرے فرزند ) حسن و حسین علیہما السلام) اور حسین (علیہ السلام)کی ذریت سے نوائمہ معصومین کے بارے میں نازل ہوئی ہے اورکوئی دوسرااس آیت میں ہمارے ساتھ شریک نہیں ہے ۔اس جلسہ میں موجود تمام حضار نے کہا:ہم شہادت دیتے ہیں کہ ام سلمہ نے ہمارے سامنے ایسی حدیث بیان کی ہے اورہم نے خود پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم سے بھی پوچھا توانھوں نے بھی ام سلمہ کے مانند بیان فرمایا۔“
____________________
۱۔فرائد السمطین،ج۱،ص۳۱۶،موسةالمحمودی للطباعة والنشر،بیروت
آیہء تطہیرکے بارے میں چند سوالات اور ان کے جوابات
اس بحث کے اختتام پر ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ آیہء تطہیر کے بارے میں کئے گئے چند سوالات کے جوابات پیش کریں:
پہلاسوال
گزشتہ مطالب سے جب یہ معلوم ہوگیا کہ اس آیہء کریمہ میں ارادہ سے مرادارادہ تکوینی ہے۔اگرارادہ تکوینی ہوگا تو یہ دلالت کرے گا کہ اہل بیت کی معنوی طہارت قطعی اورناقابل تغیر ہے۔کیا اس مطلب کو قبول کرنے کی صورت میں جبر کا قول صادق نہیں آتا ہے؟
جواب
خدا وند متعال کا ارادہ تکوینی اس صورت میں جبر کا سبب بنے گا جب اھل بیت کا ارادہ واختیار ان کے عمل انجام دینے میں واسطہ نہ ہو لیکن اگر خداوند متعال کاارادہ تکوینی اس سے متعلق ہو کہ اہل بیت اپنی بصیرت آگاہی نیز اختیارسے گناہ اور معصیت سے دور ہیں،توارادہ کا تعلق اس کیفیت سے نہ صرف جبر نہیں ہوگا بلکہ مزیداختیار پر دلالت کرے گا اورجبر کے منافی ہوگا،کیونکہ اس فرض کے مطابق خدا وند متعال کے ارادہ کا تعلق اس طرح نہیں ہے کہ وہ چاہیں یا نہ چاہیں ،اپنے وظیفہ انجام دیں گے، بلکہ خدا وند متعال کے ارادہ کا تعلق ان کی طرف سے اطاعت کی انجام دہی اور معصیت سے اجتناب ان کے اختیار میں ہے اور ارادہ و اختیار کا پایا جا نا ہی خلاف جبر ہے۔
اس کی مزید وضاحت یوں ہے کہ: عصمت درحقیقت معصوم شخص میں پائی جانے والی وہ بصیرت اور وہ وسیع و عمیق علم ہے، جس کے ذر یعہ وہ کبھی اطاعت الہیٰ سے منحرف ہو کر معصیت و گناہ کی طرف تمائل پیدا نہیں کرتا ہے اور اس بصیرت اور علم کی وجہ سے اس کے لئے گناہوں کی برائیاں اور نقصانات اس قدر واضح اور عیاں ہو جاتے ہیں کہ اس کے بعد اس کے لئے محال ہے کہ وہ گناہ کا مرتکب ہو جائے۔
مثال کے طور پرجب کوئی ادنی ٰشخص یہ دیکھتا ہے کہ وہ پانی گندا اور بدبو دار ہے، تو محال ہے و ہ اسے اپنے اختیارسے پی لے بلکہ اس کی بصیرت و آگاہی اسے اس پانی کے پینے سے روک دے گی۔
دوسرا سوال
آیہء شریفہ میں آیا ہے:( انّما یریدا للهليذهب عنکم الرّجس اهل البیت ويطهرکم تطهیرا ) ” اذھاب “ کے معنی لے جانا ہے اور اسی طرح ”تطہیر“ کے معنی پاک کر نا ہے اور یہ اس جگہ پر استعمال ہوتا ہے جہاں پر پہلے سے رجس وکثافت موجود ہو اور انھیں پاک کیا جائے ۔ اسی صورت میں ”اذھابکا اطلاق،رجس کو دور کر نااور تطھیر“ کااطلاق ”پاک کرنا“حقیقت میں صادق آسکتا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اہل بیت پہلے گناہوں سے آلودہ تھے لہذا اس آلود گی کو ان سے دور کیا گیا ہے اور انھیں اس آلودگی سے پاکیزہ قرار دیا گیاہے۔
جواب
جملہء( ليذهب عنکم الرجس ) میں لفظ ”اذھاب ‘ ‘لفظ ” عن“ سے متعدی ہوا ہے۔ اس کا معنی اہل بیت سے پلیدی اور رجس کو دور رکھنا ہے اور یہ ارادہ پہلے سے موجود تھا اور اسی طرح جاری ہے،نہ یہ کہ اس کے برعکس حال و کیفیت اہل بیت میں موجود تھی اور خداوند متعال نے ان سے اس حال و کیفیت )برائی) کو دور کیا ہے۔ اسی طرح اس سلسلہ میں تطہیر کا معنی کسی ناپاک چیز کو پاک کرنے کے معنی میں نہیں ہے بلکہ اہل بیت کے بارے میں اس کا مقصد ان کی خلقت ہی سے ہی انھیں پاک رکھنا ہے۔ اس آیہء کریمہ کے مانند( ولهم فیهاازواج مطهرة ) (۱) ” اور ان کے لئے وہاں)بہشت میں ) ایسی بیویاں ہیں جو پاک کی ہوئی ہوں گی“
”اذھاب “اور”تطھیر“کے مذکورہ معنی کا یقینی ہونا اس طرح ہے کہ اہل بیت کی نسبت خود پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی طرف یقینی ہے اوریہ بھی معلوم ہے کہ آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم ابتداء ہی سے معصوم تھے نہ یہ کہ آیہ تطہیر کے نازل ہونے کے بعد معصوم ہوئے ہیں۔جب آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں مطلب اس طرح ہے اور لفظ ”اذھاب“ و ”تطھیر“ آپ میں سابقہ پلیدی اور نجاست کے موجود ہونے کا معنی نہیں ہے، اہل بیت کے دوسرے افراد کے بارے میں بھی قطعی طور پر اسی طرح ہونا چاہئے۔ ورنہ”اذھاب“ و ”تطھیر“ کے استعمال کا لازمہ پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے خاندان کے بارے میں مختلف معنی میں ہوگا۔
تیسرا سوال
اس آیہء شریفہ میں کوئی ایسی دلالت نہیں ہے جس سے یہ معلوم ہو کہ یہ طہارت ، اہل بیت میں )آیہء تطہیر کے نازل ہونے سے پہلے) موجود تھی بلکہ آیت اس پر دلالت کرتی ہے کہ خدا وند متعال اس موضوع کا ارادہ کرے گا کیونکہ ”یرید“ فعل مضارع ہے اور مستقبل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
____________________
۱۔بقرہ/۲۵
جواب
اول یہ کہ:کلمہ ”یرید“ جو خداوند متعال کا فعل ہے، وہ مستقبل پردلالت نہیں کرتا ہے اور دوسری آیات میں اس طرح کے کا استعمالات اس مطلب کو واضح کرتے ہیں کہ جیسے کہ یہ آیات:( یریدالله لیبین لکم ویهديکم سنن الّذین من قبلکم ) (۱) اور( والله یرید اٴن یتوب عليکم ) (۲)
اس وصف کے پیش نظر آیت کے معنی یہ نہیں ہے کہ خداوند متعال ارادہ کرے گا، بلکہ یہ معنی ہے کہ خداوند متعال بد ستورارادہ رکھتا ہے اور ارادہ الہیٰ مسلسل جاری ہے۔
دوسرے یہ کہ اس ارادہ کا پیغمبر اکرم (ص)سے مربوط ہونا اس معنی کی تاکید ہے، کیونکہ آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں ایسا نہیں تھا کہ پہلے تطہیر کا ارادہ نہیں تھا اور بعد میں حاصل ہواہے۔ بلکہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم پہلے سے اس خصوصی طہارت کے حامل تھے اور معلوم ہے کہ آنحضرت (ص)کے بارے میں ”یرید“کا استعمال ایک طرح اور آپ کے اھل بیت کے لئے دوسری طرح نہیں ہوسکتا ہے۔
چوتھا سوال
احتمال ہے کہ ” لیذھب“ میں ”لام“ لام علت ہو اور ”یرید” کے مفعول سے مرادکچھ فرائض ہوں جو خاندان پیغمبرصلی الله علیہ وآلہ وسلم سے مربوط ہوں۔ اس حالت میں ارادہ تشر یعی اور آیت کے معنی یہ ہوں گے کہ خداوند متعال نے آپ اہل بیت سے مربوط خصوصی تکالیف اور فرائض کے پیش نظر یہ ارادہ کیا ہے تاکہ برائی اور آلودگی کو آپ سے دور کرے اور آپ کو پاک و پاکیزہ قرار دے، اس صورت میں آیت اہل بیت کی عصمت پر دلالت نہیں کرے گی۔
____________________
۱۔ سورہ نساء /۲۶
۲۔ سورہ نساء /۲۷
جواب
پہلے یہ کہ: ” یرید“ کے مفعول کا مخدوف اور پوشدہ ہونا خلاف اصل ہے اور اصل عدم پوشیدہ ہو نا ہے۔ صرف دلیل اور قرینہ کے موجود ہونے کی صورت میں اس اصل کے خلاف ہونا ممکن ہے اور اس آیت میں اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔
دوسرے یہ کہ : ”لےذھب“ کے لام کے بارے میں چند احتمالات ہیں ان میں سے بعض کی بنا پر ارادہ کا تکونےی ہونا اور بعض کی بنا پر ارادہ کا تشر یعی ہونا ممکن ہے لیکن وہ احتمال کہ جو آیت میں متعین ہے وہ ارادہ تکوینی سے ساز گار ہے۔ اس کی دلیل وہ اسباب ہیں جو ارادہ تکوینی کے اسبات کے سلسلہ میں پیش کئے گئے ہیں من جملہ یہ کہ ارادہ تشر یعی کا لازمہ یہ ہے اس سے اھل بیت کی کوئی فضیلت ثابت نہیں ہوتی، جبکہ آیہ ء کریمہ نے اھل بیت کی عظیم اور گراں بہا فضیلت بیان کی ہے جیسا مذکورہ احادیث اس کی دلیل ہیں۔
اس بنا پر آیہ شریفہ میں لام سے مراد’ ’ لام تعد یہ “ اور مابعدلام ”یرید“کا مفعول ہے۔ چنانچہ ہم قرآن مجید کی دوسری آیات میں بھی مشاہدہ کرتے ہیں کہ ”یرید“کبھی لام کے ذریعہ اور کبھی لا م کے بغیر مفعول کے لئے متعدی ہوتا ہے ۔ قرآن مجید میں اس قسم کے متعدد مثالیں پائی جاتی ہیں۔ ہم یہاں پرا ن میں سے دو آیتوں کی طرف اشارہ کرنے پر اکتفا کرتے ہیں :
۱ ۔( فلا تعجبک اٴموالهم ولااولادهم،إنّمایریداللهليعذبهم بهافی الحيوةالدّنیا ) ۔۔۔(۱) اور آیہ( ولا تعجبک اموالهم إنّمایریداللهاٴن يعذّبهم بها فی الدّنیا ) (۲) ۔ اس سورہ مبارکہ میں ایک مضمون کے باوجود ”یرید“ ایک آیت میں ” ان یعذبھم“ سے بلا واسطہ اور دوسری آیت میں لام کے ذر یعہ متعدی ہوا ہے۔
____________________
۱۔ سور ہء توبہ/۵۵ ۲۔سورہ توبہ/۸۵
