معاویہ جلداول

اصلاح کتب

مؤلف: آیت اللہ سید مرتضی مجتہدی سیستانی
متن تاریخ

معاویہ

جلد-1

تألیف

آیت اللہ سید مرتضی مجتہدی سیستانی

ترجمہ

عرفان حیدر


کتاب :.........................معاویہ جلد-1

مؤلف : آیت اللہ سید مرتضیٰ مجتہدی سیستانی

 ترجمہ : عرفان حیدر

نظر ثانی:........................سید ساجد رضوی ، زین العابدین علوی

کمپوزنگ : ..................  شاذان حیدر

ڈیزاین : ..........................  شایان حیدر

طبع: .  اوّل

تاریخ طبع :........................23 نومبر 2013 ئ

تعداد:. ............................2000    

قیمت: .............................250

ناشر.................................. الماس قم

مؤلف کی ویب سائیٹ :www.almonji.com

ہم سے رابطہ:info@almonji.com

ایمیل:irfanhaider014@gmail.com


انتساب

میں اپنی یہ ناچیز کاوش وارث علم کردگار، حامل علم رسول مختار، ناظر گردش لیل و نہار،

شیعیت کی محور و مدار، نور چشم صاحب ذوالفقار ، قائم آل محمد،

یوسف زہرا علیہا السلام، حضرت حجت عجل اللہ فرجہ الشریف کی پاک بارگاہ

میں پیش کر کے قبولیت کا متمنی ہوں۔


بسم الله الرحمن الرحیم

حرف مترجم

تاریخ میں کچھ ایسی شخصیات ہوتی ہیںکہ جن کی زندگی کا ہدف  و مقصد انسان کو سعادت تک پہنچانا ہے اور کچھ ایسے افراد بھی ہوتے ہیں جو شیطان کی نیابت میں  لوگوں کو ہلاک و گمراہ کرنے کا کام بطور احسن انجام دیتے ہیں۔

خدا وندعالم کی طرف سے معین کئے ہوئے الٰہی نمائندے، پیغمبر اوراہلبیت اطہار علیہم السلام  وہی شخصیات ہیں جنہوں نے اپنی بے مثال سیرت اور بے نظیر کردار کے ذریعہ انسانی معاشرہ کی دنیاوی و اخروی سعادت کی طرف ہدایت و راہنمائی کی۔

بیشک پیغمبراکرم(ص)  ایک نور تھے جو انسانوں کے تاریک قلب ودماغ میں چمکیاور معاشرے کو تہذیب وتمدن کا ایسا تحفہ پیش کیا جو آج تک تمام انسانی قوانین میں سب سے بہترین ہے اور ہر شخص اس بات کی تصدیق کرتاہے کہ اگر صرف مسلمان ہی رسول خاتم(ص) کی تعلیمات پر عمل کرتے اور اختلاف ، تفرقہ ، تعصب اور خود غرضی سے پرہیز کرتے تو یقینا  چودہ سو سال گذرجانے کے بعد آج بھی اس تہذیب وتمدن کے مبارک درخت سے بہترین ثمر تناول کرتے،لیکن افسوس صد افسوس کہ پیغمبر (ص) کی جانسوز اور دردناک رحلت کے بعد ظاہراً اسلام قبول کرنے والے کچھ مسلمانوں پر خود غرضی اور مقام طلبیحاکم ہو گئی اور وہ رسول (ص) کے بتائے ہوئے خدا ساختہ راستہ کو چھوڑ کر خود سا ختہ راستہ پر نکل پڑے    اور آجتک انسان اور بالخصوص مسلمان ان کے اس گناہ عظیم کی سزا بھگت رہے ہیں۔

لیکن خدائے عظیم نے ان کریم  ہستیوں کے ذریعہ ہر دور کے انسان کے لئے ہدایت کا سامان فراہم کیا ہے لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ انسان تعصب و تنگ نظری اور اپنے آباء و اجداد کی اندھی تقلید کو چھوڑ کرحقیقی معنوں میں منطقی طریقے سے تحقیق و جستجو کرے۔


 ان معصوم ہستیوں کیسیرت و کردارصرف اسی دور کے مسلمانوں کے لئے ہی اسوہ نہیںتھی بلکہ ان کی احادیث اور پیشنگوئیاں ہر دور کے مسلمان کے لئے ہدایت کا وسیلہ ہیں ۔ رسول اکرم(ص) اور امیر کائنات علی علیہ السلام نے اپنی پیشنگوئیوں کے ذریعہ مسلمانوں کو آئندہ کے واقعات و حادثات اور  اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کو نیست و نابود کرنے والے  شیطان کے نائبین خاص سے  آگاہ فرماتا کہ لوگ ان ظاہری مسلمانوں کے شرّ سے محفوظ رہیں۔

یہ کتاب بھی راہ حق  سے بھٹکے ہوئے سادہ لوح  افرادکے لئے نایاب تحفہ ہے جن کے لئے یہ چراغ راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔اس کتاب میں اسلام  کے سب سے بڑے دشمن بنی امیہ اور بالخصوص معاویہ کے خبیث چہرے سے پیغمبر(ص) کی احادیث اور پیشنگوئیوں کے ذریعہ  نقاب کشائی کی گئی ہیں تاکہ  ہمارے اہلسنت بھائی یہ جان لیں کہ وہ جسے اپنا خلیفہ مانتے ہیں وہ اسلام کے نام پر اسلام کو ہی مٹانے کے لئے کس حد تک کوشاں رہا۔

اور یقینا اس کار خیر کو انجام دینا مجھ  اکیلے کے بس کی بات نہیں تھی لہذا میں اپنے والدین، اساتید، بھائیوں اور دوستوں کا شکر گذار ہوں جنہوں نے اس کام میں میرے راہنمائی کی اور اپنے مفید مشوروں سے نوازا۔خداان کی توفیقات میں اضافہ فرمائے اور وقت کے ہادی، راہنما، یوسف زہرا،امام زمانہ(عجل الله تعالى فرجه ) کے ظہور میں تعجیل فرمائے۔

عرفان حیدر

قم المقدس ( ایران )


بسم الله الرحمن الرحیم

پیش گفتار

    ایک اہم نکتہ

    یہود و نصاریٰ پر فریفتہ ہونے کے بارے میں رسول اکرم(ص) کا سخت رو یّہ

    بے ایمانی، یہودیوں کے وحشی کردار کا راز

    یہودیوں کے بارے میں ''ہٹلر'' کی رپورٹ

    اس کتاب کے بارے میں

    معاویہ بروز غدیر


ایک اہم نکتہ

محققین جس بارے میں بھی تحقیق کریں اور جس موضوع کے بارے میں تحقیق کا آغاز کریں انہیں اس نکتہ کی طرف توجہ کرنی چاہئے کہ اس موضوع سے مربوط بہت سے تاریخی ،تفسیری اور فقہی حقائق مطالب پر دقّت اور غور وفکرکرنے سے ہی حاصل ہوتے ہیں ۔

مثال کے طور پر تاریخ اور تاریخ نگاری میں ہو سکتا ہے کہ بعض مؤرخین نے تاریخی حقائق کو واضح و آشکار طور پر بیان نہ کیا ہواور ممکن ہے کہ یہ ان حقائق سے لاعلمی کی دلیل ہو یا اس میںمؤرخین کے اغراض و مقاصدشامل ہوں ۔لیکن جو محققین اور اہل تحقیق تاریخ کے اوراق میں پوشیدہ حقائق سب کے آشکار کرنا چاہتے ہیں ،انہیں  چاہئے کہ ان مطالب کو عام سطحی نظر سے نہ دیکھیں بلکہ جو کچھ پڑھیں اس پر دقّت اور مکمل فہم و فراست سے غور وفکر اور تأمل کریں  تاکہ اس غور و فکر ور تدبّر کی وجہ سے تاریخ کے تاریک اور بیان نہ کئے گئے نکات کوواضح و روشن کرکے معاشرے کے لئے بیان کریں۔

اب ہم تاریخ کا ایک چھوٹا سا نکتہ بیان کرتے ہیں اور پھر ہم اس کی علت کے بارے میں جستجو کریں گے:

تاریخ میں  ذکر ہواہے :اسلام کی طرف مائل ہونے والے یہودی اور عیسائی عثمان کے زمانے تک اسے خلیفہ مانتے تھے حتی کہ جب عثمان کے گھر کا محاصرہ کیا گیا تو ان میں سے کچھ نے تو جانفشانی کی حد تک عثمان کا دفاع کیا لیکن عثمان کے قتل کے بعد ان میں سے بہت سے معروف افراد نے نہ صرف امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی اطاعت نہ کی بلکہ مدینہ کو چھوڑ کر شام میں معاویہ کے گرد جمع ہو گئے!

یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے تاریخ نے بیان کیا ہے اور ایسے ہی کچھ نمونے ہم نے اس کتاب میں ذکر کئے ہیں۔اب اس بارے میں غور و فکر کریں کہ ظاہری طور پر مسلمان ہونے والے یہ یہودی و عیسائی کیوں عثمان کی حمایت کرنے کے لئے تیار تھے؟اورانہوں نے کیوں  امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی حمایت نہ کی ؟اور کیوں انہوں نے شام جا کر معاویہ کی حمایت کی؟


کیا ان کے اس عمل کو اس چیز کی دلیل نہیں سمجھا جا سکتا کہ کہ وہ اپنے اہداف و مقاصد کے پیش نظر ظاہری طور پر مسلمان ہوئے اور عثمان کے گرد جمع ہو گئے؟عثمان نے ان کے لئے ایسا کیا کیا کہ مسلمانوں نے اسے یہودیوں کے قبرستان میں دفن کیا؟کیوں انہوں نے خاندان وحی علیہم السلام کا دامن نہ تھاما اور معاویہ کے پیچھے چل پڑے؟

ان امورپر غور کرنا اس حقیقت کو واضح کر دیتاہے کہ ظاہری طورپر مسلمان ہونے والے یہودیوں اور عیسائیوں کے ایک گروہ نے اسلام کو نقصان پہنچانے کے لئے معاویہ کو طاقت دی؟حتی انہوں نے عثمان کے قتل ہونے سے پہلے ہی معاویہ کو  خلیفہ کے عنوان سے واضح کر دیا تھا۔ان کے شام جانے کے بعد معاویہ نے انہیں قبول کر لیا اور ان میں سے بعض کو تو مسلمانوں کی سرپرستی کے لئے بھی منتخب کر لیا!!

ان کے مسلمان ہونے کے آثار میں سے ایک اسرائیلیات،خرافات اور جھوٹی حدیثیں گھڑنا تھا۔وہ ظاہری طور پر اسلام کا لبادہ اوڑھ کر ان امور کی ترویج کرتے تھے اور اسلام کے لئے درد دل نہ رکھنے والے خلفاء نے انہیں کھلی چھوٹ دے دی۔یہ ایسے افراد کے مسلمان ہونے کے عامل میں سے  ایک ہے۔

جی ہاں!انہوں نے اصحاب پیغمبر (ص) کے نام پر دین پیغمبرکو نقصان پہنچایا اوریہ نکتہ بہت ہی قابل غور ہے کہ عمر کے بہت سے رشتہ دار ایسے ہی افراد کے دوست اور ہم نشین تھے۔

کتاب''اسرائیلیات اور اس کے اثرات''میں لکھتے ہیں:

جو چیز اسرائیلیات اور اہل کتاب کے خرافاتی و جعلی قصوں کو پھیلانے میں مدد کرتی تھی وہ بعض یہودو نصارا علماء کا ظاہری اسلام لانا تھا کہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اور حتی کہ اصحاب پیغمبر(ص) کا لبادہ اوڑھ کر  وہ بڑی آسانی سے  اپنے بہت سے خرافاتی عقائد اور فکری رسومات کو روایات اور احادیث کے قالب میں مسلمان کے سپرد کرسکتے تھے اور اسلام کی شفاف فرہنگ کو اپنے مجعولات و توہمات سے آلودہ کر سکتے تھے۔


اہل کتاب میں سے اس مسلمان نما گروہ کی اسرائیلیات کو قبول کرنے کے عوامل میں سے ایک یہ بھی تھا کہ اکثر مسلمان انہیں رسول خدا(ص)کے اصحاب کے برابر شان و مرتبہ د یتے تھے اور ان کے لئے عزت اور تقرب کے قائل تھے حلانکہ کے وہ ان کی پست نیتوں سے بے خبر تھے۔امیر المؤمنین علی علیہ السلام اس مسلمان نما گروہ سے جعل حدیث کے موضوع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:''پیغمبر خدا(ص)سے حد یث نقل کرنے والا ایک گروہ ایسے منافقوں کا ہے کہ جو ظاہری طور پر تو اسلام لائے لیکن انہوں نے جان بوجھ کر پیغمبر اکرم (ص)ک ی طرف ججھوٹی نسبت دی ۔اگر لوگ جان لیتے کہ یہ جھوٹ بول رہے ہیں تو ان کی حدیث کو قبول نہ کرتے، لیکن لوگ کہتے ہیں :یہ رسول خدا(ص)کے اصحاب ہ یں ؛انہوں نے آنحضرت کو دیکھا ہے اور ان سے حدیث سنی ہے ،اس وجہ سے ان کی حدیث کو قبول کرتے ہیں ؛ حلانکہ خدا نے قرآن میں منافق صحابیوں کی صفات بیان کرکے ان کے جھوٹ کو بیان کیا ہے.....۔یہ جھوٹے منافقین پیغمبر اکرم(ص)کے بعد بھ ی زندہ رہے اور اپنے جھوٹ اور بہتان کے ذریعہ گمراہ رہبروں کے مقرب بن گئے اور ان رہبروں نے انہیں حکومتی منصب عطا کئے اور انہیں لوگوں پر مسلّط کر دیا اور ان کے ذریعہ اپنی دنیا کو آباد کیا ۔ لوگ اپنے حاکموں کے فرمانروا اور دنیا کے ساتھ ہیں،مگر ان حضرات کے علاوہ کہ جنہیں خدا محفوظ رکھے''(1) حضرت علی علیہ السلام کے اس فرمان کے لئے تاریخ اسلام میں متعدد اور واضح مثالیں موجود ہیں کہ جو مسلمان کے اصحاب کی صف میں بیٹھنے والے ایسے ہی اہل کتاب سے خوش بینی پر مبنی ہیں ؛حتی کہ بعض تاریخی منابع میں یہاں تک ذکر ہوا ہے:معاذ بن جبل نے حالت احتضار میں اپنے اطرافیوں کو تاکید کی کہ چار افراد سے علم حاصل کریں: سلمان،ابن مسعود ،ابو درداء اور عبداللہ بن سلاّم (جویہودی تھا اورپھر اس نے اسلام قبول کیاتھا)؛ کیونکہ میں نے پیغمبر(ص) سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا:وہ (یعنی عبداللہ بن سلاّم) ان دس افراد میں سے ہے جو بہشت الٰہی میں جائیں گے!(2) اس سے واضح اور صریح روایت  ہے: ایک شخص نے کسی مسئلہ کے بارے میں عبداللہ عمر سے پوچھا۔ جب کہ عبداللہ کے پاس یوسف نام کا ایک یہودی بیٹھا ہوا تھا،عبداللہ نے اس سے کہا:

--------------

(1):- نہج البلاغہ، خطبہ:201،اصول کافی:ج 1ص۱۰6-(2):- التفسیر المفسرون:ج1ص۱۸6،الصحیح من سیرة النبی الأعظم: ج۱ص۱۰6


یوسف سے سوال پوچھوکہ خدا نے ان کے بارے میں فرمایاہے:(فَاسْئَلُوا أَهْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاٰ تَعْلَمُوْنَ) (1)(2) اس واقعہ میں کچھ ایسے نکات ہیں جو قابل غور ہیں:

1۔ معاذ بن جبل(عمر کا دوست) نے کیوں عبداللہ بن سلاّم (جو یہودی سے مسلمان ہوا تھا) کا نام لیا لیکن امیر المؤمنین علی علیہ السلام کا نام نہ لیا جب کہ آپ ہمیشہ پیغمبر اکرم(ص) کے ساتھ ہوتے تھے؟! کیا یہودی سے مسلمان ہونے والا عبد اللہ بن سلاّم دینی عقائد و مسائل  امیر المؤمنین علی علیہ السلام (نعوذ بالله) زیادہ جانتا تھا؟!یا اس کی وجہ یہ تھی کہ عبداللہ بن سلاّم دین کے نام پر دوسرے مطالب بھی نادان اور لا علم مسلمانوں کے حوالہ کرتا تھا؟!

2۔ جب کسی مسئلہ کے بارے میں عبداللہ بن عمر سے سوال کیا تو اس نے کیوں یوسف نام کے ایک یہودی کی طرف رجوع کرنے کو کہا؟

3۔ کیوں عبداللہ بن عمر نے آیۂ شریفہ(فَاسْئَلُوا أَهْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاٰ تَعْلَمُوْنَ) کو یوسف اور اس جیسے دوسرے لوگوں پر تطبیق دی؟! حلانکہ شیعہ اور سنّی تفاسیر میں ہے کہ یہ آیت اہلبیت اطہار علیہم السلام کی شان میں ہے۔

4۔ کیوں عبداللہ بن عمر ایک یہودی شخص کا ہم نشین تھا اور اس نے کیوں اسے اتنا سراہا؟!

5۔عبد اللہ بن عمر نے یہودی سے ہم نشینی اور اسے سراہنا کس سے سیکھا؟کیا خود ہی اس کی ایسی عادت تھی؟کیا عمرکو اس کے اس عمل اور رویہ کا علم  تھا؟اگر وہ اس سے آگاہ تھا تو کیوں اسے اس کام سے منع نہ کیا؟ اگر عمر اس کے اس کام سے آگاہ  نہیں تھا تو جو مدینہ میں اپنے بیٹے کے کاموں سے آگاہ نہ ہو تو وہ کس طرح پورے ملک میں مسلمانوں کے امور سے باخبر ہو سکتاہے؟!! یہ واضح ہے کہ ان امور میںغور و فکر اور دقّت کرنے سے جستجو کرنے والوں کے لئے اہم مطالب آشکار ہوں گے۔

قابل توجہ ہے کہ رسول خدا(ص) نے تمام مسلمانوں کو اہل کتاب کی ہم نشینی سے منع فرمایا تھا۔

--------------

(1):- سورۂ انبیاء، آیت:7'' اگر تم نہیں جانتے تو اہل ذکر سے پوچھو''،الصحیح من سیرة النبی الأعظم   سے منقول: ج۱ص۱۰6

(2):- اسرائیلیات وتأثیر آن بر داستان ہای انبیاء در تفاسیر قرآن:47


 یہود و نصاریٰ پر فریفتہ ہونے کے بارے میں رسول اکرم(ص) کا سخت رویّہ

پیغمبر اکرم(ص) نے مسلمانوں کو اہل کتاب کی طرف رجوع کرنے ،ان سے سوال پوچھنے اور ان کی مسخ شدہ فرہنگ و ثقافت کے سامنےجھکنے سے منع فرمایاہے ۔اور جو لوگ اہل کتاب اور ان کی تحریف شدہ کتابوں کو احترام وتقدّس کی نظر سے دیکھتے تھے   آپ انہیں خبردار کرتے تھےکہ ظہور اسلام کے زمانے میں اسلام کی حیات بخش اور شفّاف تعلیمات کے ہوتے ہوئے ایسے عقائد کی کوئی جگہ باقی نہیں رہتی۔درج ذیل چند مثالیں آنحضرت(ص) کے موقف کو بیان کرتی ہیں:

تفسیر ''در المنثور'' میں بیان ہوا ہے کہ رسول اکرم (ص) کے کچھ صحابی تورات  میں  سے کچھ چیزیں لکھتے تھے ،یہ خبر رسول اکرم(ص) تک پہنچی تو آپ نے فرمایا:

بیوقوفوں  میں سب سے بڑے  بیوقوف اور گمراہوں میں سب سے بڑیگمراہ وہ لوگ ہیں جو پیغمبروں پر نازل کی گئی خدا کی کتاب سے روگردانی کریں اور ایسی کتابوں کی طرف مائل ہوں کہ جو خدا نے ان کے پیغمبر کے علاوہ کسی  دوسرے پیغمبر پر نازل کی ہواور اس امت کے علاوہ کسی اور امت کے لئے بھیجی گئی ہو۔

اسی واقعہ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی:

(أَوَلَمْ یَکْفِهِمْ أَنَّا أَنْزَلْنَا عَلَیْْکَ الْکِتَابَ یُتْلَی عَلَیْْهِمْ ِنَّ فِیْ ذَلِکَ لَرَحْمَةً وَذِکْرَی لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ) (1)(2)

 کیا ان کے لئے یہ کافی نہیں ہے کہ ہم نے آپ پر کتاب نازل کی ہے جس کی ان کے سامنے تلاوت کی جاتی ہے اور یقینا اس میںرحمت اور ایماندار قوم کے لئے یاددہانی کا سامان موجود ہے ۔

--------------

(1):- سورۂ عنکبوت، آیت:51

(2):- تفسیر الدر المنثور:ج 5ص148اور149۔ نیز ملاحظہ فرمائیں: تفسیر المیزان:ج16ص225


اکثر مفسرین کا یہ عقیدہ ہے کہ مذکورہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جنہوں نے گذشتہ کتابوں سے خرافات کے ساتھ ملے جلے مطالب لکھے اور ان پر اعتماد کیا لہذا خدا نے انہیں بتا دیاکہ ان کے لئے قرآن کافی ہے۔(1)

صاحب تفسیر ''کشف الأسرار''اس آیت کا شان نزول عمر بن خطاب کو قرار دیتے ہیں کہ جو پیغمبر اکرم(ص) کے سامنے تورات کے ایک حصہ کو پڑھنے میں مصروف تھا جس کی وجہ سے رسول خدا(ص) ناراض ہوئے اور اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی۔(3)(2)

--------------

(1):- دیکھئے: تفسیر التبیان:2188 اور تفسیر طبری:721

(2):- تفسیر کشف الأسرار: ج۷ص407 اور 408

(3):- اسرائیلیات وتأثیر آن بر داستان ہای انبیاء در تفاسیر قرآن:47


 بے ایمانی، یہودیوں کے وحشی کردار کا راز

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام نے کیوں مسلمانوں کو یہودیوں سے تعلق و واسطہ رکھنے سے منع کیا ہے اور حکم دیا ہے کہ ان سے دوری  اختیارکی جائے؟

اس سوال کے جواب میں ہم کہتے ہیں:انسان کابرے اور ناپسندیدہ کاموں سے بچنے کے اہم عوامل میں سے ایک خداوند کریم پر ایمان اور قیامت پر اعتقاد رکھنا ہے۔

اگر انسان خدا اور روز قیامت پر اعتقاد رکھتا ہو اور یہ جانتا ہو کہ انسان کے تمام اعمال ،کردار بلکہ کے تمام سوچ و افکار کے اثرات ہیں جو آئندہ اس کی طرف لوٹا دیئے جائیں گے لہذا وہ کوشش کرے گا کہ اس کے اعمال،افکار اور کردار ایسے ہوں کہ جواس کی ذاتی زندگی اور دوسروں کے لئے نقصان دہ اور منفی اثرات نہ رکھتے ہوں۔

گذشتہ لوگوں کی تاریخ کو ملاحظہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ تاریخ میں سب سے بڑے مجرم وہ لوگ ہیں کہ جو خدا اور قیامت پر ایمان نہیں رکھتے ۔اسی لئے انہوں نے تاریخ میں ایسے ایسیبرے اور وحشیانہ کام انجام دیئے ہیں اور انہوں نے نہ صرف اپنی زندگی کو تباہ کیا ہے بلکہ دنیا کے بے شمار لوگوں بھی تباہ و برباد کر دیا۔

 یہودی اپنی مخفی چالوں کے ذریعہ تاریخ کے واقعات پر اثرانداز ہوتے آئے ہیں اور اپنی مکاریوں سے لوگوں کی خواہشات کو پامال کرتے آئے ہیں ،یہ بھی ان لوگوں میں سے ہیں کہ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور اس سے مأیوس ہیں ۔

یہودی چونکہ صرف مادی دنیا پر ایمان رکھتے ہیں اور وہ اپنی تمام تر توانائیاں مادی دنیا کے حصول پر ہی خرچ کرتے ہیں اور اپنی اصلی ذمہ داری سے غافل رہتے ہیں۔اسی لئے تاریخ میں ملتا ہے کہ انہوں نے اپنی دنیاوی خواہشات کے حصول کے لئے وحشیانہ ترین اعمال انجام دیئے ہیں اور یہ بات مسلّم ہے کہ اگر وہ موت کے بعد کی دنیا پر ایمان رکھتے تو کبھی بھی ایسے ناپسندیدہ اور برے اعمال انجام نہ دیتے۔

قرآن کریم بھی ان کے آخرت پر ایمان نہ رکھنے کی تائید کرتا ہوئے فرماتا ہے:


(یَا أَیُّهَا الَّذِیْنَ آمَنُوا لَا تَتَوَلَّوْا قَوْماً غَضِبَ اللَّهُ عَلَیْْهِمْ قَدْ یَئِسُوا مِنَ الْآخِرَةِ کَمَا یَئِسَ الْکُفَّارُ مِنْ أَصْحَابِ الْقُبُورِ) (1)

اے ایمان والو! خبردار! اس قوم سے ہرگز دوستی نہ کرنا جس پر خدا نے غضب نازل کیا ہے کہ وہ آخرت سے اسی طرح مایوس ہوں گے جس طرح کفار قبر والوں سے مایوس ہوجاتے ہیں۔

یعنی قوم یہود (جو عذاب کی مستحق ہے)کو دوست نہ رکھیں اور اس کی مدد نہ کریں کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو آخرت میں کسی ثواب کی خواہش نہیں رکھتے ،اوروہ کافروں اور بت پرستوں کی طرح عالم   آخرت کے منکر ہیںاور یہ مطلب اعجاز قرآن کو بیان کر رہا ہے۔کیونکہ ان کی مذہبی تعلیمات میں بھی یہ بات مشہور ہے اور یہودیوں کے ہاتھوں میں موجود آج کی تورات میں بھی موت کے بعد کی زندگی کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔(2)

یہودیوں کا آخرت پر ایمان نہ رکھنا اس قدر مشہور ہے کہ اس بارے میںتحریر کرنے والے اکثر مصنّفین نے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ان میں سے ''ویل دورانت''لکھتے ہیں:

یہودی موت کے بعد کی دنیا پر ایمان نہیں رکھتے اور سزا و جزاء کو صرف اسی دنیا میں منحصر سمجھتے ہیں۔(3)

یہ واضح ہے کہ ایسے عقیدہ کا نتیجہ فساد ،بے راہ روی ، ظلم و ستم ، تباہی، گستاخی او ر دوسروں کے حقوق کو پامال کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہوگا۔اس بناء پر یہ کہا جا سکتا ہے :

بہت سی برائیاں اور خرابیاں قیامت پر ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے ہی وجود میں آتی ہیں۔

--------------

[1]۔ سورۂ ممتحنہ، آیت:13

[2]۔ عفیف عبد الفتاح، الیہود فی القرآن:7-36

[3]۔ ول وایریل دیورانت (منبع عربی):ج۲ص ۳۴۵


قیامت پر ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے یہودیوں کااصلی ہدف ومقصد دنیا اور مال و دولت کو جمع کرنا  ہے اور یہ اپنے مقصد تک رسائی  کے لئے کوئی بھی کام انجام دے سکتے ہیںحتی کہ یہ مختلف  چالوں کے ذریعہ ہزاروں بے گناہ لوگوں کوخطرے میں ڈال کر انہیں اخلاقی و معاشرتی برائیوں کی طرف دھکیلتے ہیں  اور اس طرح وہ نفسیات پر حاوی ہو کر انسان کی پاکیزہ فطرت،غیرت،مردانگی اور جوانمردی کو کمزور کرتے ہیں  اور ان کے اپنے سامنے قیام کرنے کے احتمال کو بھی ختم کر دیتے ہیں۔

مذکورہ بیان کی رو سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یہودی سربراہ اپنی تمام تر حیوانی اور بری صفات کی وجہ سے روئے زمین پر سب سے زیادہ خطرناک مخلوق بن چکے ہیں!(1)

یہودیوں کا خطرہ اس قدر سنگین ہے کہجس سے اکثر صاحب نظر اور فن کے ماہرین کو خدشہہ لاحق ہے یہاں تک کہ انگلینڈ کے ایک اخبار میں لکھا تھا:

دنیا کی تمام سیاسی اور مالی مشکلات اور جنگوں کے اخراجات یہودیوں نے فراہم کئے ہیں۔(2)(3)

--------------

[1]۔ پرتکل ھای دانشروان صھیون ،دنیا بازیچۂ یہود، السیرة النبویہ و....۔

[2]۔ ژرژ لامبلن، اسرار سازمان یھود:7، روزنامہ''Morning Post'' سے اقتباس

[3]۔ تحلیلی بر عملکرد یہود در عصر نبوی: 126


 یہودیوں کے بارے میں ''ہٹلر'' کی رپورٹ

''آدولف ہٹلر''لکھتا ہے:

 اپنی تحقیق کے دوران مجھے یہودیوں کے ایسے بہت سے ناموں کا پتہ چلا جو گندے اور آلودہ مواد بنانے کے کارخانوں میں عمل دخل رکھتے ہیں ۔اکثر نشہ آور گولیاں ،نقلی ادویات حتی کہ زہریلے کھانے بھی انہی کے ہاتھوں وجودمیں آتے ہیں۔

اس تحقیق  کا نتیجہ توقع سے بڑھ کر پریشان کن تھا ۔ اس کے بعد جب میں مزید متوجہ ہوا تو پتہ چلا کہ یہودیوں سے کارخانوں سے بننے والی اکثر اجناس گندی،غلیظ یا کم سے کم نقلی اور نقصان دہ ہیں ۔ یقینی طور پر %95 ادبی گندگی (جو نوجوانوں میں اخلاقی برائیوں ، ہنری پستی اور غیر اخلاقی نمائش کا باعث ہے)کا نظام ایسے لوگوں کے ہاتھوں سے چلایا  جا رہا ہے کہ جو ملک کی 1فیصد آبادی پر مشتمل ہیں اور کوئی بھی اس حقیقت کا انکار نہیں کر سکتا۔

ہر دن میرے لئے ایک نیا مسئلہ کشف ہوتا تھا جسے لکھنے کا نہ تو میں عادی تھا اور نہ ہی میں انہیں برداشت کر سکتا تھا اس لئے میں اپنے سامنے کے ان  ظاہری طور پر سادہ مسائل کو سمجھنے  کیلئے انہیں کئی بار پڑھنے پر مجبور تھاتا کہ اصلی مقصد کو کشف کر سکوں حلانکہ بیان ہونے والے یہ اکثر مسائل جھوٹے تھے.....۔

''دکھاوے کی تنقید اور وسیع پیمانے پر تعریف غالباً یہودیوں اور اس  مشینری کو چلانے والوں کے   اد میں ہوتی تھی''(1)

یہودیوں کے کام واضح طور پر یہ بیان کر رہے تھے کہ تخریب کاری کے سوا ان کے پاس کوئی کام نہیں ہے ۔یہ ایسے ہی تھا کہ جیسے وہ ایک مخصوص گروہ اورلوگوں کی طرف سے  مخفی طور پر مأمور ہوئے ہوں کہ تمام سیاسی اور معاشرتی پہلوؤں میں تخریب کاری کریں۔(2)(3)

--------------

[1]۔ آدولف ہٹلر، نبرد من: 41 -42

[2]۔ آدولف ہٹلر،نبرد من:43

[3]۔ تحلیلی بر عملکرد یہود در عصر نبوی: 113


ہٹلر( جو کہ خود بھی دنیا کے خونخوار افراد میں سے تھا)یہودیوں کے ظلم و ستم اور فسا د سے اتنا تنگ آچکا تھا کہ اس نے کہا:تخریب کاری کے سوا یہودیوں کا کوئی دوسرا مقصد نہیں ہے!

یہودیوں نے کرۂ زمین پر جو تمام فساد،تباہی و بربادی،ظلم و ستم اور انحرافات انجام دیئے ہیں ،وہ صرف یہودیوں کی خود غرضی اور خودبینی اور آخرت پر ایمان و یقین نہ رکھنے کی وجہ سے ہے!

یہ واضح ہے کہ جب یہودیوں کا سب سے بڑے جرائم اور برے سے برے اعمال کو انجام دینے کا معیار ان کی خود بینی اور خود غرضی کی حس ہو تو اس سے ان کا اخروی دنیا پرسے ایمان ختم ہو جائے گا۔صرف ہمارے زمانے میں ہی نہیں بلکہ گزشتہ صدیوں میں  بھی وہ جو جرم بھی کر سکتے تھے انہوں نے وہ جرم کیا۔

 انہوں نے ابتدائے اسلام سے ہی نہیں بلکہ رسول خدا(ص) کے مبعوث ہونے سے پہلے ہی اسلام اور پیغمبر اکرم(ص) کے خلاف سازشوں کے جال بننا شروع کر دیئے تھے اور انہوں نے اس پر عمل بھی کیا جس کے لئے بنی امیہ نے ان کی مدد اور خدمت کی۔نیز یہ بھی واضح ہے کہ ظہور اسلام کے ساتھ ہی ان کی سازشوں میں وسعت آگئی  اور اب جب کہ وہ یہ جان چکے ہیں کہ اسلام کی عالمی حکومت سے ان کی بے شرم حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا ،اس لئے وہ کسی بھی نئے خائن اور سازشی حربہ کو انجام دینے سے دریغ نہیں کریں گے۔

اس کتاب کے بارے میں

معاویہ اور بنی امیہ (جو ہزار مہینہ اقتدار کی کرسی پر قابض رہے) کے کارناموں کے تجزیہ و تحلیل اور ان کی تاریخ سے مکمل آشنائی کے لئے دسیوں جلد کتاب لکھنے کی ضرورت ہے۔ان کی حکومت میں ملک کی وسعت اور ان کے طولانی اقتدار نے ان کے رفتار و کردار کی فائل کو بہت وزنی بنا دیا ہے ۔ اس لئے حقیقت کے متلاشی اور واقعیت تک پہنچنے کی جستجو کرنے والا ہر شخص بنی امیہ کے کارناموںسے بہت ہی اہم نکات اخذ کر سکتا ہے جس سے ان کے رفتار و کردار کی ماہیت و کیفیت بخوبی واضح ہو جائے گی۔


اب جب کہ معاویہ کی حکومت اور اموی خاندان کو کئی صدیاں بیت چکی ہیں اور کروڑوں اہلسنت مسلمان اموی حاکموں کو رسول اکرم(ص) کے جانشین اور اسلام کے ولی کے طور پر پہچانتے ہیں !لیکن کیا حقیقت میں یہ لوگ امویوں کی سیاہ  کاروایوں سے آگاہ ہیں؟!

کیاوہ  جانتے ہیں کہ معاویہ اور اس کے جانشینوں کا تاریخ اسلام کو بدلنے میں کتنا اہم کردار ہے اور انہوں نے اپنے اہداف کے حصول کے لئے کس قسم کی سازشیں کیں؟!

کیا وہ جانتے ہیں کہ امویوں کی ہزار مہینہ پر مشتمل حکومت میں اسلامی معارف و عقائد کے ساتھ کیس سلوک کیا گیا؟!

کیا وہ جانتے ہیں کہ ابوسفیان،معاویہ اور ان کی حکومت کے بارے میں قرآن کی آیات نازل ہوئی ہیں؟

کیا وہ جانتے ہیں کہ اہلسنت کے مشہور علماء و دانشوروں نے اپنی کتابوں میں ان کے بارے میں  بہت سی اہم اور حقیقت کو واضح کرنے والی احادیث نقل کی ہیں؟!

کیا وہ جانتے ہیں کہ تاریخ میں بنی امیہ  کے کیسے کیسے شرمناک کام درج کئے گئے ہیں؟!

کیا وہ جانتے ہیں کہ انہوں نے اسلام کے نام پر مسلمانوں بلکہ انسانیت کی تاریخ کے راستے کو  کیسے بدل دیا اور اسے انحراف کی طرف لے گئے؟!

یہ واضح  ہے کہ جواپنے لئے گذشتہ لوگوں کی تاریخ کے دریچہ کھول کر کسی تعصب کے بغیر ہشیار اور خبردار کرنے والے نکات سے آگاہ ہیں،وہ جانتے ہیں کہ امویوں نے اسلام کے نام پر خدا اور خاندان وحی علیہم السلام کے آئین کے خلاف کیسے جدوجہد کی۔

ہم نے یہ کتاب ایسے افراد کی مزید آگاہی اور جوحضرات ان واقعات سے مطلع نہیں ہیں ، انہیں ان سے آشنا کرنے کے لئے تألیف کی ہے اور اسے عام لوگوں کے لئے پیش کیا ہے تا کہ سب لوگ بنی امیہ کے شرمناک اہداف و مقاصد سے آشنا ہوں اور وہ یہ جان لیں کہ بنی امیہ کس طرح خلافت کی کرسی پر قابض ہوئے اور انہوں نے کس طرح امت کی رہبری حاصل کی !اور اسلام کی جڑوں پر کیسی کیسی کاری ضربیں لگائیں!


اب شیعہ عقائد کے حقائق کی نورانیت سے دنیا کے بے شمار لوگوں نے اسلام کا رخ کیا ہے اور اب وہ یہ جاننا چاہتے ہیں اسلام کے نام پر وجود میں آنے والے فرقوں میں کون سا فرقہ حقیقت پر مبنی ہے اور کون سا راستہ انحراف و گمراہی کی طرف لے کر جاتا ہے۔

یہ کتاب''معاویہ''مذہب حقہ کے انتخاب کے سلسلہ میں بخوبی ان کی راہنمائی کر سکتی ہے اور نہ صرف معاویہ بلکہ اہلسنت کا بھی تعارف کروائے گی کہ جو معاویہ کی پیروی کرتے ہیں اور اسے اپنا رہبر و پیشوا سمجھتے ہیں۔

اسی طرح یہ کتاب بہت سے اہلسنت حضرات کی رہنمائی کے لئے بھی اہم ہے جو شیعہ عقائد سے آشنا ہوئے ہیں لیکن ابھی تک شکو ک و شبہات کا شکار ہیں۔یہ کتاب باطل راستے کا تعارف کراتی ہے جس کے نتیجہ میں راہ حق کو آشکار کرتی ہے۔

دین کے انحراف میں معاویہ کے کردار اور رسول خدا(ص) کے ساتھ اس کی مخالفت کی کوششوں کو جاننے کے لئے ہم یہ اہم رپورٹ پیش کرتے ہیں لیکن اسے پوری توجہ سے مطالعہ کریں:

  معاویہ بروز غدیر

غدیر کے دن ایک لاکھ بیس ہزار مسلمانوں نے حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی بیعت کی اور خداوند متعال کے حکم کی اطاعت کی حتی کہ امام علی علیہ السلام کے دشمنوں میں سے سب سے بڑے دشمن ابوبکر اور عمر نے بھی آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور اگرچہ انہوں نے ظاہری طورپر آنحضرت کی ولایت کو قبول کر لیا اور جیسا کہ اہلسنت علماء لکھتے ہیں:عمر نے کہا:''بخّ بخّ لک یا علی''۔عورتوں نے بھی بیعت کی اس تقریب میں شرکت کی اور پانی کے ایک  ایسے برتن میں اپنا ہاتھ رکھکر آنحضرت  کی بیعت کی جس میں حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کا دست مبارک تھا اور یوں انہوں نے آپ کی ولایت کو قبول کیا۔

اپنے وطن لوٹنے کے بعد مسلمانوں نے اپنی اقوام اور دوستوں سے غدیر کے دن کی بیعت کا واقعہ بیان کیا اور سب نے آنحضرت کی ولایت کو قبول کیا۔ حتی کہ جو لوگ باطنی طور پرمخالفت تھے انہوں نے ظاہری طور پر رضا مندی کا اظہار کیا اور پوری امت نے حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی ولایت کو قبول کرنے (اگرچہ ظاہری طور پر ہی سہی) کے لئے شرکت کی۔


اس بناء پر غدیر کی جاودانہ عید کے دن تمام مسلمانوں اور حتی کے تمام منافقوں نے بھی رسول خدا(ص) کے بعد حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام کو امت کی سرپرستی کے لئے ضروری سمجھا اور اسے تسلیم کیا۔

اس دوران صرف ایک شخص  مخالفت کے لئے اٹھا اور اس نے اسی دن اپنی مخالفت کا اظہار کرتے ہوئے پیغمبر اسلام(ص)  کو جھٹلانا شروع کر دیا اور پوری امت کے سامنے اپنے کفر و نفاق کو واضح و ثابت کر دیا اور وہ شخص معاویہ کے علاوہ کوئی اور نہیں تھا۔

اہلسنت علماء نے لکھا ہے کہ غدیر خم میں معاویہ تنہا ہی خدا ،رسول خدا(ص) ، ولی خدا   ،حکم خدا  اور پوری امت کے مقابلہ میں کھڑا ہوا اور اس نے  رسول خدا(ص)کے فرمان کو -نعوذ باللہ-جھٹلایا اور اسے رد ّکیا۔

اس حقیقت کو اہلسنت کے چند علماء نے لکھا ہے اور یوں اس کے کفر کو ثابت کیا ہے۔

اگرسقیفہ  میں بیٹھنے والوں نے رسول خدا(ص) کی شہادت کے ستر دن بعد واضح طور پر حکمخدااور رسول (ص) کی وصیت کی مخالفت کی لیکن  معاویہ نے پہلے دن ہی سے غدیر خم میں خدا،رسول خدا(ص)،ولی خدا اور حکم خدا کا انکار کیا۔

معاویہ نے اس پر اتنا زور دیا کہ اہلسنت مفسّرین کے مطابق اس کے برے عمل اور ناقابل  معافی گناہ کے بارے میں کئی آیات نازل ہوئیں۔

اے کاش! دنیا کے مسلمان ابتدائے اسلام سے اب تک ان حقائق سے آشنا ہوتے جن کے نتیجہ میں انہیں معاویہ کی صحیح اور مکمل شناخت ہوتی۔لیکن افسوس کہ علم کی کمی اور اسلامی حقائق سے آشنا نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے مسلمان گمراہی میں مبتلا رہے ، جیسے انہیں ضروری اور واضح حقائق کی بھی خبر نہ ہوجس کی وجہ سے وہ آب اور سراب میں تشخیص نہ دے سکے۔

شیعہ اور اہلسنت  مفسرین نے کہا ہے کہ سورۂالقیامة کی کچھ آیات معاویہ کے برے اعمال کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جو اس کے کفر کی واضح دلیل ہے۔خداوند کریم نے سورۂالقیامة میں ارشاد فرمایا ہے:


(فَلاَ صَدَّقَ وَلَا صَلَّی وَلَکِنْ کَذَّبَ وَتَوَلَّی.ثُمَّ ذَهَبَ ِلَی أَهْلِهِ یَتَمَطَّی ) (1)(2)

اس نے نہ کلام خدا کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی،بلکہ تکذیب کی اور منہ پھیر لیا،پھر اپنے اہل کی طرف اکڑتا ہوا گیا۔اس اہم نکتہ پر توجہ کریں: تصدیق نہ کرنا،نماز نہ پڑھنا، جھٹلانا اور روگردانی کرنا یہ سب کفار کے کام ہیں ۔ لیکن ان سب کے باوجود معاویہ اپنی ان کفر آمیز کرتوتوں پر نہ ہی توپشیمان اور شرمندہ تھا بلکہ وہ یہ کفر آمیز باتیں کہنے کے ساتھ ساتھ ان پر فخر بھی کرتا ۔اگرغدیر کے دن عمر،ابوبکر،مغیرہ وغیرہ میں رسول اکرم(ص) کی مخالفت و گستاخی کی طاقت نہیں تھی لیکن معاویہ نے نہ صرف آنحضرت(ص) کی مخالفت کی بلکہ اس کے علاوہ تکبرانہ انداز میں فخر کرتے ہوئے انتہائی نازیبا کلمات کہے اور رسول اکرم(ص) اور مسلمانوں کے سامنے اسے کسی قسم کی شرم و حیاء نہ آئی!!!جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ انسان کے اعمال اور رویہ اس کی ذات اور باطن کی عکاسی کرتے ہیں ۔جس انسان کی ذات اور باطن پاک ہو گا وہ برے اور ناپسندیدہ کام انجام نہیں دے گا اور جس کی ذات اور باطن برا ہو،وہ برے اعمال و گفتار کا مرتکب ہو گا۔معاویہ کی بھی ذات اور باطن ناپاک تھا کیونکہ وہ جگر خور ہند کا بیٹا تھا اور اس کی ماں فاحشہ کے طور رپر مشہور تھی۔معاویہ نے برے اور نازیبا کلمات بھی کہے اور بڑے ناز سے فخر کرتے ہوئے خدا اور خدا کے رسول(ص)  کو جھٹلایا۔یہ واضح سی بات ہے کہ ایسی گستاخ شخصیت کے مالک انسان-حتی کہ جو خدا اور رسول خدا(ص) کے سامنے بھی گستاخی کرے- کے چہرے کو چند صفحات پر مشتمل ابحاث سے بے نقاب نہیں کیا جا سکتا۔بلکہ ایسے شخص کے کارناموں سے مکمل آگاہی کے لئے اس کے اجداد اور حسب و نسب سے بھی آگاہ ہونا ضروری ہے۔اسی لئے ہم نے اس کتاب میں خاندان بنی امیہ کے حسب و نسب کے بارے میں بھی بحث کی ہے تا کہ معاویہ کے ماضی اور اس کے بد کردار ہونے کے راز سے پردہ اٹھایا جا سکے۔ہم امید کرتے ہیں کہ قارئین کرام کسی بھی طرح کے تعصب کے بغیر اس کتاب کو غور و فکر اور دقّت کے ساتھ پڑھیں گے تا کہ بہت سے حقائق کو جاننے کے لئے راستہ کھلے اور انہیں اہم اور مؤثر  نکات سے آشنا کرے۔

وما توفیق الّا باللّٰہ

سید مرتضیٰ مجتہدی سیتانی

--------------

[1]۔ سورۂ القیامہ، آیت:33-31

[2]۔ شواہد التنزیل:3902 اور 391 روایت 1040 اور 1041۔قرآن کریم میں معاویہ کے بارے میں نازل ہونے والی متعدد آیات ہیں جنہیں شیعہ و سنی مفسرین نے اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے ۔ہم معاویہ کے بارے میں آیات کو''معاویہ، قرآن کی نظر میں''کی بحث میں بیان کریں گے۔


 پہلاباب

بنی امیہ کے یہودیوں سے تعلقات

    بنی امیہ کے یہودیوں سے تعلقات

    یہودیوں کا مسلمانوں کے درمیان انحرافی افکار پھیلانا

    اسلام کومٹانے کے لئے یہودیوں کی ایک اور سازش

    یہودیوں کا امویوں کی حمایت کرنا

    ''گلدزیہر''وغیرہ کے نظریات کا تجزیہ و تحلیل

    حجّاج؛ یہودی افکارپھیلانے والا

    یہودیوں کی قوم پرستی

    امویوں کی قوم پرستی

    یہودیوں کی بے راہ روی اور ان کی اسلام سے دشمنی

    پیغمبر اکرم(ص) کو زہر دینا

    یہودی یا یہودی زادوں کے ہاتھوں اسلام کے کچھ بزرگوںکی شہادت

    یہودیوں کی سازش سے بنی امیہ کے ہاتھوں اسکندریہ کے مینار کی بربادی

    مسلمانوں میں اختلاف ایجادکرنے کے لئے یہودیوں کی سازش


بنی امیہ کے یہودیوں سے تعلقات

یہودیوں کی ایک اور اہم سازش جو انہوں نے غیر مسلمانوں کو مسلمان ہونے سے روکنے اور مسلمانوں کے درمیان تفرقہ و اختلافات ایجاد کرنے کے لئے کی، وہ مسلمانوں کے صحیح عقائد میں شکوک و شبہات پیدا کرنا تھا۔

گذشتہ کئی صدیوں سے اب تک جتنا ممکن ہو سکا انہوں نے اسلامی عقائد میں شکوک و شبہات پیدا کرکے لوگوںکو عالمی دین اسلام کی طرف راغب ہونے سے روکا ہے۔یہ وہی سازشیں ہیں کہ دسیوں سالوں سے وہابیت نے اس پر عمل پیرا ہو کر اسلام میں نو سازی و ترمیم کے نام پرغیر مسلمانوں کو اسلام کی طرف مائل ہونے سے روکا ہوا ہے۔یہ واضح ہے کہ مسلمانوں میں شکوک و شبہات پیدا کر کے یہودیوں نے نہ صرف کچھ مسلمانوں کو دین سے ناامید کیاہے بلکہ دوسروں کو اسلام کی طرف آنے سے روکا ہے جس کے نتیجہ میں انہوں نے اختلاف و تفرقہ پیدا کرکے اپنے ظالمانہ تسلّط کو جاری رکھا ہوا ہے اور لوگوں پر حکومت کررہے ہیں۔کتاب ''تحلیلی بر عملکرد یہود در عصر نبوی''میں لکھتے ہیں:

  یہودیوں کا مسلمانوں کے درمیان انحرافی افکار پھیلانا

یہودیوں کے جرائم کے بہت زیادہ اثرات و نتائج ہیں لیکن ان میں سے ایک اہم ترین اثر ثقافتی  اور عقیدتی تخریب کاری ہے ۔ جس کا سبب مسلمانوں کے درمیان شبہات،بعض باطل افکار اور خرافات پھیلانا ہے۔

انہوں نے اس وقت رسول خدا(ص) کی مخالفت کی بنیاد رکھی اورتورات میں تحریف کے ذریعہ  شکوک وشبہات پیدا کئے اور بعض جھوٹی روایات نقل کیں،پھر انہیں یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان ترویج دیا ۔ان کا یہی ناپسندیدہ عمل یہودی عوام حتی کہ بعض مسلمانوں کی گمراہی کا بھی باعث بنا اور انہیں دوراہے پر کھڑا کر دیا۔ اس بناء پر یہودی سربراہوں کی طرف سے شبہات اور انحرافی افکار پھیلانے سے ذہنوں پر بہت ہی تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ان شبہات کو لوگوں کے افکار سے اتنی آسانی سے مٹاناممکن نہیں ہے۔


یہودیوں کی مخالفانہ کاروائیوں میں سے روایات میں اسرائیلیات کو داخل کرنا ہے جب کہ ان میں سے اکثر جعلی اور جھوٹی تھیں اور اسلام کے خلاف ثقافتی اور عقیدتی سازشیں بھی اسی کا حصہ ہیں تا کہ اس کے ذریعہ  اسلام کی عظمت کو کم کرسکیں  اور اسے انسانی معاشرے میں غیر معقول شکل میں پیش کریں اور اس کی بڑھتی ہوئی ترقی کو روک سکیں۔

مگر افسوس کہ وہ اس پس منظر میں دھوکہ اور فریب سے داخل ہو ئے اور جتنا ہو سکاانہوں نے کامیابی سے عمل کیا اور مخصوص افراد کے ذریعہ گمراہ کرنے والے افکار ،یہودی عوام حتی کہ مسلمانوں میں بھی پھیلائے اور انہیں  شبہات کے سمندر میں  غرق کیا۔

اس بناء پر اگر رسول اکرم(ص) مسلمانوں کو اہل کتاب کی طرف رجوع کرنے اور ان کی کتابوں سے استنادکرنے سے منع کریں(1) تو یقینا اس میں حکمت ہے اور یہودیوں کی طرف سے شامل کی گئی چیزیں اس کی واضح دلیل ہیں۔خاص طور پر جب عمر بن خطاب نے یہودیوں کی کتاب سے استفادہ کیا تو  رسول اکرم (ص) کا اس کے ساتھ سخت رویہ اس بات کا شاہد ہے۔

--------------

[1]۔ تفسیر القرآن العظیم0ابن کثیر): ج۲ص۴6۷

عمربن خطاب کا اہل کتاب سے رشتہ اور اس کے ساتھ رسول اکرم(ص) کے  روّیہ کے بارے میں روایت نقل کرتے ہیں۔وہ کہتا ہے:میں نے یہودیوں سے کچھ مطالب پوچھے اور لکھے اور انہیں ایک جلد میں رکھ کر لایاتو رسول اکرم(ص) نے پوچھا:اے عمر تمہارے ہاتھ میں کیا ہے؟

میں نے جواب دیا:اس میں ایک تحریر ہے جو میں نے یہودیوں سے اخذ کی ہے تا کہ اپنی معلومات میں اضافہ کر سکوں!!

پیغمبر اکرم(ص) اس طرح ناراض ہوئے کہ آپ کا چہرا سرخ ہو گیا ،پھر آپ نے تمام مسلمانوں کو جمع کیا اور فرمایا:

اے لوگو!تمہیں زندگی میں جن مسائل،احکام اور اخلاق کی ضرورت تھی ،میں نے وہ سب خوبصورت اور مختصر شکل میں بغیر کسی آزردگی  کے تمہارے لئے بیان کئے  جو سب واضح و روشن ہیں۔پس گمراہ نہ ہوجاؤ اور گناہ و معصیت نہ کرو ،نیز کوئی پست اور گناہگار انسان بھی تمہیں دھوکہ نہ دے۔

پس میں کھڑا ہوا اور میں نے کہا:میں راضی ہوں کہ خداوند متعال میرا ربّ،اسلام میرا دین اور آپ میرے نبی ہوں!!


افسوس کہ یہودیوں کے ساتھ اس کے اسی رشتہ نے اپنے اثرات دکھائے اور پیغمبر اکرم(ص) کی حیات کے آخری دنوں میں اسلام اور اسلامی سرزمین کی وسعت کے باوجود مسلمانوں کے درمیان یہودیوں کی خرافات نے انتشار پیدا کر دیا اور کعب الأحبار،عبداللہ بن عمرو بن عاص اور ابوہریرہ جیسے افراد نے اس میں حصہ دار تھے۔جیسا کہ عمر بن خطاب نے بھی اس زمانے میں ''تمیم بن اوس''کو اجازت دی کہ وہ مسجد نبوی میں لوگوں کے سامنے برملا اپنے قصہ اور نتائج بیان کرے  ،جب کہ وہ خود کعب الأحبار کے قصہ سنا کرتاتھا۔(1) اس بناء پر عمر کی تائید سے مساجدمیں  قصہ  گوئی رائج ہو گئی اور انہی قصہ کہانیوں  کے ذریعہ لوگوں کے درمیان خرافات اور جھوٹ عام ہوا ۔

چونکہ عوام الناس کو حیرت انگیز چیزوں میں دلچسپی  ہوتی ہے ،اس لئے وہ قصہ کہانیاں سنانے والوں کے اردگرد جمع ہو جاتے تھے اور ان کی جھوٹی باتیں سنتے تھے ،اس طرح سے انہوں نے لوگوں میں اسرائیلیات کو عام کر دیا۔

ڈاکٹر ابو شبہہ کہتے ہیں:قصہ  گوئی کی بدعت عمر بن خطاب کے آخری زمانے میں شروع ہوئی اور پھر اسے ایک فن کے طور پر پیش کیا جانے لگااور اس میں ایسی چیزیں داخل ہو گئیں جو علم و اخلاق کے شایان شان نہیں ہیں۔(2)

اس بناء پرلوگوں میں اسرائیلیات اور انحرافی افکار کو پھیلانے میں یہودیوں کی سازشیں اور عمر بن خطاب کا ان کی حمایت کرنا اور قصہ  گوئی کو عام کرنا(جب کہ وہ قصہ کہانیاں بھی مکمل طور پر اسرائیلیات اور خرافات میں سے تھیں)مسلمانوں کے درمیان انحرافی افکار اور گمراہ کن شبہات کو پھیلانے کا باعث بنا۔جس کی بدولت بہت سے غیر مناسب اثرات سامنے آئے ۔انہی کاموں کی وجہ سے بہت سے اہل کتاب اپنی گمراہی و ضلالت پر باقی رہے اور کچھ کمزور ایمان والے مسلمان بھی راستہ سے بھٹک گئے۔اس روسے ہر زمانے میں  نامناسب اور گمراہ کرنے والے افکار کی ترویج  کے اثرات نقصان دہ ہی ہوتے ہیں اور اس زمانے میں یہودی اس مسئلہ

--------------

[1]۔ التفسیر المفسرون فی ثوبة القشیب:ج۲ص۱۲۲

[2]۔ اسرائیلیات والموضوعات فی  کتب التفسیر:89 اور 123


سے آگاہ تھے لہذا انہوں نے لوگوں میں شبہات پھیلانا شروع کر دیئے ،ان کے اس ناجائز کام کے بہت مضر اثرات تھے ۔ان میں سے ایک یہ تھا کہ پیغمبر اکرم(ص) نے اپنی زندگی کا زیادہ وقت ان شبہات کو رد ّکرنے میں صرف کیا۔(1) ایک انتہائی اہم نکتہ کہ جس کے بارے میں اہلسنت حضرات کومکمل طور پر سوچنا چاہئے -جیسا کہ ان کے مشہور علماء نے بھی اپنی کتابوں میں لکھا ہے -اوروہ نکتہ یہ ہے :عمر لوگوں کی پیغمبر اسلام(ص) کی احادیث لکھنے اور ان کے بارے میں گفتگو کرنے سے روکتا تھااور کہتا تھا:رسول خدا(ص) کی احادیث کو نقل کرنا،لوگوں کا خدا کی کتاب سے غفلت اور اسے اہمیت نہ دینے کا باعث بنے گا!

اگرعمر کا لوگوں کو احادیث نقل کرنے سے روکنے کا مقصد یہ تھا کہ لوگ قرآن کی طرف توجہ کریں  تو پھر کیوں اس نے لوگوں کو قصہ گوئی اور اسرائیلیات بیان کرنے سے منع نہیں کیا؟بلکہ اس نے توتمیم بن اوس جیسے شخس کو اجازت دی کہ وہ مسجد نبوی میں لوگوں کے سامنے اپنے قصہ بیان کرے!اور یہ صورت حال ایسے ہی جاری رہی یہاں تک کہ  ڈاکٹر ابو شبہہ کے مطابق عمر کے آخری زمانے میں قصہ گوئی کا باقاعدہ آغاز ہوا اور  پھر اسے بعض افراد نے ایک فن اور پیشہ کے طور پر اخذ کیا!

اگر رسول اکرم(ص) کے مطالب اور احادیث قرآن سے دوری کا باعث بنتی ہیں تو کیا عمر کا یہودیوں کے مطالب کو جمع کرنا ،قرآن کی طرف توجہ نہ کرنے یا کم توجہ کرنے کا باعث نہیں تھا؟!!!

جی ہاں!راہ حق ہمیشہ واضح و روشن تھی اور ہے لہذا اہلسنت کو چاہئے کہ وہ جس راہ پر چل رہے ہیں اس پر غور کریں ،خاص طور پر ان کے جوانوں کوزیادہ تفکّر کرناچاہئے جو کہ زیادہ روشن فکر ہیں تا کہ مکمل ہوشیاری کے ساتھ جس چیز کا یقین ہو جائے ،اسے حاصل کریں۔

--------------

[1]۔ تحلیلی بر عملکرد یہود در عصر نبوی:148


  اسلام کومٹانے کے لئے یہودیوں کی ایک اور سازش

افسوس کہ پیغمبر اکرم(ص) کی احادیث کو تدوین کرنے سے منع کرنا اسی مرحلہ پر اختتام پذیر نہیں ہوا بلکہ یہودیوں نے اپنے ظاہری اور مخفی  ہتھکنڈوں سے رسول خدا(ص) کی اب تک باقی بچنے والی حدیثوں کو جھٹلایا اور انہیں پیغمبر(ص) کی رحلت کے بعد کی صدیوں میں بناوٹی حدیثیں قرار دیا۔

یہودیوں کے کارندوں کا یہ دعویٰ مسلمانوں کا رسول اکرم(ص) کے فرموات سے روگردانی کرنے کا باعث بنا ۔

اب اس رپورٹ پرمکمل غور کریں:کچھ عرصہ پہلے ایک ہنگری نژادیہودی محقق ''ایگناز گلدزیہر''(Ignaz Gold Ziher ) نے Muhammedanische Studien   کے نام سے اپنی کتاب کی دوسری جلد لکھی اور اس میںایسی اسلامی روایات و احادیث کا تجزیہ کیا جس کے بارے میں وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ کلام، عقائد اور پیغمبر اکرم(ص) کے شخصی کردار کے بارے میں ہیں۔وہ معتقد ہیں کہ مطلق طور پر ان  احادیث کا پیغمبر (ص) کی حیات میں کوئی بنیادی کردار نہیں ہے بلکہ زیادہ سے زیادہ یہ آٹھویں اور نویں صدی عیسوی میں وجود میں آئیں جواسلام کی وسعت کے زمانے میں پیش آنے والے  مسائل کی عکاسی کرتی ہیں ،یعنی پیغمبر اکرم(ص) کی رحلت کے بعد کی ایک صدی یا اس سے کچھزیادہ مدت کے دوران۔

''گلدزیہر''کے نظریہ کی بناء پر جب بھی مسلمانوں کے درمیان کوئی سیاسی،مذہبی یا حقوقی اختلاف رونما ہوتا تو کئی حدیثیں وجود میں آجاتیں اور طرفین اپنے عقائد کا دفاع کرنے کے لئے پیغمبر اکرم(ص) سے نسبت دی گی احادیث کا دامن تھامتے۔انہوں نے اپنی مباحث میں کچھ اسناد کا تجزیہ کیا اور بنی امیہ کے طرفداروں اور ان کے مخالفوں کے نظریات کا جائزہ لیا۔

  یہودیوں کا امویوں کی حمایت کرنا

انہوں نے یہ  کہا:اس زمانے میں دوسری تبدیلی مسلمانوں کی روائی سنت کے خلاف تنقیدی رویہ تھا جو امویوں کی کامیابی کا مثبت طور پر تعین کرتا تھا۔


ولہاوزن کے مطابق امویوں کی کامیابی ایک سلطنت کے قیام کے لئے تھی اور اسے انتظامیہ کی مدد سے چلانا لائق تحسین تھا۔''ہینری لامنز بلژکی''  کی تحریروں میں یہ تحسین اور زیادہ نکھر جاتی ہے۔

''لامنز''(Lammens) امویوں کو شام میں  عرب کی ملّی حکومت کا بانی سمجھتے ہیں اور اسے اسلام کے زیر تسلّط نہ جانے کی وجہ سے ایک طاقتور اور کامیاب حکومت قرار دیتے ہیں۔ اپنے آبائی ملک سے عشق و محبت کی وجہ سے اس مہاجر مؤلف نے اپنے علم و دانش کو عربی منابع کے مطالعہ میں استعمال کیا اور اپنی چاہت کے مطابق اموی حکومت کا بہت ہی مناسب چہرا  دکھایا۔(انہوں  نے اپنی تحریروتألیف کا زمانہ لبنان میں گذاراجو تاریخی اعتبار سے شامِ کبیر کا ایک حصہ  شمار کیا جاتا تھا)۔حقیقت میں ان کا کام یہ تھا کہ مختلف منابع میں امویوں کے دفاع میں مطالب جمع کریں اور اسے اسلام کی روائی سنت کے خلاف چھپے ہوئے عام تعصب کو حربہ کے طور پر استعمال کریں۔مجموعی طور پر تقریباً کچھ عرصہ پہلے تک غربی محققین اسی طرح ان دو رویوں پر ہی عمل پیرا رہے اور گلدزیہر،ولہاوزن،لامنزاور ان کے کچھ معاصرین جیسے ''ک.ھ بکر''اس سے آگے نہیں بڑے۔

1940ء کی دہائی کے آخر میں امریکی محقیق D.C Dennett نے طیارے کے حادثہ میں اپنی موت سے کچھ دن پہلے کہا تھا کہ ولہاوزن کے تجزیہ کے مطابق امویوں کے ٹیکس کے نظام پر اعتراض اور اشکال وارد ہوتاہے اور جو عباسی انقلاب کی اصطلاح کے بارے میں تجزیہ پر دلالت کرتا ہے۔دوسرے محققین نے امویوں کے زوال کے بارے میں ولہاوزن کے نتائج پر تنقید کی ہے اور وہ معتقد ہیں کہ اس نے حد سے زیادہ  عربوں کی حیثیت اورہاشمی تحریک میں ایرانی سربراہوں کے کردار پر زور دیا ہے۔اور اسی تاکید سے ایک برعکس تاکید وجود میں آئی کہ جو اسلامی تاریخ میں عربوں کی اہمیت کا بیان کرتی ہے ۔اس کی تائید کے لئے ''م.آ.شبان'' کے آثاربطور نمونہ پیش کیا۔ان سب تنقیدوں کے باوجود ولہاوزن نے اموی تاریخ میں جو عمارت تعمیر کی وہ وسیع  بنیادوں پر آج بھی قائم ہے ۔لیکن پھر بھی اس کے منابع میں تجزیاتی روش کو ناکارہ بلکہ شبہہ آمیز سمجھا گیا ہے اور اسے قابل اعتراض قرار دیا گیا ہے۔کچھ دانشورکو اس بارے میں شک و شبہ ہے کہ کیا اموی دور کے بارے میں کوئی تفصیلی تاریخ لکھی جا سکتی ہے۔


اس سے پہلے 1950ء میں تاریخ صدر اسلام کے مرجع کے عنوان سے مسلمانوں کی روائی سنت پر کلی شکایت کی گئی  جس پر گلدزیہر نے اپنے آثار میں مہر تائید ثبت کر دی اور بعد میں اس کے شاگرد ''جی.شاخت''نے زیادہ شدت کے ساتھ اپنے استاد کے فکری سفر کو جاری رکھا۔

''شاخت ''نے اسلامی شریعت کے مآخذکے بارے میں تاریخی تحقیقات کے بعد دعویٰ کیا کہ  اسے اپنے استاد کے نظریات کی تائید میں بہت سے شواہد ملے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ اسلامی روایات پیغمبر(ص) کی رحلت کے بعد کے زمانے میں وجود میں آئی ہیں  اور ان سب سے بڑھ کران کی تشکیل پر قانونی تنازعہ اثرانداز ہوتا ہے۔!!

پھر کچھ ایسے لوگ بھی پائے گئے جنہوں نے ''شاخت''کی تحقیقات کی مدد سے سنت روائی میں تاریخ صدر اسلام کی تحقیقات پر حملہ کیا۔

1973ءمیں''آ.نت''نےUntersuchungen Quellenkritischeکے نام سے اپنی ایک کتاب شائع کی جس میں اس نے منابع کا تجزیہ کرنے والی ولہاوزن کی بنیاد پر اعتراض کئے۔اس نے اس بات پر زور دیا کہ تاریخی روایات کو جمع اور منتقل کرتے وقت انہیں پھر سے نئی طرز پر لکھا گیاحتی کہ ابتدائے اسلام کے اخباریوں کا ابتدائی سنت روائی میں کوئی عمل دخل نہیں تھا جب کہ ان کی تحریروں کا خلاصہ ہمارے منابع میں موجود ہے۔بلکہ وہ بھی ایسی معلومات کو جمع و تدوین کرنے والے تھے کہ جن تک رسائی سے پہلے  یہ ابتدائی تشکیل کے مرحلہ تک ہی تھا۔

وہ معتقد تھا کہ ہم تک پہنچنے والے منابع تک رسائی نہیں ہیں اور اسی طرح آٹھویں صدی عیسوی کے اخباریوں اور واضح و معین خصوصیات کے خاص مکاتب تک بھی رسائی ممکن نہیں ہے  اور ان میں سے ہر کسی کی واقعیت اور جزوی حیثیت کو الگ الگ مشخص نہیں کر سکتے۔حقیقت میں ان میں سے ہر ایک کو متنوع معلومات اور نظریات سے منتقل کیا گیا ہے۔

پھر''نت''نے منابع پر اشکالات اور ان کی داخلی شکل کوعلیحدہ کیا تا کہ وہ یہ دکھا سکے کہ منابع صرف ''topoi''کا ایک مجموعہ ہے  اور تاریخی اعتبار سے اس کی بنیاد پر سوال اٹھا ہے۔


 مفصل صورت میںصدر اسلام کی تاریخ کی تعمیر نو کے لئے ان منابع سے استفادہ کرنا برا سمجھتا تھا۔ایسا لگتا ہے کہ ''نت''یہ چاہتا تھا کہ اپنی کتاب کی تألیف سے ابتدائے اسلام کی تاریخ سے اپنی مرضی کے مطابق نتائج اخذ کرے لیکن اسے عملی جامہ نہ پہنانے میں کامیاب نہ ہو سکا ۔تمام مؤرخین نے کم و بیش امویوں کی تاریخ لکھنے میںولہاوزن  کی تقلید کی اور منابع پر تنقید کے ذریعہ ان کا خیال تھا  کہ صحیح تنقید سے اموی تاریخ کی تعمیر نومیں مدد مل سکتی ہے۔

جرمنی میں ''ردوان سعید ''اور ''گرانٹ روٹر''جیسے د انشوروں کا نام لیا جا سکتا ہے جن کی کوشش تھی کہ ولہاوزن کے اسی طریقہ کار سے استفادہ کریں۔لیکن وہ جدید سماجی اور اقتصادی مفاہیم کے منابع سے زیادہ استفادہ کرتے تھے۔ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں''ف.مک گراو دانر'' (F.Mcgraw Fonner)نے فتوحات عرب کی تاریخ کو جدید انداز میں لکھا اور اس نے اپنی کتاب کی تألیف میں اپنی روش شناسی کی توجیہ کا وعدہ کیا۔لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اکثر ایسی بدعت آمیز تحقیقات میں پابندی اور تعطّل کا احساس ہوتا ہے۔ ''ورنراندہ''(Wener Ende) اور ''ا.ل پترسون''(E.L Peterssen)ایسے مؤلفین کا واضح نمونہ ہیں۔

حالیہ دنوںمیں'Slavesson Horsesesکےنام سے 'پیڑیسیاکرون'  (Patricia Crone)کی تألیف میں کوشش کی گئی ہے کہگلدزیہر،شاخت اور نت کے طریقۂ کار کو قبول کرتے ہوئے اسلامی منابع میں ایک دوسری  روش سے استفادہ کیا جائے۔ ''پیڑیسیاکرون''کے مطابق یہ طریقۂ کار زندگی نامہ یا انساب کے لئے موذوں ہے۔

اس کا کہنا ہے کہ اگر اسلامی منابع  میں بنیادی معلومات(اسماء ،تاریخ خلفاء اور سربراہ وغیرہ) کا مستقل منابع (جیسے سکّے،نوشتہ جات اور غیر اسلامی منابع)سے رجوع کرکے تجزیہ کیا جائے تو دو طرح کے یہ مناب ایک دوسرے کی  باہمی تائیدسے ہماری مدد کر سکتے ہیں۔

اسی طرح اس کا خیال ہے کہ اگر اسلامی معلومات میں پوشیدہ تمام معلومات کوبعد کے زمانے  کی جعلی یا topoiکے نوشتہ جات کا اقتباس کہہ کر کم اہمیت دی جائے تو یہ انصاف نہیں ہوگا۔


واضح ضمنی موارد جیسے کسی شخص کاسماجی مقام،کسی قبیلہ یا فرقہ کا تعلق،  قبیلہ  میں ازدواج،سماجی وسیاسی روابط سے بہتر انداز میں حقیقت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔جزئی دکھائی دینے والی معلومات  جیسے کسی شخص کا مقام،کسی قبیلہ یا فرقہ کا تعلق،ازدواجکے اعتبار سے کسی شخص کے تعلقات،سماجی و سیاسی روابط حقیقت سے زیادہ نزدیک ہوتے ہیں اور مؤرخ کوان معلومات کی طرف بھی توجہ کرنی چاہئے اور اس کے بعد دوسرے مراحل( جیسے قیام کرنے کے اسباب  اور تاریخ کے بڑے واقعات کے بارے میں تاریخی رپورٹ)کو طے کرے۔

اس نظرئے کی رو سے ''کرون''کی کتاب میں جو چیز قابل توجہ ہے وہ مشترکہ یکجہتی اور مفہومی باریک بینی ہے۔اس نقطۂ نظر کے نتائج (کہ جنہیں  اخذ کرنے میں کچھ دوسرے بھی حصہ دار ہیں یاپھر پیش پیش ہیں)میں سے یہ ہے کہ یہ سادہ روایت اور واضح سیاسی واقعات سے دور ہوگئے اور مختلف ادروں اور سماجی و مذہبی تاریخ میں زیادہ دلچسپی دکھانے لگے۔

''م.ج.مورنی''(M.G Morony)کی کتاب ایک دوسرا نمونہ ہے کہ جس میں اس نقطۂ نظر کی پیروی کی گئی ہے ۔ جدید اسلامی دنیا بالخصوص عربی دنیا میں اموی تاریخ بعض مواقع (مثل آئینہ) آج کے مذہبی اور سیاسی خدشات کی عکاسی کر سکتی ہے۔لیکن اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ اموی تاریخ کے بارے میں لکھی گئی تمام نئی  عربی و اسلامی کتابیںآج کے مسائل کا حل پیش کر سکتی ہیں یا اگر کسی مصنّف کے مذہبی یا سیاسی رویہ کو پہلے ہی سے یہ پیشنگوئی کر سکتے ہیں کہ وہ کیا کہنا چاہتا ہے۔بلکہ اموی دور کی اہمیت مشرق وسطی کو اسلامی و عربی بنانا ہے۔!

اس معنی میں  یہ واضح ہے کہ عرب یا مسلمان (جو آج کی جدید دنیا میںاپنی شناخت کے پیچھے ہیں)اموی سلسلہ کی تاریخ میں اپنی شناخت کی تلاش کر رہے ہیں اور خاص طور پر اسلام اور عربی قومیت کے درمیان کسی  بھی طرح کی ممکنہ کشیدگی اموی تاریخ کے بارے میں نظریات پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔

عربی قومیت کی نظر میں اموی سلسلہ کوپہلی عرب سلطنت قرار دیا جا سکتا ہے لیکن اسلامی روائی سنت میں امویوں کی عام طور پردشمنانہ تصویر پیش کی گئی ہے اور اگر شناخت کے مسئلہ میں اسلام کی  طرف دیکھا جائے تو عرب اپنے مسائل حل کر سکتے ہیں۔


 اگرشیعہ اپنی مخصوص شیعی نظر (یعنی تشیع کی روائی سنت سے اخذ کی جانے والی نظر) سے اموی تاریخ پر نگاہ کریں تویہ ایک کلی کشیدگی اور شاید پوشیدہ و مخفی کشیدگی بھی ہے اور اگرشامی قومیت  اورعام عربی قومیت کو حاشیہ میں رکھیں تو دونوں صورتوں میں ممکن ہے کہ یہ کشیدگی ظاہر ہو کر حقیقت کوزیادہ واضح طور پر بیان کرسکے۔(1)

''گلدزیہر''وغیرہ کے نظریات کا تجزیہ و تحلیل

اس رپورٹمیں'' گلدزیہر''نے احادیث نبوی کا انکار کیا ہے اور انہیں پیغمبر اکرم(ص) کی رحلت کے ایک صدی یا اس سے بھی زیادہ مدت کے بعد کی اختراع قرار دیاہے ۔ وہ ایک یہودی کے طور پر جانا جاتا ہے جو رسول خدا(ص) کی احادیث کوآنحضرت(ص) کے بعد سیاسی  جھڑپوں کا نتیجہ  سمجھتا ہے۔

اس کے بعد  ''ولہاوزن ''نے نہ صرف آنحضرت(ص) کی احادیث کا انکار کیا بلکہ امویوں کی تعریف بھی کی اور اس کے بعد ''لامنز''نے امویوں کی اور زیادہ تعریف و تحسین کی۔

جرمنی اور امریکہ میں بھی مصنّفین نے ''ولہاوزن'' کی اسی راہ و روش کو جاری رکھا اور وہ بھی بنی امیہ کی تعریف کرتے رہے۔

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس کا جواب بہت سے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے اور وہ سوال یہ ہے:یہودی اور ان کے طرفدار مصنّفین جیسے ''گلدزیہر'' اور''ولہاوزن''نے پیغمبر اکرم(ص) کی احادیث کا انکارکیوں کیا

اور انہیں آنحضرت(ص) کی رحلت کے بعد تشکیل دی جانے والی اختراع قرار دیا؟!!

ہم اس سوال کے جواب میں کہتے ہیں:اگرچہ عمر  نے مسلمانوں کے درمیان حدیث کے عام   ہونے اور تدوین حدیث کو روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی لیکن ان سب کے باوجود ابتدائے اسلام ہی سے کچھ مسلمانوں نے رسول اکرم(ص) کے آثاریعنی احادیث کو لکھنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے رسول اکرم (ص) کی بہت سی احادیث امت میں باقی رہیں۔

--------------

[1] ۔ امویان؛نخستین ودمان حکومت گر در اسلام:146


فریقین کی کتابوں میں موجود پیغمبر اکرم(ص) کی حدیثیں مذہبی اور اعتقادی پہلو کے علاوہ سیاسی اعتبار سے بھی بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہیں  جیسے وہ روایات کہ جن میں آنحضرت(ص) نے بنی امیہ کے بارے میں پیشنگوئیاں کی ہیں۔

ان پیشنگوئیوں(جو اس کتاب میں تفصیل سے ذکر ہوئی ہیں) میں رسول خدا(ص) نے مذہبی اور عقیدتی پہلو کے علاوہ سیاسی اعتبار سے بھی عام لوگوں اور پوری ملت کو بنی امیہ کی کالی کرتوتوں سے آگاہ کیاہے۔

چونکہ یہ پیشنگوئیاں تواتر کی حد تک ہیں اورعلمائے اہلسنت نے بھی انہیں اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے لہذا بنی امیہ کے جرائم اور مجرمانہ رویہ میںکسی شک کی گنجائش نہیں ہے۔بعثت سے پہلے،زمانۂ رسول خدا(ص) اور آنحضرت کے بعد ان کی  دین اورپیغمبر اکرم(ص) کے خاندان سے دشمنی واضح و آشکار ہے۔

تحقیق کرنے والے یہودی بنی امیہ کے بے شرم خاندان کے دامن پر لگے ہوئے داغ دھونا چاہتے تھے لہذا ان کے پاس پیغمبراکرم(ص) کے فرمودات و ارشادات کا انکار کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا!

یہ واضح سی بات ہے کہ جومختلف پہلوؤں سے تمام خاندان بنی امیہ یا ان کے مخصوص افراد کے بارے میں ان پیشنگوئیوں کو جانتا ہو ،وہ کبھی بھی امویوں کو دین کا طرفدار اور خدا کا خلیفہ نہیں سمجھ سکتا۔

یہودی اور ان کے طرفدار چاہے وہ امریکہ میں ہوں یا جرمنی میں یااس راہ میں یہودیوں کی حمایت کرنے والے دوسرے ممالک میں ہوں ،انہوں نے امویوں کے گمراہ کرنے والے عقائد( آج کل وہابیت جن کی ترویج کر رہی ہے)کو زندہ کرنے کے لئے احادیث کا انکار کیا تا کہ وہ بنی امیہ  کے گمراہ کرنے والے عقائد کی تبلیغ و ترویج سے معاشرے میں وہابیوں کے پست عقائد کو عام کریں۔

بنی امیہ کی شکست اور امویوں کی حکومت کے زوال کے ساتھ ہی ان کا اقتدار بھی ختم ہو گیا اور آہستہ آہستہ ان کی ظالم حکومت کا نام و نشان مٹ گیا۔

یہودی مسلمان ممالک میں امویوں کی نئی حکومت کی تشکیل سے ناامید ہو چکے تھے لہذا انہوں نے ایک اور چال چلی اورمسلمانوں


میں امویوں کے عقائد و افکار کوزندہ کرنے کا فیصلہ  کیا اور اس کے لئے انہوں  نے امت اسلامی میں اختلافات کی آگ بھڑکائی (جو یہودیوں کی ہمیشہ سے دیرینہ سازش رہی ہے)اور امویوں کے عقائد و افکار(یعنی جو رسول خدا (ص) اور خاندان وحی علیہم السلام کی دشمنی پر مبنی ہیں) بھی امت میں عام کئے۔

 تاریخ سے آشنا  اور تاریخ کو انصاف کی نظرسے  دیکھنے کی کوشش و جستجو کرنے والے جانتے ہیں کہ بعثت سے پہلے ہی  بنی امیہ کیبنی ہاشم سے دیرینہ دشمنی تھی جسے انہوں نے اسلام کے بعد بھی منافقانہ صورت میں مخفیانہ طور پرباقی رکھااگرچہ کئی بار اس سے پردہ اٹھا جس سے ان کی حقیقت آشکار ہو گئی۔

ایسے محققین کو باآسانی پتہ چل جاتا ہے کہ امویوں کی راہ و روش کو زندہ کرنے والے وہابی ہی ہیں اور یہی مذہب کے خلاف ان کے عقائد و افکار کی ترویج کرنے والے ہیں۔

خدا سے دشمنی، خدا کے رسول اور آل رسول علیہم السلام سے دشمنی،قبروں کو برباد کرنا،رسول خدا(ص) کے آثار کو ختم کرنا، اسلام کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا ،یہودیوں اور عیسائیوں سے روابط قائم  کرنا، خانۂ کعبہ سے دشمنی اور کعبہ کے مقابلہ میں بیت المقدس کو محترم شمار کرناامویوں کی اہم سازشوں اور ہتھکنڈوں میں سے ہیں اوراب وہابیت اس کی ترویج کر رہی ہے اور انہی کے نقش قدم پرچل رہی ہے۔

 امویوں نے کس طرح یہودیوں کے مطالبات کو پورا کیا،یہ جاننے کے لئے حجّاج (جو بنی امیہ کے وحشی و خونخوار حاکموں میں ہے)کے افکار و کردارکا مختصر حصہ اور اسی طرح عبد الملک کے  افکار کا  کچھ حصہبیان کرتے ہیں تا کہ آپ یہ جان لیں کہ امویوں نے کس طرح یہودیوں کے مطالبات کو پوارا کیا:


 حجّاج؛ یہودی افکارپھیلانے والا

جتنے سالحجّاج کی حکومت زیادہ ہوتی گئی، اسلام اور دین کے خلاف اس کی سرکشی اور گستاخی بھی اتنی ہی زیادہ بڑھتی گئی۔یہاں تک کہ اس نے اپنے ایک خطبہ میں پیغمبر اکرم(ص) کی قبر مطہر کی زیارت کرنے والوں کے بارے میں کہا:ان لوگوں کو موت آئے! کیوں یہ لوگ مٹی کے ڈھیر اور لکڑی کے گرد چکر لگا رہے ہیں؟! کیوں یہ امیر المؤمنین عبدالملک !! کے دربار کا طواف نہیں کرتے؟ کیاانہیں معلوم نہیں ہے کہ ہر شخص کا خلیفہ اس کے رسول سے بہتر ہے!(1)

چونکہ دوسرے حاکم خلیفہ کی نظر میں اس کی حرمت کو جانتے تھے لہذا وہ اس کی چاپلوسی کرتے اور اس کا تقرّب حاصل کرنا چاہتے تھے!حجّاج نے نئے سرے سے پورے عراق اور مشرقی علاقوں میں  دہشت گردی کی حکومت کا آغاز کیا ۔اس نے کوفہ کے بہت سے بزرگ اور نیک افراد کو بے گناہ قتل کیا یہ وہی تھا جس نے خوارج کی بغاوت اور فسادات کی آگ کو بجھایا۔اس نے دلوں میں اتنا خوف ڈال دیا تھا کہ نہ صرف عراق بلکہ پورے خوزستان اور مشرق پر آسانی سے قبضہ میں کر لیا۔اگرچہ حجّاج اپنے ماتحت افراد پر بہت سختی کرتا لیکن حاکموں کے سامنے بہت خشوع و خضوع اور چاپلوسی سے پیش آتاتھا۔جیسا کہ اس نے عبدالملک کو خط لکھا: میں نے سنا ہے کہ امیر المؤمنین!!کو محفل میں چھینک آئی اور وہاں موجود لوگوں نے''یَرْحَمُکَ اللّٰه'' کہا ہے،''فَیٰا لَیْتَنِْ کُنْتُ مَعَهُمْ فَأَفُوْزَ فَوْزاًعَظِیْماً''! (2) وہ اپنے کلام میں عبدالملک کا مقام و مرتبہ پیغمبر سے زیادہ سمجھتا اور کہتا:  لوگو!کیا تمہاری طرف بھیجا گیا رسول زیادہ عزیز ہے یا تمہارا خلیفہ؟ پیغمبر خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہے اور عبدالملک اس کا خلیفہ ہے۔(3)(4)

--------------

[1]۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید:ج۱۵ص۲۴۲،عقد الفرید :ج۵ص۲۸۴، مروج الذہب:442

[2]۔ ابن عبد ربہ:ج۵ص۲۸6

[3]۔ ابن عبد ربہ:ج۵ص۲۸6

[4]۔ تاریخ تحلیلی اسلام:205


عبدالملک بھی لوگوں کو خانۂ خدا کے طواف سے روکنے کی کوشش کرتا تھا اور لوگوں کومکہ و مدینہ کی بجائے  شام کو حرم خدا کے طور پرپیش کرتا تھا۔یعقوبی نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے:جب اسے رومیوں اور ابن زبیر کی طرف سے دھمکیاں ملیں تو اس نے پہلی بار رومیوں  کے ساتھ چارہ سازی  کے بارے میں  سوچا اور سلطنت روم کے ساتھ معاہدہ کیا اور بہت زیادہ ٹیکس دینے کی ذمہ داری لی۔چونکہ اسے بیرونی دشمنوں سے راحت مل چکی تھی لہذا وہ ابن زبیر کوکچلنے کے لئے تیار ہو گیا ۔حجاز سے مقابلہ کے لئے اس نے فوجی اور سیاسی دونوں طریقوں سے کام لیا۔اس نے سب سےپہلے سفر حج کو اس لئے ممنوع کر دیا تاکہ کہیں شام کے حاجی ابن زبیر کی تبلیغات سے متاثر ہو کر اس کی دعوت کو شام میں نہ پھیلائیں۔

یعقوبی لکھتے ہیں:لوگوں نے شکایت کی کہ کیوں ہمیں واجب حج سے روک رہے ہو؟

عبدالملک نے کہا:پیغمبر سے ابن شہاب زُہری روایت کرتا ہے کہ تین مساجد کی زیارت کے لئے جانا چاہئے:مسجد الحرام،میری مسجد(مسجد نبوی) اور مسجد بیت المقدّس ۔ آج تمہارے لئے بیت المقدّس کا احترام مسجد الحرام کے برابر ہے!!یہی ابن شہاب کہتا ہے:یہ پتھر کہ جس پر یہودی قربانی کرتے ہیں یہ وہی پتھر ہے جس پر شب معراج پیغمبر(ص) نے قدم رکھاتھا!عبدالملک کے حکم پر اس پتھر پر ایک گنبد بنایا گیا جس پر ریشم کے پردے آویزاں کئے گئے ،اس کے لئے خادم معین کئے گئے اور لوگوں کو اس کا طواف کرنے پر مجبور کیا گیا۔بنی امیہ کے پورے دورۂ حکومت میں یہ رسم جاری رہی۔(1) عبدالملک  یہ چاہتا تھا کہ مکہ و مدینہ کی رونق کو ختم کرکے مسلمانوں کی نظرمیں شام کو حرم خدا کے طور پر پیش کرے (اس کام کی کچھ حکمرانوں نے بھی تقلید کی ہے)۔(2) اب اس واقع پر بھی توجہ کریں:جب عبدالملک کے بیٹے سلیمان نے رسول خدا(ص) کے آثار میں سے ایک اثر کو نابود کیا تو عبدالملک نے اسے بہت سراہا: سلیمان بن عبدالملک ولی عہدی کے زمانے میں مدینہ آیا اور اس نے ابان بن عثمان بن عفّان سے سنا کہ اس نے ایک سیرت تحریر کی

--------------

[1] ۔ تاریخ یعقوبی:ج۳ص۸

[2]۔ تاریخ تحلیلی اسلام:202


ہے۔(1)

--------------

[1] ۔ سیرت کو لکھنے والا ابان بن عثمان بن عفان تھا یا کوئی دوسرا شخص؟اس کے لئے اس نکتہ کی طرف توجہ کریں:دوسری صدی ہجری میں سیرت لکھنے والوں میں سے ایک ''ابان بن عثمان بجلی''ہے اور اکثر و بیشتر حوالوں میں اسے ''ابان بن عثمان الأحمر البجلی''کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔صرف یاقوت حموی نے ''ابان بن عثمان بن یحیی بن زکریا اللؤلؤی''کے نام سے ان کا تعارف کروایا ہے ۔اس کی یہ وجہ ہے کہ  یاقوت نے حوالوں یعنی'الفہرست،تألیف شیخ طوسی''سے استفادہ کرنے میں دو زندگی ناموں کو آپس میں ملا دیا ہے۔شیعہ منابع میں جو کچھ ذکر ہوا ہے ،وہ یہ ہے کہ وہ بجیلہ نامی قبیلہ کے موالیوں میں سے تھا ۔یہ معلوم ہے کہ ''موالی ''ہونے سے عجمی ہونا لازم نہیں آتا کیونکہاسلام سے پہلے اور شاید بعد میں بھی خود عربوں میں عقد ولاء موجود تھا۔اس کی مثال رسول اکرم(ص) کی نسبت سے زید بن حارثہ کا ولاء یا بنی مخزوم کی نسبت سے عمار بن یاسر کا ولاء ہے۔اس صورت میں ابان کے عجمی ہونے کا قوی احتمال ہے۔بجیلہ قبیلہ کو ایک قحطانی قبیلہ سمجھا گیا ہے۔یہ قبیلہ بھی حجاز یا یمن کے بہت سے دوسرے قبائل کی طرح فتوحات کے آغاز میں عراق کوچ کر گیا اور یہ قادسیہ میںموجود تھا۔اس جنگ میں کچھ ایرانیوں نے خود کو عربوں سے ملحق کیا اور ان کی ولاء کو قبول کیا۔  ان میں سے کافی لوگ  قید کر لئے گئے اور پھر آہستہ آہستہ آزاد ہونے کے بعد موالی کے عنوان سے عربی قبائل سے ملحق ہو گئے ۔ قبیلۂ بجیلہ جنگ صفین میں امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے ساتھ تھا حتی انہوں نے مختار کے مخالفین کے خلاف مختار کابھی دفاع کیا ہے۔(معجم قبائل العرب:651-63).اس لحاظ سے اس قبیلہ میں تشیع کے آثار تلاش کرنے چاہئیں۔احمر کے علاوہ ان کے لئے محمد بن سلام(جو ان کے شاگردوں میں سے تھا)نے ایک اور لقب بھی ذکرکیاہے اور وہ ''الأعرج''ہے ۔ انہوں نے کچھ موارد میں انہیں ''أبان الأعرج''کے نام سے بھی یاد کیا ہے۔(نک:طبقات فحول الشعراء:ج2ص482)أبان سے ان کی متعدد روایات (جو طبقات الشعراء میں مکرّر ذکر ہوئی ہیں) پر غور کریں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کی مراد ہمارامور نظر أبان ہے۔  یہ احتمال بھی ہے کہ اعرج ،أحمر سے تصحیف ہوا ہو۔اس نکتہ پر غور کرنا ضروری ہے کہ ''أبان بن عثمان الأحمر''کے علاوہ ''أبان بن عثمان بن عفّان''کے نام سے کوئی دوسرا شخص بھی موجود تھا کہ جو عثمان کا بیٹا تھا  اور اس کے علاوہ اس کے پاس کئی سال مدینہ کی حکومت بھی تھی  اور جس کے بارے میں یہ دعوی بھی کیا گیا ہے کہ سیرۂ نبوی کی روایات لکھنے میں بھی اس کا بڑا ہاتھ تھا۔نام میں تشابہ کی وجہ سے بعض لوگ غلطی سے عثمان بن عفان کے بیٹے کو ''أبان''کی بجائے امامی مذہب قرار دیتے ہیں۔ان میں سے ''فؤادد سزگین''نے زمانۂ اوّل کے سیرت  نگاروں میں ابان بن عثمان بن عفان کا بھی ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ ''تاریخ یعقوبی''میں اس سے کچھ منقولات  بھی ذکر ہوئے ہیں۔(تاریخ التراث العربی،التدوین التاریخی:٧٠) حلانکہ تاریخ یعقوبی میں جس شخص سے منقولات ذکر ہوئے ہیں ،وہ ابان بن عثمان الأحمر ہیں۔اس کی دلیل یہ ہے کہ خود یعقوبی نے یہ وضاحت کی ہے کہ یہ (ابان )حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی روایات کا راوی ہے۔نیز یہ بھی ایک فطری امر ہے کہ عثمان کے بیٹے ( جس نے جنگ جمل میں عائشہ کے ساتھ مل کر جنگ کی)کی عمر اتنی زیادہ نہیں تھی کہ وہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی روایات کا راوی ہو۔اس کے علاہو  شیعہ حدیث کے منابع پر مختصر سی نظر ڈالنے اور ابان کی احادیث سے تھوڑی سے آشنائی سے پتہ چلتا ہے کہ (بقیہ صفحہ بعد پر)


اور جب اس کےسامنے  وہ سیرت پڑھی گئی تو اس نے دیکھاکہ اس میں انصار کے قبلۂ اوّل و دوّم اورجنگ بدر میں حاضر ہونے کا تذکرہ ہے ۔سلیمان نے کہا:''ما کنت أری لهولاء القوم هذا الفضل'' میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ اس قبیلہ میں بھی کوئی فضیلت ہے۔اس کے بعد اس نے حکم دیا اور اس سیرت کو جلا دیا گیا۔جب وہ واپس دمشق پہنچا تو اس کے باپ نے اس کام کی وجہ سے اس کی تعریف کی اور کہا:''ما حاجتک أن تقدم بکتاب لیس لنا فیه فضل'' (1) عبد الملک کے مطابق جس کتاب میں بنی امیہ کی فضیلت بیان نہ ہوئی ہو ،اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے اگرچہ وہ رسول خدا(ص) کے فرمودات کا مجموعہ ہی  کیوں نہ ہوں۔کتاب''امویاں''میں لکھتے ہیں:طاقت کے زور پر انہوں نے ایسی سیاست اختیار کی کہ بہترین  ممکن شکل میں بھی انہوں نے اسلام کے تقاضوں کا ذرہ برابر خیال نہیں کیا اور بدترین ممکن شکل میں قطعی طور پر اسلام کے خلاف کھڑے ہو گئے۔ان کے سنگین ترین جرائم میں سے یہ ہے کہ انہوں نے خلافت کو اپنے خاندان کے لئے موروثی بنا لیا۔انہوں نے اسلام کے بہت سے پیروکاروں پر ظلم و ستم کئے حتی ان میں سے کئی افراد  ،خاندان پیغمبر (ص) اورخاص طور پر پیغمبر اکرم(ص) کے نواسہ حضرت امام حسین علیہ السلام شہید کیا۔انہوں نے شہر مکہ و مدینہ پر حملہ کیااوریہاں تک  کہ انہوں نے  دو بار مکہ کو اپنے تیروں کا نشانہ  بنایا۔

--------------

(بقیہ صفحہ قبل) اس میں دو ناموں کو آپس میں غلطی سے مخلوط کر دیا گیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ وہ کوفی تھے کیونکہ قبیلۂ بجیلہ کوفہ میں تھا۔نجاشی ''أصلہ کوف''کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:''کان یسکنها تارة و البصرة تارة'' ۔اسی وجہ سے بہت سے بصری جیسے ابو عبیدہ ،معمر بن مثنّی  اور محمد بن سلام بصرہ میں ان کے شاگردوں میں سے تھے۔(رجال النجاش:13 رقم 8) قابل ذکر ہے کہ ''کشی''میں نقل ہونے والی عبارت میں آیا ہے:''و کان أبان من اہل البصرة''(رجال الکشی:352 رقم660)یہ جان لیں کہ أبان اصحاب اجماع میں سے تھے؛''أجمعت العصابة علی تصحیح ما یصحّ عنهم'' یعنی جن سے انتساب دینا صحیح ہو اس میں کوئی شک نہیں کرنا چاہئے ۔یہ ابان بن عثمان کی علمی وثاقت کا بلند مرتبہ کی واضح دلیل ہے۔وہ فقہ  میں بے شمار ابواب کی روایات کے راوی ہیں  جو کتب اربعہ اور دوسرے فقہی آثار میں روایت ہوئی ہیں۔علامہ تستری نے''قاموس الرجال'' میں ان سے ایک فہرست ہمارے لئے ذکر کی ہیں۔کتاب' 'الفروع کافی''میںابان بن عثمان سے نقل ہونے والے موارد دوسرے محققین نے فراہم کئے ہیں۔(الشیخ الکلینی و کتابہ الکافی:263-299)۔''منابع تاریخ اسلام:63''

[1] ۔ مقالات تاریخی:263


روایات بنی امیہ کی یہ بھیانک تصویر ہمارے لئے بخوبی آشکار کرتی ہیں۔حتی کہ امویوں نے دوسروں کو اسلام قبول کرنے سے بھی اور طاقت کے زار پر زبردستی  حکومت کرتے رہے۔اس دور میں ایسے ادبی آثار لکھے گئے ہیں جن میں بنی امیہ کے جرائم اور ظلم و ستم کو بیان کیا گیا ہے ، ان کے حریفوں اور دشمنوں کی منظوم ستائش کی گئی ہے اور خدا کو گواہ قرار دیاہے کہ کیوں اسلامی   معاشرہ  ان خدا سے بے خبر ظالموں کے ہاتھوں گرفتار رہا۔ان آثار میں سے ایک عام نام جاحظ کی لکھی گئی کتاب ہے جو نویں صدی عیسوی میں لکھی گئی اور مقریزی کی کتاب جو پانچویں صدی عیسوی میں لکھی گئی۔(1)

یہودیوں کی قوم پرستی

''بریٹانیکا'' انسائیکلوپیڈیامیں ذکر ہوا ہے: خود کو منتخب کردہ امت سمجھنے میں یہودیوں کے عقائد کے اصل عامل کوکتاب تلمودسے نسبت دیتے ہیں اور اس پر شدت پسندانہ طور پر عمل کرتے ہیں خود کو ہی محترم اور زندہ قوم سمجھتے ہیں۔(3)(2)

جاہل عربوں میں یہودیت کے نہ پھیلنے کے بارے میں محمد جواد مغنیہ لکھتے ہیں:

یہودی اس بات پر تیار نہیں تھے کہ ان کے آئین دوسری اقوام و ملل میں پھیلے کیونکہ ان کے عقیدے کے مطابق ایسا کرنے سے وہ دوسرے تمام انسانوں کی سطح پر آ جائیں گے اس لئے وہ ایسا کرنے پر تیار نہ ہوئے۔کیونکہ وہ معتقد تھے کہ خدا نے انہیں

--------------

[1] ۔ امویان؛نخستین ودمان حکومت گر در اسلام:۲۷

[2]۔ نقدو نگرشی بر تلمود سے اقتباس:133

[3]۔۔ تلمود کی تصریح کے مطابق:خدا کے نزدیک اسرائیلیوں کا ملائکہ سے زیادہ مقام ہے اور ان کے خلاف جنگ شوکت الٰہی کے خلاف جنگ ہو گی کیونکہ ہر یہودی خدا کا ایک مادی جزء ہے جس طرح بیٹا باپ کا جزء ہوتا ہے۔یہودی اور غیر یہودی میں اتنا ہی فرق ہے جتنا انسان اور حیوان میں فرق ہے۔(تلمود،سنہدرین:582،الکنز المرصود فی قواعد التلموذ سے اقتباس:60،نیز ملاحظہ کریں:''الأسفار المقدسة قبل الاسلام:165 اور 166،الکتاب المقدّس فی المیزان:23،مقارنة الادیان (الیہود): 272 تا 274،العرب و الیہود فی التاریخ:174)


پوری کائنات پر برتری دی ہے اور انہیں منتخب کردہ قوم اور دوسری تمام اقوام کو ان کا غلام قراردیا ہے۔اسی وجہ سے یہودی غیر یہود افراد کو''جوییم''یعنی انسان کی شکل میں حیوان کہتے ہیں۔(2)(1) یہودی قوم پرستی اور بنی اسرائیل کو دنیا کے تمام لوگوں پر افضل سمجھنے میں مشہور ہیں۔انہوںنے اپنے عقیدہ پر اس قدر اصرار کیا کہ ان کا کہنا ہے:بنی اسرائیل کے علاوہ کسی میں یہودی ہونے کی صلاحیت نہیں ہے! اور صرف بنی اسرائیل ہی دین یہود کے معتقد ہو سکتے ہیں۔اسی بناء پر دوسرے ادیان و مذاہب کے پیروکاروں میں سے کسی ایک نے بھی یہودی مذہب کا رخ نہ کیا لیکن کبھی یہودی دوسرے مذاہب کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔

یہودیوں کے اس عقیدے (یعنی بنی اسرائیل سب سے افضل قوم ہیں اوردین یہود انہی سے مخصوص ہے)کی وجہ سے دنیا کے لوگ ان کی مذہبی تبلیغات کے شرّ اور دوسرے مذاہب والے ان کے تحریف شدہ مذہب کی طرف مائل ہونے سے محفوظ رہے۔

یہودی یہ سوچتے ہیں کہ وہ پوری دنیا پر حاکم ہو کر اپنے مخالفین کو ختم کر دیں گے کیونکہ ساری زمین انہی کی ہے ، اورصرف اسی وقت اہل دنیا یا تو یہودی مذہب اختیار کر سکیں گے یا پھر تمام کے تمام مار دیئے جائیں گے۔

وہ کہتے ہیں: جب ہماری شہنشاہی حکومت کا آغاز ہو گا توہمارے دین کے علاوہ تمام ادیان ختم ہونے چاہئیں  اور ہمارا دین خدائے واحد پر اعتقاد رکھنے کا نامہے۔بیشک ہماری قوم کی تقدیر برگزیدہ قوم کے عنوان سے خدا کے وجود سے بندھی ہوئی ہے اور اسی نے دنیا والوں کے مقدر کو ہماری تقدیر سے وابستہ کیا ہے۔لہذا ہر قسم کے عقیدے کی جڑیں اکھاڑ دی جائیں حتی اگر کام کا انجام خدا کے وججود کا انکار ہی ک یوں نہ ہو کہ آج ہم جس کے شاہد ہیں۔

یہ کام نہ صرف حکومت کے انتقال کے زمانہ میں مفید ہے بلکہ ایسے جوانوں کے لئے بھی مفید ہے جو آئندہ مذہب موسیٰ کی تبلیغات کو سنیں گے ۔ایسا دین جس کے احکامات پائیدار اور ترقی یافتہ ہیں  اور تمام دنیا والوں کو ہماری اطاعت پر مجبور کرتا ہے۔

--------------

[1]۔ اسرائیلیات القرآن:16 اور 17

[2]۔ اسرائیلیات وتأثیر آن بر داستان ہای انبیاء در تفاسیر قرآن:37


ان کا کہنا ہے کہ ہم اپنی تبلیغات تعلیم ، دین کے اسرار آمیز اور اعجاز آمیز  پہلوؤں پر زور دیتی  ہیںاور ضرورت پڑنے پر مضامین و مقالات بھی شائع کرتے ہیں،ہم اپنی خدائی حکومت کا گذشتہ حکومتوں سے تقابل کرتے ہیں اور غیر یہود ی حکومتوں کی غلطیوں کو بہت واضح طور پر بیان کرتے ہیں اور کچھ حکّام کی سفّاکانہ و ظالمانہ حرکات کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ جنہوں نے انسانوں پر تشدد کیا اور انسانیت کو پامال کیااور اس سے انسانوں کی نفرت کو بھڑکاتے ہیں جس سے انسان غلامی کے دور کی آسائش و سہولت کو غلامی کے بعد کے زمانے کی سہولیات پر ترجیح دیتا ہے۔

ہمارے ذریعہ سے غیر یہودی حکومتوں میں رونما ہونے والی بے فائدہ تبدیلیوں سے ان کی حکومتوں کا اعتبار کم ہو جاتا ہے اور لوگ اپنی حکومتوں کی غیر یقینی صورت حال سے تھک کر ہمارے دورحکومت میں ہر طرح کی خفّت و ذلت برداشت کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور ہمارے تسلط سے نکل کر ماضی کی مصیبتوں کو پھر سے برداشت کرنے کے لئے رضامند نہیں ہوتے۔

اسی دوران ہم غیر یہودی حکمرانوںسے لاعلمی اور مسائل کو صحیح طور پر نہ سمجھنے کی وجہ سے سرزد ہونے والی تاریخی غلطیوں پر بھی بہت تاکید کرتے ہیں  اوران حکمرانوں کے ہاتھوں انسان کو پیش آنے والی مشکلات اور مصیبتیں یاد دلاتے ہیں۔

ہمارے کاموں کا طریقہ واصول اس حقیقت پر مبنی ہے کہ ہم جو کچھ پیش کریں اورجو تفسیر کریں وہ سب بہترین اور عیب و نقص سے پاک ہے لیکن جو کچھ ماضی میں موجود تھا وہ سب بیہودہ اور بیکار تھا۔

ہمارے فلاسفہ دوسرے عقائد و مذاہب کے بارے میں بحث کرتے ہیں اور ان کا تجزیہ و تحلیل کرتے ہیں لیکن کوئی اور ہمارے مذہب کے حقیقی عقائد کا تجزیہ و تحلیل نہ کرے۔کیونکہ ہمارے علاوہ کوئی دوسرا ہمارے دین کے امور کو نہ سمجھنے پائے ۔اور تو اور ہماری اپنی قوم کے افراد کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ ہمارے دین کے اسرار کوبرملا کریں۔

ترقی و پیشرفت اور روشن فکری کے نام سے مشہور صدیوں میں ہم نے پست ،بیہودہ اور ذلت آمیز ادبیات کو رواج دیا اور ہمیں قدرت و طاقت مل جانے کے بعد تک ہم چاہیں گے کہ ادبیات کا یہ  طریقۂ کار اسی طرح چلتا رہے۔(1)

--------------

[1]۔ پروتکل ھای رہبران یہود برای تسخیر جھان:97


امویوں کی قوم پرستی

بنی امیہ بھی خود کو دنیا کی سب سے افضل قوم سمجھتے تھے؛حلانکہ ان کی کچھ عورتوں کے گھروں کی چھتوں پر آزادی کے پرچم نصب تھے اور بہت سے مرد ان کی عورتوں کے ساتھ مباشرت کرتے تھے لیکن اس کے باوجود وہ خود کو دنیا کی سب سے افضل قوم سمجھتے تھے!!

