آئین تربیت
تالیف:
آیت اللہ استاد ابراہیم امینی
ترجمہ :
قیصر عبّاس ثاقب نقوی
بسم الله الرحمن الحیم
عرض ناشر
دور حاضرمیں جہاں حضرت انسان نے مادیت میں اس قدر ترقس کی ہے اب وہ خلائی سفر کامیابی سے انجام دیتے ہوئے مظام شمسی میں دیگر سیارگان پر کمندین ڈال رہا ہے ، وہاں وہ اقدار انسانی میں مسلسل الخطاط کے مسئلہ سے بھی شدّت کے ساتھ دو چار ہے _ ظاہر ہے کہ یہ مادّی ترقی مادی تعلیم کے حصول کامنطقی نتیجہ ہے لیکن اقدار حیات کی ترقّی میں ایک اور چیز بھی ناگزیر ہے حبس کو تربیت کہتے ہیں _ یہ انسان کی ایسی ضرورت ہے جو مہد یعنی ماں کی گود سے شروع ہوتی ہے اور یہ وہ کیفیت ہے جبس کی عدم مو جود گی مادّی تعلیم کے با وجود انسان کو اس سطح پر لے آئی ہے جہاں ترقّی علوم مادّی کا عملی مقصد مخالفین کی حیات کو صفحہ ء ہستی سے یکمرمٹا دنیا ہے _ دنیا کی بڑی طاقتوں کے وہ منصوبے اس بات کی دلیل
ہیں جو بتدریج سائنسی تجربات کی شکل میں سامنے آرہے ہیں ان کے ذریعے کوشش کی جادہی ہے کہ ایسے ہتھیار ایجاد کریں ، جن کا استعمال کم سے کم وقت میں زیاد ہ سے زیادہ انسانوں کو نیست و نابود کردے _
ان تمام حالات کے پیش نظر تربیت انسان کی ضرورت ون بدن زیادہ محسوس ہوتی جارہی ہے _ کتا ب ہذا آئین تربیت ایران کے فاضل مصنّف جناب ابراہیم امینی نجف آبادی کی ایک نہایت عمدہ سعی ہے حبس میں تر بیت انسان کے موضوع پر اسوہ ء معصومین علیہم السلام کی روشنی میں بجث کی گئی ہے _ جیسا کہ ہم نے سطور بالا میں عرض کیا ہے ، تربیت کا پہلا مدرسہ آغوش مادر ہے _ اس سلسلہ مسن شاعر مشرق علاّمہ محمّد اقبال رحمة اللہ علیہ قرماتے ہیں _
سیرت فرزند ہا از امہات
جو ہر صدق وصفا از امہات
کتاب ہذا میں مندرجہ ذیل امور پر خصوصیت کے ساتھ روشنی ڈالی گئی ہے جو ضروریات تربیت میں شامل ہیں :
1 : جسمانی اور نفسانی دونوں میں تربیت کنندہ
کی امور تربیت سے کما حقّہ ، واقفیت
2: ہدف تربیت سے واقفیت _
3: تربیت کے لیے جن اقدار و اوضاع کی ضرورت ہوتی ہے ، ان سے کما حقّہ واقفیت _
فاضل مؤلّف نے یہ سب کچھ سیرت معصومین کی روشنی میں پیش کیا ہے _ ہم ان کی اس کاوش کو اردو زبان میں بطور ترجمہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کرر ہے ہیں _ امید و اثق ہے کہ یہ کتاب والدین اور اساتذہ کے لیے تربیت او لاد و شاگردان میں ایسی معاون ثابت ہو گی حبس سے دور مادیت میں قوم کو با اقدار انسان مل سکیں گے _
قارئین کرام سے استداعا ہے کہ کتاب ہذا کے مطالعہ کے بعد اپنی قیمتی آراء سے ادارہ مصباح الہدی پبلیکیشنز کو ضرور مطلع فرمائیں
طلبگاری تعاون
ڈائر یکڑ مصباح الہدی پبلیکیشنز
لاہور
انتساب
حضرت علی و فاطمہ سلام اللہ علیہما _ گی خدمت میں _ کہ جو اسلام کے مثالی ماں باپ ہیں _ جنہوں نے _ امام حسن ، امام حسین ، زینب اور ام کلشوم جیسی لائق اولاد کی تربیت کی _
ان لائق احترام ماں باپ _ کی خدمت میں _ جن کے دامن میں اما م خمینی روحی فدا جیسے با بصیرت اور مضبوط مو قف کے حامل رہبر کے سے فداکار اور آبرومند بیٹے پر وان چڑھے _
ان ماں باپ _ کی خدمت میں _ جو اپنے تربیت یافتہ مجاہد اور جانباز فرزندوں کی جدائی کا داغ سینے پر لگا ئے ہوئے ہیں _ وہی فرزند کہ جنہوں نے اسلام کے لیے شہادت نوش کیا اور اپنے عزیز خون کو نثار کر کے انقلاب اسلامی ایران کے چہر ے کو گل رنگ کردیا اور شجر اسلام کی آبیاری کی _
بسم الله الرحمن الرحیم
کچھ تر جمے کے بار ے میں
ترجمہ کیا ہو ؟ اس کی شرائط کیا ہیں؟ اس پر بہت کچھ کہا گیا ہے ، کہا جاتار ہے گا اور کہا جا تار ہنا چا ہیے معمولا دو طریقے ترجمے کے لیے رائج ہیں :
1_ لفظی ترجمہ
2_ آزاد اور مفہومی ترجمہ
ان دونوں کی اپنی خو بیاں ہیں ، دونوں کے حامیوں کے اپنے اپنے دلائل ہیں او ردونوں کے لیے موجود وزنی دلائل کی اپنے اپنے مقام پر اہمیت سے انکار بھی نہیں کیا جا سکتا _
ہمیں یہاں صرف _ زیر نظر ترجمے کے بار ے میں کچھ عرض کرنا ہے _
آئین تربیت کے خاص اسلوب نگارش اور ترجمے کے قارئین پر نظر نے ہم سے ایک جدا گانہ سے طرز ترجمہ کا تقاظا کیا ہو ہو نے ;
بعض مقامات پر لفظی ترجمہ ضروری سمجھا اور بعض عبارتوں کو فقط اردو کا لباس پہنا کر آپ تک پنچا دیا ہے _
بعض _ بلکہ بہت سے مقامات پر آزاد ترجمے کی روش اپنائی ہے اور مفہوم عبارت منتقل کرنے کی کوشش کی ہے
بعض مقامات پران دونون صورتوں سے کام نہیں لیا بلکہ مقصود پہنچانے کی کوشش
کی ہے کیونکہ دہاں ترجمے کی صورت مین مقصود مضمحل ہو جاتا اور مطلوب و مقصود کو بہر حال لفظ اور مفہوم پر فوقیت حاصل ہے _
جیسے اردو پر یورپی زبانوں کیے اثرات بے پناہ ہیں اسی طرح فارسی جیسی وسیع زبان بھی اپناد امن اس سے بچا نہیں سکی _ بہت سے انگیریزی لفظ اور اصطلاحات فرسی لہجے کا رنگ اختیار کر کے فارسی میں داخل ہو گئے ہیں یا یوں کہا جا ئے کہ فا رسیا لیے گئے ہیں _ اسی طرح فارسی کی اپنی اصطلاحات ہیں اور ہمارے ہاں اپنی اصطلاحات _ ان پہلوؤں کو ترجمہ کرتے ہو ئے ملحوظ رکھا گیا ہے _ متبادل اصطلاحات لکھی گئی ہیں جہاں جہاں ضروری محسوس ہو ا متبادل انگیزی اصطلاحات بھی لکھ دی گئی ہیں _
اصل کتاب میں قرآنی آیات اور روایات کی عربی عبارات نہایت ہی کم درج کی گئی ہیں ترجمہ کر تے ہو ئے خاص طور پر قرآنی آیات اپنے اصل متن کے ساتھ درج کردی گئی ہیں اور بہت سے مقامات پر روایات کی عربی عبارات بھی اصل متن کودیکھ کر لکھ دی کئی ہیں _
کوشش کی گئی ہے کہ عبادت رواں ، ساوہ او رعام فہم ہو لیکن پھر بھی یہ ترجمہ ہی ہے _ تالیف یا تضعیف نہیں لہذا کہیں کہیں بو جھل پن کا احساس ہو تو قارئین معاف فرمائیں _
کتاب چو نکہ تربیتی ہے لہذا بہت سے مطالب تکراری ہیں اور یہ تربیت کا تقاضا بھی ہے اور خاصہ بھی _ ترجمہ کرتے ہوئے اس حو الے سے تصرف سے دامن بچا نے کی کوشش کی گئی ہے _
مذکورہ امور میں سے بینادی امور پر خود صاحب کتاب یعنی حضرت آیت اللہ ابراہیم امینی سے تبادلہ خیال کے بعد ہم آہنگی پاکر ہمین کچھ اور بھی اطمینان ہے _
تنقید اور آراء کے لیے بہر حال ہم خندہ پیشانی سے منتظر ہیں _ کیوں کہ کمال کا راستہ انہی وادیوں سے ہو کرگزرتا ہے
مترجمین
پیشگفتار
تعلیم اور تربیت میں فرق ہے تعلیم کا معنی ہے آموزشی، سکھا نا یا کسی کو کوئی مطلب یاد کرانا_جب کہ تربیت کہ مطلب ہے شخصیت کی تعمیر اور پرورش _ تربیت کے ذریعے سے اپنے پسند کے مطابق افراد ڈھالے اور تیارکیے جا سکتے ہیں او رنتیجتا معاشر ے کو تبدیل کیا جا سکتا ہے _
