مجالس صدوق (ترجمہ امالی شیخ صدوق)

اصلاح کتب

مؤلف: شیخ صدوق علیہ الرحمہ
متفرق کتب

مجالس صدوق

(ترجمہ امالی شیخ صدوق)

تالیف

الشیخ الصدوق بن بابویہ

ابو جعفر محمد بن علی بن الحسین القمی

متوفی سال ۳۸۱ہجری

ناشر

ادارہ تعلیم وتربیت لاہور


پیش لفظ

زیر نظر کتاب مجالس صدوق(رح). جناب ابو جعفر محمد بن علی بن حسین بن بابویہقمیعلیہرحمہ کی شہرہ آفاق کتاب ”امالی“ کا اردو ترجمہ ہے  یہ کتاب ۹۷مجالس کا مجموعہ ہےجن میں احادیث و واقعات اور پند و نصائح کا ایک بڑا اور نادر و نایاب ذخیرہ موجود ہے  جیسا کہ اس کتاب کے نام سے ظاہر ہے یہ جناب صدوق(رح) کی ذاتی قلمی نصنیف نہیں بلکہ ان کے اس فن خطابت کا حاصل ہے جس کا اظہار انہوں نے مختلف مقامات اور مختلف اوقات و مواقع پر کیا اور جسے بعد میں جمع کرکے کتابی شکل دیدی گئی۔

دوران ترجمہ راقم الحروف کے مشاہدے میں آیا کہ ان ۹۷ مجالس کی تواریخ کے اندراج کے ساتھ ایام کی مطابقت نہیں ہے مثال کے طور پر اگر کسی مجلس کا بیان کردہ دن جمعہ تحریر کیا گیا ہے تو فورا بعد کی مجلس جو چار دن بعد برپا کی گئی کی تاریخ کا یوم بھی جمعہ ہی تحریر کردیا گیا اور اس تضاد کو دور کرنے کا خاطر کسی قسم کی سعی نہیں کی گئی۔ ان تمام مجالس میں چند ایک طوس۔ نیشاپور اور کربلا جیسے مقامات پر برپا کی گئیں اسی طرح اگر کربلا کے مقام پر برپا ہونے والی دو مجالس (مجلس ۳۰ اور ۳۱) کے مضامین پر غور کیا جائے تو اندازہ ہوگا کہ ان دونوں مجالس میں سے ایک مجلس صبح کے وقت جب کہ دوسری شام کے وقت پڑھی گئی اور مجلس نمبر۹۳ خالصتا دوران سفر اور عجلت میں بیان کی گئی ہے لہذا ان تمام عوامل نے راقم الحروف کے اس استنباط کو تقویت بخشی کہ یہ کتاب صرف جناب صدوق(رح) کے شاگروں اور ان کے حلقہ درس سے مستقل فیض پانے والے افراد نے ہی براہ راست جناب شیخ سے املاء نہیں کی بلکہ اس کے اجزاء عامتہ الناس سے بھی اکٹھے کرنے کے بعد ضبط تحریر میں لاکر اسے کتابی صورت دی گئی کیونکہ اگر جناب صدوق(رح) کا کوئی ایک شاگرد یا ان کے گرد جمع شدہ افراد کا ایک مخصوص


 گروہ اس کتاب کو مکمل طور پر مرتب کرتا تو ایام و تواریخ کا تضاد نہ ہوتا۔ بصورت دیگر اس بات کا امکان بھی کم ہی دیکھائی دیتا ہے کہ جناب صدوق(رح) کے ہمراہ چند مخصوص لوگ دوران سفر کتاب کی املاء ساتھ ہی ساتھ بروقت کرتے رہے ہوں اس موقع پر میں قارئین کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتا  ہوں کہ ایام تواریخ کے اس تضاد کے پیش نظر میں نے اس اردو ترجمے میں مجالس کے ایام تحریر کرنے سے گریز کیا ہے اور صرف اندراج تواریخ پر ہی اکتفا کیا ہے۔

اس کتاب کا ایک بڑا حصہ احادیث پر مشتمل ہے جناب صدوق(رح) جہاں دلیل و مناظرہ کے میدان کے شہہ سوار ہیںوہیں حدیث بیان کرنے کےسلسلے میں بھی امتیازی حیثیت رکھتے ہیں اور بذات خود ایک سند کی حیثیت رکھتے ہیں جناب صدوق(رح) کو اگر راہنمائے فقہا کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ مذہب امامیہ کی چار بڑی اور بنیادی کتب احادیث میں سے ایک ( من لا یحضرہ الفقیہ) جناب صدوق(رح) ہی کی تالیف ہے جناب صدوق(رح) کی تصانیف کا درست شمار ممکن نہیں کیونکہ امتداد زمانہ نے جہاں دیگر علمی شہہ پاروں کو ضائع کردیا وہاں جناب صدوق(رح)  کی تصانیف بھی زمانے کی دست برد سے محفوظ نہیں رہ سکیں اور اب صرف چند دستیاب شدہ کتب کے سوا شیخ کی تصانیف کا تذکرہ کتابوں اور فہرستوں میں ہی ملتا ہے۔

ابن ندیم وراق اپنی کتاب ” الفہرست“ میں جناب صدوق(رح) کی تین سو تصانیف شمار کرنے کے بعد ۴۰ سے زائد کے نام بیان کرتا ہے۔

شیخ طوسی(رح) اپنی فہرست میں جناب صدوق(رح) کی تین سو تصانیف شمار کرنے کے بعد تقریبا ۴۰ کے نام بیان کرتے ہیں۔


علامہ حلی(رح) نےبھی جناب صدوق(رح) کی تین سو تصانیف شمار کی ہیں۔

شہید ثالث قاضی نور اللہ شوستری(رح)۔ رجال نجاشی کے حوالے سے اپنی کتاب” مجالس المومنین“ میں شیخ صدوق(ح) کی تصانیف کی تعداد تین سو کے قریب بیان کرتے ہیں اور ۲۰۳ کتب و رسائل کے نام درج کرتے ہیں۔

اسکے علاوہ جناب صدوق(رح) کے حصہ میں ایک ایسی سعادت آئی ہے جو شاذ ہی کسی کو نصیب ہوئی ہے اور وہ یہ ہے کہ جناب صدوق(رح) کے والد گرامی نے امام زمانہ علیہ السلام کے نائب خاص جناب ابوالقاسم روح سے ملاقات کے دوران چند مسائل دریافت کیے اور پھر قم واپس جاکر علی بن جعفر بن اسود(رح) کی معرفت جناب ابوالقاسم روح(رح) کو ایک خط تحریر کیا جس میں انہوں نے جناب روح (رح) سے گذارش کی کہ میری درخواست جناب امام زمانہ علیہ السلام تک پہنچائیں کہ آنحضرت(ع) میرے حق میں اولاد نرینہ کے لیے دعا فرمائیں۔ اس خط کے جواب میں امام زمانہ علیہ السلام نے تحریر فرمایا کہ میں نے تمہارے حق میں دعا کردی ہے عنقریب تمہارے ہاں دو فرزند تولد ہوںگے کہ جوکہ بہترین ہوں گے لہذا اسی سال جناب صدوق(رح) کی ولادت ہوئی۔

جناب صدوق(رح) کا سن ولادت جناب حسین بن روح(رح) کی نیابت کے پہلے سال کے بعد کا ہے چنانچہ اشارہ یہ ملتا ہے کہ شیخ کی ولادت ۳۰6ھ کی ہے کہ امام زمانہ علیہ السلام کی غیبت صغری میں شیخ نے تقریبا ۲۰ سال گذارے اس کے بعد کا زمانہ غیبت کبری کا ہے جناب صدوق(رح) کا سن وفات ۳۸۱ھ بتایا جاتا ہے۔ تنگی قرطاس راقم الحروف کو اجازت نہیں دیتی کہ اس سے زیادہ آپ کے حالات زندگی بیان کیے جائیں۔ کتاب ہذا کا مطالعہ کرنے والے پر عیاں ہوگا کہ اس کتاب میں شامل چند ایک روایات و احادیث ، تعلیمات و عقائد


مذہب اہل بیت(ع) سے مطابقت نہیں رکھتیں۔ میرے نزدیک ایسی ضعیف روایات کا کسی کتاب میں شامل ہوجانا اس لیے اہمیت کا حامل نہیں ہے کہ شیعیت کے ابتدائی ادوار نہایت کھٹن مراحل سے گذرے ہیں جب حالات نامساعد راستہ دشوار۔ سہولیات ناپیدا اور اردگرد اغیار کی ایسی بھیڑ لگی ہو جس کاتقاضہ تقیہ ہوتو ایسی چند ایک مجہول روایات کی درندازی خاص  اہمیت کی حامل نہیں ہوا کرتی اسلام کی ابتدائی تاریخ اور شیعیت کی نمو پر نظر رکھنے والے اہل قلم گزشتہ چودہ صدیوں سے قائم ناصبی اثرات کی شدت سے آگاہ ہیں۔ اس کے علاوہ عمدا اور سہوا غلطی کے احتمال سے صرف ذوات معصومین(ع) ہی مبرا ہوسکتی ہیں تمام انسان کا معیار اس سے مطابقت نہیں رکھتا دوم یہ کہ راقم الحروف کو ان مجہول روایات کی در اندازی میں بھی ایک مثبت پہلو نظر آتا ہے اور یہ کہ ہماری کتب تحریف سے پاک ہیں کیونکہ اگر امامیہ تحریف کے قائل ہوتے تو سب سے پہلے ایسی ہی روایات اپنی کتب سے خارج کرتے۔

اس ترجمے کی تیاری میں میں نے اس بات کا خیال رکھا ہے کہ میں سلیس انداز بیان اپناؤں تاکہ معاشرے کے تمام طبقات فکر اس ترجمے سے استفادہ حاصل کرسکیں۔ مگر ساتھ ہی اس بات کا اہتمام بھی کیا ہے کہ تاریخی واقعات کی بیان نگاری اپنی جاذبیت اور دلنشینی نہ کھوسکے۔ یہ بھی امر مسلمہ ہے کہ کسی ایک زبان سے دوسری زبان میں کسی تصنیف کا ترجمہ بہر طور ایک پیچیدہ عمل ہے اور یہ اس صورت میں مزید پیچدگی اختیار کر لیتا ہے کہ جب کوئی تصنیف پہلے عربی سے فارسی اور پھر فارسی سے اردو میں ترجمہ ہوئی ہو لہذا میری گذارش ہے کہ اس ترجمے کو ایک ادبی شہہ پارہ کے طور پر دیکھنے کے بجائے حدیث و تاریخ اور معاملات شرعی کی ایک سیدھی سادی کتاب تصور کیا جائے۔

زیر نظر کتاب ایک فارسی نسخے سے ترجمہ کی گئی ہے جو کہ کتب خانہ اسلامیہ حاج


سید محمد کتابچی تہران  ایران کی مطبوعہ ہے۔ اس اردو ترجمے کی فہرست میں شامل عنوانات راقم الحروف کے بذات خود تحریر کردہ ہیں تاکہ اہم موضوعات کی طرف فورا رسائی ہو سکے۔

اس کتاب میں مندرج روایات و احادیث کے موازنہ و تحقیق کے لیے مندرجہ ذیل کتابوں سے استفادہ حاصل کیا گیا۔

۱ ـ قرآن مجید                ترجمہ: علامہ ذیشان حیدر جوادی (لکھنو)

۲ ـ قرآن مجید                ترجمہ: امام احمد رضا خان بریلوی

۳ ـ قرآن مجید               ترجمہ: مولانا مقبول احمد صاحب

۴ ـ نہج البلاغہ                 ترجمہ: مفتی جعفر حسین صاحب

۵ ـ صحیفہ کاملہ                ترجمہ: مفتی جعفر حسین صاحب

6ـنہجالاسرار           غلام حسین رضا آقا مجتہد( حیدر آباد دکن)

۷ ـ من لا یحضرہ الفقیہ        شیخ صدوق ابن بابویہ قمی(رح)

۸ ـ اصول کافی                ابو جعفر محمد بن یعقوب الکلینی ترجمہ جناب مولانا ظفر حسن امروہی صاحب

۹ ـ وسائل الشیعہ               شیخ صدوق ابن بابویہ قمی(رح)

۱۰ ـ علل شرائع                شیخ صدوق ابن بابویہ قمی(رح)

۱۱ ـ عیون الاخبار الرضا(ع)      شیخ صدوق ابن بابویہ قمی(رح)

۱۲ ـ کتاب الخصال              شیخ صدوق ابن بابویہ قمی(رح)

۱۳ ـ کتاب التوحید             شیخ صدوق ابن بابویہ قمی(رح)


۱۴ ـ کمال الدین و تمام النعمہ    شیخ صدوق ابن بابویہ قمی(رح)      

۱۵ ـ حیات القلوب             علامہ باقر مجلسی(رح) صاحب

۱6ـ بحار الانوار                 علامہ باقر مجلسی(رح) صاحب

۱۷ ـ جلاالعیون                علامہ باقر مجلسی(رح) صاحب

۱۸ ـ تہذیب الاسلام            علامہ باقر مجلسی(رح) صاحب

۱۹ ـ روح الحیات               علامہ باقر مجلسی(رح) صاحب

۲۰ ـ مجالس المومنین            شہید ثالث قاضی نور اللہ شوستری(رح)

۲۱ ـ احسن المقال               شیخ عباس قمی(رح)

۲۲ ـ نفس المہموم              شیخ عباس قمی(رح)

۲۳ ـ مفاتیح الجنان              شیخ عباس قمی(رح)

۲۴ ـ مقتل ابی مخنف لوط بن یحی ازدی

۲۵ ـ الفہرست                محمد بن اسحاق ابن ندیم وراق

۲6 ـ کتاب الارشاد              شیخ مفید علیہ الرحمہ

۲۷ ـ جمال منتظر              آیت اللہ العظمی صافی گلپائیگانی

۲۸ ـ صحیفہ کربلا               حجت الاسلام علی منتظری منفرد

۲۹ ـ تفسیر اسلام              علامہ فروغ علی کاظمی( لکھنو)

۳۰ ـ توضیح المسائل             آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی ( نجف اشرف عراق)

۳۱ ـ توضیح المسائل              آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای ( ایران)


۳۲ ـ توضیح المسائل             آیت اللہ العظمی حافظ بشیر حسین صاحب ( نجف اشرف عراق)

اس موقع پر میں خداوند کریم کا شکر ادا کرتا ہوں اور اپنی اس حقیر کاوش کو جناب امیر امومنین علیہ السلام کی خدمت میں پیش کرتا ہوں اور ان کی ذات مقدسہ سے رحمت و مدد کا خواستگار ہوں۔

میں دل کی گہرائیوں سے اپنے والد گرامی کا شکر گزار ہوں جن کی بدولت میں اس کھٹن کام کو انجام دینے کے قابل ہوا، ان کی راہنمائی کی ضرورت مجھے ہر موقع پر محسوس ہوئی اور انہوں نے مجھے کمال شفقت سے نوازا۔

میں شکریہ ادا کرتا ہوں اپنی والدہ محترمہ کا کہ جن کے بے پناہ محبت اور الفت کے کسی ایک لمحے کا عشر عشیر چکانے کی میں سکت نہیں رکھتا۔

میں تہہ دل سے مشکور ہوں اپنی زوجہ کا، جس نے اس دوران میری ذمہ داریوں کو بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھائے رکھا اور اس کتاب کی تحقیق و تیاری میں میری بھر پور معاونت کی۔

میں ممنون ہوں مولانا نذر عباس اصغر صاحب کا کہ جنہوں نے اس ترجمے پر نظر ثانی فرمائی اور ایسے موقع پر اپنا قیمتی وقت میرے لیے مختص کیا جب بیشتر علما نے اس مسودے کی ضخامت دیکھتے ہوئے اس سے صرف نظر کیا۔

آخر میں میں دعا گو ہوں کہ خداوند متعال ہمیں اس کتاب سے استفادہ حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

                                                             آمین

                                                     سید ذیشان حیدر زیدی


مجلس نمبر ۱

( ۱۸ رجب ۳6۷ھ)

۱ ـ          عمرو بن خالد ابو حمزہ ثمالی بیان کرتے  ہیں کہ امام زین العابدین(ع) نے فرمایا : خوش خلقی سے عزت میں اضافہ ہوتا ہے اور رزق وسیع ہوتا ہے۔ یہ موت کو ٹال دیتی ہے خاندان میں محبت پیدا کرتی اور جنت میں داخل کرتی ہے۔

۲ ـ          شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ ابوہریرہ نے کہا جو کوئی ۱۸ ذالحجہ کا روزہ رکھتا ہے تو اس کے لیے خدا 6۰مہینوں کے روزوں کا ثواب درج کرتا ہے اور یہ دن غدیر خم کا دن کہ اس دن رسول خدا(ص) نے علی ابن ابی طالب(ع) کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا، کیا میں مومنین پر ان کے نفسوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا؟ سب نے کہا کیوں نہیں یا رسول اللہ پھر فرمایا جس جس کا میں مولا ہوں اس اس کا علی(ع) مولا ہے پس عمر نے اس سے کہا مبارک ہو اے ابن ابی طالب(ع) تم میرے اور ہر مسلمان کے مولا ہو گئے پس اللہ عزوجل نے اس آیت کو نازل کردیا ” الیوم اکلمت لکم دینکم“ (مائدہ) کہ” آج کے دن میں نے دین کو تمہارے لیے مکمل کردیا ہے۔“

۳ ـ         ابن عباس(رض) کہتے ہیں، رسول خدا(ص) نے فرمایا، علی(ع) میرے بعد ہر مومن کے ولی ہیں۔

صلصال بن دلہمس

۴ ـ         قیس بن عاصم کہتے ہیں کہ میں بنی تمیم  کی ایک جماعت کے ساتھ خدمت پیغمبر(ص) میں گیا جس وقت میں داخل ہوا اس وقت صلصال بن دلہمس آںحضرت(ص) کے پاس موجود تھا میں نے عرض کیا اے پیغمبر خدا(ص) ہمیں نصیحت کریں تاکہ ہم اس سے فائدہ حاصل کرسکیں رسول خدا(ص) نے فرمایا اے قیس بے شک عزت کے ساتھ ذلت بھی ہے اور زندگی کے ساتھ موت بھی اور اس دنیا کے ساتھ آخرت بھی ہے ہر چیز کے لیے حساب ہے اور ہر چیز عمل پائندہ ہے ہر نیک کام کا ثواب ہے او ہر برے عمل کی سزا ہے۔ اور تمام مدت ختم ہونے والی ہے۔ اے قیس قبر میں تیرا دوست


تیرے ہمراہ ہوگا۔ وہ زندہ ہوگا جبکہ تم مردہ ہوگے۔ اگر وہ اچھا ہوگا تو تمہارے ہاتھ اچھائی آئے گی۔ اور اگر برا ہوگا تو تم  پست و زبوں حال ہوگے۔ اس کے علاوہ تیرے ساتھ کچھ بھی محشور نہ ہوگا او تمہارے ساتھ اس کے سوا کچھ بھی مبعوث نہ ہوگا۔ اور تمہارا یہ دوست بجز کردار صالح کے اور کوئی نہیں۔ اگر یہ صالح ہوگا تو تو آرام میں ہوگا اور اگر فاسد ہوگا تو تجھے خوف میں مبتلا رکھے گا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اﷲ(ص) میری گذارش ہے کہ آپ(ص) ان اقوال کو نظم کی صورت میں بیان کریں تاکہ ہمیں دیر تک یاد رہیں او جب ہم واپس جائیں تو عرب کے لوگوں کو اسے بیان کریں اور انہیں خوف کی ترغیب دیں۔ پیغمبر(ص)  نے حکم دیا کہ حسان(رض) کو میرے پاس بلایا جائے۔ اسی دوران میںنے سوچا کہ ان اقوال کو مجھے خود بھی اشعار میں ڈھالنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ لہذا حسان(رض) کے آنے سے پہلے ہی یہ کلام میرے ذہن میں ترتیب پاگیا۔ میں نے رسول خدا(ص) سے عرض کیا۔ یا رسول اﷲ(ص) آپ(ص) کے اس فرمان کے مطابق میرے ذہن میں چند اشعار ترتیب پاگئے ہیںاگر آپ(ص) اجازت دیں تو عرض کروں۔ آپ(ص) نے فرمایا: بیان کرو۔ میں نے عرض کیا۔

                             اپنے کردار کو اپنا ساتھی بنا۔

                                                             کیونکہ وہ قید میں تیرے ہمنشین ہوگا۔

                             خود کو موت کے بعد اس چیز کے لیے آمادہ رکھو۔

                                                             کہ سامنے سے جلد ہی آواز آئے گی۔

                             اگر کسی چیز کو دل نہ مانے تو وہ نہ کرؤ۔

                                                             سوائے اس کے کہ جس کو خدا پسند کرئے۔

تمہاری موت سے پہلے و بعد کوئی شخص تمہیں فائدہ نہ دے گا۔ بجز تیرے کردار کے کہ کوئی دوست سوائے اس کے فریاد سننے والا نہیں انسان رشتے داروں کے پاس مہمان ہے۔ وہ ان کے درمیان رہا اور کوچ کر جائے گا۔

۵ ـ   قصی بن کلاب نے اپنے فرزندوں کے وصیت کی کہ فرزندان عزیز کبھی شراب نہ پینا اگرچہ یہ بدنوں کی اصلاح ( فربہ) کرتی ہے مگر ذہنوں ( یعنی عقلوں) کو فاسد کردیتی ہے۔


6 ـ شعیبحداد کہتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام بن محمد(ص) نے مجھ سے فرمایا ہماری حدیث سخت اور ناہموار ہے اس وزن کو کوئی نہیں اٹھا سکتا مگر مقرب فرشتہ یا پیغمبر مرسل یا د وہ بندہ کہ جس کے دل کا ایمان کے ساتھ خدا نے امتحان لیا ہو یا شہر محکم عمرو شاگرد شعیب نے اس شہر کا پوچھا  تو اس نے بتایا کہ امام صادق(ع) نے فرمایا ہے کہ یہ وہ شہر ہے جو دل میں مجتمع ہوتا ہے۔( یعنی وہ دل جس کو ہماری محبت نے محصور کر لیا ہو)

حضرت یوسف(ع) و زلیخا

۷ ـ         وہب بن منبہ کہتے ہیں کہ میں نے خدا کی بعض کتابوں میں سے ایک  کتاب میں پڑھا ہے کہ یوسف(ع) اپنے لشکر کے ساتھ عزیز مصر کی بیوی( زلیخا) کے پاس سے گذرے وہ ایک کھنڈر پر بیٹھی تھیں اور کہتی تھی کہ حمد سپاس اس خدا کے لیے زیبا ہے جو بادشاہوں کو ان  کے گناہوں کے سبب غلام بنادیتا ہے اور غلاموں کو ان کی اطاعت کے سبب بادشاہ قرار دیتاہے۔ میں محتاج ہوگئی ہوں مجھے کچھ صدقہ دیجئے یوسف(ع) نے کہا خدا کی نعمت کو حقیر سمجھنا اور اس کا کفران کرنا بندے کے لیے ہمیشہ کی رکاوٹ پیدا کردیتا ہے لہذا خدا کی طرف بازگشت کرو تاکہ وہ گناہ کے دھبے کو تیری توبہ سے دھودے بے شک دعا کی قبولیت کے لیے دلوں کی پاکیزگی اور اعمال کی نیکی اور صفائی شرط ہے زلیخا نےجواب میں کہا ابھی میں نے توبہ و انابت اور گذشتہ غلطیوں کے تدارک سے فراغت نہیں پائی لہذا خدا سے شرم کرتی ہوں کہ عفو کے مقام میں آؤں اور اس ذات مقدس سے طلب رحمت کروں کہ ابھی آنسو نہیں بہے ہیں اور دل سے اپنی ندامت کے حق کی ادائیگی نہیں ہوئی ہے او اطاعت کی طرف سے گداختہ نہیں ہوئی ہوں( پشیمان نہیں ہوئی ہوں) یوسف(ع) نے کہا توبہ کرو اور اسکی شرائط میں کوشش اور اہتمام کرو کیونکہ راہِ عمل کھلی ہوئی ہے اور دعا کا تیر قبولیت کے نشانے پر پہنچتا ہے قبل اس ے کہ عمر کے ایام اور گھڑیاں ختم ہوں اور حیات کی مدت تمام ہو، زلیخا نے کہا میرا بھی یہی عقیدہ ہے اگر آپ میرے بعد زندہ رہ گئے تو یہ عنقریب سن لیں گے یوسف(ع) نے اپنے لشکر سے فرمایا کہ گائے کی کھال سونے سے بھر کر اس کودے دو۔ زلیخا نے کہا روزی یقینا خدا کی جانب


سے مقرر ہے او پہنچتی ہے رزق کی وسعت اور راحت و عیشِ زندگانی کو اس وقت تک نہیں چاہتی جب تک کہ خدا کے غضب میں گرفتار ہوں۔ اس کےبعد یوسف(ع) کے بعض فرزندوں نے پوچھا کہ یہ عورت کون تھی جس کی باتوں سے ہمارا جگر پارہ پارہ ہوگیا اور دل شگافتہ ہوگیا، فرمایا یہ راحت و شادمانی کی داعیہ ہے جو اب دام انتقام الہی میں گرفتار ہے پھر یوسف(ع) نے زلیخا کے ساتھ عقد کیا جب ان سے ہم بستر ہوئے تو ان کو باکرہ پایا پوچھا تم باکرہ کیونکر رہ گئیں حالانکہ مدتوں شوہر کے ساتھ زندگی بسر کی زلیخا نے کہا میرا شوہر نامرد تھا۔ اور مقاربت پر قادر نہ تھا۔


مجلس نمبر۲

(۷ رجب ۳6۷ھ)

فضیلت رجب

۱ ـ ابو جعفر محمد بن باقر(ع) نے فرمایا جو کوئی ماہ رجب میں سے ایک دن کا روزہ رکھے شروع ماہ کا یاوسط یا آخر ماہ کا تو خدا بہشت کو اس کے لیے کھول دیتا ہے اور روز قیامت وہ ہمارے ساتھ ہم درجہ ہوگا اور جو کوئی دو دن ماہ رجب کے روزے  رکھے گا اس سے کہا جائے گا تیرا کردار (عمل) اس دہلیز پر پہنچا کہ خدا تمہارے گذشتہ تمام گناہ  معاف کردے گا اور جو کوئی ماہ رجب کے تین روزے رکھے گا اس سے کہا جائے گا تیرے گذشتہ و آئندہ گناہ معاف ہوگئے۔ لہذا اپنے گناہ گار بھائیوں میں سے جس کی چاہو شفاعت کرو اور اپنے دوستوں میں سے بھی جس کی چاہو شفاعت کرو اور جو کوئی سات دن ماہ رجب کا روزہ رکھے گا تو اس پر جہنم کے ساتوں دروازے بند کردئیے جائیں گے اور جو کوئی آٹھ دن ماہ رجب کے روزے رکھے گا اس کے لیے جنت کے آٹھ دروازے کھول دیئے جائیں گے کہ جس دروازے سے چاہے داخل ہو۔

۲ ـ          امام جعفر صادق(ع) نے فرمایا کہ مجھے اس شخص پر تعجب ہے جو چار چیزوں سے ڈرتا ہے تو وہ ان چار چیزوں سے کیوں مدد نہیں چاہتا ؟ تعجب ہے کہ جو شخص خوف زدہ ہے اور وہ اﷲ کے اس قول سے مدد کیوں نہیں لیتا”حسبنا اﷲ و نعم الوکيل“ ( ہمارے لیے اﷲ کافی ہے اور کیا بہتر وکیل ہے) اس لیے کہ میں نے اس کے بعد یہ قول بھی سنا ہے کہ

” فَانْقَلَبُوا بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَ فَضْلٍ لَمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ“(آل عمران، ۱۷۴)

” پھر چلے آئے مسلمان اﷲ کے احسان اور فضل کے ساتھ کچھ نہ پہنچی ان کو برائی۔“

اور مجھے تعجب ہے اس شخص پر جو کسی غم میں مبتلا ہے مگر وہ اﷲ تعالی کے اس قول سے مدد نہیں لیتا۔

” لا إِلهَ إِلاَّ أَنْتَ سُبْحانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمينَ “ (الانبیاء، ۸۷)” نہیں ہے کوئی خدا سوائے تیرے تو


 پاک ہے  بے شک میں ظالموں ( زیادتی کرنے والوں) میں سے ہوں“ اس لیے میں نے اس کے بعد خدائے عزوجل کا یہ قول بھی سنا ہے۔ ”فَاسْتَجَبْنا لَهُ وَ نَجَّيْناهُ مِنَ الْغَمِّ وَ كَذلِكَ نُنْجِي الْمُؤْمِنينَ“ (الانبیاء، ۸۸)

پھر سن لی ہم نے اس کی فریاد اور بچالیا اس کو اس غم (گھٹن) سے اور سی طر ہم بچاتے ہیں مومنین کو (ایمان والوں کو)۔“

اور مجھے تعجب جہے اس شخص پر جس کے ساتھ مکر و فریب کیا جائے وہ اﷲ کے اس قول سے کیوں مدد نہیں طلب کرتا”وَ أُفَوِّضُ أَمْري إِلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ بَصيرٌ بِالْعِبادِ “ (غافر، ۴۴) میں حوالے کرتا ہوں اپنے کام کو اﷲ کے بے شک سب بندے اﷲ کی نگاہ میں ہیں“ اس لیے کہ اس کے بعد میں نے اﷲ کے اس قول کو بھی سنا ہے کہ ”فَوَقاهُ اللَّهُ سَيِّئاتِ ما مَكَرُوا “ (غافر، ۴۵) پھر انہوں نے بچایا ان تدبیروں کی برائیوں سے جو وہ کرتے تھے“۔

اور مجھے تعجب ہے کہ جو شخص دنیا اور اس کی آسائش چاہتا ہے وہ اﷲ تعالی کے اس قول سے کہوں مدد نہیں لیتا”ما شاءَ اللَّهُ لا قُوَّةَ إِلاَّ بِاللَّهِ “ ( کہف، ۳۹) ہوی ہوتا ہے جو اﷲ چاہتا ہے نہیں ہے کوئی طاقت مگر خدا کی “ اس لیے کہ میں نے اس کے بع اﷲ تعالی کا یہ قول بھی سنا ہے ”إِنْ تَرَنِ أَنَا أَقَلَّ مِنْكَ مالاً وَ وَلَداً فَعَسى‏ رَبِّي أَنْ يُؤْتِيَنِ خَيْراً مِنْ جَنَّتِكَ “ (کہف ، ۳۹۔۴۰) اگر تو دیکھتا ہے مجھ کو کہ میں کم ہوں تجھ سے مال اور اولاد میں تو مجھے امید ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر دیگا“ اور یہاں عسی سے مراد لازمی ہے۔

۳ـ          امام علی بن موسیٰ رضا(ع) نے اپنے والد(ع) سے انہوں نے اپنے آباء(ع) سے اور انہوں نے امیرالمومنین(ع) سے روایت کیا ہے کہ جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا کہ خدا فرماتا ہے وہ بندہ مجھ پر ایمان نہیں رکھتا جو میرے کلام میں اپنی مرضی اختیار کرے اور وہ مجھے نہیں پہچانتا جو مجھے مخلوق کی طرح جانتا ہے وہ شخص میرے دین میں نہیں ہے کہ جو میرے احکام دین میں قیاس کو داخل کرتاہے۔

۴ـ          امام علی بن موسی رضا(ع) نے اپنے والد(ع) سے انہوں نے اپنے اجداد(ع) سے انہوں نے امیرالمومنین(ع) نے روایت کیا ہے کہ جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا جو کوئی میرے حوضِ کوثر کو معتقد نہیں اُس کے لیےحوض تک جانے کا کوئی راستہ نہیں اور کوئی میرے شفاعت کا معتقد نہیں خدا اس کو میری


 شفاعت نصیب نہیں کرے گا۔ پھر فرمایا بے شک میری شفاعت خاص اہل گناہان کبیرہ کے لیے ہے جو میری امت سے ہیں اور میری امت کے نیک لوگوں کےلیے کوئی سوال نہیں کیا جائے گا۔ حسین بن خالد راوی حدیث کہتاہے : میں نے امام علی رضا(ع) سے عرض کیا یابن رسول اﷲ(ص) یہ قول خدا اس صورت میں کیا معنی رکھتا ہے کہ شفاعت نہیں کرے گا مگر وہ کہ جس کو خدا پسند کرے گا(انبیاء ، ۲۸) امام(ع) نے فرمایا یعنی شفاعت نہیں کرے گا مگر وہ بندہ کہ جس کی دیانت کو خدا پسند کرے گا۔

۵ـ          ابان احمر۔ امام جعفر صادق(ع) سے روایت کرتا ہے کہ ایک شخص آپ(ص) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا مرے ماں باپ آپ(ع) پر قربان ہوں مجھے کوئی نصیحت کیجیئے۔

آپ(ع) نے فرمایا کہ اگر اﷲ تالی ہی رزق(روزی) کا کفیل (ضامن) ہے تو یہ غم ( دوڑدھوپ) کس کے لے ہے اور اگر رزق تقسیم ہوچکا ہے تو پھر تیرا لالچ کس لیے ہے اور اگر حساب درست ہے تو پھر مال جمع کرنا کس لیے ہے اور اگر بدلہ خدا کی طرف سے ملنا ہے تو یہ بخل کس لیے ہے اگر ثواب خدا کی طرف سے ہے یہ سستی کس لیے ہے اور اگر سزا خدا کی طرف سے دوزخ(جہنم) ہے تو یہ نافرمانی کس لیے ہے اور اگر موت برحق ہے تو پھر یہ خوشی کس لیے ہے اور اگر خدا کے سامنے پیش ہونا درست ہے تو یہ مکر و فریب کس لیے ہے اور اگر شیطان دشمن ہے تو پھر یہ غفلت کس لیے ہے اور اگر پل صراط سے گزرنا حق ہے تو یہ خودبینی (غرور، تکبر) کس لیے ہے اور اگر ہر چیز اﷲ کی قضاء و قدر سے ہوتی ہے تو پھر یہ رنج و حزن و ملال کس  لیے ہے او اگر دنیا فانی ہے تو پھر اس پر اعتماد و بھروسہ کس لیے ہے۔

فضائل علی(ع)

6ـ           جابر بن عبداﷲ انصاری(رح) کہتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا علی بن ابی طالب(ع) میری امت میں سے پہلے اسلام لانے والے ہیں دانش میں وہ سب سے پہلے ہیں ان کا دین تمام سے زیادہ درست ہے اور ان کا یقین سب سے بلند ہے اور حلم میں طاقتور ہیں ان کا ہاتھ تمام سے زیادہ کھلا


ہے (سخی ہیں) اور سب سے زیادہ بہادر و شجاع ہیں اور وہ میرے بعد امام و خلیفہ ہیں۔

۷ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا علی(ع) آسمان ہفتم میں خورشید (سورج) کی طرح جیسا کہ وہ دن کو روشن ہوتا ہے روشن ہیں اور دنیا میں ایسے ہیں جیسے چاند رات کو اس دنیا میں روشن ہوتا ہے خدا نے علی(ع) کو فضیلت کا وہ حصہ عطاء کیا ہے کہ اگر اہل زمین میں تقسیم ہوتو یہ ان تمام کو گھیرے ہوگا اور خدا نے انہیں فہم سے وہ حصہ دیا کہ اگر تمام اہل زمین میں تقسیم  کیا جائے تو تمام کو گھیرے ہوگا یہ لوط(ع) کی نرمی رکھتے ہیں اور خلق یحیی(ع) و زہد ایوب(ع) اور سخاوت میں ابراہیم(ع) کی مانند ہیں ان کی خوشی سلیمان(ع) بن داؤد(ع) کی خوشی کی طرح ہے ان کی طاقت داؤد(ع) کی طاقت کی طرح ہے ان کا نام تمام پرزہ ہائے بہشت پر آویزاں ہے اور میرے پروردگار نے مجھے اس کے وجود کی خوشخبری دی ہے۔ یہ خوشخبری اس سے تھی جو میرے اور علی(ع) کے درمیان اﷲ تعالی کے نزدیک قائم ہے اور فرشتوں کے نزدیک جو تزکیہ شدہ ہے وہ خاص میرا ہے اور میرا اعلان میرا چراغ ہے اور میری جنت اور میرا رفیق ہے۔ میرے رب نے مجھے ان سے مانوس کیا میں نے اس (خدا) سے درخواست کی کہ مجھ سے پہلے ان کی جان قبض نہ کرنا اور میں نے درخواست کی کہ میرے بعد فیض شہادت سے ان کی جان قبض کرنا اور جب میں بہشت میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ حوریانِ علی(ع) درختوں کے پتوں پر تکیہ کیے ہیں( یعنی درختوں کے پتوں کی طرح بے شمار ہیں) قصور علی(ع) ( قصر کی جمع محلات۔ رہنے کے بہترین مقامات) تعداد انسان کے برابر ہیں علی(ع) مجھ سے ہیں۔ اور میں علی(ع) سے ہوں۔ جو کوئی ان کو دوست رکھتا ہے مجھے دوست رکھتا ہے۔ علی(ع) سے دوستی(محبت) اور انکی پیروی نعمت ہے یہ جان لو کہ فرشتے ان کے معتقد ہیں اور صالح جنات ان کے نزدیک ہیں۔ اور میرے بعد کوئی بھی اس زمین پر علی(ع) سے بہتر زندگی نہیں گزار رہا۔

وہ (علی(ع)) نہ سخت ہیں نہ آسان اور نہ جلد بازان کی فضیلت کا انکار اور ان سے بغض و عناد تباہی ہے۔ زر اور زمین ان کو اٹھائے ہوئے اور عزیز رکھے ہوئے ہیں۔ خدا کے نزدیک میرے بعد ان سے زیادہ عزیز ترین کوئی پیدا نہیں ہوا۔ وہ جس جگہ اس زمین پر آئے ہیں( خانہ کعبہ) خدا نے اس جگہ کو جائے امن قرار دیا۔ خدا نے ان پر حکمت کا نازل کیا اور اس کے فہم کو مکمل کیا۔ فرشتے


ان کے ہم نشین ہوئے جنہیں وہ دیکھتا ہے اگر میرے بعد کسی آدمی کو وحی ہوئی تو وہ وحی ان تک پہنچی ہے خدا نے ان کے وجود کو زینت بخشی اور انہیں کی وجہ سے محفلوںکو۔ خدا نے ان کے عساکر کو گرامی رکھا اور ملک کو ارزانی عطا کی۔ ان کی مثال خانہ خدا( بیت الحرام) کی ہے۔ جس کی زیارت کے لیے جایا جاتا ہے اور کسی اور کی زیارت کو نہیں جایا جاتا۔ ان کی مثال چاند کی سی ہے کہ جب بھی طلوع ہوتا ہے ہر تاریکی پر چھاجاتا  ہے جیسا کہ سورج جب طلوع ہوتا ہے تو ہر چیز کو روشن کردیتا ہے خدا نے اپنی کتاب میں انکا ذکر کیا اور اپنی آیات میں انکی مدح کی اور ان کے وصف کو بیان کیا اور ان کی منازل کو جاری رکھا  وہ جب تک زندہ ہیں گرامی ہیں اور ان کا مرنا شہادت کے ساتھ ہے اور وہ سعادت ہے۔


مجلس نمبر ۳

(۵ رجب سنہ۳6۷ھ)

۱ـ           انس کہتے ہیں میں نے جناب رسول خدا(ص) سے سنا۔ کہ جوکوئی ایک دن ماہ رجب کا روزہ عقیدت و قصد قربت سے رکھے گا تو خدا اس کے اور دوزخ کے درمیان ستر خندقیں بنائے گا کہ ہر خندق کی چوڑائی زمین و آسمان کے فاصلہ کے برابر ہوگی۔

۲ـ           امام علی بن موسی رضا(ع) نے فرمایا جو کوئی روز اول رجب کا روزہ رکھے گا ثواب کی رغبت سے تو خدا اس کے لیے بہشت کو واجب کرے گا اور جو کوئی وسط رجب کا روزہ رکھے گا تو اس کی شفاعت مانند دو قبیلہ ربیعہ و مضر کے برابر قبول کی جائے گی جو کوئی رجب کے آخر کا روزہ رکھے گا تو خدا اس کو بہشت کے بادشاہوں میں قرار دے گا اور اس کی شفاعت ماں، باپ، بیٹی ، بھائی و بہن و چچا پھوپھی و دائی و خالہ وواقف گیر ہمسائے کے بارے قبول ہوگی اگر چہ ان میں دوزخ کے مستحق ہی کیوں نہ ہوں۔

حبِ علی(ع) کا فائدہ

۳ـ          جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا میری اور میرے خاندان کی محبت سات جگہ پر فائدہ مند ہے کہ ہر ایک جگہ پر سخت ترین خوف ہے (۱) موت کے وقت۔(۲) قبر میں (۳) قبر سے باہر نکلنے کے وقت۔(۴) نامہ اعمال کے وقت (۵) حساب کے نزدیک (6) میزانکےپائےپر(۷) پل صراط پر۔

۴ـ          امام محمد بن علی باقر(ع) نے فرمایا کہ جنابِ رسول خدا(ص) سے پوچھا گیا کہ خدا کے بندوں میں بہترین بندے کون سے ہیں تو آپ(ص) نے فرمایا وہ ایسے ہیں کہ جب خوش خلقی کرتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں۔ جب بد کرداری کرتے  ہیں تو مغفرت طلب کرتے ہیں جب عطا کو پاتے ہیں تو شکر گزاری کرتے ہیں جب مصیبت میں گرفتار ہوتے ہیں تو شکیبا ( صابر) ہوتے ہیں اور جب


 انہیں غصہ آتا ہے تو درگزر کرتے ہیں۔

۵ـ          امام صادق(ع) نے اپنے والد(ع) کو قول بیان فرمایا کہ جو مسافر ثواب کی نیت سے نماز جمعہ پڑھےگا تو خدا اس کو سو نماز جمہ قائم کرنے کا اجر دے گا۔

6ـ           ابن عباس(رض) فرماتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا۔ میرے بعد علی ابن ابی طالب(ع) کا مخالف کافر ہے۔ اور اس کافر و مشرک سے محبت کرنے والا بھی کافر ہے علی(ع) کا محب مومن اور علی(ع) کا دشمن منافق ہے علی(ع) سے جنگ کرنے والا دین سے خارج ہے۔ اس کو رد کرنے والا نابود ہے۔ جو کوئی اس (علی(ع)) کا پیرو ہے اس نے حق کو پالیا۔ علی(ع) نورِ خدا ہے اور اس کے شہر (زمین) میں اس کی حجت ہے اسکے بندوں پر علی(ع) خدا کے دشمنوں کے لیے شمشیرِ خدا (سیف اﷲ) ہے وہ علمِ انبیاء(ع) کا وارث ہے علی(ع) خدا کا بلند کلمہ ہے اور اس کے دشمنوں کا کلمہ سب سے پست ہے۔ علی(ع) سید اوصیا ہے اور وصی سید انبیاء ہے وہ امیرالمومنین(ع) ہے اور نورانی چہروں اور نورانی ہاتھوں والوں کا قائد ہے وہ مسلمانوں کا امام ہے۔ اس کی ولایت کا اقرار اور اس کی اطاعت کے بغیر ایمان ہرگز قبول نہیں ہوتا۔

۷ـ          ایک دن رسول خدا(ص) نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا: اے بندہ خدا کسی سے دوستی رکھو تو خدا کےلیے کسی سے دشمنی رکھو تو خدا کے لیے۔ کسی سے مہر کرو تو اﷲ کے لیے اور غصہ کرو تو خدا کے واسطے۔ کیوںکہ اس کے علاوہ کسی کو خدا کی ولایت نہیں پہنچے گی اور وہ بندہ ایمان کی لذت کو نہ چائے گا چاہے کتناہی روزے رکھنے والا اور بے شمار نمازیں پڑھنے والا ہی کیوں نہ ہو۔۔۔۔ تم میں وہ لوگ جو دنیا کی راہ میں لگے ہیں اور اس کے کنارے ( مال و آسائشات) سے محبت کرتے ہیں اور خدا کے کنارے ( اس کے دین اور احکام ) سے دشمنی کرتے ہیں ان کے لیے خدا کے پاس فائدہ پہنچانے والی کوئی چیز نہیں ہے اس صحابی نے آںحضرت(ص) سے عرض کیا یا رسول اﷲ(ص) کس طرح معلوم ہو کہ ہماری دشمنی اور دوستی صرف خدا کے لیے ہے اور خدا کا محب(دوست) کون ہے تاکہ اس سے محبت کی جائے اور اس کا دشمن کون ہے تاکہ اس سے دشمنی کی جائے۔ رسول خدا(ص) نے علی(ع) کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا اس مرد کو دیکھ رہے ہو عرض کیا ہاں فرمایا اس کو دوست خدا کا دوست ہے اس سے محبت رکھو اس کا دشمن خدا کا دشمن ہے اس کے دشمن کو دشمن سمجھو اس کی محبت کو اپنی محبت قرار دو۔ اگرچہ


 یہ علی(ع) تیرے باپ کا قاتل ہی کیوں نہ ہو اور اس کے دشمن کو دشمن رکھ اگر چہ وہ تیرا باپ یا تیرا فرزند ہی کیوں نہ ہو۔

۸ـ          امام ابو عبداﷲ صادق(ع) نے فرمایا میں تین آدمیوں کو قابل رحم سمجھتا ہوں جو اس رحم کے حقدار ہیں وہ عزیز کہ عزت کے بعد خوار ہوجائے۔ وہ غنی کہ جو محتاج ہوگیا ہو۔ وہ عالم کہ اس کو اس کا خاندان اور جاہل لوگ خوار شمار کرتے ہوں۔

۹ـ           جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا کہ لوگوں کو تم مال کے ذریعے اپنی طرف مائل نہیں کرسکتے لیکن اپنے اچھے اخلاق سے ان کو اپنی طرف مائل کرسکتے ہو۔

۱۰ـ          امیرالمومنین(ع) نے فرمایا کہ میں نے رسول خدا(ص) نے سنا اے علی(ع)! اس ذات کی قسم کہ جس نے  دانے کا شگافتہ کیا اور ہر جاندار کو پیدا کیا حق کے ساتھ تم میرے بعد بہترین خلیفہ ہو اے علی(ع) تم میرے وصی ہو اور میری امت کے امام ہو جو کوئی تیری فرمانبرادری  کرتا ہے وہ میری فرمانبرداری کرتا ہے اور جو کوئی تیری نافرمانی کرتا ہے اس نے میری نافرمانی کی ہے۔


مجلس نمبر۴

(سلخ رجب سنہ۳6۷ھ)

وصی پیغمبر(ص) کون ہے

۱ ـ          سلمان فارسی کہتے ہیں کہ میں نے رسول خدا(ص) سے پوچھا کہ آپ(ص) کی امت سے آپ کا وصی کون ہے کیونکہ کوئی پیغمبر مبعوث نہیں ہوا مگر یہ کہ اس نے اپنی امت سے وصی قرار دیا ہے رسول خدا(ص) نے فرمایا ابھی تک میرے لیے یہ بیان نہیں ہوا سلمان کہتے ہیں میں کچھ مدت خدا سے درخواست کرتا رہا اور اشتیاق میں رہا پھر ایک دن میں مسجد میں آیا تو رسول خدا(ص) نے مجھے آواز دی اور فرمایا اے سلمان تم سے مجھ سے میرے وصی کے بارے میں پوچھا تھا تم بتاؤ کہ وصی موسی(ع) کون تھے؟ میں نے کہا ان کے وصی یوشع بن نون(ع) تھے پیغمبر(ص) نے تھوڑا تامل کیا پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ انھوں نے یوشع کو اپنا وصی کیوں بنایا میں نے کہا خدا اور اس کا رسول اس کو زیادہ بہتر جانتے ہیں آپ(ص) نے فرمایا ان کو اس لیے وصی بنایا گیا کیوںکہ یوشع(ع)، موسی(ع) کے بعد ان کی امت کے سب سے بڑے عالم تھے اور میرا وصی اورمیری امت کا عالم میرے بعد علی(ع) ابن ابی طالب(ع) ہے۔

۲ ـ          لیث بن سلیم بیان کرتے ہیں کہ جب میں جنابِ رسول خدا(ص) کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ علی(ع)، فاطمہ(س)، حسین(ع) آپس میں یہ فرمارہے ہیں کہ ان میں سے کون جنابِ رسول خدا(ص) کے زیادہ نزدیک ہے۔ اسی اثناء میں جنابِ رسول خدا(ص) تشریف لائے، اور فاطمہ(س) کو آغوش میں لیا پھر علی(ع) کو اپنے قریب کیا اور حسن(ع) اور حسین(ع) کو دائیں اور بائیں کاندھے پر سوار کر کے فرمایا تم سب مجھ سے اور میں تم سے ہوں۔

۳ ـ         رسول خدا(ص) نے فرمایا جو کوئی جب بھی اپنے بستر پر سونے کے لیے جائے اور سورة ”قل ہو اﷲ“ کو پڑھے تو خدا اس کے پچاس سال کے گناہ معاف کردیتا ہے۔

۴ ـ         ہارون بن حمزہ کہتے ہیں میں نے امام جعفر صادق(ع) سے سنا کہ اﷲ نے چار ہزار فرشتے پیدا


کیئے جو گرد آلود حالت میں قیامت تک امام حسین(ع) کی قبر مبارک پر گریہ کرتے ہیں گے۔ جو زائر قبر امام حسین(ع) کی زیارت کے لیے جائے گا یہ فرشتے اس کی زیارت کریں گے اور اس زائر کی زیارت اس طرح قبول کی جائے گی گویا اس نے میری زیارت کی اگر وہ بیمار ہوگا تو اس کی عیادت کی جائے گی اگر مرجائے گا تو اس کا تشیع جنازہ کروایا جائے گا اور وہ فرشتے قیامت تک اس کی مغفرت طلب کرتے رہیں گے۔

۵ ـ         ابوحمزہ ثمالی بیان کرتے ہیں کہ امام جعفر صادق(ع) نے فرمایا کہ خدا سے اتنے زیادہ امیدوار مت ہوجاؤ کہ گناہوں پر دلیر ہوجاؤ۔ اور نہ ہی اتنے خوف زدہ ہوجاؤ کہ اس کی رحمت سے مایوس ہوجاؤ۔

6 ـ          پیغمبر(ص) نے فرمایا۔ اے لوگو! بے شک اﷲ نے میری اطاعت تم پر فرض کی ہے اور میری نافرمانی کرنے سے تم کو منع کیا ہے اور میرے امر کی پیروی کو تم پر واجب کیا ہے اور میرے بعد تم پر فرض کیا گیا ہے کہ علی(ع) کی اطاعت کرو جس طرح میری اطاعت فرض کی گئی ہے اور تم کو منع کیا گیا ہے علی(ع) کی نافرمانی سےجس طرح میری نافرمانی سے منع کیا گیا ہے۔ خدا نے اس کو میرا وزیر و وصی و وارث قرار دیا وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اس کی دوستی ایمان ہے اور اس کی دشمنی کفر ہے جو اس سے محبت کرتا ہے وہ مجھ سے محبت کرتا ہے اس کا دشمن میرا دشمن ہے وہ مولا و آقا ہر اس آدمی کا ہے کہ جس کو مولا و آقا میں ہوں اور میں ہر مسلمان مرد و عورت کا مولا ہوں میں اور وہ اس امت کے دو باپ ہیں۔

۷ ـ         علی بن سالم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا میں امام صادق(ع) کی خدمت میں ماہِ رجب میں گیا کہ اس کے چند دن باقی تھے جب آپ(ع) نےمجھے دیکھا تو فرمایا اے سالم اس مہینے کوئی روزہ رکھا ہے عرض کیا بخدا نہیں یا ابن رسول اﷲ(ص) فرمایا اس کے ثواب کو سوائے خدا کے اور کوئی نہیں جانتا تیرے ہاتھ سے جاتا ہوا یہ مہینہ ایسا ہے کہ خدا نے اس کو بہت فضیلت دی ہے اور اس کے احترام کو عظیم کیا ہے اور اپنی کرامت کو اس کے روزہ دار کے لیے کھلا کیا ہے میں نے عرض کیا یاابن رسول اﷲ جو کچھ اس ماہ میں باقی رہ گیا ہے اس کا روزہ رکھوں تو دیگر روزہ داروں کی


 طرح ثواب مل جائے گا۔ فرمایا اے سالم۔ جوکوئی ایک دن اس ماہ کے آخر کا روزہ رکھتا ہے تو اس کے لیے امان ہے جان دینے کی سختی میں اور امان ہے ہر خوف ناک موت سے اور عذاب قبر سے اور جو کوئی دو دن اس ماہ کے آخر کا روزہ رکھتا ہے وہ وسیلہ اس کا پل صراط سے گزرنے کا ہے اور جو کوئی تین دن اس ماہ کے آخر کا روزہ رکھتا ہے تو روز قیامت کی سختیوں اور دوزخ سے اسے نجات ملے گی۔

۸ ـ         رسول خدا(ص) نے علی(ع) سے فرمایا اے علی(ع) تیرے شیعہ روز قیامت کامیاب ہیں جو کوئی ان میں سے کسی ایک اہانت کرتا ہے اس نے تیری اہانت کی اور جوکوئی تیری اہانت کرے اس نے میری اہانت کی ہے اور جو کوئی میری اہانت کرتا ہے خدا اس کو آتش دوزخ میں گرادے گا۔ کہ ہمیشہ اس میں رہیں گے اور یہ کیا برا انجام ہے اے علی(ع) تم  مجھ سے ہو اور میں تم سے تمہاری روح میری روح ہے تمہاری طینت میری طینت سے ہے اور تمہارے شیعہ پیدا ہوئے ہماری اضافی طینت سے جو کوئی ان کو دوست رکھتا ہے ہم کو دوست رکھتا ہے جو کوئی ان کو دشمن رکھتا ہے ہم کو دشمن رکھتا ہے اور جو کوئی ان سے پیار کرتا ہے وہ ہم سے پیار کرتا ہے اے علی(ع) کل میں مقام محمود پر کھڑا تمہارے شیعوں کی شفاعت کروں گا اے علی(ع) یہ خوشخبری ان کو دے دو اے علی(ع) تمہارے شیعہ خدا کے شیعہ ہیں اور تمہارے مددگار خدا کے مددگار ہیں تمہارے دوست خدا کے دوست ہیں تمہاری حزب خدا کی حزب ہے اے علی(ع) سعادت مند ہے وہ بندہ جو تمہیں دوست رکھتا  ہے اور بدبخت ہے وہ جو تمہیں دشمن رکھتا ہے اے علی(ع) تمہارے لیے بہشت میں خزانہ ہے اور دونوں طرف سے اس پر تسلط رکھتے ہو حمد ہے اس پروردگارہے اور رحمت ہو اس کی بہترین خلق محمد(ص) پر اور ان کی آل پاک پر اور ان کا کردار نیک و نجیب وخوش رفتار ہے۔


مجلس نمبر۵

(۲ شعبان سنہ۳۶۷ھ)

۱ـ           امام جعفر صادق(ع) بن محمد(ع) نے فرمایا شعبان کا روزہ قیامت کےلیے ذخیرہ ہے جو بندہ شعبان میں روزہ رکھتا ہو خدا اس کی زندگی کے کاموں کی اصلاح کرے گا اور دشمن کےشرکو اس سے دور کرے گا سب سے کمتر ثواب جو کوئی ایک دن شعبان کا روزہ رکھے گا اس کے لیے یہ ہے کہ بہشت اس پر واجب ہو جاتی ہے۔

۲ـ           علی بن فضال اپنے باپ سے روایت کرتا ہے کہ انہوں نے کہا میں نے سنا علی بن موسیٰ رضا(ع) نے فرمایا جو کوئی مغفرت طلب کرتا ہے خدا سے شعبان میں تو خدا ستر بار اس کے گناہوں کو معاف کرتا ہے اگرچہ وہ ستاروں کی گنتی کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔

۳ـ          رسول خدا(ص) نے فرمایا جو کوئی چاہے کہ روز قیامت خدا سے ملاقات کرے تو اسے چاہیے کہ وہ نامہ، عمل، یگانہ پرستی، اور میری نبوت پر ایمان رکھے پھر آٹھ دروازے بہشت کے اس کے سامنے کھل جائیں گے اور اس سے کہا جائے گا اے ولی خدا جس دروازے سے چاہو داخل ہو جاؤ جب صبح ہوگی تو وہ بندہ کہے گا حمد ہے اس خدا کی کہ جو تاریکی شب کو لے گیا اور اپنی رحمت سے دن کو لے آیا پھر اس سے کہا جائے گا اے نئی خلق خوش آمدید۔ خداوند نے تیرے دونوں کاتب تیرے محافظ زندہ رکھے ہیں۔ پھر پہلے دائیں طرف متوجہ ہوگا اور پھر اپنے بائیں طرف اور کہے گا ”بسم اﷲ الرحمن الرحيم“ سہارا اﷲ کے نام کا جو سب کو فیض پہنچانے والا خاص فیض رساں ہے“ بے شک میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں کوئی معبود حق بجز خدائے یگانہ کہ اس کا کوئی شریک نہیں محمد(ص) اس کے بندے اور اس کے بھیجے ہوئے رسول ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ وقت آنے والا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے اور خدا زندہ کرنے والا ہے ہر اس چیز کو جو قبروں میں ہے میں اس عقیدہ پر زندہ ہوں اور اسی پر مروں گا اور اسی پر اٹھایا جاؤں گا انشاء اﷲ، خدایا میرا سلام محمد(ص) اور ان کی آل تک پہنچا دے۔


قیامت میں فاطمہ(س) کی سواری

۴ـ          ابو جعفر محمدبن علی باقر(ع) فرماتے ہیں کہ جابر بن عبداﷲ انصاری(رح) بیان کرتے ہیں کہ جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا تو میری بیٹی فاطمہ(س) جنت کے ایک ناقہ پر سوار ہوکر میدانِ محشر میں آئے گی اس ناقہ کے دونوں پہلوؤں پر ریشم و دیباج کے جھول لٹک رہے ہوں گے اس کی مہار تازہ موتیوںکی اس کے چاروں پائے زمرد سبز کے اسکی دم مشکِ اذفر کی اور اس کی آنکھیں سرخ یاقوت کی ہوں گی، اس کی پشت پر ایک قبہ ( ہودج) نور کا ہوگا جس کا ظاہر اس کے باطن سے نمایاں ہوگا اور باطن ظاہر سے نظر آئے گا اس کا باطن عفو الہی سے مملو ہوگا اور ظاہر رحمت الہی سے گھرا ہوا ہوگا ان(فاطمہ(س)) کے سر پر نور کا ایک تاج ہوگا اس تاج کے ستر رکن (گوشے) ہوں گے ہر رکن موتیوں اور یاقوت سے مرصع ہوگا اور یہ جوہرات میدان محشر میں یوں چمکتے ہوں گے جیسے آسمان پر ستارے چمکتے ہیں پھر ان کے دائیں طرف ستر ہزار فرشتے اور بائیںطرف ستر ہزار فرشتے ہونگے جبرائیل امین اس ناقہ کی مہار کو پکڑے ہوئے ہوں گے اور بلند آواز سے ندا دیں گے کہ اے اہل محشر اپنی آنکھیں بند کر لو تاکہ فاطمہ(س) بنت محمد(ص) کی سواری میدان محشر سے گزر جائے۔

اس دن کوئی رسول، نبی، کوئی صدیق، اور کوئی شہید ایسا نہ ہوگا جو اس اعلان کو سن کر اپنی آنکھیں بند نہ کرے یہاں تک کہ فاطمہ(س) گزر جائیں گی اور خود کو عرشِ پروردگار تک پہنچا دیں گی پھر خود کو ناقہ سے گرا دیں گی اور فریاد کریں گی اے میرے اﷲ ، اے میرے مالک تو میرے اورمجھ پر ظلم کرنے والوں کے درمیان فیصلہ کردے خدایا میرے اور میرے بیٹوں کے قاتلوں کے درمیان فیصلہ کردے اس وقت خدا کی طرف سے جواب آئے گا اے میری حبیبہ اور اے میرے حبیب(ص) کی بیٹی تم جو چاہو مانگو میں تمہیں عطا کروں گا اور جس کی چاہو شفاعت کرو میں قبول کروں گا مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ہے کہ آج کوئی ظالم مجھ سے نہیں بچ سکے گا، فاطمہ(س) عرض کریں گی اے میرے اﷲ اے میرے مالک آج میں اپنی ذریت اپنے محبوں اپنے شیعوں اور اپنی ذریت کے شیعوں کی


 شفاعت کرتی ہوں پس اﷲ کی طرف سے آواز آئے گی کہاں ہے فاطمہ(س) کی اولاد، ان کے (فاطمہ(س) کے) شیعہ، ان کے محب، ان کی اولاد کے شیعہ، پس وہ لوگ اس شان سے آئیں گے کہ چاروں طرف سے رحمت کے فرشتے حلقہ کیئے ہوں گے اور فاطمہ(س) ان کی رہبر ہوںگی یہاں تک  کہ ان کو داخل بہشت کریں گی۔

۵ـ رسول خدا(ص) نے فرمایا جو کوئی چاہے کہ وہ نجات کی کشتی پر سوار ہو، محکم حلقہ کے ساتھ ہو اور اﷲ کی رسی کو تھامے ہوئے ہو تو اسے چاہیے کہ میرے بعد علی(ع) کا حبدار ہو  اس کے دشمن کا دشمن ہو اور چاہیے کہ ان اماموں کی اقتدا کرے جو اس کے فرزندوں سے ہیں کیوںکہ یہ میرے خلفا و اولیا ہیں، حجت خدا ہیں اس کی مخلوق پر میرے بعد اور سردار ہیں میری امت کے اور پیشوا ہیں جنت کی طرف ان کی حزب(جماعت) میری حزب ہے اور میری حزب خدا کی حزب ہے اور اس کے دشمنوں کی حزب شیطان کی حزب ہے۔


مجلس نمبر۶

(سات شعبان سنہ۳۶۷ھ)

۱ـ           جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا شعبان میرا مہینہ ہے اور رمضان خدا کا مہینہ ہے جو کوئی ایک دن میرے مہینے کا روزہ رکھے گا میں روز قیامت اس کا شفیع ہوں گا اور جو کوئی دو دن میرے مہینے کا روزہ رکھے گا اس کے گناہ معاف کردیئے جائیں گے اور جو کوئی تین دن میرے مہینے کا روزہ رکھے گا تو اس سے کہا جائے گا تیرا عمل محکم ہوگیا ہے  اور جو کوئی ماہ رمضان کا روزہ رکھے گا اور اپنی زبان کی حفاظت کریگا اور لوگوں کو تکلیف نہ دے گا خدا اس کے گذشتہ آئیندہ وگناہوں کو معاف کردے گا اور دوزخ سے اس کو آزاد کرے گا اور اس کو دار قرار میں لے آئے گا اور اس کی شفاعت  اہل توحید میں سے قبول کرے گا چاہے اس کے گناہ اعداد رمل یا کوہ عالج کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔

۲ـ           امام موسی بن جعفر(ع) ہارون رشید کے ہاں پہنچے تو اس وقت وہ ایک آدمی پر غصے ہو رہا تھا۔ آپ(ع) نے فرمایا بے شک تو اس پر خدا کے لیے غصے ہو رہا ہے مگر تجھے اس پر اس کے علاوہ غصہ نہیں کرنا چاہئے۔

۳ـ          امام صادق(ع) نے اپنے اجداد(ع) سے روایت کیا ہے کہ رسول خدا(ص) ایک دفعہ کچھ آدمیوں کے پاس سے گزرے کہ وہ ایک پتھر کو اوپر کی طرف پھینک رہے تھے ۔( بطور پاپانسہ) اور ان کا یہ عمل بار بار تھا اور آپ(ص) نے ان سے فرمایا یہ کیا کام ہے؟ کہنےلگے اپنی کامیابی کی آزمائش کررہے ہیں آپ(ص) نے فرمایا کیا میں تم کو کامیاب ترین آدمی سے آگاہ کروں؟ عرض کرنےلگے کیوں نہیں یا رسول اﷲ(ص) آپ(ص) نے فرمایا طاقتور ترین اور کامیاب تر تم میں سے وہ بندہ ہے کہ جب وہ خوش ہوجائے تو اسکی خوشی اس کو گناہ و باطل کی طرف نہ کھینچے اور جب غصہ کرے تو اپنے غصہ کو گفتار حق سے ختم کردے اور جب طاقتور ہو تو ناحق کسی پر ہاتھ نہ ڈالے۔

۴ـ          یونس بن ظہبان کہتے ہیں امام جعفر بن محمد(ع) نے فرمایا کہ اپنی عبادت کو مشتہر کرنے سے اس


کے خلوص میں شک ہوتا ہے میرے والد(ع) نے اپنے والد(ع) سے انہوں نے اپنے جد(ع) سے روایت کیا اور مجھے بتایا کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا سب سے بڑا عبادت گزار وہ آدمی ہے جو اپنے فرائض بجالائے سب سے بڑا سخی وہ آدمی ہے جو اپنے مال کی زکوٰة ادا کرے اورسب سے بڑا زاہد آدمی وہ ہے جو حرام سے اجتناب کرے سب سے بڑا صاحب تقوی (متقی) وہ ہے جو اپنے نفع و نقصان می سچ کہے اور سب سے بڑا عقل مند وہ آدمی ہے۔ کہ لوگوں کے لیے وہی پسند کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے اور لوگوں کے لیے ناپسند کرئے جو وہ اپنے لیے ناپسند کرتا ہے، سب سے زیادہ ہوشیار و عقلمند آدمی وہ ہے جو موت کو شدت سے یاد کرے اور سب سے زیادہ رشک کے قابل وہ آدمی ہے جو زیرِ خاک چلا جائے اور عذاب و سزا سے محفوظ اور ثواب کی امید رکھتا ہو۔ سب سے بڑا غافل وہ ہے جو دنیا کے تغیرات(حالات) کو بدلتا ہوئے دیکھے اور پھر اس سے نصیحت حاصل نہ کرے سب سے بڑا معتبر وہ ہے جو دنیا پر اعتبار نہ کرے، اور سب سے بڑا عالم وہ ہے جس کے علم کے اندر تمام انسانوں کے علوم جمع ہوجائیں سب سے بڑا شجاع  وہ آدمی ہے جو اپنی خواہشات نفس پر غالب آجائے جو آدمی علم میں سب سے بڑا ہے اس کی قیمت سب سے زیادہ ہے۔ اور سب سے کم قیمت وہ آدمی ہے جو سب سے کم علم ہو، اور سب سے کم لذت حاصل کرنے والا حاسد ہے سب سے کم راحت پانے والا بخیل ہے اور سب سے بڑا بخیل وہ آدمی ہے جو اس چیز میں بخل کرے جس کو خدا نے اس پر واجب کیا ہے سب سے زیادہ حق کا سزاوار وہ آدمی ہے جو ان میں سب سے زیادہ صاحب علم ہو اور جان لو کہ سب سے کم حرمت و عزت والا آدمی فاسق ہے اور سب سے کم وفادار آدمی غلام ہے اور کم دوست رکھنے والا آدمی فقیر ہے سب سے زیادہ مفلس و فقیر لالچی( طمع کرنے والا) ہے جب کہ سب سے بڑا غنی وہ آدمی ہے جو حرص کو اسیر(قیدی) نہ ہو اور ایمان میں سب سے بلند ترین ( افضل) وہ آدمی ہے جو بہت زیادہ خوش خلق ہو سب سے زیادہ مکرم وہ ہے جو سب سے زیادہ صاحب تقوی ہو اور قدر ومنزلت میں سب سے بڑا وہ آدمی ہے جو بے معنی و بے مطلب باتوں کو ترک کردے سب سے زیادہ پرہیزگار آدمی وہ ہے جو دکھاوے کو چھوڑدے خواہ وہ اس کا حق  رکھتا ہو سب سےکم مروت آدمی وہ ہے جو جھوٹ بولتا ہو اور بدبخت تریں آدمی وہ ہے جو ( بداعمال) ہی


 کیوں نہ ہو بادشاہ ہوتا ہے سب سے زیادہ قابل نفرت آدمی وہ ہے جو متکبر (غرور کرنے والا) ہو اور سب سے بڑا مجاہد وہ آدمی ہے جو گناہوں کو ترک کردے سب سے زیادہ فرزانہ آدمی وہ ہے جو جاہلوں سے گریز کرے سب سے زیادہ سعادت مند آدمی وہ ہے جو مکرم لوگوں کے ساتھ اچھا سلوک رکھے اور سب سے زیادہ عقلمند آدمی وہ ہے جو لوگوں سے زیادہ مدارات کرے سب سے زیادہ تہمت کا مستحق وہ آدمی ہے جو متہم ( تہمت لگانے والے) لوگوں کا ہمنشین ہو اور سب سے بڑا سرکش وہ آدمی ہے جو اسے قتل کرے جس نے کوئی قتل نہ کیا ہو اور اس کو مارے جس نے کسی کو نہ مارا ہو۔ وہ آدمی دوسروں کو معاف کرنے کا زیادہ حق دار ہے جو سزا دینے پر قدرت رکھتا ہو۔ سب سے زیادہ گناہ کا سزا وار وہ ہے جو سامنے تعریف کرے اور پیٹھ پیچھے غیبت کرے سب سے زیادہ ذلیل آدمی وہ ہے جو لوگوں کی اہانت اور بے عزتی کرے اور سب سے زیادہ حزم و احتیاط والا آدمی وہ ہے جو اپنے غصے کو پی جائے سب سے زیادہ با صلاحیت آدمی وہ ہے جو لوگوں کے ساتھ صلح رکھے اور بہترین شخص وہ ہے جس سے دوسرے لوگ نفع حاصل کریں۔

۵ـ          جابر بن عبداﷲ انصاری کہتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نےفرمایا بے شک خدا نےمجھے برگزیدہ کیا اور مجھے رسول(ص) بنایا اور کتابوں کی سردار کتاب مجھ پر نازل کی جب میں ( رسول خدا(ص) )نے عرض کیا اے میرے مالک اے میرے معبود نے موسی(ع) کو فرعون کی طرف بھیجا تو اس نے تجھ سے چاہا کہ اس کے بھائی ہارون(ع) کو اس کےساتھ کردے اور اس کا وزیر بنا دے اور اس کے بازو سے اسے قوت دے میرے مالک تو نے اس کی بات کی تصدیق کی میں بھی میرے مالک میرے معبود تجھ سے خواہش رکھتا ہوں کہ میرے خاندان سے میرے لیے وزیر مقرر کردے اور میرے بازو کو اس کے ذریعے قوی کردے تو خدا  نے علی(ع) کو وزیر اور میرا بھائی بنایا اس کو بہادر کیا اور اس کی ہیبت کو دلِ دشمن میں قرار دیا اور وہ اول بندہ ہے کہ جو مجھ پر ایمان لایا اورمیری تصدیق کی اور وہ اول بندہ ہے کہ جس نے میرے ساتھ یگانہ پرستی( خدائے واحد کی عبادت ) کی میں نے اسے خدا سے مانگا اور خدا نے اس کو مجھے عطا  کیا وہ سید اوصیاء ہے اور اس کا آنا سعادت ہے اس کی اطاعت میں موت شہادت ہے اس کا نام تورات میں میرے نام کےساتھ ہے اس کی زوجہ


 صدیقہ کبریٰ میری بیٹی ہے اور اس کے دو بیٹے اہل بہشت کے سردار ہیں اور یہ دونوں بیٹے میرے ہیں علی(ع) اور یہ دونوں اور باقی امام(ع) خدا  کی حجت ہیں اس کی مخلوق پر پیغمبروں کے بعد۔ اور علی(ع) میری امت میں علم کا دریا ہیں جو کوئی ان کی پیروی کرے گا نجات پائے گا دوزخ سے اور جو کوئی ان کی اقتدار کرے گا  تو یہ اسے صراط مستقیم کی رہبری کریں گے خدا ان سے دوستی رکھنے والے شخص کو بہشت کے علاوہ کہیں اور داخل نہیں کرے گا۔


مجلس نمبر۷

( دس شعبان سنہ۳۶۷ھ)

فضائل شعبان

۱ـ           ابن عباس(رض) کہتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے اس ضمن میں کہ ان کے پاس فضائل شعبان کا مذاکرہ کیا گیا فرمایا شعبان مبارک مہینہ ہے اور یہ میرا مہینہ ہے اور حاملان عرش اس کو ماہ بزرگ شمار کرتے ہیں اور اس کے حق کو پہچانتے ہیں یہ وہ مہینہ ہے کہ اس میں مومنین کے رزق میں اضافہ ہوتا ہے جس طرح ماہ رمضان میں اضافہ ہوتا ہے اور بہشت اس ماہ میں سجائی جاتی ہے اور اس کا نام شعبان اس لیے ہے کہ مومنین کا رزق اس میں منشعب (تقسیم ہونا پھیلایا جانا) ہوتا ہے اور یہ وہ مہینہ ہے کہ اس میں کی گئی ایک نیکی ستر نیکیوں کے برابر ہے اس میں بدی ختم ہوتی اور گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اور نیکی قبول ہوتی ہے خدائے جبار اس میں اپنے بندوں کی احتیاج کرتا ہے اور اس میں روزہ رکھنے والوں اور رات کو جاگنے والوں پر نگاہ رکھتا ہے ( ملائکہ) حاملان عرش اسی مقصد کیلیے قائم ہیں۔ پس علی(ع) بن ابی طالب(ع) اٹھے اور کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان یا رسول اﷲ(ص) اس ماہ کے فضائل ہمارے لیے بیان کریں تاکہ شوق روزہ پیدا ہو اور اس ماہ میں ہماری عبادت میں اضافہ ہو اور رب جلیل کی رضا کے لیے اس ماہ میں کوشش کی جائے، پیغمبر(ص) نےفرمایا جو کوئی پہلی شعبان کو روزہ رکھےگا تو خدا اس کے لیے ستر نیکیاں لکھے گا جو عبادت کے برابر ہیں، جو کوئی دوسرے دن روزہ رکھے گا تو اس کے وہ گناہ جو ہلاک کردینے والے ہیں مٹادیئے جائیں گے جو کوئی تیسرے دن شعبان کا روزے رکھے گا ستر درجہ اس دروازے کے جو یاقوت کے ساتھ بہشت میں مرصع ہے اس کے لیے بلند کرے گا، جو کوئی چوتھی شعبان کا روزہ رکھے گا تو اس کے رزق میں وسعت ہوگی جو کوئی پانچواں دن کا روزہ رکھے گا تو اس کے بندوں میں محبوب ہوگا۔ جو کوئی چھٹے دن کا روزہ رکھے گا تو ستر قسم کی بلائیں اس سے دور کی جائیں گی۔ جو کوئی ساتویں دن کا روزہ رکھے گا تو وہ ابلیس اور اس لشکر سے تمام عمر محفوظ رہے گا، جو کوئی آٹھویں دن کا روزہ رکھے گا تو دنیا سے نہ


 جائے گا جب تک حوض قدس سے نوش نہیں کرلیتا جو کوئی نویں دن کا روزہ رکھے گا تو جس وقت قبر میں منکر نکیر سوالات کرتے ہیں نہیں کریں گے اور وہ مورد لطف ٹھہرایا جائے گا۔ جو کوئی دسویں دن شعبان کا روزہ رکھے گا تو خدا ستر ذراع اس کی قبر کو وسعت دے گا، جو کوئی گیارہویں دن کا روزہ رکھے گا اس کی قبر میں گیارہ چراغ نور کے روشن ہوں گے جو کوئی بارہویں دن کا روزہ رکھے گا اس ماہ میں تو ہر روز نوے ہزار فرشتے اس کی قبر میں اسے دیکھنے کے لیے آتے  رہیں گے یہاں تک کہ صور پھونگا جائے، جو کوئی تیرہویں شعبان کا روزہ رکھے گا تو فرشتے سات آسمانوں کے فرشتے اس کے لیے مغفرت طلب کریں گے جو کوئی چودہویں دن کا رزہ رکھے گا تو جانوروں اور درندوں کو الہام ہوگا کہ اس کے لیے مغفرت طلب کریں یہاں تک جکہ دریا کو مچھلیوں کو بھی اس سے مطلع کیا جائے گا۔ جو کوئی اس ماہ کے پندرہویں دن کا روزہ رکھے گا۔ تو رب العزت اس کو ندا دے گا کہ مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم میں تجھے آتشِ جہنم میں نہیں جلاؤں گا، جو کوئی سولہویں دن کا روزہ رکھے گا تو اس کے لیے آگ کے ستر(۷۰) دریا بجھا دیئے جائیں گے جو کوئی سترہویں دن کا روزہ رکھے گا تو اس پر بہشت کے تمام دروازے کھول دیئے جائیں گے جو کوئی اٹھارہویں دن کا روزہ رکھے گا تو اس پر دوزخ کے دروازے بند کر دیئے جائیں گے جو کوئی انیسویں دن کا روزہ رکھے گا تو ستر ہزار قصرِ بہشت ، در اور یاقوت کے اس کو عطا کیے جائیں گے جو کوئی بیسویں دن کا روزہ رکھے گا تو ستر ہزار بہشت کی حوروں کے ساتھ اس کی تزویج کی جائے گی جو کوئی اکیسویں دن کا روزہ رکھے گا تو فرشتے اس کو مرحبا کہیں گے اور اپنے بالوں کو اس کے ساتھ مس کریںگے جو کوئی بائسویں دن کا روزہ رکھے گا تو سر ہزشارا حلة سندس و استبرق اس کو پہنائے جائیں گے جو کوئی تیئسویں دن کا روزہ رکھے گا تو خدا اسے ایک نوری وسیلہ حرکت عطا کرے گا تاکہ اپنی قبر سے بہشت میں پرواز کرے جو کوئی چوبیسویں دن کا روزہ رکھے گا تو خدا ستر ہزار توحید پرستوں کے لیے اس کی شفاعت قبول کرےگا جو کوئی پچیسویں دن کا روزہ رکھے گا وہ نفاق سے بری ہوگا جو کوئی اس ماہ کے چھبیسویں دن کا روزہ رکھے گا تو خدا اسے پل صراط پر سے گزرنے کا اجازت نامہ عطا کرے گا۔ جو کوئی اس کے ستائیسویں دن کا روزہ رکھے گا تو خدا برائت نامہ دوزخ اس کے لیے لکھ دے گا، جو کوئی اس ماہ


کے اٹھائیسویں دن کا روزہ رکھے گا تو روز قیامت اس کا چہرہ چمکتا ہوگا، اور جو کوئی اس ماہ کے انتیسویں دن کا روزہ رکھے گا تو اسے خدا کے رضوان اکبر کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ اور جو کوئی تیسویں دن ماہ شعبان کا روزہ رکھے گا تو جبرائیل عرش کے سامنے سے اس کو ندا دے گا کہ اے فلاں تم نے اپنے عمل کو مضبوط کر لیا ہے اور جو گناہِ اس سے پہلے تجھ سے ہوئے اس معاف ہوگئے ہیں۔ خدا فرماتا ہے چاہے تیرے گناہ آسمان کے ستاروں، بارش کے قطروں، درختوں کے پتوں، ریگستاں اور خاک کے زروں کے برابر اور ایام دنیا کے برابر ہی کیوں نہ ہوں میں نے وہ سب معاف کردیئے ہیں اور یہ خدا کے لیے کوئی مشکل نہیں ہے اس کے بعد ماہِ رمضان ہے لہذا تم شعبان کا روزہ رکھو، ابن عباس(رض) کہا لوگو! یہ ہے شعبان کے مہینے کی فضیلت۔

۲ـ           اصبغ بن نباتہ کہتے ہیں کہ امیر المومنین(ع) ایک دن منبر کوفہ پر بیٹھے اور فرمایا میں اوصیاء کا سردار ہوں میں وصی سید الانبیاء ہوں۔ میں تمام مسلمانوں کو امام ہوں، میں متقیوں کا پیشوا ہوں، میں تمام عورتوں کی سردار کا شوہر ہوں، میں وہ ہوں جو دائیں ہاتھ میں انگشتری پہنتا ہے، میں وہ ہوں     جو اپنی پیشانی کو خاک پر رکھتا ہے، میں وہ ہوں جس نے دو ہجرتیں کی ہیں اور دو بیعتیں کی ہیں،میں صاحبِ بدر و حنین ہوں میں دو تلواروں سے قتال کرنے والا جہوں، میں دو گھوڑوں پر بیٹھ کر جنگ کرنے والا ہوں، میں وارثِ علم اولین ہوں، میں عالمین پر پیغمبروں کے بعد خدا کی حجت ہوں اور محمد بن عبداﷲ خاتم الانبیاء(ص) ہیں۔ میں ان کا دوست ہوں، مرحوم(رحمت کیا گیا) ہوں اور میرا دشمن ملعون ہے، میں رسول خدا(ص) کا بہت خاص دوست ہوں، رسول خدا(ص) نے فرمایا اے علی(ع)، تیری محبت تقوی و ایمان اور تیری دشمنی کفر و نفاق ہے میں (محمد(ص)) حکمت کو گھر ہوں اور تم (علی(ع)) اس کی چابی ہو وہ شخص جھوٹا ہے جو یہ گمان کرے کہ وہ مجھے دوست رکھتا ہے مگر تیرا دشمن ہے، وصلی اﷲ علی محمد و آلہ الطاہرین۔ ( جناب صدوق(رح) نے اسی دن مجلس کے بعد درج ذیل حدیث کو بیان فرمایا۔)

۳ـ          عبدا لرحمن بن سمرہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اﷲ(ص) مجھے نجات کی رہبری کریں فرمایا اے ابن سمبرہ جس وقت خیالات مختلف اور رائیں متفرق ہوجائیں تو تم علی ابن ابی طالب(ع) کے


ساتھ ہوجانا کیونکہ وہ امام ہے اورمیرے بعد تم پر خلیفہ ہے وہ فاروق ہے جو تشخیص کرتا ہے۔ حق و باطل کے درمیان اور جو کوئی اس سے سوال پوچھے اس کو جواب دیتا ہے جو کوئی اس سے راہنمائی چاہے وہ اس کی راہنمائی کرتا ہے جو کوئی اس  سے حق طلب کرے اس کو دیتا ہے جو کوئی اس سے ہدایت طلب کرے اسے ہدایت ملتی ہے جو بھی اس سے پناہ طلب کرے اس کو پناہ دیتا ہے اور جو کوئی اس سے متمسک ہوتا ہے اس کو نجات دیتا ہے جو کوئی اس کی اقتدا کرتا ہے اس کی رہبری کرتا ہے، اے بن سمرہ وہ سلامت رہا جس نے اس کو تسلیم کیا اور اس کو دوست کرکھا اور وہ ہلاک ہوا جس نے اس کورد کیا اور اسے دشمن رکھا اے ابن سمرہ بیشک علی(ع) مجھ سے ہے اس کی روح میری روح ہے اس کی طینت میری طینت سے ہے وہ میرا بھائی ہے میں اس کا بھائی ہوں وہ میری دختر فاطمہ(س) جو تمام عالمین کی عورتوں کی سردار ہے( جو اولین و آخرین میں سے ہیں) کا شوہر ہے اس کے دو بیٹے میری امت کے امام ہیں یہ دونوں جوانان بہشت کےسردار ہیں او وہ حسن(ع) و حسین(ع) ہیں اور نو(۹) امام حسین(ع) کے فرزندوں سے ہیں کہ ان کا نواں قائم ہے جو میری امت اور زمین کو عدل و اںصاف سے پر کردے گا جیسا کہ اس سے پہلے ظلم و جور سے پر ہوچکی ہوگی۔


مجلس نمبر ۸

(۱۴ شعبان سنہ۳۶۷ھ)

۱ـ           علی بن فضال اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ علی بن موسیٰ رضا(ع) سے نیمہ شعبان کی رات کے بارے میں پوچھا تو فرمایا یہ وہ رات ہے کہ اس میں خدا لوگوں کی گردنوں کو دوزخ سے آزاد کرتا ہے اور گناہانِ کبیرہ کو معاف کرتا ہے میں نے کہا کیا دوسری راتوں کی طرح اس رات کی بھی عبادت ہے فرمایا اس میں کوئی وظیفہ نہیں لیکن اگر چاہو تو نافلہ پڑھ لو اور خدا کا ذکر اس رات زیادہ سے زیادہ کرو اور نمازِ جعفر بن ابی طالب(ع) پڑھو۔ زیادہ سے زیادہ استغفار کرو اور دعا مانگو کیونکہ میرے والد(ع) نے مجھ سے فرمایا کہ اس رات میں دعا مستجاب ہوتی  ہے  میں نے امام(ع) سے پوچھا کہ لوگ کہتے ہیں یہ رات شب برات ہے فرمایا یہ رات شب قدر کی رات کی طرح ہے جو ماہ رمضان میں ہے۔

۲ـ           امام صادق(ع) نے اپنے آباء(ع) سے روایت کیا ہے کہ امیرالمومنین(ع) نے فرمایا تمام خیر تین خصلتوں میں جمع ہے نظر میں سکوت میں (خاموشی میں) اور کلام میں ہر وہ نظر جو سبق حاصل کرنے کے لیے نہ ہو وہ سہو ہے ہر وہ خاموشی جس میں غور و فکر نہ ہو غفلت ہے اور ہر وہ کلام جس میں ذکر خدا نہیں ہے وہ لغو ہے خوش قسمت ہے وہ آدمی جس کی نظر عبرت جس کی خاموشی غور و فکر اور جس کا کلام ذکر الہی ہو اور وہ اپنی خطا پر گریہ کرے اور لوگ اس کے شر سے محفوظ رہیں۔

زہد یحیٰ(ع)

۳ـ          عبداﷲ بن عمر کہتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا زہدِ یحی بن زکریا(ع) اس درجہ بڑھا ہوا تھاکہ ایک دن بیت المقدس میں آئے تو وہاں عالموںاور رہبوںکو دیکھا کہ اون کے پیراہن پہنے ہوئے اون کی ٹوپیاں سر پر رکھے ہوئے اور اپنے گلے میں زنجیریں ڈال کر مسجد کے ستونوں سے خود کو باندھے ہوئے ہیں یحیی(ع) نے جب اس حال میں ان کو دیکھا تو اپنی والدہ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ مجھے بھی بالوں والا پیراہن اور پشم کی ٹوپی بنادیں تاکہ بیت المقدس میں جاکر خدا کی عبادت


زاہدوں اور راہبوں کے ساتھ کروں والدہ نے کہا ٹھہرو تمہارے والد پیغبر خدا آجائیں تو ان سے مشورہ کروںگی جب حضرت زکریا(ع) گھر آئے تو مادرِ یحییٰ نے ان کی بات کو ان کے سامنے پیش کیا زکریا(ع) نے فرمایا میرے پیارے بیٹے تم ابھی بہت چھوٹے ہو کہ اس کام کو کرو۔

یحیی(ع) نے کہا بابا جان کیا آپ نےمجھے سے بہت کم عمر بچوں کو نہیں دیکھا کہ جن کو موت نے لے لیا ہے حضرت زکریا(ع) نے کہاہاں دیکھا ہے پھر ان کی والدہ سے کہا تم ان کو بالوں والا پیراہن اور پشم کی ٹوپی بنا دو ان کی والدہ نے یہ چیزوں بناکر انہیں دیں حضرت یحیی(ع) بالوں والا پیراہن اور پشم کی ٹوپی پہن کر بیت المقدس میں عبادت کرنے والوں کےساتھ عبادت میں مغشول ہو گئے یہاں تک کہ بالوں کے موٹے پیراہن نے آپ کے جسم مبارک کو گھلا دیا ایک دن حضرت(ع) نے اپنے بدن کی طرف نگاہ کی تو دیکھا کہ ان کا جسم بہت لاغر اور کمزور ہوگیا ہے تو رونے لگے تب خدا نے وحی کی اے یحیی(ع) کیا بدن کی کمزوری پر روتے ہو میں اپنی عزت وجلال کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر جہنم کو ایک بار دیکھ لو تو لوہے کا پیراہن لوگے یہ سن کر حضرت یحیی(ع) اس قدر روئے کہ آپ کے رخسار مجروح ہوگئے یہاں تک کہ دندان مبارک دکھائی دینے لگے جب یہ خبر ان کی والدہ کو پہنچی تو ان کو دیکھنے کے لیے گئیں جبکہ زکریا(ع) زاہدوں اور راہبوں کے پاس آئے اوریحییٰ(ع) کو خبر دی کہ آپ کا چہرہ بے حد زخمی ہے یحیی(ع) نے کہا مجھے اس کی خبر نہیں زکریا(ع) نےکہا اے میرے بیٹے کیوں اتنی مشقت کرتے ہوبے شک میں نے تیرے پیدا ہونے کی خدا سے دعا کی تھی کہ وہ مجھے اولاد صالح عطا کرے جو میرے لیے راحت اور مسرت کا سبب ہو۔ یحییٰ(ع) نے کہا بابا جان آپ نے خود ہی تو مجھے اس کا حکم دیا ہے زکریا(ع) نےکہا میں نے اس طرح کرنے کو کب تھا یحیی(ع) نے کہا آپ نے یہ نہیں کہا تھا کہ بہشت اور دوزخ کے درمیان ایک گھاٹی ہے جس سے کوئی بھی نہ گزرسکے گا مگروہ کہ جو خوفِ خدا سے بہت زیادہ ہو۔ کہا ہاں میں نے یہ کہا تھا اے فرزند کہ سعی وکوشش کر خدا کی بندگی میں کیوںکہ تجھے کسی دوسرے امر کے واسطے پیدا کیا گیا ہے یحییٰ(ع) اٹھے اور اپنے پیراہن کو اتار دیا ان کی والدہ نے ان کو آغوش میں لیا اور کہا اے فرزند میں تمہارے دونمدے کے ٹکڑے بنا دوں کہ تم اپنے دونوں رخساروں پر رکھو جس سے تمہارے دانت چھپ جا ئیں اور وہ تمہارے


آنسوؤں کو بھی جذب کر لیں یحییٰ(ع) نے کہا جو آپ بہتر سمجھیں تو ان کی والدہ نے دوٹکڑے بنا دیئے اور ان کی گالوں پر رکھ دیئے تھوری ہی دیر میں وہ نمدے ان کے آنسوؤں سے تر ہو گئے کہ ان کے نچوڑنےسے ان کی انگلیوں پر پانی جاری ہوگیا یہ حال زکریا(ع) نے دیکھا تو گریہ کناں ہوئے اور آسمان کی جانب چہرہ کر کے کہا اے خدایا یہ میرا فرزند ہے اور یہ اس کے آنسو ہیں اور تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔

زکریا(ع) جب چاہتے کہ بنی اسرائیل کو وعظ و نصیحت کریں تو دائیں بائیں نظر کرتے اگر یحییٰ(ع) موجود ہوتے تو بہشت دوزخ کا نام نہ لیتے تھے۔ ایک دن زکریا(ع) نے خطبہ دیا جبکہ یحییٰ(ع) موجود نہ تھے آپ نے واعظ شروع کیا تو حضرت یحیی(ع) مجمع میں آئےسر لپیٹے ہوئے اور لوگوں کے درمیان بیٹھ گئے زکریا(ع) نے دائیں بائیں دیکھا اور کہنے لگے مجھے میرے حبیب جبرائیل(ع) نے یہ خبر دی کہ خدا فرماتا ہے جہنم میں ایک پہاڑ ہے جس کو سکران کہتے ہیں اور اس پہاڑ کے نیچے ایک وادی ہے جس کو غضبان کہتے ہیں کیونکہ وہ قہر و غضب خدا کے سبب سے جلائی گئی ہے اس وادی میں ایک کنواں ہے جس گہرائی سوسال کی راہ کے برابر ہے اس میں آگ کے بہت سے تابوت ہیں ان تابوتوں میں آگ کے بہت سے صندوق ہیں اور آگ کے لباس اور طوق و زنجیریں ہیں۔ یحیی(ع) نے سنا تھا سراٹھایا اور فریاد کی”واغفلنا“ کہ ہم کس قدر غافل ہیں پھر اٹھے اور دیوانہ وار بیابان کی طرف رخ کر گئے زکریا(ع) مجلس سے اٹھ کر یحیی(ع) کی والدہ کے پاس آئے اورکہا یحیی(ع) کے پیچھے جاؤ اور اسے تلاش کرو میں ڈرتا ہوں کہ اب اسے زندہ نہ دیکھوں گا ان کی والدہ اٹھیں اور ان کی تلاش میں نکلیں اور بنی اسرائیل کی ایک جماعت کے پاس پہنچیں ان لوگوں نے پوچھا آپ کہاں جارہی ہیں کہا میں یحیی(ع) کی تلاش میں جارہی ہوں کہ انہوں نے جہنم کی آگ کا تذکرہ سن لیا ہے اور خوف سے بیابان کی طرف چلے گئے ہیں وہ جوان انکی والدہ کے ہمراہ چل پڑے یہاں تک کہ ایک چروا ہے سے ملاقات ہوئی اسے ان کا حلیہ اور علامات بتائی گئیں تو اس نے کہا ہاں آپ کو شاید یحیی(ع) کی تلاش ہے فرمایا ہاں وہ میرا بیٹا ہے اس کے سامنے دوزخ کا ذکر ہوا ہے اور وہ صحرا کی طرف آیا ہے چروا ہے نے کہا کہ میں نے انہیں فلاں جگہ پر اس حال دیکھا کہ ان کا تمام بدن آنسوؤں میں


 ڈوبا ہوا ہے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھا کر کہتے ہیں اے میرے مالک تیری عزت وجلال کی قسم میں اس وقت تک ٹھنڈا پانی نہ پیئوں جب تک اپنی قدر ومنزلت اور اپنے مقام کو تیرے نزدیک نہ دیکھ لوں ان کی والدہ یہ سن کر ان کے پاس پہنچیں جب ان کی نگاہ ماں پر پڑی اور ان کو دیکھا تو خود کو ان تک پہنچایا ان کی والدہ نے انہیں اپنے سینے سے لگایا اور قسم دے کر گھر چلیں یحیی(ع)  لباس بدل کر لیٹ گئے اور انھیں نیند آگئی یہاں تک کہ نماز کا وقت آگیا اور بیدار نہ ہوئے خواب میں ان کو یہ آواز آئی ”اے یحییٰ“ بن زکریا(ع) کیا میرے گھر سے بہتر کوئی اور گھر ہے یا مجھ سے بہتر کوئی ہمسایہ چاہتے ہو“ یہ سن کر نیند سے بے دار ہوئے اور کہا اے میرے معبود مجھ پر نفرین ہے مجھے در گزر فرما۔ تیری عزت کی قسم تیرے بیت المقدس کے سایہ کےعلاوہ میں کوئی اور سایہ نہیں چاہتا پھر والدہ سے کہا میرے بالوں کے موٹے کپڑے لا دیں ان کی والدہ نے کپڑے تو دے دیئے مگر حضرت(ع) سے لپٹ گئیں اور باہر جانے سے روکنے لگیں حضرت زکریا(ع) نے کہا اس کو چھوڑ دو کیونکہ اس کے دل کے پردے کھول دیئے گئے ہیں یہ دنیاوی راحت و آرام سے فائدہ نہیں حاصل کرسکتا۔ یحیی(ع) اٹھے اور اپنے کپڑے بدلے اور بیت المقدس میں جاکر زاہدوں اور راہبوں کےساتھ عبادت میں مشغول ہوگئے یہاں تک کہ شہید ہوگئے۔

۴ـ          ابن عباس(ع) کہتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا اے لوگو کون ہے جو خدا سے صحیح واحسن اور سچ بات کرنے والا ہے اے لوگو بے شک تمہارے رب جل جلالہ، نے مجھے حکم دیا ہے کہ علی(ع) کو علم دے کر تمہارا امام اور خلیفہ اور اپنا وصی بنادوں اور اس کو اپنا بھائی اور وزیر مقرر کروں اے لوگوں! بے شک علی(ع) میرے بعد بابِ ہدایت ہے اور میرے رب کی طرف بلانے والا ہے وہ صالح المومنین ہے کون ہے اپنے قول میں بہتر اس بندے سے کہ جو خدا کی طرف بلانے والا ہے اور عملِ صالح بجالاتا ہے اور کہتا ہے کہ بے شک میں مسلمانوں میں سے ہوں،اے لوگو! بیشک علی(ع) مجھ سے ہے اور اس کے فرزند میرے فرزند ہیں اور وہ میری حبیبہ(ع) کا شوہر ہے اس کا فرمان میرا فرمان ہے۔ اس کی نہی میری نہی ہے اس کی مصیبت (نافرمانی) میری معصیت ہے اے گروہ انس بیشک علی(ع) اس امت کا


 صدیق ہے اس امت کا فاروق ہے اس امت کا محدث ہے وہ ہارون(ع) و آصف(ع) وشمعون(ع) ہے اور باب حطہ ہے وہ کشتی نجات ہے وہ طالوت(ع) و ذوالقرنیں(ع) ہے اے لوگو!وہ وسیلہء آزمایشِ بشر ہے وہ حجت عظمی اور آیت کبری ہے وہ امام اہل دنیا اور عروہ الوثقی ہے اے لوگو! علی(ع) حق کے ساتھ اور حق علی(ع) کے ساتھ ہے اور یہ اسکی زبان سے جاری ہوتا ہے اے لوگو! علی(ع) دوزخ کو تقسیم کرنے والے ہیں ان کا محب دوزخ میں داخل نہیں ہوگا اور ان کا دشمن اس سے نجات نہیں پائے گا وہ بہشت کے تقسیم کرنے والے ہیں ان کا دشمن اس میں داخل نہیں ہوگا اور اس کا دوست اس سے محروم نہیں ہوگا اے میرے اصحاب بے شک میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں اور اپنے پروردگار کی رسالت تم تک پہنچاتا ہوں لیکن تم نصیحت کرنے والے کو دوست نہیں رکھتے ہو۔ میں تم سے کہتا ہوں کہ اﷲ سے مغفرت طلب کرو اور میں بھی مغفرت طلب کرتا ہوں۔


مجلس نمبر۹

( سولہ شعبان سنہ۳۶۷ھ)

۱ـ           جنابِ امیرالمومنین(ع) نے فرمایا سخی اس دنیا میں اور متقی آخرت میں لوگوں کے سردار ہیں۔

۲ـ           رسول خدا(ص) نے فرمایا اﷲ کی طرف سے مومن پر مومن کے سات حق واجب کئے گئے اور ان کے بارے میں خدا سوال کرے گا (۱) اپنی نظر میں احترام کرنا۔(۲) اپنے سینے (قلب) میں اس سے محبت کرنا۔(۳) اپنے مال میں اس کی مواسات کرنا۔(۴) جو اپنے لیے پسند ہو اس کےلیے بھی وہی کچھ پسند کرنا۔(۵) اس کی غیبت کو حرام سمجھنا۔(۶) بیماری میںاس کی عیادتکرنا (۷) تشیع جنازہ کرنا اور اس کی موت کے بعد اس کے متعلق اچھائی کے سوا کچھ نہ کہنا۔

۳ـ          رسول خدا(ص) نے فرمایا علی ابن ابی طالب(ع) کی ولایت خدا کی ولایت ہے اس کی دوستی خدا کی دوستی ہے اس کی پیروی خدا کا فریضہ ہے  اس کا دوست خدا کا دوست ہے اور اس کا دشمن خدا کا دشمن ہے اس کے ساتھ جنگ کرنا خدا کے ساتھ جنگ کرنا ہے اور اس کے ساتھ حرب خدا کے ساتھ حرب کرنا ہے اور اس کو سلام کرنا خدا کو سلام کرنا ہے۔

۴ـ          سلیمان بن جعفر جعفری کہتے ہیں کہ جنابِ موسی بن جعفر(ع) نے فرمایا کہ میرے والد(ع) نے اپنے والد(ع) سے انہوں نے اپنے والد(ع) سے انہوں نے سید عابدین علی بن حسین(ع) سے اور انہوں نے سید الشہدا حسین بن علی ابی طالب(ع) سے روایت کہ امیرالمومنین علی بن ابی طالب(ع) ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو بے ھودہ اور فضول باتیں کر رہا تھا آپ ٹھہرے اور فرمایا اے فلاں یہ کیا عمل ہے جو تم انجام دے  رہے ہو؟۔۔۔۔

بیشک تم جو اعمال و افعال انجام دیتے ہو تمہارے دونوں محافظ فرشتے اسکے نامہ بر ہیں لہذا خداوند کا ذکر کرو تاکہ تمہیں فائدہ ہو اور تم بے فائدہ بات سے رک جاؤ۔


جناب سلمان(رض) کا زندگی بھر کا روزہ

۵ـ          ابو بصیر کہتے ہیں  میں نے امام صادق(ع) سے سنا کہ انہوں نے اپنے آباؤ(ع) سے روایت کیا کہ ایک دن رسول خدا(ص) نے اپنے اصحاب سے فرمایا۔ تم میں کون ہے جو تمام عمر روزہ رکھتا ہو سلمان نے عرض کیا میں ہوں یا رسول اﷲ(ص) پھر فرمایا تم میں کون ہے جو ہمیشہ سے شب زندہ دار ( راتوں کو جاگ کے عبادت کرتا) ہے سلمان(رض) نے کہا میں ہوں یا رسول اﷲ(ص)  پھر فرمایا تم میں سے کون ہے۔ جو ہر روز ایک قرآن ختم کرتا ہو سلمان نے عرض کیا میں ہوں یا رسول اﷲ(ص) ایک صحابی نے اس بات سے غصہ کیا اور کہا یا رسول اﷲ(ص) یہ سلمان جو فارسی(عجمی) ہے چاہتا ہے کہ ہم قریشیوں پر فخر کرے آپ(ص) نے فرمایا ہے کہ تم میں کون ہے جو اپنی عمر بھر کا روزہ رکھے ہوتے ہیں میں نے اسے اکثر دن کے وقت دیکھا ہے کہ روزے سے نہ تھا  کھاناکھاتا تھا پھر آپ(ص) نے فرمایا کہ تم میں سے کون ہے جو عمر بھر سے شب زندہ دار ہے میں نے اسے اکثر دیکھا کہ راتوں کو سویا ہوتا ہے پھر آپ(ص) نے فرمایا تم میں سے کون ہے جو ہر روز ایک قرآن ختم کرتا ہے جبکہ میں نے اکثر دیکھا کہ اس نے دن میں تلاوت نہیں کی پیغمبر(ص) نے فرمایا خاموش ہو جاؤ۔ تمہیں کیا معلوم کہ لقمان حکیم کی منزلت کیا ہے۔ سلمان کی مثال لقمان جیسی ہے۔ تم اپنے سوالات خود سلمان(رض) سے پوچھ لو۔اس شخص نےسلمان(رض) سے کہا اے ابو عبداﷲ کیا تم نے نہیں کہا کہ تم عمر بھر سے روزہ رکھے ہوئے ہو۔ جناب سلمان نے فرمایا درست ہے مگر جس طرح تو نے گمان کیا ہے ویسے نہیں میں ہر ماہ تین دن روزہ رکھتا ہوں۔ اور خدا فرماتا ہے جوکوئی ایک نیکی کرتا ہے میں اس کو دس گنا ثواب عطا کرتا ہوں۔ مزید نہ کہ میں ماہ شعبان کے بھی روزرے رکھتا ہوں اور ماہ رمضان سے اس کو ملا دیتا ہوں اور یہ  روزے پوری زندگی کے روزے بنتے ہیں اس شخص نے کہا کہ اے سلمان کیا تو یہ دعوی نہیں کرتا کہ تمام رات عبادت میں مشغول رہتا ہے جناب سلمان(رض) نے فرمایا ہاں مگر جیسے تو قیاس کررہا ہے ویسے نہیں۔ میں رسول خدا(ص) کا دوست ہوں اور میں نے ان سے یہ سنا ہے کہ جو شخص باوضو سوتا ہے اس نے گویا تمام رات عبادت میں گزاری اور ہمیشہ با وضو سوتا ہوں۔ اس شخص نے کہا اے سلمان کیا تو یہ نہیں کہتا کہ میں روزانہ ایک


 قرآن ختم کرتا ہوں جنابِ سلمان نے فرمایا کیوں نہیں مگر جس طرح تو سوچ رہاہے اس طرح نہیں میں نے اپنے دوست رسول خدا(ص) کو علی(ع) سے کہتے ہوئے سنا ہے کہ ” اے علی (ع) تیری مثال اس امت میں قل ہو اﷲ کی طرح ہے جوکوئی اسے ایک مرتبہ پڑھے گویا اس  نے قرآن کا ایک ثلث پڑھا جو دو مرتبہ پڑھے اس نے دو تہائی قرآن پڑھا اور جو تین دفعہ پڑھے گویا اس نے تمام قرآن ختم کیا۔ اے ابوالحسن(ع) جو شخص تہمیںزبان سے دوست رکھتا ہے اسے دو تہائی ایمان ملتاہے اور جو شخص دل و زبان سے تمہیں دوست رکھے اوراپنے ہاتھوں سے تیری مدد کرے۔اس کا ایمان کامل ہوتا ہے۔ اے علی(ع) مجھے اس خدا کیقسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔ اگر حاملانِ زمین بھی تمہیں اسی طرح دوست رکھتے جس طرح عرش والے رکھتے ہیں تو خدا کسی کو جہنم میں نہ ڈالتا“ لہذا اے بندے میں ( سلمان) ہر روز تین بار قل ہو اﷲ پڑھتا ہوں اور علی(ع) کو ہر طرح سے دوست رکھتا ہوں۔ یہ سن کر اعتراض کرنے والا ایسے خاموش ہوگیا۔ جیسے اس کے منہ میں پتھر بھر گیا ہو۔

۶ـ           امام صادق(ع) نے اپنے آباء سے روایت کیا کہ امیرالمومنین(ع) نے فرمایا۔ فقہاء اور حکما کا یہ طریقہ رہا ہے ک اپنی نگارشات کے لیے تین چیزوں کے علاوہ کچھ نہ لکھتے تھے۔

۱ـ           جو کوئی خود کو اپنی آخرت کے لیے وقف کردے تو خدا بھی دنیا میں اس کی کفالت کرے گا۔

۲ـ           جو کوئی اپنے وطن کی اصلاح کرتے تو خدا اس کے ظاہر کی اصلاح کرے گا۔

۳ـ          جو کوئی اپنے اور خدا کے درمیان اصلاح کرے گا تو خدا اس کے اورخلق کے درمیان اصلاح کرے گا۔

۷ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا موت کے بعد اجر کسی کے پیچھے نہیں جاتا مگر یہ کہ تین عمل کیئے ہوں۔ (۱) صدقہ جاریہ (۲) ہدایت کا طریقہ اپنایا ہو اور اس کی موت کے بعد اس پر عمل ہورہا ہو۔(۳) فرزند صالح جو کہ اس کے لیے مغفرت طلب کرتا ہو۔

۸ـ          ابوالحسن اسدی کہتے ہیں امام صادق(ع) نے مجھے خبر دی ہے کہ خدا کےہاں ایک جگہ ہے جس کا نام متقمہ ہے جہاں مرنے کے بعد اس شخص کو چھوڑ دیا جاتا ہے کہ جس کو خدا مال و دولت دے


 اور وہ اس مال کو خدا کی راہ میں خرچ کرنے سے ہاتھ روک لے۔

جناب علی(ع) کی فضیلت

۹ـ           نعمان بن سعد کہتے ہیں امیرالمومنین (ع) نے فرمایا میں حجت اﷲ ، خلیفہ اﷲ، باب اﷲ ہوں میں خزانہ دار علم خدا ہوں اور میں امین راز ہوں میں امام خلق ہوں اور نبی رحمت (ص) کے بعد بہترین بندہ ہوں۔

۱۰ـ          امیرالمومنین(ع) نے فرمایا میں مسجد قبا میں خدمت پیغمبر(ص) میں حاضر ہوا تو کچھ اصحاب آپ(ص) کے پاس بیٹھے تھے جب آپ(ص) نے مجھے دیکھا تو آپ(ص) کا چہرہ خوشی سے تاباںہوگیا اور آپ(ص) کے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی آپ(ص) کےدانتوںکی سفیدی مثل برق نظر آتی تھی پھر آپ(ص) نے فرمایا اے علی(ع) میرے نزدیک تشریف لاؤ پھر مجھے اس  قدر نزدیک کیا کہ میری ران آپ کی ران سے مس ہوگئی پھر اپنے اصحاب کی طرف چہرہ کر کے فرمایا اے میرے اصحاب میرے بھائی علی(ع) کا اس وقت یہاں آنا ایسا ہے جیسے رحمت خداوندی نے ادھر رخ کیا ہے بیشک علی(ع) مجھ سے ہے اور میں علی(ع) سے ہوں اس کی جان میری جان سے ہے اس کی طینت میری طینت سے ہے یہ میرا بھائی اور میرا وصی وخلیفہ ہے میری زندگی میں بھی اور میری موت کے بعد بھی لہذا جو کوئی اس کا حکم مانے اس نے میرا حکم مانا جو اس سے موافقت کرے اس نےمجھ سے موافقت کی اور جس نے اس کی مخالفت کی اس نے میری مخالفت کی۔

۱۱ـ           ابن عباس کہتے ہیںکہ رسول خدا(ص) نےفرمایا۔جو  کوئی خواہش رکھتا ہو کہ میری زندگی کی مانند زندگی گزارے (ایمان کامل کے ساتھ) اور جب موت آئے تو میری موت کی مانند اور جنت عدن میں میرے مقام پر آئے ( میرا ہمسایہ ہو) تو اسے چاہئے کہ خدا کی قضاء کے ساتھ تمسک رکھے علی ابن ابی طالب(ع) کو دوست رکھے اور اس کے فرزندوں (ائمہ(ع)) اور اس کے اوصیاء کی پیروی کرئے کیونکہ وہ میری عترت ہیں اور میری طینت سے پیدا کیئے گئے ہیں۔ میں ان کے دشمنوں کی شکایت خدا سے کرتا ہوں۔ کیوں کہ وہ ان (ائمہ(ع)) کے منکر ہیں اور ان (ائمہ(ع)) سے صلہ رحمی نہیں کرتے خدا کی قسم میرے کے بعد میرا فرزند حسین(ع) شہید کیا جائے گا اور خدا اس کے قاتلوں سے میری شفاعت کو ہٹائے ہوئے ہے۔


مجلس نمبر۱۰

( بیس شعبان سنہ۳۶۷ھ)

۱ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا جب آدمی چالیس سال کا ہوجاتا ہے تو خدا اپنےفرشتوں کو وحی کرتا ہے کہ میں نے اپنے اس بندے کو جو یہ عمر دی ہے اس نے مشکل سے گزاری ہے۔ اس کا خیال رکھو اور اس کے تمام چھوٹے بڑے اعمال درج کرتے رہو امام صادق(ع) سے جب اس آیت کی تفسیر کا پوچھا  گیا کہ ” آیا میں نے تم کو عمر نہ دی تھی کہ تم اس سے نصیحت حاصل کرو اور متذکر رہو“ ( فاطر، ۳۱) تو آپ نے فرمایا سرزنش بالغ کے لیے ہے۔

۲ـ           خالد قلانسی کہتے ہیں۔ امام صادق(ع) نے فرمایا کہ جب کسی بوڑھے آدمی کو روز قیامت حساب کے لیے لایا جائے گا اور اس کا نامہ اعمال کہ جس کاظاہر بدی کے سوا کچھ نہ ہوگا دیا جائے گا تو وہ شخص ناگواری محسوس کرے گا اور فریاد کرے گا کہ اے خدا میرے اس نامہ اعمال کی وجہ سے مجھے دوزخ میں جلد بھیج تاکہ میں یہاں سے جلد فارغ ہوجاؤں تب خداوند عالم اس پر رحم کرے گا اور کہے گا کہ اے بوڑھے شخص میں تیری نمازوں کی وجہ سے تجھے معاف کرتا ہوں اور حکم دے گا کہ اس کو بہشت میں لے جاؤ۔

۳ـ          انس بن مالک کہتے ہیں رسول خدا(ص) نے فرمایا ایسا مومن جب مرجائے کہ جس کے علم کی باتیں ایک ورق پر لکھی ہوں تو وہ کاغذ روز قیامت اس کے اور دوزخ کے درمیان ایک پردہ کی طرح حائل ہوجائے گا۔ اور خدا اس کے لکھے ہوئے ورق کے ایک لفظ کے بدلے اس کا ایک شہر عطا کرے گا جس کی وسعت سات دنیاؤں کے برابر ہوگی اور جو مومن ایک ساعت کے لیے کسی عالم کے پاس بیٹھ کر فیض پائے گا تو اس  کا پروردگار اسے ندا دے گا کہ اے فلاں تم میرے حبیب(ص) کے پاس جاکر بیٹھو مجھے میرے عزت و جلال کی قسم تجھے اس کے ساتھ بہشت میں ساکن کروںگا  اور یہ میرے لیے کچھ مشکل نہیں۔

۴ـ          یونس بن ظبیان کہتے ہیں کہ امام صادق(ع) نے فرمایا، لوگ تین وجوہات کی بنا پر خدا کی


 عبادت کرتےہیں۔ (اول) ایک طبقہ رغبتِ ثواب کی خاطر عبادت کرتا ہے اور یہ عبادت لالچ کی عبادت ہے۔ (دویم) طمع کے لالچ میں یعنی جنت کے لیے اور یہ تجارتی عبادت ہے (سوئم) دوزخ کے خوف کی عبادت ہے۔ مگر میں اس کی عبادت اس لیے کرتا ہوں کہ وہ لائق عبادت ہے یہ عبادت کریمانہ عبادت ہے۔ اور قول خدا یہ ہے کہ ” اگر تم چاہتے ہو کہ خدا تم سے محبت کرے تو تم  اس کی پیروی کرو وہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہوں کو معاف کرے گا۔“ اور جو کوئی بھی خدا سے محبت کرتا ہے تو خدا بھی اس کا جواب اسی طرح دیتا ہے اور جان لو کہ جس سے خدا محبت کرتا ہے وی امن میں ہے۔

۵ـ          امام صادق(ع) نےفرمایا کہ مومن کے لیے خداکی یہی مدد کافی ےکہ جب بھی وہ (مومن) اپنے دشمن کو دیکھتا ہے تو اس کو خدا کی نافرمانی میں مصروف پاتا ہے۔

۶ـ           اصبغ بن نباتہ کہتے ہیں کہ امیرالمومنین(ع) نےفرمایا میں رسول خدا(ص) کا خلیفہ ہوں ان کا وزیر اور ان کا وارث ہوںمیں رسول خدا(ص) کا بھائی ان کا وصی اور ان کا حبیب ہوں میں رسول اﷲ(ص) کا برگزیدہ نفس ہوں میں رسول خدا(ص) کا چچا زاد بھائی، ان کی بیٹی کا شوہر ان کے فرزندوں کا باپ ہوں میں سید اوصاء ہوں اور وصی سید انبیاء(ص) ہوں میں حجت عظمی و آیت کبری و مثل بابِ پیغمبر مصطفی ہوں میں عروة الوثقی اور کلمة تقوی ہوں میں امین خدا اور اہل دنیا پ رحجت خدا ہوں۔

۷ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جب فاسق اپنےفسق کو ظاہر کرے دے تو پھر اس کی کوئی حرمت نہیں اور نہ ہی اس کی غیبت ہے۔ (یعنی اس فاسق کے فسق کے بارے گفتگو غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گی)۔

۸ـ          طلحہ بن زید کہتے ہیں امام صادق(ع) نے اپنے آباء سے روایت کیا کہ رسول خدا(ص) نےفرمایا کہ جبرائیل خدائے جلیل کی طرف سے میرے پاس آئے اور کہا اےمحمد خدا جل جلالہ تم کو سلام کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ اپنے بھائی علی(ع) کو خوشخبری دے دو کہ جو کوئی اس کو دوست رکھتا ہے ین اس کو عذاب نہ دوں گا اور جو کوئی اس کو دشمن رکھتا ہے میں اس پر رحم نہیں کروں گا۔

۹ـ           رسول خدا(ص) نے فرمایا روزِ قیامت جب تک بندہ ان چار سوالات کے جوابات نہ دے


 گا اس وقت تک وہ اپنے قدم نہیں اٹھائے گا (۱) عمر کے متعلق کہ اس کو کہاں فنا کیا۔(۲) جوانی کے متعلق کہ یہ کیسے گزاری (۳) مال کے متعلق کہ کہاں سے حاصل کیا اور کہاں خرچ کیا (۴) اور محبت اہل بیت(ع) کے متعلق پوچھا جائے گا۔

۱۰ـ          حضرت عائشہ کہتی ہیں میں رسول خدا(ص) کے پاس تھی کہ علی ابن ابی طالب(ع) آئے اور آںحضرت(ص) نے فرمایا یہ عرب کا سید ہے میں نے کہا  آپ عرب کے سید نہیں ہیں؟ فرمایا میں سید اولادِ آدم ہوں اور علی(ع) سید عرب ہے میں (عائشہ) نے کہا کہ آپ کی اس جگہ سید کیا مراد ہے تو آپ(ص) نے فرمایا کہ جس طرح میری فرض ہے کہ اسی طرح اس کی اطاعت بھی فرض ہے۔

۱۱ـ           معمر کہتے ہیں میں امام جعفر صادق(ع) کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا کہ زید ” زید علی(ع) بن حسین(ع) آئے اور لکڑی کے دروازے کے دونوں پٹ پکڑ کر کھڑے ہوگئے امام صادق(ع) نےفرمایا ۔میرے چچا میں تجھے خدا کی پناہ میں دیتا ہوں کہ تمہیں اسی دار پر لٹکایا جائے گا زید کی ماں نے ان سے کہا خدا کی قسم تیری اس بات میں حسد ہے جو تونے میرے بیٹے کےبارے میں کہی ہے۔ امام صادق(ع) نے فرمایا کاش حسد ہوتا کاش حسد ہوتا کاش حسد ہوتا پھر فرمایا میرے والد(ع) نے میرے دادا(ع) سے یہ روایت کی ہے کہ ان کی اولاد سے زید نامی خروج کرے گا کوفہ میں قتل ہوگا اور دار پر لٹکایا جائے گا اسے قبر سے نکال لیا جائے گا اور اس کی روح کےلیے آسمان کے دروازے کھل جائیں گے اہل آسمان اس سے خوش ہوجائیں گے اور اس کی  روح کو جنت کے ایک طائر ( پرندے) میں ڈال دیا جائے گا تاکہ بہشت میں ہر جگہ آزادنہ آجاسکے۔

۱۲ـ          جابر جعفی کہتے ہیں کہ میں ابو جعفر محمد بن علی(ع) کی خدمت میں حاضر ہوتو آپ کا بھائی زید(رح) آپ کی خدمت میں موجود تھا پھر معروف بن خربوز مکی بھی وہاں حاضر ہو امام پنجم ابوجعفر(ع) نے فرمایا اے معروف جو شعر تمہارے پاس ہیں انہیں میرے لیے بیان کرو تو معروف نے یہ قطعہ بیان کیا۔

ابو مالک تیری جان ناتواں نہیں ہے۔ ضعیفی و سستی دوسروں کی طرح نہیں ہے اس کے


 قول میں عناد نہیں ہے۔ اس کی حکمت سے دشمنی نہ کر جب وہ منع کردے ۔ لیکن وہ سید بارک ہے بلند طبیعت رکھنے والا اور شیرین خرد، وہ حاکم ہے اس کا فرمان تیرے لیے ہے۔ وہ تیرے ہر کام میں کفایت کرتا ہے۔ محمد بن علی(ع) نے اپنا ہاتھ زید(رح) کے شانہ پر رکھا اور فرمایا اے ابوالحسن(ع) یہ صفت تیرے لیے ہے۔


مجلس نمبر۱۱

(ماہ رمضان سے ایک ہفتہ قبل سنہ۳۶۷ھ)

استقبال رمضان

۱ـ           ابو جعفر امام محمد باقر(ع) نے اپنے آبائے طاہرین کی سند سے روایت کیا ہے کہ رسول خدا(ص) نے شعبان کے آخری جمعہ میں لوگوں کو خطبہ دیا۔ خدا کی حمد و ثناء کی پھر فرمایا اے لوگو! ایک ایسا مہینہ تم پر سایہ فگن ہونے والا ہے جس کی ایک رات شب قدر ہے اور وہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے وہ مہینہ رمضان ہے اور خدا نے اس کے روزوں کو تم پر فرض کیا ہے اس کی رات کے نوافل کو مستحب بنایا ہے اس مہینہ کی ایک رات کے نوافل کا ثواب باقی مہینوں کی ستر راتوں کے برابر ہے۔

جو اس مہینہ میں اپنی خوشی سے مستحب اعمال کرے گا تو گویا اس نے اﷲ کے فرائض میں سے کوئی فرض انجام دیا ہے اور جو کوئی اس ماہ میں کا ایک فرض ادا کرے گا تو گویا اس نے دوسرے مہینے کے ستر فرائض ادا کیئے ہیں یہ مہینہ صبر کا مہینہ ہے اور صبر کی جزا بہشت ہے یہ ہمدردی کا مہینہ ہے اور اس ماہ اﷲ مومن کا رزق اضافہ کرتا ہے جو شخص اس ماہ میں کسی مومن روزہ دار کا روزہ افطار کرائے گا تو خدا کے نزدیک اس کا ثواب ایسا ہے کہ جیسے اس نے ایک غلام آزاد کی اہو اس کے گذشتہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں آںحضرت(ص)سے (صحابہ نے)عرض کیا یا رسول اﷲ(ص) ہم سب یہ استطاعت نہیں رکھتے کہ روزہ دار کا روزہ افطار کرائیں تو آپ(ص) نے فرمایا اﷲ بڑا کریم ہے یہ تمام ثواب تم کو عطا کرے گا، جو افطاری کے لیے دودھ کے ایک گھونٹ سے زیادہ کی طاقت نہ رکھتا ہو تو وہ اسی سے اس کا روزہ افطار کرادے یا میٹھے کا ایک گھونٹ یا کچھ کھجوریں ہی روزہ دار کو کھلا کر افطار کرادے توبھی وہ اس ثواب کا حق دار بن جائے گا اور جو کوئی اس مہینے میں اپنے مملوک سے تھوڑا کام لے تو خدا روز قیامت اس کے حساب میں کمی کردے گا  یہ اﷲ کا مہینہ ہے اس مہینہ کی ابتداء رحمت اس کا درمیان مغفرت اس کا آخری حصہ قبولیت اور دوزخ سے آزادی ہے اس مہینے


میں چار خصلتوں کے سوا تمہیں نجات نہیں مل سکتی دو کے ذریعہ سے اﷲ کو راضی کرو اور دو کے بغیر تمہارا گزارا نہیں ہوسکے گا جو دو چیزیں اﷲ کے راضی کرنے کا ذریعہ ہیں وہ یہ گواہی ہے کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور بےشک میں اﷲ کا رسول(ص) ہوں اور وہ دو چیزیں کہ جن کےبغیرتمہارا گزارا نہیں یہ ہے کہ تم خدا سے اپنی حاجات اور جنت طلب کرو اور خدا سے مغفرت چاہو اور آتش جہنم سے پناہ مانگو۔

۲ـ           حمزہ بن محمد کہتےہیںامامحسن عسکری(ع) کو میں نے لکھا کہ خدا نے روزہ کیوں واجب کیا ہے انہوں نے جواب میںلکھا ” اس لیے  تاکہ امیر و توانگر بھوک کے درد کو چکھیں اور غریب و فقیری و درویش کو عطا کریں۔“

بہلول تائب کا قصہ

۳ـ          عبدالرحمن بن غنم دوسی کہتے ہیں کہ ایک دن معاذ بن جبل روتے ہوئے رسول اﷲ(ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام کیا آپ(ص) نے سلام کو جواب دیا اور پوچھا کہ  کس وجہ سے روے ہو معاذ عرض کرنےلگے میں نے ایک جوان جو نہایت خوبصورت ہے کو دیکھا جو دروازے پر کھڑا اپنی جوانی پر رو رہا ہے جیسے وہ ماں روتی ہے جس کا جوان بیٹا مرگیا ہو وہ آپ(ص) کی خدمت میں حاضر ہونا چاہتا ہے۔ رسول خدا(ص) نے فرمایا اے معاذ اس جوان کو میرے پاس لے آؤ۔ وہ اس کو لے کر  داخل ہوئے اس نے سلام کیا آپ(ص) نے جواب دیا اور پھر فرمایا اے جوان تو کس وجہ سے روتا ہے اس نے کہا میں ایسے گناہوں کا مرتکب ہوا ہوں کہ اگر خدا مجھے ان سے چند ایک پر بھی سزا دے تو یقینا مجھے جہنم میں ڈال دے گا اور میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ عنقریب خدا اس پر میرا مواخذہ کرے گا اور مجھے ہرگز معاف نہیں کرے گا رسول خدا(ص) نے فرمایا کیا کسی کو خدا کا شریک قرار دیا ہے اس نے کہا میں اس سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک قرار دوں آپ(ص) نے فرمایا کیا کسی ایسے شخص کو قتل کیا ہے جس کا قتل خدا نے حرام قرار دیا ہے کہا نہیں پیغمبر(ص) نے فرمایا کہ اگر تیرے گناہ اس زمین پر گڑے بلند پہاڑوں کے برابر ہی کیوں نہ ہوں خدا معاف کردے گا اس جوان نے


کہا میرے گناہ ان بلند پہاڑوں سے بھی بڑے ہیں رسول خدا(ص) نے فرمایا اگر تیرے گناہ سات زمینوں، دریاؤں ریگستانوں اور درختوں اور جو کچھ ان میں مخلوقات ہیں کے برابر ہوں تو بھی خدا معاف کردے گا، اس نے کہا میرے گناہ ان تمام چیزوں سے بڑے ہیں رسول خدا(ص) نے فرمایا اگر سات آسمانوں ستاروں اور عرش و کرسی کے برابر بھی تیرے گناہ ہوں تو تو خدا وہ بھی معاف کردے گا اس نےکہا میرے گناہ اس سے بھی بڑے ہیں رسول خدا(ص) نے غصے کی نظر سے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا اے جوان وائے ہو تم پر تیرے گناہ بڑے ہیں یا تیرا پروردگار وہ جوان سجدے میں گر گیا اور کہنے لگا میرا مالک اس بات سے منزہ و مبرا ہے کہ کوئی چیز اس سے بڑی ہو یقینا میرا پروردگار ہی بڑا ہے رسول خدا(ص) نے فرمایا بڑے گناہوں کو خدا کے علاوہ کوئی معاف کرسکتا ہے؟ جوان نےکہا نہیں خدا کی قسم یا رسول اﷲ(ص)، رسول خدا(ص) نے فرمایا واے ہو تجھ پر اے جوان کیا تو کوئی ایک گناہ اپنے گناہوں سے مجھے بتا نہیں سکتا؟ کہا کیوں نہیں میں عرض کرتا ہوں، میں سات سال سے قبروں کو اکھاڑتا اور مردوں کو باہر نکال کے ان کےکفن اتار لیتا تھا ایک مرتبہ انصار کی ایک لڑکی نے وفات پائی اور جب وہ اسے دفن کرچکے اور واپس چلے گئے اور رات ہوگئی تو میں نے اس کی قبر کھو دی اس کو باہر نکالا اس کا کفن اتارا اور اسے برہنہ قبر کے کنارے چھوڑدیا جب واپس لوٹا تو شیطان نے مجھے وسوسہ ڈالا اور اس لڑکی کو میرے تخیلات میں مزین کیا اور کہا کہ کیا تم اس کے سفید جسم کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح حسین ہے میں واپس ہوا۔ اس کے ساتھ زنا کیا اور اسے وہیں چھوڑ کر چلا تو اچانک پیچھے سے یہ آواز سنائی دی” اے جوان وائے ہو تجھ پر قیامت کے دن جزا دینے والے کی طرف سے ان مردوں کے لشکر کے درمیان تو مجھے برہنہ چھوڑے جارہا ہے اور مجھے قبر سے باہر نکال کر میرا کفن لیے جارہا ہے اور مجھے اس حالت میں چھوڑے جارہا ہے کہ قیامت کے دن میں جنابت کے ساتھ اٹھوں گی وائے ہو تیری جوانی پر جہنم کی آگ سے“ یا رسول اﷲ(ص) اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ میں کبھی بھی جنت کی بو نہیں سونگھوں گا یا رسول اﷲ(ص) میرے بارے میں آپ(ص) کی کیا رائے ہے رسول خدا(ص) نے فرمایا اے بد کردار مجھ سے دور ہو جا میں ڈرتا ہوں کہیں تیری آگ میں میں نہ جل جاؤں کیونکہ تو جہنم کی آگ کے بہت قریب ہوچکا ہے کہ ابھی گرتا ہے آپ(ص) یہ فرماتے جا تے


 اور ہاتھ سے دور ہونے کا اشارہ کرتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ آپ(ص) کےسامنے سے دور ہوگیا پھر اس نےکچھ توشہ لیا اور مدینہ کے پہاڑ کی طرف چلا گیا جہاں وہ عبادت کرتا تھا اور ٹاٹپ ہنے رہتا تھا اور اپنے دونوں ہاتھ گردن کے ساتھ باندھے رہتا تھا اور کہتا تھا اے مالک اے میرے رب یہ تیرا بندہ بہلول ہے جس نے تیرے سامنے اپنے ہاتھ گردن سے باندھ رکھے ہیں۔ اے میرے رب تو مجھے پہچانتا ہے اور میرے گناہوں کو جانتا ہے اے میرے مالک میں پشیمان ہوں اور توبہ کرنے کے لیے تیرے پیغمبر(ص) کے پاس گیا انہوں نے مجھے اپنے دروازے سے دور کر دیا ہے۔ اورمیرے خوف کو بڑھا دیا ہے میں تجھے تیرے انام اورجلال و عظمت و سلطنت کا واسطہ دیتا ہوں کہ مجھے اپنی رحمت سے ناامید نہ کر اےمیرے رب میری دعا کو باطل قرار نہ دے اور مجھے اپنی شفقت سے مایوس نہ کر یہاں تک کہ چالیس شب و روز وہ یہی دعا کرتا رہا یہان تک کہ روتا رہا دررندے اور وحشی جانور بھی اس کے گریہ میں شامل ہوگئے جب چالیس شب و روز پورے ہوئے تو اس نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیے اور کہنے لگا خدایا میرے معاملے میں تو نے کیا حکم صادر فرمایا ہے اگر میری دعا قبول کر لی ہے اور میری خطا معاف کردی ہے توپھر اپنے نبی(ص) کی طرف وحی نازل فرما کہ مجھے معلوم ہو اور اگر میری دعا قبول نہیں ہوئی اورمجھے معاف نہیں کرتا اور مجھے عذاب کرنا چاہتا ہے تو ایک آگ بھیج جو مجھے جلادے یا دنیا میں کسی عذاب میں مجھے مبتلا کردے جو روز قیامت کی رسوائی سے مجھے بچالے پس خدا نے یہ آیت نازل فرمائی ” اور وہ لوگ جو کوئی برا فعل کرتے ہیں یعنی زنا یا اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں زنا سے بڑے گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں جو کہ قبر کھود کر کفن چرانا ہے اور خدا کو یاد کرتے ہیں پس اپنے گناہوں سے استغفار کرتے ہیں گناہوں کو اﷲ کے علاوہ کون بخش سکتا ہے۔“ (آل عمران، ۱۳۵)

پھر خدا نے فرمایا ۔ اے میرےحبیب(ص) میرا یہ بندہ تیرے پاس آیا تھا اور تونے اس کو اپنے دروازے سے لوٹا دیا۔ اگر یہ تیرے پاس نہ آتا تو کہاں جاتا۔ تب آپ(ص) نے کہا کہ اے خداوندا جو کچھ میں گزرا اس کا مجھے علم ہے خداوندا تو مجھے اس کی بازپرس سے محفوظ رکھ۔ تیرے اس بندے نے جو عمل کیا ( قبر کھود کرکفن چرانا) اسکی مغفرت تیری ہی ذات سے وابسطہ ہے۔ اور بہشت میں


 جاری نہریں تیرے ہی حکم سے بطور انعام دی جاتی ہیں اور کیا خوب جزا ہے ان لوگوں کےلیے جو عملِ صالح کرتے ہیں لہذا جب آیت مذکورہ نازل ہوئی تو آپ(ص) خوش ہوئے اور مسکراتے ہوئے باہر نکلے اور اپنے صحابہ سے کہا تم میں سے کون ہے جو مجھے اس جوان کی طرف راہنمائی کرے ایک شخص جس کا نام معاذ تھا کہنے لگا کہ یا رسول اﷲ(ص) مجھے خبر ملی ہے کہ وہ فلاں جگہ ہے رسول خدا(ص) اپنے اصحاب کے ساتھ وہاں تشریف لے گئے یہاں تک کہ اس پہاڑ کے نزدیک پہنچے اور اس کی تلاش میں پہاڑ کے اوپر گئے پھر اس جوان کو وہاں دیکھا کہ دو پتھروں کے درمیان کھڑا ہے اور اس نے اپنے ہاتھوں کو گردن کے ساتھ باندھ رکھا ہے اور اس کا چہرہ سورج کی گرمی کی وجہ سے سیاہ ہوگیا ہے اس کی آنکھوں کی  پلکیں رو رو کر جھڑ چکی ہیں اور اسکے باوجود کہہ رہا ہے  اے میرے آقا تو نے مجھے کتنا اچھا خلق کیا  میرا چہرہ خوبصورت بنایا کاش مجھے معلوم ہوتا کہ میرے بارے میں تیرا کیا ارادہ ہے کیا تو مجھے آگ میں جلائے گا یا اپنی رحمت سے معاف کردے گا خدایا تو نے مجھ پر احسان کیا اور نعمت فراواں مجھے دی کاش مجھے معلوم ہوتا کہ میرا انجام کیا ہے بہشت یا دوزخ خدا یا میرا گناہ آسمانوں اور زمین سے بڑا ہےکرسی وعرشِ عظیم سے بڑا ہے اے کاش مجھے معلوم ہوتا کہ تو میرے گناہوں کو معاف کردے گا یا انکی وجہ سے روز قیامت مجھے رسوا وذلیل کرے گا۔ وہ اس طرح مغفرت کرتا اور روتا تھا اور اپنے سر پر خاک ڈالتا تھا درندے اس کے پاس جمع تھے پرندے اس کے سر کے اوپر صف بستہ تھے اور اس کے رونے کی وجہ سے وہ سب روتے تھے رسول خدا(ص) اس کے قریب گئے اور اس کے ہاتھ اس کی گردن سےکھولے اس کے سر سے خاک صاف کی اور ساتھ ساتھ فرماتے جاتے تھے اے بہلول تجھےبشارت ہوکہ تم جہنم سے خدا کے آزاد کردہ ہو پھر اپنے اصحاب سے فرمایا تم اپنے گناہوں کو تدارک اس طرح کیا کرو کہ جس طرح بہلول نے کیا ہے پھر جو کچھ خدا نے نازل کیا تھا اس کی تلاوت کی اور بہلول کو بہشت میں داخل ہونے کی بشارت دی۔

۴ـ          امام صادق(ع) نے اپنے والد(ع) سے انہوں نے اپنے آباء(ع) سے نقل کیا کہ رسول خدا(ص) نے جنابِ علی ابن ابی طالب(ع) سے فرمایا اے  علی(ع) تیری منزلت میرے ساتھ ایسی ہے جیسے بیتہ اﷲ کی آدم(ع) سے تھی جیسے سام(ع) کی نوح(ع) کے ساتھ تھی جس طرح اسحق(ع) کی منزلت ابراہیم(ع) کےساتھ اور ہارون(ع) کی


 منزلت موسی(ع) کے ساتھ تھی اور جیسی منزلتشمعون(ع)  کی عیسی(ع) کے ساتھ تھی سواے اس کے کہ میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہے اے علی(ع) تم میرے وصی و خلیفہ ہو جو کوئی تمہاری وصایت و خلافت کا منکر ہوگا وہ مجھ نہیں ہے اور میں اس سے نہیں ہوں میں روز قیامت اس کا دشمن ہوں گا اے علی(ع) تم فضل میںمیری تمام امت سے افضل ہو اور اسلام میںسب سے پہلے ہو سب سے زیادہ حلیم سب سے زیادہ بہاردر اور سب سے زیادہ سخی ہو اے علی(ع) میرے بعد تم امام ہو  امیر ہو صاحب امر، ہو اور سردار ہو، میرے وزیر ہو اور میری  امت میں تیرے مثل کوئینہیںاے علی(ع) تم جنت اور دوزخ کے تقسیم کرنے  والے ہو۔ تمہاری محبت نیک و فاجر کی پہچان کرواتی ہے۔ اچھوں اور بروں میں تمیز سکھاتی ہے۔نیک اور بد کی شناخت کرواتی ہے اسی سے مومن اور کافر جدا ہوتے ہیں۔ ( پہچانے جاتے ہیں)


مجلس نمبر۱۲

( ماہ رمضان سے ۳ روز قبل سنہ۳۶۷ھ)

ماہ رمضان

۱ـ           جابر(رض) کہتے ہیں ابو جعفر محمد باقر(ع) نے فرمایا کہ جب رسول خدا(ص) ماہ رمضان کا چاند دیکھتے تو فورا اپنا چہرہ قبلہ رخ کر لیتے پھر یہ کہتے  خدایا اس نئے چاند کو امن و ایمان، سلامتی اسلام اور پوری عافیت اور وسعتِ رزق کے ساتھ ہم لوگوں پر طلوع فرما اور ہماری بیماریوں کو دور فرما، تالوت قرآن کی توفیق دے ، روزے اور نماز میں ہماری مدد فرما، خدایا ہم کو ماہ رمضان کی عبادت کے لیے صحیح و سلامت رکھ ہمیں شکوک و شبہات سے بچا اور ہم لوگوں کی عبادتوں کو قبول فرما تاکہ ماہ رمضان بحفاظت گزر جائے خدایا اس ماہ میں ہم لوگوں کی مغفرت فرما، پھر اپنا چہرہ لوگوں  کی طرف کرتے اور فرماتے اے گروہ مسلمین جب ہلال رمضان طلوع ہوتا ہے تو سرکش و نافرمان شیطان کو قید کردیا جاتا ہے اور آسمان وبہشت اور رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں دعائیں  مستجاب ہوتی ہیں اور اﷲ کے لیے یہ لازم ہوتا ہے کہ ہر افطار کے وقت کچھ لوگوں کو جہنم سے آزاد کردے۔ ماہ رمضان کی ہر شب کو منادی ندا دیتا ہے کہ کیا کوئی ایسا خواہش مند ہے جو وہ اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے اور توبہ کرے اے اﷲ! ہر راہ خدا میں خرچ کرنے والے کو دنیا و آخرت میں اس کا اجر دے اور ہر ممسک اور بخیل کو تلف کردے اور جب ماہ شوال کا ہلال طلوع ہوتا ہے تو مومنین کو ندا دی جاتی ہے کہ کل آنے والے دن میں اپنے انعامات لینے کو چلو اور کل آنے والا دن انعام کی تقسیم کا دن ہے پھر امام باقر(ع) نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی کہ جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے یہ انعام درہم و دینار یا سونے چاندی کی شکل میں نہیں ہوتا۔


ثوابِ ماہِ رمضان

۲ـ           سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس سے کہا کہ اس آدمی کے لیے کیا ثواب ہے جو ماہِ رمضان کے روزے رکھے اور اس کے حق کو پہچانتا ہو انہوں نے کہا اے ابن جبیر تیار ہو جاؤ تاکہ تمہیں ایسی حدیث سناؤں جو تیرے کان نے کبھی نہ سنی اور نہ ہی تیرے دل میں گزری ہے جو تم نےمجھ سے پوچھا ہے یہ علم اولین اور علم آخرین ہے سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں اس وقت ان کے پاس سے چلا گیا اور خود کو دوسرے دن کے لیے آمادہ کیا جب صبح کی سفیدی ظاہر ہوئی تو میں ان کے پاس گیا اور صبح کی نماز ان کے ساتھ ادا کی پھر اس حدیث کےمتعلق ان سے دریافت کیا انہوں نے میرے طرف رخ کیا اور کہا سنو جو بیان کرتا ہوں میں نے اسے رسول خدا(ص) سے سنا ہے کہ اگر تم یہ جان لو کہ ماہ رمضان میں ہمارے لیے کیا کچھ موجود  ہے اﷲ تعالی کا بہت زیادہ شکر ادا کرتے ( ماہ رمضان کے روزوں کا ثواب اس طرح ہے جو جنابِ رسول خدا(ص) کی زبان مبارک سے بیان ہوا ہے۔)

پہلے دن:       خدا میری امت کے تمام گناہوں کو جو ظاہر اور پوشیدہ ہوں معاف کردے گا اور تمہارے لیے ہزار درجات بلند کرے گا اور پچاس شہر تمہارے لیے بنائے گا۔ ( بہشت میں)۔

دوسرے دن: جو کوئی بھی اس دن ایک قدم اٹھا کر دوسری جگہ رکھتا ہے توخدا ایک سال کی عبادت، ایک پیغمبر کے اعمال کو ثواب اور ایک سال کے روزوں کا اجر اس کےلیے لکھتا ہے۔

تیسرے دن: انسان کے بدن کے جتنے بھی بال ہیں ان کےبرابر فردوس میں اس کے لیے (گنبد) قبے بناتا ہے سفید درسے کہ اس کے دروازے بارہ پزار اور اس کے نشیب میں بارہ ہزار گھر نور کے تم کو عطا  کرے گا کہ ہر گھر میں ہزار تخت ہو گے اور ہر تخت پر حوریہ ہوگی اور ہر روز ہزار فرشتے تمہارے پاس آئیں گے اور ہر فرشتے کے پاس تمہارے لیے ہدیہ ہوگا۔

چوتھے دن:                 خدا تجھے بہشتِ خلد میں ستر ہزار قصر دے گا ہر قصر میں ستر ہزار گھر ہوں گے اور ہر گھر میں پچاس ہزار تخت ہوں گے ہر تخت پر حور ہوگی اور ہرحور کے سامنے ایک ہزار کنیزیں


 ہوںگی کہ ہر کنیز تمام دنیا اور جو کچھ اس کے اندر ہے بہتر ہے۔

پانچوان دن :               خدا تجھے جنت ماوی میں ایک لاکھ شہر دے گا کہ ہر شہر میں ستر ہزار گھر ہوںگے ہر گھر میں ستر ہزار خوان ہوں گے ہر خوان پر سترہزار کاسے ہوں گے اور اس میں ساٹھ ہزار مختلف رنگ کی خوراک ہوگی۔

چھٹے دن :         خدا تجھے دارالسلام میں سو ہزار(ایک لاکھ) شہر دے گا کہ ہر شہر میں سو ہزار گھر ہوں گے ہر گھر میںسو ہزار تخت سونے کے کہ جن کا طول ہزار ذراع کا ہوگا اور ہر تخت پر حورالعین سے ایک عورت ہوگی کہ اس کے تیس ہزار گیسو ہوں گے جو یاقوت کے ہوں گے اور ہر گیسو کو سو زہرار کنیز اٹھائے ہوگی۔

ساتویں دن :              خدا جنت نعیم میں چالیس ہزار شہدا اور چالیس ہزار صادقین کا ثواب عطا کرے گا۔

آٹھویں دن :           خدا تجھے تیرے عمل کا بدلہ ساٹھ ہزار عابدوں اور ساٹھ ہزار زاہدوں کے برابر دے گا۔

نویں دن :                 خدا تجھے ہزار متکف اور ہزار مرابط کے برابر ثواب عطا کرے گا۔

دسویں دن :               خدا تمہاری ستر ہزار حاجتیں پوری کرے گا اور سورج ، چاند ستارے،جاندار، پرندے، پتھر، خشک و تر، دریا کی مچھلیاں، درختوں کے پتے اور خدا کی کتابیں تمہارے لیے مغفرت طلب کریں گے۔

گیارہویں دن :    چار حج و عمرہ جیسا کہ ہر حج پیغمبر(ص)  کے ساتھ ادا کیا گیا ہو اور ہر عمرہ جو کسی صدیق ساتھ یا شہید کے ساتھ انجام دیا گیا ہوگا۔ کا ثواب خدا تمہیں عطا کرے گا۔

بارہویں دن :      خدا تمہاری برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے گا اور ہر نیکی کے بدلے ہزار نیکیاں لکھے گا۔

تیرہویں دن :           خدا تجھے اہل مکہ و مدینہ کے ثواب عطا کرے گا اور ہر پھتر اور مٹی کا ڈھیلہ جو مکہ اور مدنینہ کے درمیان ہے کی شفاعت کا حق تجھے دے گا۔


جودہویں دن :     گویا اس نے آدم(ع) و نوح(ع) و ابراہیم(ع) و موسی(ع)، حضرت داؤد(ع) اور حضرت سلیمان(ع) کو دیکھا ہے یہاں تک کہ گویا اس نے ہر پیغمبر کے ساتھ دو سوسال خدا کی عبادت کی ہے۔ کا اجر عطا کرے گا۔

پندرہویں دن :    خدا تمہاری دنیا و آخرت کی حاجات پوری کرے گا اور تمہیں وہ کچھ عطا کرے گا جو کچھ اس نے حضرت ایوب(ع) کو عطا کیا، حاملین عرش تمہارے لیے مغفرت کریںگے اور خدا  روز قیامت تمہیں چالیس نور عطا کرے گا ک ہر سمت سے دس دس نور تمہیں ملیں گے۔

سولہویں دن :           اوع جس وقت تم قبر سے نکالے جاؤ گے تو خدا تم کےساٹھ حکے عطا کرے گا جو تمہیں پہنائے جائیں گے، تمہیں ناقہ پر سوار کیا جائے گا اور ایک بادل اس دن کی گرمی سے بچانے کے لیے تم پر سایہ فگن  ہوگا۔

سترہویں دن : خدا روزہ دار کو فرماتا ہے کہ میں نے تمہارے اجداد کو معاف کیا اور روز قیامت کی سختیوں کو ان سے اٹھالیا ہے۔

اٹھارویں دن :        اﷲ تعالی جبرائیل(ع)، میکائیل(ع) و اسرافیل(ع) اور حاملین عرش و کربین کو حکم دیتا ہے کہ وہ امت  محمد(ص) کے لیے اگلے سال تک مغفرت طلب کرتے رہے اور اہل بدر کے ثواب کے برابر تمہیں عطا کرتا ہے۔

انیسویں دن :          کوئی فرشتہ زمینوں اور آسمانوں میں ایسا نہیں رہتا جو اﷲ تعالی کی اجازت سے ہر روز ہدیہ اور دودھ سے زیادہ سفید شربت لے کر تمہاری قبور کی زیارت کرنے نہ آتا ہو۔

بیسویں دن :          اﷲ تعالی ستر ہزار فرشتے بھیجتا ہے جو تمہاری ہر شیطان رجیم سے حفاظت کرتے ہیں خدا ہر دن کے بدلے میں سو سال کے روزوں کا ثواب تمہارے لیے لکھ دیتا ہے تمہارے اور آگ(جہنم) کے درمیان خندق کھود دیتا  ہے اور تجھے اس بندے کے برابر ثواب عطا کرتا ہے کہ جس نے توریت و انجیل و زبور و فرقان کی تلاوت کی ہو اور جبرائیل(ع) کے پروں کے برابر تیری عبادت کا ثواب دیتا ہے اور ثوابِ تسبیح عرش و کرسی تجھے دیتا ہے اﷲ تعالی قرآن مجید کی ہر آیت کے بدلے ہزار حوروں کے ساتھ تیری تزویج کرے  گا۔


اکیسویں دن :           ہزار فرسخ اس کی قبر کو کشادہ کیا جائے گا ظلمت و وحشت اس سے ہٹادی جائے گی اور اس کی قبر شہدا کی قبر کی مانند کر دی جائے گی اور اس کے چہرہ کو یوسف بن یعقوب(ع) کے چہرے کی طرح کردیا جائے گا۔

بائیسویں دن :              ملک الموت کو بعثت انبیاء(ع) کی طرح بھیجا جائے گا اور تم سے منکر و نکیر اور آخرت کے عذاب کے خوف ہٹا دیا جائے گا۔

تیئسویں دن :              پیغمبروں، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ تجھے پل صراط سے گزارا جائے گا اور تو اس طرح ہوگا کہ جیسے تونے میری امت کےکسی پیغمبر کو سیر کیا ہے اور میری امت کے ہر برہنہ کو لباس پہنایا ہے۔

چوبیسویں دن :    وہ شخص اس وقت تک دنیا سے نہ جائے گا جب تک کہ اپنے مقام کو بہشت میں آنکھوں سے نہ دیکھ لے اور ثواب ہزار بیمار کا اور ہزار غریب کا کہ جو راہ خدا میں غریب ہوتا ہے عطا کرے گا اور ایسا ثواب کہ جیسے اس نے ہزار غلاموں کو اولاد اسماعیل(ع) میں سے آزاد کیا ہے عطا کرے گا۔

پچیسویں دن :        خدا تمہارے لیے تحت العرش  میں ایک ایسی بنیاد بنائے گا جس کے ہزار گنبد ہوں گے اور ہر گنبد کے خیمہ کے کنارے نور ہوگا خدا فرمائے گا اے محمد(ص) کی امت میں ہی تمہارا پروردگار ہوں اور تم میرے بندے اور کنیزیں  ہو تم اس گنبد میں میرے عرش کے سائے میں رہو اور دودھ سے سفید کھانے کھاؤ اور شربت پیئو تم  پر کوئی خوف اور غم نہیں ہے اے امتِ محمد(ص) مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم میں تمہیں اسی طرح بہشت میں داخل کروں گا کہ جس طرح اولین اور آخریں کو کیا ہے۔ اور عجائب و غرائب میرے سامنے کچھ حیثیت نہیں رکھتے ۔ خدا ہر طرف سے تجھے ہزار تاج نور کے عطا کرے گا اور ہر طرف سے تجھے ناقہ پر سوار کیا جائے گا جو نور سے خلق ہو اور نور کی مہار رکھتا ہوگا اور اس مہار میں ہزار حلقے سونے کے ہوں گے اور ہر حلقے پر ایک فرشتہ ہوگا کہ  وہ نور کے عمود کو ہاتھ میں لیے ہوگا یہاں تک کہ بغیر حساب بہشت میں داخل ہوگا۔

چھبیسویں دن:     خدا اس کی طرف نظر رحمت کرے گا اور اس کے تمام گناہ سوائے قتل نفس


اور مال کی برائی کے معاف کردے گا اور ہر روز کی ستر مرتبہ کی گئی غیبت و جھوٹ و بہتان سے اس کو پاک کردے گا۔

ستائیسویں دن :    تمام مومن مرد اور مومن عورتوں کی مدد کی جائے گا اور ستر ہزار برہنہ کو اس  کی طرف سے لباس پہنانے کا اجر دیا جائے اور ہزار مرابط کی خدمت کا اس کو ثواب ملے گا اور ہر وہ کتاب کہ جو خدا نے نازل کی ہے کے پڑھنے کا ثواب دے گا۔

اٹھائیسویں دن :       خدا تجھے بہشتِ خلد میں سو ہزار شہر نور کے عطا کرے گا اور جنت ماوی میں سو ہزار قصر چاندی کے عطا کرے گا اور جنت الفردوس میں سو ہزار شہر دے گا اور ہر شہر میں سو ہزار منبر مشک کے ہوں گے ہر منبر کے ہزار گھر زعفران سے بنے ہوں گے ہر گھر میں ہزار تخت در یاقوت کے بنے ہوں گے اور ہر تخت پر حور العین میں سے اس کی ہمسر(زوجہ) بیٹھی ہوگی۔

انتیسویں دن :         خدا ہزار ہزار محلے دے گا ہر محلہ میں سفید گنبد ہوگا اور ہر گنبد کا فور سفید سے بنا ہوگا اس تخت پر ہزار بستر سندس سبز کے ہوں گے اور ہر بستر پر حور ہوگی اور جو ستر ہزار حلے پہنے ہوگی اس کے سر پر اسی ہزار شقہ گیسو ہوں گے اور ہر شقہ درِ مکلل و یاقوت کا ہوگا۔

تیسویں دن :      خدا تمہارے لیے لکھے گا کہ جو دن تم سے گزر گیا ہے ۔ اس میں ہزار صدیقوں اور ہزار شہیدوں کا ثواب تمہارے لیے ہے اس ہر دن (ماہ رمضان) کے روزے کا ثواب دو ہزار دن کے برابر ہے یہ بندہ جس قدر چلا(میری طرف) یوں سمجھے کہ دریائے نیل پر چلا۔ اے شخص خدا تیرے درجات اس قدر بلند کرے گا کہ تیرے لیے دوزخ سے آزادی۔ عذاب سے امان اور پل صراط سے گزرنے کا اجازت نامہ عطا کرے گا اور بہشت کا ایک دروازہ جس کا  نام ریان ہے۔ قیامت سے پہلے نہیں کھولا جائے گا مگر وہ مرد اور عورتیں جنہوں نے روزے رکھے ہوں گے کے لیے یہ دروازہ کھول دیا جائے گا اور یہ مرد اور عورتیں میری امت سے ہوں گے۔ خازنِ بہشت”رضوان“ ندا دیں گے کہ اے امت محمد(ص) ریان کی طرف آؤ۔ اور میری امت اس دروازے سے بہشت میں داخل ہوگی اور جس کے ماہ رمضان میں گناہ معاف نہ ہوں تو اور کس مہینے میں معاف ہوں گے؟ کوئی طاقت خدا کے سوا نہیں ہے۔ ہمارے لیے خدا ہی کافی ہے۔ اور ہمارے


لیے خدا کیسا بہترین وکیل ہے۔

(جناب شیخ صدوق(رح) نے اسی دن مجلس کے بعد مندرجہ ذیل حدیث کو بیان کیا)

۳ـ          جندب بن حنادہ(رح) جناب ابوذر(رح)) کہتے ہیں، میں نے جنابِ رسول خدا(ص) کو علی(ع) سے تین جملے کہتے ہوئے سنا۔ کہ اگر ان تین میں سے میرے لیے ایک بھی کہا ہوتا تو مجھے اس دنیا اور جو کچھ اس کے اندر ہے سے زیادہ محبوب ہوتا۔ میں نے سنا رسول خدا(ص) نے فرمایا : اے خدایا میں تجھ سے اس (علی(ع)) کی مدد چاہتا ہوں، میں تجھ سے اس کی دوستی چاہتا ہوں۔ کیونکہ وہ تیرا بندہ اور تیرے رسول(ص) کا بھائی ہے۔

جنابِ ابوزر فرماتے ہیں کہ میں نے علی(ع) کی ولایت ، ان کے اخی ہونے اور ان کے وصی ہونےکی گواہی دیتا ہوں۔

کربذہ بن صالح ( راوری حدیث) نے ابوزر سے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ سلیمان فارسی(رح)، مقداد(رح) عمار(رح) جابر بن عبداﷲ انصاری(رح) ابو ہیتم تیھان(رح) خزیمہ بن ثابت(ذوالشہادتین(رح)) ابوایوب(رح) ( میزبان پیغمبر(ص)) اور ہاشم بن عتبہ مرقال(رض) نے بھی علی(ع) کے بارے یہی گواہی دی ہے اور یہ تمام بلند مرتبہ اصحاب رسول(ص) ہیں۔

والحمد ﷲ رب العالمين


مجلس نمبر ۱۳

(اول ماہ رمضان سنہ۳۶۷ھ)

ماہ رمضان کا اجر

۱ـ           ابوجعفر محمد بن علی باقر(ع) نے فرمایا بیشک خدا کے کچھ فرشتے ایسے ہیں جو روزہ داروں کے موکل ہیں کہ ہر دن ماہ رمضان سے اس کے آخر تک ان کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں اور روزہ کے افطار کے وقت روزہ داروں کو آواز دیتے ہیں کہ تم کو خوشخبری ہو اے خدا کے بندو تم نے بھوک کو برداشت کیا ہے بہت جلد تمہیں سیر کیا جائے گا تمہیں مبارک ہو، وہ یہ مبارک دیتے ہیں یہاں تک کہ شبِ آخر ماہ رمضان ان کو ندا کی جاتی ہے خوشخبری ہو اﷲ کے بندو خدا نے تمہارے گناہوں کو معاف کردیا ہے تمہاری توبہ کو قبول کر لیا ہے اور خیال رکھو کہ آئیندہ تم کس طرح زندگی گزارو گے۔

۲ـ           ابوالحسن علی بن موسی الرضا(ع) نے اپنے اجداد(ع) نے روایت کیا ہے کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا ماہ رمضان ماہ بزرگ ہے کہ خدا نیکیوں کو اس مہینے میں دوگناہ کردیتا ہے گناہوں کو اس مہینہ میں مٹا دیتا ہے اور درجات کو بلند کرتا ہے جو کوئی اس ماہ میں صدقہ دے خدا اس کو معاف کردیتا ہے جو کوئی اس مہینہ میں احسان کرے اپنے غلاموں پر تو خدا اس کو معاف کردیتا ہے اور جو کوئی اس ماہ میں خوش خلقی سے پیش آتا ہے تو خدا اس کو معاف کردیتا ہے جو کوئی اپنا غصہ پی جاتا ہے تو خدا اس کو معاف کر دیتا ہے جو کوئی صلہ رحم کرتا ہےتو خدا اس کو معاف کردیتا ہے پھر فرمایا بیشک یہ مہینہ تمہارے کے دوسرے مہینوں کی طرح نہیں ہے۔ بیشک جب بھی یہ مہینہ تمہاری طرف آتا ہے تو برکت و رحمت لے کر آتا ہے اور جب یہ مہینہ تم سے واپس ہوتا ہے تو تمہارے گناہوں کو معاف کر کے جاتا ہے یہ وہ مہینہ ہے کہ اس میں نیکیاں اور دوہری ہوتی ہیں اور اعمال خیر اس میں قبول ہوتے ہیں جو کوئی اس ماہ میں خدا کی رضا کے لیے دو رکعت نماز نافلہ پڑھے گا تو خدا اس کو معاف کردے گا پھر فرمایا بدبخت


ہے وہ بندہ کہ جو اس ماہ کو پائے اور اس کے گناہ معاف نہ ہوں یہاس کے لیے نقصان دہ ہے او ر اچھے کردار والے ہی اپنے رب کریم کے ہاں کامیاب ہوتے ہیں۔

۳ـ          امام صادق(ع) نے اپنے اجداد(ع) سے روایت کیا ہے کہ جو بندہ شام کے وقت سو تکبیر ( اﷲاکبر) کہے وہ اس آدمی کی طرح ہوگا کہ جس نے ایک سو غلاموں کو آزاد کیا ہو۔

۴ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا کہ جوکوئی ہر روز تین بار خدا کی تسبیح ( سبحان اﷲ) بیان کرے گا تو خدا اس سے ستر قسم کی بلاؤں کو دور کرے گا اور ان میں سے سب سے چھوٹی فقر ہے۔

جنابِ رسول خدا(ص) اور شیبہ ہذلی

۵ـ          ابوجعفر امام باقر(ع) نے فرمایا کہ ایک شخص رسول خدا(ص) کے پاس آیا جس کا نام شیبہ ہذلی تھا اس نے عرض کیا میں بوڑھا ہوگیا ہوں اور نماز و روزہ و حج و جہاد کو ادا کرنےکے لیے طاقت نہیں رکھتا، یا رسول اﷲ(ص) مجھے ایسا کلام تعلیم کریں جو مختصر ہو حضرت(ص) نے فرمایا دوبارہ کہو اس نے دوبارہ کہا پھر فرمایا پھر کہو اس نے پھر کہا تو رسول اﷲ(ص) نے فرمایا، درخت، پتھر اور دریا سب ہی تیری ضعیفی پر اﷲ کی رحمت طلب کرنے کےلیے گریہ کرتے ہیں اور جب نمازِ صبح پڑھ لو تو دس بار کہو۔

”سبحان اﷲ العظيم و بحمده ولا حول ولاقوة الا باﷲ العلی العظيم“

” پاک ہے اﷲ جو عظیم ہے اور اسی کی حمد ہے اور کوئی بھی قوت و طاقت نہیں مگر صرف اﷲ کے لیے جو عظیم ہے“

بے شک خدا اس کے ذریعہ سے تجھے نا بینا پن دیوانگی، جزام، برص وفالج و فقرو غیرہ سے محفوظ رکھےگا اس نے عرض کیا یا رسول اﷲ(ص) یہ تو دنیا کےلیے ہے آخرت کے لیے کیا ہے، فرمایا ہر نماز کے بعد یہ کہا کرو۔

” اللهم اهدنی من عندک واقض علی من فضلک وانشر علی من رحمتک وانزل علی من برکاتک“

”خدایا میری اپنی طرف سے راہنمایی کر اور اپنے فضل کا مجھ پر اضافہ کر اور اپنی رحمت کو


مجھ پر نازل فرما“ آپ(ص) یہ کہتے جاتے تھے اور یہ مرد ہاتھوں کی انگلیوں سے اس کو گنتی کرتا جاتا تھا ایک شخص نے ابن عباس سے کہا یہ کیسا محکم عمل  ہے کہ جسے پیغمبر(ص) نے  فرمایا ہے اگر ان کلمات کی تلاوت جاری رکھی جائے اور ” عمدا“ اس کو ترک نہ کیا جائے تو بہشت کے آٹھ دروازے اس کے سامنے کھول دیئے جائیں گے کہ جس دروازے سے وہ چاہے  داخل بہشت ہوگا۔

۶ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا جو کوئی اپنے روزے کو اچھی بات یا اچھے عمل سے ختم کرے گا تو خدا اس کے روزے کو قول کرے گا ان سے عرض کیا گیا یا ابن رسول اﷲ(ص)  گفتار صالح کیا ہے امام(ع) نے نے کہا یہ شہادت دینا خدا کی وحدانیت کی اور کردار صالح کا فطر ادا کرنا ہے۔

۷ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جو کوئی ہمیں اپنی مجالس میں عیب دار کرے یا ہمارے دشمن کی تعریف یا ہم سے قطع شدہ کو ہمارے ساتھ جوڑے اور ہمارے ساتھ جوڑے ہوؤں کو ہم سے قطع کرے یا ہمارے دشمنوں سے دوستی کرے اور ہمارے دوستوں سے دشمنی کرے وہ کافر ہے اور جان لےکہ اﷲ نے سبع مثانی اور قرآن عظیم کو نازل کیا ہے۔

۸ـ          امام صادق(ع) نے اپنے اجداد(ع) سے روایت کیا ہے کہ رسول اﷲ(ص) نے فرمایا خوش قسمت ہے وہ بندہ جس کی عمر طولانی ہے اور اس کا کردار اور اس کی آخرت بہتر ہے اس لیے کی اس کا پروردگار اس سے راضی ہے اور اس بندہ پر  وائے ہو جس کی عمر طولانی ہے لیکن اس کی آخرت بری ہے کہ اس پر اس کا پروردگار غضب ناک ہے۔

۹ـ           امام صادق(ع) نے اپنے اجداد(ع) نے روایت کیا ہے کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا جس بندے کی جتنی بھی عمر باقی رہتی ہے اگر وہ احسن طریقے سے اس کا گزارے کا تو اس سے گذشتہ کے بارے میں مواخذہ نہ ہوگا اگر جتنی عمر اس کی باقی رہتی ہے بدکردار ہوگا تو اس کے اول سے لے کر آخر تک کے بارے میں مواخذہ کیا جائے گا۔

۱۰ـ          ابن عباس(رض) کہتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا علی(ع) میرا وصی اور خلیفہ ہے اور فاطمہ(س) کا شوہر ہے جو عالمین کی عورتوں کی سردار ہے وہ میری بیٹی ہے اور حسن اور حسین(ع) دونوں جوانانِ بہشت کے سردار ہیں یہ دونوں میرے فرزند ہیں اور جو کوئی ان کو دوست رکھتا ہے وہ مجھے دوست رکھتا ہے جو


کوئی ان کو دشمن رکھتا ہے مجھے دشمن رکھتا ہے جو کوئی ان سے دوری رکھتا ہے اس نے مجھے سے دوری رکھی جو کوئی ان کے ساتھ جفا کرتا ہے اس نےمجھ سے جفا کی ہے اور جو کوئی ان کےساتھ اچھا سلوک کرتا ہے وہ میرے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے اور خدا اس کو خود سے دور  ہٹادے گا جو ان کی مدد کرے گا۔ خدا اس کی مدد کرے گا جو ان کو چھوڑدےگا خدا بھی اس کو چھوڑ دے گا اے میرے اﷲ جیسا تیرے انبیاء(ع) و رسول(ص) اور ان کا خاندان تیرے ثقل( زمین کے خزانے) ہیں اسی طرح علی(ع) و فاطمہ(س) و حسن(ع) و حسین(ع) میرے ثقل ہیں دور کر ان نجاست کو اور پاک رکھ ان کو جیسے پاک رکھنے کا حق ہے۔


مجلس نمبر۱۴

(پانچ رمضان سنہ۳۶۷ ھ)

ماہ رمضان کی فضیلت

۱ـ           امام صادق(ع) جعفر بن محمد(ع) نے فرمایا بیشک اﷲ نے قرار دیا ہے کہ ماہ رمضان کی ہر رات میں آزاد ہونے والے اور رہا ہونے والے دوزخ سے رہائی پاتے ہیں مگر وہ لوگ جو نشہ آور چیز سے افطار کریں اس رحمت سے مستثنی ہیں اور شب آخر میں اسی گنتی سے جو کچھ اس (خدا) نے اس ماہ میں آزاد کیا میں نے اپنے بندے کو بھی آزاد کرے گا۔ ( یعنی اسے بندے کو اسی گنتی شمار سے رحمتیں اور نعمتیں عطا کرے گا۔)

۲ـ           ابو جعفر باقر(ع) نے فرمایا کہ جب ماہ رمضان آپہنچا اور شعبان کے تین دن باقی رہ گئے تو پیغمبر(ص) نے بلال کو حکم دیا کہ تم اعلان کرادو تا کہ لوگ جمع ہو جائیں، جب لوگ جمع ہوگئے تو آپ منبر پر تشریف لے گئے اور حمد و ثناء پروردگار بیان کی پھر فرمایا اے لوگو! اب وہ مہینہ آرہا ہے جو تمام مہینوں کا سردار ہے اور اس میں ایک ایسی رات ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس میں دوزخ کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں اور بہشت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں لہذا جو کوئی بھی اس ماہ کو پالے اور اس کی مغفرت نہ  ہوتو خدا اس کا نابود کردے گا اور جوکوئی اپنے ماں اور باپ کو پائے (یعنی والدین زندہ ہوں) اور پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہوتو  اس کو خدا اپنے پاس سے بہت دور کردے گا اور جو کوئی میرا نام سنے اور مجھے پر درود نہ بھیجے تو خدا اس کو نیست و نابود کردےگا۔

۳ـ          ابن عباس(رض) کہتے ہیں کہ رسول خدا(ص) کا طریقہ یہ تھا کہ جب ماہ رمضان آجاتا تو ہر قیدی کو آزاد کردیتے اور ہر سوال کرنے والے کو عطا کرتے تھے۔

۴ـ          حسن(ع)بن علی(ع) کہتے ہیں میں نے رسول خدا(ص) نے عرض کیا بابا جان اس بندے کی جزا کیا ہے جو آپ(ص) کی زیارت کرے، فرمایا جو کوئی میری یا تیرے بھائی کی زیارت کرے وہ مجھ پر یہ حق


رکھتا ہے کہ روز قیامت میں اس کی زیارت کروں یہاں تک کہ اس کے تمام گناہ ختم ہوجائیں۔

۵ـ          جنابِ ابو جعفر باقر(ع) نے فرمایا بیشک ہر چیز کی بہار ہے اور قرآن کی بہار ماہ رمضان ہے۔

۶ـ           امام جعفر صادق(ع) نے فرمایا حافظ قرآن اور عامل قرآن کے ساتھ یہ قرآن ان کے سفر کا بہترین ساتھی ہوگا۔

فضائل قاری قرآن

۷ـ          جنابِ ابو جعفر باقر(ع) نے اپنے اجداد(ع) سے روایت کی ہے ہے کہ رسول خد(ص) نے فرمایا جو کوئی ایک رات میں دس آیات کی قرائت کرے گا وہ غافلوں میں نہیں لکھا جائے گا اور جو کوئی پچاس آیات کی تلاوت کرے گا تو وہ زائروں میں لکھا جائے گا جو کوئی سو آیات کی تلاوت کرے گا تو وہ عابدوں میں لکھا جائے گا جوکوئی دوسو  آیات پڑھے گا تو خاشعین میں لکھا جائے گا جو کوئی تین سو آیات پڑھے گا تو کامیابوں میں لکھا جائے گا  اور جوکوئی پانچ سو آیات پڑھے گا تو مجتہدوں میں لکھا جائے گا اور جو کوئی ہزار آیات پڑھے گا تو اس کے لیے ایک قنطار( گائے کا چمڑا جس میں سونا بھر دیاجائے) لکھا جائیگا اور ایک قنطار پچاس ہزار مثقال سونے کے برابر ہے اور ہر مثقال چوبیس قیراط کا ہے اور اس کا سب سے چھوٹا حصہ کوہ احد کے پہاڑ کے برابر ہے اور اس کا بڑا حصہ زمین و آسمان کے درمیان ہے۔

۸ـ جناب ابوجعفر باقر(ع) نے فرمایا جو کوئی وتر میں معوذتین اور قل ہواﷲ کو پڑھے گا تو اس سے کہا جائے گا اے بندہ خدا تجھے خوشخبری دی جاتی ہے کہ خدا نے تیرے وتر کو قبول کر لیا ہے۔

۹ـ           امام  صادق(ع) اپنے اجداد(ع) نے روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا جو کوئی علم حاصل کرنے کے لیے سفر کرتا ہے تو خدا اسے بہشت کے راستے پر لے جاتا ہے کہ وہ اس میں داخل ہو جائے کیونکہ فرشتے اپنے پروں کو طالبعلم کے لیے بچھا دیتے ہیں اور اسے پسند کرتے ہیں اور بیشک طالب علم کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں جو کچھ آسمان و زمین میں ہے یہاں تک کہ دریائی مچھلیاں بھی اس کے لیے مغفرت کرتی ہیں عالم کی فضیلت عابد پر اس طرح ہے جس طرح


 چودہویں کے چاند کی رات کو دیگر راتوں پر ہوتی ہے۔ اور بیشک علماء پیغمبروں کے وارث ہیں کیوں کہ پیغمبر علماء کے لیے درہم اور دینار کو وارثت میں نہیں دیتے بلکہ علم کو وراثت میں دیتے ہیں اور جو کوئی بھی ان سے حاصل کرے گا حصہ فراواں پائے گا۔

۱۰ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا ، میرے اجداد(ع) نے روایت کیا کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا اہل دین کی مجلس دنیا و آخرت کا شرف ہے۔

۱۱ـ           جناب علی ابن موسی رضا(ع) نے فرمایا : میرے اجداد(ع) نے روایت کیا ہے کہ رسول خدا(ص) نےفرمایا، اے علی(ع) تم میرے بھائی میرے وزیر میرے پرچم کو اٹھانے والے ہو دنیا و آخرت میں، اور تم صاحب حوض ہو جو کوئی تجھے دوست رکھتا ہے مجھے دوست رکھتا ہے اور جوکوئی تجھے دشمن رکھتا ہے وہ میرا دشمن ہے۔


مجلس نمبر ۱۵

(آٹھ رمضان سنہ۳۶۷ھ)

مذمتِ شیطان

۱ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا میرے اجداد(ع) نے روایت کیا ہے کہ ایک مرتبہ رسول خدا(ص) نے اپنے اصحاب سے فرمایا کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں کہ اگر تم لوگ اس پر عمل کرو شیطان تم سے اتنا دور ہوجائے گا۔ جتنا مشرق سے مغرب ہے انھوں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اﷲ(ص)  آپ(ص) فرمایا روزہ شیطان کے منہ کو سیاہ کردیتا ہے اور صدقہ اس کی کمر توڑ دیتا ہے اور اﷲ سے محبت اور عمل صالح میں معاونت اس کی بیخ کنی کرتی ہے، استغفار اس کے دل کی رگیں کاٹ دیتا ہے۔ ہر شے کی زکوة ہے لہذا بدن کی زکوة روزہ ہے۔

۲ـ           امیرالمومنین (ع) نے فرمایا تم پر لازم ہے کہ ماہ رمضان میں کثرت سے استغفار اور دعا کرو کیونکہ دعا بلا کے دفع کرنے کا وسیلہ ہے اور استغفار تمہارے گناہوں کے ختم ہونے کا وسیلہ ہے۔

۳ـ          رسول خدا(ص) نے فرمایا بے شک اﷲ تعالی چھ باتوں کو میرے لیے برا رکھتا ہے اور  میں بھی اپنے اوصیاء ( جو میرے فرزندوں میں سے ہیں اور جو ان کی پیروی کرتے ہیں) کےلیے ان باتوں کو برا رکھتا ہوں، نماز کی حالت میں فضول کام کرنا۔ روزہ کی حالت میں عورت سے جماع کرنا، صدقہ دینے کے بعد احسان جتانا، جنابت کی حالت میں مساجد میں جانا، گھروں میں جاکر لوگوں کی تفتیش کرنا اور قبروں کے درمیان ہنسنا۔

۴ـ          جناب جعفر بن محمد صادق(ع) نے فرمایا ، مہیںوں کی تعداد اﷲ کے نزدیک بارہ ہے یہ کتاب خدا میں اس دن سے لکھا ہوا ہے جس دن آسمان و زمین پیدا ہوئے لہذا ان مہینوں میں روشن و افضل مہینہ خدا کا مہینہ ہے اور وہ ماہِ رمضان ہے اور ماہ رمضان کا قرآن کے ساتھ استقبال کرو۔( تکمیل قرآن شب قدر میں ہوئی ہے۔)


۵ـ          جعفر بن غیاث کہتے ہیں میں نے امام جعفر صادق(ع) سے عرض کیا کہ مجھے بتائیں اس قول خدا کے بارے میں کہ ” یہ قرآن ماہ رمضان میں نازل ہوا“ جب کہ بیشک قرآن اول سے آخر تک بیس سال کی مدت میں نازل ہوا ہے امام نے فرمایا تمام قرآن ماہِ رمضان میں بیت المعمور پر نازل ہوا اور بیس سال کی مدت میں بیت المعمور سے نازل ہوا ہے۔

۶ـ           جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا یقینا میرے بدن کا ایک ٹکڑا سر زمین خراسان میں دفن ہوگا اور جو مومن اس کی زیارت کرے گا خدا بہشت کو اس پر واجب کرے گا اور اس کے بدن پر دوزخ حرام کرے گا۔

۷ـ          جنابِ ابوالحسن علی بن موسیٰ رضا(ع) نے فرمایا بیشک خراسان میں ایک بقعہ ہے جو آئیندہ زمانے میں فرشتوں کے آنے جانے کا مقام ہوگا گروہ در گروہ فرشتے آسمان سے نیچے آئیں گے اور گروہ در گروہ اوپر جائیں گے یہ صور پھونکے جانے تک ہوتا رہے گا ان سے عرض ہوا یاابن رسول اﷲ وہ کون سا بقعہ ہے، فرمایا، وہ سر زمین طوس ہے اور خدا کی وقسم وہ بہشت کے باغوں سے ایک باغ ہے جو کوئی اس بقعہ کی زیارت کرے گا وہ اس طرح کا بندہ ہوگا کہ اس نے رسول خدا(ص) کی زیارت کی ہے اور خدا اس کے لیے ہزار حج قبول شدہ اور ہزار عمرہ قبول شدہ کا ثواب لکھے گا میں اور میرے باپ دادا(ع) روز قیامت اس کے شفیع ہوں گے۔

۸ـ          عبدالسلام بن صالح ہروی کہتے ہیں میں نے امام رضا(ع) سے سنا کہ خدا کی قسم ہم آئمہ(ع) میں سے ہر کوئی مقتول اور شہید ہے میں نے ان سے عرض کیا یابن رسول اﷲ کیا آپ کو قتل کیا جائے گا فرمایا بدترین خلق خدا میرے زمانے میں مجھے زہر سے شہید کرے گا اور پھر مجھے غیر معروف گھر میں عالم غربت میں دفن کردے گا آگاہ ہو جاؤکہ جو کوئی میری عالم غربت میں زیارت کرے گا۔ تو خدا اس کے لیے سو ہزار ( ایک لاکھ) شہید اور سوہزار صدیق اور سو ہزار حج و عمرہ کا ثواب لکھے گا اور ایک لاکھ مجاہدوں کا ثواب عطا کرے گا اور وہ ہمارے گروہ میں محشور ہوگا اور جنت کے بلند درجات میں ہمارا رفیق ہوگا۔

۹ـ           ابو نصر بزنطی کہتے ہیں کہ میں نے کتابِ ابوالحسن رضا(ع) میں پڑھا کہ میرے شیعوں تک یہ


بات پہنچا دو کہ میری زیارت کرنا خدا کے نزدیک ہزار حج کے برابر ہے میں نے امام نہم ( محمد تقی(ع)) سے عرض کیا کہ ہزار حج؟ فرمایا ہاں خدا کی قسم ہزار ہزار حج ہے اس بندہ کے لیے جو ان کی معرفت کے ساتھ ان کی زیارت کرے۔

۱۰ـ          ابوالحسن علی بن موسی رضا(ع) نے فرمایا کہ ایک شخص نے جوکہ اہل خراسان سے تھا مجھ سے کہا اے ابن رسول اﷲ میں نے رسول خدا(ص) کو خواب میں دیکھا کہ جیسے وہ مجھ سے فرمارہے ہیں کہ اس وقت تمہارا حال کیا ہوگا جب میرا ایک لخت جگر تمہاری زمین میں دفن ہوگا اور میرے بدن کی امانت تمہارے سپرد ہوگی اور تمہاری زمین میں میرا ستارہ غروب ہوجائے گا امام رضا(ع) نے فرمایا تمہاری زمین کا وہ مدفون میں ہوں اور میں تمہارے نبی(ص) کے بدن کا ٹکڑا ہوں میں ہی وہ امانت ہوں اور میں ہی ہوں وہ ستارہ، آگاہ رہو کہ جو شخص ہمارے اس حق( ولایت) کو پہچانتے ہوئے جو اﷲ کی طرف سے واجب ہے اور میری اطاعت کا دم بھرتے ہوئے میری قبر کی زیارت کرے گا میرے آبائے کرام(ع) روزِ قیامت اس کی شفاعت کرنے والے ہوں گے اور جس شخص کے ہم شفیع ہوں گے وہ نجات پائے گا اگرچہ اس کے گناہ جن وانس کی تعداد کے برابر ہی کیوں نہ ہوں سنو میرے والد(ع) نے اپنے والد(ع) سے انہوں نے اپنے والد(ع) سے انہوں نے اپنے والد(ع) سے روایت کیا ہے  کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا جو کوئی مجھے اپنے خواب میں دیکھے اس نے حقیقت میں مجھے دیکھا  ہے کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آسکتا اور نہ ہی میرے اوصیاء(ع) کی صورت میں آسکتا ہے اور نہ ہی ان اوصیاء(ع) کے شیعوں کی صورت میں آسکتا ہے بیشک سچا خواب نبوت کےستر حصوں میں سے ایک حصہ ہے۔

جنابِ علی(ع) کی شہادت کی پیشگوئی

۱۱ـ           ابن عباس کہتے ہیں رسول خدا(ص) منبر پر تشریف لے گئے اور انہوں نے خطبہ پڑھا جب لوگ ان کے پاس جمع ہوگئے تو فرمایا اے مومنین کے گروہ بیشک خدا نے مجھے وحی کی ہے کہ میں اپنی جان اﷲ کے حوالے کردوں میرے بعد میرے چچا کا بیٹا علی(ع) قتل کیاجائے گا اے لوگو میں تمہیں بتائے دیتا ہوں کہ اگر تم نے اس  کے راستے کو اختیار کیا تو سلامت رہو گے اور اگر اس کو چھوڑ دیا تو


ہلاک ہوجاؤ گے بیشک میرے چچا کا بیٹا علی(ع) میرا بھائی ، وزیر اور میرے خلیفہ ہے وہ میری طرف سے تبلیغ کرنے والا ہے اور متقیوں کا امام ہے وہ نورانی ہاتھوں اور نورانی چہرے والوں کا قائد ہے اگر اس سے ہدایت طلب کرو گے تو وہ تمہاری راہنمائی کرے گا اور اگر اس کی پیروی کرو گے تو تمہیں نجات دے گا اگر اس کی مخالفت کرو گے تو گمراہ ہوجاؤ گے اور اگر اس کی اطاعت کرو گے تو سمجھو خدا کی اطاعت کی ہے اگر اس کی نافرمانی کرو گے تو سمجھو خدا کی نافرمانی کی ہے اور اگر اس کی بیعت کرو گے تو سمجھو خدا کی بیعت کی ہے اگر اس کی بیعت توڑ دو گے تو سمجھو خدا کی بیعت توڑ دی ہے بیشک خدا نے مجھ پر قرآن نازل کیا ہے اور یہ وہ ہے کہ جوبھی اس کی مخالفت کرے گا گمراہ ہوگا اور جوکوئی اپنےلیے علم کو علی(ع) کے علاوہ کسی اور سے طلب کرےگا ہلاک ہوگا اے لوگو میری بات سنو اور میری اس نصیحت کو پہچانو، تم میرے اہل بیت(ع) کی مخالفت نہ کرنا میرے بعد میرے اہل بیت(ع) کے ساتھ رہنا میں تمہیں ان کی حفاظت کا حکم دیتا ہوں تم میرے اس حکم پر عمل کرو کیوںکہ یہ میرا حوض، میرے حامی، میرے رشتہ دار، میرے بھائی اور میرے فرزند ہیں جب تم اکٹھے کیے جاؤ گے تو ثقلین کے بارے تم سے پوچھا جائے گا میں دیکھتا ہوں کہ تم میرے بعد ان کےساتھ کیا کروگے بیشک یہ میرے اہل بیت(ع) ہیں جو کوئی ان کو آزار دیتا ہے مجھے آزار دیتا ہے جو ان پر ستم کرے گا اس نے مجھ پر ستم کیا جو کوئی ان کو خوار کرے اس نے مجھے خوار کیا اور جو کوئی ان کو عزیز رکھتا ہے اس نے مجھے عزیز رکھا جو کوئی اپنے ہاتھ کو ان سے اٹھاتا ہے ( مدد نہیں کرتا) اس نے اپنے ہاتھ کو مجھ سے اٹھایا جس نے ان کے علاوہ کسی اور سے ہدایت طلب کی اس نے میری تکذیب کی اے لوگو! اﷲ سے ڈرو اور غور کرو کہ میں نے تم سے کیا کہا ہے جس وقت تم خدا سے ملاقات کرو گے تو میں ہر اس بندے کا دشمن ہوں گا کہ جس نے ان کو آزار دیا ہوگا اور جس کا میں دشمن ہوں گا اس کو مغلوب بنادوں گا یہ بات میں نے تم سے بیان کردی ہے میں خدا سے اپنے اور تمہارے لیے مغفرت طلب کرتا ہوں۔


مجلس نمبر۱۶

( بارہ رمضان سنہ۳۶۷ھ)

صبرکا ثواب

۱ـ           انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ عثمان بن مظنون کا بیٹا مرگیا اور اس پر غم چھا گیا اس کے گھر میں لوگ اس طرح جمع ہوگئے جیسے مسجد میں عبادت کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں یہ خبر رسول خدا(ص) یہ خبر رسول خدا (ص) کو پہنچی تو رسول خدا(ص) نے اس سے فرمایا اے عثمان بیشک اﷲ تعالی نے ہم پر رہبانیت اور ترک دنیا کو نہیں لکھا ہے بیشک میری امت کی رہبانیت اﷲ کی راہ میں جہاد ہے اے عثمان بن مظنون بہشت کے آٹھ دروازے ہیں اور دوزخ کے سات دروازے ہیں کیا یہ خوشی کی بات نہیں کہ بہشت کے ہر دروازے سے تیرا بیٹا آئےگا وہ تیرے پہلو میں ہوگا اور تیرا دامن پکڑے ہوئے خدا کی بارگاہ میں تم سے شفاعت طلب کرے گا کہا کیوں نہیں یا رسول اﷲ(ص)  مسلمان کہنے لگے یا رسول اﷲ(ص)  کیا ہم بھی اپنے گزرے ہوؤں کی موت میں عثمان جیسے اجر کو رکھتے ہیں؟ فرمایا یہاں جو بھی تم میں سے صبر کرے اور اپنے حساب کو خدا پر چھوڑ دے اس کے لیے ایسا ہی ہے پھر فرمایا اے عثمان جو کوئی نماز صبح کو باجماعت ادا کرے گا اور پھر بیٹھ کر ذکرِ خدا کرے گا یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے تو اس کے لیے فردوس میں ستر درجے ہوں گے کہ ان کے درمیان بہ اندازہ ستر سال پتلی کمر والے نجیب النسل گھوڑوں کے دوڑنے کے برابر فاصلہ ہے اور جو کوئی نمازِ ظہر کو باجماعت پڑھے گا تو اس کے لیے جنت عدن میں پچاس درجے ہوں گے کہ ہر ایک کا دوسرے سے فاصلہ پچاس سال گھوڑا دوڑنے کے برابر ہے اور جو کوئی نماز عصر کو با جماعت ادا کرے گا تو اسے اولاد اسماعیل(ع) کے آٹھ قیدیوں کو آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا چاہے اس کا کوئی خاندان نہ بھی ہو۔ ( یعنی اگر خاندان رکھتا ہوگا مثلا بیوی، اولاد، بھائی، بہن وغیرہ تو وہ بھی اس ثواب میں شریک ہوں گے۔) اور جوکوئی نمازِ مغرب کو با جماعت پڑھے گا تو اس کا ثواب ایک حج مبرور اور عمرہ مقبول کے


برابر ملے گا اور جو کوئی نماز عشاء کو باجماعت پڑھے گا تو شب قدر کے قیام کے برابر ثواب پائے گا۔

سخائیل فرشتہ

۲ـ           ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا خدا کا ایک فرشتہ جس کا نام سخائیل ہے وہ ہر نماز کے وقت نماز گزاروں کے لیے خدا رب العالمین سے برائت طلب کرتا ہے صبح کے وقت جو مومنین اٹھتے اور وضو کرتے ہیں اور نماز فجر ادا کرتے ہیں۔ سخائیل خدا سے ان کے لیے برائت نامہ لیتا ہے جس میں لکھا ہوتا ہے کہ میں خدا ہوں اور تم میرے بندے اورری کنیزیں ہو اور میں تمہیں اپنی پناہ میں رکھے  ہوئے ہوں، میں نے تمہیں اپنے زیر سایہ کیا ہوا ہے مجھے اپنی عزت کی قسم میں تم سے  جدا نہیں ہوں گا میں نے تمہارے گناہ معاف کردیئے، پھر یہاں تک کہ ظہر ہوجاتی ہے اور جب مومنین ظہر کے لیے اٹھتے ہیں اور وضو کرتے اور نماز بجالاتے ہیں تو برائت دوم خدا سے ان کےلیے لیتا ہے جس میں لکھا ہوتا ہے کہ میں طاقتور خدا ہوں تم میرے بندے اور کنیزیں ہو میں نے تمہاری برائیوں کو اچھائیوں میں تبدیل کردیا ہے تمہارے گناہوں کو معاف کردیا ہے اور میں تمہیں اپنے جلال میں داخل کردیا ہے پھر عصر کے وقت مومنین جب وضو کر کے نماز پڑھتے ہیں تو تیسری برائت کو خدا سے ان کے لیے لیتا ہے جس میں لکھا ہوتا ہے کہ میں خدائے جلیل ہوں اور عظیم سلطان ہوں تم میرے بندے اور کنیزیں ہو اور اپنی رحمت سےمیں نے شرکو تم سے دور کردیا اور مومن جب نماز مغرب کو ادا کرتا ہے تو خدا سے چوتھی برائت ملتی ہے جس میں لکھا ہوتا ہے کہ میں خدائے جبار و کبیر متعال ہوں اور یہ میرے بندے اور کنیزیں ہیں میرے فرشتے میری رضا سے اوپر آتے ہیں اور تمہارا مجھ پر یہ حق ہے کہ میں تم کو خشنود کروں اور روزِ قیامت تمہاری آرزو کو پورا کروں، پھر جب مومن عشا کے وقت وضو کر کے نماز بجالاتا ہے تو برائت پنجم خدا کی  طرف سے ان کے لیے ملتی ہے اس میں لکھا ہوتا ہے کہ بےشک میں ہی خدا ہوں میرے سوا کوئی معبود نہیں اور پروردگار میرے سوا کوئی نہیں یہ سب میرے بندے اور میری کنیزیں ہیں، تمہارے گھروں میں تمہاری تطہیر کردی گئی، اب تم میرے گھر میں آئے ہو اور میرے ذکر میں شامل ہوگئے ہو، تم نے


میرے حق کو پہچانا ہے اور میرے فرائض کو اداکیا ہے میں تمہیں گواہ کرتا ہوں اے سخائیل دوسرے فرشتوں کے ساتھ کہ میں ان(مومنین) سے راضی ہوں۔رسول خدا(ص) فرماتے ہیں کہ سخائیل ہر شب نماز عشاء کے بعد تین دفعہ ندا کرتا ہے کہ اے خدا کے فرشتو بیشک خدا نماز ادا کرنے والوں کی تمام خطائیں معاف کرتا ہے لہذا اس عمل کے ساتھ دعا کرو کہ جو بندہ اور جو کنیز خدا نمازِ شب کو ادا کرے خدا کے لیے روئے اخلاص و وضو کامل کے ساتھ تو خدا اس کی نیت درست، دل سالم، تنِ خاشع اور چشم گریاں کے ساتھ ادا کی گئی نماز کو قبول کرے گا اور خدا اس کے پیچھے ملائکہ کی نو(۹)صفیں قائم کرے گا کہ گنتی ہر صف کی خدا کے سوائے کوئی نہیں جانتا اس صف کا ایک سرا مشرق تک ہوگا اور دوسرا سرا مغرب تک اور جب وہ مومن فارغ ہوگا تو  ان فرشتوں کی تعداد کے برابر درجات اس مومن کے لیے لکھے جائیں گے منصور ایک راوی حدیث کہتا ہے کہ جب ربیع بن بدر نے اس حدیث کو نقل کیا تو کہا اے غافل تم کہاں ہو اس کرم الہی کے پانے سے اور تم کہاں ہوں اس رات کے قیام کو پانے سے یہ ثواب جزیل ہے، کرامت ہے۔

ولی عہدی امام علی رضا(ع)

۳ـابوصلت ہروی(رض) کہتے ہیں کہ ماموں رشید نے حضرت علی بن موسی رضا(ع) سے کہا کہ اے فرزندِ رسول(ص) میں آپکے علم و فضل، زہد و تقوی اور آپ کی عبادت کا معترف ہوگیا ہوں اور میری رائے میں آپ مجھ سے زیادہ اس خلافت کے حق دار ہیں، حضرت نے فرمایا میں اﷲ کی عبادت پر فخر کرتا ہوں اور اپنے زہد سے امید نجات رکھتا ہوں ہ دنیا کے شر سے محفوظ رہوں گا، تقوی و ورع کی وجہ سے محرمات سے احتراز کو میں بڑی کامیابی سمجھتا ہوں اور تواضع سے دنیا میں امید رفعت و بلندی رکھتا ہوں اور خدا کی  درگاہ میں مجھے اس کی امید ہے مامون نے کہا میں یہ خیال رکھتا ہوں کہ خود کو خلافت سے سبک دوش کردوں اور اس خلافت کو آپکے حوالے کردوں اور آپکی بیعت کروں امام رضا(ع)  نے فرمایا اگر یہ خلافت تیرا حق ہے اور پھر خدا نے تجھے دی ہے تو یہ جائز نہیں کہ جو خلعتِ خلافت خدا نے تم کو پہنایا ہے تم اس کو اتار کر کسی دوسرے کو پہنا دو یہ خلافت تم سے نہیں ہے اور یہ جائز نہیں کہ جو چیز تمہاری نہیں ہے تم وہ مجھے بخش دو مامون نے کہا یا ابن رسول اﷲ(ص)تمہیں


یہ خلافت چار و ناچار قبول کرنی ہی پڑے گی امام رضا(ع) نے فرمایا زبردستی کی اور بات ہے ورنہ اپنی خوشی سے تو میں اسے کبھی بھی قبول نہ کرونگا، مامون کچھ دنوں تک اصرار کرتا رہا آخر جب نا امید ہوا کہ وہ قبول نہیں کرتے تو کہا کہ اگر آپ خلافت قبول نہیں کرتے اور آپ کو یہ پسند نہیں کہ میں آپ کی بیعت کروں تو آپ میرے ولی عہد بن جائیں تاکہ میرے بعد یہ خلافت آپ کو مل جائے امام رضا(ع) نے فرمایا خدا کی قسم میرے والد(ع) نے اپنے آباء(ع) سے روایت کی ہے کہ امیر المومنین(ع)  نے فرمایا کہ رسول خدا(ص) کا ارشاد ہے کہ میں تجھ (مامون) سے پہلے زہر کے ذریعے قتل ہوکر اس دنیا سے کوچ کرجاؤںگا مظلومانہ طور پر اور آسمان و زمین کے فرشتے مجھ پر گریہ کریںگے اور عالم غربت میں میں ہارون رشید کے پہلو میں دفن کیا جاؤں گا، یہ سن کر مامون رونے  لگا اور کہنے لگا فرزند رسول(ص) جب تک میں زندہ ہوں کس کی یہ جرائت ہے کہ آپ(ع) کو قتل کرے اور کس کی یہ جرائت ہے کہ آپکے ساتھ برائی کا ارادہ کرے امام رضا(ع) نے کہا اگر میں چاہوں تو یہ بھی بتا سکتا ہوں کہ کون مجھے قتل کرے گا، مامون نے کہا اے فرزند رسول(ص) یہ باتین کہنے سے آپکا مقصد یہ ہے کہ آپ بارِ خلافت اٹھانا نہیں چاہتے اور یہ خلافت قبول نہیں کرنا چاہتے تاکہ لوگ یہ کہیں کہ آپ(ع) زاہد ہیں، امام رضا(ع) نے فرمایا سنو خدا کی قسم جب میرے رب نے مجھے پیدا کیا ہے میں نےآج تک کبھی جھوٹ نہیں کہا ہے، مامون نےکہا اچھا تو پھر بتائیے کہ خلافت پیش کرنے کا میرا مقصد کیا ہے فرمایا اگرمیں سچ کہوں تو مجھے جان کی امان ہے۔؟ اس نے کہا، امان ہے، فرمایا تیرا مقصد اس سے یہ ہے کہ لوگ یہ کہیں کہ علی بن موسی رضا(ع) خود زاہد نہ تھے بلکہ دنیا ان کی طرف سے بے رغبت تھی اور جب خلافت کے لالچ میں ولی عہد ملی تو انھوں نے قبول کرلی، یہ سن کر مامون کو غصہ آگیا اور کہا تم ہمیشہ میرے بارے میں ایسی ہی باتیں کرتے ہو جو مجھے ناپسند ہوتی ہیں یہ میری ڈھیل اور رعایت کا نتیجہ ہے خدا کی قسم اگر تم نے ولی عہدی قبول نہ کی تو میں مجبور کردوں گا کہ اسے قبول کرو اور اگر پھر بھی قبول نہ کی تو آپکی گردن اڑادوں گا، امام رضا(ع) نے فرمایا خدا نے مجھے  حکم دیا ہے کہ میں اپنے آپکو ہلاکت میں نہ گراؤں لہذا اگر یہ بات ہے تو تیرا جو دل چاہے وہ کر اسے قبول کرلوںگا مگر اس شرط پر کہ نہ میں کسی کو مقرر کروں گا اور نہ کسی کو معزول کروں گا اور نہ کوئی دستور اور نہ کوئی قانون منسوخ کروں گا اور دور ہی دور سے خلافت کے بارے میں تجھے مشورہ دیتا رہوں گا مامون اس پر راضی ہوگیا اور آپ(ع) کو نہ چاہنے کے باوجود ولی عہد بنا دیا گیا۔


مجلس نمبر ۱۷

(پندرہ رمضان سنہ۳۶۷ھ)

۱ـ           امام صادق(ع) جعفر بن محمد(ع) نے اپنے اجداد(ع) سے روایت کیا ہے جنابِ علی ابن ابی طالب(ع) نے فرمایا کہ چند فقراء رسول خدا(ص) کے پاس آئے اور کہنے لگے یا رسول اﷲ(ص) امیر لوگ یہ استطاعت رکھتے ہیں کہ کسی غلام کو آزا کرادیں مگر ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے وہ حج کرنے کی استاعت رکھتے ہیں لیکن ہم نہیں رکھتے وہ صدقہ دے سکتے ہیں مگر ہم اس سے قاصر وہ جہاد کی طاقت رکھتے ہیں اور ہم نہیں رکھتے، آپ(ص) نے فرمایا جو کوئی سور بار اﷲ اکبر کہے تو یہ غلاموں کو آزاد کرنے سے بہتر ہے اور جو کوئی سوبار اﷲ کی تسبیح( سبحان اﷲ) کرے تو یہ سو اونٹوں کی قربانی سے بہتر ہے۔ جو کوئی سو دفعہ خدا کی حمد( الحمد ﷲ) کرے تو یہ سو گھوڑوں کو زین ولگام کے ساتھ آراستہ کر کے خدا کی راہ میں جہاد کےلیے وقف کرنے سے بہتر ہے اور جو کوئی سو بار” لا الہ الا اﷲ) کہے تو اس دن کا اس کا کردار تمام لوگوں سے بہتر ہوگا مگر یہ کہ  کوئی بندہ اس سے زیادہ ذکر کرے جب یہ خبر امیروں کو پہنچی اور انہوں نے بھی عمل کیا تو فقرا پھر پیغمبر(ص) کے پاس واپس آئے اور کہنے لگے یا رسول اﷲ(ص) جس بات کا آپ(ص) نے ہمیں حکم دیا ہے وہ امیروں کو بھی پہنچ گئی ہے اور وہ اس کا ورد کرتے ہیں آپ(ص) نے فرمایا یہ خدا کا فضل ہے کہ وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔

اسم محمد(ص)

۲ـ           ابوجعفر امام محمد باقر(ع) نے فرمایا یا رسول اﷲ(ص) خدا کا نام صحفِ ابراہیم(ع) میں ماحی ہے توریت موسی(ع) میں احید انجیل عیسی(ع) میں احمد(ص) اور فرقان میں محمد(ص) ہے پھر فرمایا کہ ماحی کا مطلب اوثان و ازلام اور دیگر بتوں کو ختم کرنے والا ہے۔ لائق عبادت صرف خدائے واحد ہے۔ جب آپ(ص) (امام باقر(ع)) سے پوچھا گیا کہ احید(ص) کے کیا معنی ہیں تو فرمایا کہ ہر اس بندے کے ساتھ مبارزہ کرنے والا جو خدا اور (خدا) اس کے دین کا مذاق اڑئے یا شرک کرے پھر پوچھا گیا کہ احمد(ص) کے بارے میں


وضاحت کریں تو آپ(ع) نے فرمایا احمد(ص) سے مراد وہ ہے کہ جسے تمام کتابوں میں تعریف سے بیان کیا گیا ہو پھر دریافت کیا گیا کہ محمد(ص) کے کیا معنی ہیں تو فرمایا وہ کہ جس کی خدا اور ملائکہ، اس کے تمام پیغمبر و رسول اور ان کی امتیں تمجید کریں اور درود بھیجیں۔ آپ(ص) کا نام عرش پر محمد رسول اﷲ(ص) لکھا ہوا ہے۔ حدیث دیگر میں آںحضرت(ص) کی اشیاء مبارکہ کی تفصیل کچھ یوں ہے آپ(ص) یمنی ٹوپی اوڑھا کرتے اور دورانِ جنگ دو کانوں والی ٹوپی سے سر ڈھانپا کرتے تھے جو کہ” مغربہ“ کہلاتی تھی۔ عیدیں کے دوران بھی سر مبارک پر ٹوپی اور ہاتھ میں عصا ہوتا تھا او عشانوں پر چادر، آپ(ص) دو عدد گھوڑے بھی رکھتے تھے جب کے نام مرتجز اور سکب تھے اس کے علاوہ دو عدد خچر بنام ” دلدل اور شہبا“ بھی ملکیت میں تھے آپ(ص) کے پاس دو عدد اونٹنیاں تھیں جن کا نام غضباء اور جذعاء تھا۔ آپ(ص) کے پاس چار تلواریں تھیں جن کے نام مجذم، رسوم، عون اور ذوالفقار تھے۔  ایک عددد گدھا بھی رکھتے تھے جس کا نام یعفور تھا آپ(ص) کے عمامے کا نام سحاب تھا۔ زرہ مبارکہ  جو کہ ذاتِ الففول نامی تھی کے تین عدد حلقے تھے جو کہ چاندی کے تھے ایک حلقہ سامنے اور دو پیچھے کیطرف تھے آپ(ص) کے علم کا نام عقاب تھا جو دیباج کا بنا ہوا تھا جس کو دو اونٹ اٹھایا کرتے تھے۔ ی تمما اشیاء بارکہ آپ(ص) نے بوقت وصال جنابِ امیر المومنین(ع) کو دے دیں تھی۔ نیز اپنی انگوٹھی اپنے ہاتھ سے اتار کر جنابِ امیر کی انگلی میں ڈال دی تھی۔ جنابِ امیر(ع) فرماتے ہیں کہ آںحضرت(ص)  کی ایک تلوار کے قائمہ میں سے مجھے ایک صحیفہ ملا جس میں بے شمار علوم تھے اس میں یہ تین باتیں بھی درج تھیں۔۱ـ        ہمیشہ سچ کہو بے شک تمہیں اس سے کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہو۔۲ـ     جو بھی تم سے بدی کرے اس کا جواب اچھائی سے دو۔۳ـ         اور جو تم سے قطع تعلق کرے اس کے ساتھ تعلق قائم کرو۔

حدیثِ دیگر میں رسول خدا(ص)  نے فرمایا پانچ باتیں میں موت آنے تک ترک نہیں کروں گا۔(۱) غلاموں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانا (۲) جانور کی برہنہ پشت پر سواری (۳) اپنے ہاتھ سے جوتیاں ٹانکنا اور (۴) بچوں کو سلام کرنا، تاکہ یہ طریقہ میرے بعد قائم رہے۔

۳ـ ریان بن صلت کہتے ہیں میں امام رضا(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے ان سے


 عرض کیا کہ اے فزند رسول(ص) لوگ کہتے ہیں کہ آپ(ع) نے ولی عہدی قبول کرلی ہے؟ آںحضرت(ع) نے فرمایا اﷲ بہتر جانتا ہے کہ میں نے اس کو ناپسندیدگی کے ساتھ قبول کیا ہے کہ جب مجھ سے کہا گیا کہ یا تو میں اسے قبول کروں یا اپنا قتل ہونا تو میں نے اپنے قتل ہونے کے بدلے میں ولی عہدی کو قبول کر لیا اور مجھے لوگوں پر بے حد افسوس ہے کیا وہ نہیں جانتے ہیں کہ یوسف(ع) پیغمبرو نبی و رسول تھے مگر جب ضرورت نے مجبور کیا کہ عزیز مصر کے خزانہ دار( خزانچی) بن جائیں تو انہوں نے کہا تھا۔ کہ زمین کے خزانوں کومیرے حوالے کردو میں ان کی حفاظت کروں گا اور میں جانتا ہوں کہ ان کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے لہذا میں نے بھی اسی طرح مجبور ہو کر اسے قبول کیا کیوں کہ مجھ پر اتنا جبر کیا گیا کہ ہلاکت سامنے نظر آرہی تھی لہذا میں نے اسے اس طرح قبول کیا کہ مجھے اس سے کوئی سروکار نہ ہوگا میں اﷲ سے فریاد کرتاہوں اور وہی میری مدد کرنے والا ہے۔

۴ـ          علی بن حسن بن علی بن فضال کہتے ہیں کہ امام رضا(ع) نے فرمایا جو کوئی ہماری مصیبت کو یاد کرے اور اس پر گریہ کرے گا تو روزِ قیامت ہمارے ساتھ درجہ میں ہوگا اور جو کوئی بھی ہماری مصیبت کو یاد کر کے روئے اور دوسروں کو رلائے تو اس کی آنکھیں اس دن نہ روئیں گی کہ جس دن باقی سب آنکھیں رویی ہوں گی اور جو شخص کسی ایسی مجلس میں بیٹھ کر کہ جس میں ہامرے امر کو زندہ کیا جاتا ہے زندہ کرے گا تو اس دن اس کا دل مردہ نہ ہوگا کہ جس دن باقی لوگوں کےدل مردہ ہوں گے امام رضا(ع) نے فرمایا قول خدا ہے کہ ” اگر بہتر کرو تو تمہارے لیے بہتر ہے اور برا کرو تو یہ تمہاری طرف سے ہے اگر بہتر (اچھا) کرو تو تمہیں اچھائی ملے گی اگر برا کرو گے تو تمہارا خدا تمہیں معاف کرے گا چشم پوشی کرو بہتر چشم پوشی“ پھر آپ(ع)  نے فرمایا عفو غیر عتاب سے ہے  اور قول خدا ہے کہ ” تم کو ڈرانے کے لیے اور امیدوار کرنے کے لیے بجلی دکھلاتا ہے۔(روم، ۲۴) پھر فرمایا خوف مسافر کی نسبت سے اور امید مقیم ہونے کی نسبت سے ہے جو کوئی اپنے گناہوں کے کفارے کی طاقت نہیں رکھتا تو بہت زیادہ محمدو آل محمد(ص) پر درود بھیجے تاکہ اس کے گناہوں کو ختم کردیا جائے اور صلوات بر محمد و آل محمد(ص) ، خدا کے نزدیک تسبیح و تہلیل و تکبیر کے برابر ہے۔


معاویہ اور عمرو العاص

۵ـ          عدی بن ارطات کہتا ہے کہ ایک دن معاویہ نے عمرو بن عاص سے کہا اے ابو عبداﷲ ہم میں سے زیادہ عقل مند اور زیادہ سیاست دان کون ہے عمرو نے کہا۔ ”مردیہہ“ جب کہ تم چالباز ہو معاویہ نے کہا اگر چہ تو نے میرے فائدہ میں بات کی مگر میں بدیہہ ( لفاظی) میں بھی تم سے زیادہ عبور رکھتا ہوں عمرو نے کہا تیری یہ عقلمندی تحکیم کے دن کہاں تھی معاویہ نے کہا اس معاملے میں مجھ پر غلبہ پایالیکن ابھی میں چاہتا ہوں۔کہ جو بات میں تجھ سے پوچھوں تو اس کا جواب سچ سچ دے عمرو نے کہا پوچھ معاویہ نے کہا کہ بتا جس دن سے تو میرے ساتھ شامل ہوا ہے کس کس کے ساتھ دھوکا کیا ہے عمرو نے کہا چونکہ تو نےعہد لیا ہے تو سن اور یاد کر وہ دن جب علی(ع) سے مجھے میدان میں طلب کیا تھا (تحکیم دورانِ جنگ صفین) تو میں نے میدان میں جانے سے پہلے تجھ سے مشورہ کیا تھا۔ اور رائے طلب کی تھیتو نے مجھے کہا تھا کہ ہوشیار رہنا اسکا ہمسر کریم ہے تو اسے اچھی طرح جانتا ہے لہذا جب میں (عمرو) میدان میں گیا تو میں نے اس کے ساتھ دھوکا کیا۔ پھر جب علی(ع) نے مبارزہ طلبی کی اور کہا تھا کہ آؤ ہم دونوں فیصلہ کر لیں یا میں شہید ہو جاؤں یا تو مارا جائے، یا تو اپنے شرف کو زیادہ کرے یا میں اپنے شرف کو زیادہ کرلوں یا تو اپنی سلطنت میں بے رقیب ہو جا یا میں آ جا کہ ہم آپس میں فیصلہ کرلیں تو تب میں نے دھوکا دیا تھا معاویہ نے کہا خدا کی قسم یہ دوسرا دھوکا پہلے سے بھی بدتر تھا میں جانتا تھا کہ اگر میں قتل ہو جاؤں تو بھی دوزخ میں جاؤں گا اور اگر وہ قتل ہو جائے تو بھی ہی دوزخ میں جاؤں گا عمرو نے معاویہ سے کہا تو نے علی(ع) سے جنگ کیوں مول لی معاویہ نے کہا یہ راز کی بات ہے اسے کسی سے نہ کہنا میں نے علی(ع) سے اس عظیم سلطنت کو حاصل کرنے کے لیے جنگ کی۔

۶ـ           رسول خداص(ص) نے فرمایا جو کوئی میرے دین کو قائم رکھتا ہے اورمیرے راستے پر چلتا ہے اور میرے قانون کا پیرو کار ہے اسے چاہیے کہ وہ فضیلتِ ائمہ اہل بیت(ع) کا معترف ہو، دیگر امتوں کی نسبت اس امت میں ان کی مثال باب حطہ کی سی ہے جس طرح اسرائیل میں باب حطہ تھا۔


۷ـ          جابر جعفی بیان کرتے ہیں کہ امام باقر(ع) نے فرمایا کہ خدا نےجنابِ رسول خدا(ص) کو وحی کی کہ میں جعفر بن ابی طالب کو اس کی چار خصلتوں کی وجہ سے عزیز رکھتا ہوں۔

اس وحی کے بعد جنابِ رسول خدا(ص) نے جنابِ جعفر بن ابی طالب(ع) کو طلب کیا اور  ان سے ان کی چار خصلتوں کے بارے میں دریافت کیا۔

جعفر(ع) نے  عرض کیا کہ یا رسول اﷲ(ص) اگر آپ کوخدا نے اس کی اطلاع نہ دی ہوتی تو میں اپنی یہ خصلتیںآپ(ص) سے بیان نہ کرتا۔

اول : میں نےکبھی شراب نہیں پی کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ یہ عقلوں کو فاسد و زائل کرتی ہے۔

دوم : میں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ جھوٹ مروت کو  ختم کرتا ہے۔

سوئم : میں نے کبھی زنا نہیں کیا کیوںکہ میں جانتا ہوں کہ یہ عمل میرے ساتھ  بھی دہرایا جاسکتا ہے۔

چہارم : میں نے کبھی بتوں کی پوجا نہیں کی کیونکہ میں جانتا ہوں کہ نہ تو یہ کسی کو نفع پہنچان سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان۔ جنابِ رسول خدا(ص) نے یہ سنا تو جنابِ جعفر(ع) کے کندھے کو تھپتھپا کر فرمایا۔خدا نے تیرے لیے دو پروں کا انعام مقرر فرمایا ہے جن کے ذریعے تو جنت میں فرشتوں کے ہمراہ پرواز کرئے گا۔


مجلس نمبر ۱۸

(۱۹ رمضان سنہ۳۶۷ھ)

علی (ع) خیرالبشر

۱ـ جابر(رض) کہتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا بہشت کے دروزاہ پرلکھا ہوا ہے” لا اله الا اﷲ محمد رسول اﷲ علی اخو رسول اﷲ“ اﷲ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں محمد(ص) اﷲ کے رسول ہیں اور علی(ع) رسول خدا(ص) کے بھائی ہیں زمین و آسمان کی پیدایش سے دو ہزار سال پہلے سے۔

۲ـ ابن عباس کہتے ہیں، میں نے پیغمبر(ص) نے ان کلمات کے بارے میں پوچھا جو آدم(ع) نے اپنے رب سے دریافت کیئے اور ان کی توبہ قبول ہوئی آںحضرت(ص) نے فرمایا کہ آدم(ع) نے جب کہا اے خدایا تو بحق محمد(ص) و علی(ع) و فاطمہ(س) و حسن(ع) و حسین(ع) میری توبہ قبول کر لے تو خدا نے ان کی توبہ قبول کی۔

۳ـ عطاء کہتے  ہیں کہ میں نے عائشہ سے علی(ع) بن ابی طالب(ع) کے بارے میں پوچھا تو کہا آںحضرت علی خیرالبشر ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کرتا مگر کافر۔

۴ـ ربعی کہتے ہیں کہ خذیفہ(رض) سے علی بن ابی طالب(ع) کے بارے میں سوال ہوا انہوں نے کہا وہ حضرت(ع) خیرالبشر ہیں اور اس میں کوئی شک  نہیں کرتا مگر وہ جو منافق ہے۔

۵ـ حذیفہ بن یمان کہتے ہیں کہ پیغمبرنے فرمایا کہ علی ابن ابی طالب خیرالبشر ہےاورجوبھی اسکے سر کشی کرے گا وہ کافر ہے۔

۶ـ ابوزبیر مکی کہتے ہیں میں نے جابر کو دیکھا کہ اپنے عصا کو پکڑے ہوئے کوچہ انصار کی ایک مجلس کے اندر ہیں اور کہتے ہیں کہ علی خیرالبشر ہے اورجو کوئی بھی اس سے سرکشی کرے گا وہ کافرہے اے گروہ انصار اپنی اولاد کو محبت علی ابن ابی طالب پر ورش کرو اور جو کوئی اس معاملے میں سر کشی کرے اس کی ماں کے بارے میں نظر کی جائے گی (یعنی اس کے نطفہ میں شک ہے)

۷ـ امام رضا(ع) نے اپنے آبائے طاہرین(ع) سے روایت کی ہے کہ علی ابن ابی طالب(ع) نے فرمایا کہ


 پیغمبر(ص) نے مجھ سے فرمایا تم خیرالبشر ہو اور شک نہیں کرتا تیرے بارے میں مگر وہ  جو کافر ہے۔

۸ـ          زید بن علی(ع) نے اپنے اجداد(ع) سے روایت کیا کہ علی(ع) نے فرمایا کہ رسول خدا(ص) کی طرف سے مجھے دس چیزیں دی گئی ہیں جو کسی کو مجھ سے پہلے نہیں دی گئیں اور کسی بندے کو میرے بعد بھی نہ دی جائیں گی، آںحضرت(ص) نے فرمایا اے علی(ع) تم میرے بھائی ہو دنیا میں اور آخرت میں بہشت میں برابر ہوگی جیسے کہ دو بھائیوں کی ہوتی ہے، تم حق ہو، تم ولی ہو، تم وزیر ہو تیرا دشمن میرا دشمن ہے اور میرا دشمن ہے اور میرا دشمن خدا کا دشمن ہے، تیرا دوست میرا دوست ہے اور میرا دوست خدا کا دوست ہے۔

علی(ع) کی عبادت

۹ـ           عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ہم مسجد رسول خدا(ص) میں جمع ہوکر مجلس کی شکل میں بیٹھے تھے اور اہل بدر اور اصحاب بیعت رضوان کے اعمال کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے کہ ابودردا(رض) نے کہا اے لوگو کیا میں تمہیں ایسے بندے سے آگاہ کروں کہ جس کا مال تمام سے کمتر ہے اور اس کی ورع سب سے افضل اور اس کی کوشش عبادت بہت زیادہ ہے، ہم نے کہا وہ کون ہے کہا علی(ع) بن ابی طالب(ع) تو خدا کی قسم جو کوئی اس محفل میں تھا اس نے یہ سن کر منہ پھیر لیا ایک اںصاری نے ابو دردا(رض) سے کہا اے عویمر تم  نے ایسی بات کی ہے کہ کسی نے تیری موافقت نہیں کی ابو دردا(رض) نے کہا کہ اے لوگو! میں نے جو کچھ دیکھا ہے وہی کچھ کہا اور تم کو بھی چاہیے کہ جو کچھ دیکھو وہی کہو میں نے خود علی(ع) بن ابی طالب(ع) کو نجار میں دیکھا کہ اپنے موالی سے علیحدہ ہوگئے اور دور کجھور کے درختوں کے جھنڈ کے پیچھے غائب ہوگئے اور میری نظروں سے اوجھل ہوگئے۔ میں نے خیال کیا کہ شاید گھر تشریف لے گئے ہیں۔ ناگاہ ایک دردناک گریہ کی آواز اس جھنڈ سے آتی ہوئی محسوس ہوئی میں معلوم کرنے کے لیے بڑھا کہ یہ کون ہے  جو گریہ کر رہا ہے جب قریب پہنچا تو آواز آنے لگی، اے خداوندا تیرا کرم ہے کہ میری کوتاہیوں کو تو نے نظر انداز کیا اورمجھے عظیم نعمتوں سے نوازا اور اپنے کشف کی بزرگی عنایت کی۔ بار الہا میں اپنے گناہوں کے سلسلے میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں۔ اس کے علاوہ


کوئی آرزو نہیں رکھتا اور سوائے تیری رضا کے میں کچھ نہیں چاہتا۔ میں ( ابو دردا) یہ جملے سن کر آسگے بڑھا تو دیکھا کہ علی(ع) ہیں میں نے خود کو درختوں میں پوشیدہ کر لیا۔ جنابِ امیر(ع) نے اپنی مناجات کا سلسلہ آگے بڑھاتے ہوئے کہا اے خداوندا تو ماضی کا حال جانتا ہے تو جانتا ہے کہ میرے دل کو تیرے خوف نے جکڑ لیا ہے۔ خداوندا میں اس وقت سے پناہ مانگتا ہوں جب نامہء اعمال سامنے آئے گا بار الہا میں اس نامہء اعمال کے عشر عشیرہ کا بار اٹھانے کے قابل بھی نہیں مجھے اس بار سے محفوظ رکھ مجھے اس بار سے محفوظ رکھ۔ جس کو اٹھانے کی طاقت ایک پورا قبیلہ بھی نہیں رکھتا۔ یا اﷲ مجھے اس آگ سے محفوظ رکھ جو بدنوں کو اس طرح جلائے گی جیسے آگ پر جانور کو بھونا جاتا ہے جو کلیجے اور دل کو ایسے جلا دے گی جیسے کوئلہ دہکتا ہے  یہ فرما کر آپ(ع) نے بے حد گریہ  کیا اور اس قدر غلبہ خوف آپ کے جسم پر طاری ہوگیا کہ آپ بالکل ساکت اور بے حس و حرکت ہو کر گر گئے۔ جب اس حالت میں بہت دیر گزر گئی تو میں نے سوچا کہ یہ اس حالت میں کافی دیر سے ہیں انہیں نماز کے لیے اٹھانا چاہیئے لہذا جب میں نے انہیں چھو کر دیکھا تو علم ہوا کہ آپ(ع) ایک خشک لکڑی کی مانند پڑے ہیں۔ اور اٹھنے بیٹھنے کی قوت سے عاری ہیں۔ تو میری زبان سے بے اختیار ”انا ﷲ و انا الیہ راجعون“ جاری ہوگیا۔ خدا کی قسم ایسا معلوم ہوا جیسے علی بن ابی طالب(ع) دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں پھر میں وہاں سے ان کے گھر کی طرف چلاتا کہ ان کی موت کی خبر فاطمہ(س) کو پہنچادوں ۔ جب میں نے ان سے ذکر کیا تو  جناب فاطمہ(س) نے فرمایا اے ابو دردا(رض) خدا کی قسم یہ وہ غشی ہے جو خوفِ خدا کے دل میں گھر کر لینے سے انہیں ہوتی ہے۔ لہذا جب علی(ع) کے چہرے پر پانی چھڑکا گیا تو وہ ہوش میں آگئے اور مجھے گریہ کرتے دیکھ کر فرمایا اے ابو دردا تم سے اس وقت کسیے برداشت ہوگا جب دیکھو گے کہ مجھے حساب کے لیے بلایا گیا ہے اور سخت گیر فرشتے مجھ سے سوالات کررہے ہوں گے اور تند خو جہنمی بھی اس میدان میں موجود ہوں گے وہ وقت ایسا ہوگا کہ اپنے بھی ہاتھ کھیچ لیں گے لہذا یہی چیزیں میرے خوف  اور اس کیفیت کا باعث ہیں اے ابو دردا جان لو کہ خدا سے کوئی پردہ نہیں۔ حضرت ابودردا فرماتے ہیں، خدا کی قسم علی(ع) جیسی حالت میں نے کسی صحابی کی نہیں دیکھی۔


مغرب کا وقت

۱۰ـ          داؤد بن فرقد کہتے ہیں کہ میرے باپ نے امام صادق(ع) سے پوچھا کہ مغرب کا وقت کب تصور کیا جائے۔ آپ(ع) نےفرمایا جب سورج کی سرخی آنکھوں سے غائب ہوجائے۔ ( سورج مکمل غروب ہوجائے اور سیاسی پھیلنےلگے) تب وقتِ مغرب ہوگا۔

۱۱ـ           داؤد بن ابو زید کہتے ہیں امام صادق(ع) نے فرمایا جس وقت سورج غائب ہوجائے تو مغرب کا وقت ہوجاتا ہے۔

۱۲ـ          ابو اسامہ زید شحام یا کسی اور سے روایت ہے کہ وہ ایک دفعہ کوہ ابوقیس پر گیا اس نے دیکھا کہ سورج پہاڑ کی اوٹ میں چھپ چکا ہے اور کچھ لوگ مغرب پڑھ رہے ہیں میں نے اس مسئلے کو امام صادق(ع) سے بیان کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جب یہ یقین نہ ہوجائے کہ سورج مکمل طور پر غروب ہوچکا ہے اور اب وقتِ مغرب شروع ہوگیا ہے اس عمل کو مت کرو بادلوں میں سورج کے چھپنے کی تاریکی کے باعث نماز مغرب نہیں ہوگی اور بے شک دین کے احکامات میں کوئی بحث نہیں ہے۔

۱۳ـ          سماعہ بن مہران کہتے ہیں میں نے امام صادق(ع) سے مغرب کے وقت کے متعلق دریافت کیا تو فرمایا بعض دفعہ ہم نماز مغرب پڑھتے اور خوف رکھتے ہیں کہ سورج پہاڑ کے پیچھے ہوگا یا پہاڑ نے اس کو ہماری نظروں سے غائب کردیا ہے فرمایا تم پر یہ لازم نہیں ہے کہ تم پہاڑ پر چڑھ کر دیکھو۔

۱۴ـ          محمد بن یحیی حشمعی بیان کرتے ہیں کہ امام صادق(ع) نے فرمایا کہ رسول خدا(ص) جب نمازِ مغرب کو اںصار کے قبیلہ بنو سلمیٰ جن کے گھر نصف میل دور تھے کے ساتھ ادا کرتے تو واپسی پر رات کی سیاہی پھیل چکی ہوتی۔

۱۵ـ          عبید بن زرارہ کہتے ہیں امام صادق(ع) نے فرمایا کہ ایک شخص میرے ساتھ تھا کہ اس نے رات ہونے تک نمازِ مغرب میں تاخیر کی اور نماز فجر کو اندھیرے میں پڑھا اور میں نے مغرب کے فقط سورج کے پوشیدہ ہونے پر پڑھا اور فجر کو روشنی کے سپیدہ میں، اس شخص نے مجھ سے کہا کہ تو


نے اس طرح کیوں نہ کیا جیسے کہ میں کررہا تھا کیا سورج ہمارے سامنے طلوع و غروب نہیں ہوتا ؟ میں نے کہا یہ فقط یوں ہے کہ سورج جب غروب ہوجائے تو نماز مغرب کو ادا کریں اور جب سپیدہ ظاہر ہو جائے تو فجر پڑھیں، ہم پر یہ لاگو اور لازم ہے کہ سورج کے طلوع و غروب کا خیال رکھ کر نماز ادا کریں۔

۱۶ـ          ابان بن تغلب و ربیع بن سلمان و ابان بن ارقم اور دوسروں نے روایت کیا ہے کہ ہم مکہ سے آرہے تھے وادی اجفر میں پہنچ کر دیکھا کہ دور ایک آدمی نماز پڑھ رہا ہے دیکھا کہ آسمان پر تھوڑی سرخی باقی تھی ہم نے سوچا کہ شاید یہ نوجوان مدینے کا ہے ہمارے قریب جانے تک وہ جوان ایک رکعت ادا کرچکا تھا۔ جب ہم نزدیک پہنچ چکے تو دیکھا کہ امام صادق(ع) ہیں ہم سوار یوں سے نیچے اترے اور ان کے ساتھ نماز ادا کی جب نماز ادا کرچکے تو پوچھا کہ مغرب کا وقت کیا ہے تو انہوں نے فرمایا جب آفتاف غروب ہوجائے تو اس کا وقت آپہنچتا ہے۔


مجلس نمبر۱۹

(۲۲ رمضان سنہ ۳۶۷ھ)

ام ایمن کا خواب

۱ـ           عبداﷲ بن سنان کہتے ہیں امام صادق(ع) نے فرمایا کہ ایک دفعہ ام ایمن کے ہمسائے رسول اﷲ(ص) کی خدمت میںآئے اور عرض کیا یا رسول اﷲ(ص) ام ایمن پچھلی رات نہیں سوئیں اور لگاتار روتی رہیں یہاں تک کہ صبح ہوگئی رسول خدا(ص) نے ایک شخص کو بھیجا کہ ام ایمن کو میرے پاس لاؤ جب وہ آئیں تو فرمایا اے ام ایمن خدا تیری آنکھوں کو کبھی نہ رلائے یہ تیرے ہمسائے میرے پاس آئے ہیں اور مجھے تیرے گریہ کرنے کے بارے میں بتایا ہے ام ایمن نے عرض کیا یا رسول اﷲ(ص) میں نے ایک ہولناک خواب دیکھا ہے جس کی وجہ سے میں ساری رات روتی رہی ہوں رسول خدا(ص) نے فرمایا اپنا خواب مجھ سے بیان کرو کہ جس کی تعبیر کو اﷲ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں کہا میرے لیے یہ سخت اور گراں ہے اور ہمت نہیں کہ میں اپنے خواب کو بیان کروں آپ(ص) نے فرمایا تمہارے خواب کی تعبیر اس طرح نہیں جیسا کہ تم نے اس کو دیکھا لہذا اسے بیان کرو ام ایمن نے کہا میں نے اس شب خواب میں دیکھا کہ آپ(ص) کے بدن کا ایک ٹکڑا میرے گھر میں پڑا ہے، رسول خدا(ص) نے فرمایا اے ام ایمن اﷲ تمہاری آنکھوں کو سونا ںصیب کرے فاطمہ(س) کے یہاں حسین(ع) پیدا ہونے والے ہیں اور تم حسین(ع) کی پرورش کرو گی  اور ان کو آغوش میں لوگی اس مناسبت سے میرے بدن کا ایک ٹکڑا تیرے گھر میں ہوگا پس جب فاطمہ(س) کے ہاں حسین(ع) پیدا ہوئے تو ساتویں دن رسول خدا(ص)  نے حکم دیا کہ اس بچہ کا سرمنڈوا دو اور بالوں کے وزن کے برابر چاندی تصدق کر دو اور ان  کا عقیقہ کرو پھر ام ایمن نے ان کو تیار کیا اور ایک چادر میں لپیٹا اور رسول خدا(ص) کی خدمت پیش کیا رسول خدا(ص) نے فرمایا مرحبا اس بچہ کو لے آؤ جب لایا گیا تو رسول خدا(ص) نے فرمایا اے ام ایمن یہ تیرے اس خواب کی تاویل ہے جو تم نے دیکھا تھا۔


فرزندان مسلم بن عقیل(ع)

۲ـ           حمران بن اعین کہتے ہیں کہ شیخ ابو محمد کوفی نے روایت کیا کہ جب حسین بن علی (ع) کو قتل کر دیا گیا تو دو بچوں کو حضرت(ع) کےلشکر سے قید کر کے ابن زیاد کے پاس لے جایا گیا اس ملعون نے اس دونوں کو قید خانہ میں بھیجا اور محافظِ زندان کو طلب کر کے کہا کہ اچھی خوراک اور ٹھنڈا پانی ان کو نہ دینا اور ان پر سختی کرنا، یہ دونوں بچے روزہ رکھتے تھے اور بوقت شب دو روٹیاں جو کی اور ایک کوزہ پانی ان کے لیے لایا جاتا تھا یہاں تک ایک سال گزر گیا ایک دن ایک بھائی نےدوسرے سے کہا اے بھائی ایک مدت سے ہم اس زندان میں ہیں اور ہماری عمر ختم ہونے والی ہے قریب ہے کہ ہماری زندگی اسی غم میں ختم ہوجائے لہذا زندان کے نگران کو اپنے مقام و حسب ونسب سے آگاہ کردیں اور جو قربت ہم رسول (ص) نے رکھتے ہیں اس پر ظاہر کردیں شاید اس کو ہمارے حال پر رحم آجائے لہذا جب وہ خوراک اور پانی کا کوزہ لایا تو چھوٹے نے کہا اے شیخ کیا تو محمد(ص) کو پہچانتا ہے کہا اس نے کیوں نہیں پہچانتا وہ میرا پیغمبر(ص) ہے کہاجعفر بن ابی طالب(ع) کو بھی پہچانتے ہو کہا کیوں نہیں پہچانتا خدا نے انہیں دو پر عطا کیے ہیں کہ وہ بہشت میں فرشتوں کےساتھ جہاں چاہیں پرواز کرتے ہیں کہا علی ابن ابی طالب(ع) کو پہچانتے ہو کہا کیوں نہیں پہچانتا وہ رسول (ص) کے چچا کا بیٹا ہے اور میرے نبی کا بھائی ہے بچوں نے کہا اے شیخ ہم تیرے نبی(ص) کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ان کی عترت ہیں مسلم بن عقیل بن ابی طالب(ع) کے بیٹے ہیں اور تیرے ہاتھوں اسیرہوئے ہیں۔ تم نے اچھی خوراک و ٹھنڈا پانی ہمیں نہ دیا اور ہمیں زندان میں سخت تنگ کیا ہے وہ شیخ گر پڑا اور ان کے پاؤں کے بوسے لینے لگا اور کہا کہ میری جان آپ قربان اے عترتِ رسول اﷲ(ص) یہ زندان کا دروازہ کھلا ہے جہاں چاہو چلے جاؤ پھر دو روٹیاں اور پانی کا کوزہ دیا اور انہیں راستہ بتا دیا اور کہا راتوں کو سفر کرنا اور دن کو چھپ جانا یہاں تک کہ خدا تمہارے لیے وسعت پیدا کردے لہذا وہ دونوں بوقتِ شب روانہ ہوئے اور کچھ دور جاکر ایک ضعیفہ کے مکان پر پہنچے وہاں اور اس سے کہا کہ ہم پریشان حال و آوارہ وطن ہیں جب کہ رات کا وقت ہے آج رات ہمیں اپنا مہمان رکھ لے ہم صبح ہوتے ہی چلے جائیں گے، اس نے کہا تم کون ہو کہ تمہارے بدن سے عطر سے زیادہ خوشبو آتی ہے


بچے کہنے لگے ہم اولادِ رسول(ص) سے ہیں اور زندان ابنِ زیاد سے نکلے ہیں تاکہ وہ ہمیں قتل نہ کردے اس بوڑھی عورت نے کہا اے میرے عزیز میرا ایک داماد ہے جو بدکردار ہے اور عبیداﷲ ابن زیاد کے ساتھ واقعہ کربلا کے وقت موجود تھا ڈرتی ہوں کہ کہیں وہ یہاں آکر تم کو قید نہ کرلے اور قتل کردے کہنےلگے ہم صرف آج کی رات ہی یہاں ٹھہریں گے اور صبح اپنی راہ چلے جائیں گے عورت نے کہا اچھا میں تمہارے لیے شام کا کھانا لاتی ہوں وہ کھانا لائی انہوں نے کھانا کھایا پانی پیا اور سوگئے چھوٹے نے بڑے سے کہا جانِ برادر مجھے امید ہے کہ آج رات آرام کی رات ہوگی آؤ بغل گیر ہوکر سوجائیں اور ایک دوسرے کے بوسے لے لیں کہیں یہ نہ ہو  کہ موت ہم دونوں کو جدا کردے لہذا دونوں بغل گیر ہو کر سوگئے جب رات کا کچھ حصہ گزرا تو اس عورت کا داماد فاسق آیا اور دروازہ کھٹکھٹایا بوڑھی عورت نے پاچھا کون ہے اس نے کہا فلان ہوں کہا کیوں بے وقت آئے ہو وہ باہر سے کہنے لگا وائے ہو تجھ پر میں سخب بدحواس ہوں قبل اس کے کہ میری عقل چلی جائے۔ دروازہ کھول میں سخت مایوس ہوں عورت نے کہا وائے ہو تم پر کونسی مصیبت میں گرفتار ہو اس نے کہا کہ دو بچے لشکر عبیداﷲ لعین سے نکل گئے ہیں اور امیر نے اعلان کیا ہے کہ جو کوئی ان دونوں میں سے کسی ایک کا بھی سر لائے گا اسے ایک ہزار درہم انعام دوں گا اور جو کوئی ان دونوں کا سر لائے گا اسے  دو ہزار درہم انعام دوں گا مجھے یہ رنج ہے کہ میرے ہاتھ نہیں آئے بوڑھی عورت نے کہا اس  بات سے ڈرو کہ روز قیامت محمد(ص) تیرے دشمن ہوں وہ کہنے لگا وائے ہو تم پر میں دنیا ہاتھ میں لیںا چاہتا ہوں اور تو آخرت کی بات کرتی ہو۔ عورت نے کہا وہ دنیا جو آخرت کے بغیر ہو تجھے کیا کام دے گی اس نے کہا تم ان کی طرف داری کیوں کرتی ہو کیا تجھے ان کی خبر ہے چل میں تجھے اپنے امیر کے پاس لے چلتا ہوں تاکہ وہ تجھ سے پوچھے وہ کہنے لگی امیر مجھ بوڑھی عورت سے جو گوشہ نشین ہے کیا چاہے گا اس نے کہا اچھا دروازہ کھولو تاکہ آرام کروں اور سوچوں کہ صبح کس راستہ پر ان کے پیچھے جاؤں عورت نے دروازہ کھولا اور اس کو کھانادیا آدھی رات کو اس نے بچوں کے سانس لینے کی آواز سنی تو وہ نہایت خشم ناک اٹھا اور اندھیرے میں دیوار کا سہارا لے کر کمرے کی جانب چلا یہاں تک کہ چھوٹے بچے کے پہلو پر ہاتھ پڑا بچے نے کہا کون ہے اس نے کہا میں خانہ ہوں تم کون ہو چھوٹے نے بڑے کو ہلایا اور کہا اٹھو اور جان لو کہ جس چیز سے ڈرتے