۲ ۔( یرید ون اٴن يطفئوانوراللهباٴفواههم ویاٴبی اللهإلّا اٴن یتم نوره ولوکره الکافرون ) (۱) اور آیہء( یرید ون ليطفئوانورالله بافواههم واللهمتم نوره ولوکره الکافرون ) (۲) ایک آیت میں ”یریدون“ ، ”ان ےطفئو“ پربلا واسطہ اور دوسری آیت میں لام کے واسطہ سے متعدی ہوا ہے۔
پانچواں سوال
آیہ شریفہ میں ”اھل البیت “سے مراد فقط پنجتن نہیں ہیں بلکہ اس میں پیغمبر )صلی الله علیہ وآلہ وسلم) کے دوسرے رشتہ دار بھی شامل ہیں ۔ کیونکہ بعض احادیث میں آیا ہے کہ پیغمبر صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا عباس اور ان کے فرزند وں کو بھی ایک کپڑے کے نیچے جمع کیا اور فرمایا: ”ھو لاء اھل بیتی“ اور ان کے بارے میں دعا کی۔
جواب
اہل بیت کی تعدادکو پنجتن پاک یا چودہ معصومین علیھم السلام میں منحصر کر نے کے حوالے سے اس قدراحادیث وروایات مو جود ہیں کہ اس کے سامنے مذکورہ حدیث کا کوئی اعتبار نہیں رہ جاتاہے۔
اس کے علاوہ وہ حدیث سند کے لحاظ سے بھی معتبر نہیں ہے کیونکہ اس کی سند میں ”محمدبن یونسی“ ہے کہ جس کے بارے میں ابن حجر نے ابن حبان سے نقل کیا ہے کہ وہ حدیث جعل کرتا تھا۔ شا ئد اس نے ایک ہزار سے زیادہ جھوٹی حدیثیں جعل کی ہیں۔ ابن عدی نے اس
پر حدیث گھڑنے کا الزام لگا یا ہے۔(۳)
____________________
۱۔سورہ توبہ/۳۲
۲۔سورہ صف/۸
۳۔ تہذیب،ج،ص۵۴۲،طبع ھندوستان
اس کے علاوہ حدیث کی سند میں ” مالک بن حمزہ“ ہے کہ بخاری نے اپنی کتاب ” ضعفا“ میں اسے ضعیف راویوں کے زمرہ میں درج کیا ہے۔(۱)
اس کے علاوہ اس کی سند میں ” عبدالله بن عثمان بن اسحاق“ ہے کہ جس کے بارے میں ابن حجرنے عثمان کا قول نقل کیا ہے اور کہا ہے : میں نے ابن معین سے کہا: یہ راوی کیسا ہے؟ اس نے کہا : میں اسے نہیں پہچانتا ہوں اور ابن عدمی نے کہا : وہ مجہول اور غیر معروف ہے۔
اس صورت حال کے پیش نظر یہ حدیث کسی صورت میں مذکورہ احادیث کے ساتھ مقابلہ نہیں کرسکتی ہے۔
چھٹا سوال
ام سلمہ جب پیغمبر اکر مصلىاللهعليهوآلهوسلم سے سوال کرتی ہیں کہ: کیا میں بھی آپ کے اہل بیت میں شامل ہوں؟ تو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم فرماتے ہیں: ” انت الیٰ خیر“یا ” انت علیٰ خیر“ ّاس کے معنی یہ ہیں کہ تمھیں اس کی ضرورت نہیں ہے کہ تمھارے لئے دعا کروں ، کیونکہ تمھارے لئے پہلے ہی سے قرآن مجید میں آیت نازل ہوچکی ہیں اور جملہ ” انت علی خیر“ کے معنی یہ ہیں کہ تمھاری حالت بہترہے۔ یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ ام سلمہ اہلبیت میں داخل نہیں ہیں۔
جواب
سیاق آیت کے بارے میں کی گئی بحث سے نتےجہ حاصل کیا جاسکتا ہے کہ آیہ ء تطہیرکا سیاق اس سے پہلی والی آیتوں کے ساتھ یکسان نہیں ہے اور پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیویاں اہل بیت میں داخل نہیں ہیں۔
____________________
۱۔ م یز ان الاعتدال،ج۲،ص۳۲۵، دارالمعرفہ،بیروت
جملہء ”علی خیر“ یا ” الیٰ خیر“ اس قسم کے موارد میں افضل تفضیل کے معنی میں نہیں ہے اور اس امر کی دلیل نہیں ہے کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیویاں پنجتن پاک )علیہم السلام) سے افضل وبہتر ہوں۔ اس کے علاوہ خود ان احادیث میں اس مطلب کے بارے میں بہت سے قرآئن موجود ہیں ، من جملہ ام سلمہ آرزو کرتی ہیں کہ کاش انھیں بھی اجازت ملتی تاکہ اہل بیت کے زمرہ میں داخل ہوجاتیں اور یہ اس کے لئے ان تمام چیزوں سے بہترتھا جن پر سورج طلوع و غروب کرتا ہے۔
پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیویوں سے مربوط قرآن مجید کی آیتوں ، من جملہ آیہ ء تطہیر سے پہلی والی آیتوں اور سورئہ تحریم کی آیتوں کی شان نزول پر غور کرنے سے مذکورہ مطلب کی مکمل طور پر وضاحت ہوجاتی ہے۔ نمونہ کے طور پر سورہ تحریم کی درج ذیل آیتیں بیشتر تامل کی سزاوار ہیں۔
( إن تتو با إلی الله فقد صغت قلو بکما ) (۱) ( عسی ربه إن طلقکنّ اٴن یبد له اٴزواجاً خیراً منکنّ مسلمات مئومنات قانتات تائبات عبادات سائحات ثیبات واٴ بکاراً ) (۲) ( ضرب الله مثلاً للّذین کفرواامراٴة نوح و امراٴة لوط کانتا تحت عبدین من عبادنا صالحین فخانتا هما فلم يغنیا عنهما من الله شيئاً و قیل اد خلا النار مع الداخلین ) (۳)
ساتواں سوال
احادیث میں آیا ہے کہ پیغمبر خدا (ص)نے آیہ تطہیر کے نازل ہونے کے بعد اپنے خاندان کے حق میں یہ دعا کی: ”( اللّهم اٴ ذهب عنهم الّرجس و طهّرهم تطهّیرا ) “ ”خداوندا: ان سے رجس وپلیدی کو دور کر اور انھیں خاص طور سے پاک و پاکیزہ قرار
____________________
۱۔سورہ تحرم/۴
۲۔ سورہ تحریم/۵
۳۔سورہ تحریم /۱۰
دے“آیہ کریمہ سے عصمت کا استفادہ کرنے کی صورت میں اس طرح کی دعا منا فات رکھتی ہے، کیونکہ آیہ کریمہ عصمت پر دلالت کرتی ہے اور عصمت کے حاصل ہونے کے بعدان کے لئے اس طرح دعا کرنا تحصیل حاصل اور بے معنی ہے۔
جواب
اول یہ کہ: یہ دعا بذات خود اس امر کی واضح دلیل ہے کہ ان کے لئے اس طہارت کے بارے میں خداوند متعال کا ارادہ ارادہ تکوینی تھا نہ تشر یعی ۔ کیونکہ ” اذھاب رجس“ اور ”تطہیر “ کا خدا سے جو مطالبہ کیا گیا ہے وہ قطعاً ایک تشر یعی امر نہیں ہے اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دعا یقینا مستجاب ہے۔ اس لئے مذکورہ دعا آیہء تطہیر کے مضمون پر تاکید ہے۔
دوسرے یہ کہ عصمت ایک فیض اور لطف الہیٰ ہے جو خدا وند متعال کی طرف سے ان مقدس شخصیات کو ان کی زندگی کے ہرہر لمحہ عطا ہوتی رہتی ہے کیونکہ وہ بھی دوسری مخلوقات کے مانند ہر لمحہ خدا کے محتاج ہیں اور ایسا نہیں ہے کہ ایک لمحہ کی نعمت اور فےض الہیٰ انھیں دوسرے لمحہ کے فےض و عطیہ الہیٰ سے بے نیاز کردے۔
یہ اس کے مانند ہے کہ پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم جملہ ”( إهد نا الصراط المستقیم ) “کو ہمیشہ تلاوت فرماتے تھے اور اس ہدآیت کو خدا وندمتعال سے طلب کرتے رہتے تھے ،باوجود اس کے کہ وہ اس ہدآیت کے اعلیٰ ترین درجہ پر فائز تھے اور یہ تحصیل حاصل نہیں ہے بلکہ یہ اس بات پر دلیل ہے کہ بندہ چاہے جس مقام پر بھی فائز ہو وہ ذاتی طور پر خدا کا محتاج ہوتا ہے اور اس احتیاج کا اظہار کرنا اور خدا وندمتعال سے دوسرے لمحات میں نعمت و الطاف الہیٰ کی درخواست کرنا بندہ کے لئے بذات خود ایک کمال ہے۔
اس بات کا علم کہ خدا وندمتعال مستقبل میں اس نعمت کو عطا کرے گا ، دعا کے لئے مانع نہیں بن سکتا ہے،کیونکہ خدا وندمتعال ”اولواالباب“ کی دعا کو بیان کرتا ہے کہ وہ کہتے ہیں :( ربّنا وآتنا ما و عدتنا علی رسلک و لا تخذنا يوم القیامة إنّک ولا تخلف الميعاد ) (۱) ” پرور دگار جو تو نے اپنے رسولوں کے ذریعہ ہم سے وعدہ کیا ہے اسے ہمیں عطا کر اور روز قیامت ہمیں رسوانہ کر کیونکہ تو وعدہ کے خلاف نہیں کرتا “ ہم دیکھتے ہیں اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ خدا وند متعال وعدہ خلافی نہیں کرتا اور مو منین کو دیا گیا وعدہ حتماً پور کرے گا ، پھر بھی اس سے اس طرح دعا کرتے ہیں۔
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی اھل بیت کے حق میں دعا بھی اسی طرح ہے کہ طہارت اور عصمت الہیٰ اگر چہ انھیں حاصل تھی اور آئندہ بھی یہ نعمت ان کے شامل حال رہتی، لیکن یہ دعا اس کی طرف توجہ مبذول کرانے کے لئے ہے کہ باوجود اس کے کہ یہ اھل بیت (ع) اس عظمت و منزلت پر فائز ہیں لیکن ہمیشہ اپنے کو خدا کا محتاج تصور کرتے ہیں اور یہ خدا وندمتعال ہے کہ جو ہر لمحہ عظیم اور گرانقدرنعمت انھیں عطا کرتا ہے۔
اس لئے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی دعا خواہ آیہ ء تطہیر نازل ہونے سے پہلے ہو یا اس کے بعد ، ان کی عصمت کے منافی نہیں ہے ۔
آٹھواں سوال
انبیاء علیہم السلام کی عصمت وحی کے تحقط کے لئے ہے،انبیاء کے علاوہ کیا ضرورت ہے کہ ہم کسی کی عصمت کے قائل ہو ں؟
____________________
ا۔۷۱ سورہ آل عمران/۱۹۴
جواب
اول یہ کہ : ش یعہ عقیدہ کے مطابق مسئلہ امامت ، نبوت ہی کا ایک سلسلہ ہے اور یہ عہدہ نبوت کے ہم پلہ بلکہ اس سے بالاتر ہے۔(۱) امام ، مسئلہ وحی کے علاوہ بالکل وہی کردار ادا کرتا ہے جو پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم ادا کرتے تھے۔
اس لحاظ سے ش یعہ امامیہ کے نزدیک امام میں عصمت کا ہوناعقلی او ر نقلی دلیلوں کی بنیاد پر شرط ہے۔