ضروری ہے کہ تربیت ایک سو چے سمجھے اور دقیق پروگرام کے تحت انجام پا ئے تا کہ کا میابی کے ساتھ نتیجہ ثابت ہو _ تربیت ہیں صرف و عظ و نصیحت اور ڈرانا رھمکانا ہی کافی نہیں بلکہ پا ہیے کہ تمام حالت اور شرائط مقصد کے مطابق فراہم ہوں _ تا کہ مقصود حاصل ہو سکے _
تربیت کے لیے چند چیزیں ضروری ہیں _
1_ چاہیے کہ مربّی اس شخص کو اچھی طرح پہنچا نتا ہو کہ جس کی اسے تربیت کرنا ہے _ اس کی خوصیات اور اس کے جسمانی اور نفسیاتی رموز سے آگاہ ہو _
2_ مربّی کی نگاہ میں تربیت کا کوئی ہدف ہو نا چا ہیے _ یعنی اس کی نظر میں یہ ہونا چا سیے کہ وہ کیسا انسان بنا نا چاہتا ہے _
3_ تربیت کے لیے مربّی کے پاس کوئی پروگرام ہو نا چا ہیے _ یعنی اسے جاننا چاہیے کہ جیسی شخصیت و ہ پروان چڑھانا چاہتا ہے اس کے لیے کن حالات اور شرائط کی ضرورت ہے لہذا ان سب کو اسے فراہم کرنا چاہیے اور پورے غورو خوض سے کام لینا چاہیے _ پھر یہ ممکن ہو سکتا ہے کسی مثبت نتیجہ کا انتظار کرے _
تربیت کے لئے بہترین زمانہ بچین کا ہے کیونکہ بچے نے ابھی پوری شکل اختیار نہیں کی ہوتی اور ہر طرح کی تربیت کے لئے آمادہ ہوتا ہے _ یہ حساس اور اہم ذم داری پہلے مرحلہ پرماں باپ کے ذمے ہے _ لیکن تربیت ایک سہل اور سادہ سا کام نہیں ہے _بلکہ ایک انتہائی ظریف و حساس فن ہے کہ جس کے لیے کام کی شناخت ، کافی اطاعات ، تجربہ ، برد باری اور حوصلہ و عزم کی ضرورت ہے _ یہ بات باعث افسوس ہے کہ اکثرماں باپ فن تربیت سے آشنا نہیں _ یہی و جہ ہے کہ زیادہ تر بچوں کی کسی حساب شدہ اور منظم پروگرام کے تحت پرورش نہیں ہوتی بلکہ وہ گویا خود رو پودوں کی طرح پروان چڑ ھتے ہیں _
مشرق و مغرب کے ترقی یافتہ کہلا نے والے ممالک میں تربیت کے مسئلے کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے _ انہوں نے اس سلسلے میں بہت تحقیقات کی ہیں ، بہت سی سودمند کتا بیں لکھی ہیں اوران کے ہاں فن کے بہت سے ماہرین موجود ہین _ لیکن ہمارے ملک میں زندگی کے اس اہم مسئلہ کی طرف کوئی تو جہ نہیں کی گئی _ البتہ چند ایک ماہرین موجود ، ہیں اور تھوڑی بہت کتا بیں بھی ہیں لیکن اتنا کچھ کفایت نہیں کرنا _ دوسری زبانوں سے اس ضمن میں بہت سی کتابوں کافارسی میں ترجمہ ہوا ہے جو سب کی دسترس میں ہیں _ لیکن ان مشترقی اور مغربی کتابوں میں دوبڑے نقص موجود ہیں _
پہلا عیب یہ ہے کہ ان میں انسان کو فقط جسمانی حوالے اور اس کی دینا دی زندگی کے حوالے سے دیکھا گیا ہے اور بحث و تحقیق کی گئی ہے _اور وحانی سعادت و بد بختی اور اخروی زندگی سے یا غفلت برقی گئی ہے یااعراض کیا گیا ہے _
مغرب میں تربیت کے لیے اس کے علاوہ کوئی ہدف نہیں کہ بچے کی جسمانی طاقت اس کی حیوائی قوتوں ، اعصاب اور مغز کو صحیح طریقے سے پروان چڑ ھا یا جائے تا کہ جس و قت وہ بڑا ہو آرام سے زندگی گزارسکے اور مادی فوائد اور حیوانی لذتوں سے بہرہ مند ہو سکے اور ان کتابوں ہیں اگر اخلاق کے بارے مین گفتگو ہوتی بھی ہے تو وہ بھی ای دنیا وی زندگی اور مادی مفادات کے حصول سے مربوط ہے _ ان کتایوں میں روحانی کمالات یا نقائص کاذکر نہیں _
اخروی خوشبختی یا بد بختی کا تذکرہ نہیں اور مجموعی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے ان مین اخلاقی اور روحانی زندگی کے بارے مین کچھ نییں _ دوسراعیب یہ ہے کہ مغرب والوں کے نزدیک تربیتی مسائل کا انحصار تجربات اور شماریات پر ہے _ دذین کا ان پرکوئی رنگ نہیں _
لہذار یہ مابیں مسلمانوں کے نزدیک مفید ، جامغ اور کامل نہیں ہو سکتیں کیوں کہ ایک مسلمان کی نظر مین انسان کے دو پہلو میں _ ایک جسم اور دوسرا روح _ لیک دنیا دی زندگی اور دوسری اخروی زندگی _ لہذا قم نے فیصلہ کیا کہ اس سلسلے اس مین مطالعہ اور تحقیق کی جائے اور پھرا پنے نتیجہ کو تحریر کی صورت مین طالبین کی خدمت میں پیش کیا جائے _ اس کتاب کی تحریر کے لیے را قم کا اصلی ماخذ قآن اور کمتب حدیث و اخلاق ہیں _ البتہ بچے کی تربیت سے متعلق اور فضیات سے متعلق دسیلوں کتابیں جو فارسی اور عربی زبان مین ترجمہ ہو چکی مین او رحفظان صحت سے متعلق کتب سے بھی استفادہ کیا گیا ہے _ ایرانی علماء نے بچے کی تربیت کے متعلق جو کتابیں لکھی ہیں ان سے بھی استفادہ کیا گیا ہے _ البتہ اس سلسلے مین را قم کے اپنے بھی کچھ تجربات ہیں _ امید ہے کہ یہ نا چیز پیش کش تربیت کرنے والوں کے مفید ثابت ہو گی اور اسلام اور مسلمانوں کے لیے سودمند قرار پائے گی _
ابراہیم امینی نجف آبادی
حوزہ علمیہ قم
بہمن ماہ1358 ھ
جنوری سنہ 1980ئ
ماں باپ کی ذمہ داری
اسلام کی نظر مین ماں باپ کا مقام بہت بلند ہے _ اللہ تعالی نھ ، رسول اکرام نے اور آئمہ معصومین علیہم السلام نے اس بار ے میں بہت تا کید کی ہے اور اس سلسلے میں بہت سی آیات اور روایات موجود ہین _ ماں باپ سے حسن سلوک کو بہترین عبادات میں سے شمار کیا گیا ہے _ارشاد الہی ہے _ وقضی ربک الا تعبد و االا آیاه و لاوالدین احسنا
اورتیرے رب نے فیصلہ کردیا ہے کہ صرف اسی کی عبادت کرو اور والادن کے تاسھ حسن سلوک اختیاد کرو _ ( بنی اسرائیل 23 )
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے _
تین چیزین بہترین عمل ہین :
1_ پابندی وقت کے ساتے نماز نچگہنہ کی اوائیگی _
2_ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک اور
3_ راہ خدا میں جہاد
(اصول کافی ج 2 ص 158)
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ماں ماپ کو سہ مرتبہ کیوں اور کیوں کرملا ہے ؟ کیا اللہ تعالی انے انہیں یہ مقام بلا وجہ عطا کردیا ہے یا ان کے کسی قیمتی عمل کی وجہ سے ؟ ماں باپ بچے کے لیے کون سابڑا کام انجام دیتے ہیں کہ جس کے باعث وہ اس فذر مقام و خدمت کے لائق قرار
پاتے ہیں _ باپ نے ایک جنسی جذبے کس تسکین کے لیے ایک خلیہ حیات ( ) رحم مادر میں منتقل کیا ہے _ یہ سیل ماں کی جانب سے ایک اور سیل کے ساتھ مل کرمرکب ہو جاتا ہے جو ایک نئے وجود کے طور پر رحم مادر مین پرورش پاتا ہے _ جونو ماہ کے بعد ایک ننھے منے بچے کی صورت میں زمین پر قدم رکھتا ہے _ اں اسے دودھ او رودسری غذا دیتی ہے _ اسے کبھی صاف کرتی ہے کبھی کپڑ ے بدلتی ہے اس کی تری اور خشکی کا خیال رکھتی ہے ان مراحل میں باپ خاندان کے اخراجات پورے کرتا ہے اوران کی دیکے بھال کرتا ہے _ کیاماں باپ کی ان کاموں کے علاوہ کوئی مہ داری نہیں ؟ کیا انہی کاموں کی وجہ سے ماں باپ کو اس قدر بلند مقام حاصل ہے ؟ کیا صرف ماں باپ اپنی اولاد پر حق رکھتے ہیں اور اولاد اپنے مان باپ پر کوئی حق نہیں رکھتی ؟ میرے خیال میں ایسا یک طرفہ حق تو کوی بھی قبول نہیں کرتا _ احادیث معصومین علیم السلام میں ایسے حقوق اولاد بھی بان فرمائے کئے ہیں کہ جن کی ادائیکی ماں باپ کی ذمہ داری ہے _ ان میں سے چند احادیث ہم ذیل میں ذکر کر تے ہین :
