ماں کی عظمت قرآن و حدیث کی روشنی میں

اصلاح کتب

مؤلف: سید حیدر علی زیدی ،مظفر نگری
رسول اکرم اوراہلبیت لائبریری

ماں کی عظمت

قرآن و حدیث کی روشنی میں

مصنف

سید حیدر علی زیدی ،مظفر نگری


ہدیہ

میں اپنی اس نا چیز کوشش کو ہدیہ کرتا ہوں

        بنت پیمبراﷺ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی خدمت میں کہ جو مرکز تعارف نبوّت و امامت ،مرکز مئودت اورمعدن عصمت ہیں ۔

        جو اللہ کا وہ راز ہیں کہ جو افشا نہیں ہو سکتا ۔

        جو اللہ کا وہ روپ ہیں کہ جو علی ؑکے سوا کسی پر نہ کھلا ۔

        جو ایسی مظلومہ ہیں کہ جن کو اس امّت نے دکھوں اور آنسئوں کے سوا کچھ نہ دیا۔

        اس التجا کے ساتھ کہ وہ قیامت تک تمام مومن و مومنات خصوصا والدہ محترمہ سیدہ سردار فاطمہ زیدیمرحومہ بنت سید حامد حسین مرحوم پر اپنی چادر رحمت کا سایہ قائم رکھیں اور بروز محشر ہم سب کو اپنے مظلوم بیٹے کے ماتم داروں اور عزاداروں کے ساتھ اٹھائیں ۔وہ ماتم دار اورعزادار  جن میں تمام انبیاء و اولیاء اور آئمہ معصومین علیہم السلام شامل ہیں ۔


انتساب

        میں اپنی اس ناچیز کوشش کو اپنے مرحوم والدین سید اشفاق حسین زیدی  مرحوم ابن سید ذوالفقار حسین زیدی مرحوم اور سیدہ سردار فاطمہ زیدی مرحومہبنت سید حامد حسین زیدی مرحوم کے نام کرتا ہوں ۔

        جن کی دعائیں آج بھی میرے لئے سپر کا کام کر رہی ہیں ۔اور جنکی ربوبیّت و شفقت آج بھی میرے لئے سائبان بنی ہوئی ہیں ۔اور جن کی پاک پاکیزہ تربیت نے مجھکو محب اہلبیت علیہم السلام بنایااور قم جیسی مقدس سرزمین پر علوم آل محمد ﷺحاصل کرنے کا اہل بنایا ۔


    عرض حال

أَيْنَما تَكُونُوا يُدْرِكْكُمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ في‏ بُرُوجٍ مُشَيَّدَةٍ (78)(1)

تم جہا ں بھی رہو موت تمہیں پا لے گی چاہے مستحکم قلعوں میں کیوں نہ بند ہو جاؤ.

{سورہ نساء آیت: ۷۸}

        کس کو اب ہوگا وطن میں، آہ میرا انتظار      کون میرا خط نہ آنے پر رہے گا بے قرار

     خاک مرقد پر تری لے کر یہ فریاد آؤں گا    اب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گا

     موت ایک ایسی اٹل حقیقت کا نام ہے  جس سے فرار ممکن نہیں ۔اس کائنا ت میں فقط ایک ہی ایسی چیز ہے  جس کا آج تک کوئی منکر پیدا نہیں ہوا ہے ۔اور اس شئی کا نام ہے موت۔ ہاں خالق موت کا انکار کرنے والے پیدا ہوگئے لیکن موت کا انکار کرنے والے پیدا نہ ہو سکے اور اگر کوئی انکار کرنے والا پیدا بھی ہوا تو جب موت اسکے سامنے آئی تو ہتھیار ڈال کر موت کا اقرار کرنے لگا ۔جیساکہ معصومین   علیہمالسّلام نے ارشاد فرمایا ہے :کہ موت اس مصلح کا نام ہے جس کی اصلاح کے بعد انسان  کبھی  گمراہ نہیں ہوتا ''یا فرمایا : موت کو ہر پل یاد کرو کیونکہ وہ تم کو بگڑنے نہ دےگی ۔" لہٰذا ہم کو یہ سوچنا چاہئے کہ جب موت سے فرار ممکن نہیں ،اور سب سے کامیاب مصلح کا نام موت ہے تو پھر انسان موت کا  نام سن کر خوف زدہ  اورگھبرا  کیوں جاتا ہے  ؟  یقینا اسکی وجہ ہماری سمجھ میں نہ آتی اگرخالق موت و حیات  نے ہماری راہنمائی نہ کی  ہوتی۔ پروردگار عالم اسکی وجہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے :

--------------

(1):- سورہ نساء آیت: ۷۸


﴿وَ لا يَتَمَنَّوْنَهُ أَبَداً بِما قَدَّمَتْ أَيْديهِمْ وَ اللَّهُ عَليمٌ بِالظَّالِمينَ﴾  (7)(1)

        وہ اپنے گذشتہ اعمال کی بنا پر موت کی تمنّا نہ کریں گے۔

        حضرت ابو عبد اللہ حضرت امام جعفر صادقؑ نےفرمایا:کہ  ایک شخص حضرت ابو ذر کے پاس آیا اور ان سے پوچھا کہ ہم لوگ موت سے کیوں گھبراتے ہیں ؟تو آپ نے ارشاد فرمایا:

مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ وَاصِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سِنَانٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى أَبِي ذَرٍّ فَقَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا لَنَا نَكْرَهُ الْمَوْتَ فَقَالَ لِأَنَّكُمْ عَمَرْتُمُ الدُّنْيَا وَ أَخْرَبْتُمُ الْآخِرَةَ فَتَكْرَهُونَ أَنْ تُنْقَلُوا مِنْ عُمْرَانٍ إِلَى خَرَابٍ فَقَالَ لَهُ فَكَيْفَ تَرَى قُدُومَنَا عَلَى اللَّهِ فَقَالَ أَمَّا الْمُحْسِنُ مِنْكُمْ فَكَالْغَائِبِ يَقْدَمُ عَلَى أَهْلِهِ وَ أَمَّا الْمُسِي‏ءُ مِنْكُمْ فَكَالْآبِقِ يَرِدُ عَلَى مَوْلَاهُ (2)

حضرت ابو عبد اللہ امام جعفر صادق ؑ نےفرمایا:کہ  ایک شخص ابوذر کے پاس آیا اور کہنے لگا ایسا کیوں ہے کہ ہم موت کو برا سمجھتے ہیں۔ ؟آپ نے فرمایا :تم نے دنیا کو آباد سمجھا ہے اور آخرت کو خراب  ۔پس تم آباد سے خرابے کی طرف جانا برا جانتے ہو ۔ اس نے کہا :تم خدا کے سامنے ہمارا آنا کیسا سمجھتے ہو ؟ فرما یا :جو تم میں نیک ہیں ایسے آئیں گے جیسے مسافر اپنے گھر کی طرف ،اور جو گنہگا ر ہیں وہ اس طرح آئیں گے جیسے بھاگا ہوا غلام اپنے آقا کے سامنے آتا ہے ۔

        لہٰذا جن لوگوں  نے اپنی دنیا کو آباد اور آخرت کوبرباد کر رکھا ہے ۔کیا ایسا شخص اپنی آباد جگہ کو چھوڑ کر خرابے کی طرف جا نا پسند کرے گا ۔ 

--------------

(1):- سورہ جمعہ ۔آیت ۷

(2):- اصول کافی ج ۲ ،باب محا سبہ عمل ۔رقم ۲۰


        یہ آیت تو یہودیوں کے متعلق نازل ہوئی ہے لیکن جسکا بھی نامہ اعمال سیاہ  ، دامن کردار گناہوں سے ملوّث ہوگااورجس نے  آخرت کو چھوڑ کر دنیا کو آباد کیا ہوگا ۔وہی موت سے گھبرائے گا ۔لہٰذا ہم نے تاریخ میں دیکھا کہ جن لوگوں کے دل یاد خدا سے پر  اور  دامن کردار بالکل پاک و صاف تھا "یا آیندہ ہوگا "وہی لوگ اعلان کرتے ہوئے نظر آ رہے  تھے کہ موت ہم پر آ پڑے یا ہم موت پر جا پڑیں ۔ہمیں کوئی پرواہ نہیں ، فقط ایک ہی بات کی فکر ہے کہ اگر زندگی تمام ہو تو حق پر ہو نہ کہ باطل پر ۔ لہٰذا ہم   اس زمانہ میں بھی دیکھتے ہیں کہ جن لوگوں کے دل ان عظیم شخصیتوں کی محبّتسے لبریز ہیں وہ آج بھی سامراج کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کر رہے اور دناں پر حکومت کرنے والی سامراجی طاقتوں کو للکار رہے ہیں اور دنیا کو یہ بتا رہے ہیں کہ ہم انہیں عظیم شخصیتوں کے ماننے والے ہیں  جو موت سے گھبراتے نہیں تھے بلکہ ہنسی خوشی حق پر موت کو قبول کر لیتے تھے اور فقط یہی وہ شخصیتیں تھیں جن سے اجازت لئے بغیرموت  بھی ان  کے گھر میں داخل نہیں ہوتی تھی۔

مولائے کائنات امیر المومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام نے ارشاد فرمایا:

فَإِنَّ الْمَوْتَ هَادِمُ لَذَّاتِكُمْ وَ مُكَدِّرُ شَهَوَاتِكُمْ وَ مُبَاعِدُ طِيَّاتِكُمْ زَائِرٌ غَيْرُ مَحْبُوب‏(1)

موت انسان کی لذتوں کو فنا کرنے والی ،ان کی خواہشات کو بد مزہ کردینے والی اور انکی منزلوں کو دورکر دینے والی ہے ۔

        لہٰذا وہ افراد  جو اپنی طاقت اور جوانی کےنشے میں چور، لہو لعب کی محفلوں میں مصروف اور  لمبی عمر  کے خواہاں، موت و فنا سے بے خبر،بہترین گھروں میں رہنے والے ، جن کاہر دن سکون اور رات شب برات ہوتی تھی مگر اب مجبور ہو کر دنیا کو چھوڑ چکے ہیں ۔

--------------

(1):- نہج البلاغہ ۔خطبہ ۲۳۰ ۔فضل العمل


 عمدہ کھانا کھانے والے زمین کے کیڑے مکوڑوں کی غذا بن گئے ہیں ۔دوستوں کی محفلوں کے بجائے قبرکی تنہائی اور وحشت میں، آرام دہ بستروں پر لیٹنے والے آج خاک پرلیٹے، اپنے عزیزوں کی محفلوں میں بیٹھ کر قہقہے لگا نے والے آج خاموش پڑے ہوئے ہیں اور موت کو بھلانے والے آج خود اسکا شکار ہو گئے اور انکے چاہنے والوں نے انکو کفن میں لپیٹ کر دور ویران جنگل میں لے جا کر سیکڑوں من مٹی کے نیچے دبادیا اور آج تک  کسی نے انکی خبر تک نہ لی کہ وہ کون تھے ؟ اور کیا ہوئے ؟

        حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرما یا :

وَ قِرْنٌ غَيْرُ مَغْلُوبٍ وَ وَاتِرٌ غَيْرُ مَطْلُوبٍ قَدْ أَعْلَقَتْكُمْ حَبَائِلُهُ وَ تَكَنَّفَتْكُمْ غَوَائِلُهُ وَ أَقْصَدَتْكُمْ مَعَابِلُهُ وَ عَظُمَتْ فِيكُمْ سَطْوَتُهُ وَ تَتَابَعَتْ عَلَيْكُمْ عَدْوَتُه‏(1)

اور وہ {موت}ایک ایسی مقابل ہے جو مغلوب نہیں ہوتی ہے ۔اور ایسی قاتل ہے جس سے خون بہا کا مطالبہ نہیں ہوتا ہے ۔اس نے اپنے پھندے تمہارے گلے میں ڈال رکھیں ہیں۔ اور اس کی ہلاکتوں نے تمہیں گھیرے میں لے رکھا ہے ۔اور اسکے تیروں نے تمہیں نشانہ بنا لیا ہے ۔

        لہٰذا ہم نے دیکھا کہموت نے بڑے بڑے ظالم و جابر لوگوں کی گردنیں مروڑ دیں،بادشاہوں کی کمریں توڑ دیں ،اونچے اور شاندار محلوں میں رہنے والوں کو موت نے گڑھے میں ڈھکیل اور قبر کے اندھیرے میں پہونچا دیا ۔

        لہٰذا ہم کو ہر وقت موت کو یاد رکھنا چاہئے اور معصومین علیہم السلام کی ان فرمائشات پر عمل کرنا چاہئے کہ جن میں آپ نے ارشاد فرمایا :

وَ قَالَ ‏ أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي إِنْ قُلْتُمْ سَمِعَ وَ إِنْ أَضْمَرْتُمْ عَلِمَ وَ بَادِرُوا الْمَوْتَ الَّذِي إِنْ هَرَبْتُمْ مِنْهُ أَدْرَكَكُمْ وَ إِنْ أَقَمْتُمْ أَخَذَكُمْ وَ إِنْ نَسِيتُمُوهُ ذَكَرَكُم‏(2)

--------------

(1):- نہج البلاغہ ۔خطبہ ۲۳۰ ۔فضل العمل

(2):- حکمت نمبر ۲۰۳


        حضرت علی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: لوگو:خدا سے ڈروجو تمہاری ہر بات کو سنتا ہے اور ہر راز دل کو جاننے والا ہے اور اس موت کی طرف سبقت کرو جس سےبھاگنا بھی چاہوتو وہ تمہیں پا لے گی اور تھہر جائو تو گرفت میں لے لے گی اور تم اسے بھول بھی جائو تو وہ تمہیں یاد رکھے گی ۔

        اور ہم کو اس موت کو اسلئے بھی یا د رکھنا چاہئے کہ جو خود ہمارے لئے بہترین سپر ہے ۔حضرت علی نے ارشاد فرما یا :

وَ قَالَ ع‏ إِنَّ مَعَ كُلِّ إِنْسَانٍ مَلَكَيْنِ يَحْفَظَانِهِ فَإِذَا جَاءَ الْقَدَرُ خَلَّيَا بَيْنَهُ وَ بَيْنَهُ وَ إِنَّ الْأَجَلَ جُنَّةٌ حَصِينَة (1)

 ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے رہتے ہیں لیکن جب موت کا وقت آجا تا ہے تو دونوں ساتھ چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ گویا کہ موت ہی بہترین سپر ہے ۔       حضرت علی علیہ السلام ارشاد فرماتے ہیں:

74وَ قَالَ ع‏ نَفَسُ الْمَرْءِ خُطَاهُ إِلَى أَجَلِه‏(2)

ہماری ایک ایک  سانس موت کی طرف ایک قدم ہے ۔

        لہٰذا موت وہ شئہےکہ جو  والدین  سے انکے بچوں ،بہنوں سےانکےبھائیوں کوچھین لیتی ہے اور بھائیوں کو بھائیوں سے جدا کر دیتی ،بیویوں کو بیوہ اور بچوں کو یتیم بنا دیتی ہے ۔

        میں نے بھی جب سے ہوش سنبھالا تو اپنی زندگی میں ان حالات کا مشاہدہ کیا۔جب کمسن تھا تو باپ کا سایہ سر سے اٹھتے ہوئے دیکھا ۔اورجب نوجوانی میں قدم رکھا تو اپنے ۳۸ سالہ پشت پناہ بھائی کو موت کی آغوش میں سوتے ہوئےاور انکے کمسن بچوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے بلکتے اور ماں اور بہن کو جیسے {بچھو کا کاٹا تڑپتا ہے }بیٹے اور بھائی کی یاد میں  تڑپتے ہوئے دیکھا

--------------

(1):- حکمت نمبر ۲۰۱

(2):- حکمت نمبر ۔۷۴


اور جب جوانی میں قدم رکھا اور سرزمینعلم و اجتہاد {قم المقدسہ}پر علوم آل محمدعلیہم السلام حاصل کرنے کے لئے آیا ہی تھا کہ موت نے مجھ سے  اس ذات کو جو اپنے بیٹوں کیلئے  کعبۂ عشق و ولا ،حرم صبرو رضا،پیکر ایثار و وفاہوتی ہےاور جس کے بعد ہی انسان کو اصل میں یتیمی کا احساس ہوتا ہے ۔

موت نے ان کو بھی مجھ سے جدا کر دیا اور وہ احساس یتیمی کہ جو والد کی وفات کے بعد آج تک نہ ہوا تھاہونے لگا۔اور کیوں نہ ہو جب افضل المرسلین ،خاتم النبیّین اور رحمۃ اللعالمین حضرت محمدمصطفیٰ(ص)کو خود ماں کی وفات کے بعد احساس یتیمی ہوا تو کبھی جناب فاطمہ بنت اسد سلام اللہ علیہا کو ماں کہا۔ اور جب انکا سایہ بھی سر سے اٹھ گیا اور اپنی بیٹی کی جانب سے وہ اظہار محبت دیکھی کہ جو ایک ماں اپنے بیٹے سے کرتی ہے تو اپنی ہی بیٹی کو یہ کہہ کرمخاطب کیا''فاطمة ْامّْ ابیها ''

        خدا نہ کرے کوئی بیٹا پردیس اور غریب الوطنی میں اپنی ماں کی خبر وفات سنے۔خصوصا ایسے مقام پر کہ جہاں سے وہ اپنی ماں کی آخری رسومات میں شرکت اور اس کا آخری دیدا ربھی نہ کرسکے۔ کیوں کہ اس کا درد بیٹے ہی کو زندگی بھر نہیں رہتا بلکہ ماں بھی تڑپتی رہتی ہے۔

مرتے دم بیٹا نہ آ پائے اگر پردیس سے       اپنی دونوں پتلیاں چوکھٹ پہ رکھ جاتی ہے ماں

        میں نےبھی اپنی والدہ ماجدہ کی وفات حسرت آیات کی خبر سر زمین قم پر سنی کہ جہاں سے اپنی ماں کی تشییع جنازہ میں نہیں پہونچ سکتا تھا ۔اور میں بن پانی کے تڑپنے والی مچھلی کی طرح تڑپ کر رہ گیا ۔اور  یہ احساس ہوا کہ زمانے کی تیز دھوپ مجھے جلا ڈالے گی۔

کیونکہ اب وہ گھنا درخت ٹوٹ گیا جو مصائب و آلام کی دھوپ میں سایہ فگن تھا ،وہ ذات جو شب کے سنّاٹوں میں ہمارے لئے دعائیں کرتی تھی اب نہ رہی، وہ ذات کہ جس نے خون دل پلا کر ہمیں پروان چڑھایا،


 وہ ذات کہ جس نے تمام مصائب وآلام کو ہماری حفاظت کے لئے برداشت کیا، وہ ذات کہ جوخود بیدار رہ کر ہمیں میٹھی نیند کے مواقع فراہم کرتی تھی گویا اس کا پورا وجود ہمارے لئے محافظ تھا، نہ رہا۔ بقول جناب رضا سرسوی ۔

اپنے بچوں کی بہار زندگی کے واسطے          آنسوؤں کے پھول ہر موسم میں برساتی ہے ماں

        موت کے بے رحم ہاتھوں نے جو کاری زخم ہمارے دل و جگرپر لگایا تھا وہ کبھی مندمل نہ ہوتا اگر دنیا کا سب سے المناک واقعہ واقعہٗ کربلا نہ ہوتا ۔

جز غم شبیرممکن ہی نہیں جس کا علاج      اپنی فرقت کا اک ایسا غم دے جاتی ہے ماں

        اے بنت پیربم  ﷺ! جب بھی کوئی ماں اس دنیا سے اٹھے گی آپ کا غم اس کے بیٹوں کا سہارا بنے گا، جب بھی کوئی بہن اس دنیا سے جائے گی تو آپ کی بیٹیوں کا غم اس کے بھائیوں کے لئے مداوا ہوگا، اور جب بھی کوئی کڑیل جوان اپنے گھر والوں کو داغ مفارقت دے گا تو آپ کے کڑیل جوان علی اکبر علیہ السلامکا غم اس کے گھروالوں کو دلاسہ دے گا۔

        اے بنت پیربا ﷺ! ہمارے لئے دعا کریں کہ ہم اس غم کو اپنا فرض اور ذمہ داری سمجھ کر اپنائیں نہ کہ رسم و رواج سمجھ کر۔

        انہیں فرائض میں سے ایک فرض علوم آل محمدعلیہم اسلامکی تحصیل اور اس کی ترویج ہے۔ اور اصل علم آل محمد علیہم اسلامہمیں قرآن و حدیث میں ہی مل سکتا ہے ۔

        لہٰذا میں نے اپنی والدۂ مرحومہ کی خبر وفات سنتے ہی سب سے پہلے یہ فیصلہ کیا کہ بفضل خدا ایک کتابچہ ضابطۂ تحریر میں لاؤں جس میں (ماں کی عظمت قرآن واحادیث کی روشنی) میں بیان کروں ۔ اور بفضل خدا وند متعال میں نے یہ کام چند ہی دنوں میں پایۂ تکمیل تک پہنچا دیا۔ میں نے اس کتابچہ میں کوشش کی ہے کہ وہ آیات جو والدین کی عظمت ومنزلت سے متعلق ہیں چند آیتوں کی تفسیر کے ساتھ بیان کر دی جائیں  ۔ ساتھ ہی ساتھ چالیس حدیثیں اس قول پیربوبﷺکو مد نظر رکھتے ہوئے کہ جس میں آپ ﷺنے ارشاد فرمایا:


مَنْ حَفِظَ مِنْ اُمَّتِیْ اَرْبَعِیْنَ حَدِیْثًا مِمَّا یُحْتَاجُوْنَ اِلَیْهِ مِنْ اَمْرِ دِیْنِهِمْ بَعَثَهُ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَةِ عَالِمًا فَقِیْهًا''

میری امت میں سےجو شخص چالیس حدیثیں حفظ کرے گا خدا وند عالم اس کو روز قیامت عالم و فقیہ اٹھائے گا''ترجمہ کے ساتھ پیش کر دی جائیں  تاکہ ماں کی اہمیت کا اندازہ ہوسکے۔ چونکہ بغیر ائمہ کے اقوال کا سہارا لئے ہوئے ماں کی عظمت کو سمجھنا ممکن نہیں ہے۔