تھے سی میں گرفتار ہوگئے  اس نے کہا تم کن ہو کہنےلگےاگر سچ کہیں تو امان دوگے کہا ہاں کہنےلگے اے شیخ خدا، رسول(ص) اور ان کے مرتبے کا واسطہ کیا ہمیں امان دو گے کہنے لگا ہاں امان ہے تو بچے کہنے لگے محمد بن عبداﷲ گواہ ہے امان دوگے اس نے کہا ہاں بچوں نے کہا کیا خدا اس پر گواہ اور وکیل ہے کہ جو کچھ عہد کررہا ہے دیوار کرے گا کہا ہاں کہنے لگے اے شیخ ہم تیرے نبی(ص) نے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اس کی عترت ہیں اور زندان عبیداﷲ بن زیاد لعین سے جان کے خوف سے نکلے ہیں اس نے کہا موت سے ڈرتے ہو مگر موت میں گرفتار ہوگئے ہو حمد اس خدا کی جس نے تم کو میرے قابو میں دیا ہے وہ اٹھا اور ان کو باندھ دیا بچوں نے تمام شب بندھے ہوئے گزاری جب سفیدی ظاہر ہوئی تو اس نے ایک غلام کو جس کا نام خلیج تھا بلایا اور کہا کہ ان دونوں بچوں کے دریائے فرات کے کنارے لے جاؤ اور ان کی گردنیں کاٹ دو اور ان کے سروں کو میرے پاس لے آؤ گے کیا جب گھر سے کچھ دور ہوگئے تو ایک بچے نے کہا الشیخ ( حبشی) تم بلال موذن رسول(ص) کی مانند ہو ہم پر رحم کرو اس نے کہا میرے آقا نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہاری گردنوں کو کاٹ دوں مگر یہ بتاؤ کہ تم کون ہو کہنے لگے ہم تیرے نبی محمد(ص) کی عترت ہیں اور جان کے خوف سے ابن زیاد کے زندان سے نکلے ہیں اس بوڑھی عورت نے ہمیں مہمان رکھا لیکن تیرا آقا چاہتا ہے کہ ہمیں قتل کرے اس حبشی غلام نے ان کے پاؤں کے بوسے لیے اور کہا میری جان تم پر فدا اے عترت مصطفیٰ(ص) خدا کی قسم میں نہیں چاہتا کہ محمد(ص) بروز قیامت میرے دشمن ہوں پھر تلوار کو دور پھینکا اور خود کو فرات میں گرا دیا اور دریا عبور کر گیا اس کے آقا نے آواز دی کہ تم نےمیری نا فرمانی کی ہے اس نے کہا میں تیرا اس وقت فرمانبردار ہوں جب تک تم خدا کے فرمامبردار ہو اب جبکہ تم نے خدا کی نافرمانی کی تو میں دنیا و آخرت میں تجھ سے بیزار ہوں پھر اس شقی نے اپنے بیٹے کو بلایا اور کہا میں نے تیرے لیے حلال و حرام کو جمع کیا میں چاہتا ہوں کہ انعام وصول کروں تو ان دو بچوں کو فرات  کے کنارے لے جا اور ان کی گردنوں کا کاٹ دے اور ان کے سر میرے پاس لے آ تاکہ میں عبیداﷲ کے پاس لے جاؤں اور دو ہزار درہم معاوضہ لے آؤں اس نے تلوار لی اور بچوں کے لے کر چلا کچھ دور جا کر ان دونوں بچوں میں سے ایک نے کہا اے جوان میں تیرے دوزخ میں جانے سے


 خوف محسوس کرتا ہوں اس لڑکے نے کہا اے عزیز تم کون ہو وہ کہنےلگے ہم تیرے نبی(ص) کی عترت ہیںاور تیرا باپ ہمیں قتل کرنا چاہتا ہے یہ سن کر اس ملعون کا بیٹا بھی ان کے قدموں پر گر پڑا اور ان کے بوسے لیے اور انہی الفاظ کو دوہرایا جو حبشی غلام نے کہا تھا  پھر تلوار کو دور پھینکا اور خود کو فرات میںچھلانگ لگا گیا اس کے باپ نے آواز دی کہ تو میری نافرمانی کر رہا ہے اس نے کہا کہ خدا کا حکم تیرے حکم پر مقدم ہے اس شقی نے کہا اب سوائے میرے کوئی دوسرا ان کو قتل نہ کرے گا لہذا تلوار لی اور ان کو آگے کیا اور فرات کے کنارے تلوار نیام سے نکالی جب بچوں کی نظر تلوار پر پڑھی تو رونے لگے اور کہنے لگے اے شیخ ہمیں بازار میں فروخت کردے اور روز قیامت محمد(ص) کی دشمنی کو اپنے سر نہ لے اس نے کہا میں تمہارے سر کو ابن زیادہ کے پاس لے جاؤں گا اور معاوضہ ( انعام) حاصل کروں گا بچے کہنے لگے تو ہمارے رشتہ رسول(ص) کا احترام نہیں کرتا اس نے کہا تمہارا رسول اﷲ(ص) کے ساتھ کوئی رشتہ واسطہ نہیں ہے۔ کہنے لگے اے شیخ تو ہم کو عبیداﷲ کے پاس لے جا تاکہ وہ خود ہمارے بارے میں کوئی حکم دے کہا میں تمہارے خون کے بدلے اسکا تقرب حاصل کرنا چاہتا ہوں بچے کہنےلگے اے شیخ کیا تجھے ہمارے کمسنِ ہوںے پر رحم نہیں آتا اس نےکہا خدا نے میرے دل میں رحم پیدانہیں کیا کہنے لگے پھر ہمیں اتنی مہلت دے کہ ہم چند رکعت نماز پڑھ لیں اس نے کہا اگر نماز تمہیں کوئی فائدہ دیتی ہے تو جس طرح چاہو نماز پڑھو پھر ان بچوں نے چار رکعت نماز پڑھی پھر ہاتھ اٹھائے اور اپنی نظروں کوآسمان کی طرف کر کے فریاد کی” یا حی یا حکیم یا احکم الحاکمین“ ہمارے اور اس کے درمیان حق کا فیصلہ کردے“ یہ شقی اٹھا اور اس نے بڑے کی گردن کاٹ دیاور اسکے سر کو توبرہ( تھیلا) میں رکھا ، چھوٹا بھائی غم سے نڈھال اپنے برادر کے خون میں لوٹ پوٹ ہوگیا اور کہا میں چاہتا ہوں کہ اپنے بھائی کے خون میں رنگین ہوکر رسول خد(ص) سے ملاقات کروں اس ملعون نے کہا کوئی باتنہیں تجھے بھی ابھی اس کے پاس پہنچاتا ہوں، پھر چھوٹے کو بھی قتل کردیا اور اس کے سرکو بھی توبرہ میں رکھا اور دونوں کے بدنوں کو دریا کے پانی میں پھینک دیا پھر ان کے سروں کو ابن زیاد کے پاس لے گیا وہ تخت پر بیٹھا تھا اور ایک چھڑی اس کے ہاتھ میں تھی اس شخص نے ان کے سروں کو اس سامنے رکھا جب اس لعین کی نظر ان پر پڑی تو تین بار اٹھا اور تین بار بیٹھا اور وہ لعین بولا ای وائے ہو تم پر ان کو تم نے کہاں سے پایا کہا بوڑھی عورت جو


ہمارے خاندان سے تھی اس نے ان کو مہمان رکھا تھا۔ ابن زیاد نے کہا کیا توع نے یہ حق مہمان نوازی ادا کیا ہے؟ کیا ان بچوں نے فریاد نہیں  کی تھی؟ اس شخص  نے کہا کہ ان بچوں نے مجھ سے اس بات کا تقاضہ کیا تھا کہ ہمیں بازار میں فروخت کر کے رقم وصول کر لے اور محمد(ص) کو روز قیامت اپنا دشمن مت بنا ابن زیاد نے کہا تو پھر تو نے کیا کیا اس شخص نے کہا کہ میں نے ان بچوں سے کہا تھا کہ میں تمہارے سر ابن زیاد کے پاس لے کر کر معاوضہ وصول کروں گا۔ ابن زیاد نے پوچھا اس علاوہ انہوں نے اور کیا بات کی تھی اس نے بتایا کہ بچوں نے فریاد کی تھی کہ ہمیں ابن زیاد کے پاس لے چل تاکہ وہ خود ہمارے بارے میں کوئی فیصلہ کرے ابن زیادہ نے پوچھا پھر تو نے ان سے کیا کہ اس نے بتایا کہ میں نے ان سے کہا میں تمہارے سر ابن زیاد گو دے کر اس کا تقرب حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ ابن زیاد نے اس شخص سے کہا کہ جب انہوں نے فریاد کی تھی تو انہیں لے کر تو میرے پاس کیوں نہیں آیا میں تجھے ان کے بدلے چار ہزار درہم دیتا اس شخص نے کہا کہ مجھے نہ یقین تھا کہ ان کیزندہ گرفتاری پر زیادہ انعام ملے گا۔ ابن زیاد نے پوچھا کہ یہ بتا جب تو انہیں قتل کرنے لگا تھا تو انہوں نے تجھے کیا کہا تھا۔ اس نے بتایا کہ جب میں انہیں قتل کرنے لگا تو انہوں نے کہا اے شیخ کیا تجھے رسول خدا(ص) سے شرم نہیں آتی کیا تو ہمیں بچہ سمجھ کر بھی رحم نہیں کرتا کیا تو ہمیں تھوڑی مہلت دے گا کہ ہم نماز پڑھ لیں یہ سن کر میں نے بچوں سے کہا کہ اگر تمہیں نماز اس وقت فائدہ دیتی ہے تو پڑھ لو لہذا انہوں نے چار رکعت نماز پڑھی اور نماز کے بعد ہاتھ اٹھا کر اس طرح دعا مانگی۔،” یا حیی یا حکیم یا احکم الحاکمین تو ہمارے اور اس کے  درمیان فیصلہ کردے“ اس کے بعد میں نے انہیں قتل کر دیا۔ ابن زیاد نے یہ سن کر کہا خدا نے تیرے اور ان کے درمیان فیصلہ کردیا پھر حکم دیا کہ کون ہے جو اسے ٹھکانے لگائےگا ایک شامی اٹھا ابن زیاد نے اسے کہا کہ اس کو وہیں لے جاؤ جہاں اس نے ان بچوں کو قتل کیا ہے مگر اس کاخون ان کے خون سے نہ ملنے پائے وہ شامی اسے لے کر فرات کے کنارے آیا اور اس کا سر تن سے جدا کردیا۔ اور پھر اس کے سر کو ایک نیزے پر آویزان کردیا۔ لوگ اس کے سر کو دیکھتے اور حقارت سے ڈھیلے اور پھتر مارتے تھے کہ اس نے ذریت رسول(ص) کو شہید کیا ہے۔


مجلس نمبر۲۰

(۲۶ ماہ رمضان سنہ۳۶۷ھ)

۱ـ           جابر بن عبداﷲ اںصاری(رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول خدا(ص) کو علی(ع) کے بارے میں فرماتے سنا کہ بے شک اﷲ نے علی(ع) کو چند فضائل ایسے عطا کیے ہیں کہ ان میں سے ایک بھی اس تمام دنیا کے انسانوں کی فضیلت سے بڑھ کر پھر رسول اﷲ(ص) نے فرمایا جس کا میں مولا ہوں اس کا علی(ع) مولا ہے۔ علی(ع) کی نسبت مجھ سے ایسی ہے جیسے ہارون(ع) کی موسی(ع) سے تھی وہ مجھ سے اور میں اس سے ہوں وہ میری جان ہے اس کی اطاعت میری اطاعت ہے اس کی نافرمانی میری نافرمانی ہے علی(ع) سے جنگ خدا سے جنگ ہے۔ اس سے صلح خدا سے صلح ہے علی(ع) کا دوست خدا کا دوست اور علی(ع) کا دشمن خدا کا دشمن ہے۔ وہ بندوں پر خدا کی حجت اور خدا کا خلیفہ ہے۔ علی(ع) کی محبت ایمان اور اس سے بغض کفر ہے۔ علی(ع) کا گروہ خدا کا گروہ اور اس کے دشمنوں کا گروہ شیطان کا گروہ ہے علی(ع) حق کے ساتھ اور حق علی(ع) کے ساتھ ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ میرے پاس حوضِ کوثر پر پہنچ جائیں جو کوئی علی(ع) سے جدا ہوا وہ مجھ سے جدا ہے اور جو کوئی مجھ سے جدا ہو وہ اﷲ سے جدا ہے اور علی(ع) اور اس کے شیعہ ہی قیامت کے دن کامیاب ہیں۔

۲ـ           انس بن مالک کہتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا تم میرے لیے چھ صفتوں کو اپناؤ میں تمہارے لیے جنت کا وعدہ کرتا ہوں، جھوٹ نہ بولو، جب وعدہ کرو تو اس کے خلاف نہ کرو امانت میں خیانت نہ کرو، اپنی نظریں نیچے رکھو، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو، اپنے ہاتھ اور زبان کو روکے رکھو۔

عصمتِ انبیاء(ع)

۳ـ          ابوصلت ہروی کہتے ہیں کہ جب مامون نے اہل اسلام و غیر اسلام اور یہود و نصاریٰ و مجوس و صائیبین میں سے اہل نظر اور دوسرے متکلمین کو جمع کیا تاکہ وہ جناب علی بن موسی رضا(ع) کے


ساتھ مباحثہ کریں تو جو کوئی بحث کے لیے کھڑا ہوتا تو آپ اس کو محکوم کردیتے گویا اس کےمنہ میں پتھر رکھ دیا گیا ہے اس سلسلے میں علی بن محمد بن جبم سامنے آیا اور اس نے عرض کیا اے فرزند رسول(ص) آپ عصمت انبیاء(ع) کے قائل ہیں فرمایا ہاں اس نے کہا مگر کیا کریں کہ خدا کہتا ہے”آدم(ع) نے نافرمانی کی اور گمراہ ہوا“ ( طہ، ۱۲۱) اس کے علاوہ خدا کہتا ہے” اور ذوالنون نے جب کہ وہ غضبناک ہوکر چلا گیا تو اس کو یقین تھا کہ ہم ہرگز اس پر روزی تنگ نہ کریں گے“ ( انبیاء، ۸۷) اور اس (خدا) کا قول یوسف(ع) کے بارے میں ہے کہ ” یقینا ( زلیخا) نے اس (یوسف(ع)) سے ارادہ کر ہی لیا اور وہ بھی ارادہ کرلیتا“ (یوسف، ۲۴) اور اس قول داؤد(ع) کے بارے میں ” کہ اس نے گمان کیاکہ ماسواے اس کے ہم نے اس کا امتحان لیا ہے“(ص، ۲۵) اور اپنے نبی کے بارے میں خدا فرماتا ہے” تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جس کا اﷲ ظاہر کرنے والا تھا اور تم لوگوں سے ڈرتے تھے حالانکہ اﷲ اس بات کا زیادہ مستحق ہے“ (احزاب، ۳۷)

ہمارے مولا امام رضا(ع) نے اس کے جواب میں فرمایا وائے ہو تم پر اے علی بن جہم خدا سے ڈرو اور پیغمبران خدا کے بارے میں ہرزہ سرائی مت کرو اور کتاب خدا کی اپنی رائے سے تفسیر مت بیان کرو خدا فرماتا ہے کوئی نہیں جانتا اس کی تاویل بجز خدا کے اور وہ جو علم میں راسخ ہیں۔ پھر یہ کہ خدانے فرمایا” آدم(ع) نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی اور گمراہ ہوا بیشک خدا نے آدم(ع) کو زمین میں حجت اور اپنے بندوں پر خلیفہ پیدا کیا اس کو بہشت کے لیے پیدا نہ کیا“ اور آدم(ع) کی نافرمانی بہشت میں تھی نہ کہ زمین میں اس لیے تاکہ مقدرات امر خدا کامل ہوجائیں پھر جب انہیں زمین پر اتارا تو وہ حجت و خلیفہ ہوئے اور معصوم تھے اس کی دلیل خدا کا قول ہے” بیشک خدا نے برگزیدہ کیا آدم(ع) کو اور نوح(ع) کو اور آل ابراہیم(ع) کو اور آل عمران(ع) کو تمام عالمین“ پر اور پھر یہ گفتارِ خدا کہ ” ذوالنون(ع) جس وقت غضبناک ہوکر گیا اور اس نے گمان کیا کہ اس پر قادر نہیں ہے“ تو مراد  یہ ہے کہ ہم روزی کو اس پر تنگ کریں گے مگر تم نے اس قول خدا کو نہیں سنا“(فجر) اور پھر جب اس کے خدانے آزمای اور تنگ ہوگئی اسکی روزی اس پر اور اگر گمان کیا ہوتا کہ خدا اس پر طاقت نہیں رکھتا تو کافر ہو جاتا “ اور آیت”وَ لَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَ هَمَّ بِها “ مراد یہ ہے کہ زلیخا نے قصد معصیت کیا


اور یوسف نے اس کے قتل کا قصد کیا اور یہ اس لیے تھا کہ زلیخا نے یوسف کو معصیت کے لیے اتنا مجبور کیا کہ انہیں غصہ آگیا اور انہوں نے زلیخا کے قتل کا اردہ کر لیا لیکن خدا تعالی نے اس صورت حال کو بدل دیا اب تم یہ بتاؤ کہ حضرت داؤد(ع) کے بارے میں لوگ کیا کہتے ہیں علی بن جہم نے کہا لوگ کہتے ہیں کہ داؤد(ع) محرابِ عبادت میں نماز پڑھ رہے تھے کہ نا گاہ شیطان ایک خوبصورت پرندے کی شکل میں ظاہر ہوا داؤد(ع) نے اپنی نماز قطع کردی اور پرندے کو پکڑنے کی کوشش کرنے لگے وہ پرند اوریابن حنان کے مکان پر جا بیٹھا آپ بھی اس کے پیچھے گئے اوریا کی بیوی کو دیکھا جو برہنہ غسل کررہی تھیں۔ حضرت داؤد(ع) نے ان کو دیکھا تو ان پر عاشق ہوگئے داؤد(ع) نے اوریا کو کسی جنگ پر بھیجا ہوا تھا لہذا آپ(ع) نے اپنے سپہ سالار کو حکم بھجوایا کہ اوریا کو مقابلے کے لیے مخالف کے سامنے کرو مگر اوریا فتح یاب ہوئے اور مشرکین پر غلہ حاصل کر لیا یہ دیکھکر سپہ سالار نے دوبارہ انہیں میدان جنگ میں بھیجا اور اس مرتبہ وہ قتل ہوگئے۔ اس کے بعد داؤد(ع) نے ان کی بیوی سے شادی کر لی امام رضا(ع) نے جب ی سنا تو ماتھے پر ہاتھ مار کر بولے”إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ “ تم لوگ ایک پیغمبر کو ایسی نسبت دیتے ہو کہاس نے نماز کو حقیر سمجھا اور ایک پرندے لے لیے نماز قطع کردی اور ایک عورت پر عاشق ہوگئے اور ایک بے گناہ کے قتل کا اہتمام کیا علی جہم نے عرض کیا اے فرزند رسول(ص) ان (داؤد(ع)) کی غلطی کیا تھی امام(ع) نے فرمایا تم پر وائے ہو داؤد کو گمان ہوا کہ خدا نے ان سے زیادہ عقلمند اور سمجھدار کسی اور کو پیدا نہیں کیا تو خدا نے دو فرشتوں کو ان کے پاس بھیجا۔ جو کہ ان کے گھر کی دیوار سے گزر کر ان کے پاس پہنچے۔ اور ان (داؤد(ع)) سے کہا کہ ہم ایک فیصلہ کروانے کے لیے آپ کے پاس آئے ہیں داؤد(ع) نے کہا کرو تو فرشتے نے( جو کہ شکل انسان میں موجود تھا) کہااے داؤد(ع) خدا فرماتا ہے ہے کہ ہمارے درمیانحق کا فیصلہ کرو اور خلاف نہ کرو اور ہم کو راہ حق کی راہنمائی کرو میرے اس بھائی کے پاس نو(۹) بھیڑیں ہیں جب کہ میں ایک رکھتا ہوں اور میرا  بھائی میری ایک بھیڑ بھی مجھ سے لینا چاہتا ہے داؤد(ع) نے اس کی بات سن کر جلد بازی سے فیصلہ سنادیا اور اس مسئلہ پر گواہ بھی طلب نہ کیے۔ اور نہ ہی دوسرے فریق کا موقف سنا بس یہ داؤد(ع) کی خطا


 تھی۔ حالانکہ خدا فرماتا ہے ” اے داؤد(ع) بیشک ہم نے تم کو زمین مین اپنا خلیفہ بنایا ہے تاکہ تم لوگوں کے درمیان حق و اںصاف سے فیصلہ کرو“ علی بن جہم نے کہا پھر اوریا کا کیا قصہ ہے امام(ع) نے فرمایا داؤد(ع) کے زمانے میں قانون شریعت تھا کہ کسی عورت کا شوہر مرجاتا تو وہ دوسری شادی نہیں کرسکتی تھی اوریا کی بیوی وہ پہلی عورت تھی جو اوریا کی موت کے بعد داؤد(ع) کے لیے حلال کی گئی۔اور محمد(ص) کے بارے میں خدا فرماتا ہے ” اور تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے کہ جس کو خدا ظاہر کرنے والاتھا اور تم لوگوں سے ڈرتے تھے حالانکہ خدا اس بات کا زیادہ مستحق ہے“(احزاب، ۳۷) موضوع یہ ہے کہ خدا نے اپنے پیغمبر کو ان کی بیویوں کے نام عرش اور فرش پر اعلان فرمادیے تھے اور فرمایا کہ یہ تمام ام المومنین ہیں اور انہیں میں سے ایک زینت بن جحش بھی ہیں وہ زید بن حارثہ کی بیوی تھیں پیغمبر(ص) نے ان کے نام کو پوشیدہ رکھا مبادا منافقین طعنہ نہ دیں کہ دوسروں کی بیوی کا اپنی بیوی کے بطور نام لیتے ہیں اور ام المومنین شمار کرتے ہیں لہذا پیغمبر(ص) نےمنافقین کا جو خوف محسوس کیا تھا تو اس پر خدا نے فرمایا کہ تم خدا کے علاوہ کسی کا خوف دل میں مت رکھو، اور خدا نے آدم(ع) کو تزویج حوا سے محمد(ص) کی تزویج زینب سے اور علی(ع) کی تزویج فاطمہ(س) سے کا ذمہ خود لیا اور مخلوق کو اس کا حق نہیں دیا یہ سن کر علی بن جہم نے ندامت سے گریہ کیا میں توبہ کرتا ہوں اور خدا سے اپنے اس عمل کی مغفرت چاہتا ہوں۔

ثواب افطار اور فضیلت علی(ع)

۴ـ          امام رضا(ع) نے اپنے آبائے طاہرین سے روایت کیا کہ امیر المومنین علی بن ابی طالب(ع) نے کہا کہ ایک دن رسول خدا(ص) نے ہم سے یہ خطبہ بیان فرمایا:

اے لوگو تمہاری طرف رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ آرہا ہے جس میں گناہ معاف ہوتےہیں یہ مہینہ خدا کے ہاں سارے مہینوں سے افضل و بہتر ہے جس کے دن دوسرے دنوں سے بہتر ہیں جس کی گھڑیاں دوسرے مہینوں کی گھڑیوں سے بہتر ہیں یہ وہ مہینہ ہے جس میں خدا نے تمہیں اپنی مہمان نوازی میں بلایا اور اس مہینے میں خدا نے تمہیں اہل کرامت بنایا ہے، اس میں تمہارا


سانس لینا تسبیح اور تمہارا سونا عبادت ، تمہارا کردار (عمل) اس میںقبول اور تمہاری دعائیں مستجاب ، تم اچھی نیت لیے اور بری باتوں سے پاک دلوں سے خدا سے سوال کرو تم اس ماہ میں روزہ رکھو اور قرآن کی تلاوت کرو اﷲ تمہیں اس کی توفیق دے بدبخت ہے وہ بندہ جس کی مغفرت اس ماہ میں نہ ہو اور وہ محروم رہے، اس ماہ میں اپنی بھوک پیاس کو محسوس کر کے قیامت کی بھوک پیاس کو تصور کرو اور فقرا اور مساکین کو صدقہ دو بزرگوں کو احترام کرو اور چھوٹوں پر رحم کرو اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرو اپنی زبانوں کی حفاظت کو اور جس چیز کا دیکھنا حلال نہیں کیا گیا اس سے اپنی نگاہوں کو بچائے رکھو اور جن چیزوں کا سننا تمہارے لیے حلا نہیںکیا گیا ان سے اپنے کانوں کو بند رکھو دوسرے لوگوں کے یتیموں پر رحم و محبت کرو تاکہ تمہارے یتیمون  پر رحم و محبت کی جائے اپنے گناہوں سے توبہ کرو اور نمازوں کے اوقات میں اپنے ہاتھوں کو بلند کرو(تکبیر برائے نماز) کہ یہ بہترین گھڑیاں ہیں جن میں خدا نے اپنے بندوں کی طرف نظرِ رحمت ولطف و کرم کرتا ہے انکی مناجات کا جواب دیتا ہے اور ان کی پکار پر لبیککہتا ہے تو اس وقت درخواست کرو تاکہ وہ تمہاری دعائیں مستجاب کرے  اے لوگو تمہاری جانیں تمہارےکردار کی وجہ سے گروی ہیں انہیں استغفار کے ذریعہ آزاد کراؤ تمہارے دوش (کندھے) تمہارے گناہوں کی وجہ سے بہت زیادہ سخت بوجھ اٹھائے ہوئے ہیں تم طول سجدہ سے انہیں ہلکا کرو اور جان لو کہ خدا نے اپنی عزت کی قسم کھا رکھی ہے کہ نماز پڑھنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کو عذاب نہ کرےگا اور ان کو روز قیامت دوزخ کا خوف نہ دلائے گا اے لوگو کوئی شخص خواہ ایک روز دار کا روزہ افطار کرائے تو خدا اسے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب دے گا اور اس کے گزشتہ گناہ معاف کردیئے جائیں گے عرض کیا گیا یا رسول اﷲ(ص) ہم تمام مہینہ تو اس کی استطاعت نہیں رکھتا فرمایا خدا سے ڈرو اگر چہ نصف کھجور سے ہو یا شربت پانی کے ایک گھونٹ سے اور خود کو جہنم کی آگ سے بچاؤ، اے لوگو! جو شخص اس مہینے میں خوش خلقی کرے گا تو یہ اس کے پل صراط سے گزرنے کا جواز نامہ ہوگا اس دن کے لیے کہ تمام لوگوں کے قدم لغزش میں ہوں گے اور جوشخص اس مہینے میں اپنے مملوکوں (غلاموں) سے کام لینے میں کمی کرے گا تو خدا اس کے حساب میں کمی کردے گا اور جو کوئی خود کو شر سے باز رکھے گا خدا اپنے


 غصے کو اس پر سے ہٹائے رہے گا اس دن کہ جس دن خدا سے ملاقات کرے گا، اور جو کوئی کسی  یتیم کو گرامی رکھے گا تو خدا اس روز کہ جس روز اس سے ملاقات ہوگی اس کو گرامی رکھے گا اور جوشخص اس مہینے اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحم کرے گا تو روزِ قیامت خدا اس سے صلہ رحمی کرے گا اور اپنی رحمت سے ملادے گا جو کوئی اپنے رشتہ داروں سے قطع رحم کرے گا تو خدا روزِ ملاقات اس سے اپنی رحمت کو ہٹالے گا اور جو کوئی اس مہینے نمازِ مستحب کو پڑھے گا تو خدا برائت جہنم اس کے لیے لکھے گا  اور جو کوئی اس مہینے واجبات ادا کرے گا اور تو اس کا ثواب ستر(۷۰) واجب بہ نسبت دوسرے مہینوں کے ادا کیا جائے گا  اور جوکوئی مجھ پہر بہت زیادہ صلوات بھیجے  گا تو خدا  اس دن کہ جب اس کی میزان ہلکی ہوگی اسے بھاری کردے گا اور جو کوئی ایک آیتِ قرآن اس مہینہ میں پڑھے گا تو وہ اس شخص جیسا ہوگا کہ جس نے مکمل قرآن ختم کیا ہے اے لوگو! اس مہینہ میں بہشت کے دروازے کھلے ہیں خدا سے دعاکرو کہ وہ ان کتو تم پر بند نہ کرے اور اس نے اس مہینے دوزخ کے دروازے بند کر دیئے ہیں اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ پھر ان کونہ کھولے اور شیاطین اس مہینہ میں قید کردیئے گئے ہیں اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ پھر وہ تم پر مسلط نہ ہوں امیرالمومنین (ع) فرماتے ہیں میں اٹھا اور عرض کیا یا رسول اﷲ(ص) کو ن سا عمل اس ماہ میں بہتر ہے فرمایا اے ابو الحسن(ع) بہترین عمل اس مہینے میں خدا کی حرام کی گئی اشیاء سے پرہیز ہے پھر آپ(ص) نے گریہ کیا، میں نے عرض کیا، یا رسول اﷲ(ص) آپ کیوں محو گریہ ہیں۔ آپ(ص) نے فرمایا اے علی(ع) مجھے اس امر نے غمزدہ کردیا ہے جو اس ماہ میں تمہارے بارے میں وقوع پذیر ہوگا اے علی(ع) میں دیکھ رہا ہوں کہ جس طرح ایک شقی ازلی نے ناقہِ صالح(ع) کے پاؤں قطع کیے تھے بالکل اسی طرح ایک بدبخت دوران نماز تیرے سر پر تلوار سے ضرب لگائے گا اور تیرے سر اور ڈاڑھی کو تیرے خون سے رنگین کردے گا، امیرالمومنین(ع) نے فرمایا یا رسول اﷲ(ص) اس صورت میں میرا دین سالم ہوگا آپ(ص) نے فرمایا ہاں اے علی(ع) ہوگا پھر فرمایا اے علی(ع) جس نے تجھے قتل کیا اس نے مجھے قتل کیا اور جس نے تجھے دشمن رکھا اس نے مجھے دشمن رکھا جو کوئی تجھے دشنام دیتا ہے وہ مجھے دشنام دیتا ہے کیونکہ تیری جان میری جان اور تیری روح میری روح ہے اور تیری طینت میری طینت سے  ہے بیشک خدا نے مجھے تیرے ساتھ برگزیدہ کیا مجھے نبوت کے لیے منتخب کیا


اور تجھے امامت کے لیے مقرر کیا جو کوئی تیری امامت کا منکر ہے وہ میری نبوت کا منکر ہے اے علی(ع) تم میرے وصی میرے بیٹوں کے باپ میری بیٹی کے شوہر اور میری امت پر میرے خلیفہ ہو میری زندگی میں بھی اور میرے مرنے کے بعد بھی تیرا فرمان میرا فرمان اور تیری نہی میری نہی ہے قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے نبوت  کے لیے اختیار کیا اور بہترین خلق بنایا تم اسکی خلق پر اسکی حجت ہو اور امین ہو اس کے رازوں کے اور اس کے بندوں پر اس کے خلیفہ ہو۔


مجلس نمبر۲۱

( سلخ ماہ رمضان سنہ۳۶۷ھ)

فتح خیبر کے بعد فضیلتِ علی(ع)

۱ـ           جابر بن عبداﷲ انصاری(رح) کہتے ہیں کہ جب فتح خیبر کی خوشخبری رسول خدا(ص) کو سنائی گئی تو آپ(ص) نے علی(ع) سے فرمایا کہ اگر مجھے اس بات کاخیال نہ ہوتا کہ میری امت میں سے ایک جماعت تیرے بارے میں وہی خیال رکھے گی جو نصاری، عیسی بن مریم(ع) کے بارے میں رکھتے ہیں ( معاذ اﷲ ابن خدا) تو میں تیرے بارے میں وہ چیز بیان کرتا کہ لوگ تیرے پاؤں کی مٹی اٹھا کر آنکھوں کو لگاتے اور تیرے وضو کے پانی سے شفا حاصل کرتے مگر اے علی(ع) تیرے لیے یہی فضیلت کافی ہے کہ تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں، تم میرے وارث ہو اور میں تمہارا وارث ہوں، تیری وراثت میری وراثت ہے، تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو موسی(ع) کو ہارون(ع) سے ہے مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اور نہ ہوگا تم میری پناہ اور میری ہی روش پر تم جنگ کرو گے( حق اور باطل کے درمیان) اور  کل تم حوض کے کنارے میرے خلیفہ ہوگے اور تم وہ پہلے آدمی ہو جو حوضِ کوثر کے کنارے میرے پاس پہنچو گے، تم وہ بندہ ہو جو میرے ساتھ لباس پہنو گے، تم اول بندے ہو جو میری امت میں سب سے پہلے بہشت میں داخل ہوگے، تیرے شیعہ منبر ہائے نور کے کنارے سفید چہروں کے ساتھ میرے گرد ہوںگے اور میں ان کی شفاعت کروں گا اور وہ کل بہشت میں میرے پڑوسی ہونگے اور بیشک تیرے ساتھ جنگ میرے ساتھ جنگ ہے، تیرے ساتھ سازش میرے ساتھ سازش ہے، تیرا راز میرا راز اور تیرا ظاہر میرا ظاہر ہے اور تیرے سینہ کا راز میرے سینے کا راز کی طرح ہے، تیرے فرزند میرے فرزند ہیں، تم ہی میرے وعدے پر عمل کرو گے، حق تیرے ساتھ ہے اور تیری زبان پر جاری ہے اور تیرے دل پر اور دو آنکھوں کے درمیان ایمان کا نور ہے اور تیرے گوشت اور تیرے خون کے ساتھ ملا ہوا ہے جیسا کہ میرے


گوشت اور خون کے ساتھ ملا ہوا ہے اور تیرا دشمن حوض پر میرے پاس داخل نہ ہوگا اور تیرا دوست پوشیدہ نہ ہوگا یہاں تک کہ تیرے ساتھ حوض پرآئے گا یہ سن کر علی(ع) نےسجدہ شکر ادا کیا اور کہا حمد ہے اس خدا کی کہ جس نے مجھے نعمت دینی عطا کی اور مجھے قرآن کی تعلیم دی مجھے خاتم النبیین کے ساتھ خیر سے خلق کیا اور اپنے احسان و فضل کو مجھے عطا کیا، پیغمبر(ص) نے فرمایا اگر تم نہ ہوتے تو مومنین میرے بعد پہچانے نہ جاتے۔

۲ـ           ابن عباس(رض) ایک مجلس قریش کے پاس سے گزرے انھوں نے دیکھا کہ وہ لوگ علی(ع) کو برا بھلا کہہ رہے ہیں ابن عباس(رض) نے ان کےقائد سے کہا یہ کیا کہتے ہیں اس نے کہا یہ علی(ع) کو دشنام دیتے ہیں ابن عباس(رض) نے کہا مجھے ان کے پاس لے چلو، جس وقت ان کے پاس جا کر کھڑے ہوئے تو کہا تم میں سے کون ہے جو خدا کو دشنام دیتا ہے کہنے لگے نعوذ باﷲ کون دشنام دے سکتا ہے کہ اس نے خدا کا شریک بنایا ابن عباس نے کہا تم میں سے کون ہے جو رسول خدا(ص) کو دشنام دیتا ہے وہ کہنے لگے کہ جو کوئی رسول خدا(ص) کو دشنام دے وہ کافر ہے ابن عباس(رض) نے کہاکون ہے تم میں سے جو علی بن ابی طالب(ع) کو دشنام دیتاہے وہ کہنےلگے کہ ہم میں بعض ایسا کرتے ہیں ابن عباس نے فرمایا میں خدا کو گواہ کرتا ہوں اور اس کے لیے ادائے شہادت کرتا ہوں کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا جو کوئی علی(ع) کو دشنام دے اس نے مجھے دشنام دی اور جو کوئی مجھے دشنام دے اس نے خدا کو دشنام دی۔ ابن عباس سے پوچھا گیا کہ جب آپ نے ان لوگوں کو یہ بتایا تو انہوں نے کیاجواب دیا ابن عباس فرماتے ہیں کہ انہوں نے کوئی رد عمل زبانی طور پر ظاہر نہیں کیا مگر سرخ آنکھوں  سے اس طرح گھورتے تھے جیسے قصاب جانور کو ذبح کرنےسے پہلے دیکھتا ہے ان کے ابرؤ تنے ہوئے گردن اکڑی ہوئی  اور نگاہوں میں قہر تھا۔ اس کے بعد ابن عباس(رض) خود فرماتے ہیں کہ جب تک یہ لوگ زندہ ہیں ان کی زندگی باعثِ ننگ دعا رہوگی اور مرنے کے بعد رسوائی ان کا مقدر اور باقی ان کی رسوائی رہے گی۔

۳ـ          ابوبصیر کہتے ہیں کہ انھوں نے امام صادق(ع) سے سنا کہ جو کوئی چار رکعت نماز پڑھے اور اس میں دو سو دفعہ” قل ہو اﷲ“ پڑھے ( ہر رکعت میں پچاس دفعہ) تو خدا اس کے تمام گناہ جو بھی اس سے سرزد ہوئے ہوں گے معاف کردے گا۔


۴ـ          زید ابن شحام کہتے ہیں کہ امام صادق(ع) نے فرمایا جو کوئی سات بار یہ پڑھے گا” اسئل ﷲ الجنة واعوذ باﷲ من النار “ اے اﷲ میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور آگ سے تیری پناہ مانگتا ہوں اس کے سوا اور کچھ نہیں“ تو آگ کہے گی خدایا اس کو مجھ سے پناہ میں رکھ۔

۵ـ          معاذ بن مسلم کہتے ہیں کہ امام صادق(ع) نے فرمایا، نعمت کے دشمنوں ( حسد کرنے والوں) پر صبر کرو کیوں کہ بہترین جواب اس بندہ کو تیرے لیے یہ ہے کہ وہ خدا کی معصیت کرے“ او تم ان کے حسد کرنے پر خدا کی اطاعت کرو۔

۶ـ           عمرو بن ابومقدام کہتے ہیں، امام باقر(ع) نے فرمایا جو کوئی ایک بار” آیت الکرسی“ پڑھے تو خدا اس کی ہر برائی دنیا اور ہزار برائی آخرت کی مٹادے گا اور دنیا کی مشکلات میں سے آسان ترین فقر ہے اور آخرت کی مشکلات میں سے آسان ترین عذابِ قبر ہے۔

۷ـ          مدرک بن ھز کہتے ہیں امام صادق(ع) نےفرمایا اے مدرک خدا رحمت کرے گا اس بندے پر کہ جو لوگوں کی محبت کو ہماری طرف کھینچ لائے جو کچھ ہم سے سمجھے ان کے لیے بیان کرے اور اگر کسی کو منکر پائے تو اس کو چھوڑ دے۔

۸ـ          ہشام بن سالم نےکہا کہ امام صادق(ع) نے فرمایا، ایک دن داؤد(ع) باہر گئے اور زبور کو پڑھا جب تک وہ زبور پڑھتےرہے پہاڑ و پتھر اور پرندے درندہ کوئی ایسا نہ تھا کہ وہ بھی ان کے ساتھ ہم آواز نہ ہوا ہو داؤد(ع) اسی طرح پڑھتے گئے یہاں تک کہ ایک پہاڑ کے پاس پہنچ گئے اس پہاڑ پر ایک پیغمبر جن کا نام حزقیل(ع) تھا کا مکان تھا جب انہوں نے نے پتھروں پہاڑوں پرندوں اور درندوں کی آوازوں کو سنا تو جان گئے کہ داؤد(ع) ہیں داؤد(ع) نے کہا اے حزقیل(ع) کیا مجھے اجازت دیتے ہو کہ پہاڑ پر تمہارے پاس آؤں کہا نہیں یہ سن کر داؤد(ع) نے گریہ کیا خدا نے حزقیل(ع) کو وحی کی، اے حزقیل(ع) داؤد(ع) کی سرزنش نہ کرو اور مجھ سے عافیت طلب کرو، حزقیل(ع) اٹھے اور حضرت داؤد(ع) کا ہاتھ پکڑا اور ان کو اوپر لے گئے حزقیل(ع) نے کہا داؤد(ع) کیا تم نےقصد خطا کیا ہے نہیں کہا کیا عبادت کے دوران خود بینی میں مبتلا ہوئے، کہا نہیں، کہا تو کیا دل دنیا کے حوالے کیا اور اس سے شہوت و لذت چاہتے ہو کہا ہاں یہ بات میرے دل میں گزری ہے، حزقیل(ع) نے کہا کہ جب اس خیال نےتم پر غلبہ کیا تو تم نے


 کیا، کیا داؤد(ع) نے کہا کہ مجھ پر جب یہ کیفیت طاری ہوئی تو میں ایک پہاڑی درے میں گیا اور جو وہاں دیکھا اس سے مجھے عبرت حاصل ہوئی میں نے وہاں دیکھا کہ لوہے کے ایک تخت پر ایک کھوپڑی اور کچھ بوسیدہ ہڈیاں پڑی ہوئی ہیں اس تخت پر یہ تحریر کھدی ہوئی تھی کہ میں اروی سلم کا بیٹا ہوں میں نے ہزار سال حکومت کی اور  ہزاروں شہر آباد کیے ہزاروں عورتوں سے مقاربت کی مگر میری عمر میرے بستر پر خاک ہوگئی اب میرے سرہانے پتھر ہیں جن کا میں ہم نشین ہوں لہذا نیک و بد جو بھی  مجھے دیکھے دنیا کے فریب میں نہ آئے۔

۹ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا جو کوئی اپنے روزے کو قول صالح کے ساتھ یا عمل صالح کے ساتھ ختم کرے تو خدا اس کا روزہ قبول کرےگا عرض کیا گیا یا بن(ع) رسول اﷲ(ص) قول صالح کیا ہے فرمایا ” لا الہ الا اﷲ کی گواہی اور عمل صالح اخراج فطرہ ہے۔

۱۰ـ          امام صادق(ع) نے روایت کیا اپنے آباء(ع) سے کہ امیر المومنین(ع) نے بروز عیدالفطر لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا اے لوگو! آج تمہارا محسن تمہیں ثواب دے گا اور بدکاروں کو نقصان، یہ دن قیامت کے دن سے متشابہ ہے اس دن تم گھروں سے اس طرح باہر آتے ہو جس طرح قیامت کے دن قبروں سے باہر آؤ گے اور اپنے پروردگار کے سامنے اس طرح حاضر ہوگے جیسے کہ آج ہو پس آج کے دن خود کو اسی طرح اس کے حضور میں حاضر سمجھو۔ اور یاد کرو اس وقت کو جب تم پلٹائے جاؤ گے اپنی منزل بہشت یا دوزخ کی طرف، اور جان لو اے خدا کے بندو کہ روزہ دار مرد وزن کے لیے سب سے چھوٹا انعام یہ ہے کہ ایک فرشتہ انہیں ندا دے گا کہ اے بندو خوشخبری لے لو تمہارے تمام گناہ معاف کردیے گئے اور قائم ہو جاؤ کہ تم آیندہ شاد رہوگے امام صادق(ع) نے اپنے اصحاب میں سے ایک سے فرمایا  جب شب عیدالفطر ہو تو نماز مغرب کو پڑھو اور سجدہ کرو اور اس میں کہو” يا ذالطول یا ذالحول يا مصطفيٰ محمد و ناصره صل علیٰ محمد وآل محمد و اغفرلی کل ذنب اذنبتة انا وهو فی کتاب مبين “ اے فضل و بخشش والے قدرت و اختیار والے اےمحمد(ص) کو منتخب کرنے والے اور ان کے مددگار تو محمد(ص) و آل محمد(ص) پر اپنی رحمتیں نازل فرما اور میرے گناہ بخش دے جو میں نے کیے اور میں بھول گیا مگر تیرے پاس کھلی و روشن


 کتاب میں درج ہیں“ پھر سو بار کہو” واتوب الی اﷲ“ میں اﷲ کی طرف توبہ کرتا ہوں مغرب و عشاء کے بعد اور نمازِ عید انہی تکبیرات ایام تشریق کو پڑھو کہو”اﷲاکبر اﷲ اکبر لا اله الا اﷲ واﷲ اکبر وﷲ اکبر والحمد اﷲ علی ماهدانا والحمد ﷲ علی ما ابلانا “ اﷲ سب سے بڑا ہے اﷲ  سب سے بڑا ہے نہیں کوئی معبود مگر اﷲ اور اﷲ سب سے بڑا ہے اﷲ ہی کے لیے حمد ہے اور اﷲ سب سے بڑا ہے اور اس بات پر کہ اس نے ہماری ہدایت کی اور اس کی حمد ہے کہ اس نے ہم لوگوں کو آزمایا اور اس میں یہ نہ کہو ”ورزقنا من بهيمة الانعام “ ہم لوگوں کورزق دیا جائے چوپائے جانوروں کا “ کیوںکہ یہ عبادت مخصوص ایام تشریق کی ہے( یعنی ۱۱۔۱۲۔۱۳ ذالحجہ)


مجلس نمبر۲۲

( یوم عیدالفطر،یکم شوال سنہ۳۶۷ھ)

۱ـ           امام صادق(ع) نے اپنے آباء طاہرین(ع) سے روایت کیا کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا خدا فرماتا ہے، اے میرے بندو تم تمام گمراہ ہو بجز اس کے کہ جس کی میں راہنمائی کرتا ہوں اور تم تمام فقیر ہوتے مگر یہ کہ میں نے تمہیں امیر بنایا اور تمام گناہ گار ہوتےمگر یہ میں نے تمہاری حفاظت کی ہے۔

اعرابی اور طلبِ قیمتِ اونٹ

۲ـ           امام صادق(ع) فرماتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول خدا(ص) نے پاس  آیا اور آپ(ص) سے کہا کہ مجھے میرے اونٹ کی قیمت جو کہ ستر(۷۰) درہم قرار پائی تھی ادا کردیں رسول خدا(ص) نےفرمایا کہ اے اعرابی کیا میں تجھے رقم ادا نہیں کرچکا، اس نے انکار کیا۔ آپ(ص) نے پھر فرمایا کہ وہ میں تجھے ادا کرچکا ہوں۔ اس نےکہا کہ اس بات کا فیصلہ میں لوگوں ( کسی منصف) سے کرواؤں گا۔ آپ(ص) اس کے ساتھ قریشی کے ایک فرد کے پاس گئے اس قریش نے طرفین کے بیانات سنے اور کہا یا رسول اﷲ(ص) آپ(ص) اقرار کرتے ہیں کہ آپ(ص) نے اونٹ خریدا اور ادائگی کردی تا ہم آپ(ص) رقم کی ادائگی کے سلسلے میں دو گواہ پیش کریں یا پھر ستر(۷۰) درہم اس اعرابی کو ادا کردیں۔ پیغمبر(ص) یہ سن کر غضبناک ہوگئے اور اپنی ردا کو کھینچتے ہوئے فرمایا خدا کی قسم اب میں اس شخص کے پاس تجھے لے کر جاؤں گا جو ہمارے درمیان حکمِ خدا کے مطابق فیصلہ کرے گا،لہذا آپ(ص) اسے لے کر امیرالمومنین علی بن ابی طالب(ع) کے پاس فیصلے کے لیے آئےعلی(ع) نے اعرابی سے پوچھا کہ تیرا مدعا کیا ہے اس نے کہا کہ ستر ردہم اونٹ کی قیمت جو کہ میں ان کے ہاتھ فروخت کیا تھا۔ علی(ع) نے پوچھا رسول خدا(ص) آپ کیا فرماتے ہیں آپ(ص) نے فرمایا کہ میں نے اس کو ادا کردیے تھے۔ علی(ع) نے کہا اے اعرابی کیا یہ سچ نہیں کہتے اعرابی نے کہا یہ ٹھیک نہیں ہے میں نے وصول نہیں کیے ۔ علی(ع) نےتلوار نکالی اور اس کا سر اڑا دیا رسول خدا(ص)نے فرمایا علی(ع) یہ کیا،کیا جناب امیرالمومنین(ع) نے فرمایا یا رسول اﷲ(ص) اس نے آپ(ص) کی تکذیب کی اور جو کوئی


آپ(ص) کی تکذیب کرے اسکا خون حلال ہے پیغمبر(ص) نے فرمایا اےعلی(ع) جان لو کہ جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث کیا تیرا فیصلہ حکم خدا کے مطابق ہے لیکن دوبارہ ایسا مت کرنا۔

امام صادق(ع) اور عصمتِ انبیاء(ع)

۳ـ          علقمہ کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق(ع) سے پوچھا کہ کس کی گوہی وول کی جائے ور کس کی گوہی قول نہکی جائے ، امام(ع) نے فرمایا اے علقمہ جو شخص فطرت اسلام پر ہو اس کی گواہی قبول کی جاسکتی ہے علقمہ کہتے ہیں میں نے پوچھا کیا گناہ گار کی گواہی بھی قابل قبول ہے تو فرمایا اگر قبول نہیں کرو گے تو پھر صرف انبیاء(ع) اور اوصیا(ع) ہی گواہی دیں گے جو کہ معصوم ہیں اور جب تک گناہ گار کے گناہ کو آنکھوں سے خود نہ دیکھو لو یا دو ایسے آدمی جوکہ اہل عدالت اور آبرومدن ہوں گواہی نہ دیں یقین مت کرو ور وہ شخص جسکا گناہ چھپا ہوا ہے( یعنی اس کے گناہ کے گواہ نہیں) کے گناہ کی غیبت جو کوئی بھی کرے گناہ گار ہے اور خدا سے کٹ گیا ہےاور شیطان سے پیوستہ ہے میرے والد(ع) نے اپنے والد(ع) سے روایت کیا اور مجھ سے بیان کیا کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا جو کوئی کسی مومن کی غیبت کرے گا تو خدا ان دونوں کو بہشت میں اکھٹا نہیں کرے گا اور جو کوئی کسی ایسی برائی کو کسی مومن کی طرف منسوب کرے جو اس میں نہ ہو تو ان دونوں کے درمیان سے عصمت قطع ہوجائے گی یہ غیبت کرنے والا ہمیشہ دوزخ میں رہے گا اور یہ کیا برا انجام ہے، علقمہ نےکہا  اے فرزند رسول(ص) لوگ ہمیں بڑے گناہوں سے منسوب کرتے ہیں ہمارے دل ان سے تنگ ہیں، فرمایا اے علقمہ لوگوں کی پسند کو اپنی کمزوری سمجھ اور اپنی زبان کو کمزوری کی وجہ سے ضبط کر تم کس طرح بچ سکتے ہو اس چیز سے  کہ جس سے پیغمبران خدا نہ بچ سکے اور نہ اس کے رسول اور نہ اس کی حجتیں کیا یوسف(ع) کو زنا سے متہم نہیں کیا گیا، اور کیا ایوب(ع) کو مصیبت میں مبتلا ہونے پر گناہ سے متہم نہیں کیا گیا، داؤد(ع) کو متہم نہ کیا گیا کہ ایک پرندے کے پیچھے گئے  یہاں تک کہ اوریا کی بیوی کو دیکھا اور اس کے عاشق ہوگئے اور اس کے شوہر کو تابوت کے آگے بھیجا یہاں تک کہ قتل ہوگئے اور اس کی بیوی سے شادی کرلی کیا موسی(ع) کو متہم نہ کیا کہ عنین (نامرد) ہے اور ان کو آزار دیا مگر خدا نے انکو ان تمام سے بری کیا یہ تمام پیغمبر


خدا کے نزدیک آبرومند تھے لیکن کیا ان تمام انبیاء(ع) کو متہم نہ کیا گیا کہ جادوگر ہیں دنیا طلب ہیں مریم بنت عمران(ع) کو متہم نہ کیا کہ ایک بنجارے مرد یوسف سے حاملہ ہوئی ہے ہمارے پیغمبر(ص) کو متہم نہ کیا گیا کہ شاعر و دیوانہ ہے، کیا آپ(ص) کو متہم نہ کیا گیا کہ زید بن حارثہ کی بیوی کا عاشق ہوا ہے اور کوشش کرتا ہے کہ اس کو اپنے نکاح میں لے آئے، کیا روزِ بدر آپ کو متہم نہ کیا گیا کہ ایک چادر سرخ کو اپنے لیے غنیمت سے لیا یہاں تک کہ خدا نے اس مخمل کی چادر کو عیاں کیا اور ان کو بری کیا خیانت سے اور قرآن میں نازل کیا کہ وہ پیغمبر نہیں ہے کہ جو غنیمت سے چوری کرے جو کوئی غنیمت سے چوری کرے گا وہ روزِ قیامت اسی میں جکڑا ہوا ہوگا کیا متہم نہ کیا کہ ابن عمش علی(ع) کے بارے میں ہوائے نفس سے بات کرتا ہے یہاں تک کہ خدا نے ان کی تکذیب کی اور فرمایا ” کہ وہ ہوائے نفس سے بات  نہیں کرتا بیشک وہ وحی ہوتی ہے جو اس کو پہنچتی ہے(نجم) اور اس کو متہم نہ کیا کہ یہ اپنے جھوٹ سے رسول خدا(ص) کو جھوٹا جانتے ہیں یہاں تک کہ خدا نے ان کو وحی بھیجی” کہ تم سے پہلے رسولوں کی بھی تکذیب کی گئی اور انہوں نے اپنی تکذیب پر صبر کیا اور آزردہ ہوئے یہاں تک کہ ان کو خدا کی مدد آپہنچی“ (انعام، ۲۴) اور جب رسول خدا(ص) نے فرمایا کہ مجھے کل رات خدا آسمان پر لے گیا تو کہا گیا کہ تمام رات یہ اپنے بستر سے تو اٹھے نہیں پھر کیسے آسمان پر گئے ہیں، اور اب جو کچھ اوصیاء کے بارے میں کہتے ہیں، کیا اس سے پہلے سید الاوصیاء کو متہم نہیں کرتے رہے کہ اپنی خاطر لوگوں کا خون گرارہے ہیں( جمل و صفین) جب کہ چاہتا ہے کہ ابوجہل کی بیٹی کو فاطمہ(س) پر سوتن لے آئے۔ تو رسول خدا(ص) نے ان لوگوں کی تکذیب میں کہا کہ فاطمہ(س) میرے بدن کا ٹکڑا ہے جو کوئی اس کو آزار دے گا اس نےمجھے آزار دیا جوکوئی اس کو غضبناک کرے گا اس نے مجھے غضبناک کیا۔

پھر امام صادق(ع) نے فرمایا اے علقمہ لوگ کیسی کیسی عجیب باتیں علی(ع) کے بارے میں کرتے ہیں ایک گروہ ان کومعبود جانتا ہے تو دوسرا گناہ گار، معبود رکھنے اور ان (علی(ع)) پر ربوبیت کی تہمت سے زیادہ آسان ان کی معصیت ہے۔ اے علقمہ وہ (لوگ) عقیدہ،تثلیث کے قائل تو نہیں ہیں مگر ان (علی(ع)) کو خلق بھی نہیں مانتے کبھی کہتے ہیں کہ وہ اﷲ کا جسم ہیں، کبھی انہیں آسمان


 کہتے ہیں ،کبھی کہتے ہیں کہ صورت ہے۔ اے علقمہ اﷲ کی ذات ان تمام سے نہایت بلند ہے۔ جو لوگ خدا کولائق نہیں جانتے وہ تیری عزت کیسے کریں گے۔ بس تم یہ کرو کہ جس چیز کو تم برا جانتے ہو اس سے دور رہو خدا سے مدد طلب کرو اور صابر رہو بےشک یہ زمین خداکی ہے اور وہ جسے چاہتا ہےدیتا ہے اور اس کا وارث بناتا ہے عافیت متقیوں کے لیے ہی ہے، بنی اسرائیل نے بھی موسیٰ(ع) سے کہا تھا کہ تم سے پہلے بھی ہم مصیبت میں تھے اور اب بھی مصیبت میں ہیں خدا فرماتا ہے” کہو اے موسیٰ(ع) امید ہے ( خدا) دشمنوں کو نابود کردے اور تم کو زمین میں اس کی جگہ لے آئے اور دیکھے کہ تم کیا کام کرتے ہو“۔

آںحضرت(ص) کے قتل کا منصوبہ

۴ـ          امام علی بن حسین(ع) نے فرمایا کہ ایک دن رسول خدا(ص) گھر سےباہر تشریف لائے اور نماز فجر ادا کرنے کے بعد فرمایا مجھے خبرملی ہےکہ تین اشخاص نے میرے قتل کے لیے لات و عزی کی قسم کھائی ہے رب کعبہ کی قسم وہ جھوٹے ہیں۔اے لوگو تم میں سے کوئی ہے جو ان سے میرا دفاع کرے کسی طرف سے جواب نہ پاکر رسول خدا(ص) نے علی(ع) کو طلب کیا جو کہ بخار کی وجہ سے گھر میں استراحت فرمارہے تھے عامر بن قتادہ گئے اور انہیں بلا لائے۔ امیرالمومنین(ع) اسطرح تشریف لائے کہ ایک ہتھیار جس کے دو گوشے تھے گردن میں حمائل تھا علی(ع) نے رسول خدا(ص) سے پوچھا یا رسول اﷲ(ص) یہ کیسی خبر ہے، جو میں سنتا ہوں آپ(ص) نےفرمایا علی مجھے خدا کے  پیامبر( جبریل(ع)) نے اس کی خبر دی ہے۔ علی(ع) نے فرمایا یا رسول اﷲ(ص) مجھے اجازت دیں میں تنہا ان کے سامنے جاؤںگا۔ رسول خدا(ص) نے اپنی رزہ علی(ع) کو پہنائی۔اپنی تلوار ان کے آراستہ کی اپنی پوشاک ان کو زیب تن کروائی اور اپنا عمامہ ان کے سر پر رکھ کر اپنے گھوڑے پر ان کو سوار کروایا۔امیرالمومنین(ع) گئے تین دن تک ان کی کوئی خبر نہ آئی یہاں تک کہ جبرائیل(ع) بھی ان کی کوئی خبر نہ لائے فاطمہ(س) دونوں بچوں حسن(ع) اور حسین(ع) کو ساتھ لے کر رسول خدا(ص) کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا بابا کیا یہ دونوں بچے بن باپ کے ہوگئے ہیں یہ سن کر پیغمبر(ص) کی آنکھوں سے اشک جاری ہوگئے اور فرمایا جو کوئی مجھے علی(ع) کی خبر دے گا میری طرف


 سے اسے بہشت کی بشارت ہے۔ یہ سن کر لوگوں کوجدھر کا راستہ ملا چل پڑے یہاں تک کہ پیغمبر(ص) کو غمزدہ دیکھ کر بوڑھی عورتیں بھی علی(ع) کو ڈھوںڈنے نکل گئیں۔

اسی اثناء میں عامر بن قتادہ واپس آئے اور آںحضرت(ص) کو علی(ع) کی واپسی کی خوشخبری سنائی جب کہ اسی دوران جبرائیل(ع) بھی حضور(ص) کو اطلاع پہنچا چکے تھے۔ لہذا امیرالمومنین(ع) تین اونٹوں دو گھوڑوں اور دو اسیروں کو ساتھ لے کر پہچن گئے رسول خدا(ص) نے استقبال کے بعد فرمایا اے علی(ع) تمہاری غیر حاضری میں منافقین نے آزار دینے والی باتیں پھیلائی ہیں لہذا جو بیتی ہے وہ تم خود سناؤ تاکہ یہ لوگ گواہ رہیں۔ عل(ع) نے بیان کیا یا رسول اﷲ(ص) جب میں آپ(ص) کے پاس سے روانہ ہو کران کی وادی میں پہنچا تو دیکھاا کہ یہ تینوں اونٹوں پر سوار ہیں انہوں نے مجھے آوازدی  کہ تم کو ن ہو میں نے انہیں بتایا میں علی ابن ابی طالب(ع) برادر رسول خدا(ص) ہوں یہ کہنے لگے کہ ہم کسی رسول کو نہیں جانتے تیرا قتل اور محمد(ص) کا قتل ہمارے لیے برابر ہے۔یا رسول اﷲ(ص) یہ جو اشخاص میں اپنے ہمراہ لایا ہوں ان میں سے ایک کے  ساتھ میرا مبارزہ شروع ہوگیا۔ اس کے اور میرے درمیان چند داؤد پیچ کا رد و بدل ہوا تھا کہ یکا یک ایک سرخ آندھی نے ہمیں آگھیرا اسی آندھی سے آواز سنائی دی جو یا رسول اﷲ(ص) آپ(ص) کی تھی کہ اے علی(ع) میں نے اس کی زرہ کا گریبان پکڑ رکھا ہے تم اس کے بازو اور اس کے شانے پر ضرب لگاؤ۔ میں نے ایسا ہی کیا مگر اس ضرب کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوا اس کے بعد یکا یک سرخ آندھی تھم کر زرد آندھی چلنا شروع ہوگئی اور آپ(ص)  کی آواز مجھے پھر سنائی دی کہ اس کی ران پر اپنی زرہ اتار کر مارو میں نے ایسا ہی کیا اور اس ضرب سے ان کی ران کو قطع کردیا ۔ اگلے حملے میں میں نے اس کا سر قلم کر دیا اور اس کے جسم سے دور پھینک دیا باقی دو مردوں نےمجھ سے کہا کہ جنگ روک دو ہم نے سنا ہے کہ تمہارا رفیق مہربان و دلسوز ہے۔ ہمیں اس کےپاس لے جاؤ اور ہمارے قتل میں جلدی نہ کرو جس کو تونے قتل کیا ہے ہمارا سردار تھا اور ایک ہزار پہلوانوں پر بھاری تھا لہذا یا رسول اﷲ(ص) میں انہیں لے کر آگیا ہوں۔

رسول خدا(ص) نے یہ سننے کے بعد فرمایا اے علی(ع) آندھی کے دوران جو پہلی آواز تم نے سنی وہ جبرائیل(ع) کی تھی اور دوسری میکائیل کی تھی ان دونوں مردوں میں سے ایک کو آگے کرو جب وہ آگے


 بڑھا تو رسول اﷲ(ص) نے فرمایا کہو لا الہ الا اﷲ اور میری رسالت کی گواہی دو وہ بولا کوہ ابوقبیس کو کھود ڈالنا آسان ہے بہ نسبت اس کے کہ یہ اعتراف کروں کہ آپ(ص) نے علی(ع) کو حکم دیا کہ اس کی گردن اڑا دو مگر قبل اس کے دوسرے کو پیش کرو جب وہ آیا تو اسے بھی یہی کہا گیا مگر اس نے بھی انکار کیا، علی انہیں لے کر پیچھے چلے تاکہ بحکم رسول(ص) ان کی گردنیں اڑا دیں تو جبرائیل تشریف لائے اور بتایا کہ اے محمد(ص) خداوند آپ کو سلام فرماتا ہے  اور حکم دیتا ہے کہ ان کو قتل نہ کرو کیونکہ یہ اپنے قبیلے میں خوش خلق اور سخی ہیں آپ(ص) نے علی(ع) کو روک دیا ان اشخاص نے رسول خدا(ص) سے کہا کہ کیا یہ خبر آپ(ص) کو آپ(ص) کے خدا نے بتائی ہے کہ ہم سخی و خوش خلق ہیں، آپ(ص) نے فرمایا ہاں یہ سن کر وہ نہایت متاثر ہوئے اور قبول اسلام کے بعد انہوں نے رسول اﷲ(ص) کو بتایا کہ اپنے بھائی کے مقابلے میں ہم ایک درہم کی وقعت بھی نہ رکھتے تھے اور یہ کہ جنگ عبوس ہم نے نہیں کی امام علی بن حسین(ع)نے اس کے بعد فرمایا کہ یہ حسن خلق اور سخاوت ہی تھی جو ان کو بہشت کی طرف کھینچ لائی۔


مجلس نمبر۲۳

(۳ شوال کی شب سنہ۳۶۷ھ)

۱:ـامام صادق(ع) نے اپنے اجدادسے روایت کی ہے کہ جب امیرالمومنین(ع) ایک قبرستان سے گزرے تو فرمایا اے خاک نشینو (اہل تربت) اے آوارگان(اہل غربت) دوسرے لوگ تمہارے گھروں کو استعمال میں لے آئے ہیں اور انہوں نے تمہاری عورتوں سے شادیاں کرلی ہیں اور تمہارے اموال تقسیم کرلیے ہیں یہ ہیں خبریں ہمارے پاس تمہارے پاس ہمارے لیے کیا خبریں ہیں پھر منہ اپنے اصحاب کی طرف چہرہ کیا اور فرمایا اگر یہ بات کرنے کی اجازت رکھتے تو تم کو خبر دیتے کہ بہترین توشہ تقویٰ ہے۔

۲ـ امام صادق(ع) نے اپنے آباء(ع) سے روایت کیا کہ حضرت علی(ع) نے فرمایا کوئی دن اولادِ آدم(ع) پر ایسا نہیں گزرتا کہ ان کو نہ کہا جائے کہ اے پسر آدم میں نیا دن ہوں، اورتم پر گواہ ہوں مجھ میں بہتر کہو اور بہتر کرو تاکہ روزِ قیامت تمہارے لیے گواہی دوں میرے جانے کےبعد تم ہرگز مجھے نہیں دیکھو دگے۔

۳ـ جنابِ علی بن ابی طالب(ع) نے فرمایا مسلمان تین دوست رکھتا ہے ایک اس سے کہتاہے کہ میں تیری زندگی اور موت میں تیرے ساتھ ہوں اور وہ اس کا عمل ہے، دوسرا کہتا ہے کہ تیری موت کے وقت تک تیرے ساتھ ہوں وہ اس کا مال ہے کہ جب انسان مرگیا تو اس کے مال کا وارث کوئی اور ہے، تیسرا کہتا ہے میں تیرے ساتھ صرف قبر کے کنارے تک ہوں اور پھر تجھے چھوڑ دوں گا وہ اس کا فرزند ہے۔

۴ـ جنابِ علی(ع) نے فرمایاکوئی شخص اپنی موت کو حق کیساتھ نہیں پہچانتا اس لیے کہ اسے علم نہیں کہ موت کے بعد زندگی کے بارے میں کیسا حساب ہونے والا ہے۔

۵ـ جناب امیرالمومنین(ع) نے بصرہ میں خطبہ پڑھا خدا کی حمد و ستائش اور نبی(ص) پر درود بھیجنے کے بعد فرمایا! چاہے کسی کی عمر طویل ہو یا مختصر زندگی کے لیے عبرت ہے اور مردہ کی نصیحت زندہ شخص کے لیے  یہ ہے کہ جو دن گزر گیا وہ واپس نہیں آئے گا اور جو آنے والا ہے اس پر بھی اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ ماضی حال اور مستقبل جو کہ ایک دوسرے کے ساتھ پیوستہ ہیں روزِ حساب علیحدہ علیحدہ ہو جائیں گے موت تمام پر غالب ہے اس دن تمام اعمال سامنے لائے جائیں گے اور مال اور اولاد


سے اس دن فائدہ نہیں پہنچا سکے گا سوائے اس کے کہ نیک اعمال انجام دیئے جائیں، پھر آپ(ص) نے فرمایا اے میرے شیعو صبر کرنا اس کردار پر کہ نیکی کر کے اس کے ثواب سے بے نیاز ہو جاؤ کہ ایسے پر عذاب نہیں ہے۔ اطاعت خدا صبر کرنا آسان تر ہے بہ نسبت اس کے کہ عذاب کے خوف پر صبر کر لیا جائے۔ جان لو کہ انسان کی عمر محدود ہے مگر وہ اپنی آرزوئیں بلند رکھتا ہے اور اپنے نفس کے تابع ہے اور جان لو کہ جو اپنی خواہشات کی پیروی کرتا ہے اس کی عمر ناچاری میں بسر ہوتی ہے یہ فرما کر جنابِ امیر (ع) کی  آنکھوں میں آنسو جاری ہوگئے اور آپ(ع) نے اس آیت کی تلاوت فرمائی ” اور بیشک محافظ تم پر نگران ہیں کراما کاتبین کہ وہ جانتے ہیں جو تم کرتے ہو“

۶ـ امیرالمومنین(ع) نے فرمایا تمام خیر تین خصلتوں میں جمع ہے نظر میں سکوت میں اور کلام میں، ہر وہ نظر جو بے عبرت ہو سہو ہے، ہر وہ خاموشی جو بے فکر ہو وہ غفلت ہے اور ہر وہ بات جس میں ذکر خدا نہ ہو لغو ہے، خوش قسمت ہے وہ بندہ جس کی نظر میں عبرت اور جس کی خاموشی میں فکر اور جس کی بات میں ذکرِ خدا ہو جو اپنے گناہوں پر گریہ کرے اور لوگ اس کےشر سے محفوظ رہیں۔

۷ـ امام صادق(ع) فرماتے ہیں کہ امیرالمومنین(ع) نے فرمایا پانچ مواقع پر دعا کو غنیمت سمجھ، قرآن پڑھنے کے وقت، اذان کے وقت اور بارش آنے کے وقت اور دشمن پر حملہ کے وقت جب دونوں طرف سے صفیں قائم ہوں قصدِ شہادت کے لیے ( حق و باطل کی معرکہ آرائی کے وقت) اور اس وقت  کہ جب مظلوم پکارے۔ ان اوقات میں دعا سیدھی پردہ عرش تک  جاتی ہے۔

۸ـ      جنابِ امیر(ع) نے فرمایا غفلت زدہ انسان لباس خریدتے ہیں کہ اس کو زیب تن کریں جب کہ اصل لباس کفن ہے، بہترین گھر بناتے ہیں تاکہ اس میں رہیں جبکہ اصل گھر قبر ہے آپ(ع) سے پوچھا گیا کہ ایسی کیا چیز ہے جو موت کا خوف نہیں رہنے دیتی ، آپ(ع) نےفرمایا حرام سے کنارہ کشی اور اعمال صالح کو انجام دینے سے موت کو خوف نہیں رہتا پھر فرمایا کہ خدا کی قسم ابن ابی طالب(ع) کو کوئی پرواہ نہیں کہ موت اس پر آپڑے یا وہ موت کو پالے جنابِ امیر(ع) نے اپنے ایک خطبے میں فرمایا اے لوگو! بیشک دنیا نہ رہنے والا گھر ہے جبکہ آخرت زندگی کا گھر  ہے اپنی گذرگاہ کے لیے توشہ لے لو اور کسی کے راز کو جو تمہارے سینے میں ہے عیاں نہ کرو اپنے دلوں کو دنیا سے جدا رکھو اس سے پہلے کہ یہ تمہیں تنہا و جدا کردے ( دین سے) اور تم محتاج ہوجاؤ ، تم آخرت کے لیے پیدا ہوئے ہو دنیا زہر کی طرح ہے کہ بندہ اس کو کھاتا ہے مگر پہچانتا نہیں اور موت آگھیرتی ہے فرشتے کہتے ہیں کہ تم نے آگے کیا بھیجا جب کہ تم کہتے ہو کہ تم نے پیچھے کیا چھوڑا اپنے کاغذ عیش سے مت بھرو اور برائی کو نظر انداز مت کرو کہ تمہارے نقصان دہ ہے محروم وہ بندہ ہے کہ جس نے راہ صراط کو چھوڑ دیا ہو تم


اس بندے پر رشک کرو،جس نے اپنے مال سے صدقات اور راہ خدا میں خرچ کیا اور جس کا بستر بہشت میں لگا ہے۔

۹ـ           رسول خدا(ص) نے فرمایا امام میرے بعد بارہ ہوں گے کہ پہلے اے علی(ع) تم ہو اور آخری امام قائم ہے کہ خدا  اس کے ہاتھ پر مشرق و مغرب کی زمینوں کو فتح کرے گا۔

۱۰ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا کہ لوگوں نے جنابِ رسول خدا(ص) کے اس فرمان کو بھلا دیا جو کہ انہوں نے جنابِ امیر(ع) کے بارے میں اس وقت ارشاد فرمایا تھا جب کہ آپ(ع) حجرہ ام ابراہیم میں تشریف فرماتھے۔ اور یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح غدیر خم کے فرمان کو بھلا دیا گیا ہے۔

امام(ع) نے فرمایا کہ آںحضرت(ص) حجرہ ام ابراہیم میں تشریف فرما تھے اور اصحاب بھی آپ(ص) کے ساتھ موجود تھے ناگاہ جنابِ امیر المومنین(ع) تشریف لائے تو اصحاب نے جنابِ امیر(ع) کے لیے جگہ نہ چھوڑی، جنابِ رسول خدا(ص) نے یہ ماجرا دیکھا تو فرمایا۔ اے لوگو! یہ میرے اہل بیت(ع) ہیں جب کہ تم انہیں احترام دینے میں مانع ہو۔ میں ابھی زندہ ہوں اور تمہارے درمیان موجود ہوں۔ تم آگاہ ہو جاؤ کہ خدا کی قسم اگر میں تمہارے درمیان نہ بھی رہوں تب بھی خدا تو موجود ہوگا وہ تمہیں دیکھ رہا ہوگا ۔ تہنیت و بشارت اس بندے کے لیے ہے جو علی(ع) کی پیروی کرئے گا۔ اس سے محبت رکھے گا اور اس کی اولاد میں سے ( منصوص) اوصیاء(ع) کے سامنے سر تسلیم خم کردے گا۔ یہ مجھ پر واجب ہے کہ میں ایسے بندے کو اپنی شفاعت مٰیں داخل کروں۔ ایسا بندہ جو علی(ع) اور اولاد علی(ع) کے اوصیاء(ع) کی پیروی و اتباع کرے گا وہ یوں شمار ہوگا کہ گویا اس نے میری پیروی و اتباع کی وہ بندہ یقینا مجھ سے ہے۔ یہ سنت ابراہیم(ع) ہے جو کہ ہمارے لیے قائم کی گئی ہے۔ میں ابراہیم سے ہوں اور ابراہیم مجھ  سے ہیں میرا فضل ان کا فضل اور انکی فضیلت ہے جبکہ میں ان ( ابراہیم(ع)) سے افضل ہوں جس کی تصدیق یہ قول خدا ہے کہ” بعض بعض کی ذریت سے ہیں  اور خدا سننے والا اور علم رکھنے والا ہے۔“ ( آل عمران، ۳۳)

امام(ع) فرماتے ہیں کہ آنحضرت(ص) کی حجرہ ام ابراہیم میں تشریف فرما ہونے کا سبب یہ تھا کہ آپ(ص) کے پاؤں مبارک پر زخم آگیا تھا جب کہ ہڈی کو کوئی گزند نہ پہنچا  تھا اور اس وقت لوگ آپ کی عیادت کی غرض سے جمع تھے۔

وصلی اﷲ علیٰ سيدنا محمد وآل الطيبين الطاهرين


مجلس نمبر۲۴

(۴ شوال سنہ۳۶۷ھ )

شہادت حسین(ع) کی خبر

۱ـ           ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا جب روز قیامت ہوگا تو عرش رب العالمین کو ہر زینت دینے والی چیز سے زینت دی جائے گی اور اسے آراستہ کیا جائے گا اورنور کے دو منبر لائے جائیں گے کہ ہر ایک کا طول سو میل ہوگا ایک کو عرش کے دائیں طرف رکھا جائے اور دوسرے کو عرش کے بائیں طرف پھر حسن(ع) ایک منبر تشریف فرما ہوں گے اور حسین(ع) دوسرے پر تشریف رکھیں گے پروردگار اپنے عرش کو ان سے زینت دے گا جیسا کہ عورت اپنے دونوں کانوں میں گوشوارے پہن لیتی ہے۔

۲ـ           ابن عباس کہتے ہیں کہ ایک دن میں رسول خدا(ص) کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ امام حسن(ع) آئے رسول خدا(ص) نے جب ان کو دیکھا تو گریہ کیا اور پھر فرمایا میرے پاس آؤ اے میرے بیٹے پھر ان کو اپنے نزدیک کیا اور اپنے دائیں زانو پر بٹھا دیا پھر حسین(ع) آئے ںحضرت(ص) نے جب ان کو دیکھا تو گریہ کیا اور کہا آؤ آؤ میری جان میرے بیٹے ان کو بھی اپنے نزدیک بلایا اور بائیں زانو پر بٹھا دیا پھر جنابِ فاطمہ(س) آئیں جب انہیں دیکھا تو گریہ کیا پھر انہیں اپنے برابر بٹھا دیا اور پھر امیر المومنین(ع) آئے ان کو بھی جب دیکھا تو گریہ کیا ان کو بھی اپنے پاس طلب کیا اور اپنے دائیں پہلو میں بٹھایا ابن عباس کہتے ہیں میں نے کہا یا رسول اﷲ(ص) آپ نے ان میں سے جس کسی کو بھی دیکھا گریہ کیا کیا آپ(ص) کے لیے ان میں سے کوئی ایسا نہ تھا کہ آپ کو دیکھ کر خوش ہوتے، فرمایا خدا کی قسم کہ جس نے مجھے حق کے ساتھ نبوت عطا کی اور تمام لوگوں پر مجھے  برگزیدہ کیا یہ سب گرامی ترین خلق ہیں خدا نزدیک اور روئے زمین پر کوئی ایسا آدمی نہیں ہے کہ ان سے زیادہ میرا محبوب ہو علی ابن ابی طالب(ع) میرا بھایی ہے میرا مددگار ہے اور میرے بعد صاحب امر ہے ۔ میرے لوا کو اٹھانے والا ہے


اور دنیا و آخرت میں میرے حوض کا صاحب اور ہر مسلمان کا مولی و سردار ہے ہر مومن کا امام ہے اور ہر متقی کا قائد ہے وہ میرا وصی و خلیفہ میرے خاندان اور میری امت پر ہے میری زندگی میںاور میری موت کے بعد بھی اس کو دوست میرا دوست ہے اس کا محب میرا محب ہے اس کا دشمن میرا دشمن ہے اس کی ولایت سے میری امت رحمت میں ہے اور جو کوئی بھی اس کا مخالف ہے وہ ملعون  ہے اور جب یہ (علی(ع)) آئے تو میں نے اس لیے گریہ کیا کہ مجھے یاد آیا کہ میرے بعد میری امت اس کے ساتھ غداری ودغا و مکر کرے گا اور اس کو مسند خلافت سے ہٹایا جائے گا جس کے لیے میں نے اس کو مقرر کیا ہے میرے بعد لوگ انہیں مصیبت میں گرفتار کردیںگے یہاںتک  کہ اس کے سر میں تلوار سے ضرب لگائی جائے گی اور ان کی ڈاڑھی خون سے خضاب و رنگین ہوجائے گی اس بہتریں مہینہ کے اندر جس کو ماہ رمضان کہتے ہیں جبکہ خدا نے اس مہینہ میں قرآن کا نازل کیا ہے لوگوں کی ہدایت کے لیے اور یہ کھلی گواہی( دلیل) ہے حق و باطل میں فرق کرنے کےلیے اور میری بیٹی فاطمہ(س) جو اولین و آخرین کی عورتوں کی سردار ہے اور میرے بدن کاٹکڑا ہے اور میری آنکھوں کا نور ہے اور میرے دل کا ثمر ہے اورمیری روح ہے، میرا مرکز ہے میرا پہلو ہے، حوریہ انسیہ ہے، اور ہر وقت محراب عبادت میں اپنے پروررفگار کے سامنےکھڑی رہتی ہے اس کا نور آسمان کے فرشتوں کو روشن کردیتا ہے جس طر چاند ستاروں کا نور زمین کو روشن کرتا ہے اور خدا اپنے فرشتوں کو فرماتا ہے میرے فرشتو میری کنزی فاطمہ(س) کو دیکھو کہ میرے سامنے کھڑی ہے اس کا دل مریے خوف سے لرزتا ہے اور میری عبادت میں مصروف ہے گواہ رہو کہ اس کے شیعوں کو میں نے دوزخ سے امان دی ہے لہذا جب میں ( محمد(ص)) نے اس کو دیکھا تو مجھے یاد آیا کہ میرے بعد امت کے لوگ اس کے ساتھ کیا سلوک کریں گے اس کے گھر کو گرائیں گے اس کی حرمت کو زیر پاء کریں گے اس کے حق کو غصب کیا جائیگا اس کی وراثت کو ممنوع کردیا جائے گا اس کا پہلو شکستہ کیا جائیگا یہاں تک کہ اس کا جنین ساقط ہوجائےگا یہ فریاد کرے گی یا محمداہ مگر اس کو جواب نہیں ملے گا یہ استغاثہ کرےگی مگر کوئی اس کی مدد نہیں کرےگا میرےبعد یہ ہمیشہ پریشان اور غم زدہ رہے گی اور مصیبت میں گرفتار روتی  رہے گی اس کو یاد آئے گا کہ وحی اس کے گھر سے منقطع ہوگئی ہے، میری جدائی کے


صدمے سے یہ خوف زدہ ہوجایا کرے گی اور مجھ جیسے شفیق باپ جس کا یہ مرکز تھی کو یاد کر کے غمزہ ہو جائے گی تب خداوند اس کے ساتھ فرشتوں کو مانوس کرےگا اور بالکل اسی طرح جس طرح یہ مریم بن عمران کو ندا کرتے تھے کہیں گے کہ فاطمہ(س) خدا نے تجھے برگزدیدہ کیا تمام عالمین کی عورتوں سے اور تجھے پاک کیا اے فاطمہ(س) قنوت پڑھو اور رکوع و سجود کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو، اس کے بعد اس کی بیماری کا آغاز ہوگا تب خدا مریم بنت عمران کو بھیجے گا جو بیماری میں ان کی انیس ہوں گی اور ان کی تیمار داری کریں گی فاطمہ(س) اس مقام پر کہیں گی اے پروردگار میں اس زندگی سے تنگ آگئی ہوں اور اہل دنیا سے ملول ہوں مجھے میرے والد(ص) تک پہنچا دے یا اے خداندا انہیں مجھ تک پہنچا دے یہ وہ پہلی فرد ہوں گی جو میرے دنیا سے جانے کے بعد میرے خاندان سے مجھے آکر ملیں گی اور اس حال میں کہ مخزون و گرفتار بلا اور شہید مجھ تک وارد ہوں گی  اس وقت میں خدا سے درخواست کروں گا کہ خدایا لعنت کر اس شخص پر کہ جس نے اس پر ظلم کیا ہے اور سزا دے پر اس  شخص کو کہ جس نے ان کا حق غصب کیا ہے اور خوار  کر اس بندے کو جس نے ان کو خوار کای ہے اور اسے ہمیشہ کے لیے جہنم رسید کردے جنہوں نے اس کے پہلو پر دروازہ گرایا ہے جس سے اس کا جنین ساقط ہوا ہے میری اس دعا پر ملائکہ آمین کہیں گے پھر حسن(ع)  یہ میرا بیٹا میرا فرزند ہے یہ میرےبدن کا ٹکڑا اور میری آنکھوں کا نور، میرے دل کو روشنی اور میرے دل کا ثمر(میوہ) ہے وہ جوانانَ بہشت کا سردار ہے اور خدا کی حجت ہے میری امت پر اس کا امر میرا امر ہے اور اس کا قول میرا قول ہے جو کوئی اس کی پیروی کرے گا اس نے میری پیروی کی جو کوئی اسکی نافرمانی کرے  گا گویا اس نے میری نافرمانی کی جب میں نے اس کو دیکھا تومجھے یاد آیا کہ میرے بعد اس کی اہانت کی جا ئے گی میں دیکھتا ہوں کہ لوگ اس پر کھلم کھلا ستم کریں گے اور اس کے دشمن اس کو قتل کردیں گے اس وقت سات آسمانوں کے فرشتے اس کی موت پر گریہ کریں گے اور تمام چیزیں یہاں تک کہ پرندے اور دریا کی مچھلیاں بھی اس پر گریہ کریں گی جو آنکھ اس پر گریہ کرے گی وہ اس دن دندھی نہ ہوگی کہ جس دن دوسری آنکھیں اندھی ہوں گی اور جوکوئی اس پر مخزون ہوگا تو اس دن جس دن تمام دل مخزون ہون گے وہ مخزون نہ ہوگا اور جوکوئی بقیع میں اس کی زیارت کرے گا تو اس کے قدم پل صراط


پر مضبوط ہون گے۔ اس دن کہ جس دن تمام لغزش کھا رہے ہوں گے اور اس کے بعد حسین(ع)، حسین(ع) مجھ سے ہے اور میرا فرزند ہے اور بہتریں خلق ہے اپنے بھائی کے بعد مسلمانوں کا امام ہے اور مومنین کا ولی ہے اور عالمین پر خدا کا خلیفہ ہے وہ غیاثِ مستغیثین و امان طلب کرنے والوں کی پناہ اور تمام خلق پر خدا کی حجت ہے۔ وہ جوانان بہشت کا سردار اور نجات کا دروازہ ہے اس کا امر میرا امر ہے اور اس کی اطاعت میری اطاعت ہے جو اس کی پیروی کرتا ہے اس نےم میری پیروی کی ہے اور کوئی اسکی نافرمانی کرے اس نے میری نافرمانی کی جب میں نے اس کو دیکھا تو مجھے یاد آگیا کہ میرے بعد اس کے ساتھ کیا کیا جائے گا میں دیکھاہوں کہ میں جو اپنے حرم اور اپنے قرب میں لوگوں کو پناہ دینے والا ہوں اسی کے فرزند کو پناہ نہ دی جائے گی۔

میں اس کو خواب میں اپنی آغوش میں لوں گا اور اپنے سینے سے لگاؤں گا اور حکم دونگا کہ میرے گھر سے ہجرت کر لیں میں اس کو شہادت کی بشارت دوں گا کہ اس جگہ سے کوچ کریں اس زمین کی طرف جوکہ اس کی قتل گاہ ہے، زمین کرب و بلا و قتل و رنج جہاں ایک گروہ مسلمین اس کی مدد کرے گا یہ سردار شہداء امت ہے ، روز قیامت میںاس کو ایسے دیکھتا ہوں کہ یہ تیر کھانے کے بعد اپنے گھوڑے سے زمین پر گرا ہے اور جیسے گوسفند کے سر کومظلومانہ کاٹا جاتا ہے اس کا سرکاٹ دیا جائے گا، پھر رسول خدا(ص) نے گریہ کیا اور وہ تمام بندےبھی جو آپ کے پاس جمع تھے رونے لگے اور صدائے شیون بلند ہوگئی آںحضرت(ص) اٹھے اور فرمایا خدا یا میں تجھ  سے شکایت کرتا ہوں اس کی جو میرے اہل بیت(ع) سےمیرے بعد کیا جائے گا اور پھر اپنے گھر کے اندر تشریف لے گئے۔

۳ـ          مفضل بن عمر کہتے ہیں کہ امام صادق(ع) سے روایت ہے کہ ان کے جد(ع) نے فرمایا کہ ایک دن حسین بن علی(ع) امام حسن(ع) کے پاس تشریف لے گئے اور گریہ کیا امام حسن(ع) نے فرمایا اے ابو عبداﷲ(ع) تم کو کیا چیز رلاتی ہے امام حسین(ع) نےفرمایا برادر میں اس پر گریہ کرتا ہوں جو کہ آپ کے ساتھ روا رکھا جا ئے گا امام حسن(ع) نے فرمایا میرے ساتھ جو ہوگا وہ زہر ہے کہ جس کومیرے حلق سے نیچے اتارا جائے گا اور میں قتل کردیا جاؤں گا مگر اے ابو عبداﷲ(ع) ( حسین(ع)) میں اس دن کو بھی دیکھ رہا ہوں کہ جس دن تیس ہزار مرد جو کہ ہمارے جد(ص) کی امت ہونے کا دعوی کریں گے تیرے گرد گھیرا ڈال لیں


گے اور تیرے قتل کے لیے اور تیرا خون گرانے، تیری حرمت کی ہتک کرنے، تیری زریت کو اسیر کرنےاور تیرا مال لوٹنے کےلیے تجھ سے جنگ کریںگے بنی امیہ لعنت کی مستحق ٹھہرائی جائے گی آسمان راکھ اور خون برسائے گا اور ہر چیز آپ(ع) پر گریہ کرے گی یہانتک  کہ بیابان کے وحشی جانور اور دریا کی مچھلیان بھی آپ پر گریہ کناں ہونگے۔

توضیع وسیلہ

۴ـ          ابوسعید خدری(رض) کہتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا جب بھی خدا سے کوئی حاجت طلب کرو تو اسے وسیلے کا واسطہ دے کر کرو، پوچھا گیا پیغمبر(ص) سے کہ وسیلہ کیا ہے فرمایا وہ درجہ ہے جو کہ میں بہشت میں رکھتا ہوں کہ اس کے ہزار درجے ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان ایک مہینہ گھوڑا دوڑنے کی راہ کا فاصلہ ہے اور یہ درجے گوہر، زبرجد، یاقوت اور سونے چاندی کے ہیں، ان کو  قیامت میں لایا جائے گا اور میرے برابر میں رکھ دیا جائے گا اور یہ جیسا کہ چاند روشن ہوتا ہے روشن ہوں گے، اس دن کوئی پیغمبر و صدیق و شہید نہ ہوگا کہ جو کہے گا، خوش قسمت ہے وہ بندہ جو یہ درجہ رکھتا ہے تو خدا کی طرف سے ندا آئے گی کہ تمام پیغمبر اور تمام خلائق سن لو کہ یہ درجہ محمد(ص) کا ہے پھر میں آؤں گا اور نور کی قبا دفوش پر رکھوں گا او تاج ملک واکلیل کرامت علی بن ابی طالب(ع) کے سر پر ہوگا پھر لوا حمد کو میرے آگے رکھا جائے گا اس پر لکھا ہوگا” لا الہ الا اﷲ“ اور وہی فلاح پاگئے جو خدا کو پہنچ گئے۔ جب پیغمبر(ص) گزریں گے تو کہیں گے کیا یہ مقرب فرشتے ہیں کہ ہم ان کو نہیں پہچانتے اور ہم نے ان کو نہیں دیکھا اور جب فرشتے گزریں گے۔ تو کہیں گے کہ کیا یہ دنوں پیغمبر مرسل ہیں یہاں تک کہ میں اس درجے سے اوپر جاؤں گا اوو علی(ع) میرے پیچھے آئیں گے اور یہاں تک کہ میں سب سے بلند مقام پر آؤں گا اور علی(ع) مجھ سے ایک درجہ نیچے ہوگا اس دن کوئی پیغمبر و صدیق و شہید نہ ہوگا کہ کہے گا، خوش قسمت ہیں یہ دو بندے خدا کے نزدیک کہ کیسے گرامی ہیں پھر خدا کی طرف سے ندا آئے گی۔ کہ تمام پیغمبر و صدیق وشہید و مومنین یہ سن لین کہ یہ میرے حبیب محمد(ص) ہیں اور یہ میرا ولی علی(ع) ہے اور خوش قسمت ہے وہ شخص جو انہیں دوست رکھتا ہے اور اس کے لیے آج کا دن نہایت برا ہے


جو ان کا دشمن ہے اس کے بعد رسول خدا(ص) نے فرمایا اس دن تیرے دوست خوش و خرم ہوں گے اور ان کے چہرے نورانی اور دل شاد ہوں گے اور وہلوگ جوتجھے دوست نہیں رکھتے ان کے چہرے اس دن سیاہ اور قدم لرزاں ہوں گے پھر ان کے  درمیان سے دو فرشتے بر آمد ہوں گے اور میرے سامنے آئیں گے ایک رضوان، کلید دار بہشت اور دوسرا مالک، کلید دار دوزخ ہوگا، رضوان میرے نزدیک ہوگا اور کہے گا میں کلید دار بہشت ہوں یہ جنت کی کنجیاں ہیں جو کہ رب العزت نے آپ(ص) کے لیے بھیجی ہیں لہذا اے احمد(ص) ان کو لے لو میں کہوں گا حمد ہے اس خدا کی جس نے مجھ پر اپنا فضل کیا میں نے اپنے پروردگار سے انہیں قبول کیا پھر یہ کنجیاں میں اپنے بھائی علی(ع) کے سپرد کروں گا۔ پھر مالک دوزخ میرے سامنے آئے گا اور کہے گا میں کلید دار جہنم ہوں یہ دوزخ کی کنجیاں ہیں جو کہ رب العزت نے آپ(ص) کے لیے بھیجیں ہیں انہیں قبول فرمائیں، میں  یہ کنجیاں بھی علی(ع) کو دے دونگا اور پھر میں اس مقام پر کھڑا ہوں گا جہاں گناہ گاروں کو جہنم رسید کیا جائے گا ( دھانہ جہنم) اس جگہ جہنم کے شرارے اٹھ رہے ہوں گے علی(ع) جہنم کی مہار تھامے ہوں گے اور دوزخ علی(ع) سے فرماتی ہوگی کہ مجھے چھوڑ دو کہ تمہارے نور سے میری آگ سرد ہوئی جاتی ہے علی(ع) فرمائینگے کہ زرا ٹھہر جا اے دوزخ اور کہیں گے کہ فلاں شخص کو پکڑ لے یہ میرا دشمن ہے اور فلاں کو چھوڑ دے کہ یہ میرا دوست ہے ۔ رسول خدا(ص) فرماتے ہیں کہ دوزخ اس دن علی(ع) کے لیے اتنی فرمانبردار اور مطیع ہوگی اور کہ جیسے ایک غلام اپنے آقا کے لیے فرمانبردار ہوتا ہے کہ آقا جیسے چاہے اسے دائیں بائیں کھینچ لے۔ اس دن بہشت بھی علی(ع) کے لیے مطیع تر ہوگی کہ اسے اپنے دوستوں کے لیے جو بھی حکم دیں گے وہ عمل کرے گی۔

صلی اﷲ علیٰ سيدنا خير خلقه محمد وآل محمدوآله اجمعين


مجلس نمبر ۲۵

(۱۷ ذالحجہ سنہ۳۶۷ھ)

( یہ مجلس طوس میں زیارت گاہِ حضرت رضا(ع) پر پڑھی گئی)

ثواب زیارت

۱ـ           حسین بن یزید کہتے ہیں کہ امام صادق(ع) نے فرمایا کہ میرے فرزند موسیٰ(ع) سے ایک فرزند پیدا ہوگا جو کہ جنابِ امیر(ع) کا ہم نام ہوگا وہ زمین طوس خراسان میں زہر سے قتل کیا جائے گا اور اسی جگہ اس کی تدفین نہایت غربت کے عالم میں ہوگی تم میں سے جوکوئی بھی اس کے مقام (عظمت) کو پہچانتے ہوئے اس کی زیارت کرے گا تو خدا اس کو فتح مکہ کی راہ میں مال خرچ کرنے اور جہاد کرنے کے برابر اجر دے گا۔

۲ـ           جابر جعفی نے کہا کہ ابوجعفر(ع) نے اپنے اجداد(ع) سے روایت کیا کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا میرے بدن کا ایک ٹکڑا خراسان میں دفن ہوگا اور جو کوئی اس کی زیارت کرے گا تو خدا اس کی مصیبت کو اس سے دور  کرے گا اور اس کا گناہ باقی نہ رہے گا اور خدا تمام گناہ معاف کردے گا۔

۳ـ          ابو نصر بزنطی کہتے ہیں میں ابوالحسن رضا(ع) کا خط پڑھا جس میں درج تھا کہ میرے شیعوں کو یہ پیغام دو کہ جو کوئی میری زیارت کرے گا تو یہ خدا کے نزدیک ایک ہزار حج کے برابر ہے آپ کے فرزند ابوجعفر(ع) نے کہا ہزار حج کے برابر فرمایا ہاں پھر فرمایا خدا کی قسم سو ہزار( ایک لاکھ) حج اس کے لیے ہے جو ہماری معرفت حق کے ساتھ زیارت کرے۔ ( یعنی ہمارے مقام کی معرفت رکھتے ہوئے)

۴ـ          ابونصر بزنطی کہتے ہیں کہ  میں نے امام رضا(ع) سے سنا کہ جو کوئی میری زیارت کرے گا معرفتِ حق کے ساتھ تو اس کی شفاعت قیامت کے دن قبول ہوگی۔

۵ـ          نعمان بن سعد کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب(ع) نے فرمایا ، ایک فرزند میرے فرزندوں میں


سے



مجلس نمبر۲۶

( بمقام مشہدِ رضا(ع) روز غدیر خم ۱۸ ذالحجہ سنہ۳۶۷ھ)

جنابِ امیر(ع) کا خطبہء غدیر پر شہادت طلب کرنا

۱ـ           جابر بن عبداﷲ انصاری(رض) کہتے ہیں کہ امیر المومنین(ع) نے ہمیں ایک خطبہ دیا پہلے خدا کی حمد و ستائش کی اور پھر فرمایا اے لوگو! اس منبر کے سامنے رسول خدا(ص) کے چار بزرگ صحابی موجود ہیں انس بن مالک، برائن عازب اںصاری ۔ اشعث بن قیس کندی۔ خالد بن یزید بجلی پھر آپ(ع) نے انس بن مالک کی طرف رخ کیا اور کہا اے انس تم نے رسول خدا(ص) کا یہفرمان کہ جس کسی کا میں مولا و آقا ہوں اس اس کے آقا و مولا علی(ع)  ہیں سنا ہے لہذا اگر تونے آج میری ولایت کی گواہی نہ دی تو خدا تجھے اس وقت تک موت نہیں دے گا جب تک تو برص کے مرض میں مبتلا نہ ہو جائے کہ جس کو تیرا عمامہ بھی نہ چھپاسکے پھر آپ(ع) نے اشعث سے فرمایا اے اشعث اگر تونے رسول خدا (ص) سے سنا ہے کہ جس جس کا میں مولا، اس اس کا علی(ع) مولا ہے خدایا تو اس کو دوست رکھ جو علی (ع) کو دوست رکھے اور اسے دشمن رکھ جو علی(ع) کو دشمن رکھے تو تو (اشعث) اس کی گواہی دے ورنہ خدا تجھے اس وقت تک موت نہیں دے گا جب تک کہ تیری دونوں آنکھوں کی بینائی ختم نہ کرے پھر خالد سے فرمایا کہ اے خالد اگر تونے  رسول خدا(ص) سے سنا ہےکہ جس جس  کا میں مولا اس اس کا علی(ع) مولا خدایا اس کو دوست رکھ جو علی(ع) کو دوست رکھے اور اسے دشمن رکھ جو علی(ع) کو دشمن رکھے تو اس کی گواہی دے نہیں تو خدا تجھے اس وقت تک موت نہیں دے گا جب  تک تیری موت جاہلیت کے طریقے پر نہ ہو جائے۔ پھر آپ نے برابن عازب سے فرمایا کہ اے برا بن عازب اگر تو نے رسول خدا(ص) سے سنا ہے کہ جس جس کا میں مولا ہوں اس اس کا علی(ع) مولا ہے خدایا تو اسے دوست رکھ جو علی(ع) کو دوست رکھے اور اسے دشمن رکھ جو علی(ع) کو دشمن رکھے تو اسے بیان کر ورنہ اے برابن عازب خدا تجھے اس وقت تک موت نہیں دے گا جب تک تو یہاں سے ہجرت نہ کر جائے جابر بن عبداﷲ انصاری(رض) کہتے ہیں خدا کی قسم میں نے دیکھا کہ انس بن مالک


برص کے مرض میں مبتلا ہوگیا ہے جس کو وہ اپنے عمامے سے چھپاتا ہے مگر نہیں چھپتا اشعث کو دیکھا کہ اس کی دونوں آنکھوں کی بینائی چلی گئی ہے اور اسے یہ کہتے سنا کہ حمد ہے اس خدا کی، علی(ع) نے صرف مجھے دنیا میں اندھا کر دیا کہیں آخرت کے بارے میں نفرین کردیتے تو عذاب کاشکار ہوجاتا  خالد بن یزید جب مرا تو اس کے گھر والوں نے  اسے گھر میں گڑھا کھود کر دفنا دیا جب  اس کے قبیلے والوں کو پتا چلا تو وہ اونٹوں اور گھوڑوں پر سوار ہو کرآئے، گھر میں گھس کر گڑھا کھودا اور اسکی لاش نکال کر ہاتھ پاؤں کاٹ  دیے اور جاہلیت کے دستور کے مطابق اس کی لاش کو دروازے پر لٹکادیا ، برابن عازب ہجرت کر کے یمن چلا گیا جہاں معاویہ  نے اسے یمن کا والی بنا دیا اور وہیں اس کی موت ہوئی۔

۲ـ           ابو اسحاق کہتے ہیں میں نے علی بن حسین(ع) سے پوچھا کہ فرمان رسول خدا(ص) ” من کنت مولاہ فعلی مولا“ کے کیا معنی ہیں تو فرمایا کہ رسول(ص) نے علی(ع) کو خبر دی تھے کہ وہ میرے بعد امام ہیں۔

۳ـ          علی بن ہاشم بن یزید کہتے ہیں کہ میرے باپ نے زید بن علی سے پوچھا کہ قول رسول خدا(ص) ” من کنت مولا فعلی مولا“ سے کیا مراد ہے تو فرمایا کہ اس قول کو ہدایت کی علامت مقرر کیا گیا ہے تاکہ حزبِ خدا موقع اختلاف میں ہو تو اس قول کے وسیلے سے حق کا تعین کر لے۔

۴ـ          ابو جارود کہتے ہیں کہ ابوجعفر امام باقر(ع) نے قولِ خدا” بیشک تمہارا ولی خدا ہے اور اس کا رسول ہے اور وہ ہیں جو ایمان رکھتے ہیں۔۔۔تا آخر۔ “ (مائدہ، ۵۵)کی تفسیر کی سلسلے میں فرمایا کہ کچھ یہودی جیسا کہ عبداﷲ بن سلام ، اسد، ثعلبہ، ابن یامین او ابن صوریا، رسول خدا(ص) کے پاس آئے اور کہنے لگے یا نبی اﷲ(ص) موسی(ع) نے یوشع بن نون(ع) کو اپنا وصی بنایا تھا آپ کا وصی کون ہے اور کون آپ(ص) کے بعد امت کا سرپرست ہے تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی کہ ” تمہارا ولی تمہارا خدا ہے اور تمہارا رسول اور وہ بندے ہیں جو ایمان والے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور رکوع میں ہیں اور زکواة ادا کرتے ہیں“ پھر رسول خدا(ص) نے فرمایا اٹھووہ تمام یہودی اٹھے اور رسول(ص) کے ساتھچل پڑے رسول خدا(ص)  مسجد میں آئے ناگاہ ایک سائل مسجد میں داخل ہوا آپ(ص) نے اس سے پوچھا کہ کیا کسی نے تجھے کوئی چیز دی ہے ۔ اس نے کہا کہ ہاں ایک شخص نے مجھے یہ انگوٹھی دی


 ہے آپ(ص) نے فرمایا کس حالت میں دی ہے تو سائل نے جواب دیا کہ حالت رکوع میں، پیغمبر(ص) اور تمام حاضرین مسجد نے تکبیر کہی۔ رسول خدا(ص) نے فرمایا میرے بعد علی ابن ابی طالب(ع) تمہارا ولی ہے لوگوں نے خوش ہو کر کہا کہ ہم اپنے پروردگار سے خوش ہیں، دین اسلام سے شاد، اور محمد(ص) کی نبوت اور علی(ع) کی ولایت پر راضی اور مسرور ہیں اس وقت خدانے اس آیت کو نازل کیا” کہ جو کوئی تولیٰرکھے اﷲ اور اس کے رسول کو اور ان لوگوں کو جو ایمان والے ہیں تو بیشک اﷲ کا گروہ ہی غالب رہنے والا ہے۔“ ( مائدہ، ۵۶) عمر بن خطاب سے روایت ہوا کہ میں نے حالتِ رکوع میں چالیس انگوٹھیاں تصدق کیں میرے بارے میں بھی کچھ اس طرح کا نازل ہو مگر یہ رتبہ صرف علی(ع) کو ہی ملا۔

۵ـ          جابر بن عبداﷲ انصاری(رض) کہتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے علی بن ابی طالب(ع) سے فرمایا ، اے علی تم میرے بھائی اور میرے وصی و وارث و خلیفہ ہو میری امت پر میری زندگی میں بھی اور میری موت کے بعد بھی ، تیرا دوست میرا دوست، تیرا دشمن میرا دشمن ، تیرا بد خواہ میرا بد خواہ اور تیرا پیرو میرا پیرو ہے۔

۶ـ           ابن عباس کہتے ہیں، رسول خدا(ص) نے فرمایا بیشک خدانے سات آسمانوں پر میرے اور علی(ع) بن ابی طالب(ع) کے درمیان برادری قائم کی اور میری دختر کو اس کی زوجیت میں دیا اور اپنے مقرب فرشتوں کو اس کا گواہ بنایا اور اس کو میرا وصی و خلیفہ بنایا، علی مجھ سے ہے اور میں علی(ع)سے ہوں اس کا دوست میرا دوست اور اس کا دشمن میرا دشمن ہے فرشتے اس کی دوستی سے خود کو مقربین خدا بناتے ہیں۔

۷ـ          حسن بن زیاد کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق(ع) سے پوچھا کہ قولِ رسول خدا(ص) کہ ” فاطمہ(س)اہل جنت کی عورتوں کی سردار ہے“ سے  کیا مراد ہے کیا وہ صرف اپنے زمانے کی عورتوں کی سردار ہیں تو امام(ع) نے فرمایا وہ تو مریم(ع) ہیں، فاطمہ(س) تو تمام اولین و آخریں کی عورتوں کی سردار ہیں۔ حسن بن زیاد کہتے ہیں میں نے پھر پوچھا کہ کیا قول ِ رسول خدا(ص) کہ حسن(ع) و حسین(ع) دونوں جوانانِ بہشت کے  سردار ہیں بھی یہی مراد ہے تو آپ نے فرمایا ہاں وہ بھی اولین و آخرین کے تمام مردوں کے سید و سردار ہیں۔


عیدِ غدیر

۸ـ          عبداﷲ بن فضل ہاشمی کہتے ہیں کہ امام صادق(ع) نے اپنے آباء(ع) سے روایت کیا کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا کہ میری امت کی بہترین عیدوں میں سے ایک عید غدیر خم ہے اور یہ دن ہے جس دن خدا نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنے بھائی علی بن ابی طالب(ع) کو نصب کروں اپنی امت کی امامت کے لیے تاکہ میرے بعد اس کو رہبر کیا جائے، اور یہ وہ دن ہے کہ خدانے دین کو اس میں کامل کیا اور تمام کیں اس میں نعمتیں میری امت پر اور اسلام کو ان کے لیے دین بنایا پھر فرمایا اے لوگو! بے شک علی(ع) مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں، علی (ع) میری طینت سے خلق ہوا ہے اورمیرے بعد خلق کا امام ہے جب بھی سنت میں اختلاف پیدا ہو تو اس سے بیان کرو وہ امیرالمومنین(ع)  اور سفید ہاتھوں اور چہروں والوں کے قائد ہیں، یعسوب المومنین اور بہترین وصی و شوہر سیدہ زنانِ عالمین ہیں۔ اماموں کے والد ورہبر ہیں۔ اے لوگو جو کوئی علی(ع) کو دوست رکھتا ہے مجھے دوست رکھتا ہے اور جو کوئی علی(ع) کو دشمن رکھتا ہے وہ مجھے دشمن رکھتا ہے، کوئی علی (ع) کے ساتھ پیوستہ ہے میں اس کے ساتھ پیوستہ ہوں جو علی(ع) سے دوستی کرتا ہے وہ مجھ سے دوستی کرتا ہے اور جو کوئی علی(ع) سے عداوت رکھتا ہے میں اس سے عداوت رکھتا ہوں، اے لوگو میں حکمت کا شہر ہوں اور علی (ع) ابن ابی طالب(ع) اس کا دروازہ ہے اور دروازے سے گذرے بغیر کوئی شخص شہر یں داخل نہیں ہوسکتا وہ بندہ جھوٹ کہتاہے جو یہ خیال کرتا ہے کہ مجھے دوست رکھتا ہے مگر علی کا دشمن ہے، اے لوگو جانلو کہ خدا نے مجھے نبوت سے سرفراز کیا اور تمام خلق پر برگزیدہ کیا ، میں نے علی(ع) کو اپنی طرف سے زمین میں خلیفہ نہیں بنایا بلکہ خدا نے اس کے نام کو آسمانوں میں بلند کیا اور اس کی ولایت کو ملائکہ پر واجب کیا اور تمام تعریفیں اﷲ کی ہیں جو عاملین کا رب ہے اور درود ہو اس کی بہترین مخلوق محمد و آل محمد(ص) پر۔


مجلس نمبر ۲۷

( اول محرم سنہ۳۶۷ھ مشہد سے واپس آنے کے بعد)

۱ـ           جبلہ مکیہ کہتے ہیں کہ میں نے میثم تمار قدس اﷲ روحہ سے سنا کہ خدا کی قسم یہ امت اپنے نبی(ص) کے بیٹے کو دہم محرم کے روز قتل کرے گا اور دشمنان خدا اس دن کو روز برکت کہیں گے لہذا یہ عمل وقوع پذیر ہونے والا اور علم خدا میں ہے اور میں اس بات کو اس لیے جانتا ہوں کہ میرے مولا علی(ع) نے مجھے اس کی وصیت کی تھی،اومجھے خبر دی تھی کہتمام چیزیں آںحضرت(ع) (امام حسین(ع)) پر گریہ کریں گی یہاں تک کہ بیابان کےوحشی جانور دریا کی مچھلیاں ، ہوا میں پرواز کرنے والے پرندے سورج و چاند و ستارے و آسمان و زمین و مومنین انس و جن ، تمام آسمانوں کے فرشتے ، رضوان اور حاملان عرش اس پر گریہ کرںگے اور آسمان راکھ و خون برسائے گا پھر فرمایا قاتلانِ حسین(ع) پر لعنت واجب ہے جیسا کہ مشرکین پر واجب ہے ج وکہ خدائے معبود کے ساتھ دوسرا معبود قرار دیتے ہیں اور جیسا کہ یہود و نصاریٰ و مجوس پر واجب ہے جبکہ کہتے ہیں میں نے کہا اے میثم کس طرح لوگ اس دن کو جس دن حسین(ع) قتل ہوں گے روز برکت قرار دیں گے۔ میثم نے گریہ کیا اور کہا کہ لوگوں کا خیال ہے(حالاںکہ یہ حدیث مجہول ہے) کہ اس دن خدا نے آدم(ع) کی توبہ قبول کیا حالاںکہ خدا نے ان کی توبہ ذالحجہ میں قبول کی اور خیال کرتے ہیں کہ اس دن یونس کو شکم مچھلی سے باہر نکالا گیا تھا حالاںکہ خدانے یونس(ع) کو ذالقعدہ شکم مچھلی سے نکالا تھا اور خیال کریںگے کہ یہ دن ہے کہ کشتی نوح(ع) اس دن کوہ جودی پر استوار ہوئی تھی حالانکہ وہ دن اٹھارہ ذالحجہ تھا کہ جس دن کشتی جودی پر ٹھہری اور گمان کریں گے کہ  یہ وہ دن ہے کہ خدا نے دریا کو بنی اسرائیل کے لیے شگافتہ کیا تھا حالانگکہ یہ ماہ ربیع الاول میں ہوا ، پھر کہا اے جبلہ جان لو کہ حسین بن علی(ع) روزِ قیامت سید شہداء ہیں اور اس کے مددگار دوسرے شہیدوں سے ایک درجہ بلند رکھتے ہیں۔ اور جبلہ جب تم دیکھو کہ سورج تازہ خون کی مانند سرخ ہوگیا تو جان لینا کہ تمہارا آقا حسین(ع) شہید کردیا گیا۔


جبلہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں گھر سے باہر نکلا تو دیکھا کہ آفتاب کی روشنی گھروں کی دیواروں پر زعفرانی کپڑے کی رنگت کی مانند شیون کررہی ہے یہ دیکھ کر میں نے گریہ کیا اور کہا خدا کی قسم ہمارا آقا حسین(ع) قتل کردیا گیا۔

۲ـ           ابراہیم بن ابو محمود کہتے ہیں امام رضا(ع) نے فرمایا ماہ محرم وہ مہینہ تھا کہ اہل جاہلیت بھی اس میں جنگ کرنا حرام جانتے تھے مگر ہمارے خون کو اس میں حلال سمجھا گیا اور ہماری ہتک حرمت کی گئی اور ہماری ذریت وعورتوں کو اسیر کیا گیا اور ہماے خیموں کوآگ لاگائی گئی اور جو بھی مال و متعاع تھا اسے لوٹ لیا گیا، او ہماری رسول خدا(ص) کے ساتھ نسبت اور انکی ذریت ہونے کے باوجود ہم سے کوئی رعایت نہ برتی گئی پھر روزِ شہادت حسین(ع) ہماری نظروں کے سامنے تازہ ڈاڑھیاں بنائی گئیں اور ہماری آنکھوں سے آنسو جاری کروائے گئے، ہمارے عزیزوں کو زمین کربلا میں ذلیل و خوار اور مصیبت و بلا  سےہمیں دوچار کیا گیا ، تمہیں چاہئے کہ تم روزِقیامت تک حسین(ع) پر گریہ کرو یہ گریہ بڑے گناہوں کو دھودیتا ہے پھر فرمایا میرے والد(ع) کا یہ طریقہ تھا کہ جب محرم آجاتا تو مسکرانا ختم ہوجا تا اور اندوہِ غم ان پر غالب ہو جاتا تھا روز دہم تک مصیبت و حزن و گریہ ان کا شیوہ ہوتا تھا اور فرماتے کہ اس دن حسین(ع) کردیئے گئے۔

۳ـ          ابن عباس کہتے  ہیں کہ علی(ع) نے رسول خدا(ص) سے کہا کہ آپ عقیل کو بہت دوست رکھتے ہیں؟ فرمایا ہان خدا کی قسم میں اس سے دو محبتیں رکھتا ہوں ایک اسکی خوبی کی وجہ سے اور دوسری اس لیے کہ ابوطالب(ع) اس سے محبت کرتے تھے اور یہ کہ اس کا فرزند تیرے بیٹے کی محبت میں قتل ہوگا اور مومنین کی آنکھیں اس پر گریہ کریں گی اور مقرب فرشتے اس پر درود بھیجیں گے ، پھر رسول خدا(ص) نے گریہ کیا یہاں تک کہ آپ(ص) کے آنسو آپ کے سینے پر جاری ہوگئے پھر فرمایا میں خدا سے اس کی شکایت کرتا ہوں کہ جو مصیبتیں میرے بعد میرے خاندان و عترت و اہل بیت(ع) پر ہوں گی۔

۴ـ          علی بن حسن بن علی بن فضال نے اپنے باپ سے روایت کی ہے کہ ابوالحسن علی بن موسی ( امام رضا)(ع) نے فرمایا  کہ جو شخص روزِ عاشور اپنے کاموں سے چھٹی کرے تو خدا  اس کی دنیا و آخرت میں حاجات پوری کرے گا اور جوکوئی روزِ عاشور کو  حزن و گریہ میں بسر کرے گا تو خدا روزِ قیامت


اس کے لیے خرسندی و شادی عطا کرے گا اور بہشت میں اس کی آنکھیں ہمارے درجے سے روشن ہوں گی اور جوکوئی روزِ عاشور کو روزِ برکت بنائے گا اور اپنے گھر میں مال کا ذخیرہ کرے گا تو اس میں برکت نہ ہوگی اور روز قیامت یزید لعین و عبیداﷲ بن زیاد لعین و عمر بن سعد لعین کے ساتھ دوزخ کے سب سے نچلے طبقے اسفل میں محشور ہوگا۔

۵ـ ریان بن شبیب کہتے ہیں میں روزِ اول ماہ محرم خدمت امام رضا(ع) میں گیا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا اے ابن شبیب کیا روزہ رکھے ہوئے ہو میں نے کہا نہیں تو فرمایا یہ وہ دن ہے کہ زکریا(ع) نےاپنے  پروردگار کی بارگاہ میں دعا کی تھی اور کہا تھا کہ اے پروردگار مجھے عطا کر اپنے پاس سے ایک فرزند پاک کیونکہ تو دعا کو سننے والا ہے خدا نےان  کی دعا  کو قبول کیا اور فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ زکریا(ع) کو آواز دے کہ خدا تجھے یحیی(ع) کی بشارت دیتا ہے اور جو کوئی اس دن روزہ رکھے اور پھر بارگاہ خدا میں دعا کرے تو خدا اسے مستجاب کرتا ہے، پھر کہا اے پسر شببیب محرم وہ مہینہ  ہے کہ اہل جاہلیت زمانہءگزشتہ میں ظلم و قتال کو اس کے احترام کی خاطر اس میں حرام جانتے تھے مگر اس امت نے اس مہینے کیحرمت نہ جانی اور نہ اپنے پیغمبر(ص) کی حرمت کا خیال کیا اس مہینہ میں ان کی ذریت کو قتل کیا ان کی عورتوں کو اسیر کیا ان کے مال و اسباب کو غارت کیا اورلوٹ لیا خدا ہرگز ان کے اس  گناہ کو معاف نہ کرے گا اے پسر شبیب اگر کسی چیز نے گریہ کیا تو اس نے حسین(ع) کے لیے گریہ کیا کہ گوسفند کی طرح انکے سر مبارک کو کاٹا گیا اور اٹھارہ بندے ان کے خاندان کے ان کے ساتھ قتل ہوئے کہ روئے زمین پر ان کی مانند کوئی نہ تھا، آسمان ہائے ہفتم و زمین نے ان کے قتل ہونے پر گریہ کیا اور چار ہزار فرشتے ان کی مدد کے  لیے زمین پر آئے مگر انہوں نے دیکھا کہ حسین(ع) قتل کر دیئے گئے  ہیں وہ آپ کی قبر کے سرہانے پریشان حال و خاک آلودہ رہیں گے یہاں تک کہ قائم آل محمد(ص) ظہور کریں گے اور وہ فرشتے ان کی مدد کریں گے ۔ ان فرشتوں کا شعار ” یا لثارات الحسین“ ( حسین کے خون ناحق کا بدلہ طلب کرنا) ہے ۔ اے پسر شبیب میرے والد(ع) نے اپنے والد(ع) سے اور انہوں نے اپنے جد(ع) سے روایت کی اور مجھ سے فرمایا کہ جب میرے جد حسین(ع) قتل ہوئے تو آسمان نے خونو خاکِ سرخ برسائی اے پسر شبیب اگر تم حسین(ع) پر اتنا گریہ کرو


 جو تمہارے چہرے پر جاری ہو جائے تو جو گناہ تم نے کیا صغیرہ  کبیرہ کم یا زیادہ کو خدا معاف کردے گا۔ اے ابننشبیب اگر تو خدا سے ملاقات کرنا چاہے اور تیرا کوئی گناہ باقی نہ رہے تو حسین(ع) کی تربت کی زیارت کراے ابن شبیب اگر تو چاہے کہ غرفہء بہشت میں پیغمبر(ص) کے ساتھ ساکن ہوتو قاتلان حسین(ع) پر لعنت کرے ابن شبیب اگر تم چاہے کہ حسین(ع) کے شہید اصحاب(رح) کے برابر ثواب پائے تو جس وقت بھی ان کو یاد یہ کہہ کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا اور فوز عظیم کو پہنچ جاتا اے ابن شبیب اگر تم چاہے کہ ہمارے ساتھ بہشت میں بلند درجات پائے تو ہمارے لیے محزون رہ  اور ہماری (خوشی ) سے خوش رہ اور ہماری ولایر سےمتمسک رہ یاد رکھو کہ اگر کوئی بندہ پتھر کو بھی دوست رکھتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے تو روز قیامت اسی کے ساتھ محشور ہوگا۔

۶ـ           بنی سلیم کے بزرگوں سے نقل ہوا ہے کہ ہم ملک روم میں جہاد کرنےگئے تو وہاں ایک کلیسا میں اس تحریر کو پایا ” ایرجو معشر قتلوا حسینا شفاعتہ جدہ یوم الحساب“     کہ کیا وہ لوگ جنہوں نے حسین(ع) کو قتل کیا ہے، یہ امید رکھتے ہیں کہ ان (حسین(ع)) کے جد(ص) روزِ قیامت ان( قاتلوں ) کی شفاعت کریں گے جب ان کلیسا والوں سے پوچھا  گیا کہ یہ تحریر کب سے اس کلیسا میں موجود ہے تو انہوں نے کہا کہ تمہارے پیغمبر(ص) کے مبعوث ہونے تین سو سال پہلے سے یہ تحریر یہاں موجود ہے۔

۷ـ          امام صادق(ع) نے اپنے والد(ع) سے نقل کیا کہ حسین(ع) بن علی(ع) کی دو انگوٹھیاں تھیں، ایک کا نقش ”لا اله الا اﷲ عده لقاء اﷲ “ اور دوسری کا ”ان اﷲ بالغ امره “ اور علی بن حسین(ع) کی انگوٹھی کانقش یہ تھا”خزی و شقی قاتل الحسين بن علی (ع)“ کہ حسین بن علی(ع) کو قتل کرنے والا رسوا بد بخت ہے۔

۸ـ          جنابِ علی بن حسین(ع) نے اپنے والد(ع) سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص حضرت علی(ع) کی خدمت میں آیا اور کہا کہ کیا آپ ہی کو امیر المومنین(ع) کہتے ہیں اور آپ کو کس نے امیر مقرر کیا ہے؟ حضرت علی(ع) نے فرمایا کہ مجھے خدا نے ان کا امیر مقرر فرمایا ہے وہ شخص رسول خدا کے پاس گیا اور کہا یا رسول اﷲ(ص) کیا علی(ع) سچ کہتے ہیں کہ خدا نے اپنی مخلوق پرا انہیں امیر بنایا ہے پیغمبر(ع) کو یہ سن کر غصہ آگیا


اور آپ نے اس سے فرمایا بیشک علی(ع) ولایتِ خدا ( کی رؤ) سے اس مخلوق پر امیر ہے خدا نے علی(ع) کو  ولی مقرر کرنے کی تقریب کو عرش پر منعقد کیا اور ملائکہ کو گواہ کیا ہے کہ علی خلیفة اﷲ اور حجت اﷲ وامام المسلمین ہیں ان کی اطاعت مانند اطاعت خدا ہے اور جس نے اسے نہیں پہچانا ، اس نے مجھے نہیں پہچانا جو کوئی اس کی امامت کا منکر ہے وہ میری نبوت کا منکر ہے جو کوئی اس کی امیری سے انکار کرئے اس نے میری امیری کیا جو کوئی اس کے فضل کو ہٹائے اس نے میرے فضل کو ہٹایا، جو کوئی اس سے جنگ کرے اس نے میرے ساتھ جنگ کی، جو کوئی اسے دشنام دے اس نے مجھے دشنام دی، کیوںکہ علی(ع) مجھ سے ہے اور میری طینت سے خلق ہوا ہے وہ میری دختر فاطمہ(س) کا شوہر ہے اور میرے دو فرزندوں حسن(ع) اور حسین(ع) کا والد ہے، پھر رسول خدا(ص) نے فرمایا کہ میں علی(ع)، حسن(ع) و حسین(ع) اور حسین(ع) کے نو فرزند اس مخلوق پر خدا کی حجت ہیں ہمارے دشمن خدا کے دشمن اور ہمارے دوست خدا  کے دوست ہیں۔

ولادت ِ علی(ع)

۹ـ           یزید بن قلنب کہتے ہیں کہ میں عباس بن عبدا المطلب کے ساتھ تھا اور قبیلہ عبدالعزاء خانہ کعبہ کے سامنے بیٹھے تھے کہ فاطمہ(س) بنت اسد، مادر امیر المومنین(ع) جو کہ نو ماہ کی حاملہ تھیں خانہ کعبہ تشریف لائیں انہیں دردِ زہ تھا، انہوں نے کہا خدا یا میں تم پر ایمان رکھتی ہوں تیرے ہر رسول و کتاب پر ایمان رکھتی ہوں اور اپنے جد ابراہیم(ع) خلیل اﷲ کی تصدیق کرتی ہوں اور یہ ( ابراہیم ) وہ ہیں کہ جہنوں نے بیت عتیق کو بنایا تجھے ان کے حق کا واسطہ کہ انہوں نے اس گھر کو بنایا تجھے اس  مولود کے حق کا واسطہ جو میرے شکم ہیں ہے جس کو لے کر میں تیرے پاس آئی ہون، اد کی ولادت مجھ پرآسن کردے یزید بن قلنب بیان کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ خدا کا گھر ( خانہ کعبہ) پشت سے شگافتہ ہوا اور فاطمہ بنت اسد اس کے اندر چلی گئیں اور ہماری نظروں سے پوشیدہ ہوگئیں پھر دیوار باہم مل گئی ہم نے چاہا کہ خانہ کعبہ کا تالا کھولیں لیکن کوشش کے باوجود نہ کھل سکا ہم جان گئے کہ یہ امر خدا کی طرف سے ہے پھر وہ چار دنوں کے بعد


 باہر آئیں اور امیرالمومنین(ع) کو ہاتھوں پر اٹھائے ہوئے تھیں باہر آکر انہوں نے فرمایا میں تمام گذشتہ عورتوں پر اس وجہ سے فضیلت رکھتی ہوں کہ آسیہ بن مزاحم کو یہاں رکھا گیا تھا جو خدا کی پرستش و عبادت کرتی تھیں اور نا چاری کی وجہ سے بہتر محسوس نہ کرتی تھیں اور مریم بنت عمران مجبوری کی حالت میں بیابان میں چلی گئیں تھیں اور بھوک کی حالت میں تھیں تو انہوں نے کھجور کے خشک درخت کو ہلایا تو اس نے سر سبز ہو کر خرمے گرائےتھے جبکہ مجھے خانہء خدا میں داخل کیا گیا اور بہشت سے میوہ جات لائے گئے، جب میں نے چاہا کہ میں باہر آؤں تو ہاتف غیبی  نے آواز دی کہ اے فاطمہ بنت اسد اس طفل کا نام علی(ع) رکھ دو کیوں کہ خدا اعلیٰ  ہے اور فرماتا ہے کہ میں نے اس کے نام کو اپنےنام سے مختص کیا ہے اور قدرت اور عزت وجلال سے اسے (علی کو) خلق کیا ہے اپنے آداب حسنہ سے آراستہ کیا ہے اور اپنے مخصوص علم سے اس کو تعلیم دی ہے، یہ وہ ہے جومیرے گھر(کعبہ) سے بتوں کو پاک کرے گا اور اس میں اذان دےگا، خوش قسمت ہے وہ بندہ جو اس کو دوست رکھتا ہے اور اس کا فرمانبردار ہے اور لعنت ہو اس پر جو ان سے دشمنی رکھتا ہے اور نافرمانی کرتا ہے اور صلوات ہو اﷲ کی ہمارے نبی محمد(ص) کی آل پر جو طیب و طاہر ہیں۔


مجلس نمبر۲۸

( پانچ محرم سنہ۳۶۷ھ)

 شہادت حسین(ع) و مقتلِ حسین(ع) کی خبر

۱ـ           اصبغ بن نباتہ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ امیرالمومنین(ع) نے لوگوں کو خطبہ دیا اور فرمایا ”سلونی قبل ان تفقدونی “ کہ” پوچھ لو مجھ سے اس سے قبل کہ میں تم میں نہ رہوں“ اگر تم چاہو تو خدا کی قسم میں تمہیں گزشتہ اور آیندہ کے بارے میں خبر دوں سعد بن ابن وقاص نے پوچھا اے امیر المومنین(ع) مجھے بتائیں کہ میرے سر اور ڈاڑھی میں کتنے بال ہیں امیرالمومنین(ع) نے فرمایا اے سعد خدا کی قسم تو نے جو سوال کیا ہے اس کی خبر مجھے رسول خدا(ص) نے دے دی تھی کہ تم یہ پوچھو گے۔ تیرے سر اور ڈاڑھی میں کوئی بال ایسا نہیں ہے کہ جس پر ایک شیطان نہ بیٹھا ہو اور تیرے گھر میں تیرا ایک بچہ ہے جو میرے بیٹے حسین(ع) کو قتل کرے گا  کہا جاتا ہے کہ یہ تب کی بات ہےجب عمر ابن سعد لعین گھٹنوں ک بل چلتا تھا۔

۲ـ           محمد بن عبدالرحمن کہتے ہیں، علی بن ابی طالب(ع) نے فرمایا کہ میں، (علی(ع)) فاطمہ(س) اور حسن(ع) و حسین(ع) رسول خدا(ص) کے پاس تھے رسول خدا (ص) نے ہیں دیکھا اور گریہ کرنا شروع کردیا میں(علی(ع)) نے آپ(ص) نے اس گریہ کا سبب دریافت کیا تو آپ(ص) نے فرمایا اے علی(ع) میںتمہارے متعلق اس امر کے بارے میںگریہ کرتا ہوں جو  وقوع پذیر ہوگا میں(علی(ع)) نے پوچھا یا رسول اﷲ(ص)  مجھے اس کے متعلق بتائیں، آپ(ص) نے فرمایا اے علی(ع) تمہارے سر پر ضربت لگائی جا ئے گی اور فاطمہ(س) پر دروازہ گرایا جائیگا حسن(ع) کی ران میں نیزہ مارا جائیگا اور زہر سے قتل کیا جائیگا اور حسین(ع) کی شہادت اس طرح ہوگی کہ تمام اہل بیت(ع) اس پر گریہ کریںگے۔

امیرالمومنین(ع) نے فرمایا یا رسول اﷲ(ص) خداوند کریم نے ہم اہل بیت(ع) کا امتحان بلا و مصیبت رکھا ہے آپ(ص) نے فرمایا اے علی(ع) خدا نے مجھ سے عہد کیا ہے کہ جو تمہیں دوست رکھتا ہے وہ مومن ہوگا اور تجھے دشمن جاننے والا منافق ہوگا


۳ـ          زید بن علی(ع) نے اپنے والد(ع) سے روایت کیا ہے کہ امام علی(ع) بن حسین(ع) نے فرمایا جب بی بی فاطمہ(س) سے امام حسن(ع) کی پیدایش ہوئی تو انہوں نے علی(ع) سے کہا کہ بچے کا نام رکھ دیں علی(ع) نے فرمایا کہ میں اس معاملے میں رسول خدا(ص) پر سبقت نہیں لے جانا چاہتا اتنے میں رسول خدا(ص) تشریف لائے اور فرمایا کہ بچے کو لاؤ جب حسن(ع) کو لایا گیا تو آپ(ص) نے فرمایا کہ کیا نام میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ اس کو زرد کپڑے میں لپیٹنا۔ پھر رسول خدا(ص) نے پوچھا کہ ان کا نام کیا رکھا ہے تو علی(ع) نے فرمایا یا رسول اﷲ(ص) میں آپ پر سبقت نہیں لے جانا چاہتا تھا، آپ(ص) نے فرمایا اس معاملے میں میں بھی خدا پر سبقت نہیں لے جانا چاہتا اسی اثناء میں جبرائیل(ع) تشریف لائے اور فرمایا کہ خداوند نے مجھے ارشاد کیا ہے کہ محمد(ص) کا بیٹا پیدا ہوا ہے تم جاؤ اور انہیں سلام کے بعد تہنیت پہنچاؤ اور کہو کہ آپ(ص) کو علی(ع) سے وہی نسبت ہے جو موسی کی ہارون کے ساتھ تھی لہذا اس بچے کا نام ہارون(ع) کے فرزند کے نام پر شبر رکھ دیں، رسول خدا(ص) نے فرمایا اے جبرائیل ہماری زبان فصیح عربی ہے اس میں شبر کو کیا کہیں جبرائیل نے فرمایا آپ(ص) انہیں حسن(ع) کے نام سے پکاریں جنابِ رسول خدا(ص) نے امام عالی مقام کا نام بہ ہدایتِ خدا حسن(ع) رکھ دیا اسی طرح جب حسین(ع) متولد ہوئے تو جبرائیل(ع) پیغام خداوندی لے کر دوبارہ آئے کہ یا رسول اﷲ(ص) آپ(ص) ان کا نام ہارون(ع) کے دوسرے فرزند کے نام شبیر رکھ دیں اور عربی زبان میں  انہیں حسین(ع) پکاریں تو امام(ع) کا نام حسین(ع) رکھا گیا۔

۴ـ          جابر بن عبداﷲ اںصاری کہتے ہیں کہ میں نے رسول خدا(ص) کی وفات سے تین دن پہلے ان کی زبانی سنا کہ علی(ع) سے فرماتے ہیں اے علی(ع) تم پر درود و سلام ہو تم میرے دو پھولوں کے باپ ہو میں تم سے اپنے ان دو پھولوں کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ عنقریب ان کے دوست ویران ہوجائیں گے اے علی(ع) مین اور فاطمہ(س) تمہارے دو ستوں ہیں اورمیرے بعد تمہارا نگران خدا ہے لہذا جب رسول خدا(ص) کی وفات ہوئی تو علی(ع) نے فرمایا کہ یہ میرا ستون تھے اور جب فاطمہ(س) رحلت فرما گئیں تو علی(ع) نے فرمایا کہ یہ میرا دوسرا ستون تھیں۔

۵ـ          صفیہ دختر عبدالمطلب کہتی ہیں کہ جب حسین(ع) پیدا ہوئے تو میں پاس ہی تھی رسول خدا(ص)


نے فرمایا اے پھوپھی میرے بیٹے کو میرے پاس لے آئیں میں نے عرض کیا یا رسول اﷲ(ص) میں نے ابھی بچے کا پاک نہیں کیا ہے( غسل نہیں دیا ہے) فرمایا اے پھوپھی آپ ان کو پاک کرنا چاہتی ہیں جبکہ خدا رب العزت نے ان کو پاک و پاکیزہ پیدا کیا ہے صفیہ فرماتی ہیں کہ جب حسین(ع) کو جنابِ رسول خدا(ص) کو دیا گیا تو ان کو رسول خدا(ص) نے گود میں لے کر چومنا شروع کردیا اور اپنی زبانِ مبارک حسین(ع) کے دہن میں دے دی جسے وہ ایسے چوسنے لگے جیسے رسول (ص) شہد دے رہے ہوں اس کے بعد پیغمبر(ص) نے حسین(ع) کو میری گود میں دیا اور ان کی  آنکھوں کے درمیان بوسہ دے کر گریہ کیا اور فرمایا خدا تیرے قاتل پر لعنت کرے تو میں (صفیہ) نے کہا یا رسول اﷲ(ص) اس کا قاتل کون ہے تو فرمایا کہ بنی امیہ کا ایک گمراہ گروہ اسے قتل کرے گا۔

۶ـ           ہرثمہ بن ابو مسلم کہتا ہے کہ میں علی(ع) کے ساتھ جنگ صفین میں گیا، جب ہم واپس آرہے تھے تو راستے میں کربلا میں پڑاؤ کیا اور وہاں نمازِ فجر ادا کی پھر جنابِ امیر(ع) نے کربلا کی خاک کو ہاتھ میں اٹھا کر فرمایا اے پاک مٹی تو خوش قسمت ہے کہ تجھ میں ایک قوم محشور ہوگی جو بغیر حساب بہشت میں جائے گی ہر ثمہ نے واپس آکر اپنی بیوی سے اس واقعہ کو بیان کیا، ہرثمہ کی بیوی شیعیان علی(ع) میں سے تھی اس نےکہا، اے ہرثمہ میرے مولا ابوالحسن(ع) امیرالمومنین(ع) سچ کے علاوہ کچھ ارشاد نہیں فرماتے ، ہرثمہ کہتا ہے کہ جب امام حسین(ع) کربلا میں تشریف لائے تو اس وقت میں (ہرثمہ) لشکر ابن زیاد میں تھا میں نے جب اس مقام (کربلا) کو دیکھا تو مجھے علی(ع) کی وہ حدیث یاد آئی۔ میں اپنے اونٹ پر سوار ہوا اور امام (ع) کی خدمت میں گیا اور سلام کیا اور جو کچھ ان کے والد(ع) سے سنا تھا انہیں بیان کیا امام عالی مقام(ع) نے یہ سب سن کر کہا کہ کیا تو ہمارے ساتھ ہے یا مخالف میں نے کہا کہ نہ ادھر نہ ادھر کیوں کہ میں پیچھے اپنے اہل و عیال چھوڑ آیا ہوں جن کے بارے میں مجھے عبیداﷲ بن زیاد لعین سے خوف محسوس ہوتا ہے۔امام عالی مقام(ع) نے فرمایا ہرثمہ تم واپس چلے جاؤ اور نہ میرے قتل کی دیکھو اور نہ ہی میرا استغاثہ سنو قسم ہے اس کی جس کے قبضے میں حسین(ع) کی جان ہے اگر آج کسی نے ہمارے استغاثہ کے بعد ہماری مدد نہ کی رب العزت اسے منہ کے بل جہنم میں گرادے گا۔

۷ـ          ابوبصیر کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق(ع) سے سنا ہے کہ حسین(ع) نے فرمایا میں قتیل عبرت


ہوں اور مومن مجھ پر گریہ کیے بغیر یاد نہ کرے گا۔

واقعہ فطرس

۸ـ          شعیب میثمی کہتے ہیں، امام صادق(ع) نے فرمایا کہ جب حسین بن علی(ع) متولدِ ہوئے تو خدا نے ایک ہزار فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ زمین پر جائیں اور رسول خدا(ص) کو تہنیت پیش کریں، جناب جبرائیل جب اس سلسلے میں زمین پر  آرہے تھے تو تجھ ایک جزیرے کے قریب سے گزرتے وقت انہوں نے دیکھا کہ ایک فرشتہ جس کا نام فطرس تھا جو حاملان عرش سے تھا اور خدا نے اس کے پرتوڑ کر اس کو اس جزیرہ میں پھینک دیا تھا، وہ اس جزیرے پر سات سو سال سے عبادت میں مشغول تھا اور طالب بخشش تھا، اس نے جبرائیل(ع) سے دریافت کیا، اے جبرائیل(ع) کہاں جاتے ہو انہوں نے اسے کہا کہ خدا رب العزت نے محمد(ص) کو نعمت عطا کی ہے اور ہم انہیں خدا اور اپنی طرف سے تہنیت پیش کرنے جارہے ہیں، فطرس نے فریاد کی کہ مجھے اپنے ساتھ لے جائیں تاکہ محمد میرے لیے دعا کریں جبرائیل اسے اپنے ساتھ لے کر محمد(ص) کی خدمت میں حاضر ہوگئے، جب مبارک باد سے فارغ ہوچکے تھے تو جبرائیل(ع) نے فطرس کی درخواست رسول خدا(ص) کو پہنچائی، پیغمبر(ص) نے فطرس سے فرمایا خود کو اس بچے سے مس کر اور اپنے مقام پر واپس چلا جا فطرس نے بحکم رسول ایسا ہی کیا اور با اعجاز اسے اس کا مقام واپس مل گیا فطرس رسول خدا(ص) سے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ(ص) آپ کا  یہ ولی ( حسین(ع)) شہید کردیا جائے گا اور آپ کے اس احسان جو کہ مجھ پر کیا ہے کا بدلہ میں اس طرح دونگا کہ جوکوئی آپ(ص) کے اس فرزند کی زیارت کرے گا اس کی زیارت کروںگا جو کوئی آپ کے اس فرزند پر درود بھیجے گا میں اس کی زیارت کروں گا جو کوئی اس کےلیے رحمت طلب کرے گا میں اس کی زیارت کروں گا اس کے بعد فطرس واپس عرش کی جانب پرواز کر گیا۔

۹ـ           محمد بن عمارہ کہتے ہیں کہ امام صادق(ع) نے اپنے آبائے طاہرین(ع) سے روایت کیا ہے کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا خدا نے میرے بھائی علی بن ابی طالب(ع) کے لیے بے شمار فضائل مقرر کیے ہیں اور جو کوئی اس کی ایک فضیلت کا اس کے اعتراف کے ساتھ ذکر کرے گا تو جان لو کہ خدا اس کے


 گذشتہ آئندہ گناہ معاف کردے گا ۔ چاہے وہ ( بندہ) تمام جن و انس کے گناہ کے ساتھ محشر ہیں آئے اور جو کوئی اس کی ایک فضیلت کو لکھے گا تو جب تک یہ تحریر باقی رہے گی فرشتے اس کے لیے مغفرت طلب کریں گے اور جو کوئی اس کی فضیلت کو اپنے کان سے سنے گا تو خدا اس کے کانوں کے گناہ معاف کردے گا اور جو کوئی اس کی ایک فضیلت اپنی آنکھوں سے دیکھے گا تو خدا اس کی آنکھوں کے گناہ کو معاف کردے گا۔ پھر رسول خدا(ص) نے فرمایا ،علی بن ابی طالب(ع) کو دیکھنا عبادت ہے اور اس کو یاد کرنا عبادت ہے اور کسی بندے کا ایمان قبول نہیں مگر اس کی ولایت کے ساتھ اور اس کے دشمنوں سے برائت کے ساتھ اور صلوات ہو نبی(ص) پر اور ان کے آل اجمعین(ع) پر۔


مجلس نمبر۲۹

(۸ محرم سنہ۳۶۸ھ)

زیارتِ حسین(ع)

۱ـ           وہب بن وہب کہتے ہیں کہ امام صادق(ع) نے اپنے آباء(ع) سے روایت کی ہے کہ بی بی ام سلمہ(رض) ایک دن گریہ فرمانا شروع کیا تو ان سے اس کا سبب دریافت کیا گیا انہوں نے بیان کیا کہ میرا فرزند حسین(ع) قتل کردیا گیا ہے میں نے رسول خدا(ص) کی وفات سے لے کر اب تک آںحضرت(ص) کو خواب میں نہیں دیکھا تھا آج رات وہ میرے خواب میں تشریف لائے اور میں نے انہیں اس حال میں دیکھا کہ ان کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور وہ پریشان حال گریہ کرتے ہیں میں نے جب اس حالت کا سبب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ اول شب سے لے کر اب تک حسین(ع) اور اس کے اصحاب کی قبریں بناتا رہا ہوں۔

۲ـ           حبیب بن ابو ثابت کہتے ہیں کہ ام سلمہ(رض) زوجہ رسول خدا(ص) نے کہا کہ رسول خدا(ص) کی وفات سے لے کر آج تک میں نے جنون کے نوحے کو نہیں سنا تھا مگر آج میں نے جنوں کے نوحے کو سنا ہے اور یہ اس لیے ہے کہ میرے فرزند حسین(ع) کو شہید کردیا گیا ہے بی بی فرماتی ہیں کہ ایک جنیہ آئی اور یوں کہا

” آگاہ ہوجا اے آنکھ اور خوب گریہ کرکہ میرے بعد اس وقت شہیدوں پر کون روئے گا۔ یہ وہ گروہ ہے کہ موت ان کو ایک ظالم کے پاس غلام کی سلطنت میں لے کر جارہی ہے“۔

۳ـ          ابوجارود امام باقر(ع) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا(ص)  بی بی ام سلمہ(رض) کے گھر میں تھے اور بی بی(رض) کو حکم دیا ہوا تھا کہ کوئی میرے پاس نہ آئے ناگاہ حسین(ع) آئے اور رسول خدا(ص) کے سینے پر سوار ہوگئے بی بی سلمہ(رض) حسین(ع) کو روکنے کے لیے ان کے پیچھے گئیں اور دیکھا کہ رسول خدا(ص) کے ہاتھ میں کوئی چیز ہے جسے دیکھ کر رسول خدا(ص) گریہ فرماتے ہیں بی بی ام سلمہ(رض) نے جب اس گریہ کا سبب دریافت


کیا تو آپ(ص) نے فرمایا کہ مجھے جبرائیل(ع)نے خبر دی ہے کہ میرا فرزند حسین(ع) کربلا میں شہید ہو جائے گا یہ وہاں کی خاک ہے اے ام سلمہ(رض) یہ واقعہ تمہاری زندگی میں وقوع پذیر ہوگا یہ خاک تم اپنے پاس رکھنا جب یہ خاک خون میں تبدیل ہوجائے تو سمجھ لینا کہ میرا بیٹا قتل ہوگیا ہے بی بی(رض) نے کہا کہ یا رسول اﷲ(ص)، آپ(ص) خدا سے درخواست کریں کہ وہ اس واقعے کو روک دے آپ نے فرمایا اے ام سلمہ میں نے یہ درخواست کی ہے لیکن ارشاد رب العزت ہے کہ اس (حسین(ع)) کا وہ درجہ ہوگا جو کہ اس کی مخلوق میں کسی کو نہ مل سلے گا یہ اپنے شیعوں کی شفاعت کرے گا جو کہ قبول ہوگی اور بیشک مہدی(ع) کے اس کے فرزندوں میں سے ہوگا خوش قسمت ہےوہ بندہ جو حسین(ع) کے اولیاء میں سے ہوگا اوراس کے شیعہ روزِ قیامت کامیاب ہوں گے۔

۴ـ          کعب الاحبار بیان کرتا کہ ہماری کتاب میں ہے کہ فرزندان محمد(ص) سے ایک فرد ایسا قتل ہوگا کہ اس کے مددگاروں کے گھوڑوں کا پسینہ بھی خشک بھی نہیں ہوا ہوگا کہ وہ بہشت میں پہنچ چکے ہوں گے اور حورالعین کے ہم آغوش ہونگے اس وقت امام حسن(ع) کا گذر وہاں سے ہوا کعب سے یہ پوچھا گیا کہ کیا وہ مقتول ہی ہیں اس نے کہا نہیں پھر جب حسین(ع) گذرے تو اس نے گواہی دی کہ وہ یہی ہیں۔

۵ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا کہ بہت زیادہ گریہ کرنے والے پانچ ہیں آدم(ع)، یعقوب(ع)، یوسف(ع)، فاطمہ(س)بنت محمد(ص)، و علی(ع) بن حسین(ع)، آدم(ع) فراق جنت میں اس قدر روے کہ ان کے رخساروں پر نہروں کی طرح گڑے بن گئے، یعقوب(ع) نے یوسف(ع) پر انتا گریہ کیا کہ ان کی آنکھوں کو بصارت جاتی رہی تھیں یہاں تک کہ کہنے والوں نے کہا( جیساکہ قرآن مجید میں ہے) ” آپ تو ہمیشہ یوسف کے ہی یاد کرتے رہیں گے اور یہاں تک کہ بیمار ہوجائیں یا جان ہی دے دیں گے“ (یوسف، ۸۵) ادھر یوسف(ع) نے یعقوب(ع) پر اتنا گریہ کیا کہ زندان کے قیدیوں کو ان کے رونے سے شدید اذیت پہنچی اور انہوں نے کہا آپ دن میں روئیں اور رات کو آرام کریں یا رات میں گریہ کریں اور ہم دن میں آرام کریں لہذا یوسف(ع) ان کے ساتھ ایک بات پر متفق ہوگئے۔

اور پھر فاطمہ(س) بن محمد(ص) نے رسول خدا(ص) پر اتنا گریہ کیا کہ مدینہ کے لوگوں کو سخت اذیت ہوئی


 یہاں تک کہ انہوں نے کہا آپ دن یا رات میں کسی ایک وقت گریہ کریں ہم آپ کے گریہ کی وجہ سے بہت پریشان ہیں چنانچہ فاطمہ(س) مقابر شہدا پر جاکر گریہ کرتی تھیں او پھر علی بن حسین(ع) نےبیس سال سے لے کر اپنی چالیس سالہ عمر تک حسین(ع) پر گریہ کیا جب  بھی ان کے سامنے کھانا یا پانی لایا جاتا آپ(ع) گریہ کرتے یہاںتک کہ آپ(ع) کے غلام نے کہا یا ابن رسول اﷲ(ص) میں ڈرتا ہوں کہ کہیں روتے روتے آپ(ع) کی جان نہ چلی جائے۔ تو آپ(ع) نے اسے جواب دیا کہ میں اپنے غم اور ہم پر ہونے والے مظالم کی شکایت خدا سے کرتا ہوں اور خدا کی طرف سے جو کچھ میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے جس وقت مجھے قتل گاہ اولادِ فاطمہ(س) یاد آتا ہے تو مجھے  غم اور گریہ گھیر لیتا ہے۔

۶ـ           ابو عمارہ شاعر کہتے ہیں کہ امام ابو عبداﷲ صادق(ع)نے مجھ سے کہا اے ابو عمارہ میرے لیے امام حسین(ع) کے بارے میں شعر بیان کرو لہذا میں پڑھتا رہا او آپ(ع)  گریہ کرتے رہے یہان تک کہ اس گھر میں ہر طرف گریہ شروع ہوگیا جب میں فارغ ہوا تو فرمایا اے ابو عمارہ جو کوئی حسین(ع) کے لیے نوحہ پڑھتا اور پچاس آدمیوں کو رلاتا ہے وہ مستحق بہشت ہوتا ہے اور جو کوئی نوحہ پڑھے اور تیس آدمیوں کو رلائے تو مستحق بہشت ہے اور  جوکوئی نوحہ پڑھے اور بیس آدمیوں کو رلائے تو وہ مستحق بہشت ہے اور جو دس آدمیوں کو رلائے وہ بھی مستحق بہشت ہے اور اگر ایک آدمی کو بھی رلائے تو بھی مستحق بہشت ہے اور جو نوحہ ہی پڑھے اور خود ہی روئے وہ بھی مستحق بہشت ہے اور اگر کوئی اپنی شکل رونے والی بنائے تو اس کےلیے بھی بہشت ہے۔

۷ـ          داؤد بن کثیر کہتے ہیں میں خدمت امام صادق(ع) میں تھا کہ آپ نے پانی طلب کیاجب آپ(ع) نے پانی پیا تو گریہ کیا اور آپ(ع) کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے پھر فرمایا اے داؤد خدالعنت کرے قاتل حسین(ع) پر کہ قتل حسین(ع) کی یاد ہماری زندگی کو ناگوار بنا گئی ہے اے داؤد میں ٹھنڈا پانی نہیں پیتا کیوں کہ یادِ حسین(ع) تنگ کرتی ہے یاد رکھو کوئی آدمی ایسا نہیں ہے کہ جو پانی پی کرحسین(ع) کو یاد کرئے اور اس کے قاتل پر لعنت کرئے اور خدا اس کو اس کا اجر نہ دے خدا ایسے شخص کے لیے ایک لاکھ نیکیاں لکھتا ہے اور اس کے ایک لاکھ درجات بلند کرتا ہے اور یہ ایسے ہےکہ گویا اس شخص نے ایک لاکھ غلام آزاد کیے یقینا وہ قیامت کے دن درخشان چہرے و پیشانی کے ساتھ محشور  ہوگا۔


۸ـ          ہارون بن خارجہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر(ع) ( ابو عبداﷲ) سے سنا کہ خدا نے قبرِ حسین(ع) پر چار ہزار فرشتوں کو معمور کیا ہے جو آزردہ حال اور خاک آلود حالت میں قیامت تک گریہ کرتے رہیں گے۔ جو کوئی حسین(ع) کے حق( امامت و شہادت) کی معرفت کے ساتھ ان کی تربت کی زیارت کرےگا تو یہ فرشتے اس کو وداع کرنے اس کے وطن تک جائیں گے اگر وہ بیمار ہوگا تو اس کیعیادت کرں گے اور اگر مرجائے تو اس کے جنازے میں آئیں گے اور قیامت تک اس کی مغفرت طلب کرتے رہیں گے۔

۹ـ           فائدہ حناط کہتے ہیں کہ ابوالحسن موسی بن جعفر(ع) نے فرمایا کہ جو کوئی قبرِ حسین(ع) کی زیارت کرے ان کے حق(امامت) کی معرفت کے ساتھ تو خدا اس کے گذشتہ وآیندہ گناہ معاف کردے گا۔

۱۰ـ          محمد بن مسلم کہتے ہیں کہ امام باقر(ع) نے حکم دیا کہ ہمارے شیعوں کو چاہیے کہ وہ حسین(ع) کی زیارت کریں کیوں کہ زیارت کرنے والا کبھی آگ میں جل کر نہیں مرے گا اس کی موت کسی چیز کے نیچے دبنےسے نہیں ہوگی وہ کبھی ڈوب کر یا غرق ہو کرنہیں مرےگا اور اسے کبھی درندے نہیں پھاڑ کھائیں گے اے محمد بن مسلم حسین(ع) کی زیارت ہر اس بندے پر لازم ہے جو خدا کی طرف سے ان کی امامت کا قائل ہو۔

۱۱ـ           بشیر  دھان کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق(ع) سے دریافت کیا کہ کبھی کبھی روزِ عرفہ امام حسین(ع) کی تربت پر گزارنے کہ وجہ سے مجھ حج چھوٹ جاتا ہے آپ(ع) نے فرمایا اے بشیر اگر کوئی مومن عام دنوں میںقبرِ حسین(ع) پر ان کے حق کی معرفت رکھے ہوئے آئے گا تو خداوند اس کو پیغمبر مرسل و امام عادل کے ہمراہ کیے گئے بیس جہاد بیس عمرے اور بیس حج جو تمام قبول کیے گئے ہوں کے برابر ثواب عطا کرے گا۔ اور اگر کوئی مومن روزِ عید تربتِ امام پر آئے گا تو خداوند اس کو حج سو جہاد اور سو عمرے ہمراہ پیغمبرِ مرسل و امام عادل کے برابر ثواب عطا کرے گا اور جو کوئی روزِ عرفہ زیارت کے لیے آئے تو  اس کے لیے ایک ہزارحج ایک ہزار جہاد اور ایک ہزار عمرے ہمراہ پیغمبر مرسل اور امام عادل کے برابر ثواب عطا کرے گا بشیر کہتے ہیں میں نے امام سے دریافت کیا کہ


 یا امام(ع) یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی عرفات کی زیارت کو موقوف کرے اور خدا اس کو اتنا ثواب عطا کرے تو امام صادق(ع) نے میری طرف غصے سے دیکھا اور فرمایا بیشک یہ ممکن ہے کہ مومن روزِ عرفہ غسل کرے اور زیارت امام حسین(ع) کو آئے تو خدا تمام مناسک کے ساتھ ادا شدہ حج کا ثواب عطا کرتاہے اور یہی مجھے بتایا گیا ہے اور مجھے اس میں جہاد کے ثواب کی شمولیت کی بھی خبر دی گئی ہے۔

۱۲ـ          ابن ابونعیم کہتے ہیں میں ابن عمر کے پاس تھا کہ ایک مرد نے مچھر کو مارنے کے بارے میں ابن عمر سے پوچھا تو انہوں نے کہا تم کہاں کے رہنے والے ہو اس نے کہا میں سر زمین عراق سے ہوں اس پر ابن عمر نے کہا دیکھو یہ شخص مجھ  مچھر کے خون کے بارے میں سوال کرتا ہے حالانکہ یہی  اہل عراق رسول خدا(ص) کے بیٹے کو قتل کردیں گے جن کے متعلق رسول خدا(ص) سے میں نے سنا ہے کہ حسن(ع) اور حسین(ع) میرے دو پھول ہیں۔

۱۳ـ          محمد بن مسلم کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق(ع) سے عرض کیا کہ یا امام(ع)، میں نے سنا ہے کہ امام حسین(ع) کی انگوٹھی دوسرے اموال کے ساتھ لوٹ لی گئی تھی،آپ(ع) نے فرمائیں کیا ایسا ہی  ہے اور اگر نہیں تو وہ اس وقت کہاں ہے آپ(ع) نے فرمایا اے محمد بن مسلم یہ اس طرح نہیں ہے جیسے تیرا خیال ہے حسین(ع) نے شہادت سے قبل اپنے بیٹے علی بن حسین(ع) کو  کارِ امامت سونپ دیا انہیں وصیت کی اور اپنی انگوٹھی کو ان کے انگلی میں ڈال دیا تھا بالکل اسی طرح جس طرح رسول خدا(ص) نے جنابِ امیر المومنین(ع) کے لیے کیا تھا۔ پھر جنابِ امیر(ع) نے امام حسن(ع) سے اور امام حسن(ع) نے امام حسین(ع) سے اسی طرح کیا تھا پھر یہ انگوٹھی میرے دادا(ع) سے میرے والد(ع) اور پھر مجھ تک پہنچی جو میں جمعے کے روز پہن کر نماز پڑھتا ہوں محمد بن مسلم کہتے ہیں کہ میں نے جمعے تک انتظار کیا اور بروزِ جعہ ان کے پاس گیا نماز سے فارغ ہونےکے بعد امام عالی مقام(ع) نے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا اور میں نے اس انگوٹھی کی زیارت کی اس انگوٹھی کا نقش ” لا الہ الا اﷲ عدة للقاء اﷲ“ تھا امام عالی مقام(ع) نے فرمایا یہ میرے جد حسین(ع) کی انگوٹھی ہے۔

۱۴ـ          اسماعیل بن ابو زیاد سکونی کہتے ہیں کہ امام صادق(ع) نے اپنے دادا(ع) سے نقل کیا ہے کہ رسول خدا ہر روز فجر کے وقت علی(ع) و فاطمہ(س) کے دروازے پر کھڑے ہوتے اور فرماتے، حمد ہے اس خدا کی


کہ جس نے اعمال صالح کو انجام دینے کےبد اپنی نعمت سے فضیلت بخشی اور حمد ہے اس خدا کی جو سمیع و سامع ہے جس نے حسن آزمایش کی نعمت ہم پر تمام کی میں صبح و شام دوزخ سے خدا کی پناہ مانگتاہوں، اے ہل بیت(ع) تم پر صلواة ہو کہ خدا نے یہ ارادہ کیا ہے کہ وہ ہر قسم کی پلیدی و نجاست کو تم سے دور کرے اور بہتر طریقے سے تم کو پاکیزہ کرے۔(احزاب، ۳۳)

( مندرجہ ذیل اخبار بطور اضافہ اٹھائیسویں مجلس کے بعد بیان ہوئی ہیں۔)

۱۵ ـ                 محمد بن قاسم نوفلی کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق(ع) سے دریافت کیا کہ بعض مومن خواب دیکھتے ہیں جن کا کوئی نتیجہ( تعبیر) برآمد نہیں ہوتا جبکہ بعض خواب اپنی تعبیریں رکھتے ہیں ایسا کیوں ہے، اما عالی مقام نے فرمایا کہ جب مومن سوتا ہے کہ تو اس کی روح آسمان تک حرکت کرتی ہے اور جو کچھ بھی آسمان میں موجود اس کی تقدیر و تدبیر سے وابسطہ ہوتا ہے وہ حق ہے اور  اس کی تعبیر بھی بر آمد ہوتی ہے اس کے برعکس جو کچھ بھی زمین پر اس کے بارے میں موجود ہوتا ہے کہ خواب میں دیکھتا ہے تو ایسے خواب بغیرتعبیر کے ہوتے ہیں ، قاسم کہتے ہیں میں نے پھر دریافت کیا کہ اگر روح آسمان تک جاتی ہے تو مومن کے بدن میں اس وقت کیا باقی رہ جاتا ہے امام عالی مقام(ع) نے فرمایا کہ اگر یہ تمام کی تمام آسمان پر چلی جائے تو موت واقع ہوجاتی ہے کیا تم سورج کو نہیں دیکھتے کہ وہ اپنی جگہ پر قائم ہوتا ہے جب کہ اس کی روشنی اور حرارت زمین میں موجود  ہوتے ہیں بالکل اس طرح سورج کی مانند روح جسم میں رہتی ہے جب کہ اس کا پر تو متحرک ہوتا ہے۔

۱۶ـ          معاویہ بن عمار کہتے ہیں کہ امام ابو جعفر باقر(ع) نے فرمایا کہ جب بندگان خدا حالتِ نیند میں ہوتے ہیں تو ان کی روحیں آسمان پر جاتی ہیں جس کسی کی روح آسمان میں موجود جوکچھ دیکھتی ہے حق ہے اور جو کچھ اسے راستے میں نظر آتا ہے باطل ہے آگاہ رہو کہ ارواح کا ایک لشکر روانہ ہوتا ہے ( زمین سے آسمان کی طرف) جو کہ باہم تعارف سے ایک دوسرے سے آشنا ہوجاتا ہے یہ ارواح جو کہ آسمان پر ایک دوسرے سے تعارت حاصل کرلیتی ہیں وہ زمین پر بھی ایک دوسرے سے متعارف ہوتی ہیں۔ اور جن ارواح کا تعارف آسمان میں نہیں ہوتا وہ زمین پر بھی ایک دوسرے کو نہیں جانتیں۔


۱۷ـ          جنابِ علی بن ابی طالب(ع) نے فرمایا۔ میں نے رسول خدا(ص) سے دریافت کیا کہ یا رسول اﷲ(ص) انسان خواب دیکھتا ہے جن سے کچھ حق ہوتے ہیں اور کچھ باطل ایسا کیوں ہے۔ رسول خدا(ص) جواب دیا، کہ اے علی(ع) آدمی جب سوتا ہے تو اسکی روح پرورگار کی طرف پرواز کرتی ہے وہ جو کچھ بھی عرش پر دیکھتی ہے وہ حق ہوتا ہے( اس کی تعبیر ہوتی ہے) جب رب العزت حکم دیتا ہے تو یہ ارواح اپنے بدن میں واپس آجاتی ہیں جب کہ زمین و آسمان کی سیر میں یہ جو کچھ راستے میں دیکھتی ہے باطل ہوتاہے ( بغیر تعبیر کے ہوتا ہے)

۱۸ـ          ابوبصیر کہتے ہیں کہ میں نے امام باقر(ع) سے سنا کہ ابلیس شیاطین کا ایک دستہ رکھتا ہے جس کا نام ہزع ہے جس کی تعداد مشرق و مغرب کے درمیانی فاصلے کو پر کرتی ہے جب یہ شیاطین لوگوں کے خوابوں میں آتے ہیں تولوگ پریشان خواب دیکھتے ہیں۔

فضل بن ربیع

۱ـ           احمد بن عبداﷲ فروی اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں ( احمد کا والد) ایک دن فضل بن ربیع کے گھر گیا اور دیکھا کہ وہ ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے تھے مجھے دیکھا تو کہا کہ آؤ میرے پاس بیٹھو جب بیٹھ گیا تو مجھ سے کہا اُدھر دیکھو جب میں سے اس جانب دیکھا تو پوچھا کہ کیا نظر آیا میں نےکہا ایک  کپڑا ہے جو زمین پر پڑا ہے۔کہا کہ غور سے دیکھو میں  نے کچھ تامل کیا اور پھر دیکھا کہ ایک شخص سجدے میں ہے فضل نے پوچھا کیا انہیں پہچانتے ہو میں نے کہا نہیں کہنے لگے یہ تیرے مولا و آقا ہیں میں نے کہا کون ہیں؟ فضل کہنے گے خود کو انجان ظاہر کرتے ہو تو میں نے کہا کہ نہیں میرا مولا کوئی نہیں ہے فضل بن ربیع نے کہا یہ ابوالحسن موسی بن جعفر(ع) ہیں میں شب و روز مشاہدہ کرتا ہوں کہ یہ اسی حالت میں ہوتے ہیں وہ نمازِ فجر ادا کرتے ہیں اور پھر تعقیبات میں مشغول ہوجاتے ہیں کہ اسی حال میں سورج طلوع ہوجاتا ہے پھر یہ سجدے میں چلے جاتے ہیں اور ظہر تک سجدے میں رہتے ہیں میں (فضل) کسی اور شخص کو نہیں جانتا جو زوال تک ایسا کرتا ہو پھر غلام آتا ہے اور کہتا ہے کہ وقت ظہر آگیا تو یہ اپنی نماز ظہر  شروع کردیتے ہیں نماز ظہر کے لیے انہیں


 تجدید وضو کی ضرورت نہیں ہوتی اس لیے کہ یہ دوران سجدہ نہ سوتے ہیں اور نہ ہی بے ہوش ہوتے ہیں پھر یہ عصر ادا کرتے ہیں اور تعقیبات نماز کے بعد دوبارہ سجدے میں چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ غروب آفتاب ہو جاتاہے یہسجدہ سے اٹھتے ہیں او بغیر تجدید وضو کے یہ نماز مغرب، اس کی تعقیبات اور پھر عشاء ادا کرتے ہیں اس کے بعد میں ان کے لیے کھانا لاتا ہوں یہ افطار کرتے ہیں اور پھر تجدید وضو کر کے سجدے میں چلےجاتے ہیں پھر سجدے سے سر اٹھاتے ہیں اور کچھ دیر استراحت فرماتے ہیں پھر اٹھ کر وضو کرتے ہیں اور نماز ِ شب کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہان تک کہ صبح کی سفیدی نمودار ہوتی ہے مجھے نہیں معلوم کہ ان کا غلام ان کو کس وقت طلوع فجر کی اطلاع کرتا ہے کہ وہ پھر نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں جب سے وہ میری تحویل میں دیئے گئے ہیں میں ان کا یہی طریقہ دیکھ رہا ہوں۔

احمد بن عبداﷲ فروی کے والد نے فضل بن ربیع سے کہا کہ خدا سے ڈرو ان کو کبھی تکلیف نہ پہنچانا کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بات تمہارے لیے باعث زوالِ نعمت ہوجائے کیا تمہیں معلوم ہے کہ جس کسی نے ان کے ساتھ بدی کی اس سے خدا کی نعمتیں چھن گئیں فضل نے کہا کہ مجھے بارہا ان کے قتل کا حکم دیا گیا اور یہ کہاگیا کہا گرتم نے انہیں قتل نہ کیا تو تمہیں قتل کردیا جائے گا لیکن میں نے اس بات کو قبول نہیں کیا۔

اس کے بعد امام عالی مقام(ع) کو فضل بن یحیی برمکی کی تحویل میں دے دیا گیا۔ زندان برمکی میں ان کے لیے کھانا فضل بن ربیع کے گھر سے بھجوایا جاتا رہا یہاں تک کہ تین دن و رات گزرگئے چوتھے دن کھانا یحیی برمکی نے بھیجا امام عالی مقام(ع) نے کھانا کو دیکھا تو فرمایا، یا خدا تو جانتا ہے کہ اگراس سے پہلے میں اس طرح کا کھانا کھاتا تو موت یقینی تھی  یہ کہہ کرآپ(ع)  نے کھانا تناول فرما لیااور بیمار ہوگئے(زہر کے اثر سے ) صبح ایک طبیب کو ان کے پاس ان کی حالت دریافت کرنے بھیجا گیا طبیب نے پوچھا کہ آپ کے درد کا کیا سبب ہے آپ(ع) خاموش رہے طبیب نے دوبارہ دریافت کیا تو امام عالی مقام(ع) نے اپنے ہاتھ اسے بلند کر کے دکھائے ہاتھ کی ہتھیلی میں سبز نشان دیکھ کر طبیب باہر آگیا اس سے دریافت کیا گیا کہ ان(امام) کی حالت کیسی ہے طبیب نے کہا جو کچھ ان کے


ساتھ کیا گیا ہے اور جو ان کی حالت ہے اسے خدا ہی بہتر جانتا ہے، اسی حالت میں امام عالی مقام(ع) کی شہادت ہوگئی۔

۲ـ           علی بن یقطین کہتے ہیں کہ ہارون رشید نے اپنے ایک درباری سے کہا کہ کچھ ایسا کر جس سے امام موسی بن جعفر(ع) کے امِ امامت کو غلط ثابت کرنے میں مدد مل سکے اور ان کا اثر و نفوذ ختم ہوجائے، اس درباری نے ایک جادوگر کا انتظام کیا جب وہ آیا تو ایک دستر خوان بچھایا گیا اور امام موسی بن جعفر(ع) کو بلایا گیا جب خادم ، ابوالحسن(ع) کے لیے روٹٰی لایا تو اس جادوگر نے کرتب سے روٹی آپ(ع) کے آگے سے کھینچ لی۔ یہ دیکھ کر ہارون ہنسا اور اپنی جگہ سے اٹھا۔ امام عالی مقام(ع) نے دربار پر نظر دوڑائی اور دربار میں لگی ہوئی شیر کی تصویر جو کہ کپڑے پر بنی ہوئی تھی کو حکم دیا کہ اس دشمن کو نگل لے تصویر کا شیر مجسم ہوا اور جادوگرکو نگل گیا ہارون اور اس کے درباریوں سے جب یہ معجزہ دیکھا تو خوف سے غش کھا کر گرپڑے جب کافی دیر کےبعد ہوش میں آئے تو امام عالی مقام(ع) سے گذارش کی کہ ہم آپ(ع) کو آپ(ع) کے حق کا واسطہ دے کر کہتے ہیں کہ اس شیر کو حکم دیں کہ اس جادوگر کو واپس اگل دے امام عالی مقام(ع) نے فرمایا اگر عصائے موسی(ع) نے لکڑی اور رسی سے بنے سانپوں کو اگل دیا ہوتا یہ شیر بھی ویسا ہی کرتا کہا جاتا ہےکہ آںحضرت(ع) کا یہ معجزہ ان کے قتل کا موثر ترین ذریعہ بن گیا ( کیونکہ یہ معجزہ دیکھنے کے بعد ہارون کے دل میں حضرت(ع) کے لیے زیادہ بغض بھر گیا تھا۔)

۳ـ          حسن بن محمد بشار، قطعیہ الربیع سے راویت کرتے ہیں ( جو کہ عامہ الناس میں مقبول اور دانا سمجھا جاتا تھا) کہ میں نے خاندان رسول خدا(ص) کے بعض اہل فضل کو دیکھا ہے مگر عبادات و فضیلت میں جیسے موسی بن جعفر(ع) کو پایا کسی کو نہیں پایا میں ( حسن بن بشار) نے پوچھا کہ یہ تم پر کس طرح عیان ہوا اس نے بتایا کہ یہ مجھ پر سندی بن شاہک کے زندان میں قید کے دوران عیاں ہوا اس نے بتایا کہ جب امام عالی مقام(ع) سندی بن شاہک کے زندان میں قید تھے تو اس نے اسی(۸۰) رؤسا شہر کو اکٹھا کیا اور زندان میں جنابِ موسی بن جعفر(ع) کے پاس لے کر گیا میں بھی ان رؤسا کے ہمراہ تھا پھر ہمیں مخاطب کر کے امام (ع) کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ لوگوں کا خیال ہے کہ ان پر سختی کی جارہی ہے حالاںکہ ان کی منزل یہی ہے پھر بھی انہیں یہاں بستر فراہم کیا گیا ہے اور کسی قسم


کی سختی نہیں کی گئی اور امیرالمومنین(ع) ( ہارون رشید) کا ارادہ بھی ان کے ساتھ برائی کا نہیں ہے ہمیں ان کی قدر و منزلت اور فضیلت سے کس طرح کا خوف نہیں حالانکہ ان کے بارے میں مبالغہ سے کام لیتے ہیں اس پر امام عالی مقام(ع) نے اپنے سر کو اٹھایا اور فرمایا کہ جو کچھ میری فضیلت و کرامت کے بارے میں کہا جاتا ہے حق ہے میں تمہیں اس کی پہلے ہی اطلاع دیتا ہوں کہ مجھے فرمایا انگور کے نو دانوں میں زہر ڈال کردیا جائے گا جس کے کھانے سے اگلے روز میرے جسم کی رنگت سبز ہوجائے گی اور پھر اس سے اگلے روز میں وفات پاجاؤں گا یہ سن کر سندی بن شاہک خوف سے کانپنے لگ گیا اور اس طرح مضطرب ہوگیا جیسے درخت کی شاخیں ہوا میں مضطرب ہوجاتی ہیں۔

۴ـ          ثابت بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے امام زین العابدین(ع) سے خدا کے بارے میں دریافت کیا کہ کیا خدا مکان رکھتا ہے تو امام(ع) نے فرمایا اس سے بلند تر ہے ثابت کہتے ہیں میں نے پوچھا کہ پھر کیوں اپنے نبی کو آسمان پر لے کر گیا فرمایا تاکہ جو کچھ عجائبات ہیں وہ ان کا مشاہدہ کریں اور ملائکہ سے ملیں ثابت بن دینار کہتے ہیں،میں نے پوچھا تو پھر خدا کے اس قول کے کیا معنی ہوئے” کہ وہ اس قدر نزدیک ہوا کہ با اندازہ دو کمانوں کا فاصلہ تھا“ امام(ع) نے فرمایا اس سے مراد یہ ہے کہ رسول خدا(ص) پردة نور کے اسقدر نزدیک ہوئے کہ فرشتوں کے رہنے کی جگہ کو دیکھا اور بادشاہی دیکھی اور زمین اور عرش کی بادشاہی کے درمیان فاصلے کا خود مشاہدہ کیا۔

صلوات ہو ہمارے نبی(ص) پر اور ان کی آل(ع) پر۔


مجلس نمبر۳۰

(دس محرم الحرام سنہ۳۶۸ھ)

( یہ مجلس جنابِ صدوق نے مقتلِ حسین(ع) میں پڑھی)

مجلس عاشور

۱ـ           امام علی بن حسین(ع) نے فرمایا کہ جب معاویہ کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹے یزید کو بلایا اور کہا کہ میں نے اس وسیع و عریض سلطنت پر تیری حکومت کو مضبوط کرنے کے تمام اسباب فراہم کردئے ہیں اور تمام رکاوٹوں کو دور کر دیا ہے تمام شہر اس وقت تیری حکومت کے لیے آمادہ ہیں۔ مگر میں تین اشخاص سے خوف زدہ ہوں کہ یہ تیری مخالفت کریں گے اور ان میں سے ایک عبداﷲ بن عمر خطاب دوسرے عبداﷲ بن زبیر اور تیسرے حسین بن علی(ع) ہیں۔

اے یزید سن اگر تو عبداﷲ بن عمر سے اچھے طریقے سے پیش آیا اور اس کی خاطر مدارت کرتا رہا تو اس کا دل تیرے  ساتھ رہے گا اس لیے اس کی خاطر مدارت سے ہاتھ مت اٹھانا، عبداﷲ بن زبیر اگ جنگ کے لیے آمادہ ہو تو اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دینا۔ کیونکہ وہ ہمیشہ تیری گھات میں رہے گا اور در پردہ کا روائیاں کرتا رہے گا۔ حسین بن علی(ع) کو تم جانتے ہو کہ ان کی رسول اﷲ(ص) کے ساتھ کیا نسبت ہے ان کا اور رسول(ص) کا گوشت اور خون ایک ہے مین جانتا ہوں کہ عراق کے لوگ ان کو شورش کےلیے بلائیں گے، خود کو قابو میں رکھنا اور کسی قسم کی غلط کاروائی مت کرنا اور ان کی تواضع کرنا اگر تم ان پر قابو پالو تو ان کےحق کو پہچاننا  اور رسول خدا(ص) سے نسبت کی وجہ سے ان سے رعایت کرنا اور مواخذہ نہ کرنا، جو روابط  مین نے اس عرصے میں ان سے استوار کرنے کی کوشش کہ ہے انہیں منقطع نہ کردینا کہیں یہ نہ ہو کہ تم ان سے برائی کر بیٹھو۔

جب معاویہ مرگیا اور یزید بن معاویہ لعین تخت خلافت پر بیٹھا تو اپنے چچا عتبہ بن ابو سفیان اور دوسری روایت کے مطابق ولید بن عتبہ کو حاکم مدینہ مقرر کیا عتبہ نے مروان بن حکم جو کہ معاویہ کی


طرف سے مدینے کا حاکم تھا کو معزول کردیا اور حکم یزید کے تحت مدینے کی گورنری سنبھال لی۔ مروان بن حکم فرار ہوگیا اور اسے گرفتار نہ کیا جاسکا ۔ عتبہ نے اسکے بعد حسین بن علی(ع) کو طلب کیا اور ان سے یزید بن معاویہ کی بیعت کا مطالبہ کیا۔ امام عالی مقام(ع) نے ارشاد فرمایا اے عتبہ تو جانتا ہے کہ ہم اہل بیت(ع) ، معدن رسالت ہیں اور علم خدا کے عالم ہیں خدانے حق کو ہمارے سپرد کیا ہے اور ہماری زبانوں پر اسے جاری کیا ہے۔ میں (حسین(ع)) خدا کے اذن سے گویا ہوں ہ میں نے اپنے جد رسول خدا(ص) سے سنا ہےکہ خلافت فرزندانِ ابو سفیان پر حرام ہے اور جن کے لیے رسول خدا(ص) کا یہ صریح حکم موجود ہو میں اس کی بیعت کیسے کرسکتا ہوں۔ عتبہ نے جب امام عالی مقام(ع) کا یہ جواب سنا تو یزید کو خط لکھا۔

امیرالمومنین یزید(لعین) کے لیے عتبہ بن ابوسفیان کی طرف سے آگاہ ہو جا کہ حسین(ع)  بن علی(ع) تیری خلافت اور تیری بیعت کے معتقد نہیں ہیں اس بارے میں جو تیری حکم ہو وہ صادر کر والسلام۔

یہ خط جب یزید لعین کو پہنچا تو اس نے جواب لکھا۔ جب میرا یہ خط تجھ تک پہنچے تو اس وضاحت کے ساتھ مجھے فورا جوابی خط لکھ کہ کون کون میرا مطیع و فرمانبردار اور کون میرا مخالف ہے اور تیرے جوابی خط کے ساتھ حسین بن علی(ع) کا سر بھی ہونا چاہیے۔

جب یہ خبر امام عالی مقام(ع) تک پہنچی تو انہوں نے سفر کی تیاری شروع کردی اور رات کو مسجد نبوی میں آئے تاکہ رسول خدا(ص) سے وداع ہولیں جب قبرِ مبارک پر پہنچے تو دیکھا کہ قبرِ مبارک سے نور نکل رہا ہے آپ(ع)(حسین(ع)) واپس ہولیے دوسری شب پھر رسول خدا(ص) کو الوداع کہنے کے لیے تشریف لائے اور نماز کے لیے کھڑے ہوئے اور سجدہ کو طول دیا یہاں تک کہ آنکھ لگ گئی خواب میں دیکھا کہ رسول خدا(ص) تشریف لائے ہیں اور سینے سے لگا کر آنکھوں کے بوسے لیتے ہیں اور فرماتے ہیں میرے ماں باپ تجھ پر قربان میں تمہیں خون میں لت پت دیکھ رہا ہوں اس حالت میں کہ میری امت کو دعوی کرنے والے لوگوں کا جم غفیر تیرے گرد ہوگا اور ان کے لیے میری شفاعت میں سے کوئی حصہ نہیں ہے اےمیرے بیٹے تم اپنے ماں(ع) باپ(ع) اور بھائی(ع) کے پاس آجاؤ کہ وہ سب تم سے ملنے کے مشتاق


ہیں۔ میرے فرزند جان لو کہ تم بہشت میں بہت بلند درجات رکتھے ہو جو تمہیں بغیر شہادت نہیں مل سکتے ۔

حسین(ع) روتے ہوئے بیدار ہوئے اور اپنے خاندان کے پاس وہس آئے اور ان سےاپنے خواب کوبیان کیا ہھر اپنے برادر زادوں اور مخدرات عصمت کو سواریوں پر سوار کروایا اور اپنے اکیس(۲۱) اصحاب اور اہل بیت(ع) کے ساتھ پیچھے رہ جانے والوں کو الوداع کہ امام(ع) کے ساتھ جانے والوں میں اہل بیت(ع) کے ان افراد نےشمولیت کی جناب قاسم بن حسن(ع)، جنابِ ابوبکر بن علی(ع)، محمد بن علی(ع) عثمان بن علی(ع) عباس بن علی(ع) عبداﷲ بن مسلم بن عقیل(ع)، علی بن حسین اکبر(ع) علی بن حسین(ع) اصغر(ع) ۔ جب امام (ع) کے کوچ کی خبر عبداﷲ بن عمر کو ملی تو وہ امام عالی مقام(ع) کے پیچھے گئے اور ایک منزل پر جاکر ان سے ملاقات کی اور عرض کیا، یا رسول اﷲ(ص) کہاں کا ارادہ رکھتے ہیں جواب ملا عراق کا عبداﷲ بن عمر نے کہا میری گذرش ہے کہ آپ(ع) یہ ارادہ ترک کر کے واپس اپنے جدا(ص) کے حرم کی طرف مدینہ لوٹ جائیں امام عالی مقام(ع) نے انکار کیا تو عبداﷲ بن عمر نے کہا کہ مجھے وہ جگہ دکھائیں جہاں رسول خدا(ص) آپ(ع) کے بوسے لیا کرتے تھے امام (ع) نے انہیں بتایا تو عبداﷲ بن عمر نے اس جگہ کا تین دفعہ بوسہ لیا اور گریہ کیا اور کہا یا ابن رسول اﷲ(ص)  میں آپ کو خدا کے سپرد کرتا ہوں آپ اس سفر میں شہید کردئیے جائیں گے۔

امام عالی مقام(ع) اور آپ(ع) کے اصحاب دوبارہ چل پڑے مقام ثعلبہ میں ایک شخص جس کا نام بشیر بن غالب تھا امام(ع) کے پاس آیا اور عرض کی یا بن رسول اﷲ(ص) مجھے خدا کے اس قول کہ” اس دن ہر ایک کو ا ک امام کے ساتھ بلایا جائے گا۔( اسراء ، ۷۱) کی وضاحت فرمائیں۔ امام عالی مقام(ع) نے فرمایا وہ امام جوکہ حق کی طرف دعوت کرئے اوروہ دعوت کی جائے  اور وہ اسلام جو گمراہی کی طرف دعوت دے اور وہ بھی قبول کی جائے تو یہ پہلا گروہ بہشت اور دوسرا دوزخ میں جائے گا اور پھر فرمایا کہ” ایک گروہ بہشت میں اور ایک گروہ دوزخ میں جائے گا۔ “ (شوری، ۷) یہ کہہ کر آُپ(ص) روانہ ہوگئے اور عذیب کی منزل پر پڑاؤ کیا یہاں نصف دن استراحت فرمایی جب نیند سے بیدار ہوئے تو گریہ فرماتے ہوئے اٹھے آپ(ع) کے فرزند نے دریافت کیا، بابا یہ گریہ کس لیے


 ہے تو امام (ع) نے فرمایا اے فرزند یہ وہ وقت ہے کہ جب بھی خواب باطل نہیں ہوتا خواب مجھ سے کہا گیا ہے کہ تم جانے میں جلدی کرو کیونکہ موت تہمیں بہشت میں  لے جائے گی۔

پھر امام (ع) عالی مقام(ع) نے وہاں سے کوچ کیا اور مقام رہیمیہ میں قیام فرمایا یہاں آپ کی ملاقات اباہرم نامی  شخص سے ہوئی جو کہ کوفہ باشندہ تھا اس نے امام(ع) سے دریافت کیا کہ اے ابن رسول(ص) اس حال میں آپ(ع) کیوں مدینہ چھوڑ کر نکلے ہیں امام(ع) نے فرمایا اے ابا ہرم تم  پر وائے ہو تم مجھے دشنام دیتے ہو میں حالتِ صبر میں ہوں اور اس حالت میں بھی صبر کروں گا جب میرا مال لوٹا جائے گا اور میرا خون گرایا جائے گا خدا کی قسم مجھے قتل کردیا جائے گا اور رب العزت ان لوگوں کو خوار کرئے گا اور ایک شمشیر کو ان پر مسلط کردے گا جو ان سے میرا انتقام لے گی اور ان پر ایک ایسے مرد کو مسلط کردے گا جو ان کو ذلیل و خوار کرے گا۔

جب یہ خبر عبیداﷲ بن زیاد لعین کو پہنچی کہ حسین(ع) رہیمیہ کی منزل تک پہنچ گئے ہیں تو اس نے حر ابن یزید ریاحی کی  سر کردگی میں ایک ہزار سواروں کا دستہ بھیجا ، حر جب رھیمیہ پہنچا تو آگے بڑھاتا کہ امام سے ملاقات کرے تو اس نے تین بار اس آواز کو سنا کہ اے حر تجھے جنت کی بشارت ہو حر نے جب پیچھے مڑکر آواز دینے والے کو دیکھنا چاہا اور کسی کو وہان نہ پایا تو سوچا کہ ہم رسول خدا(ص) کے فرزند کے خلاف ہیں پھر بہشت میں کیسے جائیں گے۔ نماز ظہر کے وقت حر امام عالی مقام(ع)  کی خدمت میں حاضر ہوا امام عالی مقام(ع) نے اپنے فرزند کو حکم دیا کہ وہ اذان و اقامت کہیں پھر امام (ع) کی امامت مین دونوں گروہوں نے نماز پڑھی۔

بعد از نماز حر خدمتِ امام(ع) میں حاضر ہوا اور عرض کیا السلام علیک یا بن رسول اﷲ(ص) ، امام عالی مقام(ع) نے فرمایا و علیک السلام تم کون ہو اے خدا کے بندے حر نےجواب دیا میں حر بن یزید ریاحی ہوں۔ امام(ع) نے فرمایا، حر ہمارے ساتھ جنگ کرنے آئے ہو یا ہماری مدد کرنے۔ حر نے کہا مجھے آپ(ع) کے ساتھ جنگ کر نے بھیجا گیا ہےمگر یا بن رسول اﷲ(ص) میں خدا کی پناہ مانگتا ہوں کہ جب میں قبر سے نکلوں تو میرے پاؤں میرے سر کے بالوں سے بندھے ہوں اور میرے ہاتھ میری گردن کے ساتھ اور مجھےلے جا کر جہنم میں گرا دیا جائے اور یا ابن رسول اﷲ(ص) میرا مشورہ آپ(ع) کو یہ


ہے کہ آپ(ع) اپنے جد کے حرم مدینہ لوٹ جائیں ورن یہ لوگ آپ کو قتل کردیں گےامام عالی مقام(ع) نے جواب دیا کہ عنقریب میں اپنے جد رسول خدا(ص) سے ملاقات کروں گا اور بہادر کےلیے موت سے کوئی خوف نہیں جب کہ اس کی نیت حق ہو اور وہ مسلمان ہو کر جہاد کرئے اور اپنے ذریعے سے نیک لوگوں کی مدد کرے اور ہلاک ہونے والوں سے اگ ہو اور بدی کے خلاف ہو۔ پس اگر میں زندہ رہ گیا تو میرے لیے کوئی ندامت و پریشانی نہیں اور اگر مرگیا تو مجھے موت سے کوئی تکلیف نہیں لیکن تیری ذلت کے لیے اتنا کافی ہے کہ تو زندہ رہے او تیری ناک رگڑی جائے۔

پھر امام عالی مقام(ع) نے رھیمیہ سے کوچ کیا اور قطقطانیہ میں پڑا ڈالا وہاں کچھ دور لگے خیموں کو دیکھ کر امام(ع) نے دریافت کیا کہ یہ خیمے کس کے ہیں آپ(ع) کو مطلع کیا گیا کہ یہ خیمے عبیداﷲ بن حر جعفی کے ہیں۔ امام(ع) نے اس کو طلب کیا اور فرمایا کہ تو ایک گناہ گار اور خطا کار انسان ہے دھو ڈالے تو اپنے گناہوں کی رب العزت سے معافی مانگ اور میری مدد کر میرے جد رسول خدا(ص) بارگاہ رب العزت میں تیری شفاعت کریں گے عبیداﷲ جعفی نے کہا یا امام اگر میں نے آپ(ع) کے لشکر میں شمولیت اختیار کر لی تو میں وہ پہلا شخص ہوں گا جسے یہ قتل کریں گے مگر میں آپ کو اپنا گھوڑا پیش کرتا ہوں خدا کی قسم میں نے جب بھی پر سوار ہو کر اسے ایڑ لگائی ہے کوئی اس کی  گرد کو بھی پاسکا اور میں نرغے میں نہین آیا آپ(ع) یہ گھوڑا لے لیں۔

امام(ع) نے اپنا چہرہ اس سے دوسری طرف پھیر لیا اور فرمایا ہمیں تیرے گھوڑے سے نہیں تجھ سے غرض ہے۔میں ظالم کی مدد کو اپنے لیے قبول نہیں کرتا تو ایسا کر کہ کہ یہاں سے بہت دور چلا جا نہ ہمارے ساتھ رہ اور نہ ہمارے خلاف ہو کیوںکہ جب میں نے استغاثہ بلند کردیا تو پھر ہر سننے والے پر  لازم ہے کہ وہ ہماری مدد کرے اگر اس نے ایسان نہ کیا تو خدا اسے جہنم میں گرائے گا۔

یہ کہہ کر امام نے کوچ کیا اور کربلا آپہنچے۔ کربلا پہنچ کر امام(ع) نے دریافت کیا کہ یہ کونسی جگہ ہے کہ آپ کو بتایا گیا کہ یہ کربلا ہے آپ(ع) نے ارشاد فرمایا خدا کی قسم آج گرفتاری و بلا کا روز ہے اسی جگہ ہمارا  خون بہایا جائیگا اور ہماری حرمت کو مباح کیا جائیگا۔


عبیداﷲ بن زیاد لعین نے عمر ابن سعد لعین کو چار ہزار سوار دے کر حسین(ع) کے مقابلے کے لیے روانہ کیا اسکے علاوہ عبداﷲ بن حصین لعین کو ایک ہزار سوار، شیث بن ربعی لعین کو ایک ہزار سوار اور محمد بن قیس کندی لعین کو بھی ایک ہزار سوار دے کر عمر سعد لعین کے پیچھے روانہ کیا اور انہیں ہدایت کی کہ وہ عمر سعد لعین کی سرکردگی میں جنگ لڑیں گے عبیداﷲ بن زیاد لعین کو جب یہ خبر دی گئی کہ عمر سعد لعین نے حسین(ع) کے ساتھ رات کی تاریکی میں گفتگو کی ہے تو اس نے شمر بن زی الجوشن لعین کو چار ہزار کی فوج دے کر روانہ کیا اور عمر سعد لعین کو احکامات جاری کیے کہ جب میرا یہ حکم نامہ تجھ تک پہنچے تو حسین بن علی(ع) کو مزید مہلت مت دے اور انہیں گردن سے دبوچ لے اور ان پر اس طرح پانی بند کردے جس طرح یوم دار عثمان پر پانی بند کردیا گیا تھا جب یہ خط عمر سعد کو پہنچا تو اس نے منادی کروا دی کہ حسین(ع) اور ان کے اصحاب کے لیے ایک دن اور ایک رات کی مہلت ہے۔

جب یہ آواز امام(ع) کے اعزاؤ و اصحاب کے کانوں میں پڑی تو انہیں نہایت ناگوار گزرا امام عالی مقام(ع) کھڑے ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ کسی کو میرے اصحاب سے زیادہ با وفا اور میرے اہل بیت(ع) سے زیادہ فرمانبردار اور صلہ رحم کے زیادہ پابند اہل بیت(ع) ملے ہوں میں جانتا ہون کہ مجھ پر وہ وقت آگای ہے لہذا میں تمہیں اپنی بیعت سے آزاد کرتا ہوں۔ اور تمہیں اس ذمہ داری سے بری کرتا ہوں اس وقت رات کی تاریکی ہے تم اس کا فائدہ اٹھاؤ او اطراف سے نکل جاؤ کیوںکہ یہ قوم فقط میرے ہی خون کی پیاسی ہے یہ صرف میرا ہی تعاقب کریں گے اور اگر مجھے پالیں گے تو کسی اور کے پیچھے نہیں جائیں گے۔ عبداﷲ بن مسلم بن عقیل(ع) کھڑے ہوئے اور کہنے لگے یا ابن رسول اﷲ(ص) لوگ کیا کہیں گے کہ ہم نے اپنے بزرگ و آقا اور آقازادے کو اور اپنے پیغمبر(ص) کے فرزند کو دشمنوں کے نرغے میں چھوڑ دیا ہے اور دشمن پر اپنے نیزہ و شمشیر سے حملہ نہیں کیا۔یابن رسول اﷲ(ص) خد کی قسم ہم ایسا نہیں کرین گے جب تک ہم آپ(ع) کے ساتھ ہیں ہم اپنا خون اور اپنی جاں آپ پر فدا کردیں گے یہاں تک کہ جو آپ کی طرف سے ہم پر واجب ہے وہ ادا نہ ہوجائے اور جو وعدہ کیا ہے وہ پورا نہ ہوجائے ۔پھر زہیر بن قین بجلی کھڑے ہوئے اور کہا یا ابن رسول اﷲ(ص) میں اس چیز کو دوست رکھتا ہوں کہ آپ(ع) کی مدد کرتا ہوا سو دفعہ قتل ہوجاؤں پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر


 قتل ہوجاؤں میں خدا سے دعا کرتا ہوںکہ وہ میرے وجود کی وجہسے ان لعینوں کو آپ(ع) کے خاندان سے دور کردے ہم تمام اصحاب کےلیے یہ جزائے خیر ہے۔ اس کے بعد امام عالی مقام(ع) نے فرمایا کہ خیام کے چاروں طرف خندق کھودیں اور لکڑیوں سے اسے پر کردیں پھر امام نے پانے فرزند علی اکبر(ع) بیس بہادر اور تیس سوار دے کر بھیجا کہ وہ جائیں اور پانی لے کر آئیں علی اکبر(ع) گئے اور خفیہ طریقے سے پانی لے آئے ان کی زبان پر اس وقت یہ اشعار جاری تھے۔

” اے زمانے تف ہے تجھ پر تو کتنا برا دوست ہے کہ ہر صبح و شام کتنے ساتھی و طلب گار مقتول ہوتے ہیں جب کہ تو تبادلے پر قناعت نہیں کرتا اور حکم اور امر تو جلیل کے ہاتھ میں ہے اور ہر زندہ رہنے والا میرے راستے پر چلنے والا  ہے“ اس کے بعد امام(ع) نے اپنے اصحاب سے فرمایا اٹھو اور  پانی پیو کہ یہ تمہارا آخری توشہ ہے اور وضو و غسل کرو اور اپنے کپڑوں میں خوشبو لگا کر انہیں بطور کفن پہن لو۔ بالاخر نماز فجر ادا کی گئی اور اس کے بعد اصحاب کو جنگ کے لیے صف آرا کیا گیا اور حکم دیا گیا کہ خندق کی لکڑیوں میں آگ لگا دی جائے ۔تاکہ دشمن کا لشکر صرف ایک ہی طرف سےحملہ آور ہوسکے۔

دشمن کے لشکر کی طرف سے ابن ابی جویریہ نامی ایک شخص نے جب خندق میں آگ روشن ہوتے دیکھی تو اس نے آگے بڑھ کر آگ لگانے والے کو مخاطب کیا اور کہا کہ وائے ہو تم پر تم دنیا میں ہی آگ کامزہ چکھنا چاہتے ہو۔ امام عالی مقام(ع) نے جب اس کی یہ آواز سنی جو ارشاد فرمایا کہ یہ کون ہے۔ آپ(ع) کو مطلع کیا گیا کہ یہ ابن ابی جویریہ نامی شخص ہے امام نے فرمایا خدایا اس کو دنیا میں ہی آگ کا مزہ چکھا دے امام(ع) کی دعا کا ختم ہونا تھا کہ اس لعین کا گھوڑا بدکا اور اسے سیدھا خندق مین گرادیا جس سے وہ ( ابن ابی جویریہ) زندہ آگ میں جل کر مرگیا۔

اسکے بعد عمر سعد لعین کےلشکر سے تمیم بن حصین فراز نامی شخص سے پکارا کر کہا اے حسین(ع) اور اصحاب حسین(ع) دریائے فرات کو دیکھو کہ اس میں مچھلیاں تیر رہی ہیں اور سیراب ہو رہی ہیں مگر خدا کی قسم تمہیں اس کے پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں دیا جائے گا یہاں تک کہ تم بیتابی کی حالت میں جان دیدو۔ امام عالی مقام(ع) نے دریافت کیا کہ یہ کون ہے بتایا گیا یہ تمیم بن حصین فرازی ہے آپ(ع) نے


 ارشاد فرمایا کہ یہ اور اس کا باپ اہل دوزخ میں سے ہیں پھر دعا فرمائی کہ اے رب العزت آج اس کو پیاس میں مبتلا کردے آپ(ع) کا یہ کہنا تھا کہ اس کو شدید پیاس نے آگھیرا وہ اضطراب کی حالت میں گھوڑے سے نیچے گر گیا اور اسی کے گھوڑے نے اس کو اپنے سموں تلے  روند دیا۔

اس کے بعد لشکر عمر سعد لعین سے محمد بن اشعث کندی لعین سامنے آیا اور کہنے لگا اے حسین(ع) بن فاطمہ(س) تم رسول(ص) کی طرف سے ایسی کونسی حرمت رکھتے ہو جو دوسرے نہیں رکھتے امام(۰ع)نے اس آیت کی تلاوت فرمائی، بے شک خدا نے آدم کو نوح اور آل ابراہیم اور آل عمران کو چنا عالمین سے اور بعض بعض کی ذریت ہیں“(آل عمران، ۳۳) اور پھر فرمایا کہ خدا کی قسم محمد(ص) آل ابراہیم(ع) سے ہیں اورہم خاندان محمد(ص) کی رہبر عترت ہیں۔ اس کے بعد آپ(ع) نے دریافت کیا کہ یہ مرد کون ہے بتایا گیاکہ اس کا نام محمد بن اشعث بن قیس کندی ہے امام عالی  مقام(ع) نے سر کو آسمان کی طرف بلند کیا اور کہا خدایا اس شخص کو ایک ایسی خواری دے کہ اس کی عزت باقی نہ رہے امام عالی مقام(ع) کا یہ فرمانا تھا کہ یکا یک محمد بن  اشعث کو ایک ایسا عارضہ ہوا کہ وہ قضائے حاجت کے لیے بھاگا گیا اور جب بیٹھا تو خدانے ایک بچو کو اس پر مسلط کر دیا جس کے ڈنگ مارنے سے یہ شخص برہنہ حالت میں اپنی غلاظت میں گر کر مرگیا۔

جب امام کے اصحاب پر پیاس نے غلبہ کیا تو بریر بن حصین ہمدانی( راوی حدیث ابراہیم بن عبداﷲ کہتے ہیں کہ بریر ابو اسحاق کے خالو ہیں) امام عالی مقام(ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی، یا ابن رسول اﷲ(ص) اگر آپ مجھے اجازت دیں تو میں ان سے  جاکر بات کروں اور پانی لانے کی کوشش کروں۔ امام نے اجازت دی وہ عمر سعد لعین کے لشکر کے پاس گئے اور فرمایا اے لوگو بے شک خدا نے محمد(ص) کو چنا جو  کہ بشیر و نذیر اور خدا کی اجازت سے لوگوں کو اپنی طرف بلانے والے ہیں وہ روشن چراغ تھے راہ ہدایت تھے یہ فرات کا پانی جس کو جانور تک پی رہیے ہیں تم نے اولاد رسول (ص) پر بند کردیا ہے جواب میں عمر سعد لعین کے لشکریوں نے کہا اے بریر تم کو کافی طول دے دیا ہے تم اتنی ہی بات کو کافی جانو کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ حسین(ع) اسی طرح پیاسا قتل ہوجائے۔ جس طرح ایک شخص ( عثمان) پہلے بھی قتل ہوچکا ہے ۔ امام حسین(ع) نے فرمایا بریر بیٹھ جاؤ


 پھر امام اپنی جگہ سے اٹھے اور تلوار کا سہارا لیکر کھڑے ہوئے اور با آواز بلند فرمایا میں تم کو قسم دیتا ہون کہ کیا تم مجھے پہچانتے ہو، جواب ملا ہاں تم رسول کے فرزند ہو امام نے فرمایا جانتے ہونا کہ میرے جد رسول خدا(ص) ہیں، جواب ملا ہاں پھر فرمایا تمہیں خدا کی قسم کیا تم جانتے ہو کہ میری ماں فاطمہ(س) بنت محمد(ص) ہین جواب ملا ہاں جانتے ہیں پھر فرمایا تمہیں خدا کی قسم کیا جانتے ہو کہ میرے والد علی بن ابی طالب(ع) ہیں جواب ملا خدا کی قسم جانتے ہیں، پھر فرمایا  کہ کیا جانتے ہو کہ میری جدہ خدیجہ بنت خویلد اسلام لانے والی پہلی خاتون ہیں۔ جواب ملا جانتے ہیں، آپ نے پھر فرمایا تمہیں قسم ہے کیا تم جانتے ہو کہ سید الشہداء حمزہ(ع) میرے والد کے چچا ہیں، جواب ملا ہاں ہم جانتے ہیں، آپ(ع) نے پھر فرمایا کیا یہ بھی جانتے ہو کہ جعفر طیار(ع) جو بہشت میں ہیں میرے چچا ہیں۔ جواب ملا خدا کی قسم ہم  یہ بھی جانتے ہیں، آپ(ع) نے فرمایا میں تمہین قسم دیتا ہوں بتاؤ کیا یہ جانتے ہو کہ یہ تلوار رسولِ خدا(ص) کی ہے جو اس وقت میری کمر کے ساتھ آراستہ ہے، جواب ملا ہاں جانتے ہیں، پھر فرمایا کہ تمہیں خدا کی قسم بتاؤ کیا یہ عمامہ رسول خدا(ص) کا نہیں جو میرے سر پر ہے، جواب ملا ہاں جانتے ہیں انہیں کا ہے، پھر آپ(ع) نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ علی(ع) سب سے پہلے ایمان لائے وہ علم وحلم میں سب سے برتر ہیں اورہر مومن اور مومنہ کے ولی ہی، جواب ملا ہاں جانتے ہیں۔ امام عالی مقام(ع) نے فرمایا پھر کس لیے تم میرے خون کو حلال جانتے ہو کیا تمہیں علم نہیں ہےکہ میرے والد(ع) روزِ قیامت حوض کوثر کے کنارے کھڑے ہوں گے اور لوگوں کے ایک گروہ ( گناہ گاروں ) کو اونٹوں کی طرح ہانک رہے ہوں گے جیسے پانی پینے کے وقت ہانکا جا تا ہے۔ اور لواء حمد اس روز میرے جد(ص) کے ہاتھ میں ہوگا۔ عمر سعد لعین کے لشکریوں کی طرف سے جواب آیا کہ  ہم یہ سب جانتے ہیں مگر ہم تم سے کوئی رعایت نہیں کریں گے یہاں تک کہ تم پیاس سے مرجاؤ۔ امام عالی مقام(ع) کی عمر اس وقت ۵۷ سال تھی، امام نے ان کو بھلائی کیطرف دعوت دینے کی خاطر فرمایا۔ کہ رب العزت نے اہل یہود پر اس وقت غصہ فرمایا جب انہوں نے کہا کہ عزیز(ع) خدا کا بیٹا ہے۔ پھر رب العزت نے اہل نصاری پر اس وقت شدید ناراضگی کا اظہار فرمایا جب انہوں نے مسیح(ع) کو خدا کا بیٹا کہا او پھر وہ اہل مجوس پر اس وقت غصہ میں آیا اور جب انہوں نے آگ کو اپنا خدا مانا۔ اور جان لو کہ خدا


 کا عذاب ان لوگوں کے لیے سخت تر ہے جہنوں نے اپنے پیغمبر(ص) کو قتل کیا اور وہ جمعیت جو اپنے پیغمبر(ص) کے فرزند کو قتل کرنا چاہتی ہے کے لیے خدا کاعذاب شدید تر ہوگا۔ یہ سن کر حر بن یزید ریاحی لشکر عمر سعد لعین سے نکل کر امام عالی مقام(ع) کے پاس آگئے اور کہنے لگے۔ خدایا میں تیری طرف پلٹ آیا ہوں میری توبہ قبول کر لے کہ میرے دل میں اس وقت تیرے صالح بندوں تیرے دوستوں اور تیرے پیغمبر(ص) کی اولاد کی حرمت جاگزین ہے ۔ پھر حر(رض) نے امام(ع) سے کہا۔ یا بن رسول اﷲ(ص) مجھے اجازت دیں کہ میں آپ(ع) کی طرف سے آپ کے دشمنوں کے خلاف جنگ کروں۔ امام نے ان کو اجازت دی حر میدان میں گئے اور رجز پڑھا کہ میں اپنی تلوار سے تمہارا سر جدا کردوں گا اور مجھ سے بہتر تلوار چلانے والا پورے عراق میں کوئی نہیں یہ کہہ کر حر نے حملہ کردیااور اٹھارہ لعینوں کو واصل جہنم کیا اور شہید ہوگئے۔ امام عالی مقام(ع) ، حر(رض) کی طرف بڑھے جب حر کے سرھانے پہنچے تو دیکھا کہ ان کے جسم سے خون فوارے کے طرح نکل رہا ہے یہ دیکھ کر امام نے فرمایا تجھے مبارک ہو، مبارک ہو، اے حر کہ اپنے نام کی طرح تم دنیا اور آخرت دونوں میں حر(رح) ( آزاد) ہو پھر امام عالی مقام(ع) حر کے سرہانے  کھڑے ہوکر یہ شرع پڑحے کیسا خوش قسمت حر بن ریاحی بہت صابر وشکر گزار ہے اور حر کیسا خوش قسمت  نیزہ باز ہے کہ اس نےکہا واحسینا اور اپنی جان مجھ پر فدا کردی۔

پھر زہیر بن قین بجلی میدان میں آئے اور امام نے ارشاد فرمایا ” ایوم نلقی جدک النبیاءو حسنا والمرتضی علیا“ زھیر نے جنگ کے دوران سولہ(۱۶) لعینوں کو واصل جہنم کیا جنگ کے دوران زھیر کہتے جاتے تھے کہ میں زہیر ہوں ابن قیس ہوں میں تمہیں اپنی تلوار سے قتل کردوں گا میں حسین(ع) کے ساتھ ہوں۔

پھر زہیر کی شہادت کے بعد حبیب بن مظاہر اسدی(رح) میدان میں گئے اور رجز پڑھا ” میں حبیب ابن مظاہر ہوں ہم اور تم ایک جیسے کس طرح ہوسکتے ہیں” اطہر ناصر خیر الناس حین یذکر“ جناب حبیب(رح) اکتیس(۳۱) لعینوں کو ٹھکانے لگایا اور شہادت کے رتبے پر فائز ہوئے۔

پھر عبداﷲ بن ابی عروہ غفاری(رح) میدان میں گئے اورلعینوں سے کہا” جانتے ہو بنو غفاری حق کے ساتھ


ہیں اور مددگاروان امام ہیں میں اپنی تلوار کے ذریعے تم سے انتقام لوں گا اور نابکاروں کو تہہ تیغ کروں گا جناب عبداﷲ بن عروہ نے جنگ کی اور (۲۰) بیس لعینوں کو واصل جہنم کیا اور شہید ہوگئے۔

ان کے بعد بریربن خفیر ہمدانی(رح) جو قاری قرآن تھے میدا میں گئے اور یہ رجز پڑھا” میں بریر ہوں اورمیرے والد خفیر ہیں اور اس میں خیر نہیں ہوتا جس میں شر ہو۔ “ جناب بریر(رح) نے جنگ کی اور تیس(۳۰) لعینوں کو کیفر کردار تک پہنچایا۔

پھر مالک بن انس کاہلی میدان میں آئے اور فرمایا ” جانتے ہو کہ میرا قبیلہ اورمیری قوم اپنی بہادری کی وجہ سے حریف کے لیے آفت ہے ہم سواروں کے سردار ہیں جان لو کہ آل علی(ع) شیعیان رحمان ہیں جب کہ آل حرب( بنی امیہ) شیعیان شیطان ہیں جنابِ مالک نے جنگ کے دوران اٹھارہ(۱۸) آدمیوں کو جہنم رسید کیا اور شہید ہوگئے۔

ان کے بعد زیاد بن مہاجر کندی  میدا ن میں آئے اور فرمایا میں زیاد ہوں اور میرے والد مہاجر ہیں میں شیر دل شجاع ہوں اے کافر و خدا نے مجھے حسین(ع) کی نصرت کےلیے مقررکیا ہے میں ابن سعد لعین سے نفرت کرتا ہوں اس کے بعد جنابِ زیاد بن مہاجر(رح) نے جنگ کی اور نو(۹) جہنمیوں کو ٹھکانے لگا کر شہید ہوئے۔

پھر وہب بن وہب میدان میں گئے ( وہب ایک نصرانی تھے جو کہ بدستِ امام مسلمان ہوئے تھے اور اپنی والدہ کے ہمراہ امام عالی مقام(ع) کے پاس کربلا میں حاضر ہوئے تھے۔) آپ نے خیمے کے بانس(ستوں) کے ساتھ جنگ کی اور سات (۷) یا آٹھ(۸) لعیینوں کو واصل جہنم کیا اور اسیر ہوگئے انہیں پکڑ کر عمر سعد لعین کے پاس لایا گیا اس نے حکم دیا کہ انکا سر کاٹ کر حسین(ع) کی جانب پھینک دو۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا جب وہب کی والدہ نے یہ  دیکھا تو انہوں نے ایک تلوار اٹھائی اور میداں میں آگئیں،۔ امام عالی مقام(ع) نےجب یہ دیکھا تو وہب کی والدہ سے مخاطب ہو کر فرمایا اے مادر وہب رک جاؤ اور اپنی جگہ پر واپس چلی جاؤ خدا نے عورتوں سے جہاد کی تکلیف کو اٹھا رکھا ہے تم اور تمہارا بیٹا میرے جد محمد(ص) کے ساتھ بہشت میں محشور ہوگے۔

اس کےبعد ہلال بن حجاج میدان میں گئے اور یوں رجز پڑھا ” میں اپنے دشمن کے


 نشانے مارتا ہوں انہیں کوئی فائدہ نہیں دیتا اور انہیں خوف میں مبتلا رکھتا ہوں“ آپ نے جنگ کی اور تیرہ (۱۳) لعینوں کو واصل جہنم کیا اور شہید ہوگئے۔

ان کے بعد عبداﷲ بن مسلم بن عقیل(ع) میدان میں آئے اور دشمنوں سے فرمایا میں قسم کھا تا ہوں کہ میرا خاتمہ آزادی کی موت کے علاوہ نہیں ہوگا اور موت ایک تلخ حقیقت ہے میں اس چیز کو بہت برا محسوس کرتا ہوں کہ خوف کھانے والا کہلایا جاؤں اور یہ بھی میرے لیے بہت برا ہے کہ میں تمہارے قتل سے گریز کروں پھر آپ نے جنگ کی اور (۳) تین ناریوں کو واصل جہنم کیا اور شہید ہوئے۔ پھر علی بن حسین(ع) (اکبر(ع)) میدان میں گئے جب آپ دشمن کے سامنے گئے تو امام عالی مقام(ع) کی آنکھوں سے اشک جاری ہوگئے ار فرمایا خدایا تو گواہ ہےکہ رسول خے بیٹے کا بیٹا جس کا چہرہ حسین و جمیل ہے اور جو ہم شکل پیغمبر(ص) ہے ان لوگوں کے سامنے ہے۔ جنابِ علی بن حسین(ع) (اکبر) نےفوج اشقیاء کے سامنے پینچ کر رجز پڑھا” میں علی بن حسین(ع) ہوں خدا کی قسم ہم نبی(ص) کے گھرانے کے اعلیٰ ترین فرد ہیں آج میں اپنے والد(ع) کے آس پاس سے تم برے لوگوں کو دور کردوں گا پھر جنگ سروع کی اور دس ناریوں کو یہہ تیغ کر کے واپس امام عالی مقام(ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا،بابا جان میں پیاسا ہوں امام نے فرمایا بیٹا صبر کرو تمہارے جد ابھی کچھ یہی دیر میں تمہیں بھر پور سیراب کریں گے پھر جنابَ علی اکبر(ع) دوبارہ میدان میں آئے اور بھر پور جنگ کی اور چوالیس (۴۴) ناریوں کو واصل جہنم کیا اور شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔

پھر قاسم بن حسن(ع) میدان میں آئے امام عالی مقام(ع) نے ان سے فرمایا میری جان تم بیتاب نہ ہو، ہر چیز فانی ہے۔ آج بہشت خلد سے تمہیں رزق پہنچایا جائیگا۔ جنابِ قاسم نے بھر پور جنگ کی اور شہید ہوگئے۔

پھر امام حسین(ع) بنفس نفیس میدان جنگ میں گئے اور تین(۳) آدمیوں کو قتل کیا پھر آپ(ع) اسقدر زخمی ہوگئے کہ گھوڑے کی پشت پر  قائم نہ رہ سکے اور زمین پر تشریف لے آئے امام عالی مقام(ع) نے جب دائیں اور بائیں کسی کو موجود نہ پایا تو سر مبارک آسمان کی طرف بلند کیا اور فرمایا ، یاخدایا تو دیکھ رہا ہے کہ لوگوں نے پیغمبر(ص) زادے کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے نبو کلاب نے فرات کا پانی اس


 پر بند کر دیا ہے تیروں سے اسے چھلنی کررہے ہیں۔ اور اسے گھوڑے سے نیچے گرا دیا ہے اسی اثناء میں ایک تیر آپ(ع) کی گردن میں آکر پیوست ہوگیا۔ امام عالی مقام(ع) نے اس تیر کو کھینچ کر نکالا اور بہتے ہوئے خون کو روکنے کےلیے اپنے ہاتھ کی ہتھیلی اس پر رکھی جن ہتھیلی خون سے تر ہوگئی تو اس خون کو اپنے چہرے اور ڈاڑھی پر مل لیا اور فرمایا میں اسی ستم رسیدہ و خون آلودہ حالت میں اپنے پروردگار سے ملاقات کرون گا ۔ پھر رخموں سے چور امام نے اپنے چہرہ مبارک کو بائیں طرف سے زمین پر رکھ دیا امام(ع)عالی مقام(ع) کی یہ حالت دیکھ کر دشمنان خدا سنان بن انس لعین اور شمر ذی الجوشن عامری لعین شامیوں کا ایک لشکر لے کر امام کے پاس آئے اور سرہانے کھڑے ہوکر ایک دوسرے سے  کہا اب، کس بات کا انتظار ہےکیا اس( امام عالی مقام(ع)) کو راحت پہنچانے کا ارادہ ہے یہ سن کر سنان بن انس لعین آگے بڑھا اور امام عالی مقام(ع) کی ڈاڑھی کو پکڑ کر ان کی گردن پر تلوار سے وار کرتا جاتا اور کہتا جاتا خدا کی قسم میں تیری گردن جدا کردون گا میں جانتا ہوں کہ رسول خدا(ص) کا بیٹا ہے۔ بہترین بندہ ہے اور بہترین مان باپ کی نسل ہے۔ امام عالی مقام(ع) کو اس حالت میں دیکھ کر امام کا گھوڑا امام کی طرف آیا اور اپنی پیشانی کو امام(ع) عالی مقام کے خون سے تر کر کے سر پٹ خیام کی طرف دوڑا اور بلند آواز سے ہنہنانے لگا دختران حسین(ع) اور مخدراتِ عصمت نے جب اس کی آواز سنی تو خیام سے باہر تشریف لائیں اور گھوڑے کی خالی زین اور خون آلودہ پیشانی دیکھ کر واویلا کرنا شروع کیا اور یہ جان لیا کہ حسین(ع) شہید ہوگئے ہیں۔ بی بی ام کلثوم(س) بنت حسین(ع) نے اپنا ہاتھ سر پر رکھ کر با آواز بلند گریہ کیا اور ہاتھ اپنے سر پر مار مار کر کہا وا محمداہ(ص) یہ حسین(ع) ہیں جو بیابان میں شہید ہوئے ہیں جن کی ردا اور عمامہ لوٹ لیا گیا ہے۔ پھر سنان لعین امام عالی مقام(ع) کے سر کو عبیداﷲ بن زیاد لعین کے پاس کے کر گیا اور کہنے لگا میں خیرالبشر اور دو جہاں کے شہنشاہ کا قاتل ہوں میں اس کا قاتل ہوں۔ جو حسب ونسب میں تمام لوگوں سے برتر تھا مجھے سو اونٹوں پر سونا اور چاندی لاد کر انعام میں دے۔ عبید اﷲ لعین نے کہا تم پر وائے ہو۔ اگر تم جانتے تھے کہ یہ حسب و نسب میں سب سے بہتر ہے تو اسے قتل کیوں کیا یہ کہہ کر اس نے جلاد کو حکم دیا کہ اس کی گردن اڑا دی جائے اور اس طرح یہ لعین واصل جہنم ہوگیا۔


اس کے بعد عبیداﷲ بن زیاد لعین نے ایک قاصد بی بی ام کلثوم بنت حسین(ع) کے پاس بھیجا جس نے انہیں ابن زیاد لعین کا یہ پیغام پڑھ کر سنایا۔ حمد اس خدا کی جس نے تمہارے مردوں کو قتل کیا یہ جو کچھ بھی تمہارے ساتھ ہوا ہے اسکے بارے میں تیرا کیا خیال ہے، بی بی(س) نے جواب میں فرمایا ۔ اے ابن زیاد لعین اگر تیری آنکھیں حسین(ع) کے قتل سے روشن ہوئی ہیں تو جان لے کہ میرے جد محمد مصطفی(ص) کی آنکھیں ان کے دیدار سے روشن ہوتی تھیں رسول خدا(ص) انہیں بوسے دیا کرتے اور ان کےلیے سواری بن کر انہیں اپنے شانوں اپنے پر سوار کروایا کرتے تھے تو ان کے جد کے لیے اپنا جواب تیار رکھ اس لیے کہ کل تیرے لیے بھی ایسا ہی ہے۔

خدا امام عالی مقام اور ان کے جانثاروں اور ان کی عترت طاہرہ(ع) اور مخدرات عصمت کے بلند مقامات کے طفیل ہمیں اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور قاتلان حسین(ع) پر اپنا سخت تر عذاب مسلط فرمایئے ۔ آمین۔

” لعنت بر آل معاویہ و یزید لعین۔“


مجلس نمبر ۳۱(بقیہ مجلس ۳۰)

(روز عاشورا محرم سنہ۳۶۸ھ)

شام غریبان

۱ـ           بی بی فاطمہ بنت حسین(س) نے فرمایا کہ جب کربلا میں ہمارے خیام کے گرد لوٹنے والوں کا ہجوم تھا تب میں چھوٹی بچی(کم عمر) تھی ان لعینوں میں سے ایک نے میرے کانوں سے گوشوارے جو کہ سونے کے تھے کھینچ لیے اور ساتھ ہی وہ رونے لگا میں ( فاطمہ بنت حسین(ع))نے اس لعین سے کہا اے دشمن خدا روتا کیوں ہے اس نےلعین نے کہا کہ رؤں کیوں نہ کہ میں نے دخترِ رسول(ص) کو تکلیف دی ہے بی بی فرمااتی ہیں مین نے کہا کہ پھر ایسا کیوں کرتا ہے تو کہنے لگا، مجھے یہ خوف ہے کہ اگر یہ گوشوارے میں نے نہ لیئے تو کوئی دوسرا ان کو لےلے گا بی بی(س) فرماتی ہیں ہمارے خیموں میں جو کچھ بھی تھا لوٹ لیا گیا اور ہمارے سروں سے چادریں تک اتروالی گئیں۔

۳ـ          عبیداﷲ ابن زیاد لعین کے ایک محافظ نے روایت کیا ہے کہ جب امام عالی مقام(ع) کا سر مبارک، ابن زیاد لعین کے پاس لایا گیا تو اس نے حکم دیا کہ اس کوسونے کے طشت میں رکھ کر میرے سامنے پیش کیا جائے جب سر مبارک کو طشت میں رکھ کر پیش کیا گیا تو اس لعین نے لکڑی کی ایک چھڑی کو آںحضرت(ع) کے دندان مبارک پر مار کر گستاخی کی اور بولا اے ابو عبداﷲ تم جلد بوڑھے ہوگئے ہو۔ اس کے دربار میں سے ایک آدمی کھڑا ہو اور ابن زیاد لعین  سے کہنے لگا جہان تو نے چھڑی رکھی ہوئی ہے وہاں پر میں نے رسول خدا(ص) کو حسین(ع) کے بوسے لیتے دیکھا ہے اس لعین نے جواب دیا یہ روز بدر کا بدلہ ہے پھر حکم دیا کہ علی بن حسین(ع) کو  طوق پہنا دیا جائے اور عورتوں اور بچوں کو قید کر کے زندان میں ڈال دیا جائے عبیداﷲ بن زیاد لعین کا محافظ کہتا ہے کہ میں جس گلی کوچے میں گیا میں


 نے دیکھا کہ ہر طرف گریہ و ماتم بپا تھا۔ ابن زیاد لعین کا یہ محافظ کہتا ہے  جب ابن زیاد لعین نے علی بن حسین(ع) اور دیگر مخدرات عصمتِ کو امام حسین(ع) کے سر مبارک کے ساتھ حاضر کیا تو زینب بنت علی(س) بھی ہمراہ تھیں۔ ابن زیاد لعین نے کہا میں خدا کی حمد کرتا ہوں جس نے تمہیں رسوا کیا اور تمہاری احادیث کو جھوٹا کردیا اس پر جنابِ زینب(س) نے فرمایا می اس خدا کی حمد کرتی ہوں جس نے اپنے رسول محمد(ص) کے سبب سے ہمیں گرامی رکھا اور  بہتر طریقے سے پاک و پاکیزہ کیا۔ بے شک فاجر، جھوٹ کہنے والا اور فاسق ، رسوا ہوتا ہے،ابن زیاد لعین نے کہا خدا نے تمہارے گھرانے کے ساتھ یہ کیا کیا ہے بی بی(س) نے فرمایا شہادت ان کا مقدر تھی اور یقینا خدا تم کو روزِ قیامت ان کے سامنے پیش کرے گا اور اس کے ہاں تمہارا محاکمہ ہوگا۔ یہ سن کر ابن زیاد لعین کو غصہ آگیا اور اس نے ارادہ کیا کہ بی بی(س) کے قتل کا حکم دے مگر عمرو بن حریث نے اس کو ایسا کرنے سے باز رکھا اس کے بعد بی بی(س) نے فرمایا اے بن زیاد تو نے جو کچھ ہمارے ساتھ  کیا ہے کیا وہ کم ہے، تونے ہمارے مردوں کو قتل کر دیا اور ہمارے شیرازے کو بکھیر دیا ہے، تونے ہماری خواتین کو اسیر کیا ہمارے بچوں پر ظلم ڈھایا اور ہماری حرمت کو مباح جانا ہے اگر اس سےتیرا مقصد اپنے دل کو راحت دینا تھا تو تو نے اسے کافی راحت پہنچا چکا۔ اسکے بعد ابن زیاد لعین نے حکم دیا کہ امام عالی مقام(ع) کے سر کے ہمراہ اسیروں کو شام روانہ کیا جائے ابن زیاد لعین کا محافظ کہتا ہے،رات کو ہم نے سنا کہ جنات امام عالی مقام پر نوحہ خوانی کررہے ہیں۔

قافلہ جب شام پہنچ گیا تو قیدیوں اور بی بیوں کو بے پردہ شہر میں داخل کیا گیا اہل شام نے جب قیدیوں کو دیکھا تو کہنے لگے آج سے پہلے ہم نے اس طرح کے نورانی چہروں والے معزز قیدی نہیں دیکھے، اہل شام نے قیدیوں سے دریافت کیا کہ تم کون لوگ ہو سکینہ بنت حسین(ع) نے انہیں مطلع کیا کہ ہم خاندان رسالت(ص) سے تعلق رکھتے ہیں۔

پھر قیدیوں کو شہر کے دروازے پر روک دیا گیا تب امام علی(ع) بن حسین(ع)(زین العابدین(ع)) کے پاس ایک شامی شخص آیا اور کہنے لگا حمد اس خدا کی جس نے تمہارے مردوں کو قتل کیا اور فتنہ کو خاموش کیا اور اس کے علاوہ جس قدر بر بھلا کہہ سکتا تھا اس نے کہا جب وہ یہ سب کہہ کر خاموش ہوگیا


تو امام علی بن حسین(ع) نے فرمایا کیا تو قرآن نہیں پڑھتا اس نے کہا ہاں پڑھتا ہوں تو آپ نے فرمایا کیا تو نے یہ آیت نہیں پڑھی کہ” میں تم سے جز نہیں مانگتا مگر یہ کہ تم میرے خاندان اورمیرے رشتے داروں سے محبت کرو“ (شورا، ۲۳)

وہ شامی کہنے لگا ہاں میں نے پڑھی ہے پھر آپ(ع) نے فرمایا کہ کیا یہ آیت پڑھی ہے” اپنے ذولقربی کا حق ان کو دیدو“کہنے لگا ہاں آپ(ع) نے فرمایا کہ وہ رشتے دار اور ذوالقربی ہم ہیں آپ(ع) نے پھر اس سے فرمایا کیا تونے یہ آیت پڑھی ہے” بیشک خدا نے چاہا اے اہل بیت(ع) کہ پلیدی کو تم سے ہٹا دے اور تم کو نہایت پاک کردے“ (احزاب، ۳۳)

کہنے لگا ہاں یہ بھی پڑھی ہے آپ(ع) نے فرمایا کہ اہل بیت(ع) ہم ہیں اس شامی نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیے اور کہا خدایا میں تیری بارگاہ میں توبہ کرتا  ہوں ، خدایا میں دشمنان اہل بیت(ع) اور قاتلان آل محمد(ص) سے بیزار ہوں ، خدایا میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں کہ میں قرآن پڑھتا تھا اور ان آیات اسے واقف نہ تھا۔

جب تمام اسیران اور مخدرات عصمت کو دربار یزید لعین میں لے جایا گیا اور امام عالی مقام(ع) کے سرمبارک کو یزید لعین کے سامنے رکھاگیا تب یزید کے حرم میں موجود خواتین نے واویلا و گریہ گیا۔ یزید لعین نے کہا کاش آج مقتولین بدر موجود ہوتے  تو دیکھتے کہ ہماری شمشیر نے ان کا بدلہ کس طرح لیا ہے کہ پھر اس لعین نے حکم دیا کہ امام کے سرمبارک کے مسجد دمشق ک دروازے پر لٹکایا جائے۔

بی بی فاطمہ بنت حسین(ع) سے روایت ہوا ہےکہ جب ہمیں دربار یزید لعین میں لے جا کر بٹھایا گیا تو ایک رقعت طاری ہوگئی اور تب ایک شامی جسکی رنگت سرخ تھی اٹھا اور کہنے لگا اے امیرالمومنین(لعین) اس بچی کو مجھے دیدو و اس کا چہرہ کتنا خوبصورت ہے میں اس کو اپنے پاس رکھوں گا بی بی فاطمہ بنت حسین(ع) فرماتی ہیں مجھے خوف محسوس ہوا کہ مجھے اسے دیدیا جائے گا تو مین نے اپنی ایک بڑی اور سمجھدار بہن کا دامن پکڑ لیا ، اس بی بی نے اس شامی سے کہا اے ملعون تو جھوٹ کہتا ہے نہ اس امر کا حق تجھے ہے اور نہ ہی تیرے امیر کو اس پر یزید لعین نے غصہ کیا اور کہا خدا کی قسم میں


 ایسا کرسکتا ہوں ، اگر میں چاہتا ہوں بی بی(س) نے فرمایا خدا کی قسم تجھے اس کا اختیار نہیں ہے مگر یہ کہ تو ہمارے دین اور امت سے باہر نکل جائے یزید لعین نے غصے سے کہا کہ تو مجھ سے اس لہجے میں بات کرتی ہے، میں نہیں تیرا باپ اور تیرا بھائی دین سے باہر نکل گئے ہیں بی بی(س) نے فرمایا کہ میرے باپ اور میرے بھائی نے اس دین کے ذریعے سے امت کو ہدایت دی ہےیزید لعین نےکہا اے دشمن خدا تم جھوٹ کہتی ہو بی بی(س) نے فرمایا لوگو اس امیر کو دیکھو کہ یہ دشنام دیتا ہے اور ظالم ہے اوراپنی سلطنت پر مغرور ہوگیا ہے یہ سن کر یزید کو شرم محسوس ہوئی اور وہ خاموش ہوگیا۔ یہ دیکھ کر اس شامی نے دوبارہ اپنی بات کو دھرایا کہ اس بچی کو مجھے دیدیا جائے یہ سن کر یزید نے اس سے غصے سے کہا خدا تجھے موت دے خاموش ہوجا تو وہ خاموش ہوگیا۔

بی بی(س) فاطمہ بنت حسین(ع) فرماتی ہیں پھر حکم یزید لعین پر عورتوں اور بچوں کو بیمار امام کے ساتھ زندان میں قید کردیا گیا جہاں سردی اور گرمی سے بچنے کا کوئی انتظام نہیں تھا یہاں تک کہ ہمارے چہروں کا گوشت موسموں کی سختی کی وجہ سے پھٹ گیا اور ادھر بیت المقدس میں کوئی پتھر ایسا نہ تھا کہ جس کے نیچے سے تازہ خون نہ جاری ہوا ہو لوگ سورج کی روشنی کو دیاروں پر رکھین پتون کی مانند سرخ دیکھتے تھے پھر ایک مدت کے عد ہم عورتوں اور بچوں کو امام علی بن حسین(ع) کےساتھ باہر نکالا گیا اور امام عالی مقام(ع) سب کے سر مبارک کو واپس کربلا پہنچایا گیا۔

۵ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا کہ جب لعین تلوار سے حسین بن علی(ع) کو شہید کرنے کے بعد فارغ ہوئے اور امام عالی مقام(ع) کےسرِ مبارک کےلے گئے تو رب العزت کی طرف سے عرش کے درمیان سے منادی دی گئی  کہ اے جابر و ظالم امت نبی (ص) کے اہل بیت(ع) کے ساتھ تمہارے اس ستم کے بعد خدا تمہیں ہرگز توفیق نہ دے گا کہ تم عیدا لاضحی اور عید الفطر کبھی مناسکو( تمہیں خوشی نصیب نہیں ہوگی) پھر امام صادق(ع) نے فرمایا کہ یہ لعین خدا کے اس حکم کی رو سے کبھی شادنہ ہوئے اور نہ کبھی ہوں گے یہاں تک کہ خدا خونِ حسین(ع) کا بدلہ لینے والے ( امام منتظر(ع) کا قیام نہ کردے۔


مجلس نمبر۳۲

(شب بارہ محرم سنہ۳۶۸ھ)

۱ـ   امام صادق(ع) نے فرمایا روزِ قیامت خدا لوگوں کو ایک سرزمین میں جمع کرے گا اور میزان رکھی جائے گی اور خونِ شہدا کو علماء کے قلم سے وزن کیا جائے گا اور علماء کے قلم کی سیاہی خونِ شہداء سے زیادہ وزنی ہوگی۔

۲ـ امام صادق(ع) نے فرمایا چھ چیزین ہیں جو کہ مومن کی موت کے بعد اس کو فائدہ دیتی ہیں فرزند صالح جو اس کے لیے مغفرت طلب کرے ، قرآن جو اس کے لیے پڑھا جائے ،کنواں جو کھودا گیا ہوا اور درخت جو لگایا گیاہو۔ اور صدقہ پانی جو جاری ہو اور نیکی کا طریقہ جس پر اس کےبعد عمل ہوتا ہو۔

۳ـ مالک بن انس فقیہہ مدینہ ( مالکی فقیہہ کے بانی) کہتے ہیں کہ میں امام صادق(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا وہ میرے نزدیک ہوئے میرا احترام کیا اور فرمایا اے مالک میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ میں (مالک) ان الفاظ کو سن کر بہت خوش ہوا اور خدا کی حمد کی، مالک کہتے ہیں جب بھی میں آپ(ع) کی خدمت میں گیا آپ تین کاموں میں سے ایک میں مصروف پایا۔ یا تو آپ روزہ رکھے ہوتے۔ یا آپ نماز پڑھ رہے ہوتے یا پھر ذکر الہی میں مشغول ہوتے آپ(ع) نے خدا کےبزرگ اور صالح ترین  بندوں سے تھے اور خدا سے بہت زیادہ ڈرتے اور حدیث بہت زیادہ بیان فرماتے تھے۔ مجلس کی رونق ان سے دوبالا رہتی اورہر وقت لوگوں کو ان سے فیض پہنچتا رہتا ۔ احکام دین اور حدیث بیان کرتے وقت خوف خدا دل کو گرفت کر لیتا اور اس وقت آپ(ع) کے چہرے کی رنگت زرد ہوجاتی اور مضطرب ہوجاتے یہاں تک کہ پہچانے نہ جاتے ایک دفعہ میں ان کے ساتھ حج پر گیا اور احرام کے بعد جب تلبیہ کہنے لگے توآپ کے حلق میں آواز پھنس گئی اور یہ حالت ہوگئی کہ جیسے  ابھی اپنی سواری سے گرجائیں گے، میں نے کہا اے فرزند رسول (ص) میں بھی آپ کے ہمراہ تلبیہ کہوں فرمایا اے ابو عامر کے بیٹے کہو۔لیکن پھر میں نے کہا اے فرزند رسول(ص)  مجھ میں  یہ کہنے کی جرات نہیں


