کامیابی کے اسرار ج 2 جلد 2

اصلاح کتب

مؤلف: آیت اللہ سید مرتضی مجتہدی سیستانی
متفرق کتب

کامیابی کے اسرار جلد۲

تالیف

آیت اللہ سید مرتضی مجتہدی سیستانی

ترجمہ

عرفان حیدر 


 کتاب : کامیابی کے اسرار جلد۲

مؤلف : آیت اللہ سید مرتضیٰ مجتہدی سیستانی

 ترجمہ : عرفان حیدر 

نظر ثانی : زین  العابدین  علوی

کمپوزنگ : ..................  .موسی علی عارفی،ذیشان مہدی سومرو

طبع: .............................  اول

تاریخ طبع :........................ 2010مئی

تعداد:. ............................2000

قیمت: .............................۱۵۰

ناشر................................الماس  پرنٹرز  قم  ایران

          ملنے  کاپتہ:

                                  جامعہ امام صادق بک سینٹر علمدار روڈ کوئٹہ بلوچستان

                                   فون نمبر:2664735۔081

                                    امامیہ سیلز پوائنٹ قدمگاہ  مولاعلی،حیدرآباد   سندھ

                                   فون نمبر : 2672110۔0333

ایمیل:        irfanhaidr014@gmail.com

ویب سائٹ:        www.almonji.com

ایمیل مولف:        info@almonji.com


بسم الله الرحمن الرحیم

انتساب

اس روح کائنات کے نام

جس پر دونوں جہاں کی بقا کا دارومدار ہے جس کے لئے زبان معصوم گویا ہوئی :

''یَمْلَأُ الْاَرْضَ عَدْلاً وَّ قِسْطاً کَمٰا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَ جَوْراً''

 


 بسم الله الرحمن الرحیم

 

مقدمہ مترجم

الحمد للّٰه الذی جعلنا من المتمسکین بولا یة علی بن ابی طالب وصلّی اللّٰه علی محمّد وآله الا ئمة المعصومین

تمام تعریفیں  اس پرور دگار عالم کے لئے ہیںجو کائنات کا خالق و مالک ہے اور بے شمار درود و سلام ہو اس کے آخری نبی حضرت محمد مصطفی(ص) اور ان کی عترت طاہرہ پر جنہوں نے اپنی تعلیمات کے ذریعے بشریت کی راہنمائی فرمائی اور انسانوں کو گمراہی و ضلالت سے نکال کر ہدایت کا راستہ دکھا یا ۔

قارئین کرام ! کا میابی کی خواہش انسان کی فطرت میں شامل ہے ہر انسان کا میاب زندگی کا خواہاںہے لیکن اکثر صحیح راہنما میسر نہ آنے سے انسان کی یہ خواہش پوری نہیں ہو تی اور اسے نا کامی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے ۔

زیر نظر کتاب آیت اللہ سید مرتضیٰ مجتہدی سیستا نی مد ظلہ کی فارسی کتاب ''اسرار موفقیت '' کا ترجمہ ہے ۔یہ کتاب کا میابی کی تلاش و جستجو کرنے والوں کے لئے نایاب تحفہ اور یأس و نا امید ی میں مبتلا افراد کے لئے امید کی کرن ہے ۔حقیر نے اسے فارسی زبان سے اردو کے قالب میں ڈھالا ۔ لیکن یہ معرکہ مجھ ناچیز سے اکیلے سرہونے والا نہیں تھا لہذا سب سے پہلے میں شکر گزار ہوں اس معبود حقیقی کا جس نے  اس عظیم کام کو انجام دینے کی توفیق عنایت فرمائی۔

اس کتاب میںخود شناسی ،معارف سے آشنائی،عبادت و بنگی،تقویٰ،کام اور کوشش، توسل، اہلبیت اطہار علیھم السلام کی محبت،انتظار اور رازداری جیسے موضوعات  پر سیر حاصل بحث کی گئی ہے ۔


 ہر موضوع کی مناسبت سے خاندان عصمت وطہارت علیہم السلام کے فرامین نے کتاب کو چار چاند لگا  دیئے  ہیں۔ ترجمہ کے دوران آسان ، عام فہم اور سلیس زبان استعما ل کی گئی ہے ۔ ثقیل اور غیر مانوس کلمات سے پر ہیز کیا گیا ۔ البتہ اس بات کا فیصلہ تو قارئین فرمائیں گے کہ ہم مفاہیم  ومطالب کو منتقل کرنے میں کس حد تک کامیاب رہے پھر بھی آپ سے استدعا ہے کہ ترجمے میں نقائص سے ضرور مطلع فرمائیں ۔

میں شکر گزار ہوں ان تمام دوست احباب کا  جنہوں نے اس کار خیرمیں  تعاون کیا ۔بالخصوص اپنے نانا حاجی خادم حسین جعفری صاحب جن کی راہنمائی اور تعلیم مذہب حقہ کی شناخت اور اسے قبول کرنے کا سبب بنی  اور ہم ان کے اس احسان کو کبھی بھلا نہ سکیں گے۔

اور میں مشکور ہوں اپنے والدین کا کہ جن کی دعائیں ہمیشہ میرے شامل حال رہیں ،اپنے تمام  اساتید بالخصوص جناب محمد جمعہ اسدی اور جناب اکبر حسین زاہدی صاحب کا جن کی راہنمائی سے ناچیز اس مقام پر پہنچا  اور اپنے بھائیوں جناب عمران حیدر شاہد اور علی اسدی کا کہ جن کی محبت و شفقت نے ہمیشہ میری حوصلہ افزائی فرمائی۔

اس انمول کتاب کو زیور طبع سے آراستہ کرنے کے سلسلہ میں جامعہ امام صادق  کوئٹہ کے مدیر جناب حجة الاسلام محمد جمعہ اسدی صاحب اور اپنے جناب مشتاق حسین عمرانی، مختار حسین رحیمی ،ادیب علی آدابی، امجد حسین محسنی ،ذیشان مہدی سومرو،علی شاہ نقوی، عبدالحفیظ مطہری صاحب اوردوسرے تمام دوستوںکا مشکور ہوں۔

آخر میں میںجناب زین العابدین علوی صاحب اور جناب سید تاجداد حسین زیدی کا ممنون و مشکور ہوں جنہوں نے اپنا قیمتی وقت دیے کر نظر ثانی کے فرائض انجام دیئے۔

 عرفان حیدر

قم المقدس ( ایران )


بسم الله الرحمن الرحیم

پیش گفتار

اپنی روح کی عظیم توانائیوں سے آگاہ  ہونے کے لئے روحانی تکامل کے لئے خودشناسی کی اشد ضرورت ہوتی ہے   ۔ خود سے آگاہ ہونے کی صورت میں آپ کے لئے معارف سے آشنائی کا زمینہ فراہم ہو جاتا ہے  جو آپ کے دل وجان کو روشن کرنے کا باعث بنتا ہے۔صحیح اور عالی معارف حاصل کریں ۔اس صورت میں خدا کی بندگی و عبادت کے لئے مکمل علم و آگاہی اور معرفت کی کوشش کریں اور اپنے خدا سے مناجات کریں تا کہ آپ بندگی و عبادت کی شرینی و حلاوت کو درک کر سکیں اور الٰہی کشش آپ کو ہوائے نفسانی سے نجات دلا سکے۔

یہ بات  قابل توجہ ہے کہ یہ مقام اسی صورت میں حاصل ہو گا جب عبادت و بندگی کے ساتھ تقویٰ و پرہیزگاری ہوورنہ تقویٰ کے بغیر عبادت کا رنج و مشقت کے سواکوئی اثر نہیں ہوتا ۔تقویٰ کے مقام تک پہنچنے کے لئے کام اور کوشش کریں اور سعی و جستجو کریں کیونکہ روحانی و معنوی حالت کے حصول کے لئے زحمت برداشتکرنا ضروری ہے اور سستی و کاہلی سے پرہیز کریں۔

اگر آپ کو ایسا محسوس ہو کہ آپ کے کام اور کوشش کا کوئی نتیجہ نہیں ہے یا اس کی کوئی قابل ذکر تاثیر نہیں ہے تو عالم غیب سے  مدد طلب کریں اور اہلبیت اطہار علیھم السلام سے توسل کے ذریعہ خدا کی اطاعت کریں اور گناہوں کو ترک کردیں اور قرب الٰہی کی منزل تک پہنچ جائیں۔


اگر آپ خود کو مصیبتوں کے دریا میں گھرا ہوا دیکھیں تو جان لیں کہ کشتی نجات دریا ہی میں ہے جو آپ کی طرف آ رہی ہے ،آپ بھی اس کی طر ف قدم بڑھائیں  تا کہ اس صورت میں آپ اہلبیت عصمت و طہارت علیھم السلام کی عظمت کو درک کر سکیں اور آپ کے پورے وجود میں محبت اہلبیت رچ بس جائے۔

اس وقت آپ کو معلوم ہو گا راہ نجات صرف اہلبیت علیھم السلام  کی محبت اور ولایت پر اعتقادمیں ہی ہے چومکہ خاندان وحی کی محبت شفا بخش اکسیر ہے۔اس میں جتنا اضافہ ہو گا روح اتنی ہی پاکیزہ ہوتی جائے گی اس سے آپ میں حکومت الٰہی کے لئے باطنی آمادگی پیدا ہو جائے گی۔حضرت بقیة اللہ الاعظم عجل اللہ فرجہ الشریف کے دست قدرت سے دنیا میں عظیم تحول کے انتظار میں  دن گنتیرہیں ۔ اس صورت  میں آپ کو خود میں کامیابی کے اسرار نمایاں دکھائی دیں گے۔

انتظار اپنے مکمل اور واقعی معنی میں نامحسوس اسرار کو آشکار کرتا ہے لہذا انہیں راز میں رکھنے کی کوشش کریں ۔اگر ہو سکے تو اپنی زبان کو کنٹرول میں رکھیں  اس سے آپ کی توفیقات میں اضافہ ہو گا اور آپ کو کامیابی کے اسرار سیمزید آشنائی حاصل ہو گی۔

 

سید مرتضیٰ مجتہدی سیستا نی 


پہلاباب

خودشناسی

حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام  فرماتے ہیں :

'' مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ جَلَّ أَمْرُه ''

جو اپنے نفس کو پہچان لے اس کی شخصیت صاحب جلال بن جاتی ہے ۔

     خودشناسی یا راہ تکامل    نفس کی پاکیزگی

    خودشناسی اور مکاشفہ

    مغرب میں خودشناسی کا ایک نمونہ

    خودشناسی کے عوامل

    1۔ خودشناسی میں ارادہ کا کردار

    نفس کو کمزور کرنے کا طریقہ

    2۔ خودشناسی میں خوف خدا کا کردار

    3۔ اپنے باطن اور ضمیر کو پاک کرنا

    خودشناسی کے موانع

    ۱۔ ناپسندیدہ کاموں کی عادت خودشناسی کی راہوں کو مسدود کر دیتی ہے:

    2۔ خود فراموشی

    خودفراموشی کے دو عوامل، جہل اور یاد خدا کو ترک کرنا

    نتیجۂ بحث


خودشناسی یا راہ تکامل

وہی شخص اپنی اندرونی عجیب اور حیرت انگیز روحانی قدرت و طاقت سے استفادہ کر سکتا ہے جسے ان کے ہونے کا علم ہواور وہ ان توانائیوں کو بروئے کار لانے کی جستجو بھی کرتا ہوورنہ وہ کس طرح ان سے استفادہ کر سکتا ہے؟اس لئے انسان کو چاہئے کہ روحانی اور معنوی مقامات کے حصول کے لئے پہلے خو دکو پہچانے اوراس کے لئے اپنی اندر موجود ان توانائیوں کو پروان چڑھانے کے طریقہ کار سے آشنا ہونا بھی ضروری ہے۔

بہت سے نوجوان فطرت کے حسن سے آشناہونے کے لئے دوردراز کے ممالک کی سیاحت کے لئے نکل پڑتے ہیں  اور بہت سی زحمتیں اور تکلیفیں برداشت کرتے ہیں۔اگر ایسے کام صحیح پروگرام کے تحت ہوں اور دوسروں کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے سے ان کا اثر نہ لیا جائے تو اس سے انہیں تازگی ملے گی۔لیکن دنیا کی سیاحت سے زیادہ اہم یہ ہے کہ انسان خود کو تلاش کرنے کا سفر کرے اور یہ جان لے کہ اپنے وجود کے اسرار و رموز سے آگاہی ،دوردرزا کے علاقوں کو پہچاننے سے کہیں زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔

اگر ہمیں یہ معلوم ہو جائے کہ خود شناسی اور ہمارے اندر مخفی قوتیں ہماری خودسازی اور تکامل میں  ا ہم اور بنیادی کردارکی حامل ہیں تو ہم انہیں ہی زیادہ اہمیت دیتے۔

خودشناسی نہ صرف ترقی اور تکامل کے لئے بہت ضروری ہے بلکہ کہہ سکتے ہیں:روحانی اور معنوی مقامات کے حصول کے لئے معرفت کی تمام قسموں میں سے  یہ سب سے زیادہ مفید اور نفع بخش ہے۔


اسی لئے امیر کائنات حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:

''مَعْرِفَةُ النَّفْسِ أَنْفَعُ الْمَعٰارِفِ'' (1)

نفس کی معرفت تمام معارف سے زیادہ مفید ہے۔

کیونکہ کہ نفس کی معرفت سے انسان اپنے اندر موجود ایسے عوامل سے آشنا ہو جاتا ہے جو اس کی ترقی اور تکامل میں بہت مؤثر ہوتے ہیں اور وہ معارف کو حاصل کرنے،ترقی،تکامل اور نجات کی راہ میںحائل موانع سے بھی آشنا ہو جاتاہے۔یوں اسے تمام متقاضیات اور موانع معلوم ہو جاتے ہیں۔ترقی اور پیشرفت کے متقاضی امور کی شناخت اور اسی طرح راہ کے تمام موانع کو جاننا روحانی تکامل کے لازمی شرائط میں سے ہے۔

انسان ان کی شناخت سے اپنے لئے نور کے دریچہ کھول لیتاہے  اور مقتضیات کو انجام دینے اور موانع کو برطرف کرنے سے نجات کے سب سے بڑے راستہ تک پہنچ جاتا ہے۔

 امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام  فرماتے ہیں:

''نٰالَ الْفَوْزَ الْأَکْبَرَ مَنْ ظَفَرَ بِمَعْرِفَةِ النَّفْسِ'' (2)

جو نفس کو پہچاننے میں کامیاب ہو جائے وہ نجات اور کامیابی کی سب سے بڑی راہ تک پہنچ جاتاہے۔

اس بیان سے یہ واضح ہو گیا کہ نفس کی پہچان اور اپنے اندر پوشیدہ عظیم قوتوں سے آگاہی تکامل کی حتمی اور لازمی شرائط میں سے ہے اور نفس کی طاقت سے آشنائی بہت ضروری ہے چاہے  نفس کی یہ طاقت تعمیری ہو یا تخریبی۔

--------------

[1] ۔ شرح  غرر  الحکم:ج۴ص۱۴۸

[2) ۔ شرح  غرر  الحکم:ج6ص۱۷۳


انسان کو یہ بھی جان لینا چاہئے کہ اس کے نفس کو کن چیزوں نے جکڑ رکھا ہے اور وہ کس طرح ان سے رہائی حاصل کر سکتاہے تا کہ انسان ان کی قید سے آزاد ہو کر اپنے اندر پوشیدہ توانائیوں کو بیدار کر سکے۔

حضرت امیر المؤمنین علی بن ابیطالب علیہ السلام ایسے شخص کو عارف کہتے ہیں جو اپنے نفس اور نفسانی حالات سے آشنا ہو اور فرماتے ہیں:

''أَلْعٰارِفُ مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ فَاَعْتَقَهٰا وَ نَزَّهَهٰا عَنْ کُلِّ مٰا یَبْعُدُهٰا وَ یُوْبِقُهٰا'' (1)

عارف وہ ہے جواپنے نفس کو پہچانتاہو ،اور پھر  اپنے نفس کو آزاد کرے اور وہ اسے ہر اس چیز سے پاک کرے جو اسے (خدا)سے دور کرے۔

آنچہ در علم پیش می آید                  دانش ذات خویش می یابد

این بدان کایت شرف این است          نسخہ سرّ من عرف این است

غور و فکر،سوچ و بیچار ،پختہ ارادہ ،ایمان اور یقین آپ  کے نفس کی طاقتور توانائیاں ہیں انہیں سستی و کاہلی سے پاک رکھیں اور انہیں خوبیوں اور نیکیوں کی طرف پرواز کے لئے پروں کی طرح استعمال کرے۔حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''اِنَّ النَّفْسَ جَوْهَرَة ثَمِیْنَة مَنْ صٰانَهٰا رَفَعَهٰا وَ مَنْ اِبْتَذَلَهٰا وَضَعَهٰا'' (2)

بیشک نفس ایک قیمتی گوہر ہے ۔جو اس کی مخالفت کرے وہ اسے بلند کرے گا اور جو اس کو آزاد چھوڑ دے گا نفس اسے پست کردے گا۔

--------------

[1] ۔ شرح  غرر  الحکم:ج۲ص۴۸

[2] ۔ شرح  غرر  الحکم:ج۲ص۲۲۵


اس بناء پر اپنے نفس کے قیمتی گوہر کو بلندیوں پر لے جائیں اور اسے آلودگیوں سے پاک کریں  تا کہ معنوی و روحانی مقامات تک پہنچ سکیں۔

حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''مَنْ عَرَفَ نَفْسَهُ تَجَرَّدَ'' (1)

جو اپنے نفس کو پہچان لے ،وہ مجرد(یعنی برائیوں سے دور رہے گا) ہو جائے گا۔

اس صورت میں نہ صرف نفس انسان کو برے کاموں کی طرف ورغلاتا ہے بلکہ اس کی راہنمائی بھی کرتا ہے ۔اسی طرح مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''لا تَعْصِ نَفْسَکَ اِذٰا هَِ أَرْشَدَتْکَ'' (2)

جب بھی تمہارا نفس تمہاری راہنمائی کرے تو اس کی مخالفت نہ کرو۔

--------------

[1] ۔ شرح  غرر  الحکم:ج۵ص۱۷۵

[2]۔ شرح  غرر  الحکم:ج6ص۲۸۲


نفس کی پاکیزگی

سوچ و فکر،ہمت و ارادہ اور نفس کی دوسری قوتوں کی پاکیزگی کے لئے سنجیدگی سے کوشش کرنی چاہئے اور سستی و کاہلی سے پرہیز کرنا چاہئے۔کیونکہ نفس کی اصلاح اور نفس میں پوشیدہ توانائیوں کو نکھارنے کے لئے سعی وکوشش کرنا بہت ضروری ہے۔

حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''لاٰ تَتْرُکِ ا لْاِجْتِهٰادَ فِ اِصْلاٰحِ نَفْسِکَ فَاِنَّهُ لاٰ یُعِیْنُکَ اِلاَّ الْجِدُّ'' (1)

اپنے نفس کی اصلاح کے لئے سعی وکوشش کو ترک نہ کروکیونکہ اس راہ میں کوشش کے علاوہ کوئی چیز تمہاری مدد نہیں کر سکتی۔

لیکن افسوس کا مقام ہے ہے اس مسئلہ کی اتنی اہمیت کے باوجود اس کی طرف بہت کم توجہ کی جاتی ہے۔ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ خدا کے حقیقی بندوں (اولیائے خدا)نے خود کو کس طرح پہچانا؟ انہیں اتنااعلی و ارفع مقام کیسے حاصل ہوا؟ وہ کس طرح شرافت نفس کے مقام تک پہنچے؟ ہم کس طرح ان کے نقش قدم پر چل سکتے ہیں اور کس طرح ان کے مقام تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں؟

--------------

[1]۔ شرح  غرر  الحکم:ج6ص۳۱۵


ان سوالوں کا جواب مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام نے ایک کلام کے ضمن میں یوں بیان فرمایا ہے:

''عَوِّذْ نَفْسَکَ فِعْلَ الْمَکٰارِمِ وَ تَحَمُّلَ أَعْبٰائِ الْمَغٰارِمِ تَشْرُفَ نَفْسَکَ '' (1)

اپنے نفس کو پسندیدہ کاموں کی انجام دہی اور تکلیفوں کو برداشت کرنے کی عادت ڈالو،تا کہ اپنے نفس کو بلند مرتبہ پر فائز کر سکو۔

ہمارے بزرگوں نے اسی پُر معنی فرمان کو عملی جامہ پہنایا اور شرافت نفس کے مقام یعنی خود سازی اور خودشناسی تک پہنچے ۔اگر ہم بھی پسندیدہ کام انجام دیں اور مشکل کاموں کو انجام دینے کی راہ میں مشکلات برداشت کریں تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم خودشناسی اور انسانیت کے اعلی مقام یعنی شرافت نفس تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

--------------

[1]۔ شرح  غرر  الحکم:ج۵ ص۱۷۵


 خودشناسی اور مکاشفہ

خود شناسی کے اہم ترین رازوں میں سے ایک یہ ہے کہ انسان یہ جان لے کہ نفس اضداد کا مجموعہ ہے ،جس طرح معاشرہ اچھے اور برے لوگوں سے مل کر بنتا ہے اسی طرح نفس میں بھی خوبیاں اور برائیاں موجود ہوتی ہیں۔ نفس ایک شخص  یا کسی ایک موضوع سے دوستی یا دشمنی کو اپنے اندر جگہ دے سکتا ہے اور اپنے اندرصحیح اور غلط افکار کو جمع کر سکتاہے۔

اس بناء پر اس حقیقت سے آگاہ ہونے کے بعد جب تک نفس اعلی مراحل تک اور تکامل کی منزل تک نہ پہنچ جائے تب تک  اس کے تمام آثار کو صحیح نہیں سمجھ سکتے ۔  اس مطلب کی مزید وضاحت کے لئے ہم کہتے ہیں:

نفس کے آثار اور مکاشفات کو کلی طور پر تین قسموں میں تقسیم کیا جا سکتاہے

1۔ رحمانی مکاشفات

2۔ شیطانی مکاشفات

3۔ نفسانی مکاشفات

1۔ رحمانی مکاشفات

یہ ملائکہ کے الہام سے وجود میں آتے ہیں اگرچہ یہ بہت کم ہوتے ہیں لیکن یہ حقیقت رکھتے ہیں اور صحیح ہیں


2۔ شیطانی مکاشفات

یہ مکاشفات کی دوسری قسم ہے جسے شیطانی عوامل ایجاد کرتے ہیںاور اگر فرض کریں کہ یہ کسی مقام پر کوئی صحیح خبر دیں تو اس پرتوجہ نہیں کرنی چاہئے ورنہ یہ آہستہ آہستہ انسان میں نفوذ پیداکرکے انسان پر حاوی و مسلط ہو جاتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انسان ایسے مکاشفات کا عادی ہو جاتاہے اور شیطان ایسے مکاشفات کیذریعے حاوی ہو جاتا ہے۔

بعض اوقات بہت سے انسان علم و آگاہی خاندان وحی علیھم السلام کے حیات بخش فرامین سے دوری کے نتیجہ میں خود کو ایسے مکاشفات و خیالات میں مبتلا  کر لیتاہے  اور وہ اس خیال خامی میں اپنی عمر برباد کر دیتاہے کہ اسے بزرگ معنوی و روحانی حالات پیدا ہوئے ہیں۔

3۔ نفسانی مکاشفات

مکاشفات کی تیسری قسم نفسانی مکاشفات ہیں۔ایسے مکاشفات کا صحیح و غلط ہونا نفس کی نورانیت سے مربوط ہے اگر کوئی سلمان و ابوذر کی طرح کمال کے درجہ تک پہنچ جائے تو اس کے تمام مکاشفات صحیح ہوں گے ۔لیکن اگر تکامل کے درجہ تک نہ پہنچا ہو  اور چونکہ اس کے نفس میں موجود افکار ،سوچ و بیچار اور اعتقادات اس کے مکاشفات اور نفسانی چیزوں کے حصول میں مؤثر ہوتے ہیں ۔اس لئے مکاشفات کا صحیح ہونا افکار و عقائد کی اہمیت سے وابستہ ہوتا ہے ۔

اس بناء پر جب تک انسان اپنے وجود سے غلط افکار و خیالات اور اعتقادات کو دور نہ کرے تب تک وہ مکاشفات کی صحت کو اخذنہیں کر سکتا کیونکہ بہت سے موارد میں نفسانی مکاشفات انہی چیزوں سے پیدا ہوتے ہیں کہ جو نفس میں موجود ہوں کیونکہ جو نفس تکامل کی حد تک نہ پہنچا ہو وہ حق و باطل اور صحیح و غلط کا مجموعہ ہوتاہے


 لہذا ہر قسم کے مکاشفہ پر اعتبار و اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ایسے مکاشفات و الہامات کی طرف توجہ سے بہتر ہے کہ انسان اہلبیت عصمت وطہارت علیھم السلام کے فرامین کی روشنی میں خودسازی اور  تکامل کی سعی کرے کیونکہ اہلبیت علیھم السلام تمام اسرار و رموز سے آگاہ ہیں۔

اس بناء پر جو کوئی بھی ایسے مکاشفات کے حصول کا پیاسا ہو،اس پر لازم ہے کہ وہ مکتب وحی کے فرامین کی بنیاد پر خودسازی کی کوشش کرے تا کہ خواہشات نفسانی اور ہواوہوس پر اثر انداز نہ ہوں۔

مغرب میں خودشناسی کا ایک نمونہ

کچھ مغربی ممالک میں تعلیمی اداروں، یونیورسٹیوں اور کالجوں میں داخلے کے خواہشمند حضرات کا ٹیسٹ لیا جاتا ہے اور ان سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات کی بنیاد پر انہیںیہ پتہ چل جاتا ہے کہ ان میں روحانی و علمی استعداد کس قدر ہے وہ علوم کے کس شعبہ میںزیادہ ترقی کر سکتے ہیں ؟پس جب یہ معلوم ہو جائے کہ وہ علوم کے کس شعبہ میں زیادہ ترقی کر سکتے ہیں، وہ ان کے لئے اسی شعبہ کا انتخاب کرتے ہیں ۔

اگرچہ خود شناسی کی اس قسم کے بھی بہت سے فوائد ہیں یہ صحیح راہ میں صرف ہونے والی انرجی اور توانائیوں  کو ضائع ہونے سے بچاتا ہے ۔لیکن زندگی کے آخر تک اسی پر اکتفاء کرنا اوراس سے زیادہ توانائی رکھنے والے جوان کے لئے اسی راہ کو  جاری و ساری رکھنا  ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص جوانی میں اپنے بدن کی سلامتی کے لئے اپنا چیک اپ کروائے اور بڑھاپے تک اسی پرباقی رہے!

ایسی شناخت صرف محدود وقت کے لئے کافی ہے ۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ انسان کی اندرونی اورروحانی توانائیاں کبھی بچپن یا جوانی میں ہی انسان میں نمودار ہوتی ہیں


 اور کبھی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ عقل اور تجربہ کی افزائش سے کچھ انسانوں میں یہ  عظیم توانائیاں بڑھاپے میں نکھر کر سامنے آتی ہیں۔اس بناء پر انسان کو ہمیشہ اپنے اندر چھپی ہوئی پوشیدہ توانائیوں سے آگاہی کی کوشش کرنی چاہئے  اور انہیں آشکار کرنا چاہئے کیونکہ ہم نے دیکھاہے کہ بہت سے ذہین افراد نے بڑھاپے میں اپنی ذہانت کو نکھارا ہے۔

لہذا اگر کوئی ذہانت کے ٹیسٹ میں ایک معلم کے برابرصلاحیت رکھتا ہو تو اسے اپنی زندگی کے آخری ایام تک یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ وہ ایک معلم ہی کی صلاحیت رکھتا ہے۔بلکہ اسے انسان ساز مکتب اہلبیت علیھم السلام کے الہام و فرامین کی روشنی میں یہ سوچنا چاہئے کہ خداوند کریم نے اس میں ایسی خصوصیات  و خصلتیں خلق کی ہیں جن سے استفادہ کرکے انسان اپنی صلاحیت کے نئے دروازے کھول سکتاہے۔

پختہ ارادہ ،ہمت اور توبہ انہی خصوصیات میں سے ہیں۔

مثال کے طور پر انسان توبہ کی وجہ سے اپنے اندر موجود عظیم توانائی تک رسائی حاصل کرکے انہیں عظیم توانائیوں میں تبدیل کر سکتا ہے۔

اسی طرح مکتب اہلبیت عصمت و طہارت علیھم السلام کے فرمودات و کلمات میں اپنے پیروکاروں کوہمت اور ارادے کے بارے میں جو کچھ سکھایا ہے ان کا مسئلہ بھی ایسے ہی ہے ۔

اس بناء پر اگر ایسی خصوصیات کے باوجود انسان ان کی طرف متوجہ نہ ہو اور محدود وقت کے لئے اپنی کچھ توانائیوں کو پہچان کر انہی پر اکتفاء کرے تو یہ بہت بڑی غلط فہمی ہو گی ۔ہمیں ہمیشہ نفس اور اس  کی تبدیلیوں کی طرف متوجہ رہنا چاہئے تا کہ ہمیں اپنے نفس کی دوراندیشانہ شناخت ہو۔


پس محدود وقت کے لئے خودشناسی پوری زندگی کی خودشناسی اور خودسازی کی دلیل نہیںہے بلکہ خودشناسی اور خودسازی  ہمیشہ کی بنیادوں پر دوراندیشی اور نفس کے بارے میں فکر کے ساتھ ہونی چاہئے۔ حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''اِنَّ الْمَحٰازِمَ مَنْ قَیَّدَ نَفْسَهُ بِالْمُحٰاسَبَةِ وَ مَلِکَهٰا بِالْمُغٰاضَبَةِ وَ قَتَلَهٰا بِالْمُجٰاهَدَة'' (1)

بیشک دوراندیش وہ ہے جو محاسبہ کے ذریعہ اپنے نفس پر قابو رکھے اور اپنے نفس پر غضب کے ذریعہ اس کا مالک بن جائے اور مجاہدت کے ذریعہ اسے قتل کر دے۔دوراندیشی ،نفس کے محاسبہ اور نفس پر مغاضبہ کے ذریعہ انسان کے نفس میں ایسی تبدیلیاں ایجاد ہوتی ہیں جس سے گذشتہ زمانے میں کئے جانے والے تمام ٹیسٹوں کی اہمیت کم ہو جاتی ہے۔پس نفس میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں اور شخصیت کی تجدیدکے نتیجہ میں نئے ٹیسٹ کرنے چاہئیں جس طرح وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بدن کا نئے سرے سے چیک اپ کیا جاتا ہے۔اسی لئے ماہرین نفسیات روحانی پریشانیوں سے نجات اور زندگی کو پر مسرت بنانے کے کچھ طریقے بیان کرتے ہیں ۔تصویر و تصور ، تجسم اور ارادے ایسے ہی مہم طریقے ہیں جن پر یہ بھروسہ کرتے ہیں۔دنیا والوں نے جن حقائق تک اب رسائی حاصل کی ہے ہمارے راہنماؤں اور پیشواؤں نے ہمیں وہ حقائق بہت پہلے سکھائے تھے ۔ لہذا ہمیں ان کی نئی دریافتوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے جو انہوں نے اپنے نظریات کی بنیاد پر فراہم کئے ہیں۔ہمیں''دون خوان''اور ''کاستاندا'' کے تجربات اور تصنیفات کی کوئی ضرورت نہیںہے ان کے لئے یہی بہتر ہے کہ وہ امریکا کے جادوگروں کو ہی چکمہ دیں۔جس طرح ہمیں ''ماہاریشی''کی راہنمائی کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس کے لئے یہی بہتر ہے کہ وہ ہندوستان کے سیکھوں اور ہندؤں کو ہی تعلیم دے ۔ہمیں ''ذن بودیسم''اور ''پیران''کی بھی ضرورت نہیں ہے ۔ان کے لئے ''ذن''اور ''گوان''کی طریقت ہی گائے پرستوں کو سکھائیں۔ہمیں نہ ہی تو ''کرشنا مورتی''کی بصیرت کی ضرورت ہے اور نہ ہی اس کے شیر کے دانتوں کی ان کے لئے یہی بہتر ہے کہ وہ ہمارے آگاہ جوانوں کی طرف اپنی طمع کے دانت نہ بڑھائیں۔

--------------

[1]۔ شرح  غرر  الحکم: ج۲ ص ۵۵۸


خودشناسی کے عوامل

1۔ خودشناسی میں ارادہ کا کردار

اگر آپ اپنی ہوا و ہوس کو قوی سمجھتے ہیں تو اس کی یہ وجہ ہے کہ خودسازی کے بارے میں آپ کا ارادہ ضعیف ہے ۔اگر آپ اپنے ارادہ کو مضبوط بنا لیں اور پختہ ارادہ کے ساتھ صراط مستقیم پر چلنے کے لئے قدم بڑھائیں تو اس صورت میں آپ کویقین ہو جائے گا کہ آپ کا نفس اور ہوا و ہوس آپ کے زیر تسلط اور مغلوب ہے۔

آپ یقین رکھیں کہ ارادہ کی حقیقت سے آپ کو یہ معلوم ہو جائے گا کہ آپ کے محکم ارادے کے سامنے آپ کے نفس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے ولایت و امامت کی چھٹی کڑی حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے یوں بیان فرمایا ہے:''صٰاحِبُ النِّیَّةِ الْخٰالِصَةِ نَفْسُهُ وَ هَوٰاهُ مَقْهُوْرَتٰانِ تَحْتَ سُلْطٰانِ تَعْظِیْمِ اللّٰهِ  وَالْحَیٰائِ مِنْهُ'' (1)

جو کوئی پختہ ارادہ اور خالص نیت کا مالک ہو ،اس کا نفس اور ہوا و ہوس سلطنت الٰہی کی تعظیم  اور خدا سے حیاء کی وجہ سے مقہور و مغلوب ہوتی ہیں۔

یعنی خالص اور پختہ ارادہ رکھنے والا شخص خود کو خدا کی عظمت کے سامنے حاضر سمجھتا ہے اور برے کاموں کو انجام دینے کی راہ میں شرم و حیاء مانع آتی ہے ۔اسی وجہ سے اس کا نفس، نفسانی خواہشات اور ہوا و ہوس مغلوب ہو جاتی ہیں اور یہ ان پر مسلط ہو جاتاہے۔اس بناء پر اپنے نفس کے قوی ہونے کا گلہ و شکوہ نہ کریں بلکہ اپنے ارادے کے ضعف اور ناپختگی کا رونا روئیں اور اس کی اصلاح کی کوشش کریں۔

--------------

[1] ۔ بحار الانوار:ج۷۰ص۲۱۰ ، مصباح الشریعہ:4


 خودشناسی میں ارادہ کا کردار

اگر آپ اپنی ہوا و ہوس کو قوی سمجھتے ہیں تو اس کی یہ وجہ ہے کہ خودسازی کے بارے میں آپ کا ارادہ ضعیف ہے ۔اگر آپ اپنے ارادہ کو مضبوط بنا لیں اور پختہ ارادہ کے ساتھ صراط مستقیم پر چلنے کے لئے قدم بڑھائیں تو اس صورت میں آپ کویقین ہو جائے گا کہ آپ کا نفس اور ہوا و ہوس آپ کے زیر تسلط اور مغلوب ہے۔

آپ یقین رکھیں کہ ارادہ کی حقیقت سے آپ کو یہ معلوم ہو جائے گا کہ آپ کے محکم ارادے کے سامنے آپ کے نفس کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے ولایت و امامت کی چھٹی کڑی حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے یوں بیان فرمایا ہے:

''صٰاحِبُ النِّیَّةِ الْخٰالِصَةِ نَفْسُهُ وَ هَوٰاهُ مَقْهُوْرَتٰانِ تَحْتَ سُلْطٰانِ تَعْظِیْمِ اللّٰهِ  وَالْحَیٰائِ مِنْهُ'' (1)

جو کوئی پختہ ارادہ اور خالص نیت کا مالک ہو ،اس کا نفس اور ہوا و ہوس سلطنت الٰہی کی تعظیم  اور خدا سے حیاء کی وجہ سے مقہور و مغلوب ہوتی ہیں۔

یعنی خالص اور پختہ ارادہ رکھنے والا شخص خود کو خدا کی عظمت کے سامنے حاضر سمجھتا ہے اور برے کاموں کو انجام دینے کی راہ میں شرم و حیاء مانع آتی ہے ۔اسی وجہ سے اس کا نفس، نفسانی خواہشات اور ہوا و ہوس مغلوب ہو جاتی ہیں اور یہ ان پر مسلط ہو جاتاہے۔

اس بناء پر اپنے نفس کے قوی ہونے کا گلہ و شکوہ نہ کریں بلکہ اپنے ارادے کے ضعف اور ناپختگی کا رونا روئیں اور اس کی اصلاح کی کوشش کریں۔

--------------

[1] ۔ بحار الانوار:ج۷۰ص۲۱۰ ، مصباح الشریعہ:4

نفس کو کمزور کرنے کا طریقہ

آپ ارادہ کر لیں کہ جب بھی کوئی گناہ یا برا کام انجام دیں تو اس کے برابر اچھا اور نیک کام انجام دیں اگر آپ نے اس پر عمل کیا تو کچھ دنوں کے بعد آپ مشاہدہ کریں گے کہ آپ میںنفسانی خواہشات کمزورہو چکی ہیں۔حضرت پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں:

''اِذٰا عَلِمْتَ سَیِّئَةً فَاعْمَلْ حَسَنَةً تَمْحُوْهٰا'' (1)

جب بھی تم نے کوئی برا کام انجام دیا تو پھر نیک کام بھی انجام دو تا کہ برے کام کو نابود کر سکو۔

غلط اور برے کاموں کے جبران کے لئے اچھے اور نیک کام انجام دینے سے ناپسندیدہ اور برے کاموں کے اثرات زائل ہو جاتے ہیں۔اس کے آثار میں سے ایک نفسانی خواہشات کی قدرت ہے۔اس بناء پر ہمیں  خاندان وحی علیھم السلام کے انسان ساز فرامین سے ابھی یہ عہد کرنا چاہئے کہ ہم سے جب بھی کوئی خطا سرزد ہو جائے  تو اس کے جبران کے طور پر نیک اور اچھا عمل انجام دیں تا کہ برے عمل کا اثر ختم ہو جائے۔یہ کامیابی کی ایک اہم کنجی ہے جسے کبھی بھی فراموش نہیں کرنا چاہئے۔آپ کو یہ یقین ہونا چاہئے کہ اہلبیت عصمت و طہارت علیھم السلام کے فرمودات کی پیروی کرنے سے آپ کے لئے تاریک راہیں بھی روشن ہو جائیں گی،آپ کے لئے پیچیدگیا ں حل ہو جائیں گی  اور آپ پر غالب نفس مغلوب ہو جائے گا ۔تب آپ کو یہ یقین ہو جائے گا کہ بہت سے ناممکن کام بھی ممکن ہیں۔

اب ہم آپ کے لئے اسلام کے درخشاں ستارے مرحوم مرزا قمی کا واقعہ بیان کرتے ہیں تا کہ آپ کو یہ یقین ہو جائے کہ بہت سے ناممکن کام بھی ممکن ہیں۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج۷۱ ص۳۸۹، امالی  طوسی:ج۱  ص۱۸۹


مرحوم مرزا قمی کی وفات کے بعد ''شیروان ''کا رہنے والا ایک شخص ہمیشہ آپ کے مرقد پر حاضر ہوتا اور وہ کسی سے کوئی اجرت لئے بغیروہاں ایک خادم کی طرح خدمت کرتا ۔نیز کسی نے اسے اس کام پر معین بھی نہیں کیا تھا۔کیونکہ یہ کام رائج اور مرسوم نہیں تھا اس لئے اس کی خدمت گزاری کی وجہ دریافت کرنے لگے۔

اس نے کہا:میں شیروان کا رہنے والا ہوں اور اس شہر کے امیر ترین افراد میں سے ہوں ۔میں سمجھا کہ میں حج کے لئے مستطیع ہوں  لہذامیں حج بیت اللہ کی ادائیگی کے ارادہ سے سفر کا لباس پہن کر شہر سے نکلا۔

مکہ معظمہ پہنچنے اور حج کے اعمال انجام دینے کے بعد میں دریائی راستہ کے ذریعے واپس روانہ ہوا۔ایک دن میں رفع حاجت کے لئے کشتی کے کنارے پر بیٹھا کہ میرے پیسوں کی تھیلی پھٹ گئی اور سارے پیسے دریا میں گر گئے ۔ میرے د ل سے ایک سرد آہ نکلی  اور اس بارے میں میری امید ٹوٹ گئی ۔ میں پریشانی و حیرانگی کے عالم میںاپنی منزل کی طر ف لوٹا اور اپنا تھوڑا بہت سامان اٹھا کر نجف اشرف  میں داخل ہوا اور کائنات کے مشکل کشاء حضرت امیر المؤمنین علی بن ابیطالب علیہ السلام سے متوسل ہوا۔

ایک رات میں نے آنحضرت علیہ السلام کو عالم خواب میں دیکھا اور آپ نے فرمایا:

پریشان نہ ہو،تم قم جاؤ اور اپنے پیسوں کی تھیلی مرزا ابوالقاسم عالم قمی سے مانگو  وہ تمہیں دے دیں گے۔میں خواب سے بیدار ہوا ور میں نے اس خواب کو اس دن کے عجائب میں سے جانااور میں خود سے کہا کہ میرے پیسوں کی تھیلی عمان کے دریا میں گری ہے اور حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے میری قم کی طرف راہنمائی فرمائی ہے!

میں نے خود سے کہا:عراق کے مقامات مقدسہ کی زیارت کے بعد حضرت معصومہ علیھا السلام کی زیارت کی غرض سے قم جاؤں گا اور میں یہ واقعہ میرزا قمی سے بیان کروں گاشاید انہیں اس کا کوئی حل معلوم ہو۔

اسی لئے میں قم آیا اور حضرت فاطمۂ معصومہ علیھا السلام کی زیارت کے بعد مرحوم مرزا قمی کے گھر گیا اتفاقاً وہ قیلولہ کا وقت تھا اور آپ اپنی بیرونی رہائشگاہ پر تشریف فرما نہیں تھے


میں نے ان کے ایک خادم سے کہا:میں ایک مسافر ہوں اور دور دراز کے علاقہ سے آیا ہوں :مجھے جناب مرزا قمی سے بہت ضروری کام ہے

خادم نے جواب میں فرمایا:وہ ابھی آرام فرما رہے ہیں۔آپ جائیں اور عصر کے وقت تشریف لائیں ۔

میں نے کہا:میری ایک چھوٹی سی عرض ہے ۔

خادم نے تند لہجہ میں کہاجاؤ! اندر والا دروازہ کھٹکھٹاؤ۔

میںجسارت کرتے ہوئے اٹھا اور دروازے پر دستک دی ،اندر سے آواز آئی فلاں شخص صبر کرو میں آتا ہوں اور انہوں نے مجھے میرے نام سے پکارا۔مجھے اس بات پر بہت تعجب ہوا ۔پھر وہ میرے پاس آئے اور انہوں نے اپنے کپڑوں سے مجھے پیسوں کی وہی تھیلی نکال کر دی جو عمان کے دریا میں گر  گئی تھی اور مجھ سے فرمایا:میں اس بات پر راضی نہیں ہوں کہ جب تک میں زندہ ہوں کسی کو اس واقعہ کی خبر ہو ۔یہ تھیلی لو اور اپنے وطن واپس چلے جاؤ۔

میں نے مرزا قمی کی دست بوسی کی اور ان سے الوداع کہہ کر اس دن کے اگلے روز اپنے وطن روانہ ہو گیا۔کام کاج اور روزگار کی مصروفیت کے باعث کافی عرصہ میں اس واقعہ کو بھول گیا ۔کچھ عرصہ کے بعد جب میں تھک گیا تو ایک روز میں اپنی زوجہ کے ساتھ بیٹھ کر اپنے گذشتہ سفر کی روداد سنانے لگا ۔مجھے یہ واقعہ بھی یاد آیا اور میں نے اسے اپنی زوجہ سے بیان کر دیا۔

جب میری زوجہ اس واقعہ سے آگاہ ہوئی تو اسے بہت تعجب ہوا  اور اس نے کہا:جب تم ایسے شخص سے آشنا ہو گئے ہو توتم نے اسی پر اکتفاء کیوں کی  اور تم نے ان کی ملازمت کیوں نہیں کی اور  ان کی ہمنشینی و صحبت کیوں اختیار نہیں کی؟

میں نے کہا:پس مجھے کیا کرنا چاہئے؟


اس نے کہا:انسان کو ایسے بزرگوں کی خدمت کرنی چاہئے اور مرنے کے بعد انہی کے مرقد کے ساتھ دفن ہونا چاہئے ۔

میں نے کہا:کیونکہ مجھے اپنے قریبی رشتہ داروں سے ملنے کا بہت اشتیاق تھا اس لئے میں یہ کام انجام نہ دے سکا ۔اب تو وقت گزر گیا اور میں اس عظیم نعمت سے محروم ہو گیا ہوں۔

اس نے کہا:نہیں !واللہ!اب بھی وقت نہیں گزرا اور تم آسانی سے اس کا جبران کر سکتے ہو۔ کیونکہ قم ایک آباد اور معنوی شہر ہے  اور اگر انسان کو ایسے بزرگوں کی خدمت کا شرف حاصل ہو جائے تو اس سے نیک  کام اور کیا ہو سکتاہے ۔اٹھو !ہمارے پاس جو کچھ ہے اسے اپنے ساتھ قم لے چلتے ہیں  اور اسے اپنی زندگی کا سرمایہ قرار دیتے ہیں اور اپنی پوری زندگی حضرت معصومہ علیھا السلام کے روضۂ مطہر کی مجاوری اور اس بزرگ ہستی کی خدمت میں بسر کرتے ہیں۔

میں نے اس کی بات مان لی اور اپنی تمام جائیداد ،گھر اور زمین وغیرہ فروخت کرکے اپنی زوجہ  کے ساتھ قم چلا گیا۔جب میں قم میں داخل ہوا تو مجھے خبر ملی کہ مرزا قمی اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں  اس وقت سے میں نے ان کیقبر کی ملازمت اختیار کر لی ہے اور جب تک میرے جسم میں جان ہے میں اس کام سے دستبردار نہیں ہوں گابلکہ یہ میرے لئے باعث فخرہے۔(1)

اس واقعہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے ناممکن کام بھی ممکن ہیں لیکن ہم نے انہیں انجام دینے کی کبھی کوشش ہی نہیں کی ہے ۔اسی لئے ہم اسے ناممکن کہتے ہیںحالانکہ حقیقت میں وہ ممکن ہوتے ہیں  اور وہ واقع پذیر ہو چکے ہوتے ہیں اور آئندہ بھی واقع ہو سکتے ہیں۔جیسے پیسوں کی وہ تھیلی جو عمان کے دریا میں گر گئی تھی اور جو مرحوم مرزا قمی  نے اپنے کپڑوں سے نکال کر اس کے مالک کو دی۔

۔

--------------

[1] ۔ عبقریّ الحسان: ج۲ص۱۰۰


قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ جب حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے اسے جس شخص کیطرف رہنمائی کی تو فرمایا:وہ پیسوں کی تھیلی مرزا ابو القاسم عالم قمی سے مانگو۔یعنی حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام ایسے افراد کو عالم سمجھتے ہیں؛ حالانکہ آپ دوسر ی طرح سے بھی تعبیر فرما سکتے تھے اور ان کی شہرت کی وجہ سے صرف مرزا قمی کہہ کرہی معرفی کروا سکتے تھے

پس ہمیشہ جستجو اور طلب جاری رکھو تا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آپ خودشناسی تک رسائی حاصل کر سکیں اور کچھ غیر ممکن امور آپ کے لئے ممکن بن سکیں۔جیسا کہ نفسانی خواہشات اور ہوا و ہوس کوانسان کی لاشعوری طور پر طلب کرتاہے یا پھر انسان ان سے آگاہ ہوتاہے۔نفس کو کنٹرول کرنا بھی ایسے ہی ہے ۔یعنی اگر انسان چاہے تو اپنے نفس پر قابو پا سکتاہے ،جس طرح انسان اسے بالکل آزاد چھوڑ کر حیوانات سے بھی پست  و بدترہو سکتا ہے۔

آدمی زادہ طرفی معجون است     از ملایک سرشتہ و زحیوان

گر کند  میل این، پس از آن     ور کند میل، شود بہ  از  آن


2۔ خودشناسی میں خوف خدا کا کردار

خداوند عالم کی معصیت و مخالفت کا خوف انسان کو ہوا و ہوس  ترک کرنے کی طرف مائل کرتا ہے  جس کے نتیجہ میں انسان کو خود شناسی کا راستہ مل جاتاہے  اور ہدایت کا راستہ فراہم ہو جاتاہے ۔

خداوند متعال کا ارشاد ہے:

وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَی النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰی ، فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَأْوٰی (1)

اور جس نے رب کی بارگاہ میں حاضری کا خوف پیدا کیا ہے اور اپنے نفس کو خواہشات سے روکا ہے اور جنت انہی کا مقام ہے۔

خدا کے حکم کی مخالفت کا خوف عقل کی قوت سے ایجاد ہوتاہے انسان جتنا زیادہ عقلمند ہو گا اور اپنی تجربی عقل میں جتنا زیادہ اضافہ کرے گا ،اتنا ہی اس میں خدا کے قوانین کی مخالفت کا خوف زیادہ ہو جائے گا اور وہ اتنا ہی زیادہ ہوا و ہوس اور خواہشات نفسانی کی مخالفت کرے گا۔

--------------

[1]۔ سورۂ نازعات، آیہ:40،41


حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''قٰاتِلْ هَوٰاکَ بِعَقْلِکَ'' (1)

اپنی ہوا و ہوس کو عقل کے ذریعہ نابود کرو۔

اس بناء پر انسان کی عقل جتنی کامل اور زیادہ ہو گی ،اس میں نفس کی مخالفت اور نفسانی خواہشات کو مارنے کی قدرت  بھی اتنی ہی زیادہ ہو گی اور اسے بہتر طریقے سے خودشناسی حاصل ہو گی۔

آپ عقل کی قوت سے استفادہ اور تجربی عقل میں اضافہ کے ذریعے اپنے امور اور پروگرام میں اچھی طرح غور وفکر کر سکتے ہیں اور اسے مکتب اہلبیت علیھم السلام کے ساتھ تطبیق دے سکتے ہیں۔غور و فکر    سے آپ کی عقلی قدرت کو تقویت ملے گی اور آپ میں خودشناسی اور خودسازی کے لئے آمادگی پیدا ہو گی اور خدا کے حکم کی مخالفت کا خوف بھی زیادہ ہو گا اور آپ زیادہ قوت و طاقت سے نفس کی مخالفت کر پائیں گے۔

--------------

[1] ۔بحار  الانوار:ج۱ص۱۹۵  اور  ج۷۱ص۴۲۸


3۔ اپنے باطن اور ضمیر کو پاک کرنا

ہمیں خودسازی کے لئے نہ صرف اپنے ضمیر کو معارف اہلبیت علیھم السلام سے منور کرنا چاہے  بلکہ اپنے وجود کی گہرائیوں کو دشمنان دین کی چاہت سے بھی پاک کرناچاہئے اور اپنے ضمیر کو اہلبیت ولایت و عصمت علیھم السلام  کے تابناک انوار سے روشن کرنا چاہئے۔

مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام خدا کو مخلوق سے تشبیہ دینے والوں کے بارے میں فرماتے ہیں:

''لَمْ یَعْقَدْ غَیْبَ ضَمِیْرِهِ عَلٰی مَعْرِفَتِکَ'' (1)

اپنے پوشیدہ ضمیر کو اپنی معرفت کا پیوند نہیں لگایاہے۔

اس بناء پر انسان کو نہ صرف ظاہری شعور و ضمیر سے آگاہ ہونا چاہئے بلکہغائب اور پوشیدہ ضمیر سے بھی آگاہ ہونا چاہئے ۔خود سازی اور خود شناسی کے لئے انسان کو ضمیر اور شعور کے دونوں مرحلوں کو پاک کرنا چاہئے ۔

--------------

[1] ۔ بحار الانوار:ج۷۷ ص۳۲۰


 خودشناسی کے موانع

۱۔ ناپسندیدہ کاموں کی عادت خودشناسی کی راہوں کو مسدود کر دیتی ہے:

کیا یہ افسوس کا مقام نہیں ہے کہ ہم اپنے وجود میں روحانی طاقت سے غافل ہونے کی وجہ سے اس سے استفادہ نہ کریں اور اسے برے اور بیکار کاموں کا عادی بنا لیں؟!

مکتب اہلبیت علیھم السلام کی نظر میں سب سے بہترین عبادت ناپسندیدہ اور بری عادتوں پر غلبہ پانا ہے؛کیونکہ کسی بھی کام کا عادی ہو جانا انسان پر فطرت ثانوی کے حاکم ہونے کی مانند ہے ۔

اسی لئے حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام عادت کو فطرت ثانویہ کا نام دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

''اَلْعٰادَةُ طَبْعُ ثٰانٍ'' (1)

عادت فطرت ثانوی ہے۔

اسی لئے جب انسان کسی چیز کا عادی ہو جائے تو وہی چیز انسان پر حاکمہوجاتی ہے ۔اسی وجہ سے کسی برے اور ناپسندیدہ کام کا عادی شخص اگر خود کو برے کاموں سے نجات دے تو گویا اس نے افضل ترین عبادت انجام دی ہے ۔

--------------

[1]۔ شرح غرر الحکم: ج۱ص۱۸۵          


حضرت امیرالمؤمنین علی بن ابیطالب علیہ السلام اپنے ایک مختصر کلام میں فرماتے ہیں:

''اَفْضَلُ الْعِبٰادَةِ غَلَبَةُ الْعٰادَةِ'' (1)

سب سے افضل عبادت عادت پر غالب آنا ہے۔

کیونکہ برے اور ناپسندیدہ کاموں پر غالب آنے سے روحانی کمالات تک پہنچنے کے راستے کھل جاتے ہیں اور عالی ترین معنوی مقامات تک پہنچنے کا وسیلہ فراہم ہو جاتا ہے۔

حضرت امیرالمؤمنین علی بن ابیطالب علیہ السلام فرماتے ہیں:

''بِغَلَبَةِ الْعٰادٰاتِ أَلْوُصُوْلُ اِلٰی أَشْرَفِ الْمَقٰامٰاتِ'' (2)

عادتوں پر غلبہ پانے سے عظیم مقامات حاصل ہوتے ہیں۔

صرف گناہوں کا عادی ہونا ہی نہیں بلکہ ہر قسم کا بیہودہ اور ناپسندیدہ کام ترقی  اور زندگی کے دوسرے اہم امور تک پہنچنے کی راہ میں رکاوٹ ہوتے ہیں۔انسان کو چاہئے کہ وہ روحانی قوتوں کے  حصول کے لئے ناپسندیدہ عادتوں کی پیروی سے اجتناب کرے تا کہ کمالات کے عالی مراحل تک پہنچ سکے۔مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''غَیْرُ مُدْرِکِ الدَّرَجٰاتِ مَنْ أَطٰاعَ الْعٰادٰاتِ'' (3)

جو کوئی اپنی عادتوں کی اطاعت کرے ، وہ بلند درجات تک نہیں پہنچ سکتا۔

--------------

[1]۔ شرح غرر الحکم: ج۲ص۳۷۵           

[2] ۔ شرح غرر الحکم: ج۳ص۳۸۲

[3] ۔ شرح غرر الحکم: ج۴ص۳۸۲


کیونکہ کوئی بھی عادت انسان کو زنجیر کی طرح قید کر لیتی ہے اور پھر ترقی کے لئے کوئی راستہ باقی نہیں رہتااور  بلند معنوی درجات تک پہنچنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جاتا ہے۔

اس بناء پر کمال کے مراحل تک پہنچنے کے لئے ہر قسم کی بری عادتوں اور ناپسندیدہ امور کو ترک کرنا لازم اور ضروری ہے تا کہ انسان آسانی سے روحانی تکامل تک پہنچ سکے۔

حضرت امیر المؤمنین علی بن ابیطالب علیہ السلام فرماتے ہیں:

''غَیِّرُوا الْعٰادٰاتِ تَسْهُلَ عَلَیْکُمُ الطّٰاعٰاتِ'' (1)

عادتوں کو تبدیل کرو (یعنی بری عادتوں کو ترک کر دو)تا کہ اطاعت(خداوندی) تمہارے لئے آسان ہو سکے۔

اس فرمان سے یہ استفادہ کیا جا سکتا ہے خدا کے احکامات کی پیروی کو مشکل بنانے کے لئے شیطان اور نفس کا ایک حربہ انسان کو برے کاموں کا عادی بنا دینا ہے۔اس لئے انسان کو چاہئے کہ وہ احکامات الٰہی کی آسانی سے پیروی کے لئے شیطان اور نفس کے اس حربہ سے ہوشیار  اور باز رہے تا کہ آسانی سے خدا کے احکامات کی پیروی کر سکے اور مکتب اہلبیت عصمت و طہارت علیھم السلام کی رہنمائی سے انسانیت کے بلند درجوں تک پہنچ سکے۔

گلی کہ تربیت  ز  دست  باغبان  نگرفت

اگر بہ چشمۂ خورشید سرکشد خود روست

ہر انسان کے پاس بے شمار سرمایہ ہوتاہے کہ جس سے استفادہ کرناچاہئے لیکن بیہودہ اور ناپسندیدہ عادتیں اس سرمایہ کو قید  کر دیتی ہیں جو انسان کی قدرت و توانائی کو مزید قوت و طاقت بخشنے کی راہ میں رکاوٹ ہوتی ہے۔

--------------

[1]۔ شرح غرر الحکم: ج۴ص۳۸۱


بری عادت کا عادی ہو جانے والا انسان ایسے سرمایہ دار شخص کی طرح ہوتاہے کہ جس نے اپنے اموال کو ضائع کر دیا ہو ۔ایسا انسانجب تک اپنے سرمایہ کو آزاد نہ کر الے اسے حسرت و ناامیدی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔جس طرح انسان اپنے سرمایہ اور اموال کو مقید حالت سے آزاد کرنے کی کوشش کرتا ہے اسی طرح سے اسے خود کو بری عادتوں سے نجات دلانے کی بھی کوشش کرنی چاہئے ۔

لیکن افسوس کہ اب انسانی معاشرے نے اپنے ہی ہاتھوں سے اپنی عظیم روحانی توانائیوں کو قید کر رکھا ہے ۔ایک گروہمعاشرے کو صرف مادّی امور میں ہی ترقی دلانے کے لئے کوشاں ہے تو دوسرا گروہ کمزور ممالک کے اموال و وسائل پر قبضہ جمانے کے لئے ۔حالانکہ یہ سب خود کو انسان دوست اورحقوق بشر کے حامی سمجھتے ہیں!!


2۔ خود فراموشی

اگر انسان کے علم کا منبع وحی الٰہی ہوتو اس  کے علم میں جتنا اضافہ ہوتا جائے گا اتنی ہی اس کی توجہ پاکسازی اور تہذیب نفس کی طرف بڑھتی جائے گی۔ کیونکہ اگر علم کا منبع و سرچشمہ صحیح ہو اور خدا کے لئے علم حاصل کیا جائے تو یہ نفس کی آلودگی کے ساتھ ساز گار نہیں ہے ۔اسی لئے ہر عالم رباّنی نفس کی مخالفت اور تہذیب  و اصلاح نفس کی کوشش کرتا ہے۔

امیر المؤمنین  حضرت علی علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں:

کُلَّمٰا اَزْدٰادَ عِلْمُ الرِّجٰالِ زٰادَتْ عِنٰایَتُهُ بِنَفْسِهِ وَ بَذَلَ فِْ رِیٰاضَتِهٰا (1)

انسان کا علم جتنا زیادہ ہو  جائے ، اس کی نفس کی طرف توجہ بھی زیادہ ہو جاتی ہے  اور وہ اس کی ریاضت میں زیادہ توجہ کرتا ہے۔

اس بناء پر علم و آگاہی انسان کو خودسازی اور خودشناسی کی دعوت دیتی ہے اور نفس سے مربوط مسائل میں غفلت و فراموشی سے باز رکھتی ہے۔

--------------

[1] ۔ شرح غرر الحکم: ج۴ص6۲۱


 خودفراموشی کے دو عوامل، جہل اور یاد خدا کو ترک کرنا

خود کو پہچاننے والے افراد کے مقابل میں ایسے بھی افراد ہیں کہ جو نفس کی شگفتگی اور اس کے آثار سے بے خبر ہیں اور انہیں زندگی کے مسائل کی کوئی خبر نہیں ہے۔اسی لئے وہ اپنے نفس کو آزاد چھوڑ دیتے ہیں اور تہذیب نفس کی کوشش نہیں کرتے۔اسی وجہ سے وہ خود شناسی کی عظیم نعمت سے محروم ہوتے ہیں۔

سنگی و گیاہی کہ در اوخاصیتی ھست

زان آدمی بہ ، کہ در او منفعتی نیست

مولائے کائنات حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام  فرماتے ہیں:

''مَنْ جَهَلَ نَفْسَهُ أَهْمَلَهٰا'' (1)

جو کوئی اپنے نفس سے جاہل ہو ،وہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔

اس بناء پر خود فراموشی کے عوامل میں سے ایک نفس کے حیاتی مسائل سے جہالت اور علم و آگاہی کا نہ ہونا ہے ۔انسان کا علم اہلبیت علیھم السلام کے حیات بخش مکتب کی روشنی میں جتنا زیادہ ہو گا ،اتنا ہی وہ ان مسائل کی طرف زیادہ متوجہ ہو گا۔

خود فراموشی اور نفس کو بے لگام چھوڑ دینے کی دوسری وجہ گناہ انجام دینا اور خدا  و اولیائے خدا کی یاد کو ترک کرنا ہے۔

--------------

[1] ۔ شرح غرر الحکم: ج ۵ ص۱۷۸


جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ اہلبیت  اطہار علیھم السلام کی یاد خدا کی یاد ہے اور ان کو بھلا دینا خدا کو بھلا دینا ہے ۔کیونکہ جیسا کہ حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:''اِذٰا ذُکِرْنٰا ذُکِرَ اللّٰهِ '' (1)

جب ہمیں(خاندان عصمت و طہارت علیھم السلام ) یاد کیا جائے تو خدا گو یاد کیا گیاہے۔

خدا ور اہلبیت علیھم السلام کی یاد کو چھوڑ دینا ،انسان کو زندگی کے اہم مسائل سے غافلکر دیتا ہے اور عظیم معنوی حقائق سے بھی دور کر دیتا ہے  اورا نسان کو خودفراموشی میں مبتلا کر دیتا ہے۔

 اس بارے میں خداوند متعال کا ارشاد ہے:

(وَلَا تَکُونُوا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰهَ فَأَنسَاهُمْ أَنفُسَهُمْ ) (2)

اور خبردار ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے خدا کو بھلادیا تو خدا نے خود ان کے نفس کو بھی بھلا دیا اور وہ سب واقعی فاسق اور بدکار ہیں ۔

پس گناہ اور خدا اور خدا کے احکامات کو بھلا دینا انسان کو خود فراموشی میں گرفتار کر دیتاہے۔اس بناء پر خودشناسی کے لئے خودسازی کی کوشش کریں اور خود سازی کے لئے خود فراموشی کو چھوڑیں  اور خودفراموشی کو ترک کرنے کے لئے جہل و نادانی ،خدا اور اہلبیت اطہار علیھم السلام کی یاد کو  ترک نہ کریں ۔

--------------

[1] ۔ بحارالانوار: ج۷۲ ص۲۵۸، اصول  کافی: ج۲ص۱۸6

[2]۔ سورہ  حشر، آیت:۱۹


پس علم و دانش اور خدا و اولیائے خدا کی یاد انسان کوخودفراموشی سے  دور رکھتی ہے ۔خود فراموشی کو چھوڑ کر خودسازی تک پہنچ سکتے ہیںاور خودسازی سے خودشناسی کی راہ ہموار ہو جاتی ہے ۔لیکن اگر ہم اپنے نفس کو ہی نہ پہچان سکیں تو ہم راہ نجات سے دور ہوتے چلے جائیں گے۔

حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''مَنْ لَمْ یَعْرِفْ نَفْسَهُ بَعُدَ عَنْ سَبِیْلِ النَّجٰاةِ وَ خَبَطَ فِ الضَّلاٰلِ وَ الْجَهٰالاٰتِ '' (1)

جو کوئی اپنے نفس کو نہ پہچان سکے ،وہ راہ نجات سے دور ہو جائے گا اور گمراہی و جہالت میں مبتلا ہو جائے گا۔

اس وجہ سے خود شناسی اور معرفت نفس کی عظمت کے بارے میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:

''لاٰ مَعْرِفَةَ کَمَعْرِفَتِکَ بِنَفْسِک'' (2)

کوئی بھی معرفت تمہارے نفس کی معرفت کی طرح نہیں ہے۔

--------------

[1]۔ شرح غرر الحکم: ج۵ ص۴۲6

[2]۔ بحار الانوار: ج۷۹ص۱6۵، تحف العقول:284


 نتیجۂ بحث

روحانی مسائل میں تکامل کے لئے ہمیں خودشناسی کی بہت زیادہ ضرورت ہے ۔جیسا کہ ہم خاندان وحی علیھم السلام  کی تعلیمات سے سیکھتے ہیں کہ جسے اپنے نفس کی معرفت اور خودشناسی حاصل ہو جائے گویا وہ بلند مقام تک پہنچ کر مفید ترین معارف سے آگاہ ہوا ہے۔

اپنے نفس کو پہچانیں اور اس کی قدرت و طاقت اور توانائیوں سے آگاہی حاصل کریں ۔ کوشش کیجئے کہ اپنی قوت کو شیاطین کے تسلط سے رہا کریں اور اپنے روحانی سرمایہ کو بیگانوں کے ہاتھوں قید سے نجات دلائیں۔

اپنی روحانی قوت کے حقیقی دشمنوں کو پہچانیں اور ان کے ساتھ برسر پیکار آنے سے کمالات کے بلند درجوں تک پہنچیں۔ہوا و ہوس اور بے فائدہ زندگی اور بیہودہ کاموں کی عادت روح کے خطرناک ترین دشمن ہیں جو آپ  کی روحانی قوتوں کو اپنا اسیر بنا لیتے ہیں۔

غور وفکر ، پختہ ارادے ،ہمت،ایمان و یقین اور ایسی ہی دوسری قوتوں کے ذریعے اپنی روح کو ایسے دشمنوں کی قید سے نجات دلائیں اور ان قوتوں کو تقویت دینے سے خودشناسی تک پہنچیں اور روح اور کمال کے بلند درجوں کی طرف پرواز کریں۔

ای نقد اصل و فرع ندانم چہ گوہری؟

کز آسمان بر تر و از خاک کمتری!