        آخر میں خدا وند عالم سے دعا گو ہوں کہ خدایا! ہرشخص کو والدین کی عظمت و منزلت سمجھنے اور ان کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرما ۔ اورجن کے مائیں سلامت ہیں ان کا سایہ ان کے بیٹوں کے سروں پر قائم رکھ، جن کی مائیں دنیا سے گذر چکی ہیں ان کی مغفرت فرما ۔اور انہیں جوار معصومین علیہم السلاممیں جگہ عنایت فرما۔

        پروردگارا! اس غم نصیب کی ماں کوبھی اس مظلومہ بی بی کے جوار میں جگہ مرحمت فرما۔ جس کی شہادت سن کر ان  کا زار زار گریہ آج بھی عشق فاطمی سلام اللہ علیہا کی جانب ہم سب کی توجہات مبذول کراتا ہے ۔سیدہ کونین ،بی بی دوعالم سلام اللہ علیہاسے عشق ومحبت کا اندازہ اسی سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہماری والدہ کا انتقال اسی تاریخ میں ہوا جس میں فخر مریم حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا امیر المومنین حضرت علی ؑکو تنہا چھوڑ گئی تھیں اور اسی شب کے سناٹے میں تدفین ہوئی جس شب میں آغوش رسالت ﷺکی پروردہ سیدہ زہراسلام اللہ علیہا  کو انکے شوہر نام دار حضرت علی ابن ابی طالب علیہما السلام اور انکی  آغوش میں پروان چڑھنے امام حسن و حسین علیہما السلام نے دفن کیا  ۔ اور بالاآخر کنیز سیدۃ  سلام اللہ علیہا،سیدہ سلام اللہ علیہاسے جا ملی۔

پروردگارا: محمد و  آل محمد علیہم اسلام کے صدقہ میں  اس کتابچہ کا ثواب اس غم نصیب کی ماں کو مرحمت فرما۔ آمین

                                        وفات مادر گرامی :26 اپریل / 201۱                                             مطابق:۳/ جمادی الثانی ۱۴۳۳ ھ

                                        بروز جمعہ :بوقت  2 /بجے دن

                                        تدفین: ۱۱/ بجے شب      


مقدمہ

نمونہ عمل

        جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا نے اپنی مختصر سی زندگی میں ایسے نمایاں کارنامے انجام دئیے ہیں اور زندگی کے مختلف میدانوں میں اپنے کردار کے ایسے اثرات چھوڑے ہیں جن پر ہر مسلمان  بالخصوص مسلمان خواتین کے لئے عمل کرنا فخر اور دنیا و آخرت میں نجات کا سبب ہے۔ اس مضمون میں ہم جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی زندگی کے مختلف پہلووں کو پیش کررہے ہیں۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہاکا اخلاق و کردار

        حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہااپنی والدہ گرامی حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہاکی والا صفات کا واضح نمونہ تھیں ۔جود و سخا، اعلی فکری اور نیکی میں اپنی والدہ کی وارث اور ملکوتی صفات و اخلاق میں اپنے پدر بزرگوار کی جانشین تھیں۔ وہ اپنے شوہر حضرت علی ؑکے لئے ایک دلسوز، مہربان اور فدا کار زوجہ تھیں ۔ آپ کے قلب مبارک میں اللہ کی عبادت اور پیغمبر ﷺکی محبت کے علاوہ اور کوئی تیسرا نقش نہ تھا۔ زمانہ جاہلیت کی بت پرستی سے آپ کوسوں دور تھیں ۔ آپ نے شادی سے پہلے زندگی کے پانچ سال اپنی والدہ اور والد بزرگوار کے ساتھ اورچار سال اپنے بابا کے زیر سایہ بسر کئے اور شادی کے بعد کے دوسرے نو سال اپنے شوہر بزرگوار علی مرتضی ؑکے شانہ بہ شانہ اسلامی تعلیمات کی نشرواشاعت، اجتماعی خدمات اور خانہ داری میں گزارے ۔ آپ کا وقت بچوں کی تربیت ،گھر کی صفائی اور ذکر و عبادت خدا میں گزرتا تھا ۔ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اس خاتون کا نام ہے جس نے اسلام کے مکتب تربیت میں پرورش پائی تھی  اور ایمان و تقویٰ آپ کے وجود کے ذرات میں گھل مل چکا تھا ۔


        فاطمہ زہراسلام اللہ علیہانے اپنے ماں باپ کی آغوش میں تربیت پائی اور معارف و علوم الٰہی کوسر چشمہ نبوت سے کسب کیا۔ انہوں نے جو کچھ بھی ازدواجی زندگی سے پہلے سیکھا تھا اسے شادی کے بعد اپنے شوہر کے گھر میں عملی جامہ پہنایا ۔ وہ ایک ایسی مسن وسمجھدار خاتون{ کہ جس نے زندگی کے تمام مراحل طے کر لئے ہوں} کی طرح اپنے گھر کے امور اور تربیت اولاد سے متعلق مسائل پر توجہ دیتی تھیں اور جو کچھ گھر سے باہر ہوتا تھا اس سے بھی باخبر رہتی تھیں اور اپنے اور اپنے شوہر کے حق کا دفاع کرتی تھیں ۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہاکا نظام عمل

        حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہانے شادی کے بعد جس نطام زندگی کا نمونہ پیش کیا وہ طبقئہ نسواں کے لئے ایک مثالی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ گھر کا تمام کام اپنے ہاتھ سے کرتی تھیں ۔ جھاڑو دینا، کھانا پکانا، چرخہ چلانا، چکی پیسنا اور بچوں کی تربیت کرنا ۔ یہ سب کام اور ایک اکیلی سیدہسلام اللہ علیہا لیکن نہ تو کبھی تیوریوں پر بل پڑے اور نہ کبھی اپنے شوہر حضرت علی ؑسے اپنے لیے کسی مددگار یا خادمہ کے انتظام کی فرمائش کی۔ ایک مرتبہ اپنے پدر بزرگوار حضرت رسولِ خدا  ﷺسے ایک کنیز عطا کرنے کی خواہش کی تو رسولﷺ نے بجائے کنیز عطا کرنے کے وہ تسبیح تعلیم فرمائی جو تسبیح فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہاکے نام سے مشہور ہے   34مرتبہ اللہ اکبر، 33مرتبہ الحمد اللہ اور 33مرتبہ سبحان اللہ ۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ عل یہااس تسبیح کی تعلیم سے اتنی خوش ہوئیں کہ کنیز کی خواہش ترک کردی ۔ بعد میں رسول اکرم ﷺنے بلا طلب ایک کنیز عطا فرمائی جو فضہ کے نام سے مشہور ہے۔ جناب سیدہ سلام اللہ علیہااپنی کنیز فضہ کے ساتھ کنیز جیسا برتا ئو نہیں کرتی تھیں بلکہ ان سے ایک برابر کے سہیلی جیسا سلوک کرتی تھیں۔وہ ایک دن گھر کا کام خود کرتیں اور ایک دن فضہ سے کراتیں۔


 اسلام کی تعلیم یقینا یہ ہے کہ مرد اور عورت دونوں زندگی کے جہاد میں مشترک طور پر حصہ لیں اور کام کریں۔بیکار نہ بیٹھیں مگر ان دونوں میں صنف کے اختلاف کے لحاظ سے تقسیم عمل ہے۔اس تقسیم کار کو علیؑاور فاطمہ سلام اللہ علیہانے مکمل طریقہ پر دنیا کے سامنے پیش کر دیا۔ گھر سے باہر کے تمام کام اور اپنی قوت بازو سے اپنے اور اپنے گھر والوں کی زندگی کے خرچ کا سامان مہیا کرنا علی ؑکے ذمہ تھا اور گھر کے اندر کے تمام کام حضرت فاطمہ زہراسلام اللہ علیہا انجام دیتی تھیں۔

حضرت زہراسلام اللہ علیہاکا پردہ

        سیدہ عالمسلام اللہ علیہا نہ صرف اپنی سیرت زندگی بلکہ اقوال سے بھی خواتین کے لیے پردہ کی اہمیت پر بہت زور دیتیتھیں۔آپ کا مکان مسجدِ رسولِ سے بالکل متصل تھا۔ لیکن آپ کبھی برقع وچارد میں نہاں ہو کر بھیاپنے والدِ بزرگوار کے پیچھے نماز جماعت  پڑھنے یا آپ کا وعظ و نصیحت سننے کے لیے مسجد میں تشریف نہیں لائیں بلکہ اپنے فرزند امام حسن علیہ السلام سے جب وہ مسجد سے واپس آتے تھے اکثر رسول کے خطبے کے مضامین سن لیا کرتی تھیں۔ایک مرتبہ پیغمبر ﷺنے منبر پر یہ سوال پیش کر دیا کہ عورت کے لیے سب سے بہتر کیا چیز ہے؟ یہ بات سیدہ زہرا سلام اللہ علیہا کو معلوم ہوئی تو آپ نے جواب دیا :عورت کے لئے سب سے بہتر بات یہ ہے کہ نہ اس کی نظر کسی غیر مرد پر پڑے اور نہ کسی غیر مرد کی نظر اس پر پڑے ۔ رسول اکرم ﷺکے سامنے یہ جواب پیش ہوا تو حضرت ﷺنے فرمایا :

''کیوں نہ ہو فاطمہ میرا ہی ایک ٹکڑا ہے۔''

حضرت زہرسلام اللہ علیہااور جہاد

         اسلام میں عورتوں کا جہاد، مردوں کے جہاد سے مختلف ہے۔ لہٰذا حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہانے کبھی میدانِ جنگ میں قدم نہیں  رکھا ۔ لیکن جب کبھی پیغمبرﷺ میدان جنگ سے زخمی ہو کر پلٹتے تو سیدہ عالم سلام اللہ علیہاان کے زخموں کو دھوتیں تھیں اور جب علی علیہ السلام خون آلود تلوار لے کر آتے تو فاطمہ سلام اللہ علیہااسے دھو کر پاک کرتی تھیں۔


 وہ اچھی طرح سمجھتی تھیں کہ ان کا جہاد یہی ہے جسے وہ اپنے گھر کی چار دیواری میں رہ کے کرتی ہیں۔ہاں صرف ایک موقع پر حضرت زہرا سلام اللہعلیہا نصرت اسلام کے لئے گھر سے باہر آئیں اور وہ تھا مباہلے کا موقع۔ کیونکہ یہ ایک پرامن مقابلہ تھا اور اس میں صرف روحانی فتح کا سوال تھا۔

یعنی صرف مباہلہ کا میدان ہی ایک ایسامیدان  تھا جہاں سیدہ عالم سلام اللہ علیہاخدا کے حکم سے برقع و چادر میں نہاں ہو کر اپنے پدر بزگوارﷺ اور شوہر نامدار حضرت علی  ؑکے ساتھ گھر سے باہر نکلیں۔

ماںکیسی ہوتی ہے؟

        ایک اچھی ماں میں بہت سی خوبیاں اور اچھائیاں ہوتی ہیں جو اسے دوسروں سے بالکل الگ بنا دیتی ہیں۔ یہاں پر ہم ان میں سے کچھ کو پیش کررہے ہیں:۱  

۱:بچوں سے بے انتہا محبت:

        ماں کی محبت بے مثال ہوتی ہے۔ بچہ چاہے نوجوان ہو یا جوان، صحتمند ہو یا جسمانی اعتبار سے اسمیں کوئیکمی ہو، شرارتی ہو یا بات ماننے والا؛ ماں اس سے بہرحال محبت کرتی ہے۔ وہ اپنی محبت کا اظہار بہت سے راستوں سے کرتی ہے۔ کبھی کبھی بچہ ماں کے ڈانٹنے یا مارنے کو محبت کم ہونے کی نشانی سمجھتا ہے ۔ حالانکہ بچہ کو یہ بات پوری طرح سمجھلینی چاہئے کہ جس وقت وہ نظم و ضبط اور ڈسپلن کے خلاف کوئی کام کرتا ہے اس وقت بھی وہ اپنی ماں کا چہیتا ہوتا ہے۔ ایسا بچہ ہمیشہ مطمئن اور خوش رہتا ہے اور وہ محبت اور ذہنی سکون کی تلاش میں کسی دوسری جگہ نہیں جاتا ہے۔ ماں کی محبت کی وجہ سے اسے اپنی ساری خوشیاں اور سکون گھر پر ہی مل جاتا ہے۔ماں کی وجہ سے ہی بچہ کا اپنے گھر میں دل لگتا ہے۔


۲:۔ایثار اور قربانی

        ماں اپنے بچوں کیلئے بہت سی قربانیاں دیتی ہے۔ وہ اپنا وقت، اپنی نیند، خوشیوں اور بہت ساری چیزوں کو صرف اس لئے چھوڑ دیتی ہے کہ اسکے بچوں کو کوئی پریشانی نہ ہو۔ جیسا کہ امام زین العابدین  اپنے ''رسالة الحقوق'' میں فرماتے ہیں: ''ماں اپنے بچے کیلئے جو کچھ کرتی ہے کوئی دوسرا اسکا ایک حصہ بھی نہیں کرسکتا ہے۔''

یہی وجہ ہے امام علیہ السلام نے ارشاد فرمایا : صرف خدا کی مدد کے ذریعہ سے ہی ماں کی قربانیوں اور زحمتوں کا شکریہ ادا کیا جاسکتا ہے۔ایک ماں اپنے بچوں کی جسمانی اور نفسیاتی؛ دونوں ضرورتوں کو پورا کرتی ہے۔ خاص طور پر آج کے ماڈرن دور میں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئےکہ  آج کے دور میں مائیں سماج کے بہکاوے میں آکر اپنے کیریر اور جاب کو گھر سے زیادہ اہمیت دے رہی ہیں۔ گھر عورت کی ہمیشہ سب سے بڑی ذمہ داری رہے گا جسکے لئے ہر طرح کی قربانیوں کی ضرورت ہے۔ بلکہ سچائی تو یہ ہے کہ یہ قربانی نہیں بلکہ انوسٹمنٹ ہے جس کا فائدہ بعد میں ملے گا۔

3۔حفاظت

     ماں کی پوری کوشش یہی ہوتی ہے کہ اپنے بچوں کو مشکلوں اور خطروں سے بچائے۔ اگرچہ کچھ مائیں اس بارے میں تھوڑا زیادہ ہی Sensitive ہوتی ہیں۔ بچے کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنی عمر اور حالات کے لحاظ سے زندگی میں سختیوں اور مشکلوں کا مقابلہ کرنا سیکھے۔ جس بچے کو ہمیشہ مشکلوں سے بچایا جاتا رہے گا بڑا ہو کر وہ زندگی کی سچائیوں کا سامنا نہیں کرپائے گا کیونکہ ساری دنیا اسکی ماں جیسا اسکا خیال نہیں رکھے گی۔

4۔ ماں کا رول ''بچے کیلئے آئینہ ''

        جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ باہر کی دنیا سے بالکل انجان ہوتا ہے۔ ماں اسے باہر کی دنیا پہچنوانے میں اہم رول ادا کرتی ہے۔ بچہ اپنی زندگی کے بارے میں اپنے ذہن میں جو تصویریں بناتا ہے انکے بننے میں ماں کا ایک اہم کردار ہوتا ہے۔


وہ دنیا ، مذہب اپنی زندگی اور زندگی کے مقصد کے بارے میں سوچنے کا انداز ماں سے ہی لیتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ جب وہ بڑا ہو تو اسکی سوچ بدل جائے لیکن بچپن کی زندگی اور اس زندگی میں جو کچھ وہ سیکھتا ہے اسکے ذہن پر گہرا اور انمٹ اثر چھوڑ جاتی ہیں۔

''بچہ کا آئیڈئیل ''

        بچہ کیلئے اپنی زندگی میں سب سے اہم شخصیت اسکی ماں ہوتی ہے جسے وہ سب سے زیادہ چاہتا ہے اور سب سے زیادہ اسکا احترام کرتا ہے ۔ اس لئے اسکا ہر کام اور ہر عادت بچے کیلئے آئیڈئیل ہوتا ہے۔ اسکے رہن سہن، ملنے جلنے اور بول چال کا انداز، گھر کا کام کرنے کا طریقہ، پیسہ خرچ کرنے کا سلیقہ بلکہ اسکی پوری زندگی بغیر کسی شک و شبہ کے بچہ کی زندگی اور اسکے کیرکٹر پر اثرڈالتی ہے۔ ماں سیکڑوں ٹیچروں سے ہزار گنا اچھی ہوتی ہے۔ اسکی نفسیاتی مضبوطی اورجذباتی کمزوریاں بچے کے لئے آئیڈئیل ہوتی ہیں، وہ انہیں اپنا لیتا ہے اور سالوں تک وہ اسی طرح کا ردعمل اور ری ایکشن دکھاتا ہے چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ ہوں۔ بہت سے ایسے لوگ دیکھے گئے ہیں جو اپنی ماں کا لائف اسٹائل اپناتے ہیں اگر چہ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ انکی ماں غلطی پر تھیں۔ یہ ری ایکشن انجانے طور پر ہوتا ہے جس سے بچنے کیلئے کافی محنت کی ضرورت ہے۔ اس لئے ماں کی یہ بہت اہم ذمہ داری ہے کہ وہ خود کو بچوں کے سامنے مثال اور آئیڈئیل بنا کر پیش کرے۔ ہوسکتا ہے کہ یہ مشکل بلکہ ناممکن دکھائی دے۔ بہت سی مائیں اسے اپنے لئے بہت بڑا بوجھ سمجھتی ہیں کہ وہ ہر وقت صحیح اور مناسب کام کریں۔لیکن جو کچھ بھی ہو یہ ایک بہت اچھی ٹریننگ ہے۔ اپنے بچوں کی وجہ سے مائیں اپنے اندر جو بدلائو لائیں گی وہ انکی عادت بن جائے گی جسکے نتیجہ میں انکے اندر ایک سچی تبدیلی آجائیگی جو انہیں بوجھ نہیں لگے گی۔ماں کے کردار کے بارے میں اتنی تاکید کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اسلام یہ چاہتا ہے کہ وہ اچھے کیرکٹر کے ذریعہ آئیڈئیل اور رول ماڈل بننے کی ذمہ داری قبول کریں۔


قرآن

قرآنی آیات

بڑھاپے میں والدین کے ساتھ محبت اور نیکی کا حکم

﴿وَ قَضى‏ رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ إِيَّاهُ وَ بِالْوالِدَيْنِ إِحْساناً إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما فَلا تَقُلْ لَهُما أُفٍّ وَ لا تَنْهَرْهُما وَ قُلْ لَهُما قَوْلاً كَريماً (23)وَ اخْفِضْ لَهُما جَناحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَبِّ ارْحَمْهُما كَما رَبَّياني‏ صَغيراً﴾ (24)

        اور آپ کے پرودگار کا فیصلہ ہے کہ تم اسکے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرنا اور اپنے ماں باپ کے ساتھ اچّھا برتائو کرنا اور اگر تمہارے سامنے ان دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بوڑھے ہو جائیں تو خبردار ان سے اف بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان سے ہمیشہ شریفانہ گفتگو کرتے رہنا۔(23)اور ان ک یلئے خاکساری کے ساتھ اپنے کاندھوں کو جھکا دینااور ان کے حق میں دعا کرتے رہنا کہ پرودگار ان دونوں پر اسی طرح رحمت نازل فرما کہ جس طرح انہوںنے بچپنے مجھے پالا ہے۔ (24 (1)

        تفسیر عیاشی میں ابی ولاد خیاط سے روایت نقل کی گئی ہے کہ امام صادق ؑسے اس آیت﴿وَ بِالْوالِدَيْنِ إِحْساناً﴾ کے معن ی پوچھے گئے؟ تو آپ نے فرمایا: {احسان یہ

ہے کہ ان کی اچھی خدمت کی جائے اور ان کی حاجتیں طلب کرنے سے پہلے پوری کردی جائیں ۔ کیا تم نے نہیں سنا ہے کہ خدا وند عالم نے ارشاد فرمایا ہے :

﴿لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ﴾

        تم نیکی کی منزل تک نہیں پہنچ سکتے ہو جب تک کہ اپنی محبوب چیزوں میں سے راہ خدا میں انفاق نہ کرو۔ ''

--------------

(1):- سورۂ اسراء/23و 24


آگے چل کر آپ ؑنے فرمایا :لیکن یہ جو خدا نے فرمایاہے:

﴿إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُما أَوْ كِلاهُما فَلا تَقُلْ لَهُما أُفٍّ﴾

         اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر ان کی طویل خدمت میں تھکان پیدا ہو جائے تو اُف تک بھی نہ کہو اور اگر وہ تم کو مارنے لگیں تو﴿وَ لا تَنْهَرْهُما﴾ یعنی ان کے سامنے آواز بلند نہ کرو اور﴿قُلْ لَهُما قَوْلاً كَريماً﴾ ان کے حق م یں اچھی ہی بات منھ سے نکالو۔ مثلاًیہ کہ خدا آپ لوگوں کو بخشے اور یہی تمہارا قول کریم ہے﴿وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ﴾ اور ماں باپ ک ی طرف شوخی سے بھی گھور کر نہ دیکھوبلکہ نظریں جھکا کے انکساری کے ساتھ ان کی طرف دیکھو۔ اور اپنی آواز کو ان کی آواز پر بلند نہ کرو اور اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ سے اونچا نہ کرو اور نہ ان کے آگے چلو۔(1) ﴿قُلْ رَبِّ ارْحَمْهُما... ﴾

        یعنی والدین کی زندگی میں اور ان کی وفات کے بعد ان کے لئے دعا کرو ۔ حدیث نبوی میں وارد ہوا ہے کہ بنی سلمہ میں سے ایک شخص نے حضرت رسالت مآب ﷺسے دریافت کیا کہ والدین کے مرنے کے بعد کون سی نیکی ہے جو میں ان کے لئے انجام دے سکتا ہوں ؟ تو آپﷺنے فرمایا کہ ان کے لئے دعا کرو اور اللہ سے ان کے لئے استغفار کرواس کے بعد ان کے وعدوں کو پورا کرو ، ان کے دوستوں کی عزت اور ان کے عزیزوں کے ساتھ صلۂ رحم کرو۔   (2)

﴿فَلاٰ تَقُلْ لَّهُمَا اُفٍّ﴾

        تفسیر مجمع البیان میں امام صادق ؑسے منقول ہے کہ اگر اُف سے مختصر کوئی لفظ ہوتا تو والدین کی نافرمانی سے بچنے کے لئے خدا اس سے بھی منع فرماتا ۔اور دوسری روایت میں ہے کہ کم از کم وہلفظ کہ جو انسان کو عاق والدین بنا دیتا ہے وہ لفظ اُف ہے ۔ ایک حدیث میں ہے کہ جو عاق والدین ہو وہ جس قدر بھی عمل کرے جنت میں داخل نہ ہوگا۔