 ہے ڈرتا ہوں کہ کہیں میں کہوں ” لبیک اللہم لبیک“ اور جواب میں خدا مجھے ”لا لبيک ولا سعديک “ کہہ دے۔

۴ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا میں ایسے شخص کو عجیب جانتا ہوں جو کہ دنیا کے مال میں بخل سے کام لیتا ہے جب کہ دنیا اپنے اندر دوزخ رکھتی ہے۔ اگر تم اس کی طرف پشت کر لو گے تو اس کے خرچ کا بار تم پر نہیں ہوگا اس طرح یہ تمہیں کو نقصان نہیں پہنچائے گی۔

مالک بن انس کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق(ع) سے سنا کہ امیرالمومنین(ع) سے پوچھا گیا کہ آپ(ع) عمدہ اور قیمتی گھوڑا کیوں نہیں خرید فرماتے آپ نے جواب دیا مجھے اس کی ضرورت نہیں کیونکہ نہ تو میں کبھی دشمن کو پیٹھ دکھا کر بھاگا ہوں اور نہ ہی میں بھاگنے والوں کا تعاقب کرتا ہوں۔

۵ـ          امام باقر(ع) نے فرمایا جب یہ آیت نازل ہوئی کہ” ہم نے ہر چیز کا احصا ( گنتی شمار ـ ایک جگہ پر جمع ہونا) امام مبین میں کردیا ہے“ (یسین) تو مجلس میں بیٹھے ہوئے اصحاب نے رسول خدا(ص) نے دریافت کیا کہ یا رسول اﷲ(ص) کیا امام مبین سے مراد قرآن ہے تو جواب ملا نہیں پھر پوچھا گیا کہ کیا توریت ہے تو آپ نے جواب دیا نہیں پھر پوچھا گیا کہ انجیل ہے تو آپ(ص) نے فرمایا نہیں اسی اثناء میں جنابِ امیرالمومنین(ع) تشریف لائے تو رسول اﷲ(ص) نے فرمایا بیشک وہ امام مبین یہ ہے کہ جس کے لیےخدا نے علوم اور ہر شے کا شمار کیا ہے۔

سفرِ ذوالقرنین(ع)

۱ـ وہب کہتے ہیں کہ میں نے خدا کی کتابوں میں سے ایک کتاب میں پڑھا کہ جب ذوالقرنین دیوار کی تعمیر سے فارغ ہوئے اور اپنے لشکر کے ساتھ آگے بڑھے تو ان کی ملاقات ایک بوڑھے آدمی سے ہوئی جو نماز میں مشغول تھا جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو ذوالقرنین(ع) نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہیں میرے لشکر سے خوف محسوس نہیں ہوا تھا۔ اس بوڑھے آدمی نے کہا میں اس سے مناجات کررہا تھا جس کا لشکر تیرے لشکر سے زیادہ قوی ہے جس کی سلطنت تجھ سے زیادہ غالب ہے اور جس کی طاقت کا اندازہ ہی نہیں ہے۔ اگر میں اپنا رخ تیری طرف کر لیتا تو اس سے اپنی


 حاجت طلب نہ کرسکتا ۔ ذوالقرنین(ع) نے اس سے کہا تم ہمارے ساتھ شامل ہوجاؤ میں تمہیں اپنے ملک میں برابر کا شریک کروں گا اور اپنے کاموں میں تجھ سے مشورے لیا کرونگا اس بوڑھے شخص نے کہا میری چار (۴) شرایط ہیں ذوالقرنین(ع) نے کہا بیان کر اس نےکہا مجھے ایسی نعمت دے جس کو زوال نہ آئے، ایسی صحت و تندرستی دے جس میں بیماری نہ ہو،  ایسی جوانی مجھے عطا کر جس میں بڑھاپا نہ ہو، اور مجھے ایسی زندگی دے جس مین موت نہ آئے۔

ذوالقرنین نے کہا  ایسی کونسی مخلوق ہے جس کے اختیار میں یہ سب کچھ ہو اس نے کہا کہ میں اس کے ساتھ ہوں جو ان سب پر اوت تم پر طاقت رکھتا ہے

پھر ذوالقرنین آگے بڑھے  اور ایک دانشمند سے ان کی ملاقات ہوئی اس نے ذوالقرنین(ع) سے کہا کہ مجھے بتائیں وہ کون سی دو چیزیں ہیں جو پیدا ہونے سے لے کر اب تک قائم ہیں اور وہ دو چیزیں کونسی ہیں جو آتی جاتی رہتی ہیں اور وہ دو چیزیں کونسی ہیں جو ایک دوسرے کی دشمن ہیں اور وہ دو چیزیں کونسی ہیں جو اپنی پیدائش سے لےکر اب تک جاری ہیں۔

ذوالقرنین(ع) نے جواب دیا کہوہ دو چیزیں جو اپنی پیدایش سے لے کر اب تک قائم ہیں زمین اور آسمان ہیں۔ جو دو چیزیں آتی رہتی ہیں وہ دن اور رات ہیں، وہ دو چیزیں جو ایک دوسرے کی دشمن ہیں زندگی اور موت ہیں اور وہ دو چیزیں جو اپنی پیدائش سے لے کر اب تک جاری ہیں سورج اور چاند ہیں اس شخص نے کہا تو امتحان میں کامیاب رہا واقعی تو دانش مند ہے۔

پھر ذوالقرنین یہاں سے روانہ ہوئے وہ ایک شہر میں گھوم رہے تھے ایک بوڑھے شخص سے ان کی ملاقات ہوئی جس کے پاس مختلف کھوپڑیاں جمع تھیں وہ ان کو اٹھا کر گھما گھما کر دیکھا تھا۔ ذوالقرنین(ع) یہ دیکھ کر رک گئے اور اس آدمی سے کہا تو کس لیے یہ انسانی کھوپڑیاں جمع کر کے بیٹھا ہے اور انہیں اٹھا کر گھما گھما کر دیکھتا ہے اس نے جواب دیا میں یہ اس لیے کررہا ہوں کہ جان سکوں کہ ان میں کون معزز تھا کون وضع دار اور کون شریف تھا، کون غنی اور کون فقیر تھا اور میں بیس (۲۰) سال سے اسی کام میں مشغول ہوں۔ لیکن میں اس فرق کو جان نہیں سکا ذوالقرنین(ع) نے کہا بس میں جان گیا کہ تیرا مقصد مجھے نصیحت کرنا تھا۔


پھر ذوالقرنین یہاںسے آگے روانہ ہوئے اور ایک اسی جگہ جا پہنچے جہاں انہیں قوم موسی(ع) کے دانشمندوں کا ایک گروہ ملا جو حق کی ہدایت کے ساتھ اںصاف کرتے تھے ذوالقرنین(ع) نے جب انہیں دیکھا تو کہا کہ اپنے حالات مجھ سے بیان کرو میں نے اس ساری زمین کا چکر لگایا ہے مشرق سے مغرب تک کا سفر کیا ہے صحراؤں۔ پہاڑوں میدانوں،۔ روشنی اور تاریکی سفر کیا ہے مگر تمہارے جیسا کسی کو نہیں پایا مجھے بتاؤ کہ تم نے اپنے مردوں کو قبریں اپنے گھروں کے دروازوں پر کیوں بنائی ہوئی ہیں۔ انہوں نے جواب دیا ہم نے یہ اس لیے کیا ہے تاکہ موت ہمیں ہر وقت یاد رہے، ذوالقرنین(ع) نے پوچھا کہ تمہارے گھروں کے دروازے کیوں نہیں ہیں، انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے درمیان چور اور بد دیانت لوگ نہیں ہیں سب ایماندار ہیں، پوچھا تم میں قاضی کیوں نہیں ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم ایک دوسرے پر ظلم نہیں کرتے۔ ذوالقرنین(ع) نے پوچھا ۔ تم میں حاکم کیوں نہیں ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ نہ ہم آپس میں جھگڑتے ہیں اور نہ ہی ہماری ایک دوسرے سے دشمنی ہے، پھر پوچھا کہ تمہاراکوئی بادشاہ ہے، تو انہوں نے جواب دیا نہیں  ہے کیوںکہ ہم زیادہ ( انعام واکرام) کی توقع نہیں رکھتے پھر پوچھا گیا کہ تم سب لوگوں کے واسائل برابر ہیں اور ان میں فرق نہیں ہے تا بتایا کہ ہم ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں اور مساوات سے رہتے  ہیں۔ ذوالقرنین(ع) نے پوچھا تم میں نزع و اختلاف نہیں ہے اس کی کیا وجہ ہے  جواب ملا ہم میں دلی اتحاد ہے ہم ایک دوسرے کو برا نہیں کہتے اور قتل نہیں کرتے اور فساد برپا نہیں کرتے پوچھا گیا کہ تم ایک دوسرے پر نفرین نہیں  کرتے ، انہوں نے جواب دیا کہ ہمارے ارادوں پر ہماری طبع کی نرمی غالب ہے ہم اپنے نفسوں کی اصلاح حلم و بردباری سے کرتے ہیں، پھر پوچھا کہ تم لوگ ایک ہی قول پر متحد رہتے ہو( ہم خیلا ہو اور ہم زبان ہو) وہ کہنے لگے ہم جھوٹ نہیں بولتے ایک دوسرے کو فریب نہیں دیتے ایک دوسرے کی بدگوئی نہیں کرتے ذوالقرنین(ع) نے پوچھا تم میں گدا گر و بھکاری کیوں نہیں ہیں، انہوں نے جواب دیا ہم اپنے اموال کو ایک دوسرے پر برابر تقسیم کردیتے ہیں، پھر پوچھا کہ تم میں بد خلق اور سخت گیر لوگ موجود نہیں ہیں اس کی کیا وجہ ہے، کہنےلگے کہ ہم عاجزی اور فروتنی رکھتے ہیں۔ ذوالقرنین(ع) نے پوچھا تمہاری لمبی عمروں کا راز کیا ہے، تو بتایا


کہ ہم حق پر عمل کرتے ہیں اور حق کے ساتھ اںصاف کرتے ہیں، پھر پوچھا کہ میں نے تم میں سے کسی کو غمگین نہیں دیکھا اس کی کیا وجہ ہے، جواب ملا کہ جب ہم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو ہم صبر اور شکر کرتے ہیں۔ پوچھا گیا تم پر قحط نہیں پڑتا اس کی کیا وجہ ہے، جواب ملا ہم ہر وقت توبہ و استغفار کرتے رہتے ہیں ذوالقرنین(ع) نے ان سے سوال کیا کہ تم لوگ آفات سے محفوظ رہتے اور عذاب کا شکار نہیں ہوتے  اسکے بارے میں بتاؤ تو بتایا کہ ہم غیر خداؤں پر ایمان (شرک) نہیں رکھتے ستاروں کو بلاؤں کا سبب نہیں سمجھتے اور نہ ہی ان سے بارش طلب کرتے ہیں، ذوالقرنین(ع) نے کہا اے لوگو مجھے بتاؤ کہ کیا تم نے اپنے آباء و اجداد کو بھی ایسا ہی پایا اور کیا وہ بھی ایسے ہی اعمال انجام دیا کرتے تھے انہوں نے کہا ہمارے اجداد کا طریقہ یہ تھا کہ وہ مسکین کے ساتھ ہمدردی کرتے فقیر کے ساتھ رحم روا رکھتے کوئی ظلم وستم کرتا تو اسے معاف کردیتے اور اگر کوئی ان کے ساتھ برائی کرتا تو اس کے بدلے اچھائی کرتے۔ بدکاروں کے لیے استغفار کرتے اور صلہ رحم سے کام لیتے اور کبھی جھوٹ نہ بولتے خدا ان کے اس امر کے سبب ان پر نزولِ رحمت کرتا۔ذوالقرنین(ع) اپنی موت کے آنے تک ان کے ساتھ رہے آپ نے پانچ سو سال عمر پائی۔

بنی مصطلق

۷ـ محمد بن مسلم کہتے ہیں امام باقر(ع) نےفرمایا کہ رسول خدا(ص) نے خالد بن ولید کو ایک قبیلہ بنی مصطلق کی طرف بھیجا جو قبیلہ بنی خذیمہ سے تھے اور ان میں اور بنی مخذوم جو کہ خالد کا قبیلہ تھا کے درمیان زمانہ جاہلیت سے عداوت چلی آرہی تھی،  جب خالد وہاں پہنچا تو انہوں نے اپنے اسلام کا اظہار کیا کیوںکہ ان میں سے اکثر لوگ آںحضرت(ص) کی خدمت میں آکر اسلام قبول کرچکے تھے اور رسول خدا(ص) سے امان نامہ حاصل کر چکے تھے۔ خالد نے منادی کو حکم دیا کہ نماز کےلیے اذان کہے۔ اذان کی آواز سن کر وہ لوگ امان نامے کے بھروسے اپنے ہتھیار اتار کر نماز کے لیے کھڑے ہوگئے نماز سے فارغ ہوئے تو خالد کے حکم پر خالد کے لشکرے نے ان پر حملہ کردیا اور ان کے بہت سے لوگوں کو قتل کردیا اور ان کا مال و متاع لوٹ لیا اور جنگ نہ کرنے کا جو حکم رسول خدا(ص) نے دیا تھا


اسے توڑ دیا اس قبیلہ کے باقی بچ جانے والے لوگ امان نامہ لیے رسول خدا(ص) کی خدمت میں آئے اور ان سے خالد کے مظالم بیان کیے حضرت(ص) یہ داستانِ ظلم سن کر روبہ قبلہ ہوئے اور عرض کی یا خداوندا میں تجھ سے خالد کے مظالم سے پناہ مانگتا ہوں اور جو کچھ اس نے کیا ہے میں اس سے بیزار ہوں اسی اثناء میں خالد آںحضرت(ص) کے لیے بطور مال غنیمت لوٹا ہوا سامان اور سونا لے کر آیا آپ(ص) نے وہ تمام سامان اور سونا لے کر امیرالمومنین(ع) کے حوالے کیا اور فرمایا اے علی(ع) یہ بنی مصطلق کے پاس لے جاؤ اور ان کو راضی کرو پھر اپنا پیر اٹھا کر فرما کہ طریقہ جاہلیت کو اپنے پاؤں کے نیچے اس طرح کچل دففو اور حکم خدا کے مطابق ان کے درمیان فیصلہ کرو۔ لہذا جناب امیر(ع) ان کے درمیان تمام سامان لے کر پہنچے اور خدا کےحکم کے مطابق فیصلہ کر کے واپس پلٹے جب واپس آئے تو آںحضرت(ص) نے پوچھا اے علی(ع)  کیا کر آئے؟ جنابِ امیر(ع) نے فرمایا یا رسول اﷲ(ص) پہلے ہر ایک کا خون بہا ادا کیا اور ہر بچے کے عوض جو کہ شکم مادر ہی میں ضائع ہوا تھا ایک کنیز یا غلام دیا اور ان کے ہر مال کا نقصان ادا کیا پھر جو مال میرے پاس بچا وہ میں نے ان کے وہ ظروف جن میں ان کے جانور پانی پیتے تھے کے عوض دیا پھر جو مال اس کے بعد میرے پاس بچ گیا وہ میں نے ان کے ان نقصانات کے بدلے ادا کیا جس کو وہ شمار نہ کرسکے تھے اور آخر میں میرے پاس جو کچھ بچا وہ سب میں نے ان میں اس نیت سے تقسیم کردیا کہ وہ خلوص دل سے آپ(ص) سے راضی ہو جائیں۔

جنابِ رسول خدا(ص) نے یہ سن کر فرمایا اے علی(ع) تم نے جو کچھ بھی کیا تھا وہ سب ان میں اس نیت سے تقسیم کردیا کہ وہ مجھ سے راضی و خوش ہوجائیں لہذا خدا تم سے راضی و خوشنود ہو تم میرے نزدیک مثل ہارون(ع) ہو جو موسی(ع) کے وصی تھے ۔ مگر یہ کہ میرے بعد کوئی پیغمبر نہ ہوگا۔


مجلس نمبر۳۳

(۱۵ محرم سنہ۳۶۸ھ)

فاتحہ الکتاب

۱ـ حضرت امیرالمومنین(ع)، جنابِ رسول خدا(ص) سے روایت کرتے ہیں کہ خدا فرماتا ہے فاتحہ الکتاب( سورة الفاتحہ) کو میں نے دو حصوں میں تقسیم کیا ہے، ایک حصہ اپنے بندوں کے درمیان تقسیم کیا ہے اور ایک حصہ مجھ ( خدا) سے ہے اس حصے سے جو میرے بندے کا ہے وہ  جو بھی خواہش کرتا ہے پوری ہوتی ہے۔ جس وقت بندہ کہتا ہے” بسم اﷲ الرحمن الرحیم“ تو خدا فرماتا ہے میرے بندے نے میرے نام سے آغاز کیا ہے اور مجھ پر لازم ہے کہ میں اس کی حاجات کو پورا کروں پھر جب بندہ کہتاہے ” الحمد ﷲ رب العالمین“ تو خدا  فرماتا ہے میرے بندے نے میری حمد کی ہے او جانا ہے کہ میں ہر نعمت رکھتا ہوں۔ میں اپنے بندے کی ہر بلا کو اس سے ہٹا دوں گا اور اس پر اپنا فضل کروں گا تم گواہ رہو کہ میں دنیا کی نعمتوں کے ساتھ اسے آخرت کی نعمتیں بھی عطا کروں گا اور اس پر سے عذاب کو ہٹا دوںگا بالکل اسی طرح سے جس میں نے دنیا کی مصیبتیں اس سے دور کردیں۔ پھر جب بندہ کہتا ہے” الرحمن الرحیم“ تو خداوند تعالی ارشاد فرماتا ہے میرے اس بندے نے گواہی دی کہ میں رحمن ہوں اور رحیم ہوں تو گواہ رہو کہ میں اس کو اپنی رحمت اور شان سے وافر حصہ عطا کروں گا پھر جب بندہ کہتا ہے ” مالک یوم الدین“ تو خدا کہتا ہے گواہ رہو میرے بندے نے اعتراف کیا ہے کہ میں مالک روزِ جزا ہوں میں اس کے حساب کو آسان کردوں گا اس کی نیکیاں قبول کروں گا اور اسکی برائیوں سے در گزر کروں گا پھر جب بندہ کہتا ہے ” ایاک نعبد“ تو خدا فرماتا ہےمیرے اس بندے نےسچ کہا ہے عبادت صرف میرے ہی لیے ہے میں اس کو اس کی عبادت کو ثواب دوں گا اور جو کوئی میرے خلاف عبادت کرے گا وہ اس بندے پر رشک کرے گا جب کہتا ہے ” وایاک نستعین“ تو خدا فرماتاہے اس نے مجھ سے مدد


 مانگی ہے اور پناہ چاہی ہے گواہ رہو میں اس کے کاموں میں اس کی مدد کروں گا اور سختیوں میں اس کی فریاد سنوں گا  جب بندہ کہتا ہے” اہدنا الصراط المستقیم۔۔۔“ آخر تک “ تو فرماتا ہے یہ میرے بندے کی طرف سے ہے اور میرا بندہ جو کچھ بھی طلب کرے گا اسے ملے گا اور اپنے بندے کی دعا قبول فرماتاہے اور کہتا ہے جو بھی تیری آرزو ہے میں اسے پورا کروں گا اور جس کسی کا بھی اسے خوف ہے اس کو اس سے دور کروں گا۔ جنابِ امیر المومنین(ع) سے عرض ہوا اے آقا ہمیں بتائیے کہ کیا” بسم اﷲ الرحمن الرحیم“ سبع مثانی(سات آیات) ، فاتحہ الکتاب، کا جز ہے  یا نہیں آپ(ع) نے وضاحت فرمائی کہ ہاں پیغمبر(ص) نے بسم اﷲ کو اس کی ساتویں آیت ہی شمار کرتے تھے اور پڑھتے تھے پھر فرمایا کہ فاتحہ الکتاب ہی سبع مثانی(سات آیات پر مشتمل سورہ ) ہے۔

۲ـ           جنابِ امیرالمومنین(ع)نے فرمایا ” بسم اﷲ الرحمن الرحیم“ سورہ حمد کی ایک آیت ہے۔ اور اس کا متن ہے میں (علی(ع)) نے رسول خدا(ص) نے سنا کہ خدا نے فرمایا اے محمد(ص) میں نے تم کو سبع مثانی دی اور تمام کتابوں کی بزرگ کتاب قرآن دیا اور سبع مثانی کو مجھے جدا عطا کیا اور اپنی تمام خلق کے سامنے اسے خزانہء عرش میں سے معزز ترین قرار دیا۔ اور مجھے شعراف عطا کی۔ میرے علاہ کسی پیغمبر کو اس میں شریک نہیں کیا سوائے سلمان(ع) کے کہ صرف” بسم اﷲ الرحمن الرحیم“ انہیں عطا نہیں کی گئی کہ اس کا ذکر داستانِ بلقیس میں آیا ہے( سبع مثانی میں بسم اﷲ شامل کر کے جنابِ سلیمان(ع) کو نہیں دی  گئی)

پھر جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا کہ مجھ تک ایک گراں قدر خط پہنچایا گیا ہے جو کہ جنابِ سلیمان(ع) کی طرف سے ارسال کیا گیا ہءے اور اس میں لکھا ہے” بسم اﷲ الرحمن الرحیم“ لوگو آگاہ ہوجاؤ کہ جو کوئی اس کو محمد(ص) و آل محمد(ع) کی پیروی اور دوستی کے ساتھ پڑھے گا اور ان کے امر کا مطیع ، ظاہری اور باطنی طور پر ہوگا تو خدا ہر حرف بدلے اس کو ایسی نیکی عطا کرے گا جو تمام دنیا و مافیہا سے بہتر ہوگی اور جب کوئی اس کو پڑ رہا ہوگا تو سننےوالے کو بہترین انواع اور اموال بخشش کیے جائیں گے اور چاہئے کہ جس طرف سے بھی  یہ خیر آئے اسے حاصل کر لو کہ اس کے پڑھنے کا بے حد ثواب ہے اور غنیمت ہے کہ تمہارے پاس ابھی موقع ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ وقت گذرے جائے


اور تم دل میں حسرت لیے رہ جاؤ۔

۳ـ امام باقر(ع) نے فرمایا جب یہ آیت نازل ہوئی کہ ” اس دن جہنم کو لایا جائے گا“ (فجر، ۲۳) تو رسول خدا(ص) سے اس کی تفسیر دریافت کی گئی آپ(ص) نے فرمایا روح الامین نے مجھے اس کی خبر دی ہے کہ خدائے واحد جب اولین و آخرین کو روزِ حساب جمع کرے گا تو دوزخ کو حاضر کیا جائیگا اور اسے کھینچ کر لانے کے لیے ایک ہزار مہاریں ڈالی جائیں گی ہر مہار کو ایک لاکھ فرشتے کھینچ رہے ہوں گے اور فرشتوں کو آگ سے محفوظ رکھنے کے لیے پروردگار خاص انتقام کرے گا دوزخ سے اس وقت آگ کی مہیب لپٹیں نکل رہی ہوں گی اس وقت لوگوں کو اس سے بے اندازہ دور کر دیا جائیگا ورنہ سب کےسب ہلاک ہوجائیں گے۔ پھر آگ کی ایک ایسی مہیب زبان اس سے برآمد ہوگی جو کہ سب گناہ گاروں کی اپنی لپیٹ میں لے لےگی اور اس قدر خوفناک ہوگی کہ فرشتے اور پیغمبر خدا(ص) سے فریاد کرینگے کہ ہمیں اس سے بچا اس وقت میں ( محمد(ص)) خدا اسے گذارش کروںگا کہ رب العزت میری امت کو اس سے بچا۔ پھر پل صراط لایا جائیگا جو کہ شمشیر سے زیادہ تیز ہوگا۔ اس پر تین گذر گاہیں ہوں گی ایک امانت و رحم کے لیے دوسری نمازیوں اور تیسری رب العالمین کے لیے میزان عدل ہوگی اس رب العالمین کے لیے  کہ جس کے عالوہ کوئی معبود نہیں لوگوں کو س تیسری گزرگاہ میزان  عدل سے گزرنے میں تکلیف ہوگی۔ اگر لوگ امانت اور رحم کی گذرگاہ سے گذر گئے تو پھر نماز کی گذر گاہ سے گزرن ہوگا اگر اس سے نجات پاگئے تو پھر اس دنیا کے بارے میں محاسبہ ہوگا۔ پھر رسول خدا(ص) نے اس آیت کی تلاوت فرمائی ” بیشک تیرا پروردگار کمین گاہ میں ہے“ (فجر) پھر فرمایا لوگ پل صراط پر اس حال میں ہوں گے کہ بعض آویزاں ہوں گے اور بعض لرزاں، لوگوں کے گروہ کے گرد اس وقت فرشتے جمع ہوجائیں گے اور آواز دیں گے اے حلیم ان کو معاف فرمادے ان کو سالم رکھ اور درگزر فرما ہھر لوگوں کو پروانے  دیئے جائیں گے جو لوگ نجات پا جائیںگے خداوند ان پر نظر رحم کرے گا لوگ اس کا شکر بجا لائیں گے اور رب العزت کی حمد کرین گے کہ اس نے ہمیں عذاب سے نجات دی اور اس حال سے کہ جس سے ہم نا امید ہوگئے تھے ہم پر اپنا فضل کیا۔ بے شک پروردگار معاف کرنے والا اور شکر گزار ہے۔


۴ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا مختلف طبقات کےلوگ پل صراط سے گذریں گے۔ صراط بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے۔ بعض لوگ اس پر برق کی مانند گزریں گے بعض اس طرح گذریں گے جیسے تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہوں۔ کچھ اس طرح گذریںگے جیسے پیدل چلا جاتا ہے بعض گھٹنوں کے بل اور بعض اس کےساتھ آویزاں ہوں گے کہ لوگ ان کو جلاتی ہوگی۔

۵ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جب خدا چاہتا ہے کہ خلق کو مبعوث کرئے تو چالیس (۴۰) روز تک آسمان کو زمین پر برسایا جاتا ہے پھر خلق کے لیے اجزا کو لے جایا جاتا ہے۔

۶ـ           ریان بن صلت کہتے ہین کہ امام   رضا(ع) نے اپنے اجداد(ع) سے نقل کیا کہ امیرالمومنین(ع) نے اپنے ایک صحابی کو عرصہ دراز کے بعد دیکھا جو کہ بوڑھا ہوچکا تھا آپ(ع) نے اس سے فرمایا اے بندہ خدا تم عمر رسیدہ ہوگئے ہو۔ اس نے کہا اے امیرالمومنین(ع) یہ بڑھاپا آپ(ع) کی اطاعت میں آیا ہے پھر آپ(ع) نے فرمایا یہ عصا راستہ چلنے کے لیے ہاتھ میں پکڑا ہے؟ اس نے کہا یہ آپ کے دشمنوں کی وجہ سے ساتھ رکھا ہے امیرالمومنین(ع) نے فرمایا تم میں ابھی طاقت باقی ہے؟ اس نے کہا یہ آپ کے آستانے کی برکت کی وجہ سے ہے۔ ریان بن صلتکہتےہیںکہامامرضا(ع) نے میرے لیے جنابِ عبدالمطلب(ع) کےاشعار بیان فرمائے۔ ہم سب لوگ زمانے کو عیب لگاتے ہیں حالانکہ زمانے میں کوئی عیب نہیں اگر عبیب ہے تو وہ ہم ین ہی ہے جو اس کے دامن کا دھبہ ہیں۔ در اصل عیب ہم لوگوں میں ہے مگر ہم ہیں کہ زمانے کو عیب گردانتے ہیں اگر(اﷲ) زمانے کو گویائی دیتا تو یقین ہے کہ وہ ہماری ہجو کرتا۔ غور کرو تو ایک بھیڑیا بھی دوسرے بھیڑیے کا گوشت نہیں کھاتا۔ یہ ہم ہی ہیں کہ کھلے عام ایک دوسرے کو کھائے جاتے ہیں۔

۷ـ          جنابِ علی بن ابی طالب(ع) نے فرمایا نا امیدی میں امید زیادہ ہوتی ہے۔ موسی بن عمران(ع) جب اپنے خاندان کے لیے آگ لینے گئے تو خدا ان سے ہم کلام ہوا اور موسی(ع) نبوت کے ساتھ واپس ہوئے۔ ملکہ سبا اپنے ملک سے باہر گئی اور مشرف با اسلام ہوئی اور سلیمان(ع) کی زوجیت میں آگئی اور فرعون کی عزت بڑھانے کی خاطر جادوگر جب مصر گئے تو ایمان کی قوت انہیں مل گئی۔

۸ـ          مفضل بن عمر کہتے ہیں کہ امام صادق(ع) نے فرمایا میرے والد(ع) نے اپنے والد(ع) سے روایت


کیا ہے کہ حسن بن علی بن ابی طالب(ع) اہل زمانہ مین سب سے زیادہ عابد و زاہد اور افضل تھے آپ(ع) ہمیشہ حج ادا کیا کرتے تھے اور اکثر پیدل برہنہ پاؤں حج پر جایا کرتے تھے۔ ہمیشہ جب موت کو یاد کرتے تو گریہ کرتے تھے جب روزِ محشر و قیامت کو یاد کرتے تو گریہ فرماتے تھے جب پل صراط پر سے گزرنے کو یاد کرتے  ملاقاتِ خدا کی یاد آتی تو زبردست گریہ گرتے کہ بے ہوش ہوجاتے آپ(ع) جب نماز کے لیے خدا کے حضور کھڑے ہوتے تو بدن کانپنے لگ جاتا اور لگتا تھا کہ آپ(ع) گر پڑیں گے اور گر جاتے جب یادِ بہشت و دوزخ آتی ہو پریشان ہوجاتے اور خدا سے بہشت طلب کرتے اور دوزخ سے پناہ مانگتے ۔ اور ہمیشہ قرآن سے یہ آیت  نہ پڑھتے” يا ایها الذين آمنوا “ تا ہم یہ کہتے ” لبیک اللہم لبیک“ جب بھی نظر آتے ذکرِ خدا میں مشغول نظر آتے اورتمام لوگوں میں سب سے زیادہ سچی بات کرنے والے تھے۔

ایک دن معاویہ نے کہا کہ حسن(ع) بن علی بن ابی طالب(ع) کو منبر پر بلایا جائے اور خطبہ دلوایا جائے تاکہ اس میں سے نقص نکال کر ان کی فضیلت کم کی جاسکے۔ جب آپ(ع) تشریف لائے تو آپ(ع)سے کہا گیا کہ منبر پر جائیں اور خطبہ دیں اور ہم کو نصیحت کریں۔ آپ(ع) اٹھے اور منبر پر تشریف لے گئے اور خدا کی حمد و ثناء کے بعد فرمایا اے لوگو جو کوئی مجھے پہچانتا ہے اور جوکوئی مجھے نہیں پہچانتا وہ جان لے کہ میں حسن بن علی بن ابی طالب(ع) ہوں میں عالمین کی  تمام عورتوں کی سردار فاطمہ بن رسول اﷲ(ص) کا بیٹا ہوں میں خدا کی بہترین خلق کا بیٹا ہوں میں رسول خدا(ص) کا فرزند ہوں میں وہ ہوں جس سے اس کاحق چھین لیا گیا۔ میں صاحب فضائل ہوں میں صاحب معجزات و دلائل ہوں میں امیرالمومنین(ع) کا بیٹا ہوں میں مکہ ومنی کا بیٹا ہوں میں مشعر( خبر دینے والا ۔ قربانی دینے کہ جگہ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے) وعرفات کا بیٹا ہوں معاویہ نے کہا اے ابو محمد(ع) اس بات کو چھوڑو اور خرمہ ( کھجور) کی تعریف بیان کرو آپ(ع) نے فرمایا اس کو گرمی بار آور کرتی ہے اور پکاتی ہے اور رات کی خنکی اس میں ٹھنڈک پیدا کرتی ہے۔ پھر آپ(ع)  دوبارہ اپنے کلام کی طرف پلٹے اور فریاما میں خلق خدا کا امام ہوں اور رسول خدا(ص) کا بیٹا ہوں معاویہ کو خوف پیدا ہوا کہ کہیں  اس کلام سے شورش برپا نہ ہوجائے وہ اٹھ کھڑا ہوا اور آپ کے خطبے کو قطع کردیا  اور کہا اے ابو محمد(ع) جو کچھ آپ(ع) کہہ چکے وہ کافی ہے آپ(ع) منبر سے نیچے اتر آئیں، آںحضرت(ع) منبر سے نیچے اتر آئے۔


مجلس نمبر۳۴

(۱۹ محرم سنہ۳۶۸ھ)

۱ـ      جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا تم میں سے جو کوئی مسجد میں جاروب کشی کرے گا تو خدا اسے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب عطا کرئے گا جو کہ نامہ اعمال میں لکھ دیا جائے گا اور جو کوئی مسجد میں سے کوڑا کرکٹ باہر کرے بیشک وہ آنکھ میں گر جانے والے کسی تنکے کے برابر ہی کیوں نہ ہو تو خدا تعالی ایسے شخص کو اپنی رحمت میں سے دو حصے عطا کرے گا۔

۲ـ امام صادق(ع) نے فرمایا موسی بن عمران(ع) سے رب العزت نے فرمایا میں ہرگز ( نافرمان و گنہگار) لوگوں کو سایہ عرش تلے جگہ نہیں دوں گا۔ جنابِ موسی(ع) نے خداوند عالم سے عرض کیا بارِ الہا پھر تیرے عرش تلےکون ہوگا تو ارشاد ہواکہ وہ لوگ جو اپنے ماں و باپ سے اچھے کردار سے پیش آتے ہیں اور ان پر نکتہ چینی نہیں کرتے۔

۳ـ جنابِ رسول خدا(ص) نےفرمایا وہ شخص عجیب ہے جو بیماری کے خوف سے کھانے میں تو پرہیز کرتا ہے مگر دوزخ کے خوف سے گناہوں میں پرہیز نہیں کرتا۔

۴ـ جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا بارالہا میرے خلیفہ پر رحم کر۔ میرے خلیفہ پر رحم کر۔ میرے خلیفہ پر رحم کر۔ آپ(ص) سے دریافت کیا گیا یا رسول اﷲ(ص) آپ(ص) کا خلیفہ کون ہے تو ارشاد فرمایا وہ بندہ ہے جو کہ میری حدیث و سنت کی تبلیغ کرتا ہے جس پر میری امت عمل کرتی ہے۔

۵ـ              امام صادق(ع) نےفرمایا ایک بار عیسی بن مریم(ع) اپنے تین اصحاب کے ساتھ کسی ضرورت کی غرض سے نکلے راستے میں ایک جگہ انہیں سونے کی تین اینٹیں پڑی نظر آئیں جنابِ عیسی(ع) نےفرمایا یہ لوگوں کو مار ڈالیں گی یہ کہہ کر آپ(ع) آگے روانہ ہوگئے جب کچھ دور  نکل آئے تو ان کے ہمراہ تین آدمیوں میں سے ایک نے بہانہ کیا اور واپس ہوگیا اس کی دیکھا دیکھی بقیہ دونے بھی بہانے سے واپسی کا راستہ لیا۔ جب یہ تینوں ان اینٹوں تک پہنچے تو ان میں سے دو آدمیوں نے ایک سے کہا کہ تم جاؤ اور سب کے لیے کھانا خرید لاؤ اس شخص نے جاکر کھانا خریدا اور اس میں زہر ملا دیا اور لے


 آیا تا کہ بقیہ دونوں کو قتل کر کے اکیلا ہی تینوں اینٹوں کا مالک بن جائے ادھر پیچھے رہ جانے والے دونوں آدمی یہ سازش کررہے تھے کہ جب وہ کھانا لے کر واپس آئے تو اسے قتل کردیا جائے اور ان اینٹوں کو آپس میں دو حصوں میں تقسیم کر لیا جائے جب وہ شخص کھانا لے کر واپس آیا تو ان دونوں نے مل کر اسے قتل کردیا اور اس کے بعد کھانا کھانے بیٹھ گئے۔ کچھ دیر بعد زہر آلود کھانا کھانے سے ان دونوں کی موت بھی واقع ہوگئی اور جب عیسیٰ بن مریم(ع) واپس آئے اور تینوں کو مرا ہو دیکھا تو اذنِ خدا سے انہیں دوبارہ زندہ کیا اور ان کی سرزنش کرتے ہوئے فرمایا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ یہ ( دولت) لوگوں کو قتل کردے گی ( لہذا ایسا ہی ہوا)

۶ـ           علی بن سری کہتے ہیں کہ امام صادق(ع) نے فرمایا خدا مومنین کو ایسی جگہ سے روزی عطا کرتا ہے جہاں سے وہ گمان بھی نہیں کرسکتے اور یہ اس لیے ہے کہ انسان اپنی روزی کے وسیلے کا ادراک نہ رکھنے کی وجہ سے بہت زیادہ دعا کرتا ہے۔

۷ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا کہ ایک درہم کا سود لینے کا گناہ بھی خدا کے ہاں ایسا ہے جیسا کہ انسان محرمات( ماں، خالہ، پھوپھی وغیرہ) سے تیس (۳۰) بار زنا کرئے۔

۸ـ          سیدة النساء فاطمہ(س) بن محمد(ص) نے فرمایا ک ایک بار رسول خدا(ص) شب عرفہ ہمارے گھر تشریف لائے اورہم سے فرمایا بیشک خدا تم پر مباہات کرتا ہے اس نے نے تم سب اور علی بن ابی طالب(ع) کی مغفرت قبول کی اور معاف کیا اور یہ خبر میں تمہیں دوستی و رشتے داری کی بنیاد پر نہیں بلکہ خدا کا رسول ہونے کے ناطے دے رہا ہوں اور یہ جبرائیل(ع) ہے جس نے مجھے خبر دی ہے کہ وہ بندہ سعادت مند اور کامل ہے جو علی(ع) سے دوستی کرئے اور اس سے محبت رکھے اس کی زندگی میں اور زندگی کے بعد بھی، اور کامل ترین شقی وہ شخص ہے جو علی(ع) کی زندگی میں اور اس کی موت کےبعد بھی اس سے دشمنی رکھتا ہو۔

۹ـ   انس بن مالک اپنی والدہ سے نقل کرتے ہیں اور کہ فاطمہ بنت رسول(ص) حیض و نفاس سے بالکل مبرا تھیں۔

۱۰ـ امام باقر(ع) نے فرمایا کہ جب میرے والد(ع) کا وقتِ رحلت قریب آیا تو مجھے سینے سےلگا کر فرمایا میرے بیٹے میں تجھے وصیت کرتا ہوں جیسے کہ میرے والد(ع) نے مجھے اور ان کے والد(ع) نے ان


سے کی تھی کہ خدا نہ کرئے تم کسی پر ظلم کرو تو پھر اس سلسلے میں خدا کے سوا کوئی مددگار نہیں ہے(یعنی صرف خدا ہی بخشش فرماسکتا ہے)

۱۱ـ حرث بن مغیرہ ںصری کہتے ہیں کہ امام صادق(ع) نے فرمایا جو کوئی واجب نماز کو ادا کرنے کے بعد دعا سے پہلے چالیس بار کہے”سبحان اﷲ والحمداﷲ ولا اله الا اﷲ واﷲ اکبر “ تو رب العزت سے جو بھی طلب کرے گا اسے عطا کیا جائے گا۔

۱۲ـ ابو سعید خدری(رح) کہتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا، جس رات مجھے معراج پر لے جایا گیا تو جبرائیل(ع) نے میرا ہاتھ پکڑا اور بہشت میں لے گئے مجھے ایک مسند پر بٹھایا اور ایک انار دیا جب میں نے اسے دو ٹکڑے کیا تو اس میں سے ایک نورانی حور نکلی جس کی آنکھیں انتہائی بڑی بڑی تھیں اس نے مجھے تہنیت پیش کی اور خوشخبری سنائی کہ درود ہو آپ(ص) پر اے احمد(ص) و رسول خدا(ص)، اے محمد(ص) میں آپ(ص) کے بھائی آپ(ص) کے وصی اور آپ(ص) کے وزیر علی ابن ابی طالب(ع) کے لیے پیدا کی گئی ہوں خدائے جبار نے مجھے تین جنسوں سے پیدا کیا ہے۔ میرا زیریں حصہ مشک کا ہے اور درمیانہ عنبر کا جبکہ بالائی حصہ کافور سے بنایا گیا ہے میں آبِ زندگی سے خمیر کی گئی ہوں اور خدائے جلیل نے جب  کہا ہو جا تو میں خلق ہوگئی رسول خدا(ص) فرماتے ہیں میں نے اس سے پوچھا کہ تو کون سے (تیرا نام کیا ہے) تو اس نے جواب دیا میں راضیہ مرضیہ ہوں۔

۱۲ـامام صادق(ع) نے اپنے والد(ع) سے روایت کی ہے کہ ایک دن رسول خدا(ص) سیاہ عبا پہنے ہوئے گھر سے برآمد ہوئے پھر اپنی اس عبا کو علی بن ابی طالب(ع) کو پہنایا۔ اور فرمایا میں اسے دوست رکھتا ہوں یہ مجھ سے مخصوص ہے اور میرا خاص الخاص ہے۔ یہ خدا کا برگزیدہ بندہ ہے۔ اس لیے کہ یہ میری طرف سے (حق) ادا کرنے والا ہے، یہ میرا وصی اور وارث ہے یہ روزِ اول سے مسلمان ہے اور ایمان میں سب سے زیادہ مخلص ہے۔ سب سے زیادہ سخی ہے، میرے بعد سید بشر ہے، اور نورانی ہاتھوں اور نورانی چہرے والوں کا قائد ہے، یہ اہل زمین کا امام ہے یہ علی بن ابی طالب(ع) ہے یہ فرما کر آپ(ص) نےگریہ فرمایا۔


صفین میں چشمے کا پھوٹنا

۱۴ـ          حبیب بن جبم کہتے ہیں کہ جب امیرالمومنین(ع) ہمیں لے کر صفین کو چلے تو بلقاء نامی جگہ پر ہم نے قیام کیا جو کہ ایک بے آب و گیاہ میدان تھا مالک بن اشتر(رح) نے آںحضرت(ع) سے عرض کیا ، یا امیرالمومنین(ع) یہ ایسی جگہ ہے کہ جہاں پانی میسر نہیں ہے یہ سن کر جنابِ امیر(ع) نے فرمایا اے مالک بے شک خدا ہم لوگوں کو بہت جلد یہاں شکر سے زیادہ میٹھا برف سے زیادہ ٹھنڈا اور شفاف و بلوریں پانی عطا کرے گا اور جو کہ یاقوت کی طرح مقطر ہوگا مالک  کہتے ہیں۔ اس جگہ محل وقوع دیکھ کر ہمیں یخ و شیرین پانی کی دستیابی پر حیرت ہوئی اور مگر ہمیں جنابِ امیر(ع) کے کلام میں کوئی شک نہیں تھا۔

پھر جنابِ امیر(ع) نے دوش مبارک سے ردا کو اتاری اور اپنی تلوار ہاتھ میں لی پھر اس میدان کے ایک انتہائی سخت ٹکڑے کی طرف آئے اور وہاں کھڑے ہو کر فرمایا اے مالک اپنے ساتھیوں  کے ساتھ اس جگہ کو کھودو، جب ہم نے اس جگہ کوکھودا تو ایک بڑا سا سیاہ پتھر نمودار ہوا جو کہ چمکیلا تھا آپ(ع) نے فرمایا اس کو یہاں سے ہٹاؤ ہم سو(۱۰۰) آدمیوں نے مل کر زور لگایا مگر اس پتھر کو ہلانے میں کامیاب نہ ہوسکے یہ دیکھ کر جنابِ امیر(ع) نزدیک آئے اور اپنے ہاتھ دعا کےلیے بلند کیئے اور فرمایا” طاب طاب مربا عالم طيبو ثاتو به شتما کو باحه حانو ثانو ديثا بر حوثا آمين آمين رب العالمين رب موسی و رب هارون“ اور پھر اکیلے ہی اس پتھر کو اٹھا کر چالیس(۴۰)قدم دور پھینک دیا مالک بن حارث اشتر(رح) کہتے ہیں کہ اس جگہ سے پانی کا ایک چشمہ جاری ہوا جس پانی برف سے زیادہ ٹھنڈا، شہد سے زیادہ میٹھا اور یاقوت سے زیادہ شفاف و مقطر تھا ہم سب اس چشمے سے خوب سیراب ہوئے اور اپنے مشکیزے اس کے پانی سے بھر لیئے جب ہم سیرابی آب سے فارغ ہوگئے تو جنابِ امیر(ع) نے حکم دیا کہ اس چشمے کو مٹی ڈال کر بند کردیا جائے چنانچہ ایسا ہی کیا گیا پھر ہم اس جگہ سے کوچ کر گئے کچھ دور جا کر جنابِ امیر(ع) نےہم سے دریافت کیا کہ تم میں سے کون اس چشمے کے مقام کو جانتا ہے سب نے کہا کہ ہم جانتے ہیں وہ چشمہ کہاں سے برآمد ہوا تھا یہ سن کر جنابِ امیر(ع) نے واپس پلٹنے کا حکم دیا جب واپس اس مقام پر


آئے تو کسی چشمے کے آثار نہ ملے ہم نے تلاش شروع کی کہ  دیکھیں چشمہ کہاں سے برآمد ہوا تھا مگر ہزار کوشش کے باوجود اس جگہ کو تلاش نہ کر سکے پھر ہم اس جگہ ہماری ملاقات ایک نصرانی راہب سے ہوئی جس کا نام صعومہ تھا جو اس قدر ضعیف تھا کہ اس کے آبرؤ اس کی آنکھوں پر گرے ہوئے تھے ہم نے اس راہب سے کہا، اے راہب اگر تیرے پاس پانی ہے تو ہمیں دے تاکہ ہم اپنے مولا و آقا کو پلائیں( کیوںکہ دوبارہ اس جگہ واپس لانے پر ہمیں یہ خیال پیدا ہوا تھا کہ شاید جنابِ امیر(ع) پر پیاس کا غلبہ ہوا ہے) اس راہب نے کہا میرے پاس پانی موجود ہے جو کہ میں نے دو روز قبل بھر تھا جب ہم نے اس پانی کو اس راہب سے لیا تو اسے بدمزہ و تلخ پایا ہم نے اس سے پوچھا کہ تو نے یہ پانی کہاں سے حاصل کیا ہے اس نے بتایا کہ یہ ایک چشمے کا پانی ہے اور اس پانی کو میں نے شیرین کرنے کو کوشش کی ہے لیکن پھر بھی تلخ ہے ہم نے اس سے کہا کہ کاش تونے وہ پانی پیا ہوتا جو ہمارے سرور نے ہمیں مہیا کیا تھا اور پھر اس واقعے (دستیابی آب) کو اس راہب سے بیان کیا اس نے دریافت کیا کہ کیا تمہارے سرور(ع) کوئی پیغمبر ہیں ہم نے جواب دیا نہیں وصی پیغمبر(ص) ہیں اس راہب نے درخواست کی کہ مجھے ان کے پاس لے چلو جب وہ جنابِ امیرالمومنین(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا تو جنابِ امیر(ع) نےاسے دیکھ کر فرمایا تم شمعون ہو اس نے کہا ہاں میں شمعون ہوں، آپ(ع) نے یہ کیسے جانا کہ میرا نام شمعون ہے جب کہ میرا یہ نام میری ماں نے رکھا تھا اورمیرے اور میرے خدا کے علاوہ اس کا کسی کو علم نہیں ہے، آپ(ع) نے فرمایا کہ یہ میرے علم امامت نے مجھے بتایا اس نے کہا کہ آپ(ع) اس چشمے کی بابت مجھے مطلع کریں تاکہ میں اپنے ایمان کو کامل کروں، آپ(ع) نے اس چشمے کی دریافت کا واقعہ اس سے بیان کیا اور فرمایا کہ اس چشمے کا نام حومہ ہے اور بہشت کے چشموں میں سے ایک ہے اور تین سو تیرہ (۳۱۳) اوصیاء (ع) سیراب ہوچکے ہیں اور میں آخری وصی ہوں جوکہ اس سے سیراب ہوا اس راہب نے کہا میں نے تمام کتابوں اور انجیل میں من و عنہ یہ واقعہ رقم پایا ہے پھر اس نے راہب نے گواہی دی اور کہا”أَشْهَدُ أَنْ‏ لَا إِلَهَ‏ إِلَّا اللَّهُ وَ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللَّهِ و انک “ اے وصی محمد(ص) میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی معبود بجز خدا کے نہیں اور محمد(ص) اﷲ کے رسول ہیں اور آپ(ع) وصی(ع) محمد(ص) ہیں۔ پھر اس راہب نے جنابِ امیر(ع) کے ساتھ کوچ کیا اور صفین کے مقام پر گیا اور جب دوںوں لشکروں کا آمنا سامنا ہوا تو وہ پہلا شخص تھا


 جس نے جام شہادت نوش کیا جنابِ امیرالمومنین(ع) اس کے سرہانے آئے۔ آپ(ع) کی آنکھوں سے اشک جاری تھے اور فرماتے تھے کہ جو بندہ جس کے ساتھ ہو اسے ہی دوست رکھتا ہے یہ راہب روز قیامت بہشت میں میرا رفیق ہوگا۔

۱۵ـ          امام صادق(ع) اپنے اجداد(ع) سے روایت کرتے ہیں کہ علی بن ابی طالب(ع) نے فرمایا ( ائمہ ء اہل بیت(ع)) مسلمانوں کے امام ہیں، زمین پر خدا کی حجت ہیں، مومنین کے سردار اور نورانی ہاتھوں اور نورانی چہرے والوں اور اہل ایمان کے سردار ہیں، ہم اہل زمین کے لیے امان ہیں کہ جس طرح ستارے اہل آسمان کے لیے امان ہیں، خداوند کریم نے ہمارے ذریعے سے آسمان کوقائم کیا ہے، یہ اس کی اجازت کے بغیر نہیں برستا کہ اہل پر موج نہ مارے ( خداوند کریم کے حکم سے آسمان اعتدال میں برستا ہے تاکہ باعثِ رحمت رہے مگر جب کبھی رب العزت  نا اہلوں کو عذاب میں مبتلا کرنا چاہتا ہے تو پھر یہ کھل کر برستا ہے اور طوفان کی موجیں ہرشے کو غرقاب کردیتی ہے جیسا کہ طوفان ںوح(ع)۔ ہماری وجہ سے بارش برستی ہے اور رب العزت اپنی رحمت نشر کرتا ہے اور زمین اپنی برکات باہر نکالتی ہے اگر امام کا وجود زمین میں نہ ہوتو زمین اپنے  بسنے والوں کو نگل جائے، پھر آپ(ع) نے فرمایا جس دن خدا نے آدم(ع) کو پیدا کیا اس دن سے زمین حجت خدا سے خالی نہیں رہی چاہئے وہ ظاہر ہو یا غائب و مستور۔ وہ خدا کی حجت ہے اور اگر اس طرح نہ ہوتا تو خدا کی عبادت نہ کی جاتی۔ سلیمان راوی حدیث کہتے ہیں کہ امام صادق(ع) سے پوچھا گیا کہ لوگ امام غائب سے کس طرح بہرہ مند ہوتے ہیں تو آپ(ع) نے فرمایا کہ جس طرح بادلوں کے پیچھے آفتاب سے ہوتے ہیں جنابِ شیخ صدوق(رح) کے  شاگرد بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد جنابِ شیخ نے یہ نظمیہ اشعار بیان فرمائے جو کہ امام منتظر(عج) کی شان میں کہے گئے تھے۔

                     عقل مند دانا خود سے موجود ہے

                                                             اور اپنی  جنسِ علم سے مستغنی ہے

اور اس سے دوسروں کو گرامی رکھے ہوئے ہے

                     اور اندازہ کرنا مشکل ہے کہ خود کس حال میں ہے۔(کہاں ہے)


مجلس نمبر۳۵

(۲۲ محرم سنہ۳۶۸ھ)

یہودی کے سوالات اور رسولِ خدا(ص) کے جوابات

۱ـ           امام حسن(ع) بن علی(ع) بن ابی طالب(ع) سے روایت ہوا ہے کہ کچھ یہودی رسولِ خدا(ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے، اے محمد(ص) آپ دعوی کرتے ہیں کہ آپ(ص) خدا کے رسول ہیں کیا آپ(ص) کو بھی اسی طرح وحی ہوتی ہے جس طرح موسی بن عمران(ع) کوہوتی تھی آپ(ص) نے توقف کیا اور فرمایا ہاں میں اولادِ آدم(ع) کا سردار ہوں اور میں اس پر فخر نہیں کرتا۔ میں خاتم النبیین(ص) ہوں، متقیوں کا امام اور رب العالمین کا رسول(ص) ہوں، یہ سن کر یہودی کہنے لگے آپ(ص) کوکن لوگوں پر رسول بنا کر بھیجا گیا ہے عربیوں ہر عجمیوں پر، یا ہم یہودیوں، پر تو خدا نے اس آیت کو نازل کیا۔ ” اے محمد(ص) ان سے کہہ دو کہ میں تمہاری طرف بھی اور باقی لوگوں کی طرف بھی رسول بناکر بھیجا گیا ہوں“ (اعراف، ۱۵۸) یہ سن کر ان یہودیوں میں موجود ان کے بڑے عالم نے جنابِ رسول خدا(ص) سے سوال کیا کہ مجھے آپ سے وہ دس احکامات پوچھنے ہیں جو خدا نے بوقتِ مناجات، بقعہء مبارک میں حضرت موسی بن عمران(ع) کو عطا کیے تھے اور سوائے خدا کے مقرب فرشتے یا اس کے پیغمبر مرسل کے کوئی نہیں جانتا رسول خدا(ص) نے اس یہودی سے فرمایا کیا تجھے اس کے علاوہ بھی کچھ پوچھنا ہے اس نے کہا کہ جب آدم(ع) نے خانہ کعبہ کو بنایا اور خدا نے ان کو برگزیدہ کیا تو اس وقت آدم(ع) کے کیا کلمات تھے۔

رسول خداص(ص) نے فرمایا کہ وہ کلمات” سُبْحَانَ اللَّهِ وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ‏ وَ لَا إِلَهَ‏ إِلَّا اللَّهُ وَ اللَّهُ أَكْبَرُ “ تھے اسیہودی نے کہا کہ آدم(ع)  نے خانہ کعبہ کو چار کونوں والا کیوں بنایا، آپ(ص) نے جواب دیا کہ انہیں چار کلمات کی وجہ سے، یہودی نے کہا اس کا نام کعبہ کیوں رکھا آپ(ص)نے جواب دیا کیوں کہ یہ دنیا کا وسط( مرکز) تھا۔ یہودی نے کہا مجھے ان کلمات کی تفسیر بتائیں آپ(ص) نے ارشاد فرمایا۔ خدا جانتا ہے کہ انسان اس (خدا) کے بارے میں جھوٹ بولتے ہیں ” سُبْحَانَ اللَّهِ “ ایسے


 لوگوں کے قول سے بیزاری کے لیے ہے” وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ“ اس لیے ہےکہ وہ (خدا) جانتا ہے کہ اس کے بندے اس کی نعمتوں کا شکر ادا نہ کریں گے اس لیے اس نے نعمتوں کے تشکر کے لیے خود کو مرکز قرار دیا تاکہ اس کا شکر ادا کیا جائے اور صرف اسی کی تعریف کی جائے۔ اور یہ اول کلام ہے اگر یہ(وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ) نہ ہوتا تو خدا کسی بندے کونعمت نہ دیتا اور کلمہ” لَا إِلَهَ‏ إِلَّا اللَّهُ“ توحید پرستی ہے جان لو کہ روزِ قیامت خدا میزان کوسخت تر کردے گا ( یعنی توحید کے ضمن میں سخت حساب ہوگا) اس کے بعد کلمہ” وَ اللَّهُ أَكْبَرُ“ کہ یہ خدا کے نزدیک برترین اور محبوب ترین کلممہ ہے یعنی یہ کہ مجھ ( خدا) سے بڑا کوئی نہیں۔ نماز اس کے بغیر شروع نہیں ہوتی بڑائی کا مقام صرف خدا کے ہاں ہے اور یہ نام اس کے اکرام کا ہے، یہودی نے کہا کہ آپ(ص) نے بالکل سچ فرمایا اے محمد(ص) یہ بتایئے کہ اس کو پڑھنے والے کو کی جزا کیا ہے آپ(ص) نے فرمایا جب بندہ کہتا ہے” سُبْحَانَ اللَّهِ“ تو زیرِ عرش جو کچھ بھی ہے اس کے ساتھ تسبیح کرتا ہے اور رب العزت اس کے پڑھنے والے کو دس گنا ثواب عطا کرتا ہے جب بندہ کہتا ہے” وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ“ تو خدا اس پر دنیا اور آخرت کی نعمتوں کے دروازے کھول دیتا ہے اور اس کا ثواب اس کو عطا کرتا ہے یہ وہ کلمہ ہے کہ بہشت جس وقت داخل بہشت ہونگے تو اسی کلمے کو کہتے ہوں گے انسان جو کلمات بھی دنیا میں ادا کرتا رہا ہے وہ اس وقت منقطع ہوجائیں گے  مگر” الْحَمْدُ لِلَّهِ“ باقی رہے گا یہ کلمہ خدا کا کلمہ ہے بہشتی لوگ بہشت میں بطور دعا اس کو ادا کریں گے اور یہ سلامِ ملاقات کے طور پر بھی استعمال ہوگا اور اس دعا کا آخری یہ ہوگا” ہر طرح کی حمد تمام جہاںوں کے پروردگار کے لیے ہے“ (یونس، ۱۰) پھر آپ(ص) نے فرمایا” لَا إِلَهَ‏ إِلَّا اللَّهُ“ کی جزا بہشت ہے قول خدا ہے” کیا نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا کچھ اور ہوسکتا ہے“ آپ(ص) نے فرمایا کیا” لَا إِلَهَ‏ إِلَّا اللَّهُ“ کی جزا بہشت کے علاوہ کچھ اور بھی ہوسکتی ہے یہودی نے کہا آپ(ص) نے سچ فرمایا میرے ایک مسئلہ کا جواب تو آپ(ص) نے دے دیا اب اجازت دیں کہ دوسرا مسئلہ دریافت کروں۔ آپ(ص) نے فرمایا جو چاہتا ہے پوچھ لے، امام حسن(ع) فرماتے ہیں کہ رسول خدا(ص) کے دائیں طرف اس وقت جبرائیل(ع) اور بائیں طرف میکائیل(ع) تھے جو کہ جوابات میں آپ(ص) کی مدد فرمارہے تھے، یہودی نے کہا کہ آپ(ص) کو محمد(ص) کا نام کس وجہ سے دیا گیا اور احمد(ص) اور ابوالقاسم(ص) و بشیر و نذیر اور داعی(ص) کس لیے پکارا جاتاہے


 پیغمبر(ص) نے فرمایا مجھے محمد(ص) کا نام اس لیے دیا گیا کہ میں زمین میں اس ( خدا) کی حمد کرنے والا ہوں احمد(ص) اس لیے دیا گیا کہ میں آسمانوں میں اس کی حمد کرنے والا ہوں ابوالقاسم(ص) اس لیے کہ خدا روز قیامت دوزخ و جنت کو تقسیم کرے گا اور جو کوئی اولین وآخرین میں سے میری حیثیت کامنکر ( کافر) ہے وہ دوزخ میں اور جو کوئی میری نبوت کا اقرار کرتا ہے وہ بہشت میں جائے گا(یعنی جنت و دوزخ کی تقسیم آںحضرت(ص) سے ہوگی) اور داعی(ص) اس لیے کہا جاتا ہے کہ میں اپنے رب کے دین کے طرف دعوت دیتا ہوں نذیر(ص) کہنے کی وجہ یہ ہے کہ جو کوئی بھی میری نافرمائی کرے گا میں اسے دوزخ سے ڈراؤں گا اور بشیر(ص) اس لیے کہ جو کوئی بھی میری پیروی کرے اسے بہشت کی نوید دوں۔ یہودی کہنے لگا آپ(ص) نے بالکل صحیح کہا اب مجھے مطلع فرمائیں کہ خدا نے آپ(ص) کی امت پر پانچ(۵) نمازیں کیوں فرض کی گی ہیں آپ(ص) نے فرمایا جس وقت آفتاب زوال کو پہنچے تو حلقہ بناتا ہے تاکہ اس کے اندر آجائے اور زوال شروع ہوجائے یہ وہ وقت ہے کہ زیر عرش ہر چیز تسبیح کرتی ہے، خدا کی حمد کرتی ہے اور اس وقت مجھ پر بھی درود بھیجا جاتا ہے لہذا اس وقت میرے رب نے مجھ پر اور میری امت پر نماز فرض کی ہے خدا تعالی فرماتا ہے۔

”أَقِمِ الصَّلاةَ لِدُلُوكِ الشَّمْسِ إِلى‏ غَسَقِ اللَّيْلِ “(بنی اسرائیل، ۷۸)

” یعنی نماز قائم کرو زوال آفتاب سے سرخی شب تک“ یہ وہ ساعت ہے کہ جب روزِ قیامت اس وقت دوزخ کو لایا جائیگا، تو وہ مومن جو سجدہ یا رکوع کی حالت میں رہا ہوگا( نماز ادا کرتا رہا ہوگا) خدا اس پر دوزخ کی آگ حرام کردے گا پھر خدا نے نمازِ عصر کا حکم ایسے وقت میں دیا کہ جب آدم(ع) نے درخت سے پھل کھایا اور بطور سزا انہیں بہشت سے نکال دیا گیا تو ان کی ذریت کو قیامت تک اس وقت نمازِ پڑھنے کا حکم دیا گیا اور اسی نماز اور اسی وقت کو میری امت کے لیے منتخب کیا گیا، یہ محبوب ترین نماز ہے اور خدا نے مجھے وصیت کی ہے کہ میں درمیان کی نمازوں کی حفاظت کروں۔

نمازِ مغرب ایسے وقت میں ہے کہ خداوند تعالیٰ نے آدم(ع) کی توبہ قبول کی اور آدم(ع) کے پھل کھانے سے لےکر توبہ قبول ہونے تک تین سو سال(۳۰۰) کا فاصلہ ہے جو دنیا کے وقت کے مطابق ہے جب کہ آخرت کا ایک دن ہزار سال کے برابر ہے یہی فاصلہ مغرب سے عشا کا ہے لہذا


آدم(ع) نے تین رکعت نماز ادا کی ایک رکعت اپنے گناہ کے بدلے اور ایک رکعت حوا کی غلطی کے ازالے کے طور پر اور ایک رکعت مغفرت کرنے کے واسطے، خداوند تعالیٰ نے ان تین رکعات کو میری امت پر فرض کر دیا اور یہ وہ وقت ہے کہ اس وقت دعائیں مستجاب ہوتی ہیں میرے پروردگار کا مجھ سے وعدہ ہے کہ جو کوئی بھی اس وقت دعا کی جائے گی وہ قبول کرے گا پس یہ ہیں وہ نمازیں جن کا خدا نے مجھے حکم دیا ہے اور فرمایا ہے ” پس تم اﷲ کی تسبیح کیا کرو جب صبح کرو اور جب تم شام کرو ” (روم،۱۷)

اور نماز عشاء اس لیے پڑھنے کا حکم دیا گیا ہےکہ قبر تاریک ہے اور قیامت بھی تاریکی رکھتی ہے تو یہ نماز اس بندے ( پڑھنے والے) کی قبر کو روشن کرے گی اور پل صراط پر انہیں نور عطا کیا جائے گا۔ خدا کے بندے جب بھی نماز عشاء قائم کرتے ہیں خدا ان کے بدنوں پر آگ حرام کردیتا ہے۔ یہ نماز خداوند تعالی نے مجھ سے پہلے رسولوں پر بھی فرض کی تھی۔

نماز فجر اس لیے ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ کہ آفتاب کے ظاہر ہوتے ہی شیطان بھی ظاہر ہوتا ہے۔ یہ نماز اس کے ظاہر ہونے سے پہلے ادا کی جاتی ہے اور اس سے قبل کہ کافر اس (شیطان) کے لیے سجدہ کرے خدا کے بندے خدا کو سجدہ کر لیں اس نماز میں جلدی خدا کے ہاں محبوب ترین ہے یہ وہ نماز ہے کہ فرشتے اس پر شب و روز گواہ ہیں۔

یہودی نے کہا کہ اے محمد(ص) آپ نے درست فرمایا۔ اب آپ(ص) مجھے بتائیں کہ نماز سے قبل بدن کے صرف چار حصوں کو ہی پاکیزہ کرنے کا کیوں حکم دیا گیا ہے۔(وضو)

آپ(ص) نے فرمایا کہ جب شیطان نے آدم(ع) کو وسوسے میں ڈال کر بہکایا اور وہ درخت کے قریب جاکر پھل توڑ کر کھانے لگے تو ان کی توقیر میں کمی کردی گئی اور ان کے جسموں سے لباس اور زیور اتروا لیے گئے آدم(ع) نے اپنا ہاتھ سر پر رکھ کر گریہ کیا۔ جب خدا نے ان کی توبہ قبول کیا تو بدن کے ان چار اعضاء کا وضو ان کی امت پر فرض کیا اول یہ کہ چہرے کو دھوئیں کہ جس چہرے سے آدم(ع) نے درخت کو دیکھا تھا۔ دوئم یہ کہ ان ہاتھوں کو دھوئیں کہ  جو آدم(ع) نے درخت کی طرف پھل توڑنے کے لیے بڑھائے تھے۔ سوئم یہ کہ سر کا مسح کریں کیوںکہ آدم(ع) نے بہ حالت پشیمانی اپنا ہاتھ سر پر رکھا تھا۔


اور چہارم یہ کہ پاؤں کو مسح کریں کیوں کہ انہیں پاؤں پر چل کر وہ شجرممنوعہ کی طرف گئے تھے۔ اور میری امت پر منہ میں پانی ڈالنے (کلی کرنے) کو سنت قرار دیا تاکہ دل حرام سے پاک ہو اور ناک میں پانی ڈالنا اس لیے قرار دیا تاکہ روز قیامت دوزخ گندگی اور بد بو سے محفوظ رہ سکیں یہودی نے کہا اے محمد(ص) آپ نے بالکل ٹھیک کہا۔ آپ(ص)  یہ فرمائیں کہ وضو کا فائدہ کیا ہے۔ آپ(ص) نے فرمایا جب ہاتھ پر پانی ڈالا جاتا ہے تو شیطان دور ہوجاتا ہے جب منہ میں پانی ڈالتے ہیں تو خدا دل و زبان کو نور حکمت سے منور کر دیتا ہے۔ جب وضو کا پانی ناک میں ڈالا جاتا ہے تو خدا اسے دوزخ سے امان دیتا ہے اور جنت کی خوشبو کو اس کے لیے مخصوص فرما دیتا ہے جب اپنا چہرہ دھوتا ہے تو خدا اس کا چہرہ روشن کردیتا ہے اور روز قیامت کچھ لوگ روشن چہروں والے اور کچھ سیاہ چہروں والے ہوں گے، جب دوںوں ہاتھ دھوئے جاتے ہیں تو خدا آگ کی تپش کو اس پر حرام کردیتا ہے اور جب پاؤں کا مسح کیا جاتا ہے تو اس دن کہ جب قدموں میں لغزش ہوگی خداوند کریم اس کو پل صراط عبور کروا دے گا، یہودی نے کہا اے محمد(ص) آپ نے بالکل ٹھیک فرمایا اب آپ(ص) فرمائیں کہ غسل کو صرف جنابت کی صورت میں ہی کیوں واجب کیا گیا جب کہ پیشاپ اور پاخانہ کے بعد کیوں فرض نہیں ہے۔ رسول خدا(ص) نے فرمایا جب آدم(ع) نے درخت سے پھل کھایا تو اس کا اثر ان کے بدن کے رگ و پے میں آگیا اور جب انہوں نے اپنی زوجہ سے مقاربت کی تو یہ اثر  ان کے نطفے میں منتقل و شامل ہوگیا تو خدا نے واجب قرار دیا کہ قیامت تک جنابت کے بعد غسل کیا جائے لیکن پیشاپ پینے والی اشیاء کا فضلہ ہے اور خوراک کا فضلہ پاخانہ ہے اس لیے صرف اس پر وضو کو لازم قرار دیا اور واجب کیا۔

یہودی نے یہ سن کر رسول خدا(ص) سے کہا کہ آپ(ص) نے درست فرمایا اے محمد(ص) یہ بتائیں کہ وہ شخص جو حلال جنابت کے بعد غسل کرے کےلیے کیا اجر رکھا گیا ہے۔

جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا کہ جب مومن اپنی زوجہ سے جماع کرتا ہے تو ستر ہزار فرشتے اس پر اپنے پر کھول کر رحمت نچھاور کرتے ہیں اور جب غسل کرتا ہے تو اس پانی کے ہر ایک قطرے سے اس کے لیے بہشت میں گھر بناتے ہیں اور غسلِ جنابت خدا اور بندے کے درمیان ایک راز


ہے۔ یہودی نے کہا اے محمد(ص) آپ نے بالکل سچ فرمایا اب میرے چھٹے سوال کا جواب دیں کہ وہ کونسی پانچ چیزیں ہیں جو توریت میں مندرج ہیں جن کے بارے میں خدا نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ موسی بن عمران(ع) کی طرف ان کی پیروی کریں۔

جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا میں تم کو خدا کی قسم دیتا ہوں کہ اگر میں نےتمہیں ان کے متعلق بتا دیا تو کیا میرا اعتراف کر لوگے ( میری نبوت تسلیم کر لو گے) یہودی نے اقرار کیا تو آپ(ص) نے فرمایا توریت میں لکھا ہے محمد(ص) اﷲ کے رسول ہیں( عبرانی) زبان میں میرے لیے لفظ طاب استعمال ہوا تھا اس کے بعد آپ(ص) نے ان آیات کی تالوت فرمائی، ” جیسے لکھا ہوا پائیں گے اپنے ہاں توریت اور انجیل میں“ ( اعراف، ۱۵۷) ایک رسول کی بشارت دینے والا کیوں کہ میرے بعد جو آئے گا اس کا نام احمد(ص) ہوگا“( صف) اس کے بعد آپ(ص) نے فرمایا دوسری چیز جو توریت میں لکھی ہے وہ یہ ہے کہ میرے وصی کا نام علی ابن ابی طالب(ع) ہے سوئم اور چہارم یہ کہ میرے فرزندان حسن(ع) اور حسین(ع) اور پنجم یہ کہ ان کی ماں فاطمہ(س) ہے جو کہ عالمین کی عورتوں کی سردار ہے توریت میں میرا نام طاب(ص) میرے وصی کا ایلیا(ع) میرے دونوں سبط شبر(ع) اور شبیر(ع) کے نام سے پکارے گئے ہیں یہ دونوں فاطمہ(س) کے نور ہیں۔

یہودی نے کہا آپ(ص) نے بالکل درست فرمایا آپ(ص) بتائیں کہ اہل بیت(ع) کی فضیلت کیا ہے آپ(ص) نے جواب دیا، میں تمام انبیاء(ع) پر برتری رکھتا ہوں ہر نبی نے اپنی قوم کے لیے دعا کی ہے جب کہ میں نے اپنی دعا کو آخرت کے لیے رکھ چھوڑا ہے اور میں اپنی امت کی شفاعت روزِ قیامت کروں گا اور میرے اہل بیت(ع) اور ان کی ذریت(ع) کی فضیلت اس طرح کی ہے جس طرح پانی کی فضیلت دوسری اشیاء پر ہے کہ اس سے زندگی کا وجود ہے۔ اور محبت اہل بیت(ع) کمال دین ہے۔ پھر آپ(ص) نے یہ آیت تالوت فرمائیں۔

”آج میں نے دین کو تمہارے لیے کامل کر دیا اور اپنی نعمت کو تم پر تمام کیا ہے اور اسلام کو پسندیدہ دین قرار دیا ہے۔۔۔۔ تاآخر ( مائدہ، ۳)

یہودی نے کہا اے محمد(ص) آپ  نے بالکل سچ بیان فرمایا اب مجھے یہ بتائیں کہ مردوں کو


عورتوں پر کیا برتری ہے۔ آپ(ص) نے فرمایا جس طرح آسمان کی برتری زمین پر اور پانی کی برتری مٹی پر ہے کہ پانی سے ہی زمین کی زندگی ہے۔ اسی طرح مردوں سے عورتیں زندہ ہیں اگر مرد نہ ہوتے تو عورتیں پیدا نہ کی جاتیں خدا فرماتا ہے۔ ” مرد عورتوں کے سرپرست ہیں“ ( نساء، ۳۴) اسی لیے خدا نے بعض کو بعض دوسروں پر برتری دی ہے۔ پھر یہودی نے دریافت کیا ، کہ خدا نے یہ کس لیے فرمایا کہ آدم(ع)کو طین(مٹی) سے پیدا کیا اور باقی مٹی سے حوا کو خلق کیا جبکہ اول بندہ جس نے عورت کی پیروی کی وہ آدم(ع) تھے کیا  یہ بات صرف دینا ہی کے لیے تو نہیں۔ آپ(ص) نے ارشاد فرمایا کیا تم نہیں دیکھتے کہ کس طرح عورتوں کو حیض آتا ہے اور انہیں اس حالت میں عبادات سے روکا گیا ہے جب کہ مردوں کے لیے حیض نہیں ہے۔

یہودی نے کہا بالکل درست فرمایا آپ(ص) نے اے محمد(ص) ۔ اب مجھے بتائیں کہ آپ(ص) کی امت پر خدا نے تیس روزے فرض کیے ہیں جبکہ پچھلی امتوں پر تیس(۳۰) سے زیادہ واجب کیے گئے۔ رسول خدا(ص) نے فرمایا کہ کب آدم(ع) نےشجر ممنوعہ سے پھل توڑکر کھایا تو وہ ان کے شکم میں تیس (۳۰) دن رہا۔ خدا تعالی نے اس کے بدلے ان کی نسل پر تیس (۳۰) روز کی بھوک اور پیاس کو فرض کیا۔ اور یہ خدا کا فضل ہے کہ اس نے رات کو کھانے کی اجازت دی اس لیے یہی آدم(ع) پر فرض ہوا اور میری امت پر بھی پھر رسول خدا(ص) نے اس آیت کی تلاوت فرمائی ” تم پر روزے لکھ دیئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے جو گذرے ان پر بھی فرض تھے شاید کہ تم تقوی اختیار کرو یہ چند روز کی زندگی ہے۔“ (بقرہ، ۱۸۳)

یہودی نے کہا آپ(ص) نے سچ کہا یہ بتائیے کہ روزے کی جزا خدا کیا دیتا ہے آپ(ص) نے جواب دیا جو مومن خدا کے فرمان کے مطابق روزہ رکھتا ہے تو خدا اس کے سات اجر عطا کرتا ہے۔

اول :۔       اس کے بدن سے حرام کو پگھلا دیتا ہے۔

دوم :۔       اﷲ کی رحمت کے قریب ہوجاتا ہے۔

سوم :۔      اس کے باپ آدم(ع) کے گناہ کا کفارہ ہوجاتا ہے۔

چہارم :۔     موت کے وقت جان کنی کی تکلیف اس پر آسان کردیتا ہے۔


پنجم :۔       قیامت کے دن کی بھوک اور پیاس سے امان دیتا ہے۔

ششم :۔     خداوند کریم اس کو دوزخ کی آگ سے برائت نامہ عطا کرتا ہے۔

ہفتم :۔      اور اس کو جنت کے پھل کھلاتا ہے۔

یہودی نے اقرار کیا کہ یہ سچ ہےپھر آپ(ص) سے کہا، مجھے بتائیں کہ خدا نے وقوف عرفات کا حکم عصر کے بعد کیوں دیا۔؟

آپ(ص) نے فرمایا ۔ عصر ہی وہ ساعت ہے جب آدم(ع) نے غلطی کی اس لیے خدا نے فریاد گذاری کے لیے اس وقت کو بہترین جگہ پر قرار دیا اور جس وقت لوگ میدان عرفات سے واپس ہوئے وہ ضامنِ بہشت ہوا یہی وہ ساعت ہے جب خدا نے آدم(ع) کو کلمات  تعلیم کیے تھے ان کو توبہ قبول کی تھی اور یہ کہ وہ توبہ کو قبول کرنے والا  اور مہربان ہے پھر پیغمبر(ص) نے فرمایا قسم ہے اس کی جس نے مجھے حق کے ساتھ بشیر و نذیر مبعوث کیا خدا نے کچھ باب( دروازے) مقرر فرمائے ہیں جو کہ آسمان میں ہیں باب رحمت۔ باب توبہ۔ بابِ حاجات۔ بابِ تفضل۔ بابِ احسان۔ بابِ جود و کرم۔ اور بابِ عفو جو کوئی بھی اس وقت عرفات میں جمع ہو اس پر یہ دروازے کھول دیئے جاتے ہیں رب العزت سوا دو لاکھ فرشتوں کو معمور فرماتا ہے کہ اہل عرفات پر رحمت بھیجیں اور جب وہ فرشتے واپس ہوتے ہیں تو خدا ان کو اہل عرفات پر گواہ کرتا ہے کہ یہ دوزخ سے ہٹادیئے گئے اور بہشت ان پر واجب کردی گئی ہے پھر ہاتف اس وقت ندا دیتا ہے کہ تمہیں معاف کر دیا گیا ہے اور تم نے جس طرح مجھے ( خدا کو) خوشنود کیا ہے میں تمہیں خوشنود کرتا ہوں۔ یہودی نے کہا آپ(ص) نے بالکل سچ فرمایا اب آپ(ص) میرے آخری سوال کی وضاحت فرما دیجئے کہ وہ سات خصوصیات کیا ہیں جو آپ(ص) کو باقی انبیاء(ع) سے مختلف عطا کی گئی ہیں اور آپ(ص) کی امت کو دیگر امتوں کی نسبت بخشی گئی ہیں۔

رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا۔ خدا نے مجھے اور میری امت کو جو سات خصوصیات دی ہیں وہ یہ ہیں۔

اول :۔       فاتحہ الکتاب۔

دوم :۔       مسجد میں اذان و جماعت

سوم :۔      جمعہ کے روز نماز ( نماز جمعہ)


چہارم:۔      تین نمازوں میں جہر قرآئت ( اونچی آواز سے قرآئت کرنا)

پنجم :۔       بیماری اور سفر کی حالت میں عبادت سے رخصت

ششم:۔      نمازِ میت

ہفتم:۔       اہل کبائر کی شفاعت

یہودی نے کہا آپ(ص)نے بالکل ٹھیک فرمایا اب یہ بتائیے کہ فاتحہ الکتاب کو پڑھنے کا اجر کیا ہے۔ جنابِ رسول خدا(ص)نے فرمایا جو کوئی فاتحہ الکتاب ( سورہ فاتحہ) پڑھے گا تو خدا ہر اس آیت کا ثواب جو کہ آسمان سے نازل ہوئی ہے اس کو عطا کرے گا اور اذان دینے کا ثواب یہ ہے کہ موذن ، انبیاء و صدیقین، صالحین اور شہدا کے ساتھ محشور ہوگا۔

اور نمازِ جماعت ادا کرنے کا ثواب یہ ہے کہ میری امت کی صفیں ملائکہ کی صفوں کے برابر ہونگی جو کہ آسمان میں قائم کی جاتی ہیں کہ جس کی ایک رکعت چوبیس رکعتوں کے برابر اجر و ثواب رکتھی ہے اور خدا کے نزدیک محبوب ترین رکعت اور چالیس سال کی عبادت کے برابر ثواب رکتھی ہے روزِ قیامت جب اولین و آخرین اکٹھے ہوں گے تو جو مومن بھی جماعت کے ساتھ رکعات ادا کرتا رہا ہوگا اﷲ جل جلالہ اس کے خوف کو کم کردے گا جو کہ اس دن سے متعلق وہ ( بندہ) رکھتا ہوگا اور اس بندے کے لیے خدا بہشت کا حکم دے گا جیسا کہ قرآن میں ذکر ہے۔

دوران نماز قرائت بالجہر کرنے سے دوزخ کے شعلے اس سے اتنے دور کردئیے جائیں گے کہ جہاں تک اس کی آواز جاتی رہی وہ بندہ خوش ہوکر پل صراط سے گذرے گا اور جنت میں داخل ہوگا جس کسی نے بھی خدا کے لیے نماز پڑھی ہوتو خدا اس پر بہشت واجب کردے گا مگر یہ کہ وہ منافق اور والدین کا عاق شدہ نہ ہو۔ اور میری شفاعت میری امت کے لیے ہے مگر یہ کہ وہ مشرک اور ظلم کرنے والا نہ ہو۔ یہودی نے کہا آپ(ص) نے بالکل سچ بیان فرمایا اے محمد(ص) میں گواہی دیتا ہوں کہ خدائے واحد کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ(ص) اس کے بندے اور رسول اور خاتم الانبیاء اور امامِ المتقین(ص) ہیں جب یہ یہودی مسلمان ہوگیا۔ تو اس نے آںحضرت(ص) کی خدمت میں ایک سفید کاغذ پیش کیا جس پر وہ سب کچھ لکھا تھا جو کہ جنابِ رسول خدا(ص) نے بیان فرمایا تھا یہودی نے کہا یا رسول اﷲ(ص) قسم


ہے اس خدا کی جس نے آپ(ص) کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے یہ نسخہ میں نے ان الواح سے نقل کیا ہے جن کو خدا نے موسی بن عمران(ع) پر نازل کیا۔ میں نے آپ(ص) کی فضیلت کو توریت میں پڑھا تھا مگر اس میں شک کرتا تھا چالیس(۴۰) سال تک میں آپ(ص) کے نام کو توریت میں سے مٹاتا رہا مگر جب دوسرے دن دیکھتا تو اسی جگہ لکھا ہوا پاتا اور توریت میں یہ بھی پڑھتا کہ ان مسائل کا جواب آپ(ص) کے علاوہ کوئی اور نہیں دے سکے گا اور اس وقت سے کہ جب سے میں یہاں آیا ہوں جبرائیل(ع) کو آپ(ص) کے دائیں میکائیل(ع) کو بائیں اور آپ(ص) کے وصی(ع) کو آپ(ص) کے سامنے بیٹھا ہوا دیکھ رہا ہوں۔

جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا تو نے بالکل سچ کہا ہے جبرائیل(ع) میرے دائیں طرف اور میکائیل(ع) میرے بائیں طرف ہیں اور یہ میرے وصی علی بن ابی طالب(ع) ہیں پس وہ یہودی ایمان لایا اور بہترین اسلام پر تھا۔


مجلس نمبر۳۶

(۲۹ محرم سنہ۳۶۸ھ)

خدا اور داؤد(ع)

۱ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا کہ خدا نے داؤد(ع) کو وحی کی کہ اے داؤد(ع) میں دیکھتا ہوں کہ تم تنہائی میں گذر اوقات کررہے ہو۔ داؤد(ع) نے عرض کیا بار الہا میں نے تیری خاطر لوگوں کو چھوڑ رکھا ہےاور انہوں نے مجھے، پھر ارشاد ربانی ہوا تم خاموش کیوں رہتے ہو داؤد(ع) نے کہا رب العزت تیرے خوف سے میں خاموش رہتا ہوں، پر فرمایا گیا، تم اس قدر رنج و غم میں کیوں مبتلا ہو کہا تیری محبت نے مجھے رنج میں مبتلا کردیا ہے، پھر فرمایا گیا تم فقیر کیوں بنے ہوئے ہو حالانکہ میں نے تمہیں مالِ کثیر عنایت کیا ہے، داؤد(ع) نے عرض کیا بار الہا تیرے حق کو قائم کرنے کی خاطر میں فقیر ہوگیا ہوں، ارشاد رب العزت ہوا میں تمہیں خواری میں دیکھ رہا ہوں کیا وجہ ہے، کہا تیرے جلال اور تیری عظمت جو کہ تیری بلند صفت ہے کے سامنے میں بے حیثیت ہوں، تو فرمان خدا آیا تجھے خوشخبری ہو میرے فضل کی کہ اس دن جس دن مجھ ملاقات کرو گے تنہا نہ ہوگے اور برے اخلاق و اعمال سے دور رہو تاکہ روزِ قیامت جو چاہتے ہو اس تک پنہچ جاؤ۔

امام صادق(ع) فرماتےہیں کہ خدا نے داؤد(ع) کو وحی کی کہ اے داؤد(ع) مجھ سے خوش رہو اور میری یاد سے لذت طلب کرو، مجھ سے مناجات کی نعمت طلب کرو، میں جلد ہی گھروں کو فاسقین سے خالی کردوں گا  اور میری لعنت ظالموں پر ہے۔

۲ـ           امام صادق(ع) نے امیرالمومنین(ع) سے روایت کیا ہے کہ جب خدا نے چاہا کہ ابراہیم(ع) کی روح قبض کرئے تو ملک الموت کو بھیجا، ملک الموت نےابراہیم(ع) سے کہا آپ(ع) پر درود ہو۔ ابراہیم(ع) نے کہا دعوت کے لیے آئے ہو یا موت کے لیے ملک الموت نے جواب دیا موت کے واسطے اور چاہئے کہ آپ اس کو قبول کریں۔ ابراہیم(ع) نے کہا کیا دوست بھی کبھی دوست کو موت دیتا ہے۔ ملک


الموت واپس ہوئے اور خدا کے سامنے جاکر عرض کیا ۔ رب العزت آپ نے سنا ابراہیم(ع) نے کیا کہا ہے۔ ارشاد خداوندی ہوا دوبارہ جاؤ اور ابراہیم(ع) سے کہو تم اس دوست کو مت دیکھو جو دوست سے دوست کی ملاقات کو ہٹاتا ہے۔( روح قبض کرتا ہے) بلکہ اس دوست کو دیکھو جو تم سے ملاقات کا خواہش مند ہے اور  وہی تمہارا دوست ہے۔

۳ـ          حذیفہ بن اسید غفاری کہتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا اے حذیفہ بیشک میرے بعد تم پر علی بن ابی طالب(ع) خدا کی حجت ہے اس کی حیثیت کا انکار خدا کا انکار ہے اس کے ساتھ شرک خدا کے ساتھ شرک ہے اس کے بارے میں شک کرنا خدا کے بارے میں شک کرنا ہے اس سے الحاد خدا کے ساتھ الحاد ہے اس سے کفر خدا سے کفر ہے اس پر ایمان خدا پر ایمان ہے کیوںکہ وہ برادر رسول خدا(ص) ہے اس (خدا) کے رسول کا وصی اس کی امت کا امام اور سردار ہے وہ حبل اﷲ المتین و عروة الوثقی ہے۔ دو قسم کے بندے اس کے بارے میں ہلاکت کا شکار ہوں گے وہ دوست جو غلو کرے وہ مقصر ہے جبکہ علی تقصیر نہیں رکھتا اور دوم وہ جو اس سے بغض رکھے۔ اے حذیفہ کبھی علی(ع) سے جدا مت ہونا کہ کہیں مجھ ہی سے جدا ہوجاؤ۔ کبھی اس کی مخالفت مت کرنا کہ کہیں میرے مخالف ہوجاؤ علی(ع) مجھ سے ہے اور میں علی(ع) سے ہوں جس کسی نے اسے غصہ دلایا وہ مجھے غصے میں لایا اور جس کسی نے سے خوش کیا اس نے مجھے خوش کیا۔

۴ـ          امام باقر(ع) نے فرمایا موسی بن عمران(ع) نے خدا تعالیٰ سے عرض کیا بارالہا مجھے اپنی اس حکمت کے بارے میں بتا کہ بڑوں کو موت دیتا ہے اور بچوں کو چھوڑ دیتا ہے، رب العزت نے فرمایا اے موسی(ع) کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ میں انہیں(بچوں کو)خود رزق دیتا ہوں اور ان کی کفالت کرتا ہوں موسی(ع) نے کہاکیوں نہیں پروردگار تو کیسا بہترین وکیل اور کفالت کرنے والا ہے۔

۵ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا کہ خدا بنی اسرائیل کے ایک پیغمبر پر وحی کی کہ اگر مجھے دوست رکھتے ہو اور چاہتے ہو کہ کل خطیرہ قدس میں مجھ سے ملاقات کرو تو دنیا میں تنہا غریب اور محزون و وحشت ناک رہو اس وحشت ناک پرندے کی طرح جو لوگوں سے وحشت زدہ اور اجاڑ بیابان میں زندگی بسر کرئے اور درختوں کے پتے کھاے اور چشمے کا پانی پیئے، رات کو تنہا سوئے


اور پرندوں کے ساتھ پرواز نہ کرے ان سےبھی خوف  کھائے اور اپنے پروردگار سے محبت کرئے۔

۶ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا جو بندہ آرام کےوقت اپنے بستر پر جاکر سو بار لا الہ الا اﷲ کہے تو خدا اس کے لیے بہشت میں گھر بناتا ہے او جور کوئی اس وقت سو بار استغفار کرے تو اس کے گناہوں کو اس طرح اس سے گرادیا جاتاہے کہ جس طرح درخت کے پتے خزاں میں گرتے ہیں۔

۷ـ          انس بن مالک نے پیغمبر(ص) سے ” کل جبار عنید“ کی تفسیر کو نقل کیا ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا کہ اس سے مراد وہ بندہ ہے جو کہنے سے انکار کرتا ہو”لا الہالا اﷲ “۔

۹ـ           امام باقر(ع) نے فرمایا ایک فرشتہ کا گزر ایک آدمی کے پاس سے ہوا جو اپنے گھر کے دروزے میں کھڑا تھا فرشتے نے اس آدمی سے پوچھا اے بندہ خدا اپنے گھر کے دروازے پر کس لیے کھڑئے ہو اس شخص نے جواب دیا میرا ایک بھائی ہے جوکہ ابھی یہاں سے گذرے گا میں چاہتا ہوں کہ اس کو سلام کروں فرشتے نے پوچھا کہ وہ رشتے میں تمہارا بھائی ہے یا اس کے ساتھ کوئی کام ہے اس شخص نے کہا نہ وہ میرا حقیقی بھائی ہے اور نہ مجھے اس سے کوئی  کام ہے وہ میرا دینی بھائی ہے اور اس کے احترام کی خاطر میں اسے سلام کرنا چاہتا ہوں کہ اس کی احوال پرسی کروں اور خدا تعالی کے واسطے ( فرمانِ ربی کے مطابق) اسے سلام کروں۔

فرشتے نے یہ سن کر کہا میں خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہوں وہ (خدا) تمہیں سلام بھیجتا ہے اور فرماتا بیشک تونے مجھے چاہا اور مجھے تلاش کیا میں تجھ پر بہشت واجب کردی، تجھے معاف کیا اور دوزخ سے امان دی۔

۹ـ           رسول خدا(ص) نے فرمایا جب رب العزت دیکھتا ہے کہ کسی قریہ (قوم) کے لوگ نافرمانی میں حد سے گزر گئے ہیں یہاں تک کہ صرف تین(۳) مومن اس پورے قریہ میں باقی رہ گئے ہیں تو وہ ندا دیتا ہے اور فرماتا ہے مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ہے۔ اگر تمہارے درمیان یہ دوست دار مومنین نہ ہوتے جو میرے عذاب کے خوف سے میری زمین اور مساجد اپنی نماز سے آباد کرتے ہیں اور بوقتِ سحر مغفرت طلب کرتے ہیں تو میں تمہیں نیچے لے جاتا ( غرق کردیتا۔ دفن کردیتا) اور مجھے اس کی کوئی پروا نہ ہوتی۔


۱۰ـ          جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا جوکوئی اپنے گناہوں پر نادم اور ثواب پر شاد ہوتو ایسا بندہ مومن ہے۔

۱۱ـ           رسول خدا(ص) نے فرمایا جوکوئی مجھ پر صلواة بھیجے مگر میری آل پر نہ  بھیجے تو ہو بہشت کی خوشبو نہ سونگھ سکے گا جب کہ بہشت کی خوشبو پانچ سوسال کی مسافت جتنی دوری سے آتی ہے۔

۱۲ـ          امام صادق(ع) نے اپنے اجداد(ع) سے نقل کیا ہے کہ جنابِ رسول خدا(ص) کی خدمت میں ایک بیابانی عرب آیا اور آںحضرت(ص) کو ایک گل رنگ عبا پیش کی۔ جو آپ(ص) نے قبول کر لی آپ(ص) نے اس عربی جوان کہہ کر مخاطب کیا تو اس عربی نے آپ(ص) سے دریافت کیا کہ یا رسول اﷲ(ص) آپ(ص) خود کو بھی جوان کہہ کر مخاطب کرتے ہیں جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا ہاں میں جوان ابن جوان برادر جوان ہوں عربی نے عرض کیا یا رسول اﷲ(ص) آپ(ص) خود کو جوان کہیں تو یہ درست ہے مگر ابن جوان اور برادر جوان کیوں کر ہیں آپ(ص) نے فرمایا کیا تم قول خدا نہیں سنا کہ وہ ابراہیم(ع) کو جوان کہہ کریاد کرتا ہے میں ابن ابراہیم(ع) ہوں اس لیے ابنِ جوان ہوں اور برادر جواں اس لیے کہ بروزِ احد منادی نے آسمان سے ندا دی ”لا فتی الا علی لا سيف الا ذوالفقار “ کوئی شمشیر  ذوالفقار جیسی اور کوئی جوان علی(ع) جیسا نہیں ہیں میں برادرِ علی(ع) ہوں اس لیے برادرِ جوان ہوں۔

۱۳ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا کہ ایک شخص نے حسین(ع) بن علی(ع) کو لکھا کہ مجھے دنیا اور آخرت سے آگاہ کریں امام عالی(ع) مقام  نے جواب میں لکھا۔

” بسم اﷲ الرحمن الرحیم“ اما بعد جو کوئی غصے کی حالت میں خدا کی رضا کا طالب ہو تو خدا اس کے امور کی حفاظت کرتاہے اور جو کوئی غصے کی حالت میں لوگوں کی رضا طلب کرئے تو خدا اسے لوگوں کے درمیان چھوڑ دیتا ہے۔ والسلام۔

۱۴ـ          جنابِ حسین(ع) بن علی(ع) فرماتے ہیں میرے جد رسول خدا(ص) نے مجھ سے فرمایا واجبات خدا پر عمل کرو تاکہ تمہارا شمار سب سے زیادہ پر ہیزگار لوگوں میں ہو۔ جو کچھ خدا نے تقسیم کیا اس پر راضی رہو تاکہ اس کے وہ بندے کہلاؤ جو تونگری میں سب سے بڑھ کر ہیں۔ محرمات خدا سے خود کو بچائے رکھو تاکہ صاحب تقوی کہلاؤ۔ بہترین ہمسائے بن جاؤ تاکہ مومن بندوں میں تمہارا شمار


ہو ۔ اور اپنے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والوں کے ساتھ خوش خلقی سے پیش آؤ تاکہ مسلمان رہو۔

۱۵ـ          عبدالزاق روایت کرتا ہےکہ امام چہارم(ع) کی ایک کنیز آپ(ع) کے ہاتھوں پر پانی ڈال رہی تھی کہ آپ وضو فرمالیں۔ اچانک پانی کا برتن اس کنیز کےہاتھوں سے چھوٹ کر امام(ع) کےلگا اور آپ(ع) زخمی ہوگئے۔ آپ(ع) نے اس کنیز کی طرف دیکھا تو اس نے کہا ” والکاظمین الغیظ“ کہ وہ لوگ جو خدا کے لیے اپنے غصے کو ضبط کر لیتے ہیں“ امام(ع) نے یہ سنا تو فرمایا ک میں نے اپنا غصہ ضبط کر لیا وہ پھر بولی” وہ لوگ جو خدا کی رضا کی خاطر تجھے معاف کیا اس کنیز نے پھر کہا” خدا احسان کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔“ امام(ع) نے فرمایا، جا میں نے تجھے راہ خدا میں آزاد کیا۔

۱۶ـ          ابن عباس(رض) فرماتے ہیں جب شیطان نے سونے اور چاندی سے بنائے گئے سکے اس دنیا میں پہلی بار دیکھے تو انہیں اٹھا کر سینے سے لگایا اور کہا تم دونوں میرے نورِ نظر ہو۔ میرے دل کا میوہ ہو پھر ان سکوں سے کہا میں اس کے علاوہ کوئی اور غرض نہیں رکھتا کہ بنی آدم ایک بت بنا کر اس کی پرستش کریں اور اسے دوست رکھیں اور دوئم یہ کہ وہ تمہیں دوست و عزیز رکھیں۔

۱۷ـ          امام باقر(ع) نے فرمایا قرآن پڑھنے والے تین قسم کے لوگ ہیں۔

اول:۔ وہ بندے جو قرآن پڑھیں اور اسے کمائی کا ذریعہ بنائیں اور سلاطین و حکام کے چکر کاٹیں تاکہ وہ ان کی طرف متوجہ ہوں اور یہ ( قاری) دوسرے لوگوں پر غلبہ حاصل کریں۔

دوئم:۔ وہ لوگ جو قرآن کو پڑھیںاور اس کی حفاظت کریں مگر اس کی مقرر کردہ حدوں کا احترام نہ کریں اور ان پر عمل نہ کریں۔

سوئم:۔ وہ لوگ ہیں جو قرآن پڑھیں اور اسے اپنے مرضِ دل کا علاج قرار دیں۔ راتوں کو بیدار ( عبادت کے لیے) اور دن میں بھوکے رہیں مساجد میں اس کی قرآئت سے قیام کریں اور تلاوتِ قرآن کے باعث اپنے بستروں سے دور رہیں ایسے لوگوں سے خدا بلائیں دور رکھتا ہے اور ان کے دشمنوں کی سرکوبی کرتا ہے ان ہی کی وجہ سے آسمان سے بارش برساتا ہے۔ خدا کی قسم اس طرح قرآن پڑھنے والے کبریتِ احمر( سرخ گندھک) سے بھی زیادہ معدوم و کمیاب اور عزیزترین ہیں۔


۱۸ـ          امام باقر(ع) نے اپنے اجداد(ع) سے روایت کیا ہے کہ رسول خدا(ص) کا گزر ایک ایسے آدمی کے پاس سے ہوا جو ایک درخت کاٹ رہا تھا آپ(ص) نے اسے دیکھ کر فرمایا کیا میں تجھے ایک ایسے درخت کے متعلق نہ بتاؤں  جس کا بیج بہترین، جس کا میوہ زیادہ رس دار اور خوش ذائقہ ہے اور زیادہ منفعت بخش ہے اس شخص نے کہا کیوں نہیں یا رسول اﷲ(ص) مجھے مطلع کیجئیے۔ آپ(ص) نے فرمایا صبح و شام ”سبحان اﷲ والحمداﷲ و لا الہ الا اﷲ واﷲ اکبر “ کہا کرو، اسکی ہر تسبیح پر بہشت میں انواع و اقسام کے میوہ جات کے رس درخت اس بندے کے لیے مختص کیے جاتے ہیں اوریہ باقیات الصالحات ( وہ چیزیں یا انعام و نیکیاں جو مرنے کے بعد ملیں گی) ہیں اس شخص نے عرض کیا یا رسول اﷲ(ص) آپ(ص) گواہ رہیں میں اپنے اس باغ کو فقراء صفہ جو کہ مسلمان ہیں کے لیے وقف کردیا اس وقت رب العزت نے یہ آیت نازل فرمایی” تو وہ جس نے دیا اور پرہیزگاری کی اور سب سے اچھی ( بات) کو سچ مانا تو بہت جلد ہم اسے آسانی مہیا کردیں گے۔ ( لیل، ۵ تا ۷)

۱۹ـ          جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا علی بن ابی طالب(ع) خلیفہ خدا و خلیفہ رسول(ص)، حجت خدا و حجتِ رسول خدا(ص) ہے وہ صفی خدا و صفی رسول خدا(ص) ہے وہ خلیل خدا اور خلیل رسول(ص) ہے، شمشیر خدا اور شمشیر رسول(ص) ہے۔ وہ میرا رفیق میرا وزیر اور وصی ہے اس کا دوست میرا دوست اور اس کا دشمن میرا دشمن ہے اسکے ساتھ جنگ میرے ساتھ جنگ ہے اس کے خلاف سازش میرے خلاف سازش ہے ۔ اس کی بات میری بات اور اس کا فرمان میرا فرمان ہے اس کی ہمسر میری دختر(س) ہے۔ اس کے فرزند(ع) میرے فرزند(ع) ہیں۔ علی(ع) سید اوصیاء ہے اورمیری امت میں سب سے بہترین ہے۔


مجلس نمبر۳۷

( سلخ محرم سنہ۳۶۸ھ)

بعثتِ عیسیٰ(ع)

۱ـ           ابن عباس(رض) کہتے ہیں۔ جب عیسیٰ(ع) کی عمر تیس (۳۰) سال ہوگئی تو خدا نے انہیں بنی اسرائیل کی طرف مبعوث کیا۔ عیسیٰ(ع) ایک روز بیت المقدس کے عقبہ( گھاٹی) میں جس کا نام رفیق تھا موجود تھے تو ابلیس نے وہاں آپ(ع) کو دیکھا اور ہمکلام ہوا اور کہنے لگا اے عیسیٰ(ع) کیا وہ تم ہی ہو جس کو خدا نے بن باپ کے پیدا کیا ہے۔ عیسی(ع) نے فرمایا وہ بزرگ تر ہے جس نے مجھے اس طرح پیدا کیا جیسے آدم(ع) و حوا(ع) کو پیدا کیا تھا۔ ابلیس نے کہا کیا وہ تم ہی ہو جس کی خدائی بہت بلند ہے کہ گہوارے میں کلام کرتا ہے آپ(ع) نے فرمایا یہ صرف اسی کی عظمت ہے جس نے مجھے شیر خواری میں قوت گویائی عطا کی اور اگر ہو چاہتا تو میری قوت گویائی سلب کر سکتا تھا، ابلیس نے کہا کیا تم وہی خدا ہو جو مٹی کے پرندے بنا کر انہیں پرواز کرواتا ہے عیسیٰ(ع) نے جواب دیا یہ اسی کی عظمت کے بدولت ہے جس نے مجھے پیداکیا اور انہیں ( مٹی کے پرندوں کو ) میرے لیے مسخر کیا۔ ابلیس نے کہا کیا تم وہی ہو جو اپنی ربوبیت سے بیماروں کو شفا دیتا ہے عیسیٰ(ع) نے جواب دیا یہ اس کی بزرگی ہے کہ اس نے اپنے بندے کو یہ شرف بخشا کہ وہ بیماروں کو شفا دے ورنہ وہ چاہتا تو مجھے بھی بیمار کرسکتا تھا، ابلیس نے کہا کیا تم وہی ہو جو اپنی خدائی سے مردوں کو زندہ کرتا ہے آپ(ع)نے جواب دیا یہ اس رب العزت کی بزرگی ہے کہ اس نے مجھے اجازت دی کہ میں انہیں زندہ کروں ورنہ اگر وہ مجھےزندگی دے سکتا ہے تو مار بھی سکتا ہے ، ابلیس نے کہا تم اپنی خدائی سے دریا عبور کرتے ہو جب کہ تمہارے پاؤں بھی پانی سے تر نہیں ہوتے عیسیٰ(ع) نے فرمایا یہ میرا خدا ہی ہے جس نے دریاؤں کو میرے لیے رام کردیا اگر وہ چاہتے تو مجھے غرق بھی کرسکتا ہے ابلیس نے پھر بہکایا اور کہا ایک دن آئے گا کہ جو کچھ زمین و آسمان میں ہے سب تیرے قدموں کے نیچے ہوگا تمام تدابیرِ عمل تمہارے لیے ہوں گی


 اور تم ہی رزق تقسیم کرو گے عیسیٰ(ع) نے ابلیس کی ان باتوں پر نہایت سخت ردِعمل کا اظہار کیا اور ابلیس سے فرمایا خدا ان تمام باتون سے منزہ ہے جو تو کہتا ہے اگر میں اس کی پاکیزگی بیان کرنے لگ جاؤں تو زمین و آسمان بھر جائیں اور وہ روشائی جس سے اس کے علوم لکھے جائیں عرش کے وزن کے برابر ہو جائے اور وہ راضی ہوجائے، جب ابلیس لعین نے یہ سنا تو بد حواس ہو کر وہاں سے بھاگا ۔ اور دریائے خضرا میں جاگرا ابن عباس(رض) کہتے ہیں کہ اس دریا میں سے ایک جنیہ عورت باہر نکلی اور دریا کے کنارے چلنے لگی ناگاہ اس کی نظر ابلیس پر پڑی جو ایک پتھر پر سجدہ کی حالت میں تھا اور اس کی آنکھوں سے اشک جاری تھے اس جنیہ نے تعجب سے پوچھا وائے ہو تجھ پر اے ابلیس تو اتنے لمبے سجدے سے کیا امید رکھتا ہے ابلیس نے کہا اے عورت میں اس دن کی امید میں ہوں جب خدا اپنی قسم پوری کرے گا اورمیرے اعمال کے بدلے مجھے دوزخ میں ڈالے گا میں امید رکھتا ہوں کہ اس دن کی رحمت سے میں دوزخ سے چھٹکارا پاؤں گا۔

۲ـ              امام صادق(ع) نے فرمایا روزِ قیامت خدا اپنی رحمت کو اس طرح پھیلا دے گا کہ ابلیس بھی اس رحمت کی طمع کرے گا۔

۳ـ             امام صادق(ع) نے فرمایا تم میں سے جو کوئی بھی بدخلقی کرے گا تو وہ جان لے کہ اس نے خود کو عذاب میں مبتلا کر لیا۔

۴ـ              امام باقر(ع) نے فرمایا جو کوئی بے خلقی  اختیار کیے ہوئے ہے اس کا ایمان اس سے منقطع ہے۔

۵ـ              ابوسخیلہ کہتے ہیں میں حضرت ابوذر(رح) کے پاس گیا اور ان سے کہا ، اے ابو ذر(رح) میں دیکھتا ہوں کہ اختلاف نے سر ابھار لیا ہے آپ کا اس بارے کیا خیال ہے ابوذر(رح) نے کہا تم ان دو کو مضبوطی سے تھام لو۔ کتاب خدا اور دوئم استادِ محترم علی بن ابی طالب(ع) کیوں کہ میں نے جنابِ رسول خدا(ص) کو فرماتے سنا ہے  کہ علی(ع) وہ  اول بندہ ہیں جو مجھ پر ایمان لائے اور وہ اول بندہ ہیں جن کا ہاتھ روزِ قیامت میرے ہاتھ میں ہوگا وہ فاروق و صدیق اکبر ہیں جو حق کو باطل سے جدا کرتا ہے۔

۶ـ              امام صادق(ع) نے اپنے اجداد(ع) سے روایت کی ہے کہ ایک مرد اپنی عورت کی شکایت لے کر امیرالمومنین(ع) کے پاس آیا امیرالمومنین(ع) نے اس کی شکایت سن کر فرمایا اے لوگو کسی بھی وجہ سے عورتوں


 کے مطیع مت بن جانا ان کو اپنے مال کا امین مت بنا دینا۔، اپنے عیال کی سرپرستی مت سونپ دینا ورنہ اپنی مرضی کے مطابق ان کی پرورش کریں گی اور مالک کے دستور سے تجاوز کریں گی کیوںکہ ہم دیکھتے ہیں یہ وقتِ ضرورت پرہیز نہیں کرتیں اور شہوت پر صبر نہیں کرتیں۔ حیض کو بڑھاپے تک ختم اور خود بینی کو ترک نہیں کرتیں چاہے ماں بننے کے قابل بھی نہ رہیں۔ اور کفران نعمت کی برائی کو ترک نہیں کرتیں اور خوبیوں کو بھولی جاتیں ہیں یہ بہتان لگانے میں جلدی کرتی ہیں اور طغیانی و سرکشی میں سبقت کرتی ہیں اور شیطان کر اتباع کرنے میں دیر نہیں لگاتیں۔ تم ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرو شاید یہ اچھا کردار اپنا لیں۔

۷ـ          ابن عباس(رض) کہتے ہیں کہ ایک دن رسول خدا(ص) نے علی ابن ابی طالب(ع) کا ہاتھ پکڑا اور باہر تشریفِ لے گئے اور فرمایا اے معظثرِ (گروہ) انصار، اے معثر بنی ہاشم، اے معثرِ فرزندان عبدالمطلب، میں محمد رسول اﷲ(ص) ہوں آگاہ ہو جاؤ کہ مجھے رحمت سے خلق کیا گیا ہے اورمیرے خاندان کے چار افرادِ اسی طینت پر پیدا کیے گئے ہیں ایک  میں خود دوسرے علی ابن ابی طالب(ع) تیسرے حمزہ(رض) اور چوتھے جعفر(رض) ایک شخص نے سوال کیا، یا رسول اﷲ(ص) کیا یہ سب روزِ قیامت آپ کے ساتھ موجود ہوں گے۔ آپ(ص) نے فرمایا تیری ماں تیرے غم میں بیٹھے اس دن بجز ان کے کوئی سوار نہ ہوگا میں(ص) اور علی(ع) و فاطمہ(س) اور پیغمبر حضرت صالح(ع) اس دن سواریوں پر سوار ہوں گے فاطمہ(س) اس دن میرے ناقہ غضباء بیٹھی ہونگی، جنابِ صالح(ع) اس اونٹنی پر موجود ہوں گے جس کی ٹانگیں کاٹ دی گی تھیں، علی(ع) بہشت کی ایک ایسی اونٹنی پر بیٹھے ہوں گے کہ جس پر دو سبز حلے اور جسکی مہار یاقوت کی ہوگی اور بہشت اور دوزخ کے درمیان کھڑے ہوں گے اس وقت لوگوں کے بدنوں پر مہاروں کی مانند پسینے کی لمبی لمبی دھاریں بہہ رہی ہوں گی یکا یک عرش کی طرف سے ہوا چلے گی اور لوگوں کا پسینہ خشک کردے گی اس وقت صدیقین اور مقرب فرشتے کہیں گے یہ کون ہے کیا کوئی مقرب فرشتہ ہے یا کوئی پیغمبر مرسل ہے کہ جس کے آنے سے یہ ہوا چلی ہے تو منادی ندا دے گا یہ علی بن ابی طالب(ع) ولیِ خدا اور دنیا اور آخرت میں برادر رسول(ص) ہیں۔


جنابِ موسیٰ(ع) کی خدا سے گفتگو

۸ـ          عبدالعظیم بن عبداﷲ حسنی نے جنابِ موسیٰ(ع) کی خدا سے گفتگو کو امام دہم جنابِ علی بن محمد ( امام علی نقی(ع)) سے نقل کیا ہے۔

امام(ع)نے فرمایا کہ موسی بن عمران(ع) نے خدا سے کہا یا رب العزت اس بندے کو کیا اجر ملے گا جو میری نبوت کو گواہی دے گا اور اقرار کرے گا، خدا نے فرمایا ایسے بندے کی موت کے وقت جب اسے فرشتے لینے آئیں گے تو اسے نوید بہشت دیں گے موسی(ع) نے دریافت کیا اس بندے کو کیا اجر ملے گا جو نماز ادا کرئےگا، ارشاد باری تعالی ہوا ایسا بندہ جب حالت سجدہ یا قیام و رکوع میں ہوتا ہے تو میں اپنے ملائکہ کے ساتھ اس پر فخر کرتاہوں اور جو کوئی اس طرح کرے گا میں اسے عذاب نہ دون گا۔ موسیٰ(ع) نے دریافت کیا صلہء رحمی کرنے والے بندے کی اجر کیا ہے ارشاد ہوا میں اسے طویل عمر عطا کروں گا اور سکرات موت ( جانکنی کی حالت ) کو اس پر آسان کروں گا بہشت کے خازن اسے آواز دیں گے اور اپنی طرف جلد آنے کے لیے پکاریں گے وہ جہاں سے چاہے گا بہشت میں داخل ہوگا موسیٰ(ع) نے پوچھا یا خدایا ایسے بندے کو کیا صلہ ملےگا جو لوگوں کو تکلیف نہیں دیتا اور ان سے اچھائی سے پیش آتا ہے  فرمایا روز قیامت دوزخ اسے پکار کر کہے گی کہ تیرا راستہ میری طرف نہیں آتا موسیٰ(ع) نے دریافت کیا رب العزت اس بندے کے لیے کیا انعام ہے جو دل و زبان سے تجھے یاد کرتا ہے  جواب ملا۔ اس کو قیامت کے دن سایہ عرش میں جگہ دوں گا اور اپنی پناہ میں رکھوں گا۔ موسی(ع) نے پوچھا اس بندے کے لیے کیا اکرام ہے جو تیری کتابِ حکمت کی ظاہرہ و پوشیدہ طور پر تلاوت کرے ارشاد ہوا وہ پل صراط سے برق کی طرح گزر جائے گا موسیٰ(ع) نے عرض کیا یا رب العزت ایسے شخص کو کیا اجر ملے گا جو اکیلا تیری رضا کی خاطر لوگوں کے ظلم و آزار سہتا ہے اور صبر کرتا ہے، خداوند کریم نے فرمایا ایسے کے لیے روزِ قیامت کے خوف کم دیئے جائینگے، موسیٰ(ع) نے سوال کیا، ایسے بندے کو کیا اجر ملے گا جس کی آنکھیں تیرے ڈر سے اشکبار رہتی ہیں، ارشاد ہوا ایسے چہرے کو میں دوزخ کی گرمی سے بچاؤں گا اور قیامت کے سخت خوف


سے امان بخشوں گا، موسی(ع) نے عرض کیا بارالہا جو شخص تجھ سے شرم محسوس کرے اور خیانت ترک کردے اسے کیا اجر ملے گا۔ فرمایا روز قیامت اس کو امان دوں گا۔ پھر موسی(ع) نے دریافت کیا یا خدا ایسے شخص کو کیا سزا ملے گی جو جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کردے جواب ملا قیامت کے دن اس کی طرف نظر نہیں کروں گا اور اس کی لغزش معاف نہیں کروں گا، پھر موسی(ع) نے پوچھا جو بندہ کسی کافر کو اسلام کی دعوت دے اس کا اجر کیا ے، ارشاد ہوا کہ اسے اجازت ہوگی کہ جس کی چاہے شفاعت  کرے پھر دریافت کیا کہ یا خداوند ایسے شخص کا کیا انعام ہے جو اپنی نمازیں وقت پر ادا کرے جواب آیا جس چیز کا سوال کرئے اسے عطا کروں گا اور اپنی بہشت کو اس پر مباح کردوں گا، موسی(ع) نے دریافت کیا کہ ایسے بندے کو کیا ملے گا جو تیرے خوف سے اپنا وضو مکمل کرتا ہے، فرمایا جب اس کو روز قیامت مبعوث کروں گا تو اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ایک نور روشن کردوں گا جس سے روشنی خارج ہوگی، موسی(ع) نے پھر سوال کیا اے رب العزت ایسے آدمی کے لیے کیا اجر ہے جو ماہِ رمضان کے روزے تیری خاطر رکھتا ہے، ارشاد خداوندی ہوا کہ میں اس بندے کو روز قیامت ایک ایسی جگہ کھڑا کروں گا جہاں اسے کوئی خوف نہ ہوگا اور جو دنیا کو دکھانے کے واسطے روزے رکھتا ہے اس کا روزہ ایسا ہے کہ جیسے نہیں رکھا۔

۹ـ           نوف بکالی کہتے ہیں کہ میں مسجد کوفہ میں آستانہ امیرالمومنین(ع) پر حاضر ہوا اور انہیں سلام پیش کیا آںحضرت(ع) نے جواب میں وعلیک السلام یا نوف و رحمتہ اﷲ برکاتہ کہا، میں عرض کیا یا امیرالمومنین(ع) مجھے کچھ نصیحت فرمائیں۔ آپ(ع) نے فرمایا اچھائی کرو تاکہ تمہارے ساتھ اچھائی ہو میں نے کہا یا امیرالمومنین(ع) کچھ اور بیان فرمائیں تو آپ(ع) نے فرمایا بہتر کہو تاکہ تمہیں اچھائی سے یاد کیا جائے غیبت سے بچے رہو کہ اس کی خواری دوزخ کی مانند ہے اے نوف وہ بندہ جو غیبت کی وجہ سے لوگوں کا گوشت کھاتا ہے اور خود کو حلال زادہ کہتا ہے وہ  جھوٹ بولتا ہے( کہ وہ حلال زادہ ہے) اور جو یہ گمان کرتا ہے کہ وہ حلال زادہ ہے جب کہ میرا اور میری اولاد میں سے (منصوص) اماموں کا دشمن ہے وہ جھوٹا ہے اور وہ بندہ جھوٹا ہے جو خود کو حلال زادہ کہتا ہے مگر زنا کو پسند کرتا ہے اور خدا کی نافرمانی پر شب و روز دلیر ہوا ہے۔ پھر فرمایا اے نوف میری اس وصیت


کو قبول کرو، کہ راہِ ہدایت س مت ہٹو اور خدا کی دشمنی مت مول لو صلہ رحمی کرو تا کہ خدا تمہاری عمر دراز کرے اور خوش خلق رہو تاکہ تمہارے حساب میں کمی واقع ہو اے نوف اگر چاہو کہ تم روز قیامت میرے ساتھ محشور ہو تو ظالمین کی مدد نہ کرو اے نوف جو کوئی مجھے دوست رکھتا ہے وہ روز قیامت میرے ساتھ ہوگا کیونکہ اگر کوئی شخص کسی پتھر کو بھی دوست رکھتا ہے تو وہ اسی پتھر کے ساتھ محشور ہوگا اے نوف کہیں یہ نہ ہو کہ تم غرور میں آجاؤ اور خدا کی نافرمانی کرنے لگو کہ وہ اس دن تمہیں رسوا کرے گا جب تم اس سے ملاقات کرو گے اے نوف جو کچھ میں نے تم سے کہا اس کی حفاظت کرو تاکہ دنیا اور آخرت میں خیر پاؤ۔

۱۰ـ          انس بن مالک رسول خدا(ص) سے روایت کرتے ہیں کہ آںحضرت(ص) نے فرمایا خیر اوصیاء اور سیدالشہدا میں سے وہ بندہ تم پر آئے گا کہ جس کا مقام میرے نزدیک انبیاء سے بھی برتر ہے اسی اثناء میں علی ابن ابی طالب(ع) تشریف لائے اور کہا یا رسول اﷲ(ص) ایسا مت فرمائیں جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا اے ابوالحسن(ع) میں کیوں اس طرح نہ کہوں جب کہ تم وفا کرنے والے اور صاحبِ حوض ہو اور میرے اس عہد ( فرض) کے ادا کرنے والے ہو جو میرے ذمے ہے۔


مجلس نمبر۳۸

( چار صفر سنہ۳۶۸ھ)

فضائل اذان اور بلال(رح)

۱ـ           عبداﷲ بن علی کہتے ہیں کہ میں اپنا زاد راہ لیے بصرہ سے مصر کی طرف سفر کر رہا تھا کہ مجھے راستے میں ایک بزرگ دکھائی دیئے جن کی رنگت گندمی اور سر کے بال سفید تھے انہوں نے دو عدد لباس۔ ایک سیاہ اور ایک سفید اٹھائے ہوئے تھے۔ میں نے اپنے ساتھیوں سے دریافت کیا کہ یہ کون ہیں، مجھے بتایا گیا کہ یہ رسول خدا(ص) کے موذن بلال(رح) ہیں۔

ہم نے اپنا سامان سمیٹا اور ان کے پاس چلےگئے اور سلام پیش کیا انہوں نےسلام کا جواب دیا میں نے انہیں کہا یا شیخ آپ نے جو کچھ رسول خدا(ص)سے سنا ہے  وہ ہمین تعلیم فرمایئیں انہوں نے کہا  تمہیں کیا پتہ میں کون ہوں۔ میں نے انہیں مطلع کیا کہ وہ مئوذن رسول خدا(ص) بلال(رح) ہیں تو انہوں نے یہ سن کر گریہ کیا انہیں دیکھ کر میری آنکھیں بھی اشکبار ہوگئیں ہمیں گریہ کرتا دیکھ کر وہ لوگ جو دور تھے قریب آگئے اور ہمارے حزن میں شامل ہوگئے کچھ دیر بعد جنابِ بلال(رح) نے کہا بیٹا تم کہاں کے رہنے والے ہو میں بتایا کہ میں عراق کا رہنے والا ہوں یہ سن کر انہوں نے کہا مبارک ہو مبارک ہو میرے بیٹے جو میں تمہیں تعلیم کروں اسے لکھ لو۔ پھر فرمایا”بسم اﷲ الرحمن الرحيم “ میں نے جنابِ رسول خدا(ص) نے سنا کہ اذان دینے والے لوگ لوگوں کے روزوں ان کے گوشت اور ان کے خون کے امین ہیں وہ خدا سے بجز اس کے کچھ نہیں چاہتے کہ انہیں شفاعت عطا ہو۔ اور ان کی شفاعت قبول ہوگی میں نے جناب بلال(رح) سے کہا مجھے کچھ اور زیادہ تعلیم کریں۔

جنابِ بلال(رح) نے کہا لکھو”بسم اﷲ الرحمن الرحيم “ میں نے رسول خدا(ص) سے سنا جو کوئی چالیس(۴۰) سال اذان کہے گا تو خدا اس کے کردار کو روزِ قیامت چالیس خوش


کردار صدیقین جن کے اعمال قبول شدہ ہوں گے کے برابر کردے گا یہ سن کر میں نے کہا ” رحمک اﷲ“  بلال(رح) نے فرمایا مزید لکھو۔ پھر فرمایا ”بسم اﷲ الرحمن الرحيم “ میں نے جنابِ رسول خدا(ص) نے سنا جو کوئی بیس سال تک اذان دے گا تو خدا اس کو روز قیامت ایک ایسے نور کے ساتھ محشور کرے گا جو کہ زمین و آسمان کے نور کے برابر ہوگا، میں نے کہا مزید بتائیں کہا لکھو”بسم اﷲ الرحمن الرحيم “ میں نے رسول خدا(ص) سے سنا ہے کہ کوئی دس سال اذان کہے گا تو خدا اس کو بہشت میں حضرت ابراہیم(ع) کے ساتھ گنبد میں ٹھہرائے گا اور ان ( ابراہیم(ع)) کے درجے کے برابر سکونت عطا کرے گا۔

میں نے بلال(رح) سے گذارش کی کہ مجھے کچھ اسکے علاوہ بھی بتائیں انہوں نے کہا لکھو ”بسم اﷲ الرحمن الرحيم “ میں نے جنابِ رسول خدا(ص) سے سنا کہ جو کوئی بھی ایک سال اذان دے گا تو خدا روزِ قیامت اسے اس طرح محشور کرے گا جیسے کہ اس کے تمام گناہ معاف کردیئے گئے ہوں بیشک وہ کوہِ احد کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔ میں نے کہا مزید بیان کریں بلال(رح) نے کہا اس کی حفاظت کرو اس پر عمل کرو اور اسے سمجھو کہ میں نے رسول خدا(ص)سے سنا جو کوئی راہِ خدا میں ایک نماز کو از روے ایمان اور حکم خدا کے مطا بق ادا کرے گا اور تقریب حق کے لیے اذان دے گا  تو خدا اس کے گذشتہ گناہوں کو معاف فرمادے گا اور آیندہ عمر کے لیے اس کی حفاظت کرے گا اور بہشت میں اسے شہیدوں کے درمیان رکھے گا میں نے بلال(رح) سے کہا خدا آپ پر رحمت نازل کرے آپ نے جو بہتریں چیز رسول خدا(ص) سے سنی وہ مجھ سے بیان فرمائیں، بلال(رح)  نے کہا واے ہو تم پر اے پسر کہ تم نے میرا دل کاٹ کر رکھ دیا ہے پھر گریہ کرنے لگے ان کے ساتھ میں بھی گریہ کرنے لگا یہاں تک کہ ان کا حزن اور میرا حزن ایک ہوگیا کچھ دیر بعد بلال(رح) نے کہا ”بسم اﷲ الرحمن الرحيم “ روز قیامت خدا لوگوں کو ایک زمین میں جمع کرے گا تو نورانی فرشتوں کو کہ جن کے پاس گھوڑے ہوں گے مئوذنوں کے پاس بھیجے گا ان فرشتوں کے پاس نور کے پرچم ہوںگے اور جو گھوڑے  وہ لائے ہوں گے ان کی لگامیں سبز زبرجد۔ خورجین ترک اورمشک اذفر کی ہوں گی ان گھوڑوں پر وذن سوار ہوں گے اور بلند آواز میں اذان دیں گے پھر وہ فرشتے ان


گھوڑوں کی لگامیں کھینچیں گے اور وہ سرپٹ بھاگنا شروع ہوجائیں گے اس کے بلال(رح) نے شدید گریہ فرمایا یہاں تک کہ بے حال ہو گئے۔ جب انہیں کچھ سکون ہوا تو میں نے گریہ کا سبب دریافت کیا انہوں نے کہا وائے ہو تم پر مجھے کچھ یاد آگیا ہے  جو میں نے اپنے دوست جنابِ رسول خدا(ص) سے سنا تھا آپ(ص) فرماتے تھے کہ قسم ہے مجھے اس ذات کی جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث کیا بیشک جب موذن ان گھوڑوں کو سر پٹ دوڑاتے ہوئے لوگوں کے پاس سے گذریں گے تو کہیں گے”اﷲاکبر اﷲ اکبر “ میری امت کے لوگ یہ سن کر پکارنے لگیں گے۔ اس وقت اسامہ بن زید(رض) نے رسول خدا(ص) سے دریافت کیا کہ یا رسول اﷲ(ص) وہ پکار کیا ہوگی فرمایا وہ پکار تسبیح و تہلیل اور خدا کی حمد ہوگی۔ جب مئوذن کہے گا”أَشْهَدُ أَنْ‏ لَا إِلَهَ‏ إِلَّا اللَّهُ “ تو میری امت جواب میں کہے گی اس کی دنیا میں عبادت کے لیے یہ کافی ہے تو جواب ملے گا سچ کہا جب مئوذن کہیں گے ”أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللَّهِ “ تو میری امت جواب دے گی کہ یہ( محمد(ص)) ہمارے پروردگار کی طرف سے رسالت کے ساتھ مبعوث ہوئے اور ہم بغیر دیکھے ان پر ایمان لائے تو جواب آئے گا سچ ہے اور وہی ہے جو تمہیں رسالت ادا کرتا ہے تم اس کے مومن ہوئے اب یہ خدا پر تمہارا حق جہے کہ وہ تمہیں تمہارے پیغمبر(ص) کے ساتھ رکھے اور اس منزل پر پہنچا دے جہاں ہر وہ چیز ہے جسے نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھا نہ ہی کسی کان نے سنا اور نہ ہی کسی کا دل اس کا ادراک کرسکا پھر بلال(رح) نے میری (عبداﷲ) طرف دیکھا اور کہا وہ مئوذن کہ جس نے خدا کے حکمکے مطابق عمل کیا اسے خدا کے سوا کوئی موت نہیں دیتا۔

عبداﷲ بن علی کہتے ہیں کہ میں نے  کہا آپ(بلال(رح)) پر اﷲ کی رحمت ہو مجھ پر تفضل کریں اور اس کے علاوہ بھی کچھ بتائیں اور جو کچھ آپ نے رسول خدا(ص) سے بہشت کے بارے میں سنا وہ بتائیں کیوں کہ آپ کی ملاقات رسول خدا(ص) سے رہی ہے جبکہ میں نے انہیں نہیں دیکھا بلال(رض) نے کہا لکھ”بسم اﷲ الرحمن الرحيم “ میں نے رسول خدا(ص) سے سنا ہے کہ بہشت کی اینٹیں سونے۔ چاندی اور یاقوت سے بنائی گئی ہیں اس کے کنگرے سبز، سرخ اور زرد یاقوت کے ہیں یہ سن کر میں نے اپنا ہاتھ بلال(رح) پر رکھا تو انہوں نے کہا وائے ہو تم پر اپنا ہاتھ ہٹا مجھے تکلیف پہنچ رہی ہے میں نے کہا جب تک آپ مجھے بتائیں گے نہیں کہ بہشت کا حلقہ کیا ہے میں اپنا ہاتھ آپ پر


 سے نہیں ہٹاؤں گا مجھے بتائیں کہ جنابِ رسول خدا(ص) نے اس بارے میں کیا بتایا ہے بلال(رح) نے کہا ”بسم اﷲ الرحمن الرحيم “ بہشت کے کچھ دروازوں میں ایک دروازہ صبر نام کا ہے اور یاقوت سرخ کا بنا ہوا ہے یہ دروازہ حلقہ نہیں رکھتا اور پھر شکر کے دروازے ہیں جو کہ سفید یاقوت سے بنائے گئے ہیں ان دونوں دروازوں کے درمیان پانچ سو(۵۰۰) سال کی مسافت کا فاصلہ ہے یہ بوقتِ بلا( غم) نالہ و غوغا بھی کرتے  ہیں اور رب العزت انہیں قوتِ گویائی بھی عطا کرتا ہے ، میں نے بلال(رح) سے پوچھا بلا کیا ہے تو انہوں نے بتایا بلا سے مراد مصائب۔ بیماریاں درد و غم ہیں میں نے پوچھا کیا صبر بھی بلا رکھتا ہے کہا نہیں صبر۔ بلا نہیں رکھتا ۔ اس کے علاوہ یاقوت زرد کا بھی ایک دروازہ ہے۔ اور بہت کم لوگ ہوں گے جو اس دروازے سے گذریں گے میں نے بلال(رح) سے کہا خدا آپ پر رحمت کرے اس بارے میں مزید بیان کریں اور مجھ  پر فضل کریں میں نے ان باتوں میں آپ کا محتاج ہوں بلال(رح) نے کہا تم مجھ سے اپنا ہاتھ نہیں ہٹاتے اور تکلیف پہنچاتے ہو۔ یہ دروازہ باب اعظم ہے اس میں سے صالح بندے داخل ہوں گے کہ جن کے مشتاق خدا اور اہل زہد ہیں میں نے پوچھا خدا آپ پر رحمت کرے جس وقت وہ بہشت میں آئیں گے کیا کرینگے، بلال(رح) نے جواب دیا جس وقت وہ بہشت میں داخل ہوں گے وہ کشتیوں پر سوار ہوں گے اور لولو کی نہروں میں سیر کریں گے ان کشتیوں میں ان کے ساتھ نور کے فرشتے موجود ہوں گے جو بے تحاشہ نورانی لباس  اٹھائے ہوئے ہوں گے، میں نے پوچھا آپ پر خدا کی رحمت ہو کیا نور سبز بھی ہوتا ہے بلال(رح) نے جواب دیا وہ سبز نورانی لباس پہنے ہوں گے اور نور رب العالمین کو پرتو ہے۔ میں نے پھر پوچھا یہ نہر کیا ہے تو بلال نے بتایا کہ  یہ جنت الماوی ہے میں نے پوچھا کیا اس کے درمیان کوئی اور چیز بھی ہے انہوں نے بتایا کہ اس کے درمیان جنت عدن ہے جو کہ تمام بہشتوں کا عین وسط ہے اور جنت عدن چہرہ بھی رکھتی ہے جو کہ سرخ یاقوت اور لولو گا ہے پھر میں نے بلال(رح) سے پوچھا کیا اس کے درمیان کچھ اور بھی ہے تو کہا ہاں جنتِ فردوس ہے میں نے پوچھا وہ کس طرح کی ہے تو کہنےلگے وائے ہو تم پر تم نے مجھے سرگرداں کردیا ہے، میں نے کہا آپ نے مجھے سرگرداں کردیا ہے میں اپنا ہاتھ اس وقت تک آپ سے نہیں ہٹاؤں گا جب تک آپ مجھے اس کے بارے میں


 مکمل معلومات فراہم نہیں کردیتے مجھے جنت الفردوس کے بارے میں بتائیں بلال(رح) نے کہا اس کا چہرہ نور کا ہے میں نے پوچھا غرفہ اسی میں ہے کہا کہ وہ نور رب العالمین ہے میں نے کہا مزید  بیان کریں تو کہا وائے ہو تم پر خدا تم پر رحم کرے رسول خدا(ص) نےفرمایا ہے وہ بندہ خوش قسمت ہے کہ بیان کردہ اوصاف میں سے اگر اس سے کچھ بیان ہوا ہے تو ان پر اعتقاد رکھے اور ایمان لائے اور باور کرے کہ یہ حقیقت ہے لہذا دینا کے مال و دولت کی رغبت نہ رکھے اور اپنے حساب کی حفاظت کرے میں نے کہا میں اس کا اعتقاد رکھتا ہوں، بلال(رح) نے کہا تم سچ کہتے ہو خود کو اس کے نزدیک کرو اور محکم بناؤ نا امید مت رہو عمل کرو اور تقصیر نہ کرو  اور خوف خدا رکھو پھر بلال(رح) نے تین مرتبہ آہ و زاری کی اور یوں محسوس ہوا اور کہ بے جان ہوگئے ہیں پھر کچھ دیر بعد مجھ سے فرمایا میرے ماں باپ تجھ پر قربان اگر محمد(ص) تمہیں دیکھتے تو ان کی آنکھیں روشن ہوتیں کہ تم نے ان اوصاف کے بارے سوال کیے ہیں پھر کہنے لگے نجات۔ نجات۔ جلدی جلدی۔ کوچ کوچ ۔ عمل عمل۔ دیکھنا کہیں تقصیر نہ کر بیٹھنا پھر جو کچھ مجھے وداع کرتے وقت فرمایا وہ یہ تھا کہ خدا سے ڈرنا اور جو کچھ میں نے تمہیں بتایا وہ امت محمد(ص) تک پہنچا دو۔ میں نے کہا میں آپ کی ہدایت پر عمل کروں گا انشاء اﷲ، بلال(رح) نے کہا میں تیرے دین اور تیری امانت کو خدا کے حوالے کرتا ہوں خدا اپنی چاہت سے تمہیں توشہ تقوی عطا کرے اور تم اس(خدا) کی اطاعت کرتے وہو۔

۲ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا تم جب بھی مئوذن کو کہتے سنو”أَشْهَدُ أَنْ‏ لَا إِلَهَ‏ إِلَّا اللَّهُ وَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّداً رَسُولُ اللَّهِ “ تو جوکوئی بھی سن کر اقرار کرے کہ میں نے جان لیا اور قبول کرتا ہوں کہ معبود صرف خدا ہے اسکے علاوہ کوئی اور نہیں اور محمد(ص) خدا کے رسول ہیں اور میرے لیے یہ بات فائدہ مند ہے اور جو کوئی اس کا بھی اقرار کرے کہ میں اس کی مدد کرتا ہوں اور دھوکے باز کا انکار کرتا ہوں وہ تمام منکر و حاسدین اور تابعین و مومنین کی تعداد کے برابر ثواب پائےگا۔

۳ـ          رسول خدا(ص) نے فرمایا عرش پر لکھا ہے”انا اﷲ لَاإِلَه َإِلَّااناوَحْدَی لَاشَرِيكَ لی وَمُحَمَّدٌعَبْدِيَ وَرَسُولِي أَيَّدْتُهُ‏ بِعَلِيِ‏ “میں خدا ہوں میرے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے میرا کوئی شریک نہیں محمد(ص) میرا رسول ہے اور میرا بندہ ہے۔ میں نے اسکی مدد علی(ع) کے ذریعے کی۔ جنابِ رسول


خدا(ص) فرماتے ہیں کہ اسی ضمن میں خدا نے  اس آیت کو نازل کیا ۔

”هُوَ الَّذي أَيَّدَكَ بِنَصْرِهِ وَ بِالْمُؤْمِنينَ“

(انفال ، ۶۲)اور وہ ہے کہ جس نے تیری تائید و مدد اپنے مومنین کے ذریعے سے کی۔

نصر سے مراد علی(ع) ہے اور مومنین میں بھی داخل ہیں اس لیے دوںوں لحاظ سے اس آیت کے مورد علی(ع) ہیں۔

۴ـ          ابو حمزہ ثمالی کہتے ہیں کہ امام باقر(ع) نے فرمایا اے ابو حمزہ علی(ع) کو اس مقام سے نیچے مت کرو جو خدا نے انہیں دیا ہے اور نہ ہی اس سے برتر کرو علی(ع) کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اہل زمین ( منافقین و کفار) سے جنگ کرتے ہیں اور اہل بہشت کی تزویج کرتے ہیں۔

۵ـ          رسول خدا(ص) نے فرمایا شب معراج، میں نے عرش کے ایک ستون پر لکھا ہوا دیکھا

”انا اﷲ لَاإِلَهَ إِلَّااناوَحْدَی خَلَقت جَنّته عَدن‏وَمُحَمَّدٌصَفوَتی أَيَّدْتُهُ‏ بِعَلِيِ و نَصَرتُه بِعَلِی“

میں خدا ہوں میرے علاوہ کوئی معبود نہیں میں واحد ہوں میں نے بہشت عد کو اپنے ہاتھ سے خلق کیا محمد(ص) میری برگزیدہ خلق ہیں اور ان کی تائید اور مدد علی(ع) کے ذریعے سے کی گئی۔“

۶ـ           جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں۔

اول :۔       میرے لیے زمین کو مسجد طہور مقرر کیا گیا۔

دوم :۔               غنیمت مجھ پر حلال کی گئی۔

سوم :۔              میری مدد خوف سے کی گئی۔

چہارم :۔     کلمات پر معنی عطا کیے گئے۔

پنجم :۔               اور مجھے شفاعت عطا کی گئی۔

۷ـ          امام محمد باقر(ع) اپنے اجداد(ع) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا لوگو علی(ع) کا دامن پکڑ لو کیوںکہ و صدیق اکبر اور فاروق اعظم ہیں جو حق اور باطل کے درمیان فرق معلوم کرواتا ہے جو


 کوئی اس کو دوست رکھتا ہے خدا اس شخص کی ہدایت فرماتا ہے جو کوئی اسے دشمن رکھے تو خدا بھی اسے دشمن رکھتا ہے جو کوئی اس سے اختلاف رکھے گا خدا اس کو نابود کردےگا اس کے دو فرزند اس امت کے سردار ہیں یہ دونوں حسن(ع) اور حسین(ع) ہیں اور میرے بیٹے ہیں حسین(ع) کی نسل سے رہبر آئمہ(ع) ہیں کہ خدا نے انہیں میرا علم و فہم عطا کیا ہے تم انہیں دوست رکھنا اور پیٹھ مت پھیرنا کہ خدا کے عذاب کا شکار ہوجاؤ اور جو کوئی خطا کرے گا وہ اپنے پر وردگار کے غضب کا شکار ہوگیا ہے یہ زندگی اس دنیا کےلیے نہیں اور مال و دولت جو دنیا میں ہے وہ فریب ہے۔


مجلس نمبر ۳۹

( بروز جمعہ سات صفرسنہ۳۶۸ھ)

۱ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا جو کوئی شیعہ مومن انتقال کرجائے اور دفن ہوجائے تو خدا ستر ہزار فرشتے معمور کرتا ہے جو اس کے لیے رحمت طلب کرتے ہیں اور جب وہ اپنی قبر سے باہر نکلے تو اس کی مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔

۲ـ           امام صادق(ع) نے اپنے والد(ع) سے روایت کی ہے کہ جو کوئی نماز گزار وفات پا جائے وہ اہل قبلہ سے ہے  اور اس کا حساب خدا پر ہے۔

۳ـ          امام باقر(ع) نے فرمایا تم میں سے جو کوئی کسی مسلمان کا تشییع جنازہ ادا کرے تو ایسے شخص کو روزِ قیامت چار شفاعتیں عطا کی جائیں گی اور  فرشتے اس سے کہیں گے کہ یہ تیرے اس عمل ( تشییع جنازے) کے واسطے ہیں۔

۴ـ          معمر بن راشد کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق(ع)سے سنا کہ ایک یہودی جنابِ رسول خدا(ص) کی خدمت میں آیا اور آںحضرت(ص) کو سخت نظروں سے دیکھا۔ رسول خدا(ص) نے اس سے دریافت کیا کہ اے یہودی کیا حاجت رکھتے ہو؟ اس نے پوچھا مجھے بتاؤ تم افضل ہو یا موسی(ع) بن عمران(ع) جب کہ اس نے خدا سے کلام کیا اور اسے توریت و عصا دیا گیا، دریا کو اس کے واسطے شگافتہ کیا گیا اور ایک بادل ہمیشہ اس کے سر پر سایہ فگن رہتا تھا جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا اے شخص یہ بہتر نہیں کہ اپنی تعریف خود ہی کی جائے لیکن تمہیں بتانے کے واسطے میں کہتا ہوں کہ جب آدم(ع) نے گناہ کیا تو خدا سے توبہ کرنے لیے انہوں نے کہا خدایا میں تجھے محمد و آل محمد(ص)  کے حق کا واسطہ دیتا ہوں میری توبہ قبول فرما لے تو خدا نے ان کی توبہ قبول کرلی۔

جب نوح(ع)کشتی پر سوار ہوئے اور غرق ہونے کے خوف میں مبتلا ہوئے تو یوں کہا خدایا بحق محمد(ص) و آل محمد(ص) مجھے  غرق ہونے سے بچالے اور خدا نے انہیں بچالیا۔

جب ابراہیم(ع) کو آگ میں گرایا گیا تو انہوں نے خدا کے حضور یہ کہا خدایا تجھے محمد(ص) و آل محمد(ص) کے حق کا


 واسطہ مجھے اس آگ سے بچا تو رب العزت نے آگ سرد کردی اور انہیں بچالیا اور سلامت رکھا۔

جب موسی(ع) نے اپنا عصا پھینکا اور ڈرنے لگے تو خدا کو واسطہ دیا کہ خدایا میں تجھے محمد و آل محمد(ص) کے حق کا واسطہ دیتا ہوں مجھے ان سے امان دے تو خدا نے موسی(ع) سے فرمایا: مت ڈرو اور انہیں امان دی۔ اے یہودی تم مجھ سے میری فضیلت پوچھتے ہو۔ اگر موسی(ع) مجھے پا لیتے اور مجھ پر ایمان نہ لاتے تو انہیں ان کا ایمان اور ان کی نبوت کوئی فائدہ نہ پہنچا سکتی تھی اے یہودی میری ذریت میں سے میرے ایک فرزند مہدی(عج) ہیں جب وہ ظہور فرمائیں گے تو عیسیٰ بن مریم(ع) ان کی مدد کے لیے اتریں گے اور میرے فرزند کی امامت میں نماز ادا کریں گے۔

عبادتِ حضرت سجاد(ع)

۵ـ          طاوس یمانی کہتے ہیں ایک دفعہ میرا گزر ایک ایسے پتھر کے پاس سے ہوا جس پر ایک شخص سجدے کی حالت میں عبادت کررہا ہے میں رک گیا اور چاہا کہ انہیں شناخت کروں تو کیا دیکھا کہ وہ امام سجاد(ع) ہیں مجھے خیال آیا کہ یہ اہل بیت(ع) نبوت(ص) سے ہیں اور خدا کے صالح بندے ہیں اور ان سے اپنے حق میں دعا کروانا غنیمت ہے میں انتظار کرنے لگا جب امام(ع) نے نماز ختمکی تو بارگاہ رب العزت میں دعا کے لیے ہاتھ بلند کیے اور فرمایا سرداروں کے سردار میں اپنے گناہ گار ہاتھ تیری بارگاہ میں لیے کھڑا ہوں ۔ میری دونوں آنکھیں تجھ سے خیر کی امید لیے ہوئے ہیں اور میں خوار اور پشیمان حالت میں تیری بارگاہ میں دعا کرتا ہوں بارالہا تو حق رکھتا ہے کہ فضل و کرم سے اس کا جواب دے کہ تو نے مجھے بدبخت پیدا کیا ہے کہ میں ہمیشہ گریہ کروں یا خوش بخت کہ تجھ سے بخشش کی امید رکھوں یا خدایا میں بخشش کی خوشخبری کی امید رکھتا ہوں میرے آقا میرے اعضاء گرز کھانے کے واسطے بنے ہیں اور ڈرتا ہوں جب تو منہ کے ذریعے مجھے حمیم پلائے گا میرے آقا اگر بندے کو یہ طاقت نصیب ہوتی کہ وہ تیری بادشاہی سے دور بھاک جائے تو سب سے پہلے میں تیرے عذاب کے خوف سے راہ فرار اختیار کرتا۔لیکن میں جانتا ہوں کہ تیری سلطنت میں تیرے


 شکنجے سے بچ کر میں کہیں نہیں جا سکتا اس واسطے میں تجھ سے صبر کا خواستگار ہوں کہ تجھ سے راہ فرار نہیں ہے میرے آقا میں تیرا مطیع ہوں اور تیری اطاعت میں ہوں اور تیرے حکم کی نافرمانی کی تاب نہیں رکھتا میرے مالک میں یہ اعتبار رکھتا ہوں کہ تو اپنے فضل سے مجھے بخش سے گا خدایا تجھے تیری آبرو کا واسطہ مجھ سے در گزر فرما۔ اے میرے سردار مجھ پر رحم فرما اس سے پہلے کہ میں اپنے بستر پر پڑا ہوں اور دوستوں کے ہاتھوں پہلو بہ پہلو ہو رہا ہوں اور قبل اس کے کہ میں پتھر کی سل پر گرا ہوا ہوں اور میرے نیک ہمسائے مجھے غسل دے رہے ہوں۔  مجھ پر رحم کر قبل اس کے کہ میرا جنازہ میرے رشتہ داروں کے کندھوں پر ہو اور میرا گھر ایک تاریک قبر ہو میری وحشت و غربت اور تنہایی پر رحم کر۔

طاوس یمانی کہتے ہیں کہ یہ سن کر میں نے گریہ کیا کہ میرا گلا رندھ گیا تو آںحضرت(ع) نے میری طرف توجہ کی اور فرمایا اے یمانی کیوں گریہ کرتے ہو کیا یہ موقع گناہ گاروں کا نہیں میں نے کہا میرے حبیب خدا کی قسم یہ حق ہے کہ ہو ( خدا) آپ کو رد نہ کرے کہ آپ(ع) کے جد رسول خدا(ص) ہیں۔

اس وقت کافی لوگ آںحضرت(ع) کے پاس جمع ہوگئے جنابِ سجاد(ع) نے اپنا رخ لوگوں کی طرف کیا اور فرمایا اے لوگو میں دینا کی بجائے تمہیں آخرت کی وصیت کرتا ہوں کیوں کہ تم دنیا کے بارے میں جانتے ہو۔ جان لو کہ دنیا کا لالچ رکھنے والا پکڑا جائے گا اے میرے دوستو دنیا ایک گزر گاہ ہے اور آخرت ہمیشہ رہنے والا گھر ہے اپنی اس گزرگاہ سے آخرت میں آسائش گاہ کے لیے توشہ لیے رکھو اور جو تمہارے رازوں سے آگاہ ہے اس سے اپنے راز پوشیدہ رکھنے کی کوشش مت کرو، اپنے دل دنیا سے جدا کیے رکھو اس سے پہلے کہ تمہیں اس سے تنہا و جدا کیا جائے کیا تم سنتے اور دیکھتے نہیں ہو کہ تم سے پہلی امتوں کے لوگ جو اس زمانے کے طلب گار تھے آج کس طرح رسوا ہوئے ہیں اور زندگی کی خوشی آج کس طرح غم میں بدل گئی ہے اور وہ درد و بلا کا شکار ہوگئے ہیں آج وہ نمونہ عبرت بن گئے ہیں۔ بس تم اپنے اورمیرے لیے مغفرت طلب کرتے رہو۔

۶ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا، مدینے میں ایک مسخرہ رہتا تھا جو لوگوں کو ہنسایا کرتا تھا ایک دن امام سجاد(ع) ، جنابِ علی بن حسین(ع) کا گزر اس کے پاس سے ہوا آپ(ع) اپنے دو غلاموں کے ہمراہ تھے،


 جب اس مسخرے کی نظر آپ(ع) پر پڑی تو لوگوں سے کہنے لگا مجھ میں یہ طاقت نہیں کہ انہیں ہنسا سکوں تاہم یہ کہہ کر اس نے تمسخر کی خاطر آپ(ع) کے دوش مبارک سے آپ(ع) کی ردا کھینچ لی امام سجاد(ع) نے اس کے اس فعل پر کوئی توجہ نہ دی لوگوں نے یہ دیکھا تو اس مسخرے سے چادر واپس لی اور امام سجاد(ع) کے دوش مبارک پر ڈال دی۔ امام عالی مقام(ع) نے لوگوں سے دریافت کیا کہ یہ شخص کون ہے۔ لوگوں نے بتایا یہ ایک مسخرہ ہے جولوگوں کو ہنساتا ہے۔ امام عالی مقام(ع)  نے فرمایا اس سے کہو خدا کی طرف سے ایک دن مقرر ہے جس میں بے ہودہ حرکتیں کرنے والے نقصان میں رہیں گے۔

۷ـ          جناب امیرالمومنین (ع) نے فرمایا اہل دین نشانیاں رکھتے ہیں جن سے وہ پہچانے جاتے ہیں ان کے کلام میں سچ، ان میں امانت داری، وفائے عہد، کمزور پر صلہ رحمی، عورتوں سے اچھا سلوک، خوش خلقی، والدین کی فرمانبرداری ، علم کی پیروی، خدا کا قرب حاصل کرنا، اور نیکی ان کا شعار ہے، جان لو کہ طوبیٰ ان سے ہے، طوبیٰ بہشت کا ایک درخت ہے کہ جس کی جڑیں پیغمبر(ص) میں ہیں اور ہر مومن کے گھر میں اس کی ایک شاخ ہے یہ شاخ اتنی وسیع ہے کہ اگر اس کی سیر کرنا چاہو تو ایک تیز رفتار گھوڑا جو سو سال اس کے سائے میں دوڑے تو اس کے سائے سے باہر نہ نکل سکے گا پس آگاہ رہو اور اس نعمت کے لیے رغبت کرو۔ مومن نیکیوں میں مشغول ہےکہ لوگ اس سے آرام پاتے ہیں جب رات ہوتی ہے تو وہ (مومن) اپنے چہرے کو خاک پر رکھتا ہے اور سجدہ کرتا ہے اور ان اعضاء کے ساتھ اس کا شکر بجالاتا ہے جو اس کے لیے محترم ہیں اور اسے آزادی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔

۸ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا خدا نے اپنے حبیب کو مخصوص مکارم اخلاق سے مزین کیا جو کہ یقین، قناعت، صبر، شکر، حلم، حسنِ خلق، سخاوت، غیرت، شجاعت اور مروت ہیں لہذا اے لوگو اگر تم ان مکارم کو اپنے اندر موجود پاؤ تو خدا کی حمد اور اس کاشکر ادا کرو اور خدا سے ان میں اضافے کی دعا کرو۔

۹ـ           امام رضا(ع) نے اپنے اجداد(ع) نے نقل کیا ہے کہ جب امام حسن مجتبی(ع) کا وقت رحلت قریب آیا تو وہ رونے لگے ان سے پوچھا  گیا آپ(ع) رسول خدا(ص) سے اتنا قریبی رشتہ رکھنے کے باوجود بھی گریہ


فرمارہے ہیں جبکہ آپ(ع) کے بارے میں بہت سی احادیث و اقوال بھی کہے گئے ہیں آپ(ع) نے بیس (۲۰) حج با پیادہ انجام دیئے ہیں اور اپنے مال یہاں تک کہ اپنی نعلیں کو بھی راہ خدا میں تقسیم کردیا ہے امام(ع) نے فرمایا میرا گریہ دو سبب سے ہے ایک خدا سے ملاقات کا خوف اور دوسرا میرے دوستوں سے میری دوری۔

۱۰ـ          جنابِ رسول خدا(ص) سے جبرائیل(ع) ، ان سے میکائیل(ع) ، ان سے اسرافیل(ع)،اور ان سے خدا نے فرمایا ۔ میں خدا ہوں میرے علاوہ کوئی معبود نہیں میں نے اپنی طاقت سے خلق کو  پیدا کیا اور جس کو پیغمبر(ص) بنایا چاہا اس کو چن لیا اور ان ہی میں سے میں نے اپنے صفی و خلیل اپنے حبیب محمد(ص) کو چنا ہے اور اس کو خلق پر مبعوث کیا ہے اور اس کے بعد علی(ع) کو اس کے لیے چنا اس کو اس کا برادر۔ وصی۔ وزیز اور(حق) ادا کرنے والا خلیفہ اپنے بندوں پر بنایا۔ تاکہ میرے قرآن کو امت کے سامنے بیاں کرئے اور ان کو تبلیغ کرے اور ان کی گمراہی میں رہبر بنے۔ میں نے اسے  اپنا باب قرار دیا اور جوکوئی اس میں گزرے دوزخ سے امان پائے وہ میرا قلعہ ہے جوکوئی اس میں آئے پناہ میں ہے وہ آسمانوں اور زمین میں میری حجت ہے۔ اسکی ولایت اور میرے رسول احمد(ص) کی نبوت کا اقرار کیے بغیر میں اپنی مخلوق کے کسی عمل کو ہرگز قبول نہیں کروں گا۔ علی(ع) وہ ہے کہ جس کے دونوں ہاتھ میرے بندوں پر کھلے ہیں وہ جن نعمتوں کو دوست رکھتا ہے وہ اسے عطا کی گئی ہیں وہ ولی ہے اور شناسا ہے۔ میری مخلوق میں سے  جو کوئی بھی اس کی ولایت سے روگرداں اور اسکی پہچان نہیں رکھتا اور اس سے دشمنی رکھتا ہے مجھے اپنی عزت وجلال کی قسم ہے میں بھی اس کا دشمن ہوں اور اسے  دوزخ میں ڈالوں گا اور یہ کیسا برا انجام ہے۔ اور جو کوئی جہاں کہیں بھی اس سے محبت کرے گا میں اسے بہشت عطا کروں گا اور دوزخ سے پناہ دوں گا۔


مجلس نمبر۴۰

(سب ۱۱ صفر سنہ۳۶۸ھ)

۱ـ           جنابِ علی بن ابی طالب(ع) فرماتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے مجھے طلب کیا اور فرمایا اے علی(ع) تم یمن جاکر لوگوں کی اصلاح کرو۔ میں نے کہا یا روسول اﷲ(ص) وہ لوگ تعداد میں بہت زیادہ ہیں اور ان میں سے کچھ مجھ سے زیادہ عمر کے بزرگ بھی ہیں جب کہ میں جوان ہوں جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا اے میرے رفیق علی(ع) جب تم ان کے نزدیک پہنچ جاؤ تو با آواز بلند یہ کہنا اے اشجار۔ اے پتھرو۔ اے مٹی کے ڈھیلو۔ رسول خدا(ص) تمہیں درود و سلام کہتے ہیں۔ جنابِ امیر(ع) فرماتے ہیں جب میں یمن پہنچا اور ان لوگوں کے درمیان گیا تو ان لوگوں نے مجھے دیکھ کر اپنے ہتھیار نکال لیئے اور اپنی برہنہ تلواروں اور اپنے نیزوں و تیروں کا رخ میری طرف کر لیا۔ یہ دیکھ کر میں نے بہ ہدایت رسول خدا (ص) بلند آواز سے کہا اے اشجار۔ اے پتھرو۔ اے مٹی کے ڈھیلو تمہیں رسول خدا(ص) درود و سلام کہتے ہیں۔ جناب امیر(ع) فرماتےہیں اس آواز کا بلند ہونا تھا کہ وہاں سے درخت پتھر مٹی کے ڈھیلے وغیرہ سب کے سب غائب ہوگئے یہ دیکھ کر وہ تمام لوگ نہایت پریشان ہوئے اور ان کے ہتھیار ان کے ہاتھوں سے گر گئے ان کے قلب و جسم لرزنے لگے اور وہ جلدی سے میرے گرد اکٹھے ہوگئے میں نے بحکم خدا اور رسول(ص) ان کی اصلاح کی اور واپس چلا آیا۔

زہر سے قتلِ محمد(ص) کا منصوبہ

۲ـ           جنابِ امیر(ع) فرماتے ہیں کچھ یہودی ایک یہودیہ کے پاس آئے جس کا نام عبدہ تھا اور اس سے کہا جانتی ہو کہ محمد(ص) نے بنی اسرائیل کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے اور یہودیت کو ویران کر کے رکھ دیا ہے لہذا ہم یہ بیش قیمت زہر لے کر تمہارے پاس آئے ہیں جسے تمام اشراف یہود نے مل کر خریدا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ تو کسی طرح محمد(ص) کو  یہ زہر دے دے  اگر تو نے ایسا کر لیا تو ہم تجھے منہ مانگا انعام دیں گے اس عورت عبدہ نے وہ زہر ان سے لے لیا اور ایک گوسفند کے گوشت کو


بھون کر تمام رؤساء یہود کو دعوت دی اور پھر آںحضرت(ص) کی خدمت میں جاکر انہیں کہا، اے محمد(ص) آپ جانتے ہیں کہ میں کس لیے حاضر ہوئی ہوں آپ(ص) بمعہ اپنے اصحاب میرے گھر پر دعوت قبول فرمائیں اور مجھے سر بلند فرمائیں رسول خدا(ص) اپنے اصحاب جن میں جنابِ امیر(ع) ابو دجانہ۔ ابو ایوب۔ سہل بن حنیف۔ اور دیگر انصاران بھی تھے کے ہمراہ اس کے گھر تشریف لے گئے اور دیکھا کہ تمام یہودی کھڑے ہیں آپ(ص) نے فرمایا بیٹھ جاؤ تو کہنے لگے ہمیں یہ زیب نہیں دیتا کہ خدا کے رسول (ص) سے پہلے بیٹھیں، پھر وہ عورت بھنا ہوا گوسفند لائی اور سامنے رکھ دیا قدرت خدا سے گوسفند کے شانے کا گوشت گویا ہوا اور رسول خدا(ص) سے کہا یا رسول اﷲ(ص) مجھے مت کھائیں مجھے مسموم(زہر آلود) کردیا گیا ہے۔ رسول خدا(ص) نے عبدہ(زن یہودیہ ) کو بلایا اور اس سے فرمایا اے عورت تو کس کی خاطر ایسےکام کی مرتکب ہوئی۔ وہ عورت کہنےلگی میں یہ دیکھنا چاہتی تھی کہ اگر آپ(ص) خدا کے رسول(ص) ہیں تو یہ زہر آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکےگا اور اگر آپ(ص) ( نعوذ باﷲ) جھوٹے ہیں یا جادو گر ہیں تو اپنی قوم کو آپ(ص) سے نجات دلاؤں گی۔

اسی وقت جبرائیل(ع) نازل ہوئے اور رسول خدا(ص) سے فرمایا خدا آپ(ص) کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ کہو” بسم اﷲ والاملک“ اےمحمد(ص) یہ وہ نام ہے کہ ہر مومن اسے جان لے گا تو یہی کہے گا اور جان لو کہ ہر مومن عزیز ہے اور اس ( خدا) کے نور سے آسمان و زمین تابندہ ہیں اور ہر شیطان مردود کا سر اس کے سامنے نیچا ہے ہر قسم کے شر۔ زہر ، بیماری اور ہر بدی میں یہ کلمہ ” بسم الﷲ والا ملک“ یکتا ہے اور بجر اس خدا کے کوئی معبود حق نہیں اس نے قرآن میں سے جو کچھ نیچے بھیجا ہے مومنین کے لیے رحمت وشفا ہے اور ستم گاروں کے لیے نقصان ہے۔ پیغمبر(ص) نے اس کلمہ کی تلقین اپنے اصحاب کو بھی فرمائی۔ پھر فرمایا اگر سب لوگوں نے کھا لیا ہوتو چلو اور اپنے سر منڈھا ڈالو۔

آواز ناقوس

۳ـ          حارث اعور کہتے ہیں ہم امیرالمومنین(ع) کے ساتھ حیرہ کے مقام پر گئے اور وہاں دیکھا


کہ ایک ویرانی( گرجے یا کلیسا کا اہل کار) ناقوس بجا رہا ہے جناب امیر(ع) نے فرمایا اے حارث جانتے ہو یہ ناقوس کیا کہہ رہا ہے میں نے کہا یا امیر(ع) خدا بہتر جانتا ہے یا خدا کا رسول(ص) یا پھر اس کے چچا کا بیٹا، جنابِ امیر نے فرمایا یہ کہتا ہے اس دنیا کی مثال ویرانی جیسی ہے اور کہتا ہے” لا الہ الا اﷲ“ حقا حقا صدقا صدقا“ بیشک دنیا نے ہم کو فریب دیا اور ہمیں سرگرم کیا۔ ہمارے دل کو اچک لیا اور ہمین گمراہ کیا اے دنیا کے بیٹے ٹھہر ٹھہر۔ اے دنیا کے بیٹے مار مار، اے دنیا کے بیٹے جمع کر جمع کر،دنیا فانی ہے صدی  بہ صدی کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب ہمارا کوئی رکن سست ہوجاتا ہے( مرجاتا ہے) اور اس نے ضائع کیا ہمیشہ رہنے والے گھر کو اور فانی جگہ کو وطن بنایا۔ اور ہم نہیں جانتے کہ ہم نے اس میں کیا تقصیر کی ہے مگر یہ کہ مرنے کے بعد اس کا پتہ چلتا ہے۔

میں ( حارث) نے کہا یاامیرالمومنین(ع) کیا ںصاری کو یہ بات معلوم ہے تو جواب میں فرمایا اگر جانتے تو خدا کے مقابلے میں عیسی(ع) کی عبادت نہ کرتے۔

حارث کہتے ہیں میں اس ویرانی(گرجے کے اہکار) کے پاس گیا اور کہا تجھے مسیح کی قسم یہ ناقوس جو کچھ کہہ رہا ہے تجھے علم ہے اس نے کہا مجھے بتاؤ تب میں نے اسے کلمہ بہ کلمہ جناب امیر(ع) کا بیان سنایا اس ویرانی نے مجھے کہا تجھے تیرے پیغمبر(ص) کی قسم اس بات کی اطلاع تجھے کس نے دی ہے میں نے کہا اس مرد نے جو کل میرے ساتھ تھا اس نے پوچھا کیا تمہارے پیغمبر(ص) اور اس کے درمیان کوئی رشتہ داری ہے میں کہا ہاں وہ ہمارے پیغمبر(ص) کے چچا کے بیٹے ہیں اس نے کہا تجھے تیرے پیغمبر(ص) کا واسطہ مجھے بتا، کیا اس بات کو انہوں نے اپنے پیغمبر(ص) سے سنا ہے میں نے اثبات میں جواب دیا تو وہ ویرانی مسلمان ہوگیا اور کہنے لگا میں نے توریت میں پڑھا تھا کہ ایک آخری نبی(ص) آئے گا جو ناقوس کی آواز کی تفسیر بتائے گا۔

۴ـ          انس کہتے ہیں کہ ایک تاریک شب میں میں دو آدمیوں کے ساتھ جناب رسول خدا(ص) کی خدمت میں حاضر ہوا جنابِ رسول خدا(ص) نے ہمیں فرمایا علی(ع) کے گھر جاؤ ہم علی(ع) کے گھر گئے اور آہستہ سے دروازہ کھٹکھٹایا علی(ع) ایک اونی ردا شانوں پر ڈالے اور رسول خدا(ص) کی شمشیر کی مانند ایک شمشیر ہاتھ میں لیے باہر تشریف لائے اور فرمایا کیا بات ہے جو اس وقت آئے ہو خیریت ہے، ہم نے کہا


 ہمیں رسول خدا(ص) نے آپ(ص) کے ہاں آنے کا حکم دیا ہے اور وہ خود بھی تشریف لارہے ہیں اتنے میں رسول خدا(ص) بھی تشریف لے آئے اور فرمایا اے علی(ع)، جنابِ امیر (ع) نے کہا لبیک یا رسول اﷲ(ص) فرمایا جو کچھ گذشتہ شب تمہارے ساتھ پیش آیا ہے اس کی خبر میرے اصحاب کو دو۔ جنابِ امیر(ع) نے فرمایا یا رسول اﷲ(ص) مجھے بتائے ہوئے ہچکچاہٹ محسوس ہوتی ہے رسول خدا(ص) نے فرمایا اے علی(ع) خدا کو حق بات کرنے سے شرم نہیں آتی لہذا تم بھی شرم محسوس نہ کرو، جنابِ امیر(ع) نے فرمایا یا رسول اﷲ(ص) گذشتہ شب مجھے غسل کی حاجت ہوئی تو میں نے گھر میں پانی تلاش کیا کہ غسل کروں جب نہ ملا تو حسن(ع) کو ایک طرف بھیجا اور حسین(ع) کو دوسری طرف تاکہ پانی تلاش کریں جب انہیں آنے میں دیر ہوگئی تو میں پشت کے بل لیٹ گیا کہ تاریکی شب میں یکا یک ہاتف غیبی کی آواز سنائی دی کہ اے علی(ع) اٹھو اور اس پانی کے برتن کو لے لو اور غسل کرو میں نے وہ برتن لیا اور غسل کر لیا پھر سندس کا وہ غلاف جو اس برتن کے اوپر تھا اسے اس برتن میں پھینک  دیا اس وقت اس برتن کو ہوانے اوپر اٹھایا تب اس برتن میں سے ایک گھونٹ میری  پیشانی اور میرے سر پر گرا جس کی خنکی میرے دل و جسم کو خنک کر گئی۔

جنابِ رسول(ص)  خدا نے فرمایا اے علی(ع) مبارک ہو مبارک ہو کہ تم نے اس طرح فجر کی کہ جبرائیل(ع) تمہارا خادم تھا اور وہ  پانی نہر کوثر اور برتن بہشت کا تھا پھر آپ(ص) تین بار فرمایا کہ مجھے جبرائیل(ع) نے اس کی خبر دی ہے۔

۵ـ          جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا اپنے بھائی کی  شماتت ( مذاق اڑانا۔ نقصان پر خوش ہونا) ظاہرامت کرو کہ خدا اس پر رحم کردے اور کہیں تمہیں بلا میں مبتلا نہ کردے۔

۶ـ           ابوذر(رح) کہتے ہیں کہ میں نے رسول خدا(ص) سے پوچھا یا رسول اﷲ(ص) ایک آدمی اپنے لیے کام کرتا ہے اور لوگ اسے دوست رکھتے ہیں رسول خدا(ص) نے فرمایا مومنین کےلیے یہ فوری اور نزدیکی خوشخبری ہے۔

۷ـ          جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا میری امت کے زہد و یقین رکھنے والوں کے لیے نیکی و بھلائی ہے جبکہ بخیل اور آرزو رکھنے والوں کےلیے ہلاکت ہے۔


۸ـ          اصبغ ابن نباتہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں امیرالمومنین(ع) کے ساتھ مسجد کوفہ میں موجود تھا اس وقت جنابِ امیر(ع) نے فرمایا ۔ اے اہل کوفہ  خدا نے تمہیں وہ چیز بخشی ہے جو کسی اور کو نہیں دی گئی اور یہ ہے کہ تمہارے اس گھر( مسجد کوفہ) میں تمہاری نماز کو فضیلت بخشی ہے یہ میرا گھر ہے یہ آدم(ع)  و نوح(ع) و ادریس(ع) کا گھر ہے یہ گھر ابراہیم(ع) کا گھر ہے۔ یہ خضر(ع) کا گھر ہے یہ گھر ان چار مسجدوں میں سے ایک ہے کہ جن کو خدا نے ان کے اہل کے لیے چنا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ ( خدا) اس میں حجر اسود کو نصب کرے کہ یہ مسجد روز قیامت دو سفید چادروں میں لپٹی اپنے اہل کی شفاعت کررہی ہوگئی جو کہ رد نہ ہوگئی ایک دن ایسا آئے گا۔ اور ایک زمانہ آئے گا کہ میرے فرزندوں میں سے مہدی(ع) اس میں نماز پڑھے گا اور روئے زمین پر کوئی مومن ایسا نہ ہوگا جس کے لیے یہ نماز کا گھر نہ ہو کہ وہ اس میں آئے گا یا اس کا دل اس میں آنے کو چاہے گا۔ اس لیے اسے مت چھوڑ اور اپنی نمازوں میں اس مسجد کے ذریعے تقریب خدا طلب کرو اور اپنی حاجات کے لیے اس میں رغبت کرو اگر لوگ جانتے کہ اس میں کیا برکت ہے تو قطار در قطار اس کی طرف آتے چاہے ان کےہاتھ پیر برف میں دھنسے ہوئے ہی کیوں نہ ہوتے۔( یا وہ برف سے ڈھکنے پہاڑ ہی عبور کر کے کیوں نہ آتے)

۹ـ           جنابِ امیرالمومنین علی بن ابی طالب(ع) نے فرمایا عورتوں کی عقل ان کے جمال سے اور مردوں کا جمال ان کی عقلوں سے ہے۔

۱۰ـ          جنابِ علی بن ابی طالب(ع) نے خدا کے قول، فراموش نہ کرو حصے کو دنیا سے (قصص،۷۷) کی تفسیر کے سلسلے میں فرمایا، اپنی تندرستی، طاقت، فراغت، جوانی اور نشاط کو فراموش مت کرو۔ اس سے طلب آخرت کرو( طلب آخرت کے لیے، انہیں استعمال کرو)

۱۱ـ           جنابِ علی بن ابی طالب(ع) نے فرمایا رسول خدا(ص) نے حسن(ع) و حسین(ع) کے ہاتھ کو پکڑ کر فرمایا جو کوئی ان دونوں اور ان کے ماں(ع) باپ(ع) کو دوست رکھتا ہے وہ روز قیامت ہمارے ساتھ اور ہمارے درجے میں ہوگا۔

۱۲ـ          جنابِ علی ابن حسین(ع)، امام چہارم(ع) نے فرمایا خدا فرماتا ہے میری خلق میں سے کوئی مجھے


پہچانتا ہے اورپھر بھی میری نافرمانی کرتا ہے تو میں اس پر ایک ایسا بندہ مسلط کردوں گا جو مجھے نہیں پہچانتا ( یعنی ظلم کرے اور خوف خدا نہ رکھتا ہو)

۱۳ـ          محمد بن حرب ہلالی امیر مدینہ نے کہا کہ امام صادق(ع) نے فرمایا عافیت پوشیدہ نعمت ہے جب ملتی ہے تو لوگ بھول جاتے ہیں اور جب نہیں ملتی تو اسے یاد کرتے ہیں پھر فرمایا عافیت ایسی نعمت ہے کہ اس کا شکر عجز و انکساری سے کرنا چاہئیے۔( یا انسان اس کا شکر ادا کرنے سے قاصر ہے)

۱۴ـ          ابو زید نحوی انصاری کہتے ہیں کہ میں نے خلیل بن احمد عروض سے پوچھا کہ لوگوں نے علی(ع) کو کیوں چھوڑا حالانکہ وہ رسول(ص) کے رشتے دار تھے ۔ مسلمانوں میں مقام رکھتے تھے اسلام کی خاطر انہوں نے نے تکلیفیں اٹھائیں خلیل نے کہا خدا کی قسم ان کا نور تمام نور پر غالب تھا ہر منقبت میں وہ سبقت رکھتے تھے۔ لیکن لوگ مختلف قصے کہاںیاں رکھتے ہیں کیا تم نے سنا نہیں کہ شاعر کہتا ہے

                     ہرشکل کو اپنے مطابق ڈھال لیا

                                             فیل(ہاتھی) کو فیل کی طرح نہ دیکھا

جبکہ ریاستی شاعر نے عباس ابن احنف کے ان اشعار کو یوں ڈھال لیا اور ایک مختلف معنی میں بیان کیا کہ ان شعروں کے وزن میں کوئی فرق نہ پڑا مگر مطلب جدا ہوگیا میں ( ابوزید) نے جواب میں کہا لوگ با ہم شکلوں میں مدغم ہوگئے ہیں گناہ گار اور بے گناہ کا فرق مٹ گیا ہے” حسبنا اﷲ و نعم الوکيل“


مجلس نمبر۴۱

( چودہ صفر سنہ۳۶۸ھ)

عجائبات نگاہِ رسول(ص) میں

۱ـ           عبدالرحمن بن قاسم کہتے ہیں کہ ایک روز ہم رسول خدا(ص) کے ہاں موجود تھے کہ آپ(ص) فرمانے لگے گذشتہ و آئندہ عجائبات میرے مشاہدےسے گذرے ہیں، قاسم کہتے ہیں ہم نے عرض کیا یا رسول اﷲ(ص) ہماری جان اور ہمارے اہل و عیال آپ(ص) پر قربان کچھ ہمیں بھی بیان فرمائیں۔

جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا میں نے  اپنی امت میں سے ایک شخص دیکھا کہ ملک الموت آئے اور چاہا کہ اس کی روح قبض کریں مگر اس شخص کے احسان نے جو وہ اپنے ماں باپ پر کرتا تھا نے ملک الموت کو روک دیا۔

پھر مین دیکھا کہ میری امت کے ایک شخص پر عذابِ قبر شروع ہونے لگا ہے مگر اس کے وضو نے عذابِ قبر کو روک دیا پھر میں نے دیکھا کہ میرے ایک امتی کو شیطان گردن سے  پکڑنا چاہتا ہے مگر اس شخص کے ذکرِ خدا نے اسے شیطان سے نجات دلائی پھر دیکھا کہ ایک شخص پر فرشتہ عذاب کرنا چاہتا ہے مگر اس کی نماز اسے عذاب سے بچا گئی۔

پھر میں نے دیکھا میرا ایک امتی تشنگی سے بے حال ہے اور جب وہ حوض کے پاس جاتا ہے منع کردیا  ہے لیکن اس کے رکھے ہوئے ماہِ رمضان کے روزے آتے ہیں اور اسے سیراب کرجاتے ہیں۔

پھر دیکھا کہ میری امت کا ایک شخص جو ہر طرح سے انبیاء(ع) کے نزدیک ہوتا ہے مگر اسے اٹھا دیا جاتا ہے لیکن اس کا غسل جنابت آتا ہے اور اسے میرے پہلو میں بٹھا دیتا ہے۔

پھر میں نے دیکھا کہ میری امت میں سے ایک آدمی جو چھ(۶) وجوہات کی بنا پر تاریکی میں تھا کاحج اور عمرہ آیا اور اسے تاریکی سے نکال کر روشنی میں لے گیا۔


پھر میں نے دیکھا کہ میرا امتی مومنین سے بات کرنا چاہتا ہےمگر وہ اس سے بات نہیں کرتے مگر اس کا صلہ رحم آیا اور ان مومنین سے مخاطب ہو کر کہا اے مومنین اس سے بات کرو کہ یہ صلہ رحمی کرتا رہا ہے تو مومنین سے اس سے ہاتھ ملایا اور بات کرنے لگے اور اس کے ہمراہ ہو گئے پھر یہ دیکھا کہ ایک امتی اپنے ہاتھوں کو اپنے چہرے پر رکھ رکھ کر آگ کے شراروں سے بچنا چاہ رہا ہے تو اس کا صدقہ اسے اس آگ سے بچانے کا سبب بنا۔

پھر میں نے دیکھا کہ میری امت میں سے ایک شخص کو مامورینِ دوزخ پکڑ کر لے جارہے ہیں تو اس کے امر بالمعروف و نہی عن المنکر آئے اور اس کی رہائی کا سبب بنے اور اسے ملائکہ رحمت کے سپرد کردیا۔

پھر میں نے دیکھا کہ میرا ایک امتی، زانو کے بل آیا اس کے اور رحمتِ خداوندی کے درمیان پردہ حائل ہے تو اس شخص کے حسن خلق نے اسے وارد رحمت کردیا۔

پھریہ نظر آیا کہ ایک امتی کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں دیا گیا ہے اور وہ پریشانی کی وجہ سے خاموش ہے اس وقت اس کی خدا  خوفی کام آئی اور اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دے گئی۔

پھر میں نے دیکھا کہ میری امت کا ایک شخص جس کا میزان سبک تھا کی نمازیں جو کہ وہ بہت زیادہ ادا کیا کرتا تھا کام آئیں اور اسے میزان کے مرحلے سے نکال کر لے گئیں۔

پھر مجھے میرا ایک ایسا امتی نظر آیا جو دوزخ کے کنارے پر تھا مگر اس کی وہ امید جو وہ خدا سےلگایا کرتا تھا آئی اور اسے دوزخ سے دور لے گئی۔

پھر دیکھا کہ میری امت میں سے ایک شخص جس کا سر آگ میں تھا مگر اسے اس کے وہ اشک جو وہ خوف خدا کی وجہ سے بہایا کرتا تھا آئے اور اسے باہر نکال کر لے گئے۔

پھر میں نے دیکھا کہ میرا ایک امتی جو کجھور کی اس شاخ جو تیز ہوا میں لرزتی ہے کی طرح پلِ صراط پر لرز رہا تھا مگر اس کی اس خوش گمانی نے جو وہ خدا کے ساتھ رکھتا تھانے اس کا لرزہ ختم کردیا اور اسے پل صراط پر سے گزار دیا۔


پھر میں نے  دیکھا کہ میری امت میں سے ایک آدمی جو کبھی سر کے بل کبھی ہاتھوں کے بل اور کبھی پلِ صراط سے چمٹا ہوا  دکھائی دیتا ہے کا وہ درود کام آیا جو وہ مجھ(ص) پر بھیجتا تھا اور اس درود نے اسے پاؤں پر کھڑا کر کے پل صراط پر سے گذار دیا۔پھر میں نے اپنے ایک امتی کو دیکھا جو بہشت کے دروازے پر کھڑا ہے مگر دروازہ اس پر بند ہے پھر وہ جس دروازے پر بھی جاتا وہ اس پر بند ہوجاتا مگر اس کی وہ گواہی ” لا الہ الا اﷲ“  جو اس نے سچائی کے ساتھ دی تھی نے بہشت کے دروازے اس کے لیے کھول دیے۔

وفاتِ حضرت موسیٰ بن عمران(ع)

۲ـ           عمارہ کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق(ع) نے عرض کیا کہ آپ مجھے وفات موسی بن عمران(ع) سے آگاہ کریں آپ نے فرمایا جب ان کی موت کا وقت آیا اور ان کی عمر تمام ہوئی اور ان کی خوراک ختم ہوگئی تو ملک الموت ان کے پاس آئے اور کہا درود ہو تم پر اے  کلیمِ خدا، موسیٰ(ع) نے کہا تم پر بھی درود ہو ، تم کون ہو کہا میں ملک الموت ہوں پوچھا کس لیے آئے ہو کہا آپ کی جان قبض کرنے آیا ہوں موسی(ع) نے کہا تم کہاں سے میری روح قبض کروگے کہنے لگے آپ(ع) کےدہن سے کہا کہ کیوںکر ممکن ہے جبکہ میں نے اس کے ساتھ خدا سے کلام  کیا ہے کہا آپ کے دونوں ہاتھوں سے کہا کس طرح کہ میں نے ان سے توریت کو اٹھایا ہے۔ کہا آپ(ع) کے دونوں پاؤں سے، کہا وہ کس طرح میں ان کے ساتھ طور سینا پر گیا تھا، کہا آپ(ع) کی دونوں آنکھوں سے، کہا کس طرح کہ میں نے ان ہی کے ذریعے خدا سے امید رکھی ہے، کہا آپ(ع) کے دونوں کانوں سے، موسی(ع) نے کہا کہ ان کے ساتھ میں نے کلام خدا کو سنا کہ جب تک خدا نے چاہا یہ سن کر تو ملک الموت اذنِ خدا سے واپس چلے گئے پھر ایک مرتبہ حضرت موسی(ع) نے حضرت یوشع بن نون(ع) کو بلایا اور انہیں وصیت کی کہ وہ اپنے کام کو مکتوم( پوشیدہ) رکھیں اور اپنا وصی مقرر کردیں، پھر آپ(ع) اپنی قوم سے الگ ہوگئے اور غائب ہو گئے اور اپنی غیبت کے زمانے میں ایک مرتبہ وہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو قبر کھود رہا تھا آپ(ع) رک گئے اور اس سے کہنے لگے کیا تیری مدد کردوں؟ اس شخص نے کہا ہاں، آپ(ع) اس کی


مدد کرنے لگ گئے جب قبر تیار ہوگئی تو جنابِ موسی بن عمران(ع) اس میں اترے اور سو گئے اس عالم میں آپ(ع) کی آنکھوں سے پردہ ہٹا دیا گیا اور بہشت میں آپ کے مقام کو دکھایا گیا جب آپ نے بہشت میں اپنا مقام دیکھا تو خدا سے گذارش کی کہ میری روح قبض کر لی جائے اور اپنے پاس بلالیا جائے تو بحکم خدا ملک الموت نے اسی قبر میں آپ(ع) کی روح قبض کر لی اور اسی جگہ بیابانِ تیہ میں قبر میں آپ(ع) کو دفن کردیا گیا، وہ شخص جو قبر کھود رہا تھا وہ ایک فرشتہ تھا۔جب جنابِ موسی(ع) کی روح قبض کرلی گئی تو ہاتف نے آسمان سے آواز دی ” موسیٰ (ع) کلیم اﷲ وفات پاگئے وہ کون سا بندہ ہے جسے موت نہیں“

امام صادق(ع) فرماتے ہیں کہ میرے والد(ع) نے میرے دادا(ع) سے روایت کیا ہے کہ جنابِ رسول خدا(ص) سے جب حضرت موسیٰ(ع) کی قبر کے مقام کو دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا وہ بڑی شاہراہ کے کنارے سرخ ٹیلے کے پاس ہے۔

۳ـ          جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا حضرت سلیمان بن داؤد(ع) کی والدہ نے ان سے فرمایا میرے بیٹے کہیں ایسا نہ ہو کہ تم رات کو پیٹ بھر کر کھانا کھاؤ اور سو جاؤ کیونکہ پیٹ بھر کھا کر سونا آدمی کو روزِ قیامت فقیر کردے گا۔

۴ـ          ایک شخص نے رسول خدا(ص) سے عرض کیا یا رسول اﷲ(ص) آپ(ص) جلد ہی بوڑھے ہوگئے ہیں آپ(ص) نے جواب دیا مجھے سور ھود، واقعہ، مرسلات، عرفا، و عم یتسائلون نے بوڑھا کر دیا ہے۔

۵ـ          جنابِ جبرائیل(ع) جنابِ رسول خدا(ص) کے پاس آئے اور کہا اے محمد(ص) آپ(ص) جب تک چاہیں زندہ رہ لیں مگر انجام موت ہے،جسے بھی دوست رکھیں آخر کار انجام اس سے جدائی ہے افور جو چاہو عمل کرلو اس کا بدلہ جان لوگے آگاہ رہو بندے کی شرافت اس کی عبادتِ شبینہ میں ہے اور اس کی عزت لوگوں سے بے نیازی میں ہے۔

۶ـ جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا میری امت کے اشراف، حاملان قرآن اور راتوں کی جاگ کر گزارنے والے ہیں۔

۷ـ          محمد بن قیس روایت کرتے  ہیں کہ رسول خدا(ص) کا طریقہ یہ تھا کہ جب بھی کسی سفر سے


 واپس آتے تو سب سے پہلے بی بی فاطمہ(س) کے گھر جاتے اور کافی وقت ان کے ساتھ گزارتے ایک مرتبہ آںحضرت(ص) کسی سفر پر گئے تو بی بی فاطمہ(س) نے ان کے جانے کے بعد دو کنگن ایک گلو بند اور دو گوشوارے چاندی کے بنوائے اور ایک دری کا پردہ بنوایا تاکہ ان کے والد اور جناب امیر جب واپس آئیں تو بی بی(س) ان اشیاء سے خود کو اور اپنے گھر کو زینت دیں۔ جب جنابِ رسول خدا(ص) سفر سے واپس تشریف لائے تو بی بی فاطمہ(س) کے گھر تشریف لے گئے آپ(ص) کے اصحاب گھر کے دروازے پر رک گئے اصحاب کہتے ہیں ہمیں معلوم نہیں تھا کہ وہیں ٹھہریں یا چلے جائیں کچھ ہی دیر بعد جناب رسول خدا(ص) باہر آگئے اور غصہ ان کے چہرے سے عیاں تھا آپ(ص) گئے اور منبر کے پاس تشریف فرما ہو گئے۔

ادھر بی بی فاطمہ(س) کو یہ خیال پیدا ہوا کہ رسول خدا(ص) اپنی عادت کے خلاف کچھ ہی دیر میں غصہ فرما کر رخصت ہوگئے ہیں تو یہ ان چیزوں کی بدولت ہے جو میں نے بنوائی ہیں لہذا بی بی(س) نے اپنے زیورات  اور دری کا پردہ جنابِ رسول خدا(ص) کو بھجوایا اور پیغام دیا کہ آپ(ص) کی دختر آپ(ص) کو سلام کہتی ہیں اور یہ خواہش رکھتی ہیں کہ ان اشیاء کو راہ خدا میں صرف فرمائیں۔ جب یہ اشیاء جنابِ رسول خدا(ص) کی خدمت میں پیش کی گئیں تو آپ(ص) نے تین بار یہ ارشاد فرمایا میرے ماں باپ آپ(بی بی فاطمہ(س)) پر قربان یہ دنیا محمد و آل محمد(ص) کے لیے نہیں ہے اگر یہ دنیا مچھر کے پر کے برابر بھی وقعت رکھتی تو وہ (خدا) کسی کافر کو پانی کا ایک گھونٹ بھی نہ دیتا پھر آپ اٹھے اور بی بی فاطمہ(س) کے گھر تشریف لے گئے۔

۸ـ          اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ امام ابوالحسن رضا(ع)، مامون کے کہنے پر نیشاپور  تشریف لائےاور ان کے گرد اصحاب حدیث جمع ہوگئے اور ان سے عرض کیا یابن رسول اﷲ(ص) ، آپ(ع) ہمارے پاس سے تشریف لے جارہے ہیں مگر آپ(ع) نے ہم سے کوئی حدیث بیان نہیں فرمائی حضرت(ع) نے اپنا سر اپنی سواری کے ہودج سے باہر نکالا اور فرمایا کہ میں نے اپنے والد جنابِ موسی بن جعفر(ع) سے انہوں نے اپنے والد جنابِ جعفر بن محمد(ع) سے انہوں نے اپنے والد محمد بن علی(ع) سے انہوں نے اپنے والد جناب علی بن حسین(ع) سے انہوں نے رسول خدا(ص) سے انہوں نے جبرائیل(ع) سے اور جنابِ جبرائیل(ع)


نے رب العزت سے سنا کہ ”لا ال ه الا اﷲ “ میرا قلعہ ہے اور جو کوئی میرے قلعے میں آئے گا وہ میرے عذاب سے امان میں ہے پھر جب آپ(ع) سواری چلی تو ارشاد فرمایا اور اس کی (لا ال ه الا اﷲ کی ) چند شرائط میں سے ایک شرط میں بھی ہوں۔

۹ـ           جنابِ رسول خدا(ص) نے جبرائیل(ع) سے انہوں نے میکائیل(ع) سے انہوں نے اسرافیل(ع) سے انہوں نے لوح سے اس نے قلم سے اور اس نے خدا سے سنا کہ علی بن ابی طالب(ع) کی ولایت میرا(خدا کا) قلعہ ہے اور جو کوئی میرے قلعے میں داخل ہوگیا اسے دوزخ سے امان ہے۔

۱۰ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا میں اور علی(ع) ایک نور سے پیدا کیے گئے  ہیں۔

۱۱ـ           جناب امیرالمومنین(ع) روایت کرتے ہیں کہ جنابِ رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا کہ خدانے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء مبعوث فرمائے جب کہ میں بارگاہ خداوندی میں ان تمام سے افضل و برتر ہوں۔ پھر خدا نے ان تمام انبیاء(ع) کے ایک لاکھ چوبیس ہزار وصی خلق کیئے اور علی ابن ابی طالب(ع) ان تمام سے افضل ہیں۔

( شیخ صدوق(رح) اس حدیث کو محمد بن احمد بغدادی وراق سے بھی روایت کرتے ہیں۔)


مجلس نمبر ۴۲

( شب ۱۸ صفر سنہ۳۶۸ ھ)

۱ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا کسی مومن کی حاجت پوری کرنا بہتر ہے ہزار قبول حج سے، ایک ہزار غلام خدا کی راہ میں آزاد کرنے سے اور زین ولگام سمیت ایک ہزار گھوڑے خدا کی راہ میں دینے سے۔

۲ـ           امام جعفر صادق(ع) نے فرمایا موسم( سرما) ربیع مومن کی بہار ہے کہ اس کی لمبی رات مدد گار عبادت ہے اس کا چھوٹا دن مددگار صوم( روزہ) ہے۔

۳ـ          جنابِ زید بن علی(ع) نے فرمایا جوکوئی امام حسین(ع) کے حق کی معرفت رکھتے ہوئے ان کی تربت کی زیارت کرے گا تو خدا اس کے گذشتہ و آیندہ گناہ معاف فرمائے گا۔

۴ـ          عتبہ بن بجاد عابد سے بیان ہوا ہے کہ جب اسماعیل بن جعفر بن محمد(ع) نے وفات پائی اور ہم ان کے جنازے سے فارغ ہوئے تو ہم امام جعفر صادق(ع) کےگرد بیٹھ گئے حضرت(ع) نے اپنا سر مبارک جھکا کر اٹھایا اور فرمایا اے لوگو یہ دنیا جدائی کا گھر ہے برباد ہونے اور فنا ہونے والا گھر ہے یہ باقی رہنے والا نہیں ہے اس لیے کہ جدائی الفت کو جلاتی ہے اور دل کو تکلیف پہنچاتی ہے۔ اے لوگو تم ایک دوسرے پر برتری رکھتے ہو جو کوئی اپنے بھائی کے غم کو نہ دیکھے اس کا بھائی اس کے غم کو دیکھے گا اور جس کا فرزند اس کے سامنے نہیں مرتا تو وہ اپنے فرزند کے سامنے مرجائے گا پھر امام عالی مقام(ع) نے ابو خراش ہذا لی کا شعر سنایا” اے امیم( ابو خراش کی معشوقہ کا نام ہے)

 یہ نہ سمجھو کہ میں نے زمانے کو بھلا دیا ہے ( ایسا نہیں ہے) بلکہ میں بہت صبر اور برداشت سے کام لے رہا ہوں۔“

بارہ درہم

۵ـ          امام جعفر صادق(ع) نے فرمایا ایک شخص رسول خدا(ص) کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس بارہ


درھم آںحضرت(ع) کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کیے۔ آنحضرت(ص) نے وہ پیسے جنابِ امیر کو دیئے کہ وہ ان سے لباس خرید لائیں تاکہ آںحضرت(ص) اس کو زیب تن کریں جنابِ امیر(ع) بازار گئے اور دیکھ کر ایک پیراہن جس کی قیمت بارہ درھم تھی نے آئے اور آںحضرت(ص) کی خدمت میں پیش کیا، آںحضرت(ص) نے جب اس عمدہ پیراہن کو دیکھا تو فرمایا اے علی(ع) مجھے اس پیراہن کی نسبت وہ پیراہن پسند ہے جو کہ تم نے پسند نہیں کیا( یعنی کم قیمت والا) جنابِ امیر(ع) دوبارہ بازار گئے اور کاندار سے فرمایا میرے صاحب کو یہ پیراہن پسند نہیں آیا لہذا تم یہ واپس کر لو چنانچہ اس دوکاندار نے پیراہن لے کر پیسے واپس دے دیے، جنابِ امیر(ع) رسول خدا(ص)  کی خدمت میں واپس آگئے پھر جنابِ رسول خدا(ص) بنفس نفیس بازار تشریف لے گئے اور ایک کم قیمت پیراہن خرید فرمایا واپسی پر دیکھا کہ ایک کنیز سرِ راہ بیٹھی گریہ کر رہی ہے آپ(ص) نے ٹھہر کر اس کے رونے کا سبب دریافت کیا اس نے بتایا کہ میرے مالک نے مجھے چار درہم دیے تھے تاکہ میں اس کے لیے ضروریات زندگی خرید کر لاؤں وہ چار درہم مجھ گم ہوگئے ہیں حضرت(ص) نے ان بقیہ درھموں میں سے چار درھم اسے دیئے تاکہ وہاشیاء خرید کر واپس جاسکے اور خود واپسی کے لیے روانہ ہوئے راستے میں دیکھا ایک برہنہ شخص صدا دے رہا ہے کہ جو کوئی مجھے لباس پہنائے خدا اسے جنت کا لباس عطا کرئے گا آپ(ص) نے وہ پیراہن اس برہنہ آدمی کو دیدیا اور باقی بچ جانے والے درھموں سے ایک دوسرا پیراہن خریدنے کے لیے پلٹے، جب آپ(ص) نیا پیراہن خرید کر واپس ہوئے تو اسی کنیز کو دوبارہ سر راہِ بیٹھے دیکھا اور اس کے اس مرتبہ رونے کا سبب دریافت کیا، اس نے کہا میں اس وجہ سے پریشان ہوں کہ میرا مالک میرے جلد نہ آنے پر مجھ سے سختی سے پیش آئے گا آپ(ص) نے اس سے فرمایا مجھے اپنے مالک کے پاس لے چلو وہ انہیں لے کر اپنے مالک کے دروازے پر آئی۔ آپ(ص) نے فرمایا اے اہل خانہ تم سلام ہو۔ مگر کوئی جواب نہ ملا آپ(ص) نے دوسری دفعہ پھر دہرایا مگر خاموشی رہی آپ(ص) نے تیسری مرتبہ پھر فرمایا اے اہل خانہ تم پر خدا کے رسول(ص) کی طرف سے درود سلام ہو تب گھر کا مالک باہر آیا اور جواب دیا، آپ(ص) نے فرمایا تم نے میرے سلام کا جواب تیسری مرتبہ کیوں دیا تو اس نے عرض کیا یا رسول اﷲ(ص) میں چاہتا تھا کہ خدا کے رسول(ص) سے زیادہ سے زیادہ مرتبہ سلامتی اور درود وصول کروں آپ(ص) نے


 اس سے اس کی کنیز کا ماجرا بیان کیا اس نے کہا یارسول اﷲ(ص) آپ(ص) جس کی خاطر خود چل کر تشریف لائے ہیں میں نے ںہ صرف اسے معاف کیا بلکہ اسے آزاد بھی کرتا ہوں۔ آپ(ص) نے فرمایا کس قدر مبارک درہم تھے اس نیک انسان کے کہ جنہوں نے ایک ضرورت مند کی ضرورت پوری کی۔ ایک خستہ حال کو لباس دیا، مجھے قمیض پہنائی اور ایک کنیز کو آزاد کرادیا۔

۶ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا جب بندہ شب کو اپنے پروردگار کے سامنے حاضری کے لیے اٹھتا ہے اور چار رکعت اس کے لیے ادا کرتا ہے، اس کا شکر ادا کرتا ہے اور اس کے بعد سو بار ماشاء اﷲ کہتا ہے تو خدا اس کی فرازی کے لیے صدا کرتا ہے کہ جب تک تم ماشاء اﷲ کہو میں تمہارا رب ہوں تم جو چاہو مجھ سے طلب کرو میں تمہاری ہر حاجت پوری کروں گا۔

۷ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا بد بختی تین(۳) چیزوں میں ہے، عورت میں، سواری میں، اور گھر میں، عورت کے لیے یہ کہ وہ شوہر کی ناشکری ہو، سواری( گھوڑے) کے لیے یہ کہ وہ اکھڑ اور بد ہو اور گھر کے لیے یہ کہ اس کے ہمسایہ کی بدی اور اسکی اس گھر میں نظر نے زندگی تنگ کردی ہو۔

۸ـ          حسن بن جہم کہتے ہیں کہ میں نے امام رضا(ع) سے عرض کیا یا ابن(ع) رسول اﷲ(ص) میں آپ(ع) پر قبربان یہ فرمائیے کہ توکل کا اندازہ کیسے لگایا جائے آپ(ع) نے فرمایا ایسے کہ پوری توجہ کے ساتھ سوائے خدا کے کسی اور سے نہ ڈرے پھر میں نے عرض کیا یہ فرمائیں کہ تواضع کا اندازہ کیسے کیا جائے آپ(ع) نے فرمایا لوگوں کو وہ دو جسے تم خود پسند کرتے ہو اور جان لو کہ میں تمہاری نظر میں کیا ہوں( یعنی دوسرے کو اپنی نظر میں اہمیت دو)

۹ـ           جناب امیرالمومنین(ع) نے فرمایا اصل انسان وہ ہے جو قلب و عقل سے دیندار ہے انسان کی مردانگی کا اندازنہ اس کی ہمت سے ہے روزگار دست بدست جاتا ہے اور لوگوں کے لیے یہ ( ںظام) آدم(ع) سے لے کر اب تک اسی طرح ہے۔

۱۰ـ          ابو بصیر کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق(ع) سے عرض کیا یا امام آل محمد(ص)  کون ہیں آپ(ع) نے جواب دیا جو محمد(ص)  کی نسل سے ہیں میں نے پوچھا اہل بیت(ع) کون ہیں آپ(ع) نے فرمایا ان کے ائمہ و اوصیاء میں نے عرض کیا ان(ع) کی عترت کون ہیں تو فرمایا ان کے اصحابِ عباء(ع) میں نے سوال کیا کہ ان


کی امت کون لوگ ہیں۔ امام(ع) نے جواب دیا  وہ مومنین جو انکی تصدیق کرتے ہیں اور جو کچھ وہ (رسول خدا(ص))خدا کی طرف سے لائے ہیں اس کےساتھ منسلک ہیں اس لیے کہ خدا نے ثقلین کے ساتھ منسلک رہنے کا حکم دیا ہے جو کہ کتاب خدا اور عترت محمد(ص) ہیں اور یہی اہل بیت(ع) ہیں کہ جن سے خدا پلیدی کو ہٹائے ہوئے ہے اور ان کو پاک رکھے ہوئے ہے جو کہ رسول خدا(ص)  کے بعد امت کے خلیفہ ہیں۔

شہادتِ جنابِ علی(ع) کے بعد

۱۱ـ           جنابِ رسول خدا(ص) کے صحابی اسید بن صفوان کہتے ہیں جس دن امیرالمومنین(ع) نے رحلت فرمائی کوفہ میں اس طرح نالہ و شیون بلند ہوا جیسے کہ جنابِ رسول خدا(ص) کی رحلت کے وقت ہوا تھا اور تمام لوگ پریشان و ہراساں تھے میں ( اسید بن صفوان) نے دیکھا ایک آدمی روتے ہوئے کہتا ہے آج خلافتِ نبوت منقطع ہوگئی ہے اور پھر یہ شخص جنابِ امیر(ع) کے گھر گیا اور جنابِ امیر(ع) کے بارے میں کہنے لگا اے ابوالحسن(ع) خدا آپ(ع) پر رحمت کرے آپ(ع) سب سے پہلے اسلام لائے آپ(ع) ایمان میں مخلص تر، یقین میں مضبوط، خدا سے بہت زیادہ ڈرنے والے اور خدا کے لیے سب سے زیادہ مشقت کرنے والے، رسول خدا(ص) کی نگاہوں کا مرکز، اصحاب میں سب سے زیادہ امین، مناقب میں سب سے برتر۔ سابقون میں درخشان تر اور سب سے بلند درجہ رکھنے والے سب سے زیادہ رسول خدا(ص) کے  نزدیک، طبیعت، عادت، گفتار و کردار میں رسول اﷲ(ص) کے متشابہ، شرافت و منزلت میں سب سے زیادہ اور رسول خدا(ص) کے نزدیک سب سے زیادہ گرامی تھے، خدا آپ(ع) کو جزائے خیر دے۔اسلام پیغمبر اسلام اور مسلمان سب آپ(ع) ہی سے قوی ہوئے اور اس وقت کہ جب سب ناتواں تھے آپ میدان میں گئے اور اپنی جگہ قائم رہے اور اسے قائم کیا جس کی آپ(ع) پرستش کرتے تھے، آپ(ع) رسول خدا(ص) کے راستے سے جڑے رہے جس سے دوسرے کج دل ہوگئے مگر آپ(ع) نے منافقین کی ہٹ دھرمی کی پرواہ نہ کی اور نہ ہی کسی کے حسد کی پرواہ کی، آپ(ع) خلیفہ برحق ہوئے آپ(ع) نے کفار پر غصہ اور منافقین سے کینہ نہ کیا اور آپ(ع) قیام ( قیام اسلام) کو اس وقت عمل میں لائے جب


سب سست ہوگئے اور حق بات کو اس وقت بیان کیا جب سب خاموش ہوگئے، جب لوگ توقف  کرتے تو آپ(ع) نور حق کے پیجھے چلے جاتے اگر لوگ آپ(ع) کی پیروی کرتے تو راہ(صراط مستقیم) پاتے، آپ(ع) سب سے زیادہ نرم خو، سب سے زیادہ سر فراز، کم تر سختی کرنے والے، درست ترین گفتار والے، سب سے زیادہ پر نظر، سب سے زیادہ دلدار، یقین میں سب سے زیادہ اور امور ( دینی و دنیاوی) کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے اور بخدا آپ(ع) اول مدافع دین تھے۔ (یعنی دین سے مشرکین و کفار کو دور کرنے والے) اور جب بھی لوگوں میں تنازع ہوجاتا تو آپ(ع) اسے رفع کردیا کرتے،لوگ آپ(ع) کے عیال کی طرح تھےے کہ جب ان ( لوگوں ) کے کندھے بارگراں اٹھانے کی طاقت نہ رکھتے تھے تو آپ(ع) نے اسے مضفوظ کیا اور جسے انہوں نے ترک کیا آپ(ع) نے اس کی اصلاح کی، جس وقت لوگوں نے اجتماع کیا وہ زبوں حال ہوگئے، اور جب انہوں نے آپ(ع) سے زیادتی کی آپ(ع) نے صبر کیا اور جس مقصد سے وہ بھٹک گئے تھے آپ(ع) نے اس مقصد کو پالیا اور آپ کے وسیلے سے (لوگ) وہاں پہنچے  جس کا وہ گمان بھی نہ رکھتے تھے۔ آپ(ع) کفار کے لیے ظاہری عذاب تھے اور مومنین کے لیے باران رحمت، آپ(ع) منافقین کے آزار کی وجہ سے جو انہوں نے آپ(ع) کو دیٰئے بہشت میں عطا و برکت امت سے فائز ہوئے اور ان کے فضائل آپ(ع) کو ملے، آپ(ع) کی دین خدا کی طرف تندی میں کوئی شے حائل نہ ہوئی اور آپ(ع) کا دل ہرگز باطل کی طرف مائل نہ ہوا، آپ(ع) کی آنکھوں کی روشنی میں کبھی کمی نہ ہوئی۔ آپ(ع) کے دل کو کبھی کسی خوف نے گرفتار نہ کیا آپ(ع) نے کبھی خیانت نہ کی آپ(ع) اس کوہ گراں کی مانند تھے کہ جس کو کوئی طوفان کوئی ہوا ہلا نہ سکتی تھی جیسا کہ پیغمبر خدا(ص) کا آپ(ع)  کے بارے میں ارشاد ہے کہ آپ جسمانی طور پر کمزور اور امر خدا میں قوی تر تھے، آپ(ع) اپنے نفس کی تواضع کرنے والے تھے خدا کے نزدیک عظیم اور مومنین میں سرور تھےکسی ایک موقع و جگہ پر آپ(ع) میں کوئی برائی نہ پائی گئی آپ(ع) میں طمع نہیں تھی کوئی آپ(ع) سے کسی غلط جانبداری کی امید نہ کرسکتا۔ کمزور و خوار آپ(ع) کے نزدیک طاقتور اور عزیز تھا آپ(ع) انہیں انکا حق واپس دلاتے تھے، عدالت میں اپنا اور بیگانہ آپ(ع) کے سامنے برابر تھا۔ آپ(ع) کا طریقہ درست، نرم اور سچا تھاآپ کی بات آپ کا حکم اور آپ کا دستور دانشمندی کا علم( جھنڈا) تھا اور آپ(ع) نے کفر کو صاف اور راہ سخت کو ہموار کیا اور (شرک) کی آگ کو سرد کیا، دین آپ(ع) کے ذریعے قائم ہوا اور آپ(ع) مومنین میں سابق کہلائے


 آپ(ع) ان تمام دولتمندوں سے بلندتر ہیں جنہوں نے خود کو رنج و غم میں مبتلا کیا، آپ(ع) کے مصائب پر آسمان میں گریہ ہوتا ہے اور آپ(ع) کی وفات سے لوگوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ ” انا اﷲ وانا الیہ راجعون“ آپ(ع) خدا کی قضا پر راضی اور اس کے امر کو تسلیم کرنے والے ہیں خدا کی قسم مسلمانوں کے لیے آج بڑی مصیبت کا دن ہے، خدا جو مومنین کی پناہ گاہ اور کفار کے لیے سخت ترین ہے آپ(ع) کو پیغمبر(ص) کے ساتھ ملائے اور ہمیں آپ(ع) کی عزاداری کی جزا سے محروم نہ کرے اور آپ(ع) کے بعد گمراہ نہ کرے اسید بن صفوان کہتے ہیں کہ تمام لوگ خاموشی سے سنتے رہے اس شخص کا کلام ختم ہوگیا اور وہ گریہ کرنے لگا ساتھ ہی اصحاب رسول (ص) بھی گریہ میں مصروف ہوگئے اور گریہ کے بعد دیکھا کہ وہ شخص موجود نہیں ہیں انہیں بہت تلاش کیا  گیا وہ مل نہ سکے۔

۱۲ـ          جابر بن عبداﷲ کہتے ہیں کہ جب علی(ع) نے روز بدر و حنین کفار کے گروہ کو پیغمبر(ص) کے سامنے شکست دی اور انہیں روند دیا تو فرشتے شادماں ہوگئے لہذا جو کوئی زیارت علی(ع) سے شادماں نہ ہوگا اس پر خدا کی لعنت ہے۔

۱۳ـ          جناب امیر(ع) فرماتے ہیں میں جب بھی رسول خدا(ص) سے سوال کرتا ہوں وہ جواب دیتے اور جب میں خاموش ہوتا تو وہ خود ہی مجھ سے بات کرتے۔

۱۴ـ          حفض بن غیاث ( محدث) نقلِ حدیث کے سلسلے میں امام جعفر صادق(ع) کے بارے میں کہتے ہیں کہ تمام جعفروں میں سے میرے لیے جعفر بن محمد(ع) بہترین( ثقہ ترین) ہیں۔

۱۵ـ          جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا بے شک خدا نے لوگوں کو مبعوث کیا کہ یہ نور کا چہرہ رکھتے ہیں نور کی کرسی پر ہیں اور نور کے لباس کو پہنتے ہیں اور عرش کے سائے میں ہیں جس طرح انبیاء و شہداء ہیں مگر یہ انبیاء اور شہداء نہیں( ان کا درجہ انبیاء اور شہدا کے موافق ہے)۔ ایک شخص نے دریافت کیا یا رسول اﷲ(ص) کیا میں ان میں سے ہوں آپ(ص) نے فرمایا نہیں دوسرے نے پوچھا یا رسول اﷲ(ص) کیا میں ان میں سے ہوں آپ(ص) نے پھر فرمایا کہ نہیں ہو تو عرض کیا گیا کہ یہ کون لوگ ہیں آپ(ص) نے ایک ہاتھ جنابِ امیر(ع) کے سر پر رکھا اور فرمایا یہ ہے اور اس کے شیعہ ہیں۔


مجلس نمبر۴۳

( ۲۱ صفرسنہ۳۶۸ھ)

۱ـ امام جعفر صادق(ع) نے فرمایا ایک حکیم نے دوسرے حکیم سے حکمت کے سات اقوال حاصل کرنے کے لیے سات سو فرسخ تک اس کا پیچھا کیا۔ جب وہ اس تک پہنچ گیا تو اس سے دریافت کیا کہ وہ کونسی چیز ہے جو آسمان سے زیادہ بلند ہے، وہ کیا ہے جو زمین سے زیادہ وسیع ہے، ایسا کیا ہے جو سمندر سے زیادہ بے نیاز ہے، وہ کیا ہے جو پتھر سے زیادہ سخت ہے، ایسی کونسی چیز ہے جو آگ سے زیادہ گرم ہے، کونسی چیز ایسی ہے جو زمہریر( ہوا کا ایک کرہ یا طبقہ جو نہایت سرد ہوتا ہے) سے زیادہ سرد ہے اور وہ کیا ہے جو پہاڑ سے زیادہ وزنی ہے۔اس حکیم نے دوسرے حکیم سے کہا اے شخص

        حق آسمان سے زیادہ بلند ہے۔

        عدالت زمین سے زیادہ وسیع ہے۔

        نفسِ متقی سمندر سے زیادہ بے نیاز ہے۔

        کافر کا دل پتھر سے زیادہ سخت ہے۔

        حریص کی طمع آگ سے زیادہ گرم ہے۔

        رحمت خدا سے نا امیدی زمہریر سے زیادہ سرد ہے۔

        اور بے گناہ پر بہتان لگانا پہاڑ سے زیادہ وزنی ہے۔

۲ـ              امام جعفر صادق(ع) نے فرمایا جو کوئی لوگوں میں محتسب بن کر عدل کرے ، اپنے گھر کے درازے ان کے لیے کھولے اور پردہ کو بلند کرے ( لوگوں کے راز افشانہ کرنے سے مراد ہے) اور لوگوں کے کاموں میں نظر کرے ( لوگوں کی بھلائی کے کاموں کی طرف اشارہ ہے) تو خدا پر حق ہے کہ روزِ قیامت اسے خوف سے سکون عطا کرے اور اسے بہشت میں داخل کرے۔

۳ـ             امام جعفر صادق(ع) نے فرمایا جب خدا مخلوق کی خیر چاہتا ہے تو انہیں مہربان حکمران عطا


 کرتا ہے اور اس کے لیے عادل وزیر مقرر کرتا ہے۔

۴ـ          امام جعفر صادق(ع) نے فرمایا ” امانت“ اس کے مالک کو لوٹا دو چاہے وہ قاتل حسین(ع) ہی کیوں نہ ہو۔

۵ـ          امام جعفر صادق(ع) نے فرمایا خدا سے ڈرو اور جو بندہ تمہارے پاس امانت رکھوائے وہ اسے واپس لوٹا دور اگر امیر المومنین(ع) کا قاتل بھی مجھے امانت دیتا تو وہ میں اسے واپس لوٹا دیتا۔

۶ـ           امام علی بن حسین(ع) نے فرمایا اے میرےشیعو تم پر امانت ادا کرنا ضروری ہے قسم ہے اس ذات کی  جس نے پیغمبر(ص) کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اگر میرے والد(ع) کا قاتل اپنی اس تلوار کو میرے پاس امانت رکھواتا کہ جس کے ساتھ اس نے میرے والد(ع) کوقتل کیا تھا تو وہ بھی میں اسے واپس دے دیتا۔

قحط اور اولادِ یعقوب(ع)

۷ـ          ابن عباس(رض) کہتے ہیں جب کنعان میں قحط پڑا تو حضرت یعقوب(ع) نے اپنے فرزندوں کو جمع کیا اور انہیں کہا، مجھے خبر ملی ہے کہ مصر میں اچھی گندم کی خرید و فروخت ہوتی ہے وہاں کا فرمانروا اچھا ہے وہ لوگوں کے ساتھ بھلائی کرتا ہے تم وہاں سے گندم خرید لاؤ انشاء اﷲ وہ تم پر احسان کرئے گا یعقوب(ع) کے فرزندان نے سامان باندھا اور مصر چلے گئے اور مصر کے فرمانروا حضرت یوسف(ع) کے پاس جا پہنچے حضرت یوسف(ع) نے اپنے بھائیوں کو پہچان لیا مگر وہ انہیں نہ پہچان سکے۔

یوسف(ع) نے اپنے بھائیوں سے پوچھا تم کون ہو وہ کہنے لگے ہم فرزندان یعقوب بن اسحاق(ع) بن ابراہیم خلیل الرحمن(ع) ہیں اور کوہ کنعان کے رہنے والے ہیں۔ یوسف(ع) نے کہا تم لوگ تین پیغمبروں کی اولاد ہو لیکن تم صاحبانِ علم وحلم دکھائی نہیں دیتے اور نہ ہی تم میں وقار و خشوع ہے کہیں تم کسی بادشاہ کے جاسوس تو نہیں برادران یوسف(ع) نے کہا نہ تو ہم کسی بادشاہ کے جاسوس ہیں اور نہ ہی اصحابِ حرب( جنگ کرنے والے) ہیں اگرتم ہمارے والد(ع) کو جانتے تو ہمیں اس کے حوالے سے گرامی رکھتے کیوں کہ وہ خدا کے پیغمبر ہیں اور ایک پیغمبر کے بیٹے ہیں وہ ہر وقت گریہ کرتے اور،


 مغموم رہتے ہیں یوسف(ع) نے کہا وہ کسی وجہ سے غمناک ہیں جبکہ وہ ایک پیغمبر ہیں اور ان کی جگہ بہشت میں ہے اور جب کہ تمہارے جیسے تندرست و توانا فرزند بھی رکھتے ہیں کہیں ایسا تو نہیں کہ ان کے مغموم رہنے کا سبب تمہاری جہالت ، بیوقوفی، جھوٹ اور مکر و فریب ہو۔

برادران یوسف(ع) نے کہا اے بادشاہ ہمارے والد کے غمزدہ رہنے کا سبب ہم نہیں، ہم احمق و ناداں نہیں ہیں بلکہ اس کا سبب ان کا ایک چھوٹا بیٹا جس کا نام یوسف(ع) تھا کی گمشدگی ہے وہ ہمارے ساتھ شکار کے لیے گیا وہاں اسے ایک بھیڑیا کھا گیا تھا وہ (یعقوب(ع)) اس کی یاد میں مغموم رہتے ہیں۔

یوسف(ع) نے ان سے کہا کیا تم سب ایک باپ سے ہو۔ انہوں نے جواب دیا ہمارے والد تو ایک ہی ہیں مگر ہماری مائیں مختلف ہیں یوسف(ع) نے کہا اب یہ کیا وجہ ہے کہ تمہارے والد نے تم سب کو یہاں بھیج دیا ہے اور ایک بیٹے کو انہوں نے پاس رکھا ہوا ہے، انہوں نے جواب دیا۔ ہمارے والد ہمارے اس بھائی کو جو کہ ابھی بہت چھوٹا ہے کو اپنے انس اور راحت کے سبب جدا نہیں کرتے کیوںکہ  ہمارے بھائی یوسف(ع) کے بعد وہی ہمارے والد کے لیے انسیت کا مرکز ہے۔

یوسف(ع) نے کہا ایسا ہے تو میں بھی تم میں سے کسی ایک کو اپنے پاس رکھتا ہوں تم باقی لوگ جاکر اپنے والد(ع) کو میرا سلام پہنچاؤ اور کہو کہ آپ(ع) اپنے اس چھوٹے بیٹے کو میرے پاس روانہ کریں تاکہ میں اس سے ان کے غم اور گریہ کا سبب اور انکےجلد بوڑھا ہونے کا سبب دریافت کرسکوں یہ سن کر یوسف(ع) کے بھائیوں نے قرعہ ڈالا جس سے شمعون کا نام یوسف(ع) کے پاس رہنے کے لیے نکلا یوسف(ع) نے حکم دیا کہ شمعون کو یہاں میرے پاس رہنے دیا جائے ، پھر اپنے بھائیوں کو وداع کرتے وقت  شمعون نے ان سے کہا اے میرے بھائیو تم دیکھ رہے ہو کہ  ہم کس مصیبت میں گرفتار ہوگئے ہیں میرے والد گو میرا سلام کہنا۔ جب یعقوب(ع) کے فرزند واپس آئے تو انہوں نے جناب یعقوب(ع) کو نہایت دھیمی آواز سے سلام کیا یعقوب(ع) نے کہا میرے فرزند کیا بات ہے تم آہستہ آواز میں سلام کیوں کر رہے ہو اور مجھے شمعون کی آواز بھی سنائی نہیں دیتی وہ کہاں ہے انہوں نے جواب دیا والد محترم ہم ایک ایسے عظیم بادشاہ کے ہاں سے آرہے ہیں کہ جس کی طرح کی عزت و وقار اور دانائی


وحکمت ہم نے کہیں اور نہیں دیکھی اگر آپ(ع)(یعقوب) کی طرح کا کوئی ہے تو صرف وہی ہے۔ مگر اے ابا جان ہمارا خاندان مصیبت و غم کے لیے خلق ہوا ہے بادشاہ نے ہمیں یہ حکم دیا ہے کہ جب تک آپ(ع) بن یامین کو بطور ایلچی اپنے غم اور سرعتِ بڑھاپا اور زندگی کی حالات کی تصدیق کرنے اس کے پاس نہیں بھیجتے تو وہ شمعون کو نہیں چھوڑے گا۔

یعقوب(ع) نے سوچا شاید یہ بھی ان کا فریب ہے تو فرمایا، تمہارا یہ طریقہ نہایت برا ہے تم جس طرف بھی جاتے ہو ایک نہ ایک کو گم کر آتے ہو میں اسے تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا ، پھر جب یعقوب(ع) کے فرزندوں نے اپنا سامان کھولا اور اپنا مال و متاع بالکل اسی طرح پایا جس طرح وہ  چلتے وقت ساتھ لے کر گئے تھے۔ تویہ دیکھ کر انہوں نے یعقوب(ع) کو کہا کہ ہم اس بادشاہ میں نیکی و بھلائی پاتے ہیں وہ گناہ سے پرہیز کرتا ہے اس لیے اس نے ہمارے اموال اسی طرح ہمیں واپس دے دیے ہیں ہم اس مال کو دربارہ لے کر جائیں گے اور اپنے گھر والوں کے لیے غلہ لے کر آئیں گے اور اپنے بھائی کو واپس لائیں گے اور اسے ایک اونٹ کا غلہ زیادہ دیں گے۔

یعقوب(ع) نے فرمایا تم جانتے ہو میں یوسف(ع) کے بعد بن یامین کو بہت عزیز رکھتا ہوں جب تک تم مجھ سے خدا کو حاضر جان کر پیمان نہیں کرو گے کہ اسے واپس لاؤ گے تب تک میں اسے تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا چاہے تم سب کے سب گرفتار ہی کیوں نہ ہوجاؤ۔ یہودا نے یعقوب(ع) کو خدا کے نام پر ضمانت دی اور بن یامین کو لے کر یوسف(ع) کے پاس واپس آئے۔ یوسف(ع) نے ان سے پوچھا کیا تم نے میرا پیغام اپنے والد کو دیا ہے انہوں نے کہا ہاں اور ہم اپنے بھائی کو بھی لے آئے ہیں آپ(ع) جو پوچھنا چاہتے ہیں اس سے پوچھ لیں یوسف(ع) نے بن یامین سے پوچھا تمہارے والد نے میرے لیے کیا پیغام دیاہے بن یامین نے کہا انہوں نے فرمایا ہے کہ میں آپ(ع) کو انکا سلام پہنچاؤں اور انہوں نے  یہ فرمایا ہے کہ آپ(ع) یوسف(ع)) نے ان کے رونے غمزدہ رہنے، نابینا ہونے اورجلد بوڑھا ہونے کا سبب دریافت کیا ہے تو وہ زیادہ غم اور خوفِ قیامت اور فرمایا ہے کی وجہ سے ہے کہ میرے بڑھاپے اور نابینا ہونے کا سبب میرے محبوب بیٹے یوسف(ع) کی جدائی ہے۔ مجھے پتا چلا ہے کہ آپ(یوسف(ع)) میرے غم و گریہ کی وجہ سے غمگین ہیں اور میرے لیے اہتمام و توجہ کرتے ہیں خدا


 آپ کو جزائے خیر دے اور ثوابِ عظیم عطا کرے آپ(ع) کا مجھ پر اس سے بڑا احسان کوئی اور نہ ہوگا کہ میرے فرزند بنیامین کو جلد میرے پاس بھیج دیں کہ یوسف(ع) کے بعد یہی مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے میں اپنی تنہائی اسی سے دور کرتا ہوں اور آپ(ع) جلد از جلد میرے فرزندوں کو غلہ کے ساتھ روانہ کریں۔ یوسف(ع) نے جب یہ سنا تو روپڑے اور شاہی آداب و خوداری کے مد نظر اندر چلے گئے اور خوب گریہ کیا جب کچھ دیر کے بعد باہر آئے تو حکم دیا کہ ان کے لیے کھانا لگایا جائے جب کھانا لگ گیا تو فرزندانِ یعقوب(ع) اپنے اپنے مادری بھائیوں کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھ گئے مگر بنیامین کھڑے رہے یوسف(ع) نے بنیامین سے پوچھا تم کیوں نہیں بیٹھے بنیامین نے جواب دیا میرا کوئی مادری بھائی نہیں ہے تو میں کس کے ساتھ بیٹھوں یوسف(ع) نے پوچھا تمہارا کوئی مادری بھائی کیوں نہیں ہے بنیامین نے جواب دیا، ان کا کہنا ہےکہ میرے بھائی کو بھیڑیے نے کھالیا ہے۔ یوسف(ع) نے کہا تمہیں اس کا غم کس قدر ہے  بنیامین نے کہا مجھے اس کی گمشدگی کے بعد بارہ(۱۲) بیٹے عطا ہوئے میں نے ان تمام کا نام اس کے نام پر رکھا ہے یوسف(ع) نے پوچھا اگر تمہیں اس کا اتنا ہی غم ہے تو تم نے اس کے بعد عورتوں سے کیوں تعلق منقطع نہیں کیا اور فرزند پیدا کیے ، بنیامین نے کہا میرے والد(ع) نے مجھے حکم دیا تھا کہ عورت لےلو شاید خدا تم سے ایک ایسی نسل پیدا کرے جو زمین کو اس (خدا) کی تسبیح سے پر کردے اور اسے گرامی کردے، یوسف(ع) نے کہا آؤ تم میرے ساتھ بیٹھو۔ برادران یوسف(ع) آپس میں کہنے لگے یہ لو یوسف(ع) کو یہاں بھی برتری مل گئی کہ اس کا بھائی  اس کی وجہ سے بادشاہ کے ساتھ اس کے دسترخوان پر بیٹھا اور یوں لگ رہا ہے جیسے بادشاہ بن گیا ہو۔

پھر جب برادران یوسف(ع) کو غلہ دے کر رخصت کرنے کا وقت آیا تو یوسف(ع) کے حکم پر ایک شاہی پیمانہ( پیالہ)  بنیامین کے سامان میں خفیہ طور پر رکھوا دیا گیا( مقصد یہ تھا کہ بنیامین کو اپنے پاس رکھ لیا جائے اور ان کی وجہ سے یعقوب(ع) کی مصر آمد کا سبب پیدا ہوجائے) جب برادران یوسف(ع) کا قافلہ روانہ ہوا تو کچھ دور جاکر انہیں روک لی گیا اور ایک جارجی نے صدا لگائی کہ اے قافلے والو تم چور ہو اپنے سامان کی تلاشی دو برادران یوسف(ع) نے پوچھا کہ کیا چوری ہوا ہے تو انہیں بتایا گیا کہ ایک شاہی پیالہ چوری ہوا ہے اور بادشاہ نے انعام مقرر کیا ہے کہ جوکوئی اسے ڈھونڈ کر


 لائے گ اسے ایک اونٹ کے وزن کے برابر انعام دیا جائگا برادران یوسف(ع) نے کہا تم جانتے ہو کہ ہم یہاں فساد برپا کرنے نہیں آئے ہیں ہم چور نہیں ہیں تم ہمارے سامان کی تلاشی لو اگر تمہارا مطلوبہ پیمانہ(پیالہ) ہمارے سامان میں سے برآمد ہوجائے تو جس کا سامان ہو اسے سزا دو ورنہ ناحق ہم ستم رسیدہ لوگوں کو تنگ مت کرو۔

اہل مصر کا قانون تھا کہ چور کو چوری کی سزا اس کا ہاتھ کاٹ کر نہیں دی جاتی تھی جرم ثابت ہونے پر اسے مصر میں ہی رکھ لیا جاتا تھا لہذا جب ان کے سامان کی تلاشی لی گئی تو بنیامین کے سامان میں سے مطلوبہ پیمانہ برآمد ہوگیا یہ دیکھ کر ان کے بقیہ بھائی بولے یہی چور ہے اس کا بھائی بھی چور تھا اس موقع پر جناب یوسف(ع) نے اپنے جذبات کو قابو میں رکھا اور ان کی اس الزام تراشی کو نظر انداز کیا اور خدا کے لیے توصیفی و حمد نہ جملے ادا کر کے کہا کہ خدا داناتر ہے اور یہ موقع تمہارے لیے نہایت برا ہے۔

بردران یوسف(ع) نے ان سے کہا اے عزیز ہمارا باپ بوڑھا ہے ہم پر مہربانی اور رحم کرو اور اس ( بن یامین) کی جگہ تم ہم میں سے کسی کو رکھ  لو یوسف(ع) نے کہا ہم ستمگر نہیں ہیں کہ بغیر جرم کے کسی کو سزا دیں خدا ہمیں اپنی پناہ میں رکھے جب برادران یوسف(ع) ہر طرح سے نا امید ہوگئے تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا۔ ان میں سے بڑے ( یہودا) نے ان سے کہا۔ کیا بھول گئے ہم باپ سے عہد و پیمان کر کے بنیامین کو لائے تھے اور خدا کی گواہی دی تھی کہ اسے واپس لے کر جائیں گے ہم اس سے پہلے بھی یوسف(ع) کے معاملے میں جرم کے مرتکب ہوچکے ہیں، میں (یہودا) اس وقت تک اس سرزمین سے واپس نہیں جاؤں گا جب تک ہمارے والد اجازت نہیں دیتے یا حکمِ خدا نہیں ہوتا کہ وہ بہترین حاکم ہے تم والد کے پاس جاؤ اور انہیں بتاؤ کہ ان کے بیٹے نےچوری کی ہے مگر ہم اس کی گواہی نہیں دیتے ہم عالم غیب نہیں ہیں ہمیں معلوم نہیں سچ کیا ہے لہذا آپ خود یہاں آکر ان لوگوں سے اس کی بابت دریافت کریں ہم کسی قسم کا مکر و فریب اور جھوٹ بیان نہیں کررہے۔

فرزندانِ یعقوب(ع) اپنے والد(ع) کے پاس آئے اور یہ ماجرا بیان کیا ۔ یعقوب(ع) نے فرمایا یقینا


میرے بیٹے نے چوری نہیں کی یہ تمہارا ہی نفس ہے جو تم سے اس طرح کے ناشائشتہ اعمال کرواتا ہے میں اپنے لیے صبر کو بہتر خیال کرتا ہوں اور خداسے امید رکھتا ہوںکہ ایک دن وہ میرے تمام فرزند مجھ ملادے گا بیشک خدا دانا و حکیم ہے تم اپنا سامان باندھو اور دوبارہ مصر جانےکی تیاری کرو۔

جب وہ روانہ ہونےلگے تو حضرت یعقوب(ع) نے عزیز مصر ( حضرت یوسف(ع)) کے نام ایک خط انہیں دیا اور کہا کہ یہ مصر بادشاہ کو میری طرف سے دینا پسرانِ یعقوب(ع) ایک مرتبہ پھر مصر آئے وہ خط حضرت یوسف(ع) کو دیا اور جناب یوسف(ع) نے وہ خط پرھنا شروع کیا اس خط کا متن یہ تھا کہ میرے فرزند بنیامین کو میرے دوسرے فرزندوں کے ہمراہ روانہ کریں حضرت یوسف(ع) نے جب خط پڑھا تو اندر تشریف لے گئے اور خوب گریہ کیا جب باہر آئے تو برادران یوسف(ع) نے ان سے کہا اے عزیز( اس زمانے میں مصر کے حاکم کو عزیز کہتے تھے) ہم اور ہمارا خاندان اس وقت سختی میں ہے ہم کچھ مال اپنے ہمراہ لائے ہیں اگر چہ وہ کچھ زیادہ نہیں مگر آپ(ع) اسے قبول فرمائیں اور ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دیں اور ہم پر تصدق کریں بے شک خدا تصدق کرنے والوں کو اچھی جزا دیتا ہے۔ یوسف(ع) نے کہا تم جانتے ہونا کہ یوسف(ع) کے ساتھ تم نے کیا ، کیا تھا تم نے نادانی کی تھی یہ سن کر ان کے بھائی چونکے اور کہنے  لگے کیا آپ یوسف(ع) ہیں یوسف(ع) نے کہا ہاں میں ہی یوسف(ع) ہوں( اور پھر نقاب الٹ دیا) اور یہ میرا بھائی ہے خدا نے مجھ پر احسان کیا اور جو بلاؤں پر صبر اور پرہیزگاری اختیار کرتا ہے خدا اس کو جزا دیتا ہے اور احسان کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

برادران یوسف(ع) کہنے لگے خدا کی قسم خدا نے تمہیں ہم پر فضیلت دی اور برگزیدہ کیا ہم خطا کار ہیں یوسف(ع) نے فرمایا اب تم پر کوئی الزام نہیں ( کیوںکہ وہ اپنی خطا تسلیم کر کے نادم ہوئے تھے) آج خدا نے تمہیں معاف کردیا ہے وہ ارحم الراحمین ہے پھر یوسف(ع) نے انہیں کہا تم واپس جاؤ اور میرا پیراہن (کرتہ) والد صاحب کے چہرے پر ڈال دینا وہ بینا ہوجائیں گے اور پھر سب گھر والوں اور خاندان والوں کو لے کر یہاں آجانا۔

ادھر جبرائیل(ع) حضرت یعقوب(ع) کے پاس آئے اور فرمایا اے یعقوب(ع) کیا میں تمہیں وہ دعا


نہ بتاؤں کہ جس سے خدا تیری آنکھیں روشن کردے اور تیرا فرزند تجھے واپس مل جائے یعقوب(ع) نے کہا کیوں نہیں چنانچہ جبرائیل(ع) نے کہا تو پھر آپ یہ الفاظ کہیں کہ یہ آپ(ع) کے جد آدم(ع) نے بھی ادا کیے اور خدا نے ان کی توبہ قبول کی تھی۔ اور جب یہ الفاظ نوح(ع) نے کہے تو ان کی کشتی کوہ جودی پر جا ٹھہری اور وہ غرق ہونے سے بچ گئے اور جب آپ(ع) کے جد ابراہیم(ع) کو آگ میں ڈالا گیا تو انہوں نے انہی الفاظ کو ادا کیا اور خدا نے اس آگ کو سرد کر دیا۔ یعقوب(ع) نے جبرائیل(ع) سے اس دعا کے لیے درخواست کی تو فرمایا کہو پروردگار میں تجھے واسطہ دیتا ہوں بحق محمد(ص) و علی(ع) و فاطمہ(س) و حسن(ع) و حسین(ع) کا کہ یوسف(ع) و بنیامین کو میرے پاس پہنچا دے اور میری آنکھوں کی بینائی مجھے لوٹا دے۔ ابھی یعقوب(ع) کی دعا ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ بشیر ( خوشخبری دینے والا) یوسف(ع) کا پیراہن لے کر آیا اور اسے یعقوب(ع) کے چہرے پر ڈال دیا حضرت یعقوب(ع) کی بینائی واپس آگئی جنابِ یعقوب(ع) نے اپنے فرزندوں سےکہا، میں تم سے کہتا تھا کہ جو میں جانتا ہوں وہ تم نہین جانتے انہوں نے کہا اے پدر بزرگوار ہمارے گناہوں کی مغفرت طلب کریں ہم خطا کار ہیں اور وہ معاف فرمانے والا ہے ۔ دوسری روایت میں امام جعفر صادق(ع) سے نقل ہوا ہے کہ ان کے لیے استغفار کرنے کے واسطے سحر کا انتظار کرنے لگے۔ غرض کہ جب یعقوب(ع) مصر تشریف لائے اور یوسف(ع) ان کو استقبال کرنے گئے تو شوکتِ شاہی مانع ہوئی اور اپنی سواری پر ہی سوار رہے اور با پیادہ استقبال کرنے نہ گئے لہذا جبرائیل(ع) نازل ہوئے اور فرمایا اے یوسف(ع) خدا فرماتا ہے کہ تونے میرے صالح و صدیق بندے کا استقبال با پیادہ نہیں کیا ہے لہذا تو اپنے ہاتھوں کو کھول جب یوسف(ع) نے بحکم خدا اپنے ہاتھ کھولے تو ان کے ہاتھوں نور ان کی انگلیوں کے راستے زائل ہوگیا یوسف(ع) نے جبرائیل(ع) سے کہا اے جبرائیل(ع) یہ کیا ہوا جبرائیل(ع) نے کہا یہ نور اس لیے تجھ سے لیا گیا ہے کہ اب تیری پشت سے ہرگز کوئی پیغمبر(ص) نہیں آئے گا اور جو کچھ تو نے یعقوب(ع) کے ساتھ کیا ہے( ان کا استقبال با پیادہ اور عاجزی سے نہیں کیا ) یہ اس کی سزا ہے۔