دوسراباب

معارف  سے  آشنائی

حضرت امیرالمو منین علی علیہ السلام  فرماتے ہیں :

'' اَلْمَعْرِفَةُ بُرْهٰانُ الْفَضْلِ ''

معرفت ،فضیلت کی دلیل ہے۔

    اہلبیت علیھم السلام کی معرفت

    معارف کا ایک گوشہ

    معارف کہاں سے سیکھیں

    عارف نما لوگو ں کی شناخت

    عرفاء کی شناخت

    عرفاء کی صفات

    صاحبان معرفت کی صحبت

    عرفانی حالت میں تعادل و ہماہنگی کا خیال رکھنا

    نتیجۂ بحث


اہلبیت علیھم السلام کی معرفت

اعتقادات اور معارف کی بحثوں میں سے ایک اہم بحث امام علیہ السلام کے مقام و منزلت کی معرفت ہے  جوہم سب پر لازم و واجب ہے ۔جہاںتک ہو سکے ہمیں اپنی توانائی کے مطابق آئمہ اطہار علیھم السلام کے مقام اور امام کی معرفت حاصل کرنی چاہئے۔یہ سب کی ایک عمومی ذمہ داری ہے ۔اس کا لزوم مسلّم و ثابت ہے ۔

حضرت امام صادق علیہ السلام نے زید نامی شخص سے فرمایا:

''اَتَدْرِ بِمٰا اُمِرُوا؟اُمِرُوا بِمَعْرِفَتِنٰا  وَ الرَّدَّ اِلَیْنٰا وَ التَّسْلِیْمِ لَنٰا'' (1)

کیا تم جانتے ہو کہ لوگوں کو کس چیز کا حکم دیاگیا ہے ؟انہیں حکم دیا گیا ہے کہ ہمیں پہچانیں اور اپنے عقائد کوہماری طرف منسوب کریں اور ہمارے سامنے تسلیم ہو جائیں۔

اس بناء پر معارف کے باب میں ایک اہم مسئلہ ا نسان کاآئمہ اطہار علیھم السلام کے مقام کی معرفت حاصل کرنا اور ان کے احکامات کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے ۔معصومین علیھم السلام کے فرامین اور ارشادات میں غور و فکر کریں تا کہ ان ہستیوں کی عظمت کو سمجھ سکیں ۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج 2ص۲۰۴


آئمہ اطہار علیھم السلام کے مقام کی معرفت میں اضافہ کے لئے ابو بصیر کی ایک بہترین روایت بیان کرتے ہیں جو انہوں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا:

قٰالَ :دَخَلْتُ فِ الْمَسْجِدَ مَعَ اِبِ جَعْفَرٍ علیه السلام وَ النّٰاسُ یَدْخُلُوْنَ  وَ یَخْرُجُوْنَ فَقٰالَ لِی:سَلِ النّٰاسَ هَلْ یَرَوْنَنِ؟فَکُلُّ مَنْ لَقَیْتُهُ قُلْتُ لَهُ :أَرَأَیْتَ أَبٰا جَعْفَرٍ علیه السلام؟فَیَقُوْلُ :لاٰ وَ هُوَ وٰاقِف حَتّٰی دَخَلَ اَبُوْ هٰارُوْنِ الْمَکْفُوْفُ ،قٰالَ:سَلْ هٰذٰا فَقُلْتُ:هَلْ رَأَیْت اَبَا جَعْفَرٍ؟فَقٰالَ أَلَیْسَ هُوَ قٰائِماً ،قٰالَ:وَمٰا عِلْمُکَ؟قٰالَ :وَ کَیْفَ لاٰ أَعْلَمُ وَهُوَ نُوْر سٰاطِع

قٰالَ:وَ سَمِعْتُهُ یَقُوْلُ لِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْاَفْرِیْقِیَّةِ:مٰا حٰالُ رٰاشِدٍ؟

قٰالَ:خَلَّفْتُهُ حَیًّا صٰالِحًا یُقْرِؤُکَ السَّلاٰمُ قٰالَ:رَحِمَهُ اللّٰهُ  

قٰالَ:مٰاتَ؟قٰالَ:نَعَمْ،قٰالَ:وَ مَتٰی؟قَالَ بَعْدَ خُرُوْجِکَ بِیَوْمَیْنِ :

قٰالَ وَاللّٰهِ مٰا مَرَضٍ وَ لاٰ کٰانَ بِهِ عِلَّة قٰالَ:اِنَّمٰا یَمُوْتُ مَنْ یَمُوْتُ مِنْ مَرَضٍ اَوْ عِلَّةٍقُلْتُ مَنِ الرَّجُلُ؟قٰالَ:رَجُل کٰانَ لَنٰا مُوٰالِیًا وَ لَنٰا مُحِبًّا

ثُمَّ قٰالَ:لَئِنْ تَرَوْنَ اَنَّهُ لَیْسَ لَنٰا مَعَکُمْ اَعْیُن نٰاظِرَة اَوْاَسْمٰاع سٰامِعَة، لَبِئْسَ مٰا رَأَیْتُمْ ،وَاللّٰهِ لاٰ یَخْفٰی عَلَیْنٰا شَیْئ مِنْ أَعْمٰالِکُمْ ،فَاحْضِرُوْنٰا جَمِیْعًا وَ عَوِّدُوا اَنْفُسَکُمْ الْخَیْرَ ، وَ کُوْنُوْا مِنْ اَهْلِهِ تُعْرَفُوْا فَاِنِّ بِهٰذٰا اٰمُرُ وُلْدِ وَ شِیْعَتِ''(1)

ابو بصیر کہتے ہیں :میں امام محمد باقر علیہ السلام کے ساتھ مسجد میں داخل ہوا جب کہ وہاں پر لوگوں کی رفت و آمد تھی۔

امام علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا:لوگوں سے پوچھو کہ کیا انہوں نے مجھے دیکھا ہے؟

میں ہر ایک سے ملا اور ان سے پوچھا کہ کیا انہوں نے امام باقر علیہ السلام کو دیکھا ہے؟انہوں نے کہا نہیں۔یہاںتک کہ وہاں ابو ہارون نامی ایک نابینا شخص آیا ۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:46،خرائج:ج۲ص۵۹۵ح 7


ابو بصیر نے کہا:تم اس حقیقت سے کیسے آگاہ ہوئے ؟

ابو ہارون:مجھے اس حقیقت کا کیسے پتہ نہ چلے،حالانکہ امام علیہ السلام ایک واضح و آشکار نور ہیں۔

یار پیشت حاضر و تو  از خودی ، غایب از او

با خودا ، آخر کہ گم کردی چہ می جوئی بگو؟!

پھر ابو بصیر نے کہا:میں نے سنا ہے کہ امام باقر علیہ السلام نے اہل افریقہ کے ایک شخص سے فرمایا:

راشد کا کیا حال ہے؟اس نے کہا:جب میں افریقہ سے آیا تھا تو وہ صحیح و سالم تھااور اس نے آپ کو سلام کہا تھا۔

امام باقر علیہ السلام نے فرمایا:خداوند اس پر رحمت کرے ۔

افریقی شخص نے کہا:کیاوہ مر گیا ہے؟!

امام علیہ السلام نے فرمایا:ہاں

اس نے پوچھا:اس کا انتقال کب ہوا؟

امام علیہ السلام نے فرمایا:جب تم افریقہ سے نکلے تو اس کے دو دن کے بعد۔

افریقی شخص نے کہا:خدا کی قسم راشد نہ بیمار تھا اور نہ ہی اسے کوئی درد تھا۔

امام علیہ السلام نے فرمایا:کیا جو کوئی بھی مرتا ہے ،وہ کسی بیماری یا درد کی وجہ سے مرتا ہے؟!

ابو بصیر کہتے ہیں:میں نے امام علیہ السلام سے پوچھا:یہ افریقی شخص کون تھا؟

امام علیہ السلام نے فرمایا:وہ شخص ہمارے خاندان کے محبوں میں سے ہے۔


پھر امام علیہ السلام نے فرمایا:کیا تم یہ یقین رکھتے ہو کہ ہم تمہارے لئے بینا آنکھیں اور سننے والے  کان نہیں رکھتے۔کتنے برے جو اس پر عقیدہ رکھتے ہیں!خدا کی قسم ہم پر تمہارے اعمال میں سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔

پس تم سب ہمیں اپنے نزدیک حاضر سمجھو اور اپنے نفس کو اچھے کاموں کی عادت ڈالو اور نیک کام انجام دینے والے بنو تا کہ اس حقیقت کو پہچان سکو(پھر امام علیہ السلام نے فرمایا)میں نے جو کچھ کہا، میں اپنے بیٹوں اور اپنے شیعوں کو اس کا حکم دیتاہوں۔

یہ روایت بہترین روایات میں سے ہے ۔جس سے علوم و معارف کے انوار ساطع ہورہے ہیں۔

جو خود کو خدا اور اپنے امام  کے حضور میں حاضر سمجھتا ہو اور جو نیک اعمال کا عادی ہو وہ کس طرح ناشائستہ کاموں کی طرف ہاتھ بڑھا سکتا ہے؟

اس روایت میں قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ امام علیہ السلام فرماتے ہیں:ہمیں حاضر سمجھواور اپنے نفس کو اچھے کام انجام دینے کی عادت ڈالوکیونکہ یہ خدا اور امام علیہ السلام کے محضر میں حاضر ہونے کا لازمہ ہے۔

امام محمد باقر علیہ السلام جس چیز کو حضور امام کے اعتقاد کے لئے ضروری سمجھتے ہیں ،وہ نفس کا نیک اعمال اور آداب کا عادی ہونا ہے۔اس صورت میں انسان معرفت اور غیبی امور کو درک کرنے  کے مقام تک پہنچ جاتا ہے۔اگرچہ انسان ابو ہارون کی طرححواس خمسہ میں سے بعض سے محروم ہی کیوں نہ ہو ۔

اس بناء پر نفس کے نیک اور صالح اعمال امور کے عادی ہو جانے سے انسان حضور کی حالت کے لئے آمادہ ہو جاتا ہے اور ابو ہارون کی طرح اس کی باطنی آنکھیں حضور امام علیہ السلام کی معرفت کے لئے کھل جاتی ہیں۔یہ وہ مقام ہوتا ہے کہ جہاں کبھی نابینا افراد بینا ہو جاتے ہیں جیسے ابو ہارون نابینا ، بینا تھے۔


معارف کا ایک گوشہ

معارف الٰہی کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر اور معانی و بیان کا بیکراں سمندر صرف خاندان وحی علیھم السلام کے کلمات کے کوزہ ہی میں مل سکتا ہے۔اس طرح کے بے نظیر کلمات و ارشادات سے ہی معارف کے سمندر میں غوطہ زن ہو سکتے ہیں اور وحی سے نکلنے والے انوار کی نورانیت سے اپنے دل کو روشن و منور کیا جا سکتا ہے۔معارف  اہلبیت علیھم السلام کے گلستان سے قرآن،علوم اورخاندان وحی  علیھم السلام کے حِکَم کی مختلف اور رنگارنگ کلیوں سے اپنے لئے توشہ راہ اخذ کریں۔

اب ان کلمات کا ایک چھوٹا سا نمونہ پیش کرتے ہیں تا کہ اس میں تدبر و تفکر سے اپنے دل کو جلا و صفا بخشیں اور اپنی جان کی گہرائیوں میں معنوی نشاط  پیدا کریں۔

حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''کُلُّ مَعْرُوْفٍ بِنَفْسِهِ مَصْنُوْع '' (1)

جو کچھ پہچان لیا جائے  وہ بنفسہ بنایا گیا ہے۔

حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام نے یہ کلمات خدا شناسی کے بارے میں فرمایا ہے ۔یہ ایک کلی کلام ہے جس سے بہت سے نتائج اخذ کئے جا سکتے ہیں۔اس کی وضاحت کے لئے ہم یہ کہتے ہیں:

انسان جو کچھ بھی پہچانتاہے ،وہ اس کی سطح فکری اور سوچ کے مطابق ہوتاہے کہ جو وہ اپنی تشخیص اور درک کے میزان سے حاصل کرتاہے  اور یہ انسان،قدرتی مناظر یا فطرت کی لی گئی تصویر کی طرح ہے۔

--------------

[1] ۔ نہج البلاغہ خطبہ :228


انسان کا کیمرہ جتنا اچھا ہو گا ،وہ اتنی ہی اچھی تصویر لے گا اور وہ تصویر کی خصوصیات کو اچھے طریقے سے دکھائے گا۔لیکن تصویر جتنی بھی اچھی کیوں نہ ہو وہ پھر بھی تصویر ہی ہے نہ کہ خود وہی شے۔ہم کسی چیز کی تصویر کو اس چیز کی ذات اور حقیقت قرار نہیں دے سکتے ۔کیونکہ تصویر جتنی بھی   معارف الٰہی اور شناخت خدا و اہلبیت اطہار علیھم السلام کے باب میں بھی یہی مسئلہ جاری ہوتاہے  کیونکہ ہم جتنا بھی خدا کی عظمت و قدرت کو جان لیں اور جس قدر بھی بہتر انداز سے اہلبیت عصمت و طہارت علیھم السلام کو پہچانیں ،پھر بھی ہم نے ان ہستیوں کی عظمت کوغور و فکر اور اپنی محدود عقل کے ذریعہ پہچانا ۔پس ہمارے تمام تر اعتقادات ہماری عقل کی حد کے مطابق ہیں اور حقیقت میں ہم ان کی عظمت کو اپنی محدودفہم  و عقل سے درک کرتے ہیں۔(1)

اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری معرفت کامل اور بہتر ہو  اورہم اپنے ذہن میں جن چیزوں کو تصور کرتے ہیں اور جن کے بارے میں سوچتے اور انہیں پروان چڑھاتے ہیں ،وہ حقیقت سے زیادہ نزدیک ہوں تو ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے معارف مکتب وحی سے سیکھیں  اور  مکتب اہلبیت علیھم السلام کے حیات بخش فرامین کی روشنی میں حقایق کی جستجو کریں اور ان کے احکامات کو تسلیم کریں۔اگرچہ وہ ہماری فہم اور فکری سطح کے مطابق نہ ہوں ۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے قلب کی تاریکی کو ان کے نورانی کلمات سے منور کریں ورنہ دل کی یہ تاریکی اپنا کام کر دیتی ہے اور انسان کو تباہی و بربادی کی طرف لے جاتی ہے۔

عقاید و معارف اہلبیت علیھم السلام سے آشنائی اور ان کے سامنے سر تسلیم خم کرنے سے نفس کو جلا و صفا ملتی ہے اور ضمیر ان کے تابناک انوار سے روشن و منور ہوتاہے ۔پھراگرتکامل حاصل ہو جائے تواس سے انسان کے ذہن میں بچپن سے موجود غلط اعتقادات بلکہ نسل در نسل اور وراثت میں ملنے والے  غلط عقائد بھی پاک ہو جاتے ہیں۔

--------------

[1] ۔ اس کی مزید وضاحت کے لئے بہت اہم روایت کی طرف رجوع فرمائیں جسے مرحوم شیخ بہائی نے اپنی کتاب''اربعون حدیثاً:81'' میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل کیا ہے۔


معارف کہاں سے سیکھیں

معارف سے آشنائی سعادت و نیک بختی کا راستہ ہے ۔ہمیں معارف منبع وحی سے سیکھنے چاہئیں تا کہ ہم اپنے دل کو ان کے تابناک انوار سے منور کر سکیں۔ہمیں ان لوگوں سے گریز کرنا چاہئے جنہوں نے اپنے عقائد مکتب وحی علیھم السلام سے نہیں سیکھے ۔اگر ہم ان کی باتیں سنیں اور ان کے عقائد کی جستجو کریں تو ہم صراط مستقیم سے دور ہو جائیں گے اور ان کی پیروی کرنے کی وجہ سے ہم جہالت کے خشک اور بیابان سراب میں گم ہو جائیں گے اور ان کے کھوکھلے الفاظ کے گرداب میں پھنس کر تباہ و برباد ہو جائیں گے۔

پس یہی بہتر ہے کہ ہم شروع سے ہی صحیح عقائد و معارف کی پہچان کے لئے سفیران الٰہی کا رخ کریں کہ جن کی گفتار وحی الٰہی ہوتی ہے اور ان سے رہنمائی حاصل کریں ۔ان کے فرمودات کو آنکھوں سے لگائیں اور انہیں اپنے دل میں جگہ دیں کیونکہ یہ معارف الٰہی کی طرف ہدایت کا راستہ ہیں۔

حضرت پیغمبر اکرم (ص) نے امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا:

''بِنٰا اِهْتَدُوا السَّبِیْلَ اِلٰی مَعْرِفَةِ اللّٰهِ'' (1)

(مقرب ملائکہ کی)ہمارے وسیلہ سے خدا کو پہچاننے کے راستہ کی طرف ہدایت ہوئی۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج۲6ص۳۵۰اور  ج۳6ص۳۳۷، کفایة الأثر:21


گذشتہ زمانے سے ابھی غیبت کے زمانے تک انسان نے اپنے ذہن کے صرف کروڑویں حصے کو ہی بروئے کار لایا ہے اور بقیہ حصے سے استفادہ نہیں کیا۔

یہاںذہن میں  یہ سوال پیدا ہوتاہے کہ جو انسان اب تک اپنے ذہن کی تمام توانائیوں کو بروئے کار نہیں لا سکااور جس میں اپنے ذہن کی توانائیوں کو پہچاننے کی قدرت نہیں ہے تو وہ انسان خاندان وحی علیھم السلام کی ہدایت و رہنمائی کے بغیر صرف اپنے ذہن کی توانائیوں کے کروڑویں حصے پر ہی بھروسہ کرتے ہوئے کس طرح معارف الٰہی حاصل کر سکتا ہے اور کس طرح خالق کائنات کو پہچان سکتاہے۔

پس یہی بہتر ہے کہ انسان خود کو شاہدان خلقت کے ارشادات کے سپرد کر دے اور دوسروں کے دھوکے ومکاری کے جال میں پھنس کر فریب نہ کھائیں اور

دوسروں کو بھی فریب نہ دیں۔

مگر کیا خداوند متعال نے قرآن مجید میں یہ نہیں فرمایاہے:

(یَا أَیُّهَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ وَکُونُواْ مَعَ الصَّادِقِیْنَ) (1)

اے ایمان والو!اللہ سے ڈرو اور صادقین کے ساتھ ہوجاؤ۔

مگریہ کس طرح ممکن ہے کہ انسان ایمان اور تقویٰ رکھتا ہو اور اس آیت شریفہ کی رو سے معصومین علیھم السلام کے ساتھ بھی ہو لیکن وہ اپنے اعتقادات و عقائد دوسرے مکاتب سے اخذ کرتاہو؟!

--------------

[1]۔ سورۂ توبہ ،آیت:119


کیا ساتھ ہونے اور معیّت کے یہی معنی ہیں؟!کیا مقام ولایت اور مکتب اہلبیت علیھم السلام کی پیروی کے یہ معنی ہیں؟!

خدا اوند کریم کا ارشاد ہے:(مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَال صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَیْْهِ ) (1)

مومنین میں ایسے بھی مرد میدان ہیں جنہوں نے اللہ سے کئے وعدہ کو سچ کر دکھایا ہے۔

جی ہاں جس طرح قرآن مجید نے فرمایاہے :کچھ ایمان والے افراد ہی روز ازل سے کئے گئے وعدے پر ہی باقی رہیں گے  لیکن دوسرے دانستہ یا نادانستہ طور پر صراط مستقیم سے دور ہو جائیں گے اور شیطان کے جال میں پھنس جائیں گے اور پھر آہستہ آہستہ ان میں خاندان وحی علیھم السلام اور ان کے فرمودات کا احترام کم ہوتا چلا جائے گا۔

کیا قرآن اور اہلبیت عصمت و طہارت علیھم السلام کی پیروی کے یہ معنی  ہیں؟!کیا انہوں نے بھی دوسروں کی طرح مشہورحدیث ثقلین کو اَن دیکھا کردیا اور بھلا دیا ہے؟!

اس بناء پر ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے عقائد قرآن مجید اور اہلبیت اطہار علیھم السلام سے سیکھیں اور اسی راستے سے حقائق تک پہنچیں جس کی طرف انہوں نے رہنمائی فرمائی ہے۔کیونکہ ذاتی و شخصی آرا ء اور قیاس سے ہم نہ صرف حقائق و معارف تک نہیںپہنچ  سکتے ہیں بلکہ ہم سے بالکل راہ ہی گم ہو جائے گی۔ جس سے ہم گمراہی میں مبتلا ہو جائیں گے۔

اس بارے میں  امیر المؤمنین  حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:''مَنِ اعْتَمَدَ عَلَی الرَّأْیِ وَالْقِیٰاسِ فِمَعْرِفَةِ اللّٰهِ ضَلَّ وَ تَشَعَّبَتْ عَلَیْهِ الْاُمُوْرُ'' (2) جو کوئی خدا کی معرفت میں رائے اور قیاس پر اعتماد کرے وہ گمراہ ہو جائے گا اور اس پر امور غیر واضح ہو جائیں گے۔

--------------

[1]۔ سورۂ احزاب ،آیت:23

[2]۔ شرح غرر الحکم:ج۵ص۴6۳


اس بناء پر رائے،قیاس اور احتمال سے خدا کی معرفت حاصل نہیں کی جاسکتی کیونکہ قیاس کے ذریعے حاصل ہونے والی معرفت کا نتیجہ گمراہی ہوتا ہے ۔

مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''رُبَّ مَعْرِفَةٍ اَدَّتْ اِلَی التَّضْلِیْلِ'' (1)

کبھی معرفت (انسان کو )گمراہی کی طرف لے جاتی ہے۔

ممکن ہے کہ کسی مکتب میں معارف و حقائق بھی ہوں لیکن اگر ان کا انجام گمراہی ہو تو اس کا کیا فائدہ ہے ؟

اس بناء پرخودبینی میں گرفتار افراد،خود کو ہی اصل ذات سمجھنے والے  اور خود کو راز و نیاز اور دعا و مناجات سے بے نیاز سمجھنے والوں نے معرفت سے بالکل استفادہ نہیں کیا۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

''لاٰ یَقْبَلُ اللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ عَمَلاً اِلاّٰ بِمَعْرِفَةِ وَ لاٰ مَعْرِفَةَ اِلاّٰ بِعَمَلٍ ، فَمَنْ عَرَفَ دَلَّتْهُ  مَعْرِفَتُهُ عَلَی الْعَمَلِ وَ مَنْ لَمْ یَعْمَلْ فَلاٰ مَعْرِفَةَ لَهُ ، اِنَّ الْاِیْمٰانَ بَعْضُهُ مِنْ بَعْضٍ'' (2)

خداوند کسی عمل کو قبول نہیں کرتا مگر یہ کہ وہ معرفت کے ساتھ انجام دیا گیا ہو،اور عمل کے بغیر کوئی معرفت نہیں ہوتی ۔پس جو پہچان و شناخت رکھتا ہو ،اس کی معرفت اسے عمل کی طرف رہنمائی کرے گی اور جو کوئی عمل نہ کرے اسے کوئی معرفت نہیں ہے ۔کیونکہ بعض اپنا ایمان دوسرے بعض سے لیتے ہیں۔

--------------

[1]۔ شرح غرر الحکم:ج۴ص۷۵

[2]۔ بحار الانوار:ج۱ص۲۰۷


اس بناء پر عبادت اور مناجات سے ہاتھ اٹھا لینا معرفت کی دلیل نہیں ہے بلکہ معرفت کی علامت صحیح معارف (جو انسان نے سیکھے ہیں)کے مطابق عمل کرنا ہے۔

معارف کے اعلی درجوں تک پہنچنے والے افراد اپنے دل کو کسب معارف سے نورانی کرتے ہیں  وہ معارف کی جتنی بھی منزلوں کو طے کریں ،انہیں خدا کی اتنی ہی زیادہ معرفت حاصل ہوتی ہے اور وہ خود کو خدا اور اولیائے خدا کے سامنے بہت چھوٹا سمجھتے ہیں اور ان کی نظروں میں ان کی تقصیر و کوتاہی جلوہ گر ہوتی ہے۔سید الساجدین حضرت امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں:

''جَعَلَ مَعْرِفَتَهُمْ بِالتَّقْصِیْرِ شُکْراً'' (1) (خدا نے عرفاء کی ) معرفت کو ان کی تقصیر سے شکر قرار دیا ہے۔

وہ عرفان کے جتنے بھی  بلند درجات تک پہنچ جائیں ،انہیں اتنی ہی زیادہ خداکی عظمت اور اپنی تقصیر دکھائی دے گی۔خود بینی میں گرفتار افراد کے لئے بہتر ہے کہ وہ معرفت ِنفس کے ذریعہ خود بینی سے چھٹکارا حاصل کریں۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:''سُدَّ سَبِیْلَ الْعُجْبِ بِمَعْرِفَةِ النَّفْسِ'' (2)

نفس کی معرفت کے ذریعے خودبینی کے راستوں کو مسدود کرو۔یہ تعجب کی بات ہے کہ کوئی اپنی روح اور نفس کو نہ پہچانے حتی کہ اسے اپنے جسم کی بھی کوئی اطلاع نہ ہواور نہ ہی وہ اپنے دماغ،خون اور بدن کے دوسرے اعضاء و جوارح سے صحیح طور پر آگاہ ہو تو وہ کس طرح معارف الٰہی تک پہنچ سکتا ہے اور کس طرح خلاق کائنات کو پہچان سکتاہے ۔ امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:''عَجِبْتُ لِمَنْ یَجْهَلْ نَفْسَهُ کَیْفَ یَعْرِفُ رَبَّهُ؟! (3) مجھے تعجب ہے !جو اپنے نفس سے جاہل ہو ،وہ کس طرح خدا کو پہچان سکتاہے؟!

--------------

[1]۔ بحار الانوار:78،تحف العقول:278

[2]۔ بحار الانوار: ج۷۸ص164،تحف العقول:284

[3]۔ شرح غرر الحکم:ج 4ص۳۴۱


ایسے افراد تکبر،خود بینی اور خود فروشی کو خود سازی اور خودشناسی سمجھتے ہیں !لیکن اس کے باوجود وہ دوسرے لوگوں کی مدد اور ہدایت کرتے ہیں!!!امیر المؤمنین  حضرت  علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''عَجِبْتُ لِمَنْ یَتَصَّدی لِاِصْلاٰحِ النّٰاسِ وَ نَفْسُهُ أَشَدُّ شَْئٍ فِسٰاداً'' (1)

مجھے تعجب ہے !جو لوگوں کی اصلاح کا ذمہ دار ہو ،لیکن اس کا نفس فساد کے لحاظ سے ہر چیز سے شدید تر ہے!

 قرآن مجید میں خداوند کریم کا ارشاد ہے:(أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنفُسَکُمْ) (2)

کیا تم لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے کو بھول جاتے ہو ۔

پس یہی بہتر ہے کہ ایسے افراد دوسروںکے لئے دلسوزی چھوڑ کر پہلے اپنی خودسازی کی کوشش کریں ۔خداوند متعال کا ارشاد ہے :(عَلَیْْکُمْ أَنفُسَکُمْ لاَ یَضُرُّکُم مَّنْ ضَلَّ ِذَا اهْتَدَیْْتُمْ ) (3)

 اپنے نفس کی فکر کرو ۔اگر تم ہدایت یافتہ رہے تو گمراہوں کی گمراہی تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاسکتی ۔

 امیر المؤمنین  حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''اَیُّهَا النّٰاسُ عَلَیْکُمْ بِالطّٰاعَةِ وَالْمَعْرِفَةِ بِمَنْ لاٰ تَعْذِرُوْنَ بِجِهٰالَتِهِ'' (4)

اے لوگو!تم پر خدا کی اطاعت اور ایسے لوگوں کی شناخت لازم ہے کہ اگر تم نے انہیں نہ پہچانا تو تمہارا کوئی عذر قبول نہیں  کیا جائے گا۔

--------------

[1]۔ شرح غرر الحکم:ج۴ص۳۴۰

[2]۔ سورۂ بقرہ ،آیت:44

[3]۔ سورۂ مائدہ،آیت :105

[4]۔ بحار الانوار:ج۲ص۱۰۰


عارف نما لوگو ں کی شناخت

معارف کے حصول کی اہم اور ضروری شرائط میں سے ایک مقام معرفت تک پہنچنا اور ایسے افراد کو پہچانناکہ جن سے معرفت و حقائق کی بو نہیں آتی لیکن وہ لوگوں کی ہدایت و رہنمائی کرتے ہیں۔

یہ کس طرح ممکن ہے کہ انسان عالی معارف تک پہنچ جائے لیکن وہ دین کے دشمنوں کی ضلالت و گمراہی میں شک کرے ؟!

معارف تک پہنچنے کے لئے جھوٹے دعویداروں کی گمراہی روشن ہونی چاہئے تاکہ انسان ان کے دعوؤں پر فریفتہ نہ ہو۔

امیرالمؤمنین  حضرت علی علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں:

''وَاعْلَمُوا أَنَّکُمْ لَنْ تَعْرِفُوا الرُّشْدَ حَتّٰی تَعْرِفُوا الَّذِی تَرَکَهُ ، وَ لَنْ تَأْخُذُوا بِمِیْثٰاقِ الْکِتٰابِ حَتّٰی تَعْرِفُوا الَّذِ نَقَضَهُ وَ لَنْ تَمَسَّکُوا بِهِ حَتّٰی تَعْرِفُوا الَّذِی نَبَذَهُ'' (1)

جان لو کہ تم لوگ ہدایت کی راہ کو نہیں پہچانتے جب تک اسے ترک کرنے والوں کو نہ پہچان لو اور تم لوگ تب تک آئینِ قرآن پر عمل نہیں کر سکتے جب تک پیماآئین شکنوں کو نہ پہچان لو ، اور تم اس سے تب تک تمسک اختیار نہیں کر سکتے جب تک اسے چھوڑنے والوں کو نہ پہچان لو۔

--------------

[1]۔ نہج البلاغہ خطبہ: 147


شمس درخشندہ چو پنھان شود            شب پرہ بازیگر میدان شود

عرفان اور معرفت کی جستجوکرنے والے بہت سے لوگ صرف عرفانی افکار پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ روحانی مسائل سے ذہن بھر لینے کی صورت میںوہ  خیالات میںہی عالم ملکوت کی سیر کرتے ہیں! حلانکہ معرفت کی جگہ ذہن اور افکار نہیںہیں اور جب تک عرفانی افکار دل اور باطن سے نہ نکلیں تب تک غرور و تکبرکے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

ایسے افراد کا باطن رات کی تاریکی سے زیادہ سیاہ ہوتاہے ،کیونکہ ان کے دل میں معرفت نہیں ہوتی اور معرفت نے ان کے دل کو روشن نہیں کیا ہوتا اور نور معرفت نے ان کے باطن میں تجلی پیدا نہیں ہوتی۔

دمی با حق نبودی چون  زنی لاف شناسایی

تمام  عمر با خود بودی  و  نشناختی خود  را


 عرفاء کی شناخت

جو عرفان اور معارف الٰہی سے بہرہ مند ہو ، وہ عرفانی مسائل سے آشنائی کے بعد اپنے باطن میں مثبت اور واضح تبدیلیاں دیکھتاہے ۔یہ ایسے ہی ہے جیسے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

''اِذَا تَجَلّٰی ضِیٰائُ الُمَعْرِفَةِ فِ الْفُؤٰادِ هٰاجَ رِیحُ الْمَحَبَّةِ ، وَ اِذَا هٰاجَ رِیْحُ الْمَحَبَّةِ اِسْتَأْنَسَ ظِلاٰلَ الْمَحْبُوْبِ وَ آثَرَ الْمَحْبُوْبَ عَلیٰ مٰا سَوٰاهُ'' (1)

جب کسی کے دل میں  نور معرفت چمکے تو اس میں نسیم محبت پیدا ہوتی ہے اور جب نسیم محبت پیدا ہو تووہ محبوب کے سائے سے بھی محبت کرتا ہے اور اسے دوسروں  پر ترجیح دیتا ہے۔

اس بناء پر فقط عرفانی افکار پر ہی اکتفا کرنے اور اپنے ذہن کو روحانی مسائل سے بھر لینے میں کوئی فائدہ نہیں ہے۔کیونکہ مکتب اہلبیت علیھم السلام کے نزدیک جو کوئی معارف اور عرفانی مسائل کو(جن کا مبنٰی قرآن و سنت ہو)جانتا ہو اور اس نے معارف کو اپنے دل میں جگہ دی ہو نہ کہ صرف ذہن و افکار ہی میں، تو یہ واضح ہے کہ جب انسان کے دل میں معارف جاگزیں ہو جائیں (نہ کہ ذہن اور زبان میں)تو اس کے رفتار و کردار میں اہم تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔

صحیح معرفت کی اہم نشانیوں میں سے اصلاح نفس اور ہوا و ہوس سے نجات ہے۔صحیح معارف تک پہنچنے والا انسان حکمت و معارف اہلبیت علیھم السلام سے آشنائی حاصل کرنے کے بعد اس فانی دنیا اور نفسانی خواہشات سے دور ہو جاتاہے ۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج۷۰ص۲۳، مصباح الشریعة: ص2


اس بارے میں امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''مَنْ صَحَّتْ مَعْرِفَتُهُ اِنْصَرَفَتْ عَنِ الْعٰالَمِ الْفٰانِی نَفْسُهُ وَ هِمَّتُهُ'' (1)

جس کی معرفت صحیح ہو ،اس کا نفس اور ہمت فانی دنیا سے منہ موڑ لیتی ہے۔

اس بناء پر جن کی تمام  تر ہمت اور فکر مال و دولت کو جمع کرنے کی طرف ہی ہو وہ کس طرح سے صحیح معرفت حاصل کر سکتے ہیں؟!

لیکن کیا ایسا نہیںہے کہ معرفت قلبی امور میں سے ہے نہ کہ ذہنی ؟!

اس صورت میں اگر کسی کے دل کو انوار معارف  نے اپنے احاطہ میں لے لیا ہوتو وہ کس طرح دنیاوی اموال اور نفسانی شہوت میں غرق رہ سکتا ہے اور کس طرح اس کی ہمت و ارادہ نفسانی خواہشات کا پابند ہو سکتاہے؟!

لیکن کیا ایسا نہیں ہے کہ جیسے حضرت امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا:

''.....اِنَّمٰا اَهْلُ الدُّنْیٰا یَعْشِقُوْنَ الْاَمْوٰالَ'' (2)

بیشک دنیا والے مال و دولت سے عشق کریںگے۔

جس کادل مادی دنیاکے عشق سے لبریز ہو چکاہو جیسے شہرت و حکومت تو وہ کس طرح اپنے دل کوخاندان وحی علیھم السلام کے انوار سے سرشار اور اہلبیت اطہار علیھم السلام کے معارف سے منور کر سکتاہے ؟!

--------------

[1]۔ شرح غرر الحکم:ج ۵ ص۴۵۳

[2]۔ بحار الانوار:ج۷۰ص۲۳، مصباح الشریعة: ص۲


عرفاء کی صفات

معرفت اور معارف کے انوار کی چمک سے عرفاء  کے دل اور افکار خدا کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور وہ فقط خدائے مہربان کی طرف توجہ کرتے ہیں  اسی وجہ سے اگرچہ وہ لوگوں کے ساتھ اور لوگوں میں زندگی بسر کرتے ہیں لیکن وہ خود کو ہمیشہ خدا کے محضر میں ہی تصور کرتے ہیں:

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں:

''اَلْعٰارِفُ شَخْصُهُ مَعَ الْخَلْقِ وَ قَلْبُهُ مَعَ اللّٰهِ'' (1)

عارف ظاہراً لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے لیکن اس کا دل خدا کی طرف متوجہ ہوتاہے۔

ذرا غور کیجئے !اہلبیت اطہار علیھم السلام نے جس عرفان کا تعارف کروایا ہے اور لوگوں کے بنائے گئے عرفان(جو تمام لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہتاہے) میں کتنا فرق ہے۔

مکتب اہلبیت علیھم السلام کی نظر میں صاحبان معرفت نہ صرف اپنے پورے وجود سے خدا کی طرف متوجہ ہیں بلکہ خدا نے ان کی روح اور نفس کو اپنی معرفت سے مأنوس کر دیاہے۔

سید الساجدین حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی مناجات انجیلیہ میں آیاہے:

''وَ اٰنَسْتَ نُفُوْسَهُمْ بِمَعْرِفَتِکَ'' (2)

ان کے نفوس (سالکین الی اللہ)کو اپنی معرفت سے مانوس کر دیا۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج۹۲ص۲۴۴،اور ج۷۱ص۲۳۰

[2] بحار الانوار:ج۹۴ص۱۵6


معارف کے ساتھ انس کی وجہ سے آہستہ آہستہ ان کی معرفت میں اضافہ ہو جاتا ہے اور تب تک اس میں اضافہ ہوتا رہتاہے جب تک اس کی وجہ سے معرفت کے عالی درجات تک نہ پہنچ جائیں۔ایسے عرفاء کو علوی کہا جاتا ہے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

''اَلْمُؤْمِنُ عَلَوِّ لِاَنَّهُ عَلاٰ فِ الْمَعْرِفَةِ'' (1)

مومن علوی ہے کیونکہ اس نے معرفت میں عالی مقام حاصل کیا ہے۔

اس صورت میں معارف کے تابناک انوار پورے وجود پر احاطہ کر لیتے ہیں اور معارف الٰہی سے روح بھی منور ہو جاتی ہے اور علوم کے دریا میں قیمتی اور نایاب جواہر میسر آتے ہیں۔یوں ہمیشہ معارف کے خزانوں میں اضافہ ہوتا رہتاہے یہاں تک کہ اسرار الٰہی کے خزانے تک رسائی حاصل ہو جاتی ہے  اور اسے قیمتی امانت کی طرح اپنے سینوں میں محفوظ کر لیا جاتاہے۔

 حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

''اَلْعٰارِفُ اَمِیْنُ وَدٰائِعِ اللّٰهِ وَ کَنْزُ اَسْرٰارِهِ'' (2)

عارف ودیعہ الٰہی اور اسرار خدا کے خزانوں کا امانتدار ہوتاہے۔

اس بناء پرجو حقیقی عرفان کے عظیم مقام پر فائز ہوں اور جنہوں نے حقیقی عرفان کی راہ میں سیر و سلوک کی منزل طے کی ہو،وہ کس طرح کسی بھی راز کو آسانی سے بیچ سکتے ہیں اور کس طرح یہ خزانہ  ایسے لوگوں کی دسترس میں دے سکتے ہیں جنہوں نے اس کے لئے زحمت اور تکلیف نہ اٹھائی ہو؟!

--------------

 [1] بحار الانوار:ج6۷ص۱۷۱، علل الشرائع: ج۲ص۱۵۲

[2]۔ بحار الانوار:ج 3ص۱۴


 صاحبان معرفت کی صحبت

معارف سے آشنائی اور مکتب اہلبیت علیھم السلام کے عقائد کی شناخت کے لئے دینی معارف کی راہ میں مصیبتیں اور تکلیفیں برداشت کرنے والے افراد کی صحبت اور ان سے گفتگو بہت اثر رکھتی ہے۔ اسی لئے آئمہ اطہار علیھم السلام کے اقوال میں ہمیں ایسے افراد کی صحبت کی تاکید کی گئی ہے۔

حضرت امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں:

''جٰالِسُوا أَهْلَ الدِّیْنِ وَ الْمَعْرِفَةِ'' (1)

اہل دین اور اہل معرفت کی صحبت اختیار کرو۔

صاحبان معرفت کی صحبت کے نتیجہ میں دینی حقائق کے بارے میں انسان کی شناخت میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کے وجود سے نکلنے والے کلمات انسان کے وجود پر بہت گہرا اثر رکھتے ہیں۔

اس بناء پر معارف کی آشنائی کا ایک بہت اہم اور مؤثر ذریعہ بزرگان معرفت اور صاحبان معرفت کی صحبت ہے۔اس ذریعے ان کی باتوں کو سن کر اپنی روح منورکریں اور خاندان وحی علیھم السلام کے معارف سے آشنائی حاصل کریں۔

کیونکہ یہی خاندان نبوت علیھم السلام کے حقیقی شیعہ اور سچے پیروکار ہیں اور جو اس خاندان پاک علیھم السلام  کا پیروکار ہووہ لوگوں کو اپنی طرف نہیں بلکہ علوم و معارف اور حقوق اہلبیت علیھم السلام کی طرف دعوت دیتا ہے۔

پس اہل دین اور صاحبان معرفت کی صحبت میں اختیار کرو تا کہ خاندان نبوت علیھم السلام کے معارف الٰہی سے آگاہ ہو سکو۔

--------------

[1] ۔ بحار الانوار:ج۷۴ص۱۹6


 عرفانی حالت میں تعادل و ہماہنگی کا خیال رکھنا

عرفانی مسائل کی طرف متوجہ ہونے والے افراد غیر متعارف اور استثنائی حالات میں گرفتار ہونے سے نجات کے لئے عرفانی حالات میں تعادل اور ہماہنگی کا خیال رکھنے کی کوشش کریں۔

اس لئے بزرگان نفرت اور محبت کو ہماہنگ کرتے ہیں کیونکہ نفرت ایک منفی چیز ہے لہذا یہ منفی چیزوں کے لئے ہونی چاہئے اور محبت ایک مثبت چیزہے لہذا یہ مثبت چیزوں میں ہونی چاہئے ۔کیونکہ  معنوی امور میں ترقی و پیشرفت کا لازمہ تعادل اور ہماہنگی ہے۔

جیسا کہ ایک بلب کے روشن ہونے کے لئے مثبت اور منفی برقی شعاعوں کا ہونا ضروری ہے اسی طرح معنوی روشنی کے لئے بھی مثبت اور منفی حالات ہماہنگ اور متعادل ہونے چاہئیں اور دونوں سے ان کے اپنے مورد میں استفادہ کیا جائے۔

پس جس طرح ہمارے دل میں ولایت اہلبیت علیھم السلام کا ہونا ضروری ہے اسی طرح ہمارے دل میں  ولایت اہلبیت علیھم السلام کے دشمنوں سے بیزاری اور ان کے لئے نفرت بھی ہونی چاہئے۔

جس طرح ہمارے دل میں ظالموں اور جابروں کے لئے نفرت ہونی چاہئے اسی طرح نیک اور صالح افرادکے لئے محبت بھی ہونی چاہئے ۔اسی لئے حقیقی عرفاء دنیا اور معاشرے کی صورت حال سے    تنفر کو معنوی امور سے ہماہنگ اور متعادل کرتے ہیں ۔

اسی وجہ سے حضرت علی بن ابیطالب علیہ السلام شوق کو عرفا ء کے شخصی حالات سے قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:


''اَلشَّوْقُ خُلْصٰانُ الْعٰارِفِیْنَ'' (1)

شوق عرفا ء کی صفات میں سے  ہے ۔

اگران کا  متنفر مسائل سے واسطہ پڑھ جائے کہ جو ان کی لطیف روح کواذیت پہنچائیں تو وہ روحانی کسالت میں مبتلا ہو جاتے ہیں لیکن وہ اسے خود سے شوق و نشاط کے ذریعے اسے خود سے دور کرتے ہیں اور اسی وسیلہ سے وہ خود میں تعادل و ہماہنگی ایجاد کرتے ہیں۔

حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام ہمّام سے مومن کی اوصاف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

''تَرٰاهُ بَعِیْداً کَسِلُهُ ، دٰائِمًا نَشٰاطُهُ'' (2)

تم اس(مومن) سے کسالت کودور دیکھو گے اور ہمیشہ اسے با نشاط دیکھو گے۔

 اسی وجہ سے مکتب اہلبیت علیھم السلام نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ ہم گناہوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی ناامیدی کا نشاط کے ذریعے یعنی خداوند کریم کیرحم و بخشش کی طرف توجہ کرکے جبران کریں۔جمعہ کے دن منقول دو رکعت نماز کے بعد کی دعا میں ہے:

''اِنْ اَقْنَطَتْنِ ذُنُوْبِ نَشَّطَنِ عَفْوُکَ'' (3)

اگر میرے گناہ مجھے ناامید کر دیں تو تیری بخشش مجھے امید و نشاطکی طرف ابھارتی ہے۔

--------------

[1]۔ شرح غررالحکم: ج۱ص۲۱۴

[2]۔ بحار الانوار:ج6۷ص۳6۷

[3]۔ بحار الانوار:ج ۸۹ص۳۷۰ مصباح المتہجد:223


روحانی و عرفانی حالات میں  بسط و قبض نفس (دو عرفانی اصطلاحاتیعنی نفس پر قابو رکھنا) جیسے مسائل  بہت  اہم ہیں اور ان کی طرف توجہ کرناضروری ہے۔

گناہ کی وجہ سے انسان اپنے نفس پر قابو نہیں رکھھ سکتا  لیکن خدا کی رحمت و بخشش سے باپنے نفس پر ابو پا لیتاہے ہے کیونکہ خداوند کی بخشش  نشاط کا باعث ہے۔

اس بناء پر گناہ کے وقت توبہ اور خدا کی بخشش کی طرف متوجہ رہیں تا کہ بسط و قبض نفس کی حالت میں تعادل و ہماہنگی ایجاد ہو سکے ۔خدا کیبخشش کی طرف توجہ سے قبض نفس کی حالت زائل ہو جاتی ہے  اور نفس کے لئے بسط کی حالت ایجاد ہوتی ہے۔

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''اَلسُّرُوْرَ یَبْسِطُ النَّفْسَ وَ یَثِیْرُ النَّشٰاطَ '' (1)

سرور و مسرت نفس کو بسط کی حالت دیتا ہے اور نشاط میں اضافہ کرتا ہے۔

پس اگر کوئی گناہ کا مرتکب ہو تو گرفتگی و قبض کی حالت کو سرور (خدا کی بخشش سے حاصل ہونے والا سرور) سے متعادل کرے تا کہ ناامیدی اور گناہ کی تکرار نہ ہو۔

 اب جب کہ یہ واضح ہو گیا ہے کہ روحانی حالات میں تعادل کا خیال رکھنا ضروری ہے  تو اس بناء پر جو افراد روح کی پرواز کی طرف مائل ہیں انہیں یہ خیال رکھنا چاہئے کہ پرواز ہمیشہ دو پروں کے ذریعے ہی کی جاتی ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر گرنا اور سقوط حتمی ہوتاہے۔پس دو پروں سے استفادہ کرنے کے لئے دو متقابل حالتوں میں تعادل و ہماہنگی ایجاد کریں۔

--------------

[1]۔ شرح غررالحکم:ج۲ص۱۱۳


 نتیجۂ بحث

اہلبیت اطہار علیھم السلام کے حیات بخش مکتب سے ہی معارف سیکھیں اور اپنے اعتقادات کی بنیاد وحی الٰہی کو قرار دیں اور بشری نظریات و خیالات سے پرہیز کریں ۔یہ معارف کو سیکھنے اور عقائد کو درک کرنے کا صحیح راستہ ہے۔

اس بناء پر اپنے دینی اعتقادات اور عرفانی افکار کو وحی الٰہی سے اخذ کرنے کی کوشش کریںاور خاندان نبوت و رسالت علیھم السلام سے حکمت کا درس لیں۔

عارف نما لوگوں سے پرہیز کریں جو عارف ہونے کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر آداب و رسوم کو ترک کرتے ہیں۔عظیم معارف کے آثار سیکھیں اور حقیقی عرفاء کی صفات و خصال سے آشنائی حاصل کریں کہ جن کا وجود معرفت کے انوار سے منور ہوتاہے۔

عرفانی حالات میں تعادل اور ہماہنگی کی رعایت کریں اور عرفانی حالات جیسے قبض،بسط اور روحانی نشاط کی طرف متوجہ رہیں تا کہ آپ ایک متعادل زندگی بسر کر سکیں۔

ابو بصیر کی روایت کا دقیق مطالعہ کریں اور اس کے نکات پر غور و فکر کریں اور اس کے اسرار و معارف سے اپنے وجود کو منور کریں۔

فردا کہ زوال شش جہت خواھد بود

قدر  تو  بہ  قدر معرفت خواھد بود


تیسراباب

عبادت  و  بندگی

حضرت امیر المو منین  علی  علیہ  السلام  فرماتے ہیں :

'' اِذٰا أَحَبَّ اللّٰهُ عَبْداً أَلْهَمَهُ حُسْنَ الْعِبٰادَةِ ''

جب بھی خدا کسی بندے کو دوست رکھتا ہے  تو اس پر اچھی طرح سے عبادت کرنے کا طریقہ الہام کر دیتاہے ۔

    دینی بھائیوں کی خدمت

    روحانی عبادات

    عبادات کی قسمیں

    عبادت مخلصانہ ہونی چاہئے؟

    عبادت میں نشاط

    عبادت میں نشاط کے اثرات

    عبادت میں کراہت

    عبادت کیا ہے؟

    محبت اہلبیت علیھم السلام یا عبادت میں نشاط کا راز

    نتیجۂ بحث


 دینی بھائیوں کی خدمت

انسان کی عظمت و شرافت پہ دلالت کرنے والی عبادات میں سے ایک یہ ہے کہ انسان دینی بھائیوں کی خدمت کے لئے کمر ہمت باندھ لے اور مشکلات میں ان کی مدد کرے۔

اگر خدا کے لئے بیکسوں کیخبرگیری اور مومن بھائیوں کی خدمت کی جائے تو یہ بہت اہم عبادت ہے ۔آئمہ معصومین علیھم السلام کے فرمودات و ارشادات میں نہ صرف اس کی تاکید کی گئی ہے بلکہ اسے عبادات کی افضل ترین اقسام میں سے شمار کیا گیاہے۔

اس بارے میں حضرت امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں:

''اِنَّ أَشْرَفَ الْعِبٰادَةِ خِدْمَتُکَ اِخْوٰانَکَ الْمُؤْمِنِیْنَ'' (1)

افضل و اشرف ترین عبادت تمہاری تمہارے مومن بھائیوں کی خدمت کرنا ہے۔

انسان کی زندگی میں بہت زیادہ مؤثر ثابت ہونے والے اس بنیادی نکتہ کی طرف کم توجہ کرنے کے ایسے نقصانات ہیں کہ جن کا جبران نہیں کیا جا سکتا۔حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام گناہان کبیرہ کو شمار کرنے کے ضمن میں فرماتے ہیں:

''.....تَرْکُ مُعٰاوَنَةِ الْمَظْلُوْمِیْنَ'' (2)

مظلوموں کی مدد نہ کرناگناہان کبیرہ ہے۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج۷۵ ص۳۱۸، تفسیر الامام العسکری علیہ السلام:260

[2]۔ بحار الانوار:ج۷۹ص۱۰، خصال:ج2ص۱۵۵


اس نکتہ کی طرف بھی توجہ کرنا چاہئے :دینی بھائی کے ساتھ تعاون کرنا صرف مادّی امور میں ہی نہیں ہے بلکہ ان کی فکر ی افزائش اور رہنمائی کرنا بھی ان لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ جو اس کی  صلاحیت رکھتے ہیں۔

امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''أَعِنْ أَخٰاکَ عَلٰی هِدٰایَتِهِ'' (1)

اپنے بھائی کی ہدایت کے لئے مدد کرو۔

اس بیان سے یہ واضح ہو جاتاہے کہ خاص شرافت و عظمت رکھنے والی عبادات کی اقسام میں سے ایک دینی بھائیوں کی خدمت کرنا اور ان کی مدد کرنا ہے۔

اس طریقے سے آپ بلند معنوی مقامات حاصل کر سکتے ہیں اور خدا و اہلبیت اطہار علیھم السلام کی محبت اپنی طرف جلب کر سکتے ہیں۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

''اِنَّ أَحَبَّ الْمُؤْمِنِیْنَ اِلَی اللّٰهِ مَنْ أَعٰانَ الْمُوْمِنَ الْفَقِیْرَ مِنَ الْفَقْرِ فِ دُنْیٰاهُ وَ مَعٰاشِهِ،وَ مَنْ أَعٰانَ وَ نَفَعَ وَ دَفَعَ الْمَکْرُوْهَ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ'' (2)

خدا کے نزدیک مؤمنین میں سے سب سے محبوب وہ ہے کہ جو فقیر مومن کی مادّی امور  اورمعاش میں مدد کرے ،اور خدا کے نزدیک محبوب ترین افراد وہ ہیں جو  مدد کریں،فائدہ پہچائیں اور مومنین سے پریشانی و تکلیف کو دور کریں۔

--------------

[3]۔ شرح غرر الحکم:ج۲ص ۱۷۸

[4]۔ بحار الانوار:ج۷۸ص۲6۱، تحف العقول:357


  روحانی عبادات

عبادات کی قسموں میں سے ایک روحانی عبادت ہے ۔یعنی انسان تفکر و تدبّر اور اپنے دل کو بروئے کار لاتے ہوئے خدا سے نزدیک ہو سکتاہے۔

حضرت علی بن ابیطالب علیہ السلام ایک خطبہ کے آخر میں فرماتے ہیں کہ جس میں آپ نے مور کی خلقت کے اسرار و عجائب بیان فرمائے ہیں:

''جَعَلْنَا اللّٰهُ وَ اِیّٰاکُمْ مَمَّنْ یَسْعٰی بِقَلْبِهِ اِلٰی مَنٰازِلِ الْاَبْرٰارِ بِرَحْمَتِهِ'' (1)

خدا وند ہمیں اور تمہیں ان میں سے قرار دے کہ جو اپنے دل کے ذریعہ  نیک لوگوں کے منازل تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

امام علیہ السلام کا یہ کلام اس بات کی دلیل ہے کہ انسان روحانی عبادتوں کے ذریعے (جیسے خدا کی آیات اور نشانیوںمیں تفکر کرنا)منزل مقصود تک پہنچ سکتاہے اور نیک و صالح افراد کے زمرہ میں آسکتاہے۔اسی لئے بعض روایات میں خدا کے امر میں تفکر و تدبّر کو عبادت قرار دیا گیاہے۔حضرت امام علی بن موسی الرضا  علیہ السلام فرماتے ہیں:

''لَیْسَتِ الْعِبٰادَةُ کَثْرَةَ الصَّلاٰةِ وَ الصَّوْمِ ،اِنَّمَا الْعِبٰادَةُ اَلتَّفَکُّرُ فِْ اَمْرِ اللّٰهِ'' (2)

عبادت ،زیادہ نمازوں اور روزوںمیں نہیں ہے ،بیشک خدا کے امر میں زیادہ تفکر اور غور و فکر کرنا عبادت  وبندگی ہے۔

--------------

[1]۔ نہج البلاغہ، خطبہ:165

[2]۔ بحار الانوار:ج۷۱ ص۳۲۲،اصول کافی:ج 2ص۵۵


اسی لئے حضرت ابو ذر علیہ السلام نے اکثر اپنی عبادت ،تفکر کو ہی قرار دیا اور آپ اسی ذریعے سے ہی حضرت سلمان علیہ السلام کے ہم ردیف ہو گئے حلانکہ آپ حضرت سلمان علیہ السلام کی بنسبت کم سن تھے اور اس میں سے بھی آپ نے ایک مدت تک اپنی زندگی زمان جاہلیت میں بسر کی۔

پس عبادت و بندگی صرف جسمانی عبادی امور میں ہی منحصر نہیں ہے بلکہ روحانی عبادات اور روح کی بھی عبادات ہیں۔جس طرح نماز اور دوسرے عبادی امور میں خشوع و خضوع ،توجہ اور خلوص ان عبادات کے لئے جسمی اعمال کی روح شمار ہوتے ہیں۔

یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ انسان کو تمام عبادات میں ان کے روحانی پہلو کو بھی مد نظر رکھنا چاہئے  اور اسے فراموش نہیں کرنا چاہئے ۔لیکن افسوس کہ ایسے افراد بھی ہیں کہ جو نہ صرف عبادات کے روحانی پہلو کا خیال نہیں رکھتے ہیں بلکہ وہ عبادات کے جسمی اعمال کو بجالانے میں بھی کوتاہی کرتے ہیں اور انہیں مکمل طور پر انجام نہیں دیتے۔

حدیث کے راویوں میں سے ایک راوی کہتے ہیں:

''سَأَلَ اَبُو بَصِیْر الصّادِقَ علیه السلام وَ اَنَا جَالِس عَنْدَهُ عَنِ الْحُوْرِ الْعَیْنِ،فَقٰالَ لَهُ:جُعِلْتُ فَدٰاکَ اَخَلْق مِنْ خَلْقِ الدُّنْیٰا أَوْ(خَلْق مِنْ)خَلْقِ الْجَنَّةِ؟ فَقٰالَ لَهُ:مَا أَنْتَ وَ ذَاکَ ؟عَلَیْکَ بِالصَّلاةِ ،فَاِنَّّ آخِرَ مَا اَوْصٰی بِهِ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ حَثَّ عَلَیْهِ ،الصَّلاٰةُ اِیّٰاکُمْ اَنْ یَسْتَخِفَّ اَحَدُکُمْ بِصَلاٰتِهِ فَلاٰ هُوَ اِذٰا کٰانَ شٰابّاً أَتَمَّهٰا،وَلاٰ هُوَ اِذٰا کٰانَ شَیْخًا قَوَِ عَلَیْهٰا ،وَمٰا اَشَدَّ مِنْ سِرْقَةِ الصَّلاٰةِ...'' (1)

میں حضرت امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا ۔ابو بصیر نے آپ سے حور العین کے بارے میں پوچھا اور کہا: میری جان آپ پر قربان کیا یہ اس دنیاکی مخلوق ہیں یا یہ جنتی مخلوق ہیں ؟

امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:تمہیں ان امور سے کیا مطلب ہے؟

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج۸۴ ص۲۳6،قرب الاسناد:27


تم پر لازم ہے کہ تم نماز کا خیال رکھو کیونکہ رسول اکرم(ص) نے جس چیز کے بارے میں سب سے آخری وصیت کی اور لوگوں کو جس چیز کی طرف رغبت دلائی ،وہ نماز ہے ۔

نماز کو خفیف شمار کرنے سے پرہیز کرو،کیونکہ نہ ہی تو تم اسے جوانی میں مکمل طور پر انجام دیتے ہو اور نہ ہی بڑھاپے میں اسے مکمل طور پر انجام دینے پر قادر رہو ۔اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے کہ انسان اپنی نماز کو چوری کرے۔

اس بناء پر ہمیں ظاہری ارکان اور عبادات کے جسمانی اعمال کی بھی رعایت کرنی چاہئے اور اسی طرح عبادات کے باطن پر بھی توجہ کرنی چاہئے،کیونکہ جو چیز اہم ہے ،وہ روح عبادت ہے۔

ُٰپیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں:

''رَکْعَتٰانِ خَفِیْفَتٰانِ فِ تَفَکُّرٍ خَیْرمَنْ قِیٰامِ لَیْلَةٍ'' (1)

تفکر کے ساتھ پڑھی جانے والی دو رکعت خفیف نماز ،پوری رات عبادت میں کھڑے رہنے سے بہتر ہے۔

ان فرامین کی بناء پر عبادات میں اصل، تفکر و توجہ ہے کہ جو عبادت کی روح اور جان کی مانند ہے ۔ مثال کے طور پر آپ سورۂ حمد میں تفکر و تدبّر اور غور و فکر سے امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی ولایت اور آپ  کے دشمنوں سے برأت کو واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں اور یوں آپ دن میں کم از کم دس مرتبہ  اپنے اس اعتقادی اصول کو اپنے ذہن میں تصور کرکے زبان پر لا سکتے ہیں۔ عبادت کا یہ نتیجہ صرف تفکر و تدبّر کے ساتھ ہی ممکن ہے کیونکہ تفکر عبادت کی اہمیت کو بیان کرتا ہے۔اسی لئے پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:"لاٰ عِبٰادَةَ کَالتَّفَکُّرِ'' (2) تفکّر کے مانند کوئی عبادت نہیں ہے۔

--------------

[1] ۔ بحار الانوار:ج۸۴ ص۲۴۰، ثواب الاعمال:40

[2]۔ بحار الانوار: ج۷۷ ص۷۰، محاسن:16


عبادات کی قسمیں

عبادات کی قسموں  سے آشنائی پیداکریں اور عبادت کی ایک ہی قسم کو انجام دینے پر اکتفا نہ کریں جیسے مادّی رزق انواع و اقسام کا ہوتاہے اور آپ اپنی خوراک مختلف جگہوں سے مہیا کرتے ہیں ۔اگر آپ کا کوئی کھانا نمک یا کسی دوسرے ضروری مواد کے بغیر ہو تو وہ کھانا مکمل نہیں ہوگا۔اسی طرح معنوی اعمال میں بھی ایک ہی عبادت کو انجام دیتے رہیں تو آپ کا باطن مطمئن نہیں ہو گا اگر چہ وہ عبادت زیادہ ہی کیوں نہ ہو،جیسے آپ نے اپنے دسترخواں پر بہت زیادہ گوشت تو جمع کر لیاہو لیکن نان ا ور نمک نہ ہو تو اس صورت میں آپ اس سے کس طرح استفادہ کر سکتے ہیں؟

جس طرح نماز و روزہ عبادت ہیںاسی طرح غور و فکر اورتفکر و تدبر بھی عبادت ہے،جس طرح  غور و فکر کرنا عبادت ہے اسی طرح خدمت خلق بھی عبادت ہے،جس طرح خدمت خلق عبادت ہے اسی طرح انتظار ظہور امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف  اور غیبت کے زمانے کی ذمہ داریوں سے آشنائی بھی عبادت ہے،جس  طرح انتظار ظہور امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف اور غیبت کے زمانے کی ذمہ داریوں سے آشنائی عبادت ہے اسی طرح مکتب اہلبیت علیھم السلام کے عقائد و معارف سے آشنائی بھی عبادت ہے۔....کوشش کریںکہ ان تما م عبادات کو انجام دیں اور خود کو تکامل تک پہنچائیں۔


 عبادت مخلصانہ ہونی چاہئے؟

اس بناء پر کثرت عبادت اہمیت کا معیار نہیں ہے بلکہ عبادت کی اہمیت کا معیار و ملاک اس کی تأثیر ہے اگرچہ عبادت کم ہی کیوں نہ ہو۔اگر عبادت مخلصانہ ہو تو اس کے بہت سے اثرات ہیں۔اسی لئے ہمیں ہر کام اور بالخصوص معنوی امور میںخلوص کے ساتھ قدم بڑھانا چاہئے اور ذاتی حساب اور غرض سے ہاتھ اٹھا لینا چاہئے اور کسی بھی مکاری  اور فریب  کے بغیر سچائی سے اپنا کام کرنا چاہئے۔

دل کوہر قسم کے فریب اور مکاری سے پاک کرنا اور خلوص کو حاصل کرنا شیعوں کی خصوصیات میں سے ہے ۔حضرت امام حسین علیہ السلام فرماتے ہیں:

''اِنَّ شِیْعَتَنٰا مَنْ سَلُمَتْ قُلُوْبُهُمْ مِنْ کُلِّ غَشٍّ وَ دَغَلٍ'' (1)

بیشک ہمارے شیعہ وہ ہیں جن کے دل ہر قسم کے فریب اور دھوکے  سے پاک ہوں۔

نیتوں میں  دھوکا و فریب انسان کی شخصیت میں کمی کا باعث بنتا ہے ۔اس لئے یہ کوشش کرنی چاہئے کہ عبادت کومخلصانہ طور پر انجام دیں اور مسلم اور محکم ارادہ سے اپنے دل سے ہر قسم کی غرض فریب اور دھوکے کو دور کریں۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج6۸ج۱۵6،تفسیر امام العسکری علیہ السلام:123


دل کو مکاری،دھوکے اور فریب سے پاک کرنے کا ایک طریقہ محمد و آل محمد علیھم السلام پر زیادہ سے زیادہ  ددرود بھیجنا ہے۔( 1 ) دعاؤں سے پہلے درود بھیجنے کی ایک وجہ فریب اور دھوکے کو دور کرنا اور خلوص کا حصول ہے۔

جن امور میں کوشش اور جستجو خلوص  کی بنیاد پر نہ ہو بلکہ  فقط دکھاوا ہو تو اس کا نہ صر ف یہ کہ کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا  بلکہ یہ بہت بڑا گناہ ہے ۔لیکن جو عبادت مخلصانہ ہو تو وہ خدا کے تقرب کے لئے بہت مؤثر ہے۔کیونکہ عبادات کو انجا م دینے میں  اگرمخلصانہ طور پر کوشش کی جائے تو یہ انسان میں راسخ برائیوں کو نیست و نابود کرکے انسان کو خدا کے نزدیک کردیتی ہے۔

عبادت اور عبودیت و بندگی کے مقام تک پہنچنا ہی صراط مستقیم ہے،ہمیں چاہئے کہ ہم خدا کی عبادت کے ذریعہ صراط مستقیم کی طرف قدم بڑھائیں ۔

خدا وند کریم کا ارشاد ہے:

اِنَّ اللَّهَ هُوَ رَبِّیْ وَرَبُّکُمْ فَاعْبُدُوهُ هَذَا صِرَاط مُّسْتَقِیْم( 2 )

اللہ ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے اور اسی کی عبادت کرو کہ یہی صراط مستقیم ہے ۔

اس بناء پر انسان خدا کی عبادت و بندگی کے ذریعے اس کے صراط مستقیم پر آ سکتاہے اور شیاطین کے تسلط سے رہائی حاصل کر سکتاہے۔

--------------

[1] ۔ اس بارے میں ایک مفصل روایت کی طرف رجوع کریں جسے مرحوم علامہ مجلسی  نے بحار الانوار:ج۴۹ص۱6 میں ذکر کیا ہے۔

[2]۔ سورۂ زخرف ،آیت :64


اس راہ کی طرف قدم بڑھانا اور اس پر قائم رہنا  ،یہ خودانسان کی سعادت اور نجات کی دلیل ہے۔

یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے یوں بیان فرمایا ہے:

''دَوٰامُ الْعِبٰادَةِ بُرْهٰانُ الظَّفَرِ بِالسَّعٰادَةِ'' ( 1 )

عبادت میں دوام انسان کی سعادت و کامیابی کی دلیل ہے۔

کیونکہ انسان عبادت اور اس کی شرائط کی حفاظت سے اولیاء خداکی صفوں میں داخل ہو جاتاہے اور اس کا شمارخداکے ممتاز بندوں میں سے ہوتاہے اور وہ اولیاء خدا

کی مخصوص اوصاف و خصوصیات کا مالک بن جاتاہے۔

حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں:

''سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ:یَقُوْلُ:اَنَا وَ عَلِّ اَبَوٰا هٰذِهِ الْاُمَّةِ ،وَ لَحَقُّنٰا عَلَیْهِمْ أَعْظَمُ مِنْ حَقِّ أَبَوَیْ وِلاٰدَتِهِمْ،فَاِنَّنٰا نَنْقُذُهُمْ اِنْ اَطٰاعُوْنٰا مِنَ النّٰارِ اِلٰی دٰارِ الْقَرَارِ ،وَ نُلْحِقُهُمْ مِنَ الْعُبُوْدِیَّةِ بِخِیٰارِ الْأَحْرٰارِ'' ( 2 )

میں نے رسول خدا(ص) سے سناہے:آپ(ص) نے فرمایا:میں اور علی علیہ السلام اس امت کے باپ ہیں، اور ان پر ہمارا حق ان کے والدین سے زیادہ ہے جن سے وہ پیدا ہوئے ہیں ۔کیونکہ ہم انہیں جہنم سے نجات دلا کر جنت میں داخل کریں گے(اگر وہ ہماری پیروی کریں)اور انہیں دوسروں کی بندگی سے اوربہترین آزاد افراد سے ملحق کریں گے۔

--------------

[1]۔ شرح غرر الحکم:224

[2]۔ بحار الانوار:ج۲۳ص۲۵۹، تفسیر الامام العسکری علیہ السلام:133


پس خاندان نبوت علیھم السلام کے فرامین کی پیروی اور مخلصانہ عبادت سے انسان مقام عبودیت تک پہنچ سکتا ہے اورنیک و صالح افراد کے ساتھ ملحق ہو سکتاہے اور انسان سے پلید شیطان دور ہو جاتا ہے۔یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کی خدا نے قرآن مجید میں تصریح فرمائی ہے۔

       (اِنَّ عِبٰادِي لَیْسَ لَکَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰان وَکَفٰی بِرَبِّکَ وَکِیْلاً) ( 1 )

بیشک میرے اصلی بندوں پر تیرا کوئی بس نہیں ہے اور آپ کا پروردگار ان کی نگہبانی کے لئے کافی ہے ۔

بہت سے شیعہ بزرگوںنے قرب الٰہی اور عبودیت کے مقام تک پہنچنے کے لئے بہت کوشش کی۔

معنوی مقامات کے حصول کے لئے مرحوم کرباسی  کی کوشش ایسی ہی کوششوں کا ایک نمونہ ہے۔ ان کا شمار بزرگ شیعہ علماء میں ہوتا ہے اور آپ سید بحر العلوم کے شاگردوں میں سے ہیں۔ان کے حالات زندگی میں لکھا گیا ہے:

اس بزرگ شخصیت نے شب قدر کو درک کرنے کے لئے پورا سال رات سے صبح تک عبادت انجام دی اور ہر رات تہجد کی برکات سے مستفید ہوتے ۔مرحوم کرباسی عبادت میں خشوع وخضوع اور حضور قلب کی رعایت کرتے ۔ایک بار اصفہان کے ایک اعلی عہدہ دار نے ان کے احترام کا خیال نہ رکھا تو آپ نے اس کے بارے میں دعا کی ۔کچھ مدت کے بعد ہی اس حاکم کو معزول کر دیا گیا ۔پھر مرحوم کرباسی نے اس کے لئے یوں لکھا:

--------------

[1]۔ سورۂ اسراء ،آیت:65


دیدی کہ خون ناحق پروانہ شمع را

چندان امان نداد کہ شب را سحر کند

وہ  اپنے زمانے کے سب سے بڑے زاہد تھے ۔مرحوم مرزا قمی  نے ان سے توضیح المسائل لکھنے کا تقاضا کیا تو انہوں نے جواب میں کہا:میرے بدن کی ہڈیوں میں جہنم کی آگ کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں ہے لیکن بالآخر مرحوم مرزا قمی کے اصرار پر آپ نے رسالہ لکھا۔

اگر کوئی فقیر آپ سے کوئی چیز مانگتا تو آپ اس سے گواہ لانے کو کہتے اور پھر آپ گواہ اور فقیر دونوں کو قسم دیتے کہ اس چیز کو خرچ کرنے میں اسراف نہیں کروگے ،اور پھر اسے ایک مہینے کا خرچہ دیتے۔

کہتے ہیں کہ ایک دن کسی واقعہ کے بارے میں ایک شخص نے ان کے سامنے گواہی دی ۔آپ نے اس سے پوچھا کہ تم کیا کام کرتے ہو؟اس نے کہا :میں غسل دیتا ہوں۔آپ نے اس سے غسل دینے کے شرائط پوچھے۔اس شخص نے غسل کی شرطوں کو بیان کیا اور پھر کہا کہ میں دفن کے وقت میت کے کان میں کچھ کہتا ہوں:مرحو م کرباسی نے کہا:تم میت کے کانوں میںکیا کہتے ہو؟اس شخص نے کہا:میں میت کے کان میں کہتا ہوں کہ تم خوش نصیب ہو کہ مر گئے اور آقا کرباسی کے پاس گواہی دینے کے لئے نہیں گئے۔!( 1 )

--------------

[1]۔ فوائد الرضویہ:10،قصص العلماء:118


  عبادت میں نشاط

اگر آپ عبادت کے جذبہ کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو خود سے جبر و کراہت کی حالت کو دور کریں اور ذوق و شوق  اور باطنی نشاط سے عبادت انجام دیں تا کہ آپ اس کے انمول آثار درک کر سکیں اور خود کو شیاطین کے تسلط سے نجات دلا سکیں۔

حضرت پیغمبر اکرم(ص) کا ارشاد ہے:

''اَفْضَلُ النّٰاسِ مَنْ عَشِقَ الْعِبٰادَةَ فَعٰانَقَهٰا وَ اَحَبَّهٰا بِقَلْبِهِ ،وَ بٰاشَرَهٰا بِجَسَدِهِ وَ تَفَرَّغْ لَهٰا ،فَهُوَ لاٰیُبٰالِْ عَلٰی مٰا اَصْبَحَ مِنَ الدُّنْیٰا عَلٰی عُسْرٍأَمْ عَلٰی یُسْرٍ'' (1)

افضل ترین لوگ وہ ہیں جو بندگی و عبادت کے عاشق ہوں اور اسے آغوش میں لے لیں اور دل و جان سے اس سے محبت کریں اور جسمی اعتبار سے عبادت میں مشغول ہوں اور فکری لحاظ سے راحت اورآرام سے عبات کریں ۔پھر اسے اس چیزکی فکر نہیں ہونی چاہئے کہ دنیا میں کس طرح صبح کی ،سختی یا راحت و آرام سے۔

اس بناء پر عبادت کے خالصانہ ہونے کے علاوہ  عبادت کے اثرات کے اہم

شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ شیطان و نفس، انسان کی عبادت کے لئے محرک نہ ہوں ورنہ عبادت ریا ،دکھاوا ،غرور اور اس جیسی دوسری چیزوں کی صورت میں انجام دی جائے گی۔انسان کوچاہئے کہ وہ خود کو اس طرح سے بنائے کہ اس کا نفس اس کی عقل کا تابع ہو اور جب وہ مخلصانہ طور پر عبادت کے لئے کھڑا ہو تو اس کا نفس اس کی عقل کے تابع ہو اور اصلاح نفس کی وجہ سے نفس بھی عقل کے تابع ہونا چاہئے اور ذوق و شوق اور مخلصانہ طور پر عبادت انجام دی جائے۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج۷۰ص۲۵۳، اصول کافی: ج۳ص۷۳


اس بناء پر تہذیب و اصلاح نفس اہم شرائط میں سے ہے کہ جو عبادت میں اہم کردار کا حامل ہے۔کیونکہ اگر انسان عقل کے حکم پر عبادت انجام دے لیکن اپنے نفس کو اپنی عقل کا مطیع نہ بنا سکے تو اس کا نفس اس کے وجود میں فعالت انجام دینا شروع کر دیتا ہے یہاں تک کہ وہ عبادت کو بے نتیجہ طور پر دکھاتا ہے اور اسے عبادت انجام دینے سے ہی روک دیتاہے ۔ اسی طرح کچھ دوسرے موانع مثلاً اس کے د ل میں وسوسہ پیدا کر دیتاہے کہ جس کے نتیجہ میں انسان جوعبادت انجام دیتا ہے اسے اس سے کوئی روحانی لذت نہیں ملتی ۔

قرآن کریم کی آیات کے مطابق عبادت خداوند کا صراط مستقیم ہے ،انسان اس طریقے سے عبودیت کے مقام تک پہنچ سکتا ہے اور جو مقام عبودیت تک پہنچ جائے  اس پر شیطان مسلط نہیں ہو سکتا  اور جو عبادت سے بغض و دشمنی رکھتے ہوئے مجبوراً اسے انجام دے ،وہ نہ  صرف شیطان کے تسلط سے رہائی حاصل نہیں کر سکتے بلکہ ان کا نفس شیطان کے وسوسوں سے اور زیادہ مہلک و خطرناک ہو جاتا ہے اور یوں وہ شیطان کے نفوذ کی راہ ہموار کر دیتے ہیں۔

جس عبادت میں انسان اپنے نفس کو اپنی عقل کاتابع قرار نہ دے سکے اور خود سازی سے عبادت انجام نہ دے، اس عبادت کا لازمہ یہ ہے کہ اس سے عبادت کا نتیجہ یعنی شیطان کے تسلط سے رہائی نہیں ملتی۔

اس بناء پر ہر عبادت کو انجام دینے کے لئے خود کو آمادہ کرنا چاہئے اور صلاحیت کے ساتھ اسے انجام دینا چاہئے ۔یہ واضح سی بات ہے کہ جو سخت عبادات اور شرعی ریاضتیں انجام دیتے ہیں لیکن وہ اس کے لئے تیار نہیں ہوتے ،وہ ایسے اعمال انجام دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔انہیں چاہئے کہ وہ آمادگی کو ایجاد کرنے لے لئے اپنے دل میں عبادت کی محبت کو ایجاد کریں۔


پس سخت اور بعض کے بقول شرعی ریاضتوں کو انجام دینے کے لئے روحانی و نفسانی طور پر تیار ہونا اور اس کی صلاحیت ان کی حتمی شرائط میں سے ہے۔

یہ کتنا نیک ، پسندیدہ بلکہ ضروری عمل ہے کہ انسان ہر کام اور بالخصوص عبادی امور کو انجام دینے کے لئے مکتب اہلبیت علیھم السلام سے آشنائی رکھتا ہو اور انہیں معصوم ہستیوں کے بتائے گئے طریقے کے مطابق خدا کی عبادت انجام دے تا کہ مصیبتوں سے محفوظ رہے۔

گرچہ راہی است پر ازبیم ز ما تا برِ دوست

رفتن آسان بود ، ار واقف منزل باشی

عبادات کو انجام دینے کے لئے مکتب اہلبیت علیھم السلام کی پیروی کے لئے عبادت کی شرائط کو جاننا ضروری ہے اور اسی طرح عبادات کی قبولیت کے موانع جیسے حرام خوری ، سے آگاہ ہونا بھی ضروری ہے۔


 عبادت میں نشاط کے اثرات

ذوق و شوق اور نشاط انسان کی قوت ارادہ میں اضافہ کا باعث ہے ینز اس سے استقامت و پائیداری میں بھی اضافہ ہوتاہے۔نشاط انسان کے مشکل اورسخت کاموں کو آسان اور رنج و زحمت کو کم کر دیتاہے۔

اسی وجہ سے جو لوگ مشکل ترین عبادی امور کو ذوق و شوق اور نشاط سے انجام دیتے ہیں ،وہ نہ  صرف ان کاموں کو انجام دینے سے تھکاوٹ کا احساس نہیں کرتے بلکہ انہیں ان کاموںکی سنگینی کا بھی احساس نہیں ہوتا بلکہ وہ روحانی لذت محسوس کرتے ہیں۔اسی لئے وہ خدا وند کریم سے یہی دعا کرتے ہیں کہ خدا عبادت و بندگی میں ان کے نشاط میں اضافہ فرمائے۔

حضرت امام سجاد علیہ السلام کی دعا میں پڑھتے ہیں:

''اِجْعَلْ .....نَشٰاطِ فِْ عِبٰادَتِکَ'' (1)

خداوندا !اپنی  عبادت کے لئے میرے نشاط میں اضافہ فرما۔

''رَبَّنٰا.....وَامْنُنْ عَلَیْنٰا بِالنَّشٰاطِ'' (2)

پروردگارا!مجھے نشاط عنایت کرکے مجھ پر احسان فرما۔

ایک زیارت جامعہ میں پڑھتے ہیں:''تَحَبَّبْ اِلََّ عِبٰادَتَکْ.....وَ تُنْشِطُنِْ لَهٰا'' (3)

خداوندا!مجھے اپنی عبادت کی محبت عنایت فرما..اور مجھے اس کے انجام دینے کے لئے نشاط و تازگی عطا فرما۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج ۹0ص۲۰۰،بلد الامین :131

[2]۔ بحار الانوار:ج۹۴ص۱۲۵

[3]۔ بحار الانوار:ج۱۰۲ص۱۷۰،مصباح الزائر:242


منقول دعاؤں میں عبادت میں نشاط طلب کرنے کا راز یہ ہے کہ نشاط سخت اور سنگین عبادتوں کو انجام دینے کے لئے انسان کی بہترین یاور و مددگار ہے۔جس طرح مشکل اور طاقت طلب کاموں کو اگر مل کر انجام دیا جائے تو وہ آسان ہو جاتے ہیں ۔  اسی طرح بعض روحانی کاموں کو بھی اگر مل کر انجام دیا جائے تو بھی انسان کی قدرت میں اضافہ ہوتاہے یعنی اگر انسان میں بعض روحانی قوتیں ہوں تو وہ چند افراد کا کام تنہا بھی انجام دے سکتا ہے۔

انہیں روحانی قوتوں میں سے ایک شوق اور نشاط ہے اگر آپ خود میں نشاط کی قدرت کو تقویت دیں  تو بہت سی سنگین عبادتیں بھی آپ کے لئے سہل اور آسان ہو جائیں گی گویا آ پ نے انہیں چند افراد کی مدد سے انجام دیاہو۔

اسی لئے ماہ رمضان کی آمد کی دعا میں پڑھتے ہیں:

''.....أَحْسِنْ مَعُوْنَتِْ فِ الْجِدِّ وَ الْاِجْتِهٰادِ وَ الْمُسٰارَعَةِ اِلٰی مٰا تُحِبُّ  وَ تَرْضٰی  وَ النَّشٰاطِ وَ الْفَرَحِ وَ الْصِّحَةِ حَتّٰی اَبْلُغَ فِ عِبٰادَتِکَ وَ طٰاعَتِکَ الَّتِیْ یَحِقُّ لَکَ عَلَّیَ رِضٰاکَ'' ( 1 )

سعی وکوشش میں  اور جس چیز میں تیری خوشنودی و رضائیت ہو اس کی طرف جلدی کرنے میں ، فرحت و نشاط اور جسمانی سلامتی  میں  میری مدد فرما تاکہ تیری اطاعت میں  اس بندگی کا حق اداد کر سکوں جس کا حق میری گردن پر ہے اور تیری رضائیت و خوشنودی کی طرف مائل ہو جاؤں۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج۹۷ص۳۳۰


جیسا کہ آپ نے اس دعامیں ملاحظہ کیا کہ نشاط ا ور صحت کو عبادت کے لئے مدد کے طور پر جانا گیاہے۔

خاندان نبوت علیھم السلام کے فرمودات سے استفادہ کرتے ہوئے ہمیں یہ معلوم ہوتاہے کہ نشاط بڑے بڑے سنگین کاموں کے لئے کامیابی کے اسرار میں سے ہے۔ہمیں چاہئے کہ ہم حیات بخش امور میں ان اسرار سے استفادہ کریں۔اگر ایسے امور میں ہم با نشاط نہ ہوں تو ہمیں چاہئے کہ اپنی تمام تر توانائی اپنے نفس پر خرچ کریں اور اپنے نفس کو ذوق و شوق اور نشاط مہیا کرنے کے لئے آمادہ کریں۔

اسی وجہ سے اگرچہ اہلبیت اطہار علیھم السلام کے یاور و انصار کے بدن بڑھاپے کی وجہ سے کمزور ہو جائیں لیکن عمل کے وقت ان کے دل ذوق و شوق  اور نشاط سے لبریز ہوتے ہیں۔


 عبادت میں کراہت

عبادت کی کیفیت کے بارے میں خاندان وحی علیھم السلام کی رہنمائی اور اس کی باطنی و قلبی جہات کی طرف توجہ کا مقصد یہ ہے کہ لوگ اپنی عبادتوں سے بہرہ مند ہوں اور ان کے آثار و اثرات کو درک کریں ۔ان کو انجام دینے سے انسان میں تبدیلی ایجاد ہو  ورنہ  اگر عبادت کا کوئی اثر نہ ہو اور یہ اہلبیت اطہار علیھم السلام کے راستہ سے دور ہو تو اس عبادت کا کیا فائدہ ہے؟کیا ایسی عبادتوں کا زحمت، تکلیف اور رنج کے سوا کوئی اور فائدہ ہے؟!

اسی وجہ سے امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:

''اِیّٰاکُمْ وَ الْجُهّٰالِ مِنَ الْمُتَعَبِّدِیْنَ وَالْفُجّٰارِ مِنَ الْعُلْمٰائِ فَاِنَّهُمْ فِتْنَةُ کُلِّ مَفْتُوْن'' (1)

عبادت کرنے والے جاہل افراد سے پرہیز کرو  اور بے عمل و فاجر علماء سے درو رہو کیونکہ یہ ہر دلباختہ شخص کے لئے فتنہ ہیں۔

کبھی ایسے افراد کی اصل عبادت صحیح نہیں  ہوتی اور یہ لوگ غیر عبادت کو عبادت کے طور پر قبول کرکے انجام دیتے ہیں۔کبھی ان کا عمل شریعت میں وارد ہوتا ہے ،لیکن وہ اسے انجام دیتے وقت بندگی و عبادت کی حالت کے بجائے جبراً اور مجبوری کے طور پر انجام دیتے ہیں ۔لیکن پھر بھی وہ خود کو کامل اور ہدایت یافتہ سمجھتے ہیں۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج۲ص۱۰6


ایسی عبادت کبھی دوسرے لوگوں کی بددلی کا باعث بنتی ہے حالانکہ عبادت سے انسان کے دل میں نشاط و فرحت کی حالت پیداہونی چاہئے نہ کہ کراہت و نفرت ۔  ایسی عبادات کے منفی اثرات زیادہ ہوتے ہیں۔

اسی لئے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

''لاٰ تَکْرَهُوا اِلٰی اَنْفُسِکُمْ اَلْعِبٰادَةَ'' ( 1 )

اپنے نفسوں کو عبادت کے لئے مجبور نہ کرو۔

بلکہ رغبت اور شوق سے عبادت انجام دوتا کہ عبادت کے انمول آثار آپ کے وجود میںپیدا ہو سکیں۔

شاید بعض لوگ یہ کہیں:اس صورت میںتو بہت سے عبادت کرنے والوں کو اپنی عبادت ترک کردینی چاہئے کیونکہ عبادت کے وقت نہ  تو ان میں خشوع و خضوع اور توجہ کی حالت ہوتی ہے بلکہ وہ مجبوراً عبادت انجام دیتے ہیں کیونکہ ان کا نفس عبادت کو انجام دینے کی طرف مائل نہیں ہوتا۔

ان سے ہم یہ کہتے ہیں:ایسا طرز تفکر مکتب اہلبیت علیھم السلام سے صحیح طور پر آشنا نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔خاندان نبوت علیھم السلام کے ارشادات پر غور و فکر کریں تو معلوم ہو گا کہ خدا نے انسان میں جو منفی حالات اور صفات پیدا کی ہیں جیسے حسد،کینہ،کراہت وغیر ہ۔ان سب کو خدا کے دشمنوں سے استفادہ کرنے کے لئے استعمال کیا جائے ۔لہذا انسان کو یہ نہیں چاہئے کہ وہ دوسروں کو دھوکہ(جو ایک منفی صفت ہے) دیتا پھرے بلکہ اسے چاہئے کہ وہ اپنے نفس کو فریب دے  اور پھر تلقین اور نرم زبان سے کراہت کی حالت کو ختم کرے اور خود کو عبادت کی طرف مائل کرے۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج۷۱ص۲۱۳،اصول کافی:ج۲ص۸6


مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''خٰادِعْ نَفْسَکَ فِ الْعِبٰادَةِ وَارْفِقْ بِهٰا وَلاٰ تَقْهَرْهٰا'' ( 1 )

عبادت میں اپنے نفس کو فریب دو اور اس کے ساتھ دوستی کرو اور اسے (عبادت کے لئے )مجبور نہ کرو۔

اس بناء پر جوکوئی بھی عبادت  کو مجبوری سے انجام دیتا ہو اسے چاہئے کہ وہ عبادت کو ترک کرنے کے بجائے اپنے نفس سے کراہت کی حالت کو برطرف کرے نہ کہ اپنی عبادت کو ہی چھوڑ دے۔کیونکہ عبادت ذوق و شوق اور فرحت و نشاط سے انجام دینی چاہئے نہ کہ مجبوری اور کراہت سے۔

حضرت علی بن ابیطالب علیہ السلام فرماتے ہیں:

''لاٰ تُبَغِّضْ اِلٰی نَفْسِکَ عِبٰادَةَ رَبِّکَ'' ( 2 )

اپنے نفس کو خدا کی عبادت کا دشمن قرار نہ دو۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج۳۳ص۵۰۹،نہج البلاغہ ،مکتوب:69

[2] ۔ بحار الانوار:ج۷۱ص۲۱۴،اصول کافی:ج۲ص۷۸


 عبادت کیا ہے؟

عبادت کیاہے اور کن چیزوں کو عبادی امور کا نام دے سکتے ہیں؟

یہ ایک اہم سوال ہے جس کی طرف کبھی کبھار بعض افراد کے اذہان متوجہ ہو جاتے ہیں ۔ممکن ہے کہ بعض لوگ عبادت کو نماز ،روزہ اور ان جیسے دوسرے امور ہی میں منحصر سمجھیں لیکن روایات اہلبیت علیھم السلام کی طرف رجوع کرنے اور ان کی رہنمائی سے یہ معلوم ہوتاہے کہ نماز اورر روزے کو انجام دینا ہی عبادت نہیں ہے۔کیونکہ عبادت کے معنی خدا کی بندگی ہے اور خدا کی بندگی و اطاعت اسی صورت میں وقوع پذیر ہو سکتی ہے کہ انسان وہی انجام دے جو خدا چاہتاہے اور خدا صرف  یہ نہیں چاہتا کہ کثرت سے نماز و روزہ بجا لاؤ۔

اس بارے میں حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام فرماتے ہیں:

''لَیْسَتِ الْعِبٰادَةُ کَثْرَةَ الصَّلاٰةِ وَ الصِّیٰامِ ،وَ اِنَّمَا الْعِبٰادَةُ کَثْرَةُ التَّفَکُّرِ فِ اَمْرِ اللّٰهِ'' (1)

کثرت سے  نمازیں پڑھنا اور روزہ رکھنا عبادت نہیں ہے ،بیشک خدا کے امر میں زیادہ تفکر اور غور و فکر کرنا عبادت ہے۔

خدا جو کچھ چاہتا ہے ،اسے انجام دینا عبادت ہے  اور اسی طریقے سے انسان مقام عبودیت تک پہنچ سکتاہے ۔مقام عبودیت و بندگی تک پہنچنے کا ملاک ومعیار عبادت کی اہمیت ہے۔اعمال اور کثرت عبادات، معنوی درجات تک پہنچنے کی حتمی و لازمی شرائط میں سے نہیں ہے۔کیونکہ اعمال و عبادات کی   اہمیت ان کی کثرت سے نہیں بلکہ ان کی اہمیت سے ہے ۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج78ص۳۷۳،تحف العقول:486


عبادات اسی صورت میں کوئی اہمیت رکھتی ہیں کہ جب وہ بہت زیادہ تأثیر رکھتی ہوں اور جب وہ انسان کے باطن میں تبدیلی پیدا کر یں۔اس بناء پر عبادات کی اہمیت کا اندازہ عبادت کرنے والوں میں تبدیلی ایجاد ہونے سے ہی لگایا جا سکتاہے۔

اس بیان سے یہ واضح ہو جاتاہے کہ اپنے نفس میں تبدیلی ایجاد کرنے والے اور معنوی توانائیوں سے بہرہ مند ہونے والے اولیائے خدا کی کامیابی کا معیار ان کی عبادتوں کی تأثیر ہے نہ کہ ان کی کثرت عبادت۔اگرچہ بہت سے مقامات پر عبادات کی تأثیر ،عبادات کی کثرت پر ہی موقوف ہوتی ہے۔لیکن یہ ایک کلّی قانون نہیں ہے۔

اس حقیقت پر ہماری دلیل حضرت امام صادق علیہ السلام کے خاص صحابی جناب مفضل سے منقول روایت ہے ۔آپ نے فرمایا:

''کُنْتُ عِنْدَ اَبِ عَبْدِاللّٰهِ علیه السلام فَذَکَرْنَا الْاَعْمٰالَ ،فَقُلْتُ اَنَا مَا أَضْعَفَ عَمَلِْ؟فَقٰالَ:مَهْ اِسْتَغْفِرِ اللّٰهَ،ثُمَّ قَالَ لِْ:اِنَّ قَلِیْلَ الْعَمَلِ مَعَ التَّقْویٰ خَیْر مِنْ کَثِیْرٍ بِلاٰ تَقْویٰقُلْتُ:کَیْفَ یَکُوْنُ کَثِیْر بِلاٰ تَقْویٰ ؟قَالَ:نَعَمْ ،مِثْلُ الرَّجُلِ یُطْعِمُ طَعٰامَهُ،وَ یُرْفِقُ جِیْرٰانَهُ وَ یَوَطِّیُٔ رَحْلَهُ،فَاِذٰا ارْتَفَعَ لَهُ الْبٰابُ مِنَ الْحَرٰامِ دَخَلَ فِیْهِ ،فَهٰذَا الْعَمَلُ بِلاٰ تَقْویٰ ،وَ یَکُوْنُ الآخَرُ لَیْسَ عِنْدَهُ فَاِذَا ارْتَفَعَ لَهُ الْبَابُ مِنَ الْحَرٰامِ لَمْ یَدْخُلْ فِیْهِ'' ( 1 )

میں حضرت امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضرتھا کہ اعمال کے بارے میں گفتگو شروع ہوئی۔ میں نے کہا:میرے اعمال کتنے کم ہیں ؟!

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج78ص۳۷۳،تحف العقول:486


امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:خاموش رہو !اور استغفار کرو۔پھر آپ  نے مجھ سے فرمایا: تقوی ٰ  کے ساتھ انجام دیئے جانے والے کم اعمال تقویٰ کے بغیر انجام دیئے گئے زیادہ اعمال سے بہتر ہے ۔

میں نے عرض کیا:کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص تقویٰ کے بغیر زیادہ اعمال انجام دے؟

آنحضرت  نے فرمایا: ہاں ۔ جیسے کوئی شخص اپنا کھانا دوسروں کو کھلا دے ، پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرے اور ان کے لئے سامان سفر فراہم کرے ۔لیکن جب بھی اس کے لئے کوئی حرام کا دروازہ کھلے تو وہ اس میں داخل ہو جائے ۔ یہ ایسا عمل ہے کہ جس میں تقویٰ نہیں ہے  اور دوسرا شخص ایسے زیادہ  اعمال انجام نہیں دیتالیکن جب اس کے لئے کوئی حرام کا دروازہ کھلے تو وہ اس میں داخل نہیں ہوتا۔

ایسا عمل تقویٰ کے ساتھ ہے اور ایسا شخص عبادت میں صداقت رکھتا ہے۔


 محبت اہلبیت علیھم السلام یا عبادت میں نشاط کا راز

سنگین اور مشکل امور کو انجام دینے کا راز نشاط ہے۔اس کے علاوہ عبادت میں نشاط اہلبیت اطہار علیھم السلام سے محبت کی ایک دلیل بھی ہے۔کیونکہ اہلبیت عصمت و طہارت علیھم السلام سے محبت کی نشانیوں میں سے ایک عبادت و بندگی میں با نشاط ہوناہے ۔ ان ہستیوں کی محبت انسان میں عبادت و بندگی کے لئے رغبت پیدا کرتی ہے اور ہم بندگی کا درس خاندان نبوت علیھم السلام اور ان کے حقیقی پیروکاروں سے ہی سیکھتے ہیں۔

پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں:

''فِیْ حُبِّ أَهْلِ بَیْتِْ.....اَلرَّغْبَةُ اِلَی الْعِبٰادَةِ'' (1)

میرے اہلبیت علیھم السلام کی محبت  کے ذریعہ عبادت کی طرف رغبت رکھی گئی ہے۔

اس بناء پر اہلبیت اطہار علیھم السلام سے آپ کی محبت جتنی زیادہ ہوگی ،عبادات اور بندگی کے لئے اتنا ہی ذوق و شوق اور رغبت زیادہ ہو جائے گی اور عبادت کے لئے آپ کی آمادگی میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار: ج۲۷ ص۱6۳


 نتیجۂ بحث

عبادت و بندگی مقام عبودیت تک پہنچنے اور سعادت تک پہنچنے کا ذریعہ ہے ۔آپ کو غور و فکر کرنا چاہئے کہ وہی عبادت انسان کو عبودیت کے مقام تک پہنچا سکتی ہے کہ جس کے اثرات ہوں اور جو انسان کے وجود میں تحول و تبدیلی ایجاد کرے ۔ اس بناء پر اتنی ہی عبادت اہمیت رکھتی ہے کہ جس سے یہ نتیجہ حاصل ہو جائے نہ کہ عبادت کی کثرت اہمیت رکھتی ہے۔

عبادات کی انواع و اقسام سے آشنا ئی حاصل کریں اور ایک ہی طرح کے عبادی امور سے گریز کریں کیونکہ یہ چیز تھکاوٹ کا باعث بنتی ہے۔عبادت کی مختلف انواع کو انجام دینے سے ذوق و شوق ایجاد ہوتاہے  پس اس طریقے سے آپ عبادات کے اثرات کو درک کرسکتے ہیں۔

اس بناء پر اہلبیت اطہار علیھم السلام سے آپ کی محبت جتنی زیادہ ہوگی ،عبادت و بندگی کو انجام دینے کے لئے آپ کے ذوق و شوق اور نشاط میں اتنا ہی زیادہ اضافہ ہو گا۔

عبادت میں نشاط سے عبادت میں تھکاوٹ کا احساس نہیں ہوتا اور اس سے آپ کے اخلاص و صداقت میں اضافہ ہوتاہے کہ جو عبادت کی تأثیر کا لازمہ ہے ۔اس راہ پر قائم رہنے سے آپ مقام عبودیت تک پہنچ سکتے ہیں کہ جو انسان کی خلقت کا راز ہے ۔یوں آپ اپنے نفس اور شیطان رجیم پر غالب آسکتے ہیں۔

طاعت آن نیست کہ بر خاک نہی پیشانی

صدق پیش آر ،کہ اخلاص بہ پیشانی نیست


چوتھا باب

تقوی ٰ

حضرت امیر المو منین  علی  علیہ  السلام  فرماتے ہیں :

'' أَشْعِرْ قَلْبَکَ التَّقْویٰ وَ خٰالِفِ الْهَویٰ تَغْلِبُ الشَّیْطٰانَ ''

اپنے دل کو تقویٰ کے ذریعے مطلع و آگاہ کرو اور نفسانی ہوا و ہوس کی مخالفت کرو تا کہ شیطان پر غلبہ حاصل کرسکو۔

    تقوی ٰ و پرہیزگاری

    تقویٰ دل کی حیات کا باعث

    تقویٰ اور قلب کا رابطہ

    تقویٰ الٰہی و شیطانی افکار کی شناخت کا ذریعہ

    اپنی دوستی کا معیار تقویٰ کو قرار دیں

    حرام مال سے پرہیز

    تقویٰ انسان کے بلند مقامات تک پہنچنے کا سبب

    پرہیزگاری ، اولیائے خدا کی ہمت میں اضافہ کا باعث

    تقویٰ کو ترک کرنے کی وجہ سے تبدیلی

    پرہیزگاری میں ثابت قدم رہنا

    نتیجہ ٔبحث


 تقوی ٰ و پرہیزگاری

انسان کا دل مادی و معنوی دنیا کے درمیان رابط ہے۔اگر انسان کا دل سالم ہو تو وہ اپنی معنوی توانائیوں  سے استفادہ کرتے ہوئے الہام  دینے اور الہام قبول کرنے والا بن سکتاہے۔

دل اسی صورت میں سالم ہو سکتا ہے کہ جب وہ آلودگی اور برائیوں کے زنگ سے پاک ہو اور روحانی ناپاکیوں سے دور ہو۔ جب انسان گناہ  و فسادمیں مبتلا ہوجائے تو اس کا دل سیاہ ہو جاتا ہے اور انسان معنوی توانائیوں سے استفادہ کرنے کی قدرت کو کھو بیٹھتا ہے اور الٰہی فیض و برکات سے محروم ہو جاتا ہے۔

تقویٰ قلبی اور روحانی بیماریوں کی دوا ہے ۔تقویٰ کے ذریعے دل کو پاک کرنا چاہئے اور دل کی سیاہی اور زنگ کو دور کرنا چاہئے۔

حضرت ادریس علیہ السلام کے انتیسویں صحیفہ میں آیا ہے:

''وَاغْسِلْ قَلْبَکَ بِالتَّقْویٰ کَمٰا تَغْسِلُ ثَوْبَکَ بِالْمٰائِ ،وَ اِنْ أَحْبَبْتَ رُوْحَکَ فَاجْتَهِدْ فِی الْعَمَلِ لَهٰا (1)

جس طرح تم اپنے کپڑوں کو پانی سے دھوتے ہو ،اسی طرح اپنے دل کو تقویٰ کے ذریعے پاک کرو اور اگر تم اپنی روح سے محبت کرتے ہو تو عمل میں اس کے لئے جدوجہد کرو۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار: ج۹۵ ص۴۷۱


 تقویٰ دل کی حیات کا باعث

قلب کی حیات اور دل کی نورانیت انسان کے تقویٰ سے وابستہ ہے ۔باتقویٰ انسان دل کی حیات،بصیرت اور دل کی نورانیت سے بہرہ مند ہوتاہے اور جو گناہوں سے آلودہ ہو اوربا تقویٰ  نہ ہو اس کا دل زنگ آلود اور معنویت  سے خالی ہوتاہے۔

مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''مَنْ قَلَّ وَرَعَهُ مٰاتَ قَلْبُهُ'' (1) جس کی پرہیزگاری کم ہو،اس کا دل مردہ ہوتا ہے۔

جو بصیرت اور معنوی حیات کے خواہاں ہوں انہیں چاہئے کہ وہ با تقویٰ ہوں تا کہ نہ صرف دنیا میں معنوی زندگی سے مستفید ہوں بلکہ آخرت میں بھی فلاح و نجات پائیں اور خدا کی بے شمار نعمتوں سے مستفید ہوں۔امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:''مَنْ أَحَبَّ فَوْزَ الْآخِرَةِ فَعَلَیْهِ بِالتَّقْویٰ'' (2) جو کوئی آخرت میں کامیاب ہونا چاہے اس کے لئے باتقویٰ اور پرہیز گار ہونا ضروری ہے۔

تقویٰ ہربا تقویٰ کا بہترین محافظ ہے ۔تقویٰ فتنوں ،بدعتوں اور گمراہیوں  میں متقی شخص کی مضبوط ڈھال ہے جو اسے گمراہ ہونے سے محفوظ رکھتی ہے اور تقویٰ متقی شخص کو فتنوں کا اصل چہرہ دکھاتا ہے اگرچہ اس کے ظاہر کتنے ہی خوبصورت کیوں نہ ہوں۔تقویٰ متقی انسان کی محکم  پناہ گاہ ہے۔حضرت امام علی علیہ السلام اپنے ایک دوسرے فرمان میں ارشاد فرماتے ہیں:

''اَلتَّقْویٰ حِصْنُ حَصِیْنٍ لِمَنْ لَجَأَ اِلَیْهِ'' (3) تقویٰ ہر اس شخص کے لئے ایک مضبوط حصار ہے ،جو اس میں پناہ لے۔

--------------

[1]۔ شرح غرر الحکم: ج۵ ص۲6۹

[2]۔ شرح غرر الحکم: ج ۵ص۳۹۴

[3]۔ شرح غرر الحکم: ج۵ ص۲6۹


 تقویٰ اور قلب کا رابطہ

دل چیزوں کو اخذ کرنے والی بھیجنے والی بہت قوی مشین ہے جسے خداوند متعال نے انسان کے وجود میں قرار دیا ہے تا کہ اس کے صحیح و سالم ہونے کی صورت میں انسان اس سے استفادہ کرکے اپنی  توانائی کے مطابق گذشتہ و آئندہ سے ارتباط برقرار کرے اور کبھی اپنی باطنی و قلبی توجہ(جو نفسانی خواہشات اور خیالات سے خالی ہو) اولیائے خدا سے مرتبط کر سکے۔

لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ امام عصر عجل اللہ فرجہ الشریف (جو کائنات کے دل کی حیثیت رکھتے ہیں)کے غیبت کے زمانے میں ہمارے دل صحت و سلامتی سے خالی اور روحانی بیماریوں میں  مبتلا ہیں ۔

حضرت امام علی علیہ السلام نے اپنے نورانی کلمات میں دلوں کی صحت و سلامتی اور اسی طرح قلبی امراض کی تصریح فرمائی ہے اور مختلف بیماریوں (ہمارادل جن بیماریوںمیں مبتلا ہو چکا ہے)سے نجات کا راستہ بھی بیان کیا ہے۔

مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام نے تقویٰ اور انسان کے وجود میں اس کے اثرات کوبیان کرتے ہوئے فرمایا:

''فَاِنَّ تَقْوَی اللّٰهِ دَوٰائُ دٰائِ قُلُوْبِکُمْ'' (1)

تقویٰ الٰہی آپکے دلوں کی بیماری کا علاج ہے۔

--------------

[1]۔ شرح غرر الحکم:ج ۵ص۲6۹


اگر خداوند انسان کو تقویٰ و پرہیزگاری عطا کرے تو یہ دوسری مختلف دوائیوں  کی طرح مختلف قسم   کی بیماریوں میں مبتلا بیمار دلوں کو شفا دیتاہے۔ جس طرح طوفان اور مصیبت میں گرفتار مسافروں کو کشتی نجات دیتی ہے اسی طرح تقویٰ انسان کو مختلف قسم کے فتنوں،بلاؤں اور گرفتاریوں سے ہلاک ہونے سے بچاتا ہے۔

حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام ،حضرت لقمان کے اقوال کے ضمن میں فرماتے ہیں:

''.....فَلْتَکُنْ سَفِیْنَتُکَ فِیْهٰا تَقْوَی اللّٰهِ'' ( 1 )

ان موارد میں تمہاری کشتی (نجات) تقویٰ الٰہی ہونی چاہئے۔

تقویٰ بھی ایک طاقتور کشتی کی طرح بلاؤں کی امواج کو چیرکر انسان کو فتنوں سے نجات دلاتا ہے۔

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''وَاعْلَمُوا أَنَّهُ مَنْ یَتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَهُ مَخْرَجًا مِنَ الْفِتَنْ'' ( 2 )

آگاہ ہو جاؤ !جو کوئی خدا کے لئے تقویٰ اختیار کرے ، خداوند اس کے لئے فتنوں سے فرار کے راستے کھول دیتا ہے۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج۱ص۱۳6

[2]۔ نہج البلاغہ،خطبہ: 183


 تقویٰ الٰہی و شیطانی افکار کی شناخت کا ذریعہ

الٰہی و شیطانی افکار کو کس طرح ایک دوسرے سے تشخیص دے سکتے ہیں؟

ہم بہت سے موارد میں شیطانی و رحمانی افکار میں فرق نہیں کرتے  اور ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہمارے افکار میں سے کون سے افکار رحمانی ہیں  کہ  جو معنوی منشاء رکھتے ہیں اور ان میں سے کون سے شیطانی یا نفسانی ہیں کہ جو شیطان یا نفس کے ذریعے ہمارے ذہن میں  پیداہوتے ہیں؟

افکار میں تشخیص نہ دے پانا حیرت و سرگردانی کا باعث بنتا ہے  اور  ہمیں  ان افکار کے بارے  میں ہماری ذمہ داری  کا علم بھی نہیں ہوتا ہے کہ جن کا الٰہی یا شیطانی  ہونا معلوم نہ ہو؟

اس سے بھی مشکل افکار کے تجسم اور مکاشفہ کا مسئلہ ہے کہ جن کی حقیقت کو اکثر لوگ حتی کہ اہل علم  حضرات بھی نہیں جانتے ۔

یہ جاننے کے لئے کہ کون اپنے الٰہی افکار کو تشخیص دے سکتا ہے ،ہم  یہ کہتے ہیں:قرآن مجید نے اس سوال کا جواب بیان فرمایاہے اور واضح طور پر فرمایاہے:

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَواْ ِذَا مَسَّهُمْ طَائِف مِّنَ الشَّیْْطَانِ تَذَکَّرُواْ (1)

جو لوگ صاحبان تقوی ہیں جب شیطان کی طرف سے کوئی خیال چھونا بھی چاہتا ہے تو خدا کو یاد کرتے ہیں۔

--------------

[1]۔ سورۂ اعراف،آیت:201


یعنی تقویٰ اس طرح سے انسان کو آگاہی دیتاہے کہ جب بھی شیطان انسان کے ذہن میں کوئی سوچ و فکر القاء کرے تو وہ فوراً سمجھ جاتا ہے کہ یہ افکار شیطان نے ذہن میں ڈالے ہیں۔

اس بناء پرالٰہی و شیطانی افکار کو ایک دوسرے سے تشخیص دینے کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ ان میں سے کس کو اہمیت دیں اور کس سے بے اعتنائی کرتے ہوئے اسے چھوڑ دیں ۔تقویٰ اختیار کریں تا کہ اس کے ذریعے ہم میں الٰہی و شیطانی افکار میں تمیز دینے کی قدرت پیداہو سکے۔

پس تقویٰ و پرہیزگاری اختیار کرنے سے نہ صرف یہ کہہم شیطان کے فریب میں مبتلا نہیںہوں گے بلکہ ہم میں دشمن کو پہچاننے اور اس کے نفوذ کرنے کے طریقوں کو پہچانے کی بصیرت و آگاہی آ جاتی ہے اور عالی مراحل تک پہنچنے کی زیادہ قدرت پیدا ہو جاتی ہے۔

کیونکہ تکامل و پیشرفت ا ور کسی بھی  ہدف تک پہنچنے کے لئے اس کے موانع کی شناخت و معرفت ضروری ہے ورنہ انسان پرخطر اور مشکل راستوں کوبا آسانی اور موانع سے آمنا سامنا کئے بغیر طے نہیں کر سکتا ۔

روحانی سیرو سلوک اور معنوی راستوں پر چلنے کے لئے بھی انسان کانفس اور شیطان کی مکاریوں سے آشنا ہونا نہایت ضروری ہے تا کہ انسان اس کے دھوکے اور فریب میں گرفتار نہ ہو جائے ۔ انسان کے لئے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ شیطان اسے کس طریقے سے گمراہ کرتاہے  اور کس طرح سے اسے راہ راست سے منحرف کرتا ہے۔

تقویٰ شیطان کے فکری وسوسوں کی شناخت اور شیطانی افکار کی راہوں کو پہچاننے کا ذریعہ ہے۔باتقویٰ افراد الٰہی و شیطانی افکار کو ایک دوسرے سے تشخیص دے سکتے ہیں۔


لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض افراد تقویٰ نہ ہونے کی وجہ سے فکری بیماریوں،نفسی آلودگیوں،بصیرت کے فقدان اور دل کی تاریکی کے باعث تکلیف اٹھاتے ہیں اور انہیں ان بیماریوں کے علاج کا کوئی راستہ بھی معلوم نہیں ہوتا نیز وہ اپنے نفس کی ان بیماریوں کا علاج کرنا بھی نہیں جانتے  کہ وہ کس دوا سے اپنی معنوی بیماری کا علاج کریں۔وہ مکتب اہلبیت علیھم السلام کے شفا بخش مکتب سے آشنا نہ ہونے کی وجہ سے کھوکھلے ماہرین نفسیات،امریکی جادوگروں اور مختلف شیطانی ریاضتیں انجام دینے والے افراد کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں جس سے ان کی گمراہی اور سرگردانی میں  مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔

اب تک کون سا ایسا شخص ہے جو مکتب وحی سے آشنا ہونے کے باوجود ایسے ناشائستہ افراد کا محتاج ہو؟

اگرچہ ہم یہ مانتے ہیں کہ بعض افراد عقل اور شریعت کے برخلاف کچھ ریاضتیں انجام دینے کی وجہ سے بعض مہارتوں پر قادر ہو جاتے ہیں  اور وہ کچھ روحانی مشق اور ریاضت سے نفسانی اور شیطانی (نہ کہ رحمانی)قدرت توحاصل کر لیتے ہیں  لیکن چونکہ وہ با تقویٰ نہیں ہوتے لہذا وہ اپنی توانائیاں غلط اور فاسد کاموں میں خرچ کرتے ہیں  اور اپنی قدرت دنیا پر قابض ہونے والے افراد کے لئے صرف کرتے ہیں۔

اسی طرح کچھ ہندو اور گائے پرست مقدس گائے کا فضلہ اپنے سر اور چہرے پر لگاتے ہیں  جب کہ امریکا ان سے مشورہ کرنے کے لئے ان کے ساتھ بیٹھتا ہے۔یقینا یہ آلودہ افراد انہیں معنویت،خدا شناسی اور انسان دوستی کا درس دیتے ہوں گے !!اور انہیں  لوگوں کو برباد کرنے والے کام انجام دینے سے روکتے ہوں گے!!

کیا وہ دکھائی نہ دینے والی شیطانی طاقتوں کے ذریعے خدا کی غیبی قدرت سے جنگ کرنا چاہتے ہیں۔( 1 )

--------------

[1] ۔ امریکہ اب تک اپنی طاقت کو لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ رکھنے کے لئے اربوں ڈالر خرچ کر چکا ہے اور اس کے لئے اسن نے اپنے بہت سے لوگوں کو بھی قربان کیا ہے۔!رک:بہ سوی بی نہایت۔


لیکن کیا ایسا نہیں ہے کہ یہ فرعون کے وارث ہیں جو اسی کی طرح سوچتے ہیں اسی لئے وہ جادوگروں اور ساحروں کا دامن تھامتے ہیں!

چونکہ  انہوں نے حقیقت نہیں دیکھی اسی لئے وہ افسانے کو ہی حقیقت مان بیٹھے!

روحانی تکالیف اور دروسے نجات کے لئے ان ہستیوں کی رہنمائی پر عمل کرنا چاہئے جو سب کی جان اور روح سے آشناہیں اور جو انسانوں اور تمام مخلوقات کی خلقت کی کیفیت کے شاہد ہیں۔

اس لئے ہمیں چاہئے کہ ہم مکتب اہلبیت علیھم السلام کی طرف رخ کریں اور خود کو مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام کے انمول کلمات سے اطمینان دیں ۔آنحضرت  فرماتے ہیں:

اَمّٰا بَعْدُ:فَاِنِّی اُوْصِیْکُمْ بِتَقْوَی اللّٰهِ اِبْتَدَئَ خَلْقَکُمْ وَ اِلَیْهِ یَکُوْنُ مَعٰادُکُمْ ،وَ بِهِ نَجٰاحُ طَلِبَتِکُمْ وَ اِلَیْهِ مُنْتَهٰی رَغْبَتِکُمْ،وَ نَحْوُهُ قَصْدُ سَبِیْلِکُمْ وَ اِلَیْهِ مَرٰامِْ مَفْزَعِکُمْ فَاِنَّ تَقْوَی اللّٰهِ دَوٰائُ دٰائِ قُلُوْبِکُمْ وَ بَصَرَ عَمیٰ أَفْئِدَتِکُمْ ،وَ شَفٰائُ مَرَضِ اَجْسٰادِکُمْ وَ صَلاٰحُ

 فَسٰادِ صُدُوْرِکُمْ وَ طَهُوْرُ دَنَسِ أَنْفُسِکُمْ ،وَ جَلاٰئُ غِشٰائِ أَبْصٰارِکُمْ،وَ اَمْنُ فَزَعِ جَأْشِکُمْ وَ ضِیٰائُ سَوٰادِ ظُلْمَتِکُمْ.....''( 1 )

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج ص۲۸۴۷0،نہج البلاغہ ،خطبہ :81


اما بعد : میں  تم لوگوں کو تقویٰ الٰہی اختیار کرنے کی سفارش کرتاہوں۔جس نے تمہیں پیدا کیا ہے اور تمہیں اس کی بارگاہ میں لوٹ کر جانا ہے ۔اسی کی عنایت سے تم اپنے مقاصد میں کامیاب ہوتے ہو اور تمہاری بازگشت کی انتہا وہی ہے  اور خوف کے وقت وہی تمہاری بہترین پناہگاہ ہے۔

بیشک تقویٰ الٰہی تمہارے دلوں کے درد کی دوا ہے ،تمہارے اندھے دلوں کے لئے بصیرت ہے ، تمہارے جسموں کے مرض کے لئے شفاء ہے ۔یہ تمہارے سینوں کے فساد کی اصلاح کرنے والا،تمہارے نفس کی کثافت و گندگی پاک کرنے اور تمہارے آنکھ کے پردوں کو جلا و صفا عطا کرنے والاہے ۔تمہارے دل کے خوف کے لئے امان اور تمہاری ظلمتوں کے اندھیروں کے لئے روشنی ہے۔( 1 )

جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا کہ حضرت امام علی علیہ السلام تقویٰ کو دل کی تاریکی،فکر ی آلودگی ، بصیرت کے فقدان اور دوسری روحانی بیماریوں کا علاج قرار دیتے ہیں  اور آپ انسانیت اور معنویت کی راہ کے متلاشی تمام افراد کو تقویٰ الٰہی اختیار کرنے کی تاکید کرتے ہیں۔

--------------

[1]۔ شرح نہج البلاغہ(مرحوم مرزا حبیب اللہ خوئی )،خطبہ:۱۹۷،ج۱۲ص۲6۹


  اپنی دوستی کا معیار تقویٰ کو قرار دیں

تقویٰ کی اہمیت و عظمت کی وجہ سے دینی بھائیوں اور دوستوں سے ہمارا ارتباط اور دوستی کا معیار ان کے تقویٰ اور پرہیز گاری کی بنیاد پر ہو نہ کہ ان کی دولت، شہرت اور مقام کی بنیاد پر۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیںکہ حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا:

''اَحْبِبِ الْاَخْوٰانَ عَلٰی قَدْرِ التَّقْویٰ'' (1)

اپنے (دینی) بھائیوں کو ان کے تقویٰ و پرہیز گاری کے مطابق دوست رکھو۔

لوگوںسے دوستی ظاہری اور مادی امور کی وجہ سے نہیں ہونی چاہئے ۔اگر انسان کی دوستی اور برتاؤ کا معیار تقویٰ اور پرہیزگاری ہو تو معاشرے کے شریر  اور مکار افراد کے فریب اور شر سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔لیکن بعض افراد تقویٰ اور پرہیزگاری کو دوستی کی بنیاد قرار دینے کے بجائے فاسد کو افسد کے ذریعے دفع کرتے ہیں اور افسد کے بھی مرتکب ہو جاتے ہیں اور معاشرے  کے بازیگروں کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج۷۴ص۱۸۷، امالی مرحوم صدوق :182


 حرام مال سے پرہیز

شریک بن عبداللہ ایسے افراد میں سے ایک ہے ۔وہ مہدی عباسی کے زمانے میں کوفہ کاقاضی تھا ۔   قضاوت کے منصب کو قبول کرنے سے پہلے وہ ایک دن مہدی عباسی کے پاس گیا۔

مہدی عباسی نے اس سے کہا:میں تمہیں تین طرح کا حکم دیتا ہوں ،تم ان میں سے کسی ایک کا انتخاب کرکے اس پر عمل کرو۔تم یاکوفہ کی قضاوت کا منصب قبول کرویا میرے بیٹوں کو تعلیم دویا پھر میرے ساتھ ایک مرتبہ کھانا کھاؤ۔

شریک نے جب یہ تین حکم سنے تو وہ کسی پر بھی راضی نہ ہوا لیکن چونکہ اس کے پاس ان میں سے کسی ایک کو قبول کرنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں تھا،اس نے سوچا اور کہا:کھانا،کھانا دوسرے دونوں احکامات سے آسان ہے۔

مہدی عباسی نے حکم دیا کہ اس کے لئے بہت لذیذ کھانا تیار کیا جائے ۔جب کھانالایا گیا  اور شریک کھانا کھانے سے فارغ ہو گیا تو کھانا پکانے والے نے مہدی عباسی سے کہا:

''لیس یفلح الشیخ بعد هذه الأَکلة ابداً"

شریک یہ غذا کھانے کے بعد کبھی بھی فلاح نہیں پا سکتا۔

شریک نے وہ غذا کھانے کے بعد بنی عباس کے ساتھ ہمنشینی کو قبول کر لیا اور نہ صرف اس کے  بچوں کو تعلیم دینے پر آمادہ ہو گیا بلکہ منصب قضاوت کو بھی قبول کر لیا۔(1)

جی  ہاں!جب رنگین دسترخوان بچھا دیا جائے یا کسی منصب کی کرسی رکھ دی جائے تو پرہیزگار آزمائش میں مبتلا  ہو جاتے ہیں  اور ان کی معنوی حقیقت و واقعیت واضح ہو جاتی ہے۔

--------------

[1]۔ وقایع الایام مرحوم محدث قمی:86


 تقویٰ انسان کے بلند مقامات تک پہنچنے کا سبب

اب ہم  آپ  کے سامنے رسول اکرم (ص) کی بہت اہم روایت پیش کرتے ہیں تا کہ تقویٰ و پرہیزگاری کے عظیم آثار کے بارے میں آپ کے علم و آگاہی میں مزید اضافہ ہو۔

''قٰالَ رَسُوْلُ اللّٰه:.....قَدْ أَجْمَعَ اللّٰهُ تَعٰالٰی مٰا یَتَوٰاصی بِهِ الْمُتَوٰاصُوْنَ مِنَ الْأَوَّلِیْنَ وَ الْآخِرِیْنَ فِ خَصْلَةٍٍوٰاحِدَةٍ وَ هَِ التَّقْویٰ،قٰالَ اللّٰهُ جَلَّ وَ عَزَّ: ( وَلَقَدْ وَصَّیْنَا الَّذِیْنَ أُوتُواْ الْکِتَابَ مِن قَبْلِکُمْ وَِیَّاکُمْ أَنِ اتَّقُواْ اللّٰهَ ) (1) وَ فِیْهِ جِمٰاعُ کُلِّ عِبٰادَةٍ صٰالِحَةٍ،بِهِ وَصَلَ مَنْ وَصَلَ اِلَی الدَّرَجٰاتِ الْعُلیٰ ،وَالرُّتْبَةِ الْقُصْویٰ،وَ بِهِ عٰاشَ مَنْ عٰاشَ مَعَ اللّٰهِ بِالْحَیٰاةِ الطَّیِّبَةِ وَالْاِنْسِ الدّٰائِمِ، قٰالَ اللّٰهُ عَزَّ وَ جَلَّ: (ِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنَّاتٍ وَنَهَرٍ ،،فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِندَ مَلِیْکٍ مُّقْتَدِرٍ) (3)( 2)

اولین وآخرین میں سے وصیت کرنے والوں نے جس چیز کی وصیت کی خدا نے اسے ایک ہی خصلت میں جمع کر دیا اور وہ تقویٰ ہے۔

خداوند کا ارشاد ہے: اور ہم نے تم سے پہلے اہلِ کتاب کو اور اب تم کو یہ وصیت کی ہے کہ اللہ سے ڈرو (یعنی تقوی اختیار کرو)تقویٰ تمام عبادت صالح کے لئے سرچشمہ ہے اور جس نے بھی بلند درجات تک رسائی حاصل   وہ تقویٰ کے ذریعے سے ہی ہے اور جو بھی خدا کے ساتھ پاک حیات اور دائمی انس رکھتا ہو  اسے اسی کے ساتھ زندگی گزارنی چاہئے۔

--------------

[1]۔ سورۂ نساء ،آیت:131

[2]۔ سورۂ قمر ،آیت:54،55

[3]۔ کشف الغمہ:ج2ص368، بحار الانوار:ج78ص200


خدا وند کریم کا ارشاد ہے:بے شک صاحبان تقویٰ باغات اور نہروں کے درمیان ہوں گے ، اس پاکیزہ مقام پر جو صاحب اقتدار بادشاہ کی بارگاہ میں ہے۔

اس بناء پر جو لوگ بلندمعنوی مقامات  و مراتب تک پہنچنے کے خواہاں ہوں وہ خدا کی دی ہوئی پوری زندگی میں خدا اور اولیائے خداکے ساتھ ہی انس رکھیں اور تقویٰ و پرہیزگاری اختیار کریںکہ اس سے بہتر کوئی اور خزانہ نہیں ہے ۔

حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''اِنَّ التَّقْویٰ أَفْضَلُ کَنْزٍ'' ( 1 )

بیشک تقویٰ بہترین خزانہ ہے۔

معنوی مقامات کے حصول کے لئے اس خزانے کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھیں اور اس کی حفاظت کریں ۔

مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''عَلَیْکُمْ بِتَقْوَی اللّٰهِ فِ الْغَیْبِ وَالشَّهٰادَةِ'' ( 2 )

تم پرخلوت اور جلوت میں تقویٰ الٰہی کے ساتھ رہنا لازم ہے۔

''شریک ''کے برخلاف کچھ لوگوں نے لقمہ ٔ حرام سے پرہیز کیا،تنہائی اور آشکار دونوں صورتوں  میں تقویٰ کا خیال رکھاجس کے نتیجہ میں عالی معنوی مقامات تک پہنچ گئے۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج۷۷ص۳۷6، امالی مرحوم شیخ طوسی:ج۲ص۲۹6

[2]۔ بحار الانوار:ج۷ 7ص۲۹۰، تحف العقول:92


اب ہم جو واقعہ بیان کر رہے ہیں ،وہ اسی کا ایک نمونہ ہے:

تبریز کے ایک بہت مالدار تاجر کے یہاں کوئی بیٹا نہیں ہورہاتھا۔اس نے بہت سے ڈاکٹروں اور حکیموںکی طرف رجوع کیا لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا یہاں تک کہ وہ نجف اشرف چلا گیا اور وہاں امام عصر عجل اللہ فرجہ الشریف کی خدمت میں توسل کیا اور استجارہ کے عمل میں مشغول ہو گیا۔گذشتہ زمانے میں اور اب بھی یہ رائج ہے کہ نجف کے صالح افراد ،یا مسافرین چالیس ہفتوں تک ہر بدھ کی رات مسجد سہلہ جاتے ہیںاور وہاں نماز اور مسجد کے اعمال انجام دینے کے بعد مسجد کوفہ چلے جاتے ہیںاور رات سے صبح تک  وہیں رہتے یہاں تک کہ وہ اسی مدت یا پھر آخری رات امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی زیارت سے مشرّف ہوتے۔اگرچہ ان میں سے بہت آنحضرت  کو اس وقت نہ پہچانتے اور پھر بعد میں متوجہ ہوتے۔

اب تک بہت سے افراد نے اس عمل کو انجام دیاہے اور اپنے مقصد میں کامیاب بھی ہوئے ہیں۔تبریز کے تاجر نے بھی بدھ کی چالیس راتوں تک یہ عمل انجام دیا اور آخری رات اس نے خواب اور بیداری کے عالم میں ایک شخص کو دیکھا جو اس سے فرما رہے ہیں کہ محمد علی جولایی دزفولی کے پاس جاؤ تمہاری حاجت پوری ہو جائے گی اور اس نے کسی اور کو نہ دیکھا۔

وہ کہتاہے:میں نے اب تک دزفول کا نام نہیں سنا تھامیں نجف آیا اور میں نے دزفول کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے مجھے اس کا پتہ بتا دیا ۔میں  اپنے نوکر کے ہمراہ اس شہر کی طرف روانہ ہو گیا جب میں شہر میں پہنچا تو میں نے اپنے نوکر سے کہا:ہمارے پاس جو سامان ہے تم لے کر جاؤ ،میں تمہیں بعد میں ڈھونڈ لوںگا۔

وہ چلا گیا اور میں محمد علی جولایی کو تلاش کرنے لگا۔لوگ اسے نہیں پہچانتے تھے  بالآخر ایک شخص ملا جو جولایی کو جانتا تھا ۔اس نے کہا:وہ کپڑے بُنتاہے اور فقراء میں سے ہے جو آپ کی حالت کے ساتھ کوئی مناسبت نہیں رکھتا۔میں نے ان کا پتہ لیا اور ان کی دکان کی طرف چلا گیا اور آخر کار وہ مجھے مل ہی گیا:


میں نے دیکھا کہ انہوں نے کرباس سے بنی شلوار قمیض پہن رکھیہے اور ایک چھوٹی تقریبا ڈیڑھ میٹر کی دکان میں کپڑے بننے میں مشغول ہیں۔جونہی انہوں نے مجھے دیکھا تو فوراً کہا: حاج محمد حسین تمہاری حاجت پوری ہو گئی ۔میری حیرت میں مزید اضافہ ہو گیا ۔میں ان سے اجازت لینے کے بعد ان کی دکان میں داخل ہواغروب کا وقت تھا انہوں نے اذان کہی اور نماز ادا کرنے میں مشغول ہو گئے۔نماز کی ادائیگی کے بعد میں نے ان سے کہا:میں مسافر ہوں اور آج رات آپ کا مہمان ہوں ۔انہوں نے قبول کر لیا۔

رات کا کچھ حصہ گزرا تھا کہ انہوں نے لکڑی کا ایک کاسہ میرے سامنے رکھا ۔اگرچہ مجھے لذیذ غذائیںکھانے کی عادت تھی لیکن میں ان کے ساتھ کھانا کھانے لگا ۔پھر انہوں نے مجھے کھال کا ایک ٹکڑا دیا اور مجھ سے کہا :تم میرے مہمان ہو اس لئے تم اس پر سو جاؤاور خود زمین پر سو گئے ۔

صبح کے قریب وہ نیند سے بیدار ہوئے ،وضو کرنے کے بعد انہوں نے اذان کہی اور صبح کی نماز ادا کرنے میں مصروف ہو گئے اس کے بعد انہوں نے مختصر سی تعقیبات انجام دیں ۔اس کے بعد میں نے ان سے کہا:میرے یہاں آنے کے دو مقصد تھے ایک کو آپ نے بیان کر دیا اور دوسرا یہ ہے کہ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ آپ کو یہ بلند مقام کس طرح سے حاصل ہوا کہ امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف نے میرا کام آپ پر چھوڑ دیا  اور آپ کو کس طرح میرے نام اور ضمیر و باطن کا علم ہے؟

انہوں نے کہا:یہ کیسا سوال ہے؟تمہاری حاجت تھی جو پوری ہو گئی ۔

میں نے ان  سے کہا :جب تک میں یہ نہ سمجھ لوںمیں یہاں سے نہیں جاؤں گا اور چونکہ میں آپ کا مہمان ہوں لہذا مہمان کا احترام کرتے ہوئے آپ مجھے یہ ضرور بتائیں۔


انہوں نے بات کاآغازکیا اور کہا:میں اس جگہ کام میں مصروف تھا میری دکان کے سامنے ایک ظالم شخص رہتا تھا اور ایک سپاہی اس کی حفاظت کرتا تھا ایک دن وہ سپاہی میرے پاس آیا اور اس نے مجھ سے کہا:تم اپنے لئے کھانے کا انتظام کہاں سے کرتے ہو؟

میں نے اس سے کہا:میں سال میں گندم کی ایک بوری خریدکر ا س کا آٹا پسوا لیتا ہوں جسے میں کھاتا ہوں اور نہ ہی تو میری کوئی بیوی ہے اور نہ ہی کوئی بچہ۔

اس نے کہا:میں  یہاں محافظ ہوں ۔مجھے اس ظالم کے اموال سے استفادہ کرنا پسند نہیں ہے ۔ اگر تم زحمت قبول کرو تو میرے لئے بھی جو کی ایک بوری خرید لو اور ہر دن دوروٹیاں مجھے بھی دے دو ۔ میں نے اس کی بات مان لی  اور وہ ہر دن آتا اور مجھ سے دوروٹیاں لے کر چلا جاتا ۔پھر ایک دن وہ نہ آیا میں نے اس کے بارے میں پوچھا تو مجھے پتہ چلا کہ وہ بیمار ہے اور مسجد میں سو رہا ہے ۔میں نے سوچا کے اس کے لئے طبیب اور دوا لے جاؤں تواس نے کہا:اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے میں آج رات اس دنیا سے چلا جاؤں گا ۔جب آدھی رات ہوگی تو ایک شخص تمہاری دکان میں آئے گا اور تمہیں میری موت سے  باخبرکر دے گا۔تم ان کے ساتھ آنا اور وہ تم سے جو کچھ کہیں اسے انجام دو اور بقیہ آٹا بھی اب تمہاری ملکیت ہے۔

میں نے چاہا کہ رات اس شخص کے ساتھ گذاروں لیکن انہوں نے اجازت نہ دی اور کہا:تم چلے جاؤ میں نے بھی ان کی بات مان لی ۔آدھی رات کے وقت کسی نے میری دکان پر دستک دی اور فرمایا:محمد علی باہر آؤ ۔میں دکان سے باہر آیا اور ان کے ساتھ مسجد میں چلا گیا ۔میں نے دیکھا کہ وہ محافظ اب اس دنیامیں نہیں  ہے ۔اس کے پاس دو افراد بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے مجھ سے فرمایا: اس کے جسم کو نہر کی طرف لے چلو میں اس کا بدن نہر کے کنارے لے گیا ،ان دو افرادنے اسے غسل وکفن دیا اور اس پر نماز پڑھی ۔پھر اسے لا کر مسجد کے دروازے کی جگہ دفن کر دیا ۔


میں دکان کی طرف واپس چلا گیا ۔کچھ راتوں کے بعد کچھ لوگوں نے میری دکان پر دستک دی ۔کسی نے کہا:باہر آؤ میں دکان سے باہر آیا ۔میں نے ایک شخص کو دیکھا تو اس نے مجھ سے کہا کہ  آقا نے تمہں بلایا ہے تم میرے ساتھ چلو ۔میں ان کی بات مان کر ان کے ساتھ چلا گیا ۔وہ مہینے کی آخری راتیں تھیں ۔لیکن صحرا چاندنی راتوں کی طرح روشن اور زمین سبز و خرم تھی لیکن چاند کہیں دکھائی نہیں  دے رہا تھا ۔میں سوچنے لگا اور تعجب کرنے لگا ۔اچانک میں صحرائے نو(نو،دزفول کے شمال میں ایک شہر کا نام  ہے) میں پہنچ گیا۔

میں نے دو بزرگ شخصیتوں کو دیکھا کہ جو ایک ساتھ تشریف فرما ہیں  اور ایک شخص ان کے سامنے کھڑا تھا ۔اس مجمع میں ایک شخص سب سے اوپر اور سب سے زیادہ صاحب جلال تھا ۔ان کو دیکھتے ہی مجھ میں ایک عجیب خوف وہراس  اور گھبراہٹ پیدا ہوئی۔

جو شخص میرے ساتھ تھا اسنے مجھ سے کہا:کچھ آگے آ جاؤ ۔میں کچھ آگے چلا گیا  تو جو شخص ان میں سب سے زیادہ صاحب جلال تھا ،انہوں نے ان میں سے ایک شخص سے فرمایا:اس سپاہی کا منصب اسے دے دو اور مجھ سے فرمایا:تم  نے میرے شیعہ کی جو خدمت کی اسی کی وجہ سے میں تمہیں  اس سپاہی کا عہدہ دینا چاہتا ہوں۔میںنے سوچا کہ شاید یہ مجھے اسی سپاہی کی  جگہ محافظ قرار دینا چاہتے ہیں ۔لیکن میں محافظ بننے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا تھا ۔میں نے ان سے کہا:میں کپڑے بنتا ہوں ،مجھے سپاہی اور محافظ بننے سے کیا مطلب؟


ان میں سے ایک نے کہا:ہم سپاہی  کا عہدہ تمہیں دیتے ہیں  اور ہم یہ نہیں چاہتے کہ تم سپاہی بنو،ہم نے اس کا عہدہ تمہیں دے دیا،اب تم جاؤ۔

میں واپس لوٹا اور دروازہ کھلا تو میں نے دیکھا کہ اب وہ صحرا بہت تاریک ہے  اور صحرا میں روشنی، سبزی اور خرمی کا کوئی نام و نشان نہیں ہے۔

اس رات کے بعد مجھے میرے آقا حضرت صاحب العصر والزمان عجل اللہ فرجہ الشریف کے احکامات ملتے ہیں ۔آنحضرت (عج) کے احکامات و دستورات میں سے ایک تمہاری حاجت کا پورا ہونا تھا۔( 1 )

اس سپاہی نے حرام مال  سے پرہیز کرکے اپنے لئے یہ مقام خود بنایا ۔ان کا عباسی خلیفہ کے دربار کے قاضی''شریک ''سے مقائسہ کریں جس نے خود کو حرام مال کھانے کے نتیجے میں آلودہ کیا۔

ان دونوں میں سے کس کی راہ بہتر ہے؟امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی خدمت میں حاضر ہونا یا عباسی خلیفہ کی خدمت میں ؟!