--------------

(1):- تفسیر المیزان، ج/13،ص/166، فارسی ترجمہ

(2):- تفسیر انوار النجف، ج/9، تفسیر المیزان، ج/13


آیت کے پیغامات

        (1) توح ید ,تمام الٰہی احکامات کی بنیاد ہے:﴿وَ قَضٰی رَبُّکَ اَلاّٰ تَعْبُدُوا اِلاَّ اِیَّاهُ﴾

        (2) والد ین کی خدمت اور ان کے ساتھ نیکی کرنا حقیقی مومن اور سچے مسلمان ہونے کی دلیل ہے :﴿اَلاّٰ تَعْبُدُوا اِلاَّ اِیَّاهُ وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا﴾

        (3)والد ین کے ساتھ نیکی کا حکم ،توحید کے حکم کی مانند قطعی اور منسوخ نہ ہونے والا حکم ہے:﴿وَقَضٰی رَبُّکَ﴾

        (4)اس آ یت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ توحید کے بعد اہم ترین واجبات میں سے والدین کے ساتھ نیکی کرنا ہے

(5)والد ین کے ساتھ نیکی توحید اور اطاعت خداکے حکم کے ساتھ بیان ہوئی ہے تاکہ اس بات کی علامت قرار پائے کہ یہ کام واجب عقلی ہے اورواجب شرعی بھی﴿وَقَضى‏رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُواإِلاَّ إِيَّاهُوَبِالْوالِدَيْنِ إِحْساناً﴾       ( 6)احسان انفاق سے بڑھ کر ہے اور محبت ،ادب ،تعلیم ، مشورت، اطاعت،  تشکر اور مراقبت وغیرہ تمام چیزوںکو شامل ہے۔﴿وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا﴾

        (7) والد ین کے ساتھ احسان کرنے کی کوئی حد معین نہیں ہے ۔﴿وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا﴾

        (8) احسان کرنے کا تقاضااولادسے ہے نہ کہ وا لدین سے۔﴿وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا﴾ چونکہ یہ فطری طور پر احسان کرتے ہیں ۔

        (9)جتن ی ان کی روحانی اور جسمانی ضرورت بڑھتی جائے گی اتنا ہی احسان بھی ضروری ہوتا جائے گا۔﴿یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ﴾

        (10) جب قرآن ب یگانے سائلوں کو جھڑکنے سے منع کرتا ہے۔﴿وَاَمَّا السَّائِلَ فَلاٰ تَنْهَرْ﴾ تو ماں باپ کوجھڑکنےک ی کیسے اجازت دے گا؟﴿فَلاٰ تَنْهَرْهُمَا﴾                              


        (11) احسان کے ساتھ نرم اور شر یفانہ گفتگو بھی لازم و ضروری ہے۔﴿فَلاٰ تَقُلْ لَّهُمَا اُفٍّ﴾

والد ین کے ساتھ احسان اور نرم و شریفانہ گفتگو کرنے میں ضروری نہیں ہے کہ والدین بھی اسی انداز سے پیش آئیں ۔بلکہ اگر وہ کریمانہ رویہ نہ بھی اختیار کریں تب بھی ضروری ہے کہ ان کے ساتھ شریفانہ گفتگوکی جائے﴿قُلْ لَّهُمَا قَوْلاً کَرِیْمًا﴾ (1)

آیت نمبر 24

        (1) ب یٹا جس حالت میں بھی ہو متواضع ہو اور اپنے مقام ومنصب کو والدین پر ظاہر نہ کرے۔''وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ''

        (2) والد ین کے حضور میں تواضع، مہرو محبت کی بنیاد پر ہونا چاہئے نہ کہ دکھاوے یا مالدولت حاصل کرنے کے لئے﴿وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ﴾

        (3) ب یٹا والدین کی بہ نسبت متواضع ہواور ان کے لئے رحمت کی دعا بھی کرے﴿وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا﴾

        (4 یٹے کی دعا ماں باپ کے حق میں مستجاب ہوتی ہے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو خدا وند عالم دعا کرنے کا حکم نہ دیتا﴿ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا﴾

        (5) ماں باپ کے حق م یں دعا حکم خداکی تعمیل اور ان کی شکرگذاری کی علامت ہے﴿ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا﴾

        (6)والد ین پر نزول رحمت کی دعا سے ان کی تربیت کی زحمتوں کا جبران کیا جاسکتا ہے ۔﴿ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَاکَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْرًا﴾

--------------

(1):- تفسیر نور۔ مصنف :محسن قراتی


        (7) ماں باپ کو محبت ک ی بنیاد پر او لاد کی تربیت کرنا چاہئے ۔﴿رَّبِّ ارْحَمْهُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ﴾

(8)انسان کو اپنے مرب یوں کا شکر گذار ہونا چاہئے اور ان کی قدر دانی کرنا چاہئے۔﴿اِرْحَمْهُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ﴾ (1)

والدین کے ساتھ نیکی کرنے کی وصیت

﴿وَ وَصَّيْنَا الْإِنْسانَ بِوالِدَيْهِ إِحْساناً حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهاً وَ وَضَعَتْهُ كُرْهاً وَ حَمْلُهُ وَ فِصالُهُ ثَلاثُونَ شَهْراً حَتَّى إِذا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَ بَلَغَ أَرْبَعينَ سَنَةً قالَ رَبِّ أَوْزِعْني‏ أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتي‏ أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَ عَلى‏ والِدَيَّ وَ أَنْ أَعْمَلَ صالِحاً تَرْضاهُ وَ أَصْلِحْ لي‏ في‏ ذُرِّيَّتي‏ إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَ إِنِّي مِنَ الْمُسْلِمينَ﴾(2)

        اور ہم نے انسان کو اس کے ماں باپ کے ساتھ نیک برتائو کرنے کی نصیحت کی کہ اس کی ماں نے بڑے رنج کے ساتھ اسے شکم میں رکھا ہے اور پھر بڑی تکلیف کے ساتھ پیدا کیا ہے اور اس کے حمل اور دودھ بڑھائی کا کل زمانہ تیس مہینے کا ہے ۔ یہاں تک کہ جب وہ توانائی کو پہنچ گیا اور چالیس برس کا ہوگیا تو اس نے دعا کی کہ پروردگار مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکریہ ادا کروں جو تو نے مجھے اور میرے والدین کو عطا کی ہے ۔ اور ایسا نیک عمل کروں کہ تو راضی ہوجائے اور میری ذریت میں بھی صلاح وتقویٰ قرار دے کہ میں تیری ہی طرف متوجہ ہوں اور تیرے فرمانبردار بندوں میں ہوں ۔

        روایت میں وارد ہوا ہے کہ ایام حمل میں ماں کے بستر خواب پر پوری ا حتیاط سے کروٹ بدلنے کا عوض کچھ نہیں ہوسکتا ۔اگر اولاد ساری زندگی اس کی خدمت و اطاعت میں گزار دے تب بھی نہیں۔ اور کافی میں ہے کہ پیغمبر (ص)نے ایک نوجوان سے فرمایا : کہ تیری ضعیفہ ماں کا محبت بھری نگاہوں سے تیری طرف دیکھنا اور خوش ہونا تیرے لئے میرے ہمرکاب کئے ہوئے کئی جہادوں سے افضل ہے۔

--------------

(1):- تفسیر نور۔ مصنف :محسن قراتی

(2):- سورۂ احقاف/15


آیت کے نکات وپیغامات

        1۔ والد ین کے ساتھ احسان ، خدا وند عالم کے نزدیک ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔ قرآن مجید میںکلمۂ﴿وَصَّیْنَا﴾ پانچ مرتبہ استعمال ہوا ہے جن م یں سے تین مرتبہ والدین سے متعلق ہے۔(1)

        2۔ والد ین کے ساتھ نیکی کا حکم تاریخ انسانیت اور تمام ادیان میں رہا ہے ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ لفظ﴿وَصَّیْنَا﴾ ماض ی کی صورت میں آیا ہے ۔

 3۔ والد ین کے ساتھ نیکی کرناحقوق انسانی میں سے ہے کہ جو ہر ماں باپ اپنے بیٹوں پر رکھتے ہیں ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ قرآن میں﴿وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ﴾ آ یا ہے نہ کہ﴿وَصَّیْنَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا﴾

        4۔ والد ین کے ساتھ احسان کرنے میں ان کے مسلمان ہونے کی شرط نہیں ہے۔ چونکہ آیت مطلقاً آئی ہے بغیر کسی قید کے﴿وَوَصَّیْنَا الانْسَانَ بِوَالِدَیْهِ﴾

        5۔ تنہا انفاق و احترام اور امداد ہ ی نہیں بلکہ ہر قسم کی نیکی والدین کی بہ نسبت لازم و ضروری ہے ۔

        6۔ والد ین کے ساتھ نیکی کرنے کا کمال یہ ہے کہ بغیر واسطہ کے ہو۔

        7۔ ماں کا حق باپ سے ز یادہ ہے شاید یہی وجہ ہے کہ لفظ والدین کے بعد ماں کی سختیوں اور مشکلوں کا الگ سے تذکرہ کیا گیاہے ۔﴿وَحَمَلَتْهُ...﴾

        8۔ ب یٹے کا شکریہ ادا کرنا ان نعمتوں پر کہ جو اس کے والدین کو عطا کی گئی ہیں ، والدین کے ساتھ نیکی کرنے کی ایک قسم ہے ۔﴿اَنْ اَشْکُرَ نعِمَتَکَ الَّتِی اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَعَلٰی وَالِدَیَّ﴾

        9۔ خدا وند عالم ک ی نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے کا بہترین طریقہ نیک کاموں کو انجام دینا ہے ۔''وَاَعْمَلْ صَالِحًا''

--------------

(1):- عنکبوت، 8، لقمان، 14، احقاف، 15


        10۔ ن یک عمل کی اہمیت اس میں ہے کہ اس کو ہمیشہ انجام دیا جائے ۔

        11۔ وہ عمل صالح اہم یت کا حامل ہے جو خلوص نیت کے ساتھ ہواور جس سے خدا راضی ہوجائے ۔

        12۔ صالح ب یٹا اور صالح نسل، والدین کے لئے ایک طرح کا افتخار ہے﴿وَأَصْلِحْ لي‏ في‏ ذُرِّيَّتي﴾

        13۔ بہتر ین دعا وہ ہے کہ جس میں انسان اپنے والدین اور بچوں کو بھی شامل کرے﴿عَلَیَّ وَعَلٰی وَالِدَیَّ وَاَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰهُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ﴾

        14۔ وہ نافرمان یاں جو ہم نے خدا اور والدین کی نسبت انجا م دی ہیں ان سے توبہ کریںاور ان کا جبران کریں﴿اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْکَ﴾

        15۔ خدا وند عالم کے حکم کے سامنے سر تسل یم خم رکھنا مسلمان مرنا اور پاک اورپاکو صالح لوگوں میں سے ہونے کی دعا کرنا ۔﴿اِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْکَ وَاِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ﴾ (1)

ایمان کے مقابلہ میں ماں باپ سے دوری

﴿وَ وَصَّيْنَا الْإِنْسانَ بِوالِدَيْهِ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ وَهْناً عَلى‏ وَهْنٍ وَ فِصالُهُ في‏ عامَيْنِ أَنِ اشْكُرْ لي‏ وَ لِوالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصيرُ (14) وَ إِنْ جاهَداكَ عَلى‏ أَنْ تُشْرِكَ بي‏ ما لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلا تُطِعْهُما وَ صاحِبْهُما فِي الدُّنْيا مَعْرُوفاً وَ اتَّبِعْ سَبيلَ مَنْ أَنابَ إِلَيَّ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأُنَبِّئُكُمْ بِما كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ﴾(2)

        اور ہم نے انسان کو ماں باپ کے بارے میں نصیحت کی ہے کہ اس کی ماں نے دکھ پر دکھ سہہ کر اسے پیٹ میں رکھا ہے اور اس کی دودھ بڑھائی بھی دو سال میں ہوئی ہے کہ میرا اور اپنے ماں باپ کا شکریہ ادا کرو کہ تم سب کی بازگشت میری ہی طرف ہے۔''

--------------

(1):- تفسیر نور۔ مصنف :محسن قراتی

(2):- سورۂ لقمان/14و15


اور اگر تمہارے ماں باپ اس بات پر زور د یں کہ کسی ایسی چیز کو میرا شریک بنائو جس کا تمہیں علم نہیں ہے تو خبردار ان کی اطاعت نہ کرنا لیکن دنیا میں ان کے ساتھ نیکی کا برتائو کرنا اور اس کا راستہ اختیار کرنا کہ جو میری طرف متوجہ ہو پھر اس کے بعد تم سب کی بازگشت میری ہی طرف ہے اور اس وقت میں بتائوں گا کہ تم لوگ کیا کررہے تھے۔ (15)         اس آیت میں والدین پر احسان کرنے کا حکم اور ان کی اطاعت کو مطلقاً واجب نہیں کیا ہے بلکہ ایک حد معین کردی ہے کہ اگر وہ شرک کے خواہش مند ہوں اور اس راہ میں مجبور کریں تو ا س بارے میں ان کی اطاعت ساقط ہے بلکہ ان کی اس معاملہ میں اطاعت کرنا حرام ہے ۔ یعنی جہاں بھی والدین خلاف شرع بات کا حکم دیں اور دین کی مخالفت پر اصرار کریں تو ایسے مقامات پر ان کی اطاعت نہیں کرنا چاہئے ۔ البتہ ایسی صورت میں بھی دنیوی معاملات میں ان کے احکام و اوامر کی فرمانبرداری واجب و لازم ہے اور ان کے ساتھ اس کے باوجود بھی نیکی اور خندہ پیشانی سے پیش آنا چاہئے۔(1)

        مناقب میں آیا ہے کہ ایک دن امام حسینؑ، عبدالرحمٰن ابن عمرو ابن عاص کے پاس سے گذرے تو عبدالرحمٰن نے کہا کہ اگر کوئی یہ چاہتا ہے کہ اس شخص کو دیکھے جو زمین پر اہل آسمان کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے تو ا س کی طرف نگاہ کرے کہ جو جا رہا ہے ۔ اگرچہ میں نے صفین کی جنگ کے بعد سے آج تک ان سے کلام نہیں کیا ہے ۔

        پس جناب ابوسعید خدری اس کو حضرت کے پاس لائے ۔ امام حسین ؑنے اس سے فرمایا :تم یہ جانتے تھے کہ میں زمین پر اہل آسمان کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہوں ۔اس کے باوجود تم نے صفین میں میرے اور میرے باپ کے خلاف تلوار کھینچی؟ خدا کی قسم ! میرے والد مجھ سے بہتر تھے ۔ پس عبدالرحمٰن نے معذرت کی اور کہا :میں کیا کرتا۔ رسول خدا(ص)نے خود مجھ سے فرمایا تھا کہ اپنے باپ کی اطاعت کرو۔ آپ نے فرمایا کہ کیا تم نے کلام خدا کو نہیں سنا کہ جس میں ارشاد ہوتاہے

--------------

(1):- تفسیر المیزان ترجمہ فارسی


وَاِنْ جَاهَدَاکَ عَلٰی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِهِ عِلْم فَلَا تُطِعْهُمَا اور اگر تمہارے ماں باپ اس بات پر زور د یں کہ کسی ایسی چیز کو میرا شریک بنائو جس کا تمہیں علم نہیں ہے تو خبر دار ان کی اطاعت نہ کرنا۔ اور کیا تم نے رسول سے نہیں سنا ہے کہ آپ نے فرمایا : اطاعت (چاہے والدین کی ہو یا کسی اور کی) معروف میں  ہونا چاہئے اور وہ اطاعت جو خدا کی نافرمانی میں ہو وہ معروف اور پسندیدہ نہیں ہے ۔ اور کیا تم نے نہیں سنا ہے کہ کسی بھی مخلوق کی خدا کی نافرمانی میں اطاعت نہیں کرنا چاہئے۔(1)

والدین کے ساتھ نیکی تمام ادیان میں

وَ إِذْ أَخَذْنا ميثاقَ بَني‏ إِسْرائيلَ لا تَعْبُدُونَ إِلاَّ اللَّهَ وَ بِالْوالِدَيْنِ إِحْساناً وَ ذِي الْقُرْبى‏ وَالْيَتامى‏ وَ الْمَساكينِ وَ قُولُوا لِلنَّاسِ حُسْناً وَ أَقيمُوا الصَّلاةَ وَ آتُوا الزَّكاةَ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ إِلاَّ قَليلاًمِنْكُمْ وَ أَنْتُمْ مُعْرِضُونَ (2) اس وقت کو یاد کرو کہ جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خبردار خدا کے علاوہ کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ ،قرابتداروں ،یتیموں اورمسکینوں کے ساتھ اچھا برتائو کرنا لوگوں سے اچھی باتیں کرنا ،نماز قائم کرنا ، زکات ادا کرنا لیکن اس کے بعد تم میں سے چند کے علاوہ سب منحرف ہو گئے اور تم لوگ تو بس اعراض کرنے والے ہو۔

والدین کے لئے استغفار

رَبِّ اغْفِرْ لي‏ وَ لِوالِدَيَّ وَ لِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِناً وَ لِلْمُؤْمِنينَ وَ الْمُؤْمِناتِ وَ لا تَزِدِ الظَّالِمينَ إِلاَّ تَباراً (3) پروردگار مجھے اور میرے والدین کو اور جو ایمان کے ساتھ میرے گھر میں داخل ہوجائیں اور تمام مومنین و مومنات کو بخش دے اور ظالمین کی ہلاکت کے علاوہ کسی شئی میں اضافہ نہ کرنا ۔''

--------------

(1):- تفسیر المیزان

(2):- سورہ بقرہ آیت/83

(3):- نوح، آیت /28


مغرور بیٹا اور والدین کی حسرت

والْذِیْ قَالَ لِوَالِدَیْهِ اُفٍّ لَکُمَا اَتَعِدَانَنِیْ اَنْ اَخْرُجَ وَقَدْ خَلَتِ الْقُرُوْنَ مِنْ قَبْلِیْ وَهُمَایَسْتَغِیْثٰنِ اللّٰهَ وَیْلَکَ آمِنُ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ ...... (1) '' اور جس نے ماں باپ سے یہ کہا کہ تمہارے لئے حیف ہے کہ تم مجھے اس بات سے ڈراتے ہوکہ میں دوبارہ قبر سے نکالا جائوں گا حالانکہ مجھ  سے پہلے بہت سی قومیں گزر چکی ہیں اور وہ دونوں فریاد کررہے تھے کہ یہ بڑی افسوسناک بات ہے بیٹا ایمان لے آ، خدا کا وعدہ بالکل سچا ہے تو کہنے لگا کہ یہ سب پرانے لوگوں کے افسانے ہیں

توحید کے ہمراہ والدین کے ساتھ نیکی

وَ الَّذي قالَ لِوالِدَيْهِ أُفٍّ لَكُما أَ تَعِدانِني‏ أَنْ أُخْرَجَ وَ قَدْ خَلَتِ الْقُرُونُ مِنْ قَبْلي‏ وَ هُما يَسْتَغيثانِ اللَّهَ وَيْلَكَ آمِنْ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ فَيَقُولُ ما هذا إِلاَّ أَساطيرُ الْأَوَّلينَ (2)     اور اللہ کی عبادت کرو اور کسی شئی کو اس کا شریک نہ بنائو اور والدین کے ساتھ نیک نرتائو کرو اور قرابتداروں کے ساتھ اور یتیموں اور مسکینو ں ،قریب اوردور کے ہمسائے ،پہلو نشین ،مسافر ،غربت زدہ ،غلام وکنیز سب کے ساتھ نیک برتائو کرو کہ اللہ مغرور اور متکبر لوگوں کو پسند نہیں کرتا

ایمان کے مقابلہ ماں باپ سے دوری

يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا آباءَكُمْ وَ إِخْوانَكُمْ أَوْلِياءَ إِنِ اسْتَحَبُّوا الْكُفْرَ عَلَى الْإيمانِ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَأُولئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (3) ایمان والوں خبردار اپنے باپ دادا اور بھائیوں کو اپنا دوست نہ بنائو اگر وہ ایمان کے مقابلے میں کفر کو دوست رکھتے ہوں اور جو شخص بھی ایسے لوگوں کو اپنا دوست بنائے گا وہ ظالموں میں شمار ہوگا۔

--------------

(1):- سورۂ احقاف ،آیت /17

(2):- سورۂ احقاف ،آیت /17

(3):- سورۂ توبہ،آیت /23


ماں باپ کے ساتھ نیک برتائو

وَ بَرًّا بِوالِدَيْهِ وَ لَمْ يَكُنْ جَبَّاراً عَصِيًّا (1) اوریحیٰ اپنے ماں باپ کے حق میں نیک برتائو کرنے والے تھے اور سرکش و  نافرمان نہیں تھے۔

عدل اور والدین

يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامينَ بِالْقِسْطِ شُهَداءَ لِلَّهِ وَ لَوْ عَلى‏ أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوالِدَيْنِ وَ الْأَقْرَبينَ إِنْ يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقيراً فَاللَّهُ أَوْلى‏ بِهِما فَلا تَتَّبِعُوا الْهَوى‏ أَنْ تَعْدِلُوا وَ إِنْ تَلْوُوا أَوْ أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّهَ كانَ بِما تَعْمَلُونَ خَبيراً (2) اے ایمان والو!عدل اور انصاف کے ساتھ قیام کرو اور اللہ کے لئے گواہ بنو چاہے اپنی ذات یا اپنے والدین اور اقرباء ہی کے خلاف کیوں نہ ہو جس کے لئے گواہی دینا ہے وہ غنی ہو یا فقیر، اللہ دونوں کے لئے تم سے اولیٰ ہے لہٰذا خبردار خواہشات کا اتباع نہ کرنا تاکہ انصاف کرسکو اور اگر توڑ مروڑ سے کام لیا یا بالکل کنارہ کشی کرلی تو یاد رکھو کہ اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے۔