دوسرے یہ کہ : عصمت کے لئے ملزم عقلی کا نہ ہونا اس کے عدم وجود کی دلیل نہیں بن سکتی ہے ۔ اس کی مزید وضاحت یہ ہے کہ: نبی اور امام کے لئے ، عقل لزوم عصمت کا حکم کرتی ہے اور ان کے علاوہ کسی اور کے لئے یہ حکم ثابت نہیں ہے۔ عصمت خدا کی ایک خاص نعمت ہے،خدا وندمتعال جسے چاہتا ہے اسے عطا کرتا ہے ۔ انبیاء اور ائمہ کی عصمت کے وجود پربرھان عقلی قائم ہے اور ان کے علاوہ اگر کسی کے لئے قرآن وسنت کی دلیل عصمت کو ثابت کرے تو اس پر یقین کرنا چاہئے اور آیہء تطہیر پیغمبر اسلام (ص)،ائمہ علیہم السلام اور حضرت زہراء سلام الله علیہا کی عصمت کی دلیل ہے۔
نواں سوال
حدیث ثقلین کے بارے میں صحیح(۲) مسلم کی روآیت کے مطابق پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کے صحابی زید بن ارقم نے پیغمبر اکرم (ص)سے روآیت کی ہے کہ آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: ”اٴنا تارک فيکم الثقلین: کتاب الله و اهل بیتی “ زیدبن ا رقم سے سوال ہو تا ہے: آنحضرت (ص)
____________________
۱۔ اس سلسلہ میں مصنف کی کتابچہ ” امامت ، حدیث غدیر ، تقلین اور منزلت کی روشنی ہیں“ کی طرف رجوع کیا جائے
۲۔ص یح ع مسلم، کتاب فضائل،باب فضائل علی بن ابطالب-
کے اہل بیت کون ہیں؟ کیا عورتیں )ازواج پیغمبر)بھی آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اہل بیت میں شامل ہیں؟جواب دیتے ہیں کہ : نہیں، سوال کرتے ہیں :پس آنحضرت کے اہل بیت کون ہیں؟جواب میں کہتے ہیں : آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اہل بیت وہ لوگ ہیں جن پر صدقہ حرام ہے۔ وہ علی ،عباس ،جعفر اورعقیل کی اولاد ہیں۔ اس بات کے پیش نظر اہل بیت کو کیسے پنجتن یا چودہ معصومین(ع)میں محدودکیا جا سکتا ہے؟
جواب
اول یہ کہ: یہ حدیث پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیویوں کو اہل بیت علیہم السلام کی فہرست سے خارج کرتی ہے۔
دوسرے یہ کہ :یہ حدیث بہت سے طرق سے نقل ہونے کے باوجود یزید بن حیان پراس حدیث کی سند کا سلسلہ منتہی ہوتا ہے اوریہ حدیث آیہ شریفہ اور دوسری بہت سی آحادیث کی دلالت سے مقابلہ کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے۔
تیسرے یہ کہ:بالفرض اگر اس کا صدور ثابت بھی ہو جائے تو بھی یہ ایک صحابی کا اجتہاد ہے اور یہ حجت نہیں بن سکتا۔
چوتھے یہ کہ: حدیث ثقلین بہت طریقوں سے زید بن ارقم سے نقل ہوئی ہے اور اس میں جملہء: ”ماإن تمسکتم لن تضلّوااٴبداً وإنّهمالن یفترقا حتّی یردا علیّ الحوض “ موجود ہے جو اہل بیت کی رہبری اور ان کے قرآن مجید سے لازم و ملزوم ہونے کو بیان کرتا ہے جو زیدبن ارقم کی مذکورہ تفسیر سے کسی بھی طرح سازگار نہیں ہے، کیونکہ مذکورہ تفسیر کی بنا پر خلفائے بنی عباس بھی اپنے تمام ترظلم و جرائم کے مرتکب ہونے کے باوجود اہل بیت کے زمرے میں شامل ہوجائیں گے اور یہ حدیث ثقلین کے الفاظ کے ساتھ سازگار نہیں ہے۔
دسواں سوال
بعض احادیث میں آیا ہے کہ جب ام سلمہ نے سوال کیا کہ : ” کیا میں بھی اہل بیت میں داخل ہوں ؟“ یا ” مجھے بھی ان کے زمرہ میں شامل کر لیجئے “ تو پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جواب دیا: ” ہاں انشاء الله“یا یوں فرمایا: ” انت من اھلی“ اس لئے نہیں کہا جاسکتا ہے کہ : اہل بیت پنجتن پاک میں منحصر ہیں؟
جواب
بیان کی گئی بہت سی حدیثوں سے کلمہ ” اہل بیت“ کی ایک خاص اصطلاح ہے جس کے مطابق صرف پنجتن پاک کا ان میں شامل ہونا اور دوسروں کی اس میں عدم شمولیت ثابت ہوتی ہے ۔ اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ سوال میں اشارہ کی گئی احادیث میں ”اھل “ یا ”اہل بیت“سے مراد اس کے لغوی معنی ہوں گے جس میں آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیویاں بھی شامل ہیں۔
ہم سوال میں اشارہ کی گئی احا دیث کے بارے میں اہل سنت کے فقہ و حدیث کے ایک امام، ابو جعفر طحاوی کے نظریہ کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔ طحاوی ان افراد میں سے ہیں جو آیہء شریفہ تطہیر میں ” اہل بیت “ کو پنجتن پاک علیہم السلام سے مخصوص جانتے ہیں اور پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ازواج کو اس آیہء شریفہ سے خارج جانتے ہیں ۔ انھوں نے اپنی کتاب ”مشکل آلاثار‘(۱) ‘ میں ایک ایسی حدیث نقل کی ہے جو اس بات پردلالت کرتی ہے کہ ام سلمہ نے کہا:”مجھے ان )اہل بیت) کے ساتھ شامل کر لیجئے تو“ پیغمبر اکر مصلىاللهعليهوآلهوسلم نے فرمایا: ” انت من اھلی“ ”تم میرے اہل میں سے ہو“ اس کے بعد طحاوی کہتے ہیں:
” فکان ذالک ممّا قد يجوز اٴن يکون إرادة اٴ نّها من اٴهله، لاٴنّها من
____________________
۱۔مشکل الاثار،ج۱،ص۳۳۳۔۳۳۲
اٴزواجه و ازواجه اهله“
ممکن ہے پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا مقصد یہ ہو کہ ام سلمہ آپ کی بیویوں میں سے ایک ہے اور آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیویاں آپ کے اہل ہیں۔
اس کے بعد طحاوی اس سلسلہ میں شاہد کے طور پر آٹھ حدیثیں نقل کرتے ہیں جو اس بات پر دلا لت کر تی ہیں کہ ام سلمہ آیہء تطہیر میں ” اہل بیت“ میں سے نہیں ہیں۔وہ مزید لکھتے ہیں :
” فدلّ ماروینا فی هذه الآثار ممّا کان رسول الله ( ص ) إلی اُمّ سلمة، ممّا ذکر نا فیهالم یرداٴنهاکانت ممّااُریدبه ممّافی الآیة المتلوة فی هذاالباب،واٴن المراد بما فیهاهم رسول الله صلىاللهعليهوآلهوسلم و علیّ و فاطمة والحسن والحسین دون ماسواهم“ (۱)
یہ حدیثیں دلالت کرتی ہیں کہ ام سلمہ ان اہل بیت میں سے نہیں ہیں کہ جن کی طرف آیہ ء تطہیر اشارہ کرتی ہے ۔اورآیہ ء تطہیر میں موجود ” اہل بیت “ سے مراد صرف رسول خداصلىاللهعليهوآلهوسلم ، علی وفاطمہ،حسن و حسین)علیہم السلام) ہیں۔
طحاوی کی نظر میں ایک اوراحتمال یہ ہے کہ ”انت اھلی“ کا مقصد یہ ہے کہ تم میرے دین کی پیروی کرنے کی وجہ سے میرے اہل میں شمار ہوتی ہو، کیونکہ حضرت نوح علیہ السلام کی داستان میں ان کا بےٹا ان کی اہل سے خارج ہے اور اس کے بارے میں کہا گیا :إنّه ليس من اٴهلک إنّه عمل غیر صالح (۲) اس سے استفادہ کیاجاسکتا ہے کہ جو صاحب )ایمان اور) عمل صالح ہیںوہ ان کے اہل ہیں۔
____________________
۱۔ مشکل ا لآثار، ج۱،ص۳۳۶
۲۔ سورئہ ہود/۴۶
طحاوی نے اس احتمال کو واثلہ کی حدیث بیان کرنے کے بعد پیش کیا ہے۔ واثلہ بھی ان صحابیوں میں سے ایک ہے، جس نے حدیث کساء کی روآیت کی ہے۔وہ اپنی روآیت میں پنجتن پاک کے کساء کے نیچے جمع ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے اور پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بیان کو نقل کرتا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”اٴللّهم هولاء اهل بیتی واهل بیتی احق “ اس کے بعد کہتا ہے:میں نے کہا : یا رسول الله کیا میں بھی آپ کے اہل بیت میں شامل ہوں ؟ فرمایا: ” تم میرے اہل سے ہو“۔
طحاوی اپنے بیان کو جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں:
” واثلہ کا ربط، ام سلمہ کی بہ نسبت پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے بہت دور کا ہے۔کیونکہ واثلہ )پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کے گھر کا ایک خادم ہے )بنی لیث کا ایک شخص ہے اور قریش میں شمار نہیں ہوتا ہے اور ام سلمہ ) پیغمبرصلىاللهعليهوآلهوسلم کی بیوی ) قریش سے ہیں۔ اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت (ص)واثلہ سے فرماتے ہیں : ” تم میرے اہل میں سے ہو“ لہذا اس کے یہ معنی ہیں کہ تم میرے دین کی پیروی کرنے کی خاطر اور مجھ سے ایمان رکھنے کے سبب ہم اھل بیت کے زمرہ میں داخل ہو۔
بیہقی نے بھی ” السنن الکبریٰ “(۱) میں واثلہ کی حدیث کو نقل کیا ہے اور کہاہے:
” وکانّه جعل فی حکم الاٴهل، تشبیها بمن يسحق هذاالابسم لا تحقيقاً“
”گویا اس حدیث میں واثلہ کو تشبیہ کے لحاظ سے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کے اہل کے حکم میں قرار دیاگیا ہے نہ اس لئے کہ وہ حقیقی طور پر اہل بیت کا مصداق تھا۔“
اس لئے بہت سی حدیثیں کہ جو اہل بیت کے دائرہ کو منحصر کرنے کے سلسلہ میں وارد ہوئی ہیں اس میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔
____________________
۱-السنن الکبریٰ ، ج۲،ص۵۲،دارالمعرفة،بیروت
گیارہواں سوال
آیہء( إنّما یرید الله ) اس آیت کے مانند ہے:( مایریدالله ليجعل عليکم من حرج ولکن یرید ليطهّرکم ولیتمّ نعمتة عليکم ) (۱) یعنی: ” خدا تمھارے لئے کسی طرح کی زحمت نہیں چاہتا ، بلکہ یہ چاہتا ہے کہ تمھیں پاک و پاکیزہ بنادے اور تم پر اپنی نعمت کو تمام کردے “اور اسی طرح آیہء( إنّما یرید الله ) اس آیت کے مانند ہے:( ليطهّرکم ويذهب عنکم رجز الشيطان ) (۲) یعنی ” تاکہ تمھیں پاکیزہ بنادے اور تم سے شیطان کی کثافت کو دور کردے “