وہ خود کو تمام قریش حتی کہ بنی ہاشم سے بھی افضل سمجھتے تھے اور غیر عرب کو حیوان سمجھتے تھے چاہئے وہ ایرانی ہوں جنہوں نے اسلام قبول کیا ہو یا اسلام قبول نہ کیا ہو۔

بنی امیہ عربوں کو عجمیوں سے برتر سمجھتے تھے اور عرب ،غیر عرب کو علوج (یعنی موٹی گائے یا موٹا انسان اور سرخ و سفید)کہتے تھے،بلکہ جریر کہتا ہے:

قالوا نَبیعکه بیعاً فقلت لهم                    بیعوا الموالی واستغنوا عن العرب

انہوں نے کہا ہے:تمہیں ان کے پاس فروخت کردیتے ہیں،میں نے کہا:غیر عربوںکو فروخت کرو اور عربوں کو فروخت کرنے سے بے نیاز ہو جاؤ۔

مبرّد کہتا ہے:غیر عربوں کو جس چیز نے زیادہ پریشان کیا ہے وہ یہی شعرہے کیونکہ اس میں انہیں خوار اور پست قرار دیا گیا ہے۔

ایک غیر عرب نےعربوں میں سے قبیلۂ بنی سلیم کی عورت سے شادی کی۔  ایک محتسب نے    عبدالملک مروان کے داماداورمدینہ کے حاکم ابراہیم بن ہشام سے شکایت کر دی۔حاکم نے ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دیا اور شوہر کو سزا دی کیونکہ اس سے بہت بڑا گناہ سرزد ہوا تھا!اس کی سزا یہ تھی کہ اسے دوسو کوڑے مارے گئے اور اس کی ڈاڑھی مونچھ منڈوا دی گئی۔


اس حاکم کے بارے میں کہا گیا ہے:

قضیت بسنّة وحکمت عدلاً                        و لم ترث الحکومة من بعید

تم نے سنت کے مطابق فیصلہ کیا اور عادلانہ حکم جاری کیا اور تم نے حکومت کسی بیگانہ سے ارث میں نہیں لی۔

اب اس پرکشش اور پڑھنے کے قابل واقعہ کی طرف توجہ کریں:

دوسری صدی ہجری کے آغاز میں ہشام نے اپنے ایک درباری سے ملک کے مختلف شہروں کے فقہا کے بارے میں پوچھا اور پوچھا کہ مدینہ کا فقیہ کون ہے؟

اس نے کہا:عمر کا زاد کیا ہوا۔

پوچھا:مکہ کا فقیہ کون ہے؟کہا:عطاء بن ابی ریاح

پوچھا:کیا وہ عرب ہے یا غیر عرب؟کہا:غیر عرب۔

پوچھا:یمن کا فقیہ کون ہے؟کہا:طاووس بن کیسان

پوچھا:کیا وہ عرب ہے یا غیر عرب؟کہا:غیر عرب۔

پوچھا:یمامہ کا فقیہ کون ہے؟کہا:یحیی  بن کثیر

پوچھا:کیا وہ عرب ہے یا غیر عرب؟کہا:غیر عرب۔

پوچھا:شام کا فقیہ کون ہے؟کہا:مکحول

پوچھا:کیا وہ عرب ہے یا غیر عرب؟کہا:غیر عرب۔

پوچھا:جزیرہ کا فقیہ کون ہے؟کہا:میمون بن مہران

پوچھا:کیا وہ عرب ہے یا غیر عرب؟کہا:غیر عرب۔

پوچھا:جزیرہ کا فقیہ کون ہے؟ کہا:ضحأک بن مزاحم


پوچھا:کیا وہ عرب ہے یا غیر عرب؟کہا:غیر عرب۔

پوچھا:بصرہ کا فقیہ کون ہے؟کہا:حسن اور ابن سیرین

پوچھا:کیا وہ عرب ہیں یا غیر عرب؟کہا:غیر عرب۔

پوچھا:کوفہ کا فقیہ کون ہے؟کہا:ابراہیم نخعی

پوچھا:کیا وہ عرب ہے یا غیر عرب؟کہا: عرب۔

ہشام نے کہا:میری جان  پہ بنی ہوئی تھی ،تم نے ایک بار بھی نہیں کہا کہ عرب ہے۔(1)

اس واقعہ کی بناء پر عرب، غیر عربوں کو ''علوج''کے نام سے پکارتے تھے  اور یہودی بھی غیر یہود کو ''جویم''یعنی انسان کی شکل میں حیوان کہتے تھے۔

کتاب''حکومت امویان''میں لکھتے ہیں:اموی حاکموں کی محفلوں میں عرب پرستی واضح طور پر نظر آتی تھی ۔اموی عربوں کی طرف مائل تھے اور انہیں برتری دیتے تھے جس کے اثرات سیاسی، اقتصای اور سماجی تینوںلحاظ سے رونما ہوتے تھے۔

لیکن سیاسی صورت کے بارے میں یہ کہنا ضروری ہے کہ بہت سے عجممذہبی ،سماجی یا مادّی وجوہات کی وجہ سے اسلام  کی طرف مائل ہوئے لیکن  ان کے ساتھ اسلامی امتیازات(جیسے عرب اور عجم کا برابر ہونا) کے مطابق سلوک  نہ کیا گیا جس کی وجہ سے وہ اہم حکومتی(2) عہدوں  اور دوسری سہولیات  سے  محروم رہے کہ جس کے وہ اہل تھے جیسے فوج میں آنا،اور مسلمان ہونے کے باوجود وہ لوگ جزیہ دینے پر مجبور تھے۔

--------------

[1]۔ پیشوای علم و معرفت:430

[2]۔ حکومت کو ملازمین کی ضرورت تھی لیکن حکمران  اپنے کسی بھی من پسند شخص کو کوئی سا بھی عوامی عہدہ بالخصوص خزانہ کے امور کی ذمہ داری سونپ دیتا تھا۔


یہ واضح سی بات ہے کہ اس سیاسی تفرقہ کی وجہ امویوں کا عربی نسل پرستی میں دلچسپی رکھنا تھا اور ان کے اس رویے نے ان میں  تشدد اور جنگ طلبی کا مزاج پیدا کر دیا تھا۔

ایسا لگتا ہے کہ کوئی چیز بھی امویوں کی اس دلچسپی کو نہیں روک سکتی تھی کیونکہ حقیقت میں وہ قریشی اور اس سے بھی وسیع طور پر دیکھیں تو وہ قیسی تھے۔ اسلام کی فتوحات اور بہت سے غیر عربوں کی اسلام کی طرف آنے سے پیدا ہونے والی نئی تبدیلی سے انہوں نے اپنی غیر استعمال شدہ مقامی اور قبائلی نوعیت کو محفوظ رکھا۔

انہوںنے اسلام کے عقائد اور اسلامی علاقوں کی تاریخ میں بنیادی فتوحات سے وجود میں آنے والی تبدیلیوں کودرک نہیں کیا تھا۔

اموی حکومت کے دور میں اس طریقۂ کار سے موالی تحریک کے دلوں میں عربی حکام کے خلاف نفرت و  کینہ تھا جس کے نتیجہ میں جدید تفرقہ وجود میں آیاجن کی بنیادقومی مسائل تھے۔

انہوں نے ایک سیاسی دباؤ کے لئے ایک  لشکر بنایا جن کا اموی خلافت کے زوال میں بھی ہاتھ تھا کیونکہایہ گروہ ایسا تھا جوکام تو بہت زیادہ کرتا تھا لیکن اجرت بہت کم پاتے تھے اوروہ حکومت و معاشرے میںسخت ذمہ داری  کی وجہ سے خود کو عربوں سے برابری کی بنا ء پر خود کو ان کا ہم نوالہ ہونے کے لائق  سمجھتے تھے۔

اموی  دور کے آغاز میں(جب مشرق اور بالخصوص ایران میں اسلامی تحریک اپنے قدم آگے بڑھا رہی تھی)سن۴۳/66۳میں کوفہ میں  سب سے پہلی اسلامی تحریک  کا آغاز کیا۔معاویہ نے اس تحریک کا مقابلہ کیا اور ان میں سے کچھ کو کوچ کروا کر شام میں بھیج دیا

دور یزید کے بعد یہ موالی تحریک  واضح و شفاف ہو گئی کیونکہ فتح کی گئی سر زمینوں میں مسلمانوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا اور نئے مسلمانوں  نے دیکھا کہ عربوںاور خاص کر ان کے حکمرانوں کے امتیازات میں اضافہ ہوا رہا ہے۔لہذا انہوں  نے ایک لشکر بنایا جس کا اس دور کے اسلامی معاشرے میں مقام تھا۔موالیوں نے اموی حکومت کے خلاف اس تحریک سے الگ پالیسی اپنائی اور یہ


اپنے جن حقوق  سے محروم تھے ،ان کی دستیابی کے لئے انہوں نے اموی حکومت میں ابن زبیر کی تحریک کی حمایت کی۔ان کی فوج مختار بن ابی عبیدہ ثقفی کی تحریک کی بدولت میں آشکار ہوئی اورتحریک شیعوں اور ایرانی عوام میں اتحادکے آغاز کا باعث بنی۔ان تحریکوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ مساوات کے حق کا قانون چاہتے تھے  اگرچہ وہ اپنے تمام اہداف حاصل نہ کر سکے۔

موالیوں کے مقابلہ میں عمر بن عبد العزید کے ددور خلافت میں امویوں کی سیاست بدل گئی ۔ اسے قطب اسلامی! اور بنی امیہ کے درمیان مصالحتی سیاست کہا جا سکتا ہے جس سے وہ افراتفری اور بے سکونی کو ختم کرنے میں کامیاب ہوئے ۔یہ سیاست عمر کی موت کے بعد پھر بدل گئی اور امویوں نے ایک بار پھر عربوں اور موالیوں میں فرق کرنا شروع کر دیا۔

ایسا معلوم ہوتاہے کہ موالیوں کے ذریعہ وجود میں آنے والا سیاسی گروہ عباسیوں کا آلہ کار بن گیا ۔ کیونکہ انہیںاس تحریک سے عربوں کے ساتھمساوات کی امید تھی اسی لئے عباسی ایرانی عوام اور سرزمین کے مرہون منت ہیں کیونکہ ان  کے لئے امویوں کے سامنے خراسان ہی  مقابلہ کاپہلا میدان قرار پایا۔لیکن اقتصادی لحاظ سے یہ کہنا ضروری ہے کہ امویوں نے مشخص اقتصادی سیاست نافذ کی جو موالیوں کو اقتصادی امتیازات سے محروم رکھنے پر مبنی تھی۔جس نے ان کے لئے بہت سے مسائل پیدا کئے  اور آخر کار یہ بد امنی پیدا کرنے پر اختتام پذیر ہوا جو ان کی حکومت کی نابودی کا باعث بنا۔

موالی ہر جگہ اقتصادی حالات کی شکایت کرتے ۔وہ حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والے ہر شخص کے ساتھ ملحق ہو جاتے ۔خراسان کے موالی دوسروں کی بنسبت زیادہ شکایت کرتے  تھے، وہ دوسرے اسلامی شہروں سے پہلے اسلام کی طرف آئے اور انہوں نے عربوں کے ساتھ مل کر ترکوں کے ساتھ سرزمین ماوراء النہر میں اور ہندیوں سے سندھ میں جہاد میں شرکت کی ۔ان خدمات کے باوجود حکومت نے انہیں اقتصادی امتیازات سے محروم رکھا۔(1)

--------------

[1]۔ دولت امویان:240


 یہودیوں کی بے راہ روی اور ان کی اسلام سے دشمنی

یہودیوں کی اسلام سے دشمنی کے اسباب میں سے ایک اہم سبب ان کی اقتصادی شکست تھی۔ سب جانتے ہیں کہ یہودی کس حد تک اقتصای امور اورمال و دولت جمع کرنے کو اہمیت دیتے ہیں۔ چونکہ وہ خود کو انسانوں کی سب سے افضل قوم سمجھتے ہیں!جس کے لئے وہ اس قدر کوشش کرتے ہیں کہ وہ مالی اعتبار سے سب لوگوں سے برتر ہوں ۔ اقتصادی برتری حاصل کرنے کے لئے وہ ہر قسم کا غیر اخلاقی اور غیر انسانی کام انجام دیتے ہیں۔ وہ فساد، فحاشی،شراب ،جوّا اور بربادی کے کسی بھی طرح کے ایسے وسیلہ سے دستبردار نہیں ہوتے جس سے ان کے مال و ددولت میں اضافہ ہو۔جوانوں اور پورے انسانی معاشرے میں ظہور اسلام اور اسلامی اخلاقیات کے عام ہونے سے بے راہ روی،فحاشی اور شراب نوشی کا خاتمہ ہو گیا اور پیغمبر اکرم(ص) کے وجودکی وجہ سے لوگ ناپسندیدہ اور خلاف شریعت کام ترک کر دیتے تھے اور انسانی اخلاقیات کی طرف مائل ہوتے تھے اور اسلامی بازارتشکیل دیتے تھے۔اس وجہ سے یہودیوں کے بازاروں کی رونق ختم ہو گئی اور بہت سے حرام کاروبار یا تو ختم ہو گئے یا ان میں پہلے جیسی بات نہ رہی ؛اور خاص طور پر رسول اکرم(ص) نے حکم دیا تھا کہ مدینہ میں اسلامی قوانین کے مطابق ایک بازار بنایا جائے۔ اسی لئے پیغمبر اکرم(ص) کے مدینہ ہجرت کرجانے کی وجہ سے وہاں کے یہودیوں (جو تین قبائل''بنی قینقاع، بنی قریظہ اور بنی نظیر''پر مشتمل تھے) کو اقتصادی منافع خطرے میں نظر آ رہا تھا؛ کیونکہ انہوں نے مدینہ میں مشروب سازی کے کارخانے، فحاشی کے اڈے اور خنزیروں کی پرورش کے لئے مراکز قائم کئے ہوئے تھے۔اسی طرح سونے چاندی کی ذخیرہ اندوزی،سودی معاملات اور اسلحہ سازی بھی انہیں کے ہاتھوں میں تھی۔المختصر یہ کہ مدینہ کی اقتصای نبض یہودیوں کے ہاتھوں میں تھی۔لیکن مدینہ میں اسلام آنے اور اسلامی حکومت کے قیام سے یہودیوں کے اقتصادی  امتیازات اور منافع کو خطرات لاحق تھے اور یہودیوں کے بازار کی رونق بھی ماند پڑ گئی تھی۔یہ اس وجہ سے تھا کہ مدینہ کے جوان ان کے میکدوں کا  رخ نہیں کرتے تھے ،مدینہ کے لوگ سور کا گوشت نہیں کھاتے تھے اور اس سے یہودیوں کے اقتصاد کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔(1)

--------------

[1]۔ اسرائیلیات القرآن:42، ملاحظہ کریں: المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام: ج6ص۵۴۳


کتاب''محمد(ص) رسول الحرّیة''میں نقل ہوا ہے :رسول خدا(ص) نے مدینہ کے تاجروں کو حکم دیا کہ وہ مدینہ میں ایک مستقل بازار کھولیں۔مدینہ میں ایسے بازار کے قیام کا مقصد اسلامی قوانین اور تجارتی معاملات میں عدل و انصاف کی رعایت کرنا تھا۔اردگرد کے بہت سے تاجروں نے اس بازار کا رخ کیا جو یہودیوں کے بازار کی رونقمیں کمی کاباعث بنا۔(2)(1) یہودیوں کی اقتصادی شکست ، آمدنی اور کاروبار کے بہت سے ذرائع کے ختم ہو جانے کی وجہ سے یہودی مسلمانوںسے بغض رکھنے والے سخت دشمن بن گئے اسی وجہ سے جہاں تک ہو سکاانہوں نے زمانۂ جاہلیت میں  اسلام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور مسلمانوں کو نابود کرنے کی کوشش کی۔اس بناء پریہودیوں کی اقتصای شکست اور ان کے بازارکی رونق میں کمی یہودیوں کی اسلام اور مسلمانوں سے دشمنی کا باعث  ہے۔

پیغمبر اکرم(ص)  کو زہر دینا

 یہودیوں کی اقتصادی شکست اس بات کاایک اہم سبب ہے کہ جس کی بناء پر انہوں نے رسول اکرم(ص) کو شہید کرنے کا ارادہ کیا۔یہودیوں کے  ہاتھو ں رسول اکرم(ص) کے مسموم ہونے کا موضوع تاریخی منابع میں اس حد تک مشہور ہے کہ جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ مؤرخین لکھتے ہیں:زینب بنت حارث، سلّام بن مشکم کی بیوی (جس کے کچھ رشتہ دار جنگ خیبر میں مارے گئےتھے(3) نے بھیڑکے ایسے حصہ کو زہر آلود کیا جسے پیغمبر اکرم(ص) کھانا پسند کرتے تھے اوراس نے وہ گوشت پیغمبر (ص)کی خدمت میں پیش کیا۔ آنحضرت(ص) نے اپنے اصحاب کے ساتھ کھانا شروع کیا لیکن ابھی ایک لقمہ بھی تناول نہیں  کیاتھا کہ آپ (ص) نے فرمایا:یہ غذا مجھے بتا رہی ہے کہ یہ زہرآلود ہے ۔ بشر بن براء کہ جنہوں نے اس کا ایک لقمہ کھا لیا تھا وہ شہید ہو گئے۔ پیغمبر اکرم(ص)نے اپنی رحلت کے وقت بشر کی ماں سے فرمایا تھا:

--------------

[1]۔ اسرائیلیات القرآن:43

[2]۔ اسرائیلیات وتأثیر آن بر داستان ہای انبیاء در تفاسیر قرآن:54

[3]۔ المغازی:6792


یہ بیماری اسی لقمہ کا اثر ہے جو تمہارے بیٹے کے ساتھ خیبر میں کھایا تھا۔(1)

جب آنحضرت نے اس کام کی وجہ پوچھی تو زینب نے کہا:کیونکہ تم نے میرے رشتہ داروں کو قتل کیا تھا لہذا میں نے سوچا کہ اگر تم پیغمبر ہو تو آپ  زہر کسے آگاہ ہو جائیں گے ورنہ ہمیں تم سے نجات مل جائے گی۔

اس مسئلہ میں مؤرخین کے درمیان اختلاف ہے کہ کیا رسول اکرم(ص) نے اس یہودی عورت کو قتل کر دیاتھا یااسے آزاد کر دیا؟ سہیلی کہتے ہیں: دو طرح کی روایات میں جمع اس طرح سے کیا جا سکتا ہے کہ ہم یہ کہیں کہ پہغمبر اکرم(ص) نے پہلے اپنا انتقام نہیں لیا اور اسے آزاد کر دیا اورجب بشر بن براء دنیا سے چلے گئے تو اس یہودی عورت سے قصاص  لیاگیا۔(2)

تاریخ میں کچھ دوسرے واقعات بھی موجود ہیں کہ کچھ اور افراد نے بھی رسول اکرم(ص) کو زہر دیا اور آنحضرت(ص) کو شہید کیا۔

--------------

[1] ۔ پیغمبر اکرم(ص) کو زہر دینے کے واقععہ کے بارے میں مؤرخین کے درمیان اختلاف ہے۔ ابن احاق کہتے ہیں:پیغمبر اکرم(ص) نے اس غذا کا لقمہ نہیں کھایا تھا ۔ لیکن واقدی کہتے ہیں: آنحضرت(ص) نے وہ غذاکھائی ۔ اسی طرح یہ موضوع بھی واضح نہیں ہے کہ بشر اسی وقت یا ایک سال کے بعد فوت ہوئے ۔ لیکن اصل واقعہ کو اور اس کی وجہ سے تین سال کے بعد پیغمبر اکرم(ص) کی رحلت کو مؤرخین قبول کرتے ہیں۔اس کی مزید تفصیلات جاننے کے لئے : سیرۂ ہشام:ج2ص337،  المغازی:ج2ص677، الطبقات الکبری:ج2ص82 اور 154،تاریخ الیعقوبی:ج1ص375 ، التنبیہ الاشراف:224،  جامع السیرة:169،الروض الأنف: ج6ص571

[2]۔ الروض الأنف:ج6ص571


یہودی یا یہودی زادوں کے ہاتھوںاسلام کے کچھ بزرگوں کی شہادت

اموی حکام، عیسائیوں اور یہودیوں کے طرفدار گورنر مسلمانوں کو اس قدر سخت تکالیف پہنچاتے تھے کہ بعض اوقات انہی یہودی و عیسائی زادوں کے ہاتھوں مسلمان شہید ہو جاتے تھے۔

وہ اموی حکمرانوں کا نام سے استعمال کرتے ہوئے اسلام کے نام پر اسلام کے پیشواؤں اور مسلمانوں کو شہید کرتے اور بے انتہاقتل و غارت کرتے تھے۔ تاریخ انسانیت میں نقل ہونے والا ایک نہایت شرمناک اور وحشیانہ قتل محمد بن ابی بکر کی شہادت ہیجو معاویہ بن حدیج کندی کے نام سے ایک یہودی زادہ نے انجام دیا۔

محمد بن ابی بکر اگرچہ ابو بکر کے بیٹا تھے لیکن چونکہ وہ حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے طرفدار اور مصر میں آنحضرت کے گورنر تھے اسی لئے ان کے ساتھ بدترین سلوک کیا گیا اور ایک یہودی زادہ نے انہیں شہید کرنے کے بعد ان کے بدن کو گدھے کی کھالمیں رکھ کر آگ لگا دی۔اس واقعہ کو جاننے کے لئے ہم عمر و عاص اور معاویہ بن حدیج سے ان کی جنگ کو ذکر کرتے ہیں:

عمروعاص مصر نے مصر کا قصد کیا ۔ محمد بن ابی بکر لوگوںکے درمیان کھڑے ہوئے اور خدا کی حمد و ثناء کے بعد یوںفرمایا:

امّا بعد؛اے مسلمانو اور مومنو!بیشک جو لوگ بے حرمتی کرتے ہیں اور گمراہی میں پڑے ہیں اور ظلم و وجور کے ساتھ سرکشی کرتے ہیں،اب وہ تمہارے خلاف کھڑے ہوئے ہیں اور لشکروں کے ساتھ تمہاری طرف روانہ ہو چکے ہیں ۔ جو بھی جنت اور بخشش کا طلبگار ہے وہ ان سے جنگ کے لئے تیار ہو جائے اور خدا کی راہ میں جہاد کرے، خدا تم پر رحمت کرے؛کنانہ بن بشر کے ساتھ فوراً روانہ ہو جاؤ۔

تقریباً دوہزار افراد کنانہ کے ساتھروانہ ہو گئے اور محمد بن ابی بکر دوہزار افراد کے ساتھ ان کے پیچھے روانہ ہوئے اور انہوں نے کچھ دیر اپنی لشکر گاہ میں قیام کیا۔ عمر وبن عاص، محمد بن ابی بکر کے پہلے لشکرکے سپہ سالار کنانہ کے مقابلہ میں لڑنے کے لئے


آیااور عمرو جونہی کنانہ کے قریب پہنچاتو اس نے کنانہ سے مقابلہ کے لئے ایک کے بعد ایک گروہ بھیجالیکن شامیوں کا جو بھی گروہ آتا کنانہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس پر حملہ کرتے اور ان پر ایسے وار کرتے کہ وہ انہیں عمرو عاص کی طرف الٹے پاؤں بھگا دیتے تھے اور انہوں نے اس کام کو متعدد بار انجام دیا۔

 عمروعاص نے جب یہ دیکھا تو معاویہ بن حدیج کو پیغام بھیجا اور وہ بہت بڑے لشکر کے ساتھ اس کی مدد کے لئے آیا ۔کنانہ نے جب وہ لشکر دیکھا تووہ اور ان کے ساتھی اپنے گھوڑوں سے اتر آئے   اور انہوں نے ان پر تلوار سے وار کرنا شروع کئے جب کہ وہ اس آیت کی تلاوت کر رہے تھے:''کوئی نفس بھی اذنِ پروردگار کے بغیر نہیں مرسکتا ہے سب کی ایک اجل اور مدت معین ہے''(1) اور تلوار کے ذریعے ان پر اسی طرح وار ر رہے تھے یہاں تک کہ شہید ہو گئے۔خدا ان پر رحمت کرے۔

ابراہیم ثقفی کہتے ہیں:محمد بن عبداللہ نے مدائنی سے اور وہ محمد بن یوسف سے نقل کرتے ہیں کہ جب کنانہ قتل ہو گئے تو عمرو عاص نے محمد بن ابی بکر کو اپنا ہدف بنایا اور چونکہ محمد کے ساتھی ان سے منتشر ہو گئے تھے،وہ آرام سے باہر آئے اور اپنی راہ کو جاری رکھا  یہاں تک کہ ایک ویرانہ  پر پہنچے اور وہاں پناہ لی۔عمرو عاص آیا اور شہر فسطاط(2) میں داخل ہوا اور معاویہ بن حدیج ،محمد بن ابی بکرکا تعاقب اور ان کی تلاش میں  باہر آیا۔راستے میں اسے کچھ غیر مسلمان افرادملے  اس نے ان سے پوچھا:کیا تمہارے پاس سے کوئی اجنبی  شخص گذرا ہے؟پہلے انہوں نے کہا:نہیں ۔ پھر ان میں سے ایک نے کہا:میں اس خرابہ میں گیا تو میں نے دیکھا کہ وہاں ایک شخص بیٹھا ہوا تھا۔معاویہ بن حدیج نے کہا:ربّ کعبہ کی قسم! یہ وہی ہے۔اور سب دوڑتے ہوئے وہاں گئے اور محمد تک پہنچ گئے،وہ لوگ انہیں باہر لائے  اور نزدیک تھا کہ وہ پیاس سے جان بحق ہوجاتے،وہ انہیں فسطاط  لے کر آئے ۔اسی وقت محمد بن ابی بکر کا بھائی عبدالرحمن-جو عمرو عاص کے لشکر میں تھا-کھڑا ہوا اور اس نے عمرو سے کہا:خدا کی قسم! میرے بھائی کوپھانسی نہ دی جائے،معاویہ بن حدیج کو پیغام دو اور اسے اس کام سے منع کرو۔

--------------

[1]۔ سورۂ آل عمران، آیت:145

[2] ۔ فسطاط وہ پہلا شہر تھا مصر میں عربوں  نے دریائے نیل کے مشرق میں بنا اور یہ شہر عمرو عاص کے توسط سے بنایا گیا اور اس میں ایک مسجد بھی بنائی !(المنجد الأعلام)


عمرو بن عاص نے معاویہ بن حدیج کو پیغام بھیجا کہ محمد کو میرے پاس بھیج دو۔

معاویہ نے کہا:تم نے میرے چچا زاد بھائی کنانہ  بن بشر کو قتل کیا ہے اور اب میں محمد بن ابی بکر کو چھوڑ دوں؟کبھی نہیں؛''اور کیا تمہارے کفار ان سب سے بہتر ہیںیا ان کے لئے کتابوں میں کوئی معافی نامہ لکھ دیا گیا ہے''(1)

محمد نے کہا:مجھے ایک بوند پانی پلا دو۔

معاویہ نے کہا:اگر تمہیں پانی کی ایک بوند بھی دوں توخدا مجھے سیراب نہ کرے،تم عثمان کو پانی پلانے کی راہ میں رکاوٹ تھے اور اسے حالت روزہ میں اس کت گھر میں قتل کیا تھا ،خدا نے اسے جنت کا ٹھنڈا شربت پلایا!خدا  کی قسم؛اے ابوبکر کے بیٹے! میں تمہیںپیاسا ہی قتل کروں گااور خدا تمہیں  گرم پانی اور جہنم کے کھولتے ہوئے اورناپاک پانی  سے سیراب کرے گا۔!

محمد بن ابی بکر نے اس سے کہا:اے کاتنے والی یہودی عورت کے بیٹے!یہ خدا کے ہاتھ میں ہے کہ وہ اپنے دوستوں کو سیراب کرتا ہے اور اپنے دشمنوں کو پیاسا رکھتا ہے،تم اور تمہاری طرح کے افراد وہ لوگ ہیںکہ جنہیں تم پسند کرتے ہو اور وہ تمیں پسند کرتے ہیں اور خدا کی قسم! اگر میرے ہاتھوں میں   تلوار ہوتی تو تم مجھے اس طرح نہ پکڑ سکتے۔

معاویہ بن حدیج نے ان سے کہا:کیا تمہیں پتہ ہے کہ میں تمہارے ساتھ کیا کروں گا؟تمہیں اس مردہ گدھے کے پیٹ میں رکھ کے جلا دوں گا۔

محمد نے کہا:فرض کرو کہ تم میرے ساتھ ایسا کرو گے تو کیاہوا کیونکہ بہت سے اولیاء خدا کے ساتھ بھی ایسا کیا گیا۔خدا کی قسم!مجھے امیدہے کہ تم مجھے جس آگ سے ڈرا رہے ہو ،خدا میرے لئے وہ آگ ٹھنڈی کردے گا اور مجھے سلامت رکھے گا جس طرح خدا نے اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے کیا اور مجھے امید ہے کہ خدا یہ آگ تمہارے اور تمہارے دوستوں کے لئے

-------------

[1]۔ سورۂ قمر،آیت:43


قرار دے جس طرح نمرود اور اس کے دوستوں کے لئے قرار دی اور مجھے امید ہے کہ خدا تجھے،تیرے پیشوا اور اس شخص( عمرو عاص کی طرف اشارہ کیا)کو جلنے والی آگ میں جلائے گا۔''کہہ دیجئے کہ ہمارے اور تمہارے درمیان گواپ بننے کے لئے خدا کافی ہے کہ وہی اپنے بندوں کے حالات سے باخبر ہے اور ان کی کیفیات کا دیکھنے والا ہے''(1)

معاویہ بن حدیج نے ان سے کہا:میں تمہیں ظلم و ستم سے قتل نہیں کر رہا بلکہ تمہیں عثمان بن عفان کے خون کے بدلےقتل کررہا ہوں۔

محمد نے کہا:تمہیں عثمان سے کیا سروکار؟جس شخص نے ظلم کیا ،خدا اور قرآن کے حکم کو تبدیل کر دیا اور خداوند متعال نے فرمایا ہے:''اور جو ہمارے نازل کئے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ نہ کرے گا وہ سب کافر شمار ہوں گے''۔''وہ ظالموں میں شمار ہو گا''۔''وہ فاسقوں میں شمار ہو گا''(2)

اس کے کئے گئے ناروا کاموں کی وجہ سے ہم غضبناک ہوگئے اور ہم اسے واضح طور پر خلافت سے الگ کرنا چاہتے تھے لیکن اس نے قبول نہ کیا اور لوگوں کے ایک گروہ نے اسے قتل کر دیا۔

معاویہ بن حدیج غصہ میں آگیا اور انہیں اپنے سامنے لا کر ان کی گردن اڑا دی اور پھر ان کے بدن کومردہ گدھے کے پیٹ میں رکھ کر جلا دیا۔

جب عائشہ تک یہ خبر پہنچی تو وہ ا س پر بہت روئی۔وہ ہر نماز کے بعد قنوت پڑھتی تھی جس میں معاویہ بن ابی سفیان،عمرو عاص اور معاویہ بن حدیج پر لعنت کرتی تھی۔اس نے اپنے بھائی کے اہل  وعیال اور بیٹوں کی کفالت کا ذمہ لے لیا جن میں قاسم بن محمد بھی شامل تھے۔

--------------

[1]۔ سورۂ بنی اسرائیل،آیت:96

[2]۔ سورۂ مائدہ،آیات:44،45 اور 47


کہتے ہیں:معاویہ بن حدیج ایک پلید اور لعنتی شخص تھا جو حضرت  علی بن ابی طالب علیہما السلام کو دشنام دیتا تھا۔

ابراہیم ثقفی کہتے ہیں:عمرو بن حماد بن طلحہ قناد نے علی بن ہاشم سے انہوں نے اپنے والد سے، انہوں  نے داؤد بن ابی عوف سے ہمار ے  لئے روایت نقل کی ہے کہ معاویہ بن حدیج مسجد نبوی میں امام حسن بن علی علیہما السلام کی خدمت میں آیا۔

امام حسن علیہ السلام نے اس سے فرمایا:

اے معاویہ! لعنت ہو تم پر؛تم وہی ہو جو امیر المؤمنین علی بن ابی طالب علیہما السلام کو دشنام دیتا تھا ؟! خدا کی قسم!اگر تم انہیں قیامت کے دن دیکھو - اور میں سوچ بھی نہیں سکتا کہ تم انہیں دیکھو گے-تو تم انہیں اس حال میں دیکھو گے کہ وہ اپنے پا برہنہ تم جیسے لوگوں کے چہروں کو کچلیں گے اور انہیں حوض کوثر کے پاس سے بھگادیںگے جس طرح بیگانے اونٹوں اجنبیوں کو بھگا دیا جاتا ہے۔(1)

یہودیوں کی سازش سے بنی امیہ کے ہاتھوں اسکندریہ کے مینار کی بربادی

یہودی اسلام اور مسلمانوں کے اس حد تک دشمن تھے اور ان کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف اتنا بغض بھرا ہوا تھا کہ وہ اسلام کے نام اور اسلام کے نام پر کسی بھی حکومت سے راضی نہیں تھے۔ لیکن  اسلام کا نام استعمال کئے بغیروہ اسلام کو نقصان نہیں پہنچا سکتے تھے۔اس لئے انہوں نے بنی امیہ کی مدد کرنا شروع کی جن کے پاس اسلام اور مسلمانوں کا نام تھا تاکہ ان کے ذریعہ اصل اسلام کو کچل سکیں۔

اس بارے میں بنی امیہ بھی یہودیوں کے ہمدرد تھے چونکہ وہ جانتے تھے کہ اسلام کو نقصان پہنچانے کے لئے اسلام کے نام اور مسلمانوں سے استفادہ کرنا چاہئے لہذا انہوں نے ظاہری  طور پر اسلام قبول کیا اور ظاہری طور پر مسلمان ہو گئے اور خلافت کا لبادہ اوڑھ کرخدا ،پیغمبر ،کعبہ اور دین کے تمام مقدسات کے خلاف برسرپیکار ہو گئے۔

--------------

[1]۔ جلوۂ تاریخ در شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید:2253


اموی خلیفہ اپنے باطنی خواہشات کو بخوبی جانتے تھے بلکہ وہ یہودیوں کی شیطانی مکاریوں اور سازشوں سے بھی باخبر تھے اور وہ جانتے تھے کہ ان کی اسلام اور مسلمانوں سے درینہ دشمنی ہے۔ لیکن ان سب کے باوجود کچھ موارد میں انہوں نے یہودیوں سے اس طرح دھوکا کھایا کہ جس کی شرمندگی ہمیشہ کے لئے تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہو گئی اور جس سے ان کی بے شرمی میں مزید اضافہ ہوا۔

ان کا ایک منصوبہ اسکندریہ کے مینار کو برباد کرنا تھاجو دنیا کے سات عجوبوں میں سے ایک تھا۔

بہت سے مفکر دنیاکے سات عجوبوں سے کم وبیش آشنا ہیں اوروہ جانتے ہیںکہ ایک روایت کے مطابق اسکندریہ کا مینار  اسکندر مقدونی نے بنایا تھا جو دنیا کی حیرت انگیز تعمیرات میں سے ایک ہے۔اس عجیب عمارت  اور اسے تباہ کرنے کے لئے یہودیوں کی سازششوں کو جاننے کے لئے ان مطالب پر غور کریں:

حیرت انگیز عمارتوں میں سے ایک اسکندریہ کا مینارہے  جوتراشے ہوئے پتھروںاور سیسہ سے بنایا گیا ہے ۔اس کے تین سو کمرے ہیں جن میں سے ہر ایک کمرے میں سے مینار کے اوپر جایا جا سکتا ہے اور ان کمروں میںسے دریاکو بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

کہتے ہیں:اسے بنانے والا سکندر مقدونی ہے اور کچھ لوگ کہتے ہیں:اسے مصر کی ملکہ''دلوکا'' نے  بنایا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ اس مینار کے مشرقی کنارے میں لکھا ہوا ہے کہ طوفان نوح کے ایک ہزار دوسو سال بعدستاروں کے معائنہ کے لئے  مربیوش یونانی کی بیٹی کے حکم پر یہ مینار بنا گیا۔

کہتے ہیں:اس مینار کی لمبائی ہزار ذراع ہے اور اب اس کے اوپر کچھ مجسمے ہیں جن میں سے ایک مجسمہ ایک مرد کاہے جو اپنے دائیں ہاتھ کی شہادت کی انگلی سے سورج  کی طرف اشارہ کرتا  ہیچاہے وہ آسمان میں جس جگہ بھی ہو اورجس طرف سورج پلٹتا ہے وہ بھی اسی طرف پلٹ جاتا ہے۔

ایک دوسرا بدن ہے جو سمندرکی طرف دیکھ رہا ہے اور جب دشمن اس شہر سے ایک میل کی دوری پر ہو وہ خوفناک آواز نکالتا ہے تا کہ شہر کے لوگوں کو دشمن کے آنے کی خبر ہو جائے۔


ایک اور مجسمہ بھی ہے جو راتمیں ہر گھنٹے کے بعد  دلنشین آواز نکالتا ہے۔کہتے ہیںکہ اس مینار کے اوپر ایک آئینہ ہے جس کا رخ سمندر کی طرف ہے اور جس طرف سے بھی کشتیاں آئیں وہ رستے میں تین دن تک اس آئینہ میں دکھائی دیتی ہیں تا کہ یہ سمجھا جا سکے کہ وہ تاجر ہیں یا دشمن۔یہ مینارولید بن عبدالملک کے زمانے تک عروج پر تھا۔(1)

کتاب''تحفةالدھر''میں  اسکندر کو اس مینار کے بنانے والا قرار دیا گیا ہے اور لکھتے ہیں:اس مینار کو بنانے سے پہلے اس نے مختلف پتھروں کو پانچ سال تک پانی میں رکھا تا کہ اس سے یہ پتہ چل سکے کہ ان میں سے کون سا پتھر پانی کے مقابلہ میں زیادہ مزاحمت کر سکتا ہے۔پانچ سال کے بعد پتہ   چلا کہ آبگینہ(شیشہ)میں زیادہ استحکام و مزاحمت ہے۔اس لئے اس نے حکم دیا کہ پانی میںمینار کی بنیادوں کو آبگینہ سے بنایا جائے۔مشہور تاریخ نویس مسعودی نے یوں لکھا  ہے:ولید بن عبدالملک کے زمانۂ خلافت میں روم کے بادشاہ نے اپنے ایک خاص ذہین اورفہیم شخص کو مہاجر کی شکل میں کچھ اشیاء کے ساتھ ایک اسلامی ملک کی حدود میں بھیجا۔وہ شخص ولید کے پاس آیا اور اس سے کہا:میں روم کے بادشاہ کے قریبی افراد میں سے تھاوہ مجھ سے ناراض ہوگیاہے اور اس نے مجھے قتل کرنے کا ارادہ کیاہے ۔میں ڈر کے مارے وہاں سے بھاگ آیا اوراب میں اسلام کی طرف مائل ہو چکا ہوں۔وہ ولید کے ہاتھوں مسلمان ہو گیا اور اس کے نزدیکی افراد میں سے ہو گیا۔ اس نے روم  سے نکالے جانے والے ذخائر اور خزانوں کی بات کی ۔اس نے ان کی تفصیل اپنے پاس لکھی ہوئی تھی  اور اس نے ان میں سے کچھ چیزیں ولید کو پیش کیں جس سے ولید لالچ میں پڑ گیا۔

اس شخص نے ولید سے کہا:آپ کے ملک میں اموال، جواہر اورخزانے بہت زیادہ ہیں۔

ولید نے کہا: کہاں ہیں؟

اس نے کہا:اسکندریہ کے مینار کے نیچے اموال بھرے پڑے ہیں کیونکہ جب اسکندر دنیا کے جواہرات اکھٹیکئے تو انہیں زمین کے نیچے رکھ دیا اور اس کے اوپر مینار بنا دیا۔

--------------

[1]۔ ترجمۂ نخیة الدھر ف عجائب البرّ و البحر:53


ولید جو کہ لالچ میں آچکا تھا،اس نے اس شخص کے ساتھ اسکندریہ کے مسمار کو برباد کرنے کے لئے ایک لشکر بھیجا۔جب آدھے مینار کو مسمار کر دیا تو وہ مینار زمین پر گر گیاتو اسکندریہ کے لوگوں کا نالا بلند ہوا اور تب جاکروہ لوگ سمجھے کہ دشمن نے کس مکر و حیلہ سے کام لیا ہے۔جب وہ شخص بھی جان گیا کہ اس کی مکاری کو لوگ بھانپ گئے یں تو وہ رات کی تاریکی میں  فرار ہو گیا اور ہمارے زمانے  یعنی  سن 1432ھ میں بھی وہ مینار اسی حالت میں باقی ہے۔(1)

دو وجوہات کی بناء پر ہم نے یہ واقعہ بیان کیا ہے:ایک، اسکندریہ کے مینار کی وضاحت اور یہ کہ  گذشتہ زمانے میں دنیا میں کیسے کیسے عجوبے پائے جاتے تھے۔اور اس سے بھی اہم نکتہ مسلمانوں کے دشمنوں کی بیداری،ہوشیاری اور ان کے مکرو فریب کو بیان کرنا ہے ۔ یہودی دشمن،جاہل عیسائی اور تمام مسالک و عقائد نے پوری تاریخ میں اسلام کی شان و شوکت ، جاہ و جلال اور مسلمانوں کی معنوی و باطنی رفعت کو ختم کرنے کی کوشش کی جس کے مقابلہ میں مسلمان ہمیشہ بے حس رہے اور انہوں نے کبھی اس کی طرف توجہ نہیں دی۔لہذا آپ عزیزجوانوں کو میری یہی تاکید اور سفارش ہے کہ دشمن کی طرف سے جو کچھ آئے اسے ہمیشہ اچھا نہ سمجھو بلکہ اس کے ظاہر کو دیکھ کر اس کے باطن کو سمجھنے کی کوشش کرو۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ خدمت کے نام پر کیسی کیسی خیانتیں کی جاتی ہیں،ترقی و تمدن کے نام پر کیسا کیسا نقصان پہنچاتے ہیں،نئی ایجادات   کے نام پر کیسے کیسے اصل گوہر ہم سے لے لئے جاتے ہیں اورکیسے ہمارا ظاہری و باطنی اور مادی و معنوی  سرمایہ لوٹ لیا جاتا ہے؟

میرے عزیزو!جان لو کہ دشمن دوست نہیں بن سکتا ،کفر کبھی اسلام کے ساتھ یکجا نہیں ہو سکتا۔ یہودی،عیسائی،کفار اور منافقین ہماری مدد کے لئےکبھی بھی حاضر نہیں ہوں گے ۔ وہ تمہیں جتنا دینا چاہتے ہیںوہ اس سے کہیں زیادہ تم سے لے چکے ہیں۔ ہمیں ہوشیار رہنا چاہئے اوراتنا بھی دھوکا نہ کھائیں اور سادہ لوح نہ رہیں۔ ہم ان کے دیئے گئے نقصانات اور ان کی خیانتوں سے واقف تھے اور واقف ہیں لیکن پھر بھی وہ جو کچھ لاتے ہیں ہم باہیں پھیلا کر ان کے افکار و رفتار کا استقبال کرتے ہیں؟

--------------

[1]۔ مروج الذھب:4171


خدا کو اس کی عزت و جلال کا واسطہ دیتے ہیںکہ پروردگارا!جلد از جلد اسلام اور مسلمانوں کی عزت کو پہنچا دے:''این معزّ الأولیاء و مذّل الأعداء'' (1)

مسلمانوں میں اختلاف ایجادکرنےکے لئے یہودیوں کی سازش

پیغمبر اکرم(ص)کے خلاف یہودیوں کی سازشیں صرف غیر مسلمانوں کو اسلام کی  طرف آنے سے روکنے میں ہی منحصر نہیں تھیں بلکہ جہاں تک ہو سکتا تھا وہ مسلمانوں میں تخریب کاری اور سازشیں کرتے تھے تا کہ فتنہ و فساد اور افراتفری پیدا کرکے مسلمانوں کو کمزور کر سکیں۔

یہودیوں نے مسلمانوں میں اختلاف ایجادا کرنے کے لئے ہر ممکن طریقہ اختیار کیا اور اب بھی اسی راستہ پر چل رہے ہیں۔ان میں سے ایک راہ قومی تعصب سے استفادہ کرکے قبائلی جنگ کی آگ بھڑکانا ہے۔

اوس اور خزرج عرب کے دو بہت ہی مشہور قبیلے ہیں جو اسلام قبول کرنے سے پہلے یہودیوں کی سازش کی وہ سے جنگ و جدال میں مشغول تھے۔

کتاب ''تحلیلی بر عملکرد یہود در عصر نبوی''میں لکھتے ہیں: مدینہ میں داخل ہوتے وقت پیغمبر اکرم(ص) کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ان میں سے ایک اوس اور خزرج دو قبیلوں کے درمیان اختلاف تھا۔اسلامی حکومت کی بنیادوں کو مضبوط و مستحکم کرنے کے لئے ایسی دشمنی اور تفرقہ اندازی کو ختم کرنا آنحضرت کے لئے ضروری تھا ۔  لہذا آپ نے پہلی فرصت میں ان دونوں قبیلوں کے درمیان اتحاد اور بھائی چارہ قائم کیا اور آنحضرت(ص) کے اسی اقدام کی وجہ سے ان دو قبائل کے درمیان کئی سال کی دشمنی ختم ہو گئی۔اوس و خزرج میں اتفاق و اتحاد ہو جانے کی وجہ سے یہودی اپنے اقتصادی مقاصد اور دوسرے منافع حاصل نہیں کر سکتے تھے،اس لئے انہوں نے اسلام کی روزمرہ کی ترقی سے مقابلہ کرنے کے لئے مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور جدائی ڈالنے کی کوشش کی۔

--------------

[1]۔ جامعہ در حرم:364


یہودیوں نے اپنے اس مشہور قاعدہ''تفرقہ ڈالو اور حکومت کرو''پر عمل کرتے ہوئے دو قبائل اوس اور خزرج میں اختلافات پیدا کئے تھے اور ان سے قدرت کو یکجا کرنے کا وسیلہ سلب کر لیا تھا۔ اقتصادی،سیاسی اور دوسرے مختلف شعبوں میں یہودیوں کی ترقی کا یہی راز تھا۔چونکہ اسلام کے آنے سے انہیں اپنے یہ منہوس منصوبہ خاک میں ملتے دکھائی دے رہے تھے اس لئے انہوں  نے مختلف کاروائیاں کرنا شروع کیںتا کہ ان کے درمیان روابط ختم کرکے انہیں دوبارہ زمانۂ جاہلیت کی طرف پلٹا دیں اور یوںتیزی سے ترقی کرتے ہوئے اسلام کا راستہ روکا جا سکے۔اس مقصد کی خاطر یہودی کسی ایسے موقع کی تلاش میں تھے کہ جس میں اپنے مقصد کو حاصل کر سکیں اور اس اہم امر کے لئے اپنی سازش پر عمل کریں۔

ایک دن شاس بن قیس (جو ایک دولتمند یہودی تھا) ایک جگہ سے گذر رہا تھا ،جب اس نے دیکھا کہ وہاں اوس اور خزرج قبیلوں کے افراد پیار و محبت سے اکٹھے ہیں تو وہ اپنے حس اور رشک پر قابو نہ رکھ سکا اور اس نے اپنے منہوس منصوبہ پر عمل کرنے کے لئے اس موقع کو غنیمت جانا۔وہ کسی یہودی جوان کو اس مجمع میں بھیجنا چاہتا تھا جو ان کے درمیان زمانۂ جاہلیت کے درینہ بغض کو پھر سے تازہ کر دے اور اس اتحاد و دوستی کو تفرقہ و دشمنی میں بدل دے۔(1)

جونہی اس جوان نے ان کے درمیان ماضی کے اختلافات اور لڑائی جھگڑے کو یاد کیا اور ایک دوسرے کے بارے میں توہین آمیز اشعار پڑھ کر ان کی پیار محبت کی محفل کو لڑائی جھگڑے میںتبدیل کر دیادتوونوں قبیلوں نے ایک دوسرے پرتلواریں اٹھا لیں اور دوسرے افراد بھی ان کی مدد کو پہنچ آئے۔

جب یہ خبر رسول اکرم(ص) تک پہنچی تو آپ فوراً اس مجمع میں پہنچے اور فرمایا:خدا کی پناہ میں آجاؤ،کیا تم پھر سے جاہلیت کی طرف پلٹ گئے ہو اور جب کہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں؟! خدا نے اسلام کی طرف تمہاری ہدایت کی،تمہیں عزیز بنایا،جاہلیت کے رشتہ کو ختم کر دیا ،تمہیں کفر سے نجات دی اور   تمہارے دلوں کو متحد کیا۔(2)

--------------

[1]۔ السیرة النبویة: ج۲ص۲۰۴، فروغ ابدیت: 91-468

[2] ۔''یا معشر المسلمین؛ اللّٰه اللّٰه أبدعوی الجاهلیة و أنا بین أظهرکم بعد أن هداکم للاسلام، و أکرمکم به و قطع به عنکم أمر الجاهلیّة و استنقذکم من الکفر و ألّف بین قلوبکم'' منشور جاوید:306-299، السیرة النبویة: ج۲ص۲۰۵


پیغمبر اکرم(ص) کی باتیں ایک ایسے طمانچہ کی طرح تھیںجو بے ہوش افراد کے منہ پر پڑا اور س کے پڑتے ہی سب ہوش میں آگئے اور سب کو یہ پتہ چل گیا کہ اس یہودی جوان کے اس شیطانی کام کا منصوبہ پہلے ہی سے بنایا گیا تھا اور یہ دشمن کی مکاری تھی ۔اس بناء پر انہوں نے ندامت و شرمندگی سے روتے ہوئے اپنے اسلحہ زمین پر رکھ دیئے اور استغفار کی اور ایک دوسرے کی گردن میں ہاتھ ڈال کر الفت و بھائی چارے کی تجدید کی۔(1)

خداوند کریم نے اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یوں فرمایا ہے:

(یٰاأَیُّهَا الَّذِیْنَ آمَنُوَاْ ِن تُطِیْعُواْ فَرِیْقاً مِّنَ الَّذِیْنَ أُوتُواْ الْکِتَابَ یَرُدُّوکُم بَعْدَ ِیْمَانِکُمْ کَافِرِیْنَ) (2)

اے ایمان والو!اگر تم نے اہل کتاب کے اس گروہ کی اطاعت کر لی تو یہ تم کو ایمان کے بعد کفر کی طرف پلٹا دیں گے۔(3) اس دنیا میں یہودیوں کا بنیادی ہدف دنیاوی  آرائش وخوبصورتی اور اسی میں دلچسپی ہے۔ اور چونکہ ان کا آخری مقصد ہی دنیا ہے اس لئے وہ اس تک پہنچنے کے لئے انسانی اقدار کو پامال کر دیتے ہیں اور سب انسانوں  کے درمیان تفرقہ و نفاق کا سبب بنتے ہیں اور اس طرح وہ آپس میں ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں اور یہودی اپنی مکاریوں کو جاری رکھتے ہیں۔اسی  لئے خداوند متعال نے بھی قرآن مجید میں دنیا کی طرف توجہ کرنے کی وجہ سے ان کی سرزنش   اور مذمت کی ہے اور فرمایا ہے:

(أُولَئِکَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُاْ الْحَیَاةَ الدُّنْیَا بِالآَخِرَةِ فَلاَ یُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلاَ هُمْ یُنصَرُونَ) (4)

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے آخر ت کو دے کر دنیا خریدلی ہے اب نہ ان کے عذاب میں تخفیف ہوگی اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔

--------------

[1]۔ منشور جاوید:300،الصافی فی تفسیر القرآن:ج 1ص۳۳6

[2]۔ سورۂ آل عمران، آیت:100

[3]۔ تحلیلی بر عملکرد یہود در عصر نبوی:49

[4]۔ سورۂ بقرہ،آیت:86


پس جب ہم ابتدائے اسلام سے اب تک کی برائیوں اور تخریب کاریوںکی بنیاد کا تجزیہ کریں تو اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ان کا اصلی سبب یہودی تھے یا وہ اس میں حصہ دار تھے؛جیسا کہ ایک روسی دانشور لکھتا ہے:بشریت کو نابود کرنے کے لئے یہودیوں کے بچھائے ہوئے جالوں سے دنیا کو شدید جنگی خطرات لاحق ہیں۔(1) ابتداء سے ہی یہودیوں کی سیاست ایسی ہی رہی ہے کہ جو چیز بھی دنیاوی امور تک رسائی کی راہ میں حائل ہواسے کسی بھی طرح راستے سے ہٹا دیا جائے،چاہے اس کے لئے وحشیانہ ترین اور غیر انسانی کام ہی کیوں نہ کرنے پڑیں  جیسے انسانوں کو برائیوں اور فحاشی کی طرف دھکیلنا،ان کے درمیان تفرقہ و نفاق ایجاد کرنا یا ضرورت پڑنے پر انہیں اجتماعی صورت میں قتل کر دینا۔اس رو سے یہ کہاجا سکتا ہے کہ روئے زمین پر اکثر خرابیوں کی بنیادصرف یہودی ہی ہیں۔حتی کہ تورات میں تحریف و تبدیلی کے لئےیہودی علماء رضاکارنہ طور پر  سامنے آئے اور اس کام کے لئے وہ یہودی حکمرانوں اور سلطانوں سے رشوت لیتے تھے اور ان کی خوشامد اور اپنی دنیا کے حصول کے لئے دین یہود کو اس کے اصلی راہ سے منحرف کرتے تھے اور رسول اکرم(ص) کی صفات کو الگ انداز سے نقل کرتے تھے۔(2) خداوند کریم قرآن مجید میں فرماتا ہے:

(أَلَمْ تَرَ ِلَی الَّذِیْنَ أُوتُواْ نَصِیْباً مِّنَ الْکِتَابِ یَشْتَرُونَ الضَّلاَلَةَ وَیُرِیْدُونَ أَن تَضِلُّواْ السَّبِیْلَ) (3) کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا ہے جنہیں کتاب کا تھوڑا سا حصہ دے دیا گیا ہے اور وہ( اس سے اپنی اور دوسروں کی ہدایت کے لئے استفادہ کرنے کی بجائے اپنے لئے) گمراہی کا سودا کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راستہ سے بہک جا ؤ۔؟!مرحوم طبرسی ذکر کرتے ہیں:یہودی علماء خود بھی بہت زیادہ مال دیتے تھے تا کہ توریت کے ایسے مطالب میں تحریف کریںجو یہودیوں کے لئے مادّی نقصانات کا باعث بنتے ہیں۔ درحقییقت یہودی علماء توریت کے یہ تحریف شدہ مطالب دنیاوی اموال کے مقابلہ میں بیچتے تھے۔(4)

--------------

[1]۔ اسرار سازمان مخفی ہود:8

[2]۔ ابوالفتوح رازی:ج۴ص۳۹6

[3]۔ سورۂ نساء،آیت:44

[4]۔ مجمع البیان ف تفسیر القرآن:ج3ص96


جب یہودیوں  نے  پیغمبر اکرم(ص) کو اپنے ناجائز اقتصادی مقاصد کے حصول کی راہ میں حائل دیکھا اور یہ مختلف حربوں سے بھی اسلام کو پھیلنے سے نہ روک سکے تو انہوں نے رسول خدا(ص) کو قتل کرنے کا بھی منصوبہ بنایالیکن پیغمبر(ص) وحی کے ذریعہ ان کے منصوبے سے آگاہ ہو گئے اور اس جگہ کو چھوڑ کر مدینہ واپس آ گئے جہاں وہ آپ کو قتل کرنا چاہتے تھے۔انہیں اس ناپسندیدہ کام کی وجہ سے تنبیہ کی گئی اور انہیں شہر بدر کر دیا گیا۔(1)

یہودیوں میں آج بھی حب دنیا اور مال پرستی پائی جاتی ہے اور آج ہم اس کے شاہد ہیں کہ وہ دنیاوی مقاصدکے حصول کے لئے ہر قسم کے غیر انسانی اور ناجائزفعل انجام دیتے ہیں چاہے یہ ان کے اپنے دین کے برخلاف ہی کیوں نہ ہوں۔اگراس دن وہ معاشرے میں  فساد برپا کرتے تھے اور زیادہ سے زیادہ بے گناہ لوگوں کو قتل کرتے تھے تو آج بھی استعماری ممالک - جن میں یہودیوں کا اثر و رسوخ ہے-اہم کیمیائی و معدنی موادلوٹ رہے ہیں اور اس کے مقابلہ میں منشیات  اور بوسیدہ اسلحہ فروخت کرتے ہیں جو سالوں سے اسٹور میں بے کار پڑا ہوتاہے۔(2)

....اگر اس دن یہودی دولت حاصل کرنے کے لئے اوس و خزرج میں تفرقہ ڈالتے تھے تا کہ غالب طرف کی حمایت کرنے سے مغلوب کے مال پر قبضہ کیا  جا سکے تو آج اس روش کا نیا نمونہ سامنے آیا ہے اور اقوام کے ذخائر تک رسائی کے لئے ہر قسم کی مکاری اور ہر طرح کا ظلم کرتے ہیں کیونکہ یہودیوں کی نظر میں حق صرف طاقت کا نام ہے اور آزادی خام خیالی سے زیادہ کچھ نہیں ہے اور صرف طاقت کے ذریعہ  ہی سیاست میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔(3)

یہودی ''پروتکل''اور اپنی کمیٹی کی گذارشات میں یوں اعتراف کرتے ہیں:ہم داخلی جنگوں کے ذریعہ اقوام کو کمزور کرتے ہیں  جو بعد میں سماجی جنگوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔

--------------

[1]۔ السیرة النبویةج: 3ص199-200

[2]۔ چہرۂ یہود در قرآن:6

[3]۔ چہرہ یہود در قرآن:9-8


جو ملک بھی ہماری مخالفت میں کھڑا ہو ہم اس ملک اور اس کے پڑوسی ملک کے درمیان جنگ چھیڑ دیتے ہیں تا کہ وہ اسلحہ کے مقابلہ میں مال دیں ،اسلحہ کی افزائش اور جنگیں ہمارے فائدے میں ہیں۔کیونکہ ایک طرف سے ہم اقوام و ملل کے درمیان اپنے لئے احترام پیدا کرتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ ہم نظم اور بے نظمی کے عواملہیں اور دوسری طرح سے ہم ان پر اقتصادی قراردادوں اور مالی عہدو پیمان کا بوجھ ڈال دیتے ہیں۔(2)(1) پیغمبر اکرم(ص)  اور آپ کے بعد کے زمانے میں یہودیوں کی تخریب کاری کا ایک اور سبب ان کے مقام و منصب کو درپیش آنے والا خطرہ تھا۔اس بناء پر یہودیوں نے مختلف زمانوں میں حکومتوں کو اپنے قابومیں کرنے کی کوشش کی ہے۔ان موارد میں سے ایک ان کے ثقافتی اور مطبوعاتی تہوار ہیں جن کے ذریعہ وہ لوگوں کے ذہنوں میں راسخ ہوتے ہیں اور اپنے مقام کو مستحکم کرتے ہیں۔اس بارے میں ''آدولف ہٹلر''لکھتا ہے:''.....زہریلے افکار کو پھیلانے والے یہودیوں کے علاوہ کوئی اور نہیں ہیں۔ گفتگو کرنے کے لئے ان کے کچھ خاص  لہجہ ہوتے ہیں جو ذہنی و فکری مغالطہ پیدا کرنے میں بہت ماہر ہوتے تھے۔سیاسی بحث کے دوران وہ کئی دھوکا دینے والے کلمات جیسے ملت،آزادی،امن و امان کا قیام وغیرہ سے اپنے مقابل کوخارج کر دیتے۔لیکن چونکہ یہ جنگ میں شکست کھانے والے ان افراد کی طرح  عاجز و بے بس ہوجاتے تھے جن کے پاس بھاگنے کا بھی کوئی راستہ نہ ہو۔اس لئے یہ خود ہی حماقت  وبے وقوفی کرتے۔اگر ان کا  کوئی منصوبہ ناکام ہو جاتا تو وہ فوراً نئی منصوبہ بندی میں لگ جاتے ۔ان کے دلائل اتنے بے بنیاد تھے کہ یہ خود بھی اس سے واقف تھے لیکن پھر بھی اس کا خیال نہ کرتے۔یہودی  ایک  خودغرض،لاپرواہ ،اپنے ملک اور خاندان کی غدارمخلوق ہے۔اگر کسی روز کسی ملک کی زمام ان کے ہاتھوں میں آجاتے اور وہ اسے اپنا مال سمجھنے لگیں تو اس ملک کو دوسرے ملک میں تخریب کاری پھیلانے کا مرکز بنا دیں''(4)(3)

--------------

[1]۔ اسرار سازمان مخفی یہود:68-67

[2]۔ تحلیلی بر عملکرد یہود در عصر نبوی:110

[3]۔ نبرد من:45

[4]۔ تحلیلی بر عملکرد یہود در عصر نبوی :118


دوسرا باب

یہود یوں کے کچھ کارکن اور ایجنٹ یایہودیوں کے رنگ میں رنگنے والے

    ۱- سلّام بن مشکم وغیرہ یہو

    2- ایک دوسرا گروہ

    3- ابوہریرہ

    4- عبداللہ بن عمرو عاص

    5- مسروق بن اجدع ہمدانی کوفی

    6- کعب الأحبار

    کعب الأحبار اور عمر

    کعب الأحبارکے توسط سے معاویہ کے یہودیوں سے تعلقات

    یہودی اور تغییر قبلہ اور کعب الأحبار کا کردار

    کعب الأحبار اور اسرائیلات کے خلاف امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کا موقف

    7- وہب بن منبّہ

    وہب بن منبّہ کے عقائد


 ۱- سلّام بن مشکم وغیرہ یہو

تاریخ اسلام کے منابع میں یہودی سربراہوں میں سے کچھ نام دوسروں سے نمایاںدکھائی دیتے ہیں ۔ جیسے کعب بن اشرف، ابو رافع (سلّام1 بن ابی حقیق) اور ابو حقیق کا خاندان کہ جن میں کعب بن اسد،حیی بن اخطب اور اس کا خاندان،  مخیریق، سلّام (1) بن مشکم، عبداللہ بن سلّام، محمد بن کعب قرظی اور کعب الأحبار۔

کعب بن اشرف بنی نضیر کے شاعروں میں سے تھا  جو اسلام، مسلمانوں اور پیغمبر اکرم(ص) کے خلاف اپنے پروپیگنڈوں اور کوششوں کی وجہ سے آنحضرت کے اصحاب کے ہاتھوں مارا گیا۔حکومت مدینہ کے خلاف تحریکوں میں ابو رافع کا بھی بہت اہم کردار تھا اور آخر میں اسے اسی کی سزا ملی۔ کنانہ بن ربعی بن حُقیق کہ جسے کبھی کنانہ بن ابی حقیق کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے اور جوخیبر کے بزرگوں میں  سے تھا اور ان کاصاحب کنز تھا۔(2) وہ خیبرکی جنگ میں مارا گیا۔اس سے پہلے مدینہ کے خلاف جماعتوں کی تحریکوں میں بھی اس کا نام نظر آتا ہے۔حیی بن اخطب، جو پیغمبر اکرم (ص) سے معاہدے  پر دستخط لینے کے لئے بنی نضیر کا نمائندہ تھا اور اسلام کے سخت دشمنوں میں سے تھا۔وہ اس قبیلہ کا بزرگ شمار کیا جاتا تھا،عہد وپیمان توڑنے کی وجہ سے اسے مدینہ سے نکال دیا گیا اور وہ خیبر چلا گیا۔جنگ احزاب میں اس نے کعب بن اسد(جو بنی قریظہ کا بزرگ اور رسول اکرم(ص) سے معاہدہ میں مدّ مقابل تھا) سے بہت اصرار کیا اور اسے پیغمبر (ص) سے کئے گئے معاہدے کو توڑنے  اور پیغمبر(ص) کے دشمنوں سے مل جانے پر مجبور کیا۔ان دونوں کا انجام یہ ہوا کہ یہ دونوں بنی قریظہ کے واقعہ میں قتل ہو گئے۔

----------------

[1] ۔ منابع میں ان یہودیوں کا نام تشدید کے نقل ہوا ہے اور اگر مؤرخین نے اس کی طرف توجہ نہ بھی کی ہو تو پھر بھی محققین نے اس کی تاکید کی ہے۔ سہیلی''عبداللہ بن سلّام'' کے نام کے ذیل میں کہتے ہیں:چونکہ سلام(تشدید کے بغیر)خدا کے اسماء میں سے ہے اس لئے مسلمانوں میں یہ نام نہیں ہے بلکہ یہودی اس طرح(سلام ، تشدید کے بغیر) نام رکھتے تھے۔ لیکن سہیلی کے قول پر بہت سے اعتراضات ہوئے کہ جن میں سے ایک یہی مورد ہے۔

[2] ۔ آل ابی حقیق کا کنز یہودیوں کے مال کا خزانہ تھا ۔اونٹ کی کھال میں اس کی حفاظت کی جاتی تھی ، جو اس خاندان کے بزرگ کے پاس ہوتا تھا۔ مکہ کی شادیوں کے لئے یہ خزانہ کرائے پر دیا جاتا تھا اور کبھی ایک مہینہ کے لئے یہ مکہ والوں کے پاس ہوتا۔''المغازی:ج۲ص6۷۱'


مخیریق  وہ تنہا یہودی تھا جسنے اسلام قبول کیا اور اس پر ثابت قدم رہا۔ان کا شماربنی قینقاع کے بزرگوں اور عالموں  میں ہوتا تھاجو پیغمبر(ص) سے معاہدے میں یہودیوں کے تیسرے گروہ کے نمائندہ تھے۔جب رسول اکرم(ص) جنگ احد کے لئے مدینہ سے باہر گئے تو مخیریق نے اپنی قوم سے کہا: تمہیں پتہ ہے کہ وہ خدا کا پیغمبر ہے اس لئے ان کی مدد کرنی چاہئے ۔یہودیوں نے کہا:آج ہفتہ کا دن ہے اور وہ ان کے ساتھ نہ گئے۔مخیریق نے اسلحہ اٹھایااور احد پہنچ گئے اور مسلمانوں سے مل کر جنگ کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ پیغمبر(ص) نے فرمایا ہے:یہودیوں میں سے مخیریق بہترین تھے۔(1) سلّام بن مشکم اگرچہ اسلام کے دشمنوں میں سے تھا لیکن اس کے باوجود اپنے یہودی کیش و علماء کورسول خدا(ص) سے جنگ کرنے اور عہد و پیمان توڑنے سے ہوشیار کرتاتھا اور آنحضرت کی رسالت کا   اعتراف کرتا تھا۔(2) غزوۂ سویق میں بھی اس یہودی کا نام ملتا ہے۔بدر کی شکست کے بعد ابو سفیان نے رسول اکرم(ص) سے جنگ کرنے کی نذر کی تھی  جس کے لئے وہ مشرکین کے ایک گروہ کے ساتھ چھپ کر مدینہ آیا اور بنی نضیر کے پاس گیا ۔ سلّام بن مشکم نے (جواس وقت بنی نضیر کا بزرگ اور ان کاصاحب کنز تھا )ابوسفیان کی بات مان کر اسے مسلمانوں کے بارے میں معلومات فراہم کیں۔ مشرکوں نے مدینہ کے اطراف میں  انتشار پھیلایا اور وہ ستّوؤںکووہیں چھوڑ کراس جگہ سے چلے گئے۔جب مسلمانوں نے ان کا تعاقب کیا تو انہیں  یہی ستّو ملے جو ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کا زاد راہ تھا اس وجہ سے اسے غزوۂ سویق کہا جاتا ہے۔(3) سلّام بن مشکم مدینہ سے نکل جانے کے بعد خیبر میں زندگی گزارتا تھا۔بنی قریظہ کے واقعہ اور حیی بن اخطب کے مارے جانے کے بعد اس نے ایک بار پھر یہودیوں کی قیادت سنبھالی اور جنگ خیبر میں قتل ہو گیا جب کہ وہ بستر مرگ پر تھا۔(4)

---------------

[1]۔ سیرۂ ابن ہشام:5181،المغازی:ج۱ص۲6۲

[2]۔ المغازی:ج1ص365،368 اور 373

[3]۔ سیرۂ ابن ہشام:ج2ص44،المغازی:ج1ص181

[4]۔ المغازی:ج1ص530 اورج2ص679


جنگ خیبر کے بعد جس عورت نے رسول اکرم(ص) کو زہر دیا تھا وہ اسی سلّام کی بیوی تھی کہ جس کاباپ اور چچا بھی جنگ میں مارے گئے تھے۔(1) عبداللہ بن سلّام دوسرا یہودی تھا جس نے اسلام قبول کیا لیکن مخیریق کے برعکس آخر میں یہ امویوں کا آلۂ کار اور اہلبیت اطہار علیہم السلام کا مخالف بن گیا۔یہی موضوع اور اس کا اسرائیلیات سے آگاہ ہونا باعث بنا کہ اس سے نقل ہونے والی روایات یااس کے بارے میں نقل ہونے والی گذارشات کو شک کی نگاہ سے دیکھا جائے۔مثلاً اس کے اسلام لانے کے زمانے کے بارے میں مشہور یہ ہے کہ اس نے ہجرت کے پہلے سال اسلام قبول کیا۔(2) ابن اسحاق نے خود عبداللہ سے نقل کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) کے مدینہ میں داخل ہوتے وقت اس نے اسلام قبول کیا کہ جب آنحضرت قبا میں رہتے تھے۔(3) لیکن اس کے اسلام لانے کے بارے میں ایک دوسری خبر یہ ہے کہ اس نے سن آٹھ ہجری میں اسلام قبول کیا۔(4) معاصر مؤرخ جعفر مرتضی عاملی دوسرے قول کو قبول کرتے ہیںاور کہتے ہیں:اس روایت کی طر ف توجہ نہ کرنے کی وجہ اس کے راویوں میں سے ایک کا شیعہ ہونا ہے۔(5)

دوسرا مورد اختلاف موضوع اس کے بارے میں نازل ہونے والی کچھ آیات کا شان نزول ہے ۔ انہیں آیات میں سے ایک سورۂ احقاف میں ہے کہ جس میں فرمایا گیا ہے:'کہہ دیجئے کہ تمہارا کیا خیال ہے اگر یہ قرآن اللہ کی طرف سے ہے اور تم نے اس کا انکار کردیا جب کہ بنی اسرائیل کاایک گواہ ایسی ہی بات کی گواہی دے چکا ہے اور وہ ایمان بھی لایا ہے اور پھر بھی تم نے غرور سے کام لیا ہے بیشک اللہ ظالمین کی ہدایت کرنے والا نہیں ہے ''(6)

--------------

[1]۔ سیرۂ ابن ہشام:ج2ص337 اور 679

[2] ۔ تاریخ خلیفہ:19، دلائل النبوة:ج2ص526۔ بیہقی نے اس کتاب میں ایک مخصوص باب کھولا ہے جس میں عبداللہ کے اسلام قبول کرنے کی روایت کو ذکر کیاہے۔

[3]۔۔سیرۂ ابن ہشام:ج1ص51[4]۔ الأصابہ: ج4ص118[5]۔ الصحیح:ج4ص145

[6]۔ سورۂ احقاف،آیت:10


بہت سی کتابوں میں ہے کہ یہ آیت عبداللہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔(1) لیکن بعض کہتے ہیں چونکہ سورۂ احقاف مکی ہے  اور عبداللہ مدینہ میں اسلام لایا اس لئے اس آیت سے عبداللہ مراد نہیں ہو سکتا۔(2)

علامہ طباطبائی سورہ کے مکی اور آیت کے مدنی ہونے کے اشکال کو ردّ کرتے ہوئے متعدد روایات کی بنیاد پر عبداللہ کو ہی اس آیت کا مصداق سمجھتے ہیں۔نیز وہ ان روایات کو بھی اشکال سے خالی نہیں سمجھتے۔(3)

دوسری آیات جن کا مصداق عبداللہ کو شمار کیا جاتا ہے وہ یہ ہیں:سورۂ آل عمران آیت199، سورۂ رعد آیت43 اور سورۂ شعراء آیت197۔(4) ایسا لگتا ہے کہ اہل کتاب میں سے اسلام لانے والوں کی تعداد بہت کم تھی(5)   اس لئے راویوں اور مفسروں نے اہل کتاب کے ایمان لانے کی طرف اشارہ کرنے والی آیات عبداللہ بن سلّام پر منطبق کی ہیں۔البتہ ان تین آیتوں کے بارے میں دوسروں کے نام بھی لئے گئے ہیں۔ ان سب کے باوجود شعبی نے کہا ہے:''کوئی آیت بھی عبد اللہ کی شأن میں نازل نہیں ہوئی ہے۔(6)   دلچسپ تو یہ ہے کہ ایک رپورٹ میں ان شأن نزول کا راوی بھی خود عبداللہ ہے!

عسقلانی کہتا ہے:جب ابن سلّام عثمان کا دفاع کرنے کے لئے لوگوں سے بات کر رہا تھا تو اس نے اشارہ کیا کہ میرے بارے میں آیۂ''شهد شاهد' 'اور'من عنده علم الکتاب''  نازل ہوئی ہے۔(7)

--------------

[1]۔ صحیح البخاری:ج4ص229،الطبقات الکبری:ج2ص269،مجمع البیان:ج5ص126[2]۔ الدر المنثور:ج7ص380

[3]۔ المیزان:ج18ص199 اور 203[4] ۔ ان تین آیتوں کے بارے میں بالترتیب :المغازی:3291،مجمع البیان:4623،الطبقات الکبری:2692

[5] ۔  ابن اسحاق نے صرف مخیریق اور عبداللہ بن سلّام کا نام لیا ہے کہ جنہوں نے اسلام قبول کیا(سیرۂ ابن ہشام:  ج۱ص۵۱6)   البتہ کہا جاتا ہے کہ یہودیوں میں سے کچھ دوسرے افراد نے بھی اسلام قبول کیا۔(سبل الہدی:ج۳  ص۳۷۸)  لیکن بہ ہر حال ان کی تعداد کم ہے۔

[6] ۔  الدر المنثور:ج۷ص۳۸۰۔جعفر مرتضی بھی ان قرآنی آیتوں کو عبداللہ پر منطبق کرنے کی مخالفت اور اس روایت کو تقویت دیتے ہوئے لکھتے ہیں: بعید نہیں کہ معاویہ نے ابن سلّام کے لئے فضیلت گھڑی ہو ،بالخصوص آیۂ رعد کے مصداق امیر المؤمنین علی علیہ السلام ہیں ۔ وہ کتاب سلیم کی ایک روایت سے استدلال کرتے ہیں جس میں قیس بن سعد آیت کو حضرت علی علیہ السلام اور معاویہ اسے عبداللہ سے تفسیر کرتا ہے۔(الصحیح :ج۴ص۱۴۸ اور 150)

[7]۔ الأصابة:ج۴ص۱۲۰


ابن سلّام کے بارے دوسرا قابل توجہ موضوع کچھ روایات ہیں جن میں اسے ''عشرۂ مبشرہ''(1) میں سے قرار دیا گیا ہے۔(2)

ان متعددروایتوں(جنہیں نقل کرنے کے سلسلہ میں عبداللہ بن سلّام بھی ہے) کے علاوہ جس مورد میں اس کا نام منابع میں نقل ہوا ہے وہ عثمان کے محاصرہ کا واقعہ ہے۔ اس بارے میں مؤرخین کا بیان ہے کہ عبداللہ بن سلّام نیعثمان کا محاصرہ کرنے والوں کو دور کرنے اور انہیں خلیفہ کا خون بہانے سے روکنے کی کوشش کی۔

عبداللہ کے جواب میں مخاطبین نے کہا:

  ''اے یہودی زادہ!ان امور سے تمہارا کیا سروکار؟''(3)

 ابن شبّہ اپنی کتاب میں عبداللہ کے عثمان سے دفاع کرنے کے بارے میں ایک باب لکھا ہے(4) اور ابن سعد نے عثمان کی حمایت میں اس سے روایات نقل کی ہیں اور لکھا ہے:

عبداللہ بن سلّام نے عثمان کے قتل کے دن کہا:''آج عرب نابود ہوگئے''(5)

یہنومسلمان یہودی ان لوگوں میں ہے جنہوں نے امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی بیعت نہیں کی تھی!(6) اور جو  43 ھ میں اس دنیا سے چلا گیا۔(7)

-------------

[1]۔ وہ دس افراجن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) نے انہیں جنت کی بشارت دی ہے!

[2]۔ صحیح البخاری: ج۴ص۲۲۹، الطبقات الکبری:ج۲ص۲6۹

[3]۔ انساب الأشراف: ج6ص192 اور 221، تاریخ الطبری:ج3ص452

[4]۔ تاریخ المدینہ:ج2ص1175

[5]۔ الطبقات الکبری:ج3ص59

[6]۔ مروج الذہب:ج2ص361، شرح نہج البلاغہ:94،تاریخ الطبری:ج3ص452

[7]۔ تاریخ خلیفہ:126


2- ایک دوسرا گروہ

ایک دوسرا گروہ کہ رسول اکرم(ص) کو جن کا سامنا تھاور جنہوں نے مسلمانوں کے لئے بہت زیادہ مشکلات کھڑی کیں، وہ لوگ تھے جنہوں نے ظاہری طور پر تو اسلام قبول کیا تھا لیکن ان کے دلوں میں اسلام نہیں تھا حتی کہ وہ اسے ختم کرنے کی تاک میں رہتے تھے۔خداوند کریم نے قرآن کی بہت سی آیتوں میں ان کی سختی سے سرزنش کی ہے اور ان کی صفات کو بیان فرمایا ہے۔

اگر تاریخی شواہد سے استفادہ کیا جائے تو ظاہری طور پر اسلام قبول کرنے کی اکثریت پہلے یہودی تھی۔ابن اسحاق نے اپنی کتاب کے ایک باب  میں یہودیوں کے کچھ علماء کا نام ذکر کیا ہے جنہوں نے ظاہراً تو اسلام کیا لیکن وہ منافقین کا حصہ تھے۔ان افراد میں رفاعة بن زید بن تابوت، زید بن لصیت،عثمان اور نعمان جو اوفی کے بیٹے تھے،رافع بن حریملہ،سعید بن حنیف، سلسلة بن براھام اور کنانة بن صوریا۔(1)

بلاذری نے سوید،داعس، مالک بن ابی نوفل(نوقل) اور لبید بن اعصم کا نام بھی ذکر کیا ہے۔(2)

ان ناموں میں سے زید بن لصیت (لصیب) کا نام سیرت کی اکثر و بیشتر کتابوں میں نظر آتا ہے۔مؤرخین نے کہا ہے:جنگ تبوک میں جب پیغمبراکرم(ص) کا اونٹ گم ہو گیا تو زید نے کہا:محمد(ص) کا خیال ہے کہ وہ پیغمبر ہے اور آسمان کی خبر دیتا ہے لیکن انہیں یہ نہیں پتہ کہ ان کی سواری کہاں ہے۔ رسول خدا (ص)کو اس کی ان باتوں کی خبر ہوئی تو فرمایا:خدا نے جو کچھ مجھے تعلیم دیا میں اس کے علاوہ کچھ نہیں جانتا۔اب خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ اونٹ فلاں جگہ ہے۔مسلمان اسی جگہ گئے جس کے بارے میں پیغمبر(ص) نے بتایا تھااور وہاں سے اونٹ لے آئے۔(3)

--------------

[1]۔ سیرۂ ابن ہشام: ج1ص527

[2]۔ انساب الاشراف: ج1ص339 اور 340

[3]۔ تاریخ الطبری: ج3ص370


 واقدی نے یہ واقعہ دو جگہ غزوۂ بنی مصطلق اور جنگ تبوک میں ذکر کیا ہے۔(1) جس سے ایسے لگتا ہے کہ یہ ملتا جلتا واقعہ دوبار پیش آیا ہو۔لیکن اس میں شک نہیں ہے اصل واقعہ ایک ہی بارپیش آیا تھالیکن جب مختلف راویوں نے اسے نقل کیا تو غزوہ کو معین کرنے میں(جس میں یہ واقعہ پیش آیا) ان میں اختلاف اور  اشتباہ ہوا۔رفاعة بن زید بن تابوت ( واقدی نے جس کا نام''زید بن رفاعة بن تابوت ''لکھا ہے)کے بارے میںذکرہواہے:غزوۂ مریسیع (بنی مصطلق) سے واپسی پر تند و تیز ہوا چلی جس سے مسلمان خوفزدہ ہو گئے۔رسول خدا(ص) نے فرمایا:ڈرو نہیں۔یہ ہوا مدینہ میں منافقوں کے ایک بزرگ کی موت کی وجہ سے چلی ہے۔جابر بن عبداللہ نے کہا:جب ہم مدینہ پہنچے تو میں نے گھر جانے سے پہلے پوچھا کہ آج کس کی موت واقع ہوئی ہے؟کہا:زید بن رفاعہ۔(2) طبری نے بھی یہ واقعہ غزوۂ مریسیع میں ذکر کیا ہے(3) لیکن جنگ تبوک کا واقعہ بیان کرتے وقت بھی اس کے نام کو دوہرایا ہے۔(4) ابن اسحاق نے اسی سے ملتا جلتا جملہ رسول اکرم(ص) سے رافع بن حریملہ کے بارے میں بیان کیا ہے کہ جب تند و تیز ہوا چلنا شروع ہوئی تو فرمایا:آج منافقوں کا ایک بڑا مر گیا ہے۔لیکن سیرت کے ایک دوسرے مقام پر اس کا نام ذکر کرکے اسے یہودیوں میں سے شمار کیا ہے جس میں اس کے اسلام لانے اور نفاق کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی۔(5)

 بلاذی نے یہودیوں کے کنیسہ میں منافقین کے آمد ورفت کی خبر دی ہے اور ایک ددوسری جگہ کہا ہے:مالک بن نوفل (جو یہودی عالم تھا) نے اسلام تو قبول کیا لیکن وہ یہودیوں کو رسول خدا(ص) کی خبریں پہنچاتا تھا۔(6)

--------------

[1]۔ المغازی: ج1ص24 اور ج2ص1010

[2]۔ المغازی: ج1ص423، سیرۂ اب ہشام:ج2ص292(کچھ فرق کے ساتھ)

[3]۔ تاریخ الطبری: ج2ص262

[4]۔ تاریخ الطبری: ج2ص367

[5]۔ سیرۂ ابن ہشام: ج1ص527، انساب الأشراف: ج1ص340

[6]۔ انساب الأشراف: ج1ص329 اور 339


 گذشتہ ابحاث سے یہ استفادہ کیا جاتا ہے کہ ابتدائے اسلام میںیہودی ہونے کی وجہ سے کچھ منافقین کے ان دو گروہوں کے درمیان اچھے تعلقات تھے۔ بنی قینقاع اور بنی نضیر کے دو حادثوں میں عبداللہ بن ابی(منافقین کا بڑا)کا یہودی دوستوں کو چھڑانے کی کوششوں کو اس مطلب کی دلیل قرار   دیا جا سکتا ہے۔ ابن ابی کے ساتھی اور ہم فکریہودیوںمیں سےتھے جن کے نام مؤرخین نے اسی کے ساتھ ذکر کئے ہیں  اور جن کے نام پہلے ذکر کئے گئے ہیں۔(1)

3- ابوہریرہ

صحیح بخاری میں ایک طولانی حدیث کے ضمن میں آیا ہے:ابوہریرہ نے اپنا پیٹ بھرنے کے لئے رسول خدا (ص) کی ملازمت کی۔(2) اسی جگہ ابن مسبب اور ابو مسلمہ کے سلسلہ سے ابوہریرہ سے نقل ہوا ہے کہ اس نے کہا:''میں اپنا پیٹ بھرنے کے لئے رسول خدا(ص) کے ہمراہ تھا!''(3) اسی طرح بخاری نے ابوہریرہ تک اپنی سند سے خود اسی سے نقل کیا ہے:لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ بہت زیادہ حدیثوں کی رسول خدا(ص) کی طرف نسبت دیتا ہے حلانکہ میں ہمیشہ آنحضرت کے ساتھ ہوتا تھا کہ شاید میرا پیٹ بھر جائے۔(4) یا خود ابوہریرہ سے نقل ہوا ہے :میں نے خود کو دیکھا کہ میں بھوک کے مارے  رسول خدا(ص) کے منبر اور عائشہ کے حجرے کے درمیان نڈھال گرا پڑا تھا ،جو کوئی بھی آتا میری گردن پہ پاؤں رکھتا اور سوچتا  کہ میں پاگل ہوں جب کہ میں پاگل نہیں تھا بلکہ یہ سخت بھوک کی وجہ سے تھا۔(5)

--------------

[1]۔پیغمبر(ص)  و یہود و حجاز:5۲۔

[2]۔ صحیح بخاری:ج1ص24، کتاب العلم، باب حفظ علم

[3] ۔ صحیح بخاری:ج3ص1،کتاب البیوع

[4]۔ صحیح بخاری:ج2 ص197، باب مناقب جعفر بن ابی طالب

[5] ۔ صحیح بخاری:ج4ص175،کتاب اعتصام بہ کتاب و سنت،نیز ملاحظہ کریں: تذکرة الحفّاظ:ج1ص35اور الاصابة: ج4 ص202


گویا اس نے  پیغمبر(ص) کے ساتھ اپنی ساری زندگی راستہ میں بیٹھ کر اپنی بھوک کا اظہارکرتے ہوئے اور تھوڑے سے کھانے کی درخواست کرتے ہوئے گزار دی جب کہ اس کا کوئی اور کام نہیں تھا۔اس کا  نام نہ تو کسی جنگ میں ملتا ہے اور نہ ہی صلح میں۔البتہ کہتے ہیں کہ وہ جنگ موتہ میں دشمن کے لشکر سے ڈر کر بھاگ گیا تھا(1) اس کے علاوہ اس کی کوئی اور بہادری نہیں ہے۔!جب معاویہ تخت خلافت پر بیٹھا اور ناجائز اموی حکومت نے اسلامی معاشرے کی ذمہ داری سنبھالی تو ابوہریرہ کو دوبارہ  نئی زندگی ملی اور اس کی معمولی زندگی ایک شاہانہ زندگی میں بدل گئی۔

 ابوریّہ لکھتے ہیں:جب حضرت علی علیہ السلام اور معاویہ کے درمیان یا دوسرے لفظوں میں بنی امیہ اور بنی ہاشم کے درمیان جنگ کی آگ بھڑکی اور مسلمان مختلف فرقوں میں بٹ گئے تو ابوہریرہ بھی اپنے نفس اور اپنی ہواو ہوس کے پیروی کرتے ہوئے معاویہ کے ساتھ مل گیا؛کیونکہ معاویہ کی طرف اسے طاقت،دنیا کا مال،عیش و عشرت اور دنیاوی زندگی کی تمام سہولتیں مہیا تھیں اورحضرت علی علیہ السلام کی طرف تقوی و پرہیزگاری کے علاوہ کچھ نہیں تھی۔

 یہ واضح سی بات ہے کہ ابوہریرہ ایسے امور سے بیزار تھا ۔اس بناء پر ابوہریرہ نے اپنا راستہ معاویہ کے دربار کی طرف موڑ دیا تا کہ وہ اس کے رنگ برنگے دسترخوان،تحائف اور قیمتی انعامات سے مستفید ہو سکے اور اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کر سکے۔

وہ ابوہریرہ جو کبھی بھوک کی وجہ سے غش کھا کر دروازے پہ گر جاتا تھا-جیسا کہ اس نے خود کہا ہے-وہ کس طرح بنی امیہ کی دولت،طاقت اور خوش ذائقہ و  لذیذ کھانوں کو ہاتھ سے جانے دیتا اور کس طرح حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ جو کی روٹی پرگزارا کر سکتا تھا؟یہ ایسی چیز ہے جو انسانی طبیعت اور نفسانی غرائز کے ساتھ سازگار نہیں ہے سوائے چند گنے چنے افراد کے کہ جنہیں خدا نے لغزشوں سے محفوظ رکھا ہو۔(2)

--------------

[1] ۔ المستدرک:423

[2] ۔  شیخ المضیرة:207 اور 208،و أضواء علی السنّة المحمدیّة:213


 بنی امیہ کے برسرکار آنے سے ابوہریرہ ان کے دوستوں اور مبلّغوں کے دائرہ میں آگیا جس نے   اپنی زبان اور روایات سے ان کی مدد کی اور اس طرح اسے ان کا لطف،عنایات،تحائف اورلذیذ غذائیں مہیا ہوئیں۔(1) بالخصوص ''مضیرة''(2) جو معاویہ کی بہترین غذا شمار کی جاتی تھی اور ابوہریرہ کووہ غذا اتنی پسند تھی کہ اسے اس نام کا لقب دے دیا گیا اور یہ لقب اس کا لازمہ بن گیا اور ہر زمانے میں اسے ''شیخ المضیرة'' کے نام سے پہچانا جانے لگا۔

 محمد عبدہ کہتے ہیں: جب لوگوں نے حضرت علی بن ابی طالب علیہما السلام کی بیعت کی تو اس کے بعد معاویہ نے خلافت کا دعوی کیا لیکن حضرت علی علیہ السلام کی حیات میں لذت و شہوت کے پیروکاروں اور مضیرة (جو معاویہ کے کھانوں میں سے ایک تھا) میں دلچسپی رکھنے والوں کے علاوہ کسی نے معاویہ کی طرفداری نہیں کی۔اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہی وجہ تھی کہ مضیرة کھانے والے معاویہ کی خلافت کی گواہی دیں۔(3)

 کہتے ہیں:ابوہریرہ مضیرة کو بہت پسند کرتا تھا اور اسے معاویہ کے دسترخوان پر کھاتا تھا اور جب نماز کا وقت ہوتا تھا تو حضرت علی علیہ السلام کے پیچھے نماز پڑھتا تھا اور جب بھی اس سے اس بارے میں بات کی جاتی تو اس کے جواب میں کہتا:

''معاویہ کا مضیرة زیادہ لذیذہے اورحضرت علی علیہ السلام کے پیچھےنماز  افضل ہے''(4)

--------------

[1] ۔  سید شرف الدین عاملی لکھتے ہیں:امویوں کے خلافت پر آنے کے بعد انہوں ے ابوہریرہ کو زمین سے اٹھا کر اس سے غربت وتنگدستی اور بیچارگی کی خاک جھاڑ دی اور اسے ریشم کا بہترین لباس پہنا دیا۔انہوں نے اسے ریشم اور لیلن کے کپڑے پہنائے اور محلہ عقیق میں اس کے لئے محل بنوایا  اور اس طرح انہوں نے اس کے گلے میں نوکری کا طوق ڈال دیااور اس کے نام کو بلند کیا اور اسے مدینہ کی حکومت دے دی۔(ابوہریرہ اور جعلی حدیثیں:50)

[2] ۔  مضیرة گوشت کی ایک قسم ہے کہ جسے کبھی لسّی اور کبھی تازہ دودھ کے ساتھ ملا کر پکاتے ہیں اور پھر اس میں مصالحہ اور دوسری چیزیں ڈالتے ہیں جس سے وہ مزید لذیذ ہو جاتی ہے۔ (شیخ المضیرة:55)

[3]، شیخ المضیرة:57

[4]۔  اسرائیلیات وتأثیر آن بر داستان ہای انبیاء در تفاسیر قرآن:127


 4-عبداللہ بن عمرو عاص

اسے مصر میں سونے کے خزانے اپنے باپ عمروعاص سے ارث میں ملے تھے اسی  لئے اسے اصحاب پیغمبر(ص) میں سے بادشاہوں میں سے شمار کیا جاتاہے۔(1)

 بعض آثار اور تاریخی روایات اس کی حکایت کرتی ہیں کہ وہ رسول خدا(ص) کی احادیث بھی لکھتا  تھاحتی کہ ''صادقہ''کے نام سے ایک صحیفہ کو بھی اس سے نسبت دی جاتی ہے کہ جس میں اس نے پیغمبر اکرم(ص) کی حدیثوں کو جمع کیا ۔(2)

 بخاری نے بھی کتاب علم میں ابوہریرہ سے نقل کیا ہے کہ وہ کہتا تھا:کسی نے بھی مجھ سے زیادہ پیغمبر اکرم(ص) سے حدیثیں نقل نہیں کی ہیں مگر عبداللہ بن عمرو کہ وہ جو کچھ بھی سنتا اسے لکھ لیتا لیکن میں لکھتا نہیں تھا۔اسی طرح کہتے ہیں: اس نے سریانی زبان بھی سیکھی تھی جو تورات کی اصلی زبان ہے۔طبقات ابن سعد میں شریک بن خلیفہ سے نقل ہوا ہے کہ وہ کہتا ہے:میں نے عبداللہ کو سریانی زبان کی کتابوں کا مطالعہ کر تے ہوئے دیکھا۔(3)

عبداللہ اور اسرائیلی ثقافت

مؤرخین نے نقل کیا ہے کہ سن تیرہ ہجری میں ابوبکر نے شام کو فتح کرنے کے لئے ایک لشکر کو اس کی طرف بھیجا اور فوج کے ایک گروہ کی کمانڈ عمرو بن عاص کو دی۔

کہتے ہیں:عمرو کا بیٹا یعنی عبداللہ بھی اس جنگ میں شامل تھا اور ''یرموک''کی سرزمین پر مسلمانوں اور رومیوں کے درمیان جو شدید جنگ ہوئی اس میں عبدااللہ اسی لشکر کا علمدار تھا جس کی کمانڈ  اس کے باپ کے پاس تھی۔(4)

--------------

[1] ۔ تذکرة الحفّاظ: ج1ص4۲

[2] ۔  طبقات ابن سعد: ج4ص261 اورج 5 ص189 ''اسرائیلیات و أثرھا ف کتب التفسیر''سے اقتباس:145

[3] ۔  طبقات ابن سعد: ج4ص261''اسرائیلیات و أثرھا ف کتب التفسیر''سے اقتباس:146

[4] ۔  اسد الغابة: ج3ص243


عبداللہ  کے لئے جنگ ''یرموک''کے دوران  پیش آنے والے واقعات میں ایک اسے دوبار اہل کتاب کی کتابوں سے لدے اونٹوں کا ملنا تھا۔(جو اہل کتاب کے معارف سے اس کی آشنائی پر بہت اہم اثر رکھتا ہے)وہ ان غنائم کا بہت خیال رکھتا تھا اور مسلمان کے لئے ان کے بہت سے مطالب نقل کرتا تھااسی وجہ سے تابعین سے پہلے کے افراد عبداللہ سے احادیث نقل کرنے سے پرہیز کرتے تھے۔(1)

وہ مسلمانوں کے لئے ان کتابوں کے مطالب بیان کرنے میں اتناافراط کرتا تھا کہ بعض اسے واضح الفاظ میں کہتے تھے کہ ان دوکتابوں کے مطالب بیان کرنے سے پرہیز کرے۔

احمد بن حنبل کا اپنا قول اس کی اپنی مسند میں اس مدّعا پر بہترین شاہد ہے:اس نے نقل کیا ہے کہ ایک دن کوئی شخص عبداللہ کے پاس آیا اور اس سے کہا:تم  نے رسول خدا(ص) سے جو سنا اس میں سے کچھ میرے لئے نقل کرو ،نہ کہ اونٹوں کے اس وزن سے کہ جوفتح ''یرموک''میں تمہارے ہاتھ لگا''(2)

ابی سعد سے ایک دوسری روایت میں نقل ہوا ہے کہ میں عبداللہ عمرو کے پاس گیا اور اس سے کہا: ''تم نے رسول خدا(ص) کی احادیث سے جو کچھ سنا ہے اس میں سے نقل کرو نہ کہ تورورات و انجیل سے''(3)(4)

--------------

[1] ۔ فتح الباری: ج1ص167'' أضواء علی السنّة المحمدیّة'' سے اقتباس:164،نیز دیکھیں: تذکرة الحطّاظ: ج1ص42

[2]۔  مسند احمد بن حنبل: ج2ص195،202،203،209.نیز ملاحظہ کریں:تفسیر ابن کثیر: ج3 ص102

[3] ۔  مسند احمد بن حنبل: ج11ص78،79،173

[4] ۔  اسرائیلیات وتأثیر آن بر داستان ہای انبیاء در تفاسیر قرآن:138


 5- مسروق بن اجدع ہمدانی کوفی

اموی قاضیوں میں سے ایکمسروق بن اجدع کوفی  ہے۔وہ حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے دشمنوں میں سے تھا اور آنحضرت پر سبّ و شتم کرنے میں افراط اور زیادہ روی کرتا تھا۔جب بھی شریح کوفہ میں نہ ہوتا تو وہ کوفہ میں قضاوت کا منصب سنبھالتا تھا۔کتاب'' بازتاب تفکر عثمانی''میں اس کے بارے میں بہت اہم مطالب بیان کئے گئے ہیں:

''مسروق بن اجدع ہمدانی کوفی(م63):(1)

اجدع یعنی کٹی ناک والا اور یہ شیطان کا نام بھی ہے۔عمر نے اسے عبدالرحمن سے بدل دیا تھا۔(2) یہ عبداللہ بن مسعود کے خاص پانچ صحابیوں میں سے ہے اور بعض کے مطابق ان پانچ افراد میں سے یہ پہلا ہے۔(3) وہ فقہا و مفسّرین تابعی،آٹھ زاہدوں اور کوفہ کے عابدوں میں سے ہے۔(4) وہ اپنے گھر والوں کے کھانے کا انتظام نہیں کرتا تھا اور کہتا تھا:خدا رزق و روزی دینے والا ہے۔(5) اس کا شاگرد شعبی کہتا ہے:مسروق فتویٰ کے لحاظ سے شریح قاضی سے اعلم تھا اور شریح مسروق کے ساتھ مشورہ کرتا تھا لیکن مسروق شریح سے بے نیاز تھا۔علقمہ کے بعد کوفہ میں امام المفسّرین تھا۔(6) ذہبی نے بھی اسے تفسیر میں امام اور قرآن کے مفاہیم کا علم رکھنے والا عالم قرار دیا ہے!۔(7)

--------------

[1] ۔  اس کے تفصیلی حالات زندگی  الطبقات الکبری: ج6ص76،تہذیب التہذیب:ج10ص100 اور ارموی کی کتاب الغارات:ج2ص702 ح909 میں ذکر ہوئے ہیں۔کہا گیا ہے کہ وہ بچپن میں  گم ہو گیا تھا اور جب ملا تو اس کانام مسروق رکھ دیا گیا۔ (قاموس الرجال:ج10ص53)

[2]۔ الطبقات الکبری:ج6ص76

[3] ۔  الطبقات الکبری:ج6ص76،تاریخ بغداد:ج13ص233-234،تہذیب التہذیب:ج10ص100-101

[4] ۔  کتاب الثقات:ج5ص456،اختیار معرفة الرجال:ج1ص315۔البتہ ابو مسلم خولانی شامی کی طرح اس کے زہد و تقوی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ ریا اور لوگوں میں مقام حاصل کرنے لئے تھا۔(ر.ک:رجال ابن داود:278)

[5]۔  الطبقات الکبری:ج6ص79-[6]۔ الطبقات الکبری:82

[7]۔  التفسیرو المفسرون(ذہبی):ج1ص120


 قادسیہ میں وہ ابطال میں سے تھا(1) اور عثمانی تھا،(2) جو کوفہ کے لوگوں کو عثمان کی مدد کرنے کی دعوت دیتا تھا(3) ۔ان کے علاوہ مسروق اپنی تبلیغ اور باتوں سے ابووائل کو بھی عثمانی مذہب کی طرف لے گیا جس کا تعلق پہلے علوی مذہب سے تھا۔(4) وہ اور اسود نخعی عائشہ کے پاس جاتے تھے اور آنحضرت کو برا بھلا کہنے میں مصروف ہو جاتے تھے۔(5) مرّۂ ہمدانی اور وہ امیر  المؤمنین علی علیہ السلام سے اپنی عطا لینے کے بعد قزوین کی طرف بھاگ گئے۔(6) مسروق ،امیر المؤمنین علی علیہ السلام سے دشمنی رکھتا تھا اور آنحضرت کے مدّ مقابل آجاتاحتی اس کی بیوی کہتی تھی کہ مسروق ،امیر المؤمنین علی علیہ السلام پر سبّ و شتم کرنے میںزیادہ روی کرتا ہے۔اس کاان تین افراد(مسروق،مرّہ اور شریح)میں شمارہوناہے جن کا امیر المؤمنین علی علیہ السلام پر اعتقاد نہیں تھا۔(7) اس بناء پر اس نے امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی کسی بھی جنگ میں شرکت نہیں کی اور جب اس سے پوچھا گیا:اے مسروق!تم نے علی علیہ السلام کی جنگوں میں شرکت نہیں کی؟

اس نے کہا:اگر دو صفوں کو ایک دوسرے کے برابر میں دیکھو تو اس وقت فرشتہ نازل ہو گا اور کہے گا:(وَلاٰتَقْتُلُوا أَنْفُسَکُمْ اِنَّ اللّٰهَ کٰانَ بِکُمْ رَحِیْماً) (8) کیا یہ تمہارے لئے مانع نہیں ہو گا؟!کہا:کیوں ؟مسروق نے کہا:خدا کی قسم ایسا فرشتہ(جبرئیل)نازل ہو ا اور ایسی آیت پیغمبر پر نازل کی اور یہ آیت محکمات میں سے بھی ہے کہ جو نسخ بھی نہیں ہوئی!۔(9)

--------------

[1]۔ الطبقات الکبری:ج6ص76[2]۔  تاریخ الثقات:ج1ص460[3]۔ تاریخ الطبری:ج3ص388

[4]۔ تاریخ الثقات:ج1ص461[5]۔ الغارات:ج2ص563

[6]۔  المسترشد:157

[7]۔  شرح نہج البلاغہ:ج4ص98۔شعبی کو چوتھا شخص شمار کیا گیا ہے۔

[8]۔  سورۂ نساء،آیت:29

[9] ۔  الطبقات الکبری:ج6ص78۔اس بناء پر مسروق  کا امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی جنگوں میں شریک ہونے والی روایت صحیح نہیں ہو سکتی  کہ جس کی طرف ابن حجر نے (تہذیب التہذیب:ج10ص101میں) اشارہ کیا ہے۔


ایک روایت جو یہ بیان کر رہی ہے کہ اس نے یہ بات صفین میں دو لشکروں کے درمیان میں کہی اور یہ بات کہہ کر بھاگ گیا۔(1) اس رو سے علامہ شوستری نے اس روایت کو ردّ کیا ہے جس میں کہاگیا ہے کہ مسروق نے نہروان میں امیر المؤمنین علی علیہ السلام کا ساتھ دیا اور فرض کریں کہ اگر اسے مان بھی لیا جائے تو اس میں کہا گیا ہے کہ حتی اموی بھی خوارج سے جنگ کو صحیح سمجھتے تھے۔اور مسروق کے ماضی اور اس کے مقام کو دیکھتے ہوئے اس موضوع میںاس کے لئے کوئی مثبت نکتہ نہیں ہے۔اس روایت میں مزیدکہا گیا ہے کہ عائشہ اسے اپنا منہ بولا بیٹا کہتی تھی ،یہ اس کی خباثت کی دلیل ہے۔(2)

امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی نسبتاس کا ایسا مقام تھااور وہ کچھ زمانے تک معاویہ کے لئے کام(ٹیکس وصول کرنے والا)کرتا رہا اور اور کچھ زمانے تک قاضی رہا اور اسی منصب پر اس دنیا سے چلا گیا۔(3)

 وہ کہتا تھا:زیاد ،شریح اور شیطان نے مجھے اس طرف آنے پر مجبور کیا ہے(4) اوراگر کبھی زیاد ، شریح قاضی کو اپنے ساتھ بصرہ لے جاتا تھا تو مسروق کوفہ میں قضاوت کی ذمہ داری سنبھالتا تھا۔(5)

یہ واضح سی بات ہے کہ ایسی سیاسی سوچ کے ہوتے ہوئے ایسے شخص کی قیام کربلا کے بارے   میں  کیا رائے ہو گی؛اسی وجہ سے وہ عبداللہ بن زیاد کا کارندہ تھا۔(6) مسروق    63ھ میں کوفہ میں دنیا سے چلا گیا(7) اور اس نے وصیت کی تھی کہ اسے یہودیوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے!۔(8)(9)

--------------

[1]۔ الطبقات الکبری:ج6ص78

[2] ۔  قاموس الرجال:ج10ص52البتہ علامہ شوستری نے یہ روایت مسروق بن اجدع ابو عائشہ کوفی کے ذیل میں بیان کی ہے  اور یہ وضاحت کی ہے کہ جو یہ نام دو اشخاص کے لئے سمجھتے ہیں انہوں نے مکمل طور پر غلطی کی ہے۔

[3] ۔  الطبقات الکبری:ج6ص83-84۔اختیار معرفة الرجال:ج1ص315اس کی قبر دریائے دجلہ کے کنارے رصافہ کے مقام پر ہے۔   

[4]۔  الطبقات الکبری:836،تاریخ الاسلام:ج5ص240-[5]۔  تاریخ خلیفة بن خیّاط:173-[6]۔ المسترشد:157

[7] ۔  الطبقات الکبری:ج6ص84، تاریخ الثقات:ج1ص461،تاریخ یحیی بن معین:233،کتاب الثقات:ج5ص456،  تہذیب التہذیب: ج10ص101

[8]۔  المسترشد:157-[9]۔  بازتاب تفکر عثمانی در واقعۂ کربلا:218


جو لوگ حقیقت کی جستجو کر ہے ہیں اور تاریخ کے صفحات میں سے حقائق  جانناچاہتے ہیں ،انہیں اس بارے میں ضرور سوچنا چاہئے۔

جو شخص پہلے یا دوسرے مقام پر پورے ملک میں قضاوت کے فرائض انجام دے رہا ہو ،وہ کس طرح یہ وصیت کر سکتا ہے کہ اسے یہودیوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے؟!

کیا اس سے بلند منصب کے لوگوں کے یہودیوں سے تعلقات نہیں تھے؟!کیا یہودیوں کے قبرستان میں دفن ہونے کی وصیت کرنا کسی ایسے شخص کی طرف سے نہیں تھی کہ جس کا ظاہراً تو قضاوت کے لئے مذہبی چہرہ تھا لیکن اس کی آڑ میں وہ  یہودیوں کی تبلیغ و ترویج کررہاتھا؟!

 کیوں  بنی امیہ کی حکومت کے بزرگوں سے ایسے شرمناک کام سرزد ہواکرتے تھے؟

کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیاکہ جب لوگوں کو ان کی کالی کرتوتوں کا علم ہونا چاہئے  اور کیا انہیں یہ نہیں جاننا چاہئے کہ وہ خلافت کو غصب کرنے والے تھے نہ کہ دیانتدار راہنما؟!

 مسروق نے اپنی اس وصیت کے علاوہ کہ اسے یہودیوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے،اپنی وصیت کی توجیہ میں ایسی بات جو اس کی وصیت سے بھی زیادہ شرمناک ہے۔اس نے کہا:وہ اس حال میں اپنی قبر سے نکلے گا کہ وہاں اس کے علاوہ خدا اور رسول پر ایمان رکھنے والا کوئی نہیں ہو گا۔!

مسروق ابن زیاد کے لشکر کا لیڈر تھا۔(1)

مسروق ان کوفیوں میں سے تھا جو امیر المؤمنین علی علیہ السلام کو طعنہ دیتے تھے۔(2)

--------------

[1]۔  المسترشد:

[2]۔ المسترشد:207


جب کہ مسروق نے عائشہ سے نقل کیا ہے:یا رسول اللّٰه؛ من الخلیفة من بعدک

قال:خاصف النعل قالت:من خاصف النعل قال:انظر ،فنظرت فاذا علی بن ابی طالب علیهما السلام

قالت :یا رسول اللّٰه؛ذاک علی بن ابی طالب قال :هو ذاک

عائشہ نے رسول خدا(ص) سے پوچھا:آپ کے بعد آپ کا جانشین کون ہو گا؟

 فرمایا:جو اپنے جوتے کو ٹانکا لگا رہاہے۔

عائشہ نے پوچھا:کون اپنے جوتے کو ٹانکا لگا رہاہے؟

 فرمایا:دیکھو،جب میں نے دیکھا تو علی بن ابی طالب علیہما السلام ہیں۔

 میں نے کہا:اے رسول خدا!وہ علی بن ابی طالب ہیں!

 فرمایا:وہ میرا خلیفہ ہے۔(1)

 ابن مغازی نے کتاب''المناقب:55'' پر نقل کیا ہے کہ عائشہ مسروق کو اپنے بیٹوں جیسا سمجھتی تھی اور اسے کہتی تھی:تم میرے بیٹے ہو اور ان میں سب سے زیادہ عزیز ہو.۔ مسروق نے عائشہ سے کہا:ماں میرا تم سے ایک سوال ہے تمہیں خدا ،رسول خدا(ص) اور میرے حق  (کیونکہ میں تمہارے بیٹوںجیساہوں) کی قسم !تم نے رسول خدا(ص) سے مخدج کے بارے میں کیا سنا کہ    جو جنگ نہروان میں مارا گیا تھا؟عائشہ نے کہا:میں نے رسول خدا(ص) سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا:

 هم شرّالخلق والخلیقة، یقتلهم خیرالخلق والخلیقة، وأقربهم عند اللّٰه وسیلة ۔(2)

 وہ بدترین انسان اور دنیائے خلقت کی بدترین مخلوق ہے،انہیں بہترین انسان اور دنیائے خلقت کی بہترین مخلوق قتل کرے گی۔

--------------

[1]۔  المسترشد:622

[2] ۔  المسترشد:281


6- کعب الأحبار

یہودیوں نے دین اسلام کو نابود کرنے اور اہلبیت پیغمبر علیہم السلام سے مقام خلافت کو چھیننے کے لئے نہ صرف معاویہ کے دور حکومت میں بلکہ وہ اس سے پہلے بھی معاویہ کی حمایت میں کھڑے ہوئے اورانہوں نے معاویہ کو عثمان کے بعد خلیفہ  کے طور پرپہچنوایا۔معاویہ کو برسر اقتدار لانے کے لئے یہ منصوبہ بندی و حمایت اس وقت کی جارہی تھی۔اگر لوگوں میں عثمان کے بعد خلافت کے بارے میں بات ہوتی تو لوگ حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی ولایت و حکومت کی حمایت کرتے اور اسی لئے عثمان کے قتل ہونے کے بعد لوگوں نے آنحضرت کی خلافت کا انتخاب کیا۔لیکن کچھ عوامل اور یہودی کٹھپتلیاں اسی وقت سے ہی معاویہ کی حکومت کا دم بھرتے تھے اور اس کام سے لوگوں کے افکار بنی امیہ(جو دین اسلام کے دیرینہ دشمن تھے) میں سے معاویہ کی طرف موڑنا چاہتے تھے تا کہ خاندان پیغمبر علیہم السلام کو حکومت  نہ ملے اور کسی ایسے کے ہاتھوں میں حکومت کی باگ دوڑ ہو جس کی اسلام سے دیرینہ دشمنی ہو۔جن افرادنے ایسے افکار کو پھیلانے کی  بہت زیادہ کوشش کی ان میں سے ایک کعب الأحبار تھا۔محمود ابوریّہ کعب اور اس کی سازشوں کے بارے میں لکھتے ہیں :عثمان کے زمانے میں فتنہ کی آگ بھڑکنے کے بعد عثمان بھی آگ کے ان شعلوں کی لپیٹ میں آگیا اور اسے اسی کے گھر میں قتل کر دیا گیا،اس چالاک کاہن نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور پوری طاقت سے فتنہ کی آگکوبھڑکایا اور جس قدر ہو سکا اس نے اپنی مختلف سازشوں سے استفادہ کیا۔ اس واقعہ میں جس مکروفریب  سے استفادہ کیا اورکھل کر یہودی مزاج گری کا اظہار کیا وہ یہ تھا کہ اس نے یہ دعوی کیا کہ عثمان کے بعد معاویہ ہی خلافت کے لائق ہے۔(1) وکیع نے اعمش اور اس نے ابو صالح سے روایت کی ہے(2) کچھ لوگوں کے درمیان عثمان کے بعد خلیفہ کی بات چلی تو ''الحادی''نام کے شخص نے اپنے شعر کے ضمن میں اس بارے میں یوں کہا:

-----------------

[1]۔ أضواء علی السنة المحمدیّة:180

[2] ۔رسالة النّزاع والتّخاصم فیما بین بن امیّة و بنی هاشم (مقریزی):51،أضواء علی السنة المحمدیّة سے اقتباس:180،نیز ملاحظہ فرمائیں:تاریخ طبری:ج4ص342 اور الکامل: ج3ص123


انَّ الأمیر بعده علّی                   و فی الزّبیر خلق رضّی

 بیشک اس کے بعد علی امیر ہیں اور زبیر بھی اچھے اخلاق کامالک ہے۔

 کعب الأحبار (جو اس جلسہ میں موجود تھا) نے کہا:''بل هو صاحب البغلة الشهباء'' یعنی اس کے بعد خلیفہ وہ ہے جو خاکی رنگ کی سواری کا مالک ہے (یعنی معاویہ)۔ کیونکہ معاویہ کو بعض اوقات اس طرح کی سواری پر سوار دیکھا جاتا تھا۔

یہ خبر معاویہ تک پہنچی تو اس نے اسے بلایا اور کہا:اے بو اسحاق!علی علیہ السلام،زبیر اور اصحاب محمد(ص) کے ہوتے ہوئے تم یہ کیا بات کر رہے ہو؟کعب نے کہا:بلکہ تم خلافت کے مالک ہو!اور شاید اس نے مزید یہ کہا ہو کہ میں نے یہ پہلی کتاب(تورات ) میں پڑھا ہے۔!(1)

 کعب الأحبار اور عمر

کعب الأحبارکہ جس کا نام کعب بن ماتع تھا اور جس کا تعلق یمن اور قبیلۂ حمیر سے تھا۔ اس نے عمر کے زمانے میں اسلام قبول کیا اور مدینہ آ گیا۔ عمر کے نزدیک اس کا صحابہ بلکہ صحابہ سے بڑھ کر مقام تھا۔(2) عمر کو اہل کتاب سے علم حاصل کرنے میں کافی دلچسپی تھی جس کی وجہ سے پیغمبر(ص) اس پر ناراض ہوئے تھے۔(3) لیکن اپنی خلافت کے زمانے میںاس نے اپنی یہ خواہش پوری کی اور نئے مسلمان ہونے والے اہل کتاب  حضرات سے زیادہ استفادہ کیا۔ اسی وجہ سے وہ کعب کو اپنے پاس لے گیااوروہ مختلف موضوعات کے بارے میں اس سے سوال پوچھتا تھا۔ابن ابی الحدید نے کعب کو امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے منحرفین میں سے شمار کیا ہے اور لکھا ہے کہ آنحضرت کعب کو جھوٹا کہتے تھے۔(4) (کعب الأحبار)جو 32ھ میں شہرحمص میں ہلاک ہو ا(5)

--------------

[1]۔  اسرائیلیات وتأثیر آن بر داستان ہای انبیاء در تفاسیر قرآن:92

[2] ۔  کعب الأحبار اور دوسرے خلیفہ کے قریبی تعلقات کے بارے میں  تاریخ سیاسی اسلام: ج2ص89 کے مابعد ملاحظہ کریں۔

[3]۔  المصنف:ج6ص112

[4]۔  شرح نہج البلاغہ: ج 4ص77، کعب پر ابوذر کے اعتراض کے بارے میں بھی وہی منبع: ج3ص54

[5]۔  الطبقات الکبری:ج7ص309


 صدیوں سے مورد وثوق اور قابل اطمینان تھا اور تفسیری و تاریخی کتابیں اس کی روایات سے بھری پڑی ہیں ،لیکن دور حاضر میں جدید تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ ابہامات و اشکالات کے ضخیم پردے کے پیچھے  کعب الأحبار کا چہرہ ہے جس نے اہلسنت کی دین شناس اور علماء رجال کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔(1) چاند اور سورج کی خلقت کے موضوع میں  طبری نے کعب سے منقول اسرائیلیات کے کچھ نمونے بیان کئے ہیں۔اس رپورٹ میں ابن عباس کعب کی باتوں پر نارض ہوئے اور تین مرتبہ کہا: کعب نے جھوٹ بولا ہے، اور اس کے بعد مزیدیہ کہا:یہ بات یہودیوں کی ہے جسے کعب اسلام میں   داخل کرنا چاہتا ہے۔(3)(2)

عمر کا کعب سے مشوہ لینا صرف دینی واعتقادی امور میں ہی منحصر نہیں تھا بلکہ کچھ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ عمر کے سیاسی و حکومتی نقطۂ نظر کے پیچھے بھی جناب کعب کے مشورے شامل تھے۔! امالی میں ابوجعفر محمد بن حبیب نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:عمر نے اپنی خلافت کے آخری زمانے میں  جب اس پر ناتوانی حاکم ہو گئی اور وہ لوگوں کے امور چلانے سے عاجز ہو گیا تو وہ خدا سے موت کی دعا کرتا تھا۔ایک دن جب میں اس کے پاس موجود تھا ، اس نے کعب الأحبار سے کہا:مجھے میری موت نزدیک دکھائی دے رہی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ اپنے بعد خلافت کسی ایسے کو سونپ کر جاؤں جو اس مقام کے لائق ہو۔علی علیہ السلام کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟اس بارے میں تمہیں اپنی کتابوں میں کیا کچھ ملا ہے کیونکہ تمہارا عقیدہ یہ ہے کہ ہمارے تمام واقعات  تمہاری کتابوں میں لکھی ہوئی ہے!

 کعب نے کہا:میرے خیال میں علی علیہ السلام اس کام کے لائق نہیں ہیں!کیونکہ وہ شخص دین پر استوار ہے اور کسی بھی غلطی سے چشم پوشی نہیں کرتا اور اپنے اجتہاد پر بھی عمل نہیں کرتا،اس طریقۂ کار سے وہ لوگوں پر حکومت نہیں کر سکتا۔لیکن مجھے اپنی کتابوں میں جو کچھ ملا وہ یہ ہے کہ اسے اور اس کے بیٹوں کو حکومت نہیں ملے گی اور اگر انہیں حکومت مل بھی گئی تو شدید افراتفری پھیلے گی!

--------------

[1]۔  تاریخ سیاسی اسلام:ج2ص89

[2]۔  تاریخ الطبری:ج1ص44اور 51

[3]۔  پیغمبر(ص) و یہود و حجاز:45


عمر نے پوچھا:کیوں؟

کعب نے کہا:چونکہ اس نے خون بہایا ہے!اور خدا نے ایسے افراد پر حکومت کو حرام قرار دیاہے! جس طرح داؤد نے جب بیت المقدس کو بنانے کا ارادہ کیا تو خدانے اس سے فرمایا:تم اس کام کے لائق نہیں ہو کیونکہ تم نے خون بہایا ہے؛بلکہ یہ کام سلیمان کے ذریعہ انجام پائے گا!

 عمر نے کہا:لیکن کیا علی علیہ السلام نے یہ خون حق پر نہیں بہایا؟

کعب نے جواب دیا:اے امیرالمؤمنین!لیکن کیا داؤدنے بھی وہ خون حق پر نہیں بہایا تھا؟!