والدین اور کار خیر

يَسْئَلُونَكَ ما ذا يُنْفِقُونَ قُلْ ما أَنْفَقْتُمْ مِنْ خَيْرٍ فَلِلْوالِدَيْنِ وَ الْأَقْرَبينَ وَ الْيَتامى‏ وَ الْمَساكينِ وَ ابْنِ السَّبيلِ وَ ما تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَليمٌ (3) پیغمبر! یہ لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ راہ خدا میں کیا خرچ کریں تو آپ کہہ دیجئے کہ جو بھی خرچ کروگے وہ تمہارے والدین،قرابتدار،ایتام،مساکین اور غربت زدہ مسافروں کے لئے ہوگا اور جو بھی کار خیر کرو گے خدا اسے خوب جانتا ہے

--------------

(1):- سورہ ٔمریم،آیت/ 14

(2):- سورۂ نساء،آیت /135 

(3):- سورۂ بقرہ،آیت/215


    وصیت اور والدین

﴿كُتِبَ عَلَيْكُمْ إِذا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ إِنْ تَرَكَ خَيْراً الْوَصِيَّةُ لِلْوالِدَيْنِ وَ الْأَقْرَبينَ بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُتَّقينَ﴾ (180)(1)       تمہارے اوپر یہ بھی لکھ دیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت سامنے آجائے تو اگر کوئی مال چھوڑا ہے تو اپنے ماں باپ اور قرابتداروں کے لئے وصیت کردے یہ صاحبان تقویٰ پر ایک طرح کا حق ہے ۔

والدین کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا

﴿فَتَبَسَّمَ ضاحِكاً مِنْ قَوْلِها وَ قالَ رَبِّ أَوْزِعْني‏ أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتي‏ أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَ عَلى‏ والِدَيَّ وَ أَنْ أَعْمَلَ صالِحاً تَرْضاهُ وَ أَدْخِلْني‏ بِرَحْمَتِكَ في‏ عِبادِكَ الصَّالِحينَ﴾ (19)(2) سلیمان اس کی بات پر مسکرا دئیے اور کہا کہ پروردگار مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکریہ ا دا کروں جو تونے مجھے اور میرے والدین کو عطا کی ہے اور ایسا نیک عمل کروں کہ تو راضی ہوجائے اور اپنی رحمت سے مجھے اپنے نیک بندوںمیں شامل کرلے۔

والدین کے لئے استغفار کی دعا

﴿رَبَّنَا اغْفِرْ لي‏ وَ لِوالِدَيَّ وَ لِلْمُؤْمِنينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسابُ﴾ (41)(3)     پروردگار مجھے اور میرے والدین کو اور تمام مومنین کو اس دن بخش دینا جس دن حساب قائم ہوگا۔(۴۱)

--------------

(1):- سورہ ٔبقرہ،آیت/ 180

(2):- سورۂ نمل،آیت/ 19

(3):- سورہ ٔابراہیم،آیت/ 41


احادیث

 (1) حاملہ عورت کا ثواب

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام حضرت رسول خدا(ص) سے نقل کیا ہے"إِذَا حَمَلَتِ الْمَرْأَةُ كَانَتْ بِمَنْزِلَةِ الصَّائِمِ الْقَائِمِ الْمُجَاهِدِ بِنَفْسِهِ وَ مَالِهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَإِذَا وَضَعَتْ كَانَ لَهَا مِنَ الْأَجْرِ مَا لَا تَدْرِي مَا هُوَ لِعِظَمِهِ فَإِذَا أَرْضَعَتْ كَانَ لَهَا بِكُلِّ مَصَّةٍ كَعِدْلِ‏عِتْقِ مُحَرَّرٍ مِنْ وُلْدِ إِسْمَاعِيلَ فَإِذَا فَرَغَتْ مِنْ رَضَاعِهِ ضَرَبَ مَلَكٌ عَلَى جَنْبِهَا (جَنْبَيْهَا) وَ قَالَ استأنف(اسْتَأْنِفِي)‏الْعَمَلَ فَقَدْ غُفِرَ لَكِ. (1) جس وقت عورت حاملہ ہوتی ہے وہ اپنے حمل کی تمام مدت میں اس شخص کا ثواب رکھتی ہے کہ جو دن کو روزہ رکھتا ہے اور راتوں کو عبادت کرتا ہے اوراسی طرح اس شخص کی مانند ہے جو اپنے جان و مال سے راہ خدا میں جہاد کرتا ہے۔ اور جس وقت وہ بچہ کو جنم دے دیتی ہے تو خدا وند عالم اس کو اتنا عظیم ثواب عطا کرتا ہے کہ اس کی عظمت مقدار کو کوئی پہنچ نہیں سکتا اور جس وقت ماں بچہ کو دودھ پلاتی ہے تو ہر اس ایک گھونٹ کے بدلے کہ جو بچہ ماں کے پستان سے پیتا ہے، خدا وند عالم اس کو اولاد اسماعیل  یعنی مومنین و موحدین میں سے ایک انسان کے آزاد کرنے کا ثواب دیتا ہے اور جس وقت دودھ پلانے کی مدت ختم ہوجاتی ہے تو ایک عظیم فرشتہ اس کے پہلو پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہے : اپنی نئی زندگی کا آغاز کرو، کیونکہ خدا وند عالم نے تمہارے تمام گذشتہ گناہوں کو معاف کردیا ہے ۔

(2) ولادت یا نفاس کی حالت میں دنیا سے رحلت کرنے والی عورت کا درجہ

رسول خدا(ص)نے ارشاد فرمایا:۔الصَّدُوقُ فِي الْهِدَايَةِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص: أَيُّمَا امْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ مَاتَتْ فِي نِفَاسِهَا لَمْ يُنْشَرْ لَهَا دِيوَانٌ يَوْمَ الْقِيَامَة (2)

--------------

(1):- ۔امالی شیخ صدوق،ص/411،رقم/7

(2):- مستدرکالوسائل ومستنبط المسائل ج :2 ص :50


وہ خاتون جو حالت نفاس میں دنیا سے چلی جائے، قیامت کے دن اس کا اعمال نامہ نہیں کھولا  جائے گا۔

امام جعفر صادق ؑنے ارشاد فرمایا:

النفسا تبعث مِن قبرِها بِغیرِ حِساب لِنها ماتت فِی غمِ نِفاسِها(1)

وہ خاتون جو ولادت کے وقت دنیا سے چلی جائے، قیامت میں اس کا کوئی حساب و کتاب نہیں ہوگا کیونکہ وہ اس بچہ کی ولادت کی زحمت برداشت کرتے ہوئے اس دنیا سے گئی ہے۔

{۳}دس لوگوں کا جسم قبر میں خراب نہیں ہوگا

رسول خدا(ص)نے ارشاد فرمایا:-

وَفِيهِ،وَرُوِيَ: لَاتَبْلَى عَشَرَةٌ الْغَازِي وَالْمُؤَذِّنُ وَالْعَالِمُوَحَامِلُالْقُرْآنِ وَالشَّهِيدُوَالنَّبِيُّ وَالْمَرْأَةُإِذَامَاتَتْفِي نِفَاسِهَاوَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوماًوَمَنْ مَاتَ يَوْمَ الْجُمُعَةِأَوْلَيْلَتَهَا(2)

 دس لوگوں کا جسم قبر میں خراب نہیں ہوگا

1۔جنگ م یں زخمی ہونے والا، 2۔مؤذن ، 3۔عالم، 4۔حافظ قرآن، 5شہ ید، 6۔نب ی،  7۔وہ خاتون جو نفاس ک ی حالت میں دنیا سے گئی ہے 8۔جو شخص مظلوم قتل ہوا ہو، 9و 10۔ جو شخص روز جمعہ یا شب جمعہ دنیا سے گیا ہو۔

{۴}امام جعفر صادق ؑسے مروی ہے:-

 الْمَوْلَى سَعِيدٌ الْمَزْيَدِيُّ فِي تُحْفَةِ الْإِخْوَانِ، عَنْ أَبِي بَصِيرٍ عَنِ الصَّادِقِ ع فِي خَبَرٍ طَوِيلٍ: فِي قِصَّةِ آدَمَ وَ حَوَّاءَ إِلَى أَنْ قَالَ فَقَالَتْ حَوَّاءُ أَسْأَلُكَ يَا رَبِّ أَنْ تُعْطِيَنِي كَمَا أَعْطَيْتَ آدَمَ فَقَالَ الرَّبُّ تَعَالَى إِنِّي وَهَبْتُكِ الْحَيَاءَ وَ الرَّحْمَةَ وَ الْأُنْسَ وَ كَتَبْتُ لَكِ مِنْ ثَوَابِ الِاغْتِسَالِ

--------------

(1):- امالی الطوسی ج 2  ص 285.

(2):- مستدرک الوسائل ج :2 ص : 50


وَ الْوِلَادَةِ مَا لَوْ رَأَيْتِيهِ مِنَ الثَّوَابِ الدَّائِمِ وَ النَّعِيمِ الْمُقِيمِ وَ الْمُلْكِ الْكَبِيرِ لَقَرَّتْ عَيْنُكِ يَا حَوَّاءُ أَيُّمَا امْرَأَةٍ مَاتَتْ فِي وِلَادَتِهَا حَشَرْتُهَا مَعَ الشُّهَدَاءِ يَا حَوَّاءُ أَيُّمَا امْرَأَةٍ أَخْذَهَا الطَّلْقُ إِلَّا كَتَبْتُ لَهَا أَجْرَ شَهِيدٍ فَإِنْ سَلِمَتْ وَ وَلَدَتْ غَفَرْتُ لَهَا ذُنُوبَهَا وَ لَوْ كَانَتْ مِثْلَ زَبَدِ الْبَحْرِ وَ رَمْلِ الْبَرِّ وَ وَرَقِ الشَّجَرِ وَ إِنْ مَاتَتْ صَارَتْ شَهِيدَةً وَ حَضَرَتْهَا الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ قَبْضِ رُوحِهَا وَ بَشَّرُوهَا بِالْجَنَّةِ وَ تُزَفُّ إِلَى بَعْلِهَا فِي الْآخِرَةِ وَ تُفَضَّلُ عَلَى الْحُورِ الْعِينِ بِسَبْعِينَ فَقَالَتْ حَوَّاءُ حَسْبِي مَا أَعْطَيْتَ الْخَبَر(1)

        امام صادق ؑحضرت آدم و حواعلیہما السلام کا قصہ بیان کرتے ہوئے جب اس مقام تک پہونچتے ہیں کہ جہاں حضرت حوا علیہا السلام نے کہا ''پروردگار تجھ سے سوال کرتی ہوں کہ جو مقامات تونے آدم ؑکو دیئے ہیں ۔وہ مجھے بھی عطا فرما تو خداوند متعال نے فرمایا اے حوا! میں نے تجھ کو حیا، رحمت اور محبت عطا کی ہے اور تمہارے لئے غسل نفاس اور ولادت کے ثواب کو رکھا ہے۔ اگر تم اس دائمی اور باقی رہنے والی نعمت اور عظیم مملکت کو دیکھتیں تو تمہاری آنکھوں کو ٹھنڈک ملتی۔ اے حوا! اگر کوئی خاتون ولادت کے وقت دنیا سے رخصت ہوجائے تو اس کا شمار شہدا میں ہوتا ہے۔

اے حوا! جب کسی خاتون کو ولادت کا درد ہوتا ہے تو ایک شہید کا اجر و ثواب اس کے نامہ اعمال میں لکھ دیا جاتا ہے اگر بچہ کی ولادت صحیح و سالم ہوگئی تو اس کے تمام گناہ بخش دیئے جاتے ہیں چاہے وہ سمندر کے حباب ، ریت کے ذرات اور درختوں کے پتوں کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔ اور اگر ولادت کے وقت دنیا سے رخصت ہو جائے تو شہیدہ دنیا سے جاتی ہے اور اس کی روح قبض ہوتے وقت ملائکہ آتے ہیں اور اس کو جنت کی بشارت دیتے ہیں اور آخرت میں اس کو اس کے شوہر سے ملا دیا جائے گا  اور اس کو حورالعین پر بھی ستر درجہ فضیلت و برتری حاصل ہے۔ تو حوا نے کہا:''پروردگار جو خبر تونے دی ہے وہ کافی ہے۔

--------------

(1):- مستدرک الوسائل ج : 15  ص : 214


(5)ماں بچہ کے عقیقہ کا گوشت نہ کھائے

حضرت امام جعفرصادق ؑنے ارشاد فرمایا: -

     عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عَنِ ابْنِ مُسْكَانَ عَمَّنْ ذَكَرَهُ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: لَا تَأْكُلُ الْمَرْأَةُ مِنْ عَقِيقَةِ وَلَدِهَا وَ لَا بَأْسَ بِأَنْ تُعْطِيَهَا الْجَارَ الْمُحْتَاجَ مِنَ اللَّحْم‏(1)

ماں اپنے بچہ کے عقیقہ کا گوشت نہ کھائے بلکہ گوشت میں سے کچھ غریب پڑوسی کو دیدے۔

(6) ماں کے دودھ کی اہمیت

حضرت امیرالمومنین ؑنے ارشاد فرمایا:

1 مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى عَنْ طَلْحَةَ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ قَالَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ع‏ مَا مِنْ‏ لَبَنٍ‏ يُرْضَعُ بِهِ الصَّبِيُّ أَعْظَمَ بَرَكَةً عَلَيْهِ مِنْ لَبَنِ أُمِّهِ.(2)

بچہ کے لئے ماں کے دودھ سے بہتر اور بابرکت کوئی دودھ نہیں ہے ۔

(7) بچہ پر ماں کے دودھ کی تاثیر

حضرت امام محمد باقر ؑنے ارشاد فرمایا:

 أَحْمَدُبْنُ مُحَمَّدٍعَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ مَعْرُوفٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِي َحْيَى عَنْ رِبْعِيّ ٍعَنْ فُضَيْلٍ عَن ْزُرَارَةَعَنْأ َبِي جَعْفَرٍ قَالَ: عَلَيْكُمْ‏بِالْوُضَّاءِمِنَ الظُّؤْرَةِفَإِنَّ اللَّبَنَ يُعْدِي. (3)

تمہاری ذمہ داری ہے کہ پاکیزہ دائیوں کا انتخاب کرو کیونکہ عورت کے دودھ کی خاصیتوں کا بچہ پراثر پڑتا ہے ۔                 

--------------

(1):- ۔کافی،ج/6،ص/۳۲،رقم: 1

(2):- کافی،ج/6،ص/40،رقم: 1

(3):- کافی،ج/6،ص/44،رقم:13


(8)دودھ پلانے کی مدت

حضرت امام جعفرصادق ؑنے ارشاد فرمایا:

الْحُسَيْنُ بْنُ سَعِيدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ الصَّبَّاحِ قَالَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ع‏ الْفَرْضُ فِي الرَّضَاعِ أَحَدٌ وَ عِشْرُونَ شَهْراً فَمَا نَقَصَ عَنْ أَحَدٍ وَ عِشْرِينَ شَهْراً فَقَدْ نَقَصَ الْمُرْضَعُ وَ إِنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَ فَ حَوْلَيْنِ كامِلَيْنِ(1)

        وہ مدت کہ جس میں واجب ہے کہ ماں بچہ کو دودھ پلائے وہ21مہ ینے ہیں۔اس میں سے جتنی بھی مدت کم ہوگی اتنا ہی دودھ پلانے کا حق کم ہوگا اور اگر ماںکامل دودھ پلانا چاہتی ہے تو مکمل دو سال تک دودھ پلائے۔

(9)دودھ پلانے کا ثواب

حضرت رسول خداﷺنے ارشاد فرمایا:

مَا يَمَصُّ الْوَلَدُ مَصَّةً مِنْ لَبَنِ أُمِّهِ إِلَّا كَانَ بَيْنَ يَدَيْهَا نُوراً سَاطِعاً يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُعْجِبُ مَنْ رَآهَا مِنَ الْأَوَّلِينَ وَ الْآخِرِينَ(2)

        ہر اس ایک گھونٹ کے عوض کہ جو بچہ ماں کے دودھ سے پیتا ہے قیامت کے دن ماں کے ہاتھوں سے ایک ایسا نور چمکے گا کہ تما م گذشتگا ن اور آیندگان کو تعجب میں ڈال دے گا۔

--------------

(1):- تہذیب الاحکام،ج/8،ص/106،رقم: 7

(2):- مستدرک الوسا ئل ،ج/15،ص/156،رقم: 17842 {کاایک جز}


(10)دودھ پلانے والی ماں کا روزہ

حضرت امام محمد باقر ؑنے ارشاد فرمایا:

 مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنِ ابْنِ مَحْبُوبٍ عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ رَزِينٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ ع يَقُولُ‏ الْحَامِلُ الْمُقْرِبُ وَ الْمُرْضِعُ الْقَلِيلَةُ اللَّبَنِ لَا حَرَجَ عَلَيْهِمَا أَنْيُفْطِرَا فِي شَهْرِ رَمَضَانَ لِأَنَّهُمَا لَا تُطِيقَانِ الصَّوْمَ وَ عَلَيْهِمَا أَنْ يَتَصَدَّقَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي كُلِّ يَوْمٍ يُفْطِرُ فِيهِ بِمُدٍّ مِنْ طَعَامٍ وَ عَلَيْهِمَا قَضَاءُ كُلِّ يَوْمٍ أَفْطَرَتَا فِيهِ تَقْضِيَانِهِ بَعْدُ.(1)

        حاملہ عورت کہ جس کے بچہ کی ولادت قریب ہے اور وہ ماں کہ جو بچہ کو دودھ پلارہی ہے اور اس کا دودھ کم ہے، اگر اس کے یا اس کے بچہ کے لئے روزہ نقصان دہ ہو تو جائز ہے کہ وہ ماہ رمضان میں روزہ نہ رکھے کہ وہ روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتی ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ ہر اس روزہ کے بدلے کہ جو اس نے نہیں رکھا ہے ایک مُد طعام (جو تقریباً 750گرام گ یہوں، جَو وغیرہ ہوتاہے) فقیر کو دے اور جب مدت حمل یادودھ پلانے کی مدت تمام ہوجائے تو وہ ایام کہ جن میں روزہ نہیں رکھا ہے قضا کرے۔

(11)سرپرستی کا حق

امام جعفر صادقؑنے ارشاد فرمایا:

إِذَا مَاتَ الْأَبُ فَالْأُمُّ أَحَقُّ بِهِ مِنَ الْعَصَبَة(2)

باپ کی موت کے بعد بچوں کی کفالت کے لئے دوسرے عزیزوں سے زیادہ مناسب اورسزاواربچہ کی ماں ہے ۔

--------------

(1):- کافی،ج/4،ص/117،رقم: 1

(2):- کافی،ج/6،ص/45،رقم: 4 {کاایک جز}


(12)خالہ ، ماں کی جانشین

حضرت امام رضا ؑنے اپنے والد سے نقل کیا ہے :

أَنَّ النَّبِيَّ (صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ) قَضَى بِابْنَةِ حَمْزَةَ لِخَالَتِهَا وَ قَالَ: الْخَالَةُ وَالِدَةٌ.(1)

رسول خدا ﷺ نے حکم دیا کہ حمزہ کی بیٹی کو ان کی خالہ کے حوالہ کردو اور فرمایا: ''خالہ ماں ہے۔ ''

 (13)ماں اور بیٹے کے درمیان جدائی ڈالنا

حضرت رسول خداﷺنے ارشاد فرمایا:

وَ قَالَ النَّبِيُّ ص‏ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ وَالِدَةٍ وَ وَلَدِهَا فَرَّقَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَ بَيْنَ أَحِبَّائِهِ فِي الْجَنَّة(2)

وہ شخص کہ جو ماں اور بیٹے کے درمیان جدائی ڈالے گا خدا وند عالم قیامت کے دن اس کے اوراس کے دوستوں کے درمیان جدائی ڈال دے گا۔

(14)بیٹے کی پرورش میں ماں کا کردار

حضرت رسول خداﷺنے ارشادفرمایا:

اَلشَّقِیُّ مَنْ شَقَیَ فِیْ بَطْنِ اُمِّه وَالسَّعِیْدُ مَنَْ سَعِدَ فِیْ بَطْنِ اُمِّه(3)

بدبخت ہے وہ شخص جو ماں کے شکم میں ہی بدبخت ہو اور خوش قسمت ہے وہ شخص جو شکم مادرمیں ہی خوش قسمت ہو۔

--------------

(1):- امالی طوسی،ص/342،رقم: 700

(2):- عوالی اللآلی،ج/2،ص/249،رقم: 20    

(3):- تفسیرقمی،ج/1،ص/227


(15)ماں کی پیشانی بچہ کا مقدر

حضرت امام محمد باقرؑنے ارشادفرمایا:  ثُم َّيوحِي اللَّهُ إِلَى الْمَلَكَيْنِ اكْتُبَاعَلَيْهِ قَضَائِي وَقَدَرِي وَنَافِذَأَمْرِي و َاشْتَرِطَالِيَ الْبَدَاءَفِيمَاتَكْتُبَانِ‏فَيَقُولَانِ يَارَبِّ مَانَكْتُبُ فَيُوحِياللَّهُ إِلَيْهِمَاأَنِ ارْفَعَارَءُوسَكُمَاإِلَى رَأْسِ أُمِّهِ فَيَرْفَعَانِ رُءُوسَهُمَافَإِذَااللَّوْحُ يَقْرَعُ جَبْهَةَأُمِّهِ فَيَنْظُرَانِفِيهِ فَيَجِدَانِ فِي اللَّوْحِ صُورَتَهُ وَزِينَتَهُ وَأَجَلَهُ وَمِيثَاقَهُ شَقِيّاًأَوْسَعِيداًوَجَمِيعَ شَأْنِهِ قَالَ فَيُمْلِي أَحَدُهُمَاعَلَى صَاحِبِهِ فَيَكْتُبَانِ جَمِيعَ مَافِي اللَّوْحِ وَيَشْتَرِطَانِ الْبَدَاءَفِيمَايَكْتُبَانِ‏-  (1)