1_ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :چنانچہ جس طرح تیرا باپ تجھ پر حق رکھتا ہے تیری اولاد بھی پر حق رکھتی ہے
مجمع الزوائد ، ج 8 ، ص 146
2_پیغمبر اکر م صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :جیسے اولاد اپنے ماں باپ کس نا فرمانی کی وجہ سے عاق ہو حاتی ہے اسی طرح سے ممکن ہے ماں باپ بھی اپنے فریضے کی عدم ادائیگی کے باعث اولاد کی طرف سے عاق ہو جائیں : بحار ، ج 10 ،ص 93
3_ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے فرمایا :
خدا ایسے ماں باپ پر لعنت کرے جو اپنی اولاد کے عاق ہونے کا باعث بنیں ( مکارم الاخلاق ، ص 518 )
4_ اما م سجّاد علیہ السلام نے فرمایا :
تیر ی اولاد کا حق یہ ہے کہ تو اس پر غور کر کہ وہ بری ہے یااچھی ہے بہر حال
تجھی سے وجود میں آئی ہے اوراس دنیا میں وہ تجھی سے منسوب ہے اور تیری ذمہ دار ہے کہ تو اسے ادب سکھا، اللہ کی معرفت کے لیے اس کی راہنمائی کر اور اطاعت پروردگار میں اس کی مددکر، تیرا سلوک اپنی اولاد کے ساتھ ایسے شخص کاساہونا چاہیے کہ جسے یقین ہوتا ہے کہ احسان کے بدلے میں اسے اچھی جزا ملے گی اور بد سلوکی کے باعث اسے سزاملے گی ''_ (مکارم الاخلاق ص 484)
5_ امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا:
''کہیں ایسا نہ ہو کہ تیری وجہ سے تیرا خاندان اور تیرے اقربا بدبخت ترین لوگوں میں سے ہوجائیں ''_ (غررالحکم ص 802)
6_ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:
''جو کوئی بھی یہ چاہتا ہو کہ اپنی اولاد کو عاق ہونے سے بچائے اسے چاہیے کہ نیک کاموں میں اس کی مدد کرے''_ (مجمع الزوائد ج 8 ص 146)
7_ پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا:
''جس کسی کے ہاں بیٹی ہو اور وہ اسے خوب ادب و اخلاق سکھائے ، اسے تعلیم دینے کے لیے کوشش کرے، اس کے لیے آرام و آسائشے کے اسباب فراہم کرے تو وہ بیٹی اسے دوزخ کی آگ سے بچائے گی '' _(مجمع الزوائد _ ج 8 _ ص 158)
سب سے بڑھ کر یہ کہ اللہ تعالی قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے :
یا ایها الذین آمنوا قو اانفسکم و اهلیکم ناراً وقودها الناس و الحجارة _
اے ایمان والو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ کہ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں _ (سورہ تحریم _ آیہ 6)
بچے نے سبب کہ ابھی وضع زندگی کے بارے میں کوئی راستہ متعین نہیں کیا ہوتا اور سعادت و بدبختی ہر دو کی اس میں قابلیت ہوتی ہے اس سے ایک کامل انسان بھی بنایا جا سکتا ہے اور ایک گھٹیا درجے کا حیوان بھی _ ہر انسان کی سعادت اور بدبختی اس کی کیفیت تربیت سے وابستہ ہے اور اس عظیم کام کی ذمہ داری ماں باپ کے کندھوں پر ڈالی گئی ہے _ اصولاً ماں باپ کا معنی یہی ہے _ ماں باپ یعنی انسان ساز اور کمال بخشنے والے دو وجود _ عظیم ترین خدمت کہ جو ماں باپ اپنی اولاد کے لیے انجام دے سکتے ہیں وہ یہ ہے اسے خوش اخلاق ، مہربان، انسان دوست ، خیرخواہ، حریت پسند، شجاع ، عدالت پسند، دانا، درست کام کرنے والا، شرافت مند ، با ایمان فرض شناس ، سالم ، محنتی ، تعلیم یافتہ ، اور خدمت گزار بننے کی تربیت دیں _
ماں باپ کو چاہیے کہ اپنے بچے کو اس طرح سے ڈھالیں کہ وہ دنیا میں بھی سعادت مند ہو اور آخرت میں بھی سرخرد_ ایسے ہی افراد در حقیقت ماں باپ کے عظیم مرتبے پر فائز ہو سکتے ہیں نہ وہ کہ جنہوں نے ایک جنسی جذبہ کے تحت اولاد کو وجود بخشاہے اور اسے بڑا ہونے کے لئے چھوڑدیا ہے کہ وہ خود بخود تر بیت پائے پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:باپ جو اپنی اولاد کو بہترین چیز عطا کرسکتا ہے وہ اچھا ادب اور نیک تربیت ہے _ (مجمع الزوائد _ ج 8 ص 159)
خصوصاً ماں کی اس سلسلے میں زیادہ اہمیت ہے _ حتی کہ دوران حمل بھی اس کی خوراک اور طرز عمل بچے کی سعادت اور بدبختی پر اثر انداز ہوتا ہے _
پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا:خوش نصیب وہ ہے کہ جس کی خوش بختی کی بنیاد ماں کے پیٹ میں پڑی ہو اور بدبخت وہ ہے جس کی سعادت کا آغاز شکم مادر سے ہوا ہو _ (بحار الانوار _ ج 77 _ ص115_133)
رسول اکرم (ص) نے فرمایا: الجنة تحت اقدام الامهات (مستدرک _ ج 2 _ ص 638)
جو ماں باپ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کی طرف توجہ نہیں کرتے بلکہ اپنی رفتار و کردار سے انہیں منحرف بنادیتے ہیں وہ بہت بڑے جرم کے مرتکب ہوتے ہیں ایسے ماں باپ سے پوچھنا چاہیے کہ کیا اس بے گناہ بچے نے تقاضا کیا تھا کہ تم اسے وجود بخشو کہ اب وجود میں لانے کے بعد اسے تم نے گائے ے بچھڑے کی طرح چھوڑدیا ہے _ اب جب کہ تم اس کے وجود کا باعث بن گئے ہو تو شرعاً اور عقلا ً تم ذمہ دار ہو کہ اس کی تعلیم و تربیت کے لیے کوشش کرو _ لہذا تعلیم و تربیت ہر ماں باپ کی عظیم ترین ذمہ داریوں میں سے ایک ہے _اس کے علاوہ ماں باپ معاشرے کے سامنے بھی جواب وہ ہیں _ آج کے بچے ہی کل کے مرد او رعورت ہیں _ کل کا معاشرہ انہیں سے تشکیل پاناہے _ آج جو سبق سیکھیں گے کل اسی پر عمل کریں گے _ اگر ان کی تربیت درست ہوگئی تو کل کا معاشرہ ایک کامل تراور صالح معاشرہ ہوگا اور اگر آج کی نسل نے غلط پروگرام کے تحت اور نادرست طور پر پرورش پائی تو ضروری ہے کہ کل کا معاشرہ فاسدتر اور بدتر قرارپائے _ کل کی سیاسی ، علم اور سماجی شخصیات انہیں سے وجود میں آئیں گی _ آج کے بچے کل کے ماں باپ ہیں _ آج کے بچے کل کے مربّی قرار پائیں گے _ اور اگر انہوں نے اچھی تربیت پائی ہوگی تو اپنی اولاد کو بھی ویسا ہی بنالیں گے اور اسی طرح اس کے برعکس _ لہذا اگر ماں باپ چاہیں _ تو آئندہ آنے والے معاشرہ کی اصلاح کرسکتے ہیں اور اسی طرح اگرچاہیں تو اسے برائیں اور تباہی سے ہمکنار کرسکتے ہیں _ اس طرح سے ماں باپ معاشرے کی حوالے سے بھی ایک اہم ذمہ داری کے حامل ہیں _ اگر وہ اپنے بچوں کی صحیح تعلیم و تربیت کے لیے کوشش کریں تو انہوں نے گویا معاشرے کی ایک عظیم خدمت سرانجام دی ہے او روہ اپنی زحمتوں کے صلے میں اجر کے حقدار ہیں اور اگر وہ اس معاملے میں غفلت اور سہل انگاری سے کام لیں تو نہ صرف اپنے بے گناہ بچوں کے بارے میں بلکہ پورے معاشرے کے لیے خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں اور یقینی طور پر بارگاہ الہی میں جواب وہ ہوں گے _