اگر آیہء تطہیر عصمت پر دلالت کرتی ہے تو مذکورہ دو آیتوں کی بناپرہمیں بہت سارے اصحاب کی عصمت کے قائل ہونا چائیے۔
جواب
پہلافقرہ وہ ہے جو وضو کی آیت کے آخر میں آیا ہے۔ آیہ شریفہ یوں ہے:
( یا إیهاالّذین آمنواإذا قمتم إلی الصلوٰة فاغسلوا وجوهکم و اٴ یديکم إلی المرافق و اٴمسحوا برء وسکم و اٴرجلکم إلی الکعبین وإن کنتم جنباً فاطهّروا فتیمموا صعیداً طیباً فاٴمسحوا بو جوهکم واٴیديکم منه مایرید الله ليجعل عليکم من حرج ولکن یرید ليطهِّرکم و لیتم نعمته عليکم لولعلکم تشکرون ) (۳)
____________________
۱۔ سورہ مائدہ/۶
۲۔سورہ انفال/۱۱
۳۔ سورئہ مائدہ/۶
اس آیہء کریمہ میں خدا وند متعال وضو، غسل اور تیمم کا حکم بیان کرنے کے بعد فرما تا ہے: ”خدا وندمتعال ) ان احکام کی تشر یع سے ) تمھارے لئے کسی طرح کی زحمت نہیں چاہتا ہے، بلکہ یہ چاہتا ہے کہ تمھیں )وضویا غسل یا تیمم سے ) پاک و پاکیزہ بنادے“۔ یہ حدث پاک کرنا ہے جو وضو یا غسل یا تیمم سے حاصل ہوتاہے ، اور اس کا آیہ ء تطہیر کی مطلق طہارت تکوینی سے کوئی ربط نہیں ہے۔
دوسری آیت میں بھی ”رجز اللشیطان “یعنی شیطان کی نجاست سے مرا دوہ جنابت ہے جس سے جنگ بدر میں مسلمان دو چار ہوئے تھے اور خدا وندمتعال نے ان کے لئے بارش نازل کی اور انہوں نے بارش کے پانی سے غسل کیا اوراپنے جنابت کے حدث کو غسل سے برطرف کیا۔ اس آیت میں ایک خاص طہارت بیان کی گئی ہے اور اس طہارت کا تعلق ان صحابہ سے ہے جو جنگ بدر میں موجود تھے اور جنھوں نے بارش کے پانی سے غسل کرکے یہ طہارت حاصل کی تھی لہذا آیہ تطہیر سے استفادہ ہونے والی مطلق تکوینی طہارت سے اس کا کو ئی ربط نہیں ہے۔
ساتواں باب :
امامت آیہ ” علم الکتاب“ کی روشنی میں
( و یقول الّذین کفرو الست مرسلاً قل کفی بالله شهیداً بینی و بینکم ومن عنده علم الکتاب )
سورہ رعد/ ۴۳
” اور یہ کافر کہتے ہیں کہ آپ رسول نہیں ہیں تو کہدےجئے کہ ہمارے اور تمھارے درمیان رسالت کی گواہی کے لئے خدا کافی ہے اور وہ شخص کافی ہے جس کے پاس پوری کتاب کا علم ہے۔“
یہ آیہ شریفہ ان آیتوں میں سے ہے جن میں امیرالمئومنین حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں ایک بڑی فضیلت بلکہ احتجاج(۱) کی روآیت کے مطابق سب سے بڑی فضیلت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس لئے مناسب ہے اس کے معنی میں مزید غور وخوض کیا جائے۔
اس آیت میں پہلے کفار کی طرف سے پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کا انکار بیان کیا گیا ہے ۔ اس کے بعد آنحضرت صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کے دو گواہ ذکر کئے گئے ہیں ایک خدا وند عالم کی ذات اور دوسرے وہ کہ جس کے پاس کتاب کا علم ہے۔
آیت کی دلالت کو واضح کرنے کے لئے ضروری ہے کہ بحث کو درج ذیل دو محوروں پر جاری رکھا جا ئے
۱ ۔ خداوندمتعال کی گواہی کس طرح سے ہے؟
۲ ۔من عندہ علم الکتابسے مراد کون ہے؟
____________________
۱-مصباح الھدایة،ص ۴۳
خدا وند عالم کی گواھی:
اس آیہء شریفہ میں پیغمبر خدا صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی رسالت کے پہلے گواہ کے طور پر خدا وندمتعال کا ذکرہوا ہے۔ خدا وند متعال کی اس گواہی کے دوفرض ہیں:
۱ ۔ممکن ہے یہ گواہی قولی ہو اور گفتگو و کلام کے مقولہ سے ہو اس صورت میں وہی آیتیں جو آنحضرت کی رسالت کو بیان کرتی ہیں خداوندمتعال کی اس گواہی کی مصداق ہوں گی، جیسے :( والقران الحکیم انّک لمن المرسلین ) (۱) ” قرآن حکیم کی قسم آپ مرسلین میں سے ہیں“
۲ ۔ ممکن ہے یہ گواہی فعلی ہو اور خدا وندمتعال نے اسے معجزہ کی صورت میں پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ذر یعہ ظاہر کیا ہو، یہ معجزے آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رسالت کے سلسلہ میں دعویٰ کے لئے ایک قوی سند ، واضح دلیل اور گو یا گواہ ہیں، خاص کر قرآن مجید ، جو آنحضرتصلىاللهعليهوآلهوسلم کاایک لافانی معجزہ ہے اورہر زمانہ میں باقی رہنے والا ہے اوران معجزات کی حیثیت ایک طرح سے خداوندمتعال کے فعل کی سی ہے جو پیغمبر خداصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رسالت پر گواہ ہیں۔
من عندہ علم الکتاب - سے مرادکون ہے؟
دوسرے محورمیں بحث اس جہت سے ہوگی کہ ” کتاب“ سے مراد کیا ہے؟ اور جس کے پاس ” کتاب کا علم“ ہے ، وہ کون ہے؟ اس سلسلہ میں چند احتمالات پائے جاتے ہیں کہ ہم ان پر بحث کریں گے:
پہلا احتمال :” کتاب“سے مرادقرآن مجید سے پہلے نازل ہونے والی آسمانی کتابیں ہیں اور کتاب کے عالم سے مرادعلمائے یہودو نصاریٰ ہیں:
اس صورت میں اس آیہ شریفہ کے معنی یوں ہوں گے: ” کہدےجئے اے پیغمبر! ہمارے
_____________________
۱-۔ سورہ یاسین/۱۔۲
اورتمھارے درمیان رسالت کی گواہی کے لئے کافی ہے خدا وندمتعال اور وہ لوگ جن کے پاس گزشتہ آسمانی کتابوں کا علم ہے جیسے علمائے یہودونصاری چونکہ ان کتابوں میں پیغمبر)صلی الله علیہ وآلہ وسلم) کا نام آیا ہے اور آنحضرت کی رسالت بیان ہوئی ہے ۔ اسی لئے علمائے یہودو نصاری اس مطلب سے آگاہی رکھتے ہیں اور اس پر گواہ ہیں۔
یہ احتمال صحیح نہیں ہے، کیونکہ اگر چہ علمائے یہودونصاری اپنی آسمانی کتابوں کے عالم تھے ، لیکن وہ کافر تھے اور ہر گز اپنے خلاف گواہی دینے کے لئے حاضر نہیں تھے۔
دوسرا احتمال : ” کتاب “سے مراد وہی قرآن مجید سے پہلے نازل ہونے والی آسمانی کتابیں ہیں اور ان کے عالم سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا شمار پہلے علمائے یہودونصاری ٰ میں ہوا کر تا تھالیکن بعد میں اسلام قبول کرکے وہ مسلمان ہوگئے تھے، جیسے : سلمان فارسی ، عبدالله بن سلام اور تمیم الداری۔ یہ لوگ ایک جہت سے توریت اور انجیل جیسی گزشتہ آسمانی کتابوں کا علم رکھتے تھے اور ایک جہت سے آمادہ تھے تاکہ اسلام کی حقانیت اور پیغمبر اسلامصلىاللهعليهوآلهوسلم کی رسالت کے بارے میں جو کچھ انہیں معلوم ہے اس کی گواہی دیں۔
یہ احتمال بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ سورہ رعد اور من جملہ زیر بحث آیہء شریفہ جو اس سورہ کی آخری آیت ہے ، مکہ میں نازل ہوئی ہے اور مذکورہ افراد مدینہ میں مسلمان ہوئے ہیں۔ اس لئے اس کاکوئی مفہوم نہیں ہے جو ابھی کافر ہیں اور مسلمان نہیں ہوئے ہیں اپنے دین کے خلاف گواہی دینے کے لئے مدعو ہوجائیں۔
شبعی اور سعید بن جبیر سے نقل ہوئی روآیت کے مطابق انہوں نے بھی مذکورہ احتمال یعنی ” من عندہ علم الکتاب“ سے عبدالله بن سلام کو مراد لینا اس کو مسترد کر دیا ہے ۔ اس کی دلیل یہ پیش کی ہے کہ یہ سورہ مکی ہے اور عبداللهبن سلام مدینہ میں مسلمان ہوا ہے۔(۱)
تیسرا احتمال: ”من عنده علم الکتاب “ سے مقصود خداوندمتعال اور
____________________
۱۔ معالم التنزیل ، ج ۳-، ص ۴۶۴، ۴۶۵-۔ الاتقان ، ج ۱، ص ۳۶، دار ابن کثیر بیروت
”کتاب“سے مرادلوح محفوظ ہے اور ”من عند ه علم الکتاب “ کا ” الله“ پر عطف ہونا صفت کا اسم ذات پر عطف ہونے کے باب سے ہے۔ اس صورت میں معنی یوں ہوتا ہے: خداوندمتعال اور وہ شخص جو لوح محفوظ )جس میں تمام کائنات کے حقائق ثبت ہیں ) کا علم رکھتا ہے، وہ تمہاری رسالت پر گواہ ہے۔
اول یہ کہ : جملہء( قل کفی باالله شهیداً بینی و بینکم و من عنده علم الکتاب ) میں بظاہر عطف یہ ہے کہ ” من عندہ علم الکتاب“ خدا وندمتعال کے علاوہ ہے کہ جس کا ذکر ابتداء میں پہلے گواہ کے طور پرآیا ہے۔
دوسرے یہ کہ: عربی ادبیات میں صفت کا عطف ، صفت پر موصوف کے سلسلہ میں مشہور اور رائج ہے۔ قرآن مجید میں بھی اس قسم کا استعمال پایاجاتا ہے، جیسے :آیہء شریفہ :( تنزیل الکتاب من اللهالعزيز العلیم غافر الذّنب وقابل التوب ) (۱) میں ”غافرالذّ نب “)گناہ کو بخشنے والا) اور ”قابل التوب “ )توبہ کو قبول کرنے والا) دوصفتیں ہیں جو حرف عطف کے فاصلہ سے ایک دوسرے کے بعدہیں اور خدا وندمتعال کے لئے بیان ہوئی ہیں۔ لیکن جن مواقع پر پہلے اسم ذات ذکر ہوا ہے، کبھی بھی مشہور اور رائج استعمالات میں صفت اس پر عطف نہیں ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ : آیہ کریمہ میں ” من عندہ علم الکتاب“ سے مرادخدا وندمتعال ہے۔