یہ بزرگان دین کی زندگی کا منشور رتھا ۔تاریخ تشیع کی عظیم شخصیات نے تقویٰ اختیار کیا اور اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی زندگی کاآئین اپنی مذہبی ذمہ داری کے مطابق تشکیل دیا۔اسی وہ بلند مقامات تک پہنچ گئے۔

--------------

 [1]۔ زندگی و شخصیت شیخ انصاری:52


 پرہیزگاری ، اولیائے خدا کی ہمت میں اضافہ کا باعث

ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ اولیائے خدا نہ صرف خود تقویٰ و پرہیز گاری کے اعلیٰ درجات پر فائز ہوتے ہیں بلکہ اس کے علاوہ وہ اپنے روحانی حالات کی حفاظت کے لئے بھی کوشاں رہتے ہیں۔ ان کا ہدف یہ ہوتا ہے کہ وہ معاشرے  اور اپنے ارد گرد کے لوگوں میں تقویٰ ایجاد کریں۔وہ اپنے عمل اور رفتار و کردار سے اپنے ہمنشین اور معاشرے کے تمام افراد کو تقویٰ و پرہیز گاری کا درس دیتے ہیں ۔ان کی دلی تمنا ہوتی ہے کہ معاشرہ پرہیزگار رہے اور گناہوں سے دور رہے ۔

کیونکہ  معاشرے میں خاندان نبوت علیھم السلام کے تابناک انوار کا ظہور ایسے ہی متحقق ہو سکتا ہے لہذا تمام افراد پر لازم ہے کہ تقویٰ و پرہیز گاری کے حصول کی کوشش کریں اور خود سے نفسانی خواہشات ،ہوا و ہوس اور شیطانی افکار کو دور کریں ۔

عظیم لوگ مقام و مرتبہ اور دنیاوی چیزوں کو اپنا ہدف قرار نہیں دیتے ۔ان کا ہدف و مقصد اس سے کہیں زیادہ عظیم ہوتاہے بلکہ اگر انہیں مقام و مرتبہ اور تمام دنیاوی منصب بھی مل جائے تو وہ انہیں تقویٰ و پرہیز گاری جیسے اعلی ہدف کے لئے استفادہ کرتے ہیں نہ کہ وہ مقام و مرتبہ کے لئے  تقویٰ و پرہیز گاری چھوڑ دیں ۔

حضرت امام صادق علیہ السلام سے تقویٰ کے معنی کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ  نے فرمایا:

''.....أَنْ لاٰ یَفْقِدُکَ اللّٰهَ حَیْثُ أَمْرَکَ وَ لٰا یَرٰاکَ حَیْثُ نَهٰاکَ'' (1)

تقویٰ یہ ہے کہ خداوند نے تمہیں جس چیز کا حکم دیا ہے تمہیں اس سے دور نہ پائے اور جس چیز سے منع کیا ہے، اس میں تمہیں ملوث نہ پائے۔ اس بیان کی رو سے اگر انسان میں کسی منصب کو قبول کرنے کی صلاحیت نہ ہو لیکن اس کے  باوجود اسے قبول کرے تو یہ تقویٰ و پرہیزگاری کے ساتھ کس طرح ساز گار ہو سکتا ہے؟

--------------

[1] ۔ بحار الانوار:ج70ص 285


  تقویٰ کو ترک کرنے کی  وجہ سے تبدیلی

کبھی روحانی حالات بعض مسائل کے درپیش آنے کی وجہ سے نابود ہو جاتے ہیں اور کبھی نابود نہیں ہوتے لیکن یہ دوسری حالت میں تبدیل ہو جاتے ہیں اس کی وضاحت کے لئے ہم یوں کہتے ہیں :کبھی خداوند کریم گناہوں کو بخش دیتاہے اور اس کے اثرات کو ختم کر دیتا ہے اور کبھی خدا انہیں نیکیوں میں تبدیل کر دیتا ہے ۔لہذا  خدا کو پکارتے ہوئے عرض کرتے ہیں:

''یٰامُبَدِّلَ السَّیِّأٰتِ بِالْحَسَنٰاتِ''

پہلی صورت میں گناہ کسی دوسری حالت میں تبدیل ہونے کے بجائے بالکل نیست و نابود ہو جاتے ہیں  اور دوسری صورت میں گناہ نیکیوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔تقویٰ کا بھی یہی حال ہے کیونکہ تقویٰ کبھی گناہوں کی وجہ سے ختم ہو جاتاہے اور کبھی شہوت اور کسی دوسری معصیت کے غلبہ کی وجہ سے فاسد ہو جاتاہے لیکن نابود نہیں ہوتا بلکہ یہ شیطانی حالات میں تبدیل ہو جاتاہے ۔

مولائے کائنات علی علیہ السلام  فرماتے ہیں:

''لاٰیُفْسِدُ التَّقْویٰ اِلاّٰ غَلَبَةُ الشَّهْوَةِ'' (1)

تقویٰ کو شہوت کے غلبہ پانے کے علاوہ کوئی چیز فاسد نہیں کرتی۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ آنحضرت  نے یہ نہیں فرمایا کہ تقویٰ کو شہوت کے غالب آنے کے علاوہ کوئی چیز ختم نہیں کرتی بلکہ فرمایا:تقویٰ کو شہوت کے غلبہ کے علاوہ  کوئی چیز فاسد نہیں کرتی  اور یہ تعبیر تغیر و تبدل کے ساتھ کوئی منافات نہیں رکھتی۔

--------------

[1] ۔ شرح غرر الحکم:ج6ص۳۷6


قابل غور نکتہ یہ ہے کہ تقویٰ ایک خاص قسم کی حالت ہے جس کے روحانی ومعنوی پہلو ہیں اور یہ اسی صورت میں فاسد ہوتا ہے جب اس میں موجود معنویت ختم  ہو جائے۔

جب کوئی شخص اپنی روحانی حالت کھو بیٹھے تو اس کی روحانی حالت شیطانی حالت میں تبدیل ہو جاتی ہے  اس بناء پر با تقویٰ شخص پر شہوت کا غلبہ ہو جانے اور تقویٰ کے فاسد ہو جانے کی وجہ سے اس میں روحانی روپ میں ایک شیطانی حالت ایجاد ہوتی ہے ۔

اس بناء پر اگر کسی باتقویٰ شخص  پر کسی مقام و منصب کی شہوت غالب آ جائے تو یہ اس منصب تک پہنچنے والے عام شخص سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔

رحمانی حالات کا شیطانی اور شیطانی حالات کا رحمانی حالات میں تبدیل ہونا مسلّم ہے۔جن کا تذکرہ اہلبیت اطہار علیھم السلام کے ارشادات میں بھی  ہے۔

انسان جستجو ،تلاش،کوشش اور انجام دیئے جانے والے اعمال کی وجہ سے روحانی و معنوی توانائیاں کسب کرتا ہے ۔روحانی حالات اس میں نفوذ کرکے اس کے دل و جان میں راسخ ہو جاتے ہیں  اور اس میں مادّی حالات اور طبعی کیفیات کم ہو جاتی ہیں اور اس پر معنوی و روحانی حالات کا غلبہ ہو جاتاہے۔

جس انسان میں روحانی و معنوی حالات پیدا ہو جائیں اور اگر فرض کریں کہ اس میں کوئی تبدّل وتغیّر پیدا ہوجائے تو پھر وہ ایک عام اور طبیعی انسان نہیں رہے گا بلکہ بہت سے مقامات پر اس کے روحانی و رحمانی حالت  شیطانی حالات میں تبدیل ہو جائیں گے۔


جس طرح سالہا سال سے انجام پانے والے بہت سے گناہوں اور خدا کی نافرمانی  کی وجہ سے اس میں شیطانی حالات راسخ ہو جاتے ہیں  اور وہ ارواح خبیثہ اور شیاطین کے ساتھ مل جاتاہے  لیکن توبہ کی وجہ سے نہ صرف وہ خدا کی طرف پلٹ آتاہے بلکہ اس کے حالات ،رحمانی حالات میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

کیونکہ خداوند عالم کبھی توبہ کرنے کی وجہ سے گناہگاروں کے گنا ہ بخش دیتاہے اور کبھی نہ صرف یہ کہ ان کے گناہوںکو بخش دیتاہے بلکہ اس کے گناہوں کو نیکیوں میں تبدیل کر دیتا ہے۔

خدا کے اسماء میں سے ایک ایسا اسم ہے جو گناہگاروں اور معنویت کے قافلے سے پیچھے رہ جانے والوں کے دلوں میں امید کی شمع روشن کرتا ہے اور وہ یہ  ہے:

''یٰامُبَدِّلَ السَّیِّأٰتِ بِالْحَسَنٰاتِ''

اے گناہوں کو نیکیوں میں تبدیل کرنے والے ۔

گناہوں کا نیکیوں میں تبدیل ہو جانا اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب اس کے آثار بھی تبدیل ہو جائیں۔


 پرہیزگاری میں ثابت قدم رہنا

انسان کس طرح  تقویٰ کوکھو دیتاہے اور کس طرح حقیقی تقویٰ حاصل کر سکتاہے؟کیا صرف گناہوں سے دوری کے ذریعے ہی خود کو متقی سمجھ سکتے ہیں؟یا تقویٰ صرف سخت اور مشکل امتحانات میں قبول ہونے سے ہی حاصل ہو سکتاہے؟

یہ سوالات بعض لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہوتے ہیں۔

اس  سوال کا جواب مولائے کائنات امیر المؤمنین حضرت امام علی بن ابیطالب علیہ السلام نے یوں بیان فرمایاہے:

''عِنْدَ حُضُوْرِ الشَّهْوٰاتِ وَ اللَّذّٰاتِ یَتَبَیَّنُ وَرَعُ الْاَتْقِیٰاء'' (1)

جب کوئی شہوت انگیز اور لذت بخش واقعہ پیش آئے ،تو متقی افراد کی پرہیزگاری واضح وروشن ہو جاتی ہے۔

اس صورت میں حقیقی تقویٰ اختیار کرنے والے دکھاوے اور خود نمائی سے بھی کام لیتے ہیں  اور اپنی توانائی پر کنٹرول کرتے ہیں  اور وہ اپنی نفسانی خواہشات کو معنوی قوت کے ذریعے نیست و نابود کر سکتے ہیں ۔لیکن اگر وہ ان پر کنٹرول نہ کر سکتے ہوں تو معلوم ہو جائے گا کہ وہ تقویٰ و پرہیزگاری میں ثابت قدم نہیں ہیں۔

--------------

[1] شرح غرر الحکم: 4 / 326


 نتیجہ ٔبحث

دل اسرار و رموز سے بھرپور ایک اہم مشین ہے  جسے خدا نے آپ کے وجود میں قرار دیاہے  تا کہ تقویٰ و پرہیز گاری کے ذریعے اس کی اصلاح کریں اور اس پر زنگ اور تاریکی آ جانے کی صورت میں بھی اس کی اصلاح کرکے اس سے استفادہ کریں۔

تقویٰ دکھائی نہ دینے والے دشمنوں کے ساتھ جنگ اور ان پر حملے کے لئے بہت طاقتور ہتھیار ہے ۔اسے خود میں زیادہ سے زیادہ طاقتور بنانے کی کوشش کریں۔

تقویٰ آپ کے دیرینہ دشمنوں یعنی شیاطین کے نفوذ سے بچنے کے لئے ایک مضبوط ڈھال کی مانند ہے۔یہ آپ کو ان سے بچاتا ہے۔ آپ کو  ان  کے حملوں اور مکاریوں سے آگاہ کرتا ہے اور آپ  کی حفاظت کرتا ہے۔

 تقویٰ و پرہیزگاری کے ذریعے شیطانی و رحمانی افکار میں تشخیص دیں  اور تقویٰ کی وجہ سے خود کو زندگی کے سراب میں گرفتار نہ کریں بلکہ اس کے آب حیات سے سیراب ہوں۔

کوشش کریں کہ آپ پر ہوا و ہوس اور شہوت کو غلبہ نہ ہو ورنہ آپ کا تقویٰ و پرہیزگاری تباہ و برباد ہو جائے گا اور وہ اپنی اہمیت کھو بیٹھے گا۔

پیرایۂ  فقر  پادشاہی تقویٰ است          سرمایۂ طاعت تقویٰ الٰہی است

از سختی روز محشر و زدوزخ              فرمودہ خدا،نجات خواہی تقویٰ است


 پانچواں باب

کام اور کوشش

حضرت امیر المو منین  علی  علیہ  السلام  فرماتے ہیں :

'' مَنْ أَعْمَلَ اِجْتِهٰادَهُ بَلَغَ مُرٰادَهُ ''

جو کسی کام کے لئے  اپنی کوشش کرے ،وہ اپنے مقصد تک پہنچ جاتاہے۔

    کام و کوشش

    کس حد تک کوشش کریں؟

    اپنے نفس کو کام اور کوشش کے لئے تیار کرنا

    مرحوم ملّا مہدی نراقی نے خود کوکیسے فعالیت کے لئے تیار کیا؟

    حقیقت کو درک کرنے کے لئے کوشش کریں

    آگاہانہ طور پر کام شروع کریں

    کام کے شرائط اور اس کے موانع کو مدنظر رکھیں

    کام اور کوشش کے موانع

    1۔ بے ارزش کاموں کی عادت

    2۔ تھکاوٹ اور بے حالی

    دو قلمی نسخوں کے لئے تلاش اور توسل

    غور و فکرسے کام کرنا

    نتیجۂ بحث


کام و کوشش

اپنے وجود کے گوہر سے استفادہ کرنے کے لئے اور نیک اور اہم اہداف تک پہنچنے کے لئے کام اور کوشش کریں ور اس کی جستجو کرنے میں کوتاہی  نہ کریں۔

تاریخ کے صفحات کو اپنے ناموں سے روشن کرنے والی عظیم اور معروف شخصیات اپنے بلند اہداف کی راہ میں کبھی تھک کر نہیں بیٹھے ا ور انہوں نے اپنے مقاصد کے حصول کے لئے ہمیشہ جستجو اور کوشش کی  اور اپنی منزل کی طرف گامزن رہے۔

آپ بھی اپنے اہم اور الٰہی اہداف کے حصول کی کوشش کریں کیونکہ نیک اہداف تک پہنچنے کے لئے کام اور کوشش بہت اہمیت رکھتے ہیں ۔متعدد آیات و روایات میں ان کا بارہا تذکرہ موجود ہے۔

 کس حد تک کوشش کریں؟

بعض لوگوں کی جستجو اور کوشش صرف اورصرف دنیاوی منافع اور خیالی اعتبارات میں ہی منحصر ہے  اور وہ کائنات کے حقائق سے مکمل طور پر غافل ہوتے ہیں۔وہ ہمیشہ رہنے والے اور دنیا و آخرت میں انسان کی سعادت کا باعث بننے والے روحانی و معنوی امور سے غفلت برتتے ہیں ۔ان کا ہدف فقط تجارت اور زیادہ سے زیادہ منافع حاصل کرنا ہوتاہے۔ان کا زندگی میں حقیقی مقصد زیادہ سے ززیادہ دولت کا حصول ہوتاہے۔


بہت سے لوگ اپنے ہدف سے مربوط آئین میں تمام مسائل پر بڑی دقت سے غور و فکر کرتے  ہیںاور جب انہیں اس میں کامیاب ہونے کا یقین ہو جائے تو وہ اسے انجام دیتے ہیں ۔لیکن وہ عبادی امور میں بالکل توجہ نہیں کرتے جو کہ خدا کے نزدیک بہت اہم ہیں ۔حالانکہ خدا کے نزدیک کسی عمل کا قبول ہوجانا اس عمل کو باثمر بنا دیتاہے۔اسی لئے حضرت امام علی بن ابیطالب علیہ السلام فرماتے  ہیں:

''کُوْنُوْا عَلٰی قُبُوْلِ الْعَمَلِ أَشَدَّ عِنٰایَةً مِنْکُمْ عَلَی الْعَمَلِ'' (1)

خود عمل کی بنسبت ،عمل کے قبول ہونے کی طرف زیادہ توجہ کرو۔

خدا کی بارگاہ میں عمل کا قبول ہو جانا اہمیت رکھتا ہے نہ کہ اصل عمل۔پس اگر خدا کسی عمل کو قبول نہ کرے تو اس عمل کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

اس بناء پر ہمیں ایسی راہ میں کوشش کرنی چاہئے کہ جو خدا کی رضائیت کا سبب ہو  نیز ہمیں چاہئے کہ ہم اس کی قبولیت کو بھی مدنظر رکھیں!

--------------

[1] ۔ بحار الانوار:ج۷۱ص۱۷۳، خصال:110


 اپنے نفس کو کام اور کوشش کے لئے تیار کرنا

کام اور کوشش حقیقی رغبت کے ساتھ انجام پایا جانا چاہئے کیونکہ اگر یہ نفسانی مجبوری سے انجام پائے تو کبھی اس کے منفی اثرات بھی  ہوتے ہیںاور پھر فائدے کی بجائے اس کا نقصان زیادہ ہوتاہے۔

اس بناء پر مشکل امور میں جستجو اور کوشش  صرف انہی لوگوں  کے لئے مفید ہے جو نفسانی لحاظ سے اسے انجام دینے کے لئے تیار ہوں  اور جو افراد اس طرح نہ ہوں انہیں چاہئے کہ وہ پہلے اپنے اندر نفسانی آمادگی پیدا کریں۔

پس انہیں صرف اس بناء پر نیک کاموں میں  جستجو اور کوشش سے دستبردار نہیں ہو جانا چاہئے کہ   وہ ان کے میل و رغبت کے مطابق نہیں ہیں۔بلکہ ا نہیں نفسانی خواہشات اور ہوا و ہوس کی مخالفت کرنی چاہئے  یہاں تک کہ ان کا نفس ان کی عقل اور وجدان کے مطابق ہو جائے  اور اسے نیک اعمال انجام دینے کی طرف مائل کریں۔

جو انجام دی جانے والی جستجو اور کوشش کے ذریعے اپنے نفس کو عقل کے تابع کرتے ہیں اور ذوق و شوق اور دلچسپی سے مشکل امور کو انجام دیتے ہیںاور بہت اہم نتائج حاصل کرتے ہیں۔

اس رو سے دین کی نامور بزرگ شخصیات نے اپنے نیک اہداف اور اعلی مقاصد تک پہنچنے کے لئے بہت زیادہ جستجو اور کوشش کی اور اپنے نفس کو اپنی عقل کے تابع قرار دیا ، وہ اسی بنا پر علم  و عمل کے بلند درجوں تک پہنچ پائے ہیں۔

انہوں  نے اہلبیت اطہار علیھم السلام کی الہامات اور ارشادات کی روشنی میں بہت سی مصیبتوں کو برداشت کرکے بلند علمی و معنوی مقام حاصل کئے ہیں۔ انہوں نے مضبوط چٹان کی طرح ڈٹ کر ہر طوفان کا مقابلہ کیا  اور وہ کبھی بھی تھک ہار کرنہیں بیٹھے  اور اسی طرح جستجو اور کوشش کرتے رہے۔


 مرحوم ملّا مہدی نراقی نے خود کوکیسے فعالیت کے لئے تیار کیا؟

اب ہم بزرگ شیعہ عالم دین مرحوم ملّا مہدی نراقی کی زندگی کے کچھ پہلو بیان کرتے ہیں:

اس عظیم شخصیت کو درس و بحث کا اس قدر شوق تھا کہ یہ اپنے وطن سے آنے والے خطوط بھی نہیں پڑھتے تھے کہ شاید اس میں کوئی ایسی بات نہ لکھی ہو کہ جو ان کی پریشانی کا باعث ہو  اور جس سے ان کا درس اور بحث ومباحثہ متاثر ہو۔ یہاں تک کہ ان کے والد کو قتل کر دیا گیا اور ان کے قتل کی خبر خط میں لکھ کر انہیں بھیج دی گئی ۔ انہیں خط ملا لیکن انہوں نے خط نہ پڑھا  اور خط کے مضمون سے آگاہ نہ ہوئے  اور اسی طرح درس و بحث میں مشغول رہے۔جب ان کے رشتہ دار ان کے آنے سے نامید ہو گئے تو انہوں نے ان کے استاد کو خط لکھ کر انہیں مرحوم نراقی  کے والد کے قتل کی خبر دی تا کہ وہ انہیں واپس ''نراق''بھیج دیں۔مرحوم ملا مہدی نراقی جب درس میں گئے تو انہوں نے اپنے استاد کو غمگین پایا اور ان سے پوچھا:آپ آج کیوں پریشان ہیں؟ اور آج آپ کیوں درس شروع نہیں کررہے ہیں؟ ان کے استاد نے کہا: تمہیں چاہئے کہ تم نراق چلے جاؤ کیونکہ تمہارے والد بیمار اور زخمی ہیں۔مرحوم نراقی نے کہا: خداوند کریم ان کی حفاظت فرمائے گا ۔ آپ  درس شروع کریں ۔ پھر ان کے استاد نے انہیں ان کے والد کی خبر دی اور انہوں نے مرحوم نراقی کو نراق جانے کا حکم دیا۔

مرحوم ملا نراقی  نراق چلے گے اور صرف تین دن وہاں رہے  اور پھر واپس نجف چلے گئے ۔ انہوں نے اس طرح اپنے نفس کو تحصیل علم کے لئے تیار کیا تھا جس کی وجہ سے وہ علم و عمل کے بلند مقامات تک پہنچ پائے۔(1)

کن وھم و ھراس برون از دل خویش      یاور چہ کنی؟ توخویش شو یاورخویش

مرغان کہ بہ شاخة ھا نلغزند از باد         ز آنست کہ تکیہ شان بود بر پرخویش

--------------

[1]۔ فوائد الرضویہ:669


 حقیقت کو درک کرنے کے لئے کوشش کریں

حقیقت تک پہنچنے اور حق کے حصول  کے لئے کوشش کرنی چاہئے  اور اس راہ کی مشکلات اور  تکالیف کو برداشت کرنا چاہئے۔کیونکہ سعی و کوشش اور مشکلات میں صبر اور انہیں  برداشت کئے بغیر  حقیقت کو درک نہیں کر سکتے۔

مولائے کائنات حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''لاٰ یُدْرَکُ الْحَقُّ اِلاّٰ بِالْجِدِّ وَ الصَّبْرِ'' (1)

جدیّت اور صبر کے بغیر حقیقت درک نہیں کر سکتے۔

اس بنا پر حقیقت کو درک کرنے کے لئے کوشش اور جدیّت کی ضرورت ہے  تا کہ ہماری تمام تر فعالیت اور کام خاندان نبوت علیھم السلام سے صادر ہونے والے دستورات کے مطابق ہو۔

اس بناء پر اگر آپ اپنے وجود کے گوہر سے استفادہ کرنا چاہیں اور اس چیز کو جاننا چاہیں جسے ہر کوئی درک کرنے کی قدرت نہیں رکھتا تو پھر اس راہ میں کوشش کریں۔

حضرت علی بن ابیطالب علیہ السلام فرماتے ہیں:

''اَلْعَمَلُ، اَلْعَمَلُ، ثُمَّ النِّهٰایَةُ، النِّهٰایَةُ'' (2)

کام!کام !پھر نہایت! نہایت!

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج۳۴ص۱۳۲،امالی مرحوم شیخ طوسی: ج۱ص۱۱۳

[2]۔ نہج البلاغہ، خطبہ:176


جس نے ابھی تک قدم نہ بڑھایاہو یا کسی دوسرے راستے کی طرف چل دیاہو تو وہ کس طرح حقیقت کو درک کر سکتاہے  اور کس طرح اپنی منزل  اور مقصد تک پہنچ سکتا ہے؟

ھر کہ چون سایہ گشت خانہ نشین                تابش ماہ و خور کجا یابد؟

و آن کہ پہلو تھی کند از کار              سرۂ سیم و زر کجا یابد؟

گر ھنر مند گوشہ گیر بود                گام دل از ھنر کجا یابد؟

و آنکہ در بحر ،غوطہ می نخورد            سلک درّ و گھر کجا یابد؟

اس بناء پردل کو دریاسے ملانے کی کوشش کریں کیونکہ نجات کی کشتی دریا میں ہی ہے ۔یقین  کریںکہ جو دریائے محبت میں نجات کی کشتی کا ناخدا ہو وہ کبھی بھی بلاؤں کے گرداب میں غرق نہیں ہو گا ۔

اب ہم جو واقعہ ذکر کر رہے ہیں ،وہ بھی انہی میں سے ایک ہے:

مرحوم ابو الحسن طالقانی (جو مرحوم مرزا شیرازی کے شاگردوں میں سے ہیں)بیان کرتے ہیں:

میں کچھ دوستوں کے ساتھ کربلا کی زیارت سے سامراء کی طرف آ رہا تھا ۔  ظہر کے وقت ہم نے''دجیل''نامی قریہ میں قیام کیا تا کہ کھانا کھانے اور کچھ دیر آرام کرنے کے بعد عصر کے وقت وہاں سے روانہ ہوں۔

وہاں ہماری ملاقات سامراء کے ایک طالب علم سے ہوئی جو کسی دوسرے  طالب علم  کے ساتھ تھا۔وہ دوپہر کے کھانے کے لئے کچھ خریدنے آئے تھے ۔میں نے دیکھا کہ جو شخص سامرا ء کے طالب علم کے ساتھ تھا وہ کچھ پڑھ رہاہے ۔میں نے غور سے سنا تو مجھے معلوم  ہو گیا کہ وہ عبرانی زبان میں توریت پڑھ رہا ہے ۔مجھے بہت تعجب ہوا ۔  میں نے سامراء میں رہنے والے طالب علم سے پوچھا  کہ یہ شیخ کون ہے اور اس نے عبرانی زبان کہاں سے سیکھی؟


اس نے کہا:یہ شخص تازہ مسلمان ہوا ہے اور اس سے پہلے یہودی تھا ۔

میں نے کہا:بہت خوب؛پھر یقینا کوئی واقعہ ہو گا تم مجھے وہ واقعہ بتاؤ۔

تازہ مسلمان ہونے والے طالب علم نے کہا:یہ واقعہ بہت طولانی ہے جب ہم سامراء کی طرف روانہ ہوں گے تو میں وہ واقعہ راستے میں تفصیل سے آپ کے گوش گزار کروں گا۔

عصر کا وقت ہو گیا اور ہم سامراء کی طرف روانہ ہو گئے ۔میں نے اس سے کہا:اب آپ مجھے اپنا واقعہ بتائیں۔اس نے کہا:

میں مدینہ کے نزدیک خیبر کے یہودیوں میں سے تھا ۔خیبر کے اطراف میں کچھ قریہ موجود ہیں  کہ  جہاں رسول اکرم (ص) کے زمانے سے اب تک یہودی آباد ہیں ان میں سے ایک قریہ میں لائبریری کے لئے ایک چھوٹی سی جگہ تھی۔جس میں ایک بہت قدیم کمرہ تھا۔اسی کمرے میں توریت کا  ایک بہت قدیم نسخہ تھاجو کھال پر لکھا گیا تھا ۔اس کمرے کو ہمیشہ تالا لگا رہتا ۔پہلے والے لوگوں نے تاکیدکی تھی کہ کسی کو بھی اس کمرے کا تالا نہ کھولنے اور توریت کا مطالعہ کرنے کا حق نہیں ہے۔مشہور یہ تھاکہہ جو بھی اس توریت کو دیکھے گا اس کا دماغ کام کرنا چھوڑ دے گا اور وہ پاگل ہو جائے گا اور خاص کر جوان اس کتاب کو نہ دیکھیں!

اس کے بعد اس نے کہا:ہم دو بھائی تھے جو یہ سوچتے تھے کہ ہمیں اس قدیم توریت کی زیارت کرنی چاہئے ۔ہم اس شخص کے پاس گئے جس کے پاس اس کمرے کی چابی تھی اور ہم نے اس سے درخواست کی کہ وہ کمرے کا دروازہ کھول دے لیکن اس نے سختی سے منع کر دیا ۔کیونکہ  ہے ''الانسان حریص علی ما منع''یعنی انسان کو جس چیز سے منع کیا جائے ،وہ اس کا زیادہ حریص ہو جاتاہے۔لہذا ہم میںاس کتاب کے مطالعہ کا اور زیادہ شوق پیدا ہوگیا۔ہم نے اسے اچھے خاصے پیسے دیئے تا کہ وہ ہمیں چھپ کر اس کمرے میں جانے دے۔


ہم نے جو وقت طے کیا تھا ،اسی کے مطابق ہم اس کمرے میں داخل ہو گئے اور ہم نے بڑے آرام  سے کھال پر لکھی گئی قدیم توریت کی زیارت کی اور اس کا مطالعہ کیا۔اس میں ایک صفحہ مخصوص طور پر لکھا گیا تھا جو کہ بہت جاذب نظر تھا ۔جب ہم نے اس پر غور کیا تو ہم نے دیکھا کہ اس میں لکھا ہوا تھا''آخر ی زمانے میں عربوں میں ایک پیغمبر مبعوث ہو گا ''اس میں ان کی تمام خصوصیات اور اوصاف حسب و نسب کے لحاظ سے بیان کی گئیں تھیں نیز اس پیغمبر کے بارہ اوصیاء کے نام بھی لکھے گئے تھے ۔ میں نے اپنے بھائی سے کہا:بہتر یہ ہے کہ ہم یہ ایک صفحہ لکھ لیں اور اس پیغمبر کی جستجو کریں ۔ہم نے وہ صفحہ لکھ لیا اور ہم اس پیغمبر کے فریفتہ ہو گئے۔

اب ہماراذہن صرف خدا کے اسی پیغمبر کو تلاش کرنے کے بارے میں سوچتا تھا ۔لیکن  چونکہ ہمارے علاقے سے لوگوں کی کوئی آمد و رفت نہیں تھی اور رابطہ کرنے کا بھی کوئی انتظام نہیں تھا اس لئے ہمیں کوئی چیز بھی حاصل نہ ہوئی یہاں تک کہ کچھ مسلمان تاجر خرید و فروخت کے لئے ہمارے شہر آئے ۔

میں نے چھپ کر ان میں سے ایک شخص سے کچھ سوال پوچھے ،اس نے رسول اکرم(ص) کے جو حالات اورنشانیاں بیان کیں وہ بالکل ویسی ہی تھیں جیسی ہم نے توریت میں دیکھیں تھیں۔آہستہ آہستہ ہمیں دین اسلام کی حقانیت کا یقین ہونے لگا ۔لیکن ہم میں اس کے اظہار کرنے کی جرأت نہیں تھی ۔امید کا صرف ایک ہی راستہ تھا کہ ہم اس دیار سے فرار کر جائیں۔

میں نے اور میرے بھائی نے وہاں سے بھاگ جانے کے بارے میں بات چیت کی ۔ہم نے ایک دوسرے سے کہا:مدینہ یہاں سے نزدیک ہے ہو سکتا ہے کہ یہودی ہمیں گرفتار کر لیں بہتر یہ ہے کہ ہم مسلمانوں کے کسی دوسرے شہر کی طرف بھاگ جائیں۔


ہم نے موصل و بغداد کا نام سن رکھا تھا ۔میرا باپ کچھ عرصہ پہلے ہی فوت ہوا تھا  اور انہوں نے اپنی اولاد کے لئے وصی اور وکیل معین کیا تھا ۔ہم ان کے وکیل کے پاس گئے اور ہم نے اس سے دو سواریاں اور کچھ نقدی پیسے لے لئے۔ہم سوار ہوئے اور جلدی سے عراق کا سفر طے کرنے لگے ۔ہم نے موصل کا پتہ پوچھا ۔لوگوں نے ہمیں اس کا پتہ بتایا ۔ہم شہر میں داخل ہوئے اور رات مسافروں کی قیامگاہ میں گزاری۔

جب صبح ہوئی تو اس شہر کے کچھ لوگ ہمارے پاس آئے اور انہوں نے کہا:کیا تم لوگ اپنی سواریاں فروخت کرو گے ؟ہم نے کہا :نہیں کیونکہ ابھی تک اس شہر  میں ہماری کیفیت معلوم نہیں ہے ۔ ہم نے ان کا تقاضا ردّ کر دیا۔آخر کار انہوں  نے کہا:اگر تم یہ فروخت نہیں کرو گے تو  ہم تم سے زبردستی لے لیں گے۔ہم مجبور ہو گئے اور ہم نے وہ سواریاں فروخت کر دیں۔ہم نے کہا یہ شہر رہنے کے قابل نہیں ،چلو بغداد چلتے ہیں۔

لیکن بغداد جانے کے لئے ہمارے دل میں ایک خوف سا تھا ۔کیونکہ ہمارا ماموں جو کہ یہودی اور ایک نامور تاجر تھا ،وہ بغداد ہی میں تھا ۔ہمیں یہ خوف تھاکہ کہیں اسے ہمارے بھاگ جانے کی اطلاع نہ مل چکی ہو  اور وہ ہمیں ڈھونڈ نہ لے۔

بہ ہر حال ہم بغداد میں داخل ہوئے اور ہم نے رات کو کاروان سرا میں قیام کیا ۔اگلی صبح ہوئی تو کاروان سرا کا مالک کمرے میں داخل ہوا ۔وہ ایک ضعیف شخص تھااس نے ہمارے بارے میں پوچھا ۔ ہم نے مختصر طور پر اپنا واقعہ بیان کیا اور ہم  نے اسے بتایا کہ ہم خیبر کے یہودیوں میں سے ہیں  اور ہم اسلام کی طرف مائل ہیں ہمیں کسی مسلمان عالم دین کے پاس لے جائیں جو آئین اسلام کے بارے میں ہماری رہنمائی کرے۔


اس ضعیف العمر شخص کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی اور اس نے اپنے دونوں ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھتے ہوئے کہا:اطاعت،چلو بغداد کے قاضی کے گھر چلتے ہیں۔ہم اس کے ساتھ بغداد کے قاضی سے ملنے کے لئے چلے گئے ۔مختصر تعارف کے بعد ہم نے اپنا واقعہ ا ن سے بیان کیا اور ہم نے ان سے تقاضا کیا کہ وہ ہمیں اسلام کے احکامات سے روشناس کرئیں۔

انہوں نے کہا:بہت خوب؛پھر انہوں نے توحید اور اثبات توحید کے کچھ دلائل بیان کئے ۔پھر انہوں ے پیغمر اکرم(ص) کی رسالت اور آپ(ص) کے خلیفہ اور اصحاب کا تذکرہ کیا۔

انہوں نے کہا:آپ(ص)کے بعدعبداللہ بن ابی قحافہ آنحضرت(ص) کے خلیفہ ہیں۔

میں نے کہا:عبداللہ کون  ہیں؟میں نے توریت میں جو کچھ پڑھا یہ نام اس کے مطابق نہیں ہے!!

بغداد کے قاضی نے کہا:یہ وہ ہیں کہ جن کی بیٹی رسول اکرم(ص) کی زوجہ ہیں۔

ہم نے کہا:ایسے نہیں ہے؛کیونکہ ہم نے توریت میں پڑھا ہے کہ پیغمبر(ص) کا جانشین وہ ہے کہ رسول(ص) کی بیٹی جن کی زوجہ ہے۔

جب ہم نے اس سے یہ بات کہی توقاضی کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور وہ قہر و غضب کے ساتھ کھڑا ہوا  اور اس نے کہا:اس رافضی کو یہاں سے نکالو۔انہوں نے مجھے اور میرے بھائی کو مارا اور وہاں سے نکال دیا ۔ہم کاروان سرا واپس آگئے ۔وہاں کا مالک بھی اس بات پر خفا تھا اور اس نے بھی ہم سے بے رخی اختیار کر لی۔

اس ملاقات اور قاضی سے ہونے والی گفتگو اور اس کے رویّہ کے بعد ہم بہت حیران ہوئے ۔ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ کلمہ''رافضی''کیاہے؟رافضی کسے کہتے ہیں اور قاضی نے ہمیں کیوں رافضی کہا اور وہاں سے نکال دیا؟


میرے اور میرے بھائی کے درمیان ہونے والی یہ گفتگو آدھی رات تک جاری رہی  اور کچھ دیر کے لئے غمگین حالت میں سو گئے ۔ہم نے کاروانسرا کے مالک کو  آواز دی کہ وہ ہمیں اس ابہام سے نجات دے ۔شاید ہم قاضی کی بات نہیں سمجھے اور قاضی ہماری  بات نہیں سمجھ پائے۔

اس نے کہا:اگر تم لوگ حقیقت میں  آئین اسلام کے طلبگار ہو تو جو کچھ قاضی کہے اسے قبول کر لو۔

ہم نے کہا:یہ کیسی  بات ہے؟ہم اسلام کے لئے اپنا مال  ،گھر ،رشتہ دار سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے آئے ہیں۔ہماری اس کے علاوہ ہمارا اورکوئی غرض نہیں ہے ۔

اس نے کہا:چلو میں  ایک بار پھرتمہیںقاضی کے پاس  لے جاتا ہوں۔لیکن کہیں اس کی رائے کے برخلاف کوئی بات نہ کہہ دینا۔ہم پھر قاضی کے گھر چلے گئے۔

ہمارے اس دوست نے کہا:آپ جو کہیں گے یہ قبول کریں گے۔

قاضی نے بات کرنا شروع کی  اور موعظہ و نصیحت کی ۔میںنے کہا:ہم دو بھائی اپنے وطن میں ہی مسلمان ہو گئے تھے  اور ہم اتنی دور دیار غیر میں اس لئے آئے ہیں تا کہ ہم اسلام کے احکامات سے آشنا ہو سکیں۔اس  کے علاوہ ہمارا اور کوئی مقصد نہیں  ہے۔اگر آپ اجازت دیں تو ہمارے کچھ سوال ہیں؟قاضی نے کہا:جو پوچھنا چاہو پوچھو۔

میں نے کہا:ہم نے صحیح اور قدیم توریت پڑھی ہے  اور اب میں جو باتیں کہنے لگا ہوں ہم نے یہ اسی کتاب سے ہی لکھی ہیں۔ہم نے پیغمبر آخر الزمان (ص)  اور آنحضرت(ص) کے خلفاء اور جانشینوں کے تمام نام،صفات  اور نشانیاںوہیں سے ہی لکھی ہیں۔جو ہمارے پاس ہے۔لیکن اس میں عبداللہ بن ابی قحافہ کے نام جیسا کوئی نام نہیں ہے۔


قاضی نے کہا: پھر اس توریت میں کن اشخاص کے نام لکھیں ہیں؟

میں نے کہا:پہلے خلیفہ پیغمبر(ص) کے داماد اور آپ کے چچا زاد بھائی ہیں۔ابھی تک میری بات پوری نہیں ہوئی تھی کہ اس نے ہماری بدبختی کا طبل بجایا۔یہ بات سنتے ہی قاضی اپنی جگہ سے اٹھا   اور جہاں تک ہو سکا اس نے  اپنے جوتے سے میرے سر اور چہرے پر مارا اور میں مشکل سے جان چھڑا کر  وہاں سے بھاگا۔میرا بھائی مجھ سے بھی پہلے وہاں سے بھاگ نکلا۔

میں بغداد کی گلیوں میں راستہ بھول گیا ۔میں نہیں جانتا تھا کہ میں اپنے خون آلود سر اور چہرے کے ساتھ کہاں جاتا۔کچھ دیر میں چلتا گیا  یہاں تک کہ میں دریائے دجلہ کے کنارے پہنچاکچھ دیر کھڑا رہا لیکن میں  نے دیکھاکہ میرے پاؤں میں کھڑے رہنے کی ہمت نہیں ہے ۔میں بیٹھ گیااور اپنی مصیبت ، غربت،بھوک،خوف اور دوسری طرف سے اپنی تنہائی پررو رہا تھا اور افسوس کر رہا تھا۔

اچانک ایک جوان ہاتھ میں دو کوزے پکڑے ہوئے دریا سے پانی لینے کے لئے آیااس کے سر پر سفید عمامہ تھاوہ میرے پاس دریا کے کنارے بیٹھ گیا جب اس جوان نے میری حالت دیکھی تو انہوں  نے مجھ سے پوچھا:تمہیں کیا ہواہے؟میں نے کہا:میں مسافر ہوں اور یہاں مصیبت میں گرفتار ہو گیا ہوں ۔

انہوں  نے فرمایا:تم اپنا پورا واقعہ بتاؤ؟

میں نے کہا:میں خیبر کے یہودیوں میں سے تھا۔میں نے اسلام قبول کیا اور اپنے بھائی کے ساتھ ہزار مصیبتیں اٹھا کر یہاں آیا۔ہم اسلام کے احکام سیکھنا چاہتے تھے ۔لیکن انہوں نے مجھے یہ صلہ دیا اور پھر میں  نے اپنے زخمی سر اور چہرے کی طرف اشارہ کیا۔


انہوں نے فرمایا:میں تم سے یہ پوچھتا ہوں کہ یہودیوں کے کتنے فرقے ہیں؟

میںنے کہا:بہت سے فرقے ہیں۔

انہوں نے فرمایا:اکہتر فرقے ہو چکے ہیں ۔کیا ان میں سے سب حق پر ہیں؟

میں نے کہا:نہیں

انہوںنے فرمایا:نصاریٰ کے کتنے فرقے ہیں؟

میں نے کہا:ان کے بھی مختلف فرقے ہیں۔

انہوںے فرمایا:بہتر فرقے ہیں ۔کیا ان میں سے بھی سب حق پر ہیں؟

میں نے کہا:نہیں

پھر انہوں نے فرمایا:اسی طرح اسلام کے بھی متعدد فرقے ہیں۔ان کے تہتر فرقے ہو چکے ہیں لیکں ان میں سے سے صرف ایک فرقہ حق پر ہے ۔

میں نے کہا:میں اسی فرقہ کی جستجو کر رہا ہوں اس کے لئے مجھے کیا کرنا  چاہئے؟

انہوں نے فرمایا: انہوں نے اپنے مغرب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس طرف سے کاظمین جاؤ  اور پھر فرمایا:تم شیخ محمد حسن آل یاسین کے پاس جاؤ وہ تمہاری حاجت پوری کر دیں گے۔میں وہاں سے روانہ ہوا اور اسی لمحہ وہ جوان بھی وہاں سے غائب ہو گیا ۔ میں نے انہیں ادھر ادھردیکھنے کی کوشش کی لیکن وہ دکھائی نہ دیئے ۔ مجھے بہت تعجب ہوا ۔میں نے خود سے کہا:یہ جوان کون تھا اور کیا تھا؟کیونکہ گفتگو کے دوران  میں  نے توریت میں لکھی ہوئی پیغمبر اور ان کے اولیاء کے اوصاف کے بارے میں بات کی تو انہوں نے فرمایا:کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں تمہارے لئے وہ اوصاف بیان کروں؟


میں نے عرض کیا: آپ ضرور بیان فرمائیں۔انہوں نے وہ اوصاف بیان کرنا شروع کیں  اور میرے دل میں یہ خیال آیا کہ جیسے خیبر  میں موجود وہ قدیم توریت انہوں نے ہی  لکھی ہو۔جب وہ میری نظروں سے اوجھل ہوئے تو میں سمجھ گیا کہ وہ کوئی الٰہی شخص ہیں  وہ کوئی عام انسان نہیں ہیں ۔لہذا مجھے ہدایت کا یقین ہو گیا۔

مجھے اس سے بہت تقویت ملی اور میں اپنے بھائی کو تلاش کرنے نکل پڑا ۔  بالآخر وہ مجھے مل گیا ۔ میں بار بار کاظمین اور شیخ محمد حسن آل یاسین کا نام دہرا رہا تھا تا کہ میں ان کا نام بھول نہ جاؤں ۔  میرے بھائی نے مجھ سے پوچھا کہ یہ کون سی دعا ہے جو تم پڑھ رہے ہو؟میں نے کہا:یہ کوئی دعا نہیںہے  اور پھر میں نے اسے سارا واقعہ بتایا ۔وہ بھی بہت خوش ہوا۔

 آخر کار ہم لوگوں سے پوچھ پاچھ کے کاظمین پہنچ  گئے اور شیخ محمد حسن کے گھر چلے گے ۔ہم نے شروع سے آخر تک سارا وقعہ ان سے بیان کیا ۔وہ  شیخ کھڑے ہوئے اور بہت گریہ و زاری کی میری آنکھوں کو چوما اور کہا:ان آنکھوں سے تم نے حضرت ولی عصر عجل اللہ فرجہ الشریف کے جمال کی زیارت کی؟....( 1 )

وہ کچھ مدت تک شیخ محمد حسن کے مہمان رہے اور شیعیت کے حیات بخش عقائد سے آشنا ہوئے۔

جی ہاں!وہ اپنے پورے ذوق و شوق اور رغبت سے حق کی جستجو کے لئے نکلے جس کے لئے انہوں نے بہت تکلیفیں برداشت کیں ،اپنا گھر  اور وطن چھوڑا لیکن انہوں نے اپنی کوشش و جستجو کو جاری رکھا اور آخر کارانہیں حضرت امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی عنایات سے منزل مل گئی۔اب بھی بہت سے افراد حقیقت تشیع اور اس کی حقانیت سے آگاہ ہیں لیکن کچھ دوسرے خیالی امور کی وجہ سے وہ لوگ صادقانہ طور پر پرچم تشیع کے زیر سایہ نہیں آ تے اور اپنے مذہب سے دور رہتے ہیں ۔ہم نے یہ جو واقعہ ذکر کیا ہے یہ ایسے ہی افراد کے لئے ایک نمونہ ہے ۔انہیں یہ بات بھی جان لینی چاہئے:

--------------

[3]۔ معجزات و کرامات آئمہ اطہار علیھم السلام:175 (مرحوم آیت اللہ سید ہادی خراسانی)


نابردہ  رنج گنج  میّسر  نمی  شود

مزد آن گرفت جان برادر کہ کار کرد

اگر وہ حقیقت کے متلاشی ہوں  تو انہیں ہر قسم کی زحمتیں اٹھانا ہوں گی اور مشکلات کو برداشت کرنا پڑے گا اور کل کے انتظار اور مستقبل کی  آرزو میں ہی نہ بیٹھے رہیں۔

مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''اِیّٰاکُمْ وَالْاِیْکٰالُ بِالْمُنٰی فَاِنَّهٰا مِنْ بَضٰائِعِ الْعَجْزَةِ'' ( 1 )

اس کام سے  پرہیز کرو کہ اپنا کام آرزؤں کے سپرد کر دو ۔کیونکہ آرزؤں کی وجہ سے کام کو چھوڑ دینے کا سرمایہ عجز و ناتوانی ہے۔

ھر کہ دانہ نقشاند بہ زمستان درخاک

نا امیدی بود از دخل بہ تابستانش

اس بناء پر اہلبیت اطہار علیھم السلام کے حیات بخش مکتب کے عاشق اپنی امیدوں اور آرزؤں کو چھوڑکر حقیقت تک پہنچنے کے لئے جستجو اور کوشش کریں ۔  کیونکہ سعی وکوشش عظیم لوگوں کا عملی نعرہ اور حقیقی اسلام کی نشانی ہے۔

کام اور کوشش کے ذریعے اپنے ارادہ کو پختہ اور مضبوط کریں ۔ آپ کی کوشش آپ کی شخصیت اور ارادے کو بیان کرتی ہے ۔ کام اورکوشش کریں تا کہ بیکاری کے نتیجہ میں توہمات اور شیاطین کے نفوذ سے بچ سکیں۔

--------------

[1]۔ امالی شیخ طوسی:ج۲ص۱۹۳،بحار الانوار: ج۷۱ ص۱۸۸


 آگاہانہ طور پر کام شروع کریں

امامت و ولایت کی پہلی کڑی حضرت امام علی علیہ السلام کام اور فعالیت کو علم و آگاہی کی بنیادی شرط قرار دیتے ہیں اور امت کی ہدایت کے لئے اپنے فرامین میں ارشاد فرماتے ہیں:انسان بصیر اور آگاہ دل کے ذریعہ ابتداء ہی سے یہ جان لیتاہے کہ اس کام کا نتیجہ اس کے نفع میں ہے یا یہ اس کے لئے نقصان کا باعث ہے ۔آنحضرت نے حقیقت یوں بیان فرمائی ہے:

''فَالنّٰاظِرُ بِالْقَلْبِ اَلْعٰامِلُ بِالْبَصَرِ ،یَکُوْنُ مُبْتَدَئُ عَمَلِهِ أَنْ یَعْلَمَ أَعْمُلُهُ عَلَیْهِ أَمْ لَهُ'' (1)

جو دل کے ذریعے دیکھیں اور بصیرت سے عمل کریں !وہ کام کے آغاز ہی سے جانتے ہیں کہ یہ کام ان نے لئے مضر ہے یا مفید ہے۔

چہ نیکو متاعی است کار آگہی     کزین نقد عالم مبادا تھی

ز عالم کسی سر بر آرد  بلند      کہ در کار عالم بود ھوشمند

--------------

[1]۔ نہج البلاغہ، خطبہ:154


  کام کے شرائط اور اس کے موانع کو مدنظر رکھیں

اپنی فعالیت کےنتیجہ تک  پہنچنے کے لئے کام کے شرائط و اسباب کو آمادہ کریں اور اس کے لازمی امور کو انجام دیں ۔ پھر اپنی فعالیت کے نتیجہ اور ہدف تک پہنچنے کے لئے ثابت قدم رہیں ۔کیونکہ حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''وَمَنْ لاٰ بَدَ الْاُمُوْرَ عَطِبَ'' (1)

جو کوئی بھی کام کے اسباب فراہم کئے بغیر سختیوں کو برداشت کرے ، وہ ہلاک  ہو جائے گا۔

ہر مفید پروگرام کو انجام دینے کے لئے اس کے شرائط و اسباب کو فراہم کرنے کے علاوہ  اس کے موانع سے آگاہ ہونا بھی ضروری ہے تاکہ موانع ہدف تک پہنچنے کی راہ میں حائل نہ ہوسکیں۔

اس بناء پر کام اور کوشش سے نتیجہ اخذ کرنے  کے لئے ایسے امور کو اپنی راہ سے نکال دیں جو آپ کے کام ،کوشش اور آپ کی فعالیت کے نتیجہ کو نیست و نابود کر دیں ۔ ورنہ ممکن ہے کہ کوئی ایک غلطی آپ کی ساری محنت پر پانی پھیر دے ۔ بہت سے افراد اپنے مقصد تک پہنچنے کے لئے طاقت طلب کام اور اہم ریاضتیں انجام دیتے ہیں

--------------

[1]۔ تحف العقول:88، بحار الانوار:ج۷۷ص۲۳۸


لیکن اس کے باوجود انہیں اپنے کام میں رنج و مصیبت کے سوا کچھ نہیں ملتا۔

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''رُبَّ سٰاعٍ فِیْمٰا یَضُرُّهُ'' (2)

بعض اوقات کوئی کسی کام میں کوشش کرتاہے لیکن اسے نقصان پہنچتا ہے۔

اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم نے جو کام انجام دیا ہے وہ نتیجہ مند ہو اور اس کام کو انجام دینے کے لئے ہم نے جو تکالیف برداشت کی ہیں ، وہ بے نتیجہ نہ ہوں تو ہمیں اس کام کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور موانع سے آگاہ ہونا چاہئے ۔ اب ہم بطور نمونہ اہم امور کی راہ میں حائل موانع میں سے دو اہم موانع بیان کرتے ہیں۔

--------------

[2]۔ نہج البلاغہ، مکتوب:31


 کام اور کوشش کے موانع

1۔ بے ارزش کاموں کی عادت

کام اور کوشش کے موانع  میں سے ایک مورد  گذشتہ کاموں  کی عادت کا غلبہ ہے ۔یہ مؤثر کاموں کے نتیجہ بخش ہونے کی راہ میں بہت بڑی آفت کے طور پر شمار کیا جاتاہے  اور اس کے  بہت زیادہ تخریبی اثرات ہیں۔

اس لئے حضرت علی علیہ ا لسلام اسے ریاضتوں کی آفت اورفعالیت کو نابود کرنے والاسمجھتے ہیں اور فرماتے ہیں:

''آفَةُ الرِّیٰاضَةِ غَلَبَةُ الْعٰادَةِ'' (1)

عادت کا غلبہ پا جانا ریاضت کی آفت ہے۔

برے کاموں کی عادت مختلف امور کے لئے کام ا ور کوشش کے اثرات کو نیست ونابود کر دیتی ہے۔ جس طرح مختلف قسم کے بیکٹیریا اور جراثیم انسان کے بدن اور صحت کے لئے بہت نقصان دہ ہوتے ہیں اسی طرح ناپسندیدہ اور برے کاموں کی عادت اہم امور کے اثرات و نتائج کو نابود کردیتی ہے۔

ہمیں مختلف کاموں کے نتائج تک پہنچنے  اور اپنے کام اور کوشش کے نتیجہ بخش ہونے کے لئے نہ صرف فعالیت کرنی چاہئے بلکہ اپنی کوششوں کوبے ثمر کرنے والی بری عادتوں پر بھی غلبہ پانا چاہئے۔ اسی لئے حضرت امام علی بن ابیطالب علیہ السلام فرماتے ہیں:''اَلْفَضِیْلَةُ غَلَبَةُ الْعٰادَةِ'' (2) عادت پر غلبہ پانا ،فضیلت ہے۔

--------------

[1]۔ شرح غرر الحکم: ج3 ص104

[2]۔ شرح غرر الحکم:ج۱ص۹۷


اس بناء پر انسانی فضیلتوں کے حصول کے لئے نہ صرف کام اور کوشش کرنی چاہئے بلکہ بری اور فضول عادتوں پر بھی غلبہ پانا چاہئے۔اگر کسی گندے پانی کے حوض میں کوئی صاف پانی ڈالا جائے تو صاف پانی ڈالنے سے گندے پانی کا حوض صاف  پانی میںتبدیل نہیں ہو گامگر یہ کہ اس میں اس قدر پانی ڈالا جائے کہ جو گندے پانی پر غلبہ پاجائے اور گندے پانی کو حوض سے نکال دیاجائے۔اس صورت میں حوض کا پانی صاف ہو جائے گا۔

بری عادتیں بھی اسی گندے پانی کی طرح ہیں جو انسان کے وجود کو گندہ کر دیتی ہیں  اور جب انسان صاحب فضیلت بن جائے تو وہ  اپنے وجود سےبری عادتوں کو پاک کرے اور ان پر غالب آئے ۔لیکن اگر اس پر  ناپسندیدہ عادتیں غالب آجائیں تو پھر نیک کام گندے پانی کے حوض میں  اسی صاف پانی کی طرح ہوں گے  جو اس پانی کی گندگی کو ختم نہیں کر سکتے۔بلکہ اس سے صاف پانی بھی گندہ ہو جائے گا۔پانی کی گندی کو ختم کرنے کے لئے اس میں اتنا صاف پانی ڈالا جائے تا کہ وہ گندے  پانی پر غلبہ پا جائے۔

ناپسندیدہ عادتوں کو برطرف کرنے کے لئے اس قدر اچھے کام انجام دیئے جائیں تا کہ خودسے بری عادتوں کا خاتمہ ہو جائے ورنہ اچھے اور پسندیدہ کاموں کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ حاصل نہیں ہوگا۔

اس بناء پر اپنے کام اور فعالیت سے مثبت نتیجہ حاصل کرنے کے لئے اس کے موانع کو برطرف کریں  اور ان کے موانع میں سے ایک بے ارزش اور غلط کاموں کی عادت ہے۔

مذکورہ قصہ میں خیبر کے دو جوان اپنی گذشتہ حالت کی عادت سے دستبردار ہوئے  جس کی وجہ سے انہوں نے فضیلت کی راہ پر قدم رکھا اور وہ سعادت مند ہوئے۔


2۔ تھکاوٹ اور بے حالی

کاموں کو انجام دینے کی راہ میں دوسرا مانع تھکاوٹ ہے۔ ہمیں تھکاوٹ کی وجہ  سے کام کو چھوڑ نہیں دینا چاہئے کیونکہ بہت سے موارد میں تھکاوٹ جھوٹی ہوتی ہے نہ کہ واقعی۔ایسے موارد میں ہوشیاری سے تھکاوٹ کو ختم کرنا چاہئے اور جب حقیقت میں تھک جائیں تو کام میں تبدیلی کر سکتے ہیں لیکن بیکار نہیں بیٹھنا چاہئے۔

مولائے کائنات حضرت علی بن ابیطالب  علیہ السلام اپنی وصیت میں حضرت امام حسین علیہ السلام سے فرماتے ہیں:

''بُنََّاُوْصِیْکَ.....بِالْعَمَلِ فِی النَّشٰاطِ وَالْکَسْلِ'' (1)

 اے میرے بیٹے! میں تمہیں  نشاط اور کسالت میں کام کرنے کی وصیت کرتا ہوں ۔

اس وصیت سے یہ استفادہ کیا جاتا ہے کہ اگر انسان کسی کام سے تھک جائے تو اسے تھکاوٹ کی وجہ سے بیکار نہیں بیٹھناچاہئے بلکہ اسے اس وقت کوئی دوسراکام کرنا چاہئے کیونکہ کام میں تبدیلی کے   باعث انسان کی تھکن دور ہو جاتی ہے ۔

اس بناء پر تھکاوٹ کی وجہ سے بیکار بیٹھ جانے کے بجائے کام میں تحوّل ، تبدیلی اور تنوع سے اپنے کام اور فعالیت کو جاری رکھیں اور خود سے تھکاوٹ کو دور کریں۔

--------------

[1]۔ تحف العقول:88، بحار الانوار: ج77 ص238


پس مولا امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کے فرمان سے استفادہ کرتے ہوئے تھکاوٹ کا بہانہ بنا کر کام کو چھوڑ نہیں دینا چاہئے۔

بہ رنج اندرست ای خرد مند گنج          نیابد کسی گنج نابردہ رنج

چو کاھل بود مردِ  بُرنا  بہ  کار             از او سیر گردد دل روز گار

حضرت امام علی بن ابیطالب علیہ السلام کے کلام سے ایک اوربہترین نکتہ بھی استفادہ ہوتاہے  اور وہ یہ ہے کہ تھکاوٹ جیسی بھی ہو(چاہے وہ مسلسل ایک ہی کام کی وجہ سے ہو یا کام کی سختی کی وجہ سے ہو یا پھر لوگوں کی عدم توجہ کی وجہ سے ہو) اسے کام کو ترک کرنے کا بہانہ قرار نہیں دے سکتے کیونکہ ہم نے جو کام منتخب کیا ہے اگر وہ دین کے لحاظ سے صحیح اور پسندیدہ ہو تو اسے لوگوں کی باتوں کی وجہ سے چھوڑ کر ناامید نہیں بیٹھنا چاہئے بلکہ اس کے رنگ کو بدل دیں اور اسے ایک نئی  شکل دیں۔

دیکھئے کہ مرحوم محدث نوری نے کس طرح لوگوں کی باتوں پر کان نہیں دھرے اور کتابوں کے دو قلمی نسخوں کے لئے اپنی تلاش کو جاری رکھا۔


 دو قلمی نسخوں کے لئے تلاش اور توسل

مرحوم سید اسد اللہ اصفہانی کہتے ہیں:ایک دن میں محدث نوری کے ساتھ کربلا کی زیارت سے مشرّف ہوا ۔ راستہ میں محدث نوری نے دو کتابوں کے نام  لئے اور فرمایا:مجھے یہ دونوں کتابیں بہت پسند ہیں لیکن اب تک اپنی تمام تر کوشش کے باوجود مجھے یہ دونوں کتابیں نہیں ملیں  لیکن اس سفر میںمجھے وہ کتابیں سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام سے مل جائیں گی۔

انہوں نے یہ بات چند مرتبہ تکرار کی یہاں تک کہ ہم کربلا میں داخل ہو گئے ۔ہم حضرت امام حسین علیہ  السلام کے حرم کی زیارت سے مشرّف ہوئے ۔زیارت کے بعد ہم باہر آئے تو عورتوں والی جگہ کے پاس ہم نے ایک عورت کو دیکھا ۔اس کے ہاتھ میں دو کتابیں تھیں ۔

محدث نوری نے کہا :یہ دونوں کتابیں کون سی ہیں؟اس عورت نے کہا:یہ دونوں برائے فروخت ہیں۔ہم نے ان کتابوں کو دیکھا تو وہ وہی دو کتابیں تھیں جن کی ہمیں تلاش تھی۔

محدث نوری نے پوچھا:ان کتابوں کا ہدیہ کتنا ہے؟

اس عورت نے کہا:بائیس قران۔

محدث نوری نے مجھ سے کہا:تمہارے پاس جتنے پیسے ہیں دے دو۔ہمارے پاس ملا کے چھ قران سے زیادہ نہ ہوئے ۔ہم نے وہ پیسے اس عورت کو دے دئیے ۔


میں نے خود سے کہا:ہم ابھی آئے اور اب تک کھانا بھی نہیں کھایا اورسارے پیسے ان کتابوں کے لئے دے دیئے ہیںلیکن اب ہم کتابوں کے بقیہ پیسے کہاں سے دیں گے؟

پھر انہوں نے اس عورت سے کہا:ہمارے ساتھ آؤ ۔ہم بازار گئے انہوں نے اپنا عمامہ ،عبا اور قبا بیچ ڈالی !لیکن اسکے باوجود بھی پیسے کم تھے ۔پھر انہوں نے اپنا جوتا بھی بیچ دیا ۔بالآخر بائیس قران پورے ہو گئے اور ہم نے وہ پیسے اس عورت کو دیئے

اب اس بزرگوار کیپاس قمیض شلوار اور زیر جامہ کے سوا کچھ بھی نہیں تھا !میں  نے کہا:مولانا آپ نے اپنا یہ کیا حال کر لیا؟ انہوں  نے فرمایا:یہ بہت آسان ہے ہم تو درویش ہیں !ہم اسی حالت میں صحن میں داخل ہوئے اورہماری کچھ دوستوں سے ملاقات ہوئی ۔وہ گئے اور لباس لے کر آئے اور انہوں نے وہ لباس پہنا۔

مرحوم محدث نوری بزرگ شیعہ علماء میں سے ہیں جو بہت صاحب جلال تھے ۔تلاش اور توسل کے ذریعے حاصل ہونے والی ان  دو نایاب کتابوں کے حصول کے لئے  وہ گلیوں اور بازاروں میں عبا  اور عمامہ کے بغیر چلنے کو بھی تیار تھے اور انہوں نے اسے اپنے جاہ و جلال کے منافی نہیں سمجھا۔(1)

--------------

[1]۔ معجزات و کرامات آئمہ اطہار علیھم السلام:72


 غور و فکرسے کام کرنا

سعی و کوشش،جستجو اور زیادہ کام کرنا مومنوں کی خصوصیات میں سے ہے۔وہ ایمان اور یقین کامل کی وجہ سے کبھی فارغ نہیں بیٹھتے  بلکہ ہمیشہ کام اور فعالیت کے ذریعے اپنے مقصد تک پہنچنے کے لئے کوشاں رہتے ہیں۔