تعلیم و تربیت کے موضوع کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے _ ماں باپ اولاد کی تربیت کے لئے جو کوشش کرتے ہیں اور جو مصیبتیں اٹھاتے ہیں وہ سینکڑوں استادوں ، انجینئروں ، ڈاکٹروں اور عالموں کے کاموں پر بھاری ہیں _ یہ ماں باپ ہیں جو انسان کامل پرواں چڑھاتے ہیں اور ایک
لائق و دیندار استاد، ڈاکٹر اور انجینئر وجود میں لاتے ہیں _
خاص طور پر مائیں بچوں کی تربیت کے بارے میں زیادہ ذمہ داری رکھتی ہیں اور تربیت کا بوجھ ان کے کندھوں پر رکھا گیا ہے _ بچے اپنے بچپن کا زیادہ عرصہ ماؤں کے دامن میں ہی گزارتے ہیں _ اور آئندہ زندگی کے رخ کی بنیاد اسی زمانہ میں پڑتی ہے _ لہذا افراد کی خوشبختی اور بدبختی اور معاشرے کی ترقی او رتنزل کی کنجی ماؤں کے ہاتھ میں ہے _ عورت کا مقام وکالت وزارت ، اور افسری میں نہیں یہ سب چیزیں مقام مادر سے کہیں کم تر ہیں _ مائیں کامل انسانوں کی پرورش کرتی ہیں اور صالح وزیر، وکیل ، افسر اور استاد پروان چڑھاتی ہیں اور معاشرے کو عطا کرتی ہیں _
جو ماں باپ پاک، صالح اور قیمتی بچے پروان چڑھاتے ہیں نہ صرف یہ کہ وہ اپنی اولاد اور معاشرے کی خدمت کرتے ہیں بلکہ خود بھی اسی جہان میں ان کے وجود کی خیر وخوبی سے بہرہ مند ہوتے ہیں _ نیک اولاد ماں باپ کی سرافرازی کا سرمایہ ہوتی ہے اور ناتوانی کے زمانے میں ان کا سہارا ہوتی ہے _ اگر ماں باپ ان کی تعلیم و تربیت کے لیے کوشش کریں تو اسی دنیا میں اس کا نتیجہ دیکھیں گے اور اگر اس معاملے میں غفلت اور سہل انگاری سے کام لیں تو اسی دنیا میں اس کا ضرر بھی دیکھ لیں گے _
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:بری اولاد انسان کے لیے بڑی مصیبتوں میں سے ہے _ (غرر الحکم _ ص 180)
حضرت علی علیہ السلام نے یہ بھی فرمایاہے:بری اولاد ماں باپ کی آبروگنوادیتی ہے اور وارثوں کو رسوا کردیتی ہے _ (غررالحکم _780)
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:خدا رحمت کرے ان ماں باپ پر جنہوں نے اپنی اولاد کو تربیت دی کہ وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کریں _ (مکارم الاخلاق_ ص 517)
لہذا جو ماں باپ بن جاتے ہیں ان کے کندھے پر ایک بھاری ذمہ داری آن پڑتی ہے او ریہ ذمہ داری خدا کے حضور بھی مخلوق کے روبرو بھی اور اولاد کے سامنے بھی ہے _ اگر انہوں نے اپنی ذمہ داری کو صحیح طریقے سے ادا کردیا تو ان کے لئے ایک عظیم خدمت انجام دی ہے ، وہ دنیا و آخرت میں اس کا نیک صلہ پائیں گے _ لیکن اگر انہوں نے اس معاملے میں کوتاہی کی تو خود بھی نقصان اٹھائیں گے اور اپنی اولاد اور معاشرے کے ساتھ بھی خیانت اور ناقابل بخشش گناہ کے مرتکب ہوں گے _
تربیت کرنے والوں کی آگاہی اور باہمی تعاون
بچے کی تربیت کوئی ایسی سادہ اور آسان سی بات نہیں ہے کہ جسے ہر ماں باپ آسانی سے انجام دے سکیں _ بلکہ یہ کام بہت سی باریکیوں اور ظرافتوں کا حامل ہے _ اس میں سینکڑوں بال سے باریک تر نکات موجود ہیں _ مربی کا تعلق بچے کی روح سے ہوتا ہے _ وہ روحانی ، نفسیاتی علمی اور تجرباتی پہلوؤں سے آگاہی کے بغیر اپنی ذمہ داری بخوبی انجام نہیں دے سکتا _ بچے کی دنیا ایک اور ہی دنیا ہے اور اس کے افکار ایک اور ہی طرح کے افکار ہیں اس کی سوچوں کا انداز مختلف ہوتا ہے ، جس کا بڑوں کے طرز تفکر سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا بچے کی روح نہایت ظریف اور حساس ہوتی ہے اور ہر نقش سے خالی ہوتی ہے اور ہر طرح کی تربیت کو قبول کرنے کے لئے آمادہ ہوتی ہے _ بچہ ایک ایسا چھٹا سا انسان ہوتا ہے ، جس نے ابھی تک ایک مستقل شکل اختیار نہیں کی ہوتی جب کہ ہر طرح کی شکل قبول کرنے کی اس میں صلاحیت ہوتی ہے _ بچے کے مربّی کو انسان شناس اور بالخصوص بچوں کا شناسا ہونا چاہیے _ تربیت کے اسرار و رموز پر اس کی نظر ہونی چاہیے _ انسانی کمالات او رنقائص پر اس کی نگاہ ہونے چاہیے _ اس کے اندر احساس ذمہ داری بیدار ہونا چاہیے اور اسے اپنے کام سے دلچسپی بھی ہونا چاہیے _ اسے صابراور حوصلہ مند ہونا چاہیے اور مشکلات سے ہراسان نہیں ہونا چاہیے _ علاوہ ازین تربیت کے قوانین سو فیصد کلی نہیں ہوتے کہ جنہیں ہر جگہ پر اور ہر کسی کے لیے قابل اعتماد قرار دیا جا سکے _ بلکہ ہر بچے کی اپنی جسمانی ساخت اور عقلی صلاحیتوں کے اعتبار سے اپنی ہی خصوصیات ہوتی ہیں لہذا اس کی تربیت اس کی جسمانی ساخت ، عقلی قوتوں ، حالات اور ماحول کے تقاضوں کی مناسبت
سے ہونی چاہیے _ ماں باپ کو چاہیے کہ بچے کی جسمانی ساخت کا صحیح طرح سے جائزہ لیں اور اسی کے پیش نظر اس کی تربیت کریں ورنہ ممکن ہے ان کی کوششوں کاوہ نتیجہ برآمد نہ ہوسکے جو ان کی خواہش ہے _
مرداور عورت کو چاہیے کہ ماں باپ بننے سے پہلے بچے کی تعلیم و تربیت کے طریقے سے آگاہی حاصل کریں _ اس کے بعد بچے کی پیدائشے کے لئے اقدام کریں ، کیوں کہ بچے کی تربیت کامرحلہ اس کی ولادت سے بلکہ اس سے بھی پہلے شروع ہوجاتاہے _ اس حساس عرصے میں بچے کی لطیف اور حساس طبیعت کوئی شکل اختیار کرتی اور اس کے اخلاق، کردار ، عادات حتی کہ افکار کی بنیاد پڑتی ہے _
یہ صحیح نہیں ہے کہ ماں باپ اس حاس عرصے میں غفلت سے کام لیں اور تعلیم و تربیت کو آئندہ پر ٹال دیں _ یعنی تعلیم و تربیت کو اس وقت پر اٹھانہ رکھیں کہ جب بچہ اچھے یا برے اخلاق و کردار یا اچھی یا بری عادتوں کے بارے میں تقریبا ایک مزاج اختیار کرچکا ہو _ کیونکہ ابتدائی مراحل میں تربیت عادتوں کے تبدیل کرنے کی نسبت کہیں آسان ہے _ عادت کا تبدیل کرنا اگرچہ ناممکن نہیں تا ہم اس کے لیے بہت زیادہ آگاہی، صبر ، حوصلہ اور کوشش کی ضرورت پڑتی ہے اور یہ سب تربیت کرنے والوں کے بس کی بات نہیں _
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: اصعب السیاسیات نقل العادات'' مشکل ترین سیاست لوگوں کی عادات کو تبدیل کرنا ہے '' (غرر الحکم ص 181)