بہر حال سب کے سب خوش وخرم مصر میں داخل ہوگئے یوسف(ع) نے اپنے والد(ع) سے کہا بابا جان یہ میرے پہلے خواب کی تعبیر ہے جس کو خدا نے یہاں پورا ہونا لکھا تھا اس کے بعد فرمایا اے


میرے خدا مجھے مسلمان مارنا اور صالحین کے ساتھ ملحق رکھنا ایک اور روایت میں امام جعفر صادق(ع) سے منقول ہے کہ یوسف(ع) بارہ سال کے تھے جب انہیں زندان میں دالا گیا اور وہ اس زندان میں اٹھارہ برس اور پھر رہائی کے بعد انہوں نے اپنی زندگی کے اسی(۸۰) سال گزارے اور ایک سو دس(۱۱۰) سال کی عمر میں وفات پائی۔

جناب شیخ صدوق(رح) نے اس مجلس کے بعد اسی دن(۲۱صفر ۳۶۸ھ) اس حدیث کا اضافہ فرمایا کہ مسیب بن نجبہ نے بیان کیاہے کہ امیرالمومنین(ع) جناب علی ابن ابی طالب(ع) سے پوچھا گیا کہ ہمیں بتائیں ، جناب رسول خدا(ص) کے اصحاب کیسے تھے ہمیں جناب ابوذر(رح) کے بارے میں بتائیں۔

جناب امیر(ع) فرمایا ابوذر(رح) علم حاصل کرنے والے تھے پھر پوچھا گای حذیفہ(رح) کیسے تھے آپ(ع) نے فرمایا وہ منافقین کے ناموں کو بے نقاب کیا کرتے تھے۔ پوچھا گیا عمار یاسر(رض) کیسے تھے۔ جناب امیر(ع) نے فرمایا ان کے بدن کے تمام حصے ایمان سے پر تھے، چیزیں بھول جایا کرتے تھے مگر جب یاد آتیں تو انہیں اچھی طرح یاد کر لیا کرتے تھے پھر دریافت کیا گیا کہ عبداﷲ بن مسعود کی بابت بیان کریں امیرالمومنین(ع) نے  فرمایا قرآن کو بہتر پڑھا کرتا تھا کیونکہ اس کے سامنے نازل ہوا تھا پھر فرمایا گیا کہ جناب سلمان فارسی(رض) کا حال بتائیں تو فرمایا، وہ علم اولین و آخرین کو جانتے تھے وہ ایک ایسا سمندر تھے کہ تمام نہیں ہوتا۔( وسعت علم کی طرف اشارہ ہے) اور ہمارے خاندان سے تھے جناب امیر(ع) سے گذارش کیا گیا کہ کچھ اپنے بارے میں بتائیں تو فرمایا میں جب کبھی رسول خدا(ص) سے پوچھتا تو مجھ سے بیان فرماتے اور اگر میں خاموش رہتا تو خود ہی مجھ سے بات کرنے لگتے تھے۔


مجلس نمبر۴۴

(۲۵ صفر سنہ۳۶۸ھ)

۱ـ               امام باقر(ع) نے فرمایا نیکیاں گناہوں کو دھو دیتی ہیں مگر نیکی کے بعد گناہ ، نیکیوں کو بدنما کر دیتے ہیں۔ ( یا یہ کہ بدی کے بعد نیکی سے بہتر کوئی نیکی نہیں اور نیکی کے بعد بدی سے بدتر کوئی بدی نہیں)

۲ـ              امام باقر(ع) نے فرمایا ظلم کی تین اقسام ہیں۔

        اول :۔ وہ جس کو خدا معاف کردیتاہے۔

        دوئم :۔ کہ جس کو وہ چھوڑ دیتا ہے۔

        سوم :۔ وہ کہ جسے خدا معاف نہیں کرتا۔

        اول:۔ جسے وہ معاف نہیں کرتا وہ اس کے ساتھ شرک کرنا ہے۔

        دوم :۔ جس کو وہ چھوڑ دیتا ہے وہ بندوں کے حقوق ہیں( حقوق العباد کی معافی کا حق وہ مخلوق کو ہی دیتا ہے۔ اس لیے اس کی معافی وہ بندوں پر ہی چھوڑتا ہے۔)

        سوم :۔ جسے معافی کردیتا ہے وہ اس( بندے) کا اپنے نفس پر ستم ہے، پھر امام(ع) نے فرمایا کہ ظالم کو روز قیامت مظلوم سے غصب کیے گئے حق سے کہیں زیادہ ( بصورت عذاب) ادا کرنا پڑے گا۔

۳ـ             امام باقر(ع) نے فرمایا ۔ اے فلاں ۔ امیروں کی محفل میں مت بیٹھو کیونکہ جب تک تم ان کے درمیان ہوتو معتقد ہوتے ہو کہ یہ نعمتیں خدا دے رہا ہے مگر جب اٹھتے ہو تو یہ خیال رکھتے ہو کہ خدا ہمیں کوئی نعمت عطا نہیں کررہا ہے۔

۴ـ              امام باقر(ع) نے قول خدا”قولوا للناس حسنا “ کی تفسیر کے سلسلے میں ارشاد فرمایا لوگوں میں سے بہتر وہ ہیں کہ جو بات وہ اپنے لیے پسند کرتے ہیں ( خوش گفتاری) وہی دوسرے سے کرتے ہیں خدا دشنام طرازی اور مومنین کو طعنہ دینے والے پر لعنت کرتا ہے اور کسی سے فحش کلامی اور بیہودہ بات کہنے والے کو دشمن رکھتا ہے۔


۵ـ          امام باقر(ع) نے فرمایا اچھے اعمال انسان کو بری موت سے بچاتے ہیں اور ہر ایک سے خوش رفتاری ( اچھے کاموں میں سبقت ) کرنا صدقہ ہے دنیا میں خوش رفتاری کرنے والا آخرت میں بھی خوش رفتار ہوگا اور دنیا میں برائی کرنے والوں کو آخرت میں بھی برائی ملے گی پہلا بندہ جو بہشت میں داخل ہوگا اور خوش خلق ہے اور پہلا بندہ جو دوزخ میں جائے گا وہ بدکار ہے۔

۶ـ           امام باقر(ع) نے فرمایا خدا نے موسی بن عمران(ع) سے جو بات راز میں کی ہے کےضمن میں توریت میں مرقوم ہے کہ خدا نے فرمایا، اے موسی(ع) اپنے پوشیدہ عیوب کے بارے میں مجھ سے ڈرو تاکہ میں تمہارے عیب لوگوں سے پوشیدہ رکھوں، اپنی خواہشوں اور لذتوں کے حصول کے لیے اپنے دل میں مجھے یاد رکھو تاکہ میں تمہاری لغزشون سے تمہاری حفاظت کروں اور جو لوگ تمہارے اختیار میں ہیں ان پر اپنے غصے کو روکے رکھو تاکہ میرے غضب کا شکار نہ بنو۔ میرے راز کو اپنے دل میں پوشیدہ رکھو اور میرے دشمن سے نفرت کرو اور اسے میرے خلق اور راز سے آگاہ نہ کرو کیوںکہ وہ میرے بارےمیں ناسزا ( شرک) کہیں گے اور اس طرح تم ان کے ناسزا کہنے ہیں ان کے شریک اور گناہ گار ہوجاؤ گے۔

۷ـ          اصبغ بن نباتہ کہتے ہیں کہ امیرالمومنین(ع) اپنے سجدے کے دوران خدا سے کہتے ، اے میرے آقا میں تجھ سے راز کی بات کہتا ہوں کہ جس طرح ایک ذلیل بندہ اپنے مولاسے راز کی بات کہتا ہے میں تجھ سے طلب کرتا ہوں اس بندے کی طرح جو جانتا ہے کہ تو عطا کرتا ہے اور جو کچھ تیرے پاس ہے وہ کم نہیں ہوتا میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اس بندے کی طرح جو یہ جانتا ہے کہ تیرے سوا کوئی گناہ معاف نہیں کرسکتا۔ اور میں تجھ پر توکل رکھتا ہوں اس بندے کی طرح کہ جو یہ جانتا ہے کہ تو ہر چیز پر طاقت و قدرت رکھتا ہے۔

۸ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا کہ جو شخص نمازِ عصر کے بعد ستر بار استغفار کرئے تو خدا اس کے سات سو گناہ معاف فرماتا ہے اگر وہ شخص گناہ گار نہ ہوگا تو اس کے باپ کے گناہ معاف کرئے گا اور اگر اس کا باپ کوئی گناہ نہ رکھتا ہو تو اس کی ماں کے گناہ معاف فرمائے گا، اگر وہ کوئی گناہ نہ رکھتی ہوگی تو اس شخص کےبھائی کے گناہ معاف فرمائے جائیں گے اگر اس کےبھی نہ ہوں گے تو


 اس کی بہن کے گناہوں کو معاف کیا  جائے گا اور اگر اس کی بہن بھی کوئی گناہ نہ رکھتی ہوگی تو خداوند کریم اس کے رشتہ داروں کے گناہوں کو بالترتیب معاف فرما دے گا۔

۹ـ           جابر کہتے ہیں کہ امام باقر(ع) سے عرض کیا گیا، وہ لوگ کیسے ہیں کہ جب قرآن کی کوئی آیت یا کوئی ( بھلائی) کی بات انہیں یاد دلائی جائے تو ان پر اثر نہیں ہوتا یہاں تک کہ اگر ان کے دونوں ہاتھ اور دونوں پاؤں بھی قطع ہو جائیں تب بھی وہ خبر دار نہیں ہوتے۔

امام(ع) نے فرمایا سبحان اﷲ۔ یہ شیطان کی حالت ہے جس پر کوئی اثر نہیں ہوتا ورنہ بیشک قرآن ، نرمی، رقتِ قلب اور اشک و خوف کا اثر رکھتا ہے۔

۱۰ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جو کوئی واجب نماز کو اس کے وقتِ مقررہ پر درست طریقے سے ادا کرئے تو فرشتہ اس نماز کو پاک و روشن حالت میں آسمان پر لے جاتا ہے جہاں یہ نماز آواز دیتے ہے کہ خدایا اس بندے کی حفاظت اس طرح کر جس طرح اس نےمیری حفاظت کی اے بندے میں تجھے اس طرح خدا کے حوالے کرتی ہوں کہ جس طرح تونے مجھے ایک کریم فرشتے کے حوالے کیا ہے۔ اور جو کوئی نماز کو بے وقت و بے عذر ادا کرئے اور اس کی درست ادائیگی نہ کرئے تو ایک فرشتہ اس نماز کو بہ حالت تاریکی اوپر لے جاتا ہے جہاں یہ نماز آواز دیتی ہے کہ خدایا اس بندے کو اس طرح ضائع کر جس طرح اس نے مجھے ضائع کیا ہے اور اس کی رعایت نہ کر جس طرح اس نے میری رعایت نہیں کی۔

پھر امام صادق(ع) نے فرمایا جب بندہ خدا کے سامنے کھڑا ہوگا تو اس سے پہلا سوال واجب نماز کا ہوگا۔ پھر زکوة واجب کا سوال کیا جائیگا اس کے بعد واجب روزہ اور پھر واجب حج کا سوال ہوگا پھر ہمارے خاندان کی ولایت کے بارے میں پوچھا جائیگا اگر وہ بندہ ہمارے خاندان کی ولایت کا معترف ہوگا اور اس عقیدے پر فوت ہوا ہوگا تو باقی اعمال یعنی نماز، روزہ ، حج، زکوة، وغیرہ قبول ہوں گے۔ اگر وہ ہماری ولایت کا اعتراف نہیں کرے گا تو خدا اس کا کوئی عمل قبول نہیں کرے گا۔

اسی سلسلہ سند سے امام صادق(ع) نے فرمایا کہ جب نمازِ واجب پڑھو تو اس کے مقررہ وقت پر


 پڑھو اور اس خوف سے اسے وداع کرو کہ کہیں یہ واپس نہ ہوجائے اپنی آنکھوں کو اپنی جائے سجدہ پر رکھو اور بہتر پڑھو جان لو کہ تم اسکے ( خدا) سامنے کھڑے ہو اور اسے دیکھ نہیں سکتے مگر وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔

نزول سورہ دہر

۱۱ـ           امام صادق(ع) نے اپنے والد(ع) سے اس قول خدا کہ ” اپنی نذر کو پورا کرتے ہیں“ (ہل اتی آیت ۷) کی تفسیر کو روایت کیا ہے کہ۔ حسن(ع) و حسین(ع) کمسن تھے کہ بیمار ہوگئے اور جنابِ رسول خدا(ص) دو اشخاص کے ہمراہ ان کی عیادت کو تشریف لائے اور دونوں کی صحت کے متعلق ارشاد فرمایا، ” اے ابوالحسن(ع) (علی(ع)) اگر اپنے دونوں فرزندوں کے لیے نذر کرو تو خدا انہیں شفا عطا کرے گا“۔

جنابِ امیر(ع) نے فرمایا میں کہ بطور شکرانہء خدا تین روزے رکھوں گا یہ سن کر جنابِ فاطمہ(س)، جنابِ حسن(ع) جنابِ حسین(ع) اور بی بی فضہ(رض) نے بھی اسی ںذر کا ارادہ کیا اور منت مانی۔

خدا نے انہیں لباسِ عافیت ( شفا) پہنایا تو صبح سب نے نیت کی اور روزہ رکھ لیا مگر گھر میں خوراک کا انتظام موجود نہ تھا کہ جس سے روزہ افطار کیا جاتا جنابِ امیر(ع) نے یہ دیکھا تو اپنے قریبی ہمسائے” شمعون“ جو کہ یہودی تھا اور اون کا کاروبار کرتا تھا کے ہاں گئے اور فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ تجھ سے کچھ اون لے کر دخترِ محمد(ص) کو دوں جو اس کو تیرے لیے بن دے اور تو اس کے بدلے مجھے کچھ جو دیدے یہودی کے اس پر اقرار کے بعد کچھ مقدار اون کے عوض  تین صاع ( تقریبا پونے تین کلو ایک صاع کا وزن ہوتاہے) جو اس یہودی کی طرف سے ادا ہونے قرار پائے۔

جنابِ امیر(ع) نے وہ اون اور جو اس یہودی سے لیے اور گھر تشریف لائے اور بی بی فاطمہ(س) کو اون اور جو کے بارے میں بتایا بی بی(س) نے اس معاملے کو قبول فرما کر ایک تہائی اون بننے کے بعد ایک صاع جو لی اور اسے پیس کر اس کا آٹا گوندھا اور سب گھر والوں کی تعداد کے مطابق پانچ روٹیاں بنائیں۔


جنابِ امیر(ع) جب نماز مغرب کو پیغمبر(ص) کے ساتھ ادا کر کے گھر واپس تشریف لائے تو دسترخوان بچھایا گیا اورپانچوں اقراؤ  روزہ افطار کرنے بیٹھ گئے۔ جب جنابِ امیر(ع) نے افطار کی غرض سے پہلا لقمہ اٹھایا تو ایک مسکین نے دروازے پر صدا دی کہ اے اہل بیت(ع) محمد(ص) تم پر سلام ہو۔ میں ایک مسکین ہوں مجھے اس کھانے میں سے عطا کیجیے جس میں سے آپ(ع) تناول فرماتے ہیں خدا آپ(ع) کو بہشت کا کھانا عطا کرئے گا۔جنابِ امیر(ع) نے لقمہ ہاتھ سے رکھ دیا اور بی بی فاطمہ(س) سے کہا اے صاحبہ مجدو و یقین” اے دختر خیرالناس کل اجمعین“ دروازے پر ایک مسکین کھڑا نالہ و زاری کرتا ہے اور غمگین ہے اگر اسے کچھ نہ دیا گیا تو یہ خدا سے شکایت کرئے گا اور خدا نے بہشت کو بخیلوں پر حرام قرار دیا ہے اور بخیل کے لیے غم اور آتش دوزخ کو رکھا ہے فاطمہ(س) نے چہرہ مبارک جنابِ امیر(ع) کی طرف کیا اور فرمایا اے ابن عم میں نے آپ(ع) کی بات سنی، میں خوراک کی خاطر پستی و ملامت نہیں چاہتی میں خدا کی ذات سے امید وابسطہ رکھتی ہوں اور چاہتی ہوں کہ ہم اس نیکی میں با جماعت شریک ہوں اور بابا جان(ص) کی شفاعت کے حقدار ہو کر فردوس میں جائیں یہ کہہ کر بی بی(س) نے وہ سارا کھانا اٹھایا اور اس مسکین کو دیدیا اور سب کے سب بھوکے ہی سو گئے اور پانی کے سوا کوئی دوسری چیز انہوں نے نہ چکھی۔اگلی شام دوسرے دن کے افطار کے لیے بی بی(س) نے پھر ایک تہائی اون کو بنا اور ایک صاع جو لے کر اسے پیسا اور اس سے گھر کے افراد کی تعداد کے مطابق پانچ روٹیاں بنائیں۔جنابِ امیر(ع) نے نمازِ مغرب رسول خدا(ص) کے ساتھ ادا کی اور گھر تشریف لائے ان کے آنے پر دسترخوان بچھایا گیا جب سب لوگ روزہ افطار کرنے بیٹھے اور جنابِ امیر(ع) نے پہلا لقمہ اٹھایا تو ایک یتیم مسلمان دروازے پر آکھڑا ہوا اور صدا دی ، اے اہل بیت(ع) تم پر سلام ہو میں ایک مسلمان یتیم ہوں آپ(ع) جو کچھ تناول فرماتے ہیں اس میں سے مجھے بھی کچھ عنایت کریں خدا آپ(ع) کو بہشت کی خوراک عطا کرئے گا، علی(ع) نے لقمہ سے رکھا دیا اور بی بی فاطمہ(س) سے فرمایا اے فاطمہ(س) تم دخترِ سید کریمان ہو۔ تم دخترِ پیغمبر(ص) ہو اور جانتی ہو کہ بخیل کو دوزخ کی طرف کھینچا جائے گا اور اسے حمیم پلایا جائے گا اور آگ کا عذاب دیا جائے گا بی بی(س) نے جنابِ امیر(ع) کی طرف دیکھا اور فرمایا میں تمام تر تکلیف خدا کی خاطر اٹھاتی ہوں، یہ تکلیف اس تکلیف سے کہیں کم تر ہے جو میرا فرزند کربلا میں اٹھائے گا اسے قتل کیا جائے گا اور اس کا قاتل دوزخ میں گرایا جائے گا یہ کہہ بی بی(س) نے دسترخوان پر


 جو کچھ بھی تھا اس سائل کو دیدیا اور سب کے سب پانی سے افطار کر کے سو گئے۔اگلے دن بی بی فاطمہ(س) نے بقیہ تہائی اون کو کات کر بنا اور آخری صاع جو کو پیس کر پانچ روٹیاں تیار کیں جنابِ امیر(ع) جنابِ رسول خدا(ص) کے ساتھ نماز ادا کر کے واپس آئے تو افطار کے لیے دسترخوان بچھایا گیا اور جب جنابِ امیر(ع) نے پہلا لقمہ اٹھایا تو ناگاہ دروازے پر صدا سنائی دی کہ اے خاندان محمد(ص) آپ(ع) پر سلام ہو میں اسیرِ مشرکین تھا اور قید کے دوران مجھے کھانا نہیں دیا گیا مجھے کچھ عطا کیجئے جنابِ امیر(ع) نے لقمہ ہاتھ سے رکھ دیا اور فاطمہ(س) سے فرمایا اے نبی احمد(ص) کی دختر اے نبی سید کی دختر ایک اسیر تیرے در پر آیا ہے جو کہ کمزور ہے اور قید میں رہا ہے اگر اس کی حاجت پوری نہ کی گئی تو یہ خدا سے شکایت کرئے گا اور آج جو ہم بوئیں گے وہی کل کاٹیں گے لہذا مایوس مت ہو۔ بی بی(س) نے فرمایا بیشک اب مزید جو نہیں رہے کہ ہم ان سے روٹی بنالیں اور ہم تین راتوں سے بھوکے بھی ہیں اس کے باوجود ہم اسے خالی نہیں لوٹائیں گے خدا ہم پر کرم کرئے گا کہ ہم نے ایک کمزور کی مدد کی یہ کہہ کر دسترخوان پر جو کچھ بھی تھا اسے اٹھایا اور اس اسیر کو دیدیا نذر کے مطابق یہ آخری روزہ تھا صبح کو گھر میں کوئی چیز ایسی نہ تھی کہ جسے تناول فرماتے۔شعیب بیان کرتے ہیں کہ جنابِ امیر(ع)، حسن(ع)، و حسین(ع) کو رسول خدا(ص) کے پاس لائے یہ دونوں فرزند خالی پیٹ تھے اور بھوک کی وجہ سے ان پر ضعف طاری تھا۔ جنابِ رسول خدا(ص) نے جب انہیں اس حال میں دیکھا تو علی(ع) سے فرمایا اے ابوالحسن(ع) مجھے یہ سختی بھلی معلوم نہیں پڑتی پھر انہیں اپنے ہمراہ لیا اور فاطمہ(س) کے پاس آئے وہ محرابِ عبادت میں تھیں اور بھوک کی وجہ سے ان کا پیٹ ان کی پشت کے ساتھ لگا ہوا تھا۔ اور آپ(ع) کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں رسول خدا(ص) نے ان کی اس حال میں دیکھا تو انہیں اپنی آغوش میں لے لیا اور فرمایا خدایا میں تجھ سے استغاثہ کرتا ہوں کہ یہ تین روز سے اس حال میں ہیں۔تب جبرائیل(ع) تشریف لائے اور فرمایا۔ اے محمد(ص)، خدا جو کچھ تمہارے خاندان کو دینے پر آمادہ ہوا ہے وہ لے لو۔ آپ(ص) نے فرمایا وہ کیا ہے جبرائیل(ع) نے فرمایا”هَلْ أَتى‏ عَلَى الْإِنْسانِ حينٌ مِنَ الدَّهْرِ لَمْ يَكُنْ شَيْئاً مَذْكُوراً  إِنَّ هذا كانَ لَكُمْ جَزاءً وَ كانَ سَعْيُكُمْ مَشْكُوراً “کہ گذرا ہے انسان پرایک ایسا زمانہ کہ یاد میں نہ تھا۔۔۔ (تا آخر آیت)اے محمد(ص) یہ تمہارے خاندان کے لیے خدا کی طرف سے کہ تمہاری کوشش کا قدردان وہ (خدا) ہے۔حسن بن مہران نے حدیث بیان کی ہے کہ پیغمبر(ص) اپنی جگہ سے اٹھے اور فاطمہ(س) کے گھر


 گئے اور سب گھر والوں کو اکٹھا کیا اور اپنا سر جھکا کر گریہ کرنے لگے اور فرمایا تم تین روز سے اس حالت میں ہو اور مجھے اطلاع نہیں ہے تو جبرائیل(ع) ان آیات کے ہمراہ تشریف لائے” بیشک نیک لوگ اس سے جام پیئیں گے جو کہ کافور سے ممزوج ہیں اس چشمہ سے خدا کے بندے پیئیں گے اور اچھی طرح ان کو جوش آئے گا“ ( ہل اتی ، ۵) پھر فرمایا کہ یہ وہ چشمہ ہے جو پیغمبرف(ص) کے گھر سے انبیاء(ع) و مومنین کے گھروں تک جاری ہے علی(ع) و فاطمہ(س) و حسن(ع)، حسین(ع) اور ان کی کنیز کا اس نذر کو پورا کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ اس دن کے شر سے ڈرتے ہیں کہ جس دن چہرے بدنما اور خوفناک ہوں گے اور وہ مسکین، یتیم اور اسیر کو صرف اس(خدا) کی محبت میں کھانا کھلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بیشک تمہیں یہ راہِ خدا میں دیا جارہا ہے جس کا بدلہ تم سے اس کے سوا کچھ اور نہیں چاہتے کہ تم اس کی قدردانی کرو اور خدا کی قسم سوائے خدا کی قدردانی کےوہ اس سے اپنی ذاتی غرض و نمائش کا مقصد نہیں رکھتے اور اس کا ثواب وہ صرف خدا سے چاہتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ خدا نے ان کو اس دن کے عذاب سے محفوظ رکھا ہے اور انہیں نورانی چہرہ و دل شاد عطا کیا ہے اور انہیں بہشت سے نوازا ہے کہ اس میں سکونت اختیار کریں گے اور ان کے لیے فرش حریر بچایا جائیگا اور انہیں تختِ بہشت پر تکیہ کروایا جائیگا اور بہشت کے حلے پہنائے جائیں گے اور نہ ان پر سورج کی جلانے والی گرمی ہوگی اور نہ ہی ٹھٹھرانے والی سردی۔ ابن عباس(رض) فرماتے ہیں کہ جس وقت اہل بہشت آرام سے اس میں بیٹھے ہوں گے اور سورج کو دیکھیں گے تو اے پروردگار سے عرض کریں گے کہ پروردگار تو نے قرآن میں ارشاد فرمایا تھا کہ بہشت میں سورج کو نہ دیکھو گے خدا جبرائیل(ع) کو ان کی طرف بھیجے گا اور انہیں اطلاع دے گا کہ یہ سورج نہیں یہ علی(ع) و فاطمہ(س) مسکرائے ہیں اور بہشت ان کے مسکرانےسے روشن ہوگئی ہے۔

سورہ ” ہل اتی“ تا آیت ”كانَ سَعْيُكُمْ مَشْكُوراً “ تمہارے اس عمل کی قدردانی میں نازل کی گئی اور تمہارے بارے میں اتاری گئی۔


مجلس نمبر۴۵

( ۲۸ صفر سنہ۳۶۸ھ)

جنابِ عبدالمطلب(ع) کا خواب

۱ـ           جنابِ ابو طالب(ع)،جنابِ عبدالمطلب(ع) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک روز میں ( عبدالمطلب(ع)) حجر اسماعیل(ع) میں سو رہا تھا کہ ایک خواب دیکھا جس نے مجھے خوف زدہ کر دیا میں کاہن بیدار ہوا اور کاہن قریش کے پاس گیا ان دنوں میں اپنی قوم کا سردار تھا جب اس نے مجھے دیکھا کہ میں کانپ رہا ہوں اور میرے بال کندھوں پر پڑے ہل رہے ہیں تو کہنے لگا آج کیا بات ہے، عرب کے سردار کا رنگ متغیر ہے کہیں حوادثاتِ زمانہ سے تو یہ حال نہیں ہوگیا۔ میں نے کہا ہاں کچھ ایسا ہی ہے آج رات میں حجر اسماعیل(ع) میں سویا ہوا تھا اور میں نے ایک خواب دیکھا کہ ایک درخت میری پشت سے اگا اور اس قدر بلند ہوا کہ اس کی شاخیں آسمان تک پہنچ گئیں اور پھیلاؤ میں مشرق و مغرب میں چلی گئیں، پھر دیکھا کہ اس سے ایک نور ظاہر ہوا جو ستر(۷۰) آفتاب کے نور کے برابر ہےعرب و عجم اس کے سامنے سجدہ ریز ہیں اور ہر روز اس کی بزرگی و عظمت بڑھتی جارہی ہے پھر قریش کے ایک گروہ نے چاہا کہ وہ اسے اکھاڑ دیں مگر جب وہ اس کے نزدیک ہوئے تو ایک نوجوان جو سب لوگوں سے زیادہ شکیل و جمیل تھا آگے بڑھا اور انہیں پکڑا کر ان کی پشتیں توڑ دیں ان کی آنکھیں نکال دیں، پھر میں نے چاہا کہ میں اس درخت کو پکڑلوں میں نے اپنا ہاتھ بلند کیا تو اس نوجوان نے مجھے آواز دی ” تم اپنا ہاتھ ہٹا لو تمہارا اس میں کوئی حصہ نہیں“ میں نے اسے کہا میرا حصہ کس لیے نہیں جب کہ یہ درخت میرا ہے اس نے کہا یہ حصہ ان کا ہے جو اس میں آویزاں ہیں۔ میری آنکھ خوف کی وجہ سے کھل گئی میں اٹھا تو میرا رنگ متغیر تھا۔

جنابِ عبدالمطلب(ع) فرماتے ہیں کہ میں نےدیکھا کہ اس کاہن کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوگیا اس نے کہا اے عبدالمطلب(ع) اگر تم سچ کہہ رہے ہو تو سنو تمہاری پشت( صلب) سے


 ایک فرزند پیدا ہوگا جو مشرق ومغرب کا مالک ہوگا اور لوگوں کے درمیان پیغمبری کرے گا۔ عبدالمطلب(ع) کہتے ہیں کہ اس کے بعد میرے دل سے غم ختم ہوگیا۔ پھر آپ(ع) نے مجھ سے فرمایا اے ابوطالب(ع) کوشش کرو کہ وہ مدد کرنے والا جوان تم بن جاؤ۔ لہذا ابوطالب(ع) ہمیشہ آںحضرت(ص) کی نبوت کے بعد اس خواب کا تذکرہ کیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ واﷲ وہ درخت ابوالقاسم امین(ص) ہیں۔

۲ـ           عبداﷲ ابن عباس(رض) نے اپنے والد عباس(رض) سے روایت کی ہے ک جب میرے بھائی عبداﷲ پیدا ہوئے تو ان کے چہرے پر آفتاب کے نور کی مانند ایک نور تھا میرے پدر بزرگوار جناب عبدالمطلب(ع) نے فرمایا کہ میرے اس فرزند کی شان بلند ہوگی پھر میں نے ایک شب خواب دیکھا کہ عبداﷲ کی ناک سفید پرندہ نکلا اور پرواز کر کے مشرق ومغرب تک پہنچا اور پھر واپس آکر بامِ کعبہ پر بیٹھ گیا اس وقت قریش کے تمام لوگوں نے اس کو سجدہ کیا اور حیرانی سے اسے تکنے لگے ناگاہ ایک روشنی ہوئی جو زمین و آسمان اور مشرق و مغرب پر چھا گئی میں بیدار ہوا تو ایک کاہنہ کے پاس گیا جو قبیلہ بنی مخزوم سے تھی اسے میں نے اپنے خواب کا حال بیان کیا وہ کہنےلگی اے عباس اگر تم نے واقعی یہ خواب دیکھا ہے اور اگر یہ سچا ہے تو تمہارے بھائی کے صلب سے ایک فرزند پیدا ہوگا کہ اہلِ مشرق و مغرب اس کے تابع ہوں گے۔ عباس(رض) کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں ہمیشہ سے عبداﷲ کے لیے زوجہ کی فکر میں رہتا۔ تا آنکہ آمنہ(س) سے ان کا عقد ہوگیا ، وہ ( آمنہ) قریش کی عورتون میں زینت و زیبائی میں سب پر مقدم تھیں پھر جنابِ رسالت ماب(ص) کی پیدائش سے پہلے جناب عبداﷲ(ع) کا انتقال ہوگیا میں نے جب آںحضرت(ص) کو دیکھا تو مشاہدہ کیا کہ ان کی آنکھوں کے درمیان نورِ لامع موجود ہے اور جب میں نے انہیں گود میں لیا تو مجھے ان(ص) سے مشک کی خوشبو آئی میں نے محسوس کیا کہ میں خود ایک نافہ مشک کی طرح معطر ہوگیا ہوں۔

آمنہ(س) نے مجھ سے کہا کہ جب مجھے درد زہ شروع ہوا تو میں نے اپنے گھر میں بہت سی آوزیں سنیں جو آدمیوں کی آوازوں سے متشابہ تھیں۔ پھر میں نے سندس بہشت کا ایک علم دیکھا جو یاقوت کی چھڑ میں لگا ہوا تھا اور جس کی وسعت ن زمین و آسمان کو گھیرا ہوا تھا اور ایک نور آںحضرت(ص) کے سر سے بلند تھا جس نے آسمان کو روشن کر رکھا تھا اس نور میں نے ملکِ شام کے قصر دیکھے


جو نور کی زیادتی کے سبب آگ  کےشعلے معلوم ہورہے تھے پھر میں نے اپنے چاروں طرف اسفرود کی مانند پرندے دیکھے جو اپنے پر مجھ پر پھیلائے ہوئے تھے پھر میں(آمنہ) نے دیکھا کہ شعیرہ اسدیہ گذرتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ اے آمنہ(س) تمہارے اس فرزند(ص) سے کاہنوں اور بتوں کو کیا کیا دیکھنا نصیب ہوگا اس کے بعد میں نے ایک بلند قامت نوجوان کو دیکھا جو کہ مجھے عبدالمطلب(ع) کی مانند دکھائی دیئے انہوں نے میرے فرزند کو گود میں لیا اور اپنا لعاب دہن ان کے منہ میں دیا ان کے پاس ایک سونے کی کنگھی بھی تھی انہوں نے میرے فرزند کا شکم مبارک چاک کیا اور ان کا دل نکال کر چاک کیا اور اس میں سے ایک سیاہ نقطہ نکال کر پھینک دیا۔ پھر حریرِ سفید کی ایک تھیلی نکالی اور اس میں سے ایک سفید رنگ کی گھاس کی طرح کی کوئی چیز نکال کر دل میں بھر دی اور دل کو اس کے مقام پر رکھ دیا پھر انہوں نے میرے فرزند(ص) کے شکم مبارک پر اپنا ہاتھ پھیرا اور آںحضرت(ص) سے باتیں کرنے لگے آپ(ص) ان کی باتوں کے جواب دیتے جاتے مجھے ان کی باتیں سمجھ نہ آسکیں سوائے چند الفاظ کے وہ یہ تھے کہ خدا کے حفظ و امان اور حمایت میں رہو میں نے تمہارے دل کو ایمان و علم و یقین و شجاعت سے بھر دیا ہے اور تم بہترین خلق ہو وہ خوش بخت ہے جو تمہاری حمایت کرے اور اس پر وائے ہو جو تمہاری مخالفت کرے اس کے بعد انہوں نے ایک دوسری تھیلی نکالی جو حریر سبز کی تھی اور اس میں سے ایک انگوٹھی نکال کر اس سے حضرت(ص) کے دونوں کاندھوں کے درمیان مہر لگائی جس کا نقش  ابھر آیا پھر انہوں نے حضرت(ص) سے کہا کہ میرے پروردگار نے حکم دیا ہے کہ میں تم میں روح القدس پھونک دوں۔ غرض یہ کہ انہوں نے حضرت(ص) کے سینے میں روح القدس پھونک دی پھر انہوں نے حضرت(ص) کو ایک پیراہن پہنایا اور کہا یہ دنیا میں تمہارے لیے آفتوں سے امان ہے۔

اے عباس(رض) یہ وہ امور تھے جن کو میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا عباس(رض) کہتے ہیں کہ میں نے آںحضرت(ص) کے شانوں کو کھولا اور اس  مہر کو پرھا، میں یہ باتیں ہمیشہ پوشیدہ رکھا کرتا تھا یہاں تک کہ میں بھول گیا اور جب مشرف یہ اسلام ہوا تو حضرت(ص) نے مجھے خود یہ باتیں یاد دلائیں۔

۳ـ          امام صادق(ع) نے اپنے والد(ع) نے روایت کی ہے کہ دعا کو پانچ مواقع پر غنیمت جانو( کہ یہ قبولیت کے مواقع ہیں۔)


     اول :۔ جس وقت قرآن پڑھا جائے۔

     دوم :۔ بوقت اذان

     سوم :۔ بوقت نزول باران

     چہارم :۔ جس وقت دو لشکر قصدِ شہادت کے لیے آمنے سامنے کھڑے ہوں

پنجم :۔ مظلوم کی نفرین کہ اس کے اور عرش کے درمیان اس وقت کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا۔

۴ـ جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا ۔ چار آدمیوں کی دعا کے سامنے آسمان کے دروازے کھلے رہتے ہیں کہ وہ سیدھی عرش پر پہنچی ہے اور رد نہیں ہوتی۔

        اول :۔ باپ کی دعا فرزند کے لیے۔

        دوم :۔ مظلوم کی دعا ( یا بد دعا) ظالم کے لیے۔

        سوم :۔ عمرہ کرنے والے کی دعا یہاں تک کہ وہ واپس اپنے وطن پلٹ آئے۔

        چہارم :۔ روزہ دار کی دعا یہاں تک کہ وہ افطار کرے۔

۵ـ          جناب علی بن ابی طالب(ع) نے فرمایا گرفتاری ہرگز دعا سے شایستہ تر نہیں جو کچھ بھی عظیم ہو اس کی گرفتاری ( مصیبت میں مبتلا ہوجانا) عافیت کے ساتھ ہے کہ اس بلا سے امان نہیں ہے۔

۶ـ جناب امیر(ع) فرماتےہیں کہ رسول خدا(ص) جب نئے موسم کو میوہ دیکھتے تو اس کو بوسہ دیتے اور دونوں آنکھوں پر رکھتے پھر لبوں پر رکھ کر فرماتے خدایا جس طرح تونے اس کو دنیا میں ہمارے لیے عافیت میں کیا ہے اسے آخرت میں بھی ہمارے لیے عافیت بنا دے۔

۷ ـ مالک جہنی کہتے ہیں کہ امام صادق(ع) کی خدمت میں ایک پھول پیش کیا گیا جب انہوں نے وصول کیا تو اسے اپنی دونوں آنکھوں کو لگایا اور اس کی خوشبو سونگھی پھر فرمایا جو کوئی پھول لے تو اس کی خوشبو سونگھے اور آنکھوں کو لگا کر کہے ”اللهم صلی علی محمد و آل محمد(ص) “ تو اس کے گناہ معاف فرمائے جائیں گے۔

8ـ جنابِ علی بن ابی طالب(ع) فرماتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے مجھے تعلیم دی کہ جب بھی نیا لباس زیب تن کرو تو کہو ۔ حمد ہے اس خدا کی جس نے یہ لباس مجھے پہنایا جو لوگوں کے درمیان


 افتخار کی علامت ہے۔ خدایا اس لباس کو میرے لیے باعثِ برکت بنا دے کہ میں اسے پہن کر تیری رضا طلب کروں اور تیری مساجد کو آباد کروں۔ جنابِ امیر(ع) فرماتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا جو کوئی اس طرح کسی لباس کو زیب تن کرے گا تو اس کے گناہیں معاف کر دیا جائے گا۔

۹ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا کہ بندہ کو چاہئے کہ اذان فجر سننے کے بعد کہے: خدایا میں تیرے آنے والے دن میں تیری نماز ادا کرنا چاہتا ہوں اور تیرے حضور تیری درگاہ میں دعا مانگتا ہوں کہ تو میری توبہ قبول کر لے اور تو قبول کرنے اور مہربانی فرمانے والا ہے۔

پھر جب اذان مغرب سنے تو کہے بارالہا میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ اگر رات میں مروں تو تائب ہی مروں۔

۱۰ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جو شخص نیا کپڑا خرید کر پہننے سے پہلے چھتیس (۳۶) بار انا انزلنا پڑھے مگر جب”تنزل الملائکة “ تک پہنچے تو تھوڑا سا پانی لے کر اس کپڑے پر دالے پھر دو رکعت نماز ادا کرے اور بارگاہ رب العزت میں دعا کرے کہ حمد اس خدا کی جس نے مجھے رزق عطا کیا جس سے میں لوگوں کے درمیان آراستہ ہوا، اپنا ستر چھپایا اور اس (لباس) میں میں اپنے پروردگار کی نماز ادا کرتا ہوں۔ امام(ع) فرماتےہیں کہ جب تک یہ لباس پرانا ہو کر ناقابل استعمال نہ ہو جائے گا وہ بندہ وسعت میں رہے گا۔ ( یعنی وسعتِ رزق سے سر فراز رہے گا۔)

۱۱ـ           امام صادق(ع) نے اپنے اجداد(ع) سے روایت کی ہے کہ رسول خدا(ص) جب بھی کسی یہودی نصرانی یا غیر مسلم کو دیکھتے تو فرماتے حمد اس رب العزت کی جس نے مجھے اسلام کے ذریعے تم پر برتری و فضیلت دی کہ قرآن میری کتاب ہے اور جس نے علی(ع) کو امام اور مومنین کو ایک دوسرے کا بھائی بنایا اور کعبہ کو میرا قبلہ قرار یا بیشک خدا ان غیر مسلموں کے درمیان مومنین کو ہرگز دوزخ میں داخل نہ کرے گا۔

۱۲ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جو بندہ کسی آفت زدہ معذور یا اپاہچ کو دیکھے تو دل میں تین باریہ خیال کرے اور کہے کہ اس خدا کی حمد ہے جس نے مجھے عافیت دی ہے( مکمل پیدا کیا ہے) اور اگر وہ چاہتا تو مجھے بھی ایسا ہی پیدا کرسکتا تھا( یا بناسکتا تھا) یہ اس کا کرم ہے کہ اس نے مجھے اس امتحان


سے دور رکھا۔

۱۳ـ             ابوالحسن امام رضا(ع) نے اپنے اجداد(ع) سے روایت کیا ہے کہ ایک مرتبہ رسول خدا(ص) میں تشریف لائے، ناگاہ ایک شخص کو دیکھا جس کے گرد لوگوں کا ہجوم تھا آپ(ص) نے دریافت کیا یہ کون ہے بتایا گیا کہ یہ عالم ہے آپ(ص) نے پوچھا یہ کس چیز کا عالم ہے تو عرض کیا گیا کہ یہ عرب کے شعار کے مطابق علم الانساب اور حوادثاتِ زمانہ جاہلیت کی لوگوں کو خبریں دیتا ہے آپ(ص) نے فرمایا یہ ایسا علم ہے کہ اس کے سامنے جاننے سے انسان کو کوئی فائدہ نہیں اور نہ جاننے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا۔

۱۴ـ             امام صادق(ع) نے فرمایا اسلام کی عمارت پانچ ستونوں پرکھڑی ہے۔

اول :۔ نماز۔ دوم :۔ روزہ ۔  سوم :۔ زکوة  چہارم:۔ حج  پنجم:۔ ولایت امیرالمومین(ع) اور ان کے فرزندوں(ع) کی امامت۔

۱۵ ـ            جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا اعتراف زبان اورمعرفت دل کا نام ایمان ہے جبکہ اس پر عمل اعضاء کے ساتھ ہے۔

۱۶ـ              جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا اسلام اس وقت تک برہنہ ہے جب تک اس کا لباس حیاء اس کا زیور وفا، اس کی مردانگی عمل صالح اور اس کے ستون پرہیزگاری کو اختیار نہ کیا جائے اور جان لوکہ ہر چیز بنیاد رکھتی ہے اور اسلام کی بنیاد ہمارے خاندان کی محبت ہے۔

۱۷ـ             جنابِ ابو جعفر(ع) نے اپنے اجداد(ع) سے نقل کیا ہے کہ ایک شخص جنابِ رسول خدا(ص) کے پاس آیا اور دریافت کیا کہ یا رسول اﷲ(ص) کیا وہ شخص مومن ہے جو” لا الہ الا اﷲ“ کہے ۔رسول اﷲ(ص) نے فرمایا ۔ ہمارے اس پیغام کو یہود و ںصاری تک پہنچا دو کہ جب تک وہ مجھے دوست نہ رکھیں گے اور دشمنی ختم نہ کریں گے جنت میں نہ جائیں گے اور وہ شخص جھوٹا ہے اور جو یہ دعوی کرتا ہے کہ وہ مجھے دوست رکھتا ہے مگر علی(ع) سے دشمنی کرتا ہے۔

۱۸ـ             جنابِ رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا اے علی(ع) میں حکمت کاشہر ہوں اور تم اس کا دروازہ ہو اور کوئی بھی اس وقت تک شہر میں داخل نہیں ہوسکتا جب تک دروازے سے نہ گزرے اور ہوشخص جھوٹا ہے جو یہ کہے کہ مجھے دوست رکھتا ہے مگر تم سے دشمنی رکھے کیوںکہ میں تم سے اور تم مجھ سے ہو تیرا


گوشت میرا گوشت اور تیرا خون میرا خون میرا خون ہے تیری روح میری روح اور تیرا باطن و ظاہر ہے، تم میری امت کے امام اور میرے بعدمیرے خلیفہ ہو بندہ جو تیرے فرمان پر عمل کرے خوش بخت ہے جو تیری نافرمانی کرے وہ بدبخت ہے وہ شخص فائدے میں ہے جو تیرا دوست ہے اور جو تیرا دشمن ہے وہ نقصان اٹھاتا کامیاب ہے وہ شخص جو تیری تعمیل کرتا ہے اور جو تجھ سے جدا ہے ہلاکت میں ہے تیری اور تیرے بعد تیری نسل سے ائمہ(ع) کی مثال کشتی نوح کی ہے کہ جو کوئی اس میں سوار ہوا نجات پاگیا اور جس کسی نے اس کا انکار کیا وہ غرق ہوا اور تیری نسل میں سے ائمہ(ع) کی مثال ستاروں جیسی ہے کہ اگرکوئی ایک پوشیدہ ہوا ہے دوسرا ظاہر ہوگیا اور یہ قیامت تک جاری رہے گا۔


مجلس نمبر۴۶

( یہ مجلس ماہ صفرسنہ۳۶۸ھ ختم ہونے سے دو شب پہلے پڑھی گئی)

۱ـ           امام جعفر صادق(ص) نے فرمایا۔ جو کوئی اپنے بھائی کے (برے) عمل پر (صرف) کراہت کا مظاہرہ کرتا ہے تو یہ اس کے لیے برا ہے اگر وہ اسے روکنے  پر قادر ہے اور اس کو نہیں روکتا تو اس نے خیانت کی ہے۔ جو کوئی احمق کی رفاقت سے دوری اختیار نہیں کرے گا تو وہ بھی اسی کی طرح کا ہوجائے گا۔

۲ـ           جنابِ رسول خدا(ص) فرمایا بیشک خدا نے مجھے علی بن ابی طالب(ع) کا بھائی بنایا اور میری دختر کا آسمان پر اس کیساتھ نکاح کیا اور اپنے مقرب فرشتوں کواس پر گواہ کیا اور اس کو میرا وصی و جانشین بنایا علی(ع) مجھ سے ہے میں اس سے ہوں اس کا دوست میرا دوست اور اس کا دشمن میرا دشمن ہے فرشتے اس کی دوستی سے خدا کا تقرب طلب کرتے ہیں۔

۳ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا خدا نے اسلام کو تمہارا پسندیدہ دین بنایا ہے اور سخاوت و حسن خلق و خوش رفتاری کو اس کےساتھ متصل کردیا ہے۔

۴ـ          جناب رسول خدا(ص) سے منقول ہے کہ زیادہ مزاح انسان کی آبرو کھو دیتا ہے اور زیادہ ہنسنا ایمان کو نقصان پہنچاتا ہے جب کہ جھوٹ سے چہرے کی رونق جاتی رہتی ہے۔

۵ـ          رسول خدا(ص) نے فرمایا جو کوئی مسلمان ہے اس کو چاہیے کہ وہ مکر و فریب نہ کرے کیوںکہ میں نے جبرائیل(ع) سے سنا کہ مکرو فریب آگ میں ہے( یعنی مکر و فریب کرنے والے کا ٹھکانہ جہنم ہے) پھر فرمایا وہ ہم سے نہیں جو کسی مسلمان کو دھوکہ دیتا ہے اور وہ ہم سے نہیں ہے جو کسی مسلمان سے خیانت کرتا ہے پھر فرمایا کہ جبرائیل(ع) ف روح الامین، رب العالمین کی طرف سے مجھ پر نازل ہوا اور خدا کا پیغام دیا کہ اے محمد(ص) آپ(ص)  کے لیے ضروری ہے کہ حسن خلق اختیار کریں کیوںکہ بدخلقی دنیا و آخرت کے خیر کو لے جاتی ہے آگاہ ہوجائیں کہ آپ(ص) کی امت میں سے خوش خلق آخرت میں آپ کے درجہ میں میرے ( خدا کے) ساتھ رہے گا۔


۶ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا جو کوئی نماز واجب کو پڑھے اور اس کے بعد تیس بار تسبیح” سبحان اﷲ“ کہے تو اس کے گناہوں سے کچھ بھی باقی نہ رہے گا اور سب کچھ نیچے پھینک دیا جائے گا۔( ختم کردیا جائے گا)

۷ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا کچھ قیدی رسول خدا(ص) کے پاس لائے گئے تو آپ(ص) نے حکم دیا کہ ان تمام کو قتل کردو لیکن ان میں سے اس ایک قیدی کو جدا کردو، اس مرد نے عرض کیا، اے محمد(ص) میرے ماں باپ آپ(ص) پر قربان آپ(ص) نے مجھے کیوں الگ کردیا جب کہ ان کے لیے اپنا حکم برقرار رکھا ہے فرمایا جبرائیل(ع) نے مجھے خدا کی طرف سے خبر دی ہے کہ تم میں پانچ صفتیں ایسی ہیں جو خدا اور اس کے رسول کو پسند ہیں، تم اپنی ناموس کے لیے غیرت مند، سخی، حسن خلق سے کام لینے والے۔ زبان سے سچ بولنے والے اور شجاع ہو جب اس شخص نے یہ سنا تو مشرف با اسلام ہوگیا  اور خلق دل کے ساتھ جنابِ رسول خدا(ص) کی طرف سے جنگ میں شریک ہو اور رتبہء شہادت پر فائز ہوا۔

حضرت عیسی(ع) کے لیے خدا کی ہدایات

۸ـ          عبداﷲ بن سلیمان جس نے آسمانی کتابوں کو پڑھا تھا کہتا ہے کہ میں نے انجیل میں پڑھا۔ کہ خدا نے عیسی(ع) سے فرمایا اے عیسی(ع)، میرے امر میں کوشش کرو میری بات سنو اور میری اطاعت کرؤ اے ابن طاہرہ مطاہرہ بتول(س) (جناب مریم(س)) میں نے تمہیں اس(مریم(ع)) سے بطور علامت ونشانی پیدا کیا تم مجھ واحد کی عبادت کرو اور مجھ پر توکل کرو تم قوت کے ساتھ کتاب لے لو اور سریانی زبان میں اہل سوریا کو اس کی تبلیغ کرو کہ میں ہمیشہ سے اور ہمیشہ رہنے والا خدا ہوں اور تم اس کی تصدیق کرو کہ کہ جو میرے پیغمبر(ص) امی ہیں جو صاحب شتر( ناقہ۔ اونٹ) ہیں جو صاحب زرہ و عمامہ ہیں جو کہ ان کا تاج ہے اور صاحب ہراواہ(لکڑی کاہاتھ میں پکڑنے والا عصا) ونعلین ہیں تم ان کی تصدیق کرو جوکہ صاحب روشن چشم و بلند پیشانی و خوبصورت ناک ہیں۔ جن کے دندان گنے ہوئے( یعنی موتیوں کی لڑی کی مانند ہیں) اور گردن سیمیں و درازے ہے جن کے سینے سے ناف تک بال ہیں( سینے سے ناف  تک بالوں کی لکیر ہے) اور شکم و سینہ بے بال ہےجن کا چہرہ روشن و


 خوبصورت ہے جنگی انگلیاں باریک اور بازو اور ٹانگیں متناسب ہیں کہ جب چلتا ہے تو بدن کا حصہ معلوم ہوتی ہیں اسکی چال میں وقار ہے کہ جیسے بلندی سے پتھر نیچے آئے جب یہ لوگوں کے درمیاں ہوتو ان پر حاوی و مقدم ہوتا ہے اور جس کے چہرے کا پسینہ ایسا ہے کہ جیسے مروارید ۔ اور مشک کی خوشبو رکھتا ہے اور اس جیسا نہ پہلے دیکھا گیا ہے نہ دیکھا جائے گا اور وہ ازدواج کی خوشبو سے بر مگر کم نسل رکھتا ہے بیشک اس کی نسل اس کی دختر مبارکہ سے ہے جو بہشت میں گھر رکھتی ہے وہ آخری زمانے میں اس کی ( بی بی فاطمہ(س) کی) کفالت کرے گا جیسے زکریا(ع) نے تیری والدہ کی کفالت کی اس کے دو فرزند ہوں گے اور دونوں شہید ہونگے اس کا ( رسول خدا (ص) کا) دین اسلام اور کلام قرآن ہے جبکہ میں اسلام (سلامتی) ہوں۔ وہ بندہ خوش قسمت ہے اس کے زمانے کو پائے۔ اس کے روزگار (نبوت) کو دیکھے اور اس کی بات سنے۔

عیسی(ع) نے عرض کیا۔ پررودگار طوبیٰ کیا چیز ہے ارشادِ رب العزت ہوا۔ طوبیٰ بہشت کا ایک درخت ہے جس کو میں نے لگایا ہے اور اس کا سایہ تمام بہشت پر ہے اور اس کا بیج رضوان سے ہے اس کا پانی تسنیم سے آتا ہے جوکافور کی طرح یخ ہے اور جس کا مزہ زنجبیل کی طرح ہے جو کوئی اس چشمے کا پانی پیئے گا وہ کبھی پیاسا نہیں ہوگا۔ عیسی(ع) نے عرض کیا بار الہا مجھے بھی اس چشمے سے سیراب کردے ارشاد ربانی ہوا اے عیسی(ع) نوع بشر پر حرام ہے کہ وہ اس سے پیئے۔ جب تک کہ یہ پیغمبر(ص) (حضرت محمد(ص)) اس سے نہ پی لے اور جب تک اس کی امت نہ پی لے اے عیسی(ع) میں تمہیں اپنے نزدیک اٹھالوں گا اور آخری زمانے میں نیچے بھیج دونگا۔ تاکہ تم اس پیغمبر(ص) کی امت کے عجائب دیکھو تم ان رسول خدا(ص) کے فرزند(ع) کے ساتھ مل کر دجال لعین کو دفع کرنے میں مدد دینا اور میں تمہیں نماز کے وقت نیچے بھیجوں گا تاکہ ان(ع) کے ساتھ نماز ادا کرنا کہ وہ امت مرحومہ ہے۔

۹ـ           ابن عباس(ع) سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ خدانے کس وجہ سے بہشت کو پوشیدہ رکھا ہے جبکہ قرآن میں طیب ازواج و خدام اور شراب و میوہ کی خبر دی ہے ابن عباس(رض) جس وجہ سے پوشیدہ رکھا وہ وجہ جنت عدن ہے جس کو بروز جمعہ بنایا گیا اور پوشیدہ رکھا گیا ہے اسے اہل زمین وآسمان میں سے کسی نے نہیں دیکھا اور جب تک اسکے اہل اس میں داخل نہ ہوجائیں


 اسے نہیں دکھایا جائیگا اور جب خدا نے اسے خلق کیا تو اس سے تین مرتبہ فرمایا کہ بات تو اس نے جواب دیا” طوبیٰ للمومنین“ تو خدا نے فرمایا بے شک طوبی مومنین کے لیے ہے۔

ضحاک نے مقاتل میں ابن عباس(ع) سے نقل کیا ہے رسول خدا(ص) فرمایا آگاہ ہو جاؤ جو کوئی یہ چھ صفتین رکھتا ہے وہ مومن ہے۔

اول :۔ سچ کہے۔  دوئم:۔ وعدہ وفا کرے ۔  سوئم:۔ امانت واپس کرے۔ چہارم:۔ اپنے والدین سے احسان کرے۔ پنجم:۔ صلہ رحم کرے اور ششم:۔ اپنے گناہوں کی مغفرت طلب کرے۔

۱۰ـ          ایک شخص امیرالمومنین(ع) کے پاس حاضر ہوا اور کہا یا امیر المومنین(ع) میں آپ(ع) سے ایک حاجب رکھتا ہوں جنابِ امیر(ع) نے فرمایا اے بندے اپنی اس حاجت کو زمین پر لکھ دو میں تمہاری بدحالی ظاہر نہیں کرنا چاہتا اس زمین پر لکھا میں فقیر و ضرورت مند ہوں جنابِ امیر(ع) نے حکم دیا کہ اسے دو عدل لباس پہنا دو اس حاجت مند نے جناب امیر(ع) کے لیے دعائیہ کلمات ادا کیے کہ تو نے مجھے وہ لباس عطا کیا ہے جو گو کہ پرانا ہوجائے گا مگر میں تیرے لیے دعا کرتا ہوں کہ  تجھے ہزارہا لباس عطا ہوں، میں ستائش کرتا ہوں کہ تیری حرمت سدار ہے، تیرا دیا ہوا یہ لباس آخرت میں قبول ہو میں تیری ہزار مدح و ثناء کرتاہوں کہ تیرا نام زندہ رہے اس کی طرح پہاڑ اور درخت زندہ رہتے ہیں بارش کی وجہ سے تم اپنی زندگی میں اپنے رشتے داروں کے ساتھ احسان کرنے سے ہاتھ کو مت روکو کہ اسکی جزا آخرت میں ملتی ہے۔

جناب امیر(ع) نے سونے کے سو دینار مزید اسے دیدیے جناب امیر(ع) سے عرض کیا گیا کہ آپ(ع) نے اسے توانگر بنا دیا ہے۔ جناب امیر(ع) فرمایا میں نے جناب رسول خدا(ص) سے سنا کہ لوگوں کی قدردانی کرو۔ پھر آپ(ع) نے فرمایا میں اسے عجیب خیال نہیں کرتا کہ اپنی دولت سے غلام خریدوں۔ مگر کسی پر احسان اس وجہ سے نہیں کرتا ہوں کہ اس سے آزاد بندے کو خریدوں ( جزا کی خاطر احسان کرتا ہوں)


جناب رسول خدا(ص) کی رحلت

۱۱ـ           امام جعفر صادق(ع) اپنے اجداد(ع) سے روایت کرتے ہیں کہ قبیلہ قریش سے دو اشخاص امام علی بن حسین(ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ(ع) نے ان سے فرمایا ، تمہیں رسول خدا(ص) کی رحلت کے بارے میں بتاؤں؟ انہوں نے کہا جی ہاں فرمائے امام(ع) نے فرمایا میں نے اپنے والد(ع) سے سنا کہ وفاتِ پیغمبر(ص) سے تین روز قبل جبرائیل (ع) رسول خدا(ص) کے پاس تشریف لائے اور ان سے فرمایا اے احمد(ص) مجھے خداوند کریم نے آپ(ص) کی مزاج پرسی اور آپ(ص) کو تعظیم دینے کے لیے بھیجا ہے وہ آپ(ص) کے حال کو بہتر جانتا ہے مگر ارشاد فرماتا ہے کہ اے محمد(ص) تیرا کیا حال ہے پیغمبر(ص) نے فرمایا میں شدت غم میں ہوں، پھر تیسرے روز جبرائیل(ع) و ملک الموت اور فرشتہ اسماعیل(ع) ستر ہزار فرشتوں کے ساتھ تشریف لائے اور سب سے پہلے جبرائیل(ع) نے آپ(ص) کی خدمت میں حاضری دی اور فرمایا خدا نے ہمیں خصوصی طور پر آپ(ص) کی احوال پرسی کے لیے بھیجا ہے وہ فرماتا ہے اے محمد(ص) اب آپ(ص) کا کیا حال ہے آپ(ص) نے فرمایا میں شدتِ غم میں ہوں   اے جبرائیل(ع) ، اس وقت ملک الموت نے داخل ہونے کے لیے  اجازت طلب کی جبرائیل(ع) نے فرمایا ی احمد(ص) یہ ملک الموت(ع) ہیں جو داخلے کی اجازت طلب کررہے ہیں آج سے پہلے انہوں نے کبھی کسی سے اجازت طلب نہیں کی اور آپ کے بعد بھی یہ کسی سے اجازت طلب نہیں کریں گے رسول خدا(ص) نے فرمایا انہیں اجازت دیدو وہ آئے اور جنابِ رسول خدا(ص) کے سامنے کھڑے ہوگئے اور کہا اے محمد(ص) مجھے خدا نے آپ(ص) کی خدمت میں بھیجا ہے کہ آپ(ص) جس طرح حکم کریں اس پر عمل کروں اگر آپ(ص) اجازت دیں تو آپ(ص) کی روح قبض کروں اور اگر نہ چاہیں تو اپنا ہاتھ کھینچ لوں۔ آپ(ص) نے فرمایا اے ملک الموت جس طرح میں چاہوں گا تم عمل کرو گے؟ کہا ہاں میں آپ(ص) کی اطاعت پر مامور ہوں جبرائیل(ع) نے کہا اے احمد(ص) خدا آپ(ص) سے ملاقات کا مشتاق ہے یہ سن کر رسول خدا(ص) نے فرمایا اے ملک الموت تم جس چیز پر مامور ہو اس پر عمل کرو جبرائیل(ع) نے فرمایا یہ آخری مرتبہ ہے کہ میں اس زمین پر آیا اور اس دفعہ بھی اس کا سبب آپ(ص) ہی تھے۔ جب رسول خدا(ص) نے اس دنیا سے رحلت فرمائی تو لوگوں کو ایک آواز سنائی دی مگر کوئی دکھائی نہ


دیا اس غائب شخص نے پہلے تعزیت کی اور پھر کہا تم پر سلام ہو اور خدا کی رحمت اور برکات ہوں یہ ہر نفس کے لیے ہے کہ اس موت کو ذائقہ چکھنا ہے اور بیشک وہ روزِ قیامت اپنی جزا پائے گا ( آل عمران،۱۸۵) بیشک خدا کی نظر میں ہر آرام وہ مصیبت زدہ اور ہر جانشین فانی ہے اور ہر فوت شدہ خدا پر بھروسا کیے بیٹھا ہے اور امیدوار ہے کیوںکہ مصیبت زدہ وہ ہے جو ثواب سے محروم ہے ” والسلام علیکم و رحمتہ اﷲ و برکاتہ“ یہ کہہ کردہ آواز شدہ ہوگئی جناب امیر(ع) نے فرمایا تم جانتے ہو یہ کون تھے یہ خضر علیہ السلام تھے۔

۱۲ـ          جابر بن عبداﷲ انصاری(رح) نے جناب علی ابن طالب (ع) علی(ع) سے روایت کیا کہ ایک دفعہ بی بی فاطمہ(س) نے رسول خدا(ص) سے کہا بابا جان روز موقفِ اعظم و روزِ فزع  آپ(ص) کو میں کہاں دیکھوں گی فرمایا اے فاطمہ(س) میں بہشت  کے دروازے پر ہوں گا لو احمد میرے پاس ہوگا اور میں درگاہ پر دردگار میں اپنی امت کی شفاعت کر رہا ہوں گا عرض کیا میرے بابا(ع) اگر آپ(ص) کو وہاں بھی بہ دیکھ سکوں؟ تو فرمایا پل صراط پر مجھ سے ملاقات کرنا کہ میں وہاں کھڑا ہوں گا اور کہتا ہوں گا۔ پروردگارا میری امتکو سلامت رکھ بی بی(ع) نے عرض کیا اگر اس جگہ بھی ملاقات نہ ہوتو  فرمایا مجھے مقام میزان پر دیکھنا کہ میں کہنا ہوں گا پروردگارا میری امت کو سالم رکھ بی بی فاطمہ(س) نے کہا اگر یہاں بھی نہ دیکھوں، تو فرمایا مجھے پر تگاؤ دوزخ پر دیکھنا کہ اپنی امت کو اس شعلوں سے بچا رہا ہوں گا فاطمہ یہ خبر سن کر خوش ہوگئیں اﷲ ان پر ان کے والد پر ان شوہر پر اور ان کی اولاد پر رحمت نازل کرے۔

۱۳ـ          جنابِ علی ابن ابی طالب(ع) نے فرمایا کوئی قرآن کو نازل نہیں ہوئی مگر یہ کہ میں جانتا ہوں کہ کہاں نازل ہوئی کس کے بارے میں نازل ہوئی اور کس موضوع پر نازل ہوئی، بیابان میں نازل ہوئی یا پہاڑ، پر جناب امیر(ع) سے پوچھا گیا کہ آپ(ع) کے بارے میں کیا کچھ نازل ہوا ہے فرمایا اگر تم مجھ سے نہ پوچھتے تو میں تم کو ہرگز نہ بتاتا۔ میرے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے ” بیشک تم منذر ہو اور ہر قوم میں ایک ہادی ہوا ہے“ (رعد، ۷) اور جو کچھ لایا گیا ہے( یعنی دین و دنیا و کتاب اور آخرت) اس میں جناب رسول خدا(ص) منذر اور میں ہادی ہوں۔


مجلس نمبر۴۷   

(پانچ ربیع اول سنہ۳۶۸ھ)

۱ـ           محمد بن فرج رخجی کہتے ہیں کہ میں نے ابو الحسن علی بن محمد(ع) کو خط بھیجا جس میں ہشام بن حکم اور ہشام بن سالم کے قول و عقیدے کو لکھا تو آپ(ع) نے جواب میں فرمایا سرگردان و حیران کو چھوڑ دو اور خدا کی پناہ مانگو شیطان رجیم سے جو کچھ یہ دونوں ہشام کہتے ہیں درست نہیں ہے۔

(قارئین ہشام بن حکم کے دور کے واقعات کا مطالعہ فرمائیں۔ اس فرمانروانے اپنے عہد میں علماء اور عامتہ الناس میں س بحث  کا آغاز کروایا تھا کہ معاذ اﷲ خدا جسم رکھتا ہے یا نہیں یہ مندرجہ بالا حدیث اسی سلسلے کی رد میں ارشاد فرمائی گئی ہے۔ محقق)

۲ـ           صقر بن دلف کہتے ہیں کہ میں نے ابوالحسن علی بن محمد(ع) سے توحید کے بارے میں پوچھا اور انہیں اپنے عقیدہ، توحید جو کہ ہشام کے عقیدے کے مطابق تھا، کے متعلق بھی آگاہ کیا یہ سن کر اور جناب ابوالحسن علی بن محمد(ع) نے ناراضگی و غصے سے ارشاد فرمایا۔ کہ تجھے ہشام کے کہنے سے کیا واسطہ جو کوئی اس بات پر اعتقاد رکھے کہ خدا جسم رکھتا ہے وہ ہم میں سے نہیں اور ہم دنیا و آخرت میں اس سے بیزار ہیں۔ اے ابن دلف جسم حادث ہے اور خدا اس کو ایجاد کرنے اور مجسم کرنے والا ہے۔

۳ـ          علی بن کہتے ہیں کہ میں نے ابو جعفر محمد بن علی سے بذریعہ خط دریافت کیا کہ میں آپ(ع) پر قربان میرے پس پشت جو شخص (ہشام) ہے وہ قومِ یونس کا ہم عقیدہ ہے اور مجھے ان کے پیچھے نماز پڑھنی پڑتی ہے۔

آپ(ع) نے جواب میں فرمایا ان کے پیچھے نماز مت پڑھو انہیں زکوة مت دو ان سے بیزار رہو۔

۴ـ          عبداﷲ بن سنان نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ میں ایک دن امام محمد باقر(ع) کی خدمت میں موجود تھا۔ کہ خوارج میں سے ایک شخص آیا اور کہنے لگا اے ابو جعفر تم کس کی عبادت کرتے ہو آپ(ع) نے جواب دیا خدا کی اس نے کہا اسے کبھی دیکھا ہے آپ(ع) نے فرمایا اسے ظاہری


 آنکھوں سے نہیں دیکھا گیا صرف ایمان قلبی سے اس کی حقیقت کو پایا جاتا ہے قیاس  سے اسے نہیں پایا جاسکتا۔ وہ عام لوگوں کی طرح نہیں ہے کہ اسے پہچانا جائے۔ وہ علامات سے پہچانا جانا ہے اور وہ کہ جس کی حکمت میں جور نہیں وہ خدا ہے اور اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے یہ سن کر وہ مرد باہر چلا گیا اور یہ کہنے لگا کہ خدا دانا تر ہےاور علم رکھتا ہےکہ اپنی رسالت ( حکمت) کو وہ کسے عطا کرئے۔

۵ـ          امام رضا(ع) نے فرمایا خدا ہمیشہ سے دانا و توانا۔ زندہ و قدیم اور سننے اور دیکھنے والا ہے فضل بن سلیمان کوفی کہتے ہیں کہ میں نے امام(ع) سے عرض کیا یا ابن رسول اﷲ(ص)، لوگ خیال کرتے ہیں کہ ہمیشہ سے خدا اپنے علم کی وجہ سے دانا اور اپنی قدرت کی وجہ سے توانا، حیات کی وجہ سے زندہ قدم سے قدیم سمع سے سننے والا اور بصیرت کی وجہ سے بیناء ہے یہ سن کر امام(ع) نے فرمایا جو کوئی اس طرح خیال رکھے اور اس بات کا معتقد ہو تو جان لو کہ اس نے خدا کے ساتھ دوسروں کو شریک کیا اور ہماری ولایت سے اسے کوئی واسطہ نہیں، پھر امام عالی مقام(ع) نے فرمایا خدا ہمیشہ سے بذات خود قادر و توانا، زندہ و قدیم اور سمیع و بصیر ہے اور کچھ اس کےبارے میں مشرکین اور شبہ کرنے والے کہتے ہیں وہ اس سے کہیں برتر ہے۔

۶ـ           محمد بن عمارہ نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ میں نے امام صادق(ع) سے دریافت کیا یاابن رسول اﷲ(ص) کیا خدا کے ہاں رضا و جبر ہے آپ(ع) نے فرمایا ہاں مگر یہ مخلوق کی مانند نہیں ہے اس کا غصہ اس کا عتاب اور اس کی رضا اس کا ثواب ہے۔

۷ـ          امام رضا(ع) نے فرمایا بیشک خدا زمان و مکان، حرکت و انتقال اور سکون کا محتاج نہیں ہے بلکہ وہ زمان و مکان ، حرکت و سکون و انتقال سے برتر ہے کہ اس کا خالق ہے اور جو کچھ ظالمین اس کے بارے میں کہتے ہیں وہ اس سے کہیں برتر ہے۔

۸ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا نہ میں جبر کا معتقد ہوں اور نہ تفویض کا۔


جنابِ رسول خدا(ص) کا دنیا سے خطاب

۹ـ           امام صادق(ع) نے اپنے آباء(ع) سے نقل کیا ہے کہ رسول خدا(ص) نے دنیا سے خطاب کر کے فرمایا تو اپنے خادم کو رنج میں گراتی ہے اور اپنے تارک کی خدمت کرتی ہے پھر آپ(ع) نے  فرمایا جو بندہ نصف شب کی تاریکی میں اپنے آقا سے خلوت کرے اور اپنے راز اس سے بیان کرے ۔ تو خدا اسکے دل میں نور کو جگہ دیتا ہے اور جب کہے” یا رب جلیل جل جلالہ“ تو خدا فرماتا ہے لبیک میرے بندے مجھ سے طلب کر میں تجھے دوںگا۔ تو مجھ پر توکل کر میں تیری کفالت کروں گا۔ پھر رب العزت اپنے ملائکہ سے فرماتا ہے، اے ملائکہ میرا یہ بندہ اندھیری رات میں مجھ سے خلوت میں راز و نیاز کرتا ہے اور جو بیہودگی اور غفلت میں ہیں وہ سوئے ہیں اور تم گواہ رہو کہ میں نے اسے معاف کر دیا ہے پھر جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا تم کوشش و عبادت اور ورع وتقوی اختیار کیے رکھو اور اس دنیا سے بے رغبت رہو کیونکہ یہ تم سے بھی رغبت نہیں رکھتی یہ فریب دینے والی اور زوال و فنا کا گھر ہے بہت سے لوگوں نے اس کا فریب کھایا اورفنا ہوگئے۔ جو بھی اس پر تکیہ کرے گا یہ اسے فنا کردے گی اور خیانت کرے گی بہت سے لوگوں نے اس پر اعتماد کیا اور اس نے ان کے ساتھ خیانت کی جان لو کہ تمہارے سامنے خوفناک اور ہراساں کرنے والی راہ ہے کہ اس کا سفر لمبا ہے تمہیں پل صراط پر سے گذرنا ہے جس کے لیے مسافر کا لازما توشہ چاہیے اور جو کوئی بغیر توشہ کے سفر اختیار کرے اسے رنج میں مبتلا اور ہلاکت کا شکار ہونا پڑتا ہے بہترین توشہ تقوی ہےتم اپنے خدا کے سامنے حاضر ہونے کو یاد کرو اور اپنے جواب کے لیے تیار ہو جاؤ اور اس وقت کے لیے خود کو آمادہ کرو جب وہ تم سے باز پرس کرے گا وہ عادل و حاکم ہے تیار کرو خود کو اس وقت کے لیے کہ جب وہ تم سے میرے خاندان(ع)، کتابِ خدا اور ثقلین کے بارے میں باز پرس کرے گا اور دیکھو کہیں کتابِ خدا میں تغیر و تبدل و تحریف نہ کر دینا اور میرے اہل بیت(ع) سے جدا نہ ہو جانا اور انہیں قتل نہ کرنا کہ اس صورت میں تمہاری جگہ جہنم کے سوا کہیں نہ ہوگی جوکوئی یہ چاہے کہ اس دن کے خوف سے نجات پائے اسے چاہیے کہ وہ میرے ولی کا تابع ہو، میرے بعد میرے وصی


 و خلیفہ کی تعمیل کرے جو کہ علی بن ابی طالب(ع) ہے۔ کہ وہ میرے حوض کا صاحب ہے میں اس کے دشمنوں کو اس حوض ( حوض کوثر) سے دور کردوں گا اور اس کے دوستوں کو اس سے سیراب کروں گا۔ وہ شخص ہمیشہ پیاسا رہے گا جو اس حوض سے نہیں پیئے گا اور جو اس سے پیئے گا وہ ہمیشہ سیراب رہے گا اور کبھی پیاسا نہ ہوگا۔ بیشک علی بن ابی طالب(ع) دنیا و آخرت میں میرا علمدار ہے وہ پہلا بندہ ہے جو بہشت میں داخل ہوگا کیونکہ وہ میرے آگے لوا حمد کو اٹھائے ہوئے ہوگا اور آدم(ع) اور دوسرے پیغمبر(ع) اس کے پیچھے ہونگے۔

۱۰ـ          ایک شخص امام صادق(ع) کی خدمت میں آیا اور عرض کیا یا ابن رسول اﷲ(ص) مجھے مکارم اخلاق سے مطلع کریں آپ(ع) نے فرمایا اس سے در گزر کرو جس نے تم پر ظلم کیا ہے اور اس سے صلہ رحم کرو جس نے تم سے قطع تعلق کیا ہے اسے عطا کرو جس نے تمہیں محروم کیا ہے اور سچ بات کہو اگر چہ وہ تمہارے نقصان میں ہی کیوں نہ ہو۔

۱۱ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا جو مومن زوال جمعرات اور ظہر جمعہ کے دوران ٹھیک یہ مت کاٹیں انتقال کر جائے اسے خدا فشارِ قبر سے پناہ دیتا ہے۔

۱۲ـ          ایک شخص نے امام صادق(ع) سے عرض کیا کہ مجھے کچھ وصیت کریں آپ(ع) نے فرمایا خود کو آمادہ کرو( آخرت کے لیے) اور اس طولانی سفر کے لیے (توشہ آگے بھیجو) خود وصی رہو( اپنی مدد خود کرتے رہو یعنی عبادات کی ادائیگی کرو) اور دیگر کو اپنا امین نہ جانو جو کچھ تیری اصلاح کرے اسے اپنے لیے بھیجو۔

۱۳ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جوکوئی تیس بار”سبحان اﷲ و بحمده سبحان اﷲ العظيم و بحمده “ کہے تو اس کے لیے ایسا ہے کہ جیسے اس توانگری کی طرف رخ کیا فقر کو پیچھے چھوڑا اور بہشت کے دروازے کو کھٹکھٹایا۔

جنابِ امیر(ع) کا غلاموں سے برتاؤ

۱۴ـ          امام باقر(ع) نے فرمایا بخدا جنابِ امیرالمومنین(ع) کا طریقہ یہ تھا کہ جب بھی لوگوں کوکھانا


 و خوراک دیا کرتے ان کے ساتھ زمین پر تشریف رکھتے۔ جب کبھی کپڑا یا لباس خرید فرماتے تو دو قسم کے پیراہن لاتے اور اپنے خدمت گاروں کو یہ اختیار دیا کرتے کہ جونسا پیراہن بہتر ہے وہ لے لیں اور باقی رہ جانے والے کو خود زیب تن کرتے اگر اس کی آستین ہاتھ کی انگلیوں سے لمبی ہوتی تو اسے کاٹ دیتے اگر اس کا دامن ٹخنوں سے لمبا ہوتا تو اسے چیر دیتے۔ آپ(ع)(تقریبا) پانچ سال خلیفہ رہے مگر پیچھے کسی قسم کی دولت سونا، چاندی، جائیداد وغیرہ نہ چھوڑی لوگوں کو نان و گوشت سے طعام کرواتے اور خود گھر واپس آکر جو کی روٹی کے ساتھ تناول فرماتے جب کبھی خدا کی راہ میں دو پسندیدہ اعمال ایک ساتھ اختیار کرنے کا موقع آجاتا تو اس عمل کو منتخب کرتے جو زیادہ سخت ہوتا آپ(ع) نے ہزاروں کافروں  کو خاک میں ملا دیا، کسی میں ان جیسے اعمال کرنے کی تاب نہیں تھی وہ ایک ہزار رکعات رات میں ادا کیا کرتے تھے ان کی قریب ترین شبیہ علی بن حسین(ع) تھے۔

تابعین میں سے ایک شخص نے انس بن مالک سے سنا کہ ہ آیت علی(ع) کے بارے میں نازل ہوئی ہے” وہ بندہ ہے جو راتوں کو عبادت کرتا ہے اور سجدہ کرتا ہے اور قیام کرتا ہے آخرت کے خوف سے اور اپنے پروردگار سے رحمت کی امید رکھتا ہے“ ( زمر، ۹) یہ شخص کہتا ہے کہ میں علی(ع) کے پاس گیا تاکہ ان کی عبادات کا مشاہدہ کروں خدا گواہ ہے جب مغرب کا وقت ہوا تو میں ان کے پاس تھا میں نے دیکھا وہ اپنے اصحاب کے ساتھ نمازِمغرب پڑھنے کے بعد تعقیبات میں مشغول ہوگئے میں ان کے ہمراہ ان کے گھر گیا انہوں نے تمام رات نمازیں پڑھیں اور قرآن کی تلاوت فرماتے رہے یہاں تک کہ سفیدی ظاہر ہوگئی پھر آپ(ع) نے تجدید وضو کی اور مسجد میں آگئے اور لوگوں کے ساتھ نماز پڑھی پھر آپ(ع) نماز میں مشغول ہوگئے یہاں تک کہ آفتاب نکل آیا اور لوگ ان کی طرف رجوع کرنے لگے میں نے دیکھا کہ دو اشخاص ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کسی معاملے کو فیصلے کے لیے پیش کیا جب آپ(ع) نے انہیں فیصلہ دے کر فارغ کیا تو دو آدمی اور آگئے اور ان سے اپنے کسی معاملے میں قضاوت کے لیے درخواست کی اسی دوران نمازِ ظہر کا وقت آگیا آپ(ع) نمازِ ظہر کے لیے اٹھے تجدید وضو کی اور اپنے اصحاب کے ہمراہ ظہر پڑھنے کے بعد تعقیبات پڑھنے میں مشغول ہوگئے یہاں تک کہ عصر کا وقت ہوگیا تو آپ(ع) نے اپنے اصحاب کے ہمراہ نماز عصر ادا کی


اس کے بعد پھر لوگوں کا رجوع آپ(ع) کی طرف ہوگیا، آپ(ع) کی خدمت میں پھر دو مرد آکر کسی سلسلے میں بیٹھ گئے پھر ان کے بعد مزید دو مرد آگئے آپ(ع) ان کے درمیان قضاوت کرتے اور انہیں فتوے دیتے رہے اس دوران آفتاب غروب ہوگیا اور میں ( انس بن مالک) نے کہا کہ میں خدا کو گواہ کرتا ہوں کہ یہ آیت ان کے بارے میں ہی نازل ہوئی ہے۔

۱۵ـ          جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا جو کوئی کسی مومن کو بھوک میں کھانا کھلائے گا تو خدا اسے بہشت کے میوے عطا کرے گا اور جو کوئی اس ( مومن) کو برھنگی میں لباس پہنائے گا تو خدا ایسے شخص کے استبرق و حریر کے لباس عطا کرے گا۔ جوکسی مومن کی پیاس پانی یا شربت سے مٹائے گا تو ایسے کو خدا رحیق المختوم پلائے گا، جو کسی مومن کی مدد یا اس کی مصیبت کو دور کرے گا تو خدا اسے اپنے عرش کے سائے میں اس دن جگہ دے گا کہ جس دن اس (عرش) کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں رہے گا۔

۱۶ـ          اصبغ بن نباتہ روایت کرتے ہیں کہ امیرالمومنین(ع) بیت المال اور خراج کی رقوم کو تقسیم کرنے کے لیے مساکین کو اکٹھا کرتے اور اپنے دست مبارک سے دائیں بائیں دولت تقسیم کیا کرتے اور فرماتے اے سنہری رو پیلی دولت تم میرے علاوہ کسی کو فریب دو”ه ذا جنای و خيار ه فیه اذ کل جان يد ه الی فیه “ کہ” اس میں بہت میوہ (ثواب) ہے بہ نسبت اسکے کہ جومیوہ منہ سے کھایا جائے“ آپ(ع) اس وقت تک بیت المال سے باہر تشریف نہ لے جاتے جب تک کہ سب کچھ تقسیم نہ ہو جاتا پھر حکم جاری فرماتے کہ اس جگہ کو دھوکر جھاڑو دیدو پھر وہاں دو رکعت نماز ادا کرتے اور دنیا کو تین طلاقیں دیتے اور سلام نماز کے بعد فرماتے اے دنیا میرے ساتھ آویزاں نہ ہو اور مجھے اپنی طرف راغب نہ کر اور فریب نہ دے کہ وہ میں نے تجھے تین طلاقیں دی ہیں میں تیری طرف رجوع نہیں کرتا۔

۱۷ـ          امام رضا(ع) سے دریافت کیا گیا کہ عقل کیا ہے آپ(ع) نے ارشاد فرمایا۔ غصہ پی جانا دشمنوں سے نرمی ک برتاؤ کرنا اور دوستوں کی مدارات کرنا عقل مندی ہے۔

۱۸ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا روز قیامت خدا خلق اولین و آخرین کو ایک ایسی زمین پر جمع


 کرے گا تاریکی ان سب کو گھیرے ہوگی اور وہ اپنے پروردگار سے نالہ و فریاد کررہے ہوں گے کہ پروردگار ہمیں اس تاریکی سے نجات دلا۔

امام(ع) نے فرمایا پھر ایک نور ان کے سامنے ظہور کرے گا تو وہ کہیں گے کہ یہ پیغمبرانِ خدا ہیں مگر خدا کی طرف سے ندا آئے گی کہ نہیں یہ پیغمبر نہیں ہیں پھر تمام حاضرین قیامت کہیں گے کہ یہ فرشتے ہیں تو ندا آئے  گی نہیں یہ فرشتے نہیں ہیں تو یہ سن کر سب کہیں گے کہ یہ شہدا ہیں تو پھر رب العزت کی طرف سے ندا دی جائے گی کہ تم خود ان سے پوچھ لو یہ کون ہیں لہذا تمام حاضرین قیامت ان سے سوال کریں گے کہ تم کون ہو تو یہ جواب دینگے کہ ہم زریتِ علویہ(ع) و رسول خدا(ص) اور اولاد علی(ع) ولی خدا ہیں ہم امت خدا میں سے آسائش و اطمینان کے لیے مخصوص کیے گئے ہیں اس وقت ان کو خدا کی طرف سے ندا پہنچے گی کہ تم اپنے دوستوں و شیعوں کی شفاعت کرو اور یہ جس کی چاہیں گے شفاعت کریں گے۔

۱۹ـ          ایک روز رسول خدا(ص) نے اپنے اصحاب سے فرمایا اے میرے اصحاب خدا تمہیں حکم دیتا ہے کہ تم علی بن ابی طالب(ع) کی ولایت کےساتھ متمسک رہو اور اس کی پیروی کرو کہ وہ میرا اور تمہارا ولی اور امام ہے اس کی مخالفت نہ کرو کہ کافر ہوجاؤ اور اس سے جدا مت رہو کہ گمراہ ہوجاؤ بیشک خدا نے علی(ع) کو نفاق اور ایمان کے درمیان علامت بنایا ہے جو کوئی اسے دوست رکھے وہ مومن ہے اور جو دشمن رکھے منافق ہے اور بیشک خدا نے علی(ع) کو میرا وصی اور نور بخشے والا بنایا ہے وہ راز کی حفاظت کرنے والا، میرے علم کا خزانہ اور میرے بعد میرے خاندان میں سے خلیفہ ہے اور بخدا میں ظالمین کی اس( خدا) سے شکایت کرتا ہوں۔


مجلس نمبر۴۸

( ۹ ۔ ربیع اول سنہ۳۶۷ھ))

ظہور محمدی(ص) اور ابلیس کی آسمان میں داخلہ بندی

۱ـ           امام صادق(ع) فرماتے ہیں کہ حضرت عیسی(ع) کی ولادت سے قبل ابلیس ساتویں آسمان تک جاتا تھا۔ (وہاں کی خبریں کاہنوں اور ستارہ شناسوں کو دیا کرتا تھا) جب عیسی(ع) پیدا ہوئے تو ابلیس کا داخلہ تین آسمانوں پر بند کردیا گیا۔ اور اسکی رسائی صرف چار آسمانوں تک رہ گئی جب جناب ِ رسول خدا(ص) کی پیدائش ہوئی تو ابلیس کا داخلہ ساتویں آسمانوں پر بند کردیا گیا۔ اور شیاطین کو تیروں سے مارا جاتا۔ قریش کا کہنا تھا کہ اہل کتاب انہیں لوگوں ( کاہنوں اور ستارہ شناسوں) سے خبریں لے کر خود سے منسوب کیا کرتے تھے۔

عمرو بن امیہ جو کہ زمانہ جاہلیت میں ستارہ شناس تھا لوگوں کو کہا کرتا تھا کہ یہ ستارے ہمارے راہنما ہیں۔ ان ہی گرمی اور سردی کے موسموں کا پتا چلتا ہے۔ اگر ان میں سے ایک بھی ستارہ اپنی جگہ سے گردش کرے تو جہاں میں ہلاکت برپا ہوجائے اگر یہ اپنی جگہ پر قائم رہیں اور دیگر ستارے گردش کریں تو حوادثاتِ زمانہ رونما ہوتے ہیں۔

جس روز پیغمبر(ص) کی ولایت ہوئی اس صبح تمام بت اوندھے منہ گر پڑے۔ دریائے ساوہ خشک اور وادی ساوہ میں پانی بھر گیا۔ اس رات کسری کے محل کو چودہ کنگرے ٹوٹ کر گر گئے۔ آتش کدہ فارس جو کہ ہزار سال سے روشن تھا اس رات بجھ گیا۔ موبدان ( مجوسی عالموں) نے اس رات خواب دیکھا کہ ایک اونٹ سختی سے عربی گھوڑوں کو کھینچ رہا ہے۔ اور دجلہ سے گزرنے کے بعد وہ گھوڑے بلادِ عجم میں منتشر ہوگئے ہیں۔ اسی رات حجاز سے ایک نور بر آمد ہوا اور پرواز کر کے مشرق تک پہنچ گیا۔تمام سلاطین اوندھے ہوگئے۔ ان کی رنگت سرخ ہوگئی اور ان کے بولنے کی طاقت سلب ہوگئی۔ ہر طرف کاہنوں کا علم اور جادو گروں کا سحر باطل ہوگیا۔ اور کاہنوں


کے ہم زاد شیاطین کو ان سے دور کردیا گیا۔ قریش کو اہل عرب کے درمیان آل ِ اﷲ سے پکارا گیا۔

امام صادق(ع) نے فرمایا ان کو آل اﷲ ان کی بیت اﷲ( مکہ) میں سکونت کی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ آمنہ(س) نے فرمایا جب میرا فرزند زمین پر آیا تو دونوں ہاتھوں کو زمین پر رکھا( سجدہ کیا) اور پھر اپنا سر آسمان کی طرف بلند کر کے آسمان کی طرف دیکھا ۔ پھر اس سے ایک نور خارج ہوا کہ اس نے تمام چیزوں کو روشن کردیا۔ اس نور میں سے آواز آئی کہ تم ( آمنہ(س)) نے سید عرب کو جنا ہے اس کا نام محمد(ص) رکھو میں نے جو دیکھا تھا ان سے ( عبدالمطلب(ع)سے) بیان فرمایا ۔ عبدا لمطلب(ع) نے حضور(ص) کو گود میں لیا اور فرمایا خدا کی حمد ہے کہ اس نے مجھے ایک ایسا فرزند عطا کیا جو خوشبو سے معطر ہے اور گہوارے میں بھی تمام فرزندان کا آقا ہے پھر عبدالمطلب(ع) نے ایک تعویذ دیا کہ جس میں ارکانِ کعبہ مندرج تھے پھر اشعار کے ذریعے ان( آںحضرت(ص)) کی مدحت بیان فرمائی۔

ابلیس نے اپنے مددگاروں کے درمیان فریاد بلند کی تو تمام شیاطین اس کے گرد جمع ہوئے اور اس سے کہنے لگے ہمارے آقا تم کس چیز سے خوفزدہ ہو اس نے کہا وائے ہو تم پر میں گذشتہ شب سے آسمان و زمین میں سرگرداں ہوں اور مشاہدہ کرتا ہوں کہ زمانے میں کیا نئی  وعجیب بات رونما ہوئی ہے۔ کہ ولادت عیسی(ع) سے لے کر اب تک میں نے ایسا نہیں دیکھا۔ تم سب جاؤ اور جو کچھ پیش آیا ہے اس کی خبر مجھے دو۔ وہ تمام چاروں طرف پھیل گئے پھر واپس آئے اور کہنے لگے ہمیں تو کچھ بھی نیا محسوس نہیں ہوا۔ ابلیس نے انہیں کہا تم ٹھہرو میں خود دیکھتا ہوں۔ پھر اس نے تمام دنیا میں پھر کر دیکھا۔ یہاں تک کہ حرم مکہ میں اس نے دیکھا کہ فرشتے حرم کو تھامے ہوئے ہیں ابلیس نے چاہا کہ وہ اس میں داخل ہو مگر اسے آواز دی گئی۔   کہ واپس جاؤ۔ لہذا وہ ایک چھوٹی سست چڑیا کے روپ میں غارِ حرا کی طرف سے ظاہر ہوا۔ جبرائیل(ع) نے اسے دھمکایا اور اس سے فرمایا۔ جاؤ اے ملعون اس نے جبرائیل(ع)  سے کہا۔ اے جبرائیل(ع) میں تم سے ایک بات پوچھنا چاہتا ہوں مجھے بتاؤ گذشتہ شب سے اب تک کیا واقعہ رونما ہوا ہے جبرائیل(ع) نے فرمایا محمد(ص) پیدا ہوئے ہیں ابلیس نے کہا کیا اس میں میرا حصہ ہے۔ جبرائیل(ع) نے فرمایا نہیں اس میں تیرا کوئی حصہ نہیں پھر ابلیس نے دوبارہ پوچھا کہ کیا اس کی امت میں میرا کوئی حصہ ہے  جبرائیل(ع) نے فرمایا ہاں ہے تو


 کہنے لگا میں اس پر راضی ہوں۔

۲ـ           خدا فرماتا ہے کہ گناہ صغیرہ یا کبیرہ کرنے والا اگر یہ خیال کرے کہ میں عذاب دینے یا درگزر کرنے کی طاقت نہیں رکھتا تو میں اس کے گناہ نہیں کروں گا لیکن اگر وہ اس بات کا معتقد ہے کہ میں یہ اختیار رکھتا ہوں کہ اس کے گناہ معاف کردوں یا عذاب دیدوں تو میں اسے معاف کردوں گا۔

۳ـ ام ایمن، جناب رسول خدا(ص) کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کوئی چیز انکی چادر میں تھی۔ رسول خدا(ص) نے فرمایا۔ ام ایمن تمہاری چادر میں کیا ہے۔ ام ایمن نے کہا یا رسول اﷲ(ص) فلاں کی شادی پر کچھ نچھاور کیا گیا۔ اس میں سے کچھ حصہ میں اپنے ہمراہ لائی ہوں یہ کہہ کر ام ایمن نے گریہ کرنا شروع کردیا۔ رسول خدا(ص) نے پوچھا اے ام ایمن کیوں روتی ہو ام ایمن نے کہا یا رسول اﷲ(ص) آپ(ص) نے فاطمہ(س) کی تزویج  کی مگر ان پر سے کچھ نچھاور نہیں کیا۔ رسول خدا(ص) نے ارشاد رفرمایا اے ام ایمن کیوں جھوٹ کہتی ہو بیشک خدا  نے علی(ع) و فاطمہ(س) کی تزویج کی تو اہل بہشت پر حکمِ خدا سے درخت( میوہ جات) و زیور و لباس۔ یاقوت و زمرد و استبرق۔ کو نچھاور کیا گیا۔ خدا نے درختِ طوبی فاطمہ(س) کو بخشا ہے اور اسے علی(ع) کے گھر میں رکھا ہے۔

۴ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا۔ جوکوئی اس خوشی کو چاہتا ہے کہ پل صراط پر سے برق کی طرح گذر جائے اور بغیر حساب بہشت میں داخل ہو تو اسے چاہئے کہ وہ ولی کی ولایت کا اقرار کرے کہ وصی و رفیق اور خلیفہ میرا خاندان ہے اورمیری امت میں علی(ع) بن ابی طالب(ع) ہے اور جوکوئی اس بات میں خوشی محسوس کرتا ہے کہ وہ دوزخ میں جائے تو اسے چاہیے کہ اس(علی(ع)) کی ولایت ترک کردے ۔ پروردگار کے عزت وجلال کی قسم۔علی(ع) باب اﷲ ہے کہ بجز اس کے کسی کو باب اﷲ نہ دیکھو گے۔ وہ صراط مستقیم ہے۔ روز قیامت اس کی ولایت کا سوال پوچھا جائیگا۔

۵ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا۔ خدا اس بندے پر رحمت کرے جو اپنے باپ کی مدد کرے اور اس پر احسان کرے اور رحمت کرے اس باپ پر کہ جو بیٹے کی مدد کرے اور اس پر احسان کرے۔ خدا رحمت کرے اس ہمسائے پر جو اپنے ہمسائے کی مدد کرے۔ اور اس پر احسان کرے


اور خدا رحمت کرے اس رفیق پر جو اپنے رفیق کی مدد کرے اور احسان کرے خدا رحمت کرے اس صحبت میں بیٹھنے والے پر جو اپنی صحبت میں بیٹھنے والے پر احسان کرے اور اس کی مدد کرے، اور خدا رحمت کرے اس سلطان پر جو  اپنے بندے  کی مدد کرے اور اس پر احسان کرے۔

۶ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا اپنے باپوں سے نیکی کرو  تاکہ تمہارے فرزند تم سے نیکی کریں۔ اور لوگوں کی عورتوں سے عفو کرو تاکہ لوگ تمہاری عورتوں سے عفو کریں۔

۷ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا ہم وہ خاندان ہیں کہ ہماری مردانگی بندوں کی بخشش ہے ( شفاعت) مگر جس نے ہمارے ساتھ ستم کیا( اس کی شفاعت نہیں کریں گے)

۸ـ          احمد بن عمر حلبی کہتے ہیں میں نے امام صادق(ع) سے دریافت کیا۔کون سی خصلت مرد کے لیے زیادہ زیبا ہے آپ(ع) نے فرمایا وقار ، بغیر درخواست کے بخش دینا اور آخرت کے لالچ کے بغیر متاع دینا۔

۹ـ           جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا جوکوئی اپنی رات کو طلب حلال کے لیے عاجزی سے بسر کرتا ہے( جائز حاجات کو خدا سے طلب کرتا ہے) تو بخش دیا جاتا ہے۔

۱۰ـ          احمد بن عبداﷲ کہتے ہیں کہ میں نے امام رضا(ع) نے دریافت کیا کہ شمشیر زوالفقار رسولِ خدا(ص) کو کہاں سے ملی تھی۔ آپ(ع) نے ارشاد فرمایا اسے جبرائیل(ع) آسمان سے لائے تھے۔ اور اس کا قبضہ چاندی کا تھا اور وہ میرے پاس ہے۔

۱۱ـ           امام صادق(ع) نے اپنے اجداد(ع) سے روایت کیا ہےکہ امیرالمومنین(ع) سے پوچھا گیا کہ ثبات ایمان کیا ہے تو فرمایا ورع ہے پھر پوچھا گیا کہ اس کا زوال کس چیز میں ہے تو فرمایا طمع میں۔


وفاتِ انس پر فرشتوں کی حاضری

۱۲ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا جب کوئی مومن مرتا ہے تو فرشتے اس کی قبر سے اسے بہ حالت تشیع لے کر جاتے ہیں۔ اور جب اسے قبر میں دفن کرتے ہیں تو منکر نکیر اس کی قبر میں آتے ہیں اور اسے بٹھا دیتے ہیں اور اس سے فرماتے ہیں تیرا پروردگار کون ہے تیرا پیغمبر(ص) کون ہے اگر وہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار خدا ہے اور محمد(ص) میرا پیغمبر(ص)  ہے اور اسلام میرا دین ہے تو وہ اس کی قبر کو تا حدِ نظر وسیع کردیتے ہیں اور بہشت سےکھانا و روح ایمان لاتے ہیں یہ اس قول خدا کی تفسیر کے بیان میں ہے کہ ” پس اگر وہ( مرنے والا خداکے) مقربین سے ہے تو اس کے لیے آرام و آسائش ہے یعنی اس کی قبر میں اور خوشبو دار پھل  اور نعمت کے باغ یعنی آخرت میں۔( سورہ واقعہ، ۸۹ـ۸۸)

پھر امام(ع) نے فرمایا جب کافر مرتا ہے تو دوزخ کے ستر ہزار فرشتے اس کے ہمراہ اس کی قبر تک آتے ہیں وہ مردہ اس وقت فریاد کرتا ہے جو کہ جن و انس کے علاوہ ہر شئی سنتی ہے کہ کاش مجھے واپس کردیا جائے تاکہ میں مومن ہوجاؤں وہ اپنے حاملان کی قسم دیتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے واپس کردو میں نے جسے ترک کیا تھا اس پر عمل کروں گا تو فرشتے اسے کہیں گے کہ یہ صرف تیرا زبانی بیان ہے اگر تجھے پلٹادیا گیا تو تو دوبارہ بھی وہی کرے گا پھر جب اسے قبر میں دفن کردیا جاتا ہے اور لوگ اس سے جدا ہوجاتے ہیں تو منکر نکیر خوفناک شکل میں اس پر وارد ہوتے ہیں اسے کھڑا کرتے ہیں اور سوال کرتے ہیں کہ تیرا پروردگار کون ہے تیرا دین کیا ہے اور تیرا پیغمبر کون ہے تو اس کی زبان تالو سے چمٹ جاتی ہے وہ جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتا منکر نکیر اسے عذاب خدا کی ایسی ضرب لگاتے ہیں کہ ہر چیز اس سے ڈراتی اور کانپتی ہے پھر اس سے کہتے ہیں تیرا خدا کون ہے تیرا دین کیا ہے تیرا پیغمبر کون ہے وہ کہتا ہے میں نہیں جانتا۔ وہ اس سے کہتے ہیں تو نہیں جانتا اس لیے راہ نہیں پائے گا۔ اور کامیاب نہیں ہوگا پھر دوزخ و جہنم کا دروازہ اس کے لیے کھول دیا جاتا ہے اور یہ اس قول خدا کی تفسیر ہے کہ” ( وہ ) جھٹلانے والے گمراہوں میں سے ہے تو( اس کی مہمانداری) کھولتا ہوا پانی ہے اور جہنم میں داخل کردینا ( واقعہ،۹۴ـ۹۳ـ۹۲) یعنی قبر میں


 اور آخرت میں دوزخ کی آگ اسے گھیرے گی۔

۱۳ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا خدا کے نزدیک تین حرمتیں ہیں جن کی مانند کوئی نہیں۔

اول :  قرآن جو کہ اس کی حکمت ہے۔

دوم :  اس کا نور۔

سوم :  اس کا گھر جو کہ مسلمانوں کا قبلہ ہے اور تمہارے پیغمبر(ص) کا خاندان اور بندہ مومن ان کے سوا کچھ اور قبول نہیں کرتا۔

۱۴ـ          امیرالمومنین(ع) نے فرمایا بہشت میں ایک درخت ہے جس سے لباس عطا کیا جاتا ہے اس کے نیچے زین ولگام کے ساتھ پروں والے گھوڑے رہتے ہیں اولیاء اﷲ ان گھوڑوں پر سواری کریں گے اور جہاں چاہے پرواز کریں گے یہ ان (اولیاء) کا سب سے کم درجہ( سب سے کم تر چیز جو انہیں دی جائے گی) ہوگا۔ پروردگار سے عرض کیا جائے گا کہ تیرے یہ بندے کیوں کر اس کرامت کو پہنچے تو خدا فرمائے گا ۔ یہ وہ ہیں جو راتوں کو عبادت کرتے تھے اور دن کو روزہ رکھتے تھے دشمن کے ساتھ جہاد کرنے سے نہیں دڑتے تھے۔ صدقہ دیتے تھے۔ اور بخل نہیں کرتے تھے۔

۱۵ـ          امام صادق(ع) نےفرمایا جوشخص پانچ چیزیں نہیں رکھتا تو خدا اسے کچھ زیادہ نہیں دیتا عرض کیا گیا یاابن(ع) رسول اﷲ(ص) وہ کون سے چیزیں ہیں فرمایا، دین، عقل، حیاء، حسنِ خلق اور حسن ادب اور جس شخص کے پاس یہ پانچ چیزیں ہیں اس کی زندگی صاف ستھری ہے اول تندرستی دوئم آسودگی سوئم بی نیازی۔ چہارم قناعت۔ پنجم دوستوں و عزیزوں سے محبت۔

قیامِ شب

۱۶ـ امام صادق(ع) نے اپنے اجداد(ع) سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے جنابِ علی ابن ابی طالب(ع) سے عبادت شبینہ اور قرائت قرآن کے میں دریافت کیا۔ جنابِ امیر(ع) نے فرمایا خوشخبری ہے اس آدمی کے لیے جو اونچی رات کا دسواں حصہ خدا کی رضا اور اس کی عبادت میں بسر کرتا ہے تو خدا اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے کہ میرے اس بندے کے


 حساب میں دریاے نیل کے پانی سے نکلنے والی نباتات اور اگنے والے درختوں کی تعداد اور تمام روئے زمین کے چرند پرند کی تعداد کے برابر ثواب لکھا جائے۔ جو کوئی رات کا نواں حصہ نماز پڑھنے میں بسر کرئے گا تو خدا اس کی دس دعائیں قبول فرمائے گا اور روز قیامت اس کے دائیں ہاتھ میں اس کا نامہ اعمال دیا جائے گا جو شخص اپنی شب کا آٹھواں حصہ نماز پڑھنے میں گزارے گا تو خدا اس کو ایک خوش نیت شہید کے برابر اجر عطا کرے گا اور اس کو اس کے خاندان کی شفاعت کا حق عطا کرے گا۔ جو شب کا ساتواں حصہ عبادت و نماز میں گزارے گا تو روز قیامت جب اسے قبر سے نکالا جائے گا اس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی مانند روشن ہوگا یہاں تک کہ وہ پل صراط پر سے گذر جائے گا اور امن والوں کے ساتھ ہوگا، جو کوئی اپنی شب کا چھٹا حصہ نماز ادا کرنے میں گزارے گا تو اس کے لیے امان ( دوزخ و عذاب سے) لکھی جائے گی اور اس کے تمام گناہ معاف فرمادیئے جائیں گے، جو کوئی بھی اپنی شب کا پانچواں حصہ نماز پڑھنے میں گزارے گا تو وہ ابراہیم خلیل اﷲ(ع) کے ساتھ ان کے گنبد میں ان کے شانہ بہ شانہ رہے گا، جو کوئی اپنی شب کا چوتھا حصہ عبادت و نماز میں گزارے گا تو وہ فائز ہونے والے اولین میں ہوگا وہ پل صراط سے ہوا کے تیز جھونکے کی طرح گزرے گا، اور بے حساب بہشت میں داخل ہوجائے گا۔ جو شخص اپنی رات کا تیسرا حصہ نماز پڑھنے میں گزارے گا تو اس کو خدا کے نزدیک ترین مقام پر لے جایا جائے گا اور کوئی فرشتہ ایسا نہ ہوگا جو اس سے نہ کہے کہ جنت کے آٹھ دروازوں میں سے تم جس سے چاہو داخل ہوجاؤ۔ جو اپنی ںصف شب کو ذکر الہی اور نماز پڑھنے میں گزارے گا۔ تو اسے زمین کے وزن سے ہزار گنا زیادہ سونا دیا جائے گا اور یہ اس کی کم ترین جزا ہوگی۔

اور جو کوئی اپن تمام رات میں  اس کے دو ثلث حصہ میں نماز اور باقی میں تلاوت قرآن کرے گا تو اس کے حساب میں ریگستان کے ذروں کے برابر نیکیاں لکھی جائیں گی۔ اور ہر نیکی کا وزن کوہ احد سے زیادہ ہوگا۔ اور جو بھی اپنی تمام رات کو نماز اور تلاوتِ قرآن میں گزارے گا تو اس کو کم ترین اجر اسے دیہ دیا جائے گا کہ وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہوجائے جیسے کہ اس کی ماں نے اسے ابھی جنا ہے اور خدا نے جو کچھ پیدا کیا ہے کے شمار کے برابر اس کے لیے نیکیاں لکھی


جائیں گی۔ اس کی قبر کو نور سے بھر دیا جائے گا۔ گناہ و حسد اس کے دل سے خارج کردئیے جائیں گے۔ عذاب قبر سے اسے پناہ دی جائے گی دوزخ سے اسے برائت ملے گی اور خدا اپنے فرشتوں سے فرمائے گا اے میرے فرشتو دیکھو میرا یہ بندہ  میری رضا کے لیے راتیں جاگ کر گزارتا رہا اسے بہشتِ فردوس میں لے جاؤ یہ وہاں ایک لاکھ شہروں کا مالک ہے اور یہ ان میں سے جس طرح چاہے اپنی آنکھوں کو لذت پہنچائے۔ اور یہ اس پر کی جانے والی دیگر کرامتوں کے علاوہ ہے اور یہ اس لیے ہےکہ یہ حق کی طرف آمادہ ہوا۔ تمام تعریفیں عالمین کے رب کے لیے ہیں۔ اور صلواتِ خلقِ خیر محمد(ص) اور ان کی آل(ع) پر ہو۔


مجلس نمبر۴۹

( ماہ ربیع الاول سنہ ۳۶۸ھ)

۱ـ           جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا روح الامین جبرائیل(ع) نے میرے رب کی طرف سے مجھے خبر دی ہے کہ جب تک بندہ اپنے مقدر میں لکھی ہوئی روزی نہیں کھالیتا نہیں مرتا۔ لہذا خدا سے ڈرتے رہو۔ اور طلب رزق میں آرام سے رہو۔ جان لو کہ رزق دو طرح کے ہیں۔ ایک وہ جسے تم طلب کرتے ہو اور دوسرا وہ کہ جو تمہیں طلب کرتا ہے روزی کو حلال ذرائع سے طلب کرو گے تو حلال کھاؤ گے اور اگر راہ حرام سے طلب کرو گے تو حرام ملے گا۔ اور جو تمہیں ملے نا چار اسی کو کھانا پڑے گا۔

۲ـ           امام رضا(ع) نے فرمایا ہماری ذریت کی طرف نگاہ کرنا( انہیں دیکھنا عبادت ہے) ان سے عرض کیا گیا یا ابن(ع) رسول اﷲ(ص) کیا صرف ائمہ(ع) کو دیکھنا عبادت ہے یا تمام اولاد پیغمبر(ص) کو تو فرمایا کہ تمام اولاد پیغمبر(ص) کو دیکھنا عبادت ہے۔

۳ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا جب میں مقام محمود پر اپنی امت کے گناہ گاروں کی شفاعت کرنے آؤں گا تو خدا اس شفاعت کو قبول فرمائے گا لیکن خدا کی قسم جس شخص نے میری ذریت کو آزار پہنچایا ہوگا اس کی شفاعت نہیں کروں گا۔

۴ـ امام صادق(ع) نے فرمایا جب بندوں کے گناہ زیادہ ہوجائیں گے اور وہ اس کا کفارہ نہ کرسکیں گے تو خدا انہیں غم و مصیبت میں مبتلا کردے گا تاکہ ان کا کفارہ ادا ہوجائے ورنہ وہ انہیں ان گناہوں کےکفارے کے لیے بیماری میں مبتلا کردے گا یا پھر موت کے وقت ان پر سختی کرے گا اگر یہ سب نہیں تو پھر انہیں عذاب قبر میں مبتلا کردے گا تاکہ ملاقاتِ رب کے وقت وہ گناہوں سے پاک ہوں۔

۵ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جو کوئی۔ معراج۔ سوال قبر اور شفاعت کا منکر ہوگا۔ وہ ہمارا شیعہ نہیں۔


۶ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا۔ نزدیک ہے کہ فقر(غربت) کفر ہوجائے ( یعنی غربت و فقیری کفر کی طرف مائل کردے) اور حسد تقدیر پر غالب ہو جائے۔

۷ـ          جنابِ امیرالمومنین(ع) نے ارشاد فرمایا کہ کسی بھی طرح کی دو اشیاء کا مجموعہ علم اور حلم کے مجموعہ سے بہتر نہیں ( یعنی اگر علم کے ساتھ ساتھ حلم ہوتو بہتر ہے)

۸ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا ۔ خدا کے نزدیک محبوب بندہ وہ ہے کہ جو سچ کہنے والا امانت ادا کرنے والا نماز کی حفاظت کرنے والا اور واجبات خدا کو ادا کرنے والا ہو پھر حضرت(ع) نے فرمایا جو کوئی کسی امانت پر امین ہوگا اور اسے ادا کرے گا تو یہ اس کے لیے ایسا ہے کہ جیسے اس نے اپنی گردن سے آگ کی ہزار گرہیں کھولیں کیوںکہ جوکوئی کسی امانت کا امین ہے اس پر شیطان مردود اپنے ساتھیوں کو نگران مقرر کرتا ہے کہ اسے گمراہ کریں اور وسوسے میں ڈالین تاکہ وہ ہلاکت کا شکار ہو۔ مگر اس بندے کی حفاظت خدا فرماتا ہے۔ یہ ظلم ہے کہ کوئی سوار۔ پیدل چلنے والے سے کہے کہ مجھے راہ دے۔

(۹) امام صادق(ع) نے فرمایا اہل توحید

۱۰ـ          ابن عباس(رض) کہتے ہیں۔ رسول خدا(ص) نے فرمایا مجھے قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے مبعوث کیا اور میں خوشخبری سنانے والا ہوں خدا ہرگز توحید پرست کو عذابِ دوزخ نہیں دے گا اور بے شک اہل توحید شفاعت کریں گے اور ان کی شفاعت قبول کی جائے گی پھر آپ(ع) نے فرمایا خدا روز قیامت بدکاروں کے لیے دوزخ کا حکم صادر کرے گا تو وہ بندے کہیں گے خدایا ہمیں کیوں دوزخ کا عذاب دیا جارہا ہے جب کہ ہم نے دنیا میں تیری توحید کا اقرار کیا تھا۔ تو کیسے ہماری زبانیں جلاتا ہے جب کہ دنیا میں یہ تیری توحید کے لیے گویا ہوئی ہیں۔ تو کیسے ہمارے دلوں کو جلاتا ہے کہ ان میں تیرے سوا کسی کو جگہ نہیں ملی۔ ہمارے چہرے کس لیے جلائے جانے کا حکم دیا ہے کہ یہ تیرے سوا کسی کے لیے خاک پر نہیں رکھے گئے اور ہمارے ہاتھوں کو کیوں جلایا جارہا ہے کہ یہ تیری بارگاہ کے علاوہ کسی کے آگے نہیں اٹھے۔


خدا تعالیٰ ارشاد فرمائے گا اے میرے بندو یہ اس بدکاری کے عوض ہے جو تم دنیا میں کی ہے تمہاری سزا دوزخ ہے۔ وہ لوگ عرض کریں گے بارالہا تیرا عفو بڑا ہے یا ہمارے گناہ، خدا فرمائے گا میرا عفو پھر وہ لوگ کہیں گے تیری رحمت بڑی ہے یا ہمارے گناہ، تو خدا فرمائے گا میری رحمت، پھر کہیں گے تیری توحید کا اقرار بڑا ہے یا ہمارے گناہ، فرمائے گا تمہارا اقرار توحید بڑا ہے تو کہیں گے پھر تو اپنی رحمت واسعہ اور عفو سے ہمیں گھیرلے۔

خدا اپنے فرشتوں سے فرمائےگا، میرے ملائکہ میں اپنی عزت وجلال کی قسم کھاتا ہوں کہ میں نے کسی کو اہل توحید سے زیادہ محبوب خلق نہیں کیا ہے میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے مجھ پر یہ حق ہے کہ میں انہیں آگ میں نہ جلاؤں تم انہیں بہشت میں لے جاؤ۔

حضرت ابراہیم(ع) اور مرد عابد

۱۱ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا ایک مرتبہ ابراہیم خلیل اﷲ(ع) اپنی بکریوں کو چرانے کوہ بیت المقدس کے پیچھے لے گئے۔ اسی دوران آپ(ع) نے اچانک ایک آواز سنی اور ایک شخص کو دیکھا جو نماز پڑھ رہا تھا اس کا قد بارہ گز تھا جب وہ نماز سے فارغ ہوا تو پھر ابراہیم(ع) نے کہا اے بندہ خدا تم کس لیے نماز پڑھ رہے ہو اس نے جواب دیا خدائے آسمان کے لیے، ابراہیم(ع) نے پوچھا کیا تم اپنی قوم سے بچھڑ گئے ہو۔ اس نے کہا نہیں پوچھا کھانا کہاں سے کھاتے ہو اس نے جواب دیا میں گرمیوں میں پھل جمع کرتا ہوں اور انہیں سردیوں میں کھاتا ہوں ابراہیم(ع) نے پوچھا تیرا گھر کہاں ہے اس نے ہاتھ سے پہاڑ کی طرف اشارہ کیا۔ ابراہیم(ع) نے کہا مجھے تم اپنے ساتھ اپنے گھر لے جاؤ میں تمہارے ساتھ آج رات گزارنا چاہتا ہوں اس نے کہا میرے گھر کے راستے میں ایک دریا ہے جسے آپ(ع) عبور نہیں کرسکتے پوچھا تم وہ دریا کیسے عبور کرتے ہو۔ اس نے بتایا کہ میں اس کے پانی پر چل کر اسے عبور کرتا ہوں۔ ابراہیم(ع) نے فرمایا میں تیرے ساتھ اس لیے جانا چاہتا ہوں کہ خدا نے جو کچھ رزق تیرے مقدر میں لکھا ہے شاید اس میں سے مجھے بھی کچھ عطا کرے، کہتے ہیں اس عابد نے ان کا ہاتھ پکڑا اور انہیں اپنے ہمراہ لے کر چل پڑا جب دریا پر پہنچے تو ان دونوں نے دریا کے پانی


پر چلنا شروع کردیا ۔ اور اسے عبور کر کے اس کے گھر تک جا پہنچے۔

ابراہیم(ع) نے اس عابد سے پوچھا کہ کونسا دن بزرگ تر ہے، عابد نے کہا روزِ جزا کہ اس دن لوگوں سے باز پرس ہوگی ابراہیم(ع) نے فرمایا ہاتھ اٹھا کر خدا کی بارگاہ میں دعا کریں کہ ہمیں اس دن کے شر سے امن میں رکھے اس عابد نے کہا میں کس لیے دعا کروں کہ میں گزشتہ تیس سال سے خدا کی درگاہ میں دعا کرتا ہوں جو قبول نہیں ہوتی ابراہیم(ع) نے کہا میں تجھے بتاؤں کہ کیوں تیری دعا قبول نہیں ہوتی، کہنے لگا کیوں نہیں، آپ(ع) نے فرمایا جب خدا اپنے بندے کو دوست رکھتا ہے تو اس کی دعا محفوظ کر لیتا ہے تاکہ اس کا بندہ اس سے اپنا راز کہتا رہے اس سے خواہش رکھے اور طلب کرتا رہے اور جب خدا کسی بندے سے دشمنی رکھتا ہے تو اس کی دعا جلد مستجاب کرتا ہے یا اس کے دل میں ناامیدی پیدا کردیتا ہے پھر آپ(ع) نے اس عابد سے کہا تو نے کیا دعا کی تھی، اس عابد نے بتایا کہ ایک مرتبہ بکریوں کا ایک ریوڑ میرے پاس سے گزرا اس ریوڑ کے ساتھ ایک بچہ تھا جس کی زلفیں اس کی پشت پر لٹک رہی تھیں میں نے اس سے پوچھا اے فرزند یہ ریوڑ گوسفند کس کا ہے تو اس بچے نے جواب دیا، ابراہیم(ع) خلیل اﷲ(ع) کا، میں نے خدا سے دعا کی کہ اگر اس  زمین میں تیرا کوئی خلیل ہے تو اس سے میری ملاقات کروادے۔ ابراہیم(ع) نے فرمایا خدا نے تیری دعا مستجاب کی ہے میں ابراہیم(ع) خلیل اﷲ ہوں یہ سن کر وہ عابد آپ(ع) کے گلے لگ گیا جب خدا نے محمد(ص) کو مبعوث کیا تو ایک دوسرے سے مصافحہ کرنا مقرر فرمایا۔

۱۲ـ          رسول خدا(ص) نے فرمایا میں تمام پیغمبران و مرسلین کا سردار ہوں اور ملائکہ مقربین سے بہتر ہوں میرے اوصیاء سیدالوصیین ہیں۔ میری ذریت(ع) تمام انبیاء و مرسلین کی ذریت سے بہتر ہے میری بیٹی فاطمہ(س) عالمین کی عورتوں کی سردار ہے میری ازواج مطہرات مومنین کی مائیں ہیں میری امت بہترین امت ہے کہ قیام کرتی ہے میں روز قیامت تمام انبیاء(ع) سے زیادہ پیروکار رکھتا ہوں گا میں حوض رکھتا ہوں جو نہایت وسیع و عریض اور تا حدِ نگاہ پھیلا ہوا ہے اور جس کے جام ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں اس حوض پر میرا خلیفہ وہ ہوگا جو اس دنیا میں بھی میرا خلیفہ ہے عرض  کیا گیا کہ وہ کون ہے تو فرمایا وہ علی ابن ابی طالب(ع) ہے جو میرے بعد مسلمانوں کا امام ان کا امیرالمومنین و سردار ہے وہ


 اپنے دوستوں کو اس حوض سے سیراب کرے گا اور اپنے دشمنوں کو وہاں سے اس طرھ دور کردے گا جس طرح کوئی کسی بیگانے اونٹ کو اپنے پانی سے دور کردیتا ہے۔

پھر آپ(ع) نے فرمایا اس دنیا میں جوکوئی علی(ع) کو دوست رکھتا ہے اور اس کی اطاعت کرتا ہے وہ کل میرے حوضِ کوثر پر وارد ہوگا اور بہشت میں میرے ساتھ میرے درجے کے برابر ہوگا لیکن جو کوئی علی(ع) کو دشمن رکھتا ہے اور اس کی نافرمانی کرتا ہے وہ روزِ قیامت نہ تو مجھے ہی دیکھ سکے گا اور نہ میں اسے دیکھوں گا وہ علیحدہ کھڑا کانپ رہا ہوگا اور اسے خاموشی والی سمت سے دوزخ میں کھینچ کر لے جایا جائے گا۔

۱۳ـ          حضرت علی بن ابی طالب(ع) نے فرمایا جو کوئی کھانا تناول کرنے کے وقت اﷲ کا نام لے تو خدا اس بندے سے حق نعمت کا سوال نہیں پوچھے گا۔

۱۴ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا جو شخص کسی گرئی ہوئی روٹی یا کجھور یا کسی اور خوراک کو اٹھا کر کھالے ( احترام نعمت کی وجہ سے) تو وہ خوراک ابھی اس کے شکم سے باہر نہیں آئے گی مگر وہ بخشش دیا جائے گا۔

۱۵ـ          جنابِ رسول خدا(ص) نے جنابِ علی(ع) سے فرمایا اے علی(ع) تو مسلمانوں کا امام ان کا امیرالمومنین(ع) اور اندھیری راتوں میں روشن چاند کی طرح ان کا قائد ہے تو تمام خلق پر میرے بعد حجتِ خدا ہے تو سیدِ اوصیاء اور وصی الانبیاء(ع) ہے اے علی(ع) جب مجھے آسمان ہفتم اور اس جگہ سے سدرة المنتہی اور وہاں سے حجاب ہائے قدس ( حجاب نور) تک لے جایا گیا تو خداوند عالمین نے اپنی مناجات سے میری عزت افزائی فرمائی۔ اور بہت سے پوشیدہ راز مجھ سے بیان فرمائے اور اسی دوران فرمایا اے محمد(ص) تو میں نے کہا ” لبیک و سعدیک“ تو ہی برکت والا اور بلند مرتبہ ہے تو خدا نے فرمایا جان لو کہ علی(ع) میرے اولیاء(ع) کا امام ہے اور پیشوا ہے اور جو میری اطاعت کرے اس کے لیے وہ ایک نور ہے اور وہی وہ کلمہ ہے جس کو میں نے متقین کے لیے لازم قرار دیا ہے جس نے اس کی اطاعت کی اس نےمیری اطاعت کی اور جس نے اس کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی تم یہ خوشخبری علی(ع) کو پہنچا دو۔


جب حضرت محمد(ص) زمین پر تشریف لائے تو انہوں نے حضرت علی(ع) کو وہ خوش خبری دی جو خدا نے ان کے حق میں فرمائی تھی، جنابِ امیر(ع) نے کہا یا رسول اﷲ(ص) کیا میری عزت اس درجے پر پہنچی ہوئی ہے کہ ایسے مقام بلند پر میرا ذکر ہوا؟ حضرت(ص) نے فرمایا ہاں اے علی(ع) اپنے پروردگار کا شکر ادا کرو۔ یہ سن کر جنابِ امیر(ع) پروردگار کی اس نعمت کے لیے سجدہ شکر میں گر گئے  آخر آںحضرت(ص) نے فرمایا اے علی(ع) سر اٹھاؤ کہ حق تعالی تم پر اپنے ملائکہ سے فخر و مباہات کرتا ہے۔

۱۶ـ          طاؤس یمانی سے روایت ہے کہ امام زین العابدین(ع) دعا کے وقت فرماتے

اے خدا ۔ اے میرے معبود مجھے تیری  عزت و جلال کی قسم اگر میں تیری ظاہر کردہ اول فطرت سے لےکر تیری قبولیت کے دوام تک عبادت کروں اور ہر جھپکنے والی آنکھ پر موجود بالوں کی تعداد کے برابر تیری مخلوق کے ادا کردہ شکر ( تیری خاطر) اور حمد کے برابر تیرا شکر ادا کروں تب بھی میں قاصر ہوں کہ تیری ان نعمتوں کا شکر ادا کرسکوں جو ابھی مجھ پر پوشیدہ ہیں اگر میں تمام زمین میں دفن لوہے کے خزائن کو اپنے دانتوں سے کھینچ کر باہر لے آؤں اور اپنے اشکوں سے تمام روئے ارض کو سیراب کردوں اور تیرے خوف کی وجہ سے جاری شدہ میرے اشکوں سے تمام زمین و آسمان کے سمندر خون سے پڑ اور آلودہ ہوجائیں تو تب بھی میں تیرا حق واجب ادا نہیں کرسکتا اور اگر اس کے بعد بھی اگر تو مجھے عذاب دینا چاہے تو تمام مخلوق کا عذاب مجھے دے سکتا ہے اور جہنم میں میرے جسم کو اتنا بڑا کرسکتا ہے کہ جہنم کے تمام طبقات میرے جسم کے حجم سے پڑ ہوجائیں اور کسی دوسرے کے لیے بڑا جگہ نہ رہے اور جہنم کا ایندھن صرف میرا بدن ہی قرار پائے تو تب بھی یہ تیرے عدل کے تقاضے کے مطابق کم ہوگا  جب کہ میں اس سے زیادہ کا سزاوار ہوں گا۔


مجلس نمبر۵۰

(۱۶ ربیع الاول سنہ۳۶۸ھ)

۱ـ جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا جب مسلمان چھینک کر خاموش ہوجاتا ہے تو فرشتے اس کی طرف سے الحمد اﷲ رب العالمین کہتے ہیں اور اگر یہ خود سے الحمد ﷲ رب العالمین کہے تو ملائکہ اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ خدا نے تمہیں معاف کیا۔

۲ـ جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا، خدا فرماتا ہے کہ اے میرے صدیق بندو دنیا میں تم میری عبادت کی نعمت سے سرفراز ہوئے اب اس سبب سے تم بہشت کی نعمت سے سرفراز ہوجاؤ۔

مکروہ خصلتیں

۳ـ          رسول خدا (ص) نے فرمایا اے ( میری) امت خدا تمہارے لیے چند خصلتوں کو مکروہ رکھتا ہے اور تمہیں ان سے منع کرتا ہے۔

نماز میں فضول کام کرنا۔

صدقہ دے کر احسان جتلاتا۔

قبرستان میں ہنسنا۔

لوگوں کے گھروں میں جھانکنا۔

عورت کے فرج کو دیکھنا( دوران جماع کہ یہ پیدا ہونے والے بچے کے لیے) باعث اندھاپن ہے۔

جماع کے وقت بات کرنا کہ اس سے بچہ گونگا پیدا ہونے کا احتمال ہے۔

عشا سے پہلے سونا۔

زیرآسمان برہنہ غسل کرنا۔

زیر آسمان جماع کرنا۔


پانی ، نہر و غیرہ میں برہنہ داخل ہونا۔ کہ اس میں پاکباز فرشتے ہوتے ہیں۔

حمام میں برھنہ جانا۔

صبح کی نماز میں اقامت و نماز کے دوران گفتگو کرنا یہاں تک کہ نماز قضاء ہو جائے۔

دریا کی سطح (ساحل) جو پتھر کی نہ ہو پر سونا (معصوم(ع) نے فرمایا جو شخص ایسی سطح پر جو پتھر کی نہ ہو سوئے تو میں اس سے بری ہوں وہ اپنے خون کا خود ذمہ دار ہے۔)

گھر میں تنہا سونا۔

حالتِ حیض میں عورت سے پرہیز نہ کرنا( کرنا اس سے بچے کا مجزوم یا مبروص پیدا ہونے کا خدشہ ہے)

احتلام کے بعد بغیر غسل بیوی سے مقاربت کرنا( احتمال ہے کہ اس سے بچہ دیوانہ ہوگا اور اگر ایسا ہوتو وہ شخص اپنی سرزنش خود کرے)

جزام کے مریض سے بغیر فاصلہ رکھے بات کرنا ( فرمایا جب جذامی سے بات کرو تو ایک زراع کا فاصلہ رکھ لو اور اس سے ایسے گریز کرو جسیے شیر کو دیکھ کر بھاگا جاتا ہے)

جاری پانی میں پیشاب کرنا۔

ثمر دار کجھور کے درخت کے نیچے پیشاب کرنا۔

کھڑے ہوکر جوتا پہننا۔

بغیر چراغ کے تاریک گھر میں داخل ہونا۔

نماز پڑھنے کہ جگہ پر پھونک مارنا۔

۴ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا خدا نے ایک قوم پر نعمتوں کا نزول کیا مگر انہوں نے اس کا شکر ادا نہ کیا تو پر عذاب نازل کیا گیا پھر ایک قوم پر عذاب کیا گیا تو اس نے صبر کیا تو اس قوم پر نعمتیں نازل کی گئیں۔

ابن بکیر کہتے ہیں کہ حجاج لعین نے علی(ع) کے دو موالیوں کے گرفتار کیا۔اور ان میں سے ایک


 پھر آپ(ع) نے فرمایا جو کوئی لغزش ( گناہ) ترک نہ کرے اور عذر ( دلیل، حجت) قبول نہ کرے اس کے گناہ معاف نہیں ہوں گے۔ پھر آپ(ع) نے فرمایا کیا میں تمہیں اس سے بھی بدتر کی خیز نہ دوں عرض ہوا کیوں نہیں یا رسول اﷲ(ص)، آپ(ص) نے فرمایا ایسا بندہ ہے کہ جس کے شر سے لوگوں کو امان نہ ہو اور کسی قسم کے خیر کی امید نہ ہو۔ پھر جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا۔ اے لوگو!بیشک عیسیٰ بن مریم(ع) نے بنی اسرائیل سے فرمایا جاہلوں سے حکمت حاصل نہ کرو کہ وہ تم ستم کریں گے اور اس (علم) کے اہل سے دریغ نہ کرو لیکن اگر تم سے ستم کرے تو ستم گاروں کی مدد نہ کرو کہ ستم اس کے فضل کو باطل کردے گا جان لو کہ امور تین قسم کے ہیں۔

اول : وہ کہ جس کی کامبیابی  تم پر آشکار ہے اس کے پیرو رہو۔

دوم : وہ کہ جس کی گمراہی تم پر آشکار ہے اس سے کنارہ کش ہو جاؤ۔

سوم : یہ کہ جو امر مورد اختلاف ہے اسے خدا کی طرف پلٹا دو۔ ( اس سلسلے میں احکامات ربانی سے راہنمائی لو۔)

۱۴ـ          حضرت پیغمبر(ص) نے فرمایا خدا نے داؤد کو وحی کی اے داؤد(ع) جس طرح کسی شخص پر آفتاب کی روشنی وتمازت تنگ نہیں ہے اسی طرح میری رحمت بھی اس پر تنگ نہیں جو اس میں آنا چاہے اور بدفالی( بدشگونی) کا کوئی نقصان نہیں پہنچتا مگر جوکوئی اسے اختیار کرے وہ نقصان میں ہے بد فالان فتنہ سے دور نہیں ہیں۔ میرے نزدیک ترین بندوں میں سے روز قیامت، تواضع اختیار کرنے والے ہیں اور متکبر مجھ سے دور ہیں۔

۱۳ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا ہمارے شیعوں میں سے جو کوئی چالیس(۴۰) احادیث یاد کرے خدا روزِ قیامت اسے دانشمند اور فقیہہ محشور کرے گا اور اس پر عذاب نہیں کرے گا۔

۱۴ـ          جنابِ رسول خدا(ص) نے علی ابن ابی طالب(ع) سے فرمایا اے علی(ع) تم میرے صاحبِ حوض ہو، تم میرے پرچم برادر ہو میرے وعدے کو پورا کرنے والے اورمیرے قلب کے حبیب ہو، تم میرے علم کے وارث ہو، تم وراثتِ پیغمبران(ع) کے امانت دار ہو، تم خدا کی زمین پر اس ( خدا) کے امین ہو۔ تم اس کی خلق پر حجت ہو، تم رکن ایمان اور تاریکی شبِ ( ظلمت و گمراہی) میں چراغ ہدایت


 اور اہل دنیا کے لیے پرچم بلند ہو، جو کوئی تیری پیروی کرے وہ نجات یافتہ اور جو تیری مخالفت کرے وہ ہلاکت میں ہے تم راہِ روشن ہو، تم صراط مستقیم ہو، تم قائدہ العز المحجلین ہو، اس بندے کے مولا ہو جس کا میں مولا و سردار ہوں اورمیں ہر مومن و مومنہ کا مولا ہوں اور پاک و طاہر (نفس) کے علاوہ تم سے کوئی محبت نہیں کرتا اور خبیث و بذر زادہ تم سے دشمنی رکھتا ہے۔

میرا پروردگار  جس وقت مجھے آسمان پر لے گیا  تو اس نے سب سے پہلے مجھے فرمایا اے محمد(ص) میرا سلام علی(ع) کو پہنچا دے اور اسے اطلاع دے کہ اولیاء کا امام اور اہل اطاعت کا نور ہے، اے علی(ع) تمہیں یہ کرامت مبارک ہو۔

۱۵ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا اے بصیر، ہم شجر علم ہیں، ہم اہل بیت(ع) نبی ہیں، جبرائیل(ع) کی آمد و رفت ہمارے ہی گھر میں ہے، ہم علمِ خدا کے انتظام کرنے والے ہیں اور خدا کی  وحی کے معاون ہیں( اس کےلیے) جو کوئی ہمارا پیرو ہوگا۔ اور جو کوئی مخالف ہوگا وہ ہلاک ہوگا یہ خدا پر ہمارا حق ہے۔

۱۶ـ          جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا شیعیان علی(ع) میں سے فقراء اور علی(ع) کی عترت کو اس ( علی(ع)) کے بعد سبک (کمتر) نہ جانو کیونکہ ان میں سے ہر ایک دو قبیلوں، مانند ربیعہ ومغر کی شفاعت کرے گا۔


مجلس نمبر ۵۱

( ۱۹ ربیع الاول سنہ۳۶۸ھ)

۱ـ           امام باقر علیہ السلام سے قول خدا ” کہا جائیگا کون ہے دعا نویس“ ( یعنی جھاڑ پھونک کرنے والا) کی تفسیر بیان کرنے کی درخواست کی گئی تو امام(ع) نے فرمایا یہ قول ابن آدم(ع) کے لیے ہے جب اسے موت گھیر لیتی ہے تو کہتا ہے کہ کیا کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا ہے کیا کوئی طبیب ہے( جو مجھے اس مرض سے نجات دلا سکے) وہ گمان کرتا ہے کہ میرے عزیز یا دوست یا میرا خاندان میرے کام آئیں گے آپ(ع) نے فرمایا اس روز ساق سے ساق مل جائے گا یعنی دنیا آخرت کے ساتھ ہو جائیگی پھر آپ(ع) نے فرمایا اس دن کا انجام دینے والا پروردگار عالمین ہے۔

۲ـ           امام باقر(ع) نے فرمایا کوئی سال کسی دوسرے سال سے کم بارانی نہیں رکھتا لیکن خدا اسے جہاں چاہتا ہے برساتا ہے بیشک لوگ جب نافرمانی کرتے ہیں تو جو بارش ان کے مقدر میں ہوتی ہے خدا اسے اس سال دوسری طرف منتقل کردیتا ہے اور اسے بیابانوں پہاڑوں اور دریاؤں پر برساتا ہے بیشک خدا کیڑے کو اس کے بل( سوراخ ) میں رزق دیتا ہے اور انسان کو اس کی خطا کی وجہ سے عذاب دیتا ہےاور یہ طاقت رکھتا ہےکہ اس عذاب کا رخ دوسری طرف موڑ دے مگر یہ کہ اہل معصیت نہ ہوں پھرامام(ع) نے فرمایا۔ اے صاحبانِ بصیرت عبرت حاصل کرو میں مصحف علی( ع) میں پاتا ہوں کہ جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا جب زنا کثیر ہوگا تو نا گہانی اموات زیادہ ہوں گی، جب تول میں کمی ہوگی تو خدا زراعت کو کم اور قحط کو مسلط کردے گا، جب لوگ زکوة نہ دیں گے تو زمین سے زراعت و میوہ کی برکت  ختم ہوجائے گی، جب ناحق فیصلے ہوں گے تو ظلم کی معاونت کرنے والے دشمنان ان پر مسلط  کردے گا، جب نقصِ عہد ہوگا تو خدا دشمنوں کو مسلط کردے گا، جب لوگ قطع رحم کریں گے تو خدا مال کو شرپسندوں کے ہاتھ دیدے گا اور ان کو لوگوں پر اس وقت مسلط کردے گا جب وہ (لوگ، مخلوق) امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور میرے خاندان کی پیروی کے انکار ہوں گے اور اس وقت نیک لوگ دعا کرے گے مگر وہ قبول نہیں ہوگی۔


۳ـ امام باقر(ع) نے فرمایا توریت میں مرقوم ہے کہ اے موسی(ع) میں نے تمہیں پیدا کیا اور طاقت دی اپنی اطاعت کا تمہیں حکم دیا اور اپنی نافرمانی سے تمہیں منع کیا اگر تم میری نافرمانی کرو گے تو تمہاری مدد نہ کی جائے گی اور اگر میری اطاعت کرو گے تو میں تمہاری مدد کروں گا اے موسی(ع) تم میری اطاعت کرو میں تم پر اپنا عہد پورا کروں گا اور نافرمانی پر کوئی حجت قبول نہ کروں گا۔

۴ـ مسروق کہتے ہیں کہ ہم عبداﷲ بن مسعود کے پاس تھے اور ان سے قرآن کے بارے میں دریافت کررہے تھے کہ ہم میں سے ایک نوجوان نے ان سے پوچھا ، کیا تمہارے پیغمبرص(ص) نے تمہیں اس بات کی خبر  دی ہے کہ ان(ص) کے بعد کتنے خلفاء ہوں گے؟عبداﷲ(رض) نے کہا تم ابھی نوجوان ہو جبکہ اس سوال کو تم سے پہلے کسی نے نہیں پوچھا، ہاں پیغمبر(ص) ن ہمیں اطلاع دی ہے  کہ انکے بعد نقباء بنی اسرائیل کے موافق بارہ خلفاء ہوں گے۔

۵ـ          شعبی نے اپنے چچا قیس بن عبد سے روایت کیا ہے کہ ہم عبداﷲ بن مسعود(رض) کے پاس حلقے کی صورت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک بیابانی عرب آیا اس نے پوچھا تم میں عبداﷲ بن مسعود(رض) کون ہے عبداﷲ نے جواب دیا میں ہوں بتاؤ کیا کام ہے، اس نے کہا کیا تمہارے پیغمبر(ص) نے تمہیں بتایا ہےکہ ان کے بعد کتنے خلفاء ہوں گے عبداﷲ بن مسعود(رض) نے کہا ہاں انہوں نے بتایا ہے کہ وہ نقباء بنی اسرائیل کی تعداد کے برابر بارہ(۱۲) ہوں گے۔

۶ـ           قیس بن عہد کہتے ہیں ہم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور ابن مسعود(رض) ہمارے ہمراہ تھے ایک بیابانی عرب آیا اور اس نے پوچھا کیا عبداﷲ ابن مسعود(رض) تمہارے درمیان ہے عبداﷲ(رض) نے کہا ہاں میں ہوں بتا تجھے کیا کام ہے، عرب نے کہا اے عبداﷲ(رض) کیا تمہارے بنی(ص) نے تمہیں خبر دی ہے کہ ان(ص) کے بعد کتنے خلفاء تمہارے خلفاء تمہارے درمیان ہوں گے۔

عبداﷲ بن مسعود(رض) نے کہا کہ تم نے مجھ سے وہ پوچھا ہے جو میرے عراق سے واپس آنے سے لے کر اب تک کسی نے دریافت نہیں کیا، ہاں انہوں نے فرمایا ہے کہ ان کے بعد بارہ خلفاء ہوںگے جو نقباء بنی اسرائیل کی تعداد کے برابر ہوں گے۔

۷ـ          اشعث ابن مسعود سے روایت ہے کہ پیغمبر(ص) نے فرمایا میرے بعد نقباء بنی اسرائیل کی تعداد


کے برابر بارہ خلفاء ہوں گے۔

۸ـ          جابر بن سمرہ کہتے ہیں کہ میں اپنے والد کے ساتھ پیغمبر(ص) کی خدمت میں تھا میں نے سنا کہ آپ(ص) نے فرمایا میرے بعد بارہ امیر ہوں گے یہاں تک کہہ کر رسول خدا(ص) کی آواز پوشیدہ ہوگئی میں نے اپنے والد سے دریافت کیا کہ پیغمبر(ص) کی آواز پوشیدہ ہونے کے بعد انہوں نے کیا فرمایا میرے والد نے کہا، انہوں نے فرمایا یہ تمام قریش سے ہوں گے۔

۹ـ           رسول خدا(ص) نے فرمایا میری امت میں امر (امامت) ہمیشہ قائم رہے گا اور غلبہ رکھے ہوئے ہوگا۔ یہاں تک کہ بارہ خلفاء مکمل ہوجائیں اور یہ تمام قریش سے ہونگے۔

قاضی شریح ( قاضی کوفہ، شریح ابنِ حارث)

۱۰ـ          قاضی شریح کہتے ہیں کہ میں نے ایک مکان سونے کی اسی (۸۰) اشرفیوں کے عوض خریدا اور دو راستگو اور عادل لوگوں کو اس کی تحریر ( معاہدہ) لکھ کر گواہ مقرر کیا جب یہ خبر جنابِ امیرالمومنین(ع) کو پہنچی تو انہوں نے اپنے غلام قنبر کو بھیج کر مجھے طلب کیا، جب میں آپ(ع) کی خدمت میں آیا تو آپ(ع) نے فرمایا۔ اے شریح میں نے سنا ہے تونے ایک مکان خریدا۔ جس کی تحریر کر تونے عادل گواہ مقرر کیے ہیں اور اسے (مالک کو) رقم ادا کی ہے۔

میں نے کہا ہاں ایسا ہی ہے تو جنابِ امیر(ع) نے فرمایا اے شریح خدا سے در کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی بندہ آئے اور تیری بہ تحریر دھری کی دھری رہ جائے اور وہ تجھے بغیر کسی گواہ کے اس گھر سے نکال لے جائے اور قبر کے حوالے کردے۔ اے شریح حرام کے مال سے بے وقعت چیزیں مت خرید کہ یہ دنیا و آخرت میں تیرا نقصان کریں پھر آپ(ع) نے فرمایا اے شریح اگر میں تجھ سے گھر خریدوں تو میں اس تحریر کو اس طرح لکھوں  گا  کہ اس تحریر کے بعد اس گھر کا کوئی دو درھم میں بھی خریدار نہ ہو۔میں نے عرض کیا امیرالمومنین(ع) مجھے بھی بتائیں کہ وہ تحریر کیا ہوگی آپ(ع) نے فرمایا ” بسم اﷲ الرحمن الرحیم“ اس گھر کو بندہ خوار اور قبر والے مردے سے دارِ فریب میں فنا ہونے والے اور لشکر نابود میں شامل ایک بندے نے خریدا ہے۔ یہ گھر چار خصوصیت رکھتا ہے۔ اول آفات کا شکار کرنا دوئم


عیوب میں مبتلا کرنا۔ سوئم مصیبتوں میں گھیرنا اور چہارم ہوس میں کھینچنا۔ جان لوکہ شیطان گمراہ کرنے والا ہے اس گھر کے فریب خوردہ خریدار نے اسے اس آرزو سے خریدا ہے کہ اسے موت نہیں آئے گی جب کہ موت اسے باہر کھینچ لے جائے گی، قناعت کی عزت اس سے چھین جائے گی اور ذلت اس کا مقدر بن جائے گی گویا یا ہر قسم کا خسارہ اس کے خریدار کے لیے ہے لہذا عہدہ اس شخص کے لیے ہے جوکہ ان تمام کی نفی کرے دیکھو کہ قیصر روم اور خسرو نے جو محلات بنائے اور جو مال ان میں جمع کیا وہ تمام کا تمام  اپنے فرزندوں کے لیے چھوڑ گئے۔ جان لو کہ روزِ قیامت یہی موقف تمہارے سامنے لائے جائیں گے۔ اور اس وقت قضاوت عدل سے بے ھودہ لوگوں کو نقصان پہنچے گا عقل اسی میں ہے کہ بندہ ہوس کو اختیار نہ کرے۔ اور اس دن اہل دنیا کو جو نقصان پہنچے گا اسے اپنی آنکھوں سے نہ دیکھے ۔ سنا ہے کہ اس دن منادی میدانوں میں آواز دےگا کہ حق اس بندے کے لیے ہے کہ جسکی آنکھیں روشن اورکھلی رہیں۔ لہذا تمہیں آج یا کل کوچ کر جانا ہے اس لیے نیک اعمال کا توشہ ہمراہ لےلو آرزوئیں  ساتھ لے کر مت جاؤ کہ یہ تمہیں موت سے ہمکنار کریں گی کوچ اور زوال نزدیک ہے۔

۱۱ـ           جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا وہ فرشتے جو زمین میں مقرر ہیں اور اسکا چکر لگاتے ہیں وہ امت کا درود و سلام مجھ تک پہنچاتے ہیں۔

۱۲ـ          ابوحمزہ ثمالی کہتے ہیں کہ میں مسجد کوفہ میں داخل ہوا تو دیکھا کہ ایک صاحب مسجد کے ساتویں ستون کے نزدیک نماز پڑھ رہے ہیں اور ان  کا رکوع و سجود بہترین ہے میں نے آگے بڑھ کر دیکھا تو وہ صاحب فورا سجدے میں چلے گئے ہیں اور فرمانے لگے خدایا مجھ میں یہ ہمت نہیں ہے کہ میں تیری نافرمانی کروں۔کہ تیری ہر محبوب ترین چیز تیری اطاعت کرتی ہے میرا یہ ایمان ہے کہ تو مجھ پر حق رکھتا ہے۔ خدایا میں نے تیری نافرمانی اس کی طرح نہیں کہ کہ جس طرح تجھ سے ایک فرزند( عیسی(ع)) منسوب کردیا گیا ہے اور تیرا شریک ٹھہرایا گیا ہے تیرے حق کی خاطر میں نے تیری کسی چیز (حکم) میں معصیت یا نافرمانی نہیں کی اور نہ ہی تیری عبادت اختیار کرنے سے مجھ میں تکبر کا عنصر پیدا ہوا ہے نہ ہی میں تیری راہ سے بھٹکا ہوں اور نہ ہی تیری ربوبیت کا انکاری ہوا ہوں


 بارالہا اگر میں ہوس کی پیروی کروں تو شیطان اپنے حجت و بیان کے بعد مجھے خوار کروادئے گا اور اگر اس صورت میں تو مجھ پر عذاب کرے تو یہ تیرا ستم نہ ہوگا۔ خدایا تو مجھ پر اپنے لطف و رحمت سے رحم کر رحم کر اے ارحم الراحمین۔ابوحمزہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد وہ فارغ ہوئے اور مسجد سے باہر تشریف لے گئے میں نے ان کا پیچھا کیا۔ یہاں تک کہ وہ اپنے سیاہ فام غلام سے جاملے اور اس سے کچھ کہا جو میری سمجھ میں نہ آیا  میں نے دریافت کیا کہ یہ کون ہیں تو بتایا گیا یہ علی ابن حسین(ع) ہیں میں نے کہا میں ان پر قربان یہ یہاں کس لیے آئے تھے بتایا گیا جو کچھ تم نے دیکھا اسی کے واسطے یہ یہاں آئے تھے۔

۱۳ـ          برابن عازب سے روایت ہے کہ جب رسول خدا(ص) نے خندق کھودنے کا حکم دیا تو اس میں سے ایک بہت بڑا اور پھیلا ہوا سخت پتھر برآمد ہوا جس پر کدال پھاوڑے کام نہیں کررہے تھے۔ لہذا رسول خدا(ص) بنفس نفیس تشریف لائے اور اپنی عبا کو زمین پر رکھ کر کدال اٹھائی اور ” بسم اﷲ“ پڑھ کر اس پتھر پر کدال سے ایک ضرب لگائی تو اس کا تیسرا حصہ ٹوٹ گیا۔ آںحضرت(ص) نے فرمایا” اﷲ اکبر“ کہ اس نے مجھے شام کی کنجی عطا فرمائی ہے اور میں سرخ محلات یہیں سے دیکھ رہا ہوں پھر آپ(ص) نے ” بسم اﷲ“ پڑھ کر دوسری ضرب لگائی تو اس پتھر کا دوسرا ثلث حصہ بھی ٹوٹ گیا آپ(ص) نے فرمایا ” اﷲ اکبر“ کہ اس نے مجھے کلید فارس بھی عطا کی بخدا مدائن کے سفید محل مجھے یہیں سے نظر آرہے ہیں پھر آپ(ص) نے تیسری بار کدال پتھر پر ماری تو وہ پتھر پورا شگافتہ ہوگیا۔ آپ(ص) نے فرمایا ” اﷲ اکبر“ کہ اس نے مجھے کلید یمن بھی عطا کی اور مجھے شہر صنعا کا دروازہ یہیں سے نظر آرہا ہے۔

وفات فاطمہ بنت اسد(ع)

۱۴ـ          ایک روز علی بن ابی طالب(ع) گریہ کرتے ہوئے رسول اﷲ(ص) کے پاس آئے اور کہا” انا ﷲ و انا الیہ راجعون“ رسول خدا(ص) نے فرمایا اے علی(ع) کیوں رور رہے ہو۔ عرض کیا یا رسول اﷲ(ص) میری والدہ وفات پاگئی ہیں یہ سن کر جنابِ رسول خدا(ص) نے گریہ کیا اور فرمایا اے علی(ع) اگر وہ تمہاری ماں تھیں تو میریبھی ماں تھیں۔ میرا عمامہ لے لو اور اس سے ان کا پیراہن بناؤ اور انہیں اسی میں کفن دو اور


عورتوں سے کہو کہ انہیں غسل دیں اور اس وقت تک باہر نہ لائیں جب تک میں نہ آجاؤں اور باقی اعمال انجام نہ دے لوں۔

جنابِ رسول خدا(ص) ایک ساعت کے بعد تشریف لائے۔ ان کی میت اٹھائی اور ان کا جنازہ پڑھانے تشریف لے گئے بی بی(س) کا جنازہ اس طرح پڑھایا گیا کہ کسی اور کے جنازے کو اس طرح پڑھاتے نہیں دیکھا گیا آپ(ع) کے جنازے پر چالیس تکبیریں کہی گئیں۔ پھر جنابِ رسول خدا(ص)  آپ(ع) کی قبر میں اترے اور اس میں لیٹ کر اسکی کشادگی کو تعین فرمایا اور جنابِ امیرالمومنین(ع) اور امام حسن(ع) کو بھی قبر کے اندر بلایا پھر  اس عمل سے فارغ ہوکر جناب امیر(ع) اور امام حسن(ع) کو فرمایا کہ وہ قبر سے باہر تشریف لے جائیں پھر بی بی(ع) کو قبر کے اندر اتارا اور انکے سرہانے کھڑے ہوکر فرمایا اے فاطمہ(س) میں محمد(ص) اولاد آدم کا سردار ہوں جب منکر نکیر آئیں اور آپ(ع) سے پوچھیں کہ آپ(ع) کا پروردگار کون ہے تو فرمائیےگا خدا میرا پروردگار ہے پھر فرمائیے گا محمد(ص) میرا رسول اور اسلام میرا دین پھر فرمائیے گا میرا بیٹا میرا ولی اور امام ہے پھر آپ(ع) نے فرمایا اے خدا فاطمہ(س) کو قول حق پر قائم رکھ پھر جنابِ رسول خدا(ص) قبر سے باہر تشریف لائے اور چند مٹھی خاک آپ(ع) کی قبر پر ڈالی جب قبر پر مٹی ڈال دی گئی تو آپ(ص) نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اس مٹی کو برابر کیا اور دبایا۔ یہ دیکھ کر عمار یاسر آگے بڑھے۔ اور عرض کیا یا رسول اﷲ(ص) میرے ماں باپ آپ(ص) پر قربان کیا وجہ ہے کہ جس طرح یہ نماز جنازہ پڑھائی گئی ہے کسی اور کی نہیں پڑھائی گئی، جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا اے ابویقظان وہ اسی لائق تھیں۔ ابو طالب(ع) کثیرالعیال تھے۔ یہ فاطمہ(س) دوسرے بچوں کا کم اورمیرا خیال زیادہ رکھا کرتی تھیں وہ انہیں برھنہ رکھیتیں اور مجھے لباس پہناتی تھیں۔ وہ مجھے عمدہ طریقے سے نہلاتیں اور ان کی نسبت مجھے زیادہ صاف ستھرا رکھتی تھیں۔ عمار(رض) نے پوچھا آپ(ص) ان(فاطمہ(س)) کی قبر میں بے حس و حرکت اور خاموش کیوں لیٹ گئے تھے ، آپ(ص) نے فرمایا اس لیے کہ لوگ روز قیامت برھنہ محشور ہوں گے اور میں نے خدا سے اصرار کیا کہ انہیں ستر عورت میں محشور کیا جائے ۔ مجھے قسم ہے اس کی جس ک قبضے میں میری جان ہے میں ابھی ان کی قبر سےباہر بھی نہ آیا تھا کہ میں نے دیکھا کہ ان کے سرکی سمت نور کے دو چراغ روشن ہیں دو چراغ ان کے پہلو میں ہیں اور دو چراغ ان کے قدموں کی


طرف روشن ہیں اور دو فرشتوں کو ان کی قبر پر موکل کیا گیا ہے کہ روزِ قیامت تک ان کےلیے مغفرت طلب کرتے رہیں۔

۱۵ـ          ابو مسلم کہتے ہیں ۔ میں حسن بصری اور انس بن مالک کے ہمراہ ام المومنین ام سلمہ(رض) کے گھر گیا انس بن مالک گھر کے دروازے کے باہر ہی بیٹھ گئے اور ہم دونوں گھر میں داخل ہوگئے حسن بصری نے بی بی(ع) کو سلام کیا کہ۔ اے میری ماں آپ پر خدا کی رحمت اور اسکی برکات اور میرا سلام ہو بی بی(س) نے جواب دیا تم کون ہو میری جان میرے فرزند، حسن نے کہا میں حسن بصری ہوں بی بی(س) نے فرمایا کس لیے آئے ہو کہا کہ آپ وہ حدیث ہم سے بیان فرمائیں جو پیغمبر(ص) نے علی(ع) کے بارے میں ارشاد فرمائی ہے۔ بی بی ام سلمہ(رض) نے فرمایا خدا کی قسمیہ حدیث جومیں بیان کررہی ہوں وہ میں نے اپنے کانوں سے جنابِ رسول خدا(ص) سے سنی ہے اور اگر یہ ایسے نہ ہو تو میرے دونوں کان بہرے ہوجائیں میں نے اپنی دونوں آنکھوں سے جنابِ رسول خدا(ص) کو یہ حدیث بیان کرتے دیکھا ہے اگر ایسا نہ ہوتو میں دونوں آنکھوں سے اندھی ہو جاؤں اور میرے دل نے اسے حفظ کر لیا اگر جھوٹ ہو اور اس طرح سے نہ ہو تو میرے دل پر مہر لگا دی جائے اور اس پر بوجھ رکھا جائے میں نے سنا کہ جنابِ رسول خدا(ص) نے علی(ع) سےفرمایا۔ اے علی(ع) جوکوئی تیری ولایت کا منکر ہو اور اس حالت میں خدا سے ملاقات کرے ( روز حساب) تو اسکی ملاقات اس طرح ہوگی جیسے کسی بت پرست کی ملاقات خدا سے ہو۔ ابومسلم کہتے ہیں کہ میں نے سنا حسن بصری نے کہا” اﷲ اکبر“ میں گواہی دیتا ہوں کہ علی(ع) میرے اور ہر مومن کے مولا ہیں پھر جب ہم گھر سے باہر آئے تو انس نے پوچھا تم نے تکبیر کیوں بلند کی تھی۔ ہم نے کہا کہ ہم نے بی بی ام سلمہ(س) سے گزارش کی تھی کہ وہ اس حدیث کو بیان فرمائیں جو انہوں نے جنابِ رسول خدا(ص) سے علی(ع) کے بارے میں سنی ہے لہذا جب انہوں نے حدیث بیان کی تو ہم نے تکبیر بلند کی پھر ہم نے وہ حدیث انس بن مالک کو سنائی تو اس نے بھی گواہی دی کہ اسی طرح تین یا چار احادیث اس نے جنابِ رسول خدا(ص) سے علی(ع) کے بارے میں سنی ہیں۔ صلواة ہو محمد(ص) اور ان کی آل پاک(ع) پر جو طاہر ہیں۔


مجلس نمبر ۵۲

( ۲۴ ربیع الاول سنہ۳۶۸ھ)

حروف جُمِل( حروف ابجد)

۱ـ           ابوالجارود زیاد بن منذر بیان کرتے ہیں کہ ہم سے امام باقر(ع) نے فرمایا جب عیسی بن مریم(ع) پیدا ہوئے تو ان کی نشوو نما اسقدر زیادہ تھی کہ وہ ایک دنمیں دوسرے لڑکوں کے دوبارہ کے برابر بڑھتے۔ جب وہ سات ماہ کے ہوگئے تو ان کی والدہ انہیں لے کر ایک اتالیق کے پاس گئیں۔ جب عیسی(ع) کو اس اتالیق کے سامنے بٹھایا گیا تو اس نے ان سے کہا۔ کہو” بسم اﷲ الرحمن الرحیم“ عیسی(ع) نے کہا” بسم اﷲ الرحمن الرحیم“ پھر اس اتالیق نے کہا اب میں تمہیں حروفِ ابجد سکھاتا ہوں۔ کہو ” ابجد“ عیسی(ع) نے سر اٹھایا اور فرمایا کیا تم جانتے ہو ابجد کیا ہے اس اتالیق نے چھڑی اٹھائی تاکہ عیسی(ع) کوسزنش کرے عیسی(ع) نے کہا اتالیق مجھے مت مارو اگر تمہیں معلوم ہے تو مجھے بتاؤ ورنہ میں تمہیں بتاتا ہوں اتالیق نے کہا تم بتاؤ۔

عیسی(ع) نے فرمایا ” الف“ آلاء خدا ہے یعنی خدا کی نعمتیں ”ب“ بھیجتہ اﷲہے”ج“ جمال خدا ہے” د“ دین خدا ہے” ہوز“ ہولِ ( خوف) دوزخ ہے ”و“ سے مراد وائے اہل دوزخ پر اور اہل دوزخ کی ہلاکت ہے ” ز“ زافیر دوزخ یعنی اہل جہنم کی فریاد اور جہنم کا گناہ گاروں کے لیے جوش مارنا ہے” ح“۔ ”حطی“ کہ استغٰفار سے گناہ کم و زائل ہوتے ہیں۔ ” ک“ ۔”کلمن“ کہ یہ کلمات خدا ہیں اور یہ تبدیل نہ ہوں گے” سعفض“ یعنی پیمانہ کے عوض پیمانہ ہے اور جزاء کے بدلے جزاء ہے” قرشت“ کہ سب قبروں میں لٹا دیئے جائیں گے اور پھر محشور ہوں گے اس اتالیق نے مادرِ عیسی(ع) سے کہا کہ اے خاتون اپنے فرزند کو لے جائیے یہ دانشمند ہیں اور انہیں کسی معلم کی ضرورت نہیں۔

۲ـ           عثمان بن عفان نے رسول خدا(ص) سے  کہا کہ ابجد کی تفسیر فرمائیے جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا


میں تمہیں تفسیرِ ابجد بتاتا ہوں کہ تمام عجائبات اس میں ہیں وائے ہوعالم پر کہ تفسیر ابجد کا اسے علم نہیں۔ آپ(ص) نے فرمایا ”الف“ سے مراد خدا کی نعمتیں ہیں اور یہ حرف اسما کے راہنما مٰیں سے ہے ” با“ بھجتہ خدا یعنی خدا کی خوشی ہے” ج“ جنت و جلال وجمال خدا ہے” د“ دینخدا ہے ” ہوز“ یعنی ہا“ ہاویہ ہے  وائے ہو اس پر کہ جو دوزخ میں نیچے چلا جائے اور وائے ہو اہل دوزخ پر ”ز” سے مراد زاویہ  دوزخ ہے اور خدا کی پناہ کہ  جو کچھ جہنم کے اس گوشے زاویہ میں ہے ” حطی“ اس سے مراد یہ کہ گناہ مغفرت طلب کرنے سے زائل ہوتے اور کم ہوتے ہیں اور جو کچھ جبرائیل(ع) نیچے لاتا ہے شب قدر میں یہاں تک کہ اس کی سفیدی ظاہر ہو۔ ” ط“ سے طوبیٰ ان کے ساتھ ہے ( مغفرت طلب کرنے والوں کے ساتھ) اور یہ وہ جنت ہے کہ خدا نے اسے لگایا ہے اور روح القدس کو اس میں پھونکا ہے اس کی شاخیں بہشت کی پچھلی دیوار سے نمایاں ہیں اور اس سے بہشیتوں کو لباس و زیور عطا کیے جاتے ہیں۔ ”یے“ یداﷲ ہے جو اس کی تمام خلق پر ہے سبحانہ و تعالیٰ عما یشرکونیعنی اﷲ کی ذات اس سے کس بلندتر یہ جس سے وہ شرک کرتے ہیں۔” ک“ یعنی کلمن“ کہ یہ کلام خدا ہے اور کلمات خدا میں تبدیلی نہیں ہے اور اس کے علاوہ کوئی پناہ گاہ نہیں ”ل“ کہ یہ بہشتیوں کا الحام و درود  ہے جو وہ اپنے پیغمبر(ص) کی زیارت کے وقت بھیجتے ہیں اور تحیہ و درود  جو وہ ایک دوسرے پر بھیجتے ہیں اور دوزخی ایک دوسرے پر ملامت کرتے ہیں۔ ”م“ ملک خدا ہے کہ زوال نہیں رکھتا” و“ دوام خدا ہے کہ اسے فنا نہیں ہے”ن“ نون والقلم وما یسطرون ہے کہ قلم نور اور کتابِ نور سے لوح محفوظ میں ہے کہ مقربین اس پر گواہ ہیں اور خدا گواہی کے لیے کافی ہے ” سعفص“ یعنی ”ص“ کہ پیمانہ پیمانے کے ساتھ اور بدلہ بدلے کے ساتھ ہے۔ یعنی جزاء جزاء کے ساتھ چنانچہ صرف وہی جزاء دیتا ہے بیشک خدا بندے پر ستم نہ کرے گا۔ ” قرشت“ یعنی ان کو دفن کیا جائے گا اور محشور کیا جائیگااور ان کو ( لوگوں کو) منتشر کردیا جائیگا۔ روز قیامت کی طرف اور وہ ( خدا) ان میں حکم کرے گا اور اس وقت ستم نہ ہوگا۔

۳ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جب بندہ کسی ظلم کو دیکھئے اور ظالم پر نفرین کرے تو خدا فرماتا ہے یہ دوسری جگہ ہے کہ تم نے ظلم پر نفرین کیا ہے اگر چاہو تو میں تمہارے عمل کو اسطرح قبول کروں کہ تم


میرے عفو کے حقدار ہوجاؤ۔

۴ـ          حبیب بن عمرو کہتے ہیں میں جنابِ امیر(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے آپ(ع) کے مرض الموت کے دوران آپ(ع) کے زخم کو کھول کر دیکھا اور ان سے کہا یا امیرالمومنین(ع) آپکا زخم زیادہ نہیں ہے اور اس سے آپ(ع) کو کوئی خطرہ نہیں۔

جناب امیر(ع) نے فرمایا اے حبیب میں تمہیں داغِ مفارقت دے جاؤں گا یہ سن کر میں نے گریہ کیا اور میرے ہمراہ آپ(ع) کی صاحبزادی ام کلثوم(س) جو کہ آپ(ع) کے پاس تشریف فرما تھیں وہ بھی رونے لگیں۔ جنابِ امیر(ع) نے یہ دیکھ کر ان سے فرمایا اے میری دختر تم کیوں گریہ کناں ہو بی بی(س) نے جواب دیا بابا مجھے آپ(ع) کی جدائی کا غم رلارہا ہے جنابِ امیر(ع) نے فرمایا بیٹی گریہ مت کرو خدا کی قسم اس وقت جو کچھ تمہارا باپ دیکھ رہا ہے اگر تم بھی دیکھ لیتی تو گریہ نہ کرتی حبیب کہتے ہیں میں نے پوچھا یا امیرالمومنین(ع) آپ(ع) کیا دیکھ رہے ہیں آپ(ع) نے فرمایا اے حبیب میں دیکھ رہا ہوں کہ آسمان کے تمام فرشتے تشریف لائے ہیں اور ان کے پیچھے پیغمبران کھڑے ہیں جو کہ میری ملاقات کے مشتاق ہیں۔ اور میرے برادر محمد(ص) رسول خدا(ص) بھی میرے پاس تشریف فرما ہیں اور ارشاد فرمارہے ہیں کہ میرے پاس آؤ جس گرفتاری ( تکلیف) میں تم مبتلا ہو اس سے کہیں بہتر تمہارے لیے تیار ہے۔ حبیب کہتے ہیں کہ ابھی میں جناب امیر(ع) کے پاس سے رخصت نہیں ہوا تھا کہ آپ(ع) کی رحلت ہوگئی۔

جب آپ(ع) کی وفات کو دوسرا دن ہوا تو امام حسن(ع) صبح کے وقت مبنر پر گئے اور خطبہ ارشاد فرمایا کہ اس خدا کی حمد و ستائش ہے، اے لوگو! یہ شب تھی کہ اس میں قرآن نازل ہوا یہ وہ شب تھی کہ اس میں عیسی بن مریم(ع) کو آسمان پرلے جایا گیا۔ یہ وہ شب تھی کہ اس میں یوشع بن نون۰(ع) قتل ہوئے اور اس شب میں جناب امیر(ع) دنیا سے رخصت ہوئے خدا کی قسم گذشتہ انبیاء(ع) اور اوصیاء(ع) میں سے کوئی بھی میرے والد سے پہلے بہشت میں نہ جائے گا اور ان کی مانند کوئی دوسرا نہ تھا کہ جب رسول خدا(ص) ان کو جہاد پر بھیجتے تو جبرائیل(ع) ان کے دائیں طرف اور میکائیل(ع) ان کے بائیں طرف ان کے ہمراہ جنگ کرتے۔ انہوں نے اپنے پیچھے کوئی سونے چاندی کا ترکہ نہیں چھوڑا سوائے ان


 سات  سو درہم کے جو ان کی ذاتی ملکیت تھے اور جن سے وہ اپنے گھر والوں کے لیے ایک غلام خریدنا چاہتے تھے۔

۵ـ          جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا (لوگو) میں تمہیں آگاہ نہ کروں اس بندے سے کہ جس پر دوزخ کی آگ حرام ہے؟ عرض کیا گیا کیوں نہیں یا رسول اﷲ(ص) ، آپ(ص) نے فرمایا برائی سے دوری اختیار کرنے والا۔لوگوں میں مانوس ( یعنی محبت و خوش خلقی کرنے والا) نرمی اختیار کرنے والا اور سادگی اختیار کرنے والا۔

۶ـ           عیص بن قسم کہتے ہیں کہ امام صادق(ع) نے اپنے والد(ع) سے اس حدیث کو نقل کیا ہے کہ رسول خدا(ص) گندم کی روٹی ہرگز سیر ہو کہ نہ کھاتے۔ اور جوکی روٹی بھی بھوک سے کم تناول فرماتے تھے۔

۷ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا خدا فرماتا ہے اے ابن آدم جو کچھ میں نے تمہیں حکم دیا ہے اس کی اطاعت کر اور مجھ سے ہدایت طلب کر۔

۸ـ          جنابِ رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا، خدا فرماتا ہے اے ابن آدم تو مجھے صبح و شام یاد کرتا کہ میں تیرے شبہات دور کرؤں اور تجھے ہدایت بخشوں۔

رسول خدا(ص) کی رحلت کے بعد علی(ع) کا خطبہ

۹ـ           یہ خطبہ جنابِ امیر(ع) نے رحلت پیغمبر(ص) سے نو(۹) روز بعد جب کہ وہ جمع قرآن سے فارغ ہوچکے تھے ارشاد فرمایا۔ آپ(ع) نے فرمایا تمام شکر و تعریف س خدا کے لیے ہے جس نے اوہام و تخیلات کو اس کی ذات تک پہنچنے سے سوائے موجود ہونے کے عاجز کردیا۔ اور عقلوں پر پردہ ڈال دیا ہے اس بات سے کہ وہ اس کیذات میںشبہ یا شکل کو تصور و تخیل کرسکے بلکہ اس کی ذات میں کوئی تفاوت و فرق نہیں اس کے کمال میں عددی تجزیہ کے ذریعے اجزا نہیں کیے جاسکتے۔ اس نے اشیا کو جگہوں کے اختلاف کے بغیرہ ایک دوسرے سے جدا کیا۔ ان اشیاء سے بغیر ملے ہوئے اس نے قدرت پائی بغیرآلات کی مدد سے اس نےان اشیاء کو پہچانا جب کہ مخلوق کا علم بغیر آلات و اوزار کے نہیں ہوتا، اس کے اور معلوم کے درمیان اس کے علاوہ کسی کا علم نہیں ہے اگر یہ کہا جائے کہ وہ تھا


تو ازلیت وجود کی توضیح و تشریح کی بنیاد پر کہا جاسکتا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ ” ولم یزل“ ہے تو کلی عدم کی بناء پر کہا جاسکتا ہے اور اﷲ تعالی کی ذات پاک منزہ ہے اس شخص کے قول سےکہ جس نے اس کے علاوہ کسی کی بندگی کی اور کسی کو اپنا معبود اس کے علاوہ بنایا۔

ہم اس حمد کے ساتھ اس کی حمد و ثناء کرتے ہیں کہ جو اس نےاپنی مخلوق کے لیے پسند کی اور جس کی قبولیت کو اپنی ذات کے لیے ضروری قرار دیا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اﷲ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ واحد ہے اس کا کوئی شریک نہیں، میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد(ص) اس کے بندے اور رسول(ص) ہیں یہ دو شہادتین قول کو سربلند اور عمل کو دو چند کرتی ہیں، میزان ہلکی ہوجاتی ہے جب دونوں اس سے اٹھائی جاتی ہیں اور میزان بھاری ہوجاتی ہے جب دونوں اس میں رکھ دی جاتی ہیں، ان ہی دونوں شہاتوں کے ذریعے جنت حاصل ہوتی ہے اور دوزخ سے نجات ملتی ہے اور پل صراط سے گذرا جاسکتا ہے اور درود وسلام  سے رحمت پاتے ہیں اور پس تم اپنے نبی(ص) پر کثرت سے درود بھیجو۔ یقینا اﷲ اور اسکے فرشتے بنی(ص) پر درود بھیجتے ہیں اے صاحبانِ ایمان تم بھی اس(ص) پر درود بھیجو اور سلام کرو جیسا کی سلام کرنے کا حق ہے۔

اے لوگو! اسلام سے بڑھ کر کوئی شرف اور پرہیزگاری سے عزیزتر کوئی کرم و بزرگی نہیں۔ گناہوں سے اجتناب سے بڑھ کر کوئی پناہ گاہ نہیں توبہ سے کامیاب ترین کوئی سفارش کنندہ نہیں۔ علم سے زیادہ نفع بخش کوئی خزانہ نہیں۔ حلم سے بلندتر کوئی عزت نہیں ادب سے بلیغ ترین کوئی حساب نہیں غصب سے گھٹیا کوئی نسب نہیں۔ عقل سے زیادہ کوئی جمالِ آراستہ و پیراستہ نہیں جھوٹ کی برائی سے بڑھ کر کوئی برائی نہیں خاموشی سے زیادہ حفاظت کرنے والی کوئی شئے نہیں۔ عافیت سے خوبصورت کوئی لباس نہیں اور کوئی غائب موت سے زیادہ قریب نہیں۔

لوگو: جو شخص سطح زمین پر چلتا ہے وہ اپنی قبر کی طرف جاتا ہے شب و روز زندگیوں کو ختم کرنے میں تیزی میں مصروف ہیں ہر جاندار کے لیے ایک روزی ہے۔  ہر دانے کا ایک کھانے والا ہے اور تم موت کی غذا ہو اور بیشک جس نے گردشِ ایام کو پہچان لیا وہ تیاری سے غافل نہ رہا۔ کوئی مالدار اپنے مال کی وجہ سے اور کوئی فقیر اپنی غربت اور قلت مال کی وجہ سے موت سے نجات نہیں پائےگا۔


اے لوگو: جس کو خوفِ خدا ہے وہ ظلم سے بچا۔ جس شخص نے اپنی گفتگو پر دھیان نہیں دیا اس کی بیہودہ گوئی ظاہر ہوگئی۔ جس نے خیر کو شر سے نہیں پہچانا وہ جانوروں کی طرح ہے مستقبل کے بڑے فاقے( احتیاج) کی موجودگی مصیبت کو چھوٹا نہیں کرتی۔ دور ہو دور ہو تم نے نا واقفیت کا اظہار نہیں کیا سوائے اس کے جو تم میں نافرمانیاں اور گناہ پائے جاتے تھے اس نے راحت کو مشقت سے اور مفلسی اور محتاج کو آسودگی سے قریب نہیں کیا۔ کوئی شر شر نہیں، جس کے بعد جنت ہو اور کوئی خیر، خیر نہیں جس کے بعد دوزخ ہو۔ ہر آسودگی و مداحت سوائے جنت کے حقیر و کم تر ہے۔ اور ہر غم جہنم کے علاوہ عافیت ہے۔

۱۰ـ          جنابِ رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا ۔ کیا میں تمہاری اس چیز کے لیے راہنمائی نہ کردوں کہ جس سے تمہارے گناہوں کا کفارہ اور نیکیوں میں اضافہ ہو۔ عرض کیا گیا کیوں نہیں یا رسول اﷲ(ص)، آپ(ص) نے فرمایا جب وضو کرو تو کامل کرو مسجد میں بہت زیادہ جایا کرو نماز کے وقت کا انتظار کرو۔ وہ بندہ تم میں سے نہیں جو نماز کے وقت کا منتظر رہے اور مسلمانوں کے ساتھ با جماعت نماز ادا کرے مگر اپنے گھر کو برائی سے پاک نہ کرے سوائے اس کے کہ فرشتے اس کے لیے کہیں کہ خدایا اسے معاف فرمادے اور اس پر رحم کر، جب نماز پڑھو تو اپنی صفوں کو پر کرو، جب تمہارا امام ” اﷲ اکبر“ کہے تو تم بھی اﷲ اکبر“ کہو ۔ اور جب وہ ” سمیع اﷲ حمدہ“ کہے تو تم ” اللہم ربنا لک الحمد“ کہو۔ اور بہترین صف مردوں کی اگلی صف ہے اور آخری صف ( گناہوں سے ) بری ہے۔

۱۱ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا ۔ جب موسی بن عمران(ع) نے چاہا کہ وہ جناب خضر(ع) سے رخصت لیں تو انہوں نے (موسی(ع)) جنابِ خضر(ع) سے کہا کہ مجھے کچھ نصیحت کریں۔ انہوں نے فرمایا بلا ضرورت سفر مت کرو۔ بے سبب مت مسکرؤ اپنے گناہوں اور اپنی خطاؤں کو یاد رکھو اور لوگوں کے عیوب سے چشم پوشی کرو۔

۱۲ـ          حذیفہ بن یمان(رض) سے یمان(رض) نے اپنی موت کے وقت اپنے فرزند کو وصیت کی کہ اے میرے بیٹے جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے نا امید رہو۔ لوگوں سے حاجت نہ رکھو کہ اس کا حاصل فقر ہے اپنے گذرے ہوئے کل سے اپنے آج کو بہتر گزارو جب نماز ادا کرو تو اسے بہتر


طریقے سے دنیا سے روانہ کرو اور جان لو کہ نیک وجہ کے بغیر کوئی عمل انجام نہ دو۔

۱۳ـ          امام باقر(ع) نے فرمایا اپنے مسلمان بھائی کو دوست رکھو اور جو کچھ اپنے لیے بہتر سمجھتے  ہو اس کے لیے بھی وہی  بہتر جانو۔ جس چیز سے تم کنارہ کشی اختیار کرتے ہو۔ اس کو بھی اس سے کنارہ کش رہنے کے لیے کہو۔ اور جب  اسے کوئی ضرورت ہو تو اس کی ضرورت پوری کرو۔ اگر تمہیں اس سے کوئی خواہش ہو تو اسے بیان کرو اس کے لیے خیر کو اختیار کیے رکھو۔کہ وہ بھی تمہارے لیے خیر چاہتا ہے اس کی پشت پر رہو تاکہ وہ تمہاری پشت پناہی کرے۔ اگر وہ تم سے اوجھل ہو تو اسے کے عیوب ظاہر نہ کرو۔ اگر وہ حاضر ہوتو اس کی تعظیم کرو۔ اور اس کا احترام کرو کیوں کہ وہ تم سے ہے اور تم اس سے ہو۔ اگر اسے تم سے کوئی شکوہ ہے تو اس سے جدا مت رہو بلکہ اس سے اس شکوہ کا سبب دریافت کرو اور جو تمہارے دل میں ہے وہ اس سے بیان کرو اور اس سے پوچھ لو اگر اسے کوئی نفع پہنچے تو خدا کی حمد کرو اور شکر ادا کرو اور اگر وہ کسی مصیبت میں گرفتار ہو تو اس کی مدد کرو اسکی چارہ جوئی کرو۔

مواخات

۱۴ـ          مخدوج بن زید زھلی کہتے ہیں جب رسول اﷲ(ص) نے  مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ برادرانہ رشتے میں منسلک کردیا تو علی(ع) سے فرمایا اے علی(ع) تم میرے بھائی ہو۔ اور تم مجھ(ص) سے وہ نسبت رکھتے ہو جو ہارون(ع) کو موسی(ع)  سے تھی مگر یہ کہ میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہوگا۔ اے علی(ع) لوگ نہیں جانتے کہ روز قیامت مجھے سب سے پہلے بلایا جائیگا۔ میں عرش کے دائیں طرف کھڑا ہوں گا اور میں نے حلہِ سبز زیب تن کیا ہوگا۔ اس کے بعد پیغمبروں کو بھی طلب کیا جائیگا۔ جو سایہ عرش میں دائیں طرف دو صفین بنائے کھڑے ہوں گے۔اور سبز بہشتی لباس زیب تن کیے ہوں گے۔

اے علی(ع) آگاہ ہو جاؤ۔ کہ سب سے پہلے وہاں جس امت کا محاسبہ ہوگا وہ میری امت ہوگی۔ میں تمہیں بشارت دیتا ہوں کہ مجھ سے نسبت کی وجہ سے تمہیں سب سے پہلے مقام قرب کے لیے دعوت دی جائے گی۔ اور میں اپنا پرچم جو کہ پرچم حمد ہے تمہیں عطا کروں گا۔ تم اسے ان دونوں


 صفوں کے درمیان اٹھائے ہوگے آدم(ع) اور تمام خلقِ خدا روز قیامت میرے پرچم تلے ہوگی جس کا طول ہزار سال کی مسافت کے برابر ہوگا۔ اس علم کی چوب  چاندی کی اور چوٹی سرخ یاقوت کی ہوگی اس علم کے تین پلےہوں گے ایک مشرق دوسرا مغرب اور تیسرا تمام جہاں پر پھیلا ہوا ہوگا۔ ان پر تین سطریں لکھی ہوں گی۔ پہلی ” بسم اﷲ الرحمن الرحیم“ دوسری میں ” الحمد ﷲ رب العالمین“ اور تیسری سطر میں” لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ“ لکھا ہوگا۔ اس ہر سطر کا طول ہزار برس کی راہ کے برابر اور اس کا عرض بھی اتنا ہی وسیع ہوگا۔ اے علی(ع) تم وہ علم اٹھاؤ گے حسن(ع) تمہارے دائیں جانب اور حسین(ع) تمہارے بائیں جانب ہوں گے۔ تم سایہ عرش میں میرے پاس آؤ گے ایک سبز بہشتی حلہ تمہیں پہنایا جائے گا اس وقت خدا کی طرف سے منادی آواز دے گا اے محمد(ص) کیا اچھا باپ ہے تمہارا ابراہیم(ع) اور کیسا اچھا بھائی ہے تمہارا علی ابن ابی طالب(ع)۔


مجلس نمبر۵۳

( ۲۶ ربیع الاول سنہ۳۶۸ھ)

حروف معجم( حروف تہجی)

۱ـ           ابوالحسن علی بن موسی رضا(ع) نے فرمایا کہ سب سے پہلے خدا نے اپنی خلق کو پہچاننے کے لیے حروف تہجی کو تخلیق کیا جب کسی آدمی کے سرپر لاٹھی ماری جائے تو خیال یہ ہے کہ وہ بعض کلام کو بیان نہیں کرسکتا تو اس کے لیے حکم یہ ہے کہ اس پر حروف معجم پیش کیے جائیں پھر اس کو اتنی دیت دی جائے جتنے حروف ہجامن  سے اس نے ادا نہیں کیے میرے والد(ع) نے اپنے والد(ع) اور انہوں نے اپنے دادا(ع) کے حوالے جنابِ امیر(ع) سے روایت کیا ہے کہ الف سے مراد خدا کی نعمتیں ہیں۔

” ب“ بھجتہ اﷲ ( باقی بدیع السموات والارض) ” ت“ سے قائم آل محمد(ص) کے ذریعے سے تمام امور ” ت“ تکمیل عمل سے ہے” ث“ اعمال صالحہ کا ثواب ہے جو مومنین کے لیے ہے ”ج“ جلال و جمال خدا ہے”ح“ خدا کا حلم ہے جو گناہ گاروں کے لیے ہے ”خ“ سے مراد خمول یعنی گناہ گاروں کے ذکر کی خدا کے نزدیک گمنامی ہے”د“ دین خدا ہے ( جو اس نے اپنے بندے کے لیے بنایا) ” ذ“ ذوالجلال سے ہے”ر“ رؤوف و رحیم کے لیے ہے”ز“ قیامت کے زلزلے کے لیے ہے ” س“ سناء اﷲ کی بلند شان اور اس کی سرمدیت ”ش“ کہ خدا جو چاہے اور جو ارادہ کرے اور تم نہیں چاہتے جو وہ چاہتا ہے”ص“ کہ لوگوں کی صراط پر مدد کرنے میں (خدا) وعدے کا سچا ہے اور ظالموں کو گھات لگاکر پکڑنے والا ہے ” ض“ یعنی وہ بندہ گمراہ ہے جو آل محمد(ص) کا مخالف ہے” ط“ سے مراد طوبی ہے جو مومنین کے لیے ہے اور وہ کیا اچھا مرجع ہے ”ظ “ سے مراد ظن ہے کہ مومنین کا خدا کے بارے میں بہتر رائے رکھنا اور کافروں کا ظن انہیں نقصان پہنچانے والا ہے” ع“ (عین) عالم سے ہے اور ”غ“ (غین) غنی سے کہ جو ( خدا) بے نیاز ہے اور کوئی حاجت نہیں رکتھا ”ف“ سے مراد دانہ گھٹی کو شگافتہ کرنے والا اور افواجِ جہنم سے ہے”ق“ قرآن ہے اور اس کا جمع


 کرنا اور پڑھانا خدا پر ہے ”ک“ کافی کے لیے اور ”ل“ سے مراد کفارہ کا لغو ہے کہ جو وہ خدا پر بہتان اور جھوٹ باندھتے ہیں۔”م“ سے مراد خدا کا مالک یوم الدین ہونا ہے کہ اس کےسوائے اس کا کوئی مالک نہیں ہے اور خدا فرمائے گا کہ آج کس کا مالک اور کس کی ملکیت ہے تو اس وقت ارواح پیغمبران و رسول و حجت خدا  سب مل کر کہیں گے کہ یہ خدائے قہار کی ملکیت ہے۔ خدا فرمائے گا ” آج ہر ایک کو اس کے کہے کا اجر دیا جائیگا۔ آج کے دن کسی پر ظلم نہیں کیا جائیگا۔ بیشک خدا جلد حساب لینے والا ہے( مومن، آیت نمبر۱۶) ” ن“ سے مراد نوالِ ( مہربانی و بخشش) خدا ہے جو صرف مومنین کے لیے ہے۔ اور کفار کے لیے” نکال“( عذاب) و کیفر الہی ہے ” و“ وائے ہے اس پر جو خدا کی نافرمانی کرتا ہے ”ھ“ کہ یہ خدا پر آسان ہے کہ جو اس کی نافرمانی کرے اسے حقیر و ذلیل کرے( رجوع کریں پچھلے صفحات پر”ھ“ کی تفسیر ہاویہ جو کہ دوزخ کا ساتواں طبقہ ہےسے کی گئی ہے) ”ل“ یعنی لا الہ الا اﷲ ہے اور یہ کلمہء اخلاص ہے اور جو کوئی بھی اسے خلوص دل سے کہے تو اس پر بہشت واجب ہوگی۔ ” ی“ کہ اس سے مراد یداﷲ ہے یعنی خدا کا ہاتھ جو اس کی تمام خلق پر ہے اور وہ رزق عطا کرتا ہے اور جو اس کے بارے میں شرک کیا جاتا ہے وہ اس سے پاک و بلند ہے۔ پھر امام(ع) نے فرمایا خدا نے قرآن کو ان کے حروف کے ساتھ نازل کیا ہے جو تمام عرب میں مستعمل و رائج ہیں پھر خدا نے فرمایا اے محمد(ص) کہہ دو اگر تمام جن و انس جمع ہوکر اس قرآن کا مثل لے آئیں تو وہ نہیں لاسکتے اگرچہ وہ ایک دوسرے کے معاون و مددگار بن جائیں۔ ( بنی اسرائیل، ۸۸)

۲ـ           جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا جو شخص نماز جمعہ کے بعد ایک مرتبہ سورہ حمد اور سات مرتبہ ” قل ھو اﷲ“ اس کے بعد ایک مرتبہ ” سورہ حمد“ اور پھر سات بار ” قل اعوذ برب الناس“ پڑھے تو اس پر مصیبت نہ آئے گی اور وہ فتنے کو نہ دیکھے گا اور اگلے جمعہ تک اسی طرح رہے گا ۔ اگر وہ دعا کرے گا کہ بارالہا مجھے ہمارے پیغمبر(ص) اور جناب ابراہیم(ع) کے ساتھ اہل بہشت میں داخل کردے جو برکت سے بر ہے اور جس کے آباد کرنے والے فرشتے ہیں تو  خدا اسے اس میں داخل کردے گا اور اسے جنابِ ابراہیم(ع) اور میرے ( رسول خدا(ص)) ساتھ دارالسلام میں وارد کرے گا۔


کفن چور اور اسکا ہمسایہ

۳ـ          امام زین العابدین(ع) فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کا ایک شخص قبریں کھود کر کفن چوری کیا کرتا تھا۔ اس کے ہمسائے میں ایک بوڑھا شخص سکونت پذیر تھا جو قریب المرگ تھا ایک دن اس نے اس کفن چور کو بلایا اور اس سے کہا تم میرے بہترین ہمسائے ہو۔ میں تم سے ایک درخواست کرنا چاہتا ہوں کہ یہ دو مکمل کفن رکھے ہیں ان میں سے تجھے جو بہتر لگے  وہ اٹھا لے اور میرے مرنے کے بعد میری قبر کو کھود کر دوسرے لوگوں کی مانند میرا کفن چوری نہ کرنا۔ اس کفن چورنے یہ سن کر انکار کیا اورکفن نہ لیا۔ مگر اس بوڑھے آدمی نے اصرار کیا اور بوڑھا وہ عمدہ کفن اسے دیدیا جو اس چورنے رکھ لیا۔ جب وہ بوڑھا شخص فوت ہوگیا۔ تو اس کفن چور کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اب اس بوڑھے کو کیا معلوم ہوگا کہ میں نے اس کا کفن چوری کیا ہے یا نہیں لہذا اس کا کفن چوری کرنا چاہیے۔ جب اس بناش ( کفن چور) نے اس کی قبر کھول کر اس کفن اتارنا چاہا تو ہاتف غیبی نے آواز دی کہ ” ایسا مت کر“ بناش یہ سن کر خوفزدہ ہوگیا اور اپنا ہاتھ روک کر گھر چلا آیا۔ گھر آکر اس نے اپنے فرزند سے کہا کہ میں تمہارے لیے کیسا باپ ثابت ہوا ہوں فرزند نے کہا۔ آپ بہترین والد ہیں اس  نے کہا میں تم سے ایک حاجت رکھتا ہوں ۔ فرزند نے کہا فرمائیں۔ اس نے کہا جب میں مرجاؤں اور لوگ مجھے جلادیں تومیری راکھ اکٹھی کرنا اور اسے خوب کوٹ کر تیز ہوا میں بکھیر دینا یہ میری وصیت ہے اس لڑکے نے کہا ٹھیک ہے۔

جب وہ نباش مرا اور اسے جلایا گیا تو اس کے فرزند نے اس کی لاش کی راکھ اکٹھی کی اور اسے کوٹ کر تیز ہوا میں بکھیر دیا تو خدا نے بیابان اور دریا کو حکم دیا کہ اس کی راکھ اکٹھی کی جائے، جب راکھ اکٹھی ہوگئی تو حکم دیا کہ اسے (نباش) میرے سامنے حاضر کیا جائے لہذا نباش کو لاکھڑا کیا گیا۔ خدا نے اس سے کہا تونے اپنے فرزند کو یہ وصیت کیوں کی۔ نباش نے جواب دیا خدایا تیری عزت اور تیرے خوف کی وجہ سے میں نے ایسا کیا۔ خدا نے ارشاد فرمایا میں تیری اس خدا خوفی کی وجہ سے تجھ سے راضی ہوں اور تیرے خوف کو ہٹاتا ہوں اور تجھے معاف فرماتا ہوں۔


۴ـ          جنابِرسول خدا(ص) نے فرمایا جب بندہ اپنا کفن تیار کرتا ہے اور اسے دیکھتا ہے تو خدا اس کے اس عمل کا اسے اجر عطا کرتا ہے۔

۵ـ          جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا بہشت میں غرفہ ( دریچہ ،کھڑگی ، بالاخانہ وغیرہ) ہے کہ جس کا اندروں اس کے بیرون سے اور بیرون اس کے اندرون سے پیدا ہوا ہے اور میری امت میں سے ایسے لوگ جو خوش کلام۔ لوگوں کو کھانا کھلانے والے۔ اپنا اسلام ظاہر کرنے والے اور عبادت شنبہ کرنے والے ہوں گے وہاں قیام کریںگے جناب علی ابن ابی طالب(ع) نے رسول اﷲ(ص) سے کہا یا رسول اﷲ(ص) ان باتوں کی وضاحت فرمائیں۔

آپ(ص) نے فرمایا ۔ اے علی(ع) جانتے ہو خوش کلام کیا ہے وہ یہ ہے کہ صبح و شام دس بار سبحان اﷲ والحمد ﷲ ولا الہ الا اﷲ واﷲ اکبر“ کہے لوگوں کو کھانا کھلانا یہی ہے کہ مرد جو کچھ اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتا ہے نماز شبینہ یہ ہے کہ جو کوئی شخص نمازِ عشاء اور نمازِ فجر کو با جماعت مسجد میں ادا کرے اور یہ اس طرح ہے کہ جیسے کسی نے تمام رات عبادت میں گذاردی ہو۔ اور اسلام کا ظاہر کرنا یہ ہے کہ انسان مسلمان پر سلام بھیجنے میں بخل سے کام نہ لے۔

۶ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا کوئی شخص کسی نیک کام کے انجام کا سوچ کر اس میں سستی نہ  کرے۔

۷ـ          امام رضا(ع) کے غلام سے منقول ہے کہ امام (ع) نے فرمایا کوئی مومن اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اس میں تین خصلتیں موجود نہ ہوں، اول اپنےپروردگار کی سنت پر عمل ، دوئم اپنے نبی(ص) کی سنت پر عمل کرنا اور  سوئم اپنے امام(ع) کی سنت پر عمل۔

پروردگار کی سنت یہ ہے کہ راز کو راز رہنے دیا جائے اسے تلاش نہ کیا جائے خدا فرماتا ہے ” دانائی پوشیدہ ہے“ ( دانائی یعنی علم الغیب) اور کوئی ایک شخص بھی اس سے آگاہ نہیں ہوتا مگر وہ رسول کہ جس کو وہ ( خدا) خود پسند کرے۔

پیغمبر(ص) کی سنت یہ ہے کہ لوگوں کے ساتھ مدارات کی جائے کیوںکہ خدا نے اپنے پیغمبر(ص) کو حکم دیا ہے کہ لوگوں سے نیکی سے پیش آؤ عفو اختیار کرو اور خواہشات سے منہ پھیر لو۔


اپنے امام کی سنت یہ ہے کہ سختی میں صابر رہو اور شکوہ نہ کرو خدا فرماتا ہے کہ جو لوگ سختی میں صبر کرتے ہیں وہی متقی ہیں۔

۸ـ          جنابِ رسول خدا(ص) نے امام حسین(ع) سے فرمایا اے حسین(ع) تیرے صلب سے ایک فرزند پیدا ہوگا جس کا نام زید ہوگا۔ وہ اور اس کے ساتھی روزِ قیامت لوگوں کی گردنوں پر اپنے قدم رکھتے ہوں گے۔( فضیلت میں بلند مقام پر فائز ہوں گے) اور نورانی چہرے لیے بغیر حساب بہشت میں داخل ہوں گے۔

۹ـ           جناب رسول خدا(ص) نے اپنے بالوں پر اپنا دستِ مبارک رکھ کر فرمایا ۔ جس کسی نے میرے ایک بال کو بھی آزار پہنچایا اس نے مجھے آزار پہنچایا۔ جس نے مجھے آزار پہنچایا اس نے خدا کو آزاردہ کیا۔ اور جو کوئی خدا کو آزردہ کرے تو زمین و آسمان اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔

نیک یا بد

۱۰ـ          عبایہ بن ربعی کہتے ہیں کہ ایک انصاری جوان عبداﷲ ابن عباس کے پاس آیا تو عبداﷲ(رض) نے اسے تعظیم دی اور پاس بٹھایا۔لوگوں نے عبداﷲ ابن عباس(رض) کو مطلع کیا کہ یہ نو جوان جس کی آپ نے تعظیم کی ہے وہ نو سال سے بدکاری میں مبتلا ہے اور رات کو قبرستان جاکر قبروں کو کھودتا ہے ، تو عبداﷲ نے کہا مجھے اس وقت بتایا جائے جب یہ قبرستان گیا ہو، لہذا ایک شب یہ نوجوان قبرستان گیا تو عبداﷲ ابن عباس کو اس کی اطلاع دی گئی عبداﷲ اس کے تعاقب میں قبرستان گئے اور اس کا فعل وعمل دیکھنے کی غرض سے ایک گوشے میں چھپ کر کھڑے ہوگئے جہاں سے  وہ جوان انہیں نہیں دیکھ سکتا تھا۔ انہوں نے دیکھا کہ اس جوان نے ایک قبر کھودی اور اس میں لیٹ گیا پھر اس کی صدا بلند ہوئی کہ واے ہو مجھ پر میں تنہا اپنی لحد میں خوف زدہ ہوگا اور زیر زمین ہوں گا تب مجھے کوئی خوشی حاصل نہیں ہوگی۔ کہ میں اس کا اہل نہیں ہوں گا۔ میری لحد مجھ سے کہے گی تم پر وائے ہو تم نے مجھے پس پشت رکھا لہذا میں تمہیں دشمن رکھتی ہوں تم ایسے وقت میں میری آغوش میں آے ہو کہ میں دیکھتی ہوں کہ انبیاء و


 ملائکہ صف باندھے کھڑے ہیں۔ کل بروز قیامت تجھے کون بچائے گا اور شکنجہ دوزخ سے کون پناہ دے گا۔ پھر اس نو جوان نے فریاد کی کہ میں نے نافرمانی کی اور ہر کسی کو چاہے کہ وہ نافرمانی نہ کرے میں ہر بار اپنے پروردگار سے اس بات کا عہد کرتا ہوں مگر پھر توڑ دیتا ہوں اور بے وفائی ( نافرمانی) کی تکرار ( بار بار) کرتا ہون ۔ جب وہ جوان قبر سے باہر آیا تو عبداﷲ ابن عباس(رض) نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا اور کہا تم بہتر گور کن ہو کہ اپنے گناہ سک عمدگی سے قبر میں یاد کرتے ہو پھر آپ اس کے ساتھ قبرستان سے باہر آئے اور جدا ہوگئے۔

۱۱ـ           جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا جب روزِ قیامت آواز دی جائے گی کہ زین العابدین(ع) کہاں ہیں تو میں دیکھ رہا ہوں کہ میرے فرزند علی(ع) بن حسین(ع) بن علی(ع) بن ابی طالب(ع) کے لیے صفوں کے درمیان راستہ بنا دیا جائیگا۔

۱۲ـ          جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا اے علی(ع) تم میرے بھائی اور میں تمہارا بھائی ہوں مجھے بنوت کے لیے چنا گیا ہے اور تمہیں امامت کے لیے میں صاحب تنزیل ہوں اور تم صاحب تاویل میں اور تم اس امت کے دو باپ ہیں اے علی(ع) میرے وصی ، خلیفہ ، وزیر اور وارث ہو تم میرے دو فرزندوں کے والد ہو تیرے شیعہ میرے شیعہ، تیرے ساتھی میرے ساتھی، تیرے دوست میرے دوست اور تیرے دشمن میرے دشمن ہیں اے علی(ع) تم میرے رفیق ہو کل بروزِ قیامت تم میرے ساتھ حوض کوثر پر ہوگے اور مقام محمود میں میرے ہمراہ ہوگے۔ تم جس طرح دنیا میں میرے علمدار ہو اسی طرح قیامت میں  بھی میرے پرچم بردار ہوگے۔ خوش بخت ہے وہ بندہ جو تجھے دوست رکھے اور وہ بد بخت ہے جو تجھ سے دشمنی رکھتا ہ۔آسمان کے فرشتے تیری دوستی اور تیری ولایت کے ذریعے تقربِ خدا حاصل کرتے ہیں خدا کی قسم تیرے دوست زمین کی نسبت آسمان میں زیادہ ہیں اور اے علی(ع) تم میری امت کے امین ہو اور میرے بعد ان پر خدا کی حجت ہو۔ تیرا کلام میرا کلام  ہے، تیرا امر میرا امر ہے، تیری اطاعت میری اطاعت ہے، تجھے ملامت کرنا مجھے ملامت کرنا ہے، تیری نافرمانی میری نافرمانی ہے، تیرا گروہ میرا گروہ ہے اور میرا گروہ خدا کا گروہ ہے اور وہ ایسے ہیں کہ اﷲ اور اس کے رسول(ص) کو دوست رکھتے ہیں اور ایمان لاتے ہیں بیشک خدا کا گروہ ( حزب اﷲ) ہی کامیاب و غالب ہے۔


مجلس نمبر ۵۴

 ( سلخ ربیع الاول سنہ۳۶۸ ھ۔ بموقع رؤیت ہلال)

۱ـ               جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا تم میں سے جو کوئی بہتر وضو کرتا ہے، اپنی نماز درست پڑھتا ہے ، اپنے مال کو زکوة دیتا ہے، اپنی زبان کی حفاظت کرتا ہے، اپنے غصے کو قابو میں رکھتا ہے، اپنے گناہوں کی مغفرت اور اہل بیت(ع) کی خیر خواہی کرتا ہے تو اس کا ایمان کامل ہے اور اس کے لیے بہشت کے دروازے کھول دیئے گئے ہیں۔

۲ـ              جنابِ رسول خدا(ص) نے اس خطبے میں ارشاد فرمایا اے لوگو جو کوئی ہمارے خاندان کو دشمن رکھتا ہے خدا اسے یہودی مبعوث کرےگا، جابر ابن عبداﷲ اںصار(رض) کہتے ہیں کہ مین نے رسول خدا(ص) سے عرض کیا یا رسول اﷲ(ص) اگر وہ روزہ رکھتا ہو نماز پڑھتا ہو اور اس بات کا معتقد بھی ہو کہ وہ مسلمان ہے تو کیا وہ بھی ایسا ہی ہوگا۔ رسول خدا(ص) نے فرمایا بیشک وہ روزہ رکھتا ہو نماز پڑھتا ہو۔ اور معتقد ہو کہ مسلمان ہے( تو بھی ایسا ہی ہوگا۔)

۳ـ             جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا جو کوئی مسلمانوں کی جماعت سے جدا ہوا اس نے رشتہء اسلام کو گردن سے اتار دیا عرض کیا گیا۔ یا رسول اﷲ(ص) مسلمانوں کی جماعت کونسی ہے آپ(ص) نے ارشاد فرمایا اہل حق بیشک وہ کم ہی کیوں نہ ہوں۔

۴ـ              زید بن ارقم بیان کرتے ہیں کہ کچھ اصحاب رسول(ص) ایسے تھے جن کے دروازے مسجد میں کھلتے تھے ایک روز جنابِ رسول خدا(ص) نے حکم دیا کہ سواے علی(ع) کے دروازے کے مسجد میں باقی تمام اصحاب کے دروازے بند کردئیے جائیں لوگوں نے اس بارے میں جناب رسول خدا(ص) سے بات کی تو رسول خدا(ص) اپنی جگہ سے اٹھے اور خدا کی حمد و ستائش کے بعد فرمایا۔

مجھے مامور کیا گیا ہے( خدا کی طرف سے ) کہ میں سوائے علی(ع) کے دروازے کے بعد مسجد میں کھلنے والے تمام دروازے بند کروا دوں پھر فرمایا خدا کی قسم ایسا میں نےخود نہیں کیا نہ ہی میں ان دروازوں کو کھلواتا ہوں اور نہ ہی بند کرواتاہوں میں جیسا حکم وصول کرتا ہوں ویسے ہی اس کی پیروی


کرتا ہوں۔

۵ـ          جنابِ علی ابن ابی طالب(ع) فرماتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا کسی ایک کے لیے بھی یہ جائز نہیں کہ اس مسجد میں جنب داخل ہو سوائے میرے ( رسول خدا(ص)) اور علی(ع) و فاطمہ(س) و حسن(ع) و حسین(ع) کے اور جو کوئی میرے اہل بیت(ع) میں سے ہے وہ مجھ سے ہے۔

۶ـ           جناب رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا تمام دروازے جو اس مسجد میں کھلتے ہیں بند کروادیئے جائیں سواے علی ابن ابی طالب(ع) کے دروازے کے۔

۷ـ          ابو عمران ( عمران) سے روایت ہےکہ رسول خدا(ص) نے فرمایا گھروں کے دروازے کو مسجد کی سمت سے بند کردو سوائے علی(ع) کے دروازے کے۔

۸ـ          جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا کوئی بندہ مومن نہیں مگر یہ کہ وہ مجھے اپنی ذات سےبھی زیادہ دوست رکھے اور میرے خاندان(ع) کو اپنے خاندان سے زیادہ دوست رکھے اور میری ذات کو اپنی ذات سے پہلے دوست رکھے ایک شخص نے کھڑے ہو کر اس حدیث کے راوی عبدالرحمن سے کہا کہ اے عبدالرحمن تم ترتیب وار اس حدیث کو بیان کیا ہے خدا اس سے (حدیث سے) دلوں کو زندہ رکھے۔

۹ـ           عون بن عبداﷲ کہتے ہیں کہ میں محمد بن حنفیہ(ع) کے ہمراہ ان کے آستانے پر موجود تھا کہ زید بن حسن(رح) ان کے پاس سے گزرے آپ نے انہیں دیکھا تو کہا اولاد حسین(ع) سے زید بن علی(رض) نامی ایک جوان قتل ہوگا۔ جو عراق میں تختہ دار پر لٹکایا جائیگا ۔ جو کوئٰی اسے دیکھے اور اس کی مدد نہ کرے گا خدا اسے منہ کے بل دوزخ میں گرائے گا۔

۱۰ـ          زیاد بن منذر کہتے ہیں میں امام باقر(ع) کے پاس بیٹھا تھا کہ زید بن علی(ع) بن حسین(ع) تشریف لائے امام(ع) نے انہیں دیکھا تو فرمایا یہ اپنے خاندان کے سردار ہیں اور ان ( اہل بیت(ع)) کے خون کو طلب کرنے (بدلہ لینے) والے ہیں یہ بہت زیادہ نجیب ہیں۔ پھر فرمایا اے زید تیری والدہ کیسے شریف فرزند کی والدہ ہیں۔

۱۱ـ           ابوحمزہ ثمالی کہتے ہیں کہ میں حج پر گیا تو امام علی بن حسین(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا


 انہوں نے مجھ سے فرمایا ، اے ابو حمزہ  کیا میں تجھے اپنا خواب بتاؤں جو میں نے دیکھا میں نے کہا کیوں نہیں تو فرمایا سنو میں نے دیکھا کہ میں بہشت میں تکیہ لگائے بیٹھا ہوں کہ میرے پاس بہترین حوریں آئیں اور اس سے پہلے میں نے ایسی حوریں نہیں دیکھی تھیں ان میں سے ایک نے مجھ سے کہا اے علی(ع) بن حسین(ع) میں تمہیں تہنیت پیش کرتی ہوں اور تمہیں زید(رح) کی مبارک باد دیتی ہوں۔ ابو حمزہ بیان کرتے ہیں کہ میں جب دوسرے سال حج پر گیا۔ اور امام(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ وہ اپنے فرزند زید(رح) کو آغوش میں لیے بیٹھے ہیں۔ آپ(ع) نے فرمایا اے ابو حمزہ یہ میرا فرزند میرے اس خواب کی تعبیر ہے۔ کہ میں نے اس(زید) کی پیدائش سےپہلے اسے دیکھا اور خدا نے اسے سچ کر دکھایا۔“ ( یوسف، ۱۰۰)

۱۲ـ          عبدالرحمن بن سبابہ کہتے ہیں کہ امام صادق(ع) نے مجھے ہزار اشرفیان دیں اور فرمایا کہ انہیں اپنے خاندان والوں میں تقسیم کردو۔ لہذا میں نے ان اشرفیوں کو زید بن علی (ع) کے ہمراہ شہید ہونے والوں کے لواحقین میں تقسیم کردیا۔ اور عبداﷲ بن زبیر جو کہ فضیل کے برادر تھے کے حصے میں چار اشرفیاں آئیں۔

۱۳ـ          سلمان فارسی(رض) کہتے ہیں کہ ایک دن میں رسول خدا(ص) کے پاس بیٹھا تھا کہ علی بن ابی طالب(ع) تشریف لائے رسول خدا(ص) نے علی(ع) سے فرمایا اے علی(ع) میں تجھے ایک خوشخبری نہ دوں۔ علی (ع) نے کہا کیوں نہیں یا رسول اﷲ(ص) آپ نے فرمایا جبرائیل(ع) نے خدا کی طرف سے مجھے خبر دی ہے کہ اس نے تیرے حبداروں اور شیعوں کو سات خصلتیں عطا کی ہیں اول ، سکرات موت میں آسانی۔ دوئم وحشت قبر اور اس کے اندھیرے میں روشنی۔ سوئم ۔ خوف محشر سے امان۔ چہارم۔ بوقت میزان پلڑے کا بھاری ہونا۔ پنجم ۔ پل صراط سے گزرنا۔ ششم ۔ تمام سابق امتوں سے پہلے جنت میں داخل ہونا۔ ہفتم ۔ دوسری امتوں سے ۸۰ سال پہلے بہشت میں  داخلہ۔

۱۴ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جو کوئی اپنےمومن بھائی کے اس عیب کو بیان کرے جو خود اس نے اس مومن میں دیکھا ہو اور اپنے کان سے سنا ہو تو ایسے لوگوں کے بارے میں خدا ارشاد فرماتا ہے۔


” بیشک جو بندے دوستے رکھتے ہیں ہرزگی کو اور مومنین میں اس کو رواج دیتے ہیں تو ان کے لیے دنیا اور آخرت دردناک عذاب ہے“ ( نور، ۲۰)

۱۵ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا غیبت یہ ہے کہ تم اپنےبھائی کے اس عیب کو بیان کرو جسے خدا نے پوشیدہ رکھا ہوا ہے اور بہتان یہ ہے کہ تم اسے اس سے نسبت دو جو اس میں نہیں ہے۔

۱۶ـ          امام باقر(ع) نے فرمایا کیسا برا بندہ ہے وہ جو دو منہ اور دو زبانیں رکھتا ہو جو اپنے بھائی کے سامنے اس کی تعریف کرے اور پس پشت اس کا گوشت کھائے۔ اور اگر خدا اسے عطا کرے تو اس سے حسد رکھے۔ اور اگر مصیبت میں گرفتار ہو تو اسے چھوڑ دے۔

۱۷ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جو کوئی کسی کی منہ پر تعریف کرے اور پس پشت اس کے عیب بیان کرے تو روزِ محشر اسے ایسے حاضر کیا جائے گا کہ اس کی زبان آتشیں ہوگی۔

۱۸ـ جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا جو کوئی حکمران( امام عادل(ع)) کی نافرمانی کرے تو اس نے خدا کی نافرمانی کی اور اس کی نہی میں داخل ہوگیا خدا فرماتا ہے۔”خود کو اپنے ہاتھوں مہلک ( ہلاکت) میں نہ گراؤ۔“ بقرہ، ۱۹۵)

۱۹ـ          امام رضا(ع) نے اپنے شیعوں سے فرمایا اے گروہ شیعہ تم اطاعت سلطان کو ترک کر کے خود کو خوار نہ کرو۔ اگر وہ عادل ہے تو خدا اس کی بقاء چاہتا ہے۔ اگر وہ ظالم ہے تو اس کی اصلاح چاہو کہ تمہارے سلطان کی اصلاح تمہاری اصلاح ہے سلطان عادل شفیق باپ کی طرح ہے اس کے لیے دوست رکھو اس چیز کو جو تم اپنے لیے دوست رکھتے ہو۔ اور جو تم اپنے لیے نہیں چاہتے اس کے لیے بھی نہ چاہو۔

۲۰ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا ” ولد الزنا“ کی تین نشانیاں ہیں۔

اول : حاضرین سے بد اخلاقی     دوئم : زنا کا اشتیاق سوئم : ہمارے خاندان سے دشمنی۔

۲۱ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جو کوئی نماز پنجگانہ جماعت کے ساتھ ادا کرے اس سے خوش گمان رہو اور اس کی گواہی قبول کرو۔


امام علی نقی(ع) اور توحید

۲۲ـ          حضرت عبدالعظیم بن عبداﷲ حسنی(رض) کہتے ہیں کہ میں اپنے آقا امام دہم جنابِ علی نقی(ع) بن محمد(ع) بن علی(ع) بن موسی(ع) بن جعفر(ع) بن محمد(ع) بن علی(ع) بن حسین(ع) بن علی(ع) ابن ابی طالب(ع) کی خدمت میں گیا جب آپ(ع) نے مجھے دیکھا تو خوش آمدید کہا پھر فرمایا اے ابو القاسم تم واقعی ہمارے عزیز دوست ہو میں نے ان سے کہا اے فرزند رسول(ص) میں چاہتا ہوں کہ اپنا دین (عقیدہ) آپ(ع) کے سامنے پیش کروں اگر یہ آپ(ع) کو پسند ہو اور آپ مطمن ہون تو میں اس پر ثابت قدم رہوں یہاں تک کہ دیدار الہی سے فیضیاب ہو جاؤں آپ(ع) نے فرمایا ، اے ابوالقاسم بیان کرو میں نے عرض کیا کہ میں کہتا ہوں کہ اﷲ تبارک و تعالی واحد ہے اس جیسی کوئی شئے نہیں وہ حدالبطال اور حد تشبیہہ دونوں سےخارج ہے وہ جسم ،صورت، عرض اور جوہر نہیں ہے بلکہ وہ جسموں کو مجسم مجسم کرنے والا صورتوں کی صورت گری کرنے اور تمام عرض اور جوہر کا خالق ہے وہ ہر شئی کا رب ہے اس کا مالک اور بنانے والا اور اس کا ایجاد کرنے والا ہے۔ اور یہ کہ محمد اس کے بندے اس کے رسول اور خاتم النبیین ہیں کہ جن کے بعد قیامت تک کوئی بنی نہیں ہوگا۔ اور میں کہتا ہوں کہ رسول اکرم(ص) کے بعد امام، خلیفہ اور ولی امر ۔ امیرالمومنین علی بن ابی طالب(ع) ہیں پھر امام حسن(ع) پھر امام حسین(ع) پھر علی بن حسین(ع) پھر محمد(ع)بن علی(ع) پھر جعفر بن محمد(ع) پھر موسی بن جعفر(ع) پھر علی بن موسی(ع) پھر محمد بن علی(ع) اور پھر آپ(ع) ہیں میرے آقا۔امام(ع) نے فرمایا میرے بعد میرے فرزند حسن(ع) ( امام حسن عسکری(ع))ہوں گے پھر ان کے بعد لوگوں کا رویہ ان کے جانشین کے ساتھ کیسا ہوگا، میں نے عرض کیا یا ابن رسول اﷲ(ص) لوگ ان کے ساتھ کیسا رویہ رکھیں گے آپ(ع) نے فرمایا کیوںکہ اس شخصیت و وجود  کو دیکھا نہیں جاسکتا اور نہ اس کا ذکر اس کے نام سے جائز ہے، پھر وہ ظاہر ہوگا۔ اور زمین کو عدل و اںصاف سے بھردے گا۔ جس طرح وہ ظلم وجور سے بھر ہوگی ہیں( عبدالعظیم(ع)) نے کہا کہ میں اقرار کیا کہ بے شک ان دوست اﷲ کا دوست ہے اور ان کا دشمن اﷲ کا دشمن ہے ان کی اطاعت اﷲ  کی  اطاعت ہے ان کی نافرمانی اﷲ کی نافرمانی و گناہ ہے اور میرا قول یہ ہے کہ معراج حق ہے قبر میں سوال و بازپرس حق ہے جنت حق ہے جہنم حق ہے صراط حق ہے۔ میزان حق ہے اور حق ہے اور یقینا قیامت آنے والی ہے جس میں کوئی شک نہیں بے شک


جو لوگ قبر میں ہیں اﷲ تعالی ان کو اٹھائے گا اور میں اس کا بھی قائل ہوں کہ بعد ولایت واجب فرائض میں نماز ، زکوة، روزہ، حج،جہاد امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہے۔ حضرت علی بن محمد(ع) ( امام علی نقی(ع)) نے فرمایا اے ابو القاسم بخدا یہی اﷲ کا وہ دین ہے جس کا اس نے پسند فرمایا ہے لہذا تم اس پر ثابت قدم رہو۔ اﷲ تعالی تمہیں دنیاوی اور آخرت کی زندگی میں قول ثابت کے ساتھ ثابت قدم رکھے۔

۲۳ـ                 امام باقر(ع) کے ہاں غضب کا ذکر ہوا تو فرمایا بندہ بعض دفعہ غضب(غصہ) کرتا ہے اور اسی پر اکتفا نہیں کرتا یہاں تک کہ جہنم میں چلا جاتا ہے جوشخص غصے میں آئے اور کھڑا ہو تو اسے چاہئیے کہ بیٹھ جائے تاکہ خدا اس پر اسے شیطان کے تسلط کو ہٹادے۔ اگر بیٹھا ہے تو کھڑا ہو جائے اور جو شخص اپنے عزیزوں پر غصہ کرے اسے چاہیے کہ اگر بیٹھا ہے تو کھڑا ہو جائے اور ان کے پاس سے  دور چلا جائے کیوںکہ رحم میں جب امن ہو تو راحت و احترام ہوتا ہے۔

۲۴ـ                 لیث ابن ابوسلیم کہتے ہیں کہ ایک انصادی مرد نے بیان کیا کہ ایک بہت زیادہ گرم دن میں پیغمبر اکرم(ص) ایک درخت کے سائے میں آرام فرمارہے تھے کہ ایک شخص آیا جس نے اپنے پیراہن کو اتارا اور شدید گرم ریت پر لیٹ کر اپنی پشتِ برھنہ کو جھلسا ڈالا پھر وہ اٹھا اور اپنی پیشانی کو ریت پر رکھ کر داغنے لگا اور کہنے لگا اے نفس لے مزہ چکھ کر کہ  جوکچھ خدا کے پاس ہے وہ اس سے کہیں زیادہ سخت ہے۔ جنابِ رسول خدا(ص) نے اس شخص کے اس فعل کو دیکھا پھر جب اس شخص نے لباس پہن لیا تو آپ(ص) نے اسے پاس آنے کا اشارہ کیا وہ قریب آیا تو آپ(ص) نے فرمایا اے بندے میں نے تجھے ایک ایسا فعل کرتے دیکھا جو میں نے پہلے کسی دوسرے کو کرتے نہیں دیکھا تو ایسا کیوں کررہا تھا۔ اس شخص نے کہا میں خوف خدا کی وجہ سے ایسا کررہا تھا اور خدا کی خوفکی وجہ سے ہی میں اپنے نفس کا تکلیف کا مزہ چکھا رہا تھا۔ خدا کے پاس جو کچھ ہے وہ کہیں عظیم تر ہے۔ پیغمبر(ص) نے فرمایا اے بندے تم نے جو کچھ خوفِ خدا کے سلسلے میں کیا ہے حق ہے اور خدا تم سے اہل آسمان پر مباہات کرتا ہے۔ پھر آپ(ص) نے اپنے اصحاب سے فرمایا اے گروہ حاضرین تم اپنے اس رفیق کے پاس جاؤ کہ وہ تمہارے حق میں دعا کرے تمام اصحاب اس کے پاس گئے، اس نے ان کے لیے دعا کی کہ” اے خدایا ہمارے عمل کو ہدایت سے پر کردے تقوی کو ہمارا توشہ بنا اور بہشت کو ہمارا مسکن قرار دے۔


مجلس نمبر۵۵

( چار ربیع الاول سنہ۳۶۸ھ)

ظاہری خلافت اور خطبہء علی(ع)

۱ـ           اصبع بن نباتہ کہتے ہیں کہ جب جنابِ امیر(ع) نے خلافت ظاہری کی زمام سنبھالی اور تختِ خلافت پر تشریف فرما ہوئے اور لوگوں نے آپ(ع) کی بیعت کر لی تو آپ(ع) مسجد میں تشریف لائے کہ عمامہ رسول (ص) سر پر رکھے ہوئے ان کی عباء زیب تن کیے ہوئے ان کی نعلین مبارک پاؤں میں پہنے ہوئے اور ان(ص) کی تلوار کمر سے لگائے منبر پر تشریف لے گئے اور تحت الحنک کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئے، اپنی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں پیوست کر لیا اور اپنے شکم مبارک کے نیچے رکھ کرخطبہ ارشاد فرمایا۔

آپ(ع) نے فرمایا اے لوگو! سوال کر لو مجھ سے قبل اس کے کہ مجھے نہ پاؤ  یہ علم سے سیریہے(سیرابی ہے) یہ لعابِ رسول (ص) کا اثر ہے یہ وہی علم ہے جو رسول اﷲ(ص) نے میرے سینے میں بھرا تھا سوال کر لو مجھ سے کہ میرے پاس اولین و آخرین کا علم ہے خدا کی قسم اگر میرے لیے مسندِ قضا بچھا دی جائے اور میں اس پر بیٹھ جاؤں تو اہل توریت کے فیصلے توریت سے اہل زبور کے زبور سے اہل انجیل کے انجیل سے اور اہل قرآن کے قرآن سے کروں اور خدا کی تمام کتابیں کہنے لگیں  کہ جو کچھ اﷲ تعالی نے ہم میں نازل فرمایا ہے اس میں سے جو کچھ آپ(ع) نے فتوی دیا ہم اس کی تصدیق کرتی ہیں۔

تم لوگ روز وشب قرآن کی تلاوت کرتے ہو کیا تم میں سے کوئی بھی ایسا ہے جو یہ جانتا ہو کہ اس میں کیا نازل ہوا ہے اگر قرآن میں یہ آیت نہ ہوتی تو میں تمہیں ماضی۔ حال اور قیامت تک ہونے والے تمام حالات واقعات سے آگاہ کرتا۔ اور وہ آیت یہ ہے کہ” اﷲجسے چاہتا ہے محو کر دیتا ہے اور جو چاہتا ہے قائم کردیتا ہے اور ام الکتاب تو اسی کے پاس ہے۔(رعد، ۳۹)


پھر آپ(ع) نے فرمایا سوال کر لو مجھ سے قبل اس کے کہ مجھے نہ پاؤ ، اس کی قسم جس نے دانے کو شگافتہ کیا اور روح کو پیدا کیا اگر تم مجھ کسی آیت کے متعلق سوال کرو تو میں بتاؤں گا کہ کون سی آیت رات میں نازل ہوئی کونسی آیت مکی ہے اور کونسی مدنی کونسی سفر میں نازل ہوئی اور کونسی حضر میں کونسی آیات ناسخ ہیں اور کونسی منسوخ کونسی محکم ہے اور کونسی متشابہ اور کس کی کیا تاویل ہے اور کیا تنزیل ہے جس کی تمہیں خبر نہیں۔

یہ سن کر ایک شخص جس کا نام دغلب تھا جو کہ منہ پھٹ اور تیز زبان والا تھا کھڑا ہوا اور کہا اے ابن ابی طالب(ع) آپ(ع) نے بہت بلند دعوی کیا ہے میں اپنے سوالات سے آپ(ع) کو نادم کردوں گا، آپ(ع) نے فرمایا پوچھ اس نے کہا، کیا آپ(ع) نے اپنے پروردگار کو کبھی دیکھا ہے آپ(ع) نے فرمایا وائے ہو تم پر اے دغلب یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جس پروردگار کی میں عبادت کروں اسے نہ دیکھوں دغلب نے کہا آپ(ع) نے کس طرح سے اسے دیکھا ہے آپ(ع) نے فرمایا تم پر واے ہو اسے آنکھوں سے ظاہرا دیکھنے کی انسان میں طاقت نہیں اسے حقیقت ایمان رکھتے ہوئے چشم قلب سے دیکھا جاسکتا ہے تم پر واے ہو اے دغلب بیشک میرا پروردگار دوری، نزدیکی، حرکت وسکون ، بدن اور آنے جانے، کھڑا ہونے اور بیٹھے کی خصوصیات سے متصف نہیں ہے وہ لطیف ہے کہ اس کا لطف قائم ہے وہ نہ ہی بزرگی سے وصف ہوتا ہے اور نہ ہی اس بات سے کہ اسے ستر سے وصف کیا جائے وہ جلیل ہے مگر سختی نہیں رکھتا وہ مہربان و رحیم ہے مگر رقعت قلب نہیں رکھتا مومن ہ مگر عادات نہیں رکھتا درک کرتا ہے مگر حس جسمانی سے نہیں بولنے والا ہے مگر تلفظ نہیں رکھتا۔ وہ تمام چیزوں میں ہے مگر تمام چیزوں سے باہر مگر جدائی کے طور پر نہیں تمام چیزوں کے اوپر ہے مگر فوقیت مکان کے علاوہ ہر چیز سے آگے ہے لیکن کہنے سے آگے نہیں وہ ہر چیز میں داخل ہے لیکن کوئی چیز نہیں وہ ہر چیز ہے مگر چیز نہیں دغلب یہ سن کر مدہوش ہوگیا۔ اور کہنے لگا خدا کی قسم میں نے اس طرح کا جواب پہلے کبھی نہیں سنا۔ خدا کی قسم آئندہ میں اس طرح کا سوال نہیں کروں گا۔

پھر آپ(ع) نے فرمایا اے لوگو! سوال کر لو مجھ سے س سے قبل کہ مجھے نہ پاؤ۔ یہ سن کر اشعث بن قیس اٹھا اور کہنے لگا اے امیرالمومنین(ع) تم اہل مجوس سے کیوں کر جزیہ لیتے ہو حالانکہ ان


 پر کوئی کتاب نازل نہیں ہوئی اور کوئی پیغمبر ان پر مبعوث نہیں ہوا آپ(ع) نے فرمایا ہاں اے اشعث خدا نے ان پر کتاب نازل کی اور ایک پیغمبر ان پر بھیجا۔ ان کا ایک بادشاہ تھا۔ وہ ایک رات مست ہوا اور اس نے اپنی بیٹی کو اپنے بستر پر طلب کیا اور اس سے ہم بستری کی۔ صبح جب یہ خبر اس کی قوم کو پہنچی تو وہ اس کے محل میں جمع ہوئے اور کہنےلگے اے بادشاہ تم نے ہمارے دین کو تباہ و برباد کردیا ہے تو باہر نکل کہ ہم تجھ پر حد جاری کریں اور تیرا قصہ ہی پاک کردیں۔ بادشاہ نے ان سے کہا کہ تم میرے پاس آؤ اور میری دلیل سنو اگر مطمئن ہو جاؤ تو مجھ سے یہ مطالبہ نہ کرنا ورنہ جو تم چاہو ویسا ہی ہوگا۔ وہ سب اس کی بات سننے کے لیے راضی ہوگئے۔ اس نے ان سے کہا تم جانتے ہو کہ خدا نے اپنی مخلوق میں سے گرامی ترین ہستی حضرت آدم(ع) کو پیدا کیا اور انہی سے ہماری ماں حوا(ع) کو خلق کیا لوگوں نے کہا کہ ہاں تو درست کہتا ہے پھر اس بادشاہ نے کہا کیا آدم(ع) و حوا(ع) نے اپنی بیٹوں کو اپنے بیٹیوں سے تزویج نہ کیا کہنے لگے ہاں ایسا ہی ہے بادشاہ نے کہا پس دین یہی ہے ان لوگوں نے یہ سن کر اس فعل پر ایک دستور قائم کردیا تو خدا نے ان کے سینوں سے علم کو محو کردیا اور کتابِ نور کو ان کے درمیان سے اٹھالیا اور یہ لوگ کافر ہوگئے کہ بے حساب دوزخ میں جائیں گے اور منافقین ان سے بھی بدتر ہیں۔ اشعث نے کہا میں نے اب تک اس طرح کا جواب نہیں سنا تھا خدا کی قسم میں آئندہ اس قسم کا سوال نہ پوچھوں گا۔

پھر جنابِ امیر(ع) نے فرمایا اے لوگو! مجھ سے سوال کرلو اس سے قبل کہ مجھے نہ پاؤ۔ مسجد کے ایک کونے میں دور بیٹھا ہوا ایک شخص اپنے عصا کے سہارے کھڑا ہوا اور اسی کے سہارے چلتا ہوا لوگوں کے سروں پر سے ہوتا ہوا منبر کے قریب پہنچا اور عرض کیا یا امیرالمومنین(ع) مجھے ایسے عمل کی راہنمائی کریں کہ جب اسے انجام دوں تو دوزخ سے نجات پاؤں۔

آپ(ع)نے فرمایا اے شخص سنو۔ سمجھو اوریقین کرو کہ دنیا تین خصلتوں کی بنا پر قائم ہے ، عالم جو اپنے علم پر عمل کرے اور اسے بیان کرے، مالدار جو اپنے مال میں سے اہل دین کے لیے بخل نہ کرے اور فقیر جو صابرہو۔

جب عالم اپنے علم کو پوشیدہ کرے اور غنی اپنے مال سے دریغ کرے اور فقیر صبر نہ


 کرے ، واے صدا واے کہ اس وقت دنیا ہلاک ہوجائے گی اور عارفان اس کو جانتے ہیں کہ دنیا کفر کی طرف چلی جائے گی لوگ مسجدوں اور جماعت کی کثرت پر فریفتہ و مغرور نہ ہوں بعض لوگ تو ایسے ہیں کہ ان کے بدن تو جمع ہیں مگر ان کے دل پریشان و پراکندہ ہیں۔

اےلوگو! بے شک انسانوں کے تین گروہ ہیں اول زاہد دوئم راغب اور سوئم صابر یہ لوگ وہ ہیں کہ دنیا کی کسی چیز سے جو ان کی طرف آئے اس سے خوش نہ ہوں اور جو چیز چلی جائے اس پر غمگین و محزون نہ ہوں اس لیے کہ وہ عاقبت کی جزا کو جانتے ہیں اور دنیا کے حاصل شدہ کی طرف راغب نہیں ہیں یہ دنیا کے حلال و حرام کی پرواہ نہیں کرتے اس شخص نے جنابِ امیر(ع) سے عرض کیا کہ اس زمانے میں مومن کی کیا پہچان ہے آپ(ع) نے فرمایا وہ ایسا ہے کہ صرف اس چیز کی طرف نظر کرے جو واجب خدا ہے اور جو چیز اس واجب خدا کے مخالف ہے سے بیزار رہے۔ بے شک کہ اس کے دوست اس چیز کو پسند کرتے ہوں، اس شخص نے کہا آپ(ع) نے بالکل درست فرمایا اے امیرالمومنین(ع) یہ کہہ کہ وہ غائب ہوگیا۔ اصبغ بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعدہم نے اسے دوبارہ نہ دیکھا لوگ اس کے پیچھے گئے مگر وہ نہ مل سکا لوگوں نے جنابِ امیر(ع) سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو جنابِ امیر(ع) مسکرائے اور فرمایا تم لوگ کیا چاہتے ہو۔ وہ میرے برادر خضر(ع) تھے۔

پھر آپ(ع) نے فرمایا اے لوگو مجھ سے جو پوچھنا چاہو پوچھ لو اس سے قبل کہ مجھے نہ پاؤ اس بار مجمع میں سے کوئی شخص آپ(ع) کی اس صدا پر کھڑا نہ ہوا یہ دیکھ کر جنابِ امیر(ع) نے خدا کی حمد و ستائش کی اور پیغمبر(ص) پر صلوات بھیجی اور پھر امام حسن(ع) سے فرمایا اے حسن(ع) منبر پر آؤ اور گفتگو کرو مبادا قریش میرے بعد تمہیں نہ پہچانیں ، جناب حسن(ع) ہچکچائے اور فرمایا بابا جان میں آپ(ع) کے ہوتے ہوئے کس طرح گفتار کرسکتا ہوں جنابِ امیر(ع) نے فرمایا میرے فرزند میرے ماں باپ تم پر قربان میں تمہاری نظروں سے پوشیدہ ہوجاتا ہوں اور دور سے تمہاری گفتگو سنتا ہوں۔ امام حسن(ع) منبر پر گئے اور نہایت بلاغت سے خدا کی حمد بیان کی اور محمد(ص) اور ان کی آل(ع) پر درود بھیجنے  کے بعد فرمایا۔

اے لوگو! میں نے اپنے جد رسول خدا(ص) سے سنا ہے کہ انہوں نے فرمایا میں علم کا شہر ہوں اور علی(ع) اس کا دروازہ ہیں جو کوئی شہر میں داخل ہوںا چاہے وہ دروازے سے داخل ہو یہ فرما کر امام حسن(ع) مبنر سے


 نیچے اتر آئے۔ جناب امیر(ع) یہ سن کر آئے اور انہیں گلے لگا کر پیار کیا پھر آپ(ع) نے امام حسین(ع) کو فرمایا اے حسین(ع) اب تم منبر پر جاؤ اور گفتگو کرو کہیں یہ نہ ہو کہ میرے بعد قریش کہنے لگیں کہ حسین(ع) میں طاقت گفتار نہیں ہے اے فرزند تم اپنے بھائی کے کلام کے بعد کلام کرو حسین(ع) منبر پر گئے اور فرمایا اے لوگو مین نے رسول خدا(ص) سے سنا ہے کہ میں علم کا شہر ہوں اورعلی(ع) اس کا دروازہ ہیں جو کوئی اس میں داخل ہوگا نجات پائے گا اور جو کوئی تخلف کرے گا ہلاک ہوگا۔ جناب امیر(ع) یہ سن کر اپنی جگہ سے اٹھے اور ان کو آغوش میں لےلیا اور بوسہ لیا اور فرمایا۔

اے لوگو: گواہ رہو کہ یہ دونوں مبارک فرزند رسول خدا(ص) کے فرزند ہیں یہ دو امانتیں ہیں جو رسول خدا(ص) نے میرے سپرد کیں میں انہیں تمہارے سپرد کرتا ہوں اور رسول خدا(ص) تم سے ان کی نسبت دریافت کریں گے۔

۲ـ           ابوبصیر کہتے ہیں کہ امام صادق(ع) نے فرمایا اے ابو بصیر( کسی نقصان پر) مغموم و پریشان نہیں ہونا چاہیے میں نے عرض کای یا ابن(ع) رسول اﷲ(ص) پھر ایسے موقع پر کیا کیا جائے آپ(ع) نے فرمایا جب کوئی ایسا مرحلہ درپیش ہو تو قبر کو یاد کرنا چاہئے اور یہ یاد کرنا چاہیے کہ وہاں پر تنہائی ہوگی اس کی گرمی کھانی پڑے گی اور بوسیدگی کا سامنا کرنا پڑے گا وہاں تیرے تمام روابط کاٹ دیئے جائیں گے اور دنیا ہاتھ سے چلی جائے گی اور اس حالت پر تیری دونوں آنکھیں اشک بہائین گی لہذا حرص سے باز رہو۔