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام اس حقیقت کو بیان کرنے والے ایک مقام پر فرماتے ہیں:

''اَلْمُؤْمِنُ قَلِیْلُ الزَّلَلِ کَثِیْرُ الْعَمَلِ'' (1)

مومن کم غلطی کرتا ہے لیکن وہ بہت زیادہ کام انجام دیتاہے۔

باایمان شخص زیادہ کام کرنے کے باوجودبھی بہت کم خطاؤں کا مرتکب ہوتاہے اور اس سے بہت کم لغزش سرزد ہوتی ہیں ۔یہ چیز خود اس حقیقت کی گواہ ہے کہ مومن شخص میںتدبّر کی قوت زیادہ ہوتی ہے۔

حضرت امام علی مرتضٰی علیہ السلام اپنے ایک کلام میں فرماتے ہیں:

''اَلتَّدْبِیْرُ قَبْلَ الْفِعْلِ یُؤْمِنُ الْعِثٰارَ'' (2)

کام کو انجام دینے سے پہلیاس کے بارے میں تدبّر انسان کو خطاؤں سے محفوظ رکھتاہے۔

--------------

[1]۔ شرح غرر الحکم: ج1ص383

[2]۔ شرح غرر الحکم: ج1ص384


ایک دوسری روایت میں آنحضرت انسانوں کو ہوشیار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

''اِیّٰاکَ وَ أَنْ تَعْمَلْ عَمَلاًبِغَیْرِ تَدْبِیْرٍ وَ عِلْمٍ'' (1)

کسی کام کو تدبیر اور آگاہی کے بغیر انجام دینے سے پرہیز کرو۔

آپ اجتماعی کاموں کے بارے میں یوں فرماتے ہیں:

''اِجْعَلْ لِکُلِّ اِنْسٰانٍ مِنْ خَدَمِکَ عَمَلاً تَأْخُذُهُ بِهِ،فَاِنَّهُ اَحْریٰ اَلاّٰ یَتَوٰاکَلُوا فِیْ خِدْمَتِکَ'' (2)

اپنے خدمت کرنے والوں میں  سے ہر ایک کے لئے کام معین کرو  اور اس سے وہی کام لو، کیونکہ ایسا کرنا اس لئے مناسب ہے کہ وہ تمہاری خدمت کرنے میں ایک دوسرے پر بھروسہ نہ کریں۔

اس حدیث میں غور کرنے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ اجتماعی کاموں میں تدبّر اور غور و فکرکے لئے ہر ایک فرد کے لئے اس کے کام کو معین کر دیا جائے اور اس سے وہی کام لیاجائے تاکہ ان کے پاس اپنا کام دوسروں کے کندھوں پر ڈالنے کا کوئی بہانہ باقی نہ رہے۔

لیکن انسان کو غور کرنا چاہئے کہ اگر انسان کو توفیق ملے تو اس میں خودبینی ایجاد نہیں ہونی چاہئے  اور وہ یہ نہ سوچے کہ وہ جو بھی کام انجام دے رہا ہے وہ اس کی اپنی توانائی ،قدرت اور شخص ارادے کی وجہ سے ہے ۔کیونکہ انسان میں ارادہ ،خدا کی توفیق سے ہی پیدا  ہوتاہے۔

--------------

[1]۔ شرح غرر الحکم: ج2ص220

[2]۔ بحار الانوار: ج74ص143، نہج البلاغہ ،مکتوب:31


اس بارے میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

''فَاجْتَهِدُوا فِی طٰاعَةِ اللّٰهِ اِنْ سَرَّکُمْ اَنْ تَکُوْنُوا مُؤْمِنِیْنَ حَقًّا حَقًّا وَ لاٰ قُوَّّةَ اِلاّٰ بِاللّٰهِ'' (1)

اگر تم واقعاً چاہتے ہوکہ تمہارا شمار حقیقی مومنوں میں ہو تو خدا کی اطاعت کی کوشش کرو اور اس کام کی  قوت فقط خدا کے وسیلے سے ہی ملتی ہے۔

اگر انسان کو بہت زیادہ توفیق میسر ہو تو اسے زیادہ سے زیادہ نیک اور مشکل کام انجام دینے چاہئیں اور کبھی غرور و تکبر نہیں کرنا چاہئے  اور یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ اس نے جو عبادات انجام دی ہیں وہ اس کی اپنی توانائی ہی تھی۔کیونکہ جس طرح حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

''لاٰ قُوَّةَ اِلاّٰ بِاللّٰهِ''

یعنی کاموں کو انجام دینے کی قدرت وتوانائی نہیں ہے مگر خدا کے وسیلہ سے۔

پس یہ خدا کا لطف ہے جو کہ حقیقی مومنوں اور اولیاء خدا کے شامل حال ہے  اور وہ توفیق کی وجہ ہی سے سخت عبادی کاموں کو آسانی سے انجام دیتے ہیں  نہ کہ ان کی شخصی توانائی عبادت کو انجام دینے کی قدرت کا سبب بنی۔

قرآن مجید میں ارشاد رب العزت ہے:"مَّا أَصَابَکَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ وَمَا أَصَابَکَ مِن سَیِّئَةٍ فَمِن نَّفْسِکَ" (2)

تم تک جو بھی اچھائی اور کامیابی پہنچی ہے وہ اللہ کی طرف سے ہے اور جو بھی برائی پہنچی ہے وہ خود تمہاری طرف سے ہے ۔کیونکہ جس طرح تمام خوبیوں کا اصلی منشاء خداوند عالم ہے  اور تمام برائیوں کا سرچشمہ انسان کا نفس ہے جو خواہشات نفس اور شیطانی وسوسوں کے ذریعہ انسان کو گمراہ کرتاہے۔

--------------

 [1]۔ بحار الانوار: ج78ص200

[2]۔ سورۂ نساء، آیت:79

 نتیجۂ بحث

سعی و کوشش بلند اہداف و مقاصد تک پہنچنے کا ایک ذریعہ ہے ۔کامیابی کے حصول کے لئے اپنے نفس کو اپنی عقل کا تابع قرار دے کر  ایسے امور انجام دینے کی جستجو اور کوشش کریں کہ جو آپ کو سعادت و کامیابی تک پہنچانے کا باعث بنیں۔اپنے کام آگاہانہ طور پر شروع کریں اور تدبّر کے ذریعے ان کے مستقبل کی جانچ پڑتال کریں۔

کام کے ضروری مقدمات مہیا کریں اور اس کے موانع کو برطرف کریں۔

اگر آپ نے یہ ارادہ کیاہے کہ آپ کا مستقبل بھی بزرگ شخصیات کی طرح روشن ہو تو یقین کیجئے گذشتہ زندگی کی عادت آپ کے اہداف کی راہ میں حائل سب سے بڑی رکاوٹ ہے ۔آپ کو اپنی گذشتہ تمام بری عادتیں ختم کرنی چاہئیں تا کہ آپ اپنے ارادے کے ذریعے بہتر طریقے سے کام انجام دے سکیں۔دوجہد اور کوشش کریں اور اگر خدا نے چاہا تو آپ ضرور اپنی منزل اور اپنے مقصد تک  پہنچ جائیں گے۔

چہ کوشش نباشد  تن  زور مند           نیارد  سر  از  آرزوھا  بلند

کہ اندر جھان سود بی رنج نیست          کسی را کہ کاھل بود گنج نیست


چھٹاباب

توسل

حضرت امیر المو منین  علی  علیہ  السلام  فرماتے ہیں :

'' هُمُ الْوَسِیْلَةُ اِلَی اللّٰهِ وَالْوُصْلَةُ اِلٰی عَفْوِهِ وَ رِضٰاه''

معصومین علیھم السلام خدا کی طرف وسیلہ ہیں اور اس کی بخشش اور رضائیت تک پہنچنے کا راستہ ہیں۔

    خدا ور اہلبیت علیھم السلام کی یاد    توسل ، قرآن کی نظر میں

    دعاؤں اور زیارات میں توسّل    توسّل تقرب الٰہی کا ذریعہ    توسّل دعاؤں کے مستجاب ہونے کا ذریعہ

    توسّل میں اعتقادی مسائل    توسّل کے بارے میں کچھ بنیادی نکات

    1۔ پاکیزگی قلب

    2۔ توسّل میں توجہ اور فکر کا تمرکز

    توسّلات میں یقین کا کردار    معرفت، انسان کے یقین میں اضافہ کا باعث

    توسّلات میں اضطرار کا کردار    حضرت عباس علیہ السلام کے حرم میں ایک پریشان لڑکی

    دوسرا نکتہ

    عالم غیب سے مدد    علمی مشکلات کو حل کرنے کے لئے توسّل

    توسّل سے دوری، گناہ کی علامت

    نتیجہ ٔبحث


 خدا ور اہلبیت علیھم السلام کی یاد

خدا کی یاد افسردہ  و غمگین اور پریشان دلوں کو آرام بخشتی ہے  اور انہیں مشکلات سے نجات دیتی ہے ۔ لیکن غفلت اور خدا و اہلبیت اطہار علیھم السلام کی یاد کو چھوڑ دینا قلب کی تاریکی کا باعث ہے جو دل کو ہمیشہ کے لئے پریشانی میں مبتلا کر دیتی ہے۔

خدا نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی:

''یٰا مُوْسیٰ لاٰ تَفْرَحْ بِکَثْرَةِ الْمٰالِ وَ لاٰ تَدَعْ ذِکْرِ عَلٰی کُلِّ حٰالٍ فَاِنَّ کَثْرَةَ الْمَالِ تُنْسِی الذُّنُوْبَ وَ اِنَّ تَرْکَ ذِکْرِیْ یُقْسِ الْقُلُوْبَ'' (1)

اے موسی!مال کی کثرت کی وجہ سے خوش نہ ہو  اور کسی بھی حال میں میری یاد کو ترک نہ کرو کیونکہ مال کی کثرت گناہوں کوبھلا دیتی ہے اور بیشک میری یاد کو ترک کردینا قساوت قلب ایجاد کر تی ہے۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج۷۲ ص6۳۔علل الشرائع: ج۱ص۷۷


کیونکہ خدا کی یاد کو ترک کرنے کی وجہ سے شیطان انسان پر مسلط ہو جاتا ہے اور اس سے آرام و سکون کو سلب کر لیتاہے۔

خداوند کریم قرآن مجید میں فرماتا ہے:

(وَمَن یَعْشُ عَن ذِکْرِ الرَّحْمَنِ نُقَیِّضْ لَهُ شَیْْطَاناً فَهُوَ لَهُ قَرِیْن ) (1)

اور جو شخص بھی اللہ کے ذکر کی طرف سے اندھا ہوجائے گا ہم اس کے لئے ایک شیطان مقرر کردیں گے جو اس کا ساتھی اور ہم نشین ہوگا ۔

گناہوں کو فراموش کر دینا،قساوت قلب اور شیطان کامسلط ہو جانا  یاد خدا کو ترک کر دینے کے نتائج میں سے ہے۔خدا کی یاد انسان کو روحانی گرفتاریوں سے نجات دیتی ہے اور اسے اطمینان قلب اور روحانی سکون عطا کرتی ہے۔ہمیں اس نکتہ کی طرف بھی توجہ کرنا چاہئے کہ اہلبیت علیھم السلام کی یاد بھی یاد خدا ہے نیز ذکر خدا سے پیدا ہونے والے اثرات اہلبیت اطہار علیھم السلام کے ذکر بھی  ایجاد ہو جاتے ہیں۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:

''اِنَّ ذِکْرَنٰا مِنْ ذِکْرِ اللّٰهِ'' (2)

بیشک ہمارا ذکر ،خدا کا ہی ذکرہے۔

--------------

[1]۔ سورۂ زخرف،آیت:36

[2]۔ بحار الانوار:ج۷۵ص۴6۸


ہمیں صرف ان معصوم ہستیوں کا ذکر ہی نہیں کرنا چاہئے بلکہ مشکلات اور پریشانیوں میں ان سے متوسل بھی ہونا چاہئے ۔ کیونکہ خاندان نبوت و رسالت علیھم  السلام نجات کی کشتی ہیں اور بے سہارا لوگوں کے لئے پناہگاہ ہیں۔خاندان رسالت   علیھم  السلام پریشانیوں کے دریا میں گرفتار   بے چاروں کی فریاد سننے والے ہیں ۔وہ گمراہی کے وحشتناک گرداب میں پھنسے ہوئے افراد کے لئے نجات کا سامان فراہم کرتے ہیں ۔ ہمیں چاہئے کہ ہم  ان بزرگ اور معصوم ہستیوں کو پریشانیوں اور مشکلوں میں گرفتار امت کے منجی(نجات دینے والا)کے طور پر پہچانیں۔

امیر المؤمنین حضرت علی بن ابیطالب علیہ السلام فرماتے ہیں:

''أَیُّهَا النّٰاسُ شُقُّوْا أَمْوٰاجَ الْفِتَنِ بِسُفُنِ النَّجٰاةِ'' (1) اے لوگو!فتنے کی لہروں کو کشتی نجات  کی مدد سے چیر دو۔

مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام ایک دوسری روایت میں فرماتے ہیں:

''مَنْ رَکِبَ غَیْرَسَفِیْنَتِنٰا غَرِقَ'' (2) جو کوئی ہماری کشتی کے سوا کسی اور میں سوار ہو گیا وہ غرق ہو جائے گا۔

اس بناء پر انسان اپنی تمام مشکلات حتی کے اعتقادی مسائل و مشکلات میں بھی حقیقی ہادی و ورہنما  سے ہی ہدایت لینا چاہئے ورنہ وہ گمراہ ہو جائے گا۔ حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''مَنْ یَطْلُبِ الهِدٰایَةَ مِنْ غَیْرِ أَهْلِهٰا یَضِلُّ'' (3) جو کوئی ہدایت کے اہل افراد کے علاوہ کسی اور سے ہدایت لے گا وہ گمراہ ہوجائے گا۔

--------------

[1]۔ نہج البلاغہ، خطبہ:5

[2]۔ شرح غرر الحکم:ج۵ص۱۸۴

[3]۔ شرح غرر الحکم:ج۵ص۳۰۸


اب ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جنہوں نے معاشرے کے پست اور نا اہل افراد کی پیروی کو قبول کر لیا؟!

مشکلات، فتنہ،فساد اور تباہ و برباد کر دینے والے طوفان (جب طوفان کی خطرناک لہریں ہوشیار بھی کر رہی ہوں)میں خدا اور اولیائے خدا کے علاوہ کسی اور کا دامن تھامنے والے نیست و نابود ہو جاتے ہیں۔لیکن اہلبیت اطہار علیھم السلام سے متمسک ہونا اور ان معصوم  ہستوں سے مدد مانگنا آپ کو  گمراہی و ہلاکت سے نجات دلا کر ساحل تک پہنچا دے گا۔

اگرچہ سمندر میں   مدّوجذرتمام چھوٹی بڑی کشتیوں کو ایک ساتھ اوپرنیچے کر دیتاہے لیکن دریا کا طلاطم تمام کشتیوں کو غرق نہیں کر سکتا ۔مصیبتیں اور فتنہ و فساد بھی ایسے ہی ہیں یہ جتنے بھی خطرناک کیوں نہ ہوں لیکن پھر بھی یہ تمام انسانوں کو نابودنہیں کر سکتے بلکہ کچھ کو کشتی نجات ساحل تک پہنچا ہی دیتی ہے۔

رہ ملک سعادت را تواند بی  خطر  رفتن

بہ دست خود زآئین ادب ھرکس عصا دارد

انسانوں میں سے کچھ ایسے بھی افراد موجود ہیں جو نہ صرف آخری زمانے کے فتنوں کے سامنے سینہ سپر رہتےہیں بلکہ اپنی قدر و منزلت میں بھی اضافہ کرتے ہیں۔

اگر آپ ایسے افراد میں سے ہونا پسند کرتے ہیں تو مشکلات اور مصائبکے طوفان کی خطرناک لہروں میں اہلبیت اطہار علیھم السلام کی کشتی سے متمسک ہوجائیں اور ولایت الٰہیہ کا عظیم مقام رکھنے والی ہستیوں سے توسل کے ذریعے خود کو گمراہی اور حیرانگی سے نجات دیں۔


 توسل ، قرآن کی نظر میں

اس بناء پر اپنی مشکلات اور پریشانیوں میں اہلبیت علیھم السلام سے متوسل ہوں اور اس خاندان کی کریمانہ عنایات سے استفادہ کریں ۔حضرت امام علی بن موسیٰ الرضا علیہ السلام فرماتے ہیں:

''اذٰا نَزَلَتْ بِکُمْ شِدَّةً فَاسْتَعِیْنُوا بَنٰا عَلَی اللّٰهِ،وَهُوَ قَوْلُ اللّٰهِ: (وَلِلّهِ الأَسْمَاء  الْحُسْنَی فَادْعُوهُ بِها (1) قٰالَ:قٰالَ اَبُو عَبْدِ اللّٰهِ عَلَیْهِ السلام:نَحْنُ وَاللّٰهِ اْلاَسْمٰائُ الْحُسْنَی الَّذِ لاٰ یُقْبَلُ مِنْ أَحَدٍ اِلاّٰ بِمَعْرِفَتِنٰا قٰالَ:فَادْعُوْهُ بِهٰا'' (2)

جب بھی تم کسی سخت مصیبت میں گرفتار ہو جاؤ تو ہمارے وسیلہ سے خدا سے مدد مانگو۔یہی خدا کے فرمان کا معنی ہے کہ خدا نے فرمایا''اور اللہ ہی کے لئے بہترین نام ہیں لہذا اسے ان ہی کے ذریعہ پکارو''

پھر حضرت امام رضا علیہ السلام نے فرمایاکہ حضرت امام صادق علیہ السلام نے یوں فرمایا ہے:

خدا کی قسم ہم خدا کے وہ بہترین نام ہیں ،کوئی عمل بھی قبول نہیں ہو سکتا مگر ہماری معرفت کے ذریعے سے۔پھر حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

خدا کو ان کے وسیلے سے پکارو۔

--------------

[1]۔ سورۂ اعراف،آیت:180

[2]۔ بحار الانوار:ج۹۴ص6،تفسیر عیاشی: ج۲ص۴۲


اس بناء پر اہلبیت علیھم السلام خدا کے بہترین نام ہیں اور اس دور میں حضرت بقیة اللہ الاعظم عجل اللہ فرجہ الشریف اس کا مجسم نمونہ اور ہم پر خدا کی عنایات کا مظہر ہیں۔

ہمیں تقویٰ و پرہیز گاری اختیار کرنا چاہئے اور اس ہستی کی عنایات سے توسل کرکے خدا کا تقرب حاصل کرنا چاہئے۔

قرآن مجید میں پروردگار عالم کا ارشاد ہے:

(یَا أَیُّهَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ وَابْتَغُواْ ِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ وَجَاهِدُواْ فِیْ سَبِیْلِهِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ) (1)

ایمان والو اللہ سے ڈرو اور اس تک پہنچے کا وسیلہ تلاش کرو اوراس کی راہ میں جہاد کرو کہ شاید اس طرح کامیاب ہوجا ؤ۔

ہم اہلبیت اطہار علیھم السلام سے توسّل کے ذریعے عالم غیب سیمددطلب کرتے ہیں اور ان بزرگ ہستیوں کی عنایات حاصل کرتے ہیں۔

--------------

[1]۔ سورۂ امائدہ،آیت:35


 دعاؤں اور زیارات میں توسّل

لوگوں نے اہلبیت  عصمت و طہارت علیھم السلام سے توسّل کے اس قدر نتائج دیکھے ہیں جو کہ ناقابل انکار ہیں ۔خاندان وحی علیھم السلام کے تمام محب  اپنی مشکلات  انہیں ہستیوں کے توسّل سے حل کرتے ہیں  نیز وہ دوسروں کی حاجات کے مستجاب ہونے کے  شاہد بھی ہیں ان کے توسّل سے ایسی مشکلیں حل ہو جاتی ہیں جن کا ہماری عقل کی محدویت کے اعتبار سے حل ہونا ممکن  نہیں ہوتا۔

اہلبیت اطہار  علیھم السلام سے توسّل کی اہمیت کی وجہ سے نہ صرف قرآن مجید اور خاندان وحی علیھم السلام کی روایات میں اس کا حکم کیاگیا ہے بلکہ عاؤں اور زیارتوں کے ضمن میں بھی ہمیں توسّل کی طرف دعوت دی گئی ہے۔اب اس کے دو نمونے ذکر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں:

1۔ حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت میں عرض کرتے ہیں:

''اَتَوَسَّلُ اِلَی اللّٰهِ بِکَ فِْحَوٰائِجِیْ مِنْ أَمْرِ آخِرَتِْ وَ دُْنْیٰاَ وَ بِکَ یَتَوَسَّلُ الْمُتَوَسِّلُوْنَ اِلَی اللّٰهِ فِ حَوٰائِجِهِمْ'' (1)

میں اپنی تمام حاجتوں میںچاہے وہ دنیاوی ہوں یااخروی آپ کے وسیلہ سے خدا کی بارگاہ میں متوسل ہوتا ہوں اور خدا کی بارگاہ  میں متوسل ہونے والے سب کے سب اپنی حاجات میں آپ  کے وسیلہ سے ہی توسل کرتے ہیں۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج101ص168


حضرت امام حسین علیہ السلام سے متوسّل ہونا اور آپ کے لئے گریہ و عزاداری کرنا سب لوگوں کے لئے ایک کھلا باب ہے حتی گناہوں سے آلودہ اور اپنے رفتار و کردار میں پشیمان افراد بھی حضرت امام حسین علیہ السلام کی طرف رخ کرسکتے ہیں کیونکہ آنحضرت تمام گناہگاروں کو بخشنے والے ہیں ۔یقین جانیں  کہ یہ مظلوم امام  سارے بے سہارا لوگوں کی دلجوئی و دلنوازی فرماتے ہیں۔

2۔ روز عرفہ کے دن کی دعا میں پڑھتے ہیں:

''.....أَسْئَلُکَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ نَبِیِّکَ وَ آلِهِ الطّٰاهِرِیْنَ وَ اَتَوَسَّلُ اِلَیْکَ بِاْلآئِمَّةِ الَّذِیْنَ اِخْتَرْتَهُمْ لِسِرِّکَ وَ اطَّلَعْتَهُمْ عَلٰی وَحْیِکَ'' (1) خدایا! میں تجھ سے تیرے پیغمبر حضرت محمد(ص) اور ان کی پاک آل کے حق سے سوال کرتا ہوں اور تجھ سے اس امام کے وسیلہ سے متوسّل ہوتا ہوں جسے تونے اپنے سرّ کے لئے منتخب کیا اور اسے اپنی وحی سے آگاہ کیا۔

مکتب اہلبیت علیھم السلام کے پیروکار نہ صرف ان بزرگ ہستیوں کوخدا کی بارگاہ میں اپنا وسیلہ اور شفیع قرار دیتے ہیں اور توسّلات کے ذریعے اہلبیت علیھم السلام کی توجہات اور عنایات حاصل کرتے ہیںبلکہ ان بزرگوں کے اسم سے متوسّل ہو کر ان کے نام کو خداکے تقرب کا وسیلہ سمجھتے ہیں۔ ہم حضرت امام رضا علیہ السلام کی زیارت میں پڑھتے ہیں:

''اَلسَّلاٰمُ عَلٰی مَنْ أَسْمٰائُهُمْ وَسِیْلَةُ السّٰائِلِیْنَ وَ هَیٰاکِلُهُمْ أَمٰانُ الْمَخْلُوْقِیْنَ وَ حُجَجُهُمْ اِبْطٰالُ شُبَهِ الْمُلْحِدِیْنَ.....'' (2) ان پر سلام ہو جن کے اسماء سوال کرنے والوں کے لئے وسیلہ ہیں اور جن کا پیکر مخلوقین کے لئے امان ہے اور جن کا استدلال ملحدین کے شبہہ کو باطل کرنے والا ہے۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج98ص231

[2]۔ بحار الانوار:ج101ص168


اس بناء پر ان ہستیوں کے اسماء خدا کی بارگاہ میں تقرب کا ذریعہ ہیں اسی لئے محبان اہلبیت علیھم السلام خاندان نبوت علیھم السلام کی یاد میں برپا کی جانے والی مجالس میں انہیں کے اسماء کا ذکر کرتے ہیں اور اس کے ورد کے ذریعے اپنے قلوب کو منور کرتے ہیں۔ہمارے بزرگ نہ صرف ان معصوم ہستیوں کے اسماء سے مستفید ہوتے ہیں بلکہ ان کی درگاہ کی تربت سے بھی تبرّک کے طور پر استفادہ کرتے ہیں اور اپنے درد کا مداوا کرتے ہیں۔

مرحوم محدث قمی  لکھتے ہیں:مرحوم سید نعمت اللہ جزائری  اپنے زمانۂ تحصیل کے اوائل میں فقر کی وجہ سے مطالعہ کے لئے چراغ جلانے کی بھی استطاعت نہیں رکھتے تھے اسی لئے وہ چاند کی روشنی سے استفادہ کرتے تھے ۔چاند کی روشنی میں کثرت مطالعہ کی وجہ سے آپ کی آنکھیں کمزور ہو گئیں تھیں۔ وہ اپنی آنکھوں کے نور کے لئے حضرت امام حسین علیہ السلام اور عراق میں دوسرے آئمہ علیھم السلام کے روضوں کی خاک اپنی آنکھوں پر ملتے تھے جس کی برکت سے آپ کی انکھوں کا نور ٹھیک ہو گیا۔

اس کے بعد وہ لکھتے ہیں:جب بھی میری آنکھیں زیادہ لکھنے کی وجہ سے کمزور ہو جاتیں تو میں بھی آئمہ اطہار علیھم السلام کے حرم سے استفادہ کرتا ہوںاور کبھی اہلبیت عصمت طہارت علیھم السلام کی احادیث و روایات کو اپنی انکھوں سے لگاتا ہوں ۔الحمد اللہ میری آنکھوں کا نور بالکل ٹھیک ہے اور میں امید کرتا ہوں کہ دنیا و آخرت میں میری آنکھیں انہیںکی برکتوں سے ہمیشہ روشن رہیں۔(1)

--------------

[1]۔ فوائد الرضویہ محدث قمی:695


 توسّل تقرب الٰہی کا ذریعہ

اہلبیت عصمت و طہارت علیھم السلام سے توسّل خدا کی بارگاہ میں انسان کی آبرو میں اضافہ کرتاہے اور یہ خدا کے نزدیک تقرب کا ذریعہ ہے۔اسی لئے ہم بعض دعاؤں اور مناجات میں خدا وند کریم سے درخواست کرتے ہیں کہ اہلبیت علیھم السلام کے توسّل کی وجہ سے ہمیں اپنی بارگاہ میں آبرومند قرار دے اور اپنا مقام قرب عطا فرما۔

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی مناجات انجیلیہ میں آیا ہے:

''أَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ أَهْلِ بِیْتِهِ الطّٰاهِرِیْنَ وَ اجْعَلْنِْ بِحُبِّهِمْ یَوْمَ الْعَرْضِ عَلَیْکَ نَبِیْهاً وَ مِنَ الْاَنْجٰاسِ وَ الْاَرْجٰاسِ نَزِیْهاً وَ بِالتَّوَسُّلِ بِهِمْ اِلَیْکَ مُقَرَّباً وَجِیْهاً'' (1)

خداوندا!اپنا درود اور رحمت محمد(ص) اور ان کے پاک اہلبیت علیھم السلام پر نازل فرما اور مجھے ان سے محبت کی وجہ سے قیامت کے دن گرامی قرار دے اور نجاسات و پلیدیوں سے پاک رکھ اور ان سے توسّل کی وجہ سے اپنے نزدیک مقرّب اور آبرومند قرار دے۔

--------------

[1] ۔ بحار الانوار:ج94ص168


 توسّل دعاؤں کے مستجاب ہونے کا ذریعہ

پیغمبر اکرم(ص) نے حضرت امام علی علیہ السلام  سے فرمایا:

''یٰا عَلِیُّ مَنْ تَوَسَّلَ اِلَی اللّٰهِ بِحُبِّکُمْ فَحَقّ عَلَی اللّٰهِ أَنْ لاٰ یَرُدَّهُ،یٰا عَلِیُّ مَنْ أَحَبَّکُمْ وَ تَمَسَّکَ بِکُمْ ،فَقَدْ تَمَسَّکَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰی'' (1)

یا علی!جو کوئی بھی  آپ کے خاندان کی محبت کے وسیلے سے خدا سے توسّل کرے تو پس یہ خدا پر حق ہے کہ وہ اسے ردّ نہ کرے ۔یا علی!جو کوئی بھی آپ سے محبت کرتاہو اور آپ کے خاندان سے متمسک ہو گویا اس نے مضبوط رسّی کو تھام لیا۔

توسّل میں اعتقادی مسائل

جو کوئی بھی خاندان نبوت علیھم السلام سے متوسل ہو گویا اس نے اہم اعتقادی مسائل میں اپنے ایمان کا اظہار کیا ہے اور اسے تقویت دی ہے۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج36ص302


1۔اس فانی دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد اہلبیت علیھم السلام کی حیات کا عقیدہ:

خداوند کریم کا ارشاد ہے:

( وَلاَ تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُواْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ أَمْوَاتاً بَلْ أَحْیَائ عِندَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُونَ) (1)

اور خبردار! راہ خدا میں قتل ہونے والوں کو مردہ گمان تک نہ کرنا وہ زندہ ہیں اور اپنے پروردگار کے یہاں رزق پارہے ہیں ۔

2۔ معصومین علیھم السلام کے علم و آگاہی کا عقیدہ اور اس نکتہ پر اعتقاد کہ انسان دنیا کے جس کونے میں بھی ہو ، ان ہستیوں سے متوسل ہو سکتاہے اور وہ سب کی حاجتوں سے آگاہ ہیں ۔کیونکہ اہلبیت علیھم السلام سے توسّل اسی صورت میں متین ہو سکتا ہے جب ہم معتقد ہوں کہ ہم انہیں جہاں سے بھی پکاریں وہ ہماری حاجات سے پوری طرح علم و آگاہی رکھتے ہیں۔

3۔ خداکی طرف سے معصومین  علیھم السلام کی ولایت و قدرت کا عقیدہ:

یہ ایک دوسری حقیقت ہے ۔توسّل کے ضمن میں ہم اس کے بارے میں اپنے باطنی ایمان و عقیدہ کا اظہار کرتے ہیں کیونکہ عقلی لحاظ سے اس سے مدد مانگی جائے جو مدد کرنے اور دلجوئی کرنے کی قدرت رکھتاہو۔ان ہستیوں سے ہمارے توسّل کا یہ معنی ہے کہ ہم اس حقیقت سے آگاہ ہیں ،اس کے معتقد ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں  جس طرح آسمانی مخلوقات اس پر فخر کرتی ہیں۔

--------------

[1]۔ سورۂ آل عمران،آیت:169


پیغمبر اکرم (ص) نے امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا:

''یٰا عَلِیُّ یَتَفٰاخَرُوْنَ أَهْلَ السَّمٰاء بِمَعْرِفَتِکَ وَ یَتَوَسَّلُوْنَ اِلَی اللّٰهِ بِمَعْرِفَتِکَ وَ اِنْتِظٰارِ أَمْرِکَ'' (2)

یا علی!آسمانی موجودات و مخلوقات تمہاری معرفت پر فخر کرتی ہیں اور  تمہاری معرفت اور تمہارے امر کے انتظار سے خدا وند کریم سے متوسّل ہوتے ہیں۔

اس بناء پر اہل آسمان کی معرفت افتخار و شناخت اور آسمان کے ساکنین کا انتظار ان کے توسّل کے سبب ہی ہے۔

جی ہاں!حتی کہ آسمانی موجودات و مخلوقات بھی اس دن کا انتظار کر رہی ہیں جب پوری کائنات پر امیر المؤمنین حضرت علی بن ابیطالب علیہ السلام کی مطلق ولایت کابول بالاہو گا اور حضرت بقیة اللہ الاعظم عجل اللہ فرجہ الشریف کے دست قدرت سے کوئی طاغوت اور شیطانی طاقت بچ نہیں پائے گی۔اس   دن کسی گھر میں کوئی غم نہیں ہو گا اور پوری دنیا پر معارف اہلبیت علیھم السلام کا نور پھیل جائے گا۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج40ص64


 توسّل کے بارے میں کچھ بنیادی نکات

جو اہلبیت علیھم السلام سے توسّل کے ذریعے غیبی قدرت حاصل کرنا چاہتے ہوں اور جو یہ چاہتے ہوں کہ ان کے توسّل ہمیشہ سود مند ہوں  تو انہیں پہلے توسّل کے  بہت اہم نکات اور اس کی شرائط کی طرف مکمل توجہ کرنا چاہئے کیونکہ ان کے بہت زیادہ اثرات ہیں ۔توسّل کرتے وقت ان کی رعایت کریں تاکہ آخرت میں ثواب اور معنویت کے علاوہ دنیا میں بھی اس کے نتائج حاصل کر سکیں  اور جس حاجت کی وجہ سے متوسّل ہوئے ہوں ،وہ حاصل ہو جائے۔لیکن اگر ان شرائط اور نکات کا خیال نہ رکھا جاے تو اگرچہ ثواب اور معنوی اجر تو مل جائے گا لیکن ممکن ہے کچھ موارد کے علاوہ مورد نظر حاجت پوری نہ سکے  اور آپ جس طرح چاہتے ہوں اس طرح اپنے مقصد تک نہ پہنچ پائیں۔

اب توسّل کے اثرات مرتب کرنے والی شرطوں  پر غور کریں:

 1۔ پاکیزگی قلب

باطنی پاکیزگی اور  قلب کیطہارت معنوی امور کی طرف توجہ کرنے کے بہت اہم شرائط میں سے ہے ۔ صرف توسّل میں ہی نہیں بلکہ دعاؤں اور مناجات میں بھی دل کا روحانی بیماریوںں سے پاک ہونا بہت  اہمیت کا حامل ہے ۔ اسی لئے اولیائے خدا اور بارگاہ خدا میں تقرب رکھنے والے اشخاص سے توسّل اور دعا حیرت انگز اثرات رکھتاہے اور اس سے بہت عالی نتائج حاصل کئے جاسکتے ہیں ۔لیکن نیک کردار نہ رکھنے والے افراد سے توسّل کرنے میں ایسا نہیں ہے ،اسی لئے ہم بہت سے مواردمیں دیکھتے ہیں کہ ان سے توسّل کرنے  کے ویسے نتائج نہیں ہوتے جیسے ہونے چاہئیں۔


مستجاب الدعوة افراد کی دعا کے مستجاب ہونے کے اہم رازمیں سے ایک راز ان کے باطن کا آلودگیوں سے پاک ہونا ہے۔ان کے نفس کا پاک ہونااس چیز کا باعث بنتاہے کہ ان کی دعائیں اور توسّلات، شخصی اغراض و مقاصد سے پاک ہوں۔

ناپسند اخلاق،روحانی بیماریاں انسان کی روح کوجکڑ لیتی ہیں جس کی وجہ سے انسان کی روح ترقی کے مدارج طے نہیںکر سکتی ۔ لیکن خدا کے حقیقی بندے روح کی اس وزنی زنجیر کو توڑ کر خود کو آزاد کر لیتے ہیں اسی لئے کبھی بھی ان کی دعائیں اور توسّل تظاہر اور خودنمائی کی بنیاد پر نہیں ہوتیں اور وہ گناہوں سے بھی پرہیز کرتے ہیں جو انسان کی روح کر قید کرنے لکاسبب بنتے ہیں ۔ اسی وجہ سے وہ اپنے توسّلات میں کامیاب ہوتے ہیں۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ اہلبیت علیھم السلام سے توسل کے ذریعے غیبی طاقتوں سے مستفید ہوں  اور آپ کے توسّل مستفید ہوں تو آپ کو ''پاکیزگی قلب ''جیسے لازمی نکتہ پر توجہ کرنا چاہئے۔ اپنے باطن کو آلودگیوں سے پاک کر کے اپنی راہ سے تمام رکاوٹوں کو ختم کر دیں اور پھر خدا کی رسّی کوتھامنے کے بعد معنوی صراط مستقیم پر گامزن  ہو جائیں۔اس بناء پر اس حیاتی اور حسّاس نکتے سے غافل نہ رہیں اور اپنی قیمتی زندگی کو باطن کی آلودگیوں کے ساتھ ضائع نہ کریں!

اگر آپ اپنے باطن کو پاک کرلیں تو آپ کی کامیابی کی چابی آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے اور آپ اپنی دعاؤں اور توسّلات میںاس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔


2۔ توسّل میں  توجہ اور فکر کا تمرکز

کسی بھی عبادت کی انجام دہی میں فکر کا تمرکز،توجہ اور مکمل  دقّت اس کے اثرات میں اضافے کا باعث ہے۔ اب ہم جو واقعہ ذکر کررہے ہیں یہ دعا اور توسّل کے دوران توجہ کی اہمیت کی دلیل ہے۔

ایک شخص اولیائے خدا میں سے کسی کے ساتھ واسطہ تھا اور کبھی کبھار ماضی اور مستقبل کے مطالب ان سے پوچھتا ۔ان کی سچائی  اور امور کی صحت اس کے لئے ثابت تھی۔میں نے ان سے پوچھا:وہ کس طرح اس مقام تک پہنچے اور وہ جو اسرار بیان کرتے ہیں وہ خود کس طرح انہیں جانتے ہیں؟

انہوں نے فرمایا:یہ شخص پہلے میرے شاگردوں میں سے تھا اور کبھی مجھ سے کچھ اذکار سیکھتا اور انہیں انجام دیتا ۔اگرچہ وہ بہت زیادہ دیر تک ان اذکار کو انجام نہیں دیتا تھا کیونکہ وہ کوئی طولانی اذکار اور دعائیں نہیں تھے ۔لیکن اس شخص کی ایک خصوصیت تھی جس کی وجہ سے اس نے یہ  ساری ترقی کی  اور اب وہ میرا استاد ہے۔اب میں ان سے اپنے مجہولات کے بارے میں پوچھتا ہوں اور وہ ان کا صحیح جواب دیتے ہیں اگرچہ ہر بار میرے پوچھنے سے پہلے ہی انہوں نے ان سوالوں کے جواب بتائے جنہیںمیں  ان سے پوچھنا چاہتا تھا۔

پھر انہوں نے فرمایا:ان کی یہ خصوصیت ہے کہ انہیں جو بھی دعا اور ذکر بتایا جائے وہ اسے مکمل توجہ سے انجام دیتے ہیں ۔وہ اپنی توجہ اور حضور قلب کی حالت کی وجہ سے ہی اس مقام تک پہنچے ہیں۔


  اب آپ حضرت علی بن ابیطالب علیہ السلام کے اس مختصر مگر عظیم کلام کی  طرف توجہ کریں ۔ آپ نے فرمایا:

''اَلدِّقَّةُ اِسْتِکٰانَة'' (1)

مکمل توجہ تواضع و انکساری ہے۔

جو خدا اور اہلبیت علیھم السلام کے سامنے تواضع کرے ،خدا اسے سر بلند کر دیتاہے اور جو امور ظاہراً ناممکن  ہیں اس کے لئے ممکن بنا دیتا ہے ۔

جی ہاں!مکمل توجہ ناممکن کو آپ کے لئے ممکن بنا دیتی ہے اور آپ کو ایسے بلند مقامات تک پہنچا دیتی ہے جسے آپ ناممکن اور محال سمجھتے ہیں  ۔جس طرح ایک عام شخص (جن کا واقعے کی طرف ہم نے اشارہ کیا) دعا اور توسّل کے دوران توجہ کی وجہ سے عالم غیب سے ارتباط جیسے مقام تک پہنچ گیا۔

اسی وجہ سے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:''فَاِذٰا دَعَوْتَ فَأَقْبِلْ بِقَلْبِکَ ثُمَّ اسْتَیْقِنْ بِالْاِجٰابَةِ'' (2)

جب بھی دعا کرو تو توجہ اور اقبال قلب کی حالت میں دعا کرو،پھر تمہیں اس کی اجابت کا یقین ہونا چاہئے۔

دعا اور توسّل میں توجہ اور اقبال قلب اس طرح مؤثر اور مفید ہے کہ حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیںکہ توجہ کی حالت کے بعد تم اس دعا کی اجابت کا یقین کر لو!

اس بناء پر باطنی طہارت اور پاکیزگی کے بعد دعاؤں،مناجات اور توسّلات میں تمرکز فکر اور حواس کی توجہ کا مسئلہ بہت اہم اثرات کا حامل ہے۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج۷۲ص۱۹۳

[2]۔ بحار الانوار:ج۹۳ص۳۲۳،مکارم الاخلاق:314


جس طرح توجہ  کے بغیر عبادتوں کا کوئی اہم اثر نہیں ہوتا اسی طرح ان توسلات کا بھی کوئی اثر نہیں ہوتاجن میں توجہ نہ ہواور یہ انسان کو اسکے مقصد و حاجت تک نہیں پہنچاتے۔

وہی توسّل مکمل اثرات رکھتاہے جس میں توجہ موجود ہو کیونکہ توسّل اسی صورت میں خدا اور خاندان وحی علیھم السلام سے ارتباط برقرار کر سکتا ہے جب وہ توجہ  سے ہو اور پاک دل سے نکلے۔ایسے توسّلات کے نتیجہ میں بند راہیں بھی کھل جاتی ہیں اور بند دروازے بھی کھل جاتے ہیں ۔جب انسان کا خدا اور اہلبیت علیھم السلام سے ارتباط برقرا رہو جائے تو کوئی دعا اور توسّل  پورا ہوئے بغیر نہیں  رہ سکتا۔

اس بنا پر اگر اپ چاہتے ہیں کہ آپ کے توسّل کا فوری اثر ہو اور اس کابہترین نتیجہ بھی ہو تو خودسازی کے علاوہ توسّل کے وقت آپ کی توجہ منتشر نہیں ہونی چاہئے بلکہ مکمل توجہ اور تمرکز سے خاندان وحی علیھم السلام کا دامن تھامیں اور انہیں اپنی حاجتوں کے پورا ہونے کے لئے وسیلہ قرار دیں۔

پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں:

''نَحْنُ الْوَسِیْلَةُ اِلَی اللّٰهِ'' (1)

ہم خدا کی طرف وسیلہ ہیں۔

جی ہاں !ہر آگاہ اور روشن دل انسان کایہی عقیدہ ہے کہ خاندان نبوت علیھم السلام اس کے پشت پناہ اور خدا کی طرف اس کا وسیلہ ہیں ۔

--------------

 [1]۔ بحار الانوار:ج25ص23


حضرت امام حسین علیہ السلام کی ایک زیارت میں بیان ہوا ہے:

''بِکُمْ یٰا آلَ مُحَمَّدٍ أَتَوَسَّلُ،اَلْاٰخِرُ مِنْکُمْ وَالْاَوَّلُ'' (1)

اے آل محمد!آپ کے وسیلے سے ہم متوسل ہوتے ہیں ،آپ میں سے اوّل سے آخر تک۔

ہمیں ان معصوم ہستیوں سے کبھی کبھار نہیں  بلکہ ہمیشہ اپنی حاجتوں اور مشکلات میں ان بزرگ ہستیوں سے متوسل ہونا چاہئے۔

ہم زیارت جامعہ کبیرہ (جسے حضرت امام ہادی علیہ السام نے نور کے دریا کو مختصر بیان میں سمو دیا ہے )میں پڑھتے ہیں:

''وَمَنْ قَصَدَهُ تَوَجَّهَ بِکُمْ'' (2) جو خدا کا قصد کرے ، وہ آپ کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔

گذشتہ بیانات کی رو سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ اپنی حاجتوں کے روا ہونے اور آرزؤں  کے پورا ہونے کے لئے دل کی پاکیزگی کے علاوہ توجہ اور سوچ و فکر کا متمرکز ہونا ضروری ہے۔اس بناء پر ''باطنی تطہیر اور فکر کی توجہ ''توسّل کے اثرات کے لئے دو اہم راہ ہیں۔اس بیان سے یہ ملاحظہ کریں کہ توسّل کی کتنی زیادہ عظمت ہے اور توسّل کرنے والے کی روحانی حالت کیاہونی چاہئے؟

اگر وہابیوں کی طرح کے مغرض افراد توسّل کو کوئی اہمیت نہ دیں تو یہ ان کی باطل سوچ ،تنگ نظری اور ان کی لاعلمی کی  وجہ سے ہے ورنہ جو کوئی یہ جانتا ہو کہ توسّل کیا ہے  اورتوسّل کن بنیادوں پر   استوار ہے تووہ کس طرح انسان کے بہترین روحانی حالات کا انکار کر سکتے ہیں اور کس طرح عظیم روحانی خزانے کاانکار کر سکتے ہیں؟

متفکّر انسان کس طرح پر کشش ترین روحانی حالات کو صرف اسبناء پر ردّ کر سکتا ہیکہ وہ خود انہیں حاصل  نہیں کر سکا؟!!

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج101ص227

[2]۔ مفاتیح الجنان ،زیارت جامعہ کبیرہ


 توسّلات میں یقین کا کردار

شک کو برطرف کرنا اور یقین کی حالت پیدا کرنا ان اہم مسائل میں سے ہے کہ جس میں تطہیر قلب کی بحث بھی شامل ہے۔لیکن اس کی اہمیت کی وجہ سے ہم اس کی وضاحت کرتے ہیں اور اس میں اضافہ کرنیکے طریقے بیان کرتے ہیں:

اہلبیت اطہار علیھم السلام کے لطف و کرم سے توسّلات میں اعتقاد اور یقین بہت اہم  کردار کے حامل ہیں۔اگر توسّلات میں ہمیں ان ہستیوں کی عنائت کا یقین ہو تو ہم اپنے مقصد تک پہنچ جائیں گے اورہماری حاجت پوری ہو جائے گی۔

ان  بزرگ ہستیوں کے لطف وکرم سے اعتقاد اور یقین کے اثرات اس قدر زیادہ ہیں کہ بہت سے موارد میں اپنی حاجت اور مقصد تک پہنچنے والے افراد تطہیر قلب کے مالک نہیں ہوتے لیکن ان کا قطع و یقین ان کی اس کمی کو پورا کر دیتا ہے۔اگرچہ ان کا دل گناہوں سے پاک نہیں ہوتا لیکن ان کا اہلبیت علیھم السلام کی عنایات پر یقین انہیں ان کے توسّلات میں نتیجہ تک پہنچانے کا باعث بنتاہے۔

مجھے  1348 شمشی میں کچھ مہینوں تک مقامات مقدسہ کی زیارت کی توفیق حاصل ہوئی اور میں حضرت ابا الفضل العباس علیہ السلام کے حرم میں مکرر بیماروں کے شفایاب ہونے اور لوگوں کی حاجتیں پوری ہونے کا شاھد ہوں۔

بعض اوقات جو لوگ اپنے بیماروں کو حضرت عباس علیہ السلام کی مقدس ضریح کے ساتھ باندھ دیتے تھے ،ایک گھنٹے سے بھی کم  وقت میں ان کی حاجت پوری ہو جاتی تھی اور جب ان کی حاجت روا  ہو جاتی توعرب کی عورتیں اپنی رسم کے مطابق  ہلہلہ کرتیں اور ضریح مقدس اور زائرین کی طرف خشک میوے  نچھاور کرتی ہیںاور حرم مطہر کی فضا خوشی کے نعروں سے جھوم جاتی۔کبھی کبھار وہ زیادہ تشکر کا اظہار کرنے کے لئے نقل کے ساتھ عراق میں رائج پیسے بھی پھینکتے۔


ان کا اعتقاد و یقین اس حد تک تھا کہ بعض اوقات وہ اپنے بیمار کے ساتھ خشک میوے اور پیسے بھی لے کر آتے تھے اور جونہی ان کے بیمار کو شفا ملتی ،وہ فوراً ہلہلہ کرتے اور پھر خشک میوے اور پیسے نچھاور کرنے میں مشغول ہو جاتے اور خوشی سے تشکر کا ظہار کرتے اور کہتے''ابو فاضل نشکرک''

ایک دن وہ کسی پاگل جوان کو حرم میں لائے اور انہوں نے اسے تین دن تک ضریح کے ساتھ باندھ دیا اس کے رشتہ دار اس کے اردگرد  جمع تھے ۔یہ  بڑے تعجب کی بات تھی کہ کس طرح اتنا زیادہ وقت گزر انے کے باوجود بھی ان کی حاجت پوری نہیں ہوئی!

ایک بیمار کا تین دن تک شفا یاب نہ ہونا  ہمارے لئے تعجب کی بات تھی چونکہ معمولاً ایسا نہیں ہوتا تھا ؛کیونکہ آنحضرت  سے متوسّل ہونے والوں کا بڑاعجیب اعتقاد تھا اور اس کے لئے زیادہ لمبی مدت کی کوئی ضرورت نہیں تھی ۔وہ اپنے یقین کامل سے یہ اظہار کرتے ہیں''ابوفاضل باب الحوائج'' اور حضرت ابا الفضل العباس علیہ السلام بھی ان کی حاجتوں کوپورا فرماتے کیونکہ وہ لوگ حضرت اباالفضل العباس علیہ السلام کے لطف و کرم پر مکمل یقین کے ساتھ آپ  سے متوسّل ہوتے ۔

اس بات کو بیان کرنے کا یہ مقصد تھا کہ بہت سے توسّلات میں کچھ دوسری جہات بھی ہوتی ہیں جو تطہیر قلب کی جگہ لے لیتی ہیں۔اہلبیت علیھم السلام کے لطف و کرم کے موارد میں  اور دوسرے موارد میں لوگوں کا یقین و اعتقاد ان ہستیوں کی عنایات کا باعث بنتا ہے۔


 معرفت، انسان کے یقین میں اضافہ کا باعث

اہلبیت اطہار علیھم السلام کی قدرت کے بارے میں یقین پیدا کرنا ان ہستیوں کی معرفت ہ کا دوسرا نام ہے ۔ان کے ذریعے حاجتوں کے پورا ہونے کا یقین حاصل کرنے کے لئے ان کے بارے میں اپنی معرفت میں اضافہ کریں اور لازم وضروری آگاہی حاصل کریں جو کہ ہم پر واجب ہے۔

مرحوم محدث قمی اہلبیت علیھم السلام کی معرفت رکھتے تھے ۔وہ اپنے توسلات کا ایک نمونہ مرحوم علامہ سید عبداللہ شبّر  کا بہترین واقعہ بیان کرنے کے بعد ذکر کرتے ہیں ۔اب آپ ان کے اس واقعہ پر غور کریں:

مرحوم عبداللہ شبّر  بزرگ علماء میں سے ہیں ان کی بہت زیادہ تألیفات ہونے کی وجہ سے وہ اپنے زمانے میں مجلسی ثانی کے نام سے مشہور تھے۔ایک دن علامہ محقق  اور مرحوم شیخ اسد اللہ (صاحب کتاب مقابس الانوار) مرحوم عبداللہ شبّر سے ملاقات کے لئے گئے اور وہ مرحوم شبّر کی بہت زیادہ تألیفات پر حیران ہوئے کیونکہ اس کے مقابل میں ان کی تالیفات بہت کم تھیں۔اگرچہ وہ بہت علمی شخصیت کے مالک تھے۔

انہوں نے مرحوم عبداللہ شبّر  سے ان کی کثرت تألیفات کے بارے میں پوچھا تو آپ نے کہا:

مجھے زیادہ کتابیں لکھنے کی توفیق حاصل ہوئی اس کی وجہ حضرت امام موسی بن جعفر علیہ السلام کی عنایات ہیں ۔کیونکہ میں نے آنحضرت کو خواب میں دیکھا اور آپ نے مجھے ایک قلم عطا کیااور فرمایا: لکھو۔اس وقت سے میں تصنیف و تألیف میں کامیاب ہوں۔پس میں نے جو کچھ بھی لکھا یہ اسی مبارک قلم کی برکت ہے۔


مرحوم محدث قمی یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد کہتے ہیں:

یہ بات یوں ہے کہ مرحوم عبداللہ شبّر نے فرمایا :کیونکہ میں جب بھی اہلبیت نبوت علیھم السلام سے  متوسّل ہوتا ہوں تو مجھے بہت عظیم توفیق حاصل ہو جاتی ہے اور میرا قلم لکھنے لگتا ہے  اور جب مجھے توسّل کی توفیق نہ ہو تو کئی مہینے گزر جانے کے باوجود میں کوئی چھوٹی سی کتاب بھی نہیں لکھ سکتا ۔پس میں نے جو کچھ بھی لکھا ہے وہ اہلبیت اطہار علیھم السلام کی برکات و عنایات سے ہے۔(1)

اس بزرگ کی معرفت اس چیز کا باعث بنی کہ یقین کامل کے ساتھ اس حقیقت کے معتقد ہوں جسے انہوں نے بیان کیا۔

--------------

[1]۔ فوائد الرضویہ:250


 توسّلات میں اضطرار کا کردار

کبھی نا امیدی اور پریشانی کی شدت اور ثابت قدمی اس قدر مہم اور کارساز ہوتی ہے جس سے تمام روحانی آلودگی اور باطنی زنجیر کو توڑ سکتے ہیں تا کہ انسان کی روح معنویت کی نورانی فضا میں انبیاء و اولیاء کے ساتھ راز و نیاز کر سکے۔

یہ جاننے کے لئے کہ کس طرح  اہلبیت عصمت و طہارت علیھم السلام سے متوسل ہوکربعض گناہگار افراد کی حاجتیں پوری ہوجاتی  ہیں اور ان کے گناہ ان کی حاجتوں کے پورا ہونے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنتے  اور وہ کس طرح اپنے گریہ و زاری سے آئمہ اطہار علیھم السلام اور اولیاء کرام سے متوسّل ہو کر ان کی توجہ حاصل کرتے ہیں۔ہم اس کے لئے ایک مثال ذکر کرتے ہیں تا کہ ان افراد کے توسّل  کے راز سے پردہ اٹھایا جا سکے جو پاکیزہ روح کے مالک نہیں ہیں۔

اگر کسی خلائی شٹل کو خلا میں بھیجنا چاہیں تو اس کے لئے بہت طاقتور وسیلے کی ضرورت ہے جو خلائی شٹل کو فضا سے نکال کر زمین کے قوت جاذبہ سے بچا ئے تا کہ وہ آرام  سے خلا ء میں چکر لگا سکے کیونکہ جب تک اسے زمین کی قوت جاذبہ سے نہ نکال لیا جائے تب تک زمین کی قوت جاذبہ اسے اپنی طرف کھینچے گی اور اس کی پرواز کی قوت کم ہو جائے گی ۔قوت جاذبہ سے نکالنے کے لئے اس خلائی  شٹل   میں اتنی توانائی ہوکہ وہ زمین کی قید جاذبہ سے نکل کر آزاد ہو جائے۔

معنوی و روحانی مسائل میں بھی اس کی مثال موجود ہے کیونکہ گناہ انسان کو روحانی سیر اور معنوی نتائج اخذ کرنے سے روک دیتے ہیں  اور جس طرح زمین کی قوت جاذبہ خلائی شٹل کو اپنی طرف کھینچتی ہے اسی طرح گناہگار انسان کے گناہ اسے پرواز سے روکتے ہیں اور گناہوں کا جاذبہ اسے اپنی طرف کھینچتا ہے ۔ لیکن کبھی مشکلات اور مصائب  اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ پریشانیوں کی شدت انسان کو گناہوں کے جاذبہ سے نجات دے دیتی ہے۔اگرچہ  اس کا باطن آلودگیوں اور گناہوں میں مبتلا ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ گناہوں کی قوت جاذبہ سے رہائی پا لینے کی وجہ سے کامیاب ہو جاتا ہے۔


اس بناء پر توسّلات میں بہت جلدی کامیابی کے لئے انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے باطن کو پاک کرے تا گذشتہ گناہوں کی قوت جاذبہ درہم برہم ہو جائے اور وہ اسے پرواز سے نہ روک سکے  یا انسان  پر اتنی زیادہ پریشانیاں ہوں کہ جس طرح  مخصوص مشین خلائی شٹل کو زمین کی قوت جاذبہ سے  نکال کر خلا ء میں بھیجتی ہے اسی طرح انسان  پر پریشانیوں اور مشکلوں کی شدت اتنی زیادہ ہو جو اسے گناہوں کی قید اور ان کی قوت جاذبہ سے نکال کر نجات دے اسی صورت میں وہ اہلبیت علیھم السلام کی توجہ اور عنایات حاصل کر سکتا ہے۔

اس بناء پر توسّل کے نتائج اخذ کرنے کے لئے اگر انسان مردانہ ہمت سے اپنے باطن کو پاک کرے تو وہ اپنے مقصد تک پہنچ جائے گا اور اسی طرح اگر مشکلات کی شدّت اتنی زیادہ ہو جو انسان میں انقطاع کی حالت پیدا کر ے تو وہ اسی طرح گناہوں کی قوت جاذبہ سے نجات حاصل کر لے گا جس طرح خلائی شٹل کو قوت کے ذریعے زمین کے قوت جاذبہ سے دور کیا جاتا ہے۔ اسی صورت میں اس کا توسّل نتیجہ بخش ہو سکتا ہے۔


  حضرت عباس علیہ السلام کے حرم میں ایک پریشان لڑکی

جن موارد میں پریشانی اور بے چینی کی وجہ سے امید ٹوٹ  جائے توان حالات میں خاندان نبوت  علیھم السلام سے توسّل فوری اثر رکھتاہے۔

اس رو سے مکتب اہلبیت علیھم السلام کے پیروکار اور محب پریشانیوں اور مصیبتوں میں انہی ہستیوں کے دامن توسل سے متمسک ہوتے ہیں اور ان کے توسّل سے اپنی مشکلات حل کرتے ہیں ۔اب ہم ان توسّلات کی ایک بہترین مثال آپ کے لئے بیان کرتے ہیں:

قم کے ایک بزرگ نقل کرتے  ہیں:ایک دن میں حضرت ابا الفضل العباس علیہ السلام کے حرم میں زیارت کے لئے مشرّف ہوا ۔میں نے اچانک دیکھا کہ اعراب کی بہت زیادہ تعداد ایک لڑکی کے ساتھ حرم میں داخل ہوئے  اور حرم مطہر لوگوں سے کھچا کھچ بھر گیا تھا۔

اس لڑکی نے ضریح کو پکڑ رکھا تھا اور اس نے بلند آواز سے کچھ کلمات کہے۔تمام زائرین اس کی طرف متوجہ ہو گئے ۔میں  نے غور کیا کہ اچانک وہ لڑکی اور سب لوگ خاموش ہوگئے ہیں جیسے سب کی سانس رک گئی ہو ۔

ایک مرتبہ آواز بلند ہوئی جسے سب لوگوں نے سنا اور جس کا مضمون  یہ تھا کہ''میرا باپ میری ماں کا شوہر ہے''یہ آواز اس لڑکی کے شکم میں موجود بچے سے آرہی تھی۔اس کے بعد اچانک حرم کی فضا نعروں سے گونجنے لگی۔عورتیں اس لڑکی کی طرف بڑھیں اور کچھ نے اسے بڑی مشکلوں سے دوسری عورتوں سے چھڑا کر ایک کمرے میں لے آئیں جوحضرت عباس علیہ السلام کے آستانہ کے متولی کا مرکز تھا۔


اس کے بعد جب اس لڑکی کو لے گئے تو وہاں خلوت ہو گئی چونکہ میں حرم کے متولی سے آشنا تھا لہذا میں ان کے پاس گا اور ان سے اس واقعہ کے بارے میں پوچھاتو انہوں نے کہا:

یہ کربلا کے اطراف میں رہنے والے صحرا نشین عربوں کا ایک قبیلہ ہے۔انہوں نے اس لڑکی کی  شادی اس کے چچا زاد سے کی تھی لیکن چونکہ عقد کے زمانے میں یہ لوگ شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکی کے رابطیکو بہت برا مانتے ہیں ۔لیکن وہ جوان چھپ کر اپنی بیوی سے ملا اور اس سیتعلقات قائم کئے جس کی وجہ سے وہ لڑکی حاملہ ہو گئی اور وہ جوان ڈر کر بھاگ جاتا ہے اور لڑکی کا حمل آشکار ہوجانے تک چھپ جاتا ہے۔لڑکی کے گھر والے اس سے اس بارے میں پوچھتے ہیں تو وہ لڑکی یہی کہتی ہے کہ میں اپنے شوہر سے حاملہ ہوئی ہوں۔لیکن جب وہ اس لڑکے کو ڈھونڈ کر لاتے ہیں تو وہ خوف کی وجہ سے اس کا انکار کر دیتاہے ۔

لڑکی  کے رشتہ دار اسے قتل کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں ۔لڑکی بہت فریادا ور واویلا کرتی ہے کہ میں بے گناہ ہوں لیکن وہ اس کی ایک نہیں سنتے اورآخر میں وہ کہتے ہیں:

ہم حضرت اباالفضل العباس علیہ السلام کو حاکم قرار دیں  گے اور انہوں نے جو فیصلہ کیا ہم اسی پر عمل کریں گے ۔اس لئے وہ حرم میں مشرّف ہوئے اور حضرت عباس علیہ السلام کے معجزے کی وجہ سے ماں کے شکم میں موجود بچے نے اپنی ماں کے پارسا ہونے کی گواہی دی۔(1)

یہ ہزاروں معجزوں کا ایک چھوٹا سا نمونہ ہے جو خاندان نبوت علیھم السلام کے لطف و کرم اور عنایات کی وجہ سے رونما ہوا۔

--------------

[1] ۔ جامع الدرر:4082


 دوسرا نکتہ

ایک دوسرا قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ بعض توسّلات میں متوسّل ہونے والا نہ تو پاک روح کا مالک ہوتا ہے اور نہ ہی اضظرار ،مشکلات اور شدید پریشانیوں کی وجہ سے اس نے خود کو گناہوں کے جاذبہ سے آزاد کیا ہوتاہے لیکن ا ئمہ اطہار علیہ السلام اپنے علم و آگاہی سے اس کے ماضی یا مستقبل میں کچھ وجوہات(جو ہماری نظر میں نامعلوم ہوتی ہیں) کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسے افراد پر بھی نظر کرم کرتے   ہیں  اور ایک ہی لحظہ میں غموں کے پہاڑ سرسبز و شاداب گلستان میں تبدیل ہو جاتے ہیںکیونکہ وہ ایک ہی نظر میں ذرّے کو چمکتے سورج میں تبدیل کر سکتے ہیں۔

بہ ذرّہ گر نظر لطف بو تراب کند

بہ آسمان رود و کار آفتاب کند

اس نکتہ پر غور کرنے سے معلوم ہوتاہے کہ انسانوں کی ولایت و امامت ذمہ داری وہی لے سکتا ہے جو تمام جہات سے کام کے ہر پہلوؤں پر نظر رکھتا ہو اور اس پر مکمل مسلط ہو ۔اس صورت میں وہ خاک کے ذرّات کو بھی تابناک گوہر میں بدل سکتے ہیں ورنہ صرف کھوکھلے دعووئں سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

 عالم غیب سے مدد

بہت سے موارد میں اضطراری مسائل کوختم کرنے کے لئے عالم غیب سے مدد لینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔کیونکہ جب چاقو ہڈی تک پہنچ جائے تو تمام مادّی وسائل عاجز ہو جاتے ہیں


 اس صورت میں کس طرح مادّی طاقت سے اس کا راہ حل تلاش کیا جا سکتاہے  جب کہ مادی توانائی اپنے عجز و ناتوانی کا اظہار کر چکی ہے؟

ایسے موارد میں مشکلات کو رفع کرنے کے لئے عالم غیب سے مدد مانگنی چاہے اور عظیم الٰہی غیبی طاقتوں سے مشکلوں کو حل کریں۔

ایسے موارد میں خاندان وحی علیھم ا لسلام (جو مخلوق پر  خدا کے جانشین ہیں)کے ذریعے توسّل عالم غیب سے مدد لینے کا بہترین نمونہ ہے۔

ایسے موارد میں کچھ لوگ ''یا علی ،یا حسین ''کہنے یا پھر ''یا صاحب الزمان''کہنے سے اسے اپنے اضطراب وبے چینی کو رفع کرتے ہیں اور ان ناموں کے وسیلے سے خدا سے ارتباط پیدا کرکے اپنی  حاجتوں تک پہنچتے ہیں۔

تا دلی آتش نگیدر،حرف جانسوزی نگوید

حال ما خواھی بیا از گفتۂ ما جستجو کن

اس بناء پر توسل کے معنی خدا کے ساتھ ارتباط کا وسیلہ تلاش کرنا ، مشکلوں کی چارہ جوئی کرنا اور مادّی معنوی پریشانیوں  کا راہ حل تلاش کرناہے۔اہلبیت علیھم السلام کے پیروکار پوری طول تاریخ میں انبیاء و پیغمبروں سے لے کر ایک عام انسان تک اور ابتدائے خلقت سے روز قیامت تک خدا کے تقرب کے لئے اور اپنی مشکلوں کی چارہ جوئی کے لئے ان ہستیوں سے متوسل ہوتے ہیں۔


 علمی مشکلات کو حل کرنے کے لئے توسّل

بزرگ لوگ مجہولات کو کشف کرنے اور علمی مشکلات کو حل کرنے کے لئے توسّل کرتے ہیں تاکہ خاندان وحی علیھم السلام کے معنوی فیض سے اپنی علمی مشکلات کی گرہیں سلجھائیں۔

اس کے نمونہ کے طور پر مرحوم سید علی(صاحب شرح کبیر)کاواقعہ ذکر کرتے ہیں ۔ بہت سے عرب اور عجم علماء ان کے شاگرد ہیں۔یہ بزرگ عالم دین علم و فقہ و اصول میں بہت مہارت رکھتے تھے لیکن علم ہیئت سے بے خبر تھے۔اسی لئے کتاب شرح کبیر لکھتے وقت  قبلہ کی بحث میں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ قبلہ کی بحث علم ہیئت سے مربوط ہے ۔انہوں نے اپنے ایک شاگرد(جو علم ہیئت میں ماہر تھا ) سے قبلہ کی بحث سے مربوط علم ہیئت کے ضروری مسائل سیکھنا چاہے تا کہ وہ کتاب شرح کبیر میںمکمل طور پر قبلہ کی بحث ذکر کر سکیں۔لیکن شاگرد نے استاد کے احترام کو ملحوظ نہ رکھا اوراس نے استاد کی درخواست کا جواب یوں دیا:جس طرح ہم کتاب بغل میں دبائے آپ کی خدمت میں آتے ہیں اور آپ کے سامنے زانوئے ادب طے کرتے ہیں اسی طرح آپ بھی کتاب بغل میں دبائے میرے گھر تشریف لائیں  تا  کہ آپ علم ہیئت کے مسائل سیکھ سکیں!