چوتھا احتمال: کتاب سے مراد ” لوح محفوظ“ ہے اور ” جس کے پاس کتاب کا علم ہے اس سے مراد امیرلمومنین علی علیہ السلام ہیں۔
اب ہم اس احتمال پر بحث و تحقیق کرتے ہیں۔
____________________
۱۔ سورہ غافر/۲
لوح محفوظ اور حقائق ھستی
قرآن مجید کی متعدد آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کے تمام حقائق ایک مجموعہ کی شکل میں موجود ہیں کہ قرآن مجید نے اسے ” کتاب مبین“(۱) یا ” امام مبین“(۲) یا ” لوح محفوظ“(۳) کے نام سے تعبیر کیا ہے۔ من جملہ سورہ نمل میں فرماتا ہے:( وما من غائبة فی السّماء والارض إلّا فی کتاب مبین ) (۴) یعنی: اور آسمان و زمین میں کوئی پوشیدہ چیزایسی نہیں ہے جس کا ذکر کتاب مبین ) لوح محفوظ ) میں نہ ہو۔
اس بنا پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا لوح محفوظ میں درج شدہ حقائق سے آگاہی حاصل کی جاسکتی ہے؟ اور اگر یہ ممکن ہے تو کون لوگ ان حقائق سے با خبر اور آگاہ ہیں اور کس حد تک؟
مطھّرون اور لوح محفوظ سے آگاہی
اس سلسلہ میں ہم سورہ واقعہ کی چند آیتوں پر غوروخوض کرتے ہیں:
( فلا اٴُ قسم بمواقع النجوموإنّه لقسم لوتعلمون عظیم إنّه لقرآن کریمفی کتاب مکنون لایمسّه إلّا المطهّرون ) ) سورہ واقعہ/ ۷۵ ۔-- ۷۹)
ان آیات میں ، پہلے ستاروں کے محل و مدارکی قسم کھائی گئی ہے۔ اس کے بعد اس قسم کی عظمت و اہمیت پر زور دیا گیا ہے اور اس کی نشاندھی کی گئی ہے۔ اس نکتہ پرتو جہ کرنا ضروری ہے کہ قسم کا معیار اور اس کی حیثیت اس حقیقت کے مطابق ہونا چا ہئیے کہ جس کے متعلق یا جس کے
____________________
۱-۔ سورہ یونس/۶۱، سورہ سبا/۱۳، سورہ نمل/۷۵
۲۔ سورہ یسین/۱۲
۳۔ سورہ بروج/ ۲۲
۴۔ سورہ نمل/۷۵
اثبات کے لئے قسم کھائی جارہی ہے ۔ اگر قسم با عظمت اور بااہمیت ہے تو یہ اس حقیقت کی اہمیت کی دلیل ہے کہ جس کے لئے قسم کھائی گئی ہے۔
جس حقیقت کے لئے یہ عظیم قسم کھائی گئی ہے، وہ یہ ہے: - إنّہ لقرآن کریم فی کتاب مکنون لایمسّہ الّا المطھرون یعنی بیشک یہ بہت ہی با عظمت قرآن ہے جسے ایک پو شیدہ کتاب میں رکھاگیا ہے اسے پاک و پاکیزہ افراد کے علاوہ کوئی چھو بھی نہیں سکتا ہے۔ ) اس کے ساتھ رابطہ نہیں کرسکتا ہے۔)آیہ شریفہ کا یہ جملہ لا یمسّہ الّاالمطھرون بہت زیادہ قابل غور ہے۔
ابتدائی نظر میں کہاجاتا ہے کہ بے طہارت لوگوں کا قرآن مجید سے مس کرنا اور اس کے خط پر ہاتھ لگانا حرام ہے، لیکن اس آیہ شریفہ پر عمیق غور وفکر کرنے سے یہ اہم نکتہ و اضح ہو جاتا ہے کہ مس سے مراد مس ظا ہری نہیں ہے اور ” مطھرون“ سے مراد باطہارت )مثلاً باوضو) افراد نہیں ہیں ۔ بلکہ مس سے مراد مس معنوی )رابطہ) اور”مطھرون “ سے مرادوہ افراد ہیں جنہیں خدا وندمتعال نے خاص پاکیزہ گی عنآیت کی ہے، اور ”لایمسہ“ کی ضمیر کتاب مکنون )لوح محفوظ) کی طرف پلٹتی ہے ۔
آیہ کریمہ سے یہ معنی )مس معنوی) استفادہ کرنے کے لئے چند نکات کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے:
۱ ۔ جملہء ”لا یمسہ “ کا ظہور اخبار ہے نہ انشاء ، کیونکہ بظا ہر یہ جملہ دوسرے اوصاف کے مانند کہ جو اس سے قبل ذکر ہوئے ہیں، صفت ہے اور انشاء صفت نہیں بن سکتا ہے، جبکہ آیت میں غیر مطہرون کے مس سے حکم تحریم )حرمت) کا استفادہ اس بنا پر کیا جاتا ہے کہ جملہ ”لا یمسہ “ انشاء ہو ، نہ اخبار۔
۲ ۔ ” لایمسہ“ کی ضمیر بلا فاصلہ ” کتاب مکنوں“ کی طرف پلٹتی ہے ، کہ جو اس جملہ سے پہلے واقع ہے نہ قرآن کی طرف کہ جواس سے پہلے مذکور ہے اور چند کلمات نے ان کے درمیان فاصلہ ڈال دیا ہے۔
۳ ۔ قرآن مجید کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ ایک پوشیدہ اور محفوظ کتاب میں واقع ہے کہ جس تک عام انسانوں کی رسائی نہیں ہے اور یہ مطلب اس کے ساتھ مس کرنے سے کوئی تناسب نہیں رکھتا ہے۔
۴ ۔ طہارت شرعی ، یعنی وضو )جہاں پر وضو واجب ہو) یا غسل یا تیمم )جہاں پر ان کا انجام دینا ضروری وفرض)رکھنے والے کو ” متطھرّ“ کہتے ہیں نہ ”مطھّر“۔
اس تشریح سے واضح ہوجاتا ہے کہ جو کچھ جملہ ء ”( لا یمسه الّا المطهرون ) “ سے استفادہ ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ ” مطھر“ ) پاک قرار دئے گئے)افراد کے علاوہ کوئی بھی ”کتاب مکنون“ )لوح محفوظ) کو مس نہیں کرسکتا ہے، یعنی اس کے حقائق سے آگاہ نہیں ہوسکتا ہے۔
اب ہم دیکھتے ہیں کہ اس خصوصی طہارت کے حامل افراد کون لوگ ہیں اور ”مطھرون“ سے مرادکون لوگ ہیں کہ جو ” لوح محفوظ“ سے اطلاع حاصل کرتے ہیں؟
” مطھرون “سے مرادکون ہیں؟
کیا ” مطھرون“کی اصطلاح فر شتوں سے مخصوص ہے جیسا کہ بعض مفسرین نے اشارہ کیا ہے ۔(۱) یایہ کہ اس میں عمومیت ہے یعنی وہ افراد جو خدا کی جانب سے خصوصی طہارت کے حامل ہیں وہ بھی اس میں شامل ہو سکتے ہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس پر بحث کرنے کی ضرورت ہے:
حضرت آدم علیہ السلام کی خلقت ، اور خدا کی جانب سے انھیں جانشین مقرر کیا جا نا نیز
____________________
۱۔جیسے ” روح المعانی“ ج ۲۷،۱۵۴،دار احیاء التراث العربی، بیروت
”اسماء“الہی کا علم رکھنا یعنی ایک ایسی حقیقت سے آگاہی کہ جس کے بارے میں ملا ئکہ نے بھی لا علمی کا اظہار کیا۔ پھر حضرت آدم علیہ السلام کے لئے ملائکہ کو سجدے کا حکم دیناو غیرہ ان واقعات اور قرآنی آیات ۱ کا مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت معلوم ہو جاتی ہے کہ خاص علوم سے آگاہی اور تعلیم حاصل کرنے کی صلاحیت انسان کامل میں ملائکہ سے کہیں زیادہ ہے۔
مذکورہ ان صفات کے پیش نظر کوئی دلیل نہیں ہے کہ جملہ لا یمسہ الّا المطھرون کو فرشتوں سے مخصوص کیا جائے جبکہ قرآن مجید کے مطابق خدا کے ایسے منتخب بندے موجود ہیں جو خاص طہارت و پاکیزگی کے مالک ہیں۔
آیہ تطہیر اور پیغمبر کا محترم خاندان
( إنّمایریدالله ليذهب عنکم الرجس اٴهل البیت و یطهر کم تطهیرا )
) سورہ احزاب/ ۳۳)
” بس الله کا ارادہ ہے اے اہل بیت : کہ تم سے ہرطرح کی برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک و پاکیزہ رکھنے کا حق ہے“
یہ آیہ شریفہ دلالت کرتی ہے کہ پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا خاندان خدا وندمتعال کی طرف سے ایک خاص اور اعلی قسم کی پاکیزگی کا مالک ہے۔ آیہ کریمہ میں ” تطھیرا“ کا لفظ مفعول مطلق نوعی ہے جو ایک خاص قسم کی طہارت و پاکیزگی کو بیان کرتا ہے۔
ہم یہاں پر اس آیہ شریفہ سے متعلق مفصل بحث کرنا نہیں چاہتے، اس لئے کہ آیت تطہیر سے مربوط باب میں اس پر مکمل بحث گزر چکی ہے، اور اس کا نتےجہ یہ ہے کہ پیغمبر اکرم (ص)کے اہل بیت کہ جن میں سب سے نمایاں امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام ہیں، اس آیہ شریفہ کے مطابق خداکی طرف سے خاص طہارت و پاکیزگی کے مالک ہیں اور
____________________
۱۔ سورہ بقرہ/۳۴۔۳۰
”مطھرون“ میں شمار ہوتے ہیں ۔ وہ لوح محفوظ کے حقائق سے آگاہی رکھ سکتے ہیں۔
”آصف بر خیا“ اور کتاب کے کچھ حصہ کا علم
ہم جانتے ہیں کہ خدا وندمتعال نے حضرت سلیمان علیہ السلام کو ایک ایسی وسیع سلطنت عطا کی تھی کہ انسانوں کے علاوہ جناّت اور پرندے بھی ان کے تابع تھے ۔ ایک دن جب جن وانس ان کے گرد جمع تھے حضرت سلیمان نے ان سے کہا: تم میں سے کون ہے جو بلقیس کے مسلمان ہونے سے پہلے اس کے تخت کو میرے پاس حاضر کردے؟جنّات میں سے ایک عفریت نے سلیمان نبی سے کہا:قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھے ہیں تخت کو آپ کے پاس حاضر کردوں گا۔ قرآن مجید فرماتا ہے(۱) ” کتاب کے کچھ حصہ کا علم رکھنے والے ایک شخص نے کہا: میں اتنی جلدی تخت بلقیس کو آپ کے پاس حاضر کردوں گا کہ آپ کی پلک بھی جھپکنے نہیں پائے گی اور اسی طرح اس نے حاضر کیا ۔
جیسا کہ مفسرین نے بیان کیا ہے کہ یہ کتاب ” لوح محفوظ “ہے اور ش یعہ و سنی احادیث کے مطابق مذکورہ شخص حضرت سلیمان کا وزیر ” آصف بر خیا“ تھا ۔ قرآن مجید سے استفادہ ہوتا ہے آصف کی یہ غیر معمولی اور حیرت انگیز طاقت وصلاحیت کتاب )لوح محفوظ) کے کچھ حصہ کا علم جاننے کے سبب تھی۔
واضح رہے کہ طہارت و پاکیزگی کے چند مراحل ہیں۔ جس قدر طہارت کامل تر ہوگی اسی اعتبار سے علم وقدرت میں بھی اضا فہ ہو گا۔
جب ہمیں آیہ کریمہ( لا یمسّه إلا المطهرون ) سے یہ معلوم ہوگیا کہ لوح محفوظ کے حقایق کا علم خدا کی خاص طہارت کے نتیجہ میں حاصل ہوتا ہے اور آیہ تطہیر نے اس خاص طہارت اور پاکیزگی کو اہل بیت علیہم السلام کے لئے ثابت کیا ہے، وہ بھی ایک ایسی تطہیر جو