عمر نے کہا:پس مجھے یہ بتاؤ کہ حکومت کسے ملے گی؟کعب نے کہا:ہمیں یہ ملتا ہے کہ صاحب شریعت اور ان کے دو صحابیوں کے بعد حکومت انہیں ملے گی جن کے ساتھ پیغمبر(ص) نے اصل دین پر جنگ کی ہے (یعنی اموی)۔ یہ سننے کے بعد عمر نے کئی بار آیت استرجاع پڑھی اور ابن عباس کی طرف دیکھ کر کہا:میں نے اسی سے ملتے جلتے مطالب رسول خدا(ص) سے سنے ہیں کہ آپ نے فرمایا:بنی امیہ میرے منبر پر چڑھیںگے،میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے منبر پر بندر بیٹھے ہیں اور ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے:(وَمٰا جَعَلْنَا الرُّؤْیَا الَّتِی أَرَیْنٰاکَ اِلاّٰ فِتْنَةً لِلنّٰاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِی الْقُرْآنِ) ۔(2)(1)

یہ واقعہ کئی اعتبار سے قابل غور ہے: اس واقعہ سے کعب کی امیر المؤمنین علی علیہ السلام سے شدید دشمنی اور بغض کا پتہ چلتا ہے اور اس کی دلیل بھی بہت ہی واضح ہے کیونکہ جزیرة العرب میں آنحضرت ہی کے طاقتوار ہاتھوں سے یہود کی شان و شوکت خاک میں ملی اور کعب یہ جانتا تھا کہ اگر امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کو خلافت و رہبری ملی تو ہمیشہ کے لئے یہودیوں کانام ونشان مٹ جائے گا۔اسی وجہ سے کعب کی یہ شدید خواہش تھی کہ خلافت امویوں کو ملے کیونکہ ان کے لئے اسلام کی تقدیر کی کوئی اہمیت نہیں ہے  اور ان کا ہدف و مقصد صرف دنیا ہے۔(4)(3)

-------------

[1]۔ سورۂ اسراء،آیت:60-[2]۔  شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید: ج12ص81

[3]۔ شیعہ و تہمت ھای ناروا:67-[4]۔ اسرائیلیات وتأثیر آن بر داستان ہای انبیاء در تفاسیر قرآن:90


 کعب الأحبارکے توسط سےمعاویہ کے یہودیوں سے تعلقات

ایک روایت ہے کہ معاویہ بن ابی سفیان نے کعب سے کہا:مجھے توریت کے سب سے بڑے علماء  کے بارے میں بتاؤتا کہ میں تمہارے مطالب کے ساتھ ان کے مطالب بھی سنوں۔

 کعب نے یمن کے ایک شخص کا نام لیا ۔ معاویہ نے اسے بلایا اور پھر دونوں کو حاضر کیا۔کعب نے اس شخص سے کہا: تمہیں اس کی قسم دیتا ہوں جس نے موسی کے لئے دریامیں شگاف کر دیا؛کیا تم نے آسمانی کتاب میں یہ نہیں دیکھا کہ  موسی نے توریت کی طرف دیکھ کر کہا:

 پروردگارا!میں محبت کی جانے والی امت کو دیکھ رہا ہوںکہ جو بہترین امت ہے اور جو لوگوں میں سے لوگوں کے لئے ہی آئی ہے،وہ ملت نیک کاموں کی دعوت دے گی اور برے کاموں سے روکے گی، اس کا پہلی کتاب (توریت) اور آخری کتاب(قرآن) پر ایمان ہے(1) اور وہ گمراہوں سے جنگ کرے گی اور اعور کذاب کے ساتھ بھی اس کا تنازع ہو گا ۔ خدایا! انہیں میری امت قرار دے اور خدا نے فرمایا:وہ محمد کی امت ہے۔ اس دانشور نے کہا:کیوں نہیں ؛ میں نے یہ موضوع دیکھا ہے۔

کعب نے اس سے کہا: تمہیں اس خدا کی قسم دیتا ہوں  جس نے موسی کے لئے دریا میں شگاف کر دیا ؛کیا تم نے موسی کی آسمانی کتاب میں یہ نہیں دیکھا کہ موسی نے توریت کی طرف دیکھا اور کہا:

پروردگارا! میں ایسی امت کو دیکھ رہا ہوں  کہ جب وہ بلند جگہ پہنچے تو تکبیر کہے گی اور جب صحرا میں پہنچے تو خدا کی عبادت کرے گی،زمین کو اس کے لئے مطہر قراد دیا کہ اگر پانی نہ ملے تو جنابت سے تیمم کے ذریعہ پاک ہو سکتے ہیں،وہ جہاں بھی ہوں ان کی مسجد وہیں ہوگی ،وضو سے ان کے چہرے  منور  ہوں گے، خدایا!انہیں میری امت قرار دے اور خدا نے فرمایا:وہ محمد کی امت ہے۔

--------------

[1]۔ سیرة الحلبیّہ کی پہلی جلد کے صفحہ 217 کی طرف رجوع فرمائیں۔


اس نے کہا:جی ہاں ؛میں نے یہ دیکھا ہے۔

کعب نے کہا:تمہیں اس خدا کی قسم دیتا ہوںجس نے موسی کے لئے دریا میں شگاف کر دیا ؛کیا تم نے موسی پر نازل ہونے والی کتاب میں یہ نہیں دیکھا کہ موسی نے توریت کی طرف دیکھا اور کہا:

پروردگارا!میں ایسی امت کو دیکھ رہا ہوںکہ جب ان میں سے کوئی ایک  کسی نیک کام کرنے کا ارادہ کرے اگرچہ اس پر عمل نہ بھی کرے تو اسے دس سے سات سو تک اجر دیا جائے گا اور اگر کوئی برا کام کرنے کا ارادہ کرے تو جب تک اس پر عمل نہ کرے تو اس کے لئے کوئی گناہ نہیں لکھا جائے گا اور اگر اسے انجام دے  تو اس کے لئے صرف ایک گناہ لکھا جائے گا ۔ خدایا! اسے میری امت قرار دے اور خدا نے فرمایا:وہ محمد کی امت ہے۔

مذکورہ دانشور نے کہا: ہاں؛ میں نے یہ دیکھا ہے۔

کعب نے کہا: تمہیں اس خدا کی قسم دیتا ہوںجس نے موسی کے لئے دریا میں شگاف کر دیا ؛کیا تم نے موسی پر نازل ہونے والی کتاب میں یہ نہیں دیکھا کہ موسی نے توریت کی طرف دیکھا اور کہا:

پروردگارا!میں ایسی امت کو دیکھ رہا ہوں  جو اپنے صدقات اور کفّارہ کھاتی ہے اور انہیں اپنے فقراء کو دیتی ہے ، اور جیسا کہ  دوسری امتیں انہیں جلا دیتی تھیںوہ ایسا نہیں کرتے؟

دوسری حدیث کے اس حصہ میںذکر ہواہے کہ :جو اپنی قربانی کو کھا سکتے ہیں اور قربانی کے گوشت سے مراد عید قربان وغیرہ ہیں۔(1)

--------------

[1]۔نهایة الأرب :ج1ص126


یہودی اور تغییر قبلہ اور کعب الأحبار کا کردار

قبلہ کابیت المقدس سے کعبہ کی طرف تبدیل ہونایہودیوں کے غضبناک کا بہت اہم سبب تھا۔ یہودی بیت المقدس کا بڑا احترام کرتے تھے اور وہ کسی بھی سرزمین کو اس کے مقابلہ میں لانے کے لئے تیار نہیں تھے۔قبلہ کا تبدیل ہونا ان کے لئے بہت ہی اہم اور انہیں غضبناک کرنے والا امر تھا۔

اس واقعہ سے ان کو اتنی شدید نفرت تھی کہ وہ بعد کی صدیوں میں بھی اس واقعہ کے بارے میں  اپنے غصہ کا اظہار کرتے رہے۔

اسی وجہ سے بعض غاصب اموی خلفاء  یہودیوں کا دل خوش کرنے اور اسلام و مسلمین کو شکست دینے کے لئے کوشاں رہے کہ بیت المقدس کو اس کی کھوئی ہوئی عظمت دے دی جائے اور وہ معنوی اعتبار سے مسجد الحرام کے برابر یااس سے بھی افضل و برتر ہو جائے۔

اس بارے میں غاصب اموی خلفاء میں سے جس نے سب سے زیادہ کوشش کی وہ عبدالملک تھا۔عبدالملک نے اس راہ میں جن عوامل کی وجہ سے کوشش کی ان میں سے ایک یہ ہے کہ عبداللہ بن زبیر نے اس کے دورحکومت میں قیام کیا تھا اور اموی خلیفہ سے مکہکو چھینلیا تھا ۔عبدالملک  لوگوں کو خانۂ خدا کی طرف جانے سے روکنے کے لئے یہ کوششیں کر رہا تھا کہ ان کے لئے بیت المقدس کی عظمت کو زندہ کرے تا کہ لوگ مکہ میں جانے اور وہاں خانۂ خدا کی زیارت کرنے سے گریز کریں اور انہیں بیت المقدس کی طرف کھینچا جا سکے۔

اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ بنی امیہ کے خلفاء سیاست کی وجہ سے مذہبی حقائق کو تبدیل کرنے کے لئے بھی تیار تھے۔اس بناء پر اگر وہ اسلام اور دین کے نام پر حکومت کا دم بھرتے تھے تو اس کی وجہ دینی اعتقادات نہیں بلکہ سیاست اور طاقت کا حصول تھا۔

کتاب''پیغمبر(ص)و یہود و حجاز''میں لکھتے ہیں:


تغییر قبلہ سے یہودیوں کے مقابلے میں مسلمانوں کو استقلال ملنے کے علاوہ عربوںکے اسلام کی طرف آنے میں بھی مدد ملی ۔ چونکہ وہ کعبہ کی بہت زیادہ اہمیت کے قائل تھے۔ اگرچہ مسلمان تغییر قبلہ سے پہلے بھی کعبہ کو اہمیت دیتے تھے اوراس بارے میں قرآن کی کچھ آیات بھی موجود ہیں ۔ یہ واقعہ یہودیوں اور مسلمانوں میںجدائی کا پہلا مرحلہ شمار کیا جاتا ہے جس سے اس قوم (جو اسلام اور پیغمبر(ص) کی برتری کا اعتراف کرتی تھی) کے بغض میں مزید اضافہ ہوا۔

تاریخ اسلام میں یہودیت سے اسلام لانے والے  مسلمان بیت المقدس کو کعبہ پر برتری دینے کی کوشش کرتے رہے کہ جن کی کتابیں اسرائیلیات سے بھری پڑی ہیں۔کعب الأحبار نے ایک حدیث گھڑی کہ جس میں آیا ہے: کعبہ ہر صبح بیت المقدس پر سجدہ کرتا ہے۔

امام باقر علیہ السلام نے اس بات کوجھوٹ قرار دیا ہے اور فرمایا ہے:خدا کے نزدیک روئے زمین پر کعبہ سے زیادہ محبوب کوئی جگہ نہیں ہے۔(1)

غاصب اموی حکمران اپنے سیاسی اہداف سے استفادہ کرنے کے لئے ایسی ہی روایات سے استفادہ کرتے تھے۔ چنانچہ جب مکہ عبداللہ بن زبیر کے پاس تھا عبدالملک نے لوگوں کو حج پر جانے سے روکنے کے لئے زہری سے ایک حدیث کو ترویج دیا جس میں پیغمبر(ص) کی طرف یہ بات منسوب کی گئی:

تین مساجد کے علاوہ کسی کی طرف سفر نہیں کیا جا سکتا: مسجد الحرام۔مسجد النبی اور مسجد بیت المقدس کہ جس کا مقام و مرتبہ کعبہ کی طرح ہے۔(3)(2)

--------------

[1]۔ الکافی:ج 4ص240

[2] ۔  حدیث''لا تشدّ الرجال'' کے بارے میں: صحیح مسلم: ج1ص636، صحیح البخاری: ج2ص56۔ البتہ اس کتاب میں یہ جملہ''وهو یقوم مقام الکعبة'' نہیں ہے ۔اس حدیث سے عبدلملک کے استفادہ کرنے کے بارے میں ۔تاریخ سیاسی اسلام: ج2ص746 (سیرۂ خلفائ) اور تاریخ طبری سے منقول۔

[3]۔  پیغمبر(ص) و یہود و حجاز:56


کعب الأحبار اور اسرائیلات کے خلاف امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کا موقف

کتاب ''اسرائیلیات اور....'' میں لکھتے ہیں:

امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے اپنی زندگی میں مختلف قسم کے واقعات اور انحرافی تحریکوں کا سامنا کیا جن میں مسلمان نما اہل کتاب اور ان کے قصہ کہانیوں سامنا کرنا تھا کہ جن میں سے ہر ایک نے اپنے حصہ کے مطابق دین کے چہرے کو غبار آلود کیا۔

آنحضرت  بھی مختلف راستوں سے ان کے ہاتھ قلم کرتے اور ان کا مقابلہ کرتے۔

 ہم یہاں اسرائیلیات اور انہیں پھیلانے والوں سے  حضرت علی علیہ السلام کیمقابلہ کی کچھ مثالیں بیان کرتے ہیں:

1۔ نقل کیا گیا ہے: عمر بن خطاب کے دور خلافت میں ایک دن خلیفہ کے سامنے ایک مجلس تشکیل دی گئی جس میں حضرت علی علیہ السلام بھی تشریف فرما تھے۔اور حاضرین میں سے ایک کعب بھی تھا۔خلیفہ نے اس سے پوچھا:اے کعب!کیا تمہیں پوری تورات حفظ ہے؟

 کعب نے جواب دیا:نہیں؛لیکن مجھے اس میں سے کافی حفظ ہے!

کسی شخص نے خلیفہ سے کہا:یا امیرالمؤمنین!اس سے پوچھیں کہ خدا اپنے عرش کو خلق کرنے سے پہلے کہاں تھا؟اور نیز پانی کو کس سے خلق کیا کہ جس پر بعد میںاپنا عرش بنایا؟

عمر نے کہا:اے کعب !کیا تمہیں ان کا جواب معلوم ہے؟

کعب نے جواب دیا:جی ہاں ؛یا امیر المؤمنین!حقیقت میں مجھے حکیم(توریت)ملا کہ خداوند کریم عرش کی خلقت سے پہلے قدیم و ازلی تھا اور بیت المقدس کی چٹان پر تھا اور یہ چٹان ہوا پر بنی ہوئی تھی اور جب خدا نے عرش کو بناے کا ارادہ کیا تو اس پراپنالعاب دہن گرایا اور جس سے گہرے  سمندر اور ان کی موجیں خلق ہوگئیں ۔ اس موقع پر خدا نے بیت المقدس کی چٹان کے کچھ حصہ پر اپنا عرشخلق کر لیا اور اس پر بیٹھ گیااور چٹان کے بقیہ حصہ پر بیت المقدس کو خلق کیا۔


امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام اس وقت اپنے لباس کو ہلارہے تھے اورآپ کی زبان پر خدا کی عظمت و بزرگی پر دلالت کرنے والے کلمات جاری تھے جیسے''جل الخالق یا جلّ اللّٰه یا اللّٰه اکبر'' اسی حال میں آپ کھڑے ہوئے اور اعتراض کیطور پر مجلس سے چلے گئے!(1)

جب خلیفہ نے یہ صورت حال دیکھی تو امام  کو قسم دی کہ اپنی جگہ واپس آ جائیں اور مورد بحث مسئلہ میں  ا پنا نظریہ بیان کریں۔امام اپنی جگہ واپس آگئے اور کعب کی طرف دیکھ کر فرمایا:

تمہارے اصحاب غلط ہیں اور انہوں نے خدا کی کتابوں میں تحریف کی ہے اور خدا کی طرف ھوٹی نسبت دیہے۔

اے کعب !وای ہو تم پر؛اگر ایسا ہو کہ چٹان ا ور ہوا بھی خدا کے ساتھ ہوں تو اس صورت میں وہ بھی خدا کی طرح قدیم و ازلی ہوں جائیں گے پس پھر تین قدیم موجودات ہوں گی۔

اس کے علاوہ خداوند متعال اس سے بے نیاز ہے کہ اس کا کوئی مکان ہو کہ جس کی طرف اشارہ کیا جا سکے اور  جیسے ملحد کہتے اور جاہل خیال کرتے ہیں خداو ویسا نہیں ہے۔وای ہو تم پر اے کعب!تمہارے قول کے مطابق جس لعاب دہن سے یہ عظیم دریا و سمند وجود میں آئیں وہ بیت المقدس کی چٹان پربیٹھنے سے بے نیاز ہے اور ....۔(2)

2۔ آنحضرت سے نقل ہوا ہے کہ آپ کعب الأحبار کے بارے میں فرما رہے تھے:

وہ جھوٹا و کذّاب شخص ہے۔(3) یہی وجہ تھی کہ کعب،حضرت علی علیہ السلام سے روگرداں تھا۔(4)

--------------

[1] ـ یہ ایک عربی رسم ہے کہ جب کسی چیز سے اپنی بیزاری کا اظہار کرنا چاہتے ہوں تو اپنا لباس ہلاتے ہیںگویا یہ کہنا چاہتے ہیں کہ میں ان باتوں کو قبول نہیں کرتا۔

[2] ۔ نزهة الناظر و تنبیه الخاطر (المعروف بہ مجموعۂ وراّم): ج2ص 5 اور6،نقش ائمہ در احیاء دین (چھٹا شمارہ):114 اور 115

[3]۔ شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید):774 ،أضواء علی السنّة المحمدیة :165

[4] ۔  شرح نہج البلاغہ (ابن ابی الحدید):774،أضواء علی السنّة المحمدیة :165


3۔امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے کعب کے شاگرد یعنی ابوہریرہ کو بھی جھوٹا اور حدیث گھڑنے والا شخص کہا ہے اور فرمایا ہے:

انّ أکذب النّاس علی رسول اللّٰه (ص)لأبی هریرة الدُّوس ۔(1) بیشک جس نے سب سے زیادہ رسول خدا(ص) کی طرف ھوٹی نسبت دی،وہ ابوہریرہ دوسی ہے۔(2) اس واقعہ سے چند اہم نکات سیکھنے کو ملتے ہیں:

1۔ اسرائیلیات کو پھیلانے میں خلفاء کا بہت اہم کردار تھا اس کے علاوہ اسرائیلیات کی جھوٹی ثقافت کو پھیلانے میں  ان کی دینی اورتاریخی واقعات سے جہالت و نادانی کا بھی بہت اہم کردار ہے۔اس واقعہ میں کعب الأحبارنے جھوٹ بولااوراس نے دین کو خرافات اور بیت المقدس اور اس کے نتیجہ میں یہودیت کو عظیم اوربڑا دکھانے کے لئے کچھ جھوٹے مطالب بیان کئے۔

2۔ اس واقعہ میں نہ صرف عمر نے بلکہ اس نے اور اس کے کسی بھی طرفدار اور پیروکار نے کعب پر اعتراض نہیں کیا۔اس کی وجہ یا تو یہ ہو سکتی ہے کہ عمر اور اس کے پیروکارکعب الأحبارکی کہی گئی باتوں سے جاہل تھے یایہ کہ وہ اس طرح کی خرافات اور اسرائیلیات کو پھیلانے کی حمایت اور پشت پناہی کر رہے تھے۔ اور ان میں سے دونوں صورتوں میں ایسا شخص کس طرح رسول(ص) کا خلیفہ و جانشین ہو سکتا ہے؟!

3۔ کعب الأحبار کے قول کے مطابق خدا بیت المقدس کی چٹان پر بیٹھا تھا اور اس نے اپنا لعاب دہن پھینکا اور..... ۔ یہ عاقل اور متفکر افراد کو منحرف کے لئے بہت ہی مؤثر چال تھی کیونکہ کوئی بھی عقل مند اور متفکر انسان یہ قبول نہیں کر سکتا کہ خدا بیت المقدس کے پتھر پر بیٹھا تھا- اور وہ بھی ان کی  خلقت سے پہلے - اور اس نے اپنے لعاب دہن سے گہرے دریا خلق کئے!

جس دین میں ایسی اسرائیلیات اور خرافات موجود ہوںکیااس دین کی پیروی کی جاسکتی ہے اور کیااس دین پر اعتقاد رکھا جا سکتا ہے؟!یہ واضح سی بات ہے کہ دانشور اور متفکر اس طرح کی من گھڑت باتوں کی پیروی نہیں کریں گے ۔ بلکہ وہ حقائق جاننے کے لئے کعب الأحبار کی بجائے خاندان وحی اور اہلبیت اطہار علیہم السلام کی طرف رجوع کریں گے۔

--------------

[5]۔ شیخ المضیرة: 135

[6]۔ اسرائیلیات وتأثیر آن بر داستان ہای انبیاء در تفاسیر قرآن:153


7- وہب بن منبّہ

ابوعبداللہ وہب بن منبّہ اہل  صنعاء میں سے تھا جو یمن کے شہروں میں سے ہے۔ اس کا باپ ایرانی اور ہرات کے لوگوں میں سے تھا اور وہ اس فوج کا ایک سپاہی تھا جسے انوشیروان نے یمن کو فتح کرنے کے لئے بھیجا تھا اور اس کا بیٹا وہب بھی اسی جگہ (یمن) پیدا ہوا۔کہتے ہیں کہ کے وہب کے باپ نے رسول اکرم(ص) کے زمانے میں اسلام قبول کیا تھا۔

ذہبی  ''تذکرة الحفّاظ'' میںوہب بن منبّہ کے حالات زندگی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:وہ  یمن کا ایک دانشور تھا جو سن 34 ہجری - یعنی عثمان کی خلافت کے زمانے میں- میں پیدا ہوا۔جسے اہل کتاب کے علوم کے بارے میں بہت زیادہ معلومات تھیں اور اس کی ساری توجہ انہی کی کتابوں کا مطالعہ کرنے پرمرکوز تھی۔

صحیح بخاری اوراور مسلم میں اس کے بھائی''ہمام'' کے سلسلہ سے اس سے حدیث نقل ہوئی ہے''(1)

 ڈاکٹر جوا دعلی نے بھی اس کے بارے میں کہاہے:وہب بن منبّہ کا شمار تابعین میں سے ہوتا ہے اور اسرائیلی کہانیوں کو نقل کرنے میں اس کا بہت اہم کردار ہے۔اس کے اکثر اقوال گذشتہ آسمانی کتابوں سے ہی اخذ شدہ ہوتے تھے۔اس کے بھائی نے شام کے اپنے تجارتی سفر میں اس کے لئے یہ کتابیں خریدیں اور وہ ان کا مطالعہ کیا کرتا تھا۔ کہتے ہیں کہ اس  متقدمین کی تاریخ پر تسلط  تھا اور اسے مختلف زبانوں پر بھی عبور حاصل تھا۔(2) وہب کا خاندان یمن میں رہتا تھاجو یہودیوں کے آداب و رسومات اور ان کی روایات سے متأثر تھااور دوسری طرف سے وہ حبشہ کے ذریعہ عیسائیوں کے عقائد اور ثقافت سے بھی آشنا تھے۔ وہب خود یونانی زبانی سے بھی آشنا تھا جس کی وجہ سے اسے ان دوثقافتوں یعنی یہود و نصاریٰ کی کافی معلومات تھیں۔(3) وہ گذشتہ آسمانی کتابوں کے مطالب اور گذشتہ اقوام و ملل کی روایات اور قصہ کہانیوں کو بیان کرنے میں اتنی توجہ دیتا تھا کہ اس اعتبار سے اسے ''کعب الأحبار''سے تشبیہ دی جاتی ہے۔(4)

--------------

[1]۔ تذکرة الحفّاظ:ج 1ص۱۰۰اور 101،الأعلام: ج۹ص۱۵۰-[2] ۔ المفصّل فی تاریخ العرب قبل الاسلام: ج6ص565

[3]۔ الأدب العربی: ج1ص381-[4]۔ تذکرة الحفّاظ: ج1ص101


وہ بنی امیہ اور ان کے حکمرانوں سے بھی غافل نہیں تھا یہاں تک کہ وہ بعض اوقات ان کی تائید میں من گھڑت مطالب بیان کرتا تھا جن میں سے ایک یہ ہے کہ وہ عمر بن عبدالعزیز کو مہدی موعود سمجھتا تھا!(1) اور اسی کے خلافت کے دوران یہ قضاوت کے عہدے پر فائز تھا(2) ،وہ 110ھ میں شہر صنعاء میں ہلاک ہوا۔(3)(4)

وہب بن منبّہ کے عقائد

قابل ذکر ہے کہ اس جدید مسلمان یہودی کے ذریعہ اسلامی معاشرے میں پھیلنے والے عقائد میں سے یہ ہے کہ اس نے جبر اور نفی مشیت و اختیار جیسے عقائد کو فروغ دیا۔

حماد بن سلمہ نے ابو سنان سے نقل کیاہے کہ میں نے وہب بن منبّہ سے سنا ہے کہ وہ کہتا تھا: میں ایک مدت تک انسان کی قدرت و مشیت کا قائل تھا یہاںتک کہ میں  نے پیغمبروں کی ستّر سے زائد کتابوں کامطالعہ کیااور ان سب میں یہی تھا کہ جو بھی اپنے لئے اختیار کا قائل ہو وہ کافر ہو جائے گا۔اس لئے میں نے اپنے پہلے والے عقیدہ کو چھوڑ دیا۔(5)

جبر اور نفی مشیت و اختیار کی حمایت  اور ہر طرح کی قدرت و مشیت کا انکار کرناانسان کے لئے ایک ایسی آگ تھی کہ جو پہلی صدی ہجری کے آخر میں مسلمانوں میں بھڑکائی گئی جس نے انہیں دو دھڑوں میں تقسیم کر دیا ۔جب کہ جبر کا عقیدہ بنی امیہ کی حکومت کی بنیادوں سے سازگار تھا۔ اسی وجہ سے وہب ایسے نظرئے کو پھیلانے کی بہت زیادہ کوشش کرتا تھا۔(7)(6)

--------------

[1]۔ تاریخ الخلفاء:263

[2]۔ الأعلام:ج9ص150

[3]۔ فجرالاسلام:161

[4]۔ اسرائیلیات وتأثیر آن بر داستان ہای انبیاء در تفاسیر قرآن:116

[5]۔ میزان الاعتدال: ج4 ص353

[6]۔  ملاحظہ کریں: بحوث فی ملل و النحل:911،فرہنگ عقائد و مزاہب اسلامی: ج1ص102 اور 103

[7]۔ اسرائیلیات وتأثیر آن بر داستان ہای انبیاء در تفاسیر قرآن:121


تیسراباب

بنی امیہ کے عیسائیوں سے تعلقات

    بنی امیہ کے عیسائیوں سے تعلقات

    اموی دور میں اسلامی معاشرے کے افسوسناک حالات

    عیسائیت کے اشعار و تبلیغ کی ترویج

    تمیم داری کی قصہ گوئی اور عیسائیت کی ترویج

    عمر کے دور حکومت میں تمیم داری

    بنی امیہ کی حکومت کا عیسائیت کی حمایت کرنا

    اہلبیت اطہار علیہم السلام اور عراق کے لوگوں سے خالد کی دشمنی


 بنی امیہ کے عیسائیوں سے تعلقات

 بنی امیہ کے عیسائیوں سے بھی تعلقات تھے اور وہ اپنے امور میں ان سے مشورہ کرتے تھے۔ بنی امیہ کے عیسائیوں سے تعلقات کی بہترین مثال معاویہ  کے ان سے تعلقات ہیں۔

معاویہ کےعیسائیوں سے تعلقات اتنے گہرے تھے کہ نہ صرف اس کے دربار میں ان کی آمد و رفت تھی بلکہ معاویہ عیسائیوں سے مشورہ بھی کرتا تھا اور انہیں حکومتی ذمہ داریاں سونپنے کے علاوہ ہ عیسائیوں کے ساتھ بیٹھ کر ان سے مشورہ کرتا اور ان کے افکار و نظریات سے استفادہ کرتا تھا۔ آپ یہ نکتہ یعنی معاویہ کے عیسائیوں سے تعلقات اور معاویہ کا عیسائیوں سے مشورہ کرنا،تاریخ کے صفحات میں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔ یہ واضح سی بات ہے کہ ایسے افکار و نظریات رسول اکرم(ص) کے حکومتی طریقۂ کار کے افکار و نظریات سے متضاد ہیں۔ پیغمبر اکرم(ص) کا عیسائیوں اور کسی بھی اہل کتاب سے مشورہ کرنا اور ان کے دین مخالف افکار و نظریات کولوگوں پر مسلّط کرنا  تو دور کی بات بلکہ آپ نے کبھی انہیں  اپنا ہمنشین قرار نہیں دیا۔لیکن معاویہ نے چونکہ بزردستی اور طاقت کے بل بوتے پر حکومت حاصل کی تھی اور وہ رسول خدا(ص) کے منصب خلافت کا غاصب تھا،اس لئے اس کے اعمال رسول اکرم(ص)کے اعمال کی طرح نہیں تھے بلکہ دین پر کاری ضرب لگانے اور دین کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کے لئے وہ دین کے مخالفوں سے مشورہ کرتا تھااور ان کے نظریات کو اہمیت دیتاتھا۔

 کتاب''امویان؛نخستین ودمان حکومت گر در اسلام''میں لکھتے ہیں:روایات سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ معاویہ عیسائیوں کی سیرت و روایات کے لئے احترام کا قائل تھا کہ جو اب تک شام کے شہروں میں مقیم تھے اور وہاں کی اکثر آبادی انہیں پر مشتمل تھی۔ اس کے مشیروں میں سے ایک سرجون(سرگیوس) تھا جویونانی  Orthodox خاندان کا ایک فرد تھا اور جو شام میں رومن انتظامیہ کے لئے کام کرتا تھااور اس کا باپ'سنت جون''(وفات: 748ء) شام میں Orthodoxکے متکلمین میں سے تھا۔(1)

--------------

[1] ۔ امویان؛نخستین ودمان حکومت گر در اسلام:57


  اموی دور میں اسلامی معاشرے کے افسوسناک حالات

اموی دور میں اسلامی معاشرے کے افسوسناک حالات کے بارے میں یہی کافی ہے کہ ہم ''جرجی زیدان''کے اس قول پر غور کریں، جو کہتے ہیں: بنی امیہ کے زمانے میں عیسائی مسجدمیں آتے تھے اور کوئی بھی ان پر اعتراض نہیں کرتا تھا۔ اخطل(عرب کا عیسائی شاعر)بغیرا جازت کے نشے کی حالت میں گردن میں صلیب ڈال کر عبدالملک بن مروان کے پاس آیا اور کسی نے بھی اس پر اعتراض نہیں کیا؛کیونکہ وہ پیغمبر(ص) کے اصحاب و انصار کی مذمت میں بہتر طور پر شعر کہتا تھا!(1)

تاریخ میں ہے کہ:''بطریق یوحنا دمشقی''نام کا شخص اپنے باپ کے ساتھ عبدالملک بن مروان   کے دربار میں رہتا تھا۔جو اسلامی ثقافت سے مبارزہ کرنے والوں میں نمایاں شمار کیا جاتا تھا اور مسلمانوں کے درمیان شہبات اور جھوٹ شامل کرنے میں دریغ نہیں کرتا تھا۔اس  نے عیسائیوں کے لئے ایک کتاب تألیف کی جس نے انہیں مسلمانوں کی تبلیغات کے مقابلہ میں مسلح کیا۔(2)

 یہی شخص پیغمبر اکرم(ص) کی اپنی پھوپھی زاد زینب بن جحش سے عشق و محبت کی جعلی کہانی کو رائج کرنے والا تھا!

 کچھ اموی خلفاء کی کوشش تھی کہ اہل کتاب جو کچھ کہتے ہیں یا پیش آنے والی مصالحت کی بنیاد پر  یہ بات ان کے منہ میں ڈال دیں  کہ ان کا نام گذشتہ آسمانی کتابوں میں آیا ہے۔کیونکہ ان کی حکومت کی مشروعیت  ظاہر کرنے کے لئے اس مسئلہ کے بہت اہم اثرات تھے اور یہ فلاں خلیفہ کے لئے ایک طرح سے قضاء الٰہی کو بیان کرنا چاہتے تھے۔(3)

یہودی سے مسلمان ہونے والے یوسف نامی سے نقل ہوا ہے کہ اس نے عبدالملک کی خلافت کی پیشنگوئی کی تھی ۔(4) وہب بن منبّہ نے بھی عمر بن عبدالعزیز کو امت کا مہدی شمار کیا تھا۔(5)

--------------

[1]۔  تاریخ تمدن اسلامی:745

[2]۔ تراث الاسلام:ج1ص275،''الاسرائیلیات و أثرھا فی کتب التفسیر''سے اقتباس:429

[3]۔ تاریخ سیاسی اسلام:ج2ص735 اور 736

[4]۔ تاریخ الخلفاء:243

[5]۔ تاریخ الخلفاء:263


 عیسائیت کے اشعار و تبلیغ کی ترویج

اہلسنت علماء نے اپنی کتابوں میں جو مطالب ذکر کئے ہیں،ان کی بناء پر یہ قابل غور نکتہ سمجھ میں آتا ہے:شعر و شاعری نے نہ صرف مسلمانوں کو قرآن اور پیغمبر اکرم(ص) کی احادیث سے دورکیا اورنہ یہ کہ صرف  شراب نوشی،فساد،فحاشی اور لوگوں کودین سے دور کرنے کا باعث بنی بلکہ انہیں عیسائیت کی طرف راغب کرنے اور مسلمانوں کوعیسائی بنانے کا بھی باعث بنی۔(1)

اس بات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ معاویہ اور بنی امیہ کے دوسرے حکمرانوں کے دربار میں عیسائی شاعروں کا اتنا احترام کیوں تھا اور انہیں کیوں اتنی اہمیت دی جاتی تھی؟!مسلمانوں کے خلیفہ کے دربار میں کیوں ان کا اتنا بلند مرتبہ تھا؟!یہاں تک کہ کبھی مسلمانوں کی ملکی سیاست میں بھی ان کا بہت عمل دخل ہوتا تھا!

سب سے پہلے عمر نے عیسائیوں کوحکومتی ذمہ داریاں سونپیں۔

 ابوزبید(جو ایک شراب خور اور ولید کا ہم پیالہ تھا)عمر کی طرف سے اپنے قبیلہ کی زکاة جمع کرنے پرمأمور تھا۔حلانکہ ابوزبیدعیسائی تھااور''الاستیعاب''کے مطابق یہ عمر کی طرف سے اپنے قبیلہ کی زکاةجمع کرنے کے لئے  مأمور تھا۔

 اس کام سے عمر نے آنے والے افراد کے لئے راستہ کھول دیاتا کہ وہ عیسائیوں اور دین سے خارج افراد سے کام لیں یہاں تک کہ عثمان کے زمانے میں عیسائیوں کے کئی افراد حکومتی منصب پر فائز تھے۔جب حکومتی باگ دوڑ اور حکومتی عہدوں میں عیسائیوں کو بلند مقام ملا تو وہ اشعار کی ترویج میں لگ گئے تا کہ اس کے ذریعہ قرآن پر سے لوگوں کی توجہ کو کم کیا جا سکے اور یہ وہی چیز تھی کہ رسول اکرم(ص) نے جس کی پیشنگوئی کی تھی۔

انہوں نے شعر کی ترویج کو دستاویز قراردیا جس کے ذریعہ وہ لوگوں کو شراب نوشی اور دین سے روگردانی کی طرف راغب کرتے تھے اور یہ نہ صرف لوگوںکے عقائد کمزور کرنے کا باعث بن رہا تھا بلکہ دوسروں کے اسلام کی طرف آنے کی راہ میں رکاوٹ بن رہا تھا۔

--------------

[1]۔ اسرائیلیات وتأثیر آن بر داستان ہای انبیاء در تفاسیر قرآن:81


 جیسا کہ ہم آئندہ بیان کریں گے کہ ابن شہاب کی روایت کے مطابق عمر نے ابو موسی کو خط لکھا جس میں لکھا تھا:انہیں حکم دو کہ شعر روایت کریں کہ یہ اعلیٰ اخلاقیات کے لئے راہنما ہیں!۔(1) اس لحاظ سے شعر کی طرف رغبت دلانانا عمر کی زبان سے شروع ہوا اور معاویہ کے زمانے میں   رائج ہوا اور اس کے بعد بنی امیہ نے شعر کی ترویج میں مبالغہ سے کام لیا۔

''الاستیعاب''کے مصنف ولیدکے بارے میں لکھتے ہیں:اہل عمل کے درمیان کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ یہ آیۂ شریفہ''اگر کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرو ''(2) ولیدکے بارے میں نازل ہوئی ہے۔(3) اسی طرح ابن عباس سے منقول ہے کہ یہ آیۂ شریفہ''کیا وہ شخص جو صاحب ایمان ہے اس کی مثل ہو جائے گا جو فاسق ہے،ہر گز نہیں دونوں برابر نہیں ہو سکتے''(4) حضرت علی بن ابی طالب  علیہما السلام  کے ایمان اور ولید کے فسق کے بارے میں نازل ہوئی ہے اورہم اس بارے میں ایک واقعہ بھی نقل کرتے ہیں۔(5) 'الاصابة''کے مصنف ابوزبید کے بارے میں لکھتے ہیں کہ یہ زمانۂ جاہلیت میں اپنے ماموں کے پاس بنی تغلب میں زندگی گذارتا تھا اور اسلام کے دوران جب ولید کو جزیرہ اور پھر کوفہ کی حکمرانی ملی تو یہ اسی کے ساتھ تھا۔(6) ابن قتیبہ اس کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ابوزبید ہرگز مسلمان نہیں ہوا تھااور وہ اسی طرح عیسائیت پر باقی رہا اور دنیا سے چلا گیا۔مرزبانی کہتے ہیں کہ اسے طویل عمر ملی اور وہ ایک سو پچاس سال زندہ رہا  ۔ اس نے اسلام کو تو درک کیا لیکن مسلمان نہیں ہوا اور وہ معاویہ کی حکومت کے زمانے تک زندہ تھا۔(7)

--------------

[1]۔ کنزالعمال:ج10ص330

[2]۔ سورۂ حجرات،آیت:6

[3]۔ الاستیعاب:ج3ص632

[4]۔ سورۂ سجدہ،آیت:18

[5]۔ الاستیعاب:ج3ص633

[6]۔ الاصابہ:ج4ص80

[7]۔ الاصابہ:ج4ص80


 اگرچہ قرآن وحدیث کی رو سے ولید فاسق اور اکثر مؤرخین کے مطابق ابوزبید عیسائی تھا۔لیکن عمر نے اس میں عوامی مفاد کو دیکھا اور ولید کو جزیرہ کا حاکم بنا دیا اور ابن حجر کے مطابق''ابوزبید کو اسی کے قبیلہ کی زکاة جمع کرنے پر مأمور کر دیا اور اس کے علاوہ کسی اور عیسائی کوئی ذمہ داری نہیں دی''(1) ۔اسی دوران عمر نے حکم جاری کیا اور ابن شہاب کی روایت کی رو سے اس نے ابو موسی اشعری کو خط لکھاکہ'' اپنے اطرافیوں کو حکم دو کہ وہ عربی قواعد سیکھیں جو صحیح گفتگو کے لئے راہنما ہیں اور انہیں  حکم

دو کہ وہ شعر روایت کریں جو اعلیٰ اخلاقیات کے لئے راہنما ہیں''(2)

 شعرکو روایت کرنا ایک عربی سنت و روایت تھی جس کی طرف اسلام نے کوئی خاص توجہ نہیں  دی اور نہ ہی خدا کی کتاب میں شعر اور شاعروں کی کوئی تعریف کی ہے اور نہ ہی سنت میں انہیں کوئی خاص اہمیت دی گئی ہے۔

منقول ہے کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا:قسم ہے اس کی جس نے مجھے حق کے ساتھمبعوث کیا ،میرے بعد میری امت پر ایک ایسا وقت آئے گا جب مال ناجائز طریقہ سے لیا جائے گا اور خون بہایا جائے گا اور قرآن کی جگہ اشعار لے لیں گے۔(3)

یہ کہ شعر روایت کرنے کی طرف دعوت دینا،غیب کی خبر دینا اور حجت قائم کرنا ،اس وقت کی طرف اشارہ ہے کہ جب شعر قرآن کی جگہ لے لیں گے۔اشعار روایت کرنے کی دعوت دینے کے بہانے قبیلۂ بنی تغلب ( رسول خدا(ص) نے جن کی سرزنش کی ہے)،حیرہ کے عیسائیوں(جو عباسیوں کی خلافت کے زمانے تک عیسائیت پر باقی تھے)قیساریہ کے اسیروں کے قافلوں(انہیں معاویہ نے اپنی خلافت میں دالخلافہ کی طرف بھیجا)نے راہ خدا کو بند کرنا چاہا۔

--------------

[1] ۔  الاصابہ:ج4ص80

[2]۔ کنزالعمّال:10ص300ابن الأنباری کی روایت کے مطابق

[3]۔  کنزالعمال:ج11ص187 دیلی کی روایت کے مطابق


عثمان کے دور میں کچھ رکاوٹوں کے برطرف ہو جانے اور کوفہ پر ولید کی حکمرانی سے عیسائیت کو پھیلانے کا دائرہ وسیع ہو گیا اور اسی دور میں حیرہ کے عیسائیوں سے تعلقات قائم کئے گئے اور اس علاقہ کے قافلوں کو کچلا گیا اوردَیر کے شعروں کو رائج کیا گیاجو مخفیانہطور پر عقلی ثقافت پر بہت اثر انداز ہوئی۔ اس کے بعد شراب کے شعروں کی باری آئی جو واضح طور پر اسلام کا خیال دل سے نکالنے اور اسے ترک کرنے کا خواہاں تھے۔

ان میں سے کچھ موارد ہم نے اپنی دوسری کتاب''الانحرافات الکبری''میں ذکر کئے ہیں  لہذا اس کی اصل بنیادوں کو جاننے کے لئے اس کی طرف رجوع کریں۔

 دیر اور شراب کے اشعار کی فضا میں کوفہ کا حاکم ولید بن عقبہ  اور اس کا درباری ابوزبید اخلاقی اقدار کو پامال کر رہے تھے۔

'الاستیعاب''کے مصنف اس بارے میں لکھتے ہیں کہ ولید اور اس کے ہم پیالہ ابوزبید کی شراب نوشی کی خبریں بہت مشہور ہیں۔(1) بہت سے مؤرخین اور محدثین نے نقل کیا ہے کہ ولید نے نشہکی حالت میں صبح کی نماز جماعت کے ساتھ مسجد میں پڑھی اور چار رکعت پڑھنے کے بعد مأمومین سے پوچھا کہ کیا وہ چاہتے ہیں کہ ان کے لئے دوبارہ سے نماز پڑھوں؟(2)

عثمان بن عفان کے خلاف قیام کا پہلا سبب یہی مسئلہ تھاکہ خلیفہ نے ولید کو معزول کرکے اور اسے قربانی کا بکرا بنا کر اپنی جان چھڑائی۔لیکن شعر اسی طرح باقی رہے بلکہ  ان میں وسعت آتی گئی،شراب کے شعر عاشقانہ شعروں میں اور پھرعیاشی کے اشعار میں تبدیل ہو گئے۔ معاویہ کے دور میں ادبیات عرب اپنے عروج پر تھی اور حزب حاکم کی سیاست کے دامن میں پلنے   والے فحاش شعر نمودار ہوئے    جو قبائلی اختلافات اور عربی تعصب کو ترویج دے رہے تھے۔بنی امیہ اشعار کی ترویج میں مبالغہ کرتے تھے اور کبھی شعر کے ایک مصرع یا ایک ادبی نکتہ پر ہزاروں دینار سے نوازتے  تھے۔لوگ بھی اشعار کہنے اور عرب کی جنگوں کے احوال بیان کرنے میں لگ گئے  اور انہوں نے بہت سا مال حاصل کیا۔

--------------

[1]۔  الاستیعاب:ج3ص633

[2]۔  الاستیعاب:ج3ص633


شعر اور ادبیات اس حد تک نفوذ کر چکے تھے کہ حتی بہت سے علماء علمی محافل میں عقلی مسائل سے بحث کرتے وقت اپنانظریہ  ثابت کرنے کے لئے کسی شعر یا ضرب المثل  کو بطور نمونہ پیش  کرتے تھے۔اسی دوران منفی شعر اور راہ خدا سے روکنے والوں نے فتنہ کی تاریک راتوں میں اپنے لئے راستہ بنا رہے تھے اور شعراء تیزی سے رہبر کے مرکز کے نزدیک ہو رہے تھے۔ان شاعروں میں سے اخطل کا نام لیا جا سکتا ہے جو حیرہ میں پیدا ہوا جس کا تعلق بنی تغلب سے تھا اور جو اپنے اکثر قبیلہ والوں کی طرح عیسائی تھا۔جب یزید بن معاویہ خلیفہ بنا تو اسے اپنے پاس بلالیا اور وہ اس کا بہت احترام کرتا تھا۔یزید کے بعد دوسرے خلیفہ بھی اس کا بہت احترام کرتے تھے اور اسے بہت سی دنیاوی نعمتوں سے نوازتے تھے بالخصوص عبدالملک مروان اسے دوسرے شعراء پر ترجیح دیتا تھااور اسے اس کا بہت زیادہ صلہ دیتا تھا۔(1) ان شاعروں میں سے اعشی کا نام بھی لیا جا سکتا ہے جو عیسائی تھا اور وہ جہاں بھی جاتا تھا اس کے اشعار کو بہت  سراہا جاتا تھا۔(2)

فتنہ کی ثقافت اتنی پھیل چکی تھی اور اموی دور میں عیسائیوں کو ایسا مقام مل چکا تھا کہ ان کے بغیر سیاسی تدبیرمیں مشکل ہوتی تھی۔ان میں سے ایک گروہ کے پاس ٹیکس جمع کرنے کی ذمہ داری تھی اور ان میں سے اکثر کو خلفاء کے نزدیک بلند مقام حاصل تھا۔(3)

شعر،شراب اور فحاشی کی مدد سے وجود میں آنے والے فتنہ کے اس لبادہ میں سے زندیقی اور عیسائیوں کے نظریات سامنے آ رہے تھے(4) ،اور یحییٰ دمشقی کی زبان پر مرجئہ کے آراء و نظریات جاری تھے

--------------

[1]۔ تاریخ الأدب العربی:ج1ص۲۰۵

[2]۔ تاریخ الأدب العربی:ج1ص238

[3]۔ تاریخ الأدب العربی:ج1ص256

[4]۔ الحضارة الاسلامیة:ج2ص65


جس کا باپ عبدالملک بن مروان کا یار ومددگار تھا۔اسی یحییٰ نے خود عیسائیت کے فضائل میں ایک کتاب لکھی تھی۔یہ کوئی اتفاق نہیں تھا کہ یحییٰ دمشقی کے آراء مرجئہ اور شام کے قدریّہ کے پاس پھیلے۔ اس طوفان میں پرانے حالات اور قدیم دنیا پھر سے آہستہ آہستہ آشکارہو گئی ،دولت کو بے مثال طاقت ملی جس نے تمام اقدار کو پامال کیا،ہر چیز مال پر قربان ہونے لگی اور اسے حاصل کرنے کے لئے  سیاستدانوں اور حکمرانوں نے ہرغلط حربہ اختیار کیااور ایک دوسرے پر سبقت لینے میں مگن ہو گئے۔

اس تحریک کے آخر میں کچھ ایسے شعرا پیدا ہوئے جو ہر مذہبی چیز کی تحقیر و توہین کرتے تھے جو واضح اور گستاخانہ انداز میں اپنے نظریات پیش کرتے تھے کہ جس کی اس سے  پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ شام میں ابوالعلای معری شاعر(363-449)عقلی نظریات کی آڑ میںہر مذہبی چیز پر حملہ کرتا تھااور یوں کہتا تھا:اے گمراہو!ہوش میں آؤ،ہوش میں آؤ کہ تمہاری ایمانداری گذرے ہوئے لوگوں کے دھوکہ سے زیادہ نہیں ہے کہ جو اس  کے ذریعے سے دنیا کے مال و منال کو اکٹھا کرنا چاہتے تھے،وہ اس دنیا سے چلے گئے اوبخیلوںکی سنت دم توڑ گئی۔(!)

وہی کہتا تھا:لوگ پے در پے فساد کے قریب ہو گئے اورسب مذہب گمراہی کے لحاظ سے یکساں ہیں۔(1) پھر ابن راوندی(متوفی 293ھ)کی نوبت آئی جس نے یہاں تک کہہ دیا کہ ہمیں اکثم بن صیفی کے کلمات میں قرآن سے بھی خوبصورت کلمات ملتے ہیں۔(2) اسی طرح ابولعلاء معری کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ قرآن سے مقابلے کے لے کھڑا ہوا   اور اس نے''الفصول والغایات فی محاذاة السور ولآیات''کے نام سے ایک کتاب  لکھی اور جب اس سے کہا گیا کہ تم نے اچھا لکھا ہے لیکن ان میں قرآنی آیات کی مٹھاس نہیں ہے تو اس  نے جواب دیا:اسے چار سو سال تک محرابوں سے زبان پر جاری رہنے تو تا کہ یہ چمک جائے ،پھر اسے ددیکھو کہ یہ کیسی ہے۔(3)

--------------

[1]۔ الحضارة الاسلامیة:137

[2]۔ الحضارة الاسلامیة:139

[3]۔  الحضارة الاسلامیة:140


اس طرح  اشعار کو قوت ملنے کے بارے میںرسول خدا(ص)کی غیبی پیشنگوئی اس وقت متحقق ہوگئی جب ولید نے اپنا قصر کھولا اور حیرہ کے عیسائیوں نے جزیرہ پر قدم رکھے تا کہ وہ تغلب کے عیسائیوں کو گود میں لے لیں۔پھر دیراس کے بعد شراب اور پھر فحاش شعار رائج ہوئے اور عرب کی قدیم جنگوں ،امویوں کے فضائل کا تذکرہ کرکے اور زمانۂ جاہلیت کی اقدار کو ترویج دے کر وہ خود کو خلافت کی کرسی کے قریب لے آئے۔اور جس میدان میں حدیث نہیں تھی وہاں اس کے نتیجہ میں سیاسی دباؤ اور تصوف نے اپنے پاؤںجما لئے  اور ان واقعات کے مقابلہ میں زندقہ ،مرجئہ کی تعلیمات اور دوسرے واقعات رونما ہوئے۔اس تمام کشمکش کے دوران عیسائی ٹیکس اکٹھا کرنے کی نگرانی کر رہے تھے اور جو بھی وزارت کا خواہشمند ہوتا ،وہ ان کے نزدیک ہو جاتا۔(1) کیونکہ خاردار جھاڑی سے اموال حاصل کرنے کے لئے سب ایک دوسرے کے پیچھے لگے تھے اور شاعروں نے راہ خدا کو بند کرکے دین اور قرآن کے خلاف اس طرح سے اعلان جنگ کیا تھا کہ جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔(2)

تمیم داری کی قصہ گوئی اور عیسائیت کی ترویج

 یہودی اور عیسائی دانشور مساجد میںقصہ گوئی کرتے تھے اور عیسائی علماء ان کہانیوں کے ضمن میں عیسائیت کی تبلیغ و ترویج کرتے تھے۔اہل کتاب کے علماء حکومتی وسرکاری ہدایات کے زیرسایہ یہ کام انجام دیتے تھے۔انہوں نے مسلمانوں کی مساجد اور ان میں سے بھی اہم ترین یعنی مدینہ میں مسجد نبوی پر اپنا قبضہ جما لیا تھا تا کہ لوگوں کوبنی اسرائیل کے حالات کی کہانیاںسنانے میں اور جو کچھ  لوگوں کی طبیعت اوران کے اپنے مقاصد سے سازگار  ہو،اسی میں  مشغول رکھیں۔(3) تمیم داری(تازہ  مسلمان ہونے والا عیسائی)دوسرے خلیفہ کی نظر میں مدینہ کے بہترین لوگوں میں سے شمار ہوتا تھا(4) !اس نے عمر سے تقاضا کیاکہ وہ قصہ گوئی کرنا چاہتا ہے۔عمر نے اسے اجازت دے دی اور وہ جمعہ کے دن مسجد نبوی میں لوگوں کے لئے قصہ  گوئی کرتا تھا۔(5) عمر خود بھی تمیم کی مجلس میں بیٹھتا اور اس کے قصے سنتا تھا!(6)

--------------

[1]۔ الحضارة الاسلامیة:ج1ص127-[2]۔ از ژرفای فتنہ ھا:ج1ص418-[3]۔ الصحیح من سیرة النبی الأعظم:ج1ص122-124(تلخیص)

[4]۔  الاصابة فی تمییز الصحابة:ج1ص215-[5] ۔  الاصابة فی تمییز الصحابہ:ج1ص183،184 اور 186۔نیز الصحیح من سیرة النبی الأعظم:کی پاورقی کے تمام حوالہ جات ملاحظہ فرمائیں۔[6]۔ القصاص و المذکرین:29


 حقیقت میں اسرائیلیات سے قصہ کہانیوں کے جوڑ کی یہی سب سے اہم دلیل ہے کہ تمیم داری (مسلمان ،جو پہلے عیسائی تھے)نے سب سے پہلے قصہگوئی کی اور کعب الأحبار(تازہ مسلمان ہونے والا یہودی)کابھی شامات میں یہی کام تھا؛حتی کہ اس کا سوتیلا بیٹا (یعنی تبیع بن عامر جس کی پرورش کعب الأحبار کے ذمہ تھی اور جس نے آسمانی کتابیں پڑھیں تھیں)بھی اصحاب کے لئے قصہگوئی کرتا تھا!

محققین نے اس امر کی وضاحت کی ہے کہ ابتدائے اسلام میں قصہ گوئی کرنے کے واقعات اہل کتاب کی ثقافت سے متأثرہ تحریک کا نتیجہ تھے اورصدیوں سے ان کی اصل بنیاد ایسے قصے تھے جنہیں اہل کتاب انبیاء اورددوسروں سے روایت کرتے تھے۔

 قصہ  گوئی کی تحریک کو اسلامی ثقافت کے ساتھ برابرقرار دیا گیااور کچھ علماء کی مخالفت کے باوجود بعض خلفاء و محدثین کی حمایت حاصل ہونے کی وجہ سے یہ معاشرے میں پوری طرح  نفوذ کر گئے جس نے اسلامی ثقافت پر بڑے تباہ کن اثرات چھوڑے۔(1)

 ڈاکٹر مصطفی حسین لکھتے ہیں: اسلامی فتوحات کے بعد شام کا ماحول اسلامی ثقافت میں اسرائیلیات کو پھیلانے میں بہت اثر انداز ہوا اور تمیم داری جیسے افراد - جو تازہ مسلمان ہونے والی عیسائیوں میں سے تھا-کا اس تحریک (اسرائیلیات کی ترویج) میںبہت اہم کردار تھا کیونکہ اصل میں عیسائی ہونے کے باوجود اس کی شخصیت اور روایات پر اسرائیلی ثقافت کے اثرات کسی بھی محقق سے  ڈھکے چھپے نہیں ہیں؛بالخصوص ''جسّاسہ''کی کہانی کہ ججسے اس کے راویوں نے  رسول اکرم(ص) کی طرف جھوٹی نسبت دی ہے۔(2)

 ڈاکٹر احمد امین بھی ظہور اسلام کے بعد شام کے حالات کے بارے میں کہتے ہیں:

--------------

[1]۔  اسرائیلیات وتأثیر آن بر داستان ہای انبیاء در تفاسیر قرآن:63

[2]۔ اسرائیلیات فی الفتاث الاسلامی:79 اور 80


 شام میں اکثر عیسائی تھے جنہوں نے اپنا مذہب نہ چھوڑا اور وہ جزیہ دیتے تھے۔ایک گروہ نے اسلام قبول کیا اور انہوں نے اپنا علمی سرمایہ اسلام میں داخل کر دیا کہ جو انہوں نے کیش عیسوی سے لیا تھا۔مساجد کلیسا کے ساتھ برابر ہو گئیں تھیں۔مسلمانوں اور عیسائیوں کے میل جول تیزی سے بڑھ رہے تھے۔(1)

 اس لحاظ سے شام کو ''اسرائیلیات کے لئے سرسبز زمین''کا نام دیا جا سکتاہے۔ معاویہ نے طاقت کے بل بوتے پر کچھ عیسائیوں کو اپنا مقرب اور مشیر منتخب کیا۔ان میں سے ''سرجون''وزیراور دربار کا خاص مصنف،''ابن آثال''دربار کامخصوص طبیب اوراموی دربار کے خصوصی شاعر ''اخطل'' کے نام کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔  یہ معلوم ہے کہ یہ وہ لوگ نہیں تھے کہ جو اپنے مسیحی اعتقادات و افکار سے دستبردار ہو چکے تھے بلکہ وہ اموی دربار میں اتنانفوذ کر چکے تھے کہ ان پر اپنے نظریا ت مسلّط کرتے تھے۔(2) مؤرخین نے ان عیسائیوں کے معاویہ سے باہمی میل جول کو بیان کرکے بہت سے نکات درج کئے ہیں۔ہم ان میں سے کچھ کی طرف اشارہ کرتے ہیں:

 1۔ سرجون بن منصور رومی:اس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ مصنف اور معاویہ کامحرم راز یا اس کے اسرار کا محافظ تھاجو معاویہ کی موت کے بعد یزید کی خدمت میں تھا۔

 کتاب''الأغانی''میںوارد ہواہے کہ وہ یزید کے ساتھ مل کر شراب خوری کرتا تھا اورجب  مسلم بن عقیل علیہ السلام کے کوفہ پہنچنے کی خبر آئی تو اسی نے یزید سے سفارش کی تھی کہ ابن زیاد کو کوفہ کا گورنر بنا دیا جائے۔(3) اس کا بیٹا بھی عبدالملک بن مروان کے لئے کتابت کے فرائض انجام دے رہا تھا۔(4)

--------------

[1]۔ فجر الاسلام:189

[2]۔ معالم المدرستین:ج1ص50 اور 51

[3] ۔  الاغانی:ج16ص68 ،''معالم المدرستین ''سے اقتباس:ج2ص50،نیز رجوع کریں''تاریخ طبری: ج3ص228 اور 239،الکامل فی التاریخ :ج 4 ص 17''

[4]۔ التنبیہ الاشراف:261،معالم :سے اقتباس:ج2ص50


2۔ ابن آثال: مؤرخین کے مطابق یہ  عیسائی معاویہ کا درباری طبیب تھا اور دمشق میں اس کا خصوصی ڈاکٹر تھا۔

 احمد امین کہتے ہیں:معاویہ کو اس سے بڑی ہمدردی و عقیدت تھی اور  ہمیشہ اس سے گفتگو کرتا تھا۔(1)

 یعقوبی بھی اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں:سب سے پہلے معاویہ نے ابن آثال کو سر زمین''حمص'' سے ٹیکس جمع کرنے کے لئے مأمور کیا تھا جب کہ اس سے پہلے کسی بھی خلیفہ نے عیسائیوں کو ایسی ذمہ داری نہیں سونپی تھی۔(2)

 3۔ اخطل:یہ معاویہ کے دربار کا عیسائی شاعر تھا۔جاحظ اموی حکومت کے ساتھ اس کے تقرب کے سبب کے بارے میں لکھتے ہیں: معاویہ انصار کوذلیل و خوار کرنا چاہتا تھاکیونکہ ان میں سے اکثر حضرت علی بن ابی طالب علیہما السلام کے صحابی تھے اور معاویہ  کی خلافت کے مخالف تھے۔اس کے بیٹے یزید نے کعب بن جعیل سے کہا کہ وہ انصار کی برائی کرے لیکن اس نے منع کر دیا اور کہا:میں ایک نصرانی غلام کے بارے میں بتاتا ہوں جس کی زبان بہت لمبی ہے اور وہ ان کی برائی کرنے میں گریز نہیں کرے گا ،پس اس نے اخطل کے بارے میں بتایا۔(3)

 ''الأغانی''میں بھی اسذیل میں وارد ہوا ہے:وہ عیسائی کافر تھا جو مسلمانوں کی توہین کرتا تھااور جب وہ آتاتھا تو ریشم کا لباس اور گردن میں سونے کی بنی  ہوئی صلیب پہنے ہوتے تھا اور اس کی داڑھی سے شراب ٹپک رہی ہوتی تھی اور اسی حالت میں اجازت کے بغیر عبدالملک بن مروان کے پاس جاتا اور وہ یزید کاہمدم و ہمنشین تھااور اسی کے ساتھ جام سے جام ٹکراتا۔اسی طرح اس نے ایک شعر کہا تھا جسے

انہوں نے مسجد کوفہ کے دروازے پرآویزاں کر دیا تھا۔(4)

--------------

[1]۔ فجر الاسلام:162

[2]۔ تاریخ یعقوبی:ج۲ص۲۲۳

[3]۔ البیان والتبیین:ج1ص86،معالم المدرستینسے اقتباس:ج2ص50

[4]۔ الأغانی:ج8ص229 ،321اور ج16ص68معالم المدرستین سے اقتباس:ج2ص50 اور 51


 اس کے بارے میں دوسرے محققین لکھتے ہیں:اس کے اشعار میں ایسے شواہد ملتے ہیں کہ جن سے یہ پتہ چلتا ہے اموی دور میں بھی عربوں کی بت پرستی کی  کچھ رسومات باقی تھیں۔نیز ان اشعار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس سلسلے کے افراد میں کس حد تک مذہبی رواداری تھی۔ اخطل ان لوگوں کی سخت سرزنش کرتا تھاجنہوں نے طاقتور لوگوں کی قربت کی خاظر، اپنے باپ دادا کا بت پرستی اور عیسائیت کا دین چھوڑ دیا تھا۔اس کے بہترین اشعار بھی وہی ہیں جو اس نے امویوں کی شان میں لکھے ہیں۔مسلمانوں کا مذاق اور تمسخر کرنے کے باوجود عبدالملک اس کی حمایت کرتا تھا۔(1)   یہ شواہد واضح و روش دلائل ہیں کہ شام اور معاویہ کا دربارتمام قبیلوں اورقطب کے اکٹھے ہونے کی جگہ میں تبدیل ہو چکا تھاکہ جن کاہدف و مقصد ایک تھااور وہ ہدف اسلام کے تن آور درخت کی جڑوں کو کھوکھلاکر نے کی کوشش کرنااور اسلامی اقدار کے خلاف جنگ کرناتھا۔معاویہ اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لئے ہر ذریعہ کو استعمال کرنا جائز سمجھتا تھا۔اس نے تازہ مسلمان ہونے والے یہودی  اور عیسائی علماء (جو ظاہراً مسلمان ہوئے تھے)اور تما م ہوس پرست اور نقلی حدیثیں گھڑنے والوں کی جعلی اور من گھڑت روایات سے بہت استفادہ کیا اور یہ سب معاویہ کی سرپرستی  میں ہو رہا تھا۔(2)

  عمر کے دور حکومت میں تمیم داری

ابوریہ لکھتے ہیں: عمر بن خطاب بھی تمیم کا بہت احترام کرتا تھااور اسے''خیر أهل المدینة'' (3) (یعنی مدینے کا بہترین فرد ) کے الفاظ سے یاد کرتا تھا۔اور یہ سب بالکل اسی وقت ہو رہا تھا جب حضرت علی علیہ السلام اور بزرگ صحابی بھی موجود تھے ۔ جب بعد میں دوسرے خلیفہ کے حکم پرلوگ مختلف طبقات میں تقسیم ہو گئے تو تمیم اہل بدر کے ساتھ تھا جن کا شمار پیغمبراکرم(ص) کے سب سے محترم اصحاب میں سے ہوتا تھا اور وہ سب سے زیادہ حقوق لیتا تھا۔

--------------

[1]۔ انتقال علوم یونانی  بہ عالم اسلام(دلیس اولیری):216-[2]۔ اسرائیلیات وتأثیر آن بر داستان ہای انبیاء در تفاسیر قرآن:74

[3] ۔  الاصابة: ج3ص473، نقش ائمہ در احیاء دین''سے اقتباس، چھٹا شمارہ:  87 ۔ ذہبی کی روایت میں تمیم کو ''خیر المؤمنین''کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔''سیر أعلام النبلاء''کی طرف رجوع کریں: ج2ص446


اسی طرح جب اس نے حکم دیا کہ ماہ رمضان کی مستحب نمازوں اور نافلہ کو جماعت کے ساتھ پڑھا جائے (سن 14 ہجری)تو اس نے دو افراد کو امام جماعت نامزد کیا تھا جن میں سے ایک تمیم داری تھا جو کہ راہب اور نصرانی عالم تھا اور جو تازہ مسلمان ہوا تھا۔

وہ ہزار درہم کی مالیت کا  لباس پہن کر بڑے جلال اور مزیّن ہو کر نماز جماعت میں آتا اور مسلمانوں کی امامت کرتا تھا۔(1) عثمان کی خلافت کے اختتام تک تمیم مدینہ میں تھا لیکن اس کے قتل ہو جانے کے بعد وہ شام چلا گیا اورر  40ھ کو وہیں اس دنیا سے چلا گیا۔(2)

ابوریہ لکھتے ہیں:قابل توجہ نکات میں سے یہ ہے کہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ عثمان کے قتل ہو جانے  اور امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے منصب خلافت پر فائز ہونے کے بعد تازہ مسلمان ہونے والے تمام یہودی  کاہن ،عیسائی اورسب ہوس پرست مسلمان شام چلے گئے۔

 یہ واضح ہے کہ یہ کام خدا کے لئے نہیں بلکہ فتنہ پھیلانے اور مسلمانوں میں نفرت و بغض کی آگ بھڑکانے کے لئے تھا تا کہ اس کے ذریعے اموی حکومت کی بنیادیں مستحکم ہوں اور ان کے کشکول بھی اموی حکمرانوں کے دین سے بھر جائیں۔!(4)(3)

--------------

[1] ۔  تاریخ ابن عساکر:ج10ص479، تہذیب ابن عساکر:ج3ص360، سیر اعلام النبلاء:ج2س447، نقش ائمہ در احیاء دین''سے اقتباس :ج6ص87

[2]۔  الاعلام(زرکلی):ج2ص71،اسد الغابہ: ج1ص25

[3]۔ اضواء علی السنّة المحمدیة:182(حوالہ)

[4]۔  اسرائیلیات وتأثیر آن بر داستان ہای انبیاء در تفاسیر قرآن:103


بنی امیہ کی حکومت کا عیسائیت کی حمایت کرنا

یہ اموی حکمرانوں کا غیر اسلامی کردار و رفتاراور ان کے عیسایوں سے تعلقات صرف ولید تک ہی محدود نہیں تھے بلکہ اس سے قبل وبعد بھی اسی کی طرح ہی تھے جنہوں نے ان کی مدد سے غصب کی گئی حکومت کا طوق اپنے گردن میں ڈال لیا۔

 ولید سے پہلے ہشام نے بھی عیسائیوں کو اتنی اہمیت دی اور ان کو اتنا بلند مقام دیاکہ خالد بن عبداللہ قسری کو عراق کا حاکم بنا دیا ۔ جو کہ عیسائی زادہ تھا اور وہ نہ صرف عیسائیوں بلکہ یہودیوں حتی کہ زرتشتیوں کی بھی حمایت اور طرفداری کرتا تھا۔

کتاب ''امویاں....''میں لکھتے ہیں: ہشام کی خلافت کے کچھ عرصہ بعد  خالد بن عبداللہ قسری  724 سے 738 م تک عراق کا حاکم رہا ۔ بعض موقعوں پر وہ مشرقی ریاستوںکی بھی مکمل نگرانی کرتا تھا لیکن کہتے ہیںکہ بعض دوسرے مواقع میں خراسان اس کی حکومت سے خارج ہوگیا تھااور خلیفہ بذات خود وہاں کا حاکم مقرر کرتا تھا۔تقریباً اموی دور کے آغاز سے ہیشام میں خالد کا خاندان اثر و رسوخ رکھتا تھا اور ولید کی خلافت کے زمانے میں خالد کچھ عرصے تک مکہ کا حاکم تھا۔ہشام کی طرح عراق میں مال پر قبضہ جمانے اور مال و دولت کے حصول کی خاطر چونچیں مارنے میںاس کا بھی کوئی ثانی نہیں تھا۔ سنت روائی میں اس کے بارے میں بھی دشمنانہ نظر کا احساس ہوتا ہے کہ کبھی اسے اسلام کا دشمن تو کبھی عیسائیوں،یہودیوں حتی کہ زرتشتیوں کا طرفدار بیان کیا گیا ہے۔ نقل ہوا ہے کہ ایک بار اس نے عیسائیت کو اسلام پر برتری دی اور اپنی عیسائی ماں کے لئے کوفہ میں مسجد کے پیچھے ایک کلیسا بنوایا۔بعض کتابوں میں اسے زندیق شمار کیا گیا۔یہ ایک ایسا عنوان ہے کہ جس میں اکثر تردید و تنازع رہاہے نیز اسے مانوی حتی کہ ملحدانی افکار میں بھی دلچسپی تھی۔ کہتے ہیں:اسے اپنے خاندان سے اتنی محبت تھی کہ حتی اگر خلیفہ اسے کعبہ کو تباہ کرنے کا حکم دیتا تو یہ اس کے بھی تیار تھا۔لکھتے ہیں کہ جب یہ مکہ کا حاکم تھا  تو اس نے زائرین کے لئے الگ سے پانی فراہم کیا تا کہ اس اقدام سے زمزم کے مقدس کنویں کی اہمیت کو کم کر سکے اور یہ بتائے کہ اس کا پانی کڑوا ہے،اور اس نے یہ اعلان کیا جو پانی اس نے فراہم کیا ہے وہ خدا کے نمائندے(خلیفہ) کے حکم سے ہے!(1)

--------------

[1]۔ امویان؛ نخستین ودمان حکومت گر در اسلام:99


 ''نہایت الأدب''میں لکھتے ہیں:خالد کی ماں عیسائی کنیزتھی(جس کا تعلق روم سے تھا اور خالد کے باپ نے اسے اسیر بنا لیا اوپھر خالد بھی اسی سے پیدا ہوا)خالد کا بھائی اسد بھی اسی عورت سے پیدا ہوا لیکن وہ مسلمان نہیں ہوا تھا اور جب وہ مرا تو خالد نے اس کے لئے اس کی قبر پر کلیسا بنوایا جس پر لوگوں نے اس کی مذمت کی اور فرزدق نے یہ اشعار کہے:''اے خدائے رحمن!اس سواری کی پشت شکستہ کردے جو خالد کو سوار کروا کرہمارے لئے دمشق سے لائی،کس طرح وہ لوگوں کی امامت کرنا چاہتا ہے جس کی ماں کا ایسا دین ہے کہ جوخدا کو یکتا نہیں مانتی؟ وہ اپنی ماں کے لئے کلیسا بنواتا ہے جس میں عیسائی ہیں اور جو کفر سے مساجد کے مینار تباہ کر رہا ہے''

 خالد نے حکم دیا تھا کہ مسجدوں کے مینار تباہ کر دیئے جائیں اور اس  کی وجہ یہ تھی کہ کسی شاعر نے اس بارے میں شعر کہے تھے:

 ''اے کاش!میری زندگی مؤذنوں کے ساتھ ہوتی کہ وہ کسی بھی شخص کوگھر کی چھت پر دیکھ سکتے ہیں ،یا ان کی طرف اشارہ کرتے ہیں یا دلکش نازنین ان کی طرف اشارہ کرتیںہیں''جب خالد کو اس شعر کی خبر ہوئی تو اس نے اسے بہانہ بنا کر مساجد کے مینار تباہ کرنے کا حکم دیا اور جب خالد تک یہ خبر پہنچی کہ اپنی ماں کے لئے کلیسا بنوانے کی وجہ سے لوگ اس کی مذمت کر رہے ہیں تو اس نے کہا:خداوند ان کے دین و آئین (اگر تمہارے دین و آئین سے بدتر ہے)پرلعنت کرے اوروہ معذرت کے طور پر یہ بات کہتا تھا۔ کہا گیا ہے کہ وہ کہتا تھا:کسی بھی شخص کا خلیفہ و جانشین اس کے خاندان میں اس کے رسول  سے محترم ہے۔اور اس کی مراد یہ تھی کہ ہشام رسول خدا(ص) سے محترم ہے!ہم ان خرافات سے خدا کی پناہ چاہتے ہیں۔(1) حجاج بن یوسف سے بھی یہی بات عبدالملک اور رسول خدا(ص)کے بارے میں نقل ہوئی ہے۔خالد بن عبداللہ قسری (جو عراق اور مشرقی علاوے میں حکومت کرتا تھا) حجاج کی سیاست پر عمل کرتا تھا۔

--------------

[1]۔ نہایت الأدب: ج6 ص۳۷۰


 خالد ایک عام انسان تھااور جس طرح لکھا ہے کہ حتی وہ قرآن کو بھی صحیح نہیں پڑھ سکتا تھا! ایک دن خطبہ پڑھتے وقت اس نے ایک آیت غلط پڑھی  اور منہ دیکھتا رہ گیا۔ اس کے دوستوں میں سے قبیلہ تغلب کا ایک شخص اٹھا اور اس سے کہا:امیر؛اپنے لئے کام آسان کرو ،میں نے کوئی عاقل انسان نہیں دیکھا جو قرآن کوحفظ کرکے پڑھے۔حفظ کرکے قرآن  پڑھنااحمقوں کا کام ہے۔! خالد نے کہا:تم نے ٹھیک کہا ہے۔(2)(1) عراق میں خالد کے مظالم اس حد تک پہنچ گئے تھے کہ ہشام نے مجبوراً اسے برطرف کردیا۔(3)

اہلبیت اطہار علیہم السلام اور عراق کے لوگوں سے خالد کی دشمنی

 ''الکامل''میں مبرد نے نقل کیا ہے:خالد بن عبداللہ قسری جب عراق کا حاکم بنا تو وہ منبر سے امیر المؤمنین علی علیہ السلام پر سبّ و شتم کرتا تھا اور کہتاتھا:''أللّٰهم علی بن ابی طالب بن عبد المطلب بن هاشم، صهر رسول الله علی ابنته و أبا الحسن و الحسین'' اس کے بعد   وہ لوگوں کی طرف دیکھ کر کہتا تھا: کیا یہ محترمانہ انداز نہیں ہے!(4)

 یہ کلام رسول اور آل رسول علیہم السلام سے اس کی دشمنی کو ظاہر کرتا ہے۔

--------------

[1]۔ ابولفرج اصفہانی: ج19ص60، تاریخ تمدن اسلامی سے اقتباس: ج4 ص80

[2] ۔ نہ  صرف خالد بلکہ بنی امیہ کے کچھ خلفاء صحیح سے بات کرنی بھی نہیں آتی تھی۔

اس بارے میں نقل ہونے والے عجائبات میں سے ایک یہ ہے کہ ولید بن عبدالملک مروان اپنی گفتگو اور محاوروں کے دوران بہت غلطیاں کرتا تھا ۔اس نے اپنی خلافت کے دوران ایک دن امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی توہین کی اور کہا:''انه لصّ ابن لصّ'' اور کلمہ'' لص''ّ کو کسرہ کے ساتھ پڑھا ۔ لوگ اس پر بہت حیران ہوئے اور انہوں نے اس سے کہا:ہمیں نہیں پتہ کہ ہم ان دو باتوں میں سے کس پر ہنسیں؛اس نسبت پر جو تم  نے علی بن ابی طالب علیہما السلام سے دی ہے یا کلمہ لصّ پر جسے تم نے مجرور پڑھا ہے۔ (معاویہ و تاریخ: 147)

[3] ۔ تاریخ تحلیلی اسلام:218

[4]۔ معاویہ و تاریخ: 147


ولید اور اس کے کارندہ خالد بن عبداللہ قسری کو عراق کے مسلمانوں سے خاص دشمنی تھی۔یعقوبی نے اپنی تاریخ میں لکھا ہے:ولید نے ایک خط میں حجاز پر اپنے کارندہ خالد بن عبداللہ قسری کو حکم دیا کہ وہ عراق کے لوگوں میں سے جو بھی حجاز میں ہیں انہیں وہاں سے نکال کر حجاج بن یوسف کے پاس بھیج دو۔پس خالد نے عثمان بن حیّان مرّی کو مدینہ بھیجا تا کہ وہ عراق کے لوگوں میں سے جو بھی مدینہ میں موجود ہیں انہیں نکال دے اور اس نے بھی ان تمام لوگوںکو ان کے اہل و عیال ہمراہ حجاج کے پاس  بھیج دیا ،تاجروں اور غیرتاجروں میںسے کسی کو باقی نہ چھوڑا اور اعلان کیا کہ جو بھی کسی عراقی کوپناہ دے گا وہ امان میں نہیں ہے۔ اسے جیسے ہی خبر ملتی کہ مدینہ والوں میں سے کسی کے گھر میں  کوئی عراقی ہے تو وہ اسے فوراً نکال دیتا تھا۔(1)

 بنی امیہ کے کارندے کلیسا بناتے تھے،قرآن کو حفظ کرکے پڑھنا احمقوں کا کام سمجھتے تھے اور فرزدق شاعر کے قول کے مطابق مساجد کے میناراپنے کفر کی وجہ سے تباہ کر دیتے تھے، خانۂ خدا کو آگ لگاتے تھے، پیغمبراکرم(ص) کے آثار نیست و نابود کرتے تھے اور جہاں تک ہو سکتا تھا وہ دین کے احکامات کو تبدیل کرتے تھے لیکن اس کے باوجود خود کو خدا کا خلیفہ سمجھتے تھے اوروہ جو کچھ کہتے تھے قوم  بھی بغیر سوچے سمجھے اسے مان لیتی تھی!!

کیا ایسے لوگ مذہبی شعور رکھتے ہیں؟!

--------------

[1]۔ تاریخ یعقوبی: ج2ص246


چوتھاباب

دشمنوں کے دو بنیادی حربے

    1- مسلمانوں میں تفرقہ سازی-    اموی اور عباسی دور میں زندیقی تحریک-    جہمیّہ-

    اموی دور میں معتزلہ-    مرجئہ ، اموی دور میں-    بنی امیہ کے زمانے میں قدریہ، جبریہ اور مرجئہ

    مرجئہ اور قدریہ کے بارے میں رسول اکرم(ص) کی پیشنگوئی-    معاشرے میں مرجئہ کا کردار-    بہشتی کافر!-

    مرجئہ کی کلیسا اور عیسائیت سے ہماہنگی-    مرجئہ کے فرقے-    ابو حنیفہ اور مرجئہ-

    مرجئہ اور شیعہ-    مرجئہ اور شیعہ روایات-    امویوں کے انحرافی عقائد میں یہودیوں اور عیسائیوں کا کردار

    عقیدتی اختلافات مسلمانوں کو نابود کرنے کا اہم ذریعہ

    اموی دور میں عقلی علوم کی ترویج اور.     خارجی کتابوں کا ترجمہ

    مکتبی ابحاث، حکومت کی بقاء کا ذریعہ

    2- پیشنگوئیوں کوچھپانا

    الف: یہودی اور پیشنگوئیوں کوچھپانا

    ب:عیسائیت اور پیشنگوئیوں کوچھپانا

    برطانوی بادشاہ کا مسلمان ہونا

    نتیجۂ بحث


 1- مسلمانوں میں تفرقہ سازی

جوافراد یہودیوں کی تاریخ سے آشنا ہیں اور انہیں اسلام کے آئین سے ان کی دشمنی کا علم ہے ،وہ جانتے ہیں کہ انہوں نے ہر ممکن طریقے سے اسلام کے خلاف مبارزہ آرائی کی ۔ ان کے پاس جو وسیلہ بھی تھاانہوں نے اس کے ذریعہ اسلام کا مقابلہ کیا تاکہ نہ صرف یہودی اور دوسرے تمام مذاہب کے درمیان ان کی ترقی کا راستہ روک سکیں بلکہ اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکیں اور اپنی ہاری ہوئی سیاسی وفوجی طاقت کا کچھ سامان کر سکیں تا کہ غیر یہودی اقوام پر بھی اپنا حکم چلا سکیں!

اس قدرت طلبی کی بنیاد پر وہ مختلف مکر و فریب اور چال بازیوں کے مرتکب ہوئے تا کہ شاید ان کی دیرینہ خواہشات پوری ہوجائیں اور ان کے  سینے میں موجود دشمنی کی آگ ٹھنڈی ہو جائے۔

ان کی ایک  سازش (جسے وہ مناسب منصوبوں کے ساتھ انجام دیتے تھے) مسلمانوں کے درمیان عقیدتی تفرقہ پیدا کرنا تھا ۔

 مسلمانوں میں مختلف فرقے بنانے میں عیسائیوں کا بھی ہاتھ تھا جو ان میں تفرقہ بازی اور عقیدتی اختلاف پیدا کرتے تھے۔

 ان منصوبوںسے یہودیوں کے دو اہم مقاصد تھے:

1۔ اختلافات پیدا کرکے مسلمانوں میں تفرقہ بازی اور مختلف گروہ بنانے سے نہ صرف ان کے ہاتھوں سے طاقت چلی جائے گی بلکہ اس عملسے مسلمان اصل دین اور اسلام کی بنیادمیں شک کرنے لگیں۔

لوگوں میں شک و شبہ پیدا کرنا ایک ایسا حربہ تھا کہ جسے یہودی صرف ابتدائے اسلام ہی سے نہیں بلکہ ظہوراسلام اور پیغمبر اکرم(ص) کی بعثت سے پہلے بھی استعمال کرتے تھے تا کہ ظہور اسلام کے بعد لوگ اس میں شک و شبہ کریں بلکہ اسے منکرانہ نگاہوں سے دیکھیں۔

2۔ اعتقادات میں اتحاد و یگانگت کو ختم کرکے انہوں نے نہصرف مسلمانوں کے اتحاد کو برہم کر دیا بلکہ ان پر اپناغلبہ پانے کا راستہ بھی ہموار کر لیا۔


  اموی اور عباسی دور میں زندیقی تحریک

 کتاب''دولت عباسیان''میں لکھتے ہیں:زندیق اموی دور میں وجود میں آئے اور عباسیوں کے پہلے دور میں ان کی سرگرمیاں شدت اختیار کر گئیں۔

 .....حقیقت میں زندقہ منظم مذہبی افکار کے قالب میں ایک سیاسی تحریک تھی جو اپنے پیروکاروں کو مانوی مذہب ،دینی اعتقاد کے محتویٰ اور ان کی فکری میراث کی طرف دعوت دیتی تھی۔اس اعتبار سے کہ اسلامی میراث کی جاگزین عربی ہے۔اور کبھی فلسفی دعوت کے پیچھے سیاست چھپی ہوتی تھی کیونکہ زندقہ نے فلسفہ کا لبادہ اوڑھ کرخود کو چھوپایا ہوا تھا اوردر حقیقت بعض انقلابی پہلوؤں سے مجوس تھے کہ جن کا مقصد اسلامی حکومت کو نابود کرنا اور اس کی جگہ ایرانی حکومت کو لانا تھا۔

 یہ واضح ہے کہ زندقہ ایک مانوی تحریک تھی جس نے اسلامی فتوحات کے بعد دوبارہ سے عراق اور ایران کے کچھ علاقوں میں جگہ بنا لی۔اس رجحان کے انتشار کی وجہ مذہبی آزادی تھی کہ فتوحات کے بعد مختلف مذاہب کے پیروکار وں کو اس کا سامنا تھا

اورجو معاشرے میں ایک طرح کے فکری و نظری  اختلافات اختتام پذیر ہوا۔(1)

اس بناء پر کہ زندیقی ایک فرقہ کے عنوان سے اموی دور میں وجود میں آئے،اب چاہے اسے مانوی تحریک سمجھیں یا مانوی و غیر مانوی تحریک سے اعم سمجھیں۔

جہمیّہ

 اہل سنت علماء نے ''جہم بن صفوان'' کے بارے میں جو کچھ کہا ہے،اس پر غور کرنے سے انسان حیرت زدہ ہو جاتاہے کہ'' جہم'' کے فاسد اور دین مخالف افکار کے باوجود یہ اسے کس طرح مسلمان سمجھتے ہیں اورکس طرح اس کے فرقے کو اسلامی فرقوں میں سے ایک فرقہ سمجھتے ہیں؟! یہ کیوں اس بات پر غور نہیں کرتے کہ دین کی بنیادوں کو ہلا دینے والے اور انہیں جڑ سے اکھاڑ پھینکنے والے افکار  اور فاسد عقائد کس طرح مذہبی افکار و عقائدہو سکتے ہیں؟!

--------------

[1] ۔ دولت عباسیان:75


 ''جہم''واضح الفاظ میں کہتا تھا:ہر مسلمان باطنی طور پر مسلمان ہو سکتا ہے لیکن ظاہرمیں عیسائیت و یہودیت کااظہار کرے اور عیسائی یا یہودی کے عنوان سے اپنا تعارف کروائے!اور اس کا ایسا عمل  اس کے دین کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا!

 اس قول کی بنا پر ہر مسلمان اسلام سے دستبردار ہو کر ظاہری طور پر عیسائی یا یہودی ہو سکتا ہے اور صرف دل میں اسلام قبول کرنا ہی کافی ہے!

اس طری''جہم''نے دوسرے باطل فرقوں میں اپنے عقائد کے پیروکاروں کا اضافہ کیا اور بہت سے افراد کو اپنے منحرف عقائد کی طرف جذب کیا۔

     وہ کہتا تھا:ایمان کے لحاظ سے سب مؤمنین کا ایک ہی درجہ ہے حتی کہ پیغمبر اور ان کی امت بھی یکساں ہے۔انسان کوئی بھی عمل انجام دے چاہئے وہ کوئی برا کام یا گناہ ہو پھر بھی اس کے ایمان میں   کوئی کمی  واقع نہیں ہوئی چاہے سب مؤمنین کے اعمال مختلفہوں لیکن ایمان کے لحاظ سے سب یکساں ہیں!

     اس نے اپنے اس انحرافی عقیدے کے ذریعے لوگوں میں آزادی و گناہ کو فروغ دیا اور اس قول سے مسلمانوں کو گناہ،بے پردگی اور نیک کاموں سے دستبردار ہو جانے کی طرف راغب کیا!حقیقت میں اس نے دین کے نام پر دین کی جڑوں پر وار کیا۔

     شہرستانی کہتے ہیں:(1) اپنے اس قول سے '' جہم'' معتزلہ پر بھی بازی لے گیاجو یہ کہتے ہیں: جسے معرفت حاصل ہو گئی اور پھر اس نے زبان کے ذریعے انکار کردیا تو اس نے اس انکار سے کوئی کفر نہیں کیا کیونکہ انکار کے ذریعے معرفت و شناخت ختم نہیں جائے گی اور وہ پہلے کی طرح مؤمن ہے۔     اس کی طرف نسبت دیتے ہیں کہ وہ ایمان کی تعریف میں بہت زیادہ خرافات کہتا تھا اور اسی پر ہی اکتفاء نہیں کرتا تھاکہ ایمان صرف باطنی تصدیق کا نام ہے بلکہ اس کا عقیدہ یہ تھا کہ  جو بھی دل میں ایمان لائے اور بعد میںشرک کرے یا یہودیت و عیسائیت کا اظہار کرے  تویہ عمل اسے دائرۂ ایمان سے خارج نہیں  کرتا!

--------------

[1] ۔  الملل و النحل:801، ملاحظہ کریں''مقالات الاسلامیّین'': ج1ص198


     وہ کہتا تھا:(1) ایمان ایک  قلبی معاہدہ ہے اور اگر مؤمن کسی تقیہ کے بغیر اپنی زبان سے کفر کا اعلان کرے ،بت پرستی کرے ، اسلامی سرزمین پر یہودیت وعیسائیت کا اقرار کرے،صلیب کی عبادت کرے اور اسلامی شہروں میں تثلیث کاپرچار کرے اور اسی حالت میں  مر جائے تو وہ اسی طرح مؤمن ہے  اور ایمان کامل کے ساتھ خداوند عزوجل کے پاس گیا اور وہ خدا کا دوست اور اہل جنت میں سےہے!

     اس نے مرجئۂ ناب کو ان باتوں سے اپنی طرف کھینچ لیا کہ ایمان میں نہ تو کوئی کمی ہوتی ہے اور   نہ ہی کوئی اضافہ اور ایمان کے لحاظ سے سب مؤمن یکساں ہیں۔

     وہ کہتا تھا:(2) ایمان پارہ پارہ نہیں ہو سکتا یعنی  ایمان عہد و پیمان اور گفتار و کردار میں تقسیم نہیں ہو سکتا اور ایمان رکھنے میں مؤمنوں کو ایک دوسرے پر کوئی برتری نہیں ہے ،پیغمبروں اور امتوں کا ایمان یکساں ہے کیونکہ معارف کو ایک دوسرے پر کوئی فضیلت نہیں ہے۔

     وہ انسان کے مجبور و بے اختیار ہونے میں جبریہناب کی پیروی کرتا تھا۔

     اشعری کہتا ہے:(3) یہ اعتقادات صرف ایک شخص ''جہم'' تک ہی منحصر نہیں ہیں  بلکہ  حقیقت میں کوئی انسان بھی کوئی عمل انجام نہیں دیتا مگر یہ کہ صرف خدائے وحدہ لاشریک ہی اس کا فاعل ہے اور لوگوں کے افعال کومجازی طور پر اسی کی طرف نسبت دی جاتی ہے۔جیسا کہ کہا جاتاہے:درخت نے حرکت کی،آسمان نے گردش کی، سورج غروب ہو گیا،اور درحقیقت یہ خداوند سبحان ہے جو درخت، آسمان اور سورج  کے ساتھ یہ عمل انجام دے رہاہے۔

--------------

[1]۔ الفصل فی الملل و الأھواء و انحل:ج4 ص204

[2]۔ الملل و النحل:ج1ص80، مقالات الاسلامیّین: ج1ص198

[3]۔ مقالات الاسلامیّین: ج1 ص312، الفرق بین الفرق:128 ، الملل و النحل: ج1ص80


خدا نے صرف انسان کو قوت دی ہے کہ جس کی وجہ سے فعل انجام پا سکے اور اس کے لئے فعل کو انجام دینے کا ارادہ و اختیار الگ سے خلق کیا ہے۔جیسا کہ خدا نے طول کو خلق کیاہے اور آدمی اسی کے مطابق لمبا ہوتا ہے، رنگ کو خلق کیا ہے اور انسان اسی کے مطابق رنگ کو قبول کرتا ہے اور رنگین ہوتا ہے۔

 وہ کہتا تھا:(1) ثواب وعذاب جبر ہے ۔جس طرح تمام افعال جبر کی وجہ سے ہیں اور جہاں بھی جبر ثابت ہو جائے وہاں تکلیف بھی جبر ہو گی۔(2)

اموی دور میں معتزلہ

 بغدادی کتاب''الفرق بین الفرق ''میں لکھتے ہیں: ایک دفعہ حسن بصری اور واصل بن عطای غزال کے درمیان تقدیر اور دومنزلوں کے درمیان منزلت یعنی ایمان و کفر کے درمیان واسطے کے بارے میں اختلاف ہو گیا اور عمرو بن عبید بھی اس بدعت میں اس کے ساتھ تھا۔

 حسن نے اسے اپنی مجلس سے نکال دیا اور وہ بھی مسجد بصرہ کے ایک ستوں کے ساتھ گوشہ نشین ہو کیا ،اور پھر انہیںاور ان کے پیروکاروں کو معتزلہ کا نام دے دیا کیونکہ انہوں نے دوسروں کے عقیدے سے عُزلت اختیار کر لی تھی (یعنی وہ دوسروں کے عقائد سے گوشہ نشین ہو چکے تھے) اور ان کا یہ دعویٰ تھا کہ مسلمانوں میں سے جو بھی فاسق ہو جائے ، وہ نہ تو مؤمن ہے اور نہ ہی کافر۔

 ''برون''معتزلہ کی پیدائش کے بارے میں کہتے ہیں:معتزلہ کی پیدائش اور ان کی وجہ تسمیہ کے بارے میں جوہم تک جو معلومات پہنچی ہیں وہ یہ ہیں کہ واصل بن عطا غزال (جو پارسی نژاد تھا) کا اپنے استاد کے ساتھ  گناہگار مؤمن کے بارے میں اختلاف ہو گیا کہ کیا پھر بھی وہ مؤمن ہے یا نہیں؟

--------------

[1]۔ الملل والنحل: ج1ص80

[2]۔ مرجئہ و جھمیّہ در خراسان اموی:79


واصل کہتا تھا: ایسے کسی شخص کومؤمن یا کافر نہیں کہا جا سکتا بلکہ اسے ایمان و کفر کی درمیانی منزل میں قرار دینا چاہئے۔

     واصل نے مسجد کے ایک گوشہ میں اپنا ٹھکانہ بنا لیا جہاں وہ کچھ لوگوں کے لئے اپنے عقیدے کی تشریح و وضاحت کرتا تھا اور حسن بصری اپنے اطرافیوں سے کہتا تھا:واصل نے ہم سے کنارہ کشی اختیار کی ہے اس وجہ سے واصل کے دشمنوں نے اسے اور اس کے پیروکاروں کو معتزلہ کا نام دیا۔

     ''دوزی''کے قول کے مطابق حاصل ہونے والی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہیہ گروہ عراق یا قدیم بابل میں وجود میں آیاکہ جہاں سامی اور ایرانی نژاد کا آمنا سامنا ہوا اور ایک دوسرے کے ساتھ ملحق گئے اور کچھ مدت کے بعد علوم کا قبلہ بن کیا اور اور کچھ عرصہ کے بعد ہی وہ عباسی حکومت کا مرکز شمار کیا جانے لگا۔

 ''فون کریمر''کے مطابق معتزلہ مذہب دمشق میں رومی مذہبی پیشواؤں کے نفوذ اور بالخصوص یحییٰ دمشقی اور اس کے شاگر''تئودور ابو قرّہ'' کی ذریعے وجود میں آیا۔اس گروہ کا دوسرا نام قدریہ ہے جو ان کے عقیدے پر واضح دلالت کرتا ہے کیونکہ یہ انسان کے ارادے کو آزاد سمجھتے ہیں اور نیز یہ اس حدیث سے بھی مربوط ہے جو انہوں نے قول پیغمبر(ص) سے اخذ کی ہے کہ قدریہ اس امت کے مجوس ہیں۔ کیونکہ یہ گروہ-جیسا کہ ''ستننر''کہتاہے کہ شرّ کے وجود کو جائز سمجھتے ہیں اور انہوں نے ایک دوسرا قاعدہ وضع کیا کہ جو انسان اور خدا کے ارادے کے درمیان ضدّیت پر مبنی تھا۔(1)

مرجئہ ، اموی دور میں

مرجعہ کی تبلیغ کرنا مسلمانوں کو اسلام سے دستبردا کرنے اور انہیں واپس پلٹانے اور انہیں یہودیت و عیسائیت کی طرف لے جانے کے لئے بہت مؤثر سازش تھی۔

لوگوں کی مکتب مرجئہ کی طرف دلچسپی سے اموی اپنی حکومت کو جاری رکھ سکے کیونکہ مرجئہ کے عقیدے کی رو سے بنی امیہ کسی بھی غلطی اور گناہ  کے مرتکب ہو سکتے تھے اور کوئی ان سے مقابلے کے لئے بھی کھڑا نہیں ہو سکتا تھا۔

--------------

[1]۔ تاریخ سیاسی اسلام: (ڈاکٹر حسن بن ابراہیم حسن): ج۱ص۴۱۳


دوسرا بہت ہی اہم نکتہ یہ ہے کہ عقیدۂ مرجئہ کے رواج پانے سے بنی امیہ نے اپنی حکومت کو جاری رکھنے کے علاوہ ابوسفیان اور معاویہ سے وراثت میں ملنے والے اسلام کے خلاف بغض و کینہ سے بھی استفادہ کیا اور اسلام کے نام پر مرجئہ گری کے لباس میں لوگوں کو اسلام سے دور کیا اور یہودیت و عیسائیت اور کفر کی کھینچا۔

 ڈاکٹر حسن ابراہیم حسن نے یہ حقائق اپنی کتاب میں لکھے ہیں۔وہ ''تاریخ سیاسی اسلام''میں لکھتے ہیں:

 اسلام کی پہلی صدی کے دوسرے حصہ میں فرقۂ مرجئہ  بنی امیہ کے دالحکومت دمشق میںکچھ مسیحی عوامل کے نفوذ سے وجود میں آیا۔

 مرجئہ کی وجہ تسمیہ:کلمہ مرجعہ ''ارجاء'' سے لیا گیا ہے جس کے معنی  ہیں تأخیر ۔اس گروہ کا نام مرجئہ اس وجہ سے پڑھ گیا کہ مسلمان گناہگاروں کے بارے میں ان کا کوئی حکم نہیں تھا اور وہ ان کے حکم کو روز حساب پر موقوف کرتے تھے اور کسی بھی مسلمان کو اس کے کئے گئے گناہ کی وجہ سے محکوم نہیں کرتے تھے۔لیکن''فاب فلوتن''کے بقول مرجئہ کا نام اس آیت سے اخذ کیا گیا ہے:

     (وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِأَمْرِ اللّهِ ِمَّا یُعَذِّبُهُمْ وَِمَّا یَتُوبُ عَلَییْهِمْ وَاللّهُ عَلِیْم حَکِیْم) (1)

اور کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں حکم خدا کی امید پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ یا خدا ان پر عذاب کرے گا یا ان کی توبہ کو قبول کرلے گا وہ بڑا جاننے والا اور صاحبِ حکمت ہے ۔

اس بناء پر کلمہ مرجعہ ''ارجاء'' سے مشتق ہوا ہے جس کے معنی امید پیدا ہونا ہیں۔(2) کیونکہ مرجئہ کہتے تھے کہ ایمان کے ہوتے ہوئے گناہ کوئی نقصان نہیں پہنچاتاجس طرح کفر کے ہوتے ہوئے اطاعت کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

--------------

[1]۔ سورۂ توبہ، آیت:106

[2] ۔ مرجئہ  کا معنی امیدپیدا کرنا نہیں ہے بلکہ ان کے اس عقیدہ ''گناہگاروں کے بارے میں حکم کرنے میں تأخیر''کی وجہ سے ہے۔


مرجئہ کا اصلی و بنیادی عقیدہ یہ تھا کہ جو بھی اسلام قبول کرتا ہے خدا کی وحدنیت اور پیغمبر(ص) کی نبوت کی گواہی د یتا ہے،وہ جس گناہ کا بھی مرتکب ہو اسے کافر قرار نہیں دینا چاہئے بلکہ اس کا انجام خدا پر چھوڑ دیں۔ ''جہم بن صوفان''مرجئہ کے ان پیشواؤں میں سے ایک ہے جو اس بارے میں افراط کرتا تھا اور اس کا خیال تھا کہ ایمان ،قلبی عقیدہ ہے اور جو بھی اس کا معتقد ہو وہ مؤمن ہے؛اگرچہ وہ بغیر کسی   تقیہ کے اپنی زبان سے کفر کا اعلان کرے بت پرستی کرے ،اسلامی شہروں میںیہودی و عیسائی دین کا پرچار کرے،صلیب کی عبادت کرے  اورتثلیث کی باتیں کرے اور اسی حالت میںمر جائے توایسا شخص خدا کے نزدیک مؤمن  اور خدا کا  دوست ہے اور اہل جنت میں سے ہے! ''  جہم''معتقد تھا کہ صحیح اسلام و ایمان ایک ہی ہے۔یہ طبیعی ہے کہ اس عقیدہ کے پیروکار اسلام کے عملی واجبات کی تحقیر کرتے تھے اور دوسرے لوگوں کے بارے میں ان کی ذمہ داریوں کو قرآن کے مقرر کردہ واجبات سے برتر سمجھتے تھے۔ حقیقت میں یہ گروہ بنی امیہ کی حکومت سے راضی  اور شیعوں اور خوارج کے مخالف تھے۔اس کے باوجود اپنے عقائد میں اہلسنت کے ساتھ ایک حد تک موافق تھے ۔لیکن جیسا کہ ''فون کریمر''کا کہنا ہے کہ ان کے عقائدمیں اس حد تک نرمی تھی کیونکہ وہ کہتے تھے مؤمن ہمیشہ جہنم میں نہیں رہے گا۔کلی طور پر مرجئہ عمل سے زیادہ عقیدے کو اہمیت دیتے تھے۔ مرجئہ  کے عقائد اموی درباریوں اور ان کے طرفداروں کے عقائد سے موافق تھے ،اس طرح کہ کوئی شیعہ اور خوارج ان کے ساتھ زندگی نہیں گزار سکتا تھا۔عیسائی اور دوسرے غیرمسلم لوگوں کی ان کے نزدیک اہمیت تھی اوراسے اہم منصب سونپنے لگے۔یہ عیسائی اپنے مقاصد و منافع کے پابند ، زمانے کے تقاضوں سے ہماہنگ اور ہوا کے رخ پر چلنے والے تھے۔(1)

 بنی امیہ کے زمانے میں قدریہ، جبریہ اور مرجئہ

 کتاب 'تاریخ تحلیلی اسلام''میں لکھتے ہیں: اموی حکومت کے دور میںصدی کے دوسرے نصف حصے میںدین کے اعتقادی مسائل سے متعلق فکری تحریکیں وجود میںآئیں جن کا مرکز غالباً عراق تھا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ عراق کے کچھ شہر وں (جن میں سے ایک کوفہ ہے) میں مختلف فلسفی اور دینی عقائد و افکار تھے۔ان میں جو پہلی بحث ہوئی وہ یہ تھی کہ کیا لوگ اپنے اعمال میں مختار ہیں یا مجبور؟ان دو طرح کے افکار کے طرفداروں کو قدریہ و جبریہ کا نام دیا گیا۔

--------------

[1]۔ تاریخ سیاسی اسلام: (ڈاکٹر حسن بن ابراہیم حسن): ج ۱ص۴۰۹


  جنگ صفین کے بعد مسلمانوں میں اس کے آغاز کے آثار ملتے ہیں کہ کسی نے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے پوچھا:کیا ہم اپنے ارادہ و اختیار سے اس جنگ میں گئے یا ہم مجبور تھے؟

  اس کے بعد ہر گروہ نے اپنے عقائد کی تائید اور دوسرے کے عقائد کی مخالفت میں احادیث سے استناد کیا۔

  امویوں کے دور حکومت میں ایک دوسرے مکتب کی تأسیس ہوئی جسے ''مرجئہ'' کا نام دیا گیا۔ امویوں نے اس گروہ سے اپنے مظالم کی توجیہات کے لئے استفادہ کیا ۔ جیسا کہ ہم نے کہا کہ خوارج کا ایک گروہ گناہان کبیرہ کے مرتکب افراد کو ہمیشہ کے لئے جہنمی سمجھتا تھا اور ان کے مقابلے میں ''مرجئہ'' کہتے تھے:ان کا فیصلہ خدا پر چھوڑ دینا چاہئے۔ ان کا عذر یہ تھا کہ اگر اس بارے میں سختی کی جائے تو مسلمان تفرقہ کا شکار ہو جائیں گے۔ ایسے طرز تفکر سے  انہوں  نے معاویہ اور دوسرے اموی خلفاء کی تائید کی کہ جو کوفہ و بصرہ اور دوسرے شہروں میں مختلف نیک و پارسا افراد کو قتل کر رہے تھے۔ مرجئہ نے اپنی فکر کی بنیاد اس آیت کو قرار دیا:(وَآخَرُونَ مُرْجَوْنَ لِأَمْرِ اللّهِ ِمَّا یُعَذِّبُهُمْ وَِمَّا یَتُوبُ عَلَیْهِمْ وَاللّهُ عَلِیْم حَکِیْم) (1)

جبریہ، قدریہ اور مرجئہ کے تفکرات کی جنگ سے''معتزلہ'' کے نام سے ایک معتدل فکری مکتب وجود میں آیا۔کہتے ہیں: اس طرز تفکر کے وجود میں آنے کی وجہ یہ تھی کہ حسن بصری گناہان کبیرہ انجام دینے والے شخص کو کافر سمجھتا تھا ۔ لیکن اس کے شاگردوں میں سے ''واصل بن عطا''کا اس سے مختلف نظریہ تھا اور وہ کہتا تھا: ایسا شخص کفر و ایمان کی درمیانی منزل پر ہو گا۔

     کہتے ہیں:جب واصل بن عطا اپنے استاد سے الگ ہو گیا تو حسن نے کہا:''اعتزلَ منّا''اس نے ہم سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے۔     اس کی وجہ تسمیہ کے بارے میں کچھ دوسرے نظریات بھی ہیں۔(2)

--------------

[1] ۔ سورۂ توبہ، آیت :106''اور کچھ ایسے بھی ہیں جنہیں حکم خدا کی امید پر چھوڑ دیا گیا ہے کہ یا خدا ان پر عذاب کرے گا یا ان کی توبہ کو قبول کرلے گا وہ بڑا جاننے والا اور صاحبِ حکمت ہے ''۔

[2] ۔ تاریخ تحلیلی اسلام:228


  مرجئہ اور قدریہ کے بارے میں رسول اکرم(ص) کی پیشنگوئی

     پیغمبر اکرم(ص)  جومستقبل اور مستقبل کے لوگوں سے باخبر تھے انہوں  نے خیانت کاروں (جو آنحضرت کے بعد لوگوں میں تفرقہ پیدا کرتے)کی مکارانہ سازشوںکو روکنے کے لئے لوگوں کوان پر نازل ہونے والی بلاؤں سے آگاہ کر دیااور اپنے ہدایت کرنے والے ارشادات سے لوگوں آئندہ کے شوم ،خطرناک، مختلف مکاتب فکر اور گمراہ کرنے والے فرقوں سے باخبر کیا تا کہ لوگ ان فرقوں سے دھوکا کھا کر نہ صرف قرآن و عترت سے جدا نہ ہوں بلکہ ظالم حکومت کے طغیان کو لگام ڈال سکیں اور ان پر قابو پا سکیں۔لیکن افسوس کہ لوگوں نے پیغمبر اکرم(ص) کی رہنمائی کو ان دیکھا کر دیا اور ہر ایک گروہ الگ سمت میں بھاگنے لگا اور بنی امیہ کے حاکم اپنے من پسند طریقے سے حکومت کرنے لگے۔

اب ہم یہاں رسول خدا(ص) کی راہنمائی کے کچھ نمونے بیان کرتے ہیں:

     جس طرح رسول خدا(ص) نے لوگوں کو امویوں سے خبردار کیا تھا اور ولید کو ظالموں کے پلڑے میں قرار دیا اور اسے انہی کا ساتھی شمار کیاتھا، اس سے پہلے کہ لوگ قدریہ اور مرجئہ کے بارے میں کوئی چیز  جانتے آپ نے ان کی مذمت کی اور آئندہ صدیوں اور بالخصوص پہلی صدی کے لئے حجت تمام کر دی اور فرمایا:میری امت میں سے دو گروہوں کا اسلام سے کوئی واسطہ نہیں ہے:مرجئہ اور قدریہ۔(1) نیزفرمایا:'قدر(یعنی قدری گری)سے ڈرو کہ جو عیسائیت کی ایک شاخ ہے۔(2)

 اسی طرح فرمایا:خدا نے ستر پیغمبروں کی زبان سے میری امت کے دو گروہوں پر لعنت کی ہے: قدریہ اور مرجئہ کہ جو کہتے ہیں کہ ایمان صرف اقرار ہے اور اس میں عمل کا کوئی دخل نہیں ہے۔(3)

--------------

[1]۔ کنزالعمّال:ج1ص188، بخاری کی اپنی تاریخ میں، نسائی، ابن ماجہ، خطیب اور طبرانی کی روایت ۔

[2]۔ کنزالعمّال: ج1ص119، ابن عاصم،طبرانی اور ابن عدی کی روایت۔

[3]۔ کنزالعمّال:ج4ص135، دیلمی کی حزیفہ اور حاکم کی ابوامامہ کی روایت۔


 اسی طرح ایمان و اسلام کے  بارے میں فرمایا:ایمان دل اور زبان سے جب کہ ہجرت جان اور مال سے ہے۔(1)

  نیز فرمایا:ایمان خواہش اور وہ خود خواہی نہیں ہے بلکہ یہ ایسی چیز ہے جودل میں قرار پاتی ہے اور عمل اس کی تصدیق کرتا ہے۔(2)

 6۔اسی طرح فرمایا:ایمان اور عمل دو ایسے شریک بھائی ہیں کہ جو ایک رسی سے بندھے ہوئے ہیں اور خدا ان میں سے کسی ایک کو بھی دوسرے کے بغیر قبول نہیں کرتا۔(3)

  نیز فرمایا:تم میں سے کوئی بھی ایمان نہیں لایا مگر یہ کہ میں اس کے نزدیک اس کی اولاد،اس کے والدین اورتمام لوگوں سے زیادہ عزیز ہوں۔(4)

 نیز آپ نے فرمایا:ایمان کے بغیر کوئی عمل اور عمل کے بغیر کوئی ایمان قبول نہیں ہو گا۔(5)

 اسی طرح فرمایا:ایمان سے بندہ استوار نہیں ہوگا مگر یہ کہ اس کا دل استوار ہو اور اس کا دل استوار نہیں ہو گا مگر یہ کہ اس کی زبان استوارہو اور وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا مگر یہ کہ اس کا پڑوسی اس کے نقصان سے محفوظ رہے۔(7)،(6)

--------------

[1]۔ کنزالعمّال: ج1ص24، عبدالخالق بن زاہر کی اپنی اربعین میں روایت۔

[2]۔ کنزالعمّال:25، ابن نجّار کی روایت۔

[3]۔ کنزالعمّال:36، ابن شاہین کی روایت۔

[4]۔ کنزالعمّال:37، احمد، بیہقی، نسائی اور ابن ماجہ کی روایت۔

[5]۔ کنزالعمّال:68 ، طبرانی کی روایت۔

[6]۔ مجمع الزوائد:ج 1ص53، احمد کی روایت۔

[7]۔ ازژرفای فتنہ ھا: ج 2ص484


  معاشرے میں مرجئہ کا کردار

 گمراہ کرنے والے اشعار،شراب نوشی اورجنسی برائیاںکچھ ایسے امور تھے جوفکر کو گمراہ کرنے والے مرجئہ جیسے فرقے کے رواج پانے کے نتیجے میں لوگوں میں پھیلے۔

نوجوان بلند اہداف و مقاصد کی جستجو کرنے کی بجائے عشق و عاشقی کی طرف مائل ہو گئے اور دین و دینداری سے دور ہو گئے۔زندقہ اور بے دینی رواج پا گئی اور لوگ خدا اور رسول(ص)  کو بھول گئے۔

مرجئہ کے پیشواؤں کا اس میں بنیادی کردار ہے اور انہوں نے دین کے نام پر لوگوں کو بے دینی کی طرف دعوت دی اور ان سے حیا و غیرت سلب کر لی اور اس کی جگہ بے شرمی تھما دی۔

مرجئہ کے عقیدے کی وجہ سے لوگ شرم کا احسان نہیں کرتے تھے اور ولید بھی عقیدۂ جبر کی برکت سے شرم محسوس نہیں کرتا تھا۔بہت سے جوان موسیقی، بیہودہ اشعاراور عیاشی میں لگ گئے اور انہوں نے اپنا سارا مال اسی عیش و عشرت کی زندگی میں تباہ کر دیاتھا۔

 ڈاکٹر خلیف لکھتے ہیں:اوباش لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گئے تھے، موسیقی کی محفلیں منعقد ہوتی تھیں کہ جس میں بہت سی اداکارائیںشرکت کرتی تھیں،جس میں متعدد عیاش اور بے شرم گروہ برہنہ رقص کرتے تھے ور جس میں اموی و عباسی بھی  شرکت کرتے تھے تا کہ دوسروں کو ذلت محسوس ہو۔

ایسی ذلت جس نے ان کی طرف ہاتھ پھیلائے اور نئے آنے والوں اور اس کی طلب کرنے والوںکو آغوش میں لے لیا اور انہیں تاریک کھائی میں پھینک دیااور پروانوں کی طرح آگ کی طرف بڑھنے والے جوانوں کو نگل لیا ۔ جس قدر اس کھائی کا اندھیرا زیادہ ہوتاگیا اتنا ہی اس میں گرنے والوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا۔ اس طرح ان کی مستی اور لہو و لعب کو ایک دوسرے سے پیوست کرنے اور ان کی عیاشی کو ان سے جوڑنے والے شاعروں نے گمراہی کا انتظام کیا؛جو سب کے سب فاسق،عیاش اور شراب سے مست تھے۔اس لہو لعب اور عیاش مکتب نے عورتوں اور مردوں کی صفوں میں عاشقانہ اشعار پڑھنے کی راہ بھی ہموار کی۔


اس مکتب میں رومانوی افسانے پڑھنا ،عشق و عاشقی کے نغمہ گانا عام تھا۔ اس مکتب کے نتیجے میں اسلامی معاشرے میں کنیزوں اور گانے والی عورتوں میں اضافہ ہوا اور اس مکتب کے کندھوں پر ہی زندقیت پھیلی جس نے اپنی بنیادوں کو مضبوط بنایا اور دیر کے اشعار رائج ہو گئے۔(1) ولید بن عقبہ (اپنے عیسائی دوست ابوزبید نصرانی کے ساتھ)وہ پہلا شخص تھا کہ جس نے عثمان بن عفان کے زمانے میں اس کام کے لئے زمین ہموار کی اور ان کے لئے وسائل فراہم کئے۔دیر کے اشعار اور گانے والی کنیزوں کے ساتھ اموی حکومت نے اپنے آخری دن گزارے اور پھر یہ سماجی آفت عباسی حکومت کے سپرد کر دی۔اس حکومت میں بھی غلاموں کی تعداد بڑھی۔ مختلف اقوام، ثقافت، تمدن اور مختلف مذاہب سے کنیزیں اور غلام بچے فراہم ہوئے اور یہ نکتہ حاکموں اور ان کے بیٹوں پر اثرانداز ہوایہاں تک کے ان کے محلوں کی اکثر کنیزیں ایسی تھیں جنہوں نے گلے میں صلیب  آویزاں کی ہوتی تھی۔(3)(2)

 بہشتی کافر!