        رحم مادر میں جیسے ہی جنین مکمل ہوجاتا ہے ، خدا وند عالم دو فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ بشرط بداء اب اس کی سرنوشت لکھ دو (بشرط بداء کا مطلب یہ ہے کہ یہ سرنوشت قطعی نہیں بلکہ خاص شرائط میں قابل تغییر ہے ) وہ دو فرشتے کہتے ہیں: پروردگار! کیا لکھیں؟ ان سے کہا جائے گا: سراٹھائو اور ماں کی پیشانی کو دیکھو۔ وہ دو فرشتے ماں کی پیشانی پر ایک تختی کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ جس میں شکل و صوررت ، عمر کی مقدار اور زندگی کے عہد و پیمان ، سعادت و شقاوت اور بچہ کی زندگی کے تمام حالات کو دیکھتے ہیں۔اس کے بعد فرشتے ہر وہ چیز کہ جو ماں کی پیشانی کی تختی میں مقدرہے اسے لکھتے ہیں اور تغییر کی قابلیت کو اس میں قید کردیتے ہیں۔

(16)ماں کی عفت و پاکیزگی

امام جعفرصادق ؑنے فرمایا: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْحَاقَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْكُوفِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ سَعْدِ بْنِ عُمَرَ الْجَلَّابِ قَالَ قَالَ لِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ع‏ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى خَلَقَ الْجَنَّةَ طَاهِرَةً مُطَهَّرَةً فَلَا يَدْخُلُهَا إِلَّا مَنْ طَابَتْ وِلَادَتُهُ وَ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ ع طُوبَى لِمَنْ كَانَتْ أُمُّهُ عَفِيفَة (2) نیک اور خوش بخت ہے وہ انسان کہ جس کی ماں نیک و پرہیزگار ہو۔

--------------

(1):- ۔کافی،ج/6،ص/13،رقم: 4 {کاایک جز}

(2):- علل الشرائع،ج/2،ص/564،رقم: 1


 (17)ماں سرچشمۂ محبت اہلبیت

حضرت امام جعفرصادقؑنے فرمایا:

قَال َالصَّادِقُ ‏مَن ْوَجَدَبَرْدَحُبِّنَاعَلَى قَلْبِهِ فَلْيُكْثِرِالدُّعَاءَلِأُمِّهِ فَإِنَّهَالَمْتَخُنْ أَبَاهُ‏ (1)

        جو شخص بھی اپنے دل میں ہماری محبت کی نرمی کو پائے پس وہ اپنی ماں کے لئے زیادہ سے زیادہ دعا کرے کہ ا س نے اس کے باپ کے ساتھ خیانت نہیں کی ہے اور پاک دامنی کی زندگی بسر کی ہے۔

(18)جنت ماں کے قدموں میں

حضرت رسول خداﷺنے فرمایا:

الْقُطْبُ الرَّاوَنْدِيُّ فِي لُبِّ اللُّبَابِ،عَنِ النَّبِيِّ أَنَّهُ قَالَ: الْجَنَّةُتَحْتَ أَقْدَامِ الْأُمَّهَاتِ:(2)

جنت ماں کے قدموں تلے ہے ۔

(19)ماں کی پیشانی کا بوسہ، آتش جہنم سے امان کا باعث

حضرت رسول خداﷺنے ارشاد فرمایا:

من قبّل بين عيني أمّه كان له سترا من النّار.(3)

جس نے اپنی ماں کی پیشانی کا بوسہ لیا گویا اس نے خود کو جہنم سے بچا لیا۔

--------------

(1):- من لایحضرہ الفقیہ،ج/3،ص/493،رقم: 4745

(2):- مستدرک الوسائل،ج/15،ص/18۰،رقم: 17933

(3):- نہ ج الفصاحة (مجموعہ ک لمات قصار حضرت رسول ﷺ)، ص: 751


(20)ماں کی قدم بوسی

ایک شخص پیغمبرﷺکی خدمت میں پہنچا اور عرض کی:

یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ اِنِّیْ خَلَفْتُ اَنْ اُقَبِّلَ عَتَبَةَ بَابَ الْجَنَّةِ وَجَبْهَةَ حُوْرِ الْعَیْنِ، فَاَمَرَهُ اَنْیُقَبِّلَ رِجْلَ الْاُمِّ وَجَبْهَةَ اْلأَبِ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ اِنْ لَمْ یَکُنق اَبَوَایَ حَیَّیْنِ؟ قَالَ:یَارَسُوْلَ اللّٰهِ اِنْ لَمْ یَکُنق اَبَوَایَ حَیَّیْنِ؟ قَالَ: خُطَّ خَطّین اِنْوِ اَحَدَهُمَا قَبرَ الْاُمِّ وَالْآخَرِ قَبْرَالْاُمِّ وَالْآخَرِ قَبْرَ الْاَبِ فَقِبِّلهُمَا فَلاٰ تَحنَتْ فِیْ یَمِیْنِکَ''(1)

یا رسول اللہ! میں نے قسم کھائی ہے کہ جنت کے دروازہ اور حور العین کی پیشانی کا بوسہ لو ں۔ رسول خدااﷺنے حکم دیا کہ اپنی ماںکے قدموں اور باپ کی پیشانی کا بوسہ لے لو۔ اس نے کہا: اگر ماں اور باپ زندہ نہ ہوں تو ؟ پیغمبر(ص)نے فرمایا: ان کی قبر کا بوسہ لے لو۔ اس نے کہا اگر ان کی قبر کو بھی نہ جانتا ہوتو؟ آپ (ص)نے فرمایا: زمین کے اوپر ماں اور باپ کی قبر کے نشان کی نیت سے دوخط کھینچو اور ان کا بوسہ لے لو اور اپنی قسم کو پورا کرلو۔

(21)پروردگار کے نزدیک ماں کا مقام و مرتبہ

رسول خداﷺنے ارشاد فرمایا:

وَ قَالَ ص: إِذَا كُنْتَ فِي صَلَاةِ التَّطَوُّعِ فَإِنْ دَعَاكَ وَالِدُكَ فَلَا تَقْطَعْهَا وَ إِنْ دَعَتْكَ وَالِدَتُكَ فَاقْطَعْهَا(2)

        اگر تم مستحبی نماز پڑھنے میں مشغول ہو اور تمہارا باپ تم کو آواز دے تو نماز

 کو نہ توڑو لیکن اگر تمہاری ماں تم کو آواز دے تو فوراً نماز کو توڑ کر اس کی آواز پر لبیک کہو۔

--------------

(1):- کشف الارتیاب،ص/349

(2):- مستدرک الوسائل،ج/15،ص/181،رقم: 17933


 (22)ماں کی خدمت جہاد سے افضل ہے

ایک شخص پیغمبر اکرمﷺکی خدمت میں آیا اور عرض کی:

عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى عَنْ يُونُسَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَمْرِو بْنِ شِمْرٍ عَنْ جَابِرٍ  قَالَ: أَتَى رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ ص فَقَالَ إِنِّي رَجُلٌ شَابٌّ نَشِيطٌ وَ أُحِبُّ الْجِهَادَ وَ لِي وَالِدَةٌ تَكْرَهُ ذَلِكَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ ص ارْجِعْ فَكُنْ مَعَ وَالِدَتِكَ فَوَ الَّذِي بَعَثَنِي بِالْحَقِّ نَبِيّاً لَأُنْسُهَا بِكَ لَيْلَةً خَيْرٌ مِنْ جِهَادِكَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سَنَةً.(1)

        ایک شخص پیغمبر اکرم(ص)کی خدمت میں آیا اور عرض کی: یا رسول اللہ اﷺ! میں ایک بہادر جوان ہوں اور راہ خدا میں جہاد کرنا چاہتا ہوں لیکن میری ماں میرے اس عمل سے راضی نہیں ہے ۔ پس رسول خداﷺنے ارشاد فرمایا: ''واپس جائو اور اپنی ماں کے ساتھ رہو۔ قسم اس خدا کی کہ جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث کیا، ایک رات ماں کی خدمت میں رہنا راہ خدا میں ایک سال جہاد کرنے سے بہتر ہے ۔ ''

(23) ماں کی دعا

پیغمبر اکرم (ص)نے ارشاد فرمایا:

دَعْوَةُ الْوَالِدةِ اَسْرَعُ اِجَابَةً. قِیْلَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لِمَ ذَاکَ؟ قَال: هِیَ اَرْحَمُ مِنَ الْأَبِ وَدَعْوَةُ الرَّحِمِ لاٰ تَسْقُطُ''(2)

        ماں کی دعا بہت جلد قبول ہوتی ہے ۔پوچھا گیا یا رسول اللہ(ص)! آخر ایسا کیوں؟ رسول خدا(ص)نے فرمایا: اس لئے کہ ماں، باپ کی نسبت بیٹے پر زیادہ مہربان ہوتی ہے اور خدا وند عالم مہربان اور رحیم انسان کی دعا کو رد نہیں کرتا ۔

--------------

(1):- المحجة البیضاء،ج/3،ص/435

(2):- المحجۃ البیھاء ج/۳،ص/۴۳۵


(24)ماں کا حق باپ سے تین گُنازیادہ

حضرت امام صادق ؑارشادفرماتے ہیں:

 عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنِ ابْنِ أَبِي عُمَيْرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ سَالِمٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ص فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَبَرُّ قَالَ أُمَّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَال‏ أُمَّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ أُمَّكَ قَالَ ثُمَّ مَنْ قَالَ أَبَاكَ.(1)

        ایک شخص رسول خدا ﷺکی خدمت میں آکر سوال کرتا ہے یا رسول اللہ !

کس کے ساتھ نیکی کروں؟ آپ ﷺنے فرمایا : اپنی ماں کے ساتھ۔ پوچھا : پھر کس کے ساتھ؟ آپ ﷺنے جواب دیا :اپنی ماں کے ساتھ ۔ اُس کے بعدپوچھا: پھر کس کے ساتھ ؟ آپ ﷺنے فرمایا : اپنی ماں کے ساتھ ۔ اس نے پوچھا پھر کس کے ساتھ؟ آپ ﷺنے فرمایا اپنے والد کے ساتھ۔

(25)ماں کے ساتھ نیکی دو برابر ہے

حضرت امام محمد باقرؑنے ارشاد فرمایا:

 إِنَّ لِلْأُمِّ ثُلُثَيِ الْبِرِّ وَ لِلْأَبِ الثُّلُثَ.(2)

        اگر اپنی نیکی کو تین حصوں میں تقسیم کرو تو دو حصے ماں سے مخصوص ہیں اور ایک حصہ باپ سے۔

--------------

(1):- کافی،ج/2،ص/159،رقم: 9

(2):- امالیصدوق،ص/511،رقم: 5


(26)ماں کے ساتھ احسان بخشش کا ذریعہ

حضرت امام سجادؑنے ارشاد فرمایا:

 فَضَالَةُ عَنْ سَيْفِ بْنِ عَمِيرَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَرْوَانَ عَنْ حَكَمِ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ع قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ ص فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مِنْ عَمَلٍ قَبِيحٍ إِلَّا قَدْ عَمِلْتُهُ فَهَلْ لِي مِنْ تَوْبَةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص فَهَلْ مِنْ وَالِدَيْكَ أَحَدٌ حَيٌّ؟ قَالَ أَبِي قَالَ فَاذْهَبْ فَبَرَّهُ قَالَ فَلَمَّا وَلَّى قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ص لَوْ كَانَتْ أُمُّه‏(1)

        ایک شخص پیغمبر اکرم(ص)کی خدمت میں آیا اور عرض کی:یارسول اللہ(ص)! کوئی ایسا گناہ نہیں ہے کہ جس کو میں نے انجام نہ دیا ہو کیا میرے لئے توبہ و بخشش کی کوئی راہ ہے ؟ رسول خدا(ص)نے اس سے فرمایا: کیا تمہارے والدین میں سے کوئی ایک زندہ ہے ؟ اس نے کہا ہاں میرا باپ زندہ ہے ۔ تو آپ (ص)نے فرمایا : جائو اور جا کر اس کے ساتھ نیکی کرو ۔ راوی کہتا ہے جب وہ مرد چلا گیا تو رسول خدا(ص)نے فرمایا: اے کاش ! اس کی ماں زندہ ہوتی ۔

(27)ماں کے ساتھ نیکی کرنے کا نتیجہ

پیغمبر اکرم(ص)نے ارشاد فرمایا:

بَیْنَا اَنَا فِی الْجَنَّةِ اِذْ سَمِعْتُ قَارِئًا، فَقُلْتُ: مَنْ هٰذَا؟ قَالُوْا: حَارثَةُ بْنُ النُّعْمَانِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ: کَذَالِکَ الْبرُّ کَذٰلِکَ الْبرُّ، وَکَانَ أبَرُّ النَّاسِ بِاُمِّه(2)

        شب معراج جس وقت میں جنت میں تھا تو میں نے کسی کے قرآنپڑھنےکی آواز کو سنا۔ پوچھا : یہ کون شخص ہے ؟ جواب ملا یہ حارث ابن نعمان ہے۔اس کے بعد بیساختہ زبان رسولﷺ پر یہ کلمات جاری ہوئے : یہ ہے ماں کے ساتھ نیکی کرنے کی جزا، یہ ہے ماں کے ساتھ نیکی کرنے کی جزاکہ وہ (حارث)اپنی ماںکے ساتھ سب سے زیادہ نیکی کے ساتھ پیش آتا تھا۔

--------------

(1):- الزہد،ص/35،رقم: 92

(2):- کنزالعمال،ج/16،ص/580،رقم: 45935


(28)ماں کا حق

حضرت امام سجاد ؑنے ارشاد فرمایا:و أما حق الرحم‏ فَحَقُّ أُمِّكَ فَأَنْ تَعْلَمَ أَنَّهَا حَمَلَتْكَ حَيْثُ لَا يَحْمِلُ أَحَدٌ أَحَداً وَ أَطْعَمَتْكَ مِنْ ثَمَرَةِ قَلْبِهَا مَا لَا يُطْعِمُ أَحَدٌ أَحَداً وَ أَنَّهَا وَقَتْكَ بِسَمْعِهَا وَ بَصَرِهَا وَ يَدِهَا وَ رِجْلِهَا وَ شَعْرِهَا وَ بَشَرِهَا وَ جَمِيعِ جَوَارِحِهَا مُسْتَبْشِرَةً بِذَلِكَ فَرِحَةً مُوَابِلَةً  مُحْتَمِلَةً لِمَا فِيهِ مَكْرُوهُهَا وَ أَلَمُهَا وَ ثِقْلُهَا وَ غَمُّهَا حَتَّى دَفَعَتْهَا عَنْكَ يَدُ الْقُدْرَةِ وَ أَخْرَجَتْكَ إِلَى الْأَرْضِ فَرَضِيَتْ أَنْ تَشْبَعَ وَ تَجُوعَ هِيَ وَ تَكْسُوَكَ وَ تَعْرَى وَ تُرْوِيَكَ وَ تَظْمَأَ وَ تُظِلَّكَ وَ تَضْحَى وَ تُنَعِّمَكَ بِبُؤْسِهَا وَ تُلَذِّذَكَ بِالنَّوْمِ بِأَرَقِهَا وَ كَانَ بَطْنُهَا لَكَ وِعَاءً وَ حَجْرُهَالَكَ حِوَاءً  وَ ثَدْيُهَا لَكَ سِقَاءً وَ نَفْسُهَا لَكَ وِقَاءً تُبَاشِرُ حَرَّ الدُّنْيَا وَ بَرْدَهَا لَكَ وَ دُونَكَ فَتَشْكُرُهَا عَلَى قَدْرِ ذَلِكَ وَ لَا تَقْدِرُ عَلَيْهِ إِلَّا بِعَوْنِ اللَّهِ وَ تَوْفِيقِه‏  (1)        ماں کا حق یہ ہے کہ تم یاد رکھو کہ اس نے تمہارے بوجھ کو (اپنے شکم میں) اتنے دن تک اٹھایا ہے جس کو کوئی دوسرا نہیں اٹھا سکتا اور اس نے تم کو خون دل پلایا ہے اور ایسی غذا دی ہے جو دنیا میں کوئی دوسرا نہیں دے سکتا(اس نے اپنا خون دل پلا کر ایسے پروان چڑھایا ہے کہ کوئی دوسرا نہیں کرسکتا) اور اس نے اپنے کان، آنکھ، ہاتھ، پیر، بال اور کھال بلکہ اپنے وجود کی تمام توانائیوں کے ساتھ بخوبی ہنستے اور مسکراتے ہوئے تمہاری حفاظت کی اور اپنی تمام ناگواریوں اور مشکلات کے ہر بوجھ کو باآسانی برداشت کیا۔ یہاں تک کہ دست قدرت نے تم کو اس کے وجود سے جدا کردیا اور تمہارے قدم زمین پر پہنچ گئے (تم پیدا ہوگئے) پھر بھی وہ اس پر خوش اور راضی رہی کہ خود بھوکی رہی مگر تم کو سیر کرتی رہی ، تم کو لباس پہنایا خود بے لباس رہی ، تمہیں سیراب کیا خود پیاسی رہی، خود دھوپ میں جھلستی رہی مگر تم کو اپنی آغوش کے سائے میں پروان چڑھایا۔ خود زحمتیں برداشت کرکے تمہیں نعمتوں سے سرشار کرتی رہی اور خود بیدار رہ کر تمہیں خواب شیریں کے مواقع فراہم کرتی رہی، اس کا شکم تمہاری خلقت کا ظرف ، اس کی گود تمہارا گہوارہ، اس کا سینہ تمہیں سیراب کرنے والا چشمہ اور اس کا پورا وجود تمہارا پورا محافظ تھا ، اس نے تمہارے لئے دنیا کی ہر سردی اور گرمی کوبرداشت کیا، لہٰذا تم اسی مقدار میں اس کا شکریہ ادا کرو البتہ یہ تمہار ے لئے ناممکن ہے مگر یہ کہ خدا وند عالم کی توفیق اور امداد کا سہارا مل جائے۔

--------------

(1):- تحف العقول،ص/263


(29)ماں کی برتری

ایک شخص نے رسول خدا(ص)سے پوچھا:

أَنَّ رَجُلًاقَالَ لِلنَّبِيِّ يَارَسُول َاللَّهِ أَيُّ الْوَالِدَيْنِ أَعْظَمُ‏قَال َالَّتِي حَمَلَتْهُ بَيْنَ

الْجَنْبَيْنِ وَأَرْضَعَتْهُ بَيْنَالثَّدْيَيْنِ وَحَضَنَتْهُ عَلَى الْفَخِذَيْنِ وَفَدَتْهُ بِالْوَالِدَيْن(1)

ایک شخص نے رسول خداﷺسے پوچھا: یا رسول اللہﷺ! والدین میں سے کس کا حق زیادہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''(اس ماں کہ)جس نے اپنے بیٹے کو اپنے دو پہلوئوں کے درمیان رکھا، اپنے سینہ سے دودھ پلایا اور ا س کو اپنے زانوئوں پر بٹھا یا اور اپنے ماں باپ کو اس پر قربان کردیا۔ ''

(30)حق کا ادا کرنا

ایک شخص نے رسول خدا ﷺسے پوچھا:

وَفِي الْحَدِيثِ عَنْهُ ‏قِيلَ يَارَسُولَاللَّهِ مَاحَقُّ الْوَالِدِقَالَ أَنْ تُطِيعَهُ مَاعَاشَ قِيلَ وَمَاحَقُّ الْوَالِدَةِفَقَالَ هَيْ هَاتَ هَيْ هَاتَلَوْأَنَّهُ عَدَدَرَمْلِ عَالِجٍ وَقَطْرِالْمَطَرِأَيَّامَ الدُّنْيَاقَام َبَيْنَ يَدَيْهَامَاعَدَلَذَلِكَ يَوْمَ حَمَلَتْهُ فِيبَطْنِهَا(2)

ایک شخص نے رسول خداﷺسے پوچھا: یا رسول اللہ(ص)! باپ کا حق کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''جب تک وہ زندہ رہے اس کی اطاعت و پیروی کرو ۔'' پھر سوال کیا: یا رسول اللہﷺ! ماں کا حق کیا ہے ؟ آپ ﷺنے فرمایا: ''ھیئات ھیئات اے کا ش حق مادر ادا کرنا ممکن ہوتا۔ اگر بارش کے قطروں اور ریگستان کے ذروں کے برابر بھی ماں کی خدمت میں زندگی گذار دو اور اس کی اطاعت کرتے رہو تب بھی ایام حمل کے ایک دن کے برابر بھی تم نے اس کا حق ادا نہیں کیاہے۔

--------------

(1):- مستدرک الوسائل،ج/15،ص/182،رقم: 17939

(2):- عوالی اللآلی،ج/1،ص/269،رقم: 77


(31)ماں اور بیٹے کی محبت کا فرق

ایک شخص نے رسول خدا ﷺسے عرض کیا:

أَبُوالْقَاسِمِ الْكُوفِيُّ فِي كِتَابِالْأَخْلَاقِ،قَالَ: قَالَرَجُلٌ لِرَسُول ِاللَّهِ إِنّ َوَالِدَتِي بَلَغَهَاالْكِبَرُوَهِيَ عِنْدِي الْآنَ أ َحْمِلُهَاعَلَى ظَهْرِي وأُطْعِمُهَامِنْ كَسْبِي وَأُمِي طُعَنْهَاالْأَذَىَ بِيَدِي وَأَصْرِفُ عَنْهَامَع َذَلِكَ وَجْهِيَ اسْتِحْيَاءً مِنْهَاوَإِعْظَاماً لَهَا فَهَلْ كَافَأْتُهَا قَالَ لَالِأَنَّ بَطْنَهَاكَانَ لكَ وِعَاءًوَثَدْيَهَاكَانَ لَكَ سِقَاءً وَقَدَمَهَالَك َحِذَاءًوَيَدَهَالَكَ وِقَاءًوَحِجْرَهَالَكَ حِوَاءًوَكَانَتْ تَصْنَعُ ذَلِكَ لَكَ وَهِي َتَمَنَّى حَيَاتَكَ وَأَنْتَ تَصْنَعُ هَذَابِهَاوَتُحِبُّ مَمَاتَهَا(1)

 میری ماں بہت بوڑھی ہوچکی ہے اور اب وہ میرے ساتھ رہتی ہے ۔ میں اس کو اپنی پیٹھ پر حمل کرتا ہوں اور اپنی آمدنی سے اس کی ضروریات کو پورا کرتا ہوں اور اس کو اپنے ہاتھوں سے نہلاتا ہوں یہاں تک کہ بعض وظائف کو انجام دیتے وقت اس کے چہرہ کے طرف بھی نہیں دیکھتا کہ مبادا شرم کرے۔ کیا میں نے اس کا حق ادا کردیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ''نہیں ، ٹھیک ہے تم نے یہ تمام کام انجام دئیے ہیں لیکن اس بات پر بھی غور کروکہ اس کا شکم تمہارے لئے بہترین پناہ گاہ تھا، ا س نے اپنا خون دل تم کو پلایا اور اس کی آغوش تمہارے لئے بہترین گہوارہ تھی۔ وہ تمام ناگواریوں اور مشکلات کو برداشت کرتی رہی مگر تمہاری زندگی کی آرزو اور دعا کرتی رہی ، لیکن جب تم اس کی خدمت کررہے ہو تو اس کی موت کے خواہاں ہو۔ ''