۳ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا کہ ایک مرتبہ ابوذر غفاری(رح) رسول خدا(ص) کے پاس آئے اس وقت جنابِ جبرائیل(ع) وحبہ کلبی کی صورت میں آنحضرت(ص) کے پاس موجود تھے اور تنہائی میں ان(ص) سے بات کر رہے تھے جنابِ ابوذر(رض) نے جب انہیں دیکھا تو مخل ہونے سے گریز کرتے ہوئے واپس چلے گئے۔ یہ دیکھ کر جبرائیل(ع) نے رسول خدا(ص) سے کہا اے محمد(ص) ، ابوذر (رح) ہمارے قریب آئے اور ہمیں سلام نہیں کیا اگر یہ سلام کرتے ہم انہیں اس کا جواب دیتے پھر جبرائیل(ع) نے فرمایا اے محمد(ص) یہ ایک دعا پڑھتے ہیں کہ جس کی وجہ سے یہ اہل آسمان میں معروف ہیں جب میں آپ(ص) کے پاس سے رخصت ہو جاؤں تو آپ(ص) ان سے اس دعا کے بارے میں پوچھیے گا، جب جبرائیل(ع) تشریف لے گئے اور ابوذر(رح)


 خدمت پیغمبر(ص) میں حاضر ہوئے تو پیغمبر(ص) نے ان سے فرمایا اے ابوذر(رح) آپ پہلے آئے مگر واپس چلے گئے آپ کس وجہ سے ہمیں سلام کرنے سے مانع ہوئے ابوذر نے کہا یا رسول اﷲ(ص) جب میں حاضر ہوا اور دیکھا کہ آپ(ص) اور وحبہ کلبی تخلیہ میں بات کررے ہیں تو اس تخلیہ کے مد نظر میں نے آپ(ص) کی گفتگو میں مخل ہونے سے گریز کیا جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا اے ابوذر(رض) وہ جبرائیل(ع) تھے اگر تم اس وقت ہمیں سلام کرتے تو ہم تمہیں اس کا جواب دیتے ابوذر نے یہ سنا تو پشیمان ہوئے کہ انہیں سلام نہیں کرسکا پھر رسول خدا(ص) نے فرمایا اے ابوذر تم ایک دعا پڑھتے ہو جس کے سبب تم اہل آسمان میں معروف و مقبول ہو وہ دعا کیا ہے ہمیں بتاؤ ابوذر(رض) نے کیا یا رسول اﷲ(ص) میں کہتا ہوں کہ بارالہا میں تجھ سے ایمان چاہتا ہوں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد(ص) تیرے رسول ہیں یا خدا تو مجھے ہر بلا سے عافیت دے اور عافیت پر شکر کرنے کی توفیق عطا فرما اور مجھے لوگوں کے شر سے بچا۔

۴ـ عبداﷲ بن روفی کہتے ہیں کہ پیغمبر(ص) نے اپنے ہر دو اصحاب کے درمیان برادرانہ رشتہ قائم کیا مگر علی(ع) کو کسی کا بھائی نہ بنایا جب جناب علی ابن ابی طالب(ع) تشریف لائے تو انہوں نے جنابِ رسول خدا(ص) سے کہا یا رسول اﷲ(ص) آپ(ص) نے سب کے درمیان مواخات قائم کی لیکن مجھے تنہا چھوڑ دیا جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا اے علی(ع) خدا کی قسم کہ جس کے قبضے میں میری جان ہے میں نے تجھے اپنے لیے رکھ چھوڑا ہے تم میرے بھائی میرے وصی اور میرے وارث ہو علی(ع) نے کہا یا رسول اﷲ(ص) وہ وراثت کیا ہے آپ(ص) نے فرمایا جو کچھ مجھ سے پہلے پیغمبروں نے اپنے وصیین کے لیے چھوڑا ہے کہ وہ اپنے پروردگار کی کتاب اور وسنت پیغمبر(ص) ہے اے علی(ع) تم اور تمہارے دونوں فرزند میرے ہمراہ بہشت میں قصر خصوصی میں سکونت پذیر ہوںگے۔

۵ـ جنابِ سلمان فارسی(رض) بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے پیغمبر(ص) سے سنا کہ میرے بعد بہترین خلق میرے وزیر اور وصی علی بن ابی طالب(ع) ہیں۔

جناب علی(ع) کو برا کہنے والوں سے ابلیس کی گفتگو

۶ـ           سلمان فارسی(رض) سے روایت ہے کہ ابلیس چند آدمیوں کے پاس سے گزرا جو حضرت علی(ع) کو


 برا کہہ رہے تھے۔ ابلیس ان کے سامنے جا کھڑا ہوا اور ان سے کہنے لگا میرا نام ابومرہ ہے میں نے تمہاری اس بات کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا کہ تم اپنے سردار علی بن ابی طالب(ع) کو برا کہتے ہو انہوں نے اس سے کہا تجھے کیسے پتا ہے کہ وہ ہمارا سردار ہے۔ ابلیس نے کہا کہ میں نے تمہارے پیغمبر(ص) کا قول سنا ہے کہ من کنت مولا فعلی مولا۔ خدایا اسے دوست رکھ جو اسے دوست رکھے اور دشمن رکھ جو اس سے دشمنی رکھے۔ مدد کر اس کی جو اس کی مدد کرے اور چھوڑدے اسے جو اسے چھوڑے۔ ان لوگوں نے ابلیس سے پوچھا کیا تو اس کے دوستوں اور شیعوں میں سے ہے۔ اس نے کہا نہیں میں تو اسے دوست رکھتا ہوں۔ جو اس سے دشمنی رکھے  کہ میں اس شخص کے مال اور اس کی اولاد میں شریک ہوتا ہوں۔ ان لوگوں نے اس سے کہا ۔ اے ابو مرہ تم ہمیں علی(ع) کے بارے میں کچھ بتاؤ اس نے کہا اے گروہ ناکثین۔ قاسطین و مارقین۔ میں نے خدا کی بارہ ہزار سال تک عبادت کی جب مجھے تنہائی کا خوف طاری ہوا تو میں نے خدا سے شکایت کی خدا نے مجھے آسمان پر طلب کر لیا جہاں میں بارہ ہزار سال دیگر فرشتوں کے ہمراہ عبادت کرتا رہا ایک اچانک ہمارے اوپر سے نور کا ایک پرتو گرزا۔ اس نور  نے خدا کی تسبیح و تقدیس کی اور تمام فرشتے اس کے سامنے سجدہ ریز ہوگئے۔ فرشتوں نے عرض کیا یا سبوح قدوس کیا یہ نور کسی مقرب فرشتے یا پیغمبر مرسل کا ہے۔ خدا کی طرف سے آواز آئی کہ نور نہ تو کسی مقرب فرشتے کا ہے اور نہ ہی کسی پیغمبر مرسل کا یہ نور طینتِ علی بن ابی طالب(ع) ہے۔

۷ـ          امام باقر(ع) نے فرمایا رسول خدا(ص) نے علی (ع) کو یمن بھیجا وہاں ایک شخص کا گھوڑا قابو سے باہر ہو گیا۔ اور اس نے ایک شخص کو کچل دیا جو مرگیا۔ مقتول کے ورثا نے گھوڑے کے مالک کو پکڑا اور امیرالمومنین(ع) کی خدمت میں لاکر اس پر قتل کا دعوی دائر کردیا۔ گھوڑے کے مالک نے گواہ پیش کیا کہ میرا گھوڑا قابو سے باہر ہوگیا تھا جس کی وجہ سے وہ شخص مارا گیا یہ سن کر جناب امیر(ع) نے مقتول کا خون بہا اس گھوڑے والے پر قرار نہ دیا۔

مقتول کے ورثاء اس فیصلے کو لیے رسول خدا(ص) کی خدمت میں آئے اور جنابِ امیر(ع) کے اس فیصلے کی شکایت کی اور کہنے لگے کہ علی(ع) نے ہم پر ستم کیا ہے۔ اور ہمارے مقتول کا خون بہا ضائع کر


 دیا ہے۔ پیغمبر(ص) نے ارشاد فرمایا علی(ع) ستم کرنے والے نہیں ہیں اور ستم کے لیے پیدا نہیں ہوئے میرے بعد سرداری اور ولایت علی(ع) کے پاس ہے اس کا حکم میرا حکم اور اس کا قول میرا قول ہے اور اس کے قول و حکم کو کوئی رد نہیں کرتا مگر کافر، اور مومن ان کے ہر قول اور حکم اور ولایت کو قبول کرتا ہے جب اہل یمن نے رسول خدا(ص) سے علی(ع) کے بارے میں یہ فضائل سنے تو کہنے لگے یا رسول اﷲ(ص) ہم علی(ع) کے فیصلے پر راضی ہیں، آپ(ص) نے فرمایا جو کچھ تم اب کہہ رہے ہو یہی تمہاری توبہ ہے۔


مجلس نمبر۵۶

(آٹھ ربیع الثانی سنہ۳۶۸ھ)

خروج زید(رح)

۱ـ           فضیل بن یسار کہتے ہیں جس صبح زید(رح) بن علی بن حسین(ع) نے کوفہ میں خروج کیا میں ان کے پاس حاضر تھا میں نے سنا وہ فرمارہے تھے کہ کیا تم میں سے کوئی ایسا بندہ ہے جو میرے ساتھ مل کر شام کے ان دھوکے بازوں سے جنگ کرے اس (خدا) کے حق کی قسم کہ جس نے پیغمبر(ص) کو بشیر و نذیر مبعوث کیا جو کوئی بھی میرے ساتھ اس جنگ میں شامل ہوگا اور مدد کرے گا میں روزِ قیامت اس کا ہاتھ پکڑ کر اذانِ خدا سے اسے بہشت میں لے جاؤں گا۔

جب زید(رح) شہید ہوگئے تو میں نے ایک اونٹ کرایہ پر حاصل کیا اور مدینہ چلا آیا مدینہ آکر میں امام صادق(ع) کی خدمت میں جاپہنچا میں نے سوچا کہ مجھے جنابِ زید(رح) کی شہادت کے بارے میں امام(ع) کو نہیں بتانا چاہیے کہ وہ مغموم ہوں گے امام(ع) نے مجھ سے فرمایا اے فضیل میرے چچا زید(رح) کو کیا ہوا ہے یہ سن کر میں مغموم ہوگیا اور رونے لگا امام(ع) نے فرمایا کیا انہیں قتل کردیا گیا ہے میں نے کہا ہاں خدا کی قسم انہیں قتل کردیا گیا ہے پھر امام(ع) نے فرمایا کیا انہیں دار پر لٹکایا گیا ہے میں نے جواب دیا ہاں بخدا انہیں سولی دی گئی ہے یہ سن کر امام(ع) گریہ فرمانے لگے آپ(ع) کے آنسو مروارید کی طرح آپ(ع) کے رخساروں پر رواں تھے پھر آپ(ع) نے فرمایا اے فضیل کیا تم نے میرے چچا(رح) کے ہمراہ اہل شام کے خلاف جنگ میں حصہ لیا میں نے کہا جی ہاں میں ان(رح) کے ہمراہ تھا امام(ع) نے پوچھا ان(رح) کے ساتھ کتنے آدمی شہید ہوئے میں نے امام(ع) کو بتایا کہ ان(رح) کے ساتھ چھ آدمی شہید ہوئے امام(ع) نے مجھ سے کہا کیا تم ان کی شہادت میں شک رکتھے ہو۔ میں نے عرض کیا اگر میں شک رکھتا تو ان کے ساتھ جنگ میں شریک ہی کیوں ہوتا امام(ع) نے فرمایا کاش خدا مجھے بھی ان کے ساتھ شہادت عطا فرماتا خدا کی قسم میرے چچا زید(رح) اور ان کے ساتھ اس طرح شہید ہوئے ہیں کہ جس طرح علی بن


ابی طالب(ع) اور ان کے اصحاب درجہء شہادت پر فائز ہوئے تھے۔

۲ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا رسول خدا(ص) سے دریافت کیا گیا کہ کونسی آمدنی بہتر ہے آپ(ع) نے فرمایا زراعت جو لوگ بوتے ہیں اور پھر اس پر محنت کرتے ہیں اور دن بھر اس کے حق کو ادا کرتے ہیں عرض ہوا یا رسول اﷲ(ص) اس کے بعد کونسی آمدنی بہتر ہے آپ(ص) نے فرمایا گوسفند رکھنا کہ اس سلسلے میں بارانی چراہ گاہوں کو تلاش کرتے ہیں اور اس کے ساتھ نماز پڑھتے اور زکوة ادا کرتے ہیں پھر جنابِ رسول اﷲ(ص) سے عرض کیا گیا کہ گوسفند کے بعد کونسی روزی بہتر ہے آپ(ص) نےفرمایا گائے رکھنا کہ صبح شام دودھ دیتی ہے ، جنابِ رسول خدا(ص)  سے پھر دریافت کیا گیا کہ گائے کے بعد کونسی روزی بہتر ہے آپ(ص) نے فرمایا پھلدار درخت کہ توانگری میں راحت دیتا ہے۔(یعنی سایہ ہوا وغیرہ) اور گرانی( یعنی قحط ، غربت وغیرہ) میں خوراک مہیا کرتا ہے لیکن اگر کوئی شخص پھلدار درخت کو بیچ دے تو اس سے حاصل شدہ رقم اسے پریشانی میں مبتلا رکھتی ہے تا ہم وہ اسے بیچ کر کوئی دوسرا پھلدار درخت خریدنا چاہتا ہو آپ(ص) سے ایک مرتبہ پھر دریافت کیا گیا کہ درخت کے بعد کونسی روزی موزون ہے مگر جنابِ رسول خدا(ص) نے سکوت اختیار کیا پھر آپ(ص) سے دریافت کیا گیا کہ اونٹ سے اپنا رزق کمانا کیسا ہے آپ(ص) نے فرمایا یہ بدبختی و جفا کاری اور رنج و در بدری رکھتا ہے اور صبح و شام اپنے مالک سے کوئی وفاداری نہیں رکھتا اس کا خیر (رزق) کنجوسی اور دقت سے حاصل ہوتا ہے آگاہ رہو کہ اشقیاء نابکار اسے ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔

۳ـ          رسول خدا(ص) نے حجت الوداع کے موقع پر یہ خطبہ مسجد خیف میں ادا فرمایا۔

آپ(ص) نے فرمایا اﷲ تعالی اس بندے کی مدد فرمائے جو میری باتیں سنے انہیں یاد رکھے اور ان لوگوں تک پہنچا دے جن تک میری باتیں نہیں پہنچ سکیں۔اے لوگو! غور سے سنو! تم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو فقیہہ بنے ہوئے ہیں مگر اصل میں وہ فقیہہ نہیں ہیں۔ اور بہت سے ایسے ہیں جو اپنے سے بڑے فقہاء کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ تین باتیں ایسی ہیں کہ جن کی وجہ سے مردِ مسلم اپنے دین میں دھوکا نہیں کھا سکتا پہلی بات یہ ہے کہ اس کا ہر عمل خالصتا اﷲ کے لیے ہو دوسری بات یہ ہے کہ ائمہ مسلمین(ع) کی ہدایت پر کار بند رہے  تیسری


 بات یہ ہے کہ اپنی قوم ( جماعت) سے مکمل وابستہ رہے اس کا ساتھ نہ چھوڑے۔

۴ـ          امام صادق(ع) نے جنابِ امیرالمومنین(ع) سے روایت کی ہے کہ انہوں نے فرمایا میں اسلام کی راہ میںوہ کچھ متعین کرتا ہوں جو نہ مجھ سے پہلے دوسروں (خلفاء) نے اختیار کیا اور نہ ہی میرے بعد اختیار کیا جائے گا اسلام تسلیم کرنے کا نام ہے یہ تسلیم و تصدیق اور یقین ہے اور یقین کا مطلب ادا کرنا ہے اور وہ اعمال (صالح) کا ادا کرنا ہے مومن دین کو خدا سے لیتا ہے ( یعنی خدا کے بتائے ہوئے راستوں پر چلتا ہے) جان لوکہ تمہارا دین تمہاری دنیا ہے اس سے تمسک رکھو کہ کہیں کوئی شخص تمہیں اس سے علیحدہ نہ کردے دین داری میں ثواب اور بے دینی میں گناہ ہے دین دار کا گناہ معاف فرمادیا جائے گا مگر بے دین کے ثواب قبول نہ کیے جائیں گے۔

 ابوشاکر دیصانی

۵ـ          ابوشاکر دیصانی امام صادق(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ(ع) روشن ستاروں میں سے ایک ہیں۔ آپ(ع) کے والد(ع) انتہائی روشن بدر کامل تھے آپ(ع) کی والدہ(ع) بڑی شان والی دانشمند اور پارسا خاتوں ہیں آپ(ع) کی تخلیق بہترین عناصر و جواہر سے ہوئی ہے۔ جب دانشمند علماء کا ذکر ہوتا ہے تو سب آپ(ع) ہی کی طرف رخ کرتے ہیں۔ اے علم و دانش کے سمندر مجھے یہ بتائیں کہ اس جہاں کے خلق ہونے پر کیا دلیل ہے۔ ( حدوثِ عالم پر کیا دلیل ہے)

امام صادق(ع) نے فرمایا ہم اس پر نزدیک ترین چیز سے استدلال کرتے ہیں پھر امام(ع) نے مرغی کا انڈا لانے کا حکم صادر فرمایا۔ جب پیش کیا گیا تو امام نے اسے اپنے ہاتھ کی ہتھیلی پر رکھا اور فرمایا یہ ایک قلعہ ہے جس کے اندر جھلی ہے۔ جس میں ایک رقیق مادہ  ہے اس میں بہنے والی چاندی اور بہنے والا سونا ہے پھر وہ پھٹتا ہے اور بچہ بر آمد ہوتا ہے کیا اس میں کوئی چیز داخل ہوتی ہے شاکر نے کہا نہیں ۔ آپ(ع) نے فرمایا اس جہاں کی تخلیق پر یہی دلیل ہے، ابوشاکر نے کہا آپ(ع) نے موضوع کے لحاظ سے بہترین دلیل دی ہے اور ایک بڑے موضوع کو مختصرا بیان فرمایا ہےلیکن آپ(ع) جانتے ہیں کہ ہم اس چیز کو کبھی قبول نہیں کرتے جس کو ہم نے خود آنکھ سے نہ دیکھا ہو یا زبان سے نہ


چکھا ہو، کان سے نہ سنا ہو یا ناک سے نہ سونگھا ہو یا ہمارے دل نے اس دلیل کو محسوس کر کے اس سے استنباط نہ کیا ہو۔

امام(ع) نے فرمایا تم نے حواس خمسہ کا ذکر کیا وہ بغیر اس کے ( دلیل کے) کوئی فائدہ نہیں دیتے جیسا کہ تاریکی بغیر چراغ کے دور نہیں ہوتی۔

۶ـ           ایک شخص نے امام رضا(ع) کی خدمت میں عرض کیا کہ حدوث عالم کی کیا دلیل ہے آپ(ع) نے فرمایا تم نہیں تھےپھر پیدا ہوگئے تم نے اپنے وجود کو خود پیدا نہیں کیا، تمہیں کسی اور نے پیدا کیا جو تم جیسا نہیں ہے۔ ( خدا نے تمہیں پیدا کیا ہے)

۷ـ          ایک دن جنابِ رسول خدا(ص) نے مسجد قباء میں اںصار کی موجودگی میں جنابِ علی ابن ابی طالب(ع) سے فرمایا اے علی(ع) میرے بھائی ہو اور میں تمہارا بھائی ہوں اے علی(ع) تم میرے وصی و خلیفہ اور میرے بعد میر امت کے امام ہو میرے بعد کوئی تم سے پیوستہ ہے وہ خدا سے پیوستہ ہے اور جو کوئی تیرا دشمن ہے وہ خدا کا دشمن ہے جوکوئی تیرے ساتھ بغض رکھتا ہے وہ خدا کے ساتھ بغض رکھتا ہے جس نے تیری مدد کی اس نے خدا کی مدد کی اور جس نے تجھے چھوڑا اس نے خدا کو چھوڑا اے علی(ع) تم میری دختر(س) کے ہمسر ہو میرے دو فرزندوں کے والد ہو۔ اے علی(ع) جب مجھے معراج پر لے جایا گیا تو میرے پروردگار نے تیرے بارے  میں وصیت فرمائی کہ اے محمد(ص) ، میں نے کہا ”لبيک و سعديک تبارکت و تعاليت “  تو ارشاد ربانی ہوا کہ علی(ع) امام متقیئین، سفید چہروں والے لوگوں کا قائد اور مومنین کا یعسوب ہے۔

۸ـ          جنابِ رسول خدا(ص) ایک دن منزل ام ابراہیم میں تھے آپ(ص) کے اصحاب بھی آپ(ص) کے ہمراہ تھے اس دوران علی بن ابی طالب(ع) تشریف لائے جب آپ کو دیکھا تو پیغمبر(ص) نے ارشاد فرمایا اے لوگوں کے گروہ تمہارے درمیان تم میں سے بہترین خلق تشریف لائی ہے۔

میرے بعد یہ تمہارا سردار ہے اس کی اطاعت تم پر فرض ہے بالکل اسی طرح جس طرح میری اطاعت تم پر فرض ہے اور جس طرح میری نافرمانی حرام ہے اس کی نافرمانی بھی حرام ہے اے لوگو میں حکمت کا گھر ہوں اور علی(ع) اس گھر کی کنجی ہیں اور سواے چابی کے کوئی بھی گھر میں داخل ہونے


سے قاصر ہوتا ہے جھوٹا ہے وہ شخص جوکہ مجھے دوست رکھنے کا دعوی کرتا ہے مگر علی(ع) سے دشمنی رکھتا ہے۔

۹ـ   امام صادق(ع) نے فرمایا کہ ایک دن رسول خدا(ص) نے جابر بن عبداﷲ اںصاری(رح) سے فرمایا اے جابر تم یقینا میرے فرزند محمد بن علی بن حسین بن علی(ع) سے ملاقات کرو گے جو  توریت میں باقر(ع) کے نام سے مشہور ہیں جب تم ان سے ملو تو انہیں میرا سلام پہنچا دینا۔ چنانچہ جابر(رض) نے اپنی مدتِ حیات میں امام باقر(ع) کے زمانے تک پائی اور جب ان کی امام(ع) سے ملاقات ہوئی تو امام باقر(ع) ایک چھوٹے سے بچے تھے۔ اور اپنے والد جنابِ علی بن حسین(ع) کے پاس تشریف فرما تھے۔جابر(رض) نے جب انہیں دیکھا تو کہا اے بیٹے میرے پاس آئیں۔ جب امام باقر(ع) ان کے قریب آئے تو جابر(رض) نے کہا پیٹھ پھیریں جب امام(ع) نے اپنی پشت مبارک جابر(رض) کی طرف پھیری تو جابر(رض) نے کہا کہ پروردگار کعبہ کی قسم یہ رسول خدا(ص) کے شمائل ہیں پھر جابر نے علی بن حسین(ع) کی طرف رخ کر کے پوچھا کہ یہ کون ہیں تو جنابِ علی بن حسین(ع) نے فرمایا یہ میرے فرزند اور میرے بعد امام(ع) ہیں ان کا نام باقر(ع) ہے جابر(رض) یہ سن کر اٹھے اور امام باقر(ع) کے قدموں میں گر گئے اور ان کی قدم بوسی کے بعد کہا میری جان آپ(ع) پر قربان یا ابن رسول اﷲ آپ(ع) کے جد(ص) نے مجھے حکم دیا تھا کہ میں ان کا سلام آپ(ع) کو پہنچا دوں یہ سن کر امام(ع) کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور فرمایا اے جابر تم پر بھی میرے جد میرے والد جناب رسول خدا(ص) کا سلام ہو، تم پر ان کا سلام تب تک ہو جب تک یہ آسمان و زمین قائم ہیں۔ اے جابر یہ اس لیے ہے کہ تم نے ان کا سلام مجھ تک پہنچایا ہے۔

رسول خدا(ص) اور معراج

۱۰ـابن عباس کہتے ہیں جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا کہ جب مجھے آسمان پر لے جایا گیا اور جبرائیل(ع) نےمجھے دریائے نور پر پہنچا دیا تو کہا قول خدا ہے کہ”خدا نے ظلمات اور نور کو بنایا۔“(انعام، ۱) پھر جبرائیل(ع) نے کہا اے محمد(ص) آپ(ص) خدا کی برکت سے اسے عبور کریں۔کہ خدا نےآپ(ص) کی آنکھوں کو منور کیا ہے اورآپ(ص)کے لیے راستہ کھول دیا ہےاوریہ وہ دریا ہے کہ جس سے آج تک کوئی نہیں گزرا، نہ ہی کوئی مقرب فرشتہ اور نہ ہی کوئی پیغمبر مرسل البتہ میں روزانہ ایک مرتبہ اس میں


 غوطہ زن ہوتا ہوں۔ اور جب میں باہر آکر اپنے پروں کو جھاڑتا ہوں تو میرے پروں سے گرنے والے نور کے ہر قطرے سے خدا ایک مقرب فرشتہ خلق کرتا ہے جس کے بیس ہزار چہرے اور ہر چہرے کے دہن میں چالیس ہزار زبانیں ہوتی ہیں وہ اپنی ہرزبان سے ایک علیحدہ لغت میں گفتگو کرتا ہے کہ ہر زبان دوسری زبان کی گفتگو کو نہیں سمجھ پاتی۔

پھر رسول خدا(ص) اس نور کے دریا سے گذر کر حجابات نور تک جا پہنچے ان حجابات کی تعداد پانچ سو ہے اور ہر حجاب کے درمیان پانچ سو سال کا فاصلہ ہے پھر جبرائیل(ع) نے کہا اے محمد(ص) آپ آگے چلیں جنابِ رسول خدا(ص) نے پوچھا کہ اے جبرائیل(ع) آپ میرے ساتھ کیوں نہیں چلتے جبرائیل(ع) نے  کہا کہ مجھے یہ حق حاصل نہیں ہے کہ میں اس جگہ سے آگے جاؤں پھر رسول خدا(ص) جہاں تک خدا نے چاہا آگے تشریف لے گئے یہاں تک کہ آپ(ص) نے پروردگار کی آواز سنی کہ اس نے فرمایا ” میں محمود ہوں اور تم محمد(ص) میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے لیا ہے جو کوئٰی تیرے ساتھ پیوستہ ہے وہ میرے ساتھ پیوستہ ہے اور جو کوئی تم سے قطع تعلق کرے گا میں اس کی سرکوبی کروں گا۔ تم نیچے میرے بندوں کے پاس جاؤ اور انہیں میری بخشش اور کرامت کی خبر دو میں نے کسی پیغمبر کو اس کے وزیر کے بغیر مبعوث نہیں کیا تم میرے رسول ہو اور تمہارا وزیر علی بن ابی طالب(ع) ہے“

رسول خدا(ص) زمین پر تشریف لے آئے۔ اور چاہنے کے باوجود بھی لوگوں کو بیان نہ  کرسکے کہ کہیں لوگ اس بارے میں زبان درازی نہ کریں لہذا چھ سال اسی طرح بیت گئے تو خدا نے اس آیت کا نزول فرمایا ” شائید تم ترک کرتے ہو حصہ سے جو کچھ تم کو وحی ہوئی ہے اور تیرا سینہ اس سےتنگ ہے“ ( ہود، ۱۲) رسول خدا(ص) نے اس قول کے بعد خود کو تیار کیا کہ وہ ولایت علی(ع) کو عامتہ الناس میں بیان فرمائیں یہاں تک کہ آٹھ دن گذر گئے پھر اس آیت کا نزول ہوا” اے رسول پہنچا دو جو کچھ تیرے رب کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے اگر نہ پہنچایا تو تم نے تبلیغ رسالت نہیں کی خدا تمہیں لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔(مائدہ ، ۶۸) رسول خدا(ص) نے اس آیت کے نزول کے بعد فرمایا اب وقت ہے۔ کہ میں حکم خداوندی کا اعلان کردوں اور دستور ربانی کا اجرا کردون اور لوگوں کی ہرزہ سرائی کو خاطر میں نہ لاؤں ورنہ کہیں وہ (خدا) مجھے دنیا و آخرت میں عقوبت و عذاب


سے نہ گزارے اس وقت کہ جب رسول خدا(ص) نے یہ فرمایا اس وقت جبرائیل(ع) نے ۔۔۔۔ جناب علی(ع) بن ابی طالب(ع) کے لیے امیرالمومنین(ع) کے الفاظ کے ساتھ سلام پیش کیا۔ جناب امیر(ع) بھی اس وقت وہیں موجود تھے علی(ع۹ نے رسول خدا(ص) سے دریافت کیا کہ یا رسول اﷲ(ص) میں نے کسی کی آواز سنی ہے مگر کسی کو نہیں دیکھا جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا یہ جبرائیل ہیں اور خدا کی طرف سے خدا کے وعدے کی تصدیق کے لیے تشریف لائے ہیں، وہ وعدہ جو خدا نے میرے ساتھ کیا ہے۔

پھر رسول خدا(ص) نے حکم عام دیا کہ تمام لوگ پے در پے علی(ع) کو امیر المومنین(ع) کے لقب کے ساتھ سلام پیش کریں۔ پھر آپ(ص) نے بلال کو حکم دیا کہ وہ آواز دیں کہ کوئی شخص بھی غدیر خم سے آگے نہ جائے۔ غدیر خم کے مقام پر جب دوسرا دن ہوا تو رسول خدا(ص) اپنے اصحاب کے ہمراہ باہر تشریف لائے اور خدا کی حمد و ثنا کے بعد ارشاد فرمایا۔

اے لوگو! بے شک خدا نے مجھے رسول بنا کر تمہاری طرف بھیجا اورتم پر نگران مقرر کیا اور خدا نے مجھے ارشاد فرمایا ہے کہ میں اس کا حکم تمہیں بیان کروں اگرتم اس کی مخالفت کرو تو تمہیں عذاب وعقوبت دے گا اور اس نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں کسی کی پرواہ کیئے بغیر اس کا حکم تمہیں سناؤں اور اس کے عذاب و سزا سے کہیں آسان ہے کہ مین ایسے لوگوں کی پرواہ نہ کروں خدا مجھے معراج پر لے گیا اور فرمایا ” اے محمد(ص) میں محمود ہوں اور تم محمد(ص) میں نے تیرے نام کو اپنے نام سے مشتق کیا ہے جو کوئی تیرے ساتھ پیوستہ ہے وہ میرے ساتھ پیوستہ ہے جوکوئی تجھ سے قطع تعلق کرے میں اس کی سرکوبی کروں گا تم نیچے جاؤ اور میرا یہ حکم لوگوں کو سنا دو اور انہیں بتاؤ کہ میں نے کسی پیغمبر کو اس کے وزیر کے بغیر مبعوث نہیں کیا اور یہ کہ تم میرے رسول ہو اور علی(ع) ابن ابی طالب(ع) تیرا وزیر ہے“ جناب رسول خدا(ص) نے یہ حکم خداوندی سنانے کے بعد جنابِ علی بن ابی طالب(ع) کے دونوں ہاتھ پکڑے اور اوپر اٹھا دیئے یہاں تک کہ جناب رسول خدا(ص) کی زیر بغل سفیدی نمودار ہوگئے اس سے پہلے کبھی اس طرح کا عمل نہ دیکھا گیا تھا۔

پھر جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا اے لوگو بیشک خدا میرا مولا ہے اور میں مومنین کا مولا ہوں اور جس کا میں مولا و آقا ہوں اس کے مولا و آقا علی(ع) ہیں بارالہا تو اسے دوست رکھ جو علی(ع)


 کو دوست رکھے اور اسے دشمن رکھ جو اس سے دشمنی رکھے مدد کر اس کی جو اس کی مدد کرے اور چھوڑدے اس کو جو اسے چھوڑ دے۔

پھر جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا کہ خدا کی قسم منافقین و کج دل اس سے بیزار ہیں اور کہتے ہیں کہ رسول (ص) نے عصبیت کی وجہ سے ایسا کیا ہے سلمان(رض) ، مقداد(رض) ، ابوذر(رض)  اور عمار بن یاسر(رض) کہتے ہیں کہ ہم اس مجمع سے اس وقت تک باہر نہ گئے جب تک اس آیت کا نزول نہ ہوگیا کہ “ آج میں نے تیرے دین کو کامل کردیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی اور تمہارا دین اسلام قرار دیا۔(مائدہ، آیت نمبر۳) اور اس آیت کو تین دفعہ بیان کیا گیا۔

جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمای کہ میرے پروردگار کی طرف سے میری رسالت کے لیے وصی کا عنایت کیا جانا اورمیرے بعد تمہارا علی بن ابی طالب(ع) کی ولایت کا اقرار کرنا ہی کمال دین اور نعمتوں کا تمام ہونا ہے۔


مجلس نمبر۵۷

( گیارہ ربیع الثانی سنہ۳۶۸ھ)

جنابِ موسیٰ(ع) کو خدا کا ارشاد

۱ـ           مفضل بن عمر روایت کرتے ہیں کہ امام صادق(ع) نے جنابِ موسی بن عمران(ع) کی خدا سے گفتگو کے ضمن میں فرمایا کہ خدا نے کہا اے پسر عمران وہ بندہ جھوٹا ہے جو یہ گمان کرتا ہے کہ مجھ سے محبت رکھتا ہےمگر رات کو سویا رہتا ہے اور مجھے یاد نہیں کرتا۔ جبکہ ہر دوست اپنے دوست سے تنہائی میں ملاقات کا خواہش مند ہوتا ہے اے موسی(ع) جب رات ہوتی ہے تو میں اپنے دوستوں کی طرف متوجہ ہوتا ہوں اور ان کے دلوں کو غیر کی طرف رغبت سے اپنی طرف لاتا ہوں اور ان سے گفتگو کرتا ہوں اے پسر عمران(ع) تم اپنے دل سے میرے لیے خشوع اور اپنے جسم سے میرے لیے خضوع کرو اور رات کی تاریکی میں اپنی آنکھوں سے اشک بہا کر مجھ سے بخشش طلب کرو اور دعا کرو تم مجھے اپنے نزدیک اور قبول کرنے والا پاؤ گے۔

۲ـ           مفضل بن عمر کہتے ہیں کہ امام صادق(ع) اس دعا کو پڑھا کرتے۔

اے معبود اگر تیری نافرمانی کروں تو کیسے تجھ سے امداد طلب کروں اور تجھے کیسے پکاروں مگر میں تجھے ہی چاہتا ہوں کیوں کہ صرف تیری میری ہی محبت اس دل میں ہے، میں گناہ گار ہوں اور گناہوں سے پر ہاتھ تیری بارگاہ میں بلند کرتا ہوں کیوںکہ میری نگاہ امید صرف تیری ہی جانب ہے میرے مولا تو بزرگ تر ہے اور میں اسیر تر ہوں اور میری اسیری میرے جرم و گناہ کی بدولت ہے معبود اگر تو میرے گناہوں کی مجھ سے باز پرس کرے تو میں تجھ سے رحم کی درخواست کروں۔ اے معبود اگر تو مجھے مجرم قرار  دے اورمیرے لیے دوزخ کا حکم صادر فرمائے تو میں شہادت دوںگا کہ”لا اله الا اﷲ محمدا رسول اﷲ “ بارالہا تو مجھے اپنی اطاعت سے شاد کرنا کہ میرے گناہ مجھے نقصان نہ دیں۔ اور مجھے وہ کچھ عطا کر  جس میں تو خوش ہو۔ اور جو کچھ تیرے نقصان کے لیے نہیں ہے وہ


معاف فرمادے اے  ارحم الراحمین۔

۳ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جو کوئی یہ کہے میں خدا کے احکامات کو جانتا ہوں مگر پھر بھی ان میں جھوٹ بولے تو (خدا کے احکامات کی نافرمانی کی وجہ سے ) عرش خدا ہل جاتا ہے۔

۴ـ          امام صادق(ع) سے دنیا کے زہد کے بارے میں پوچھا گیا۔ تو آپ(ع) نے ارشاد فرمایا جو کوئی دنیا کا حلال ، ترین حساب کی خاطر اور اس کا حرام ، خوف عتاب کی خاطر چھوڑ دے وہ دنیا کا زہد اختیار کیے ہوئے ہے۔

۵ـ          امام صادق(ع) نے دیکھا کہ ایک شخص اپنے بیٹے کو اس کی کسی غلطی پر ڈانٹ رہا تھا آپ(ع) نے اس سے ارشاد فرمایا اے بندے تم اس بچے کے قصور پر بے تابی کا اظہار کرتے ہو کیونکہ تم بڑی مصیبت سے غافل ہو اگر تم اس بچے کےقصور ( نقصان) پر صبر و شکر کر کے اس کو قبول کر لیتے تو بڑی مصیبت سے بچ جاتے۔

۶ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا روزِ قیامت تین بندے خدا کے نزدیک رہیں گے یہاں تک کہ وہ تمام لوگوں کے حساب سے فارغ ہوجائے گا۔

اول : وہ بندہ کہ جو ظلم کی طاقت رکھنے کے باوجود ظلم نہ کرے۔

دوئم : وہ کہ جو دو آدمیوں کے درمیان راہ چلے مگر اس کا جھکاؤ کسی ایک کی طرف زیادہ نہ ہو( یعنی اںصاف کرے)

سوئم : وہ جو ہر حالت میں حق سچ کہے چاہے اس کا فائدہ یا نقصان ہی کیوں نہ ہو۔

۷ـ          مفضل بن عمر کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق(ع) سے ناجی ( نجات پانے والے) کی پہچان کے بارے میں پوچھا تو آپ(ع) نے فرمایا جس کے قول و فعل میں تضاد نہیں وہ ناجی ہے جس کے قول و فعل میں تضاد ہے اس کا ایمان رعایت رکھتا ہے۔

۸ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا مساجد میں جانا تمہارے لیے ضروری ہے کیوںکہ یہ زمین پر خدا کا گھر ہیں جو کوئی میں طہارت کے ساتھ آئے گا خدا اسے گناہوں سے پاک کرے گا اور اسے اپنے زائرین میں شمار کرے گا لہذا مساجد میں کثرت سے نماز ادا کیا کرو اور مختلف جگہوں


 کی مساجد میں نمازیں پڑھو کیوں کہ ہر وہ جگہ جہاں تم نے نماز ادا کی ہوگی روِ قیامت تمہاری گواہی دے گی۔

۹ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا علم ، بردباری کے ساتھ طلب کرو، وقار کو اپنا زیور بناؤ، اے شاگردو اپنے استادوں کی تواضع کرو۔ اور دانشمندو تم جبر نہ کرو کہ کہیں باطل تمہارے حق کو نہ لے جائے۔

۱۰ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا تم مکارم اخلاق اختیار کرو کیونکہ خدا انہیں ( خوش خلق کو) اپنا دوست رکھتا ہے تم پر قرآن پڑھنا واجب ہے کہ بہشت کے درجات اس کی آیات(جو کہ بندے نے پڑھی ہوں گی) کو شمار کر کے عطاد کیے جائیں گے روزِ قیامت خدا قرآن کے قاری سے فرمائے گا کہ پڑھو اور اوپر جاؤ جب وہ ایک آیت پڑھے گا تو ایک درجہ بلند ہوگا۔ تم پر لازم ہے کہ خوش خلقی اختیار کیے رہو کہ ایسے کو خدا، شب زندہ دار ( عبادات شبینہ کرنے والا) کے برابر درجہ عطا کرے گا اور روزہ دار کے برابر ثواب دے گا۔ پھر امام(ع) نے فرمایا تم پر لازم ہے کہ خوش ہمسائیگی اختیار کو ۔ جان لو کہ خدا نے اس کا حکم دیا ہے ، تم پر لازم ہے کہ مسواک کرو کیوںکہ یہ نیکی اور پاکیزگی کا طریقہ ہے اور تم پر واجب ہے کہ واجبات کو ادا کرو اور حرام چیزوں کو ترک کردو۔

۱۱ـ           حضرت امام جعفر صادق(ع) ارشاد فرماتے ہین کہ روزِ قیامت دو اشخاص مقام حساب میں خدا کے سامنے ایسے ہوں گے کہ دنیا میں ایک دولتمند تھا اور دوسرا فقیر۔ وہ فقیر خدا سےعرض کرےگا خدایا تو نے مجھ کیوں کھڑا کیا ہے تیری عزت وجلال کی قسم دنیا میں میرے پاس کچھ مال و دولت نہ تھا جس کے سبب میں کسی کی حق تلفی کرتا یا کسی پر ظلم کرتا مجھے تیری بارگاہ سے بقدر گزر اوقات ہی روزی ملتی تھی۔

اﷲ فرمائے گا ہمارا بندہ سچ کہتا ہے اسے بہشت میں لے جاؤ پھر اس دولت مند کو اتنے عرصے تک حساب و کتاب کے لیے محشر میں کھڑا کیا جائے گا کہ اس کے پسینے سے چالیس اونٹ سیراب ہوسکیں گے جب وہ اپنی دولت اور اپنے مال کے حساب سے فارغ ہوجائے گا تو اسے بہشت میں لے جایا جائیگا ۔ اسے دیکھ کر اس فقیر ساتھی پوچھے گا کہ اتنی دیر کیوں لگی تو وہ کہے گا کہ


میرے ذمے بہت لمبا حساب تھا ایک سے فارغ نہ ہونے پاتا کہ دوسرا پیش کیا جاتا جب بہت عرصے کے بعد حساب ختم اور رحمت الہی کا نزول ہوا تو توبہ کرنے والوں میں شامل کر کے مجھے بخش دیا گیا۔

پھر یہ امیر آدمی اس فقیر سےپوچھے گا کہ تم کون ہو۔ وہ کہے گا میں وہی مرد فقیر ہوں جو تمہارے ساتھ حساب میں کھڑا تھا۔ بہشت کی نعمتوں اور راحتوں نے میرے اندر ایسی تبدیلی پیدا کردی ہے کہ تم مجھے پہچان ہی نہ سکے۔

۱۲ـ          جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا اے علی (ع) تم میرے بھائی ہو اور میں تمہارا بھائی ہوں اے علی(ع) تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں اے علی(ع) تم میرے وصی اور خلیفہ ہو اور میری امت پر حجت خدا ہو خوش بخت ہے وہ شخص جو تجھے دوست رکھتا ہے اور بدبخت ہے وہ جو تیرا دشمن ہے۔

۱۳ـ          جناب رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا شیعیان علی(ع) ہی روز قیامت کامیاب ہیں۔

۱۴ـ          جناب رسول خدا(ص) نے جناب علی بن ابی طالب(ع) سے ارشاد فرمایا جب روز قیامت ہوگا تو تیرے لیے ایک نورانی نجیب گھوڑے کو پیش کیا جائے گا ۔ تیرے سر پر تاج ہوگا۔ جس کا نور درخشان و روشن ہوگا اور نزدیک ہوگا  کہ وہ اہل محشر کی آنکھوں کو خیرہ کردے کہ خدا کی طرف سے آواز آئے گی” کہاں محمد(ص) رسول اﷲ کا خلیفہ“ تم عرض کروگے میں حاضر ہوں پھر جارجی ندا دے گا۔

”ا ے علی(ع) جو کوئی تجھے دوست رکھتا ہے بہشت میں جائے اور جو کوئی تجھے دشمن رکھتا ہے دوزخ میں جائے“ اے علی(ع) تم قسیم نار و جنت ہو۔


مجلس نمبر۵۸

 (۱۵ ربیع الثانی سنہ۳۶۸ھ)

ایک تاجر

۱ـ           ایک شخص جناب رسول خدا(ص) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اﷲ(ص) میں نے دریا کا سفر کیا اور کچھ مال لے کر چین گیا جس سے مجھے کثیر منافع حاصل ہوا میرے دوست اس بات پر مجھ سے حسد کرتے ہیں۔ کہ میں اپنے اہل و عیال اور عزیز رشتے داروں کو اس (مال)سے وسعت دیتا ہوں۔

رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا دنیا کا مال جب بھی زیادہ ہو وہ اپنے رکھنے والے کو مصیبت و بلا میں گرفتار کرے گا۔ مالدار ہرگز رشک نہ کریں مگر یہ کہ وہ اپنے مال کو خدا کی راہ میں خرچ کریں پھر آپ(ص) نے ارشاد فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ تمہیں ایک ایسے بندے سے آگاہ کروں جو کہ کمتر مال کے عوض فورا کثیر منافع لے کر آیا ہے اور اس کا یہ تمام منافع خزانہ خدا میں جمع ہے۔ اصحاب نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اﷲ(ص) آپ(ص) نے ارشادفرمایا وہ شخص جو تمہاری طرف آرہا ہے اسے دیکھو جب لوگوں نے اس طرف نگاہ کی تو دیکھا کہ ایک انصاری پرانا لباس پہنے ان کی طرف آرہا تھا۔

جناب رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا یہی مرد آج خیرو اطاعت  میں اس قدر بلند ہوگیا ہے کہ اس کو ملنے والے حصے میں سے سب سے کم تر حصے کو اگر اہل آسمان و زمین میں تقسیم کردیا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ تمام کے گناہ معاف ہوجائیں اور بہشت ان پر واجب ہوجائے اصحاب نے عرض کیا یا رسول اﷲ(ص) اس شخص نے ایسا کیا عمل کیا ہے کہ جس کی بدولت یہ اس کا حقدار ہوا ہے آپ(ص) نے ارشاد فرمایا تم خود اس سے پوچھو اصحاب نے اپنا رخ اس کی طرف کیا اور کہا ۔اے شخص تونے آج کونسا عمل انجام دیا ہے کہ جس کے صلے میں تجھے ثواب کثیر کا مژدہ خدا نے سنایا ہے۔

اس شخص نے کہا میں نہیں جانتا کہ میں نے ایسا کیا کام سرانجام دیا ہے مگر یہ ہے کہ


 جب میں گھر سے باہر آیا اور اپنے روزمرہ کام کے سلسلے میں جانے لگا تو مجھے یہ خطرہ ہوا کہ اگر آج مین نے اپنے کام کا انجام نہ دیا تو یہ نقصان ہوجائے گا۔ لیکن پھر نے سوچا کہ میں اپنے اس کام کی بجائے جنابِ علی بن ابی طالب(ع) کی زیارت کروں کیوںکہ مین نے جناب رسول خدا(ص) کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ علی(ع) کے چہرے کو دیکھنا عبادت ہے یہ سن کر جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا ہاں خدا کی قسم عبادت ہے اور کیا کوئی عبادت اس سے بہتر ہے، اے بندہ خدا تو اپنے عیال کے لیے درھم و دینار لینے کے واسطے گھر سے نکلا تھا جو تیرے ہاتھ نہیں آئے اور اس کے عوض تونے علی(ع) کے چہرے کی طرف محبت و عقیدت اور اس کی فضیلت کے اعتقاد کے ساتھ دیکھا اور یہ اس سے بہتر تھا کہ تمام دنیا کے سرخ سونے کو خدا کی راہ میں خرچ کردیا جاے جان لو کہ جو بندہ اس راستے کو اختیار کرے وہ ہزار گناہ گاروں کی شفاعت کا حق رکھتا ہے اور خدا اس کی شفاعت کے بدلے انہیں ( ہزار بندوں کو)دوزخ سے محفوظ رکھے گا۔

۲ـ           جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا خدا کے بندے وہ ہیں جو بہشت کے باغوں کی طرف دوڑتے ہیں عرض کیا گیا کہ بہشت کے باغ کیا ہیں تو جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا بہشت کے باغ حلقہ ذکر ہیں۔

آداب حمام

۳ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جب حمام میں جاؤ اور لباس اتارو تو کہو بارالہا میری گردن نفاق سے آزاد کردے اور مجھے ایمان پر قائم کردے خدایا میں بدی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔

پھر جب پانی کے نزدیک جاؤ اور اسے استعمال کرنے لگو تو کہو” خدایا مجھ  سے پلیدی اور نجاست کو دور کردے اورمیرے جسم و قلب کو پاکیزہ بنادے۔

پھر جب اپنے اوپر پانی گراؤ تو اپنے سر سے پاؤں تک بہاؤ اور اگر ممکن ہو تو چند گھونٹ پانی پی لو تاکہ یہ تمہارے مثانے کو پاک کردے ۔

پھر غسل سے فارغ ہوجاؤ تو کہو میں خدا کی پناہ مانگتا وں دوزخ اوراس کی آگ سے اور بار بار


 یہی کہتے رہو۔ گرم حمام میں غسل کرتے وقت ٹھنڈا پانی یا کوئی سرد مشروب استعمال نہ کرو اور خربوزہ نہ کھاؤ کہ یہ معدے کا فاسد کرتا ہے اسی طرح سرد پانی اپنے سر پرمت گراؤ کہ یہ بدن میں سستی پیدا کرتا ہے البتہ سرد پانی پیروں پر ڈالو وہ بھی باہر آتے وقت کیوںکہ یہ جسمانی دردوں کودور کرے گا پھر جب تم لباس پہننے لگو توکہو خدایا لباس تقوی کو میرا لباس قرار دے اور مجھے ہلاکت سے بچا ۔ امام (ع)  فرماتے ہیں اگر اس طرح کرو تو ہر درد سے امن میں رہو گ۔

۵ـ          ابوسلیمان ضبی کہتے ہیں کہ جنابِ علی بن ابی طالب(ع) نے اپنے فوجیوں کو بعد عطارد کو پکڑنے کےلیے بھیجا جنہوں نے اسے مسجد سماک میں جاکر پکڑا اس کو بچانے کی خاطر نعیم بن دجاجہ اسدی کھڑا ہوا اور فوجیوں کی راہ میں مزاحمت پیش کی جناب امیر(ع) کے فوجیوں نے اسے گرفتار کیا اور امیرالمومنین(ع) کی خدمت میں لاکر پیش کیا۔ جناب امیر(ع) نے چاہا کہ اس کی سرزنش کریں تو اس نے کہا خدا کی قسم میں تمہاری ہمراہی میں خواری اور تمہاری مخالفت میں کفر دیکھتا ہوں جناب امیرا(ع) نے اس سے کہا کیا تو اس بات کا معتقد ہے، اس نے کہا ہاں تو جنابِ امیر(ع) نے حکم دیا کہ نعیم کو چھوڑ دیا جائے۔

۶ـ           جناب رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا اے لوگو خدا تمہیں میری دوستی کی وجہ سے دوست رکھتا ہے اور نعمتیں عطا کرتا ہے اور خدا میرے خاندان کو میری دوستی کے ہمراہ دوست رکھتا ہے۔

۷ـ          مامون رشید نے اپنے باپ سے ایک طویل سند کے ساتھ جوکہ عبداﷲ بن عباس تک پہنچتی ہے بیان کیا کہ جنابِ رسول خدا(ص) نے جناب علی ابن ابی طالب(ع) سے فرمایا کہ تم( علی(ع)) میرے وارث ہو۔

۸ـ          ابوہریرہ کہتے ہیں پیغمبر(ص) ایک جنگ کے سلسلے میں تشریف لے گئے اور اپنی غیر موجودگی میں علی بن ابی طالب(ع) کو اپنی جگہ اپنے خاندان(ع) اور دیگر پر خلیفہ بنا گئے جب آپ(ص) واپس  ہوئے اور مالِ غنیمت تقسیم کیا تو سب کو ایک حصہ عنایت فرمایا لیکن علی(ع) کو  دو حصے دیئے لوگ کہنے لگے۔ یا رسول اﷲ(ص) آپ(ص) نے سب کو ایک حصہ عنایت فرمایا مگر علی(ع) ابن ابی طالب(ع) کو دو حصے عطا کیے جبکہ وہ مدینے میں ہی رہے اور ساتھ نہیں گئے۔ جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا اے لوگو تم نہیں جانتے


 دوران جنگ ایک گھوڑا سوار نے حق کی طرف سے مشرکین پر یورش کی اور انہیں شکست دی پھر وہ میرے پاس آیا اور کہا یا رسول اﷲ(ص) میں جو حصہ مال غنیمت میں سے رکھتا ہوں وہ میں علی ابن ابی طالب(ع) کو دیتا ہوں اے لوگو وہ گھوڑسوار جسے تم نہیں دیکھ سکتے تھے وہ جبرائیل(ع) تھے پھر اسی طرح کے ایک اور گھوڑ سوار نے مشرکین پر یورش کی اور فتخ کے بعد اپنا حصہ علی(ع) کو دے دیا اس  گھوڑ سوار کو بھی تم نہیں دیکھ سکے وہ میکائیل(ع) تھے۔خدا کی قسم میں نے علی(ع) کو جبرائیل(ع) و میکائیل(ع) کے حصے کے علاوہ کچھ نہین دیا یہ سن کر تمام لوگوں نے تکبیر بلند کی۔

۹ـ    جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا کہ خدا فرماتا ہے میں معبود برحق ہوں اور بجز میرے کسی نے میرے ملوک کو پیدا نہیں کیا( ملوک سے مراد سلطان عادل پیغمبر اور ائمہء اطہار(ع) ہیں) میں ان کے دلون پر قدرت رکھتا ہوں جو شخص میری اطاعت کرے۔ اس کے لیے میں ان ملوک کے دلوں میں مہربانی پیدا کرتا ہوں اور جو میری نافرمانی کرتے ہیں تو ان ملوک کے دلوں میں اس کے لیے غیض و غضب پیدا کرتا ہوں اور میں یہ چاہتا ہوں کہ میرے ان ملوک کے بارے میں ہرزہ سرائی نہ کی جائے کہ یہ مجھے ناگوار گزرتا ہے۔

۱۰ـ          جناب رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا اگر میری امت میں سے دو گروہ نیک ہیں تو میری امت نیک ہے اور اگر وہ دو گروہ فاسد ہیں تو میری امت فاسد ہے اور وہ دو گروہ امرا اور فقہا کے ہیں۔

۱۱ـ           امامصادق(ع) نے ارشاد فرمایا ، کار خیر کا قصد کرنے والے، گرم دن کا روزہ رکھنے والے اور خدا کی راہ میں صدقہ دینے والے کے لیے خدا کی طرف سے دوزخ سے امان ہے۔

۱۲ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا کہ عیسی بن مریم(ع) نے اپنے اصحاب کو نصیحت کی کہ جو کچھ تم اپنے واسطے دوسروں سے نہیں چاہتے وہ تم ان کے ساتھ بھی نہ کرو۔ اگر کوئی شخص تمہارے دائیں رخسار پر مارے تو تم اپنا بایاں رخسار بھی آگے کر دو۔

۱۳ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا بندہ مومن کے لیے خدا کی یہی نصرت کافی ہے کہ وہ دیکھے کہ اس کا دشمن خدا، کی نافرمانی میں مشغول ہے۔


۱۴ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا جو کوئی نماز جمعہ ادا کرنے جائے۔ تو خدا اس کے بدن دوزخ حرام کر دیتا ہے پھر امام (ع) نے فرمایا جو کوئی ان (جمعہ کی جماعت) کے ساتھ پہلی صف میں نماز ادا کرے گا تو گویا ایسا ہوگا کہ جیسے اس نےرسول خدا (ص) کے ساتھ صف اول نماز ادا کی۔ پھر فرمایا صدقہ روزِ خطا کو صاف کرتا ہے جس طرح پانی نمک کو شفاف کردیتا ہے اور خدا کے غصے کو ٹھنڈا کرتا ہے۔

۱۵ـ          جناب علی بن ابی طالب(ع) نے فرمایا ہر حق وقعت رکھتا ہے  اور ہر دوستی نور رکھتی ہے مگر لوگ جو قرآن میں ان کے موافق ہے وہ لے لیتے ہیں اور جو مخالف ہوتا ہے اسے چھوڑ دیتے ہیں۔

جناب رسول خدا(ص) کا جناب امیر (ع) سے کلام

۱۶ـ جناب رسول خدا(ص) نے جناب علی ابن ابی طالب(ع) سے فرمایا۔اے علی(ع) تم میری موجودگی میں اور میرے بعدمیری امت پر میرے خلیفہ ہو، تمہاری مجھ سے وہی نسبت ہے جیسے شیث(ع)کوآدم(ع) سے سام(ع)کو لوح(ع)،اسماعیل(ع) کو ابراہیم(ع) سے، یوشع(ع)کو موسی(ع) سے اورشمعون(ع) کو عیسی(ع) سے تھی اے علی(ع) تم میرے وصی و وارث ہو تم مجھے غسل دوگے اور خاک مین دفن کروگے تم میرے دین کا حق ادا کروگے اور میرے وعدے کو پورا کروگے۔ اے علی(ع) تم امیرالمومنین(ع) ، امام المسلمین، روشن چہرے والوں کے قائد اور یعسوب المتقین ہو۔ اے علی(ع) تم جنت کی عورتوں کی سردار میری دختر فاطمہ(س) کے شوہر نامدار ہو۔ اور میرے سبطین حسن(ع) و حسین(ع) کے والد ماجدہو۔ اے علی(ع) بیشک خدا نے ہر پیغمبر کی ذریت کو اس کی نسل سے قائم کیا ہے جب کہ میری ذریت اس نے تمہارے صلب سے مقرر کی ہے۔ اے علی(ع) جو کوئی تجھے دوست رکھتا ہے۔ اور تیرا خواہاں ہےاسے میں دوست رکھتا ہوں اور اس کا خواہان ہوتا ہوں اور کوئی تجھ سے کینہ و بغض رکھتا ہے اس سے میں بغض و کینہ رکھتا ہوں کیونکہ تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں بیشک خدا نےہمیں پاک کیا اور برگزیدہ کیا اور آدم(ع) تک ہمارے اجداد نے کسی قسم کی آلودگی سے خود کو آلودہ نہیں کیا اے علی(ع) تمہیں حلال زادہ ہی دوست رکھتا ہے۔ اے علی(ع) تمہیں خوشخبری ہو جہ تم مظلومیت میں شہید کیے جاؤ گے جناب امیر(ع) نے یہ


سن کر کہا یا رسول اﷲ(ص) کیا اس حالت میں میرا دین سلامت ہوگا۔ جنابِ رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا اے (ع) تمہارا دین بالکل سلامت ہوگا ہرگز گمراہ نہیں ہوگے۔ اور تمہارے پایہء ثبات کو ہرگز لغزش نہ آئے گی اور اگر تم نہ ہوتے تو میرے بعد حزب اﷲ کی پہچان نہ رہتی۔


مجلس نمبر۵۹

(۱۸ ربیع الثانی سنہ۳۶۸ھ)

سید الساجدین(ع) کا رسالہء حقوق

۱ـ           ثابت بن دینار ثمالی ( ابوحمزہ ثمالی(رح)) نے امام علی بن حسین زین العابدین(ع) کے رسالہء حقوق کو نقل کیا ہے اور امام(ع) نے اس سللسے مین پچاس حقوق بیان فرمائے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں۔

۱)تیرے نفس کا تجھ پر یہ حق ہے کہ تو اسے اطاعت خدا میں لگائے رکھے۔

۲)تیری زبان کا حق ہے کہ تو اس کو فحش و نا روا باتوں سے حفاظت میں رکھے اسے اچھائی کا عادی بنائے تاکہ یہ بے فائدہ باتوں سے پرہیز کرے، لوگوں کے ساتھ اچھائی سے پیش آئے اور لوگوں کے بارے میں اچھے خیالات کا اظہار کرے۔

۳) کان کاحق یہ ہے کہ تو اسے غیبت اور جس چیز کا سننا جائز نہیں ہے اس سے بچائے ۔

۴) آنکھ کا حق تجھ پر یہ ہے کہ جس چیز کا دیکھنا حرام ہے تو اس سے اسے بچائے اور اس کے مشاہدے سےعبرت حاصل کرے۔

۵) تیرے ہاتھ کا حق یہ ہے کہ جو چیز تیرے لیے حلال نہیں تو اس کی طرف ہاتھ مت بڑھائے۔

۶) پاؤں کا حق   یہ ہے کہ تو اس کو حرام کام کے لیے نہ چلائے کیوںکہ ان ہی کے ساتھ تجھے پل صراط سے گزرنا ہے کہ یہ تجھے ڈگمگا کر جہنم میں نہ گرا دیں۔

۷) تیرے پیٹ کا حق یہ  ہے کہ تو اسے حرام کا برتن نہ بنائے اور سیر ہونے کے بعد مت کھائے۔

۸) تیری فرج کا حق یہ ہے کہ تو اسے دوسروں کی نظر میں نہ لائے اور زنا سے اس کی حفاظت کرے۔


۹) نماز کا حق یہ ہے ک اس نماز نے خدا کے حضور پیش ہونا ہے او بندہ عاجز اور مسکین کی طرح کھڑا ہونا ہے۔ تم راغب امید اور خالف و گریہ کرنے والے بندے کی طرح کھڑے ہوگے اور یہ ایک ایسی ذات کے سامنے ہوگا جو پر وقار و پرسکون  ہے لہذا حضورِ قلب اور تمام حدود حقوق کے ساتھ نماز قائم کرو۔

۱۰) روزہ کا حق یہ ہے کہ وہ ایک طرح حجاب(پردہ) ہے جس کو اﷲ نے تمہاری زبان، قوت سماعت، بصارت، شکم اور شرم گاہ پر ڈال دیا ہے تاکہ تجھے جہنم کی آگ سے بچائے رہے اگر تو نے اس پردہ کو پھاڑ دیا تو اﷲ بھی تجھے دوزخ سے نہین بچائے گا۔

۱۱) صدقہ کا حق یہ ہے کہ وہ اﷲ کے پاس تمہارے لیے ایک ذخیرہ ہے اور ایسی امانت ہے کہ جس پر گواہ کی ضرورت نہیں ہے اور جب تمہیں اس بات کا علم ہوگا تو وہ جو پوشیدہ طریقے سےصدقہ دیا گیا تھا تم اس پر زیادہ اعتبار کرو گے اس صدقہ کی نسبت سے جو ظاہر کیا گیا اور جان لو کہ صدقہ اس دنیا میں بلاؤں اور بیماریوں کو ٹال دیتا ہے اور آخرت میں جہنم کی آگ کو دور کردیتا ہے۔

۱۲) حج کا حق یہ ہےکہ جان لو وہ بارگاہ خدا میں تمہاری طرف سے نامہ نیکی ہے اورگناہوںسے فرار ہے اس کے زریعہ توبہ قبول ہوگی خدا نے جو تم پر واجب کیا ہے یہ اس کی ادائیگی ہے۔

۱۳) قربانی کاحق یہ ہے کہ اس سے رضائے خدا کو طلب کرو اور اس کے ذریعے مخلوق کی رضامندی کو طلب نہ کرو تم خلق کے ذریعہ رحمتِ الہی اور قیامت میں اپنی روح کی نجات کے سوا کسی چیز کا ارادہ نہ کرو۔

۱۴) سلطان کا حق تم پر یہ ہے کہ تم بخوبی جان لو کہ تمہیں اس کے لیے باعث امتحان بنایا گیا ہے اور تمہاری حفاظت کے لیے اسے بھی امتحان میں رکھا گیا ہے تمہیں چاہئیے کہ اس کی ناراضگی کے درپے نہ ہو ورنہ اپنے ہی ہاتھوں سے ہلاکت میں پڑجاؤگے اور جو مشکل اور ناگوار بات تمہیں پیش آئے تو اسے اس میں شریک بناؤ۔

۱۵) معلم کا حق تم پر یہ ہے کہ اس کی تعظیم و احترام مجلس کرو اور انتہائی توجہ سے اس کی


 باتوں کو سنو اور اپنی آواز اس کےسامنے بلند نہکرو  اس کی بات قبول کرو تم خود کسی سے سوال کا جواب نہ دو بلکہ انتظار کرو کہ وہ خود ہر مسئلہ کا جواب دے گا اس کی مجلس میں کسی کے بارے بات مت کرو اور کسی کی غیبت مت کرو جب تمہارے سامنے اس کی برائی کی جائے تو اس کا دفاع کرو اس کے عیوب کی پردہ پوشی کرو اس کے مناقب اور اچھائیوں کو ظاہر کرو اس کے دشمن کے ساتھ تعلقات مت قائم کرو اور نہ ہی اس کے دوست کو دشمن بناؤ پس اگر تم نے ان باتوں پر عمل کر لیا تو فرشتے اس بات کے گواہ ہوں گے اور اﷲ کے حضور تمہارے لیے گواہی دیں گے کہ تم نے حصول علم کا مقصد حاصل کیا نہ کہ لوگوں کو دکھاؤے کے لیے۔

۱۶) تیرے مالک کا حق یہ ہے کہ تو اس کی اطاعت کرے اور اس کی نافرمانی نہ کرے سوائے ان امور کے کہ جن کی انجام دہی پر اﷲ غضبناک ہو اس لیے اﷲ کی نافرمانی میں مخلوق کی کسی طرح کی اطاعت جائز نہیں ہے۔

۱۷) تمہاری رعیت کا حق یہ ہے کہ تم سلطان و بادشاہ ہوتو جان لو کہ وہ تمہاری رعیت میں اس وجہ سے داخل نہیں کہ وہ کمزور اور تم طاقتور ہو پس واجب ہے کہ ان کے درمیان عدل و انصاف قائم کرو، ان کے لیے مثل شفیق اور مہربان باپ کے ہوجاؤ ان کی نادانیوں سے درگزر کرو اور انہیں سزا دینے میں جلدی نہ کرو اور خدا کا شکر ادا کرو کہ جس نے تمہیں یہ قوت و طاقت دی ہے۔

۱۸) تمہارے شاگردوں کا حق یہ ہے کہ تم جان لو کہ خدا نے تمہیں ان کا سرپرست بنایا تاکہ ان کو تعلیم دو اﷲ نے تمہارے لیے علم کے خزانے کو کھول دیا ہے اگر تم نے ان کو علم سکھانے میں نیکی و نرمی سے کام لیااور کسی طرح زیادتی وسختی سے پیش نہ آئے تو اﷲ تمہیں اور زیادہ عطا کرے گا اگر تم نے لوگوں کو علم سے محروم رکھایا علم سکھانے کی راہ میں تم نے ان پر کسی طرح کی زیادتی یا سختی کی اور ان کی عزت و آبرو کو  پارہ پارہ کیا تو اﷲ پر یہ لازم ہوگا کہ تم سے علم اور اس کی قدر و قیمت کو سلب کرے اور لوگوں کے دلوں سے تمہارا مقام و مرتبہ گرادے۔

۱۹) تیری زوجہ کا حق یہ ہے کہ تم جان لو کہ اﷲ نے اسے تیرے لیے باعث سکون و انس قرار دیا ہے اور یہ خدا کی نعمت ہے اس کو گرامی رکھ اس کے ساتھ نرمی سے پیش آ اگر چہ تیرا حق اس


 پر زیادہ ہے مگر وہ تجھ پر بھی حق رکھتی ہے کہ تو اس سے رحم کرے کیونکہ وہ تیری قید میں ہے اس کو کھانا اور لباس دے اور اس غلطیوں اور نادانیوں سے درگزر کر۔

۲۰) تیرے مملوک (غلام) کا حق یہ ہے کہ تو جان لے کہ وہ تیرے رب کی مخلوق ہے اور تیرے ماں و باپ کا بیٹا ہے تمہارا ہی گوشت و خون ہے اﷲ نے اسے غلام نہیں بنایا بلکہ یہ تو ہی ہے جس نے ایسا کیا اور تونے اس کے اعضاء و جوارح میں سےکوئی چیز بنائی اور نہ اس کےلیے رزق پیدا کیا ان تمام عوامل کو خدا نے پورا کای اسے تیرا مسخر بنایا اور تجھے اس پر امین بنایا اور اس کو تیرے حوالے کیا تاکہ تیرے لیے اس کے ذریعہ نیکی و بھلائی کی نگہداشت و حفاظت ہوسکے تو اس کے ساتھ احسان کر جیسا کہ خدا نےتم سے احسان کیا، اور اگر اسے تم باپسند کرو تو اس کو بدل دو لیکن مخلوق خدا پر سختی و عتاب کرنے کی سوائے اﷲ کے کسی میں طاقت وقوت نہیں۔

۲۱) تیری ماں کا حق یہ ہے کہ تم جان لوکہ اس نے اس وقت تمہیں اٹھایا جب کوئی بھی کسی کو برداشت نہیں کرتا اوراپنے میوہ دل سےتمہیں وہ چیز عطا کی جو کوئی کسی کونہیں دیتااس نے تمہارے تمام اعضاء و جوارح کی حفاظت کی اورتمہیں بچایا خود بھوکی رہی لیکن تمہیں سیرکیا، خود پیاسی رہی لیکن تمہیں سیراب کای خود برھنہ رہی لیکن تمہیں لباس پہنایا خود آفتاب کے نیچےرہی لیکن تمہیں زیرسایہ کیاتیری وجہ سےرات کوسونے کی بجائے جاگتی رہی گرمی وسردی سے تیری حفاظت کی تاکہ تم اس کے فرزندرہو(خدمت گذار رہو)بیشک تواس کے شکر یہ کی طاقت نہیں رکھتا مگرتوفیق خداور اس کی مدد سے۔

۲۲) تیرے باپ کا حق یہ ہے تو جان لے کہ وہ تیرا اصل ہے اگر وہ نہ ہوتا تو تو بھی نہ ہوتا پس جب بھی تو اپنے اندر کوئی ایسی چیز دیکھے جو تجھے اچھی لگے تو جان لےکہ تیرا باپ اس نعمت کی اصل ہےاﷲ کی حمد کر اور اپنی قوت وطاقت پر اس کا شکر ادا کر اﷲ کے سوا کوئی طاقت و قوت نہیں ہے۔

۲۳)  تیرے فرزند کا حق یہ ہے کہ تو جان لے کہ وہ تجھ سے ہے اور تجھ سے وابستہ ہے اس دنیا میں اچھا ہو یا برا تم ہی اس کے ذمے دار ہو اس کے ادب اور حسن ادب، معرفت خدا اور اس کی اطاعت پر اسباب و معاون فراہم کرو پس اس کے امر میں اس شخص کے مثل عمل کرو جو یہ جانتا ہے


 کہ نیکی کرنے پر ثواب ملے گا اور برائی کرنے پر عذاب ہوگا۔

۲۴) تیرے بھائی کا حق یہ ہے کہ تو جان لے کہ وہ تیرا بازو تیری عزت و قوت ہے اس کو بافرمانی اور معصیت خدا میں اسے اپنا اسلحہ و ہتھیار نہ بنا اور مخلوق پر ستم کرنے کے لیے اسے مددگار مت بنا اس کے دشمنوں کے خلاف اس کی مدد کر اور ساتھ ہی اس کو نصیحت بھی کر اگر اس نے اﷲ کی اطاعت کر لی تو ٹھیک ورنہ اﷲ اسے سے زیادہ تم پر مہربان اور کریم ہے اور اس(خدا) کے سوا کوئی طاقت و قوت نہیں۔

۲۵) تیرے آقا ( ولی و سرپرست) کا حق یہ ہے کہ تو جان لے کہ اس نے تم پر احسان کیا اور اپنے مال کو تیرے لیے خرچ کیا اور تجھے غلامی کی ذلت سے باہر لایا حالانکہ تو آزادی کی عزت اور اس کے انس سے بہت دور تھا اس نے تجھے غلامی و بندگی اور عبودیت کی قید سے رہا کرادیا اور اس سے باہر لے آیا تجھے تیرے نفس کا مالک بنایا اور تجھے تیرے رب کی عبادت کے لیے فراغت دلائی یہ جان لے کہ وہ تیری زندگی و موت میں تیرا آقا ہے اور اس کی مدد تجھ پر واجب ہے، جان کے ذریعہ بھی اور تمام ان چیزوں کے ذریعہ جس کی انجام دہی اور تکمیل میں وہ تیرا محتاج ہے اور اﷲ کے سوا کوئی قوت وطاقت نہیں۔

۲۶) تیرے غلام  و کنیز کا حق یہ ہے کہ تونے اس پر احسان و انعام و اکرامکیا تو جان لے کہ اﷲ نے تجھے اس کے لیے عشق و آزادی کا ذریعہ اور وسیلہ قرار دیا اور وہ تیرے لیے جہنم کی آگ سے حجاب اور پردہ ہے اور اس فانی دنیا میں تیرے احسان کا عوض یہ ہے کہ اس کی میراث کا حق دار ہے اگر کوئی رحم نہ ہو اور آخرت میں جنت کا حق دار ہے۔

۲۷) تجھ  پر احسان کرنے  والے کا حق یہ ہے کہ تو اس کا شکریہ ادا کرے اور اس کی بھلائیوں اور اچھائیون کا تذکرہ کرے اچھی باتیں اس کےمتعلق سوچے اﷲ اور اپنے درمیان اسے دعا میں یاد کرے اگر تو نے ایسا کر لیا تو یقینا پوشیدہ و علانیہ دونوں طرح سے شکریہ ادا کردیا اگر کبھی تو اس بات پر قادر ہوجائے کہ اس کی نیکیوں کا بدلہ دے سکے تو ادا کردے۔

۲۸) تجھ پر مئوذن کا حق یہ ہے کہ توجان لےکہ وہ تجھے اﷲ کی ذات کی طرف متوجہ کرنے


 والا ہے، تجھے تیرے نصیب اور خوش بختی کی طرف دعوت دینے والا ہے اور واجبات خدا کے ادا کرنے میں مددگار ہے پس اس وجہ سے اس کا شکریہ ادا کر اور اس انداز سے ادا کر کہ جیسے کسی محسن کا شکریہ ادا کیا جاتا ہے۔

۲۹)تجھ پر حق امام جماعت یہ ہے کہ تو جان لے کہ وہ تیرا سفیر ہے تیرے پروردگار کے ہاں، اگر تیری نماز میں کمی ہوگی تو یہ اس کی  گردن پر ہے نہ کہ تیری گردن پر اور اگر مکمل ہوگی تو تو اس کے ساتھ شریک ہوگا اور اس کا حصہ اس میں زیادہ ہوگا ۔ سواے اس کے کہ تیرا نفس اس کے ساتھ اور تیری نماز اس کی نماز کےساتھ ہے پس اس قدر و منزلت پر اس کا شکریہ ادا کرو۔

۳۰) تمہارے ہم نشین کا حق یہ ہے کہ تم اپنے پہلو کو اس کے لیے نرم کردو اور اپنی گفتگو میں انصاف کے پہلو کو مدنظر رکھو یعنی اس کے ساتھ انصاف کرو اور اپنی نشست سے کھڑے نہ ہو مگر اس کی اجازت سے اور جو تمہاری مجلس میں آئے اس کے لیے کھڑے ہو تعظیم کی غرض سے، اس کی لغزش کو فراموش کردو اس کی خوبیوں کی حفاظت کرو اور اس کےمتعلق سوائے خیر اور بھلائی کے کچھ نہ سنو۔

۳۱) تمہارے ہمسائے کا حق یہ ہے کہ اس کی پیٹھ کے پیچھے اس کی حفاظت کرو اور اس کے حضور اس کا احترام کرو اور جب اس پر ستم کیا جائے تو اس کی مدد کرو اس کی برائی کے پیچھے نہ لگو اگر اس کی بدی کا علم ہو تو اس کے چھپائے رہو اگر تمہیں اس بات کا یقین ہو کہ وہ تمہاری نصیحت سنے گا تو اپنے اور اس ے مابین جو امور ہوں ان کےمتعلق اسے نصیحت کرو شدت اور تنگی کے  وقت اسے تنہا نہ چھوڑو اور اس کی کوتاہیوں اور نقائص کو نظر اندار کرو اس کے گناہوں کو معاف کردو اس کے ساتھ اچھی زندگی گزارو اور خدا کے سوا کوئی قوت و طاقت نہیں ہے۔

۳۲) تمہارے صاحب و رفیق کا حق یہ ہے کہ اس کےساتھ فضل و اںصاف کی بنیاد پر دوستی کرو اس کا اکرام و احترام کرو جیسا کہ وہ تمہارا احترام کرتا ہے اور اس پر رحم کرنے والے بنو، اس پر عتاب نہ کرو بیشک خدا کے سوا کوئی طاقت و قوت نہیں ہے۔

۳۳) تیرے شریک کا حق یہ ہے کہ اس کی غیبت ( غیر موجودگی) میں اس کے کام کو ادا کر


 اگر موجود ہو تو اس کی رعایت کر اس کے حکم سے ہٹ کر حکم نہ کر اس کی نظر میں لائے بنا اپنی رائے کو عملی جامہ نہ پہنا اس کے مال کی حفاظت کر اس کی قیمتی یا حقیر چیز میں خیانت نہ کرو خدا باہمی شریک کی اس وقت تک مدد کرتا ہے جب تک وہ ایک دوسرے سے خیانت نہیں کرتے اور اﷲ کے سوا کوئی قوت و طاقت نہیں ہے۔

۳۴) تیرے مال کا تجھ پر یہ حق ہے کہ اس کو حلال ذریعہ سے حاصل کر اور خرچ کرنےکی جگہ اس کو خرچ کر اور اگر کوئی آدمی تمہاری قدر نہ کرتا ہو تو تم اس کو اپنے ترجیح نہ دو اور اس معاملہ میں تم فرمان خدا پرعمل کرو اور بخل نہ کرو کہ حسرت و ندامت اٹھانی پڑے بیشک اﷲ کے سوا کوئی قوت و طاقت نہیں ہے۔

۳۵) حق تمہارے قرض خواہ کا یہ ہے کہ اگر تمہارے پاس مال ہوتو اسے ادا کردو اور اگر نہیں رکھتے تو اسے حسن کلام سے راضی کرو( معیار مقرر کرنے کے واسطے) اور لطیف اور اچھے انداز سے اس کا قرض لوٹاؤ۔

۳۶) تمہارے ہم معاشرت کا حق یہ ہے کہ اس کو فریب نہ دو اور اس کےساتھ دھوکہ بازی نہ کرو اس کے بارے میں خدا سے ڈرتے رہو۔

۳۷) مدعی جو تمہارے خلاف دعوی رکھتا ہے اس کا حق یہ ہے کہ اگر اس کو دعوی حق ہے تو اپنے نفس پر اس کے لیے گواہ بن جاؤ اور اس کے ساتھ ظلم نہ کرو اس کے حق کو ادا کرو اور اگر دعوی جھوٹا اور باطل ہے تو اس کے ساتھ فق ونرمی سے پیش آؤ اور اس کی وجہ سے اپنے پروردگار کو اپنے اوپر غضبناک نہ کرو اور اﷲ کے سوا کوئی قوت و طاقت نہیں ہے۔

۳۸) جس پر تم نے دعوی کیا اس پر تمہارا حق یہ ہے کہ تم اس کے ساتھ (اگر تم اپنے دعوی میں حق بجانب ہوتو) اپنی گفتگو میں جمال سے کام لو اور اس کے حق سے انکار نہ کرواوراگر تمہارا دعوی غلط ہوتواﷲ سے ڈرو اور توبہ کرو اور اپنے دعوے سے باز آجاؤ۔

۳۹) تم سے مشورہ کرنے والے کا حق یہ ہے کہ اگرکسی رائے کا تمہیں علم ہے تو اس کی طرف اشارہ کردو اگر تمہیں علم نہیں ہے تو جو جانتا ہو اس کی طرف راہنمائی کردو۔


۴۰) مشورہ دینے والے کا حق تم پر یہ ہے کہ جس رائے یا مشورے میں تم اس سے موافقت نہ رکھتے ہو اس پر اسے متہم اور مورد الزام نہ ٹھہراو اور اگر وہ تیرے موافق تجھے رائے دے تو خدا کی حمد کرو۔

۴۱) تم سے نصیحت طلب کرنے والے کا حق یہ ہے کہ حقِ ںصیحت کو تم اداکرو اور اس سے مہرومحبت ونرمی سے پیش آؤ۔

۴۲) نصیحت کرنے والے کا تم پر یہ حق ہے کہ اس کے لیے اپنے دونوں بازوں کو جھکائے رکھو اور اپنے کان اس کی نصیحت سننے کے لیے لگائے رکھو پس اگر نیک و درست نصیحت ہوتو خدا کی حمد کرو اور اگر صحیح نہ ہو تب بھی اس پر رحم کرو اور اس کو متہم نہ کرو اگر اس بات کا علم ہو جائے کہ اس نے خطا کی ہے تو اس سے مواخذہ نہ کرو مگر یہ کہ تہمت کا مستحق ہو اور تم کسی حال میں بھی اس کے لیے گراں بار خاطر نہ بنو خدا کے سوا کوئی قوت و طاقت نہیں ہے۔

۴۳) اپنے سے بڑے کا حق یہ ہے کہ اس کے سن اور بزرگی کی وجہ سے اس کی تعظیم کرو اس کا اکرام کرو اس لیے کہ وہ مسلمان ہونے میں تم پر مقدم ہے اور دشمنی کے وقت اس کے مقابلے سے باز آجاؤ راستہ چلنے میں اس پر سبقت نہ کرو اس کے آگے نہ چلو اس کی جہالت اور نادانی کو نظر میں نہ رکھو اگر وہ تمہارے ساتھ کسی طرح جہالت کا مظاہرہ کرے تو اسلام کے حق اور اس کی حرمت کی خاطر اسے برداشت کر لو اور اس کی تکریم کرو۔

۴۴) تم سے چھوٹے کا حق یہ ہے کہ تعلیم کے وقت اس پر شفقت کرو اور اس کے متعلق عفو در گزر سے کام لو اگر کسی کام کو انجام نہ دے سکے تو اس کا عذر قبول کرو اس کی عیب پوشی کرو اور اس کی مدد کرو۔

۴۵) سوال کرنے والے کا حق یہ ہے کہ اس کی حاجت کو حتی الامکان پورا کرو۔

۴۶) مسئول کا حق یہ ہے کہ اگر عطا کردے تو اس کا شکریہ ادا کرو اور اس کے فضل و مرتبہ کو پیچان لو اگر منع کردے تو اس کے عذر کو قبول کرو۔

۴۷ ) جو راہ خدا میں تمہیں خوش کردے اس کا حق یہ ہے کہ پہلے خدا کی حمد کرو پھر اس


کا شکریہ ادا کرو۔

۴۸) تم سے بدی کرنے والے کا حق یہ ہے کہ اس سے درگزر کرو اگر تمہیں یقین ہوکہ اسے معاف کردینا باعثِ ضرر ہے تو سزا دے سکتے ہو اور انتقام کے سکتے ہو۔ خدا فرماتا ہے کہ” وہ بندہ جس پر ظلم کیا گیا انتقام طلب کرے تو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔“ (شوری، ۴۱)

۴۹) اہل ملت و قوم کا حق یہ ہے کہ تم ان کی سلامتی چاہو اور ان سے مہربانی کرو اور ان کے بدکرداروں سے نرمی کرو ان کے درمیان آپس میں الفت پیدا کرو اور ان کی اصلاح کرو ان کے نیک لوگوں کا شکریہ ادا کرو ، آزار کو ان سے ہٹاتے رہو اور ان کے لیے وہی چاہو جو اپنے لیے چاہتے ہو ان کے جوانوں کو بھائی کی طرح، ان کی بوڑھی عورتوں کو ماں کی طرح اور ان کے بچوں کو اپنے فرزندوں کی طرح جانو۔

۵۰) اہل کفار اور ذمیوں کا حق یہ ہے کہ جس چیز کو اﷲ نے ان سے قبول کیا ہے تم بھی ان سے قبول کرو جب تک وہ اپنے عہد کو پورا کرتے رہیں ان پر ظلم نہ کرو خدا کے سوا کوئی قوت و طاقت نہیں ۔ حمد اس کی جو عالمین کا رب ہے صلوات محمد(ص) و آل(ع) محمد(ص)  پر ہے۔


مجلس نمبر۶۰

(۲۲ ربیع الثانی سنہ۳۶۸ھ)

مامون الرشید

۱ـ           ریان بن شبیب سے روایت ہے کہ مامون اس بات کا اظہار کرتا تھا کہ وہ اہل بیت(ع) سے محبت کرتا ہے مگر ہارون رشید کے وقت میں اس (ہارون) کی موجودگی کی وجہ سے ان (اہل بیت(ع)) سے اظہار عداوت کرتا رہتا تھا اور یہ ہارون کا تقرب حاصل کرنے کے لیے تھا۔ مامون بیان کرتا ہے کہ ایک دفعہ جب ہارون حج کرنے گیا تو میں (مامون) اور محمد اور قاسم بھی اس کے ہمراہ تھے ۔ جب وہ حج سے فارغ ہوکر مدینے آیا تو لوگ اس سے ملاقات کے لیے آتے رہے سب لوگوں سے آخر میں جس شخص نے اس سے ملاقات کی اجازت لی اور انہیں دی گئی وہ جناب موسی بن جعفر(ع) تھے جب وہ ملاقات کے لیے داخل ہوئے اور ہارون کی نظر ان پر پڑی تو وہ انہیں دیکھ کر جھوما اور اپنی گردن اٹھا کر انہیں دیکھتا رہا۔ جب آپ(ع) حجرے میں داخل ہوئے تو ہارون نے بیٹھے بیٹھے ہی گھٹنوں کے بل ان سے معانقہ کیا اور پھر ان کی طرف متوجہ ہو کر ان سے کہا اے ابوالحسن(ع) آپ کے خاندان والوں کا کیا حال ہے، مامون کہتا ہے کہ ہارون ، حال دریافت کرتا رہا اور امام(ع) جواب میں بہتر ہے بہتر ہے فرماتے رہے پھر جب آپ(ع) رخصت ہونے لگے تو ہارون نے چاہا کہ انہیں اٹھ کر وداع کرے تو امام نے اسے منع کردیا۔ تو اس نے اسی طرح سلام کیا اور امام(ع) رخصت ہوگئے۔ مامون کہتا ہے کہ میرے باپ کی اولاد میں سب سے زیادہ مجھ میں جرات گفتار تھی میں نے ہارون سے پوچھا یا امیرالمومنین جو برتاؤ اور تعظیم آپ نے اس شخص کے ساتھ کی ہے۔وہ انصاری یا بنی ہاشم کے کسی اور فرد کے ساتھ نہیں برتی مجھے بتائیں کہ یہ کون تھے  ہارون نے جواب دیا اے میرے بیٹے یہ علم انبیاء(ع) کے وارث ہیں یہ موسی بن جعفر(ع) بن محمد(ع) ہیں اگر تم صحیح علم چاہتے ہو تو ان سے طلب کرو کہ وہ صرف ان کے پاس ہے مامون کہتا ہے کہ اسی وقت سے میرے


 دل میں ان(ع) کے لیے جگہ بن گئی۔

۲ـ           علی بن یقطین کہتے ہیں کہ جناب موسی بن جعفر(ع) کی خدمت میں ان کے اہل خانہ میں چند افراد موجود تھے کسی نے اطلاع دی کہ آپ(ع) کے بارے میں خلیفہ موسی بن مہدی کے ارادے خطرناک ہیں آپ(ع) نے اپنے اہل بیت(ع) سے فرمایا تم لوگوں کا اس بارے میں کیا مشورہ ہے ۔ آپ(ع) کے اہل بیت(ع) نے مشورہ دیا کہ آپ(ع) یہاں سے دور چلے جائیں اور روپوش ہوجائیں تاکہ اس کے ظلم سے امن میں رہیں۔

یہ سن کر آپ(ع) مسکرائے اور فرمایا تم یہ خیال کرتے ہو کہ وہ مجھ پر غلبہ پالے گا جب کہ مغلوب ، غالب پر غالب ہوتا ہے پھر آپ(ع) دستِ دعا بلند فرمائے اور دعا کی۔

اے معبود میں دیکھتا ہوں دشمن کا شر سخت ہوگیا ہے اس نے اپنے ظلم کے تیر کا رخ میری طرف کر لیا ہے اور زہر قاتل کو میرے لیے تیار کر لیا ہے بارالہا اسے برداشت کرنا میرے لیے دشوار رونا گوار ہوگیا ہے میں اس بارے میں قوت  وطاقت کے استعمال سے درماندہ ہوں یہ تیری ہی قوت ہے کہ تو ہر اس شخص کو اسی کے گڑھے میں گراتا ہے جو اس نے کسی کے لیے تیار کیا ہوتا ہے وہ (مہدی) جو آرزو رکھتا ہے اس کے رد کے لیے میں تجھ ہی سے امید وابسطہ رکھتا ہوں اور جو امید میں نے آخرت سے وابستہ کر چھوڑی ہے اس پر میں تیری  حمد کرتا ہوں اور صرف اسی کی طاقت رکھتا ہوں۔ اے خدایا تو اپنی عزت و جلال سے اس ( مہدی) سے نمٹ اور مجھے اپنی وحدانیت کے سائے میں جگہ عطا فرما اور اسے اس گناہوں اور باطل ارادوں میں ہی آلودہ رکھ اے خدایا مجھے اس پر فورا تسلط عطا فرما کہ میرا دل راحت پائے اور حق کی فتح ہو خدایا میری دعا کو قبول  ومنظور فرما اورمیری فریاد کے صلے میں اسے نشان عبرت بنادے اور پورا کردے وہ وعدہ  جو تو نے ستم گاروں کے لیے کیا ہے اورمیرے لیے اس وعدے کو پورا فرما کہ جو تو نےمظلوموں  سے کیا ہے تو صاحب فضل و کرم ہے۔

علی بن یقطین کہتے ہیں کہ اس کے بعد لوگ وہاں سے رخصت ہوگئے اور آپ(ع) کے پاس کوئی نہ رہا پھر دوبارہ لوگ آپ(ع) کی خدمت میں اس وقت جمع ہوئے جب خلیفہ موسی بن مہدی کی موت کا خط


آپ(ع) کے پاس آیا۔

جناب موسی بن جعفر(ع) اور قید زندان

۳ـ          علی بن ابراہیم بن ہاشم کہتے ہیں کہ ہمارے اصحاب میں سے ایک نے روایت کیا کہ جب ہارون رشید نے جناب موسی بن جعفر(ع) کو زندان میں قید کیا تو رات کےوقت امام کو ہارون کی طرف سے اپنی جان کا خطرہ لاحق ہوا آپ(ع) نے تجدید وضو کی اور قبلہ رخ ہو کر چار(۴) رکعات نماز ادا کی اور یہ دعا فرمائی۔

اے میرے سید وسردار مجھے ہارون کی قید سے آزاد کر اور اس کے دست ستم سے نجات دے اے وہ کہ جس نے ریگستان میں درختوں کو اگایا مٹی سے پانی نکالا۔ شیرینی کو کڑواہٹ سے جدا کیا جنین کو بچہ دانی اور رحم سے برآمد کیا اور آگ کو لوہے اور پتھر سے جدا کیا اور روح کو جسم میں داخل و خارج کیا۔ بارالہا تو مجھے ہارون کے دستِ ستم سے نجات دے۔ امام(ع) کا یہ فرمانا تھا کہ ہارون نے  خواب میں دیکھا کہ ایک حبشی اس کے سرہانے تلوار لیے کھڑا ہے اور کہتا ہے کہ اے ہارون موسی بن جعفر(ع) کو آزاد کردے ورنہ میں اس تلوار سے تیرے سرکا شگافتہ کردوں گا ہارون اس خواب کو دیکھ کر دہشت زدہ اٹھا اور اپنے دربان کو طلب کر کے کہا موسی بن جعفر(ع) کو فورا زندان سے رہا کردیا جائے۔ دربان نے جاکر زندان کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ اندر سے زندان کے نگران نے پوچھا کون ہے دربان نے آواز دی ” اے موسی(ع)“ تمہیں خلیفہ نے طلب کیا ہے موسی بن جعفر(ع) تشویش زدہ اٹھے اور فرمایا۔ اتنی رات گئے؟ پھر آپ(ع) نے خیال کیا کہ اتنی رات گئے بلانے کا مقصد بیک نہیں ہوسکتا یہ سوچ کر آپ مغموم ہوگئے۔

جب آپ(ع) ہارون کے پاس تشریف لائے تو آپ(ع) نے ملاحظہ کیا کہ وہ کانپ رہا ہے سلام و جواب کے بعد ہارون نے امام(ع) سے کہا کیا آپ(ع) نے آج نصف شب میں کوئی دعا کی ہے۔

آپ(ع) نے کہا کہ ہاں میں نے دعا کی ہے اس نے کہا مجھے بتائیں کہ وہ دعا کیا تھی آپ(ع) نے فرمایا


میں نے تجدید وضو کی پھر چار رکعات نماز ادا کی اور اس کے بعد میں نے اپنا چہرہ آسمان کی جانب بلند کر کے بارگاہ رب العزت میں دعا کی کہ اے میرے آقا مجھے ہارون کے دست ظلم سے نجات دے اور اس کے شر سے بچا پھر امام(ع) نے آخر تک وہ دعا اسے سنائی۔

ہارون نے کہا خدا نے آپ کی دعا مستجاب کی اور پھر اس نے خدام کو حکم دیا کہ انہیں آزاد کر دیا جائے اور ساتھ ہی اس نے کہا کہ اس دعا کو مجھے لکھ کردیں۔ امام(ع) نے قلم دوات منگائی اور اسے وہ دعا لکھ کردی پھر اس نے ان کی تعظیم کی  خاطر انہیں تین خلعتیں پیش کیں اور ان کے لیے گھوڑا منگوایا اور حکم دیا کہ انہیں ان کے گھر تک چھوڑ کر آیا جائے اس کے بعد ہارون ہر جمعرات امام (ع) کی خدمت میں ان کے آستانے  پر حاضر ہوتا رہا۔

۴ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا دودھ چھڑوانے کے بعد رضاعت قطع ہوجائے گی، روزہ میں مجامعت نہیں ہوسکتی ، احتلام آنے کے بعد تیمم نہیں رہ جاتی ، قطع تعلقی ایک شب و روز سے زیادہ روا نہیں، فتح مکہ کے بعد ہجرت واجب نہیں ہے، ہجرت کے بعد سختی نہیں ہے ، مالک ہونے کے بعد آزادی نہیں ہے، باپ کی اجازت کےبغیر بیٹے کی قسم درست نہیں ہے ، مالک کی اجازت کے بغیر غلام کی قسم درست نہیں، اور شوہر کی اجازت کے بغیر بیوی کی قسم درست نہیں قصد گناہ میں نذر منت نہیں اور قطع رحم میں یمین نہیں۔

۵ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا میرا توسل طلب کرو اور اگر چاہو کہ میں اپنے دست شفقت تلے تمہیں رکھوں اور قیامت میں تمہاری شفاعت کروں تو تمہیں چاہیے کہ اپنے خاندان سے صلہ رحمی کرو اور انہیں خوش رکھو۔

۶ـ           جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا جو کوئی مجھ پر اور میری آل(ع) پر درود بھیجے اسد پر خدا درود بھیجتا ہے جو کوئی تنہا مجھ پر درود بھیجتا ہے اور میری آل(ع) سے صرف نظر کرتا ہے۔ تو وہ بہشت کی خوشبو جو کہ پانچ سو سال کی مسافت سے آتی ہے کو نہ سونگھ سکے گا۔

۷ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جو کوئی پچیس (۲۵) بار کہے”الل ه م اغفر للمومنين والمومنات والمسلمين والمسلمات ” تو خدا اس کے لیے تمام گذشتہ و آئیندہ کے مومنین


 کے حسنات کے برابر عطا کرے گا  اس کے گناہوں کو محو کردے گا اور اس کا درجہ بلند کرے گا۔

۸ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا کہ اپنی دعاوں میں اپنے چالیس (۴۰) دینی بھائیوں کو یاد رکھو کہ خدا ان کے طفیل تمہاری دعاؤں کو مستجاب فرمائے گا۔

۹ـ           معاویہ بن عمار کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق(ع) کے سامنے ایک پیغمبر کا ذکر کیا اور اس پر صلواة بھیجی تو امام(ع) نے فرمایا جب کسی پیغمبر کا ذکر کرو اور صلواة بھیجنا چاہو تو سب سے پہلے رسول خدا(ص) پر درود بھیجو پھر اس پیغمبر(ع) پر کہ جس کا ذکر ہو اور پھر تمام انبیاء(ع) پر۔

بی بی ام سلمہ(رض) اور جناب امیر(ع) کا ایک غلام

۱۰ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا کہ میرے اجداد سے روایت ہے کہ ایک دن بی بی ام سلمہ(رض) کو خبر ملی کہ جناب علی ابن ابی طالب(ع) کے غلاموں میں سے ایک غلام ان (علی(ع)) کے بارے میں ہرزہ گوئی کرتا ہے اور ان(ع) کی فضیلت گھٹا کر بیان کرتا ہے۔بی بی ام سلمہ(رض) نے اسے طلب کیا اور اس سے فرمایا ” تیری ماں تیرے غم میں بیٹھے میں تجھے رسول خدا(ص) کی ایک حدیث بیان کروں تاکہ تو وہ اختیار کر لے جو تیرے لیے بہتر ہو“ اس نے کہا بیان کریں بی بی(رض) نے فرمایاہم نو(۹) عورتیں جنابِ رسول خدا(ص) کی ازواج تھیں اور میرے لیے نواں دن مختص تھا ایک مرتبہ میرے لیے مختص ایک دن میں رسول خدا(ص) اس طرح میرے گھر تشریف لائے کہ جناب امیر(ع) ان کے ہمراہ تھے۔ اور ان کے ہاتھ ایک دوسرے کے ہاتھ کے ساتھ پیوستہ تھے اور جناب رسول خدا(ص) کا دوسرا ہاتھ جنابِ امیر(ع) کے شانے پر تھا۔جناب رسول خدا(ص) نے مجھ سے ارشاد فرمایا ”تم اس کمرے سے باہر چلی جاؤ اور ہمیں یہاں تنہا چھوڑ دو“ میں یہ سن کر کمرے سے باہر آگئی جنابِ رسول خدا(ص) اور جناب امیر(ع) آپس میں رازو نیاز میں مشغول ہوگئے اور مجھے ان کی تمام باتیں سنائی دےرہی تھیں مگر سمجھ میں نہیں آرہی تھیں۔ یہاں تک کہ آدھا دن گذر گیا میں نے کمرے کے دروازے پر دستک دی اور کواڑ کے پیچھے سے آواز دی کہ یا رسول اﷲ(ص) کیا میں اندر آجاؤں تو ارشاد ہوا” نہیں ابھی نہیں“ مجھ پر یہ گراں گزرا


 اور میں نے غصہ کیا مگر مجھے یہ خیال آیا کہ شاید کسی آیت کا نزول ہو رہا ہے کافی دیر گزرنے کے بعد میں نے پھردق الباب کیا اور اندر جانے کی اجازت مانگی مگر رسول خدا(ص) نے دوبارہ منع کردیا یہ مجھ پر پہلے سے بھی گراں گزرا۔ پھر جب کافی دیر کے بعد میں نے تیسری دفعہ اندر جانے کی اجازت طلب کی تو رسول خدا(ص) نے فرمایا ہاں اے ام سلمہ(رض) اب تم اندر آجاؤ میں جب کمرے میں داخل ہوئی تو میں نے دیکھا کہ علی (ع) ان(ص) کے سامنے دوزانو بیٹھے ہوئے ہیں اور رسول خدا(ص) سے فرماتے ہیں کہ یا رسول اﷲ(ص) جب ایسا معاملہ در پیش ہوجائے تومیں کیا کروں جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا اے علی(ع) میں تمہیں صبر کا حکم دیتا ہوں۔ پھر علی(ع) نے دوبارہ یہی دریافت کیا تو آپ(ص) نے فرمایا کہ صبر کرنا پھرعلی(ع) نے تیسری دفعہ دریافت کیا تو آپ(ص) نے فرمایا جب نوبت یہاں تک پہنچ جائے تو تم اپنی تلوار نیام سے نکال لینا اور اپنی ردا دوش پر ڈال کر ان سے جنگ کرنا اور بالکل پرواہ مت کرنا یہاں تک کہ تم میرے پاس آؤ اور تمہاری تلوار سے خون ٹپک رہا ہو۔

پھر جناب رسول خدا(ص) نے اپنا رخ میری طرف کیا اور فرمایا اے ام سلمہ(رض) تم کیوں پریشان ہو میں نے عرض کیا یا رسول خدا(ص) میں نے کئی بار اندر آنے کی اجازت طلب کی مگر آپ(ص) نے منع کردیا آپ(ص) نے فرمایا ام سلمہ خدا کی قسم میں نے تمہیں غصے کی وجہ سے واپس نہیں کیا میں تم میں اپنے لیے کوئی برائی نہیں دیکھتا بیشک تم خدا اور رسول کی طرف سے خیر پر ہو جب تم آئیں تو اس وقت جبرائیل (ع) تشریف فرما تھے اس وقت علی(ع) میرے بائیں طرف اور جبرائیل(ع) میرے دائیں طرف تھے جبرائیل(ع) ہمیں ان واقعات سے آگاہ کررہے تھے جو میرے بعد پیش آئیں گے اور مجھے نصیحت کررہے تھے کہ میں علی کو ان واقعات کے بارے میں وصیت کر دوں کہ ان فتنوں کی صورت میں علی(ع) کا رد عمل کیسا ہونا چاہیے۔

اے ام سلمہ(رض) سنو اور گواہ رہو کہ علی بن ابی طالب(ع) دنیا میں اور آخرت میں میرا وزیر ہے۔ ام سلمہ سنو اور گواہ رہو کہ علی(ع) بن ابی طالب(ع) دنیا میں میرا پرچم بردار ہے۔ اے ام سلمہ سنو اور گواہ رہو کہ علی(ع) بن ابی طالب(ع) میرا خلیفہ ہے اورمیرے بعد میرے وعدے پر عمل کرنے والا اور میرے حوض کوثر سے نا اہلوں کو ہٹانے والا ہے۔ اے ام سلمہ(رض) سنو اور گواہ رہو کہ علی بن ابی طالب(ع) مسلمانوں کا


 سردار۔ متقیوں کا امام۔ روشن چہروں کا اور ہاتھوں والوں کا پیشوا اور ناکثین مارقین و قاسطین کاقتل کرنے والا ہے۔ میں ( ام سلمہ(رض)) نے کہا یا رسول اﷲ(ص) ناکثین کون ہیں آپ(ص) نے فرمایا یہ وہ ہیں کہ جنہوں نے مدینہ میں بیعت کی اور بصرہ میں اسے توڑ دیا۔ پھر میں نے پوچھا کہ قسطین کون ہیں تو آپ(ص) نے فرمایا معاویہ اور اس کےشامی ساتھی ہیں پھر میں نے دریافت کیا کہ مارقین کون ہیں تو فرمایا نہروان والے۔ اس غلام نے کہا اے ام المومنین آپ نے میرے دل کی گرہ کھول دی۔ خدا آپ کو وسعت دے میں آئندہ ایسا نہیں کروں گا اور ہرگز جناب امیر(ع) کو برا نہیں کہوں گا۔

شیخ ثمالہ

۱۱ـ           شیخ ثمالہ روایت کرتے ہیں کہ میری ملاقات بنی تمیم کی ایسی عورتوں سے ہوئی جو بوڑھی اور عجوز تھیں اور لوگوں سے احادیث بیان کرتی تھیں۔ ان میں سے ایک خاتون سے میں نے کہا خدا تم  پر رحم کرے مجھے علی(ع) کے فضائل کے بارے میں کوئی حدیث بیان کریں اس خاتون نے ایک بزرگ مرد کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ ان بزرگ استاد کی موجودگی میں میں حدیث نہیں بیان کرسکتی ثمالہ کہتے ہیں میں نے دیکھا تو وہ بزرگ سو رہے تھے میں نے ان خاتون سے دریافت کیا کہ یہ کون ہیں تو عورت نے بتایا کہ یہ ابوحمرا(رض) ہیں اور رسول اﷲ(ص) کے خادم ہیں اسی اثناء میں وہ بزرگ ہماری باتیں سن کر اٹھ بیٹھے میں کے ساتھ بیٹھ گیا اور ان سے عرض کیا، اﷲ آپ پر رحمت کرے آپ نے علی(ع) کے بارے میں جناب رسول خدا(ص) سے جو کچھ سنا ہے وہ مجھے بیان فرمائیں ورنہ آپ سے خدا کے حضور اس کی باز پرس ہوگی۔

ابو حمرا(رض) نے کہا تم اس بندے کے پاس آئے ہو جو ایسے امور سے مطلع ہے، میں نے جو کچھ علی(ع) کے بارے میں رسول خدا(ص) سے سنا اور دیکھا ہے وہ یہ ہے کہ ایک دن جنابِ رسول خدا(ص) نے مجھ سے فرمایا ، اے ابو حمرا جاؤ سو آدمی عربی، پچاس آدمی عجمی تیس آدمی قبطی اور بیس آدمی حبشی لے کر میرے پاس آجاؤ میں نے ان کے حکم کی تعمیل کی اور جب تعداد کے مطابق آدمی اکٹھے کر لیے تو آپ(ص) کی خدمت میں حاضر ہوگیا۔ آپ(ص) نے فرمایا عربیوں کو ایک صف میں کرو اور ان کے پیچھے


 عجمیوں کو پھر قبطیوں اور پھر حبشیوں کو ان کے پیچھے کھڑا کردو۔ اس کے بعد آپ(ص) کھڑے ہوئے اور اس طرح سے خدا کی حمد و ستائش بیان فرمایی کہ پہلے کبھی نہ سنی تھی پھر فرمایا اے گروہ عرب و عجم ، قبط و حبش تم نے اعتراف کیا ہے کہ نہیں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہین اور محمد(ص) اس کے بندے اور رسول ہیں؟ انہوں نے کہا۔ ہم نے اس بات کا اقرار و اعتراف کیا ہے جناب رسول خدا(ص) نے اس بات کا ان سے تین دفعہ اقرار کروایا پھرآپ(ص) نے تین مرتبہ فرمایا اے خدایا تو گواہ رہنا پھر آپ(ص) نے تیسری بار فرمایا تم اعتراف کرتے ہو کہ ”لا اله الا الله ان محمد عبده ورسوله و ان علی بن ابی طالب اميرالمومنين وولی امرهم من بعدی“ وہ کہنے لگےہاں ہم اعتراف کرتے ہیں آپ(ص) نے تین مرتبہ فرمایا خدایا گواہ رہنا۔ پھر آپ(ص) نے علی(ع) سے فرمایا اے علی(ع) جاؤ اور میرے لیے قلم و کاغذ لے آؤ۔علی(ع) گئے اور قلم ، دوات و کاغذ لے آئے۔ رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا اے علی(ع) لکھو ” بسم اﷲ الرحمن الرحیم“ یہ اقرار نامہ عرب وعجم اور قبطہ و حبش کے لوگوں کا ہے کہ یہ اعتراف کرتے ہیں کہ خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد(ص) اس کا بندہ رسول ہے اور علی(ع) امیرالمومنین اور میرے بعد ولی امت اور امام ہے پھر آپ(ص) نے اس عہد نامے پر مہر لگائی اور اسے علی(ع) کے حوالے کردیا اور اس عہدنامے کو اس کے بعد آج تک نہیں دیکھا گیا۔ میں نے ابوحمرا(رض) سے کہا خدا تم پر رحم کرے میرے لیے مزید کچھ بیان کرو ابو حمرا(رض) نے کہا۔ بروز عرفہ رسول خدا(ص) باہر تشریف لائے کہ علی(ع) کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے ہوئے تھے آپ(ص) نے فرمایا اے گروہ خلائق بیشک آج کے دن خدا تم پر مباہات کرتا ہے کہ اس نے تمیہیں معاف کیا۔ پھر آپ(ص) نے اپنا چہرہ مبارک علی (ع) کی طرف کیا اور فرمایا بالخصوص اس نے تمہیں معاف فرمایا اے علی(ع) میرے نزدیک آؤ علی(ع) نزدیک گئے تو آپ(ص) نے فرمایا وہ بندہ سعادت کا حق رکھتا ہے جو تجھے دوست رکھے اور اطاعت کرے جب کہ وہ شخص شقی ہے جو تجھ سے دشمنی رکھتا ہے مگر تجھ سے دشمنی رکھتا ہے اے علی(ع) جس نے تجھ سے جنگ کی اس نے مجھ سے جنگ کی اور جس نے مجھ سے جنگ کی اس نے خدا سے جنگ کی اے علی(ع) جو کوئٰی تجھے دشمن رکھتا ہے وہ مجھے دشمن رکھتا ہے اور جو مجھ دشمن رکھتا ہے اس نے خدا سے دشمنی کی اور خدا ایسے کو جہنم میں پھینک دے گا۔


مجلس نمبر۶۱

(۲۵ربیع الثانی سنہ۳۶۸ھ)

۱ـ           امام جعفر صادق(ع) فرماتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے بی بی فاطمہ(س) سے فرمایا فاطمہ(س) بیشک تو جس سے ناراض ہے۔ خدا بھی اس سے ناراض ہے اور جس سے تو راضی ہےاس سے خدا بھی راضی ہے امام(ع) کے اس حدیث کے بیان کرنے کے بعد صندل ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے ہمراہ ایک جوان کی طرف اشارہ کر کےکہا۔یا ابو عبداﷲ یہ جوان آپ(ع) کے قول بیان کرکے عجیب و غریب احادیث ہم سے بیان کرتا ہےآپ(ع) نے فرمایا کیا بیان کرتا ہے اس نے کہا یہ کہتا ہے کہ خدا فاطمہ(س) کے غصے سے غصہ کرتا ہے اور ان(س) کی رضا سے راضی ہوتا ہے۔

امام(ع) نے فرمایا صندل تمہاری روایت کے ضمن میں یہ نہیں ہے کہ خدا بندہ مومن کے غصے کی وجہ سے غصہ کرتا ہے ۔ اور اس کی رضا سے راضی ہوتا ہے۔ صندل نے کہا کیوں نہیں یہ ایسا ہی ہے امام(ع) نے فرمایا نہیں یہ ایسا نہیں ہے اس لیے کہ تم منکر ہو کہ فاطمہ(س) مومنہ ہے اور جس سے وہ غصہ کریں خدا اس پر غصہ ہوتا ہے اور وہ جس سے راضی ہوں خدا اس سے راضی ہوتا ہے پھر آپ(ع) نے فرمایا خدا دانا تر ہے کہ وہ اپنی حکمت و رسالت کسے عطا کرے۔

سعد بن معاد(رض) کی وفات

۲ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا کہ جب جنابِ رسول خدا(ص) کو اطلاع دی گئی۔ کہ سعد بن معاد(رض) وفات پاگئے ہیں تو آںحضرت(ص) اپنے اصحاب کے پاس تشریف لائے اور حکم دیا کہ وہ سعد کو غسل دیں۔ آںحضرت(ص) خود دروازے میں کھڑے ہوگئے جب سعد(رض) کا جنازہ تیار ہوگیا۔اور ان کا تابوت کو اٹھایا گیا تو آںحضرت(ص) بنفس بفیس برہنہ پاء سعد کے جنازے میں شریک ہوئے اور ان کے تابوت کو کبھی دائیں طرف سے  کندھے دیتے اور کبھی بائیں طرف سے یہاں تک کہ جنازہ قبر تک پہنچ گیا آںحضرت(ص) نے سعد(رض) کی قبر کے اندر جاکر قبر کو جانچا پھر سعد(رض) کے جسد کو قبر میں اتارا گیا تو آںحضرت(ص)


نے قبر پر مٹی دالی اور تمام رخنے اپنے ہاتھوں سے بھرے اور قبر کے نشان کو واضع کیا۔

پھر آںحضرت(ص) نے فرمایا میں جانتا ہوں کہ کہنگی اس میں سرایت کر جائے گی اور بوسیدگی اسے آلے گی۔ لیکن خدا بندے کے نیک اعمال کو دوست رکھتا ہے اور محفوظ کرتا ہے۔

جب رسول خدا(ص) قبرستان سے واپس تشریف لائے تو سعد(رض) کی والدہ انہیں دیکھ کر کھڑی ہوئیں اور کہا اے سعد تمہیں بہشت مبارک ہو جناب ِ رسول خدا(ص) نے فرمایا اے مادر سعد صبر کرو اور خدا سے رحم  چاہو کیوںکہ اس وقت سعد کوفشار قبر ہو رہا ہے۔

اس کے بعد جنابِ رسول خدا(ص) اصحاب کے ہمراہ واپس روانہ ہوئے اصحاب نے دریافت کیا یا رسول اﷲ(ص) ہم نے دیکھا کہ آپ(ص) نے جو کچھ سعد کے ساتھ کیا وہ کسی صحابی کے ساتھ نہیں کیا آپ(ص) بے ردا اور برھنہ پاء ان کے جنازے کے ساتھ گئے اور ان کی میت کو دائیں بائیں سے کاندھا دیا آپ(ص) نے فرمایا میرے ہمراہ جبرائیل(ع) تھے اور میرے ہاتھوں کو وہ اپنے ہاتھوں میں لیے ہوئے تھے پس جس طرف سے وہ اٹھاتے میں بھی اس طرف سے اٹھاتا تھا اصحاب نے فرمایا آپ(ص) نے ان کے غسل کا بھی حکم دیا پھر آپ(ص) نے ان پر نماز بھی پڑھی انہیں اپنے ہاتھ سے قبر میں اتارا اور اس کے باوجود بھی آپ(ص) نے فرمایا سعد فشار قبر میں گرفتار ہے آپ(ص) نے فرمایا ہاں  کیونکہ وہ اپنے خاندان سے بد اخلاقی کرتا تھا۔

۳ـ          رسول خدا(ص) نے ابو دردا(رض) سے فرمایا جس کسی کی صبح اسطرح ہو کہ وہ اس دن کے لیے اچھی خوراک اور آسودگی رکھتا ہو تو یہ اس کے لیے ایسے ہے کہ گویا اسے تمام دنیا مل گئی اے ابن جعشم جو کچھ تیری بھوک کو رفع کرے وہ اس دنیا سے تیرے لیے کافی ہے اگر تیرے پاس لباس اور گھر بھی میسر ہو تو کیا بہتر ہے۔ اور اگر تیز رفتار گھوڑا بھی رکھتے ہو تو یہ تمہارے لیے مبارک ہے۔ ورنہ حساب و عذاب سے پہلے یہی روٹی اور پانی کا کوزہ ہے۔

۴ـ          ہارون بن خارجہ کہتے ہین کہ مجھ سے امام صادق(ع) نے فرمایا تمہارے گھر سے مسجد کوفہ کا کتنا فاصلہ ہے جب میں نے انہیں اس فاصلے سے آگاہ کیا تو امام(ع) نے فرمایا کوئی مقرب فرشتہ یا پیغمبر مرسل یا بندہ نیک ایسا نہیں ہے کہ جو کوفہ میں داخل ہوا ہو اور اس مسجد میں نماز نہ پڑھی


 ہو۔ جناب رسول خدا(ص) کو شب معراج اس مسجد پر سے گزارا گیا اور فرشتے نے آںحضرت(ص) کے لیے اجازت طلب کی اور آپ(ص) نے اس میں دو رکعت نماز ادا کی اس مسجد میں نماز واجب کی ادائیگی ہزار نمازوں کے برابر اور پانچ سو نافلہ نمازوں کے برابر درجہ رکھتی ہے اس مسجد بے سبب داخل ہونا اور چلنا بھی عبادت ہے۔

۵ـ          ابولیلیٰ کہتے ہیں کہ کعب بن عجرہ نے مجھ سے کہا کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں کچھ ہدیہ کروں میں نے کہا کیوں نہیں اس نے کہا ایک مرتبہ رسول خدا(ص) ہمارے درمیان تھے۔ میں نے ان سے عرض کیا یا رسول اﷲ(ص) ہم جانتے ہیں کہ آپ(ص) پر درود کیسے بھیجا جائے مگر آپ(ع) ہمیں یہ بتائیں کہ آپ(ص) پر صلوات کیسے بھیجی جائے۔آپ(ص) نے فرمایا

 اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍوَآلِ مُحَمَّدٍوَبَارِكْ‏ عَلَى‏ مُحَمَّدٍوَآلِ مُحَمَّدٍوَارْحَمْ مُحَمَّداًوَآلِ مُحَمَّدٍأَفْضَلَ مَاصَلَّيْتَ وَبَارَكْتَ وَتَرَحَّمْتَ وَسَلَّمْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَآلِ إِبْرَاهِيمَ فِي الْعَالَمِينَ إِنَّكَ حَمِيدٌمَجِيدٌ.“

۶ـ           جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا جو کوئی کسی پریشان حال اور پیوند لگے لباس پہنے ہوئے انسان پر احسان کرے تو خدا اس کے اس احسان کو قبول کرے گا۔

۷ـ          جناب علی بن ابی طالب(ع) فرماتے ہیں کہ میں نے جناب رسول خدا(ص) سے آیت” هَلْ جَزاءُ الْإِحْسانِ‏ إِلَّا الْإِحْسانُ‏    “ (رحمن) کہ کیا احسان کا بدلہ احسان کے علاوہ کوئی اور ہے“ کی تفسیر کے ضمن میں سنا ۔ کہ کیا اس خدا کی واحدانیت کے اقرار کا بدلہ بہشت کے علاوہ کچھ اور ہوسکتا ہے۔

۸ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا وہ شخص سزا وارتر ہے کہ جو کسی بخیل دولت مندسے کوئی آرزو رکھے اور سزا وارتر ہے وہ شخص کہ جو کسی عیب دار سے بہتری کی توقع رکھے جبکہ وہ اس کے حق میں یہی بہتری کرے گا کہ اس کے عیوب پر پردہ ڈالے پھر آپ(ع) نے فرمایا سزاوارتر ہے وہ شخص کہ جو کسی احمق سے بردباری کی توقع رکھے۔ لوگوں کو چاہئیے کہ ان سے دور رہیں کیونکہ بخیل یہ آرزو کرے گا کہ لوگ فقیر رہیں عیب دار یہ توقع کرے گا کہ لوگوں میں بھی عیب پیدا ہوں اور احمق بھی


 دوسروں سے حماقت چاہے گا بخیل اپنی جائز ضرورتوں میں بھی فقر کا مظاہرہ کرے گا عیب دار عیب جوئی سے فساد پیدا کرے گا اور احمق حماقت کے سبب گناہوں میں اضافے کا باعث بنے گا۔

۹ـ           جناب امیرالمومنین(ع) نے فرمایا نماز جمعہ میں شامل ہونے والوں کے تین طبقات ہیں اول وہ کہ جو تواضع اور خوشی دلی سے  اس میں شامل ہوتے ہیں اور امام سے پہلے مسجد میں حاضر ہوجاتے ہیں ایسے لوگوں کے گناہوں کا کفارہ انکی یہ نماز جمعہ بن جاتی ہے۔ اور دوسرے جمعے تک اسے گناہوں سے بچاتی ہے جیسے کہ خدا ارشاد فرماتا ہے ” جو کوئی ایک نیکی لائے گا اس کو اس کے مثل دن نیکیاں ملیں گی“ (انعام ، ۱۶۰)

دوئم وہ طبقہ ہے کہ جو تنگ دلی سے نماز جمعہ میں شمولیت اختیار کرتا ہے تا ہم ایسے لوگوں کے اس جمعے کے سبب سے بھی ان کے گناہوں میں  تخفیف کردی جاتی ہے۔

سوئم وہ طبقہ ہے جو کسی سنت کی پرواہ کیے بغیر اس نماز جمعہ میں شرکت کرتا ہے تو یہ ایسا ہے کہ وہ پھر خدا کے رحم و کرم پر ہوتا ہے کہ چاہے تو اسے ثواب دے یا چاہے تو اسے محروم کردے۔

۱۰ـ          جناب علی بن ابی طالب(ع) فرماتے ہیں کہ جنابِ رسول خدا(ص) سے قرض خواہی کی( قرض لے کر نہ لوٹا سکنے کی استطاعت رکھنا) شکایت کی گئی تو آپ(ص) نے فرمایا کہو ”الل ه م اغننی بحلالک عن حرامک و بفضلک عمن سواک “ آپ(ص) نے فرمایا جو کوئی یہ پڑھے گا تو خدا تعالی اس شخص کے ذمے جتنا بھی واجب الادا قرض ہوگا ادا کرے گا چاہیے وہ کوہ صبیر کے برابر ہی کیوں نہ ہو۔ اور کوہ صبیر یمن کا سب سے بڑا پہاڑ ہے۔

۱۱ـ           جناب علی  ابن ابی طالب(ع) فرماتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا میں  حکمت کا شہر ہوں جو کہ بہشت ہے اور اے علی(ع) تم اس کا دروازہ ہو اور کوئی بندہ بہشت میں کیسے داخل ہوسکتا ہے جب تک کہ وہ دروازے سے نہ داخل ہو۔

۱۲ـ          عروہ بن زبیر اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت عمر کے سامنے جناب علی ابن ابی طالب(ع) کو برا کہا۔ حضرت عمر نے س شخص سے کہا کیا تم اس قبر کو پہچانتے ہو۔ یہ محمد(ص) بن عبداﷲ بن عبدالمطلب(ع) ہیں اور جن کے بارے میں تم ہرزہ سرائی کی ہے وہ علی بن ابی طالب(ع)


بن عبدالمطلب(ع) ہیں۔ تم بجز نیکی کے ان کے مت پکارو کہ خدا قبر میں تم پر آزار مسلط کرے گا۔

۱۳ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا بیدار ہوکر بستر سے اٹھنے ے بعد کسی شخص کےساتھ تین عوامل کار فرما ہوتے ہیں اول فائدہ مند ہے اور اس کا نقصان نہیں ہے دوئم جو کہ نقصان دہ ہے اور بے فائدہ ہے اور سوئم بے نقصان و بے فائدہ ہے۔

اول جو کہ فائدہ مند اور بے نقصان ہے وہ یہ ہے کہ انسان نیند سے بیدار ہو کر وضو کرے نماز پڑھے اور ذکر خدا کرے۔

دوئم وہ کہ جو نقصان دہ اور بے فائدہ ہے وہ یہ ہے کہ انسان بیدار ہونے کے بعد گناہوں میں مبتلا ہو جائے۔

سوئم وہ کہ جو بے فائدہ و بے نقصان ہے وہ یہ ہے کہ انسان صبح کے وقت دیر تک سوتا رہے اور نہ ہی فائدہ لے سکے اور نہ ہی نقصان۔

۱۴ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جو شخص یہ چاہتا ہے کہ خدا اس پر سکراتِ موت کو آسان کردے اسے چاہییے کہ وہ صلہ رحمی سے کام لے اور اپنے ماں باپ سے نیکی کرے ایسا شخص جانکنی کی تکلیف سے امان میں رہے گا اور زندگی میں پریشانی و فقر سے  دوچار نہیں ہوگا۔

۱۵ـ          علی بن میمون صابغ کہتے ہیں کہ امام صادق(ع) نے فرمایا جو کوئی چاہیے کہ خدا اسے اپنی رحمت میں لے آئے اور اسے بہشت سے نوازے تو  اسے چاہیے کہ وہ خوش خلقی اختیار کرے، اپنے بارے میں انصاف سے کام لے یتیم نوازی اور ضعیف پروری سے کام لے اور خدا کے لیے اس کی راہ میں متواضع ہو۔

۱۶ـ          جناب علی بن ابی طالب(ع) نے فرمایا جو شخص مسجد میں جائے اسے ان آٹھ میں سے ایک فائدہ پہنچے گا۔

اول : برادر دینی سے ملاقات۔   دوئم: نئے علوم کی معرفت ۔  سوئم :  آیات محکم سے آگاہی۔ چہارم : رحمت جو اس کا انتظار کرتی ہے۔  پنجم : وہ سخن جو اسے ہلاکت سے بچائے۔  ششم : ہدایت کا کلمہ یا دلیل۔


 ہفتم : ترکِ گناہ خوف خدا سے۔  ہشتم :  ترک گناہ شرم سے۔

دعائے قنوت

۱۷ـ ابو جعفر امام باقر(ع) نے فرمایا کہ وتر میں پڑھی جانے والی قنوت ۔ نماز جمعہ میں پڑھی جانے والی قنوت کے مثل ہے تم دعائے قنوت میں پڑھو کہ اے اﷲ تیرا نور تمام ہوا اور تونے ہدایت بخشی پس حمد صرف تیرے ہی لیے ہے۔ اے ہمارے پالنے والے تیرا حلم نہایت عظیم ہے کہ تونے ہمیں معاف فرمایا پس حمد صرف تیرے ہی لیے ہے کہ اے ہمارے رب تیرا چہرہ تمام چہروں سے زیادہ مکرم۔ تیری حجت تمام حجتوں سے بہتر اور تیرا عطیہ تمام عطیات سے افضل و برتر ہے اے ہمارے رب تیری اطاعت کی جاتی ہے تو توُ مسرور ہوتا ہے جبکہ تیری نافرمانی کی صورت میں یہ صرف تیرے ہی اختیار میں ہوتا ہے کہ تو بخش دے تو ہی تو ہے جو مضطر و پریشان کی دعائیں قبول فرماتا ہے اور اسکی تکالیف دور فرماتا ہے اور بیمار کو شفا دیتا ہے ، پروردگار تیری نعمتوں کا شمار اور بدل نہیں سب کی نظریں تیری ہی طرف اٹھتی ہیں ہر قدم تیری طرف اٹھتا ہے۔ سب کی گردنیں اور ہاتھ تیری ہی طرف بلند ہوتے ہیں اور تیری مخلوق اپنے راز تجھ ہی سے بیان کرتی اور تجھ ہی سے سرگوشیاں کرتی ہے اے ہمارے رب ہمیں بخش دے ہم پر رحم فرما۔ ہمارے نبی(ص) لوگوں کے درمیاں سے غائب ہیں ہم پر زمانے کی سختیاں ہیں، ہمارے درمیان فتنے ہیں، دشمن ہم پر غلبہ حاصل کررہے ہیں ہماری تعداد کم اور ہمارے دشمنوں کی زیادہ ہے اے ہمارے رب اپنی طاقت اور مدد سے ہمیں جلد فتح یاب فرما اور امام عادل(ع) کے ظہور کا حکم دے، اے اﷲ، تمام عالمین کے رب ہماری اس مشکل کو حل کردے۔

پھر قنوت وتر کی اس دعا کے بعدستر(۷۰) مرتبہ ”استغفر اﷲ ربی و اتوب الي ه “ کہو اور جہنم سے بہت زیادہ خدا کی پناہ طلب کرو۔ پھر نماز کے سلام کے بعد ”سبحان ربی الملک القدوس العزيز الحکيم “ یعنی میرا رب جو مالک ہے وہ ہر عیب سے بری اور پاک و منزہ ہے وہ صاحب قوت و صاحب حکمت ہے“ پڑھو پھر تین مار کہو سب تعریفین صبح کے رب کی ہیں


اور حمد صبح کو شگافتہ کرنے والے کی ہے۔

۱۸ـ          عبداﷲ بن فضالہ کہتے ہین کہ امام صادق(ع) نے فرمایا کہ جب تمہارا بچہ تین سال کا ہو جائے تو اسے سات مرتبہ ”لا الہالا اﷲ “ سکھاؤ پھر اسے چھوڑ دو جب وہ تین سال سات ماہ اور بیس دن کا ہوجائے تو اس کو سات مرتبہ ” محمد رسول اﷲ(ص)“ کی تلقین کرو پھر چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ پورے پانچ سال کا ہوجائے تو اس سے پوچھا جائے کہ تیرا دائیاں ہاتھ کونسا اور بایاں کونسا ہے جب وہ اس کی پہچان کر لے تو اسے قبلہ رخ کرکے سجدہ کروایا جائے اور پھر چھوڑ دیا جائے جب اس کی عمر چھ سال ہوجائے تو اسے کہا جائے کہ وہ نماز پڑھے اور اسے رکوع وسجدہ کرنے کی تربیت کی جائے یہاں تک کہ سات سال کا ہوجائے تو اس سے کہا جائے کہ وہ اپنا منہ اور ہاتھ دھوئے یہ سکھا کر اسے چھوڑ دیا جائے یہاں تک کہ نو سال کا ہوجائے تو سے وضو کی تعلیم دی جائے اگر وہ بہانہ کرے یا مزاحمت کرے تو اسے سکھانے کے لیے سختی کی جائے اور مارا جائے اور نماز کا حکم دیا جائے جب وہ وضو اور نماز سیکھے گا تو خدا اس کے ماں باپ کے تمام گناہ معاف فرمادے گا انشاء اﷲ تعالی۔


مجلس نمبر۶۲

( سلخ ربیع الثانی سنہ۳۶۸ھ)

۱ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا جو کوئی بغیر وجہ کے نماز مغرب میں تاخیر کرتا ہے یہاں تک کہ ستارے نمودار ہوجائیں تو بخدا ایسے شخص سے میں بیزار ہوں۔

۲ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا انار اور نیاز بو کی شاخ سے دانتوں میں خلال نہ کرو یہ مرض کو تحریک دیتی ہے۔

وفات جناب زید(رح)

۳ـ          حمزہ بن حمران کہتے ہیں کہ میں امام صادق(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے دریافت کیا ، حمزہ کہاں سے آرہے ہو میں نے عرض کیا کوفہ سے یہ سن کر آپ(ع) نے گریہ کیا یہاں تک کہ آپ(ع) کی ریش مبارک آنسوؤں سے تر ہوگئی میں نے عرض کیا یا ابن(ع) رسول اﷲ(ص) آپ(ع) اس قدر گریہ کیوں کررہے ہیں فرمایا مجھے میرے چچا زید(رح) کی یاد آگئی کہ ان کے ساتھ کیا کچھ کیا گیا میں نے عرض کیا، آپ(ع) نے ان کے متعلق کس چیز کو یاد کیا ہے، آپ(ع) نے فرمایا مجھے ان کا قتل کیا جانا یاد آگیا کہ ان کی پیشانی میں تیر لگا اور ان کے فرزند یحیی آئے اور انہیں آغوش میں لے کر کہا بابا آپ کو خوشخبری ہو کہ رسول خدا(ص) علی (ع) فاطمہ(س)، حسن(ع) و حسین(ع) تشریف لائے ہیں پھر ایک لوہار کو بلایا گیا جس نے ان کی پیشانی سے تیر نکالا اور جناب زید خالق حقیقی سے جاملے۔ انہیں رات کی تاریکی میں خفیہ طور پر دفن کر کے قبرِ مبارک کا نشان مٹانے کے لیے ان کی قبر پر پانی جاری کردیا گیا لیکن سندی نامی ایک غلام جوکہ جاسوس تھا یوسف بن عمر کے پاس گیا اور ان کے مدفن کی خبر اسے  دی یوسف بن عمر نے جنابِ زید(رح) کا جسد مبارک باہر نکلوایا اور سولی پر لٹکا دیا جنابِ زید(رح) اسی طرح چار(۴) سال تک سولی پر رہے پھر حکم دیا گیا کہ ان کے جسد  مبارک کو  جلادیا جائے اور ان کے جسم کی راکھ کو ہوا میں منتشر کردیا جائے لہذا ایسا ہی کیا گیا۔ خدا انہیں اذیت دینے والے اور قتل کرنے والے پر لعنت


کرے اور میں خدا سے اس بارے میں شکوہ کرتا ہوں کہ جو کچھ ہمارے خاندان سے جنابِ رسول خدا(ص) کے بعد روا رکھا گیا اور میں اسی سے مدد چاہتا ہوں کہ وہ بہترین مدد کرنے والا ہے۔

دنیا کیا ہے

۴ـ          جناب علی بن حسین(ع) فرماتے ہیں کہ جناب امیرالمومنین(ع) ایک دن اپنے اصحاب کے ساتھ تشریف فرما تھے ۔ اور جنگ کے لیے ان کی صف بندی کررہے تھے کہ ایک بوڑھا آدمی ان کی خدمت میں حاضر ہوا جس کی حالت سے ظاہر ہورہا  تھا کہ وہ ایک لمبا سفر طے کر کے آیا ہے اس نے کہا یا امیرالمومنین(ع) میں ملک شام سے حاضر ہوا ہوں میں چونکہ ایک ضعیف آدمی ہوں اس لیے میں نے آپ(ع) کے بے شمار فضائل سنے ہیں جن کی میں اپنے ذہن میں تردید کرتا رہا ہوں لہذا میں یہ چاہتا ہوں کہ جو علم آپ(ع) کو خدا نے عطا کیا ہے اس سے متعلق مجھے مطلع کریں۔

جنابِ امیر(ع) نے فرمایا اے شیخ سن جو شخص اپنی زندگی کے ایام اعتدال میں گزارے وہ اس کے لیے رحمت ہیں اور جو کوئی اس دنیا کو اپنا سب کچھ جان لے وہ اپنی موت کے وقت سخت افسوس کرے گا جس کسی کا آنے والا کل گذرے ہوئے کل سے بدتر ہے وہ محروم ہے جو کوئی دنیا کے لالچ میں آخرت کا غم نہیں رکھتا وہ ہلاکت میں ہے جو کوئی قناعت پر شکر نہیں کرتا  اس پر ہوس کا غلبہ ہے اور جو کوئی قانع ہے اس کی موت بہتر ہے یہ دنیا اپنے اہل کے لیے خرم و شیرین ہے۔ اسی طرح آخرت بھی اپنے اہل رکھتی ہے ( اہل آخرت) اور اہل دنیا سے صرف نظر کرے گی، دنیا پر رشک نہ کرو اس کی خوشی پر خوش نہ ہو جاؤ اور اس کی تنگی پر مغموم مت ہو اے شیخ جو شخص شب خون کی نگرانی کے لیے جنگ میں متعین کیا جاتا ہے اس کی نیند بہت کم ہوتی ہے انسان کی زندگی میں شب و روز کتنی سرعت دکھاتے ہیں پس اپنی زبان بند رکھو اور اپنی گفتار محدود کر لو۔ اور جب بھی بولو بہتر بولو اے شیخ لوگوں کے لیے بھی وہی پسند کرو جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو اور لوگوں کے لیے وہی اختیار کرو جو تمہارے لیے اختیار کرتے ہیں۔

پھر جنابِ امیر(ع) نے اپنے اصحاب کی طرف رخ کیا اور فرمایا اے لوگو کیا تم دیکھتے نہیں ہو


 کہ اہل دنیا کس طرح صبح و شام اس دنیا کی خاطر دگرگون ہوئے پھرتے ہیں اور ہلاکت کا شکار ہیں اور کچھ وہ بھی ہیں جو عبادت کرتے  اور عبادات میں مشغول ہیں اور ان پر جانکنی کی کیفیت طاری رہتی ہے انہیں اس دنیا سے کوئی امید نہیں ہے، طالب دنیا اس دنیا کے پیچھے موت سے غافل ہیں اور وہ اس کی پیروی کرتے ہیں۔

زبید بن صوحان عبدی نے عرض کیا یا امیرالمومنین(ع) کونسا دن فتح مند ترین اور غالب ترین ہے آپ(ع) نے فرمایا ہوائے نفس کا دن پھر پوچھا کونسی خواری سب سے بڑھ کر ہے فرمایا دنیاکا لالچ پھر پوچھا کونسا فقر سخت ترہے فرمایا ایمان کے بعد کفر پھر دریافت کیا کونسی دعوت زیادہ گمراہ کرنے والی ہے فرمایا کہ وہ دعوت نہیں ہے پھر پوچھا کہ کونسا عمل بہترین ہے فرمایا تقوی پوچھا گیا کہ کونسا عمل کامیاب تر ہے آپ(ع) نے فرمایا اس کی طلب جو خدا کے پاس ہے پھر پوچھا گیا کونسا رفیق بدتر ہے فرمایا معصیت خدا۔ پھر دریافت کیا گیا کہ کونسی خلق بدتر ہےفرمایا اس(خدا) کے دین کو دنیا کے عوض بیچنے والے پھر پوچھا گیا کہ کون سا بندہ فتح مندترین ہے آپ(ع) نے ارشاد فرمایا برد بار۔پھر پوچھا کہ کونسا بندہ سب سے بخیل ہے آپ(ع) نے فرمایا وہ جو مالِ حرام کو ہاتھ میں لائے اور اسے باطل میں خرچ کرے پھر پوچھا کہ کونسا بندہ زیرک تر ہے آپ(ع) نے ارشاد فرمایا وہ بندہ جو راہ حق کو باطل میں سے پہچانے اور اسے حق جانے۔ پھر پوچھا کہ کونسا بندہ بردبار تر ہے فرمایا وہ جو غصہ نہ کرے پھر پوچھا گیا کہ کونسا بندہ رائے دینے میں ثابت قدم ہے فرمایا جو خود فریبی میں مبتلا نہ ہو جسے دنیا کی خود آرائی فریب میں مبتلا نہ کرسکے۔ پوچھا گیا کہ کونسا بندہ احمق تر ہے فرمایا وہ  جو دنیا کے چہرے کو دیکھے اور اس پر فریفتہ ہوجائے پھر پوچھا گیا کہ کونسا بندہ زیادہ قابل افسوس ہے آپ(ع) نے فرمایا وہ جو دنیا و آخرت سے محروم ہے اور اس کا نقصان ظاہر ہے پھر پوچھا کہ کونسا شخص نابینا تر ہے۔ آپ(ع) نے فرمایا وہ جو دکھاوے کا عمل کرے اور خدا سے ثواب کی توقع رکھے پھر پوچھا گیا کہ کونسی قناعت بہتر ہے آپ(ع) نے فرمایا جو کچھ خدانے عطا کیا ہے اس پر قانع ہوجائے پھر دریافت کیا گیا کہ کونسی مصیبت سخت تر ہے فرمایا دین سے ہیبت (خوف) رکھنا پھر پوچھا گیا کہ کونسا عمل خدا کے سامنے زیادہ محبوب ہے۔ فرمایا انتظار فرج ( حلال مقاربت کا انتظار)  پھر پوچھا کہ کونسا بندہ خدا


کے نزدیک بہتر ہے آپ(ع) نے فرمایا ۔ زیادہ ڈرنے والا، تقوی اختیار کرنے والا اور ان( لوگوں) میں سے زاہد تر۔ پھر دریافت ہوا کہ اس دنیا میں کونسی بات خدا کو پسند ہے آپ(ع) نے فرمایا اس کا کثرت سے ذکر اور اسکی بارگاہ میں آہ و زاری۔ پھر پوچھا کہ اس(خدا) کے ہاں کونسی گفتار سچی جانی جاتی ہے۔ فرمایا یہ شہادت کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں پھر پوچھا کہ کونسا عمل خدا کے ہاں زیادہ بڑا ہے۔ فرمایا تسلیم و ورع پھر پوچھا گیا کہ کونسا بندہ گرامی تر ہے فرمایا وہ کہ جو نیک عمل کے لیے بہت زیادہ کوشش کرے۔ پھرجنابِ امیر(ع) نے اپنا رخ اس بوڑھے شخص کی طرف کیا اور فرمایا بیشک خدا نے خلق کو پیدا کیا کہ دنیا ان کی نظر میں تنگ ہے اور وہ اس دنیا اور اس کے مال سے روگرداں ہیں وہ دارالسلام کے مشتاق ہیں اور جان لو کہ خدا انہیں اس کی دعوت دے گا یہ وہ ہیں جو تنگی معاش اور ناراحتی پر صابر ہیں اور جو کچھ خدا کے پاس ان کے لیے ہے اسکے مشتاق ہیں اور راضی بہ رضا ہیں وہ شوق شہادت اور خدا سے ملاقات کا اشتیاق رکھتے ہیں اور اس پر خشنود ہیں اور جان لوکہ ایک دن موت سے ملاقات ہوگی اور انہوں نے آخرت کی خاطر سونے چاندی کو ترک کردیا اور صرفِ قوت پر صبر کیا ہے اور زیادہ (آخرت کے اجر) کو سامنے رکھا اور راہ خدا کو عزیز جانا ہے یہ بندے چراغ ہدایت اور اہل بہشت ہیں۔

اس بوڑھے آدمی نے کہا یا امیرالمومنین(ع) میں بہشت کو آپ(ع) اور آپ(ع) کے اصحاب کے ہمراہ دیکھتا ہوں میں آپ(ع) ہی کی صحبت اختیار کرتا ہوں اے امیرالمومنین(ع) آپ(ع) میری راہنمائی فرمائیں اور مجھے سلاح جنگ مہیا کریں کہ میں آپ(ع) کےدشمنوں سے جنگ کروں لہذا اس شخص کو سامان حرب مہیا کیا گیا وہ بوڑھا شخص دوران جنگ نہایت شجاعت سے شمشیر زنی کرتا ہوا دشمن کی صفوں میں آگے ہی آگے بڑھتا رہا اور اپنے گھوڑے پر سوار نہایت بے جگری سے لڑا اور آخرکار شہید ہوگیا اس کی جنگ دیکھ امیرالمومنین(ع) کو تعجب ہوا پھر جنگ میں شدت آگئی اور آپ(ع) کے اصحاب نہایت بے جگری سے قتال کرتے رہے آپ(ع) کے ایک صحابی نے اس بوڑھے کی لاش کو دریافت کیا اور اس حالت میں پایا کہ اس کا گھوڑا وہیں موجود تھا جبکہ اس کی شمشیر اس کے ہاتھ میں تھی جنگ کے اختتام کے بعد اس کا جسد جناب امیر(ع) کی خدمت میں لاگیا امیرالمومنین(ع) نے اس کے لیے


رحمت طلب کی اور فرمایا بخدا یہ شخص خوش بخت تھا کہ حق کے ساتھ اپنے بھائی کے لیے رحمت طلب کرتا تھا۔

۵ـ جناب جعفر بن محمد(ع) فرماتے ہیں کہ جناب رسول خدا(ص) نے سعد بن معاد(رض) پر صلواة بھیجنے کے بعد ارشاد فرمایا کہ جبرائیل(ع) کے ہمراہ ہزار فرشتے سعد(رض) کے لیے رحمت طلب کرتے ہیں اس لیے کہ یہ اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے اور سواری کے دوران ”قل هو اﷲ “ پڑھتا تھا۔

۶ـ امام صادق(ع) نے فرمایا کسی کے لیے یہ روا نہیں کہ وہ اپنی عورت کو بغیر زیور و زیبائش و آرائش اپنے گھر میں رکھے اسے چاہیے کہ عورت کو زینت دے۔ بیشک اس کے گلے میں ایک گلو بند ہی کیوں نہ پہنائے اور چاہئے کہ اس کے ہاتھ پر حنا لگائے خواہ وہ بوڑھی ہی کیوں نہ ہو۔

۷ـ امام باقر(ع) نے فرمایا روزِمحشر خدا جب بندوں کو اٹھائے گا تو ان کے سامنے ایام کو لائے گا اور لوگ ایام کو ان کے نام اور نشانیوں سے پہچانیں گے تمام دنوں میں  مقدم اور اول جمعے کا دن ہے کہ وہ قابل احترام دلہن کی مانند ہے جمعے کا روز بندے کا گواہ و نگاہ دار ہے جان لو کہ مومنین بہشتمیں جمعہ کی وجہ سے سبقت لے جائیں گے۔

۸ـ  امام باقر(ع) نے فرمایا خدا کسی مرد بیابانی کو دو دعائیہ کلمات کے صلے میں معاف فرما دیتا ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ کہے کہ۔” خدایا اگر تو مجھے عذاب دے تو میں اس کا اہل ہوں۔” خدایا مجھے معاف کردے کہ تو اس( معافی دینے) کا اہل ہے۔

۹ـ امام صادق(ع) نے فرمایا گناہ سے بڑھ کر کوئی چیز ایسی نہیں جو دل کو آلودہ کر سکے وہ دل کہ جو گناہوں سے آلودہ اور مغلوب ہوگیا ہو۔ اسفل ( دوزخ کا سب سے پست وذلیل طبقہ ) کی طرف لے کر جاتا ہے۔

جنابِ رسول خدا(ص) اور ایک یہوی نوجوان

۱۰ـ امام باقر(ع) فرماتے ہیں کہ ایک یہودی نوجوان کا آںحضرت(ص) کے پاس بہت آنا جانا تھا وہ آپ(ص) کے آستانے پر خدمات بجالانے کو باعث افتخار جانتا تھا آںحضرت(ص) کبھی کبھار کسی کام کی سپرداری اسے یاد کرتے تھے اور بعض دفعہ ایسا ہوتا تھا کہ وہ جنابِ رسول خدا(ص) کے لیے کوئی خط لکھ دیا کرتا تھا پھر ایک دفعہ ایسا ہوا کہ وہ آںحضرت(ص) کی خدمت میں حاضر نہ ہوسکا آںحضرت(ص) نے اپنے


 اصحاب سے اس کی بابت دریافت کیا تو انہیں ایک صحابی نے مطلع کیا کہ میں نے اسے حالتِ موت میں گرفتار دیکھا ہے۔ جنابِ رسول خدا(ص) نے اپنے اصحاب کو جمع کیا اور اس کے گھر تشریف لے گئے آںحضرت(ص)  یہ خاص برکت رکھتے تھے کہ جس سے بھی مخاطب ہوں وہ آپ(ص) کی بات کا جواب دے آپ(ص) نے اس سے مخاطب ہوکر کہا اے جوان تو اس نے اپنی آنکھیں کھولیں اور کہا” لبیک یا ابوالقاسم(ص)“ آپ(ص) نے فرمایا کہو ” لا الہ الا اﷲ“ اور میری رسالت کی گواہی دو اس جوان نے اپنے باپ کی طرف دیکھا اور خاموش رہا آپ(ص) نے دوبارہ یہی کہا اس نے پھر اپنے باپ کی طرف دیکھا اور خاموش رہا اور آپ(ص) نے تیسری بار پھر اسے اسی کا حکم دیا مگر وہ پھر اپنے باپ کی وجہ سے خاموش رہا اس مرتبہ اس کے باپ کے کہا اگر تم یہ کہنا چاہتے ہو تو کہہ دو اس جوان نے یہ سن کر کہا” میں گواہی دیتا ہوں کہ خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد(ص) اﷲ کے رسول ہیں“ وہ جوان اس حالت میں رحلت اختیار کرگیا۔ جنابِ رسول خدا(ص) نے اس کے باپ سے کہا تم کمرے سے باہر چلے جاؤ پھر آپ(ص) نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ اس کو غسل و کفن دو اور میرے پاس لے آؤ تاکہ اس کی نماز جنازہ ادا کی جاسکے یہ کہہ کر آپ(ص) باہر تشریف لے گئے۔ اور فرمایا اس خدا کی حمد ہے کہ اس نے اس کے نفس کو آج میرے وسیلے سے دوزخ سے نجات بخشی۔

۱۱ـ           امام باقر(ع) نے فرمایا جو کوئی مٹی کھاتا ہوگا تو اس سے اس کے بدن میں خارش پیدا ہوگی اور بواسیر کی شکایت میں مبتلا ہوگا درد اس کے بدن میں متحرک رہے گا اور اس کے پاؤں میں سے قوت کم ہوجائے گی اس کے ہرکام کرنے کی استطاعت میں کمی واقع ہوگی اور اس کے شب و روز تندرستی کی بجائے بیماری میں بسر ہوں گے۔

۱۲ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا چار چیزیں ایسی ہیں کہ کسی کے گھر میں ہوں گی تو رخنہ ڈالیں گی اور برکت و آبادی نہیں رہے گی اول ، خیانت، دوئم چوری، سوئم شراب خوری، اور چہارم زنا۔

۱۳ـ          قسم بن ابی سعید روایت کرتے ہیں کہ  بی بی فاطمہ(س) جناب رسول خدا(ص) کی خدمت میں تشریف لائیں اور اپنا ضعف حال ان سے بیان فرمایا حضور(ص) نے ارشاد فرمایا اے فاطمہ(س) کیا تم جانتی ہو کہ علی(ع) میرے لیے کیا مرتبہ رکھتے ہیں جب وہ بارہ سال کے تھے تو میری نصرت کی خاطر کمر بستہ


 ہوئے سولہ سال کے تھے تو انہوں نے تلوار اٹھائی۔ انیس سال کے تھے تو انہوں نے نامور پہلوانوں کو قتل کیا۔ اکیس سال کے تھے تو در خیبر کو اکھاڑا پھینکا جسے پچاس مرد بھی اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتے تھے۔ یہ سن کر بی بی فاطمہ(س) کا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھا اسی اثناء میں جناب علی(ع) تشریف لائے تو بی بی(س) نے ان سے فرمایا جوشرف آپ(ع) کو خدا نے بخشا ہے ہمارے لیے وہی باعث فضل و افتخار ہے۔

۱۴ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا جو کوئی میرے اہل بیت(ع) کی راہ میں ایک دینار  خرچ کرے خدا روز قیامت اسے اس ایک درہم کے عوض اتنا اجر عطا کرے گا کہ جیسے اس نے ایک قنطار (۱۲۰۰ درھم) خدا کی راہ میں خرچ کیا ہو۔

۱۵ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جو شخص اپنی واجب نماز میں تاخیر کرے اس تک روز قیامت میری شفاعت نہ پہنچے گی۔

۱۶ـ          امام باقر(ع) نے فرمایا جب بروز جمعہ، عصر ادا کرو تو کہو خدایا محمد(ص) اور ان کے اوصیاء اور ان کی آل(ع) پر اپنی بہترین رحمت نازل فرما اپنی بہترین برکت ان(ع) کو عطا فرما خدایا درود ہو ان پر ان کی ارواح اور ان کے اجسام پر۔ جو کوئی بھی بعد عصر اسے پڑھے گا تو خدا اس پر اپنی رحمت و برکات نازل فرمائے گا اور اس کے حساب میں ایک لاکھ بیکیاں لکھی جائین گی اس کے ایک لاکھ گناہ ختم کردیئے جائیں گے۔ اس کی ایک لاکھ حاجات پوری کی جائیں گی اور اس بندے کے ایک لاکھ درجات بلند کیے جائیں گے۔

۱۷ـ          سلیمان بن مہران کہتے ہیں کہ ایک دن میں امام صادق(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ کچھ افراد وہاں موجود تھے امام(ع) نے ان سےفرمایا اے گروہ شیعہ ہمارے لیے زینت بنو۔ گناہوں کو اختیار کر کے ہمارے لیے باعث نگ و عار نہ بنو لوگوں سے خوش گفتاری کرو اپنی زبان کی حفاظت کرو بری بات کہنے والے نہ بنو۔ اور کم گوئی اختیار کرو۔

۱۸ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا خوش بخت ہے وہ شخص جو میری زیارت کرے اور خوش قسمت ہے وہ بندہ کہ جو اسے دیکھے جس نے مجھے دیکھا ہو۔


مجلس نمبر۶۳

(۳ جمادی الاول سنہ۳۶۸ھ)

آںحضرت(ص) کی وصیت

۱ـ           جناب رسول خدا(ص) نے جناب امیرالمومنین(ع) سے فرمایا اے علی(ع) میں جو کچھ تمہیں بتاؤں اسے لکھ لو۔ جناب امیر(ع) نے فرمایا یا رسول اﷲ(ص) مجھے خوف ہے کہ کہیں اس تحریر کو میں بھول نہ جاؤں جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا اے علی (ع) تم بھول جانے کا خیال دل میں مت لاؤ اگر ایسا ہوا تو خداوند کریم تمہیں حافظہ عطا کرے گا اور یہ تمہیں بھولے گی مگر میں چاہتا ہوں کہ اسے ضبط تحریر میں لایا جائے تاکہ تیرے کام کو انجام دینے والے اس سے فائدہ اٹھائیں۔ جناب امیر(ع) نے دریافت کیا کہ میرے کار کے انجام دینے والے کون ہیں۔ ارشاد ہوا وہ تیرے فرزند اور امام(ع) ہیں میری امت ان سے پیاس بجھائے گی ان کی دعائیں مستجاب ہوں گی خدا ان سے بلائیں دور ہٹائے گا ان کے وسیلے سے آسمان سے رحمت کا نزول ہوگا۔ پھر جنابِ رسول خدا(ص) نے امام حسن(ع) کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ تمہاری آل(ع) میں سے پہلے امام ہیں پھر جناب امام حسین(ع) کی طرف اشارہ کر کے فرمایا بقیہ امام اس کی اولاد سے ہیں۔

۲ـ           امام صادق(ع) فرماتے ہیں کہ خدا نے جناب رسول خدا(ص) کی رحلت سے پیشتر ہی ان کے لیے وصیت کا اجرا فرما دیا تھا اور اسے نازل کردیا تھا۔

کہ ” اے محمد(ص)۔ تیرے بعد تیرا جانشین تیرے خاندان کا نجیب ترین فرد ہے۔ یہ تمہارے لیے وصیت نامہ ہے۔“

جناب رسول خدا(ص) نے جبرائیل(ع) سے پوچھا میرے خاندان سے نجیب ترین کون ہے جبرائیل(ع) نےکہا علی بن ابی طالب(ع) ، اس خط کو سونے کی سیل سے سر بمہر کیا گیا تھا۔ جناب رسول خدا(ص) نے یہ خط جناب امیر(ع) کے حوالے کردیا اور فرمایا میرے اوصیاء(ع) کوکہنا کہ وہ اس کی مہر کھول کر اس خط کو دیکھیں


 اور جو کچھ اس میں تحریر ہو اس پر عمل کریں۔

پھر بعد از رحلت جناب رسول خدا(ص) ، جناب امیر(ع) نے اس خط کو کھولا اور اس میں درج ہدایات پر عمل کیا۔

پھر بعد از جناب امیر(ع)، امام حسن(ع) نے اس خط کوکھول کر دیکھا اور اس میں مندرج ہدایات پر عمل کیا۔

پھر بعد از جناب امام حسن(ع) جناب امام حسین(ع) بن علی(ع) نے اس خط کو کھول کر پڑھا اس میں مندرج تھا کہ اپنی اور اپنے خاندان و اصحاب کی جانیں خدا کے ہاتھ فروخت کرو اور شہادت حاصل کرو لہذا آپ(ع) نے اسی طرح ان ہدایات پر عمل کیا۔

پھر وہ خط جناب علی بن حسین(ع) نے کھولا تو اس میں مندرج تھا کہ خاموش رہو، گوشہ نشینی اختیار کرو اور اپنی موت تک عبادت خدا مشغول رہو۔ آپ(ع) نے ان ہدایات پر عمل کیا۔

پھر بعد از جناب زین العابدین(ع) وہ خط جناب محمد بن علی(ع) نےکھولا تو اس میں پایا کہ لوگوں کو تعلیم دو ان سے حدیث بیان کرو فتاوی کا اجرا کرو اور خدا کے سوا کسی سے نہ ڈرو۔ علوم اہل بیت(ع) کا اجرا کرو خدا نے تم پر کسی کو مسلط نہیں کیا۔

پھر انہوں نے وہ خط میرے حوالے کردیا اور جب میں نے اسے کھولا تو اس میں پایا کہ اپنے والد کے کلام کی تصدیق کرو خدا کے علاوہ کسی سے مت درو کہ تم اس کی حفاظت و امان میں ہو اور میں نے ایسا ہی کیا ہے میں نے وہ خط موسی بن جعفر(ع) کو دیدیا ہے کہ وہ اسی طرح دوسرے اماموں (ع) تک منتقل ہوتا رہے گا تا قیام مہدی(عج)۔

۳ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا کہ رسول خدا(ص) کا ارشاد گرامی ہے،میں پیغمبروں کا سردار ہوں اور میرے اوصیاء تمام اوصیاء کے سردار ہیں آدم(ع) نے خدا سے درخواست کی کہ انہیں ایک وصی عنایت کیا جائے تو خداوند نے انہیں وحی کی کہ میں نے پیغمبروں کو نبوت سے سرفراز کیا اور خلق کو برگذیدہ کیا اور میں انہیں ( پیغمبروں کو) بہترین وصی عطا کروں گا۔ پھر خدا نے آدم(ع) کو وحی کی کہ وہ شیث(ع) کو اپنا وصی بنائیں۔ آدم(ع) ہبت اﷲ ہیں۔ پھر شیث (ع) نے اپنے فرزند شبان(ع) کو( جو کہ نزلہ نامی


 حوریہ کے بطن سے پیدا ہوئے تھے  جو بہشت سے اس لیےبھیجی گئی تھی کہ آدم(ع) اس سے اپنے فرزند کی تزویج کریں۔) کو اپنا وصی قرار دیا۔ پھر شبان(ع) نے محلث(ع) کو وصیت کی اور وصایت عطا کی۔ پھر محلث(ع) نے محوق(ع) کو پھر محوق(ع) نے عمیشا(ع) کو اور پھر عمیشا(ع) نے اخنوح(ع) کو اپنا وصی قرار دیا۔ اخنوح(ع) ( جوکہ ادریس(ع) نبی ہیں) نے اپنا وصی ناخور(ع) کو بنایا۔ ناخور(ع) نے اپنا وصی نوح(ع) کو ںوح(ع) نے سام(ع) کو سام(ع) نے عثامہ(ع) کو عثامہ(ع) نے برعیثاشا(ع) کو پھر برعیثاشا(ع) نے یافت(ع) کو پھر یافث(ع) نے برہ(ع) کو پھر برہ(ع) نے جفیسہ(ع) کو اور جفیسہ(ع) نے عمران(ع) کو اپنا وصی بنایا۔ پھر عمران(ع) نے ابراہیم خلیل اﷲ(ع) کو انہوں نے اسماعیل(ع) کو پھر اسماعیل(ع) اسحاق کو پھر اسحاق نےیعقوت(ع) کو اور یعقوب(ع) نے یوسف(ع) کو اپنا وصی مقرر کیا۔ پھر یوسف(ع) نے بشریا(ع) کو پھر بشریا(ع) نےشعیب(ع) کو پھر شعیب(ع) نے موسی بن عمران(ع) کو اپنا وصی بنایا۔ پھر موسی بن عمران(ع) نے یوشع بن نون(ع) کو یوشع بن نون(ع) نے داؤد(ع) کو پھر داؤد(ع) نے سلیمان کو اور سلیمان(ع) نے آصف بن رخیا(ع) کو آصف بن برخیا(ع) نےزکریا(ع) اور زکریا(ع) نے عیسی بن مریم(ع) کو اپنا وصی بنایا۔ پھر عیسی بن مریم(ع) نے شمعون(ع) کو پھر شمعون(ع) بن صفا(ع) نے یحی بن زکریا(ع) کو پھر زکریا(ع) نے منذر(ع) کو اپنا وصی بنایا۔ منذر(ع) سے یہ سلسلہ سلیمہ(ع) تک پہنچا پھر سلیمہ(ع) سے یہ وصایت بردہ(ع) کو پہنچی پھر بردہ(ع) نے یہ وصایت مجھ تک پہنچا دی اے علی(ع) اب یہ وصایت میں تجھے سونپتا ہوں۔ اے علی(ع) یہ وصایت تم اپنے وصی کو سونپنا کہ وہ اپنے بعد یکے بعد دیگرےآنے والے اوصیاء کو سونپے گا یہ سلسلہ تمہارے بعد بہترین اہل زمین تک پہنچے گا یہاں تک آخری امام(ع) اس سے سرفراز ہوں گے اے علی(ع) لوگ تمہارے بارے میں شدید اختلاف رکھیں گے جو شخص میری امت میں سے تمہارے وصی ہونے کے اعتقاد پر قائم رہے گا وہ ایسا ہوگا کہ وہ میرے ہمراہ رہے۔ اور کافروں کی اقامت گاہ آگ ہے۔

۴ـ ابو بصیر کہتے ہیں میں نے امام صادق(ع) سے دریافت کیا کہ جناب یوسف(ع) تاریک کنوئیں میں کیا دعا فرمایا کرتے تھے۔ کیوںکہ ہم اس بارے میں مختلف رائے رکھتے ہیں۔

امام نے جواب دیا کہ جب جنابِ یوسف(ع) کو تاریک کنوئیں میں پھینک دیا گیا۔ اور وہ زندگی کی امید ختم کر بیٹھے تو انہوں نےیہ دعا مانگی۔ اے خدایا اگر میرے گناہوں اور خطاؤں نے تیرے نزدیک میرا چہرہ ذلیل کردیا ہے اور اگر میری آواز تیرے نزدیک نہیں جاتی اور تو میری کسی دعا کو


 استجابت عطا نہیں کرتا تو میں تجھے  جنابِ یعقوب(ع) کے حق کا واسطہ دے کر التجاء کرتا ہوں کہ تو ان کے ضعف پررحم کر اور مجھے ان سے ملادے کیوںکہ تو جانتاہے کہ وہ مجھے کتنا چاہتے ہیں اور میری جدائی میں کتنے مغموم ہیں۔

یہاں تک فرما کر امام صادق(ع) نے گریہ فرمایا اور کہا اےخدایا میری بھی یہی التجاء ہے کہ اگر میرے گناہوں اور خطاؤں نے مجھے تیرے سامنے بے آبرو کیا ہے اور اگر تو میری خیر کے لیے کوئی فرمان جاری نہیں فرماتا کہ تیری ناراضگی سے عظیم کچھ بھی نہیں ہے تو میں خواہش رکھتا ہوں کہ تو مجھ پر پیغمبر(ص) کے حق کے واسطے رحمت نازل فرما۔ یا اﷲ ۔ یااﷲ ، امام (ع) نے فرمایا اس کا کثرت سے ورد کیا کرو کہ میں ہر بلا اور سختی میں اس دعا کو کثرت سے پڑھتا ہوں۔

۵ـ          حبیب بن ابو ثابت بیان کرتے ہیں کہ رسول خدا(ص) جب اپنے  چچا ابو طالب(ع) کے جنازے میں تشریف لائے تو فرمایا اے چچا آپ(ع) میری یتیمی میں میرے پرستار تھے۔ آپ(ع) نے بچپن میں میری پرورش فرمائی اور جوانی میں میری مدد کی۔ خدا آپ(ع) کو میری طرف سے جزائے خیر دے پھر آپ(ص) نے علی (ع) کو حکم دیا کہ وہ اپنے والد(ع) کو غسل دیں۔

۶ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا چار اشخاص بہشت میں نہ جاسکیں گے کاہن، مناق، دائم الخمر(شرابی) اور بہت زیادہ سخن چینی کرنے والا۔

۷ـ          عبداﷲ بن عمر نے دو آدمیوں کو دیکھا کہ وہ آپس میں جھگڑ رہےتھے کہ ان میں سے کس نے عمار کوقتل کیا ہے اور کون دوزخ میں جائے گا پھر وہ کہنے لگے کہ ہم نے سنا تھا کہ رسول خدا(ص) کا ارشاد ہے کہ عمار(رض) کا قاتل جہنمی ہے جب یہ خبر معاویہ تک پہنچی تو اس نے کہا کہ ہم نےعمار(رض) کو قتل نہیں کیا گو کہ میں نے ہی عمار (رض) کو یہاں بلوایا تھا۔

جناب شیخ صدوق(رح) فرماتے ہیں کہ اس بناء پر یہ لازم ہے کہ صرف قاتل کو ہی قاتل کہا جائے کیوںکہ جنابِ حمزہ(رح) کو جناب رسول خدا(ص) ہی احد میں لے کر گئے تھے اس واسطے جناب حمزہ(رض) کے قتل کی ذمہ داری معاذ اﷲ جناب رسول خدا(ص) پر عائد نہیں ہوتی۔ ( یہ بات علیحدہ کہ کس کے حکم پر جناب عمارآ(رض) کو قتل کیا گیا)


۸ـ          بلال بن عیسی(ع) کہتے ہیں کہ جب عمار یاسر(رض) قتل کردیئے گئے تو لوگ حذیفہ کے پاس گئے اور کہنے لگے اے ابو عبداﷲ ، عمار یاسر(رض) کو قتل کردیا گیا ہے اور لوگ ان کے قتل کے بارے میں اختلاف رکھتے ہیں۔ آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے۔ حذیفہ نے کہا تم لوگ میرے پاس ابھی آئے ہو مجھے پہلے بٹھاؤ پھر میں تمہیں بتاتا ہوں۔ لہذا لوگوں نے انہیں سہارا دے کر بٹھایا تو حذیفہ(رح) نے کہا میں نے جناب رسول خدا(ص) کو کہتے ہوئے سنا کہ ابو یقظان (عمار یاسر(رض)) فطرت اسلام پر ہے اور اسے (اسلام کو ) ہرگز نہ چھوڑے گا یہان تک کہ اس کی موت واقع ہوجائے۔ جناب رسول خدا(ص) نے اس بات کو تین مرتبہ دھرایا۔

۹ـ           ام المومنین عائشہ روایت کرتی ہیں کہ جناب رسول خداص(ص) نے فرمایا کہ خدا کے لیے دو کام در پیش ہوں تو عمار(رح) سخت ترین کام کو انتخاب کرتے ہیں۔

لیلة الہریر سے پہلے جناب امیر(ع) کا خطبہ

۱۰ ـ         امام محمد باقر(ع) نے فرمایا کہ جناب علی ابن ابی طالب(ع) نے بروز جمعہ لیلہ الہریر سے پہلے جنگ صفین میں یہ خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپ(ع) نے فرمایا میں خدا کا شکر ادا کرتا ہوں اس کی کثیر نعمتوں پر جو اس نے اپنی تمام نیک و بد مخلوق کو عطا کیں۔ خواہ وہ اس کے حجج ہوں جو اس کی مخلوق کے لیے بھیجے گئے یا وہ جنہوں نے اس کی اطاعت کی اور اس پر جہنوں نے اس کی نافرمانی کو اور اس نے ان کو اپنے فضل و کرم سے معاف فرما دیا۔ اور ان پر کہ جنہیں اس نےعذاب دیا باوجود ان کے گناہوں پر اقدام کرنے کے خدا اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔میں اس کی حمد کرتا ہوں کہ وہ بلاؤں کو آسان۔ نعمتوں کوظاہر۔ اور ہمارے امر دین میں استعانت کرتا ہے۔ میں اس پر ایمان لاتا ہوں اور اس پر توکل ہوں جس کے لیے وہ کافی ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ معبود بجز خدا کے کوئی نہیں ہے وہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اور یہ کہ محمد(ص) اس کے بندے اور رسول(ص) ہیں جنہیں اس نے ہدایت کے لیے بھیجا اور ان کے دین سے راضی ہوں ان کی تبلیغ رسالت کی وجہ سے انہیں اور ان کے اہل بیت(ع) کو تمام بندوں پر برگذیدہ کیا اور اپنی تمام مخلوق پر انہیں حجت قرار


دیا وہ رؤف و رحیم ہے کہ اس نے انہیں اپنا علم عطا کیا اور حسب و نسب میں انہیں تمام مخلوق سے افضل قرار دیا اور رکھا اور اس نے ان میں تمام خوبیوں کو یکجا کردیا اور انہیں انفرادی طور پر شجاعت و علم سے نوازا۔ وہ اپنی امت سے  ایسی محبت کرتے تھے کہ انہیں اس نے اجداد سے بری کردیا۔ (جیسا کہ حدیث میں ہے کہ میں اور علی(ع) اس امت کے دو باپ ہیں) اور اس معاہدے سے کفار اور مسلمان دونوں کو مامون کیا انہوں نے خدا کی اطاعت کی خاطر مصائب پر صبر کیا ۔ انہوں نے راہ خدا میں جہاد کیا اور جو جہاد کا حق تھا وہ انہوں نے پورا کیا انہوں نے خدا کی اتنی عبادت کی کہ یقین کامل حاصل کرلیا اور اہل زمین کے تمام نیک و بد کی عظیم ترین مصیبتوں کو دفع کر دیا۔ پھر انہوں نے تم میں خدا کی کتاب چھوڑی اور تمہیں اطاعت خدا اور گناہوں سے  بچنے کا حکم دیا تم سے جناب  رسول خدا(ص) نے عہد لیا تاکہ تم بھی اس سے روگردانی نہ کرو۔

پھر جناب امیر(ع) نے فرمایا تمہارا دشمن تمہارے لیے گڑھا کھود رہا ہے تم جانتے ہو کہ ان کا رئیس کون ہے جو انہیں باطل کی طرف دعوت دے رہا ہے تمہارے پیغمبر(ص) کا ابن عم تمہارے درمیان موجود ہے جو تمہیں اپنے نبی(ص) کی سنت اور حق پر عمل کرنے کی دعوت دے رہا ہے وہ میں ہی ہوں جو سابقون الصلواة ہے اور سوائے رسول اﷲ(ص) کے کوئی اس امر میں مجھ پر سبقت نہیں لے جاسکتا پس میرے برابر کوئی نہیں ہوسکتا خدا کی قسم میں اہل بدر میں سے ہوں خدا کی قسم تم لوگ حق پر ہو اور یہ قوم( مخالف) باطل پر ہیں،یہ کب جائز ہے کہ وہ باطل پر مجتمع ہوں اور تم حق سے پراکندہ ہو۔ ان سے جنگ کرو تاکہ تمہارے ہاتھوں ان پر خدا کا عذاب نازل ہو۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو خدا تمہارے اغیار کے ہاتھوں انہیں عذاب دے گا۔ آپ(ع) کے اصحاب نے آپ(ع) کا جواب اطاعت میں دیا اور کہنے لگے اے امیرالمومنین(ع) ہم ہر حالت میں ان پر پیش قدمی کریں گے اور خدا کی قسم ہم آپ(ع) کے سوا کسی دوسرے کو نہیں چاہتے ہمارا جینا مرنا آپ(ع) ہی کے ساتھ ہے۔ جناب امیر(ع) نے ان کے جواب میں کہا اس کے حق کی قسم کہ جس کے قبضے میں میری جان ہے، رسول خدا(ص) نےمجھے دیکھا ہے کہ میں نے کس طرح ان کی موجودگی میں شمشیر زنی کی ہے، پھر جنابِ امیر(ع) نے وہ منقبت دھرائی کہ ” کوئی شمشیر ذوالفقار کی مانند اور کوئی جوان مرد علی(ع) کی مانند نہیں ہے“ پھر آپ(ع) نے جنابِ


 رسول خدا(ص) کی حدیث کہ ” اے علی(ع) تمہاری نسبت مجھ سے وہی ہے جو موسی(ع) کی ہارون(ع) سے تھی بجز اس کے کہ میرے بعد کوئی پیغمبر نہیں ہوگا اے علی(ع) تیرا جینا مرنا میرے ہی ساتھ ہے“ بیان فرمائی۔

پھر جناب امیر(ع) نے فرمایا خدا کی قسم میں جھوٹ نہیں کہتا اور مجھ سے جھوٹ نہیں کہا گیا میں گمراہی اختیار نہیں کرتا اور گمراہ نہیں ہوں اور جس کی مجھے وصیت ہوئی ہے اس چیز کو میں فراموش نہیں کرتا میں اس دلیل روشن پر ہوں جو میرے پروردگار نےمیرے پیغمبر(ص) کےلیے بیان فرمائی ہے اور جو جنابِ رسول خدا(ص) نے مجھے بیان کی ہے میں راہ روشن ہوں کہ اسے قدم بہ قدم پہچانتا ہوں۔

پھر جناب امیر(ع) نے دشمن کی طرف پیش قدمی کی اور طلوع آفتاب کے وقت جنگ کا آغاز کیا یہاں تک کہ رات ہوگئی اس دن ان لوگوں کی نماز وہ تکبیر ہی تھی وہ جو باطل پر حملے کرتے وقت بلند کررہے تھے جناب امیر(ع) نے اس روز (۵۰۶) پانچ سو چھ آدمیوں کو قتل کیا اور صبح اہل شام جناب امیر(ع) سے کہنےلگے کہ جو ہم میں سے باقی ہیں ان پر رحم کریں پھر اس کے بعد نیزون پر قرآن بلند کیے گئے( رجوع کریں جنگ صفین اور واقعہ تحکیم ۔ محقق)

۱۱ـ           ابن عباس(رض) روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول خدا(ص) کو خبر ملی کہ بعض اہل قریش اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ علی امیرالمومنین(ع) ہیں۔ آپ منبر پر تشریف لے گئے اور ارشاد فرمایا اے لوگو! بیشک خدا نے مجھے تم پر رسول(ص)  بنا کر بھیجا ہے۔ اور مجھے حکم دیا ہے کہ میں علی(ع) کو تم پر امیر مقرر کروں۔ اے لوگو! جس کا میں نبی ہوں، علی(ع) بھی اس کے امیر ہیں خدا  نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں علی(ع) کی ولایت کے ذریعے آزماؤں۔ میں اپنے خدا کا حکم سنتا ہوں اور اس کے دستور پر عمل کرتا ہوں اس نے تم میں سے کسی کو امیر مقرر نہیں کیا ہے نہ ہی میری زندگی میں اور نہ ہی میرے بعد یہ صرف علی(ع) ہی ہیں جنہیں تم پر امیر مقرر کیا گیا ہے اور امیرالمومنین(ع) کا لقب عطا کیا گیا ہے اور ان سے پہلے یہ لقب کسی اور کوعطا نہیں کیا گیا۔ جو کچھ علی(ع) کے بارے میں مجھے حکم دیا گیا ہے وہ میں تم تک پہنچا رہا ہوں۔ جس نے اس حکم کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس نےمیری اطاعت کی اس نے خدا کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے خدا کی نافرمانی کی۔


 اور ایسا نافرمانی خدا کے سامنے کوئی عذر نہیں رکھتا ۔ اور ایسے شخص کا انجام دیسا ہی ہے جیسا کہ وہ اپنی کتاب میں بیان کرتاہے کہ ” جوکوئی خدا اور اس کے رسول(ص) کے حکم کی نافرمانی کرے گا اور اسکی حدود سے تجاوز کرے گا تو وہ اس کو ہمیشہ کے لیے جہنم کی آگ میں ڈال دے گا۔ “ ( نساء، ۱۴)

۱۲ـ          ضحاک بن مزاحم کہتے ہیں کہ علی بن ابی طالب(ع) کی وفات کے بعد جب انکا ذکر ابن عباس(رض) کے سامنے ہوا تو ابن عباس(رض) کے سامنے ہوا تو ابن عباس(رض) نے کہا افسوس کہ ابوالحسن(ع) دنیا سے چلے گئے، خدا کی قسم نہ ہی ان میں کسی قسم کا تغیر و تبدل پیدا ہوا اور نہ ہی انہوں نے حکم خدا سے کبھی تجاوز کیا۔ نہ ہی ان کی حیثت میں کسی قسم کی تبدیلی آئی اور نہ ہی انہوں نے کوئی مال و متاع جمع کیا۔ انہوں نے حق کے علاوہ کسی شے کو تسلیم نہیں کیا۔ اور نہ ہی خدا کے خلاف کچھ منظور کیا۔ خدا کی قسم دنیا آپ(ع) کےسامنے جوتے کے تسمے سے بھی حقیر تھی۔ وہ جنگ میں صاحب شمشیر اور مجلس میں دریائے حکمت تھے۔ افسوس کہ ایسی بلند درجہ حکمت ہم سے رخصت ہوگئی۔

۱۳ـ          حسن بن یحی دہان کہتے ہیں کہ قاضی بغداد جس کا نام سماعہ تھا کے پاس بغداد کا ایک بزرگ شخص آیا اور اس سے کہنے لگا۔ خدا قاضی کو جزائے خیر دے۔ میں گزشتہ سال حج پر گیا۔ اور واپسی پر مسجد کوفہ میں رکا تاکہ اس میں نماز ادا کروں۔ مسجد کوفہ میں میں نے دیکھا کہ ایک بیابانی عرب عورت اپنے بال اپنے چہرے پر ڈالے ہوئے ہے اور کہتی ہے کہ جو آسمان و زمین اور دنیا و آخرت میں مشہور معروف ہے  ظالمین اس کے نور کو بجھانے کی کوشش میں مصروف ہیں وہ یہ چاہتے ہیں کہ اس کے کام کو مٹا دیں، مشرکین کو یہ گوارا نہیں ہے کہ اس کے نام کو بلندی ملے اور اس کے نور کو تابندگی ملے میں نے اس عورت سے پوچھا کہ وہ کس کے بارے میں یہ کہہ رہی ہے اور اس طرح تعریف کررہی ہے اس عورت نے کہا کہ یہ وہی ہیں جو امیرالمومنین(ع) ہیں میں نے اسے کہا کہ کونسے امیرالمومنین(ع) تو اس نے کہا وہی امیرالمومنین(ع) جو علی(ع) بن ابی طالب(ع) ہیں اور ان کی ولایت کا انکار کسی بھی طرح روا نہیں ۔ اس بزرگ نے بیان کیا کہ میرا دھیان کسی وجہ سے دوسری طرف ہوا اور جب میں نے دوبارہ ادھر دیکھا تو کسی کو موجود نہ پایا۔


مجلس نمبر۶۴

(۷ جمادی الاول سنہ۳۶۸ھ)

معرفت خدا

 ۱ـ          امام رضا(ع) نے قول خدا کہ ” چہرے اس دن خرم ہوں گے اور اپنے پروردگار کی طرف سے نگران ہیں۔“ ( قیامت ۲۳،۲۲) کی تفسیر کے سلسلے میں ارشاد فرمایا کہ اعمال صالح انجام دینے والے اس دن تاباں ہوں گے اور اپنے پروردگار سے ثواب کے منتظر ہوں گے۔

۲ـ           امام رضا(ع) نے تفسیر قول خدا کہ ” آنکھیں اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں اور وہ تمام آنکھوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے“ ( انعام، ۱۰۳) کے سلسلے میں ارشاد فرمایا کہ ” ہم اس کو درک نہیں کرسکتے اپنی آنکھوں سے مگر دل کے ساتھ۔“

۳ـ          اسماعیل بن فضل کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق(ع) سے پوچھا کہ کیا روزِ قیامت خدا کو دیکھا جائیگا یا نہیںتو امام(ع) نے ارشاد فرمایا اے ابن فضل وہ دیکھنے میں نہیں آسکتا (یعنی نظریں اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں) وہ اس بات سے منزہ اور برتر ہے، اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔ وہ دیکھنے میں نہیں آتا بجز اس کے کہ رنگ و کیفیت رکھے ہوئے ہو۔ اور خدا رنگوں اور کیفیتوں کا پیدا کرنے والا ہے۔

۴ـ          امام رضا(ع) نے فرمایا کہ ایک مرتبہ ابو حنیفہ ، امام صادق(ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے وہاں انہوں نے دیکھا کہ ایک پانچ یا چھ برس کا بچہ موجود ہے(امام موسی کاظم(ع)) ، ابو حنیفہ نے ننھے امام(ع) سے مخاطب ہوکر کہا، اے فرزند رسول(ص) آپ(ع) افعال عباد کے متعلق کیا فرماتے ہیں۔امام موسی کاظم(ع) نے فرمایا بندوں کے سارے کام تین حالتوں سے خالی نہیں، یا تو یہ سارے کام تنہا اﷲ کے ہیں بندوں سے کوئی مطلب نہیں ، یا یہ سارے کام اﷲ اور بندے دونوں باہم شراکت سے کرتے ہیں، یا یہ سارے کام تنہا بندے دنجام دیتے ہیں انہیں اﷲ سے کوئی مطلب نہیں۔اب اگر سارے کام اﷲ کے ہیں اور بندوں سے کوئی مطلب نہیں تو خدا عادل ہے ظالم نہیں وہ یہ


 کیسے کرسکتا ہے کہ تمام کام خود کرے اور اس کی سزا اپنے ان بندوں کو دے جن بیچاروں نےکچھ کیا ہی نہیں۔ اور اگر سارے کام اﷲ اور بندوں دونوں نے مل کر شرکت میں کیے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس میں اﷲ شریک قوی ہوگا۔ تو پھر شریک قوی کو یہ حق کب حاصل ہے کہ وہ شریک ضعیف کو اس کا پر سزادے کہ جس کام کو دونوں نےمل کر انجام دیا ہے۔ اے نعمان یہ دونوں صورتیں تو محال ہیں۔ اوبوحنیفہ نے کہا جی ہاں، آپ(ع) نے فرمایا تو پھر صرف تیسری صورت باقی رہ گئی اور وہ یہ کہ تمام کام بندوں کے ہیں لہذا اگر خدا بندے کو سزا دے تو یہ بندے کے خود کردہ گناہوں کی وجہ سے ہے اور اگر معاف فرمادے تو یہ خدا کا جود وکرم ہے۔

۵ـ          ابراہیم بن ابو محمود کہتے ہیں کہ میں نے امام رضا(ع) سے پوچھا یا ابن رسول اﷲ(ص)، رسول خدا(ص) کی حدیث کہ”خدا ہر شب دنیا کے آسمان پر نازل ہوتاہے“ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے۔ امام (ع) نے اراشاد فرمایا خدا ان لوگوں پر جو اس کی بات کو تبدیل کرتے ہیں لعنت کرتا ہے، جناب رسول خدا(ص) نے اس طرح ارشاد نہیں فرمایا ۔ انہوں نے فرمایا ہے کہ خدا ہر رات کے تیسرے پہر آخری وقت اور شبِ جمعہ میں اول پہر ایک فرشتے کو دنیا کے آسمان پر بھیجتا ہے اور اسے حکم دیتا ہے کہ وہ آوازے دے کہ کیا کوئی سائل ایسا ہےجسے میں عطا کردوں، کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے کہ جس کی تونہ میں قبول کرلوں، کیا کوئی مغفرت طلب کرنے والا ہے جسے میں معاف کردوں، اے خیر خواہ آتا کہ میں تیری ضرورتوں کو پورا کروں۔ اور اے بد خواہ دور ہو۔

وہ فرشتہ یہ دعوت صبح کی سفیدی نمودار ہونےتک دیتا رہتا ہے اور جب سپیدہ نمودار ہوتا ہے تو واپس اپنی جگہ ملکوت سماء میں چلا جاتا ہے میرے والد(ع) نے اپنے جد(ع) سے اور انہوں نے اپنے والد(ع) اور انہوں نے جنابِ رسول خدا(ص) سے اسی طرح سنا ہے۔

۶ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا کہ جناب رسول خدا(ص) کا ارشاد ہے کہ جو عورت اپنےشوہر کے گھر کی اصلاح کی خاطر امور خانہ داری بہتری سے انجام دیتی ہے تو خدا اس کے اس عمل کو اپنی نظر میں رکھتا ہے اور خدا جسے نظر میں رکھے اسے عذاب نہ ہوگا۔بی بی ام سلمہ(رض) نے یہ سن کر جنابِ رسول خدا(ص) سے عرض کیا کہ تمام خوبیاں مردوں کے لیے ہی ہیں مگر


 عورتوں کے لیے کیا ہے تو ارشاد ہوا کہ جو عورت حاملہ ہو( حلال مقاربت کی وجہ سے) اس کا مقام راتوں کو جاگ کر عبادت  کرنے والے اور مجاہد کے برابر ہے اور ایسا ہے کہ جیسے وہ اپنا مال راہِ خدا میں خرچ کرے پھر جب وہ بچہ پیدا کرتی ہےتو ایسا اجر رکھتی ہے کہ جس کی عظمت کا اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا پھر جب وہ رضاعت سے فارغ ہوتی ہے تو فرشتہ ندا دیتا ہے کہ تجھے معاف کردیا گیا ہے۔

۷ـ          امام صادق(ع)  نے فرمایا بندہ جب سجدے میں تین بار کہے ” یا اﷲ یا ربا یا سیدا“ تو خدا اس کے  جواب میں کہتا ہے ” لبیک میرے بندے اپنی حاجت مجھ سے بیان کر۔

۸ـ          امام صادق(ع) فرماتے ہیں اگر کسی میں یہ تین چیزیں موجود نہ ہوں تو ہرگز اس سے خیر کی امید نہیں رکھنی چاہیئے۔

اول : وہ بندہ پوشیدہ طور پر خدا سے نہ ڈرے۔ دوئم : وہ کہ جو بڑھاپے میں گناہوں سے ہراساں نہ ہو۔ اور سوئم : وہ کہ جو عیب پر شرمندہ نہ ہو۔

۹ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا کہ جناب رسول خدا(ص) کا ارشاد ہے کہ جو شخص اپنے گناہوں کی سزا دنیا میں کاٹ لے وہ بہشت میں اپنی عورتوں اور اپنے بھائیوں کےساتھ رہےگا۔

۱۰ـ          جناب علی بن ابی طالب(ع) کا ارشاد ہے کہ روز قیامت بندے نے ابھی اپنے سر سے خاک بھی نہ جھاڑی ہوگی کہ دو فرشتے آئیں گے اور اسے پکڑ کر کہیں گے کہ رب العزت کو قبول کرو (یعنی توحید کا اقرار کرو)

۱۱ـ           ابوہاشم جعفری بیان کرتے ہیں کہ میں ابوالحسن علی بن محمد(ع) کی خدمت میں اس طرح حاضر ہوا کہ میں سخت تنگی میں تھا انہوں نے مجھے شرف ملاقات بخشا میں بیٹھ گیا تو انہوں نے فرمایا اے بو ہاشم کیا یہ چاہتے ہو کہ خدا کی نعمتوں کا شکر ادا کرو میں نے عرض کیا کہ میں نہیں جانتا کہ اس سلسلے میں کیا کہوں، تو ارشاد فرمایا اس نے ایمان کو تیرے رزق کا وسیلہ قرار دیا اور اسی وسیلے سے تیرے تن پر آگ کو حرام قرار دیا، تجھے تندرستی عطا کی اور اطاعت پر تیری مدد فرمائی تجھے قناعت دی اور آبرو فروشی سے تیری حفاظت فرمائی۔ اے ابو ہاشم میں نے اپنی گفتگو کا آغاز اس طرح اس لیے


 کیا  کہ تم جان لو کہ اسی نے تمہیں یہ دستور دیا ہے کہ مجھ سے اپنی حاجت بیان کرو پھر آپ(ع) نے حکم دیا کہ مجھے سو اشرفیاں دی جائیں۔ جو مجھے دے دی گئیں۔

طریقہ نماز

۱۲ـ          حماد بن عیسی(ع) کہتے ہیں کہ ایک دن امام صادق(ع) نے مجھ سے فرمایا کیا تم درست طریقے سے نماز پڑھ سکتے ہو۔ میں نے عرض کیا میرے مولا مجھے تو نماز حفظ ہوگئی ہے، آپ(ع) نے فرمایا اٹھو اور مجھے دکھاؤ کہ تم کیسے نماز پڑھتے ہو۔ میں آںحضرت(ع) کے سامنے قبلہ رو کھڑا ہوا تکبیر نماز کہی اور رکوع و سجود بجالایا جب میں نماز سے فارغ ہوگیا تو امام(ع) نے فرمایا اے حماد تم نے نماز اچھے طریقے سے ادا نہیں کی کتنے افسوس کی بات ہے کہ تمہاری عمریں ساٹھ ، ساٹھ، ستر ،ستر سال کی ہوگئی ہیں مگر تمہاری نماز ابھی تک درست نہیں ہوسکی حماد کہتے ہیں کہ یہ بات سن کر مجھے دل میں نہایت ندامت وشرمندگی ہوئی میں نے عرض کیا یا ابن رسول اﷲ(ع) میں آپ(ع) پر قربان مجھے بتائیں کہ میں درست نماز کیسے ادا کروں۔

تب امام صادق(ع) رو بہ قبلہ کھڑے ہوئے اور دونوں ہاتھ رانوں پر بالکل سیدھے لٹکائے اور ہاتھوں کی انگلیاں ملالیں۔ اپنے دونوں پیروں کا رخ سیدھا قبلہ رو کردیا اورپھر سانس لیا اور توقف کیا اور سیدھے کھرے رہے پھر دونوں ہاتھ چہرے تک لا کر” اﷲ اکبر“ کہا اور رکوع میں چلے گئے آپ(ع) کی دونوں ہتھیلیوں کی انگلیاں کھلی ہوئی تھیں۔ اور ہاتھوں نے دونوں گھٹنوں کو پیچھے کی طرف دبایا ہوا تھا۔ پشت مبارک بالکل سیدھی اور سر اس کی سطح کے برابر اور نظروں کو جھکایا ہوا تھا رکوع میں پشت اس قدر سیدھی تھی کہ اگر اس پر پانی کا قطرہ گرجاتا تو حرکت نہ کرتا پھر آپ(ع) نے تین بار ”سبحان ربی اﷲالعظیم و بحمدہ“ کہا پھر آپ(ع) سیدھے کھڑے ہوئے اور ” سمیع اﷲ لمن حمدہ“ کہہ کر کھڑےکھڑے ہی تکبیر کہی اور ہاتھوں کو کانوں تک بلند کیا اور سجدے میں گئے اور دونوں ہاتھوں کی انگلیاں باہم ملا کر ان کا رخ قبلہ رو کر کے اپنے دو زانو کے سامنے ہتھیلیاں رکھیں اور سجدہ کیا آپ(ع)


نے دوران سجدہ تین بار” سبحان ربی الاعلی و بحمدہ“ کہا اور اس طرح سجدہ کیا کہ بدن کا کوئی حصہ دوسرے سے ملا ہوا نہ تھا۔ آپ(ع) نےسجدہ آٹھ اعضا پر کیا، دونوں ہتھیلیوں، دونوں گھٹنوں، پیروں کے دوںوں انگوٹھے پیشانی اور ناک اور پھر مجھے فرمایا دوران سجدہ سات اعضاء خاک پر رکھنا واجب ہے جب کہ ناک کا خاک پر رکھنا سنت ہے۔

پھر آپ(ع) نے اپنے سر کو سجدے سے اٹھایا اور سیدھے بیٹھ گئے اور ” اﷲ اکبر“ کہا پھر اپنی بائیں ران پر وزن دے کر بیٹھ گئے اور دائیں پاؤں کی پشت بائیں پیر کے تلوے پر رکھی اور فرمایا ” استغفر اﷲ ربی و اتوب الیہ“ پھر بیٹھے بیٹھے تکبیر کہی اور دوسرا سجدہ کیا جو کہ پہلے کی مانند تھا اور بدن کا کوئی حصہ دوسرے سے ملا ہوا نہ تھا دوران سجدہ آپ(ع) نے اپنی کہنیوں کو زمین سے لگنے نہ دیا۔ اس طرح طریقہ سے دو رکعات نماز ادا کرنے کے بعد آپ(ع) نے تشہد ادا کیا کہ ہاتھوں کی انگلیاں آپس میں ملی ہوئی تھیں۔ جب تشہد سے فارغ ہوئے تو سلام کیا اور فارغ ہونے کے بعد فرمایا اے حماد اس طرح نماز پڑھ، دوران نماز اپنی انگلیوں سےمت کھیل۔ ادھر اُدھر مت دیکھ اور تھوک مت پھینک۔ یہ ہے راست نماز۔

 جناب امیر(ع) اور ایک منجم

عبداﷲ بن عوف بن احمر کہتے ہیں کہ جب امیرالمومنین(ع۹ نہروان کی جانب روانہ ہونے لگے تو ان کی خدمت میں ایک منجم آیا اور کہنے لگا اے امیرالمومنین(ع)آپ(ع) اس ساعت کوچ کا ارادہ ملتوی کردیں اور کوچ کا ارادہ تین ساعت بعد کریں جناب امیر(ع) نے اس سے پوچھا کہ اس کی کیا وجہ ہے تو اس نے کہا کہ علم نجوم کی رو سے اگر آپ(ع) اس ساعت روانگی اختیار فرمائی تو آپ(ع) اور آپ(ع) کے اصحاب سختی و مصیبت میں گرفتار ہو جائیں گے لیکن اگر آپ(ع) تین ساعت بعد نہروان کو روانہ ہوں تو کامیاب و کامران لوٹیں گے۔

جناب امیر(ع) نے اس سے فرمایا کیا تو جانتا ہے کہ کسی جاندار کے شکم میں کیا ہے نر ہے یا مادہ اس نے کہا کہ میں حساب لگا کر ایسا بتا سکتا ہوں۔ جناب امیر (ع) نے اس سے فرمایا کیا تجھے کسی


نے باور کروایا ہے اور قرآن کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ جو کچھ تو کہتا ہے جھوٹ ہے، سن خدا فرماتا ہے ” بیشک خدا کے پاس ہے  علم اس ساعت کا اور وہ بارش کو نیچے بھیجتا ہے“ (لقمان، آخری آیت) کوئی بندہ نہیں جان سکتا کہ کسی جاندار کے شکم میں کیا ہے وہ نہیں جان سکتا کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے اور کسی انسان کی موت کسی خطہء زمین پر واقع ہوگی بیشک صرف خدا ہی جانتا ہے کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے اور انسان کی موت کس خط زمین پر واقع ہوگی اور جس چیز کا دعوی کررہا ہے اس کا دعوی تو رسول خدا(ص) نے بھی نہیں کیا جب کہ تیرا یہ دعوی ہےکہ تو اچھا یا برا وقت بتلا سکتا ہے۔ جوشخص بھی تیری بات پر اعتبار کرے وہ ایسا ہے کہ وہ خدا کی مدد پر ایمان نہیں رکھتا اور کسی مسئلہ میں وہ تجھ سے اچھائی کا طلب گار ہے۔ شاید وہ اپنے رب کی بجائے تیری حمد کرے جو کوئی تیری باتوں پر ایمان لائے اس نے تجھے خدا کے برابر اچھائی یا برائی دینے والا جانا ہے پھر جناب امیر(ع) نے ارشاد فرمایا ” خدایا کوئی فال بد نہیں بجز اس کے کہ تو اسے بدگردانے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں اس نجومی کی تیرے سامنے کیا حیثیت ہے“ پھر نجومی سے آپ(ع) نے فرمایا ہم تیری تکذیب کرتے ہیں اور جس ساعت کو  تو برا کہہ رہا ہے اسی میں ہی روانہ ہونے لگے ہیں۔


مجلس نمبر۶۵

(۹جمادی الاول سنہ۳۶۸ھ)

حرمت کے بارے میں

۱ـ           محمد بن مسلم ثقفی کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق علیہ السلام سے شراب کی حرمت کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جناب رسول خدا(ص) کا ارشاد گرامی ہے کہ لوگوں کے بارے میں جس پہلی چیز کو منع کرنے کا خدا نے مجھے حکم دیا وہ شراب اور بت پرستی تھی بیشک خدا نے مجھے رحمتہ العالمین بناکر مبعوث فرمایا۔ اور میں تاریکی دور کرنے والا اور امور جاہلیت یعنی آلات موسیقی۔ بت پرستی اور ان کی بدعتوں کا قطع کرنے والا ہوں میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جو شخص شراب جور ہے خدا اسے روز قیامت اسی (شراب) کی مانند حمیم پلائے گا اور اسکے بعد اسے عذاب دیا جائے گا چاہے اسے بقیہ گناہوں سے معاف ہی کیوں نہ کردیا جائے پھر آںحضرت(ص) نے فرمایا کہ شرابی کے ساتھ نشست و برخاست مت رکھو نہ ہی اسے رشتہ دو اور نہ ہی اس  سے رشتہ لو اگر وہ بیمار ہو تو اس کی مزاج پرسی نہ کرو اور اگر مرجائے تو اس کا جنازہ تشیع نہ کرو اور شرابی کو روزِ قیامت اس طرح حاضر کیا جائے گا کہ اس کا چہرہ سیاہ اور آنکھیں دھنسی ہوئی ہوں گی اس کے آبِ دھن سے غلاظت جاری ہوگی اور اس کی زبان کھینچ کردہن سے باہر لٹکی ہوگی اور سر کی پشت تک پہنچی ہوگی۔

۲ـ           ابوعبیدہ کہتے ہیں کہ امام باقر(ع) نے فرمایا اے زیادہ کہیں ایسا نہ ہوکہ فساد میں پڑ کر اپنے مالک کو شک کی بنا پر قتل کردو۔ بعض افعال ایسےہوتے ہیں جن کی انسان کو معافی نہیں ملتی ، اے زیادہ گذشتہ زمانے میں ایسے لوگ گذرے ہیں کہ جو علم انہیں عطا کیا گیا تھا وہ اسے چھوڑ کر ایسے علم کے پیچھے چل پڑے کہ جس نے انہیں سرگردان کردیا اور انہوں نے خدا کے متعلق بحث کرنا اپنا شعار بنالیا یہاں تک کہ وہ ایسی حالت میں ہوگئے کہ ان سے دریافت کیا جاتا تھا اور جواب وہ کچھ دیتے تھے۔(یعنی بے دین و گمراہ ہوگئے)


۳ـ          امام صادق(ع) فرماتے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ تم خدا کے بارے میں تردد کا شکار ہو جاؤ جان لو کہ خدا کے بارے فکر میں گمراہی کوئی اضافہ نہیں کرتی، بیشک آنکھیں اس کا احاطہ نہیں کرسکتیں اور اس کا اندازہ نہیں لگایا جاسکتا۔

۴ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا دین کا تمسخر مت اڑاو کہیں ایسا نہ ہوکہ یہ خدا کی یاد کو دل سے نکال دے اور باعث کینہ و نفاق بن جائے اور تم باطل کی طرف چلے جاؤ۔

۵ـ          امام باقر(ع) نے فرمایا جب خدا نے عقل خلق کی تو اسے اپنے سامنے حاضر ہونے کا حکم دیا جب وہ حاضر ہوئی تو اسے کہا قریب آؤ جب وہ آئی تو اسے کہا پیچھے جاؤ جب وہ پیچھے چلی گئٰی تو اس سے ارشاد فرمایا مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ہے میں نے اپنی خلق میں تم سے زیادہ محبوب کسی کو پیدا نہیں کیا میں نے تجھے راہ کمال پر رکھا اور تجھے اپنا دوست بناتا ہوں آگاہ ہو جا کہ میں ہی تجھے حکم دوں گا اور منع کروں گا اور میں ہی تجھے عذاب و ثواب دوں گا۔

ثواب بمطابق عقل

۶ـ           سلمان دیلمی کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق(ع) سے کسی شخص کے دین و عبادت اور فضل کی تعریف کی، تو امام صادق(ع) نے مجھے ارشاد فرمایا کہ اس شخص کی ذہنی استطاعت کیسی ہے میں نے جواب دیا کہ میں نہیں جانتا، امام (ع) نے فرمایا کہ ہر کسی کے ثواب کی مقدار اس کی عقل کے مطابق ہوا کرتی ہے پھر امام(ع) نے فرمایا بنی اسرائیل میں ایک شخص تھا جو کہ بہت عبادت گذار تھا وہ ایک جزیرے میں عبادت کیا کرتا تھا وہ جزیرہ نہایت سرسبز شاداب تھا اور اس میں صاف و شفاف پانی کے چشمے رواں اور پھل دار درختوں کی کثرت تھی اور جزیرے کی آب و ہوا بہشت اچھی تھی ایک مرتبہ ایک فرشتے کا گذر وہاں سے ہوا اسفرشتے کو اس شخص کا کمال عبادت نہایت پسند آیا اور تو اس(فرشتے) نے خدا سے گذارش کی کہ مجھے اس شخص کے ثواب کی مقدار کے بارے میں بتایا جائے جب خدانے اس فرشتے کو اس شخص کے ثواب کی مقدر بتائی تو وہ اسے اسکی عبادت کے مقابلے میں کم لگی اس پر خدا نے اس فرشتے کو وحی کی کہ اس شخص کے ساتھ رہو۔ وہ فرشتہ انسانی


صورت میں اس شخص کے پاس آیا عابد نے اس سے کہا تو کون ہے فرشتے نےکہا کہ میں ایک عبادت گزار ہوں میں نے تیری عبادت کی تعریف سنی تو چاہا کہ تیرے سے پاس رہ کر عبادت کروں دوسری صبح اس شخص سے فرشتے نےکہا کہ تیرا یہ مکان بہت خوبصورت اور اس لائق ہے کہ اس میں رہ کر عبادت کی جائے اس آدمی نے فرشتے سے کہا یہ اچھا تو ہے مگر اس میں ایک عیب ہے فرشتے نے کہا وہ کیا تو کہنے لگا کہ ہمارے خدا کا کوئی گدھا یہاں نہیں ہے جو اس گھاس کو چرتا اور وہ ضائع نہ ہوتی اسی وقت خدا نے اس فرشتے کو وحی کی کہ میں اس کا ثواب اس کی عقل کے مطابق دیتا ہوں پھر امام صادق(ع) نے فرمایا کہ رسول خدا(ص) ہر شخص کےساتھ اس عقل کے مطابق بات کرتے تھے پھر امام نے فرمایا کہ جناب رسول خدا(ص) کا ارشاد ہے کہ ہم گروہ پیغمبران(ع) یہ دستور رکھتے ہیں کہ لوگوں کے ساتھ ان کی ذہنی استطاعت کے مطابق بات کریں۔

۷ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا اصول کفر تین ہیں حرص، تکبر اور حسد۔ حرص یہ تھی کہ اس نے آدم(ع) کو شجر ممنوعہ سے پھل کھانے پر مجبور کیا تکبر یہ تھا کہ جب ابلیس کو حکم دیا کہ وہ آدم(ع) کو سجدہ کرے تو اس نے تکبر کی بنا پر انکار کیا ۔ اور حسد یہ تھا کہ جب آدم(ع) کے بیٹوں نے ایک دوسرے سے حسد کیا تو ایک نے دوسرے کو قتل کردیا۔

۹ـ           جناب علی بن ابی طالب(ع) نے فرمایا جھوٹ میں صلح و آشتی نہیں ہے، یہ بھی روا نہیں ہےکہ کوئی اپنے بچے سے وعدہ کرے اور پھر اسے وفانہ کرے، جھوٹ رہبر ہرزگی ہے اور ہرزگی رہبر دوزخ۔ تم میں سے کچھ ایسے ہیں جو کہ پیٹھ پیچھے جھوٹ کہتے ہیں تاکہ کسی کو جھوٹا اور ہرزہ گو شمار کریں اور کچھ ایسے بھی ہیں کہ جو کسی کے بارے میں اس لیے جھوٹ کہتے ہیں کہ اس کی تمہارے دل میں جو جگہ ہے اسے خاکستر کردیں۔ ایسے کو خدا کے نزدیک کذاب کا نام دیا گیا ہے۔

۱۰ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا کسی کو برا نہ کہنا تاکہ تجھے برا نہ کہا جائے کسی کے لیے کنواں نہ کھودو کہیں خود ہی اس میں گرجائے کہیں ایسا نہ ہو کہ بدی کا یہ ہاتھ تجھے ہی لےلے۔

۱۱ـ           جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا مجلس میں بیٹھ کر نماز کا انتظار کرنا عبادت ہے  یہاں تک کہ تم سے غیبت واقع ہو۔


۱۲ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جو کوئی خدا کا حوالہ دیکر بات کرے اور کہے کہ خدا فلاں چیز جانتا ہے مگر پھر وہ شخص جھوٹ کا سہارا لے تو ایسے کے لیے خدا فرماتاہے کہ تم میرے سوا کسی اور سے نہیں پاتے کہ جھوٹ باندھو۔

۱۳ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا تم جس چیز کو نہیں جانتے اور کہتے ہو کہ خدا جانتا ہے(یعنی خدا کا حوالہ دیکر جھوٹ بولتے ہو) تو عرش اس وقت عظمت خدا سے ہل جاتا ہے۔

۱۴ـ          زرارہ بن اعین کہتے ہیں کہ میں نے امام باقر(ع) سے پوچھا کہ خدا کا بندوں پر کیا حق ہے تو آپ(ع) نے فرمایا کہ وہ (بندہ) جو چیز جانتا ہو بیاں کرے اور جو نہ جانتا ہو اس سے توقف کرے۔

۱۵ـ امام صادق(ع) نے فرمایا بیشک خدا نے قرآن میں دو آیات اپنے بندوں کی سرزنش میں نازل فرمائی ہیں کہ  وہ کوئی چیز نہ بیان کریں جب تک کہ اسکے بارے میں انہیں مکمل علم حاصل نہ ہوجائے خدا فرماتا ہے”آیا مندرج کتاب میں ان سے پیمان نہیں لیا گیا کہ وہ نہ کہیں، خدا پر جس کا حق نہیں ہے“ (اعراف ، ۱۶۹) اور آیت دوئم یہ کہ ” بلکہ تکذیب کرتے ہیں ( اسکی ) جو ان کے علم میں نہ تھا اور ابھی تک اس کی تاویل ان تک نہیں پہنچی “ ( یونس، ۲۹)

۱۶ـ          ابن شبرمہ کہتے ہیں کہ جو حدیث میں نے امام صادق(ع) سے سنی اس نے میرے دل کی غم سے پھاڑ دیا میں نے سنا کہ امام صادق(ع) نے فرمایا کہ میرے جد رسول خدا(ص) کا ارشاد ہے۔ ( ابن شبرمہ کہتے ہیں کہ خدا کی قسم امام(ع)نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور نہ ہی آپ(ع) کے والد گرامی(ع)  نے کبھی جناب رسول خدا(ص) پر جھوٹ باندھا) کہ جو کوئی قیاس کا سہارا لے کسی فعل و عمل کو انجام دے گا وہ ہلاک ہوگا اور ہلاک کرے گا جو کوئی لوگوں کو( قیاس سے ) فتوی دے اور ناسخ کو منسوخ سے اور محکم کو متشابہ سے نہ پہچانے وہ ہلاک ہے اور ہلاک کرنے والا ہے۔

۱۷ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا کہ عیسی بن مریم(ع) بنی اسرائیل کو خطبہ دیا، آپ(ع) ( عیسی(ع) نے فرمایا اے بنی اسرائیل حکمت کی باتیں نادانوں ( نااہل لوگوں) سے مت کرو کہ یہ ستم ہوگا اور حکمت کی بات اس کے اہل سے مت چھپاؤ کہ یہ بھی ستم ہوگا۔

۱۸ـ          طلحہ بن زید کہتے ہیں کہ امام صادق(ع) نے فرمایا جو بندہ بغیر معرفت کے کوئی عمل کرے وہ


 اس بندے کی طرح ہے جو بے راہ چلے۔

۱۹ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا خدا اس عمل کو قبول نہیں کرتا جو بغیر معرفت کے ہو اور معرفت یہ نہ ہوگی بجز اس کے اس پر عمل کرے، جو کوئی معرفت حاصل کرے اس کی راہنمائی عمل سے ہے اور جو کوئی عمل نہیں رکھتا اسے معرفت حاصل نہیں ہے اور ایمان ہر تقسیم سے دوسری تقسیم کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔


مجلس نمبر۶۶

(۱۳ جمادی الاول سنہ۳۶۸ھ)

جناب رسول خدا(ص) کے نصائح

۱ـ           جناب امیرالمومنین(ع) نے فرمایا کہ جناب رسول خدا(ص) نے مندرجہ ذیل باتوں کی نصیحت کی اور منع فرمایا۔ جنابت کی حالت میں کھانے سے کہ یہ باعث فقر ہے۔ دانتوں سے ناخن کاٹنے سے حمام میں مسواک کرنے سے۔ مساجد میں سستانے اور سونے سے گرم کھانا کھانے سے مسجد میں سے بلا ضرورت گزرنا مگر یہ کہ دو رکعت نماز پڑھی جائے اور آپ(ص) نے منع فرمایا کہ میوہ دار درخت کے نیچے پیشاب مت کرو راستوں پر اور ان کے کناروں پر بھی پیشاب کرنے سے منع فرمایا پھر بائیں ہاتھ سے کھانا قبرستان میں ہنسنے اور نماز پڑھنے کو بھی منع فرمایا آپ(ص) فرمایا جو کوئی کھلے آسمان تلے غسل کرے اپنے عورتیں کو چھپائے، دستے والے برتن کے دستے کی طرف سے پانی نہ پیئے کہ دستے میں میل پھنسا ہوتا ہے، کھڑے پانی میں پیشاب کرنے سے کہ اس عقل سلب ہوجاتی ہے ایک پاؤں میں جوتا پہن کر چلنے سے، آسمان تلے سورج و چاند کی موجودگی میں عریاں ہونے سے اور آپ(ص) نے منع فرمایا کہ قبلہ رو ہوکر پیشاب نہ کیا جائے، مصیبت کے وقت گریہ و زاری سے آپ(ص) نے کانوں کا ہاتھ لگایا اور پھر فرمایا کہ عورتوں کو منع ہے کہ وہ جنازے کے پیچھے قبرستان تک جائیں پھر آپ(ص) نے فرمایا کہ کلمہ قرآن کو لعاب دہن سے صاف نہ کیا جائے اور آب دہن سےکوئی قرآنی آیت نہ لکھی جائے اور آپ(ص) نے منع فرمایا کہ کوئی شخص کوئی جھوٹا خواب گھڑ کر کسی کو نہ سنائےکہ خدا تعالی اسے حکم دے گا کہ پانی میں گرہ لگائے اور چونکہ وہ نہیں لگاسکے گا تو ایسے شخص کو روزِ قیامت خدا تعالی عذاب دے گا اور آپ(ص) نے سختی سے بت تراشی کو منع فرمایا اور فرمایا کہ جو کوئی مورت( مجسمہ)بنائے گا خدا تعالی اسے روز قیامت اس مورت میں روح پھونکنے کا حکم دے گا اور چونکہ یہ اس سے نہ ہوسکے گا لہذا عذاب کا حق دار ٹھہرایا جائے گا۔ آپ(ص) نے فرمایا کہ کسی جاندار کو


 آگ میں نہ جلاؤ اور فرمایا کہ اذان دینے والے مرغ کے بارے میں برا مت کہو کہ وہ نماز کے لیے بیدار کرتا ہے اور اپنے برادرِ دینی کے معاملات میں دخل اندازی مت کرو اور بوقتِ جماع باتیں مت کرو کیونکہ خطرہ ہے کہ اس سے جو بچہ پیدا ہوگا وہ گونگا ہوگا پھر آپ(ص) نے عورتوں کو شوہر کی اجازت کے بغیر باہر جانے سے منع فرمایا اور فرمایا کہ اگر اس طرح عورت باہر جائے تو تمام جن و انس و فرشتے جن کا گزر وہاں سے ہو اس پر لعنت بھیجیں گے یہاں تک کہ وہ اپنے گھر واپس آئے، اس بات کی ممانعت فرمائی کہ عورت سوائے اپنے شوہر کے کسی کے لیے زینت کرے اور اگر ایسا کرے گیتو اسے جہنم میں جلانا خدا پواجب ہے پھر فرمایا کہ عورت غیرمحرم سے پانچ ضروری کلمات سے زیادہ بات نہ کرے اس سے بھی منع فرمایا کہ عورتیں اس حال میں سوئیں کہ ان کے درمیان کوئی کپڑا حائل نہ ہو۔ اور دو عورتوں کا اپنے شوہروں کے راز ایک دوسری کو کہنے سے منع فرمایا اور فرمایا کہ قبلہ رو ہوکر اور راستے کے درمیان جماع نہ کیا جائے کہ ایسا کرنے والے پر خدا اور ملائکہ لعنت بھیجتے ہیں۔ اورپھر منع فرمایا کہ کوئی مرد دوسرے مرد کو کو کہے کہ اپنی عورت کو مجھ سے بیاہ دو اور میری عورت سے تم شادی کر لو۔ اور اس سے کو فال نکلوا کر پیش بینی کی جائے ایسا شخص جو کچھ مجھ پر نازل ہوا ہے اس سے بیزار ہے، آپ(ص) نے منع فرمایا شطرنج گوٹ، چوسر وغیرہ کھیلنے اور آلاتِ موسیقی کے سننے اور استعمال گوئی کرنے والا کبھی جنت میں نہ جائے گا۔ منع فرمایا فاسقون کی دعوت قبول کرنےسے انکا کھانا کھانے سے  اور جھوٹی قسم سے، آپ(ص) نے فرمایا جھوٹی قسم شہروں کو ویران کردیتی ہے اور جو کوئی جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال لےلے اس پر خدا روزِ ملاقات غضبناک ہوگا مگر یہ کہ توبہ کرے اور واپس پلٹے۔ اور فرمایا کہ اس دستر خوان شہر پر مت بیٹھے جس پر شراب ہو اور منع فرمایا کہ شوہر اپنی زوجہ کو حمام میں جانے کی اجازت کسی ایسے شہر میں دے کہ جہاں حمام میں جانے کی ضرورت نہ ہو۔ اور حمام میں برھنہ جانے سے منع فرمایا اور نہی کی گفتگو سے اور ایسی دعوت سے جو بغیر خدائی کاموں سے ہو۔ اور ریشم کے کپڑے کو مردوں کے لیے منع فرمایا ہاں مگر عورت کے لیے استعمال کی اجازت ہے آپ(ص) نے منع فرمایا کہ کچا پھل نہ بچا جائے یہاں تک کہ مکمل پک جائے


 اور خرمہ تازہ کے بدلے چھو ہارے اور انگور جو ابھی درخت پر ہی ہیں کے ہم وزن کشمش لینے سے بھی منع فرمایا آپ(ص) نے فرمایا جو کوئی شطرنج گوٹ یا چوسر بیچتا ہے تو اس کی کمائی اس طرح ہے کہ جس طرح خنزیز کا گوشت کھایا اور شراب خریدنا بیچنا اور پلانا بھی اسی کی مانند ہے آپ(ص) نے فرمایا کہ خدا نے لعنت بھیجی ہے اس پر کہ جو اسے خریدے بیچے یا پلائے کہ یہ فساد پھیلانے اور قتل برپا کرنے والی چیز ہے آپ(ص) نے فرمایا جو کوئی اسے پیئے اس کی نماز چالیس روز تک قبول نہ ہوگی اور اگر ایسی حالت میں مرجائے کہ اس کے شکم میں یہ موجود ہو تو خدا پر حق ہے کہ اسے عذاب دے اور یہ اہل درزخ کا خون اور پیپ ہے پھر فرمایا کہ جو کچھ عورتوں کی اندام نہانی سے باہر آتا ہے وہ دوزخ کی دیگوں میں ہوتا ہے جسے وہ (دوزخی) پیتے ہیں آپ(ص) نے منع فرمایا جھوٹی گواہی سے سود لینے سے، اور سود کھانے سے کہ اس کے ادا کرنے لینے اور اس (سود) پر دو گواہوں کو مقرر کرنے پر خدا لعنت کرتا ہے اور ایسی خرید و فروخت جو کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھا کر کی جائے اور ایسا لین دین کہ جس پر گواہ مقرر نہ کیے جائیں اور ضمانت نہ لی جائے سے بھی منع فرمایا آپ(ع) نے یہودی، آتش پرست و مجوسی وغیرہ سے مصافحہ کرنے سے منع فرمایا اور فرمایا کہ مسجد میں تلوار کھینچنا ( قتل و غارت گری) اور گم شدہ مال کا اعلان کرنا منع ہے۔ حیوانات کے چہرے پر ضرب لگانے اور عورت کا دوسری عورت کے ستر نگاہ کرنے سے بھی منع فرمایا کہ اپنے مسلمان بھائی کی شرم گاہ پر نگاہ رکھنے والے پر ستر ہزار ملائکہ لعنت بھیجتے ہیں آپ(ص) نے منع فرمایا کہ خوراک کو ضائع نہ کیا جائے اور کھانے کی چیزوں پر، پینے والے پانی اور سجدے کی جگہ پر پھونک نہ ماری جائے اور قبرستان میں راستے کے بیچ میں۔ اور جہاں چکیاں چلتی ہیں،ندیوں کے پیٹے میں اور ان مقامات پر جہاں اونٹ بندھے ہوں اور بام کعبہ پر نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔ اور شہد کی مکھی کا مارنے اور حیوانات کے چہرے کو داغنے سے بھی منع فرمایا۔ اور یہ خدا کی قسم کے علاوہ کسی کی قسم نہ کھائی جائے اور جو کوئی خدا کی قسم کے علاوہ کوئی قسم کھائے اس کی خدا کی نظر میں کوئی وقعت نہیں ہے، آپ(ص) نے قرآن کی سورتوں کی قسم کھانے سےمنع فرمایا اور فرمایا کہ جو کوئی قرآن کی ایک سورہ کی  قسم کھائے اس پر قرآن کی ہر آیت کی تعداد کے برابر قسم ہے ( کفارہ ہے) لہذا اب یہ بندے پر ہے کہ وہ اگر چاہے


 تو ایسی قسم ادا کرے اور منع فرمایا کہ مسجد بحالت جنابت جایا جائے اور یہ کہ دن یا رات میں کسی وقت بھی برہنہ ہو کر بیٹھا جائے بدھ اور جمعہ کے دن پچھنے لگانے کی ممانعت فرمائی۔

اور ایسے شخص کے لیے ارشاد فرمایا کہ وہ جمعہ نہیں رکھت ( یعنی اس کا جمعہ قبول نہیں ہوتا) جو امام کے جمعے کے خطبے دوران لغو بات کرے۔ آپ(ع) نے فرمایا کہ سونے کی انگوٹھی اور ایسی انگوٹھی کہ جس میں جانداروں کے نقش بنے ہوں یا لوہے کی انگوٹھی نہپ پہنی جائے اور پیتل کی انگوٹھی سے بھی منع فرمایا۔ پھر فرمایا کہ جس وقت طلوع آفتاب ہوچکا ہو تب اور زوال اور غروب آفتاب کے وقت نماز نہ پڑھی جائے اور ان چھ (۶) دنوں کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا، بروز عید الفطر، بروز عید قربان اور ایام تشریق(۱۱ تا ۱۳ ذالحجہ ) اور وہ کہ جس دن ماہ رمضان کے شروع ہونے میں شک ہو۔

پھر فرمایا کہ حوض وغیرہ سے جانوروں کی طرح پانی مت پیئو۔ فرمایا ہاتھ سے پانی پیو کہ یہ تمہارا برتن ہے اور کنویں کے بارے فرمایا کہ اسے برامت کہو کیونکہ یہ پانی مہیا کرتا ہے اور مزدور کی مزدوری کے بارے میں فرمایا کہ اجرت طے کیے بغیر مزدور کام کی حامی نہ بھرے اور اپنے برادر دینی سے تین دن سے زیادہ ناراضگی و قطع تعلقی سے منع فرمایا اور یہ کہ اس سے زیادہ قطع تعلقی کرنے والا دوزخ کے لائق ہے پھر نصیحت کی کہ سونے کے بدلے سونا اور چاندی کے بدلے چاندی بڑھا کر فروخت نہ کی جائے بلکہ یہ دونوں دھاتیں مساوی الوزن فروخت کی جائیں۔

اس بات سے منع فرمایا کہ منہ پر تعریف کی جائے کہ ایسی تعریف کرنے والوں کے چہرے خاک پر ہوں گے اور یہ کہ جو ظالم کی وکالت یا اس کی مدد کرے تو ایک فرشتہ آکر اسے خوشخبری دے گا کہ تیرے لیے خدا نے جہنم کی آگ تیار کر چھوڑی ہے اور یہ کیا برا انجام ہے اور جو کوئی سلطان ناحق کی مدح میں صرف اس لیے کچھ کہے کہ اس کی طمع پوری ہوتو ایسا شخص معذب ہوگا اور اس بادشاہ یا سلطان کے ساتھ ہم قطار ہوگا جوکہ دوزخ کے لیے لگائی جائیگی اور ایسے شخص کے لیے خدا فرمایا ہے” اعتماد نہ کر ان بندوں پر جو ستم گار ہیں یہاں تک کہ آگ ان کو گھیر لے“ (ھود، ۱۱۳) اور جو کوئی ستم گار کی مدد راہنمائی کرے گا وہ دوزخ میں ہامان کی مانند رہے گا جو کوئی


خود نمائی کرے اور عمارتیں بنائے خدا اس کے کندھوں پر روزِ قیامت سات زمینوں کا بار رکھ دے گا اس کی جان کو آگ سے جلایا جائے گا اور آگ کا طوق اس کی گردن میں ڈال کر اسے دوزخ میں گرا دیا جائے گا یہاں تک کہ وہ اس سے پلٹ نہ جائے اور توبہ نہ کرلے۔ جو کوئی اپنے ہمسائے کی ایک بالشت زمین میں خیانت کرے گا سات زمینوں کے بوجھ کے برابر طوق اس کی گردن میں ڈالا جائے گا اور وہ اسی طوق سمیت اپنے پروردگار سے روزِ قیامت ملاقات کرے گا اور خدا آیاتِ قرآنی کی تعداد کے برابر اس پر سانپ مسلط کرے گا جو کہ اس کے ساتھ دوزخ تک ہوں گے۔ اور یہ خدا کریم ہی ہے کہ اگر چاہے تو اسے بخش دے اور جو کوئی قرآن پڑھے اور پھر حرام نوشی کرے یا دنیا کا مال و زر اس پر مقدم جانے تو وہ خدا کے غصے کا حقدار ہوگا مگر یہ کہ توبہ کرے اور اگر بے توبہ مرگیا تو پھر روزِ قیامت اسے قرآن کے حوالے کیا جائے گا اور قرآن اس پر سے اس وقت تک ہاتھ نہ ہٹائے گا۔ ( نہ چھوڑے گا) جب تک کہ اس شخص کو محکوم نہ کر لے اور جو کوئی کسی مسلمان ویہودی یا عیسائی و مجوسی مرد و عورت کے ساتھ زنا کرے گا اور توبہ نہ کرے گا اور مرجائے گا تو ایسے شخص کی قبر میں خدا تین سو(۳۰۰) دروازے کھولے گا کہ جن میں سے دوزخ کے سانپ بچھو اور اژدھے آکر اسے ڈسیں گے اور جب اسے اس کی قبر سے باہر نکالا جائے گا تو لوگ اس کی بدبو سے تکلیف میں ہوں گے اور آگ سے اسے پہچانیں گے کہ دنیا میں تم نے جو عمل کیے ہیں یہ اسی کی وجہ سے ہے پھر اس کے لیے دوزخ کا حکم نامہ جاری کیا جائے گا۔ آگاہ ہو جاؤ کہ خدا نے حرام سے منع کیا ہے اور حدود مقرر کی ہیں انسان خدا سے زیادہ غیرت مند نہیں ہے۔ اس نے اپنی غیرت کی وجہ سے ہرزگی کو منع کیا ہے اور اس(خدا) نے منع فرمایا ہے کہ بندہاپنے ہمسائے کے گھر میں نگاہ نہ ڈالے اور جو کوئی بھائی یا کسی غیرہ نامحرم عورت کی طرف نگاہ کرے تو خدا اسے ان منافقین کے ہمراہ کہ جو عورت کے لیے ( حرام) کوشش کرتے ہیں لائے گا اور وہ دنیا سے رسوا ہوئے بغیر نہ جائے گا مگر یہ کہ توبہ کرے اور جان لوکہ وہ رزق جو کہ  خدا نے تقسیم کیا ہے اس کے بارے میں بندہ اگر صبر و شکریہ کرے اور راضی نہ ہو اور اس کا حساب خدا پر نہ چھوڑے تو اس کی کوئی نیکی اوپر نہ جائے گی اور بوقت ملاقات خدا، خدا اس پر غضبناک ہوگا مگر یہ کہ توبہ کرے۔


 پھر جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا کہ جو بندہ متکبرانہ راستے  پر چلے اور لباس فاخرہ پہن کر تکبر کرے تو خدا ایسے کو دوزخ کی ڈھلان سے دوزخ کی تہہ پھینک دے گا اور وہ قارون کے ساتھ دوزخ میں سکونت پذیر ہوگا کیوںکہ قارون وہ پہلا شخص ہے کہ جس نے تکبر کیا اور خدا نے اس کی املاک کو زمین بوس کردیا اور دفن کیا کیوںکہ اس نے خدا کی خدائی کا مذاق اڑایا تھا، پھر آپ(ص) نے فرمایا کہ جو کوئی عورت کےمہر میں ستم کرے وہ خدا کے ہاں زنا کار ہے روزِ قیامت خدا اسےکہے گا کہ میں نے اپنی کنیز تیری زوجیت میں دی مگر تو نے میرے عہد کو وفا نہ کیا اور اس سے ظلم کیا خدا اس شخص کی نیکیاں اس عورت کے حساب میں لکھ دے گا جو کہ اس کے حق مہر کے برابر ہونگی اور اگر وہ نیکیاں نہ رکھتا ہوگا تو اسے اس عہد شکنی کی بدولت دوزخ میں گرائے گا۔

آپ(ص) نے فرمایا کہ جو کوئی شہادت چھپائے گا خدا اس کےہی گوشت کو اس کی خوراک بنادے گا اور ایسے کے بارے میں خدا کا ارشاد ہے کہ ” گواہی مت چھپاؤ اور جو کوئی گواہی چھپائے گا اس کا دل گناہ گار ہے۔ (بقرہ، ۲۸۳)

پھر جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا کہ جو  کوئی اپنے ہمسر کو تکلیف دے اس پر خدا نے بوئے بہشت کو حرام قرار دیا اور اس کی جگہ کو دوزخ مقرر کیا جو کوئی اپنے ہمسائے کو ضائع کرے (اسے ہاتھ سے گنوادے) وہ ہم میں سے نہیں اور یہ کیا برا انجام ہے، جناب رسول خدا(ص) فرماتے ہیں کہ جبرائیل(ع) نے ہمسائے کے حقوق کے بارے میں مجھے پے در پے تاکید کی اور اتنی زیادہ کی کہ مجھے خیال پیدا ہوا کہ اسے وارثت میں حصے دار ہی نہ بنادیا جائے اور جناب جبرائیل(ع) نے مجھے غلاموں اور کنیزوں کے بارے میں پے درپے نصیحت کی کہ مجھے یہ خیال پیدا ہو کہ کوئی مدت مقرر کی جائے گی اور انہیں ایک مقررہ مدت کے بعد آزاد کردیا جائے گا علی ہذا مجھے مسواک کرنے  کی یہاں تک نصیحت کی کہ میں نے خیال کیا کہ کہیں اسے واجب ہی قرار نہ دے دیا جائے۔ اور مجھے پے درپے عبادت کی وصیت کی گئی یہاں تک کہ میں نے خیال کیا کہ راتوں کا سونا موقوف ہوجائے گا اور جو کوئی غریب کسی مسلمان کو کم حیثیت شمار کرے اس نے خدا کے حق کو کم شمار کیا  خدا ایسے کو روز قیامت کم درجہ شمار کرے گا سوائے اس کے کہ توبہ کرے آپ(ص) نے فرمایا جو کوئی مسلمان فقیر


 کا احترام کرے گا۔ خدا روز قیامت اس سے راضی ہے اور جو کوئی ہرزگی اور شہوت رانی کے لیے آمادہ ہے مگر خوف خدا کی وجہ سے دور رہتا ہے تو ایسے شخص کو خدا روزِ قیامت دوزخ سے دور ہٹائے گا اور اسے خوفِ عظیم سے امان دے گا۔

پھر جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا جو کچھ قرآن میں فرمایا گیا ہے اس پر عمل کرو ارشاد خداوندی ہے کہ ” اس بندے کے لیے اس کے پروردگار کے ہاں مقام دو بہشت ہیں کہ جو اس سے ڈرتا ہے۔“ ( سورہ رحمن) آگاہ رہو کہ جو بندہ آخرت و دنیا میں اس کے سامنے اس حالت میں آئے کہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتا ہو وہ کوئی نیک عمل نہ رکھتا ہوگا کہ اسے آخرت میں بچائے اور جو کوئی آخرت کو دنیا پر ترجیح دیتا ہے خدا اس سے راضی ہوگا اور اس کی برائیوں کو معاف فرمائے گا اور جو کوئی اپنی آنکھ کو حرام سے پر کرے گا خدا قیامت کے دن اس کی آنکھ کو دوزخ سے پر کرے گا مگر یہ کہ توبہ کرے اور واپس پلٹ آئے۔ پھر جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا جو کوئی کسی نامحرم عورت سے مصافحہ کرے تو خدا تعالی ایسے شخص سے ناراض ہوتا ہے اور جو کسی غیر محرم عورت کو حرام کی نیت سے گلے لگائے تو اسے کسی شیطان کے ساتھ زنجیر میں جکڑ کر آگ میں گرایا جائے گا۔ جوکوئی کسی مسلمان کے ساتھ خرید وفروخت میں دھوکہ کرے گا وہ ہم میں سے نہیں اور روزِ قیامت یہود کے ساتھ محشور ہوگا کہ یہ (یہود) تمام لوگوں سےزیادہ دھوکہ دینے والے ہیں۔ جناب رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا کہ اپنے ہمسائے کے گھر کھانے پینے کی چیز بھیجنے میں گریز نہ کرو اور جو ایسا کرے گا خدا قیامت کے روز اس کے خیر کو اس سے روکے گا اور اسے چھوڑ دے گا اور یہ کیا برا حال ہے اور جو عورت اپنے شوہر کو اپنی زبان سے تکلیف دے خدا اس کا صدقہ و عدالت قبول نہ فرمائے گا اور جب تک وہ اپنے شوہر کو راضی نہیں کر لے گی اس کی کوئی نیکی قبول نہ ہوگی چاہے وہ عبادات شبینہ اور تمام عمر کی روزہ دار ہی کیوں نہ ہو، چاہے وہ خدا کی راہ میں غلام آزاد کرنے والی اور خدا کی راہ میں ہتھیار بند گھوڑے و مجاہدین کو مہیا کرنے والی ہی کیوں نہ ہو اور وہ تمام مرد و زن میں سے پہلی عورت ہوگی جو دوزخ میں جائے گی۔ اور مردوں کےلیے بھی اسی طرح ہے کہ اگر وہ ان (عورتوں) کے لیے ستم گار ہوں گے تو یہی کچھ پائیں گے آگاہ ہوجاؤ کہ جو کوئی اپنے مسلمان بھائی کو طمانچہ مارے گا تو خدا


 اس کی ہڈیاں قیامت کے روز بکھیرے دے گا او وہ تکلیف سے چیخنا ہوا محشر میں آئے گا یہاں تک کہ دوزخ میں گرایا جائے مگر یہ کہ توبہ کرے۔

پھر آپ(ص) نے فرمایا کہ غیبت نہ کرو جو کوئی اپنے مسلمان بھائی کی غیبت کرے گا اس کا روزہ و وضو باطل ہے اور قیامت کے روز اس کی بدبو گندے مردار کی مانند کہ جس سے اہل محشر تکلیف میں متبلا ہونگے اور اگر توبہ سے پہلے مرگیا تو اس کے حلال خدا بھی حرام خدا شمار کیے جائیں گے اور جو کوئی حالت توبہ سے پہلے گذر کرے اور بردباری کا مظاہرہ کرے تو خدا اسے ایک شہید کے موافق اجر عطا کرے گا جو کوئی اپنے کسی مسلمان بھائی کی غیبت کسی محفل میں سنے اور پھر اس کادفاع تو خدا اس کی برائی کی ہزاروں دروازوں سے اسے پلٹا دے گا اور اگر دفاع کرنے کی طاقت رکھنے کے با وجود اس کا دفاع نہ کرئے تو غیبت کرنے والے شریک ہے، جناب رسول خدا(ص) نے خیانت سے ستر بار منع فرمایا اور فرمایا کہ جو کوئی دنیا میں کسی امانت میں خیانت کرے گا۔ اور اسے اس کے اہل کونہ دے گا یہاں تک کہ موت اسے (خیانت کرنے والے) کو گھیرے تو اس کا میری امت سے کوئی واسطہ نہیں ہے وہ خدا سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضبناک ہوگا۔

پھر آپ(ص) نے فرمایا کہ جو کوئی کسی کے خلاف جھوٹی گواہی دے تو وہ منافقین کے ساتھ اسفل دوزخ( دوزخ کا انتہائی ذلیل طبقہ) میں آویزان ہوگا۔ اور کوئی کسی خیانت شدہ امانت کو کسی دلیل کے ذریعے درست جانے تو وہ خود  خائن کی مانند ہے،جو کوئی کسی مسلمان کی حق تلفی کرے تو خدا برکت رزق کو اس پر حرام کرتا ہے مگر یہ کہ توبہ کرے جو کوئی کسیکی برائی سنے اور اور پھر دوسروں پر فاش کرئے تو وہ اس برائی کے مرتکب ہونے والے کی  طرح ہے جس کسی سے کوئی مسلمان بھائی قرض لینا چاہیے اور وہ بادجود استطاعت رکھنے کے قرض نہ دے تو خدا تعالیٰ اس پر بہشت کی خوشبو حرام کردیتا ہے جو کوئی عورت کی کج خلقی پر خوف خدا سے صبر کرے تو حق تعالی اسے کرنے والوں کا ثواب دیتا ہے۔ اور عورت اپنے خاوند سےمیل جول اور مدارات نہ کرے اور اس پر فرمائشوں کا بوجھ ڈال دے جن کے پورا کرنے کی اس(مرد) میں استطاعت نہیں تو حق تعالیٰ اس(عورت) کی کوئی نیکی قبول نہیں کرے گا اور بروز قیامت اس سے ناخوش ہوگا جو کوئی اپنے