 کچھ مصنفین نے وضاحت کی ہے کہ خدا اور اس کے رسول پر ایمان اسلام کی شرط ہے۔اگرچہ انسان ظاہری طور پر کفرگوئی کرییا یہودیت و عیسائیت کا اظہار کرے۔ کچھ نے (جیسے ''ابن حزم'')مرجئہ کے عقیدے کے بارے میں مزید یہ کہا ہے:اگر کوئی اپنے دل میں خدا اور اس کے رسول کا معتقد ہو اگرچہ ظاہراً یہودی یا عیسائی ہو تو وہ نہ صرف حقیقت میں مسلمان ہے بلکہ خدا کے اولیاء اور اہل بہشت میں سے ہے! اس عقیدے کی بنا پر تمام اموی حاکم بھی خدا کے اولیاء اور جنتی ہیں!کیونکہ وہ کچھ لوگوں کو اجرت دیتے تھے کہ فرقۂ مرجئہ کی تبلیغ کریں تا کہ لوگ ان کا شمار اولیاء خدا میں سے کریں،چاہے وہ سب سے شرمناک  کے مرتکب ہی کیوں نہ ہوئے ہوں۔

--------------

[1]۔ حیاة الشعر فی الکوفة: 633 اور 634

[2]۔ العصر العباسی الأوّل:21

[3]۔ ازژرفای فتنہ ھا:ج 2 ص 494


کتاب''شیعہ در مقابل معتزلہ و اشاعرہ ''میں لکھتے ہیں: اس میں شک نہیں ہے کہ مرجئہ اموی دور حکومت کے وسطی زمانے میں وجود میں آئے اور انہوں نے اسلامی محافل میں ان افکار کو پھیلانے کے لئے اپنی سرگرمیاں شروع کیں اور اموی حکمرانوں نے بھی ان افکار کو پھیلانے میں ان کی مددکی۔چونکہ مرجئہ انہیں مومن لکھتے تھے اور انہیں ہر چیز سے زیادہ اسی صفت کی ضرورت تھی خصوصاً ان حالات میں کہ جب خوارج امویوں اور تمام صحابیوں کے کافر ہونے پرزور دیتے تھے اور معتزلہ یہ نظریہ پیش کرتے تھے کہ اسلام عقیدے،تمام واجبات اور احکام پر عمل کرنے پر مبنی ہے اور جو بھی ان پر عمل نہ کرے تو وہ جہنم کا حقدار ہو گا اگرچہ وہ اسلام کے تمام اصول و ارکان کا معتقد ہی کیوں نہ ہو۔ اس بنا پر خوارج کے مطابق اموی کافر تھے یا معتزلہ جس چیز کا دعویٰ کر رہے تھے اس کی رو سے ان کا ٹھکانا جہنم تھالیکن مرجئہ کی نظر میں یہ مؤمن تھے اورکثرت سے گناہ و منکرات انجام دینے کے باوجود وہ  دائرہ ایمان سے خارج نہیں ہوئے بلکہ بعض مرجئہ اس چیز کے قائل تھے کہ ایمان کے متحقق  ہونے کے لئے صرف خدا اور پیغمبر (ص) پر ایمان لانے کی شرط ہے۔اگرچہ انسان زبان سے کفر کا اظہار کرے اور بتوں کی پوجا کر ے اور اسلامی شہروں میں یہودیت اور عیسائیت کا پرچار کرے اور اس سے بڑھ کر ان کایہ کہنا تھا کہ اگر وہ اس حال میں مر جائے تو وہ اولیاء خدا اور اہل بہشت میں سے ہے!(1)   یہ طبیعی امر ہے کہ ہم  ایسے حکمرانوں کامشاہدہ کریں جنہوں نے اس تفکر کو ہوا دی اور اس کی حمایت کیونکہ وہ اسلامی فرقوں میں سے کسی فرقے کو قبول نہیں کرتے تھے کہ جو انہیں ایسی صفات عطا کرے کہ یہ قدّیسیوں کی صف میں آجائیں۔جو ان کی حکومت اورمسلمانوں پر ان کے تسلّط کو جائز اور ان کے گناہوں کی انجام دہی میں زیادہ روی اور اسلامی تعلیمات و مقدسات کی بے احترامی کو صحیح قرار دے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ اس زمانے میں کہ جب عقائد کے سلسلے میں فکری کشمکش کی آگ بھڑک رہی تھی ، گناہگاروں اور گناہان کبیرہ کو انجام دینے کے بارے میں خوارج اور معتزلہ کے آراء عام ہو چکے تھے تو یہی حکمران اس تفّکر کے فاتح تھے۔اور جب اس زمانے میں ان کے کفر اور ان کے جہنم کی آگ میں دائمی طور پر رہنے کے بارے میں فتویٰ دیا گیا تو ان کے لئے بہت آسان تھا کہ وہ اپنے اعمال کی مشروعیت کے لئے دانشور اور اصحاب و مبلغین حاصل کریں اور خریدیں۔(2)

--------------

[1]۔ فجر الاسلام:633 اورابن حزم سے منقول: ج4 ص204

[2]۔ شیعہ دربرابر معتزلہ و اشاعرہ:149


  مرجئہ کی کلیسا اور عیسائیت سے ہماہنگی

 مرجئہ کے افکار کو پروان چڑھانے اور انہیں پھیلانے والوں میں سے یوحنا دمشقی کا نام لے سکتے ہیں جسے امویوں کے دارالحکومت میں بڑی شہرت حاصل تھی۔جس زمانے میں لوگ ارجاء کی باتیں کرتے تھے وہ اس سے مربوط دینی ابحاث میں مصروف رہتا تھا۔(1) بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ مرجئہ کے اصول اور مشرقی کلیسا کی تعلیمات(یوحنا ان کی طرف منسوب ہے)میں ہماہنگی موجود تھی۔(2) یہ تو تھا  مرجئہ کے پس پردہ ہاتھوں کا واقعہ۔اس واقعہ کی شرائط اور اس کے لئے راہ ہموار کرنے کے بارے میں ڈاکٹر خلیف کہتے ہیں:

امام حسین علیہ السلام کی شہادت سے عمر بن عبدالعزیزکی خلافت تک کے دور میں مرجئہ گری کے رجحان میں شدت آ گئی۔اس میں  یزید،مروان،عبدالملک ،ولید اور سلیمان بن عبدالملک کا دور شامل ہے۔اسی دور میں اس رجحان میں شدت آنا طبیعی تھا کیونکہ یہ اضطراب اور روحانی بے سکونی کا زمانہ تھا جس میں چھوٹے سے شبہ اور تہمت کی وجہ سے لوگوں سے پوچھ تاچھ کی جاتی اور انہیں سزا دی  جاتی تھی۔(3)

مشہور ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد کوفہ میں حالات کافی سنگین ہو گئے تھے ،  طاقتور قیام سامنے آئے اور اموی حکومت کو یہ پتہ چل گیا تھا کہ بغاوت کرنے والوں کا سخت خشونت اور سنگدلی سے مقابلہ نہ کرے تو یہ شہر اس کے ہاتھوں سے نکل جاے گا۔لہذا انہوں نے عبداللہ بن زیاد اور حجاج بن یوسف ثقفی جیسے اپنے ظالم ترین اور سرکش ترین افراد کو اسن پر مسلّط کر دیا جس کی وجہ سے کوفہ ہولناک ڈکٹیٹرشپ کے زیر سایہ آ گیا۔(5)،(4)

--------------

[1]۔ حیاة الشعر فی الکوفة:312

[2]۔ حیاة الشعر فی الکوفة:312

[3]۔ حیاة الشعر فی الکوفة:313

[4]۔ حیاة الشعر فی الکوفة:314

[5]۔ از ژرفای فتنہ ھا:ج2ص479


     یہ واضح ہے کہ اموی حکمرانوں میں سے یزید سب سے زیادہ خیانت کار تھا اور جو ظلم و ستم اس نے  کئے وہ بنی امیہ میں سے کسی اور نے نہیں کئے۔حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت ،کعبہ کو آگ لگانا اور واقعہ حرّہ کے بعد بہت سے مسلمانوں پر یہ واضح ہو گیا کہ بنی امیہ نہ صرف رسول اکرم(ص) کے جانشین نہیں ہیں بلکہ دین اور آل رسول علیہم السلام کے دشمن ہیں۔

لوگوں میں ہونے والی باتوں اور سراٹھانے والی تحریکوں نے بنی امیہ کی حکومت کو خبردار کردیا اور انہیں خوف میں مبتلا کر دیا تھا اس لئے انہوں نے کچھ ایسے منصوبے بنائے تھے تا کہ لوگوں کوقابو میں کیا جا سکے۔کوفہ اس طرح کی تبدیلیوں اور تحریکوں کا مرکز تھا۔کوفہ میں ان تبدیلیوں کو کچلنے کے لئے ابن زیاد اور حجاج جیسے ظالموں کو کوفہ کا گورنر بنا دیاگیا۔اسی طرح لوگوں کے اعتراضات کو خاموش کرنے کے لئے مرجئہ گری کو ترویج دی گئی تا کہ مختلف مناطق میں اس کی تبلیغ کرکے لوگوں کو مرجئہ عقائد کا معتقد بنایا جائے۔

مرجئہ کے فرقے

     جس طرح امویوں کی مدد سے فرقۂ مرجئہ کے پیروکاروں کی تعداد میں اضافہ ہوا اسی طرح خود ساختہ اختلافات کی وجہ سے یہ چند فرقوں میں تقسیم ہوئے۔ان فرقوں میں سے ہر فرقہ عقیدے کے لحاظ سے دوسرے فرقہ سے مختلف تھا اور ان میں سے امویوں  اور ان جیسے دوسرے حکمرانوں کے لئے سب سے مناسب اور سازگار فرقہ ''کرّامیہ ''تھا۔

 فرقۂ کرامیّہ مسلمان ہونے کے لئے نہ دین کے احکام پر عمل کرناضروری سمجھتا تھا اور نہ ہی قلبی اعتقاد کو ضروری سمجھتا تھا!اس بناء پرمسلمان شخص بھی یہود و نصاریٰ کے اعمال انجام دے سکتا تھا چاہے باطنی طور پر مسلمان ہو یا نہ ہو۔مسلمان ہونے کے لئے صرف اتنا ہی کافی تھا کہ زبان سے اسلام کے احکامات اور دستورات کا اقرار کرے پھر چاہے دل میں ان کی مخالفت کرے اور چاہے عمل کے اعتبار سے اپنی زبان کے اقرار کے بر خلاف ہی عمل کرے۔یہ ظاہر سی بات  ہے کہ اس طرح کے مسلمان اموی حکمرانوں کے لئے بہت سازگار تھے۔


مرجئہ کے دوسرے فرقے بھی تھے ۔ممکن ہے کہ ان میں تفرقہ بازی اور فرقہ بندی کسی ایک فرقے میں طاقت کے تمرکز کی روک تھام کے لئے ہو اور یہ ظاہر سی بات ہے کہ اگر طاقت و قدرت کسی ایک گروہ ہی میں جمع ہو جائے اور وہ دوسرے کئی گروہوںمیں تقسیم نہ ہو تو ممکن ہے کہ حاکم قدرت کے لئے سرددرد کا باعث بنے۔پس ہر گروہ میں تفرقہ حکّام کے فائدے میں ہے۔

     ابولحسن اشعری نے مرجعہ کے بارہ فرقے ذکر کئے ہیں اور وہ سب اس پر متفق ہیں کہ ایمان ، عقیدے و یقین کا نام ہے اور عمل حقیقتِ ایمان سے خارج ہے۔اس بارے میں صرف فرقۂ کرامیّہ (محمد بن کرام کے پیروکار)نے ان کی مخالفت کی ہے اگرچہ ان کا عقیدہ ہے کہ ایمان صرف زبان سے اقرار کرنے کا نام ہے اور باطنی و قلبی تصدیق ضروری نہیں ہے۔

اسبنیادپر کہتے ہیں کہ پیغمبر (ص) کے زمانے میں زندگی بسر کرنے والے منافقین حقیقت میں مؤمن تھے اگرچہوہ  دلسے ایمان نہیں لائے تھے !اسی طرح وہ زبان سے انکار کرنے کو کفر قرار دیتے ہیں(!)(1)

 لیکن اسفراینی کی کتاب''التبصیر''میں ارجاء کے پیروکاراس تفصیل سے پانچ فرقوں میں تقسیم ہوئے ہیں:

 1۔ یونسیہ فرقہ:یہ یونس بن عون کے پیروکار ہیں۔یہ معتقد ہیں کہ ایمان کا تعلق دل اور زبان سے ہوتا ہے اور ان کی حقیقت خدا کی معرفت و محبت  اور اس کے پیغمبروں اور کتابوں کی تصدیق کرنا ہے۔

2۔ غسّانیہ:جو غسّان مرجئی کے پیروکار ہیں اور جن کا اعتقاد ہے کہ ایمان صرف خدا کے وجود اور اس کی محبت کا اقرار کرنا ہے لیکن اس میں اضافہ اور کمی ہو سکتی ہے۔

3۔ ثنویّہ: ابو معاذ کے پیروکارا ور ان کا عقیدہ تھاکہ ایمان ایسی چیز ہے جو تمہیں کفر سے محفوظ رکھے۔

4۔ ثوبانیّہ:یہ ابو ثوبان مرجئی کے پیروکار تھے۔انہوں نے عقلی واجبات کو وجود خدا اور اس کے پیغمبروں سے بڑھا دیا اور جس چیز کو بھی عقل صحیح قرار دے اسے ایمان کے ارکان  شمار کرتے ہیں۔

-------------

[1] ۔ التعلیقة علی التبصیر فی الدین،اسفراینی:91،التعلیقة علی مقالات الاسلامیّین:203


 5۔ مریسیّہ:یہ بشیر مریسی کے پیروکار ہیں ۔ہم نے جوکچھ ذکر کیا اس کے علاوہ یہ تخلیق قرآن کا معتقد تھا۔

 جو کچھ ذکر کیا گیا اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ مرجئہ اس پر متفق تھے کہ عمل،ایمان کے ارکان میں سے نہیں ہے۔اس طرح سے ان کی یہ کوشش تھی کہ خوارج کے سامنے ایمان کے معنی کو محدود و مشخص کریں کیونکہ خوارج گناہان کبیرہ انجام دینے والوں کو تو دور کی بات بلکہ یہ اپنے تمام مخالفین کوبھی کافر شمار کرتے تھے اور ان سب کو ایک طرف قرار دیتے تھے اور دوسرے مسلمانوں کو دوسری جانب۔

 اسی طرح یہ معتزلہ سے مقابلے کے لئے بھی تھا کیونکہ وہ عمل کو ایمان کے ارکان میں سے شمار کرتے تھے اور یہ سمجھتے تھے گناہگار ہمیشہ کے لئے جہنم کی آگ میں رہیں گے۔خوارج (جنہوں نے ایمان کو اپنی جاگیر بنایا ہوا تھا اور معتزلہ کے مقابلے میں زبانی تصدیق کے علاوہ ارکان پر عمل کرنے کے بھی قائل تھے) کے مقابلے میں مرجئہ کے نظریات پیدا ہوئے۔ اس زمانے میں پھیلنے والے ان نظریات کی طرح ان میں بھی ارتقاء پیدا ہوا۔جیسے دوسرے نظریات کہ جو پہلے ایک تفکر کی صورت میں ظاہر ہوئے اورپھران میں جتنی بحث ہوتی اور جتنا وقت گذرتا ان میں اتنی ہی زیادہ وسعت آجاتی۔ خاص طور پر جیسا کہ ہم نے ذکر کیا کہ مرجئہ کے آراء و نظریات بنیادی طور پرحکمرانوں کی مصلحت کے لئے کام کر کرے تھے اور اپنے منافع کو مدنظر رکھتے ہوئے وہ اس کی تبلیغ و ترویج کے لے مدد کرتے تھے۔اس رو سے ان میں سے کچھ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ انسان جب تک دل اور زبان سے خدا اور اس کے پیغمبروں پر ایمان رکھتا ہو اسے جہنم کی آگ میں عذاب نہیں دیا جائے گا چاہے وہ گناہ اور منکرات کو ہی انجام کیوں نہ دے!!۔(2)

ابو حنیفہ اور مرجئہ

جس طرح مؤرخین اورمصنّفین فرق و مذاہب کی کتابوں میں ابوحنیفہ کو مرجئہ میں سے شمار کرتے ہیں کیونکہ اس کا یہ عقیدہ تھا کہ ایمان زبان سے اقرار اور قلبی تصدیق کا نام ہے اور ایمان انہی دو سےتشکیل پاتا ہے اور اسلام و ایمان ایک دوسرے کا لازمہ ہیں۔

--------------

[2] ۔ شیعہ دربرابر معتزلہ و اشاعرہ:151


 جہم بن صفوان اور اس میں ہونے والے مناظرے (جسے حلی نے کتاب''مناقب ابی حنیفہ!'' میں ذکر کیا ہے) میں ابو حنیفہ نے کہا ہے:اگر کوئی مرجائے جب کہ وہ خدا اور اس کی صفات کو پہچانتاہو اور خدا کو وحدہ لا شریک مانتا ہولیکن زبان سے ان کا اقرار نہ کرے تو وہ کافر مرا اور وہ اہل دوزخ میں سے ہے۔مؤمن اس وقت مؤمن ہے کہ جس کی اسے معرفت ہے اس کا زبان سے اقرار کرے اور اس پر ایمان بھی رکھے۔

 اس سے نقل ہوا ہے کہ اس نے ایمان کو تین قسموں میں تقسیم کیا ہے:

 1۔ دل سے تصدیق اور زبان سے اقرار کرے،اس لحاظ سے وہ  خدااور لوگوں کے سامنے مؤمن شمار ہوگا۔

 2۔ دل سے تصدیق کرے لیکن تقیہ یا خوف کی وجہ سے زبان سے اقرار نہ کرے تو وہ خدا کے نزدیک تو مؤمن ہے لیکن لوگوں کی نظر میں مؤمن شمار نہیں ہو گا۔

 3۔ زبان سے اقرار کرے لیکن دل سے اس کی تصدیق نہ کرے ۔اس صورت میں وہ لوگوں کی نظر میں تو مؤمن ہے لیکن خدا کے نزدیک کافر ہے۔

 یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے کامل ایمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ زبان سے اقرار کرے لیکن احکامات پر عمل کرنا صدق ایمان کی شرط نہیں ہے!اسی بنیاد پر ابو حنیفہ معتقد تھا کہ ایمان کم یا زیادہ نہیں ہوتا اور ان دونو ں مورد میں ایمان کی توصیف بے مورد ہے۔لیکن اس میں جو فرق ہے وہ احکامات کو انجام دینے اور محرمات کو ترک کرنے میں  ہے اور یہ اس وجہ سے ہے تاکہ لوگوں میں فرق  پیدا کیا جا سکے اور برتری قرار دی جا سکے ۔ لیکن ایمان کے لحاظ سے کسی کو دوسرے پر برتری حاصل نہیں ہے!۔(1)

--------------

[1]۔ شیعہ دربرابر معتزلہ و اشاعرہ: 307


  مرجئہ اور شیعہ

 ''مقالات تاریخی'' کے دسویں شمارے میں لکھتے ہیں: ابوحنیفہ اور مؤمن الطاق میں ہونے والی بحثوں میں سے ایک'' شیعہ و مرجئہ کی اصطلاح ایک دوسرے کے مدمقابل''ہے۔ابوحنیفہ نے مؤمن الطاق سے کہا:میں نے سنا ہے کہ تم شیعوں کا یہ عقیدہ ہے کہ جب تم میں سے کوئی مرجائے تو تم اس کا بایاں ہاتھ توڑ دیتے ہو تا کہ قیامت کے دن اس کی کتاب اس کے دائیں ہاتھ میں تھمائی جائے۔ مؤمن الطاق نے کہا:یہ جھوٹ ہے۔لیکن میں نے بھی سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی مر جائے تو تم پانی کا ایک برتن اس کے مقعد میں رکھ دیتے ہوتا کہ اسے قیامت کے دن پیاس کا احساس نہ ہو!

 ابو حنیفہ نے کہا:وہ بات تمہارے لئے جھوٹ کہی گئی تھی اور یہ جھوٹی بات ہمارے لئے بیان کی گئی ہے۔(1)

 ''محاسبة مع ابی حنیفة و المرجئة''کے نام سے مؤمن الطاق کی ایک کتاب ذکر ہوئی ہے۔(2) جیسا کہ''مناظرة الشیعی والمرجی فی المسح علی الخفین و.....''کے نام سے ابویحییٰ جرجانی کی بھی ایک کتاب تھی۔(3) ان دونوں کتابوں میں شیعی اصطلاح کو مرجئہ کے مدمقابل سنّی کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے۔

 قابل ذکر ہے کہ ابوحنیفہ کی زید بن علی کی حمایت اور پھرحضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے بارے میں  ابوحنیفہ کا رویہ کسی حد تک دوستانہ ہے۔ اس کے علاوہ نقل ہوا ہے کہ ابوحنیفہ نے دشمنوں کے مقابلے میں حضرت علی علیہ السلام کے مقام کی تائید کی تھی اور انہیں باطل قرار دیا تھا۔اس نے تاکید کی تھی کہ اگر علی علیہ السلام نے جنگ نہ کی ہوتی تو ہمیں یہ پتہ نہ چلتا کہ باغیوں کے ساتھ کیسا سلوک کریں۔(4) اس آخری بات کی نسبت شافعی سے بھی دیتے ہیں۔

--------------

[1]۔رجال کشی:190

[2]۔ رجال النجاشی:326

[3]۔ رجال النجاشی:254

[4]۔ عقود الجمان:307


 اس کے علاوہ حضرت علی علیہ السلام کے مخالفوں کے بارے میں مرجئہ سے کام لینے کے بارے میںاسکافی کے کلمات میں بھی کچھ شاہد موجود ہیں ، وہ لکھتے ہیں: ''و منزلة المرجئة فی النصب و التقصیر فی علیّ،منزلة الیہود فی التقصیر و شتم عیسی بن مریم ''(1) یہ بالکل ویسا ہی استمال تھا جو شیعہ روایات میں موجود تھا۔وہ کہتے ہیں:ناصبی گری اور حضرت علی علیہ السلام کے حق میں کوتاہی کے سلسلے میں مرجئہ کا وہی مقام تھا جو حضرت عیسی بن مریم علیہ السلام کو دشنام دینے اور ان کے حق میں کوتاہی کے سلسلہ میں یہودیوں کا مقام تھا۔اسی طرح اسکافی ناصبہ،نابتہ اور مرجئہ کی اصطلاحات کو بھی ایک ردیف میں  قرار دیتے  ہیں۔(2)

احتمال ہے کہ ناصبہ کے لئے مرجئہ کی اصطلاح سے استفادہ کرنے کے لئے اہم ترین شاہد ایک شعر ہے جسے جاحظ اور مسعودی نے نقل کیا ہے۔مسعودی کی روایت ہے کہ مأمون نے ابراہیم بن مہدی کی مذمت کرنا چاہی کہ جو بغداد میں اس کے خلاف کھڑا تھااور تسنن کا علم بلند کئے ہوا تھا۔ علی بن محمد مختار بیہقی نے اس کے لئے یہ شعر کہا:

اذ المرجّ سرّک أن تراه          یموت لحینه من قبل موته

فجدّد نده ذکریٰ علی             وصلّ علی النبیّ و آل بیته

 اگر مرجئی کی موت سے پہلے اس کی موت دیکھنا چاہتے ہو ،تو ان کے سامنے حضرت علی علیہ السلام کا ذکر کرو اور پیغمبر (ص) اور ان کی اہلبیت علیہم السلام پر درو بھیجو۔(3)

 جاحط نے ''العثمانیّة''میں بھی ایک طرح سے شیعہ و مرجئہ کو ایک دوسرے کے مدمقابل قرار دیا ہے۔(5)،(4)

--------------

[1]۔ المعیار والموازنة:

[2]۔ ا لمعیار والموازنة:71

[3] ۔ مروج الذہب:4173، البیان والتبیین: ج2ص149، تلخیص مجمع الآداب ابن فوطی، حرف کاف، حالات زندگی ش 38 الفرق الاسلامیة ف شر الأموی:269 ، الکنی والألقاب:3201، حیاة السیاسیة للامام الرضا علیہ السلام:232

[4]۔ العثمانیّة:72

[5]۔ مقالات تاریخی(دسواں شمارہ):85


 اگر اسکافی کی یہ بات ( مرجئہ حضرت علی علیہ السلام کے ایسے ہی دشمن تھے جیسے یہودی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دشمن تھے) صحیح ہو تو پھریا یہ کہیں کہ ابو حنیفہ مرجئہ میں سے نہیں تھا اور یا پھر یہ کہیں کہ حضرت علی علیہ السلام کی حمایت اور آپ کے مخالفین کی ردّ میں  اس سے نقل ہونے والی باتیں صحیح نہیں ہیں۔کیونکہ مرجئہ اگر ناصبیوں کی حد تک ہی حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے دشمن ہوں تو اس کا بالکل احتمال نہیں ہے کہ اگر ابوحنیفہ مرجئی تھا تو وہ آنحضرت کی حمایت و طرفداری کرے۔ بہ ہر حال مرجئہ کی حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام اور آپ  کے شیعوں سے دشمنی ثابت ہے۔ اسی وجہ سے بنی امیہ مرجئہ کی طرفداری کرتے تھے تاکہ لوگوں کے دلوں میں اہلبیت اطہار علیہم السلام کی مخالفت کا بیج بویا جاسکے جس کے نتیجہ میں وہ خاندان وحی علیہم السلام سے دور ہوجائیں۔بعض روایات میں مرجئہ کی اہلبیت علیہم السلام سے دشمنی کی تصریح ہوئی ہے۔

مرجئہ اور شیعہ روایات

 شیعوں کے ائمہ علیہم السلام کی بہت سی روایات میں مرجئہ کی اصطلاح کو اہلسنت کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے اور اکثریہ حضرت علی علیہ السلام اور اہلبیت اطہار علیہم السلام کے مخالف معنی میں استمال ہوئے ہیں۔

 حضرت امام باقر علیہ السلام سے روایت نقل ہوئی ہے کہ آپ نے فرمایا:

 أللّٰهمّ العن المرجئة؛فانّهم أعداؤنا فی الدنیا و الآخرة ۔(1)

 خداوندا مرجئہ پر لعنت فرما کہ یہ دنیا و آخرت میں ہمارے دشمن ہیں۔

 دوسری روایت میں حضرت امام صادق علیہ السلام نے قدریّہ و خوارج پر ایک بار اور مرجئہ پر دو بار لعنت کی ہے۔راوی نے اس کا سبب پوچھا تو آنحضرت نے فرمایا: ان کے عقیدے کی بنیاد پر ہمارے قاتل مؤمن ہیں ۔اس بناء پر قیامت تک ان کا لباس ہمارے خون سے رنگین رہے گا۔(2)

--------------

[1]۔ الکافی: ج8 ص276، بحارالأنوار: ج46 ص291

[2]۔ الکافی:ج2ص409


 ایک اور روایت میں اسحاق بن حامد کاتب کہتا ہے:قم میں کپڑے بیچنے والا ایک شخص تھا جس کا مذہب شیعہ تھاا اور اس کا ایک شریک مرجئہ تھا۔ان کے پاس بہت ہی قیمت کپرا آیا۔شیعہ شخص نے کہا:میں یہ کپڑا اپنے مولا کے لئے لے کر جاؤں گا۔ مرجئی نے کہا:میں تمہارے مولا کو نہیں جانتا لیکن تم کپڑے کے ساتھ جو کرنا چاہتے ہو کرو۔جب اس نے وہ لباس امام زمانہ علیہ السلام تک پہنچایا تو آپ نے اسے دو حصوں میں تقسیم کیا اور آدھا کپڑا واپس کر دیا اور فرمایا:مجھے مرجئی کے مال کی ضرورت نہیں ہے۔(1)

 پیغمبر اکرم(ص) نے جو یہ روایت ارشاد فرمائی :''میری امت کے دو گروہوں کا اسلام سے کوئی تعلق  نہیں ہے، ایک مرجئہ اور دوسرا قدریّہ''یہ روایت حضرت امام علی بن موسی الرضا علیہما السلام سے بھی منسوب ہے اور ذکر ہوا ہے کہ آنحضرت نے یہ حدیث حضرت ختمی المرتبت(ص) سے روایت کی ہے۔(2) اسی طرح حضرت امام باقر علیہ السلام سے روایت  کی گئی ہے کہ آپ نے فرمایا: یہودیوں کی مرجئہ سے شباہت اور قدریّہ کی نصاری سے شباہت ایسی ہی ہے جیسے رات کو رات اور دن کو دن سے شباہت ہے۔(3) ایک دوسری روایت میں آیا ہے کہ ابوبصیر نے کہا:امام صادق علیہ السلام نے مجھ سے بصرہ کے لوگوں کے بارے میں پوچھا: میں نے عرض کیا:وہ مرجئی،قدری اور حروری ہیں۔ آنحضرت نے فرمایا:

 لعن اللّٰه تلک الملل الکافرة المشرکة التی لا تعبد اللّٰه علی شئ ۔(4)

 اسی طرح امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: میں پانچ گروہوں سے بیزاری اختیار کرتا ہوں:مرجئہ،خوارج،قدریّہ،شامی(بنی امیہ)اور ناصبی۔(5)

--------------

[1]۔ بحارالأنوار:ج51ص340، ازکمال الدین

[2]۔ جامع الأخبار:188

[3]۔ جامع الأخبار:189،بحارالأنوار:ج5ص120

[4]۔ الکافی:ج2ص409-410

[5]۔ مستدرک الوسائل:ج12ص317،بحارالأنوار:ج18ص393


 یہ اس چیز کی حکایت کر رہی ہیں کہ اکثر موارد میں جب ائمہ اطہار علیہم السلام سے مرجئہ کے بارے میں کوئی حدیث نقل ہوئی تو ان کے ناصبی ہونے کی خصلت پر اصرارکیا گیا ہے۔اگرچہ ممکن ہے   کہ کبھی مرجئہ کی نظر میں ایمان کی تعریف کی طرف بھی اشارہ ہوا ہو۔ حضرت امام صادق علیہ السلام سے ایک  اور روایت میں ذکر ہواہے کہ آپ نے فرمایا:

 اپنے بچوں کو ابتداء ہی سے حدیث کی تعلیم دو اس سے پہلے کہ اس بارے میں مرجئہ تم پر سبقت لے جائیں ۔(1)

 ضیاء الدین سہروردی نے ایک دوسرا واقعہ یوں نقل کیاہے : حکایت کرتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے جعفر منصور کے سامنے کسی مرجئی شخص کے ساتھ مناظرہ کیا ۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے بحث میں کہاکہ ایک مرجئی کو پیغمبر اکرم(ص) کے پاس لایا گیا تا کہ آنحضرت(ص) کے حکم پر اس کو قتل کر دیں!اس شخص نے جواب دیا:پیغمبر(ص) کے زمانے میں یہ مذہب نہیں تھا!امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:جو چیز پیغمبر(ص) کے زمانے میں نہیں تھی ،تم وہ کہاں سے لے آئے؟!(2)

 سعد بن عبداللہ اشعری نے تیسری صدی کے آخر میں مرجئہ کو تاریخی لحاظ سے بالکل شیعوں کے برابر قرار دیا ہے اور یہ مرجئہ کے بارے میں شیعوں میں رائج اصطلاح کی پیروی  کانتیجہ تھا۔ وہ لکھتا ہے:جب حضرت علی علیہ السلام قتل ہو گئے تو آپ کے بہت تھوڑے سے شیعوں اور پیغمبر اکرم(ص) کی رحلت کے بعد آپ کی امامت پر یقین رکھنے والے افرادکے علاوہ آپ کے اصحاب اورجو فرقے طلحہ،زبیر اور عائشہ کے کے ساتھ تھے۔وہ سب ایک ہو گئے اور انہوں نے معاویہ کا ساتھ دیا۔  معاویہ کے ہمراہ جانے والے افراد، حشویہ ،ملوک کے پیروکار اور ان کے یار و مدد گار شامل تھے کہ زبردستی مسلّط ہوتے تھے۔انہوں نے معاویہ کو قبول کیا اور ان سب کو مرجئہ کا نام دیا گیا۔(4)(3)

--------------

[1] ۔ ج6ص47:بادروأولادکم بالحدیث قبل أن یسبقکم الیهم المرجئه'' ، التہذیب شیخ طوسی: ج8 ص111، وسائل الشیعة:ج 21ص478 اور4427۔

[2]۔ آداب المریدین:191-192

[3]۔ المقالات و الفرق:5

[4]۔ مقالات تاریخی (دسواں شمارہ):87


امویوں کے انحرافی عقائد میں یہودیوں اور عیسائیوں کا کردار

 اموی دور حکومت میں لوگوں کے دماغ میں فتنہ کی آندھیاں چلنے لگیں۔ایسی حکومت جس نے صاحبان علم سے جنگ کی اور جس نے بعثت پیغمبر(ص) کے زمانے کے مشرکوں کے عقائد کو نئے اور دلکش لباس میں پیش کیا۔علماء کا اتفاق ہے کہ اموی حکومت میں قدری گری زیادہ پھیلی اور امویوں  نے اسے اپنی آغوش میں پروان چڑھایااور اس کی حمایت کی تا کہ یہ پلے بڑے اور اس کی جڑیں مضبوط ہوں۔(1) انہوں نے خدا کی راہوں کو مسدود رکرنے اور قضا و قدر جیسے افکار پیش کئے اور انہیں ترویج دی۔ ان کا مقصدیہ تھا کہ دنیا کو حیرت و سرگردانی اور فکری بے راہ روی میں مبتلا کریں۔اس کام کا نتیجہ شریعتوں کو مقدس نہ سمجھنا،اس کے قوانین کی پابندی نہ کرنا اورحرام اعمال کو انجام دینا تھا کہ جن سے آسمانی ادیان نے منع کیا ہے۔یہ تمام کج روی قضاء الٰہی کے بہانے سے انجام دی جا رہی تھی ۔ امویوں نے اس فکر کی پرورش کی اور پھیلایا تا کہ رسول اکرم(ص) کی زبان سے ان کے بارے میں جو کچھ صادر ہوا ہے ، اسے چھپا سکیں اور یہ بیان کر سکیں کہ حاکمیت اور ان کا اقتدار خدا کی مشیت و ارادے کا نتیجہ ہے۔ مسلمان ان کی اطاعت کرنے پر مجبور ہیں اور کسی بھی طرح کی سرکشی اور ان کے خلاف کوئی تحریک ،قضاء الٰہی کے خلاف سرکشی شمار کی جائے گی۔  جس نے سب سے پہلے  جبرکو نئے انداز میں  پیش کیا ،اس کے بارے شیخ محمد ابوزہرہ لکھتے ہیں:''ہمیں مکمل اطمینان ہے کہجبری گری اموی دور کے آغاز میں پھیلی اور اس دور کے اختتام تک یہ ایک مکتب میں تبدیل ہو گئی۔کہتے ہیں کہ اس تفکّر کو سب سے پہلے رواج دینے والے کچھ یہودی تھے، جنہوں نے یہ افکار مسلمانوں کو سکھائے اورپھر ان کی نشر و اشاعت کی۔کہا جا سکتا ہے کہ سب سے پہلے   جس مسلمان نے اس فکری تحریک کی طرف دعوت دی ،وہ جعد بن درہم تھا جس نے یہ افکار شام کے ایک یہودی سے سیکھے اورپھر اس نے بصرہ میں لوگوں میں اس کی ترویج شروع کر دی۔ پھر جہم بن صفوان نے یہ افکار جعد سے سیکھے''۔(2)

--------------

[1]۔ تاریخ المذاہب الاسلامیّہ:104-111 ، تاریخ الفرق الاسلامیّہ:66

[2]۔ تاریخ المذاہب الاسلامیّہ:104-111 ، تاریخ الفرق الاسلامیّہ:66


جہم صرف جبر کے عقیدے کی ہی ترویج نہیں کر رہا تھا بلکہ جنت و دوزخ اور خدا سے ملاقات وغیرہ  جیسے اپنے نظریات کی طرف بھی لوگوں کو دعوت دیتا تھا ۔(1) اس طرح اہل کتاب سے جبر کے افکار سیکھنے کے بعد(جوامویوں کی سیاست سے ساز گار تھے)  اموی درخت کی شاخیں،اہل کتاب کے درخت کی شاخوں سے مل گئیں۔ ظاہر ہے کہ شام اموی خلافت کا دارالحکوت  اور مختلف مذہب و نظریات کا پیروکار تھا۔امویوں نے مذاہب کے سربراہوں سے مسالحانہ روایہ رکھا ہوا تھا  اور انہوں نے قیصر کے ساتھ معاہدہ کیا تھا تا کہ اپنی طاقت کی حفاظت کے  لئے وقت پڑھنے پر مسلمانوں کو قتل اور ان کی سرکوبی کریں۔اس معاہدہ کے دوران احبار اپنی عمارت کو اونچاکرنے کے لئے اسلامی معاشرے میں رخنہ ڈال رہے تھے اور اموی بھی انہیں اپنے قریب کر رہے تھے۔تاریخی لحاظ سے یہ مطلب بھی قطعی ہے کہ سرجون مسیحی( جو معاویہ اور اس کے بعد یزید اور پھر مروان بن حکم(2) کا مشیر اور اموی حکومت کا راز دار تھا )جبریوں میں سب سے آگے تھا۔(3) اس بناء  پر سب فرقوں کے علماء کے مطابق اموی حکومت نے جبری گری کو ترویج دینے اور اسے تقویت دینے کی سیاست اپنائی اور اسے اپنی سیاست کی بنیاد قرار دیا کیونکہ اس کی چادر میں امویوں کے کالے کرتوت پوشیدہ تھے  اور ان کے منبر سے ان کے فقیہ ہر بندگلی سے بھی اپنے لئے راستہ نکال   لیتے تھے۔ اگر ان سے پوچھا جاتا کہ حضرت علی علیہ السلام سے جنگ کیوں  کی؟ کیوں انہیں دشنام دیتے ہو؟کیوں حجر بن عدی کو قتل کیا؟ یااکثر کو معاویہ سے ملحق کیوں کیا اور استلحاق کی جاہلی سنت کو پھر سے کیوں زندہ کیا؟ یا امام حسین علیہ السلام کو کیوں قتل کیا؟ یاحرہ  کے واقعہ میں کیوں مدینہ پر حملہ کیا اور اسے مال غنیمت کی طرح لوٹا اور مکہ پر کیوںسنگ باری کی گئی؟کیوں خدا کے مال کو اپنا بازیچہ اور خدا کے بندوں کو اپنا بندہ بنایا؟ کیوں خدا کے دین کو باطل کیا اور نماز کو ضائع کیا؟ ان سب سوالوں اور دوسرے سوالوں کے جواب میں ان کا ایک ہی جواب ہوتا کہ یہ سب خدا کی  قضاو قدر کے مطابق تھا اور اس پر امت کا اجماع ہے اور اگر کوئی اس کی مخالفت کرتا ہے تو پھر وہ جانے اور تلوار جانے!

--------------

[1]۔ تاریخ المذاہب الاسلامیّہ:106

[2]۔ التنبیہ والاشراف:ج1ص285

[3]۔ تاریخ الفرق الاسلامیّہ:69


عقیدتی اختلافات مسلمانوں کو نابود کرنے کا اہم ذریعہ

 اموی حکومت نے سرکاری طور پر اپنے متقدمین کی سنت اور ان کے نقش قدم پر چلی۔ اہل کتاب نے بھی ان سے ایک قدم آگے بڑھایا جو ان کے باہمی تخریبی مقاصد میں سے تھا۔وہ جبری گری کے خلاف واقعات کی طرف تیزی سے بڑے اور انہوں نے امت کو جدید فکری خوراک فراہم کرنے کی کوشش کی۔ ان کا اصل مقصد یہ تھا کہ مسلمانوں کو مکمل طور پر دو متضاد موضوعات سے مربوط رکھا جائے جس سے وہ حیرت و سرگردانی میں دچار رہیں اور انہیں حقیقت (جو ان کے لئے ایک فطری نظام ہے) کی طرف قطعاً نہ آنے دیاجائے۔ قدری افکار کا اصل تفکر یہ تھا کہ انسان کے تمام اعمال و افعال اس کے ارادہ کا نتیجہ ہیں جو مکمل  طور پر خداکے ارادے سے مستقل ہے۔(1) یہ عقائد مکمل طور پر جبری گری سے متعارض تھے حالانکہ جبریوں کا یہ خیال تھا کہ انسان پتھر یا کنکر کی طرح حوادث کی تند و تیز آندھیوں کا اسیر ہے اور اسے خود کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔جس کے نتیجہ میں وہ لوگوں کو حاکموں کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کی دعوت دیتے تھے۔ان کا یہ دعویٰ تھا کہ تقدیر الٰہی ابتداء ہی سے ان کے لئے مقدر کر دی گئی ہے تا کہ وہ طاغوت کے محکوم ہی رہیں۔ بقول شاعر:''قلم قضا جس پر چلنا تھا چل گیا ۔پس تمہاری طرف سے حرکت و سکون یکساں ہیں اور رزق و روزی کے حصول کے لئے تمہاری کوششیں ایک جنون ہے حالانکہ جنین کو رحم میں بھی روزی فراہم کی جاتی ہے۔(2) ٹھیک اسی زمانے میں کہ جب جبریوں نے ایسے افکار کی ترویج کی تو قدریوں نے بھی ان کے خط مقابل میں حرکت کی اور ان ہدف یہ تھا کہ لوگوں کو ان مسائل میں الجھا دیں۔ جھگڑوں کی آگ شعلہ ور کردیں اور ہر حال میں اس کا فائدہ اہل کتاب کو ہی پہنچ رہا تھا۔ جس نے سب سے پہلے قدرکا تذکرہ کیا اور اس تفکر کابیج بویا ،اس کے بارے میں شیخ ابوزہرہ کہتے ہیں:جس نے سب سے پہلے قدر کے بارے میں بات کی ،وہ عراق کا ایک شخص تھا جو پہلے عیسائی تھااور پھر مسلمان ہو گیا اور اس کے بعد دوبارہ عیسائی ہو گیا

--------------

[1]۔ تاریخ المذاہب الاسلامیّہ:111،  تاریخ الفرق الاسلامیّہ:79

[2]۔ تاریخ الفرق الاسلامیّہ:81


معبد جہنی اور غیلان دمشقی نے بھی یہ افکار اسی سے ہی سیکھے تھے۔(1)

 ان افکار سے جو کچھ امویوں کے سیاسی منصوبوں ،ان کی خلافت اور خدا کے اسماء و صفات کے بارے میں سازگار تھا،وہ انہوں نے اخذکیا اور پھر ان افکار کے پیروکاروں کو کچلنے میں لگ گئے ۔ ان واقعات میں کچھ لوگ قتل ہوئے اور کچھ لوگ بھاگ گئے ؛لیکن پھر بھی یہ مکتب ختم نہیں ہوا ۔ اس کے بعد بصرہ میں بہت سے فرقے باقی بچے اور پھیلے لیکن کچھ کے مطابق یہ فرقے ثنوی تفکرات اور دو قدرت(نور و ظلمت) کے عقائد میں تبدیل ہو گئے۔(2)(3)

 گذشتہ واقعات سے واضح ہو جاتاہے کہ صرف عقیدتی و فکری اختلافات لوگوں میں تفرقہ پیدا کرنے ،انہیں ایک دوسرے سے جدا کرنے اور اموی حکومت کی بقاء کا باعث ہی نہیں بنے بلکہ انہیں اختلافات اور لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے بہت سے لوگ قتل بھی ہوئے۔

 ظاہر ہے کہ ایک دوسرے کے ہاتھوں مسلمانوں کا قتل ہونا اور ان کے درمیان جنگ وجدال کی آگ بھڑکانا یہودیوں کا درینہ ہدف اور عیسائیوں کی بھیہمیشہ سے یہی خواہش تھی۔

 اگر رسول خدا(ص) کے زمانے میں دین کے دشمن مسلمانوں سے جنگ کرتے تھے تو پہلے ان کی اپنی فوج کے سپاہی بھی مرتے تھے اور بعد میں وہ مسلمانوں کو قتل کرتے تھے لیکن بنی امیہ کے زمانے میں لشکر کشی اور ان کے سپاہیوں کے قتل ہوئے بغیر ہی انہوں نے مسلمانوں کو ایک دوسرے کی جان کا دشمن بنا دیا اور خود ایک طرف بیٹھ کر مسلمانوں کے قتل و غارت کا تماشا دیکھتے رہے۔

 یہود و نصاریٰ کچھ ایسے منصوبے بناتے تھے جن کی وجہ سے مسلمان تفرقہ کے شکار ہو کر ایک دوسرے ہی کو قتل کریں اور یہودو نصاریٰ کے اس گھنونے منصوبے کو اموی عملی جامہ پہنا رہے تھے۔

--------------

[1]۔ تاریخ المذاہب الاسلامیّہ:112 ، تاریخ الفرق الاسلامیّہ:40

[2]۔ تاریخ المذاہب الاسلامیّہ:117

[3]۔ از ژرفای فتنہ ھا: ج۲ص۴۷۲


 اموی دور میں عقلی علوم کی ترویج اور.....

جیسا کہ ہم نے کہا کہ جہمیہ وغیرہ کے افکار کی ترویج،بنی امیہ کی حکومت کو جاری رکھنے،اسلام کے عقیدے سے لوٹنے اور کفر میں دلچسپی پیدا کرنے میں یہودیت و عیسائیت کا بہت اہم کردار تھا۔

 بنی امیہ نے اپنی حکومت کو مضبوط کرنے اور اپنے منصوبوں اور افکار کو نافذ کرنے پر ہی اکتفاء نہیں کیا بلکہ گمراہ کن افکار کو ترویج دینے کے علاوہ لوگوں کو ان مسائل کی طرف کھینچنے کے لئے عقلی علوم کو عربی زبان میں منتقل کیا۔

 سب سے پہلے خالد بن یزید نے یہ کام انجام دیا جس نے''مریانوس'' نام کے ایک عیسائی کی مدد سے عقلی علوم کو عربی ممالک میں داخل کیا ۔ اگرچہ بنی امیہ کے زمانے میں یہ کام کچھ زیادہ  رواج نہیں پایا تھا لیکن بنی العباس اور بالخصوص مأمون نے اس کی بہت ترویج کی ۔

 ''تاریخ سیاسی اسلام''میں لکھتے ہیں:عقلی علوم اموی دورمیں رائج تھے ۔ فقط کچھ لوگ کیمیا میں مصروف تھے اور بعید نہیں کہ انہوں نے یہ یونانیوں سے سیکھا ہو جنہیں دوہزار سال پہلے اس کا علم تھا۔

 یہ نہیں کہہ سکتے کہ عربوں نے مشرق پر اسکندر کے حملے کے بعد یونانیوں سے طب سیکھی کیونکہ اموی زمانے تک عربوں کو طبی علوم کی کوئی خبر نہیں تھی اور خالد بن یزید بن معاویہ وہ پہلا شخص تھا جس نے طب، نجوم اور کیمیا عرب ممالک میں منتقل کیا۔

کیمیا کی صنعت مدرسۂ اسکندریہ میں رائج تھی اس لئے خالد نے ''مریانوس ''مسیحی کو اپنے پاس بلایا اور اس سے تقاضا کیا کہ وہ اسے طب اور کیمیا کی تعلیم دے۔جب اس نے یہ تعلیم حاصل کر لی تو اس نے حکم دیا کہ اس سے مربوط یونانی اور قبطی کتابوں کا عربی میں ترجمہ کیا جائے۔یہ دوسروں کے علوم کوعربی میں منتقل کرنے کے لئے عربوں کا پہلا اقدام تھا۔

خالد کو علم نجوم میں بھی دلچسپی تھی اور وہ یہ علم حاصل کرنے اور اس کے وسائل کی فراہمی کے لئے حد سے زیادہ دلچسپی لیتا تھا ۔ شاید نجوم کی کتابوں میں اس کے لئے کوئی ترجمہ کیا گیا ہو لیکن ہم تک اس  کی کوئی خبر نہیں پہنچی۔


 جاحظ نے کتاب ''البیان والتبیین'' میں کہا ہے:خالد بن یزید بن معاویہ فصیح و بلیغ خطیب، شاعر اور ادیبوں کی آراء کو پسند کرتا تھا ۔ وہ پہلا شخص تھا جس نے نجوم، طب اور کیمیا کو عربی میں ترجمہ کیالیکن عرب عباسی زمانے کے آغاز اور خاص طور پر مأمون کے زمانے میں تجربی علوم جیسے طب، کیمیا، ہیئت اور تاریخ وغیرہ میں مشغول ہوئے۔

 اس زمانے میں فارسی، یونانی اور ہندی سے بہت سی کتابوں کا عربی میں ترجمہ ہوا اور وہ عربوں درمیان رائج ہوئیں۔(1)

خارجی کتابوں کا ترجمہ

     بنی امیہ کے دربار میں یہودیوں اور عیسائیوں کا اثر و رسوخ برقرار تھا یہاں تک کہ ان کی اور یونانی فلاسفہ کی کتابیں عربی میں ترجمہ ہوئیں ۔ اسی طرح کیمیا کے بارے میں کتابیں بھی عربی زبان میں منتقل ہو کر لوگوں تک پہنچیں ۔ اگرچہ بعض لوگ  مأمون کودوسرے مذاہب کی کتابوں کا عربی زبان میں ترجمہ ہونے کا عامل سمجھتے ہیں اور کچھ منصور کو اس کام کے لئے واسطہ قرار دیتے ہیں۔

 لیکن ظاہراً خارجی  کتابوں کو عربی میں ترجمہ کرنے میں ان دونوں کا ہاتھ تھا لیکن اس کام کا آغاز انہوں نے نہیں کیا تھا بلکہ ان سے پہلے خالد بن یزید نے یہ کام شروع کیا تھا۔ کتاب''نظام اداری مسلمانان درصدر اسلام میں لکھتے ہیں: جاحط نے ''البیان و التبیین''(2) میں کہا ہے:خالد بن یزید بن معاویہ ایک فصیح و بلیغ خطیب اور شاعر تھا۔یہ وہ پہلا شخص تھا جس نے ستارہ شناسی،طب اور کیمیا کی کتابوں کا ترجمہ کیا۔(یعنی اس کے لئے ترجمہ کیا گیا)۔ ابن ابی الحدید''شرح نہج البلاغہ''(3) میں  لکھتے ہیں:خالد بن یزید بن معاویہ وہ پہلا شخص تھا جس نے مترجمین اور فلاسفہ کو وظائف دئے اور وہ اہل حکمت،فن کے ماہرین اور مترجمین کو اپنے قریب لایا۔خالد      85ھ میں فوت ہوا جب کہ ابھی تک کچھ صحابی زندہ تھے۔

--------------

[1]۔ تاریخ سیاسی اسلام (ڈاکٹر حسن ابراہیم حسن): ج1ص490

[2]۔ البیان والتبیین: ج1ص126

[3]۔ شرح نہج البلاغہ: ج3ص476


صلاح الدین صفدی سے نقل ہوا ہے کہ ترجمہ کا آغاز کرنے والا مأمون نہیں تھا بلکہ اس سے بہت پہلے اس کام کا آغاز ہو چکا تھا۔ یحییٰ بن خالد نے ''کلیلہ و دمنہ''کو فارسی سے عربی میں ترجمہ کیا اور اس کے لئےیونانی کتابوں''مجسطی''کا ترجمہ کیا گیا۔

 نیز مشہور ہے کہ کیمیا میں بہت زیادہ دلچسپی رکھنے کی وجہ سے خالد بن یزید بن معاویہ  وہ پہلا شخص تھا جس نے یونانی کتابوں کا عربی میں ترجمہ کیا۔

کہتے ہیں:خالد کے لئے طب اور ستارہ شناسی کی کتابیں ترجمہ کی گئیں ۔البتہ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ سب سے پہلے جس کے لئے طب اور ستارہ شناسی کی کتابوں کا ترجمہ کیا گیا وہ منصور عباسی تھا اور خالد صرف کیمیا کا دلدادہ تھا۔ اس باب میں جس کے کچھ رسالے بھی ہیں اور اس نے یہ فن''مریانس رومی''نام کے ایک عیسائی سے سیکھا تھا۔

 ''کشف الظنون''(1) میں ذکر ہوا ہے:خالد بن یزید بن معاویہ ( جوحکیم آل مروان اورحکیم آل امیہ کے نام سے مشہور تھا) نے کیمیا میں خاطر خواہ کام کیا۔پھر اس نے فلاسفہ کے ایک گروہ کو بلایا اور اسے حکم دیا کہ کیمیا کو یونانی زبان سے عربی میں منتقل کریں اور یہ عالم اسلام کا پہلا ترجمہ تھا۔

 سیوطی کی کتاب''الأوائل''میں  ذکر ہوا ہے:سب سے پہلے جس کے لئے طب اور ستارہ شناسی کا عربی میں ترجمہ کیا گیا وہ خالد بن یزید ہے اور کچھ کے مطابق وہ منصور ہے۔

 ابن الندیم کہتا ہے:خالد بن یزید کے زمانے میں کیمیا اسکندریہ میں رائج تھا پھرخالد نے ایک گروہ کو بلایا کہ جس میں ''اسطفار''رومی راہب بھی شامل تھا۔(2)

 قفطی کی کتاب''اخبار الحکماء''میں ذکر ہواہے کہ ابن السندی نے قاہرہ کے کتابخانہ میں  تانبے کا ایک  سکّہ دیکھا جس پر امیر خالد بن یزید کا نام لکھا ہوا تھا۔

--------------

[1]۔ کشف الظنون: ج1ص477

[2]۔ الفہرست:242 اور 244


 اس طرح ابن خلدون کا وہ نظریہ ردّ ہو جاتا ہے کہ جس میں اس نے خالد کو بدویّت سے نزدیک اور علوم و صناعات اور بالخصوص کیمیا(جس کے لئے طبایع سے آشنائی ضروری ہے)سے دور قرار دیا تھا۔

 ابن الندیم (جو ابن خلدون کی بنسبت خالد کے زمانے سے نزدیک ہے)کاکہنا ہے کہ خالد کے زمانے میں کیمیا رائج تھا۔

 کتاب''تاریخ آداب اللغة العربیة''(1) میں ذکر ہواہے کہ مروان کے زمانے میں 'ماسرجویہ'' کے نام سے ایک طبیب (جس کا تعلق سریانی یہودی مذہب سے تھااور جو بصرہ میں رہتا تھا)نے ایک پادری امرون بن اعین کی لکھی ہوئی کتاب''کُناش''کا سریانی سے عربی میں ترجمہ کیا۔جب عمر بن عبدالعزیز خلیفہ بنا تو اسے وہ کتاب خزانے میں ملی۔کچھ لوگوں نے اس کی تشویق کی کہ اسے باہر نکالا جائے تا کہ مسلمان اس سے استفادہ کریں ۔عمر بن عبدالعزیز نے وہ کتاب باہر لانے اور اسے لوگوں کے اختیار میں دینے کے لئے چالیس دن تک استخارہ کیا۔

کتاب''شفاء الغلیل''میں  ذکرہوا ہے کہ ''کُناش''(غُراب کے وزن پر)ایک سریانی لفظ ہے جس کے معنی تذکرہ کا مجموعہ ہے۔حکماء کی کتابوں میں یہ کلمہ بہت زیادہ نظر آتا ہے ۔(2)

 یہ ظاہر سی بات ہے کہ کہ مریانس رومی اور اسطفار رومی (جن کے خالد بن یزید سے تعلقات تھے)جیسے عیسائیوں کے افکار ان کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والوں کے افکار پر اثرانداز ہوتے ہوں گے ۔ بالخصوص خالد بن یزید پر کہ جو یزید کا بیٹا اور میسون مسیحی کا نواسہ تھا۔ اگرچہ خالد بن یزیدغاصبانہ خلافت پر تخت نشین نہیں ہوا تھا  لیکن اس کے بعد مروان اور کچھ دوسرے اور ان کے بعد بنی العباس جیسے منصور و مأمون (جو خلافت کے دعویدار تھے) نے اسی راہ کو جاری رکھا ۔اس کام سے حقیقت کی جستجو کرنے والوں کے ذہنوں میں اہم سوال جنم لیتا ہے۔

--------------

[1]۔ تاریخ آداب اللغة العربیة: ج1ص233

[2]۔ نظام اداری مسلمانان در صدر اسلام:333


 وہ سوال یہ ہے:اگر خلافت کے دعویدار اور خود کو رسول خدا(ص) کا جانشین اور خدا کا خلیفہ سمجھنے والے ان جیسے افراد کا دعویٰ جھوٹا تھا تو مسلمان ان کا احترام کیوں کریں ؟انہیں خدا کا خلیفہ کیوں سمجھیں ؟ اور اگر یہ خدا کے خلیفہ تھے تو انہیں دوسروں پر کوئی امتیاز اور فوقیت کیوں نہیں تھی؟یہاں تک کہ حصول علم کے لئے بھی انہوں نے یہودیوں اور عیسائیوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے؟

  مکتبی ابحاث، حکومت کی بقاء کا ذریعہ

زمانۂ قدیم سے سیاستدان اپنی حکومت کی بقاء کے لئے لوگوں میں اختلاف اور تفرقہ پیدا کرتے چلے آئے ہیں اور اپنے منصوبوں کے ذریعے لوگوں کو ایک دوسرے کی جان کے دشمن بناتے آئے ہیں تا کہ وہ سیاسی مسائل سے دور رہیں اور ان کی غفلت کی وجہ سے سیاستدان لوگوں پر حکومت کر سکیں۔

جیسا کہ ہم نے دوسرے مورد بھی کہا ہے کہ قرآن کریم کی آیات کی بناء پریہ ایک ایسا منصوبہ تھا جس پر فرعون نے اپنی حکومت کوبچانے کے لئے عمل کیا اور اس کے بعد ہر دور کا فرعون بھی اسی پر عمل پیرا رہااور وہ پس پردہ اپنے ہی ایجاد کئے ہوئے اختلافات کے ذریعہ لوگوں پرحکومت کرتے رہے۔

 پیغمبر اکرم(ص) اور حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے اس خائنانہ منصوبے کے برخلاف لوگوں کو اختلافات اور تفرقہ بازی سے باز رکھا اور قرآن و عترت کو محور قرارد ے کر لوگوں کو ایک صحیح عقیدے کی طرف دعوت دی۔

 لیکن بنی امیہ نے قرآن و عترت کی محوریت کو ختم کرنے کے لئے تفرقہ پیدا کیا تا کہ آسانی سے  لوگوں پر حکومت کر سکیں ۔

 اسی وجہ سے ان کی حکومت کے دوران مختلف مذہبی فرقے وجود میں آئے اور ہر گروہ دوسرے گروہ سے لڑائی جھگڑے میں مشغول ہو گیااور لوگ حکومتی مسائل سے غافل ہو گئے۔


  2- پیشنگوئیوں کوچھپانا

دنیا کے لوگوں کو اسلام کی طرف آنے سے رونے کے لئے یہودیوں اور عیسائیوں کا ایک اور بنیادی حربہ پیشنگوئیوں کو چھپانا تھا۔

 اس راہ میں یہودیوں اور عیسائیوں کا اپنا اپنا حصہ تھا اور مختلف منصوبوں کے ذریعے یہ بنیادی اور مؤثر پروگرام انجام دے رہے تھے۔انہوں نے جو پروگرام انجام دیئے ان کے ذریعہ انہوں نے بہت سے خاندانوں کو تاریکی و ظلمت کے اندھیرے میں رکھا اور انہیں نور و روشنی سے دور رکھا۔اس صورت میں اگر تورات و انجیل کی پیشنگوئیاں عام لوگوں کے اختیار میں ہوتیں تو دنیا والوں کے عقائد کی شکل ہی کچھ اور ہوتی۔

اس بحث میں ہم صرف رسول اکرم(ص) کے بارے میں تورات کی ان پیشنگوئیوں کے کچھ نمونے بیان کریں گے جنہیں یہودیوں نے مخفی رکھا اور پھر حقائق کو چھپانے کے سلسلے میں بہت ہی اہم واقعہ ذکر کریں گے جس میں کلیسا اور عیسائیتنے عیسائیوں کو اسلام کی طرف آنے سے روکنے کے لئے اقدامات کئے۔

  الف: یہودی اور پیشنگوئیوں کوچھپانا

 یہودیوں کے شیطانی حربوں میں سے ایک (جسے وہ رسول اکرم(ص) کی رسالت کے آغاز سے ہی نہیں بلکہ ظہور اسلام اورآنحضرت کی ولادت سے پہلے سے انجام دے رہے تھے)لوگوں کو ظہور اسلام اور نبی مکرّم اسلام(ص) کی نبوت کے بارے میں سوچنے سے بھی دور رکھنا تھا۔ یہودی علماء نے ظہور اسلام کی نشانیوں اور آنحضرت کی الٰہی حکومت کے ظہور کو لوگوں سے چھپایا اور انہیں آنحضرت کی طرف آنے سے روکا تا کہ اس طرح وہ لوگوں پر حکمرانی کر سکیں اور ان کے جہل و نادانی سے سوء استفادہ کر سکیں۔ پیغمبر اکرم(ص) کی ولادت اور آنحضرت کی بعثت کے بعد یہودی بزرگوں نے اسی طرح سے ہی اپنی دھوکا دہی کو جاری رکھا اور بے شمار افراد کو آئین اسلام سے دور رکھا۔


 ان کی مکاریاں،دھوکے اور گھنونے منصوبے بہت ہی وسیع پیمانے پر تھے ۔جس کے جاہل اور بے خبر لوگوں پربہت گہرے اثرات مرتب ہوئے۔

 ان کا ایک مکارانہ منصوبہ ایسی پیشنگوئیوں کو چھپانا تھا جو ان کی آسمانی کتابوں میں موجود تھیں ۔ یہودی علماء نے  تورات میں تحریف کرکے اسلام اور رسول اکرم(ص) کی نبوت ورسالت کے بارے میں بہت ہی واضح و آشکار پیشنگوئیوں کو چھپایا اور انہیں لوگوں کی دسترس سے دور رکھاتا کہ وہ اسی طرح اپنے باطل راستے پر گامزن رہیں اور آئیں اسلام کی طرف مائل ہونے سے دور رہیں۔ اب ہم جو واقعہ نقل کر رہے ہیں وہ یہودی علماء کی انہی مکاریوں کا بہترین نمونہ ہے۔

 مرحوم ابو الحسن طالقانی (جو مرحوم مرزا شیرازی کے شاگردوں میں سے ہیں)بیان کرتے ہیں:

 میں کچھ دوستوں کے ساتھ کربلا کی زیارت سے سامراء کی طرف آ رہا تھا ۔ظہر کے وقت ہم نے''دجیل''نامی قریہ میں قیام کیا تا کہ کھانا کھانے اور کچھ دیر آرام کرنے کے بعد عصر کے وقت وہاں سے روانہ ہوں۔

 وہاں ہماری ملاقات سامراء کے ایک طالب علم سے ہوئی جو کسی دوسرے  طالب علم  کے ساتھ تھا۔وہ دوپہر کے کھانے کے لئے کچھ خریدنے آئے تھے ۔میں نے دیکھا کہ جو شخص سامرا ء کے طالب علم کے ساتھ تھا وہ کچھ پڑھ رہاہے ۔میں نے غور سے سنا تو مجھے معلوم  ہو گیا کہ وہ عبرانی زبان میں توریت پڑھ رہا ہے ۔مجھے بہت تعجب ہوا ۔میں نے سامراء میں رہنے والے طالب علم سے پوچھا  کہ یہ شیخ کون ہے اور اس نے عبرانی زبان کہاں سے سیکھی؟

 اس نے کہا:یہ شخص تازہ مسلمان ہوا ہے اور اس سے پہلے یہودی تھا ۔

 میں نے کہا:بہت خوب؛پھر یقینا کوئی واقعہ ہو گا تم مجھے وہ واقعہ بتاؤ۔

 تازہ مسلمان ہونے والے طالب علم نے کہا:یہ واقعہ بہت طولانی ہے جب ہم سامراء کی طرف روانہ ہوں گے تو میں وہ واقعہ راستے میں تفصیل سے آپ کے گوش گزار کروں گا۔

عصر کا وقت ہو گیا اور ہم سامراء کی طرف روانہ ہو گئے ۔میں نے اس سے کہا:اب آپ مجھے اپنا واقعہ بتائیں ۔ اس نے کہا:


میں مدینہ کے نزدیک خیبر کے یہودیوں میں سے تھا ۔خیبر کے اطراف میں کچھ قریہ موجود ہیں  کہ  جہاں رسول اکرم (ص) کے زمانے سے اب تک یہودی آباد ہیں ان میں سے ایک قریہ میں لائبریری کے لئے ایک چھوٹی سی جگہ تھی۔جس میں ایک بہت قدیم کمرہ تھا۔اسی کمرے میں توریت کا ایک بہت قدیم نسخہ تھاجو کھال پر لکھا گیا تھا ۔اس کمرے کا دروازہ ہمیشہ بند رہتا تھا اور اسے تالا لگا رہتا تھا۔بزرگوں نے تاکیدکی تھی کہ کسی کو بھی اس کمرے کا تالا کھولنے اور توریت کا مطالعہ کرنے کا حق نہیں ہے۔مشہور یہ تھاکہ جو بھی اس توریت کو دیکھے گا اس کا دماغ کام کرنا چھوڑ دے گا اور وہ پاگل ہو جائے گا اوربالخصوص نو جوان اس کتاب کو نہ دیکھیں!

 اس کے بعد اس نے کہا:ہم دو بھائی تھے جو یہ سوچتے تھے کہ ہمیں اس قدیم توریت کی زیارت کرنی چاہئے ۔ہم اس شخص کے پاس گئے جس کے پاس اس کمرے کی چابی تھی اور ہم نے اس سے درخواست کی کہ وہ کمرے کا دروازہ کھول دے لیکن اس نے سختی سے منع کر دیا ۔کیونکہ کہا جاتا ہے کہ ''الانسان حریص علی ما منع'' یعنی انسان کو جس چیز سے منع کیا جائے ،وہ اس کا زیادہ حریص ہو جاتاہے۔لہذا ہم میںاس کتاب کے مطالعہ کا اور زیادہ شوق پیدا ہوگیا۔ہم نے اسے اچھے خاصے پیسے دیئے تا کہ وہ ہمیں چھپ کر اس کمرے میں جانے دے۔

 ہم نے جو وقت طے کیا تھا ،اسی کے مطابق ہم اس کمرے میں داخل ہو گئے اور ہم نے بڑے آرام  سے کھال پر لکھی گئی قدیم توریت کی زیارت کی اور اس کا مطالعہ کیا۔اس میں ایک صفحہ مخصوص طور پر لکھا گیا تھا جو کہ بہت جاذب نظر تھا ۔جب ہم نے اس پر غور کیا تو ہم نے دیکھا کہ اس میں لکھا ہوا تھا''آخر ی زمانے میں عربوں میں ایک پیغمبر مبعوث ہو گا ''اس میں ان کی تمام خصوصیات اور اوصاف حسب و نسب کے لحاظ سے بیان کی گئیں تھیں نیز اس پیغمبر کے بارہ اوصیاء کے نام بھی لکھے گئے تھے ۔ میں نے اپنے بھائی سے کہا:بہتر یہ ہے کہ ہم یہ ایک صفحہ لکھ لیں اور اس پیغمبر کی جستجو کریں ۔ہم نے وہ صفحہ لکھ لیا اور ہم اس پیغمبر کے فریفتہ ہو گئے۔

 اب ہماراذہن صرف خدا کے اسی پیغمبر کو تلاش کرنے کے بارے میں سوچتا تھا ۔لیکن  چونکہ ہمارے علاقے سے لوگوں کی


کوئی آمد و رفت نہیں تھی اور رابطہ کرنے کا بھی کوئی انتظام نہیں تھا اس لئے ہمیں کوئی چیز بھی حاصل نہ ہوئی یہاں تک کہ کچھ مسلمان تاجر خرید و فروخت کے لئے ہمارے شہر آئے ۔ میں نے چھپ کر ان میں سے ایک شخص سے کچھ سوال پوچھے ،اس نے رسول اکرم(ص) کے جو حالات اورنشانیاں بیان کیں وہ بالکل ویسی ہی تھیں جیسی ہم نے توریت میں دیکھیں تھیں۔آہستہ آہستہ ہمیں دین اسلام کی حقانیت کا یقین ہونے لگا ۔لیکن ہم میں اس کے اظہار کرنے کی جرأت نہیں تھی ۔امید کا صرف ایک ہی راستہ تھا کہ ہم اس دیار سے فرار کر جائیں۔

میں نے اور میرے بھائی نے وہاں سے بھاگ جانے کے بارے میں بات چیت کی ۔ہم نے ایک دوسرے سے کہا:مدینہ یہاں سے نزدیک ہے ہو سکتا ہے کہ یہودی ہمیں گرفتار کر لیں بہتر یہ ہے کہ ہم مسلمانوں کے کسی دوسرے شہر کی طرف بھاگ جائیں۔

 ہم نے موصل و بغداد کا نام سن رکھا تھا ۔میرا باپ کچھ عرصہ پہلے ہی فوت ہوا تھا  اور انہوں نے اپنی اولاد کے لئے وصی اور وکیل معین کیا تھا ۔ہم ان کے وکیل کے پاس گئے اور ہم نے اس سے دو سواریاں اور کچھ نقدی پیسے لے لئے۔ہم سوار ہوئے اور جلدی سے عراق کا سفر طے کرنے لگے ۔ہم  نے موصل کا پتہ پوچھا ۔لوگوں نے ہمیں اس کا پتہ بتایا ۔ہم شہر میں داخل ہوئے اور رات مسافروں کی قیامگاہ میں گزاری۔

 جب صبح ہوئی تو اس شہر کے کچھ لوگ ہمارے پاس آئے اور انہوں نے کہا:کیا تم لوگ اپنی سواریاں فروخت کرو گے ؟ہم نے کہا :نہیں کیونکہ ابھی تک اس شہر  میں ہماری کیفیت معلوم نہیں ہے ۔ ہم نے ان کا تقاضا ردّ کر دیا۔آخر کار انہوںنے کہا:اگر تم یہ فروخت نہیں کرو گے تو  ہم تم سے زبردستی چھین لیں گے۔ہم مجبور ہو گئے اور ہم نے وہ سواریاں فروخت کر دیں۔ہم نے کہا یہ شہر رہنے کے قابل نہیں ،چلو بغداد چلتے ہیں۔

 لیکن بغداد جانے کے لئے ہمارے دل میں ایک خوف سا تھا ۔کیونکہ ہمارا ماموں جو کہ یہودی اور ایک نامور تاجر تھا ،وہ بغداد ہی میں تھا ۔ہمیں یہ خوف تھاکہ کہیں اسے ہمارے بھاگ جانے کی اطلاع نہ مل چکی ہو  اور وہ ہمیں ڈھونڈ نہ لے۔


 بہ ہر حال ہم بغداد میں داخل ہوئے اور ہم نے رات کو کاروان سرا میں قیام کیا ۔اگلی صبح ہوئی تو کاروان سرا کا مالک کمرے میں داخل ہوا ۔وہ ایک ضعیف شخص تھااس نے ہمارے بارے میں پوچھا ۔ ہم نے مختصر طور پر اپنا واقعہ بیان کیا اور ہم  نے اسے بتایا کہ ہم خیبر کے یہودیوں میں سے ہیں  اور ہم اسلام کی طرف مائل ہیں ہمیں کسی مسلمان عالم دین کے پاس لے جائیں جو آئین اسلام کے بارے میں ہماری رہنمائی کرے۔

 اس ضعیف العمر شخص کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی اور اس نے اپنے دونوں ہاتھ اپنی آنکھوں پر رکھتے ہوئے کہا:سرآنکھوں پر؛چلو بغداد کے قاضی کے گھر چلتے ہیں۔ہم اس کے ساتھ بغداد کے قاضی سے ملنے کے لئے چلے گئے ۔مختصر تعارف کے بعد ہم نے اپنا واقعہ ا ن سے بیان کیا اور ہم نے ان سے تقاضا کیا کہ وہ ہمیں اسلام کے احکامات سے روشناس کرئیں۔

 انہوں نے کہا:بہت خوب؛پھر انہوں  نے توحید اور اثبات توحید کے کچھ دلائل بیان کئے ۔پھر  انہوں ے پیغمبر اکرم(ص) کی رسالت اور آپ(ص) کے خلیفہ اور اصحاب کا تذکرہ کیا۔

 انہوں نے کہا:آپ(ص)کے بعدعبداللہ بن ابی قحافہ آنحضرت(ص) کے خلیفہ ہیں۔

 میں نے کہا:عبداللہ کون  ہیں؟میں نے توریت میں جو کچھ پڑھا یہ نام اس کے مطابق نہیں ہے!!

 بغداد کے قاضی نے کہا:یہ وہ ہیں کہ جن کی بیٹی رسول اکرم(ص) کی زوجہ ہیں۔

 ہم نے کہا:ایسا نہیں ہے؛کیونکہ ہم نے توریت میں پڑھا ہے کہ پیغمبر(ص) کا جانشین وہ ہے کہ رسول(ص) کی بیٹی جن کی زوجہ ہے۔ جب ہم نے اس سے یہ بات کہی توقاضی کے چہرے کا رنگ بدل گیا اور وہ قہر و غضب کے ساتھ کھڑا ہوا  اور اس نے کہا:اس رافضی کو یہاں سے نکالو۔انہوں نے مجھے اور میرے بھائی کو مارا اور وہاں سے نکال دیا ۔ہم کاروان سرا واپس آگئے ۔وہاں کا مالک بھی اس بات پر خفا تھا اور اس نے بھی ہم سے بے رخی اختیار کر لی۔ اس ملاقات اور قاضی سے ہونے والی گفتگو اور اس کے رویّہ کے بعد ہم بہت حیران ہوئے ۔ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ کلمہ''رافضی''کیاہے؟رافضی کسے کہتے ہیں اور قاضی نے ہمیں کیوں رافضی کہا اور وہاں سے نکال دیا؟


میرے اور میرے بھائی کے درمیان ہونے والی یہ گفتگو آدھی رات تک جاری رہی  اور کچھ دیر کے لئے غمگین حالت میں سو گئے ۔ہم نے کاروان سرا کے مالک کو  آواز دی کہ وہ ہمیں اس ابہام سے نجات دے ۔شاید ہم قاضی کی بات نہیں سمجھے اور قاضی ہماری  بات نہیں سمجھ پائے۔

 اس نے کہا:اگر تم لوگ حقیقت میںآئین اسلام کے طلبگار ہو تو جو کچھ قاضی کہے اسے قبول کر لو۔

 ہم نے کہا:یہ کیسی  بات ہے؟ہم اسلام کے لئے اپنا مال  ،گھر ،رشتہ دار سب کچھ چھوڑ چھاڑ کے آئے ہیں ۔ ہماری اس کے علاوہ اورکوئی غرض نہیں ہے ۔

 اس نے کہا:چلو میں  ایک بار پھرتمہیںقاضی کے پاس  لے جاتا ہوں۔لیکن کہیں اس کی رائے  کے برخلاف کوئی بات نہ کہہ دینا۔ہم پھر قاضی کے گھر چلے گئے۔ہمارے اس دوست نے کہا:آپ جو کہیں گے یہ قبول کریں گے۔

 قاضی نے بات کرنا شروع کی  اور موعظہ و نصیحت کی ۔میںنے کہا:ہم دو بھائی اپنے وطن میں ہی مسلمان ہو گئے تھے  اور ہم اتنی دور دیار غیر میں اس لئے آئے ہیں تا کہ ہم اسلام کے احکامات سے آشنا ہو سکیں۔اس  کے علاوہ ہمارا اور کوئی مقصد نہیں  ہے۔اگر آپ اجازت دیں تو ہمارے کچھ سوال ہیں؟قاضی نے کہا:جو پوچھنا چاہو پوچھو۔

 میں نے کہا:ہم نے صحیح اور قدیم توریت پڑھی ہے  اور اب میں جو باتیں کہنے لگا ہوں ہم نے یہ اسی کتاب سے ہی لکھی ہیں۔ہم نے پیغمبر آخر الزمان (ص)  اور آنحضرت(ص) کے خلفاء اور جانشینوں کے تمام نام،صفات  اور نشانیاںوہیں سے ہی لکھی ہیں۔جو ہمارے پاس ہے۔لیکن اس میں عبداللہ بن ابی قحافہ کے نام جیسا کوئی نام نہیں ہے۔

 قاضی نے کہا: پھر اس توریت میں کن اشخاص کے نام لکھیں ہیں؟

 میں نے کہا:پہلے خلیفہ پیغمبر(ص) کے داماد اور آپ کے چچا زاد بھائی ہیں۔ابھی تک میری بات پوری نہیں ہوئی تھی کہ اس نے ہماری بدبختی کا طبل بجایا۔یہ بات سنتے ہی قاضی اپنی جگہ سے اٹھا   اور جہاں تک ہو سکا اس نے  اپنے جوتے سے میرے سر اور چہرے پر مارا اور میں مشکل سے جان چھڑا کر  وہاں سے بھاگا۔میرا بھائی مجھ سے بھی پہلے وہاں سے بھاگ نکلا۔


میں بغداد کی گلیوں میں راستہ بھول گیا ۔میں نہیں جانتا تھا کہ میں اپنے خون آلود سر اور چہرے کے ساتھ کہاں جاتا۔کچھ دیر میں چلتا گیا  یہاں تک کہ میں دریائے دجلہ کے کنارے پہنچاکچھ دیر کھڑا رہا لیکن میںنے دیکھاکہ میرے پاؤں میں کھڑے رہنے کی ہمت نہیں ہے ۔میں بیٹھ گیااور اپنی مصیبت ، غربت،بھوک،خوف اور دوسری طرف سے اپنی تنہائی پررو رہا تھا اور افسوس کر رہا تھا۔

 اچانک ایک جوان ہاتھ میں دو کوزے پکڑے ہوئے دریا سے پانی لینے کے لئے آیااس کے سر  پر سفیدرنگ کا عمامہ تھاوہ میرے پاس دریا کے کنارے بیٹھ گیا جب اس جوان نے میری حالت دیکھی تو انہوںنے مجھ سے پوچھا:تمہیں کیا ہواہے؟میں نے کہا:میں مسافر ہوں اور یہاں مصیبت میں گرفتار ہو گیا ہوں ۔

 انہوں  نے فرمایا:تم اپنا پورا واقعہ بتاؤ؟

 میں نے کہا:میں خیبر کے یہودیوں میں سے تھا۔میں نے اسلام قبول کیا اور اپنے بھائی کے ساتھ ہزار مصیبتیں اٹھا کر یہاں آیا۔ہم اسلام کے احکام سیکھنا چاہتے تھے ۔لیکن انہوں نے مجھے یہ صلہ دیا اور پھر میںنے اپنے زخمی سر اور چہرے کی طرف اشارہ کیا۔

انہوں نے فرمایا:میں تم سے یہ پوچھتا ہوں کہ یہودیوں کے کتنے فرقے ہیں؟

 میں  نے کہا:بہت سے فرقے ہیں۔

 انہوں نے فرمایا:اکہتر فرقے ہو چکے ہیں ۔کیا ان میں سے سب حق پر ہیں؟

 میں نے کہا:نہیں

 انہوں  نے فرمایا:نصاریٰ کے کتنے فرقے ہیں؟

 میں نے کہا:ان کے بھی مختلف فرقے ہیں۔

 انہوں  ے فرمایا:بہتر فرقے ہیں ۔کیا ان میں سے بھی سب حق پر ہیں؟

 میں نے کہا:نہیں


پھر انہوں نے فرمایا:اسی طرح اسلام کے بھی متعدد فرقے ہیں۔ان کے تہتر فرقے ہو چکے ہیں لیکن ان میں سے صرف ایک فرقہ حق پر ہے ۔ میں نے کہا:میں اسی فرقہ کی جستجو کر رہا ہوں اس کے لئے مجھے کیا کرنا  چاہئے؟

 انہوں نے اپنے مغرب کیجانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس طرف سے کاظمین  روانہ ہو جاؤ  اور پھر فرمایا: تم شیخ محمد حسن آل یاسین کے پاس جاؤ وہ تمہاری حاجت پوری کر دیں گے۔

 میں وہاں سے روانہ ہوا اور اسی لمحہ وہ جوان بھی وہاں سے غائب ہو گیا ۔میں نے انہیں ادھر ادھردیکھنے کی کوشش کی لیکن وہ دکھائی نہ دیئے ۔مجھے بہت تعجب ہوا ۔میں نے خود سے کہا:یہ جوان کون تھا اور کیا تھا؟ کیونکہ گفتگو کے دوران  میںنے توریت میں لکھی ہوئی پیغمبر اور ان کے اولیاء کے اوصاف کے بارے میں بات کی تو انہوں نے فرمایا:کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں تمہارے لئے وہ اوصاف بیان کروں؟میں نے عرض کیا: آپ ضرور بیان فرمائیں۔انہوں نے وہ اوصاف بیان کرنا شروع کیں  اور میرے دل میں یہ خیال آیا کہ جیسے خیبر  میں موجود وہ قدیم توریت انہوں نے ہی  لکھی ہو۔جب وہ میری نظروں سے اوجھل ہوئے تو میں سمجھ گیا کہ وہ کوئی الٰہی شخص ہیں  وہ کوئی عام انسان نہیں ہیں ۔لہذا مجھے ہدایت کا یقین ہو گیا۔ مجھے اس سے بہت تقویت ملی اور میں اپنے بھائی کو تلاش کرنے نکل پڑا ۔بالآخر وہ مجھے مل گیا ۔ میں بار بار کاظمین اور شیخ محمد حسن آل یاسین کا نام دہرا رہا تھا تا کہ میں ان کا نام بھول نہ جاؤں ۔ میرے بھائی نے مجھ سے پوچھا کہ یہ کون سی دعا ہے جو تم پڑھ رہے ہو؟

 میں نے کہا:یہ کوئی دعا نہیں  ہے  اور پھر میں نے اسے سارا واقعہ بتایا ۔وہ بھی بہت خوش ہوا۔

 آخر کار ہم لوگوں سے پوچھ پاچھ کے کاظمین پہنچ  گئے اور شیخ محمد حسن کے گھر چلے گے ۔ہم نے شروع سے آخر تک سارا واقعہ ان سے بیان کیا ۔وہ  شیخ کھڑے ہوئے اور بہت گریہ و زاری کی میری آنکھوں کو چوما اور کہا:ان آنکھوں سے تم نے حضرت ولی عصر عجل اللہ فرجہ الشریف کے جمال کی زیارت کی ہے؟....(1)

--------------

[1] ۔ معجزات و کرامات ائمہ اطہار علیہم السلام:175 ، مرحوم آیت اللہ سید ہادی خراسانی سے منقول، کامیابی کے اسرار:ج۲ ص۱۱6


اگر یہودی علماء (جو مکتب وحی کے سب سے بڑے دشمن تھے اور ہیں) ایسے حقائق کو نہ چھپاتے اور ان کے دولتمند حضرات نور الٰہی کو بجھانے کی کوششیں نہ کرتے تو یہ حقائق کے واضح و آشکار ہوجاتے جنہیں دیکھ کر بہت سے لوگ آئین اسلام کی طرف آجاتے اور اپنے تحریف شدہ دین سے دستبردار  ہوجاتے ۔لیکن افسوس!کہ وہ لوگ نہ صرگ لوگوں کو حق پرستی کی طرف آنے کی راہ میں حائل تھے بلکہ( جیسا کہ ذکر کریں گے) انہوں نے انہیں آخرت کی دنیااور قیامت کا منکر بنا ڈالا۔ جس کے لئے انہوں نے اپنے پوشیدہ ہاتھوں کو ہر قسم کی خباثت سے آلودہ کیا اوراب آلودہ کر رہے ہیں۔

ب:عیسائیت اور پیشنگوئیوں کوچھپانا

     یہودیوںکی طرح عیسائیوں نے بھی اسلام کی ترقی کو روکنے کے لئے پیشنگوئیوں کو چھپانے کو ایک اہم ذریعہ قرار دیا۔انہوں نے اس راہ میں کوششیں کیں اور اسی راہ کوجاری رکھا۔

     عیسائیوں نے بھی یہودیوں کی طرح نہ صرف پیشنگوئیوں کو ظاہر کرنے سے گریز کیا بلکہ انہوں نے اسلام کی نشر و اشاعت کا باعث بننے والے اہم ترین حقائق کو چھپایا اور اب بھی چھپا رہے ہیں۔

     ایک بہت ہی اہم واقعہ(جس کا کلیسا اور عیسائیت کی شکست میں بڑا کلیدی کردار ہے)جو عیسائیوں کو اسلام کی طرف راغب کر سکتا ہے ،وہ انگلینڈ کے صاحب اقتدار بادشاہ کا اسلام قبول  کرنا ہے۔

     یہ واضح سی بات ہے کہ اپنی قوم میں بہت زیادہ اثر و رسوخ رکھنے والے بادشاہ کا مسلمان ہونا ان کے مذہبی عقائد پر بہت زیادہ اثرانداز ہوتاہے۔

     عیسائیوں نے برطانیہ  کے عیسائیوں کو اسی طرح کلیسا کا پیروکار رکھنے کے لئے وہاں کے بادشاہ کے مسلمان ہونے کی خبر کو چھپایا کیونکہ بادشاہ کے مسلمان ہونے کا واقعہ مستقبل میں عیسائیوں کا اسلام کی طرف مائل ہونے کا باعث بن سکتا تھا۔اس لئے انہوں نے یہ اہم واقعہ اپنی کتابوں میں ذکر ہی نہیں کیا۔

     اس واقعے سے آگاہ ہونے کے لئے اب ہم اسے بیان کرتے ہیں:


  برطانوی بادشاہ کا مسلمان ہونا

 برطانوی بادشاہ''اوفا''(OFFA)

 تاریخ کے عجائبات میں سے یہ ہے کہ گذشتہ صدی میں برطانوی بادشاہ ''اوفا''کا نام سامنے آیا کہ جس نے اسلام قبول کیا تھا ۔لیکن یہ حقیقت کھل کر سامنے نہ آئی۔

''اوفا''کون تھا؟

 اس نے کب حکومت کی؟

 اس نے کیوں اسلام قبول کیا؟

 اس کے مسلمان ہونے کی خبر کو کیوں چھپایا گیا؟

 مذکورہ سوالوں کے جوابات جاننے کے لئے  برٹش انسائیکلوپیڈیا اور فرنچ انسائیکلوپیڈیا (لاروس) کی طرف رجوع کریں۔ان دونوں انسائیکلوپیڈیا میں ''اوفا''(OFFA)کے بارے میں یوں ذکر ہواہے:

 اوفا''انگلوساکسونی ''(Anglo-Saxon) بادشاہ تھاجس نے انتالیس سال  (757 ء سے 796ء )تک برطانیہ پر حکومت کی۔اس زمانے میں یہ انگلینڈ کا سب سے طاقتور بادشاہ تھا۔

 پہلے وہ مارسیا(Mercia)یا وسطی برطانیہ(Middle England) کا بادشاہ تھا ۔یہ مملکت سات ملکوں کا حصہ تھی۔اس بادشاہ نے چھوٹے ملکوں جیسے Saxons,W اور Welshکو فتح کرکے اپنے ملک کو وسعت دی۔

 اس نے اپنی بیٹیوں کی شادیWessexاورNorthrmbiaکے حکمرانوں سے کی اور یوں اس نے اپنے اثرورسوخ کے دائرے کو مزید پھیلایاکہ جس میں  برطانیہ کے تمام حصے شامل تھے۔ اس نے فرانس کے بادشاہ''شارلمان''اور پاپ ''اندریان اوّل''سے معاہدہ بھی کیا۔ اس کے زمانے کے باقی بچنے والے آثار میں سے دیوار اور ڈیمہے جو مارسیا (Mercia) اور ولش(Welsh)کے درمیان بنایا گیاور جو اب تک ''دیوار اوفا''OFFA DYKE''کے نام سے مشہور ہے۔


یہاں تک تو ایک عام مسئلہ تھا لیکن 1841ئ(1227) میں مؤرخین کے لئے ایک سوال پیدا ہوا ۔ اس سال سونے کا ایک سکہ ملاجو اس طاقتور بادشاہ کے زمانے کا تھا۔اس سکے پر کون سی ایسی چیز تھی کہ جس نے سب کو حیران کر دیا۔یہ سکہ اب بھی برطانیہ کے عجائب گھر میں قدیم سکّوں کے حصہ میں موجود ہے۔حیران کن چیز یہ تھی کہ اس سکے کے دونوں طرف کلمہ شہادت''اشهد أن لا اله الاَّ اللّٰه ، و اشهد أن محمّداً رسول اللّٰه''اور عربی زبان میں قرآن کی ایک آیت لکھی ہوئی تھی۔

 یہ تو تھا اس سکہ کا واقعہ:

 سکہ کے ایک طرف عربی زبان میں لکھا ہوا دکھائی دیتا ہے:''اشهد أن لا اله الاَّ اللّٰه ، وحده لا شریک له ''اور سکہ کے حاشیہ میں'' محمّد رسول اللّٰه''اور پھر'' أَرْسَلَهُ بِالْهُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْهِرَهُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّهِ'' (1) لکھا ہوا تھا اور درمیان میں انگلش میں یہ جملہ ''OFFA-REK''( یعنی بادشاہ اوفا )نقش تھا۔حاشیہ میں عربی میں یوںلکھا ہوا تھا:''بسم اللہ،یہ دینار 157 میں بنایا گیا۔

 ''اوفا''بادشاہ کے دستخط سے یہ تشخیص دی جاسکتی ہے کہ یہ سکہ  757ء سے 796 ء کے درمیان بنایا گیا کہ جب ''انگلوساکسونی''پر ''اوفا''حکومت کر رہا تھا۔   157ھ وہی 774ء بنتا ہے۔ اس بارے میں بہت سے تقریریں کی گئیں اور دسیوں مقالے لکھے گئے ،ہم اس موضوع کے بارے میںمؤرخین کے فرضیات اور تھیوریوں کو یوں خلاصہ کر سکتے ہیں:

 پہلا فرضیہ:''اوفا''بادشاہ مسلمان ہو گیا تھا۔

 دوسرا فرضیہ:اس نے مفہوم و معنی کو سمجھے بغیرخوبصورتی کے لئے عربی کے ان کلمات اور آیت سے استفادہ کیا۔

 تیسرا فرضیہ:اس نے یہ سکہ اپنے ملک کے حجاج (جو بیت المقدس کی زیارت کو جاتے ہیں)کی مدد کے لئے بنوایاتا کہ وہ اس سے استفادہ کریں اور ان کے لئے سفر کی سختی آسان ہو جائے ۔گویااس کا یہ کام ایک سیاسی پہلو رکھتا تھا۔

--------------

[1] ۔ سورۂ توبہ ، آیت:33( ه ُوَ الَّذِی أَرْسَلَ رَسُوْلَ ه ُ  بِالْ ه ُدٰی وَ دِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْ ه ِرَ ه ُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّ ه ِ)


 چوتھا فرضیہ:اس نے 787ء میں پاپ ''اندریان''سے معاہدہ کیا کہ بادشاہ سالانہ مالیات ادا کرے اور ممکن ہے کہ یہ سکہ اسی مقصد کے لئے بنایا گیا ہو۔

 محققین میں سے ایک کا کہنا ہے:یہ واضح ہے کہ آخری تین فرضیہ منطق اور انسانی عقل سے سازگار نہیں ہیں۔یہ ناممکن ہے کہ کوئی بادشاہ خوبصورتی کے لئے سکہ پر کوئی جملے لکھے کہ اسے جس کے معنی بھی معلوم نہ ہوں۔جب کہ یہ جملات ''شہادت ''ہیں کہ جن میں اسلام کے عقائد کا خلاصہ کیا جاتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ یورپ کے کچھ بادشاہوں پر اسلامی تمدن اثرانداز ہوا اور انہوں نے عربی زبان میں اپنا نام سکوں پر چھپوایاتھا۔

 ان میں سے ایک''الفانسو ہشتم ،فاسیلی دیمتریش'' اور کچھ ''نورمان''حکمرانوں میں سے تھے کہ جن میں ''ویلیم راجر''شامل ہے ۔حتی کہ سلطنت جرمنی کے حاکم''ہنری چہارم''نے عثمانی خلیفہ'' المقتدرباللہ''کا نام اپنے ملک کے سکہ پر نقش کروایا تھا لیکن ان میں سے کسی نے بھی ''اوفا''کی طرح کلمۂ توحید سکہ پر نقش نہیں کیا تھا۔

 تیسرے فرضیہ کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ فرضیہ بہت مبہم ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ یہ کس طرح ممکن ہے کہ پاپ بادشاہ ''اوفا''سے یہ تقاضا کرے کہ سکہ پر کلمۂ شہادتین نقش کروائے اور اسے مالیات کے طور پر ادا کرے؟

 کیا اس میں کوئی منطق نظر آتا ہے؟کیا یہ ناممکن نہیں ہے ؛جب کہ ہم جانتے ہیں کہ پاپ اسلام کے بدترین دشمنوں میں سے تھے۔لہذا یہ فطری امر ہے کہ وہ سکہ پر دشمن کا شعار و عقیدہ دیکھ کر اس کی مخالفت کرے گا۔چاہے سکہ پر یہ خوبصورتی کے لئے ہی نقش کئے گئے ہوں۔

 چوتھے فرضیہ  کے بارے میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ کمزور فرضیہ ہے ۔یہ ماننا مشکل ہے کہ بادشاہ ''اوفا''نے یہ سکہ اس لئے بنوایا تھا تا کہ بیت المقدس کی زیارت کے لئے جانے والے اپنے ہم وطن لوگوں کی مدد کر ے ۔ کیونکہ اس زمانے میںجو عیسائی مقدس شہروں کو دیکھنا چاہتے تھے ،ان کے لئے مسلمانوں کی طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں تھی اور اسلامی ملکوں میں ان کی رفت و آمد تھی۔


 شاید یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ اس بادشاہ کی مملکت سکہ نہ بنا سکتی ہو لہذا اس نے اپنا سکہ کسی عربی ملک سے بنوایا ہو۔ لیکن یہ احتمال ضعیف ہے اور یہ وار نہیں ہوتا۔

کیونکہ برٹش انسائیکلوپیڈیا میں ذکر ہوا ہے کہ اس بادشاہ کے نوادرات میں سے نئی طرز کے کچھ سکے ہیں کہ جن پر بادشاہ اور سکہ بنانے والے کا نام نقش ہوا ہے۔کئی صدیوں تک انہیں سکوں سے استفادہ کیا جاتا رہا کہ جن پر بادشاہ ''اوفا''اور اس کی بیوی ملکہ کانثریز(Cynethyth)کی تصویر بنی ہوئی تھی۔انگلینڈ میں سکہ بنانے کا نظام متعدد زمانوں میں رائج تھا۔

 ممکن ہے کہ اس بادشاہ کے زمانے میں رائج سکوں کے کچھ اور نمونے برٹش انسائیکلوپیڈیا میں سکّوں (Coins) یا بادشاہ کے حالات زندگی کی بحث میں مل سکتے ہیں۔دوسرے لفظوں میں یہ کہ یہ احتمال انتہائی ضعیف ہے کہ بادشاہ اپنے ملک میں سکّہ نہیں بنا سکتا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ ''اوفا''بادشاہ نے اسلام قبول کیا تھا لیکن ہمیں اس بارے میں کوئی دلیل نہیں ملی اور ان سکّوں کے علاوہ کوئی اور مدرک بھی موجود نہیں ہے۔ہمارے پاس اس بادشاہ کے مسلمان ہونے کے بارے میں معلومات کیوں نہیں ہیں؟مؤرخین اس کی وجہ یوں بیان کرتے ہیں کہبرطانیہ کے کلیسانے اس بادشاہ  کے مسلمان ہونے کی وجہ سے اس کے بارے میں تمام مدارک مٹا  دیئے تھے!کیا صرف یہ بادشاہ ہی مسلمان ہوا تھا یا اس کے خاندان کے افراد اور رشتہ دار بھی مسلمان ہوئے تھے؟ہمیں اس کا علم نہیں ہے اور اس بارے میں کوئی معلومات بھی نہیں ہیں۔ ہم جو جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ ممکن ہے کہ بادشاہ نے بیت المقدس کی زیارت  کے وقت کچھ مسلمانوں اور ان کے علماء سے ملاقات کی ہو اور اس دوران اسلام قبول کرکے  اسلام کا معتقد ہوا ہو۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ برٹش انسائیکلوپیڈیا اور فرنچ انسائی کلوپیڈیا (لاروس)نے اس مسئلہ کی طرف اشارہ نہیں کیابلکہ اسے کلی طور پر ان دیکھا کر دیا ہے۔اس سے کچھ لوگوں کے اس اعتقاد کو تقویت ملتی ہے جن کا یہ کہنا ہے کہ ان انسائیکلوپیڈیا میں علمی غیرجانبداری کا  لحاظ نہیں کیاگیا۔(1)

--------------

[1]۔ اسلام و غرب:22


 نتیجۂ بحث

 ہم نے جو کچھ ذکر کیا اس سے یہ واضح ہو گیا کہ اسلام کے دشمنوں نے دوسرے حربوں کے علاوہ دو بنیادی حربوں سے اسلام کی مخالفت کی  اور انہوں نے یہ سوچا کہ فرقہ سازی اور حقائق کو چھپانے سے اسلام کو شکست دے دیں گے لیکن ان کے یہ بے بنیاد خیالات  نقش بر آب ہوئے اور تمام تر کوششوں کے باوجود وہ نہ صرف اسلام اور مسلمانوں کو نابود نہ کر سکے بلکہ پیغمبر اکرم(ص) اور اہلبیت علیہم السلام کی کوششوں سے اسلام کا پرچم ہمیشہ سربلند رہا اور آخر کار تمام مذاہب اور انسانی مکاتب نابود ہو جائیں گے اور دنیا پر صرف مکتب پیغمبر اکرم(ص) اور امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی حکومت ہو گی۔

 جی ہاں!لوگوں کے لئے قرآن، پیغمبر اکرم(ص) اور امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی پیشنگوئیوں نے یہودیوں اور عیسائیوں کے توسط سے پیشنگوئیوں کو چھپانے کا جبران کر دیا ہے۔

 اگرچہ دشمن بہت سے مسلمانوں کو امویوں کی آغوش میں جگہ دینے اور انہیں اسلام کی حقیقت سے دور کرنے میں کامیاب رہے لیکن بنی امیہ اور ان کی حکومت کے بارے میں قرآن کریم ، پیغمبر خدا(ص) اور امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی پیشنگوئیوں نے گمراہی کے بھنور میں پھنسے ہوئیبے شمار مسلمانوں کو نجات دی ہے اور انہیں بنی امیہ کی غاصبانہ حکومت  اور مکتب اہلبیت علیہم السلام کے تمام مخالفوں سے آگاہ کیا ہے۔

 ان  پیشنگوئیوں سے آگاہی کے لئے اب ہم انہیں بیان کرتے ہیں کہ جنہیں اہلسنت علماء نے بھی اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے  تاکہ محترم قارئین یہ جان سکیں کہ اسلام کے دشمنوں نے حقائق کو چھپانے میں شکست کھائی ہے اوران کے لئے اموی حکومت کا غاصبانہ ہونا روز روشن کی طرح واضح ہو جائے۔

 کیونکہ یہ پیشنگوئیاں بہت زیادہ تھیں لہذا ہم نے ان میں سے کچھ کو کتاب کے ایک مستقل باب میں ذکر کیا ہے۔


 پانچواں باب

پیشنگوئیاں

    01) بنی امیہ کے بارے میں قرآن کی پیشنگوئی

    02) بنی امیہ کے بارے میں قرآن کی دوسری پیشنگوئی

    03) حکَم اور اس کے بیٹوں کے بارے میں قرآن کی پیشنگوئی

    04) پیغمبر اکرم(ص) اور امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی پیشنگوئیوں کا راز

    05) بنی امیہ کے بارے میں رسول اکرم(ص) کی پیشنگوئیاں

    06) بنی امیہ کی حکومت کے بارے میں رسول اکرم(ص) کی پیشنگوئی

    07) حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی بنی امیہ کی حکومت کے بارے میں ''الغارات '' سے منقول پیشنگوئی

    08) بنی امیہ کی حکومت کے بارے میں حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی ایک اور پیشنگوئی

    09) بنی امیہ کے انجام کے بارے میں حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی پیشنگوئی

    10) بنی امیہ کے زوال کے بارے میں حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی دیگر پیشنگوئی

    11) بنی امیہ اور بنی العباس کے بارے میں حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی ایک اور پیشنگوئی

    12) بنی امیہ اور بنی العباس کے بارے میں حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی دوسری پیشنگوئی

    13) حکم کے داخل ہونے کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی پیشنگوئی اور اس پر لعنت کرنا

    14) یہودیوں، مشرکوں اور منافقوں کے لئے حکم بن ابی العاص کا جاسوسی کرنا

    15) معاویہ وغیرہ کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی پیشنگوئی

    16) معاویہ کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی دوسری پیشنگوئی


    17) معاویہ کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی ایک اور پیشنگوئی

    18) معاویہ کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی ایک اور پیشنگوئی

    19) معاویہ کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی دوسری پیشنگوئی

    20) عبداللہ بن عمروعاص کی زبانی معاویہ کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی پیشنگوئی

    21) معاویہ وعمروعاص کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی پیشنگوئی

    22) امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی معاویہ کے بارے میں پیشنگوئی

    23) ''الغارات''کی روایت کے مطابق شامیوں کی فتح کے بارے میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی پیشنگوئی

    24) اس بارے میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی دوسری پیشنگوئی

    25) ''الغارات ''سے منقول امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی دوسری پیشنگوئی

    26) ''مروج الذہب'' سے منقول امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی پیشنگوئی

    27) جنگ صفین میں جناب عمار یاسر کی شہادت کے بارے میں رسول اکرم(ص) کی پیشنگوئی

    28) جنگ صفین میں جناب عمار یاسر کی رہنمائی

    29) جنگ صفین میں عمار یاسر کا خطاب اور عمرو عاص پر اعتراض

    30) عمار کے قتل کے بارے میں شبث بن ربعی کا معاویہ سے کلام

    31) جناب عمار کی شہادت کے بارے میں متواتر حدیث

    32) رسول خدا(ص) کی حدیث نقل کرتے وقت صحابہ و تابعین کے حالات

    33) جناب عمار یاسر کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی پیشنگوئیوں کے اثرات

    34) ذوالکلاع سے عمار یاسر کی گفتگو کے سولہ اہم نکات


    35) جناب اویس قرنی کے بارے میں رسول اکرم(ص) کی پیشنگوئی اور جنگ صفین میں آپ کی شرکت

    36) جنگ صفین میں جناب اویس قرنی کی شہادت

    37) اس روایت میں اہم نکات

    38) جنگ صفین کے بارے میں حضرت عیسی علیہ السلام کی پیشنگوئی

    39) حکمیّت کے بارے میں رسول خدا(ص) کی پیشنگوئی

    40) حکمیّت کے بارے میں رسول خدا(ص) کی دوسری پیشنگوئی

    41) ایک دوسری روایت کی رو سے حکمیّت کے بارے میں رسول خدا(ص) کی پیشنگوئی

    42) حکمیّت سے مربوط پیشنگوئی میں اہم نکات

    43) رسول خدا(ص) کی عائشہ کے بارے میں پیشنگوئی

    44) مروان کے بارے میں رسول خدا(ص) کی پیشنگوئی

    45) مروان کا معاویہ سے ملنا اور اس کی خباثت

    46) مروان کے بارے میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی پیشنگوئی

    47) مروان کے بارے میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی دوسری پیشنگوئی

    48) مروان کے بارے میں ایک اور پیشنگوئی

    49) امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی مروان کے بارے میں ''نہایة الأرب'' سے پیشنگوئی

    50) عمرو بن سعید بن عاص کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی پیشنگوئی

    51) جنگ نہروان میں ذوالثدیہ کے قتل کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) پیشنگوئی


    52) محمد بن ابی بکر اور ان کی شہادت کے واقعہ کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) پیشنگوئی

    53) سمرة بن جندب کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) پیشنگوئی

    54) کربلاکے بارے میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی پیشنگوئی

    55) کربلا میں ابن زیادکے لشکر کے سرداروں میں سے حصین بن تمیم کے بارے میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی پیشنگوئی

    56) پیشنگوئیوں کے وقوع پذیر ہونے کو روکنے کے لئے جدید منصوبہ بندی

    57) 1- رشید ہجری کی شہادت اور ان سے مقابلہ کے بارے میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی پیشنگوئی

    58) 2- جناب میثم کی شہادت اور ان سے مقابلہ کے بارے میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی پیشنگوئی


 بنی امیہ کے بارے میں قرآن کی پیشنگوئی

 قرآن مجید میں پروردگار عالم کی بنی امیہ کی حکومت کے بارے میں پیشنگوئی لوگوں کوبنی امیہ  کے طرز حکومت اوران کے غیر اسلامی کردار و رفتار سے آشنا کروانے کے لئے ہے کہ جس میں  تمام اہلسنت اور بالخصوص نوجوانوں  کے لئے بہت بڑا درس ہے  تاکہ وہ یہ جان لیں کہ بنی امیہ اور مکتب اہلبیت علیہم السلام کے تمام مخالفین  کا نہ صرف حکومت الٰہی پر کوئی حق نہیں ہیبلکہ وہ اس حکومت کے غاصب ہیں، اور ان میں نہ صرف یہ کہ الٰہی حکام کی صفات ہی نہیں تھیں بلکہ وہ اپنے منصوبوں اور مکاریوں سے الٰہی حکومت کو اس کے حقیقی حاکموں سے غصب کرکے خدا کے خلیفہ کے عنوان سے مسلمان کی گردن پر سوار ہو گئے۔جہاں تک ہو سکا انہوں نے نور الٰہی کو بجھانے اور دین کے احکامات کو نیست ونابود کرنے کی کوشش کی۔لیکن ان سب کے باوجود قرآن کریم اور پیغمبر عظیم(ص) کی پیشنگوئیوں نے اس زمانے میں بھی بے شمار لوگوں کو خواب غفلت سے بیدار کیااور اس زمانے کے لوگوں کی راہ راست کی طرف ہدایت کی۔

 جس طرح قرآن کریم اور پیغمبر اکرم(ص) کے ارشادات نے اس زمانے کے بہت سے لوگوں  کو آگاہ  کیا تا کہ وہ اپنے آباء و اجداد کے عقائد سے دستبردار ہو جائیں ،اسی طرح اس زمانے میں بھی لوگ قرآن مجید کی آیات اور پیغمبر اکرم(ص) کی احادیث میں غور فکر کرکے راہ حق کو پہچان کر اسی راہ پر گامزن ہو سکتے ہیں۔

 اس طرح کی آیات و روایات سے آشنا ہونے کے لئے ان موارد پر توجہ کریں:

1۔ ترمذی نے یہ روایت سورۂ قدر کے باب (باب85) میں یوسف بن سعید سے نقل کی ہے:

 جب لوگوں نے معاویہ کی بیعت کی تو اس کے بعد ایک شخص حضرت امام حسن علیہ السلام کے پاس آیا اور اس نے کہا:تم نے مؤمنینروسیاہ کر دیا!یا کہا:اے مؤمنوں کو روسیاہ  کرنے والے!

 آنحضرت نے اس سے فرمایا:

 میری مذمت نہ کرو،خداوند تم پر رحمت کرے ؛کیونکہ پیغمبر اکرم(ص) نے دیکھا کہ بنی امیہ ان کے منبر پر بیٹھے ہیں۔


 آنحضرت اس واقعہ سے پریشان ہوئے ،پس یہ آیت نازل ہوئی:

 (اِنّٰا أَعْطَیْنٰاکَ الْکَوْثَرَ ) (1) یعنی جنت میں ایک نہر۔

(انَّا أَنْزَلْنَاهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِ ،،وَمَا أَدْرَاکَ مَا لَیْلَةُ الْقَدْرِ ،، لَیْلَةُ الْقَدْرِ خَیْر مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ ،، تَنَزَّلُ الْمَلَائِکَةُ وَالرُّوحُ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِم مِّن کُلِّ أَمْرٍ ،، سَلَام هِیَ حَتَّی مَطْلَعِ الْفَجْرِ ) (2)

 بیشک ہم نے قراان کو شب قدر میں نازل کیا.اور آپ کیا جانیں کہ یہ شب قدر کیا چیز ہے.  شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے.اس میں فرشتے اور روح القدس اذن خدا کے ساتھ تمام امور کو لے کر نازل ہوتے ہیں.اور یہ رات طلوع فجر تک سلامتی ہی سلامتی ہے۔

 اے محمد !بنی امیہ اس کے مالک بن جائیں گے!

 قاسم کہتے ہیں:میں نے بنی امیہ کی حکومت کو شمار کیا جس کے ہزار مہینہ تھے نہ اس سے کم اور نہ ہی اس سے زیادہ۔(3)

2۔ سیوطی نے کہا ہے:خطیب نے اپنی تاریخ میں ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا:

رسول خدا(ص) نے بنی امیہ کو اپنے منبر پر دیکھا  تو اس واقعہ سے بہت پریشان ہوئے۔  پس خداوند کریم نے ان پر وحی کی کہ یہ ایک حکومت ہے جو انہیں ملے گی اور پھر یہ آیت نازل ہوئی:(انَّا أَنْزَلْنَاهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِ ،، وَمَا أَدْرَاکَ مَا لَیْلَةُ الْقَدْرِ ،، لَیْلَةُ الْقَدْرِ خَیْر مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ ، تَنَزَّلُ الْمَلَائِکَةُ وَالرُّوحُ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِم مِّن کُلِّ أَمْرٍ ،، سَلَام هِیَ حَتَّی مَطْلَعِ الْفَجْرِ ) خطیب نے ابن مسیب سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا: رسول خدا(ص) نے فرمایا:

--------------

[1]۔ سورۂ کوثر، آیت:1

[2]۔ سورۂ قدر،آیت: 5 -1

[3]۔ الدر المنثور: ج6ص371


میں نے دیکھا کہ بنی امیہ میرے منبر پر چڑھیں گے،یہ واقعہ میرے لئے بہت ناگوار تھا۔خدا نے یہ آیت نازل فرمائی:(انَّا أَنْزَلْنَاهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِ)

3۔ ابن اثیر کہتا ہے: جب (امام)حسن (علیہ السلام) واپس کوفہ گئے تو ایک شخص نے ان سے کہا:اے مسلمانوں کو روسیاہ کرنے والے!(امام) حسن (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا: میری سرزنش نہ کرو؛کیونکہ رسول اکرم(ص) نے خواب میں دیکھا کہ بنی امیہ ایک

ایک کر کے ان کے منبر پر چڑھ رہے ہیں ۔آپ اس واقعہ سے بہت پریشان ہوئے۔  خداوند عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی:(اِنّٰا أَعْطَیْنٰاکَ الْکَوْثَرَ ) ''ہم نے تمہیں کوثر عطا کی''جوجنت میں ایک نہرہے۔

 اور یہ آیت نازل فرمائی:(انَّا أَنْزَلْنَاهُ فِیْ لَیْلَةِ الْقَدْرِ ،، وَمَا أَدْرَاکَ مَا لَیْلَةُ الْقَدْرِ ،، لَیْلَةُ الْقَدْرِ خَیْر مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ ،، تَنَزَّلُ الْمَلَائِکَةُ وَالرُّوحُ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِم مِّن کُلِّ أَمْرٍ ،، سَلَام هِیَ حَتَّی مَطْلَعِ الْفَجْرِ )

 بنی امیہ تمہارے بعد اس کے مالک بن جائیں گے۔

طبری نے بھی ''تاریخ طبری: 5810'' میں اس روایت کو نقل کیا ہے اور سیوطی نے بھی ''تاریخ  خلفائ:25''میں اسے ترمذی سے نقل کیا ہے ۔ حاکم نے بھی اسے اپنی مستدرک میںاور ابن جریر نے  اپنی تفسیر میں اس روایت کو نقل کیا ہے۔(1)

  بنی امیہ کے بارے میں قرآن کی دوسری پیشنگوئی

قرآن کریم میں بنی امیہ کو شجر ملعونہ سے تعبیر کیاگیا ہے اور ابن ابی الحدید کے مطابق مؤرخین و محدثین عبداللہ بن عباس (پیغمبر اکرم(ص) کے چچا زاد بھائی) سے نقل کرتے ہیں: ایک رات پیغمبر اکرم(ص) نے خواب میں دیکھا کہ بندروں کا ایک گروہ آپ کے منبر کے اوپر چڑھ رہا ہے اور اتر رہا ہے ۔ اس خواب کے بعد آنحضرت بہت پریشان ہوئے ۔گویا اس خواب سے آپ مطمئن نہیں تھے یہاں تک آنحضرت پر سورہ قدر نازل ہوا جوپیغمبر (ص) کے لئے سکون کا باعث بنا۔

--------------

[1]۔ معاویہ بن ابی سفیان:25


 مفسرین قرآن کی تفسیر کی بناپر درج ذیل آیۂ مبارکہ رسول اکرم(ص) کے اس خواب کی طرف  اشارہ ہے کہ خداوند متعال نے فرمایا:

(وَاِذْ قُلْنٰالَکَ اِنَّ رَبَّکَ أَحٰاطَ بِالنّٰاسِ وَمٰا جَعَلْنَا الرُّؤْیَا الَّتِی أَرَیْنٰاکَ اِلاّٰ فِتْنَةً لِلنّٰاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِی الْقُرْآنِ وَنُخَوِّفُهُمْ فَمٰا یَزِیْدُهُمْ اِلاّٰ طُغْیٰاناً کَبِیْراً) (1)

     اور جب ہم نے کہہ دیا کہ آپ کا پروردگار تمام لوگوں کے حالات سے باخبر ہے اور جو خواب ہم نے آپ کو دکھلایا ہے وہ صرف لوگوں کی آزمائش کا ذریعہ ہے جس طرح کہ قرآن میں قابل لعنت شجرہ بھی ایسا ہی ہے اور ہم لوگوں کو ڈراتے رہتے ہیں لیکن ان کی سرکشی بڑھتی ہی جارہی ہے۔(2)

 پیغمبر اکرم(ص) اس خواب کے بعد بہت زیادہ پریشان تھے یہاں تک کہ بعض کہتے ہیں:اس کے بعد تا وقتِ آخر تک رسول خدا(ص) کے لبوں  پر مسکراہٹ نہیں آئی۔

 اس آیت میں شجر ملعونہ (وہی بنی امیہ کے حکمران)کی طرف واضح اشارہ ہوا ہے۔

41   ھ میں معاویہ کے ساتھ حضرت امام حسن علیہ السلام کی صلح کے بعد سفیان بن ابی لیلیٰ حضرت امام حسن علیہ السلام کے پاس آیا اور اس نے کہا:اے مؤمنو کو رسوا کرنے والے تم پر سلام ہو!

حضرت امام حسن علیہ السلام نے فرمایا:بیٹھو، خدا تم پر رحمت کرے؛ پیغمبر اکرم(ص) پر بنی امیہ کی بادشاہی واضح ہو گئی تھی اور آپ نے خواب میں یوں دیکھا تھا کہ وہ ایک کے بعد ایک آپ کے منبر پر جا رہے ہیں۔اس کام سے رسول خدا(ص) بہت پریشان ہوئے اور خدا نے اس بارے میں قران کریم کی کچھ آیات نازل فرمائیں اور پیغمبر(ص) سے یوں خطاب ہوا:'' اور جو خواب ہم نے آپ کو دکھلایا ہے وہ صرف لوگوں کی آزمائش کا ذریعہ ہے جس طرح کہ قرآن میں قابل لعنت شجرہ بھی ایسا ہی ہے....''۔

--------------

[1]۔ سورۂ اسراء، آیت:60

[2] ۔ اس آیۂ شریفہ میں ایک بہت خوبصورت تلمیح استعمال ہوئی ہے اور وہ ''یزید ''کا نام ہے اور یہ موضوع کہ بہت بڑا ظالم و سرکش ہے


میں نے اپنے بابا علی علیہ السلام (ان پر خدا کی رحمت ہو) سے سنا کہ آپ نے فرمایا:

 جلد ہی امت کی خلافت موٹی گردن اور موٹے پیٹ والا شخص سنبھالے گا۔

 میں نے پوچھا :وہ کون ہے؟

 فرمایا:وہ معاویہ ہے۔

 میرے بابا نے مجھ سے فرمایا:قرآن نے بنی امیہ کی حکمرانی اور اس کی مدت کی خبر دی ہے اور خداوند متعال نے فرمایا ہے:''شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے'' اور پھر فرمایا:یہ ہزار مہینے بنی امیہ کی مدت حکومت ہے۔(1)

 اس روایت میں ایک اور پیشنگوئی بھی ہوئی ہے کہ جو اس کی صحت پر دوسری دلیل ہے اور وہ یہ کہ:بنی امیہ کی مدت ہزار ماہ تک ہو گی اور اس مدت کے دوران خاندان عصمت و طہارت علیہم السلام اور تمام لوگوں پر کیسے کیسے مظالم کئے جائیں گے۔

 اہلسنت کے معروف علماء نے متعدد روایات میں بنی امیہ کے فتنہ کے بارے میں قرآن کی کچھ آیات نقل کی ہیں کہ جو ان سب لوگوں کے لئے عبرت کا وسیلہ ہونی چاہئیں کہ جو معاویہ اور تمام بنی امیہ کو مثبت نظر سے دیکھتے ہیں۔

 ان روایات مں بنی امیہ کو کفر کے امام اور دین کے دشمنوں کے طور پر متعارف کروایا گیا ہے ۔ اس بناء پر اہل تسنن میں ایسا گروہ کہ جومعاویہ کو مسلمان اور رسول خدا(ص) کا خلیفہ سمجھتا ہے !وہ اپنے عقیدے میں تجدید نظر کریں اور اپنے دل سے ان کی محبت کو نکال دیں ۔

 کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ خود کو ملت اسلام کا جزء اور رسول خدا(ص) کی شریعت کا تابع شمار کرنے والے آنحضرت(ص) کے دشمنوں اور آنحضرت کے خاندان اطہار علیہم السلام کے دشمنوں کا احترام کریں اور انہیں رسول خدا کا جانشین اور خلیفہ سمجھیں؟!

 کیا جن کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا کہ میں نے انہیں بندروں اور خنزیروں کی شکل میں دیکھا ہے،تو کیا ان میں آنحضرت(ص) کے آئین کی قیادت و رہبری کرنے کی صلاحیت ہے؟!