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: للعادة علی کلّ انسان سلطان عادت انسان پر مسلط ہوجاتی ہے _ (غررالحکم _ص 580)
امیر المؤمنین علیہ السلام فرماتے ہیں: ''العادة طبع ثان'' ''عادت فطرت ثانیہ بن جاتی ہے '' _ (غررالحکم _ ص 26)
ترک عادت اس قدر مشکل ہے کہ اسے بہترین عبادتوں سے شمار کیا گیا ہے حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :
''افضل العبادة غلبة السعادة'' '' بری عادت پر غلبہ پالینا افضل ترین عبادتوں میں سے ہے '' ( غرر الحکم _ص 176)
بچے کو راہ کمال پر تربیت دینے کے لیے ایک مسئلہ یہ بھی اہم ہے کہ ماں باپ اور دیگر تمام مربیوں کے درمیان فکری اور عملی طور پر تربیت کے تمام پروگراموں میں اور ان کے اجراء کی کیفیت میں ہم آہنگی اور تفاہم موجود ہو _ اگر ماں باپ اور دیگر لوگ کہ جن کا بچے کی تربیت میں عمل دخل ہو مثلاً دادا اور دادی و غیرہ ان کے درمیان تربیتی پروگراموں میں اتفاق اور ہم آہنگی موجود ہو اور ان کے اجرائیں وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں تو وہ مطلوب نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں اور ایک اچھا اور ممتاز بچہ پروان چڑھا سکتے ہیں _ لیکن اگر ان میں سے کوئی ایک بھی تربیت کے بارے بے اعتناء یا تربیتی امور میں خلاف سلیقہ رکھتا ہو تو مراد حاصل نہیں ہوسکتی کیونکنہ تربیت کے مسئلہ میں مکمل یقین اور ہم آہنگی ضروری ہے _
بچے کو اپنے فریضے سے آگاہی ہونا چاہیے _ جب ماں باپ کچھ اور کہہ رہے ہیں اور دادا دادی اور تو بچہ حیران و پریشان ہوجاتا ہے _ اسے سمجھ نہیں آتی کہ کیا کرے _ بالخصوص اگر ان میں سے ہر کوئی اپنے نظریے پر زور دے رہا ہو _ ایسی صورت میں نہ فقط یہ کہ اچھا نتیجہ نہیں نکلتا بلکہ ایسا ہوتا تربیت میں نقص کا باعث بھی بن سکتا ہے _ تربیت کی بڑی مشکلات میں سے یہ ہے کہ بچے کے بارے میں باپ کچھ فیصلہ کرے اور ماں یا دادی اس میں دخالت کرکے اس کے برخلاف عمل کرے یا پھر اس کے الٹ مسئلہ ہو _ مربیوں کے درمیان ایسے اتفاق اور ہم آہنگی کی ضرورت ہے کہ جس سے بچہ واضح طور پر یہ سمجھ سکے کہ اسے کیا کرنا ہے اور اس کی خلاف ورزی کا خیال اس کے ذہن میں نہ آئے _
کبھی یوں ہوتا ہے کہ باپ ایک خوش اخلاق اور اچھا تربیت یافتہ بچہ پروان چڑھانا چاہتا ہے لیکن ماں بداخلاف اور بے تربیت ہوتی ہے اسے تربیت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اور کبھی معاملہ اس کے برعکس ہوتا ہے _ یہ مشکل بہت سے گھرانوں میں نظر آتی ہے _ ایسے
خاندانوں میں پرورش پانے والے بچے عموماً اچھی اور صحیح تربیت کے حامل نہیں ہوتے کیونکہ ایک تربیت یافتہ اور صالح فرد کی تربیت اس کی ناصالح بیوی کے سبب بے اثر ہوجاتی ہے _ اس صورت میں صحیح تربیت بہت مشکل امر بن جاتا ہے البتہ ایسی دشواریں کا یہ مطلب نہیں کہ ہم تربیت کی ذمہ داری سے دست بردار ہوجائیں _
ایسی صورت میں تربیت کی ذمہ داری اور بھی ہواہوجاتی ہے _ چاہیے کہ ایسی صورت میں اولاد کی تربیت کے بارے میں زیادہ توجہ دی جائے _ اپنے اخلاق و کردار کی پوری طرح اصلاح کی جائے اور بچوں کی زیادہ دیکھ بھال سے کام لیا جائے اور ان سے زیادہ سے زیادہ مانسیت پیدا کی جائے _ اچھے کام اور خوش رفتاری کے ذریعے بچوں کی توجہ اپنی طرف جذب کی جائے اور ان کے لیے بہترین نمونہ عمل بن جایا جائے _ اپنے بچوں سے تفاہم پیدا کیا جائے _ اچھائی برائی اور نیکی بدی کا مفہوم ان کے سامنے کامل طور پر واضح کیا جائے _ ایسا عمل کیا جائے کہ بچہ خودبخود اچھے اور برے اخلاق کے درمیا ن تمیز کرسکے اور برائیوں سے متنفر ہو جائے _ اگر مرّبی عاقل ، تدبر، صابر، اور حوصلہ مند ہو تو کسی حد تک اپنے ہدف تک پہنچ سکتا ہے اور اپنی بیوی کی غلط تربیت اور بدآموزی کی اثرات زائل کرسکتا ہے _ بہر حال یہ ایک مشکل اور اہم کام ہے لیکن کے علاوہ چارہ بھی نہیں _
ایک دانشور کا قول ہے :
وہ خاندان کہ جس میں ماں اور باپ کی تربیت کے بارے میں ہم فکر ہیں اور اپنے کردار اور رفتار کو اس کے مطابق ڈھالتے ہیں تو بچے کے اعصاب کے لیے مناسب ماحول مہیا ہوجاتا ہے _ خاندان ایک ایسا چھوٹا سا معاشرہ ہے کہ جس میں بچے کی اخلاقی خصوصیات ایک خاص صورت اختیار کرتی ہیں _ وہ خاندان کہ جس کے افراد ایک دوسرے سے دوستانہ برتاؤ کرتے ہیں اس کے بچے عموماً متین ، خوددار اور انصاف پسند ہوتے ہیں _ اس کے برعکس وہ
گھر کہ جس میں ماں باپ کے درمیان روزروز کی نوک جھونک اورتو تکرار رہتی ہے اس کے بچے کج اخلاق ، بہانہ ساز اور غصیلے ہوتے ہیں _ (1)
-----------
1_ روان شناسی تجربی کو دک ص 191_
تربیت عمل سے نہ کہ زبان سے
بہت سے ماں باپ ایسے ہیں جو تربیت کے لیے وعظ و نصیت اور زبانی امر و نہی کافی سمجھتے ہیں _ وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ جب وہ بچے کو امر و نہی کررہے ہوتے ہیں ، اسے زبانی سمجھا بجھارے ہوتے ہیں تو گویا وہ تربیت میں مشغول ہیں اور باقی امور حیات میں وہ تربیت سے دست بردار ہوجاتے ہیں _ یہی وجہ ہے کہ ایسے ماں باپ ننھے بچے کو تربیت کے قابل نہیں سمجھتے اور کہتے ہیں کہ ابھی بچہ ہے کچھ نہیں سمجھ سکے گا _ جب بچہ رشد و تمیز کی عمر کو پہنچتا ہے تو وہ تربیت کا آغاز کرتے ہیں _ جب وہ خوب و بد کو سمجھنے لگے تو اس کی تربیت شروع کرتے ہیں _ جب کہ یہ نظریہ بالکل غلط ہے _ بچہ اپنی پیدائشے کے روز ہی سے تربیت کے قابل ہوتا ہے _ وہ لحظہ لحظہ تربیت پاتا ہے اور ایک خاط مزاج ہیں ڈھلتا چلا جاتا ہے ، ماں باپ متوجہ ہوں یا نہ ہوں _ بچہ تربیت کے لیے اس امر کا انتظار نہیں کرتا کہ ماں باپ اسے کسی کام کا حکم دیں یا کسی چیز سے روکیں بچے کے اعصاب اور حساس و ظریف ذہن روز اوّل ہی سے ایک کیمرے کی طرح تمام چیزوں کی فلم بنانے لگتے ہیں اور اسی کے مطابق اس کی تعمیر ہوتی ہے او ر وہ تربیت پاتاہے _ پانچ چھ سالہ بچہ تعمیر شدہ ہوتا ہے اور جو ایک خاص صورت اختیار کرچکا ہوتا ہے اور جو کچھ اسے بننا ہوتا ہے بن چکتا ہے _ اچھائی یا برائی کا عادی ہوچکتا ہے لہذا بعد کی تربیت بہت مشکل اور کم اثر ہوتی ہے بچے تو بالکل مقلد ہوتا ہے وہ اپنے ماں باپ اور ادھر ادھر رہنے والے دیگر لوگوں کے اعمال، رفتار اور اخلاق کو دیکھتا ہے اور اس کی تقلید کرتا ہے وہ ماں باپ کو احترام کی نظر سے دیکھتا ہے اور انہیں کے طرز حیات اور کاموں کو اچھائی اور برائی کا