--------------

(1):- مستدرکالوسائل،ج/15،ص/180،رقم: 17932


(32)بڑھاپے میں ماں کی خدمت

حضرت امام محمد باقر ؑنے فرمایا:عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ ع قَالَ‏ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ ص رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ أَبَوَيَّ عُمِّرَا وَ إِنَّ أَبِي مَضَى وَ بَقِيَتْ أُمِّي فَبَلَغَ بِهَا الْكِبَرُ حَتَّى صِرْتُ أَمْضَغُ لَهَا كَمَا يُمْضَغُ لِلصَّبِيِّ وَ أُوَسِّدُهَا كَمَا يُوَسَّدُ لِلصَّبِيِّ وَ عَلَّقْتُهَا فِي مِكْتَلٍ أُحَرِّكُهَا فِيهِ لِتَنَامَ ثُمَّ بَلَغَ مِنْ أَمْرِهَا إِلَى أَنْ كَانَتْ تُرِيدُ مِنِّي الْحَاجَةَ فَلَا أَدْرِي أَيُّ شَيْ‏ءٍ هُوَ وَ أُرِيدُ مِنْهَا الْحَاجَةَ فَلَا تَدْرِي أَيُّ شَيْ‏ءٍ هُوَ فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ سَأَلْتُ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ أَنْ يُنْبِتَ عَلَيَّ ثَدْياً يَجْرِي فِيهِ اللَّبَنُ حَتَّى أُرْضِعَهَا قَالَ ثُمَّ كَشَفَ عَنْ صَدْرِهِ فَإِذَا ثَدْيٌ ثُمَّ عَصَرَهُ فَخَرَجَ مِنْهُ اللَّبَنُ ثُمَّ قَالَ هُوَ ذَا أَرْضَعْتُهَا كَمَا كَانَتْ تُرْضِعُنِي قَالَ فَبَكَى رَسُولُ اللَّهِ ص ثُمَّ قَالَ أُصِبْتَ خَيْراً سَأَلْتَ رَبَّكَ وَ أَنْتَ تَنْوِي قُرْبَتَهُ قَالَ فَكَافَيْتُهَا قَالَ لَا وَ لَا بِزَفْرَةٍ مِنْ زَفَرَاتِهَا (1) ایک شخص رسول خدا ﷺکی خدمت میں آکر عرض کرتا ہے: ''میرے ماں باپ بہت بوڑھے اور کمزور ہوگئے ہیں، باپ کا انتقال ہوگیا ہے لیکن میری ماں اتنی لاغر و مجبور ہوگئی ہے کہ ایک چھوٹے بچہ کی طرح کھانے کو نرم کرکے اس کو کھلاتا ہوں اور اس کو ایک چادر میں بچہ کی مانند لپیٹتا ہوں اور گہوارہ میں لٹاتا اور جھلاتا ہوں تاکہ اس کو نیند آجائے ۔ اور اب وہ اس منزل پر پہنچ گئی ہے کہ وہ کوئی چیز چاہتی ہے مگر میں نہیں سمجھ پاتا کہ وہ کیا چاہتی ہے اس لئے میں نے خدا سے دعا کی کہ مجھے شیردار پستان عطا کرے تاکہ میں ا س کو دودھ پلائوں اسی طرح جیسے اس نے مجھ کو بچپنے میں دودھ پلایا ہے ۔ اس وقت اس نے اپنے سینہ کو کھولا تو پستان دکھائی دئیے ان کو تھوڑا دبایا تو ان سے دودھ نکلا۔رسول خدا(ص)نے جیسے ہی اس کو دیکھا فوراً آنکھوں سے اشک جاری ہوگئے اور فرمایا: تم نے اپنی شان کے مطابق کامیابی حاصل کی ہے اس لئے کہ تم نے سچی اور نیک نیت کے ساتھ اس سے دعا کی تھی تو خدا وند عالم نے بھی تمہاری دعا کوقبول کرلیا ہے ۔ اس نے کہا :یا رسول اللہ(ص)! کیا میں نے اس کا حق ادا کردیا ہے ؟ آپ(ص)نے فرمایا: ''ہر گز نہیں،ارے تم نے تو اس ایک آہ کے برابر بھی حق ادا نہیں کیا ہے کہ جو تمہاری ولادت کے وقت اس کی زبان سے نکلی تھی۔ ''

--------------

(1):- مشکوٰةالانوار،ص/161


 (33)ماں سے اجازت

حضرت امیرالمومنین علی ابن ابیطالب علیہماالسّلام نے ارشا د فرمایا:الْجَعْفَرِيَّاتُ،أَخْبَرَنَاعَبْدُاللَّهِ أَخْبَرَنَامُحَمَّدٌحَدَّثَنِي مُوسَى قَالَ حَدَّثَنَاأَبِي عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ جَعْفَرِبْنِ مُحَمَّدٍعَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْأَبِيهِ عَنْعَلِي ٍّ: أَنّ َرَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ فَقَالَ يَارَسُولَاللَّه ِأُمِّي‏أَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَافَقَالَ نَعَمْ قَالَ وَلِمَ يَارَسُولَاللَّهِ قَالَ أَيَسُرُّكَأَنْ تَرَاهَاعُرْيَانَةًقَالَ لَاقَالَ فَاسْتَأْذِنْ عَلَيْهَاالْخَبَر (1)

ایک شخص پیغمبر اکرم ﷺکی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: جس وقت میں اپنی ماں کے کمرہ میں داخل ہونا چاہوں تو کیا اس سے اجازت لوں؟ آپ ﷺنے فرمایا: بیشک ، اس نے عرض کی: کیوں؟ آپﷺ نے فرمایا: کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اپنی ماں کو اچانک برہنہ دیکھو؟ اس نے کہا نہیں۔ تو آپ(ص)نے فرمایا : بس اس سے اجازت لو۔

(34)ماں کے ساتھ تند لہجہ اختیار نہ کرو

ابراہیم ابن مہزم کہتا ہے :حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ الْمِيثَمِيِّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِهْزَمٍ قَالَ: خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ع لَيْلَةً مُمْسِياً فَأَتَيْتُ مَنْزِلِي بِالْمَدِينَةِ وَ كَانَتْ أُمِّي مَعِي فَوَقَعَ بَيْنِي وَ بَيْنَهَا كَلَامٌ فَأَغْلَظْتُ لَهَا فَلَمَّا أَنْ كَانَ مِنَ الْغَدِ صَلَّيْتُ الْغَدَاةَ وَ أَتَيْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع فَلَمَّا دَخَلْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ لِي مُبْتَدِئاً يَا أَبَا مِهْزَمٍ مَا لَكَ وَ لِلْوَالِدَةِ أَغْلَظْتَ فِي كَلَامِهَا الْبَارِحَةَ أَ مَا عَلِمْتَ أَنَّ بَطْنَهَا مَنْزِلٌ قَدْ سَكَنْتَهُ وَ أَنَّ حِجْرَهَا مَهْدٌ قَدْ غَمَزْتَهُ وَ ثَدْيَهَا وِعَاءٌ قَدْ شَرِبْتَهُ قَالَ قُلْتُ بَلَى قَالَ فَلَا تُغْلِظْ لَهَا. (2)

رات کا وقت تھا میں امام صادقؑسے رخصت ہو کر اپنی ماں کے ہمراہ گھر پہنچا ، راستہ میں کسی بات پر میرے اور میری ماں کے درمیان بحث ہوگئی، جس پر میں نے سخت لہجہ اختیار کیا۔

--------------

(1):- مستدرکالوسائل،ج/14،ص/28۲،رقم: 16724

(2)- بصائرالدرجات،ص/244،رقم: 3


دوسرے دن نماز صبح پڑھ کر جب میں امام کی خدمت میں پہنچا تو اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا امام نے فرمایا: اے ابا مہزم !کل رات تم اپنی ماں کے ساتھ سخت لہجہ میں کیوںپیش آئے؟ کیا تم کو نہیں معلوم کہ اس کا شکم تمہارے لئے بہترین گھر تھا کہ جس میں تم آرام سے رہتے تھے؟ کیا تم بھول گئے ہو کہ اس کی آغوش تمہارے لئے بہترین گہوارہ تھی؟ کیا تم نہیں جانتے ہو کہ اس کا سینہ تمہارے لئے غذا کا بہترین سرچشمہ تھاکہ جس سے تم سیراب ہوتے تھے؟ ابراہیم نے جواب دیا: ہاں ایسا ہی ہے ۔ تو آپ نے فرمایا:آج کے بعد سے اپنی ماں سے سخت لہجہ میں بات نہ کرنا ۔

(35)ماں کو مارنا

حضرت امام صادق ؑنے فرمایا:

مَلْعُونٌ مَلْعُونٌ مَنْ ضَرَبَ وَالِدَهُ أَوْ وَالِدَتَه(1)

ملعون ہے ملعون ہے (یعنی رحمت خدا سے دور ہے) وہ شخص کہ جو اپنی ماں یا اپنے باپ کو مارے۔

(36)ماں کو گالی دینا

رسول خدا(ص)نے ارشاد فرمایا:

''مَلْعُوْن مَنْ سَبَّ اُمَّهُ''(2)

ملعون ہے (رحمت خدا سے دور ہے ) ہر وہ شخص کہ جو اپنی ماں کو گالی دے  ( یا کوئی ایسا کام کرے کہ دوسرے اس کی ماں کو گالی دیں)

--------------

(1):- کنزالفوائد،ج/1،ص/150

(2):- کنزالعمال،ج/16،ص/88


(37)ماں کی لعنت

پیغمبر اکرم(ص)نے ارشاد فرمایا:''اِیَّاکُمْ وَدَعْوَةَ الْوَالِدَةِ فَاِنَّهَا اَحَدُّ مِنَ السَّیْفِ'' (1) ماں کی بد دعا سے بچوکیونکہ ماں کی بددعا شمشیرسے زیادہ تیز ہوتی ہے

 (38)ماں کا احترام

اسماء بنت عمیس نے رسول خدا(ص)سے سوال کیا:

أَبُوالْفَتْحِ الْكَرَاجُكِيُّ فِي كِتَابِ التَّعْرِيفِ،بِوُجُوبِ حَقِّ الْوَالِدَيْنِ،رُوِيَ: أَنَّ أَسْمَاءَزَوْجَةَأَبِي بَكْرٍسَأَلَتْ رَسُولَاللَّهِ فَقَالَتْ قَدِمْتُ عَلَى أُمِّي رَاغِبَةًفِي دِينِهَاتَعْنِي مَاكَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ الشِّرْكِ فَأَصِلُهَاقَالَ نَعَمْ صِلِي أُمَّك‏(2)

اسماء بنت عمیس نے رسول خدا ﷺسے سوال کیا: چونکہ میری ماں مشرک تھی اس لئے میں نے ہجرت کی اور اس سے جدا ہوگئی اور ابھی تک اس سے ملنے نہیں گئی۔ کیا میں اس کی عیادت کے لئے جائوں اور اس کے ساتھ صلۂ رحم کروں؟رسول اکرم  ﷺنے جواب دیا: ''بیشک تمہاری ماں مشرک ہے لیکن تمہاری ذمہ داری ہے کہ تم اس کا احترام کرو اور اس کے دیدار کے لئے جائو۔ ''

(39)دائی (ماں )کا احترام

حضرت امام سجاد ؑسے سوال کیا گیا :وَ قِيلَ لِعَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ع أَنْتَ أَبَرُّ النَّاسِ بِأُمِّكَ وَ لَا نَرَاكَ تَأْكُلُ مَعَهَا قَالَ أَخَافُ أَنْ تَسْبِقَ يَدِي إِلَى مَا سَبَقَتْ عَيْنُهَا إِلَيْهِ فَأَكُونَ قَدْ عَقَقْتُهَا (3)

--------------

(1):- مجموعةورام،ج/1،ص/12

(2):- مستدرکالوسائل،ج/15،ص/179،رقم: 17929

(3):- مکارمالاخلاق،ص/221


        حضرت امام سجاد ؑسے سوال کیا گیا : آپ(اہلبیت) اپنی مائوں کی نسبت بہترین لوگ ہیں، پس یہ کس طرح ہے کہ میں نے آج تک آپ کو اپنی ماں کے ساتھ ایک دسترخوان پر نہیں دیکھا ہے ؟ آپ نے فرمایاکہ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں دسترخوان پر میں کسی ایسی چیز کی طرف ہاتھ نہ بڑھا دوں کہ جس پر پہلے میری ماں کی نظر پڑ چکی ہو یعنی جس کو وہ کھانا چاہتی ہو) اور اس طرح نافرمانی کے اسباب کو فراہم کردوں۔

(40)ماں کی موت

رسول خدا(ص)نے ارشاد فرمایا:

 قَالَ النُّفَسَاءُ إِذَا مَاتَتْ مِنْ نِفَاسِهَا قَامَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِغَيْرِ حِسَابٍ لِأَنَّهَا تَمُوتُ بِغَمِّهِا.(1)

اگر کوئی ماں بچہ کو جنم دینے کے بعد اس دنیا سے گذر جائے تو قیامت کے دن بغیر حساب و کتاب کے اٹھائی جائے گی اس لئے کہ وہ مشکلوں کو برداشت کرتے ہوئے اس دنیا سے گئی ہے ۔

--------------

(1):- دعائمالاسلام،ج/2،ص/191،رقم: 690


واقعات

    ماں کی دعا کا اثر

ایک دن جناب موسیٰ ؑنے خدا وند عالم سے درخواست کی کہ خدایا بہشت میں میراپڑوسی کون ہوگا؟ اس کا پتہ و نشان بتا ۔ آواز پروردگار آئی۔ موسیٰ! فلاں وادی میں جائو اور فلاں محلہ میں ایک جوان لوہار ہے وہ بہشت میں تمہارا پڑوسی ہوگا۔ جناب موسیٰ ؑاس آبادی میں آئے اور اس جوان کو تلاش کیا۔ اور بیٹھ کر ا س کی حرکت و سکنات پر نظر رکھنے لگےلیکن جب جناب موسیٰ ؑنے اس سے کسی بھی غیر عادی حرکت و عمل یا دعا کو نہ دیکھاتو تعجب کیا کہ آخر یہ جوان کس عمل کی بنیاد پر اس بلندی پر پہنچا ۔ بہرکیف ظہر کے وقت اس نے اپنے کام کو بند کیا اور اپنے ہاتھوں کو دھویا اور چاہتا تھا کہ دوکان سے باہر نکلے ۔ حضرت موسیٰ ؑنے فرمایا: کیا تم کسی کومہمان رکھنا پسند نہیں کروگے؟ اس نے جواب دیا۔ کیوں نہیں مہمان تو حبیب خدا ہوتا ہے۔ حضرت موسیٰؑکا مقصد اس کے داخلی حالات کو معلوم کرنا تھا۔ جناب موسیٰ  علیہ السلام نے دیکھا کہ اس جوان نے راستے سے دو طرح کا کھانا لیا اور جیسے ہی گھر میں پہنچا تو اس نے جناب موسیٰ ؑسے کہا اگر آپ اجازت دیں تو میں اس ایک کمرہ میں جا کر اپنا ایک ضروری کام انجام دے کر آئوں۔ جناب موسیٰ ؑنے دیکھا کہ اس کمرہ میں چھت میں ایک گہوارہ لٹکا ہوا ہے ۔یہ جوان گیا اور اس گہوارہ کے پاس کھڑا ہوگیا اور اس میں ایک لاغر و مجبورضعیفہ لیٹی ہوئی تھی ۔ اس کو گود میں اٹھایا ور باہر لایا اور نہلایا اور اس کے بعد اس کی مخصوص غذا کو اسے لقمہ بنا بنا کر اس کو کھلایا اور پانی پلایا۔ اس کے بعد کہا اماں ایک مہمان آیا ہوا ہے اگر آپ اجازتدیں تو میں اس کی بھی پذیرائی کروں ؟ اس نے آنکھوں کے اشاروں سے اجازت دی لیکن جوان کو محبت بھری نگاہوں سے دیکھ رہی تھی اور لبوں کو ہلا رہی تھی ۔ جناب موسیٰ ؑنے اس جوان سے پوچھا: وہ کون ہے کہ جس کی تم اس طرح خدمت کررہے تھے؟ اس نے کہا: میری ماں۔


 جناب موسیٰ ؑنے کہا: جب تم پلٹ رہے تھے تو وہ تم کو دیکھ کر کیا کہہ رہی تھی؟ جوان مسکرایا اور جواب دیا۔ اے مہمان! میری ماں پرانے زمانے کی ایک سادہ لوح اور پاک دل خاتون ہے میں جب بھی اس کی خدمت کرتا ہوں اور چاہتاہوں کہ اس سے جدا ہوں تووہ یہ دعا دیتی ہے کہ جائو میرے لال۔

خدا وند عالم تم کو بہشت میں موسیٰ ؑکا پڑوسی قرار دے۔ میں بھی اس کے دل کو توڑنا نہیں چاہتا کہ کہوں کہ اماں کہاں میں اور کہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام ۔ وہ اولواالعزم ،صاحب شریعت پیغمبر اور خدا وند عالم کے ممتاز پیغمبروں میں سے ہیں اور میں ایک لوہار ۔ وہ کہاں اور میں کہاں۔ مہمان نے کہا: اے جوان خدا وند عالم نے تمہاری ماں کی دعا سن لی ہے۔ جوان نے تعجب سے کہا: اے مہمان تم بھی میری ماں کی طرح سادہ لوح اور نیک دل انسان معلوم ہوتے ہو۔ کیا یہ ہوسکتا ہے کہ ایک معمولی انسان بہشت میں موسیٰ ؑکے ساتھ رہے ۔ آپ نے فرمایا: بیشک ہوسکتا ہے جانتے ہو میں کون ہوں ؟ اس نے کہا نہیں ! آپ نے فرمایا: میں ہی موسیٰ بن عمران ہوں۔ میں نے خود اللہ سے درخواست کی تھی کہ خدایا! مجھے بہشت میں ہونے والے پڑوسی کا نشان اور پتہ بتا تو خدا نے تمہارا پتہ بتایا۔ میں صبح سے لے کر اب تک تمہارے ہر کام کو دیکھ رہا تھا۔لیکن تم سے کسی بھی ایک عمل کو نہیں دیکھا کہ جو تم کو اس مقام تک پہنچا دے سوائے تمہاری ماں کی دعا کے۔

والدین کی خدمت کا صلہ

ایک جوان عرب جب بھی امام حسین ؑکے حرم میں داخل ہوتا تھا اور سلام کرتا تھا تو امام حسین ؑاس کے سلام کا جواب دیتے تھے اور وہ امام حسین ؑکے بے پناہ فضل و کرم کا محور قرار پاتا تھا تو اس سے پوچھا گیا کہ تم نے یہ مقام و مرتبہ کیسے حاصل کیا؟ تو اس نے جواب دیا میں نے یہ مقام اپنے والدین کی خدمت کرکے حاصل کیا ہے۔ میں ہر ہفتہ اپنے والدین میں سے کسی ایک کو اپنی پشت پر بٹھا کر پیدل امام حسینؑکی زیارت کے لئے کربلا لے جایاکرتا تھا۔

حضرت امام کاظم ؑنے ارشاد فرمایا: معرفت پروردگار اور نماز کے بعد قربت الٰہی کا بہترین سبب والدین کے ساتھ نیکی کرنا اور حسد و خود خواہی نیز تکبر کو ترک کرنا ہے ۔


جریح کا واقعہ

        حضرت اما م محمد باقرؑفرماتے ہیں: بنی اسرائیل کے درمیان جریح نام کا ایک عابد تھا کہ جو صومعہ( بنی اسرائیل کی عبادت گاہ)میں عبادت کرتا تھا۔ ایک دن اس کی ماں آئی درحالیکہ جریح مستحبی نماز پڑھنے میں مشغول تھا اس کو آواز دی لیکن جریح نے اَن سنی کی اور اس کا جواب نہ دیا۔ ماں گئی اور دوبارہ پلٹ کر آئی اور اس کو آواز دی لیکن دوبارہ بھی اس نے کوئی جواب نہ دیا ۔ ماں واپس چلی گئی اور تیسری بار پھر پلٹ کر آئی اور اپنے بیٹے کو آواز دی لیکن اس بار بھی جریح نے کوئی جواب نہ دیا اور اس کی طرف کوئی توجہ نہ کی۔ اس مرتبہ ماں جب ناامید ی کے عالم مین پلٹی تو کہا میں بنی اسرائیلکے خدا سے چاہتی ہوں کہ تجھ کو ذلیل و رسوا کرے۔

        اگلے دن ایک بدکار عورت آئی اور صومعہ کے پاس بیٹھ گئی اور وہیں پر ایک بچے کو جنم دیا اور پھر دعویٰ کیا کہ یہ بچہ جریح کا ہے ۔ یہ خبر شہر میں پھیل گئی کہ جو گناہوں سے روکا کرتا تھا وہ خود گناہوں سے آلودہ ہوگیا ہے۔

        یہ خبر بادشاہ تک پہنچی تو جریح کے اعدام کا حکم دے دیا۔ جریح کی ماں کو جیسے ہی خبر ملی تو آہ و فریاد اور گریہ کرتی ہوئی جریح کے پاس پہنچی ۔ جریح نے اس سے کہا: اطمینان رکھو یہ میرے حق میں تمہاری ہی نفرین کا نتیجہ ہے ۔ جس وقت لوگوں نے یہ بات سنی تو کہنے لگے اب کیا کریں؟ جریح نے کہا بچہ کو لائو۔ جس وقت نومولود کو لائے جریح نے اس کو لیا اور پوچھا: بتائو تمہارا باپ کون ہے ؟ بچہ حکم خدا سے گویا ہوا اور کہا : فلاں قبیلہ کا فلاں چرواہا۔ اور اس طرح وہ افراد کہ جنہوں نے جریح پر تہمت لگائی تھی الٹے ذلیل ورسوا ہوگئے۔ اس واقعہ کے بعد جریح نے قسم کھائی کہ آج کے بعد سے ہرگز اپنی ماں کی نافرمانی نہیں کروں گا۔