____________________
۱۔سورہ نمل/۴۰
۲۔کچھ اردو قوال بھی ہیں کہ تفاسیر کی طرف رجوع کرنا چاہئے
پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی تطہیر کے ہم پلہ ہے۔لہذا ان صفات کے پیش نظربعید نہیں ہے کہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام اور دوسرے ائمہ معصومین) علیہم السلام) لوح محفوظ کے تمام حقائق کا علم رکھتے ہوں اس لئے ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ ثعلبی کہ جو اھل سنت(۱) کے نزدیک تفسیر کے استاد نیزحافظ اور امام کے لقب سے یاد کئے جاتے ہیں اور اہل سنت کے ائمہ رجال(۲) کے مطابق جن کی روایتیں صحیح اورقابل اعتماد جانی جاتیں ہیں ، تفسیر”الکشف و البیان“(۳) میں اور حاکم حسکانی(۴) تفسیر شواہد التنزیل(۵) میں ، ابوسعید خدری، عبداللہ بن سلام اور ابن عباس جیسے چند اصحاب سے روایت کرتے ہیں کہ ”من عندہ علم الکتاب“سے مراد امیر المومنین علی، علیہ السلام ہیں۔
بلکہ ابو سعیدخدریاور عبداللهبن سلام سے نقل کیا گیا ہے کہ انہوں نے پیغمبر اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم سے سوال کیا کہ ” من عندہ علم الکتاب“سے مراد کون ہے؟ جواب میں پیغمبر (ص)نے علی علیہ السلام کو” من عندہ الکتاب“کے مصداق کے طور پر پیش کیا۔ اسی مطلب کو )من عندہ علم الکتاب،سے مرادعلی علیہ السلام ہیں)سعید بن جبیر ،ابی صالح نیزمحمد بن حنفیہ سے بھی نقل کیا گیا ہے۔
اسی طرح کئی طریقوں سے نقل کیا گیا ہے کہ عبدالله بن عطاء کہ جو امام باقر علیہ السلام کے ہمراہ تھے، جب انھوں نے عبدالله بن سلام کے بیٹے کو دیکھا تو امام باقر علیہ السلام سے سوال کیا: کیا یہ )عبداللهبن سلام کا بیٹا) اس شخص کا بیٹا ہے جس کے پاس کتاب کا علم تھا؟ حضرت نے فرمایا: نہیں،”من عندہ علم الکتاب“سے مراد )عبداللهبن سلام نہیں ہے، بلکہ) امیر
____________________
۱۔اہل سنت کے علم رجال کے جلیل القدرامام ذہبی نے ” سیر اعلام النبلاء“ ج۱۷، ص۴۳۵ میں ثعلبی کے بارے میں کہا ہے : ” الامام الحافظ العلامة شیخ التفسیر“، ۲۔ عبدالغافر نیشابوری کتاب” تاریخ نیشاپوری“ ص۱۰۹ میں اس کے بارے میں کہتا ہے: الثقة الحافظو ہو صحیح النقل موثوق بہ، ۳۔ الکشف وا لبیان، ج۵، ص ۳۰۳۔۳۰۲، داراحیا التراث العربی، بیروت، ۴۔ذہبی کی عبادت کو ہم نے آیہ صادقین کی تفسیر میں اس کے متقن، محکم اسناد کے عالی ہونے کے سلسلہ میں ذکر کیا ہے۔ ملاحظہ ہو ۵۔” شواہد التنزیل“ با تحقیق شیخ محمد باقر محمود، ج۱، ص۴۰۰
المؤمنین علی بن ابیطالب علیہ السلام ہیں۔
اس کے علاوہ ابن شہر آشوب(۱) نے اپنی ”کتاب مناقب(۲) “ میں کہا ہے:
” محمدبن مسلم، ابوحمزہ ثمالی اور جابربن یزید نے امام باقر(علیہ السلام) سے اسی طرح علی بن فضل،فضیل بن یسار اور ابو بصیر نے امام صادق(علیہ السلام) سے نیز احمد بن محمدحلبی اور محمد بن فضیل نے امام رضا(علیہ السلام) سے روایت نقل کی ہے اور اس کے علاوہ موسی بن جعفر(علیہ السلام)، زیدبن علی، محمد بن حنفیہ، سلمان فارسی، ابوسعید خدری اور اسماعیل سدی سے روایت کی گئی ہے کہ انہوں خداوند متعال کے قول:( کل کفی بالله شهیداً بینی و بینکم و من عنده علم الکتاب ) کے بارے میں کہا ہے کہ:”من عندہ علم الکتاب“سے مراد علی بن ابیطالب (علیہ السلام) ہیں۔“
شیعہ احادیث میں مختلف طریقوں سے آیا ہے کہ ” من عندہ علم الکتاب“سے مراد امیرالمومنین علی علیہ السلام اور دوسرے ائمہ معصو مین علیہم السلام ہیں۔ نمونہ کے طور پر مندرجہ ذیل حدیث پر غور فرماہئے: ثقة الاسلام کلینی نے اصول کافی(۳) میں معتبر سند سے بریدبن معاویہ سے کہ جو امام باقر علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے روایت کی ہے انھوں نے حضرت سے عرض کی:”آیہ کریمہ( قل کفی بالله شهیداً بینی و بینکم و من عنده علم الکتاب ) میں ”من عندہ علم الکتاب“ سے مراد کون ہے؟حضرت نے فرمایا:اس سے صرف ہم اھل بیت معصومین(ع) کا قصد کیا گیا ہے اور علی ) علیہ السلام) پیغمبراکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کے بعدسب سے مقدم اورہم میں افضل ترین فرد ہیں۔
____________________
۱۔ ہم نے آیہ صادقین کی تفسیر میں اس )شہر آشوب) کی صداقت کے بارے میں ابن ابی طما کی زبانی زہبی کی ستائش بیان کی ہے۔
۲۔ مناقب، ابن شہر آشوب، ج۲، ص۲۹، موسسہ انتشارات علامہ قم،
۳۔ اصول کافی، ج۱،ص۱۷۹
احادیث میں جس کے پاس کتاب کا علم ہے)علی بن ابیطالب علیہ السلام اور دوسرے ائمہ معصومین) اور جس کے پاس کتاب کا کچھ علم موجود ہے)آصف برخیا) کے در میان دلچسپ موازنہ کیا گیا ہے:
عن اٴبی عبد الله قال: ” الذي عنده علم الکتاب“ هو امیرالمؤمنین - علیه السلام - و سئل عن الذي عنده علم من الکتاب اٴعلم اٴم الذي عنده علم الکتاب؟ فقال: ما کان علم الّذي عنده علم من الکتاب عند الذي عنده علم الکتاب إلّا بقدر ما تاٴخذ البعوضة بجناحها من مائ البحر(۱)
یعنی: امام صادق) علیہ السلام) نے فرمایا:
”جس کے پاس کتاب کا علم تھا علی بن ابیطالب(علیہ السلام) تھے۔ سوال کیا گیا: کیا وہ شخص جس کے پاس کتاب کا کچھ علم تھا یعنی آصف برخیازیادہ عالم تھا یا وہ جس کے پاس مطلق کتاب کا علم تھا)یعنی حضرت علی علیہ السلام)امام نے فرمایا:جس کے پاس کتاب کا تھوڑا ساعلم تھا،اس کاموازنہ اس شخص سے کہ جس کے پاس مطلق کتاب کا علم تھا ایسا ہے جیسے مچھرکے بھیگے ہوئے پر کا موازنہ سمندرسے کیاجائے۔“
یہ بحث وگفتگواس بناپرتھی کہ جب”من عندہ علم الکتاب“میں ”کتاب“سے مرادلوح محفو ظ ہو۔لیکن اگر”الکتاب“سے مرادجنس کتاب ہو،اس بنا پرکہ” الف ولام“جنس کے لئے ہے اور کوئی خاص چیز مد نظرنہ ہوتوہرکتاب اس میں شامل ہو سکتی ہے حتی لوح محفوظ بھی اس کے مصادیق میں سے ایک ہوگا،اس میں گزشتہ آسمانی کتابیں اور قرآن مجید سبھی شامل ہیں۔
____________________
۱۔ نورالثقلیب،ج۴،ص۸۸۔۸۷
اس صورت میں بھی”من عندہ علم الکتاب“سے مرادحضرت علی علیہ السلام ہی ہوں گے کیونکہ حضرت کالوح محفوظ کے حقائق سے آگاہ ہونا آیہ کریمہ”( لایمسه الّا المطهرون ) “کوآیہ تطہیرکے ساتھ ضمیمہ کرنے سے معلوم ہوجا تا ہے،اورحضرت کاقرآن مجید کے تمام ابعاد سے واقف ہو نابہت سی دلیلوں من جملہ حدیث ثقلین(۱) کے ذریعہ ثابت ہے۔
اس لئے اس حدیث شریف میں آیا ہے کہ پیغمبراکرم )صلی الله علیہ و آلہ وسلم )کے اہل بیت )علیہم السلام)ہرگزقرآن مجید سے جدا نہیں ہوں گے اور یہ حضرت علی علیہ السلام کے قرآن مجید کے تمام علوم سے آگاہی رکھنے کی دلیل ہے۔ کیونکہ اگرحضرت قرآن مجید کے کسی پہلوکو نہیں جانتے ہیں تو گو یاوہ اس اعتبار سے قرآن مجید سے اتنا دور ہو گئے ہیں اور یہ حدیث میں بیان کئے گئے مطلب کے خلاف ہے۔
آسمانی کتا بوں کے متعلق حضرت علی علیہ السلام کے علم کے بارے میں شیعہ اور اہل سنت کی احا دیث کی کتا بوں میں ایا ہے، من جملہ مندرجہ ذیل حدیث سے جوخود حضرت سے نقل کی گئی ہے:
”لو ثنّیت لي الوسادة لحکمت بین اٴهل التوراة بتوراتهم، و بین اٴهل الإنجیل بإنجیلهم، و بین اٴهل الزبور بزبورهم “(۲)
”اگر میرے لئے مسند قضا بچھادی جائے تو میں اہل توریت کے لئے توریت سے، اہل انجیل کے لئے انجیل سے اور اہل زبو ر کے لئے زبور سے فیصلہ کروں گا۔“
____________________
۱۔ سنن الترمذی،ج۵ص۶۲۲ مسنداحمد،ج۳،ص۱۴،۱۷،۲۶،۹۵وج۵،ص۱۸۹۔۱۸۸خصائص امیرالمؤمنین علی نسائی ص ۸۵۔۸۴
۲۔فرائد السمطن،ج۱،ص۳۴۱۔۹۳۳۔شواہد التنزیل ج۱،ص۳۶۶،ح۳۸۴
منابع کی فہرست
(الف)
۱ ۔القرآن الکریم
۲ ۔ الاتقان،سیوطی، ۹۱۱ ئھ-،دار ابن کثیر، بیروت، لبنان
۳ ۔ احقاق الحق، قاضی سید نورالله تستری، شہادت ۱۰۱۹ ئہ-
۴ ۔ احکام القرآن، جصاص،ت ۷۳۰ ئہ-، دارالکتاب العربی، بیروت
۵ ۔ احکام القرآن، ابوبکر ابن العربی المعافري، ت ۵۴۶ ئہ-
۶ ۔ اربعین، محمد بن ابی الفوارس، مخطوط کتابخانہ آستان قدس، رقم ۸۴۴۳
۷ ۔ ارجح المطالب، عبدالله الحنفي، ت ۱۳۸۱ ئہ-، طبع لاہور )بہ نقل احقاق الحق)
۸ ۔ ارشاد العقل السلیم، ابو السعود، ت ۹۵۱ ء، داراحیاء التراث العربی،بیروت، لبنان
۹ ۔ اسباب النزول،و احدی النیسابوری، ت ۴۶۸ ئہ-، دارالکتاب العلمیة، بیروت، لبنان
۱۰ ۔ اسد الغابة فی معرفة الصحابة، ابن اثیر،ت ۶۳۰ ئہ- داراحیائ التراث العر بی،بیروت،لبنان
۱۱ ۔ الإصابة فی تمییز الصحابة، احمد بن علی، ابن حجر عسقلانی،ت ۸۵۲ ئہ-، دارالفکر
۱۲ ۔ اضوائ البیان،شنقیطی،ت ۳۹۳ ئہ-، عالم الکتب، بیروت
۱۳ ۔اعیان الشیعة، سیدمحسن الامین، ت حدود ۱۳۷۲ ئہ-،دارالتعارف للمطبوعات، بیروت