--------------

[1]۔ اعجاز پیغمبر اعظم(ص) در پیشگوئی از حوادث آیندہ:302


 ''تاریخ بغداد''میں خطیب بغدادی کہتے ہیں: رسول اکرم(ص) نے فرمایا:

أریت بن اُمیّة فی صورة القردة و الخنازیر، یصعدون منبر، فشق ذلک فأنزلت (اِنّٰا أَنْزَلْنٰاهُ فِی لَیْلَةِ الْقَدْرِ)

 مجھے بنی امیہ دکھلائے گئے کہ وہ بندروں اور خنزیروں کی شکل میں میرے منبر پر چڑھیں گے، یہ مجھ پر سخت ناگوار گذرا پس یہ آیت نازل ہوئی:''

 نیز کہا ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا:

 أریت بن اُمیّة یصعدونمنبر، فشق علّ فأنزلت (اِنّٰا أَنْزَلْنٰاهُ فِی لَیْلَةِ الْقَدْرِ) (1)

 مجھے بنی امیہ دکھلائیگئے کہ وہ میرے منبر پر چڑھیں گے اور یہ مجھ  پر سخت ناگوار گذرا پس یہ   آیت نازل ہوئی:''بیشک ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا ہے''۔

سیوطی نے ''الدّر المنثور''میں نقل کیاہے:

 رأء رسول اللّٰه (ص) بن فلان ینزون علی منبره نزو القردة، فساء ذلک ، فما استجع ضاحکاًحتّی مات وأنزل اللّٰه: (وَمٰاجَعَلْنَا الرُّؤْیَاالَّتِی أَرَیْنٰاکَ اِلاّٰ فِتْنَةً لِلنّٰاسِ) ۔

 رسول اکرم(ص) نے دیکھا کہ بنی امیہ ان کے منبر پر بندروں کی طرح اچھل رہے ہیں۔پس آپ اس سے بہت پریشان ہوئے  اور اس واقعہ کے بعد کسی کے ساتھ نہیں مسکرائے یہاں تک کہ اس دنیا سے چلے گئے ۔خداوند کریم نے یہ آیت نازل فرمائی:'' اور جو خواب ہم نے آپ کو دکھلایا ہے وہ صرف لوگوں کی آزمائش کا ذریعہ ہے''۔نیز سیوطی نے روایت کی ہے کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا:أریت بن امیّة علی منابر الأرض وسیتملّکونکم فتجدونهم أرباب سوء

 مجھے بنی امیہ دکھلائے گئے کہ وہ زمین کے منبروں پر چڑھے ہوئے ہیں اور وہ بہت جلد تمہارے مالک بن جائیں گے!اور پھرتم انہیں برے ارباب پاؤ گے۔

--------------

[1]۔ معاویہ بن ابی سفیان:38، تاریخ بغداد:449


واهتمّ رسول اللّٰه (ص) لذلک: فأنزل اللّٰه (وَمٰاجَعَلْنَاالرُّؤْیَاالَّتِی أَرَیْنٰاکَ اِلاّٰ فِتْنَةً لِلنّٰاسِ) (1)

 پیغمبر اکرم (ص) اس واقعہ سے بہت پریشان و غضبناک ہوئے پس خداوند کریم نے یہ آیت نازل فرمائی:'' اور جو خواب ہم نے آپ کو دکھلایا ہے وہ صرف لوگوں کی آزمائش کا ذریعہ ہے''۔

  حکَم اور اس کے بیٹوں کے بارے میں قرآن کی پیشنگوئی

بنی امیہ  کی حکومت کے بارے میں نقل ہونے والی  پیشنگوئیوں میں سے کچھ پیشنگوئیاں ان سب کے بارے میں ہیں اور کچھ پیشنگوئیاں ان میں سے مخصوص افراد کے بارے میں ہیں۔جیسے ابوسفیان،حکم یا اس کے کسی بیٹے کے بارے میں وارد ہونے والی پیشنگوئیاں۔

 ہم اس بارے میں جو روایت ذکر کریں گے ،وہ روایت اہلسنت کے مشہور علماء نے اپنی کتابوں میں نقل کی ہیں۔

 سیوطی نے اپنی تفسیر میں  ابن ابی حاتم سے اور اس نے عمر کے بیٹے سے روایت کی ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا:

 میں نے حکم بن ابی العاص کے بیٹوں کو اپنے منبر پر دیکھا گویا وہ بندروں کی طرح تھے، خداوند نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی:

 (وَمٰا جَعَلْنَا الرُّؤْیَا الَّتِی أَرَیْنٰاکَ اِلاّٰ فِتْنَةً لِلنّٰاسِ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ ) (2)

 اور جو خواب ہم نے آپ کو دکھلایا ہے وہ صرف لوگوں کی آزمائش کا ذریعہ ہے جس طرح کہ قرآن میں قابل لعنت شجرہ بھی ایسا ہی ہے۔ ''شجر ملعونہ''سے حکم اور اس کے بیٹے مراد ہیں۔

 نیز سیوطی نے عائشہ سے روایت کی ہے کہ اس نے مروان بن حکم سے کہا:

 میں نے رسول خدا(ص) سے سنا ہے کہ وہ تمہارے باپ اور دادا سے فرما رہے تھے:

--------------

[1]۔ معاویہ بن ابی سفیان:28، الدّر المنثور:ج۴ص۱۹۱

[2]۔ سورۂ اسراء،آیت:60


 انکم الشجرة الملعونة فی القرآن

 تم ہی وہ شجر ہو جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے۔(1)

 آلوسی نے اپنی تفسیر میں روایت کی ہے کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا:

 رأیت ولد الحکم بن ابی العاص علی المنابرکأٔنهم القردة، و أنزل اللّٰه تعالی فی ذلک: (وَمٰا جَعَلْنٰا....)، والشجرة الملعونة الحکم وولده

 میں نے حکم بن ابی العاص کے بیٹوں کو منبروں پر دیکھا گویا وہ بندر وں کی طرح تھے۔خداوند نے اس بارے میں یہ آیت(وَمٰا جَعَلْنٰا..) نازل فرمائی ۔اور شجر ملعونہ حکم اور اس کے بیٹے ہیں۔(2) قرطبی نے بھی اپنی تفسیر میں نقل کیا ہے:

 انه رأء فی المنام بن مروان علی منبره نزو القردة، فساء ذلک فقیل:انّما ه الدّنیا أعطوها، فسرّی عنه و ما کان له بمکّة منبر و لکنّه یجوز أن یری بمکّة رؤیا المنبر بالمدینة

 رسول اکرم(ص) نے عالم خواب میں دیکھا کہ بنی مروان آپ کے منبر پر بندروں کی طرح اچھل رہے ہیں ۔آپ اس واقعہ سے بہت پریشان ہوئے تو آنحضرت سے کہا گیا کہ یہ دنیا ہے کہ جو انہیں دی جائے گی۔اس سے آپ کا غم ہلکا ہوا اور اس زمانے میں آنحضرت کا مکہ میں کوئی منبر نہیں تھا لیکن آپ نے مکہ میں عالم خواب میں وہی منبر دیکھا تھا کہ جو مدینہ میں تھا۔(3)

شوکانی نے اپنی تفسیر میں یہ روایت ذکر کی ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا:رأیت ولد الحکم بن ابی العاص علی المنابر کأنهم القردة ، فأنزل اللّٰه هذه الآیة میں نے حکم بن ابی العاص کے بیٹوں کو منبروں پر دیکھا گویا وہ بندروں کی طرح تھے،پس  خدا نے  یہ آیت(وَمٰا جَعَلْنٰا...) نازل فرمائی ۔(4)

--------------

[1]۔ معاویہ بن ابی سفیان:28، الدّر المنثور:ج۴ص۱۹۱

[2]۔ معاویہ بن ابی سفیان:29،روح المعانی:ج4ص191

[3]۔ معاویہ بن ابی سفیان:31،الجامع لأحکام القرآن:ج10ص283

[4]۔ معاویہ بن ابی سفیان:31،فتح القدیر:ج3ص298


 فخر رازی نے بھی اپنی تفسیر میں اس آیت مبارکہ کے بارے میں روایت کی ہے:

 .... رأی رسول اللّٰه(ص)ف المنام انّ ولد مروان یتداولون منبره، فقصّ رؤیاه علی أبی بکر و عمر و قد خلا ف بیته معهما، فلمّا تفرّقوا سمع رسول اللّٰه (ص) الحکم یخبر رسول الله (ص)، فاشتدّ ذلک علیه و ممّا یؤکده هذا التأویل قول عایشه لمروان: لعن اللّٰه أباک و أنت ف صلبه، فأنت بعض من لعنه اللّٰه( 1)

.... رسول خدا(ص) نے خواب میں دیکھا کہ مروان کے بیٹے آپ کے منبر پر چڑھ رہے ہیں۔آپ نے اپنا خواب ابوبکر و عمر سے بیان کیا کہ جو پیغمبر(ص) کے گھر میں آپ کے ساتھ تنہا تھے ۔ جب وہ چلے گئے تو رسول خدا(ص) نے سنا کہ حکم نے یہ واقعہ پیغمبر(ص) سے نقل کیا ہے ۔ یہ واقعہ آپ پر سخت ناگوار گذرا (کہ ان دو افراد نے آپ کا فرمان حکم تک پہنچا دیا) اس آیت کی تأویل پر جو چیز تاکید کرتی ہے وہ عائشہ کا مروان سے کہا گیا قول ہے کہ خداوند نے تمہارے باپ پر  لعنت کی ہے جب کہ تم اس کے صلب میں تھے پس تم پر بھی خدا کی لعنت ہے۔سیوطی نے بھی اس آیت کی تأویل میں یہ روایت دوسری عبارت میں نقل کی ہے:

....رأی  رسول اللّٰه (ص) بن الحکم بن أب یالعاص ینزون علی منبره نزو القردة، فساء ذلک، فما استجمع ضاحکاً حتّی مات و أنزل اللّٰه فی ذلک ( وَمٰا جَعَلْنَا الرُّؤْیَا الَّتِی أَرَیْنٰاکَ اِلاّٰ فِتْنَةً لِلنّٰاسِ) (2)

 پیغمبراکرم(ص) نے خواب میں دیکھا کہ آپ کے منبروں پر حکم بن ابی العاص کے بیٹے بندروں کی طرح اچھل رہے ہیں ۔ اس واقعہ کے بعد آپ بہت پریشان ہوئے اور دنیاسے جاتے وقت تک کسی نے آپ کو ہنستے ہوئے نہیں دیکھا ۔

--------------

[1]۔ معاویہ بن ابی سفیان:31،جامع البیان:ج9ص112

[2]۔ معاویہ بن ابی سفیان:33،اتاریخ الخلفاء:26


 زمخشری نے بھی اپنی تفسیر میں اس آیت کی تأویل کو دوسری طرح نقل کیا ہے:اس نے اس آیت مبارکہ( وَمٰا جَعَلْنَا الرُّؤْیَا الَّتِی أَرَیْنٰاکَ اِلاّٰ فِتْنَةً لِلنّٰاسِ) کے بارے روایت کی ہے:

رأی فی المنام أنّ ولد الحکم یتداولون منبره کما یتداول الصبیان الکرّة ۔(1)

پیغمبر اکرم(ص) نے خواب میں دیکھا کہ حکم کے بیٹے آپ کے منبر پر اس طرح  کھیل رہے ہیں کہ جس طرح بچے گیند سے کھیلتے ہیں۔

پیغمبر اکرم(ص) اور امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی پیشنگوئیوں کا راز

 پیشنگوئیاں مستقبل کے لوگوں کا رسول اکرم(ص) کے ساتھ ارتباط اور ان بزرگ ہستیوں کے صحیح عقائد سے آشنا ہونے کا ذریعہ ہیں۔ جنہوں نے پیغمبر اکرم(ص) کے زمانے کو درک نہیں کیا اور جو آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہونے اور آپ کے ارشادات سے استفادہ کرنے سے محروم تھے اور ہیں،لیکن وہ مستقبل کے بارے میں آنحضرت کے بیان کئے گئے فرمودات کی طرف رجوع کرکے رسول خدا(ص) کی نظر میںآنے والے واقعات کا تجزیہ کر سکتے ہیں اور وہ یہ جان سکتے ہیں کہ جو واقعات آنحضرت کے زمانے کے بعد وقوع ہوئے یا وقع پذیر ہوں گے ،ان کے بارے میں رسول اکرم(ص) نے کیا فرمایا ہے۔

پیشنگوئیوں اور آئندہ کے حوادث کو بیان کرنے سے خاندان وحی علیہم السلام کا مقصد یہ تھا کہ مستقبل کے لوگ اپنے زمانے میں پیش آنے والے واقعات سے آگاہ ہوں اور کھلی آنکھوں سے ان کا مشاہدہ کریں اور ان کے مقابلے میں ہوشیار رہیں۔

 اگرچہ خاندان وحی علیہم السلام نے گذشتہ زمانے میں اپنے پاس موجود لوگوں سے اپنے فرامین بیان کئے لیکن ان کے فرامین ہر اس شخص کے  لئے ہیں کہ جنہوں نے ان حوادث کا سامنا کیا یاسامنا   کریں گے۔اسی طرح اس زمانے کے بعد زندگی گذارنے والے لوگوں کو گذشتہ تاریخ سے آگاہ ہونا چاہئے اور انہیں یہ جاننا چاہئے کہ ان واقعات کے بارے میں رسول خدا(ص) اور دین خدا کے پیشواؤں کا کیا اعتقاد تھا۔

--------------

[1]۔ معاویہ بن ابی سفیان:34،الکشّاف:ج2ص676


 اس بناء پر جس زمانے کے بارے میں بھی خاندان وحی علیہم السلام  نے کسی واقعہ کی پیشنگوئی کی ہو تو اس زمانے کے لوگوں (اور اس زمانے کے بعد زندگی گذارنے والوں)کو ان سے آگاہ ہونا چاہئے تا کہ آنکھیں بند کرکے گمراہی کی طرف نہ چلے جائیں اور گمراہ کرنے والی سازشوںسے دھوکا نہ کھائیں۔

 پس خاندان وحی علیہم السلام کی زبان سے پیشنگوئیوں کو بیان کرنے کا ایک راز یہ ہے کہ آئندہ آنے والے لوگ اپنے زمانے کے حوادث و واقعات سے آگاہ ہوں اور گمراہ کرنے والوں کی سازشوں سے محفوظ رہیں اور گمراہی کی وادی میں قدم نہ رکھیں۔

 ایک بہت ہی اہم نکتہ کہ جس کی طرف توجہ اور غور و فکر کرنا بہت ضروری ہے،وہ یہ ہے کہ حدیث لکھنے سے منع کرنے کے اسباب وعلل میں سے ایک رسول اکرم(ص) کی احادیث میں پیشنگوئیوں کے انتشار کو روکنا تھا۔کیونکہ رسول اکرم(ص) کی حدیثوں کی وجہ سے لوگ آئندہ کے حالات اور جنم لینے والے فتنوں سے آگاہ ہورہے تھے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ بہت سے افراد کی ہوشیاری اور بیداری کے لئے مؤثر تھیں۔

 رسول اکرم(ص) کی پیشنگوئیوں سے آگاہ افراد کے لئے یہ حقیقت واضح و روشن ہے اور سب لوگوں کو ان سے آگاہ ہونے کے لئے حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے سپہ سالار جناب عمار یاسر کی شہادت کے بارے میں رسول خدا(ص) کی پیشنگوئی کی طرف توجہ کرنی چاہئے۔

 ہم آئندہ اس بارے میں بحث کریں گے تا کہ یہ واضح ہو جائے کہ آنحضرت کی پیشنگوئیوں نے کس طرح شام کے لشکر میں اختلافات پیدا کر دیئے اور ان میں سے کچھ لوگ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے ساتھ کیوں مل گئے حتی کہ پیشنگوئیوں کے اثرات اتنے گہرے تھے کہ معاویہ اور عمرو عاص کے درمیان  اختلافات پیدا ہو گئے اور نزدیک تھا کہ اس کی وجہ سے شام کے لشکر کو شکست کا سامنا کرنا پڑے۔


 بنی امیہ کے بارے میں رسول اکرم(ص) کی پیشنگوئیاں

معاویہ، اس کی حکومت اور بنی امیہ کے پورے خاندان کے بارے میں رسول اکرم(ص) کی پیشنگوئیاں یہ بنیادی نکتہ بیان کرتی ہیں کہ امویوں نے رسول خدا(ص) کے فرامین پر توجہ نہیں کی اور حکومت کی کرسی پر ٹیک لگا کر آنحضرت کے حقیقی جانشینوں کو ان کے حق سے محروم کر دیا۔

مختلف پروپگنڈوں، جعلی اور من گھڑت افواہوں کے ذریعہ اکثر لوگوں (جو اسلام کے اصولوں سے آشنا نہیں تھے) کو دھوکا دیا اور خود کو رسول خدا(ص) کا حقیقی جانشین اور سچے خلفاء کےعنوان سےپیش کیا! رسول خدا(ص) کی پیشنگوئیاں صرف ان لوگوں کی گمراہی کی واضح دلیل نہیں تھیں کہ جنہوں نے امویوں سے دل لگایا اور ان کے ساتھ مل کر دین کی کمر توڑی ، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ گمراہ کرنے والے اموی خاندان کی گمراہی کی بھی دلیل تھیں۔ حیرت کا مقام ہے کہ تدوین حدیث کے بارے میں عمر کی ان تما م سختیوں اور ممانعت ( اس نے رسول خدا(ص) کے فرمودات کو پھیلانے سے منع کر دیا) کے باوجود لوگوں میں آئندہ کے منحوس حوادث کے بارے آنحضرت (ص) کی پیشنگوئیاں عام ہوئیں کہ جن سے صرف اس زمانے کے سیاستدان ہی نہیںبلکہ عام لوگ بھی آگاہ ہوئے۔ اس نکتہ کی یاد دہانی ضروری ہے کہ رسول اکرم(ص) اور امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی پیشنگوئیوں کا تذکرہ صرف شیعہ بزرگ علماء نے ہی اپنی کتابوں میں نہیں کیا بلکہ اہلسنت  کے مؤرخین اور بزرگ علماء نے بھی انہیں اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے اور یوںلوگوں کا امویوں کے کردار و رفتار کو پہچاننے اور ان سے آشنا ہونے کے لئے حجت تمام ہوئی ہے۔

بنی امیہ کی حکومت کے بارےمیں رسول اکرم(ص) کی پیشنگوئی

پیغمبر اکرم(ص) نے بنی امیہ اور ان کے بعض افراد کے بارے میں کچھ پیشنگوئیاں کیں اور لوگوں کو اسلام کے ساتھ ان کی دشمنی اور نفاق سے آگاہ کیا۔جناب ابوذر نے آنحضرت سے معاویہ کے بارے میں جو پیشنگوئی نقل کی،ہم ابن ابی الحدید کے قول کے مطابق


کچھ مطالب ذکر کریں گے ۔جب بھی ععاص کی اولاد کی تعداد تیس تک پہنچ جائے گی تو اس کے بارے میں رسول اکرم(ص) نے کچھ مطالب بیان فرمائے ہیں۔اب ہم ان تیس افراد کے بارے میں یعقوبی(اہلسنت کے ایک مؤرخ) کی واضح عبارت سے آنحضرت کی پیشنگوئی بیان کرتے ہیں۔

     وہ کہتے ہیں: معاویہ نے عثمان کو لکھا کہ تم نے ابوذر کے ذریعے اپنے لئے شام کو تباہ کر لیا۔

     پس اس کے لئے لکھا کہ اسے بے کجاوہ سواری پر سوار کرو۔

     اس طرح انہیں مدینہ لایا گیا جب کہ ان کے دونوں زانوں کا گوشت الگ ہو چکا تھا۔پس جب وہ آئے تو اس کے پاس ایک گروہ موجود تھا،اس نے کہا:مجھ سے کہا گیا ہے کہ تم یہ کہتے ہو:میں نے پیغمبر سے سنا ہے کہ وہ کہتے تھے:

     اذا کملت بنو امیّة ثلاثین رجلاً اتّخذوا بلاد اللّٰه دولاًوعباد اللّٰه خولاً،و دین اللّٰه دغلاً

     جب بھی بنی امیہ کی تعداد تیس افراد تک پہنچ گئی تووہ خدا کی زمین کو اپنی ملکیت سمجھیں گے۔ خدا کے بندوں کو اپنا نوکر  اور خدا کے دین کومکاری و فساد سمجھیں گے۔

کہا: ہاں؛ میں نے پیغمبرخدا(ص) سے سنا تھا کہ آپ نے ایسا ہی فرمایا۔

 پھر ان سے کہا:کیا تم لوگوں نے رسول خدا (ص) سے کچھ سنا ہے تو بیان کرو؟پھر حضرت علی بن ابی طالب علیہما السلام کے پاس بھیجا اور آنحضرت اس کے پاس آئے۔

 ان سے کہا:اے ابوالحسن! کیا آپ نے پیغمبر خدا(ص) سے یہ حدیث سنی ہے کہ جسے ابوذر بیان کر  رہے ہیں؟اور پھر حضرت علی علیہ السلام سے سارا واقعہ بیان کیاگیا۔

     حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:ہاں

     اس نے کہا:آپ کس طرح گواہی دے رہے ہیں؟فرمایا:

     رسول خدا(ص) کے اس فرمان کی روشنی میں:


     ''ما اظلّت الخضراء ولاأقلّت الغبراء ذا لهجة أصدق من ابی ذر'' (1)

     آسمان نے سایہ نہیں کیا اور زمین نے کسی کو خود پر جگہ نہیں دی کہ جو ابوذر سے زیادہ سچا ہو۔

     پس ابوذر مدینہ میں کچھ دن تک ہی تھے کہ عثمان نے ان کے پاس کسی کو بھیجا اور کہا کہ خدا کی قسم تم مدینہ سے باہر چلے جاؤ۔

     ابوذر نے کہا:کیا تم مجھے حرم رسول خدا(ص) سے نکال رہے ہو؟

     کہا:ہاں؛جب کہ تم ذلیل وخوارہو!

     ابوذرنے کہا:میں مکہ چلا جاؤں ؟

     کہا :نہیں

     پھر کہا:کیا بصرہ چلا جاؤں؟

 کہا: نہیں

 ابوذر نے کہا:پس پھر کوفہ چلا جاؤں؟

 کہا: نہیں؛ لیکن ربذہ چلے جاؤ کہ جہاں سے آئے تھے تا کہ وہیں مر جاؤ۔اے مروان اسے باہر نکال دو اور کسی کو اس سے بات کرنے کی اجازت نہ دو یہاں تک کہ یہ یہاں سے باہر نکل جائے۔ پس ابوذر کو ان کی زوجہ اور بیٹی کے ساتھ اونٹ پر سوار کر کے باہر نکال دیا گیا۔ حضرت علی علیہ السلام، امام حسن علیہ السلام،امام حسین علیہ السلام،عبداللہ بن جعفر اور عمار بن یاسر جناب ابوذر سے ملنے کے   لئے شہر سے باہرآئے اور جب ابوذر نے حضرت علی علیہ السلام کو دیکھا تو آگے بڑے اور آپ کی دست بوسی کی اور پھر رونا شروع کر دیا اور کہا:میں جب بھی آپ کو اور آپ کے بیٹوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے پیغمبر اکرم(ص) کا فرمان یاد آ جاتا ہے اور رونے کے علاوہ میرے پاس اور کوئی چارہ نہیں ہوتا۔

--------------

[1]۔ نہج البلاغہ ابن ابی الحدید:283


 حضرت علی علیہ السلام ان سے بات کرنے  کے لئے گئے لیکن مروان نے کہا:امیر المؤمنین !نے منع کیا ہے کہ کوئی بھی ان کے ساتھ بات نہ کرے۔

 حضرت علی علیہ السلام نے تازیانہ اٹھایا اور مروان کے اونٹ پر مارا اور کہا:دور ہو جاؤ؛ خدا تمہیں آگ میں جلائے۔ اور پھر آپ نے جناب ابوذر کو الوداع کیا اور ان کے ساتھ گفتگو کی کہ جن کی تفصیلات بہت طولانی ہیں۔(3)(2)

 اس روایت میں پیغمبر اکرم(ص) کے فرمان کی بناء پر جب بنی امیہ کے افراد کی تعداد تیس ہو جائے گی تو وہ نہ صرف ممالک کو اپنا مال ،خدا کے بندوں کو اپنا نوکر و فرمانبردارسمجھیں گے بلکہ اصل دین کو مکاری و فساد قراد دیں گے۔اور یہ خود اس چیز کی دلیل ہے کہ ان کے اسلام کی کوئی بنیاد نہیں تھی بلکہ وہ صرف ایک ظاہری پہلو تھا۔سب لوگ جانتے ہیں کہ معاویہ نے خدا کے پاک بندے  اور رسول خدا(ص)کے محبوب صحابی جناب ابوزر کے ساتھ کیسا سلوک کیا۔

حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی بنی امیہ کی حکومت کے بارے میں ''الغارات '' سے منقول پیشنگوئی

 زر بن حبیش کہتے ہیں:حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے جنگ نہروان کے ختم ہونے کے بعد لوگوں کو خطبہ دیا اور خدا کی حمد و ثنا اور درود و سلام کے بعد یوں فرمایا:

اے لوگ!میں نے فتنہ کی آگ کو بجھا دیا اور ان کی آنکھیں کھول دیںاور سب پر حقیقت کو آشکار کر دیا۔میرے علاوہ کسی میں یہ جرأت نہیں تھی کہ خود کو اس فتنہ میں داخل کرے اور یہ فتنہ جنم دینے والوں کے خلاف جنگ و جہاد کے لئے اٹھے۔

 (ابن ابی لیلیٰ کی حدیث میں آیا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:)میرے علاوہ کوئی اور نہیں تھا کہ جو فتنہ کی آنکھیں کھولے اور لوگوں کے لئے حقائق و واقعات آشکار کرے،اگر میں تم لوگوں میں نہ ہوتا تو کوئی بھی اہل جمل و نہروان کے ساتھ جنگ نہ کرتا۔

--------------

[2]۔ نہج البلاغہ

[3]۔ تاریخ یعقوبی:ج۲ص6۷


 خدا  کی  قسم! اگر اپنے برے اعمال سے دستبردار نہ ہوئے  اور فساد سے پرہیز نہ کیا تو  میں وہ بتادو گا کہ جواس واقعہ کے بارے میں  رسول خدا(ص) کی زبان سے سنا تھا،میں کہنے والی باتیں کہوں گا تا کہ مسائل واضح ہو جائیں اور سب پہچانیں جائیں۔

 آج جو اہل فتنہ کے ساتھ جنگ کر نے والوں کے لئے حقائق واضح و روشن ہیں اور وہ بصیرت سے جنگ کر رہے ہیں اور وہ یہ جانتے ہیں کہ فتنہ انگیز لوگ گمرا ہ ہیں اور وہ فتنہ برپا کرنے والوں کے ساتھ جہاد میں ثابت قدم اور راہ راست پر ہیں۔

 اس کے بعد حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا:مجھ سے سوال کرو اس سے پہلے کہ تم مجھے کھو دو،میں مر جاؤں یا قتل ہو جاؤں گا؛بلکہ قتل ہی ہوں گا،اب انتظار میں ہوں تا کہ بدترین شخص میرے داڑھی کو خضاب کرے اور میرے سر سے خون بہائے۔

 اسی وقت حضرت علی علیہ السلام نے اپنا ہاتھ اپنی داڑھی پر پھیرا اور فرمایا:

اس خدا کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے؛مجھ سے آج سے لے کر قیامت تک کے آئندہ کے واقعات کے بارے میں پوچھو،میں ہر ایک کا جواب دوں گا اور تم میں سے گمشدہ اور ہدایت یافتہ لوگوں کو مطلع کروںگا۔

 اسی وقت ایک شخص اٹھا اور اس نے کہا:یا امیر المؤمنین؛مجھے مشکلات کے بارے میں بتائیں۔

 حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا:

 تم لوگ اس زمانے میں ہو کہ جب بھی کوئی سائل سوال کرے تو اس کے سوال پر غور کرو اور سوال کو عقل و درایت سے بیان کرو اور جب بھی کسی سے کوئی سوال پوچھا جائے تو وہ بھی غور و فکر کے ساتھ اور سوچ سمجھ کرجواب دے۔

 اب یہ جان لو کے تمہارے پیچھے بہت بڑے حادثات ہیں اور ایک کے بعد دوسرا حادثہ رونماہو گا یہ مشکلات اور فتنہ انسان کو اندھا  اور سرگردان کر دیں گے اور حق کو باطل کے نیچے پوشیدہ کردیں گے۔  اس خدا کی قسم جس نے دانے کو شگافتہ کیااورمخلوقات کو خلق کیا؛اگر تم لوگوں نے مجھے کھو دیا اور ناگوار حادثات پیش آئیں  ،تمہیں مصیبتیں گھیر لیں  اور تم پر بلائیں ٹوٹ پڑیں تو پھر نہ تو سوال کرنے والے سوال کر سکیں گے اور نہ ہی جواب دینے والے جواب دے سکیں گے۔


یہ مصیبتیں اس وقت پیش آئیں گی کہ جب جنگ شدت اختیار کر لے گی اور پھیل جائے گی اورسب لوگ اس کی آگ میں گرفتار ہو جائیں گے،اس وقت تم لوگوں پر دنیا تنگ ہو جائے گی اور ہر طرف سے تم پر اور تمہارے خاندان پر بلائیں نازل ہوں گی یہاں تک کہ خدا کاموں اور حالات میں آسانی پیدا کرے اور باقی بچنے والے نیک افراد ان مصیبتوں سے نجات حاصل کریں۔

 اور اب بدر و حنین کے دن پرچم اٹھانے والوں کی مدد کرو تا کہ تمہاری بھی مدد کی جائے اور تمہیں اس کا اجر دیا جائے،ان پر سبقت نہ لو ورنہ مشکلات میں ہلاک ہو جاؤگے اور  منہ کے بل زمین پر گر جاؤگے۔

 یہاں وہ شخص اٹھا اور اس نے کہا:یا امیرالمؤمنین !مجھے فتنوں سے آگاہ فرمائیں اور آئندہ کے حادثات کے بارے بیان فرمائیں۔حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا:

 جب فتنوں نے سر اٹھایا تو وہ لوگوں کو شبہ میں ڈال دیں گے اور جب بھیپشت کریں گے تو لوگوں کو آگاہ کردیں گے  اور حقائق کو آشکار کردیں گے۔جب بھی سامنا کریں گے تو شبہ پیدا کردیں گے اور جب پیٹھ کریں گے تو پہچانیں جائیں گے،فتنوں کی مثال ہواؤں کی طرح ہے کہ جو بعض شہروں میں تو چلتی ہے اور بعض میں نہیں چلتی۔

  اے لوگو!آگاہ ہو جاؤ کہ سب سے خوفناک فتنہ بنی امیہ کا فتنہ ہوگا۔وہ اندھا اور تاریک فتنہ ہے کہ جس میں کوئی نور و روشنی نہیں ہے،وہ فتنہ ہر جگہ پھیل جائے گا اور ایک گروہ کومبتلا کر دے گا،جو اہل بصیرت ہوں گے وہ اس فتنہ میں حق کو پا لیں گے اور جس کا دل اندھا ہو گا اور جس میں بصیرت نہیں ہو گی  اور وہ اس میں گرفتار ہو جائیں گے۔

  اس اندھے اور گھیرنے والے فتنہ میں کہ جس میں حق کا کوئی نام و نشان بھی نہیں ہو گا،اہل باطل  حق کے طرفداروں پر غلبہ پالیں گے یہاں تک کہ زمین دشمنی اور ظلم وستم سے بھر جائے گی اور ہر طرف بدعت پھیل جائے گی اورسب سے پہلے خداوند اس ظلم و ستم کو ختم کرے گا اور اس کے ستونوں اور بنیادوں کو درہم برہم کر دے گا۔

 خدا کی قسم!بنی امیہ برے حکمران ہیں،میرے بعد وہ تمہیںاپنے دانتوں سے چباڈالیں گے،وہ اپنے منہ سے تمہیںکاٹیں گے،اپنے ہاتھوں ہاتھوں اور پاؤں سے تمہیں کچلیں گے اور تمہیں تکلیفیں پہنچائیں گے اور تمہیں خیرات سے منع کریں گے، وہ تمہارے ساتھ ایسا سلوک کریں گے کہ سب لوگ یا تو ان کی اطاعت کریں یا پھر خاموش رہیں۔


     بنی امیہ تم  پر ایسی بلائیں نازل کریں گے تا کہ تم سب ان کی طرفداری کرو اور ان کی اطاعت  کرو؛جس طرح ایک غلام اپنے آقا کی اطاعت کرتاہے اور اس کی مدد کرتا ہے،غلاموں کی عادت یہ ہے کہ جب بھی اپنے مولا و آقا کو دیکھتے ہیں تو اس کی اطاعت کرتے ہیں اور جب بھی اس سے دور ہو جائیں تو اسے دشنام دیتے ہیں۔

     خدا کی قسم!اگر بنی امیہ تمہیں بیابانوں میں منتشرکر دیں اور تم میں سے ہر کوئی کسی پتھر کے نیچے چھپ جائیتو خداوند تم لوگوں کو ایک دن اکٹھا کرے گا اور وہ دن ان کے لئے بہت برا دن ہو گا۔تم لوگ میرے بعد منتشر گروہ بن جاؤگے جب کہ تم لوگوں کا قبلہ،حج اور عمرہ ایک ہے لیکن دلوں میں ایک دوسرے سے اختلاف ہے اور اس کے بعد اپنی انگلیاں آپس میں ملا دیں۔

     ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا:یا امیرالمؤمنین!آپ نے اپنی انگلیاں آپس میں کیوں ملائیں؟

     حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا:

     ان میں سے ایک اسے قتل کرے گا اور وہ اس کے پاؤں کاٹ دے گا۔وہ زمانۂ جاہلیت کے لوگوں کی طرح ایک دوسرے سے جدا ہوکر گروہ گروہ ہو جائیں گے،انہیں سعادت کا راستہ نہیں ملے گا اور ہدایت کا راستہ بھی نہیں ملے گا۔

     اس جماعت کا کوئی راہنما نہیں ہے کہ جو ان کی راہنمائی کرے اور انہیں حق کا راستہ دکھائے۔ ہم اہلبیت ان حادثات اور فتنوں سے نجات پائیں گے اور لوگوں کو فتنوں اور گمراہی کی طرف نہیں ڈھکیلیں گے اور انہیں فساد و تباہی کی طرف نہیں لے کر جائیں گے۔

 یہاں ایک شخص پھر کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا:یا امیر المؤمنین؛ہم اس زمانے میں کون سا کام انجام دیں؟

 حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا:

 جس وقت ہر جگہ فتنہ اور فسادپھیل جائے  اور معاشرے میں بدعتیں پیدا ہو جائیں تو تم لوگ اپنے پیغمبر(ص) کی اہلبیت علیہم السلام کی پیروی کرنا،اگر وہ گھر میں بیٹھیں تو تم بھی اپنے گھروں میں رہنا اور اگر انہوں نے قیام کیااورتم لوگوں کو بھی جنگ کی دعوت دی تو تم ان کی آواز پر لبیک کہنا اور ان کی مدد کرنا۔


     تم لوگ ہوشیاررہنا کہ ان پر سبقت نہ لینا ورنہ اس صورت میں تم زمین پر گر جاؤ گے۔

     ایک شخص پھر کھڑا ہوا اور اس نے کہا:اے امیر المؤمنین؛اس کے بعد کیا ہو گا؟

     حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا:

     اس کے بعد خداوند ہم اہلبیت علیہم السلام کے ذریعے فنتوں کوتھام دے  گاکہ جس طرح گوشت سے کھال کو جدا کرتا ہے۔

میرے بابا اس بہترین کنیز کے فرزند پر قربان ہوں؛وہ اہل فتنہ، تخریب کاروں اور فساد پھیلانے والوں کو ہلاک کرے گا اور انہیں خوار وذلیل کرے گا۔ان کے حلق میں تلخ جام انڈیل دے گا اور سب کو تلوار سے نابود کرے گا اور سب کا خون بہائے گا۔وہ آٹھ ماہ تک تلوار اپنے کندھے پر رکھ کے جنگ کرے گا۔

  اس وقت قریشی یہ خواہش کریں گے کہ کاش ایک لمحے کے لئے میں وہاں ہوتا اور ان کی مدد کرتا، اس دن قریشی کہیں گے: اگر یہ اولاد فاطمہ علیہا السلام میں سے ہوتا تو ہم پر اپنا رحم و کرم کرتا اور ہمارا خون نہ بہاتا۔

خداوند اسے بنی امیہ پر مسلط کرے گا اور وہ اسے جہاں بھی ملیں گے ، وہ انہیں قتل کرے گا اور ان پر نفرین و لعنت کرے گا۔(1)

حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی بہت ہی اہم پیشنگوئی دلالت کرتی ہے کہ فتنوں اور فتنوں کے ذریعے گمراہ کرنے والوں کا سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا یہاں تک کہ قائم آل محمد علیہم السلام کے قیام سے  پوری دنیا پرفتنہ گروں کی حکومت کا خاتمہ ہو گا اور کائنات کو پھر سے راہ ہدایت  نصیب ہو گی۔

--------------

[1]۔ الغارات و شرح اعلام آن:31


 بنی امیہ کی حکومت کے بارے میں حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی  ایک اور پیشنگوئی

حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ کے خطبہ144 کے آغاز میں پیغمبر اور رسول مبعوث کرنے کی حکمت بیان فرمائی اور پھرخطبہ کے ایک حصہ میں گمراہوں کی پہچان اور عبدالملک کے مظالم کاتذکرہ کیا:

 امام علی علیہ السلام نے خطبہ کے آغاز میں فرمایا:

بعث اللّٰه رسله بِما خصّهم بِهِ مِن وحیِهِ، وجعلهم حجّة له علی خلقِهِ، لِئلاّ تجِب الحجّة لهم بِتَرکِ الاِعذارِ اِلیهِم، فدعاهم بِلِسانِ الصِّدقِ اِلٰی سبِیلِ الحقِّ

....أین الّذِین زعموا أَنَّهم الرّٰاسِخون فِی العِلمِ دونناکذباً وبغیاً علینا؟ أَن رفعنا اللّٰه ووضعهم، وأعطانا وحرمهم، وأَدخلَنا وَأَخرجهم، بِنا یُستعطَی الهُدی،  وَیُسْتجلَی العمی، اِنَّ الْأَئِمَّةَ مِن قریش غُرِسوا فِی هذا البطنِ مِن هاشِم، لا تصلح علی سِواهم، ولا تصلُح الوُلاة مِن غیرِهم

 پروردگار نے مرسلین کرام کو مخصوص وحی سے نواز کر بھیجا اور انہیں اپنے بندوں پر اپنی حجت بنا دیا تا کہ بندوں کی یہ حجت تما م نہ ہونے پائے کہ ان کے عذر کا خاتمہ نہیں کیا گیا۔پروردگار نے ان لوگوں کو اسی لسان صدق کے ذریعہ راہ حق کی طرف دعوت دی ہے۔ ....کہاں ہیں وہ لوگ جن کا خیال یہ ہے کہ ہمارے بجائے وہی راسخون فی العلم ہیں؟اور یہ خیال صرف جھوٹ اور ہمارے خلاف بغاوت سے پیدا ہوا ہے کہ خدا نے ہمیں بلند بنا دیا ہے اور انہیں پست رکھا ہے،ہمیں کمالات عنایت فرما دیئے ہیں اور انہیں محروم رکھا ہے،ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر لیا ہے اور انہیں باہر رکھا ہے، ہمارے ہی ذریعہ سے ہدایت طلب کی جاتی ہے اور اندھیروں میں  روشنی حاصل کی جاتی ہے۔یاد رکھو قریش کے سارے امام جناب ہاشم کی اسی کشف زار میں قرار دیئے گئے ہیں۔(1) اور یہ امامت نہ ان کے علاوہ کسی کو زیب دیتی ہے اور نہ ان سے باہر کوئی ان کا اہل ہو سکتا ہے۔ (ولایت و امامت اور رہبری و قیادت صرف خاندان ہاشم سے مخصوص ہے)

--------------

[1] ۔  امام علیہ السلام کا یہ سخن گویا واقعہ سقیفہ کی طرف اشارہ ہے۔ جب انصار نے خلافت کا دعوی کیا تو ابوبکر نے کہا: ''الأئمة من قریش'' اور اپنے اس کلام سے اس نے انصار کے دعوی کوردّ کیا۔ امام علیہ السلام فرماتے ہیں: جی ہاں؛ امام قریش سے ہیں لیکن قریش کے کسی بھی طائفہ سے نہیں بلکہ صرف خاندان ہاشم  میںسے ہیں ۔امیر المؤمنین علی علیہ السلام باپ کی طرف سے بھی اور ماں کی طرف سے بھی ہاشمی ہیں۔


 آثروا عاجِلاً، وأَخَّروا آجِلاً، وترکوا صافِیاً، وشرِبوا آجِناً کأَنِّ أنظر اِلی فاسِقِهِم وقد صحِب المنکر فألِفَه، وَبَسَِ بِهِ ووافقه، حتی شابت علیهِ مفارِقه، وصُبِغت بِهِ خلائِقه،ثمّ أَقبل مُزبِداً کالتّیّارِ لا یبالِی ما غرّق، أو کَوَقْع النّٰارِ فی الهَشیمِ لا یحفِل ما حرَّق

 (بنی امیہ) ان لوگوں نے حاضر دنیا کو اختیار کر لیا ہے اور دیر میں آنے والی آخرت کو پیچھے ہٹا دیا ہے، صاف پانی کو نظر انداز کر دیا ہے اور گندہ پانی کو پی لیاہے،گویا کہ میں ان کے فاسق کو دیکھ رہا ہوں جو منکرات سے مانوس ہے اور برائیوں سے ہم رنگ و ہم آہنگ ہوگیا ہے،یہاں تک کہ اسی ماحول میں اس کے سر کے بال سفید ہو گئے ہیں اور اسی رنگ میں اس کے اخلاقیات رنگ گئے ہیں۔اس کے بعد ایک سیلاب کی طرح اٹھا ہے جسے اس کی فکر نہیں ہے کہ کس کو ڈبو دیا ہے اور بھوسہ کی ایک آگ ہے جسے اس کی پرواہ نہیں ہے کہ کیا کیا جلا دیا ہے۔

 امام علی علیہ السلام نے اس خطبہ میں ایک شخص کو مدنظر رکھا ہے کہ برائی،  پلیدی اور ناپاکی اس کی طبیعت کا حصہ بن گئی ہیں ۔ امام علیہ السلام کا مورد نظر شخص ذات و صفات کے لحاظ سے ناپاک اور بد طینت ہے اور اسی بد طینتی کے ساتھ وہ بوڑھاہو جائے گا۔

 ان دونوں طرح کے اشخاص میں فرق ہے کہ جو کبھی جہالت و نادانی یا دنیا طلبی یا غرور کی وجہ سے کوئی ناپسندیدہ کام انجام دے  اور اپنے گناہ و معصیت کی طرف متوجہ ہوکر توبہ کرے اور اس نے جو کچھ انجام دیا ہو اس پر پشیمان ہو، اورجو ناپسندیدہ کام اور برائیاں اس طرح سے انجام دے کہ یہ اس کی شخصیت کا حصہ بن جائیں تو اس صورت میں وہ اپنے اعمال کی طرف متوجہ نہیں ہوتا اور اپنے کام کی برائی اور اچھائی کو سمجھنے سے عاجز ہوتا ہے۔

 ہندو شاہ ''تجارب السلف'' میں کہتا ہے:ایک دن عبدالملک مروان نے سعید بن مسیب سے کہا: میں ایسا بن گیا ہوںکہ اگر کوئی اچھا کام کروں تو خوش نہیں ہوتا اور اگر کوئی شر بپا کروں تو میں غمگین نہیں ہوتا۔

 سعید نے کہا:''الآن تکامل فیک موت القلب''

 اب تمہارے دل کی موت مکمل ہو گئی ہے۔


 عبدالملک مروان ان میں سے ہے کہ جس نے اپنی حکومت  کے اکیس سال کے دوران بے  شمار  شرمناک کام انجام دیئے ہیں: جن میں سے ایک حجاج بن یوسف ثقفی کو منتخب کرناتھاجو عراق کی حکومت کے لئے عرب کامشہور خونخوار تھا۔

 حجاج کے قید خانہ میں کئی ہزار قیدی تھے جن میں سے اکثر سادات بنی ہاشم ،قرآن کے قاری،اسلام کے فقہاء اور حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے شیعہ تھے۔اس نے حکم دیا تھا کہ زندان میں قیدیوں کو نمک یا چونا ملا پانی دیا جائے اور کھانے کی بجائے گدھے کا فضلہ۔(1)

 اس کا دوسرا گناہ خانۂ کعبہ کو آگ لگانا اور اسے ویران کرنا تھا۔

 فاسق سے امام علی علیہ السلام کی مراد کون ہے؟اس کے بارے میں نہج البلاغہ کے شارحین نے مختلف اقوال بیان کئے ہیں۔ابن میثم کہتے ہیں:ممکن ہے فاسق سے ان کی مراد عبدالملک مروان ہو   اس صورت میں اس ضمیر سے مرادبنی امیہ ہیں۔

لیکن ابن ابی الحدید کہتے ہیں: میرے نزدیک بعید نہیں ہے کہ فاسق سے مراد وہ لوگ ہوں کہ جنہیں صحابی تو کہا جاتا ہے لیکن ان کی روش بہت بری تھی جیسے مغیرة بن شعبہ،عمروعاص، مروان بن حکم،معاویہ اور کچھ دوسرے لوگ....۔

 ممکن ہے کہ امام علیہ السلام کی مراد وہی معاویہ بن ابی سفیان ہو کیونکہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد معاویہ نے بیس سال تک حکومت کی اور اس مدت کے دوران اس نے بے شمار گناہ و منکرات انجام دیئے اور وہ کبھی بھی اپنے اعمال پر پشیمان نہیں ہوا کیونکہ پلیدی و ناپاکی اس کی فطرت ثانیہ اور اس کی ذات کا حصہ بن چکی تھی۔

 حضرت علی علیہ السلام کی حیات میں معاویہ نے جنگ صفین شروع کی کہ جس میں بے شمار مسلمان قتل ہوئے اور آنحضرت کی شہادت کے بعد اس نے حکم دیا کہ تمام مساجد اور منبروں سے خلیفۂ مسلمین پر سبّ و شتم کیا جائے اور یہ گناہ عظیم ساٹھ (60)  سال تک رائج رہا یہاں تک کہ عمر بن عبدالعزیز نے اس گناہ کو ختم کیا۔ معاویہ نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں یزید کو اپنا جانشین بنایا کہ جو  برملا گناہ انجام دیتا تھا اور وہ یہ گناہ انجام دینے میں  بے باک تھا۔

--------------

[1]۔ تجارب السلف ہندو شاہ  نخجوانی:75


 کہتے ہیں: کہ جب معاویہ ثانی ( یعنی اسی معاویہ کا پوتا ) کو حکومت ملی تو چالیس یا اس سے کچھ زیادہ دنوں کے بعد شام کی مسجد میں منبر پر گیا اور اس نے کہا: اے لوگو!جو کام میرے آباء و اجداد کرتے تھے چاہے وہ حق تھا یا باطل، میں اب اس سے زیادہ انجام نہیں دے سکتا،تم لوگ جسے چاہو معین کر لو ۔ یہ کہہ کر وہ منبر سے نیچے اتر آیا اور اپنے گھر جا کر اس نے اپنا دروازہ بند کر لیا یہاں تک کہ مر گیا یا قتل ہو گیا۔اس کی یہی بات باعث بنی کہ بنی سفیان سے حکومت بنی مروان کی طرف منتقل ہوئی۔

 لیکن معاویہ بن ابی سفیان میں اتنی بھی شرافت  اور اتنا انصاف نہیں تھا  اور اس نے اپنے ناپاک  و پلید بیٹے یزید  کے لئے مکر وفریب اور درہم و دینار کے ذریعہ قبائل کے سربراہوں سے بیعت لے لی اور انہیں مسلمانوں کی گردن پر سوار کر دیا ۔ معاویہ ستّر سال تک زندہ رہا اور حقیقت میں وہ اپنی عمر کے آخری حصہ کو پہنچ چکا تھا کہ جب امام علیہ السلام نے اس کی طرف اشارہ کیا۔(1)

  بنی امیہ کے انجام کے بارے میں حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی پیشنگوئی

حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ کے خطبہ166 میںاپنے بعد اپنے انصار اور شیعوں کے حالات کے بارے میں بیان فرمایا ہے اور پھر بنی امیہ کے انجام کی طرف اشارہ کیا ہے اور چونکہ کہ بنی امیہ کے بارے میں تاریخی ابحاث کسی حد تک گذشتہ ابحاث میں ذکر ہوئیں۔یہاں ہم خطبہ کے ایک حصہ کے ترجمہ اور بنی امیہ کے انجام کے بارے میں کچھ حوادث بیان کرنے پرہی اکتفاء کریں گے۔مولائے سخن امیر المؤمنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

 اِفترقوا بعد اُلفتِهِم، وتشتّتوا عن أصلِهِم، فمِنهم آخِذ بِغُصن أَینما مال،مال معهعلی أنّ اللّٰه تعالی سیجمعهم لِشرِّ یوم لِبنِ أُمیَّة، کما تجتمِع قَزَع الخرِیفِ  یُؤلِّف اللّٰه بینهم، ثم یجعلهم رُکاماً کرکامِ السّحابِ، ثم یفتح لهم ابواباً، یسِیلون مِن مستثارِهِم کسیلِ الجنّتینِ، حیث لم تسلم علیهِ قارة ولم تثبت علیهِ أَکمة، ولم یردّ سننه رَصّ طَود، ولا حِداب أرض یُذعذِعهم اللّٰه فِی بطونِ أودِیتِهِ ثمّ یسلکهم ینابِیع فِ الأرضِ، یَأخذ بِهِم مِن قوم حقوق قوم، ویمکّن لِقوم فِی دِیارِ قوموایم اللّٰه؛ لیذوبنّ ما فِی أیدِیهم بعد العلوِّ والتمکِینِ،کَما تذوب الألیة علی النّٰارِ....

--------------

[1]۔ پیشنگوئی ھای امیرالمؤمنین علیہ السلام :322


 یہ لوگ (یعنی آنحضرت کے پیروکار اور شیعہ) باہمی محبت کے بعد الگ الگ ہو گئے اور اپنی اصل سے جدا ہو گئے۔ (شاید یہ شیعوں کے مختلف فرقوں کیسانیہ،علوی اور زیدی کی طرف اشارہ ہو) بعض لوگوں نے ایک شاخ کو پکڑ لیا اور اب اسی کے ساتھ جھکتے رہیں گے(شیعہ امامیہ)۔

 یہاں تک کہ خداوند متعال انہیں بنی امیہ کے بدترین دن کے لے جمع کر دے گا جس طرح خریف  میں بادل کے ٹکڑے جمع ہو جاتے ہیں۔پھر ان کے درمیان محبت پیداکرے گا پھر انہیں تہ بہ تہ ابر کے ٹکڑوں کی طرح ایک مضبوط گروہ بنا دے گا۔پھر ان کے لئے ایسے دروازوں کو کھول دے گاکہ یہ اپنے ابھرنے کی  جگہ سے شہر صبا کے دوباغوں کے اس سیلاب کی طرح بہ نکلیں گے۔(1) جن سے نہ کوئی چٹان محفوظ رہی ہے اور نہ کوئی ٹیلہ ٹھہر سکا ہے ۔نہ پہاڑ کی چوٹی اس کے دھارے کو موڑ سکی تھی اور نہ زمین کی اونچائی۔اللہ انہیں گھاٹیوں کے نشیبوں میں متفرق کر دے گااور پھر انہیں چشموں کے بہاؤ کی طرح زمین میں پھیلا دے گا۔ان کے ذریعہ ایک قوم کے حقوق د وسری قوم سے حاصل کرے گااور ایک جماعت کو دودسرے جماعت کے دیار میں اقتدار عطا کرے گا۔خدا کی قسم !ان کے اقتدار و اختیار کے بعد جو کچھ بھی ان کے ہاتھوں میں ہو گاوہ اس طرح پگھل جائے گا جس طرح کہ آگ پر چربی پگھل جاتی ہے۔

 .... بنی امیہ کی حکومت کی تأسیس سے پہلے امام علیہ السلام نے حکومت بنی امیہ کے زوال اور انحطاط کے بارے میں پیشنگوئی فرمائی اور ویسے ہی ہوا جیسے امام علیہ السلام نے فرمایا تھا۔ حجاز میں ابراہیم امام بن محمد بن علی بن عبداللہ بن عباس نام کا ایک شخص اپنے سجادہ پر بیٹھا عبادت   میں مشغول ہے اور خراسان میں کچھ لوگ اس کے نام پر کام کر یں گے اور اپنی جان خطرے میں ڈالیں گے۔

--------------

[1] ۔ امام علی علیہ السلام اس خطبہ میں فرماتے ہیں: '' یسِ یلون مِن مستثارِہِم کسیلِ الجنّتینِ''شاید یہ اس طرف اشارہ ہو کہ بنی امیہ پر دو طرف سے حملہ کیا جائے گا۔ایک ایرانیوں کی طرف سے یعنی ابومسلم خراسانی  اور دوسرا حجاز کوفہ وغیرہ کے لوگوں کی طرف سے۔

مؤلف:ممکن ہے کہ حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی مراد بنی امیہ کی آخری حکومت ہے کہ جو سفیانی کے توسط سے تشکیل پائے گی اور اس پر جناب یمانی اور سید حسنی کی طرف سے حملہ ہو گا۔


ابراہیم بن محمد(جو ابراہیم امام کے نام سے مشہور ہیں)کا نام ایک ہی دفعہ زبانوں پر آئے گا اور لوگ اس کی طرف متوجہ ہوں گے۔مروان حمار اسے گرفتار کرے گا اور اسے ''حرّان''لے جائے گااور اسے زندان میں مار دے گا ۔اس کے بھائی منصور اور سفّاح مدینہ سے ''حیرہ''کی طرف کوچ کریں گے۔

 ابو سلمہ انہیں کے گھر میں خلال  چھپائے گا۔ابو مسلم خراسانیوں کے بہت بڑے لشکر کے ساتھ عراق کی طرف روانہ ہو گا اور خود کو کوفہ پہنچائے گا۔جب وہ ان دو بھائیوں یعنی منصور اور سفّاح کودیکھے گا تو ان سے پوچھے گا :تم میں سے کون ابن حارثیّہ ہے ؟سفّاح کے بارے میں بتایا جائے گا اور ابو مسلم خلافت کے عنوان سے اسے سلام کرے گا۔پھر سفّاح ،منصور ،کوفہ کے کچھ رہائشی اور خاندان بنی ہاشم میں سے کچھ لوگ کوفہ کی طرف روانہ ہوں گے اور مسجدمیں جائیں گے جب کہ ابو مسلم خراسانی ان کے پیش پیش ہو گادوسری طرف ''حرّان''میں مروان بطورخلیفۂ  اموی  حکومت کرے گا جب کہ کوفہ میں لوگ سفّاح کی عباسی خلیفہ کے عنوان سے بیعت کریں گے۔

132ھ میں تمام مختلف گروہ بنی امیہ کے خلاف متحدہو جائیں گے ۔مروان حمار جنگ زاب میں شکست کے بعد ایک شہر سے دوسرے شہر بھاگے گا یہاں تک کہ بصرہ میں مارا جائے گا اور اس کا خاندان قیدی و در بہ درہو جائے گا۔

مؤرخین کہتے ہیں:بنی امیہ کی مشکلات کے انہیںایّام میں ایک دن مروان اپنے گدھے سے پیشاب کرنے کے لئے اترا اور جب واپس آیا اور اس نے گدھے پر سوار ہونا چاہا تو گدھا اس کے قابومیں نہ آیا اور اس سے بھاگ گیا جب کہ اس کے لشکر والے یہ صورت حال دیکھ رہے تھے۔اسی وجہ سے مروان بن محمد کو''مروان حمار''کا  لقب دیا گیا ۔لوگ کہتے تھے:''ذھبت الدولة ببولة'' یعنی بنی  امیہ کی حکومت پیشاب کے ساتھ بہہ گئی۔چونکہ حقیقت میں اسی دن مروان کی حکومت ختم ہوئی  اور سمجھ گیا کہ اب زمین و زمان دونوں اس کے ساتھ سازگار نہیں ہیں۔جنگ زاب (عراق میں موصل کے نزدیک ایک مقام) میں جب بھی مروان اپنی فوج کے کسی دستہ کو لڑنے کا حکم دیتا تھا وہ جواب میں کہتے تھے:کسی دوسرے دستہ کو حکم دو۔اس طرح سے وہ اس کا حکم ماننے سے انکار کرتے رہے ۔ بالآخر اس نے اپنے سپہ سالار سے کہا: اٹھو اور جنگ کے لئے جاؤ۔ اس نے جواب میں کہا:میں ہر گز اپنی زندگی ہلاکت میں نہیں ڈالوں گا۔


مروان نے کہا:میں تمہیں یہ کردوں گا وہ کر ددوںگا اور اس طرح اسے دھمکیاں دی۔

 سپہ سالار نے مروان سے کہا:مجھے اچھا لگتا اگر تم میں ایسا کرنے کی طاقت ہوتی ۔جب مروان نے جنگ میں اپنے لشکر والوں کی سستی دیکھی تو اس نے لشکر گاہ کے درمیان بہت زیادہ سکہ رکھ دیئے اور کہا:اے لوگو!جنگ کرو اور ان سکّوں میں سے اٹھا لو۔

 سپاہی جنگ کئے بغیر ہی سکّوں کی طرف بڑھے اور انہوں نے ان میں سے سکہ اٹھالئے ۔کسی شخص نے مروان کو بتایا کہ لوگ سکہ اٹھا کر جا رہے ہیں۔مروان نے اپنے بیٹے کو حکم دیا کہ فوج کے پیچھے کھڑے ہو جاؤ اور جو بھی ان سکّوں میں سے اٹھا کر جانے لگے اسے قتل کر دو۔

 جب مروان کا بیٹا اپنے پرچم کے ساتھ لشکر کے پیچھے روانہ ہوا تو لوگوں نے چلانا شروع کر دیا :شکست!شکست! اور سب کے سب بھاگ گئے اور دجلہ سے بھی گذر گئے۔کہتے ہیں کہ دجلہ میں غرق ہونے والوں کی تعداد قتل ہونے والوں سے زیادہ تھی۔

 جب مروان کو ''زاب''میں شکست ہوئی تو وہ موصل کی طرف روانہ ہوا گیا ۔موصل کے لوگوں نے نہر کا پل اٹھایالیا اور اسے وہاں سے گذرنے نہ دیا۔مروان کے ساتھیوں نے چلا کر کہا:اے موصل کے لوگو!یہ امیرالمؤمنین !ہے کہ جو پل سے گذرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا:جھوٹ بولتے ہو،امیرالمؤمنین فرارنہیں ہے اور انہوں نے مروان کو گالیاں دیں  اور کہا:اس خدا کی حمد و ثنا کہ جس نے تم سے طاقت چھین لی اور تمہاری حکومت کو ختم کر دیا اور اہلبیت پیغمبر علیہم السلام کو ہم تک پہنچا دیا۔ جب مروان نے یہ باتیں سنیں تو ''بلد''(2) کی طرف چل پڑا اور وہاں سےحرّان اور حرّان سے دمشق اور دمشق سے مصر میں داخل ہوا جب کہ عبداللہ بن علی بھی اس کا پیچھا کر رہا تھا۔(3) آخر کار مروان مصر میں مارا گیا اور اس کا سر کوفہ میں ابوالعباس سفّاح کے پاس بھیج دیا گیا۔لیکن اس کی عورتیں، بچے اور خاندان والے بنی العباس کے کارندوں سے بچنے کے لئے شہر شہر در بہ در ہو رہے تھے اور انہوں نے جنوب افریقہ کا راستہ اختیار کر لیا۔

--------------

[2] ۔ بلد، دجلہ کے کنارے موصل سے سات فرسنگ (ایک فرسنگ ساڑھے تین میل کے برابر ہوتا ہے ایک قدیم شہر ہے ۔ (معجم البلدان)

[3]۔ تاریخ فخری:198-195


 یہ بیچارے تو اپنوں کی لگائی ہوئی آگ میں جل رہے تھے یہ جہاں کہیں بھی جس کسی کے پاس پناہ لیتے تھے وہ لوگ بنی العباس کے خوف سے انہیں خود سے دور کر دیتے تھے۔سر زمین نوبہ (یعنی سوڈان) میںان لوگوں پر وحشی اقوام نے حملہ کر دیا اور ان کے پاس جو کچھ تھا وہ انہوں نے لوٹ لیا۔ خاندان مروان میں سے کچھ مارے گئے اور کچھ لوگ بھوک پیاس کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

 یعقوبی کے مطابق ان کی حالت اتنی  خراب ہو چکی تھی کہ اپنا پیشاب پیتے تھے تا کہ پیاس کی وجہ سے ہلاک نہ ہو جائیں۔آل مروان سے کچھ زندہ بچ جانے والے ''باب المندب''پہنچ گئے (جب کہ وہ ننگے،بھوکے اور پیاسے تھے۔وہ کشتی میں کام کرنے والوں کی صورت میں چھپ کر حجاز میں داخل ہوئے اور اسی طرح مخفیانہ طور زندگی گذارتے رہے۔

 یہ ہے امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے کلام کا معنی کہ جو آپ نے فرمایا:

 خدا کی قسم !ان کے اقتدار و اختیار کے بعد جو کچھ بھی ان کے ہاتھوں میں ہو گاوہ اس طرح پگھل جائے گا جس طرح کہ آگ پر چربی پگھل جاتی ہے۔(1)

 بنی امیہ کے زوال کے بارے میں حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی دیگر پیشنگوئی

 حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے ایک اور پیشنگوئی میں بنی امیہ کے شرمناک انجام کے بارے میں فرمایا ہے:

انّ لبن امیّة مروداً یجزون فیه ،ولو قد اختلفو فیما بینهم،ثم لو کادتهم الضباع لغلبتهم

 بیشک بنی امیہ کو مہلت  دی گئی ہے کہ جس میں وہ اکڑیں گے اور جب بھی ان کے درمیان اختلاف ہوا تو پھر اگر کبوتر بھی ان سے مکرو حیلہ کریں تو وہ پر غلبہ پا جائیں گے۔

 قال الرضی رحمه اللّٰه تعالی: وهذا من افصح الکلام وأعربه، والمرودُ هاهنا مفعل من الأرواد، وهو الامهال و الانظار، فکأنّه علیه السلام شبّه المهلة الّت هم فیها بالمضمار الّذی یجرون فیه الی الغایة، فاذا بلغوا منقطعها انتفض نظامهم بعدها

--------------

[1]۔ پیشگوئی ھای امیر المؤمنین علیہ السلام :305


سید رضی  کہتے ہیں: یہ فصیح ترین اور غریب ترین سخن ہے،یہاں کلمہ مرود ''ارواد'کے مصدر سے ہے۔جس کے معنی مہلت دینا ہے ، گویا امام علیہ السلام نے ان کو دی گئی مہلت کو مقبلہ کی جگہ سے تشبیہ دی ہے کہ جس کے اختتام تک اکڑیں اور جب وہ اپنے اختتام تک پہنچنے لگیں گے تو ان کا نظام علیحدہ ہو جائے گا۔

ابن ابی الحدید اس سخن کی شرح میں کہتے ہیں:یہ سخن واضح طور پر غیبی امور کی خبر دیتا ہے؛ کیونکہ بنی امیہ میں جب تک اختلاف نہیں تھا ، ان کی حکومت منظم تھی ۔ ان کی جنگیں بھی دوسرے افراد کے ساتھ تھیں۔جیسے معاویہ کی صفین میں جنگ، یزید کی اہل مدینہ اور مکہ میں ابن زبیر سے جنگ، مروان کی ضحّاک سے جنگ، عبدالملک کی ابن اشعث اور ابن زبیر سے جنگ، یزید  بن عبدالملک کی بنی  مہلب سے جنگ اور ہشام کی زید بن علی سے جنگ۔

اور جونہی ولید بن یزید کو حکومت ملی اور اس کے چچا کے بیٹے یزید بن ولید نے اس کے خلاف قیام کیا اور اسے قتل کر دیا تو بنی امیہ کے درمیان بھی اختلاف پیدا ہو گیا تو اس وعدے کا وقت آ پہنچا اور جنہیں وعدہ دیا گیا تھا انہوں نے سچ کہا تھا کہ ولید کے قتل ہونے کے ساتھ بنی العباس کی دعوت دینے والوں نے خراسان میں دعوت دینا شروع کی۔

 مروان بن محمد خلافت کی طلب میں جزیرہ سے آیا اور ابراہیم بن ولید کو نکال د یااور بنی امیہ کے کچھ لوگوں کو قتل کر دیا۔جس کے نتیجہ میں ملک اور حکومت کا نظام مضطرب و پراکندہ ہو گیا۔ ہاشمیوں کی حکومت سامنے آئی اور اس نے نشو نما پائی ۔ بنی امیہ کی حکومت زوال کا شکار ہو گئی  اور ان کی حکومت کا زوال ابو مسلم کے ہاتھوں انجام پایا کہ ابتدا میں  لوگوں میں ناتواں، بینوا اور درویش تھا اور اسی موضوع کے بارے میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے سخن کا مصداق واضح ہوگیا کہ آپ نے فرمایا:

 اگر کبوتر بھی ان پر مکروحیلہ کریں تو وہ ان پر غلبہ پا جائیں گے۔(1)

--------------

[1]۔ جلوۂ تاریخ در شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید:ج۸ص۲۷۲


  بنی امیہ اور بنی العباس کے بارے میں حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی ایک اور پیشنگوئی

حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے ایک دوسرے خطبہ میں بنی امیہ اور بنی العباس کے بارے میں کچھ مطالب بیان فرمائے ہیں:

     جو خطبہ''حتّی بعث اللّٰه محمداً صلّی اللّٰه علیه شهیداً و بشیراً و نذیراً'' ( یہاں تک کہ خدا نے حضرت محمد (ص) کو مبعوث فرمایا تا کہ وہ گواہ، خوشخبری دینے والے اور ڈرانے والے ہوں) کی عبارت سے شروع ہوتا ہے، اس میں حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے گلہ اور آنحضرت کے قسم (کہ بنی امیہ بہت جلدحکومت دوسروں کے ہاتھوں میں دیکھیں گے) کے متعلق عبارت میں کچھ کلمات و تعبیرات کی وضاحت کے بعد تفصیلی طور پر تاریخی بحث بیان کی گئی ہے کہ جو یوں ہے:

حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے اپنے گلہ و شکوہ کو دہراتے ہوئے فرمایا:

جی ہاں! دنیامیں تمہارے ہاتھ کھول دیئے گئے ہیں حالانکہ جو حکومت و ریاست کے لائق ہیں ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ۔ تمہاری تلواریں اہلبیت کے افراد (جو حقیقت میں رہبر وسالار ہیں) پر غالب اور ان کی تلواریں تم سے دور کی گئی ہیں۔

 گویا حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام ، حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپ کے خاندان کے افراد کے قتل ہونے کی کیفیت کی طرف اشارہ فرما رہے ہیں کہ جس طرح ان کا مشاہدہ فرمایا اور اس بارے میں خطاب کرتے ہیں اور آپ کے کلام کی بنیاد وہ فکر ہے کہ جو آپ ک ے ذہن میں آئی۔پھر آپ نے فرمایا:

بیشک ہر خون کا کوئی خونخواہ ہوتا ہے کہ جو اس کا مطالبہ کرتاہے اور ہمارے خون کا خونخواہ خدائے احد کے سوا کوئی نہیں ہے کہ جوکسی بھی کام کو انجام دینے سے عاجز و ناتوان نہیں ہے  اورکوئی بھی فرار کرنے والا اس سے فرار نہیں کر سکتا۔

 اور یہ جو کہا: ''گویا خدا اپنے حق میں  حکم  کرے گا''یعنی خداوند ہمارے خون کا مطالبہ کرنے میں کوتاہی نہیں فرمائے گا۔ایسےحاکم کی طرح کہ جو اپنے بارے میں حکم کرے اور خود ہی قاضی ہو کہ اس صورت میں اپنے حقوق کے بارے میں مبالغہ و کوشش کرے گا۔


 پھرحضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے قسم کھائی اور واضح الفاظ میں بنی امیہ کا نام لے کر ان سے خطاب کیا اور ذکر فرما یاکہ وہ بہت جلد دنیا دوسروں کے ہاتھوں اور گھروں میں دیکھیں گے اور ان کے دشمن بہت جلد ان کے ہاتھوں سے بادشاہی و حکومت چھین لیں گے  اور جس طرح حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے خبر دی تھی اسی طرح ہوا۔نوے(90) سال کے قریب حکومت ان کے  پاس تھی اور پھر خاندان ہاشم کے پاس لوٹ گئی اور خدا وند نے ان کے سب سے بڑے دشمن کے ہاتھوں سے ان سے انتقام لیا۔

  ابن ابی الحدید کے قول کی رو سے جنگ زاب میں مروان بن محمد کی شکست اورپھر اس کا قتل ہونا:

     عبداللہ بن علی بن عبداللہ بن عباس عظیم لشکر کے ساتھ مروان بن محمد(آخری اموی خلیفہ ) کا سامنا اور اس سے جنگ کرنے کے لئے  روانہ ہوا اور نہر ''زاب''(1)   کے کنارے موصل کے مقام پر ان کا سامنا ہوا۔

     اگرچہ مروان بھی بہت بڑے لشکر اور بہت زادہ افراد کے ساتھ تھا لیکن اس نے شکست کھائی اور بھاگ گیا۔عبداللہ بن علی نے اس کی لشکر گاہ پر فتح پائی اور اس کے ساتھیوں میں سے بہت سے لوگوں کو قتل کیا۔مروان نے ڈرتے ہوئے شام کا راستہ اختیار کیا اور عبداللہ بن علی نے اس کا پیچھا کیا۔     مروان مصر چلا گیا تو عبداللہ نے بھی اپنے لشکر کے ساتھ اس کا پیچھاکیا اور''بوصیر اشمونین'' (جو صعید مصر کی طرف سے ہے)میں اس نے اسے اور اس کے تمام نزدیکی افراد کو قتل کر دیا۔

     عبداللہ بن علی نہر ''ابی فطرس''(2) (جو فلسطین کے نواح میں ہے)کے کنارے بنی امیہ کے اسّی(80) افراد کو مثلہ کیا اور پھر ان کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے انہیں قتل کردیا ۔ حجاز میں اس کے بھائی داؤد بن علی نے بھی ایسا ہی کیا اور تقریباً اسی تعداد کے برابر انہیں قتل کیا اور مختلف صورتوں سے انہیں مثلہ کیا یعنی ان کے اعضاء کاٹ دیئے۔

--------------

[1]۔ اس سے مراد زاب کی بالائی نہر ہے کہ جوموصل اور اربل کے درمیان ہے۔

[2] ۔ صاحب ''مراصد الاطلاع'' نے اس کلمہ میں (ف) کو پیش(ط) کو سکون اور(ر)کو پیش کے ساتھ ذکر کیا ہے اور کہا ہے : یہ رملہ کے نزدیک اور فلسطین  میں سے ہے۔


     جب مروان قتل ہوگیا تو اس کے دو بیٹے عبداللہ اور عبید اللہ(جو دونوں اس کے ولی عہد تھے) اس کے ساتھ ہی تھے اور دونوں اپنے مخصوص لوگوں  کے ساتھ'' اسوان مصر''کی طرف بھاگ گئے   اور  وہاں سے سرزمین نوبہ(سوڈدان)کی طرف چلے گئے ۔راستے میں انہیں سخت  مشکلات اور تکالیف  کا سامنا کرنا پڑا اور عبداللہ بن مروان اپنے  ساتھیوں کے ساتھ ہی قتل ہو گیا اور کچھ لوگ راستے کی زحمتوں اور پیاس کی وجہ سے مر گئے۔

عبیداللہ کچھ لوگوں کے ساتھ سرزمین ''بجة'' پہنچ گیا جب کہ ان کی جانمنہ کو آئی ہوئی تھی اور وہ دریائے سرخ سے عبور کرے جدّہ کے ساحل پر پہنچے۔ عبیداللہ اپنے خاندان کے افراد اور رشتہ داروں کے ساتھ چھپ چھپا کے ایک شہر سے دوسرے شہر جاتے تھے اور وہ بادشاہی کے بعد رعایا کی صورت میں زندگی گذارنے پر بھی خوش تھے۔ عبیداللہ کا انجام یہ ہوا کہ وہ سفاح کے ہاتھوں گرفتار ہو گیا اور قید کر دیا گیا۔اس نے سفاح کی خلافت  اور منصور و مہدی و ہادی کی حکومت کے زمانے اور رشید کی حکومت کے کچھ زمانے تک اپنی زندگی قید میں گذاری۔

 رشید نے اسے زندان سے باہر نکالا جب کہ وہ بوڑھا اور اندھا ہو چکا تھااور اس سے اس کے بارے میں پوچھا :

 اس نے کہا:اے امیرالمؤمنین !جب میں نوجوان اور بینا تھا مجھے قید کیا گیا اور اب بوڑھے اور اندھے شخص کی صورت میں قید سے باہر لایا گیا ہوں۔

 کہا گیاہے:وہ رشید کے زمانے میں ہی مر گیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے :وہ امین کے زمانے تک زندہ تھا۔

* * *

 ایک روایت کے مطابق جنگ زاب میں ابراہیم بن ولید بن عبدالملک (جسے خلافت سے معزول کر دیا گیا ہے اور وہ اپنے بھائی کی موت کے بعد یزید بن ولید بن عبدالملک نے اس کے نام خلافت کا خطبہ پڑھا تھا) مروان کے ساتھ تھا اور مارا گیا اور دوسری روایت کے مطابق مروان حمار نے ابراہیم کو اس سے پہلے قتل کیا ہے۔

 جب مروان کو جنگ زاب میں شکست ہوئی تو وہ موصل کی طرف بھاگ گیا لیکن موصل کے لوگوں نے اسے شہر میں داخل


نہیں ہونے دیا۔وہ مجبوراً ''حران''چلا گیا کہ اس کا گھر اور جگہ بھی وہیں تھی۔ اس زمانے میں کہ جب منبروں اور نمازوں سے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام پر لعن کو ختم کر دیا گیا تھا،حرّان کے لوگوں نے اس بات کو قبول نہ کیا اور انہوں نے کہا:ابوتراب پر لعن کئے بغیر نما ز،نماز نہیں ہے!

عبداللہ بن علی نے اپنے لشکرکے ساتھ مروان کا پیچھا کیا اور جونہیں حرّان پہنچا تو مروان اس کا مقابلہ کرنے سے بھاگ گیا اورنہر فرات سے بھی گذر گیا۔عبداللہ بن علی حرّان پہنچا اور اس نے مروان کے محل کو تباہ و برباد کر دیا کہ جس کی تعمیر میں اس نے ایک کروڑ درہم خرچ کئے تھے اور جسں میں اس نے اپنے خزانے اور اپنا مال رکھا تھا۔

     مروان اپنے خاندان کے افراد،بنی امیہ اور اپنے خاص لوگوں کے ساتھ نہر ابی فطرس کے کنارے آیا اور عبداللہ بن علی بھی روانہ ہو گیا اور دمشق کے قریب  پہنچ کر اس کا محاصرہ کر لیا۔مروان کی طرف سے ولید بن معاویہ بن عبدالملک بن مروان پچاس ہزار جنگجوؤں  کے ساتھ دمشق کی حکومت کی طرف روانہ ہوا تھا اور خداوند متعال نے ان کے درمیان یہ تعصب پیدا کر دیا کہ نزاریوں کو یمانیوں پر برتری ہے یا یمانیوں کو نزاریوں پر۔ یوں وہ آپس میں ہی لڑنے لگے اور ولید بن معاویہ مارا گیا۔

 کہتے ہیں:وہ عبداللہ بن علی سے جنگ کرتے ہوئے مارا گیا۔

عبداللہ نے دمشق پر قبضہ کر لیا اور یزید بن معاویہ بن مروان  اور عبدلجبار بن یزید بن عبدالملک کوگرفتار کر لیا  اور انہوں قیدیوں کی صورت میں ابوالعباس سفاح کے پاس بھیج دیا اور اس نے ان دونوں کو قتل کر دیا اور ان کے جسم کو حیرہ میں  پھانسی پرلٹکا دیا۔

عبداللہ بن علی نے دمشق میں بھی مروان کے بہت سے رشتہ داروں،ساتھیوں اور بنی امیہ کے پیروکاروں کو قتل کیا۔پھر وہ نہر ابی فطرس کے کنارے پہنا اوراس نے وہاں بنی امیہ کے تقریباً اسّی(80) افراد کو قتل کیا۔یہ واقعہ     132ھ ذی القعدہ میں پیش آیا۔(1)

--------------

[1]۔ جلوۂ تاریخ در شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید: ج۳ص۳۷۳


بنی امیہ اور بنی العباس کے بارے میں حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی دوسری پیشنگوئی

حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے ایک دوسرے خطبہ میں قسم کھائی کہ قیامت تک ہونے والے کسی بھی واقعہ کے بارے میں آپ سے سوال کیا جائے تو آپ اس کاجواب دیں گے۔سو افراد پر مشتمل ہر گروہ (چاہئے وہ ہدایت یافتہ ہو ںیا گمراہ) کے بارے میں بتائیں گے اور یہ کہ ان کا رہبر کون ہو گا؟ وہ کہاںوجود میں آئیںگے؟ان میں سے کون قتل ہو گا؟اور کون اپنی طبیعی موت مرے گا؟

 اس خطبہ کے آخر میں حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا:

  اس وقت (بنی العباس کے ہاتھوں بنی امیہ کی نابودی کے وقت) قریش کی یہ خواہش ہو گی کہ ساری دنیامیرے ہاتھوں میں رکھ دیں تا کہ صرف ایک بار مجھے دیکھ لیں۔اس مطلب سے گویا آنحضرت نے ابومسلم خراسانی اور سیاہ لباس پہنے ہوئے لوگوں کے شام میں حملہ اور بنی امیہ کے آخری خلیفہ مروان بن محمد (جو مروان حمارکے نام سے مشہور ہے) کی نابودی کی خبر دی ہے۔

مؤرخین نے نقل کیا ہے: مروان بن محمد نے جنگ زاب میںجونہی عبداللہ علی بن عبداللہ بن عباس کو خراسانیوں کی صفوں میں اپنے مد مقابل دیکھا تو کہا:میں پسند کرتا کہ اگر اس پرچم کے نیچے اس جوان کی بجائے علی بن ابی طالب علیہما السلام ہوتے۔(1)

حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے بنی امیہ کی حکومت کے خاتمہ کے بارے میں فرمایا ہے:

خداوند بنی امیہ کے فتنہ کی اس طرح سے سرکوبی کرے گا کہ جیسے گوشت سے کھال اتار لی جائے خداوند ا کسی ایسے کے ذریعہ انہیں خوار کرے گا اور اس طرح سے کہ یہ جو جبر کرتے ہیں انہیں نکال دیا جائے گا اور انہیں بلاؤں کا جام پلایا جائے گا۔تلوار کے علاوہ انہیں کوئی تحفہ نہیں دیا جائے اور ان کے جسم پر خوف کے علاوہ کوئی لباس نہیں ہوگا۔

اب مختصر طور پر  تاریخ یعقوبی سے بنی امیہ کے شرمناک انجام اور ان کے برے دنو ں کا تذکرہ کرتے ہیں:

--------------

[1] ۔ اس خبر کی مزید تفصیلات کے لئے رجوع کریں کامل التواریخ:3344 -327، نیزمقاتل الطالبین کے آخری حصہ میں بنی امیہ کے دور صفحہ260 کی طرف رجوع کریں۔


یعقوبی کہتے ہیں:(1) جب   132ھ میں کوفہ میں ابوالعباس سفّاح کی بیعت کی گئی تو کوفہ بنی امیہ کے ہاتھوں سے نکل گیا،مروان بن محمد بنی امیہ کا آخری خلیفہ موصل کے نزدیک زاب کے مقام پر پہنچا تا کہ بنی العباس اور ان کے حامیوں سے جنگ کرے ۔ پہلے عباسی خلیفہ ابوالعباس سفاح نے اپنے چچا عبداللہ بن علی کو مروان سے جنگ کے لئے زاب بھیجا۔مروان شکست کھا کر شام لوٹ گیا۔اس دوران مروان شام کے کسی بھی شہر سے نہیں گزر سکتا تھا مگر یہ کہ وہاں کے لوگ اسے تباہ و برباد کر دیتے ، بالآخرمروان دمشق پہنچا اور اس کاارادہ یہ تھا کہ اس شہر میں کہ جو بنی امیہ کی حکومت کامرکز تھا،قلعہ میں پناہ  لے لے لیکن دمشق کے لوگوں نے اسے تباہ و برباد کر دیا کہ جن میں سے اکثر بنی امیہ میں سے تھے اور قبیلۂ قیس نے ان پر حملہ کر دیا۔

عبداللہ بن علی بھی مروان کا پیچھا کرتا ہوا دمشق آ پہنچا۔اس نے مروان کے جانشین ولید بن معاویہ کو قتل کر دیا۔مروان فلسطین کی  طرف بھاگ گیا اور فلسطین کے بعد مصر کی طرف فرار کر گیا اور مصر میں بنی العباس کی دعوت کرنے والوں کے ہاتھوں قتل ہو گیا اور اس کا سر سفاح کے پاس ''حیرہ'' میں بھیج دیا گیا۔مروان کا کٹا ہوا سر ایک کونے میں رکھ دیا گیا تاکہ  اسے سفاح کے پاس بھیجا جاسکے اور اسی دوران ایک بلی  نے اس کی زبان نوچ لی۔مروان کی عمر 64 اور ایک قول کے مطابق 68 سال تھی اور وہماہ ذی الحجہ    132  ھ میں مارا گیا اور کی خلافت کی مدت پانچ سال تھی۔

  مروان کے چار بیٹے تھے جن کے نام عبدالملک ، عبداللہ، عبیداللہ اور محمد تھے۔مصر کی طرف بھاگتے وقت مروان اپنے خاندان کے اکثر و بیشتر افراد کو اپنے ساتھ لے گیا تھا خاص طور پر اپنے بیٹوں عبداللہ اور عبیداللہ کو اور بہت سی عورتیں اور اس کی بیٹیاں بھی اس کے ساتھ تھیں ۔ جب مروان مصر میں قتل ہو گیا تو اس کے بیٹوں عبداللہ اور عبیداللہ نے مصر کےشہر صعید میں پناہ لے لی اور وہ وہاں بھی نہ رہ سکے کیونکہ بنی العباس کی حکومت کے حامی ان کا  پیچھا کر رہے تھے۔لہذا انہوں نے سرزمین نوبہ(سوڈان)کا راستہ اختیار کر لیا۔یعقوبی کہتے ہیں:(2) عبداللہ اور عبیداللہ کے ساتھ کچھ عورتیں،اس کی یٹیاں،

--------------

[1]۔ تاریخ یعقوبی:ج2ص325-324

[2]۔ تاریخ یعقوبی:ج۲ص۳۲۵-324


 بہنیں اور اس کے چچا کی بیٹیاں پیدل اور پریشانی کے عالم میں بھاگ رہیں تھیں ،یہاں تک کہ شام کا ایک شخص اس کی بیٹی کے پاس سے گذرا جو اسی اجنبی لگی اور پھر اچانک اس نے اسے پہچان لیا کہ یہ مروان کی چھ سال کی بیٹی ہے۔ وہ اسے اپنے ساتھ لے گیا اور اسے عبداللہ بن مروان(1) کے حوالہ کر دیا۔

مروانی شہر نوبہ (سوڈان) پہنچ گئے ۔ نوبہ کے حاکم نے ان کا احترام کیا۔مروانیوں نے کہا: ہم شہر نوبہ کے کسی قلعہ میں رہ لیں گے تا کہ ہمیں کوئی پناہ گاہ میسر آجائے اور پھر ہم اپنے ان دشمنوں کا مقابلہ کر سکیں اور لوگوں کو اپنی اطاعت کی دعوت دیں ۔شاید خدا نے ہم سے جو کچھ لے لیا ہے اس کا کچھ حصة ہمیں پھر سے لوٹا دے۔

نوبہ کے حاکم نے ان سے کہا:ان کوّوں (سیاہ فام) کی تعداد بہت زیادہ ہے لیکن ان کے پاس لباس اور اسلحہ بہت کم ہے ۔ مجھے خوف ہے کہ تم ان کے ہاتھوں کچلے نہ جاؤ۔ لہذا وہ نوبہ سے حبشہ کی   طرف فرار کر گئے اور حبشہ میں کچھ سیاہ فارم لوگوں کی مروانیوں سے لڑائی ہوئی  اور عبیداللہ بن مروان اس لڑائی میں مارا گیا اور اس کے ساتھی اسیر ہو گئے۔

 ان کے پاس جو کچھ تھا،وہ حبشیوںنے چھین کر انہیں چھوڑ دیا۔وہ برہنہ اور ننگے پاؤں بیابانوں میں پریشان حالتھے اور پیاس کی وجہ سے ان کی جان منہ کو آئی ہوئی تھی یہاں تک کہ مرد اپنے ہاتھوں میں پیشاب کرتے اور پھر اسے پیتے تھے اور اپنے پیشاب سے ریت کوگوندھ کر کھاتے تھے یہاں تک کہ وہ عبداللہ بن مروان تک پہنچ گئے۔ان سے پہلے اس نے بھی مشکلات اور پیاس کی شدت برداشت کی اور اس کے ساتھ کچھ برہنہ عورتیں تھیں کہ جو سر سے پاؤں تک عریان تھیں اور پیدل چلنے کی وجہ سے ان کے پاؤں  اور پیشاب پینے کی وجہ سے ان کے ہونٹ پھٹ چکے تھے ،یہاں تک کہ وہ مندب (یمن کے ساحل باب المندب) پہنچے اور ایک مہینہ تک وہاں رہے،لوگوں نے انہیں کچھ چیزیں فراہم کیں۔پھر وہ وزن اٹھانے والوں اور کشتی پر کام کرنے والوں کی شکل میں چھپ کر مکہ کے قصدسے باہر نکل گئے۔

--------------

[1] ۔ ابولفرج علی بن الحسن اصفہانی ،صاحب کتاب ''معروف الاگان اور مقاتل الطالبین''اسی عبداللہ بن مروان کے فرزندوں  میں سے ہے۔اس نے کتاب مقاتل میں بنی امیہ پر لعنت کی حالانکہ وہ خود بھی بنی امیہ میں سے تھا۔


جیسا کہ کہا گیا ہے:عبداللہ بن علی سفاح کا چچا دمشق میں بنی امیہ کا پیچھا کر رہا تھا یہاں تک کہ وہ نہر ابو فطرس (فلسطین و اردن کے درمیان ایک مقام) پہنچا ۔ اس نے بنی امیہ کو اپنے پاس بلایا اور ان سے کہا:کل مجھ سے کچھ مال لینے کے لئے میرے پاس آؤ۔اس کے اگلے دن علی الصبح بنی امیہ کے اسّی(80)آدمی عبداللہ کے پاس آئے،اس نے بنی امیہ کے ہر مرد کے اوپر گرز کے ساتھ دو دوشخص معین کر دیئے اور پھر عبداللہ بن علی نے شاعر (کہ جسے اس نے تدارک سے پہلے دیکھا تھا) سے کہا : اپنے اشعار پڑھو۔ شاعر کہ جس کا نام عبدی تھا،اس نے یہ شعر پڑھا:

امّا الدعاة الی الجنان فهاشم             و بنو امیّة من کلاب النار

جنہیں  جنت کی طرف دعوت دی جائے گی وہ بنی ہاشم ہیں اور بنی امیہ جہنم کے کتوں میں سے ہیں۔

 اموی خلیفہ نعمان بن یزید بن عبدالملک ،عبداللہ بن علی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا،وہ شاعر پر ناراض ہوا اور اس نے کہا: اے بدبو دار عورت کے بیٹے ؛تم  نے جھوٹ بولا ہے۔عبداللہ بن علی نے شاعر سے کہا:تم نے صحیح کہا ہے، اپنے اشعار جاری رکھو۔

پھر عبداللہ بن علی نے بنی امیہ کے آدمیوں کی طرف رخ کیا اور انہیں یاد دلایا کہ انہوں نے کس طرح حضرت امام حسین علیہ السلام اور آپ کی اہلبیت علیہم السلام کو قتل کیا تھا ۔ پھر اس نے تالی بجائی اور اس کے سپاہیوں نے بنی امیہ کے آدمیوں کے سروں پر گرز مارنے شروع کر دیئے یہاں تک کہ ان  اسّی افراد کی جان حلق پہ آ گئی ۔ ان میں سے کچھ تو نیم مردہ تھے جنہیں اس نے ایک ساتھ رکھ کر ان پر فرش بچھا دیا ۔ پھر عبداللہ بن علی اور اس کے ساتھی فرش پر بیٹھ گئے اور ان کے لئے کھانا لایا گیا اور انہوں نے کھانا کھایا۔جب کہ فرش کے نیچے سے ان میں سے کچھ کے آہ و نالہ کی آواز سنی جا سکتی تھی،عبداللہ بن علی نے کہا:حسین علیہ السلام کے دن کی طرح کا دن ،لیکن یہ دن اس دن کی طرح نہیں


ہے۔(5)

--------------

[5] ۔ تاریخ یعقوبی(ترجمہ آیتی):ج۲ص۳۲۵-324

ابوالفرجج اصفہانی نے کتاب اغانی کی چوتھی جلد میں بنی امیہ کے کچھ لوگوں کے قتل ہونے کے بارے میں دوسری روایت نقل کی ہے کہ جنہوں نے سفاح سے امان لی تھی،وہ کہتا ہے:زبیر بن بکار نے اپنے چچا سے روایت کی ہے کہ ایک دن سفاح اپنے دربار میں بیٹھا تھا جب کہ اس کے پاس بنی امیہ کے کچھ لوگ بیٹھے تھے۔کسی شاعر نے سفاح کی شان میں ایک قصیدہ پڑھا،سفاح نے بنی امیہ کے آدمیوں کی طرف دیکھ کر کہا: اس قصیدے کا مقابلہ تمہاری شان میں کہے گئے قصیدوں سے کہاں کیا جا سکتا ہے؟امویوں میں سے ایک نے کہا: تمہارے بارے میںشعرمیں ایسی مدح نہیں کیجیسا شعر قیس الرقیات نے ہمارے بارے میں کہا اور وہ شعر یہ ہے:

''کوئی چیز بنی امیہ کے لئے ناپسند شمار نہیں کرتے مگر یہ کہ وہ غصہ کے وقت بھی بردباری کرتے ہیں، بیشک وہ بادشاہوں کا معدن ہیں اور عرب صرف انہی کے ذریعہ صلاح تک پہنچیں گے۔

سفاح غصہ میں آ گیا اور اس نے کہا:اے فلاں؛ اپنی ماں کافلاں کاٹو!گویا اب بھی تمہارے سروں میں خلافت کی ہوس بھری ہوئی ہے۔پھر اس نے حکم دیا تا کہ اس کے مأمورین ان کے سروں پرماریں۔سفاح کے سپاہیوں نے گرز کے ساتھ اپنی مجلس میں بنی امیہ کے تمام آدمیوں کو مار ڈالا۔پھر ابوالعباس سفاح نے حکم دیا کہ غذا تیار کی جائے، ان کے جسموں پر فرش بچھایا گیا اور سفاح نے ان پر بیٹھ کرکھانا کھایاجب کہ ان میں سے کچھ زندہ تھے اور وہ آہ و نالہ کر رہے تھے۔ جب اس نے کھانا کھا لیا تو سفاح نے کہا: مجھے یاد نہیں   ہے کہ میں نے کبھی اس سے بہتر غذا کھائی  ہو۔ پھر اس نے حکم دیا کہ مردوں کو گھسیٹ  کر انہیں محل سے باہر لے جائیں اور گلی میں پھینک دیں۔

یہ خبر بیان کرنے والا کہتا ہے: ہم نے خود دیکھا کہ کتے ان مردوں کو پاؤں  سے پکڑ کر ادھر ادھر گھسیٹ رہے تھے جب کہ ان کے جسم پر مہنگے لباس تھے اور آخر کار وہ  سڑ گے اور انہیں ایک گڑے میں دفن کر دیا۔ (جلوہ تاریخ در شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید:ج3ص394 اغانی سے منقول)


بنی امیہ کا انجام اور بری عاقبت خود ایک مثنوی بن جائے گی ۔  یہ تھی امام علی بن ابی طالب علیہما السلام کی بنی امیہ کی حکومت کے انجام کے بارے میں  پیشنگوئی ۔ جس سے عقلمند عبرت لیں۔(1)

حکم کے داخل ہونے کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی پیشنگوئی اور اس پر لعنت کرنا

 بنی امیہ اس قدر گستاخ اور پست تھے کہ ان میں سے کچھ لوگوں نے تو پیغمبر اکرم(ص) کی حیات کے زمانے میں آپ کو تکالیف پہنچائیں اور انہیں اپنے اس پست کام پر کوئی شرم و حیا  کا احساس بھی نہیں ہوتا تھاکہ جو ان کے کفر و نفاق کی دلیل ہے۔ ان میں سے ایک ''حکم بن عاص'' ہے جس پر رسول اکرم(ص) نے لعنت کی ہے اور اسے''طرید رسول اللّٰه'' (یعنی رسول خدا(ص) کی طرف سے نکالا گیا) کا لقب ملا۔کتاب ''الاستیعاب'' کے مؤلف حکم کے بارے میں کہتے ہیں:ایک دن رسول خدا(ص) اپنے اصحاب کے درمیان تشریف فرما تھے ، اور اس دوران آپ نے فرمایا:اب تمہارے سامنے ایک ملعون شخص داخل ہو گا۔عبداللہ بن عمروعاص (عرب کا مشہور مکار و دھوکہ باز اور معاویہ بن ابی سفیان کا یار و مشیر) کہتا ہے:میں بھی اس مجلس میں موجود تھا اور جب میں نے رسول اکرم(ص)  کی یہ بات سنی تو میں پریشان ہو گیا کیونکہ میرے باپ عمرونے اپنا لباس پہن چکاتھا اور وہ رسول خدأ کے پاس آنے کا ارادہ رکھتا تھا،میں نے اپنے آپ سے کہا: کہیںایسا نہ ہو کہ اب میرا باپ آ جائے،اچانک میں نے دیکھا کہ حکم بن ابی العاص داخل ہوا۔     حکم بن ابی العاص وہی شخص ہے کہ جسے پیغمبر اکرم(ص) نے مدینہ سے نکال دیا تھااور مسلمانوں نے اسے ''طرید رسول اللّٰہ''کالقب دیا تھا۔مروان اسی کا بیٹا ہے اور بنی مروان (جنہیں   یزید اور مروان کے بعد خلافت ملی اور جنہوں نے    65ھ سے 132ھ تک شام میں حکومت کی) اسی شخص کی نسل میں سے ہیں۔(2) بعض مؤلفین نے اس کا اچھے انداز سے تعارف کروایا ہے اور اس کے برے کاموں سے پردہ اٹھایا ہے اور انہوں نے اس کی رعشہ کی بیماری اور مدینہ سے نکالے جانے کا واقعہ بیان کیا ہے:

--------------

[1]۔ پیشگوئی ھای امیرالمؤمنین علیہ السلام:203

[2]۔ اعجاز پیامبر اعظم(ص) در پیشگویی از حوادث آئندہ:384


حکم بن عاص  نے فتح مکہ کے سال مسلمانوں کی طاقت دیکھ کر ظاہری طور پر اسلام قبول کیا۔لیکن اس کے دماغ میں ہمیشہ پیغمبر اکرم(ص) کو تکالیف پہچنائے کے خیالات نشوونما پاتے تھے اور وہ مختلف صورتوں میں آنحضرت کو تکلیفیں پہنچاتاتھا۔ اس طرح سے کہ تاریخ کی کتابوں میں آیا ہے کہ خصوصی  خفیہ جلسوں کی تشکیل  کے موقع پر یہ  جاسوسی کی غرض سے کسی کونے میں چھپ جاتا تھااور یہ مشرکین و منافقین کے بارے میں رسول اکرم(ص) اور اصحاب کے منصوبوں سے آگاہ ہو کر اسلام و مسلمانوں کی مصلحت کے برخلاف انہیں لوگوں میں پھیلا دیتا تھا یا دشمن کو ان کی اطلاع دے دیتا تھا۔

     کبھی یہ پیغمبر اکرم(ص) کے حجرے (جس کے دروازے مسجد میں کھلتے تھے) کے پیچھے کان لگا کر سنتا تھا اور آنحضرت کی اپنے خاندان کے ساتھ کی جانے والی خصوصی باتیں سنتا تھااور پھر انہیں منافقین کی محفلوں میں توہین اور تمسخرانہ انداز میں بیان کرتا تھا۔

کبھی وہ کچھ منافقین  کے ساتھ رسول اکرم (ص) کے پیچھے پیچھے چلتااور آنحضرت کے چلنے کے انداز کی نقل کرتا  اور اپنے ہاتھوں اور سر کو ہلا کر مسخرانہ حرکتوں سے منافقین کو ہنساتا تھا۔

 رسول اکرم (ص) حکم بن ابی العاص کے گفتار وکردار سے آگاہ تھے لیکن رحمت و بزرگواری کی وجہ سے بیان نہیں فرماتے تھے کہ شاید وہ متنبہ ہو جائے اور اپنا راستہبدل کربرے کاموں کو چھوڑ دے ۔ لیکن اس نے رسول اکرم(ص) کے کرم اور برداشت کا الٹا اثر لیا  اور روز بروز اس کی گستاخیاں بڑھتی گئیں اور وہ مزید جرأت کے ساتھ اپنے نازیبا کام انجام دیتا۔ آخر کار نبی رحمت(ص) نے  اس کے بارے میں اپنی روش کو بدلنے اور اس کے عمل کا ردّ عمل کے طور پر جواب دینے کا ارادہ کر لیا۔

     ایک دن رسول اکرم(ص) راستہ سے گذر رہے تھے۔حکم بن ابی العاص آنحضرت کے پیچھے چل پڑا اوراس نے پہلے کی طرح سر اور ہاتھوں کو ہلا کر تمسخرانہ انداز سے مسخرہ کرنا شروع کر دیا اوراس کے ساتھ موجود منافقین ہنسنے لگے۔ اچانک پیغمبر اکرم(ص) پیچھے مڑے اور حکم کے رو برو کھڑے ہو گئے اور شدت سے اس سے فرمایا:

     کَذٰلِکَ فَلْتَکُنْ یٰا حَکَمْ      اے حکم؛ جس طرح ہو اسی طرح بن جاؤ۔


حکم بن ابی العاص چونک گیا اور کسی تیاری اور آگاہی کے بغیر ہی اسے نبی اکرم(ص) کے ردّعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ پیغمبر اکرم(ص) کے رو برو ہونے اور آن حضرت کے سخن کوسننے کی وجہ سے اس پر ایسا اثر ہوا کہ وہ رعشہ کی بیماری میں مبتلا ہوگیا اور وہ جو حرکتیں تمسخرانہ انداز میں اپنے ارادہ و اختیار سے انجام دیتا تھا، اب وہی حرکتیں بیماری کی وجہ سے بے اختیاری میں انجام دینے لگا۔

 اسے جاسوسی اور قانون و اخلاق کی خلاف ورزی کے جرم میں اجباری طور پرمدینہ سے شہر بدر کرکے طائف کی طرف بھیج دیا گیا۔(2)(1)

یہودیوں، مشرکوں اور منافقوں کے لئےحکم بن ابی العاص کا جاسوسی کرنا

     ابن ابی الحدید نے ''شرح نہج البلاغہ'' میں یہ بھی لکھا ہے:جب رسول اکرم(ص) نے رحلت فرمائی تو اس وقت مروان تقریباًآٹھ سال کا تھا۔ اور کہا گیا ہے:جب اس کے باپ کو طائف کی طرف نکال دیا گیا تو وہ بھی اس کے ساتھ تھا اور وہ ایک بچہ تھا کہ جسے کسی چیز کی کوئی سمجھ نہیں تھی  اور مروان نے پیغمبر اکرم(ص) کو نہیں دیکھا تھا۔

 پیغمبر اکرم(ص) نے مروان کے باپ حکم کو مدینہ سے نکال کر طائف کی طرف بھیج دیا تھا اور وہ عثمان کو حکومت ملنے تک طائف میں ہی مقیم تھا۔ عثمان نے اسے مدینہ واپس بلایا۔حکم اپنے بیٹے کے ساتھ عثمان کے زمانے میں مدینہ آیا۔حکم مدینہ میں مر گیا۔عثمان نے مروان کو اپنا سیکرٹری بنا لیا اور اسے اپنے ساتھ ملا لیااور عثمان کے قتل ہونے تک مروان اس پر غالب تھا۔

حکم بن ابی العاص (جو عثمان بن عفان کا چچا ہے) ان افرادمیں سے تھا کہ جو فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوئے تھے اور ان کے دلوں کی محبت کو حاصل کرنے کے لئے انہیں مال دیا  جاتا تھا۔عثمان کی حکومت کے زمانے میں اور اس کے قتل ہونے سے کچھ مہینے پہلے حکم مر گیاتھا۔

--------------

[1]۔ ناسخ التواریخ (حالات حضرت سجاد علیہ السلام): ج1ص730

[2]۔ اخلاق از نظر ہمزیستی و ارزشھای انسانی:ج1ص382


 رسول خدا(ص) کے حکم پر اسے مدینہ سے نکالے جانے پر اختلاف ہے۔کہا گیاہے: حکم اپنے مکر و فریب سے چھپ جاتا تھا اور پیغمبر اکرم(ص) بزرگ اصحاب کے ساتھ مل کر قریش کے مشرکین یا منافقین اور کفار کے بارے میں جو بھی منصوبہ بناتے تھے ،یہ اسے فاش کر دیتا تھا اور جب اس کا یہ عمل ثابت ہو گیا  تو اسے نکال دیا گیا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے:وہ پیغمبر اکرم(ص) کی اپنی ازواج کے ساتھ کی جانے والی گفتگو کو چھپ کر سنے اور تمام ماجرے کو جاننے کی کوشش کرتا کہ جس کا جاننا جائز نہیں ہے اور پھر وہ یہ سب باتیں مذاق اور  مزاح کے طور پر منافقین کے لئے نقل کرتا تھا۔کہتے ہیں: وہ کچھ تمسخر انہ حرکتوں سے پیغمبر اکرم(ص) کے چلنے کی نقل کرتا تھا۔کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرم(ص) چلتے وقت آگے سے تھوڑا جھک کر چلتے تھے(1) اور حکم بن ابی العاص بھی چلتے وقت ویسے ہی نقل کرتا تھا۔ وہ پیغمبر اکرم(ص) سے بغض و حسد رکھتا تھا ۔ایک دن رسول خدا(ص) واپس پلٹے تو آپ نے اسے دیکھا کہ وہ آپ کے پیچھے چل رہا ہے اور اسی طرح تمسخرانہ انداز میں آپ کے چلنے کی نقل کر رہا ہے۔آپ نے فرمایا:اے حکم؛ ایسے ہی ہو جاؤ۔اسی وقت سے حکم رعشہ کی بیماری میں مبتلا ہو گیا۔یہ موضوع عبدالرحمن بن حسان بن ثابت نے عبدالرحمن بن حکم خطاب میں منظوم صورت میںبیان کیا ہے اور اس کی مذمت کی ہے: اپنیملعون باپ کی ہڈیوں پر پتھر برساؤاور فرض کرو کہ اگر تم پتھر برساؤ گے تو گویا تم نے ایک لرزنے اور کانپنے والے پاگل پر پتھر برسائے ہیں ۔ وہ اس حالت میں چلتا تھا کہ اس کا پیٹ تقوا کے کاموں سے خالی اور ناپسندیدہ کردار سے بھرا  ہواتھا۔''استیعاب''کے مؤلف کہتے ہیں:عبدالرحمن بن حسان نے یہ جو کلام کہا ہے:''تمہارا ملعون باپ'' اس کی یہ وجہ ہے کہ عائشہ سے مختلف اسناد اور سلسلوں سے روایت کیا ہے کہ جسے ابوخیثمہ اور دوسروں نے روایت کیا ہے، روایت ہوئی ہے کہ:جب مروان نے کہا:یہ آیت''اور جس نے اپنے ماں باپ سے یہ کہا کہ تمہارے لئے حیف ہے کہ تم مجھے اس بات سے ڈراتے ہو کہ میں دوبارہ قبر سے نکالا جاؤں گا حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی قومیں گزر چکی ہیں اور وہ دونوں فریاد کررہے تھے کہ یہ بڑی افسوسناک بات ہے بیٹا ایمان لے آ۔

--------------

[1] ۔ پیغمبر اکرم(ص) کے چلنے کی کیفیت کے بارے میں مزید جاننے کے لئے ترجمۂ'' طبقات ابن سعد:282'' چاپ تہران،  1365 ش، اور ترجمہ ''دلائل النبوّة بیہقی:ج1ص135'' چاپ تہران،1361 ش، اور اس پر پیغمبر اکرم(ص) کی لعنت کے بارے میں جاننے کے لئے ''النہایة ابن اثیر:ج1ص310'' کی طرف رجوع فرمائیں۔      


 خدا کا وعدہ بالکل سچا ہے تو کہنے لگا کہ یہ سب پرانے لوگوں کے افسانے ہیں ''(1) عبدالرحمن بن ابوبکر   یعنی عائشہ کے بھائی کے بارے میں نازل ہوئیہے۔عائشہ نے اس سے کہا: اے مروان!یہ تمہارے بارے میں نازل ہوئی ہے اور میں گواہی دیتی ہوں کہ رسول خدا(ص) نے تمہارے باپ پر لعنت کی ہے جب کہ تم اس کی پشت میں تھے۔(2)

حکم بن عاص  کی طرف سے پیغمبر اسلام(ص) پر روا رکھے جانے والے تمام ظلم و ستم اور اس کے لئے رسول خدا(ص) کی تمام نفرت  کے باوجودبہت سے اہلسنت علماء کی کتابوں کی بنا پر اہلسنت کے تیسرے خلیفہ عثمان کو اس سے بہت لگاؤ تھا!یہاں تک کہ اس نے آنحضرت کی خدمت میں سفارش کی کہ اسے اور اس کے بیٹے کو مدینہ واپس دیا جائے لیکن آنحضرت نے اس کی بات کی طرف توجہ نہیں کی۔

رسول اکرم(ص) کی رحلت کے بعد اس نے ابوبکر اور پھر عمر سے بھی یہی درخواست کی۔ان دونوں نے بھی اس کی درخواست قبول نہ کی لیکن جب وہ خود خلیفہ بنا تو اس نے انہیں مدینہ واپس بلا لیا اور اسے بہت سے پیسے اور مال عطا کیا اور اس کے بیٹے مروان کو اپنا کاتب بنا لیا!

 کتاب'راھبرد اہلسنت بہ مسئلہ ٔامامت''میں لکھتے ہیں:حضرت پیغمبر اکرم(ص) نے حکم بن ابی العاص پر لعنت کی ہے کہ جو مروان کا باپ ہے اور اسے مدینہ سے نکال کر طائف بھیج دیا تھا۔ اگرچہ عثمان نے اس کے لئے بہتگذارش و سفارش کی کہ آنحضرت اسے اور اس کی اولاد کو مدینہ آنے دیں لیکن آپ نے قبول نہ فرمایا۔آنحضرت کی رحلت کے بعد ابوبکر اور عمر نے بھی قبول نہ کیا  اورعثمان نے جتنی بھی التماس اورگذارش کی لیکن اسے اس کا کوئی فائدہ نہ ہو۔یہاں تک کہ حکم ''طریدرسول اللّٰہ ''کے لقب سے مشہور و معروف ہو گیا۔(3)

--------------

[1]۔ سورۂ احقاف، آیت: 17

[2]۔ جلوۂ تاریخ در شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید:ج۳ص۲6۴

[3] ۔ تاریخ اسلام ذہبی:ج3ص365 اور 366،الوافی بالوفیات:ج13ص112،الاصابة:ج1ص346، الاستیعاب:  ج1ص317،عقد الفرید:ج4ص28، معارف ابن قتیبة:112 اور 119،شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید:ج1ص198،  ج3ص29،ج6ص149 اور اسد الغابة:ج2ص34 اور 35۔


 پس عثمان نے اپنی خلافت کے زمانے میں رسول خدا(ص) کی مخالفت کی اور حکم کو اس کے اہل و عیال   کے ساتھ مدینہ واپس بلا لیااور انہیں بہت مال و منال عطا کیا اور مروان بن حکم کو اپنا کاتب بنا لیا۔

 پس امیرالمؤمنین علی علیہ السلام، زبیر، طلحہ، سعد، عبدالرحمن اور عمار نے اس سے اس بارے میں گفتگو کی لیکن اس کا کوئی فائدہ نہ ہوا اور اس نے جواب میں یہی  عذر پیش کیا:حکم سے مجھے جو قرابت ہے اگر تمہیں کسی سے ایسی قرابت ہوتی اور جو طاقت میرے پاس ہے وہ تمہارے پاس بھی ہوتی تو تم بھی اسے شہر میں داخل کر لیتے اور حالانکہ مدینہ کے لوگوں میں حکم سے بھی بدتر لوگ موجود ہیں!پھر وہ سب عثمان کے پاس سے اٹھ کر چلے گئے۔(2)(1)

اس خاندان کے بہت سے افراد پیغمبر اکرم(ص) اور آپ کی اہلبیت اطہار علیہم السلام کے دشمن تھے۔ مغیرة بن عاص (جو حکم کا بھائی تھا) آنحضرت کے سخت دشمنوں میں سے تھااور اس نے آنحضرت کو شہید کرنے کا ارادہ کیا ہوا تھالیکن وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکا اور اسی طرح اس کا بھائی حکم بن عاص آنحضرت کی لعنت کا شکار ہوااور آخر کار عمار کے ہاتھوںواصل جہنم ہوگیا۔ ''نفائح العلاّم فی سوانح الأیّام''میں لکھتے ہیں: مغیرة بن عاص پتھر پھینکنے میں بہت ماہر تھا اس کا نشانہ  کبھی چونکتا نہیں تھا۔جب وہ احد کی طرف جا رہا تھا تو اس نے راستہ میں سے اپنے ساتھ تین پتھر اٹھا لئے اور کہا:''بهذه اقتل محمداً'' میں انہی تین پتھروں کے ساتھ محمد کو قتل کردوں گا۔ پس جنگ کے دوران جب اس کی نظر رسول خدا(ص) پر پڑی اور دیکھا کہ''بیده السیف'' کہ آپ کے دست مبارک میں تلوار ہے تو پہلے اس نے پیغمبر اکرم(ص) کے ہاتھ کا نشانہ لیا اور ان تین پتھروں میں سے ایک پتھر پھینکا،وہ پتھر آنحضرت کے دست مبارک پر ایسا لگا کہ''سقط السیف من یده الشریفه''که آپ   کے دست مبارک سے تلوار زمین پر گر گئی۔ اس نے چیخ کرکہا:لات و عزّی کی قسم؛کہ محمد مارے گئے۔

---------------

[1] ۔  اسد الغابة:ج4ص348،مختصر تاریخ دمشق:ج24ص172،،طبقات ابن سعد:ج5ص36،الشافی سید مرتضی:ج  4ص269 اور شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید:ج3ص30 اور 31

[2]۔ راھبر اہلسنت بہ مسئلۂ امامت:349


 اس خبیث کی آواز امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے کانوں تک پہنچی تو آپ نے فرمایا:''کذب لعنه اللّٰه''

اس نے جھوٹ بولا ہے،خدا اس پر لعنت کرے ۔پیغمبر اکرم(ص)  قتل نہیں ہوئے۔

 پھر اس ملعون نے دوسرا پتھر پھینکا اور وہ پتھر''فَاَصٰاب جَبْهَتَه'' آپ کی نورانی پیشانی پر لگا اور اس نے پروردگار کے محل سجود کو تکلیف پہنچائی۔

 رسول خدا(ص) نے اس لعین کے لئے بد دعا کی کہ:

 خدایا؛ اسے حیران کر۔

 لہذا جب کفار واپس لوٹے تو ابن عاص پیغمبر اکرم(ص) کی بد دعا کی وجہ سے معرکہ میں حیران ہو گیا اور وہ وہاں سے فرار نہ کر سکا یہاں تک کہ عمار پہنچے اور اسے واصل جہنم کر دیا۔(1)

معاویہ وغیرہ کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی پیشنگوئی

 آئندہ زمانے کے بارے میں رسول اکرم(ص) کی پیشنگوئیاں لوگوں کی ہدایت اور راہنمائی کے لئے ہیں (جیسا کہ ہم نے کہا) تا کہ لوگ گمراہ کرنے والے فتنوں سے آشنا ہو کرخود کو ہلاکت و گمراہی  سے نجات دیں اور خاندان وحی علیہم السلام کی پناہ میں آکر اور ان کے مکتب کی پیروی کرکے فکری و روحانی سکون حاصل کریں اور اضطراب، پریشانیوں ،وسوسوں اور نادانی سے محفوظ رہیں۔

پیغمبر اکرم(ص) نے یہ پیشنگوئیاں مختلف زمانوں میں متعدد خطابات اور مختلف مناسبتوں پر بیان فرمائیں۔کبھی کلی صورت میںسب کے لئے آئندہ کی خصوصیات بیان فرمائیں  اور اپنی رحلت کے زمانے سے امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے قیام کے زمانے تک فتنوں اور امتحانات کو بیان کیا اور اس   اس زمانے اور بعد کے زمانے کے لوگوں کوان میں گرفتار ہونے سے ڈراتے اور کبھی کسی خاص موضوع اور خاص عنوان کوبیان کرتے اور اس بارے میں لوگوں کو خبردار کرتے تھے۔

--------------

[1]۔ نفائح العلاّم فی سوانح الأیّام: ج ۲ص۲۱۷


     کبھی کچھ خاص افراد کا نام لیتے اور لوگوں کو ان سے آشنا کرنے اور ان سے ہوشیار رہنے کے بارے میں بیان کرتے تا کہ لوگ آنحضرت کے فرمان کے نتیجہ میں راہ اور چاہ میں تشخیص دے سکیں اور تاریخ کے مکار افراد کی میٹھی زبان سے دھوکا نہ کھائیں۔

     بعض معین افراد کے بارے میں رسول اکرم(ص) کی کچھ پیشنگوئیوں میں سے کچھ ایسے فرامین ہیں کہ جو آنحضرت سے جناب عمار کی شخصیت کے بارے میں روایت ہوئے ہیں اور ان میں لوگوں کو وہی راستہ اختیار کرنے کی طرف راغب کیا گیا ہے کہ جو راستہ جناب عمار نے منتخب کیا۔

     اس کے مقابل میں کچھ ایسے افراد کا بھی نام لیا گیا ہے کہ رسول خدا(ص) نے سختی سے ان کی پیروی کرنے سے منع کیا ہے۔

     اب اس روایت پر غور کریں:

     ابن ابی الحدید کہتے ہیں:ابن دیزیل نے عبداللہ بن عمر سے،اس نے زید بن حباب سے،اس نے علاء بن جریر عنبری سے،اس نے حکم بن عمیر ثمالی (جس کی ماں ابوسفیان کی بیٹی ہے) سے نقل کیا ہے کہ ایک دن پیغمبر اکرم(ص) نے اپنے اصحاب کی طرف دیکھ کر فرمایا:

     اے ابو بکر؛اگر تم خلیفہ بن گئے تو کیا کرو گے؟

     اس نے کہا:مجھے امید ہے کہ ہر گز ایسا نہیں ہوگا!

     رسول خدا(ص) نے فرمایا:

     اے عمر ؛اگر تم خلیفہ بن گئے تو کیا کرو گے؟

     اس نے کہا:اے کاش؛میں سنگسار ہو جاؤ ں کہ اس صورت میں تو میں شر میں گرفتار ہو جاؤں گا۔

     پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا:


     اے عثمان!اگر تم خلیفہ بن گئے تو کیا کرو گے؟

     عثمان نے کہا:میں خود بھی کھاؤں گا اور دوسروں کو بھی کھلاؤں گا،اموال تقسیم کروں گا اور ظلم و ستم نہیں کروں گا!

     رسول خدا(ص) نے فرمایا:

     یا علی؛اگر آپ خلیفہ بن گئے تو کیا کریں گے؟

     فرمایا:اپنے رزق و روزی اور قوت کے مطابق  کھاؤں گا اور اپنے قبیلہ(مسلمان)  کی حمایت کروں گا اور ایک خرما بھی ہو تو اسے تقسیم کروں گا اور ناموس کو پوشیدہ رکھوں    گا۔

     پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا:تم میں سے ہرایک جلد ہی حاکم بنے گااور جلد ہی خدا تمہارے اعمال کو دیکھے گا۔

     پھر فرمایا:معاویہ ؛جب تم خلیفہ بنو گے تو کیا کرو گے؟

     اس نے کہا:خدا اور رسول بہتر جانتے ہیں!فرمایا:

     تم ساری بربادی کی جڑ اور بنیاد ہو اور ہر طرح کے مظالم کی کلید ہو۔تم برے کام کو اچھا اور اچھے کام کو برا شمار کرو گے؛جیسا کہ بچہ بوڑھا اور بوڑھا بچہ ہو جائے۔ تمہاری مدت تو کم ہو گی لیکن تمہارے مظالم بڑے ہوں گے!