مسلمان بھائی کی عزت کرے وہ ایسا ہے کہ اس نے رب العزت کو گرامی و بزرگ جانا۔

اور جناب رسول خدا(ص) نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شخص کسی ایسے گروہ کی نماز کی امامت کرے کہ جو اس سے راضی نہ ہوں اور جو شخص کسی گروہ کی پیش امامت ان کی رضا مندی سے کرے اور نماز کے لیے درست وقت پر حاضر ہو اور نماز کو عمدگی کے ساتھ  بجالائے تو سب نمازیوں ک برابر اسے ثواب عطا ہوگا اور نمازیوں کے ثواب میں بھی کچھ کمی واقع نہ ہوگی اور جو کوئی کسی گروہ کی اجازت سے نماز پڑھائے مگر اراکین نماز درستی سے نہ بجالائے تو ایسے شخص کی نماز اسے پلٹا دی جائے گی اور س کی نماز اس کے گلے سے آگے نہ بڑھے گی اور اس پیش نماز کا مقام ستم کار امام کی مانند ہوگا اور یہ سب اس وجہ سے ہوگا کہ وہ اس بات کا خود ہی ذمہ دار ہے کہ وہ اصلاح رعیت نہیں چاہتا  جو کوئی کسی عزیز یا رشتے دار کے پاس اس کی ملاقات کو جائے اور اپنے ہمراہ کچھ مال اس کے واسطے لے جائے تو خدا تعالی  سو شہیدوں کا ثواب اسے عطا کرے گا اور ہر قدم پر چالیس ہزارا نیکیاں اس کے واسطے لکھی جائیں گی، چالیس ہزار گناہ معاف فرمائے جائیں گے اس کے چالیس ہزار درجات بلند کیے جائیں گے اور ایسا ہوگا کہ گویا اس نے سو برس عبادت کی ہو جو کوئی کسی اندھے کی دنیاوی حاجات میں سے کوئی حاجت پوری کرے اور اس کی حاجت کی خاطر اسے کوئی سفر یا مسافت طے کرنی پڑے تو خدا تعالی اسے دوزخ سے امان دے گا اور اس کی ستر دنیاوی حاجات برلائی جائیں گی اور جب تک وہ اس نابینا سے ہو کر واپس نہ آجائے رحمتِ الہی اس کےشامل حال رہے گی ۔ جو کوئی ایک شب و روز بیمار ہے اور عبادت کرنے  والوں سے اپنی بیماری بیان نہ کرے ( تکلیف پر صبر کا مظاہرہ کرے) تو حق تعالی اس کو حضرت ابراہیم(ع) خلیل اﷲ کے ساتھ محشور کرے گا یہاں تک کہ وہ ان کے ہمراہ پل صراط سے بجلی کی مانند گزر جائے گا جو شخص کسی بیمار کی کوئی حاجت بر لانے میں کوشش کرے خواہ وہ حاجات پوری نہ ہو یا ہو جائے تو وہ گناہوں سے  اس طرح پاکیزہ ہو جائے گا کہ جیسے شکم مادر سے اسی دن بر آمد ہوا ہو، اںصار میں سے  ایک شخص نے دریافت کیا کہ یا رسول اﷲ(ص) اگر وہ بیمار اس کے اہل خانہ سے ہوتو اسے کچھ زیادہ ثواب ملے گا یا نہیں تو جناب رسول خدا(ص) نے ہاں میں جواب  ارشاد فرمایا۔


پھر فرمایا آگاہ رہو کہ جو شخص کسی مرد مومن سے دنیا کی سختی اور غموں میں سے کوئی غم و سختی دور کرے گا تو حق تعالی اس کو آخرت کے غموں سے امان دے کا دنیا کی بالؤں میں سے بہتر (۷۲) بلائیں اس سے دور کرے گا اور دنیا کی بلاؤں میں سے آسان تر دردِ شکم ہے اور آخرت کے گناہوں میں سے بہتر(۷۲) گناہ محو کرے گا، پھر فرمایا کہ جو شخص کسی سے اپنا حق طلب کرے اور وہ اس کے ادا کرنے میں باوجود استطاعت رکھنے کے تاخیر کرےتو خدا ہر روز ناجائز بحری محصول وصول کرنے والے کے گناہوں کے برابر اس کے نامہ اعمال میں گناہ درج کرے گا آگاہ ہو جاؤ کہ جو شخص کسی سلطان ناحق کی قربت کی خاطر کسی کو تازیانہ مارے یا ظلم کرے تو ایسے پر روزِ قیامت خدا ایک آتشین اژدھے کو مسلط کرے گا جس کی لمبائی ستر زراع ہوگی اور یہ کیا برا انجام ہے۔ جو کوئی کسی برادر مسلم کے ساتھ کچھ احسان مندی کر کے جتلائے تو خدا تعالی اس کے عمل حبط (ضائع) کردیتا ہے اور اسے کچھ ثواب نہیں دیتاخدا فرماتا ہے کہ مین نے احسان جتلانے والے، سخن چین اور بخیل پر بہشت حرام کردی ہے، جو کوئی صدقہ دے اسے ایک ایک درھم کے بدلے نعمت ہائے بہشت سے کوہ احد کے برابر حصہ ملے گا اور جو کوئی کسی محتاج کو دینے کے واسطے صدقہ اٹھا کر لے جائے تو اس کو بھی اتنا ہی ثواب میں سے بھی کچھ کم نہ ہوگا، جو کوئی نماز جنازہ پڑھے گا تو ستر ہزار فرشتے اس نماز جنازہ پڑھنے والے کے لیے مغفرت طلب کریں گے اور خدا اس کے گناہوں کو محو کردے گا اور اگر وہاں اس وقت تک ٹھہرا رہے کہ مرحوم کو سپرد خاک کیا جائے تو اس کے واسطے جو قدم اٹھائے گا وہ ایک قیراط کے برابر اجر رکھتا ہے اور ایک قیراط کوہ احد کے برابر ہے کہ جو کچھ اس میں ہے نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ ہی کسی کان نے کبھی سنا اور نہ ہی کبھی کسی انسان کے تجربے میں آیا، آگاہ رہو کہ مسجد میں جاکر با جماعت نماز ادا کربا ہر حال میں ستر ہزار نیکیوں کا اجر رکھتا ہے اور نماز با جماعت کی ادائیگی کرنے والے کو یہ حق ہوگا کہ وہ چالیس ہزار آدمیوں کی شفاعت کرے اور انہیں بہشت میں لے جائے اور اگر اسی عمل پر کاربند رہتے ہوئے اس کی موت واقع ہوجائے تو خدا اس کی قبر میں عبادت کے لیے ستر ہزار فرشتے مقرر فرمائے گا جو


 اس کی تنہائی میں اس سے موانست کریں گے اور اس کے محشر میں جانے تک اس کے لیے مغفرت طلب کرتے رہیں گے، جو شخص رضائے الہی کی خاطر اذان دے خدا اسے چالیس ہزار شہدا اور چالیس ہزار صادقین کا ثواب عطا کرےگا اور اسے حق بخشے گا کہ وہ چالیس ہزار گناہ گاروں کی شفاعت کرے اور انہیں بہشت میں لے جائے آگاہ رہو کہ جب موذن ” اشہد ان  لا الہ الا اﷲ “ کہتا ہے تو اس پر نوے ہزار فرشتے درود بھیجتے ہیں اور اس کے لیے مغفرت طلب کرتے ہیں وہ موذن قیامت کے دن عرش الہی کےسائے میں ہوگا۔ یہاں تک کہ خدا خلائق کے حساب سے فارغ ہو جائے۔” اشہد ان محمدا الرسول اﷲ“ کہنے کا ثواب بھی ایسے ہی چالیس ہزار فرشتے ہیں، اگر با جماعت نماز کی صف اول اور تکبیر اول میں شریک ہونے کا ہمیشہ خیال رکھے اور کسی مسلمان کی دل آزاری نہ کرے تو خدا تعالیٰ اسے دنیا و آخرت میں تمام موذنوں کے برابر اجر عطا کرے گا۔ آگاہ رہو کہ جو کوئی اپنی قوم کا رئیس و سردار ہے ( اور خدا کے احکامات پر نہیں چلتا) تو خدا تعالی روز قیامت اس کے ہاتھ گردن میں بندھوا کر طلب کرے گا اور اگر اس نے دستور خدا کے مطابق ان پر حکومت کی ہوگی تو خدا اسے دوزخ کے کنارے سے ہزار سال دور رکھے گا ورنہ خدا اسے عذاب دےگا اور ستمگار و ظالم حکمران کے لیے دوزخ ہے اور اور یہ کیسا برا انجام ہے۔

پھر جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا کہ بدی کو ہرگز حقیر نہ جانو ہر چند کہ تمہاری نظر میں وہ خفیف دکھائی دے اور کسی نیکی کو بڑا نہ جانو ہر چند کہ تمہاری نظروں میں وہ بڑی ہی کیوں نہ ہو کیونکہ استغفار کرنے سے گناہ کبیرہ۔ کبیرہ نہیں رہتا اور بار بار کرنے سے گناہ صغیرہ۔ صغیرہ نہیں رہتا بلکہ گناہ صغیرہ پر اصرار کر کے توبہ نہ کرو گے تو وہ کبیرہ کی شکل اختیار کر لے گا۔

امام ششم نے فرمایا کہ یہ طولانی حدیث کتاب سے فراہم شدہ ہے اور جناب امیرالمومنین(ع) کے ہاتھ کی تحریر ہے جو کہ جناب رسول خدا(ص) سے املاء کی گئی ہے۔


مجلس نمبر۶۷

(۱۶ جمادی الاول سنہ۳۶۸ھ)

حسن بصری کا بیان

۱ـ                   سعد کہتے ہیں کہ حسن بصری کو بتایا گیا کہ ان کے اصحاب میں سے ایک شخص ان پر یہ الزام لگاتا ہے کہ وہ جناب علی بن ابی طالب(ع) کے فضائل کو گھٹا کر بیان کرتے ہیں تو حسن بصری نے اپنے اصحاب کو جمع کر کے کہا میرا ارادہ  یہ ہے کہ میں اس شخص پر اپنے گھر کے دروازے ہمشہ ہمیشہ کے لیے بند کردوں اور خود بھی اس تا دم مرگ نہ ملوں و ہمجھ پر بہتان لگاتا ہے کہ میں علی(ع) کا رتبہ گھٹاتا ہوں جان لو کہ علی(ع) بہترین بندوں میں سے ہیں اور پیغمبر(ص) کے انیس و جلیس ہیں وہ مصیبت کے وقت ان سے مصیبت کو دور فرمایا کرتے تھے وہ میدان جنگ میں (کفار کو) قتل کرنے والوں میں سے ہیں تمہارے درمیان سے ایسا بندہ تم سے جدا ہوا جو قرآن کو اس کے کمال کے ساتھ جانتا تھا، جو علم وافر رکھتا تھا، جس کی مانند کسی کی شجاعت نہیں تھی، جسے وہ اپنے پروردگار کی اطاعت میں قید رکھتا تھا (شجاعت کو ) وہ سختی جنگ میں صابر اور مصیبت کے وقت شاکر تھے وہ اپنے پروردگار کی کتاب پر عمل کرتے اور پیغمبر(ص) کے خیر خواہ ان کے چچا کے بیٹے اور ان(ص) کے بھائی تھے اور پیغمبر(ص) نے ان کے سوا کسی کے ساتھ مواخات نہیں کی وہ شبِ ہجرت بسترِ رسول(ص) پر سونے والے اور خرد سالی میں ان کے ہمراہ جہاد کرنے والوں میں سے تھے بزرگی میں ان کی مانند کوئی نہ تھا وہ نامور پہلوانوں اور ماہر شہہ سواروں کو زیر کرنے والے تھے اور یہ سب کچھ صرف دین الہی کے واسطے تھا بوقت وصال جناب رسول خدا(ص) نے ان ہی کو وصیت فرمائی جس کے ساتھ وہ تا دم رخصت متمسک رہے، مخالف ان پر کبھی غلبہ نہ پاسکا وہ دانشمندتر اور فہم ترین بزرگ تھے اور اسلام میں تمام پر سبقت رکھتے تھے جو مناقب انہیں حاصل تھے وہ کسی اور کو نہیں ملے وہ فضیلت میں سب سے بلند ترین تھے ان پر کبھی خواہشات شہوانی غلبہ نہ پاسکیں۔ وہ خدا کے کاموں میں کبھی غفلت نہ برتتے


تھے۔ وہ صاحب طہارت تھے۔ وہ نماز میں خدا کے سامنے خشوع سے حاضر ہوتے۔ خود کو انہوں نے لذات دنیا سے مبرا رکھا اور ہمیشہ خوش اخلاقی کو اپنا شعار بنائے رکھا۔ وہ ہمیشہ نیکیوں کو مقدم رکھتے۔ وہ پیغمبر(ص) کی روش کے پیرو کار تھے اور اپنے پیچھے آثار ولایت چھوڑ کر رخصت ہوئے۔ میں کس طرح ان کی فضیلت کا منکر ہوسکتا ہوں اور خود کو ہلاکت میں مبتلا کرسکتا ہوں۔ میں کسی ایسے کو نہیں جانتا جو انہیں نہ پہانتا ہو۔میں کسی ایسے کو نہیں جانتا جو انہیں برا کہتا ہو۔ تم لوگ مجھے آزاد مت پہنچاؤ اور راہ ہلاکت سے دور رہو۔

منصور دوانیقی اور فضائلِ علی(ع)

۲ـ           سلیمان اعمش کہتے ہیں کہ ابو جعفر منصور دوانیقی نے مجھے ایک مرتبہ رات کے وقت بلوا بھیجا ۔ میرے دل خوف پیدا ہوا کہ رات کے اس پہر مجھے بلانا کسی خطرناک ارادے سے خالی نہیں وہ ضرور مجھ سے فضائل علی(ع) سننا چاہتا ہے اور اگر میں نے اس سے جناب امیر(ع) کے فضائل بیان کیے تو وہ مجھے قتل کروادے گا یہ سوچ کر میں نے اپنی وصیت لکھی اور پھر غسل کرنے کے بعد خود کوحنوط کر کے (مشک کافور لگا کر) کفن پہنا اور اس کے پاس چلا گیا میں نے دیکھا کہ اس کے پاس عمرو بن عبید بھی بیٹھا ہوا ہے یہ دیکھ کر میرے دل کو کچھ ڈھارس ہوئی میں نے اسے سلام کیا تو اس نے مجھے قریب بلایا میں تھوڑا قریب ہوا تو اس نےمزید نزدیک آنے کا کہا میں اس کے بالکل نزدیک جاکر بیٹھ گیا اور قریب ہی تھا کہ اس کا زانو میرے زانو کے ساتھ مل جاتا تو اسے مجھ سے حنوط کی خوشبو محسوس ہوئی اس نے کہا جو میں پوچھوں وہ سچ بیان کرنا ورنہ میں تجھے سولی پر لٹکا دوں گا میں نے کہا اے امیرالمومنین(ع) آپ جو پوچھنا چاہیں پوچھیں اس نے کہا تونے حنوط کیوں کیا ہے میں نے کہا کہ جب آپ کا ہر کارہ مجھے آپ کا پیغام دینے آیا تو میں نے خیال  کیا کہ آپ کا اس وقت بلانا صرف اسی لیے ہے کہ آپ مجھ سے فضائل علی(ع) دریافت کرنا چاہتے ہیں میں ڈر گیا کہ کہیں آپ مجھےقتل نہ کردیں اس لیے میں نے اپنا وصیت نامہ تیار کر کے غسل کیا اور خود کو حنوط کر کے کفن پہنا اور آپ کے پاس چلا آیا ۔ منصورہ جو اس وقت تکیے سے ٹیک لگائے ہوئے تھا اٹھ کر بیٹھ گیا


 اور کہنے لگا” لا حول ولا قوة الا باﷲ“ اے سلیمان میں تجھے خدا کی قسم دیتا ہوں مجھے بتاکہ تجھے فضائل علی(ع) میں کتنی حدیثیں یاد ہیں، میں نے کہا تقریبا دس ہزار سے زائد منصور نے کہا اے سلیمان میں تجھے فضیلت علی(ع) میں ایک ایسی حدیث سناؤں کہ جتنی حدیثیں تجھے یاد ہیں وہ تجھے بھول جائیں میں نے کہا اے امیرالمومنین بیان کریں اس نے کہا کہ بنی امیہ کے دور میں جب میں ان (بنی امیہ) سے بھاگا پھرتا تھا اور مختلف شہروں میں گشت کیا کرتا تھا تو افرادی قوت اکٹھی کرنے کی خاطر میں لوگوں کو فضائل علی(ع) میں بیان کردہ احادیث سنا کر ہم خیال بنایا کرتا تھا لوگ مجھے کھانا کھلایا کرتے اور زادِ راہ دیا کرتے تھے۔

ایک مرتبہ میں ملک شام کے شہروں میں پھر رہا تھا اور میں نے ایک بوسیدہ عبا پہنی ہوئی تھی جب کہ اس کے علاوہ کوئی اور لباس میرے پاس نہ تھا اس وقت مجھ پر شدید پیاس کا غلبہ بھی تھا ناگاہ مجھے اذان سنائی دی میں نے خود سے کہا کہ پہلے نماز پڑھ لوں پھر اس کے بعد لوگوں سے کھانا مانگوں گا میں مسجد میں چلا آیا اور پیش نماز ہمراہ ادا کی جب اس نے سلام پھیرا تو میں نے دیکھا کہ دو لڑکے مسجد میں داخل ہوئے ہیں انہیں دیکھ کر پیش نماز نے کہا مرحبا اے فرزند مرحبا اور ان پر بھی سلام پہنچے جن کے ہم نام ہو میں نے اپنے پہلو میں بیٹھے ایک شخص سے پوچھا کہ ان دونوں لڑکوں کا اس پیش امام سے کیا تعلق ہے اس آدمی نے بتایا کہ یہ دونوں لڑکے اس پیش امام کے پوتے ہیں اور یہ ان کا دادا ہے اس شہر میں اس کے سوا کوئی علی(ع) کو دوست نہیں ہے اس نے ان دونوں لڑکوں کا نام حسن(ع) و حسین(ع) رکھا ہے میں نے جب یہ سنا توبہت خوش ہوا اور اس پیش امام کے پاس چلاگیا اور اس سے کہا کہ اگر آپ کو منظور ہوتو میں ایک ایسی حدیث آپ سے بیان کروں جس سے آپ کی آنکھیں روشن ہوجائیں، اس نے کہا اگر تم میری آنکھیں روشن کروگے تو میں تمہاری آنکھیں روشن کروں گا۔ میں نے اس کو بتایا کہ مجھے میرے والد نے اپنے دادا کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ایک دن میں ( منصور کا جد عباس) جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا اے فاطمہ(س) تم کیوں رو رہی ہو انہوں نے کہا کہ بابا جان حسن(ع) و حسین(ع) کہیں چلے گئے ہیں اور مجھے  معلوم نہیں ہے کہ وہ کہاں ہیں


 اور انہوں نے رات کہاں گزاری ہے آپ(ص) نے فرمایا اے فاطمہ(س) گریہ نہ کرو جس خدا نے انہیں پیدا کیا وہ ان کی حفاظت فرمائے گا وہ تم سے زیادہ ان پر مہربان ہے پھر جناب رسول خدا(ص) نے دعا کے لیے آسمان کی طرف ہاتھ بلند کیے اور  عرض کیا خدایا اگر حسنین(ع) کسی صحرایا  دریا میں ہیں تو تو ان کی حفاظت فرمای اور انہیں سلامت رکھ آپ(ص) نے یہ دعا فرمائی تو جبرائیل(ع) تشریف لائے اور جناب رسول خدا(ص) سے کہا اے محمد(ص) خدا تجھے سلام دیتا ہے اور فرما ہے کہ تم پریشان مت ہو تیرے فرزند دنیا و آخرت میں افضل ہیں اور ان کا باپ(ع) ان سے افضل ہے یہ دونوں بنی نجار کے باغ میں ہیں اور آرام فرما رہے ہیں خدا نے ان کی حفاظت پر ایک فرشتے کو معمور کیا ہے جس نے ایک پر ان کے نیچے فرش پر بچھایا ہوا ہے اور دوسرے پر سے ان پر سایہ کیے ہوئے ہے، پیغمبر(ص) یہ سن کر شاد ہوگئے اور اپنے  اصحاب کے ہمراہ بنی نجار کے باغ کی طرف چل پڑے وہاں پہنچے تو دیکھا کہ حسن(ع) و حسین(ع) ایک دوسرے کے گلے میں بانہیں ڈال کر لیٹے ہوئے ہیں اور آرام فرمارہے ہیں اور ایک فرشتے نے ان پر ان اپنے ایک پر سے سایہ کیا ہوا ہے اور دوسرے پر کو ان کے نیچے بچھایا ہوا ہے جب وہ نیند سے بیدار ہوئے تو رسول خدا(ص) نے حسن(ع) کو دوش مبارک پر سوار کیا اور جبرائیل(ع) نے حسین(ع) کو اٹھایا اور اس ذخیرے سے باہر آئے جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا خدا کی قسم میں آج لوگوں کو بتاؤں گا کہ خدا نے تمہیں کس فضیلت سے سرفراز کیا ہے۔ لوگوں جبرائیل نظر نہ آتے تھے اور لوگ یہی سمجھ رہے تھے کہ جنابِ حسن(ع) اور جناب حسین(ع) دونوں کو جناب رسول خدا(ص) نے ہی دوش مبارک پر اٹھایا ہوا ہے لہذا حضرت ابوبکر نے رسول خدا(ص) سے عرض کیا کہ یا رسول اﷲ(ص) اگر آپ(ص) اجازت دیں تو دونوں بچوں میں سے ایک کو اٹھالوں تاکہ آپ(ص) کا بوجھ ہلکا ہوجائے تو جنابِ رسول خدا(ص) نے انہیں فرمایا، اے ابوبکر ان دونوں کو اٹھانے والے دو اشخاص ہیں اور دونوں ہی نیک ہیں اور یہ بھی  نیک سوار ہیں ان کا باپ ان سے بھی نیک ہے پھر آپ(ص) دونوں بچوں کو لیے ہوئے مسجد پہنچے اور بلال(رض) سے فرمایا اے بلال منادی کر کے لوگوں کو میرے پاس جمع کرو منصور کے جد کہتے ہیں کہ جس وقت بلال نے منادی کی اور مدینہ کے لوگوں کو اکھٹا کیا میں وہیں تھا لوگوں کے مسجد میں جمع ہونے پر رسول خدا(ص) کھڑے ہو گئے اور فرمایا اے لوگو کیا میں تمہیں ایسے لوگوں سے مطلع نہ کروں کہ جو تم سب سے بہترین ہیں


 اور جن کا نسب سب سے افضل ہے لوگوں نے کہا کیوں نہیں یا رسول اﷲ(ص) آپ(ص) نے فرمایا یہ حسن(ع) و حسین(ع) ہیں کہ ان کے والد علی بن ابی طالب(ع) ہیں جو خدا اور اسکے رسول کو دوست رکھتے ہیں اور خدا اور اس کا رسول(ص) دوست رکھتا ہے ان کی والدہ فاطمہ(س)دختر رسول خدا(ص) ہے ان کے جد محمد رسول اﷲ(ص) ہیں اور ان کی جدہ خدیجہ دخترِ خویلد ہے پھر فرمایا اے لوگو کیا میں تمہیں بہترین چچا و بہترین پھوپھی سے آگاہ نہ کروں تو لوگوں نے کہا فرمائیے یا رسول اﷲ(ص)، آپ(ص) نے فرمایا حسن(ع) و حسین(ع) کے چچا جعفر بن ابی طالب(ع) ہیں جو فرشتوں کے ساتھ بہشت میں پرواز کرتے ہیں اور ان کی پھوپھی ام ہانی دختر ابی طالب(ع) ہیں پھر آنحضرت(ص) نے فرمایا اے گروہ مردم کیا میں تمہیں بہترین خالہ و ماموں کے بارے میں نہ بتاؤں لوگوں نے کہا بتائیے یارسول اﷲ(ص)، آپ نے فرمایا یہ حسن(ع) و حسین(ع) ہیں کہ جن کے ماموں قاسم پسرِ رسول خدا(ص) ہیں اور ان کی خالہ زینب بنت رسول خدا(ص) ہیں۔ پھر جناب رسول خدا(ص) نے لوگوں کو اپنا ہاتھ جس کی انگلیاں ملی تھیں دکھایا اور فرمایا روزِ قیامت خدا ان سب کو ہمارے ساتھ اس ہاتھ کی مانند محشور فرمائے گا( یعنی ہاتھ کی انگلیوں کی طرح ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے) پھر فرمایا خدایا تو جانتا ہےکہ حسن(ع) و حسین(ع) اہل بہشت سے ہیں ان کے والدین اہل بہشت سے ہیں، ان کے چچا اور چچی اہل بہشت میں سے ہیں ان کے ماموں اور خالہ اہل بہشت سے ہیں خدایا تو جانتا ہے کہ جو انہیں دوست رکھتا ہے وہ اہل بہشت میں سے ہے اور جو کوئی انہیں دشمن رکھتا ہے اور وہ اہل دوزخ میں سے ہے۔ جب اس امام مسجد نے مجھ سے یہ حدیث سنی تو پوچھا اے نوجوان تم کون ہو۔ میں نے کہا اہل کوفہ سے ہوں اس نے کہا عربی ہو یا عجمی میں نے کہا عربی اس نے کہا تم ایسی (قیمتی) حدیثی بیان کرتے ہو مگر کپڑے بوسیدہ پہنتے ہو یہ کہہ کر اس نے مجھے ایک عبادی اور مجھے ایک خچر بھی دیا(جسے بعد میں میں نے سو اشرفیوں کے عوض فروخت کیا) پھر اس امام مسجد نے مجھے کہا اے نوجوان تو نے میری آنکھوں روشن کردی ہیں خدا تیری آنکھیں بھی روشن کرے اب میں بھی تیری آنکھوں کو روشن کرنے کے لیے تجھے ایک شخص کا پتہ بتاتا ہوں میں نے کہا بتایئے اس نے کہا میرے دو بھائی اور بھی ہیں ان میں سے ایک پیش نماز ہے اور دوسرا موذن ہے جو پیش نماز ہے وہ شکم مادر سے لے کر اب تک علی(ع) کا حب دار ہے


 اور جو موذن ہے وہ شکم مادر سے لے کر عمر کے اس حصے تک علی(ع) سے دشمنی رکھتا ہے میں نے اس امام مسجد سے کہا کہ آپ مجھے اس حب دار علی(ع) کا پتہ بتائیں اس امام مسجد نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اپنے بھائی کے دروازے پر چھوڑ گیا۔

میں نے اس کے دروازے کی زنجیر ہلائی تو وہ برآمد ہوا اور مجھے دیکھ کر کہنے لگا بخدا میں تیرے لباس کو پہچان گیا ہوں کیا تجھے یہ لباس فلاں شخص نے صرف اس لیے نہیں دیا کہ تونے اسے جناب رسول خدا(ص) کی کوئی حدیث جو کہ ان(ص) کے برادر علی بن ابی طالب(ع) کی فضیلت میں ہے سنائی ہے میں نے اقرار کیا تو اس نے کہا کوئی ایک حدیث میرے لیے بھی بیان کر تو میں نے کہا کہ میرے باپ نے اپنے دادا سے روایت کیا ہے کہ ایک دن ہم رسول خدا(ص) کے پاس بیٹھے تھے کہ اچانک فاطمہ(س) گریہ کرتے ہوئے جناب رسول خدا(ص) کے پاسآئیں جناب رسول خدا(ص) نے ان کے گریہ کا سبب پوچھا تو وہ کہنے لگیں بابا جان قریشی کی عورتیں مجھے طعنہ دیتی ہیں باپ نے تجھے ایک غریب آدمی کے ساتھ بیاہ دیا ہے۔

جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا اے فاطمہ(س) گریہ نہ کرو علی(ع) سے تمہاری تزویج میں نے نہیں کی بلکہ خدا نے کی ہے اور جس پر جبرائیل(ع) و میکائیل(ع) کو گواہ بنایا ہے اور خدا نے اپنی تمام مخلوق میں تمہارے والد(ص) کو بااختیار بنایا ہے اور اسے پیغمبری سے سرفراز کیا ہے اور تیری تزویج اس سے کی ہے جو میرا وصی ہے، وہ شجاع ترین و بردبار ترین لوگوں میں سے ہے وہ اسلام لانے میں ان کا نام توریت میں شبر(ع) و شبیر(ع)ہے اور خدا کے ہاں گرامی ہے اے فاطمہ(س) گریہ نہ کرو خدا کی قسم روزِ قیامت ہوگا تو تمہارے باپ کو دو چلے پہنائے جائیں گے اور علی(ع) کو بھی دو حلے عطا کیے جائیں گے۔ اس وقت لواحمد میرے ہاتھ میں ہوگا جو میں علی(ع) کو دوں گا کیوںکہ وہ خدا کے نزدیک گرامی ہے اے فاطمہ(س) گریہ نہ کرو جب میں رب العالمین کے ہاں بلایا جاؤں گا تو علی(ع) میرے ہمراہ ہوں گے اورمیرے ہمراہ شفاعت کریں گے۔ اے فاطمہ(س) گریہ نہ کرؤ۔ روزِ قیامت کی سختیوں میں منادی ندا دے گا اور کہے گا اے محمد(ص) تمہارے جد ابراہیم(ع) کیا ہی اچھے ہیں اور تمہارے بھائی علی بن ابی


طالب(ع) کیا ہی نیک ہی، اے فاطمہ(س) بہشت کی کنجیاں اٹھانے میں علی(ع) میرا مددگار ہوگا اور اس روز علی(ع) کے شیعہ ہی کامیاب ہوں گے۔

جب یہ حدیث میں نے امام مسجد کے بھائی سے بیان کی تو اس نے کہا اے  فرزند کہاں کے رہنے والے ہو میں نے کہا کوفہ کا پوچھا عربی ہو یا عجمی میں نے کہا عربی یہ سن کر اس نے مجھے تیس لباس دیے اور دس ہزار درہم عطا کیے اور کہا اے نوجوان تو نے مجھے شاد کیا اور میری آنکھوں میں نور بھر دیا میری تجھ سے ایک درخواست ہے کہ کل فلاں مسجد میں آنا اور میرے اس بھائی کو دیکھنا جو دشمنانِ علی(ع) سے ہے میں نے وہ تمام رات اس اشتیاق میں کاٹ دی کہ اس دشمن علی (ع) کو بھی دیکھوں کہ وہ کیسا ہے جب صبح ہوئی تو میں اس مسجد میں گیا اور صف نماز میں کھڑا ہوگیا ناگاہ ایک جوان میرے پہلو میں آکھڑا ہوا اس کے سرپر عمامہ تھا جب وہ رکوع میں گیا تو اس کا عمامہ اس کے سر سے گر پڑا میں نے دیکھا کہ اس کا منہ سور کا تھا۔ جب ہم نے نماز پڑھ لی  تو میں نے اس شخص سے پوچھا کہ تیرا یہ حال کیونکر ہوا یہ سن کر وہ کہنے لگا کہ تم میرے ساتھ میرے گھر چلو میں وہاں جاکر تم سے اپنا حال بیان کروں گا۔ میں اس کے ہمراہ اس کے گھر چلا گیا اس نے بتایا کہ میں فلاں مسجد و جماعت کا موذن تھا اور ہر روز صبح کے وقت اذان و اقامت کے درمیاں ہزار مرتبہ علی(ع) پر سب و شتم کیا کرتا تھا اور بروز جمعہ سب و شتم کی یہ تعداد چار ہزار مرتبہ پہنچ جاتی پس ایک جمعہ میں جب گھر آیا تو وہ گوشہء دیوار جو تمہیں نطر آرہا وہاں تکیہ لگا کر بیٹھ گیا اسی اثناء میں مجھے نیند آگئی خواب میں میں نے قیامت کا منظر دیکھا اور دیکھا کہ جنابِ رسول خدا(ص) اور حضرت علی(ع) خوشی سے مسکرا رہے ہیں، ان کے دائیں جانب حسن(ع) اور بائیں جانب حسین(ع) کھڑے ہیں وہاں پانی کا ایک کاسہ بھی موجود تھا جناب رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا اے حسن(ع) مجھے پانی دو امام حسن(ع) نے انہیں پانی دیا جب وہ پی چکے تو کہا کہ اس جماعت کو بھی پلا دو جناب حسن(ع) نے اس جماعت کو بھی پانی پلا دیا پھر جنابِ رسول(ص) نے کہا کہ وہ شخص جو تکیہ لگا لیٹا ہوا ہے اسے بھی پلا دو امام حسن(ع) نے جناب رسول خدا(ص) سے کہا کہ آپ(ع) نے مجھے اس شخص کو پانی پلانے کے واسطے کہا ہے جو میرے والد(ع) پر روزانہ ہزار مرتبہ سب وشتم کرنا ہے اور آج اس نے چار ہزار مرتبہ ایسا کیا ہے یہ سن کر جناب رسول خدا(ص) میرے قریب آئے


 اور ارشاد فرمایا تجھ پر خدا کی لعنت ہوتو ایسا کیوں کرتا ہے حلاںکہ علی(ع) مجھ سے ہے اور میں علی(ع) سے ہوں تو کیوں اس کے بارے میں بدگوئی کرتا ہے یہ فرما کر جنابِ رسول خدا(ص) نے مجھے پر تھوک دیا اور پھر مجھے ٹھوکر رسید کر کے کہا اٹھ تجھ سے خدا اپنی رحمت پھیرے جب میں بیدار ہوا تو میرا سر اور چہرہ سور کی طرح ہوگیا تھا۔

ابوجعفر منصور نے مجھ سے کہا اے سلیمان کیا یہ حدیث اور دو حدیثیں جو میں نے پہلے سنائیں تیرے پاس ہیں میں نے کہا نہیں تو اس نے کہا اے سیلمان علی(ع) کی محبت ایمان اور علی(ع) کی دشمنی نفاق ہے اور خدا کی قسم علی(ع) علی(ع) کو دوست نہیں رکھتا مگر مومن اور علی(ع) کو دشمن نہیں رکھتا مگر منافق میں نے اس سے کہا اے امیر اگر آپ مجھے امان دیں تو کچھ عرض کروں اس نے کہا بتا کیا کہتا ہے میں نے کہا کہ آپ کا حسین ابن علی(ع) کے قاتل کے بارے میں کیا خیال ہے اس نے کہا اس کی باز گشت آگ کی طرف ہے اور وہ ہمیشہ آگ میں رہے گا میں نے کہا آپ کی فرزندانِ رسول خدا(ص) کے قاتلوں کے بارے میں کیا رائے ہے۔ اس نے کہا وہ دوزخی ہیں اور دوزخ میں رہیں گے لیکن اے سیلمان اس ملک و بادشاہی کی خاطر بیٹا اپنے باپ کو مارڈالتا ہے اب تم جاؤ اور جو دیکھا اور سنا ہے اسے لوگوں سے مت بیان کرنا۔


مجلس نمبر۶۸

(۲۰ جمادی الاول سنہ۳۶۸ھ)

۱ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا نیند بدن کی راحت ہے، گفتگو روح کی راحت ہے اور خاموشی عقل کی راحت ہے۔

۲ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا جو کوئی نصیحت کودل سے قبول نہیں کرتا اور خوددار نہیں ہے وہ ہم نشین اور راہبر نہیں رکھتا اور دشمن کو اپنی گردن پر سوار کیے رکھتا ہے۔

۳ـ          جناب ابوالحسن موسی بن جعفر(ع) نے فرمایا مرد کے عیال اس کے قیدی ہیں اور خدا اسے جو بھی نعمت دے اسے چاہیے کہ اس سے وہ اپنے اسیروں کو وسعت دے اور اگر ایسا نہ کرے گا تو خدشہ ہے کہ وہ نعمت اس کے ہاتھ سے چلی جائے گی۔

۴ـ          امام باقر(ع) نے فرمایا جو کوئی مال کو چار طریقوں سے حاصل کرے جو یہ ہیں۔ اول غبن ۔ دوئم سود۔ سوئم امانت میں خیانت۔ اور چہارم چوری۔ تو اس کے چار اعمال قبول نہ کیے جائیں  گے جو یہ ہیں اول اداے زکوة، دوئم صدقہ، سوئم جمعہ اور چہارم حج و عمرہ آپ(ع) نے فرمایا کہ خدا مال حرام سے ادا کیے گئے حج وعمرہ کو قبول نہیں فرماتا۔

۵ـ          امام رضا(ع) نے فرمایا جو کوئی کسی مسلمان فقیر کے سلام کو جواب اسے کمتر سمجھ کر نہ دے تو روز قیامت ایسے شخص پر خدا غضبناک ہوگا۔

سلمان(رض) کا ابوذر(رض) کی ضیافت کرنا

۱ـ           امام رضا(ع) نے اپنے جد(ع) سے روایت کیا ہے کہ سلمان فارسی(رض) نے جناب ابوذر(رض) کو دعوت دی کہ وہ ان کے ہاں تناول فرمائیں جب ابوذر(رض) ، سلمان(رض) کے گھر گئے تو انہوں نے ان کے سامنے دو سادہ روٹیاں رکھ دیں اور کہا کہ اے ابوذر(رح) تناول فرمائیں ابوذر(رح) نے ان روٹیوں کو اٹھا کر دیکھا اور کہا کہ اے سلمان(رض) یہ روٹیاں کچی ہیں یہ سن کر سلمان(رح) کو غصہ آگیا اور کہا تم نے یہ جسارت کیسے کی


 کہ خدا کے دیئے ہوئے رزق میں نقص نکالو خدا کی قسم خدا نے زمین کو پیدا کیا پھر بادل تخلیق کیے پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ انہیں زمین پر لے جائیں پھر بجلی چمکا کر ان بادلوں کو زمین پر برسایا پھر اس زمین پر دہقان نے ہل چلایا، بیج بویا اور خدا نے اس بیج کے اگانے کے لیے زمین کو حکم دیا پھر جب یہ اناج تیار ہوگیا تو اس کو پیس اس کا آٹا بنایا گیا پھر اسے گوندھ کر لکڑیاں اکٹھی کر کے آگ جلائی گئی اور تب کہیں جاکر یہ روٹی تیار ہوئی کیا اتنے ڈھیر سارے عوامل جو اس روٹی کی تیاری میں کارفرما ہیں پر تم خدا کا شکریہ ادا کرسکتے ہو۔ ابوذر(رح) نے کہا خدا کی قسم میں آرئندہ اس قسم کی جسارت سے باز رہوں گا میں خدا سے اپنے اس عمل کی مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس بات پر میں تجھ سے بھی معذرت کا خواہاں ہوں۔

۷ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جو کوئی صبح کے وقت صدقہ دے تو خدا اس شخص سے اس دن کی نحوست کو دور فرماتا ہے۔

محافظ حسین(ع)

۸ـ          امام صادق(ع) نے اپنے والد(ع) اور انہوں نے اپنے اجداد(ع) سے روایت کیا ہے کہ ایک مرتبہ جنابِ رسول خدا(ص) علیل ہوگئے اور بی بی فاطمہ(س) ان کی عیادت کے لیے گھر سے روانہ ہوئیں، آپ نے دائیں ہاتھ میں جنابِ حسن(ع) اور بائیں ہاتھ میں جنابِ حسین(ع) کا ہاتھ تھاما اور حجرہ عائشہ میں جا پہنچیں امام حسن(ع) حضور(ص) کے دائیں پہلو اور جنابِ حسین(ع) حضور(ص) کے بائیں پہلو میں براجمان ہوگئے کچھ ہی دیر میں جنابِ رسول خدا(ص) پر غنودگی چھا گئی اور آپ(ص) اس قدر گہری نیند میں جا پہنچے کہ بچوں اور بیٹی کے کافی کوشش کرنے کےت باوجود آنکھ نہ کھلی یہ دیکھ کر بی بی سیدہ فاطمہ(س) نے بچوں سے کہا کہ آؤ گھر چلیں نانا کو آرام کرنے دو جب یہ اٹھیں گے تو ہم دوبارہ ان(ص) کی خدمت میں حاضر ہوجائین گے مگر دونوں بچوں نے والدہ سے کہا کہ ہم یہیں نانا کے پاس سونا چاہتے ہیں پھر دونوں بچے اپنے نانا کے پہلو بہ پہلو لیٹ گئے۔ جب دونوں بچوں کو نیند آگئی تو ان کی والدہ انہیں وہاں چھوڑ کر گھر چلی گئیں یہ دونوں بچے جناب رسول خدا(ص) کے بیدار ہونے سے  پہلے ہی بیدار ہوگئے اور بی بی عائشہ


سے کہنے لگے  کہ ہماری والدہ کہا ہیں انہوں نے کہا تمہاری والدہ کافی دیر پہلے گھر گئی تھیں۔ یہ سن کر دونوں بچے اس اندھیری رات میں کہ جب بادل گرج رہے تھے اور بجلی چمک رہی تھی گھر کی طرف چل پڑے اس اندھیرے اور تاریکی کو دور کرنے لیے قدرت نے ایک روشنی پیدا کردی اور یہ دونوں بچے اس روشنی میں راستہ دیکھ کر آپس میں باتیں کرتے جارہے تھے کہ بنی نجار کے باغ کے قریب پہنچ کر وہ رک گئے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ اب کدھر کو جائیں جناب حسن(ع) نے جناب حسین(ع) سے کہا کہ اب اس سے آگے ہمیں راستے کا علم نہیں لہذا ہمیں اس باغ میں قیام کرنا چاہیے جناب حسین(ع) نے بھائی کی بات پر رضامندی کا ظہار کیا اور یہ دونوں بچے ایک دوسرے کے گلے میں بانہیں ڈال کر سوگئے۔

ادھر جب رسول خدا(ص) نیند سے بیدار ہوئے تو دریافت کیا کہ بچے کہاں ہیں، بتایا گیا گھر چلے گئے ہیں، آپ(ص) نے بی بی فاطمہ(س) کے گھر سے پتہ کروایا تو معلوم ہوا کہ وہ وہاں بھی نہیں ہیں یہ سن کر جناب ِ رسول خدا(ص) نے پریشانی کے عالم میں خدا سے دعا فرمائی کہ اے معبودا، اے سیداے مولا میرے یہ دونوں فرزند بھوک کی حالت میں کہیں لاپتہ ہوگئے ہیں تو ہی ان کا ضامن ہے آپ(ص) کا یہ فرمانا تھا کہ ایک نور کی شعاع نمودار ہوئی اور پیغمبر(ص) اس نور کی شعاع کی سمت روانہ ہوگئے اور بنی نجار کے باغ میں جاپہنچے وہاں پہنچ کر دیکھا کہ دونوں بچے ہم آغوش ہوئے سورہے ہیں اور ایک بادل ان کے سر پر سایہ فگن ہے جس کی وجہ سے اطراف میں بارش ہونے کے باوجود ن کے جسموں پر بارش کا ایک قطرہ بھی نہیں گررہا اور ایک عظیم الجثہ اژدھا جس کے جسم پر لمبے لمبے بال ہیں اور دو بازو جو کہ پروں سے بھر پور ہیں، ان دونوں بچوں کی حفاظت کررہا ہے اور اس نے اپنے ایک پر سے جناب حسین(ع) اور دوسرے سے جناب حسن(ع) کو ڈھانپ رکھا ہے جناب رسول خدا(ص) نے یہ دیکھ کر اپنی آمد سے انہیں مطلع کرنے کی خاطر کھانسے تو وہ اژدھا بچوں کے پاس سے ہٹ کر دور جا کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ خدایا میں تجھے اور تیرے فرشتوں کو گواہ کر کے کہتا ہوں کہ میں نے تیرے اس نبی(ص) کے دونوں فرزندوں کی حفاظت کی اور انہیں بالکل صحیح و سالم تیرے پیغمبر(ص) کے حوالے کردیا ہے۔


جناب رسول خدا(ص) نے اس اژدھا سے پوچھا کہ تو کون ہے تو اس نے کہا میرا تعلق نصیبین کے جنون سے ہے انہوں نے مجھے آپ(ص) کی طف بھیجا تھا کیوںکہ بن ملیح کے جن، قرآن کی ایک آیت بھول گئے ہیں میں آپ(ص) سے وہ آیت پوچھنے آیا تھا جب میں یہاں پہنچا تو مجھے ندا آئی کہ اے اژدھا یہ دونوں بچے فرزندان رسول خدا(ص) ہیں تو ان کی آفات و بلیات اور سختیوں سے حفاظت کر لہذا میں نے حکم کے مطابق ان کی حفاظت کی اور اب میں انہیں آپ(ص) کی تحویل میں دیتا ہوں اس کے بعد اس اژدھے نے جنابِ رسول خدا(ص) سے وہ آیت قرآنی پوچھی اور چلا گیا پھر جناب رسول خدا(ص) نے جناب حسن(ع) کو دائیں اور جناب حسین(ع) کو بائیں کاندھے پر سوار کر لیا۔

ادھر جناب امیرالمومنین(ع) بھی ان سب کی تلاش میں وہاں آپہنچے ان کے ہمراہ کچھ اصحاب بھی تھے ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اﷲ(ص) ان دونوں فرزندوں میں سے ایک کو میرے کاندھے پر سوار کروادیں تاکہ آپ(ص) کو بوجھ کم ہوجائے آپ(ص) نے جواب دیا تیری یہ بات خدا تک پہنچ گئی ہے اور وہ تیرے مقام کو جانتا ہے تب جناب علی بن ابی طالب(ع) نے رسول خدا(ص) سے عرض کیا۔ یا رسول اﷲ(ص) ایک بچہ میرے کاندھے پر سوار کروادیں پیغمبر(ص) نے جناب حسن(ع) سے فرمایا بیٹا جاؤ اپنے والد(ع) کے پاس چلے جاؤ مگر جناب حسن(ع) نے کہا نانا جان مجھے آپ(ص) کے کاندھے پر سوار رہنا اچھا لگتا ہے پھر جنابِ حسین(ع) سے بھی یہی پوچھا گیا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا غرض یہ سب بی بی فاطمہ(س) کے پاس ان کے گھر آئے بی بی(س) نے کچھ کھجوریں ان کے لیے رکھ چھوڑیں تھیں وہ لاکر دونوں بچوں کے سامنے رکھیں بچوں نے کھجوریں سیر ہوکر کھائیں اور خوش ہوگئے۔ پھر بی بی فاطمہ(س) کسی کام سے باہر تشریف لے گئیں تو جناب رسول خدا(ص) نے بچوں سے ارشاد فرمایا کہ اب اٹھو اور کشتی کرو۔ دیکھتے ہیں کہ تم میں سے کون زیادہ طاقتور کون ہے اسی اثناء مین بی بی (س) واپس آئیں تو آپ(س) نے جناب رسول اکرم(ص) کو فرماتے سنا” بیٹا حسن(ع) ۔ حسین(ع) کو گرا دو“ بی بی(س) نے یہ سن کر کہا  بابا جان تعجب ہے کہ آپ(ص) ان میں مقابلہ کروا رہے ہیں اور چھوٹے کی نسبت بڑے کی ہمت افزائی کررہے ہیں تو جناب رسول خدا(ص) نے جواب دیا بیٹی تم خوش نہیں ہو کہ تو حسن(ع) کو کہہ رہا ہوں کہ شاباش بیٹا حسین(ع) کو گرادو اور ادھر جبرائیل(ع) حسین(ع) کو کہہ رہے ہیں کہ شاباش بیٹا حسین(ع)، حسن(ع) کو گرادو۔


امام تقی(ع) کی زبانی جنابِ امیر(ع) کے چند ںصائح

۱ـ           سید عبدالعظیم بن عبداﷲ حسنی(رض) نے جناب ابوجعفر محمد تقی بن علی رضا(ع) سے روایت کی ہےکہ امام محمد تقی(ع) اپنے اجداد(ع) سے روایت کرتے ہیں کہ  جناب امیرالمومنین(ع)نے فرمایا لوگ جب تک چھوٹے اور بڑے بن کررہیںگے تو بھلائی سے رہیں گے اور جب سب یکساں ہوجائیں گے تو ہلاک ہوجائین گے میں( عبدالعظیم) نے عرض کیا یا بن رسول اﷲ(ص) کچھ اور بیان فرمائیں ،آپ(ص) نے فرمایا میرے والد ماجد(ع) نے اپنے آبائے طاہرین کی سند سے جناب امیرالمومنین(ع) سے روایت کیا ہےکہ اگر تمہیں ایک دوسرے کے اعمال کا پتہ چل جائے تو تم ایک دوسرے کو دفن نہ کروگے۔

میں نے عرض کیا یا ابن(ع) رسول اﷲ(ص) اور بیان فرمائیں۔

امام(ع) نے فرمایا میرے والد ماجد(ع) نے اپنے آبائے طاہرین کی سند سے جناب امیرالمومنین(ع) سے روایت کیا ہے کہ تم دولت میں لوگوں سے ہرگز نہیں بڑھ سکتے، تم مسکراتے چہرے اور حسن ملاقات میں لوگوں سے بڑھ جاؤ کیونکہ میں نے جناب رسول خدا(ص) سے سنا کہ تم لوگوں سے ہرگز دولت میں آگے نہیں بڑھ سکتے مگر تم اخلاق میں لوگوں سے آگے بڑھ جاؤ۔

میں نے عرض کیا یابن(ع) رسول اﷲ(ص) کچھ اور بیان فرمائیں۔

امام(ع) نے فرمایا میرے والد ماجد(ع) نے اپنے آبائے طاہرین(ع) کی سند سے جناب امیرالمومنین(ع) سے روایت کیا ہے کہ جو زمانے پر غصہ کرے گا وہ طویل عرصے تک غصے میں رہے گا۔

میں نے عرض کیا یا ابن(ع) رسول اﷲ(ص) کچھ اور بیان فرمائیں۔ امام(ع) نے فرمایا میرے والد ماجد(ع) نے اپنے آبائے طاہرین(ع) کی سند سے جناب امیرالمومنین(ع) سے روایت کیا ہے کہ آخرت کا بدترین زادِراہ بندوں پر ظلم کرنا ہے۔

میں نے عرض کیا یا ابن(ع) رسول اﷲ(ص) کچھ اور بیان فرمائیں۔

امام(ع) نے فرمایا میرے والد ماجد(ع) نے اپنے آبائے طاہرین(ع) کی سند سے جناب امیرالمومنین(ع) سے روایت کیا ہے کہ ہر شخص کی قیمت وہی ہے جسے وہ اچھی طرح سر انجام دے سکتا ہے۔


میں نے عرض کیا یا ابن(ع) رسول اﷲ(ص) کچھ مزید بتائیں۔

امام(ع) نے فرمایا میرے والد ماجد(ع) نے اپنے آبائے طاہرین(ع) کی سند سے جناب امیرالمومنین(ع) سے روایت کیا ہے کہ انسان اپنی زبان تلے پوشیدہ ہے۔

میں نے عرض کیا یا ابن رسول اﷲ(ص) کچھ مزید بیان کریں۔

 امام(ع) نے فرمایا میرے والد ماجد(ع) نے اپنے آبائے طاہرین(ع) کی سند سے جناب امیرالمومنین(ع) سے روایت کیا ہے کہ وہ شخص کبھی ہلاک نہ ہوگا جس نے اپنی قدر و قیمت کو پہچانا۔

میں نے عرض کیا یاابن رسول اﷲ(ص) کچھ اور بھی بیان فرمائیں۔

امام(ع) نے فرمایا میرے والد محترم(ع) نے اپنے آبائے طاہرین(ع) کی سند سے جناب امیر المومنین(ع) سے روایت کیا ہے کہ کام کرنے سے پہلے سوچ بچار کرنے سے تم ندامت سے بچ سکتے ہو۔

 میں نے عرض کیا یا ابن رسول اﷲ(ص) کچھ  اور بیان فرمائیں۔

امام(ع) نے فرمایا میرے والد ماجد(ع) نے اپنے آبائے طاہرین(ع) کی سند سے جناب امیر المومنین(ع) سے روایت کیا ہے کہ جس نے زمانے پر تکیہ کیا وہ پچھاڑا گیا۔

میں نے عرض کیا یا ابن(ع) رسول اﷲ(ص) کچھ مزید بیان فرمائیے۔

امام(ع) نے فرمایا میرے والد ماجد(ع) نے اپنے آبائے طاہرین(ع) کی سند سے جناب امیر المومنین(ع) سے روایت کیا ہے کہجو شخص اپنی رائے پر اعتماد کر کے بے نیاز ہوجاتا ہے وہ اپنے آپ کو خطرے میں ڈالتا ہے۔

میں نے عرض کیا یا ابن(ع) رسول اﷲ(ص) کچھ مزید بیان فرمائیں۔

امام(ع) نے فرمایا میرے والد ماجد(ع) نے اپنے آبائے طاہرین(ع) کی سند سے جناب امیر المومنین(ع) سے روایت کیا ہے کہ متعلقین کی کمی دو قسموں میں سے ایک قسم کی آسودگی ہے۔میں نے عرض کیا یا ابن رسول اﷲ(ص) کچھ  اور بیان فرمائیے۔

امام(ع) نے فرمایا میرے والد ماجد(ع) نے اپنے آبائے طاہرین(ع) کی سند سے جناب امیر المومنین(ع) سے روایت کیا ہے کہ جس میں خود پسندی داخل ہوئی وہ ہلاک ہوگیا۔


میں نے عرض کیا یا ابن رسول اﷲ(ص) کچھ  اور بیان فرمائیے۔

امام(ع) نے فرمایا میرے والد ماجد(ع) نے اپنے آبائے طاہرین(ع) کی سند سے جناب امیر المومنین(ع) سے روایت کیا ہے کہ جسے عوض ملنے کا یقین ہو وہ عطیہ دینے میں دریا دلی رکھتا ہے۔

میں نے عرض کیا یا ابن(ع) رسول اﷲ(ص) کچھ اور بیان فرمائیے۔

امام(ع) نے فرمایا میرے والد ماجد(ع) نے اپنے آبائے طاہرین(ع) کی سند سے جناب امیر المومنین(ع) سے روایت کیا ہے کہ جو اپنے سے کمتر کی اعانت پر خوشنود ہو اسے اپنے سے اوپر والے سے بھی سلامتی ملے گی۔

میں (عبدالعظیم) نے کہا کہ مولا اب یہ احادیث میرے لیے کافی ہیں۔


مجلس نمبر۶۹

(۲۳ جمادی الاول سنہ۳۶۸ ھ)

واقعہء معراج اور کفار

۱ـ           امام صادق(ع) سے روایت ہے کہ شب معراج جبرائیل(ع) آںحضرت(ص) کے لیے براق لائے جس پر آںحضرت(ص) سوار ہوکر بیت المقدس تشریف لے گئے اور وہاں اپنے بھائیوں اور پیغمبروں(ع) سے ملاقات کی اور نماز ادا کی جب رسول خدا(ص) واپس تشریف لارہے تھے تو راستے میں انہوں نے قریش کا قافلہ دیکھا جن کے پاس پینے کاپانی بھی تھا اس قافلے نے اس جگہ پراس لیے پڑاؤ ڈالا ہوا تھا کہ ان کا ایک سرخ اونٹ گم ہوگیا تھا، آںحضرت(ص) نے وہاں سے پانی پیا اور پیالے کا بقیہ پانی زمین پر گرادیا اور واپس تشریف لے آئے واپس آکر آںحضرت(ص) نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ میں آج رات معراج کو گیا تھا اور میرے بیان کی صداقت کی دلیل یہ ہے کہ واپسی پر میں نے فلان مقام پر قریش کا قافلہ دیکھا جن کا سرخ اونٹ کھو گیا تھا وہاں میں نے پانی پیا اور بقیہ زمین پر گرا دیا جب اس بات کی اطلاع ابوجہل کو ملی توع اس نے مذاق اڑایا اور کہنے لگا یہ کیسا تیز رفتار سوار ہے ہے جو ایک رات میں ملک شام کو گیا اور واپس بھی آگیا پھر وہاں سے کہنے لگا کہ تم میں کئی لوگ ایسے بھی ہیں جو ملک شام جاتے رہے ہیں تم اس (جناب رسول خدا(ص)) سے ملک شام کی بابت دریافت کرو اگر یہ شخص سچا ہے تو بتائے کہ بیت المقدس کیسا ہے  اس میں ستوں کتنے ہیں اور اس کی قندیلیں کیسی ہیں اور محراب کتنے ہیں اور بازار شام کی کیفیت اس سے دریافت کرو تاکہ اس کا جھوٹ کھل جائے،  غرض لوگوں نے حضور(ص) سے دریافت کیا تو جبرائیل(ع) تشریف لائے او آںحضرت(ص) کے سامنے ملک شام کا منظر بیان کردیا جو آںحضرت(ص) نے لوگوں کو بتایا نیز آںحضرت(ص) نے لوگوں سے فرمایا کہ قریش کا وہ قافلہ طلوع آفتاب کے وقت یہاں پہنچے گا اور ان کے آگے سفید اونٹ ہوگا۔


طلوع آفتاب کے قریب تمام پیشوائے قریش آںحضرت(ص) کے پاس جمع ہوگئے اور جب سورج نکلا تو وہ قافلہ آںحضرت(ص) کی بیان کردہ نشانیوں کے مطابق آ پہنچا۔سفید اونٹ قافلے میں سب سے آگے تھا قریش کے لوگوں نے قافلے والوں سے پوچھا تو انہوں نے تمام واقعہ آںحضرت(ص) کے بیان کے مطابق بتایا اور یہ بھی بتایا کہ رات کسی نے ہمارا پانی گرایا تھا یہ تمام واقعہ سننے کے باوجود وہ لوگ ایمان نہ لائے اور ان کی سرکشی میں مزید اضافہ ہوگیا۔

معراج

۲ـ           عبدالرحمن بن غنم کہتے ہیں کہ جبرائیل(ع) ایک رات آںحضرت(ص)  کے لیے ایک چوپایہ لائے جس کا قد خچر سے چھوٹا اور دراز گوش سے بڑا تھا اس پچھلے سم اس کے اگلے سموں سے بڑے تھے اور تا حد نگاہ وہ ایک قدم میں طے کرتا تھا جب آںحضرت(ص) نے اس پر سوار ہونا چاہا تو وہ مانع ہوا جبرائیل(ع)  نے اس سے کہا یہ محمد(ص) ہیں، اس نے جب آںحضرت(ص) کا نام سنا تو وہ بیٹھ گیا اور اظہار انکساری کیا آںحضرت(ص) اس پر تشریف فرما ہوگئے، جب وہ بلندی  پر چلتا تو اس کے ہاتھ( اگلے سم) چھوٹے اور پیر ( پچھلے سم) لانبے ہوجاتے اور جب وہ اترتی پر چلتا تو اس کے ہاتھ لانبے اور پیر چھوٹے ہوجاتے اس طرح شب تاریک میں آںحضرت(ص) کا گذر ایک قافلہ کی طرف سے ہوا جو ابوسفیان کی تجارت کا سامان لیے جارہا تھا براق کے پروں کی آواز سن کر قافلے کے اونٹ بدک گئے اور ادھر اُدھر بھاگے ان کے بھاگنے سے ایک اونٹ گر گیا اور اس کا سامان بکھر گیا اس اونٹ کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی آںحضرت(ص) وہاں سے آگے بڑھے اور بلقایا بلغار کے مقام تک پہنچے وہاں پہنچ کر آںحضرت(ص) نے جبرائیل(ع) نے کہا کہ مجھے پیاس محسوس ہورہی ہے انہوں نے ایک پیالے میں پانی دیا حضرت(ص) نے وہ پانی نوش فرمایا وہاں سے آگے بڑھے تو دیکھا کہ کچھ لوگوں کے پیر آگ سے جلائے جارہے ہیں وہ لوگ الٹے لٹکے ہوئے تھے آںحضرت(ص) نے جبرائیل(ع) سے اس کا سبب دریافت کیا تو جبرائیل(ع) نے کہا یہ وہ لوگ ہیں جن کو خدا نے حلال رزق عطا فرمایا تھا مگر پھر بھی یہ حرام سے طلب کرتے تھے، جب وہاں سے روانہ ہوئے تو آگے جاکر دیکھا کہ کچھ لوگوں کے دہن آگ کی سوئی


 اور رسی سے سیے جارہے تھے آپ(ص) نے پوچھا یہ کون لوگ ہیں جبرائیل(ع) نے بتایا کہ یہ عورتوں کی بکارت زنا کے ذریعے زائل کیا کرتے تھے، جب اور آگے بڑھے تو دیکھا کہ ایک شخص لکڑیوں کا گٹھا اٹھارہا ہے مگر اس سے نہیں اٹھتا پھر ایک شخص وہ لکڑیاں اس پر لاد دیتا  ہے پوچھا کہ کون ہے تو کہا یہ قرضدار ہے جو قرض ادا نہیں کرتا تھا اور مزید قرض لیتا رہتا تھا وہاں سے چلے تو بیت المقدس کے شرقی پہاڑ پر جا پہنچے وہاں حضرت(ص) کو بہت گرم محسوس ہوئی اور ایک خوفناک آواز سنائی دی آپ(ص) نے پوچھا یہ کیسی ہوا تھی اور وہ آواز کیسی تھی تو جبرائیل(ع) نے بتایا کہ وہ ہوا اور آواز جہنم کی تھی آںحضرت(ص) نے فرمایا میں جہنم سے خدا کی پناہ چاہتا ہوں پھر آپ(ص) کی داہنی جانب سے ایک خوشبو دار ہوا آئی اور ایک خوشگوار آواز سنائی دی آپ(ص) نے اس کا پوچھا تو جبرائیل(ع) نے بتایا کہ یہ خوشبو دار ہوا اور آواز بہشت کی تھی ، حضرت(ص) نے فرمایا میں خدا سے بہشت کی آرزو کرتا ہوں پھرآپ(ص) وہاں سے روانہ ہوئے اور بیت المقدس کے دروازے پر جاپہنچے وہاں ایک نصرانی تھا جس کے سرہانے دروازہ بند کر کے اس کی کنجیاں رکھ دی جاتیں۔ اس رات ہرچند کوشش کی گئی مگر دروازہ نہ بند ہوسکا لوگ اس کے پاس جمع ہوئے اور اس سے دروازہ نہ بند ہوسکنے کا ماجرا بیان کیا اس نے کہا کہ دروازے پر کسی اچھے پاسبان کو مقرر کردو۔ غرض جب حضرت(ص) داخل ہوئے تو جبرائیل(ع) نے بیت المقدس کا بڑا پتھر اٹھایا اور اس کے نیچے سے تین پیالے نکالے جن میں دودھ شہد اور تیسرے پیالے میں شراب بھری ہوئی تھی جبرائیل(ع) نے دودھ اور شہد کا پیالہ جب حضرت(ص) کو دیا تو انہوں نے نوش فرمایا مگر شراب کے پیالے سے انکار  فرمایا جبرائیل(ع) نے آںحضرت(ص) سے کہا اگر آپ آج یہ پیالہ پی لیتے تو آپ(ص) کی تمام امت گمراہ ہوجاتی اور آپ(ص) سے جدا ہو جاتی۔ پھر بیت المقدس میں حضرت(ص) نے نماز پڑھی اور پیغمبروں کی ایک جماعت نے آپ(ص) کی اقتدا کی اس رات جبرائیل(ع) کے ہمراہ ایک اور فرشتہ میں آیا تھا جو کبھی نازل نہیں ہوا تھا وہ حضرت(ص) کے پاس آیا اور کہا یا رسول اﷲ(ص) آپ کا رب آپ کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ یہ زمین و آسمان کے خزانوں کی کنجیاں ہیں اگر آپ(ص) چاہیں تو پیغمبر(ص) رہیں اور اگر چاہیں تو تمام زمین و آسمان کے خزانوں کے مالک بن جائیں جبرائیل(ع) نے اشارہ کیا کہ تواضع اختیار کریں، حضرت(ص) نے فرمایا میں پسند کرتا ہوں کہ اس ( خدا) کا بندہ اور پیغمبر(ص) ہی رہوں


مجلس نمبر۷۰

(۲۷ جمادی الاول سنہ۳۶۸ھ)

۱ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا اپنے برادر دینی کے لیے اس کے پس پشت دعا کرنا وسعت رزق عطا کرتا ہےاور بدی کو ہٹا دیتا ہے۔

۲ـ           ابراہیم بن ہاشم کہتے ہیں کہ میں نے عبداﷲ بن جندب کو موقفِ عرفات میں دیکھا کہ ان کے ہاتھآسمان کی طرف بلند اور آنکھوں سے اشک جاری تھے اور اس قدر گریہ فرمارہے تھے کہ ان کے اشک زمین پر گرئے جاتے تھے جب لوگ وہاں سے واپس ہونے لگے تو میں نے ان سے کہا اے ابوعبداﷲ میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ کی کیا حالت ہے یہ کیونکر ہے، تو مجھے جواب دیا کہ میں نے اپنے برادرِ دینی کے سوا کسی کے لیے دعا نہیں کی اور یہ اس لیے ہے کہ جناب موسی بن جعفر(ع) نے مجھے خبر دی ہے کہ جو کوئی اپنے برادرِ دینی کے لیے اس کی غیر موجودگی میں دعا کرے تو ایسے کو عرش سے ندا دی جاتی ہے کہ ” تیری اس طرح کی ہر دعا پر تجھے ایک لاکھ نیکیاں دی جاتی ہیں“ جب کہ اگر اپنے لیے دعا کی جائے تو نا معلوم وہ مستجاب بھی ہوگی یا نہیں۔

۳ـ          امام صادق(ع۹) نے جناب رسول خدا(ص) سے  روایت کیا ہے کہ اولین سے لے کر آخرین تک کے مومنین میں سے ہرگز ایسے افراد نہ ہوں گے جو کسی ایسے بندے کے شفیع نہ ہوں جو اپنی دعا میں ”الل ه م اغفر للمومنين والمومنات “ کہتا ہو۔اگر ایسے کسی شخص کے لیے یہ حکم صادر ہوا ہوگا کہ اسے دوزخ کی طرف لے جاؤ اور اسے دوزخ کی سمت کھینچا جارہا ہوگا تو اس وقت تمام مومنین و مومنات خدا سے فریاد کریں گے کہ خدایا یہ وہ ہے جو ہمارے لیےدعا کیا کرتا تھا۔ لہذا تو ہمیں اس کا شفیع بنادے تو خدا ان کی شفاعت قبول فرمائے گا اور اسے جہنم سے نجات دے گا۔

۴ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جو کہ اپنی دعا میں چالیس مومنین کو مقدم رکھتا ہے اس کی اپنی دعا مستجاب ہوگی۔


انگوٹھیوں کے نقوش

۵ـ          حسین بن خالد نے جناب امام رضا(ع) کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ آیا یہ جائز ہے کہ کوئی شخص اپنے ہاتھ میں ایسی انگوٹھی پہنے ہو جس پر ”لا ال ه الا اﷲ “ نقش ہو اور وہ استنجا کر لے امام(ع) نے فرمایا میں یہ امر کسی کے  لیے بہتر نہیں سمجھتا۔ اس پر حسین بن خالد نے کہا کہ آیا آپ(ع) کے آباؤ اجدا(ع) اور جنابرسول خدا(ص) انگوٹھی پہنے ہوئے استنجا نہیں کرتے تھے۔

امام(ع) نے فرمایا ہاں کرتے تھے مگر ان کے دائیں ہاتھ میں انگوٹھی ہوا کرتی تھی تم خدا سے ڈرو اور ان پر بہتان مت باندھو۔ پھر فرمایا حضرت آدم(ع) کی انگوٹھی کے نگینے پر ”لا ال ه الا اﷲ محمد رسول اﷲ(ص)“ نقش تھا اور یہ انگوٹھی وہ بہشت سے اپنے ہمراہ لائے تھے۔

حضرت نوح(ع) جب کشتی میں سوار ہوئے تو خدا تعالی نے وحی کی کہ اے نوح اگر غرق ہونے  کا خوف لاحق ہوتو ہزار بار”لا ال ه الا اﷲ “ پڑھ کر دعا کرنا میں تجھے اور تیرے ایماندار ساتھیوں کو ڈوبنے سے بچالوں گا۔ کشتی چلتی جاتی تھی کہ ایک روز تیز چلی اور حضرت نوح(ع) کو غرق ہونے کا خوف لاحق ہوا اور یہ موقع بھی دستیاب نہ تھا کہ ہزار بار ”لا ال ه الا اﷲ “ کہتے لہذا انہوں نے سریانی زبان میں ”ه ي لوايا الفا الفا يا بار يا اتقن “ کہا تو طوفان جاتا رہا اور کشتی ہچکو لے لینا بند ہوگئی حضرت نوح(ع) نے چاہا کہ جن کلمات سے مجھے نجات ملی ہے وہ ہمیشہ میرے پاس رہیں تو ان کلمات کا عربی ترجمہ”لا ال ه الا اﷲ الف مرة يا رب اصلحنی “ یعنی اے میرے پروردگار میں ہزار مرتبہ یہ کہتا ہوں کہ سوائے اﷲ کے کوئیمعبود نہیں تو میری حالت کی درستی فرما اور صلاحیت عطا فرما۔ اپنی انگوٹھی پر نقش کروا لیا۔جب حضرت ابراہیم(ع) کو آگ میں ڈالنے کے لیے منجنیق میں بٹھایا گیا تو جبرائیل(ع) کو غصہ آیا حق تعالی نے جبرائیل(ع) کو وحی کی کہ تجھے غصہ کیوں آیا تو عرض  کیا اے پروردگار ابراہیم(ع) تیرا خلیل ہے اس کے سوا زمین پر کوئی اور نہیں جو تیری وحدانیت کا اقرار کرے اور تونے اپنے اور اس کے دشمن کو اس پر مسلط کردیا ہے  خدا نے جبرائیل(ع)کو وحی کی کہ خاموش رہ معاملات میں وہ شخص جلدی کرتا ہے جو


 تیری مانند بندہ عاجز ہو اور جسے وقت کے ہاتھ سے نکل جانے کا خوف ہو ابراہیم(ع) ہمارا بندہ ہے ہم جس وقت چاہیں اسے آزاد کرواسکتے ہیں جبرائیل(ع) نے ادھر سے مطمئن ہوکر ابراہیم(ع) سے دریافت کیا کہ آپ کوئی خواہش رکھتے ہیں انہوں نے کہا ہاں مگر تجھ سے نہیں۔ حق تعالی نے اسی وقت ان کے لیے زمرد کی انگوٹھی  بھیجی جس پر یہ چھ کلمے تحریر (نقش ) تھے ”لا ال ه الا اﷲ “ یعنی سوائے خدا کے کوئی معبود نہیں (۲)محمد(ص) رسول اﷲ “ یعنی محمد(ص) اﷲ کے رسول ہیں۔ (۳)ولا حول قوة الا باﷲ “ یعنی سوائے وسیلہء خدا کے کسی شےمیں کوئی قدرت قوت نہیں۔

(۴) ”فوضت امری الی اﷲ “ یعنی میں نے اپنا کارو بار خدا کے سپرد کردیا ہے۔

(۵)اسندت ظ ه ری  الی اﷲ “ یعنی میرا تکیہ و توکل صرف خدا ہی ہے۔

(۶) ”حسبی اﷲ “ یعنی اﷲ میرے لیے کافی ہےاورخدا نے ابراہیم(ع) کو وحی فرمائی کہ یہ انگوٹھی  اپنے ہاتھ میں پہن لو آگ تم پر سرد ہو جائے گی اور اس کی سردی بھی ایذا نہ دے گی۔

حضرت موسی(ع) کے نگینے پر یہ کلمات تنقش تھے جو توریت سے لیے گئے تھے ”اصبر توء جوا صدق تنج “۔ یعنی صبر کر اجر پائے سچ بول نجات ملے گی۔

حضرت سلیمان(ع) کی انگوٹھی کے نگینے پر یہ نقش درج تھا۔”سبحان ه من الجم الجن بکلمات ه “ یعنی پاک و پاکیزہ ہے وہ خدا جس نے جنات کی زبان اپنے کلمات سے بند کردی ہے۔

حضرت عیسی(ع) کی انگوٹھی کے نگینے  پر یہ کلمات نقش تھے جو انجیل سے لیے گئے تھے”لعبد ذکر اﷲ من اجل ه وويل لعبد نسی اﷲ من اجل ه “  یعنی خوشا حال اس بندے کا جس کی وجہ سے لوگ خدا کو یاد کریں اور بدحال اس بندے کا جس کی وجہ سے لوگ خدا بھول جائیں۔جناب رسول خدا(ص) کی انگوٹھی کا نقش یہ تھا ”لا ال ه الا اﷲ محمد رسول اﷲ(ص)   “ یعنی خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد(ص) اﷲ کے رسول ہیں، جناب امیر(ع) کی انگوٹھی پر یہ نقش تھا ”ﷲ الملک “ یعنی حقیقی سلطنت خدا کی ہے۔حضرت امام حسن(ع) کو انگوٹھی کا نقش یہ تھا ”العزة ﷲ “ یعنی حقیقی غلبہ خدا کا ہے۔


حضرت امام حسین(ع) کی انگوٹھی کا نقش یہ تھا ”ان ﷲ بالغ امر ه “ یعنی ذرا شک نہیں کہ خدا اپنے حکم کو پورا کرنے والا ہے۔

حضرت عل بن حسین(ع) اور حضرت امام محمد باقر(ع) ، امام حسین(ع) کی انگوٹھی پہنا کرتے تھے۔

حضرت امام جعفر صادق(ع) کی انگوٹھی کے نگینے کا نقش یہ تھا”اﷲ وليی و عصمتی من خلق ه “ یعنی اﷲ میرا مالک ہے اور وہی اپنی مخلوقات سے مجھے بچانے والا ہے۔

حضرت امام موسی کاظم(ع) کی انگوٹھی کے نگینے پر یہ درج تھا ”حسبی اﷲ “ یعنی اﷲ میرے لیے کافی ہے۔

یہاں تک فرما کر حضرت امام رضا(ع) نے اپنا ہاتھ بڑھا کر دکھایا تو وہ اپنے والد ماجد(ع) کی انگوٹھی پہنے ہوئے تھے۔

امت محمدی(ص) اور پچاس (۵۰) نمازیں

۷ـ زید بن علی(ع) نے اپنے والد علی بن حسین(ع) سے پوچھا کہ جب ہمارے جد جنابِ رسول خدا(ص) آسمان کی طرف تشریف لے گئے اور اﷲ نے انہیں پچاس نمازوں ( جو امت پر فرض ہوئی تھیں) کا حکم دیا تو جناب رسول خدا(ص) نے رب العزت سے اس وقت تک ان میں تخفیف کی درخواست نہیں کی جب تک حضرت موسی(ع) نے آپ(ص) سے ان نمازوں میں تخفیف کا نہیں کہا حضرت موسی(ع) نے رسول اکرم(ص) سے فرمایا اے فرزند، جناب رسول خدا(ص) کو خدا کی طرف سے جو بھی حکم ملتا تھا وہ اس پر خدا سے کوئی عذر یا  گفتگو نہیں کرتے تھے مگر جناب موسی(ع) نے آپ(ص) سے نمازوں میں تخفیف کا کہا تو اس سے مراد یہ تھی کہ وہ آپ(ص) کی امت کی شفاعت و سفارش فرمارہے تھے اور آپ(ص) کے لیے یہ مناسب نہ تھا کہ اپنے بھائی موسی(ع) کی شفاعت کو رد کرتے اس لیے آپ(ص) نے خدا کی طرف دوبارہ رجوع کیا تو خدا نے ان نمازوں میں کمی کرے کے انہیں پانچ نمازیں روزانہ کردیا۔

زید بن علی بن حسین(ع) کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد(ع) سے پوچھا بابا جان، جناب رسول خدا(ص) نے ان


 پانچ نمازوں میں سے بھی کچھ اور نمازیں کم کیوں نہ کروائیں امام(ع) نے فرمایا اے فرزند اﷲ تعالی کا فرمان ہے۔

مَنْ جاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثالِها “ یعنی جو کوئی خدا کے حضور ایک نیکی لے کر آئے گا اسے ویسی ہی دس نیکیاں ملیں گی( انعام ، ۱۶۱) اے فرزند کیا تمہیں معلوم ہے کہ جب جناب رسول خدا(ص) معراج سے واپس تشریف لائے تو جبرائیل امین(ع) نازل ہوئے اور کہا اے محمد(ص) آپ کا رب آپ کو سلام کہتا ہے اور یہ بھی فرماتا ہے کہ ہم ان پانچ نمازوں کو پچاس ہی شمار کریں گے اور ہم نے جو کچھ کہہ دیا ہمارا قول بدلا نہیں کرتا اور ہم اپنے بندوں کے ساتھ نا اںصافی نہیں کریں گے زید کہتے ہیں کہ میں نے کہا بابا جان کیا خدا کی صفت نہیں ہے کہ وہ  لا مکان ہے۔ امام(ع) نے فرمایا ہاں اﷲ مکان و مکانیت سے بالاتر ہے وہ کسی مکان میں  نہیں ہے میں نے عرض کیا تو پھر حضرت موسی(ع) کے اس قول کا کیا مطلب ہے کہ ” اے رب کے پاس واپس جا کر کہیے“ امام نے فرمایا اس کا مطلب وہی ہے جو حضرت ابراہیم(ع) کے اس قول کا مطلب ہے کہ ”إِنِّي ذاهِبٌ إِلى‏ رَبِّي سَيَهْدينِ “ یعنی یقینا میں اپنے رب کی طرف واپس جانے والا ہوں وہ بہت جلد مجھے منزل مقصود پر پہنچا دے گا (صافات، ۹۹) اور اس قول کا وہی مطلب ہے جو حضرت موسی(ع) کے قول کا مطلب ہے کہ”عَجِلْتُ إِلَيْكَ رَبِّ لِتَرْضى “ یعنی اے میرے رب میں نے تیری طرف آنے کی جلدی اس لیے کی ہے کہ تو خوش ہو“ ( طہ، ۸۴) اور اس کا وہی مطلب ہے ”َفَفِرُّوا إِلَى اللَّهِ “ پس تم اﷲ کی ہی کی طرف بھاگو“ ( زاریات، ۵۰“ یعنی بیت اﷲ کے حج کے لیے بھاگو۔ تو اے فرزند کعبہ بیت اﷲ ہے اور جس نے بیت اﷲ کا حج کیا وہ گویا اﷲ کی طرف گیا اور دوسری طرف مسجدیں اﷲ کا گھر ہیں لہذا جو ان مسجدوں کی طرف گیا وہ اﷲ کی طرف گیا اور اﷲ کی طرف اس نے ارادہ کیا نیز نمازی جب نماز میں کھڑا رہتا ہے وہ اﷲ کے سامنے کھڑا رہتا ہے اور (حج کے موقع پر) حاجی جب تک عرفات میں ٹھہرا رہتا ہے وہ اﷲ کے سامنے کھڑا رہتا ہے اس طرح اﷲ کے پاس ایک خطبہ آسمانوں میں ایسا ہے کہ جو شخص اس بلندی تک پہنچ گیا وہ گویا خدا تک پہنچ گیا، کیا تم نے اس کا یہ قول نہیں سنا ”تَعْرُجُ الْمَلائِكَةُ وَ الرُّوحُ إِلَيْهِ “ یعنی فرشتے اور روح اس کے حضور میں


 ایسے دن میں بلند ہوتے ہیں ( معارج ، ۴“ یعنی اسی کی طرف ملائکہ اور روح بلندی کی طرف جاتے ہیں اور اﷲ تعالی نے حضرت عیسی(ع) کے قصے میں کہا”بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ “ بلکہ خدا نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا“ ( نساء، ۱۵۸) خدا فرماتا ہے کہ ”إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَ الْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُه " یعنی اس کے حضور(ص) میں پاکیزہ کلمے بلند ہوتے ہیں اور نیک عمل بھی کہ وہ اس کو بلند کرتا ہے(فاطر، ۱۰) اے فرزند پاک کلمے اس کی طرف بلند ہوکر پہنچتے  ہیں اور عمل صالح کو وہ اپنی طرف بلند کرلیتا ہے۔

دیدار خدا اور امام رضا(ع)

۷ـ          عبدالسلام ہروی بن صالح کہتے ہیں امام رضا(ع) سے میں نے کہا اے فرزندِ رسول (ص) اہل حدیث کی اس حدیث کے بارے میں آپکا کیا ارشاد ہے کہ ” مومنین جنت میں اپنے مکانوں سے اپنے رب کی زیارت کرتے  ہیں یا کریں گے“ امام(ع) نے فرمایا اے ابوصلت، اﷲ نے اپنے نبی(ص) کو تمام مخلوق، انبیاء، اور ملائیکہ پر فضیلت بخشی ہے اور دنیا و آخرت میں ان(ص) کی اطاعت کو اپنی اطاعت اور ان(ص) کی پیروی کو اپنی پیروی اور ان(ص) کی زیارت کو اپنی زیارت قرار دیا ہے اﷲ نے فرمایا ” جس نے رسول(ص) کی اطاعت کی اس نے اﷲ کی اطاعت کی“ (نساء، ۸۰) اور فرمایا” بے شک وہ لوگ جو تمہاری بیعت کرتے ہیں وہ اﷲ کی بیعت کرتے ہیں اور اﷲ کا ہاتھ ان لوگوں کے ہاتھوں کے اوپر ہے“ (فتح ، ۱۰) اور نبی(ص) نے فرمایا ۔” جس نے میری زندگی یا موت کے بعد میری زیارت کی تو اس نے اﷲ کی زیارت کی“۔ نبی(ص) کا جنت میں درجہ تمام درجات سے بلند ہے تو جس نے اپنی جنت کے مقام سے ان(ص) کے درجہ کی زیارت کی تو اس نے اﷲ کی زیارت کی، ابوصلت کہتے ہیں میں نے آپ(ص) سے عرض کیا اے فرزند رسول (ص) اس خبر کے کیا معنی ہوئے جو انہوں نے روایت کی ہے کہ ”لا ال ه الا اﷲ “ کا ثواب اﷲ کے چہرے کی طرف دیکھنا تو امام(ع) نے فرمایا اے ابوصلت جس نے اﷲ کا مخلوق کےچہروں کی طرح کسی چہرہ سے وصف بیان کیا اس نے کفر کیا ہے لیکن اﷲ کا چہرہ تو اس کے انبیاء(ع) رسل اور حجتین ہیں وہی ہیں کہ جن کے ذریعہ  اﷲ اس کے دین اور اس کی معرفت کی


 طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور اﷲ نے فرمایا جو بھی زمین پر ہے سب فنا ہونے والے ہیں اور تمہارے عظمت و کرامت والے رب کی ذات باقی رہےگی اور فرمایا ”كُلُّ شَيْ‏ءٍ هالِكٌ إِلاَّ وَجْهَهُ “( قصص، آیت ۸۸) اس کی ذات کے علاوہ ہر شئی ہلاک ہونے والی ہے“ پس انبیاء(ع) اور حجج الہی کی طرف دیکھنا ( ان کے درجات میں) مومنین کے لیے روزِ قیامت بڑا ثواب ہے، نبی(ص) نے فرمایا کہ جس نے میرے اہل بیت(ع) اور میری عترت(ع) سے بغض رکھا اس نے مجھ کو نہیں دیکھا اور نہ میں اس کو قیامت کے روز دیکھوں گا اور آپ(ص) نے فرمایا بے شک تم میں کچھ لوگ مجھ سے جدائی اختیار کرنے کے بعد مجھے نہیں دیکھیں گے، اے ابو صلت اﷲ کا وصف کسی مکان سے نہیں کیا جاسکتا اور اس کو آنکھیں اور اوھام نہیں دیکھ سکتے میں نے کہا اے فرزند رسول (ص) مجھے جنت اور دوزخ کے بارے میں بتائیے کہ کیا وہ مخلوق ہیں آپ(ع) نے فرمایا ہاں، اور رسول خدا(ص) شبِ معراج جنت میں تشریف لے گئے اور جہنم کو بھی دیکھا، میں (ابوصلت) نے عرض کیا چند لوگ کہتے ہیں کہ آج وہ مقدر ہیں غیر مخلوق ہیں آپ(ع) نے جواب میں فرمایا کہ وہ لوگ ہم میں سے نہیں ہیں جس نے جنت دوزخ کی پیدائش سے انکار کیا اس نے نبی(ص) کی تکذیب کی اور ہمیں بھی جھٹلایا اور ہماری ولایت سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے خدا فرماتا ہے ” یہی وہ جہنم ہے کہ گنہگار لوگ جس کی تکذیب کیا کرتے تھے لوگ جہنم اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان چکراتے پھریں گے ( رحمان،۴۴،۴۳) اور نبی(ص) نے فرمایا کہ جب مجھے معراج کے لیے لے جایا گیا تو جبرائیل(ع) نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے جنت میں داخل کردیا اور مجھے رطب پیش کیے جو میں نے کھائے جس سے میرے صلب میں نطفہ بنا اور جب میں زمین پر واپس آیا تو میں نے خدیجہ(ع) سے ہمبستری کی اور فاطمہ(س) کا حمل قرار پایا پس فاطمہ(س) حوراء انسیہ ہیں اور جب کبھی مجھے جنت کی خوشبو کا اشتیاق ہوتا تو میں اپنی بیٹی فاطمہ(س) کی خوشبو سونگھتا۔

۸ـ          امام صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک شخص رسول خدا(ص) کی خدمت میں آیا اور عرض کیا، یا رسول اﷲ(ص) میں جہاد کا مشتاق ہوں اور اس میں نشاط رکھتا ہوں فرمایا راہ خدا میں جہاد کرو کہ اگر قتل ہوگئے تو زندہ ہوگے اور خدا کے پاس روزی کھاؤ گے اور اگر مرگئے تو اس کی اجرت خدا کے پاس


 ہے اور اگر واپس ہوئے تو گناہوں سے باہر نکل جاؤ گے اس دن کے طرح جیسے ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے تھے اس نے کہا یا رسول اﷲ(ص) میرے ماں باپ بوڑھے ہیں۔ اور وہ مجھ سے انس کرتے ہیں اور میرے جانے کو اچھا نہیں سمجھتے رسول خدا(ص) نے فرمایا اپنے ماں باپ کے ساتھ رہو جان لو کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ان سے ترا ایک دن کا انس تیرے ایک سال کے جہاد سے بہتر ہے۔

۹ـ           حنان بن سدیر کہتے ہیں کہ میرے باپ نے امام باقر(ع) سے روایت کیا ہے کہ بیٹا، باپ کے معاملات میں مجاز نہیں ہے مگر دو معاملات میں ایک یہ کہ اگر اس کا باپ غلام ہے تو فرزند اسے آزاد کروادے اور دوسرا یہ کہ اگر وہ کسی کا قرض دار ہے تو فرزند اس کا قرض ادا کردے۔

۱۰ـ          ثابت بن ابو صفیہ کہتے ہیں کہ امام سجاد(ع) جب عبیداﷲ بن عباس بن علی بن ابی طالب(ع) کو دیکھتے تو آپ(ع) کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے اور فرماتے رسول خدا(ص) پر روزِ احد سے زیادہ سخت دن کوئی نہیں گزرا کہ آپ(ص) کے چچا حمزہ اس روز قتل کیے گئے اور اس روز کے بعد روزِ موتہ ہے کہ جس دن آپ(ص) کے چچا زاد بھائی جعفر(ع) ابن ابی طالب(ع)قتل ہوئے پھر امام(ع) نے فرمایا، اے حسین(ع) وہ دن کسی دن کی طرح نہ ہوگا کہ جس دن تیس ہزار(۳۰۰۰۰) مرد جو اسی امت کے دعوی دار تھے اور جنہوں نے پردیس میں آپ(ع) پر یلغار کی اور آپ(ع) کے قتل کے بعد خدا سے تقرب کے خواہان تھے آپ(ع) نے انہیں خدا کی یاد دلائی مگر انہوں نے میرے نصیحت نہیں لی اور آپ(ع) پر ظلم وستم کرنے کے بعد آپ(ع) کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے بھائی پر جان نچھاور کردی۔ یہاں تک کہ ان کے بازو بھی قطع کردیئے گئے خدا نے اسکے بدلے انہیں بہشت میں دو پر عطا کیے جیسے کہ جعفر بن ابی طالب(ع) کو عطا کیے تھے عباس(ع) خدا کے ہاں وہ مقام رکھتے ہیں کہ جس پر اولین و آخرین کے تمام شہداء رشک کریں گے تمام تعریفین اﷲ رب العالمین کے لیے ہیں اور  صلواة ہو محمد(ص) و آل محمد(ص) پر۔ حسبنا اﷲ ونعم الوکیل۔


مجلس نمبر۷۱

(غرہ جمادی الثانی سنہ۳۶۸ھ)

۱ـ           ابوذر غفاری(ع) کہتے ہیں کہ میں اور جناب رسول خدا(ص) ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے جارہے تھے۔ اور سورج غروب ہونے کے قریب تھا جب سورج غروب ہوا تو میں نے کہا یا رسول اﷲ غروب کے بعد سورج کہاں جاتا ہے، آپ(ص) نے فرمایا آسمان میں بلکہ آسمان سے بھی اوپر ساتویں آسمان کو عبور کرتا ہوا عرش کے نیچے جا پہنچتا ہے وہاں جاکر سجدہ کرتا ہے اور اس کے ہمراہ اس پر موکل ملائیکہ بھی سجدہ کرتے ہیں اور خدا سے عرض کرتے ہیں کہ خدایا تیرا کیا حکم ہے اب سورج کو مغرب سے طلوع کریں یا مشرق سے اور اس بارے میں قول خدا یہ ہے” آفتاب جاتا ہے اپنی قرار گاہ کو“ ( یاسین ،۳۶) اور یہاں تقدیر عزیز علیم سے مراد پروردگار کی اپنے ہی ملک میں اپنی ہی خلق کی صناعی ہے، پھر آپ(ص) نے فرمایا کہ جبرائیل(ع) اس (سورج) کے لیے حرارت و چمک (دھوپ) کا لباس عرشِ نور سے لاتے ہیں اور سردی گرمی بہار و خزاں کے لیے آفتاب کے معمولات مقرر کرتے ہیں۔ پھر وہ لباس اسے اس طرح پہنایا جاتا ہے جس طرح تم میں سے ہر ایک اپنا لباس پہنتا ہے اور یہ لباس اس سے اس وقت تک جدا نہ کیا جائے گا جب تک خدا اسے ( سورج کو) مغرب سے طلوع ہونے کا حکم نہ دے لے۔ اور یہ اس قول خدا کے معنی ہیں کہ ” جب دھوپ لپیٹی جائے اور جب تارے جھڑ پڑیں ( تکویر، ۲۔۱)

اور چاند کے لیے بھی ایسا ہی ہے کہ وہ بھی اسی طرح طلوع و غریب ہوتا ہے اور ساتویں آسمان تک جاتا ہے وہاں زیر عرش سجدہ کرتا ہے پھر جبرائیل(ع) اس کے لیے کرسی سے حلہ نور لاتے ہیں اور اس کے لیے قول خدا ہے کہ” خدا وہ ہے کہ خورشید کو تاباں اور چاند کو درخشان کرتا ہے“ (یونس، ۵) ابوذر(رح) فرماتے ہیں کہ پھر میں نے جناب رسول خدا(ص) کے ساتھ نماز مغرب ادا کی۔

۲ـ           امام صادق(ع) فرماتے ہیں کہ جب ذولقرنین(ع) سد(دیوار) سے ہوتے ہوئے ظلمات میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ ایک فرشتہ پہاڑ پر کھڑا ہے اس فرشتے  کا قد( ۵۰۰) پانچ سو ہاتھ بلند تھا


اس نے ذالقرنین(ع) سے کہا کیا تیرے پیچھے راستہ نہ تھا۔ ذوالقرنین نے اس سے پوچھا تو کون ہے اس نے کہا میں خدا کے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ ہوں اور اس پہاڑ پر موکل ہوں اور وہ تمام پہاڑ جنہیں خدا نے خلق کیا ہے کی جڑیں اس پہاڑ سے منسلک ہیں جب خدا کسی شہر میں زلزلہ لانا چاہتا ہے ۔ تو مجھ پر وحی کرتا ہے اور میں اس شہر کو حرکت دیتا ہوں اور زلزلہ لاتا ہوں۔

۳ـ          امام صادق(ع) فرماتے ہیں کہ ذکرِ خدا کرنے والے کو آسمانی بجلی گزند نہیں پہنچاتی۔

۴ـ          امام صادق(ع) اپنے اجداد(ع) سے روایت کرتے ہیں کہ زلزلہ، چاند گرہن، سورج گرہن اور طوفان، زمین کے لیے سخت گھڑی ہے جب ایسی کسی چیز کو دیکھو تو قیامت کو یاد کرو اور مسجد میں پناہ لو۔

۵ـ          امام صادق(ع) فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی” اور وہ لوگ جو بدی کر بیٹھتے ہیں یا اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں تو خدا کو یاد کر کے اپنے گناہوں کی معافی چاہتے ہیں“ ( آل عمران، ۱۳۵) تو ابلیس مکہ میں جبل ثور پر گیا اور اپنے چیلوں کو اکھٹا کیا جب وہ اکھٹے ہوئے تو ابلیس سے کہنے لگے اے ہمارے سردار تو نے ہمیں کس لیے اکھٹا کیا ہے اس نے کہا کہ یہ آیت نازل ہوئی ہے اور تم میں سے کون ہے جو اس کے خلاف ڈٹ جائے ایک نے کہا میں فلان طریقے سے اس کا سد باب کروں گا ابلیس نے کہا تم اس کے اہل نہیں دوسرے نے کہا میں فلاں طریقے سے لوگوں کو اس آیت کی نافرمانی پر اکساؤں گا اس نے کہا تم بھی اس کی اہلیت نہیں رکھتے تب وسواس (وہم) کا شیطان کھڑا ہوا اور کہا میں اس کا اہل ہوں ابلیس نے پوچھا تم کیوںکر اس کی اہلیت رکھتے ہو وہ کہنے لگا میں لوگوں کے دلوں میں وسوسہ پیدا کروں گا اور ان میں آرزو مندی پیدا کروں گا اور مغفرت کی یاد ان کے دلوں سے بھلا دوں گا ابلیس نے کہا ہاں تم اس کے اہل ہو اور پھر قیامت تک اسے اس پر نگران مقرر کیا۔

آںحضرت(ص) اور ایک مالدار یہودی

۶ـ           جناب موسی بن جعفر(ع) اپنے اجداد(ع) سے  روایت کرتے ہیں کہ ایک یہودی جناب رسول خدا(ص)


 سے چند اشرفیوں کا طلب گار ہوا، آںحضرت(ص) نے اس سے فرما، میرے پاس  اس وقت اشرفیاں نہیں ہیں اس یہودی نے ضد کی اور کہا جب تک آپ(ص)  مجھے کچھ اشرفیاں نہیں دے دیں گے میں اس وقت تک آپ(ص) سے جدانہ ہونگا۔ اور آپ(ص) کے پاس ہی بیٹھا رہوںگا۔

آںحضرت(ص) اپنے اصحاب کے ہمراہ اس یہودی کے پاس تشریف فرما ہوگئے اور نماز ظہر سے لے کر اگلی صبح فجر کی نماز تک وہیں رکے رہے اصحاب رسول (ص) نے اس یہودی کو اس کے اس فعل پر برا بھلا کہا تو جناب رسول خدا(ص) نے اپنے اصحاب کو منع کرتے ہوئے فرمایا کہ اسے برا بھلا مت کہو میں اس لیے مبعوث نہیں کیا گیا کہ اس پر ظلم کروں جو امان میں ہے۔

جب دن چڑھ گیا تو اس یہودی نے کلمہ شہادت ”اش ه د انلا ال ه الا اﷲ محمد رسول اﷲ(ص)“   “ پڑھا اور کہا یا رسول اﷲ(ص) میں اپنا نصف مال راہ خدا میں وقف کرتا ہوں۔ خدا کی قسم میں نے آپ(ص) کے ساتھ یہ برتاؤ صرف اس لیے کیا کہ میں نے توریت میں آخری نبی(ص) کے جو اوصاف پرھے وہ یہ ہیں کہ محمد(ص) بن عبداﷲ جن کی جائے پیدائش مکہ اور مقام ہجرت مدینہ ہوگی وہ سخت مزاج اور تند خو نہ ہوں گے۔ وہ چیخ کر بات نہ کریں گے اور بے ہودہ گوئی اور فحش کلامی نہ کریں گے ان اوصاف کا مشاہدہ کر نیکی غرض سے میں نے یہ عمل کیا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ(ص) خدا کے بھیجے ہوئے اور اس کے رسول(ص) ہیں، یا رسول اﷲ(ص) میرا مال حاضر ہے آپ اس مال سے خدا کے حکم کے مطابق جو چاہے خرچ کریں ، وہ یہودی بہت مالدار تھا۔جناب علی بن ابی طالب(ع) فرماتے ہیں کہ آںحضرت(ص) کا بستر مبارک ایک چادر اور ایک چمڑے کا تکیہ تھا جس میں کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے ایک رات آپ(ص) کے آرام کی خاطر اس چادر کو دو تہیں لگا کر بچھا دیا گیا صبح ہوئی تو آںحضرت(ص) نے ارشاد فرمایا آج رات زیادہ آرام ملنے کی وجہ سے صبح کی نماز میں تاخیر ہوگئی لہذا آئندہ چادر کو دوہرا کر کے مت بچھانا۔

۸ـ          امیرالمومنین(ع) فرماتے ہیں۔ رسول خدا(ص) نے اپنے ایک صحابی کو جہاد پر بھیجا جب وہ واپس آئے تو آپ نے ان سے فرمایا اے بندے مرحبا کہ تم نے جہاد اصغر سرانجام دیا لیکن جہاد اکبر بھی لازم ہے عرض کیا گیا کہ یارسول اﷲ(ص)جہاد اکبر کیا ہے آپ(ص) نے فرمایا جہاد بالنفس پھر فرمایا کہ بہترین


 جہاد اس بندے کا ہے جو اپنے دونوں پہلوؤں کے درمیان موجود نفس سے جہاد کرے۔

۹ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا جناب رسول خدا(ص) نے جناب سلمان فارسی(رض) کی بیماری میں عیادت کے دوران فرمایا اے سلمان تیری اس بیماری میں تین فضیلتیں ہیں اول، یادِ جدائی ۔ دوئم ، دعا کا مستجاب ہونا اور سوئم ، گناہوں کا جھڑنا، یہ تجھے موت تک امان دیتی ہے۔

عرب بیابانی اور پردہ کعبہ

۱۰ـ          خالد بن ربعی بیان کرتے ہیں کہ جناب امیرالمومنین(ع) کسی کا کے سلسلے میں مکہ گئے تو دیکھا کہ ایک بیابانی کعبہ کے پردے کو پکڑے کہہ رہا ہے صاحب خانہ یہ گھر تیرا گھر ہے اور یہ مہمان تیرا مہمان ہے۔ ہر مہمان اپنے میزبان  سے حق پذیرائی رکھتا ہے لہذا آج کی رات میری مغفرت قبول فرما جناب امیرالمومنین(ع) نے اپنے اصحاب سے فرمایا سنتے ہو یہ اعرابی کیا کہہ رہا ہے اصحاب نے کہا کیوں نہ ہیں یا امیر (ع)، آپ(ع) نے فرمایا خدا اس سے کہیں زیادہ کریم ہے کہ اپنے مہمان پر کرم کرے۔دوسری رات پھر دیکھا گیا کہ وہ بیابانی کعبہ کے پردے کو پکڑے کہہ رہا ہے اے عزیز تجھ سے زیادہ کوئی عزیز نہیں تو نے اپنی عزت سے مجھے وہ عزت بخشی جو کسی اور کو نہیں دی۔ اس لیے میں اپنا رخ تیری طرف کرتا ہوں اور تجھ ہی سے توسل کرتا ہوں، بحق محمد(ص) و آل محمد(ص) تو مجھے عطا فرما جو کسی اور کو نہیں دیا اور مجھ سے وہ کچھ ہٹا جو کسی اور سے نہیں ہٹایا، امیرالمومنین(ع) نے یہ دعا سنی تو ارشاد فرمایا خدا کی قسم یہی دعا سریانی زبان میں اسم اعظم ہے اور میرے حبیب(ص) نے مجھے اس کی خبر دی ہے اس اعرابی نے اس کے وسیلے سے بہشت کو چاہا ہے وہ  اسے دیدی گئی ہے اور چاہا ہے کہ دوزخ کو اس سے دور کردیا جائے تو خدا نے اس سے دوزخ کو دور کردیا ہے۔

پھر تیسری شب دیکھا گیا کہ وہ اعرابی خانہ کعبہ کے پردے سے لپٹا کہہ رہا ہے اے وہ جو پابندہ مکان نہیں اور کیفیت نہیں رکھتا اس اعرابی کو چار ہزار درہم عطا کر۔جناب امیر(ع) نے اسکی یہ دعا سنی تو اس کے پاس تشریف لےگئے اور فرمایا اے اعرابی تم خدا سے


 پذیرائی چاہتے تھے وہ تمہیں مل گئی، تم خدا سے بہشت کےطلب گار تھے وہ اس نے تمہیں عطا کی پھر تم نے دوزخ کی دوری کی درخواست کی وہ اس نے قبول کر لی اور آج رات تم اس سے چار ہزار درھم کی درخواست کررہے ہو اس اعرابی نے کہا میں چاہتا تھا کہ آپ(ع) سے ملاقات ہوجائے تاکہ آپ کی وساطت سے اپنے پروردگار سے  حاجت کروں جناب امیر(ع) نے کہا تو بتاؤ کیا چاہتے ہو اس اعرابی نے کہا مجھے ایک ہزار درھم صداق کے لیے، اور ہزار درھم ادائے قرض کے لیے ایک ہزار درھم گھر خریدنے کے واسطے اور ایک ہزار درھم ضروریات زندگی کے لیے چاہیں جناب امیر(ع) نے کہا تو نے اںصاف سے کام لیا ہے میں اب مکہ سے مدینہ روانہ ہونے لگا ہوں تو مجھے مدینہ میں آکر مل وہاں تجھے اس رقم کی ادائیگی کردی جائے گی۔

وہ اعرابی ایک ہفتہ مکہ میں رہا اور پھر مدینہ روانہ ہوگیا مدینہ پہنچ کر وہ صدا بلند کرنے لگا۔ کوئی ہے کہ جو مجھے جناب علی بن ابی طالب(ع) کے گھر تک لے جائے“ اس کی یہ صدا جناب حسین بن علی(ع) نے سنی اور اس سے فرمایا چل تجھے میں لیے چلتا ہوں میں انکا بیٹا ہوں اس اعرابی نے کہا آپ کے والد کون ہیں؟ آپ(ع) نے فرمایا امیر المومنین علی ابن ابی طالب(ع) ہیں پھر پوچھا  آپ(ع) کی والدہ کون ہیں؟ آپ(ع) نے فرمایا فاطمہ(س) زہرا سیدة النساء العالمین ہیں پھر پوچھا آپ(ع) کے جد کون ہیں، آپ(ع) نے فرمایا رسول خدا محمد بن عبداﷲ بن عبدالمطلب(ع) ہیں اس نے پھر پوچھا آپ(ع) کی جدہ کون ہیں، آپ(ع) نے فرمایا خدیجہ(ع) بنت خویلد اس نے پوچھا کہ آپ(ع) کے بھائی کون ہیں، آپ(ع) نے فرمایا ابو محمد حسن بن علی(ع) اس اعرابی نے کہا تمام دنیا تو آپ(ع) کے پاس ہے  مجھے امیرالمومنین(ع) کے پاس لے چلیں اور ان(ع) سے کہیں کہ وہ اعرابی جسے آپ نے مکہ میں ضمانت دی تھی وہ حاضر ہوا ہے۔

حسین بن علی(ع) اسے لے گھر کے دروازے پر آئے اور اسے وہاں کھڑا کر کے اندر تشریف لے گئے اور جناب امیر(ع) نے فرمایا، بابا جان ایک اعرابی آیا ہے جو کہتا ہے کہ اسے آپ(ع) نے مکہ میں ضمانت دی تھی کہ اسے مدینہ میں کچھ ادائیگی کریں گے جناب امیر(ع) نے کہا اے فاطمہ(س) کیا گھر میں کوئی چیز ہے جو اسے کھانے کے لیے پیش کی جائے بی بی(س) نے کہا کہ گھر میں کھانے کی کوئی چیز نہیں ہے۔ جناب امیر(ع) نے لباس تبدیل کیا اور گھر سے باہر  تشریف لے گئے اور فرمایا اے


ابوعبداﷲ(ع) جاؤ اور سلمان فارسی(رض) کو میرے پاس لے جاؤ جب سلمان آئے تو جناب امیر(ع) نے سلمان(رض) سے کہا کہ اے سلمان وہ باغ جو رسول خدا(ص) نے میرے لیے بویا تھا اسے فروخت کرو اور مجھے رقم لاکر دو جناب سلمان(رض) نے وہ باغ مدینے کے تاجروں کے ہاتھ بارہ ہزار درھم میں فروخت کردیا جناب امیر(ع) نے اس اعرابی کو طلب کیا اور چار ہزار درھم اسے دے دیے اس کے علاوہ چالیس درہم مزید سفر خرچ کے لیے دیئے۔اسی اثناء مین مدینہ کے فقیروں کو بھی یہ خبر مل گئی کہ جناب امیر(ع) نے اپنا باغ فروخت کردیا ہے اور اس سے حاصل شدہ رقم وہ راہ خا میں خرچ کررہے ہیں، تمام فقراء جناب امیر(ع) کی خدمت میں اکٹھے ہوگئے اور جناب امیر(ع) نے بقیہ تمام رقم مٹھی مٹھی تمام فقراء میں تقسیم کردی یہاں تک کہ ایک ایک درہم بھی باقی نہ رہا ادھر اںصار مدینہ نے یہ خبر بی بی فاطمہ(س) کو پہنچا دی ، جب جناب امیر(ع) گھر واپس تشریف لائے تو بھی بی(س) نے کہا اے میرے سرتاج کای ؤپ نے وہ باغ مو میرے والد(ص) نے میرے لیے بویا تھا فروخت کردیا ہے آپ(ع) نے فرمایا ہاں میں نے اسے بہتر دنیا اور بہتر آخرت کی خاطر بیچھ دیا ہے بیبی(س) نے پوچھا اس کی رقم کہاں ہے آپ(ع) نے جواب دیا وہ میں نے حاجت مندوں میں تقسیم کردی ہے میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ مجھ سے سوال کریںاور مجھے شرمندگی ہو، بی بی(س) نے جناب امیر(ع) کا دامن تھام لیا اور کہا آپ(ع) سمیت میں اور میرے دونوں بچے بھوکے ہیں جب کہ ہمارے واسطے آپ(ع) نے اس (دولت) میں ایک درہم بھی نہیں رکھا جناب امیر(ع) نے فرمایا فاطمہ(س) میرا دامن چھوڑ دو بی بی(س) نے کہا نہیں خدا کی قسم میں اس وقت تک آپ(ع) کا دامن نہ چھوڑوں گی جب تک میرے والد(ص) تشریف نہ لائیں اور اس بارے میں کچھ ارشاد نہ فرمائیں۔ ادھر جبرائیل(ع) نازل ہوئے اور رسول خدا(ص) سے کہا اے محمد(ص) تیرا خدا تجھے سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ میرا سلام علی(ع) تک پہنچا دو اور فاطمہ(س) سے کہو کہ تمہیں حق نہیں ہے کہ تم علی(ع) کا دامن پکڑو، جناب رسول خدا(ص) بی بی فاطمہ(س) کے ہاں تشریف لائے تو دیکھا کہ بی بی(س) نے جناب امیر(ع) کا دامن پکڑا ہوا ہے جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا بیٹی تم نے علی(ع) کا دامن کس لیے پکڑ رکھا ہے بی بی (س) نے فرمایا بابا جان آپ(ص) نے جو باغ میرے لیے بویا تھا۔ وہ علی(ع) نے فروخت کردیا ہے اور اس کا ایک درہم بھی ہمارے لیے نہیں رکھا کہ اس سے گھر کے لیے خوراک کا سامان ہی خرید لیں۔ حضور نے فرمایا بیٹی جبرائیل(ع) نے میرے رب کی طرف


سے مجھے سلام دیا ہے اور کہا ہے کہ میں علی(ع) کو اس کے رب کی طرف سے سلام پہنچا دوں اور مجھے یہ حکم دیا ہے کہ تم سے کہوں کہ تم یہ حق نہیں رکھتی کہ اس ( علی(ع)) کا دامن پکڑو بی بی(ع) نے یہ سن کر کہا میں اپنے اس عمل پر خدا سے مغفرت طلب کرتی ہوں کہ آیندہ اس طرح نہ کروں گی پھر جناب رسول خدا(ص) ایک طرف چلے گئے اور جناب امیر(ع) دوسری طرف کچھ ہی دیر گذری تھی کہ جناب رسول خدا(ص) دوبارہ تشریف لائے اور پوچھا اے فاطمہ(س) میرے چچا کا بیٹا کہاں ہے بی بی(س) نے بتایا وہ باہر گئے ہیں رسول خدا(ص) نے فرمایا تم یہ سات درہم رکھ لو جب وہ واپس آئیں تو انہیں یہ درھم دے کر بازار سے کچھ کھانے کے لیے منگوا لینا کچھ دیر بعد جناب امیر(ع) واپس آئے اور پوچھا میں اپنے برادر جناب رسول خدا(ص) کی خوشبو محسوس کررہا ہوں بی بی(س) نے فرمایا ہاں وہ دوبارہ تشریف لائے تھے اور ہ سات درہم دے گئے ہیں تاکہ آپ(ع) اس رقم سے اشیاء خورد ونوش لے آئیں۔ جناب امیر(ع) نے وہ سات درہم بی بی(س) سے لیے اور فرمایا ” بسم اﷲ والحمد ﷲ کثیرا طیبا“ کہ یہ روزی خدا کی طرف سے فراہم کی گئی ہے پھر جناب حسن(ع) سے فرمایا بیٹا میرے ساتھ بازار چلو اسی وقت ایک شخص آیا اور اس نے صدا لگائی کہ ہے کوئی جو ضرورت مند کو قرض حسنہ دے جناب امیر(ع) نے فرمایا اے میرے بیٹے وہ پیسے اسے دیدو جناب حسن(ع) فرماتے ہیں، خدا کی قسم میرے والد(ع) نے وہ سات درہم اس سائل کو دیدیے جنابِ حسن(ع) نے جناب امیر(ع) سے کہا، بابا جان آپ(ع) نے تمام درہم اس سائل کو دیدیے ہیں جناب امیر(ع) نے فرمایا ہاں بیٹا اگر اس سے کہیںزیادہ ہوتے تو میں وہ بھی اسے دے دیتا، پھر جناب امیر(ع) کسی کے گھر گئے تاکہ کچھ قرض  لے کر خوراک کا بندوبست کیا جائے جب چکھ ادھار لے لیا اور بازار کو چلے تو ایک اعرابی انہیں ملا اس نے کہا یا علی(ع) میرا اونٹ مجھ سے خرید لیں، آپ(ع) نے فرمایا میرے پاس اس کے لیے پیسے نہیں ہیں اس نے کہا میں آپ(ع) کو اس کے پیسے ادا کرنے کے لیے مہلت دیتا ہوں کہ جب ہوں مجھے دیدیں جناب امیر(ع) نے فرمایا بیٹا حسن(ع) اس سے اونٹ  لے لو، کچھ آگے جاکر ان کی ملاقات ایک اور اعرابی سے ہوئی اس نے کہا یا علی(ع) یہ اونٹ بیچنے کے لیے ہے آپ(ع) نے پوچھا تم  کیوں خریدنا چاہتے ہو اس نے کہا میں چاہتا ہوں کہ اس اونٹ پر بیٹھ کر میں آپ(ع) کے چچازاد (ص) کے ساتھ غزوات میں حصہ لوں جناب امیر(ع) نے فرمایا اگر یہ بات ہے تو تم اسے بغیر قیمت ہی لے سکتے ہو اس اعرابی نے کہا نہیں یا علی(ع) میں اس کی قیمت ادا کرنے کی


استطاعت رکھتا ہوں آپ(ع) بتائیں۔ کہ آپ(ع) نے یہ کتنے کا خریدا ہے جناب امیر(ع) نے فرمایا میں نے یہ سو درہم کا خردیدا ہےاعرابی نے کہا میں یہ اونٹ آپ(ع) سے ایک سو ستر (۱۷۰) درہم میں خریدتا ہوں۔ جناب امیر(ع) نے فرمایا۔ بیٹا حسن(ع) یہ اوںٹ اس اعرابی کو دیدو پھر اس حاصل شدہ رقم میں سے سو درہم اس کے پہلے مالک کو دینے کے لیے واپس پلٹے، جناب امیر(ع) کچھ ہی دور گئے تو دیکھا کہ جنابِ رسول خدا(ص) ایک ایسی جگہ بیٹھے تھے جہاں انہیں پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا جب ان کی نگاہ جنابِ امیر(ع) پر پری تو آپ(ص) مسکرائے یہاں تک کہ آپ(ص) کے دندان مبارک نظر آنے لگے جناب امیر(ع) نے فرمایا یا رسول اﷲ(ص) آپ ہمیشہ کی طرح آج بھی مسرور نظر آرہے ہیں کیا بات ہے، جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا اے ابو الحسن(ع) کیا تم اس اعرابی کو تلاش کررہے ہو جس نے تمہیں وہ اونٹ دیا تھا جناب امیر(ع) نے فرمایا میرے ماں باپ آپ(ص) پر قربان، خدا کی قسم یہی بات ہے حضور(ص) نے فرمایا اے ابوالحسن(ع) اونٹ فروخت کرنے والے جبرائیل(ع) تھے اور جنہوں نے اونٹ خریدا وہ میکائیل(ع)تھے اور جو ایک سو ستر درہم تمہیں ادا کیے گئے ہیں وہ خدا کی طرف سے بھیجے گئے ہیں تم انہیں خوبی سے خرچ کرو اور باداری سے مت ڈرو۔


مجلس نمبر۷۲

(۵ جمادی الثانی سنہ۳۶۸ھ)

فضائل اہل بیت(ع)

۱ـ           جناب علی ابن ابی طالب(ع) نے آیت ” سلام علی آل یاسین“ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ” یاسین محمد(ص) ہیں اور ہم آل یاسین(ع) ہیں۔

۲ـ           ابو مالک نے ” سلام علی آل یاسین“ کی تفسیر کے ضمن میں کہا کہ یاسین“ جناب رسول خدا(ص) ہیں۔

۳ـ          ابن عباس(رض) ”سلام علی آل یاسین“ کے ضمن میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد آل محمد(ص) ہیں۔

۴ـ          بی بی ام سلمی(رض) فرماتی ہیں کہ قرآن کی یہ آیت ” بیشک خدا چاہتا ہےکہ پلیدی کو تمہارے خاندان سے دور کردے اور بہتر طریقے سے پاکیزہ کرئے۔ ( احزاب، ۳۳) میرے ہی گھرمیں نازل ہوئی اور اس وقت گھر میں سات نفوس موجود تھے  جو یہ تھے۔

جناب رسول خدا(ص)، جبرائیل(ع)، میکائیل(ع)، علی(ع)، فاطمہ(س)، حسن(ع) اور حسین(ع)۔

میں نے کہا یا رسول اﷲ(ص) کیا میں اہل بیت(ع) میں سے نہیں ہوں تو آپ(ص) نے فرمایا ام اسلمی(رض) تم ازواج پیغمبر(ص) میں ہو۔ جناب رسول خدا(ص) نے یہ نہیں فرمایا  کہ میں اہل بیت(ع) سے ہوں۔

۵ـ          تمیمی کہتے ہیں میں زوجہء رسول خدا(ص)، عائشہ کے پاس گیا انہوں نے حدیث بیان کی کہ میں ( بی بی عائشہ) نے جناب رسول خدا(ص) کو دیکھا کہ انہوں نے علی(ع)، فاطمہ(س)، حسن(ع) اور حسین(ع) کو بلایا اور فرمایا خدایا یہ میرے اہل بیت(ع) ہیں ان سے پلیدی کو دور فرما اور انہیں بہتر طریقے سے پاکیزہ کردے۔

۶ـ           ابن عباس(رض) نے کہا کہ پیغمبر(ص) نے فرمایا بیشک علی(ع) میرے وصی و خلیفہ اور میری بیٹی فاطمہ(س) سیدة النساء العالمین کے ہمسر ہیں اور حسن(ع) و حسین(ع) جو جوانان بہشت کے سردار ہیں وہ میرے فرزند


 ہیں جو کوئی انہیں دوست رکھتا ہے مجھے دوست رکھتا ہے اور جو کوئی انہیں دشمن رکھتا ہے وہ مجھے دشمن رکھتا ہے، جو کوئی ان سے دوری اختیار کرتا ہے، وہ مجھ سے دور ہے جو کوئی ان سے جفا کرتا ہے اس نے مجھ سے جفا کی۔ جو کوئی ان سے نیکی کرے اسنے مجھ سے نیکی کی، جو کوئی ان کے ساتھ پیوستہ ہے خدا اسے اپنے ساتھ پیوستہ کرتا ہے، جو کوئی ان سے قطع تعلق کرے خدا اسےخود سے ہٹا دیتا ہے اے خدایا جو ان کی مدد کے تو اس کی مدد فرما، جو انہیں چھوڑے دے تو بھی اسے چھوڑ دے خدایا تمام پیغمبر اور رسول اپنا خاندان اور اپنے ثقل رکھتے ہیں یہ علی(ع)، فاطمہ(س)، حسن(ع) اور حسین(ع) میرے اہل بیت(ع) اور ثقل ہیں۔ ان سے پلیدی کو ہٹا دے اور انہیں بہتر طریقے سے پاکیزہ کردے۔

۷ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا، جو کوئی چاہے کہ خدا تمام خیر اس کے لیے عطا کرے تو اسے چاہیے کہ میرے بعد علی(ع) اور اس کے دوستوں کو دوست رکھے اورع اس کے دشمنوں سے دشمنی رکھے۔

۸ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا میری اور میرے اہل بیت(ع) کی ولایت دوزخ سے امان دیتی ہے۔

۹ـ           جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا خدا جس پر کرم کرتا ہے اسے میرے اہل بیت(ع) کی ولایت کی معرفت عطا کر کے تمام خوبیوں کو اس کے لیے فراہم کرتا ہے۔

۱۰ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جو کوئی فرائض حق کو قائم کرتا ہے، حمرمات خدا سے بچتا ہے، میرے خاندان(ع) کی ولایت اسے خوش کرتی ہے اور وہ خدا کے دشمنوں سے بیزاری رکھتا ہے تو وہ بہشت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے چاہیے گا داخل ہوگا۔

۱۱ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا کہ آیاتِ اولیاء و اعدا ہمارے بارے میں ہی نازل ہوئی ہیں کہ ” جو کوئی مقربین میں سے ہے وہ اپنی قبر میں روح و ریحان رکھتا ہے۔ اور جنت نعیم رکھتا ہے اپنی آخرت میں اگر مکذبین میں سے ہے اور گمراہ ہے تو اپنی قبر میں حمیم سے پذیرائی رکھتا ہے اور دوزخ کی آگ آخرت میں“۔

۱۲ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا جو کوئی ہمارے خاندان(ع) کو دوست رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ خدا کی اولین نعمت کی حمد کرے عرض کیا گیا یا رسول اﷲ(ص) اولین نعمت کونسی ہے آپ(ص) نے ارشاد فرمایا


حلال زادہ ہونا پھر فرمایا ہمیں دوست نہیں رکھتا مگر حلال زادہ۔

مندرجہ بالا حدیث نمبر(۱۲) امام محمد باقر(ع) سے بھی روایت ہوئی ہے۔

۱۳ـ     جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا اے علی(ع) جو کوئی مجھے، تجھے(ع) اور تیرے اماموں(ع) جو تیری اولاد سے ہیں کو دوست رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ حلال زادہ ہونے پر خدا کی حمد کرے کیونکہ ہمیں دوست نہیں رکھتا مگر حلال زادہ اور ہمیں دشمن نہیں رکھتا مگر حرام زادہ۔

۱۴ـ جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا ہم بنو عبدالمطلب(ع) بہشتیوں کے سردار ہیں، یعنی رسول خدا(ص)۔ حمزہ سیدالشہداء ذوالجناحین(ع)، فاطمہ(س)، حسن(ع)، حسین(ع) اور مہدی(ع)۔

۱۵ـ امیرالمومنین(ع) فرماتے ہیں میں نے جناب رسول خدا(ص) کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ میں اولاد آدم(ع) کا سردار ہوں اور اے علی(ع) تم اور تمہارے بعد تمہارے امام(ع) میری امت کے سردار ہیں جو کوئی ہمیں دوست رکھتا ہے خدا کو دوست رکھتا ہے اور جو کوئی ہمیں دشمن رکھتا ہے خدا کو دشمن رکھتا ہے جو کوئی ہماری ولایت کے ساتھ ہے وہ خدا کیولایت کے ساتھ ہے جو کوئی ہمارے فرمان پر عمل کرے اس نے خدا کے فرمان جپر عمل کیا اور جو کوئی ہماری نافرمانی کرے اس نے خدا کی نافرمانی کی۔

۱۶ـ جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا جب مجھے آسمان پر لے جایا گیا تو میرے رب نے مجھے علی(ع) کے بارے میں تین کلمات وصیت کیے، میرے رب نے فرمایا اے محمد(ص) میں نے کہا” لبیک ربی“ ارشاد ہوا (۱) علی(ع) متقیوں کا امام ہے (۱۱) سفید چہروں اور ہاتھوں والوں کا پیشوا ہے۔ (۱۱۱) اور مومنین کا سردار ہے۔

۱۷ـ جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا صدیق تین ہیں۔

۱:۔ حبیب نجار جو مومن آل یاسین(ع) ہیں کہتے ہیں کہ رسولوں اور اس بندے کی پیروی کرو جوتم سے اس کی جزا نہیں چاہتا اور رہبر ہے۔۲:۔ حزقیل(ع) جو مومن آل عمران(ع) ہیں۔۳:۔ اور علی بن ابی طالب(ع) جو سب سے بہتر ہیں۔


۱۸ـ          جناب رسول خدا(ص) نےفرمایا محبوب ترین میرا خاندان(ع) ہے اور برترین وہ بندہ علی بن ابی طالب(ع) ہے جو میرے بعد ہے۔

۱۹ـ          جناب سلمان فارسی(رح) فرماتے ہیں کہ جب رسول خدا(ص) کی رحلت کا وقت قریب آیا تو میں آپ(ص) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ(ص) نے فرمایا علی بن ابی طالب(ع) بہترین بندہ ہے میں اسے اپنے بعد اپنی جگہ پر مقرر کرتا ہوں۔

۲۰ـ          سلمان فارسی(رح) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول خدا(ص) کو فرماتے سنا کہ اے گروہ مہاجرین و اںصار کیا میں تمہیں اس چیز کی راہنمائی نہ کردوں کہ اگر اس سے متمسک رہو گے تو میرے بعد ہرگز گمراہ نہ ہوگے وہ کہنے لگے کیوں نہیں یا رسول اﷲ(ص) ، آپ(ص) نے  فرمایا یہ میرا بھائی علی(ع) میرا وزیر میرا خلیفہ میرا وارث اور تمہارا امام ہے اسے میری خاطر دوست و گرامی رکھو یہ حکم مجھے جبرائیل(ع) نے دیا ہے تاکہ میں اسے تم تک پہنچا سکوں۔

۲۱ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا اے لوگو کیا میں تمہیں راہنمائی نہ کروں کہ میرے بعد اگر اس دلیل کو سمجھوگے تو ہلاک اوور گمراہ نہیں ہوگے کہنے لگے کیوں نہیں یا رسول اﷲ(ص) ، آپ(ص) نے ارشاد فرمایا تمہارا امام اور تمہارا ولی علی بن ابی طالب(ع) ہے اس کے پیچھے رہو اور اس کے خیر خواہ رہو اور اس کی تصدیق کرو کہ یہ حکم مجھے جبرائیل(ع) نے دیا ہے۔

۲۲ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا اے لوگو خدا نے مجھے علی(ع) کے بارے میں وصیت کی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ وہ تم سے بیان کروں سنو غور سے سنو، وہ کہنے لگے ہم غور سے سن رہے ہیں آپ(ص) نے ارشاد فرمایا بیشک علی(ع) پرچم ہدایت اور میرے دوستوں کا پیشوا ہے جو کوئی میری اطاعت کرے اس کے لیے نور ہے اور کلمہء متقین اسی سے ملتا ہے جو کوئی اسے دوست رکھتا ہے مجھے دوست رکھتا ہے جو کوئی اس کے فرمان کو مانتا ہے وہ ایسا کہ جیسے اس نےمیرے فرمان کو مانا ہے۔

۲۳ـ         امام محمد باقر(ع) نے حدیثِ طولانی کے ضمن میں فرمایا کہ جب خدا اپنے پیغمبر(ص) کو معراج پر لے گیا تو ارشاد فرمایا اے محمد(ص) تمہاری پیغمبری کی مدت اختتام کے قریب ہے یہ تمہاری عمر کا آخری حصہ ہے کیا تم نے اپنے بعد کسی کو اپنا جانشین بنایا ہے جناب رسول خدا(ص) نے عرض کیا پالنے


والے میں نے تیری مخلوق کا امتحان لیا مگر کسی کو تیری اطاعت میں علی(ع) سے زیادہ اپنا مطیع نہیں پایا، خدا نے ارشاد فرمایا وہ میرا بھی ایسا ہی مطیع ہے اسے آگاہ کردو کہ وہ میری راہ ہدایت کا نشان ہے اورمیرے دوستوں کا پیشوا ہے وہ ایک نور ہے جو میرے فرمان پر چلتا ہے۔

۲۴ـ         حضرت عمر(رض) سے روایت ہےکہ جب رسول خدا(ص) کی رحلت کے بعد لوگ کتاب وسنت سے پھر گئے تو میں نے کوئی شخص ایسا نہیں دیکھا جو علی بن ابی طالب(ع) سے زیادہ صالح ہو۔

۲۵ـ ابوصادق(ع) فرماتے ہیں کہ جناب امیرالمومنین(ع) علی بن ابی طالب(ع) نے فرمایا یہ آیت قربانی کہ ” اورع ہم یہ چاہتے ہیں کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور بنادیا گیا ہے ان پر احسان کریں اور انہیں لوگوں کا پیشوا بنائیں اور زمین کا وارث قرار دیں“ ( قصص ، ۵) ہمارے ہی بارے میں اور ہمارے ہی لیے نازل ہوئی ہے۔

۲۶ـ          جناب رسول خدا(ص) فرماتے ہیں کہ جس شب مجھے معراج پر لے جایا گیا تو میرے رب نے مجھ سے فرمایا” اے محمد(ص) “ میں نے عرض کیا” لبیک پروردگار“ ارشاد ہوا تیرے بعد میری خلق پر میری حجت اور امام، علی(ع) ہے جس کسی نے اس کےفرمان پر عمل کیا اس نے میرے فرمان پر عمل کیا اورجس کسی نے اس کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی اسے اپنی امت کا امام بناؤ تمہارے بعد اسی کے ذریعے راہبری ہوگی۔


مجلس نمبر۷۳

(۸ جمادی الثانی سنہ۳۶۸ھ)

ابوذر(رح) کے اسلام لانے کا سبب

۱ـ           امام صادق(ع) نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا کیا میں تجھے ابوذر(رح) و سلمان(رح) کے اسلام لانے کا سبب بتاؤں اس شخص نے کہا میں سلمان(رح) کے اسلام لانے کے سبب سے تو آگاہ ہوں آپ(ع) مجھے ابوذر(رح) کے اسلام لانے کی وجہ بتائیں۔

امام صادق(ع) نے فرمایا کہ ابوذر(رح) مکہ مکرمہ سے ایک منزل کے  فاصلے پر واقع ایک مقام ابوبطن مرکہ میں اپنی بکریاں چرایا کرتے تھے ایک مرتبہ اچانک ایک بھیڑیا دائیں طرف سے نمودار ہوا اور ان کی بکریوں پر جھپٹا ابوذر(رح) نے اپنے عصاء کی مدد سے اسے بھگایا  پھر بائیں طرف سے ریوڑ پر حملہ آور ہوا ابو ذر(رح) نے اپنا عصاء اسے مارا اور کہا بخدا میں نے تجھ سے زیادہ خبیث کوئی بھیڑیا نہیں دیکھا تو ہو بھیڑیا با اعجاز آںحضرت(ص) گویا ہوا اور کہا واﷲ اہل مکہ مجھ سے بدتر ہیں خداوند عالم نے ان کی طرف ایک پیغمبر(ص) بھیجا اور وہ اسے دروغ سے نسبت دیتے ہیں یہ بات ابوذر(رح) کے دل میں اثر کر گئی وہ گھر واپس آئے اور اپنی ہمیشرہ سے کہا کہ مجھے کچھ کھانا ، ایک لوٹا اور عصا لادو، یہ چیزیں لے کر وہ پیدل مکہ کی جانب روانہ ہوگئے اور مکہ جا پہنچے وہاں دیکھا کہ لوگوں کی ایک جماعت براحمان ہے وہ ان کے ساتھ بیٹھ گئے اورسنا کہ وہ لوگ جناب رسول خدا(ص) کو برا کہہ رہے ہیں ابوذر(رح) نے دل میں سوچا کہ جیسا بھیڑیے نے کہا تھا خدا کی قسم ویسے ہی حالات ہیں اور یہ لوگ اسی روش پر ہیں پھر جب دن کا اختتام ہونےلگا تو ابوطالب(ع) تشریف لائے وہ لوگ جناب ابوطالب(ع) کو دیکھ کر کہنے لگے کہ خاموش ہوجاؤ ان کے چچا آگئے ہیں، جب وہ ان کے قریب آگئے تو ان لوگوں نے جناب ابوطالب(ع) کی تعظیم کی، جناب ابوطالب(ع) نے نہایت سخن ور اور بے مثال خطیب تھے پھر کچھ دیر بعد وہ لوگ منتشر ہوگئے اور جناب ابو طالب(ع) بھی رخصت ہونے لگے تو


 ابوذر(رح) بھی ان کے ہمراہ ہو لیے انہوں نے ابوذر(رح) سے دریافت کیا کہ کیا تمہیں مجھ سے کوئی حاجت یا کوئی کام ہے جو پیچھے پیچھے آرہے ہو ابوذر(رح) نے عرض کیا کہ میں اس پیغمبر(ص) سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں جو آپ کے درمیان مبعوث ہوا ہے تاکہ ان پر ایمان لاؤں اور ان(ص) کی تصدیق کروں اور جس بات کا وہ حکم دیں اس پر عمل کروں۔ جناب ابو طالب(ع) نے فرمایا کیا تم گواہی دیتے ہو کہ خدا کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد(ص) اس کے رسول ہیں اورکیا اس اقرار کے بعد اس پر کاربند بھی رہو گے ابوذر(رح) نے عرض کیا جی ہاں پھر کہا”اش ه د ان لا ال ه الا اﷲ و اش ه د ان محمدا رسول اﷲ “ جناب ابوطالب(ع) نے فرمایا تم کل اسی وقت اسی جگہ میرے پاس آجانا ابوذر(رح) دوسرے روز بھی وہیں اسی مقام پر انہیں لوگوں کی جماعت میں آکر بیٹھ گئے وہ لوگ اس دن بھی حسبِ سابق جناب رسول خدا(ص) کی برائیاں کررہے تھے مگر جناب ابوطالب(ع) کو دیکھا تو وہ لوگ خاموش ہوگئے جناب ابوطالب(ع) نے لوگوں کے درمیان ایک امتیازی مقام رکھتے تھے پھر کافی دیر کے بعد جب وہ لوگ منتشر ہونے لگے اور جناب ابوطالب(ع) نے دریافت کیا کہ کیا تمہاری کوئی حاجت ہے تو ابوذر(رح) نے روزِ سابق کی طرح اپنا مدعا بیان کیا جناب ابو طالب(ع) نے گذشتہ دن کی طرح پھر کہا کیا تم اس کی رسالت کا اقرار کرتے ہو تو ابوذر(رح) نے کہا”اش ه د ان لا ال ه الا اﷲ و اش ه د ان محمدا رسول اﷲ “ جناب ابوطالب(ع) نے فرمایا درست ہے میں بھی اسی کا اقرار کرتا ہوں ۔ پھر وہ ابوذر(رح) کو لے کر ایک گھر میں گئے جس میں جناب جعفر بن ابی طالب(ع) موجود تھے ابوذر(رح) انہیں سلام کیا انہوں نےسلام کا جواب دیا اور فرمایا کیا کوئی کام ہے ابوذر(رح) نے کہا جو پیغمبر(ص) تمہارے درمیان مبعوث ہوا ہے میں ان(ص) سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں جناب جعفر(ع) نے کہا ان(ص)سے کیا کام ہے ابوذر(رح) نے کہا میں ان(ص) پرایمان لانا چاہتا ہوں ان کی تصدیق کرنا چاہتا ہوں اور ان(ص) کی ہدایات پر عمل کرنا چاہتا ہوں ، یہ سن کر جناب جعفر(ع) نے انہیں شہادتین کی تلقین کی ابوذر(رح) نے شہادت دی پھر انہیں ایک اور گھر میں لے جایا گیا جہاں جناب حمزہ(ع) بن عبدالمطلب(ع) تھے انہوں نے بھی ابوذر(رح) سے شہادتین کا اقرار لیا اور پھر انہیں لے کر جناب علی بن ابی طالب(ع) کے پاس آگئے ابوذر(رح) نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا اور پھر مدعا معلوم کر کے اسی طرح شہادتین کا اقرار


 لیا اور پھر انہیں لے کر جناب رسول خدا(ص) کی خدمت میں حاضر ہوگئے جناب رسول کدا(ص) کی ہستی نور پر نور تھی ابوذر(رح) سے جناب رسول خدا(ص) نے شہادتین کا اقرار لیا اور فرمایا میں رسول خدا(ص) ہوں، اے ابوذر(رح) تم اپنے وطن واپس جاؤ وہاں تمہارے چچا کا بیٹا انتقال کر گیا ہے اس کے مال کے تم ہی وارث ہو اس کا مال حاصل کرو اور وہیں رہو اور جب تک میں اعلان نبوت نہ کردوں تم وہیں رہنا ابوذر)(رح) واپس چلے گئے اور جیسا جناب رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا تھا ویسے ہی ان کے چچا کے بیٹے کا وہاں انتقال ہوگیا تھا اور ابوذر(رح) ان کے وارث ٹھہرائے گئے تھے جناب ابوذر(رح) کے ہاتھ ان کا مال کثیر آیا وہ اس وقت تک وہیں رہے اور پھر اعلانِ نبوت ہوا تو ابوذر(رح) جناب رسول خدا(ص) کے پاس تشریف لے آئے۔

۲ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا جھوٹی گواہی دینے والا درزخ کے علاوہ کہیں اور نہیں جائے گا۔

۳ـ          امام باقر(ع) نے فرمایا جو شخص کسی کے مال پر ناحق گواہی دے کر اسے اس کے مال سے محروم کردے تو ایسے شخص کےلیے خدا اس کا ٹھکانہ دوزخ قرار دے گا۔

۴ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا جو کوئی سچی گواہی چھپا کر کسی مسلمان کو برباد کردے یا اسے اس کے مال سے محروم کردے تو ایسا شخص اس طرح قیامت کے روز پیش کیا جائے گا کہ حد نگاہ سے اس کا چہرہ سیاہ دکھائی دے گا اور مخلوق اس کی نسل سے پہچانے گی اور جو کوئی سچی گواہی دے کر کسی مرد مسلمان کے حق کو زندہ کرے گا تو وہ روز قیامت اس طرح پیش کیا جائے گا کہ حد نگاہ سے ہی اس کا چہرہ روشن دکھائی دے گا اور مخلوق اسے اس کی نسل سے پہچانے گی امام باقر(ع) نے فرمایا لوگ نہیں جانتے کہ خدا فرماتا ہے کہ ” خدا کے لیے شہادت دو“

۵ـ          عبدالقیس کہتے ہیں کہ سلمان(رح) کا گذر ایک قبرستان سے ہوا تو انہوں نے کہا السلام علیکم یا اہل قبور، اے مومنین و مسلمین کیا تم جانتے ہو کہ آج جمعہ کا دن ہے۔ سلمان(رح) یہ کہہ کر گھر واپس آگئے عالم نیند میں دیکھا کہ کوئی شخص آیا اور اس نے کہا و علیکم السلام یا ابو عبداﷲ آپ ہمارے درمیان( قبرستان) آئے اور آپ نے ہمیں سلام کیا  اور جو کچھ ہمیں کہا وہ ہم نے سنا ہم جانتے ہیں کہ آج جمعہ کا دن ہے ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ پرندے بروزِ جمعہ کیا کہتے ہیں وہ کہتے ہیں قدوس


 قدوس اے پروردگار تو ہی ہمیں بخشنے والا ہے تیرے ملک اور تیری عظمت کی مانند کوئی نہیں اور اس شخص نے تجھے نہیں پہچانا جو تیری جھوٹی قسم کھاتا ہے۔

۶ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا خدا دشمن رکھتا ہے اس بندے کو جو اپنے مال کی قسم کھانے  کا عادی  ہوچکا ہو ( یا اپنے مال کی قسم کھانے کی روایت ڈالے)

۷ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جو کوئی خدا کی قسم کھائے اسے چاہیے کہ سچ بولے اور اگر انہیں بولتا تو ایسے کے ساتھ خدا نہیں ہے اور اگر کسی کے سامنے خدا کی قسم کھائی جاہیے تو اسے چاہیے کہ راضی ہوجائے ورنہ ایسے کے ساتھ بھی خدا نہ ہوگا۔

۸ـ          امام باقر(ع) نے فرمایا ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اس وقت جناب رسول خدا(ص) بھی مسجد میں موجود تھے اس شخص نے دورانِ نماز جب سجدہ کیا تو نہایت مختصر کیا یہ دیکھ کر جناب رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا جو کوئی اس طرح سجدہ کرے جیسے کوا اپنی چونج زمین پر مارتا ہے اور اسی حالت میں مرجائے تو ایسے شخص کا خاتمہ دین محمدی(ص) پر نہیں  ہوا۔

۹ـ           جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا شیطان ابن آدم(ع) سے اس وقت تک ترسان و ہراساں رہتا ہے جب تک وہ نماز پنجگانہ ادا کرتے رہتے ہیں مگر جب وہ نماز کا وقت گزار دیتے ہیں شیطان دلیر ہوجاتا ہے اور بندے کو گناہوں کی طرف کھینچتا ہے۔

۱۰ـ          ابوبصیر کہتے ہیں کہ میں امام صادق(ع) کی وفات کے بعد ام حمیدہ کی خدمت میں تعزیت کی غرض سے گیا انہوں نے فرمایا اے ابو محمد کاش تم امام صادق(ع) رحلت کے وقت دیکھتے وہ منظر نہایت عجیب تھا، انہوں نے اپنی دونوں آنکھیں کھولیں اور فرمایا تمام رشتہ داروں کو جمع کرو یہ سن کر کوئی فرد ایسا نہ تھا جو حاضر نہ ہوگیا ہو، جب سب آگئے تو آپ(ع) نے فرمایا بیشک ہماری شفاعت اس بندے کو نہ پہنچے گی جو نماز کو کم تر شمار کرتا ہے۔

۱۱ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا جوکوئی غسل جنابت میں اپنے جسم کے ایک بال کو بھی عمدا (خشک) چھوڑ دے وہ دوزخ میں ہوگا۔

۱۲ـ          امام باقر(ع) نے اپنے اجداد(ع) سے روایت کیا ہے کہ جبرائیل(ع)، پیغمبر(ص) پر نازل ہوئے اور کہا


 اے محمد(ص) تیرا خدا تجھے سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے میں نے سات آسمانوں کو پیدا کیا، جوکچھ ان میں ہے اسے پیدا کیا، میں نےسات زمینوں کو اور جو کچھ ان میں ہے کو پیدا کیا، میں نے رکن عظیم اور جائے عظیم تر کو پیدا کیا۔ اگر کوئی بندہ مجھے اس جگہ پکارے مگر منکر ولایت علی(ع) ہو تو میں اس کو سقر( دوزخ ) میں گراؤں گا۔

۱۳ امام باقر(ع) نے فرمایا نماز جمعہ امام کے بغیر بھی واجب ہے اگر بندہ اسے بلا عذر ترک کرے تو  اس نے اپنے فریضہ کو ترک کیا۔ اگر مسلسل تین جمعے وہ اپنے فرائض ترک کرے تو وہ منافق ہے پھر فرمایا جو کوئی نماز کو بے رغبت ادا کرے اور بغیر عذر کے جماعت کی نماز چھوڑے تو وہ نماز نہیں رکھتا۔

۱۴ـ امام صادق(ع) نے فرمایا جناب رسول خدا(ص) نے نماز فجر ادا کرنے کے بعد اپنے اصحاب سے چند لوگوں کے متعلق دریافت کیا لوگوں نے بتایاکہ وہ موجود نہیں ہیں آپ() نے فرمایا کیا وہ سفر پر ہیں کہنے لگے نہیں، جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا نماز منافقین کے لیے سخت  شئی ہیں۔

۱۵ـ امام صادق(ع) نے فرمایا جو شخص قدرت رکھنے کے باوجود اپنے بھائی کی مدد نہ کرے وہ مومن نہیں ہے خدا ایسے کی مدد دنیا و آخرت میں ترک کردے گا۔

۱۶ـ امام صادق(ع) نے فرمایا جو کوئی اپنے برادر دینی کو رسوا کرنے کی خاطر اس کی داستان لوگوں سے بیان کرے تو خدا اسے اپنی ولایت سے شیطان کی ولایت کی طرف دھکیل  دے گا۔

فضائل اہل بیت(ع)

۱۷ـابن عباس(رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن جناب رسول خدا(ص) تشریف فرما تھے۔ اور ان کے ساتھ علی(ع) فاطمہ(س)، حسن(ع)، اور حسین(ع) بھی موجود تھے جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا خدایا تو جانتا ہے کہ یہ میرے اہل بیت(ع) ہیں، یہ میرے نزدیک گرامی ترین نفوس ہیں تو ان کے دوستوں کو دوست رکھ اور ان کے دشمنوں کو دشمن رکھ، ان سے مہربانی کر جو ان سے مہربانی کریں اور برا رکھ انہیں جو انہیں برا گردانیں اور جو ان کی مدد کریں تو ان کی مدد کر ان سے ہر قسم کی نجاست و گندگی کو دور رکھ انہیں ہرگناہ سے معصوم رکھ اور روح القدس کے ذریعے ان کی مدد فرما۔ پھر جناب رسول خدا(ص) نے


 فرمایا۔ اے علی(ع) تم میری امت کے امام ہو میرے بعد ان پر خلیفہ و جانشین ہو، جنت کے راستے میں مومنین کے قائد اور راہنما ہو اور اپنی بیٹی فاطمہ(س) کو میں دیکھ رہا ہوں کہ  یہ روز قیامت ناقہء نور پر سوار ہو کر آئی ہیں۔ ان کے دائیں طرف ستر ہزار بائیں طرف سترہزار اور ان کے آگے بھی ستر ہزار فرشتے ہیں وہ میری امت کی مومنہ عورتوں کی جنت کی طرف قیادت کررہی ہیں اور یہ وہ مومن عورتیں ہونگی جو دن میں نماز پنجگانہ ادا  کرینے والی پابند صوم  اور حج بیت اﷲ کو ادا کرنے والی ہوں گی، اس(فاطمہ(س)) کی قیادت میں ایسی ہی مومنہ عورتیں ہوں گی، کہ  جو اپنی زکواة بھی پابندی سے ادا کرتی ہوں گی، اپنے شوہروں کی اطاعت کرنے والی اور میرے بعد ولایت علی(ع) پر کاربند ہوں گی یہ عورتیں میری بیٹی کی شفاعت سے بہشت میں داخل ہوں گی فاطمہ(س) تمام عالمین کی عورتوں کی سردر ہیں۔ عرض کیا گیا کہ کیا فاطمہ(س) صرف اپنے زمانے کی عورتوں کی سردار ہیں تو رسول خدا(ص) نے فرمایا یہ صفت تو حضرت مریم(س) بنت عمران(ع) کی ہے میری بیٹی فاطمہ(س) تو تمام عالمین کی عورتوں کی سردار ہے خواہ وہ اولین میں سے ہوں یا آخرین سے جب یہ نماز کے واسطے محراب میں کھڑی ہوتی ہیں تو ستر ہزار مقرب فرشتے ان پر سلام بھیجتے ہیں اور انہیں ایسے الفاظ سے مخاطب کرتے ہیں جس سے مریم بنت عمران(ع) کو مخاطب کیا کرتے تھے، وہ (فرشتے) کہتے ہیں اے فاطمہ(س) ” خدا نے تمہیں منتخب کیا اور ہر برائی سے پاک رکھا اور تمام عالمین کی عورتوں پر تمہیں فضیلت دی“ ( آل عمران، ۴۲) پھر جناب رسول خدا(ص) نے اپنا رخ علی(ع) کی طرف کیا اور فرمایا فاطمہ(ع) میرے بدن کا ٹکڑا اور میری نور نظر ہے یہ میرے دل کا میوہ ہے جس نے اسے رنج پہنچایا اس نےمجھے رنجیدہ کیا اور جس نے اسے دکھ پہنچایا اس نے مجھے دکھ پہنچایا یہ میرے اہل بیت(ع) میں سب سے پہلے مجھ سے ملے گی لہذا میرے بعد اس کا خیال رکھنا۔ پھر فرمایا یہ حسن(ع) و حسین(ع) میرے فرزند ہیں۔ جومیرے شجر زندگی کے دو پھول ہیں یہ جوانان جنت کے سردار ہیں ان دونوں کا بھی اتنا ہی خیال رکھنا کہ جتنا تم اپنی آنکھوں اور کانوں کا رکھتے ہو پھر اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیے اور فرمایا خدایا تو گواہ رہنا کہ میں اس شخص سے محبت کرتا ہوں جو ان جسے محبت کرتا ہے اور اس کو دشمن رکھتا ہوں جو ان کو دشمن رکھتا ہے میری صلح اس سے ہے جو ان سے صلح رکھے، میری عداوت اس سے ہے جو ان سے عداوت رکھے اور وہ میرا دوست ہے جو انہیں دوست رکھتا ہے۔


مجلس نمبر۷۴

(۱۲جمادی الثانی سنہ۳۶۷ھ)

بہترین کون ہے

۱ـ           ابوصباح کنانی نے امام صادق(ع) سے دریافت کیا کہ یہ اقول کس کے ہیں کہ میں خدا سے ایمان کا خواستگار ہوں اور اس سے پناہ مانگتا ہوں،افضل الذکر ذکر خدا ہے بہترین حکمت اس کی اطاعت ہے، سب سے سچی، نصیحت آموز اور دلنشین داستان قرآن کریم ہے، خدا پر ایمان استوار ترین رشتہ ہے، بہترین ملت ملت ابراہیمی(ع) ہے بہترین طریقہ پیغمبروں کا طریقہ ہے، بترین راہ حق، راہ محمدی(ص) ہے، بہترین توشہ تقوی اور بہترین علم وہ ہے کہ جس سے فائدہ حاصل ہو، بہترین راہ راہِ حق ہے جس کی پیروی کی جائے، بہترین توانگری خود پر اعتماد ہے، دل کا بہترین ذخیرہ یقین ہے، زیور حدیث سچائی ہے۔ علم کا زیور احسان اور بہترین امور وہ ہیں جن کا انجام نیک ہو، جو کچھ کم ہے نیکی ہے اور جو زیادہ ہے بے ھودگی ہے، شقی ماں کے شکم سے شقی ہے، سعید وہ ہے جو دوسروں سے نصیحت لے۔ زیرک ترین آدمی وہ ہے جو تقوی اختیار کیے ہوئے ہے، ہرزہ سرائی کرنے والا احمقوں کا احمق ہے، بدترین نقل جھوٹ ہے بدترین امور بدعتین ہیں، بدترین اندھا دل کا اندھا ہے، بدترین پشیمانی روز قیامت کی پشیمانی ہے، بزرگ ترین خطا کار خدا کے نزدیک وہ زبان ہے جو جھوٹ کہے، بدترین کسب ریا کاری ہے، بدترین خوراک یتیم کے مال کا کھانا ہے، مرد کا بہترین زیور ایمان ہے، جو کوئی شمع راہ ہدایت کا پیرو  ہوگا تو خدا اس کی شمع روشن کرے گا، جس کسی کو مصیبتیں گھیر لیں اسے چاہیے کہ صبر کرے اگر وہ صابر نہیں ہوگا تو کافر شمار کیا جائے گا، جو کوئی تکبر کرے خدا اسے پست کرتا ہے جس کسی نے شیطان کےفرمان پر عمل کیا اس نے خدا کی نافرمانی کی اور جو کوئی خدا کی نافرمانی کرے خدا اسے سزا دے گا اور خدا اس کے عذاب میں اضافہ فرمائے گا۔ جو کوئی ناگواری پر صبر کرے خدا اس کی مدد کرے گا، جو کوئی خدا پر


بھروسہ کرے خدا اس کی کفالت کرے گا اور اس پر ناراض نہ ہوگا، جو کوئی خدا کی خوشنودی اور تقرب کے لیے اس کی اطاعت کرتا ہے خدا اس سے خوش ہے اور جو اس کی خوشنودی اور تقرب حاصل نہیں کرتا ہے خدا اسے سے ناراض ہے، ہر خیر کو اس کی اطاعت میں طلب کرو، نیکیوں کو اختیار کیے رکھو اور برائیوں سے گریز کرو خدا ہر اس شخص کی حفاظت کرتا ہے  جو اس کےفرمان پر عمل کرے اور ہر وہ شخص جو اس کی نافرمانی کرے اس کی پناہ میں نہیں، خدا سے گریز کرنےوالے کےلیے کوئی دوسری راہ فرار نہیں کیوںکہ امر خدا اسکی خواری کے لیے نازل ہوگیا ہے، جو کچھ خدا تمہیں عطا کرے اس پر خوش ہوجاؤ، خدا سے ڈرو کہ وہ سخت سزا دینے والا ہے۔ امام صادق(ع) نے فرمایا یہ اقوال مجھ تک جناب رسول خدا(ص) سے پہنچے ہیں۔

۲ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا جو کوئی خدا کی نافرمانی کرے اسے دوست مت رکھو پھر امام(ع) نے یہ شعر پڑھا ” اگر دوست صادق ہے تو اس کی بات مانو۔ عاشق محبوب کی ہر بات کا دل سے مطیع ہوتا ہے“

۳ـ          امام صادق(ع) ہمیشہ فرماتے کہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اعمال صالح کی دولت کو آخرت کے لیے بھیجے۔

۴ـ          امام صادق(ع) اس بات کو بہت زیادہ دھرایا کرتے کہ اس زمانے میں ہلاکت میں پڑے ہوئے کو نجات اور کامیابی، بغیر درمان کے دلانا ایسا ہی ہے جیسے انسان علم طریقت کے راستے پر بے نشان چل پڑے۔

۵ـ          امام صادق(ع) اکثر فرمایا کرتے اپنی زندگی بہتر بنانے کے واسطے مسلسل محنت کرو اور ماضی کی غلطیوں کو مت دہراؤ جو بہتر ہے اسے اختیار کرو۔

۶ـ           دانشمندوں کے ایک گروہ نے جناب حسن(ع) بن علی(ع) اور ولید بن عتبہ لعین کے درمیان ہونے والے مکالمے کو بیان کیا ہے کہ امام حسن(ع) نے ولید لعین سے کہا کہ ” میں تجھے اسی طرح ملامت نہ کروں جس طرح تو علی(ع) کے لیے سب وشتم کرتا ہے، میں تجھے اسی تازیانے سے مارنا چاہتا ہوں یاد کر تیرے باپ کو جناب رسول خدا(ص) کے حکم سے بدر کے روز قتل کیا گیا، اس کے قاتل کو خدا


نے اپنی آیات میں مومن کہا اے تجھے فاسق کا نام دیا گیا“۔

پھر امام(ع) نے ان اشعار کو دھرایا۔

ولید لعین کے لیے کفر کی منزل ہے۔

اور علی(ع) کی جگہ ایمان ہے۔

جو خدا کو نہ چاہتا ہو وہ مومن کیسے بن سکتا ہے۔

اور فاسق کا انجام تباہی ہے۔

ولید اور علی(ع) کو بے شک پکارو۔

لیکن دونوں کے درمیان فرق واضح ہے۔

علی(ع) کی جزا بہشت ہے۔

اور ولید کی جزا جہنم ہے۔

۷ـ جناب علی(ع) نے فرمایا میں رسول خدا(ص) کی خدمت میں حاضر ہوا تو سلمان بھی وہیں تھے سلمان نے مجھے دیکھ کر کہا اے علی(ع) آپ بھی یہاں تشریف لے آئے ہیں اور میں بھی یہیں موجود ہوں اور یہاں کے علاوہ کسی کے ساتھ نہیں ہوں یہ سن کر جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا اے سلمان روزِ قیامت یہ (علی(ع)) اور اس کے گروہ کے لوگ ہی نجات پائیں گے۔

۸ـ انس بن مالک کہتے ہیں کہ پیغمبر(ص)نے فرمایا میرے بعد میری امت کے اختلاف میں علی(ع) ہی راہ ہدایت دے گا۔

۹ـ عبدالرحمن ہمدانی بیان کرتے ہیں کہ جب جناب علی(ع) ابن ابی طالب(ع) نے فاطمہ(س) کو دفن کیا تو ان کی قبر مبارک پر یہ اشعار پڑھے

” اے گروہ انس ہر دوست جدائی رکھتا ہے

اور موت میں بہت کم جدائی ہے

ہر فرد نے دوسرے سے جدا ہونا ہے

معلوم ہونا چاہیے کہ ہر دوستی دوامی نہیں۔


             میں مقصد کی یاد آوری میں محبت رکھتا ہوں۔

۱۰ـ          امام باقر(ع) نے فرمایا جس کا ظاہر اس کے  باطن سے جدا ہے روز قیامت اس کی میران ہلکی ہوگی۔

۱۱ـ           امام صادق(ع) نے سماعہ سے فرمایا مومن چار چیزوں سے جدا  نہ ہوگا۔ اول وہ ہمسایہ جو اسے آزار دے۔ دوئم ۔ شیطان جو اسے گمراہ کرے۔ سوئم۔ منافق جو اس کے پیچھے لگارہے۔ اور چہارم۔ وہ مومن جو اس پر حسد کرے، میں( سماعہ) نے کہا میں آپ(ع) پر قربان ہوجاؤں کیا مومن اس پر حسد کرتا ہے آپ(ع) نے فرمایا اے سماعہ یہ ان تمام سے زیادہ سخت ہے میں نے پوچھا کس طرح فرمایا اسے برا کہے اور اسے باور کرواتا رہے۔

آنحضرت(ص) اور نزول ابر

۱۲ـ          ابن عباس(رض) بیان کرتے ہیں کہ میں اصحاب رسول(ص) کے ہمراہ ان(ص) کی خدمت میں بیٹھا تھا کہ جناب رسول خدا(ص) نے آسمان کی طرف دیکھا اور اپنی چشم مبارک سے اشارہ فرمایا ناگاہ ہم نے دیکھا کہ ایک سمت سے بادل آیا جناب رسول خدا(ص) نے اسے پاس آنے کا اشارہ کیا بادل نزدیک  آگیا جناب رسول خدا(ص) نے اسے دوبارہ اشارہ کیا تو ہو بادل بے حد نزدیک آگیا پھر جناب رسول خدا(ص) کھڑے ہوئے اور اپنے بازو بلند فرمائے یہاں تک کہ آپ(ص) کی زیر بغل سفیدی نظر آنے لگی آپ(ص) نے بادل میں اپنے ہاتھ داخل کیے اور ایک کھجوروں سے بھرا ہوا سفید پیالہ برآمد کیا جناب رسول خدا(ص) نے وہ تازہ کھجوریں تباول فرمائیں اس پیالے نے جناب رسول خدا(ص) کے ہاتھ پر تسبیح کی۔ پھر آںحضرت(ص) نے وہ پیالہ جناب امیر(ع) کو دیدیا جناب امیر(ع) نے بھی وہ کھجوریں تناول فرمائیں اس پیالے نے جناب امیر(ع) کے ہاتھ پر بھی تسبیح بیان کی۔

اصحاب میں سے ایک شخص نے کہا یا رسول اﷲ(ص) آپ(ص) نے یہ پیالہ اور اس کھجوریں خود کو اور علی(ع) کو ہی دی ہیں؟ اس بات پر وہ پیالہ باذن خدا گویا ہوا اور کہا” لا الہ الا اﷲ خالق الظلمات والنور“ اے لوگو کیا تم جانتے ہو کہ میں ہدیہء حق ہوں اور مجھ سے کوئی نہیں کھا سکتا مگر پیغمبر(ص) یا وصیِ


 پیغمبر(ص)۔

۱۳ـ          مشمعل اسدی کہتے ہیں کہ میں ایک سال حج سے واپسی پر امام صادق(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا آپ(ع) نے فرمایا کہاں سے آئے ہو میں نے عرض کیا میں آپ(ع) پر قربان میں حج سے واپس آیا ہوں۔ آپ(ع) نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ زائر کیا ثواب رکھتا ہے میں نے عرض کیا نہیں مجھے معلوم نہیں آپ(ع) نے فرمایا جب بندہ اس کے گھر کا سات مرتبہ طواف کرتا ہے اور اس( خدا) کی دو رکعت نماز پڑھتا ہے پھر صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتا ہے تو خدا اس کے نامہ اعمال میں چھ ہزار نیکیاں لکھتا ہے اور اس کے چھ ہزار گناہ معاف فرماتا ہے اس کے چھ ہزار درجات بلند کرتا ہے اور چھہ ہزار دنیاوی حاجات پوری کرتا ہے اور آخرت کے لیے اس کا ذخیرہ رکھتا میں نے عرض کیا میں آپ(ع) پر قربان یہ اجر تو بہت زیادہ ہے آپ(ع) نے فرمایا کیا میں تجھے اس سے بھی سے آگاہ نہ کروں میں عرض کیا کیوں نہیں آپ(ع) نے فرمایا جو کوئی کسی مومن کی حاجت روائی کرے اس کے لیے ترتیب وار دس حج کا ثواب ہے۔

۱۴ـ          امام زین العابدین(ع) نے فرمایا مومن علم کو حلم سے حاصل کرتا ہے جب  وہ تعلیم حاصل کرنے کے لیے بیٹھتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ کانوں سے سنے تاکہ تسلیم کرے اور زبان سے کہے (سوال کرے) تاکہ اپنے راز ( وہ باتین جو اسے معلوم نہیں) سے آگاہ ہوجائے، اپنے دوستوں سے نہ کہے اور دشمنوں سے شہادت ( حق) کو نہ چھپائے عمل حق کو خود نمائی کی خاطر انجام نہ دے اور اس کے کرنے میں شرم محسوس نہ کرے کسی کو نہ ستائے اور خوف خدا محسوس کرے اور جو کچھ وہ کہتا ہے( ایسی گفتگو جس کی اجازت نہیں اگر کہے تو) اس کی خدا سے مغفرت طلب کرے نادانوں کی بات سے فریب نہ کھائے۔ جس چیز کے بارے میں وہ خود روشنی میں ہے اس سے ڈرے منافق وہ ہے جو دوسرے کو کسی چیز سے منع کرے اور خود اختیار کر لے جب نماز کے لیے کھڑا ہو تو سینہ کھول لے جب رکوع کرے تو شرارت کرے جب سجدہ کرے تو ایسے جیسے کہ زمین پر چونچ مارتا ہے بیٹھا ہے تو جنجال کرتا ہے رات ہوتی ہے تو دل کھانے کی طرف مائل ہوجاتا ہے روزہ نہیں رکھتا صبح کو دل سونے (نیند) کی طرف مائل ہوتا ہے اٹھنے کو دل نہیں کرتا ایسا شخص اگر تم سے حدیث


 بیان کرے گا تو جھوٹ کہے گا اگر وعدہ کرے گا تو وعدہ خلافی کرے گا اگر امانت دوگے تو خیانت کرے گا اگر اس سے جدا ہوگے تو تمہیں برا کہے گا۔

جناب رسول خدا(ص) کی علی(ع) کو نصیحت

۱۵ـ          ابوجعفر محمد بن علی باقر(ع) نے اپنے اجداد(ع) سے روایت کیا ہے کہ ایک دن جناب رسول خدا(ص) اپنی سواری پر باہر تشریف لے گئے اور جناب امیر(ع) ان کے ہمراہ پیدل چل نکلے آںحضرت(ص) نے جناب امیر(ع) سے فرمایا اے ابوالحسن(ع) سواری لےلو یا پھر چلے جاؤ کیونکہ خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ جب میں سوار ہوں تو تم بھی سوار ہوا کرو اور جب میں پا پیادہ کروں تم بھی پا پیادہ رہو۔ جب میں بیٹھا ہوا  ہوں تو تم بھی بیٹھے رہو اور یہ اس(خدا) کی جزا ہے کہ اس نے مجھے تمہارے جیسا عطا کیا اس نے مجھے نبوت و رسالت دی اور تجھے اس میں ولی بنایا تاکہ اس کی حدود کو قائم رکھو اور اس کی مشکلات میں قیام کرو جان لو کہ جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث کیا وہ بندہ مجھ پر ایمان نہیں رکھتا جو جو تیرا منکر ہے اور خدا کی قسم وہ ایمان نہیں رکھتا جو تیرے بارے میں کفر اختیار کرتا ہے تیرا فضل میرے فضل سے ہے اور میرا فضل خدا سے ہے اور قول خدا ہےکہ ” کہہ دو کہ خدا کے فضل اور رحمت ہی سے تو ان کو خوش ہونا چاہیے اور جو کچھ وہ جمع کرتے ہیں اس سے یہ بہت بہتر ہے“ ( یونس، ۵۸) خدا کا فضل تمہارے نبی(ص) کی نبوت ہے اور اس کی رحمت علی بن ابی طالب(ع) کی ولایت ہے پھر جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا، شیعوں کو چاہیے کہ وہ علی(ع) کی ولایت اور میری نبوت پر خوش ہوں اور جو وہ ( مخالفین) جمع کرتے ہیں یہ اس سے بہتر ہے ( یعنی جو کچھ مخالفین جمع کرتے ہیں مال۔ دنیا۔ اولاد۔ بیویاں وغیرہ) خدا کی قسم یا علی(ع) تجھے خدا کی عبادت کے علاوہ کسی اور چیز کے لیے پیدا نہیں کیا گیا سوائے اس کی تجھ سے علوم دین پہچانے جائیں اور فرسودہ راہوں کی اصلاح ہو جو کوئی تجھ سے گمراہ ہے وہ راہ خدا سے گمراہ ہے جو تیری ولایت نہیں رکھتا وہ  راہِ خدا نہیں رکھتا اور  یہ ہے تیرے رب کا کلام کہ ” بیشک میں معاف کرنے والا ہوں اس بندے کو جو باز رہے اور ایمان لائے اور عمل صالح کرے اور راستے پر آئے“ ( طہ، ۸۲) تیری ولایت پر خدا نے مجھے حکم


 دیا کہ یہی حق ہے جو میرے ( محمد رسول اﷲ(ص)) کے لیے مقرر ہوا جو مجھ پر ایمان لایا اس پر تیرا یہ حق واجب ہے اگر یہ نہ ہوتا تو اﷲ کے بندے پہچانے ہی نہ جاتے تیرے ہی وہ وسیلے سے خدا کا دشمن پہچانا جاتا ہے اور جو کوئی تیری ولایت کے ذریعے خدا سے ملاقات نہ کرے۔ وہ کوئی چیز نہیں رکھتا اور خدا نے مجھ پر نازل کیا” کہ اے پیغمبر(ص) پہنچا دو جو کچھ تم پر نازل کیا گیا ہے تیرے رب کی طرف سے ( اے علی(ع) اس سے مراد تیری ولایت ہے) اور اگر نہ پہنچایا تو تبلیغ رسالت نہیں کی اور جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے وہ نہیں پہنچایا( مائدہ، ۶۷) تیری ولایت کی پہچان ہی سے اعمال قبول ہوتے ہیں۔ اور جو تیری ولایت کا اقرار کیے بغیر پیش ہوگا اس کے اعمال قبول نہیں کیے جائیں گے اور یہ وہ وعدہ ہے جو میرے لیے معجزہ ہے یہ میں خود نہیں کہتا یہ میرے رب نےمجھ سے کہا ہے اور یہ تیرے بارے میں نازل ہوا ہے۔


مجلس نمبر۷۵

(۱۵ جمادی الثانی سنہ۳۶۸ھ)

۱ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا عیسی بن مریم(ع) لوگوں کے ایک گروہ کے پاس سے گزرے جو گریہ کررہے تھے جناب عیسی(ع) نے پوچھا یہ کس لیے گریہ کررہے ہیں بتایا گیا کہ یہ اپنے گناہوں پر گریہ کررہے ہیں آپ(ع) نے فرمایا گناہوں کو ترک کردو تاکہ بقیہ معاف ہوجائیں۔

۲ـ           امام رضا(ع) نے اپنی ایک حدیث میں بیان فرمایا کہ عیسی بن مریم(ع) نے اپنے حواریوں سے کہا” کہ اگر تمہارا دین سلامت ہو اور تمہارے ہاتھ میں دنیا سے کچھ چلا جائے تو غم نہ کرو دنیا دار، دنیا کے جانے پر غم کرتے ہیں انہیں دین کے چلے جانے کا کوئی غم نہیں ہوتا۔“

۳ـ          جناب رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا ہر نماز کے وقت ایک لوگوں کے سامنے آواز دیتا ہے کہ اٹھو اور وہ آگ جو تمہارے لیے روشن کی گئی ہے اسے اپنی نمازوں سے بجھا دو۔

گرامی کون ہے

۴ـ          سالم ابن ابو جعد کہتے ہیں کہ جابر بن عبداﷲ اںصاری(رض) نے جناب علی بن ابی طالب(ع) سے روایت کی ہے جناب امیر(ع) نے اس بات کی وضاحت فرمائی تھی کہ وہ ( علی بن ابی طالب(ع) ) اور ان کی اولاد میں سے ائمہ(ع) کس طرح  اورکس وجہ سے پیغمبروں اور رسولوں کے بعد افضل ہیں سالم کہتے ہیں میں نے جابر(رض) سے کہا کہ مجھے بھی بتائیں کہ وہ بندہ جو انہیں دشمن رکھتا ہے اور ان کی فضیلت کو کم شمار کرتا ہے اس کے بارے میں جناب امیر(ع) کیا فرمایا ہے۔

جابر نے کہا  انہیں دشمن رکھتا مگر کافر اور ان کی فضیلت و عظمت کو کم شمار نہیں کرتا مگر منافق۔ میں (سالم) نے پوچھا کہ ان کی ہی اولاد سے ائمہ ہوں گے جابر(رض) نے کہا شیعیان علی(ع) جو اس بات کے معترف ہیں کہ علی(ع) اور ان ہی کی اولاد میں سے ائمہ(ع) ہوں گے کامیاب ہیں اور امن میں ہوں گے


 قیامت کے دن پھر میں نے جابر(رض) سے پوچھا اس بندے کے بارے میں بتائیں جو ان کے خلاف خروج کرے اور لوگوں کو ضلالت کی طرف بلائے وہ کن لوگوں کے زیادہ قریب ہے قریب ہے جابر(رض) نے کہا وہ اپنے ( دوزخی مددگاروں اور پیروی کرنے والوں کےزیادہ نزدیک ہے پھر میں نے پوچھا کہ اگر کوئی قیام حق کی طرف دعودت دے تو اس کے نزدیک کون ہوں گے جابر(رض) نے کہا شیعہ اور ان کے ساتھی اور علی ابن ابی طالب(ع) روز قیامت لواءحمد ہاتھ میں لیے ہوں گے ان کے نزدیک ان کے شیعہ اور ان کے انصاران ہوں گے۔

۵ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا کسی پر تہمت لگانے کی وجہ سے اس شخص پر خود تہمت لگ جائے تو ایسا شخص کسی اور کی بجائے خود کو ملامت کرے۔

جنابِ علی (ع) اور بازارِ کوفہ

۶ـ           امام باقر(ع) نے فرمایا جناب امیر(ع) ایک تازیانہ رکھتے تھے جس کا نام سبیبہ تھا یہ تازیانہ دو(۲) سروں والا تھا جناب امیر(ع) ہر صبح اس تازیانہ کو اپنے کندھے پر ڈالتے اور بازار میں جاکر یہ صدا بلند فرماتے اے تاجرو خدا سے خیر طلب کرو کہ تم نے اسی کے حضور جانا ہے نیک عمل اختیار کرو خود کو خریداروں کی جگہ رکھ کر دیکھو اور بردباری اختیار کرو جھوٹ بولنے اور قسمیں کھانے سے گریز کرو ظلم کرنے سے بچے رہو جس پر ظلم ہو اس سے اںصاف کرو سود نہ لو اپنے ترازو  درست رکھو اور پورا تو لو زمین پر تباہی مت پھیلاؤ جناب امیر(ع) یہ فرماتے ہوئے تمام بازار کوفہ کا چکر لگاتے اور کہا کرتے ” ہر وہ چیز جسے حرام طریقے سے حاصل کیا جائے اس کی لذت ختم ہوجاتی ہے اور اس کا انجام برا ہی ہے جبکہ کار خیر کا انجام دوزخ نہیں ہے“۔

۷ـ          جناب ابو جعفر(ع) نے فرمایا کہ جناب امیر(ع) کا کوفہ میں یہ طریقہ کار تھا کہ جب نماز عشاء پڑھ لیتے تو لوگوں کو تین بار آواز دیتے کہ اے لوگو کوچ کرنے کا حکم آگیا ہے خدا تم پر رحمت کرے اپنا سامان باندھو اور بہترین توشہ جو تم نے اٹھانا ہے وہ تقوی ہے معاد تمہارا راستہ ہے تمہاری گزر گاہ صراط ہےتمہارے آگے خوفِ عظیم ہے تمہیں سخت اور خوفناک منازل سے ناچار گزرنا پڑے گا یا تم


ان منازل پر قائم ہوجاؤگے یا پھر رحمتِ خداوندی سے ان سے گزر جاؤگے ایک بہت عظیم خطرہ ایک کھٹن آزمائش اور ایک دل خراش منظر تمہارا منتظر ہے اب ی تم پر ہے کہ ہلاکت اختیار کرو یا کامیابی کہ جس کے بعد کوئی تاوان نہیں ہے۔

۸ـ          جناب موسی بن جعفر(ع) اپنے اجداد(ع) سے نقل کرتے ہیں کہ ام المومنین ام سلمیٰ(رض) نے جناب رسول خدا(ص) سے دریافت کیا کہ یا رسول اﷲ(ص) ایسی عورت جس نے دو شوہر کیے ہوں ( یکے بعد دیگرے) اور مرنے کے بعد وہ بہشت میں جائیں تو وہ عورت کونسے شوہر کے ساتھ رہے گی جنابِ رسول خدا(ص) نے فرمایا اے ام سلمیٰ(رض) وہ اس کے ساتھ رہے گی جو ان دونوں میں سے خوش خلق اور عورت سے نیک سلوک کرنے والا ہوگا اور بزگذیدہ  ہوگا اے ام سلمیٰ(رض)  حسنِ خلق دنیا اور آخرت کی نیکیاں سمیٹ لیتا ہے۔

۹ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا کہ ایک صحابی نے رسول خدا(ص) سے عرض کیا یا رسول اﷲ(ص) ہمیں اولاد کا غم محسوس ہوتا ہے جب کہ اولاد ہمارا غم  نہیں رکھتی آپ(ع) نے فرمایا کیوںکہ یہ تم سے ہیں تم ان میں سے نہیں ہو۔

۱۰ـ          امام صادق(ع) نے عبداﷲ بن ابی یعفور سے فرمایا، اے عبداﷲ نماز واجب کو اس کے مقررہ وقت میں ادا کرو اور ایسے پڑھو کہ وداع کرتے وقت کوئی خوف لاحق نہ ہو اپنی آنکھوں کے سامنے سجدہ کرو اور یہ جانو کہ تمہارے دائیں اور بائیں کون بہتر نماز پڑھتا ہے جان لو کہ تم خدا کے سامنے کھڑے ہو جو تم کو دیکھ رہا ہے مگر تم اسے نہیں دیکھتے۔

۱۱ـ           شیخ ابو جعفر عطار جو اہل مدینہ میں سے ایک بزرگ شخصیت تھے کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق(ع) سے سنا ہے کہ ایک شخص جناب رسول خدا(ص) کے پاس آیا اور کہا یا رسول اﷲ(ص) میں بہت زیادہ گناہ رکھتا ہوں اور میرے کام بہت سست ہوتے ہیں، آپ(ع) نے فرمایا تو بہت زیادہ سجدہ کیا کر کہ یہ تیرے گناہوں کو اسی طرح گرادے گا جس طرح درخت سے پتے گرتے ہیں۔

۱۲ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا مومن خوفناک خواب دیکھے تو اس کے گناہ جھڑتے ہیں اور اگر اس کا بدن خواری ( بیماری وغیرہ) میں رہے تو بھی اس کے گناہ جھڑتے ہیں۔


جنابِ عیسی(ع) اور صدقہ

۱۳ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جناب عیسیٰ(ع) بن مریم(ع) کا گذار ایک ایسی جماعت کے پاس سے ہوا جو خوشی منارہے تھے جناب عیسی (ع) نے دریافت کیا کہ ان کے خوشی منانے کا کیا سبب ہے بتایا گیا کہ ان میں سے ایک مرد و عورت کی آپس میں شادی ہوئی ہے یہ اس پر خوش ہو رہے ہیں عیسی(ع) نے ان سے فرمایا تم آج خوش ہو رہے ہو مگر کل تم لوگ رو رہے ہوگے  ان میں سے ایک نے پوچھا اس کی کیا وجہ ہے تو فرمایا وہ لڑکی( دلہن ) آج رات مرجائے گی یہ سن کر حضرت عیسیٰ(ع) کے پیرو کہنے لگے خدا کا نبی سچ کہتا ہے کل ایسا ہی ہوگا مگر منافقین کہنے لگے کل کونسا دور ہے گا پتہ چل جائے گا اگلے روز دیکھنے میں آیا کہ وہ لڑکی زندہ ہے لوگوں نے جاکر حضرت عیسی(ع) سے کہا یا روح اﷲ(ع) وہ لڑکی زندہ ہے جس کے بارے میں آپ(ع) نے فرمایا تھاکہ وہ رات کو مرجائے گی حضرت عیسیٰ(ع) نے فرمایا خدا جو چاہتا ہے وہی کرتا ہے تم مجھے اس کے پاس لےچلو۔

جب حضرت عیسیٰ(ع) اور ان کے حواری اس لڑکی کے گھر پہنچے اور دق الباب کیا تو اس کا شوہر بر آمد ہوا عیسی(ع) نے فرمایا تم اپنی بیوی سے اجازت لے کر آؤ میں اس سے ملنا چاہتا ہوں وہ اندر گیا اور بیوی سے کہا کہ روح اﷲ(ع) دروازے پر موجود ہیں اور تجھ سے ملنا چاہتے ہیں اس عورت نے چادر اوڑھی اور حضرت عیسی(ع) اندر تشریف لے گئے اندر جاکر اس سے پوچھا آج رات تو نے کونسا کام کیا ہے اس نےکہا میں نے وہی کیا ہے جو میں ہمیشہ کرتی ہوں ایک سائل شب جمعہ ہمارے گھر کے دروازے پر آیا کرتا تھا میں اسے اتنا کچھ دیا کرتی تھی کہ اس کے اگلے جمعے تک کے لیے کافی ہوتا تھا وہ گذشتہ شب بھی آیا اور صدا لگائی میں اپنے کام کاج میں مشغول تھی گھر میں سے کسی نے اس پر توجہ نہ دی اس نے کئی مرتبہ صدا دی مگر کسی نے  اسے کچھ نہ دیا یہ دیکھ کر میں اٹھی اور اسے اندازے سے کچھ راشن وغیرہ دیدیا حضرت عیسیٰ(ع) نے یہ سنا تو فرمایا تم اپنے بستر سے اٹھو جب وہ اٹھی تو دیکھا کہ اس کے بستر پر ایک موذی سانپ موجود تھا جو شاخِ خرمہ کی مانند بستر پر پڑا تھا اس کی دم اس کے منہ میں تھی حضرت عیسیٰ(ع) نے فرمایا کل رات تو نے صدقہ دیا تھا اسی کی بدولت خدا نے یہ بلا تجھ


 سے ٹال دی اور تیری موت تجھ سے ہٹا دی گئی۔

۱۴ـ          محمد بن منکدر کہتے ہیں کہ میں عون بن عبداﷲ بن مسعود کی عیادت کو گیا اور ان سے کہا کہ مجھے عبداﷲ بن مسعود(رض) کی بیان کردہ کوئی حدیث سنائیں، عون(رض) نے بتایا کہ ان کے والد عبداﷲ بن مسعود(رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم جناب رسول خدا(ص) کی خدمت میں حاضر تھے، ناگاہ جناب رسول خدا(ص) مسکرائے ہم نے عرض کیا یا رسول اﷲ(ص) اس مسکراہٹ کا سبب کیا ہے آپ(ص) نے فرمایا مومن کی بیماری میں بھی عجب اجر ہے اگر مومن جان لے کہ اس کی بیماری خدا کے نزدیک کیا اجر رکھتی ہے تو وہ خدا سے ملاقات تک بیماری کی خواہش رکھے۔

۱۵ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا جو کوئی جمعرات اور شب جمعہ کو مسجد میں صفائی کرے اور مسجد میں سے آنکھ میں پڑنے والے تنکے کے برابر بھی خس و خاشاک باہر نکالے تو خدا اس کے گناہ معاف فرمائے گا۔

۱۶ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا جس کسی کی حدیث (گفتگو، ذکر) قرآن اور اس کا گھر مسجد ہے تو خدا اس کے لیے بہشت میں گھر بنائے گا۔

۱۷ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا جو کوئی مسجد میں اذان سنے اور بغیر کسی عذر کے باہر چلا جائے منافق ہے مگر یہ کہ واپس آئے۔ ( اور نماز ادا کرے)

ابو جرول کا بیان

۱۸ـ          ابوجرول زھیر جو اپنے قبیلے کا سردار تھا بیان کرتا ہے کہ فتح خیبر کے روز ہم جناب رسول خدا(ص) کے اسیر تھے آپ نے عورتوں اور مردوں کو جدا کردیا تھا میں مردوں میں سے اٹھا اور جناب رسول خدا(ص) کے سامنے جاکر بیٹھ گیا مجھے اپنی جوانی  کے دنوں میں کہے ہوئے شعر یاد آئے جو میں نے جناب رسول خدا(ص) کے سامنے پڑھے میں نے کہا۔

اے رسول خدا(ص) ہم پر کرم فرمائیں آپ(ص) دلیر ہیں اور ہم آپ(ص) سے امید رکھتے ہیں اگر آپ(ص) ہم پر کرم کریں گے تو یہ ہمارے لیے باعث عبرت ہوگا۔ تکلیف و حزن ہمارے لیے ہے اور ہم


سب افسردہ ہیں اور ہمارے دل تنگ ہیں کیا کسی بردبار کے ہاتھ میں خیر اور شر دونوں اکٹھے ہوسکتے ہیں یہ کونسا کرم ہے کہ شیر خوار کے مقابلے مین شہہ سوار کو لاکھڑا کیا جائے اور یہ کیسی جنگ ہے کہ ایک طرف بچے ہیں دوسری طرف گھوڑ سوار ہم پر یہی ستم کافی ہے کہ ہم نے کفرانِ نعمت کیا ہے۔

ہم آپ(ص) سے معافی کے طلب گار ہیں کیونکہ جسے آپ(ص) معاف فرمادیں اسے خدا بھی معاف فرمادیتا ہے قیامت کے دن آپ(ص) ہی کامیاب ہیں۔

یہ سن کر جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا میں اپنا اور اولاد عبدالمطلب(ع) کا حصہ تمہیں دیتا ہوں یہ دیکھ کر انصار نے بھی کہا کہ ہمارے ہاتھ جو کچھ آیا ہے خدا اور اس کے رسول (ص) کا ہے وہ بھی ہم تمہیں دیتے ہیں۔


مجلس نمبر۷۶

(۱۹جمادی الثانی سنہ۳۶۸ھ)

جناب سجاد(ع) کا خطبہ

۱ـ           سعید بن مسیت کہتے ہیں کہ امام چہارم ہر جمعہ کو لوگوں کی ںصیحت اور آخرت کی تشویش اجاگر کرنے کے واسطے خطبہ دیا کرتے یہ خطبہ انہیں خطبوں میں سے ایک ہے جسے میں نے لکھا اور حفظ کیا۔

امام(ع) نے فرمایا لوگو خدا سے ڈرو اور جان لو کہ اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے تمہارے جو اعمال اس دنیا میں ہیں وہ اس دن حاضر کیے جائیں گے اور تمہیں دکھائے جائیں گے کہ اچھے ہیں یا برے۔ اگر برے ہوں گے تو تم ان سے میلوں کی دوری کی خواہش کرو گے، خدا نے تمہیں اس لیے پیدا کیا کہ تم برے کردار سے دوری اختیار کرو تم پر وائے ہو ابن آدم(ع) کہ تم غفلت میں ہو اور نامہء حساب رکھتے ہو اے ابن آدم(ع) تیری موت ہر شے سے پہلے آنے والی ہے لالچ نے اپنا رخ تیری طرف کرلیا ہے اور تم اسی میں اپنی عمر گزار چکے  ہو گے، جب ملک الموت تجھے پکڑ کر تنہائی کے گھر میں داخل کریں گے اور تیری روح پلٹائی جائی گی تو دو فرشتے منکر،نکیر تجھ سے پوچھ گچھ کے لیے آئیں گے وہ بہت سخت امتحان ہے آگاہ ہوجاؤ کہ کیا تم اس کی عبادت کرتے ہو پھر نبی(ص) کے بارے میں پوچھا جائیگا پھر دین کے بارے میں کہ جس کے مقرر کردہ احکامات تم نے انجام دیے یا نہیں پھر اس پیغمبر(ص) کے بارے میں پوچھا جائے گا جس کے فرمان پر تم عمل کرتے ہو۔ پھر کتاب جس کی تم تلاوت کرتے ہو پھر امام(ع) جسے تم دوست رکھتے ہو کے بارے میں سوال ہوگا پھر تمہاری عمر کے بارے میں پوچھا جائیگا کہ کہاں گذاری پھر مال کے بارے میں کہ کہاں سے حاصل کیا اور کہاں خرچ کیا لہذا دفاع کا ذریعہ پیدا کرو اور خود کو جواب کے لیے آمادہ کرو اس سے


پہلے کہ تمہاری پوچھ گچھ ہو اور تمہارا امتحان لیا جائے۔

 اگر تم اس دین کے مومن و متقی اور عارف ہو اور صادقین کے پیرؤ اور اولیاء خدا کے دوست ہوتو اس وقت تمہارے منہ میں دلیل ہوگی، اپنی زبان کو حق بات بیان کرنے والا بناؤ بہتر جواب دو اور خیر و حسنات کی خوبی کے ساتھ خدا کی طرف سے بہشت کی خوشخبری پاؤ کہ اس پر تم سے پہلے فرشتے خوش ہوتے ہیں اور اگر اس طرح نہ  ہوتو تمہارے منہ میں دلیل بے ہودہ ہوگی جس کا جواب دوزخ ہے فرشتے تیرا استقبال عذاب سے کریںگے جو بد مزہ ترین حمیم اور خوفناک تر ہے اور اس دن تمام لوگ اکھٹے کیے جائیں گے وہ دن مشہور ہے خدا اس دن تمام اولین و آخرین کو جمع کرے گا یہ وہ دن ہے جس دن صور پھونکا جائیگا اور تمام اہل قبور باہر نکل آئیں گے اس دن بہت شور ہوگا جو دلوں کو پکڑے ہوئے  ہوگا یہ وہ دن ہوگا کہ قدموں میں لغزش آجائے گی اس دن کسی سے نا اںصافی نہیں ہوگی کوئی عذر قابل قبول نہ ہوگا کوئی مغفرت قبول نہ کیا جائے گی نیکیوں اور گناہوں کی سزا و جزا حساب سے ملے گی مومن کو بد کرداری کی سزا نہ ملے گی اور بدکردار کو مومن کی خبر نہ دی جائے گی اگر کسی نے ذرہ برابر بھی کوئی نیک عمل کیا ہوگا تو اسے اس کی جزا ملے گی اور اگر ذرہ برابر بھی عمل بد کیا ہوگا تو اسے اس کی سزا دی جائے گی۔

اے لوگو گناہوں اور نافرمانی سے توبہ کرو کہ خدا نے اس سے منع فرمایا ہے تم توحید پر قائم رہو کتابِ صادق پر ایمان لاؤ  دروغ گوئی کرنے والا خدا سے امان نہیں پائے گا اور اس کی سخت گیری دیکھے گا اور یہ اس لیے ہوگا کہ شیطان لعین نے تمہیں دینا میں شہوت رانی اور حرام کاموں کی طرف بلایا خدا فرماتا ہے ” بیشک جو لوگ تقوی اختیار کرتے ہیں جب شیطان کی ولگردی  ان کو پہنچے تو یاد آور ہوتے ہیں اور بینا ہوتے ہیں اور اپنے دلوں میں خوف خدا بیدا کرتے ہیں اور یاد میں لاتے ہیں جو کچھ اس سے واپس ہو اس کا تم سے ثواب کا وعدہ کیا گیا ہے اور سخت ترین سزا سے ڈرے ہوئے ہیں“ جو کوئی اس چیز سے ڈرے اس سے دور رہے اور جو کوئی اس چیز (بدی) سے ڈرے وہ غافلوں سے نہیں اور مائل آسائش نہیں اور اگر ہوگا تو بدکاری کی طرف مائل ہوگا  خدا فرماتا ہے” جو بری چال چلتے ہیں کیا وہ اس سے مطمئن ہوگئے ہیں کہ خدا ان کو زمین میں دھنسا دے


 یا عذاب ان پر اس طرح آئے کہ وہ کچھ نہ سمجھیں یا ان کی آمد و رفت میں ان کو گرفتار کرے کہ وہ خدا کو عاجز نہیں کرسکتے یا ان کو ڈر کی حالت میں دھر پکڑے بیشک تمہارا پروردگار بڑا نرمی کے ساتھ معاملہ کرنے والا بڑا رحم کرنے والا ہے۔ (نحل، ۴۶)اے لوگو پرہیز کرو اس سے جس کا خدا نے حکم دیا ہے اور جو کچھ ستم گاروں سے کیا گیا ہے اس سے نصیحت لو کہ اس کا ذکر قرآن مجید میں کیا گیا ہے ستم گاروں سے وعدہ کیا گیا ہے کہ وہ امان میں نہیں ہیں۔ کہیں ایسا نہ کہ یہ تم پر نازل کردیا جائے خدا کی قسم تمہیں نصیحت پہنچائی گئی ہے وہ بندہ خوش بخت ہے ج ودوسروں سے نصیحت قبول کرے لوگو دیکھو جو تم سے پہلے کی اقوام میں ظالم تھے ان  کے ساتھ کیا کیا گیا خدا فرماتا ہے ” کتنی ہی بستیاں جو نافرمان تھیں اجاڑ دیں اور ان کے اجاڑنے کے بعد اور لوگ پیدا کردیئے پھر جس وقت انہوں نے ہمارے عذاب کو محسوس کیا تو لگے وہاں سے تیز تیز بھاگنے اب تیز نہ بھاگو اور جہاں تم کو آسائش ملا کرتی تھی اس مقام کی طرف اور اپنے گھروں کی طرف لوٹ کرجاؤ تاکہ تم سے پوچھ گچھ کی جائے وہ بولے کہ ہائے خرابی ہماری ہم تو یقینا نافرمان تھے پس وہ برابر یہی پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے ان کو مار کر کٹی ہوئی کھیتی کا سا ڈھیر لگادیا۔“ ( انبیاء، ۴۶)

پس اے لوگو اگر تم یہ کہو کہ خدا کی مراد یہاں مشرکین سے ہے تو ایسا نہیں ہوسکتا اس لیے کہ خدا آگے فرماتا ہے ” اور ہم قیامت کے دن انصاف کی میزانیں قائم کریں گے پس کسی نفس پر ذرا سا بھی ظلم نہ کیا جائے گا اور اگر رائی کے دانے کے برابر بھی عمل ہوگا تو ہم اسے لا حاضر کریں گے اور حساب لینے کو ہم ہی کافی ہیں۔ ( انبیاء، ۴۷)

اے بندگان خدا آگاہ رہو کہ مشرکین کے لیے نہ تو میزانیں قائم کی جائیں گی اور نہ ہی حساب کے دفتر کھولے جائیں گے ان کی تو ٹولیاں کی ٹولیاں جہنم میں بھیج دی بندگان خدا سے ڈرتے رہو جان لوکہ خدا نے اس دنیا اور اس کے نقد کو اپنے دوستوں کے لیے اختیار نہیں کیا اور انہیں تشویش میں نہیں ڈالا اور ان کے لیے دنیا کی آسائش و خوشی نہیں رکھی  خدا نے بیشک دنیا اور اس کے اہل کو آزمائش کے لیے پیدا کیا ہے تاکہ آزمائے کہ ان میں سے کون آخرت کے لیے بہتر عمل کرتا ہے خدا


 مثالیں دے کر اور طرح طرح کی آیات سے سمجھاتا ہے جو عقل مندوں کے لیے ہیں اے مومنین تم ان عقل مندوں میں سے ہو جاؤ جو طاقت ( اچھے اعمال کی) رکھتے ہیں، خدا کے سوا کوئی وسیلہ نہیں دینا سے بے رغبت رہو کہ خدا نے دنیا کی بے رغبتی کا حکم دیا ہے خدا فرماتا ہے” سوائے اس کے نہیں ہے کہ دنیا کی زندگی کی مثال پانی کی سی جس کو ہم نے آسمان سے اتارا پھر اس کے ساتھ زمین کی نباتات۔۔۔۔ تا آخر ( یونس ، ۲۴)اے خدا کے بندو اس مرد کی طرح ہوجاؤ جو دینا کو دیکھتا ہے مگر اس پر تکیہ نہیں کرتا خدا نے اپنے پیغمبر محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا سے فرمایا کہ ایسا بندہ (نیکوکار) اس لیے تکیہ ( دنیا پر) نہیں کرتا تاکہ ستم نہ کرے اور اسے آگ نہ پکڑے اور دنیا کی آسائشات پر اس لیے راضی نہیں کہ وہ جانتا ہے کہ دائمی گھر اور وطن کونسا ہے کیوںکہ دنیا کوچ کا گھر ہے اور دارِ کفایت ہے اور کردار کا آئینہ ہے تم بہتر عمل کا توشہ لے لو اس سے پہلے کہ یہاں سے جانا پڑے اس سے پہلے کہ خدا اس کی ویرانی کی اجازت دے اور اسے ویران کرے بندے نے اس کے آغاز سے اس میں آبادی کی اور اس کا آغاز کیا لیکن اس کی میراث یہی ہے تم توشہ تقوی اختیار کرنے کے لیے خدا سے مدد طلب کرو خدا نے تمہیں اس دنیا اور اس کی آسائش کے درمیان زہد رہنے کے لیے خلق اور پیدا کیا تاکہ ہم نیک نیک عمل کرنے والے اور ثواب آخرت کے امیدوار رہیں کیونکہ ہم اسی کے ساتھ ہیں اور وہی حق ہے۔

۲ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا چوپایہ اپنے مالک پر سات حقوق رکھتا ہے۔

     اول : اس پر اس کی طاقت سے زیادہ وزن نہ رکھے۔

     دوئم : اس کی پشت پر سوار رہو کر لوگوں سے بات چیت نہ کرتا رہے۔

     سوئم : جب منزل پر پہنچے تو سب سے پہلے اس پر لدا وزن اتارے۔

     چہارم :  اس کے چہرے پر ضرب نہ لگائے کیونکہ چو پایہ تسبیح کرتا ہے۔

     پنجم :   جب پانی میسر ہوتو اسے پانی دے۔

     ششم :  اگر چوپایہ  بھاگ جائے تو اسے نہ مارے۔

     ہفتم : اگر غلطی کرے تو اسے اس کی طاقت کے مطابق سزادے کیونکہ جو کچھ وہ دیکھتا ہے تم


 نہیں دیکھ سکتے۔

۳ـ اصبغ بن نباتہ کہتے ہیں کہ میں نے جناب امیر(ع) کی سواری کی رکاب تھامی تاکہ آپ اس میں پاؤں رکھ کر سواری ہوں تو آپ(ع) نے سر اٹھا کر دیکھا اور مسکرائے میں جناب امیر(ع) سے اس مسکراہٹ کا سبب دریافت کیا تو فرمایا اے اصبغ مجھے وہ موقع یاد آگیا جب میں نے جناب رسول خدا(ص) کی سواری شہبا کی رکاب تھام کر جناب رسول خدا(ص) کو سوار کروانا چاہا تھا تو وہ بھی مسکرائے تھے اور فریاد تھا اے علی(ع) وہ بندہ خدا نہیں ہے کہ جب سواری پر سوار ہونے لگے تو آیت الکرسی نہ پڑھے اور پھر کہے” استغفر اﷲ الذی لا الہ ہو الحی القیوم واتوب الیہ“ ترجمہ ” خدایا میرے گناہوں کو معاف فرمادے تیرے سوا کوئی معاف فرمانے والا نہیں ہے“ اس پر خدا فرماتا ہے تم گواہ رہو میں نے اس کے گناہ معاف کردیئے ہیں۔

۴ـ امام صادق(ع) فرماتے ہیں کہ سب سے  پہلی باجماعت نماز جو جناب رسول خدا(ع) نے پڑھی وہ تنہا امیرالمومنین(ع) کے ساتھ تھی اس دوران میں جناب ابو طالب(ع) وہاں سے گزر ہوا ان کے ہمراہ جعفر بن ابی طالب(ع) تھے ابو طالب(ع) نے جعفر(ع) سے فرمایا اے فرزند تم اپنے چچا کے بیٹے کے پہلو میں کھڑے ہو جاؤ جب جناب رسول خدا(ص) نے محسوس کیا کہ ان(ص) کے پہلو میں جعفر(ع) کھڑے ہیں تو انہوں نے خود کو آگے کر لیا اور پھر جناب ابو طالب(ع) کی طرف رخ کیا اور یہ اشعار دھرائے۔

ہر سختی کے موقع پر جعفر(ع) اور علی(ع) میرے مددگار ہیں

                                جب تک ان کا ساتھ ہے میں بے سہارا نہیں ہوں۔

میں جوانمرد بیٹے نہیں رکھتا جو میرے مددگار ہوں

                                اب یہ تم پر ہے کہ تم محمد(ص) سے اپنا ہاتھ مت اٹھاؤ

کیونکہ بادم و دیوار پر تمہارے چچا کے بیٹے موجود ہیں

( یاد رہے کہ دشمن جب حملہ کرتا ہے تو وہ چھت یا دیوار سے اندر آتا ہے۔)

۵ـ جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا روز قیامت تم سب میں سے میرے نزدیک ترین اور میری شفاعت کا حقدار وہ ہوگا جو سچ بولنے والا، امانت کا ادا کرنے والا اور خوش خلق ہوگا۔


۶ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا ایک مرتبہ جناب رسول خدا(ص) اپنے اصحاب کے ہمراہ ایک راستے سے مدینے کی طرف جارہے تھے کہ اچانک آپ نے اپنے پاؤں رکاب سے نکال لیے اور زمین پر سجدہ ریز ہوگئے اور ایک طولانی سجدہ دیا آپ(ص) نے اپنے سر مبارک کو اٹھایا اور سواری پر سوار ہوگئے آپ(ص) کے اصحاب نے اس کا سبب دریافت کیا تو فرمایا جبرائیل(ع) تشریف لائے تھے اور میرے رب کا سلام مجھے پہنچایا پھر مجھے خوشخبری دی کہ خدا مجھے میری امت میں رسوا نہ کرے گا کیونکہ میں کوئی ایسا مال نہیں رکھتا جس میں نے اس کے شکرانے کے طور پر تصدق نہ کردیا ہو اور کوئی ایسا غلام نہیں رکھتا جسے میں نے خدا کی راہ میں آزاد کرنا ہو لہذا اس خوش خبری پر میں نے اس کا شکر ادا کیا۔

۷ـ          رسول خدا(ص) نے فرمایا جو کوئی اس دنیا میں قنوت کو طویل کرتا ہے خدا آخرت میں اس کی آسائشوں کو طولانی کرتا ہے۔

۸ـ          ہارون رشید نے امام موسیٰ کاظم(ع) کا لکھا کہ مجھے نصیحت کریں جو مختصر ہو آپ(ص) نے جواب میں لکھا کوئی شئی ایسی نہیں جو تیری آنکھ دیکھے مگر اس میں نصیحت نہ ہو۔


مجلس نمبر۷۷

(۲۲ جمادی الثانی سنہ۳۶۸ھ)

۱ـ                   جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا پیغمبروں سے کوئی بری مثالیں منسوب نہیں ہیں یہ لوگ ہی ہیں جو شرم نہیں رکھتے اور جو چاہتے ہیں کرتے ہیں۔

موت کا خاتمہ

۲ـ                   امام صادق(ع) نے فرمایا کہ ایک پیغمبر کے پاس ان کی قوم کے افراد گئے اور ان سے کہا کہ دعا فرمائیں تاکہ خدا ہمارے درمیان سے موت اٹھا لے اس پیغمبر(ع) نے ان کے لیے دعا کی اور اس قوم پر سے موت کا خاتمہ ہوگیا، ایسا ہونے سے ان کی تعداد میں اضافہ ہونے  لگا اور وہ بہتات میں ہوگئے اور ان کے لیے جگہ  تنگ پڑگئی ان کی نسلوں کی نسلیں پھلنے پھولنے لگیں اور حالت یہ ہوگئی کہ جب صبح ہوتی تو اس قوم کے نوجوان اپنے ماں باپ پھر ان کے ماں باپ پھر ان کے اجداد کو کھانا دیتے، ان کے کام کاج کرتے اور دیکھ بھال میں لگے رہتے یوں رات دن اسی میں تمام ہوجاتے اس نسل در نسل خدمت نے ان کی طلب معاش کو روک دیا جب یہ حالات پیدا ہوگئے تو وہ دوبارہ اس پیغمبر(ع) کے پاس گئے اور درخواست کی کہ خدا سے دعا کریں تاکہ وہ ہمیں پہلے والی حالت پر پلٹا دے لہذا اس پیغمبر(ع) کی دوبارہ دعا سے خدا نے انہیں موت کی طرف پلٹا دیا۔

۳ـ                  ابن عباس(رض) تفسیر قول خدا” جب ہوش میں آئے کہا منزہ ہے تو میں تم سے واپس ہوتا ہوں اور میں اول مومن ہوں“ (اعراف، ۱۴۳)  کے ضمن  میں فرمایا کہ حضرت موسی(ع) نے  خدائے سبحان سے فرمایا میں نے جو آپ کو دیکھنے کی خواہش کی اس سے میں توبہ کرتا ہوں کہ آپ کو دیکھا نہیں جاسکتا اور میں اول مومن ہوں ( بنی اسرائیل میں سے)

۴ـ                  امام صادق(ع) نے فرمایا کہ موسی(ع) جب مناجات کے لیے کوہ طور پر گئے تو انہوں نے پروردگار سے درخواست کی کہ مجھے اپنے خزانے دکھا خدا نے فرمایا موسی(ع) میرا خزانہ یہی ہے کہ جب


 میں کسی کے لیے کہتا ہوں کہ ” ہو جا“ تو وہ خلق ہوجاتا ہے۔

۵ـ                  امام صادق(ع) نے فرمایا کہ موسی(ع) نے اپنے پروردگار سے تین بار درخواست کی کہ مجھے وصیت کریں تو پروردگار نے انہیں تین بار وصیت فرمائی چوتھی اور پانچویں بار پرروردگار نے ان کو ان کی والدہ اور چھٹی بار ان کے والد کے بارے میں وصیت کی اور یہ اس لیے تھا کہ والدہ اپنے فرزند کی نیکی پر دو ثلث اور والد ایک ثلث حق رکھتا ہے۔

۶ـ                   امام صادق(ع) نے فرمایا خدا تعالیٰ نے موسی(ع) کو وحی کی اور فرمایا اے موسی(ع) بوسیدہ لباس زیب تن کرو اپنے دل کو پاک رکھو گوشہ نشینی اختیار کرو شب زندہ دار رہو آسمانوں میں تمہیں پہچانا جاتا ہے زمین کے لوگوں سے پوشیدگی اختیار کرو۔ اے موسی(ع) کہیں یہ نہ ہو کہ ہٹ دھرمی اختیار کر لو اور منزل کے تعین کے بغیر راہ چلو اور بے سبب مسکراؤ۔ اے ابن عمران(ع) اپنی خطاؤں پر گریہ کرو۔

حضرت نوح(ع) کی عمر

۷ـ                  امام صادق(ع) نے فرمایا حضرت نوح(ع) کی عمر دو ہزار پانچ سو سال (۲۵۰۰) تھی اپنی عمر کے آٹھ سو پچاس (۸۵۰) سال انہوں نے بعثت سے پہلے گزارے پھر نو سو پچاس  سال(۹۵۰) انہوں نے اپنی قوم کو ہدایت کی طرف بلانے میں گزار دیئے اور دو سو(۲۰۰)سال انہوں نے کشتی بنانے میں لگائے اور طوفان نوح(ع) کے بعد وہ پانچ سو(۵۰۰) سال زندہ رہے جبطوفان کا پانی خشک ہوا تو شہروں کی بنیاد ڈالی اور اپنی اولاد کو ان میں آباد کیا جب ان کی عمر دو ہزار پانچ سو (۲۵۰۰) سال ہوگئی تو ملک الموت ان کے پاس تشریف لائے۔ نوح(ع) دھوپ میں بیٹھے تھے ملک الموت نے کہا آپ پر سلام ہو اے نوح(ع)، حضرت نوح(ع) نے پوچھا اے ملک الموت کس لیے آئے ہو۔ ملک الموت نے کہا میں آپ(ع) کی روح قبض کرنے آیا ہوں نوح(ع) نے کہا کیا اتنی مہلت دو گے کہ میں دھوپ سے سائے میں چلا جاؤں ملک الموت نے کہا ہاں چلے جائیے  پس نوح(ع) سائے میں گئے اور کہا اے ملک الموت دنیا میں میری عمر اس دھوپ سے سائے میں آنے کی مانند تھی لہذا جو حکم دیا  گیا ہے اسے پورا کرو تو ملک الموت نے حضرت نوح(ع) کی روح مقدس قبض کر لی۔


حضرت عیسی(ع) کا ایک قبر کے پاس سے گزر

۸ـ                      جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا حضرت عیسی(ع) کا گزر ایک ایسی قبر کے پاس سے ہوا جس کے مردے کو عذاب  دیا جارہا تھا دوسرے سال ان کا گزر دوبارہ اس قبر کے پاس سے ہوا تو اس مردے پر عذاب ختم ہو چکا تھا عیسی(ع) نے پرروردگار سے عرض کیا اے پروردگار جب میں پچھلے سال یہاں سے گزرا تھا تو یہ عذاب میں تھا جب کہ اب یہ عذاب میں نہیں اس کی کیا وجہ ہے خدا نے وحی فرمائی۔ اے عیسی(ع) اس شخص کا ایک فرزند ہے جو اب جوان ہوچکا ہے اس نے ایک ایسے راستے کو درست کیا ہے جس پر سے مسلمانوں کا گزر ہوتا ہے اس کے علاوہ اس نے ایک یتیم کو پناہ دی ہے اس لیے اس کے صلے میں، میں نے اس کے باپ کو معاف فرمادیا ہے عیسی(ع) بن مریم(ع) نے جناب یحی(ع) سے فرمایا اگر لوگ تمہارے حق میں ایسی بدی کا تذکرہ کریں جو تم میں موجود ہو تو سمجھو کہ وہ گناہ ہے تم اس سے توبہ کر لو اور مغفرت طلب کرو اگر وہ تمہارے حق میں کسی ایسے گناہ کا تذکرہ کریں جو تم میں موجود نہ ہو تو وہ تمہارے لیے  ایک ایسی نیکی ہے جو تمہیں بغیر مشقت کے مل گئی ہے۔

۹ـ                      جناب حسن بن علی(ع) فرماتے ہیں کہ امیرالمومنین(ع) کے سامنے کوئی پرچم ایسا نہیں آیا جسے خدا نے سرنگوں نہ کیا ہو اور کوئی جنگ ایسی نہیں لڑی جس میں آپ مغلوب اور خواری سے واپس ہوئے ہوں امیرالمومنین(ع) نے روز احد ذوالفقار کے ساتھ اس طرح جنگ کی کہ نجات یافتہ قرار پائے دوران جنگ جبرائیل(ع) آپ(ع) کے دائیں طرف میکائیل(ع) آپ(ع) کے بائیں طرف اور ملک الموت آپ(ع) کے سامنے تھے۔

روزِ خیبر علی(ع) کو علم عطا کیا جانا

۱۰ـ                      عبداﷲ بن عمرو بن عاص سے روایت ہے کہ روزِ خیبر جناب رسول خدا(ص) نے جنگ کا پرچم اپنے ایک ایسے صحابی کو دیا اور لڑائی کے لیے بھیجا جوناکام  واپس ہوا اس کے ساتھی اسے ڈرنے والا اور وہ انہیں خوف کھانے والا پکارتا رہا یہ دیکھ کر جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا کل میں پرچم اس مرد کو دوں گا جو خدا اور اس کے رسول(ص) کو دوست رکھتا ہے اور جسے خدا اور اس کا رسول(ص) دوست رکھتے ہیں وہ


غیر فرار ہوگا اور اس کے ہاتھ سے فتح نصیب ہوگی۔ جب صبح ہوئی تو آپ(ص) نے فرمایا علی(ع) کہاں ہیں انہیں پیش کیا جائے، بتایا گیا کہ انہیں آشوب چشم ہے آپ(ص) نے فرمایا انہیں میرے پاس لایا جائے جب جناب امیر(ع) تشریف لائے تو حضور سرور کونین(ص) نے اپنا لعاب دہن جناب امیر(ع) کی آنکھوں میں لگایا اور فرمایا اے خدایا تو اس(علی(ع)) سے سردی و گرمی کے اثر کو دور فرما پھر آپ(ص) نے پرچم جناب امیر(ع) کے حوالے کیا اور وہ جنگ  کے لیے گئے اور تب تک واپس نہ آئے جب تک فتح حاصل نہ کر لی عبداﷲ بیان کرتا ہے کہ علی(ع) جب قلعہ قموس کے نزدیک ہوئے تو دشمنان خدا، یہودیوں نے ان پر تیروں اور پتھروں  کی بارش کردی مگر آپ(ع) دلیرانہ بڑھتے ہوئے قلعے کے دروازے تک جا پہنچے غضبناک حالت میں اپنا پاؤں رکاب سے باہر نکالا اور سواری سے اتر گئے پھر قلعے کے دروازے کی چوکھٹ میں اپنے ہاتھ گاڑ دیے اور اس کا اکھاڑا کر چالیس زراع دور اپنے پس پشت پھینک دیا اس واقعہ کی مناسبت سے ابن عمر(رض) کہتے ہین کہ ہمیں اس پر تعجب نہیں کہ علی(ع) کے ہاتھ قلعہ فتح ہوا ہمیں تعجب اس بات پر ہے کہ انہوں نے کس طرح ایک ایسے  دروازے کو اکھاڑ کر چالیس زراع پیچھے پھینک دیا جسے چالیس آدمی اٹھانے سے قاصر تھے، اس بات کی وضاحت جناب رسول خدا(ص) نے فرمائی کہ علی(ع) کے دروازہ اکھاڑنے میں فرشتے ان کی مدد فرمارہے تھے  اس سلسلے میں روایت ہے کہ جناب امیر(ع) نے سہل بن حنیف کو لکھا کہ میں نے روزِ خیبر اپنے زور بازو اور قوت بدن سے دروازہ نہیں اکھاڑا بلکہ اسے اکھاڑنے میں میری مدد قوت ربانی نے کی، میری نسبت احمد(ص) سے ہے خدا کی قسم اگر میرے مقابلے پر تمام عرب جنگ کے لیے اکھٹے ہوجائیں تو میں ان سے گریذ نہ کروں گا اور موقع ملا تو سب کی گردنیں اتاروں گا اور جو خوف نہیں کھائے گا اسے بھی موت دامن گیر ہوگی اور اس کا دل واپس ( حق کی طرف) پلٹاؤں گا۔


مجلس نمبر۷۸

(۲۶ جمادی الثانی سنہ۳۶۸ھ)

مواعظِ عیسیٰ(ع)

۱ـ                   امام صادق(ع) فرماتے ہیں کہ جو نصیحتیں خدا نے عیسی بن مریم(ع) کو وحی فرمائیں وہ یہ ہیں۔

خدا نے فرمایا اے عیسی(ع) میں تمہارا اور تمہارے اجداد کا پروردگار ہوں میرا ایک ہی نام ہے میں یکتا و یگانہ ہوں میں نے تنہا ہی ہر چیز کو خلق کیا میری پیدا کی ہوئی تمام چیزیں میری ہی طرف روزِ قیامت پلٹ کر آئیں گی۔ اے عیسیٰ(ع) تو میری برکت اور میرے ہی حکم سے ( صاحب وجود) ہے میرے ہی حکم سے تو مٹی کے پرندے بناکر ان میں جان ڈالتا ہے تو میری ہی مشتاق رہ اور مجھ ہی سے ڈر میرے سوا کوئی پناہ نہیں ہے اے عیسی(ع) میں تمہیں رحمت کے ساتھ اس طرح وصیت کرتا ہوں کہ جس طرح ایک مہربان وصیت کرتا ہے تم نے چند باتیں مجھ طلب کی ہیں جو میری خوشنودی کا باعث ہیں اور  جن کی وجہ سے تم مستحق ولایت ہوئے ہو میں نے تمہیں سال خوردگی (بزرگی) میں مبارک کیا تم جس جگہ ہو مبارک ہو میں گواہی دیتا ہوں کہ تم میرے بندے اورمیری کنیز کے بیٹے ہو اے عیسی(ع) مجھے ہر وقت اپنے دل سے بھی نزدیک جانو اور میری یاد کو معاد کے لیے ذخیرہ بناؤ نوافل سے میرا تقرب حاصل کرو مجھ پر توکل کرو میں تمہاری کفالت کروں گا کسی دوسرے پر تکیہ نہ کرو ورنہ میں تمہیں اسی کے رحم و کرم پر چھوڑ دوں گا اور تمہاری مدد نہ کروں گا اے عیسی(ع) بلاؤں پر صبر کرور اور میری قضا پر راضی رہو میری رضا اسی میں ہے کہ مجھے راضی رکھو میرے حکم کو مانو اور میری نافرمانی نہ کرو۔

اے عیسی(ع) میری یاداپنی زبان سے زندہ رکھو اور میری محبت کو اپنے دل میں قائم کرو اے عیسی(ع) غفلت کے وقت بیدار رہو اور میرے لطف اور حکمت سے فیصلے کرو اے عیسی(ع) مشتاق اور ڈرے ہوئے رہو اور اپنے دل میں خوف رکھو۔ اے عیسی(ع) اپنی راتوں میں مجھ سے دعا کرو تاکہ میری خوشنودی میں


لگے رہو اپنے دن روزے سے گزارو تاکہ تمہاری حجات بار آور ہوں اے عیسی(ع) کار خیر میں جلدی کرو تاکہ ہر جگہ خیر مندی سے پہچانے جاؤ اے عیسی(ع) میرے بندوں کے درمیان میرے حکم کے مطابق خیر خواہی کرو اور میرے عدل کو قائم کرو کہ یہ ہر دل کے درد کی شفا ہے اور ہر اس بیماری کا علاج ہے جو شیطان نے تم پر نازل کی ہے اے عیسی(ع) میں سچ کہتا ہوں مجھ پر ایمان نہیں رکھتا مگر وہ کہ جومیرے خوف میں گریاں ہے اور مجھ سے ثواب کی امید میں ہے میں تمہیں اس پر گواہ بناتا ہوں کہ وہ عذاب سے امن میں ہے جب تک وہ میری ذات اور میری سنت میں تبدیلی نہ کرے۔ اے عیسی(ع) اے دنیا سے لاتعلق اور خدا سے متوسل ہونے والی باکرہ خاتون بتول مریم(ع) کے فرزند اپنی حالت پراس طرح گریہ کرو جس طرح کوئی اپنے اہل و عیال سے رخصت ہوتے وقت روتا ہے اور دنیا کو دشمن رکھتا ہے اور اسے اس سے محبت کرنے والوں کے لیے چھوڑے ہوئے ہے جو کچھ خدا کے پاس ہے اس کے لیے رغبت رکھو۔ اے عیسی(ع) نرمی سے بات کرو سلام میں پہل کرو بیدار رہو کہ نیک لوگوں کی آنکھیں بہتر ہیں قیامت کے سخت ہول اور خوف و زلزلوں سے بچنے کے لیے بیدار رہو اس وقت اہل و عیال کام نہ آئیں گے اور نہ ہی مال کوئی فائدہ دے گا اے عیسی(ع) اپنی آنکھوں میں اس وقت رنج و غم کا سرمہ لگاؤ کہ جس وقت بے ھودہ لوگ ہنس رہے ہوں اے عیسی(ع) خائف و صابر رہو اور یہ تمہارے لیےبہت اچھا ہے اگر تم اس کو پہنچو کہ جس کا وعدہ ہم نے صابرین سے کیا ہے اے عیسی(ع) ہر روز دنیا سے دوری اختیار اور جو مزہ تم نے ترک کردیا ہے اس کے ترک کرنے کا مزہ لو اے عیسی(ع) میں سچ کہتا ہوں کہ دنیا میں تیرا حصہ  یہی ساعت اور یہی دن ہے اس پر خوشی سے شاکر رہو اور درشت و ناہموار کو دیکھنے سے کیا حاصل ہے تم اس میں سے جو بھی لوگے وہ لکھا جائے گا اس میں سے جو بھی خرچ  کرو گے درج کیا جائے گا اے عیسی(ع) میں روز قیامت باز پرس کروں گا لہذا یتیموں پر اس طرح رحم کرو جس طرح میں نے تم رحم کیا اے عیسی(ع) یتیموں پر سختی مت کرو اے عیسی(ع) نماز میں اپنی حالت پر گریہ کرو اور اپنے قدموں کو عبادت گاہ تک کے سفر میں مشغول رکھو مجھے اپنی خوشگوار آواز جو میرے نے ذکر و یاد سے بھری ہو سناتے رہو کیونکہ میں تم سے زیادہ احسان کرنے والا ہوں اے عیسی(ع) کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جن کو میں نے ان کے گناہوں کی وجہ سے


ہلاک کردیا اور تجھے اس ہلاکت سے محفوظ رکھا اے عیسی(ع) کمزوروں سے مہربانی کرو اپنی آنکھیں آسمان کی طرف بلند کر کے رکھ لو۔ اور مجھے پکارو میں تمہارے نزدیک ہوں مجھ سے گریہ و زاری کے ساتھ دعا کرو اے عیسی(ع) جو تم سے پہلے تھے انہیں میں نے اپنے عذاب و انتقام کے لیے پیدا نہیں کیا تھا میں نے اس دنیا کو ثواب حاصل کرنے کے لیے مقرر کیا ہے اے عیسی(ع) تم فنا ہو جاؤ گے اور میں باقی رہوں گا تمہاری زندگی میری طرف سے دی گئی ہے تمہارے مزے کا وقت میرے قبضے میں ہے تمہاری بازگشت میری طرف ہے تمہارا حساب میرے قبضے میں ہے میرے سوا کسی دوسرے سے مت مانگو مجھ ہی سے دعا کرو میں ہی قبول کرتا ہوں۔ اے عیسی(ع) انسان تو بہت زیادہ ہیں مگر ان میں صبر کرنے والے کم ہیں درخت  تو بہت زیادہ ہیں مگر ان میں سے بہتر کم ہیں جب تک درخت کا میوہ نہ چکھ لو اس کی خوبصورتی کے عاشق مت بنو اے عیسی(ع) اس شخص کے حال سے دھوکہ مت کھاؤ جو مجھ سے کشی اور بغاوت کیے ہوئے  اورمیرے ہی دیئے ہوئے رزق پر گزارا کر رہا ہے وہ غیر کی عبادت کرتا ہے مگر مصیبت کے وقت مجھے ہی پکارتا ہے جب میں اس کی فریاد قبول کر لیتا ہوں تو وہ واپس اپنی پرانی حرکت اختیار کرتے ہوئے گناہ اور شرک کی طرف پلٹ جاتا ہے اور مجھ سے سرکشی کرتا ہے اور میرے غضب کا حق دار بن جاتا ہے  مجھے اپنی ذات کی قسم میں اسے ایسے گرفت میں لوں گا کہ پھر اس کے لیے کوئی پناہ گاہ نہیں رہے گی اور بھاگنے کا موقع نہ ہوگا وہ میرے آسمان و زمین سے بھاگ کر کہاں جائے گا اے عیسی(ع) بنی اسرائیل کے ستم گاروں سے کہہ دو کہ جب تک وہ حرام اختیار کیے ہوئے ہیں مجھے نہ پکاریں، بتوں کو میرے گھر میں مت پکارو۔ جو کوئی مجھے سے دعا کرے گا میں قبول کروں گا مگر ان کی قبولیت کو ان پر لعنت بنا دوںگا یہاں تک کہ وہ پرگندہ ہوجائیں۔ اے عیسی(ع) میں کتنی بار انیں اپنی طرف بلاتا ہوں مگر یہ پھر بھی غفلت ہی میں سرمارتے رہتے ہیں اور میری طرف رجوع نہیں کرتے ان کے ذہنوں میں بات آتی ہے مگر ان کے دل اثر نہیں قبول کرتے اور اپنے گناہوں کی وجہ سے میرے غضب کا شکار ہو جاتے ہیں جب کہ مومنین میرے نام سے محبت کرتے ہیں۔ اے عیسی(ع) اپنی زبان کا ظاہر وباطن ایک رکھو تمہارا دل اور آنکھیں یک  جان ہونی چاہیں اور ایک دوسرے کی خوشنودی پر نگران  رہیں اور ایک دوسرے کو حرام سے


 بچائے رہیں اپنی آنکھوں کو اس سے بچائے رہو جس کا کوئی فائدہ نہیں ہے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی شخص کا کسی طرف نظر کرنا اس کے دل میں ناجائز خواہشات کا بیج بودیتا ہے اور وہ خواہشات اسے ہلاک کردیتی ہیں اے عیسی(ع) میرے بندوں پر اسی طرح رحیم و مہربان رہو جس طرح تم چاہتے ہو کہ وہ تم پر رحیم و مہربان رہیں موت کو بہت زیادہ یاد کرو اور یاد رکھو کہ اپنے اہل و عیال سے جدائی اختیار کرنی ہے لعب مت اختیار کرو کیونکہ کھیل دلوں کو فاسد کردیتا ہے میری یاد سے غافل مت رہو کیونکہ غفلت کرنے والا مجھ سے دور رہتا ہے اپنے نیک کردار اور اعمال سے مجھے یاد کرو تاکہ میں تمہیں اپنی رحمت و ثواب میں یاد رکھوں عیسی(ع) گناہ سر زد ہونے کے بعد مجھ سے مغفرت طلب کرو اور توبہ کرنے والوں کو میری یاد دلاؤ یقین رکھو کہ میں توبہ قبول کرتا ہوں مومنین کے قریب رہو اور انہیں حکم دو کہ وہ تمہارے ساتھ مجھے یاد کریں مظلوم سے ہرگز لا پراہ مت ہوجانا کیونکہ مظلوم کی دعا بلند ہوکر میری بارگاہ میں آتی ہے میں نے عہد کیا ہے کہ مظلوم کی دعا آسمانوں کے کھلے دروازوں سے گذر کر میرے پاس آجائے اور میں اسے قبول کروں بیشک اس کی قبولیت میں کچھ تاخیر ہو اے عیسی(ع) جان لو کہ برے لوگوں کی ہم نشینی گمراہ کرنے والی ہے اور برا ساتھی ہلاکت میں ڈال دیتا ہے اس لیے سوچ سمجھ لیا کرو کہ ایسے کی ہم نشینی اختیار نہیں کرنی تم برادرِ مومن کی ہم نشینی اختیار کرو اے عیسی(ع) نیک عمل کرو کہ تمہیں موت آنے تک کی مہلت دی گئی ہے یقینا میں ایک نیکی کا کئی گنا اجر عطا کرتا ہوں بیشک گناہگار کو اس کے گناہ ہلاک کرتے ہیں نیک عمل میں جلدی کرو اور کوشش کرو کیونکہ بہت سی مجالس ایسی ہوتی ہیں کہ جب انسان وہاں سے اٹھتا ہے تو جہنم سے آزاد ہوکر اٹھتا ہے اے عیسی(ع) دنیا کو ترک و منقطع کر دو اور ان لوگوں کے نقش قدم پر چل کر دیکھو جو تم سے پہلے گزرے ہیں تم انہیں کارکر دیکھو وہ تمہیں جواب دیتے ہیں لہذا ان کے حالات سے نصیحت لو یاد رکھو تم بھی زندہ لوگوں کے ہمراہ ان ہی کے ساتھ ملحق ہوجاؤگے اے عیسی(ع) ان لوگوں سے کہہ دو جو مجھ سے سرکشی و نافرمانی کرتے ہیں اور گناہ گاروں کے ساتھ راہ رسم رکھتے ہیں اور میرے عذاب کے امیدوار اور اپنی ہلاکت کے منتظر رہتے ہیں وہ دوسرے لوگوں کے ساتھ ختم و ہلاک کردئیے جائیں گے اے ابن مریم(ع) تمہارا کیا کہنا ، کیا کہنا، اگر تم نے وہ راستے استعمال کیے جن کا خدا نے تمہیں حکم دیا ہے، وہ تم پر


 مہربان و رحیم ہے اس نے تم پر نعمت کی ابتداء کی اور گرامی کیا اور مصیبت و سختی میں تمہاری مدد فرمائی اے عیسی(ع) تم اس کی نافرمانی مت کرو کیونکہ تمہارے اور میرے درمیان یہی عہد ہوا ہے جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں کے درمیان ہوا تھا میں خود اس(عہد) پر گواہ ہون اے عیسی(ع) میں نے اپنی خلق کے درمیان اپنے دین سے بڑھ کر کسی چیز کو گرامی نہیں رکھا اور اپنی رحمت سے بہتر کوئی انعام مقرر نہیں کیا۔ اے عیسی(ع) اپنی ظاہری نجاسات کو پانی اور اپنی باطنی نجاسات کو عبادت سے پاک اور نیکیوں سے پاکیزہ کرو کہ تمہاری بازگشت میری طرف ہے اے عیسی(ع) میری عبادت کے لیے آمادہ رہو کیونکہ جو امر آنے والا ہے یعنی موت وہ نزدیک ہے میری کتاب کی تلاوت طہارت کے ساتھ کرتے رہو اور مجھے یہ آواز حزن  کے سناتے رہو۔

امام صادق(ع) نے فرمایا اس کے علاوہ جو مواعظ عیسی ابن مریم(ع) کو کیے گیے وہ یہ ہیں۔ خدا نے فرمایا اے عیسی(ع) اگر فریب اختیار کرتے ہوتو میری تدبیروں سے ڈرتے رہو اور جب تنہائی میں تم سے کوئی گناہ ہوجائے تو میری یاد فراموش نہ کرنا اے عیسی(ع) بیدار رہو اور میری رحمت سے نا امید مت ہو میری تسبیح کرنے والے لوگوں کے ہمراہ میری تسبیح بیان کرتے رہو اور میرے پاک ناموں کے ساتھ میری پاکی بیان کرتے رہو اے عیسی(ع) بیشک دنیا ایک بدبودار قید خانہ ہے اور لوگوں کے لیے اس قید خانے کو چند چیزوں سے زینت دی گئی ہے جن کے لیے جابر و سرکش لوگ ایک دوسرے کو مار ڈالتے ہیں ہر وقت دنیا سے علیحدہ رہو کیوںکہ اس میں نعمتیں کم اور زائل ہونے والی ہیں اے عیسی(ع) بادشاہی صرف مجھ سہی سے مخصوص ہے میں ہی حقیقی بادشاہ ہوں اگرمیری اطاعت کرو گے تو میں  تمہیں اپنی بہشت میں داخل کردوں گا اور صالحین کی ہمسائیگی عطا کروں گا اے عیسی(ع) دنیا کی عمر بہت مختصر ہے مگ اس کی آرزوئیں بہت طویل ہیں میرے پاس اس سے بہتر گھر ہے جسے دنیا والے بناتے ہیں اے عیسی(ع)  بنی اسرائیل کے ستم گاروں سے کہہ دو کہ تم اس وقت کیا کرو گے جب میں وہ کتاب نکالوں گا جو تمہارے ظاہری اور پوشیدہ رازوں اور جوکچھ تم کیا کرتے تھے کو سچ سچ آشکار کردے گی اے عیسی(ع) بنی اسرائیل کے سرکشوں سے کہہ دو کہ تم اپنے چہرے دھوتے اور صاف کرتے رہو( بناو سنگھار) کیا


تم اس پر متکبر ہو یامیرے سامنے کوئی جرات کرنا چاہتے ہو تم خود کو اس دنیا کی عمدہ خوشبوؤں سے معطر کرتے ہو مگر تمہارے دل سڑے ہوئے مردوں کی طرح متعفن ہیں گویا تم مردار لوگ ہو اے عیسی(ع) تم ان سے کہہ دو کہ اپنے ہاتھوں کو حرام پیشے سے روک لیں اور اپنے کانوں کو بری باتوں کے سننے سے روک لیں اور اپنے دل میری طرف مائل کرلیں کیونکہ میں ان کےچہرے کی خوبصورتی نہیں بلکہ ان کے دلوں کی نیکی چاہتا ہوں اے عیسی(ع) نیکی کرنے سے خوش رہو یہ میریخوشنودی کا سبب ہے تمہارے گناہ جومیرے غضب کا باعث ہیں پر گریہ کرو جو تم اپنے لیے پسند نہیں کرتے وہ دوسروں کے لیے بھی پسند نہ کرو اگر کوئی تمہارے دائیں رخسار پر طمانچہ مارے تو تم اپنا بائیاں رخسار بھی اس کے آگے کردو۔ لوگوں سے محبت کر کے میرا قرب حاصل کرو جس قدر تم سے ممکن ہوکم عقلوں اور جاہلوں سے پرہیز کرو اے عیسی(ع) بنی اسرائیل کے ستم گاروں سے کہہ دو کہ اہل علم و حکمت اور نیک کردار لوگ تو گناہوں سے دور بھاگتے ہیں اورمیرے خوف سے گریہ کرتے ہیں مگر تم ہنستے  ہو اور فخر کرتے ہو کیا تمہارے پاس میرے عذاب سے نجات کا کوئی پروانہ  ہے یا جان بوجھ کر میرے عذاب کو دعوت دیتے ہو تو میں بھی اپنی قسم کھا کر  کہتا ہوں کہ میں تمہیں ائیندہ آنے والوں کے لیے عبرت کا نشان بنا دوںگا۔

اے بن مریم(ع) کنواری بتول کے بیٹے۔ میں تجھے رسولوں کے سردار احمد(ص) کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ جو نورانی چہرے والے اور سرخ اونٹوں کے مالک ہیں جن کا نور دنیا کو روشن کردے گا وہ پاک نفس اورمیرے لیے سخت غضبناک ہوں گے وہ صاحب حیا اور بے حد کریم ہیں وہ  تمام عالمین کے لیے رحمت ہیں اور اولادِ آدم(ع) ک سید و سردار، قیامت کے دن میرے سب سے نزدیک اور سب سے بہتر و بلند ہوں گے اور تمام اولین سے بلندتر اور پیغمبروں میں سے سب سے زیادہ مقرب ہوں گے وہ عرب میں پیدا ہوں گے اور بغیر کسی سے کچھ سیکھے یا پڑھے تمام علوم اولین و آخرین کے ساتھ مبعوث ہوں گے وہ میرے دین کوتبلیغ کریں گے اور تمام مصائب پر صابر و شاکر ہونگے اے عیسی(ع) میں تجھے حکم دیتا ہوں کہ بنی اسرائیل کو بتادو کہ وہ ان کی تصدیق اور مددکریں عیسی(ع) نے کہا معبود وہ (آںحضرت(ص)) کون ہے خدا نے فرمایا اے عیسی(ع) اس سے راضی رہو کہ اسی


میں تیری رضا ہے عرض کیا خدایا میں اس سے راضی ہوں مگر وہ کون ہے ارشاد ہواوہ محمد(ص) ہیں جو تمام لوگوں کے لیے خدا کی طرف سے رسول بنائے گئے ہیں میرے نزدیک ان کا مقام سب سے قریب تر ہےمیں ان کی شفاعت قبول کرتا ہوں اس پیغمبر(ص) اور اس کی امت کا کیا کہنا اگر لوگ مرتے وقت اس کے دین پر درست طریقے سے قائم رہے تو اہل زمین ان کی مدح کریں گے اور اہل آسمان، ان کے لیے مغفرت طلب کریں گے اور وہ امین و بابرکت ہے گناہوں سے پاکیزہ و معصوم ہےمیرے گذشتہ و آئیندہ تمام لوگوں سے بہتر ہے وہ آخری زمانے میں مبعوث ہوگا وہ دنیا میں آئے گا آسمان زمین رحمت کی بارشین برسائے گا اور زمین طرح طرح کی نعمتیں اور آسائش و آسائشات کے سامان اگل دے گی وہ جس شئی کو پسند کرےگا میں اس میں برکت پیدا کردوں گا وہ بہت سی عورتوں سے نکاح کرے گا مگر اس کے فرزند کم ہوں گےوہ مکہ میں جس جگہ ابراہیم(ع) نے کعبہ کی بنیاد رکھی ہے وہاں ساکن ہوگا اے عیسی(ع) اس کا دین سہل اور آسان ہے اس کا قبلہ کعبہ ہوگا وہ میرے برگذیدہ لوگوں میں سے ہے میں اس کےساتھ ہوں اور اس کا گروہ میرا گروہ ہے اس کا کیا کہنا کہ حوض کوثر اس کے لیے اور بہشت عدن میں اعلیٰ ترین مقام اس کے لیے ہے جہاں وہ بہترین زندگی گزارے گا اس کے حوض (کوثر) کے پانی کا رنگ سفید ہے جس میں بہشت کے ہر طعام اور میوے کا مزہ ہے اور اس حوضِ کوثر کےکنارے ستاروں کی تعداد کے برابر جام رکھے ہوں گے جو بھی اس حوض سے یہ شربت پیئے کا ہرگز پیاسا نہ رہے گا تمہارے بعد زمانہ فترت ہوگا اس کے بعد میں اسے مبعوث کروں گا اس کا ظاہر و باطن اس کے افعال کے مطابق ہوگا اور اس کے گفتارو کردار اس کے موافق ہونگے وہ لوگوں کو کسی ایسے امر کی نصیحت اس وقت تک نہیں کرے گا جب  تک خود اس پر عمل نہ کرے اس کا دین دشواری اور آسانی میں جہاد کرنا ہوگا شہروں کے لوگ اس کے مطیع ہونگے اور روم کا بادشاہ اس کے اور اس کے باپ ابراہیم(ع) کے دین کے سامنے سرنگوں ہوجائے گا اس کی ملت، ملت ابراہیمی(ع) ہوگی اور وہ کھانے کے وقت ” بسم اﷲ“ کہے گا سلام بلند کرے گا اور جس وقت لوگ سو رہے ہوں گے نماز ادا کرے گا اس پر دن اور رات میں پانچ وقت کی نمازیں واجب ہوں گی وہ تکبیر سے آغاز کرے گا اور سلام پر ختم کرے گا ہر نماز کے وقت


 لوگوں کو نماز پڑھانے کے لیے اذاندی جائے گی اور لوگ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کے لیے اس طرح صفین بنا کر کھڑے ہوں گے جس طرح ملائکہ صف میں کھڑے ہوتے ہیں اس کا دل نزم اور خوف خدا سے پر ہوگا اور اس کا سینہ نور سے بھرا ہوگا اور اس کی زبان پر حق جاری ہوگا اس کے ساتھ ہر وقت حق ہوگا اس کی آنکھیں سو رہی ہوں گی مگر دل جاگتا ہوگا شفاعت اسی سے مخصوص ہے، اس کی امت کا زمانہ قیامت کے قریب ہوگا اس کی امت میں سے جو اس کی بیعت کرے گا میری رحمت کا حقدار ہوگا مگر جو اس کی بیعت توڑے گا خود پر ظلم کرے گا جو اس کی بیعت سے وفا کرے گا میں اس پر بہشت واجب کروں گا لہذا بنی اسرائیل کے  سرکشوں کو حکم دو کہ اپنی کتابوں سے اس کا نام محو نہ کریں اور میں نے اپنی کتابوں میں اس کی جو صفتیں بیان کی ہیں انہیں تبدیل نہ کریں اے عیسی(ع) میں تمہیں ان امور کی بجا آوری کا حکم دیتا ہوں جو تمہیں مجھ سے قریب کردیں اور ان امور سے تمہیں منع کرتا ہوں جو تمہیں مجھ دور لے جائیں اب ان میں سے جو امور تم بہتر سمجھو اختیار کر لو اے عیسی(ع) میں نے تمہیں اس دنیا میں اس لیے بھیجا ہے تاکہ تم میری اطاعت کرو اور جس سے میں نے منع کیا ہے اس  سے پرہیز کرو اور جو میں نے تمہیں اپنے فضل و کرم سے عطا کیا ہے اسے اس دنیا میں اختیار کرو اپنے اعمال پر گناہ گار کی مانند نظر رکھو دنیا میں زاہد بن کے رہو اس کی لذتوں کو چھوڑ دو اور بے رغبت رہو تا کہ تم رنج نہ پاؤ اے عیسی(ع) تعقل و فکر کرو اپنے ارد گرد نظر دوڑاؤ اور دیکھو کہ ستم گاروں کا کیا حشر ہوا ہے اے عیسی(ع) یہ تمام نصیحتیں تیرےلیے  ہیں اور یہ تمام باتیں سچی ہیں میں حق کا روشن کرنے والا اور سچ کہنے والا ہوں اور اگر میری تنبیہ کرنے کے باوجود بھی تم میری نافرمانی کروگے تو میرے علاوہ کوئی سرپرست و مددگار نہیں پاؤگے اے عیسی(ع) اپنے دل کو میرے خوف سے پست و ذلیل رکھو اور دنیا میں جو تم سے پست ہے اس کے حال پر نظر دوڑاؤ اور میرا شکر بجالاؤ اور دنیا میں دنیاوی لحاظ سے جو تم سے بلند ہیں ان کی حالت کو مت دیکھو یاد رکھو کہ ہر خطا اور گناہ کی بنیاد دنیا کی محبت ہے لہذا دنیا کو دوست مت بناؤ اے عیسی(ع) اپنا دل میری یاد سے خوش رکھو اور خلوت میں مجھے بہت زیادہ یاد رکھو ، یاد رکھو کہ میں توبہ و زاری کو بہت زیادہ دوست رکھتا ہوں لہذا اس بارے میں زندہ رہو مردہ مت بنو۔ اے عیسی(ع) میرے ساتھ کسی کو