        پیغمبر اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:

        ''والدین کی دعا اپنے بچہ کے حق میں اس دعا کی مانند ہے جو ایک نبی اپنی امت کے بارے میں کرتا ہے۔''


ماں

موت کی آغوش میں جب تھک کے سو جاتی ہے ماں

تب کہیں جاکر رضا تھوڑا سکوں پاتی ہے ماں

شکریہ ہو ہی نہیں سکتا کبھی اس کا ادا

مرتے مرتے بھی دعا جینے کی دے جاتی ہے ماں

زندگی بھر بینتی ہے خار ،راہ زیست سے

جاتے جاتے نعمت فردوس دے جاتی ہے ماں

یوں ٹپکتی ہیں در و دیوار سے ویرانیاں        

جیسے ساری رونقیں ہمراہ لے جاتی ہے ماں

جز غم شبیرممکن ہی نہیں جس کا علاج     

اپنی فرقت کا اک ایسا غم دے جاتی ہے ماں

اپنے غم کو بھول کر روتے ہیں جو شبیر کو   

ان کے اشکوں کے لئے جنت سے آجاتی ہے ماں

تذکرہ جب بھی کہیں ہوتا ہے اُس کے لال کا

رونے والوں کو دعائیں دینے آجاتی ہے ماں

روح کے رشتوں کی یہ گہرائیاں تو دیکھئے

چوٹ لگتی ہے ہمارے اور چلاتی ہے ماں


کھا کے ٹھوکر جب کبھی آغوش کا پالا گرا

        یا علی مولا مدد کہتی ہوئی آتی ہے ماں

جانے کیسا ربط ہے ماں اور علی کے درمیاں

''یا علی''بچہ پکارے ، اور آجاتی ہے ماں

زندگانی کے سفرمیں گردشوں کی دھوپ میں  

جب کوئی سایہ نہیں ملتا تو یاد آتی ہے ماں

اپنے بچوں کیبہارزندگیکے واسطے      

آنسوئوں کے پھول ہر موسم میں برساتی ہے ماں

خالی ہوتا ہی نہیں بچوں کا دامانِ مراد        

جتنی آجائیں دعائیں اتنی بھر جاتی ہے ماں

ہاتھ اٹھا کرجب بھی میں کہتا ہوں  رب ارحمھما

اشک غم بن کر مری آنکھوں میں آجاتی ہے ماں

کب ضرورت ہو مرے بچے کو اتنا سوچ کر   

جاگتی رہتی ہیں آنکھیں اور سو جاتی ہے ماں

ہر عبادت ، ہر محبت میں نہاں ہے اک غرض      

بے غرض ،بے لوث ہر خدمت کو کر جاتی ہے ماں

       


فلسفی حیران رہ جاتے ہیں دا نشور خموش     

زندگی کی گتھیاں کچھ ایسے سلجھاتی ہے ماں

اپنی اک انگلی اٹھا کر عرش اعظم کی طرف

ایک ہے اللہ یہ بچے کو بتلاتی ہے ماں

دل پہ رکھ کرہاتھ کہتی ہے یہاں پر ہیں علی

بعد میں اسمائے معصومین رٹواتی ہے ماں

گھر سے جب پردیسجاتا ہے کوئی نور نظر

آتھمیںقرآن لے کر در پہ آجاتی ہے ماں

دے کے بچے کو ضمانت میں رضائے پاک کی

پیچھے پیچھے سر جھکائے دور تک جاتی ہے ماں

کانپتی آواز سے کہتیہے بیٹاالوداع     

سامنے جب تک رہے ہاتھوں کو لہراتی ہے ماں

دوسرے ہی دن سے پھر رہتی ہے خط کی منتظر

در پہ آہٹ ہو ہوا سے بھی تو آجاتی ہے ماں

ہم بلائوں میں کہیں گھرتے ہیں تو بے اختیار

خیر ہو بچے کی کہہ کر در پہ آجاتی ہے ماں


جب پریشانی میں گھر جاتے ہیں ہم پردیس میں

آنسوئوں کھو پونچھنے خوابوں میں آجاتی ہے ماں

حال دل جا کر سنا دیتا ہے معصومہ کو وہ

جب کسی بچے کو اپنی قم میں یاد آتی ہے ماں

جب لپٹ کر روضے کی جالی سے روتا ہے کوئی

ایسا لگتا ہے کہ جیسے سر کو سہلاتی ہے ماں

ایسا لگتا ہے کہ جیسے آگئے فردوس میں      

بھینچ کر باہوں میں جب سینے سے لپٹاتی ہے ماں

شمر کے خنجر سے یا سوکھے گلے سے پوچھئے          

''ماں''ادھر منھ سے نکلتا ہے اُدھر آتی ہے ماں

گر سکونِ زندگی گھر جائے فوجِ ظلم میں

چھوڑ کر فردوس کو مقتل میں آجاتی ہے ماں

چودہ صدیوں بعد مجھ کو آج بھی ہنگامِ عصر

ایسا لگتا ہے کٹے سر سے صدا آتی ہے ماں

ایسا لگتا ہے کسی مقتل سے اب بھی وقتِ عصر       

اِک بریدہ سر سے''پیاسا ہوں ''صدا  آتی ہے ماں

        موت کی آغوش میں بھی کب سکوں پاتی ہے ماں     

        جب بھی بچے ہوں پریشانی میں آجاتی ہے ماں


بیٹی

بڑھ کے بیٹے سے سزاوار یقیں ہے بیٹی        اپنے ماں باپ کے خوابوں کی امیں ہے بیٹی

دل سے پوچھو تو رگ دل سے قریں ہے بیٹی کتنا سناٹا ہے جس گھر میں نہیں ہے بیٹی

        یہ متاع دل و جاں جس کے بھی ہاتھ آتی ہے       

اس کے دروازے پہ خوشیوں کی برات آتی ہے

بیٹا ہو سکتا نہیں بیٹی سے خدمت میں سوا             ہے یہ تاریخ کے صفحات پہ اب تک لکھا

بیٹوں نے زر کے لئے باپ کا کاٹا ہے گلا            ہاتھ سے بیٹی کے چھوٹا نہیں دامان وفا

پھوڑ دیں بیٹوں نے جب شاہجہاں کی آنکھیں

بیٹی ہی بن گئی اس سوختہ جاں کی آنکھیں

اس سے جاگ اٹھتی ہے صحرا کی ہو یا بن کی فضا      رنگ بیکار ہے مہکے جو نہ گلشن کی فضا

مسکرا دیتی ہے ماں باپ کے دامن کی فضا    اسی غنچے سے مہکتی ہے ہر آنگن کی فضا

ہوئی سو بار جہاں میں یہ حقیقت روشن

بیٹی کر دیتی ہے ماں باپ کی تربت روشن

کون کہتا ہے کہ بے وزن و بہا ہے بیٹی             آدمیت کے لئے حق کی عطا ہے بیٹی

        کیا خبر کتنے نبیوں کی دعا ہے بیٹی             شمع آغوش رسول دوسرا ہے بیٹی

قتل کرتا تھا جو بیٹی کو کہاں ہے باقی

نسل محبوب خدائے دوجہاں ہے باقی


جس کے دامن میں یہ غنچہ ہو اسی سے پوچھو  قیمت اس گل کی رسول عربیﷺسے پوچھو

بیٹی کیا چیز ہے یہ قلب نبیﷺسے پوچھو   جذبہ الفت شاہ مدنی سے پوچھو

فاطمہ اور نہ خاتون جناں کہتے ہیں

اپنی بیٹی کو نبی پیار سے ماں کہتے ہیں

دیکھ لو شام میں آکے بیٹی کی الفت کا اثر     جس کے کاندھوں پہ ڈوپٹہ تھا نہ کانوں میںگہر

کانپتے ہاتھوں کو پھیلا کے اٹھائی جو نظر       طشت سے ہو کے بلند آگیا خود باپ کا سر

پیار بیٹے کا شہ جن و بشرسے پوچھو

باپ کا درد سکینہ کے جگر سے پوچھو

****


بہن

کعبہ الفت و اخلاص و محبت ہے بہن                قبلہ عزت و توقیر و شرافت ہے بہن

حرم عصمت و تطہیر و طہارت ہے بہن             بھائیوں کے لئے اللہ کی رحمت ہے بہن

وہی جذبہ وہی الفت کی نظر رکھتی ہے

اپنے پہلو میں بہن ماں کا جگر رکھتی ہے

کوئی بدلہ نہ محبت کا صلہ مانگتی ہے  زندگی بھائی کیہرصبح و مسا مانگتی ہے

اپنی خاموش نمازوں میں دعا مانگتی ہے بھائی کے حق میں یہ شوہر سے سوا مانگتی ہے

اپنے بیٹوں سے چمن اپنا بھرا رہتا ہے

دل مگر بھائی میں بہنوں کا لگا رہتا ہے

گھر میں کچھ دن نہیں پاتی ہے جو بھائی کی خبر                پھرتی ہے ماہیٔ بے آب سی ہر شام و سحر

مائکہ رہتا ہے ایک ایک گھڑی پیش نظر                خدمت شوہر و اولاد سے فرصت پاکر

بھائی آجائے مرا دل میں یہی کہتی ہے

اوٹ میں آکے کواڑوں کے کھڑی رہتی ہے

رہتی ہے بھائی کے ہر رنج و مصیبت میں شریکمنزل غم میں سہارا ہے مسرت میں شریک

اپنا گھر چھوڑ کے ہو جاتی ہے آفت میں شریکجیسے کوئی نہ ہو بھائی کی محبت میں شریک

لاکھ اندھیر ہو گمنام نہیں ہوسکتا

ہو بہن جس کے وہ ناکام نہیں ہوسکتا


ہے عجب چیز زمانے میں بہن بھائی کا پیار             اس محبت کے خزانے پہ دوعالم ہوں نثار

ہوگا اس زندہ حقیقت سے بھلا کیا انکار               چھوڑ کر بھائی کو ملتا نہیں بہنوں کو قرار

کہتی ہے کیسے سہوں داغ جدائی بھائی

دل کی دھڑکن سے صدا آتی ہے بھائی بھائی

رشتہ پیارا نہیں اس رشتے سے بڑھ کر کوئی            رہے بن بھائی کی دنیا میں نہ خواہر کوئی

جس کو معبود نے بخشا ہے برادر کوئی        چھین سکتا نہیں اس بی بی کی چادر کوئی

وقت کی بات جو پابند رسن ہے زینبعلیھا السلام

ورنہ عباس سے بھائی کی بہن ہے زینب علیھا السلام


عاشورا کے دن زیارت امام حسین علیہ السّلام

معلوم ہونا چاہیئے کہ عاشورہ کے دن کے لیے امام حسینؑکی بہت سی زیارتیں نقل ہوئی ہیں اور ہم بغرض اختصار دو زیارتوں کے نقل پر اکتفا کریں گے قبل ازیں دوسرے باب میں روز عاشورا کے اعمال میں ایک زیارت لکھی گئی ہے اور وہ مطالب بھی وہاں ذکر ہوئے ہیں جو اس مقام کے ساتھ مناسب ہیں اب رہیں دو زیارتیں تو ان میں سے ایک وہی زیارت عاشورا ہے جو معروف ہے اور دو ر و نزدیک سے پڑھی جاتی ہے۔ اس کی تفصیل جیسا کہ شیخ ابو جعفر طوسی نے کتاب مصباح میں فرمائی کچھ اس طرح ہے کہ محمد بن اسماعیل بن بزیع نے صالح بن عقبہ سے اسنے اپنے باپ سے اور اسنے امام محمد باقر ؑسے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا جو شخص دسویں محرم کے دن امام حسین علیہ السلام ـ کی زیارت کرے اور اسکے ساتھ وہاں گر یہ بھی کرے تو روز قیامت وہ خدا سے ملاقات کریگا دو ہزار حج دو ہزار عمرہ دو ہزار غزوہ کے ثواب کے ساتھ اس شخص جس نے حج' عمرہ اور جہادحضرت رسول اﷲا(ص)ور ائمہ طاہرینعلیہم السّلام کے ساتھ مل کر کیا ہو راوی کا بیان ہے کہ میں نے عرض کی آپ پر قربان ہو جائوں ایسے شخص کے لیے کیا ثواب ہے جو کربلا سے دور دراز کے شہروں میں رہتا ہو اور اس کیلئے عاشورہ کے دن مزار امام حسینؑ کی زیارت کو آنا ممکن نہ ہو؟ آپ نے فرمایا: اس صورت میں وہ شخص صحرا میں چلا جائے گا یا اپنے گھر کی سب سے اونچی چھت پر چڑھے اور حضرت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سلام کرے اور آپ کے قاتلوں پر جتنی ہو سکے لعنت بھیجے پھر دو رکعت نماز پڑھے اور یہ عمل دن کے پہلے حصے میں زوال سے قبل بجا لائے بعد میں امام حسینؑ کیلئے روئے اور فریاد بلند کرے نیز گھر میں جو افراد ہوں اگر ان سے تقیہ نہ کرنا ہو تو انہیں بھی کہے کہ وہ گریہ کریں۔

        اس طرح وہ اپنے گھر میں سوگواری اور گریہ زاری کی صورت بنائے اور حضرت کے مصائب پر باآواز بلند روتے ہوئے وہ لوگ ایک دوسرے سے تعزیت کریں تو میں خدا کی طرف سے ان لوگوں کیلئے ضامن ہوں کہ اگر وہ اس طرح عمل کریں تو ان کو بھی وہی ثواب ملے گا میں نے عرض کی کہ آپ پر قربان ہو جائوں ! کیا آپ اس ثواب کے ضامن و کفیل ہیں؟


 آپ نے فرمایا کہ ہاں میں ہر اس شخص کیلئے اس ثواب کا ضامن و کفیل ہوں جو یہ عمل انجام دے تب میں نے عرض کی کہ وہ لوگ کس طرح ایک دوسرے سے تعزیت کریں؟ آپ نے فرمایا کہ وہ ایک دوسرے سے یہ کہیں:

َعْظَمَ اﷲُ  اُجُورَنا بِمُصابِنا بِالْحُسَیْنِ، وَجَعَلَنا وَ اِیَّاکُمْ مِنَ الطَّالِبِین بِثارِهِ مَعَ وَلِیِّهِ الْاِمامِ الْمَهْدِیِّ مِنْ آلِ مُحَمَّدَ

خدا ہماری جزائوں میں اضافہ کرے اس سوگواری پر جو ہم نے امام حسینؑکیلئے کی اور ہمیں تمہیں انکے خون کا بدلہ لینے والوں میں قرار دے  ان کے وارث امام مہدی عجل اللہ تعالی فرجہ شریف کی ہمراہی میں جو آل محمد  علیہم السلاممیں سے ہیں۔

        اگر ایسا ممکن ہو تو دسویں محرم کے دن کوئی شخص اپنے ذاتی اغراض کیلئے کہیں نہ جائے۔ کیونکہ یہ دن نحس ہے جس میںکسی مومن کی حاجت پوری نہیں ہوتی اور اگر حاجت پوری ہو بھی جائے تو وہ اس مومن کیلئے بابرکت نہ ہو گی اور وہ اس میں بھلائی نہ دیکھے گا ۔نیز کوئی مومن اس دن اپنے گھر کے لیے ذخیرہ نہ کرے کہ جو شخص اس دن کوئی چیز ذخیرہ کرے گا اس میں برکت نہ ہو گی۔ اور وہ اس کیلئے مفید ثابت نہ ہو گی نہ ان افراد کے لیے جن کی خاطر اس نے ذخیرہ کیا ہے۔ پس جو لوگ یہ عمل بجا لائیں گے تو خدا تعالیٰ ان کے نام ہزار حج ہزار عمرہ اور ہزار جہاد کا ثواب لکھے گا جو انہوں نے رسولا اﷲ(ص)کی ہمراہی میںکیا ہو۔ اسکے علاوہ ان کیلئے ہر پیغمبر رسول وصی اور شہید کی مصیبت کا ثواب ہو گا خواہ وہ طبعی موت سے فوت ہوا ہو یا شہید کیا گیا ہو اس وقت سے جب سے خدا نے اس دنیا کو پیدا کیا اور اس وقت تک جب قیامت بپا ہو گی صالح ابن عقبہ اور سیف ابن عمیرہ کا بیان ہے کہ علقمہ ابن محمد خضرمی نے کہا ہے کہ میں نے حضرت امام محمد باقر  ؑ سے عرض کی کہ مجھے ا یسی دعا تعلیم فرمائیں جسے میں دسویں محرم کے دن امام حسینؑکی نزدیک سے زیارت کرتے وقت پڑھوں اور ایسی دعا بھی تعلیم فرمائیں کہ جو میں اس وقت پڑھوں جب نزدیک سے حضرت کی زیارت نہ کر سکوں اور میں دور کے شہروں اور اپنے گھر سے اشارے کیساتھ امام حسینؑکو سلام پیش کروں۔ آپ نے فرمایا کہ اے عقلمہ! جب تم دو رکعت نماز ادا کر لو اور اس کے بعد سلام کیلئے حضرت کی طرف اشارہ کرو تو اشارہ کرتے وقت تکبیر کہنے کے بعدمندرجہ ذیل دعا پڑھو۔


 کیونکہ جب تم یہ دعا پڑھو گے تو بے شک تم نے ان الفاظ میں دعا کی ہے کہ جن الفاظ میں وہ فرشتے دعا کرتے ہیں جو امام حسین ؑکی زیارت کرنے آتے ہیں' چنانچہ خدا تمہارے لیے دس لاکھ درجے لکھے گا اور تم اس شخص کی مانند ہو گے جو حضرت کے ہمراہ شہید ہوا ہو اور تم اس کے درجات میں حصہ دار بن جائو گے نیز تم ان افراد میں شمار کیے جائو گے جو امام حسینؑکے ساتھ شہید ہوئے ہیں نیز تمہارے لیے ہر نبی و رسول اور امام مظلوم ؑکے ہر اس زائر کا ثواب لکھا جائے گا جس نے اس دن سے کہ جب سے آپ شہید ہوئے ہیں آپکی زیارت کی ہو۔ آپ پر سلام ہواور آپکے خاندان پر پس وہ زیارت عاشورہ یہ ہے:

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا اَبا عَبْدِاﷲِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُولِ اﷲِ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ

آپ پر سلام ہو اے ابا عبداللہ آپ پر سلام ہو اے رسول خدا (ص)کے فرزند سلام ہوآپ پر اے امیر المومنین

َامِیرِالْمُوَْمِنِینَ وَابْنَ سَیِّدِ الْوَصِیِّینَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ فاطِمَةَ سَیِّدَةِ نِسائِ الْعالَمِینَ

کے فرزند اور اوصیاء کے سردار کے فرزند سلام ہوآپ پر اے فرزند فاطمہ جو جہانوں کی عورتوں کی سردار ہیں

اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَاثارَ اﷲِ وَابْنَ ثارِهِ وَالْوِتْرَ الْمَوْتُورَ، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ وَعَلَی الْاََرْواحِ

آپ پر سلام ہو اے قربان خدا اور قربان خدا کے فرزنداور وہ خون جس کا بدلہ لیا جانا ہے آپ پر سلام ہواور ان روحوں پر

الَّتِی حَلَّتْ بِفِنائِکَ عَلَیْکُمْ مِنِّی جَمِیعاً سَلامُ اﷲِ اَبَداً مَا بَقِیتُ وَبَقِیَ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ

جو آپ کے آستانوں میں اتری ہیں آپ سب پرمیری طرف سے خدا کا سلام ہمیشہ جب تک میں باقی ہوں اور رات دن باقی ہیں

یَا اَبا عَبْدِاﷲِ، لَقَدْ عَظُمَتِ الرَّزِیَّةُ وَجَلَّتْ وَعَظُمَتِ الْمُصِیبَةُ بِکَ عَلَیْنا وَعَلَی جَمِیعِ

اے ابا عبداﷲ آپ کا سوگ بہت بھاری اور بہت بڑا ہے اور آپ کی مصیبت بہت بڑی ہے ہمارے لیے اور تمام اہل اسلام

اَهْلِ الْاِسْلامِ وَجَلَّتْ وَعَظُمَتْ مُصِیبَتُکَ فِی السَّمٰوَاتِ عَلَی جَمِیعِ اَهْلِ السَّمٰوَاتِ

کے لیے اور بہت بڑی اور بھاری ہے آپ کی مصیبت آسمانوں میں تمام آسمان والوں کے لیے

فَلَعَنَ اﷲُ اُمَّةً اَسَّسَتْ اَسَاسَ الظُّلْمِ وَالْجَوْرِ عَلَیْکُمْ َاهْلَ الْبَیْتِ، وَلَعَنَ اﷲُ اُمَّةً

پس خدا کی لعنت ہو اس گروہ پرجس نے آپ پر ظلم و ستم کرنے کی بنیاد ڈالی اے اہلبیت اور خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر


دَفَعَتْکُمْ عَنْ مَقامِکُمْ وََازالَتْکُمْ عَنْ مَراتِبِکُمُ الَّتِی رَتَّبَکُمُ اﷲُ فِیها، وَلَعَنَ اﷲُ ا ُمَّةً

جس نے آپکو آپکے مقام سے ہٹایا اور آپ کو اس مرتبے سے گرایا جو خدا نے آپ کو دیا خدا کی لعنت ہو اس گروہ پر جس نے آپ کو

قَتَلَتْکُمْ وَلَعَنَ اﷲُ الْمُمَهِّدِینَ لَهُمْ بِالتَّمْکِینِ مِنْ قِتالِکُمْ بَرِیْتُ  اِلَی اﷲِ وَاِلَیْکُمْ مِنْهُمْ

قتل کیا اور خدا کی لعنت ہو ان پر جنہوں نے انکو آپکے ساتھ جنگ کرنے کی قوت فراہم کی میں بری ہوں خدا کیسامنے اور آپکے سامنے ان

وَ اَشْیاعِهِمْ وَ اَتْباعِهِمْ وَ اَوْلِیائِهِمْ، یَا َبا عَبْدِاﷲِ،ا ِنِّی سِلْم لِمَنْ سالَمَکُمْ، وَحَرْب

سے انکے مددگاروں انکے پیروکاروں اور انکے ساتھیوں سے اے ابا عبداللہ میری صلح ہے آپ سے صلح کرنے والے سے اور میری جنگ ہے

لِمَنْ حارَبَکُمْ  اِلی یَوْمِ الْقِیامَةِ، وَلَعَنَ اﷲُ آلَ زِیادٍ وَآلَ مَرْوانَ، وَلَعَنَ اﷲُ بَنِی

آپ سے جنگ کرنے والے سے روز قیامت تک اور خدا لعنت کرے اولاد زیاداور اولاد مروان پر خدا اظہار بیزاری کرے تمام بنی امیہ سے

اُمَیَّةَ قاطِبَةً، وَلَعَنَ اﷲُ ابْنَ مَرْجانَةَ، وَلَعَنَ اﷲُ عُمَرَ بْنَ سَعْدٍ، وَلَعَنَ اﷲُ شِمْراً،

خدا لعنت کرے ابن مرجانہ پر خدا لعنت کرے عمر بن سعد پر خدا لعنت کرے شمر پر

وَلَعَنَ اﷲُاُمَّةً اَسْرَجَتْ وَ  اَلْجَمَتْ وَتَنَقَّبَتْ لِقِتالِکَ، بِاَبِی اَنْتَ وَاُمِّی،

اور خدا لعنت کرے جنہوں نے زین کسا لگام دی گھوڑوں کو اور لوگوں کو آپ سے لڑنے کیلئے ابھارا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں

لَقَدْ عَظُمَ مُصابِی بِکَ، فَاَسْاَلُ اﷲَ الَّذِی   اَکْرَمَ مَقامَکَ، وَ   اَکْرَمَنِی بِکَ،ا َنْ یَرْزُقَنِی


یقینا آپکی خاطر میرا غم بڑھ گیا ہے پس سوال کرتا ہوں خدا سے جس نے آپکو شان عطا کی اور آپکے ذریعے مجھے عزت دی یہ کہ وہ

طَلَبَ ثارِکَ مَعَ  ا ِمامٍ مَنْصُورٍ مِنْ   اَهْلِ بَیْتِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اﷲُ عَلَیْهِ وَآلِهِ اَللّٰهُمَّ

مجھے آپ کے خون کا بدلہ لینے کا موقع دے ان امام منصور کے ساتھ جو اہل بیت محمد(ص)م یں سے ہوں گے اے معبود!