     اسی طرح ابن دیزیل نے عمر بن عون سے، اس نے ہیثم سے، اس نے ابو فلج سے،اس نے عمرو بن میمون سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا ہے:

     عبداللہ بن مسعود کہتا تھا: کیسا ہو گا کہ جب کسی ایسے فتنہ کو دیکھو کہ جس میں بوڑھا شخص بچہ اور بچہ بوڑھا ہو جائے اور وہ فتنہ اس طرح سے لوگوں میں پھیلے گاکہ وہ اسے سنت سمجھیں گے اور جب فتنہ بدل جائے تو کہا جاے گا یہ برا کام ہے۔

     یعنی معاویہ اور اس کے جانشین دین میں بدعت ایجاد کریں گے کہ دین اپنی راہ سے خارج ہو  جائے گا اور جب ان کی حکومت ختم ہو گی اور کوئی ان بدعتوں کو ختم کرنا چاہے گا تو لوگ ان بدعتوں سے اتنے مانوس ہو چکے ہوں گے کہ وہ انہیں ختم کرنے کو برا شمار کریں گے۔جس طرح کہ جب عمر بن عبدالعزیز اپنی حکومت کے زمانے میں نمازوں کے خطبوں میں سے امیر


المؤمنین علی علیہ السلام پر سبّ و شتم کو ختم کرے گا تو شام کے لوگوں نے اسے برا شمار کیا۔(1)

     اس روایت میں ذکر ہونے والے پیغمبر اکرم(ص)کے سوالوں کے جواب میں ابوبکر کی خواہش تھی کہ اسے حکومت نہ ملے،عمر نے اس تمنا کا اظہار کیا کہ اے کاش وہ سنگسار ہو جائے لیکن حاکم نہ بنے ورنہ وہ شر میں گرفتار ہو جاے گا اور عثمان نے کھانے کی بات کی اور کہا:میں خود بھی کھاؤں گا اور دوسروں کو بھی کھلاؤں گا....۔

     ان دونوں کی باتیں اس چیز پر گواہ ہیں کہ وہ خود کو حکومت کے لائق نہیں سمجھتے تھے۔

     حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: میں اپنی قوت کے مطابق کھاؤں گا اور مسلمانوں کی حمایت کروں گا اور.....۔

     معاویہ نے سوال کے بعد وہ  ٹال مٹول اور اپنے کردار کے بارے میں کچھ نہیں بتاتا۔

اس روایت کو حکم بن عمیر (جو معاویہ کا بھانجا ہے) نے نقل کیا ہے اور عمر کے بیٹے نے اسے دو واسطوں کے ذریعہ سے روایت کیا ہے۔

     اس بناء پر عمر کے بیٹے کی یہ روایت کہ جس میں عمر خود کو خلافت کے لائق نہیں سمجھتا اور جس میں اس نے کہا ہے:اے کاش؛ میں سنگسار ہو جاؤں لیکن مجھے خلافت نہ ملے۔

     اے کاش! خود کو مکتب اسلام کا پیروکار اور رسول اکرم (ص) کا تابع سمجھنے والے تمام مسلمان اس پیشنگوئی (جو سنی کتابوں میں بھی نقل ہوئی ہے) سے عبرت لیں اور اپنی آخرت کی اس فنا ہونے والے دنیا کے عوض نہ بیچیں۔

     رسول خدا(ص) ہمیشہ منبع وحی سیکلام کرتیتھے لہذا آپ نے اس اہم پیشنگوئی میں(کہ جس میں تمام مسلمانوں کے لئے بہت بڑا دسر ہے) معاویہ کے پس پردہ چہرے اور اس کی مکاری و عیاری کو سب لوگوں پر عیاں کر دیا ہے۔

--------------

[1]۔ اعجاز پیامبر اعظم(ص) در پیشگویی از حوادث آئندہ: 372


 معاویہ کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی دوسری پیشنگوئی

رسول خدا(ص) نے معاویہ کے بارے میں ایک د وسری پیشنگوئی بھی کی اور یہ پیشنگوئی جناب ابوذر کے بارے میں بیان فرمائی ۔ یہ ایک مفصل واقعہ ہے جسے ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں ذکر کیا ہے اور  اس میں عثمان کے کھانے اور کھلانے کے بارے میں بھی اہم مطالب موجود ہیں لہذا ہم اسے نقل کرتے ہیں:

     جناب ابوذر  کا واقعہ اور انہیں ربذہ کی طرف نکال دینا ان کاموں میں سے ہے کہ جن کی وجہ سے عثمان پر اعتراضات کئے گئےہیں ۔ یہ بات ابوبکر احمد بن عبدالعزیز جوہری نے کتاب السقیفة  میں عبدالرزاق سے،انہوں نے اپنے پاب سے ،انہوں نے عکرمہ اور انہوں نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا ہے: جب ابوذر کو ربذہ کی طرف نکال دیا گیا تو عثمان نے حکم دیا کہ لوگوں میں یہ اعلان کروا و کہ کوئی بھی ابوذر سے ہم کلام نہ ہو اور نہ ہی انہیں دداع کرے اور مروان بن حکم کو حکم دیا کہ ابوذر کو مدینہ سے باہر نکال دے۔

     اس نے ایسا ہی کیا اور لوگوں نے ابوذر کی مدد کرنے سے اجتناب کیالیکن حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام ،آپ کے بھائی جناب عقیل، حضرت امام حسن علیہ السلام ، امام حسین علیہ السلام اور جناب عمار یاسر ،جناب ابوذر کے ساتھ شہر سے باہر آئے اور آپ کو وداع کیا۔

 امام حسن علیہ السلام نے جناب ابوذر سے گفتگو کا آغاز کیا: مروان نے آنحضرت سے کہا: اے حسن؛آرام کرو،لیکن کیا تم نہیں جانتے کہ امیر المؤمنین !نے اس شخص سے بات کرنے سے منع کیا ہے؟!اگر نہیں جانتے تو اب جان  لو۔

     اسی وقت امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے مروان پر حملہ کیا اور تازیانہ سے اس  کی سواری دونوں کانوں کے درمیان مار کر فرمایا: دور ہو جا کہ خدا تمہیں آگ میں ڈالے۔

     مروان غصہ کے عالم میں عثمان کے پاس واپس لوٹ گیا اور عثمان سے سار واقعہ بیان کیا،پھر عثمان حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے ناراض ہوا!


     جب جناب ابوذر کھڑے ہوئے تو ان حضرات نے انہیں وداع کیا ۔ ذکوان (ام ہانی بنت ابوطالب کا آزاد کیا ہوا کہ جو حافظ حدیث،قوی حافظہ کا مالک اور ابوذر کے ساتھ تھا) نے کہا ہے: میں نے ان حضرات کی ابوذرسے ہونے والی گفتگو کو حفظ کر لیا کہ جو یہ تھی:

     امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا:

     اے ابوذر !تم نے خدا کے لئے ناراضگی اختیار کی ہے، یہ قوم تم سے اپنی دنیا کے لئے خوفزدہ تھی اور تم ان سے اپنے دین و آخرت کے لئے خوفزدہ تھے، انہوں نے تمہیں اپنی دشمنی اور بغض کی وجہ سے مشکلات میں ڈالا اور ایسی مصیبت میں گرفتار کر دیا اور تمہیں ایسے خشک صحرا کی طرفبھیج دیا۔خدا کی قسم! اگر آسمان و زمین کسی بندے  کے لئیبند ہو جائے اور وہ خدا سے ڈرے اور پرہیز گاررہے تو خداوند اس کے لئے ان ددونوں سے باہر آنے کا راستہ فراہم کرے گا۔

     اے ابوذر!حق کے علاوہ کوئی چیز بھی تم سے مأنوس نہ ہو اور باطل کے علاوہ تم کسی چیز سے خوفزدہ نہ ہونا۔

     پھر امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے اپنے ساتھ موجود افراد سے فرمایا: اپنے چچا سے خداحافظی کرو۔

     اور عقیل سے فرمایا:اپنے بھائی سے خداحافظ کرلو۔

     اس وقت عقیل نے گفتگو کی اور یوں اظہار کیا: اے ابوذر!اب کیا کہیں ، تم جانتے ہو کہ ہم تمہیں کس قدر دوست رکھتے ہیں اور تم بھی ہمیں کس قدر دوست رکھتے ہو،خدا سے ڈرو اور تقویٰ اختیار کرو کہ پرہیزگاری ہی کامیابی ہے، اور صبر کرو کیونکہ صبر ہی  کرامت ہے، اور جان لو کہ اگرتم نے صبر کو  مشکل سمجھا تو یہ بے تابی کا سبب بنے گا ، اور اگر عافیت آنے میں دیر سمجھوتو یہ ناامیدی ہے، اس لئے ناامیدی و بے تابی کو رہا کر دو۔

     پھر حضرت امام حسن علیہ السلام نے یوں فرمایا:

     چچا جان؛ اگر ایسا نہ ہوتا اور یہ امر پسندیدہ نہ ہوتا کہ و شخص خدا حافظی کہے وہ خاموش رہے اور وداع کرنے والا لوٹ جائے


تو تمام غم و اندوہ کے ساتھ کلام بھی مختصر ہو جاتا ہے۔آپ دیکھ رہے ہیں کہ اس قوم نے آپ کے ساتھ کیا کیا؟! اور اب دنیا کو یاد کرنا چھوڑ دیں  کہ اس کاانجام اچھا ہو گا اورمشکلات کو امید سے اپنے لئے حل کریں، صبر کریں تا کہ اپنے پیغمبر(ان پر اور ان کی آل پر خدا کا درو ہو) کا دیدار کریں اور وہ آپ سے راضی و خوشنود ہوں۔

     پھر حضرت امام حسین علیہ السلام نے یوں فرمایا:

     چچا جان؛ خداوند اس چیز پر قادر ہے کہ جو کچھ دیکھ رہے ہیں اسے تبدیل کر دے اور وہ ہر روز ایک نئی شان والا ہے۔

     اس قوم نے اپنی دنیا کو آپ سے دور کیا اور آپ نے اپنا دین ان سے دور رکھا،  انہوں نے آپ سے جو چیز دور کی آپ اس سے بے نیاز ہیں، اور آپ نے ان سے جو چیز دورکردی انہیں اس کی شدید ضرورت ہے۔ اب خدا سے صبر و نصرت طلب کریں،  بے تابی  نہ کریں اور خدا سے پناہ مانگیں کیونکہ صبر دین و کرامت میں سے ہے اور لالچ حتی کہ ایک دن کو بھی مقدم نہیں کرتا اور بے تابی موت میں تاخیر نہیں کرتی ۔

     پھرجناب عمار یاسرنے غصے میں گفتگو کی اور یوں اظہار کیا:جس نے تمہیں مصیبت میں ڈالا خدا اسے آرام و سکون نہ دے اور جس نے تمہیں ڈرایا خدا اسے امان نہ دے ۔ بیشک خدا کی قسم؛اگر تم ان کی دنیا طلب کرتے اور ان کے ساتھ ہماہنگ ہوتے تو وہ تمہارے لئے دنیا فراہم کر دیتے اور اگر تم ان کے امورپر راضی ہوتے تووہ تمہیں دوست رکھتے۔ کسی بھی چیز نے لوگوں کو تمہارے کلام اور اعتقاد  سے بازنہیں رکھا مگر دنیا پر ان کی رضائیت اور موت سے خوف و بے تابی۔

     وہ اس چیز کی طرف مائل ہو گئے کہ جس کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ ''اور بادشاہی اسی کی ہے کہ جوفاتح ہو''(1) لوگوں نے اپنا دین انہیں بخش دیا اور اس قوم نے بھی اپنی دنیا انہیں دے دی اور وہ اس دنیا اور اس دنیا میں نقصان اٹھانے والے بن گئے، بیشکیہ آشکار  نقصان ہے۔

--------------

[1]۔ یہ ایک ضرب المثل ہے۔


     جناب ابوذر جو کہ بوڑھے ہو چکے تھے، بہت روئے اور انہوں نے کہا:اے خاندان رحمت؛خدا آپ پر رحمت کرے کہ میں جب بھی آپ لوگوں کو دیکھتا ہوں  تو مجھے رسول خدا (ص)  کی یاد آتی ہے، مدینہ میں آپ کے علاوہ میرے لئے نہ تو کوئی سہارا اور آرام تھا اور نہ ہے۔اب میں حجاز میں میراوجود عثمان پرگراں گذر رہا ہے کہ جس طرح شام میں میرا وجود معاویہ پر گراں گذر رہاتھا۔عثمان نہیں چاہتا تھا کہ میں اس کے بھائی اور خالہ زادبھائی کے جوار میں ان دو شہروںمیں سے ایک میں رہوں(1) کہ کہیں میںان دوشہروں کے لوگوں کو ان کے خلاف نہ بھڑکاؤں۔اس نے مجھے ایسی سر زمین کی طرف بھیج دیا کہ جہاں خدا کے علاوہ کوئی میری نصرت کرنے والا اور میرادفاع کرنے والا نہ ہو گا اور خدا کی قسم! میں خدا کے علاوہ کسی کی ہمنشینی نہیں چاہتا اور مجھے خدا کے علاوہ کسی کا خوف نہیں ہے۔(2) سیرت نگاروں،مؤرخوں اور راویوں میں سے اکثر کا یہی خیال ہے کہ عثمان نے پہلے ابوذر کو شام کی طرف جلا وطن کر دیا تھا اور جب معاویہ نے ان کی شکایت کی تو انہیں واپس مدینہ بلا لیااور چونکہ وہ جس طرح شام میں اعتراض کرتے تھے اسی طرح انہوں نے مدینہ میں بھی اعتراضات کئے لہذا انہیں ربذہ کی طرف جلا وطن دیا گیا۔ اصل واقعہ کچھ یوں ہے:چونکہ عثمان نے مروان بن حکم اور دوسرے لوگوں کو اموال عطا کئے تھے اور اس میں سے کچھ حصہ زید بن ثابت سے مخصوص کیا تھا،ابوذرگلی کوچوں میں لوگوں کے درمیان کہتا تھا۔کافروں کو دردناک عذاب کا مزہ چکھاؤ اور بلند آواز سے یہ آیت پڑھتا تھا:( وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلاَ یُنفِقُونَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّهِ فَبَشِّرْهُم بِعَذَابٍ أَلِیْمٍ) (3)

 اور جو لوگ سونے چاندی کا ذخیرہ کرتے ہیں اور اسے راہ خدا میں خرچ نہیں کرتے۔ پیغمبر،آپ انہیں دردناک عذاب کی بشارت دے دیں۔

--------------

[1] ۔ ظاہراًیہاں دو شہروں سے بصرہ اور مصر مراد ہیں۔مصر کا حاکم عبداللہ بن سد بن ابی شرح کہ جو ثمان کا رضاعی بھائی تھا اور بصرہ کا حاکم عبداللہ بن عامر کہ جو عثمان کی خالہ کا بیٹا تھا، ان دونوں کے حالات زندگی، مشکلات اور گندے کردار کے بارے میں مزید جاننے کے لئے ''اسد الغابة: ج3ص174اور 192 ''کی طرف رجوع کریں۔

[2]۔ یہ واقعہ کتاب''السقیفة'' (جوہری متوفی 323ھ) میں تفصیل کیے ساتھ ذکر ہوا ہے۔

[3]۔ سورۂ توبہ،آیت:34


     عثمان کو بارہا اس کی خبر دی گئی اور وہ خاموش رہا اور اس کے بعد عثمان نے اپنے ایک رشتہ دار اور اپنے آزاد کئے ہوئے غلام کو ابوذر کے پاس بھیجا اور کہا:تمہارے بارے میں مجھ تک جو خبریں پہنچ رہی ہیں ،اب ان سے دستبردار ہو جاؤ۔

     ابوذر نے کہا:کیا عثمان مجھے کتاب خداوند کی تلاوت کرنے اور حکم خدا کو پامال کرنے والے کے عیب بیان کرنے سے منع کر رہا ہے؟ خدا کی قسم !اگر میں عثمان کی ناراضگی مول لے کر خداوند کریم کو راضی کر لوں تو یہ میرے لئے اس سے

بہتراورپسندیدہ ہے کہ میں عثمان کی رضائیت سے خدا کو ناراض کروں۔یہ پیغام سن کر عثمان سخت غصہ میں آگیا اور اس نے اس بات کو ذہن نشین کر لیا جب کہ ظاہری طور پر وہ صبر سے کام لے رہا تھا،یہاں تک کہ ایک دن عثمان لوگوں کے درمیان تھا تو اس نے پوچھا: کیا امام کے لئے ایسا کرنا جائز ہےکہ وہ خدا کے مال سے کچھ قرض لے لئے اور پھر جب چاہئے اسے واپس کر دے؟

     کعب الأحبار نے کہا:اس کام میں کوئی حرج نہیں ہے!

     ابوذر نے کہا:اے دو یہودیوں کے بیٹے؛کیا تم ہمارا دین ہمیں کو سکھا رہے ہو؟

     عثمان نے ابوذر سے کہا:تم نے مجھے اور میرے دوستوں کو بہت اذیت پہنچا  لی ،  اب بس تم شام کی طرف چلے جاؤ۔

     عثمان نے  جناب ابوزر کو مدینہ سے جلاوطن  کر شام کی طرف بھیج دیا۔ ابوذر معاویہ کے اعمال کو بھی برا شمار کرتا تھا۔ایک دن معاویہ نے ان کے لئے تین سو دینار بھیجے۔  ابوذر نے معاویہ کے قاصد سے کہا: اگر یہ میرا مقررشدہ مال ہے کہ جس سے اس سال تم نے مجھے محروم رکھا تو میں یہ قبول کروں گا اور اگر یہ صلہ و بخشش ہے تو مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے ،لہذا اسے واپس لے جاؤ۔اس کے بعد معاویہ نے دمشق میں سبز محل بنوایا !جناب ابوذر نے معاویہ سے کہا:اگر تم نے یہ محل خدا کے مال سے بنوایا ہے تو یہ خیانت ہے اور اگر تم نے اپنے مال سے بنوایا ہے تو یہ اسراف ہے۔

     وہ شام میں کہتے تھے:خدا کی قسم؛ایسے امور رونما ہوئے  ہیں کہ جنہیں میں نہیں جانتا اور خدا کی قسم نہ تو ہ خدا کی کتاب میں ہیں اور نہ ہی رسول خدا(ص)کی سنت میں۔خدا کی قسم؛بیشک میں دیکھ رہا ہوں کہ چراغ حق بجھ جائے گا اور باطل زندہ ہو جائے


گا اور میں سچے کو دیکھ رہا ہوں کہ جسے جھٹلایا جائے گا اوربے تقویٰ لوگوں کو منتخب کیا جائے گا اور دوسروں کو نیک لوگوں پر ترجیح دی جاتی ہے۔

     حبیب بن مسلمۂ فہری نے معاویہ سے کہا: ابوذر تمہارے لئے شام کو تباہ کر دے گا،شام کے لوگوں سے ملو اور اگر تمہیں شام کی ضرورت ہے تو اس کے بارے میں کچھ سوچو۔

     ابوعثمان جاحظ کتاب''السفیانیّة'میں جلام بن جندل غفاری سے نقل کرتے ہیں کہ اس نے کہا:

     میں معاویہ کا غلام تھا اور ایک دن عثمان قنسرین اور عواصم(1) آیا تھا اور وہ ایک دن معاویہ کے پاس آیا تا کہ اس سے اپنے امور کے بارے میں پوچھے،اچانک میں نے سنا کے معاویہ کے دربار کے دروازے پر کوئی چلا رہا تھا اور کہہ رہا تھا:اونٹوں کی یہ قطار پہنچ گئی جس پر آگ حمل کی جائے گی،خدایا؛جو امر بہ معروف کرتے ہیں اور خود اس پر عمل نہیں کرتے اور جو نہی از منکر کرتے ہیں اور خود اسے انجام دیتے ہیں ان پر لعنت فرما۔

     معاویہ کے رونگٹے کھڑے ہو گئے ،اس کا رنگ بدل گیااور اس نے کہا:اے جلام!کیا تم اس چلانے والے شخص کو جانتے ہو؟

     میں نے کہا:ہر گز نہیں۔

     کہا:کون جندب بن جنادة سے میری جان چھڑاسکتا ہے؟ہر روزوہ میرے دربار کے دروازے پر آتا ہے اور یہی بات کہتا ہے کہ جو اب تم نے سنی ہے۔

     پھر کہا:ابوذر کو میرے پاس لایا جائے۔

     جناب ابوذر کو کچھ لوگ کھنچتے ہوے لے کر آئے!اور انہیں معاویہ کے سامنے کھڑا کر دیا،معاویہ نے ان سے کہا:اے خدا اور رسول خدا کے دشمن!ہر دن تم میرے سامنے آتے ہو اور ایسے ہی کرتے ہو؟

--------------

[1]۔ واصم،حلب کے نزدیک ایک قلعہ ہے۔ معجم البلدان:ج6ص237


بیشک اگر میں امیرالمؤمنین عثمان! کی اجازت کے بغیراصحاب محمد (ص) میں سے کسی کو قتل کر سکتا تو بلا شک و شبہ  میں تمہیں قتل کر دیتا،اور اب میں تمہارے بارے میں اس سے اجازت لے لوں گا!

     جلام کہتاہے:میں ابوذرکا دیدار کرناچاہتا تھا چونکہ وہ میری قوم میں سے تھے،جب میں نے انہیں دیکھا تو مجھے گندمی رنگ  کا ایک کمزور شخص نظر آیا جن کے چہرے کی ہڈیاں ظاہر تھین اور کمر جھکی ہوئی تھی۔

     انہوں نے معاویہ کی طرف رخ کیا اور کہا:میں خدا اور رسول خدا(ص) کا دشمن نہیں ہوں؛بلکہ تو اور تیرا باپ ، تم دونوں خدا اور رسول خدا(ص) کے دشمن ہو ،جنہوںنے ظاہری طور پر اسلام قبول کیا اور اپنے کفر کو چھپا لیا اور رسول خدا(ص) نے تم پر لعنت کی ہے اور کئی بار تم پر نفرین کی ہے کہ تمہار کبھی پیٹ نہ بھرے اور میں نے خود سنا کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا:

     جب بھی تم موٹی آنکھوں والا اور موٹی گردن والا (جو کھاتا ہے لیکن سیر نہیں ہوتا)شخص میری  امت کا حکمران بن جائے تو میری امت کو اس سے ہوشیار رہنا چاہئے۔

معاویہ نے کہا:میں وہ شخص نہیں ہوں۔

     ابوزر نے کہا:نہیں؛تم ہی وہ شخص ہو،رسول خدا(ص) نے مجھے اس بارے میں بتایا ہے اور ایک بار تم آنحضرت (ص) کے پاسسے گذرے تھے تو میں سنا کہ آنحضرت نے فرمایا:

     اے خدا!اس پر لعنت فرما اور اسے خاک کے علاوہ کسی اور چیز سے سیر نہ فرما۔

     اور میں نے پیغمبر اکرم(ص) سے  یہ بھی سنا کہ آپ نے فرمایا:

     معاویہ کا ٹھکاناجہنم میں ہے۔

     معاویہ ہنسا اور اس نے ابوذر کو قید کرنے کا حکم دیااور اس کے بارے میں عثمان کو لکھا۔

عثمان نے معاویہ کے جواب میں لکھا:جندب کومنہ زور اور سرکش ترین سواری پر بٹھا کر میرے پاس بھیج دو اور اسے کسی ایسے کے ساتھ بھیجو کہ جو شب و روز اسے تازیانے مارے!


     معاویہ نے ابوزر کو ایک بوڑھے اونٹ پر پالان کے بغیر سوار کیا اور اسے مدینہ بھیج دیا جب کہ ان کی ران کا گوشت راستے کی سختیوں کی وجہ سے گر گیا تھا۔

     جب ابوذر مدینہ پہنچے تو عثمان نے انہیں پیغام دیا:تم جہاں جانا چاہو چلے جاؤ۔

     جناب ابوذر نے کہا:کیا میں مکہ کی طرف چلا جاؤں؟

     کہا:نہیں۔

     ابوذر نے کہا:بیت المقدس کی طرف چلا جاؤں؟

     کہا:نہیں۔

     کہا:کیا میں ان دوشہروں میں سے ایک کی طرف چلا جاؤں؟

     عثمان نے کہا: نہیں بلکہ میں خود تمہیں ربذہ کی طرف جلاوطن رہا ہوں۔

     عثمان نے ابوذر کوربذہ کی طرف جلاوطن کردیا اور وہ آخر تک وہیں تھے ،یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا۔

     واقدی کی روایت ذکر ہوا ہے کہ جب ابوذر عثمان کے پاس آئے تو عثمان نے ان کے لئے ایک شعر پڑھا کہ جو یوں تھا:خداوند قین کی آنکھوں کو کبھی روشن نہ کرنا اور کبھی اسے خوبصورتی نہ دینا اور جب بھی ہمارا آمنا سامنا ہوتا ہے تو ہمارا تحیت و سلام غصہ اور ناراضگی ہے۔

ابوذر نے کہا:میں اپنے لئے کبھی بھی ''قین''نام کو نہیں جانتا۔

     ودسری روایت میں آیاہے کہ عثمان نے ابوذرکے نام کو مصغّر کیا اور کہا:اے جنیدب!خدا تمہاری آنکھوں کو کبھی روشن نہ کرے۔

     ابوذر نے کہا:میرا نام جندب ہے اور رسول خدا(ص) نے مجھے ''عبداللہ ''کا نام عطا کیا ہے اور میں نے اپنے لئے وہی نام منتخب کیا ہے کہ جو نام پیغمبر(ص) نے مجھے دیا ہے۔


عثمان نے کہا:تم وہی ہو کہ جس کا یہ خیال ہے کہ ہم نے کہاہے:خدا کے ہاتھ بندھے ہیں اور خداوند فقیر ہے اور ہم مالدار ہیں؟

     ابوذر نے کہا:اگر تم لوگوں کا ایسا اعتقاد نہ ہوتا تو خدا کا مال خدا کے بندوں پر خرچ کرتے ، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول خدا(ص) سے سنا تھاکہ آپ نے فرمایا:

     جب ابوالعاص کے بیٹوں کی تعدا د تیس تک پہنچ جائے تو وہ خدا کے مال کو اپنا مال،خدا کے بندوں کو اپنا غلام اور خدا کے دین کو تباہی کا وسیلہ قرار دیں گے۔(1)

     عثمان نے حاضرین سے کہا:کیا تم نے یہ بات رسول خدا(ص) سے سنی ہے؟

     انہوں نے کہا: نہیں

     عثمان نے کہا:ابوذر ؛وای ہو تم پر!تم رسول خدا(ص)کی طرف جھوٹ کی نسبت دے رہے ہو؟

     ابوذر نے لوگوں کی طرف رخ کر کے کہا:کیا تم نہیں جانتے کہ میں سچ بولتا ہوں؟!

     انہوں  نے کہا:خدا کی قسم!نہیں۔

     عثمان نے کہا:علی(علیہ السلام)کو میرے پاس بلاؤ اور جیسے ہی امیرالمؤمنین علی علیہ السلام آئے تو عثمان نے ابوذر سے کہا:ابوالعاص کے بیٹوں کے بارے میں اپنی حدیث علی (علیہ السلام) سے بیان کرو۔

     ابوذر نے وہ حدیث دوبارہ بیان کی۔

     عثمان نے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے کہا:کیا آپ نے یہ حدیث رسول خدا(ص) سے سنی ہے؟

     فرمایا:نہیں؛لیکن اس میں شک نہیں ہے کہ ابوذر سچ بول رہے ہیں۔

     عثمان نے کہا: تم اس کی سچائی سے کیسے آگاہ ہو؟فرمایا:

--------------

[1]۔ یہ حدیث''النہایة ابن اثیر:ج۲ص۸۸اور 140''میں بھی ذکر ہوئی ہے۔


     میں نے خود رسول خدا(ص) سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: آسمان نے ابوذر سے زیادہ کسی سچے انسان پرسایہ نہیں کیا اور زمین نے اس سے زیادہ کسی سچے انسان کو خود پر حمل نہیں کیا۔(1)

     وہاں پر موجود لوگوں نے کہا:ہم سب نے یہ حدیث رسول خدا(ص) سے سنی ہے۔

     ابوذر نے کہا:میں تمہارے لئے حدیث بیان کرتا ہوںجو کہ میں نے پیغمبراکرم(ص) سےسنی ہے لیکن تم مجھ پرتہمت  لگاتے ہو، میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ میں ایسی زندگی گذاروں گا کہ مجھے اصحاب محمد(ص) سے ایسا سننے کو ملے گا!

     واقدی نے ایک دوسری روایت میں اپنی سند سے صہبان (اسلمیوں سے وابستہ)سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا ہے:جس دن ابوذر کو عثمان کے پاس لائے تومیں

نے دیکھا کہ عثمان نے ابوذر سے کہا:تم وہی ہو کہ جس نے ایسا ویساکیا ہے؟

ابوزر نے کہا:میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں اور تم سوچ رہے ہوکہ میں خیانت کر رہا ہوں، میں تمہارے دوستوں کو نصیحت کر رہا ہوں جیسا کہ وہ سوچتے ہیں۔

     عثمان نے کہا:تم جھوٹ بول رہے ہو،تم فتنہ برپا کرنا چاہتے ہو اور فتنہ طلب ہو اور تم نے ہمارے لئے شام کو تباہ کر دیاہے!

     ابوذر نے کہا:اپنے وو دوستوں کی روش کی پیروی کرو تا کہ کوئی بھی تم پر بات نہ کرے۔

     عثمان نے کہا:اے بے مادر!تمہارا اس بات سے کیا سرو کارہے؟

     ابوذر نے کہا:خدا کی قسم!میرے پاس امربہ معروف اور نہی ازمنکر کے علاوہ کوئی دلیل نہیں ہے۔

--------------

[1] ۔ یہ حدیث شیعہ اور سنیوں کی مختلف کتابوں میں آئی ہے ۔ بحار الانوار مرحوم علامہ مجلسی: ج22ص393، نئی چاپ کہ جس میں مختلف منابع بھی لائے گے ہیں اور النہایة ابن اثیر: ج2ص42۔


     عثمان غصہ میں آگیا اور اس نے کہا:مجھے اس بوڑھے اور جھوٹے آدمی کے بارے میں میری رہنمائی کرو کہ میں اس کا کیا کروں؟اسے ماروں؛قید میں ڈال دوں، قتل کر دوں یا اسے اسلامی ممالک سے نکام دوں کہ اس نے مسلمانوں کی جماعت کو منتشرکر دیا ہے؟!

     امیرالمؤمنین علی علیہ السلام فرمایا کہ جو وہاںموجود تھے:

     میں  تمہاری اس طرح رہنمائی کرتا ہوں کہ جس طرح مؤمن آل فرعون نے کہا:''اور اگر جھوٹا ہے تو اس کے جھوٹ کا عذاب اس کے سر ہوگا اور اگر سچا نکل آیا تو جن باتوں سے ڈرا رہا ہے وہ مصیبتیں تم پر نازل بھی ہوسکتی ہیں ۔ بیشک اللہ کسی زیادتی کرنے والے اور جھوٹے کی رہنمائی نہیں کرتا ہے''۔(1)

     عثمان نے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کوبہت تند جواب دیا اور آنحضرت نے بھی ویسا ہی جواب دیا اور ہم ان دونوں جوابوں کا تذکرہ نہیں کرتے کیونکہ ان میں مذمت کی گئی ہے۔

     واقدی کہتا ہے:اس کے بعد عثمان نے لوگوں کو ابوذر کے ساتھ اٹھنے بیٹھے اور گفتگو کرنے سے منع کر دیا اور انہوں  نے کچھ عرصہ اسی طرح گذارا۔پھر انہیں عثمان کے پاس لایا گیا اور جب وہ عثمان کے سامنے کھڑے ہوئے تو عثمان سے کہا:اے وای ہو تم پر! کیا تم نے رسول خدا(ص) ، ابوبکر اور عمر کو نہیں دیکھا ؛کیا تمہارا طریقۂ کار انہیں کے طریقۂ کار کی طرح ہے؟تم مجھ پر اس طرح ظلم و ستم کر رہے ہو جس طرح ظالم ظلم کرتے ہیں۔

     عثمان نے کہا:میرے سامنے اور میری ریاستوں سے دور چلے جاؤ۔

     ابوذر نے کہا:ہاں ؛ تمہاری ہمسائیگی  میرے لے کتنی ناخوشگوار ہے، بتاؤ میں کہاں چلاجاؤں؟

     کہا:جہاں چاہو چلے جاؤ۔

     ابوذر نے کہا:شام چلے جاؤں، جو جہاد کی سرزمین ہے؟

--------------

[1]۔ سورہ غافر، آیت:۲۸


     عثمان نے کہا:میں نے تمہیں شام سے یہاں اسی لئے بلایا تھا کہ تم نے شام کو تباہ کر دیا تھااور اب میں تمہیں دوبارہ وہیں بھیج دوں؟ ابوذر نے کہا:عراق چلاجاؤں؟

     کہا:نہیں،اگر تم عراق چلے گے تو تم ایسی قوم کے پاس چلے جاؤ گے جو رہبروں اور حکمرانوں پر شک و شبہ کرتے ہیں اور انہیں طعنہ دیتے ہیں۔

     ابوذر نے کہا: کیا میں مصر کی طرف چلا جاؤں؟

     عثمان نے کہا:نہیں۔

     ابوزر نے کہا: تو پھر میں کہاں جاؤں؟

     کہا: صحرا کی طرف چلے جاؤ۔

     ابوذر نے کہا: تم کہتے ہو کہ ہجرت کے بعد پھرسے عرب صحرا نشین ہو جاؤں؟

     کہا:ہاں!

     ابوذر نے کہا:میں نجد کے بادیہ کی طرف جا سکتا ہوں؟

     عثمان نے کہا:نہیں؛مشرق سے دوچلے جاؤاور اس راستہ سے جاؤ اور ربذہ سے آگے مت جاؤ۔

     جناب ابوذر ربذہ کی طرف چلے گئے۔

     واقدی نے اسی طرح مالک بن ابی الرجال  اور موسی بن مسیرة سے نقل کیا ہے کہ ابوالأسود دئلی نے کہا ہے:

     میں ابوذر کو دیکھنا چاہتا تھا تا کہ میں ان سے ربذہ کی طرف جانے کا سبب پوچھوں؛ میں ان کے پاس گیا اور میں نے کہا:کیا آپ مجھے بتائیں گے کہ آپ مدینہ سے اپنی مرضی سے چلے آئے ہیں یا کسی نے آپ کو آنے پر مجبور کیا ہے؟

     کہا:میں مسلمانوں کی ایک سرحد کے کنارے پر تھا اور دفاع کر رہا تھا ، میں مدینہ واپس گیا اور میں نے کہا کہ یہ ہجرت اور میرے دوستوں کی جگہ ہے اور میں مدینہ سے بھی یہاں آ گیا کہ تم دیکھ رہے ہو۔


     پھرکہا: پیغمبر اکرم(ص) کے زمانے میں ایک رات میں مسجد میں سو رہا تھا کہ پیغمبر اکرم(ص) میرے پاس سے گذرے اور اپنے پاؤں سے مجھے مارا اور فرمایا:میں یہ نہ دیکھوں کہ مسجد میں ہی سو رہے ہو۔

     میں نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں؛ مجھ پر نیند نے غلبہ کر دیا تھا اور آنکھ لگ گئی اور  میں مسجد میں ہی سو گیا۔

     فرمایا:تم اس وقت کیا کرو گے جب تمہیں اس مسجد سے نکال کر جلا وطن کر دیا جائے گا؟

     میں نے کہا:میں  اس صورت میں شام چلا جاؤں گا کہ جو مقدس سرزمین اور جہاد کی جگہ ہے۔

     فرمایا:اگر تمہیں شام سے بھی نکال دیں تو تم کیا کرو گے؟

     میں نے کہا:میں اسی مسجد میں واپس آجاؤں گا۔

     فرمایا:اگر پھر تمہیں اس مسجد سے نکال دیں تو کیا کرو گے؟

     میں نے کہا:میں اپنی تلوار نکال کر ان کے ساتھ لڑوں گا۔

     فرمایا:کیا اس کام میں تمہاری رہنمائی کروں؟وہ تمہیں جہاں کھینچیں ان کے ساتھ چلے جاؤ اور ان کے فرمانبردا بنو اور ان کی سنو۔

     میں نے سنا اور اطاعت کی اور اب بھی سن رہا ہوں اور اطاعت کر رہا ہوں اور خدا کی قسم؛عثمان اس حال میں خدا سے ملے گا جب کہ وہ میرامجرم ہوگا۔(1)

     اس گذشتہ واقعہ میں جناب ابوذر نے معاویہ کے مستقبل کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) سے تین روایات نقل کی ہیں جو معاویہ کے گمراہ ہونے،لعنت نفرین کے حقدارہونے اور عذاب جہنم کے مستحق ہونے کی واضح دلیل ہیں۔ان سب کے باوجود  رسول خدا(ص) کی سنت کی پیروی کرنے کا دعویٰ کرنے والوں میں سے کچھ لوگ معاویہ کو کیوں پسند کرتے ہیں ؟!

--------------

[1]۔ جلوۂ تاریخ در شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید:ج۴ص۲۰۴


 کیاپیغمبر اکرم(ص) نے یہ نہیں فرمایا:''امت کو اس سے ہوشیار رہنا چاہئے''؟

کیا انہیں سب سے زیادہ سچے شخص یعنی جناب ابوذر کا بھی یقین نہیں ہے؟!

کیا عثمان نے رسول خدا (ص)کے محبوب ترین صحابی جناب ابوذر کو اس شہر سے اس دیار میں صرف اس لئیجلاوطن نہیں کر دیا تھا کہ وہ عثمان پر اعتراض کرتے تھے کہ عثمان اپنے داماد مروان اور اپنے دوسرے چہیتے لوگوں کو بیت المال سے مال عطا کرتا تھا؟!

کیا عثمان کا یہ فعل بھی سنت رسول خدا(ص) کی پیروی تھا؟!کیوں عثمان نے معاویہ کو شام کی حکمرانی پر باقی رکھا جب کہ رسول خدا(ص) نے بارہا س پر لعنت و نفرین کی ہے؟رسول خدا(ص) کے فرمان کی رو سے کیا عثمان کو اس کا پیٹ چیر دینا چاہئے تھا یا اسے گورنر بنانا چاہئے تھا؟

     ان سوالوں کے جواب کے لئے پیشنگوئیوں کے ان واقعات کی طرف توجہ کریں:

معاویہ کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی ایک اور پیشنگوئی

     یونس بن خباب نے انس بن مالک سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا:میں رسول خدا(ص) کے ساتھ تھا، علی علیہ السلام بھی میرے ساتھ تھے ، ہم ایک باغ کیپاس سے گذرے تو علی علیہ السلام نے فرمایا:

     اے رسول خدا(ص): آپ دیکھ رہے ہیں کہ کتنا خوبصورت باغ ہے؟

     پیغمبر (ص) نے فرمایا: اے علی؛ جنت میں تمہارا باغ اس سے کہیں زیادہ آباد ہے۔

     ہم سات باغات کے پاس سے گذرے ، علی علیہ السلام نے ہر بار وہی بات کی اور رسول خدا(ص) نے بھی وہی جواب دیا۔پھر پیغمبر اکرم(ص) کھڑے ہو گئے ،ہم بھی کھڑے ہو گئے ،پیغمبر(ص) اپنا سر مبارک علی علیہ السلام کے کندھے پر رکھ کر رونے لگے۔علی علیہ السلام نے پوچھا:

     اے رسول خدا(ص)؛ آپ کو کس چیز نے رلایا ہے؟


     فرمایا:ایک قوم کے دل میں اتنا بغض و کینہ ہے کہ وہ تمہارے لئے آشکار نہیں کرتے مگر میرے جانے کے بعد وہ اپنا کینہ آشکار کریں گے۔

     علی علیہ السلام نے کہا:اے رسول خدا(ص)؛کیا میں کندھے پر تلوار نہ رکھ لوں اور انہیں نیست و نابود نہ کردوں؟

     فرمایا: بہتر یہ ہے کہ صبر کرو۔

     کہا: اگر میں صبر کروں تو کیا ہو گا؟

     فرمایا: تمہیں مشکلات اور مشقّت وسامنا کرنا پڑے گا۔

     کتاب''الغارات''کے مؤلف نے اعمش سے اور انہوں نے انس بن مالک سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا:میں نے پیغمبر اکرم(ص) سے سنا کہ آپ نے فرمایا:

     جلد ہی میری امت کاایک شخص حاکم بنے گاکہ جس کا گلا اور پیٹ موٹا ہو گا،وہ بہت زیادہ  کھائے گا لیکن اس کا پیٹ نہیں بھرے گا،اس کے کندھوں پر جن و انس کے گناہ ہوں گے،ایک دن وہ ریاست کی جستجو کرے گا  اور جب بھی اسے ریاست مل گئی تو اس کا پیٹ چیر دینا۔

     وہ کہتا ہے:اس وقت رسول خدا(ص) کے ہاتھ میں چھڑی تھی اور آپ اس کے ذریعہ معاویہ کے پیٹ کی طرف اشارہ کررہے تھے۔

     نیز ابوجعفراسکافی - صاحب کتاب''المعیار والموازنة''- کہتے ہیں:ایک دن پیغمبر اکرم(ص) حضرت فاطمۂ زہرا علیہا السلام کے گھر تشریف لائے،امیر المؤمنین علی علیہ السلام سو رہے تھے،حضرت فاطمۂ زہرا علیہا السلام نے آپ کو اٹھانا چاہاتو پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا:

     انہیں سونے دو کیونکہ انہیں میرے بعد بہت طولانی راتیں جاگ کر گزارنی ہیں،اس سے بغض وکینہ رکھنے کی  وجہ سے میرے خاندان پر کیا کیا ظلم وستم کیا جائے گا۔


     حضرت فاطمۂ زہرا علیہا السلام روئیں، پیغمبر خدا(ص) نے فرمایا:

     مت رو کہ تم دونوں میرے ساتھ ہوگے اور میرے نزدیک صاحب شرف و کرامت ہو۔

     ابوسعید خدری کہتے ہیں:ایک دن پیغمبر اکرم(ص) اپنے بعد علی علیہ السلام پر ٹوٹنے والی مشکلات اور مصیبتوں کو بیان کر رہے تھے اور اس بارے میں آپ نے بہت وضاحت فرمائی،امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے عرض کیا:

     اے رسول خدا(ص)؛ میں آپ کو آپ کے اہلبیت کے حق کی قسم دیتا ہوں تا کہ خدا کی بارگاہ میں دعا کریںاور یہ طلب کریں کہ آپ سے پہلے میری روح قبض کی جائے۔

     پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا: یہ کیسے ممکن ہے کہ میں تمہاری عمر کی مدت کے بارے میں سوال کروں کہ جو مقدر و مقرر ہو چکی ہے؟

     علی علیہ السلام نے فرمایا: اے رسول خدا؛ آپ نے مجھے جن سے جنگ کرنے کا حکم دیا ہے میں ان کے ساتھ کس سلسلہ میں جنگ کروں ؟

 فرمایا: جب وہ دین میں بدعتیں پیدا کریں۔(1)

  اس روایت کے مطابق معاویہ کے کندھوں پر جنّ و انس کے گناہوں کا بوجھ ہے اور لوگوں کی یہ ذمہ داری تھی کہ جب بھی وہ انہیں ملتا وہ اس کا پیٹ پھاڑ دیتے! روایت کے آخری حصہ سے یہ استفادہ کیا جاتا ہے کہ حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی معاویہ سے جنگ دین میں پیدا کی گئی اس کی بدعتوں کی وجہ سے تھی اور امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے رسول خدا(ص) کے حکم پر اس سے جنگ کی ہے۔امیرالمؤمنین علی علیہ السلام ( جنہیں اہلسنت چوتھا خلیفہ مانتے ہیں) نے معاویہ سے جنگ کی ، اہلسنت کے دوسرے تین خلفاء نے کیوں معاویہ سے دوستی رکھی  اور دو خلفاء نے تو اسے شام کے حکمرانی بھی دے دی؟!

     کیا ان کے اس کام نے اسے حجاز پر قبضہ کرنے اور رسول خدا(ص) کے منبر پر بیٹھے کاموقع فراہم نہیں کیا ہے؟

--------------

[1] ۔ اعجاز پیغمبر اعظم(ص) در پیشگوئی از حوادث آئندہ: 380


  معاویہ کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی ایک اور پیشنگوئی

نصر نے عبدالعزیزسے، حبیب بن ابی ثابت اور منذر بن ثوری سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا:

محمد بن حنفیہ کہتے تھے: فتح مکہ کے دن جب پیغمبر اکرم(ص) اپنی فوج کے ساتھ درّہ کے اوپر اور نیچے سے مکہ میں داخل ہو رہے تھے اور سپاہ اسلام نے پورے درہ کو گھیر لیا تھاتو یہ دونوں (ابوسفیان اور معاویہ) تسلیم ہوئے تا کہ اپنے لئے ساتھی  فراہم کر سکیں۔اسی طرح نصر نے حکم بن ظہیر ، اسماعیل ، حسن بصری اور نیز حکم کے قول سے، عاصم ابی النجود سے، زر بن جیش سے اور عبداللہ بن مسعود سے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:

     جب بھی معاویہ بن ابی سفیان کو دیکھو کہ وہ  میرے منبر پر بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے تو اس کی گردن مار دو۔

     حسن بصری کہتا ہیں: خدا کی قسم؛ انہوں نے ایسا نہیں کیا اور کامیاب نہیں ہوئے۔(1)

     اسی طرح نصر بن مزاحم اپنی کتاب ''صفین'' میں کہتا ہے: جنگ صفین کے دوران ایک شخص نے عمار یاسر سے کہا: اے ابوالیقظان! کیا پیغمبر(ص) نے نہیں فرمایا تھا: لوگوں کے ساتھ جنگ کرو یہاں تک کہ وہ مسلمان ہو جائیں اور جب مسلمان ہو جائیں تو ان کا خون اور مال محفوظ ہے؟

     عمار نے کہا: ہاں؛ ایسا ہی ہے، لیکن خدا کی قسم! یہ مسلمان نہیں ہوئے بلکہ انہوں نے ظاہری طور پر اسلام قبول کیا اور ان کے سینوں میں کفر پوشیدہ ہے تا کہ اسلام کا اظہارکر کے انہیں ساتھی مل جائیں۔(2)

--------------

[1] ۔ ابن ابی الحدید حسن بصری کے بارے میں کہتے ہیں: وہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے دشمنی رکھتا تھا اور لوگوں کو امام علیہ السلام کی مدد کرنے سے روکتا تھا۔وہ وسوسہ میں مبتلا تھا ۔ ایک دن وضو کرتے وقت اپنے ہاتھوں اورپاؤں پر بہت زیادہ پانی ڈال رہا تھاتو، امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے اسے دیکھا اور فرمایا: اے حسن؛ تم بہت زیادہ پانی گرا رہے ہو؟اس نے کہا:امیرالمؤمنین علیہ السلام نے مسلمانوں کا خون زمین پر بہا رہے ہیں،وہ اس سے کہیں زیادہ ہے!

امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے پوچھا: کیا اس کام نے تمہیں غمگین کیا ہے؟ اس نے کہا :ہاں

آپ نے فرمایا:ہمیشہ اسی طرح غمگین ہی رہو۔کہتے ہیں:اس کے بعد حسن بصری مرتے دم تک غمگین اوربد مزاج تھا۔

[2] ۔ اعجاز پیغمبر اعظم(ص) در پیشگوئی از حوادث آئندہ: ۳77


     اس واقعہ میں رسول خدا(ص) نے مدینہ پر معاویہ کے تسلط اور اس کا آنحضرت کے منبر پربیٹھنے کی پیشنگوئی فرمائی اور لوگوں کو حکم دیا کہ جب بھی تم لوگ دیکھو کہ معاویہ میرے منبر پر بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے تو اسے مار دو۔لیکن افسوس پیغمبر(ص) کے اس حکم پر بھی عمل نہ ہو ا۔

     قابل توجہ یہ ہے کہ اگر کوئی مسلمان ہو جائے تو اس کا خون اور مال محفوظ ہے اورقابل احترام ہوتا ہے،اس بناء پر پیغمبر اکرم (ص) کا معاویہ کو قتل کرنے کا حکم دینا اس چیز کی دلیل ہے کہ معاویہ ایمان نہیں لایا تھا اور اسی طرح اپنے کفر پر باقی تھا۔     اب ہم جو واقعہ بیان کریں گے وہ اسی حقیقت کی دلیل ہے معاویہ و ابوسفیان کے ظاہری طور پر اسلام قبول کرنے کے بعد بھی  پیغمبر اسلام نے ان پر لعنت و نفرین کی ہے:

  معاویہ کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی دوسری پیشنگوئی

 ابوعبداللہ بصری متکلّم معتزلی نے نصر بن عاصم لیثی اور اس کے باپ سے نقل کیاہے کہ وہ کہتے تھے:ہم رسول خدا(ص) کی مسجد میں داخل ہوئے ، ہم نے دیکھا کہ لوگ کہہ رہے ہیں: ہم خدا اور رسول خدا(ص) کے غضب سے پناہ مانگتے ہیں۔

     ہم نے کہا: کیا ہوا ہے؟

     انہوں نے کہا: ابھی  معاویہ اٹھا اور اس نے ابوسفیان کا ہاتھ پکڑا اور وہ دونوں مسجد سے باہر چلے گئے۔ اسی وقت رسول اکرم(ص) نے فرمایا:

     خداوند تابع ومتبوع پر لعنت کرے!میری امت پر اس معاویہ کفل بزرگ کی طرف سے کتنے سخت دن آئیں گے!

     نیز علاء بن حریز قشیری نے روایت کی ہے کہ پیغمبر اکرم (ص)نے معاویہ سے فرمایا:

     اے معاویہ؛ بیشک تم بدعت کو سنت اور برائیوں کو اچھائیوں میں بدلدوگے، تمہاری خوراک بہت زیادہ اور تمہارے ظلم بہت بڑے ہوں ہیں۔(1)

--------------

[1]۔ عجاز پیغمبر اعظم(ص) در پیشگوئی از حوادث آئندہ: ۳۷۹


     پہلی پیشنگوئی میں رسول خدا(ص) نے ابوسفیان اور معاویہ و ابوسفیان پر اپنی لعنت کی ہے اور معاویہ کے ہاتھوں اپنی امت پر آنے والی سختیوں کے بارے میں پیشنگوئی کی ہے۔رسول خدا(ص)  نے لوگوں کے سامنے انتہائی  غصہ کے عالم میں یہ فرمان بیان فرمایا۔

 دوسری پیشنگوئی میں رسول خدا(ص) نے معاویہ کو نہ صرف بدعت گذار قرار دیابلکہ اس کے علاوہ فرمایا: تم اپنا برا کردار لوگوں کے سامنے اچھا کر کے پیش کرو گے اور لوگوں پر بہت ظلم و ستم کرو گے۔

ایک اور پیشنگوئی  میں رسول خدا(ص) نے عمروعاص کو معاویہ کا اہم یار و مددگار قرار دیا ہے کہ جب یہ اکٹھے ہو جائیں گے تو مکاری اور دھوکہ کے علاوہ ان کا کوئی کام نہیں ہوگا! اسی لئے فرمایا:جب بھی ان دونوں کو اکٹھا دیکھو تو ان دونوں میں جدائی پیدا کرو۔ایک دن یہ دونوں بلند آواز سے گانا گا رہے تھے اور اس وجہ سے بھی رسول خدا(ص) نے ان دونوں پر نفرین کی اور خدا سے دعا کی کہ ان دونوں کو اہل جہنم میں سے قرار دے۔

عبداللہ بن عمروعاص کی زبانی معاویہ کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی پیشنگوئی

     یہ واقعہ قاضی ابوحنیفہ نعمان مغربی نے کتاب''المناقب والمثالب'' میں اس طرح بیان کیا ہے:

     عبداللہ بن عمروعاص کہتاہے: میں رسول خدا(ص) کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور کچھ اصحاب بھی آنحضرت کی خدمت میں تھے۔میں نے سنا کہ آپ نے فرمایا:

     اوّل طالع یطلع علیکم من هذا الفجّ،یموت علی غیر ملّت

     اس راستہ سے جو شخص سب سے پہلے داخل ہو گا ،وہ میری ملت پر نہیں مرے گا۔

عبداللہ بن عمرو عاص نے کہا:جب میں اپنے باپ سے مل کر آیا تھا تو وہ بھی رسول خدا(ص) کے پاس آنے کے لئے لباس پہن رہا تھا،اس وجہ سے مسلسل میری نگاہیں اس راستہ پر جمی ہوئیں تھیں اور خوف کے مارے میری ایسی حالت تھی جیسے کسی نے اپنا


پیشاب روک رکھاہو کہ کہیں یہ نہ ہو کہ داخل ہونے والا میرا باپ ہو،یہاں تک کہ معاویہ داخل ہوا؛پس رسول خدا(ص) نے فرمایا: وہ یہی شخص ہے۔(1)

     پھر وہ لکھتے ہیں:ابن عباس نے عبداللہ بن عمرو عاص کی یہ بات سنی تو اس نے کہا:عبداللہ بن عمرو عاص نییہ حدیث نقل کرنے کے باوجود کس طرح معاویہ کے ساتھ مل کر علی علیہ السلام سے جنگ کی؟

     عبداللہ کے پاس اپنے لئے (نہ کہ دوسروں کے نزدیک) عذر تھا(!)جس سے ابن عباس بے خبر تھے اور وہ عذر یہ تھا : کہا گیا ہے کہ وہ ایک دن کسی گروہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں سے حسین بن علی علیہما السلام کا گذر ہوا۔ عبداللہ بن عمرو نے کہا:آگاہ ہو جاؤ؛خدا کی قسم؛ یہ اہل آسمان کے نزدیک اہل زمین میں سب سے زیادہ محبوب فرد ہے۔  انہوں  نے جنگ صفین میں میرے ساتھ کوئی بات نہیں کی اور اگر یہ میرے ساتھ بات کرتے اور مجھ سے راضی ہوتے تو یہ میرے لئے سرخ رنگ کے اونٹ سے  زیادہ محبوب تھا۔

     پھر عبداللہ بن عمرو نے کسی کو امام حسین علیہ السلام کے پاس بھیجا تا کہ آنحضرت کی رضائیت حاصل کر سکے اور اس نے امام حسین علیہ السلام کے بارے میں جو کچھ کہا ،اس کے بارے میں آپ کو بتائے اور آنحضرت کی حدمت میں شرفیاب ہونے کے لئے اجازت طلب کرے۔

     امام حسین علیہ السلام نے اجازت دی اور وہ امام حسین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔امام حسین علیہ السلام نے اس سے فرمایا:

     تم جانتے ہو کہ میں آسمان والوں کے نزدیک زمین والوں میں سب سے زیادہ محبوب ہوںاور تم نے رسول خدا(ص)سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا:حسن اور حسین جوانان جنت  کے سردار ہیں اور ان کے باباان دونوں سے بہتر ہیں، لیکن پھر بھی تم نے ان کے خلاف جنگ کی؟!

--------------

[1]۔ المناقب و المثالب:219


عبداللہ بن عمرو نے کہا:خدا کی قسم؛اے فرزند رسول خدا(ص)؛ مجھے اس کام پر مجبور نہیں کیا مگر رسول خدا(ص) کے اس فرمان نے جو آپ نے مجھ سے فرمایا کہ جب عمرونے آنحضرت کے پاس آ کر میری شکایت کی اور کہا:وہ دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو نمازیں پڑھتا ہے اور میں نے اسے حکم دیا ہے کہ یہ رواداری سے کام لے لیکن یہ نہیں مانتا۔

پیغمبر اکرم(ص) نے مجھ سے فرمایا: اپنے باپ کی اطاعت کرو ۔ پس وہ معاویہ  کے پاس گیااور اس نے مجھے بھی حکم دیا کہ میں بھی اس کے ساتھ جاؤں ۔ لہذا میں نے اس کی اطاعت کی جیسا کہ رسول  خدا(ص) نے حکم دیا تھا۔

 امام حسین علیہ السلام نے اس سے فرمایا:

أولم تسمع قول اللّٰه عزوجلّ ف کتابه و قد أمر ببرّ الوالدین ،ثمّ قال: ( وَِن جَاهَدَاکَ لِتُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْْسَ لَکَ بِهِ عِلْم فَلَا تُطِعْهُمَا) (1)  و قول رسول اللهّٰ: انّما  الطّاعة ف المعروف؟

     کیا تم نے خداوند کا کتاب خدا میں یہ قول نہیں سنا کہ جس میں ماں باپ سے نیکی کرنے کا حکم دیا گیا اور پھر فرمایا:''اور اگر وہ کسی ایسی شے کو میرا شریک بنانے پر مجبور کریں جس کا تمہیں علم نہیں ہے تو خبردار ان کی اطاعت نہ کرنا ''۔اور کیا تم نے رسول خدا(ص) کا یہ فرمان نہیں سنا کہ آپ نے فرمایا: اطاعت صرف اچھے اور نیک کاموں میں ہے (نہ کہ برے کاموں میں)؟

     عبداللہ بن عمرو نے کہا: میں نے یہ سنا تھا لیکن خدا کی قسم جیسے گویا اسے نہیں سنا تھا۔(2)

     جی ہاں؛ شیطان گمراہوں کو گمراہ کرنے کی اتنی کوشش کرتا ہے کہ انہوں نے جو چیز دیکھی یا سنی ہو گویا انہوں نے نہ تو دیکھی ہے اور نہ ہی سنی ہے۔ چونکہ وہ اہل غفلت ہیں اس لئے وہ انہیں غفلت و گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے۔

--------------

[2]۔ سورۂ عنکبوت، آیت: 8

[3]۔ المناقب والمثالب:220، مناقب آل ابی طالب: ج 3 ص228، مسند احمد میں کچھ اختصار کے ساتھ: ج 2ص164، تاریخ دمشق:27831


معاویہ وعمروعاص کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی پیشنگوئی

     کتاب''معاویہ و تاریخ''میں لکھتے ہیں: طبرانی نے کبیرمیں اور ابن عساکر نے شدّاد بن اوس سے روایت کی ہے کہ رسول اکرم(ص) نے فرمایا:

     جب بھی معاویہ اور عمرو عاص کو اکٹھے دیکھوتو ان دونوں کے درمیان جدائی ڈالو؛خدا کی قسم؛یہ دونوں جب بھی اکٹھے ہوں تومکاری اور دھوکے کے علاوہ کچھ نہیں کریں گے۔

     احمد بن حنبل نے مسند میں، اور ابویعلی نے ابوبرزہ سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا:ہم رسول خدا(ص) کی خدمت میں تھے کہ اچانک گانے کی آواز آئی ،آنحضرت نے فرمایا:

     دیکھو، یہ آواز کہاں سے آ رہی ہے؟

     میں اوپر گیا اور میں نے دیکھا کہ معاویہ اور عمرو عاص گانا گا رہے تھے۔میں نے واپس آ کر سارا  واقعہ آنحضرت کی خدمت میں عرض کیا تو آپ نے فرمایا:

خداوندا! ان دونوں کو فتنہ میں داخل کر۔پروردگارا! انہیں آگ میں ڈال دے۔

طبرانی نے یہ حدیث مسند کبیر میں ابن عباس سے روایت کی ہے۔(1)

--------------

[1] ۔ معاویہ و تاریخ: 175


  امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی معاویہ کے بارے میں پیشنگوئی

مرحوم سلطان الواعظین شیرازی لکھتے ہیں: اگر آپ  غور سے نہج البلاغہ (جو امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے خطبات وکلمات کا مجموعہ ہے) کا مطالعہ کریںتو آپ کو مختلف حوادث، بڑے بادشاہوں کے حالات،صاحب زنج کا خروج، مغلوں کا غالب آنا، چنگیز خان کی سلطنت، ظالم خلفاء کے حالات اور شیعوں کے ساتھ ان کے معاملات کے بارے میں آنحضرت کی بیان کی گئی غیب کی بہت سی خبریں ملیں گی۔خاص طور پر شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدیدکی پہلی جلد کے صفحہ 208 سے 211 تک یہ تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔

 خواجہ کلان بلخی حنفی نے بھی ''ینابیع المودّة''کے چودہویں باب کے آغاز میں  امام علی علیہ السلام کے کچھ خطبات اور پیشنگوئیاں بیان کی ہیں  جو آنحضرت کے کثرت علم پر دلالت کرتی ہیں۔انہیں پڑھیئے تا کہ حقیقت واضح ہوجائے۔

معاویہ کے غلبہ پانے اور اس ملعو ن کے مظالم کی پیشنگوئی کرنا:

 ان پیشنگوئیوں میں سے ایک آنحضرت کا کوفہ والوں کو معاویہ علیہ الھاویہ کے ان پر غلبہ پانے اور انہیں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام پر سبّ ولعن کرنے کے حکم کے بارے بتانا ہے۔چنانچہ جیسا آپ نے بتایا تھا ویسے ہی بعد میں رونما ہوا۔ ان میں سے آپ نے فرمایا:

 أما أنّه سیظهر علیکم بعد رجل رحب البلعوم مندحق البطن، یأکل ما یجد ویطلب مالایجد، فاقتلوه ولن تقتلوهألا؛ وَانّه سیأمرکم بسبّ والبرائة منّ ؛ فأماّالسبّ فسبّون،فانّه لی زکوة ولکم نجاة وأمّاالبرائة، فلا تتبرّؤا منّ، فانّ ولدت علی الفطرة و سبقت الی الایمان والهجرة

     جلدی ہی میرے بعد تم لوگوں پر موٹی گردن والا اور باہر نکلے ہوئے پیٹ والا آدمی غالب آئے گا،اسے جو ملے گا وہ کھالے گااور اسے جو چیز نہیں ملے گی وہ اسے طلب کرے گا؛ پس اسے قتل کر دینا  لیکن تم اسے ہرگز قتل نہیں کرو گے۔

     آگاہ ہو جاؤ؛ جلد ہی وہ شخص تمہیں مجھ پر سبّ و شتم کرنے اور مجھ سے سے بیزاری کا اظہار کرنے کا حکم دے گا۔میں


تمہیں سبّ و شتم کرنے کی اجازت دیتا ہوں(چونکہ وہ زبانی ہے)کیونکہ یہ سبّ وشتم میرے لئے پاکیزگی اور تمہارے لئے (اس ملعون کے شر ّ سے) نجات ہے۔لیکن مجھ سے بیزاری کا ظہار نہ کرنا(چونکہ یہ ایک قلبی امر ہے) کیونکہ میں فطرت (توحید و اسلام) پر متولد ہوا ہوں ، (یہ جملہ اشارہ ہے کہ آنحضرت کے والدین مؤمن تھے)اور میں نے آنحضرت کے ساتھ ایمان اور ہجرت میں سبقت لی ہے۔(1)

--------------

[1] ۔ زیادہ کھانے والے شخص  سے حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی مراد معاویہ علیہ الھاویہ ہے کیونکہ ابن ابی الحدید ''شرح نہج البلاغہ (چاپ مصر):3351''میں کہتے ہیں: معاویہ زیادہ کھاتا تھا اور وہ تاریخ میں زیادہ کھانے والے کے نام سے مشہور ہے۔''وکان یأکل فی الیوم سبع أکلات'' (جیسا کہ زمخشری نے کتاب''ربیع الأبرار''میں کہاہے)وہ دن میں سات مرتبہ کھاناکھاتا تھااور ہر مرتبہ اتنا زیادہ کھاتا تھاکہ وہ دسترخوان کے ساتھ ہی لیٹ جاتا تھااور آواز دیتا تھا:''یا غلام ؛ارفع فواللّٰه ما شبعت ولکن مللت' 'اے غلام؛آؤ اور یہ دسترخوان لے جاؤ خدا کی قسم؛ میں  تھک گیا ہوں لیکن ابھی تک سیر نہیں ہوا۔

یہ ملعون ان لوگوں میں سے تھا کہ جسے ''جوع الکلاب''کی بیماری لاحق تھی۔(قدیم طب میں اس بیماری کے بارے میں لکھا ہے کہ اس بیماری کے دوران بیمار کے معدہ میں ایسی حرارت ہوتی ہے کہ چاہے جو غذا مری کے ذریعہ معدہ تک پہنچے لیکن پھر بھی وہ بحارات میں تبدیل ہو جائے گی اور اس کا نفع و نقصان معلوم نہیں ہوگا)۔

اس کا زیادہ کھانا ایک ضرب المثل بن گئی۔ہر زیادہ کھانے والے شخص کو اس سے تشبیہ دیتے تھے۔ ایک شاعر نے زیادہ کھانے والے  .1پنے ایک دوست کی خوبصورت انداز میں مذمت کی ہے اور کہا ہے:

و صاحب ل بطنه کالهاویة        کأنّ ف امعانه معاویة

 میراایک ایسا دوست ہے کہ جس کا پیٹ ہاویہ کی طرح ہے کہ جیسے اس کی انتڑیوںمیں معاویہ بیٹھا ہو۔

ہاویہ ،جہنم کے طبقوں میں سے ایک ہے، چونکہ جہنم کافروں کو قبول کرنے سے سیر نہیں ہو گی۔ جیسا کہ قرآن مجید میں فرمایا ہے:جہنم سے کہا جائے گا:( ه َلِ امْتَلَاْتِ وَتَقُولُ ه َلْ مِن مَّزِیْدٍ )(سور ه ٔ ق،آیت:٣٠) ''کہ کیا تو بھر گیا  ہے؟تو وہ کہے گا کہ کیا کچھ اور مل سکتا ہے؟ ''یہ اشارہ ہے کہ جہنم کبھی بھی کافروں کو قبول کرنے سے سیر نہیں ہو گا۔


     ابن ابی الحدید نے ''شرح نہج البلاغہ(چاپ مصر):ج 1ص۳6۵'' اور دوسروں نے اہلسنت کے بزرگ علماء سے تصدیق کی ہے کہ وہ لعین، معاویہ بن ابی سفیان ہی تھاکہ جب وہ غالب ہوا تو اس کی خلافت محکم ہو گئی تو اس نے لوگوں کوامیر المؤمنین علی علیہ السلام پر سبّ و شتم کرنے اور آنحضرت سے بیزاری کا اظہار کرنے کا حکم دیا۔ آٹھ سال تک مسلمانوں میں یہ قبیح فعل رائج رہا اور وہ ظالمانہ طور پر عمر بن عبدالعزیز کی خلافت کے زمانے تکمحراب و منبر حتی کہ نماز جمعہ کے خطبوں میں بھی آنحضرت پر سبّ و شتم کرتے تھے۔ پھر اس وقت کے اس اموی خلیفہ نے صالحانہ سوجھ بوجھ سے سبّ و شتم کو ختم کیا اور لوگوں کو یہ قبیح کام کرنے سے منع کیا۔(1)

عمر بن عبدالعزیز کے کئی چہرے تھے اور اس نے صرف منبروں سے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام پر سبّ و شتم کرنے سے منع کیا اور منبروں کے علاوہ ہر کسی کو امیرالمؤمنین علی علیہ السلام پر سبّ و شتم کرنے کی کھلی چھوٹ تھی لیکن اگر کوئی معاویہ پر لعنت کرتا تھا تو وہ عمربن عبدالعزیز کے حکم پر تازیانہ کھاتا تھا!!

''الغارات'' کی روایت کے مطابق شامیوں کی فتح کے بارے میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی پیشنگوئی

     امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے اہل کوفہ سے فرمایا:

     تم لوگوں پر شامی غلبہ پا لیں گے۔

     انہوںنے کہا: آپ کو یہ کہاں سے معلوم ہوا؟

     فرمایا: میں دیکھ رہا ہوں کہ ان کا کام بڑھتا چلا گیا ہے لیکن تمہاری آگ بجھ چکی ہے ، وہ کوشش کر رہے ہیں اور تم لوگ مست ہو، وہ متحد ہیں لیکن تم لوگ بکھرے ہوئے ہو،وہ اپنے امیرکی اطاعت کرتے ہیں لیکن تم لوگ اپنے امیر کی ایک نہیں سنتے۔ خدا کی قسم! اگر وہ تم پر غلبہ پالیںتو میرے بعد وہ تمہارے ساتھ بہت براسلوک کریں گے۔

--------------

[1]۔ شب ہای پشاور:940


     میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ تمہارے شہروں پر قبضہ کر لیں گے،تمہارا مال اور غنائم اپنی طرف لئے جائیں گے، گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگوں میں سے کچھ تو چھپکلی کی طرح زمین پرگھسیٹے جاؤ گے اور آرام سے ایک دوسرے کی طرف چلو گے، وہ تمہارا کوئی بھی حق ادا نہیں کریں گے اور خدا کے محترمات کا خیال نہیں کریں گے۔

     گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ تمہارے قاریوں کو قتل کردیں گے اور میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ تمہیں محروم کر دیں گے اور تمہیں اپنے پاس نہیں آنے دیں گے، وہ لوگ شامیوں کو تو آنے دیں گے لیکن تمہیں مسترد کر دیں گے ۔ اس وقت کہ جب تم لوگوں نے محرومیت اور بدعتوں کودیکھا اور جب تم پر تلواریں چلائی گئیں تو تم لوگ پچھتاؤ گے  اور تم محزون ہو گے کہ کیوں ان سے جہاد نہیں کیا، لیکن اس وقت پچھتانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔(1)

  اس بارے میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی دوسری پیشنگوئی

     ابن ابی الحدید نے''ولئن أمهل اللّٰه الظالم فلن یفوت أخذه وهو له بالمرصاد فرض کرو کہ اگر خداوند ظالم کو مہلت دے لیکن ان کا مؤاخذہ کرنے سے باز نہیں آئے گا اور خداوند اس کے لئے کمین میں ہے''سے شروع ہونے والے خطبہ میں کلمات کی تشریح کرنے کے بعد اس طرح سے بحث بیان کی ہے:

     امیر المؤمنین علی علیہ السلام  قسم کھاتے ہیں کہ شامی ضرور عراق کے لوگوں پر کامیاب ہو جائیں گے اور اس کی یہ وجہ نہیں ہے کہ وہ حق پر اور عراقی باطل پر ہیں ، بلکہ اس کا یہ سبب ہے کہ وہ اپنے امیر کے زیادہ مطیع و فرمانبردار ہیں۔

     جنگ میں فتح کا دارومدار فوج کی کمانڈ اور اس کے امور کو منظم رکھنے پر ہوتا ہے نہ کہ کامیابی کا دارومدار حق پر ہوتا ہے۔اگر عقیدے کے لحاظ سے کوئی لشکر حق پر ہو لیکن ان کی آراء مختلف ہوں اور وہ اپنے سپہ سالار کی فرمانبرداری نہ کریں تو اس جنگ میں ان سے کچھ نہیں ہو سکتا ۔کیونکہ اسی لئے ہم نے کئی باردیکھا ہے کہ مشرک ، اہل توحید پر فتح پا جاتے ہیں۔

     پھر امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے اس بارے میں ایک لطیف نکتہ نقل کیا ہے اور فرمایا ہے:

--------------

[1]۔ الغارات و شرح اعلام آن:277


     عام طور پر عرف میں یہ ہوتا ہے کہ رعایا حاکم کے ظلم و ستم سے ڈرتی ہے جب کہ میں خود پراپنی رعایا کے ستم سے خوفزدہ ہوں۔

جو کوئی بھی امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے دورۂ حلافت کے حالات پر غور کرے تو وہ یہ سمجھ جائے گا کہ آنحضرت کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور آپ کے دل میں جو کچھ تھا آپ وہ نہیں کر سکے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ آنحضرت کو حق وحقیقت سمجھنے والے بہت کم تھے اور اکثر لوگوں کا آنحضرت کے بارے میں ویسا عقیدہ نہیں تھا کہ جیسا ہونا چاہئے تھااور وہ آپ سے پہلے خلفاء کو آپ سے افضل سمجھتے تھے اوران کا یہ خیال تھا کہ افضلیت بھی خلافت کی ترتیب کے لحاظ سے ہے۔ان کی نئی نسل بھی  اپنے آباء  و اجداد کی تقلید کرتی تھی اور ان کا یہ کہنا تھا: اگر ہمارے آباء و اجداد ان کی فضیلت سے آگاہ ہوتے تو انہیں دوسروں پر مقدم کرتے اور وہ لوگ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کوپہلے خلفاء کی رعایا اور پیروکار سمجھتے تھے! آنحضرت کے ساتھ جنگ کرنے والوں میں سے بھی اکثر کی بنیاد تعصب، جوش، تکبراورعربی گھمنڈتھا نہ کہ وہ عقیدے اور دین کی وجہ سے جنگ کر رہے تھے۔امیر المؤمنین علی علیہ السلام انہیں  مجبوراً برداشت کررہے تھے اور آپ جو کچھ چاہتے تھے اس کا اظہار نہیں کر سکتے تھے۔(1)

''الغارات ''سے منقول امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی دوسری پیشنگوئی

     کتاب''الغارات'' میں لکھتے ہیں: امیرالمؤمنین علی علیہ السلام ہر دن مسجد کوفہ میں ایک مقام پر تشریف فرما ہوتے تھے اور صبح کی نماز کے بعد طلوع آفتاب تک تسبیح و تہلیل میں مصروف رہتے تھے۔سورج طلوع ہونے کے بعد آپ منبر پر تشریف لے جاتے اور اپنی انگلیاں اپنے ہاتھ کی ہتھیلی پر مارتے تھے اور فرماتے تھے: صرف کوفہ باقی رہ گیا ہے کہ جس میں میرا حکم چلتا ہے ۔ اور فرمایا:

--------------

[1]۔ جلوۂ تاریخ ددر نہج البلاغہ ابن ابی الحدید: ج3ص370


لعمر أبیک الخیر یا عمرو انّن           علی وضر من ذا الاناء قلیل

     ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ آنحضرت نے فرمایا:

     اے کوفہ؛ اب صرف تم ہی میرے پاس ہو ،کاش کہ تو بھی نہ ہوتا اور مجھے اپنے طوفانوں سے پریشان نہ کرتا ۔ اے کوفہ؛ تمہارا منہ کالا ہو۔

     نیز آپ نے فرمایا:اے لوگو؛بسر بن ارطاة یمن پر ظاہر ہوا اور اب عبیداللہ عباس اور سعید بن نمران آگئے ہیں ۔ میں دیکھ رہا کہ یہ قوم اپنے اتحاد و اتفاق کی وجہ سے کامیاب ہو جائے گی اور باطل غالب آجاے گا؛لیکن تم لوگ حقپر ہوتے ہوئے بھی بکھرے ہوئے ہو۔وہ لوگ اپنے رہبر کی اطاعت کرتے ہیں لیکن تم لوگ اپنے امام کی بات نہیں سنتے ۔وہ امانتوں کی حفاظت کرتے ہیں   لیکن تم لوگ امانت میں خیانت کرتے ہو۔

     میں نے فلاں شخص کو ولی بنایا اور اس نے خیانت کی،مسلمانوں کے مال اور غنائم لے کر معاویہ کی طرف چلا گیا۔دوسرے کو حاکم بنایا تو اس نے بھی اسی کی طرح خیانت کی۔اب مجھے اتنا بھی اعتماد نہیں ہے کہ میں ایک تازیانہ بھی تم لوگوں کے پاس بطور امانت رکھوں۔

     میں گرمیوں میں تم لوگوں سے کہوں کہ جہاد کے لئے جاؤ تو کہتے ہو:اب موسم گرم ہے ،کچھ تأخیر کر دیں تاکہ گرمیاں گذر جائیں۔اگر سردیوں میں جنگ پر جانے کا حکم دوں تو کہتے ہو کہ ابھی موسم سرد ہے ،کچھ مدت تک رک جائیں تا کہ سردیاں گذر جائیں۔

     خدایا:وہ مجھ سے تھک گئے ہیں اور میں ان سے تھک گیا ہوں، مجھے ان سے بہتر (امت) عطا کر اور ان پر مجھ سے برا (حاکم) مسلط کر۔ان کے دل کو پانی کر دے ؛جس طرح نمک پانی میں گھل ہو جاتا ہے۔

     حارث بن سلیمان کہتے ہیں: امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا:

     یہ قوم تم لوگوں پر غالب آ ئے گی؛کیونکہ تم لوگمتحد نہیں ہو اور حق کا دفاع نہیں کرتے ہو ، لیکن وہ لوگ اپنے باطل


پرمتحد ہیں ۔ جب بھی تم لوگوںمیں  ک  وئی ایسا امام ہو کہ جو لوگوں میں عدالت سے کام لے اور مال تقسیم کرنے میں سب کو یکساں دیکھے تو اس کی اطاعت کرواور اس کی باتوں کو سنو۔ لوگوں میں نظم و ضبط نہیں پایا جاتا مگر یہ کہ ان میں کوئی امام ہو،خواہ وہ امام اچھا عمل کرے یا برا عمل کرے۔اگر وہ نیک  کام کرے تو اس کے اپنے لئے بھی اچھا ہے اور لوگوں کے لئے بھی اور اگر بدکار ہو تو اس کی حکومت میں مؤمن خدا کی عبادت میں مشغول ہو جائیں اور فاسق و فاجر اس وقت تک کام کرتے رہیں گے جب تک ان کے لئے معین ہواہو۔

     اے لوگو!میرے جانے کے بعد تم لوگوں کو حکم  دیا جاے گا کہ مجھ پر سبّ و شتم کرو اور مجھ سے بیزاری  و برائت اختیارکرو۔جو بھی مجھپر سبّ و شتم کرنا چاہے اس میں کوئی مانع نہیں ہے،لیکن مجھ  سے برائت اختیار  نہ کرنا کیونکہ میرا دین اسلام ہے۔

ابوعبدالرحمن سلمی کہتے ہیں:لوگ ایک دوسرے سے ملے اور انہوں نے ایک دوسرے کی مذمت کی  اور شیعہ آپس میں ایک دوسرے سے گفتگو کرنے میں مشغول ہو گئے، اشراف اور بزرگ افراد آپس میں مشورہ کرنے میں مصروف ہو گئے اور پھر وہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے پاس آئے اور انہوں نے کہا:یاامیر المؤمنین ؛آپ کسی شخص کو معین کریں اور اس کے ساتھ ایک لشکر بھیج دیں تا کہ اسے سبق سکھا سکیں،اور اس کے بعد بھی آپ جو حکم دیں گے ہم اس کی اطاعت کریں گے اور آپ کی  خوشنودی کے برخلاف کوئی فعل انجام نہیں دیں گے۔

     حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا:

     میں نے اس مرد کے پیچھے ایک شخص کو بھیجا ہے اور وہ واپس نہیں آئے گا مگر یہ کہ ان میں سے کوئی ایک دوسرے کو مار دے اور اسے اس ملک سے باہر نکال دے،اب تم لوگ استقامت کا مظاہرہ کرو اور میری باتوں کو سنو اور خود کو شامیوں سے جنگ کرنے کے لئے تیار کرو۔


     اسی دوران سعید بن قیس ہمدانی اٹھے اور انہوں نے کہا:یا امیرالمؤمنین علی علیہ السلام ؛خداکی قسم؛اگر آپ ہمیں قسطنطنیہ یا روم کی طرف پیدل بھی بھیج دیں اور ہمیں کوئی تنخواہ اور کوئی فائدہ بھی نہ دیں  پھر بھی میں اور میری قوم آپ کی مخالفت نہیں کرے گی۔

     حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا:

     تم سچ کہہ رہے ہو،خدا تمہیں جزاء خیر عطا فرمائے۔

     اس کے بعد زیاد بن خصفہ اور وعلة بن مخدوع اٹھے اور انہوں نے کہا:یا امیرالمؤمنین علی علیہ السلام ؛ہم آپ کے شیعہ ہیں اور آپ کا حکم مانتے ہیں اور آپ کے ساتھ ہماری کوئی مخالفت نہیں ہے۔

     فرمایا: ہاں؛ تم سچ کہہ رہے ہو اور اب خود کو شام جانے کے لئے تیار کرو۔

     لوگوں  نے اپنی اطاعت کاا علان کیا اور آپ نے فرمایا:کسی ایسے شخص کے بارے میں بتاؤ جوعراقی سرحدوں کی طرف سے لوگوں کو جنگ کی دعوت دے۔

     سعید بن قیس نے کہا:خدا کی قسم؛ عربوں کے اس جنگی امور کے لئے ایسے شخص کے بارے میں بتاتا ہوں جو مکمل طور پر آپ کا دفاع کرے گا اور آپ کے دشمنوں سے سختی سے پیش آئے گا۔

     حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا: وہ شخص کون ہے؟

     کہا: معقل بن قیس ریاحی۔

     آپ نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے اسے بلایا اور اور کوفہ کی سرحد کی طرف بھیجا اور ابھی تک وہ واپس نہیں آیا تھا کہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام  شہید ہو گئے۔(1)

--------------

[1]۔ الغارات و شرح اعلام آن: 333


  ''مروج الذہب'' سے منقول امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی پیشنگوئی

     معاویہ نے اپنے دوستوں میں سے کسی کو کوفہ بھیجا تھا تا کہ مروان اسے وہاں  پہنچائے ۔ اس بارے میں لوگوں نے بہت زیادہ باتیں کیں یہاں تک کہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام تک یہ بات پہنچی اور آپ نے اپنی ایک نشست میں فرمایا:

     تم لوگ معاویہ کی موت کے بارے میں بہت باتیں کر رہے ہو ؛ خدا کی قسم وہ تب تک نہیں مرے گا کہ جب تک میری سلطنت میں بھی تصرف نہ کر لے ۔ جگر خور کا یہ بیٹا مجھ سے یہ سنا چاہتا ہے اور اس نے کسی کو بھیجا ہے تا کہ وہ اپنی موت کی خبر پھیلائے اور اپنے مستقبل کے بارے میں میرے نظریہ کو یقین سے جان لے؟

     پھر آپ نے بہت سے کلمات ارشاد فرمائے اور پھر معاویہ اور اس کی نسل میں سے یزید  و مروان اور اس کے بیٹوں کا تذکرہ کیا اور پھر حجاج اور ان ساتھ ہونے والے تشدد کو بیان فرمایا۔

     لوگ رونے لگے اور ان کے گریہ وزاری کی آوازیں اور زیادہ ہو گئیں اور ان میں سے ایک شخص اٹھا اور اس نے کہا: اے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام !آپ نے بہت بڑے حادثات کے بارے میں بتایا ہے ، آپ کو خدا کی قسم؛کیا یہ سب واقع ہوں گے؟

امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا:خدا کی قسم؛یہ سب واقع ہوں گے اور مجھ سے جھوٹ نہیں  بتایا گیا اور میں بھی جھوٹ نہیں بولتا۔

     بعض لوگوں نے کہا: اے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام ؛ یہ سب کب واقع ہو گا؟فرمایا:جب یہ رنگین ہو جائے۔ اور پھر آپ نے اپنا ایک ہاتھ اپنی ڈاڑھی مبارک اور دوسرا ہاتھ سر اقدس پر رکھا اور لوگوں  نے بہت گریہ کیا، پھر آپ نے فرمایا:

اب مت رو کیونکہ تمہیں میرے بعد بہت رونا ہے؟

اس کے بعد کوفہ کے اکثر لوگوں نے مخفی طور پر معاویہ کو اپنے بارے میں خط لکھا اوروہ اس کی حوصلہ افزائی کا وسیلہ بنے! کچھ دن ہی گذرے تے یہ سانحہ (شہادت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام ) رونما ہوا۔(1)

--------------

[1]۔ مروج الذہب: ج۱ ص۷۷۷


جنگ صفین میں جناب عمار یاسر کی شہادت کے بارے میں رسول اکرم(ص) کی پیشنگوئی

     جناب عمار یاسر کی شہادت کے بارے میں رسول اکرم(ص) کی پیشنگوئی اور اس کے  اثرات کو بیان کرنے سے پہلے ہم جناب عمار یاسر کی عظمت کے بارے میں کچھ مطالب ذکر کرتے ہیں:

     جناب عماریاسر نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی تھی  اور آپ جنگ بدر،احد،خندق اور بیعت رضوان میں رسول اکرم(ص) کے ہمراہتھے اور آپ نے اسلام کا دفاع کیا اور خدا کی راہ میں جہاد کیا اور مشرکوں سے جنگ کی۔رسول اکرم(ص) جناب عمار کے متعلق بات کرتے تھے اور فرماتے تھے:

     صحیح راستہ عمارسے سیکھو اور ان کی پیروی کرو۔

     خالد بن ولید کہتا ہے:میرے اور عمار کے درمیان گفتگوہوئی اور میں نے ان کے ساتھ غصہ سے بات کی ، عمار رسول خدا(ص) کے پاس گئے اور میری شکایت کی ، خالد بھی گیا اور اس نے بھی شکایت کی اور عمار کے بارے میں کچھ سخت کلمات کہے ، پیغمبر اکرم(ص) خاموش ہو گئے اور آپ نے کچھ نہیں کیا۔اسی دوران عمار بن یاسر رونے لگے۔     عمار نے کہا:یا رسول اللہ!آپ نے خالد کی باتیں سنی کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔     اس وقت رسول خدا(ص) نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا:

     جو بھی عمار سے دشمنی رکھے ،اس نے خدا سے دشمنی کی اور جو بھی عمار کو ناراض کرے اس نے خدا کو ناراض کیا۔

     خالد نے کہا:میں پیغمبر اکرم(ص) کے پاس سے اٹھ کر باہرچلا گیا اور میں نے عمار سے صلح کر لی اور ان کی رضائیت حاصل کر لی۔(1)

     رسول اکرم(ص) مدینہ میں ابوایوب انصاری کے گھر گئے اور اس کے ساتھ زمین خرید ی،جس میں مسجد اور اپنا گھر بنایا۔(2)

--------------

[1]۔ الغارات و شرح اعلام آن: 492

[2]۔ السیرة النبویّة:ج 4ص106


     ابن اسحاق نے مسجد بنانے (جسے مسلمانوں نے تعمیر کیا) کے واقعہ کو بیان کرتے  ہوئے خاص طور سے عمار کا نام ذکر کیا ہے۔

     وہ کہتے ہیں: جب عمار یاسر داخل ہوئے تو ان کے کندھوں پر بہت زیادہ اینٹیں رکھی ہوئی تھیں۔

     انہوں ے کہا: یا رسول اللہ! مجھے مارڈالا؛ یہ جو چیز خود نہیں اٹھا سکتے وہ میرے کندھوں پر رکھ دیتے ہیں۔

     ام سلمہ - پیغمبر اکرم(ص) کی زوجہ - کہتی ہیں: میں نے دیکھا کہ رسول خدا(ص) نے اپنے ہاتھوں سے ان   کے سر سے بوجھ کو اتارا جب کہ ان کے گھنگھریالے بال تھے .....اور فرمایا:     یہ تمہیں قتل نہیں کریں گے؛ بلکہ ایک باغی گروہ (سرکش اور ظالم) تمہیں قتل کرے گا۔(1)

     یہ ہے رسول اکرم(ص) کا وہ مشہور فرمان جو آپ نے اپنے اس صحابی کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ جس نے فداکاری میں اپنی جان سے بھی دریغ نہ کیا۔     اس مرحلہ کاد قیق مطالعہ ہم پیغمبر اکرم(ص) کا اپنے صحابی کے بارے میں بیان کئے گئے فرمان سے نزدیک ہوں اور ان کی شخصیت کی مکمل طور پر معرفت حاصل کریں ، ان میں سے کچھ یہ ہے:

     ان کے بینظیر کردار و رفتار،روشن نقش اور سب سے بڑھ کر رسول اکرم(ص) سے ان کا مضبوط تعلق ہے۔ اس بارے میں -زہری کی روایت کی بنیاد پر-جس زمین پر عمار نے گھر بنایا تھا،وہ زمین انہیں رسول خدا نے عطا کی تھی۔(2)

     جب مسلمانوں کے درمیان عقیدے کی بنیاد پر اخوت و بھائی چارہ کا اعلان ہوا تو اس موقع پر  انصار میں سے ایک جلیل القدر صحابی جناب حزیفہ بن یمان کوعمار کا بھائی قرار دیا گیا۔(4)(3)

--------------

[1]۔ السیرة النبویّة:ج2ص102

[2]۔ الطبقات الکبری:ج3ص250

[3]۔ الطبقات الکبری:ج3 ص 250

[4]۔ رفتار شناسی امام علی علیہ السلام در آئنہ ٔ تاریخ: 196


     اس بناء پر رسول خدا(ص) کے صحابیوں میں سے عمار یاسر ایک  نمایاں چہرہہے جنہیں مسلمانوں میں بہت زیادہ محبوبیت حاصل ہے۔

     رسول خدا(ص) نے جناب عمار یاسرکے ماضی، شہرت، محبوبیت اور تمام خصوصیت کی وجہ سے لوگوں میں عمار کی شہادت کی کیفیت کے بارے میں پیشنگوئی بیان فرمائی تا کہ اس کے ذریعہ تمام مسلمان حق و باطل کو ایک دوسرے سے تشخیص دے سکیں اور یہ جان لیں کہ جس گروہ میں بھی عمار ہوں گے وہ راہ ہدایت پر ہو گا اور دوسرا گروہ گمراہی و ضلالت کی راہ پر گامزن ہو گا۔

     جناب عمار کی ایک خصوصیت آپ کی خطابت تھی ۔ آپ اپنے خطاب کی طاقت سے حقائق کو واضح کر تے تھے اور دلیل و برہان کے ذریعہ افراد کی رہنمائی کرتے تھے۔ حق کی حمایت کی راہ میں انہیں کوئی خوف و ملال نہیں تھا اور وہ کسی سے بھی خوفزدہ نہیں ہوتے تھے۔ وہ اپنے کلام کی تأثیر سے لوگوں کی رہنمائی کرتے تھے۔

     ابن ابی الحدید نے نصر بن مزاحم سے جناب عمار یاسرکی رہنمائی کے واقعہ کو اس طرح سے بیان کیا ہے:

جنگ صفین میں جناب عمار یاسر کی رہنمائی

     نصر بن مزاحم کہتے ہیں: یحییٰ بن یعلی نے صباح مزنی سے اور انہوں نے حارث بن حصن سے، زید بن ابی رجاء سے اورانہوںنے اسماء بن حکیم فزاری سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا ہے:

ہم جنگ صفین میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے ساتھ اور عمار یاسر کے پرچم تلے تھے۔ظہر کے وقت ہم نے سرخ چادرسے اپنے لئے سایہ فراہم کیا ہوا تھا ۔ صفوں کے پیچھے سے گزرنے والا ایک شخص کہ جیسے وہ انہیں شمار کر رہا ہو، وہ آگے آیا اور میرے پاس آ کر اس نے پوچھا: تم میں سے عمار یاسر کون ہے؟

     عمار نے کہا: میں عمار ہوں۔

     اس نے پوچھا:وہی کہ جس کا دشمن ابویقظان ہے؟

     کہا: ہاں


     اس شخص نے کہا:میں تم سے کچھ کہنا چاہتا ہوں کیا سب کے سامنے کہوں یا تنہائی میں؟

     عمار نے کہا: تم جس طرح چاہو کہہ سکتے ہو۔

     اس نے کہا:میں سب کے سامنے کہتا ہوں۔

     عمار نے کہا: کہو۔     ہم جس حق پر ہیں،اس کی وجہ سے میں اپنے خاندان سے نکل آیا ہوںاور مجھے اس گروہ کے گمراہ ہونے میںبھی کوئی شک نہیں ہے اور میں جانتا ہوں کہ وہ باطل پر ہیں اور کل رات تک میں اسی حال میں تھا لیکن کل رات میں نے خواب دیکھا کہ ایک فرشتہ آگے آئی اور اس نے اذان کہی اور اس نے گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی خدا نہیں ہے اور محمد(ص) خدا کے رسول ہیں اور اذان کے ساتھ نماز قائم ہو گئی ،ان کے مؤذن نے بھی ایسے ہی کیا اور نماز کی صفیں کھڑی ہو گئیں ،ہم نے ایک ساتھ نماز ادا کی اور ایک ساتھ قرآن کی تلاوت کی اور ایک ساتھ دعا پڑھی۔کل رات سے میں شک میں مبتلا ہوں اور میں نے کس حال میں رات گذاری ہے یہ خدا ہی جانتا ہے کہ مجھ پر کیا گذری۔جب رات سے صبح ہوئی تو میں امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی خدمت میں گیا اور یہ سارا واقعہ آنحضرت سے بیان کیا۔آپ نے فرمایا:     کیا تم نے عمار یاسر کو دیکھا ہے؟

     میں نے کہا:نہیں۔

     فرمایا:ان سے ملو اور دیکھو کہ وہ کیا کہتے ہیں اور ن کے فرمان کی پیروی کرو۔     لہذا اس کام کے لئے میں آپ کے پاس آیا ہوں؟عمار نے اس سے کہا:کیا تم اس شخص کو جانتے ہو جو میرے سامنے سیاہ رنگ کا پرچم پکڑ ے کھڑا ہے؟وہ عمرو عاص کا پرچم ہے اور میں  نے پیغمبر اکرم(ص) کے ساتھ اس سے تین بار مقابلہ کیا ہے اور جنگ کی ہے اور یہ چوتھی مرتبہ ہے اور پہلے کی بنسبت اس بار نہ صرف بہتر ہے بلکہ یہ ان سب سے زیادہ بدتر اور تباہ کرنے والا ہے۔ کیا تم نے خود جنگ بدر،احد اور حنین(1) میں شرکت کی یاتمہارے باپ نے شرکت کی کہ جس نے تمہیں یہ بتایا ہو؟

--------------

[1] ۔ حالانکہ متن اور''وقعة صفین'' میں یونہی ہے لیکن حنین کی بجائے احزاب صحیح ہے کیونکہ جنگ حنین میں عمروعاص ظاہری طور پر مسلمان ہو چکا تھا۔وہ فتح خیبر کے سال مسلمان ہوا تھا۔


     اس نے کہا: نہیں۔

     عمار نے کہا:ہمارا مقام اور پرچم وہی مقام اور وہی پرچم ہے جو رسول خدا(ص) کا جنگ بدر،احد اور حنین میں تھا اور اس گروہ کا پرچم وہی احزاب کے مشرکوں کا پرچم ہے۔     کیا تم وہ لشکر اور اس میںموجود افراد کو دیکھ رہے ہو؟خدا کی قسم؛میں یہ پسند کرتا ہوں کہ ان سب کااور معاویہ کے ساتھ مل کر ہمارے علم سے جنگ کرنے کے لئے آنے والوں  اور ہم سے الگ ہونے والوں (جن کے ہم معتقد تھے اور ہم ایک ہی جسم تھے )کا سر کاٹ دوں اور ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردوں۔خدا کی قسم؛ان سب کا خون بہانا چڑیا کا خون بہانے سے بھی زیادہ حلال ہے۔کیا تم چڑیا کا خون بہانا حرام سمجھتے ہو۔

     اس نے کہا:نہیں؛ بلکہ یہ حلال ہے۔

     عمار نے کہا:اسی طرح ان کا خون بھی حلال ہے۔کیامیں نے تمہارے لئے یہ مسئلہ واضح کر دیا۔

     اس نے کہا:جی ہاں۔

مار نے کہا:اب جسے چاہتے ہو منتخب کر لو۔

     وہ شخص واپس لوٹ گیا،عمار یاسر نے دوبارہ اسے بلایا اور کہا:بیشک بہت جلد ممکن ہے کہ یہ اپنی تلواروں سے تم پر ایسا وار کریں کہ تمہارے باطل کے پیروکار بھی شک و تردید کا شکار ہو جائیں اور کہیں:اگر یہ حق پر نہ ہوتے تو ہم پر کبھی کامیاب نہ ہوتے۔

     خدا کی قسم؛یہ لوگ مکھی کی آنکھ کو آلود کرنے والے تنکے کے برابر بھی حق پر نہیں ہیں۔اور خدا کی قسم!اگر ہم اپنی تلواروں سے ان پر ایسا وار کریں کہ انہیں ہجر(2) کے صحراؤں تک بھگا دیں ۔اور ضرور یہ جان لو کہ ہم حق پر ہیں اور یہ باطل پر۔(3)

--------------

[2] ۔ ہجر؛بحرین کی وہی سرزمین ہے کہ جہاں کی کھجوریں زیادہ  اور اچھی ہونے کے لحاظ سے مشہور ہیں ۔ ترجمہ ''تقویم البلدان:137''

[3]۔ جلوۂ تاریخ در شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید:ج3ص135


جنگ صفین میں عمار یاسرکا خطاب اور عمرو عاص پر اعتراض

     قابل توجہ ہے کہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے لشکر کے سپہ سالار عمار یاسر نہ صرف اپنے کلام سے عراق کی فوج کی رہنمائی کرتے تھے بلکہ اپنی پوری توانائی کے ساتھ شام کے لشکر اورعمرو عاص جیسے افراد سے سے خطاب کرتے تھے اور انہیں ان کے شرمناک انجام سے خبردار کرتے تھے۔

     ابن ابی الحدید کھڑے ہوئے  نصر بن مزاحم منقری سینقل کرتے ہیں:

     جنگ صفین میں عمار یاس ر کھڑے ہوئے اور کہااے خدا کے بندو! میرے ساتھ مل کر اس قوم سے جنگ کرنے کے لئےکھڑے ہو جاؤ کا یہ خیال ہے کہ وہ ایسے ظالم شخص کے خون کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ جو خود ظلم و ستم کرتا تھا۔ بیشک اسے اچھے لوگوں نے قتل کیا ہے کہ جو اسے ظلم و ستم اور تجاوز کرنے سے منع کرتے تھے اور اسے نیکی کا حکم دیتے تھے۔یہ لوگ ( اگر دنیا کے بدلے ان کا دین چلا بھی جائے تو یہ پھر بھی اس کو کوئی اہمیت نہ دیتے ) ہم پر اعتراض کرتے ہیںاور کہتے ہیں:کیوں اسے قتل کیا؟

     ہم نے کہا: دین میں پیدا کی گئی اس کی بدعتوں کی وجہ سے اسے قتل کیا ہے۔

     وہ کہتے ہیں: اس نے کوئی بدعت  ایجاد نہیں کی تھی اور اس کی یہ وجہ ہے کہ اس نے ان کے ہاتھوں میں دنیا دے دی تھی ؛ کہ جیسے یہ صرف کھاتے اور چرتے ہیں اور اگر پہاڑ بھی آپس میں ایک دوسرے سے ٹکرا کے بکھر جائیں تویہ اسے بھی کوئی اہمیت نہیں دیں گے۔

     خدا کی قسم! میں سوچ بھی نہیں سکتا کہ یہ خون کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن اس قوم نے دنیا داری کا مزہ چکھا ہے اور اس کو شیریں پایا ہے۔ جب کہ یہ جانتے ہیں کہ اگر صاحب حق ان کے اوپر حاکم ہو جائے تو جو یہ کھاتے اور چرتے ہیں ،اس کے اور ان کے درمیان رکاوٹ ایاد کر دے۔

     اس قوم کا اسلام میں سے کو واسطہ نہیںہے کہ جس کی وجہ سے یہ حکومت کے حقدار ہوں۔انہوں نے اپنے پیروکاروں کو


دھوکہ دیا ہے اور انہیں صرفسبز باغ دکھاتے ہیں کہ وہ کہیںہمارا پیشوا مظلوم مارا گیا ہے تا کہ اس وجہ سے یہ جابر بادشاہ بن جائیں ۔ اور یہ ایسا دھوکہ ہے کہ جس کی پناہ میں یہ وہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ جہاں تم دیکھ رہے ہو۔اگر یہ دھوکہ و فریب نہ ہوتا تو کوئی ایک شخص بھی ان کی بیعت نہ کرتا۔

     خدایا! اگر تو ہماری مدد کرے کہ تو ہمیشہ ہماری مدد کرتا ہے اور اگر تو انہیں حکومت دے تو بندوں میں ان کی پیدا کی گئی بدعتوں کی وجہ سے (آخرت) میں انہیں دردناک عذاب دے۔

     پھر عمار چلے جب کہ آپ کے ساتھی بھی آپ کے ہمراہ تھے اور جب آپ عمرو عاص کے قریب پہنچے تو اس سے کہا:اے عمرو؛تم نے مصر(کی حکومت) کے لئے اپنا دین بیچ دیا؟بدبختی تمہارے ساتھ ہو کہ تم کب سے اسلام سے یہی لینے کے لئے پرتول رہے تھے۔

     عمار یاسرنے پھر بیان کیا:پروردگارا؛تو خود جانتا ہے کہ کہ اگر میں یہ جان لوں کہ تیری رضا و خوشنودی اس میں ہے کہ میں اس دریا میں کود جاؤں،تو میں کود جاؤں گا۔

     خدایا! توجانتا ہے کہ اگر میں یہ جان  لوں کہ تیری رضا اس میں ہے کہ میں اپنی تلوار کی نوک اپنے پیٹ پر رکھ کے اس پر ٹیک لگاؤ تا کہ وہ میری پشتسے باہر نکل آئے ، تو میں ایسا ہی کروں گا۔

     پروردگارا؛تو نے مجھے جو کچھ سکھایا اسی کے مطابق میں یہ جانتا ہوں کہ آج اس گروہ کے خلاف جہاد کرنے سے بہتر کوئی اور کام نہیں ہے کہ جسے میں انجام دوں اور اگر میں یہ جان لوں کہ کوئی دوسرا کام تیری رضائیت کا باعث ہے تو میں وہی انجام دوں گا۔

     نصر کہتے ہیں: عمروبن سعید نے شعبی سے میرے لئے روایت کیا ہے کہ اس نے کہا ہے:

     جناب عمار بن یاسرنے عبداللہ بن عمرو عاص کو آواز دی اور کہا:تم نے اپنا دین دنیا کے بدلے بیچ دیا اور وہ بھی خدا و اسلام کے دشمن (معاویہ) کے کہنے پر ، اور تم نے اپنے باپ کی  ہوا وہوس کے لئے تباہی اختیار کر لی ہے۔


     اس نے کہا: ایسا نہیں ہے کہ میںشہید مظلوم عثمان کا خون کا تقاضا رہا ہوں!

     عمار نے کہا:ہرگز ایسا نہیں ہے۔میں تمہارے بارے میں جو کچھ جانتا ہوں اس کی رو سے میں گواہی دیتا ہوں کہ تم اپنے کسی بھی کام سے خدا کی رضائیت نہیں چاہتے اور جان لو کہ اگر آج تم قتل نہ بھی ہوئے تو کل مر جاؤ گے،اور دیکھ لو کہ جب خدا اپنے بندوں کو ان کے نیت کے اعتبار سے اجر دے گا تو تمہاری کیا نیت ہو گی؟(1)

  جس طرح ہم یہ بیان کریں گے کہ کچھ سنی علماء جیسے سیوطی  نے اپنی کتابوںمیں وضاحت کی ہے کہ جناب عمار یاسر کی شہادت کے بارے میں رسول خدا(ص) کی پیشنگوئیاں متواتر احادیث میں سے ہیں۔ یعنی اس حدیث کے روای اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کا اس روایت کو نقل کرنے میں جھوٹ پرا جماع اور ان کے بارے میں یہ کہنا کہ انہوں  نے جھوٹ بولا ہے، یہ حال ہے۔

     قابل توجہ یہ ہے کہ یہ حدیث حتی کہ عمرو عاص بلکہ معاویہ سے بھی نقل ہوئی ہے!! اگرچہ انہوں نے خود یہ روایت نقل کی ہے لیکن اس کے باوجود انہوں نے اس پر اعتنا نہیں کی اور اس کے برخلاف عمل کیا ہے!

 اس حدیث سے آگاہ ہونے کے باوجودان کاحضرت رسول اکرم(ص) کے فرمان کے بر خلاف عمل کرنا آنحضرت کی خلافت وجانشینی کے مسئلہ میں ان کی رسول خدا(ص) کی مخالفت کی دلیل ہے۔

عمار کے قتل کے بارے میں شبث بن ربعی کا معاویہ سے کلام

     شبث بن ربعی نے  جنگ صفین میں معاویہ سے اپنی ملاقات کے اہم اور قابل توجہ واقعہ کے بارے میںنقل کیا ہے کہ وہ کسی صورت میں جناب عمار کے قتل سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں تھا۔     ابن اثیر نے یہ واقعہ اپنی کتاب میں یوں بیان کیا ہے:     شبث بن ربعی نے معاویہ سے کہا: کیا تم عمار بن یاسر کو قتل کرنا پسند کرتے ہو؟

معاویہ نے کہا: کون سی چیزمجھے اس کام سے روک سکتی ہے؟! اگر سمیہ کا بیٹا میرے ہاتھ آئے تو میں اسے عثمان کے غلام کے سامنے قتل کردوں۔

--------------

[1] ۔ جلوۂ تاریخ در شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید: ج3 ص131


     شبث نے کہا:اس خدا کی قسم کہ جس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے؛تمہاری یہ خواہش پوری نہیں ہو گی مگر یہ کہ بہت سے سر تن سے جدا ہو جائیں اور زمین آسمان کے کنارے تم پر تنگ ہو جائیں۔

     معاویہ نے کہا:اگر ایسا ہوا تو تجھ پر زیادہ تنگ ہو جائیں گے۔(1)

     اس نکتہ کی طرف توجہ کرنے سے کہ معاویہ نے بھی پیغمبر اکرم(ص) کی متواتر روایت-کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا:عمار کو ظالم و ستمگر گروہ قتل کرے گا''-کونقل کیا ہے۔جب شبث بن ربعی نے کہا:کیا تمعمار بن یاسر کو قتل کرنا پسند کرتے ہو؟تومعاویہ نے کہا:کون سی چیزمجھے اس کام سے روک سکتی ہے؟!اس سے رسول خدا(ص) کے فرمان کے سامنے معاویہ کی واضح و آشکارمخالفت ثابتہوجاتی ہے۔

     جنگ صفین میں  عمار کے قتل کے بارے میں معاویہ کا شبث بن ربعی کوجواب دینے میں اہم نکتہ موجود ہے کہ معاویہ نے حتی رسول خدا(ص) کے فرمان اور عمار کے قاتلوں کے بارے میںآنحضرت کی پیشنگوئی کو بھی کوئی اہمیت نہیں دی۔

     جناب عمار کی عظمت، درخشاں کارنامہ اورنمایاں  چہرہ سب کے نزدیک ثابت ہے لیکن معاویہ نے اپنے ناپاک مقاصد تک پہنچنے اور حکومت و طاقت کے حصول کے لئے ان کا خون بہایا اور خود کو جہنم کی طرف روانہ کیا۔

     جناب عمار کی شخصیت اتنی جلیل القدر اور اہمیت کی حامل ہے حتی کہ ان کے زمانے میں سب سے زیادہ ظالم اور خونخوار شخص یعنی حجاج بن یوسف ثقفی بھی معتقد تھا:اگردنیا کے سب لوگ عمار کو قتل کرنے میں شریک ہوں تو سب کے سب جہنم میں جائیں گے۔

     ابن اثیر جو کہ علماء اہلسنت میں سے ہیں، یہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:

     بعض کہتے ہیں: ابوالغازیہ کہ جس نے عمار کو قتل کیا تھا،وہ حجاج بن یوسف ثقفی کے زمانے تک زندہ تھا۔وہ ایک دن حجاج کے پاس گیا۔حجاج نے اس کا احترام کیا اور پوچھا:تم نے سمیہ کے بیٹے (عمار)کو قتل کیا ہے؟اس نے کہا:ہاں۔

--------------

[1]۔ تاریخ کامل ابن اثیر:ج5 ص1869


     حجاج نے کہا:جو کوئی بھی روز قیامت کسی بزرگ شخص کو دیکھنا چاہئے تو اس شخص کو دیکھے کہ اس نے سمیہ کے بیٹے کو قتل کیا ہے!

     اس دوران ابوالغازیہ نے حجاج سے کچھ تقاضا کیا۔لیکن حجاج نے وہ پورا نہ کیا۔

     ابوالغازیہ نے کہا:ان کے لئے دنیا ہموار کر رہے ہیں اور ہمیں اس میں سے ایک پائی بھی نہیں دیتے  اور پھر گمان کرتے ہیں کہ ہم روز قیامت بزرگوار ہوں گے!

     حجاج نے کہا:ہاںخدا کی قسم؛جس کے دانت احد کے پہاڑ،اس کی ران وَرِقام کے پہاڑ اور اس کا گروہ  مدینہ وربذہ کی طرح ہو ،وہ قیامت کے دن بزرگوار بن جائے گا! خدا کی قسم کہ اگر روئے زمین کے تمام لوگ عمار کے خون میں شریک ہوتے تو سب کے سب جہنم میں جاتے۔

     عبدالرحمن سلَمی کہتے ہیں:جب عمار قتل ہو گئے تو میں معاویہ کی فوج میں گیا کہ کیاجنابعمار کے قتل سے ان میں بھی اسی طرح شور مچا ہوا ہے کہ جس طرح ہم میں شور بپا تھا؟

     معاویہ کے سپاہیوں کے ساتھ ہمارا یہ حال تھا کہ جب بھی جنگ کی آگ ٹھنڈی ہو جاتی تھی تو وہ ہمارے ساتھ گفتگو کرتے تھے اور ہم ان کے ساتھ گفتگو کرتے تھے۔میں نے دیکھا کہ معاویہ،عمرو عاص،ابوالأعور اور عبداللہ بن عمرو گفتگو میں مصروف تھے۔     میں نے اپنا گھوڑا ن کی طرف دوڑایا تا کہ ان کی  کسی بات سے محروم نہ رہ جاؤں۔ عبداللہ بن عمرو بن عاص نے اپنے باپ سے کہا:بابا ان؛آپ  نے اس شخص کو اس دن قتل کیا ہے ، کیا آپ جانتے ہیں پیغمبر اکرم(ص) نے کیا فرمایا تھا؟اس نے کہا: کیا فرمایا تھا؟

     کہا:کیا اس طرح نہیں تھا کہ جب مسجد نبوی تعمیر کی جا رہی تھی تو لوگ ہر دفعہ ایک اینٹ اٹھاتے تھے اور عمار ہر بار دو اینٹیں اٹھاتے تھے اور انہوں نے اس کام میں اتنی کوشش کی کہ بے ہوش ہو گئے۔پیغمبر اکرم(ص) ان کی بالین کے پاس آئے اور


ان کے چہرے سے گردو خاک صاف کی اور فرمایا:

     اے سمیہ کے بیٹے؛ شاباش ہے تجھ پر، دوسرے ہر مرتبہ ایک اینٹ اٹھاتے ہیں اور تو ہر بار دو اینٹیں اٹھاتا ہے؛ لیکن ان سب کے باوجود ظالموں کا لشکرتمہیں قتل کر دے گا۔

     عمرو عاص نے معاویہ سے کہا: دیکھ رہے ہو کہ میرا بیٹا عبداللہ کیا کہہ رہا ہے؟

     معاویہ نے پوچھا: کیا کہہ رہا ہے؟

     عمرونے اس سے بھی یہی واقعہ بیان کیا ۔معاویہ نے کہا: کیا ہم نے اسے قتل کیا ہے؟! اسے اس نے قتل تک پہنچایا کہ جو اسے اس جنگ میں لے کر آیا!!     شامی اپنے خیموںسے باہر آئے اور سب نے کہا: بیشک عمار کو اس نے قتل تک پہنچایا کہ جو اسے اس جنگ میں لے کر آیا!!