 شریک مت ٹھہراؤ میرے غضب سے ڈرتے رہو اور اپنی صحت و طاقت پر مغرور مت ہو، دنیا کو محل قرار نہ دو کہ یہ ایک سائے کی مانند ہے ہر آنے جانے والا اسی کی مانند ہے جو گزر گیا اس کا کوئی اثرف باتی نہیں اور جو کچھ ہاتھ میں ہے وہ اعمال صالح ہیں لہذا اس بارے میں حتی الامکان کوشش کرو جہاں رہو حق کے ساتھ رہو چاہے یہ تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کردیں یا آگ میں جلادیں مجھے جاننے کے بعد کافر مت ہوجانا اور جاہلوں سے مت جاملنا اے عیسی(ع) میری بارگاہ میں گریہ و زاری کرتے رہنا اور اپنے دل کو مجھ سے خائف رکھنا اے عیسی(ع) ہر سختی اور بلا کے وقت مجھے یاد کرنا کیونکہ میں یاد کرنے والوں کی فریاد سننے والا اور مصیبت زدہ لوگوں کی فریاد قبول کرنے والا ہوں اور میں رحم کرنے والوں میں سے سب زیادہ رحیم ہوں۔


مجلس نمبر۷۹

(سلخ جمادی الثانی سنہ۳۶۸ھ)

تفسیر اصطفاء(ع)

ریان بن صلت بیان کرتے ہیں ۔ امام علی رضا علیہ السلام ”مرو“ میں مامون کے دربار میں تشریف لائے اس وقت دربار میں عراق و خراسان کے علماء جمع تھے۔مامون نے علماء سے کہا : آپ حضرات مجھے قرآن کی اس آیت مجیدہ کے متعلق بتائیں۔

ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتابَ الَّذينَ اصْطَفَيْنا مِنْ عِبادِنا “ ( فاطر، ۳۲)

” پھر ہم نے کتاب کا وارث انہیں بنایا  جنہیں اپنے بندوں میں سے چن لیا“

علماء نے کہا : اس سے مراد پوری امت ہے۔

مامون نے امام علی رضا علیہ السلام سے پوچھا : ابو الحسن(ع) آپ اس کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟

امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا : میں وہ نہیں کہتا جو انہوں نے کہا ہے اس (آیت) کے لیے میرا قول یہ ہے

” اﷲ نے اس سے عترت طاہرہ(ع) مراد لی ہے“

مامون نے کہا : امت کو چھوڑ کر اﷲ نے اس سے مراد عترت(ع) کیسے لی ہے؟

امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا: اگر اس سے مراد امت ہوتی تو پوری کی پوری امت ہی جنتی ہوتی کیونکہ اﷲ تعالی نے فرمایا اور پوری آیت یوں ہے۔

” ثُمَّ أَوْرَثْنَاالْكِتابَ الَّذينَ اصْطَفَيْنامِنْ عِبادِنافَمِنْهُمْ ظالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌوَمِنْهُمْ سابِقٌ بِالْخَيْراتِ بإِذْنِ اللَّهِ ذلِكَ هُوَالْفَضْل ُالْكَبيرُ“( فاطر، ۳۲)

” پھر ہم نے کتاب کا وارث ان کو قرار دیا جنہیں اپنے بندوں میں سے چن لیا کیونکہ بعض اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں اور بعض اعتدال پسند ہیں اور بعض خدا کی اجازت سے نیکیوں کی طرف


 سبقت کرنے والے ہیں اور در حقیقت یہی بڑا فضل و شرف ہے“۔

پھر اﷲ تعالی نے سب کو جنت میں جمع کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔

جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهايُحَلَّوْنَ فيهامِنْ أَساوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَلُؤْلُؤاًوَلِباسُهُمْ فيهاحَرير “(فاطر، ۳۳)

” یہ لوگ ہمیشہ رہنے والی جنت میں داخل ہوں گے انہیں سونے کے کنگن اور موتی کے ریورات پہنائے جائیں گے اور ان کا لباس جنت میں ریشم کا ہوگا۔

اس لیے وراثت کتاب، عترت طاہر(ع) کے لیے مخصوص ہے اس سے ان کے غیر مراد نہیں ہیں“

مامون نے کہا : عترت طاہر(ع) کون ہیں؟

امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا : عترت طاہرہ(ع) وہی ہیں جن کی توصیف میں اﷲ تعالی نے فرمایا:

ُ إِنَّمايُريدُاللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْل َالْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهيرا “ ( الاحزاب، ۳۳)

” بس اﷲ کا ارادہ یہ ہے اے اہل بیت(ع) کہ تم سے ہر برائی  کور دور رکھے اور تمہیں اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک وپاکیزہ رکھنے کا حق ہے“۔اہل بیت(ع) وہی ہیں جن کے متعلق رسول خدا صلی اﷲ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ

” میں تمہارے درمیان دو گران قدر چیزیں چھوڑ کر جارہا ہوں اور وہ ہیں اﷲ کی کتاب اور میری عترت اہل بیت(ع) یہ ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ روز قیامت میرےپاس حوض کوثر پر پہنچ جائیں دیکھنا یہ ہے کہ میرے بعد تم ان دونوں سے کیا سلوک کرتے ہو تم انہیں تعلیم مت دینا وہ تم سے زیادہ عالم ہیں“۔

علماء نے کہا : ابوالحسن(ع) آپ ہمیں یہ بتائیں کہ عترت(ع) سے مراد آل ہے یا آل کے علاوہ کچھ اور ہے؟

امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا : عترت(ع) سے مراد آل ہے“

علماء نے کہا ؛ رسول خدا(ص) سے مروی ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا : میری امت میری آل ہے اور اصحاب رسول(ص) نے روایت کی ہےکہ آل محمد(ص) سے مراد امتِ محمد(ص) ہے۔


امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا : مجھے بتاؤ کہ کیا آل پر صدقہ حرام ہے؟ِ

تمام علماء نے کہا : بے شک آل پر صدقہ حرام ہے۔

امام علی رضاعلیہ السلام نے فرمایا : تو کیا امت پر بھی صدقہ حرام ہے؟“

علماء نے کہا : نہیں! امت پر صدقہ حرام نہیں ہے۔

آپ(ع) نے فرمایا ” یہ آل اور امت کا پہلا فرق ہے ۔ تم پر افسوس ہے تم کہاں جا رہے ہو اور جان بوجھ کر ںصیحت سے اعراض کررہے ہو اور کیا تم مسرفین تو نہیں ہو۔ کیا تمہیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ وراثت و طہارت، مصطفی(ص) اور ہدایت یافتہ افراد کے لیے مخصوص ہے دوسروں  کے لیے نہیں ہے“۔

علماء نے کہا : آپ(ع) کے اس قول کی بنیاد کیا ہے؟

آپ(ع) نے فرمایا: قرآن مجید میں اﷲ تعالی کا فرمان اس دعوی کی دلیل ہے۔

وَ لَقَدْأَرْسَلْنانُوحاًوَإِبْراهيمَ وَجَعَلْنافي‏ذُرِّيَّتِهِمَاالنُّبُوَّةَوَالْكِتابَ فَمِنْهُمْ مُهْتَدٍوَكَثيرٌمِنْهُمْ فاسِقُونَ “ ( الحدید، ۲۶)

” اور یقینا ہم نے نوح(ع) اور ابراہیم(ع) کو رسول بناکر بھیجا اورہم نے ان دونوں کی ذریت میں نبوت وکتاب کو رکھا ان میں کچھ ہدایت یافتہ ہیں اور ان میں سے زیادہ تعداد فاسقین کی ہے“

اﷲ تعالی نے وراثت و نبوت کے لیے ہدایت یافتہ افراد کا انتخاب کیا اور فاسقین کو اس سے محروم رکھا۔

( اسی لیے وراثت قرآن بھی ہدایت یافتہ افراد کے لیے مخصوص ہے بدکار افراد قرآن کے وراث نہیں ہوسکتے)

اور کیا تمہیں یہ علم نہیں ہے کہ جب نوح علیہ السلام کا نافرمان بیٹا غرق ہونے لگا تو انہوں نے اس کی نجات کے لیے اﷲ تعالی سے دعا کرتے ہوئے عرض کی تھی۔

رَبِّ إِنَّ ابْني‏مِنْ أَهْلي‏وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقّ ُوَأَنْتَ أَحْكَمُ الْحاكِمين (ہود، ۴۵)

” پروردگار! بیشک میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہے اور تیرا وعدہ حق ہے اور تو احکم الحاکمین ہے“۔

یہ الفاظ  حضرت نوح علیہ السلام نے اس وجہ سے کہے تھے کہ اﷲ تعالی نے ان سے وعدہ


 کیا تھا کہ وہ انہیں اور ان کے اہل کو طوفان سے نجات دے گا اسی لیے انہوں نے خدا کو وعدہ یاد دلاتے ہوئے عرض کیا تھا کہ میرا بیٹا میرے اہل میں سے ہے اور تیرا وعدہ حق ہے۔

اﷲ تعالی نے نوح علیہ السلام کو جواب دیا۔

قالَ يانُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُصالِحٍ فَلاتَسْئَلْنِ ما لَيْسَلَكَ بِهِ عِلْمٌ إِنِّي أَعِظُكَ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْجاهِلين (ہود، ۴۶)

” ارشاد ہوا کہ نوح(ع) یہ تمہارے اہل میں سے نہیں ہے یہ عمل غیر صالح ہے لہذا مجھ سے اس چیز کے بارے میں سوال نہ کرو جس کا تمہیں علم نہیں ہے میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تمہارا شمار جاہلوں میں سے نہ ہوجائے۔

مامون نے کہا : ابوالحسن(ع) ! کیا اﷲ تعالی نے عترت کو دوسرے لوگوں پر فضیلت دی ہے؟

امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا ” اﷲ تعالی نے دوسرے لوگوں پر عترت(ع) کی فضیلت کو اپنی محکم کتاب میں بیان کیا ہے“

مامون نے کہا : وہ اﷲ کی کتاب میں کہاں ہے؟

امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا : عترت(ع) کی فضیلت ان آیات سے ثابت ہوتی ہے۔

إِنَّ اللَّهَ اصْطَفى‏آدَمَ وَنُوحاًوَآلَ إِبْراهيم َوَآلَ عِمْرانَ عَلَى الْعالَمينَ ذُرِّيَّةً بَعْضُها مِنْ بَعْضٍ وَ اللَّهُ سَميعٌ عَليمٌ “ ( آل عمران ، ۳۳، ۳۴)

” بے شک اﷲ نے آدم(ع)، نوح(ع)، آل ابراہیم(ع)، اور آل عمران(ع) کو تمام جہانوں سے منتخب کیا ہے یہ ایک نسل ہے کہ جس ایک کا سلسلہ ایک سے ہے اور اﷲ سننے والا جاننے والا ہے“علاوہ ازیں اﷲ تعالی نے دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا :

أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلى‏ماآتاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ فَقَدْآتَيْناآلَ إِبْراهيمَ الْكِتابَ وَالْحِكْمَةَوَآتَيْناهُمْ مُلْكاًعَظيماً “ ( نساء، ۵۴)

” یا وہ ان لوگوں سے حسد کرتے ہیں جنہیں خدا نے اپنے فضل و کرم سے بہت کچھ عطا کیا ہے یقینا ہم نے آل ابراہیم(ع) کو کتاب حکمت اور ملک عظیم سب کچھ عطا کیا ہے“


پھر ان چند آیات کے بعد اﷲ نے اہل ایمان کو حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:

ياأَيُّهَاالَّذينَآمَنُواأَطيعُوااللَّهَوَأَطيعُواالرَّسُولَوَأُولِيالْأَمْرِمِنْكُمْ “ ( نساء، ۵۹)

” ایمان والو اﷲ کی اطاعت کرو اور رسول (ص) اور صاحبان امر کی اطاعت کرو جو تمہیں میں سے ہیں“

یعنی اﷲ نے انہیں کتاب و حکمت عطا کی ہے اور اسی لیے باقی دنیا نے ان سے حسد کیا اور اﷲ نے انہیں ملک عظیم عطا کیا اور یہاں ” ملک“ سے مراد ان کی اطاعت ہے۔

علماء نے کہا: ابوالحسن(ع)! آپ یہ بتائیں کہ عترت(ع) کے انتخاب کا تذکرہ قرآن مجید میں بھی کہیں موجود ہے؟ امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا :” باطنِ قرآن سے قطع نظر اﷲ تعالی ن ظاہر قرآن میں بارہ مقامات پر عترت اہل بیت(ع) کے اصطفاء و انتخاب کا تذکرہ کیا ہے۔ اور اسی سلسلے کی پہلی آیت یہ ہے۔

وَ أَنْذِرْعَشيرَتَكَالْأَقْرَبينَ(َ و رهطك منهم المخلصين     ) “ ( الشعراء، ۲۱۴)

” اور اے پیغمبر(ص) آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیے ( اور اپنے مخلص گروہ کو ڈرائیے ) “

( یاد رکھیں! ”و رهطك منهم المخلصين“ کے الفاظ ابی بن کعب کی قرآئت میں ہیں اور عبداﷲ بن مسعود کے مصحب میں بھی یہ الفاظ موجود ہیں لہذا دعوت اسلامیہ کے آغاز کے لیے قریبی رشتہ داروں کا انتخاب عترت(ع) کے لیے ایک عظیم اعزاز ہے چنانچہ یہ عترت(ع) کی پہلی فضیلت ہے)۔

اس سلسلے کی دوسری آیت کا تعلق اہل بیت(ع) کے اصطفاء سے  ہے چنانچہ رب العزت کا ارشاد ہے۔

” إِنَّمايُريدُاللَّهُ لِيُذْهِبَعَنْكُمُالرِّجْسَ أَهْل َالْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهيرا “ (الاحزاب، ۳۳)

اے اہل بیت(ع)ااﷲ کاارادہبس یہی ہے کہ وہ تم سے ہر برائی  کور دور رکھے اور تمہیں اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک وپاکیزہ رکھنے کا حق ہے“۔

اہل بیت(ع) کی اس فضیلت سے کوئی ضد کرنے والا جاہل ہی انکار کرسکتا ہے کیونکہ اہل بیت(ع) کی طہارت قرآن مجید سے ثابت ہے۔ اور یہ آںحضرت(ص) کی عترت طاہرہ(ع) کی دوسری فضیلت ہے


عترت طاہرہ(ع) کی تیسری فضیلت یہ ہے کہ جب اﷲ تعالی نے مخلوق میں سے پاک و پاکیزہ افراد کا انتخاب کر لیا اور ان کے حق میں آیت تطہیر نازل کردی تو اس نے اپنے نبی(ص) کو حکم دیا کہ وہ ان افراد کو لے کر ںصاری سے مباہلہ کریں چنانچہ ارشاد ہوا :

فَمَنْ حَاجَّكَ فيهِ مِنْ بَعْدِماجاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعالَوْانَدْعُ أَبْناءَناوَأَبْناءَكُمْ وَنِساءَنا وَ نِساءَكُمْ وَأَنْفُسَناوَأَنْفُسَكُمْ ثُمّ َنَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكاذِبينَ “ ( آل عمران، ۶۱)

پھر جو شخص آپ(ص) کے پاس علم آنے کے بعد آپ(ص) سے جھگڑا کرے تو آپ(ص) کہہ دیں کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو بلاؤ اور ہم اپنی عورتوں کو بلائیں اور تم اپنی عورتوں کو بلاؤ اور ہم اپنی جانوں کو بلائیں اور تم اپنی جانوں کو بلاؤ، پھر ہم مباہلہ کریں اور جھوٹوں پر اﷲ کی لعنت قرار دیں“ اس آیت کے بعد آںحضرت(ص) نے علی(ع) او حسن(ع) و حسین(ع) اور فاطمہ صلوات اﷲ علیہم کو بلایا اور خود کو ان کے ساتھ شامل کیا اور مباہلہ کے لیے چل دیئے۔

امام علیہ السلام نے اہل دربار کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا۔

جانتے ہو ”أَنْفُسَناوَأَنْفُسَكُمْ “ سے کون مراد ہیں؟

علماء نے کہا اس سے رسول خدا صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی اپنی ذات مراد ہے۔

امام علیہ السلام نے فرمایا : نہیں تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے اس سے مراد علی بن ابی طالب(ع) ہیں علی(ع) ہی نفس رسول(ص) ہیں اور نبی اکرم صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث بھی اسی پر دلالت کرتی ہے آپ(ص) نے فرمایا:

لينتبه بنو وليعه اولابعثن اليهم رجلا کنفسی ي عنی علی ابن ابی طالب

بنو ولیعہ باز آجائیں ورنہ  میں ان کی طرف اسے روانہ کروں گا جو میرے نفس کی مانند ہوگا اس سے مراد علی بن ابی طالب(ع) ہیں“ اور”ابناء “سے امام حسن(ع) اور امام حسین علیہما السلام مراد ہیں اور”نساء “ سے حضرت فاطمہ زہرا سلام اﷲ علیہا مراد ہیں۔ اور یہ عترت طاہرہ(ع) کی وہ خصوصیت ہےکہ کوئی ان کے آگے نہیں بڑھ سکتا ہے اور یہ وہ فضیلت ہے جس میں کوئی بشر ان کا شریک نہین ہوسکتا


اور اس شرف میں کوئی ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا اس لیے کہ اﷲ تعالی نے نفس علی(ع) کو نفس محمد(ص) قرار دیا ہے یہ تیسری فضیلت ہے۔اور چوتھی فضیلت یہ ہے کہ مسجد نبوی(ص) میں صحابہ کے دروازے کھلتے تھے آںحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہ و سلم نے عترت طاہرہ(ع) کے علاوہ سب دروازے بند کرادیئے اس پر لوگوں نے بہت باتیں بنائیں اور آںحضرت(ص) کے چچا عباس بن عبدالمطلب(ع) نے آںحضرت(ص) سے اس سلسلے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا۔ کہ یا رسول اﷲ(ص) ! آپ(ص) نے علی (ع) کا دروازہ کھلا رہنے دیا اور ہمیں آپ(ص) نے باہر نکال دیا؟

رسول خدا صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

ما انا ترکت ه و اخرجتکم ولکن اﷲ عزوجل ترک ه و اخرجکم

” میں نے اپنی مرضی سے علی(ع) کو نہیں رہنے دیا اور تمہیں اپنی مرضی سے نہیں نکالا، اﷲ نے اسے رہنے دیا اور تمہیں نکال دیا۔“در اصل آںحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم نے اس عمل سے اپنی حدیث کا عملی ثبوت فراہم کیا۔

يا علی انت منی بمنزلة ه ارون من موسی ۔“

” علی(ع) ! تمہیں مجھ سے وہی نسبت ہے جو ہارون(ع) کو موسی(ع) سے تھی“

علماء نے کہا : ابو الحسن(ع) ! اس کا قرآن مجید میں بھی کوئی حوالہ ہے؟

آپ(ع) نے فرمایا : جی ہاں! اس کے لیے میں تمہیں قرآن مجید کی آیت پڑھ کر سناتا ہوں“۔

علماء نے کہا : آپ(ع) ہمیں سنائیں۔ پھر آپ(ع) نے یہ آیت پڑھی۔

وَ أَوْحَيْناإِلى‏مُوسى‏وَأَخيهِ أَنْ تَبَوَّءالِقَوْمِكُمابِمِصْرَبُيُوتاًوَاجْعَلُوابُيُوتَكُمْ قِبْلَةً “ ( یونس، ۸۷)

” اور ہم نے موسی(ع) اور ان کے بھائی کی طرف وحی کی کہ اپنی قوم کے لیے مصر میں گھر بناؤ اور اپنے گھروں کو قبلہ قرار دو“۔

اس آیت سے حضرت ہارون (ع) کی منزلت ظاہر ہوتی ہے اور رسول خدا(ص) نے تمام دروازوں کو بند کر کے علی(ع) کا دروازہ کھول کر ہارون محمدی(ص) یعنی علی(ع) کی فضیلت ظاہر کی، اور رسول خدا صلی اﷲ


علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔

یہ مسجد کسی جنابت والے کے لیے حلال نہیں ہے سوائے محمد(ص) اور آل محمد(ص) کے“ علماء نے حضرت کا استدالال سن کر کہا: ابو الحسن(ع)! یہ شرح اور یہ بیان صرف اہل بیت رسول(ص) کے پاس ہی مل سکتا ہے۔

امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا : اس کا انکار کون کرسکتا ہے ،کیونکہ آںحضرت(ص) نے فرمایا۔

” انا مدينة العلم وعلی بابها فمن اراد العلم فليات من بابها“

” میں علم کا شہر ہوں اور علی(ع) اس کا دروازہ ہے جسے علم کی ضرورت ہو وہ دروازے پر آئے۔ اور ہم نے عترت طاہرہ(ع) کی فضیلت و شرف و بزرگی ” واصطفا و طہارت“ کے لیے جو وضاحت کی ہے اس کا انکار صرف بدبخت دشمن ہی کرسکتا ہے۔ ” والحمد علی ذالک“پھر امام(ع) نے فرمایا کہ عترت طاہرہ(ع) کی پانچویں فضیلت میں یہ آیت نازل ہوئی کہ عزیز و حکیم خدا نے اہل بیت پیغمبر(ص) کو مخصوص ٹھہراتے ہوئے اور امت میں سے ان کا انتخاب کرتے ہوئے فرمایا

وَ آتِ ذَا الْقُرْبى‏ حَقَّهُ “ ( بنی اسرائیل، ۲۶)

” اور آپ(ص) قرابت دار کو اس کا حق دیں“۔

جب یہ آیت رسول خدا صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوئی تو آپ(ص) نے فرمایا۔

فاطمہ(س) کو بلاؤ چنانچہ سیدہ(س) کوبلایا گیا،

تو آپ(ص) نے فرمایا : فاطمہ(س)!“

انہوں نے کہا : لبیک یا رسول اﷲ(ص)“۔

آںحضرت(ص) نے فرمایا : یہ فدک ہے اس کے حصول کے لیے مسلمانوں نے اونٹ اور گھوڑے نہیں دوڑائے یہ میری ذاتی جاگیر ہے اس میں مسلمانوں کا کوئی حصہ نہیں ہے اور میں یہ جاگیر حکم خدا کے تحت تمہیں دے رہا ہوں تم اسے لے لو۔ یہ جاگیر تیرے اور تیری اولاد کے لیے ہے“۔لہذا یہ آںحضرت(ص) کی عترت طاہرہ(ع) کی پانچویں فضیلت ہے۔

پانچویں فضیلت کے بعد امام(ع) نے فرمایا کہ ارشاد ربانی ہے۔


ِ قُلْ لاأَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراًإِلاَّالْمَوَدَّةَفِي الْقُرْبى‏ وَ مَنْ يَقْتَرِفْ حَسَنَةًنَزِدْلَهُ فيهاحُسْناًإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌشَكُورٌ “ ( شوری، ۲۳)

” آپ(ص) کہہ دیجیے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں چاہتا علاوہ اس کے کہ میرے اقربا سے محبت کرو اور جو شخص بھی کوئی نیکی حاصل کرے گا تو ہم اس کی نیکی میں اضافہ کردیں گے بے شک اﷲ بہت بخشنے والا اور قدر دان ہے“۔

یہ خصوصیت صرف آل(ع) کو حاصل ہے کہ ان کی مودت اجر رسالت ہے انبیائے سابقین(ع) نے اپنی رسالت کی اجرت طلب نہیں کی تھی۔

حضرت نوح علیہ السلام کا یہ فرمان قرآن مجید میں موجود ہے۔

ياقَوْمِلاأَسْئَلُكُمْعَلَيْهِمالاًإِنْأَجرِيَإِلاَّعَلَىاللَّهِوَماأَنَابِطارِدِ الَّذينَآمَنُواإِنَّهُمْمُلاقُوارَبِّهِمْوَلكِنِّيأَراكُمْقَوْماًتَجْهَلُونَ “ ( ھود، ۲۹)

” اے میری قوم! میں تم سے کوئی مال تو نہیں چاہتا ہوں میرا اجر تو اﷲ کے ذمے ہے اور میں صاحبان ایمان کو نکال بھی نہیں سکتا کہ وہ لوگ اپنے پروردگار کی ملاقات کرنے والے ہیں البتہ میں تم کو ایک جاہل قوم تصور کررہا ہوں۔“

حضرت ہود علیہ السلام کا تذکرہ کرتے ہوئے اﷲ تعالی نے ان کا یہ قول نقل کیا ہے۔

ياقَوْمِلاأَسْئَلُكُمْعَلَيْهِأَجْراًإِنْأَجْرِيَإِلاَّعَلَىالَّذيفَطَرَني‏أَفَلاتَعْقِلُونَ “ ( ھود،۵۱)

اے میری قوم میں تم سے کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا میرا اجر تو اس پروردگار کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے کیا تم عقل نہیں رکھتے “۔

الغرض انبیائے سابقین(ع) میں سے کسی نے بھی اجرت طلب نہیں کی مگر اﷲ تعالی نے اپنے حبیب(ص) کو حکم دیا کہ وہ اجرت طلب کریں۔

” قُلْ لاأَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراًإِلاَّالْمَوَدَّةَفِي الْقُرْبى (شوری، ۲۳)

” آپ(ص) کہہ دیں میں تم سے تبلیغ رسالت کی کوئی اجرت طلب نہیں کرتا مگر یہ میرے اقربا سے محبت کرو“۔


اﷲ تعالی نے عترت طاہرہ(ع) کی مودت کو اس لیے اجر رسالت(ص) قرار دیا کیوںکہ وہ جانتا تھا کہ یہ دین سے کبھی منحرف نہیں ہوں گے اور کبھی بھی گمراہی کو اختیار نہیں کریں گے۔

علاوہ ازین یہ اصول فطرت ہے کہ اگر کوئی کسی شخص سے محبت کرتا ہو لیکن اس کے افراد خانہ میں سےکسی سے دشمنی رکھتا ہو تو محبوب یہ سمجھ لیتا ہے کہ اسے مجھ سے کوئی محبت نہیں ہے کیونکہ اگر اسے مجھ سے محبت ہوتی تو پھر میرے پیاروں سے بھی محبت کرتا اس لیے اﷲ تعالی نے عترت طاہرہ(س) کی مودت فرض کی تاکہ رسول خدا صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم یقین کر لیں کہ میرے کلمہ پڑھنے والوں کو مجھ سے حققی محبت ہے اسی لیے جو شخص عترت(ع) سے محبت کرے گا رسول خدا(ص) اس سے کبھی نفرت نہیں کریں گے اور جوشخص حضور(ص) کے افراد خانہ سے نفرت کرے گا تو یقینا حضور اکرم(ص) بھی اسے اپنا محب تصور نہیں کریں گے اور اس سے نفرت کریں گے اس سے بڑھ کر فضیلت و شرف اور کیا ہو کہ عترت طاہرہ(ع) کی محبت کو اﷲنے اجر رسالت قرار دیتے ہوئے فرمایا۔

” قُلْ لاأَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراًإِلاَّالْمَوَدَّةَفِي الْقُرْبى (شوری، ۲۳)

” آپ(ص) کہہ دیں میں تم سے تبلیغ رسالت کی کوئی اجرت طلب نہیں کرتا مگر یہ کہ  میرے قرابت داروں سے محبت رکھو“۔ جب یہ آیت مجیدہ نازل ہوئی تو رسول خدا صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے اصحاب کے درمیان خطبہ دیا، حمد و ثناء کے بعد ارشاد فرمایا۔لوگو اﷲ نے تم پر میرا ایک حق واجب کیا ہے تم وہ حق ادا کروگے ؟ کسی نے بھی جواب نہ دیا پھر آںحضرت(ص) نے فرمایا : لوگو! میرا حق سونے چاندی اور کھانے پینے کی شکل میں نہیں ہے۔

لوگوں نے کہا: پھر آپ(ص) بیان فرمائیں اﷲ نے آپ(ص) کا کونسا حق ہم پر فرض کیا ہے؟اس وقت آپ(ص) نے یہ آیت تلاوت کی تو لوگوں نے یہ آیت سن کر کہا کہ یہ ٹھیک ہے ، لیکن اس کے باوجود اکثریت نے اس وعدے کو پورا نہیں کیا۔ حضور اکرم(ص) سے پہلے جتنے بھی نبی آئے اﷲ نے ان سب کو وحی فرمائی کہ تم قوم سے اجر رسالت طلب نہ کرنا میں تمہیں اس کا اجر عطا کروں گا۔ جب محمد(ص) رسول اﷲ(ص) کی باری آئی تو اﷲ تعالی نے ان کی اطاعت اور ان کے قرابت داروں کی مودت کو واجب کردیا اور اﷲ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اجر رسالت کو مودت اہل بیت(ع) کی صورت میں طلب


 کریں اور یہ قاعدہ ہے کہ محبت، ایسے نہیں ہوتی محبت کسی کی فضیلت و کمال کو دیکھ کر ہی کی جاتی ہے اس سے معلوم ہوا کہ اﷲ  تعالی نے اہل بیت(ع) کی محبت  اس لیے فرض کی کہ اﷲ جانتا تھا کہ خاندان محمد(ص) صاحب فضیلت بھی ہے اور صاحب کمال بھی۔ جب اﷲ تعالی نے آل محمد(ص) کی مودت کو فرض کیا تو کئی لوگوں پر یہ بات گراں گزری کیونکہ انہوں نے جان لیا تھا کہ جس سے مودت کی جائے اس کے فرمان پر عمل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اس کے بعد جن لوگوں نے خدا سے وفا کا عہد و پیمان کیا ہوا تھا بس وہی اس پر ثابت قدم رہے اور بغض و نفاق رکھنے والوں نے اس کی ناجائز تاویلات شروع کردیں اور حکم خدا کو اس کی حدوں سے باہر لے جانے کی مذموم کوششیں کیں۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ۔ قرابت سے مراد سارا عرب ہے اور تمام مسلمان ہیں۔ بہر نوع اگر ان کی یہ بات بھی ماں لی جائے تو عرب سے محبت اس لیے ضروری قرار پائی کہ وہ حضور اکرم(ص) سے عجم کی نسبت زیادہ قریب ہیں اسی طرح سے اہل مکہ و مدینہ سے محبت کی وجہ یہ ہوگی کہ ان دو شہروں کے افراد آںحضرت(ص) کے اور زیادہ قریب ہیں اور قریش سے محبت کی وجہ یہ ہوگی کہ یہ قبیلہ دوسرے قبیلوں کی نسبت آپ(ص) سے زیادہ قریب ہے تو جو جتنا قریب ہوتا جائے گا محبت کے قابل بنتا جائے گا۔ جب عرب صرف زبان کی بنیاد پر اور اہل مکہ و مدینہ صرف ہم شہر ہونے کی بنیاد پر اور قریش قبیلہ ہونے کی بنا پر لائق مودت بن سکتے ہیں تو جو افراد حضور(ص) کا خون اور گوشت پوست ہوں تو ان کے ساتھ مودت تو اور زیادہ ضروری قرار پائے گی۔ اسی لیے اہل ایمان کا فرض ہے کہ وہ عترت طاہرہ(ع) سے مودت کریں اور اسی مودت کے صلے میں اﷲ سے جنت حاصل کریں کیونکہ اﷲ نے فرمایا ہے

وَالَّذينَ آمَنُواوَعَمِلُواالصَّالِحاتِ في‏رَوْضاتِ الْجَنَّاتِ لَهُمْ مايَشاؤُنَ عِنْدَرَبِّهِمْ ذلِكَ هُوَالْفَضْل ُالْكَبيرُذلِكَ الَّذي يُبَشِّرُاللَّهُ عِبادَهُ الَّذينَ آمَنُواوَعَمِلُواالصَّالِحاتِ قُلْ لاأَسْئَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراًإِلاَّالْمَوَدَّةَفِي الْقُرْبى‏ “۔  (شوری، ۲۳،22)

” وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیئے وہ جنت کے باغات میں رہیں گے اور ان کے لیے


 پروردگار کی بارگاہ میں وہ تمام چیزیں ہیں جن کے وہ خواہش مند ہوں گے یہ بہت بڑا فضل پروردگار ہے یہی وہ فضل عظیم ہے جس کی بشارت پروردگار اپنے بندوں کو دیتا ہے جنہوں نے ایمان اختیار کیا ہے اور نیک اعمال کیے ہیں تو آپ(ص) کہہ دیجئے میں تم سے تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں چاہتا علاوہ اس کے کہ میرے قرابت داروں سے محبت کرو۔“

             پھر امام علیہ السلام نے اس آیت کے شان نزول کے متعلق فرمایا کہ۔

مجھ سے میرے والد(ع) نے اپنے آبائے طاہرین(ع) کی سند سے بیان کیا ہے کہ۔

مہاجرین او اںصار آںحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا۔

یا رسول اﷲ(ص) ! آپ کو کافی خرچے کی ضرورت ہے اور آپ(ص) کے پاس وفود بھی آتے رہتے ہیں ہم اپنے مال اور اپنی جانیں آپ(ص) کی خدمت میں بطور نذرانہ پیش کرتے ہیں آپ(ص) جو حکم کریںگے اس کی تعمیل ہوگی اور جسے چاہیں عطا کریں اور جس سے چاہیں روک لیں اور آپ(ص) ہمارے اموال کے مالک و مختار ہیں۔

اس وقت اﷲ تعالی نے روح الامین(ع) کو آپ(ص) پر نازل کیا جنہوں نے آپ(ص) کو یہ آیت پڑھ کر سنائی۔” کہ میری رسالت کا اجر یہی ہے کہ تم میرے بعد میرے قرابت داروں سے محبت کرو“۔

اﷲ کا یہ حکم سن کر مہاجرین و اںصار چلے گئے اور اس آیت کے نزول کے بعد منافقین نے یہ کہا کہ آںحضرت(ص) نےہماری پیش کش کو اس لیے ٹھکرایا ہے کہ وہ ہمیں اپنے قرابت داروں کی مودت کی ترغیب دے سکیں اور انہوں نے یہ بات اپنی طرف سے گھڑلی ہے۔ اس پر اﷲ تعالی نے یہ آیت نازل فرمائی۔

أَمْ يَقُولُونَ افْتَرى‏عَلَى اللَّهِ كَذِباًفَإِنْ يَشَإِاللَّهُ يَخْتِمْ عَلى‏قَلْبِكَ وَيَمْحُ اللَّهُ الْباطِلَ وَ يُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِماتِهِإ ِنَّهُ عَليمٌ بِذاتِ الصُّدُورِ “۔  (شوری، 24)

” کیا ان لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ رسول(ص) نے اﷲ پر جھوٹا بہتان تراش لیا ہے جب کہ خدا چاہے تو تمہارے قلب پر مہر بھی لگا سکتا ہے اور خدا تو باطل کو مٹا دیتا ہے  اور حق کو اپنے کلمات کے ذریعے سے ثابت اور پائیدار بنا دیتا ہے یقینا وہ دلوں کے رازوں کو جاننے والا ہے“۔


رسول خدا(ص) نے قاصد بھیج کر ان لوگوں کو اپنے ہاں طلب کیا اور فرمایا کیا اس طرح کی باتیں ہوئی ہیں لوگوں نے کہا: جی ہاں ! ہم میں سے کچھ لوگوں نے اس طرح کی باتیں کی ہیں اور وہ ہمیں ناگوار گزاری ہیں۔ آںحضرت(ص) نے انہیں یہ آیت پڑھ کر سنائی اہل ایمان یہ آیت سن کر رونے لگے اور ان کے رونے کی آوازیں کافی بلند ہوئیں تو اﷲ کو ان پر رحم آگیا اور یہ آیت نازل فرمائی۔

وَ هُوَالَّذي يَقْبَل ُالتَّوْبَةَعَنْ عِبادِهِ وَيَعْفُواعَنِ السَّيِّئاتِ وَيَعْلَمُ ماتَفْعَلُونَ “ ( شوری، ۲۵)

اور وہی وہ ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کی برائیوں کو معاف کرتا ہے اور وہ تمہارے اعمال سے خوب با خبر ہے“ ۔ چنانچہ یہ اہل بیت(ع) کی چھٹی خصوصیت ہے۔

پھر امام(ع) نے اہل بیت(ع) کی ساتویں فضیلت کے بیان میں ارشاد فرمایا کہ۔

اﷲ تعالی کا فرمان ہے

إِنَّ اللَّهَ وَمَلائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ ياأَيُّهَاالَّذينَ آمَنُواصَلُّواعَلَيْه وَسَلِّمُواتَسْليماً “ ( احزاب، ۵۶)

” بے شک اﷲ اور اس کے فرشتے نبی(ص) پر درود بھیجتے ہین ایمان والو تم بھی ان پر درود بھیجو اور سلام کرو جیسا کہ سلام کرنے کا حق ہے“۔ جب یہ آیت مجید نازل ہوئی تو صحابہ نے آںحضرت(ص) سے  عرض کی یا رسول اﷲ (ص) ہمیں آپ(ص) پر سلام کرنے کا علم ہے آپ(ص) پر صلوات کیسے پڑھی جائے؟

آپ(ص) نے فرمایا یہ کہو:۔

” اللهم صل علی محمد و آل محمد کما صليت و بارکت علی ابراهيم و علی آل ابراهيم انک حميد مجيد“

امام(ع) نے فرمایا” لوگو! کیا تمہیں اس مسئلے میں کوئی اختلاف ہے؟ تمام حاضرین نے کہا:

نہیں ! ہمیں اس بات سے کوئی اختلاف نہیں ہے پوری امت کا اس مسئلہ پر اجماع ہے“۔

مامون نے کہا:

ابوالحسن(ع)! کیا آل(ع) کے متعلق قرآن مجید میں اس سے زیادہ واضح آیت بھی موجود ہے؟


امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا : لوگو! مجھے قرآن مجید کی اس آیت مجیدہ کے متعلق بتلاؤ۔

” يس وَ الْقُرْآنِ الْحَكيمِ إِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلينَ عَلى‏صِراطٍ مُسْتَقيمٍ “  (یس، ۱۔۴)

لفظ یاسین سے کون مراد ہیں؟ علماء نے کہا:۔

ابوالحسن(ع)! سیدھی سی بات ہے کہ ”یاسین“ سے مراد حضرت محمد صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم ہیں اور اس کے متعلق کوئی شک نہیں ہے۔

امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا:

” سنو ! اﷲ تعالی نے محمد(ص) و آل محمد علیہم السلام کو وہ فضیلت عطا کی ہے جس کی حقیقت تک لوگوں کی عقل پرواز نہیں کرسکتی۔ اﷲ تعالی نے انبیاء پر سلام بھیجا ہےلیکن کسی نبی کی آل پر سلام نہیں بھیجا چنانچہ فرمان الہی ہے۔

سَلامٌ عَلى‏نُوحٍ فِي الْعالَمين (صافات، ۷۹) یعنی ” عالمین میں نوح(ع) پر سلام ہو“۔

اﷲ تعالی نے فرمایا

سَلامٌ عَلى‏إِبْراهيمَ “ ( الصافات، ۱۰۹) ” ابراہیم(ع) پر سلام ہو“ اور فرمایا:۔

سَلامٌ عَلى‏مُوسى‏وَهارُونَ “ ( صافات، ۱۲۰)

” موسی(ع) وہارون(ع) پر سلام ہو“ اس کے برعکس پورے قرآن میں اﷲ نے یہ نہیں کہا:۔کہ آل نوح(ع) پر سلام ہو آل ابراہیم(ع) پر سلام ہو آلِ موسی(ع) و ہارون(ع) پر سلام ہو۔ لیکن جب آلِ محمد(ص) کی باری آئی تو اﷲ تعالی نے فرمایا۔

سَلامٌ عَلى‏إِلْ‏ياسينَ “ ( صافات، ۱۳۰) ” آل یاسین(ع) پر سلام ہو یعنی آل محمد(ص) پر سلام ہو“۔

امام علیہ السلام کا یہ بیان سن کر مامون نے کہا :۔ میں مان گیا ہوں کہ معدن نبوت(ع) ہی ایسی تشریح کرسکتے ہیں۔

اس کے بعد امام(ع) قرآن میں موجود عترت طاہرہ(ع) کی آٹھویں فضیلت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اﷲ تعالی کا فرمان ہے۔

” وَ اعْلَمُواأَنَّماغَنِمْتُمْ مِنْ شَيْ‏ءٍفَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْ‏بى ( انفال، ۴۱)


” اور جان لو جو کچھ تمہیں غنیمت حاصل ہو اس میں پانچواں احصہ اﷲ اور رسول(ص) اور ان(ص) کے قرابت داروں کا ہے“۔ اس آیت میں اﷲ تعالی نے عترت طاہرہ(ع) کا حصہ اپنے اور اپنے رسول(ص) کے ساتھ شامل کیا یہ آل(ع) کا عظیم شرف ہے اور اﷲ تعالی نے عترت طاہرہ(ع) کے حصے کو اپنے اور رسول(ص) کے حصے سے متصل کیا اور باقی خمس کے حق داروں کو جدا اور علیحدہ رکھا اﷲ نے اپنی ذات سے ابتدا کی اور دوسرے نمبر پر اپنے رسول (ص) کا تذکرہ کیا اور تیسرے درجہ پر عترت طاہرہ(ع)  کا تذکرہ کیا۔

یہ اس کتاب کا فرمان ہے جس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں اور یہ وہ کتاب ہے کہ جس کے آگے اور پیچھے باطل نہیں آسکتا جو صاحب حکمت اور لائق حمد کی نازل کردہ ہے۔

خمس کے تین مذکورہ طبقات کے بعد اﷲ تعالی نے دوسرے مستحقین کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا

وَالْيَتامى‏وَالْمَساكينِ وَابْنِ السَّبيلِ “ ( انفال، ۴۱)

” خمس یتیموں اور مساکین اور مسافرین کے لیے ہے“۔

اب قابل توجہ بات ہے کہ یتیم خمس کا حقدار ہے لیکن جب یتیم بالغ ہوجائے تو وہ خمس کا حق دار نہیں رہے گا اور اس طرح سے جب مسکین آسودہ حال ہوجائے تو اسے بھی غنیمت میں سے حصہ نہیں دیا جائے گا اور جب مسافر اپنے گھر پہنچ جائے تو وہ بھی غنیمت میں سے حصہ نہیں لے گا۔اور ان تینوں طبقات کے برعکس ” ذی القربی“ کا حصہ قیامت تک قائم رہے گا چاہے وہ امیر ہوں یا غریب ہوں پھر بھی خمس میں ان کا حصہ موجود رہے گا کیوںکہ ان کے حصے کا تذکرہ اﷲ اور رسول کے حصے کے ساتھ کیا گیا ہے اور اﷲ اور رسول(ص) ہرگز غریب نہیں ہیں۔ جس طرح سے خدا نے خمس وغنیمت میں پہلے اپنا تذکرہ کیا پھر اپنے رسول(ص) کا تذکرہ کیا پھر عترت طاہرہ(ع) یعنی ” ذی القربی“ کا تذکرہ کیا اسی طرح سے اﷲ تعالی نے وجوب اطاعت کے لیے پہلے اپنا ذکر کیا پھر اپنے رسول(ص) کا ذکر کیا پھر اہل بیت(ع) کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

ياأَيُّهَاالَّذينَ آمَنُواأَطيعُوااللَّهَ وَأَطيعُواالرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِمِنْكُمْ “ (نساء، ۵۹)

” ایمان والو! اﷲ کی اطاعت کرو اور رسول (ص) اور صاحبان امر کی اطاعت کرو جو تم میں سے ہوں“۔


اور آیت ولایت میں بھی اﷲ نے پہلے اپنی ولایت پھر اپنے نبی(ص) کی ولایت پھر عترت(ع) کی ولایت کا تذکرہ کیا چنانچہ ارشاد ہوا:۔

إِنَّماوَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذينَ آمَنُواالَّذينَ يُقيمُونَ الصَّلاةَوَيُؤْتُونَ الزَّكاةَوَهُمْ راكِعُونَ “ ( مائدہ ، ۵۵)

” ( اہل ایمان) تمہارا ولی بس اﷲ ہے اور اس کا رسول(ص) ہے اور مومن تمہارے ولی ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالتِ رکوع میں زکواة دیتے ہیں “ اﷲ تعالی نے غنیمت اور ”فے“ بغیر جنگ غنیم سے ہاتھ آیا ہوا مال کے خمس میں انہیں ، اپنے اور رسول(ص) کے ساتھ شامل کیا اور اطاعت میں بھی انہیں اپنے اور اپنے رسول(ص) کے ساتھ شامل کیا اور ولایت میں بھی اﷲ نے اپنی اور اپنے رسول(ص) کی ولایت کے ساتھ عترت طاہرہ(ع) کی ولایت کو شامل کیا۔ اس سے خود اندازہ  کریں کہ اﷲ تعالی نے اہل بیت(ع) پر کتنی نعمتیں نازل کی ہیں اور جب زکواة صدقات کی باری آئی تو اﷲ تعالی نے فرمایا

إِنَّمَاالصَّدَقاتُ لِلْفُقَراءِوَالْمَساكينِ وَالْعامِلينَ عَلَيْهاوَالْمُؤَلَّفَةِقُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقابِ وَ الْغارِمين َوَفي‏سَبيلِاللَّهِ وَابْنِ السَّبيلِ فَريضَةًمِنَ اللَّهِ “ ( توبہ ، ۶۰)

” صدقات ، فقراء اور مساکین اور اس کے عالمین اور جن کی تالیف قلب مطلوب ہو اور غلاموں کو آزاد  کرانے اور قرض اتارنے اور خدا کی راہ میں اور مسافروں کے لیے ہیں یہ اﷲ کی طرف سے فرض ہے“۔

صدقات میں اﷲ نے اپنا کوئی حصہ نہیں رکھا اور اپنے رسول(ص) کا بھی کوئی حصہ مقرر نہیں کیا اسی طرح سے عترت طاہرہ(ع) کا بھی صدقات میں کوئی حصہ نہیں رکھا۔ اﷲ تعالی نے اپنے حبیب(ص) اور ان کے اہل بیت(ع) پر صدقہ حرام کیا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ صدقہ لوگوں کے ہاتھ کا میل کچیل ہے اور اﷲ تعالی نے انہیں ہر طرح کے میل کچیل سے پاک و پاکیزہ رکھا ہے۔ اﷲ تعالی نے اہل بیت(ع) کا طاہر بنایا اور انہیں اپنی رضا کے لیے چن لیا اورذات احدیت نے جو کچھ اپنے لیے پسند کیا وہی کچھ اہل بیت(ع) کے لیے پسند کیا اور جس چیز کو اپنے لیے ناپسند کیا اسے اہل بیت(ع) کے لیے بھی ناپسند کیا۔ پھر امام(ع) نے اہل بیت(ع) کی نویں فضیلت بیان فرمانے کے لیے قرآن کی یہ آیت پڑھی۔


کہ اﷲ تعالی کا فرمان ہے۔

فَسْئَلُواأَهْل َالذِّكْرِإِنْكُنْتُمْ لاتَعْلَمُونَ “ ( نحل، ۴۳)

” اگر تم نہیں جانتے تو اہل ذکر سے پوچھو “ لوگو! ہم اہل ذکر(ع) ہیں اور اگر تم  لاعلم ہو تو ہم سے پوچھو“

علماء نے کہا : ابوالحسن(ع) ! اہل ذکر(ع)“ سے تو یہود و نصاری مراد ہیں۔امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا :۔ سبحان اﷲ! اگر اس سے مراد یہود و نصاری ہیں تو امت اسلامیہ جب ان سے سوال کرے گی تو وہ اپنے دین کی دعوت دیںگے اور کہیں گے کہ ہمارا دین تمہارے دین سے بہتر  ہے۔ بھلا اس صورت میں تم کیا کرو گے؟“

مامون نے کہا : ابوالحسن(ع) پھر اس آیت کی تفسیر کیا ہوسکتی ہے؟

امام علی رضا علیہ السلام  نے فرمایا ” ذکر“ سے رسول خدا(ص) مراد ہیں اور ہم اہل ذکر(ع) ہیں اﷲ تعالی نے سورہ طلاق میں ارشاد فرمایا ۔

قَدْأَنْزَل َاللَّهُ إِلَيْكُمْ ذِكْراًرَسُولاً “ (طلاق، ۱۰،۱۱)

” اﷲ نے تمہارے پاس رسول(ص) کو ذکر بنا کر نازل کیا“۔لہذا ” ذکر“ رسول اکرم(ص) ہیں اور ہم ان کے اہل ہیں لہذا ہم ہی  ” اہل الذکر“ ہیں۔ یہ  ہماری نویں خصوصیت ہے۔ اور ہماری دسویں فضیلت یہ ہے کہ اﷲ کا فرمان ہے۔

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهاتُكُمْ وَبَناتُكُمْ وَأَخَواتُكُمْ “ ( نساء، ۲۳)

” تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں حرام کی گئیں“اب آپ حضرات مجھے یہ جواب دیں کہ کیا میری بیٹی یا میری تواسی یا میرے صلب سے پیدا ہونے والی کوئی لڑکی رسول خدا صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے لیے حلال ہے اگر آپ(ص) زندہ ہوں؟“

حاضرین نے کہا : نہیں

امام علی رضا علیہ السلام نے فرمایا۔

” اچھا یہ بتاؤ اگر بالفرض رسول خدا(ص) زندہ ہوں تو کیا تمہاری بیٹیاں ان کے لیے حلال ہوں گی یا حرام


 ہوں گی:“

حاضریں نے کہا : ہماری بیٹیاں حلال ہوں گی۔

حاضرین نے کہا ۔ ہماری بیٹیاں حلال ہوں گی۔

امام رضا علیہ السلام نے فرمایا ” بس اس سے ثابت ہوگیا کہ میں اور ہوں اور تم اور ہو میں آل(ع) میں سے ہوں اور تم آل(ع) میں سے نہیں ہو اگر تم رسول خدا صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کی آل(ع) ہوتے تو تمہاری بیٹیاں بھی میری بیٹیوں کی طرح آںحضرت(ص) کے لیے حرام ہوتیں۔

اس سے ثابت ہوا کہ میں آںحضرت(ص) کی آل(ع) ہوں اور تم ان(ص) کی امت ہو یہ آل(ع) اور امت کا فرق ہے آل(ع) آںحضرت(ص) کا جزو ہیں اور امت آپ(ص) کا جزو نہیں ہے۔“پھر امام(ع) نے آل محمد(ص) کی گیارہویں فضیلت بیان فرمائی کہ اﷲ تعالی نے مومن آل فرعون کے قول کو نقل کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے۔

وَ قالَ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إيمانَهُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلاًأَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللَّهُ وَقَدْجاءَكُمْ بِالْبَيِّناتِ مِنْ رَبِّكُم ( مومن، ۲۸)

” اور مرد مومن نے کہا جس کا تعلق آل فرعون سے تھا جو اپنے ایمان کو چھپاتا تھا کیا تم اس شخص کو قتل کروگے جو یہ کہتا ہے کہ اﷲ میرا رب ہے اور وہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس واضح نشانیاں بھی لے کر آیا ہے۔“

مومن آل فرعون رشتے میں فرعون کے ماموں کا بیٹا تھا وہ اگر چہ فرعون کے مسلک مخالف تھا، اﷲ تعالی نے نسب کی وجہ سے اسے آل فرعون قرار دیا جب ایک شخص نظریاتی مخالف ہونے کے باوجود صرف نسب کی وجہ سے کسی کی آل قرار پاتا ہے تو ہم حضور اکرم(ص) کے نسب میں بھی شریک ہیں اور دین میں بھی شریک ہیں تو ہمارے آل ہونے کا کتنا بلند مقام ہوگا؟ یہ آل اور امت کا گیارہواں فرق ہے۔پھر امام(ع) نے فرمایا کہ اﷲ تعالی نے اپنے حبیب صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کو حکم دیا۔

وَ أْمُرْأَهْلَكَ بِالصَّلاةِوَاصْطَبِرْعَلَيْها “ ( طہ ، ۱۳۲)

” اور اپنے اہل کو نماز کا حکم دو اور خود بھی اس کی پابندی کرو“ اﷲ تعالی نے اس فضیلت کے لیے


ہمیں مخصوص فرمایا کیونکہ تمام امت کےساتھ ہمیں نماز قائم کرنے کا حکم دیا اور پھر امت سے علیحدہ کر کے اپنے حبیب(ص) کو کہا کہ وہ ہمیں نماز کا حکم دیں۔

چنانچہ اس آیت مجیدہ کے نزول کے بعد رسول خدا(ص) پورے نو مہینے تک ہر نماز کے وقت علی(ع) و بتول علیہم السلام کے دروازے پر روزانہ پانچ بار آتے تھے اور دروازے پر کھڑے ہو کر فرماتے تھے۔

الصلوة رحمکم اﷲ “  ” خدا تم پر رحم کرے، نماز کا وقت ہے“۔

اﷲ تعالیٰ نے کسی نبی کی اولاد کو وہ عزت و عظمت عطا نہیں کی جو عزت و عظمت اہل بیت مصطفی(ص) کو عطا کی۔ مامون اور دوسرے علماء نے کہا اے اہل بیت پیغمبر(ص) ! خدا تمہیں اس امت کی طرف سے بہترین جزا عطاف فرمائے جو حقائق ہماری فہم و فراست سے بلند ہوتے ہیں ان کی تشریح اور بیان آپ(ع) کی طرف سے ہی ہمیں نصیب ہوتے ہیں۔


مجلس نمبر ۸۰

(۴ رجب سنہ۳۶۸ھ)

فضائل ماہ رجب

۱ـ           ابو سعید خدری(رح) روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا رجب خدا کے نزدیک محبوب اور بزرگ مہینہ ہے خدا کے نزدیک ماہ رجب کی فضیلت بہت زیادہ ہےزمانہ جاہلیت میں بھی اس مہینے کو محترم جانا جاتا تھا اسلام نے بھی اس مہینے میں سوائے بزرگی اور فضیلت کے کسی اور شئی کا اضافہ نہیں کیا آگاہ رہو کہ شعبان اور رجب دونوں میرے مہینے ہیں جب کہ رمضان میری امت کا مہینہ ہے آگاہ رہو کہ جوکوئی تم میں سے عقیدہ و قربت کی غرض سے ماہ رجب کا روزہ رکھے گا تو وہ خدا کی خوشنودی کا حقدار ہوگا اور روز قیامت اس کا یہ روزہ خدا کے غصے کو ٹھنڈا کرے گا اس کے لیے دوزخ کا دروازہ بند کردیا جائیگا، اگر تمام زمین کو سونے سے پر کردیا جائے تب بھی اس مہینے کے ایک دن کے روزے سے بہتر نہیں اور اس کا اجر نیکی کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور یہ اس صورت میں ہے کہ اسے خالص خدا کی رضا کے لیے رکھا جائے ماہ رجب کےروزے کے افطار کے بعد اس شب میں خدا اس شخص کی دس دعائیں مستجاب کرے گا اور اگر وہ بندہ دنیا کے نقد سے اس کا اجر چاہے گا تو خدا اسےعطا کرے گا وگرنہ آخرت کے لیے یہ اس کا بہترین زخیرہ ہے اور یہ کہ خدا ایسے بندے کو اولیاء اﷲ، اصفیاء اور اپنے دوستوں کی مانند جانتا ہے اور ان کی دعائیں مستجاب فرماتا ہے۔

جو کوئی رجب کے دوران روزے میں گزارتا ہے تو زمین و آسمان کے برگزیدہ بندے اس کی کرامت کا حساب لگانے سے قاصر ہیں خدا اس بندے کی عمر دراز کرتا ہے اور دس صادقین کی عمر بھر کی نیکیوں کے برابر ثواب اس کے نامہء اعمال میں لکھتا ہے اور روزِ قیامت وہ صادقین کے ساتھ  لوگوں کی شفاعت کرے گا اور ان کے ساتھ محشور ہوگا یہاں تک کہ بہشت میں جائے گا اور صالحین و صادقین کے رفیقوں میں شمار ہوگا۔


جو کوئی ماہ رجب کے تین دن روزے میں گزارتا ہے تو خدا اس کے اور دوزخ کے درمیان خندق کھودے گا یا پھر ستر سال کی مسافت کے برابر ایک پردہ حائل کردے گا اور باتحقیق اس کے افطار کے وقت اس سے فرمائے گا کہ مجھ پر تیری ولایت کی محبت کا حق لازم ہے اے میرے فرشتو گواہ رہو کہ میں نے اس کے گذشتہ گناہوں کو معاف کردیا ہے اور آیندہ گناہوں کو بھی معاف کرتا ہوں۔ جو کوئی ماہ رجب کے چار دن روزے میں گذارتا ہے تو وہ تمام بلاؤں اور بیماریوں جزام و برص اور فتنہ دجال اور عذاب قبر سے پناہ میں رہے گا ۔ اور اس کے نامہ اعمال میں ” اولی الباب توابین و اوابین“ کی مانند اجر لکھا جائے گا اور اس کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا بالکل اس طرح کہ جس طرح عابدین کے دائیں ہاتھ میں نامہء اعمال ہوگا۔

جو کوئی ماہ رجب کے پانچ دن روزے میں گزارے گا تو خدا پر لازم ہے کہ وہ اسے روزِ قیامت خوشنود کرے اس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی مانند چمکتا ہوگا خدا اس کے حساب میں عالج ( کوہ عالج) کے زرات کے برابر ثواب لکھے گا اور اسے بے حساب بہشت میں داخل کیا جائے گا اور کہا جائے گا جو کچھ چاہتے ہو اپنے پروردگار سے طلب کرو۔ جوکوئی ماہ رجب کے چھ دن روزے میں گزارے گا تو جب اپنی قبر سے برآمد ہوگا تو نورانی چہرہ لیےہوئے ہوگا اور آفتاب اس کے نور کے سامنے ماند ہوگا اس کے علاوہ اسے  ایسا نور عطا کیا جائے گا کہ حاضرین قیامت اس نور سے استفادہ کریں گے ایک ایسی امان اسے عطا کی جائے گی کہ پل صراط سے بے حساب گزر جائے گا اس کی ماں باپ سے قطع رحمی اور نافرمانی معاف کی جائے گی۔ جو کوئی ماہ رجب کے سات دن روزہ رکھے ہوئے گذارے گا اس کے ہر روزے کے بدلے جہنم کا ایک دروازہ بند کیا جائے گا اور خدا اس کے بدن پر دوزخ کی آگ کو حرام کردے گا۔ جو کوئی ماہ رجب کے آٹھ دن روزے میں گزارے گا تو خدا اس کے ہر روزے کے بدلے بہشت کے آٹھ دروازے اس کے سامنے کھول دے گا اور فرمائے گا جہاں سے چاہو داخل ہوجاؤ جو کوئی ماہ رجب کے نویں دن مسلسل روزہ رکھے گا تو اپنی قبر سے باہر آتے ہوئے ” لا الہ الا اﷲ کہے گا۔ اور بہشت میں داخل ہونے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنے گی اس کا چہرہ ایسے نور سے تاباں ہوگا کہ اہل محشر کہیں گے کہ کیا یہ کوئی پیغمبر ہے


اس کے لیے ان روزوں کی کم تر جزا جو عطا کی گئی ہے وہ یہ ہے وہ بے حساب بہشت میں داخل ہوگا۔ جو کوئی ماہ رجب کے دس دن روزہ رکھے ہوئے گذارے گا تو خدا اسے دو سبز پر،جن کا حلقہ یاقوت کا ہوگا عطا کرے گا کہ وہ ان پروں کے ساتھ پل صراط پر سے بجلی کی طرح گزر جائے گا خدا اس کے گناہوں کو نیکیوں میں بدل دے گا اور اس کا شمار مقربین میں کرے گا اور اس کو مقربین و قوامین بالقسط کے زمرے میں رکھے گا گویا اس نے خدا کی ایک ہزار سال تک صبر و استقامت اور قصد قربت سےعبادت کی ہو۔ جو کوئی ماہِ رجب کے گیارہویں دن کو روزے کی حالت میں گزارے گا تو روزِ قیامت اس سے زیادہ ثواب ونیکیاں رکھنے والا کوئی نہ ہوگا مگر وہ کہ جو اس کی مانند ہو یا جس نے اس سے زیادہ روزے رکھے ہوں۔ جو کوئی ماہ رجب کے بارہ(۱۲) دن روزہ رکھے ہوئے گزارے تو روز قیامت اسے سندس و استبراق کے دو لباس پہنائے جائیں گے اور اسے آراستہ کیا جائے گا اگر ان لباسوں میں سے کسی ایک کو دنیا میں آیزاں کیا جائے تو مشرق سے مغرب تک روشن ہوجائیں گے اور تمام دنیا مشک کی خوشبو سے مہک اٹھے گی۔ جو کوئی ماہ رجب کے تیرہ(۱۳) دن روزے میں گزارے گا تو قیامت میں اس کے لیے سایہ عرش میں سبز یاقوت کا ایک ایسا خوان بچھایا جائے گا کہ جس کے پائے در سے بنے ہوئے ہوں گے اور اس کا پھیلاؤ دنیا کے برابر ہوگا اس خوان پر ستر(۷۰) ہزار قسم کی خوراک اس کےلیے چنی جائے گی کہ جس کی خوشبو باہم ملی ہوئی ہوگی اور جب لوگ سختی و گرفتاری میں مبتلا ہوں گے یہ اس خوان سے نوش کررہا ہوگاجو کوئی ماہ رجب کے چودہ(۱۴) دن روزے میں گزارے گا تو خدا اسے ایسا اجر عطا کرے گا جو کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا ہوگا خدا اس کے لیے بہشت کے قصور ( قصر کی جمع) جو یاقوت و در کے بنے ہوں گے عطا کرے گا۔ جو کوئی ماہ رجب کے پندرہویں (۱۵) دن روزہ رکھے، روزِ قیامت امان والوں کےہمراہ ہوگا اور ہرگز کوئی مقرب فرشتہ اورپیغمبر مرسل ایسا نہ ہوگا کہ جو اس کے پاس سے گزرے اور نہ کہے کہ کیا کہنا تیرا مقرب و شرافت مند اور محترم ساکنِ بہشت ہے۔ جو کوئی ماہ رجب کے سولہ(۱۶) دن روزہ رکھے ہوئے گزارے تو صفِ اول والوں کے ہمراہ نور کے گھوڑے پر سوار ہوگا اسے بہشت میں پر عطا کیے جائیں گے۔


جو کوئی ماہ رجب کے سترھویں(۱۷) دن کا روزہ رکھے تو قیامت کے دن ستر ہزار چراغ اپنے ہمراہ لیےہوئے بل صراط سے گزرے گا یہاں تک کہ بہشت میں جا پہنچے اور فرشتے اسے درود سلام کہیں گے جو کوئی ماہ رجب کے اٹھارویں (۱۸) دن کو روزہ رکھے ہوئے گزارے گا تو وہ گنبد ابراہیم(ع) جو کہ بہشت میں ہے۔ اور جس کے تختوں کے کنارے درِ یاقوت کے ہیں ، میں ساکن ہوگا جو کوئی ماہ رجب کے انیس(۱۹) دن روزے میں گزارے گا تو خدا اس کے لیے لولو سے اس کے لیے قصر ابراہیم(ع) و آدم(ع) کے برابر قصر بنائے گا تاکہ یہ روزانہ انہیں اور وہ اسے اس کے حق واجب اور احترام کے ساتھ سلام کہتے رہیں اور اس کے ہر روز کے روزے کا ثواب ہزار سال کے روزوں کے برابر ہوگا۔ جو کوئی ماہ رجب کے بیس(۲۰) دن روزے میں گزارے گا تو یہ اس کے لیے ایسا ہوگا جیسے اس نے بیس ہزار سال خدا کی عبادت کی ہو۔ ج کوئی ماہ رجب کے اکیس (۲۱) دن روزے میں گزارے تو اسے قبیلہ ربیع و مضر کی تعداد کے برابر خطا کار و گناہ گار لوگوں کی شفاعت کا حق عطا کیا جائے گا۔ جو کوئی بائیسویں (۲۲) دن ماہ رجب کا روزہ رکھے تو اس کےلیے منادی آسمان سے ندا دے گا کہ اے ولی خدا تمہیں خدا کی طرف سے کرامت و بزرگی کی خوشخبری ہو۔ خدا اسے پیغمبروں، صدیقوں اور شہداء و صالحین کی رفاقت کی نعمت عطا کرے گا اور  یہ کیا بہتر رفیق ہیں۔ جو کوئی ماہ رجب کے تئیس (۲۳) دن روزہ رکھے ہوئے گزارے گا اس کے لیے آسمان سے ندا آئے گی کہ اے بندہ خدا تیرا کیا کہنا کہ تو خدا کی رحمت اور نعمت طولانی کا حقدار ہوا۔ اور تجھے جو بہشت عطا کی گئی ہے اس کا کیا کہنا۔ جوکوئی ماہ رجب کے چوبیسویں(۲۴) دن کو روزے میں گزارے گا تو ملک الموت اس کے سامنے ایک نوجوان کی صورت میں سبز دیبا کا لباس پہن کر اور بہشت کے گھوڑے پر سوار آئیں گے اور اسے سبز حریر جو کہ مشک اذفر سے معطر ہوگا ہاتھ میں لیے ہوئے ایسا جام پلائیں گے جو کہ اس پر سکرات موت کو آسان کردے گا ۔ اس کی روح کو بہشت میںلے جایا جائے گا اور اس کسے ایسی خوشبو بر آمد ہوگی کہ ساتھ آسمانوں کے رہنے والے اسے سونگھیں گے اور اس کی قبر سیراب ہوگی یہاں تک کہ وہ حوض کوثر پر جاپہنچے گا۔ جو کوئی ماہِ رجب کے پچیس دن (۲۵) روزہ رکھے ہوئے گزازے تو جب وہ قبر سے باہر آئے گا تو ستر ہزار فرشتے اپنے ہاتھوں میں


در یاقوت کے پرچم اور لباس و زیور لیے اس کا استقبال کریں گے اور اس سے کہٰیں گے اے دوست خود کو جلد از جلد رہا کر لو اور اپنے رب سے ملاقات کرو۔ وہ ایسا بندہ ہوگا جو مقربین کے ہمراہ بہشت عدن میں آئے گااور اس پر خدا خوشنود ہوگا اور یہ خدا کی طرف سے اس کے لیے فوز عظیم ہے۔ جو کوئی ماہ رجب کے چھیبسویں(۲۶) روز کو روزہ کی حالت میں گزارے گا تو خدا اس کے لیے سایہء عرش میں  ایک سو قصر در یاقوت کے بنائے گا کہ ہر قصر کے باہر بہشت کی سرخ حریر کا خیمہ ںصب ہوگا جس میں نعمتیں مہیا کی جائیں گی جب کہ لوگ اس وقت سختی میں گرفتار ہوںگے۔ جو کوئی ماہ رجب کے ستائیس (۲۷) دن روزہ رکھے ہوئے گزارے تو خدا اس کی قبر کی چار سو سال کی مسافت کے برابر وسعت دے گا اور مشک اذفر سے پر کردے گا، جو کوئی ماہ رجب کے اٹھائیس (۲۸) دن حالت روزہ میں گزارے تو خدا اس کے اور جہنم کے درمیان سات خندقین کھودے گا کہ ہر خندق کی چوڑائی زمین سے آسمان تک کے فاصلے کے برابر ہوگی اور یہ پانچ سو برس کی مسافت کے برابر ہے۔ جو کوئی ماہ رجب کے انتیس (۲۹) دن روزے میں گزارے تو چاہے زنا زادہ ہو یا زانی اور وہ بھی ایسا کہ ستر بار اس کا مرتکب ہوا ہو اور مستحق دوزخ ہو پھر بھی خدا اسے معاف کردے گا۔ اور جو کوئی ماہ رجب کے تیس (۳۰) دن حالتِ روزہ میں گزارے گا تو آسمان سے اس کے لیے ندادی جائے گی کہ خدا نے تیرے گذشتہ تمام گناہ معاف فرمادیئے ہیں اب یہ تم پر ہے کہ اپنے آیندہ اعمال کو درست رکھو خدا اسے بہشت میں چالیس ہزار طلائی شہر عطا کرے گا کہ ہر شہر میں چالیس ہزار قصر ہوں گے ہر قصر میں چالیس ہزار گھر اور ہر گھر میں چالیس ہزار طلائی خوان بچھے ہوں گے۔ ہرخوان پر چالیس ہزار کاسے اور ہر کاسے میں چالیس ہزار قسم کی خوراک ہوگی جس کا رنگ دوسری خوراک سے مختلف ہوگا پھر ہر گھر میں چالیس ہزار طلائی تخت ہونگے اور ہر تخت کا طول و عرض ہزار اور دو ہزار زراع ہوگا۔ ہر تخت پر ایک حور براجمان ہوگی کہ جس کے بالوں کی تین سونورانی لٹیں ہوں گی اور ہر لٹ کو ایک ہزار کنیزیں اٹھائے ہوئے ہوں گی اور یہ کنیزیں مشک و عنبر اس روزے دار کو مہیا کریں گی۔ اور یہ ثواب ماہ رجب کے تمام روزے رکھنے والے کے لیے ہے۔

جناب رسول خدا(ص) سے عرض کیا گیا کہ اگر کوئی اپنے صعف کی وجہ سے روزہ رکھنے سے قاصر ہو یا وہ


عورتیں جو ناپاکی کی بنا پر روزہ نہ رکھ سکیں یا تمام ماہ رجب کے روزے رکھنے سے ناچار ہوں تو ان کے لیے کیا حکمہے جناب رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا جو کوئی ایسا ہو اور چاہے کہ ماہِ رجب کے روزوں کی مانند ثواب لے ت اسے چاہیے کہ وہ صدقہ کرے اور گروہ فقراء کو روٹی تصدق کرے جان لو کہ جس کے قبضے میں میری جان ہے جو کوئی روزانہ صدقہ دے تو جو کچھ میں نے ماہ رجب کے روزوں کے ثواب کے بارے میں بیان کیا ہے اس سے زیادہ حاصل کرے گا اور اگر تمام اہل زمین وآسمان اور تمام خلائق مل کر اس کے ثواب کا اندازہ لگانے کی کوشش کریں تو نہ کرسکیں گے اور وہ تمام ثواب بہشت کے لیے رکھتا ہے عرض کیا گیا ۔ یا رسول اﷲ(ص) اگر کوئی صدقہ دینے کی طاقت نہ رکھتا ہو اور ایسے ثواب کا خواہش مند ہوتو کیا کرے آپ(ص) نے فرمایا جو صدقہ نہ دے سکے اور ایسا ثواب حاصل کرنا چاہیے تو اسے چاہے کہ وہ رجب کے پورے مہینے میں روزانہ سو بار ”سبحان الا ل ه الجليل من لا ينبغی التسبيح الا ل ه سبحان الاعز الاکرم  سبحان من ليس العز و ه و ل ه ا ه ل “ کی تسبیح کرتا رہے۔

۲ـ           جناب رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا مومن کو فشار قبر ہونا اس کے نعمتوں کو ضائع کرنے کے گناہوں کا کفارہ ہے۔

۳ـ          امام باقر(ع) نے فرمایا جب کوئی مومن کسی مومن کی میت کو غسل دیتا ہے تو خدا اس مومن کے بدن کو دوسرے مومن کا بدن بنا دیتا ہے اور سوائے کبائر( گناہان کبیرہ) کے اس کے ایک سال کے گناہ معاف فرمادیتا ہے۔

۴ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جو کوئی کسی مومن کی میت کو غسل دے اور امانت داری کرے معاف کردیاجائے گا عرض کیا گیا کہ اس میں امانت داری کیا ہے آپ(ص) نے فرمایا جو کچھ اس (میت) میں دیکھو کسی سے بیان ن کرو۔

۵ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا اپنے مردوں کو ”لا ال ه الا اﷲ “ کی تلقین کرو کیونکہ جس کسی کا آخری کلام ”لا ال ه الا اﷲ “ ہوگا بہشت میں جائے گا۔

۶ـ           حضرت ابوذر غفاری(رح) بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ میں اصحاب کے ہمراہ مسجد قباء میں


 جناب رسول خدا(ص) کی خدمت میں حاضر تھا۔ تو جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا اے گروہ اصحاب اب جو شخص تمہارے سامنے آئے گا وہ امیرالمومنین(ع) اور مسلمانوں کا امام ہے تم دیکھو کہ وہ کون ہے اصحاب نے دیکھنا شروع کیا میں نے بھی ان کے ہمراہ نظر دوڑانی شروع کی کہ دیکھوں اب مسجد میں کون آتا ہے دیکھا تو جناب علی بن ابی طالب(ع) تشریف لائے جناب رسول خدا(ص) انہیں دیکھ کر اپنی جگہ سے اٹھے اور ان کا استقبال کیا۔ انہیں سینے سے لگایا ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور اپنے پہلو میں بٹھایا۔ پھر آپ(ص) نے اپنا رخ ہماری طرف کیا اور فرمایا یہ علی(ع) میرے بعد تمہارا امام ہے اس کی اطاعت میری اطاعت ہے اور میری اطاعت اﷲ کی اطاعت ہے اس کی نافرمانی میری نافرمانی ہے، اور میری نافرمانی خداکی نافرمانی ہے۔


مجلس نمبر۸۱

(۷ رجب سنہ۳۶۸ھ)

۱ـ           جناب علی ابن ابی طالب(ع) نے فرمایا جو کوئی ماہ رجب میں اول عشرے یا وسط یا پھر آخری عشرے کا روزہ رکھے گا تو اس کے گذشتہ گناہ معاف کیئے جائیں گے اور جو کوئی رجب کے اول، وسط یا آخری عشرے میں سے تین روزہ رکھے ، اس کے گذشتہ و آیندہ گناہ معاف کیے جائیں گے جو کوئی ماہ رجب کی ایک شب خدا کی عبادت کرتے ہوئے گذارے گا خدا اسے دوزخ سے آزادی دے گا اور ستر ہزار گناہ گاروں کےلیے اس کی شفاعت قبول ہوگی جو کوئی اس ماہ خدا کی راہ میں صدقہ دے گا تو خدا روزِ قیامت اسے ایسے ثواب سے سرفراز کرے گا جو نہ کسی نے دیکھنا نہ سنا اور نہ ہی کسی کے دل نے درک کیا ہوگا۔

 مالک بن انس اور امام صادق(ع)

۲ـ           فقیہہ مدینہ مالک بن انس روایت کرتے ہیں ۔ کہ خدا کی قسم میری نظر سے جناب جعفر بن محمد(ع) سے زیادہ افضل و زاہد اور عبادت گذار کوئی نہیں گذرا، وہ میری تعظیم کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا ابن رسول اﷲ(ص) جو کوئی رجب کا ایک روزہ عقیدہ و تقرب کی خاطر رکھے۔ اس بندے کے لیے اس کا اجر کیا ہے(مالک کہتے ہیں کہ بخدا امام(ع) نے اس سلسلے میں جو کچھ بیان فرمایا سچ ہے) امام(ع) نے فرمایا میرے والد(ع) نے اپنے اجداد(ع) سے اور انہوں نے جناب رسول خدا(ص) سے روایت کیاہے کہ کوئی رجب کے ایک دن کا روزہ عقیدت و تقرب کی خاطر رکھے گا معاف کیا جائے گا۔ میں نے عرض کیا یا ابن رسول اﷲ(ص) جو بندہ ماہ شعبان کا روزہ رکھے اس کے لیے کیا ثواب ہے۔ امام(ع) نے اسی سلسلہء سند کے ساتھ ارشاد فرمایا کہ جو کوئی شعبان کا ایک دن کا روزہ عقیدت و تقرب کے لیے رکھے معاف کردیا جائے گا۔

۳ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا مذاق اور بیہودہ گوئی ترک کر کے روشنی حاصل کرو جھوٹ مت بولو


 اور اس وجہ سے خرم رہو دو خصلتوں سے دور رہو اول تنگ خلقی اور دوئم سستی آپ(ع) نے فرمایا اگر تنگ خلق ہوگا تو حق پر صبر کرنے میں نا طاقت ہوگا اگر سستی غالب ہوگی تو ادائیگی حق نہ ہوسکے گی عیسی(ع) بن مریم(ع) نے فرمایا کہ جو بہت زیادہ سست ہے اس کا بدن بیمار ہے جو کوئی بد خلق ہے خود کو شکنجے میں کیے ہوئے ہے جو باتونی ہے غلطی پر ہے جو گناہ زیادہ کرتا ہے اس بندے کی کوئی قدر ومنزلت نہیں ہوتی اور جو لوگوں کے ساتھ اخلاق سے گرجاتا  ہے اس کی مروت چلی جاتی ہے۔

۴ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا بیسار خور کی بسیار خوری اسے برص کے مرض کی طرف لے جاتی ہے۔

۵ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا کہ جناب رسول خدا(ص) سے روایت ہےکہ جب جناب آدم(ع) نے خدا سے دل کے وسواس اور اندوہ نفس کی شکایت کی تو خدا نے جبرائیل(ع) کو ان(ع) پر نازل کیا اور کہا آدم(ع) کہو”لا حول و لا قوة الا باﷲ “ جب جناب آدم(ع) نے یہ کہا تو ان کے دل سے وسوسہ اور اندوہ نفس ختم ہوگیا۔

۶ـ           زید بن علی بن حسین(ع)  نے فرمایا کہ ہر زمانے میں خدا ہمارے خاندان کے ایک فرد کو اپنی مخلوق پر حجت بنائے گا اور ہمارے زمانے مین حجت خدا میرا برادر زادہ جعفر بن محمد(ع) ہے کوئی اس کی پیروی کرے گا گمراہ نہ ہوگا اور جو اس کی نافرمانی کرے گا راہ نہ پائے گا۔

۷ـ          جناب رسول خدا(ص) کا ارشاد ہے کہ جبرائیل(ع) نے مجھے خدا کی طرف سے خبر دی کہ میری خلق پر علی بن ابی طالب(ع) میری ( خدا کی) حجت ہے اور میرے دین میں جزا و بخشش ہے اس کے صلب ایسے امام آئیں گے جو میرے امر سے قیام کریں گے اور میرے راستے کی دعوت دیں گے اور وہ میرے بندوں اور میری کنیزوں کے بدنوں سے عذاب کو رفع کریں گے میں ان( ائمہ(ع)) پر اپنی رحمت نازل کروں گا۔

۸ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا تین چیزیں مومن کے لیے باعثِ افتخار ہیں اور دنیا و آخرت میں اس کا زیور ہیں۔

             اول :  آخر شب میں نماز


             دوئم :  لوگ اپنے ہاتھ میں جوکچھ اس دنیا سے رکھتے ہیں سے بے رغبتی

             سوئم :  ائمہء آل محمد(ص) کی ولایت

۹ـ           قوم جبینہ کے کچھ افراد امام صادق(ع) کے ہاں مہمان کے طور پر ٹھہرے جب ان کا وقتِ رخصت آیا تو امام(ع) نے انہیں زاد راہ اور تحالف عطا کیے اور اپنے غلام سے فرمایا کہ تم ایک طرف کھڑے ہوجاؤ اور انہیں اپنا سامان خود باندھنے دو جب وہ اپنا سامان باندھ چکے تو امام(ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ(ع) نے ہماری مہمان نوازی میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی اور ہمیں تحائف سے بھی سرفراز کیا اور ہمیں تعظیم دی مگر اب جب ہمارے رخصت ہونے کا وقت ہے تو آپ(ع) نے اپنے غلام کو ہماری مدد سے منع فرمایا ہے امام(ع) نے فرمایا ہم اس خاندان سے تعلق رکھتے جو مہمان کے رخصت ہونے میں اس کی مدد نہیں کرتے( یعنی چاہتے ہیں کہ مہمان کو زیادہ سے زیادہ دن ٹھہرایا جائے اور اس کی مہمان نوازی اور تواضع کی جائے)

۱۰ـ          امام صادق(ع) فرماتے ہیں کہ جناب رسول خدا(ص) کے پاس جونانِ اںصار حاضر ہوئے تو جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا میں تمہارے سامنے قرآن کی آیات پڑھتا ہوں تم میں جو بھی انہیں سن کر گریہ کرے گا وہ بہشت میں داخل ہوگا پھر جناب رسول خدا(ص) نے ان کے سامنے” سورہ زمر“ کی آیات ”و سيق الذين کفروا الی ج ه نم زمرا ۔۔۔تا آخر“ یعنی گرا دیا جائے گا کافرون کو جہنم میں گروہ در گروہ۔۔۔۔ تاآخر“ تلاوت فرمائیں یہ آیات سن کر تمام رونے لگے سوائے ایک جوان کےاس نے عرض کیا یا رسول اﷲ(ص) میرے دل پر اس کا بہت اثر ہوا ہے مگر میری آنکھ اشک بار نہیں ہوئی جناب رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا میں دوبارہ پڑھتا ہوں جو کوئی گریہ کرے خود کو بہشت میں لے جائے گا جناب رسول خدا(ص) نے جب یہ آیت دوبارہ پڑھی تو ان تمام نے گریہ کیا اور خود کو داخل بہشت کیا۔

۱۱ـ           علی بن سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے امام صادق(ع) سے پوچھا کہ یا ابن رسول اﷲ(ع) آپ(ع) قرآن کے بارے میں کیا کہتے ہیں امام(ع) نے فرمایا وہ کلام ہے، گفتار خدا سے وحی خدا ہے، وہ خدا کی وحی کی تنزیل ہے وہ کتاب عزیز ہے کہ اس کے آگے اور پیچھے سے باطل ، راہ


نہیں پاتا یہ حکیم و حمید کا نازل کردہ ہے۔

۱۲ـ          حسین بن خالد کہتے ہیں کہ میں نے امام رضا(ع) سے پوچھا یا ابن(ع) رسول اﷲ(ص) قرآن خالق ہے یا مخلوق امام(ع) نے فرمایا نہ خالق ہے نہ مخلوق یہ کلام خدا ہے۔

۱۳ـ          ریان بن صلت کہتے ہیں کہ میں نے امام رضا(ع) سے پوچھا کہ قرآن خالق ہے یا مخلوق تو امام(ع) نے فرمایا قرآن کلام خدا ہے اور اس کے علاوہ کسی اور چیز میں ہدایت طلب مت کرو ورنہ گمراہ ہوجاؤ گے۔

۱۴ـ          علی بن محمد(ع) امام دہم(ع) نے بغداد کے ایک شیعہ کو خط لکھا کہ سہارا اﷲ کے نام کا جو سب کو فیض پہنچانے والا نہایت مہربان ہے خدا نے ہمیں اور تمہیں فتنے سے محفوظ رکھا اس کا شکر ادا کرو کہ یہ بڑی نعمت ہے ہماری نظر میں قرآن سے جدائی بدعت ہے کہ اس کے بارے میں پوچھنے والا اور جواب دینے والا دونوں شریک ہیں، پوچھنے والے نے اس چیز کا پوچھا کہ جس کے بارے میں وہ حق نہیں رکھتا اور جواب دینے والے نے اس چیز کا قصد کیا کہ جس کا وہ متحمل نہیں ہے خالق سوائے خدا کے کوئی نہیں ہے جو مخلوق کا خالق ہے یہ قرآن کلام خدا ہے گمراہوں نے اسے اس بحث میں شامل کر لیا ہے خدا نے مجھے  اور تجھے اس سے محفوظ رکھا کہ خدا سے ڈرتے رہیں اور قیامت سے ہراساں ہوں۔

۱۵ـ          اصبغ بن نباتہ کہتے ہیں کہ امیرالمومنین(ع) نے فرمایا میں نے جناب رسول خدا(ص) سے مومن کے اوصاف کے بارے میں دریافت کیا تو جناب رسول خدا(ص) نے اپنا سر مبارک جھکایا اور پھر بلند کر کے فرمایا مومنین کی بیس صفات ہیں جس کسی میں یہ نہ ہوں گی اس کا ایمان کامل نہ ہوگا۔

اـ نماز میں حاضری ہو۔ ۲ـ زکواة دینے میں جلدی۔ ۳ـ خانہ خدا کا حج۔ ۴ـ ماہ رمضان کا روزہ رکھنا۔ ۵ـ مسکین کو کھانا کھلانا۔ ۶ـ یتیموں کے سر پر دست شفقت رکھنا۔ ۷ـ اپنا ستر چھپانا۔ ۸ـ حدیث بیان کرے تو سچ بیان کرے۔ ۹ـ وعدہ کرے تو پورا کرنا۔ ۱۰ـ امانت میں خیانت نہ کرنا۔ ۱۱ـ سچ بولنا۔ ۱۲ـ راتوں کو عبادت کرنا۔ ۱۳ـ دن کو شیر کی مانند رہنا۔ ۱۴ـ دن کو روزہ رکھنا۔ ۱۵ـ راتوں کو جاگنا۔ ۱۶ـ ہمسایہ اسے آزارن نہ پہنچائے۔ ( یعنی اس کو اپنی حاجت روائی کے


 ہے چاہے۔  ۱۷ـ آہستہ چلنا۔ ۱۹ـ  بیوہ عورتوں کی حاجت پوری کرنا۔ ۲۰ـ  جنازے کے ہمراہ جانا خدا ہمیں اور تمہیں متقین میں سے بنائے۔

۱۷ـ          سعید بن جبیر نے ابن عباس(رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا بے شک خدا نے مجھے وحی کی کہ میں اپنی امت پر اپنا خلیفہ، وصی اور وارث مقرر کردوں میں نے عرض کیا پروردگار وہ کون ہے تو وحی کی کہ اے محمد(ص) وہ تیری امت کا امام(ع) اور تیرے بعد ان پر میری حجت ہے میں نے عرض کیا پروردگار وہ کون ہے تو وحی کی کہ اے محمد(ص) وہ، وہ ہے کہ میں اسے دوست رکھتا ہوں اور وہ مجھے دوست رکھتا ہے اور وہ میری راہ کا مجاہد ہے وہ میرے عہد کے بارے میں ناکثین کے ساتھ، میرے حکم کے بارے میں قاسطین کے ساتھ اورمیرے دین کے بارے میں مارقین کے ساتھ جنگ کرنے والا ہے اور وہ بیشک میرا ولی اور تمہاری بیٹی کا شوہر اور تیرے فرزندوں (ع) کا والد علی(ع) بن ابی طالب(ع) ہے۔

۱۸ـ          ابوامامہ کہتے ہیں جوکچھ میں نے علی(ع) کی زبانی سنا میں اس بارے میں کوئی شک نہیں رکھتا کیونکہ میں نے پیغمبر خدا(ص)  کو کہتے سنا کہ میرے بعد علی(ع) میرے اسرار کا خزینہ ہیں۔

۱۹ـ          زرین حبش نے بیان کیا کہ علی بن ابی طالب(ع) جناب رسول خدا(ص) کے اونٹ پر سوار گزرے سلمان(رح) نے انہیں دیکھا  اور پاس بیٹھے ہوئے لوگوں سے کہا تم کھڑے ہوکر ان سے کوئی سوال کیوں نہیں کرتے جاتے جان لو کہ جس نے دانے کو شگافتہ کیا اور انسان کو پیدا یہ بجز سرارِ پیغمبر(ص) کے تمہیں کچھ نہیں بتائیں گے یہ تمام روئے زمین پر دانشمند ترین فرد ہیں اگر تم ان کی طرف ہاتھ بڑھاؤ گے تو دانش کی طرف ہاتھ بڑھاؤ گے،تو دانش کی طرف ہاتھ بڑھاؤ گے، ایسی دانش کہ لوگ جس سے ناشناس ہیں۔

۲۰ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا میرے بعد میری امت میں میرے دین کے مطابق فیصلے کرنے والا علی بن ابی طالب(ع) ہے۔

۲۱ـ          عبداﷲ بن حسن بن حسن بن علی(ع) کہتے ہیں کہ جب بھی پیغمبر(ص) پر وحی ہوتی تو شب ہونے سے پہلے وہ اسے علی(ع) تک پہنچاتے اور اگر شب میں وحی ہوتی تو صبح ہونے سے پہلے وہ اسے علی(ع) تک پہنچا دیتے۔


۲۲ـ          امام باقر(ع) فرماتے ہیں کہ ایک دن جناب رسول خدا(ع) نے اپنے اصحاب کے ساتھ نماز فجر ادا کی اور اصحاب جناب رسول خدا(ص) کی صحبت میں تشریف فرمائے ہوگئے اور پھر جب ظہور آفتاب ہونا شروع ہوا تو اصحاب ایک ایک کر کے رخصت ہونے لگے یہاں تک کہ آپ(ع) کی خدمت میں صرف دو اصحاب ایک اںصار میں سے اور ایک بنی ثقیف میں سے رہ گیا جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا میں جانتا ہوں کہ تم مجھے سے سوال کرنا چاہتے ہو اگر تم کہو تو میں بیان کروں کہ تمہارا  سوال  کیا ہے انہوں نے عرض کیا اندھے کو روشنی کے علاوہ کیا چاہتے آپ(ص) ہم سے شک دور فرمائیں اور ہمارے ایمان کو مضبوط کریں۔

جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا اے برادر انصاری تم اہل شہر ہو اور دوسروں کو خود پر مقدم رکھتے ہوں یہ ثفقی  بیابانی ہے لہذا اسے پہلے سوال کرنے اور جواب لینے دو اںصاری نے کہا جو آپ(ص) کا حکم یا رسول اﷲ(ص) جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا اے برادر ثقفی تم اس لیے آئے ہوکہ  وضو اور نماز کے ثواب کو جان سکو لہذا جان لو کہ جب تم پانی میں ہاتھ ڈالو تو نام خدا لو تمہارے ہاتھوں سے جو گناہ سرزد ہوئے ہیں جھڑ جائیں گے، جب تم اپنا چہرہ دھوگے تو جو گناہ تمہاری آنکھوں سے سرزد ہوئے ہیں وہ جھڑ جائیں گے اور جو گناہ تیرے دہن نے کیے ہوں گے وہ ختم ہوجائیں گے جب تم اپنے دائیں اور بائیں ہاتھ کہنیوں تک دھوگے تو جو گناہ تمہارے ہاتھوں نے کیے ہوں گے وہ جھڑ جائیں گے جب تم اپنے سر اور پاؤں کا مسح کرو گے تو وہ گناہ جن کی طرف تم اپنے قدموں پر چل کر گئے تھے وہ جھڑ جائیں گے یہ تیرے وضو کا ثواب ہے۔ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو اور قبلہ رخ ہو جاؤ تو سورہ حمد یا جو کوئی سورہ تمہیں یاد ہو پڑھو اور صحیح رکوع اور کامل سجدہ کرو پھر تشہد و سلام کہو( پڑھو) تو تمہارے تمام گناہ جو تم نے پچھلی نمازوں میں کیے ہوں گے معاف کردیئے جائیں گے یہ تمہاری نماز کا ثواب ہے۔

پھر آپ(ص) نے انصاری مرد سے فرمایا اے برادر اںصاری تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں بتاؤں کہ تمہارے حج اور عمرے کی جزا کیا ہے تو تم جان لوکہ جب تم حج پر جانے کا قصد کرو  پھر اپنی سواری پر سوار ہو ” بسم اﷲ “ کہہ کر اپنی سواری کو آگے بڑھاؤ تو تمہاری سواری جو قدم اٹھائے اس کے ہر ہر


 قدم پر تمہارے لیے ایک نیکی لکھی جائے گی اور گناہ مٹایا جائے گا جب تم احرام باندھ کر تلبیہ کہو گے تو خدا تمہارے لیے دن نیکیاں لکھے گا۔ اور دس گناہ مٹائے گا جب  تم خانہ کعبہ کا سات مرتبہ طواف کرو گے تو خدا کے پاس تمہارے لیے ایک عہد ہوگا جو اس کے عذاب میں مانع ہوگا جب تم مقام ابراہیم(ع) پر دو رکعت نماز پڑھو گے تو خدا تمہارے لیے دو ہزار قبول شدہ رکعات کو ثواب لکھے گا جب تم صفا ومروہ کے درمیان سعی کرو گے تو اس کے بدلے خدا تمہیں اس بندے کے برابر اجر عطا کرے گا جو اپنے ملک سے با پیادہ حج کرنے آیا ہو اور اس شخص کے برابر ثواب دے گا جس نے ستر ایسے غلام آزاد کیے ہوں جو صاحب ایمان ہوں جب تم عرفات میں غروب آفتاب تک طواف کرو گے تو تمہارے گناہ چاہے کوہ عالج اور صحراء عالج یا سمندر کی جھاگ کے برابر ہی کیوں نہ ہوں معاف فرما دیئے جائیںگے جب تم رمی جمار کرو گے تو خدا تمہاری ہر کنکری کے بدلے دس نیکیاں تمہاری آیندہ عمر کے لیے لکھ دے گا جب تم سر منڈاؤ گے تو خدا تمہارے ہر بال کے بدلے تمہری آیندہ عمر کےلیے نیکیاں لکھے گا جب تم قربانی کا جانور ذبح کرو گے تو اس کے خون کے ایک ایک قطرے کے بدلے نیکیاں لکھے گا۔ جب تم خانہ کعبہ کا طواف کرو گے اور مقام ابراہیم(ع) پر دو رکعت نماز پرھو گے تو ایک مکرم فرشتہ تمہارے شانوں پر ہاتھ رکھ کر کہے گا تیرے گذشتہ گناہ معاف کردئیے  گئے ہیں اب تم تین ماہ کے اندر اندر نیک اعمال شروع کر دو تمہیں یہ مہلت عطا کی گئی ہے۔

             حسبنا اﷲ و نعم الوکیل و صلواة علی محمد (ص) و آل محمد(ص)


مجلس نمبر ۸۲

( ۱۱ رجب سنہ۳۶۸ھ)

۱ـ           جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا روزہ دار عبادت میں ہے بیشک وہ اپنے بستر پر سویا ہوا ہی کیوں نہ ہو مگر جب تک کسی مسلمان کی غیبت نہ کرے۔

۲ـ           جناب رسول خدا(ص) کا ارشاد ہے کہ جو کوئی طلب ثواب کی خاطر ایک مستحب روزہ رکھے گا تو خدا اسے ضرور معاف فرمائے گا۔

سخاوت و جوانمردی

۳ـ          کچھ لوگ امام صادق(ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سخاوت و جوانمردی کے بارے میں پوچھنے لگے تو آپ(ع) نے فرمایا تمہارا نظریہ ہے کہ سخاوت و جوانمردی فسق و ہرزگی سے ملحق ہے، ایسا ہرگز نہیں ہے سخاوت کا تعلق بخشش، نیک اعمال اور دسترخوان کے وسیع کرنے اور آزار کے دفع کرنے سے ہے لیکن تم جس جوانمردی کا کہہ رہے ہو وہ عیاری و فسق ہے۔پھر امام(ع) نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ سخاوت و جوانمردی کیا ہے لوگوں نے کہا ہمیں علم نہیں ہےامام(ع) نے فرمایا سخاوت یہ ہےکہ اس(بندے ) کے گھر میں دستر خوان بچھا رہے اور جوانمردی  کے  دو پہلو ہیں ایک قیام میں اور دوسرا سفر میں قیام میں یہ ہے کہ قرآن کی تلاوت کی جائے مساجد کی دیکھ بھال اور خدمت کی جائے اور حاجت مند بردران کو تلاش کیا جائے، دوست کی خیر خواہی اور دشمنوں کی سرکوبی کی جائے، جبکہ سفر میں یہ ہے کہ بہترین توشہ ہمراہ ہو اور بخشش کے ذریعے اپنے دوست کو خوشنود کیا جائے اور رفیق کی غیر موجودگی میں اس کے عیوب کی پردہ پوشی کی جائے ، بے باکی کا انجام خدا کا غیض و غضب ہے( یعنی بے باکی کا نام جوانمردی نہیں ہے) پھر امام(ع) نے فرمایا جان لو کہ جس نے میرے جد(ص) کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، بے شک خدا کسی بندے کو اس کی سخاوت و جوانمردی کے مطابق رزق دیتا ہے اس کے خرچ اور نفقہ کے مطابق آسمانی امداد روانہ کی


جاتی ہے اور بلا کی سختی کے مطابق صبر کیا جاتا ہے۔

۴ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جو کوئی اپنے ہمسائے کو آزار نہیں دیتا خدا روزِ قیامت اس کے گناہ معاف فرما دے گا جو کوئی اپنے شکم و فرج کی حفاظت کرتا ہے بہشت میں خرم و معظم ہوگا اور جو کوئی کسی بندہ مومن کو آزاد کروائے تو خدا ایسے کو بہشت میں گھر عطا کرے گا۔

۵ـ          سلمان جعفری کہتے ہیں کہ میں نے امام موسی بن جعفر(ع) سے دریافت کیا کہ یا ابن رسول اﷲ(ص) آپ(ع) کا قرآن کے بارے میں کیا خیال ہے ایک گروہ کہتا ہے کہ یہ مخلوق ہے جبکہ دوسرا کہتا ہے خالق ہے کہ امام(ع) نے فرمایا جو کچھ وہ کہتے ہیں میں اس سے متفق نہیں ہوں۔ میں کہتا ہوں کہ یہ کلام خدا ہے۔

۶ـ           جناب رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا بندگان خدا وہ ہیں جو خدا کو پہچانتے ہیں اور اسے عظیم جانتے ہیں وہ فضول بات سے اپنی زبان کو روکے رکھتے ہیں اپنے شکم سے خوراک کو دور رکھتے ہیں اور روزہ و عبادت شبینہ کے غم میں مبتلا رہتے ہیں لوگوں نے پوچھا ہمارے ماں باپ آپ(ص) پر قربان یا رسول اﷲ(ص) کیا ایسے لوگ اولیاء اﷲ ہیں آپ(ص) نے فرمایا اولیاء اﷲ تو خاموشی اختیار کرتے ہیں اور خاموشی میں ذکر الہی میں مشغول رہتے ہیں دنیا پر گریہ نہیں کرتے اور عبرت حاصل کرتے ہیں اور جو کچھ  کہتے ہیں وہ حکمت ہے وہ لوگوں کے درمیان راہ چلتے ہوئے بھی برکت سمیٹتے جاتے ہیں اگر ان کے مقدر میں جینا نہ ہوتا تو خوف عذاب اور شوق ثواب سے ان کے بدنوں میں جان نہ ہوتی۔

۷ـ          جناب رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا، میرے بھائی علی(ع) مجھے تمام بھائیوں میں محبوب ترین ہے اور میرے چچا حمزہ(رض) میرے تمام چچاؤں میں مجھے محبوب ترین ہیں۔

۸ـ          جناب رسول خدا(ص) نے جناب امیر(ع) سے فرمایا اے علی(ع) جو کوئی تم سے جدا ہوگا وہ مجھ سے جدا ہے اور جو مجھ سے جدا ہے وہ خدا سے جدا ہے۔

۹ـ           عبداﷲ بن عباس(رض) روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول خدا(ص) کو ایک مرتبہ سخت بھوک لگی تو آپ(ص) خانہ کعبہ میں تشریف لائے اور پردہ کعبہ کو پکڑ کر دعا فرمائی کہ پروردگار تو اس دعا کا اختتام


 ہونےتک محمد(ص) کو بھوکا نہ رکھ آپ(ص) کا یہ فرمانا تھا کہ جبرائیل(ع) نازل ہوئے اور بہشت کے ایک پھل کو جناب رسول خدا(ص) کو دے کر فرمایا اے محمد(ص) خدا آپ(ص) کو سلام کہتا ہے اور فرماتا ہے کہ اس پھل کو توڑیں۔

جناب رسول خدا(ص) نے اس پھل توڑا تو اس کے اندر لکھا پایا ” لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ ایدتہ محمدا بعلی نصرتہ“ جبرائیل(ع) نے فرمایا خدا کے ہاں اںصاف ہے جو کوئی خدا کے بارے یں تہمت نہیں باندھتا خدا بھی اسے رزق دینے میں تساہلی نہیں برتتا۔

۱۰ـ جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا غفلت کے وقت نماز نافلہ پڑھ لو بیشک اس کی دونوں رکعات چھوٹی ہی کیوں نہ ہوں کہ یہ باعث دار کرامت ہوں گی، عرض کیا گیا یا رسول اﷲ(ص) غفلت کی ساعت کونسی ہے آپ(ص) نے فرمایا مغرب اور عشاء کے درمیان ہے۔

جناب امیر(ع) کا وضو

۱۱ـ امام صادق(ع) فرماتے ہیں کہ ایک دن امیرالمومنین(ع) نے اپنے فرزند محمد بن حنفیہ سے فرمایا اے محمد بن حنفیہ(رح) میرے لیے پانی کا ایک برتن لے آؤ تاکہ میں وضو کر کے نماز پڑھوں محمد بن حنفیہ(رح) ان کے لیے پانی کا ایک برتن لے آئے آپ(ع) نے اس برتن میں سے دائیں ہاتھ کے چلو میں پانی لے کر بائیں ہاتھ پر گرایا اور فرمایا حمد اس خدا کی جس نے پانی کو پاک کیا اور نجس نہ بنایا پھرآپ(ع) نے استنجا کیا اور فرمایا خدایا میری شرمگاہ کو پارسا رکھ میرے ستر کو چھپا اور دوزخ کو مجھ پر حرام کر، پھر کلی کرتے وقت فرمایا خدایا اپنی حجت کو میری تلقین کے واسطے ہدایت دے اور میری زبان کو اپنے ذکر میں لگا پھر ناک میں پانی ڈالا اور فرمایا خدایا  بہشت کو خوشبو کو مجھ پر حرام نہ کر اور پاک و طیب  خوشبو عطا فرما پھر آپ(ع) نے اپنا چہرہ دھویا اور فرمایا خدایا جس دن چہرے سیاہ ہوں گے تو میرے چہرے کو سفید رکھ اور میرے چہرے کو سفیدچہرے والوں کے سامنے سیاہ مت کر پھر آپ(ع) نے اپنا دایاں ہاتھ دھویا اور فرمایا خداوندا میرے نامہء اعمال کو میرے دائیں ہاتھ میں دینا اور خلد بہشت کو مجھ سے مت ہٹانا اور مجھے آسانی سے حساب کے عمل سے گزارنا۔ پھر آپ(ع) نے اپنا بایاں ہاتھ دھویا


 اور فرمایا میرا نامہء اعمال میرے بائیں ہاتھ میں مت دینا اور اسے میری گردن کا بوجھ مت بنانا میں آگ کے شعلوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ پھر آپ(ع) نے سر کا مسح کیا اور فرمایا خدایا مجھے اپنی رحمت وبرکات و عفو میں رکھ پھر جب آپ(ع) نے دونوں پیروں کا مسح کیا تو فرمایا خدایا میرے دونوں پاؤں صراط پر قائم رکھ اس دن کہ جس دن لوگوں کے پاؤں لغزش میں ہوں گے اورمیری تلاش کو ایک ایسا عمل قرار دے کہ میں تجھے خوشنود کروں۔پھر آپ(ع) نے اپنے فرزند محمد بن حنفیہ(رح) کی طرف دیکھا اور فرمایا جو کوئی میری مانند وضو کرے اور جیسا میں نے کہا ویسے کہے تو خدا اس کے وضو کے پانی کے ہر قطرے سے ایک فرشتہ پیدا کرتا ہے جو تقدیس و تسبیح و تکبیر کہتا ہے اور خدا تا قیامت اس فرشتے کے ثواب کو اس( بندے ) کے لیے لکھتا ہے۔

حضرت عیسی(ع) کی اپنے اصحاب کو  نصیحت

۱۲ـ          امام جعفر صادق(ع) نے فرمایا کہ عیسی بن مریم(ع) نے اپنے اصحاب کو نصیحت کرتےہوئے فرمایا اے فرزندان آدم(ع) اپنے دلوں سے دنیا کی محبت رخصت کر دو اور دنیا سے خدا کی طرف بھاگو یہ دنیا تمہارے لیے مناسب اور شائستہ نہیں ہے نہ ہی تم دنیا کے لائق ہو اور نہ ہی یہ دنیا باقی رہے گی اور نہ ہی تم اس دنیا کے لیے باقی رہو گے دنیا فریب دینے اور مصائب میں مبتلا کرنے والی ہے فریب خوردہ وہ ہے جو اس دنیا کےدھوکے میں آجائے اور نقصان میں وہ شخص ہے جو اس دنیا سے مطمئن ہوجائے جس نے دنیا کو دوست رکھا اور اور اس کے حاصل کرنے کی خواہش کی وہ ہلاک ہوا لہذا اپنے پیدا کرنے والے (خدا) سے مغفرت طلب کرتے رہو اور اپنے پالنے والے کے عذاب سے پرہیز کرو کہ اس دن باپ بیٹے کا اور بیٹا باپ کا فدیہ نہیں ہوسکتا غور کرو کہ تمہارے آباؤ و اجداد کہاں ہیں تمہاری مائیں ، تمہارے بھائی اور بہنیں کہاں ہیں تمہاری اولاد کہاں ہے کار کنان قضاء و قدر نے انہیں اپنے پاس بلالیا اور انہوں( تمہارے اقرباء) نے ان کی دعوت قبول کر لی اور چلے گئے اور اس وطن کو الوداع کہہ دیا وہ مردوں کےساتھ مٹی تلے چلے گئے اور یہاں سیمٹ گئے اور دوستوں سے جدا ہوگئے اور جو کچھ وہ اس سے پہلے آخرت کے لیے بھیج چکے تھے اس کے محتاج ہوگئے اور جو کچھ وہ دنیا چھوڑ گئے تھے اس سے لا پرواہ ہوگئے تمہیں ہر چند نصیحت کی جاتی ہے مگر تم


بھولے ہوئے اور غفلت کا شکار اور لہو لعب میں مشغول ہو دنیا میں تمہاری مثال حیوانوں کی سی ہے تمہاری کوشش شکم پروری اور نفس کی تابعداری کے لیے ہے کیا تمہیں خدا سے شرم نہیں آتی جس نے تمہیں پیدا کیا حالانکہ اس نے گناہ گاروں کو جہنم کی آگ سے ڈرایا ہے تم جہنم کی آگ کی تاب و طاقت نہیں رکھتے اس نے اطاعت کرنے والوں کے لیے بہشت اور اپنی ہمسائگی کا وعدہ فرمایا ہے لہذا خدا کے وعدے کی طرف رغبت اختیار کرو اور خود کو اس کی رحمت کے لائق بناؤ اپنے ساتھ انصاف کرو اور دوسروں پر ظلم مت کرو اپنے سے کمزوروں پر رحم کرو محتاجوں کی دستگیری کرو خدا سے اپنے گناہوں کی توبہ کرو اور نصیحت پکڑو کہ پھر گناہوں کی طرف رجوع نہیں کرو گے ۔ تم نیکوکار بندے بن جاؤ بادشاہ یا جبار مت بنو اورنہ ہی فرعون کی طرح ظالم و سرکش بنو جنہوں نے اس پروردگار سے سرکشی کی تو اس(خدا) نے موت کے ذریعے ان پر اپنا قہر نازل فرمایا وہ جباروں کا جبار آسمانوں اور زمینوں کا پروردگار گذشتہ و آیندہ کے لوگوں کا خدا اور روز قیامت کا بادشاہ ہے جس کا عتاب شدید اور عذاب دردناک ہے اس کے  عذاب سے کوئی ظالم نجات نہیں پاسکتا اور اس کےقبضہ قدرت سے کوئی شئی باہر نہیں جاسکتی اس کے علم سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہوسکتی  اس سے کوئی امر ڈھکا ہوا نہیں رہ سکتا اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے اس نے ہر شخص کو اس کی منزل میں جگہ دے رکھی ہےیعنی بہشت یا دوزخ میں۔اے فرزندِ آدم(ع) تو نا تواں ہے اور اس( خدا) سے بھاگ نہیں سکتا وہ شب کی تاریکی اور دن کی روشنی میں تجھے بلا لیتا ہے اور تم جس بھی حال میں ہوتے ہو تمہیں گرفت کر لیتا ہے تم ہر آن اس کے قبضہء قدرت میں ہو جس نے نصیحت کی اور جس نے اسے سنا( قبول کیا) وہ دونوں ہی راستگار ہیں۔

۱۳ـ جناب رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا ، جس کسی کو نعمتوں کا حصول ہو اسے چاہیے کہ  وہ بہت زیادہ ” الحمد ﷲ رب العالمین“ کا ورد کرے اور جسے فقر نے گھیر رکھا ہو تو اسے چاہیے کہ وہ بہت زیادہ ” لا حول و لاقوة الا باﷲ العلی العظیم“ کا ورد کرتا رہے اور بہشت کے خزانوں میں سے ایک ہے یہ بہتر(۷۲) قسم کی بلائیں دور کرتا ہے اور اس کا سب سے کم حاصل یہ ہے کہ اندوہ ہٹ جاتا ہے۔

۱۴ـ امام باقر(ع) نے راوی حدیث عمرو سے فرمایا اے عمرو یہ دوزخی لوگ کیسے ہیں، کیا یہ گمان کرتے ہیں کہ یہ موت نہیں رکھتے یہاں تک کہ یہ برھنہ ہوجاتے ہیں اور ان کے عذاب میں تخفیف نہیں ہوتی یہ تشنہ و بھوکے ، معیوب چشم اور اندھے، گونگے اور سیاہ چہروں والے، دوزخ میں


 گرائے گئے اور پشیمان و مغفوب ہوتے ہیں ان کے عذاب کے سلسلے میں ان پر رحم نہیں کیا جاتا انہیں چلایا جاتا ہے حمیم پلایا جاتا ہے اور زقوم کھلایا جاتا ہے آتشین سلاخیں ان کے بدنوں میں داخل کی جاتی ہیں انہیں گرزوں سے مارا جاتا ہے فرشتے ان پر سختی کرتے ہیں اور رحم نہیں کھاتے دوزخ میں ان کو چہروں کے بل کھینچا جاتا ہے ان کا درجہ شیاطین کے برابر کردیا جاتا ہے یہ سختیوں میں گرفتار رہتے ہین اگر یہ فریاد کریں تو سنی نہیں جاتی اگر درخواست کریں تو پوری نہیں ہوتی اے عمرو دوزخیوں کا یہ حال ہے۔

۱۵ـ          سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں عبداﷲ بن عباس(رض) کے پاس گیا اور ان سے کہا اے رسول خدا(ص) کے چچازاد میں تمہارے پاس اس لیے آیا ہوں کہ علی بن ابی طالب(ع) کے بارے میں لوگوں کے اختلاف رائے کے متعلق دریافت کروں ابن عباس(رض) نے کہا اے جبیر تم نے مجھ سے ان کی بابت دریافت کیا ہے جو پیغمبر(ص) کی امت میں ان(ص) کے بعد خدا کی بہترین خلق ہیں تم نے مجھ سے اس بندے کے بارے میں پوچھا ہے جو پیغمبر(ص) سے شب قربت اور ایک رات میں تین ہزار منقبت رکھتے ہیں اے ابن جبیر تم نے مجھ سے اس بندے کے بارےمیں دریافت کیا ہے جو وصی رسول(ص) ۔ وزیر رسول(ص)۔ خلیفہء رسول(ص) ، ان(ص) کے صاحب حوض، ان(ص) کے لوائے کے اٹھانے والے اور ان(ص) کی شفاعت کے تقسیم کنندہ ہیں اور قسم ہے اس کی جس کے قبضے میں ابنِ عباس(رض) کی جان ہے اگر یہ تمام جہان سیاہی بن جائے تمام درختوں سے قلمیں بنائی جائیں اور خدا کی تمام خلق کو لکھنے پر مامور کر کے علی(ع) بن ابی طالب(ع) کے مناقب لکھنے کا کہا جائے تو جس دن سے خدا نے جہان کو پیدا کیا تب سے وہ قیامت تک لکھتے رہیں تو علی بن ابی طالب(ع) کے مباقب کا دسواں حصہ بھی نہ لکھ سکیں گے۔

۱۶ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا میں پیغمبروں (ع) کا سردار ہوں اور علی بن ابی طالب(ع) اوصیاء کا سردار ہے اور حسن(ع) و حسین(ع) جوانان اہل بہشت کے سردار ہیں اور ان (علی(ع)) کے بعد متقیوں کے امام و سردار ہیں۔ ہم خدا کے اولیاء ہیں۔ ہمارا دشمن خدا کا دشمن ہے ہماری اطاعت خدا کی اطاعت ہے اور ہماری نافرمانی خدا کی نافرمانی ہے۔

۱۷ـ          امام رضا(ع) نے فرمایا ہم دنیا میں بھی سردار ہیں اور آخرت میں بھی سردار ہیں۔


مجلس نمبر۸۳

( ۱۴ رجب سنہ۳۶۸ھ)

جناب امیر(ع) اور بی بی فاطمہ(س) کی تزویج

۱ـ           امام صادق(ع) فرماتے ہیں کہ جناب امیر(ع) نے فرمایا، میرے دل میں یہ خواہش تو تھی کہ میری شادی فاطمہ(س) سے ہو جائے مگر مجھ میں یہ ہمت نہ تھی کہ جناب رسول خدا(ص) سے اس بات کا اظہار کروں تاہم شب وروز یہی خیال مجھے گرفت کیے رکھتا تھا، ایک دن میں جناب رسول خدا(ص) کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ(ص) نے فرمایا۔ اے علی(ع) میں نے کہا۔” لبیک یا رسول اﷲ“ آپ(ص) نے فرمایا تمہارا اپنی شادی کے بارے میں کیا ارادہ ہے میں نے کہا، آپ(ص) اس بارے میں بہتر جانتے ہیں۔ بعد میں مجھے خیال آیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ(ص) میری شادی قریش کی کسی دوسری خاتون سے کرنے کا ارادہ رکھتے ہوں اور میں فاطمہ(س) سے محروم ہوجاؤں۔ ناگاہ ایک شخص نے آکر مجھے رسول خدا(ص) کا پیغام دیا کہ انہوں نے مجھےےبلایا ہے اس شخص نے مجھے بتایا کہ اس نے جتنا مسرور جناب رسول خدا(ص) کو آج دیکھا ہے پہلے کبھی نہیں دیکھا یہ سن کر میں تیزی سے چلا اور جناب رسول خدا(ص) کی خدمت میں حاضر ہوگیا اس وقت جناب رسول خدا(ص) بی بی ام سلمہ(ع) کے حجرے میں تشریف فرما تھے اور خوشی کی وجہ سے آپ(ص) کا چہرہ پر نور مزید ضیاء بار ہورہا تھا مجھے دیکھ کر آپ(ص) یوں مسکرائے کہ آپ(ص) کے دندان مبارک قمر کی مانند چمکتے ہوئے نظر آئے۔ مجھے دیکھ کر آپ(ص) کر آپ(ص) نے فرمایا اے علی(ع) تمہیں مبارک ہو خدا نے میری ساری پریشانی دور فرمادی مجھے تمہاری شادی کی فکر دامن گیر تھی میں عرض کیا وہ کیسے آپ(ص) نے فرمایا ۔ جبرائیل(ع)امین جنت سے سنبل و قرنفل ( پھول اور لونگ) لے کر آئے تھے میں نے انہیں سونگھا اور جبرائیل(ع) سے پوچھا یہ سنبل و قرنفل کیسے ہیں انہوں نے کہا اﷲ نے جنت میں مامور فرشتوں اور وہاں کے ساکنان کو حکم دیا کہ جنت کے پودوں درختوں پھلوں اور وہاں کے محلات و قصور کو پوری طرح آراستہ کریں پھر وہاں کی ہواؤں کو حکم دیا کہ وہ فضا میں طرح طرح کی


خوشبوئیں بکھیریں اور وہاں کی حوروں کو حکم دیا کہ وہ سورہ طہ” طور سین“ ” یس“ اور حمعس“ کی تلاوت کریں۔ اس کے بعد ایک منادی نے زیر عرش ندا دی کی آگاہ ہو جاؤ آج علی بن ابی طالب(ع) کی شادی کا ولیمہ ہے۔ پھر خدا نے فرمایا تم سب گواہ رہنا میں فاطمہ(س) بنت محمد(ص) کا عقد علی(ع) ابن ابی طالب(ع) سے کردیا ہے۔

اور یہ دونوں بھی آپس میں شادی کرنے پر راضی و خوش ہیں پھر خدا نے ایک سفید ابر بھیجا اس نے آکر جنت کے مکینوں پر موتی، زبر جد اور یاقوت کی بارش کر دی جبکہ جنت کے مکینوں اور فرشتوں نے یہ سنبل و قرنفل لٹائے اور یہ وہی سنبل و قرنفل ہیں۔

پھر خدا نے بہشت کے ایک فرشتے کو جس کا نام راحیل ہے اور ملائکہ میں اس کی فصاحت و بلاغت کا ثانی کوئی نہیں کو حکم دیا کہ خطبہ پڑھے اس نے ایسا فصیح و بلیغ خطبہ پڑھا کہ اہل آسمان و زمین نے آج تک نہین سنا پھر جارجی حق نے  ندا دی کہ اے میرے فرشتو اور جنت کے مکینو، محمد(ص) کے محبوب علی بن ابی طالب(ع) اور فاطمہزہرا(س) تک میری برکتیں پہنچا دو کیوںکہ میں نے اپنی کنیز کی شادی اس شخص سے کردی ہے جو میرے نبی(ص) کے بعد مجھے سب سے زیادہ عزیز ہے راحیل(ع) نے خدا سے عرض کیا بار الہا ان دونوں کے لیے جو برکتیں تو نے بہشت میں رکھی ہیں وہ ہم دیکھ چکے ہیں اب اس سے زیادہ تو انہیں کیا دینا چاہتا ہے، ارشاد ہوا اے راحیل(ع) ان دونوں کے لیے میری مزید برکت یہ ہے کہ میں ان دونوں کو اپنی محبت پر یکجا کردوں اور اپنی مخلوق پر انہیں حجت قرار دوں مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ہے میں ان دونوں سے ایسی ہستیاں پیدا کروں گا جنہیں میں اپنی زمین خزینہ دار، اپنے علم کا معدن، اپنے دین کا رہبر اور انبیاء مرسلین(ع) کے بعد مخلوق پر حجت بناؤں گا۔

اس کے بعد آںحضرت(ص) نے  فرمایا اے علی(ع) مبارک ہو تمہیں خدا نے وہ شرف و بزرگی عطا کی ہے اس نے عالمین میں سے کسی اور کو عطانہیں کی اور میں اپنی دختر کا عقد تم سے اسی بنا پر کر رہا ہوں جس بنا پر خدا نے اسے تمہاری زوجیت میں دیا ہے لہذا جو خدا کی مرضی ہے وہی میری مرضی ہے اب یہ تیری زوجہ ہے آج سے اس پر تمہارا حق مجھ سے زیادہ ہے مجھے جبرائیل(ع) نے خبر دی ہے کہ بہشت تم دونوں کی نہایت مشتاق ہے اگر خدا کو یہ منظور نہ ہوتا کہ تم دونوں سے ایک زریت


 طیبہ(ع) پیدا کرے جو اس کی خلق پر اس کی طرف سے حجت ہوتو  وہ جنت اور اہل جنت کی یہ خواہش پوری کردیتا کہ تم ابھی سے بہشت میں سکونت پذیر ہوجاؤ پس اے علی(ع) تم میرے کتنے اچھے داماد اور صحابی ہو تمہارے لیے اس کے متعلق صرف خدا کی رضا کافی ہے، میں ( جناب امیر(ع)) نے عرض کیا یا رسول اﷲ(ص) کیا خدا کی نظر میں میری قدر و منزلت اس قدر ہے کہ میرا ذکر جنت میں ہوتا ہے اور فرشتے اور جنت کے مکین میرے مشتاق ہیں اور یہ کہ فرشتوں کی محفل میں میرے عقد کی تقریب منعقد کی گئی ہے آپ(ص) نے فرمایا اے علی(ع) سنو جب خدا اپنے کسی ولی کو نوازنا چاہتا ہے اور اس سے محبت کرنا چاہتا ہے تو اس کی عزت اس قدر بڑھاتا ہے کہ نہ کسی آنکھ نے دیکھی اور نہ کسی کان نے سنی اے علی(ع) خدا کی طرف سے یہ عزت و مرتبہ تمہیں مبارک ہو۔ میں (علی(ع)) نے کہا اے خدایا تو مجھے توفیق عطا فرما کہ میں تیری ان نعمتوں کا شکر ادا کرتا رہوں آںحضرت(ص) نے یہ سن کر فرمایا آمین۔

فضائل علی(ع) و شیعیان علی(ع)

۲ـ           امام صادق(ع) بیان فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ جناب رسولِ خدا(ص) منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا اے علی(ع) خدا نےتمہیں مساکین اور فیض پانے والوں کی محبت سے سرفراز کیا ہے تم ان کی برادری سے خوشنود ہو اور یہ تمہاری امامت سے خوشنود ہیں کیا کہنا اس بندے کا جو تجھے دوست رکھتا اور تیری تصدیق کرتا ہے اور برا ہے اس بندے کا جو تجھے دشمن رکھتا ہے اور جھوٹ کہتا ہے اے علی(ع) تم اس امت کے عالم ہو جو کوئی تجھے دوست رکھتا ہے کامیاب ہے اور جو تجھ سے دشمنی کرتا ہے وہ ہلاکت میں ہے اے علی(ع) میں علم کا شہر ہوں اور تم اس کا دروازہ ہو جوکوئی شہر میں آنا چاہے وہ دروازے کے علاوہ نہیں آسکتا اے علی(ع) تیرے دوست ہدایت یافتہ رستگار اور معاف کیے گئے  ہیں کہ اگر خداکی قسم کھائیں تو خدا ان کی بات وقسم کو پورا کرے اے علی(ع) تیرا ہر دوست پاک وذکی ہے کہ حق کے لیے کوشاں ہے اور تیری خاطر دوستی و دشمنی کرتا ہے، وہ خلق کے درمیان حقیر مگر خدا کے سامنے بڑے مقام میں ہیں اور جو کچھ وہ دنیا سے ترک کرتے ہیں اس بارے میں اظہار تاسف نہیں کرتے۔اے  علی(ع) میں تمہارے دوستوں کا دوست اور دشمنوں کا دشمن ہوں اے علی(ع) جو تمہیں دوست


 رکھتا ہے مجھے دوست رکھتا ہے اور جو کوئی تمہیں دشمن رکھتا ہے مجھے دشمن رکھتا ہے اے علی(ع) تیرے دوست تشنہ لب اور بکھرے ہوئے ہیں، اے علی(ع) تیرے بھائی تین جگہوں پر شاد ہیں جان دینے کے وقت میں ان کے سرہانے کھڑا ہوں گا اور سوال وجواب کے وقت تم ان کے ہمراہ ان کی قبر میں موجود ہوگے اور صراط پر جب قطار لگی ہوگی اور پوچھ گچھ ہورہی ہوگی اور خلق جواب دینے سے قاصر ہوگی تم ان کے ساتھ ہوگے اے علی(ع) تیرے ساتھ جنگ میرے ساتھ جنگ ہے اور میرے ساتھ جنگ خدا کے ساتھ جنگ ہے اور جو تیرے ساتھ روا رکھا جائے وہ مجھ سے روا ہے اور جو کچھ میرے ساتھ روا رکھا گیا وہ خدا کےساتھ روا رکھا گیا اے  علی(ع) تیرے برادران کو مبارک ہو کہ انہیں خدا نے  اس لیے پسند کیا کہ تمہیں ان کے پیش رو کے طور پر پسند کیا اور انہوں نے تیری ولایت کو پسند کیا اے علی(ع) تم امیرالمومنین(ع) اور سفید چہروں والوں کے قائد ہو اے علی(ع) تیرے شیعہ نجات یافتہ ہیں اگر تم اور تمہارے شیعہ نہ ہوتے تو خدا کا دین نہ ہوتا اگر تم زمین میں نہ ہوتے تو خدا آسمان سے قطرہ بھی زمین پر نہ بھیجتا اے علی(ع) تم بہشت میں خزانہ رکھتے ہو اور میری امت کے ذوالقرنین(ع) ہو تمہارے شیعہ حزب اﷲ المعروف ہیں اے علی(ع) تم اور تمہارے شیعہ عدل قائم کرنے والے اور بہترین خلق ہیں اے علی(ع) میں وہ اول بندہ ہوں جو زندہ کر کے قبر سے نکالا جاؤں گا اور تم میرے ہمراہ ہوگے ا س کے بعد دوسرے ہوں گے اے علی(ع) تم اور تمہارے شیعہ حوض کوثر کے کنارے پر جمع ہوگے اور جسے چاہو پیاس  بجھانے دوگے اور جسے چاہوگے ہٹا دوگے جس وقت لوگ خوف و وہراس میں ہوں گے اس وقت تم بے غم اور عرش کے سائے میں بزرگ ترین مقام پر ہوگے تمہارے ہی بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔” بیشک وہ کہ جو سابقہ خوبی ہماری طرف سے رکھتے ہیں ہم وہ ہیں جو دوزخ سے  دور ہیں“ ( انبیاء ، ۱۰۱) اور پھر تمہارے ہی بارے میں ارشاد ہوا ہے کہ ” اندوھناک نہ کرے گا ان کو ہراس اور بزرگ تر اور فرشتے ان کے ساتھ ملےہوں گے کہ یہ ہے وہ دن جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔“ ( انبیاء)

اے علی(ع) تم اور تمہارے شیعہ موقف میں بلائے جائیں گے اور تم بہشت میں نعمت پاؤ گے اے علی(ع) فرشتے اور خازن تیرے مشتاق ہیں۔حاملان عرش اورمقرب فرشتے تمہارے لیے دعا کریں گے


 اور تیرے دوستوں کے لیے خدا سے خواہش کریں گے اور اس مسافر خاندان کی مانند جس کا سفر طویل ہوجاتا ہے تمہارے پاس آکر خوشی محسوس کریںگے اے علی(ع) تیرے دوست خلوت میں خدا سے ڈرتے ہیں اور ظاہر میں خیر کرتے ہیں اے علی(ع) تیرے شیعہ آپس میں درجات کی بلندی پر ایک دوسرے سے رقابت رکھیں گے کیوںکہ وہ خدا کے نزدیک ہوںگے  اور گناہ نہیں رکھتے اے علی(ع) تیرے شیعوں کے اعمال ہر جمعہ میرے سامنے پیش کیے جاتے ہیں اور میں ان کے نیک اعمال سے شاد ہوتا ہوں اور ان کے برے کردار کی مغفرت طلب کرتا ہوں اے علی(ع) تیرا ذکر توریت میں کیا گیا ہے اورنیک شیعوں کا ان کے خلق ہونے سے پہلے تذکرہ کیا گیا ہے انجیل میں اہل کتاب نے تجھے ایلیا پکارا ہے تم خود توریت اور انجیل سے واقف ہو ان کے ہاں ایلیا(ع) کا بہت بلند مقام ہے یہ اپنی کتاب میں تمہیں اور تمہارے شیعوں کو جانتے ہیں اے علی(ع) تیرے شیعوں کا نام آسمان میں معظم کیا گیا ہے جان لو کہ وہ شاد ہوںگے اور ان کی کوشش عظیم ہوگی اے علی(ع) تیرے شیعہ حالتِ ارواح میں ثواب رکھتے ہیں جب انہیں موت آتی ہے تو وہ آسمان پر چلے جاتے ہیں اور وہاں فرشتے اپنے اشتیاق کی وجہ سے انہیں پہچان لیتے ہیں اور خدا کے ہاں ان کے مقام سے آگاہ ہیں اے علی(ع) تمہارے شیعہ عرفان کی طاقت سے لبریز ہیں ان کے دشمن ان سے اس (طاقت کی ) وجہ سے کنارہ کرتے ہیں، وہ منزہ ہوں گے کیونکہ کوئی دن اور رات ایسا نہ ہوگا کہ خدا کی رحمت انہیں گھیرے ہوئے نہ  ہو وہ عذاب سے دور ہوں گے۔اے علی(ع) خدا کا غضب اس بندے کے لیے بہت عظیم ہے جو ان سے اور تم سے دشمنی رکھے اور اس پر کہ جو تیرے دشمن کی طرف جھکاؤ رکھے تجھے چھوڑ دے اور گمراہی اختیار کرے تجھ سے جنگ چاہے اورتیرے شیعہ کو دشمن رکھے اے علی(ع) اپنے شیعوں کو میرا سلام پہنچا دو کہ میں انہیں دیکھتا ہوں مگر وہ مجھے نہیں دیکھتے انہیں اطلاع دیدو کہ وہ میرے بھائی ہیں، میں ان کا مشتاق ہوں انہیں میرے علم سے آراستہ کیا گیا ہے ان کا رشتہ خدا سے جڑا ہوا ہے یہ اپنے برادران کی حفاظت کرتے اور نیک عمل میں کوشش کرتے ہیں انہیں جو ہدایت ملی ہے وہ انہیں گمراہی میں نہیں لے جاتی ، اے علی(ع) انہیں خبر دو کہ خدا ان سے راضی ہے اور فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ ان کے لیے مغفرت طلب کریں اے علی(ع) تم لوگوں کی مدد سے روگردان مت ہو تاکہ انہیں


ہدایت ملے میں تجھے دوست رکھتا ہوں اور میری خاطر یہ تجھے دوست رکھتے ہیں اور خدا کی خاطر دین داری کرتے ہیں اور تمہاری دوستی کی وجہ سے دل پاک و صاف رکھ کر تمہارا احترام کرتے ہیں اور تمہیں اپنے ماں باپ اور اولاد سے زیادہ مقدم جانتے ہیں یہ تحمل سے تمہارے راستے پر چلتے  ہیں ہمارے سوا یہ کسی کی مدد نہیں کرتے اور ہمارے راستے میں جانبازی دکھاتے ہیں اور ہمارے بارے میں کچھ بھی برا نہیں سنتے۔ یہ سختیوں میں صبر کرتے ہیں کیوںکہ خدا نے اپنی خلق کے درمیان انہیں ہمارے علم کے واسطے چنا ہے اور ہماری طینت سے انہیں پیدا کیا ہے اور ہمارے سر(علم) کو ان کے حوالے کیا ہے ان کے دل میں ہمارے حق کی معرفت ڈالی گئی ہے ان کے سینوں کو کھلا کیا گیا ہے اور انہیں ہمارے رشتے کے ساتھ متمسک کیا گیا ہے یہ ہم پر ہمارے مخالفین کو مقدم نہیں رکھتے  یہ دنیا میں نقصان اٹھاتے ہیں مگر خدا ان کی تائید کرتا  ہے اور انہیں راہ حق پر لے جاتا ہے یہ حق کے ساتھ منسلک ہیں، لوگ اندھے پن میں گمراہی اختیار کیے ہوئے ہوائے نفس میں سرگرداں ہیں اور اس حجت سے جوخدا کی طرف سے آئی ہے منکر ہیں اور صبح و شام خدا کے غضب میں ہیں مگر تیرے شیعہ راہ حق پر ہیں یہ اپنے مخالفین سے محبت نہیں کرتے دنیا ان سے نہیں اور یہ دنیا سے نہیں یہ اندھیری رات کے چراغ ہیں۔

۳ـ          ابوسعید خدری(رض) کہتے ہیں کہ میں نے جناب رسول خدا(ص) سے اس قرآنی آیت کہ ”قالَ الَّذي عِنْدَهُ عِلْمٌ مِنَ الْكِتاب‏ “ ( نمل، 40) ترجمہ: ” کہا وہ کہ جس کے پاس کتاب سے کچھ علم تھا“ کے بارے مین دریافت کیا تو جناب رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا یہ میرے بھائی سلیمان ابن داؤد(ع) کے وصی( آصف بن برخیا(ع)) کے بارے میں کہا گیا ہے پھر میں نے جناب رسول خدا(ص) سے اس آیت قرآنی کہ ”قُلْ كَفى‏ بِاللَّهِ شَهيداً بَيْني‏ وَ بَيْنَكُمْ وَ مَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتاب‏   “ (رعد، 43) ۔ ترجمہ : کہہ دو کہ تمہارے اور میرے درمیان اﷲ کافی ہے گواہی کے لیے وہ بندہ کہ جس کے پاس علم کتاب ہے ” کے بارے میں دریافت کیا تو آںحضرت(ص) نے فرمایا اس سے مراد میرا بھائی علی بن ابی طالب(ع) ہے۔


آسمان سے ستارے کا نزول

۴ـ          ابن عباس(رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک رات ہم نے جناب رسول خدا(ص) کے ہمراہ نماز عشاء ادا کی جب آںحضرت(ص) سلام سے فارغ ہوئے تو فرمایا آج طلوع فجر کے وقت آسمان سے ایک ستارہ تم میں سے کسی کے گھر اترے گا جس گھر میں وہ ستارہ اترے وہی میرا خلیفہ و وصی اور میرے بعد تمہارا امام(ع) ہے۔ جیسے ہی فجر کا وقت قریب آیا تو لوگوں نے دیکھنا شروع کیا اور دل میں یہ خواہش موجزن ہوگئی کہ یہ ستارہ اسی کے گھر میں اترے تمام لوگوں سے زیادہ یہ خواہش میرے والد عباس ابن عبدالمطلب(ع) کےدل میں تھی جب فجر کا وقت ہوا تو آسمان سے ایک ستارہ اترا جناب امیر(ع) کے گھر جا اترا تو جناب رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا اے علی(ع) مجھے اس ذات کی قسم ہے جس نے مجھے نبوت کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے میرے بعد وصائیت و خلافت اور امامت تمہارے لیے واجب و لازم ہوگئی ہے یہ دیکھ کر منافقوں نے جب میں عبداﷲ بن ابی منافق بھی شامل تھا کہنا شروع کیا کہ محمد(ص) اپنے چچازاد بھائی کی محبت میں بہک گئے ہیں اور معاذ اﷲ گمراہ ہوگئے ہیں اور ان کی شان میں جو کچھ بھی کہتے ہیں خواہش نفسانی کی بنیاد پر کہتے ہیں جب منافقین نے اس طرح کہنا شروع کیا تو خدا نے یہ آیت نازل فرمائی۔” قسم ہے ستارے کہ جب کہ وہ اترا کہ گمراہ نہ ہوا اور نہ بہکا تمہارا صاحب( یعنی محبت علی بن ابی طالب(ع) میں) اور وہ اپنی خواہش سے نہیں بولتا مگر یہ کہ اس پر وحی نازل ہوتی ہے( نجم، ۱ـ۴)

۵ـ          ایک دوسری روایت میں ستارے کے ظاہر ہونے  کو طلوع خورشید کے قریب بیان کیا گیا ہے ایک اور روایت میں اس موضوع کے متعلق ربیعہ سعدی کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس(رض) سے اس آیت ”والنجم اذا هویٰ“ کے بارے میں پوچھا تو ابن عباس(رض) نے کہا کہ اس سے مراد وہ ستارہ ہے جو طلوع فجر کے وقت اترا اور علی بن ابی طالب(ع) کے گھر پر جا ٹھہرا میرے والد عباس بن عبدالمطلب(ع) کی یہ شدید خواہش تھی  کہ یہ ستارہ ان کے گھر پر اترے تاکہ وصایت و خلافت و امامت  ان کے خاندان سے جاری ہوجائے لیکن یہ خدا کی مرضی نہ تھی کہ علی بن ابی طالب(ع) کے علاوہ کوئی اور اس کے فضل کو حاصل کرے اور یہ خدا کا فضل ہے وہ جسے چاہے عطا کرے۔


مجلس نمبر۸۴

(۱۸ رجب سنہ۳۶۸ھ)

جناب امیر(ع) کو عورت کے بارے میں نصائح

۱ـ    ابوسعید خدری(رض) بیان کرتے ہیں کہ جناب رسول خدا(ص) نے جناب امیر(ع) کو عورت کے بارے میں چند نصیحتیں بیان فرمائیں۔

آپ(ص) نے فرمایا اے علی(ع) جب تم دلہن کے پاس جاکر بیٹھو تو اس کے جوتے اتروا اور اس کے دونوں پاؤں دھوکر اس پانی کو اپنے مکان کی دیواروں اور چھت پر چھڑ کاؤ جب تم ایسا کرو گے تو اﷲ تعالی تمہارے گھر سے ستر ہزار قسم کا فقر دور کرے گا۔ ستر ہزار قسم کی برکتیں اس گھر پر نازل کرے گا اور ستر ہزار رحمتیں اس میں داخل کرے گا جو دلہن کے سر پر مںڈلاتی رہیں گی اور تم گھر کے گوشے گوشے میں انہیں دیکھ پاؤگے جب تک دلہن اس گھر میں موجود رہے گی جنون و جزام اور برص سے محفوظ رہےگی۔

تم اپنی دلہن کو نصیحت کرنا کہ وہ اس ہفتے ان چار چیزوں دودھ، دھنیا، سرکہ اور کھٹے سیب سے پرہیز کرے جناب علی(ع) نے عرض کیا یا رسول اﷲ(ص) ان چار چیزوں سے پرہیز کیوں آںحضرت(ص) نے فرمایا اس لیے کہ رحم ان چار چیزوں سےعقیم و بانجھ ہو جاتا ہے اور ٹھنڈا پڑ جاتا ہے اور بچہ پیدا نہیں ہوتا، گھر کے کسی گوشے میں پڑی چٹائی بانجھ عورت سے بہتر ہے ، جناب علی(ع) نے دریافت کیا، یا رسول اﷲ(ص) آپ(ص) نے سرکہ استعمال کرنے کی ممانعت کیوں کی ہے ارشاد ہوا اگر سرکہ استعمال کرنے پر حیض  آیا تو عورت مکمل طور پر حیض سے پاک نہیں ہوگی، دھنیا حیض کو اس کے پیٹ میں بکھیر دے گا اور اسے بچہ جننے میں سختی ہوگی کھٹا سیب اس کے حیض کو قطع کردے گا اور یہ مرض میں تبدیل ہوجائے گا۔ پھر فرمایا اے علی(ع) اپنی عورت سے مہینے کی پہلی، درمیانی اور آخری تاریخ مجامعت مت کرنا کیونکہ اس طرح سرعت کے ساتھ جنون و جزام اور خبط الحواسی عورت اور بچے کی طرف


پہنچتی ہے، اے علی(ع) ظہر کے بعد جماع نہ کرنا کیونکہ اس کے نتیجے میں جو بچہ ہوگا وہ احوال (بھینگا) ہوگا انسانوں میں احول کو دیکھ کر شیطان خوش ہوتا ہے، اے علی(ع) بوقت جماع باتیں نہ کرنا کیوںکہ اس طرح جو بچہ پیدا ہوگا خطرہ ہے کہ گونگا ہوگا اور جماع کرتے وقت اپنی نظریں عورت کی شرمگاہ پرمت ڈالنا کیونکہ خطرہ ہے کہ اس طرح جو بچہ پیدا ہو اندھا ہو اے علی(ع) کسی غیر عورت کو تصور میں لیے ہوئے اپنی عورت سے جماع مت کرنا مجھے ڈر ہے کہ اس طرح کے جماع سے جو بچہ پیدا ہو وہ مخںث یا فاترالعقل نہ ہو۔ اے علی(ع) جب کوئی شخص اپنی عورت سے ہم بستری کے بعد جنب ہوجائے تو اسے چاہیے کہ وہ قرآن کی تلاوت نہ کرے مجھے ڈر ہے کہ کہیں ان دونوں پر آسمان سے آگ نہ برسے جو انہیں جلا کر خاکستر کردے۔ اے علی(ع)  جب جماع کے بعد مادے کی صفائی کرنے لگو تو عورت اور مرد کے پاس صفائی کے لیے علیحدہ  علیحدہ کپڑا ہو ورنہ ایک ہی کپڑے سے شہوت پر شہوت واقع ہوگی جو دونوں میں باعث عداوت ہوگی اور جدائی اور طلاق پر منتج ہوگی۔ اے علی(ع) اپنی عورت سے کھڑے ہوکر جماع مت کرنا کیونکہ یہ گدھوں کا کام ہے اور اس طرح کے جماع سے جو بچہ پیدا ہوگا وہ بستر پر پیشاب کرے گا جس طرح گدھا جس جگہ ہوتا ہے وہیں پیشاب کردیتا ہے اے علی(ع) اپنی عورت سے عید قربان کی شب جماع مت کرنا کیونکہ اس سے جو بچہ پیدا ہوگا اس کی چھ انگلیاں ہوں گی اے علی(ع) پھلدار درخت کے نیچے اپنی زوجہ سے جماع مت کرنا کیونکہ اس سے جو اولاد پیدا ہوگی وہ جلاد یا ظلم و قتال میں مشہور ہوگی اے علی(ع) اپنی زوجہ سے سورج کے سامنے اس کی روشنی میں جماع نہ کرنا مگر یہ کہ اپنے اوپر پردہ ڈال لو جو تم دونوں کو چھپائے رکھے ورنہ اگر اس طرح کے جماع سے کوئی بچہ متولد ہوا تو وہ ہمیشہ سختی اور فقر و فاقہ میں رہے گا یہاں تک کہ اس کی موت واقع ہوجائے اے علی(ع) اپنی زوجہ سے اذان و اقامت کے درمیان جماع مت کرنا ورنہ تم دونوں سے جو بچہ پیدا ہوگا وہ خون بہانے کا بہت شوقین ہوگا اے علی(ع) جب تمہاری عورت حاملہ ہوتو جب تک تم وضو نہ کر لو اس سے جماع نہ کرو ورنہ اس طرح جو بچہ پیدا ہوگا وہ دل کا اندھا اور ہاتھ کا کنجوس ہوگا اے علی(ع) اپنی زوجہ سے ںصف ماہ شعبان میں جماع مت کرنا کیونکہ جو اولاد پیدا ہوگی وہ منحوس ہوگی اور اس کے چہرے پر نحوست ہوگی اے علی(ع) اپنی زوجہ سے شعبان کے آخری


دو روز جماع مت کرنا ورنہ جو لڑکا ہوگا وہ عشر وصول کرنے والا اور ظالموں کی مدد کرنے والا ہوگا اور اس کے ہاتھوں لوگوں کا ایک گروہ ہلاک ہوگا۔

اے علی(ع) اپنی زوجہ سے عمارتوں کی چھتوں پر جماع مت کرنا کیونکہ اس طرح سے جوبچہ متولد ہوگا وہ ریا کار اور بدعتی ہوگا اے علی(ع) جب تم کسی سفر پر جانے لگو تو اس شب اپنی زوجہ سے جماع مت کرنا کیونکہ اس طرح کے جماع سے جو بچہ پیدا ہوگا۔ وہ اپنا مال ناحق کاموں میں خرچ کرے گا۔

پھر جناب رسول خدا(ص) نے  اس آیت کو پڑھا ”إِنَّ الْمُبَذِّرينَ كانُوا إِخْوانَ الشَّياطينِ وَ كانَ الشَّيْطانُ لِرَبِّهِ كَفُورا “ (بنی اسرائیل، ۲۷) ترجمہ : ” فضول خرچ لوگ شیاطین کے بھائی بند ہوتے ہیں “ اے علی(ع)جب تم کسی ایسے سفر پر نکلو جس کی مسافت تین دن اور تین رات ہوتو اپنی زوجہ سے جماع مت کرنا ورنہ جو بچہ پیدا ہوگا وہ تم پر ظلم کرنے والے کی مدد کرے گا۔

اے علی(ع) اگر تم مہینے کی دوسری تاریخ کی شب میں اپنی زوجہ سے جماع کرو گے تو جو بچہ پیدا ہوگا وہ قرآن کا حافظ ہوگا اے علی(ع) اگر تم مہینے کی تیسری تاریخ کی شب اپنی زوجہ سے مقاربت کرو گے تو تم دونوں کے مقدر مین جو بچہ ہوگا تو اسے ” لا الہ الا اﷲ“ کی شہادت اور ” محمد رسول اﷲ“ کی شہادت کے بعد شہادت کا رزق نصیب ہوگا خدا اسے مشرکین کے ساتھ معذب نہیں کرے گا وہ پاک نگہت و پاک دہن ہوگا وہ رحم دل اور ہاتھ کا سخی ہوگا اس کی زبان غیبت و کذب و بہتان سے پاک ہوگی اے علی(ع) اگر تم اپنی زوجہ سے جمعرات کی شب جماع کرو گے تو جو بچہ تمہارے مقدر میں ہوگا وہ حاکمین میں سے ایک حاکم ہوگا ۔ یا عالمون میں سے ایک عالم ہوگا بیچوں بیچ ہو جماع کرو گے  تو جو بچہ ہوگا اس کے بڑھا پے تک شیطان اس کے قریب نہیں پھٹکے گا اور وہ لوگوں کے امور کا نگران ہوگا اور اﷲ اسے دین و دنیا کی سلامتی عطا کرے گا۔ اے علی(ع) اگر تم اپنی زوجہ سے شب جمعہ جماع کرو اور اس سے جو بچہ ہو وہ بے لاگ خطیب اور بے دھڑک بولنے والا ہوگا ۔ اے علی(ع) اگر تم اپنی زوجہ سے جمعہ کے روز عصر کے بعد جماع کرو تو جو بچہ پیدا ہوگا وہ ایک معروف عالم ہوگا اور اگر تم شب جمعہ عشاء کےبعد اپنی زوجہ سے جماع کرو گے تو انشاء اﷲ امید


ہے کہ جو بچہ ہوگا وہ ابدال میں سے ہوگا۔

اے علی(ع) اپنی زوجہ سے شب کی اول ساعت میں جماع مت کرنا کیونکہ خطرہ ہے کہ اس طرح جو بچہ پیدا ہو وہ ساحر یا جادوگر ہو اور دنیا کو دین پر ترجیح دے۔ اے علی(ع) میری ان نصیحتوں کو یاد رکھو جس طرح میں نے انہیں جبرائیل(ع) سے سن کر یاد کیا ہے۔

مومن کے اوصاف

۲ـ           امام باقر(ع) فرماتے ہیں کہ جناب امیرالمومنین(ع) کے اصحاب میں ایک مرد عابد تھے جن کا نام ھمام(رح) تھا ایک مرتبہ وہ جناب امیر(ع) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا  امیر المومنین(ع) آپ(ع) مجھے متقی لوگوں کی صفات اس طرح بیان فرمائیں کہ جیسے میں انہیں اپنے سامنے دیکھ رہا ہوں۔ جناب امیر(ع) نے جواب دینے میں کچھ توقف کیا اور پھر مختصرا فرمایا اے ھمام ! اﷲ سے ڈرو اور نیک عمل کرو کیونکہ خدا ان لوگوں کے ساتھ ہے جو پرہیز گار ہیں اور نیک کردار ہیں۔

ھمام(رح) نے کہا ! یا امیرالمومنین(ع) میں آپ(ع) کو اس حق کی قسم دیتا ہوں جو آپ سے مخصوص کیا گیا اور گرامی رکھا گیا مجھے آپ(ع) اس بارے میں تفصیل سے وضاحت فرمائیں۔ جناب امیر(ع) یہ سن کر کھڑے ہوگئے۔ اور خدا کی حمد اور اوصاف حمیدہ بیان فرمانے کے بعد جناب رسول خدا(ص) پر درود بھیجا اور فرمایا بے شک جب خدا نے مخلوق کو خلق فرمایا تو ان کی اطاعت سے بے نیاز اور ان کی نافرمانی سے بے پرواہ ہو کر لباس وجود پہنایا اس لیے دغابازوں کی نافرمانی اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی پھر خدا نے مخلوق کی معیشت کا سامان ان میں تقسیم کیا اور دنیا میں ہر ایک کو اس کےمقرر کردہ مقام پر رکھا اور آدم(ع) اور حوا(ع) نے جب حکم عدولی کی اور اس کے امر کی مخالفت کی تو انہیں لایا پس اس میں متقی اور پرہیزگار  ہی صاحب فضیلت ہیں ان کی گفتگو اور لباس درمیانہ اور ان کی رفتار عجز وانکسار ہے وہ خدا کی فرمانبرداری کے لیے خشوع کرتے ہیں خدا کی حرام قرار دی ہوئی چیزوں سے انہوں نے آنکھیں بند کرلیں ہیں اور نفع بخش علم  کے حصول کےلیے کوشاں ہیں ان کے نفس مصیبت میں بھی


 ویسے ہی رہتے ہین جیسے کہ آرام و راحت میں اور اگر زندگی کی مدت معین نہ کردی گئی ہوتی تو ان کی روحیں ثواب کے شوق اور عذاب کے خوف سے پلک جھپکنے کے عرصے کے لیے بھی ان کے بدنوں میں نہ رہتیں ان کی نگاہوں میں خالق کی  عظمت اس طربیٹھ گئی ہے۔ کہ ان کی نگاہوں میں اس کے سوا ہر چیز حقیر نظر آتی ہے انہیں جنت کا اس طرح یقین ہے جیسے اسے دیکھا ہو۔ اور دوزخ کے دل غمگین، لوگ ان کے شر سے محفوظ، ان کے بدن لاغر، ان کی ضرورتیں کم ان کے نفس پاک اور خواہشات نفسانی سے مبرا ہیں وہ اس دنیا سے آخرت کا توشہ لیتے ہیں اور چند روزہ چھوٹی تکلیفوں پر صبر کرتے ہیں جس کے بدلے آخرت کی دائمی راحت حاصل کر لیتے ہیں یہ ایک نفع بخش تجارت ہے جو خدا نے ان کے لیے مہیا کی ہے دنیا نے انہیں چاہا مگر انہوں نے اس کی خواہش نہ کی اور وہ انہیں طلب کرتے کرتے عاجز آگئی، جب رات ہوتی ہے تو یہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر قرآن کی آیتوں کی رک رک کر تلاوت کرتے ہیں اور اپنے دلوں کو علم سے تازہ کرتے اور اپنی بیماری کا علاج تلاش کرتے ہیں۔ یہ اپنے غم سےاپنے گناہوں پر گریہ کرتے ہیں یہ اپنے دل کے زخموں سے دردمند ہوتے ہیں جب کبھی یہ کوئی ایسی آیت پڑھتے ہیں جس میں خوف دلایا گیا ہوتو اس کی طرف اپنے دل کے کان لگا دیتے ہیں اور خیال کرتے ہین کہ جہنم کے شعلوں کی آواز اور چیخ وپکار انہیں سنائی دے رہی ہے اور جب یہ کوئی اسی آیت پڑھتے ہیں جس میں جنت کی رغبت دلائی گئی ہو تو وہ اس کی طمع کے آگے جھک جاتے ہیں اور اس شوق میں ان کے دل بے اختیار چیخ اٹھتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں جیسے وہ منظر ان کی نظروں کےسامنے  ہو وہ اپنے جبار بزرگوار کے سامنے پیشانیاں ۔ ہتھیلیاں ، زانو اور پاؤں خاک پر رکھے ہوئے گریہ کرتے ہیں بخدا یہ اپنی آزادی کے لیے آرزو مند ہیں جب دن ہوتا ہے تو یہ حلیم عالم بن کر نیک کردار اور پرہیزگار دکھائی دیتے ہیں خوف خدا نے انہیں نیزوں کی طرح پتلا اور لاغر کر دیا ہے انہیں جو کوئی دیکھتا ہے گمان کرتا ہے کہ یہ بیمار ہیں مگر یہ بیماری نہیں رکھتے جب لوگ انہیں دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ دیوانے ہیں مگر ان کے ذہنوں میں قیامت کا خوف، خدا کی سلطنت کا خیال


 اور عذاب کا ہراس جگہ کیے ہوئے ہے۔ یہ خدا کے لیے تھوڑے عمل سے خوش نہیں ہوتے یہ زیادہ کو کم شمار کرتے ہیں اور اپنے ہی نفس پر کوتاہی کا الزام رکھتے ہیں یہ اپنے اعمال سے خوف میں رہتے ہیں جب کوئی ان کے تقوی اور پرہیزگاری کی تعریف کے سلسلے میں کچھ کہتا ہے تو یہ کانپ جاتے ہیں اور مغفرت طلب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں اپنی نسبت بہتر جانتا ہوں۔ اور میرا رب مجھ سے زیادہ میرے نفس کو جانتا ہے خدایا جو کچھ یہ لوگ میرے بارے میں کہہ رہے ہیں تو اس بارے میں میرا مواخذہ مت کرنا جو کچھ یہ میرے بارے میں کہہ رہے ہیں اس میں میرے لیے جو بہتر ہو وہی میرے بارے میں کرنا خدایا میرے وہ گناہ بخش دے جو یہ لوگ نہیں جانتے کیونکہ تو علام الغیوب اور ساتر عیوب ہے۔ ان( مومنین) میں سے ہر ایک کی علامت یہ ہے کہ تم ان میں یہ باتیں دیکھو گے، نرمی کے ساتھ دین میں مضبوطی ایمان میں دور اندیشی،یقین علم کی حرص، بردباری کےساتھ دانائی، حصول کسب سکون کے ساتھ ہزینہ ( نان نفقہ) دینے میں مہربان۔ توانگری میں میانہ روی، عبادت میں خشوع، ناداری میں تحمل، مصیبت میں صبر، رنج میں مہربانی، حقِ عطا میں بخشش، حلال کی طلب، ہدایت میں کیف و سرور، طمع سے نفرت ، راست روی و پاکیزگی ، شہوت سے چشم پوشی، بے جا ستائش سے پرہیز کہ نادان اس سے فریب کھاتے ہیں ، وہ جو کچھ جانتے ہیں اسے جانے نہیں دیتے۔

وہ (مومن) نیک اعمال بجالاتا ہے پھر بھی خدا سے ڈرتا ہے اپنی شام خدا کے شکر میں دن یاد الہی میں اور رات خوف خدا میں گزارتا ہے وہ صبح کوخوش اٹھتا ہے مگر یہ خطرہ دامن گیر رہتا ہے کہ کہیں رات غفلت میں نہ گزر جائے اسے اس فضل اور رحمت پر خوشی ہوتی ہے جو اسے حاصل ہوئی ہے اگر اس کا نفس کسی عمل سے کراہت کر کے اسے برداشت نہیں کرنا چاہتا تو وہ اس کی خواہش پوری نہیں کرتا جو کچھ اس کے پاس ہے وہ اس پر خوشی ہے جو کچھ اس کے پاس ہے وہ قائم ہے اس کی آنکھیں روشن ہیں جو زوال نہیں رکھتیں جو موجود ہو ان کا شوق اسی میں ہے اور جو باقی نہ رہے وہ ان کے لیے بے رغبت ہے یہ علم کو بردباری سے حاصل کرتے ہیں اور بردباری کو عقل سے تم جب بھی انہیں دیکھو گے سستی ان سے دور ہوگی یہ ہر لمحہ نشاط میں ہیں ان کی آرزوئیں مختصر


 لغزشیں کم اور موت کی تمنا لیےہوئے ہیں ان کے دل تواضع کرنے والے اور پروردگار کی یاد میں ہیں ان کے نفس قانع ان کے عمل سہل اپنی نادانی پر نادم اور گناہوں پر ترساں ہیں یہ اپنے دین کے محافظ اپنی شہوت کے قاتل اور اپنے غصے کو پی جانے والے ہیں ان کے اخلاق بلند اور ان کے ہمسائے ان سے راضی اور امن میں ہیں ان میں غرور نہیں ہے ان کا صبر استوار اور ذکر خدا کی بہتات ہے ان کا عمل محکم ہے ان کا دوست جو کچھ ان کے حوالے کرے یہ اس میں خیانت نہیں کرتے ہیں یہ اپنی گواہی کو اپنے خلاف دینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ یہ چھوٹے عمل کو ریا سے نہیں کرتے اور شرم محسوس کرتے ہیں۔ ان کا خیر مورد انتظار  ہے، ان کے شر سے امن ہے ( یعنی شر نہیں پھیلاتے) یہ اگر ذکر خدا سے غفلت کرنے والوں میں بیٹھ جائیں تو اسے بھی ذکر خدا میں لکھا جاتا ہے اور اگر ذکر خدا کرنے والوں میں بیٹھ جائے تو اسے غافلوں میں شمار نہیں کیا جاتا جو ان پر ظلم کرتا ہے یہ اسے معاف کردیتے ہیں جو انہیں ان کے حق سے محروم رکھے یہ اس پر بخشش کرتے ہیں جو ان سے قطع تعلق کرے یہ اس سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں بردباری کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جلدی شک کا شکار نہیں ہوتے جو کچھ ان پر ظلم ہو اس سے چشم پوشی کرتے ہیں۔ نادانی ان سے دور رہے ان کی گفتار میں نرمی ہے ان کا نیرنگ ( دھوکا، فریب) معدوم اور احسان معروف ہے ان کا قول سچا، ان کا عمل نیک ان کا خیر ظاہر اور اپنے شرسے گریزاں ہے یہ زلزلوں میں باوقار اور مصیبتوں میں صابر ہیں یہ خوشحالی میں شکر ادا کرنے والے ہیں اور اپنے دشمن پر بھی بے جا زیادتی نہیں کرتے ۔ یہ س سے محبت کرتے ہیں اس کی خاطر بھی گناہ نہیں کرتے اور جو کچھ ان کی ملکیت نہیں ہوتا اس کا دعوی نہیں کرتے ان پر جو حق ہوتا ہے اس سے منکر نہیں ہوتے اور اعتراف حق کرتے ہیں اس سے پہلے کہ ان پر گواہ پیش ہوں، جس کی چاہیے  حفاظت کرتے ہیں اور گم نہیں ہونے دیتے کسی کو برے لقب سے نہیں پکارتے کسی پر ظلم نہیں کرتے حسد نہیں کرتے اپنے ہمسائے کو آزار نہیں پہنچاتے۔ کسی کی مصیبت پر اسے طعنہ نہیں دیتے نادانی سے کسی کے معاملے میں دخل نہیں دیتے حق سے باہر نہیں جاتے  تاکہ درماندہ نہ ہوں خاموشی اختیار کرتے ہیں اور اس خاموشی پر غمزدہ نہیں ہوتے، بات کرتے ہیں تو خطا نہیں کرتے خوش ہوتے


 ہیں تو مسکراتے ہیں قہقہ بلند نہیں کرتے جو کچھ مقدر میں ہے اس پر راضی ہوتے ہیں غصہ آئے تو سر ںہیں اٹھاتے، ہوائے نفس ان پر غلبہ نہیں پاتے بخل ان پر غالب نہیں آتا، جس سے وابسطہ نہیں ہے اس کی طمع نہیں کرتے ، لوگوں سے کچھ جاننے کے لیے ملتے ہیں، خاموش رہتے ہیں تاکہ سلامت رہیں پوچھتے ہیں تاکہ سمجھیں۔ عمل کرتے ہیں تاکہ خیرلیں اگر کوئی کہے کہ اسے فلان  ضرورت ہے ( یعنی خواہش نفسانی کا اظہار کرے) تو توجہ نہیں کرتے جابروں سے بات نہیں کرتے  اگر ان کے ہاتھوں پر زیادتی کی جائے تو صبر کرتے ہیں یہاں تک کہ خدا ہی اس کا انتقام لے ان کا نفس ان کے ہاتھوں مشقت میں ہے اور لوگ اس سے راحت میں ہیں اس نے اپنی آخرت سنوارنے کے لیے اپنے نفس کو تکلیف میں جبکہ لوگوں نے آرام میں رکھا ہوا ہے اگر کسی سے دوری اختیار کرتے ہیں۔ تو زہد وپاکیزگی کی وجہ سے اور جن سے قریب ہوتے ہں تو نزم مزاجی اور نرم دلی کی وجہ سے ان کی کسی سے دوری غرور یا تکبر کی وجہ سے نہیں ہوتی اور نہ ہی ان کا قریب ہونا کسی مکر و فریب کی وجہ سے ہے بلکہ یہ اپنے سے پہلے والے اہل خیر کی اقتدار کرتے ہیں یہ آنے والوں کے لیے نیکو کاری میں رہبر ہیں۔

جناب امیر(ع) نے یہاں تک فرمایا تو یہ سن کر ھمام(رح) نے چیخ بلند کی اور وفات پاگئے امیرالمومنین(ع) نے فرمایا میں اسی خوف سے تردد کر رہا تھا پھر آپ(ع) نے حکم دیا کہ ھمام(رح) کی تجہیز و تکفین کریں اور  نماز جنازہ ادا کریں۔ جناب امیر(ع) نے ارشاد فرمایا کہ نصیحتیں اپنے اہل پر ایسا ہی اثر کرتی ہیں، ایک شخص نے یہ سن کر کہا کہ آپ(ع) پر خود ایسا اثر کیوں نہیں ہوتا آپ(ع) نے فرمایا، وائے ہو تم پر موت کا ایک دن معین ہے اور وہ اس سے آگے نہیں بڑھ سکتا اور اس کا ایک سبب ہوتا ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرسکتا یہ بات جو تمہاری زبان پر شیطان نے جاری کی ہے دوبارہ مت دہرانا۔

غدیر خم میں آںحضرت(ص) کا فرمان

۳ـ          ابو سعید خدری(رح) کہتے ہیں کہ جناب رسول خدا(ص) نے غدیر کے روز منادی کو حکم دیا کہ وہ با جماعت نماز کے لیے ندا دے جب لوگ اکھٹے ہوگئے تو آںحضرت(ص) نے جناب امیر(ع) کا ہاتھ تھاما


 اور فرمایا جس کسی کا میں آقا ہوں یہ علی(ع) بھی اس کے آقا و مولا ہیں خدایا دوست رکھ اسے جو اسے دوست رکھے اور دشمن رکھ اسے جو اسے دشمن رکھے۔

حسان بن ثابت(رض) نے کہا ۔ یا رسول اﷲ(ص) میں چاہتا ہوں کہ علی(ع) کے بارے میں اشعار کیہوں آپ(ص) نے فرمایا کہو۔ حسان(رض) نے شعر کہا۔

” غدیر کے دن خم کے مقام پر ان کا نبی(ص) انہیں پکار رہا تھا۔

سنو کہ رسول(ص) منادی کرتے ہوئے کیا فرمارہے ہیں۔

وہ فرمارہے ہیں کہ کون ہے تمہارا ولی و حاکم و مالا۔

پس انہوں نے وہاں کسی دشمنی کا ظاہر نہیں کیا۔

آج ہم میں سے کوئی بھی آپ(ص) کا نافرمان نہیں ملے گا۔

تو حضور(ص) نے کہا کھڑے ہوجاؤ اے علی(ع)

بیشک میں نے اپنے بعد تمہیں امام و ہادی ہونے کے لیے پسند کیا۔

علی(ع) کو آشوب چشم تھا اور وہ علاج کی تلاش میں تھے۔

جب انہیں کوئی معالج نہ مل سکا تو اﷲ کے رسول (ص) نے انہیں لعاب دہن سے شفا بخشی پس کیسا بابرکت علاج تھا اور با برکت ہے علاج کرنے  والا۔


مجلس نمبر۸۵

(۲۲ رجب سنہ۳۶۸ھ)

استجابت دعا

۱ـ           امام باقر(ع) روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا جب زوال ظہر ہوتا ہے تو آسمانکے دروازے کھل جاتے ہیں اور بہشت کے دروازے بھی کھول دیئے جاتے ہیں اس وقت دعائیں مستجاب ہوتی ہیں کیا کہنا اس بندے کا جو اس وقت عمل صالح کرے کہ یہ سب اوپر جائیں گے۔

۲ـ           امام باقر(ع) نے فرمایا ہمارے شیعوں میں سے کوئی بندہ ہرگز نماز کے لیے کھڑا نہیں ہوتا مگر یہ کہ اس کے مخالفین کی تعداد کے برابر فرشتے آتے ہیں اور اس کے پیچھے نماز پرھتے ہیں اور اس کے لیے دعا کرتےہیں یہاں تک کہ وہ اپنی نماز سے فارغ ہوجاتا ہے۔

۳ـ          عمیر بن مامون عطاردی کہتے ہیں کہ میں جناب حسن(ع) بن علی(ع) کو دیکھتا ہوں کہ جب بھی صبح کی نماز پڑھتے ہیں تو مجلس میں بیٹھ جاتے  ہیں یہاں تک کہ سورج ظاہر ہوجاتا ہے جناب حسن(ع) بن علی(ع) سے میں نے سنا کہ انہوں نے جناب رسول خدا(ص) کی حدیث بیان فرمائی کہ کوئی صبح کی نماز پڑھے اور پھر سورج کی طلوع ہونے تک تعقیب میں رہے تو خدا اسے دوزخ سے بچاتا ہے جناب حسن(ع) بن علی(ع) نے تین بار اس حدیث کو دھرایا۔

۴ـ          امام صادق(ع) فرماتے ہیں کہ جبرائیل(ع) جناب یوسف(ع) کے پاس زندان میں تشریف لائے اور فرمایا اے یوسف(ع) ہر واجب نماز کے بعد تین مرتبہ اسطرح کہیے کہ خدایا میرے لیے وسعت پیدا کر اور مجھے محفوظ رکھ اور اس وقت کوئی گمان کرے یا نہ کرے مجھے رزق عطا فرما۔

۵ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جو کوئی نماز شب میں ساتھ بار ” قل ہو اﷲ احد“ تیس بار پہلی رکعت میں اور تیس بار دوسری رکعت میں پڑھے تو خدا اور اس  کے درمیان کوئی گناہ نہ رہے گا۔


۶ـ           ابن عباس(رض) کہتے ہیں کہ جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا جو کوئی بازار سے اپنے اہل و عیال کے لیے تحفہ لائے تو یہ صدقہ دینے کے ثواب کے برابر فضیلت رکھتا ہے اسے چاہیے کہ یہ تحفہ وہ سب سے پہلے اپنی دختر کو دے کیونکہ جو اپنی دختر کو خوش کرے گا تو گویا اس نے فرزندان اسماعیل(ع) میں کسی مومن کو راہ خدا میں آزاد کروایا اور جو کوئی اپنے فرزند کی آنکھیں روشن کرے گا تو یہ ایسا ہے کہ جیسے وہ خوف خدا سے رونے کے برابر ثواب لے اور جو کوئی خوف خدا سے گریہ کرے بہشت میں پر نعمت ہوگا۔

۷ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا، جان لو کہ مجھے جبرائیل(ع) نے ایک ایسے امر کی خبر دی کہ میری آنکھیں روشن اور دل شاد ہوگیا ہے جبرائیل(ع) نےبتایا کہ اے محمد(ص) تیری امت میں سے جو کوئی خدا کی راہ میں جہاد کرےگا تو خدا اسے کوئی ایسی چیز عطا نہ کرے گا جو روزِ قیامت اس کے بارے میں گواہی نہ دے حتی کہ بارش کے قطرے بھی اس کے حق میں شہادت ( گواہی ) دیں گے۔

باب مجاہد

۸ـ          جناب رسول خدا(ص) سے مروی ہے کہ بہشت کے دروازوں میں سے ایک، باب مجاہد ہے اور یہ مجاہدین کے لیے کھلا ہے مجاہدین شمشیرین لٹکائے اس کی طرف اس وقت جاتے ہیں جب کہ بقیہ خلق کا  حساب ہو رہا ہوتا ہے، فرشتے مجاہدین کو خوش آمدید کہیں گے اور جو جہاد سے کنارہ کش ہوگا خوار ہوگا اور تنگی رزق رکھے گا اور بے دین ہوگا، جو کوئی مجاہدین کو ان کے نامے (خطوط) پہنچائے گا وہ اس طرح ہوگا کہ جیسے اس نے ایک غلام آزاد کروایا ہو اور جہاد میں شریک ہوگا۔

۹ـ           جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا جو کوئی مجاہد کو اسکا پیغام یا خط پہنچائے وہ اس کے ساتھ جہاد میں شریک ہے۔

۱۰ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا مجاہدین کو بہشت میں وہی گھوڑے دیئے جائیں گے جو ان کے ہمراہن جہاد میں ہوں گے ( با الفاظ دیگر مجاہدین کے گھوڑے بھی ان کے  ہمراہ بہشت میں جائیں گے۔)


۱۱ـ           جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا تمام خوبیاں ہمراہ شمشیر اور زیرِ سایہء شمشیر ہیں اور لوگ استوار نہ ہوں گے مگر شمشیر سے اور شمشیریں بہشت کی کلیدیں ہیں۔

۱۲ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا جو کوئی خدا کی آرزو کو پسند کرئے وہ دنیا سے اس وقت تک نہ جائے گا جب تک کہ اسے عطا نہ کیا جائے۔

۱۳ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا ایمان کا محکم ترین درجہ یہ ہے کہ خدا کی راہ میں ہی دوستی اور دشمنی رکھے اور خدا کی راہ میں ہی دے اور دریغ کرے۔

۱۴ـ          جناب علی بن ابی طالب(ع) نے فرمایا کہ جو کوئی شام کے وقت تین بار”فَسُبْحانَ اللَّهِ حينَ تُمْسُونَ وَ حينَ تُصْبِحُون‏وَ لَهُ الْحَمْدُ فِي السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ وَ عَشِيًّا وَ حينَ تُظْهِرُون‏ “ کہے گا تو جو بھی اس شب کا خیر ہوگا حاصل کرے گا اور اس شب کے تمام شر سے محفوظ رہے گا اور جو کوئی صبح تین بار اسے دھرائے گا تو تمام دن کا خیر سمیٹ لے گا اور تمام دن کے شر سے محفوظ رہے گا۔

۱۵ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا دن کے شروع اور آخر میں اور شب کے شروع میں فرشتے دفترِ حساب لاتے ہیں اور آدمی کے عمل کو اس میں درج کرتے ہیں اول اور آخر دفتر میں بندے کے اعمال خیر لکھے جاتے ہیں اور جو کچھ ان( دفاتر حساب) کے درمیان ہے وہ (خدا) تمہارے لیے معاف فرمادے گا انشاء اﷲ کیونکہ خدا فرماتا ہے کہ تم مجھے  یاد کرو تاکہ میں تمہیں یاد کروں اور خدا فرماتا ہے کہ ذکر خدا نہایت عظیم ہے۔

۱۶ـ          امام صادق(ع) نے ابو ہارون سے فرمایا ، اے ابو ہارون میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے بچوں کو تسبیح فاطمہ(س) کی تلقین کرو جس طرح تم انہیں نماز واجب کی تلقین و نصیحت کرتے ہو تمہیں چاہیئے کہ خدا کے ملازم رہو اور جو بندہ اس کی ملازمت نہیں کرتا وہ بدبخت ہوتا ہے۔

۱۷ـ          آںحضرت(ص) نے ارشاد فرمایا جب بھی گھر سے باہر نکلو تو ” بسم اﷲ“ کہو کہ دو فرشتے اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ یہ نجات پاگیا اگر کہو” لا حول ولا قوة الا باﷲ“ تو کہتے ہیں یہ


 محفوظ ہوگیا اور اگر کہو” توکلت علی اﷲ“ تو کہتے ہیں تیرے لیے کافی ہے ایسے میں شیطان لعین کہتا ہے اب میرا اس بندے سے کیا واسطہ ہے یہ تو محفوظ ہوگیا، ہدایت پاگیا اور کفالت کا حقدار ٹھہرا۔

۱۸ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا کہ ایک دن آںحضرت(ص) نے جناب امیر(ع) سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایک خوشخبری نہ سناؤں جناب امیر(ع) نے کہا کیوں نہیں یا رسول اﷲ(ص) میرے ماں باپ آپ(ص) پر قربان  آپ(ص)  ہمیشہ مجھے خوش خبری ہی سناتے ہیں آںحضرت(ص) نے فرمایا جبرائیل(ع) نے مجھے ایک عجیب امر کی خبر دی ہے کہ جو کوئی میری امت میں سے مجھ پر اور میری آل(ع) پر صلواة بھیجے اس کے لیے آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں اور اور اس پر فرشتے صلواة بھیجتے ہیں چاہے وہ گناہ گار و خطا کار ہی کیوں نہ ہو اس کےگناہ جلدی جھڑجاتے ہیں جس طرح درختوں کے پتے جھڑ جاتے ہیں جب وہ صلواة بھیجتا ہے تو خدا اس کے جواب میں فرماتا ہے ” لبیک عبدی وسعدیک“  اور پھر اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے اے فرشتو تم نے اس پر ستر بار صلواة بھیجی ہے مگر میں اس پر سات سو مرتبہ صلواة بھیجتا ہوں پھر جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا جو بندہ مجھ پر صلواة بھیجے گا مگر میری آل(ع) پر نہ بھیجے تو اس کے اور آسمان کے درمیان ستر پردے حائل ہوں گے اور خدا فرمائےگا” لا لبیک ولا سعدیک“ اور اسکے اور خدا کے درمیان ستر حجاب حائل ہوں گے اور فرشتے اس کی دعا آسمان پر نہیں لائیں گے جب تک وہ اپنے نبی(ص) کو ان کی عترت(ع) سے ملحق نہ کرے اور ان(ص) کے اہل بیت(ع) کو اس میں شامل نہ کرے۔

۱۹ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جو بندہ اپنی نماز ادا کرتے ہوئے اپنے پیغمبر(ص) کا نام ( درود و صلواة) لے وہ راہ بہشت لے گا جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا جس بندے کے سامنے میرا نام لیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے تو دوزخ میں جائے گا اور خدا اس سے اپنی رحمت کو دور کردے گا۔

چار آدمیوں سے اہل دوزخ کو آزار

۲۰ـ                  جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا چار آدمیوں کی وجہ سے اہل دوزخ بھی آزار محسوس کریں گے وہ حمیم سے پیں گے اور جہنم میں شور کریں گے اہل دوزخ ایک دوسرے سے کہیں گے انہیں کیا


ہوگیا ہے کہ سب کو تکلیف دے رہے ہیں، ان کے لیے آگ کے بھڑکتے ہوئے انگاروں کا ایک صندوق لایا جائے گا اور انہیں اس میں بند کردیا جائے گا یہ اس میں بند اپنا گوشت کھاتے ہوں گے اہل جہنم  انہیں پوچھیں گے کہ تمہارا کیا جرم ہے جس کی بدولت  تم خود بھی تکلیف میں ہو اور ہمیں بھی آزار دے رہے ہو ان میں سے ایک کہے گا کہ مرتے وقت میرے ذمے لوگوں کا مال تھا جو میں نے ادا کیا دوسرا کہے گا میرا جرم یہ ہے کہ میں بول و براز (پیشاب) میں احتیاط نہ برتتا تھا، تیسرا جس کے منہ سے خون و پیپ جاری ہوگا کہے گا کہ میں بری باتوں کی تقلید کرتا تھا اور محفلوں میں یہی سناتا تھا چوتھا کہے گا میں جو اپنا گوشت کھا رہا ہوں اس کی وجہ یہ ہے کہ غیبت کرتا تھا اور لوگوں کا گوشت کھاتا تھا۔

۲۱ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا جو کوئی اپنے برادر مومن کی اس کے منہ پر تعریف کرےمگر پیٹھ پیچھے برائی کرے تو ان کے درمیان سے عصمت قطع ہوجائے گی۔

۲۲ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا کہ جناب رسول خدا(ص) سے سوال کیا گیا کہ کل کے لیے نجات کس میں ہے تو جناب رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا نجات اس میں ہے کہ خدا کو فریب نہ دو تاکہ وہ تمہیں فریب نہ دے جو کوئی خدا کو فریب دیتا ہے خدا اسے فریب دیتا ہے اور اس کا ایمان رخصت ہوجاتا ہے اور اگر سمجھے تو اس نے خود کو فریب دیا ہے عرض کیا گیا خدا کو کیسے فریب دیا جاتا ہے۔ آںحضرت(ص) نے فرمایا جو بندہ اپنی مرضی پر عمل کرتا ہے تو یہ عمل کسی اور مقصد کے لیے ہوتا ہے تم خدا سے ڈرو اور ریا سے کنارہ کرو کہ یہ خدا کے ساتھ شرک کرنا ہے ریا کار روز قیامت چار ناموں سے پکارا جائے گا۔ اسے آوازدی جائے گی اے  کافر، اے فاجر، اے غادر، اے خاسر تیرے اعمال بے کار ہیں تیرا اجر باطل ہوا ہے آج تم کوئی عزت نہیں رکھتے آج تم اس بندے سے اپنا اجر طلب کرو جس  کے لیے تم یہ اعمال کرتے تھے۔

۲۳ـ                 جناب رسول خدا(ص) ارشاد فرماتے ہیں، جب  خدا کسی امت پر غصہ کرے اور عذاب نہ دے تو اس امت میں گرانی نرخ ہوگی ان کی زندگیاں مختصر ان کی تجارت بے نفع ان کا میوہ نابود ان کا پانی کم اور بارش ان کے لیے ممنوع ہوگی اور برے لوگ ان پر مسلط ہوں گے۔


۲۴ـ                 جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا علی بن ابی طالب(ع) اور ان کی اولاد میں سے امام(ع) میرے بعد اہل زمین کے سردار اور قیامت میں سفید چہروں اور ہاتھوں والوں کے پیشوا ہوں گے۔

۲۵ـ         ام المومنین عائشہ بیان کرتی ہیں کہ جناب رسول خدا(ص) سے میں نے سنا کہ میں سیدِ اولین و آخرین ہوں اور علی بن ابی طالب(ع) سید الاوصیاء ہیں وہ میرے بھائی میرے وارث اور میری امت پر میرے خلیفہ ہیں، ان کی ولایت فریضہ اور ان کی محبت وسیلہ ہے بخدا ان کا حزب خدا کا حزب اور ان کے شیعہ انصارانِ خدا اور اولیاء اﷲ ہیں اور ان کے دشمن خدا کے دشمن ہیں وہ میرے بعد مسلمانوں کے امام ہیں اور مومنین کے مولا و امیر ہیں۔

۲۶ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا جو کوئی قضیب احمر کو دیکھنا چاہے اور یہ چاہے کہ اس سے متمسک ہو اسے چاہیے کہ وہ علی(ع) اور اس کے فرزندان، ائمہ(ع) کو دوست رکھے کہ وہ بہترین خلق ہیں اور ہر گناہ و خطا سے معصوم ہیں، وہ خدا کے منتخب شدہ ہیں۔

۲۷ـ                 جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا جو کوئی علی(ع) کو اس کی زندگی اور بعد میں دوست رکھتا ہے تو خدا اس کے لیے امن و ایمان لکھے گا۔ جس کی وسعت آفتاب کےطلوع و غروب کے مقام جتنی ہوگی اور جو کوئی علی(ع) کو اس کی زندگی یا بعد میں دشمن رکھتا ہے وہ جاہلیت کی موت پر مرے گا اور جو بھی عمل کرے گا اس کا محاسبہ ہوگا۔

۲۸ـ                 جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا اے علی(ع) تیری دوستی مرد مومن کے دل میں قائم ہوگی اس کے قدم پل صراط پر لغزش نہ کھائیں گے وہ ثابت قدم رہےگا یہاں تک کہ تیری دوستی کے صلے میں خدا اسے داخلِ بہشت کردے گا۔


مجلس نمبر۸۶

(۲۵ رجب سنہ۳۶۸ھ)

آںحضرت(ص) کا ستارے کی خبر دینا

۱ـ           امام صادق(ع) اپنے والد(ع) سے روایت کرتے ہیں کہ جب آںحضرت(ص) مرض الموت میں گرفتار ہوئے تو آپ(ص) کے خاندان کے افراد اور اصحاب آپ(ص) کے گرد جمع ہوگئے اور کہنے لگے یا رسول اﷲ(ص) اگر آپ(ص) کو حادثہ پیش آگیا تو آپ(ص) کے بعد ہمارا سرپرست کون ہوگا اور آپ(ص) کے امر کو ہمارے درمیان کون قائم کرے گا آںحضرت(ص) نے سکوت اختیار کیا اور کوئی جواب نہ دیا۔ دوسرے دن ان سب نے پھر یہی سوال دہرایا مگر آپ(ص) پھر سکوت اختیار کیے رہے تیسرے دن پھر وہ سب جمع ہوئے اور وہی بات پوچھی تو آںحضرت(ص) نے فرمایا تم میں سے کسی کے گھر آج ایک ستارہ اترے گا تم دیکھنا کہ وہ کون ہے وہی میرے بعد تمہارا خلیفہ  اور میرا امر کو قائم کرنے والا ہوگا۔

ہر کوئی انتظار کرنے اور خواہش رکھنے لگا کہ یہ سعادت اسے نصیب ہو۔ ناگاہ آسمان سے ایک ایسا ستارہ نمودار ہوا جس کا نور تمام دنیا پر غالب تھا وہ ستارہ جناب علی بن ابی طالب(ع) کے  گھر جا اترا۔ یہ دیکھنا تھا کہ امت میں ہیجان پیدا ہو اور وہ گستاخی کرنے لگے کہ یہ مرد ( معاذ اﷲ) گمراہ ہوگیا ہے اور راستے میں ہٹ گیا جبھی اپنے چچازاد بھائی کے بارے میں ہوائے نفس سے بات کرتا ہے اس پر خدا نے یہ آیت نازل فرمائی ” قسم ہے ستارے کی جس وقت وہ نیچے آیا گمراہ  نہیں ہے تمہارا صاحب اور راہ سے بھٹکا ہوا نہیں ہے بیشک یہ جو کہتا ہے وحی سے کہتا ہے۔ “ ( نجم، ۱ـ۴)

۲ـ           جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا جو کوئی ہمارے خاندان کو دشمن رکھتا ہے خدا روزِ قیامت اسے یہودی محشور کرے گا عرض ہوا یا رسول اﷲ(ص) اگر چہ وہ شہادتین کہتا ہو آںحضرت(ص) نے فرمایا ہاں یہ دو کلمات کہنے سے اس کا خون محفوظ ہوا اور جزیہ کی خواری سے معاف ہوا پھر آپ(ص) نے دوبارہ فرمایا جو کوئی ہمارے خاندان کو دشمن رکھتا ہے خدا اسے روزِ قیامت یہودی محشور کرے گا عرض ہوا یا رسول اﷲ(ص)


 کیسے، آپ(ص) نے فرمایا ہمارے خاندان کا دشمن ایسا ہے کہ اگر دجال کو پائے تو اس پر ایمان لائے گا۔

۳ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا جو مسلمان اپنی جائے نماز پر بیٹھے اور صبح کی نماز کے بعد ذکر خدا کرے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے تو وہ حج بیت اﷲ کا ثواب لے گا اور معاف کیا جائے گا اور اگر دو یا چار رکعت نماز پڑھ لے ( نافلہ) تو اس کے تمام گذشتہ گناہ معاف ہوں گے اور حجِ بیت اﷲ کا اجر پائے گا۔

۴ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جو کوئی نماز مغرب کے بعد گفتگو نہ کرے اور دو رکعت نماز پڑھے تو دفتر علیین اس کے لیے ثبت ہوگا اور اگر چار رکعات نماز پڑھ لے تو حج مقبول کا ثواب لے گا۔

۵ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جو کوئی کسی حاجی سے ملاقات کرے اور اس سے مصافحہ کرے وہ اس بندے کی طرح ہے کہ جس نے حجر کو مس کیا ہو۔

۶ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا جو کوئی ستائیس (۲۷) رجب کو روزہ رکھے گا خدا اسے ستر سال کے روزوں کا ثواب عطا کرے گا۔

۷ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جو کوئی گرمی کا روزہ رکھے اور پیاسا ہوتو خدا اس کے گھر فرشتوں کو بھیجے گا جو اس کے چہرے کو مس کریںگے اور خوشخبری دیں گے یہاں تک کہ افطار کرے خدا فرماتا ہے کیا خوشی ہے تیری خوشی اور کیا نسیم ہے تیری نسیم، اے میرے فرشتو گواہ رہو کہ میں نے اسے معاف کیا۔

۸ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا جو شخص کسی ایسی قوم کے درمیان روزہ رکھے جو کھاتی پیتی ہو تو اس ( روزہ دار) کے اعضاء اس کے لیے تسبیح کرتے ہیں اور فرشتے اس کے لیے رحمت طلب کرتے ہیں اور اس کی مغفرت ہوتی ہے۔

۹ـ           حلبی کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق(ع) سے وطن میں روزہ رکھنے کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا وہ ہر ماہ میں تین (۳) دن ہیں پہلے ہفتے سے جمعرات دوسرے سے بدھ اور تیسرے اور آخری ہفتے سے جمعرات حلبی کہتے ہیں میں نے پوچھا یعنی ہر دس روز میں سے ایک


 دن امام (ع) نے فرمایا ہاں پھر فرمایا جناب امیرالمومنین(ع) کا ارشاد ہے کہ ماہ رمضان کے روزے اور ہر ماہ میں تین دن روزہ رکھنا سینوں میں سے وسواس کے لے جاتا ہے بے شک ہر ماہ میں تین دن کا روزہ دہر کے روزے کے برابر ہے اور خدا فرماتا ہے جو کوئی ایک نیکی لائے گا اسے دس عطا کی جائیں گی۔

ثواب زیارت جناب ابو عبداﷲ (ع) ( امام حسین(ع))

۱۰ـ          مقام طوس سے ایک شخص امام صادق(ع) کی خدمت حاضر ہوا اور عرض کیا کہ جو بندہ تربت ابوعبداﷲ(ص) کی زیارت کرے کیا اجر رکھتا ہے ، امام(ع) نے فرمایا اےطوسی جو کوئی جناب ابو عبداﷲ(ع) کی تربت کی زیارت کرے اور معتقد ہو کہ وہ خدا کی طرف سے امام(ع) ہیں اور واجب اطاعت ہیں تو خدا اس کے گذشتہ و آیندہ گناہ معاف فرمائے گا اور ستر گناہ گاروں کے لیے اس کی شفاعت قبول فرمائے گا۔ اسی اثناء میں جناب موسی بن جعفر(ع) تشریف لائے تو انہیں اپنے زانو پر بٹھایا اور دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا پھر طوسی کی طرف رخ کیا اور فرمایا اے طوسی یہ میرے بعد امام اورحجت ہے اور اس کے صلب سے ایک فرزند پیدا ہوگا جو آسمان و زمین میں اس ( خدا) کے بندوں کے لیے اس کی رضا ہوگا وہ تمہاری زمین پر زہر سے قتل ہوگا اس پر ظلم وستم کیا جائے اور تمہاری زمین  میں غربت کے عالم میں دفن ہوگا آگاہ ہوجاؤ کہ  جو کوئی اس کی غربت کے عالم میں اس کی زیارت کرے گا یہ اعتقاد لیے ہوئے کہ وہ اپنے باپ(ع) کے بعد امام(ع) ہے اور اس کی اطاعت فرض ہے تو گویا اس بندے نے جناب رسول خدا(ص) کی زیارت کی۔

۱۱ـ           صقر بن دلف کہتے ہیں کہ میں نے اپنے آقا علی بن محمد(ع) ( امام علی نقی(ع)) سےسنا کہ جو شخص خدا سے کوئی حاجت رکھتا ہے اسے چاہیے کہ طوس میں غسل کے  ساتھ میرے جد امام رضا(ع) کی تربت کی زیارت کرے اور دو رکعت نماز ان کے سر مبارک کی سمت ادا کرے اور  اپنی حاجت خدا سے بیان کرے قنوت کے دوران، تو اس کی دعا مستجاب ہوگی مگر گناہ اور قطع رحم کے لیے قبول نہ ہوگی اور بیشک اس کی قبر کی جگہ ایک بقعہ بہشت سے ہے اور مومن اس کی زیارت نہیں کرتا مگر یہ کہ خدا اسے دوزخ سے آزاد کرے اور بہشت میں داخل کرے۔


۱۲ـ          آںحضرت(ص) نے ارشاد فرمایا بیشک حلقہء بہشت سونے کے صفحے پر یاقوت سرخ سے ہے جب اس حلقے کو دروازہ بہشت پر آویزاں کیا جائے گا” یا علی“ کا نعرہ بلند کرے گا۔

۱۳ـ          ابن عباس(رض) بیان کرتے ہیں کہ جب جناب رسول خدا(ص) نے مکہ فتخ کیا تو اس دن ہم آٹھ ہزار لوگ مسلمان ہوئے اور رات ہونے تک یہ تعداد اسی (۸۰) ہزار تک پہنچی آںحضرت(ص) نے قانون ہجرت کو ختم کرتے ہوئے فرمایا فتح مکہ کے بعد ہجرت نہیں ہے پھر جناب علی بن ابی طالب(ع) سے فرمایا اے علی(ع) اٹھو اور انہیں کرامت خدا سے معجزہ رکھاؤ۔ جب آفتاب طلوع ہوا تو جناب امیر(ع) نے آفتاب سے گفتگو کی اور بخدا اس دن جناب امیر(ع) کے علاوہ لوگوں  نے کسی اور پر رشک نہ کیا میں نے دیکھا کہ علی بن ابی طالب(ع)  اٹھے اور آفتاب سے فرمایا سلام ہو تم پر اے عبد صالح اور اپنے پررودگار کے مطیع، آفتاب نے ان کے جواب میں کہا آپ(ع) پر بھی سلام ہو اے برادر رسول خدا(ص)۔ وصی رسول(ص) اور خلق خدا پر اس کی حجت، یہ سن کر جناب امیر(ع) سجدے میں چلے گئے اور خدا کا شکر ادا کیا آںحضرت(ص) آگے بڑھے اور جناب امیر(ع) کو اٹھایا ان کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا اے میرے حبیب اٹھو تمہارے گریہ سے اہل آسمان بھی گریہ میں ہیں، خدا تمہارے وجود سے اہل آسمان پر مباہات کرتا ہے۔

ہشام اور عمرو بن عبید کے درمیان مناظرہ

۱۴ـ          امام صادق(ع) نے اپنے اصحاب میں موجود ایک صحابی ہشام سے فرمایا اے ہشام اس نے کہا ” لبیک یا ابن(ع) رسول اﷲ(ص) آپ(ع) نے فرمایا تمہاری جو گفتگو عمرو بن عبید سے ہوئی ہے بیان کرو ہشام نے کہا میں آپ(ع) پر قربان میں ہمت نہیں رکھتا اور شرم محسوس کرتا ہوں کہ آپ(ع) کے سامنے لب کشائی کروں امام(ع) نے فرمایا جب میں نے تجھے اس کا حکم دیا ہے تو بیان کر۔ہشام نے کہا جب مجھے خبر ملی کہ عمرو بن عبید عالم فاضل بنا ہوا مسجد بصرہ میں مجالس منقعد کرتا ہے تو یہ مجھ پر گراں گزرا میں بصرہ گیا اور بروز جمعہ مسجد میں چلا گیا وہاں دیکھا کہ عمرو بن عبیدسیاہ پٹکا کمر سے باندھے سیاہ لباس پہنے اور علماء کی روش اختیار کیے ہوئے لوگوں کا جمگھٹا لگائے ان کے سوالوں


کے جواب دے رہا ہے میں نے لوگوں کو ہٹا کر راستہ بنایا اور اس کے سامنے جاکر دو زانو بیٹھ گیا جب موقع ملا تو میں نے اس سے کہا اے عالم میں ایک غریب آدمی ہوں اگر تم اجازت دو تو میں ایک مسئلہ تم سے دریافت کرنا چاہتا ہوں اس نے کہا ہاں بیان کرو میں نے کہا کیا تم آنکھیں رکھتے ہو۔ اس نے کہا ہاں رکھتا ہوں۔ میں نے کہا ان سے کیا دیکھتے ہو اس نے کہا میں ان سے رنگوں میں تمیز کرتا ہوں پھر میں نے پوچھا اپنی ناک سے کیا کرتے ہو اس نے کہا بو اور خوشبو سونگھتا ہوں، میں نے کہا دہن رکھتے ہو کہا ہاں میں نےکہا اس سے کیا کرتے ہو کہنے لگا اس سے چیزوں کا مزہ چکھتا ہوں میں نے کہا کیا تم زبان رکھتے ہو کہنے لگا ہاں تو پوچھا اس سے کیا کرتے ہو کہا اس سے گفتگو کرتا ہوں میں نے پوچھا کان رکھتے ہو کہا ہاں۔ میں نے پوچھا ان سے کیا کرتے ہو کہنے لگا آواز سنتا ہوں میں نے پوچھا ہاتھ رکھتے ہو کہنے لگا ہاں۔ میں نے کہا ان سےکیا کرتے ہو کہا ان سے چیزوں کو اٹھاتا ہوں پھر میں نے کہا کیا تم دل رکھتے ہو کہنے لگا ہاں میں نے کہا یہ کیا کام کرتا ہے تو کہا جو کچھ اعضاء کرتے ہیں یہ اس میں تمیز کرتا ہے میں نے کہا اعضاء جو کچھ انجام دیتے ہیں۔ اس کی دل کے بغیر تم تمیز کرسکتے ہو اس نے  کہا میرے فرزند میری جان جب اعضاء کسی چیز کو پہچاننے میں غلطی کرتے ہیں یا دیکھنے ، سننے یا لکھنے میں شک پڑ جاتے ہیں تو میں اسے استعمال کرتا ہوں اور دل سے گواہی طلب کرتا ہوں تاکہ شک زائل ہوجائے۔ میں نے کہا خدا نے  اسے ( دل کو) اعضاء کے شک کو رفع کرنے کی خاطر بنایا ہے  اس نےکہا ہاں میں نے کہا اے ابو عیبید خدا نے جسم کے لیے تو دل بنا دیا جو شک کی صورت میں حق کو پہچانتا ہے اور یقین تک لے جاتا ہے مگر اس ( خدا) نے اپنی مخلوق کو شک و حیرت اور اختلاف میں چھوڑ دیا ہے اور ان کے لیے کوئی امام مقرر نہیں کیا کہ مورد شک میں وہ اس کی طرف رجوع کریں جب کہ تیرے بدن کا امام (دل)  بنادیا تاکہ شک و اختلاف کی صورت میں اس کی طرف رجوع  کیا جائے عمرو بن عبید یہ سن کر خاموش ہوگیا اور کوئی بات نہیں کی پھر کچھ دیر بعد اس نے میری طرف رخ کیا اور کہا تم ہشام ہو میں  نے کہا نہیں کہا۔ کہاں کے ہو۔ میں نے کہا میں کوفہ کا رہنے والا ہوں اس نے کہا پس تم وہی ہو پھر اس نے مجھے آغوش میں لیا اور اپنے پہلو میں بٹھایا اور اس کے بعد کسی سے بات نہ کی یہاں تک  کہ ہم رخصت ہوگئے۔


 امام صادق(ع) مسکرائے اور فرمایا اے ہشام تجھے یہ تعلیم کس نے دی میں نے کہا یا ابن(ع) رسول اﷲ(ص) یہ میری زبان پر بے اختیار آگیا تھا امام(ع) نے فرمایا اے ہشام خدا کی قسم صحف ابراہیم(ع) اور صحف موسی(ع) میں یہ اسی طرح رقم ہے۔

۱۵ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا آںحضرت(ص) جب معراج پر گئے اور اس جگہ تک پہنچے جہاں تک خدا کی مرضی تھی تو آپ(ص) نے ادب کے ساتھ خدا سے  مناجات کی اور واپس پلٹے جب چوتھے آسمان پر آئے تو خدا کی طرف سے انہیں ندا آئی، ” اے محمد(ص)“ آپ(ص) نے عرض کیا” لبیک ربی“ ارشاد ہوا تیرے بعد تیری امت سے کسے برگذیدہ کروں۔ عرض کیا خدایا تو بہتر جانتا ہے ارشاد ہوا۔ تیرے لیے علی(ع) بن ابی طالب(ع) کو چنا ہے کہ وہ تیرے مختار ہے۔

۱۶ـ                  امام صادق(ع) نے فرمایا، مومن کے لیے شائستہ ہے کہ وہ مندرجہ ذیل خصلتیں رکھتا ہو

     ۱ ـ فتنوں اور آزمائشوں میں با وقار بن کررہے۔   ۲  ـ  بلاؤں اور مصیبتوں میں صبر کرے ۔ ۳ ـ  راحت و آرام میں شکر کرے۔ ۴ ـ  اﷲ کے دیے ہوئے رزق پر قناعت کرئے ۔  ۵ ـ  دوستوں سے عرض مندانہ اور مطلبی محبت نہ کرے۔  ۷ ـ  اپنے بدن کو رنج دے تاکہ لوگ اس سے امان میں رہیں پھر فرمایا علم مومن کا دوست ہے حلم اس کا وزیر ہے صبر اس کا سردار لشکر ہے رفیق اس کا بھائی اور نرمی اس کا باپ ہے۔

۱۷ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا بی بی فاطمہ(س) کے لیے خدا کے ہاں نو(۹) نام ہیں

ا ) فاطمہ(س) ۔  ۲) صدیقہ(س)۔   ۳)  مبارکہ(س)  ۴) طاہرہ(س)  ۵)  زکیہ(س)  ۶) رضیہ(س)  ۷) مرضیہ(س)  ۸) محدثہ(س)  ۹) زہرا (س)۔

پھر امام(ع) نے فرمایا جانتے ہو ان کا نام فاطمہ(س) کیوں ہے راوی کہتا ہے میں نے کہا میرے آقا آپ(ع) مجھے بتائیں، فرمایا اس لیے کہ دوزخ ان سے شرم کھاتی ہے پھر فرمایا اگر علی(ع) سے سیدہ(س) کی تزویج نہ ہوتی تو قیامت تک زمین پر ان کا کوئی ہمسر نہ ہوتا نہ ہی آدم(ع) اور نہ ہی وہ جو آدم(ع) کے بعد پیدا ہوئے۔


خدا کا فرشتہ ” محمود“

۱۸ـ          جناب موسی بن جعفر(ع) نے بیان فرمایا جناب رسول خدا(ص) ایک مرتبہ تشریف فرما تھے کہ ایک فرشتہ ان(ص) پر نازل ہوا جس کے چوبیس ہزار چہرے تھے آںحضرت(ص) نے فرمایا میرے حبیب جبرائیل(ع) میں نے آپ کو پہلے کبھی اس صورت میں نہیں دیکھا فرشتے نے عرض کیا اے محمد(ص) میں جبرائیل(ع) نہیں ہوں میرا نام محمود ہے مجھے خدا نے یہ پیغام دے کر بھیجا ہے کہ نور کی تزویج نور سے کردیجئے  فرمایا کس کی تزویج کس سے کروں فرشتے نے کہا فاطمہ(س) کو علی(ع) سے رشتہ ازدواج منسلک کردیں۔ یہ پیغام دے کر جب یہ فرشتہ واپس ہوا تو اس کے شانوں کے درمیان لکھا تھا۔ ” محمد رسول اﷲ علی وصی رسول اﷲ“ آںحضرت(ص) نے اس سے فرمایا تیرے شانوں کے درمیان یہ کب سے لکھا ہوا ہے  اس نے بتایا آدم(ع) کی خلقت سے بائیس (۲۲) ہزار سال پہلے سے یہ میرے شانوں کے درمیان ثبت ہے۔


مجلس نمبر۸۷

(۲۸ رجب سنہ۳۶۸ھ)

بی بی فاطمہ(س) کی پیدائش

۱ـ           مفضل بن عمر بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام صادق(ع) سے درخواست کی کہ مجھے بی بی فاطمہ(س) کی پیدائش کا حال بتائیں۔ امام(ع) نے فرمایا جب بی بی خدیجہ(س) کی تزویج جناب رسول خدا(ص) سے ہوئی تو قریش کی عورتیں ان کے پاس نہ جاتی تھیں نہ ہی ان سے سلام لیتیں اور نہ کسی دوسری عورت کو ان سے ملنے دیتیں اس صورت حال سے بی بی خدیجہ(س) کو وحشت ہونے لگی تنہائی و بے تابی اور غم کے بادل بی بی(ع) پر سایہ فگن ہوگئے۔

جب آپ(ع) بی بی فاطمہ(س) کے نور عصمت سے حاملہ ہوئیں تو با اعجاز آپ(ع) شکم مادر میں موجود جنین سے گفتگو فرماتیں اور اس طرح اپنی تنہائی دور کرتیں بی بی خدیجہ(ع) نے اس راز کو جناب رسول خدا(ص) سے پوشیدہ رکھا ایک دن اچانک جناب رسول خدا(ص) تشریف لائے اور بی بی خدیجہ(ع) کو  کسی سے باتیں کرتے ہوئے پایا تو فرمایا اے خدیجہ(ع) تم کس سے باتیں کررہی تھیں بی بی(ع) نے جواب دیا اس بچے سے جو میرے شکم میں موجود ہے یہ مجھ سے باتیں کرتا ہے اور انسیت رکھتا ہےجناب رسول خدا(ص) نے فرمایا اے خدیجہ(ع) مجھے جبرائیل(ع) نے خبر دی ہے  کہ یہ جنین دختر ہے اور نسل طاہرہ(س) سے ہے اور بہت با برکت ہے خدا نے میری ذریت کو اسی میں سے مقرر فرمایا ہے اور اس کی اولاد سے ائمہ(ع) آئیں گے خدا انہیں اپنی زمین میں خلیفہ مقرر فرمائے گا۔

مدت حمل پوری ہونے تک بی بی خدیجہ(ع) اسی طرح رہیں جب  وقت ولادت آگیا تو قریش اور بنو ہاشم کی عورتوں کو پیغام بھیجا گیا کہ وہ آئیں اور خدیجہ(ع) کی پذیرائی کریں مگر انہوں نے جواب دیا کہ تم نے محمد(ص) سے شادی کی جو یتیم اور ابوطالب(ع) کا پروردہ ہے اس لیے ہم تمہیں قبول نہیں کرتیں، بی بی خدیجہ(ع) یہ جواب سن کر غمزدہ ہوگئیں ناگاہ چار بلند قامت گندم گوں خواتین جو کہ قریش اور


 بنو ہاشم کی عورتوں کی مانند معلوم ہوتی تھیں تشریف لائیں۔ انہیں دیکھ کر بی بی خدیجہ(ع) کو خوف محسوس ہوا تو ان میں سے ایک نے بی بی(ع) سے کہا اے خدیجہ(ع) غم نہ کرو اور مت ڈرو ہم تیرے پاس خدا کی طرف سے آئیں ہیں اور تیری بہینیں ہیں، میں سارہ ہوں اور یہ آسیہ بنت مزاحم ہیں جو کہ جنت میں تیری رفیقہ ہیں یہ مریم بنت عمران(ع) ہیں اور یہ موسی بن عمران(ع) کی بہن کلثوم(س) ہیں ہمیں اس لیے بھیجا گیا ہے کہ تیری پذیرائی کریں پھر وہ عام عورتوں کی مانند آپ(ع) کے دائیں ، بائیں آگے اور پیچھے بیٹھ گئیں اور فاطمہ(س) متولد ہوگئیں اور وہ جب دنیا میں تشریف لائیں تو ان سے اس قدر نور پھوٹا کہ مکہ کے دیوار روشن ہوگئے آپ(ع)  اس دنیا میں پاک و پاکیزہ تشریف لائیں آپ(ع) کے نور سے مشرق تا مغرب کوئی گھر ایسا نہ تھا جو منور نہ ہوگیا ہو پھر حجرہ مبارک میں دس حوریں داخل ہوئیں ان میںسے  ہر ایک کے ہاتھ میں بہشت کی صراحیاں اور طشت تھے وہ اپنے ساتھ کوثر سے پانی لائی تھیں انہوں نے وہ پانی کے برتن ان خاتون کے حوالے کیے جو بی بی فاطمہ(س) کے سامنے بیٹھی تھیں ان خاتون نے فاطمہ(س) کو کوثر کے پانی سے غسل دیا اور حوروں کے لائے ہوئے کپڑوں میں سے ایک کپڑے میں آپ(س) کو لپیٹ دیا اور دوسرا سر اور چہرے پر باندھ دیا ان کپڑوں سے مشک و عنبر سے زیادہ خوشبو آتی تھی پھر ان خاتون نے اپنی زبان فاطمہ(س) کے دہن میں ڈال دی فاطمہ(س) گویا ہوئیں اور کہا” اش ه د ان لا ال ه الا اﷲ و اش ه د ان ابی رسول اﷲ سيد الانبياء و ان بعلی سيد الاوصاء  و ولدی سادة الاسباط “ میں گواہی دیتی ہوں کہ خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ میرے والد رسول اﷲ(ص) سید انبیاء ہیں اور میرا شوہر سید اوصیاء اور میرے فرزند فرزندانِ پیغمبر(ص) اور پھر اس کے بعد بی بی فاطمہ(س) نے ان تمام عورتوں کو ان کے ناموں سے مخاطب کر کے انہیں سلام کیا وہ تمام خواتین مسکرائیں اور خوش ہوگئیں بہشت سے آئی حوروں نے بھی بشارت دی ولادت فاطمہ(س) کے وقت آسمان پر بھی ایک ایسا نور چمکا کہ فرشتوں نے اس سے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا پھر ان خواتین نے کہا اے خدیجہ(ع) اس پاک و پاکیزہ دختر کو لے لو یہ ذکیہ، میمونہ اور مبارک ہے خدا نے اسے اور اس کی نسل کو برکت دی ہے یہ سن کر خدیجہ(ع) خوش ہوگئیں اور فاطمہ(س) کو گود میں لے کر دودھ


پلانا شروع کیا۔ بی بی فاطمہ(س) روزانہ تین ماہ کی نشو و نما کے برابر بڑھتی تھیں اور ایک ماہ میں آپ(س) ایک سال کے برابر نشو ونما پاجاتیں۔

آںحضرت(ص)  کے سیدہ(س) سے راز و نیاز

۲ـ           ام المومنین عائشہ بیان کرتیں ہیں کہ ایک مرتبہ فاطمہ(س) میرے ہاں تشریف لائیں تو جناب رسول خدا(ص) نے اٹھ کر ان کا استقبال کیا اور فرمایا مرحبا میری بیٹی  فاطمہ(س) پھر آپ(ص) نے انہیں اپنے دائیں پہلو میں بٹھا یا اور ان کے کان میں راز کی کوئی بات کہی جسے سن کر فاطمہ(س) رونے لگیں پھر آںحضرت(ص) نے دوبارہ فاطمہ(س) کے کان پر کچھ کہا تو وہ مسکرانے  لگیں یہ دیکھ کر میں نے فاطمہ(س) سے  اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ پہلی مرتبہ جناب رسول خدا(ص) نے مجھ سے فرمایا تھا کہ ہر سال جبرائیل(ع) ایک مرتبہ مجھے قرآن پیش کیا تھے اس مرتبہ جبرائیل(ع) دو مرتبہ تشریف لائے تھے لہذا میں سمجھ گیا کہ اب وقت رحلت آگیا ہے اور میرے خاندان میں سے تم وہ پہلی فرد ہو جو مجھے بہشت میں آکر ملے گی یہ خبر سن کر میں نے گریہ کیا تو جناب رسول خدا(ص) نے دوبارہ فرمایا کیا تمہیں پسند نہیں کہ تم مومنین کی عورتوں کی بہشت میں سرداری کرو تو میں مسکرا دی۔

۳ـ          ابن عباس(رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں آںحضرت(ص) کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا اور علی بن ابی طالب(ع) اور فاطمہ(س) وحسن(ع) و حسین(ع) بھی موجود تھے کہ جبرائیل(ع) تشریف لائے اور ایک سیب آںحضرت(ص) کو پیش کیا آںحضرت(ص) نے اس سیب کو لیا اور اسے اپنا تعارف کروایا پھر وہ سیب علی(ع) بن ابی طالب(ع) کو دیا اور ان کا تعارف اس سیب سے کروایا۔ پھر جناب علی(ع) نے وہ سیب آںحضرت(ص) کو دیا جنہوں نے اسے جناب حسن(ع) کو دیا جناب ِ حسن(ع) نے اسے لیا اور بوسہ دے کر اپنا تعارف اس سے کروایا اور واپس  آںحضرت(ص) کو دیدیا آںحضرت(ص) کو دیدیا آںحضرت(ص)  نے وہ سیب لے کر پھر اسے اپنا تعارف کروایا اور دوبارہ علی(ع) کو دیدیا اس کے بعد جب علی(ع) نے چاہا کہ اسے آںحضرت(ص) کو پیش کریں تو وہ ہاتھ سے گر گیا اور دو ٹکڑے ہوگیا اس کے دو ٹکڑے ہوتے ہی اس سے ایک ایسا


نور خارج ہوکہ زمین و آسمان منور ہوگئے اور اس سیب کے اندر دو سطریں لکھی تھیں کہ ” بسم اﷲ الرحمن الرحیم“ یہ تحفہ ہے محمدمصطفی(ص) وعلی مرتضی(ع) اور فاطمہ زہرا(س) و حسن(ع) و حسین(ع) ، سبطین رسول خدا(ص) کے لیے خدا کی طرف سے۔ اور ان کے دوستوں کے لیے قیامت میں دوزخ سے امان ہے۔

۴ـ              حذیفہ بن یمان(رض) بیان کرتے ہیں میں نے دیکھا کہ جناب رسول خدا(ص) نے حسین بن علی(ع) کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا اے لوگو اسے پہچان لو یہ حسین بن علی(ع) ہے جان لو، جس کے ہاتھ میں اس کی جان ہے یہ بہشت میں ہے اور اس کے ساتھ اس کا دوست بھی بہشت میں ہوگا۔

ارضِ نینوا

۵ـ              ابن عباس(رض) بیان کرتے ہیں میں صفین کے سفر میں جناب امیرالمومنین(ع) کے ہمراہ تھا جب ہم مقام نینوا میں دریائے فرات کے کنارے پہنچے تو جناب امیر(ع) نے با آواز بلند پکارا۔ اے ابن عباس(رض) کیا تم اس جگہ کو پہچانتے ہو میں نےکہا نہیں یا امیرالمومنین(ع)۔ فرمایا ۔ اے ابنِ عباس(رض) اگر تم اس جگہ کو اس طرح پہچانتے جس طرح میں جانتا ہوں تو یہاں سے ہرگز نہ گذرتے جب تک کہ اس طرح گریہ نہ کر لیتے جس طرح مٰیں گریہ کرتا ہوں یہ فرما کر آپ(ع) نے گریہ فرمایا یہاں تک کہ آپ(ع) کی ریش مبارک آنسوں سے تر ہوگئی اور آپ(ع) کے سینے پر بہنے لگے یہ دیکھ کر میں نے بھی ان کے ہمراہ گریہ کیا پھر  آپ(ع) نے فرمایا آہ مجھے آل ابوسفیان سے کیا کام۔ آہ مجھے آل حرب سے جو لشکر شیطان و والیان کفر وعدوان ہیں سے کیا کام۔ اے ابو عبداﷲ(ع) صبر کرو جو تم دیکھتے ہو وہ تمہارے باپ(ع) کو بھی نظر آتا ہے۔پھر جناب امیر(ع) نے پانی طلب کر کے وضو کیا اور بہت طویل نماز پڑھی پھر نماز کے بعد گریہ کیا پھر آپ(ع) نے ایک ساعت کے لیے آرام فرمایا جب آپ(ع) نینوا سے بیدار ہوئے تو فرمایا اے ابن عباس(رض) میں نے کہا میں حاضر ہوں، فرمایا کیا تم چاہتے ہو کہ جو کچھ میں نے خواب میں دیکھا ہے تم سے بیان کروں میں نے  عرض کیا خدا کرے جو کچھ آپ(ع) نے خواب میں دیکھا ہے وہ آپ(ع) کے لیے خیر و سعادت ہو انشاء اﷲ، آپ(ع) نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ چند مرد آسمان سے نیچے آئے


جو سفید رنگ کا علم ہاتھ میں لیے ہوئے تلواریں حمائل کیے ہوئے تھے وہ نور کی سفیدی کی وجہ سے چمک رہے تھے انہوں نے اس زمین کے گرد خط کھینچا پھر نے دیکھا کہ درختوں کی شاخیں جھک گئیں اور تازہ خون اس صحرا میں موج زن ہوگیا پھر نے اپنے  فرزند حسین(ع) کو دیکھا جو خون میں تڑپ رہا  ہے اور استغاثہ کی آواز بلند کر رہا ہے مگر کوئی اس کی مدد کو نہیں آتا اور سفید پوش مرد جوآسمان سے زمین پر آئے تھے حسین(ع) سے کہہ رہے تھے صبر کرو تم بدترین امت کے ہاتھوں سے قتل ہوگے اور اس وقت بہشت تمہاری مشتاق ہے پھر وہ مرد میرے پاس آئے اور مجھ سے تعزیت کی اور کہا اے ابوالحسن(ع) شاد و خوش رہیے خدا آپ(ع) کی آنکھیں قیامت کے دن ان مصائب کی وجہ سے روشن رکھے گا یہ دیکھ کر میں بیدار ہوگیا میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں  جس کے قبضہء قدرت میں میری جان ہے مجھے سچا جانو کیونکہ جناب رسول خدا(ص) نے مجھے  خبر دی تھی کہ جب میں باغیوں سے لڑنے جاؤں گا اور سر کشی کریں گے تو میں اس سر زمین کو دیکھوں گا اور یہ زمین کرب وبلا ہے میرا فرزند حسین(ع) اور اس کے ساتھ اولاد فاطمہ(ع) میں سے سترہ آدمی اس سر زمین میں دفن ہوں گے یہ زمین آسمانوں میں معروف ہے جس طرح کعبہ و حرم مدینہ اور بیت المقدس ہیں پھر جناب امیر(ع) نے فرمایا اے ابن عباس(رض) اس صحرا میں سرگین آہو ڈھونڈو خدا کی قسم میں ہرگز جھوٹ نہیں کہتا اور نہ ہی جناب رسول خدا(ص) نے جھوٹ سنا کہ میں اس صحرا میں سرگین کا ڈھیر دیکھوں گ جو زعفران کی طرح زرد ہوگا( سرگین آہو سے مراد ہرن کی مینگنیاں ہیں) ابن عباس(رض) کہتے ہیں کہ میں نے سرگین آہو کو تلاش کرنا شروع کیا اور ایک جگہ میں نے ان سرگین کا ڈھیر دیکھا جناب امیر(ع) نے فرمایا خدا اور اس کا رسول(ص) سچ فرماتے ہیں پھر آپ(ع) تیزی سے ان سرگین کی طرف بڑھے اور اٹھا کر انہیں سونگھا اور فرمایا اے ابن عباس(رض) یہ وہی سرگین ہیں جس کی مجھے خبر دی گئی ہے اے ابن عباس(رح) کیا تم جانتے ہو یہ سرگین کونسی ہیں، یہ وہی ہیں کہ جب عیسی(ع) بن مریم(ع) اس صحرا سے گزرے اور ان کے حواری اور مصاحب ان کے ہمراہ تھے تو ان کی نظر ان سرگین پر پڑی انہوں نے دیکھا کہ ایک گلہء آہو یہاں جمع ہے اور تمام آہو رو رہے ہیں حضرت عیسی(ع) نے یہ سرگین اٹھا کر سونگھے اور بیٹھ کر رونا شروع کردیا ان کے مصاحبین نے بھی ان کے ہمراہ گریہ کرنا شروع کردیا پھر کچھ دیر بعد حضرت عیسی(ع) سے


 دریافت کیا کہ کیا وجہ سے آپ(ع) یہاں بیٹھ کر گریہ کر رہے ہیں تو حضرت(ع) نے فرمایا ، کیا تم جانتے ہو یہ کون سی سرزمین ہے انہوں نے کہا نہیں تو فرمایا یہ وہ سرزمین ہے جس میں نبی آخر الزمان کا فرزند اور ان کی دختر فاطمہ(س) کا فرزند(ع) شہید ہوگا اور دفن ہوگا اس زمین کی خاک کی خوشبو مشک سے زیادہ ہے میرے گریہ کرنے کا سبب یہی ہے ان شہیدوں کی طینت ابنیاء(ع) و اولیاء(ع) جیسی ہے یہ آہو مجھ سے باتین کررہے ہیں اور بتا رہے ہیں کہ جب سے ہم یہاں آئے ہیں دوسرے درندوں کے شر سے محفوظ ہیں یہ فرماکر حضرت عیسی(ع) نے ان سرگین کو سونگھا اور فرمایا اس سرگین کی خوشبو میں اس گھاس کی خوشبو ہے جو اس سرزمین ( کربلا) میں اگتی ہے خدایا اس (سرگین و آہو) کو اپنے حال پر اس وقت تک قائم رکھنا جب تک اس (حسین(ع)) کا باپ یہاں آکر اسے نہ سونگھ لے اور یہ اس کے لیے موجب سلی ہو۔

اے ابن عباس(رض) یاد رکھو عیسی(ع) کی یہ دعا اب تک باقی رہی ہے اور مدت دراز کے باوجود انہیں (سرگیں)محفوظ رکھا گیا ہے اور یہ زمین، زمین کرب و بلا ہے اس کے بعد جناب امیر(ع) نے با آواز بلند فرمایا اے پروردگار عیسی بن مریم(ع)۔ میرے بیٹے کے قاتلوں کو اور وہ اشقیاء جو ان کی مدد کریں اپنی رحمت و برکت نہ دینا۔ یہ کہہ کر جناب امیر(ع) کثرت گریہ کی وجہ سے منہ کے بل گر گئے اور ایک ساعت بے ہوش رہے جب آپ(ع) ہوش میں آئے تو تھوڑی سی سرگین اٹھا کر اپنی رداء مبارک میں باندھ لیں اور مجھے بھی حکم دیا کہ میں بھی تھوڑی سی اپنی رداء میں باندھ لوں پھر جناب امیر(ع) نے فرمایا اے ابن عباس(رض) جب تم دیکھو کہ یہ سرگین تازہ خون میں تبدیل ہوگئیں ہیں تو سمجھ جانا کہ میرا فرزند حسین(ع) اسی زمین میں شہید کردیا گیا ہے۔

ابن عباس(رض) کہتے ہیں کہ میں ان سرگین کو ہمیشہ اپنی آستین کے ساتھ باندھ کر رکھتا تھا اور ان کی حفاظت کیا کرتا تھا اور اپنی نماز واجب سے زیادہ ان کی حفاظت کرتا تھا ایک دن میں اپنے گھر میں آرام کررہا تھا اور جب میں نیند سے بیدار ہوا تو کیا دیکھا کہ میری آستین خون آلودہ ہوچکی ہے اور ان سرگین سے  خون جاری ہے یہ دیکھ کر میں رونے پیٹنے لگا اور واویلا کرنے لگا کہ خدا کی قسم حسین بن علی(ع) شہید ہوگئے ہیں میں نے ہرگز علی بن ابی طالب(ع) سے جھوٹ نہیں سنا مجھے جو خبر دی گئی


تھی وہ وقوع پذیر ہوگئی ہے جب میں گھر سے باہر آیا تو دیکھا کہ ایک غبار مدینہ کو گھیرے ہوئے ہے اور لوگ ایک دوسرے کو نہیں دیکھ سکتے آفتاب خون سے بھرے ہوئے طشت کی مانند سرخ ہوچکا ہے مدینے کے دیوار اس طرح سرخ ہوگئے ہیں جیسے ان پر خون مل دیا گیا ہو اس کے بعد میں گھر واپس آگیا اور گریہ کی حالت میں کہا خدا کی قسم حسین بن علی(ع) شہید ہوگئے ہیں ناگاہ گھر کے اطراف سے ایک آواز میرے کان میں پڑی مگر آواز دینے والا نظر نہ آیا اور وہ آواز یہ تھی کہ اے آل رسول(ص) صبر کرو فرزندِ رسول(ص) شہید ہوگئے ہیں۔ اور جبرائیل(ع) روتے ہوئے نازل ہوئے ہیں جب یہ آواز میں نے سنی تو میری گریہ و زاری زیادہ ہوگئی اور میں نے جان لیا کہ حسین(ع) اسی وقت شہید کیے گئے تھے اس دن محرم کی دس (۱۰) تاریخ تھی اس کے بعد جب کربلا سے شہادت حسین(ع) کی خبر مدینہ پہنچی تو معلوم ہوا کہ امام حسین(ع) کو اسی دن ( دس محرم کو) ہی شہید کیا گیا تھا اور وہ جماعت جو کربلا میں موجود تھی انہوں نے بھی بیان کیا کہ شہادت حسین(ع) کے بعد ویسی ہی آواز کربلا میں بھی سنائی دی تھی جیسی مدینہ میں سنی گئی تھی مگر آواز دینے والا نظر نہیں آیا ہمارا خیال ہے یہ آواز حضرت خضر(ع) کی تھی۔

۶ـ           زرارہ بیان کرتے ہیں کہ امام باقر(ع) نے فرمایا جب جناب رسول خدا(ص) معراج پر گئے تو جس مخلوق کے پاس سے گذرے اسے خوش وخرم دیکھا مگر ایک فرشتے ایسا دیکھا جو شاد نہ تھا آپ(ص) نے جبرائیل(ع) سے دریافت کیا کہ میں نے اہل آسمان میں سے جسے دیکھا خوش وخرم دیکھا مگر اس فرشتے کو شاد نہیں دیکھا یہ کون ہے کیا خدا نے اسے اس طرح پیدا کیا ہے  جبرائیل(ع) نے فرمایا یہ خازن دوزخ ہے اور خدا نے اسے اسی طرح خلق فرمایا  ہے میں چاہتا ہوں آپ(ص) اس سے دوزخ کے بارے میں پوچھیں۔ پھر جبرائیل(ع) نے خازن جہنم سے کہا کہ محمد رسول خدا(ص) ہیں انہوں نے مجھ سے کہا ہے کہ تم سے دوزخ کے بارے میں پوچھوں۔ اس نے کہا میرے سامنے خدا تعالی نے ایک شخص کو حاضر کرنے کا حکم دیا جب وہ حاضر کیا گیا تو اس کو گردن سے پکڑ کر اس کی جان نکالنے کا حکم دیا گیا جب اس کی جان نکلتے میں نے دیکھی تو تب سے آج تک میں نہیں مسکرایا۔

             ”وصلی اﷲ علی رسولہ و آلہ الطاہرین۔“


مجلس نمبر۸۸

(سلخ رجب سنہ۳۶۸ھ)

آںحضرت(ص) کی ولادت با سعادت

۱ـ           لیث بن سعد کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ معاویہ کے پاس بیٹھا تھا اور کعب الاحبار بھی وہیں موجود تھا میں نے اس سے پوچھا کہ تم نے اپنی کتابوں میں آںحضرت(ص) کے ولادت کے متعلق کیا پیش گوئیاں پڑھیں اور ان(ص) کے کیا فضائل و صفات تم نے مرقوم دیکھے میرا سوال سن کر کعب نے معاویہ کی طرف دیکھا کہ اس کے کیا تاثرات ہیں کہیں وہ اس کے بولنے پر راضی ہے یا نہیں۔ اس وقت خدا کی قدرت سے معاویہ کی زبان پر جاری ہوا کہ اے ابو اسحاق جو کچھ تم نے دیکھا اور جو کچھ تم جانتے ہو بیان کرو۔

کعب نے کہا میں نے بہتر(۷۲) آسمانی کتب کا مطالعہ کیا ہے اور دانیال(ع) کے صحائف بھی پڑھے ہیں ان تمام کتابوں میں ان کا نام بہت واضح طور پر موجود ہے۔ اور ان(ص) کی عترت(ع) و ولادت کا تذکرہ ہے سوائے حضرت عیسی(ع) اور حضرت محمد(ص)  کی ولادت کے کسی نبی یا پیغمبر(ع) کی ولادت کے وقت فرشتے نازل نہیں ہوئے اور سوائے جناب مریم(ع) اور جناب آمنہ(ع) کے کسی کے واسطے آسمانوں کے پردے نہیں ہٹائے گئے اور حضرت عیسی(ع) اور حضرت محمد(ص) کی ولادت کے سوا کسی اور عورت پر فرشتے موکل نہیں کیے گئے حضرت محمد(ص) کے حمل کی علامت یہ تھی کہ جس رات جناب آمنہ(ع) حمل سے ہوئیں ساتوں آسمانوں پر ایک منادی نے ندار دی کہ  آپ(ع) کو خوشخبری ہو، در شہوار نطفہء خاتم الانبیاء(ص) قرار پایا اس خوشخبری کی منادی تمام زمینوں میں بھی کی گئی اور کوئی چلنے اور پرواز کرنے والا ایسا نہیں تھا جس کو آںحضرت(ص) کی ولادت کی خبر نہ ہوئی ہو۔ آںحضرت(ص) کی ولادت کی رات ستر ہزار قصر یاقوتِ سرخ اور ستر ہزار قصر مروارید کے بنائے گئے جن کے نام قصور ولادت رکھے گئے اور تمام بہشتوں کو آراستہ کیا گیا اور ان سے فرمایا گیا کہ خوشی مناؤ اور اپنے مقام پر بالیدہ


ہوتی رہو آج تمہارا دوست اور دوستوں کا پیغمبر(ص) پیدا ہوا ہے یہ سن کر ہر بہشت خوش ہوکر ہنسی اور وہ قیامت تک ہنستی رہیں گی اور میں نے سنا ہے کہ دریا کی مچھلیوں میں سے ایک عماسا نام کی مچھلی ہے جو سب سے بڑی ہے جس کی ہزار دمیں ہیں اس کی پیٹھ پر ہر وقت سات لاکھ گائیں ایسی چلتی ہیں کہ ہر گائے دینا سے بڑی  ہے ہر گائے کے سر پر ستر ہزار زمرد کے سینگ ہیں اس مچھلی کی پشت پر جب یہ گائیں چلتی ہیں تو اسے پتا بھی نہیں چلتا وہ  مچھلی حضرت(ص) کی ولادت سے خوش و مسرور ہو کر حرکت میں آئی اگر خدا اسے ساکن ہونے کا حکم نہ دے دیتا تو تمام دینا پلٹ جاتی۔ میں نےسنا کہ اس روز کوئی پہاڑ ایسا نہ تھا جس نے دوسرے پہاڑ کو خوشخبری نہ دی ہو سب پہاڑ ” لا الہ الا اﷲ“ کا ورد کررہے تھے اور تمام پہاڑ آںحضرت(ص) کی ولادت کی خوشی میں کوہ ابو قیس کے سامنے جھکے ہوئے تھے تمام درخت اور ان کی شاخیں اپنے پتوں اور پھلوں سمیت خداوند عالم کی تقدیس و تسبیح کررہے تھے اس روز آسمان و زمین کے درمیان مختلف انور کے ستر ستوں نصب کیے گئے جس میں سے کوئی ایک، دوسرے سے متشابہ نہ تھا جب حضرت آدم(ع) کو آںحضرت(ص) کی ولادت کی خوشخبری دی گئی تو فرطِ مسرت سے ان کا حسن ستر گنا بڑھ گیااور موت کی تلخی ان کے حلق سے زائل ہوگئی او حوض کوثر میں خوشی سے تلاطم پیدا ہوا اور اس نے دریاقوت کے ستر ہزار قصر آںحضرت(ص) پر نثار کرنے کے واسطے اپنی تہہ میں سے نکال کر باہر ڈال دیئے شیطان کو زنجیروں سے چالیس روز کے لیے جکڑ دیا گیا اور اس کا تخت چالیس روز کے لیے پانی میں غرق کر دیا گیا تمام بت سرنگوں ہوگئے اور ان کی زبانوں سے فریاد واویلا کی آوازیں بلند ہونے لگیں خانہ کعبہ سے آواز بلند ہوئی کہ اے آل قریش تمہاری طرف ثواب کی خوشخبری دینے والا اور عذاب سے ڈرانے والا آگیا ہے اور اس کا ساتھ دینے میں عزت ابدی اور  بے انتہا فائدہ ہے اور وہی خاتم النبیین(ص) ہے پھر کعب نے کہا ہم نے کتابوں میں پایا ہےکہ ان(ص) کی عترت(ع) ان کے بعد تمام دنیا کی مخلوق سے افضل ہے اور جب تک ان میں سے ایک بھی اس زمین پر رہے گا۔ دنیا والے خدا کے عذاب سے امان میں رہیں گے۔

معاویہ نے پوچھا اے ابو اسحاق اس(ص) کی عترت(ع) کون لوگ ہیں کعب نے کہا ان(ص) کی عترت(ع) اولاد فاطمہ(س) ہیں یہ سن کر معاویہ کے چہرے کے تاثرات بدل گئے وہ اپنے ہونٹ کاٹنے لگا اور اپنی ڈارھی پر


 ہاتھ پھیرنے لگا پھر کعب نے کہا ہم نے ان(ص) کے دونوں فرزندوں کے اوصاف کے بارے میں کتابوں میں پڑھا اور دیکھا ہے کہ وہ دونوں فرزندان فاطمہ(س) ہیں اور انہیں بدترین خلق شہید کردیں گے معاویہ نے پوچھا انہیں کون لوگ قتل کریں گے تو اس نے کہا انہیں قریش میں سے ایک شہید کرے گا یہ سن کر معاویہ غصہ میں بے تاب ہو کر بولا اگر تم خیریت چاہتے ہو تو میرے پاس سے چلے جاؤ تو ہم لوگ اٹھ کر وہاں سے چلے آئے۔

۲ـ           نویر بن سعید اپنے والد سعید سے اور وہ حسن بصری سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ جناب امیرالمومنین(ع) مسجد بصرہ کے منبر پر تشریف لائے اور فرمایا اے لوگو میرا حسب ونسب بیان کرو جو کوئی مجھے پہچانتا ہے وہ لوگوں کے سامنے میرا نسب بیان کرے یا پھر میں اپنا نسب خود ہی بیان کرتا ہوں۔ میں زید(رح) بن عبد مناف(رح)  بن عامر(رح)  بن عمرو(رح)  بن مغیرہ(رح)  بن زید(رح)  بن کلاب(رح)  ہوں یہ سن کر ابن کوا کھڑا ہوا اور کہا اے میرے آقا ہم آپ(ع) کا نسب اس کے سوا نہیں جانتے کہ آپ علی(ع) بن ابی طالب(ع) بن عبدالمطلب(ع) بن ہاشم(رح) بن عبدمناف(رح) بن قصی(رح) بن کلاب(رح) ہیں جناب امیر(ع) نے فرمایا اے بغیر باپ کی اولاد میرا نام میرے والد(ع) نے اپنے جد کے نام پر زید رکھا اور میرے والد(ع) کا نام عبدمناف(ع) ہے مگر ان کی کنیت ابوطالب(ع) زباں زد عام ہوگئی میرے دادا کا نام عبدالمطلب(ع) عامر ہے مگر ان کی کنیت عبدالمطلب(ع) ہی عرف عام میں مستعمل ہوگئی ان کے والد کا نام ہاشم عمرو(رح) ہے مگر وہ لقب سے شہرت پاگئے ان کے والد کا نام عبدو مناف مغیرہ(رح) ہے لیکن وہ اپنے لقب سے پکارے جانے لگے ان کے والد کا نام قصی زید ہے مگر عرب کے لوگ ان کی کنیت کے نام سے انہیں پکارنے لگے یہ لوگ دور کے شہروں سے مکہ میں آئے اور ان کے لقب ان کے ناموں پر  غالب ہوگئے۔

۳ـ          ابوعبد اﷲ امام صادق(ع) نے فرمایا خدا نے داؤد(ع) کو وحی کی کہ میرے بندوں میں سے جب بھی کوئی میری خوشنودی کے لیے ایک نیک عمل کرتا ہے تو میں نے اس کے لیے بہشت کو مباح کرتا ہوں داؤد(ع) نے عرض کیا خدایا وہ نیک کام کیا ہے تو ارشاد ہوا وہ نیک کام یہ ہے کہ کوئی بندہ میری خوشنودی کی خاطر ایک دانہ خرما کسی مستحق کو دے داؤد(ع) نے عرض کیا بارالہا یہ ( بہشت ) اس کے لیے بھی ہے تو تجھے پہچانتا ہو( تیری معرفت رکھتا ہو) اور تجھ سے امید قطع نہ کرے۔