معیار قرار دیتا ہے اور پھر اسی کے مطابق عمل کرتا ہے _ بچے کا وجود تو کسی سانچے میں نہیں ڈھلا ہوتا وہ ماں باپ کو ایک نمونہ سمجھ کر ان کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالتا ہے _ وہ کردار کو دیکھتا ہے باتوں اور پند ونصیحت پر توجہ نہیں دیتا _ اگر کردار گفتار سے ہم آہنگ نہ ہو تو وہ کردار کو ترجیح دیتا ہے _
بیٹی اپنی ماں کو دیکھتی ہے اور اس سے آداب زندگی ، شوہر داری ، خانہ داری اور بچوں کی پرورش کا سلیقہ سیکھتی ہے اور اپنے باپ کو د یکھ کے مردوں کو پہچانتی ہے _ بیٹا اپنے باپ کے طرز زندگی سے درس حبات لبتا ہے ، اس سے بیو ی اور بچوں سے سلوک کرنا سکیھتا ہے اور اپنی ماں کے طرر عمل سے عورتو کو پہچانتا ہے اور اپنی آئندہ زندگی کے لیے اسی کو دیکھ کر منصوبے بنا تا ہے _
لہذا ذمہ دار اور آگاہ افراد کے لیے ضروری ہے کہ ابتدامیں ہی اپنی اطلاح کریں _ اگر ان کے اعمال ، کردار اور اخلاف عیب دار ہیں توا ان کی اطلاح کریں _ اچھی صفات اپنائیں نیک اخلاق اختیار کریں اور پسندیدہ کردار ادار کریں _ مختصریہ کہ اپنے آپ کو ایک اچھے اور کامل انسان کی صورت میں ڈھالیں اس کے بعد نئے انسانوں کی تولید اور پرورش کی طرف قدم بڑھائیں _ ماں باپ کو پہلے سو چنا چا ہیے کہ و ہ کس طرح کا بچہ معاشر ے کے سپرد کرنا چاہتے ہیں اگر انھیں یہ پسند ہے کہ ان کا بچہ خوش اخلاق ، مہربان ، انسان دوست ، خیر خواہ ، دیندار ، با ہدف شریف ، آگاہ حریت پسند ، شجاع ، مفید ، فعال ، اور فرض شناس ہو تو خود انہیں بھی ایسا ہی ہو نا چاہیے تا مہ وہ بچے کے لیے نمونہ عمل قرار پائیں _ جس ماں کی خواہش ہو کہ اس کی بیٹی فرض شناس ، خوش اخلاق ، مہربان ، سمجھدار ، شوہر کی وفادار ، باتمیز ، ہر طرح کے حالات میں گزر لبسر کر لینے والی اور نظم و ضبط حیات حاصل کرے _ اگر ماں بد اخلاق ،بے ادب ، سست ، بے نظم ، بے مہر ، کثیف ، دوسروں سے زیادہ توقع با ند ھنے والی اور بہانہ ساز ہو تو وہ صرف و عظ و نصیحت سے ایک اچھی بیٹی پروان نہیں چڑھا سکتی _
ڈاکٹر جلالی لکھتے ہیں _
بچوں کو احساسات اور جذبات کے اعتبار سے وہی لوگ صحیح تربیت وے سکتے ہیں کہ جنہوں نے اپنے بچپن میں اور باقی تمام عمر صحیح تربیت پائی ہو _ جوماں باپ آپس میں ناراض رہتے ہوں اور چھوٹی باتوں پر جھگڑاتے ہوں ، یا جن لوگوں نے کاردبار کے طور پرپرورش کا سلسلہ شروع کیا ہو اور انھیں تربیت دینے کا کوئی ذوق و شوق نہ ہو _ اور جو بچوں کو نقرت کی نگاہ سے دیکھتے ہوں ، خود حوصلے سے عاری ہوں اور غصیلی طبیعت رکھتے ہوں اور جنیں خود اپنے آپ پر اعتماد نہ ہو وہ بچوں کے جذبات اور احساسات کو صحیح راستے پر نہیں ڈال سکتے (1)
ڈاکٹر جلالی مزید لکھتے ہیں : بچے کی تربیت جس کے بھی ذمے ہوا سے چاہیے کہ کبھی کبھی اپنی صفات کا بھی جائزہ لے اور اپنی ذمہ داریوں کے بار ے میں سو چے اور اپنی خامیوں کو دور کرے (2)
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :
من نصب نفسه اماماً فلیبدا بتعلیم نفسه قبل تعلیم غیره و لیکن تادیبه بسیرته قبل تادیبه بلسانه و معلّم نفسه و مؤدبها احق بالاجلال من معلم النّاس و مؤدبهم _
جو شخص دوسروں کا پیشوا بنے چاہیے کہ پہلے وہ اپنے اصلاح کرے پھر دوسروں کی اصلاح کے لیے اٹھے اور دوسروں کو زبان سے ادب سکھانے سے پہلے اپنے کردار سے ادب سکھائے اور جو اپنے آپ کو تعلیم اور ادب سکھاتا ہے وہ اس شخص کی نسبت زیادہ عزّت کا حقدار ہے جو دوسروں کو ادب
-------------
1_ روان شناسی کودک_ ص 296_
2_ روان شناسی کودک ص 297_
سکھاتا ہے _ (نہج البلاغہ _کلامت قصار نمبر 73)
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: وقّروا کبارکن یوقّرکم صغارکم
تم اپنے بزرگوں کا احترام کرو تا کہ تمہارے بچے تمہارا احترام کریں _(غرر الحکم _ ص 78)
پیغمبر اکرم (ص) نے حضرت ابوذر سے فرمایا:
جب کوئی شخص خود صالح ہوجاتا ہے تو اللہ تعالی اس کے نیک ہوجانے کے وسیلے سے اس کی اولاد اور اس کی اولاد کی اولاد کو بھی نیک بنادیتا ہے _(مکارم الاخلاق _ ص 546)
امیر المومنین (ع) فرماتے ہیں: ان سمت همّتک لاصلاح النّاس فابدء بنفسک فانّ تعاطیک صلاح غیرک و انت فاسد اکبر العیب
اگر تو دوسروں کی اصلاح کرنا چاہتا ہے تو اس سلسلے کا آغاز اپنی ذات کی اصلاح سے کر اور اگر تودوسروں کی اصلاح کرنا چاہے اور اپنے آپ کو فاسد ہی رہنے دے تو یہ سب سے بڑا عیب ہوگا _ (غرر الحکم ص 278)
تو یہ سب سے بڑا عیب ہوگا _
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: انّ الوعظ الّذی لا یمّجه سمع و لا یعوله نفع ما سکت عنه لسان القول و نطق به لسان الفعل
جس نصیحت کے لیے زبان گفتار خاموش ہو اور زبان کردار گویا ہو کوئی کان اسے باہر نہیں نکال سکتا اور کوئی فائدہ اس کے برابر نہیں ہوسکتا_ (غرر الحکم ص 232)ایک خاتون اپنے ایک خط لکھتی ہے:
... میرے ماں باپ کے کردار نے مجھ پر بہت اثر کیا ہے انہوں نے ہمیشہ میرے ساتھ اور میرے بہن بھائیوں کے ساتھ مہربانی کی ہے _ میں نے کبھی بھی ان کے
کردار اور گفتار میں برائی نہیں دیکھی _ خود ہماری بہت عادت ویسی ہی ہوگئی _ میں ان کا اچھا اخلاق اور کردار بھلا نہیں سکتی _ اب جب کہ میں خودمان بن گئی ہوں تو کوشش کرتی ہوں کہ کوئی برا کام خاص طور پر اپنے بچوں کے سامنے مجھ سے سرزد نہ ہو _ میرے ماں اور باپ کا کردار میری زندگی میں میرے لئے نمونہ عمل بن گیا _ میں کوشش کرتی ہوں کہ اپنے بچوں کی بھی اس طرح سے تربیت کروں _
ایک اور خاتون اپنے خط میں لکھتی ہیں:
... جب میں اپنی گزشتہ زندگی کے بارے میں سوچتی ہوں تو مجھے یاد آتا ہے _ کہ میری ماں چھوٹی چھوٹی باتوں میں ایسے ہی چیختی چلاتی تھی _ اب جب کہ میں خودماں بن گئی ہوں تو میں دیکھتی ہوں کہ تھوڑی سی کمی کے ساتھ وہی میری حالت بھی ہے _ اس کی ساری بد اخلاقیاں مجھ میں پیدا ہوگئی ہیں اور عجیب مسئلہ یہ ہے کہ میں جتنا بھی کوشش کرتی ہوں کہ اپنی اصلاح کروں نہیں کر پاتی ہوں _ یقینی طور پر میرے لئے یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ ماں باپ کا کردار اور اخلاق اولاد کی تربیت پر ضرور اثر انداز ہوتا ہے اور یہ جو کہا جاتا ہے : کہ ماں اپنی تربیت کے ذریعے ایک دینا کو بدل سکتی ہے بالکل درست بات ہے _
گھریلو لڑائی جھگڑے سے پرہیز