۱۴ ۔ الامامة و السیاسة، ابن قتیبة دینوری، ت ۲۷۶ ء ہ-، منشورات الشریف الرضی،قم
۱۵ ۔انساب الاشراف،احمد بن یحیی بلاذری،ت ۲۷۹ ئہ-،دارالفکر
۱۶ ۔ایضاح المکنون، اسماعیل باشا،ت ۴۶۳ ئہ-، دارالفکر
(ب)
۱۷ ۔ بحار الانوار، محمد باقر مجلسی، ت ۱۱۱۱ ئہ- مؤسسة الوفاء، بیروت
۱۸ ۔ بحر العلوم، نصر بن محمد سمرقندی، ت ۳۷۵ ئہ-، دارالکتب العلمیة،بیروت
۱۹ ۔ البحر المحیط، ابوحیان اندلسی، ت ۷۵۴ ء،المکتبة التجاریة
احمد الباز، مکة المکرمة
۲۰ ۔ البدایة و النہایة، ابن کثیر الدمشقی،ت ۷۷۴ ئہ-،دارالکتب العلمیة، بیروت
۲۱ ۔ البرہان، سید ہاشم بحرانی، ت ۱۱۰۷ ئہ-، مؤسسہ مطبوعاتی اسماعیلیان
۲۲ ۔ البہجة المرضیة، سیوطی، ت ۹۱۱ ئہ-، مکتب المفید)ت)
۲۳ ۔ التاج الجامع للاصول، منصور علی ناصف، ت ۱۳۷۱ ئہ-، دار احیائ التراث العربی، بیروت
۲۴ ۔ تاج الفردوس، محمد مرتضی حسینی زبیدی، ت ۱۲۵۰ ء ہ-، دار الہدایة للطباعة والنشر و التوزیع، دارمکتبة الحیاة، بیروت
۲۵ ۔ تاریخ الاسلام، شمس الدین ذہبی، ت ۷۴۸ ئہ-، دارالکتاب العربی
۲۶ ۔ تاریخ بغداد، احمد بن علی خطیب بغدادی، ت ۴۶۳ ء ہ-، دارالفکر
۲۷ ۔ تاریخ طبری، محمد بن جریر طبری،ت ۳۱۰ ئہ-، مؤسسة عزالدین للطباعة والنشر، بیروت، لبنان
۲۸ ۔ تاریخ مدینة دمشق، ابن عساکر، ت ۵۷۱ ئہ-، دارالفکر، بیروت
۲۹ ۔ تاریخ نیسابور، عبدالغافر نیشابوری،ت ۵۲۹ ہ-
۳۰ ۔ تذکرة الحفّاظ، ذہبی، ت ۷۴۸ ئہ-، دارالکتب العلمیة، بیروت، لبنان
۳۱ ۔ تذکرة الخواص، سبط بن جوزی ت ۶۵۴ ئہ-، چاپ نجف
۳۲ ۔التسہیل لعلوم التنزیل، ابن حزی الکلبی، ت ۲۹۲ ئہ-، دارالکتاب العربی، بیروت
۳۳ ۔ تفسیر ابن ابی حاتم، عبد الرحمن بن محمد بن ادریسی الرازی، ت ۳۲۷ ہ-، المکتبة المصریة، بیروت
۳۴ ۔ تفسیر البیضاوی، قاضی بیضاوی،ت ۷۹۱ ئہ-
۳۵ ۔ تفسیر الخازن )لباب التاویل)، علاء الدین بغدادی، ت ۷۲۵ ئہ-، دارالفکر
۳۶ ۔ تفسیر علی بن ابراہیم قمی، متوفی اواخر قرن سوم ہ-، مطبعہ نجف
۳۷ ۔ تفسیر القرآن العظیم، ابن کثیر، ت ۷۷۴ ئہ-، دارالمعرفة، بیروت
۳۸ ۔ التفسیر الکبیر، فخر رازی، ت ۶۰۶ ئہ-، دار احیائ التراث العربی بیروت، لبنان
۳۹ ۔ تفسیر الماوردی، محمد بن حبیب ماوردی بصری، متوفی ۴۵۰ ہ-، دارالمعرفة، بیروت
۴۰ ۔ تفسیر النسفی )مدارک التنزیل وحقائق التاویل) حاشیہ تفسیر خازن، عبدالله النسفی،ت ۷۱۰ ئہ-، دارالفکر
۴۱ ۔ تفسیر المنار، رشید رضا،ت ۱۳۵۴ ئہ-، دارالمعرفة، بیروت
۴۲ ۔ تلخیص المستدرک، ذہبی، ت ۷۴۸ ئہ-،دارالمعرفة، بیروت
۴۳ ۔ تہذیب التہذیب، ابن حجر عسقلانی، ت ۸۵۲ ئہ-، دارالفکر
۴۴ ۔تہذیب الکمال، مزّی، ت ۷۴۲ ئہ-، مؤسسة الرسالة، بیروت
(ج)
۴۵ ۔جامع الاحادیث، سیوطی،ت ۹۱۱ ئہ-، دارالفکر
۴۶ ۔جامع البیان، محمد بن جریر طبری، ت ۳۱۰ ئہ-، دارالمعرفة، بیروت، لبنان
۴۷ ۔جامع احکام القرآن، قرطبی، ت ۶۷۱ ئہ-،دارالفکر
۴۸ ۔ الجامع الصحیح الترمذی، محمد بن عیسی ت ۲۷۹ ئہ-، دارالفکر
۴۹ ۔جمع الجوامع، سیوطی، ت ۹۱۱ ئہ-
۵۰ ۔جمہرةاللغة،ابن درید،ت ۳۲۱ ئہ-
۵۱ ۔الجواہر الحسان ابوزید الثعالبی ت ۸۷۶ ء ہ-، داراحیاء التراث العربی، بیروت
۵۲ ۔ جواہر العقدین، سمہودی، ت ۹۱۱ ئہ-، دارالکتب العلمیة، بیروت
(ح)
۵۳ ۔الحاوی للفتاوی سیوطی، ت ۹۱۱ ئہ-، مکتبة القدس قاہرة)بہ نقل احقاق الحق)
۵۴ ۔حاشیة الشہاب علی تفسیر البیضاوی احمد خفاجی مصری حنفی، ت ۱۰۶۹ ئہ-،دار احیائ التراث العربی، بیروت
۵۵ ۔حاشیہ الصاوی علی تفسیر الجلالین، شیخ احمد الصاوی المالکی، ت ۱۲۴۱ ئہ-، دارالفکر
۵۶ ۔حلیة الاولیاء، ابونعیم اصفہانی، ت ۴۳۰ ئہ-، دارالفکر
(خ)
۵۷ ۔ خصائص امیرالمؤمنین علیہ السلام، احمد بن شعیب نسائی ت ۳۰۳ ئہ-، دارالکتاب العربی
۵۸ ۔خصال، محمد بن علی بن بابویہ قمی)صدوق)، ت ۳۸۱ ئہ-، دفتر انتشارات اسلامی
(س)
۵۹ ۔سفینة البحار، شیخ عباس قمی ت ۱۳۵۹ ئہ-، انتشارات کتابخانہ محمودی
۶۰ ۔السنن الکبری، ابوبکر احمد بن حسین بیہقی، ت ۴۵۸ ئہ-، دارالمعرفة، بیروت، لبنان
۶۱ ۔السنن الکبری، نسائی، ت ۳۰۳ ئہ-، دارالکتب العلمیة، بیروت
۶۲ ۔سیر اعلام النبلاء، ذہبی، ت ۷۴۸ ئہ-، مؤسسة الرسالة، بیروت، لبنان
۶۳ ۔ السیرة النبویة و الآثار المحمدیة )حاشیة السیرة الحلویة)، سیدزینی دحلان، ت ۱۳۰۴ ئہ-، دار احیائ التراث العربی، بیروت، لبنان
۶۴ ۔ السیرة النبویة، ابن ہشام،ت ۲۱۸ ئہ-، داراحیاء التراث العربی، بیروت، لبنان
(ش)
۶۵ ۔شرح التجرید، قوشجی، ت ۸۷۹ ئہ-
۶۶ ۔شرح السنة، بغوی، ت ۵۱۰ ئہ-، المکتب الاسلامی، بیروت
۶۷ ۔ شرح المقاصد، تفتازانی، ت ۷۹۳ ئہ-،منشورات الشریت الرضی
۶۸ ۔شرح المواقف،جرجانی،ت ۸۱۲ ئئئہ-، منشورات الشریف الرضی
۶۹ ۔ شرح التنزیل، حاکم حسکانی، ت اواخر القرن الخامس، مؤسسة الطبع و النشر
(ص)
۷۱ ۔صحاح اللغة، جوہری، ت ۳۹۳ ئہ-
۷۲ ۔صحیح ابن حبان، محمد بن حبان بستی، ت ۳۵۴ ئہ-، مؤسسة الرسالة
۷۳ ۔ صحیح بخاری، محمد بن اسماعیل بخاری، ت ۲۵۶ ئہ-، دارالقلم، بیروت، لبنان-دارالمعرفة، بیروت،لبنان
۷۴ ۔ صحیح مسلم، مسلم بن حجاج نیشابوری، ت ۲۶۱ ئہ-، مؤسسة عز الدین للطباعة و النشر، بیروت، لبنان
۷۵ ۔ الصلاة و البشر،فیروز آبادی ،ت ۸۱۷ ئھجری دارالکتب العلمیہ،بیروت،لبنان۔
۷۶ ۔الصواعق المحرقة، ابن حجر ہیتمی،ت ۹۵۴ ئہ-،مکتبة القاہرة
(ط)
۷۷ ۔ الطبقات الکبری، ابن سعد، ت ۲۳۰ ئہ-،داربیروت للطباعة والنشر
۷۸ ۔ الطرائف، علی بن موسی بن طاووس،ت ۶۶۲ ئہ-، مطبعة الخیام،قم
(ع)
۷۹ ۔العمدة، ابن بطریق، ت ۵۳۳ ئہ-، مؤسسة النشرالاسلامی
۸۰ ۔عوالم العلوم، سید ہاشم بحرانی، ت ۱۱۰۷ ئہ-، مؤسسة الامام المہدی علیہ السلام
۸۱ ۔عیون خبارالرضا، صدوق، ت ۳۸۱ ئہ-
(غ)
۸۲ ۔غایة المرام، سید ہاشم بحرانی،ت ۱۱۰۷ ئہ-
۸۳ ۔غرائب القرآن،نیشابوری ت ۸۵۰ ئہ-، دارالکتب العلمیة بیروت
۸۴ ۔فتح الباری، ابن حجر العسقلانی، ت ۸۵۲ ئہ-
۸۵ ۔ فتح القدیر، شوکانی، ت ۱۲۵۰ ئہ-، داراکتاب العلمیة بیروت لبنان
۸۶ ۔فرائد السمطین، ابراہیم بن محمد بن جوینی،ت ۷۲۲ ئہ-، مؤسسة المحمودی للطباعة والنشر، بیروت
۸۷ ۔الفصول المہمة، ابن صباغ مالکی،ت ۸۵۵ ئہ-
۸۸ ۔فضائل الصحابة، سمعانی، ت ۵۶۲ ئہ-
(ق)
۸۹ ۔القاموس المحیط، فیروزآبادی،ت ۸۱۷ ئہ-، دارالمعرفة، بیروت
۹۰ ۔قواعد فی علوم الحدیث، ظفر احمد تہانوی شافعی، تحقیق ابوالفتاح ابوغدة
(ک)
۹۱ ۔ الکافی، کلینی، ت ۳۲۹ ئہ-، دارالکتب الاسلامیة
۹۲ ۔کتاب الثقات، ابن حبان، ت ۳۵۴ ء ہ-، مؤسسة الکتب الثقافیة، بیروت
۹۳ ۔کتاب العین، خلیل بن احمد فراہیدی، ت ۱۷۵ ئہ-، مؤسسة دارالہجرة
۹۴ ۔الکشاف، زمخشری، ت ۵۸۳ ئہ-، دارالکتاب العربی، بیروت
۹۵ ۔الکشف و البیان، ثعلبی نیسابوری، ت ۴۲۷ ئیا ۴۳۷ ئہ-، داراحیائ التراث العربی،بیروت، لبنان
۹۶ ۔ کفایة الطالب، محمد بن یوسف گنجی شافعی، ت ۶۵۸ ئہ-، داراحیائ تراث اہل البیت
۹۷ ۔کمال الدین، محمد بن علی بن بابویہ، ت ۳۸۱ ئہ-
۹۸ ۔کنز العمال، متقی ہندی، ت ۹۷۵ ئہ-، مؤسسة الرسالة، بیروت
(ل)
۹۹ ۔اللباب فی علوم الکتاب، عمر بن علی بن عادل الدمشقی الحنبلی، متوفی بعد ۸۸۰ ئہ-، دار الکتب العلمیة، بیروت
۱۰۰ ۔لسان العرب، ابن منظور، ت ۷۱۱ ئہ-، دار احیاء التراث العربی، بیروت، لبنان
(م)
۱۰۱ ۔ما نزل من القرآن فی علی،ابوبکر الشیرازی، ت ۴۰۷ ئہ-
۱۰۲ ۔ ما نزل من القرآن فی علی، ابو نعیم اصفہانی، ت ۴۳۰ ئہ- )بہ نقل احقاق)
۱۰۳ ۔المتفق و المتفرق خطیب بغدادی، ت ۴۶۳ ئہ-)بہ واسطہ کنزالعمال)
۱۰۴ ۔ مجمع البحرین، طریحی، ت ۱۰۸۵ ئہ-، دفتر نشر فرہنگ اسلامی
۱۰۵ ۔مجمع البیان،طبرسی، ت ۵۶۰ ئہ-، دارالمعرفة،بیروت
۱۰۶ ۔ مجمع الزوائد،ہیثمی، ت ۸۰۷ ئہ-،دارالکتاب العربی-دارالفکر، بیروت
۱۰۷ ۔المستدرک علی الصحیحین،حاکم نیشابوری، ت ۴۰۵ ئہ-، دارالمعرفة، بیروت
۱۰۸ ۔مسند ابی داوود طیالسی،ت ۲۰۴ ئہ-،دارالکتاب اللبنانی
۱۰۹ ۔مسند ابی یعلی موصلی،ت ۳۰۷ ئہ-
۱۱۰ ۔مسند احمد،احمد بن حنبل،ت ۲۴۱ ئہ-، دارصادر،بیروت-دارالفکر
۱۱۱ ۔مسند اسحاق بن راہویہ، ت ۲۳۸ ئہ-،مکتبة الایمان، مدینة المنورة
۱۱۲ ۔مسند عبد بن حمید،ت ۲۴۹ ئہ-، عالم الکتب
۱۱۳ ۔مشکل الآثار، طحاوی، ت ۳۲۱ ئہ-،ط مجلس دائرة المعارف النظامیة بالہند
۱۱۴ ۔ المصباح المنیر احمد فیومی، ت ۷۰ ء ۷ ہ- طبع مصطفی البابی الحلبی و اولادہ بمصر
۱۱۵ ۔مصباح الہدایة، بہبہانی، ط سلمان فارسی،قم
۱۱۶ ۔المصنف،ابن ابی شیبة،ت ۲۳۵ ئہ-
۱۱۷ ۔مطالب السؤول ابن طلحة نصیبی شافعی، ت ۶۵۲ ئہ-
۱۱۸ ۔معالم التنزیل، بغوی،ت ۲۱۰ ئہ-
۱۱۹ ۔المعجم الاوسط، طبرانی،ت ۳۶۰ ئہ-،مکتبة المعارف الریاض