استاد کو شاگرد سے اس تند جواب کی توقع نہیں تھی لہذ وہ اپنی علمی مشکل حل کرنے کے لئے حضرت امام حسین علیہ السلام سے متوسل ہوئے  اسی لئے وہ اسی رات حرم مطہر میں متوسّل ہوئے اور صبح تک خدا کی عبادت انجام دی اور سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام سے اپنی علمی مشکلات کو رفع کرنے ے لئے درخواست کی ۔ان کے اسی توسّل کی وجہ سے اسی دن کی صبح ان کی وہ تمام علمی مشکلات حل ہو گئیں جن کی انہیں ضرورت تھی ۔ پھر انہوں نے کتاب شرح کبیر میں قبلہ کی بحث ماہرانہ طریقے سے تحریر کی۔(1)

--------------

[1]۔ تذکرة العلماء مرحوم تنکابنی:104


 توسّل سے دوری، گناہ کی علامت

اہلبیت عصمت علیھم السلام سے توسّل کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ بعض روایات میں فرمایا گیا ہے :خدا کی اطاعت کا وسیلہ فراہم نہیں ہوسکتا مگر جب تک انسان ان معصوم ہستیوں کے دامن ولایت سے متمسک نہ ہو۔

امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''وَلاٰ یَقْبَلُ تَوْحِیْدَهُ اِلاّٰ بِاعْتِرٰافِ لِنَبِیِّهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَآلِهِ بِنُبُوَّتِهِ وَلاٰ یَقْبَلُ دِیْناً اِلاّٰبِوِلاٰیَةِ مِمَّنْ أَمَرَ بِوِلاٰیَتِهِ ، وَلاٰ یَنْتَظِمُ اَسْبٰابَ طٰاعَتِهِ اِلاّٰ بِالتَّمَسُّکِ بِعِصَمِهِ  وَ عِصَمِ أَهْلِ وِلاٰیَتِهِ'' (1)

خداوند کسی کے عقیدۂ توحید کو قبول نہیں کرتا مگر یہ کہ اس کے ساتھ ساتھ پیغمبر اکرم(ص) کی نبوت کا اعتراف کیا جائے اور کسی دین کو قبول نہیں کرتا مگر اس کی ولایت کے ساتھ کہ جس کی ولایت کو قبول کرنےکا حکم دیا گیا ہو اور خدا کی اطاعت کا وسیلہ فراہم نہیں ہوتا مگر خداکی عصمت اور اس کے صاحبان ولایت سے تمسک کر ذریعے۔

اس فرمان میں امیر المؤمنین علیہ السلام خدا کی اطاعت کے اسباب کی فراہمی کو اسی صورت میں ممکن سمجھتے ہیں کہ جب انسان خدا اور اولیائے خدا کی عصمت سے متمسک ہو۔لیکن اگر انسان ان ہستیوں کی طرف متوجہ نہ ہو تو خدا کے احکامات کی اطاعت کا وسیلہ مہیا نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ بزرگ ہستیاں خالق و مخلوق کے درمیان فیض کا واسطہ ہیں۔

اس روایت کی بناء پر گناہگاروں کے گناہ کی اہم  علت اہلبیت علیھم السلام سے توسّل و تمسک کسے دوری ہے۔ پس اگر توسّل کو ترک کر دیں تو شیطان کے جال میں پھنس کر معصیت کے مرتکب ہوں گے  اور یہی گناہوں کی علامت ہے۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج97ص114


 نتیجہ ٔبحث

توسّل کثافت قلبی کو پاک کرتا ہے اور غافل دلوں میں خداکی یاد پیدا کرتا ہے ۔ جب مختلف قسم کے فتنہ وفساد انسانوں کو گرداب میں مبتلا کر دیں تو اہلبیت علیھم السلام سے توسّل  کشتینجات کی طرح انہیں ساحل پر پہنچاتے ہیں۔

اگر خدا کا قرب حاصل کرنا چاہتے ہیں خدا کے سامنے آبرومند ہونا چاہتے ہیں تو توسّل ہی آپ کو اس ہدف تک پہنچا سکتا ہے۔

اہلبیت علیھم السلام کی نسبت سے ہمارے اہم ترین اعتقادی مسائل جیسے ان کا ایمان و یقین ، علم و آگاہی  اور ان کی قدرت و ولایت توسّل کے مسئلہ میں ہی پوشیدہ ہے۔

عالی ترین اخلاقی مسائل جیسے تطہر قلب، تمرکز فکر وغیرہ توسل سے ہی حاصل ہوتے ہیں۔

مشکل ترین شخصی مسائل کو خاندان نبوت علیھم السلام کے توسّل سے حل کئے جاسکتے ہیں کیونکہ یہ یہی ہستیاں خدا کی جانشین اور ولایت مطلقہ کی مالک ہیں۔

خاندان وحی علیھم السلام سے توسّل کرنا خدا کی اطاعت کرنے اور گناہوں کو ترک کرنے کا وسیلہ مہیا کرتا ہے ۔ اس طریقے سے خدا  کی قدرت سے مدد لی جا سکتی ہے۔

آنان کہ خاک را بہ نظر کیمیا کند

آیا شودکہ گوشۂ چشمی بہ ماکند


ساتواں باب

محبت اہلبیت علیہم السلام

حضرت امیر المو منین  علی  علیہ  السلام  فرماتے ہیں :

''أَحْسَنُ الْحَسَنٰاتِ حُبُّنٰا وَ أَسْوَئُ السَیِّئٰاتِ بُغْضُنٰا''

بہترین نیکیاں ہماری (خاندان نبوت علیھم السلام) محبت ہے اور بدترین برائیاں، ہم سے دشمنی  ہے۔

    محبت کی کشش    خاندان وحی علیھم السلام کی محبت

    آسمانی موجودات اور خاندان وحی علیھم السلام کی محبت    تقرّب خدا کے کیا آثار ہیں؟

    اہلبیت علیھم السلام کی اپنے دوستوںسے محبت

    خاندان نبوت علیھم السلام کے محبوں کی ذمہ داری

    1۔ مودّت پیدا کرنا

    2۔ اہلبیت علیھم السلام کے محبوں سے محبت

    3۔ اہلبیت علیھم السلام کے دشمنوں سے بیزاری

    4۔ خاندان وحی کی پیروی

    5۔ دوسرں کے دل میں اہلبیت علیھم السلام کی محبت کو تقویت دیں

    سچی محبت

    جھوٹی محبتیں

    نتیجۂ بحث


 محبت کی کشش

محبت اپنی کشش کی وجہ سے محبت کرنے والے کو اپنے محبوب کی طرف  مائل کرتی ہے اور اس کے افکار و عقائد محب کے دل میںڈال دیتیہے۔اس بناء پر محبت جتنی زیادہ ہوگی محبت کرنے والے اور محبوب کے درمیان روحانی مماثلت بھی اتنی ہی زیادہ ہو گی۔

اس بناء پر اگر محبت زیادہ ہو تو میں ایسی کشش پیدا ہو جاتی ہے جو محبوب اور محب کو ایک دوسرے کی طرف کھینچتی ہے اور ان میں سے ہر ایک کے حالات ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔جیسے دو جڑواں بھائیوں میں زیادہ محبت ہوتی ہے اور دونوں کا بہت قریبی واسطہ ہوتا ہے اور وہاں پر حالات کاایک دوسرے پر زیادہ اثرانداز ہونا بہتر طریقہ سے دکھائی دیتا ہے۔

چند سال پہلے لندن میں رہنے والی ایک لڑکی کو تکلیف کااحساس ہوا ۔وہ اس قدر درد محسوس کر رہی تھی کہ اس کی حالت کو دیکھ کر ڈاکٹروں نے یہ تشخیص دی کہ یہ درد وضع حمل کی علامت ہے ۔ اسے ہسپتال میں داخل کر لیا گیا ۔لیکن تحقیق کے بعد پتا چلاکہ اس کی ابھی تک شادی نہیں ہوئی!!اور پھر ٹیسٹ کے ذریعے پتہ چلا کہ وہ حاملہ بھی نہیں ہے۔لیکن وہ ابھی تک  ہسپتال کے بستر پر درد سے کراہ  رہی تھی  اور اس کا پورا بدن پسینے میں شرابور تھا۔

ڈاکٹروں کے کئی گھنٹوں کی کوششوں کے بعد  بالآخر اسے کچھ سکون  محسوس ہوا اور وہ مسکرائی اور پھر کہنے لگی:اب مجھے آرام ہے ۔مولود بیٹاہے!


ڈاکٹروں نے سوچا کہ شاید ان کا واسطہ کسی پاگل لڑکی سے پڑا ہے لیکن بعد میں وہ متوجہ ہوئے  کہ اس مں دیوانگی اور پاگل پن کی علامات نہیں ہیں۔

اس کے بعد معلوم ہوا کہ عین اسی وقت جب وہ لندن میں درد کی وجہ سے ہسپتال گئی تھی اس کی جڑواں بہن آسٹریا کے شہر ''وین''میں  وضع حمل کے درد کی و جہ سے ہسپتال  میںداخل ہوئی تھی  اور چند گھنٹوں کے بعد اس نے ایک بچے کو جنم دیا تھا۔(1)

ایسے حالات لوگوں میں بہت زیادہ محبت کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔کبھی بہت شدید محبت کی وجہ سے محب مادّی  قیدوں کو پیچھے چھوڑ  کر میلوں  دور اپنے محبوب تک پہنچ جاتا ہے ۔جس طرح کبھی بھی بخار کی حرار ت جسم سے روح کے نکل جانے اور نامرئی مسائل کو درک کرنے کا سبب بنتا ہے۔اسی طرح محبت کیگرمی محبت کرنے والے  کو عالمِ ظاہر سے نکال کر محبوب تک پہنچا دیتی ہے۔

محبوب تک پہنچنا اور اس کا دیدار کرنا اس جذبہ اور کشش کی وجہ سے ہوتاہے جو محبت کی شدّت سے  پیدا ہوتاہے۔

کبھی محبت ان کی علمی مجہولات کو کشف کرنے کا باعث بنتی ہے کیونکہ دانشوروں کا مجہولات کو کشف کرنے کے لئے شدید محبت و رغبت انہیں ان کے مقصد تک پہنچانے کا باعث بنتی ہے۔

 واضح الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے: شدید محبت و رغبت انہیں دقیق علمی مسائل کو سلجھانےمیں مدد کرتی ہے جس کے نتیجے میں وہ مجہولات کو کشف کرنے اور اپنی جستجو میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔

--------------

[1]۔ عجائب حسّ ششم:34


 خاندان وحی علیھم السلام کی محبت

محبت اور دوستی میں موجود ایسے حیات بخش آثار کی وجہ سے انسان کو چاہئے کہ وہ اپنی محبت کو صحیح سمت دے اور بہترین مقصد کی طرف اس کی رہنمائی کرے ۔اسی وجہ سے پیغمبر اکرم(ص) نے انسان کی دوستی و محبت کو اہلبیت علیھم السلام کی طرف متوجہ کیا ہے تاکہ اس ذریعے سے افراد کی آلودگیوں کو پاک کیا جا سکے اور ان میں اچھی عادتیں اور خوبیاں پیدا ہو سکیں  جو انہیں خدا کا مقرّب بنائے۔

کیونکہ پیغمبر اکرم(ص) اور اہلبیت اطہار علیھم السلام کی محبت خدا کا تقرّب حاصل کرنے کے لئے بہت مؤثر ہے۔روایات میں اہلبیت عصمت و طہارت علیھم السلام کی محبت کو خدا کے تقرب کا بہترین ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔

ایک روایت میں پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:

''لِکُلِّ أَمْرٍ سَیِّد وَحُبِّْ وَ حُبُّ عَلِی  علیه السلام سَیِّدُ مٰا تَقَرَّبَ بِهِ الْمُتَقَرِّبُوْنَ مِنْ طٰاعَةِ رَبِّهِمْ'' (1)

ہر چیز کا ایک سردار ہے ،اور میری اور علی علیہ السلام کی محبت ان چیزوں کی سردار ہے کہ جن کے ذریعے تقرب حاصل کرنے والے مقرب ہوتے ہیں جو کہ پروردگار کی اطاعت ہے۔

یہ روایت اس چیز کی واضح دلیل ہے کہ خاندان  نبوت علیھم السلام کی محبت  خدا کے احکام کی اطاعت اوراس کے تقرب کا ذریعہ ہے ۔

--------------

[1] ۔ بحار الانوارج:27ص129


پیغمبر اکرم (ص) ایک دوسری روایت میں فرماتے ہیں:

''حُبُّ عَلِّیِ بْنِ اَبِیْ طٰالِبٍ یُحْرِقُ الذُّنُوْبَ کَمٰا تُحْرِقُ النّٰارُ اَلْحَطَبَ'' (1)

حضرت علی بن ابیطالب علیہ السلام کی محبت کناہوں کو اس طرح راکھکر دیتی ہے جس طرح آگ لکڑی کو جلا دیتی ہے۔

اس بناء پر مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام کی محبت گناہوں کے وجود کو جلا دیتی ہے اور آپ کی دوستی گناہوں کے پہاڑ کو ایک ڈرّے میں  بدل دیتی ہے  اور اسے انسان کے وجود سے نکال کر نیست و نابود کر دیتی ہے۔

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی محبت نہ صرف گذشتہ گناہوں  کے آثار ختم کر دیتی ہے بلکہ یہ ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح انسان کو گناہ انجام دینے سے روکتی ہے۔محمد و آل محمد علیھم السلام سے محبت کے ذریعے آپ خود کو گناہوں سے بچا سکتے ہیں۔

رسول اکرم(ص) فرماتے ہیں:

''أَلاٰ وَ مَنْ أَحَبَّ عَلِیًّا لاٰ یَخْرُجُ مِنَ الدُّنْیٰا حَتّٰی یَشْرِبَ مِنَ الْکَوْثَرِ وَ یَأْکُلَ مِنْ طُوْبٰی وَ یَرٰی مَکٰانَهُ فِی الْجَنَّةِ'' (2)

جان لو! جو علی علیہ السلام سے محبت کرے وہ دنیا سے نہیں جائے گا مگریہ کہ وہ آب کوثر پی لے اور طوبی سے کھالے ا و ر جنت میں  اپنی جگہ دیکھ لے۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج39ص266

[2]۔ سفینة البحار،مادۂ حبب


ہمیں خدا سے یہی دعا کرنی چاہئے کہ ہماری زندگی کے آخری لمحہ تک محبت اہلبیت علیھم السلام ہمارے دلوں میں باقی رہیتا کہ ہم آخری لمحوں میں اس لطف و کرم کے بھی شاہد بنیں جن کا انہوں نے وعدہ فرمایا ہے۔

حضرت امام حسین علیہ السلام کی ایک زیارت میں آیا ہے:

''أَللّٰهُمَّ ثَبِّتْنِْ مَحَبَّةِ أَوْلِیٰائِکَ'' (1)

جب محبت اہلبیت علیھم السلام کا دم بھرتے ہوئے ہماری جان نکلے گی  تو موت کا پہلالمحہ ہی وہ لمحہ ہو گا کہ جب ہم ان کی محبت و عظمت اور جلال کے آثار (جو ایمان و تقوی ٰ کی علامت ہے)کو بخوبی دیکھیں گے۔  انشاء اللہ۔

چند روایات میں اہلبیت نبوت علیھم السلام سے محبت کو ایمان کی جڑ اور بنیادقرار دیا گیا ہے،جس طرح ان سے دشمنی اور بغض کو کفر و نفاق قرار دیا گیا ہے۔

پیغمبر اکرم(ص) نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا:

''یٰا عَلِّیُ حُبُّکَ تَقْویٰ وَ اِیْمٰانوَ بُغْضُکَ کُفْر وَ نِفٰاق'' (2)

اے علی! آپ  کی محبت تقویٰ و ایمان ہے اور آپ کی دشمنی کفر و نفاق ہے۔

جو کوئی امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے دشمنی کرے وہ ہمارے مکتب کی نظر میں کافر اور خدا کے منکروں کے زمرے میں آتا ہے۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج101ص232 اور 357،مصباح الزائر:116

[2] ۔ ۔حار الانوار:ج39ص263


آن راکہ دوستی علی نیست،کافر است

گو  زاھد زمانہ  و گو  شیخ  راہ  باشد

اسی طرح جن کے وجود میں امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی محبت رچ بس چکی ہو ،وہ تقویٰ و ایمان سے سرشار ہوتے ہیں۔

جی ہاں!حبّ و بغض کے ایسے ہی بنیادی اثرات ہوتے ہیں:

خواھی کہ زدوزخ برھانی دل و تن               اثنی عشری شو و گزین مذھب من

ایشان سہ محمدندو چھار ست علی          با موسی جعفر و حسین  و دو حسن

ایک روایت میں حضرت امام رضا علیہ السلام اپنے آباء و اجداد سے اور وہ رسول اکرم(ص) سے روایت   کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:''حُبُّنٰا أَهْلُ الْبَیْتِ یُکَفِّرُ الذُّنُوْبَ وَ یُضٰاعِفُ الْحَسَنٰاتَ'' (1)

ہم اہلبیت علیھم السلام کی محبت گناہوں کا کفارہ ہے اور نیکیوں کو کئی گنا زیادہ کر دیتی ہے۔

کیونکہ محبت اکسیر ہے جس میں توڑ دینے اور نابود کر دینے کی طاقت پائی جاتی ہے اور گناہوں کے آثار کوختم کر دیتی ہے  ور انہیں نیکیوں میں تدبیل کر دیتی ہے ،  جس طرح شنجرف(2) تانبے کو سونے میں تبدیل کر دیتی ہے اسی وجہ سے محبت کو ''اکسیر روح ''کہا گیا ہے کیونکہ آلودہ روح  جو گناہوں کی وجہ سے خدا سے دور ہوگئی ہے ،وہ اہلبیت علیھم السلام کی محبت جو دلوں کو جلا دینی والی اور مردہ دلوں کو زندہ کرنے والی ہے  ،اپنے تقرب کو واپس پا لیتی ہے اور گناہوں کو ترک کرکے خدا کی مقرّب بن جاتی ہے۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج6۸ص۱۰۰،امالی شیخ طوسی:ج۱ص۱66

[2]۔ ایک سرخ معدنی چیز


کیونکہ جو دل امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام  اور خاندان نبوت علیھم السلام کی محبت سے سرشار ہو اس میں گناہ کیلئے کوئی جگہ باقی نہیں رہتی بلکہ اگر اس میں محبت کا اضافہ ہو جائے تو وہ ہر اس گناہ کو نیست و نابود کر سکتے ہے جسے محب نے ماضی میںانجام دیا ہو اور وہ اسے مستقبل میں گناہ انجام دینے سے روکتی ہے ۔کیونکہ گناہوں کو انجام نہ دینا ان کے آثار و اثرات کو برطرف کرنے کی بنسبت زیادہ آسان ہے۔

اس کا سرّ و راز یہ ہے کہ جو مکمل طور پر اہلبیت عصمت و طہارت علیھم السلام کا محب اور پیروکار ہو ،وہ خدا کا محبوب اور مقرب ہے اور جب انسان خدا کا محبوب اور مقرب بن جائے تو وہ خدا کی پناہ میں آجاتاہے یعنی خدا اس کے اور گناہ کے درمیان فاصلہ پیدا کر دیتاہے  اور اسی طرح خداوند اس سے جس کام کی انجام دہی چاہتا ہے ،اسے وہ کام انجام دینے کی قدرت و طاقت عطا کرتاہے اور اسے وہ عمل انجام دینے میں کامیاب فرماتاہے۔''لاحول ولا قوّة الا باللّه'' کے یہی معنی ہیں ۔اسی لئے بعض خاندان نبوت علیھم  السلام سے محبت و دوستی کو سیر و سلوک کی مؤثر ترین راہ قرار دیتے ہیں۔

اسی لئے ایک مفصل روایت جس کو مرحوم علامہ مجلسی  نے بحار الانوار کی جلد 70 صفحہ 25 میںحضرت امام صادق علیہ السلام سے ذکر کیاہے ،کی بناء پر محب (اگر محبت کے عالی درجوں تک پہنچ جائے)نے اگرچہ علماء کی راہ،حکماء کی سیرت اور صدیقین کا طریقہ طے نہیں کیا ہوتا  اور اس کی روش ان کی روش سے مختلف ہو لیکن پھر بھی جو نتائج علمائ،حکماء اور صدیقین کو حاصل ہوتے ہیں وہ اسے بھی حاصل ہوتے ہیں۔

ایسے آثار اسی صورت میں ہو سکتے ہیں کہ جب محبت بہت شدیدہو نہ کہ وہ اہلبیت علیھم السلام کے عام محبوں جیسی  محبت  ہو۔یہ محبت ایسی اہمیت کی حامل ہے کہ اس روایت میں حضرت امام صادق علیہ السلام نے تصریح فرمائی ہے کہ ایسی محبت نہ صرف سیر و سلوک کا بہترین طریقہ ہے بلکہ یہ وہ واحد راستہ ہے کہ جس میں کوئی خطرہ نہیں ہے حلانکہ اس روایت کی رو سے حکماء ،علماء اور صدیقین کی روش ایسی نہیں ہے۔


حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

''اِنَّ الْحُکْمٰاء وَرَثُوا الْحِکْمَةَ بِالصُّمْتِ،وَ اِنَّ الْعُلْمٰاءَ وَرَثُوا الْعِلْمَ بِالطَّلَبِ وَ اِنَّ الصِّدِّیْقینَ وَرَثُوا الصِّدْقَ بِالْخُشُوْعِ وَ طُوْلِ الْعِبٰادَةِ فَمَنْ أَخَذَهُ بِهٰذِهِ الْمَسِیْرَةِ اِمّٰا اَنْ یَسْفَلَ وَ اِمّٰا اَنْ یَرْفَعَ وَ أَکْثَرَهُمُ الَّذِْ یَسْفَلُ وَلاٰ یَرْفَعُ ،اِذٰا لَمْ یَرْعَ حَقَّ اللّٰهِ وَ لَمْ یَعْمَلْ بِمٰا أَمَرَ بِهِ ،فَهٰذِهِ صِفَةُ مَنْ لَمْ یَعْرِفِ اللّٰهُ حَقَّ مَعْرِفَتِهِ وَ لَمْ یُحِبُّهُ حَقَّ مَحَبَّتِهِ،فَلاٰ یَغُرَّنَّکَ صَلاٰتُهُمْ وَ صِیٰامُهُمْ وَ رَوٰایٰاتُهُمْ وَ عُلُوْمُهُمْ ،فَاِنَّهُمْ حُمُر مُسْتَنْفِرَة'' (1)

حکماء نے حکمت خاموشی کے ذریعے ،علماء نے علم طلب کے ذریعے اور صدیقین نے صداقت خشوع  اور طولانی عبادات کے ذریعے حاصل کی ۔پس جو بھی اس راستہ کو طے کرے یا وہ تنزلی کی طرف جائے گا یا پھر  ترقی کرے گا  اور ان میں سے اکثر اگر خدا کے حق کی رعایت نہ کریں  اور جس کا   حکم دیاگیا ہے اس پر عمل نہ کریں تو وہ تنزلی کی طرف جائیں گے اور یہ ان کی خصلت ہے جنہوں نے حقیقت میں خدا کو نہیں پہچانا اور اس سے اس طرح محبت نہیں کی جس طرح محبت کرنے کا حق تھا ۔پس ان کی نماز، روزے اور روایات و علوم تمہیں دھوکا نہ دے دیں ،وہ حماران وحشی ہیں!

جیسا کہ اس روایت میں بھی تصریح ہوئی ہے کہ علماء و حکماء اور صدیقین کو مورد انتقاد قرار دیا گیا ہے کہ انہوں نے حقیقت میں خدا کو نہیں پہچانا اور انہوں نے حقیقت میں خدا کی محبت کو اپنے دل میں جگہ نہیں دی۔

اگر محب مقام محبت میں عالی مراحل تک پہنچ جائے  اور اپنے دل (جو حرم اللہ ہے)کو خدا اور اہلبیت علیھم السلام کی محبت سے بھر لے  تو جب تک اس کے دل میں ان کی محبت کی شدت باقی رہے گی تب تک تنزلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔

  محبین (محبت کرنے والے)کی تنزلی صرف اس وقت ممکن ہے جب وہ خود محبت کو ہاتھ سے دے بیٹھیں ورنہ جب تک محب کے دل میں محبت موجود ہو  وہ ترقی و تکامل کی راہ پر گامزن ہو گا نہ کہ ترقی و سقوط کی جانب۔

--------------

[1]۔ بحار الانوارج۷۰ص۲۵


اس نکتے کا راز یہ ہے ،جیسا کہ ہم نے کہا: محبت اور شدید شوق مقناطیس کی طرح ہے اور جب تک محبت موجود ہو وہ محب کو محبوب کی طرف کھینچتی ہے اور جب وہ محبوب کی طرف مائل ہو جائے تو اس میں سنخیت پیدا ہو جاتی ہے اور  محب میںمحبوب کی صفات و آثار پیدا ہو جاتی ہیں۔اسی لئے اس روایت میں خدا اور اولیائے خدا کی محبت کوسیر و سلوک  میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے لئے سب سے بہترین اور محفوظ راستہ  بتایاہے۔

بعض دوسری روایات میں بھی محبین دوسرے تمام افراد پر مقدم ہیں۔جس طرح حضرت داؤد علیہ السلام کے اخبار میں آیا ہے کہ خدا نے فرمایاہے:

''مٰا أَحَبَّنِْ أَحَد أَعْلَمُ ذٰلِکَ یَقِیْنًا مِنْ قَلْبِهِ اِلاّٰ قَبِلْتُهُ لِنَفْسِْ وَ أَحْبَبْتُهُ حَبًّا لا یَتَقَدَّمُهُ أَحَد مِنْ خَلْقِْ ،مَنْ طَلَبَنِْ بِالْحَقِّ وَجَدَنِْ وَمَنْ طَلَبَ غَیْرِیْ لَمْ یَجِدْنِیْ...'' (1)

مجھے کوئی دوست نہیں رکھتا کے جس کے بارے میں میں یہ جانو کہ واقعاً یہ محبت اس ے دل  سے پھوٹ رہی ہے مگر یہ کہ اسے میں اپنے لئے قبول کر لوں اور اسے دوست رکھوں گا۔اس طرح سے کہ میری مخلوق میں سے کوئی بھی اس پر مقدم نہیںہو گا۔جو مجھے حقیقت میں طلب کرے وہ مجھے پا لیتا ہے اور جو میریغیر کو طلب کرے  میں اسے نہیں ملتا۔

اس حدیث قدسی سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ جنہیں امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف (جو خدا کے نمائندہ ہیں)اپنی خدمت کے لئے قبول فرما لیں اور انہیں لوگوں میں سے اپنی مصاحبت کی نعمت سے مشرّف فرمائیں اور دوسروں پر مقدم کریں ،وہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو راہ محبت میں سب لوگوں پر مقدم ہوں اور محبت کے عالی ترین درجوں پر فائز ہوں۔

--------------

[1]۔ بحار الانوارج۷۰ص۲6


  آسمانی موجودات اور خاندان وحی علیھم السلام کی محبت

بزرگ لوگوں کی عظمت ہی نہیں  بلکہ کائنات   میں تما شرفاء کی شرافت و عزت اہلبیت علیھم السلام کی محبت کی وجہ سے ہے حتی خدا کی بارگاہ کے مقرّب ملائکہ نے اپنی شرافت اور عزت محبت اہلبیت علیھم السلام کی وجہ سے حاصل کی ۔

حضرت رسول اکرم(ص) فرماتے ہیں:

''هَلْ شَرَفَتِ الْمَلاٰئِکَةُ اِلاّٰ بِحُبِّهٰا لِمُحَمَّدٍوَ عَلٍِّ وَ قَبُوْلِهٰا لِوِلاٰیَتِهِمٰا؟'' (1)

کیا ملائکہ کی شرافت ان کی محمد و علی علیھما السلام سے محبت اور ان دونوں کی ولایت کو قبول کرنے کے علاوہ کسی اور وجہ سے ہے؟

یہ فرمان اس بات پر واضح دلالت کرتاہے کہ ملائکہ کی شرافت اور عزت اس محبت کی وجہ سے ہے جو ان کو پیغمبر اکرم(ص) اور امیرالمؤمنین علیہ السلام سے ہے۔

آئینہ مھر روشن از یاد علی است

او راد ملک بر آسمان ناد علی است

اگرچہ یہ روایت ملائکہ کے بارے میں ہے لیکن دوسری روایتیں اس حقیقت کی شاہد ہیں کہ تمام اہل آسمان( چاہئے وہ ملائکہ ہوں یا کوئی اور ) خاندان وحی علیھم السلام کے محب ہیں اور انہی کی محبت کی وجہ سے وہ خدا کے اور زیادہ مقرّب ہو جاتے ہیں۔

--------------

[1] ۔ بحار الانوار:ج۲۱ ص۲۲۷، تفسیر امام حسن عسکری علیہ السلام:152


کیونکہ جیسا کہ ہم نے کہا محبت ، محبوب کی صفات محب میں جلوہ گر کر دیتی ہیں اور اہلبیت عصمت و طہارت علیھم السلام کی ایک صفت ان کی خداوند متعال سے قربت ہے۔اسی رو سے آسمانی موجودات و مخلوقات ان ہستیوں کی محبت کو ہی خدا کے تقرّب کا ذریعہ سمجھتی ہیں۔

اہلبیت اطہار علیھم السلام سے روایت ہونے والی ایک زیارت جامعہ میں پڑھتے ہیں:

''یَتَقَرَّبُ أَهْلُ السَّمٰاءِ بِحُبِّکُمْ وَ بِالْبَرٰائَةِ مِنْ أَعْدٰائِکُمْ'' (1)

اہل آسمان آپ کی محبت اور آپ کے دشمنوں سے دوری اختیار کرنے کی وجہ سے (خداکا) تقرب حاصل کرتے ہیں۔

اوصاف علی است کہ انتھایش نبود                مدّاح علی  بہ جز خدایش  نبود

تاحشر''ادیب'' اگر ز وصفش خوانی      یک حرف ز دفتر ثنایش نبود

  تقرّب خدا کے کیا آثار ہیں؟

اب ہم  تقرّب الٰہی کی وجہ سے پیدا ہونے والے بعض حیرت انگیز اور اہم آثار بیان کرتے ہیں:

خدا اور اہلبیت علیھم السلام کے تقرب کی نشانیوں میں سے ایک باطنی آنکھوں اور کانوں کا فعال ہو جانا اور روحانی و معنوی توانائیوں کا حصول ہے ۔کیونکہ جب انسان خدا سے  معنوی تقرب کی وجہ سے ترقی و پیشرفت کرتا ہے توخدا کی محبت کے زیر سایہ آ جاتا ہے اور خدا کا محبوب بن جاتا ہے اور جب انسان خدا کا محبوب بن جائے تو اسے معنوی قدرت حاصل ہو جاتی ہے۔

--------------

[1] ۔ بحار الانوار:ج102ص164، مصباح الزائر:239


حضرت امام صادق علیہ السلام پیغمبر اکرم(ص) سے روایت فرماتے ہیں کہ خدا نے فرمایا ہے:

''مَنْ أَهٰانِ لِی وَلِیّاً فَقَدْ أَرْصَدَ لِمُحٰارَبَتِْ،وَمٰا تَقَرَّبَ اِلََّ عَبْد بِشَْئٍ أَحَبَّ اِلََّ مِمّٰا افْتَرَضَتْ عَلَیْهِ ،وَاِنَّهُ لَیَتَقَرَّبُ اِلَیَّ بِالنّٰافِلَةِ حَتّٰی اُحِبَّهُ فَاِذٰا أَحْبَبْتُهُ ،کُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِیْ یَسْمَعْ بِهِ وَ بَصَرَهُ الَّذِیْ یَبْصُرُ بِهِ وَ لِسٰانَهُ الَّذِیْ یَنْطِقُ بِهِ وَ یَدَهُ الَّتِ یَبْطُشُ بِهٰا،اِنْ دَعٰانِْ أَجَبْتُهُ وَ اِنْ سَأَلْتَنِْ أَعْطَیْتُهُ'' (1)

کوئی بھی بندہ مجھ سے اس چیز کے ذریعے مقرب نہیں ہو سکتا جو میرے نزدیک ان واجبات سے زیادہ محبوب ہو جو میں نے اس پر واجب کی ہیں اور وہ نوافل کے ذریعے میرا مقرب ہوتاہے تا کہ وہ میرا محبوب بن جائے اور جب میں اسے دوست رکھتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتاہے اور اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں  جس سے وہ دیکھتا ہے  ، اس کی زبان  جاتا ہوں  جس سے وہ بولتاہے اور اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں  جس سے وہ اعمال قدرت کرتا ہے۔اگر وہ مجھے پکارے تو میں اس کا جواب دوں گا اور اگر مجھ سے کسی چیز کی درخواست کرے تو اسے وہ عطاکروں گا۔

        اس حدیث میں  ذکر ہونے والے تمام امور خدا کے تقرّب کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں ۔اس بناء پر آسمانی آوازوں کو سننا ، ملکوتی چہروں کو  دیکھنا، اسرا رو رموز الٰہی کو جاننا،مشکل امور کودست قدرت حق سے انجام دینا، دعاؤں کا مستجاب ہونا، یہ سب ایسی عنایات ہیں جو بارگاہ خدا اور اہلبیت اطہار علیھم السلام کے مقرّب افراد  اور ان  لوگوں کے شامل حال ہوتی ہیں جن سے خدا واہلبیت علیھم السلام محبت کرتے ہوں۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج75ص155، اصول کافی:3522


  اہلبیت علیھم السلام کی اپنے دوستوںسے محبت

ہم اپنے دلوں میں محبت اہلبیت علیھم السلام رکھتے ہیں اور یہی محبت ان ہستیوں کے قلوب میں بھی ہوتی ہے کیونکہ جو لوگ خاندان نبوت علیھم السلام کے محب ہیں وہ ان بزرگوار ہستیوں کے محبوب بھی ہیں۔

حبیش بن معتمر کہتے ہیں: میں امیر المؤمنین حضرت علیعلیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا:

''اَلسَّلاٰمُ عَلَیْکَ یٰا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ رَحْمَةُ اللّٰهِ وَ بَرَکٰاتُةُ،کَیْفَ أَمْسَیْتَ؟

قٰالَ:أَمْسَیْتُ مُحِبّاً لِمُحِبِّیْنٰا وَ مُبْغِضاً لِمُبْغِضِیْنٰا....''(1)

اے امیر المؤمنین علیہ  السلام آپ پر سلام ہو اورآپ پر خدا کی رحمت و برکات ہوں،آپ نے کیسے صبح کی؟

آپ نے فرمایا:میں نے اس حال میں رات گزاری کہ میں اپنے محبوں کا محب  اور اپنے دشمنوں کا دشمن تھا۔

جب اہلبیت علیھم السلام کے دل میں کسی انسان کے لئے محبت پیدا ہو جائے تو وہ خدا کا بھی محبوب   بن جاتا ہے اور اس کے دل میں خدا کی محبت پیدا ہوجاتی ہے  اور جب خدا سے اس کی محبت اس قدر شدید ہو جائے کہ اس کے دل میں مخلوق کے لئے کوئی جگہ نہ رہ جائے تو اس کی باطنی آنکھیں کھل جاتی ہیں اور وہ اولیاء خدا سے آشنا ہو جاتا ہے۔

مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:شب معراج میںخدا نے پیغمبر اکرم (ص) سے فرمایا:

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج27ص5، مجالس شیخ مفید:197


''مَنْ عَمِلَ بِرِضٰاَ اُلْزِمُهُ ثَلاٰثَ خِصٰالٍ :اُعَرِّفَهُ شُکْراً لاٰ یُخٰالِطُهُ الْجَهْلَ،وَ ذِکْراً لاٰ یُخٰالِطُهُ النِّسْیٰانُ،وَمَحَبَّةً لاٰ یُؤْثِرُ عَلٰی مَحَبَّتِْ مَحَبَّةَ الْمَخْلُوْقِیْنَ،فَاِذٰا أَحَبَّنِْ أَحْبَبْتُهُ ،وَ أَفْتَحُ عَیْنَ قَلْبِهِ اِلٰی جَلاٰلِیْ وَلاٰ اُخْف عَلَیْهِ خٰاصَّةَ خَلْقِْ....'' (1)

جو کوئی میری رضا کے لئے عمل کرے تو میں اس میں  تین خصلتیں  پیدا کر دیتاہوں:

1۔اسے شکر کی حالت رکھنے سے آشنا کرتا ہوں تا کہ جہالت جس کے ساتھ نہ ہو۔

2۔اور ایسا ذکر کہ جس کے ساتھ نسیان نہ  ہو۔

3۔اپنی ایسی محبت کہ جس پر مخلوقین کی محبت اثر اندازنہ ہو۔

پس جب بھی مجھ سے محبت کرے میں بھی اس سے محبت کروں گا اور اس کے دل کی آنکھیں اپنے جلال کی طرف کھول دوں گا اور اپنی مخلوق کے خواص اس پوشیدہ نہیں رکھوں گا۔

اس بناء پر خدا کی محبت کی شانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ انسان اولیائے خداا ور خلق خدا سے آشنا ہو جاتا ہے اور نہیں دیکھ سکتا ہے۔

بعض لوگ خواب یا بیداری میں حضرت امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی زیارت کا شوق رکھتے ہیں  یہ ان کی شدید محبت کی وجہ سے ہے کیونکہ محبت انسان میں محبوب سے ملاقات کے اشتیاق کوبڑھا دیتی ہے۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج۷۷ص۲۸


حضرت ابراہیم علیہ السلام مرنا نہیں چاہتے تھے خدا نے حضرت عزرائیل سے فرمایا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہو:

''هَلْ رَأَیْتَ حَبِیْباً یُکْرِهُ  لِقٰاءَ حَبِیْبِهِ؟اِنَّ الْحَبِیْبَ یُحِبُّ لِقٰاءَ حَبِیْبِهِ'' (1)

کیا تم  نے کسی محب کو دیکھا ہے جسے اپنے محوب کوو دیکھنے سے کراہت ہو؟بیشک محب اپنے محبوب سے ملاقات کو پسند کرتاہے۔

ان میں سے بعض ایسے تھے جو اہلبیت عصمت علیھم السلام کے زمانے میں زندگی گزار رہے تھے لیکن ان کے شہر سے دور تھے لیکن ان کے دل اہلبیت علیھم السلام کی یاد اور ان کے دیدار کے عشق سے لبریز تھے جیسا کہ حضرت اویس قرنی  کے دل و جان میں  پیغمبر اکرم (ص) کے دیدار کا شوق تھا اور وہ اپنے خیال میں آنحضرت (ص) کے تابناک انوار کو تصور کرتے تھے۔

اب جب کہ خاندان عصمت و طہارت کی آخری کڑیحضرت یقیة الله الاعظم عجل الله فرجه الشریف باقی ہیں اور پردۂ غیبت میں زندگی بسر کر رہے ہیں  آپ کے محب اور جانثار وں کی آرزو صرف آپ  کا دیدار ہے ۔یہ آرزو  اور امید آنحضرت  سے اس محبت کی بناء پر ہی ہے جو ان کے دلوں میں آنحضرت کے لئے موجزن ہے کیونکہ خداوند کریم کے فرمان کے مطابق''اِنَّ الْحَبِیْبَ یُحِبُّ لِقٰائَ حَبِیْبهِ'' ہر محب اپنے محبوب کا دیدار کرنا چاہتاہے۔

گرچہ یوسف بہ کلافی نفرشند بہ ما

پس ھمین فخر کہ ما ھم ز خریدارانیم

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج6ص۱۲۷،امالی شیخ صدوق:118


 خاندان نبوت علیھم السلام کے محبوں کی ذمہ داری

1۔ مودّت پیدا کرنا

اہلبیت علیھم السلام سے محبت و دوستی اتنی گہری ہونی چاہئے جو آپ کے وجودمیں گھر کر چکی ہواور آپ کے روم روم میں سرایت کر چکی ہے جو آپ کا ان بزرگوں سے نزدیک ہونے کا وسیلہ بنے۔امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''اَلْمَوَدَّةُ قَرٰابَة مُسْتَفٰادَة'' (1) موّدت، ایسی محبت ہے جس سے تقرّب حاصل ہوتاہے۔

یعنی محبت میں اس قدر اضافہ ہونا چاہئے جو آپ کو محبوب سے نزدیک کر دے ۔اگر محبت اس حد تک بڑھ جائے تو اسے ''مودت ''کہتے ہیں۔اس بناء پر مودت وہی محبت ہے جس میں افزائش اور اضافہ ہو چکا ہو اور جو روحانی قرب کا باعث ہو۔

اہلبیت اطہار علیھم السلام سے ایسی محبت ہر کسی کی ذمہ داری ہے۔ہمیں محمد و آل محمد علیھم السلام سے اس قدر محبت ہونی چاہئے جو اہلبیت علیھم السلام سے تقرب کا وسیلہ ہو۔خدا وند کریم کا قرآن مید میں ارشاد ہے:(قُل لَّا أَسْأَلُکُمْ عَلَیْهِ أَجْراً ِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبَی) (2) آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں چاہتا علاوہ اس کے کہ میرے اقربا سے محبت کرو ۔اس آیت کے مطابق ہر انسانپر واجب ہے کہ اہلبیت عصمت و طہارت علیھم السلام سے اس طرح سے محبت کرے جو ان ہستیوں سے معنوی و روحانی قرب کا باعث ہو۔یہ سب انسانوں کی ایک بنیادی اور عمومی ذمہ داری ہے۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج۷۴ص۱6۵

[2]۔ سورۂ شوریٰ،آیت :23


2۔ اہلبیت علیھم السلام کے محبوں سے محبت

صرف اہلبیت اطہار علیھم لسلام سے محبت و دوستی ہی کافی نہیں ہے بلکہ ان سے محبت کے بعد ان بزرگ ہستیوں سے محبت کرنے والوں سے بھی محبت کرنی چاہئے۔

حضرت پیغمبر اکرم(ص) فرماتے ہیں:

''أََحِبُّوْا مَوٰالِیْنٰا مَعَ حُبِّکُمْ لِآلِنٰا'' (1)

ہمارے محبوں سے بھی ویسی محبت کرو جیسی محبت ہمارے خاندان سے کرتے ہو۔

کیونکہ ان کے محبوں سے محبت ان سے محبت کا لازمہ ہے۔

3۔ اہلبیت علیھم السلام کے دشمنوں سے بیزاری

 اگر انسان کے دل میں ان ہستیوں(کائنات کا وجود جن کے مرہون منت ہے) کی محبت گھرکر جائے تو پھر یہ ممکن نہیں ہے انسان ان کے دشمنوں کی دوستی کو قبول کر لے۔کیونکہ اہلبیت علیھم السلام کی محبت ان کے دشمنوں سے سازگار نہیں ہے۔چونکہ ظاہری یا ذہنیشعور کے نزدیک دو مخالف چیزوں کی محبت جمع نہیں ہو سکتی۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج۷ص۵۷


اس بنا ء پر ظاہری یا ذہنی شعور   میں  ممکن ہے کہ کوئی اہلبیت علیھم السلام سے بھی دوستی رکھتا ہو اور گمراہوں سے بھی لیکن قلبی اور باطنی لحاظ سے ایسا ممکن نہیں ہے۔

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''لاٰ یَجْتَمِعُ حُبُّنٰا وَحُبُّ عَدُوِّنٰا فِی جَوْفِ اِنْسٰانٍ،اَللّٰهُ عَزَّوَجَلَّ یَقُوْلُ:(مَا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهِ ) (1)،(2)

ہماری محبت اور ہمارے دشمن کی محبت انسان  کے دل میں جمع نہیں ہو سکتی ۔  خداوند کریم نے فرمایا:''اور اللہ نے کسی مرد کے سینے میں دو دل نہیں قرار دیئے ہیں''۔

اس روایت کی مانند ابی جارود نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے:

''أَبِی الْجٰارُوْدِ عَنْ أَبِْ جَعْفَر علیه السلام فِْ قَوْلِهِ:(مٰا جَعَلَ اللَّهُ لِرَجُلٍ مِّنْ قَلْبَیْنِ فِیْ جَوْفِهِ )فَیُحِبُّ بِهٰذٰا وَ یُبْغِضُ بِهٰذٰا ،فَأَمّٰا مُحِبُّنٰا فَیُخْلِصُ الْحُبَّ لَنٰا کَمَا یُخْلِصُ الذَّهَبَ بِالنّٰارِ لاٰکَدِرَ فِیْهِ

مَنْ أَرٰادَ أَنْ یَعْلَمَ حُبِّنٰا،فَلْیَمْتَحِنْ قَلْبَهُ فَاِنْ شٰارَکَهُ فِی حُبِّنٰا حُبُّ عَدُوِّنٰا،فَلَیْسَ مِنّٰا وَ لَسْنٰا مِنْهُ وَاللّٰهُ عَدُوُّهُمْ وَ جِبْرَئِیْلُ وَ مِیْکٰائِیْلُ وَاللّٰهُ عَدُوّ لِلْکٰافِرِیْنَ''(3)

ابی جارود حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے خدا کے اس فرمان کے بارے میں فرمایا'' اللہ نے کسی مرد کے سینے میں دو دل نہیں قرار دیئے ہیں''

--------------

[1]۔ سورۂ احزاب،آیت:4

[2]۔ بحار الانوار:ج24ص318،کنز الفوائد:23

[3]۔ بحار الانوار:ج27ص51


آپ نے فرمایا:انسان کے دو دل نہیں ہیں  کہ جو ایک سے محبت کرے اور دوسرے سے دشمنی۔ ہمارے محب ہمارے خاندان کی محبت کو ہمارے دشمنوں کی محبت سے پاک کرتے ہیں۔جس طرح آگ سونے کو خالص کر دیتی ہے کہ اس میں  کوئی ملاوٹ نہ ہو۔

جو کوئی بھی یہ جاننا چاہتا ہو کہ وہ ہمارے خاندان سے محبت کرتا ہے یا نہیں؟وہ اپنے دل کو آزمائے ۔پس اگر کوئی ہماری دوستی کے ساتھ ہمارے دشمنوں سے محبت کرے تو وہ ہم سے نہیں  ہے اور   ہم اس سے نہیں ہیں ۔خداوند ،جبرئیل اور میکائیل ایسے افراد کے دشمن ہیں  اور خداوند کافروں کے لئے دشمن ہے۔

اس بناء پر محبت کی نشانی( کہ جس کا لازمہ اہلبیت علیھم السلام کی اطاعت و پیروی ہے) انسان کا ان ہستیوں میں جذب ہو جانا اور ان کے دشمنوں سے بیزاری ہے۔انسان ایسی محبت کے وسیلے سے اہلبیت علیھم السلام میں کھو جاتا ہے ۔پھر وہ اپنے محبوب اور محبوب کی پسندیدہ چیزوں کے علاوہ کسی اور کے بارے میں نہیں سوچتا۔ایسے  حالات محب کے محبوب میں جذب ہونے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔

جناب خدیجہ علیھا السلام پیغمبر اکرم (ص)کے سفر پر جاتے وقت فرماتیں:

قَلْبُ الْمُحِبِّ اِلَی الْأَحْبٰابِ مَجْذُوْب        وَ جِسْمُهُ بِیَدِ الْأَسْقٰامِ مَنْهُوْب (1)

محب کا دل احباب میں مجذوب ہو جاتا ہے حلانکہ اس کا جسم بیماریوں کے ہاتھوں گرفتار ہوتا ہے۔

--------------

 [1]۔ بحار الانوار:ج16ص29


جب آپ محبت میں پیشرفت اور اولیائے خدا کی دوستی کے نتیجہ میں ان ہستیوں میں گم ہو جاتے ہیں اور ان کے غیروں سے بیزار ہو جاتے ہیں ۔ اسی لئے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

''....اِنَّ أَصْلَ الْحُبِّ ،اَلتَّبَرّ عَنْ سِوَی الْمَحْبُوْبِ'' (1)

اصل محبت محبوب کے علاوہ دوسروں سے دوری اختیار کرنا ہے۔

جب آپ اپنے محبوب کے علاوہ دوسروں سے دوری اختیار کریںتو آپ اپنے محبوب کو دوسروں پر فوقیت دیتے ہیں:

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اس بارے میں فرماتے ہیں:

''دَلِیْلُ الْحُبِّ اِیْثٰارُ الْمَحْبُوْبِ عَلٰی مٰا سَوٰاهُ'' (2)

محبت کی دلیل محبوب کو دوسروں  پرترجیح دینا ہے۔

ایسی محبت آپ کو معنویت و نورانیت کی اوج پر پہنچا دیتی ہے۔جس کی وجہ سے آپ پر اہلبیت عصمت و طہارت  علیھم السلام کی عنایات ہوتی ہیں۔جو آپ کو معنوی و ملکوتی مخلوق بنا دیتی ہیں اورآپ کے دل میں  اہلبیت علیھم السلام کے دشمنوں سے نفرت اور برائت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

--------------

 [1]. بحار الانوار:ج29ص251،مصباح الشریعہ:65

[2]۔ بحار الانوار:ج70ص22،مصباح الشریعہ:2


4۔ خاندان وحی کی پیروی

خاندان نبوت علیھم السلام کا اپنے محبوں سے یہی تقاضا  ہے کہ وہ دوسروں سے زیادہ خودسازی اور خدا پسندانہ اعمال انجام دیں ۔ اہلبیت علیھم السلام کی نظر میں جو اپنے دل میں اس خاندان کی محبت و دوستی رکھتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ اہلبیت اطہار علیھم السلام کے کردار کو اپنی زندگی کے لئے نمونۂ عمل قرار دیں اور اپنے تقویٰ و پرہیز گاری میں اضافہ کریں۔

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''مَنْ أَحَبَّنٰا فَلْیَعْمَلْ وَلْیَتَجَلْبَبِ لْوَرَع'' (1)

جو ہم سے محبت کرتا ہو اسے چاہئے کہ وہ کردار و رفتار پرعمل کرے اور تقویٰ کا لباس زیب تن کرے۔

جب خاندان وحی علیھم السلام کی محبت انسان کے ظاہر سے باطن میں سرایت کر جائے تو یہ تقویٰ و عمل صالح کا منشاء بن جاتا ہے۔

اہلبیت علیھم السلام کی محبت ہمیشہ انسان کے صالح اعمال کے ساتھ ہوتی ہے۔جن کی محبت زیادہ ہو وہ عام طور پر نیک اور صالح اعمال انجام دینے کی زیادہ کوشش کرتے ہیں۔اسی لئے حضرت امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں:

--------------

[1]۔ شرح غرر لحکم: ج۵ ص۳۰۳


''لاٰتَدْعُوا الْعَمَلَ الصّالِحَ وَ الْعِبٰادَةَ اِتِّکٰالاً عَلٰی حُبِّ آلِ مُحَمَّدً علیهم السلام وَالتَّسْلِیْمِ لِأَمْرِهِمْ اِِتّکٰالاً عَلَی الْعِبٰادَةِ فَاِنَّهُ لاٰ یُقْبَلُ أَحْدُهُمٰا دُوْنَ الْآخِرِ'' (1)

 محمد و آل محمد علیھم السلام کی محبت و دوستی پر تکیہ کرتے ہوئے عمل صالح اور عبادت میں کوشش کوترک نہ کرو اور اپنی عبادت پر اعتماد کرتے ہوئے ان کی محبت اور ان کے حکم کے سامنے تسلیم ہونے کو خیرباد نہ کہو ان میں سے کوئی ایک بھی دوسرے کے بغیر قبول نہیں ہو گا۔

یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ انسان اہلبیت علیھم السلام سے شدید محبت بھی کرتا ہو لیکن اس کے باوجود ایسے کاموں میں مشغول ہوجنہیں وہ پسند نہیں کرتے یا ایسے اعمال کو چھوڑ دے جنہیں وہ پسند کرتے ہیں ۔

حقیقی محب اور واقعی دوست وہ ہوتاہے جو محبوب کا مطیع اور پیروکار ہو۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:لَوْ کٰانَ حُبُّکَ صٰادِقاً لَأَطَعْتَهُ      اِنَّ الْمُحِبَّ لِمَنْ یُحِبُّ مُطِیْع (2)

اگر تمہاری محبت سچی ہو تو تم اس کی اطاعت کرو گے کیونکہ محب اسی کا مطیع ہوتاہے جس سے وہ محبت کرتا ہے۔

ایسی محبت جو اہلبیت اطہار علیھم السلام کی اطاعت اور پیروی کے ساتھ ہو ،وہ ان ہستیوں کی خوشنودی کا باعث بنتی ہے۔اسی وجہ سے امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:''فَأَصْبَحْنٰا نَفْرَحُ بِحُبِّ الْمُحِبِّ لَنٰا'' (3) ہم نے اس حال میں صبح کی کہ ہم اپنے محبوں اور دوستوں کی ہم سے کی جانے والی محبت کی وجہ سے خوشحال ہیں۔

--------------

[1]۔ سفینة البحار:2041، مادۂ حبب

[2]۔ بحار الانوار:ج47ص24

[3]۔ بحار الانوار:ج27ص83


جی ہاں جو بلندمقامات تک پہنچنے کے لئے کوشاںہوں اور جن کے نیک اور عظیم اہداف ہوں ، انہیں یہ جان لینا چاہئے کہ کوئی بھی گنج و رنج برداشت کئے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔لہذا جو کوئی بلند مقام کے حصول کے بارے میں سوچ رہا ہو تو اسے اپنے مقصد تک پہنچنے کے لئے ہر ضروری عمل  انجام دینا چاہئے۔

مولائے کائنات حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''مَنْ أَحَبَّ الْمَکٰارِمَ،اِجْتَنَبَ الْمَحٰارِمَ'' (1) جو کوئی مکرم بننا چاہتا ہو اسے حرام کاموں سے اجتناب کرنا چاہئے۔

حضرت داؤد علیہ السلام کی روایت میں آیاہے کہ خداوندکریم نے فرمایا:

''مٰا لِأَوْلِیٰاءِْ وَالْهَمُّ بِالدُّنْیٰا،اِنَّ الْهَمَّ یُذْهِبُ حَلاٰوَةَ مُنٰاجٰاتِْ مِنْ قُلُوْبِهِمْ،یٰا دٰاوُدُ اِنَّ مَحَبَّتِ مِنْ أَوْلِیٰاء أَنْ یَکُوْنُوا رُوْحٰانِیِّیْنَ لاٰ یَغْتَمُّوْنَ'' (2)

میرے محبوں کو دنیاکے ہم و غم سے کیا سروکار؟کیونکہ دنیا سے دل لگی ان کے دل سے مناجات کی شیرینی چھین لیتی ہے۔میں  اپنے محبوں سے یہ چاہتا ہوں کہ وہ روحانی ہوں اور انہیں دنیا کا ہم و غم نہ ہو۔

اس بناء پر خدا و اہلبیت علیھم السلام کے محبوں کو دنیاوی مسائل میں ہی سرگرم نہیں ہونا چاہئے کیونکہ  دنیا پرستی اور مادّی دنیا میں دلچسپی انسان کو بارگاہ خدا سے دور کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔یہ اس سے تقرب سلب کر لیتی ہے اور اس سے خدا و اہلبیت علیھم السلام کی محبت کم کر دیتی ہے۔لیکن معنوی مسائل  اور عالم معنی کے حقائق کی جستجو انسان کو خدا اور آئمہ علیھم السلام کا محبوب حقیقی بنا دیتی ہے۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج77ص421،ارشاد المفید:140

[2]۔ بحار الانوار:ج82ص143


5۔ دوسرں کے دل میں اہلبیت علیھم السلام کی محبت کو تقویت دیں

محبان اہلبیت علیھم السلام کی نشانیوں میں سے ایک اہم نشانی یہ ہے کہ وہ اپنے رفتار و کردار سے ان ہستیوں کی محبت دوسروں کے دل میں اجاگر کرتے ہیں۔ معاشرے میں اس طرح سے زندگی گزاریںجس سے لوگ  اہلبیت علیھم السلام کی طرف مائل ہوں نہ کہ خدانخواستہ وہ لوگوں کے دلوں میں بغض پیدا کرنے کا باعث بنیں۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

''رَحِمَ اللّٰهُ امْرَء اً حَبَّبْنٰا اِلَی النّٰاسِ وَ لَمْ یُبْغِضْنٰا ِالَیْهِمْ'' (1)

خدا س شخص پر رحمت کرے کہ جو لوگوں کے دلوں میں ہماری محبت پیدا کرے اور ان میں ہمارے لئے دشمنی ایجاد نہ کرے۔

ہم نے محبت کے آثار و اثرات کے بارے میں جو بحث کی ہے اس سے یہ واضح ہو جاتاہے کہ لوگوں کے دلوں میں  اہلبیت اطہار علیھم السلام کے بارے میں شدید محبت پیدا کرنے سے ان کے لئے تقویٰ و ایمان ایجاد کرنے اور گناہوں کو ترک کرنے کا وسیلہ فراہم کیا جاتاہے۔

اس بناء پر محمد و آل محمد علیھم السلام کے محبوں کو چاہئے کہ جس طرح سے بھی ممکن ہو وہ لوگوں کے دلوں میں ان مظلوم ہستیوں کی محبت پیدا کریں۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج75ص421


 سچی محبت

محبت اور دوستی کی کچھ علامتیں اور نشانیاں ہوتی ہیں جن سے دوستوں کوپہچانا جا سکتا ہے اور سچی محبت کرنے والوں میں اور دوسروں میں فرق کیا جا سکتا ہے۔چونکہ محبت اکسیر ہے اس لئے یہ محب میں  کچھ آثار پیدا کرتی ہے اور جومحبوب کی اہمیت کو بیان کرتی ہے۔فہم و فراست رکھنے والے افراد یہ درک کر لیتے ہیں کہ کن افرد کی محبت اور دوستی کو دل میںجگہ دینی چاہئے؟کیونکہ وہ اپنے رفتار و کردار اور حرکات و سکنات سے اپنے محبوب کو پہچان لیتے ہیں۔

محبت اور دوستی جتنی زیادہ ہو ،محب میںمحبوب کی نشایناں اتنی ہی زیادہ جھلکتی ہیں۔کبھی محبت اتنی زیادہ ہوجاتی ہے کہ محب محبوب کو کائنات کی سب چیزوں پر فوقیت دیتا ہے ۔ایسی محبت محبوب کے لئے محب کے ایمان و اعتقاد کی نشانیوںمیں سے ہے۔

اگر خاندان نبوت علیھم السلام سے آپ کی محبت اس حد تک ہو تو یہ خدا پر آپ کے کامل ایمان کی نشانی ہے۔یہ پیغمبر اکرم (ص) کی حدیثوں میں  سے ہے:

''لاٰ یُؤْمِنُ عَبْد حَتّٰی اَکُوْنَ أَحَبُّ اِلَیْهِ مِنْ نَفْسِهِ،وَیَکُوْنَ عِتْرَتِْ أَحَبُّ اِلَیْهِ مِنْ عِتْرَتِهِ،وَیَکُوْنَ أَهْلِْ أَحَبُّ اِلَیْهِ مِنْ أَهْلِهِ،وَ یَکُوْنَ ذٰاتِ أَحَبُّ اِلَیْهِ مِنْ ذٰاتِهِ'' (1)

بندہ اس وقت تک ایمان نہیں جب تک میں اس کے نزدیک اس سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں اور میری عترت اس کے نزدیک اس کی عترت سے زیادہ محبوب نہ ہو جائے اور میرے اہل اس کے نزدیک اس  کے اہل سے زیادہ محبوب نہ ہوجائیں اور میری ذات اس کے نزدیک اس کی اپنی ذات سے زیادہ محبوب نہ ہو جائے۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج۷۵ص۴۲۱


جس کی محبت اس حد تک ہو یقینا اس کی محبت سچی ہے۔

اب ہم جس کوفی شخص کا ایک بہترین واقعہ بیان کررہے ہیں ،وہ بھی ان افراد میں سے ہیجس نے حقیت میں  پیغمبر اکرم(ص) ،امیر المؤمنین علیہ السلام  اورآپ کے فرزندوں کو اپنے خاندان پر  مقدم جانا۔

کوفہ میں ایک بہت دولت مند شخص رہتا تھا جو سادات اور ان کے فرزندوں کی بہت مدد کیا کرتا تھا۔اس کے حساب کی کاپی میں امیر المؤمنین  علیہ السلام کے نام سے کچھ حساب تھا ۔جب بھی اس سے کوئی شخص کوئی چیز خریدتا اور اگر اس کے پاس اداکرنے کے لئے پیسے نہ ہوتے تو وہ اپنے غلام سے کہتا کہ اسے حضرت امیرالمؤمنین  علیہ السلام کے حساب میں لکھ دو۔

بہت مدت کے بعد وہ امیر شخص فقیر اور خانہ نشین ہو گیا ۔وہ اپنے گھر میں بیٹھا اپنے حساب کی کاپی دیکھ رہا تھا ۔اگر وہ اس میں اپنے کسی مقروض کا نام دیکھتا کہ جو زندہ بھی ہوتا تو وہ کسی کو اس کے پاس بھیج دیتا تا کہ وہ اس سے اپنا قرض واپس لے لے اور اگر وہ دنیا سے جا چکا ہو تا اور اس کا کوئی مال بھی باقی نہ ہونا تو کاپی سے اس کا نام مٹا دیتا۔

ایک دن وہ گھر  کے دروازے پر بیٹھا  اپنی وہی کاپی دیکھ رہا تھا اچانک وہاں سے ایک ناصبی گزرا اور اس نے اسے طعنہ دیا کہ تمہارے سب سے زیادہ مقروض علی بن ابیطالب نے تمہارے ساتھ کیا کیا؟

اس بات پر اسے بہت دکھ ہوا اور غمگین حالت میںگھر میں داخل ہوا۔اسی رات اس نے پیغمبر اکرم(ص)  کو خواب میں دیکھاکہ آپ (ص) ایک جگہ تشریف فرما ہیںجب کہ حضرت امام حسن علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام آپ کے سامنے چل رہے ہیں۔رسول اکرم(ص) نے دونوں اماموں سے پوچھا کے آپ کے بابا کہاں ہیں؟

امیر المؤمنین علیہ السلام پیغمبر اسلام (ص)کے پیچھے کھڑے تھے۔آپ نے جواب دیا:یا رسول اللہ !میں حاضر ہوں۔پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:آپ اس شخص کا قرض کیوں نہیں دے رہے؟ امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا:یارسول اللہ!یہ اس کا دنیا ویحق ہے جومیںساتھ لایا ہوں۔رسول اکرم(ص) نے فرمایا:اسے دے دو۔


امیر المؤمنین علیہ السلام نے سفید اون سے بنی ہوئی ایک تھیلی نکالی اور اسے دے دی اور اس سے فرمایا:یہ تمہارا حق ہے۔

پیغمبر اکرم(ص) نے اس شخص سے فرمایا:یہ لے لو اور میرے فرزندوں میں سے جو بھی تمہارے پاس آئے اور تم سے کوئی چیز مانگے تو اسے دے دو ۔اب تمہارا فقر باقی نہیں رہے گا اور کبھی محتاج نہیں ہو گے۔

 اس شخص نے کہا:جب میں بیدار ہوا تو پیسوں کی وہی تھیلی میرے ہاتھ میں تھی ۔میںنے اپنی بیوی کو جگایا اور اس سے کہا:چراغ جلاؤ۔اس نے چراغ جلایا۔میںنے وہ تھیلی کھولی اورجب میں نے ان پیسوں کو گناتومیں نے دیکھا کہ اس تھیلی میں ہزار اشرفیاں ہیں۔

میری بیوی نے مجھ سے کہا:خدا سے ڈرو!خدانخواستہ کہیں تم نے فقر کی وجہ سے لوگوں کو دھوکا دہینا تو شروع نہیں کردیا اور کسی تاجر کو دھوکا دے کر اس کا مال تو نہیں لے آئے؟

میںنے اس سے کہا:نہیں خدا کی قسم !ایسا نہیں ہے اور پھر میںنے اس سے اپنے خواب کاواقعہ بیان کیا۔پھر میں نے اپنے حساب کی کاپی کھول کر دیکھی تو میںنے اس میں دیکھا کہ امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے حساب میں ہزار اشرفی لکھی ہوئی ہے نہ اس سے کم  اور نہ ہی زیادہ۔(1)

اسی مناسبت سے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک بہت بہترین روایت ذکر کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:

''مَنْ أَعٰانَ فَقِیْرَنٰا،کٰانَ مُکٰافٰاتُهُ عَلٰی جَدِّنٰا مُحَمَّد '' (2)

جو کوئی ہم میں سے کسی فقیر کی مدد کرے اس کا اجر ہمارے جدّ محمد(ص) پر ہے۔

وہ کوفی شخص خاندان پیغمبر علیھم السلام سے سچی محبت کرتا تھا اور آنحضرت (ص) کے حکم سے اسے اس کا دنیاوی اجر مل گیا۔

--------------

[1]۔ فوائد الرضویہ:311

[2]۔ بحار الانوار:ج۱۰۰ص۱۲۴


 جھوٹی محبتیں

کچھ لوگ خاندان وحی ونبوت علیھم السلام سے محبت و دوستی کا اظہار کرتے ہیں اور اس بارے میں خود کو اتنا سچا پیش کرتے ہیں کہ اس میں جھوٹ کا شائہ تک نہیں پایا جاتا۔اور ان کا وجود محبت اہلبیت علیھم السلام سے سرشار ہے؛ لیکن جب ہم ان کے رفتار و کردار کے بارے میںسوچتے ہیں اور ان کے کردار کی خاندان  نبوت ورسالت علیھم السلام کے دستورات سیملاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا اہلبیت علیھم السلام سے دوستی و محبت کا اظہار خالصانہ اور سچانہیں ہے۔

بہت سے لوگ خود کو امام زمانہ عجل  اللہ فرجہ الشریف کا عاشق اور جاںنثار سمجھتے ہیں لیکن عملاً ان کا سہم (یعنی خمس ،جوکہ ان کے اپنے لئے خدا کی نعمتوں  کے نزول کاذریعہ ہے) ان کی آل کو ادا کرنے سے اجتناب کرتے ہیں!