اجْعَلْنِی عِنْدَکَ وَجِیهاً بِالْحُسَیْنِ فِی الدُّنْیا وَالآخِرَةِ یَا َبا عَبْدِاﷲِ  اِنِّی اَتَقَرَّبُ اِلَی

مجھ کو اپنے ہاں آبرومند بنا حسین ؑ کے واسطے سے دنیا و آخرت میں اے ابا عبداللہ بے شک میں قرب چاہتا ہوں

اﷲِ، وَ  اِلی رَسُولِهِ، وَ اِلی اَمِیرِ الْمُوَْمِنِینَ، وَ اِلی فاطِمَةَ، وَ اِلَی الْحَسَنِ، وَ اِلَیْکَ

خدا کا اس کے رسول(ص)کا امیر المومنین کا فاطمة زہرا کا حسن مجتبیٰؑ  کا اور آپ کا قرب آپکی حبداری

بِمُوَالاتِکَ وَبِالْبَرائَةِ مِمَّنْ قَاتَلَکَ وَنَصَبَ لَکَ الْحَرْبَ وَبِالْبَرائَةِ مِمَّنْ اَسَّسَ  اَسَاسَ

سے اور اس سے بیزاری کے ذریعے جس نے آپکو قتل کیا اور آتش جنگ بھڑکائی اور اس سے بیزاری کے ذریعے جس نے تم پر ظلم وستم

الْظُلْمِ وَالْجَوْرِ عَلَیْکُمْ وَ  اَبْرَاُ اِلَی اﷲِ وَ اِلی رَسُولِهِ مِمَّنْ ا َسَّسَ اَساسَ ذلِکَ وَبَنی

کی بنیاد رکھی اور میں بری الذمہ ہوں اﷲ اور اس کے رسول کے سامنے اس سے جس نے ایسی بنیاد قائم کی اور اس پر عمارت اٹھائی

عَلَیْهِ بُنْیانَهُ، وَجَریٰ فِی ظُلْمِهِ وَجَوْرِهِ عَلَیْکُمْ وَعَلَی  اَشْیاعِکُمْ، بَرِیْتُ ا ِلَی اﷲِ

اور پھر ظلم و ستم کرنا شروع کیا اور آپ پر اور آپ کے پیروکاروں پر میں بیزاری ظاہر کرتا ہوں خدا

وَ اِلَیْکُمْ مِنْهُمْ، وَ اَتَقَرَّبُ  اِلَی اﷲِ ثُمَّ  اِلَیْکُمْ  بِمُوالاتِکُمْ وَمُوالاةِ وَلِیِّکُمْ، وَبِالْبَرائَةِ

اور آپ کے سامنے ان ظالموں سے اور قرب چاہتا ہوں خدا کا پھر آپ کا آپ سے محبت کی وجہ سے اور آپ کے ولیوں سے محبت

مِنْ  اَعْدائِکُمْ، وَالنَّاصِبِینَ لَکُمُ الْحَرْبَ، وَبِالْبَرائَةِ مِنْ  اَشْیَاعِهِمْ وَ اَتْبَاعِهِمْ،  اِنِّی

کے ذریعے آپکے دشمنوں اور آپکے خلاف جنگ برپا کرنے والوں سے بیزاری کے ذریعے


اور انکے طرف داروں اورپیروکاروں سے بیزاری کے ذریعے

سِلْم لِمَنْ سالَمَکُمْ، وَحَرْب لِمَنْ حارَبَکُمْ، وَوَلِیّ لِمَنْ والاکُمْ،

میری صلح ہے آپ سے صلح کرنے والے سے اور میری جنگ ہے آپ سے جنگ کرنے والے سے میں آپکے دوست کا دوست اور

وَعَدُوّ لِمَنْ عاداکُمْ، فَاَسْاَلُ اﷲَ الَّذِی  اَکْرَمَنِی بِمَعْرِفَتِکُمْ، وَمَعْرِفَةِ ا َوْلِیَائِکُمْ،

آپکے دشمن کا دشمن ہوں پس سوال کرتاہوںخدا سے جس نے عزت دی مجھے آپ کی پہچان اور آپکے ولیوں کی پہچان کے ذریعے

وَرَزَقَنِی الْبَرائَةَ مِنْ  اَعْدائِکُمْ،  اَنْ یَجْعَلَنِی مَعَکُمْ فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ، وَ اَنْ یُثَبِّتَ

اور مجھے آپ کے دشمنوں سے بیزاری کی توفیق دی یہ کہ مجھے آپ کے ساتھ رکھے دنیا اور آخرت میں اور یہ کہ مجھے آپ کے

 لِی عِنْدَکُمْ قَدَمَ صِدْقٍ فِی الدُّنْیا وَالْاَخِرَةِ، وَ اَسْاَلُهُ  اَنْ یُبَلِّغَنِی الْمَقامَ الْمَحْمُودَ

حضور سچائی کے ساتھ ثابت قدم رکھے دنیا اور آخرت میں اور اس سے سوال کرتا ہے کہ مجھے بھی خدا کے ہاں آپ کے پسندیدہ مقام

لَکُمْ عِنْدَ اﷲِ، وَ اَنْ یَرْزُقَنِی طَلَبَ ثارِی مَعَ  اِمامِ هُدیً ظَاهِرٍ نَاطِقٍ بِالْحَقِّ

پر پہنچائے نیز مجھے نصیب کرے آپکے خون کا بدلہ لینا اس امام کیساتھ جو ہدایت دینے والا مدد گار رہبرحق بات زبان پر لانے والا ہے

مِنْکُمْ، وَ اَسْاَلُ اﷲَ بِحَقِّکُمْ وَبِالشَّاْنِ الَّذِی لَکُمْ عِنْدَهُ  ا َنْ یُعْطِیَنِی بِمُصابِی

تم میں سے اور سوال کرتا ہوں خدا سے آپکے حق کے واسطے اور آپکی شان کے واسطے جوآپ اسکے ہاں رکھتے ہیں یہ کہ وہ مجھ کو عطا

بِکُمْ  اَفْضَلَ مَا یُعْطِی مُصاباً بِمُصِیبَتِهِ، مُصِیبَةً مَا ا َعْظَمَها وَ اَعْظَمَ

کرے آپکی سوگواری پر ایسا بہترین اجر جو اس نے آپکے کسی سوگوار کو دیاہواس مصیبت پر کہ جو بہت بڑی مصیبت ہے اور اسکا رنج و

رَزِیَّتَها فِی الْاِسْلامِ وَفِی جَمِیعِ السَّمٰوَاتِ وَالْاََرْضِ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنِی فِی مَقَامِی


غم بہت زیادہ ہے اسلام میں اور تمام آسمانوں میں اور زمین میں اے معبود قرار دے مجھے اس جگہ پر

هذَا مِمَّنْ تَنالُهُ مِنْکَ صَلَوات وَرَحْمَة وَمَغْفِرَة اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ مَحْیایَ مَحْیا مُحَمَّدٍ وَآلِ

ان فراد میں سے جن کو نصیب ہوں تیرے درود تیری رحمت اور بخشش اے معبود قرار دے میرا جینا محمد(ص)و آل

مُحَمَّدٍ وَمَماتِی مَماتَ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ اَللّٰهُمَّ  اِنَّ هذَا یَوْم تَبَرَّکَتْ بِهِ بَنُو ُمَیَّةَ

محمد(ص) کا سا جینا اور میری موت کو محمد (ص)و آل محمد(ص) کی موت کی مانند بنا اے معبود بے شک یہ وہ دن ہے کہ جس کو نبی امیہ اور کلیجے کھانے والی

وَابْنُ آکِلَةِ الْاََکْبادِ، اللَّعِینُ ابْنُ اللَّعِینِ عَلَی لِسانِکَ وَلِسانِ نَبِیِّکَ  فِی کُلِّ مَوْطِنٍ

کے بیٹے نے بابرکت جانتا جو ملعون ابن ملعون ہے تیری زبان پراور تیرے نبی اکرمﷺکی زبان پر ہر شہر میں جہاں رہے

وَمَوْقِفٍ وَقَفَ فِیهِ نَبِیُّکَ   اَللّٰهُمَّ الْعَنْ اَبا سُفْیانَ وَمُعَاوِیَةَ وَیَزِیدَ بْنَ مُعَاوِیَةَ عَلَیْهِمْ

اور ہر جگہ کہ جہاں تیرانبی اکرمﷺ ٹھہرے اے معبود اظہار بیزاری کر ابو سفیان اور معاویہ اور یزید بن معاویہ سے کہ ان سے اظہار بیزاری ہو

مِنْکَ اللَّعْنَةُ ا َبَدَ الْاَبِدِینَ، وَهذَا یَوْم فَرِحَتْ بِهِ آلُ زِیادٍ وَآلُ مَرْوانَ بِقَتْلِهِمُ الْحُسَیْنَ

تیری طرف سے ہمیشہ ہمیشہ اور یہ وہ دن ہے جس میں خوش ہوئی اولاد زیاد اور اولاد مروان کہ انہوں نے قتل کیا حسین

صَلَواتُ اﷲِ عَلَیْهِ، اَللّٰهُمَّ فَضاعِفْ عَلَیْهِمُ اللَّعْنَ مِنْکَ وَالْعَذابَ الْاََلِیمَ اَللّٰهُمَّ  اِنِّی

صلوات اﷲ علیہ کو اے معبود پس توزیادہ کر دے ان پر اپنی طرف سے لعنت اور عذاب کو اے معبود بے شک

 اَتَقَرَّبُ اِلَیْکَ فِی هذَا الْیَوْمِ وَفِی مَوْقِفِی هذَا، وَ اَیَّامِ حَیَاتِی بِالْبَرَائَةِ مِنْهُمْ،

میں تیرا قرب چاہتا ہوں کہ آج کے دن میں اس جگہ پر جہاں کھڑا ہوں اور اپنی زندگی کے دنوں میں ان سے بیزاری کرنے کے ذریعے

وَاللَّعْنَةِ عَلَیْهِمْ، وَبِالْمُوَالاةِ لِنَبِیِّکَ وَآلِ نَبِیِّکَ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمُ اَلسَّلَامُ

 پھر سو مرتبہ کہے:


اور ان پر نفرین بھیجنے کے ذریعے اور بوسیلہ اس دوستی کے جو مجھے تیرے نبیﷺ کی آل سے ہے سلام ہو تیرے نبی ﷺاور ان کی آل پر                

اَللّٰهُمَّ الْعَنْ  اَوَّلَ ظَالِمٍ ظَلَمَ حَقَّ مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ وَآخِرَ تَابِعٍ لَهُ عَلَی ذالِکَ

اے معبود محروم کر اپنی رحمت سے اس پہلے ظالم کو جس نے ضائع کیا محمدﷺو آل محمدﷺکا حق اوراسکو بھی جس نے آخر میں اس کی پیروی کی

اَللّٰهُمَّ الْعَنِ الْعِصَابَةَ الَّتِی جاهَدَتِ الْحُسَیْنَ وَشایَعَتْ وَبایَعَتْ وَتابَعَتْ عَلَی قَتْلِهِ

اے معبود لعنت کر اس جماعت پر جنہوں نے جنگ کی حسین  ؑسے نیز ان پربھی جو قتل حسینؑمیں ان کے شریک اور ہم رائے تھے۔

اَللّٰهُمَّ الْعَنْهُمْ جَمِیعاًاب سو مرتبه که: اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا  اَبا عَبْدِاﷲِ وَعَلَی الْاََرْواحِ الَّتِی

اے معبود ان سب پر لعنت بھیج سلام ہو آپ پراے ابا عبد اللہ اور سلام ان روحوں پر جو آپ کے

حَلَّتْ بِفِنائِکَ، عَلَیْکَ مِنِّی سَلامُ اﷲِ ا َبَداً مَا بَقِیتُ وَبَقِیَ اللَّیْلُ وَالنَّهارُ، وَلاَ جَعَلَهُ

روضے پر آتی ہیں آپ پر میری طرف سے خدا کا سلام ہو ہمیشہ جب تک زندہ ہوں اور جب تک رات دن باقی ہیں اورخدا قرار نہ

اﷲُ آخِرَ الْعَهْدِ مِنِّی لِزِیارَتِکُمْ، اَلسَّلَامُ عَلَی الْحُسَیْنِ، وَعَلَی عَلِیِّ بْنِ الْحُسَیْنِ،

دے اس کو میرے لیے آپ کی زیارت کا آخری موقع سلام ہو حسین ؑپر اور شہزادہ علی فرزند حسین ؑپر

وَعَلَی ا َوْلادِ الْحُسَیْنِ، وَعَلَی ا َصْحابِ الْحُسَیْنِ پهر که: اَللّٰهُمَّ خُصَّ  اَنْتَ  اَوَّلَ     

سلام ہو حسینؑ کی اولاد اور حسین ؑکے اصحاب پر اے معبود!تو مخصوص فرما :پہلے ظالم کو

ظالِمٍ بِاللَّعْنِ مِنِّی، وَابْدَ  ءْ بِهِ  اَوَّلاً، ثُمَّ الْعَن الثَّانِیَ وَالثَّالِثَ وَالرَّابِعَ


میری طرف سے لعنت کیساتھ تو اب اسی لعنت کا آغاز فرماپھرلعنت بھیج دوسرے اور تیسرے اور پھر چوتھے پر لعنت بھیج اے معبود!

اَللّٰهُمَّ الْعَنْ یَزِیدَ خامِساً، وَالْعَنْ عُبَیْدَاﷲِ بْنَ زِیادٍ وَابْنَ مَرْجانَةَ وَعُمَرَ بْنَ سَعْدٍ

لعنت کر یزید پر جو پانچواں ہے اور لعنت کرعبیداللہ فرزند زیاد پر اور فرزند مرجانہ پر عمر فرزند سعد پر

وَشِمْراً وَآلَ  اَبِی سُفْیانَ وَآلَ زِیادٍ وَآلَ مَرْوَانَ ا ِلی یَوْمِ الْقِیَامَةِ

اور شمر پر اور اولاد ابوسفیان کواور اولاد زیاد کو اور اولاد مروان کو رحمت سے دور کر قیامت کے دن تک                      

اس کے بعد سجدےمیں جائے اور کہے:

اَللّٰهُمَّ لَکَ الْحَمْدُ حَمْدَ الشَّاکِرِینَ لَکَ عَلَی مُصَابِهِمْ الْحَمْدُ لِلّٰهِ

اے معبود! تیرے لیے حمد ہے شکر کرنے والوں کی حمد ،حمد ہے خدا کے لیے جس نے مجھے

عَلَی عَظِیمِ رَزِیَّتِی، اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِی شَفاعَةَ الْحُسَیْنِ یَوْمَ الْوُرُودِ، وَثَبِّتْ لِی قَدَمَ صِدْقٍ

عزاداری نصیب کی اے معبود حشر میں آنے کے دن مجھے حسین  ؑکی شفاعت سے بہرہ مند فرما اور میرے قدم کو سیدھا اور پکا بنا جب

عِنْدَکَ مَعَ الْحُسَیْنِ وَ اَصْحابِ الْحُسَیْنِ الَّذِینَ بَذَلُوا مُهَجَهُمْ دُونَ الْحُسَیْنِ

میں تیرے پاس آئوں حسین  ؑکے ساتھ اور اصحاب حسین ؑ کے ساتھ جنہوں نے حسین ؑکیلئے اپنی جانیں قربان کر دیں ۔

علقمہ کابیان ہے کہ امام محمد باقر ؑنے فرمایا: اگر ممکن ہو تو یہی زیارت ہر روز اپنے گھر میں بیٹھ کرپڑھے، اور اسے وہ سارے ثواب ملیں گے جن کا پہلے ذکر ہوا ہے۔


فہرست

ہدیہ 2

انتساب. 3

عرض حال. 4

مقدمہ 12

نمونہ عمل. 12

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہاکا اخلاق و کردار 12

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہاکا نظام عمل. 13

حضرت زہراسلام اللہ علیہاکا پردہ 14

حضرت زہرسلام اللہ علیہااور جہاد 14

۱:بچوں سے بے انتہا محبت: 15


۲:۔ایثار اور قربانی 16

3۔حفاظت. 16

4۔ ماں کا رول ''بچے کیلئے آئینہ '' 16

''بچہ کا آئیڈئیل '' 17

قرآن. 18

قرآنی آیات. 18

بڑھاپے میں والدین کے ساتھ محبت اور نیکی کا حکم 18

آیت کے پیغامات. 20

آیت نمبر 24 21

والدین کے ساتھ نیکی کرنے کی وصیت. 22

آیت کے نکات وپیغامات. 23

ایمان کے مقابلہ میں ماں باپ سے دوری. 24


والدین کے ساتھ نیکی تمام ادیان میں. 26

والدین کے لئے استغفار 26

مغرور بیٹا اور والدین کی حسرت. 27

توحید کے ہمراہ والدین کے ساتھ نیکی 27

ایمان کے مقابلہ ماں باپ سے دوری. 27

ماں باپ کے ساتھ نیک برتائو 28

عدل اور والدین. 28

والدین اور کار خیر 28

وصیت اور والدین. 29

والدین کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرنا 29

والدین کے لئے استغفار کی دعا 29

احادیث. 30


(1) حاملہ عورت کا ثواب. 30

(2) ولادت یا نفاس کی حالت میں دنیا سے رحلت کرنے والی عورت کا درجہ 30

{۳}دس لوگوں کا جسم قبر میں خراب نہیں ہوگا 31

{۴}امام جعفر صادق ؑسے مروی ہے:- 31

(5)ماں بچہ کے عقیقہ کا گوشت نہ کھائے.. 33

(6) ماں کے دودھ کی اہمیت. 33

(7) بچہ پر ماں کے دودھ کی تاثیر 33

(8)دودھ پلانے کی مدت. 34

(9)دودھ پلانے کا ثواب. 34

(10)دودھ پلانے والی ماں کا روزہ 35

(11)سرپرستی کا حق. 35

(12)خالہ ، ماں کی جانشین. 36


(13)ماں اور بیٹے کے درمیان جدائی ڈالنا 36

(14)بیٹے کی پرورش میں ماں کا کردار 36

(15)ماں کی پیشانی بچہ کا مقدر 37

(16)ماں کی عفت و پاکیزگی 37

(17)ماں سرچشمۂ محبت اہلبیت. 38

(18)جنت ماں کے قدموں میں. 38

(19)ماں کی پیشانی کا بوسہ، آتش جہنم سے امان کا باعث. 38

(20)ماں کی قدم بوسی 39

(21)پروردگار کے نزدیک ماں کا مقام و مرتبہ 39

(22)ماں کی خدمت جہاد سے افضل ہے.. 40

(23) ماں کی دعا 40

(24)ماں کا حق باپ سے تین گُنازیادہ 41


(25)ماں کے ساتھ نیکی دو برابر ہے.. 41

(26)ماں کے ساتھ احسان بخشش کا ذریعہ 42

(27)ماں کے ساتھ نیکی کرنے کا نتیجہ 42

(28)ماں کا حق. 43

(29)ماں کی برتری. 44

(30)حق کا ادا کرنا 44

(31)ماں اور بیٹے کی محبت کا فرق. 45

(32)بڑھاپے میں ماں کی خدمت. 46

(33)ماں سے اجازت. 47

(34)ماں کے ساتھ تند لہجہ اختیار نہ کرو 47

(35)ماں کو مارنا 48

(36)ماں کو گالی دینا 48


(37)ماں کی لعنت. 49

(38)ماں کا احترام 49

(39)دائی (ماں )کا احترام 49

(40)ماں کی موت. 50

واقعات. 51

ماں کی دعا کا اثر 51

والدین کی خدمت کا صلہ 52

جریح کا واقعہ 53

ماں. 54

بیٹی 58

بہن. 60

عاشورا کے دن زیارت امام حسین علیہ السّلام 62


ماں کی عظمت قرآن و حدیث کی روشنی میں

ماں کی عظمت قرآن و حدیث کی روشنی میں

اصلاح کتب

مؤلف: سید حیدر علی زیدی ،مظفر نگری
ناشر: الماس پرنٹرز قم ایران
قسم: رسول اکرم اوراہلبیت لائبریری
صفحے: 77