۴ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا ہم وہ اول خاندان ہیں کہ خدا نے ہمارے نام کو بلند کیا جب خدا نے زمین و آسمان کو خلق کیا تو منادی کو حکم دیا کہ وہ تین بار آواز بلند کرے ”اش ه د ان لا ال ه الا اﷲ محمد رسول اﷲ اش ه د ان عليا اميرالمومنين حقا

۵ـ          امام باقر(ع) نے فرمایا خدا نے آںحضرت(ص) کو وحی کی کہ  ” اے محمد(ص) میں نے تجھے پیدا کیا اور اس وقت کوئی چیز نہ تھی پھر میں نے اپنی روح کو تجھ میں پھونکا اور تجھے گرامی کیا کہ تیری اطاعت تمام خلق پر لازم قرار دی جو کوئی تیری اطاعت کرے اس نے میری اطاعت کی اور جس نے تیری نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی اور اس امر کو علی(ع) اور اس کی نسل کے لیے مخصوص گیا ہے۔“

۶ـ           امام صادق(ع) نے اپنے آباء(ع) سے روایت کیا ہے کہ جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا ہر صبح دو فرشتے ندا دیتے ہیں کہ اے طالب خیر سامنے آ اور اے طالب شر پیچھے  جا، کیاکوئی دعا کرنے والا ہے کہ اس کی دعا قبول کی جائے کیا کوئی ہے جو مغفرت طلب کرتا ہو کہ اسے معاف کیا جائے ، کوئی ہے جو تائب ہو اور اس کی توبہ قبول کی جائے کیا کوئی ایسا ہے جو مغموم ہو کہ اس کا غم ختم کیا جائے خدایا جو کوئی اپنا مال تیری راہ میں خرچ کرتا ہے اسے اس کا بدلہ دے اور جو کوئی بخیل ہے اسے تلف کر جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا کہ ان کی یہ دعا تمام دن جاری رہتی ہے۔ یہاں تک کہ سورج غروب ہوجاتا ہے۔

۷ـ          ابو بصیر کہتے ہیں کہ امام صادق(ع) نے فرمایا خدا نے  عیسی بن مریم(ع) کو وحی کی کہ اے عیسی(ع) میرے دین کے علاوہ کسی کو گرامی مت رکھو اور جو اسے گرامی نہ رکھے گا میں اپنی رحمت سے اسے نعمت عطا نہ کروں گا اے عیسی(ع) اپنے اندرون و بیرون کو پانی سے دھوکے ( پاکیزہ ) رکھو حسنات کو زخیرہ کرو میرے حضور توبہ کے لیے تیار رہو اپنی حزین آواز مجھ سناتے رہو اور جو کچھ بھی ہے وہ میرے ہی پاس ہے۔

۸ـ          امام صادق(ع) کا فرمان ہے کہ جو کوئی کسی کافر کو دوست رکھتا ہے وہ خدا کو دشمن رکھے ہوئے ہے اور جو کوئی کسی کافر کو دشمن رکھے ہوئے ہے وہ  خدا کا دوست ہے پھر آپ(ع) نے فرمایا ، دشمن خدا کا دوست خدا کا دشمن ہے۔


۹ـ اصبغ بن نباتہ بیان کرتے ہیں کہ امیر المومنین(ع) نے اپنی تقریر میں ارشاد فرمایا ، اے لوگو! میری بات غور سے سنو اور سمجھو کہ جدائی نزدیک ہے میں خلق پر امام(ع) ہوں اور بہترین لوگوں میں سے وصی ہوں میں عترت طاہرہ(ع) اور ائمہ(ع) کا باپ ہوں جو رہبر ہیں، جناب رسول خدا(ص) کا برادر ان کا وصی ولی اور وزیر ہوں میں ان(ص) کا صاحب، صفی اور ان کا حبیب وخلیل ہوں میں امیرالمومنین(ع) اور سفید چہروں و ہاتھوں والوں کا پیشوا اور سید الاوصیاء ہوں میرے ساتھ جنگ خدا کے ساتھ جنگ ہے میرے خلاف سازش خدا کے خلاف سازش ہے میری اطاعت خدا کی اطاعت اور مجھ سے دوستی خدا کے ساتھ دوستی ہے میرے شیعہ اولیاء اﷲ ہیں اورمیرے انصار اںصارانِ خدا ہیں جان لو جب مجھے پیدا کیا گیا تو کسی چیز کا وجود نہ تھا جناب رسول خدا(ص) کے اصحاب نے اپنے پیغمبر(ص) امی کی زبانی سنا اور یاد کیا ہے کہ ناکثین ، مارقین و قاسطین ملعون ہیں اور جو افترا باندھتے ہیں وہ نا امید ہیں۔

۱۰ـجناب موسی بن جعفر(ع) فرماتے ہیں میں نے اپنے والد(ع) سے سنا کہ بندہ جب سورہ حمد پڑھتا ہے تو وہ شکر ادا کرتا ہے اور اس کی جزا بھی رکھتا ہے پھر میرے والد(ع) نے فرمایا  جو کوئی سورة حمد کو پڑھے وہ امن میں ہوگا پھر انہوں نے فرمایا ” جو انا انزلنا“ پرھتا ہے اس کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے کہ تو نے سچ کہا اور معاف کردیا گیا پھر میرے والد(ع) نے فرمایا، جوکوئی ” آیت الکرسی“ پڑھتا ہے اس کے لیے مبارک ہے مبارک ہے اور اس کے لیے دوزخ سے بیزاری نازل کی گئی ہے۔

۱۱ـ ابو الحسن موسی بن جعفر(ع) نے فرمایا خدا بروز جمعہ ہزار نفعات رکھتا ہے اور جس کسی کا جتنا حصہ ہوتا ہے دیتا ہے ، جو کوئی  عصر کے بعد بروز  جمعہ سو مرتبہ ” انا انزلنا“ پڑھے خدا اسے وہ ہزار نفعات اور ان کی مانند مزید عطا کرتا ہے۔

۱۲ـ امام صادق(ع) نے فرمایا جبرائیل(ع) جناب رسول خدا(ص) پر نازل ہوئے اور فرمایا اے محمد(ص) خدا تجھے سلام دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ میں نے تیرے باپ پر کہ جس میں سے تجھے لایا اس کو کھ پر کہ جس نے تجھے اٹھایا اور اس دامن پر کہ جس نے تجھے پرورش کیا پر آگ کو حرام قرار دیا جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا اے جبرائیل(ع) اس وحی کی وضاحت کریں جبرائیل(ع) نے فرمایا باپ جو آپ(ص) کو لایا وہ عبداﷲ بن عبدالمطلب(ع) ہیں وہ جو کچھ جس نے آپ(ص) کو اٹھایا سے مراد آپ کی والدہ آمنہ(ع) بنت وہب ہیں


 اور دامن کہ جس نے آپ کو پرورش کیا وہ جناب ابوطالب(ع) بن عبدالمطلب(ع) اور فاطمہ(ع) بن اسد ہیں۔

۱۳ـ                  جناب ابو عبداﷲ امام صادق(ع) نے ارشاد فرمایا ایک زمانے میں بنی اسرائیل کو قحب نے گھیر لیا حالت یہاں تک جا پہنچی کہ انہوں نے قبروں سے مردے نکال کر کھانا شروع کردیے ایک قبر انہوں نے ایسی کھودی کہ اس سے ایک لوح بر آمد ہوئی جس پر تحریر تھا کہ میں فلاں پیغمبر ہوں ایک حبشی میری قبر کھولے گا، میں نے جو کچھ آگے بھیجا ہے ا سے حاصل کیا جو کچھ کھایا اس سے فائدہ حاصل کیا اور جو کچھ چھوڑا اس سے نقصان اٹھایا۔

۱۴ـ          پیغمبر خدا(ص) نے فرمایا جو کوئی اپنے دل میں تعصب رکھتا ہوگا تو خدا روزِ قیامت اسے زمانہ عرب کے جہلا کے ساتھ محشور کرے گا۔

۱۵ـ                  امام صادق(ع) نے فرمایا کہ جناب رسول خدا(ص) سے روایت ہے، جو کوئی ” سبحان اﷲ“ کہے تو خدا اسکے لیے بہشت میں درخت لگائے گا جو کوئی ” الحمد ﷲ“ کہے خدا اس کے لیے بہشت میں درخت لگائے گا جو کوئی ” لا الہ الا اﷲ “ کہے خدا اس کے لیے بہشت میں درخت لگائے گا ایک صحابی نے کہا یا رسول اﷲ(ص) کیا ہم بہشت میں بہت زیادہ درخت رکھتے ہیں آںحضرت(ص) نے فرمایا ہاں مگر کہیں ایسا نہ ہو کہ آگ نازل ہو اور انہیں جلادے  اور خداتعالی ارشاد فرماتا ہے

” آیا وہ بندے ہیں کہ ایمان لائے اور خدا اور اس کے رسول (ص) پر اور فرمانبردار ہیں اور اپنے عمل سے اس کو باطل کرتے ہیں۔ “ ( محمد(ص)، ۳۳)

۱۶ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جو کوئی بازار میں (روز مرہ معمولات کے دوران) اشہد ان لا الہ الا اﷲ وحدہ لا شریک لہ و اشہد ان محمدا عبدہ و رسولہ “ کہے تو خدا اس کے لیے ایک لاکھ نیکیوں کا ثواب لکھتا ہے۔


مجلس نمبر۸۹

(غرہ شعبان سنہ۳۶۸ھ)

۱ـ           امام باقر(ع) نے فرمایا ۔ خدانے آدم(ع) کو وحی کی کہ اے آدم(ع) میں نے تیرے لیے تمام خیر کو چار کلمات میں جمع کردیا ہے جن میں سے ایک مجھ سے ہے ایک تیرے لیے ایک تیرے اور میرے درمیان اور ایک تیرے اور لوگوں کے درمیان ہے۔

جو تیرے لیے ہے وہ تیرا عمل ہے جس کی جزا کے تم محتاج ہو وہ میں تمہیں دوں گا جو تیرے اور میرے درمیان ہے وہ تیرا مجھ سے دعا کرنا ہے اور جو میرے لیے ہے وہ تیری دعاؤں کو قبول کرنا ہے اور جو تیرے اور خلق کے درمیان ہے وہ یہ ہے کہ تو ان کے لیے بھی وہی پسند کرے جو اپنے لیے کرتا ہے۔

۲ـ            جناب علی بن موسی (ع) ( امام رضا(ع)) نے ارشاد فرمایا خدایا تیری توانائی عیاں اور تیری ہیبت نہاں ہے  خدایا جو تجھے نہیں جانتے وہ تجھے اجسام سے تشبہیہ دیتے ہیں اور یہ درست نہیں ہے  معبودا میں ان سے بیزار ہوں جو تیری تشبیہ بناتے ہیں اور تجھے درک نہیں کرتے تو نے جو کچھ نعمت سے انہیں نوازا ہے تو یہ تیری راہنمائی کی وجہ سے ہے ورنہ وہ  اس قابل نہیں ، جبکہ ان پر حق تو یہ تھا کہ ان نعمتوں کے حصول کے بعد وہ تجھے ہی پہچانتے اور تجھ ہی تک رسائی اختیار کرتے جب کہ وہ تجھے نہیں پہچانتے اور تیرے لیے علامات بیان کرتے  اور بدن سے وصف کرتے ہیں اے میرے پروردگار جس چیز سے یہ تجھے تشبیہ دیتے ہیں تو اس سے کہیں برتر ہے۔

۳ـ          مفضل بن عمر امام صادق(ع) سے روایت کرتے ہیں کہ جناب علی بن حسین(ع) ( امام زین العابدین(ع) ) سے سوال ہوا کہ صحبت سے کیا مراد ہے آپ(ع) نے فرمایا صحبت یہ ہے کہ پروردگار مرے سر پر موجود ہے  دوزخ میرے سامنے ہے موت میرے پیچھے اور حساب میرے گرد ہے اور میں خود حساب میں جکڑا ہوا ہوں جس چیز کو پسند نہیں کرتا اپنے پاس نہیں رکھتا اور جو کچھ برا جانتا ہوں وہ آگے ہے اور میں ناطاقت ہوں۔ ( عاجز ہوں)  کہ عمل دوسرے کے ہاتھ میں ہے اگر وہ چاہے تو


مجھے گرفت میں کرے اور چاہے تو مجھے چھوڑ دے کون ہے جو مجھ سے احتیاج رکھتا ہے۔

۴ـ          امام صادق(ع) ارشاد فرماتے ہیں لوگوں کی گرفتاری بڑی ہے کہ اگر انہیں دعوت دوں تو یہ ہمیں قبول نہیں کرتے اور اگر انہیں چھوڑدوں تو ان کی راہبری کرنے والا کوئی نہیں ہے۔

۵ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جس کسی کا دل ہماری دوستی سے ٹھنڈا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی ماں کے لیے بہت زیادہ دعا کیا کرے کہ اس کی ماں نے اس کے باپ کےساتھ خیانت نہیں کی۔

۶ـ           ابراہیم کرخی کہتے ہیں میں نے امام صادق(ع) سے دریافت کیا کہ اگر کوئی بندہ اپنے خواب میں خدا کو دیکھے تو یہ کیسا ہے۔ امام(ع) نے فرمایا یہ وہ شخص ہے کہ دین نہیں رکھتا کیونکہ خدا بیداری، خواب، دنیا اور آخرت میں نہیں دیکھا جاتا۔

۷ـ          ابان بن عثمان احمر کہتے ہیں میں نے امام صادق(ع) سے پوچھا کہ مجھے بتائیے کیا خدا ہمیشہ سے ہی سننے اور دیکھنے والا اور توانا ہے امام(ع) نے فرمایا ہاں پھر میں نے کہا جو لوگ آپ(ع) کے ذریعے جاننے والا اور غصے میں قدرت کے ذریعے سے توانا ہوا ہے امام(ع) نے فرمایا جو کوئی اس عقیدے کا رکھنے والا ہے جان لوکہ وہ مشرک ہے اور ہرگز ہمارا پیرو کار نہیں خدا تعالی ذات ہے مگر دانش مند دیکھنے والا سننے والا اور توانا۔

۸ـ          امام صادق(ع) نے اپنے والد(ع) سے اور انہوں نے اپنے آبائے طاہرین(ع) سے روایت کیا ہے کہ سلمان فارسی(رح) اور ایک بندے  کے درمیان نزاع ہوا اور گفتگو کے دوران اس شخص نےجناب سلمان فارسی(رح) سے کہا ” تم کون ہو“ سلمان نے کہا تیرا اور میرا آغاز خون کے ایک نطفے سے ہوا اور تیرا اور میرا انجام ایک بد بودار مردار ہے ہمیں روزِ قیامت میزان سے گزرنا ہے اور اس وقت جس کی میزان وزنی ہوگی وہ بلند ہوگا اور جس کی میزان ہلکی ہوگی وہ پست ہوگا۔

۹ـ           امام رضا (ع) نے اپنے متعلق فرمایا میں زہر سے قتل کیا جاؤں گا اور ایک سرزمین میں غربت کے عالم میں دفن کیا جاؤں گا کیا تم جانتے ہو وہ زمین کونسی ہے، میرے والد(ع) نے اپنے آبائے طاہرین(ع) سے اور انہوں نے جناب رسول خدا(ص) سے میرے متعلق فرمایا  ہے کہ جو کوئی ،


 میرے عالم غربت میں میری زیارت کرے گا۔ میں اور میرے والد(ع) روزِ قیامت اس کے شفیع ہوں گے اور جس کسی کے ہم شفیع ہونگے وہ نجات پائے گا چاہے اس کے گناہ ستاروں کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔

ربیع حاجب کا بیان

۱۰ـ          داؤد شعیری کہتے ہیں کہ ربیع حاجب مںصور نے بیان کیا کہ جب منصور دوانیقی تک کسی نے امام صادق(ع) کے متعلق ایک بات پہنچائی جو اس ( منصور دوانیقی)  سے متعلق تھی تو اس نے امام(ع) کو طلب کرلیا جب امام(ع) اس کے دروازے پر پہنچے تو اندر سے میں (ربیع حاجب) باہر آیا اور امام(ع) سے کہا اس ظالم و جابر کے عتاب سے خدا آپ(ع) کو بچائے اس وقت وہ آپ(ع) سے سخت ناراض اور غصے کی حالت میں ہے آپ(ع) نے فرمایا خدا میرا محافظ و مددگار ہے وہ میری مدد فرمائے گا انشاء اﷲ تعالی۔ تم جاؤ اور میرے لیے اس سے ملنے کی اجازت لے آؤ۔ وہ اندر گیا اور اجازت لے آیا آپ(ع) اندر تشریف لے گئے اور اسے سلام کیا اس نے سلام کو جواب دیا اور کہنے گا اے جعفر(ع) تمہیں معلوم ہے کہ جناب رسول خدا(ص) نے تمہارے جد علی(ع) کے بارے مین فرمایا ہے کہ اے علی(ع) اگر مجھے اس کا ڈر نہ ہوتا کہ میری امت کا ایک گروہ تمہارے بارے میں وہ گمان کرے گا جس طرح ںصاری عیسی بن مریم(ع) کے بارے میں گمان کرتے ہیں تو میں تمہاری وہ فضیلت بیان کرتا کہ لوگ تمہارے قدموں کی خاک برکت و شفا کے لیے اٹھالے جاتے۔ اور علی(ع) نے اپنے متعلق خود فرمایا ہے کہ میرے بارے میں دو  لوگ ہلاکت کا شکار ہون گے ایک وہ  جو میری محبت میں حد سے تجاوز کرجائے اور دوسرا وہ جو میری دشمنی میں حد سے تجاوز کر جائے اور اس میں میرا کوئی قصور نہیں خدا کی قسم اگر حضرت عیسی(ع) ںصاریٰ کے قول پر خاموش رہتے تو خدا انہیں معذب کردیتا ۔ اے جعفر(ع) تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ تمہارے بارے میں کیا کیا جھوٹ اور بہتان کہا جاتا ہے مگر ان سب پر تمہاری خاموشی اور رضا اﷲ کی ناراضگی کا سبب ہے حجاز کے احمق اور کمینے لوگ یہ خیال رکھتے ہیں کہ تم عالمِ زمانہ ہو معبود کی ناموس وحجت ہو اس کے ترجمان اور اس کے علم کے خزینہ دار اس کے عدل کی میزان ہو اس


کے وہ روشن چراغٰ ہو جس سے طلب حق  کے لیے تاریکیان دور ہوجاتی ہیں اور راستہ واضح ہوجاتا ہے اور ظاہر ہے کہ تمہارے حدود کو نہ پہچاننے والے کسی عامل کا عمل نہ دنیا میں اﷲ قبول کرے گا اور نہ قیامت میں اس کے عمل کا کوئی وزن ہوگا ان لوگوں نے تمہیں حد سے بڑھا دیا ہے اور ایسی باتیں تیرے بارےمیں کہتے ہیں جو تم میں نہیں ہیں بہتر یہ ہے کہ تم اپنے بارے میں غلط فہمی نہ پیدا ہونے دو اور سچ سچ کہہ دو اس لیے کہ سب سے پہلے تیرے جد محمد مصطفی(ص) سچ بولنے والے تھے اور سب سے پہلے تیرے جد حضرت علی(ع) نے ان(ص) کی تصدیق کی تھی تمہیں بھی یہی چاہیے کہ ان ہی حضرات(ع) کے نقش قدم پر چلو اور انہیں کا راستہ اختیار کرو۔

امام صادق(ع) نےفرمایا سنو میں بھیاسی شجرہ زیتون کی شاخوں سے ایک شاخ ہوں خانہ نبوت(ص) کی قندیلوں سے ایک قندیل ہوں اور ادب آموز کاتبان قضا ہوں پروردہ آغوش صاحبان کرامت و خوبی ہوں میں اس مشکواة کے چراغوں میں سے ایک چراغ ہوں جس میں سارے انوار کا نچوڑ ہے میں کلمہء باقیہ کا خلاصہ ہوں جو برگزیدہ منتخب ہسیتوں کے بعد  تا قیامت رہے گا یہ سن کر منصور حاضرین اور ہم نشینوں کی طرف متوجہ ہوا اور بولا انہوں نے مجھے ایک ایسے سمندر میں ڈال دیا  جس کا نہ کہیں کنارہ نظر آتا ہے اور نہ اس کی گہرائی کا پتہ چلتا ہے کہ اس کےسامنے بڑے بڑے غوطہ خور غوطہ لگا کر ناکام واپس ہوجائیں گے یہی تو خلفائے اسلام کے گلے کی پھانسی ہے جس کو نہ مٹانا جائز ہے نہ قتل کرنا روا ہے اگر ہم اس ایک شجرہ سے نہ ہوتے جس کی جڑ طیب و طاہر ہے جس کی شاخین پھیلی ہوئی ہیں جس کے پھل شیرین ہیں جس کی ذریت با برکت جس کی عقل و حکمت پاک و مقدس ہے تو میں ان کے ساتھ بہت برا سلوک کرتا کیونکہ میں نے سنا ہے کہ یہ ہماری عیب جوئی کرتے اور ہمیں برا  کہتے ہیں۔

امام صادق(ع) نے فرمایا آپ اپنے  رشتہ داروں اور خاندان کے افراد کے متعلق ان لوگوں کی بات نہ مانیں جن کے لیے جنت حرام اور جن کا ٹھکانہ جہنم ہے کیونکہ چغل خور ایک دھوکہ باز گواہ ہے اور لوگوں کو بہکانے میں ابلیس کا شریک کار ہے اﷲ فرماتا ہے۔


” يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا إِنْ جاءَكُمْ فاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصيبُوا قَوْماً بِجَهالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلى‏ ما فَعَلْتُمْ نادِمينَ “ ( حجرات، ۶)

ترجمہ ” اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو جب کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو اسکی تحقیق کر لیا کرو کہیں ایسا  نہ ہو کہ تم اپنی جہالت کے سبب سے لوگوں کو صدمہ پہنچاؤ پھر اپنے کیے پر خود ہی نادم ہوتے پھرو۔“ ہم لوگ آپ کے اںصار و مدد  کرنے والے اور آپ کی سلطنت کے ستون و ارکان بنے رہیں گے اور شیطان کی ناک رگڑتے رہیں گے۔ آپ کے پاس تو وسعت فہم اور کثرت علم ہے آپ آداب الہی کی معرفت رکھتے ہیں آپ پر واجب ہے کہ جو شخص آپ سے قطع رحم کرے جو آپ کو محروم رکھے اسے عطا کریں جو آپ پر ظلم کرے آپ اسے معاف کریں اس لیے کہ صلہء رحم کے بدلے میں صلہء رحم کرنے والا در حقیقت صلہء رحم کرنے والا نہیں کہا جائے گا بلکہ در اصل صلہء رحم کرنے والا وہ ہے کہ جو اس کے ساتھ قطع رحم کرے یہ اس کے ساتھ صلہء رحم کرے لہذا اﷲ آپ کی عمر زیادہ کرے آپ صلہء رحم لے کر قیامت کے دن حساب کو اپنے لیے ہلکا کرلیں منصور نے کہا جایئے آپ(ع) کی قدر و منزلت کو دیکھتے ہوئے میں نے آپ(ع) کو چھوڑ دیا اور آپ(ع) کی حق پسندی و سچائی کی نبا پر میں نے آپ(ع) سے در گزر کیا اب آپ(ع) مجھے کوئی ایسی نصیحت کریں جو مجھے برائیوں سے بچائے امام صادق(ع) نے فرمایا آپ بردباری رہیں اور برداشت سے کام لیں کیوںکہ یہ علم کو ستون ہے آپ قدرت و طاقت  کے باوجود اپنے نفس پر قابو رکھیں کیونکہ اگر آپ نے اپنی قدرت و طاقت کا استعمال کیا تو گویا آپ نے اپنے غیظ کی تشفی کی یا اپنی کدورت کا مداوا کیا یا خود کو با صولت و باشوکت وبا رعب کہلوانے کی خواہش کی اور یہ بھی یاد رکھیں اگر آپ نے کسی مستحق سزا کو سزا دی تو زیادہ سے زیادہ لوگ یہی کہیں گے کہ آپ نے عدل و اںصاف سے کام لیا مگر مستحق سزا آپ کے عدل پر صبر کرے ، اس سے بہتر ہے کہ وہ آپ کا شکریہ ادا کرے مںصور نے کہا آپ(ع) نے بڑی نصیحت کی اور مختصر بھی اب آپ(ع) اپنے جد علی بن ابی طالب(ع) کی فضیلت میں کوئی ایسی حدیث بیان کریں جس سے عوام واقف نہ ہوں۔

امام صادق(ع) نے فرمای میرے والد(ع) نے مجھ سے بیان کیا اور ان سے ان کے والد(ع) نے کہ رسول خدا(ص)


 نے فرمایا کہ جب شب معراج میں آسمان پر پہنچا تو میرے  رب نے مجھ سے علی(ع) کے بارے میں تین باتیں کہیں اور فرمایا اے محمد(ص) میں نے عرض کیا ” لبیک وسعدیک “ تو میرے رب اﷲ نے فرمایا سنو علی(ع) امام المتقین قائد الغرالمحجلین اور یعسوب المومنین ہیں علی(ع) کو جاکر اس کی خوشخبری سنا دینا۔ جب نبی(ص) نے یہ خوشخبری سنائی تو حضرت علی(ع) اپنے پروردگار کے شکر کے لیے سجدہ میں گر گئے اور پھر سجدے سے سر اٹھایا اور عرض کیا یا رسول اﷲ(ص) کیا میری قدر و منزلت اس حد تک ہے کہ وہاں بھی میرا ذکر ہوا ہے رسول خدا(ص) نے فرمایا ہاں اے علی(ع) اﷲ تم کو خوب جانتا ہے اور رفقاء اعلی میں تمہارا تذکرہ رہتا ہے منصور نے کہا ” ذالک فضل اﷲ یوتیہ من یشاء “ ( مائدہ ، ۵۴)  ترجمہ ” یہ اﷲ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔“

۱۰ـ          عبداﷲ بن عباس(رض) بیان کرتے ہیں کہ ابو طالب (ع) نے جناب رسول خدا(ص) سے کہا اے برادر زادے آپ(ص) کو خدا نے بھیجا ہے آںحضرت(ص) نے فرمایا ہاں ابوطالب(ع)نے کہا کوئی نشانی پیش کریں اور اس درخت کو میری طرف بلائیں جناب رسول خدا(ص) نے درخت کو پاس آنے کا حکم دیا وہ درخت اپنی جگہ سے متحرک ہوا اور جناب ابوطالب(ع) کے سامنے آکر خاک پر گر گیا اور پھر واپس ہوا اور اپنی جگہ پر چلا گیا ابوطالب(ع) نے یہ دیکھ کر فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ تم سچ کہتے ہو پھر جناب امیر(ع) سے فرمایا اے علی(ع) تم اپنے چچازاد بھائی کے پہلو سے پیوست ہوجاؤ۔

۱۱ـ           سعید بن حبیب کہتے ہیں ایک شخص نے عبداﷲ ابن عباس(رض) سے کہا اے رسول خدا(ص) کے چچا کے بیٹے مجھے بتائیں کہ ابو طالب(ع) مسلمان تھے یا نہیں ابن عباس نے کہا یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ وہ مسلمان نہ تھے اس لیے کہ ابو طالب(ع) نے فرمایا تھا ” و قدعلموا ان ابننا لامکذب لاینا و لایعباء بقول ( بقیل) الا باطل“  یعنی جانتے ہو کہ ہمارا فرزند(محمد(ص)) ہمارے ہاں مورد تکذیب نہیں ہے اور باطل بات سے اعتنا نہیں رکھتا ۔ “ ابو طالب(ع) کی مثال اصحاب کہف کی سی ہے کہ وہ دل سے مومن ہوئے مگر ظاہرا ایمان کا اعلان نہ فرمایا اور خدا نے انہیں دوہرا ثواب عطا فرمایا۔

۱۲ـ          امام صادق(ع) فرماتے ہیں ابوطالب (ع) کی مثال اصحاب کہف کی سی ہے کہ دل سے مومن ہوئے اور بظاہر مشرک اور خدا نے انہیں دو ثواب عطا فرمائیے۔


مجلس نمبر ۹۰

(۲شعبان سنہ۳۶۸ھ)

علم کیا ہے؟

۱ـ           اصبغ بن نباتہ بیان کرتے ہیں کہ امیر المومنین(ع) نے فرمایا علم حاصل کرو کیونکہ اس کا حاصل کرنا نیکی ہے اس کا ذکر کرنا تسبیح اس میں بحث جہاد اور اس کا حاصل کرنا نا دانی میں صدقہ ہے یہ اپنے طالب کو بہشت میں لے جاتا ہے اور انیس و حشت ورفیق تنہائی ہے یہ دشمن کے خلاف اسلحہ اور دوست کے لیے زیور ہے جان لو کہ خدا اس کی وجہ سے بندے کے درجات بلند کرتا ہے اور اسے خیر کا رہبر بناتا ہے کہ اس (بندے) کا کردار توجہ کے قبل ہوتے ہیں اور نماز میں اس کا تذکرہ ہوتا ہے اور کیونکہ علم دلوں کی زندگی اور  آنکھوں کا نور ہے یہ اندھے پر سے بچاتا ہے اور ضعف میں بدن کی طاقت ہے۔ خدا، عالم کو نیکیوں کے ساتھ جگہ دیتا ہے اور آخرت میں اچھوں کی ہم نشین عطا کرتا ہے دنیا و آخرت میں علم حاصل کرنے والا قیمت رکھتا ہے علم ہی سے خدا کی اطاعت کی جاتی ہے اور توحید کی معرفت ہوتی ہے علم ہی سے صلہء رحم ہوتا ہے اور حلال و حرام کی تمیز ہوتی ہے علم عقل  کا رہبر ہے اور عقل اس کی پیرو کار، خدا نے اسے سعادت مندوں کو عطا کیا اور اشقیاء سے دور رکھا ہے۔

۲ـ           حفص بن غیاث قاضی کہتے ہیں میں نے امام صادق(ع) سے دریافت کیا کہ اس دنیا میں زہد کیا ہے امام(ع) نے جواب دیا کہ خدا نے اسے اپنی ایک آیت میں بیان فرمایا ہے اور وہ یہ ہے ۔ ” یہ اس لیے ہے کہ تم افسوس نہ کرو اس پر جو تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور خوش نہ ہو اس پر جو تمہاری طرف آئے اور اﷲ ہر اترانے والے فخر کرنے والے کو دوست نہیں رکھتا۔(حدید، ۲۳)

۳ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا میں خدا کے عذاب سے پناہ مانگتا ہوں عرض کیا گیا کہ


 یا رسول اﷲ(ص) اس سلسلے میں کیا کیا جائے ( یعنی کیسے بچاجائے) آپ(ص) نے فرمایا اگر تم اس سے محفوظ ہونا چاہو تو تم میں سے ہر ایک اس وقت تک نہ سوئے  جب  تک اپنی موت کو یاد نہ کرے تم اپنے حواس پر خودسری طاری ہونے نہ دو اور دل میں قبر اور بوسیدگی کو یاد رکھو اور جو کوئی آخرت چاہے اسے چاہیے کہ وہ دنیا کی زندگی چھوڑدے۔

امام صادق(ع) اور ابنِ عوجا

۴ـ          فضل بن یونس کہتے ہیں کہ ابن عوجا جو حسن بصری کا شاگرد تھا توحید سے منحرف ہوگیا اس سے کہا گیا کہ تم نے اپنے ساتھ کے مذہب کو ترک کردیا  اور اس مسئلہ میں داخل ہوگئے جس کی کوئی بنیاد و حقیقت نہیں ابن عوجا کہنے لگا  میرا استاد گفتگو میں قیاس سے کام لینے والا تھا وہ خلط ملط باتیں بیان کیا کرتا کبھی وہ قدر کا قائل ہوجاتا اور کبھی جبر کا مجھے معلوم نہیں کہ وہ کس نتیجے پر تھا پھر جب وہ ( ابن عوجا) حج سے بغاوت و انکار کرتے ہوئے مکہ آیا تو علماء اس کے مسائل پر بحث کرتے تھے اور اس کے ساتھ نشت و برخاست کو اس کی زبان درازی اور ضمیر کی خرابی کی وجہ سے برا سمجھتے تھے اس کے بعد ابن عوجا امام صادق(ع)کے خدمت میں حاضر ہوا اس کے مسلک کے لوگ بھی اس کے ہمراہ تھے وہ امام صادق(ع) کے پاس کچھ دریافت کرنے آیا تھا وہ کہنے لگا اے ابوعبداﷲ(ع) ان مجالس میں امانت کا خیال رکھنا چاہیے اور جس کسی کو کھانسی آئے اسے کھانسنے کی اجازت ہونی چاہیے یعنی جو شخص سوالات کرنا چاہیے اسے سوالات کرنے کی اجازت ہونی چاہییے ۔ کیا آپ(ع) مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں آپ(ع) سے سوالات کروں امام(ع) نے فرمایا جو کچھ پوچھنا چاہو تو پوچھو اس نے کہا آپ لوگ کب تک اس کھلیان ( خانہ کعبہ) کو پاؤں سے روندتے رہیں گے جو  پکی اینٹوں اور مٹی سے لیپائی کر کے بلند کیا گیا ہے آپ کب تک اونٹ کی طرح اس کے گرد چکر لگاتے رہیں گے اور تیزی سے چلتے رہیں گے بے شک جس نے اس کے بارے میں غور کیا اور اندازہ لگایا وہ اس حقیقت سے واقف ہوگیا کہ اس فعل کی بنیاد کسی غیر حکیم نے رکھی ہے نہ کسی صاحب نظر نے پس آپ(ع) اس کی وضاحت فرمائیے کیونکہ آپ(ع) اس امر کے سردار و بلند مرتبہ آدمی ہیں اور آپ(ع) کے


 والد(ع) اس نظام کی اساس ہیں۔ امام صادق(ع) نے فرمایا جسے اﷲ نے گمراہ کردیا ہو اور جس کو قلب اندھا ہوگیا جس نے حق کو کڑوا جانا ہو اور اسے خوش گوارنہ بنایا ہو اور شیطان اس کا سرپرست ن بیٹھا ہو جو سے ہلاکت کے چشموں پر وارد کرتا ہو اور اسے واپس نہ جانے دیتا ہو اے ابن عوجا یہ وہ گھر ہے کہ جس کے ذریعے سے اﷲ نے اپنی مخلوق کو اس کا فرمانبردار بنایا ہے تاکہ اپنے اثبات کے بارے میں اس کا امتحان لے پھر اس (خدا) نے انہیں ( مخلوق کو) اس کی زیارت و تعظیم پر اکسایا اور اسے انبیاء کی جائے ورود اور  نماز گذاروں کا قبلہ قرار دیا اسے پیغمبروں کا مرکز قرار دیا یہ اس کی خوشنودی کا ایک حصہ اور ایک ایسا راستہ ہے جو بندوں کو اس کی بخشش کی طرف لے جاتا ہے۔

جس کی بنیاد منطقہء کمال اور عظمت وجلال کے اجتماع پر رکھی گئی ہے اﷲ نے اس زمین کو بچھانے سے دو ہزار سال پہلے پیدا کیا اور جس کے بارے میں حکم دیا گیا اور جس سے روکا اور  دھتکارا گیا وہ زیادہ حقدار ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اور اﷲ ہی روح اور صورت کا پیدا کرنے والا ہے ۔ یہ سن کر ابن عوجا نے کہا اے ابو عبداﷲ(ع) آپ(ع) نے اس (خانہ کعبہ) کا ذکر کیا پھر غائب کا مناسب تذکرہ کیا امام صادق(ع) نے فرمایا اے ابن عوجا تجھ پر وائے ہو وہ کیونکر غائب ہوسکتا ہے جو اپنی مخلوق کا شاہد اور انکی شہہ رگ سے زیادہ قریب ہے وہ ان کی بات سنتا ہے اور ان کے افراد کو دیکھتا ہے اور وہ ان کے راز جانتا ہے۔ ابن عوجا نے کہا وہ ہر جگہ ہے اور کیا ایسا نہیں ہے کہ جب وہ آسمان میں ہوتو زمین میں کیونکر ہوسکتا ہے اور جب کہ وہ زمین میں ہوتو آسمان میں کس طرح ہوسکتا ہے امام(ع) نے فرمایا یہ تونے اس مخلوق کے وصف کو بیان کیا ہے وہ جب کسی جگہ سے منتقل ہوتی ہے اور کسی جگہ مصروف و مشغول ہوتی ہے تو یہ درک نہیں کرسکتی کہ کسی دوسری جگہ کیا امر واقع ہوا ہے مگر وہ عظیم شان کا مالک ہے کوئی جگہ اس سے پوشیدہ نہیں ہے حساب لینے والے سے کوئی خالی نہیں ہوتی اور نہ وہ کسی جگہ مصروف رہتا ہے اور نہ کوئی ایک جگہ دوسری جگہ سے قریب تر ہوتی ہے  اور وہ شخص جس کو اﷲ نے محکم آیات اور واضح دلائل و براہین کے ساتھ مبعوث فرمایا اور جس کی تائید اپنی مدد سے ساتھ فرمائی اور جسے اپنی رسالت کی تبلیغ کے لیے منتخب کیا اس کے قول کی تصدیق ہم نے کی جو یہ ہے کہ اس کےرب نے اسے مبعوث کیا اور اس سے کلام کیا۔ یہ سن کر ابن عوجا کھڑا ہوا


اور اپنے ساتھیوں سے کہا یہ تم نے مجھے کس سمندر میں ڈال دیا ہے میں نے تم سے بوشابہ (آب حیات۔ شیرین پانی) طلب کیا مگر تم نے مجھے انگاروں میں ڈال دیا اس کے ساتھیوں نے کہا تو ان(ع) کی مجلس میں حقیر نظر آرہا تھا اس نے کہا وہ اس شخص کے فرزند ہیں جنہوں نے لوگوں کے سر( حج کے لیے) منڈوا دیئے۔

علا بن حضرمی کے اشعار

۶ـ           علا بن حضرمی جناب رسول خدا(ص) کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول اﷲ(ص) میں اپنے خاندان والوں سے احسان کرتا ہوں مگر وہ اس کے بدلے میں مجھ سے برا سلوک روا رکھتے ہیں میں ان سے صلہء رحمی کرتا ہوں اور مگر وہ مجھ سے صلہء رحمی سے گریزاں ہیں رسول خدا(ص) نے فرمایا تم اس کا احسن دفاع کرو تاکہ جو تمہارا دشمن ہے وہ تمہارا دوست ہوجائے۔ جو صبر کرتے ہین وہ غصہ نہیں کرتے اور جو غصہ نہیں کرتے جان لوکہ وہ بڑا غصہ رکھنے والے صاحبان ہیں  علا بن حضرمی نے کہا یا رسول اﷲ(ص) اگر حکم ہو تو میں اس بارے  میں اشعار کہوں آپ(ص) نے فرمایا کہو کیا کہتے ہو۔

تو حضرمی نے یہ قطعہ بیان کیا۔

             اگر کینہ غالب ہو تو دل کو قابو میں رکھو۔

             (اسے) بلند سلام دو تاکہ وہ شکست کھائے

             اگر خوش آمدید کہا جائے تو سب کے ساتھ خوشی سے پیش آؤ۔

             وگرنہ اگر تم سے کچھ ( ناروا) سرزد ہو تو دوسرے سے پوچھو (یعنی اس کا مداوا کرو)

             جو کچھ تم سنتے ہو اس سے تمہارے آزار میں اضافہ ہوتا ہے۔

             جو کچھ پوشیدہ کہا جاتا ہے وہ کسی اور کے لیے ہے۔

جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا بعض دفعہ ایسا سحر آمیز شعر ہوتا ہے کہ اس میں حکمت ہوتی ہے تیرے اشعار بہتر ہیں مگر خدا کی کتاب اس سے بھی بہتر ہے۔


دنیا جناب امیر(ع) کی نظر میں

 ۷ـ                 امام صادق(ع) نے اپنے آباء(ع) سے روایت کیا ہے کہ جناب امیر(ع) نے اس خطبے میں دینا کے متعلق فرمایا  کہ خدا کی قسم تمہاری یہ دنیا میرے نزدیک یک مسافروں کی منزل گاہ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی کہ مسافر یہاں آتے ہیں اور اس کے کنارے سے پانی بھرتے  ہیں اور جب قافلہ سالار انہیں آواز دیتا ہے تو کوچ کر جاتے ہین اس دنیا کی لذتیں میرے سامنے حمیم دوزخ کی مانند ہیں جو پینے والے کو داغ لگاتی ہیں یہ تلخ شربت ہے جو حلق سے نیچے لے جانے میں ناگواری محسوس ہوتی ہے یہ ہلاک کرنے والا زہر ہے جو بدن میں سرایت کر جاتا ہے اور ایک ایسی گردن بند  آگ ہے جو میرےگلو گیر ہے میں نے اپنے اس پالتو کو اتنے پیوند لگائے ہیں کہ مزید پیوند لگانے میں مجھے شرم آتی ہے اور آخر اس نے مجھ سے کہا ہے کہ میں اسے جلے ہوئے کتے کی طرح دور پھینک دوں کہ اسے پسند نہیں کہ میں اسے مزید پیوند لگاؤں لہذا اسے کہتا ہوں کہ مجھ سے دور رہ۔اگر میں چاہوں تو اس میں سے عمدہ لباس اپنے لیے منتخب کرلوں اور عمدہ خوراک نوش جان کروں اور اس کے لذائذ سے بہرہ مند ہوجاؤں مگر میں اﷲ جل جلالہ عظمتہ کی تصدیق کرتا ہوں کہ وہ فرماتا ہے ” جو کوئی اس دنیا کی خوبصورتی چاہتا ہے تو اس کےکردار کو بدل دیتا ہے اور دنیا کم وکاست نہیں رکھتی “ ( ھود، ۱۵) پھر فرمان الہی ہے ” اور وہ ہیں کہ جو سوائے آگ کے کچھ نہیں رکھتے “ ( ھود، ۱۶) آگ کو برداشت کرنے  کی طاقت کس میں سے اس کا ایک انگارہ زمین کے جنگلات کو خاکستر کرسکتا ہے او اگر اس سے بچنے کے لیے کوئی کسی قلعے میں پناہ لے لے تو یہ اس قلعے کو بھی جلا ڈالے علی(ع) کے لیے کیا بہتر ہے، کیا یہ کہ خدا کے نزدیک مقرب کہلائے یا یہ کہ دوزخ کی آگ اسے آلے اور اس کے جرم کی سزا دے یا یہ کہ مورد تکذیب ہو، خدا کی قسم میرے لییے خواری اور زنجیروں میں جکڑا جانا اور درختوں کی راکھ کی مانند خاکستر ہوجانا اور کندلو ہے کو میرے سر میں مارا جانا اس سے کہیں بہتر ہے کہ میں محمد(ص) کے سامنے اس خیانت کے ساتھ پیش ہوں کہ کسی یتیم پر ستم کیا ہوا ہو میں اپنے نفس کی خاطر یتیموں پر ستم نہیں کرتا کہ بوسیدگی جلد ہی آنے والی ہے اور زیر خاک جانا ہے جہاں مدتوں رہنا ہے۔ بخدا میں نے اپنے بھائی عقیل (رح) کو سخت فقر و فاقہ کی حالت میں دیکھا وہ تمہارے حصے کے


غلے میں سے ایک صاع گیہوں مجھ سے مانگتے تھے میں نے ان کے بچوں کو بھی دیکھا جو فاقہ کشی کی وجہ سے پریشان تھے ان کے بال بکھرے ہوئے اور چہرے بھوک کی زیادتی کی وجہ سے زرد و سیاہ ہوگئے تھے جیسے کسی نے ان کے چہرون  پر تیل چھڑک کر سیاہ کردیا ہو وہ میرے پاس آئے اور اصرار کرنے لگے ( گہیوں کے بارے میں) میں نے کان لگا کر ان کی بات کو سنا تو انہوں نے گمان کیا کہ میں ان کے ہاتھ اپنا دین بیچ ڈالوں گا اور اپنی راہ (حق) چھوڑ کر ان کے پیچھے چل پڑوں گا مگر میں نے لوہے کی ایک سلاخ کو تپایا اور عقیل(رح) کے بدن کے قریب لے گیا وہ اس طرح چیخے جس طرح کوئی بیمار درد و کرب سے چیختا ہے اور نزدیک تھا کہ ان کا بدن لوہے کی حرارت سےجل جائے تو میں نے ان سے کہا اے عقیل(رح) رونے والیاں تم روئیں کیا تم اس لوہے کے ٹکڑے کی حرارت سے چیخ اٹھے ہو جسے ایک انسان نے تپایا ہے جبکہ مجھے ایسی آگ کی طرف کھینچ رہے ہو جسے خدائے قہار نے اپنے غضب سے بھڑکایا ہے تم خود تو اس لوہے کی حرارت سے چیخو میں جہنم کے شعلوں سے نہ چلاؤں اس سے بھی عجیب تر واقعہ یہ ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص رات کے وقت شہد میں گندھا  ہوا حلوا ایک برتن میں لیے ہمارے گھر آیا مجھے حلوئے سے ایسی نفرت ہوئی جیسے وہ سانپ کے تھوک یا قے میں گوندھا گیا ہو میں نے اس آدمی سے پوچھا کیا یہ کسی بات کا انعام ہے یا زکواة یا صدقہ ہے جو ہم اہل بیت(ع) پر حرام ہے تو اس نے کہا یہ ان میں سے کچھ بھی نہیں ہے بلکہ یہ آپ(ع) کےلیے ایک تحفہ ہے میں نے کہا اے پسر مردہ، عورتیں تجھ پر روئیں کیا تو مجھے دین کے راستے سے فریب دینے آیا ہے کیا تو بہک گیا ہے یا پاگل ہوگیا ہے یا یونہی ہذیان بک رہا ہے خدا کی قسم اگر ہفت اقلیم ان چیزوں سمیت جو آسمانون کے نیچے ہیں مجھے دیدی جائیں اور میں خدا کی معصیت صرف اس حد تک کرون کہ میں کسی چیونٹی سے جو کا چھلکا چھین لوں تو کبھی بھی ایسا نہ کروں گا یہ دنیا تو میرے نزدیک اس پتی سے بھی زیادہ بے وقعت ہے جو ٹڈی کے منہ میں ہو اور وہ اسے چبا رہی ہو علی(ع) کو فنا ہوجانے والی نعمتوں اور مٹ جانے والی لذتوں سے کیا واسطہ ہم عقل کے خواب غفلت میں پڑجانے اور لغزشوں کی برائیوں سے خدا کے دامن میں پناہ مانگتے ہیں اور اسی سے مدد کے خواستگار ہیں۔

             اللہم صلی اﷲ محمد(ص) و آل محمد(ص)


مجلس نمبر۹۱

(۵ شعبان سنہ۳۶۸ھ)

آدم(ع) اور محمد(ص)

۱ـ            امام صادق(ع)اپنے آباء(ع) سے روایت کرتے ہیں کہ جناب رسول خدا(ص) سے دریافت کیا گیا کہ آپ (ص) آدم(ع) کے ہمراہ بہشت میں کس مقام پر تھے آپ(ص) نے جواب دیا میں ان کی پشت (صلب) میں تھا وہ مجھے نیچے اس زمین پر لائے پھر میں پشت نوح(ع) میں کشتی پر سوار ہوا پھر پشتِ ابراہیم(ع) میں آگ میں گرایا گیا میرے اجداد(ع) کسی بھی زمانے میں ہرگز زنا سے کثیف و آلودہ نہ ہوئے خدا نے مجھے پاک صلبوں سے پاک رحموں کی طرف منتقل کیا ہدایت کے طریقہ کار  سے، پھر یہاں تک کہ مجھ سے عہد نبوت لیا گیا اور پیمان اسلام کو میرے ساتھ منسلک کردیا گیا میری تمام صفات کو بیان کیا گیا، توریت و انجیل میں مجھے یاد کیا اور آسمان پر لے جایا گیا میرے نام کو خدانے اپنے نیک ناموں میں سے رکھا میری امت حمد کہنے والی ہے عرش کا پروردگار محمود اور میں محمد(ص) ہوں۔

ذکر علی(ع) اور معاویہ

۲ـ           اصبغ بن نباتہ کہتے ہیں کہ ضرار ابن ضمرہ نبشلی ۔معاویہ بن ابو سفیان کے پاس گیا تو معاویہ نے اس سے کہا میرے سامنے علی(ع) کے اوصاف بیان کرو اس نے کہا مجھے اس سے معاف رکھیں معاویہ نے کہا اے ضرار ڈرو مت بیان کرو۔ ضرار نے کہا خدا علی(ع) پر اپنی رحمت نازل فرمائے وہ ہمارے درمیان ہماری ہی مانند تھے ہم جس وقت بھی ان کی خدمت میں جاتے تو وہ اپنی قربت ہمیں عطا فرماتے جب بھی ہم ان سے کوئی سوال کرتے تو وہ بیان فرماتے ہم جب بھی انہیں دیکھنے جاتے تو ہم سب محبت فرماتے انہوں نے کبھی اپنے دروازے ہمارے لیے بند نہیں کیے اور نہ ہی دوازے پر نگران مقرر کیا اور خدا کی قسم انہوں نے ہر حال میں ہمیں اس طرح اپنے قریب رکھا کہ وہ خود ہم سے زیادہ ہمارے قریب تھے ان کی ہیبت اس قدر تھی کہ ہم ان سے بات


 کرنے کی تاب نہ رکھتے تھے اور ان کی بزرگی ان کے سامنے آغاز سخن کی دعوت نہ دیتی تھی جب آپ(ع) مسکراتے تو آپ(ع) کے دندان مبارک موتیوں کی لڑی کی مانند دکھائی دیتے۔

معاویہ نے کہا اے ضرار مزید بیان کرو ضرار نے کہا خدا اپنی رحمت علی(ع) پر نازل فرمائے خدا کی قسم وہ بہت زیادہ جاگنے اور بہت کم سونے والے تھے وہ شب و روز کی ہر ساعت قرآن کی تلاوت فرمایا کرتے انہوں نے اپنی جان خدا کی راہ میں دیدی ان کی آنکھوں سے اشک جاری رہتے اور پردہ ان کے لیے نہ گرایا جاتا۔ مال و دولت انہوں نے کبھی ذخیرہ نہ کیا اور نہ ہی کبھی خود اس سے وابستہ رکھا وہ جفا کاروں سے نرمی نہ برتتے مگر بدخوئی نہ کرتے ہم نے انہیں اکثر محراب عبادت میں ہی کھڑے دیکھا اور جب رات ہوتی تو اپنے معبود کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتے اور اپنی ڈارھی پکڑے اس کے سامنے یوں کانپتے جیسے کوئی سانپ مارنے والا کانپ رہا ہوتا ہے جب آپ(ع) غمزدہ ہوتے گریہ فرماتے اور کہتے اے دینا تو اپنا رخ میری طرف کرتی ہے اور چاہتی ہے کہ میں تیرا مشتاق بنوں دور رہ ، دور رہ کہ میں تجھ سے احتیاج نہیں رکھتا میں نے تجھے تین طلاقین دی ہیں تو رجوع نہیں کرسکتی اور فرمایا کرتے آہ، راستہ طویل ہے  اور توشہ کم اور طریقہ سخت ہے۔ معاویہ نے یہ سنا تو گریہ کیا اور کہا اے ضرار خدا کی قسم علی(ع) اسی طرح کے تھے خدا ابوالحسن(ع) پر رحمت کرے۔

شیعیان علی (ع) کے بارے میں

۳ـ          امام باقر(ع) نے جابر سے فرمایا اے جابر جو بندہ شیعہ ہے اور صرف ہماری محبت پر اکتفا کرتا ہے خدا کی قسم وہ ہمارا شیعہ نہیں مگر وہ بندہ جو خدا پر تقوی رکھے اور اس کے حکم پر چلے اور تواضع وخشوع و کثرت ذکر خدا ، روزہ ، نماز، اور حاجت مندوں، ہمسایوں، فقیروں، قرض داروں، اور یتیموں کی احوال پرسی ، راست گوئی، تلاوت قرآن وحفاظت، زبان لوگوں سے خیر اور ہر چیز میں امانت داری کے علاوہ کسی چیز سے نہ پہچانا جائے۔

جابر نے کہا یا ابن(ع) رسول اﷲ(ص) میں کسی بندے کو نہیں جانتا جو ایسے اوصاف رکھتا ہو امام(ع) نے فرمایا جابر تم ان کو اپنے درمیان جگہ مت دو جو یہ کہیں کہ میں رسول خدا(ص) اور علی(ع) کے ساتھ مگر ان کا


کردار نہ اپنائیں اور ان کے طریقے و راستے کے پیروکار نہ ہوں تو یہ محبت انہیں کچھ فائدہ نہ دے گی لہذا خدا سے ڈرو اور جو کچھ خدا کے پاس ہے اس پر عمل کرو خدا اور بندے کے درمیان کوئی رشتہ نہیں ہے اور ان میں سے فرمانبردار اور باتقوی خدا کے نزدیک دوست اور گرامی ترین ہے خدا کی قسم خدا کا تقرب اس کی اطاعت کے بغیر حاصل نہیں ہوگا اور ہم دوزخ سے برائت اپنے ہمراہ نہیں رکھتے اور کوئی بھی خدا پر حجت نہیں رکھتا جو کوئی خدا کا مطیع ہے ہمارا دوست ہے اور جو کوئی خدا کا نافرمان ہے وہ ہمارا دشمن ہے اور بجز پرہیز گاری اور نیک کردار کے ہماری دوستی تک نہیں پہنچا جاسکتا ۔

معصوم(ع) کا شیعوں سے خطاب

۴ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا میں اورمیرے والد(ع) باہر تشریف لائے اور منبر تک گئے وہاں بہت سے شیعہ حضرات جمع تھے میرے والد(ع) نے انہیں سلام کیا انہوں نے جواب دیا میرے والد(ع) نے فرمایا خدا کی قسم میں تمہاری بو اور تمہاری جان کو دوست رکھتا ہوں تم میری مدد اپنی پرہیزگاری اور کوشش سے کرو کہ ہماری ولایت صرف وسیلہء عمل اور کوشش (نیک اعمال میں) کے ذریعے ہی ہاتھ آتی ہے تم میں سے جوکوئی بھی کسی ایسے کو دیکھے جو خدا کی اقتداء کرتا ہے تو تمہیں چاہیے کہ اس کی پیروی کرو تم شیعیان خدا، انصارانِ خدا اور پیشروان بہشت ہو  تمہیں ضانت خدا اور ضمانتِ رسول(ص) کے صلے میں بہشت عطا کی جائے گی ( ضمانت سے مراد شہادت دینا ہے) اور بہشت کے درجات میں کوئی بندہ تم سے زیادہ بڑھ کر نہیں ہوگا تمہیں چاہیے کہ ایک دوسرے سے برتری درجات میں رقابت اختیار کرو تم پاک ہو تمہاری عورتیں پاک ہیں اور ہر زن مومنہ ، حوریہ ء شوخ چشم ہے اور ہر مرد مومن صدیق ہے اے لوگو جناب امیرالمومنین(ع) نے قنبر(رض) سے فرمایا اے قنبر(رض) خوش خبری لو اور خوش خبری دو اور خوش رہو کہ پیغمبر(ص) سوائے شیعہ کے اپنی امت کے ہر شخص پر غضبناک تھے ہر چیز دست گیری رکھتی ہے اور اسلام کی وست گیری شیعہ ہیں آگاہ ہوجاؤ کہ ہر چیز کا ستون ہے اور اسلام کا ستون شیعہ ہیں ہر چیز کا کنگرہ ( کلٰغی جو ٹوپی پر لگائی جاتی ہے) اور اسلام کا کنگرہ شیعہ ہیں ہر چیز کےلیے سردار ہے اور مجالس کی سرداری مجالس شیعہ میں ہے آگاہ ہوجاؤ کہ ہر چیز کے لیے امام


ہے اور امام کائینات یہ زمین  ہے کہ اس کے ساکنان شیعہ ہیں خدا کی قسم اگر تم اس زمین میں نہ ہوتے تو خدا تمہارے مخالفین کونعمت نہ دیتا اور وہ اس دنیا میں طیبات کو  نہ پہنچ سکتے مگر ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہےمگر یہ کہ عبادت کرے اور کوشش کرے اور جیسا کہ اس آیت میں بیان ہوا ہے اس پرعمل کرو” بیشک تمہارے پاس اس مصیبت کی خبر آئی جو چھا جائے گی کتنے ہی منہ اس دن ذلیل ہوں گے کام کریں مشقت جھلیں جائیں بھڑکتی آگ میں اور نہایت جلتے ہوئے چشمے کا پانی پلایا جائے اور ان کے لیے کچھ کھانا نہیں مگر آگ کے کانٹے کہ نہ فربہی لائیں اور نہ بھوک میں کام دیں۔ ( غاشیہ، ۱ـ۷) ہر ناصبی کی کوشش وعمل برباد ہے ہمارے شیعہ نور خدا کو دیکھتے ہیں اور ان کے مخالفین کےلیے خدا کا غصہ ہے خدا کی قسم کوئی بندہ ہمارے شیعوں میں سے نہیں سوتا مگر یہ کہ خدا اس کی روح کو آسمان پر لے جاتاہے اور اگر موت سے ہمکنار ہوجائے  توخدا اسے گنجینہ رحمت میں رکھتا ہے اور اگر نہ آسکے تو خدا اس کے پاس ایک امین فرشتہ بھیجتا ہے کہ اس کے جسم تک پہنچے اور اس کی روح کو اپنے تک راہنمائی کرے خدا کی قسم تم حج و عمرہ کرنے ولاے ہو( تمہارے حج و عمرہ قبول شدہ ہیں) تم خدا کے خاص بندے  ہو تمہارے غریب و فقیر بے نیاز اور تمہارے توانگر قانع ہیں تم خدا کی دعوت کے اہل او اس کے نزدیک مقبول ہو۔

۵ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا رمضان خدا کا مہینہ اور شعبان میرا مہینہ ہے جو کوئی میرے مہینے کا ایک دن کا روزہ رکھے گا میں قیامت میں اس کا شفیع ہوں گا اور جو کوئی ماہ رمضان کا روزہ رکھے گا تو وہ دوزخ سے آزاد ہے۔

۶ـ           امام رضا(ع) نے فرمایا جو کوئی ماہ شعبان میں روزانہ ستر بار ”استغفر اﷲ واسئلہ التوبہ“ کہے تو خدا اسے دوزخ سے برائت عطا فرماتا ہے اور اسے پل صراط سے گزرنے کا پروانہ مہیا کرتا ہے۔

۷ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جوکوئی ماہ شعبان میں صدقہ دے تو خدا اسے اس طرح پالے گا جیسے کوئی اس زمین پر شتر پالتا ہے ( یعنی جس طرح پالتو اور منفعت بخش جانور کی خدمت کی جاتی ہے اور اسے نت نئی خوراک دی جاتی ہے اور خیال رکھا جاتا ہے )  اور روز قیامت اسے کوہ و دریا کی مانند دے گا۔ (یعنی بہت بڑا اجر عطا فرمائے گا)


۸ـ          اسحاق بن عمار بیان کرتے ہیں کہ امام جعفر صادق(ع) نے فرمایا اے اسحاق منافقین سے بحث مت کرو اور مومن سے اخلاص ( نیک عمل) کرو اگر تمہارے ساتھ کوئی یہودی بھی بیٹھ جائے تو خوش اخلاقی سے پیش آؤ۔

طالب علم کی اقسام

۹ـ           ابن عباس کہتے ہیں کہ میں نے جناب علی بن ابی طالب(ع) سے سنا ہے کہ طالب علموں کی تین اقسام ہیں جن کی صفات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

     پہلا گروہ  وہ ہے جو دین کی تعلیم ریا کاری اور جھگڑے کے لیے حاصل کرتا ہے۔

دوسرا گروہ وہ ہے جو مال بٹورنے اور دھوکا دینے کے لیے علم حاصل کرتا ہے۔

تیسرا گروہ وہ ہے جو سمجھنے اور عمل کرنے کے لیے تعلیم حاصل کرتا ہے۔

پہلا گروہ جو ایذا دینے والون اور ریا کاروں کا ہے عوام کی محفلوں میں بلند پایہ خطیب بنتا ہے اور عبادات کو بڑی روانگی اور باقاعدگی سے ادا کرتا ہے مگر تقوی سے خالی ہے خدا ایسے افراد کو گمنام رکھے اور علماء کی بزم سے ان کا نام ونشان مٹادے۔

دوسرا گروہ کہ جو مال بٹورنے والے اور فریب کار ہیں وہ خوشامدی اور اپنے جیسے لوگوں کی ہم نشینی کے خواہش مند ہوتے ہیں وہ لوگوں کے لذیذ کھانوں کے رسیا اور اپنے دین کو تباہ کرنے والے ہیں اے اﷲ ان کی ناک زمین پر رگڑ اور ان کی آرزوئیں کبھی پوری نہ فرما۔

تیسرا گروہ جو صاحبان فقہ وعمل پر مشتمل ہے وہ خوف الہی اور انکسار کرنے والوں کا گروہ ہے اس گروہ کے لوگ خوف الہی کی وجہ سے رونے والے زیادہ تضرع وزاری کرنے والے اپنے دور کے شناسا اور اس کے علاج کے لیے تیار اپنے انتہائی قابل بھروسہ بھائیوں سے بھی وحشت محسوس کرنے والے اور اپنے زہد کے لباس میں خشوع کرنے والے اور رات کی تاریکی میں نماز شب ادا کرنے والے ہیں انہیں لوگوں کے ذریعے خدا  اپنے ارکان دین کو مضبوط کرتا ہے اور انہیں خوف آخرت سے امان عنایت فرماتا ہے۔


۱۰ ـ         جناب حٰسین بن علی(ع) نے اپنے والد(ع) جناب امیر(ع) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے جناب رسول خدا(ص) سے ائمہ(ع) کے متعلق دریافت کیا کہ ان کی تعداد کیا ہے تو جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا اے علی (ع) یہ بارہ(۱۲) ہیں ان کے اول تم اور آخری قائم(عج) ہیں۔

             اللہم صلی علی محمد(ص) و آل محمد(ص)


مجلس نمبر۹۲

(۹ شعبان سنہ۳۶۸ھ)

خلق کی دو قسمیں

۱ـ           ابن عباس(رض) بیان کرتے ہیں کہ جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا خدا نے خلق کی دو قسمیں پیدا کی ہیں جیسا کہ ارشاد ربانی میں اصحاب یمین اور اصحاب شمال کا ذکر ہوا ہے اور میں اصحاب یمین سے ہوں پھر خالق نے ان دو قسموں کو تین میں تقسیم کیا ہے اور مجھے بہترین قسم میں رکھا ارشاد ربانی ہے کہ ” پس دائیں طرف والے کیا کہنے دائں طرف دسوالوں کے اوف بائیں طرف والے کیا پوچھنا بائیں ہاتھ والوں کا اوع سبقت کرنے والے تو سبعت رکنے والے ہی ہیں۔ “ ( واقعہ، ۷ـ۱۰) اور میں اصحاب سابقوں ( سبقت کرنے والوں ) میں سے ہوں پھر خدا نے ان تمام تین قسموں کو قبیلوں تقسیم کیا اور مجھے بہترین قبیلے میں رکھا اور ارشاد ربانی ہے ” ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور پھر تم میں شاخین اور قبیلے قرار دییے ہیں تاکہ آپس میں ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بیشک تم میں سے خدا کے نزدیک زیادہ محترم وہی ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے اور اﷲ ہر شے کا جاننے والا اور ہر بات سے با خبر ہے “ (حجرات، ۱۳) اور میں اولاد آدم(ع) میں تقوی میں سب سے بڑھ کر ہوں اور خدا کے نزدیک ترین ہوں۔  پھرخدا نے ان قبائل کو خاندان میں تقسیم کیا اور مجھے بہترین خاندان میں رکھا ارشاد ربانی ہے ” بیشک خدا چاہتا ہے کہ تمہارے خاندان ( اہل بیت(ع)) سے لے جائے  پلیدی کو اور خوب پاک و پاکیزہ کرے تم کو“ ( احزاب، ۳۳)

۲ـ           جناب زید بن علی بن حسین(ع) نے اس آیت قرآنی کی تلاوت فرمائی ” اور ان کا باپ نیک آدمی تھا تو آپ کے رب چاہا کہ وہ دونوں اپنی جوانی کو پہنچیں اور اپنا خزانہ نکال لیں“ ( کہف، ۸۲) پھر جناب زید(رح) نے فرمایا خدا نے ان دو بچوں کی ان کے باپ کے بہتر ہونے کی وجہ سے حفاظت فرمائی اور ہم سے زیادہ بہتر حفاظت میں کون ہے کہ جناب رسول خدا(ص) ہمارے جد ہیں


 ان کی دختر ہماری والدہ(ع) ہیں وہ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں ہمارے والد(ع) جو سب سے پہلے ایمان لائے اور جناب رسول خدا(ص) کے ہمراہ نماز ادا کی۔

یحی بن یعمر

۳ـ          عبدالمالک بن عمیر کہتے ہیں کہ حجاج نے یحی بن یعمر کو طلب کیا اور اس سے کہا کہ تم معتقد ہو کہ علی (ع) کے دو بیٰٹے رسول خدا(ص) کے فرزند ہیں اس نے کہا ہاں ایسا ہی ہے اور اگر مجھے امان ہوتو میں اس کی دلیل قرآن سے پیش کرسکتا ہوں ۔ حجاج نے کہا تجھے امان ہے بیان کر۔

یحی نے کہا خدا ارشاد فرماتا ہے ” اور ہم نے انہیں ( ابراہیم(ع)) اسحق(ع) و یعقوب(ع) عطا کیے اور ان سب کو ہم نے راہ دکھلائی اور ان سے پہلے نوح(ع) کو راہ دکھائی اور اس کی اولاد مین سے داؤد(ع) اور سلیمان اور ایوب(ع) اور یوسف(ع) اور موسی(ع) اور ہارون(ع) کو اورہم ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں نیکوکاروں کو“ ( انعام، ۸۲) پھر یحی بن یعمر نے کہا کہ حضرت زکریا(ع) اور یحیٰ باپ رکھتے تھے کیا عیسی(ع) کے بھی والد تھے حجاج نے کہا نہین یحی بن یعمر نے کہا خدا نے ان کو اپنی کتاب میں ان کی ماں کے وسیلے سے ابراہیم(ع) کا فرزند کہا ہے حجاج نے کہا اے یحیٰ تم نے یہ علم کہاں سے حاصل کیا کہ اس طرح بیان کرتے ہو اور یحیٰ نے کہا میں نےیہ علم خدا کے اس عہدسے حاصل کیا جو اس نے علماء سے لیا ہے کہ وہ اپنے علم نہ چھپائیں۔

سدرة المنتہی

۴ـ          عبداﷲ بن عباس(رض) بیان کرتے ہیں کہ جناب رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا جب مجھے ساتویں آسمان تک لے جایا گیا یہان تک کہ میں سدرة المنتھی پر پہنچا پھر وہاں سے حجاب نور تک  گیا تو خدا نے مجھے آواز دی کہ اے محمد(ص) تم میرے بندے ہو لہذا میرے لیے خضوع و تواضع کرو میری عبادت کرو مجھ پر بھروسہ کر میرے غیر پر اعتماد مت کرو کیونکہ میں نے تمہیں پسند کیا کہ تم میرے حبیب میرے رسول(ص) اور پیغمبر ہو میں نے تمہارے بھائی علی(ع) کو پسند کیا کہ وہ میرے خلیفہ اور میری بارگاہ کے مقرب ہوں لہذا وہی میرے بندوں پر میری حجت ہیں اور میری خلق کے پیشوا ہیں انہیں


 کے ذریعے سے میرے دوست اور میرے دشمن پہچانے جائینگے اور انہیں کے ذریعے سے شیطان کا  لشکر میرے لشکر سےجدا ہوگا اور انہیں کے ذریعے سے میرا دین قائم رہے گا میرے حدود محفوظ رہیں گے اور میرے احکام جاری ہوں گے اے میرے حبیب(ص) میں اپنے بندون اور کنیزوں پر ان کے اور ان کی اولاد کے فرزندوں کے سبب سے رحم کروں گا اور تمہارے قائم کے سبب سے زمین کو اپنی تقدیس و تہلیل و تکبیر کے ساتھ آباد کروں گا اور اس کے ذریعے سے زمین کو اپنے دشمنوں سے پاک کروں گا اور اپنے دوستوں کو میراث دوں گا ان کے ذریعے کافروں کے کلمے کو پست اور اپنے کلمے کو بلند کروں گا اور اسی کےسبب سےاپنے بندوں کو زندہ کروں گا ۔اور شہر کو آباد کروں گا اور اپنی مشیت کےساتھ اپنے خزانوں اور زخیروں کو ظاہر کروں گا اپنے رازوں سے اسے آگاہ کروں گا اور اپنے فرشتوں کے ذریعے ان لوگوں کی مدد کروں گا جو اس کو میرے امر کے جاری کرنے اورمیرے احکام بلند کرنے میں قوت دیں گے اور وہی میرا ولی بر حق اور سچائی کے ساتھ میرے بندوں کی ہدایت کرنے والا  ہے۔

عصمت امام

۵ـ          علی بن ابراہیم بن ہاشم ۔ محمد بن ابی عمیر سے روایت کرتے ہیں کہ ہشام بن حکم کی مصاحب کی مدت میں کوئی  بات میں نے اس سے بہتر ان سے حاصل نہیں کی ایک روز میں نے ان سےپوچھا کہ آیا امام معصوم ہوتا ہے کہا ہاں۔ میں نے پوچھا وہ کیا دلیل ہے  جس کی وجہ سے اسے معصوم جاننا چاہیے ہشام نے جواب دیا گناہوں کے ارتکاب کی چار وجوہات ہیں پانچویں کوئی وجہ نہیں ہوسکتی اور وہ چار وجوہات حرص، حسد، غضب، اور شہوت ہیں امام کی ذات میں ان وجوہات میں سے کوئی وجہ بھی نہیں ہوتی جائز نہیں کہ امام دنیا کا حریص ہو کیونکہ تمام دنیا اس کے زیر نگین ہوتی ہے اور وہ مسلمانوں کا خزینہ دار ہوتا ہے لہذا وہ کس چیز میں حرص کرے گا دوئم یہ جائز نہیں کہ وہ حاسد ہو کیونکہ انسان اس پر حسد کرتا ہے جو اس سے بالاتر ہو جب کہ کوئی شخص اس(امام) سے بالاتر نہیں ہوتا تو وہ کس  پر حسد کرے گا سوئم یہ جائزنہیں کہ امور دنیا میں سے کسی چیز کے بارے میں


غضب کرے لیکن اس کا غضب خدا کے لیے ہوتا ہے کیونکہ خدا نے اس پر حدود کا قائم رکھنا واجب قرار دیا ہے یعنی کوئی بھی اس کی راہ میں اجرائے حدود الہی میں مانع نہیں ہوسکتا اور دین خدا میں حد جاری کرنے میں کوئی بھی رحم اسے نہین روکتا اور چہارم یہ جائز نہیں کہ امام دنیا کی شہوت کی متابعت کرے اور دنیا کو آخرت کے عوض اختیار کرے اس لیے کہ خدا نے آخرت کو اس کا محبوب قرار دیا ہے لہذا وہ آخرت پر نظر رکھتا ہے اس طرح جس طرح ہماری نظریں دینا پر لگی ہوئی ہیں  کیا تم نے کسی کو دیکھا ہے کہ وہ خوبصورت چہرے کو بد صورت چہرے کی خاطر ترک کردے یا تلخ طعام کی خاطر لذیذ کھانوں کو چھوڑدے یا نرم لباس کو سخت کپڑوں کے بدلے چھوڑدے اور ہمیشہ باقی رہنے والی نعمت کو خالی اور زائل ہونے والی نعمت کے لیے ترک کردے۔

وفات نبی(ص) اور غسل و کفن

۶ـ                   ابن عباس(رض) کہتے ہیں کہ جب جناب رسول خدا صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم بیمار ہوئے اور آںحضرت(ص) کے اصحاب آپ(ص) کے گرد جمع ہوئے تو عمار یاسر رضی اﷲ عنہ کھڑے ہوئے اور بولے یا رسول اﷲ(ص) آپ پر میرے باپ ماں فدا ہوں جب آپ(ص) عالم قدس  کی طرف تشریف لے جائیں تو ہم میں کون آپ کو غسل دے گا آپ(ص) نے فرمایا کہ میرے غسل دینے والے علی بن ابی طالب(ع) ہیں کیونکہ وہ میرے جس عضو کو دھونا چاہیں گے فرشتے اس کے دھونے پر ان کی مدد کریں گے پوچھا یا رسول اﷲ آپ(ص) پر میرے باپ ماں فدا ہوں ہم مین کون آپ(ص) کی نماز پڑھائے گا حضرت نے فرمایا خاموش ہوجاؤ خدا تم پر رحمت نازل کرے پھر اپنا رخ علی بن ابی طالب(ع) کی طرف کر کے فرمایا کہ اے علی(ع) جب تم دیکھو کہ میری روح میرے جسم سے مفارقت کرچکی ہے تو مجھے غسل دینا اور اچھی طرح دینا اور مجھے انہیں دونوں کپڑوں کا کفن دینا جو میں پہنے ہوئے ہوں یا مصری جامہء سفید یا برد یمانی کا کفن دینا اور میرا کفن بہت قیمتی نہ ہو۔ اور مجھے قبر کے کنارے تک اٹھا کر لے جانا اور وہاں مجھے چھوڑ کر الگ ہو جانا تو سب سے پہلے جو مجھ پر نماز پڑھے گا وہ خداوند عالم ہوگا جو اپنے عظمت وجلال عرش سے مجھ پر صلوات بھیجے گا اس کے بعد جبرائیل(ع) و میکائیل(ع) اور اسرافیل(ع) اپنے لشکروں


 اور فرشتوں کی فوجوں کے ساتھ جن کی تعداد سوائے خداوند عالمین کے کوئی نہیں جانتا مجھ پر نماز پڑھیں گے اس کے بعد وہ فرشتے جو عرش الہی کے گرد ہیں اس کے بعد ہر آسمان کے فرشتے یکے بعد دیگرے مجھ پر نماز پڑھین گے پھرمیرے تمام اہل بیت(ع) افور میری بیویاں اپنے اپنے قرب و منزلت کے مطابق ایما کریں گے جو ایما کرنے کا حق ہے اور سلام کریںگے جو سلام کرنے کا حق ہے اور ان کو چاہیے کہ نوحہ فریاد بلند کر کے مجھے آزار نہ پہنچائیں اس کے بعد فرمایا اے بلال(رض) لوگوں کو میرے پاس بلاؤ کہ مسجد میں جمع ہوں جب لوگ جمع ہوگئے تو آںحضرت(ص) عمامہ سر باندھے ہوئے اور اپن کمان پر  سہارا کرتے ہوئے باہر تشریف لائے اور منبر پر گئے اور حمد و ثناء الہی بجالائے اور فرمایا اے گروہ اصحاب میں تمہارے لیے کیسا پیغمبر تھا کیا میں نے تمہارے ساتھ رہ کر خود جہاد نہیں کیا، کیا میرے سامنے کے دانت تم نے شہید نہیں کیے، کیا تم نے میری پیشانی کو خاک آلود نہیں کیا کیا میرے چہرے پر تم نے خون جاری نہیں کیا کیا یہاں تک کہ میری ڈاڑھی خون سے رنگین ہوگئی۔ کیا میں نے تکلیفوں اور مصیبتوں کو اپنی قوم کے نادانوں سے برداشت نہیں کیا، کیا میں نے بھوک میں اپنی امت کے ایثار کے لیے شکم پر پتھر نہیں باندھے صحابہ نے کہا یارسول اﷲ(ص) کیوں نہیں بیشک آپ(ص) خدا کی خوشنودی کے لیے صبر کرنے والے تھےے اور برائیوں سے منع کرنے والے تھے لہذا آپ(ص) کو ہماری طرف سے بہترین جزا عطا فرمائے حضرت (ص) نے فرمایا خدا تم کو بھی جزائے خیر دے پرھ فرمایا کہ خدا نے ( مجھے بتادینے کا) حکم دیا ہے اور قسم کھائی ہے کہ کوئی ظلم کرنے والا اس کی گرفت سے بچ نہیں سکتا لہذا تم کو خدا کی قسم دیتا ہوں کہ جس پر محمد(ص) سے کوئی ظلم ہوگیا ہو وہ ( بلاتامل) اٹھے اور قصاص لے لے کیونکہ دنیا میں قصاص لے لینا میرے نزدیک عقبی کے قصاص سے زیادہ بہتر ہے جو فرشتوں اور انبیاء کے سامنے ہوگا یہ سنکر آخر سے ایک شخص اٹھا جس کو اسود بن قیس کہتے تھے اور کہا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں یا رسول اﷲ(ص) جس وقت آپ طائف سے واپس آرہے تھے میں حضور کے استقبال کے لیے گیا اس وقت آپ اپنے ناقہ غضبا پر سوار تھے اور اپنا عصائے ممشوق تھامے ہوئے تھے اور جب آپ(ص) نے اس کو بلند کیا تاکہ اپنے ناقہ کو ماریں تو وہ میرے شکم پر لگ گیا تھا مجھے نہیں معلوم کہ یہ آپ(ص) نے جان بوجھکر مارا


یا غلطی سے حضرت(ص) نے فرمایا خدا کی پناہ کہ میں نے دانستہ مارا ہو۔ پھر بلال(رض) سے فرمایا کہ جاؤ فاطمہ(س) کےگھر اور میرے وہ عصا لے آؤ بلال مسجد سے نکلے اور گلیوں اور بازاروں میں آواز دیتے ہوئے چلے کہ اے لوگو تم میں کون ہے جو اپنے نفس کو قصاص دینے پر آمادہ کردے دیکھو محمد(صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم) روز قیامت سے پہلے اپنے تئیس قصاص دینے پر آمادہ ہیں، جناب سدہ(س) نے فرمایا اے بلال(رض) یہ وقت تو عصا کام میں لانے کا نہیں ہے کس لیے وہ طلب فرمارہے ہیں بلال نے عرض کی آپ(ع) کو نہیں معلوم آپ ک پدر بزرگوار منبر پر تشریف فرما ہیں اور دینداروں اور دنیا والوں کو وداع فرمارہے ہین جب جناب معصومہ(س) نے وداع کی بات سنی فریاد و زاری کی اور کہا ہائے رنج و ملال آپ(ص) کےلیے اے میرے پدر بزرگوار(ص) آپ(ص) کے بعد فقراء ومساکین غریب اور کمزور لوگ کس کی پناہ میں ہوں گے غرض بلال(رض) کو عصا دے یا وہ لے کر آںحضرت(ص) کی خدمت میں حاضر ہوئے حضرت(ص) نے عصا لے کر فرمایا وہ بوڑھا آدمی کہاں گیا اس نے حاضر ہوکر عرض کی میں موجود ہوں یا رسول اﷲ(ص) آپ پر میرے باپ ماں فدا ہوں۔ حضرت(ص) نے فرمایا یہ عصاء لے لو اور مجھ سے اپنا قصاص لو تاکہ مجھ سے راضی ہوجاؤ۔ اس شخص نے کہا یا رسول اﷲ(ص) اپنا شکم مبارک کھولیے جب آںحضرت(ص) نے اپنے شکم اقدس سےکپڑا ہٹایا تو اس نے کہا مولا کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ میں اپنا دہن حضرت کے شکم سے مس کروں حضرت(ص) نے  اجازت دے دی تو اس نے حضرت(ص) کے شکم مبارک کو بوسہ دیا اور کہا میں روز جزا آتش جہنم سے  پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ رسول خدا(ص)کے شکم مبارک سے قصاص لوں حضرت(ص) نے فرمایا اے سوادہ قصاص لے لو یا معاف کردو۔ سوادہ نے کہا میں نے معاف کردیا یا رسول اﷲ(ص)حضرت نے فرمایا خداوندا تو بھی سوادہ بن قیس کو بخش دے جس طرح اس نے نے تیرے پیغمبر(ص) سے درگزر کی پھر حضرت منبر سے نیچے تشریف لائے اور خانہ ء ام سلمہ(رض) میں داخل جہوئے اور فرماتے جاتے تھے کہ خداوند تو امت محمد(ص) کو آتش جہنم سے محفوظ رکھ اور س پر حساب روز قیامت آسان فرما جناب ام سلمہ(رض) نے عرض کی یا رسول اﷲ(ص) آپ غمگین کیوں ہیں اور آپ(ص) کا رنگ مبارک کیوں متغیر ہے حضرت(ص) نے فرمایا جبرائیل(ع) نے مجھے اس وقت میری موت کی خبر دی ہے تم پر سلامتی ہو دنیا میں کیونکہ آج کے  بعد محمد(صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم) کی


آواز نہ سنوگی۔ جناب ام سلمہ(رض) نے جب یہ وحشت اثر خبر آںحضرت(ص) سےسنی نالہ و فریاد کرنے لگیں کہ واحسرتاہ ایسا صدمہ مجھے پہنچا کہ ندامت و حسرت جس کا تدارک نہیں کرسکتے اس کے بعد حضرت(ص) نے فرمایا اے ام سلمہ(ض) میرے دل کی محبوب اور میری آنکھوں کے نور فاطمہ(س) کو بلاؤ یہ کہہ کر حضرت(ص) بے ہوش ہوگئے غرض جناب فاطمہ(س) زہرا سلام اﷲ علیہا آئیں اور اپنے پدر بزرگوار(ص) کی یہ حالت دیکھی تو نالہ و فرماد کرنے لگیں اور کہا اے پدر بزرگوار میری جان آپ کی جان پر فدا ہو اور میری صورت آپ کی صورت پر قربان ہو مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ(ص) سفر آخرت پر آمادہ ہیں اور موت کا لشکر ہر طرف سے آپ(ص)  کو گھیرے ہوئے ہے کیا اپنی بیٹی سے کچھ بات نہ کیجیے گا اور اس کے آتش حسرت کو اپنے بیان سے ساکن نہ فرمائے گا جب آںحضرت کے کان میں اپنے نور عین کی یہ آواز پنہچی اپنی آنکھیں کھول دیں اور فرمایا پارہ جگر میں بہت جلد تم سے جدا ہونے والا ہوں اور تم کو وداع کرتا ہوں لہذا تم پر سلامتی ہو جناب فاطمہ(ص) نے  جب یہ خبر وحشت اثر حضرت سید البشر سے سنی دل پر درد سے ایک آہ کھینچی اور عرض کی ابا جان میں روز قیامت آپ سے کہاں ملاقات کروں گی حضرت(ص) نے فرمایا ایسے مقام پر جہان مخلوقاتِ عالم کا حساب کیاجائے گا جناب فاطمہ(س) نے عرض کی اگر وہاں آپ(ص) کو نہ پاؤں تو پھر آپ(ص) کو کہاں ڈھونڈوں فرمایا مقام محمود میں جس کا خدا نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے جس جگہ میں امت کے گنہگاروں کی شفاعت کروں گا عرض کی اگر وہاں بھی آپ سے ملاقات نہ ہو تو کہاں تلاش کروں فرمایا صراط کے نزدیک دیکھنا جب کہ میری امت اس پر سے گذر رہی ہوگی اور میں کھڑا ہوں گا جبرائیل(ع)میری داہنی جانب اور میکائیل(ع) بائیں جانب اور خدا کے فرشتے میرے آگے اور پیچھے ہوں گے اور سب خدا کی بارگاہ مین تضرع و زاری کے ساتھ دعا کرتے ہون گے کہ خداوندا امت محمد(ص) کو صراط سے سلامتی کے ساتھ گزار دے اور ان پر حساب آسان فرما پھر جناب سیدہ(س) نے عرض کی میری مادر گرامی جناب خدیجہ(ع) کہاں ملیں گی حضرت نے فرمایا بہشت کے اس قصر میں جس کے گرد چار قصر ہوں گے یہ فرما کر حضرت(ص) پھر بے ہوش ہوگئے اور عالم قدس کی جانب متوجہ ہوئے اتنے میں بلال(رض) نے اذان دی اور کہا ( الصلوة رحمک اﷲ) حضرت کو ہوش آیا اور اٹھ کر مسجد میں تشریف لائے


اور مختصر نماز اداکی جب فارغ ہوئے تو جناب امیر(ع) اور اسام بن زید(رض) کو بلا کر فرمایا کہ مجھے خانہ فاطمہ(س) میں لے چلو جب وہاں پہنچے تو اپنا سر اقدس جناب سیدہ(س) کی گود میں رکھ کر تکیہ فرمایا ۔ امام حسن(ع) و امام حسین(ع) نے اپنے جد بزرگوار کا یہ حال دیکھا تو بے تاپ ہوگئے اور آنکھوں سے آنسوؤں کی بارش برسانے لگے اور فریاد کرنے لگے کہ ہماری جانیں آپ(ص) پر فدا ہوں حضرت(ص) نے پوچھا یہ کون ہیں جو رو رہےہیں امیرالمومنین(ع) نے عرض کیا یا رسول اﷲ(ص) آپ کے فرزند حسن(ع) و حسین(ع) ہیں۔ حضرت(ص) نے ان کو اپنے قریب بلایا اور ان کے گلے میں باہیں ڈال کر ان کو اپنے سینے سے لپٹالیا چونکہ حضرت امام حسن(ع) بہت زیادہ بے قرار تھے حضرت(ص) نے فرمایا اے حسن(ع) مت روؤ کیونکہ تمہارا رونا مجھ پر دشوار ہے اور میرے دل کو تکلیف پہنچاتا ہے اسی اثناء میں ملک الموت میں نازل ہوئے اور کہا السلام علیک یا رسول اﷲ(ص) حضرت نے فرمایا علیک السلام اے ملک الموت تم سے میر ایک حاجت ہے ملک الموت نے عرض کی حضور  وہ کیا حاجت ہے فرمایا جب تک جبرائیل(ع) نہ آجائیں اور سلام نہ کرلیں اور میں ان کے سلام کو جواب نہ دے دوں اور میں ان کو وداع نہ کرلوں میری روح قبض نہ کرنا یہ سنکر ملک الموت یا محمداہ(ص) کہتے ہوئے باہر آگئے اسی اثناء میں جبرائیل ہوا میں ملک الموت کے پاس پہنچے اور پوچھا کہ محمڈ(ص) کی روح قبض کر لی؟ کہا نہیں حضرت نے مجھے سے فرمایا ہے کہ جب تک حضرت سے تمہاری ملاقات نہ ہوجائے اور وہ تم کو وداع نہ کر لیں ان کی روح قبض نہ کرون جبرائیل(ع) نے کہا اے ملک الموت کیا تم نہین دیکھتے ہو کہ آسمانوں کے دروازے محمد(ص) کے لیے کھولے گئے ہیں اور بہشت کی حوروں نے خود کو آراستہ کیا ہے پھر جبرائیل آںحضرت(ص) کے پاس حاضر ہوگئے اور کہا السلام علیک یا اباالقاسم(ص) ۔ حضرت(ص) نے فرمایا وعلیک السلام یا جبرائیل کیا ایسی حالت میں مجھے تنہا چھوڑ دو گے جبرائیل(ع) نے کہا یا رسول اﷲ(ص) آپ کی اجل قریب ہے اور ہر ایک کے لیے موت در پیش ہے اور ہر نفس موت کا مزہ چکھے گا حضرت نے فرمایا اے حبیب میرے قریب آؤ جبرائیل(ع) حضرت(ص) کے نزدیک گئے اور ملک الموت نازل ہوئے جبرائیل آںحضرت(ص) کی داہپنی  جانب اور میکائیل بائیں جانب کھڑے ہوئے اور ملک الموت حضرت(ص) کے رو برو روح قبض کرنے میں مشغول ہوئے  ابن  عباس کہتے ہیں کہ اس روز آںحضرت صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے کئی


بار فرمایا کہ میرے حبیب قلب کو بلاؤ جب کوئی بلایا جاتا تو حضرت  اس کی طرف سےمنہ پھیر لیتے تو جناب فاطمہ(س) سے کہاگیا کہ ہمارا گمان ہے کہ حضرت جناب امیر(ع) کو طلب فرمارہے ہیں فاطمہ(س) امیر المومنین(ع) کو بلالائیں جب جناب رسول خدا صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم کی نگاہ جناب امیرالمومنین(ع) پر پڑی شاد ومسرور ہوگئے اور کئی بار فرمایا اے علی میرے پاس آؤ اور ان کے ہاتھ پکڑ کر اپنے سرہانے بٹھایا پھر غشی طاری ہوگئی اور اسی اثناء میں حسنین علیہم السلام بھی آگئے جب آںحضرت(ص) کے جمال مبارک پر ان کی نگاہیں پڑیں بے چین ہوگئے اور وجداہ و محمداہ(ص) کہہ کر فریاد و زاری کرتےہوئے آںحضرت(ص) کے سینہ اقدس سے لپٹ گئے۔ جناب امیر(ع) نے چاہا کہ ان کو حضرت سے علیحدہ کردیں اسی اثناء میں آںحضرت(ص) کو ہوش آگیا فرمایا اے علی (ع) ان کو چھوڑ دو تاکہ میں اپنے باغ کے ان دونوں پھولوں کو سونگھتا رہوں اور یہ میری خوشبو سے معطر ہوتے رہیں میں ان کو رخصت کروں اور یہ مجھے وداع کر لیں بیشک یہ میرے بعد مطلوم ہوں گے اور زہر ستم اور تیغ ظلم سے مارے جائینگے پھر تین مرتبہ فرمایا کہ خدا کی لعنت ہو اس پر جو ان پر ظلم و ستم کرے پھر اپنا ہاتھ بڑھا کر امیرالمومنین(ع) کو اپنے لحاف کے اندر کھینچ لیا اور اپنے منہ کو ان کے منہ پر رکھ دیا اور دوسری روایت کے مطابق اپنا دہن اقدس اس کے کان سے ملا دیا اور بہت سی راز کی باتیں کیں اور اسرار الہی اور علوم لامتناہی آپ(ع) کو تعلیم فرمائے یہاں تک کہ آپ کا طائر روح آشیانہ عرش رحمت کی جانب پرواز کر گیا پھر امیرالمومنین(ع) ، سید المرسلین صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے لحاف سے باہر آئے اور فرمایا لوگو تمہارے پیغمبر(ص) کےغٰم میں خداوند عالم تمہارا اجر زیادہ کرے کیونکہ حضرت رب العزت نے اس برگزیدہ عالم کی روح اپنے پاس بلائی یہ سنتے ہی اہل بیت رسالت میں گریہ و زاری اور نالہ وفریاد کا شور بلند ہوا اور مومنوں کا ایک مختصر گروہ جو خلافت کے غصب کرنے میں مشغول نہیں ہوا تھا اہل بیت(ع) کے ساتھ تعزیت اور مصیبت میں شریک ہوا، ابن عباس کہتے ہیں کہ جناب امیر(ع) سے لوگوں نے پوچھا کہ جناب سرور کائنات صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے آپ سےکیا  راز بیان کیے جب کہ آپ زیر لحاف داخل کر لیا تھا حضرت نے فرمایا کہ ہزار باب علم تعلیم فرمائے تھے جن میں ہر باب سے ہزار ہزار باب خود بخود منکشف ہوگئے۔


۷ـ                  امام صادق(ع) بیان فرماتے ہیں کہ چار ہزار فرشتے حسین(ع) کے ساتھ مل کر جنگ کرنا چاہتے تھے۔ مگر امام نے اجازت نہ دی اوروہ واپس چلے گئے اور جا کر رب العزت سے اجازت طلب کی اور دوبارہ زمین پر اترے مگر وقت تک حسین(ع) ہوچکے تھے یہ فرشتے خاک آلودہ حالت مں آپ(ع) کی قبر مبارک پر موجود ہیں اور قیامت تک گریہ کرتے رہیں گے ان فرشتوں کا سردار اور رئیس منصور نامی فرشتہ ہے۔


مجلس نمبر۹۳

(۱۲ شعبان سنہ۳۶۸ھ)

شرائع الدین

۱ـ           شیخ فقیہ ابوجعفر محمد بن علی بن حسین بن موسی بن بابویہ قمی(رح) کے پاس اصحاب جلسہ و مشائخ حاضر ہوئے اور ان سے کہا ہمیں دین امامیہ کے بارے میں مختصرا بتائیں۔

جناب صدوق نے بیان فرمایا ۔ دین امامیہ اقرار توحید ہے اور اس (خدا ) کی تشبیہ و تنزیہ سے انکار ہے جو کہ اس کے لائق نہیں ہے خدا کے تمام انبیاء(ع) اور فرشتے ، اس کی تمام کتب  و تمام حجج کا اقرار اور یہ کہ محمد(ص) سید الانبیاء والمرسلین ہیں اور ان تمام سے افضل ہیں اور وہ خاتم النبیین ہیں ان کے بعد قیامت تک کوئی پیغمبر نہیں ہے اور تمام انبیاء و ائمہ تمام فرشتوں سے بہتر ہیں ، تمام معصوم ہیں اور ہر آلودگی اور پلیدی سے پاک ہیں اور تمام گناہاں صغیرہ وکبیرہ سے پاک ہیں یہ اہل زمین کے لیے اسی طرح باعث امان ہیں جس طرح فرشتے اہل آسمان کے لیے باعث امان ہیں۔ اسلام کے پانچ ستون ہیں۔ نماز ، روزہ، حج، زکواة اور ولایت پیغمبر اور ان کے  بعد ائمہ(ع) جو کہ بارہ ہیں جن کے اول علی بن ابی طالب(ع) پھر حسن بن علی(ع) پھر حسین بن علی(ع) پھر علی بن حسین(ع) پھر محمد بن علی(ع) پھر جعفر صادق بن محمد(ع) پھر موسی بن جعفر(ع) (موسی کاظم(ع)) پھر علی رضا بن موسی(ع) پھرجواد محمد تقی(ع) بن علی(ع) پھر ہادی علی نقی(ع) بن محمد(ع) پھر عسکری حسن بن علی (ع۹ پھر ان کے بعد حضرت حجت بن حسن بن علی(ع) اور اس بات کا اقرار کر یہ سب کے سب اولی الامر ہیں کہ خدانے ان کی اطاعت کا حکم دیا ہے اور فرمایاہے کہ ” پیروی کرو اپنے رسول کی او الوالامر کی“ ان کی اطاعت خدا کی اطاعت ہے اور ان کی معصیت خدا کی معصیت ہے ان کے دوست خدا کے دوست ہیں اور ان کے دشمن خدا کے دشمن ہیں اور پیغمبر(ص) کی ذریت سے دوستی کہ وہ اپنے باپ دادا(ع) کےطریقے پر قائم ہیں یہ اس کے بندوں پر ایک فریضہ واجب ہے قیامت تک اور یہ اجر نبوت ہے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے ” ان سے کہو کہ


 میں تم سے کوئی جزا نہیں چاہتا سوائے اپنے رشتہ داروں کی محبت کے “ ( شوری، ۲۳) اور اس بات کا اعتراف کہ اسلام شہادتین کا زبان سے اقرار اور  دل سے ایمان و ارادے اور اعضاء بدن سے عمل کا نام ہے اور یہی اصل ایمان ہے اور جو صرف شہادتین کی حد تک رہے اس کا مال و خون محفوظ ہے سواے احقاق حق کے اور اس کا حساب خدا پر ہے۔

پھر دین امامیہ اس بات کا اقرار کرنا ہے کہ موت کے بعد قبر میں منکر نکیر کےسوال وجواب اور قبر کا عذاب ہوگا۔ پھر اقرار پیدائش بہشت و دوزخ اورمعراج نبوت کا اقرار کہ آپ(ص) سات آسمانوں تک گئے پھر وہاں سے سدرة المنتہی اور یہاں سے حجاب نور تک لے جائے گئے جہاں آپ(ص) نے خدا سے راز کی باتیں کی اور یہ کہ آپ کو آپ کے جسم و روح کےساتھ معراج پر لے جایا گیا نہ کہ خواب میں اور اسی لیے نہیں کہ خدا مکان رکھتا ہے اور آپ(ص) نے اس سے مکان میں ملاقات کی خدا اس سے کہیں برتر ہے خدا جناب رسول خدا(ص) کا احترام اور ترضیع مقام کے لیے معراج پر لے گئے جہاں انہیں ملکوت زمین کی مانند ملکوت آسمان کا مشاہدہ کروایا گیا اور جناب رسول خدا(ص) نے عظمت خدا کو دیکھا یہ اس لیے تھا کہ وہ وہاں جو کچھ اپنی امت کے بارے میں اور علامات علویہ دیکھیں اس سے امت کو آگاہ کریں۔ پھر حوض کوثر کا اقرار اور گناہ گاروں کی شفاعت کا اقرار پھر صراط ، حساب، میزان، لوح وقلم، عرش و کرسی کا اقرار اور یہ کہ نماز دین کا ستون ہے اور یہ وہ پہلا عمل ہے جس کے بارے میں قیامت میں سوال کیا جائے گا اور معرفت کے بعد بندے کا پہلا عمل ہے جس کا وہ مسئول ہے اگر یہ قبول ہوگی تو دیگر اعمال بھی قبول ہوں گے اور اگر رد کردی گئی تو پھر باقی عمل بھی رد کر دینے جائیںگے ، روز وشب میں واجب نمازیں پانچ ہیں جو کہ (۱۷) سترہ رکعات پر مشتمل ہیں دو رکعات فجر، چار رکعات ظہر، چار عصر،تین مغرب، اور پھر چار عشاء نافلہ (نفلی نماز) چونتیس رکعات ہیں یعنی دو نوافل ایک فرض کے برابر کہ آٹھ (۸) رکعات ظہر سے پہلے آٹھ (۸) رکعات عصر سے پہلے پھر چار(۴) رکعات مغرب کے بعد اور دو رکعات بیٹھ کر عشاء کے بعد کہ یہ ایک رکعت شمار ہوتی ہے اور یہ اس بندے کاوتر شمار کی جاتی ہے جو کہ رات کو وتر ادا نہیں کرتا نماز شت آٹھ (۸) رکعات ہے ہر دو رکعات کے بعد ایک سلام ہے اور نماز شفع دو (۲) رکعات ہے


 اور ایک رکعت نماز وتر اور دو رکعت نمازنافلہ صبح ہے جسے فریضہء فجر سے پہلے پڑھا جاتا ہےاور یہ فرائض و نوافلی نمازیں دن رات میں (۵۱) اکیاون رکعات پر مشتمل ہیں اور اذان واقامت کے ہمراہ ہیں نماز کے واجبات سات ہیں طہارت ، رو بہ قبلہ ہونا، رکوع، سجود، وقت مقررہ پر ادائیگی ،دعا اور قنوت کہ یہ ہر نماز کی دوسری رکعت میں واجب و مستحب ہے رکوع سے پہلے اور اس میں سورہ حمد اور اس کے ہمراہ کوئی دوسری سورہ اور رب اغفر وارحم و تجاوز عما تعلم انک الاعز الاکرم“ اور تین مرتبہ سبحان اﷲ“ بھی اس میں کافی ہے اگر نمازی چاہے تو ائمہ(ع) کے اسماء گرامی قنوت کے دوران لے سکتا ہے اور ان پر مختصر صلواة بھیجے تکبیرة الاحرام ایک مرتبہ پڑھنا کافی ہے مگر سات مرتبہ بہترین اور مستحب ہے “ بسم اﷲ الرحمن الرحیم “ کو با آواز بلند پڑھنا مستحب ہے کہ یہ قرآن کی آیت ہے اور اسم اعظم ہے اس خدا کا جو ہم سے اس طرح نزدیک ہے جس طرح آنکھ کی سیاہی اس کی سفیدی سے نزدیک ہے نماز کی ہر تکبیر میں اپنے ہاتھوں کو بلند کرنا نماز کی زینت ہے نماز کی رکعات میں اول فریضہ سورہ حمد پڑھنا ہے تاہم اس کے ہمراہ سورہ عزیمہ نہ پڑھے کہ ان میں سجدہ واجب جہے اور یہ سورتین الم تنزیل ، حم سجدہ، والنجم، اور اقراء باسم ربک ہیں، سورہ قریش اور سورہ فیل یا سورہ والضحی اور سورہ الم نشرح میں سے ہر دو سورتین ایک سورہ شمار ہوں گی اور نماز واجب میں ان میں سے ایک پر اکتفا نہیں ہوگا اور اگر کوئی چاہے کہ ان سورتوں کو نماز واجب میں پڑھے تو اس کو چاہیے کہ سورہ لایلف اور سورہ الم ترکیف کو یا والضحی اور الم نشرح کو ایک رکعت میں اکھٹا پرھے تاہم نافلہ نمازوں میں سورہ عزیمہ میں سے بھی پڑھا جاسکتا ہے کیونکہ اس کی ممانعت صرف فریضہ نمازوں میں ہے۔ جمعے کے روز نماز ظہر میں سورہ جمعہ اور سورہ المنافقین کا پڑھنا مستحب اور سنت رسول (ص) ہے رکوع وسجود میں پڑھے جانے والے کلمات کی کم از کم تعداد تین مرتبہ ہے جبکہ پانچ مرتبہ احسن ہے اور سات مرتبہ افضل ہے اور اگر اس سے ایک کم کرے گا ( یعنی تین سے ایک کم کرے گا) تو نماز کا تیسرا حصہ کم کیا اگر دو تسبیح کم کرے گا تو اپنی نماز کو دو حصے کم کیا اگر رکوع و سجود میں ہرگز تسبیح نہ کہے گا تو اس کی نماز نہیں ہے تا ہم اس کی جگہ پر اتنی ہی تعداد میں ” لا الہ الا اﷲ“  یا ” اﷲ اکبر“ یا جناب رسول خدا(ص) پر صلواة بھیجے تو وہ بھی جائز ہے اور تشہد میں بھی یہی اداے شہادتیں کافی ہیں نماز میں ایک سلام


کافی ہے جو آنکھ کے اشارے سے قبلے کی دائیں جانب کیا جائے تاہم اگر جماعت مخالفین میں موجود ہوتو تقیہ کی خاطر مخالفین کی طرح سلام ادا کرے۔ نماز واجب کے بعد تسبیح فاطمہ زہرا(س) کہے جو کہ چونتیس(۳۴) مرتبہ” اﷲ اکبر“ تینتیس (۳۳) مرتبہ ” الحمد ﷲ“ اور تینتیس مرتبہ ” سبحان اﷲ“ ہے اور جو بندہ نماز واجب کے بعد زانو کو اٹھائے بغیرتسبیح فاطمہ(س) کہے گا خدا اسے معاف کردے گا پھر چاہٰیے کہ جناب رسول خدا(ص) اور ائمہ(ع) پر درود بھیجے اور پھر اپنے لیے جو چاہیے مانگے اور دعا کے بعد سجدہ شکر کرے سجدہ شکر میں تین بار ” شکرا“ کہے۔ اگر مخالف موجود نہ ہوتو اس عمل کو ہرگز ترک نہ کرے اور نہ ہاتھ باندھ کر نماز پڑھے اور نہ آمین کہے۔

سورہ حمد کے بعد سجدہ کرنے میں زانو کو ہاتھوں سے پہلے زمین پر نہ رکھے۔ سجدہ زمین اور زمین سے پیدا ہونے والی چیز ( کھانے اور پہننے کے علاوہ ) پر جائز ہے۔ حلال جانورں کے بال اور کھال سے بنے ہوئے لباس میں نماز پڑھنا جائز ہے۔ لیکن حرام جانوروں کے بال اور کھال سے بنے ہوئے لباس اور ریشم و زرد دوزی سے بنے ہوئے لباس میں نماز جائز نہیں ہے سواے مجبوری یا حالت تقیہ میں نماز کو قطع کرنے والی چیز نماز گزار کی ریح کا خارج ہونا یا دیگر امور جو وضو کو باطل کریں یا اسے یاد آئے کہ قبل از نماز اس نے وضو نہیں کیا۔ یا دوران نماز اسے کوئی ایسی ضرب لگ جائے جس کو برداشت کرنے سے قاصر ہو۔ یا سر پر ایسی چوٹ پہنچ جائے جو برداشت سے باہر ہو اور جس سے خون نکل کر چہرے پر آجائے اس کا چہرہ قبلے کی طرف سے پھر جائے یا دیگر امور جو نماز کو باطل کردٰیں۔ نافلہ نمازوں میں شک کی صورت واجب نماز میں شک  کی طرح نہیں ہوتی ہے۔ نافلہ میں نماز گزار رکعات میں شک کی صورت میں جسے چاہے  اختیار کر لے ( چاہے قلیل کو اختیار کرے ۔ چاہے تو کثیر کو اختیار کر لے) تا ہم نماز واجب میں تین یا چار میں شک کی بناء پر کثیر کو اختیار کرے یعنی چار رکعات ادا کرے۔ جو کوئی دو رکعات میں سے اول میں شک کرے تو اسے چاہیے کہ سے دوبارہ پڑھے۔ جو کوئی نماز مغرب میں شک کرے اسے چاہیے کہ اسے دوبارہ پڑھےجب سلام کہے تو جو کچھ کم ہونے کا شک رکھتا ہے اسے دوبارہ پڑھے۔سجدہ سہو نماز گزار پر واجب نہ ہوگا مگر قیام کے لیے حالت قعود یا قعود قیام کی جگہ میں یا ترک تشہد یا شک کثیر


 میں یا سلام کے بعد نماز میں کمی کی  صورت میں سلام کے بعد دو سجدے ( سجدہ سہو) ہیں کہ ان میں کہے ”بسم اﷲ وباﷲ السلام علیک اي ه ا النبی ایمانا و تصديقا لا ال ه الا اﷲ عبودية و رقا سجدت لک يا رب تعبدا و رقا لا مستنکف ولا مستکبرا بل انا عبد ذليل خائف مستجيرا “اور جب سراٹھائے تو ” اﷲ اکبر“ کہے۔ بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ نمازی سے ربع یا ثلث یا ںصف یا ایک حصہ قبول کیا جاتا ہے مگر خدا اسے اس کی نافلہ نماز سے درست کردے گا۔ امامت نماز کے لیے زیادہ حقدار بندہ وہ ہے جو قرآن کا علم زیادہ جانتا ہو۔ اگر قرآن جاننے میں تمام لوگ برابر ہوں تو جس نے پہلے ہجرت کی ہو وہ مقدم جانا جائے۔ اگر تمام ہجرت کرنے میں برابر ہیں تو بزرگی والے کو مقدم رکھا جائے۔ اگر اس میں بھی برابر ہیں تو تمام میں سے زیادہ خوش رو کو مقدم گردانا جائے گا۔ صاحب مسجد اپنی مسجد میں امامت کا زیادہ اہل ہے۔ صاحب امامت کا تمام مین سے عالم ہونا بھی ضروری ہے۔ تاہم اس کے اعمال پشت نہ ہوں۔ جمعے کی نماز کی جماعت وقجب مگر دوسرے دنوں میں مستحب  ہے۔ جو وئی بغیر عذر جماعت ترک کرے اور اجماعت مسلمین سے روگردان ہو وہ نماز نہیں رکھتا۔ نماز جمعہ نو(۹) قسم کے لوگوں پر ساقط ہے۔ ۱ ـ نابالغ۔  ۲ـ ضیف۔ ۳ ـ دیوانہ۔ ۴ـ مسافر۔ ۵ـ قیدی۔ ۶ـ عورت۔ ۷ـ بیمار۔ ۸ـ اندھا ۹ـ اور وہ شخص جو نماز جمعہ کے مقام سے دو فرسخ دور ہے۔ با جماعت نماز فرادی پڑھی جانے والی نماز سے پچیس (۲۵) درجات بلند رکھتی ہے۔ سفر کی حالت میں نماز واجب دو رکعات رکھتی ہے۔ مگر نماز مغرب کہ جناب رسول خدا(ص) نے اسے دوران سفر بھی اپنی حالت پر برقرار رکھا ہے۔ دوران سفر دن کے نوافل ساقط ہیں مگر  نافلہء شب ترک نہ ہوں گے۔ نماز شب کو اول شب میں پڑھے۔ مگر سفر میں اول شب میں اس کی قضا پڑھے تو بہتر ہے کہ نماز شب میں پڑھے اور وہ سفر جس میں نماز میں کمی ہوجاتی ہے تو ایسے میں روزہ آٹھ فرسخ پر قصر ہوجائے گا۔ اگر چار فرسخ سفر کرے اور اس دن واپس نہ آئے تو چاہے تو قصر پڑھے یا مکمل تا ہم اگر خواہش رکھتا ہے کہ اسی دن واپس آئے گا تو قصر پڑھنا واجب ہے۔ اگر اس کا سفر قصد معصیت ( حرام یا گناہ) کے لیے ہے۔ تو پوری نماز پڑھنا واجب ہے اور روزہ بھی پورے وقت تک کا ہوگا۔ اگر کوئی بندہ سفر میں نماز


 کی مکمل ادائیگی کرتا ہے تو اسے چاہیے کہ وطن میں ( اتنی ہی نمازیں) قصر کردے۔ وہ بندہ جو کثیر السفر ہو مثلا۔ منڈی جانے والا تاجر ۔ ڈاکیا، گڈریا و کشتی ران وغیرہ کہ جن کا پیشہ سفر سے وابستہ ہو اور وہ شکاری جو کہ تفریح و مسرت کی خاطر شکار کو جائے تو چاہیے کہ پوری نماز پڑھے اور روزہ رکھے۔ لیکن اگر اس کے عیال کے گذر اوقات کا انحصار اسی شکار پر ہو تو چاہیے کہ نماز اور روزے کو قصر کردے  اور وہ مسافر جو ماہ رمضان کے روزے کے بوجہ سفر قصر کردے حق جماع نہیں رکھتا۔ نماز تین حصوں پر مشتمل ہے  ایک ثلث طہارت ایک ثلث رکوع  اور ایک ثلث سجود ہے بغیر طہارت نماز درست نہیں وضو، اعضاء کے ( کم از کم ) ایک بار دھونے سے ہوتا ہے اور اگر دو مرتبہ دھوئے تو جائز ہے مگر اجر نہیں رکھتا ہر پانی اس وقت تک پانی ہے جب تک اس کے نجس ہونے کا علم نہ ہوجائے ایسا جانور جس کا خون جاری ہو پانی کو نجس کرتا ہے وضو و غسل جنابت عرقِ گلاب کے ساتھ جائز ہے مگر وہ پانی جو آفتاب کی گرمی و روشنی سے گرم ہوا ہے وضو غسل اور کپڑے دھونے کے لیے جائز تا ہم باعث برص ہے اندازہ ایک کر پانی جو کہ ۱۲۰۰ رطل مدنی کے برابر ہے کو کوئی شے نجس نہیں کرتی کر پانی والے برتن کی پیمائش تین بالشت لمبائی ، چوڑائی اور اونچائی ہے  کنوئیں کا پانی اس وقت تک پاک ہے جب تک اس میں کوئی نجس کرنے والے چیز نہ گر جائے دریا کا تمام پانی پاک ہے وضو کو باطل کرنے والی چیزیں، بول و براز، ریح، منی، اور نیند جو ہوش ختم کردتے ہیں، مسح عمامہ یا ٹوپی پر جائز نہیں اور اسی طرح جوتے اور جوراب پر بھی جائز نہیں تا ہم دشمن کے خوف یا برف سے گذند پہنچنے کے خیال سے کہ اس سے پاؤں کو نقصان ہوگا جائز ہے اسی طرح جبیرہ شکستہ پر بھی جائز ہے جیسا کہ ام المومنین عائشہ نے جناب رسول خدا(ص) سے روایت کیا ہے کہ روز قیامت وہ بندہ شدید غم میں مبتلا ہوگا جو اپنا مسح کسی دوسرے کے چمڑے پر کرے عائشہ روایت کرتی ہیں کہ کسی بیابان میں جانور کی پشت پر مسح کرنا جوتے  یا جوراب پر مسح کرنے سے بہتر ہے جس کسی کو پانی میسر نہ ہو اسے چاہیے کہ وہ تیمم کرے جیسا کہ ارشاد ربانی ہے ” تیمم کرو پاک و طیب مٹی سے “ اور طیب مٹی وہ ہے جس سے پانی نکلا ہو بندہ جب تیمم کرنا چاہے تو اسے چاہیے کہ ہاتھوں کو مٹی یا زمین پر مارے اور انہیں ملے پھر چہرے پر پھیرے، پھر بایاں ہاتھ زمین  پر مارے اور دائیں ہاتھ پر انگلیوں کے


سروں تک پھیرے پھر دایاں ہاتھ زمین یا مٹی پر مارے اور بائیں ہاتھ کی پشت پر انگلیون کے سرے تک پھیرے روایت میں ہے کہ پیشانی و ابرو اور دونوں ہاتھوں کی پشت کا مسح کرے ہمارے مشائخ کا عقیدہ ہے کہ جو امور وضو کو باطل کرتے ہیں وہی تیمم کو بھی باطل کرتے ہیں اور جو شخص تیمم کر کے نماز پڑھ لے اور پھر پانی میسر ہوجائے تو ضروری نہیں کہ وہ نماز دوبارہ دہرائی جائے کہ تیمم بھی طہارت کی اقسام میں سے ایک ہے تاہم پانی میسر ہونے پر دوسری نماز وضو سے پڑھے اور اس میں کوئی حرج نہیں کہ کوئی بندہ ایک ہی وضو سے نماز شب اور تمام دن کی نمازیں ادا کرے یہاں تک کہ اس کا وضو باطل نہ ہو یہی احکام تیمم کے واسطے بھی ہیں یہاں تک کہ باطل ہو۔

غسل سترہ(۱۷) مواقع پر واجب اور مستحب ہے۔

سترہ(۱۷) انیس(۱۹) اکیس(۲۱) اور تئیس(۲۳) رمضان کی شب دخول حرمین کے وقت۔ احرام باندھنے کے وقت ، زیارت کے وقت، دخول خانہ کعبہ کے وقت، روز ترویہ، روز عرفہ، غسل مس میت جو کہ میت کو غسل دینے کے بعد، کفن پہنانے  کے بعد، اور میت کے سرد ہونے کے بعد مس کرنے سے واجب ہوجاتا ہے، غسل بروز جمعہ، غسل حیض ، و غسل جنابت، امام صادق(ع) نے فرمایا کہ غسل حیض و نفاس و غسل جنابت اس شرط سے مبرا ہیں کیونکہ غسل حیض و غسل جنابت فرض ہے او دو فرائض کی ادائیگی لازم ہوتو بڑا چھوٹے سے کافی ہے، غسل جنابت سے ہلے چاہیے کہ پیشاب کرے تاکہ منی وغیرہ میں سے جو کچھ جمع ہو خارج ہو جائے پانی کے برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے چاہیے کہ تین مرتبہ دھوئے پھر استنجا کرے اور اپنی شرمگاہ کو دھوئے پھر تین مرتبہ چلو بھر پانی لے کر اپنے بالوں میں خلال کرے تاکہ پانی بالوں کو جڑوں تک پہنچ جائے پھر برتن سے پانی لے کر اپنے سر اور بدن پر دو مرتبہ گرائے اور اپنے ہاتھ سے بدن ملتا رہے اور دونوں کانوں میں اپنی انگلی سے خلال کرے بدن پر پانی جہاں تک پہنچ سکے پہنچائے اور پاک کرے اگرکسی ایسی جگہ پر ہو جہاں ندی یا دریا ہو تو خود کو مکمل طور پر زیر آب لے جائے ( ارتماسی غسل) تو اس کا غسل ہو جائے گا۔ لیکن اگر بارش میں اپنے سر تا پاؤں تک گیلا کرے تو اس کا یہ غسل محسوب ( جس کا حساب


 لیا جائے گا) ہے غسل جنابت میں کلی یا ناک میں پانی ڈالنا جائز ہے لیکن واجب نہیں کیونکہ غسل بیرون بدن کا ہے نہ کہ اندرون بدن کا لیکن غسل جنابت سے پہلے کھانے پینے کے لیےکلی، ناک میں پانی ڈالنا اور ہاتھوں کو دھونا چاہیے ورنہ محاسبہ ہوگا اور اس کا یہ عمل پیش کیا جائے گا حلال جنابت سے خارج ہونے والا پسینہ اگر لباس میں جذب ہوجائے تو نماز اس میں جائز ہے مگر حرام جماع سے خارج ہونے والا پسینہ اگر لباس میں ہوتو نماز باطل ہے کم ترخیص تین(۳) دن اور زیادہ سے زیادہ  دس(۱۰) دن کا ہے اسی طرح کم از کم طہر(۱۰) دس دن اور زیادہ سے زیادہ  کی کوئی حد نہیں نفاس کی زیادہ سے زیادہ حد کہ اس میں عبادت سے باز رہے اٹھارہ(۱۸) دن ہے جب کہ ایک یا دو دن میں اگر استفہار کرے تو چاہیے کہ عبادت سے پہلے پاک ہوجائے۔ زکواة نو(۹) چیزوں پر واجب ہے جو کہ گندم ، جو، خرما، مویز(کشمش) اونٹ، گائے، گوسفند( بھیڑ) سونا اور چاندی ہیں، جناب رسول خدا(ص) کا ارشاد ہے کہ ان کے علاوہ زکواة معاف ہے اور چاہیے کہ زکواة شیعہ اثناء عشری کو ادا کرے، ماں باپ فرزند، شوہر ، مملوک اور زوجہ و واجب نفقہ کو نہ دے خمس، سونے کے ایک دینار دفینے، معدنیات، غوطہ لگا کر حاصل کیے گیے موتی و جواہرات اور جنگ میں حاصل شدہ مال غنیمت پر ہے تمام سال کے روزوں میں سے ہر ماہ کے تین دن کا روزہ ( مستحب روزوں کی طرف اشارہ ہے) یعنی ہرماہ کی اول جمعرات ، درمانی بدھ جو پہلے دس دن کےبعد آئے اور آخری دس دنوں میں آخری جمعرات کو رکھے جبکہ ماہ رمضان کے روزے واجب ہیں جو کہ رؤیت ہلال سے ثابت ہوں نہ کہ رائے گمان ( قیاس) سے جو کوئی بغیر رویت ( چاند دیکھے بغیر) روزہ رکھے اور افطار کرے اس کا دین امامیہ سے کوئی تعلق نہیں رؤیت یا طلاق میں عورتوں کی گواہی قابل قبول نہیں ماہ رمضان میں نماز کی ادائیگی دیگر مہینوں کی طرح ہے جو کوئی اس میں اضافہ کرنا چاہیے تو اسے چاہیے کہ بیس رکعات نافلہء شب ادا کرے جس میں سے آٹھ رکعات مغرب و عشاء کے درمیان یہاں تک کہ ماہ رمضان کی بیس(۲۰) تاریخ ہو پھر ہر رات تیس(۳۰) رکعات نافلہ ادا کرے کہ آٹھ رکعات مغرب و عشاء کے درمیان ہوں گی اور بائیس (۲۲) رکعات عشاء


 کے بعد اور ہررکعت میں سورہ حمد پڑھے اور اس کے ہمراہ جو کچھ وہ قرآن میں سے جانتا ہے پرھے۔ سوائے اکیس (۲۱) اورتئیس(۲۳) کی شب کہ اس میں مستحب ہے کہ احیاء کرے اور سو (۱۰۰) رکعات نماز نافلہ ادا کرے اور اس میں سورہ حمد کے ہمراہ دس(۱۰) مرتبہ ” قل ہو اﷲ “ پڑھے جو کوئی ان دو راتوں میں ذکر و علم کو زندہ کرے یہ اس کے لیے بہتر ہے اور حقدار ( انعام واکرام کا ) ہے پھر عید الفطر کی شب نمازِ مغرب کے بعد سجدے میں جائے اور کہے” يا ذالطول يا ذالحول يا مصطفی محمد و ناصره صلی علی محمد وآل محمد اغفرلی کل ذنب اذنبت ه و نسيت ه و ه و عندک فی کتاب مبين “  پھر سو مرتبہ کہے۔

” اتوب الی اﷲ عزوجل “ اور چاہیے کہ مغرب وعشاء کے بعد اور نماز صبح و نماز عید اور روز عید کی ظہر و عصر کی نماز کے بعد ” تکبیرات ایام تشریق “ کو ادا کرے اور اس کے سوا کچھ اور نہ کہے جو کہ یہ ہیں۔ ”اللَّهُ أَكْبَرُاللَّهُ أَكْبَرُلَاإِلَه َإِلَّااللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُاللَّهُ أَكْبَرُوَالْحَمْدُلِلَّه ِعَلَى‏ مَاأَبْلَانَا. “ یہ تکبیرات ایام تشریق سے مخصوص ہیں۔ زکوة فطرہ ادا کرنا واجب ہے بندے کو چاہیے کہ وہ اپنا اپنے اہل و عیال ، آزاد و غلام اور اپنے ہاں کھان کھانے والوں کا فطرہ ادا کرے طفرہ فی کسی ایک صاع کے حساب سے ادا کرنا چاہیے۔ ایک صاع خرما، کشمش ، گندم یا جوا ادا کرنا چاہیے یہی ہے کہ ایک صاع فی کس کے حساب سے خرما بطور فطرہ دے ایک صاع ۴ مد کا ہوتا ہے اور مد ۲۹۰-۲-۱ درہم یا ۲۱۷۰ عراقی درہم کے برابر ہے اگر طاقت رکھتا ہے تو اس کی قیمت روپے یا سونے چاندی کی صورت میں ادا کرے ( رقم کا یہ تناسب جناب صدوق(رح) کے ہاں زمانہء قدیم کے مطابق ہے فتاوی جدید میں اس کی شکل مختلف ہوسکتی ہے۔ محقق) اگر اپنے تمام اہل و عیال کا فطرہ ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تو ایک تن کا فطرہ اپنی بیوی یا اپنے عیال میں سے کسی ایک کو دے دے اور وہ بھی اسی نیت سے دوسرے کو دے دے  اور وہ اسے ترتیب وار اسی طرح اپنے گھر کے دیگر افراد کو دیتے رہیں حتی کہ وہ جنس خاندان کے آخری فر تک پہنچ جائے پھر وہ کسی ایسے شخص کو دے دی جائے جو ان سے نہ ہو لیکن ایک فطرہ دو فقراء میں تقسیم نہ کیا جائے بلکہ ہر ضرورتمند کو ایک تن کا فطرہ دے ، فطرہ ماہ رمضان سے قبل اور دوران ماہ رمضان دینا جائز نہیں شوال کا چاند دیکھنے کے بعد عید الفطر کی نماز سے پہلے ادا کرے اور اگر ماہ رمضان میں دے تو یہ صدقہ ہوگا جو کہ


 شوال کا چاند دیکھنے کے بعد دوبارہ فطرہ کی مد میں ادا کرنا پڑے گا جو شخص مملوک( غلام) رکھتا ہو اس پر غلام کا فطرہ واجب الادا ہے خواہ وہ مملوک کافر ہو یا کافر ذمی جب کہ ظہر کے بعد پیدا ہونے والے بچے کا فطرہ دینا بھی واجب ہے اور اگر ظہر سے بعد کوئی دشمن مسلمان ہوجائے تو اس کا فطرہ دینا واجب نہیں ہے حج کی تین اقسام ہے قران، افراد،اور حج تمتع، حج قرِان اور حج افراد ان پر واجب ہے جو مکہ کے رہائشی ہوں اور حج تمتع ان پر واجب ہے جو مکہ سے سولہ(۱۶) فرسخ یعنی اڑتالیس (۴۸) میل دور رہتے ہوں ، ایسا شخص حج تمتع انجام دے گا اور اس کا دوسرا حج قابل قبول نہیں ہے حج کرنے والے کو چاہیے کہ وہ مسلخ سے احرام باندھے اگر وہاں سے نہٰیں باندھا ہے توپھر غمرہ سے احرام باندھے تاہم مسلخ سے احرام باندھنا افضل ہے جناب رسول خدا(ص) نے اہل عراق کے لیے مقام عقیق کو میقات قرار دیا ہے ، اہل طائف کے لیے قرن منازل، اور اہل یمن کے لیے یلملم، اہل شام کے لیے مہیمہ جو کہ جہفہ ہے اور اہل مدینہ کے لیے ذوالحلیفہ جو کہ مسجد شجرہ ہے، میقات سے پہلے احرام جائز نہیں مگر بیمار یا تقیہ اختیار کیے ہوئے کے لیے، واجبات حج سات (۷) ہیں ( تفصیل میں جائیں تو تیرہ(۱۳) بنتے ہیں، محقق ) اول احرام۔

دوئم  : تلبیہ جو کہ چار ہیں۔”لبيک الل ه م لبيک ان الحمد وانعمة لک والملک لا شريک لک “ اس کے علاوہ باقی مستحب ہیں اور محرم کے لیے جائز ہے کہ بہت زیادہ لبیک کہے۔ جناب رسول خدا(ص) یہ تلبیہ پڑھا کرتے تھے ” لبیک ذوالمعارج لبیک“

سوئم : طواف کعبہ، مقام ابراہیم(ع) میں ” رکعت نماز کے ساتھ۔

چہارم : صفا و مروہ کے درمیان سعی۔

پنجم : وقوف عرفہ۔

ششم : وقوف مشعر یعنی دونوں وقوف۔

ہفتم : قربانی تمتع جو کہ واجب ہے۔

اس کے علاوہ باقی امور مستحب ہیں، جو کوئی زوال روز ترویہ یعنی آٹھ (۸) ذوالحجہ سے حج تمتع کی رات یعنی نو(۹) ذوالحجہ تک وقوف کو عرفہ میں حاصل کر لے تو اس کا حج صحیح ہے اس طرح روزِ مشعر یعنی دس ذوالحجہ کو مشعر کا وقوف حاصل کر لے جبکہ پانچ نفر وہاں موجود ہوں تو اس کا حج درست


ہے ( یہ شرط کہ پانچ نفر مقام مشعر میں موجود ہوں مرحوم شیخ صدوق علیہ الرحمہ کے پاس ہے اور کسی کے پاس یہ شرط نہیں ہے) قربانی اگر اونٹ کی ہوتو وہ اپنی عمر کے پانچ سال مکمل کیے ہوئے ہو اگر گائے اور بکری ہو تو اپنی عمر کے سال دوئم میں داخل ہو اور گوسفند جس نے اپنی عمر کے چھ ماہ پورے کیے ہوں کافی ہے قربانی کا جانور معیوب نہیں ہونا چاہیے ایک گائے پانچ آدمیوں اور ایک خاندان کے لیے کافی ہے اگر بیل ہو تو ایک فرد  کے لیے اور اگر اونٹنی ہو تو سات افراد اور اونٹ (نر) دس افراد کے لیے کافی ہے۔ اگر قربانی نایاب ہو تو ایک گوسفند ستر(۷۰) افراد کے لیے کافی ہے ( یہ مسئلہ فقط شیخ صدوق علیہ الرحمہ کے پاس ہے۔ جبکہ دیگر فقہاء کے نزدیک اگر حج کرنے والا فرد قربانی دینے کی استطاعت نہ رکھے یا نہ دے سکے تو اس کے بدلے تین دن مکہ میں سات دن اپنے وطن میں روزہ رکھے ، محقق) قربانی کے تین حصے ہیں ایک حصہ اپنے کھانے کے لیے دوسرا حصہ فقراء اور تیسرا حصہ ہدیے کے لیے ہے۔ ایام تشریق یعنی ۱۱ـ۱۲ـ۱۳ ذوالحجہ کو اگر کوئی روزہ رکھے تو اس کے لیے کھانا پینا اور ہمبستری جائز نہیں ہے عید قربان کے روز عید کی نماز کے بعد اور عیدالفطر میں نماز عید سے پہلے کچھ کھانا پینا سنت ہے ایام تشریق کی تکبیرات منی میں پندرہ نمازوں کے بعد یعنی عید کے دن ظہر کی نماز سے لے کر عید کے چوتھے روز نماز صبح تک جب کہ دیگر شہروں میں دس(۱۰) نمازوں کے بعد یعنی روز عید نماز ظہر سے لے کر عید کے تیسرے روز نماز صبح تک ہیں۔

عورتوں سے ہمبستری تین وجوہات سے حلال ہوتی ہے۔

اول : نکاح دائم جو کہ میراث رکھتا ہے۔

دوئم : نکاح منقطع ( نکاح موقت ، متعہ) جو کہ میراث نہیں رکھتا ۔

سوئم : ملک یمین ( لونڈی کنیز)۔

کنیز جب باکرہ ہوتو اس پر کوئی ولایت نہیں رکھتا سوائے باپ کے اگر بیوہ ہو تو کوئی اس پر حق تصرف نہیں رکھتا نہ باپ نہ کوئی دوسرا اور باپ کے علاوہ کوئی اس کی تزویج نہیں کرسکتا مگر یہ کہ وہ خود کسی کے ساتھ مہر پر راضی ہو اور طلاق بھی کتاب و سنت کے مطابق ہوگی لہذا یہاں طلاق بھی نہیں کیونکہ طلاق کے لیے نکاح کا ہونا لازمی ہے اور  یہ دونوں یہاں پر نہیں ہیں کیونکہ عتق کے لیے


 ملکیت لازمی ہے اور یہ دونوں یہاں پر نہیں ہیں نہ نکاح اور نہ ہی ملکیت البتہ عتق قصد قربت سے ہو یعنی اس طرح کہلائے کہ میں تمہیں آزاد کرتا ہوں ”قربتا الی اﷲ “۔

وصیت ثلث مال میں ہوتی ہے ( یعنی ورثا کے علاوہ کسی کو کچھ وصیت کرے تو ثلث مال سے زائد میں جائز نہیں ) اگر کوئی تیسرے حصے سے زائد کو کسی کے لیے وصیت کرے تو یہ ہو جائے گی مگر مستحب یہ ہے کہ تیسرے حصےسے وصیت کرے چاہے زیادہ کے لیے ہو یا کم کے لیے خصوصا ان بہن بھائیوں کے لیے ہو جو حق وراثت نہیں رکھتے اس سے عمر دراز ہوتی ہے اور اگر کوئی ایسا نہ کرے تو اس سے اس کی عمر مختصر ہوجاتی ہے۔ میراث کے تین طبقات ہیں پہلے طبقے میں چھ حصے میراث سے زاید نہ ہوگا والدین اور اولاد کے ہوتے ہوئے کوئی ارث نہیں لے سکتا اور بیوی شوہر سے ارث لے گی، مسلمان کافر سے ارث لے سکتا ہے مگر کافر مسلمان سے ارث نہ لے گا اگر چہ بیٹا ہی کیوں  نہ ہو عورت کا بیٹا لعان شدہ باپ سے ارث نہ لے گا ( لعان سے مراد یہ ہے کہ باپ یہ کہے کہ یہ میرا بیٹا نہیں ہے) اسی طرح باپ کے رشتوں یعنی دادا چچا وغیرہ سے بھی ارث نہ لے گا لیکن اس کی ماں لعان شدہ شوہر سے ارث لے گی اور بیٹا ماں کے رشتے داروں سے ارث لے گا، اگر باپ لعان کے بعد اعتراف کرے کہ بیٹا اسی کا ہے تو بیٹا باپ سے ارث لے گا مگر باپ بیٹے سے ارث نہ لے گا اور نہ ہی بیٹے کے قرابتداروں سے ارث لے گا اور اگر باپ مرجائے تو بیٹا باپ سے ارث لے گا مگر باپ بیٹے سے ارث نہ لے گا۔

شرائط دین امامیہ یہ ہیں یقین، اخلاص، توکل، رضا، تسلیم، ورع، اجتہاد، زہد و عبادت، صدق، وفا، ادائے امانت اگر چہ قاتل حسین(ع) ہی کیوں نہ ہو۔ والدین سے اچھا سلوک،میراث،صبر، شجاعت، اجتنابِ محرمات۔ دنیا کی طمع سے دوریا، امر بالمعروف و نہی عن المنکر، خدا کی راہ میں جان ومال سے جہاد۔  برادران سے نیک سلوک اور انکا احسان سےبدلہ چکانا۔ شکرِ نعمت، نیک کام کی ستائش کرنا۔ صلہء رحم ماں باپ کے ساتھ، ہمسائیوں سے عمدہ سلوک، انصاف ایثار۔ نیک لوگوں کی ہم نشینی، لوگوں کے ساتھ اچھی معاشرت۔ سب لوگوں کو اس اعتقاد کے ساتھ سلام کرناکہ خدا کا سلام ظالمین تک نہیں پہنچتا۔ مسلمانوں کا احترام، بزرگوں کا احترام۔ چھوٹوں سے مہربانی، کسی بھی قوم کے بزرگ کی تعظیم، تواضع و خشوع، بہت کثرت سے ذکرِ خدا، کثرت سے قرآن خوانی


 کثرت دعا، دوسروں کے عیوب سے چشم پوشی، تحمل۔ غصہ پینا فقر اور مساکین کی حاجت روائی اور ان کے دکھ درد میں شریک ہونا، عورتوں اور غلام سے خوش اخلاقی اور سوائے بہتر کے ان کو کسی کام کے لیے مجبور نہ کرنا۔ خدا سے خوش گمانی، اپنے گناہوں پر پشیمان ہونا، بہتر عمل کرنا اور گناہوں پر استغفار کرنا، تمام مکارم اخلاق اور دین  دنیا کے بہتر امور کو اختیار کرنا، اور غصہ، بد خلقی، غصب، حمیت، تعصب، تکبر، طاقت کا ناجائز استعمال ، بیہودہ گوئی، بے شرمی، زنا قطع رحم، حسد، ناجائز آرزوئیں، شکم پری، طمع، نادانی، سفاہت، جھوٹ، خیانت، فسق و نا بکاری جھوٹی قسم، گواہی کو چھپانا، ناجائز و جھوٹی گواہی دینا، غیبت، بہتان، دشنام طرازی، لعن و طعن گوئی، نیرنگ ( جادو ٹونہ وغیرہ) سےاجتناب۔ فریب، پیمان شکنی، بدقولی او قتلِ ناحق اور ظلم و ستم سخت دلی، ناشکری، نفاق، و ریا و زنا و لواطت سے دوری راہ جہاد سے فرار ہجرت کرنے سے تعرب، ماں باپ کی ناشکری و نافرمانی، برادر (حقیقی و دینی)سے دغا کرنا اور اس سے نا روا سلوک ، یتیم کا مال کھانا اور پارسا عورتوں کو ناحق بدنام کرنا ان تمام امور سے دوری اختیار کرنا اور کنارہ کش رہنے کا نام دین امامیہ ہے۔

اس کے بعد جناب صدوق علیہ الرحمہ نے فرمایا برادران یہ دین امامیہ کا خلاصہ ہے جو میں نے جلدی میں بیان کیا اور اس کی تفسیر بھی مختصرا بیان کی اگر خداوند نے توفیق عطا فرمائی تو میں اس سے مزید نیشاپور میں بیان کروں گا انشاء اﷲ۔ ” ولا حول ولا قوة الا باﷲ العلی العظیم و صلی اﷲ علی محمد و آلہ و سلم“

پھر جناب صدوق(رح) نے فرمایا ” بسم اﷲ الرحمن الرحیم“ امام صادق(ع) بیان فرماتے ہیں کہ ماہ رمضان کی ہر شب میں ایک ہزار مرتبہ ” انا انزلناہ فی لیلة القدر“ پڑھو اور ۲۳ رمضان کی رات اپنے دل کو محکم کرو اپنے کا ن کھلے رکھو اور عجائبات کو سنو اور دیکھو۔ ایک شخص نے کہا یا ابن رسول اﷲ(ص) یہ علم کیسے ہو کہ شب قدر ہر سال میں ہے امام(ع) نے ارشاد فرمایا اول ماہ رمضان سے ہر شب میں سورہ دخان کو پڑھو اور ۲۳ رمضان کی شب جو کچھ تم نے پوچھا ہے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھو اور باور کرو۔ امام ششم(ع) سے روایت ہے کہ شب قدر کی صبح بھی اس جیسی ہی ہے لہذا عبادت کرو اور کوشش کرو۔


مجلس نمبر۹۴

(۱۷ سترہ شعبان سنہ۳۶۸ھ)

۱ـ           سید عبدالعظیم(رح) بیان کرتے ہیں، میں نے امام تقی(ع) سےسنا کہ جو کوئی میرے والد(ع) کی (تربت کی ) زیارت کرنے جائے اور اس سلسلے میں گرمی اور سردی کی تکالیف اٹھائے تو خدا اس پر دوزخ کی آگ حرام کردے گا۔

۲ـ           اسماعیل بن فضل ہاشمی بیان کرتے ہیں میں نے امام صادق(ع) سے دریافت کیا کہ جب موسی بن عمران(ع)نے جادوگروں کی رسیوں اورلاٹھیوں کو دیکھا تو وہ خوف زدہ ہوگئے مگر ابراہیم(ع) کو جب منجنیق میں بٹھا کر آگ میں ڈالا گیا تو انہوں نے کوئی خوف محسوس نہ کیا اس کی کیا وجہ تھی۔ امام(ع) نے فرمایا ابراہیم(ع) کو جب آگ میں گرایا گیا تو وہ اپنی پشت (صلب) میں موجود حجج الہی کا اعتماد رکھتے تھے اس لیے خوف زدہ نہ ہوئے مگر موسی(ع) اس طرح نہ تھے اس لیے انہوں نے خوف محسوس کیا۔

حدیث طیر

۳ـ                  ابوہدیہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے انس بن مالک کو دیکھا جو رومال سے اپنا سر ڈھانپے ہوئے تھا میں نے اس سے کا سبب پوچھا تو کہنے لگا کہ یہ علی بن ابی طالب(ع) کی مجھ پر نفرین کا اثر ہے میں نے کہا وہ کس طرح تو اس نے کہا، ایک مرتبہ میں جناب رسول خدا(ص) کی خدمت میں حاضر تھا تو ایک بھنا ہوا پرندہ آںحضرت(ص) کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ آںحضرت(ص) نے اس بھنے ہوئے پرندے کو وصول کر کے فرمایا۔ اے خدایا، لوگوں میں سے جو تیرا سب سے زیادہ دوست ہے اسے میرے پاس بھیج دے تاکہ وہ میرے ساتھ یہ پرندہ تناول کرے اسی اثناء میں علی(ع) آئے تو میں نے ان سے (جھوٹ) کہہ دیا کہ جناب رسول خدا(ص) کام سے باہر گئے ہوئے ہیں اور انہیں اندر آنے کا راستہ نہ دیا، میں (انس) اس انتظار میں تھا کہ میری ہی قوم کا کوئی فرد آجائے اور آںحضرت(ص) کے ساتھ یہ پرندہ تناول کرے پھر جناب رسول خدا(ص) نے دوبارہ دعا فرمائی تو دوسری مرتبہ بھی علی(ع) ہی


تشریف لائے میں نے انہیں پہلے والا جواب دے کر دوسری مرتبہ بھی رخصت کردیا۔ اسی اثناء میں جناب رسول خدا(ص) نے تیسری مرتبہ دعا فرمائی اور تیسری بار بھی علی(ع) ہی تشریف لائے جب میں نے انہیں پہلے والا جواب دیا تو علی(ع) نے با آواز بلند فرمایا کہ جناب رسول خدا(ص) کو ایسا کیا کام ہےکہ وہ مجھ سے نہیں ملنا چاہتے۔ ان کی یہ آواز جناب رسول خدا(ص) کے کانوں میں پڑی تو آںحضرت(ص) نے ارشاد فرمایا اے انس یہ کون ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اﷲ(ص) یہ علی بن ابی طالب(ع) ہیں آپ(ص) نے فرمایا انہیں اندر آنے دو جب علی(ع) اندر داخل ہوئے تو آںحضرت(ص) نے فرمایا اے علی(ع) میں نے تین مرتبہ بارگاہ خدا میں یہ دعا کی کہ تیری خلق سے جو محبوب ترین ہے اسے بھیج تاکہ وہ میرے ساتھ یہ پرندہ تناول فرمائے اگر تم اس دفعہ نہ آتے تو میں تمہارا نام لے کر تمہیں طلب کرتا علی(ع) نے عرض کیا یا رسول اﷲ(ص) یہ تیسری بار ہے کہ میں آپ(ص) کے دروازے پر آیا میں جب بھی آتا انس مجھے یہ کہتا کہ رسول خدا(ص) کسی کام میں مشغول ہیں اور انہیں مل سکتے اور مجھے واپس لوٹا دیتا اور یہ سن کر جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا اے انس کیا میں نے تجھے اس لیے اپنے پاس رکھا ہے، میں (انس) نے عرض کیا یا رسول اﷲ(ص) میں نے جب آپ(ص) کی دعا سنی تو میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ آپ(ص) کی دعوت میں میری قوم کاکوئی فرد شریک ہوجائے  اس لیے میں نے ایسا کیا۔ پھر انس نے بتایا کہ جس روز جناب علی بن ابی طالب(ع) نے احتجاج خلافت بلند کیا تو علی(ع) نے اپنی خلافت پر میری گواہی چاہی جسے میں نے چھپایا اور یہ کہا کہ میں ( خلافت کے بارے میں جناب رسول خدا(ص) کا ارشاد) بھول گیا تو علی(ع) نے اپنے ہاتھ بلند کیے اور دعا فرمائی کہ اے خدایا انس کو برص کے ایسے مرض میں مبتلا کردے جسے وہ  چھپانا چاہے تو نہ چھپ سکے اور لوگ اسے دیکھیں یہ کہہ کر کہ انس نے اپنے سر سے رومال ہٹایا اور برض کا نشان دکھا کر کہا یہ نفرین علی(ع)۔

۴ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا جوکوئی دوسرے اصحاب کو علی(ع) پر فضیلت دے وہ کافر ہے۔

۵ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا میرے بعد جو کوئی علی(ع) کی امامت کا منکر ہوگا وہ اس شخص کی مانند ہے کہ جو میری زندگی میں میری رسالت کا منکر ہے اور جو کوئی میری رسالت کامنکر ہے وہ پروردگار کی ربوبیت کا منکر ہے۔


۶ـ           جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا اے علی(ع) تم میری زندگی میں اور میری زندگیکے بعد بھی  میرے برادرمیرے وارث ووصی اور خلیفہ ہو  میرے خاندان و میری امت کے لیے۔ اور جو کوئی تیرا دوست ہے وہ میرا دوست ہے تیرا دشمن میرا دشمن ہے۔ اے علی(ع) تم اور میں دونوں اس امت کے باپ ہیں۔ تیرے فرزندوں میں سے امام(ع) دنیا و آخرت کے سردار وپیشوا ہیں جو کوئی ہمیں پہچانتا ہے وہ خدا کو پہچانتا ہے اور جو کوئی ہمارا منکر ہے وہ خدا کا منکر ہے۔

۷ـ          جناب رسول خدا(ص) ارشاد فرماتے ہیں کہ خدا نے فرمایا اگر تمام لوگ ولایتِ علی(ع) پر متفق ہوجاتے تو میں دوزخ کو پیدا ہی نہ کرتا۔

۸ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا اگر دشمن علی(ع) فرات کے  کنارے پر آکر پانی پیئے اور پینے سے پہلے مسم اﷲ اور بعد میں الحمد اﷲ بھی کہے تو بیشک یہ اس کے لیے مردار، جاری شدہ خون اور سور کھانے کے مترادف ہے۔

۹ـ           اصبغ بن نباتہ کہتے ہیں کہ جناب علی بن ابی طالب(ع) نے فرمایا کہ فاطمہ(س) کو رات کو دفن کرنے کا سبب یہ تھا کہ وہ قوم پر غضبناک تھیں اور چاہتی تھیں کہ ان کے جنازے میں ایسے لوگ اور ان لوگوں کی اولاد شریک نہ ہوں اور نہ ہی وہ ان کی نماز جنازہ پڑھیں۔

۱۰ـ          جناب رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا کہ جبرائیل(ع) میرے پاس مسرور و شاد تشریف لائے میں نے ان سے پوچھا کیا آپ میرے بھائی علی بن ابی طالب(ع) کا مقام خدا کے نزدیک جانتے ہیں جبرائیل(ع) نے فرمایا اے محمد(ص) جان لو کہ جس نے تمہیں پیغمبر(ص)مبعوث کیا ہے اور رسالت  سے برگذیدہ کیا میں اس وقت یہی عنوان لیے نیچے آیا ہوں اے محمد(ص) خداوند اعلیٰ تجھے سلام دیتا ہے اور فرماتا ہے ک محمد(ص) میرا پیغمبر رحمت(ص) ہے اور علی(ع) میرا مقیم الحجت ہے میں اس کے محب کو عذاب نہ دوں گا چاہے گناہ گار ہی کیوں نہ ہو۔ اور اس کے دشمن پر رحم نہ کروں گا چاہیے میرا فرمانبردار ہی کیوں نہ ہو، ابن عباس(رض) بیان کرتے ہیں کہ پیغمبر(ص) نے اس کے بعد فرمایا کہ روز قیامت جبرائیل(ع) میرے پاس آئیں گے اور لواءحمد ہاتھ میں لیے ہوں گے جس کے ستر پھریرے ہوں گے اس کے ہر پھریرے کے وسعت چاند و سورج سے زیادہ ہوگی  وہ یہ میرے حوالے کردیں گے میں یہ لواء لے کر علی بن ابی طالب(ع) کو دیدوں گا۔


ایک شخص نے یہ سن کر کہا یا رسول اﷲ(ص)، علی(ع) میں اسے اٹھانے کی تاب کیونکر ہوگی جب کہ آپ(ص) فرمارہے ہیں کہ اس کے ستر پھریرے ہوں گے اور ہر پھریرے کی وسعت خورشید قمر سے زیادہ ہے یہ سن کر جناب رسول خدا(ص) نے غصہ کیا اور فرمایا اے مرد ، خدا روز قیامت علی(ع) کو جبرائیل(ع) کی مانند طاقت عطا کرے گا۔ انہیں حسنِ یوسف(ع)، حلم رضوان(ع) اور لحن داؤد(ع) عطا فرمائے گا اور داؤد(ع) بہشت کے خطیب ہیں علی(ع) وہ اول بندہ ہے جو سلسبیل اور زنجبیل سے پیئے گا اس کے شیعہ خدا کے نزدیک اولین و آخرین میں ایک مقام رکھتے ہیں جس پر رشک کیا جائے گا۔

۱۱ـ           جناب علی بن حسین(ع) اپنے آبائے طاہرین(ع) سے روایت کرتے ہیں کہ ایک دن جناب رسول خدا(ص) کے اصحاب بڑی تعداد میں آپ(ص) کے پاس جمع تھے اور جناب علی بن ابی طالب(ع) آںحضرت(ص) کے قریب تھے، آںحضرت(ص) نے فرمایا جو کوئی چاہے کہ وہ جمال یوسف(ع)، سخاوت ابراہیم(ع)، سلیمان(ع) کی حجت اور داؤد(ع) کی حکمت دیکھے تو اسے چاہیے کہ اسے ( علی (ع)کو) دیکھے۔

۱۲ـ          جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا علی(ع) مجھ  سے ہے اور میں علی(ع) سے ہوں علی(ع) سے جنگ کرنا خدا کے ساتھ جنگ کرنا ہے اور جو علی(ع) کی مخالفت کرتا ہے خدا اس پر لعنت کرتا ہے علی(ع) میرے بعد خلق کا امام ہے جو کوئی علی(ع) کی عظمت گھٹانا ہے وہ میری عظمت گھٹاتا ہے جو کوئی اس سے جدا ہوگا وہ مجھ سے جدا ہے  جو کوئی اس کے غم میں شریک ہے میں اس کے غم میں شریک ہوں جو کوئی اس کی مدد کرے اس نے میری مدد کی اور جو اس سے جنگ کرے میں اس کے خلاف جنگ میں ہوں جو اس کا دوست ہے میں اس کا دوست ہوں اور جو اس کا دشمن ہے میں اس کا دشمن ہوں۔

۱۳ـ          یاسر کہتے ہیں کہ جب امام رضا(ع) کو مامون نے اپنا ولی عہد بنایا تو میں نے دیکھا کہ امام رضا(ع) نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور بارگاہ احدیت میں عرض کیا، ” خدایا تو جانتا ہے کہ میں بے بس اور مجبور ہوں اس لیے مجھ سے اس کا مواخذہ نہ کرنا جس طرح تو نے یوسف(ع) سے والی مصر ہونے پر مواخذہ نہیں کیا تھا۔“

۱۴ـ          ابراہیم بن عباس بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام رضا(ع) کی مانند کسی دوسرے کو نہیں دیکھا


کہ ان سے جو بھی سوال کیا جاتا ہے تو جواب میں فرماتے ہیں کہ مجھے معلوم ہے، زمانے میں ان سے بڑا عالم اور کوئی نہ تھا مامون ان سے ہر تیسرے دن مختلف چیزوں کا سوال کر کے ان کا امتحان لیتا تھا اور وہ تمام جوابات قرآن سے دیا کرتے اور قرآنی آیات مثالیں پیش کیا کرتے تھے اور آپ(ع) قرآن کو تین دن میں ختم کرلیا کرتے تھے اور فرماتے کہ اگر چاہوں تو اس سے پہلے بھی ختم کرلوں مگر میں ہر قرآنی آیت پر غور و فکر کرتا ہوں کہ یہ کس لیے نازل ہوئی اور کس وقت نال ہوئی۔

۱۵ـ                  حسین بن ہیثم اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ مامون منبر پر گیا تاکہ امام علی بن موسی رضا (ع( کی بیعت کرے اس نے لوگوں سے کہا اے لوگو تمہاری بیعت علی(ع)  بن موسی(ع)  بن جعفر(ع)  بن محمد(ع)  بن علی(ع)  بن حسین(ع)  بن علی(ع)  ابن ابی طالب(ع) کے ساتھ ہے۔خدا کی قسم اگر ان ناموں کو  بیمار پر پڑھ کر دم کیا جائے تو وہ اذن خدا سے تندرستی پاجائے۔

دعبل خزاعی کا مرثیہ

۱۶ـ          دعبل خزاعی بیان کرتے ہیں کہ جب قم میں مجھے امام رضا(ع) کی وفات کی خبر پہنچی تو میں نے وہیں یہ مرثیہ کہا ” اگر بنی امیہ نے آل محمد(ص) کو قتل کیا تو ان کے پاس یہ عذر تھا کہ ان کے اسلاف ان( علی(ع)) کے ہاتھوں قتل ہوئے “ مگر بنی عباس کے پاس تو ان کے قتل کا کوئی عذر نظر نہیں آتا، طوس میں دو قبریں ہیں ایک بہترین خلق کی اور دوسری بدترین خلق کی، یہ انتہائی عبرت کا مقام ہے مگر ایک ناپاک کسی پاک کی قربت سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا اور نہ ہی کسی پاک و طاہر کو ایک ناپاک کی قبر کی قربت سے کوئی ضرر پہنچ سکتاہے۔

روایت اباصلت اور وفات امام رضا(ع)

۱۷ـ          ابوصلت ہروی کہتے ہیں کہ میں ایک دفعہ امام رضا(ع) کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپ(ع) نے فرمایا اے ابوصلت اس قبہ کے اندر جاؤ جس میں ہارون رشید کی قبر کے ہر چہار طرف کی تھوڑی سی مٹی لے آؤ لہذا اندر گیا اور چاروں طرف کی مٹی لایا آپ(ع) نے دروازے کے


سامنے والی مٹی کے لیے یہ فرمایا مٹی مجھے دینا میں نے وہ مٹی دی تو آپ نے اسے سونگھا اور پھینک دیا اور کہا میری قبر یہاں کھودنے کی کوشش کی جائے گی مگر یہاں ایک ایسی چٹان ہے۔ کہ اگر خراسان کے سارے کدال چلانے والے مل کر کدال چلائیں تو بھی اس کو نہیں کھودسکتے پھر پاؤں کی طرف اور سر کی طرف کی مٹی کے لیے بھی آپ(ع) نے یہی فرمایا اس کے بعد فرمایا اب وہ چوتھی طرف کی مٹی دو وہی میری قبر کی مٹی ہے۔ پھر آپ(ع) نےفرمایا لوگ میری قبر یہاں کھودیں گے تو ان سے کہہ دینا کہ سات زینے نیچے تک کھودیں وہاں ایک ضریح تیار ملے گی اگر وہ لوگ لحد کھودنا چاہیں تو کہہ دینا کہ لحد کو دو ہاتھ ایک بالشت چوڑی بنائیں اور اﷲ اس کو جس قدر چاہیے گا وسیع کر دے گا اور جب وہ ( گورکن) ایسا کریں تو تمہیں میرے سر کی طرف کچھ نمی اور تری نظر آئے گی۔ وہاں وہ کچھ پڑھ کر دم کرنا جو میں تمہیں چھوٹی چھوٹی مچھلیاں نظر آئیں گی میں تمہیں روٹی دوں گا۔تم اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بنا کر اس میں ڈال دینا وہ مچھلیاں اس کو کھائیں گی جب وہ سارے روٹی ٹکڑے کھا کر ختم کر لیں گی تو ایک بڑی مچھلی نمودار ہوگی جو ان تمام چھوٹی چھوٹی مچھلیوں کو نگل جائے گی اس کے بعد وہ غائب ہوجائے گی جب وہ بڑی مچھلی غائب ہوجائے تو پھر تم پانی پر ہاتھ رکھ کر وہ چیز دم کرنا جو میں تمہیں بتاؤں گا سارا پانی زمین کے اندر واپس چلائے جائے گا اور پھر کچھ نہ رہے گا اور یہ سارا کام تم مامون کی نظروں کے سامنے کرنا پھر فرمایا اے ابو صلت یہ مرد فاجر کل مجھ کو اپنے پاس بلائے گا اگر میں اس کے پاس سے اس طرح نکلوں کہ میرا سرکھلا ہوا تو مجھ سے مخاطب ہونا میں تمہیں جواب دوں گا اور اگر میں اس طرح نکلوں کہ سر ڈھکا ہو تو پھر مجھ سے بات نہ کرنا۔

ابوصلت کہتے ہیں کہ جب دوسرے دن صبح ہوئی تو آپ(ع) نے اپنا پہنا اور اپنی محراب عبادت میں بیٹھ کر انتظار کرنے لگے تھوڑی دیر میں مامون کا غلام آیا اور اس نے کہا امیرالمومنین آپ(ع) کو یاد کرتے ہیں یہ سن کر آپ(ع) نے اپنی جوتی پاؤں میں پہنی، اپنی ردا کندھوں پر ڈالی اور کھڑے ہوگئے۔ پھر روانہ ہوئے میں بھی آپ(ع) کے پیچھے پیچھے ہو لیا آپ(ع) مامون کے پاس پہنچے اس کے سامنے ایک طبق رکھا ہوا تھا جس میں انگور کا ایک گچھا موجود تھا اس میں سے وہ بعض دانوں کو توڑ کر کھاتا


اور بعض دانوں کو چھوڑ دیتا تھا جب اس نے امام رضا(ع) کو آتے دیکھا تو اٹھ کر کھڑا ہوا آگے بڑھ کر گلے لگایا، پیشانی کو بوسہ دیا اور اپنے ساتھ بٹھالیا اورکہنے لگا فرزندِ رسول(ص) میں نے اس سے بہتر انگور آج تک نہیں دیکھا، آپ(ع) نے فرمایا ہاں بعض انگور ایسے اچھے ہوتے ہیں کہ ویسے شاید جنت ہی میں ہوں مامون نے کہا لیجیئے آپ(ع) بھی کھائیں آپ(ع) نے فرمایا نہیں مجھے معاف رکھیں مامون نے کہا نہیں یہ تو آپ(ع) کو کھانا ہی پڑیں گے آپ(ع) شاید اس لیے پرہیز کر رہے ہیں کہ آپ(ع) کو میری طرف سے بدگمانی ہے یہ کہہ کر اس نے وہ انگور کا گچھا لیا اور اس میں سے چند دانے خود کھائے باقی گچھے میں وہ دانے رہ گئے جن میں زہر دالا گیا تھا اس نے وہ گچھا امام رضا(ع) کی طرف بڑھایا آپ(ع) نے اس میں سے صرف تین دانے کھائے بقیہ پھینک دیئے اور اٹھ کھڑے ہوئے مامون نے پوچھا آپ(ع) کہاں جارہے ہیں کہ جب میں نے یہ صورت دیکھی تو پھر کوئی بات نہ کی آپ(ع) سیدھے گھر میں داخل ہوئے اور مجھ سے فرمایا کہ دروازہ بند کر دو پھر آپ(ع) اپنے بستر پر لیٹ گئے اور میں صحن میں مہموم و مغموم بیٹھ گیا ابھی مجھے بیٹھے ہوئے تھوڑی دیر ہوئی تھی کہ ایک حسین و جمیل نوجوان جس کی پر پیچ و خم زلفین تھیں اور وہ شکل و صورت میں امام رضا(ع) کے بالکل مشابہ تھا مکان میں داخل ہوا میں فورا اسکی طرف بڑھا اور کہا تم بند دروازے سے کس طرح اندر آگئے ہو۔ اس نے مجھے جواب دیا جو مجھے مدینہ سے اس وقت یہاں لایا اسی نے مجھے گھر کے اندر کردیا دروازہ بند ہے تو ہوا کرے میں نے پوچھا تم کون ہو کہا ابوصلت میں تم پر حجت خدا ہوں میرا نام محمد بن علی(ع) ہے یہ کہہ کر آپ(ع) اپنے والد(ع) کی طرف بڑھے، اندر داخل ہوئے اور مجھے بھی داخلے کی اجازت دی جب امام رضا(ع) نے ان کو دیکھا تو فورا انہیں سینے سے لگایا پیشانی پر بوسہ دیا اور انہیں اپنے بستر پر لٹا لیا پھر محمد بن علی(ع) ان پر جھک گئے اور ان کے بوسے لیے اور راز دار نہ انداز سے آپس میں کچھ  باتیں کرنے لگے جن کو میں نہیں سمجھ سکا پھر میں نے دیکھا کہ امام رضا(ع) کے لب مبارک پربرف کی مانند کوئی سفید سی شئی تھی جسے اور کوئی چیز جو عصفور( چڑیا) سے مشابہ تھی نکالی اور ابو جعفر(ع) نے اسے بھی اپنے دہن مبارک میں رکھ لیا اس کے بعد امام رضا(ع) نے رحلت فرمائی تو ابو جعفر(ع) نے فرمایا اے ابوصلت اٹھو اور توشہ خانہ سے غسل


کا برتن اور پانی لے آؤ۔ میں نے عرض کیا کہ توشہ خانہ میں غسل کا برتن اور پانی تو نہیں ہے آپ(ع) نے فرمایا تم جاؤ تو سہی آپ(ع) کے فرمانے پر میں گیا تو دیکھا کہ توشہ خانہ میں غسل کا برتن اور پانی رکھا ہوا ہے میں اسے نکال لایا اس کے بعد آپ(ع) نے اپنا لباس سیمٹاتا کہ غسل دینے میں میں آپ(ع) کا ہاتھ بٹاؤں تو آپ(ع) نے فرمایا اے ابوصلت تم ہٹ جاؤ غسل میں میری مدد کرنے والا موجود ہے میں ہٹ گیا اور آپ(ع) نے غسل دیا اس کے بعد فرمایا اے ابوصلت توشہ خانہ میں جاؤ وہاں ایک ٹوکری ہے جس میں کفن اور حنوط رکھا ہوا ہے وہ اٹھا لاؤ میں اندر گیا تو دیکھا کہ ایک ٹوکری رکھی ہوئی تھی جسے میں نے اس توشہ خانہ میں پہلے نہ دیکھا تھا میں وہ اٹھا لایا آپ(ع) نے خود اپنے ہاتھوں امام رضا(ع) کو کفن پہنایا اور نماز جنازہ پڑھی پھر مجھ سے فرمایا تابوت لاؤ میں نے عرض کیا بہتر میں ابھی کسی نجار (بڑھئی) کے پاس جاکر بنوا لاتا ہوںآپ(ع) نے فرمایا اس توشہ خانہ میں تابوت بھی رکھا ہے میں گیا تو دیکھا کہ اس میں ایک تابوت بھی رکھا ہواہے، جس کو میں نے وہاں نہیں دیکھا تھا بہر حال میں اسے بھی اٹھالایا آپ(ع) نے نماز جنارہ پڑھنے کے لیے میت کو تابوت میں رکھ دیا اور میت کے پاؤں وغیرہ برابر کردیئے پھر دو رکعت نماز پڑھی ابھی نماز سے فارغ بھی نہیں ہوئے تھے۔ کہ وہ تابوت خودبخود بلند ہوا چھت شگافتہ ہوئی اور تابوت روانہ ہوگیا۔ میں نے عرض کیا فرزند رسول(ص) نے ابھی مامون آئے گا اور مجھ سے امام رضا(ع) کی میت کا مطالبہ کرے گا تو میں کیا جواب دوں گا آپ(ع) نے فرمایا خاموش رہو تابوت واپس آئے گا، اے بوصلت اگر کوئی نبی مشرق میں وفات پائے اور اس کا وصی مغرب میں تو اﷲ ان کے اجساد ارواح کو لازما جمع کردیتاہے( یہ مدینہ میں روضہء رسول (ص) پر حاضری کے لیے گئے ہیں) ابھی یہ گفتگو ختم نہیں ہوئی تھی کہ چھت دوبارہ شق ہوئی اور تابوت اتر کرآگیا پھر آپ(ع) اٹھے اور امام رضا(ع) کی میت کو تابوت سے نکالا اور ان کے بستر پر اس طرح لٹا دیا جیسے غسل و کفن کچھ نہیں دیا گیا پھر اس کے بعد آپ(ع) نے فرمایا اچھا اے ابو صلت اب دروازہ کھول دو میں نے دروازہ کھولا تو مامون اپنے غلاموں کے ساتھ گریبان چاک ، روتا ، سر پیٹتا اندر داخل ہوا اور یہ کہہ رہا تھا کہ فرزند رسول خدا(ص) تمہارے مرنے کا مجھے بے حد افسوس ہے پھر آکر میت کے سرہانے بیٹھ گیا اور حکم دیا کہ تجہیز و تکفین کا سامان کیا جائے اور قبر کھودی جائے پھر اس کی بتائی ہوئی جگہ پر قبر کھودی گئی اور تو امام رضا(ع) کے بتائے ہوئے قول کے مطابق قبر نہ کھد سکی مجبور اس نے کہا کہ


جانب کھو دو ابوصلت کہتے ہیں میں نے اس سے کہا کہ امام رضا(ع) نے مجھے سے فرمایا کہ سات زینہ نیچے تک کھودو تو ایک ضریح بر آمد ہوگی مامون نے کھودنے والوں سے کہا ابوصلت جس طرح کہتا ہے اس طرح کھودو مگر ضریح تک نہیں ملکہ اس میں بغلی لحد بنا دو جب لحد کھودی گئی تو مامون نے اس میں نمی اور پانی کا چشمہ پھر مچھلیاں وغیرہ دیکھیں تو کہنے لگا امام رضا(ع) اپنی زندگی میں تو عجائبات دکھاتے رہے تھے مرنے کے بعد بھی وہی دکھا رہے ہیں یہ دیکھ کر اس کے ایک وزیر نے اس سے کہا معلوم ہے ان مچھلیوں وغیرہ سے امام رضا(ع) آپ کو کیا بتانا چاہتے ہیں مامون نے کہا نہیں اس نے کہا وہ آپ کو یہ بتارہے ہیں کہ اے بنو عباس، تمہاری سطلنت باوجود تمہاری کثرت اور طول مدت کے ان مچھلیوں کی مانند ہے۔ جب اس کا وقت پورا ہوجائے گا اور تمہاری سلطنت ختم ہونے والی ہوگی تو اﷲ ہم اہل بیت(ع) میں سے ایک فرد کو تم لوگوں پر مسلط کردے گا اور وہ تم لوگوں میں سے ایک بھی باقی نہیں چھوڑے گا( جس طرح بڑی مچھلی نے ساری مچھلیوں کو ختم کر دیا ہے) مامون نے کہا سچ کہتے ہو واقعی اس کا مطلب یہی ہے اس کے بعد مامون نے مجھے یہ کہا اے ابوصلت مجھے وہ تمام باتیں بتاؤ جو تم سے امام رضا(ع) نے کہی ہیں میں نے کہا خدا کی قسم میں وہ تمام باتیں بھول گیا ہوں اور واقعی میں نےسچ کہا تھا مامون نے حکم دیا کہ اس کو لے جاؤ اور قید میں ڈال دو اس کے بعد اس نے امام رضا(ع) کو دفن کیا، میں ایک سال تک قید میں پڑا رہا جب قید سے تنگ آگیا تو ایک رات جاگ کر حضرت محمد(ص) اور آل(ع) محمد(ص)کا واسطہ دے کر اپنی رہائی کے لیے اﷲ سے دعا مانگی ابھی میری دعاختم بھی نہ ہوئی تھی تو دیکھا کہ حضرت ابو جعفر محمد بن علی(ع) قید خانہ میں تشریف لائے اور فرمایا اے ابو صلت تم اس قید سے تنگ آچکے ہو میں نے عرض کیا جی ہاں خدا کی قسم، آپ(ع) نے فرمایا اچھا تو پھر اٹھو پھر آپ(ع) نے ہتھکڑیوں اور بیڑیوں پر اپنا دست مبارک پھیرا تو وہ سب جدا ہوگئیں پھر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے قید سے نکال لے گئے میں گھر کے مرکزی دروازے سے نکلا سارے پہرے دار اور غلام دیکھتے رہ گئے اور مجھ سے کچھ نہ کہہ سکے اور اس کے بعد آپ(ع) نے مجھ سے کہا جاؤ میں نے تمہٰیں خدا کے سپرد کیا اب وہ ابد تک تمہیں گرفتار نہیں کرسکتا چنانچہ میں آج تک اس کی گرفت سے باہر ہوں۔


مجلس نمبر۹۵

( بروز بدھ، جبکہ ماہ شعبان ختم ہونے میں ۱۲ دن باقی تھے سنہ۳۶۸ھ)

۱ـ           محمد بن عذافر اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ امام باقر(ع) سے دریافت کیا گیا کہ خدا نے مردار کے خون اور گوشت کو کیوں حرام قرار دیا ۔

امام(ع) نے فرمایا اﷲ نے اپنے بندوں کے لیے بعض چیزوں کو حلال قرار دیا ہے اور بعض کو حرام تو یہ اس لیے نہیں کہ اس نے جس چیز کو حلال قرار دیاوہ اسے پسند تھی اور جسے حرام قرار دیا وہ اسے ناپسند تھی بلکہ یہ اس لیے تھا کہ اﷲ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا اور وہ بہتر جانتا ہے کہ مخلوق کے بدن کا قیام کس چیز سے رہیے گا اس کے لیے کونسی چیز بہتر و مناسب ہے لہذا مخلوق کے لیے بہتر کو اس نے حلال قرار دیا اور جو مناسب نہیں اسے حرام قرار دیا مگر اضطرار اور شدید ضرورت میں اس نے حکم دیا کہ یہ چیزوں صرف اتنی مقدار میں استعمال کرلے جس سے کہ اس( آدمی) کا بدن ( زندگی ) باقی رہے اس کے علاوہ اسے حرام قرار دیا۔

پھر امام(ع) نے فرمایا جو کوئی بھی مردار کھائے گا اس کے بدن میں ضعف و سستی عود کر آئے گی اور اس کی نسل منقطع ہوجائے گی، مردار کھانے والے کی موت ناگہانی ہوگی  اس کا خون انسان کے بدن میں آپ صفرا پیدا کرے گا اور امراض قلب اور قساوت قلب پیدا کرے گا اس انسان میں رحم و مہربانی اتنی کم ہوگی کہ اس کے مخلص دوست اور اس کی صحبت میں رہنے والے بھی اس سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔

اور سور کے گوشت کا یہ ہے کہ اﷲ تعالی نے ایک قوم پر عذاب نازل کیا تو اس کے افراد کو مختلف شکلوں میں مسخ کردیا اور انہیں سور، بندر اور ریچھ کی شکل میں تبدیل کردیا پھر حکم دیا کہ ان جانوروں کے گوشت کو کبھی مت کھانا تاکہ کہ ان کے عذاب کو کوئی خفیف نہ جانے۔ اور شراب کے بارے میں یہ ہے کہ اس کے عمل اور اس کے فساد کی وجہ سے اسے حرام قرار دیا گیا پھر امام(ع) نے فرمایا کہ شراب کا عادی ایسا ہی ہے جیسا کہ بت پرست ، شراب جسم میں رعشہ پیدا کرتی ہے شرابی میں


 مروت ختم ہو جاتی ہے اور وہ حرام کی جسارت کرنے  لگتا ہے جیسے کہ قتل اور زنا یہاں تک کہ نشے کی حالت میں وہ اپنی محرم عورتوں پر بھی حملہ کر گزرتا ہے اور اسے اس کا احساس تک نہیں ہوتا ۔ شراب اپنے پینے والے میں بدی کے علاوہ کسی اور چیز کا اضافہ نہیں کرسکتی۔

حضرت موسیٰ(ع) اور شیطان

۲ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا ایک مرتبہ حضرت موسی(ع) خدا سے مناجات میں مشغول تھے کہ شیطان ان کے پاس آیا تو ایک فرشتے نے شیطان سے کہا ایسی حالت میں تو ان سے کیا امید رکھتا ہے شیطان نے کہامیں وہی امید رکھتا ہوں جو اس کے باپ آدم(ع) سے رکھتا تھا جس وقت وہ بہشت میں تھے۔

امام نے فرمایا کہ موسی(ع) کی مناجات کے جواب میں جو موعظ خدا نے ان سے بیان فرمائے وہ یہ ہیں کہ اے موسی(ع) میں اس کی نماز قبول کرتا ہوں جو فروتنی اور تواضع اختیار کرتا ہے اور میری عظمت کے لیے اپنے دل پر میرا خوف طاری کر لیتا ہے اپنا دن میری یاد میں بسر کرتا ہے اپنی رات اپنے گناہوں کے افراد میں گذرتا ہے اور میرے اولیاء اور دوستوں کے حق کو پہچانتا ہے موسی(ع) نے عرض کیا خدایا ، اولیاء اور محبوں سے تیری کیا مراد ہے کیا یہ ابراہیم(ع) اسحاق(ع)، اور یعقوب(ع) ہیں ارشاد ربانی ہوا اے موسی(ع) وہ لوگ ایسے ہی ہیں اور میرے دوست ہیں مگر میری مراد وہ ہیں جن کے لیے مین نے آدم(ع) حوا(ع) کو پیدا کیا اور بہشت و دوزخ کو خلق کیا موسی(ع) نے دریافت کیا بار الہا وہ کون ہیں ارشاد ہوا وہ محمد(ص) کہ جس کا نام احمد(ص) ہے اس کے نام کو میں نے اپنے نام سے مشتق کیا ہے اس  لیے کہ میرا نام محمود ہے ، موسی(ع) نے کہا خدایا تو مجھے ان(ع) کی امت میں قرار دے ارشاد ہوا اے موسی(ع) جب تم انہیں پہچان لوگے اور میرے  نزدیک ان کے اہل بیت(ع) کی منزلت سمجھ لوگے تو تم ان(ع) کی امت میں شامل ہوجاؤ گے یقینا میری تمام امت  میں ان کی مثال ایسی ہے جیسے تمام باغوں میں فردوس کی کہ جس کی پتیاں کبھی خشک نہیں ہوتیں اور جس کا مزہ کبھی تبدیل نہیں ہوتا جو شخص ان کے اور ان کے اہل بیت(ع) کے حق کو پہچان لے تو میں انہیں اس کی نادانی اور اسکی تاریکی میں روشنی


بنادوں گا اور اس سے پہلے کہ وہ مجھ سے دعا کرے میں اسکی دعا قبول کروں گا اور عطا کروں گا اے موسی(ع) جب تمہاری طرف کوئی پریشانی آئے تو اسے مرحبا کہو اور کہہ کہ کیہ کہ یہ میری نیکیوں کی جزا میں عطا کی گئی اور جب توانگری تمہارا رخ کرے تو کہو کہ اس کا سبب کوئی گناہ ہے جس کا عذاب مجھے دیا گیا ہے اس لیے کہ دنیا عذاب کام مقام ہے آدم(ع) نے جب خطا کی تو میں نے سزا کے طور پر انہیں اس دنیا میں بھیجا اور یہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس پر میں لعنت کی سوائے اس چیز کے جو مریے لیے ہو اور جس سے میری خوشنودی حاصل ہو، اے موسی(ع) یقینا میرے نیک بندوں نے اپنے اس علم کی وجہ سے جو میرے متعلق رکھتے ہیں ترک دنیا اور زہد اختیار کیا ہے اور میری بہت سی مخلوق نے اپنی نادانی اور مجھے نہ پہچاننے کی وجہ سے دنیا کی رغبت اختیار کی ہے اور جس نے بھی دنیا کی تعظیم کی اور اسے بزرگ جانا تو دنیا نے اس کی آنکھیں روشن نہیں کیں اور نہ ہی اسے فائدہ دیا اور جس نے دنیا کو حقیر جانا وہ فائدے میں رہا۔

پھر امام صادق(ع) نے فرمایا اگر تم طاقت رکھتے ہوتو دنیا سے ناشناس رہو اگر ایسا ہوتو تم کچھ نقصان میں نہیں ہو بیشک لوگ تیری مذمت کریں مگر تجھے خدا کا قرب حاصل ہوگا جناب امیر(ع) نے فرمایا کہ دنیا دو آدمیوں میں سے ایک کے لیے خبر نہیں رکھتی اور وہ وہ ہے کہ جو روزانہ اپنے احسان میں اضافہ کرتا ہے اور توبہ کے ذریعے اپنے گناہوں کو تحلیل کرتا ہے خدا کی قسم اگر انسان اس وقت تک سجدہ میں رہے جب تک اس کی گردن قطع نہ کردی جائے تو خدا اسے ہرگز معاف نہ کرے گا جب تک کہ وہ ہمارے خاندان کی ولایت کا معترف نہ ہوگا۔

۳ـ          مفضل بن عمر کہتے ہیں کہ میں نے امام صادق(ع) سے عشق کے متعلق سوال کیا تو فرمایا عشق یہ ہے کہ دل یاد خدا کے علاوہ ہر چیز سے خالی ہوجائے اور خدا اس کی دوستی و محبت کا مزہ دوسروں کو چکھادے۔

۴ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جس کسی کا گذرا ہوا دن اور آنے والا دن برابر ہیں وہ شخص مغبون ( وہ آدمی جس کاغبن ہوا ہو، نقصان میں) ہے، جو ترقی نہیں کرتا وہ نقصان میں ہے اس کی موت اس کی زندگی سے بہتر ہے۔


لقمان کی نصیحت

۵ـ          امام صادق(ع) بیان فرماتے ہیں لقمان نے اپنے فرزند کو نصیحت کی کہ اے فرزند تجھے چاہیے کہ اپنے دشمن کے لیے کوئی حربہ تیار رکھ جو اسے زمین پر گرادے اور وہ حربہ یہ ہے کہ تو اس سے مصافحہ کرے اور اس سے نیک برتاؤ کرتا رہے تو اس سے علیحدگی اختیار مت کر اور اپنی دشمنی کا اظہار مت کرتا کہ جو کچھ وہ اپنے دل میں تیرے خلاف رکھتا ہے وہ تجھ پر ظاہر کردے اور اے میرے فرزند خدا سے اس طرح ڈر جس طرح ڈرنے کا حق ہے اگر جن وانس کی نیکیوں کے برابر نیکیاں رکھتا ہو تو تب بھی حساب سے خوفزدہ رہ اور خدا سے امیدوار رہ کہ اگر تیرے گناہ جن و انس کے گناہوں کے برابر ہی کیوں نہ ہوں وہ تجھے معاف فرمائے گا۔ اے میرے فرزند میں نے  لوہا پتھر اور ہر وزنی چیز کو اٹھایا اور اسے برداشت کیا ہے مگر میں نے کوئی بوجھ بد ہمسائے سے زیادہ گراں نہیں پایا میں نے تلخ ترین چیزوں کا مزہ چکھا ہےمگر کسی شے کو پریشانی اور دنیا والوں کے سامنے محتاجی سے زیادہ تلخ نہیں پایا۔

۶ـ           لقمان(ع) اپنے فرزند سے کہا اے فرزند تو اپنے لیے ہزار لوگوں کو دوست بنا کیوں کہ ہزار دوست بھی کم ہیں مگر تو اپنے لیے کسی ایک کو بھی دشمن نہ بنا کیوں کہ ایک دشمن بھی بہت ہے اور اسی سلسلے میں جناب امیرالمومنین(ع) نے فرمایا اگر تجھ میں طاقت ہے تو بہت زیادہ دوست بنا کیوں کہ وہ تیری پشت پناہی کریں گے اور تیرے لیے ستون و مددگار ثابت ہوں گے تیرے جتنے بھی دوست ہوں کم ہیں چاہیے ہزار ہی کیوں نہ ہوں جب کہ دشمن ایک بھی بہت ہے۔

۷ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا دوستی کی کچھ حدود معین ہیں سب سے پہلے یہ ہے کہ اس (دوست) کا ظاہر و باطن تمہارے لیے ایک ہو، دوئم یہ کہ وہ جس چیز کو اپنے لیے باعث ننگ و عار جانے اسے تمہارے لیے بھی ایسا ہی سمجھے اور دولت و منصب اسے پھیر نہ سکے اس کے پایہ ثبات میں لغزش نہ آسکے چہارم یہ کہ جو کچھ اس کے اختیار اور قدرت میں ہو اس سے  تمہیں فائدہ پہنچانے میں پہلو تہی نہ کرے اور پنجم یہ کہ وہ پریشانی و مصیبت میں تمہیں تنہا نہ چھوڑے۔ پھر امام(ع)


نے فرمایا جو کوئی تم پر تین مرتبہ غصہ کرے مگر برانہ کہے اسے اپنا دوست بنالو اور تم اپنے دوست سے پوشیدگی نہ رکھو جو مصیبت تم پر آئے اس سے بیان کرو پھر آپ(ع) نے اپنے اصحاب میں سے ایک شخص سے فرمایا کہ وہ راز جو تیرے دوست اور تیرے درمیان ہے سے دوسروں کو آگاہ نہیں کرنا چاہیے لیکن اگر یہ دشمن کو پتا چل جائے تو کبھی وہ بھی گزند نہیں پہنچاتا مگر بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ دوست دشمن بن جاتا ہےمیرے جد(ع) نے امیرالمومنین(ع) سے روایت ہے کہ کوئی مہذب مرد ایسا ہے کہ جو تیرا ایک دن کے لیے بھی دوست ہو( یعنی اگر مہذب انسان کی ایک دن کی دوستی بھی میسر آجائے تو بہتر ہے)۔

۸ـ          امام صادق(ع) نے فرمایا جو کوئی ماہ شعبان کے آخری تین دن کا روزہ رکھے اور اسے ماہ رمضان سے ملا دے تو خدا اس کےلیے لگا تار دو ماہ کے روزوں کا اجر لکھے لگا۔

۹ـ           امام صادق(ع) نے فرمایا کہ ماہ رمضان اور ماہ رمضان کا روزہ خدا سے بندے کے گناہ معاف کرواتا ہے چاہیے وہ خونِ حرام کا مرتکب ہی کیون نہ ہو۔

۱۰ـ          جناب رسول  خدا(ص) نے فرمایا اے علی(ع) قیامت کے روز تجھے نور کی سواری ”شکہ“ پر سوار کرایا جائے گا اور تیرے سر پر ایک ایسا تاج ہوگا جس کے چار(۴) رکن ہوں گے ، ہر رکن پر تین(۳) سطروں میں لکھا ہوگا” لا الہ الا اﷲ محمد رسول اﷲ علی ولی اﷲ“ میں بہشت کی کنجیاں تیرے حوالے کروں گا اور تجھے ایک تخت کرامت پر بٹھایا جائے گا اور تم اعلان کروگے کہ تمہارے شیعہ بہشت میں داخل ہوجائیں پھر تم اپنے دشمنوں کے دوزخ میں جانے کا اعلان کرو گے اے علی(ع) تم قسیم نار و قسیم جنت ہو جو تجھے دوست رکھتا ہے وہ کامیاب ہے اور نقصان میں ہے وہ جو تجھے دشمن رکھے تم ہی اس دن امین خدا اور اس کی واضح حجت ہوگے۔


 مجلس نمبر۹۶

(یہ مجلس جناب صدوق(رح) اسی روز یعنی بدھ سنہ۳۶۸ھ جب ماہ شعبان ختم ہونے میں بارہ دن باقی تھے پڑھی)

خدا کب سے ہے

۱ـ                   امام صادق(ع) بیان فرماتے ہیں کہ ایک دانشمند یہودی امیرالمومنین(ع) کے پاس آیا اور کہنے لگا اے امیرالمومنین(ع) آپ(ع) کا پروردگار کب سے ہے۔ جناب امیر(ع) نے فرمایا تیری ماں تیرے غم میں گریہ کرے وہ کب نہ تھا کہ میں تجھے  بتاؤں وہ کب سے ہے۔ میرا پروردگار پہلے سے بھی پہلے کہ اس سے پہلے کوئی نہیں ہے ابد تک اور وہ بعد بھی نہیں رکھتا، اس مقام کی کوئی ابتداء اور کوئی انتہا نہیں ہے وہ وہ ہے کہ نہایت کا دخول اس میں نہیں وہ ہر نہایت کی نہایت ہے۔

آدم(ع) اور عقل

۲ـ                   جناب علی بن ابی طالب(ع) نے فرمایا جبرائیل(ع) آدم(ع) پر نازل ہوئے اور فرمایا اے آدم(ع) مجھے حکم ہوا ہے کہ تین چیزیں لے کر تمہارے پاس جاؤں تاکہ تم ان میں سے ایک کو اختیار کرلو اور باقی دو کو چھوڑ دو یہ تین چیزیں عقل ، شرم اور دیانت ہیں آدم(ع) نے کہا میں نے عقل کو اختیار کیا۔ جبرائیل(ع) نے شرم اور دیانت سے کہا کہ وہ واپس چلی جائیں پھر آدم(ع) سے سوال کیا کہ آپ(ع) نے عقل کو کیوں اختیار کیا آدم(ع) نے جواب دیا ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم (انبیاء(ع)) عقل اختیار کریں جبرائیل(ع) نے کہا آپ(ع) مختار ہیں جو چاہیں اختیار کریں پھر جبرائیل(ع) واپس تشریف لے گئے۔

۳ـ          امام باقر(ع) نے فرمایا بے شک بندہ ستر)۷۰) خریف جہنم میں رکھا جائے گا اور ایک خریف ستر سال کی مسافت کے برابر ہے پھر وہ خدا سےمحمد(ص) و آل(ع) محمد(ص) کا واسطہ دے کر فریاد کرے گا کہ اس پر رحم کیا جائے پس خدا جبرائیل(ع) کو وحی کرے گا کہ میرے بندے کے پاس جاؤ اور اسے


 آگ سے باہر نکالو جبرائیل(ع) کہیں گے اے پروردگار میں آتش جہنم میں کیسے جاؤں تو ارشاد ہوگا میں نے آگ کو حکم دیا ہے کہ وہ تمہارے لیے سرد ہوجائے اور سلامتی کا باعث رہے پھر جبرائیل(ع) کہیں گے اے پروردگار مجھے اس جگہ کیسے ہوگا جہاں وہ ہے تو ارشاد وہ سجین کے ایک گڑھےمیں ہے۔

امام فرماتے ہیں کہ جبرائیل(ع) اس حال میں جہنم میں آئیں گے کہ اپنے پر سمیٹے ہوں گے اور اس بندے کو جہنم سے باہر نکالیں گے۔ تو اﷲ اس سے فرمائے گا اے میرے بندے تو کتنے دن جہنم میں جلتا رہا وہ کہے گا اے میرے معبود میں شمار نہیں کرسکتا تو اﷲ فرمائے گا میری عزت کی قسم اگر تونے  ان ہستیوں کا واسطہ دے کر سوال نہ کیا ہوتا تو میں دوزخ میں تیرے قیام کو طول دے دیتا لیکن میں نے اسے اپنے لیے لازم قرار دیا ہے کہ جو کوئی مجھ محمد(ص) و آل(ع) محمد(ص) کے واسطے سے فریاد کرے گا میں اس کے اور اپنے درمیان تمام گناہ بخش دوں گا بے شک میں نے تجھے آج معاف فرما دیا۔

۵ـ جابر ابن عبداﷲ انصاری(ع) بیان کرتے ہیں کہ جناب رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا جو بندہ علی(ع) پر دوسرے اصحاب کو فضیلت و فوقیت دے وہ یقینا کافر ہے۔

۶ـ                   جناب رسول خدا(ص) نے فرمایا جو کوئی علی (ع) سے دشمنی رکھے وہ خدا سے جنگ میں ہے اور جو علی(ع) کے بارے میں شک کرے وہ کافر ہے۔

۷ـ          امام صادق(ع) اپنے آباء (ع) سے قولِ خدا” اور تم سے پوچھتے ہیں کیا وہ حق ہے تم فرماؤ ہاں میرے رب کی قسم بیشک وہ ضرور حق ہے اور تم کچھ تھکانہ سکو گے“ (یونس ، ۵۳) کی تفسیر روایت کرتے ہیں کہ ارشاد ہوا اے محمد(ص) اہل مک تم سے خبر لیتے ہیں کہ کیا علی(ع) امام ہے  تو تم کہو ہاں خدا کی قسم وہ حق کےساتھ امام(ع) ہے۔

۸ـ          جناب رسول خدا(ص) نے علی بن ابی طالب(ع) کے بارے میں ارشاد فرمایا اس مرد کا ہاتھ تھام لو کہ یہ صدیق اکبر و فاروق اعظم ہے یہ حق و باطل کو جدا کرنے والا ہے جوکوئی اسے دوست رکھتا ہے اس کی راہنمائی خدا فرماتا ہے جو کوئی اسے دشمن رکھتا ہے خدا اسے دشمن رکھتا ہے جو کوئی اس کی


 مخالفت کرے گا خدا اسے نابود کردے  گا اس میں سے میرے دو فرزند حسن(ع) و حسین(ع) ہیں وہ امام برحق اور رہبر ہیں خدانے انہیں میرا علم وفہم عطا کیا ہے انہیں دوست رکھو کہ ان کےسوا پناہ نہ دی جائے گی یہاں تک کہ میرا غصہ اسے ( دوست نہ رکھنے والے کو) گھیرے اور جس کسی کو میرا غصہ گھیرے وہ زوال میں ہوگا اور دنیا فریب اور دھوکے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

                     و صلی اﷲ علی محمد(ص) وآلہ الطاہرین(ع)۔


مجلس نمبر۹۷

( بروز جمعرات جبکہ ماہ شعبان سنہ۳۶۸ھ ختم ہونے میں ۱۱ روز باقی تھے۔)

امامت کی وضاحت

۱ـ           عبدالعزیز بن مسلم کہتے ہیں کہ ہم امام رضا(ع) کے ساتھ مقام مرو میں تھے اور ہر جمعہ جامع مسجد گئے تو وہاں لوگ امر امامت پر اپنی اپنی رائے مطابق گفتگو کر رہے تھے اور اپنی آراء کا اظہار کرتے تھے کوئی کچھ کہتا کوئی کچھ جب میں امام رضا(ع) کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان لوگوں کے نظریات کو بیان کیا تو امام (ع) نے مسکرا کر فرمایا اے عبدالعزیز یہ لوگ ناواقف ہیں ان کی رائے نے ان کو دھوکا دیا ہے۔ خدائے بزرگ و برتر نے جب تک دین اسلام کو کامل نہ کر لیا اپنے نبی(ص) کو  اس وقت تک دنیا سے نہیں بلایا۔ ان پر قرآن نازل کیا جس میں ہر چیز حلال و حرام ، حدود و احکام اور انسانی ضروریات کا مفصل ذکر کیا خدا فرماتا ہے ” ہم نے اس کتاب میں کوئی ایسی چیز باقی نہیں رکھی“ ( انعام ، ۳۹) اور حجت الوداع میں جو حضور(ص ) کی عمر کا آخری حصہ تھا یہ آیت نازل کی” ِ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دينَكُمْ وَ أَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتي‏ وَ رَضيتُ لَكُمُ الْإِسْلامَ دينا “ (مائدہ، ۳) آج مین نے تمہارے لیے دین کو کامل کردیا اور اپنی نعمت کو تم پر تمام کردیا اور تمہارے لیےمیں نے دین کو اسلام کے نام سے پسند کیا۔“

امر امامت کا تعلق تمام دین سے ہے اور نبی(ص) نے عقبی کو اس وقت تک اختیار نہ کیا جب تک انہوں نے معالم دین بیان نہ کردیئے اور نبی(ص) ان ( امت) کا راستہ واضح کر کے انہیں راہ حق پر ڈال کر گئے اور ان کے لیے علی(ع) کو علم اور امام مقرر کر کے گئے آپ نے ہر اس چیز کو جس  کی امت کو حاجت تھی بیان کردی لہذا جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ اﷲ تعالی نے  اپنے دین کو مکمل نہیں کیا وہ در اصل کتاب ِ خدا کو رد کرتا ہے اور جو کتاب خدا کو رد کرے وہ کافر ہے ۔ اے عبدالعزیز جانتے ہو کہ قدر امامت کیا ہے اور کیا امت کے لیے امامت میں تصرف کرنا جائز بھی ہے یا نہیں امامت کی


 قدر ومنزلت اس کی شان اور اس کامقام، اس کے اطراف وجوانب اور اس کی گہرائی اس بات سے کہیں جلیل ، عظیم ، اعلی محفوظ اور بعید ہے کہ لوگ اپنی عقلوں سے اس تک پہنچیں یا اپنی آراء سے اس کو حاصل کریں یا امام کو اپنے اختیار سے قائم کریں، امامت ایک ایسا جوہر ہے جو اﷲ نے ابراہیم(ع) کو نبوت وخلافت کے بعد عطا کیا پس امامت نبوت و خلافت کے بعد کا تیسرا درجہ ہے، امامت وہ فضیلت ہے کہ اس سے ان(ا براہیم(ع)) کو شرف عنایت فرمایا اور اسی سے ان کے ذکر کو محکم فرمایا خدا فرماتا ہے ”إِنِّي جاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِماماً “ (بقرہ، ۱۲۴) ” بے شک میں تمہیں لوگوں کو امام بنانے والا ہوں“  یہ سن  ابراہیم(ع) نہایت خوش ہوئے اور عرض کیا”وَ مِنْ ذُرِّيَّتي “ ( بقرہ، ۱۲۴) ترجمہ: میری ذریت میں بھی ہوگا۔ ارشاد ہوا ” لا يَنالُ عَهْدِي الظَّالِمينَ “( بقرہ، ۱۲۴) ترجمہ : ہان مگر ظالمین کویہ عہد نہ ملے گا۔ “ اس آیت سے ہر ظالم کی امامت کو قیامت تک کے لیے باطل کردیا اور صرف معصوم(ع) کو باقی رکھا پھر خدانے ابراہیم(ع) کی تعظیم و تکریم کے لیے ان کی ذریت میں معصوم و مطہر کو خلق فرمایا اور فرمایا ”وَ وَهَبْنالَه ُإِسْحاقَ وَيَعْقُوبَ نافِلَةًوَكُلاًّجَعَلْناصالِحينَ وَ جَعَلْناهُمْ أَئِمَّةًيَهْدُونَ بِأَمْرِناوَأَوْحَيْناإِلَيْهِمْ فِعْلَالْخَيْراتِ وَإِقامَ الصَّلاةِوَإيتاءَالزَّكاةِوَكانُوالَناعابِدينَ “ انبیاء، ۷۲ـ۷۳)ترجمہ : ہم نے ابراہیم(ع) کو اسحاق(ع) یعقوب(ع) عطا کیے اور ان کو صالح بنایا اور ہم نے ان کو امام بنایا کہ ہمارے حکم سے لوگوں کو ہدایت کریں اور ہم نے ان کو وحی کی کہ سب اچھے کاموں کو بجالائیں اور مخلوقات میں نماز قائم کریں اور زکوة ادا کریں اور وہ سب اﷲ کی ہی عبادت کرنے والے تھے۔“ پس یہ عہدہ امامت ابراہیم(ع) کی ذریت میں بطور وراثت جاری ہوا اور ایک کے بعد دوسرا اس کا وارث ہوتا رہا یہاں تک کہ خدا نے اپنے حبیب محمد(ص) کو وارث بنایا اور فرمایا ”إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْراهيمَ لَلَّذينَ اتَّبَعُوهُ وَهذَاالنَّبِيُّ وَالَّذينَ آمَنُواوَاللَّهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنينَ “ (آل عمران، ۶۸) ترجمہ : ” بے شک وراثت ابراہیم(ع) کے سب سے زیادہ مستحق وہ لوگ ہیں جہنوں نے ان کی پیروی کی ہے اور یہ نبی اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور اﷲ مومنین کا ولی ہے“ پس  یہ عہدہ امامت خاص نبی(ص) کے لیے تھا اور جو انہوں نے طریقہ خدا کے مطابق اپنے بھائی علی بن ابی طالب(ع)


کے حوالے کیا پس علی بن ابی طالب(ع) کی ذریت میں اصفیاء و اتقیاء پیدا ہوئے جہنیں خدا نے علم و ھبی اور ایمان لدنی عنایت فرمایا جس کا بیان اس آیت میں مذکور ہے ”وَ قالَ الَّذينَ أُوتُواالْعِلْم َوَالْإِيمانَ لَقَدْلَبِثْتُمْ في‏كِتابِ اللَّهِ إِلى‏يَوْمِ الْبَعْثِ فَهذايَوْمُ الْبَعْثِ “ ( روم، ۵۶)  ” جن لوگوں کو علم اور ایمان خدا کی طرف سے عطا ہوا ہے وہ کہیں گے کہ تم لوگ کتاب خدا کے مطابق قیامت کے دن تک  ٹھہرے رہے تو یہ قیامت کا دن ہے“ پس وہ امامت اب اولاد علی(ع) میں قیامت تک کے لیے مخصوص ہے کیونکہ نبی(ص) کے بعد کوئی نبی نہیں ہے یہ جاہل لوگ کہاں سے امامت کو اختیار کرتے ہیں کیونکہ امامت مقام انبیاء(ع) اور میراث انبیاء(ع) ہے اور امامت خلافت الہی اور خلافت سول (ص) ہے اور مقام امیرالمومنین(ع) اور میراث حسن(ع) و حسین(ع) ہے۔ امامت مسلک دین ہے امامت نظام مسلمین ہے، امام صلاح دنیا، مومنین کی عزت ، اسلام کا اصول اور اس کی بلند ترین شاخ ہے اور امام کی وجہ سے نماز، زکوة، حج اور جہاد غنیمت و صدقات کامل ہوتے ہیں اور امام ہی حدود الہی اور احکام خدا کو جاری کرتے ہیں اور سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں امام حلال خڈا کو حلال اور حرام خدا کو حرام کرتے ہیں اور حدود الہیہ کا قائم کرتے ہیں، دین خدا کی حفاظت کرتے ہیں اور لوگوں کو اپنے رب کے راستے کی حکمت موعظہ حسنہ اور حجت بالغہ سے دعوت دیتے ہیں ، امام سورج کی طرح ہے جو اپنی روشنی سے دنیاء عالم کو روشن کرتا ہے خود عالی قدر بلند مقام پر ہوتا ہے کہ نہ تو وہاں تک کوئی ہاتھ پہنچ سکتا ہے اور نہ نظر کرسکتی ہے اور امام بدر منیر، روشن چراغ، نور ساطع ، تاریک راتوں، شہروں کے چوراھوں ،میدانوں اور بہتے ہوئے سمندروں میں راہنمائی کرنے والا ستارہ ہے، امام پیاسوں کے لیے آب شیرین اور ہدایت کا رہبر ہے ، ہلاکت سے نجات دینے والا ہے اور امام آگ سے بقعہ نور کی گرمی کی شدت ہے ( اسخیائے عرب قحط سالی میں بلند مقام پر آگ روشن کردیتے تھے تاکہ بھولا بھٹکا شخص  اسے دیکھ کر ان کے پاس آجائے) امام سرماء خورد کے لیے حرارت ہے خوفناک مقامات پر رہبر ہے جو امام کو چھور دے گا وہ ہلاک ہوجائے گا، امام برسنے والا بادل ہے، جھڑی والی گھٹا، ضیاء بار سورج ، سایہ دار آسمان ہے، امام پر فضا زمین پر بہتا ہوا چشمہ پانی سے لبریز تالاب ، پر بہار سبزہ زار ہے، امام رفیق ، ساتھی ، شفیق والد، اورمہربان بھائی، شفیق ماں


 اور آفتوں اور بلاؤں میں جائے پناہ ہے مخلوق میں اﷲ کا امین اور بندوں پر اﷲ کی حجت ہے وہ اﷲ کی سلطنت میں اس کا خلیفہ ہے۔ امام اﷲ کی طرف سے بلانے والا ہے اﷲ کے حرم کا محافظ، گناہوں سے پاک ، عیوب سے بری علم سے مخصوص اور علم سے موسوم ہے امام دین کا نطام، مسلمانوں کی عزت اورمنافقین کے لیے باعث غیظ و غضب ہے امام کفار کے لیے پیغام ہلاکت ہے، امام اپنے زمانے میں یکتا ہوتا ہے کوئی اس کے رتبے تک نہیں پہنچ سکتا اور نہ کوئی عالم اس کے برابر ہوسکتا ہے نہ تو امام کا بدل مل سکتا ہے اور یہ ہی کوئی اس کا مثل و نظیر ہوتا ہے اس کے تمام فضائل بغیر طلب و اکتساب کے ساتھ مخصوص ہوتے ہین اور یہ اس کو فضل عطا کرنے والے خدا کی طرف سے خصوصٰیت ملی ہے پس کون ہے جو معرفت امام حاصل کرے اور کس کی مجال ہے کہ اپنی مرضی سے امام بنالے اور یہ بہت دور ہے عقل گمراہ ہے، دانش پریشان ، خرد حیران ہے آنکھیں چندھیا گئی ہیں، بڑے بڑے حقیر ہوگئے ہیں ، حکماء متحیر ہیں۔ صاحبان دانش قاصر، خطباء گنگ ، دانا جاہل ہوگئے شعر اتھک گئے اور ادباء عاجز ہوگئے ، بلغاء رہ گئے اور یہ تمام طبقے امام کی شان یا فضیلت بیان کرنے سے عاجز ہیں انہوں نے عاجزی اور تقصیر کا اعتراف کر لیا اور یہ لوگ امام کے  اوصاف یا نعمت و کنہ بیان کریں تو کیسے کریں جب کہ امام کا کوئی امر ان کی سمجھ میں نہیں آسکتا کسی کی مجال کہ اپنی جانب سے امام کا قائم مقام ہوسکے یا اس سے مستثنی کرسکے، ہرگز کس طرح اور کہاں ، وہ تو ثریا کی طرح لوگوں کے ہاتھون اور تعریف کرنے والوں کی زبانوں سے بلند اور دور ہے اور پس وہ ایسے صفات کے حامل کو کہاں سے اختیار کرسکتے یں اور اس تک عقلیں کب اور کیسے پہنچ سکتی ہیں اور ایسا کہاں مل سکتا ہے کیا تم خیال کرسکتے ہو کہ ایسا شخص آل رسول(ص) کے علاوہ کہیں مل سکتا ہے اﷲ کی قسم ان کے نفسوں نے انہیں دھوکا دیا ہے اور ان کے باطل خیالات نے انہٰیں جھوٹی آرزو میں مبتلا کیا ہے یہ ایک دشوار اور مہلک مقام پر چڑھ گئے ہیں جہاں سے پھسل کر تحت الثری میں گریں گے اور انہوں نے اپنی متحیر و ناقص عقلوں اور گمراہ آراء سے امام کا قصد کر لیا ہے اور یہ لوگ اسی وجہ سے امام برحق سے بہت دور چلے گئے ”قاتَلَهُمُ اللَّهُ أَنَّى يُؤْفَكُون (توبہ، ۳۰) ترجمہ : ”انہیں خدا مارے یہ کہاں بھٹک رہے ہیں“ با تحقیق انہوں نے بڑی جرات کی


 اور جھوٹ کہا ہے کہ سخت گمراہی میں پڑ گئے  ہیں اور دیدہ دانستہ امام برحق کو چھوڑ کر حیران ہوگئے شیطان نے ان کے غلط اعمال کو ان کے لیے مزین کردیا ( عنکبوت، ۲۸) اور راہ حق سے ان کو روک دیا اور انہوں نے جان بوجھ کر امام کو چھوڑ دیا انہوں نے خدا اور رسول(ص) کے اختیارات کا انکار کر کے اپنے اختیار کو ترجیح دی ہے حالانکہ قرآن ان کو پکار پکار  کر کہہ رہا ہے” وَ رَبُّكَ يَخْلُقُ مايَشاءُوَيَخْتارُماكانَ لَهُمُ الْخِيَرَةُسُبْحانَ اللَّه ِوَتَعالى‏عَمَّا يُشْرِكُون “ ( قصص، ۶۸) ترجمہ : ” اور تیرا رب جو چاہتا ہے خلق کرتا ہے اور جس کو چاہتا ہے مختار بناتا ہے “ ان کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ جس کو چاہیں اپنا مختار بنالیں اور اﷲ ان کے شرک سے پاک ہے اور فرماتا ہے ” وَ ما كانَ لِمُؤْمِنٍ وَلامُؤْمِنَةٍإِذاقَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْراًأَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُمِنْ أَمْرِهِمْ “ ( احزاب، ۳۶) ترجمہ : ” کسی مومن اور مومنہ کو اختیار نہیں کہ جب اﷲ اور اس کا رسول(ص) کسی امر کا فیصلہ کردین تو وہ اپنی مرضی سے اس میں تغیر و تبدل کریں“ خدا فرماتا ہے ” ما لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ أَمْ لَكُمْ كِتابٌ فيهِ تَدْرُسُونَ إِنَّ لَكُمْ فيهِ لَماتَخَيَّرُونَ أَمْلَكُمْ أَيْمانٌ عَلَيْنابالِغَةٌإِلى‏يَوْمِالْقِيامَةِإِنَّ لَكُمْ لَماتَحْكُمُونَ سَلْهُمْ أَيُّهُمْ بِذلِكَ زَعيمٌ أَمْ لَهُمْ شُرَكاءُفَلْيَأْتُوابِشُرَكائِهِمْ إِنْ كانُواصادِقين‏“ ( القلم، ۳۶ـ۴۱) ترجمہ : ” تمہیں کیا ہوگیا ہے تم کیسے فیصلے کرتے ہو آیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں پڑھتے ہو اور تمہارے واسطے اس میں جو کچھ موجود ہے یا تمہارا کامل عہد وپیمان قیامت تک ہم سے یہ ہے کہ جو کچھ تم حکم لگاؤ ہمیں منظور ہے اے پیغمبر(ص) ذرا ان سے پوچھئیے تو سہی کہ اس بات کا تم میں سے کون ذمہ دار ہے یا ان کے شرکاء ہیں اگر وہ اپنے دعوی میں سچےہیں تو وہ اپنے شرکاء کا بلائیں “ اﷲ فرماتا ہے ”أَفَلايَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلى‏قُلُوبٍ أَقْفالُها “ ( محمد، ۲۴) ترجمہ : یہ لوگ قرآن میں تدبر کیوں نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں۔ یا اﷲ نے ان کےدلوں پر مہر لگا دی ہے پس وہ کچھ سمجھ سکتے وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا حالانکہ نہیں سنتے “ ”إِنَّ شَرَّالدَّوَابِّ عِنْدَاللَّهِ الصُّمُّ الْبُكْمُ الَّذينَ لايَعْقِلُونَ وَ لَوْعَلِمَ اللَّهُ فيهِمْ خَيْراًلَأَسْمَعَهُمْ وَلَوْأَسْمَعَهُمْ لَتَوَلَّوْاوَهُمْ


مُعْرِضُونَ “ ( انفال، ۲۲ـ۲۳) ترجمہ ؛” بے شک اﷲ کے نزدیک سب سے برا چلنے پھرنے والا وہ ہے جو کچھ نہیں سنتا اور نہیں سمجھتا ہے اور اگر اﷲ کو ان میں کچھ بھلائی نظر آتی تو وہ ضرور ان کو سننے والا بناتا اور اگر سننے والا بناتا تو بھی وہ حق سے اعراض کر کے بھاگتے یا وہ کہتے کہ ہم نے سنا لیکن ہم مخالفت ہی کریں گے۔ “ ( خیر جو کچھ ہو) امامت فضل خدا ہے اور فضل خدا کا وصف یہ ہے ”لِكَ فَضْل ُاللَّهِ يُؤْتيهِ مَنْ يَشاءُوَاللَّهُ ذُوالْفَضْل ِالْعَظيمِ “ ( جمعہ، ۴) ترجمہ :” یہ خدا کا فضل ہے جسے چاہے عطا کرے اور اﷲ بڑے فضل کا مالک ہے“ پس کس طرح وہ امام کو خود اختیار کرسکتے ہیں حالانکہ امام ایسا عالم ہے کہ کوئی اس سے پوشیدہ نہیں ہے اور ایسا داعی ہے کہ تنگ نہیں ہوتا اور وہ تقدس ، طہارت ، نسک، زہد اورعلم وعبادت کو منبع و سرچشمہ ہوتا ہے امام دعوت رسول (ص) سے مخصوص ہوتا ہے اور وہ نسل بتول(ع) کا پاک و پاکیزہ فرد ہوتا ہے اس کے نسب میں کوئی شبہ نہیں ہوتا اور حسب میں کوئی اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا امام خاندان میں قریشی اور ہاشمی الاصل ہوتا ہے عترت رسول(ص) ہوتا ہے امام اﷲ کی خوشنودی کا ذریعہ ہے ، اشراف  کے لیے مایہ شرافت اور عبد مناف کی شاخ ہے علم میں نامی اور حلم میں کامل ہوتا ہے امام حامل بار امامت عالم سیاست، واجب الاطاعت ، قائم بامر اﷲ، خیر خواہ عباد اور محافظ دین خدا ہے۔ بے شک انبیاء (ع) وائمہ(ع) کو خدا توفیق دیتا ہے کہ مخزن علم و حکمت خود ان کو عنایت کرتا ہے جو کسی دوسرے کو نہیں دیتا اور ان کا علم اہل زمانہ سے زیادہ ہوتا ہے جیسا کہ خدا فرماتا ہے ”أَفَمَنْ يَهْدي إِلَى الْحَقِّ أَحَقّ ُأَنْ يُتَّبَعَ أَمَّنْ لايَهِدِّي إِلاَّأَنْ يُهْدى‏فَمالَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ “ (یونس، ۳۵) ترجمہ : ” کیا وہ شخص جو حق کی ہدایت کرتا ہے وہ زیاسدہ مستحق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ شخص جس میں ہدایت کی صلاحیت ہی نہیں اور دوسرے کی ہدایت کا محتاج ہے پس تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم کیسے فیصلے کرتے ہو“ اور فرمایا  ہے ”وَمَنْ يُؤْتَ الْحِكْمَةَفَقَدْأُوتِيَ خَيْراًكَثيراً “ ( بقرہ، ۲۶۹) ترجمہ : ”جس کو اﷲ کی طرف سے حکمت ملی اس کی خیر کثیر عطا ہوئی۔“ اور طالوت کے بارے میں فرمایا ہے ” َإِنَّ اللَّهَ اصْطَفاهُ عَلَيْكُمْ وَزادَهُ بَسْطَةًفِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ وَاللَّهُ يُؤْتي‏مُلْكَهُ مَنْ يَشاءُوَاللَّهُ واسِعٌ عَليمٌ “ ( بقرہ، ۲۴۷) ترجمہ : ”  بے شک اﷲ نے اس کو ہم پر مختار بنادیا ہے اور اسے علم اور جسم میں تم پر


زیادتی عطا فرمائی ہے اور اﷲ جس کو چاہتا ہے اپنا ملک عطا کرتا ہے اور اﷲ وسعت والا اور علم والا ہے۔“ اور اپنے پیغمبر(ص) کے بارےمیں فرماتا ہے اور ”وَ كانَ فَضْل ُاللَّهِ عَلَيْكَ عَظيماً “ (نساء، ۱۱۳) ترجمہ :” اور ہمیشہ سے تم پر اﷲ کا عظیم فضل رہا ہے “ اور ان(ع) کے خاندان کے بارے میں جو آل ابراہیم(ع) سے ہیں فرماتا ہے ”أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلى‏ماآتاهُم ُاللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ فَقَدْآتَيْناآلَ إِبْراهيمَ الْكِتابَ وَالْحِكْمَةَوَآتَيْناهُمْ مُلْكاًعَظيماًفَمِنْهُمْ مَنْ آمَنَ بِهِ وَ مِنْهُمْ مَنْ صَدَّ عَنْهُ وَ كَفى‏ بِجَهَنَّمَ سَعيراً “ (نساء، ۵۴ـ۵۵) ترجمہ : ”کیا ان فضائل پر جو اﷲ نے ان کو عطا کیے ہیں لوگ حسد کرتے ہیں پس اس سے پہلے بھی ہم نے آل ابراہیم(ع) کو کتاب حکمت اور ملک عظیم عطا فرمایا تھا پس بعض ان میں سے ایمان لائے اور بعض رک گئے اور جہنم ان کے عذاب کے لیے کافی ہے“ لہذا جب اﷲ اپنے  بندوں کے امور کے لیے کسی کا انتخاب کرتا ہے تو اس کے سینے کو کشادہ کردیتا ہے اور اس کے دل میں حکمت کے چشمے جاری کردیتا ہے اور اس کوہر طرح کا علم الہام کردیتا ہے پس وہ کسی سوال کے جواب سے عاجز نہیں ہوتا اور وہ حق سے کبھی منحرف نہیں ہوتا وہ معصوم پر موید ہے موفق ہے، مسدد ہے ہر طرح کی خطا ولغزش سے محفوظ ہے اور اﷲ اس کو ان امور سے مخصوص فرماتا ہے تاکہ وہ اس کے بندوں پر حجت ہو اور اس کی مخلوقات پر اس کا شاہدہو” یہ خدا کا فضل ہے جسے چاہے عطا کرے اور اﷲ برے فضل کا مالک ہے “ ( جمعہ، ۴) پس کیا یہ لوگ ایسے شخص کے انتخاب پر قدرت رکھتے ہیں جو ان صفاتِ حسنہ کا حامل ہو اور کیا ان کا اپنی مرضی سے چنا ہوا شخص مذکورہ صفات سے موصوف ہوسکتا ہے کہ اس کو مقتدا بنائیں خانہ خدا کی قسم یہ لوگ حق سے تجاوز کر گئے ہیں اور کتاب خدا کو انہوں نے پس پشت ڈال دیا ہے گویا کہ کچھ جانتے نہیں حالانکہ کتاب خدا میں ہدایت اور شفا ہے پس اس کو تو انہوں نے چھوڑ دیا ہے اور اپنی خواہشوں کی پیروی کر لی ہے، پس خدا نے ان کی مذمت کی  ہے اور ان کو مورد عذاب و ہلاکت قرار  دیا ہے فرمایا ہے ”وَ مَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَواهُ بِغَيْرِهُدىً مِنَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لايَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمينَ “ ( قصص، ۵۰) ترجمہ : ” اور اس سے بھی بھلا کوئی زیادہ گمراہ ہے جس نے اپنی خواہشات کی پیروی کی ہو حالانکہ اﷲ نے اس کو امر کی ہدایت


 نہیں کی اور اﷲ ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں کرتا“ اور فرماتا ہے ”فَتَعْساًلَهُمْ وَ أَضَلَّ أَعْمالَهُمْ “ (محمد،۸) ” پس ہلاکت ہے ان کے لیے اور ان کے سارے اعمال بے کار ہیں۔” اور فرمایا ” كَبُرَمَقْتاًعِنْدَاللَّهِ وَعِنْدَالَّذينَ آمَنُواكَذلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلى‏كُلِّ قَلْبِ مُتَكَبِّرٍجَبَّارٍ“ ( مومن، ۳۵) ” اﷲ اور اہل ایمان کے ہاں یہ سخت ناراضگی کا سبب ہے اور اسی طرح اﷲ ہر متکبر اور جبار کے دل پر مہر لگا دیتا ہے“

و صلی اﷲ علی محمدالمصطفی وعلی المرتضی و فاطم ه الز ه را ولائمة من ولد ه ا المصطف ي ن الاخيار آل ياسين الابرار و سلم تسليما کثيرا


فہرست

پیش لفظ 2

مجلس نمبر ۱ 9

( ۱۸ رجب ۳6۷ھ) 9

صلصال بن دلہمس. 9

حضرت یوسف(ع) و زلیخا 11

مجلس نمبر۲ 13

(۷ رجب ۳6۷ھ) 13

فضیلت رجب. 13

فضائل علی(ع) 15

مجلس نمبر ۳. 18


(۵ رجب سنہ۳6۷ھ) 18

حبِ علی(ع) کا فائدہ 18

مجلس نمبر۴ 21

(سلخ رجب سنہ۳6۷ھ) 21

وصی پیغمبر(ص) کون ہے.. 21

مجلس نمبر۵ 24

(۲ شعبان سنہ۳۶۷ھ) 24

قیامت میں فاطمہ(س) کی سواری. 25

مجلس نمبر۶ 27

(سات شعبان سنہ۳۶۷ھ) 27

مجلس نمبر۷. 31

( دس شعبان سنہ۳۶۷ھ) 31


فضائل شعبان. 31

مجلس نمبر ۸ 35

(۱۴ شعبان سنہ۳۶۷ھ) 35

زہد یحیٰ(ع) 35

مجلس نمبر۹ 40

( سولہ شعبان سنہ۳۶۷ھ) 40

جناب سلمان(رض) کا زندگی بھر کا روزہ 41

جناب علی(ع) کی فضیلت. 43

مجلس نمبر۱۰ 44

( بیس شعبان سنہ۳۶۷ھ) 44

مجلس نمبر۱۱ 48

(ماہ رمضان سے ایک ہفتہ قبل سنہ۳۶۷ھ) 48


استقبال رمضان. 48

بہلول تائب کا قصہ 49

مجلس نمبر۱۲ 54

( ماہ رمضان سے ۳ روز قبل سنہ۳۶۷ھ) 54

ماہ رمضان. 54

ثوابِ ماہِ رمضان. 55

مجلس نمبر ۱۳. 61

(اول ماہ رمضان سنہ۳۶۷ھ) 61

ماہ رمضان کا اجر 61

جنابِ رسول خدا(ص) اور شیبہ ہذلی 62

مجلس نمبر۱۴ 65

(پانچ رمضان سنہ۳۶۷ ھ) 65


ماہ رمضان کی فضیلت. 65

فضائل قاری قرآن. 66

مجلس نمبر ۱۵ 68

(آٹھ رمضان سنہ۳۶۷ھ) 68

مذمتِ شیطان. 68

جنابِ علی(ع) کی شہادت کی پیشگوئی 70

مجلس نمبر۱۶ 72

( بارہ رمضان سنہ۳۶۷ھ) 72

صبرکا ثواب. 72

سخائیل فرشتہ 73

ولی عہدی امام علی رضا(ع) 74

مجلس نمبر ۱۷. 76


(پندرہ رمضان سنہ۳۶۷ھ) 76

اسم محمد(ص) 76

معاویہ اور عمرو العاص.. 79

مجلس نمبر ۱۸ 81

(۱۹ رمضان سنہ۳۶۷ھ) 81

علی (ع) خیرالبشر 81

علی(ع) کی عبادت. 82

مغرب کا وقت. 84

مجلس نمبر۱۹ 86

(۲۲ رمضان سنہ ۳۶۷ھ) 86

ام ایمن کا خواب. 86

فرزندان مسلم بن عقیل(ع) 87


مجلس نمبر۲۰ 92

(۲۶ ماہ رمضان سنہ۳۶۷ھ) 92

عصمتِ انبیاء(ع) 92

ثواب افطار اور فضیلت علی(ع) 95

مجلس نمبر۲۱ 99

( سلخ ماہ رمضان سنہ۳۶۷ھ) 99

فتح خیبر کے بعد فضیلتِ علی(ع) 99

مجلس نمبر۲۲ 104

( یوم عیدالفطر،یکم شوال سنہ۳۶۷ھ) 104

اعرابی اور طلبِ قیمتِ اونٹ. 104

امام صادق(ع) اور عصمتِ انبیاء(ع) 105

آںحضرت(ص) کے قتل کا منصوبہ 107


مجلس نمبر۲۳. 110

(۳ شوال کی شب سنہ۳۶۷ھ) 110

مجلس نمبر۲۴ 113

(۴ شوال سنہ۳۶۷ھ ) 113

شہادت حسین(ع) کی خبر 113

توضیع وسیلہ 117

مجلس نمبر ۲۵ 119

(۱۷ ذالحجہ سنہ۳۶۷ھ) 119

( یہ مجلس طوس میں زیارت گاہِ حضرت رضا(ع) پر پڑھی گئی) 119

ثواب زیارت. 119

مجلس نمبر۲۶ 122

( بمقام مشہدِ رضا(ع) روز غدیر خم ۱۸ ذالحجہ سنہ۳۶۷ھ) 122


جنابِ امیر(ع) کا خطبہء غدیر پر شہادت طلب کرنا 122

عیدِ غدیر 125

مجلس نمبر ۲۷. 126

( اول محرم سنہ۳۶۷ھ مشہد سے واپس آنے کے بعد) 126

ولادت ِ علی(ع) 130

مجلس نمبر۲۸ 132

( پانچ محرم سنہ۳۶۷ھ) 132

شہادت حسین(ع) و مقتلِ حسین(ع) کی خبر 132

واقعہ فطرس. 135

مجلس نمبر۲۹ 137

(۸ محرم سنہ۳۶۸ھ) 137

زیارتِ حسین(ع) 137


فضل بن ربیع 143

مجلس نمبر۳۰ 147

(دس محرم الحرام سنہ۳۶۸ھ) 147

( یہ مجلس جنابِ صدوق نے مقتلِ حسین(ع) میں پڑھی) 147

مجلس عاشور 147

مجلس نمبر ۳۱(بقیہ مجلس ۳۰) 161

(روز عاشورا محرم سنہ۳۶۸ھ) 161

شام غریبان. 161

مجلس نمبر۳۲ 165

(شب بارہ محرم سنہ۳۶۸ھ) 165

سفرِ ذوالقرنین(ع) 166

بنی مصطلق. 169


مجلس نمبر۳۳. 171

(۱۵ محرم سنہ۳۶۸ھ) 171

فاتحہ الکتاب. 171

مجلس نمبر۳۴ 176

(۱۹ محرم سنہ۳۶۸ھ) 176

صفین میں چشمے کا پھوٹنا 179

مجلس نمبر۳۵ 182

(۲۲ محرم سنہ۳۶۸ھ) 182

یہودی کے سوالات اور رسولِ خدا(ص) کے جوابات. 182

مجلس نمبر۳۶ 192

(۲۹ محرم سنہ۳۶۸ھ) 192

خدا اور داؤد(ع) 192


مجلس نمبر۳۷. 198

( سلخ محرم سنہ۳۶۸ھ) 198

بعثتِ عیسیٰ(ع) 198

جنابِ موسیٰ(ع) کی خدا سے گفتگو 201

مجلس نمبر۳۸ 204

( چار صفر سنہ۳۶۸ھ) 204

فضائل اذان اور بلال(رح) 204

مجلس نمبر ۳۹ 211

( بروز جمعہ سات صفرسنہ۳۶۸ھ) 211

عبادتِ حضرت سجاد(ع) 212

مجلس نمبر۴۰ 216

(سب ۱۱ صفر سنہ۳۶۸ھ) 216


زہر سے قتلِ محمد(ص) کا منصوبہ 216

آواز ناقوس. 217

مجلس نمبر۴۱ 222

( چودہ صفر سنہ۳۶۸ھ) 222

عجائبات نگاہِ رسول(ص) میں. 222

وفاتِ حضرت موسیٰ بن عمران(ع) 224

مجلس نمبر ۴۲ 228

( شب ۱۸ صفر سنہ۳۶۸ ھ) 228

بارہ درہم 228

شہادتِ جنابِ علی(ع) کے بعد 231

مجلس نمبر۴۳. 234

( ۲۱ صفرسنہ۳۶۸ھ) 234


قحط اور اولادِ یعقوب(ع) 235

مجلس نمبر۴۴ 243

(۲۵ صفر سنہ۳۶۸ھ) 243

نزول سورہ دہر 246

مجلس نمبر۴۵ 250

( ۲۸ صفر سنہ۳۶۸ھ) 250

جنابِ عبدالمطلب(ع) کا خواب. 250

مجلس نمبر۴۶ 257

( یہ مجلس ماہ صفرسنہ۳۶۸ھ ختم ہونے سے دو شب پہلے پڑھی گئی) 257

حضرت عیسی(ع) کے لیے خدا کی ہدایات. 258

جناب رسول خدا(ص) کی رحلت. 261

مجلس نمبر۴۷. 263


(پانچ ربیع اول سنہ۳۶۸ھ) 263

جنابِ رسول خدا(ص) کا دنیا سے خطاب. 265

جنابِ امیر(ع) کا غلاموں سے برتاؤ 266

مجلس نمبر۴۸ 270

( ۹ ۔ ربیع اول سنہ۳۶۷ھ)) 270

ظہور محمدی(ص) اور ابلیس کی آسمان میں داخلہ بندی. 270

وفاتِ انس پر فرشتوں کی حاضری. 274

قیامِ شب. 275

مجلس نمبر۴۹ 278

( ماہ ربیع الاول سنہ ۳۶۸ھ) 278

(۹) امام صادق(ع) نے فرمایا اہل توحید 279

حضرت ابراہیم(ع) اور مرد عابد 280


مجلس نمبر۵۰ 284

(۱۶ ربیع الاول سنہ۳۶۸ھ) 284

مجلس نمبر ۵۱ 288

( ۱۹ ربیع الاول سنہ۳۶۸ھ) 288

قاضی شریح ( قاضی کوفہ، شریح ابنِ حارث) 290

وفات فاطمہ بنت اسد(ع) 292

مجلس نمبر ۵۲ 295

( ۲۴ ربیع الاول سنہ۳۶۸ھ) 295

حروف جُمِل( حروف ابجد) 295

رسول خدا(ص) کی رحلت کے بعد علی(ع) کا خطبہ 298

مواخات. 301

مجلس نمبر۵۳. 303


( ۲۶ ربیع الاول سنہ۳۶۸ھ) 303

حروف معجم( حروف تہجی) 303

کفن چور اور اسکا ہمسایہ 305

نیک یا بد 307

مجلس نمبر ۵۴ 309

( سلخ ربیع الاول سنہ۳۶۸ ھ۔ بموقع رؤیت ہلال) 309

امام علی نقی(ع) اور توحید 313

مجلس نمبر۵۵ 315

( چار ربیع الاول سنہ۳۶۸ھ) 315

ظاہری خلافت اور خطبہء علی(ع) 315

جناب علی(ع) کو برا کہنے والوں سے ابلیس کی گفتگو 320

مجلس نمبر۵۶ 323


(آٹھ ربیع الثانی سنہ۳۶۸ھ) 323

خروج زید(رح) 323

ابوشاکر دیصانی 325

رسول خدا(ص) اور معراج. 327

مجلس نمبر۵۷. 331

( گیارہ ربیع الثانی سنہ۳۶۸ھ) 331

جنابِ موسیٰ(ع) کو خدا کا ارشاد 331

مجلس نمبر۵۸ 335

(۱۵ ربیع الثانی سنہ۳۶۸ھ) 335

ایک تاجر 335

آداب حمام 336

جناب رسول خدا(ص) کا جناب امیر (ع) سے کلام 339


مجلس نمبر۵۹ 341

(۱۸ ربیع الثانی سنہ۳۶۸ھ) 341

سید الساجدین(ع) کا رسالہء حقوق. 341

مجلس نمبر۶۰ 350

(۲۲ ربیع الثانی سنہ۳۶۸ھ) 350

مامون الرشید 350

جناب موسی بن جعفر(ع) اور قید زندان. 352

بی بی ام سلمہ(رض) اور جناب امیر(ع) کا ایک غلام 354

شیخ ثمالہ 356

مجلس نمبر۶۱ 358

(۲۵ربیع الثانی سنہ۳۶۸ھ) 358

سعد بن معاد(رض) کی وفات. 358


دعائے قنوت. 363

مجلس نمبر۶۲ 365

( سلخ ربیع الثانی سنہ۳۶۸ھ) 365

وفات جناب زید(رح) 365

دنیا کیا ہے.. 366

جنابِ رسول خدا(ص) اور ایک یہوی نوجوان. 369

مجلس نمبر۶۳. 372

(۳ جمادی الاول سنہ۳۶۸ھ) 372

آںحضرت(ص) کی وصیت. 372

لیلة الہریر سے پہلے جناب امیر(ع) کا خطبہ 376

مجلس نمبر۶۴ 380

(۷ جمادی الاول سنہ۳۶۸ھ) 380


معرفت خدا 380

طریقہ نماز 383

جناب امیر(ع) اور ایک منجم 384

مجلس نمبر۶۵ 386

(۹جمادی الاول سنہ۳۶۸ھ) 386

حرمت کے بارے میں. 386

ثواب بمطابق عقل. 387

مجلس نمبر۶۶ 391

(۱۳ جمادی الاول سنہ۳۶۸ھ) 391

جناب رسول خدا(ص) کے نصائح 391

مجلس نمبر۶۷. 402

(۱۶ جمادی الاول سنہ۳۶۸ھ) 402


حسن بصری کا بیان. 402

منصور دوانیقی اور فضائلِ علی(ع) 403

مجلس نمبر۶۸ 410

(۲۰ جمادی الاول سنہ۳۶۸ھ) 410

سلمان(رض) کا ابوذر(رض) کی ضیافت کرنا 410

محافظ حسین(ع) 411

امام تقی(ع) کی زبانی جنابِ امیر(ع) کے چند ںصائح 414

مجلس نمبر۶۹ 417

(۲۳ جمادی الاول سنہ۳۶۸ ھ) 417

واقعہء معراج اور کفار 417

معراج. 418

مجلس نمبر۷۰ 420


(۲۷ جمادی الاول سنہ۳۶۸ھ) 420

انگوٹھیوں کے نقوش. 421

امت محمدی(ص) اور پچاس (۵۰) نمازیں. 423

دیدار خدا اور امام رضا(ع) 425

مجلس نمبر۷۱ 428

(غرہ جمادی الثانی سنہ۳۶۸ھ) 428

آںحضرت(ص) اور ایک مالدار یہودی. 429

عرب بیابانی اور پردہ کعبہ 431

مجلس نمبر۷۲ 436

(۵ جمادی الثانی سنہ۳۶۸ھ) 436

فضائل اہل بیت(ع) 436

مجلس نمبر۷۳. 441


(۸ جمادی الثانی سنہ۳۶۸ھ) 441

ابوذر(رح) کے اسلام لانے کا سبب. 441

فضائل اہل بیت(ع) 445

مجلس نمبر۷۴ 447

(۱۲جمادی الثانی سنہ۳۶۷ھ) 447

بہترین کون ہے.. 447

آنحضرت(ص) اور نزول ابر 450

جناب رسول خدا(ص) کی علی(ع) کو نصیحت. 452

مجلس نمبر۷۵ 454

(۱۵ جمادی الثانی سنہ۳۶۸ھ) 454

گرامی کون ہے.. 454

جنابِ علی (ع) اور بازارِ کوفہ 455


جنابِ عیسی(ع) اور صدقہ 457

ابو جرول کا بیان. 458

مجلس نمبر۷۶ 460

(۱۹جمادی الثانی سنہ۳۶۸ھ) 460

جناب سجاد(ع) کا خطبہ 460

مجلس نمبر۷۷. 466

(۲۲ جمادی الثانی سنہ۳۶۸ھ) 466

موت کا خاتمہ 466

حضرت نوح(ع) کی عمر 467

حضرت عیسی(ع) کا ایک قبر کے پاس سے گزر 468

روزِ خیبر علی(ع) کو علم عطا کیا جانا 468

مجلس نمبر۷۸ 470


(۲۶ جمادی الثانی سنہ۳۶۸ھ) 470

مواعظِ عیسیٰ(ع) 470

مجلس نمبر۷۹ 479

(سلخ جمادی الثانی سنہ۳۶۸ھ) 479

تفسیر اصطفاء(ع) 479

مجلس نمبر ۸۰ 498

(۴ رجب سنہ۳۶۸ھ) 498

فضائل ماہ رجب. 498

مجلس نمبر۸۱ 505

(۷ رجب سنہ۳۶۸ھ) 505

مالک بن انس اور امام صادق(ع) 505

مجلس نمبر ۸۲ 512


( ۱۱ رجب سنہ۳۶۸ھ) 512

سخاوت و جوانمردی. 512

جناب امیر(ع) کا وضو 514

حضرت عیسی(ع) کی اپنے اصحاب کو  نصیحت. 515

مجلس نمبر۸۳. 518

( ۱۴ رجب سنہ۳۶۸ھ) 518

جناب امیر(ع) اور بی بی فاطمہ(س) کی تزویج 518

فضائل علی(ع) و شیعیان علی(ع) 520

آسمان سے ستارے کا نزول. 524

مجلس نمبر۸۴ 525

(۱۸ رجب سنہ۳۶۸ھ) 525

جناب امیر(ع) کو عورت کے بارے میں نصائح 525


مومن کے اوصاف.. 528

غدیر خم میں آںحضرت(ص) کا فرمان. 532

مجلس نمبر۸۵ 534

(۲۲ رجب سنہ۳۶۸ھ) 534

استجابت دعا 534

باب مجاہد 535

چار آدمیوں سے اہل دوزخ کو آزار 537

مجلس نمبر۸۶ 540

(۲۵ رجب سنہ۳۶۸ھ) 540

آںحضرت(ص) کا ستارے کی خبر دینا 540

ثواب زیارت جناب ابو عبداﷲ (ع) ( امام حسین(ع)) 542

ہشام اور عمرو بن عبید کے درمیان مناظرہ 543


خدا کا فرشتہ ” محمود“. 546

مجلس نمبر۸۷. 547

(۲۸ رجب سنہ۳۶۸ھ) 547

بی بی فاطمہ(س) کی پیدائش. 547

آںحضرت(ص)  کے سیدہ(س) سے راز و نیاز 549

ارضِ نینوا 550

مجلس نمبر۸۸ 554

(سلخ رجب سنہ۳۶۸ھ) 554

آںحضرت(ص) کی ولادت با سعادت. 554

مجلس نمبر۸۹ 560

(غرہ شعبان سنہ۳۶۸ھ) 560

ربیع حاجب کا بیان. 562


مجلس نمبر ۹۰ 566

(۲شعبان سنہ۳۶۸ھ) 566

علم کیا ہے؟ 566

امام صادق(ع) اور ابنِ عوجا 567

علا بن حضرمی کے اشعار 569

دنیا جناب امیر(ع) کی نظر میں. 570

مجلس نمبر۹۱ 572

(۵ شعبان سنہ۳۶۸ھ) 572

آدم(ع) اور محمد(ص) 572

ذکر علی(ع) اور معاویہ 572

شیعیان علی (ع) کے بارے میں. 573

معصوم(ع) کا شیعوں سے خطاب. 574


طالب علم کی اقسام 576

مجلس نمبر۹۲ 578

(۹ شعبان سنہ۳۶۸ھ) 578

خلق کی دو قسمیں. 578

یحی بن یعمر 579

سدرة المنتہی 579

عصمت امام 580

وفات نبی(ص) اور غسل و کفن. 581

مجلس نمبر۹۳. 588

(۱۲ شعبان سنہ۳۶۸ھ) 588

شرائع الدین. 588

مجلس نمبر۹۴ 601


(۱۷ سترہ شعبان سنہ۳۶۸ھ) 601

حدیث طیر 601

دعبل خزاعی کا مرثیہ 605

روایت اباصلت اور وفات امام رضا(ع) 605

مجلس نمبر۹۵ 610

( بروز بدھ، جبکہ ماہ شعبان ختم ہونے میں ۱۲ دن باقی تھے سنہ۳۶۸ھ) 610

حضرت موسیٰ(ع) اور شیطان. 611

لقمان کی نصیحت. 613

مجلس نمبر۹۶ 615

(یہ مجلس جناب صدوق(رح) اسی روز یعنی بدھ سنہ۳۶۸ھ جب ماہ شعبان ختم ہونے میں بارہ دن باقی تھے پڑھی) 615

خدا کب سے ہے.. 615

آدم(ع) اور عقل. 615


مجلس نمبر۹۷. 618

( بروز جمعرات جبکہ ماہ شعبان سنہ۳۶۸ھ ختم ہونے میں ۱۱ روز باقی تھے۔) 618

امامت کی وضاحت. 618


مجالس صدوق (ترجمہ امالی شیخ صدوق)

مجالس صدوق (ترجمہ امالی شیخ صدوق)

اصلاح کتب

مؤلف: شیخ صدوق علیہ الرحمہ
: علامہ السید ذیشان حیدر جوادی قدس سرہ
قسم: متفرق کتب
صفحے: 658