جو شخص امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف مقدس اہداف کی راہ میں مال خرچ کرنے سے گریز کرے کیاوہ امام کے ظہور کے زمانے میں آپ پر اپنی جان نثار کرسکتا ہے؟

لیکن کیا حضرت امام زمانہ  عجل اللہ فرجہ الشریف نے اپنی توقیع میں یہ نہیں فرمایا:

''لَعْنَةُ اللّٰهِ وَ الْمَلاٰئِکَةِ وَالنّٰاسِ أَجْمَعِیْنَ لِیْ مَنِ اسْتَحَلَّ مِنْ أَمْوٰالِنٰا دِرْهَماً'' (1)

اس شخص پر خدا،ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہو جو ہمارے مال میں سے ایک درہم کو بھی اپنے لئے حلال جانے۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج۵۳ص۱۸۳، کمال الدین: ج۲ص۲۰۱، الصحیفة المبارکة المہدیة:282


حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے اہلبیت علیھم السلام سے محبت کا دعویٰ کرنے والوں کے بارے میں جابر سے فرمایا:

''یٰا جٰابِرُ، أَ یَکْتَفِْ مَنْ یَنْتَحِلُ التَّشَیُّعَ أَنْ یَقُوْلَ بِحُبِّنٰا أَهْلِ الْبَیْتِ ؟فَوَاللّٰهِ مٰا شِیْعَتُنٰا اِلاّٰ مَنِ اتَّقَی اللّٰهَ وَ أَطٰاعَهُ''(2)

اے جابر!کیا خود کو شیعہ کے طور پر دکھانا کافی ہے اور کہے کہ میں اہلبیت علیھم السلام سے محبت کرتا ہوں ۔خدا کی قسم !ہمارا شیعہ وہی ہے جو تقویٰ الٰہی رکھتا ہو اور اس کی اطاعت کرتا ہو۔

اس فرمان سے یوں استفادہ ہوتا ہے کہ:جو کوئی با تقویٰ نہیں اور خداکا مطیع نہیںاسے صرف محبت کے اظہار پر ہی اکتفا نہیں کرنا چاہئے۔

--------------

[2]۔ بحار الانوار:ج۷۰ص۹۷


 نتیجۂ بحث

 محبت آپ کے دردو غم کے لئے اکسیر ہے ۔محبت کی کشش و جاذبہ انسان کو اس کے محبوب کی طرف کھینچتی ہے اور اس کے صفات و حالات محب میں ایجاد کرتی ہے اور اسے تقویت دیتی ہے۔محبت جتنی زیادہ ہو ،محب میں محبوب کے روحانی حالات اتنے ہی زیادہ ہو جاتے ہیں کہ جس سے اسے  محبوب کا تقرب حاصل ہو جائے۔یہی مودت کا معنی ہیجوہر انسان کو خاندان وحی علیھم ا لسلام سے ہونی چاہئے۔کیونکہ اجر رسالت ، اہلبیت اطہار علیھم السلام کی محبت  ہے۔

اس بناء پر اہلبیت علیھم السلام سے محبت و مودت کے ذریعے اپنی روح کو پروان چڑھائیں اور اس خاندان کے آستانۂ ولایت سے تقرب حاصل کریں تا کہ آپ کا وجود ولایت کے تابناک انوار سے سرشار ہو جائے اور آپ کے وجود سے برائیاں پاک ہو جائیں۔

 ان ہستیوں کے تقرب کا لازمہ یہ ہے کہ ان کے احکامات کی پیروی کی جائے اور ان کے دشمنوں سے  برات اور دوری کی جائے۔

 یہ ہے سچی محبت جسے آپ اپنے اور اپنے نزدیکی افراد کے دل کی گہرائیوں میں ایجاد کریں۔

جمعی کہ دم از مھر و ارادت دارند

در بام شرف ،کوس سیادت دارند

چون دست بہ دامان سعادت زدہ اند

پا بر سر نام و ننگِ عادت زدہ اند


آٹھواں  باب

انتظار

حضرت امیر المو منین  علی  علیہ  السلام  فرماتے ہیں :

''أَفْضَلُ عِبٰادَةِ الْمُؤْمِنِ اِنْتِظٰارُ فَرَجِ اللّٰهِ  ''

مومن کی سب سے افضل عبادت یہ ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے (سختی اورغم سے)  نجات کے انتظار میں رہے۔

    انتظار کی اہمیت    انتظار کے عوامل    امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے مقام و منزلت کی معرفت

    انتظار کے آثارسے واقفیت

    1۔ مایوسی اور ناامیدی سے کنارہ کشی

    2۔ روحانی تکامل

    مرحوم شیخ انصاری امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے شریعت کدہ پر    کامیابیوں کی کلید اور محرومیوں کے اسباب

    3۔ مقام ولایت کی معرفت    4۔ مہدویت کے دعویداروں کی پہچان

    امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے تکامل یافتہ منتظرین یا آپ کے عظیم اصحاب کی معرفت

    اصحاب با صفا کی طاقت و قدرت کا سر سری جائزہ

    ظہور کے زمانے کی معرفت

    1۔ باطنی تطہیر

    2 ۔ زمانۂ ظہور میں عقلوں کا کامل ہونا

    3 ۔ دنیا میں عظیم تبدیلی

    نتیجۂ بحث


 انتظار کی اہمیت

انتظار ان با عظمت افراد کا خاصہ ہے جو کامیابی اور کامرانی کے راستے پر پوری طرح گامزن ہیں۔چونکہ غیبت کے دوران خاندان عصمت علیھم السلام کے دامن اطہر سے جاری عظیم شخصیتوں سے متعلق روایتیں نیز مستحکم اور مظبوط اقوال زریں ہو ئے ہیں ۔آنحضرت  کے ظہور کا انتظار کرنے والے ہر زمانے کے انسان سے افضل ہیں ۔

اسی لئے ایک گروہ انتظار کی  سختیوں کو دنیا میں کامیابی کی اہم کلید سمجھتا ہے ۔  ان کا عقیدہ یہ ہے کہ انسان انتظار کے اسباب اور اس کے کمال کی معرفت اور وسیلہ سے حقیقت کے بحر سے کامیابی کے جواہر حاصل کر سکتا ہے نیز سماجی مشکلوں اور مادی رکاوٹوں سے بھی نجات پا سکتا ہے ۔انتظار صحیح معنی میں دشوار گزار حالت ہوتی ہے گویا کہ اسرار کے بھنور نے اس کا احاطہ کر رکھا ہے اور بہت ہی کم لوگوں نے حسب دلخواہ اس کے کمال کی راہ نکالی ہے اور دشمن کی مکاریوں کی مخالفت کی ہے چونکہ انتظار اپنے آخری اور بلند ترین مرحلہ میں امام زمان  عجل اللہ فرجہ الشریف  کی ملکوتی حکومت میں آسمانی نظام کے رائج کرنے اور اس کی خدمت کرنے میں آمادگی اور مدد کے معنوں میں آتا ہے کہ جسے غیر عادی اور غیر معمولی قدرت کے ذریعہ حاصل کیا جاتا ہے اور ایسا انتظار امام زمانہ  عجل اللہ فرجہ الشریف کے خاص اصحاب میں موجود ہے ۔[1]

--------------

[1] ۔ ہ لوگ جو امام زمانہ کی یاد اور توسل کے ساتھ انتظار کے مراسم برپا کرتے ہیں ان کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔ اس قسم کی مجالس و محافل الحمد للہ وسیع پیمانے پر منعقد ہو رہی ہیں اور ہماری مراد اس طرح کی مجالس کی نفی اور اس طرح کے افراد کے اندر حالت انتظار کی عدم موجودگی نہیں ہے ۔ کیونکہ انتظار میں درجات و مراتب پائے جاتے ہیں ۔ اور وہ افراد جو اس کے کمال اور عالی ترین مراتب تک پہنچے ہیں اگر چہ ان کی تعداد کم ہے لیکن انھیں افراد میں سے اٹھے ہیں ۔ اور سخت جاں فشانی اور جد و جہد اور سختیوں اور مشکلات کے تحمل کرنے کے ساتھ اس عظیم مقام کہ جس پر وہ فائز ہوئے ہیں کو حاصل کیا ہے ۔


 انتظار جس مرحلے میں بھی ہو یہ عالم غیب سے غیبی مدد اور خدا سے تقرب کا راستہ  ہے  اور اگراس میں دوام ہو اوراگر یہ تکامل حاصل کرلے تو وقت گزر نے کے ساتھ ساتھ انسان کے وجود میں نفس اور ضمیر سے نا آگاہی کی وجہ سے پیدا ہونے والی کشیدگی اور کھنچائو کو نیست و نابود کر دیتا ہے اور  انسان کے باطن میںنور اور آشنائی کے دریچے کھول دیتاہے اور اسی طرح سے انسان کے لئے تکامل کی راہ کھول دیتاہے کیونکہ انتظار تمام تر ضروری اور لازم مدارج میں آمادگی کی حالت کو کہتے ہیں ۔

 باطنی توجہ کو دنیا سے خلوص ، حقیقت اور نورانیت کی طرف جذب کرتیہے ۔ وہ جہان جس  سے تمام تر شیطانی اور طاغوتی قوتیں اور طاقتیں نابود ہو جائیں اس دنیائے انسانیت کی جان میں انوار الٰہی کی چمک جگمگا اٹھتی ہے ۔

اس حقیقت کی  طرف غور کرنے کے بعد ہم کہتے ہیں کہ ایسا شخص ہی انتظار کے عظیم مراحل کو طے کر سکتا ہے کہ جو غیر معمولی طاقت اور قوت کا حامل ہو ۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ امام عصرعجل اللہ فرجہ الشریف  کی حکومت ایکغیر معمولی حکومت ہوگی جس کا درک کرنا ہماری ہمت ، طاقت اور سوچ سے کہیں بالا تر ہے ۔ اور سب کے لئے ضروری ہے کہ مدد گار افراد حضرت بقیة اللہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے ارد گرد جمع ہو جائیں اور پہلی صف میں آپ کی مدد کریں تاکہ اللہ کے نیک لوگوں میں شمار ہوں اور آپ کے فرمان اور حکم کی اطاعت کرنے کی طاقت کو حاصل کریں جس کو حاصل کرنے کے لئے غیر عادی قدرت کا ہونا ضروری ہے ۔(1)

امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے تین سو تیرہ ممتاز ساتھیوں کے اوصاف اور خواص کو بیان کرنے   والی روایات ان کے بارے میں روحانی اور غیر عادی طاقتوں کے موجود ہونے کا پتا دیتی ہیں یہاں تک کہ غیبت کے زمانے میں بھی ۔

--------------

[1] ۔ بے شمار روایت میں امام عصر  کی حکومت کے اندر غیر معمولی طاقتوں سے استفادہ کی تصریح کی گئی ہے ۔


 انتظار کے عوامل

 ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم انتظار کے حقیقی معنی سے آشنائی حاصل کرنے کی کوشش کریں اور  اپنے اور دوسروں کے اندر بھییہ حالت پیدا کریں ۔

 حالت انتظار کو حاصل کرنے ، سیکھنے اور اسے دوسروں تک آگے پہنچانے کے لئے مختلف راستے موجود ہیں جن سے استفادہ کرتے ہوئے ہم معاشرے میں انتظار کی حالت پیدا کر سکتے ہیں اور ان کے وجود کی گہرائیوں میں انتظار کے بیچ کوبا ثمر بنا سکتے ہیں اور درج ذیل بعض مہم ترین راہوں کے ذریعہ سے معاشرہ ، مسئلہ انتظار کی طرف مائل ہو سکتا ہے ۔

 1۔ ولایت کے عظیم مقام سے آشنائی اور عظمت امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی شناخت ۔

2 ۔ انتظار کے حیران کن آثار کے ساتھ اس کے صحیح اور کامل معنی اور اس کے عظیم مراحل سے  آشنائی ۔

3۔ امام عصر کے اصحاب کے اوصاف و خصوصیات سے آشنائی جو انتظار کے عالی ترین مرتبہ تک پہنچے اور عظیم روحانی قوت سے ہمکنار ہوئے جو امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف  کے فرمان کو انجام دیتے ہیں ۔

4۔ انسان اور آئندہ زمانے کے لوگوں کی زندگی میںظہور کے زمانے میں واقع ہونے والے عظیم تحولات اور اہم ترین تغیرات سے آشنائی  ۔(1)

--------------

[1] ۔ ان کے علاوہ دوسرے راستے بھی موجود ہیں جو انسان کو انتظار کی طرف بلاتے ہیں ان میں سے بعض کی وضاحت ہم نے کتاب اسرار موفقیت میں ذکر کی ہے جیسے ۔ اخلاص ، معارف سے آشنائی محبت اہل بیت  خود سازی اور .......۔


امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے مرتبہ کی معرفت، آپ کے محبین اور ساتھیوں کی شناخت اور عقل    اورفہم و ادراک کی تکمیل ، غیبت اور عالم نا مرئی سے ربطہ ، ناشناختہ موجودات کی شناخت ، دور دراز فضائوں اور آسمانوں کے سفر اور اسی قسم کے دوسرے مسائل لوگوں کو مسئلہ ظہور امام کی طرف متوجہ کرتے ہیں ۔

 نیزجو آنحضرت  کی عظیم الشان ار آفاقیحکومت کے لئے آمادگی پیدا کرتے ہیں یہ تمام حقائق ، پاک طینت افراد میں علم و آگہی اور جنون و عشق کا سرور پیدا کرتے ہیں اوراس طرح یہ افراد اس عظیم الشان زمانے کے دلدادہ ہو جاتے ہیں ۔ معاشرے اور سماج میں انتظار اور ظہور کی حالت پیدا کریں جو ہر انسان کی مسلم ذمہ داری ہے۔ اب اس کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں ۔

 امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے مقام و منزلت کی معرفت

امام کا باعظمت وجود اپنی نورانی خصوصیتوں کے سبب انتظار کی کیفیت کے لئے کلیدی حیثیت رکھتا ہے ۔ کیونکہ دنیا میں آپ  کے علاوہ کو ئی بھی رہبری ،امامت اور کائنات کی اصلاح کے لا ئق نہیں ہے یہ اسباب انسان کو آپ کی طرف جذب کرتے ہیں نیز آپ  خداکی آخری نشانی ہیں آپ ہی آخری راہنما اور ہادی ہیں جیسا کہ آپ سے متعلق حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام فر ماتے ہیں :

 ''عِلْمُ الْاَنْبِیٰاء فِی عِلْمِهِمْ وَسِرُّ الْاَوْصِیٰاء فِیْ سِرِّهِمْ وَ عَزُّالْاَوْلِیٰاءِ فِیْ عِزِّهِمْ ، کَالْقَطْرَةِ فِی الْبَحْرِ وَ الذَّرَّةِ فِی الْقَفْرِ'' (1)

--------------

[1]۔ بحار الانوار ،: ج۲۵ص۱۷۳


  تمام نبیوں کا علم ،تمام اوصیاء کے راز،تمام اولیاء کی عزتیں آپ کے علم ،راز اور عزت کے مقابلے میں ایسے ہی ہے جیسے سمندر میں ایک قطرہ یا ریگستان میں ایک ذرہ ۔

 چونکہ ہم خاندان عصمت و طہارت  علیھم السلام کے آخری فرد کے دور میںزندگی گزار  رہے ہیں اسی لئے ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم آپ کے زریں فرامین واقوال کے سائے میں رہتے ہو ئے تباہی اور بربادی کے طوفان سے بچیں اور آنحضرت  کے ظہور کے لئے راہ ہموار کریں نیز آپ  کی حکومت کے   انتظار میں ہرایک لمحہ شمار کرتے رہیں تا کہ آپ پرچم ہدایت وعدالت افلاک عدل و انصاف پر نصب فرما دیں ۔

 اگر کو ئی اس زمانے میں امام علیہ السلام کو پہچان لے اور زمانہ ٔغیبت میں امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی اس امداد سے آگاہی رکھتا ہو اور آپ کے ذریعے  زمانہ ٔ  ظہور میں دنیا اور انسانوں میں ایجاد ہونے والی تبدیلیوں سے بھی آشنا ہو تو وہ ہمیشہ آپ  کی یاد میں رہے گا اور اس طرح جیسا کہ حکم ہوا ہے(1) آفتاب ولایت کے طلوع کے انتظار میں زندگی بسر کرے گا ۔

 معرفت ؛ایسے انسان کے دل سے غلاظت اور زنگ کو پاک اور صاف کرکے اس کی جگہ پا کیزگی خلوص اور نورانیت کو جایگزین کرے گی۔ اب ایک نہا یت ہی پر کشش روایت کی طرف توجہ کریںجس سے امام  عجل اللہ فرجہ الشریف کے زمانہ ٔغیبت میں آپ  کی طرف سے غیبی امداد کا پتہ چلتاہے جابر جعفی حضرت جابر بن عبداللہ انصاری سے اور وہ حضور اکرم (ص) سے نقل کرتے ہیں کہ آپ  نے فر مایا :

--------------

[1]۔ بحار لانوار:ج52ص145


 ''....ذٰاکَ الَّذِی یَفْتَحُ اللّٰهُ تَعٰالٰی ذِکْرُهُ عَلٰی یَدَیْهِ مَشٰارِقَ الْاَرْضِ وَ مَغٰارِبَهٰا ، ذٰاکَ الَّذِیْ یَغِیْبُ عَنْ شِیْعَتِهِ وَ اَوْلِیٰا ئِهِ غَیْبَةً لاٰ یَثْبُتُ فِیْهٰا عَلَی الْقَوْلِ بِاِمٰامَتِهِ اِلاّٰ مَنْ اِمْتَحَنَ اللّٰهُ قَلْبَهُ بِالْاِیْمٰانِ ''''قٰالَ :فَقٰالَ جٰابِرُ :یٰا رَسُوْلَ اللّٰهِ فَهَلْ یَنْتَفِعُ الشِّیْعَةُ بِهِ فِیْ غَیْبَتِهِ ؟

فَقٰالَ : ای وَالَّذِیْ بَعْثَنِیْ بِالنُّبُوَّةِ أَنَّهُمْ لَیَنْتَفِعُوْنَ بِهِ وَ یَسْتَضِیْئُونَ بِنُوْرِ وِلاٰیَتِهِ فِی غَیْبَتِهِ کَانْتِفٰاعِ النّٰاسِ بِالشَّمْسِ ،وَاِنْ جَلَّلَهَا السِّحٰابُ ، یٰا جٰابِرُ ،هٰذٰا مَکْنُوْنُ سِرِّ اللّٰهِ وَ مَخْزُوْنُ عِلْمِهِ فَاکْتُمْهُ اِلاّٰ عَنْ أَهْلِهِ ''(1)

 وہ (امام زمانہ  عجل اللہ فرجہ الشریف) جن کے ذکر کو خداوند کریم زمین کے تمام گوشہ و کنار میں آپ  ہی کے ذریعہ پہنچائے گا وہ اپنے شیعوں اور محبوں  سے غائب رہیں گے اس طرح کہ بعض آپ  کی امامت کے منکر ہو جا ئیں گے سوائے ان افراد کے جن کے ایمان کا خداوند کریم نے امتحان لے رکھا ہو ۔

 جابر جعفی کہتے ہیں :جابر بن عباللہ انصاری نے پیغمبر اکرم(ص) کی خدمت میں عرض کی : یا رسو ل(ص) اللہ! کیا شیعہ ان کی غیبت کے زمانے میں ان سے بہرہ مند ہو سکیں گے ؟

 پیغمبر اکرم(ص) نے جواب میں فرمایا :

'' اس خدا کی قسم کہ جس نے مجھے رسالت پر مبعوث کیا وہ افراد آپ  کے وسیلہ سے بہرہ مند ہوں گے ان کی غیبت کے زمانے میں ان کے نور ولایت سے روشنی حاصل کریں گے ،جس طرح لوگ سورج سے بہرہ مند ہو تے ہیں اگر چہ بادل اسے ڈھانکے ہوئے ہوں۔اے جابر!وہ خدا کے مخفی رازوں اور اس کے علم کے خزانو ں میں سے ہے ۔لہٰذا اسے مخفی رکھو مگر اس کے اہل سے''.

--------------

[1]۔ کمال الدین :146اور 147، بحارالانوار:ج36ص250


جیسا کہ آپ  نے ملا حظہ فرمایا کہ پیغمبر اکرم (ص) نے اس حدیث میں تاکید کے ساتھ قسم کھائی ہے کہ شیعہ امام عصر ارواحناہ فداہ کے زمانہ غیبت میں آپ  کے نور ولایت سے روشنی حاصل کریں گے ۔

کیست بی پردہ بہ خور شید ،نظر باز کند      چشم پوشیدۂ ما،علت پیدائی توست

از لطافت نتوان یافت ،کجا می باشی               جای رحم است بر آن کس کہ تماشایی تست

 اگر چہ امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف اس زمانے میں غائب ہیں مگر حقیقت میں پردۂ غیبت ہمارے دلوں پر ہے ور نہ امام اس شخص کے لئے چمکتا ہوا نور ہیں جس کا دل آئینہ کی طرح پاک اور صاف ہو خواہ ظاہراً نابینا ہو ۔(1)

 اس حقیقت کی طرف توجہ انسان کی منزل ولایت اور آپ  کے علم اور قدرت کی طرف راہنمائی کرتی ہے اوردلوں کو امام زمانہ  عجل اللہ فرجہ الشریفکی محبت سے سرشار اور آنحضرت  کی آئندہ آنے والی حکومت   کے انتظار کو ایجاد کرتی ہے ۔

--------------

[1] ۔ اس مطلب کی وضاحت کے لئے کتاب اسرار موفقیت ج  2 کے صفحہ نمبر 50سے ابو بصیر کی روایت میں امام باقر  علیہ السلام  کے غائب  ہونے کے واقعہ کی طرف رجوع فرمائیں ۔


  انتظار کے آثارسے واقفیت

 1۔ مایوسی اور ناامیدی سے کنارہ کشی

 ایسے معاشرے میں جہاںدین کا نام و نشان بھینہ ہو اور لوگ بہتر مستقبل کی فکر میں نہ ہوں تو ویاںقتل وغارت ، خوں ریزی ، خود کشی اور اسی طرح کی دوسری برائیاںوجود میں آتی ہیں ۔ چونکہ لوگ '' منفی عوامل '' جیسے فقر ، تنگدستی ، ظلم و ستم ، تجاوز ، قانون شکنی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور بے اعتنائی جیسے حالات سے دو چار ہوتے ہیں اور ان سے نبرد آزمائی کے حربوں سے ناواقفیت کی وجہ سے گھر ، سماج اور معاشرے کی تباہی دیکھتے ہی مایوسی و ناامیدی میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔

 چونکہ اس کی غیبی طاقت سے مایوس ہو جاتے ہیں لہٰذا ان مشکلوں سے بچنے کے لئے خود کشی کرنے کا ارادہ کرتے ہیں ۔ پھر اس ظلم اور بربریت کو اختیار کرکے صرف اپنی دنیا و آخرت ہی نہیں بلکہ اپنے اہل و عیال نیز رشتہ داروں تک کوبھی اس بھیانک تباہی میں مبتلا کر دیتے ہیں ۔

 وہ شخص جس کے دل میں انظار کی کیفیت موجزن ہے اور ہمہ وقت دنیا کے اندر نورولایت کے چمکنے کی امید میں ہے ، کبھی ایسا ظلم نہیں کر سکتا جو ا اپنے ساتھ پورے معاشرے کی تباہی کا سبب بنے ۔


 چونکہ وہ انتظار کے مسائل سے واقف ہے اور نا امیدی ومایوسی سے کنارہ کش ہے ۔یہ روایت اسی حقیقت پر دلالت کرتی ہے ۔

'' عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْجَهْمِ قٰالَ سَأَلْتُ أَبَا الْحَسَنِ عَنْ شَیْئٍ مِنَ الْفَرَجِ ، فَقٰالَ : اَوَ لَسْتَ تَعْلَمُ أَنَّ اِنْتِظٰارِ الْفَرَجِ مِنَ الْفَرَجِ ؟ قُلْتُ لاٰ اَدْرِیْ اِلاّٰ اَنْ تُعَلِّمَنِیْ  فَقٰالَ نَعَمْ ، اِنْتِظٰارُ الْفَرَجِ مِنَ الْفَرَجِ '' (1)

حسین بن جہم کہتے ہیں :  میں نے حضرت موسیٰ بن جعفر علیہ السلام سے فرج کے بارے میں دریافت کیا تو امام نے فرمایا : کیا تم نہیں جانتے کہ فرج کا انتظار کشادگی اور وسعت میں ہے ۔ میں نے عرض کیا آپ نے جتنا مجھے بتایا ہے مجھے اس کے سوا نہیں معلوم ۔ امام نے فرمایا: ہاں! فرج کا انتظار کشادگی اور آسائش سے ہے ۔

2۔ روحانی تکامل

 انسان اپنے اندر انتظار کامل کے ایجاد کرنے کے ساتھ کچھ حد تک ظہور امام  کے زمانے کے لوگوں کے جیسے حالات ( تطہیر قلب) پیدا کر کے ،امید وانتظار کے وسیلہ سے اپنے آپ کو نا امیدی و تباہی سے نجات دلاسکتا ہے ۔

--------------

[1] ۔ بحارالانوار :ج۵۲ ص۱۳۰


 اسی سے متعلق امام صادق علیہ السلام اپنے آباؤ اجداد سے اور اسی طرح  حضرت امیر المومنین  علی ابن ابیطالب علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت  نے فر مایا :

 ''أَفْضَلُ عِبٰادَةِ الْمُؤْمِنِ اِنْتِظٰارُ فَرَجِ اللّٰهِ ''  (1)

''مومن کی سب سے بہترین عبادت یہ ہے کہ وہ خدا سے فرج کا انتظار رکھتا ہو ''

اسی بنا پر انتظار کےذریعہ انسان ظہور امام عجل اللہ فرجہ الشریف  کے بعض آثار تکامل کو اپنے اندر ایجاد کرسکتا ہے ۔ ابوخالد کی اس بات کی وضاحت امام سجاد علیہ السلام کے اس فر مان سے ہو تی ہے :

 ''عَنْ اَبِیْ خٰالِدِ الْکٰابُلِی عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْحُسِیْنِ تَمْتَدُّ الْغَیْبَةُ بِوَلِیِّ اللّهِ الثّٰانِی عَشَرَ مِنْ اَوْصِیٰائِ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَ الْأَئِمَّةِ بَعْدِهِ ،یٰا أَبٰاخٰالِدٍ ،اِنَّ أَهْلِ زَمٰانِ غَیْبَتِهِ ،اَلْقٰائِلُوْنَ بِاِمٰامَتِهِ ،اَلْمُنْتَظِرُوْنَ لِظُهُوْرِهِ ،أَفْضَلُ أَهْلِ کُلِّ زَمٰانٍ ،لِاَنَّ اللّٰهَ تَعٰالٰی ذِکْرُهُ أَعْطٰاهُمْ مِنَ الْعُقُوْلِ وَالْاَفْهٰامِ وَالْمَعْرِفَةِ مٰا صٰارَت بِهِ الْغَیْبَةُ عِنْدَ هُمْ بِمَنْزِلَةِ الْمُشٰاهَدَ ِة ،وَ جَعَلَهُمْ فِی ذٰلِکَ الزَّمٰانِ بِمَنْزِلَةِ الْمُجٰاهِدِیْنَ بَیْنَ یَدَیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ بِالسَّیْفِ ،اُوْلٰئِکَ الْمُخْلِصُوْنَ حَقّاً،وَ شِیْعَتُنٰا صِدْقاً ،وَالدُّعٰاةُ اِلٰی دِیْنِ اللّٰهِ سِرّاً وَ جَهْراً وَٰقالَ  : اِنْتِظٰارُ الْفَرَجِ مِنْ أَعْظَمِ الْفَرَجِ '' (2)

ابو خالد کابلی حضرت علی بن الحسین علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت  نے فرمایا :

ولی خدا جو پیغمبر اکرم (ص) کے اوصیاء میں سے بارہویں (خلیفہ ) اور آپ  کے بعد آئمہ اطہار علیھم السلام میں سے ہیں کی غیبت طولانی ہو گی اے ابو خالد!بے شک ان کے زمانۂ غیبت  کے لوگ ، ان کی امامت پر عقیدہ رکھنے والے اور ان ظہور کے منتظر لوگ ہر زمانے کے لو گوں سے افضل ہیں ۔

--------------

[1]۔ بحارالانوار:ج53 ص131

[2]۔ بحار الانوار: ج ۵۲ص۱۲۲


 کیونکہ خداوند کریم عقلوں کوان کا ذکراس قدر عطا کرے گا کہ ان کے نزدیک غیبت مشاہد ے کی طرح ہو گی اور ان کو اس زمانے میں ان مجاہدین کی طرح قرار دیا جائے گا کہ جنہوں نے پیغمبر اکرم(ص)کے دور میں تلوار سے جہاد کیا ہو حقیقت میں وہی با اخلاص ہیں اور وہ ہمارے سچے شیعہ ہیں اور لوگوں کو ظاہری اور مخفی طور سے بھی دین خدا کی طرف بلاتے ہیں ۔

اس کے بعد امام سجاد  علیہ السلام نے فر مایا : ''ظہور کا  انتظار عظیم ترین فرج میں  سے ہے ۔''

دوست نزدیک تر از من ،بہ من است

وین عجیبتر کہ من از وی دورم

این سخن با کہ توان گفت کہ دوست

در کنار من و من مہجورم

 انتظار کی راہ تکامل تک پہنچنے والیسچے منتظرین اپنے آپ کو حکومت خدا کی غیبی قدرت سے پوری دنیا پر حکومت کے لئے آمادہ کرنے کے اثر سے غیبت کے زمانے میں بعض زمانۂ ظہور کے فردی خواص اور خصوصیات جیسے تطہیر قلب وغیرہ تک رسائی حاصل کرتے ہیں اس حد تک کہ غیبت کا زمانہ ان کے لئے روز روشن کی طرح عیاں ہے اگران کے اندر اس طرح کے اثرات نہ ہو ں تو کس طرح فرج اعظم کا انتظار فرج ہے ؟وہ حالت انتظار کے ساتھ غیبت اور زمانۂ ظہور کے در میان رابطہ قائم کرتے ہیںاور اس زمانے کے بعض حالات کوغیبت کے زمانے میں پا لیتے ہیں ۔(1)

--------------

 [1] ۔ جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں کہ  مرحوم بحر العلوم اور مرتضی ٰ شیخ انصاری  جیسے بہت کم افراد  ایسے حالات تک رسائی حاصل کرتے ہیں ۔


 مرحوم شیخ انصاری امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے شریعت کدہ پر

 دلوں کو منور کرنے والا واقعہ دنیا ئے تشیع کی اس عظیم شخصیت کا ذکر ہے جس نے ظاہری اور باطنی دونوں محاذوں  پر غیبی امداد اور قوت سے دین مبین کی حفاظت کی ۔

 شیخ انصار ی کے ایک شاگرد ، آپ کے امام  علیہ السلام سے تعلق اور امام  علیہ السلام کے شریعت کدہ پر شرفیابی کو یوں بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت کی غرض سے کربلا پہنچا۔ انہی ایام میں ایک بار میں آدھی رات کے وقت حمام جا نے کے لئے گھر سے باہر آیا ، چونکہ گلیوں میں کیچڑ و غیرہ زیادہ تھا لہذا میں نے اپنے ساتھ ایک شمع بھی لے لی اور میں  اس کی مدہم روشنی میں چلنے لگا ۔ کچھ فاصلے پر ایک شخص نظر آیا میں نے محسوس کیا جیسے شیخ انصاری ہو ں ۔  راستہ طے کرکے جیسے ہی قریب ہوا تو یقین ہو گیا آپ ہی ہیں ۔میں نے سو چا یہ حضور اس تاریکی میں کہاں تشریف لے جا رہے ہیں جب کہ آپ کی بینا ئی بھی کمزور ہے ۔میں نے سو چا کہیں کو ئی آپ کا تعاقب نہ کر رہا ہو کہ جو آپ کو نقصان پہنچا ئے لہٰذا خاموشی سے آپ کے پیچھے چلنے لگا ۔کچھ دور چلنے کے بعد وہ ایک پرا نی ساخت کے مکان کے دروازے پر کھڑے ہو ئے اور خلو ص نیت کے ساتھ زیارت جامعہ پڑھنے لگے ۔

زیارت سے فارغ ہو تے ہی اس مکان میں داخل ہو ئے ۔پھر میں نے کچھ نہیں دیکھا صرف آپ کی آواز آرہی تھی ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ آپ کسی سے ہم کلام ہیں ۔میں وہاں سے پلٹا پھر حمام گیا اور اس کے بعد حرم مطہر گیا وہاں میں نے شیخ  کو دیکھا ۔


 اس سفر سے واپس آکر میں نجف اشرف میں شیخ کی خدمت میں پہنچا اور اس رات والے واقعہ کو دہرایا اور اس کی تفصیل پو چھی ،پہلے تو شیخ نے انکار کیا لیکن مزید اصرار پر آپ  نے فر مایا :

جب امام  سے ملاقات کی خواہش ہوتی ہے تو میں اس گھر کے دروازے پر چلا جاتا ہوں ،جسے تم اب کبھی نہیں دیکھ پا ؤگے ،زیارت جامعہ پڑھنے کے بعد اذن طلب کرتا ہوں ۔اگر اجازت مل جاتی ہے تو آنحضرت  کی خدمت میں فیضیاب ہو تا ہوں ۔جو مسائل میری سمجھ سے بالا ہوتے ہیں آپ  اسے بطور احسن حل فر ماتے ہیں ۔

پھر شیخ  نے فرمایا:اور سنو جب تک میں زندہ ہوں اس واقعہ کو چھپا ئے رکھنا ۔ہرگز کسی کے سامنے بیان نہ کرنا ۔(1)

 اسی طرح اور دوسری بزرگ شخصیتیں بھی ہیں جنہوں نے امام  سے بارہا ملاقات کی ہے اور اپنے آپ کو حضرت  کے ظہور کے لئے ہمہ وقت آمادہ رکھتے تھے ان لوگوں کی طرح نہیں کہ جو قرآنی آیتوں کی تأ ویل اور توجیہ کریں گے نیز آنحضرت  کے ساتھ جنگ بھی کریں گے ۔

کلید گنج سعادت فتد بہ دست کسی

کہ نخل ہستی اورا بود بَرِ ہنری

چو مستعد نظر نیستی ،وصال مجوی

کہ جام جم ندہد سود ،وقت بی بصری

--------------

[1] ۔ زندگانی و شخصیت شیخ انصاری  : 106


  کامیابیوں کی کلید اور محرومیوں کے اسباب

 یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے :کس طرح ہر دفعہ شیخ اجازت حاصل کر لیتے تھے اور امام  عجل اللہ فرجہ الشریف  کے شریعت کدہ میں زیارت جامعہ کے پڑھتے اور اجازت لے کر ساتھ بیت الشرف میں داخل ہوتے اور اپنے مہربان امام  عجل اللہ فرجہ الشریف کے ساتھ گفتگو کرتے ؟

 انہوں نے کس طرح یہ مرتبہ حاصل کیا تھا ؟نیز ان کے شاگردنے بھی امام عصر عجل اللہ فرجہ الشریف کے بیت الشرف کو دیکھا اس کے باوجودیہ افتخار نہیں رکھتے تھے چونکہ مرحوم شیخ   نے ان سے فر مادیا تھا کہ اس کے بعد تم اس بیت الشرف کو کبھی نہیں دیکھ پا ؤگے ۔

 یہ سوال اہم ہے اور اس کا اطمینان بخش  جواب دینا بھی ضروری  ہے ۔  افسوس کی بات ہے کہ بعض افراد اس طرح کے سوالات کے لئے پہلے سے تیار شدہ جواب رکھتے ہیں اور مقابل کو فوراً جواب دیتے ہیں :خدا نے اسی طرح چا ہا ہو گا یا خدا ان میں سے (نعوذ باللہ ) بعض افراد کے ساتھ رشتہ داری  اور ان کے قوم و قبیلہ سے اپنا ئیت رکھتا ہے اور کسی قسم کا ارتباط پیدا کرنے  کے لئے دوسرے لوگوں کے طلب کرنے کی ضرورت نہیں ہے !

 اس قسم کے جوابات عموما ً ذمہ داریوں سیجان چھڑانے کا طریقہ ہیںلیکنیہ صحیح نہیں ہے ۔ کیونکہ نہ ہی جوابات قانع کنندہ ہیں اور نہ ہی ان سے کبھی کسی کو راہ  تکامل کی طرف راہنمائی کرسکتے ہیں ہم اس سوال کا جواب خاندان وحی علیھم السلام کے فرا مین کی روشنی  میں دیں گے ۔


خداوند عالم نے تمام انسانوں کو رو حانی کمال اور معنویت حاصل کرنے کا حکم دیا ہے اور اپنی عمومی دعوت میں جو کوئی بھی اس راہ میں قدم بڑھائے اجر اور بدلہ عنایت کیاہے اسی طرح کہ جیسے میزبان اپنے مہمانوں کو دعوت کرتا ہے اور سب کی شرکت کی صورت میں خدمت اور پذیرائی کرتا ہے،نیزخداوند کریم نے بھی کمال و ارتقاء کا زمینہ ہر انسان کے لئے فرا ہم کیا ہے ۔اور اسی طرح ان کو  تکامل کی طرف دعوت دی ہے اور قرآن مجید میں صریحاً فر مایا ہے :

 (وَالَّذِیْنَ جٰاهَدُوْا فِیْنٰا لَنَهْدِیَنَّهُمْ سُبُلُنٰا ) (1)

''جو بھی ہماری راہ میں کو شش کرے ہم ضرور اسے اپنی راہ میں ہدایت کریں گے ''

 مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ خدا کی دعوت کا جواب دیں اور روحانی کمال اور معنوی کارتقاء کی راہ میں  قدم بڑھائیں ۔لہٰذایہ بات مسلم ہے کہ انسان کے اندر ارتقاء کا مادہ موجود ہے اور وہ اس قدرت سے بہرہ مند بھی ہے، لیکن اس سے استفادہ نہیں کرتا جیسے تنگ نظر  اور چحوٹی سوچ کے مالک دولت مند افراد ہمیشہ بینک اکاؤنٹ پر کرنے میں لگے رہتے ہیں اور اس سے خوشحال رہتے ہیں ، انہیں کبھی بھی اس مال و دولت سے استفادہ کرنے کی توفیق نہیں ہوتی ۔کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ موجودہ قوتوں اور توانائیوں سے استفادہ کیا جائے  تاکہ اپنے خسارے اور گھاٹے کا جبران ہو سکے اور عظیم مقاصد تک رسائی حاصل ہو سکے ۔بہت سارے لوگ روحانی اور معنوی کمال تک پہنچنے کی ذاتی طور پر بہت زیادہ آمادگی اور توانائی رکھتے ہیں چونکہ ان امور کے ساتھ ان کا کوئی کام نہیں ہوتا لہٰذا اس قسم کی تمام تر توانائیوں سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کرتے یہاں تک کہ دنیا کو خیر آباد کہہ دیتے ہیں اور ان توانائیوں کو اپنے ساتھ زیر خاک لے جاتے یتے ہیں

--------------

[1]۔ سورۂ عنکبوت ، آیت: 69


جس طرح کہ گذشتہ زمانوں میں  دولت مند  افراد اپنے مال و دولت کو حفاظت کی خاطر زمین میں دفن کر دیتے تھے مگر بعد میں نہ ہی تو وہ خود اور نہ ہی ان کی اولاد  اس مال سے کسی قسم کا استفادہ کر سکیں ۔

یہ بات واضح ہو جائے کہ بعض افراد بہت زیادہ ،روحانی طاقت کے حامل تھے نیزان کی  درک کرنے کی قوت بھی فوق العادہ تھی انہوں نے کیسے یہ طاقت وقوت حاصل کی اس کا اندازہ بزرگ شیعہ عالم دین مرحوم حر ّ عاملی  کی اس گفتگو سے ہو تا ہے ۔آپ  فر ماتے ہیں :

 یہ بات واضح اور روشن ہے کہ دیکھنا اور سننا اور دیگر چیزیں جن کا سیدھا تعلق آنکھ،کان اور مربوط اعضاء سے ہے ۔آنکھ اور کان یہ دونوں چیزیں روح کے لئے وسیلہ ہیں ۔روح ان کے ذریعہ دیکھتی اور سنتی ہے ۔چونکہ روح کی طاقت قوی نہیں ہے اس لئے سماعت و بصارت اس جیسی خاص مادی چیزوں تک محدود ہے ۔

اسی وجہ سے فقط مادیات کو ہی دیکھ پاتی ہے اور روحانی مسائل کے درک کرنے کی قوت نہیں رکھتی اگر انسان اپنی ذمہ داریوں کو بطور احسن انجام دے کر اپنی روحانی طاقت کو قوی کرلے تو مادیات اور طبیعیات سے مزید استفادہ کرنے کی استطاعت پیدا ہو جا ئے گی ۔پھر وہ اپنی آنکھوں سے ان چیزوں کا مشاہدہ کرسکے گا جو دوسروں کو نہیں دکھائی دیتیں ۔ایسی صدائیں بآسانی سن سکے گا جسے دوسرے نہیں سن سکتے ۔

یہ قدرت اور غلبہ مختلف افراد میں مختلف طرح سے پا یا جاتا ہے ،اسی طرح کہ جس طرح ان کا تقرب بھی خدا کے نزدیک یکساں اور برابر نہیں ہے جو بھی عبادت ،جد وجہد اور کو شش کے ذریعہ سے خدا کے زیادہ نزدیک ہوتا ہے اس کے روحانی اور معنوی حالات قوی تر اورمضبوط و مستحکم ہو تے جا تے ہیں ۔اور ایسے امور میں جن میں دوسرے لوگ آنکھ اور کان سے درک کرنے کی قوت نہیں رکھتے ان میں وہ قوی تر اور نہایت ہی مضبوط ہو تا ہے ۔ (1)

--------------

[1] ۔ الفوائد الطوسیہ، تالیف مرحوم شیخ حر ّ عاملی: 82


 اس بحث سے روشن ہواکہ مرحوم شیخ انصاری  جیسے افراد کیسے یہ عظیم نعمت حاصل کر لیتے ہیں ۔ لیکن دوسرے افراد یہ قدرت اور توانائی نہیں رکھتے اور ان کی نظریں اس طرح کے امور دیکھنے سے عاجز ہیں ۔

صحیح معنوں میں حالت انتظار کو حاصل کرنا ہمارے لئے ایک تحفہ ہے ۔

دیدۂ باطن چو بینا می شود

آنچہ پنہان است ، پیدا می شود

امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے وہ منتظرین جنھوں نے انتظار کی راہ میں چل کر اپنے آپ کو سنوارا ہے ،وہ لوگ ہو ائے نفس سے فرارا، روح  کی پرواز اور ترقی کے ساتھ نفس کے تسلط اور کنٹرول سے رہائی حاصل کرتے ہیں تو نفس کی جذابیت اور کشش میں یہ طاقت نہیں کہ انہیں اپنی طرف کھینچ  لے کہ جس طرح فضا ئی راکٹ و غیرہ جب زمین کے مدار سے خارج ہو جاتا ہے تو پھر اس کو زمین کا کشش اپنی طرف نہیں کھینچ سکتی ؛اگر ہم بھی تغیّر زمانہ کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو ہوا ئے نفسانی کے مدار سے خارج کر لیں تو نفس کی کشش و جذابیت اور شیطانی وسوسے ہمیں متأ ثر نہیں کر سکتے ۔

حضرت سلمان اور اہل بیت علیھم السلام کے دوسرے اصحاب اس طرح تھے اور وہ نفس کے دائرے سے خارج اور مادیات کی قید سے رہا ئی حاصل کر چکے تھے ۔اسی وجہ سے وہ افراد غیب کے عالم سے رابطہ بر قرار کئے ہو ئے تھے ۔جو ولایت اور قدرت و طاقت حضرت سلمان کے پاس تھی چونکہ انہوں نے نفس کے دائرے سے نکل کر اپنی ہوا ئے نفس کو تباہ و برباد کر رکھا تھا ۔اپنی خواہشات اور ارادوں پر حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے ارادوں کو مسلط کر رکھا تھا اسی وجہ سے اپنی غیبی اور پوشیدہ قدرتوں اور طاقتوں سے بہرہ مند ہو کر ان سے عمل میں استفادہ کر تے تھے ۔


3۔ مقام ولایت کی معرفت

           ظہور کا انتظار ،ولایت امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی قدرت اور طاقت کو منتظر شخص کے دل و جان میں استحکام پیدا کرتا ہے اور اس کو اس عقیدے پر ثابت اور استوار کرتا ہے کہ ایک دن قیناًخا نہ ٔ خدا کے پاس سے قدرت خدا امام  عجل اللہ فرجہ الشریف  کے ہا تھوں روشن و آشکار ہو گی اور دنیا کے تمام تر جونک صفت سر کش باغیوں کو (جو ضعیفوں کا خون چوسنے میں لگے ہو ئے ہیں )ن کے ان برے اعمال کی سزا دے کر ولایت کی عظیم قدرت اور استحکام کو تمام دنیا والوں کے لئے روشن اور ثابت کریں گے کہ کوئی ایسا امامت اور ولایت کے مرتبہ کا اہل ہے جو قدرت خدا کو ظاہر اور آشکار کرسکتا ہے ۔

یہ ایک منتظر کا عقیدہ اور فکر ہے لہٰذا ظہور کا انتظار دین کے اصلی اور حقیقی عقائد اور معارف پر  اعتقاد کے ساتھ ہے ،کیونکہ انتظار، معرفت اور اعتقادات کابیج منتظرین کے ذہنوں میں بوتا ہے اور ان میں یقین اور اطمینان پیدا کر تا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں پوری دنیا ولایت کی حکومت ،طاقت ،اور قوت کے کنٹرول میں آجائے گی اور ولایت کی عظیم الشان اور نا شناختہ حکومت دنیا کی تمام تر ظالم و جابر طاقتوں اور حکومتوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردے گی اور دنیا کی یہ مادی تہذیب و تمدن ولایت الٰہی کی اس بے پناہ طاقت اور حکو مت کے سا منے تاب نہ لا تے ہو ئے مصلح جہان کے دائرے میں آجا ئے گی ۔


4۔ مہدویت کے دعویداروں کی پہچان

 مذہب تشیع کی پوری تاریخ میں متعدد افراد نے مہدویت کا دعویٰ کیا ہے اور اپنے آپ کو رہنما (رہبر ) اور عوام کی اصلاح کرنے والے کے نام سے متعارف کروایا ہے ،اور اس حربے سے انسانوں کے جان ،مال اور خون کو پائمال کیا ہے اور بعض کو گمراہی کی طرف بھی کھینچ کر لے گئے ہیں ؛ لیکن وہ افراد کہ جنہوں نے صحیح طور پر اور سچے دل سے انتظار کی راہ میں قدم رکھا ہے ،اپنے وجود کو ولایت کے چمکتے ہو ئے انوار سے روشن کیا ہے وہ کبھی ان دھو کے بازوں کے دام فریب میں نہیں آتے بلکہ ببانگ دہل اعلان کرتے ہیں ۔

برو این دام بر مرغ دگر نہ

کہ عنقا را بلند است آشیانہ

 رہزنوں اور حیلہ سازوں کی شناخت ہمیں امامت کے بلند و بالا درجہ سے آشنا ئی کی وجہ سے ہے اسی وجہ سے آب حیات کو سراب کے بدلے میں نہیں بیچتے ہیں اور خلافت کے غاصبوں کو نہیں مانتے ۔


 امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے تکامل یافتہ

منتظرین یا آپ کے عظیم اصحاب کی معرفت

حیرت انگیز انکشاف یہ ہے کہ انتظاربا کمال منتظرین کے لئے تحفۂ خداوندی ہے یہ افراد فقط عقیدے اور اعتقاد کے لحاظ سے ہی ولایت اہل بیت علیھم السلام کے مقام و مرتبے او ر منزلت کی معرفت نہیں رکھتے بلکہ وہ خود بھی آفتاب ولایت کے چمکتے ہو ئے دریچے ہیں یعنی انتظار کی راہ میں تکامل کے اثر سے اپنی ظرفیت کی حد تک خاندان وحی علیھم السلام کے مرتبے سے معنوی اور روحی طاقتیں اور قدرتیں کسب کرتے ہیں اور ان کوجو ذمہ داریاں دی جا تی ہیں وہ انہیں  بحسن و خوبی انجام دیتے ہیں ایسے افراد امام زمانہ  عجل اللہ فرجہ الشریف  کی پوری طرح مدد کرنے والے ہیںاور آنحضرت  کے مقام ولایت کی طرف سب سے آگے ہیں ۔

اب آپ اس نکتہ کی طرف توجہ فر ما ئیں، خداوند کریم قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :

(فَاسْتَبَقُو الْخَیْرٰاتِ أَیْنَ مٰا تَکُوْنُوا یَأْتِ بِکُمُ اللّٰهُ جَمِیْعاً ) (1)

''اب تم نیکیوں کی طرف سبقت کرو اور تم جہاں بھی رہو گے خدا ایک دن سب کو جمع کردے گا ''

یہ آیت کریمہ امام عصرعجل اللہ فرجہ الشریف کے ان تین سو تیرہ صحاب کے بارے میں ہے کہ جو ظہور کے دن سب سے پہلے امام  کی خدمت میں حاضر ہوں گے ۔خداوند کریم ان سب کو اپنے بیت الشرف (کعبة اللہ) میں ولی بر حق کے ارد گرد جمع کردے گا تا کہ آنحضرت  کی مدد کے لئے اٹھ کھڑے ہوں اور زمانے کی بدبختیوں کو ختم کردیں ۔

--------------

[1]۔ سورۂ بقرہ ، آیت 148


 یہاں پر بعض افراد کے ذہن میں ایک بہت ہی اہم سوال آسکتا ہے کہ نیکیوں میں سبقت لے جانے کا کیا مطلب ہے اور حضرت مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف  کے ان تین سو تیرہ اصحاب با وفا میں  کون   کون سی ایسی خوبی ہے کہ وہ دوسروں لوگوں پر سبقت لے جا ئیں گے اور عظیم مرتبہ پر فائز ہوں گے ؟!

اگر ہم سر چشمہ وحی سے دریافت کریں تو امام محمد باقر علیہ السلام کی حدیث، مذکورہ آیت کی تفسیر کرتی ہے :

 ''أَلْخَیْرٰاتُ:أَلْوِلاٰیَةُ لَنٰا أَهْلَ الْبَیْتِ ''  (1)

  ''خیرات سے مراد ہم اہل بیت  کی ولایت ہے ''

اصحاب با صفا کی طاقت و قدرت کا سر سری جائزہ

 انسان ولایت کی قبولیت میں جتنی بھی کوشش کرے گا اتنی ہی اس کی روح قوی ہوتی چلی جائے گی نیز غیر معمولی طاقت کا مالک بن جائے گا ۔ پھر حسب دلخواہ وہ مادی اور غیر مادی موجودات پر بھی حکومت کر سکتا ہے جیسا کہ مرحوم علامہ بحرالعلوم کے اس  بے مثال واقعہ سے معلوم ہوتا :

--------------

[1]۔ مرحوم نعمانی کی کتاب الغیبہ ، ص314


 مرحوم علامہ بحر العلوم  اختلافی قلب ( خفقان ) کے مریض تھے اس مرض کے ساتھ گرمیوں میں کربلا میں حضرت امام حسین علیہ السلام کی ایک مخصوص زیارت سے مشرف ہونے کی نیت سے بہت شدید گرمی والے دن نجف اشرف سے نکلے لوگوں نے تعجب کیا کہ مرض اور اس ہوا کی گرمی میں یہ کیسے سفر کریں گے ؟ !

 آپ کے ساتھ سفر کرنے والوں میں مرحوم شیخ حسین نجف بھی تھے جو سید بحر العلوم کے زمانے کے مشہور علماء میں سے تھے تمام افراد گھوڑوں پر سوار سفر کر رہے تھے ایک بادل ہوا میں دکھائی دیا جس نے ان پر سایہ کیا ، پھر سرد ہوائیں چلنے لگیں ہوا اس حد تک ٹھنڈی ہو گئی تھی جیسے یہ تمام افراد  زیر زمین راہ میں سفر کر رہے ہوں وہ بادل اس طرح ان لوگوں پر سایہ کئے ہوئے تھا یہاں تک کہ وہ کان شور کے نام سے ایک مقام کے نزدیک پہنچے وہاں پر بزرگ عالم دین شیخ حسین نجف کے جاننے والوں میں   سے کسی سے ان کی ملاقات ہو گئی اور وہ بحر العلوم سے جدا ہو گئے اور اپنے دوست سے احوال پرسی اور گفتگو میں مشغول ہو گئے اور پھر یہ بادل سید بحر العلوم کے سر پر سایہ کئے رہا یہاں تک کہ سید بحر العلوم مہمان خانے میں داخل ہو گئے چونکہ سورج کی گرمی شیخ نجف کو لگی لہٰذا ان کی حالت خراب ہو گئی اور اپنی سواری سے زمین پر گر پڑے ادھیڑ عمر یا فطرتی کمزوری کی وجہ سے بے ہوش ہو گئے انہیں اٹھا کر مہمان خانے میں سید بحرالعلوم کے پاس پہنچایا گیا اس کے بعد جب انہیں ہوش آیا تو سید بزرگوار سے عرض کی ۔'' سیدنا لم تدرکنا الرحمة '' اے ہمارے سید و سردار رحمت نے ہمیں اپنی لپیٹ میں کیوں نہ لیا ۔ تو سید نے فرمایا:'' لم تخلفتم عنها ؟ ''

 تم نے رحمت کی مخالفت کیوں کی ؟!اس جواب میں ایک لطیف حقیقت پوشیدہ ہے ۔ (1)

--------------

[1] ۔ العبقریّ الحسان:692


امام عصر عجل اللہ فرجہ الشریف کے اصحاب خاص کی قدرت تصرف اس حد تک ہے کہ امام کے تین سو تیرہ اصحاب خاص میں سے کچھ افراد اسرار آمیز بادلوں سے استفادہ کرتے ہیں اور ظہور کی ابتداء میں بادلوں کے ذریعہ سے آپ کی خدمت میں پہنچا کریں گے ۔ مفضل کہتے ہیں کہ حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

 ''قٰالَ أَبُوْ عَبْدِ اللّٰهِ: اِذٰا اُذِنَ الْاِمٰامُ دَعَا اللّٰهَ بِاسْمِهِ الْعِبْرٰانِیّ فَاُتیحَتْ لَهُ صَحٰابَتُهُ الثَّلاٰثَ مِأَةِ وَ ثَلاٰثَةَ عَشَرَ قَزَع کَقَزَعِ الْخَرِیْفِ وَ هُمْ أَصْحٰابُ الْاَلْوِیَّةِ ، مِنْهُمْ مَنْ یُفْقَدُ عَنْ فِرٰاشِهِ لَیْلاً فَیُصْبَحُ بِمَکَّةَ وَ مِنْهُمْ مَنْ یُرٰی یَسِیْرُ فِی السَّحٰابِ نَهٰارًا یُعْرَفُ بِاسْمِهِ وَ اسْمِ أَبِیْهِ وَ حِلْیَتِهِ وَ نَسَبِهِ قُلْتُ جُعِلْتُ فِدٰاکَ أَیُّهُمْ أَعْظَمُ اِیْمٰانًا ؟ قٰالَ : اَلَّذِی یُسِیْرُ فِی السِّحٰابِ نَهٰاراً وَ هُمُ الْمَفْقُودُوْنَ وَ فِیْهِمْ نُزلَتْ هٰذِهِ الْآیَةُ ( اَیْنَمٰا تَکُونُوا یَأْتِ بِکُمُ اللّٰهُ جَمِیْعًا ) ''  (1)،(2)

 ''جب بھی امام کو اذن ہوگاخدا کو اس کے عبری ( عبرانی زبان ) سے پکارا جائے گا اس وقت آپ کے تین سو تیرہ اصحاب خزاں کے بادل کی مانند جمع ہو جائیں گے ۔ وہی آپ کے یاور و مدد گار ہوں گے۔ان میں سے بعض رات میں اپنے بستروں سے غائب ہو جائیں گے اور صبح مکہ میں ہوں گے اور ان میں سے بعض وہہوں گیجو دن میں بادلوں میں سیر کرتے ہوئے نظر آئیں  گے اور وہ اپنے ناموں اور اپنے باپ کے نام اور اپنی صفت اور اپنی نسبتوں سے پہچانے جائیں گے ۔

 میں نے کہا: ان دو گروہوں میں سے ایمان کے لحاظ سے کون سا گروہ با عظمت ہے؟

 حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا : وہ جو دن میں بادلوں کی سیر کریں گے یہی وہ لوگ ہیں جو اپنی جگہوں سے غائب ہو جائیں گے ان ہی کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ہے : ''تم جہاں بھی رہو گے خدا ایک دن سب کو جمع کر دے گا ''

--------------

[1]۔ سورۂ بقرہ،آیت:148

[2]۔ بحار الانوار ،:ج۵۲ص۳6۸، غیبت نعمانی :168، تفسیر عیاشی:ا  67


 ظہور کے زمانے کی معرفت

ظہور کے زمانے میں دنیا کی حالت سے آشنائی اور وہ عظیم تبدیلی جو اس زمانے میں پیش آئے گی انسان کو مسئلہ انتظار کی طرف بلاتی ہے وہ حیرت انگیز تبدیلی کہ جو پوری دنیا اور تمام انسانوں میں پیدا ہوگی ۔ انسان اور دنیا کو ایک اور شکل میں جلوہ گر بنا دے گی ۔

1۔ باطنی تطہیر

اب انسانی وجود کے نشیب و فراز میں پیدا ہونے والی تبدیلیوں کی طرف توجہ فرمائیں ۔

اعتقادی مسائل میں سے ایک مسئلہ خصلت اور کیفیت اور پاک اور ناپاک خصلتوں کے ایک دوسرے کے ساتھ میل جول کا ہے ۔ اور روایات میں بھی ذکر ہوا ہے کہ (طینت) عادت، سرشت کا کیا مطلب و مقصود ہے چونکہعادتیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں اور کس طرح پاک ہو کر ایک  دوسرے سے جدا ہوتی ہیں ؟

اس مسئلہ کی تفصیل اس  مختصر کتاب میں مناسب و ممکن نہیں ہے اس وجہ سے ہم فقط اس نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہیں : زمانۂ ظہور کی خصوصیات میں سے ملاوٹ سے خصلتوں کی پاکی ، نفس اور ضمیر کا آلودگیوں سے پاک ہونا ہے جو وجود انسانی کے نشیب و فراز میں موجود ہیں ہم یہ کیوں کہتے ہیں کہ حضرت بقیة اللہ  کے زمانہ ٔ  ظہور میں لوگ کثافتوں اور آلودگیوں سے پاک ہو جائیں گے ؟


اس سوال کے جواب سے پہلے اس بات کی وضاحت کے لئے ایک داستان عرض ہے :

شیبہ بن عثمان ، حضور اکرم (ص)کا شدید ترین دشمن  تھا ۔ اس کے دل میں آنحضرت (ص)کے قتل کی آرزو تھی  اس نے جنگ حنین میں شرکت کی تاکہ حضور اکرم(ص)  کو شہید کر دے جس وقت لوگ آنحضرت(ص) کے اطراف سے ہٹ گئے اور نبی اکرم (ص)تنہا رہ گئے یہ پچھلی جانب سے آنحضرت (ص) کے نزدیک پہنچا ، لیکن آگ کا ایک شعلہ اس کی طرف بڑھا اس طرح کہ اس کو تحمل کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تھا ۔ اسی وجہ سے اپنا مقصد پورانہ کر سکا ۔

 نبی کریم  (ص) نے پیچھے مڑ کر اس کی طرف دیکھا اور فرمایا :

 شبیہ میرے نزدیک آجائو اس وقت حضور نبی اکرم (ص)نے اپنا دست مبارک اس کے سینے پر رکھا اس کام کے اثر سے آنحضرت (ص) نے اس کے دل میں جگہ پیدا کر لی اس طرح کہ پیغمبر اکرم (ص)اس کے نزدیک اس وقت سے محبوب ترین شخص ہو گئے اسی وقت اس نے نبی اکرم (ص)کے حضور میں مخالفین سے اس طرح سے جنگ کی کہ اگر اسی حالت میں اس کا باپ بھی مقابلے میں آجاتا تو اس کو بھی حضور نبی کرم (ص)   کی

نصرت کی خاطر قتل کر دیتا ۔(1)

 آپ دیکھیں کس طرح پیغمبر اکرم  (ص) نے ایک نجس طینت اور آلودہ نفس انسان کو جو آپ(ص) کابد ترین دشمن  تھا ایک لمحے میں غلاظت و آلودگی سے نجات دے دی اس کو کفار کی صف سے نکال کر مومنین کے لشکر میں کھڑا کر دیا ۔

 پیغمبر اکرم  (ص) نے اپنے دست مبارک کو اس کے سینے پر پھیر نے کے ساتھ ہی اس کی عقل کو مکمل کر دیا  اور اس کی نا پسندیدہ طینت میں پیدا ہونے والی تبدیلی کی وجہ سے اس نے ضلالت اور گمراہی سے نجات حاصل کر لی ۔

--------------

[1]۔ سفینة البحار: 1 202مادہ حبب


اس مقدمہ کے بیان کے بعد زمانۂ ظہور کی تشریح یوں ہوگی کہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں :

 ''اِذٰا قٰامَ قٰائِمُنٰا وَضَعَ یَدَهُ عَلٰی رُئُوْسِ الْعِبٰادِ ، فَجَمَعَ بِهِ عُقُوْلَهُمْ وَ اَکْمَلَ بِهِ اَخْلاٰقَهُمْ  ''  (1)

 جس وقت ہمارا قائم قیام فرمائے گا اپنے ہاتھوں کو خدا کے بندوں کے سروں پہ رکھے گا پس اس عمل سے ان کی عقلوں کوجمع کر دیں گے اس کے سبب ان کی عقلی قوت کامل ہو جائے گی اور ان کے اخلاق کو مکمل کر دیں گے ۔

امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف اس عمل سے سے لوگوں کے باطن کو پاک کر دیں گے اور خدا کے تمام بندوں کو برائیوں سے نجات بخشیں گے ۔

2 ۔ زمانۂ ظہور میں عقلوں کا کامل ہونا

 مذکورہ روایت سے دو نہایت پرکشش نکات  سمجھ میں آتے ہیں ۔

1۔ حضرت بقیة اللہ عجل اللہ فرجہ الشریف اپنے ہاتھ کو نہ فقط اپنے اصحاب خاص کے سروں پر بلکہ تمام  بندگان خدا کے سروں پر پھریں گے یعنی وہ تمام  افراد جواس دن خدا کی بندگی کے قائل ہوں گے اگرچہ  جنگ میں آنحضرت کے اصحاب میں سے نہ بھی ہوں گے بوڑھے اور بچے سب اس عظیم نعمت کے مالک ہوں گے ۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار :ج۵۲ص۳۳6


2 ۔ سب لوگوں کی عقلیں پراکندگی اور انتشار سے نجات پائیں گی اور سب کے سب پوری طاقت کے ساتھ فکر و عقل کا مرکز جو غیر معمولی علم و ادراک کا سر چشمہ ہوجائیں گی۔ ان کی عقلی قوت کے کامل ہو جانے کا یہ معنی ہے کہ اگر چاہیں گے تو دماغ کی تمام تر قوتوں سے فائدہ حاصل کرسکیں گے ۔

جی ہاں!جس دن خدائی ہاتھ لوگوں کے سروں پر رکھا جائے گا ، غیبت کے دوران ستم  دیدہ انسانوں پر نوازش کی جائے گی اور وہ طاقتیں جو انسانی دماغ کے اندر پوشیدہ تھیں تکامل کے اثر سے تجلی اور ظہور کریں گی نیز عالی ترین علمی اور عملی مراحل کے کمال کے ساتھ یہ حیرت انگیز دور درک کریں گے اس لئے ہم دماغی قوت اور کمال عقل کے حیرت انگیز اثرات کی زیادہ سے زیادہ آشنائی اور پہچان پیدا کریں۔

 دماغ کی اس عظیم قدرت کی وضاحتیوں ہے کہ ہر انسان عادی یا غیر عادی طور پر اپنی پوری زندگی کے دوران اپنےدماغ کی ظرفیت کا ایک اربواں حصہ بھی کام میں نہیں لاتا ۔ اگر عام  افراد یا نابغہ  افراد کے دماغ کی ظرفیت اور توانائی کا ایک اربواں حصہ کام میں لایا جائے تو وہ فرق جو ان کے اور عام لوگوں کے درمیان دیکھنے میں آئے گا ، وہ ایک بہت بڑی حیران کن کیفیت ہوگی نہ ایک چھوٹی موٹی اور عام(1)   یعنی یہاں تک کہ نابغہ ( غیر عادی ) افراد جو فکر و عقل کی عجیب و غریب طاقت سے مالا مال ہیں ، وہ بھی فقط اپنے مغز کی کل طاقت کا ایک اربواں حصہ عمل میں لا سکتے ہیں ۔ لیکن کیسے ان کے دماغ  کے ایک اربویں  حصہ کی توانائی اور استفادہ دوسروں سے بہتر ہے ۔

--------------

[1]۔ توانیھای خود را بشناسید : 347


 آج سے کئی سال پہلے کی بات ہے کہ اس زمانے کے ایک ریاضی دان نے ایک ایسے مسئلے کو عوام کے کانوں تک پہنچایا کہ جو بہت زیادہ زیر بحث تھا ۔ اس نے ایک تخمینہ لگایا کہ ایک انسانی مغز ( ایک وقت میں ) دس معلوماتی اکائیوں کی ذخیرہ اندوزی کر سکتا ہے اگر اس رقم کو سادہ زبان میں بیان کیا جائے تو یہ کہنا حقیقت سے دور نہیں ہوگا کہ ہم میں سے ہر ایک ماسکو میں موجودہ دنیا کی عظیم ترین لائبریری میں موجود کئی لاکھ جلد کتابیں جو تمام معلومات سے پر ہیں ، کو اپنے حافظہ میں رکھ سکتا ہے مندرجہ بالا باتیں اس طرح کے حساب میں جس کی تائید کی جا چکی ہے حیرت انگیز نظرآتی ہیں ۔ (1)

 اب آپ توجہ فرمائیں کہ اس صورت میں جب مصلح جہان حضرت امام  مہدی  عجل اللہ فرجہ الشریف کے چمکتے ہوئے نور کی روشنی کے اثر سے انسانی مغز کی تمام قدرتیں اپنے تکامل کو پہنچ جائیں گی اور انسان اپنے مغز کی تمام تر قوت و طاقت سے نہ ایک اربویں حصے کی طاقت سے استفادہ کرے گا تو علم و تمدن پوری دنیا پرچھا جائے  گا اس وقت دنیا کا احاطہ کس طرح ہوگا ؟!