     میں  نے جانتا تھا کہ کون زیادہ حیرت زدہ ہیں ، وہ یا یہ؟(1)

     عمار کے بارے میں آپظالم اور خونخوارحجاج بن یوسف  کےقول سے بھی آگاہ ہوئے۔ عبداللہ بن عمرو عاص کہ جو معاویہ کے لشکر کے رہنماؤں میں سے تھا،اس کا بھی عمار یاسر کے قتل کے بارے میں ایسا عقیدہ تھا۔اب اس واقعہ کی طرف توجہ کریں:

     جناب عمار کے قتل ہوجانے کے بعد دو افراد میں عمار کے لباس اور لوازمات (جو میدان جنگ میں عمار کے پاس تھے) کے بارے میں جنگ و نزاع ہو گیا،وہ دونوں عبداللہ بن عاص کے پاس آئے تا کہ وہ ان کااختلاف برطرف کرے۔

     عبداللہ نے کہا:وای ہو تم پر!میرے پاس سے دور ہو جاؤ،رسول خدا(ص) نے فرمایا تھا:

     قریش کوعمار سے کیا کام؟عمار انہیں جنت کی طرف دعوت دے رہے ہیں اور وہ اسے آگ کی طرف دعوت دے رہے ہیں، ان کا قاتل اور ان کے لباس و لوازمات لے جانے والے جہنمی ہیں۔(2)

--------------

[1]۔ تاریخ کامل ابن اثیر:ج5ص1895

[2]۔ الغارات و شرح اعلام آن: 514


 جناب عمار کی شہادت کے بارے میں متواتر حدیث

     جناب عمار کی شہادت کے بارے میں روایات تواتر کی حد تک ہیں اور کئی اہلسنت علماء نے اس کی تصریح کی ہے ۔ ابوبکر، عمر، عثمان، عائشہ، معاویہ، عمرو عاص، حجاج اور اہلسنت کے دوسرے بے شمار سے بزرگوں اور رہبروں نے یہ روایت نقل کی ہے۔اسی طرح بخاری اور مسلم جیسے افراد نے یہ روایت اپنی صحاح میں ذکر کی ہے۔ اب ہم ان کے کچھ نمونے بیان کرتے ہیں:

     بخاری نے اپنی صحیح میں عکرمہ سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا:ابن عباس نے مجھے اور اپنے بیٹے علی سے کہا:ابوسعید کے پاس جاؤ اور اس کی احادیث سنو۔

     عکرمہ کہتے  ہیں:ہم ابوسعید کے پاس گئے جب کہ وہ اپنے باغ میںباغبانی میں مصروف تھا۔ابوسعید نے ہمیں دیکھنے کے بعد اپنی عباء اٹھائی اور ایک کونے میں بیٹھ گیا۔

     باتوں باتوں میں حضرت رسول اکرم(ص) کی مسجد کی تعمیر کی بات آئی تو ابوسعید نے کہا: ہم ہر بار ایک اینٹ اٹھا کر لے جاتے تھے لیکن عمار دو اینٹیں اٹھاتے تھے،اس دوران پیغمبر اکرم(ص) متوجہ ہوئے تو آپ نے ان کے کپڑوں کی خاک جھاڑی اور فرمایا:

     عمار کو ظالم وستمگر گروہ قتل کرے گا؛ عمار انہوں جنت کی طرف دعوت دیں گے  لیکن ''فئہ باغیہ'' (یعنی باغی گروہ) انہیں جہنم کی طرف دعوت دیں گے۔

     اس روایت کو مسلم، طبرانی، ترمذی، حاکم، احمد بن حنبل اور دوسروں نے روایت کیا ہے اور جلال الدین سیوطی نے اس حدیث کو متواتر روایات میں سے قرار دیا ہے۔

     سیوطی کہتے ہیں:شیخین نے یہ روایت ابوسعیدسے،مسلم نے ابوقتادہ سے ،ام سلمہ اور ابویعلی سے،احمد نے عمارسے ،ان کے بیٹے اورعمرو بن حزم اورحزیمۂ ذوالشہادتین سے،طبرانی نے عثمان سے،انس اور ابوہریرہ سے،حاکم نے حذیفہ اور ابن مسعود ،رفای نے ابورافع سے،ابن عساکر نے جابر بن عبداللہ سے اور جابر بن سمرہ ،ابن عباس،معاویہ،زید بن اوفی،ابوالیسر کعب بن عمرو، زیادکعب بن


مالک،ابوامامہ،  عائشہ اور ابن ابی شیبہ نے عمرو بن عاص  اور اس کے بیٹے عبداللہ نے نقل کی ہے۔

     شافعی کہتے ہیں: صحابیوں میں سے یہ ستائیس افراد ہیں جنہوں نے یہ حدیث روایت کی ہے اور ان میں حزیمہ بھی شامل ہیں کہ جو صحابیوں کی جگہشمار کئے جاتے ہیں۔

     حافظ ابن عبدالبر کہتے ہیں: متواتر رویات میں ہے کہ رسول خا(ص) نے فرمایا:

     ظالموں اور ستمگروں کا گروہ (فئہ باغیہ)عمار کو قتل کرے گا۔

     یہ موضوع اخبار غیبیہ میں سے ہے کہ حقیقت میں آنحضرت کی نبوت کی نشانیوں میں سے ہے اور یہ حدیث صحیح ترین روایات میں سے ہے۔

     ابن دحیہ کہتے ہیں:کسی نے بھی اس حدیث پر کوئی اشکال و اعتراض نہیں کیا اور اگر یہ حدیث صحیح نہ ہوتی تو معاویہ اسے ردّ کر دیتا اور اس کا انکار کر دیتا ۔

     ابن حر کا کہنا ہے:اس روایت کو اصحاب کے ایک گروہ نے نقل کیا ہے اور ان کے نام ذکر کرنے کے بعد کہا ہے:اس حدیث میں- کہ جو اخبار غیبیہ میں سے شمار کی جاتی ہے-واضح طور پر نبوت کی نشانیاں موجود ہیں اور یہ عمار کے لئے بھی بہت بڑی فضیلت ہے۔     سب جانتے ہیں کہ عمار جنگ صفین میں قتل ہوئے،اور عمار صفین میں امیر  المؤمنین علی علیہ السلام کی فوج میں تھے اور معاویہ کے طرفداروں نے آپ کو قتل کیا۔اس روایت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ معاویہ''باغی''تھا جو لوگوں کو جہنم کی طرف دعوت دیتا تھا اور جو لوگوں کو جہنم کی طرف بلائے وہ لعنت کا  حقدار ہے اور قیامت کے دن بے یارومددگار اورعذاب میں گرفتار ہو گا اور کالے چہرے کے ساتھ محشور ہوگا۔قرآن مجید میں ذکر ہوا ہے:

    (وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً یَدْعُونَ ِلَی النَّارِ وَیَوْمَ الْقِیَامَةِ لَا یُنصَرُونَ ، وَأَتْبَعْنَاهُمْ فِیْ هَذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَیَوْمَ الْقِیَامَةِ هُم مِّنَ الْمَقْبُوحِیْنَ) (1)

--------------

[1]۔ سورۂ قصص،آیت:41 اور 42


     اور ہم نے ان لوگوں کوجہنم کی طرف دعوت دینے والا پیشوا قرار د ے دیا ہے اور قیامت کے دن ان کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی ۔اور دنیا میں بھی ہم نے ان کے پیچھے لعنت کو لگادیا ہے اور قیامت کے دن بھی ان کا شمار ان لوگوں میں ہوگا جن کے چہرے بگاڑ دیئے جائیں گے ۔

     اس آیت میں''مقبوح''سے مرادوہ ہے کہ جو خیر سے دور ہو۔

     معاویہ نے صفین کے دن مکر و فریب کیا تا کہ اس حدیث کے مضمون سے اپنا دامن بچاسکے اور اس پر اس کے صحابی کوئی اعتراض و اشکال نہ ہوکریں،لہذا اس نے کہا:

     میں نے اسے قتل نہیں کیا بلکہ اسے اس نے قتل کیا کہ جس نے انہیں ان کے گھر سے باہر نکالا اور جو انہیں اس جنگ میں لے کر آئے!اس فریب اور دھوکہ سے اس نے اپنے ساتھیوں کی بغاوت سے نجات حاصل کی۔

     حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے اس کے ردّ میں فرمایا:

     اگر ایسی بات ہے تو پھر اس بناء پر سید الشہداء حمزہ کے قاتل رسول خدا (ص) ہوں گے کیوں  کہ وہ انہیں گھر سے باہرلے کر آئے اور انہیں جنگ احد میں شریک کیا اور آخرکار قتل ہو گئے۔

     اس کلام کے بعد معاویہ لاجواب ہو گیا اور اس کاکوئی جواب نہ دے سکا۔

     معاویہ جو کہ بہت چالاک ، مکار اور دھوکہ باز تھا،اس نے دوسری مرتبہ پھرحدیث کا دوسرا معنی کیا اور کہا:جی ہاں؛فرقۂ باغیہ ہم ہی ہیں کہ جنہوں نے عثمان کے خوان کا بدلہ لینے کے لئے قیام کیا۔

     معاویہ نے باغیہ کو ''بغای''سے لیا کہ جس کے معنی طلب کرناہے اور اس طرح اس نے دوسری مرتبہ اپنے ساتھیوں کو قانع کیا ۔ لیکن معاویہ نے دونوں معنی میں خطا کی ہے ۔ پہلا معنی تو واضح ہے اور اسے ردّ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور دوسرے معنی میں  اگر ''باغیہ'' کے معنی ''طلب کرنے والا''ہو تو اس کا  کوئی ربط نہیں ہے کیونکہ حضرت رسول اکرم(ص) نے


فرمایا:''عمار انہیں جنت کی طرف عوت دیتے ہیں اور وہ عمار کو دوزخ کی طرف بلاتے ہیں''۔ اور یہ واضح ہے کہ یہاں''باغیہ''مذموم بغی کے معنی میں ہے کہ جس سے خدا نے منع کیا ہے جیسا کہ قرآ ن میں آیا ہے:( وَیَنْهَی عَنِ الْفَحْشَاء  وَالْمُنکَرِ وَالْبَغْیِ (1) اس ''بغی''کا طلب کے معنی کے ساتھ کوئی ربط نہیں ہے۔

     پھر وہ کہتاہے:میرے نزدیک یہ مسلّم ہے کہ معاویہ اپنی مخصوص فہم و فراست (دھاء)  سے یہ جانتا تھا کہ یہ تأویلیں  مکمل طور پر بے ربط ہیں اور ان کا حدیث سے کوئی ارتباط نہیں ہے کیونکہ یہ معنی اس قدر فاسدہے کہ حتی عام افراد بھی اس کے غلط اور بے ربط ہونے سے واقف ہیں۔ضروی تھا کہ  جناب عمار کی شہارت کے بعد معاویہ ظلم و ستم سے ہاتھ اٹھا لیتا اور مخالفت سے دستبردار ہو جاتا لیکن اس کی باطنی خباثت اور ذاتی شقاوت نے اسے مجبور کیا کہ اپنی مکاری وعیاری سے اپنے ساتھیوں کو دھوکہ دے ، اور دنیا اور حکومت حاصل کرنے کے لئے یہ باطل تأویلیں پیش کرے۔

     معاویہ اپنے گماشتوں کو راضی رکھنے اور ان سے حقائق چھپانے کے لئے ایسے ناروا مطالب بیان کرتا ، افتراء و بہتان کے ذریعہ لوگوں کو راضی رکھتا اور لوگوں کو دوزخ کی طرف دعوت دیتا تھااور خدا سے جنگ کرتا تھا۔

     جناب عمار کے قتل ہو جانے کے بعد کسی کو کوئی شبہ نہیں ہونا چاہئے کہ معاویہ  ''فئہ باغیہ''کا پیشوا ہے ؛عبداللہ بن عمر بہت زیادہ افسوس کرتا تھا کہ میں نے کیوں معاویہ سے جنگ نہیں کی۔ابوحنیفہ نے عطاء بن ابی ریاح سے روایت کی ہے کہ عبداللہ بن عمر کہتا تھا:مجھے بہت افسوس ہے کہ میں نے کیوں   ''فئہ باغیہ''سے جنگ نہیں کی۔

ابن عبدالبر نے ایک گروہ سے روایت کی ہے کہ عبداللہ بن عمر نے وفات کے وقت کہا: مجھے بہت افسوس ہے کہ علی بن ابیطالب علیہما السلام کے ساتھ مل کر ''فئہ باغیہ'' سے جنگ کیوں نہیں ۔اس روایت کو حاکم نے صحیح سند سے نقل کیا ہے۔

     بیہقی نے ابن عمر سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا:مجھے افسوس ہے کہ میں نے فرقۂ باغیہ سے جنگ کیوں نہیں کی کیونکہ خداوند متعال نے فرمایا ہے:

--------------

[1]۔ سورۂ نحل،آیت:90


     (فَاِن بَغَتْ ِحْدَاهُمَا عَلَی الْأُخْرَی فَقَاتِلُوا الَّتِیْ تَبْغِیْ حَتَّی تَفِیْء َا ِلَی أَمْرِ اللَّهِ) (1)

      اگر ایک دوسرے پر ظلم کرے تو سب مل کر اس سے جنگ کرو جو زیادتی کرنے والا گروہ ہے یہاں تک کہ وہ بھی حکم خدا کی طرف واپس آجائے ۔

حاکم کہتا ہے:اس بارے میں بہت زیادہ روایات نقل ہوئی ہیں اور بزرگ تابعین کے ایک گروہ نے یہ روایات عبداللہ بن عمر سے روایت کی ہیں۔(2) کتاب ''اعلام نصر مبین در داوری میان اہل صفین'' میںاس روایت (کہ ستمگر گروہ عمار کا قاتل ہے) کی اسناد کو دوسری طرح ذکر کیا ہے۔

     مسلم نے محمدبن مثنّی سے روایت کی ہے اور اس نے بشار سے اور ان دونوں نے کہا ہے:محمد بن جعفر نے تبعہ سے اور اس نے ابومسلمہ سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا:میں نے ابونضرہ سے سنا کہ ابوسعید خدری نے روایت کی ہے کہ اس نے کہا: مجھے اس نے خبر دی کہ جو مجھ سے بہتر تھا کہ جب عمار خندق کھود رہے تھے تو رسول خدا(ص) اپنا دست مبارک ان کے سر پر پھیر تے تھے اور فرماتے تھے:

     ابن سمیہ  کے لئے افسوس!کہ اسے ستمگر گروہ قتل کرے گا۔(3)

     اسی طرح یہ روایت اسحاق بن ابراہیم،اسحاق بن منصور ،محمود بن غیلان اور محمد بن قدامہ کی سند سے بھی نقل ہوئی ہے اور سب نے کہا ہے:نضر بن شُمیِّل نے ابومسلمہ سے اسی سلسلہ سند سے ہمارے لئے روایت کی ہے مگر یہ کہ حدیث کی سند میں نصر بھی آیا ہے کہ اس نے کہا:مجھے اس نے خبر دی ہے کہ جو مجھ سے بہتر ہے ،ابوقتادہ نے کہا:خالد بن حارث نے بھی کہاہے کہ میں نے ابوقتادہ کو دیکھا ہے۔

--------------

[1]۔ سورۂ حجرات، آیت:9

[2]۔ معاویہ و تاریخ:42

[3]۔ صحیح مسلم بہ شرح نووی، کتاب الفتن: ج18ص30


     مسلم نے کہا ہے کہ محمد بن عمرو جَبَلہ نے محمد بن جعفر(1) اور انہوں نے عقبة بن مکرم العمی اور انہوں نے ابوبکر بن نافع سے عقبی کے قول کو ہمارے لئے روایت کیا اور ابوبکر نے کہا:غنذر(2) نے ہمیں خبر دی ہے اور انہوں  نے کہا ہے:شعبہ نے ہمیں خبر دی ہے اور انہوں نے الخداء(حذاء)سے سنا ہے اور انہوں نے سعید بن ابی الحسن اور انہوں نے اپنی ماں اور انہوں  نے ام سلمہ سے سنا کہ رسول خدا(ص) نے عمار سے فرمایا:تجھے ستمگر گروہ قتل کرے گا۔(3)

     صحیح مسلم میں یہ روایت دوسرے سلسلہ سے موجود ہے کہ سعید نے اپنے بھائی حسن بصری اور اس نے اپنی ماں خیرہ اور اس نے زوجۂ پیغمبر اکرم(ص) ام سلمہ سے نقل کیا ہے۔     حدیث متواتر ہے۔طبرانی نے اسے معجم الکبیر(4) میں نقل کیاہے اور اس کی اصل کتاب دوسو تیس حصوں میں میرے پاس موجود ہے اور وہ دنیا (اسلام) کی سب سے بڑی سند ہے۔ میں نے وہ تمام اصفہان میں پڑھی اور یہ موضوع اپنی کتاب  میں بھی ذکر کیا کہ جس کا نام میں نے ''علم المشہور''رکھا۔

     طبرانی نے یہ حدیث معاویہ کے قول،عمرو عاص ،اس کے بیٹے عبداللہ اور اصحاب پیغمبر (ص) کے ایک دوسرے گروہ سے نقل کی ہے۔      ابوعبدالملک مروان بن عبدالعزیز نے کہا:فقیہ محدث عالم ابوعمران موسی بن عبدالرحمن بن ابی تلید نے ابوعمر بن عبدالبر سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کتاب''استیعاب'میں عمار کے حالات زندگی   میں پڑھا ہے کہ:پیغمبر اکرم(ص) سے متواتر روایتیں نقل ہوئی ہیں کہ جن میں فرمایا:عمار کو ستمگر اور ظالم گروہ قتل کرے گا،اور یہ روایت صحیح ترین روایات میں سے ہے۔(5)

--------------

[1]۔ صحیح مسلم: ج18ص41

[2]۔ صحیح مسلم: ج18ص41

[3]۔ صحیح مسلم بہ شرح نووی، کتاب الفتن: ج18ص42

[4]۔ معجم الکبیر:ج1ص330

[5]۔ الاستیعاب في معرفة الأصحاب:ج٢ص٤٨١


     ذوالنسبین (کہ خدا ان کی تائید کرے) کہتے ہیں:اس روایت میں کس طرح اختلاف ہے؟ حالانکہ ہم نے دیکھا ہے کہ خود معاویہ بھی اس کا انکار نہیں کر سکا اور اس نے کہا:اسے (عمار) اس نے قتل کیاکہ جو اسے میدان جنگ میں لے کر آیا۔اگر اس حدیث میں کسی شک کی گنجائش ہوتی تو معاویہ اس کا انکار کر دیتا اور اس کے نقل کرنے والے کی تکذیب کرتا یا اسے دھوکہ دیتا۔

     حضرت علی علیہ السلام نے جب معاویہ کی یہ بات سنی تو یوں جواب دیا:پس رسول خدا(ص) نے حمزہ کو قتل کیا ہے کیونکہ وہ انہیں میدان جنگ میں لے کر آے تھے۔حضرت علی علیہ السلام کے اس قول کا کوئی جواب نہیں تھا اور یہ ایک ایسی حجت و دلیل تھی کہ جس پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاسکتا تھا۔حضرت علی علیہ السلام کے اسی قول کومشہور فقہاء نے مدنظر رکھا ہے....۔

     مجدالدین مفتی الفرَق ابوسعید عبداللہ بن عمر بن صفار نے میرے لئے یہ روایت کتاب ''در مدرسہ شادیاخ'' سے پڑھی۔اس نے کہا: کئی محدثین نے  ابوالمعالی سے یہ میرے لئے روایت کی ہے۔     پیغمبر اکرم(ص) سے گذشتہ روایت میں''بؤس ابن سمیہ'' بھی آیا ہے۔کلمہ'' بؤس و بأس'' دونوں انسان کی جان اور حال کی سختی کے معنی میں ہے۔''بؤس''تنوین کے بغیر مصدر ہے جیسا کہ ہم نے ''یا بؤس بن سمیہ'' کی صورت میں بھی اسے روایت کیا ہے؛ یعنی ''وای ہواسے پہنچے والی بؤس اور تکلیفوں کی شدت پر''یہ عمار کے لئے باب ترحم سے کہا گیا ہے کہ جو اس کے آئندہ کے امور میں سے تھا۔کیونکہ پیغمبر خدا (ص) وحی کی مدد سے جانتے تھے کہ آئندہ زمانے میں لوگوں کے ساتھ کیا ہو گا۔آپ نے (ابن سمیہ کہنے سے)ایمان کی وجہ سے ان پر اور ان کے ماں باپ پر ٹوٹنے والے مصائب اور مشکلات کو بیان کیا ہے۔     کیونکہ یہ روایت پیغمبر خدا(ص) کے معجزوں اور روایات میں سے ہے کہ آنحضرت نے واقعات کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے ان کے بارے میں بتایا ہے اور آپ کا یہ فرمانا: ''الفئة الباغیة'' اس مراد ایک جماعت اور فرقہ ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے:''فأیت رأسہ و فأوتہ''جب میں  نے انہیں دو حصہ کر دیا۔   پروردگار عالم فرماتا ہے:(فَمٰا لَکُمْ فِی الْمُنٰافِقِیْنَ فِئَتَیْنِ) (1) "یعنی دو فرقہ'' یعنی اس بارے میں آپ نے دوگروہوں سے شدید اختلاف کیا۔ اور''الباغیہ'' یعنی ظالم و ستمگر، کیونکہ ''بغی'' ظالم کے معنی میں لیا گیا ہے اور اس کا اصل حسد ہے۔

--------------

[1]۔ سورۂ نساء، آیت: 88


 رسول خدا(ص) کی حدیث نقل کرتےوقت صحابہ و تابعین کے حالات

 ''صحیح بخاری'' میں خالد الحذاء سے اور انہوں نے عکرمہ سے، انہوںنے ابن عباس  اور ان کے بیٹے علیسے روایت کی ہے: یہ دونوں ابوسعید (خدری) کے پاس گئے تا کہ اس سے اس بارے میں حدیث سنیں ۔ اس وقت وہ ایک دیوار تعمیر کر رہا تھا، اس نے اپنی عبا اٹھائی اسے اکٹھاکیا اور گفتگو شروع کی یہاں تک کہ مسجد نبوی کی تعمیر کی بات چلی تو اس نے کہا:

     ہم مسجد کی اینٹیں ایک ایک کر کے اٹھا رہے تھے جب کہ عمار ددو دو اینٹیں اٹھاتے تھے ۔پس رسول خدا(ص) نے انہیں دیکھا تو ان کے چہرے کی دھول کو صاف کیا جب کہ آپ فرما رہے تھے:افسوس ہو عمارکے لئے!یہ انہیں جنت کی طرف دعوت دیں گے اوروہ انہیں جہنم کی طرف بلائیں گے۔

     ابوسعید خدری نے کہا: عمار نے کہا: خدا کی قسم! اس گروہ سے پناہ مانگتا ہوں۔

     کتاب ''صحیح بخاری'' میں ایک دوسرے طریقہ سے بھی یہ حدیث ذکر ہوئی ہے۔(1)

  جناب عمار یاسر کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی پیشنگوئیوں کے اثرات

     جناب عمار یاسر کی شہادت ، ان کے اور جس گروہ میں وہ ہوں ،اس کے حق پر ہونے کے بارے میں  رسول اکرم(ص) کی  پیشنگوئی کو اس قدر شہرت ملی کہ یہ جنگ صفین میں شام کے لشکرپر بہت اثرانداز ہوئی ۔یہا ں تک کہ جنگ صفین میں  بعید نہیں تھا کہ ایک بڑی تبدیلی رونما ہو جائے اور ان کی راہ میں مانع ہو جائے یاشامی معاویہ کے اطراف سے منتشر ہو کر امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے لشکر سے ملحق ہو جاتے!لیکن معاویہ اورعمرو عاص کی مکاریاں اور شامیوں کی سادہ لوحی سبب بنی کہ انہوں نے اسی طرح اپنے باطل راستہ کو جاری رکھا۔

     ہم نے جو کچھ کہا وہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کی بعض اہلسنت بزرگوں جیسے ابن ابی الحدید نے بھی تصریح کی ہے۔

     اب ہم ان کی عبارت نقل کرتے ہیں اور پھر ہم اس کا تجزیہ و تحلیل کریں گے:

--------------

[1]۔ اعلام نصر مبین ، در داوری میان اہل صفین: 66


ابن ابی الحدید معتزلی نے اپنی کتاب شرح نہج البلاغہ میں کہا ہے: ایک دن امیر المؤمنین علی علیہ السلام (جنگ صفین کے دوران) قبیلۂ ہمدان کے کچھ لوگوں، حمیر اور کچھ قحطیوں کے درمیان کھڑے تھے۔اسی دوران شامیوں میں سے ایک شخص نے بلند آواز سے کہا:کون ابونوح حمیری کی طرف میری رہنمائی کرے گا؟

     ایک شخص نے اس سے کہا:وہ یہیں ہیں، تمہیں کیا چاہئے؟

     اس وقت  ایک شامی شخص کہ جوامام علی علیہ السلام کے محاذ کے نزدیک تھا،اس نے اپنا نقاب ہٹایاتو پتہ چلا کہ وہ ذوالکلاع حمیری ہے کہ جس کے ساتھ اس کی قوم کا ایک گروہ بھی تھا۔

     ذوالکلاع حمیری نے ابونوح حمیری (جو اس کا چچا زاد بھائی تھا) سے کہا: میرے ساتھ آؤ۔

     اس نے پوچھا: کہاں آؤں؟

     اس نے کہا:اس صف سے باہر چلے جائیں۔

     پوچھا:تمہیں کیا کام ہے؟

     اس نے کہا: مجھے تمہاری ضرورت ہے....بالآخر ذوالکلاع نے اپنے چچا کے بیٹے ابونوح سے عہد و پیمان کیا کہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا۔ ابونوح ، ذوالکلاع کے ساتھ جنگ کی صفوں سے باہر نکل آئے اور پھر ذوالکلاع نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ تجھ سے رسول خدا(ص) کی ایک حدیث کے بارے میں پوچھوں اور وہ حدیث یہ ہے:

     عمروعاص نے عمر کی خلافت کے زمانے میں کئی مرتبہ کہا ہے اور اب بھی میں نے اس سے پوچھا ہے،اور اس نے پھرپھر بھی یہی کہا اور وہ کہتا ہے:میں نے رسول خدا(ص) سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا:

     شام اور عراق کے لوگ جنگ کریں گے ،امام برحق ان لشکروں میں سے کسی ایک لشکر میں ہوں گے اورعمار یاسر بھی انہی کے ساتھ ہوں گے۔

     ابونوح نے کہا:جی ہاں؛یہ صحیح ہے۔خدا کی قسم ؛عمار یاسر ہمارے درمیان ہیں۔


     ذوالکلاع نے کہا:تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں؛کیا عمار ہمارے ساتھ جنگ کرنے میں سنجیدہ ہیں؟

     ابونوح نے کہا:ہاں،رب کعبہ کی قسم؛وہ تمہارے ساتھ جنگ کرنے میں مجھ سے زیادہ سنجیدہ ہیں جب کہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ کاش تم سب ایک ہی جسم ہوتے اور میں اس ایک جسم کو قتل کر دیتا اور دوسرں کو قتل کرنے سے پہلے تمہیں قتل کرتا ،باوجود اس کے کہ تو میرے چچا کا بیٹا ہے!

     ذوالکلاع نے کہا:افسوس ہے تم پر!میرے بارے میں تمہاری  ایسی خواہش کیوں ہے؟حالانکہ خدا کی قسم!  میں تمہیں اور اپنے رشتہ کوکبھی نہیں بھولا اور تم میرے قریبی رشتہ دار ہو اور تمہیں قتل کرنے سے مجھے کبھی بھی خوشی نہیں ہو گی۔

     ابونوح نے کہا: خداوند نے اسلام کے ذریعہ بہت سے قریبی رشتوں کو ختم کر دیا ہے اور بہت سے دور کے رشتوں کو قریب کر دیا ہے۔میں تمہیں اور تمہارے ساتھیوں کا قاتل ہوں، کیونکہ ہم حق پر  ہیں اور تم باطل پر۔

     ذوالکلاع نے کہا: کیا تم میرے ساتھ شام کے لشکر میں آسکتے ہو اور میں ان سے تمہاری حفاظت کروں گا اور تم میری پناہ میں ہو گے ،تا کہ عمرو عاص سے ملیں اور اسے عمار کے احوال اور ہمارے خلاف جنگ میں ان کی سنجیدہ کوششوں سے آگاہ کریں؟شاید اس طرح ان دونوں لشکروں کے درمیان صلح قائم ہو جائے؟

     پھر ابن ابی الحدید کہتے ہیں: حیرت کی بات ہے جو قوم عمار کے وجود کی وجہ سے اپنے کام میں شک میں مبتلا ہو گئی لیکن امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے ہوتے ہوئے بھی وہ اس شک و تردید کا شکار  نہیں ہوئے اور یہ استدلال کرتے ہیںچونکہ عمار عراقیوں کے ساتھ ہیں پس حق انہی کے ساتھ ہے لیکن انہوں نے امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے بلند مقام و مرتبہ کا کوئی خیال نہیں کیا،اور وہ عمار کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کے اس فرمان''تجھے سرکش اور ظالم و ستمگر گروہ قتل کرے گا''سے تو ڈرتے ہیں اور اس سے پرہیز کرتے ہیں لیکن انہیں امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے بارے رسول خدا(ص) کی اس حدیث ''خدایا؛تو سے دوست رکھ جو اسے(علی علیہ السلام) کو دوست رکھے اور اسے دشمن رکھ جو اس سے دشمنی رکھے'' اور اسی طرح دوسری حدیث کہ جس میں آپ نے فرمایا:'' مؤمن کے سوا کوئیتم سے محبت نہیں کرے  گا اور منافق کے علاوہ کوئی تجھ سے  دشمنی نہیں کرے گا''سے کوئی خوف نہیں تھا!


     یہ موضوع ہمیں اس نتیجہ تک پہنچاتا ہے کہ قریش کے تمام افراد ابتداء ہی سے امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے نام،آپ کے فضائل کا ذکر اور آپ کی خصائص حسنہ چھپانے کے لئے کوشاں رہے یہاں تک کہ آنحضرت کی  بہت کم فضیلتوں کے علاوہ باقی سب لوگوں کے سینہ سے محو ہو گئیں۔

     بہرحال،ذوالکلاع اور اس کے چچا کا بیٹا ابونوح عمرو عاص کی طرف روانہ ہوئے اور انہوں نے اسے معاویہ کے خیمہ میں دیکھا جب کہ عمرو عاص کا بیٹا عبداللہ لوگوں کو جنگ کی ترغیب و تشویق دلا رہا تھا۔

     جونہی ذوالکلاع نے عمرو عاص کو دیکھا تو کہا:اے ابوعبداللہ!کیا تم چاہتے ہو کہ ایک خیرخواہ اور عقلمند شخص تمہیں عمار یاسر کے بارے میں بتائے اور جھوٹ نہ بولے؟

عمرو نے کہا: وہ شخص کون ہے؟

     کہا: وہ میرے چچا کا بیٹا ہے اور کوفہ کے لوگوں میں سے ہے۔

     جب وہ ایک دوسرے کے پاس آئے تو عمرو عاص نے ابونوح سے کہا:میں تمہارے چہرے  پر ابوتراب(علی علیہ السلام) کے نشان دیکھ رہا ہوں۔

     ابونوح نے کہا: ہاں؛ پیغمبر اکرم(ص) اور آپ کے اصحاب کے چہرے کی نورانیت میرے چہرے پر ہے حالانکہ تمہارے چہرے پر ابوجہل اور فرعون کے چہرے کی سیاہی وتیرگی کے نشان ہیں۔

     اسی وقت عمرو عاص کے ساتھیوں میں سے ایک شخص اٹھا تا کہ وہ ابونوح پر حملہ کرے ،لیکن ذوالکلاع اس کی راہ میں حائل ہو گیا۔

     آخر کا عمروعاص نے پوچھا: اے ابونوح؛تجھے خدا کی قسم کہ جھوٹ نہ بولنا؛کیا عمار یاسر تم لوگوں کے درمیان ہیں؟ ابونوح نے کہا:میں تمیں تب تک نہیں بتاؤں گا کہ جب تک تم یہ نہ بتاؤ کہ تم نے کس لئے صرف عمار کے بارے میں پوچھا حالانکہ پیغمبر اکرم(ص) کے دیگر اصحاب بھی ہمارے ساتھ ہیں اور سب تمہارے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں؟


عمرو نے کہا:چونکہ میں نے پیغمبر اکرم(ص) سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا:

     بیشک عمار کو ظالم و ستمگرگروہ قتل کرے گااور عمارہرگز حق سے جدا نہیں ہوں گے اور(جہنم کی) آگ عمار کو چھو بھی نہیں سکے گی۔

     ابونوح نے کہا:''لااله الاَّاللّٰه''، ''اللّٰه أکبر'' ! اور پھر فرمایا:خدا کی قسم؛وہ ہمارے درمیان ہیں اور تمہارے خلاف جنگ کر نے میں مصروف ہیں۔

     عمرو عاص نے کہا:اے ابونوح؛ تجھے خدائے واحد کی قسم! کیا وہ ہمارے ساتھ جنگ کرنے میں  سنجیدہ ہیں؟

     کہا: ہاں، خدائے واحد کی قسم!حتی کہ انہوں(عمار یاسر) نے جنگ جمل میں مجھ سے کہا:ہم بصرہ کے لوگوں پر کامیاب ہوں گے،اور وہ کل بھی کہہ رہے تھے:اگر معاویہ کا لشکر ہم پر ایسا وار کرے اور ہمیں ہجر کے نخلستان تک پیچھے ڈھکیل تو پھر بھی ہم یہ جانتے ہیں کہ ہم حق پر ہیں اور وہ باطل پر ہیں اور ہمارے قتل ہونے والے افراد جنت میں اور ان کے مارے جانے والے افراد جہنم میں جائیں گے۔

     عمرو نے کہا:کیا تم عمار سے میری ملاقات کروا سکتے ہو؟

     کہا:ہاں۔

     اس طرح عمرو عاص،اس کے دوبیٹے،معاویہ کا بھائی عتبہ،ذوالکلاع،ابوالأعور سلمی،حوشب اور ولید بن عقبہ سوار ہوئے تا کہ عمار سے ملاقات کر سکیں۔دوسری طرف ابونوح،شرجیلبن ذوالکلاع (جو معاویہ کے  سپاہیوں سے بچانے کے لئے ابونوح کے محافظ تھے) کے ساتھ عمار کے پاس جانے کے لئے روانہ ہوئے۔

     اسی دوران عمار یاسر،مالک اشترہاشم،بدیل بن ورقاء کے دو بیٹے، خالد بن معمر،عبداللہ بن حجل اور عبداللہ بن عباس کے ساتھ ایک جگہ بیٹھے ہوئے تھے۔

     ابونوح نے اپنے چچاکے بیٹے ذوالکلاع کا سارا ماجراعمار سے بیان کیا۔عمار نے کہا:اس(عمرو عاص)نے سچ کہا ہے اوراس نے یہ


جو بات (حدیث پیغمبر اکرم(ص)) سنی ہے ،یہ اس کے لئے نقصان دہ ہے اور اس میں اس کے لئے کوئی فائدہ نہیں ہے۔

     ابونوح نے کہا: اب عمرو عاص آپ سے ملنا چاہتا ہے۔

     عمار یاسر نے اپنے ساتھیوں سے کہا:سوار ہوجاؤ،وہ اپنے گھوڑوں پر سوار ہوگئے اور ملاقات کے مقام کی طرف روانہ ہو گئے۔

     بالآخر رسول خدا(ص) کے بزرگ صحابی جناب عماراپنے بارہ ساتھیوں کے ساتھ معین جگہ پہنچے اور انہوں ے عمرو عاص سے ملاقات کی جب کہ اس کے ساتھ بھی اس کے تقریباً اتنے ہی ساتھی تھے۔اور وہ ایک دوسرے سے اتنے قریب ہوئے کہ ان کے گھوڑوں کی گردنیں آپس میں ملنے لگیں۔

     ابن ابی الحدید کے مطابق دونوں گروہ گھوڑوں سے اتر آئے جب کہ انہوں نے اپنے ہاتھوں میں تلواریں پکڑی ہوئی تھیں۔عمرو عاص نے کلمۂ شہادت پڑھنا شروع کیا۔

     جناب عمار نے اس سے کہا:خاموش ہو جاؤ! کہ تم نے اسے چھوڑ دیا ہے ،حلانکہ میں تجھ سے زیادہ اس کے لائق ہوں۔اگر تم لڑنا اور دشمنی کرنا چاہتے ہوں تو ہمارا حق تمہارے باطل کو ختم کر دے گا اور اگر تم بات کرنا چاہتے ہو تو ہم اچھی اور شائستہ باتیں کرنا تجھ سے بہتر جانتے ہیں۔اگر تم چاہتے ہو کہ تمہاری اطلاع کے لئے کوئی  ایسی بات کہوں کہ جو تجھے اور ہمیں مشخص کر دے اور جو تمہیں تمہاری جگہ سے اٹھنے سے پہلے کفر سے منسوب کر دے اور تم خود بھی اس کے صحیح ہونے کی گواہی دو اور اس بارے میں مجھے جھٹلا بھی نہ پاؤ؟

     عمرو عاص نے کہا:اے ابایقظان (عمار یاسر)! میں اس مقصد سے نہیں آیا بلکہ اس لئے آیا ہوں کہ میں یہ دیکھوں کہ تم اس لشکر (لشکرامیر المؤمنین علی علیہ السلام ) سب سے زیادہ اطاعت گذار شخص ہو۔تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں کہ ان کے اسلحوں کو قتل کرنے سے روکو اور ان کے خون کی حفاظت کرو اور اس بارے میں ان کی تشویق کرو اور انہیں ترغیب دلاؤ۔کس لئے ہم سے جنگ کر رہے ہو؟کیا ہم ایک خدا کی عبادت نہیں کرتے؟ کیا ہم تمہارے قبیلہ کی طرف رخ کرکے نماز ادا نہیں کرتے اور


کیا اسی چیز کی دعوت نہیں دیتے کہ جس کی تم دعوت دیتے ہو،اور کیا تمہاری کتاب کی تلاوت نہیں کرتے اور کیا ہم تمہارے پیغمبر پر ایمان نہیں رکھتے؟

     عمار نے کہا:اس خدا کا شکر ہے کہ جس نے تمہارے منہ سے یہ باتیں جاری کیں۔ہاں؛یہ سب میرے اور میرے ساتھیوں کا ہے؛قبلہ،دین،خدا کی عبادت،پیغمبر اور کتاب کا تم سے اور تمہارے ساتھیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔اس خدا کا شکر کہ جس نے تمہیں ہمارے لئے ایسا اقرار کرنے پر مجبور کیا اور تمہیں گمراہ اور گمراہ کرنے والا اندھا دل قرار دیا ہے۔

     اب میں تمہیں یہ بتاتا ہوں کہ ہم تجھ سے اور تیرے ساتھیوں سے کیوں جنگ کر رہے ہیں: بیشک رسول خدا(ص)نے مجھے حکم دیا کہ ناکثین(جمل کے عہد و پیمان توڑنے والے)سے جنگ کروں لہذا میں نے ایسا ہی کیا ۔اور فرمایا:قاسطین(ظالموں اور ستمگروں) سے جنگ کروں اور تم لوگ وہی ہو۔ لیکن میں مارقین(دین سے خارج ہونے والے نہروان کے خوارج) کے بارے میں نہیں جانتا کہ کیا میں ان کے زمانے تک رہوں گا یا نہیں؟

     اے دم بریدہ ابتر؛کیا تم نہیں جانتے کہ پیغمبر(ص) نے فرمایا تھا:

جس کا میں مولا ہوں علی علیہ السلام اس کے مولا ہیں۔خدایا؛اسے ددوست رکھ جو انہیں دوست رکھے اور اسے دشمن رکھ جو انہیں دشمن رکھے؟

میں خدا اور رسول خدا(ص) کو دوست رکھتا ہوں اور ان کے بعد امیر المؤمنین علی علیہ السلام کا دوست و محب ہوں۔

     عمرو نے کہا:اے ابو یقظان؛تم مجھے برا بھلا کیوں کہہ رہے ہو حلانکہ میں میں نے تمہیں بالکل برا بھلا نہیں کہا ہے؟

     عمار نے کہا:تم مجھے کس چیز کی وجہ سے برا بھلا کہوگے؟کیا تم یہ کہہ سکتے ہو کہ میں نے حتی ایک دن بھی خدا اور خدا کے رسول (ص)کے حکم سے منہ پھیرا؟

     عمرو عاص نے کہا:ان کے علاوہ تم میںبھی برائیاں  اور پستیاںہیں!

     عمار نے کہا:بزرگ اور محترم وہی ہے جسے خدا نے محترم قرا دیا ہے۔میں پست  تھا خدا نے مجھے بزرگی عطا کی ،میں غلام تھا خدا نے مجھے آزاد یا،میں ناتواں تھا خدا نے مجھے توانا کیا،میں بینوا تھا خدا نے مجھے توانائی عطا کی۔


     عمرو عاص نے کہا: قتل عثمان کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟

     عمار نے کہا:اس  نے تم لوگوں کے لئے تمام برائیوں کا دروازہ کھول دیا۔

     عمرو نے کہا:اور پھر علی (علیہ السلام) نے اسے قتل کردیا۔

     عمار نے کہا:خداوند نے اسے قتل کیا جو امیر المؤمنین علی علیہ السلام کا پروردگار ہے اور علی علیہ السلام اس کے ساتھ تھے۔

     عمرو نے کہا: تم بھی ان کے ساتھ تھے کہ جب اسے قتل کیا گیا۔

     عمار نے کہا:ہاں؛ میں ان کے ساتھ تھا جنہوںنے اسے قتل کیا اور آج بھی ان کے ساتھ جنگ کر رہا ہوں۔

     پھر عمروعاص نے پوچھا:تم لوگوں نے عثمان کو کیوں قتل کیا؟

     عمار نے کہا:وہ ہمارے دین کو تبدیل کرنا چاہتا تھا لہذا ہم نے اسے قتل کردیا۔

     عمرو نے اپنے ساتھیوں سے خطاب کیا:کیا تم لوگ نہیں سن رہے؟یہ تمہارے امام کو قتل کرنے کا اعتراف کر رہا ہے۔

     عمار نے کہا:تمہاری یہ بات تم سے پہلے فرعون نے اپنی قوم سے کہی تھی:''کہ کیا تم نہیں سن رہے ہو''۔(1)

     اس وقت شامی اٹھے اور شور وغل کرتے ہوئے اپنے گھوڑوں پر سوار ہو گئے اور واپس چلے گئے۔عمار بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ اپنے محاذ کی طرف واپس آگئے۔

     جب اس گفتگو کی خبر معاویہ تک پہنچی تو اس نے کہا:ہاں؛اگرسیاہ غلام (عمار یاسر)اعراب کو للکارے تو وہ یہ جان لے کہ حتمی طور پر نابود ہو جائے گا۔

     جب عمار عراق کے محاذ کے قریب  ہوئے تو انہوں نے ہاشم بن عتبہ اور اپنے دوسرے ساتھیوں کے ساتھ شام کے محاذ پر حملہ کیا اور اس قدر جنگ کی کہ آخرکار شہید ہو گئے۔

--------------

[1]۔ سورۂ شعراء کی 25ویں آیت کا کچھ حصہ ۔ تفسیر ابوالفتوی رازی:ج ۸ ص۳۳۳ چاپ شعرانی


     مؤرخین کہتے ہیں:عمار یاسر نے شہادت سے کچھ لمحات پہلے پیاس کی شدت کی وجہ سے پانی کا تقاضا کیااور اس دوران عمار کا غلام راشد ان تک پہنچا اور کچھ دودھ پلا کر انہیں سیراب کیا ۔ رسول خدا(ص) نے پہلے ہی عمار سے فرمایا تھا:

     تمہاری شہادت سے پہلے تمہاری آخری غذا کچھ دودھ ہو گا۔

     ابوالمعاویہ کے نیزہ سے عمار یاسر زمین پر گرے اور ابن حوی  نے آپ کا سر تن سے جدا کیا تا کہ  معاویہ کے پاس لیجا کر اس سے اپنا انعام وصول کرے۔

     دوسری طرف ذوالکلاع عمار اور عمروعاص کی گفتگو سے راضی نہ ہوا اور وہ اسی طرح رسول خدا(ص) کی پیشنگوئی کی فکر میں تھا لیکن عمرو عاص اسے تسلی دیتا تھاور کہتا تھا:جلد ہی تم یہ دیکھ لو گے کہ عمار ، ابوتراب(علی علیہ السلام)سے الگ ہوکر ہمارے ساتھ ملحق ہوجائے گا!

     ابن ابی الحدید کے قول کے مطابق جس دن عمار یاسر شہید ہوئے ،ذوالکلاع بھی امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے ساتھیوں کے ہاتھوں قتل ہو گیا،لہذا عمرو عاص معاویہ سے کہہ رہا تھا:خدا کی قسم؛میں نہیں جانتا کہ ان دونوںمیں سے کس کے قتل ہونے پر زیادہ خوشی مناؤں ۔ اگر عمار کے قتل ہونے کے بعد ذوالکلاع زندہ ہوتا تویقیناً وہ اپنے ساتھیوں کو ہم سے جدا کرلیتا اور علی (علیہ السلام) سے ملحق ہو جاتا اور ہمارا کام خراب کر دیتا۔

مؤرخین کہتے ہیں: کچھ لوگ معاویہ کے پاس آ کر کہتے تھے کہ انہوں نے عمار کو قتل کیا ہے تا کہ اس سے انعام لے سکیں۔

     معاویہ  نے ان سے پوچھا: عمار اپنی زندگی کے آخرین لمحات میں کیا کہہ رہے تھے؟

     وہ اس کا صحیح جواب نہ دے سکے یہاں تک کہ حوی آیا اور اس نے کہا:میں نے عمار کو قتل کیا ہے۔

     عمرو عاص نے اس سے کہا:عمار کی آخری بات کیا تھی؟

     ابن حوی نے کہا:میں نے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے:آج میں رسول خدا(ص) کے گرانقدر دوستوں اور  ان کے گروہسے ملاقات کروں گا۔


     عمرو نے کہا:سچ کہہ رہے ہو،تم ہی اس کے قاتل ہو۔خدا کی قسم؛تمہیں کوئی چیز بھی حاصل نہیں ہوئی اور تم نے صرف خدا کو ناراض کیا ہے۔

     مؤرخین حذیفہ بن الیمان-صاحب سرّ پیغمبر(ص)-سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا:میں نے سنا کہ پیغمبر خدا(ص) فرماتے تھے:

سمیہ کا بیٹا(عمار یاسر)کبھی بھی دوکاموں کے درمیان مخیر نہیں ہو گا مگر یہ کہ وہ صحیح کام کا انتخاب کرے گا؛اس کے ساتھ رہواور اس کی رائے پر عمل کرو۔(1)

     رسول اکرم(ص) کی جناب عمار یاسر کے بارے میں بیان کی گئی پیشنگوئیوں کو دیکھتے ہوئے ( کہ جو بہت سے لوگوں میں پھیل چکی تھیں)عمار کی شہادت کے بعد شام کے محاذ پر اختلافات پیدا ہو گئے  اور بلا فاصلہ معاویہ ( کہ جو مکار فریبی اور جھوٹا تھا) نے کہا: ہم نے عمار کو قتل نہیں یا بلکہ اس نے قتل کیا ہے کہ جو انہیں محاذ پر لے کر آئے تھے یعنی علی علیہ السلام!!

     معاویہ کی یہ باتیں شام کے نادان اور جلد یقین کر لینے والے لوگوں پر اثر انداز ہوئیںاور جس کی وجہ سے مزید گفتگو نہ ہو سکی۔

     اگرچہ معاویہ کے لشکر میں سے کچھ لوگ  جیسے عبداللہ بن سویدجناب عمار کی شہادت کے بعد امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے لشکر سے ملحق ہو گئے ۔

     اس وقت معاویہ عمرو عاص پر بہت ناراض ہوا اور اس نے کہا:تم نے شام کے لوگوں کو میرے لئے تباہ کر دیا ہے،تم نے پیغمبر(ص) سے جو کچھ بھی سنا کیا وہ کہنا ضروری تھا؟

     عمرو نے کہا:مجھے علم غیب نہیں تھا کہ یہ جنگ پیش آئے گی اور عمار ہمارے خلاف جنگ میں شریک ہو ں  گے ؛ اور تم نے تو یہ باتیں خود بھی بیان کی ہیں۔

--------------

[1] ۔ مذکورہ حدیث کتاب ''واقعۂ صفین نصر'' اور ''الستیعاب'' ابن عبدالبر میں اسی معنی میں ذکر ہوئی ہے لیکن اس کے کلمات کچھ مختلف ہیں.


     معاویہ اور عمرو عاص کے درمیان کچھ کشیدگی  کے بعد وہ دونوں ایک دوسرے سے الگ ہو گئے۔(1) ابن ابی الحدید نے یہ واقعہ دوسری طرح بھی نقل کیا ہے جسے ہم بیان کرتے ہیں:

     ابن ابی الحدید کہتے ہیں:نصر نے کہا:عمرو بن شمر نے ہم سے نقل کیا ہے کہ گھوڑ سوار جنگ کے لئے باہر نکلے اورانہوںنے ایک دوسرے کے سامنے صف بستہ ہوگئے اور لوگ جنگ اور حملہ کے لئے تیار ہو گئے۔عمار کہ جن کے جسم پر سفید زرہ تھی، انہوں نے کہا:اے لوگو؛ جنت کی طرف جانے میں جلدی کرو اور آگے بڑھو۔

     لوگوں نے اتنی شدید جنگ کی کہ سننے والوں نے اس جیسی کسی جنگ کے بارے میں سنا نہیں  تھا اور قتل ہونے والوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ ہر کسی نے خیموں کی رسیاں قتل ہونے والوں کے ہاتھوں یا پاؤں کے ساتھ بندھی ہوئیں تھیں۔اس کے بعد اشعث نے نقل کیا ہے کہ میں نے صفین کے خیموں کو دیکھا،کوئی ایسا خیمہ نہیں تھا کہ جس کی رسی قتل ہونے والے کے ہاتھ یا پاؤں کے ساتھ نہ بندھی ہو۔

     نصر کہتے ہیں:ابوسماک اسدی نے پانی کی ایک مشک اور لوہے کا چاقو اٹھا اور مقتولین اور زخمیوں کے درمیان چلے گئے؛جب بھی وہ کسی زخمی کے پاس پہنچتے اور دیکھتے تھے کہ اس میں ابھی کچھ سانسیں باقی ہیں تو وہ اسے بٹھاتے اور اس سے پوچھتے: امیر المؤمنین کون ہیں؟اگر وہ کہتا :علی (علیہ السلام)امیر المؤمنین ہیں تو وہ اس کے چہرے کا خون صاف کرتے اور اسے پانی پلاتے اور اگر وہ خاموش ہو جاتا تو اس کے گلے پر چاقو چلا دیتے تا کہ وہ مر جائے اور اسے پانی بھی نہیں دیتے تھے۔

     نصر کہتے ہیں:عمرو بن شمر نے جابر کے قول سے ہمارے لئےروایت کی  ہے کہ اس نے کہا ہے: میں نے سنا کہ شعبی کہتے تھے:احنف بن قیس نے روایت کی ہے اور کہا ہے:خدا کی قسم؛میں عمار بن یاسر کے ساتھ تھا ،میرے اور ان کے درمیان قبیلۂ بنی الشعیراء کے صرف ایک آدمی کا فاصلہ تھا،ہم آگے بڑھے اور ہاشم بن عتبہ تک پہنچ گئے۔

     عمار نے ہاشم سے کہا:میرے ماں باپ تجھ پر قربان جائیں؛جلدی حملہ کرو۔

--------------

[1]۔ اعجاز پیغمبر اعظم(ص) د ر پیشگوئی از حوادث آئندہ: 351


انہوں نے کہا:اے ابویقظان؛خدا تم پر رحمت کرے ؛تم ایسے شخص ہو کہ جو جنگ میں سبکبار ہو اور تم نیہمیشہ جنگ کو بہت ہلکا اور سادہ سمجھا ہے لیکن میںاس پرچم کے ساتھ آگے بڑھوں اور حملہ کروں اور مجھے امید ہے کہ میں دقّت اوہوشمندی و چالاکی سے اپنے ہدف و مقصد تک پہنچ جاؤں گا اور اگر میں سستی کروں تو میں نابودی اور خطرے سے محفوظ نہیں رہوں گا۔

     اس دن معاویہ نے عمرو عاص سے کہا تھا:اے وای ہو تجھ پر؛آج بھی ان کا پرچم ہاشم کے ہاتھوں میں ہے اور وہ اس سے پہلے بھی سخت اور تیزی سے حملہ کرتا تھااور اگر آج اس نے تأمل سے حملہ کیا تو یہ شام کے لوگوں کے لئے ایک لمبا اور سخت دن ہو گا لیکن اگر اس نے اپنے ساتھیوں کے ایک گروہ کے ساتھ حملہ کیا تو مجھے امید ہے کہ ہم انہیں ایک دوسرے سے الگ کر کے ان کا محاصرہ کر سکتے ہو۔

     جناب عمار اسی طرح حملہ کرنے کے لئے ہاشم کی تشویق کر رہے تھے اور بالآخر انہوں  نے حملہ کر دیا۔ معاویہ جو کہ بہت ہوشیار تھا اور دور سے ان کا حملہ دیکھ رہا تھا، اس نے اپنے کچھ بہادر ساتھیوں کو ان کی طرف بھیجا کہ جو بہادری اور بے باکی میں مشہور تھے۔ عبداللہ بن عمرو عاص بھی اسی گروہ کے ساتھ تھا اور اس دن اس کے پاس دوتلواریں تھیں ، ایک تلوار اس نے لٹکائی ہوئی تھی اور دوسری سے وار کر رہا تھا۔اسی دوران علی علیہ السلام کے سواروں نے عبداللہ بن عمرو کو گھیر لیا ۔عمرو عاص نے چیخنا چلانا شروع  کیا کہ : اے خداے رحمن ؛ میرا بیٹا، میرا بیٹا۔

     معاویہ نے کہا: صبر کرو اس کے لئے کوئی خوف نہیں ہے۔

     عمرو نے کہا:اے معاویہ! اگر تمہارا بیٹا یزید اس حال میں ہوتا تو کیا تم صبر کرتے؟

لیکن شام کے سپاہیوں اور ان کے بہادروں نے عبداللہ بن عمرو کا ایسا دفاع کیا کہ اسے  لے گئے جب کہ وہ گھوڑے پر سوار تھا (اور اسی طرح اس کے ساتھی بھی فرار ہو گئے  اورہاشم اس معرکہ میں زخمی ہو گئے)۔

     نصر کہتے ہیں:عمر بن سعد نے ہمارے لئے بیان کیا ہے کہ عمار بن یاسر  اس دن قتل ہو گئے اور میدان جنگ میں گر گئے ۔انہوں نے جونہی عمرو عاص کے پرچم کی طرف دیکھا تو کہا:خدا کی قسم!یہ وہ پرچم ہے کہ جس کے خلاف میں نے تین مرتبہ جنگ کی ہے اور اس جنگ میں بھی اس کا ہدف ان تین سے صحیح نہیں ہے اور پھر یہ اشعار پڑھے:


     جس طرح ہم نے پہلے بھی تم سے تنزیل قرآن کے بارے میں جنگ کی اور تم پر وار کیا اور اب ہم تأویل قرآن کے بارے میں تم سے جنگ کر رہے ہیں اور تم پر وار کر رہے ہیں؛ایسا وار کہ جو سر کو بدن اور دوست کو دوست سے جداکردے  تا کہ حق اپنے اصلی راستہ پر واپس چلا جائے۔

     عمار کہ جو بہت زیادہ پیاسے تھے،انہوں نے اس دوران   پانی طلب کیا۔ایک لمبے قد کی عورت ان کے پاس گئی اور میں یہ نہیں سمجھ پایا کہ اس کے پاس جو مشک تھی کیا اس میں پانی تھا یا دودھ،اس نے وہ عمار کو دیا،جیسے ہی عمار نے وہ پیا تو کہا:جنت نیزوں کے نشانوں کے نیچے ہے۔آج میں محمد(ص) کے گرانقدر دوستوں اور ان کے گروہ سے ملاقات کروں گا۔خدا کی قسم؛اگر وہ ہم پر ایسا وار کریں کہ ہمیں ہجر کے نخلستان تک پیچھے ڈھکیل دیں تو پھر بھی ہم یہ جانتے ہیں کہ ہم حق پر ہیں اور وہ باطل پر ہیں۔پھر انہوں نے حملہ کیا۔ابن حوی سکسکی اور ابوالعادیہ نے بھی ان پر حملہ کیا۔ابوالعادیہ نے عمار کو نیزہ مارا اور ابن حوی نے عمار کا سر بدن سے جدا کیا۔

     ذوالکلاع نے بارہا عمرو عاص سے سنا تھا کہ وہ کہتا تھا:پیغمبر(ص) نے عمار سے فرمایا ہے:

     تجھے سرکش اور ظالم وستمگر گروہ قتل کرے گا اوتم آخر میں جوچیز پیو گے وہ پانی سے ملا ہوا دودوھ کا گھونٹ ہو گا۔

     ذوالکلاع نے عمروعاص سے کہا:اے وای ہو تجھ پر؛ہم جو دیکھ رہے ہیں یہ کیا ہے؟

     عمرو نے کہا:عمار جلد ہی ہمارے پاس آجائیں گے اور ابوتراب سے الگ ہو جائیں گے۔

     یہ عمار کے قتل ہونے سے پہلے تھا اور پھر جس دن عمار شہید ہوئے اسی دن ذوالکلاع بھی مارا گیا۔

     عمروعاص نے معاویہ سے کہا:خدا کی قسم؛میں نہیں جانتا کہ ان دونوںمیں سے کس کے قتل ہونے پر زیادہ خوشی مناؤں۔اور خدا کی قسم؛ اگر عمار کے قتل ہونے کے بعد ذوالکلاع زندہ ہوتا تو وہ اپنی پوری قوم کے ساتھ علی (علیہ السلام) سے مل جاتا اور ہمارا کام خراب کر دیتا۔


     نصر کہتے ہیں:عمر بن سعد نے ہمارے لئے نقل کیا ہے کہ کچھ لوگ معاویہ اور عمرو عاص کے پاس آتے تھے اور کہتے  تھے:میں نے عمار کو قتل کیا ہے۔عمرو نے ان میں سے ہر ایک سے پوچھا :عمار کیا کہہ رہے تھے؟وہ اس کا جواب نہیں دے پائے بالآخر ابن حوی آیا اور اس نے کہا:میں نے عمار کو قتل کیاہے؟

     عمرو نے اس سے کہا:عمار نے آخر میں کیا بات کی تھی؟

     اس نے کہا:میں نے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے:آج میں محمد (ص) کے گرانقدر دوستوں اور ان کے گروہ سے ملاقات کروں گا۔

     عمرو نے کہا:تم سچ کہہ رہے ہوتم ہی عمار کے قاتل ہو۔خدا کی قسم؛تمہیں خدا کی نارضگی کے سوا کوئی چیز حاصل نہیں ہوئی۔

     نصر کہتے ہیں:عمرو بن شمر نے ہمارے لئے اسماعیل سدی سے  اورعبدخیر ہمدانی سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا ہے:میں نے صفین کے ایک دن دیکھا کہ عمار بن یاسر تیر لگنے کی وجہ سے بے ہوش ہو گئے اور ظہر ،عصر،مغرب،عشاء اور صبح کی نمازیں نہ پڑھ سکے ۔ پھر جب وہ ہوش میں آئے تو انہوں نے اپنی نمازیں قضا کیں اور ترتیب سے اپنی قضا ہونے والوں نمازیں پڑھنا شروع کیں اور آخر ی پر نماز تمام کر دی۔

     نصر کہتے ہیں:عمرو بن شمر نے سدی اور ابوحریث سے ہمارے لئے نقل کیا ہے کہ وہ کہتے تھے: جس دن عمار قتل ہوئے ، ان کا غلام راشد ان کے لئے دودھ کا ایک گھونٹ لے کر آیا۔عمار نے کہا: بیشک میں نے اپنے دوست رسول خدا(ص)سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا:     دنیا میں سے تمہارا آخری توشہ دودھ کا ایک گھونٹ ہے۔

     نصر کہتے ہیں:عمر بن شمر  نے سدی سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا:جنگ صفین میں دو افراد کے درمیان اس بارے میں اختلاف ہو گیا کہ ان میں سے کس نے عمار کو قتل کیا ہے  تا کہ ان کا لباس اور ان کا اسلحہ لے سکیں، وہ دونوں عمرو عاص کے پاس آئے۔


     اس نے کہا:وای ہو تم پر؛میرے پاس سے چلے جاؤ کہ پیغمبر(ص) نے فرمایا:

     قریش کو عمار سے کیا کام کہ وہ انہیں جنت کی طرف دعوت دیتے ہیں اور وہ  لوگ انہیں دوزخ کی طرف بلاتے ہیں۔انہیں قتل کرنے والا،ان کا لباس اور اسلحہ اتارنے والا جہنمی ہیں۔

     سدی نے کہا ہے:مجھ تک خبر پہنچی ہے کہ جب معاویہ نے یہ بات سنی تو اس نے شامیوں کو دھوکہ دینے کے لئے کہا:انہیں اس نے قتل کیا ہے کہ جو انہیں اپنے ساتھ جنگ پر لے کر آیا!

     نصر کہتا ہے:عمرو نے جابر،ابوالزبیر سے میرے لئے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا ہے:قبیلۂ جہینہ کا ایک گروہ حذیفة بن الیمان کے پاس آیا اور ان سے کہا:اے ابوعبداللہ؛پیغمبر خدا (ص) نے خدا سے سوال کیا کہ ان کی امت سرگردان نہ رہے اور ان کی یہ دعا قبول ہوئی اور انہوں نے دعا کی کہ ان کی امت ایک دوسرے کو ہراساں نہ کرے اوران کا آپس میں اختلاف نہ ہو،اور یہ قبول نہ ہوئی۔

     حذیفہ نے کہا:میں نے سنا ہے کہ پیغمبر (ص) نے فرمایا:

     سمیہ کا بیٹا(یعنی عمار یاسر)ہرگز دوکاموں میں مخیر نہیں ہوں گے مگر یہ کہ صحیح کام کا انتخاب کریں  ہمیشہ ان کی رائے پر عمل کرو۔

     نصر کہتے ہیں:عمر بن شمر نیہمارے لئے نقل کیا ہے کہ عمار نے اس دن شامیوں کی صفوں پر حملہ کیا اور انہوں نے یوں رجز پڑھا:رب کعبہ کی قسم؛میں ہزگز اپنی جگہ سے نہیں ہلوں گا مگر یہ کہ قتل ہو جاؤں یا جو میں دیکھنا چاہتا ہوں ، وہ دیکھ لوں۔میں ہمیشہ اپنی پوری زندگی علی علیہ السلام، پیغمبر(ص) کے داماد، امانتدارا ورعہد کی وفا کرنے والے کی پاسداری اور حمایت کروں گا۔     نصر کہتے ہیں:عبداللہ بن سوید حمیری(جو ذوالکلاع کے خاندان میں سے تھا) نے اس سے کہا:تم نے عمار کے بارے میں عمرو عاص سے جو حدیث سنی ہے ، وہ کیا ہے؟

     ذوالکلاع نے انہیں ساراواقعہ بتایا: جیسے ہی  عمار یاسر قتل ہو گئے تورات کے وقت  عبداللہننگے پاؤں معاویہ کے لشکر سے باہر آ گئے اور وہ صبح کو  امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے لشکر کے ساتھ تھے۔


     عبداللہ بن سوید اپنی زندگی میں عبادت گذار تھے اور نزدیک تھا کہ شام کے لوگ ان کے اس کام سے مضطرب ہو کر منتشر ہو جائیں مگر یہ کہ معاویہ نے ان سے کہا:عمار کو علی (علیہ السلام ) نے قتل کیا ہے؛ کیونکہ وہ انہیں اس جنگ میں  لے کر آئے تھے اور انہیں اس فتنہ میں دھکیلا!  اس واقعہ کے بعد معاویہ نے عمرو عاص کو پیغام بھیجا کہ تم نے شام کے لوگوں کو میرے لئے تباہ کر دیا ہے؛تم نے جو کچھ بھی پیغمبر(ص) سے سنا کیا وہ سب لوگوں کو بتانا ضروری تھا؟

     عمرو عاص نے کہا:ہاں!میں نے یہ بات کہی ہے اور میرے پاس علم غیب نہیں تھا کہ جنگ صفین پیش آئے گی اور میں نے یہ اس وقت کہی تھی کہ جب عمار تمہارا دوست تھا اور جو کچھ میں نے روایت کیا ہے تم نے خود بھی تو اسی طرح کی باتیں نقل کی ہیں۔     معاویہ ناراض ہو گیا اور اسے عمرو پر غصہ آیا ،اس نے ارادہ کر لیا کہ اسے اپنی خیر و نیکی سے محروم کر دے۔عمرو بھی ایک متکبر اور مغرور شخص تھا ،اس نے اپنے بیٹے اور دوستوں سے کہا:اگر اس جنگ کی صورت حال واضح ہو جائے تو پھر معاویہ کے ساتھ رہنے میں کوئی خیر نہیں ہے اور میں حتمی طور پر اس سے الگ ہو جاؤں گا اور اس نے مندرجہ ذیل اشعار پڑھے:

     ''میں نے جو کچھ سنا تھااسے بیان کر دیا ،اب مجھ پر ناراض ہو رہے ہو اور میری سرزنش کر رہے ہو اور حالانکہ اگر انصاف کرو تو جوکچھ میں نے کہا تم نے بھی تو اسی کی طرح کی باتیں کہیں۔کیا تم نے جو کچھ کہا تھا اس پر ثابت و استوار تھے،اور کیا تم میں کوئی لغزش نہیں تھی اور میں نے جو کچھ کہا اس میں مجھ میں لغزش تھی؟...''

     معاویہ نے عمرو عاص کے جواب میں یہ اشعار پڑھے:     ''اب جب کہ جنگ نے اپنا دامن پھیلا دیا ہے اور میرے  لئے یہ دشوار کام پیش آیا ہے، اور اب ساٹھ سال کے بعد مجھے ایسا دھوکہ دے رہے ہو اور سوچتے ہو کہ میں کڑوے اور میٹھے کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھوں گا....''     جب معاویہ کے ان اشعار کی خبر عمرو کو ہوئی تو وہ معاویہ کے پاس گیا اور اس نے اس کی رضائیت حاصل کر لی اور وہ متحد ہوگئے۔(1)

--------------

[1] ۔ جلوۂ تاریخ در شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید: ج۴ ص۱۴


 ذوالکلاع سے عمار یاسر کی گفتگو کے سولہ اہم نکات

ہم نے ذوالکلاع اور عمار یاسر کی گفتگو کے بارے میں جو مطالب بیان کئے ہیں ، ان میں اہم نکات موجود ہیں کہ جن میں غور و فکر کرنا چاہئے:

     1۔ذوالکلاع نے پیغمبر اکرم(ص) کی پیشنگوئی سننے کے بعد یہ تحقیق کی کہ  یہ حدیث آنحضرت سے صادر ہوئی ہے۔پھر اسے یقین حاصل ہو گیا کہ اس نے جو کچھ سنا ہے وہ صحیح ہے اور رسول خدا(ص) کا فرمان ہے۔

     چونکہ وہ معاویہ اور عمرو عاص کے دھوکہ و فریب میں آچکا تھا اور وہ انہیں صحیح طرح نہیں پہچانتا تھا ، وہ یہ سوچ رہا تھا کہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے لشکر میں جناب عمار کے ہونے کی وجہ سے شاید وہ معاویہ اور عمرو عاص کو جنگ سے ڈرائے اور انہیں صلح پر مجبور کر سکے۔

     اس لئے اس نے اپنے چچا زاد ابونوح (جو امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے لشکر کے بہادر سپاہیوں میں سے تھے)سے تقاضا کیا کہ وہ اس کے ساتھ عمرو عاص سے ملنے کے لئے چلیں تا کہ شاید اس سے گفتگو کرنے سے جنگ اور خون خرابہ صلح وامن میں تبدیل ہو جائے۔لیکن وہ اس چیز سے غافل تھا    کہ معاویہ اور عمرو عاص کا  امیر المؤمنین علی علیہ السلام سے جنگ کرنا دین اسلام کی ترقی کے لئے نہیں تھا بلکہ تخت سلطنت پر بیٹھنے اور طاقت کے حصول کے لئے تھا اور عثمان کا کڑتا عوام کو دھوکہ دینے کے علاوہ کچھ اور نہیں تھا۔

     گمراہ سیاستدانوں کی وجہ سے خوش فہمی کا شکار ہونے میں نہ صرف یہ کہ کوئی مثبت اثر نہیں ہوتا بلکہ اس میں صرف انسان کی گمراہی اور نابودی کا سامان ہوتا ہے۔

     2۔اس واقعہ میں عمرو عاص نے خود یہ اعتراف کیا کہ اس نے پیغمبر اکرم(ص) سے یہ حدیث سنی ہے اور جب اسے یہ یقین ہو گیا کہ جناب عمار  امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے لشکر میں ہیں تو ان کے ساتھ مل جانے کے بجائے اس نے عمار سے ملاقات کرنے کی کوشش کی تا کہ شاید کوئی راستہ نکل آئے اور یہ واقعہ اس کے فائدہ میںاختتام پذیر ہو یا یہ کہ ذوالکلاع اور اس کے ساتھیوں میں شک و تردید ایجاد کر سکے۔اس  مقصد کے تحت عمرو عاص نے جناب عمار سے ملاقات کی۔


سیاستدان اپنے   ہی  مقاصد و اہداف کومستحکم کرنے کے لئے  دوسروں سے ملاقات کرتے، گفتگو کرتے اور بیٹھتے ہیں نہ کہ وہ راہ حق اور عوام کی خدمت کے لئے یہ سب کچھ کرتے ہیں۔

     3۔ذوالکلاع کے بہت زیادہ ساتھی تھے اور اگر وہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے لشکر کے ساتھ ملحق ہو جاتا تو شام کے لشکر میں رخنہ پڑ جاتا۔عمرو عاص چونکہ اس حقیقت سے آشنا تھا  لہذا اس نے ایک ایسی چال چلی تاکہ اس کے ذریعہ یہ واقعہ ہونے سے روک سکے۔

     اس  کی وہ چال اتحاد اور وحدت کا دعویٰ کرنا تھا!تا کہ دونوں لشکر کے درمیان اتحادا ور وحدت کا بہانا(اعتقاد کے لحاظ سے خدا،کعبہ اور قرآن کا ایک ہونا ) بنا کر اس جنگ سے بچ سکے کہ جس میں اسے شام کے محاذ پر واضح شکست نظر آرہی تھی ۔اور وہ ذوالکلاع اور اس کے ساتھیوں کو امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے لشکر سے ملنے سے روکے کہ جس سے دوسرے محاذوں پر بھی ان کی شکست واضح ہو جاتی  تھی۔

     اس وجہ سے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے لشکر کے سپہ سالار سے ملاقات کرتے ہیں سب سے پہلے کلمۂ '' شہادتین''کے لئے زبان کھولی اور خود کو مسلمان کہا!لیکن جناب عمار نے اس کے جواب میں فرمایا:خاموش ؛ تم نے اسے چھوڑ دیا ہے۔

     جناب عمار نے عمرو عاص کے جواب میں یہ کیوں کہا؟

     ج:کیونکہ رسول اکرم(ص) کے اس بزرگ صحابی کی نظر میں جو بھی اپنے زمانے کے امام پر ایمان نہ رکھتا ہو تو اس نے خدا کی توحید اور رسول اکرم(ص) کی رسالت کی گواہی کو بھی چھوڑ دیا ہے۔اس عظیم الشان اور دلاور شخص کی نظر میں کلمۂ شہادتین کا اسی صورت میں کوئی فائدہ ہے کہ جب شہادت ثالثہ بھی کہتا ہو۔ یہ حقیقت دنیائے اسلام کے ا س عظیم انسان کے کلام سے بخوبی واضح و آشکار ہوتی ہے کہ جب انہوں نے عمرو عاص سے فرمایا:''خاموش ؛تم نے اسے چھوڑ دیا ہے۔

     جناب عمار جو کہ بہادر و دلاوری کے علاوہ خطابت میں بھی ماہر تھے،انہوں نے عمرو عاص سے فرمایا:کیاتم چاہتےہو کہ ایسی بات کہوں کہ جو تمہیں تمہاری جگہ سے اٹھنے سے پہلے ہی کفر سے منسوب کر دے اور تم خود بھی اسے قبول کرو؟!


     اس وقت عمرو عاص نے خود کو جناب عمار کے کلام سے محکوم ہوتے ہوئے دیکھا تو اس نے احترام کے عنوان سے آپ کو کنیت کے ذریعہ مخاطب کیا اور کہا:اے ابویقظان؛اس لشکر میں سب سے زیادہ تمہاری اطاعت و پیروی کی  جاتی ہے،تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں کہ ان کا اسلحہ قتل کرنے سے روکو.....تم لوگ کس لئے ہم سے جنگ کر رہے ہو؟ کیا ہم ایک ہی خدا کی عبادت نہیں کرتے ؟ لیکن کیا ہم آپ کے قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز نہیں پڑھتے اور جس چیز کی تم دعوت دیتے ہو اسی چیز کی دعوت نہیں دیتے؟ کیا ہم تمہاری کتاب کی تلاوت نہیں کرتے اور تمہارے پیغمبر(ص) پر ایمان نہیں رکھتے؟!

     اس موقع پر پیغمبر خدا(ص) کے بزرگ صحابی اور امیرالمؤمنین علی علیہ الساام کے یاور و دلاور نے لب کشائی کی اور خداوند کی عبادت،دین،قبلہ،کتاب خدا اور پیغمبرکے بارے میں کہا کہ یہ ہمارے اور ہمارے ساتھیوں کے ہیںاوران کا تم سے یاتمہارے ساتھیوں سے کوئی تعلق واسطہ نہیں ہے۔اور پھر آپ نے ناکثین(جمل میں عہد و پیمان توڑنے والے) اورقاسطین(صفین کے ظالم اور ستمگر)سے جنگ کرنے کے بارے میں رسول خدا(ص) کا فرمان بیان کیا اور پھر آپ نے  امیرالمؤمنین علی علیہ الساام کی پیروی کیبارے میں  رسول اکرم(ص) کا فرمان بیان کیا۔

     یہاں جو نکتہ قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ :عمرو عاص نے کتاب خدا،قبلہ،پیغمبر اور خدا کی  عبادت کو اتحاد و وحدت اور جنگ سے دوری کا وسیلہ قرار دیا لیکن لشکرعراق کے تواناسپہ سالار نے اسے ردّ کر دیا اور وہ قبلہ،قرآن،پیغمبر اور خدا کی عبادت کے ایک ہونے کو نہ صرف اتحاد و وحدت کا معیار قرار نہیں دیتے بلکہ کہتے ہیں:قبلہ،قرآن وغیرہ.کا تجھ سے اور تیرے ساتھیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

     یہ ایسی حقیقت ہے کہ جس کے شیعہ و سنی معتقد ہی کیونکہ شیعہ ایک ایسے گروہ  (نواصب) کوبالکل مسلمان نہیں مانتے اور انہیں کافر قرار دیتے ہیں اگرچہ وہ قرآن،قبلہ،پیغمبر اور خدا پر اعتقاد کے لحاظ سے ظاہری طور پر یکساں ہیں۔

     اہلسنت کے بھی مسلمانوں کے ایسے کئی فرقوں کو مسلمان نہیں سمجھتے اور انہیں رافضی قرار دیتے ہوئے کافر سمجھتے ہیںاگرچہ وہ خدا،پیغمبر ،قرآن اور قبلہ پر ایمان رکھتے ہیں۔اس بناء پر کس طرح قبلہ، کتاب ،پیغمبر کے ایک ہونے اور خدا پر اعتقاد کوعقیدہ میں اتحاد و وحدت کی دلیل سمجھ سکتے ہیں؟!


     4۔یہ سب اس شخص کے بارے میں ہے کہ جو خدا،پیغمبر،قرآن اور قبلہ کا معتقد ہے لیکن اگر اس اعتقاد کی بنیادمصلحت و سیاست یا دوسرے لفظوں میں نفاق کی بنیاد پر ہو-جس طرح معاویہ اور عمرو عاص کا ایسا ہی عقیدہ تھا-تو پھر کس طرح اس طرح کے افراد کو خدا کے حقیقی بندوں سے متحد پر سکتے ہیں؟!

     5۔قابل توجہ ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) نے اپنی پیشنگوئیوں میں فرمایا ہے:لوگوں کا ایک گروہ  فتنہ و امتحان میں واقع ہو گا اور وہ ان میں مبتلا ہو گا''۔اس موقع پر آنحضرت نے امیر المؤمنین علی علیہ السلام کو حکم دیا کہ ایسے افراد کے ساتھطریقۂ کار یہ ہے کہ ان کے ساتھ جنگ کی جائے اگرچہ وہ کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے ہوں،اور قرآن کو آسمانی کتاب سمجھتے ہوں!

     ابن ابی الحدید نے اس بارے میں کہا ہے:حضرت  امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے سامنے ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا:ہمیں فتنوں سے آگاہ فرمائیں اور کیا اس بارے میں آپ نے پیغمبر خدا(ص) سے پوچھا ہے؟

      امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا:

     چونکہ خداوند متعال نے اپنا یہ قول نازل فرمایا ہے:

    (الم* أَحَسِبَ النَّاسُ أَن یُتْرَکُوا أَن یَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا یُفْتَنُونَ) (1)

     الم*کیا لوگوں نے یہ خیال کر رکھا ہے کہ وہ صرف اس بات پر چھوڑ دیئے جائیں گے کہ وہ یہ کہہ دیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور ان کا امتحان نہیں ہوگا۔

     میں سمجھ گیا کہ جب تک رسول خدا(ص) ہم میں موجود ہیں تب تک ہم پر کوئی بلا نازل نہیں ہوگا، اس لئے میں نے رسول خدا(ص) سے عرض کیا:یہ کون سا فتنہ ہے کہ جس کے بارے میں خدا نے خبر دی ہے؟

     فرمایا:اے علی علیہ السلام!بیشک میرے بعد جلد ہی میری امت فتنہ میں  گرفتار ہو جائے گی اور انہیں پرکھا جائے گا۔

--------------

[1]۔ سورۂ عنکبوت، آیت: 1،2


      امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے فتنوں کے بارے میں ارشاد فرمایا ہے اور اسی وجہ سے اسے امر بہ معروف اور نہی از منکر سے یادکیاہے اور فرمایا ہے:''تمہارے لئے کتاب خدا سے تمسک اختیارکرنا ضروری ہے''یعنی جب بھی کوئی فتنہ درپیش اور لوگ حیرانگی کے عالم میں ہوں تو تمہیں کتاب خدا سے متمسک ہونا چاہئے۔اسی لئے ایک شخص اٹھا اور اس نے آنحضرت سے فتنوں کے بارے   میں  سوال کیا۔

      پیغمبر خدا(ص) سےنقل ہونے والی یہ حدیث(بہت سے محدثین نے اس حدیث کوحضرت علی علیہ السلام سے بھی نقل کیاہے اور اس پر غور کرنا چاہئے)یوں ہے:

     پیغمبر اکرم(ص) نے  امیر المؤمنین علی علیہ السلام سے فرمایا:

     خداوند  متعال نے تم پر فتنوں میں گرفتار لوگوں کے ساتھ جہاد کو واب قراردیا ہے؛جس طرح مشرکوں کے ساتھ جہاد کرنا مجھ پر واجب قرار دیا  تھا۔(1)

      امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا:

     میں نے پیغمبر خدا(ص) سیعرض کیا:یا رسول اللہ !وہ کون سافتنہ ہے کہ جس کی وجہ سے مجھ پر جہا واجب کیا گیاہے؟

     فرمایا:ایک  گروہ ہے کہ جو گواہی دیتا ہے کہ خدا کے علاوہ کوئی پروردگار نہیں ہے اور میں خدا کا رسول ہوں لیکن وہ میری سنت کے مخالف ہیں۔

     میں نے کہا:یا رسول اللہ!کس وجہ  سے ان سے جنگ کروں حلانکہ  انہی عقائد کا اقرار کرتے ہیں کہ جن کے ہم معتقدہیں؟

     فرمایا:دین میں وجود میں آنے والی بدعتوںاور حکومت کی مخالفت کرنے کی وجہ سے۔

--------------

[1] ۔ اس  بارے میں مزید جاننے کے لئے ''کنز العمال:ج 8 ص215 اور فضائل الخمسة: ج2ص363 - 349'' کی طرف رجوع کریں


     میں نے عرض کیا:یا رسول اللہ!آپ نے مھے شہادت کی بشارت دی تھی اب خدا سے دعا کریں کہ میری شہادت کے بارے میں عجلت کرے۔

     فرمایا:اس صورت میں کون عہد و پیمان توڑنے والوں، تباہی پھیلانے والوں اور دین سے خارج ہونے والوں سے جنگ کرے گا؟ بیشک میں نے تمہیں شہادت کی بشارت دیہے اور تم جلد ہی شہید ہو جاؤ گے،تمہارے سر پرضربت لگائی  جائے گا اور تمہاری ڈاڑھی تمہارے خون سے خضاب ہو گی۔اس موقع پرآپ کا صبر کیسا ہو گا؟

میں نے کہا:یا رسول اللہ!یہ تو صبر کا نہیں بلکہ شکر کا مقام ہے۔

     فرمایا:ہاں!تم نے صحیح کہا ہے۔ جنگ کے لئے تیار ہو جاؤ آپ کے ساتھ جنگ کی جائے گا۔

     میں نےعرض کیا:یا رسول اللہ!کاش آپ میرے لئے کچھ اور واضح فرما دیں۔

     فرمایا:میرے بعد میری امت فتنوں اور امتحانوں میں گرفتار ہو جائے گی،وہ قرآن کی تأویل  اور اپنی رائے کے مطابق عمل کرے گی۔برائیوں کو اچھائی اور رشوت کو ہدیہ  اور سود کو بیع کے نام پر حلال شمار کرے گی۔قرآن کے معانی میںتحریف کرے گی اور گمراہی کابول بالاہو گا۔

     (اور پھرایسا ہوگا) پہلے اپنے گھر میں بیٹھ جاؤیہاں تک کہ تمہیں حکومت مل جائے اور جب تمہیں حکومت ملے تو تمہارے خلاف سینوں میں آگ بھڑک اٹھے گی اورحالات تمہارے  برخلاف ہو جائیں گے؛اس موقع پر تم تأویل قرآن کے سلسلہ میں جنگ کرو گے کہ جس طرح تنزیل کے سلسلہ میں جنگ کی تھی اور ان کی یہ دوسری حالت ان کی پہلی حالت سے کم نہیں ہے۔

     میں نے عرض کیا:یا رسول اللہ! آپ کے بعد جو فتنوں سے دچار ہوںگے،ان کے ساتھ کیسا برتاؤ کروں  اور انہیں کس مقام پر رکھوں؟کیا فتنہ  کے مقام  پر یا دین سے منحرف ہو جانے والوں کے مقام پر؟

     فرمایا:انہیں مقام فتنہ میں رکھوکہ وہ ششدر ہو جائیں گے یہاں تک کہ انہیں عدل و انصاف اپنی گرفت میں لے۔


     میں نے کہا؛اے رسول خدا(ص)؛ کیا ہماری طرف سے عدل انہیں اپنی آغوش میں لے گا یا کسی اور کی طرف سے؟

     فرمایا:ہماری طرف سے کہ جو ہم سے ہی شروع ہوا تھا اور ہم پر ہیختمہو گا،خداوند شرک کے بعد ہمارے وسیلہ سے دلوں میں الفت قرار دے گا۔     میں نے عرض کیا:خدا کی ان نعمتوں پر خدا کا شکر کہ جو اس نے ہمیں عطا فرمائی ہیں۔(1)      اس روایت پرغور و فکرکریں کہ جسے شیعہ و سنّی علماء نے نقل کیا ہے اور جس نیبے شمار افراد کے اعتقادی نظریہ کو بدل کر رکھ دیا ہے۔اس روایت کا دو مرتبہ مطالعہ کریں اور اس کے مطالب پر غورکریں اور اپنے لئے ہدایت کے دریچہ کھولیں۔

     6۔مذکورہ واقعہ کی رو سے جناب عمار خود کو ان لوگوںکے ساتھ سمجھتے تھے کہ جو عثمان کے قتل میں شریک ہوئے ۔اس روایت کی بناء پر عثمان کو قتل کرنے میں جناب عمار کا ہاتھ تھا۔اس صورت میں  ان روایات کے مطابق (کہ جو رسول اکرم(ص) سے عمار کی مدح  اور ان کی برحق ہونے کے بارے میں وارد ہوئی ہیں)عثمان کے قتل کی وجہ سے جناب عمار کی سرزنش نہیں کی جا سکتی اور عثمان کے کڑتے کو قتل عمار کے لئے حربہ قرار نہیں دیا جا سکتابلکہ عمار کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی رائے اس سے بھی واضح ہے۔

 7۔ اگرچہ عمار کے کاموں اور شخصیت کی وجہ سے معاویہ توہین کے عنوان سے انہیںسیاہ غلام کا نام دیتاتھا لیکن وہ جانتا تھا کہ لوگوں میں ان کی شخصیت اتنی اہم ہے کہ وہ اپنے خطاب سے لشکر کو حرکت اور ان کی مخالفت پر ابھار سکتے ہیں۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیاستدان اپنے مخالفوں کو کس حد تک حقیر سمجھتے ہیں اور انہیںکمتر شمار کرتے ہیں۔     معاویہ کا یہ رویہ عمار کو حقیقر سمجھنے اور ان کی شخصیت کوکمتر شمار کرنے کے لئے تھا تا کہ وہ شام کے لوگوں کے درمیان فتنہ پیدا کریں اور انہیں ان کی رہنمائی سے دور رکھیں۔

     8۔ چونکہ عمرو عاص ،عمار کوسیاہ غلام نہیں کہہ سکتا تھااور ان کی شخصیت کو کمترشمار نہیں کر سکتا تھا۔ اس لئے اس نے ایک دورسری چال چلی اور

--------------

[1]۔ جلوۂ تاریخ در شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید: ج4 ص323


جب ذوالکلاع ،مار اور عمرو عاص کی گفتگو سے مطمئن نہ ہوا تو عمرو عاص نے اس سے کہا:عمار جلد ہی ان سے الگ ہو کر ہم سے ملحق ہو جائے گا!     اس عمل سے یہ نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ سیاستدان اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لئے ہر قسم کا حربہ اختیار کر سکتے ہیںاور ہر قسم کا جھوٹ بول سکتے ہیں۔

     9۔ چونکہ ذوالکلاع نے عام لوگوں کی طرح (کہ جنہوں نے سیاستدانوں کے جھوٹے و عدوں سے دھوکا کھایا تھا)اپنی راہ کو جاری رکھا ۔اگر وہ فہم و فراست رکھتااور اور چالاک ہوتا (کہ ہر مؤمن کو ایسا ہونا چاہئے)ہوتا تو اس نے جو روایت سنی تھی ،اس کی بناء پر عمار کے راستہ کومنتخب کر لیتا۔اور اس محال فرض کی بناء پر اگر عمار دوسرے لشکر سے منسلک ہو جاتے تو وہ بھی عمار کے منسلک ہو جانے کے بعد یہی کام انجام دیتے۔لیکن عمرو عاص کے ذریعہ فریفتہ ہو جانے کی وجہ سے اس نے باطل راہ میں اپنی جان گنوا دی۔حالانکہ وہ  باطل کے خلاف چند گھنٹوں کی مقاومت کرکے جاویدانی حیات حاصل کر سکتا تھا۔وہ بیچارہ یہ نہیں جانتا تھا کہ عمرو عاص اس کے قتل ہوجانے کی وجہ سے کتنا خوش ہو گا۔چونکہ جس دن جناب عمار شہید ہو گئے اسے دن ذوالکلاع بھی قتل ہو گیا اورعمرو عاص نے معاویہ سے کہا:خدا کی قسم! میں نہیں جانتا کہ ان دونوں میں سے کس کے قتل ہونے پر زیادہ خوشی مناؤں۔

     10۔ اجتماعی شخصیت کے مالک افراد کو یہ جان لینا چاہئے کہ ان پر لوگوں کی نگاہیں ٹکی ہوتی ہیں  کیونکہ لوگوں میں ان کی شخصیت مؤثر ہوتی ہے۔لوگ ان کے کردار و رفتار میں غور و فکرکرتے ہیں اور ان کی پیروی کرتے ہیں۔

     اس بناء پر کسی باطل راستہ کو منتخب کریں تونہ صرف وہ خود گمراہ ہوتے ہیں بلکہ اپنی شخصیت کے مطابق لوگوں کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔اگر دو باطل راستوں یا حق و باطل میں سے کسی ایک کے انتخاب کے دوران باطل راستہ کو منتخب کریں تو کچھ لوگ انہیں کے رائے اور عقیدے کی وجہ سے باطل راستے کو ہی انتخاب کر لیتے ہیں اور انہیں  قیامت کے دن اس کا جواب دینا ہو گا۔

     عمرو عاص چونکہ یہ جانتا تھا کہ ذوالکلاع اجتماعی شخصیت کا مالک تھااور وہ شام کے لشکرمیں سے بہت سے افراد کو امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے لشکر کی طرف کھینچ سکتا ہے،اس لئے عمرو عاص نے معاویہ سے کہا:اگرذوالکلاع، عمار کے قتل ہونے کے بعد زندہ ہوتا تو مجھے یقین تھا کہ وہ اپنے تمام ساتھیوں کے ساتھ ہم سے جدا ہو کر ان سے ملحق ہوجاتا اور ہمارا کام خراب کر دیتا۔


     11۔رسول خدا(ص) کی پیشنگوئیوں کونہ صرف ذوالکلاع  جانتا تھا بلکہ شام کے لشکر میں سے بھی بہبے شمار افراد ان سے آگاہ تھے۔اس لئے جناب عمار کی شہادت کے بعد ان میں اختلاف پیدا ہو گیالیکن معاویہ نے فوراً مکاری سے کام لیا  اور یہ بات پھیلا دی کہ عمار کو اس نے قتل کیا ہے جو اسے میدان جنگ میں لے کر آیا تھا! جلد شام کی زود باور عوام پراس کی باتیں اثرانداز ہوئیں جس نے ان کی چہ میگوئیوں کو راستہ روک لیا۔

     پوری تاریخ میں باطل کے مقابلہ میںحق کی ظاہری شکست کی دو وجوہات ہیں:

     الف:بے دین سیاستدانوں کی مکاریاں اور ان کامکر و رفریب۔

     ب:عوام الناس کاجلدی یقینکر لینا کہ وہ جو کچھ بھی سنیں اسے فوراً مان لینا اور جھوٹے لوگوں کی پروپیگنڈوں سے اثر لینا کہ جس کے نتیجہ میںوہ خیانت کرنے والے سیاستدانوں کی پستپناہی کرتے ہیں۔

     12۔حقیقت چاہے سخت اور تلخ ہو پھر بھی وہ ایک گروہ (اگرچہ کم)کے لئے راستہ کھول دیتی ہے اور ان کی ہدایت کرتی ہے اور انہیں عام لوگوں سے الگ کر دیتی ہے۔

     صفین میں بھی کچھ عام لوگوں نے معاویہ ا ور عمرو عاص کی فریب  کاریوں سے دھوکہ کھایالیکن پھر بھی معاویہ کے لشکر میں سے متعدد لوگ جناب عمار کی شہادت کے بعد امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے لشکر سے ملحق ہو گئے کہ جن میں عبداللہ بن سوید بھی شامل ہیں۔

     ان لوگوں کا امیر المؤمنین  علی علیہ السلام کے لشکر سے ملحق ہو جانا اس بات کا سبب بنا کہ معاویہ غصہ سے بھڑک اٹھا اور اس نے عمرو عاص کو کہلوا بھیجا کہ تم نے شام کے لوگوں کو میرے لئے تباہ کر دیا ہے ۔کیا تم نے جو کچھ بھی پیغمبر(ص) سے سنا تھا، وہ سب کہنا ضروری تھا؟

     13۔عمرو عاص نے معاویہ کے اعتراض کا جواب دیا اور وہ بھی ایک دوسرے سے اس طرح ناراض ہو گئے کہ جس طرح سیاستدان اپنے گناہ اور غلطیاں دوسروں پرتھونپدیتے ہیں ۔عمرو عاص نے کنارہ کشی اختیار کرنے کا ارادہ کر لیالیکن چونکہ سیاستدان جانتے


ہیں کہ انہیں نیا کے حصول اور اپنے مقاصد تک پہنچنے کے لئے آپس میں بنا کر رکھنی پڑتی ہے،اس لئے انہوں نے آپس کے تعلقات صحیح  کر لئے،اور حق کے مقابلہ باطل کا پرچم لہڑا دیا اورجنگ کے شعلہ روشن کر دیئے۔

     14۔ایک اہم مطلب کہ جس کی طرف سب کو توجہ کرنی چاہئے اور وہ یہ ہے کہ تاریخ تاریخ کو دہراتی ہے۔اور یہ جان لینا چاہئے کہ یہ نکتہ بنیادی اہمیت کا حامل ہے اور امت کی اعتقادی حیات اسی سے وابستہ ہے۔

     ہم سب کو یہ جاننا چاہئے کہ بہت سے ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں کہ جنہوں نے تاریخ کے صفحات کو بھر دیا ہے اور یہ واقعات  پھر سے کسی اورنئے رنگ و روپ میں رونما ہوتے ہیں۔اگرہمیں تاریخ کے مطالعہاور تاریخی و اعتقادی واقعات سے آشنا ہوکر عمرو عاص کی مکاریوں اور ابوموسی اشعری کی پستی سے دکھ ہوتا ہے تو ہمیں ہوشیار رہنا چاہئے کہ کہیں ہم بھی انہی کی صف میں کھڑے نہ ہو جائیں!!

     ابوموسی اشعری اور عمرو عاص ایک ساتھ متحد ہو گئے کہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کو معزول کر سکیں لیکن عمرو عاص نے ابوموسی اشعری کو دھوکہ دے کر معاویہ کو منتخب کر لیا ،اب ہم شیعہ عقائد و شعائر کو چھوڑ کر تشیع کو پامال نہ کریں کہ یوں عمرو عاص اور معاویہ کے پیروکاروں کی صف میںکھڑے ہو جائیں!

     اگر اتحاد اور وحدت کی خاطر ضروری ہے کہ شیعہ اپنے کچھ عقائد و شعائر سے دستبردار ہو جائیں تو پھر آج تک سنی اپنے کس مخصوص شعائر سے دستبردار ہوئے ہیں؟

     کیا ایسا اتحاد ابوموسی اور عمرو عاص کے اتحاد کی طرح نہیں ہے؟اگر ایسا نہیں ہے تو پھر صرف شیعہ ہی اپنے کچھ عقائد سے کیوں ہاتھ اٹھا لیں؟

     جی ہاں!اگر ہم اس وقت نہیں تھے کہ جب صفین میں جنگ کے شعلہ بھڑک رہے تھے تا کہ ہم اس میں شریک ہو کر  امیر المؤمنین علی علیہ السلام پراپنی جان قربان کریں،تو ہمیں اس زمانے میں کوشش کرنی چاہئے کہ ہم ابوموسی اور عمرو عاص کی راہ پر نہ چلیں۔


     اس بناء پربندگان صالح کو ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہئے اور یہ جان  لینا چاہئے کہ سیاسی اتحاد و وحدت ایک چیز ہے اور اعتقادی وحدت دوسری چیزہے۔ ان دونوں کوتشخیص دینے والے افراد کو انہیں آپس میں نہیں ملانا چاہئے اور انہیں اپنے عقائد کاپاک گوہر ناپاک  ہاتھوں میں  نہیں بیچنا چاہئے۔

     جب کبھی اتحاد و وحدت کی بات آئے تو اس سے سیاسی وحدت مراد ہونی چاہئے  اور اگر اس کی ضرورت ہو ورنہ ان دوگروہوں کے درمیان کس طرح اتحاد و وحدت ہو سکتا ہے کہ جن کے امام دو طرح کے ہوں؟لیکن کیا یہ ایسا نہیں ہے مقام امامت کے علاوہ بھی دو مختلف اقوام کے افراد کہ جن کے دو الگ الگ صدر ہو،کیا یہ ممکن ہے کہ قانون کے لحاظ سے ان میں اتحاد و وحدت ہو؟

     اگر دشمن دوممالک پر حملہ کرے تو سیاسی وحدت سے اپنا دفاع تو کر سکتے ہیں اور دشمن سے جنگ کے لئے ایک ساتھ متحد ہو سکتے ہیں۔

     اس بناء پر جب دو ملکوں کا قانون کے لحاظ سے رفتار و کردار یکساں نہیں ہو سکتا اور اسن میں وحدت نہیں ہو سکتی (کیونکہ وہ دو مختلف عقیدے کے قانون بنانے والوں کے تابع ہیں)تو پھر کس طرح دو  امتیں عقیدہ و رفتار کے لحاظ سے یکساں اور متحد ہو سکتی ہیں کہ جو کئی ممالک سے زیادہ ہیں؟

     جی ہاں!قرآن تو ایک ہے لیکن اسے سمجھنے میں اختلاف ہے۔قبلہ ایک ہے لیکن اس کی طرف نماز پڑھنے کا طریقہ یکساں نہیں ہے۔رسول خدا(ص) ایک ہے لیکن سب ان کے فرامین کو نہیں سنتے بلکہ غدیر میںآپ کے اہم ترین فرامین ،حدیث منزلت اور اہلبیت اطہار علیہم السلام کے بارے میں فرمودات کو چھوڑ دیاگیا۔بلکہ رسول اکرم(ص) کی حدیثوں کو تدوین کرنے اور لکھنے سے روکنے کا حکم دیا گیا اس سے بھی بڑھ کر معاویہ نے تو اپنے بارے میں جھوٹی روایات گھڑنے کا حکم دیا اور ان کی نسبت آنحضرت کی طرف  دی۔لہذاکس طرح عقیدے کے لحاظ سے اتحاد و وحدت کا دعویٰ کیا جا سکتا ہے؟

     اس بناء پر اتحاد و وحدت کے مسئلہ میں غور کریں کہ کیا ہم عمرو عاص کی راہ پر چل رہے ہیں یا ہم عقیدے کے لحاظ سے جناب عمار کے ساتھ ہیں اور اس راہ پر چل رہے ہیں کہ جس کا اختتام جنت پر ہوتا ہے؟


     15۔جنگ صفین کے واقعہ میں عرب کے کچھ مشہور و معروف افراد جیسے ذوالکلاع ،کچھ عابد و زاہد افراد جیسے عبداللہ بن سوید اور کچھ عام معاشرے کے افراد جیسے ذوالکلاع کے پیروکاروں کا یہ عقیدہ تھا کہ رسول خدا(ص)کی پیشنگوئی کی وجہ سے ایسے لشکر میں ہونا چاہئے کہ جس میں عمار ہوں۔کیونکہ آنحضرت کے فرمان کے مطابق کسی بھی لشکر میں عمار کا وجود اس گروہ کے حق اورصراط مستقیم پر ہونے کا معیار ہے۔

     اس بناء پروہ  امیر المؤمنین علی علیہ السلام اورآنحضرت کی فوج کو اسی صورت میں حق پر سمجھتے تھے کہ جناب عمار ان کے ساتھ ہوں ورنہ انہیں   امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی عظمت اور شخصیت کی کوئی  معرفت نہیں تھی۔

     یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اگرچہ کئی سال سے معاویہ نے شام کی حکومت پر غاصبانہ قبضہ کیا تھااور وہ وہاں کے لوگوں پر حکومت کر رہا تھالیکن اس نے کبھی بھی امیر المؤمنین علی علیہ السلام اور خاندان اطہار علیہم السلام کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی بے شمار حدیثوں میں سے کسی حدیث کا کوئی تذکرہ نہیں کیا اور انہیں خاندان پیغمبر اکرم (ص) (جو دین کے ارکان ہیں)کی کوئی معرفت نہیں تھی۔

     پس اگر معاویہ نماز اور ر وزہ وغیرہ کے بارے میںبات کرتا تھا تو وہ اپنی حکومت و سلطنت کو استوار کرنے کے لئے ایسا کرتا تھانہ یہ کہ اس کا دین اسلام پر کوئی عقیدہ تھا۔اس وجہ سیجہاں بھی کوئی دینی حکم اس کے نقصان میں ہوتا تویا اسے  بالکل بیان نہیں کرتا تھا اور یا پھرلوگوں کے لئے برعکس بیان کرتا تھا۔ اس لئے وہ خاندان وحی علیہم السلام کی تعریف کرنے کی بجائے ان کی مذمت کے لئے کوشاں رہتا تھا اور یہ خود اس حقیقت کی دلیل ہے کہ معاویہ ایک سیاسی حکمران تھا نہ کہ مذہبی حکمران۔

     اگر معاویہ اور عمرو عاص خدا،رسول،کتاب اور قبلہ کے معتقد ہوتے تو وہ ان لوگوں سے جنگ نہ کرتے کہ جن لوگوںکابھی یہ عقیدہتھا۔پس جنگ سے پہلے جب   امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے انہیں کتاب خدا کی دعوت دی تو انہوں نے کیوں قبول نہیں کیا؟

     انہوں نے کیوں خود جنگ کا آغاز کیا؟لیکن کیا اس زمانے میں دوخدا،دو پیغمبر،دو کتابیں اور دو قبلہ تھے کہ جو انہوں نے جنگ کا آغاز کر دیا اور جب انہیں شکست کے آثار نظر آ نے لگے تو ان کا خدا، رسول خدا،کتاب ا ور قبلہ ایک ہو گئے؟!


     اگر معاویہ اور عمرو عاص کا حقیقت میں خدا،رسول خدا،کتاب اور قبلہ پر ایمان تھا اور وہ خود کو اس لحاظ سے عراق کے لوگوں اور  امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے لشکر کے ساتھ متحد سمجھتے تھے اور ایک دوسرے کے خلاف جنگ کرنے کو اتحاد و وحدت کے برخلاف سمجھتے تھے تو پھر جنگ صفین کے بعد معاویہ کے ساتھیوں نے کیوں کئی مرتبہ عراق پر شب خون مارا اور بے شمار مسلمانوں کو ایک ساتھ قتل کیا؟!

     معاویہ کے حکم پربسر بن ارطاة کی لشکر کشی کا واقعہ کہ جسے شیعہ و سنی علماء نے اپنی کتابوں میں ذکر کیا ہے،کیا اس کی لشکر کشی اور نہتے لوگوں کو قتل کرنا اتحاد و وحدت کے منافی نہیں تھا؟

     اسی طرح  معاویہ کے حکم پر ہی عمرو عاص کا مصر پرحملہ کرنا ،اس ملک پر لشکر کشی کرنا ، مظلوم لوگوں کو   امیر المؤمنین علی علیہ السلام سے دوستی کے جرم میں قتل کرنا اور محمد بن ابی بکر کو شہید کرنااور اسی طرح ان کے بے جان جسم کو گدھے کی کھال میں رکھ کر جلا دینا کیا یہی اتحاد و وحدت کے معنی میں تھا؟

     اگر معاویہ''خال المؤمنین ''تھا!چونکہ وہ ام حبیبہ کا بھائی تھا تو پھر محمد بن ابی بکر بھی خال المؤمنین تھے؛چونکہ وہ بھی عائشہ کے بھائی اور ابوبکر کے بیٹے تھے۔کیا خال المؤمنین کا خال المؤمنین!سے جنگ کرنا اور پھر محمد بن ابی بکر کے جسم کو گدھے کی کھال میں رکھ کر جلا دینا!کیا یہ معاویہ کے ان لوگوں کے ساتھ اتحاد و وحدت کی دلیل تھی کہ جو خدا،قبلہ اور قرآن کو مانتے تھے؟!