۱۲۰ ۔المعجم الصفیر، طبرنی، ت ۳۶۰ ئہ-
۱۲۱ ۔المعجم الکبیر، طبرانی،ت ۳۶۰ ئہ-
۱۲۲ ۔ المعجم المختص بالمحدثین، ذہبی، ت ۷۴۸ ئہ-، مکتبة الصدیق سعودی
۱۲۳ ۔معجم مقاییس اللغة، ابن فارسی بن زکریا القزوینی الرازی،ت ۳۹۰ ہ-
۱۲۴ ۔معرفة علوم الحدیث، حاکم نیشابوری، ت ۴۰۵ ئہ-، دارالکتب العلمیة، بیروت
۱۲۵ ۔المعرفة والتاریخ، یعقوب بن سفیان بن بسوی،ت ۲۷۷ ئہ-
۱۲۶ ۔مغنی اللبیب، ابن ہشام،ت ۷۶۱ ئ ہ-، دارالکتب العلمیة، بیروت
۱۲۷ ۔المفردات،راغب اصفہانی،ت ۵۰۲ ئہ-
۱۲۸ ۔مقتل الحسین، خوارزمی، ت ۵۶۸ ئہ-، مکتبة المفید
۱۲۹ ۔المناقب،موفق بن احمد خوارزمی،ت ۵۶۸ ئہ-
۱۳۰ ۔مناقب ابن مغازلی شافعی،ت ۴۸۳ ئہ-،المکتبة الاسلمة
۱۳۱ ۔مناقب آل ابی طالب، ابن شہر آشوب،ت ۵۸۸ ئہ-،ذوالقربی
۱۳۲ ۔منتہی الارب عبدالرحیم بن عبدالکریم الہندی ت ۱۲۵۷ ئہ-
۱۳۳ ۔المیزان، محمد حسین طباطبائی، ت ۱۴۰۲ ئہ-، دارالکتب الاسلامیة
۱۳۴ ۔میزان الاعتدال، ذہبی، ت ۷۴۸ ئہ-، دارالفکر
(ن)
۱۳۵ ۔نہج البلاغہ
۱۳۶ ۔نظم درر السمطین، محمد بن یوسف زرندی حنفی، ت ۷۵۰ ئ ہ-، مطبعة القذاء)بہ نقل احقاق)
۱۳۷ ۔النہایة، ابن اثیر جزری، ت ۶۰۶ ئہ-، المکتبة العلمیة، بیروت، لبنان
۱۳۸ ۔نور الابصار،شبلنجی،ت ۱۳۰۸ ئہ-،دارالفکر
۱۳۹ ۔نورالثقلین، الہویزی،ت ۱۱۱۲ ئہ-، المطبعة العلمیة، قم
(ی)
۱۴۰ ۔یناییع المودة، شیخ سلیمان حنفی قندوزی
فہرست
پیش لفظ ۴
پہلانظریہ: ۴
دوسرانظریہ : ۴
پہلاباب : ۱۵
امامت آیہ ابتلاء کی روشنی میں ۱۵
پہلی بات ۱۶
منصب امامت کابلند مرتبہ ہو نا ۱۶
امتحان اورمنصب امامت کارابطہ ۱۷
حضرت ابراھیم علیہ السلام کاامتحان ۱۹
یہ امامت کس چیزپردلالت کرتی ہے؟ ۲۱
دوسری بات: ۲۱
منصب امامت ظالموں کونہیں ملے گا ۲۱
اعتراض کے جواب میں دوباتیں ۲۳
تیسری بات ۲۵
منصب امامت کازبان امامت سے تعارف ۲۵
دوسراباب : ۳۹
امامت آیہء مباہلہ کی روشنی میں ۳۹
نجران کے عیسائی اوران کاباطل دعویٰ ۳۹
پہلامحور ۴۱
آیہء مباہلہ میں پیغمبر صلىاللهعليهوآلهوسلم کے ہمراہ ۴۱
دوسرامحور: ۴۴
مباہلہ میں اہل بیت رسول (ص)کے حاضر ہونے کامقصد ۴۴
آیہء مباہلہ میں اہل بیت رسول)ص)کی فضیلت وعظمت کی بلندی ۴۶
تیسرامحور ۴۹
مباہلہ میں پیغمبر (ص)اپنے ساتھ کس کو لے گئے ۴۹
پہلی حدیث: ۴۹
اس حدیث سے قابل استفادہ نکات: ۵۱
دوسری حدیث: ۵۲
حدیث میں قابل استفادہ نکات: ۵۶
تیسری حدیث: ۵۷
حدیث کامعتبرراورصحیح ہونا: ۶۱
۲ ۔شیعہ امامیہ کی احادیث ۶۳
پہلی حدیث ۶۳
دوسری حدیث ۶۴
تیسری حدیث ۶۵
چوتھی حدیث ۶۷
شیخ محمدعبدہ اوررشیدرضاسے ایک گفتگو ۶۷
ایک جعلی حدیث اوراہل سنّت کااس سے انکار ۶۹
چھوتھامحور ۷۱
علی(ع)نفس پیغمبر (ص)ہیں ۷۱
آیت کے استدلال میں فخررازی کابیان ۷۲
علی(ع)کونفس رسولجاننے والی احادیث ۷۴
پانچواں محور ۷۷
آیت کے بارے میں چندسوالات اور ان کے جوابات ۷۷
آلوسی سے ایک گفتگو: ۷۷
شیعوں کااستدلال ۷۷
شیعوں کے استدلال کے سلسلہ میں الوسی کاپہلااعتراض ۷۸
اس اعتراض کاجواب ۷۹
شیعوں کے استدلال پرآلوسی کادوسرااعتراض ۸۱
اس اعتراض کا جواب ۸۲
شیعوں کے استدلال پر آلوسی کا تیسرا عتراض ۸۳
اس اعتراض کاجواب ۸۳
فخررازی کا اعتراض: ۸۴
فخررازی کے اعتراض کا جواب ۸۵
ابن تیمیّہ کا اعتراض ۸۷
ابن تیمیّہ کے اعتراض کا جواب ۸۸
تیسراباب: ۹۱
امامت،آیہ اولی الامر کی روشنی میں ۹۱
تمام اوامرونواہی میں پیغمبر(ص)کی عصمت ۹۲
اُولوالاامرکی اطاعت ۹۳
اولوالامرکامفہوم ۹۳
اولوالامرکا مصداق ۹۴
آیت میں اولوالامرکامرتبہ ۹۵
آیہء اولوالامر کے بارے میں فخررازی کا قول ۹۷
فخررازی کاجواب ۹۸
ائمہء معصومین )ع )کی امامت پر فخررازی کے اعتراضات ۹۹
جملہء شرطیہ میں ”فائے تفریع“ ۱۰۱
ظالم حکام اولوالامرنہیں ہیں ۱۰۲
اولوالامرکے بارے میں طبری کا قول ۱۰۳
علماء بھی اولوالامرنہیں ہیں ۱۰۵
آیہء کریمہ کے بارے میں چند دیگر نکات ۱۰۷
چند نظریات پرتنقید ۱۰۸
اصحاب اور تابعین بھی اولوالامر نہیں ہیں۔ ۱۰۹
سریہ کے سردار بھی اولوالامر کے مصداق نہیں ہیں: ۱۱۰
”اولوالامر“اورحدیث منزلت،حدیث اطاعت اورحدیث ثقلین ۱۱۵
حدیث منزلت: ۱۱۵
حدیث اطاعت: ۱۱۷
حدیث ثقلین: ۱۱۹
شیعہ وسنی منابع میں اولوالامر سے متعلق حدیثیں ۱۲۰
پہلی حدیث: ۱۲۱
دوسری حدیث ۱۲۶
تیسری حدیث: ۱۲۷
چوتھا باب: ۱۲۸
امامت آیہء ولایت کی روشنی میں ۱۲۸
لفظ”إنما“کی حصر پر دلالت ۱۲۸
”ولیّ“کے معنی کے بارے میں تحقیق ۱۲۹
چند بنیادی نکات کی یاد دہانی ۱۳۲
۱ ۔قرآن مجید میں لفظ”ولی“کے استعمال کے مواقع: ۱۳۲
رکوع کے معنی ۱۳۷
آیہء ولایت کی شان نزول ۱۳۸
آیہء ولایت کے بارے میں چند سوالات اوران کے جوابات ۱۴۱
۱ ۔کیاآیت میں ”ولی“کامعنی دوست نہیں ہے؟ ۱۴۱
جواب: ۱۴۱
۲ ۔مذکورہ شان نزول )حالت رکوع میں حضرت علی(ع)کاانفاق کر نا)ثابت نہیں ہے۔ ۱۴۴
جواب : ۱۴۴
۳ ۔کیا”إنمّا“حصرپردلالت کرتاہے؟ ۱۴۷
جواب: ۱۴۷
۴ ۔کیا”الذین آمنوا“کا اطلاق علی علیہ السلام کے لئے مجازی ہے؟ ۱۴۸
جواب: ۱۴۸
۵ ۔کیا حضرت علی علیہ السلام کے پاس انفاق کے لئے کوئی انگوٹھی تھی؟ ۱۴۹
جواب: ۱۴۹
۶ ۔کیا)راہ خدا میں ) انگوٹھی انفاق کرنا حضور قلب)خضوع وخشوع) کے ساتھ ھم آھنگ وسازگارہے؟ ۱۴۹
جواب: ۱۴۹
۷ ۔کیا انفاق،نمازکی حالت کو توڑ نے کا سبب نہیں بنتا؟ ۱۵۰
جواب: ۱۵۰
۸ ۔کیا مستحبی صدقہ کو بھی زکوٰة کہاجاسکتاہے؟ ۱۵۱
جواب: ۱۵۱
۹ ۔کیا رکوع میں زکوٰة دینے کی کوئی خاص اہمیت ہے؟ ۱۵۳
جواب: ۱۵۳
۱۰ ۔کیا اس آیت کامفہوم سابقہ آیت کے منافی ہے؟ ۱۵۳
جواب: ۱۵۴
۱۱ ۔کیاآیت میں حصرائمہ معصومین )علیہم السلام)کی امامت کے منافی ہے؟ ۱۵۶
جواب: ۱۵۶
۱۲ ۔کیاعلی)علیہم السلام)پیغمبراکرم (ص)کے زمانہ میں بھی سرپرستی کے عہدہ پرفائزتھے؟ ۱۵۶
جواب: ۱۵۷
۱۳ ۔کیا حضرت علی (علیہ السلام) کوآیہء ولایت کے پیش نظرچوتھا خلیفہ جاناجاسکتاہے؟ ۱۵۷
جواب: ۱۵۸
۱۴ ۔کیاحضر ت علی (علیہ السلام)نے کبھی آیہء ولایت کے ذریعہ احتجاج واستدلال کیا ہے؟ ۱۵۸
جواب: ۱۵۹
پانچواں باب : ۱۶۰
آیہء صادقین کی روشنی میں اما مت ۱۶۰
آیت کے بارے مفردات میں بحث ۱۶۱
استعمالا ت لغوی ۱۶۱
استعمالات قرآنی ۱۶۲
اس آیت کا گزشتہ آیات سے ربط ۱۶۴
اس آیت کا ائمہ معصومین(ع)کی امامت سے ربط ۱۶۵
علماء ومفسرین کے بیانات کی تحقیق ۱۶۶
علامہ بہبہانی کا قول: ۱۶۶
فخررازی کا قول ۱۶۹
فخررازی کے قول کا جواب ۱۷۳
اس آیت کے بارے میں شیعہ اورسنّی احادیث ۱۷۴
ان احادیث کاجواب: ۱۷۷
چھٹاباب : ۱۷۸
امامت آیہء تطہیرکی روشنی میں ۱۷۸
”إنّما“حصرکا فائدئہ دیتا ہے ۱۷۹
آیہء تطہیرمیں ارادے سے مرادارادہ تکوینی ہے نہ تشریعی ۱۷۹
آیہ تطہیر میں ارادہ کے تکوینی ہونے کے دلائل: ۱۸۰
آیہء تطہیر میں اہل بیت علیہم السلام ۱۸۵
آیت کے مفاد کے بارے میں بحث ۱۸۷
سیاق آیہء تطہیر ۱۸۸
آیہ تطہیر کے بارے میں احادیث ۱۹۳
آیہ تطہیر کے بارے میں احادیث کی طبقہ بندی ۱۹۶
۱ ۔ ”اہل بیت“کی پنجتن پاک سے تفسیر ۱۹۷
۲ ۔آیہء تطہیر کی تفسیرمیں حدیث کساء کی تعبیر ۱۹۹
۱ ۔” إنک إلی خیر “کی تعبیر ۲۰۰
۲ ۔” تنحی فإنّک الی الخیر “کی تعبیر ۲۰۲
۳ ۔” فجذبه من یدی “کی تعبیر ۲۰۳
۴ ۔” ماقال:إنّک من اهل البیت “کی تعبیر ۲۰۳
۵ ۔” لا، وانت علی خیر “کی تعبیر ۲۰۴
سندحدیث کی تحقیق: ۲۰۵
۶ ۔” فوالله ما انعم “کی تعبیر ۲۰۷
۷ ۔” مکانک،انت علی خیر “کی تعبیر ۲۰۷
سند کی تحقیق: ۲۰۹
۸ ۔” فوددت اٴنة قال :نعم “کی تعبیر ۲۱۰
” فتنحّی لی عن اٴهل بیتی “ کی تعبیر ۲۱۱
۱۰ ۔” إنک لعلی خیر، ولم ید خلنی معهم “کی تعبیر ۲۱۲
۱۱ ۔” فوالله ماقال :انت معهم “کی تعبیر ۲۱۳
۱۲ ۔ إنّک لعلی خیر،وهؤلائ اهل بیتی “کی تعبیر ۲۱۳
درعلی و فاطمہ پر آیہء تطہیر کی تلاوت ۲۱۴
آیہء تطہیر کا پنجتن پاک (علیہم السلام) کے بارے میں نازل ہونا ۲۱۶
آیہء تطہیرکے بارے میں چند سوالات اور ان کے جوابات ۲۲۳
پہلاسوال ۲۲۳
جواب ۲۲۳
دوسرا سوال ۲۲۴
جواب ۲۲۵
تیسرا سوال ۲۲۵
جواب ۲۲۶
چوتھا سوال ۲۲۶
جواب ۲۲۷
پانچواں سوال ۲۲۸
جواب ۲۲۸
چھٹا سوال ۲۲۹
جواب ۲۲۹
ساتواں سوال ۲۳۰
جواب ۲۳۱
آٹھواں سوال ۲۳۲
جواب ۲۳۳
نواں سوال ۲۳۳
جواب ۲۳۴
دسواں سوال ۲۳۵
جواب ۲۳۵
گیارہواں سوال ۲۳۸
جواب ۲۳۸
ساتواں باب : ۲۴۰
امامت آیہ ” علم الکتاب“ کی روشنی میں ۲۴۰
خدا وند عالم کی گواھی: ۲۴۱
من عندہ علم الکتاب - سے مرادکون ہے؟ ۲۴۱
لوح محفوظ اور حقائق ھستی ۲۴۴
مطھّرون اور لوح محفوظ سے آگاہی ۲۴۴
” مطھرون “سے مرادکون ہیں؟ ۲۴۶
آیہ تطہیر اور پیغمبر کا محترم خاندان ۲۴۷
”آصف بر خیا“ اور کتاب کے کچھ حصہ کا علم ۲۴۸
منابع کی فہرست ۲۵۳