 جس زمانے میں انسان عقل کے تکامل کے اثر سے روح کی سوئی ہوئی قوتوں کو اجاگر کر لے گا اور انہیں  بیدار کرکے ان سے بہرہ مند اور مستفید ہوگا اس وقت وہ اپنے جسم کو اپنی روح کا تابع قرار دے کر قدرت روح حاصل کر سکتا ہے ۔

 یعنی اپنے مادی جسم کو توانائی اور امواج میں تبدیل کر سکتا ہے اور اس کام سے اپنے جسم کو مادیت اور جسمانیت کی حالت سے باہرنکال سکتا ہے ۔

 جس وقت انسان اس کام پر قادر ہو جاتا ہے تو اس وقت بہت سی کرامتیں جو اس کے اندر عام حالت میں موجود تھیں اس کے لئے ثابت ہو جائیں گی ۔

--------------

[1] ۔ توانیھای خود را بشناسید :44


 زمانۂ غیبت میں بہت کم ایسے لوگ موجود ہیں جو طی الارض کی قدرت رکھتے ہیں ، اور اس سے استفادہ کرتے ہیں اور اپنے جسم سے مادی حالت اور تجسم کو چھین کر اپنے آپ کو توانائی اور امواج کی شکل میں تبدیل کر لیتے اور ایک لمحے میں اپنے آپ کو  زمین کے ایک گوشے سے دوسرے گوشے میں پہنچاتیہیں اورجو لوگ یہ قدرت اور طاقت رکھتے ہیںوہ اپنے تروح یافتہ جسم کی اس جگہ راہنمائی کرتے ہیں کہ جس کا وہ ارادہ رکھتے ہیںاور وہاں پر اسے مجسم کر لیتے ہیں ۔

 3 ۔ دنیا میں عظیم تبدیلی

ظہور کے با عظمت دور میں زمین پر عظیم تبدیلیاں رونما ہوں گی اور قرآن مجید کے فرمان کے مطابق :( یَوْمَ تُبَدَّلُ الْاَرْضُ غَیْرَ الْاَرْضِ )  (1) اس دن جب زمین دوسری زمین میں تبدیل ہو جائے گی ۔

 زمین ایک نئے طریقے سے جدید شرائط کے ساتھ وجود میں آئے گی اور نہ فقط زمین بلکہ اس زمانے میں عظیم ، کامیاب اور تازہ تبدیلیاں رو نما ہوں گی ۔(2)

 آج تمام دانشمند افراد اس نکتہ پر متفق ہیں کہ مادہ ارتعاش سے تشکیل پاتاہے  اور ارتعاشات کو کیبل یا لہروں کے ذریعے سے تصور یا آواز کی طرح دور دراز مقامات پر منتقل کیا جاسکتا ہےجس کے نتیجہ میں انسان کیبناوٹ وساخت( جو مادہ سے منظم ہوئی ہے) کو ارتعاش میں تبدیل کر کے الیکڑونک  کے ذریعے دنیا کے ہر حصہ تک پہنچایا جا سکتا ہے ۔

--------------

[1]۔ سورۂ ابراہیم ، آیت: 48

[2] ۔ یہ ایک روایت کی طرف اشارہ ہے جس میں فرمایا گیا:''اِذٰا اتَّسَعَ الزَّمٰان فَاَبْرٰارُ الزَّمٰانِ اُوْلٰی بهِ''بحار الانوار:ج۴۳ص۳۵۴


 میرا نظریہ یہ ہے کہ مستقبل قریب میں یہاں تک کہ فضائی مسافرتوں سے بھی قبل ایسے طریقے ایجاد کئے جا سکیں گے کہ انسانی جسم کو ارتعاش کے ساتھ ذرہ ذرہ کرکے فضا میں بھیج کر اور وہاں ان  الگ  الگ ا ذرّات کو آپس میں میں جوڑا جا سکے گا ۔

اب ہمارے محترم قارئین خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ انسان روح ہے اور اس کا جسم  مادہ کے ذرات کے علاوہ اور کچھ بھی نہیں ہے ۔ جسے کند کرنے اور اس کے ارتعاشات کو نیچے لانے سے اپنی مرضی کی شکلوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے ۔(1)

 ایسے دن کو آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے جس دن انسان اپنے جسم کو الیکٹران والے طریقہ کے مطابق تبدیل کرے گا اور اسے مذکورہ بحث کے تجربہ کے طور پر مشاہدہ میں لائے گا اس کا روائی کی ایک دور دراز مقام کی طرف رہنمائی کی جائے گی اور وہاں پر ان ایٹموں کو جمع کیا جائے گا جن سے جسم دوسری مرتبہ اپنی اصل شکل میں آجائے گا ۔(2)

 عقلی قوتوں کے تکامل عمومی کی بنا پر جن کی روایات میں تصریح کی گئی ہے ، روح تمام مادہ چیزوں پر غلبہ کرے گی اور لوگ اپنے جسم پر ( حکومت ) کنٹرول حاصل کریں گے اور اس حالت سے بخوبی استفادہ کر سکیں گے اس با عظمت اور نا شناختہ دور میں لوگوں کی زندگیاں اور ان کی ضروریات مادی و سائل کے ساتھ ایک اور طرح کی ہیں ۔

 ولایت اہل بیت علیھم السلام کے ظہور کے پر تو میں انسان کا علم و دانش عظیم ترین امکانی نقطے تک پہنچ جائے گا اور انسان با آسانی علم و دانش کے تمام مراحل سے بہرہ مند ہوگا اس دن  اولیائے خداوہ رازبھی فاش کر دیںگے جو وہ عوام کے آمادہ نہ ہونے کی وجہ سے چھپایا کرتے تھے اور ان کے لئے ترتیب اور تکامل کی آخری راہ کھول دیں گے شاید ہمارے لئے اس طرح کے مطالب کو قبول کرنا سخت ہو اور ہم ان تمام علمی مسائل کی  پیشرفت کو قبول نہ کر سکیں ۔

--------------

[1]۔ روح زندہ می ماند: 158

[2]۔ روح زندہ می ماند: 188


  حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ اگر انسانی دماغ شیطان کی قید سے آزاد ہو جائے تو اس کا لازمہ یہ ہے کہ انسان تمام مدارج میں اس حد تک تکامل حاصل کر لیتا ہے کہ دنیا میں کوئی بھی راز اس سے مخفی نہیں رہ جاتا اور تمام پیچیدہ علمی مسائل کا حل نکل آتا ہے ۔

غاصبین خلافت کہ جنہوں نے آج تک اربوں افراد کو علم وکمال کے عالی ترین مراحل اور ولایت کے جگمگاتے ہوئے تمدن تک رسائی حاصل کرنے سے محروم رکھا ۔ حضرت علی علیہ السلام اپنے اس کلام میں کہ جو آنحضرت کے وجود کی گہرائیوں سے صادر ہوتا ہے اس طرح فرماتے ہیں :

'' یٰا کُمَیْل مٰا مِنْ عِلْمٍ اِلاّٰ وَ اَنَا اَفْتَحُهُ وَمٰا مِنْ سَرٍّ اِلاّٰ وَ الْقٰائِمُ یَخْتِمُهُ ''  (1)

 ''اے کمیل!کوئی علم نہیں مگر یہ کہ میں نے اسے شگافتہ کیا ہو اور کوئی راز نہیں مگر یہ کہ قائم   اسے اختتام کو پہنچائیں ۔''

 جی ہاں!  جب حضرت بقیة اللہ الاعظم عجل اللہ فرجہ الشریف کے ہاتھوں سے چمکتا ہوا نور دنیا کے رنجیدہ خاطر اور ستم رسیدہ عوام کی عقلوں کو کمال بخشے گا اور استفادہ کی حیرت انگیز قوت ایجاد کردے گا ۔ اس وقت انسان اپنے عقل و فہم کی  تمام قدرت کے ساتھ نہ فقط ایک اربویں حصے سے خاندان وحی  علیھم السلام کے حیات بخش مکتب کے رازوں کو قبول کرے گا بلکہ علم و کمال کے آخری مرحلے کو بھی حاصل کر سکے گا ۔

 اس با عظمت زمانے میں تمام تر پوشیدہ راز اور اسرار ظاہرو آشکار ہو جائیں گے ، اور اس زمانے میں تاریکیوں کا اثر تک باقی نہیں رہے گا۔

اب کیا ایسے دن کے آنے کا انتظار ہمارے دلوں کو خلوص اور پاکیزگی نہیں بخشتا ؟ !

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج۷۷ص۲6۹


 نتیجۂ بحث

انتظار ، الٰہی حالت ہے جو امید و نجات بخش ہے، جو غیبت کے تاریک دور میں منتظرین کو  حیرت و سرگردانی کی ظلمتسے نجات بخشتا ہے  اور انہیں نور اور پاکیزہ وادی کی طرف لے جاتاہے ۔

انتظار غم زدہ لوگوں کو ایک نئی زندگی اور تازہ قوت دیتا ہے اور افسردہ دلوں کو امید دلاتا ہے۔ انتظار ، رکاوٹوں اور تاریکیوں سے پاک کر دیتا ہے اور انسانی وجود میں تکامل یافتہ چمکتے ہوئے نور کو ایجاد کرتا ہے ۔

انتظار ، شناسائیوں کے بیج اور شیعہ کے اصلی اعتقادات کو منتظرین کے دلوں میں پروان چڑھاتا ہے اور با فضیلت ترین انسانوں کے لئے کامل ترین معنوی حالات کو بعنوان ہدیہ پیش کرتاہے ۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ اپنے اندر  انتظار کو ایجاد کر کے اسے تقویت بخشیں تو ولایت کے عظیم اور عالی مقام سے انس اور محبت شروع کردیں اور انتظار کے حیرت انگیز آثار اور ان کی عادات سے آگاہی پیدا کریں اور حضرت بقیة اللہ اعظم عجل اللہ فرجہ الشریف کے زمانہ ٔ  ظہور کی برکتوں سے اپنے دل و جان کو آگاہ کریں تاکہ اس مبارک اور بابرکت زمانے کا انتظار ہمارے تمام تر وجود کو اپنی لپیٹ میں لے لے ۔

روز محشر کہ زہو لش سخنان می گویند

راست گویند ولی چون شب ہجران تونیست


 نواں باب

رازداری

حضرت امیر المو منین علی علیہ السلام فرماتے ہیں :

'' أَنْجَحَ الْاُمُوْرُ مٰا اَحٰاطَ بِهِ الْکِتْمٰانُ''

نتیجہ بخش ترین امور وہ ہیں جو پوشیدہ ہوں۔

    کتمان راز

    بزرگوں کی رازداری

    راز کی حفاظت کرنا نہ کہ خیالات کو چھپانا

    اسرار کی حفاظت میں، مخالفین کا کردار

    کرامت اور روحانی قدرت کو چھپانا

    مرحوم شیخ انصاری کی ایک کرامت

    راز فاش کرنے کے نقصانات

    نتیجہ ٔ بحث


کتمان راز

خدا کے حقیقی بندے ،خود ساختہ اور مہذب افراد اپنے اخلاص اور اصلاح نفس کی وجہ سے اپنے رفتار و کردار اور دوسری شائستگی میں خلقت کائنات کے اسرار سے آشنائی حاصل کرکے نظام خلقت کے کچھ انجانے رموز سے آگاہ ہوتے ہیں۔

اہلبیت علیھم السلام کے زمانۂ حضور میں ایسے اسرار ان ہستیوں کے ذریعے رحمانی الہامت کے توسط سے سکھائے گئے ۔یہ بزرگ ہستیاںاپنے اصحاب اور قریبی افراد کوایسے مسائل کی تعلیم دیتے اور انہیں اس کی حفاظت کا حکم دیتے۔

پیغمبر اکرم(ص) نے ایک مفصل روایت کے ضمن میں حضرت جابر بن عبداللہ انصاری سے فرمایا:

 ''یٰا جٰابِرُ اُکْتُمْ مٰا تَسْمَعُ فَاِنَّهُ مِنْ سَرٰائِرِ اللّٰهِ'' (1)

  اے جابر!تم جو کچھ سنتے ہو اسے چھپاؤ کیونکہ وہ اسرار خدا میں سے ہیں۔

 اس بنیاد پر جابر اور دوسری بزرگ شخصیات کہ جنہیں اہلبیت عصمت و طہارت علیھم السلام نے اسرار و معارف تعلیم فرمائے ،وہ اسرار کو مخفی رکھنے کی کوشش کرتے۔ایسے مسائل کی حفاظت ان کیلئے بہت مشکل تھی جس کے لئے انہوں نے بڑی زحمتیں برداشت کیں۔اسی وجہ سے اس موضوع کے بارے میں حضرت امام جعفر

صادق علیہ السلام نے یوں فرمایا ہے:

''کِتْمٰانُ سِرِّنٰا جِهٰاد فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ'' (2)

--------------

[1]۔ بحار الانوار :ج۳۵ص۱۰۳

[2]۔ بحار الانوار:ج۷۵ص۷۰


ایک دوسری روایت میں آپ فرماتے ہیں:

 ''مَنْ کَتَمَ الصَّعْبَ مِنْ حَدِیْثِنٰا جَعَلَهُ اللّٰهُ نُوْراً بَیْنَ عَیْنِهِ وَ رَزَقَهُ اللّٰهُ الْعِزَّةَ فِی  النّٰاسِ'' (1)

 جو کوئی ہماری سخت گفتار کو مخفی رکھے خدا وند اسے دو آنکھوں کے درمیاں نور کی طرح قرار دے گا اور لوگوں میں اسے عزت و احترام عطا کرے گا۔

 راز کو چھپانے کے لئے ہر موضوع کو غور و فکر کے بعد بیان کیا جائے اورغور و فکرکے بغیر افکار کو زبان پر نہ لایا جائے ۔اگر انسان سوچے اور سوچنے کے بعد بولے تو اسے اپنی باتوں پر  پشیمانی نہیں ہو گی۔کیونکہ تفکر اور تأمل سے کچھ راز مخفی رہ جائیں تو وہ مخفی ہی رہ جاتے ہیں۔کیونکہ سوچنے سے انسان کے لئے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ سب باتیں نہیں کہی جا سکتیں۔

 حضرت امیر المؤمنین  علیہ السلام فرماتے ہیں:

          ''لاٰ تَقُلْ مٰا لاٰ تَعْلَمْ  بَلْ لاٰ تَقُلْ کُلَّ مٰا تَعْلَمُ'' (2)

           جو بات نہیں جانتے وہ نہ کہو بلکہ  ہر جاننے والی بات بھی نہ کہو۔

           کیونکہ کسی بھی چیز کو جاننا اسے بیان کرنے کی دلیل نہیں ہے۔کیونکہ بہت ایسی چیزیں ہیں جنہیں جانتے تو ہیں لیکن وہ بیان کرنے کے قابل نہیں ہوتیں۔اس بناء پر ایسی باتوں کو بیان کرنے میں اپنی اور دوسروں کی عمر ضائع کرنے کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔انسان کی کچھ معلومات مفید ہوتی ہیں لیکن لوگوں کا ظرف انہیں ہضم نہیں کر سکتا ۔ایسے مطالب بیان کرنے سے بھی گریز کرنا چاہئے کیونکہ ایسے مطالب کے بیان سے دوسروں کے اظہار یا انکارکے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار :ج۲۵ص۳۸۱،اختصاص:321

[2]۔ بحار الانوار:ج۲ص۱۲۲


           اسی لئے کائنات کے سب سے پہلے مظلوم  امیرالمؤمنین علی بن ابیطالب علیہ السلام فرماتے ہیں:

           ''لاٰ تَقُلْ کُلَّ مٰا تَعْلَمُ''

           تم جو کچھ جانتے ہو وہ سب بیان نہ کرو۔

           آپ نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں:

          ''مَنْ کَتَمَ سِرِّهِ کٰانَتِ الْخِیَرَةُ بِیَدِهِ'' (1)

           جو کوئی اپنے راز چھپائے ،اس کا اختیار اس کے ہاتھ میں رہے گا۔

           کیونکہ جب بھی وہ اصلاح دیکھے تو اسے دوسروں کے سامنے بیان کر سکتاہے ؛لیکن اگر اس نے اپنا راز فاش کر دیا تو اسے اس کا نقصان ہو گا اس کے بعد وہ اپنے فاش راز کو نہیں چھپا سکتا۔

           بلکہ کبھی کبھار اپنے راز کو فاش کرنے کے علاوہ اپنے روحانی حالات بھی کھو دیتا ہے کیونکہ بعض افراد کو زحمتیں برداشت کرکے کچھ معنوی نتائج حاصل ہوتے ہیں لیکن اِدھر اُدھر کی باتیں کہنے سے وہ اپنی معنوی حالت کھو بیٹھتا ہے جس کی وجہ سے غرور تکبر اور تمام منفی روحانی بیماریوںمیں مبتلا ہو جاتاہے اور اس کے منفی نتائج سامنے آتے ہیں۔ ایسے امور سے بچنے کا  بہترین ذریعہ اپنی زبان کی حفاظت کرناہے۔

تا  نشانسی گھر  بارِ  خویش                طرح مکن گوھر اسرار خویش

لب مگشا گر چہ در و نوش ھاست        کز پس دیوار بسی گوش ھاست

--------------

[1]۔ نہج  البلاغہ کلمات قصار:162


 بزرگوں کی رازداری

اہلبیت اطہار علیھم ا لسلام کی نورانی زندگی اور نشست و برخواست کی روش پر مختصر نگاہ کرنے سے یہ معلوم ہو جاتاہے کہ وہ اپنی مجلس میں شرفیاب ہونے والے لوگوں  اور ان کی دلنشین گفتارر اور روح پرور اقوال سے استفاہ کرنے والوں پر خاص عنایت فرماتے اور وہ فرد یا افراد کو اپنا صاحب اسرار سمجھتے اور ان کے لئے خلقت کائنات کے اسرار و رموزسے پردہ اٹھاتے ۔خلقت کے اسرار و رموز(جن سے دوسرے ناواقف تھے)سے پردہ اٹھانے سے ان کے دل منور ہو جاتے ۔لیکن وہ اپنے اسرار نااہل لوگوں سے چھپاتے اور انہیں ان لوگوں کے سامنے بیان نہ کرتے جن میں انہیں ہضم کرنے کی صلاحیت و لیاقت نہ ہوتی ۔ہمارے بزرگ بھی اپنے اسرار کی حفاظت کی کوشش کرتے ۔اب ہم  نمونے کے طور پر ایک  واقعہ بیان کرتے ہیں:

مرحوم شیخ بہائی نے سنا کہ ایک حلیم پکانے والا شخص بعض گیاہی چیزوںمیں تصرف کی قدرت رکھتا ہے اور غیر معمولی روحانی تونائیوں کا مالک ہے ۔  آپ اس سے ملاقات کے خواہاں تھے ؛لہذا آپ اس کے پاس گئے اور اس سے اصرار کیا کہ وہ عالم ِ وجود کے اسرار میں سے انہیں کوئی چیز سکھائے!

حلیم پکانے والے شخص نے منع کیا اور کہا:یہ اسرار آپ سے بالا ہیں!

مرحوم شیخ بہائی نے اس کی بات ردّکرتے ہوئے کہا:میں ان اسرار کو سیکھنے کے لئے تار ہوں ۔ حلیم پکانے والے نے جب یہ دیکھا  کہ شیخ بہائی اس کی بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں اور خود کو  اسرار قبول کرنے کے لئے تیار سمجھتے ہیں۔


لہذا اس نے شیخ بہائی کو یہ دکھانے کے لئے کہ ان میں بعض اسرار کو قبول کرنے کی صلاحیت نہیں ہے ،اس لئے انہوں نے عملی طور پر ایک کام کو انجام دینا شروع کیا۔ایک دن وہ حلیم پکانے میں مشغول تھا اور شیخ بہائی بھی اس کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تا کہ شاید  اس سے کوئی اسرار سیکھ لیں ۔اچانک گھر کے دروازے پر دستک ہوئی ۔وہ  حلیم پکانے والا شخص اور شیخ بہائی دونوں باہر گئے ،دیکھا تو دروازے کے پیچھے کھڑا ایک شخص کہہ رہا ہے:اس شہر کا سلطان فوت ہو گیا ہے اور اب تمہں اس سلطنت کے شاہ کے طور پر منتخب کرنا چاہتے ہیں ۔حلیم پکانے والا شخص اور شیخ بہائی دونوں  دربار کی طرف چلے گئے۔

اس نے شیخ بہائی سے کہا:تمہیں چاہئے کہ تم بادشاہ بن جاؤ اور میں تمہارا وزیر۔وہ انکارکرتے رہے لیکن اس کا کوئی فائدہ نہ ہو اور بالآخر شیخ بہائی شہر کے بادشاہ بن گئے اور وہ حلیم پکانے والا ان کا وزیر۔کچھ مدت گزرگئی تو شیخ نے کوئی کام انجام دینا چاہا جو ان کے  لائق نہیں تھا!اچانک حلیم پکانے والے نے ان کا ہاتھ پکڑا اور کہا:میںنے نہیں کہا تھا کہ تم میں قابلیت نہیں ہے؟!جب شیخ نے دیکھا تو وہ حلیم کی دیگ کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں اور یہ وہی وقت تھا جب وہ وہاں سے گئے اور دیگ ابل رہی تھی۔(1)

--------------

[1] ۔ تذکرة العلماء تنکابنی:173


فرض کریں کہ اگر یہ واقعہ صحیح بھی ہے تو یہ عالم کشف میں ایک طرح کی قدرت نمائی تھی جو ہماری اس دنیامیں خارجی واقعیت نہیں رکھتا۔لیکن مرحوم شیخ بہائی کو یہ منوانے کے لئے کہ وہ کچھ اسرار کو کشف کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ، یہ ایک مؤثرنمائش تھی۔

مرحوم شیخ بہائی امور غریبہ میں اس فن کے استاد تھے لیکن ہر ہاتھ سے اوپر بھی ایک ہاتھ ہے''وَفَوْقَ کُلِّ ذِْ عِلْمٍ عَلِیْم'' (1)

ایک دن مرحوم شیخ بہائی اورمرحوم فیض کاشانی  اور بہت سے دوسرے علماء کے استاد اور علماء شیعہ میں سے ایک بزرگ شخصیت ''سید ماجد بحرانی''ایک نشت میں  حاضر ہوئے۔شیخ بہائی کے ہاتھ میں خاک شفاء کی تسبیح تھی جس پر وہ کوئی ورد پڑھ رہے تھے  کہاس تسبیح سے پانی جاری ہو گیا!

 انہوں نے سید سے پوچھا:کیا اس پانی سے وضو کرنا جائز ہے یا نہیں؟

سید نے جواب دیا: جائز نہیں ہے۔کیونکہ یہ پانی خیالی ہے نہ کہ آسمان سے نازل ہونے والا  یا زمین سے نکلنے والا حقیقی پانی ۔مرحوم شیخ کو ان کا یہ جواب بہت پسند آیا۔(2)

--------------

[1]۔ سورۂ یوسف،آیت:76

[2]۔ فوائد الرضویہ محدث قمی:370


 راز کی حفاظت کرنا نہ کہ خیالات کو چھپانا

خاندان وحی ونبوت علیھم السلام کے کلمات و فرامین میں رازداری کے بارے میں جو کچھ وارد ہوا ہے اس کا یہ مقصد ہے کہ کامیاب اور بزرگ افرادجن موضوعات سے آگاہ ہوئے ہوں اور دوسرے اسے قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہوں تو ان موضوعات کی حفاظت کریں اور انہیں ان کے اختیار میںنہ دیں۔

یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسےقبول کرنا چاہئے لیکن کچھ لوگ ایسے حقائق کو چھپانے کے بجائے تخیلات کی حفاطت کرتے ہیں ،جن کے وہ سختی سے پابند ہوتے ہیں اور انہیں بہترین راز کی طرح چھپاتے ہیں۔انہیں رحمانی الہامات اور نفسانی تخیلات کے درمیان فرق  معلوم نہیں ہوتا۔اسی لئے وہ اپنے شیطانی اعمال کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور راز کی طرح ان کی حفاظت کرتے ہیں لیکن  درحقیقت وہ خیالات کے علاوہ کچھ نہیں ہوتے ۔اب اس بارے میں ایک بہترین واقعہ بیان کرتے ہیں:

ایک دن مرحو م شیخ بہائی، شاہ عباس کی محفل میں داخل ہوئے ۔روم کے دربار کا سفیر بھی وہیں تھا ، شاہ نے شیخ بہائی سے کہا:بادشاہ روم کے سفیر کی باتوں کو سنیں۔روم کے سفیرنے اپنی گفتگو کا آغاز کیا اور کہا:ہمارے ملک میں دانشوروں کا ایک گروہ ہے جوکہ علوم غریبہ سے آشنا ہے اور  وہ بہت عجیب و غریب کام انجام دیتے ہیں  اور اس نے ان میں سے کچھ واقعات بیان کئے۔ پھر اس نے کہا:لیکن ایران میں علماء میں سے کوئی بھی ایسے علوم  سے آشنا نہیں  ہے۔

 شیخ بہائی نے دیکھا کہ یہ باتیں بادشاہ پر بہت اثرانداز ہوئی ہیں  اسی لئے انہوں نے روم کے سفیر کی طرف دیکھ کر کہا:صاحبان کمال   کے پاس ایسے علوم کی کوئی اہمیت نہیں  ہوتی انہوں نے جلدی   سے اپنی جوراب ہاتھ میں پکڑی جوسانپ میں تبدیل ہو گئی۔


 دربارمیں روم کے سفیر اور اس محفل میںبیٹھے ہوئے تمام افراد پر خوف طاری ہو گیا اور سب بھاگنے کے لئے تیار ہو گئے؛مرحوم شیخ بہائی نے سانپ کوپکڑ کر اپنی طرف کھینچا تو وہ اپنی پہلے والی حالت میں تبدیل ہو گیا ۔پھر انہوں نے شاہ عباس سے کہا: ایسے کام بابصیرت افراد کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتے اور میں نے تویہ چیزیں اصفہان میںکرتب دکھانے والوںسے سیکھی ہیں ۔یہ تو شعبدہ بازی ہے۔ کرتب دکھانے والے لوگوں سے درہم و دینار لینے کے لئے یہ کام کرتے ہیں ۔سفیر روم نے سر جھکا لیا اور باتوں پر بہت پشیمان ہوا۔(1)

 بعض لوگ  شیطانی وسوسوں اور خیالات کی طرح ایسے ہی بے ارزش کاموں کو اہمیت دیتے ہیں  اور اپنے خیال میں وہ علوم و حقائق کی حفاظت کر رہے ہوتے ہیں حالانکہ رازداری کی بجائے انہیں یہ چیزیں اپنے صفحہ دل سے نکال دینی چاہئیں۔

اس بناء پرپہلے تو انسان کو راز کی حقیقت اور اس کی اہمیت سے آگاہ ہونا چاہئے ؛اور اس کے بعد اسے اس کی راز داری کرنی چاہئے ،نہ کہ وہ اپنے دل کو شیاطین کا ٹھکانہ قرار دے اور خودد کو رازدار سمجھے!

--------------

[1]۔ فوائد الرضویہ :513


 اسرار کی حفاظت میں، مخالفین کا کردار

اب دنیاکی سامراجی طاقتیںاپنے سیاسی راز و اسرار نہ صرف یہ کہ دوسرے ملکوں بلکہ اپنی قوم اور اپنے ملک کی بہت سی سیاسی شخصیات سے بھی چھپاتی ہیںاور انہیں صرف چند مخصوص  افراد تک ہی محدود رکھتی ہیں۔

اسی طرح بڑے صنعتی دفاتر اور کمپنیاں اپنی کامیابی کا سبب رازداری کو قرار دیتے ہیں اور اپنے راز  فاش ہونے کو اپنی شکست اور رقیبوں کی فتح مانتے ہیں۔

لیکن مکتب اہلبیت علیھم السلام میں لوگوں کو رازداری کا حکم ایسے چھوٹے مقاصد کے لئے نہیں دیا  گیا کیونکہ ان ہستیوں کی نظر میں اگر راز بتانا مومن بھائیوں کی ترقی و پیشرفت کا باعث ہو  اور اس میں کسی طرح کے فساد کا کوی خوف نہ ہوتو اس میں کوی مضائقہ نہیں ہے۔اسی لئے حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام  نے حضرت کمیل سے فرمایا:

 ''یٰا کُمَیْلُ لاٰ بَأْسَ أَنْ تُعْلِمَ اَخٰاکَ سِرِّکَ'' (1) اے کمیل!اپنا راز اپنے (دینی)بھائی کو بتانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

اس بناء پر انسان اسے اپنا راز بتا سکتا ہے جو ہمیشہ اس کے ساتھ بھائیوں کی طرح باقی رہے۔

 اب یہ سوال درپیش آتاہے:اگر نزدیکی دوستوں کو راز بتانے میں کوئی حرج نہیں ہے تو پھر روایات میں اپنا راز چھپانے کی اتنی تاکید کیوں کی گئی ہے؟(2)

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج۷۷ص۴۱6، تحف العقول:171

[2] ۔ حضرت علی  علیہ  السلام  نے ایسے بھائیوں کے کچھ شرائط بیان فرمائے ہیں جنہیں جاننے کے لئے بحار الانوار: ج۷۷ص۴۱6 کی طرف رجوع فرمائیں۔


  اس کے جواب میں یہ کہنا چاہئےکیونکہ:

  اولاً:تو لوگوں میں فطری طور پرپیدا ہونے والی فکری تبدیلیوں کی وجہ سے   ایسے بھائیوں اور ان کے آئندہ رویے کی پہچان  بہت مشکل ہے۔اس بناء پر دینی بھائیوں کو پہچان کر ہی ان سے راز بیان کرنا چاہئے۔

 ثانیاً: اہلبیت اطہار علیھم السلام کے فرامین میں راز کو چھپانے کا حکم مادّی اور شخصی اغراض و مقاصد کے لئے نہیں ہے جیسا کہ دنیا کے سیاستدان اور دولت مند حضرات اپنے راز چھپاتے ہیں۔بلکہ وہ لوگوں کی علمی وسعت کے کم ہونے اور ان کے نہ ماننے کی وجہ سے ہے۔جب غیبت کے تاریکی کے بادل چھٹ جائیں گے اور پوری کائنات پر ولایت کے تابناک انور چمک رہے ہوںگے تو حضرت بقیة اللہ الاعظم عجل اللہ فرجہ الشریف کے توسط سے  دنیاکے حیرت انگیز اسرار سب لوگوں کے لئے واضح و آشکار ہو   جائیں گے۔کیونکہ اس زمانے میں لوگ فکری تکامل کی وجہ سے ان اسرار کو سننے کے لئے تیار ہوں گے اور اس وقت دنیا میں ظالموں اور ستمگروں کا وجود نہیں ہو گا جو ان اسرار کو بیان کرنے سے روک سکیں۔

ہمیشہ ہر ظلم و ستم  کا سرچشمہ اور تمام  ملتوں کے لئے ناکامی کا باعث  اہلبیت اطہار علیھم السلام  کے حقوق کے غاصب اور ظالم  افراد ہیں۔وہ نہ صرف خاندان وحی علیھم السلام کی حکومت کے لئیرکاوٹ بنے بلکہ انہوں نے معاشرے کو اس طرح سے جہل  کے اندھیروں میں رکھاکہ اہلبیت عصمت  وطہارت علیھم السلام کو اسرار و رموذ بیان کرنے کی راہوں کو مسدود کر دیا۔

 امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

 ''کٰانَ لِرَسُوْلِ اللّهِ سِرّ لاٰ یَعْلَمُهُ اِلاّٰ قَلِیْل''

 پیغمبر(ص) کے لئے ایک  راز تھا جسے کوئی نہیں جانتا تھا مگر بہت کم لوگ۔


 پھر آپ پیغمبر اکرم(ص) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ(ص) نے فرمایا:

 ''لَوْلاٰ طُغٰاةُ هٰذِهِ الْاُمَُّةِ لَبَثَثْتُ هٰذَا السِّرِّ'' ( 1 )

 اگر اس امت کے باغی و سرکش افراد نہ ہوتے تومیں یہ راز لوگوں  کے درمیان بیان کرتا۔

 ایک دوسری روایت  میں فرماتے ہیں:

 ''لَوْلاٰ طُغٰاةُ هٰذِهِ الْاُمَّةِ لَبَیِّنَتْ هٰذَا السِّرِّ'' ( 2 )

 اگر اس امت کے باغی و سرکش افراد نہ ہوتے تومیں یہ رازبیان کر دیتا۔

اس بناء پر اہلبیت اطہار علیھم السلام کی راز داری  اور ان کا کائنات کے حقائق کو مخفی رکھنے کی وجہ معاشرے کے ظالم و جابر اور آل محمد علیھم السلام کے حقوق کے غاصب افراد تھے۔

 وہ لوگ اسلامی ممالک کے سر کودیکھنا تو دور کی بات بلکہ وہ حضرت  فاطمۂ زہراء علیھا السلام کی جاگیر ''فدک''بھی مولائے کائنات حضرت علی  علیہ السلام کے پاس نہیں دیکھ سکے!توپھر وہ لوگ کس طرح آرام سے بیٹھ کر دیکھ سکتے تھے کہ لوگ اہلبیت عصمت علیھم السلام کی طرف جا کر ان کے علوم سے آسمانوں،خلاؤں ،کہکشاؤں اور عالم  غیب کی اور نامرئی دنیا کی عظیم  قدرت سے آشناہوں؟!

 ان کی خیانت  کی وجہ سے نہ صرف اسی زمانے میں بلکہ اب تک انسانی معاشرہ ایسے بنیادی اور حیاتی مسائل سے آشنا نہیں ہوسکا۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج۹۵ص۳۰6

[2]۔ بحار الانوار: ج۹۱ص۲6۷


 کرامت اور روحانی قدرت کو چھپانا

 ہمارے بزرگ اورصالح افرادبھی اہلبیت اطہار علیھم السلام کی پیروی کرتے ہوئے عام طور پر ایسی زندگی گذاری کہ جب تک وہ زندہ رہے کسی کو ان کے اسرار کا علم نہ ہو سکا حتی کے ان سے مانوس بہت سے افراد بھی ان کے راز سے آگاہ نہ ہوئے۔

 اگرچہ کچھ موارد میں ایسے افراد ظاہراً عام اور معمولی اشخاص تھے لیکن حقیقت میںان پر اہلبیت اطہار علیھم السلام  کی خاص عنایات کی وجہ سے ان کا دل خاندان وحی علیھم السلام کے تابناک انوار سے منور تھا اور ان ہستیوں کے فیض و کرم سے حاصل ہونے والی قدرت کو خلق خدا کی خدمت میںصرف کرتے  اور کسی بھی لمحے اپنی ذمہ داری سے کوتاہی نہ کرتے  لیکن اس کے باوجود کبھی بھی اپنے ان اسرار کو فاش نہ کرتے ۔ لیکن کبھی قریبی دوستوں کی وجہ سے ان کی شخصیت آشکار ہو جاتی  اور ان کی رحلت کے بعد ان کے وہ اسرار روشن ہو جاتے جنہیں  وہ اپنے ساتھ زیر خاک لے گئے ۔

جی ہاں!شیعہ تاریخ میں بعض علماء یا بلند معنوی مقام رکھنے والے عام افرادکا اہلبیت اطہار  علیھم السلام سے  ارتباط تھا اور وہ ان ہستیوں کے دستورات اور احکامات کے تابع تھے اور اسی کے مطابق اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے فخر محسوس کرتے۔

 اگرچہ عام طور پر وہ اپنی ذمہ داریاں مخفی رکھتے بلکہ وہ بات کا بھی خیال رکھتیکہ کہیں شریر افراد اس سے سوء استفادہ نہ کریں لیکن کبھی ان کی کرامت سے آگاہ ہو جانے والے افراد کے ذریعے ظاہر ہو جاتی اور وہ اسے دوسروں کے لئے فاش کر دیتے۔


  مرحوم شیخ انصاری کی ایک کرامت

 بطور نمونہ ہم عظیم فقیہ مرحوم شیخ انصاری  سے صادر ہونے والی ایک کرامت بیان کرتے ہیں ۔ آپ سے یہ کرامت جلیل القدر عالم دین مرحوم شیخ عبدالرحیم دزفولی  نے دیکھی اور اسے دوسروں کے لئے بیان کیا۔

 وہ کہتے ہیں:میری دو ایسی حاجتیںتھیںجن سے کوئی بھی آگاہ نہیں تھا۔میں ان کے پورا ہونے کی دعا کیا کرتا تھا اور میں حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام،سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام اور حضرت ابو الفضل العباس علیہ  السلام کو شفیع قرار دیتا  یہاں تک کہ میں زیارات مخصوصہ  کے لئے ایک بار نجف سے کربلا گیا  اور میں نے ان ہستیوں کے حرم میں اپنی وہ دونوں حاجتیں بیان کیں  لیکن مجھے اپنے توسل میں  کوئی اثر دکھائی نہ دیا ۔

 ایک دن میں نے دیکھا کہ حضرت ابو الفضل العباس علیہ السلام کے حرم میں لوگوں کی کثیر تعداد ہے۔میں نے ایک شخص سے پوچھا کہ آج یہاں لوگوں کا اتنا ہجوم کیوں ہے؟اس نے کہا: ایک بیابان میں رہنے والے عرب کے بیٹے کومدتوں سے فالج تھا وہ اسے شفاء کی غرض سے حرم مطہر میں لائے ۔ حضرت عباس علیہ السلام نے اس پر لطف و کرم کیا  اور اسے شفاء مل گئی ۔اب لوگ اس کے کپڑے پھاڑ کر تبرک کے طور پر لے جا رہے ہیں۔

 اس واقعے سے میری حالت تبدیل ہو گئی اور میں نے سرد آہ کھینچ کر آنحضرت کی ضریح کے قریب ہوا اور میں  نے عرض کیا:یا ابالفضل العباس علیہ السلام!میری دو شرعی حاجتیں ہیں جنہیں میں  متعدد بار حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام،سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام اورآپ کی بارگاہ میں عرض کر چکا ہوں


لیکن آپ نے اس کیطرف توجہ نہیں کی اوریہ ایک بیابانی بچہ یوں ہی آپ سے متوسل ہوا آپ نے اس کی حاجت روا فر مادی۔اس سے میں یہ سمجھا ہوں کہ آپ کی نظر میں میری چالیس سال تک زیارت،مجاورت اور تحصیل علم میں مشغول رہنا اس بچے کے برابر بھی اہمیت نہیں رکھتا۔اس لئے اب میں اس شہر میں نہیں رہوں گااور ایران ہجرت کر جاؤں گا۔

میں یہ باتیں کہہ کر حرم سے باہر آ گیا اور  سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے حرم میں اس طرح سے ایک مختصر سا سلام کیا جیسے کوئی اپنے آقا سے ناراض ہو اور پھر میںاپنے گھر آگیا۔میں نے اپنا سامان  باندھا اورنجف کی طرف اس ارادے سے روانہ ہو گیا کہ وہاں سے اپنے بال بچوں کو لے کر ایران چلا جاؤں گا۔

 جب میں نجف اشرف پہنچا تو میں صحن کے راستے  گھر کی طرف روانہ ہوا میں نے صحن میں شخ انصاری کے خادم ملّا رحمت اللہ کو دیکھا ۔میں نے ان سے ہاتھ ملایا اور گلے ملا۔انہوں نے کہا: آپ کو شیخ بلا  رہے تھے۔میں نے کہا:شیخ کو کیسے پتا چلا ؟!  میں تو ابھی یہاں آیا ہوں؟

 انہوں نے کہا:مجھے نہیں معلوم البتہ میں اتنا جانتا ہوں کہ انہوںنے مجھ سے فرمایا:صحن میں جاؤ، شیخ عبدالرحیم کربلا سے آ رہے ہیں انہیں میرے پاس لے آؤ۔

 میں نے خود سے کہا:نجف کے زائرین عام طور پر ایک دن زیارت مخصوصہ کے لئے کربلا رہتے ہیں اور اس سے اگلے دن واپس آتے ہیں اور اکثر صحن کے راستے ہی داخل ہوتے ہیں شاید اسی لئے انہوں  نے ملّا رحمت اللہ سے کہا مجھے صحن میں دیکھو ۔ہم دونوں شیخ کے گھرکی طرف روانہ ہوئے ۔ جب ہم گھر کے بیرونی حصے میں  داخل  ہوئے تو وہاں کوئی نہیں تھا اس لئے ملاّ نے اندرونی  دروازہ کھٹکھٹایا۔شیخ نے آواز دی:کون ہے؟ملّا نے عرض کیا:میں شیخ عبدالرحیم کو لایا ہوں۔


 شیخ تشریف لائے اور ملاّسے فرمایا:تم جاؤ۔جب وہ چلے گئے تو انہوں نے میری طرف دیکھ کر فرمایا:آپ کی دو حاجتیں ہیں اور انہوںنے وہ دونوں حاجتیں بھی بتا دیں ۔

 میں  نے عرض کیا:جی ہاں ! ایسا ہی ہے۔

 شیخ نے فرمایا:فلاں حاجت میں پوری کر دیتا ہوں اور دوسری کا تم خود استخارہ کرلو۔اگر استخارہ بہترآئے تو میں اس کے مقدمات فراہم کر دوں گااور پھر اسے خود ہی انجام دو۔

 میں  نے جاکراستخارہ کیا۔استخارہ بہتر آگیا جس کا نتیجہ میں  نے آکر شیخ کی خدمت میں  عرض کیا تو انہوں  نے قبول کر لیا اور اس کے مقدمات فراہم کر دیئے۔(1)

 یہ شیخ کی کرامات کا ایک نمونہ ہے جو جلیل القدر عالم مرحوم شیخ عبدالرحیم کے ذریعے فاش ہوا ۔ اسی طرح شیخ انصاری  اور شیعہ تاریخ کی بزرگ علمی ومعنوی شخصیات سے دیکھے گئے واقعات بہت زیادہ ہیںکہ جن سے ہم مجموعاًیہ نتیجہ لیتے ہیں:

 اولیائے خدا رازوں کو چھپانے اور پنی ظرفیت و قابلیت سے نہ صرف امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے فرمان پر ذمہ داری انجام دیتے ہیں بلکہ خاندان ولایت علیھم السلام کے بیکراں لطف سے تما م اہلبیت اطہار علیھم السلام سے مرتبط ہو کر ان کے احکامات کو انجام دیتے  اور انہیں  مخفی رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ اغیار سے منہ موڑ کر اپنے دل کی گہرائیوں سے خدا تک وصل کاراستہ بناتے ہیں کیونکہ ''فصل''  وصل کا مقدمہ ہے اور'' وصل ''فصل کانتیجہ ہے۔اس بناء پر صاحبان اسرار کا آئمہ اطہار علیھم السلام سے اتصال ایک ایسا مسئلہ ہے جو حقیقت و واقعیت رکھتا ہے ۔اگرچہ انہوں نے اسے مخفی رکھنے کی بہت کوشش کی اور اس کا انکار بھی کرتے رہے۔ بزرگ شیعہ علماء سے روایت ہونے والے بہت سے واقعات ان کی رازداری پر  دلالت کرتے ہیں

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج۹۵ ص۳۰6


 ہم نے مرحوم شیخ انصاری  کا جو واقعہ بیان کیا ،وہ اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اہلبیت اطہار علیھم السلام کبھی اولیائے خدا میں سے بعض کو کوئی کام انجام دینے کی ذمہ داری سونپتے ہیں اور اس کے راز و اسرار دوسروں کے ذریعے فاش ہوئے ہیں۔اب ہم    شیخ انصاری  کی کرامات کا جو دوسرا نمونہ بیان کر رہے ہیں ،وہ بھی اس حقیقت کی دلیل ہے۔

 مرحوم شیخ انصاریکربلا کی زیارت سے مشرف ہونے والے اپنے ایک سفر میں سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے حرم مطہر میں تھے کہ اہل سماوات( 1 ) میں سے ایک شخص آپ کی خدمت میں پہنچا اور آپ کو سلام کیا ،آپ کی دست بوسی کی اور عرض کیا:

 ''بِاللّٰهِ عَلَیْکَ اَنْتَ الشَّیْخ مُرْتَضٰی؟ ''یعنی خدا کی قسم تم شیخ مرتضیٰ ہو؟

 شیخ نے فرمایا:جی ہاں۔

 اس نے عرض کیا:میں اہل سماوات ہوں میری ایک بہن ہے جس کا گھر میرے گھر سے تین فرسنگ کے فاصلے پر  ہے۔ایک دن میں اس سے ملنے کے لئے گیا ۔جب میں  واپس آ رہا تھا تو میں نے راستے میں ایک بہت بڑا شیر دیکھا  جس کی وجہ سے میرا گھوڑا آگے نہیں بڑھ رہا تھااس سے نجات کے لئے میرے ذہن میں بزرگان دین سے توسل کے علاوہ کوئی اور ترکیب نہ آئی۔لہذا میں ابو بکر  سے متوسل ہوا اور میں نے یا صدیق کہا۔لیکن مجھے اس کا کوئی اثر دکھائی نہ دیا۔پھر میں نے دوسرے خلیفہ کا دامن تھاما اور یا فاروق کہا۔لیکن اس کا بھی کوئی نتیجہ نہ نکلا پھر میں  عثمان سے متوسل ہوا  اور میں نے یا ذالنور کہہ کر پکارا لیکن کوئی جواب نہ ملا۔پھر میں علی بن ابی طالب علیہ السلام سے متوسل ہوا اور میں نے کہا:''یا اخا الرسول و زوج البتول،یا ابا السبطین ادرکنی ولا تهلکنی ''

--------------

[1]۔''سماوات'' کوفہ اور بصرہ کے درمیان فرات کے کنارے ایک  علاقہ کا نام ہے۔


 اچانک ایک نقاب پوش سوار حاضر ہوا ۔جب شیر نے سوار کو دیکھا تو اس نے خود کو ان کے گھوڑے سے مس کیا اور بیابان کی طرف چلا گیا۔پھر وہ سوار روانہ ہو گیا میں بھی ان کے پیچھے چلا ان کا گھوڑا آرام سے چل رہا تھا اور میرا گھوڑا دوڑنے کے باوجود اس تک نہیں پہنچ پا  رہا تھاہم اسی طرح سے  جا رہے تھے کہ انہوں نے مجھ سے فرمایا:اب شیر تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا ۔انہوں نے مجھے  میرے راستہ کی طرف رہنمائی کی اور فرمایا:فی امان اللہ۔اب تم جاؤ۔

 میں نے ان سے کہا:میں آپ پر قربان آپ اپنا تعارف تو کروا دیں تا کہ مجھے یہ معلوم ہو جائے کہ آپ کون ہیں جنہوں نے مجھے ہلاکت سے نجات دلائی؟

 فرمایا:میں وہی ہوں جسے تم نے پکارا تھا ۔میں اخو الرسول و زوج البتول و ابو السبطین علی بن ابی طالب علیھم السلام ہوں۔

  میں نے عرض کیا:میں آپ پر قربان!آپ میری راہ راست کی طرف ہدایت فرمائیں۔

 فرمایا:اپنا عقیدہ صحیح کرو۔

 میں نے عرض کیا:صحیح اعتقادات کیا ہیں؟

 آپ نے فرمایا:جاؤ !جا کر شیخ مرتضیٰ سے سیکھ لو۔

 میں نے عرض کیا:میں انہیں نہیں پہچانتا تو آپ نے فرمایا:وہ نجف میں رہتے ہیں اور مجھے کچھ خصوصیات بتائیں جواب میں آپ میں  دیکھ رہا ہوں ۔

 میں نے عرض کیا:جب میں نجف جاؤں تو ان  مل سکوں گا؟

 فرمایا:نجف جاؤ گے تو ان سے نہیں مل پاؤ گے کیونکہ وہ حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے آئے ہیں۔لیکن تم ان سے کربلا میں مل سکتے ہو ۔انہوں نے مجھ سے یہ بات ہی کہی اور میری نظروں سے اوجھل  ہو گے۔


 میں سماوات گیا اور وہاں سے نجف کے لئے روانہ ہوا لیکن وہاں آپ کو نہیں دیکھا اور آج کربلا میں داخل ہوا ہوں اور ابھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں اب آپ میرے لئے شیعوں کے عقائد بیان فرمائیں۔

 شیخ نے فرمایا:شیعوں کا اصل  عقیدہ یہ ہے کہ امیر المؤمنین حضرت امام علی بن ابیطالب علیہ السلام کو رسول اللہ (ص) کا بلا فصل خلیفہ مانواور اسی طرح آپ کے بعد آپ کے فرزندحضرت امام حسن  علیہ السلام اور پھر آپ کے دوسرے فرزند حضرت امام حسین علیہ السلام (جن کا یہ حرم مطہر اور ضریح ہے) اور اسی طرح  بارہویں امام تک جو کہ امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف ہیں۔جو کہ پردۂ غیب میں ہیں یہ سب امام ہیں اور جو شخص ان عقائد کا اعتراف کرے وہ شیعہ ہے ۔اعمال میں بھی تمہاری ذمہ داری یہی ہے کہ نماز ،روزہ  ، حج وغیرہ انجام دو۔

 میں نے عرض کیا:مجھے شیعوں میں سے کسی کے سپر د کریں جو مجھے احکامات کی تعلیم دے ۔مرحوم شیخ نیمجھے ایک بزرگ کے سپرد کر دیا اور انہیں تاکید فرمائی کہ مجھے تقیہ کے منافی احکام نہ بتائیں۔( 1 )

نگھبان سرت گشتہ است اسرار          اگر سَر بایدت رو سِرّ نگھدار

زبان دربستہ بھتر،سرّ نھفتہ            نماند سَر چو شد اسرار گفتہ

 کرامات اور اسرار کو چھپانا نہ صرف ان کی مخالفین سے حفاظت کا ذریعہ ہے بلکہ اس کا دوسرا اہم راز دوسرے اہم ترین اسرار و رموذ تک رسائی کے لئے اپنی ظرفیت میں اضافہ کرنا ہے۔رازداری کی اسی اہمیت کی وجہ سے اہلبیت عصمت و طہارت علیھم السلام نے اس کی تاکید کی ہے اور اسے انسان کے لئے دنیا و آخرت کی خیر جمع کرنے کا وسیلہ قرار دیا ہے۔

--------------

[1]۔ زندگانی و شخصیت شیخ انصاری:96


 امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

''جُمِعَ خَیْرُ الدُّنْیٰا وَ الْآخِرَةِ فِْ کِتْمٰانِ السِّرِّ وَ مُصٰادَقَةِ الْاَخْوٰانِ وَجُمِعَ الشَّرُّ فِ الْاِذٰاعَةِ وَمُؤٰخٰاةِ الْاَشْرٰارِ'' ( 1 )

 دنیا و آخرت کی خوبیاں راز چھپانے اوربھائیوں کے ساتھ سچائی میں جمع کر دی گئی ہیں اور تمام برائیاں راز کو فاش کرنے اور اشرار سے ہمنشینی و برادری میں  ہیں۔

 ہمارے بزرگوں  نے اسرار کو مخفی رکھنے اور رازوں کو چھپانے سے نہ صرف خود کواغیار سے محفوظ رکھا بلکہ وہ اسے عظیم اسرار و موذ کو درک کرنے کے لئے اپنی ظرفیت میں اضافہ کا باعث سمجھتے ہیں اور انہوں نے اپنی کرامات کوچھپا کر اپنی روحانی قوّتوں میں اضافہ کیا۔

--------------

[1]۔ سفینة البحار:ج۲ص۴6۹


 راز فاش کرنے کے نقصانات

 اسرار کو فاش کرنا اور رازوں کو نہ چھپا سکنا انسان کیظرفیت کے کم  ہونے کی دلیل ہے۔اہلبیت اطہار علیھم السلام کے اسرار و معارف کے انوار کے دریا میں غوطہ زن ہونے والے ان اسرار و رموز کو فاش کرنے سے گریز کرتے تھے۔ان کی رازداری ان کی ظرفیت و قابلیت کی دلیل  اور معنوی مسائل میں ان کی ترقی و پیشرفت کا وسیلہ ہے۔

جو راز چھپانے کی طاقت نہیں رکھتے ،یہ ان کی استعداد و ظرفیت کے کم ہونے کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ کچھ موارد میں ان کے افشاء کرنے کا اصلی سبب اصل حقائق میں شک کرنا ہے ۔

  حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

 ''مُذِیْعُ السِّرِّ شٰاکّ'' (1) راز کو فاش کرنے والا شک میں مبتلا ہوتاہے۔

 جو راز کو فاش کرتا ہے ،اگر راز کو فاش کرتے وقت اسے شک و تردید نہ ہو تو اس کے بعد وہ اس بارے میں شک میں گرفتار ہو جاتاہے ۔  کیونکہ جب دوسروں سے راز بیان کرتے ہیں تو پہلے دوسروں کو اصل مسائل کے بارے میں شک  ہوتا ہے اور پھر خود بھی ان کا انکار کر کے اپنے مرتبہ سے گر جاتا ہے۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس حقیقت کو  یوں بیان فرمایا ہے:

 ''اِفْشٰاءُ السِّرِّ سُقُوْط'' (2) راز کو فاش کرنا سقوط (پستی)ہے۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:8875،اصول کافی:3712

[2]۔ بحار الانوار:ج۷۹ص۲۲۹،تحف العقول:315


 ان انمول فرامین سے استفادہ کرتے ہوئے جو خود کو صاحب ''حال'' سمجھتے  ہیں اور معتقد ہیں کہ وہ ایک مقام و مرتبے تک پہنچ گئے ہیں ،انہیں اس بات کا خیال رکھناچاہئے کہ نہ کہے جانے والے مسائل کو کہنے سے نہ صرف کچھ افراد ان حقائق کا انکار کر دیں گے بلکہ اس سے آپ اپنے زوال کے اسباب بھی مہیا کردیں گے۔

چھوٹا سا برتن تھوڑے سے پانی ہی سے لبریز ہو جاتا ہے لیکن دریا نہروں اور ندیوں کے پانی کو اپنے اندر سمو لیتا ہے لیکن پھر بھی اس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی ۔کامیابی کے متلاشی اور بلند معنوی درجات تک پہنچنے کی جستجو کرنے والوں کو دریا دل ہونا چاہئے اور رازوں کو چھپانے سے اپنی ظرفیت کو وسعت دیں ۔اس روش کے ذریعے سنت الٰہی کی پیروی کریں ۔

  حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اس حقیقت کو  یوں بیان فرماتےہیں:

 ''.....اَلسُّنَّةُ مِنَ اللّٰهِ جَلَّ  وَ عَزَّ ،فَهُوَ أَنْ یَکُوْنَ کَتُوْماً لِلْاَسْرٰارِ'' ( 1 )

 مومن میں  خدا کی جو سنت ہونی چاہئے وہ یہ ہے کہ وہ رازوں کو چھپانے والا  ہو۔

 اس بناء پر مقام معرفت اور حقائق تک پہنچنے والا بایمان شخص انہیں ایک خزانے کی طرح دوسروں سے چھپائے ۔انسان کسی خزانے کے بارے میں راز کو فاش کرکے کس طرح اسے دوسروں کی دسترس سے محفوظ رکھ سکتاہے۔

 اس بیان کی روشنی میں خدا کے حقیقی بندے وہ ہیں جو اغیار کے ہاتھ اپنی کوئی کمزوری نہ لگنے دیں ۔

 اولیائے خدا نے خاموشی اور راز کو چھپانے سے خود کو زینت بخشی نہ کہ انہوں نے خود کو بدنام کیا۔

--------------

[1]۔ بحار الانوار:ج۷۸ص۲۹۱،تحف العقول:315


 حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

  ''حلیتهم طول السکوت و کتمان السر''

 طولانی خاموشی اور راز چھپانا ان کی زینت  ہے۔

کم گوی و مگوی ھر چہ دانی              لب دوختہ دار تا توانی

بس سرّ کہ فتادۂ زبان است             با یک نقطہ زبان زیان است

آن قدر رواست گفتن آن             کاید  ضرر از نگفتن آن

نادان بہ سر زبان نھد دل             در قلب بود زبان عاقل

 اہلبیت عصمت و طہارت علیھم السلام نے متعدد روایات میں اپنے محبوں کو تاکید فرمائی ہے کہ وہ لوگوں سے اسرار اور ایسی باتیں ضرور چھپائیں جنہیں برداشت کرنے کی ان میں طاقت نہ ہو اور ان ہستیوں نے ان کی اس نکتہ کی طرف توجہ دلائی ہے کہ ہمیشہ اسرار کی حفاظت کرنے کی کوشش کرو اور اپنا راز اپنے دل میں دفن کر دو۔


 نتیجہ ٔ بحث

 راز و اسرار کو چھپانا بلند معنوی درجات تک پہنچنے کی بنیادی شرائط میں سے ہے۔اسی لئے شیعہ تاریخ کے بزرگوں نے اس مسئلہ کی طرف مکمل توجہ کی کیونکہ رازداری نہ صرف انسان کو مخالفین کے شرّ سے بچاتی ہے بلکہ کائنات اور ملک و ملکوت کی خلقت کے عظیم اسرار سیکھنے کے لئے اس کی پرورش بھی کرتی ہے۔

 اس رو سے اسرار کی حفاظت کرنا نہ صرف اسے اغیار کے ہاتھوں لگنے سے بچاتی ہے بلکہ باطنی  ظرفیت میں اضافے کے لئے بھی یہ بہت اہم ہے۔

خود پر کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے راز فاش کر دینے کانتیجہ انسان کا بلند معنوی مراحل سے زوال و سقوط ہے اور ایسے مسائل کی حقیقت کے بارے میں انسان خود کو اور دوسروں کو شک و شبہ میں مبتلا کر دیتا ہے!

 راز کو خیالات اور خرافات سے تشخیص دینا بہت اہم مسائل میں سے ہے کہ جس کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے۔جس طرح رازداری اہم ہے اسی طرح ذہن کو خیالات اور خرافات سے پاک کرنا بھی بنیادی کردار کا حامل ہے۔

چون کہ ترا دوست کند راز دار

طرح مکن گوہر اسرار یار

آب صفت ہر  چہ شنیدی بشوی

آینہ سان ھر چہ کہ بینی مگوی


فہرست

انتساب. 3

مقدمہ مترجم 4

پیش گفتار 6

پہلاباب. 8

خودشناسی 8

خودشناسی یا راہ تکامل. 9

نفس کی پاکیزگی 13

خودشناسی اور مکاشفہ 15

1۔ رحمانی مکاشفات. 15

2۔ شیطانی مکاشفات. 16


3۔ نفسانی مکاشفات. 16

مغرب میں خودشناسی کا ایک نمونہ 17

خودشناسی کے عوامل. 20

1۔ خودشناسی میں ارادہ کا کردار 20

خودشناسی میں ارادہ کا کردار 21

نفس کو کمزور کرنے کا طریقہ 22

2۔ خودشناسی میں خوف خدا کا کردار 27

3۔ اپنے باطن اور ضمیر کو پاک کرنا 29

خودشناسی کے موانع 30

۱۔ ناپسندیدہ کاموں کی عادت خودشناسی کی راہوں کو مسدود کر دیتی ہے: 30

2۔ خود فراموشی 34

خودفراموشی کے دو عوامل، جہل اور یاد خدا کو ترک کرنا 35


نتیجۂ بحث. 38

دوسراباب. 39

معارف  سے  آشنائی 39

اہلبیت علیھم السلام کی معرفت. 40

معارف کا ایک گوشہ 44

معارف کہاں سے سیکھیں. 46

عارف نما لوگو ں کی شناخت. 52

عرفاء کی شناخت. 54

عرفاء کی صفات. 56

صاحبان معرفت کی صحبت. 58

عرفانی حالت میں تعادل و ہماہنگی کا خیال رکھنا 59

نتیجۂ بحث. 62


تیسراباب. 63

عبادت  و  بندگی 63

دینی بھائیوں کی خدمت. 64

روحانی عبادات. 66

عبادات کی قسمیں. 69

عبادت مخلصانہ ہونی چاہئے؟ 70

عبادت میں نشاط 75

عبادت میں نشاط کے اثرات. 78

عبادت میں کراہت. 81

عبادت کیا ہے؟ 84

عبادت کیاہے اور کن چیزوں کو عبادی امور کا نام دے سکتے ہیں؟ 84

محبت اہلبیت علیھم السلام یا عبادت میں نشاط کا راز 87


نتیجۂ بحث. 88

چوتھا باب. 89

تقوی ٰ. 89

تقوی ٰ و پرہیزگاری. 90

تقویٰ دل کی حیات کا باعث. 91

تقویٰ اور قلب کا رابطہ 92

تقویٰ الٰہی و شیطانی افکار کی شناخت کا ذریعہ 94

اپنی دوستی کا معیار تقویٰ کو قرار دیں. 99

حرام مال سے پرہیز 100

تقویٰ انسان کے بلند مقامات تک پہنچنے کا سبب. 101

پرہیزگاری ، اولیائے خدا کی ہمت میں اضافہ کا باعث. 108

تقویٰ کو ترک کرنے کی  وجہ سے تبدیلی 109


پرہیزگاری میں ثابت قدم رہنا 112

نتیجہ ٔبحث. 113

پانچواں باب. 114

کام اور کوشش. 114

کام و کوشش. 115

کس حد تک کوشش کریں؟ 115

اپنے نفس کو کام اور کوشش کے لئے تیار کرنا 117

مرحوم ملّا مہدی نراقی نے خود کوکیسے فعالیت کے لئے تیار کیا؟ 118

حقیقت کو درک کرنے کے لئے کوشش کریں. 119

آگاہانہ طور پر کام شروع کریں. 130

کام کے شرائط اور اس کے موانع کو مدنظر رکھیں. 131

کام اور کوشش کے موانع 133


1۔ بے ارزش کاموں کی عادت. 133

2۔ تھکاوٹ اور بے حالی 135

دو قلمی نسخوں کے لئے تلاش اور توسل. 137

غور و فکرسے کام کرنا 139

نتیجۂ بحث. 142

چھٹاباب. 143

توسل. 143

خدا ور اہلبیت علیھم السلام کی یاد 144

توسل ، قرآن کی نظر میں. 148

دعاؤں اور زیارات میں توسّل. 150

توسّل تقرب الٰہی کا ذریعہ 153

توسّل دعاؤں کے مستجاب ہونے کا ذریعہ 154


توسّل میں اعتقادی مسائل. 154

1۔اس فانی دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد اہلبیت علیھم السلام کی حیات کا عقیدہ: 155

3۔ خداکی طرف سے معصومین  علیھم السلام کی ولایت و قدرت کا عقیدہ: 155

توسّل کے بارے میں کچھ بنیادی نکات. 157

1۔ پاکیزگی قلب. 157

2۔ توسّل میں  توجہ اور فکر کا تمرکز 159

توسّلات میں یقین کا کردار 163

معرفت، انسان کے یقین میں اضافہ کا باعث. 165

توسّلات میں اضطرار کا کردار 167

حضرت عباس علیہ السلام کے حرم میں ایک پریشان لڑکی 169

دوسرا نکتہ 171

عالم غیب سے مدد 171


علمی مشکلات کو حل کرنے کے لئے توسّل. 173

توسّل سے دوری، گناہ کی علامت. 174

نتیجہ ٔبحث. 175

ساتواں باب. 176

محبت اہلبیت علیہم السلام 176

محبت کی کشش. 177

خاندان وحی علیھم السلام کی محبت. 179

آسمانی موجودات اور خاندان وحی علیھم السلام کی محبت. 186

تقرّب خدا کے کیا آثار ہیں؟ 187

اہلبیت علیھم السلام کی اپنے دوستوںسے محبت. 189

خاندان نبوت علیھم السلام کے محبوں کی ذمہ داری. 192

1۔ مودّت پیدا کرنا 192


2۔ اہلبیت علیھم السلام کے محبوں سے محبت. 193

3۔ اہلبیت علیھم السلام کے دشمنوں سے بیزاری. 193

4۔ خاندان وحی کی پیروی. 197

5۔ دوسرں کے دل میں اہلبیت علیھم السلام کی محبت کو تقویت دیں. 200

سچی محبت. 201

جھوٹی محبتیں. 204

نتیجۂ بحث. 206

آٹھواں  باب. 207

انتظار 207

انتظار کی اہمیت. 208

انتظار کے عوامل. 210

امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے مقام و منزلت کی معرفت. 211


انتظار کے آثارسے واقفیت. 215

1۔ مایوسی اور ناامیدی سے کنارہ کشی 215

2۔ روحانی تکامل. 216

مرحوم شیخ انصاری امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے شریعت کدہ پر 219

کامیابیوں کی کلید اور محرومیوں کے اسباب. 221

3۔ مقام ولایت کی معرفت. 225

4۔ مہدویت کے دعویداروں کی پہچان. 226

امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے تکامل یافتہ 227

منتظرین یا آپ کے عظیم اصحاب کی معرفت. 227

اصحاب با صفا کی طاقت و قدرت کا سر سری جائزہ 228

ظہور کے زمانے کی معرفت. 231

1۔ باطنی تطہیر 231


2 ۔ زمانۂ ظہور میں عقلوں کا کامل ہونا 233

3 ۔ دنیا میں عظیم تبدیلی 236

نتیجۂ بحث. 239

نواں باب. 240

رازداری. 240

کتمان راز 241

بزرگوں کی رازداری. 244

راز کی حفاظت کرنا نہ کہ خیالات کو چھپانا 247

اسرار کی حفاظت میں، مخالفین کا کردار 249

کرامت اور روحانی قدرت کو چھپانا 252

مرحوم شیخ انصاری کی ایک کرامت. 253

راز فاش کرنے کے نقصانات. 260

نتیجہ ٔ بحث. 263


کامیابی کے اسرار ج 2 جلد ٢

کامیابی کے اسرار ج 2

اصلاح کتب

مؤلف: آیت اللہ سید مرتضی مجتہدی سیستانی
: عرفان حیدر
ناشر: الماس پرنٹرز قم ایران
قسم: متفرق کتب
صفحے: 273