     16۔یہ بہت ہی قابل توجہ اور قابل غور نکتہ ہے:اس روایت میں رسول خدا(ص)نے واضح طور پر فرمایا:

     پوری تاریخ کے دوران یہ فتنہ لوگوں کے گلے پڑے گا یہاں تک کہ الٰہی عادلانہ حکومت قائم ہو جائے اور معاشرہ عدل و انصاف سے بھر جائے۔

     اس بناء پر جیسا کہ ہم نے کہا انحرافی افکار اورعقائد کن افکار صرف معاویہ اور عمروعاص کے زمانے سے ہی مخصوص نہیں ہیں بلکہ یہ امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے ظہور تک جاری رہیں گے؛جیسا کہ پیغمبر خدا(ص) نے بھی اس کی وضاحت فرمائی ہے۔


     اس بناء پر ہوشیار رہیں اور گمراہ کرنے والے اس طرح کے افکار کے راستہ پر نہ چلیں  یہاں تک کہ پوری دنیا پر امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی عادلانہ و ہدایت کرنے والی حکومت قائم ہوجائے۔

     جب خاندان وحی علیہم السلام کی عالانہ عالمی حکومت پوری دنیا کو تسخیر کرلے گی تو فتنہ اور فتنہ برپا کرنے والوں کو صفحۂ ہستی سے مٹا دے گی اوردنیا والوں کے دلوں میں الفت و محبت پیداہو گی،پھر حقیقی اتحاد و وحدت قائمہوگی اور ان میں  کسی طرح کا کوئی کینہ اور حسد نہیں ہوگا ۔ جس طرح عدالت کی ابتداء بھی اسی خاندان سے ہوئی تھی اور اس کے اختتام بھی خاندان وحی  علیہم السلام کے ذخیرۂ الٰہی  حضرت بقیة اللہ الاعظم عجل اللہ فرجہ الشریف کے دست قدرت سے ہو گا۔

 جناب اویس قرنی کے بارے میں رسول اکرم(ص)کی پیشنگوئی اور جنگ صفین میں آپ کی شرکت

     جناب اویس قرانی کا شمار زاہدوں اور بزرگ تابعین میں سے ہوتا ہے کہ جنہوں نے جنگ صفین میں امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے ہم رکاب جنگ کی۔

     عبدالرحمن سے ایک روایت میں نقل ہوا ہے :جنگ صفین میں شام کے لشکر میں سے ایک شخص باہر آیا اور اس نے عراق کے لشکر کی طرف رخ کر کے کہا:کیا اویس قرنی تم لوگوں میں ہیں؟

     ہم نے اس سے کہا:ہاں۔

     شامی شخص نے کہا:میں نے رسول خدا(ص) سے سنا تھاکہ آپ نے فرمایا:

''خیر التابعین اویس القرنی''   بہترین تابعی اویس قرنی ہیں۔  وہ یہ کہہ کر شام کے لشکر سے خارج ہو گیا اور ہمارے پاس آ کر ہم سے ملحق ہو گیا۔     اصبغ بن نباتہ سے روایت ہوئی ہے کہ انہوں نے کہا:میں صفین میں  امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے ساتھ تھا کہ ننانوے افراد نے آنحضرت کی بیعت کی اور آنحضرت نے فرمایا:

     سوواںشخص کہاں ہے؟کہ رسول خدا(ص) نے مجھے خبر دی تھی کہ اس دن سو افرادمیری بیعت کریں گے؟


     اصبغ کہتے ہیں: اسی وقت ایک شخصآگے آیا کہ جس نے دو اونیلباس زیب تن ہوئے تھے اور دو تلواریں حمائل ہوئیں تھیں، اس نے کہا: اپنا ہاتھ آگے بڑھائیں تا کہ آپ کی بیعت کروں۔

      امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا: کس لئے میری بیعت کرنا چاہتے ہو؟

     اس نے عرض کیا:تا کہ میں اپنی جان آپ پر قربان کر سکوں۔

     فرمایا:تم کون ہو؟ عرض کیا: میں اویس قرنی ہوں۔

     اس کے بعد انہوں نے آنحضرت کی بیعت کی اور آنحضرت کے سامنے اس طرح سے جنگ کی کہ آخر کار شہید ہو گئے اور ان کا جنازہ پیادوں کے درمیان ملا۔

     ''مناقب ابن شہر آشوب''میں ہے کہ : انہوں ے دو تلواریں حمائل ہوئیں تھیں اور وہ دشمن  پر پتھر پھینکنے کے لئے فلاخنی (غلیل کی طرح کا آلہ) بھی ساتھ لائے تھے۔

     ''حلیة الأولیاء'' میں بھی اصبغ سے روایت ہوا ہے:اویس قرنی رسول اکرم(ص)  کے پاس نہیںآئے ، اس کی وجہ ان کی اپنی ماں سے اطاعت تھی۔ اویس کی روش یہ تھی کہ جب شام ہوتی تو وہ کہتے : آج رات رکوع کی رات ہے اور پھر صبح تک رکوع کرتے اور جب رات ہوتی تو اس دن کی خوراک اور پوشاک میں سے جو چیز بھی بچ جاتی ، وہ سب صدقہ دے دیتے تھے اور پھر کہتے تھے:

     أللّٰهُمَّ مَنْ مٰاتَ جُوعاً فَلاٰ تُؤٰاخِذْنِی بِهِ، وَ مَنْ مٰاتَ عُرْیٰاناً فَلاٰ تُؤٰاخِذْنِْ بِهِ

     خدایا؛ جو کوئی بھوکا مرجائے مجھے تو میرا اس سے مؤاخذہ نہ کرنا اور جو کوئی برہنہ مر جائے میرا اس سے بھی مؤاخذہ نہ کرنا۔

     دوسری روایت میں ہے کہ ایک دن رسول خدا(ص) نے اپنے اصحاب سے فرمایا:

     أَبْشِرُوا بِرَجُلٍ مِنْ اُمَّتِ یُقٰالُ لَهُ:اُوَیْسُ الْقَرَنِْ؛ فَاِنَّهُ یَشْفَعُ لِمِثْلِ رَبِیْعَةِ وَمُضَر


     میں تمہیں اپنی امت کے ایک شخص کے بارے میں بشارت دیتا ہوں کہ جسے اویس قرنی کہتے ہیں ۔ اور جو (قیامت کے دن ) ربیعہ اور مضر جیسے دو قبیلوں (بہت زیادہ آبادی والے قبائل) کی شفاعت کریں گے۔(1)

 اس روایت کی بناء پر اویس قرنی جنگ صفین میں حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی خدمت میں تھے اور انہوں نے آنحضرت کی بیعت کی ہے۔ لیکن ہم جو دوسری روایت نقل کر رہے ہیں، اس میں آپ نے جنگ صفین سے پہلے ہی کوفہ میں آنحضرت کی بیعت کی تھی۔

  جنگ صفین میں جناب اویس قرنی کی شہادت

      جنگ صفین میں رسول اکرم(ص) کے کئی بزرگ اصحاب شریک ہوئے اور انہوں نے  امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے پرچم تلے اکٹھے ہو کر معاویہ اوراس کے گماشتوں سے جنگ کی اور جام شہادت نوش کیا۔

      امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے لشکر میں صحابیوں کے علاوہ تابعین کی بھی بڑی تعداد موجود تھی اور انہوں نے مولائئے کائنات علیہ السلام کا دفاع کرتے ہوئے معاویہ اور شام کے لشکر سے جنگ کی۔

     ان بزرگوں میں سے ایک ایسا شخص ہے جس نے خود سازی کی اور جس کا دل ولاء پیغمبر اور آل پیغمبر صلوات اللہ علیہم اجمعین سے سرشار تھا، اور وہ اویس قرنی ہیں۔

     جناب اویس قرنی ایک مشہور شخصیت ہیں اگرچہ انہوں نے رسول خدا(ص) کو نہیں دیکھا تھالیکن پھر  بھی وہ آنحضرت کے شیدائی تھے اور یہ بزرگ آنحضرت سے بہت زیادہ الفت و محبت کرتے تھے۔     وہ  امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے زمانے میں آنحضرت کے ساتھیوں کے ساتھ مل گئے اور انہوں نے آنحضرت کی نصرت کے لئے کمر کس لی۔     ایک دن  امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کوفہ میں لوگوں معاویہ سے جنگ (جو جنگ صفین کے نام سے مشہور ہے) کے لئے لوگوں سے بیعت لے رہے تھے ۔ کوفہ کے لوگوں میں سے ایک شخص آنحضرت کے پاس آیا اور اس نے اپنا نام ''اویس قرنی'' بتایا

--------------

[1]۔ زندگانی امیرالمؤمنین علیہ السلام (سید ہاشم رسولی محلاتی): 559


۔ اس موقع پر حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:

     ایک دن پیغمبر اکرم(ص) نے مجھ سے فرمایا تھا:

   ان أدرک رجلاًمن أمته یقال له''اویس قرنی''، من حزب اللّٰه و رسوله ،  یموت علی الشهادة یدخل ف شفاعته مثل ربیعة و مضر

     بیشک تم میری امت میں سے اویس قرنی نام کے ایک شخص سے ملاقات کروگے ۔  وہ خدا اور رسول خدا (ص) کی حزب میں سے ہے، اسے شہید کیا جائے گا اور قیامت کے اس کی شفاعت سے اتنیزیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے جیسے ربیعہ اور مضر کے قبیلے کے لوگ ۔ جناب اویس قرنی نے جنگ صفین میں شرکت کی اور شہید ہوئے۔(1)

اس روایت میں اہم نکات

      رسول اکرم(ص) کی یہ پیشنگوئی نہ صرف جناب اویس قرنی کی عظمت اور ان کی راہ کی حقانیت کی دلیل ہے بلکہ جنگ صفین میں جناب اویس قرنی کی شہادت (رسول خدا(ص) کی پیشنگوئی میں اس بارے میں غور کرنے سے کہ ان کی موت شہادت سے ہو گی) ان بے شمار دلیلوں میں سے ہے کہ جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی راہ ہی راہ حق ہے اور صرف وہی لوگ اس راہ پر چل سکتے ہیں کہ     جو آنحضرت کے فرمانبردار ہوں۔

     اس روایت سے کچھ نکات اخذکئے جاتے ہیں کہ جنہیں ہم بیان کرتے ہیں:

     1۔ جناب اویس قرنی کا امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہونے کے

 بارے میں رسول خدا(ص) کا خبر دینا۔

     2۔ آپ نے جناب اویس قرنی کو خدا اور رسول خدا(ص) کی حزب میں سے قرار دیاہے جب کہ وہ مکان کے اعتبار سے آنحضرت کے نزدیک نہیں تھے۔اس بناء پر مکان کے لحاظ سے دوری اور نزدیکی لیاقت اور عدم لیاقت کی دلیل نہیں ہے۔

--------------

[1]۔ اعجاز پیغمبر اعظم(ص) در پیشگوئی از حوادث آئندہ:290


     3۔ رسول خدا(ص) کا اویس قرنی کے مستقبل کے بارے میں خبر دینا کہ ان کی زندگی کا خاتمہ شہادت پر ہو گا۔''یموت علی الشہادة''۔

     4۔ حضرت  امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی حقانیت اور آپ کے زیر پرچم جان دینے والے افرادشہیدہیں ۔

     5۔ اس روایت سے شفاعت کا مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کیونکہ آپ نے فرمایا:

''یدخل ف شفاعتہ''۔

     6۔ شفاعت کا مسئلہ صرف معصومین  علیہم السلام سے ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ ان کے بزرگ اولیاء بھی بہت سے افراد کی شفاعت کر سکتے ہیں اگرچہ ان کی تعداد قبیلۂ ربیعہ اور مضر کی طرح زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔

     7۔ گذشتہ مطالب کے علاوہ یہ روایت ان کے لئے بہت اچھی رہنما ہے کہ جو شک و تردید میں  دچار ہوئے اور معاویہ کے پروپیگنڈوں کی وجہ سے راہ حق کوراہ باطلسے جدا نہکر سکے۔ کیونکہ وہ یہ سمجھ  سکتے تھے کہ عمار یاسر اور اویس قرنی جیسے افراد (جو جس گروہ میں بھی ہوں وہ حق پر ہو گا) کس گروہ میں ہیں تا کہ ان کے وجود کے ذریعہ اس گروہ کے حق ہونے کے بارے میں جان سکیں۔

     قابل توجہ ہے کہ اس روایت کو جاننے والے متعددافراد معاویہ کے لشکر سے جدا ہو کر امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے لشکر سے ملحق گئے کہ جن میں جناب اویس قرنی بھی شامل تھے۔

جنگ صفین کے بارے میں حضرت عیسی علیہ السلام کی پیشنگوئی

     ایک ووسرا اہم ترین واقعہ کہ جو معاویہ اور اس کیگماشتوں کی راہ کے باطل ہونے کو واضح کر دیتا ہے ،وہ جنگ صفین کے بارے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیشنگوئی ہے۔ فریقین کے بزرگوں نے یہ پیشنگوئی اپنی کتابوں میں نقل کی ہے اور راہب کی شہادت کا واقعہ بھی بیان کیا ہے۔

     ''تاریخ روضة الصفا'' میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیشنگوئی کو یوں ذکر کیاگیا ہے:


     امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نُخَیلہ سے لشکر کے ساتھ روانہ ہوئے اور جب نماز کا وقت قریب ہوا تو آپ راستہ میں موجود مسجد میں تشریف لے گئے،  آپ نے قصر نماز ادا کی اور وہاں سیتیزی سے گذر گئے اور دیر ابوموسی میں قیام فرمایا اور اس جگہ عصر کی نماز ادا کی اور وہاں سے روانہ ہو گئے ،فرات کے کنارے آپ نے مغرب کی نماز پڑھنے کے لئے قیام کیا ، مدائن کے خیمہ لشکر ظفر کی خیمہ گاہ سے نزدیک ہو گئے ،وہاں کے کسانوں نے مکان کی پیشکش کی لیکن قبول نہیں کی اور رات وہیں گذاری۔ پھر وہاں سے روانہ ہوئے یہاں تک کہ انوشیروان کے دارالملک تک پہنچ گئے اور اسی طرح وہاں سے بھی روانہ ہو گئے اور منزلیں اور مراحل طے کرتے ہوئے جزیرة العرب کی حدود میں دیر راہبی تک پہنچ گئے کہ جس پر انہوں نے مینار بنائے ہوئے تھے۔آنحضرت نے وہاں کھوڑے کی لگام کھینچی اور راہب کو آواز دی ،جب راہب نے رعبدارآواز سنی تو کمزور بدن ،رد رنگ اور سیاہ لباس کے ساتھ خانقاہ کی چھت پر آیا۔

      امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے اس سے پوچھا:میرے ساتھی پیاسے ہیں کیاتمہارے پاس تھوڑا پانی ہے ؟

     راہب نے کہا:کچھ دیر ٹھہریں ،میں خوش ذائقہ پانی کی ایک بالٹی لے کر آتا ہوں۔

      امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا: اتنا پانی کافی نہیں ہے۔

     راہب نے کہا: اتنا پانی لاؤں کہ جو بیس افراد کے لئے کافی ہو۔

     امام المسلمین علیہ السلام نے فرمایا: میرے ساتھ بہت سے لوگ ہیں۔

     راہب نے جواب دیا: میرے پاس پانی کے تین برتن بھرے ہوئے ہیں ، میں سارا پانی آپ پر قربان کر تا ہوںاور جو کچھ میرے پاس ہے میں آپ کے قدموں پر نچھاور کرتا ہوں۔

      امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا:

     اے راہب! اس مینار کے نزدیک ایکچشمہ ہے کہ جس سے بنی اسرائیل کے چھ انبیاء سیراب ہوئے اور اب وہ چشمہ دیکھنے والوں کی نظروں سے پوشیدہ ہے۔


     جب راہب نے یہ بات سنی تو چھت سے نیچے آیا اور اس نے عرض کیا: میرے والد نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ اس جگہ پانی کا ایک چشمہ ہے کہ جو بند ہو گیا ہے ،اوراسے پیغمبر یا ان کے وصی کے علاوہ کوئی بھی نہیں کھول سکتا۔

     حضرت امیر کائنات علیہ السلام نے فرمایا: میں انشاء اللہ اس بند چشمہ کو ڈھونڈ لوں گا۔

راہب نے پوچھا:آپ کا نام کیا ہے؟

     آپ نے فرمایا:علی بن ابیطالب (علیہما السلام)

     راہب نے کہا:مجھے میرے والد سے ایک کتاب ملی ہے کہ جس میں آخر الزمان کے پیغمبر(ص) اور اس چشمہ کو ظاہر کرنے والے کا نام لکھا ہے اور اگر یہ اہم کام آپ کی کوششوں سے انجام پا گیا تو میں آپ کے دست مبارک پر اسلام قبول کروں  گا۔

      امیر المؤمنین علی علیہ السلام خانقاہ کے مشرق کی طرف آگے بڑھے اور تقریباً بیس گز کا دائرہ کھینچا اور اس حصہ کو کھودنے کا حکم دیا ،جب وہاں کچھ مقدار میں کھوددائی کی گئی تو بہت بڑا پتھر نمودار ہوا جسے طاقتورلوگوں کے ایک گروہ کے مل کر ہٹانے کی کوشش کی لیکن اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود بھی اسیس ہلا نہ سکے۔

      امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا: اگر خداوند عزّوجل نے چاہا تو میں اس چشمہ سے یہ پتھر ہٹا دوں گا۔

     راہب نے کہا: آپ تنہا یہ کام کیسے انجام دے سکتے ہیں؟ کیونکہ کئی طاقتور پہلوان مل کر بھی اس کو ہٹانے سے عاجز رہے۔      امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا:

     اے راہب؛ ایک دن میں رسول خدا(ص)کے ساتھ سیر کر رہا تھا کہ اچانک آپ نے قریش کے کچھ سربراہوں کو دیکھا کہ جو  ایک پتھرکو اٹھا کی کوشش کر رہے تھے۔

     رسول خدا(ص) نے ان سے مخاطب ہو کر فرمایا: تم لوگ سوچتے ہو کہ طاقت یہ ہے؟ نہیں؛ بلکہ طاقت یہ ہے کہ جب غصہ آئے تو اس پر قابورکھو۔


     اس کے بعدٔ جبل ابوقُبیس پر آئے تووہاں ایک بہت بڑا پتھر لڑھک کر زمین پر آیا، آپ نے زبان معجز سے بیان فرمایا:کوی ہے جو اس پتھر کو اٹھا سکے؟

     انہوں  نے کہا:کسی میں بھی اس پتھر کو اٹھانے کی طاقت نہیں ہے۔

     رسول خدا(ص) نے فرمایا:میرے چچا حمزہ،عباس اور میرے چچا کے بیٹے علی (علیہم السلام) کے علاوہ سب لوگ مل کر اٹھا لیں۔

     ابوجہل ملعون اس بات پر ہنسا اور اس نے کہا:یہ بچہ کون ہے کہ جسے تم اپنے چچا کی لڑی میں پرو رہے ہو؟

      پیغمبر اکرم(ص) نے ابوجہل کے مذاق اور مسخرہ کو دیکھا تو فرمایا:میں جو جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے۔

     پھر فرمایا:اے علی؛کلمہ''لاٰ حولَ ولا قوّة الاّٰ باللّٰ ہ''کہو اور اس پتھر کو اٹھاؤ۔

     میں  نے یہ کلمہ کہا اور اس پتھر کو آسانی سے اٹھا لیا۔

     اے راہب !ہم گنج الٰہی کے خزینہ د ار اور وحی آسمانی کے وارث ہیں۔جذبۂ رحمانی ضرور مدد کرے گا اور یہ ہی کافی ہو گا۔

     جب  امیر المؤمنین علی علیہ السلام کاکلام تمام ہوا تو آپ نے اپناپاک و پاکیزہ  سینہ پتھر پر رکھا اور زور لگایا اور اس عظیم پتھر کو چشمہ سے اٹھا کر دور پھینک دیا اور اس پتھر کے نیچے سے صاف،خوش ذائقہ اور ٹھنڈا پانی نکلاجس سے لشکر کے افراد اور جانور سیراب ہوئے اور لوگوں کا آنحضرت کی ولایت و کرامت پر اعتقاد مزید مستحکم ہو گیا۔

     راہب نے یہ صورت حال دیکھ کر اسلام کا لباس زیب تن کر لیا اور اجازت چاہی کہ اسے اس کے آباء و اجداد سے وراثت میں ملنے والا صحیفہ  کیمیا اثر امام علیہ السلام کی خدمت میں پیش کرے۔وہ کتاب سریانی زبان میں لکھی ہوئی تھی اس کے خلاصہ کا ترجمہ یہ ہے:

     شمعون نے مسیح علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا:


میرے  بعد باری تعالی ایسا پیغمبر(ص) مبعوث کرے گا کہ جو خاتم الانبیاء اور خاتم الرسل ہو گا۔

     خوش اخلاق ہو گا،تند کلامی نہیں کرے گا،بازاروں میں آواز اونچی نہیںکرے گا،برائی کا جواب برائی سے نہیں دے گا بلکہ عفو و مہربانی فرمائے گااوراپنے کرم سے درگذر کرے گا ،ان کی  امت مخفی و اعلانیہ جہر سے خدا کی حمد و ثناء میں مشغول رہے گی۔

     جب وہ اس دار فانی سے جائیں گے تو ان کے تابعین اختلاف کے بعد اتفاق کرے  اور کچھ عرصہ کے بعد پھر ان کے درمیان اختلاف پیدا ہو گا اور ان کی امت میں سے ایک شخص اہل مشرق کو ساتھ لے کر اہل مغرب سے جنگ کے لئے اس دریا کے کنارے سے گذرے گا کہ جو صورت اور سیرت کے لحاظ سے دوسروں سے زیادہ پیغمبر اکرم(ص) سے نزدیک ہو گا اور اس شخص کا حکم انصاف اور سچائی پر مبنی ہو گا۔وہ مہم امور میں سستی نہیں کرے گا ،رشوت نہیں لے گا،دنیا کے زرق برق اس کی نظر میں راکھ سے بھی زیادہ بے قیمت ہوں گے اور اس کی طینت میں موت پیاسے کے حلق میں پانی جانے سے بھی زیادہ آسان ہے اور تنہائی میں خداوند سے ڈرتا ہو گااور علانیہ طور پر سچائی اور عدالت سے کام لے گا۔جو بھی ان کے زمانے  کو درک کرے گا ا،وہ ان کی اطاعت و پیروی کرے کیونکہ ان کی خوشنودی خدا وند متعال کی رضائیت کا باعث ہے۔     جب  امیر المؤمنین علی علیہ السلام کو اس صحیفہ کے مضمون کے بارے میں علم ہواتو آپ نے  خدائے واجب الوجود کی حمد و ثنا کے لے اپنے لب کھولے اور کہا:     میں کس طرح اس نعمت کو شکر ادا کروں کہ جس نے ہمارے تذکرة کو باقی رکھا اور ہمیں محروم نہیں چھوڑا۔راہب نے کہا:یا  امیر المؤمنین !میں آپ کی خدمت سے ہر گز جدا نہیں ہوں گا اور نعمت و نقمت ہر حال میں پوری زندگی آپ کی خدمت میں رہوں گا اور دنیامیں مجھے جو بھی زحمت اور مصیبت ملے اسے دل و جان سے قبول کروں گا۔حبیبة الغربی کہتے ہیں:وہ جوان  امیر المؤمنین علی علیہ السلام کا مصاحب تھا یہاں تک کہ وہ جنگ صفین میں شہید ہو گیا اور  امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے ان پر نماز ادا کی اور فرمایا: یہ ہم اہلبیت میں سے ہیں۔(1)

--------------

[1] - تاریخ روضة الصفا: ج۴ ص۱۹۴6، نصر بن مزاحم منقری نے اس کا کچھ حصہ ''وقعة صفین'' میں ذکر کیا ہے۔


     اس پیشنگوئی میں جو اہم ترین نکتہ موجود ہے ، وہ یہ ہے کہ معاویہ کے لشکر کو اہل مغرب سے تعبیر کیا گیا ہے ، ممکن ہے کہ یہ صفین کی جنگ میں معاویہ کے روم کے بادشاہ کے ساتھ تعلقات کے لئے قرینہ ہو۔انشاء اللہ اس بارے میں مناسب موقع پر بحث کریں گے۔

حکمیّت کے بارے میں رسول خدا(ص) کی پیشنگوئی

     جنگ صفین اور حکمیّت کے مسئلہ کے بارے میں رسول اکرم(ص) کی پیشنگوئیاں اس قدر واضح و روشن ہیں کہ اگر مسلمان ان کے بارے میں  تھوڑا سا بھی غور کریں تو وہ بخوبی متوجہ ہو جائیں گے کہ معاویہ نے جنگ صفین میں رسول خدا(ص) کے حکم کے برخلاف عمل کیا۔

     اس حقیقت کو مزید واضح کرنے کے لئے اصل واقعہ ذکر کرتے ہیں اور پھر اس کے بارے میں ہم اہم نکات بیان کریں گے:

     جنگ بنی قریظہ اور اس کے بھیانک انجام کے بعد (کہ جس کا سبب حیّ بن أخطب یہودی تھا) ہجرت کے پانچویں  سال  میں مدینہ میں خبر پہنچی کہ کچھ ڈاکوؤں نے مدینہ کے شمال اور ''دومة(1) الجندل''کے علاقہ میں  قافلوں کے لئے سدّراہ بن گئے ہیں  اور وہ لوگوں کا مال لوٹ رہے ہیں۔

     پیغمبر اکرم(ص) ایک ہزار اصحاب کے ساتھ 52 ربیع الأوّل 5 ھ کو مدینہ سے دومة الجندل کی طرف روانہ ہوئے۔

     جب ڈاکوؤں نے لشکر اسلام کو دیکھا تو وہ سب بھاگ گئے لیکن ان کا کچھ مال و مویشی مسلمانوں کے ہاتھ لگا۔''دومة الجندل'' میں توقف کے دوران رسول خدا(ص) نے اپنے اصحاب (کہ جن میں ابوموسیٰ اشعری بھی موجود تھا) کی طرف دیکھ کر فرمایا:     میرے بعد یہاں میرے اصحاب میں سے دو افراد فیصلہ کے لئے بیٹھیں گے ، ان کا فیصلہ ظلم و ستم کی وجہ سے ہو گا کہ جس طرح بنی اسرائیل کے دو افراد نے بھی یہاں ظلم و ستم سے فیصلہ کیا تھا۔

--------------

[1]۔ دومة یا دوما ،حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بیٹے کا نام تھا۔


     رسول خدا(ص) کی یہ  پیشنگوئی سن پانچ ہجری میں تھی اور تیس سال کے بعد یہ واقعہ رونما ہوا کیونکہ جنگ صفین میں  امیر المؤمنین علی علیہ السلام کو حکمیّت قبول کرنے پر مجبور کیا گیا ۔ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے لشکر میں سے ابوموسی اشعری کو منتخب کیا گیا لیکن امام علیہ السلام اس کو منتخب کرنے پر راضی نہیں تھے جب کہ معاویہ کا نمائندہ عمرو عاص تھا۔

     یہ دو افراد ''دومة الجندل'' کی سرزمین پر فیصلہ کے لئے بیٹھے۔ اس فیصلہ میں ابوموسی اشعری اگرچہ  امیر المؤمنین علی علیہ السلام کا نمائندہ تھا لیکن پھر بھی اس نے خیانت کی اور اس نے آنحضرت کو مسند خلافت (جو آنحضرت کا مسلّم حق تھا) سے معزول کر دیالیکن عمرو عاص نے اپنی آسائشوں کے  ولی یعنی معاویہ کی خلافت کا حکم دیا۔

جیسا کہ ابن ابی الحدید اور تمام اہلسنت دانشوروں نے لکھا ہے کہ حکمیّت کے بارے میں رسول خدا(ص) کی پیشنگوئی اس واقعہ کے رونما ہونے سے تیس سال پہلے تھی تا کہ سب کے لئے یہ ثابت ہو جائے کہ حکمیّت کے واقعہ سے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے ساتھ ظلم ہوا اور معاویہ نے ظلم و ستم سے  مسند خلافت پر غاصبانہ طریقہ سے قبضہ کیا۔

حکمیّت کے بارے میں رسول خدا(ص)کی دوسری پیشنگوئی

     ابن ابی الحدید نے نصر بن مزاحم سے نقل کیا ہے: جب عمرو عاص اور ابوموسی اشعری کے درمیان صلح نامہ لکھنا شروع ہوا تو اس میں یوں لکھا گیا:

     یہ وہ عہد ہے جس پر علی امیرالمؤمنین (علیہ السلام) اور معاویہ بن ابی سفیان نے موافقت کی....۔

     معاویہ نے کہا: کتنا برا شخص بن جاؤں گا کہ جب میں یہ اقرار کروں کہ وہ (علی علیہ السلام) امیر المؤمنین ہیں.....۔

     جب عہدنامہ  امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے سامنے پیش کیاگیا تو آپ نے فرمایا کہ ''امیر المؤمنین'' کا عنوان مٹا دیا جائے اور پھر فرمایا: جب حدیبیہ کا صلح نامہ لکھا جا رہا تھا تو پیغمبر اکرم(ص) نے مجھ سے فرمایا تھا:یا علی!تمہارے لئے بھی ایسا ہی فیصلہ کیا جائے گا۔(1)

--------------

[1]۔ اعجاز پیغمبر اعظم(ص) در پیشگوئی از حوادث آئندہ: 178


     اب ہم حکمیّت کے بارے میں رسول خدا(ص) کی دوسری پیشنگوئی کا اصل واقعہ بیان کرتے ہیں:

     پیغمبر اکرم(ص) نے بیس دن تک حدیبیہ کے مقام پر قیام کیااس مدت کے دوران پیغمبر(ص) کے سفیر مکہ بھی جاتے تھے تا کہ مشرکین کو عمرہ کی ادائیگی کے لئے راضی کر سکیں اور مشرکین کے سفیر حدیبیہ آتے  تھے تا کہ رسول خدا(ص) کو مکہ میں داخل ہونے سے  روک سکیں۔

     آخرکار مشرکین اس نتیجہ پر پہنچے کہ وہ پیغمبر خدا(ص) کے ساتھ صلح نامہ پردستخط کریں تا کہ اس سال مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہونے سے روکا جائے اور اس کے بدلے میں آئندہ سالتین دن تک صرف عمرہ انجام دینے کے لئے مکہ میں آئیں۔

     مشرکین کے سربراہوں میں سے دو افراد سہیل بن عمر اور حفص بن احنف معاہدہ کے لئے مکہ سے روانہ ہوئے۔ان دونوں سے پہلے حفص کا بیٹا مِکَرز پیش قراول کے طور پر موجود تھا۔پیغمبر(ص) نے دور سے مِکَرز کو دیکھا تو اپنے اصحاب سے فرمایا:

     کوئی بھی اس کے ساتھ گفتگو نہ کرے کہ یہ پیمان شکن اور فاجر شخص ہے۔

     لہذا اصحاب میں سے کسی نے بھی اس کے ساتھ  گفتگو نہیں کی۔ اورجب آپ نے سہیل بن عمرو کو دیکھا تو فرمایا:''سہل أمرنا'' یعنی ہمارے لئے کام آسان ہو گیا۔

     ابتدائی  گفتگو کے بعد یہ طے پایا کہ صلح نامہ لکھا جائے۔  امیر المؤمنین علی علیہ السلام رسول خدا(ص) کے ساتھ  تشریف فرما تھے،اور قلم و کاغذ بھی آپ کے ہی دست مبارک میں تھے،سہل اور حفص بھی دو زانو ہو کر بیٹھے ہوئے تھے اور رسول خدا(ص) کے باقی اصحاب خیمہ کے اردگرد موجود تھے اور لکھنے کا سارا عمل دیکھ رہے تھے۔

     پیغمبر خدا(ص) نے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کو حکم دیا :

     لکھو:بسم اللّٰه الرحمن الرحیم

  امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے لکھنا شروع کیا تو سہیل نے جلدی سے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور لکھنے سے روک دیا اور کہا: ٹھریں؛ یہ رحمن و رحیم کیا ہے؟ میں کسی رحمن و رحیم کو نہیں جانتا!  بلکہ آپ لکھو: بسمک اللّٰھمّ۔


       امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے رسول خدا(ص) کی طرف دیکھا، آنحضرت نے صبرو تحمل کے ساتھ فرمایا:

     یا علی ! لکھو: بسمک اللّٰھمّ۔

     اس کے بعد پیغمبر خدا(ص) نے فرمایا: لکھو: یہ معاہدہ محمد رسول اللہ کے ساتھ صلح  نامہ ہے۔

     پھر سہیل نے جلدی سے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور کہا:اے محمد! اگر ہم تمہیں خدا کا رسول مانتے تو یہ سارے اختلافات نہ ہوتے! اپنا اور اپنے باپ کا نام لکھو۔

     مسلمانوں میں سے ہر کوئی آپس میں گفتگو کرنے لگا لیکن  امیر المؤمنین علی علیہ السلام پیغمبر خدا(ص) کے حکم کے منتظر تھے کہ آنحضرت نے فرمایا:

     یا علی؛''محمد رسول اللہ ''کی بجائے'' محمد بن عبداللہ'' لکھو۔

     بہرحال اس طرح لکھا گیا اور ہر بار سہیل لکھنے کے وقت کسی مطلب پر اعتراض کرتا تھا۔

     جب  امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے''محمد رسول اللہ'' کو مٹایا اور اس کی بجائے''محمد بن عبداللہ'' لکھا تو پیغمبر اکرم(ص) نے  امیر المؤمنین علی علیہ السلام سے فرمایا:

     یا علی!ایسا دن تمہارے لئے بھی آئے گا۔

     اکتیس سال بعد (یعنی جنگ صفین کے بعد) جب امیر المؤمنین علی علیہ السلام کا نمائندہ یعنی ابوموسی اشعری اور معاویہ کا نمائندہ یعنی عمرو عاص دومة الجندل میں فیصلہ کے لئے بیٹھے تو تاریخ نے ایک بار پھرتاریخ کو دہرایاکیونکہ جس طرح رسول خدا(ص) نے فرمایا تھا: عہد نامہ لکھتے وقت عمرو عاص نے ابوموسی سے کہا: اے شخص؛اگر ہم علی کو'' امیرالمؤمنین ''سمجھتے تو کبھی بھی اس کے ساتھ نزاع واختلاف نہ کرتے۔     جب امیر المؤمنین علی علیہ السلام تک یہ خبر پہنچی توآپ کو فوراً رسول خدا(ص) کی وہ باتیں یاد آئیں اور آپ نے فرمایا: کبھی بھی کوئی پیغمبر خدا(ص) سے زیادہ سچا نہیں ہو سکتا۔(1)

--------------

[1]۔ اعجاز پیغمبر اعظم(ص) در پیشگوئی از حوادث آئندہ: 187


  ایک دوسری روایت کی رو سے حکمیّت کے بارے میں رسول خدا(ص) کی پیشنگوئی

     ابن ابی الحدید کہتے ہیں: ابو محمد بن منویہ نے کتاب''الکفایة'' میں لکھا ہے:

     ابوموسی نے جو کام انجام دیا وہ ایک گناہ عظیم ہے اور اس کے کام کا جونقصان  ہوا ، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام اپنے قنوت میں اس پر اور کچھ دوسرے لوگوں پر لعنت کرتے تھے اور کہتے تھے:

     خدایا؛ پہلے معاویہ، دوسرے عمرو عاص ،تیسرے ابواعور سلمی اور چوتھے ابوموسی پر لعنت فرما۔

     امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے ابوموسی کے بارے میں فرمایا:

     پہلے اس نے علم کا رنگ اپنایا جس طرح اس کا حق تھا اور پھر اس سے الگ کر دیا گیا جیسے الگ ہونے کا حق تھا۔

     ابن منویہ کہتا ہے: ابوموسی وہی ہے کہ جس نے پیغمبر خدا(ص) سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا:

     بنی اسرائیل کے درمیان دو گمراہ منصف تھے اور جلد ہی میری امت میں بھی دو گمراہ منصف ہوں گے، جو بھی ان دونوں کی پیروی کرے وہ گمراہ ہے۔

     اس سے کہا گیا: کہیں ان دو منصف میں سے ایک تم ہی نہ ہو؟

     اس نے کہا: نہیں  یاکوئی ایسی بات کی کہ جس کے ایسے ہی معنی تھے، جب وہ اس مسئلہ میں گرفتار ہوا تو اس کے بارے میں کہا جاتا تھاکہ اس نے اپنی ہی زبان سے بلا و مصیبت کو گلے لگایا ۔ جس طرح دوسروں کی توبہ کے بارے میں کوئی چیز ثابت نہیں ہے اس طرح اس کی توبہ بھی ثابت نہیں ہے۔(1)

--------------

[1]۔ جلوۂ تاریخ در شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید: ج۵ ص۴۰۱


 حکمیّت سے مربوط پیشنگوئی میں اہم نکات

     ان پیشنگوئیوں میں اہم اور قابل توجہ نکات موجود ہیں  کہ جن کے بارے میں غور کرنا ضروری ہے:

     1۔رسول خدا(ص) کے فرمان سے یہ استفادہ کیا جاتا ہے کہ آنحضرت تمام اصحاب کو عادل نہیں سمجھتے تھے اور آپ اپنے اصحاب کو عادل ہونے سے مبرّا جانا ہے۔ کیونکہ آپ نے واضح طور پر فرمایا ہے: میرے صحابیوں میں سے دو افراد انصاف کرنے کے لئے بیٹھیں گے اور ان کا فیصلہ ظلم و ستم پر مبنی ہو گا۔ اس بنا پر ان دو افراد کو نہ صرف عادل نہیں سمجھا گیا بلکہ ان کا تعارف ظالم ا ور ستمگر کے طور پر کروایا گیا ہے۔

     2۔ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ اس روایت کی بناء پر اہلسنت کے لئے عدالت صحابہ پر استدلال کرنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا اور ان کا دعویٰ بغیر دلیل کے ہے۔

     3۔ تیسرا نکتہ کہ جس پر غور کرنا ضروری  ہے ،وہ یہ ہے کہ حضرت رسول اکرم(ص) نے حکمیت کی اس پیشنگوئی میں دو حکَم کو باطل سمجھا ہے اور انہیں ظلم و ستم قرار دیا ہے۔اس بناء پر ابوموسی کاامیر المؤمنین علی علیہ السلام کو خلافت سے معزول کرنے کا حکم ظلم و ستم تھا اور عمرو عاص کا معاویہ کو خلافت کے منصب پر فائز کرنا بھی ظلم و ستم تھا کہ جس کا نتیجہ یہ ہو گا:

     الف: امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کا حق مسلّم تھا اور انہیں خلافت سے الگ کرنا ظلم و ستم ہے۔

     ب: معاویہ میں خلافت کی لیاقت و صلاحیت نہیں تھی اوراسے خلیفہ بنانا بھی ظلم وستم تھا۔

     پس رسول خدا(ص) کے فرمان کی بناء پر آنحضرت کے خلیفہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام ہیں اور معاویہ امیر کائنات علی علیہ السلام کے حق کا غاصب ہے ۔ حکمیّت کے واقعہ میں آنحضرت پر ظلم وستم ہوا اور آپ مظلوم واقع ہوئے۔

     4۔رسول خدا(ص) کا فرمان قرآن اور وحی الٰہی کے مطابق تھا جیسا کہ خداوند عالم کا ارشاد ہے:

    (وَمَا یَنطِقُ عَنِ الْهَوَی * إنْ هُوَ إلاّ وَحْی یُوحَی ) (1)

--------------

[1]۔ سورۂ نجم، آیت:3،4


     ''اور وہ اپنی خواہش سے کلام بھی نہیں کرتا ہے  اس کا کلام وہی وحی ہے جو مسلسل نازل ہوتی رہتی ہے ''۔

     اس بناء  پر یہ واضح ہو جاتا ہے کہ حکمیّت (جن کو رسول خدا(ص) نے ردّ کیا) قرآن کی بنیاد پر نہیں تھی اور دونوں افراد نے اپنے ذاتی مفاد کی بناء پر حکم کیا تھا نہ کہ انہوں نے آیات قرآن اور وحی الٰہی سے استفادہ کیا۔

     قرآن کی کون سی آیات امیر المؤمنین علی علیہ السلام کو خلافت سے معزول کرنے اور معاویہ کو مقام خلافت پر بٹھانے پر دالت کرتی ہیں؟!

     5۔ حکمیّت کا مسئلہ قرآن کی پیروی کرنے کے لئے نہیں تھا بلکہ یہ جنگ کو ختم کرنے،معاویہ اور  عمرو عاص کو یقینی شکست سے بچنے کے لئے تھا۔

     6۔ اگر شکست سے بھاگنے کے لئے حکمیّت کے مسئلہ کو مطرح نہیں کیا گیا تھا بلکہ اسے قرآن کے حکم کی پیروی کی وجہ سے  مطرح کیا گیا تھا تو انہوں نے جنگ سے پہلے اس حکم کو کیوں قبول نہیں کیا کہ جب امیر المؤمنین علی علیہ السلام  انہیں حکم الٰہی کو قبول کرنے اور قرآن کی پیروی کرنے کی دعوت دے رہے تھے؟!

     7۔ حکمیّت کے مسئلہ میں قرآن سے استدلال نہیں کیا گیا اور اپنے حکم کے لئے کسی بھی آیت کو عنوان قرار نہیں دیا گیاپس پھر کچھ مسلمان کس طرح معاویہ کو رسول خدا(ص) کا خلیفہ مانتے ہیں؟!

     8۔ صرف یہی نہیں کہ حکمیّت کے مسئلہ کی بنیاد قرآن پر نہیں تھی بلکہ معاویہ کا امیر المؤمنین علی علیہ السلام سے جنگ کرنے اور معاویہ کی آنحضرت سے مخالفت اصل میں قرآن کی مخالفت ہے۔کیونکہ   عثمان کی موت سے معاویہ کو شام پر نہ ہی تو کوئی قانونی اختیار تھا اور نہ ہی اس کے پاس خلافت کاکوئی

     جواز تھا۔ پس جب اس کے پاس خلافت نہیں تھی تو وہ کس طرح عثمان کے خون کا ولی ہو سکتا ہے؟!

     9۔ اس کے علاوہ عثمان کے بیٹوں کے ہوتے ہوئے معاویہ عثمان کے خون کا ولی بھی نہیں تھا تو پھر کس طرح معاویہ خود کو عثمان کے خون کا ولی کہہ رہا تھا؟ اس بناء پر معاویہ کا  امیر المؤمنین علی علیہ السلام سے جنگ کرنا اور آپ کی مخالفت کرنا درحقیقت قرآن کی مخالفت تھی۔


     10۔ دوسرا اہم نکتہ: جس طرح حدیبیہ کے صلح نامہ سے لفظ ''رسول اللہ'' کو مٹا دینا خلاف واقع اور حکم خدا کے برخلاف تھا اسی طرح حکمیّت کے مسئلہ میں لفظ''  امیرالمؤمنین'' کو مٹا دینا بھی خلاف واقع اور خوشنودی پروردگار کے بر خلاف ہے۔     اس بناء پر جس طرح پیغمبر اکرم(ص) ''رسول اللہ'' تھے اور یہ لفظ آن حضرت کے اسم مبارک کے ساتھ ہونا چاہئے اسی طرح حضرت علی علیہ السلام کے نام کے ساتھ''  امیرالمؤمنین''بھی ہونا چاہئے،اور جس طرح لفظ ''رسول اللہ''کو مٹا دینا پیغمبر خدا(ص) پر ظلم تھا اسی طرح لفظ ''  امیرالمؤمنین''کو مٹا دینا  مولائے کائنات علی علیہ السلام پر ظلم ہے۔

     11۔ ایک اور اہم نکتہ: کلمہ''امیرالمؤمنین'' کو مٹا دیناحضرت علی علیہ السلام  پر ظلم ہے کیونکہ آنحضرت سب مؤمنوں کے امیر ہیں۔اس بناء پر معاویہ کے دعویٰ کا کوئی جواز باقی نہیں بچتاکیونکہ وہ نہ ہی تو مؤمنوں کاامیر ہے اور نہ ہی رسول(ص) کا خلیفہ ہے۔

     12۔ دوسرا اہم نکتہ: چونکہ معاویہ کے پاس مؤمنوں کی سربراہی و خلافت کا مقام نہیں تھا۔ایسے مقام کا دعویٰ کرنے والا انسان گمراہا ور گمراہ کرنے والا ہوتا ہے اور اس کے پیروکار اور تابعین بھی سب کے سب گمرا ہ ہوتے ہیں۔

     13۔ ایک اور اہم نکتہ:رسول خدا(ص) کی تیسری پیشنگوئی کے مطابق معاویہ نہ صرف یہ کہ گمراہ شخص ہے بلکہ اسے برسرحکومت لانے والے دونوں منصف بھی گمراہ اور ان دونوں کی پیروی کرنے والے بھی گمراہ ہیں۔     قابل توجہ یہ ہے ابوموسی اشعری نے خود یہ روایت رسول خدا(ص) سے سنی اور روایت کی ہے۔     حکمیّت کے واقعہ کے رونما ہونے اور اس کے بطلان کے بارے میں رسول خدا(ص) کی پیشنگوئیوں میں بہت زیادہ اہم نکات موجود ہیں جو سب کے لئے بخوبی یہ واضح کردیتے ہیں کہ معاویہ کو تخت خلافت پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں تھا۔ اس نے پہلے سے تیارشدہ پروگرام ،اپنی مکاریوں اور عمرو عاص کی فریب کاریوں کی مدد سے بے شمار مسلمانوں کو راہ مستقیم سے منحرف کیا ہے۔  حکمیّت کے موضوع کے علاوہ رسول خدا(ص) کی دوسری پیشنگوئیوںسے بھی یہ واضح ہو جاتا ہے کہ معاویہ کا کردار و رفتار رسول خدا(ص) کے ارشادات و فرمودات کے برخلاف تھا۔


  رسول خدا(ص) کی عائشہ کے بارے میں پیشنگوئی

     محمد بن مہران نے محمد بن علی بن خلف سے  ، انہوں نے محمد بن کثیر سے، انہوںنے اسماعیل بن زیاد بزّار سے نہوں نے ابی ادریس سے اور انہوں نے رافع (عائشہ کا آزاد کیا ہوا) سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا ہے:

جب میں کمسن تھا  اور اس کی خدمت میرے ذمہ تھی اور عام طورپر جب پیغمبر اکرم(ص) عائشہ کے گھر میں ہوتے تو میں وہاں قریب ہی رہتا۔ایک دن پیغمبر اکرم(ص) عائشہ کے گھر میں تھے،کوئی آیا اور اس نے دستک دی۔ میں گیا، دیکھا تو ایک کنیز تھی کہ جس کے پاس ایک برتن تھا کہ جو اوپر سے ڈھکا ہوا تھا۔ میں عائشہ کے پاس آیا اور اسے اس بارے میں بتایا۔اس نے کہا: اسے گھر میں لے آؤ۔وہ کنیز آئی اور اس نے وہ برتن عائشہ کے پاس رکھ دیا ، عائشہ نے وہ برتن پیغمبر (ص) کے پاس رکھ دیا اور آپ نے کھانا شروع کیا اور فرمایا:

     اے کاش! امیرالمؤمنین، سالار اوصیاء ،پیشوا اور امام المتقین بھی میرے ساتھ ہوتے اور اس غذا سے تناول کرتے۔

     عائشہ نے پوچھا: وہ کون ہیں؟

     اسی موقع پر پھر سے دروازے پر دستک ہوئی ۔ میں گیا اور دیکھا کہ  امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہما السلام ہیں ۔ میں حضور اکرم(ص) کی خدمت میں آیا اور کہا: علی علیہ السلام گھر کے دروازے پر ہیں۔

     فرمایا: انہیں اندرلے آؤ۔جیسے ہی  علی علیہ السلام داخل ہوئے پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا:

     کیا بہتر؛میں نے آپ کے آنے کی آرزو کی تھی اور اگر آپ دیر سے آتے تو میں خدا سے دعا کرتا کہ آپ کو میرے پاس بھیج دے۔بیٹھو اور میرے ساتھ یہ غذا تناول فرماؤ۔

     جب   امیر المؤمنین علی علیہ السلام بیٹھے تو میں نے دیکھا کہ پیغمبر اکرم(ص) نے ان کی طرف دیکھ کر فرمایا:

     خداوند انہیں  ہلاک کر کہ جوآپ سے جنگ کرے ،خداوند اس سے دشمنی رکھتا ہے کہ آپ سے دشمنی کرے۔

     عائشہ نے کہا:ان کے ساتھ کون جنگ کرے گا اور کون ان سے دشمنی رکھے گا؟


     فرمایا: تو اور تیرے ساتھی۔     یہ حدیث بھی امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے عائشہ کی دشمنی پر دلالت کرتی ہے اور حلانکہ وہ جانتی  تھی کہ امام المتقین کون ہیں، لیکن پھر بھی اس نے پوچھا کہ جواس کے انکار کی حکایت کرتا ہے اور پیغمبر اکرم(ص) کی نفرین بھی حکایت کرتی ہے کہ آپ جانتے تھے کہ عائشہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے جنگ کرے گی ۔ لہذا رسول خدا(ص)   امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی فضیلت بیان کرنا چاہتے تھے اور امت کے افکارسے ہر قسم کے شبہات کو دور کرنا چاہتے تھے کہ  امیر المؤمنین علی علیہ السلام حق و صراط مستقیم پر ہیں اور آپ کا دشمن اپنی دشمنی میں باطل پر ہے۔(2)(1) پیغمبر اکرم(ص) نے یہ روایت مطلق ارشاد فرمائی ہے اس بناء پر اس میں معاویہ اور دوسرے بھی شامل ہیں۔

مروان کے بارے میں رسول خدا(ص) کی پیشنگوئی

کتاب ''المناقب والمثالب''میں لکھتے ہیں:جب مروان پیدا ہوا تو اسے رسول خدا(ص) کے پاس لے کر گئے تا کہ اس طالو اتار دیں؛جس طرح مسلمان بچوں کے ساتھ یہ رسم  انجام دی جاتی ہے۔  پیغمبر اکرم(ص) نے اس کے لئے یہ کام انجام نہ دیا اور اسے اپنی خیر سے محروم کردیا اور فرمایا:أتون بأزرقهم (3)   سب سے زیادہ نیلی آنکھوں والے کو میرے پاس لائے ہیں۔(4)

     کتاب ''الفتن'' میں مروزی نے پیغمبر اکرم(ص) کے قول سے یہ جملہ نقل کیاہے:

    ابن الزرقاء هلاک عامّة اُمّتی علی یدیه و ید ذرّیّته ۔(5)

     میری عام امت ابن زرقاء اور اس کی ذرّیّت کے ہاتھوں ہلاک ہو گی۔

--------------

[1] ۔ یہ روایت کشف الیقین:13 اور 14 ،بحار الأنوار(جدید چاپ): 35138  میں آئی  ہے۔ اسی طرح بحار الانوار: ج 38 ص360 -348  کی طرف رجوع فرمائیں۔

[2]۔ نبرد جمل:254

[3]۔ المناقب و المثالب:296

[4]۔''فرہنگ جامع''میں  لکھا ہے:''ازرق''خبیث اور بدجنس دشمن کے لیے کنایہ ہے۔

[5]۔ الفتن مروزی:72


  مروان کا معاویہ سے ملنا اور اس کی خباثت

     جمل کے واقعہ کے بعد مروان معاویہ سے مل گیا اور اپنی پیدائشی خباثت و نجاست اور اپنے گندے عقیدے کی وجہ سے وہ  امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی دشمنی میں کوشاں کرتا رہا اور آنحضرت کی وفات کے بعد اسے دو مرتبہ مدینہ کی حکومت ملی۔

 ابن اثیر نے کہا ہے: یہ ہر جمعہ کے دن منبر رسول خدا(ص) پر جاتا اور مہاجرین و انصار کی موجود میں  امیر المؤمنین علی علیہ السلام بہت زیادہ سبّ و شتم کرتا۔جب یزید بن معاویہ کو حکومت ملی تو مروان مدینہ میں تھا اور اس نے واقعۂ حرّہ میں مدینہ والوں کو قتل کرنے کے لئے مسلم بن عقبہ کو ورغلایا اور معاویہ بن یزید کی خلافت کے زمانے میں وہ شام میں تھا اور جب معاویہ مر گیا اور آل ابی سفیان کی حکومت ختم ہو   گئی اور لوگوں نے ابن زبیر کی بیعت کر لی تو مروان نے ابن زبیر کی بیعت کرنے کا ارادہ کیا، ااس نے مکہ کی طرف جانا چاہا تو بعض نے اسے منع کیا اور اس خلافت کا لالچ دلایا۔مروان جاثیہ کی طرف چلا گیا کہ جو شام اور اردن کے درمیان ہے۔عمرو بن سعید بن العاص (جو أشدق کے نام سے مشہور تھا) نے مروان سے کہاکہ میں لوگوں سے تمہارے لئے بیعت لیتا ہوں بشرطیکہ تمہارے بعد مجھے حکومت اور خلافت ملے ۔

     مروان نے کہا: خالد بن یزید بن معاویہ کے بعد خلافت تمہاری ہے۔اشدق نے قبول کر لیا اور لوگوں کو اس کی بیعت کی طرف بلایا۔

     سب سے پہلے جن لوگوں نے اس کی بیعت کی وہ اردن کے لوگ تھے کہ جنہوں نے نہ چاہتے ہوئے بھی تلوار کے خوف سے بیعت کی۔پھر شام اور کچھ دوسرے شہروں  کے لوگوں  نے بیعت کی۔

     مروان نے اپنے کارندوں کو مختلف شہروں میں بھیجا اور خود مصر کی طرف روانہ ہو گیا  اور اس نے اہل مصر کا محاصرہ کر لیا اور ان کے ساتھ جنگ کی یہاں تک کہ انہوں نے ابن زبیر کی بیعت کو چھوڑ دیا اور مروان کی اطاعت میں کرلی۔

     مروان نے اپنے بیٹے عبدالعزیز کو ان کا حاکم مقرر کیا اور خود شام واپس لوٹ آیا۔جب وہ شام میں داخل ہوا تو اس نے حسان بن مالک (جوقحطان کا  سید و سربراہ تھا) کو بلایااور اس خوف سے کہیں اس کے بعدبداعیۂ ریاست میں بغاوت و سرکشی نہ ہو جائے لہذا اس نے اسے ترغیب  دلائی کہ وہ خلافت کی طمع  کا خیال اپنے دل سے نکال دے۔


     جب حسان نے یہ دیکھا تو وہ کھڑا ہوا اور اس نے ایک خطبہ پڑھا اور لوگوں کو مروان کے بعد عبدالملک بن مروان اور عبدالملک کے بعد عبدالعزیزمروان کی بیعت کی دعوت دی اور لوگوں نے بیعت کر لی اور مخالفت نہ کی۔

     جب مروان کی بیوی اور خالد بن یزید کی ماں فاختہ کو اس کی خبر ہوئی تو اس نے مروان کو قتل  کرنے کا ارادہ کیا کیونکہ اس نے اپنا وعدہ توڑا تھا جب کہ اس نے وعدہ کیا تھا کہ اس کے بعد خلافت خالد بن یزید کی ہو گی۔پس اس نے دودھ میں زہر ملایا اور مروان کو دیا ۔جب مروان نے اسے پیا تو اس کی زبان نے کام کرنا چھوڑ دیا اور وہ حالت احتضار میں پہنچ گیا۔

     عبدالملک اور اس کے سب بیٹے اس کے پاس آئے اور مروان نے اپنی انگلی سے خالد کی ماں کی طرف اشارہ کیا یعنی اس نے مجھے قتل کیا ہے ،لیکن خالد کی ماں نے یہ بات چھپانے کے لئے کہا: میرا باپ تجھ پر قربان؛تم مجھے کتنا چاہتے ہو کہ مرتے وقت بھی مجھے ہی یاد کر رہے ہواور اپنے بیٹوں کو میری  بارے میں وصیت کر رہے ہو۔

     دوسرے قول کے مطابق جب مروان سو رہا تھا تو خالد کی ماں نے اس کے منہ پر تکیہ رکھ دیا اور اپنی کنیز کے ساتھ اس پر بیٹھ گئی یہاں تک کہ مروان کا دم نکل گیا۔

     یہ واقعہ65ھ میں پیش آیا اور مروان کی تریسٹھ سال عمر تھی اوراس نے تقریباً نو مہینے  خلافت کی۔اس کے بیس بھائی، آٹھ بہنیں،گیارہ بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں۔

     فریقین کی کتابوں میں اس پر لعنت کے بارے میں روایات وارد ہوئی ہیں اور اہلسنت کی کتابوں میں اس بارے میں ایک روایت ہے کہ عائشہ نے مروان سے کہا:

میں گواہی دیتی ہوں کہ رسول خدا(ص) نے تیرے باپ پر لعنت کی جب کہ تو اس کے صلب میں تھا۔

     ''حیاة الحیوان''، ''تاریخ خمیس ''اور ''اخبار الدول'' میں مستدرک حاکم سے یہ روایت نقل ہوئی ہے :عبدالرحمن بن عوف نے کہا ہے کہ جب بھی کوئی بچہ پیدا ہوتا تھا تو اسے رسول خدا(ص) کے پاس لایا جاتا تا کہ آنحضرت اس کے لئے دعا کریں لیکن جب آنحضرت کے پاس مروان کو لایا گیا تو آپ نے اس کے حق میں فرمایا:


     هو وزغ بن الوزغ الملعون بن الملعون

     یہ چھپکلی اور چھپکلی کا بیٹا ہے، یہ ملعون  اور ملعون کا بیٹا ہے۔

     حاکم نے بھی روایت کی ہے:

عن عمرو بن مرّة الجهن و کانت له صحبة: ان الحکم بن أبی العاص استأذن عن النبی (ص) فعرف صوته فقال: ائذنوا له، علیه و علی من یخرج من صلبه لعنة اللّٰه الاَّ المؤمن منهم و قلیل ماهم، یترفهون فی الدنیا و یضیعون فی الآخرة، ذومکر و خدیعة، یعطون ف الدنیا وما لهم فی الآخرة من خلاق ۔(1)

مروان کے بارے میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی پیشنگوئی

     واقدی نے کہاہے کہ جب امیرالمؤمنین علی علیہ السلام جنگ جمل جیت گے تو قریش کے جوانوں کا ایک گروہ آیا اور انہوں نے آنحضرت سے امان طلب کی اور یہ کہ انہیں بیعت کرنے کی اجازت دی جائے اور اس بارے میں انہوں نے عبداللہ بن عباس کو شفیع قرار دیا۔

     امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے ان کی شفاعت قبول کی اور انہیں اپنے پاس آنے کی اجازت دی۔ جب وہ آئے تو آپ نے ان سے خطاب فرمایا:

     افسوس ہے تم گروہ قریش پر!کس جرم کی بناء  پر تم نے مجھ سے جنگ کی؟کیا میں نے تمہارے درمیان عدل کے بغیر کبھی کوئی حکم کیا؟ یا کبھی ایسا ہوا کہ تم لوگوں میں کوئی مال برابر تقسیم نہیں کیا؟یا کسی کو تم لوگوں پر برتری دی؟ یا میں پیغمبر(ص) سے دور تھا؟یا میں نے اسلام کی راہ میں کم مصیبتیں بردشت کی ہیں؟

     انہوں نے کہا:اے امیر المؤمنین!ہماری مثال یوسف کے بھائیوں کی طرح ہیں ،ہمیں معاف فرمائیں اور ہمارے لئے استغفار کیجئے۔

--------------

[1] ۔تتمّة المنتهی :79


     آپ نے ان میں سے ایک کی طرف دیکھ کر کہا:تم کون ہو؟

     اس نے کہا: میں مخرمہ کا بیٹا مساحق ہوں اور اپنے گناہوں اور لغزشوں کا اعتراف کرتا ہوں اور   میں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی ہے۔

      امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا:

     میں نے تم لوگوں سے درگذر کی اور تم سب کو معاف کر دیا اور خدا کی قسم!اگرچہ تم لوگوں میں وہ شخص بھی موجودہے کہ اگر چہ وہ ہمارے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کربیعت تو کرے گا لیکن پشت دکھا دے گا۔

     مروان بن حکم جس نے ایک شخص کے ساتھ ٹیک لگائی ہوئی تھی،وہ آگے آیا۔امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے پوچھا:تمہیں کیا ہوا ہے کیا تم زخمی ہو؟

     کہا:جی ہاں!اے امیر المؤمنین !اور مجھے اپنی موت بھی اسی زخم میں دیکھائی دے رہی ہے۔

     امیر المؤمنین علی علیہ السلام مسکرائے اور فرمایا:

     نہیں؛ خدا کی قسم! اس زخم کا تم پر کوئی خوف نہ ہو اور جلد ہی یہ امت تجھ سے اور تیرے بیٹوں سے خون آلود دن دیکھے گی۔

     مروان نے بیعت کی اور واپس لوٹ گیا۔

پھر عبدالرحمن بن حارث بن ہشام آگے آیا اور جب اس پر امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی  نگاہ پڑی توآپ نے فرمایا:

     خدا کی قسم!اگرچہ تم اور تمہارا خاندان اہل صلح تھا  اگرچہ تم لوگ توانگر ہولیکن پھر بھی تم لوگوں سے  درگذر کرتا ہوں اور یہ میرے لئے بہت پریشانی کا باعث ہے کہ میں  نے تمہیں اس قوم کے ساتھ دیکھا اور میں یہ چاہتا تھا کہ تم لوگوں کے ساتھ یہ اتفاق نہ ہوتا۔ عبدالرحمن نے کہا: وہ ہو گیا کہ جو نہیں ہونا چاہئے تھا ۔ اس نے بھی بیعت کی اور واپس چلا گیا۔(1)

--------------

[1]۔ نبرد جمل:248


مروان کے بارے میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی دوسری پیشنگوئی

     ابو مخنف نے عدی سے، انہوںنے ابی ہشام سے، انہوں نے بریدسے، انہوں نے عبداللہ بن مخارق سے اور انہوں نے ہاشم بن مساحق قرشی سے نقل کیا ہے کہ انہوںنے کہا ہے: میرا باپ کہتا تھا: جب جنگ جمل سے لوگ بھاگ گئے تو قریش کا ایک گروہ کہ ( جن میں مروان بن حکم بھی شامل تھا) اس کے پاس آیا اور ان میں سے بعض نے دوسروں سے کہا: خدا کی قسم! ہم نے اس شخص (یعنی امیر المؤمنین علی علیہ السلام) پر ظلم کیا ہے اور بغیر کسی وجہ کے ان کی بیعت کو توڑا  ہے ۔اور خدا کی قسم!جب یہ ہم پر کامیاب ہو گئے تو ہم نے رسول خدا(ص) کے بعد ان سے زیادہ کوئی کریم اور بخشنے والا نہیں دیکھا۔اب آؤ ان کے پاس چلتے ہیں اور ان سے معافی مانگتے ہیں۔     کہتے ہیں: ہم امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے گھر کے دروازے پر گئے اور اجازت طلب کی۔ آنحضرت نے اجازت دی اور جب ہم آپ کے سامنے پہنچے تو ہم میں سے ایک شخص نیکلام کرناچاہا ۔ لیکن آپ نے فرمایا:جب تک میں بات نہ کر لوں آرام سے اور خاموش رہو۔ بیشک میں بھی تمہاری طرح انسان ہوں ،اگر میں حق کہوں تو میری تصدیق کرنا اور اگرغلط بیانی سے کام لوں تو میری بات کو ردّ کرنا۔اب میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں!کیا تم لوگ جانتے ہو کہ جب رسول خدا(ص) کی رحلت فرما گئیتو میں آنحضرت کے سب سے زیادہ قریبی تھا اور لوگوں پر حکومت کے لئے سب سے زیادہ حق دار تھا؟     انہوں نے کہا:جی ہاں! ہم جانتے ہیں۔

     آپ نے فرمایا:لیکن پھر بھی تم لوگوں نے مجھ سیمنہ موڑ لیا اور ابوبکر کی بیعت کر لی،میں نے برداشت کیا اور میں نہیں چاہا تھا کہ مسلمانوں میں اختلاف و انتشار پیدا ہو۔ابوبکر نے اپنے بعد عمر کو حکومت دے دی۔میں نے پھر بھی گریز کیا اور لوگوں میں کوئی تحریک پیدا نہ کی حالانکہ میں جانتا تھا کہ اس کام کے لئے میں ہی سب سے زیادہ شائستہ ہوں اور رسول خدا(ص) کی جانشینی کے لئے میں ہی سب  سے زیادہ اہل ہوں۔لیکن میں نے صبر و تحملکا دامن نہ چھوڑایہاں تک کہ وہ قتل ہو گیا اور اس (عمر)نے مجھے شوریٰ کا چھٹا شخص قرار دیا۔میں نے پھر بھی خلافت سے ہاتھ اٹھا لیاکیونکہ میں مسلمانوں میں تفرقہ نہیں ڈالنا چاہتا تھااور تم


لوگوں نے عثمان کی بیعت کر لی اور تم نے خود ہی اس کے خلاف بغاوت کرکے اسے قتل کر دیا تھا۔میں تو اپنے گھر میں بیٹھا ہوا تھا ،تم لوگ خود میرے پاس آئے اور میری بیعت کی کہ جس طرح تم لوگوں نے ابوبکر اور عمر کی بیعت کی تھی ۔تم لوگوں نے ان دونوں سے تو وفاداری کی لیکن تم نے مجھ سے اپنے عہد کی وفا نہ کی ۔کس چیز کی وجہ سے تم لوگوں نے ان دونوں کی بیعت تو نہ توڑی لیکن میری بیعت توڑ دی؟

     ہم نے کہا: اے امیر المؤمنین علی علیہ السلام!آپ خدا کے صالح بندے حضرت یوسف علیہ السلام کی طرح بنیں کہ جو فرماتےتھے:      آج تمہارے لئے کوئی ملامت نہیںہے ۔خدا تمہیں معاف کردے گا کہ وہ بڑا رحم کرنے والا ہے .(1)

     امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا: آج تم لوگوں کے لئے کوئی سرزنش نہیں ہے اگرچہ تم لوگوں میں ایسا شخص بھی موجود  ہے کہ اگر وہ اپنے ہاتھ سے میری بیعت کرے تو مجھے پشت دکھا دے گا۔ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی مراد مروان بن حکم تھا۔(2)

مروان کے بارے میں ایک اور پیشنگوئی

     کتاب ''الأستعاب'' کے مؤلف کہتے ہیں: امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے مروان کو دیکھا تو اس سے فرمایا: وای ہواور افسوس !تم سے اور تمہارے بیٹوں سے امت محمد(ص)پر!؛ جب تمہارے شقیقہ کے بال سفید ہو جائیں گے۔

     مروان''خیط باطل''کے نام سے مشہور تھا۔اور اسے یہ ا س وجہ سے کہا جاتا تھا کہ وہ لمبے قد کا اور کانپتاتھا۔عثمان کے گھر میں ہونے والی جنگ میں مروان کی گردن کے پیچھے ایسی ضربت لگی تھی کہ وہ منہ کے بل زمین پر گرا تھا۔

     جب مروان کو حکومت ملی تو اس کے بھائی عبدالرحمن بن حکم (جو شوخ شاعراور مسخراباز اوروہ اچھے شعر کہتا تھا مروان کا ہم عقیدہ نہیں تھا) نے یوں شعر کہا:

--------------

[1]۔ سورۂ یوسف،آیت:92

[2]۔ نبرد جمل:249


     ''خدا کی قسم! میں نہیں جانتا ہوں کہ اس شخص کی بیوی سے پوچھوں کہ آخر کیا ہوا ہے کہ جسے گردن کے پچھے ضربت لگی تھی؟ خداوند اس قوم کو نابود کرے کہ جس نے لمبے قد کے کانپنے والے شخص کو لوگوں کا امیر بنا دیا اور وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور جسے نہیں چاہتا عطا نہیں کرتا''۔     کہا گیا ہے:عبدالرحمن نے یہ شعر اس وقت کہا کہ جب معاویہ نے مروان کو مدینہ کا حاکم بنایا تھا۔عبدالرحمن ،مروان کی بہت زیادہ مذمت کرتا تھا اور اس کی مذمت میں اس کے اوراشعار یوں ہیں:

     اے مروان؛میں نے اپنا فائدہ تجھے،عمرو، کانپنے والے دراز قامت مروان اور خالد کو بخش دیا۔

     مالک الریب نے بھی مروان کی مذمت کی ہے اور یوں شعر کہا ہے:

     ''مجھے تیری جان کی قسم!مروان ہمارے امور انجام نہیں دے گا ، بلکہ جعفر کی بیٹی ہمارے بارے میں حکم دے گی۔اے کاش؛وہی ہماری امیر ہوتی ۔اور اے کاش؛اے مروان تمہارے پاس زنانہ شرمگاہ ہوتی۔

     مروان کی مذمت میں اس کے بھائی عبدالرحمن کے دوسرے اشعار یوں ہیں:ہاں؛کون ہے کہ جو میری طرف سے میرا پیغام مروان تک پہنچائے۔     جب معاویہ کو خلافت ملی توسب سے پہلے اس نے مروان کو مدینہ کا حاکم بنایا اور پھر مکہ اور طائف کی حکومت بھی اسی کے سپرد کردی۔پھر اسے اس حکومت سے معزول کر دیا  اورسعید بن عاص کو حاکم بنا دیا۔جب یزید بن معاویہ ہلاک ہوگیا تو اس کا بیٹے ابولیلیٰ معاویہ بن یزید کو 64ھ میں  حکومت ملی ۔وہ چالیس دن تک خلیفہ رہا اور پھر مر گیا۔اس کی ماں (ام خالدبنت ابوخالد بنت ابوہاشم بن عتیبہ بن ربیعة بن عبد شمس تھی)نے اس سے کہا:اپنے بعد خلافت اپنے بھائی کو دی دو۔

     معاویہ بن یزید نے قبول نہ کیا اور کہا:یہ ممکن نہیں ہے کہ اس کی باتوں کی تلخی میرے ذمہ ہو اور مٹھاس تمہارے لئے ہو۔   اس وقت مروان نے خلافت کے لئے قیام کیا اوریہ شعر کہا:

     میں ایسا فتنہ دیکھ رہا ہوںکہ جس کی دیگ ابل رہی ہے اور ابولیلیٰ کے بعد بادشاہی اسی کی ہے کہ جو غلبہ پا جائے گا اور جیت جائے گا۔(1)

--------------

[1] ۔ جلوۂ تاریخ در شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید:ج3 ص266


  امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی مروان کے بارے میں ''نہایة الأرب'' سے پیشنگوئی

     کتاب''نہایة الأرب''میں آیا ہے: مروان نے رسول خدا(ص) کو نہیں دیکھا تھا کیونکہ وہ ابھی تک ناسمجھ بچہ تھا کہ جب وہ اپنے باپ کے ساتھ طائف چلا گیا اور پھر عثمان کی حکومت کے دوران مدینہ واپس آیا تھا۔

     جب اس کا باپ مر گیا تو عثمان نے اسے اپنے کاتب کے طور پر رکھ لیا۔مروان عثمان کے افکار و رفتار پراس طرح حاوی ہوگیا تھا کہ لوگوں کے قیام و بغاوت اور عثمان کے قتل کا اصل سبب  وہی تھا۔

     ابن عبدالبر نے کتاب''الاستیعاب''(1) میں نقل کیا ہے: ایک دن حضرت علی بن ابی طالب علیہما السلام مروان کے پاس گئے اور فرمایا:

     اے وای ہو تجھ پر! تجھ سے اور تیرے بیٹوں سے امت محمد پر وای ہو،وای ہو!اس وقت کہ جب تجھے طاقت ملے گی۔

     مروان کو ''خیط باطل''کہتے تھے۔عثمان کے گھر جنگ کے دن اس کی گردن کے پیچھے ایسی ضربت لگی تھی کہ منہ کے بل زمین پرگر پڑا۔

     اس کا بھائی عبدالرحمن بن حکم اس کا ہم عقیدہ نہیں تھا اور وہ شوخ طبیعت کا شاعر تھا جس نے اس کے بارے میں یوں کہا:

     خدا کی قسم! میں نہیں جانتا اورجس شخص کوپس پشتس ضربت ماری گئی میں اس کی بیوی سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ آخر کیا ہوا ہے،خداوند اس قوم کو رسوا کرے کہ جس نے اس بوسیدہ رسی کو حاکم بنا دیا ہے اور وہ لوگوں کا امیر بن گیا ہے وہ جسے چاہتا ہیعطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے محروم کر دیتا ہے۔    نقل کیا گیا ہے:جب معاویہ نے مروان کو مدینہ کا حاکم بنایا تو اس کے بھائی نے یہ شعر کہا تھا اور وہ مروان کی بہت زیادہ مذمت کرتا تھا۔(2)

--------------

[1]۔ الاستیعاب: 1388

[2]۔ نہایة الأرب: ج6ص6۹


  عمرو بن سعید بن عاص کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی پیشنگوئی

     معاویہ نے عمرو بن سعید بن عاص کو مکہ کا حاکم بنایا کہ جو تکبر کی وجہ سے بہت مشہور تھا اور یہ وہی ظالم و جابر ہے کہ رسول خدا(ص) کے منبر پر جس کے ناک سے خون بہنا شروع ہو گیا تھا۔

     ابن قتیبہ اور اس کے علاوہ دوسروں  نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا:میں نے پیغمبر خدا(ص) سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا:

     میرے منبر پر بنی امیہ کے  ظالموں اورجابروں میں سے ایک کے ناک سے خون جاری ہو گا اور  منبر پراس کا خون گرے گا۔ابوعبیدہ نے کتاب ''مثالب'' میں اور ابوجعفر نے تاریخ میں روایت کی ہے کہ عمرو بن سعید بن عاص جب مدینہ کا حاکم بنا تو اسے عبید اللہ بن زیاد کا خط ملا جس میں اس نے حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کی خبر دی! اس نے منبر پر سے لوگوں کے لئے خط پڑھا اور کہا:

     اے محمد!یہ عمل بدر میں تمہارے عمل کے بدلہ میں انجام پایا ہے!اس وقت انصار کے ایک گروہ نے اس کی بات کو ردّ کیا۔(1)

  جنگ نہروان میں ذوالثدیہ کے قتل کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) پیشنگوئی

     ابراہیم بن دیزیل نے کتاب''صفین'' میں اعمش کے قول سے اور اس نے زید بن وہب سے نقل کیاہے:جب علی علیہ السلام نے خوراج کے پاؤں نیزوں کے ذریعہ اکھاڑ دیئے تو فرمایا: ذوالثدیہ کا جسم تلاش کرو اور انہوں نے اسے تلاش کرنے کی بہت کوشش کی ، وہ انہیں ایک نچلی اور ناہموار زمین پر دوسرے مردوں کے نیچے ملا۔اسے حضرت علی علیہ السلام کے پاس لایا گیا اور اس کے سینہ پر بلی کی مونچھوں کی طرح بال نکلے ہوئے تھے ۔ آنحضرت نے تکبیر کہی اور لوگوں نے بھی خوشی سے آپ کے ساتھ مل کر تکبیر کہی۔

--------------

[1]۔ معاویہ و تاریخ:101


     اسی طرح انہوں نے مسلم ضبی سے اور نہوں  نے حبّة عرنی سے نقل کیاہے کہ انہوں  نے کہا:

     ذوالثدیہ ایک سیاہ اور بدبوناک شخص تھا ۔اس کے ہاتھ عورتوں کے پستان کی طرح تھے ۔جب اسے کھینچتے تھے تو بلندی کی وجہ سے اس کے دوسرے ہاتھ تک پہنچ جاتے تھے اور جب اسے چھوڑتے تھے تو اکٹھے ہو کر عورت کے پستان کی طرح بن جاتے تھے۔اس پر بلّی کی مونچھوں کی طرح بال نکلے ہوئے تھے۔جب اس کا جسم ملا تو اس کا ہاتھ کٹا ہوا تھااور اور اس کے ہاتھ کو نیزہ پر بلند کیا گیا۔علی علیہ السلام نے بلند آواز سے کہا:

     خدا نے سچ کہا ہے اور اس کے رسول (ص) نے صحیح ابلاغ کیا ہے۔

     عصر کے بعد تک آپ اور آپ کے ساتھی یہی کلمہ کہہ رہے تھے کہ جب تک سورج غروب ہو گیا یا غروب  ہونے کے نزدیک تھا۔

     ابن دیزیل نے بھی اسی طرح روایت کی ہے کہ جب ذوالثدیہ کے جسم کو تلاش کرنے میں علی علیہ السلام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تو فرمایا:رسول خدا(ص) کی سواری لے آؤ۔

     سواری لائی گئی اور آپ اس پر سوار ہوئے لوگ آپ کے پیچھے چل پڑے۔آپ مقتولین کو دیکھ رہے تھے اور فرماتے تھے:منہ کے بل پڑے ہوئے مقتولین کو سیدھا کرو اور آپ ایک ایک کر کے مقتولین کا جائزہ لے رہے تھے یہاں تک کہ اس کا جسم ملا تو علی علیہ السلام سجدۂ شکر بجا لائے۔

     بہت سے گروہ نے روایت کی ہے کہ جب علی علیہ السلام نے پیغمبر اکرم(ص) کی سواری طلب کی تا کہ اس پر سوار ہوں تو فرمایا: یہ سواری لاؤ تا کہ یہ رہنما ہو اور آخر کا وہ سواری منہ کے بل پڑے ایک جنازے کے پاس کھڑی ہو گئی اور پھر ذوالثدیہ کے جسم کو مردوں کے نیچے سے باہر نکال لیا گیا۔

     عوام بن حوشب نے اپنے باپ سے اور انہوں نے اپنے دادا یزید بن رویم سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا:علی علیہ السلام نے جنگ نہروان کے دن فرمایا:


     آج ہم ہزار چار ہزارخوارج کو قتل کریں گے کہ جن میں سے ایک ذوالثدیہ ہو گا۔

     جب خوارج یہ جنگ ہار گئے تو علی علیہ السلام نے اس کے جسم کو تلاش کرنے کا ارادہ کیا۔میں بھی آنحضرت کے پیچھے چل پڑا اور علی علیہ السلام نے مجھے حکم دیا کہ ان کے لئے چار ہزار تیر تراشے جائیں۔پھر وہ رسول خدا(ص) کی سواری پر سوار ہوئے اور مجھ سے فرمایا:مقتولین میں سے ہر ایک پر ایک تیر رکھو۔

     میں اس دوران حضرت علی علیہ السلام کے آگے آگے چل رہا تھا اور وہ میرے پیچھے آ رہے تھے اور لوگ آپ کے پیچھے چل رہے تھے۔میں ہر مقتول پر ایک تیر رکھتا تھا یہاں تک کہ میرے پاس ایک تیر ہی باقی بچا ۔میں نے آنحضرت کی طرف دیکھا تو مجھے محسوس ہوا کہ جیسے آپ کا چہرہ افسردہ و اداس ہو۔

     آپ نے فرمایا:خدا کی قسم میں جھوٹ نہیں بولتا اور مجھ سے جھوٹ نہیں کہا گیا۔

اچانک میں نے ایک نچلی جگہ سے پانی بہنے کی آواز سنی ۔

     فرمایا:یہاں تلاش کرو۔

     میں نے جستجو کی تو دیکھا کہ ایک مقتول پانی میں گرا پڑا ہے۔میں نے اس کا ایک پاؤں پکڑ کر کھینچا اور کہا کہ یہ کسی انسان کا پاؤں ہے۔حضرت علی علیہ السلام بھی جلدی سے اپنی سواری سے نیچے اترے اور دوسرے پاؤں کو ڈھونڈنا شروع کیا اور مل کر اسے باہر نکالا اور جب اسے زمین پر رکھا تو معلوم ہوا کہ وہ ذوالثدیہ کا پاؤں ہے۔

     حضرت علی علیہ السلام نے بہت بلند آوز سے تکبیر کہی اور پھر سجدۂ شکر بجا لائے اورپھر سب لوگوں نے بھی تکبیر کہی۔

     بہت سے محدثین نے روایت کی ہے کہ پیغمبر اکرم(ص) نے ایک دن اپنے اصحاب سے فرمایا:

     بیشک تم میں سے ایک قرآن کی تأویل کے لئے جنگ کرے گا کہ جس طرح میں تنزیل قرآن کے لئے جنگ کی۔

     ابوبکر نے کہا:اے رسول خدا(ص) ؛کیا وہ شخص میں ہوں۔

     فرمایا:نہیں۔


     عمر نے کہا: کیا میں وہ شخص ہوں؟     آنحضرت نے فرمایا: نہیں، بلکہ وہ ہے کہ جو اپنے جوتے کو پیوند لگا رہا ہے۔

     پھر علی علیہ السلام کی طرف اشارہ کیا۔(2)(1)

     یہ روایت امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے جنگوں کے حق پر ہونے اور آنحضرت سے جنگ کرنے والوں کی گمراہی کی تائید کرتی ہے۔ چاہے وہ ناکثین ہوں، قاسطین ہوں یا پھرمارقین ہوں۔

 محمد بن ابی بکر اور ان کی شہادت کے واقعہ کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) پیشنگوئی

     جن ایام میں رسول خدا(ص) مدینہ میں تھے تو ابوبکر کو کسی ایک جنگ میں بھیجا گیا۔اس کی بیوی اسماء بنت عمیس نے خواب دیکھا کہ جیسے ابوبکر نے اپنے سر اور داڑھی کو مہندی لگائی ہو اور سفید کپڑے پہنے ہوں۔ وہ عائشہ کے پاس آئی اور اس نے اپنا خواب بیان کیا۔     عائشہ نے کہا:اگر تمہارا خواب سچا ہو تو ابوبکر قتل ہو گیا ہے۔وہ خضاب اس کا خون اور سفید کپڑے اس کا کفن ہے۔اس نے رونا شروع کر دیا اور جب عائشہ رو رہی تھی تو پیغمبر اکرم(ص) تشریف لائے اور اس سے پوچھا:تم کس لئے رو رہی ہو؟     انہوں نے کہا:اے رسول خدا(ص)؛اسے کسی نے نہیں رلایا ہے ۔اسماء نے ابوبکر کے بارے میں جو خواب دیکھا ہے کہ جس کی وجہ سے عائشہ رو رہی ہے۔جب آنحضرت سے وہ خواب بیان کیا گیا تو آپ نے فرمایا:

     جس طرح عائشہ نے تعبیر کی ہے ویسے نہیں ہے بلکہ ابوبکر صحیح و سالم واپس آ جائے گا۔اسماء کو دیکھ رہے ہو۔اسماء حاملہ ہو گی اور وہ ایک بیٹے کو جنم دے گی کہ جس کا نام محمدرکھا جائے گااور خدا وند اسے کافروں اور منافقوں کے لئے غضب قرار دے گا۔(3)

--------------

[1] ۔ اس حدیث اور اس میں ذکر ہونے والے منابع کے بارے میں مزید تفصیلات کے لئے کتاب "فضائل الخمسة من الصحاح الستّة'':ج۲ص۳۵۴-349 تیسری چاپ بیروت 1373 ہجری  قمری کی طرف رجوع فرمائیں۔

[2]۔ جلوۂ تاریخ در شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید: ج۱ص۳۸۹

[3]۔ جلوۂ تاریخ در شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید: ج۳ص۲۲۷


یہ واقعہ کتاب''الغارات''میں کچھ فرق کے ساتھ نقل کیا گیا ہے ۔

     ابواسحاق کہتے ہیں:جب محمد کی ماں  اسماء بن عمیس کو اپنے بیٹے کی شہادت کی خبر ملی اور اس کے ساتھ جو کچھ بیتا،وہ اس سے آگاہ ہوئی تو انہوں نے اپنے حزن کو ظاہر نہ ہونے دیا جب کہ دل میں وہ غمگین تھی۔جب وہ مسجد کی طرف جا رہی تھی تو اس کے سینہ سے خون جاری ہو گیا۔

     ابواسماعیل کثیر النواء کہتے ہیں:ابوبکر کسی جنگ میں شرکت کے لئے مدینہ سے باہر گیا تو اس کی بیوی اسماء بنت عمیس نے خواب میں دیکھا کہ ابوبکر نے اپنے سر اور داڑھی کو خضاب لگایا ہے اور سفید لباس پہنا ہے۔وہ عائشہ کے پاس آئیں اور اس سے اپنا خواب بیان کیا ۔عائشہ نے کہا کہ اگر تمہارا خواب سچ ہے تو گویا ابوبکر قتل ہو گیا ہے۔خضاب خون کی علامت ہے اور اس کا سفید لباس اس کے کفن کی علامت ہے۔عائشہ روتی ہوئی رسول خدا(ص) کی خدمت میں آئی۔رسول اکرم(ص) نے پوچھا:تم کیوں رو رہی ہو؟     اس نے اسماء کاخواب بیان کیا۔رسول خدا(ص) نے فرمایا:عائشہ نے جو تعبیر کی ہے وہ صحیح نہیں ہے بلکہ ابوبکر صحیح و سالم  اسماء کے پاس واپس آ جائے گا۔اس کے بعد اسماء ایک بچے کو جنم دے گی کہ جس کا نام محمد رکھا جائے گا،خداوند اسے کافروں اور منافقوں کے لئے غضب قرار دے گا۔

     یہ جوان وہی محمد بن ابی بکر ہیں کہ جو اس دن شہید ہوئے۔(1)

     جیسا کہ رسول خدا نے خبر دی تھی محمد بن ابی بکر امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی خلافت کے زمانے میں آپ کے باوفا ساتھیوں اور آنحضرت کے دشمنوں کی آنکھ کا کانٹا تھے۔جنگ جمل و صفین میں آپ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے ساتھیوں میں سے تھے اور آپ اپنی زندگی کے آخری دن تک آنحضرت کی خدمت میں رہے۔

     محمد بن ابی بکر امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی طرف سے مصر کے حاکم تھے اور بالآخر معاویہ بن حدیج کے ہاتھوں شہید ہو گئے کہ جسے معاویہ بن ابی سفیان اور عمرو بن عاص نے محمد بن ابی بکر کو گرفتار کرنے کے لئے مأمور کیا تھا۔

--------------

[1]۔ الغارات و شرح اعلام آن:150


     معاویہ بن حدیج شریر اور بے رحم شخص تھا۔اس نے محمد بن ابی بکر کو مصر میں گرفتار کرنے کے بعد پہلے ان کی گردن جدا کی اور پھر ان کا جسم گدھے کی کھال میں رکھ کر جلا دیا۔

     جب محمد کی بہن عائشہ کو اس کی خبر ہوئی تو وہ بہت بے تاب ہوئی اس کے بعد وہ ہمیشہ ہر نماز کی تعقیبات میں قنوت پڑھتی تھی کہ جس میں معاویہ بن ابی سفیان ،عمروبن عاص اور معاویہ بن حدیج پر لعنت کرتی تھے۔

     جب امیر المؤمنین علی علیہ السلام کو کوفہ میں محمد بن ابی بکر کی شہادت  کی خبر ہوئی تو آپ بہت غمگین ہوئے اور فرمایا:

     بیشک مکہ کو تباہ کرنے والو اور ظلم و ستم کو دوست رکھنے والو اور لوگوں کو خدا کی راہ سے دور رکھنے والو اور اسلام کو کجی کی طرف لے جانے والو ۔آگاہ ہو جاؤ کہ محمد بن ابی بکر شہید ہو گئے ہیں ،ان پر خدا کی رحمت ہو،انہیں خدا کے نزدیک بغیر حساب لایا جائے گا۔

     مدائنی کہتے ہیں: علی علیہ السلام سے کہا گیا:اے امیر المؤمنین علی علیہ السلام !آپ محمد بن ابی بکر کی  شہادت پر بہت بے چین ہوئے؟

     فرمایا: اس میں کیا حرج ہے ، وہ میرے ہاتھوں کا پروردہ اور تربیت یافتہ تھا اور وہ میرے بیٹوں کے لئے بھائی اور میں اس کا باپ ہوں اور وہ میرے بیٹے کی طرح ہے۔(1)

سمرة بن جندب کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) پیشنگوئی

     شریک روایت کرتے ہیں:عبداللہ بن سعد نے حجر بن عدی سے ہمارے لئے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا :میں مدینہ میں آیا اور میں ابوہریرہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ۔  اس نے پوچھا:کہاں کے رہنے والے ہو؟

     میں نے کہا:میں بصرہ کا رہنے والا ہوں۔

--------------

[1]۔ اعجاز پیغمبر اعظم(ص) در پیشگوئی از حوادث آئندہ:351


     اس نے پوچھا:سمرة بن جندب کا کیا حال ہے؟میں نے کہا:وہ زندہ ہے۔

     اس نے کہا:کسی اور کی لمبی عمر میرے لئے اس کی لمبی عمر سے زیادہ خوش آئند نہیں ہے۔

     میں نے کہا:اس کی کیا وجہ ہے؟کہا:پیغمبر اکرم(ص) نے مجھے ،اسے اور حذیفہ بن الیمان سے فرمایا تھا:جو کوئی بھی تم میں سے دو کے بعد مرے وہ دوزخ میں ہے۔     حذیفہ مجھ سے پہلے چلے گئے اور اب میری یہ خواہش ہے کہ میں سمرة سے پہلے مر جاؤں۔     کہتے ہیں: سمرة حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت تک زندہ تھا۔

     احمد بن بشیر ، مسعربن کدام سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا:امام حسین علیہ السلام کے کوفہ کی طرف روانگی کے وقت سمرة بن جندب عبداللہ بن زیاد کا سپہ سالار تھا اور وہ لوگوں کو امام حسین علیہ السلام کے خلاف جنگ کرنے اور قیام کے لئے  ابھارتاتھا۔(1)

کربلاکے بارے میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی پیشنگوئی

     حسن بن محبوب نے ثابت ثمالی اور انہوں  نے سوید بن غفلہ سے نقل کیا ہے:  ایک دن امیر المؤمنین علی علیہ السلام خطبہ دے رہے تھے۔ایک شخص منبر کے پاس سے اٹھا اور اس نے کہا:اے امیر المؤمنین !میں وادی القری سے گذر رہا تھا تو میں متوجہ ہوا کہ خالد بن غرفطہ مر گیا ہے۔اس کے لئے مغفرت طلب کریں۔     امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا:  خدا کی قسم!وہ نہیں مرا اور تب تک نہیں مرے گا یہاں تک کہ وہ گمراہ لشکر کی قیادت کرے گا جو اس کے علم کو کندھوں پر اٹھائے گا۔وہ حبیب بن حمار(2) ہیں ۔

--------------

[1] ۔ سمرة کی موت کے سال میں اختلاف ہے اور اس کے بارے میں 58،59 اور 60 ہجری لکھا گیا ہے۔ابن عبدالبر نے کتاب الاستیعاب: ج 2ص76 میں الاصابہ کے حاشیہ میں لکھا ہے: وہ ابلتے پانی کے برتن میں گر کر جل گیا اور ابوہریرہ سے پیغمبر اکرم(ص) نے جو بات فرمائی تھی (کہ تم تینوں میں سے جو آخر میں مرے وہ آگ میں ہے) وہ  بات صحیح  ثابت ہوئی۔

[2] ۔ حالانکہ تہران کی قدیم چاپ میں بھی اس شخص کا نام یہی نام ہے لیکن ظاہراً اس کا صحیح نام جماز ہے کہ جو شیخ مفید کی کتاب ''اختصاص'' اور صفّار کی کتاب ''بصائر الدرجات'' میں آیا ہے: بحار الأنوار:ج 41ص289


     اسی وقت ایک دوسرا شخص منبر کے قریب سے کھڑا ہوا اور اس نے کہا:اے امیر المؤمنین علی علیہ السلام ؛!میں حبیب بن حمار ہوں۔آپ کا شیعہ اور محب ہوں۔امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا:تم حبیب بن حمار ہو؟

     کہا:جی ہاں۔

     علی علیہ السلام نے دوبارہ پوچھا:تمہیں خدا کی قسم!کیا تم ہی حبیب بن حمار ہو؟

     اس نے کہا: خدا کی قسم!جی ہاں۔

     فرمایا: خدا کی قسم؛تم وہ علم کندھوں پر اٹھاؤ گے اور اس علم کے ساتھ مسجد کے اس دروازے سے داخل ہو گے۔اور آپ نے مسجد کوفہ کے باب الفیل کی طرف اشارہ کیا۔ثابت نے کہا:خدا کی قسم ؛میں تب تک نہیں مرا کہ جب تک میں نے ابن زیاد کو دیکھا کہ اس نے عمرو بن سعد کو امام حسین علیہ السلام سے جنگ کے لئے بھیجا۔اس نے خالد بن عرفطہ کو اپنے لشکر کا سالاربنایا اور حبیب بن حمار نے اس کا رایت اپنے کندھوں پر اٹھایا اور باب الفیل سے مسجد میں داخل ہوا۔(1)

کربلا میں ابن زیادکے لشکر کے سرداروں میں سے حصین بن تمیم کے بارے میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی پیشنگوئی

     امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے منبر پر خطبہ دیااور اس کے ضمن میں فرمایا:

     ''مجھ سے پوچھو؛ اس سے پہلے کہ تم مجھے کھو دو.....''

     تمیم بن اسامة بن زہیر بن درید تمیمی نے آپ پر اعتراض کیا اور آپ کی بات کو کاٹ کر پوچھا:

      میرے سر پر کتنے بال ہیں؟

     امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے اس سے فرمایا:

--------------

[1] ۔ یہ موضوع امالی شیخ صدوق میں  آیاہے کہ جو اس میں سہو سے خالی نہیں ہے، شیخ مفید نے کتاب ارشاد میں تمیم اور حصین کا نام ذکر کئے بغیر اسے ذکر کیا ہے ۔ مفید ی پیروی کرتے ہوئے طبرسی نے بھی اعلام الوری میں کسی کا نام ذکر نہیں کیا۔:بحار الأنوار: ج44ص257


     بیشک خدا کی قسم؛میں یہ جانتا ہوں اور فرض کرو کہ میں تمہیں اس کے بارے میں بتا دوں تو تمہارے پاس اس کی کیا دلیل ہو گی(تم کس طرح انہیں گنوگے) اور میں تمہیں تمہارے کھڑے ہونے اور سوال پوچھنے کی وجہ سے ایک خبر دیتا ہوںکہ مجھ سے کہا گیا ہے کہ تمہارے ہر بال پر ایک فرشتہ ہے کہ جو تجھ پر لعنت کر رہا ہے اورایک شیطان تمہیں ابھارتا ہے اور اس بات کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے گھر میں ایک شیر خوار بچہ ہے کہ جو رسول خدا(ص) کے بیٹے (امام حسین علیہ السلام) کو قتل کرے گا اور دوسروں کوبھی ان کے قتل کے لئے ابھارے گا۔

     اور بعینہ ویسے ہی ہوا جیسی امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا تھا۔ تمیم کا ایک بیٹا تھا کہ جس کا نام حصین تھا کہ جو اس وقت شیر خوار بچہ تھا اور بالآخر یہ ابن زیاد کے لشکر کا سالاربن گیا اور ابن زیاد نے اسے عمر بن سعد کے پاس بھیج دیا اور اسے امام حسین علیہ السلام کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیااور حصین سے کہا:ابن سعد کو اس کے قول سے خبردار کرے کہ ان  کے کام میں تأخیر نہ کرے۔جس دن امام حسین علیہ السلام صبح کی شہادت ہوئی اس سے پہلے والی رات حصین کربلا پہنچا تھا۔(1)

  پیشنگوئیوں کے وقوع پذیر ہونے کو روکنے کے لئے جدید منصوبہ بندی

     قابل توجہ ہے کہ یہود و نصاریٰ نے تمام منصوبوں کے ذریعہ پیشنگوئیوں کو روکنے کی کوشش کی  اور  انہوں نے رسول خدا(ص) اور اہلبیت اطہار علیہم السلام کی حدیثوں کو لکھنے اور تدوین کرنے سے منع کیا(2) اور اسی طرح پیشنگوئیوں کو چھپانے کے لئے ان کے ددوسرے تمام منصوبوں کے علاوہ بھی یہ لوگوں تک پہنچ گئیں اور جس طرح ہم نے بعض موارد میں ذکر کیاہے کہ یہ پیشنگوئیاں بہت سے لوگوں کو  بیدار کرنے اور انہیں راہ راست پر لانے کا باعث بنیں۔     یہ واضح سی بات کہ اگر لوگ پیغمبر خدا(ص) اور آپ کے پاک خاندان علیہم السلام کے تمام فرمودات سے آگاہ ہوجائیں تو بے شمار افراد راہ راست پر آجائیں گے۔

--------------

[1]۔ جلوۂ تاریخ در شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید:ج5 ص10

[2] ۔  احادیث کو تدوین کرنے سے روکنے کے مختلف عوامل ہیںکہ جن میں سے ایک عامل رسول خدا(ص) کی پیشنگوئیوں کو چھپانا تھا۔


     بہت ہی بہترین اور قابل غور نکتہ یہ ہے کہ لوگوں میں خاندان اطہار علیہم السلام کی کچھ پیشنگوئیاں پھیلنے کے بعد دشمن کو خاندان وحی علیہم السلام کی پیشنگوئیوں کو روکنے کے سلسلہ میں شکست کا سامنا کرنا پڑاتو انہوں نے ان پیشنگوئیوں کی مخالفت کے لئے نیا منصوبہ بنایا تا کہ شاید ان پیشنگوئیوں کے اثرات کو ختم کر سکیں کہ جن کی وجہ سے لوگ ہدایت پا رہے تھے،بلکہ ان کے مثبت اثرات کومنفی اثرات میں تبدیل کر سکیں ۔ جب کہ وہ اس چیز سے غافل تھے کہ(وَ مَکَرُوا وَمَکَرَ اللّٰه وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰاکِرِیْن) ۔ لیکن ان کے نئے منصوبے بھی ان پیشنگوئیوں کے اثرات کو کم نہ کر سکے بلکہ اس سے بنی امیہ اور خاندان وحی علیہم السلام کے مخالفین کو مزید رسوائی کا سامنا کرنا پڑا  اور ان کی رسوائی میں سو گنا اضافہ ہوا۔

     لوگوں میں پھیلنے والی پیشنگوئیوں کے وقوع پذیر ہونے کو روکنے کے لئے ان کا یہ منصوبہ تھا کہ وہ ان کے برخلاف عمل کرتے تھے ۔ بنی امیہ اور دوسرے تمام دشمنوں نے یہ ارادہ کیا کہ پیشنگوئیوں میں   جو کچھ کہا گیا ہے اس کے برخلاف عمل کریں تا کہ وہ اپنی سوچ کے مطابق ان کے مثبت اثرات کو ختم کرکے لوگوں کو بدظن کریں اور ان کے جھوٹ ہونے کو ثابت کر سکیں!

     ہم یہاں ان پیشنگوئیوں کے ددو نمونہ نقل کرتے ہیں کہ بنی امیہ کے ان کی مخالفت کرنے اور ان کے برخلاف عمل کرنے کا ارادہ کیا تا کہ یہ واضح ہو جائے کہ ان کے اس منصوبہ کو بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اس سے نہ صرف خاندان عصمت و طہارت علیہم السلام کی عظمت مزید واضح ہوگئی بلکہ بنی امیہ اور اہلبیت علیہم السلام کے دوسرے دشمنوں کی خباثت بھی مزید آشکار ہوگئی۔

     یہ پیشنگوئیاں شیعوں کی دو  بہت ہی باعظمت شخصیات کے بارے میں ہیں: ایک رشید ہجری اور دوسرے جناب میثم تمّار ہیں۔

     اب ہم ان پیشنگوئیوں کو نقل کریں گے اور پھر ان کا تجزیہ و تحلیل کریں گے:


 1- رشید ہجری کی شہادت اور ان سے مقابلہ کے بارے میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی پیشنگوئی

     کتاب ''الغارات'' کے مؤلف لکھتے ہیں: زیاد بن نصر حارثی کہتے ہیں: میں زیاد بن ابیہ کے پاس تھاکہ (حضرت) علی علیہ السلام کے خاص اصحاب میں سے رُشید  ہَجَری کو اس کے پاس لایا گیا۔

     زیاد نے ان سے پوچھا: تمہارے دوست (حضرت علی علیہ السلام) نے ہمارے اعمال کے بارے میں تجھ سے کیا کہا ہے؟

     رُشید نے کہا: میرے آقا نے فرمایا کہ میرے ہاتھ پاؤں کاٹ کرمجھے تختۂ دار پر لٹکا دیا جائے گا۔

     زیاد نے کہا: خدا کی قسم میں ان کی بات کو غلط ثابت کر دوں گا ! اسے آزاد کر دو۔

     جیسے ہی رُشید نے جانا چاہا ،زیاد نے کہا: اسے واپس  لے آؤ۔پھر رشید کی طرف رخ کر کے کہا:

     تمہارے دوست نے تمہارے بارے میں جو کچھ کہا، مجھے تمہارے لئے اس سے بہتر کوئی چیز نظر نہیں آتی۔اگر تم زندہ رہے تو ہمیشہ میرے لئے شرّاور بدی کی کوشش کرتے رہو گے ۔پھر اس نے حکم دیا کہ رُشید کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں کاٹ دیئے جائیں۔

     رشید اس حالت میں بنی امیہ اور  زیاد پر لعنت (سبّ و شتم) کر رہے تھے۔ زیاد نے حکم دیاکہ رشید کو پھانسی دے دی جائے۔ جب انہیں تختۂ دار پر لے کر گئے تورشید نے کہا: میرے ساتھ تمہار ایک کام باقی رہ گیا ہے اور لگتا ہے کہ تم وہ کام انجام نہیں دو گے۔

     زیاد نے کہا: اس کی زبان  کاٹ دو۔جب  زیاد کے جلّادوں نے ان کی زبان باہر نکالی تا کہ اسے کاٹ دیں تو رشید نے کہا: مجھے ایک بات اور کہنے کی اجازت دے وو۔ جب انہیں اجازت دے دی گئی تو رشید نے کہا:خدا کی قسم؛ یہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی خبر کی تصدیق ہے کہ انہوں نے مجھے اس کی خبر دی تھی کہ میری زبان کاٹ دی جائے گی اور پھر ان کی زبان کاٹ دی گئی۔(1)

--------------

[1]۔ پیشگوئی ہای امیرالمؤمنین علی علیہ السلام از فتنہ ھا و حوادث آیندہ: 116


 2- جناب میثم کی شہادت اور ان سے مقابلہ کے بارے میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی پیشنگوئی

     کتاب ''الغارات'' میں محمد بن حسن میثمی نقل کرتے ہیں:

     میثم تمار حضرت علی علیہ السلام کے آزاد کردہ غلام تھے ۔ پہلے وہ بنی اسد کی ایک عورت کے غلام تھے امام علی علیہ السلام نے انہیں اس عورت سے خرید کر آزاد کر دیا اور ان سے پوچھا: تمہارا نام کیا ہے؟

     انہوں نے کہا: سالم

     امام علی علیہ السلام نے فرمایا:رسول خدا(ص) نے مجھے خبر دی ہے کہ تمہارے باپ نے عجم میں تمہارا جو نام رکھا تھا، وہ میثم تھا ۔ میثم نے کہا:جی ہاِں! خدا ،اس کے رسول اور آپ امیر المؤمنین نے سچ کہا ہے اور  خدا کی قسم !میرا نام وہی میثم ہے۔

     امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا:اپنے نام کی طرف لوٹ جاؤاور سالم کو چھوڑ دو اور ہم تمہاری کنیت ابو سالم رکھتے ہیں۔

     احمد بن حسن کہتے ہیں : حضرت علی علیہ السلام نے انہیں علوم اور اسرار و رموز میں سے بہت سے رازوں سے آگاہ کیا تھا اور میثم ان میں سے کچھ بیان بھی کرتے تھے ۔

     کوفہ کے کچھ لوگوں کو اس بارے میں شک و تردیدتھی۔وہ امام علی علیہ السلام پر خرافات کہنے والے اور تدلیس کرنے والے کا الزام لگاتے تھے ۔یہاں تک کہ ایک دن امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے اپنے بہت سے اصحاب (کہ جن میں مخلص اور شک کرنے والے دونوں شامل تھے)کے سامنے جناب میثم سے فرمایا:اے میثم!میرے بعد تمہیں گرفتار کر لیا جائے گا اور تختۂ دار پر لے جایا جائے گا،دوسرے دن تمہارے ناک اور منہ سے خون نکلے گا کہ جس سے تمہار داڑھی رنگین ہو جائے گی، تیسرے دن تم پر گرز ماراجائے گی جس سیتمہاری شہادت ہو جائیگے۔انتظار کرو اور جہاں تمہیں صلیب پر لے جایا جائے گا ،وہ جگہ عمر وبن حریث کے گھر کے دروازے کے ساتھ ہے اور تم ان دس افراد میںسے دسویں ہو گے کہ جن کا تختہ زمین پرسے سب سے زیادہ نزدیک ہو گا۔میں تمہیں کھجور کا وہ درخت بھی دکھاؤں گا کہ جس پر تمہیں پھانسی دی جائے گی۔


     دو دن کے بعد امام علی علیہ السلام نے میثم کو وہ درخت دکھایا، میثم اس درخت کے پاس آ کر نماز ادا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ تم کجھور کے کتنے خوش نصیب درخت ہو کہ میں تمہارے لئے خلق کیا گیا ہوں اور تم میرے لئے پیدا کئے گئے ہو۔

     جناب میثم امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی شہادت کے بعد اس درخت کے پاس آتے  یہاں تک کہ اس کو کاٹ دیا گیا لیکن وہ اسی طرح اس درخت کے تنے کا خیال رکھتے اور اس کے پاس رفت و آمدکرتے تھے اور اس کی طرف دیکھتے تھے۔جب بھی عمرو بن حریث کو دیکھتے تھے تو اس سے کہتے کہ  میں جلد ہی تمہارا ہمسایہ بن جاؤں گا۔میرے ساتھ اچھے پڑوسی کی طرح برتاؤ کرنا۔

     عمرو بن حریث کو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں اس لئے وہ ان سے پوچھاکہ کیا آپ یہاں ابن مسعود کا گھر خریدنا چاہتے ہیں یا ابن حکیم کا گھر خریدنا چاہتے ہیں؟

     جس سال میثم شہید ہوئے انہوں نے حج ادا کیا( 60ھ) وہ مدینہ میں رسول اکرم(ص) کی زوجہ جناب ام سلمہ کے پاس آئے  تو جناب ام سلمہ نے ان سے پوچھا کہ تم کون ہو؟ انہوں نے کہا:میں عراقی شخص ہوں؟

     ام سلمہ نے ان سے کہا:اپنا حسب و نسب بتاؤ؟

     انہوں نے کہا:میں علی علیہ السلام کا آزاد کیا ہوا غلام ہوں۔

     ام سلمہ نے کہا:کیا تم میثم ہو؟

     کہا:ہاں میں میثم ہوں۔

     جناب ام سلمہ نے کہا: سبحان اللہ؛ خدا کی قسم! میں نے بہتمرتبہ رسول خدا(ص) کو آدھی رات کے وقت حضرت علی علیہ السلام سے تمہارے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے سنا ہے۔

     جناب میثم نے حضرت امام حسین بن علی علیہما السلام کے بارے میں پوچھا تو کہا کہ وہ  نخلستان (مدینہ)میں ہیں۔

     جناب میثم نے کہا: ان سے کہیں کہ میں آپ کو سلام کہنا چاہتا تھا اور ہم خدا کے سامنے آپس میں ملاقات کریں گے۔آج آپ کے دیدار کی فرصت نہیں ہے۔اور میں واپس آنا چاہتا ہوں۔


     اس وقت ام سلمہ نے عطر منگوائی ،عطر لایا گیا توجناب میثم نے اس سے اپنی ڈاڑھی معطر کی ۔

     جناب میثم نے کہا:بیشک جلد ہی یہ داڑھی خون سے خضاب ہو گی۔

     جناب ام سلمہ نے پوچھا: کس نے تمہیں اس بارے میں خبر دی ہے؟

     فرمایا:میرے آقا و مولا نے مجھے بتایا ہے۔

     جناب ام سلمہ نے گریہ کیا اور فرمایا:وہ صرف تمہارے ہی آقا و مولا نہیں ہیں بلکہ وہ میرے اور تمام مسلمانوں کے آقا و مولا ہیں ۔

     پھر جناب میثم تمار نے انہیں الوداع کیا اور عراق واپس چلے گئے۔ جب وہ کوفہ پہنچے تو انہیں گرفتار کرکے کر عبداللہ بن زیاد کے پاس لے گئے ۔ ابن زیاد سے کہا گیا کہ یہ ابوتراب کی نظر میں لوگوں میں سے سب سے زیادہ برگزیدہ ہے۔

     ابن زیاد نے کہا: تم لوگوں پر وای ہو؛یہ عجمی شخص؟!

     کہا:ہاں۔

     عبداللہ نے میثم سے کہا:تمہارا پروردگار کہاں ہے؟

     جناب میثم نے کہا: تمہاری کمین گاہ میں ہے۔

     ابن زیادنے کہا: ابوتراب کے بارے میںاپنے عشق و محبت کے بارے میں بتاؤ؟

     جناب میثم نے کہا:کسی حد تک ایسے ہی تھا اور اب تم کیا چاہتے ہو؟

     ابن زیاد نے کہا:کہتے ہیں کہ تمہارے ساتھ جلد ہی جو کچھ ہو گا ،انہوں نے تمہیں اس سے آگاہ کیا ہے؟

     جناب میثم نے کہا:امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے مجھے اس کے بارے میں بتایا ہے۔

     ابن زیاد نے پوچھا:میں تمہارے ساتھ جو کچھ کروں گا،اس کے بارے میں انہوں نے کیا کہا ہے؟

     جناب میثم نے کہا:انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ تم مجھے پھانسی دو گے جب کہ میں دسواں شخص ہوں گا میرا پھانسی کا تختہ سب سے چھوٹا ہو گا اور میں سب سے زیادہ زمین سے نزدیک ہوں گا۔


     ابن زیاد نے کہا:میں یقینا ابوتراب کے قول کی مخالفت کروں گا ۔

     میثم نے کہا: اے ابن زیاد!وای ہو تجھ پر! تم کس طرح ان کی مخالفت کر سکتے ہو حالانکہ انہوں  نے رسول خدا(ص) کے قول سے اور رسول خدا(ص) نے جبرئیل اور جبرئیل نے خداوند سے یہ خبر دی ہے؟ تم کس طرح ان کی مخالفت کر سکتے ہو؟ بیشک خدا کی قسم! کوفہ میں مجھے جس جگہ پھانسی دی جائے گی میں اس کے بارے میں بھی جانتا ہوں کہ وہ کہاں ہے۔میں خدا کی وہ پہلی مخلوق ہوں کہ اسلام میں جس کے منہ پر اس طرح لگام لگائی جائے گی کہ جس طرح گھوڑے کو لگام لگائی جاتی ہے۔     اس گفتگو کے بعد ابن زیاد نے جناب میثم کو قید کر دیا اور مختار بن ابی عبید ثقفی کو بھی ان کے ساتھ قید کر دیا جب کہ وہ دونوں ابن زیاد کی قید میں تھے ،جناب میثم نے مختار سے کہا:تمہیں اس شخص کی قید سے رہائی مل جائے گی اور تم امام حسین علیہ السلام کے خون کا بدلہ لینیکے لئے قیام کرو گے اور ہم جس ظالم کی قید میں ہیں تم اسے قتل کرو گے اورتم اسی پاؤں (مختار کے پاؤں کی طرف اشارہ کیا) سے اس کے چہرے اور گالوں کو کچلو گے۔ انہیں دنوں میں ابن زیاد نے مختار کو قتل کرنے کے لئے زندان سے بلوایا لیکن اچانک یزید بن معاویہ کی طرف سے خط آیا جس میں ابن زیاد کو خطاب کیا گیا تھا اور اسے حکم دیا گیا تھا کہ مختار کو آزاد کر دیا جائے۔اس کی یہ وجہ تھی کہ مختار کی بہن عبداللہ بن عمر کی بیوی تھی۔اس نے اپنے شوہر سے کہا کہ وہ یزید سے مختار کی شفاعت کرے ،عبداللہ نے ایسے ہی کیا اور یزید نے اس کی شفارش مان لی اور مختار کی رہائی کا فرمان لکھ دیااور تیز رفتار سواری پر کوفہ بھیج دیا۔وہ خط اس وقت پہنچا کہ جب مختار کو قتل کرنے کے لئے باہر لایا جا رہا تھا۔اس طرح مختار کو رہا کر دیا گیا ۔ان کی رہائی کے بعدجناب میثم کو باہر لایا گیا تا کہ انہیں تختۂ دار پر لٹکا دیا جائے۔

     ابن زیاد نے کہا:ابوتراب نے اس کے بارے میں جو کچھ کہا ہے،وہی کروں گا۔

     اسی وقت ایک شخص نے دیکھا اور ان سے کہا:اے میثم! یہ کام تمہیں بے نیاز نہیں کرے گا(امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی دوستی تمہارے کسی کام نہیں آئی)۔

     میثم مسکرائے اور کہا:میں اسی تختۂ دار کے لئے خلق ہوا ہوں اور یہ میرے لئے بنایا گیا ہے ۔ جب میثم کوتختۂ دار پر لٹکایا


گیا تو لوگ تختۂ دار کے اردگرد جمع تھے کہ جو عمر وبن حریث کے دروازے پر  تھا۔عمرو نے کہا: میثم ہمیشہ مجھ سے کہتے تھے کہ میں تمہارا پڑوسی بنوں گا ۔عمرو نے اپنی کنیز کو حکم دیا کہ ہر شام میثم کے تختۂ دارکے نیچے جھاڑو لگائے اور پانی چھڑکے اوراگربتی جلائے۔وہ کنیزکافی دنوں تک تک ایسا ہی کرتی رہی۔جب جناب میثم کو تختۂ دار پر باندھ دیا گیا تھا تو  آپ بنی ہاشم کے فضائل اور بنی امیہ کی خباثتیں بیان کر رہے تھے ۔ابن زیاد کو اس بارے میں بتایا گیا کہ اس غلام نے تو تمہیں رسوا کر دیا ہے۔

     ابن زیاد نے حکم دیا کہ میثم کے منہ پر لگام باندھ دی جائے ۔ میثم کے منہ پر لگام باندھ دی گئی تا کہ وہ کوئی بات نہ کر سکیں اور وہ خدا کی سب سے پہلی مخلوق تھی کہ اسلام کے بعد جن کے منہ پر لگام باندھی گئی۔دوسرے دن ان کے منہ اور ناک سے خون جاری ہو گیا اور جب تیسرا دن ہوا تو ان کر گرزمارا گیا جس سے ان کی شہادت واقع ہو گئی۔امام حسین علیہ السلام کے عراق پہنچنے سے دس دن پہلے  60ھ میں میثم کی شہادت ہوئی۔(1)

     آخر میں یہ نکتہ بھی قابل ذکرہے کہ ہم نے جو پیشنگوئیاں ذکر کی ہیں ان میں سے کچھ رسول خدا(ص) اور کچھ حضرت امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی پیشنگوئیاں ہیں کہ جو ہم نے اس کتاب کے مطالب سے مربوط ہونے کے بنا پر ذکر کی ہیں  ورنہ اہلبیت اطہار علیہم السلام کی پیشنگوئیاں  بہت زیادہ ہیں کہ جنہیں اکٹھا کرنے کے لئے کئی جلد کتابوں کی ضرورت ہے۔یہ خود مکتب تشیع کی حقانت کی دلیل ہے کہ قرآن مجید کے حکم کے مطابق(وَکُوْنُوا مَعَ الصّٰادِقِیْنَ) سچوں کی پیروی کا انتخاب کیا کہ جو پیغمبر اکرم(ص) اور اہلبیت اطہار علیہم السلام ہے۔     قابل توجہ ہے کہ بنی امیہ کے خلفاء میں سے اور اسی طرح ان سے پہلے اور ان کے بعد میں حکومت کرنے والوں میں سے کسی نے کوئی پیشنگوئی نہیں کی۔مگرجو کچھ انہوں نے یہودیوں اور گذشتگان سے سنا تھااور اہلبیت اطہار علیہم السلام کے فرمودات کے بحر بیکراں کے مقابلہ میں ایک ان  کی حیثیت ایک ناچیز قطرہ سے بڑھ کر  نہیں ہے۔پاک اور بے غرض انسانوں کے لئے (جنہوں نے جاہلانہ تعصب کا لبادہ اتار پھنکا ہو)پیغمبر اکرم(ص) اور اہلبیت علیہم السلام کی پیشنگوئیاںراہ مستقیم کو آشکار کرتی ہیں کہ جو مکتب وحی اور خدا کا حقیقی دین ہے۔

--------------

[1]۔ پیشگوئی ہای امیرالمؤمنین علی علیہ السلام از فتنہ ھا و حوادث آیندہ: 112


     حق کی جستجو کرنے والوں اور راہ حق کو تلاش کرنے والوں سے ہم یہی چاہتے ہیں کہ ہم نے اس کتاب میں جو پیشنگوئیاں ذکر کی ہیں انہیں  پوری توجہ اور غور و فکر  کے ساتھ پڑھیںتا کہ جب تک زندگی کی نعمت سے بہرہ مند ہیںتب تک ان کے لئے صراط مستقیم (کہ ہر دن نماز میں ہم خداسے چاہتے ہیں کہ راہ راست کی طرف ہماری ہدایت فرما: (اِهْدِنَا الصِّرٰاطَ الْمُسْتَقِیْم) واضح ہو جائے اور اسی راہ پرگامزن رہیں اور واضح سی بات ہے کہ خداوند ان سب کا یار و مددگار ہے کہ جو اس سے مدد مانگتے ہیں۔

     جو افراد پیغمبر اکرم(ص) کی روایات اور فرمودات سے آشنا ہیں اور وہ یہ جانتے ہیں کہ آنحضرت(ص) نے اپنے بعد رونما ہونے والے واقعات اور اسی طرح امیر المؤمنین علی علیہ السلام ،حجرت فاطمہ زہراء علیہا السلام،آپ کے خاندان اطہار علیہم السلام اور بالخصوص سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بارے بہت زیادہ مطالب بیان فرمائے ہیں۔

     اگر ہم اس کتاب میں بنی امیہ اور تمام غاصب خلفاء کے بارے میں ان پیشنگوئیوں کو ذکر کرنا چاہیں تو یہ ستّر من کاغذ کی مثنوی بن جائے گی ۔ اسی لئے ہم اتنی مقدار میں ان پیشنگوئیوں کو نقل کرنے پر اکتفاء کرتے ہیں اور خداوند کریم سے ہماری یہ دعا ہے کہ محترم قارئین ان بزرگ ہستیوں کے فرامین سے بطور کامل مستفید ہوں۔

     ہمیں امید ہے کہ اس کتاب کے مطالعہ سے اسلام کے دشمنوں کے گھنونے منصوبوں کے بارے آپ کے علم و آگاہی میں اضافہ ہو گااور آپ یہ جان لیں گے بنی امیہ نے کس طرح یہود و نصاریٰ کی مدد سے اسلام کے خلاف جنگ کی۔


فہرست

انتساب. 3

حرف مترجم 4

پیش گفتار 6

ایک اہم نکتہ 7

کتاب''اسرائیلیات اور اس کے اثرات''میں لکھتے ہیں: 8

یہود و نصاریٰ پر فریفتہ ہونے کے بارے میں رسول اکرم(ص) کا سخت رویّہ 11

بے ایمانی، یہودیوں کے وحشی کردار کا راز 13

یہودیوں کے بارے میں ''ہٹلر'' کی رپورٹ. 16

اس کتاب کے بارے میں. 17

معاویہ بروز غدیر 19


پہلاباب. 22

بنی امیہ کے یہودیوں سے تعلقات. 22

بنی امیہ کے یہودیوں سے تعلقات. 23

یہودیوں کا مسلمانوں کے درمیان انحرافی افکار پھیلانا 23

اسلام کومٹانے کے لئے یہودیوں کی ایک اور سازش. 27

یہودیوں کا امویوں کی حمایت کرنا 27

''گلدزیہر''وغیرہ کے نظریات کا تجزیہ و تحلیل. 32

حجّاج؛ یہودی افکارپھیلانے والا 35

یہودیوں کی قوم پرستی 39

امویوں کی قوم پرستی 42

یہودیوں کی بے راہ روی اور ان کی اسلام سے دشمنی 47

پیغمبر اکرم(ص)  کو زہر دینا 48


یہودی یا یہودی زادوں کے ہاتھوںاسلام کے کچھ بزرگوں کی شہادت. 50

یہودیوں کی سازش سے بنی امیہ کے ہاتھوں اسکندریہ کے مینار کی بربادی. 54

اس شخص نے ولید سے کہا:آپ کے ملک میں اموال، جواہر اورخزانے بہت زیادہ ہیں۔ 56

مسلمانوں میں اختلاف ایجادکرنےکے لئے یہودیوں کی سازش. 58

دوسرا باب. 64

یہود یوں کے کچھ کارکن اور ایجنٹ یایہودیوں کے رنگ میں رنگنے والے 64

۱- سلّام بن مشکم وغیرہ یہو 65

2- ایک دوسرا گروہ 70

3- ابوہریرہ 72

4-عبداللہ بن عمرو عاص.. 75

عبداللہ اور اسرائیلی ثقافت. 75

5- مسروق بن اجدع ہمدانی کوفی 77


''مسروق بن اجدع ہمدانی کوفی(م63):(1) 77

6- کعب الأحبار 82

کعب الأحبار اور عمر 83

کعب الأحبارکے توسط سےمعاویہ کے یہودیوں سے تعلقات. 86

یہودی اور تغییر قبلہ اور کعب الأحبار کا کردار 88

کعب الأحبار اور اسرائیلات کے خلاف امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کا موقف.. 90

7- وہب بن منبّہ 93

وہب بن منبّہ کے عقائد 94

تیسراباب. 95

بنی امیہ کے عیسائیوں سے تعلقات. 95

بنی امیہ کے عیسائیوں سے تعلقات. 96

اموی دور میں اسلامی معاشرے کے افسوسناک حالات. 97


عیسائیت کے اشعار و تبلیغ کی ترویج 98

سب سے پہلے عمر نے عیسائیوں کوحکومتی ذمہ داریاں سونپیں۔ 98

تمیم داری کی قصہ گوئی اور عیسائیت کی ترویج 104

عمر کے دور حکومت میں تمیم داری. 108

بنی امیہ کی حکومت کا عیسائیت کی حمایت کرنا 110

اہلبیت اطہار علیہم السلام اور عراق کے لوگوں سے خالد کی دشمنی 112

چوتھاباب. 114

دشمنوں کے دو بنیادی حربے.. 114

1- مسلمانوں میں تفرقہ سازی. 115

اموی اور عباسی دور میں زندیقی تحریک. 116

جہمیّہ 116

اموی دور میں معتزلہ 119


مرجئہ ، اموی دور میں. 120

بنی امیہ کے زمانے میں قدریہ، جبریہ اور مرجئہ 122

مرجئہ اور قدریہ کے بارے میں رسول اکرم(ص) کی پیشنگوئی 124

معاشرے میں مرجئہ کا کردار 126

بہشتی کافر! 127

مرجئہ کی کلیسا اور عیسائیت سے ہماہنگی 129

مرجئہ کے فرقے 130

ابو حنیفہ اور مرجئہ 132

مرجئہ اور شیعہ 134

مرجئہ اور شیعہ روایات. 136

امویوں کے انحرافی عقائد میں یہودیوں اور عیسائیوں کا کردار 139

عقیدتی اختلافات مسلمانوں کو نابود کرنے کا اہم ذریعہ 141


اموی دور میں عقلی علوم کی ترویج اور..... 143

خارجی کتابوں کا ترجمہ 144

مکتبی ابحاث، حکومت کی بقاء کا ذریعہ 147

2- پیشنگوئیوں کوچھپانا 148

الف: یہودی اور پیشنگوئیوں کوچھپانا 148

ب:عیسائیت اور پیشنگوئیوں کوچھپانا 156

برطانوی بادشاہ کا مسلمان ہونا 157

یہ تو تھا اس سکہ کا واقعہ: 158

نتیجۂ بحث. 161

پانچواں باب. 162

پیشنگوئیاں. 162

بنی امیہ کے بارے میں قرآن کی پیشنگوئی 166


بنی امیہ کے بارے میں قرآن کی دوسری پیشنگوئی 168

حکَم اور اس کے بیٹوں کے بارے میں قرآن کی پیشنگوئی 172

پیغمبر اکرم(ص) اور امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی پیشنگوئیوں کا راز 175

بنی امیہ کے بارے میں رسول اکرم(ص) کی پیشنگوئیاں. 177

بنی امیہ کی حکومت کے بارےمیں رسول اکرم(ص) کی پیشنگوئی 177

حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی بنی امیہ کی حکومت کے بارے میں ''الغارات '' سے منقول پیشنگوئی 180

بنی امیہ کی حکومت کے بارے میں حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی  ایک اور پیشنگوئی 185

بنی امیہ کے انجام کے بارے میں حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی پیشنگوئی 188

بنی امیہ کے زوال کے بارے میں حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی دیگر پیشنگوئی 192

بنی امیہ اور بنی العباس کے بارے میں حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی ایک اور پیشنگوئی 194

ابن ابی الحدید کے قول کی رو سے جنگ زاب میں مروان بن محمد کی شکست اورپھر اس کا قتل ہونا: 195

بنی امیہ اور بنی العباس کے بارے میں حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی دوسری پیشنگوئی 198


حکم کے داخل ہونے کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی پیشنگوئی اور اس پر لعنت کرنا 203

یہودیوں، مشرکوں اور منافقوں کے لئےحکم بن ابی العاص کا جاسوسی کرنا 205

معاویہ وغیرہ کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی پیشنگوئی 209

معاویہ کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی دوسری پیشنگوئی 213

معاویہ کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی ایک اور پیشنگوئی 226

معاویہ کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی ایک اور پیشنگوئی 229

معاویہ کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی دوسری پیشنگوئی 230

عبداللہ بن عمروعاص کی زبانی معاویہ کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی پیشنگوئی 231

معاویہ وعمروعاص کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی پیشنگوئی 234

امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی معاویہ کے بارے میں پیشنگوئی 235

معاویہ کے غلبہ پانے اور اس ملعو ن کے مظالم کی پیشنگوئی کرنا: 235

''الغارات'' کی روایت کے مطابق شامیوں کی فتح کے بارے میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی پیشنگوئی 237


اس بارے میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی دوسری پیشنگوئی 238

''الغارات ''سے منقول امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی دوسری پیشنگوئی 239

''مروج الذہب'' سے منقول امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی پیشنگوئی 243

جنگ صفین میں جناب عمار یاسر کی شہادت کے بارے میں رسول اکرم(ص) کی پیشنگوئی 244

جنگ صفین میں جناب عمار یاسر کی رہنمائی 246

جنگ صفین میں عمار یاسرکا خطاب اور عمرو عاص پر اعتراض.. 249

جناب عمار کی شہادت کے بارے میں متواتر حدیث. 255

رسول خدا(ص) کی حدیث نقل کرتےوقت صحابہ و تابعین کے حالات. 262

جناب عمار یاسر کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی پیشنگوئیوں کے اثرات. 262

ذوالکلاع سے عمار یاسر کی گفتگو کے سولہ اہم نکات. 278

جناب اویس قرنی کے بارے میں رسول اکرم(ص)کی پیشنگوئی اور جنگ صفین میں آپ کی شرکت. 291

جنگ صفین میں جناب اویس قرنی کی شہادت. 293


اس روایت میں اہم نکات. 294

جنگ صفین کے بارے میں حضرت عیسی علیہ السلام کی پیشنگوئی 295

حکمیّت کے بارے میں رسول خدا(ص) کی پیشنگوئی 300

حکمیّت کے بارے میں رسول خدا(ص)کی دوسری پیشنگوئی 301

ایک دوسری روایت کی رو سے حکمیّت کے بارے میں رسول خدا(ص) کی پیشنگوئی 304

حکمیّت سے مربوط پیشنگوئی میں اہم نکات. 305

رسول خدا(ص) کی عائشہ کے بارے میں پیشنگوئی 308

مروان کے بارے میں رسول خدا(ص) کی پیشنگوئی 309

مروان کا معاویہ سے ملنا اور اس کی خباثت. 310

مروان کے بارے میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی پیشنگوئی 312

مروان کے بارے میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی دوسری پیشنگوئی 314

مروان کے بارے میں ایک اور پیشنگوئی 315

امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی مروان کے بارے میں ''نہایة الأرب'' سے پیشنگوئی 317

عمرو بن سعید بن عاص کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) کی پیشنگوئی 318

جنگ نہروان میں ذوالثدیہ کے قتل کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) پیشنگوئی 318

محمد بن ابی بکر اور ان کی شہادت کے واقعہ کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) پیشنگوئی 321

سمرة بن جندب کے بارے میں پیغمبر اکرم(ص) پیشنگوئی 323

کربلاکے بارے میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی پیشنگوئی 324

کربلا میں ابن زیادکے لشکر کے سرداروں میں سے حصین بن تمیم کے بارے میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی پیشنگوئی 325

1- رشید ہجری کی شہادت اور ان سے مقابلہ کے بارے میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی پیشنگوئی 328


2- جناب میثم کی شہادت اور ان سے مقابلہ کے بارے میں امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کی پیشنگوئی 329


معاویہ جلداول

معاویہ  جلداول

اصلاح کتب

مؤلف: آیت اللہ سید مرتضی مجتہدی سیستانی
: عرفان حیدر
قسم: متن تاریخ
صفحے: 346