بچے کے لیے گھر آشیانے کے مانند ہے _ وہ خود کو اس سے وابستہ سمجھتا ہے اور اس کا دل اسی سے بندھا ہوا ہے _ اگر اس کے ماں باپ آپس میں اچھے دوست ہوں تو اس کا آشیانہ پائیدار ، گرم آغوش کی طرح اور باصفا ہوگا _ ایسے گھر میں بچہ آرام و اطمینان کا احساس کرے گا _ اس اچھے آشیانے میں پرورش پانے سے بچے کی داخلی صلاحیتیں صحیح طور پر پرواں چڑھتی ہیں اور نتیجہ خیز ثابت ہوتی ہیں _ لیکن اگر ماں باپ میں لڑائی جھگڑا ہوا تو بچے کا چین اور سکون چھن جاتا ہے _ وہ پریشان اور مضطرب رہتا ہے _ ماں باپ آپس میں لڑرہے ہوتے ہیں انہیں آس امر کا اندازہ نہیں ہوتا ہے کہ بے چارے بچے کی کیا کیفیت ہے _ ایسے عالم میں بچے خوف زدہ ہوتے ہیں اور ان کے دل ٹوٹے ہوتے ہیں وہ یا کسی کونے کھدرے میں حیرت و استعجاب میں ڈوبے ہوتے ہیں یا پھر ایسے آشیانے سے فرار کرکے کسی کوچہ و بازار میں پناہ حاصل کرتے ہیں _ بچے کی زندگی کی تلخ ترین یادیں اس کے ماں باپ کی باہمی لڑائی ہے _ بچے ایسے واقعات اپنی آخری عمر تک بھلا نہیں پاتے _ یہ واقعات ان کی روح پر برے طریقے سے اثر پذیر ہوتے ہیں _
ایسے بچوں کے دلوں میں گرہیں پرجاتی ہیں ، اعصاب کمزور ہوجاتے ہیں ، دل شکستہ رہتے ہیں اور وہ بدبینی کے عالم میں زندگی گزارتے ہیں _ ہوسکتا ہے ایسے گھر کی بیٹی اپنے باپ کی بداخلاقی اور کج مزاجی سے یہ سمجھے کہ سارے مرد ایسے ہی ہوتے ہیں ممکن ہے اس خیال کے باعث وہ شادی کے نام ہی سے خوف کھاتی ہو _ ہوسکتا ہے ایسے گھر کا بیٹا
اپنی ماں کی بداخلاقی اور لڑا کا پن کے باعث سب عورتوں کو ایسا ہی خیال کرے اور شادی سے بیزار ہوجائے _ اس صورت حال میں اولاد کے دل میں ماں یا باپ میں سے کسی ایک کے لیے کینہ اور نفرت پیدا ہوجاتی ہے یہاں تک کہ بعض اوقات اولاد انتقامی حربے بھی اختیار کرتی ہے _ اعداد وشمار سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے آوارہ ، نشہ باز اور بدکردار بچے ماں باپ کے روز روز کے جھگڑوں کے باعث اس مصیبت میں گرفتار ہوتے ہیں _
اگر آپ اپنے بچوں کے تلخ واقعات اور ماں باپ کے اختلافات (اگر تھے) کا سوچیں تو آپ محسوس کریں گے کہ سالہا گزرنے کے باوجود ان کی تلخ یادیں آپ کے ذہن پر نقش ہیں _
ایک دانشور لکھتے ہیں :
ماں باپ کو یہ بات معلوم ہونا چاہیے کہ گھر کے بڑے افراد کے درمیان لڑائی جھگڑا بچوں پر برا اثر ڈالتا ہے اور بڑوں کے باہمی روابط بچے کی شخصیت کی تعمیر پر اثر انداز ہوتے ہیں اگر ایک گھر میں اتفاق و اتحاد کی فضا نہ ہو تو ایسی صورت میں ممکن نہیں کہ وہاں بچوں کی صحیح پرورش ہوسکے _ جب بڑے لڑنے جھگڑنے لگیں تو انہیں بھول جاتا ہے کہ بچے بھی ان کے ساتھ ہیں اور ان کی تربیت بھی ان کے ذمہ ہے _ ایسی صورت میں بچہ کوئی صحیح سبق نہیں سیکھ سکتا _ اس کا مزاج بھی غصیلا ہوجاتا ہے وہ تند مزاج اور گوشہ نشین ہوجاتا ہے _ خصوصاً کچھ بڑی عمر کے بچے ایسی صورت میں سخت مشکل سے دوچار ہوجاتے ہیں _
ان کا دل باپ کی حالت پر کڑھتا ہے _ وہ یہ فیصلہ نہیں کرپاتے کہ کس کا ساتھ دیں اور کس کے ساتھ ہوجائیں _ کبھی وہ حقیقت کو پہچانے بغیر ہر دو کے خلاف ہوجاتے ہیں _ (1)
کسی نے اپنے ایک خط میں لکھا ہے کہ :
---------------
1_ روان شناسی تجربی ص 673
'' میرے بچپن کے بدترین واقعات میں سے وہ مواقع ہیں کہ جب میرے ماں باپ آپس میں جھگڑتے تھے اور گالی گلوچ کرتے تھے _ میں میری بہن اور میرا بھائی ایسے موقعے پر ایک طرف کھڑے ہو کر لرزتے رہتے تھے _ جب تک لڑائی رہتی تھی ہم میں کچھ کرنے کا حوصلہ نہ ہوتا تھا _ مجھے یاد ہے کہ میری چھوٹی بہن اس صورت حال کو دیکھ کررونے لگتی تھی اور کتنی دیر تک اس کے اوسان بحال نہ ہوتے تھے _ اس وقت وہ ضعف اعصاب کا شکار ہوچکی ہے _ ایسا لگتا ہے کہ ہمارے ماں باپ کے لڑائی جھگڑے میری بہن کی روح پر بری طرح اثر انداز ہوئے ہیں ...''_
ایک مرد نے اپنے خط میں لکھا ہے _
'' بچپن کے ایک تلخ واقعے کی یادمیرے دل سے جاتی ہی نہیں _ میرا باپ بہت بداخلاق ، بدسلوک ، غصیلا ، اور خود غرض تھا ، گھر میں وہ بہانے بہانے سے جھگڑتا رہتا اور سب پر برستا _ ہمارے ماں باپ صبح سے آدھی رات تک آپس میں لڑتے رہتے ، خدا جانے وہ تھکتے کیوں نہ تھے _ جھگڑے بھی بالکل معمولی معمولی باتوں پر ہوتے تھے _ کوئی رات ایسی نہ تھی کہ میں روئے بغیر سوجاتا _ اسی وجہ سے میرے اعصاب کمزور پڑگئے ہیں ڈرتا رہتاہوں اور ڈراؤنے خواب دیکھتا ہوں _ ڈاکٹر کے پاس بھی گیا ہوں وہ کہتا ہے کہ گھریلو اختلافات کا اثر ہے اور اس کا آرام کے علاوہ کوئی علاج نہیں ہے _ میری خوشی کا زمانہ اس وقت شروع ہوا جب میری شادی ہوگئی اور میں نے اس گھر سے نجات پالی اور اب اگر چہ میری زندگی اچھی گزررہی ہے پھر بھی یوں لگتا ہے جیسے میں ایک شکست خوردہ آدمی ہوں اور زندگی میں ترقی نہیں کرسکتا _ میں والدین سے درخواست کرتا ہوں کہ خدارا اگر تمہارے درمیان کوئی اختلاف ہو بھی تو اپنے بچوں کے سامنے لڑائی جھگڑا نہ کرو _
وہ اپنے تفصیلی خط میں مزید لکھتا ہے : میرے بچپن کا بدترین واقعہ وہ ہے کہ میں جب آٹھ سال کا تھا اور میرے والدین کے درمیان سخت جھگڑا رونما ہوا _ سارے
بچے ڈرکے مارے مختلف گوشوں میں جا چھپے اس واقعے کا میری روح پر ایسا اثر ہواکہ میں ایک عرصے تک مضطرب اور پریشان رہا _ میں اپنے گھروالوں سے بیزار ہوگیا _ میرا دل نہ کرتا کہ سکول سے گھر آؤں _ میں خدا سے دعا کرتا کہ بیمارہوجاؤں اور مرجاؤں _ کئی دفعہ میں نے خودکشی کا سوچا کئی مرتبہ خوابوں میں میں نے دیکھا کہ میں اپنی ہونے والی بیوی سے لڑرہا ہوں اور اس سے جنگ وجدال میں مصروف ہوں عالم خواب میں میں یہ پروگرام بناتا کہ اپنے حق کو میں کیسے بچا سکتا ہوں _ شادی کے شروع شروع میں میں نے کئی بہانوں سے کوشش کی کہ اپنی بیوی سے جھگڑوں اور اسے بتاؤں کہ میں بہت غصے والا ہوں اور اونچی آواز سے بولوں تا کہ اس پر ظاہر کر سکوں کہ میری بھی کوئی شخصیت ہے _ خوش قسمتی سے میری بیوی ٹھنڈے دل و دماغ والی اور عقل مند تھی _ وہ میرے ساتھ اچھا سلوک کرتی تھی اور اس کے بعد دلیل و برہان سے مجھے مطمئن کرتی _ خوش قسمتی کی بات یہ ہے کہ میرا یہ مزاج زیادہ دیر تک باقی نہ رہا _ جب مجھے اپنے ماں باپ کی غلطی کا احساس ہوا اور میں نے خوداپنی کمزوریوں پر نظر کی تو میں نے اپنے اخلاق کو تبدیل کرلیا اور اب زندگی آرام سے گزرہی ہے _
ایک اور صاحب اپنے خط میں لکھتے ہیں:
... میں نوسال کا تھا کہ میرے ماں باپ نے باہمی اختلافات کی وجہ سے ایک دوسرے سے جدا ئی کا فیصلہ کرلیا _ انہوں نے مجھے، میری بہن اور بھائی کو دادا کے گھر بھجوادیا _ ہم وہاں روتے رہتے _ جب میں اپنی ماں سے ملنے جاتا تو راتوں کو ایسے خواب دیکھتا کہ کہ رہا ہوتا کہ میں ابو کے گھر نہیں جاؤںگا _ کچھ عرصے کے بعد امی اور ابو کے بعض رشتہ داروں نے مل ملاکر صلح کرادی اور میری امی واپس گھر آئی _ لیکن اس تھوڑے سے عرصے نے میری روح پر ایسا اثر کیا کہ ابھی تک اس کے آثار باقی ہیں _ میں اب کوشش کرتا ہوں کہ اگر میرے اور بیوی کے درمیان کوئی اختلاف پیدا ہوجائے تو اسے اپنے بچوں کے سامنے ظاہر نہ ہونے دیں _
ایک اور خط ہا خطہ کیجئے :
میرے بچپن کی بہت سی تلخ یادیں ہیں ، خوشی کی یادیں تو بہت ہی کم میں _
جب تھی مجھے وہ زمانہ یاد آتا ہے تو ناراحت ہو جاتی ہوں اور بے اختیار میرے آنسو جاری ہو جاتے ہیں اس غم کی وجہ یہ ہے کہ جب سے مجھے یاد ہے میں نے ہمیشہ اپنے ماں باپ کو بحث و جدل اور لڑائی جھگڑ اکر تے ہی دیکھا _ اس طرح انہوں نے مجھ پر اور میرے بہن بھائیوں پر زندگی اجیرن کردی تھی _ ہم آئھ بہن بہن بھائی تھے اسی وجہ سے مین اپنے شوہر سے تو تکرار نہیں کرتی اور اپنے شوہر اور بچوں کی زندگی تلخ نہیں کرتی _
ایک خط میں کسی نے لکھا :
پانچ سال کی عمر بچپن کا بہترین زمانہ ہو تا ہے _ میں اس عمر کا تھا کہ میرے ماں باپ میں شدید اختلاف پیدا ہوئے _ میرے باپ نے دوسری شادی کرلی _ اس اختلاف کی وجہ سے میر ی ماں نے طلاف لے لی _ ہم چھ بہن بھائی تھے _ ایک دن بہت تلخ تھا _ میں اور میرا بھائی کھیل رہے تھے کہ امی جان خداحافظ کہنے کو آئیں _ خدا جانتا ہے ہ بچے کس قدر ناراحت ہوئے _ ہماری ماں چلی گئی اور ہم اپنے باپ اور نئی ماں کے ساتھ رہ گئے _ دو سال گویا ہم ماں کے بغیررہے اور باپ کی بے اعتنائی کے صد ے سہتے رہے _ اس کے بعد ایک روز ہماری آمی آئیں اور مجھے اور میرے بھائی کو اپنے گھر لے گئیں _ انہیں ہماری نانی سے جائیداد سے کچھ حصہ ملا تھا وہ اسی کے ذریعے ہماری دیکھ بھال کرتی رہیں _ پھر دگر بہن بھائی بھی آگئے _ ہماری ماں نے ہمارے ساتھ ماں کا کردار بھی ادا کیا اور باپ کا بھی _ہم اس کے ایثار اور قربانیوں کو بھلا نہیں سکتے:
ایک خاتون اپنے خط میں لکھتی ہے :میرے ماں باپ ہمیشہ لڑتے جھگڑتے رہتے تھے اور ہمارے گھر میں ایک جنجال بپا ہو تا تھا _ ہماری ماں ہمیشہ غصے میں رہتی ہیں آٹے سال کی تھی دوسرے
بچوں کو میرے پاس پھوڑتی اور چلی جاتی _ میرے بہن بھائی کوئی دو سال کا تھا ، کوئی چار سال کا تھا ، کوئی چھ سال کا تھا _ یہاں تک کہ ایک چھ ماہ کا بھی تھا_ میں نا چار ان سب کی خدمت کرتی رہتی _ کبھی باپ سے بھی مارکھاتی _ ان سارے حالات کے باوجود میں کوشش کرتی کہ پڑھتی بھی رہوں لیکن دوسری جماعت میں میں فیل ہو گئی تھی _ میری استانیوں کو میرے حالات کی خبر تھی _ انہوں نے میرے اور پر رحم کیا اور مجھے کچھ اضافی نمبر دے دیئے _ انہیں حالات میں میں ہائی سکول تک جا پہنچی _ اس وقت تو میں خود ماں بن چکی ہوں _ کوشش کرتی ہوں کہ جنگ و جدل سے نہ اپنے آپ کو بے آرام کروں اور نہ شوہر اور بچوں کو _
جوماں باپ احساس ذمہ داری رکھتے ہیں اور انہین اپنے بچوں کی تربیت سے دلچسپی ہے تو انہیں چاہیے گھر کے لڑائی جھگڑ ے سے سختی سے اجتناب کریں اور ہر گز بچوں کے سامنے لڑائی جھگڑانہ کریں اور لمبی کدور توں اور با ہمی غصے سے بچوں کے لیے ناراضی اور پریشانی کے اسباب فراہم نہ کریں _ اس سے بدتر کوئی کام نہیں ہو سکتا کہ ماں باپ گھر میں جھگڑیں اور بے گناہ بچوں کو چھوڑ کر اپنی راہ لیں _ اگر ماں باپ کو پتہ ہو کہ اس مارت مین اگر چہ وہ تھوڑی سی ہی کیوں نہ ہو ، بچوں پر کیا گزری تو وہ کبھی اس لڑائی جھگڑے کو اختیار نہ کریں _ ایسے واقعات آخر عمر تک نہیں بھولتے اور اولاد کی روح کو اداس اور پریشان کردیتے ہیں _ البتہ شاید بہت کم ہی گھرا یسے ہوں جہاں سلیقے کا اختلاف نہ ہو لیکن از دواجی زندگی میں در گزرکی ضرورت ہوتی ہے _ سمجھدار اور آگاہ ماں باپ اپنے اختلافات کو افہام و تفہیم اور منطق و استدلال کے ذریعے سے حل کرتے ہیں اور اگر نا چار کچھ سخت سست کہنا ہی پڑ جائے تو جائے تو بچوں کے سامنے ایسا نہیں ہو نا چا ہیے اور اگ بچوں کو کچھ پتہ چل بھی جائے تو انہین بتا نا چا ہیے کہ اختلاف کام میں نہیں ہے بلکہ ہمارے در میان صرف طریقے میں اختلاف اور مشکلات ہیں اور ان کے حل کوشش کررہے ہیں اور یہ کوئی اہم مسئلہ نہیں ہے _ ماں باپ کو نہین چاہیے اگر چہ وہ غصے کے عالم میں ہوں طلاق اور جدائی کا ذکر کریں _ کیونکہ اس سے نہ فقط ازدواجی زندگی متز لزل ہو جاتی ہے بلکہ بچوں کے لیے بھی بے اطمینانی اور اضطراب پیدا ہو تا ہے _ میاں بیوی کی ایک دوسرے سے جدائی اولاد کے ساتھ
بھی ایک بہت بڑی خیانت ہے _ کیونکہ ان کاتو گو یا آشیانہ گر جا تا ہے اور ان کی زندگی پریشان و ویران ہو جاتی ہے _ کیونکہ بچے تو ماں باپ دونوں کو چا ہتے ہوتے ہیں نہ کہ ان میں سے کسی ایک کو _ اگر طلاق کے بعد بچے باپ کی تحویل میں رہیں اور وہ دوسری شادی کرلے تو وہ بے گناہ مجبورا سو تیلی ماں کے زیر دست زندگی گزاریں گے _ سوتیلی ماں اگر چہ کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو حقیقی ماں کی جگہ نہیں لے سکتی _ زیادہ تر تو وہ اپنے شوہر کے بچوں کو اذیت و آزار ہی پہنچا تی ہے سوتیلی ماں کے سولک کے بارے میں آپ اخبار و جرائد مین پڑ ھتے ہی ہوں گے اور اگر بچے ماں کی تحویل میں چلے جائے تو اگر چہ وہ باپ سے بہتر نگھداری کرتی ہے لیکن باپ کی جگہ خالی رہتی ہے اور باپ سے دوری کا غم انہیں ستا تا رہتا ہے اور اگر وہ دونوں ڈھٹائی سے کام لیں اور اپنے بچوں کو کسی اور کے پس چھوڑدیں تو وا مصیبتا _
بہر حال بچے پیدار ہونے سے پہلے میاں بیوی آزاد ہیں _ لیکن اولاد کی پیدائشے کے بعد وہ ذمہ دار ہیں کہ اختلاف سے پر ہیز کریں اور گھر کے نظام کی المقدور حفاظت کریں اور بے گناہ بچوں کی پریشانی اور اذیت سامان فراہم نہ کریں _ ورنہ وہ بارگاہ عدل الہی میں جواب دہ ہو ں
گے اوران کا مو آحذہ کیا جائے گا_
ماں کی حیثیت سے زندگی کا آغاز
جب مرد کا نطفہ عورت کے رحم میں جاتا ہے اور عورت کے نطفے سے ملتاہے تو اس لمحے سے عورت کے لیے ماں بننے کے دور کار آغاز ہوتا ہے _ اسی وقت سے عورت کے رحم میں ایک زندہ موجود وجود میں آتا ہے اور وہ تیزی کے ساتھ حرکت کرتا ہوا تکمیل کی طرف بڑھتا ہے _ وہ بہت چھوٹا سا وجود غیر معمولی صورت کے ساتھ پرورش پاتا ہے اور بڑا ہوتا ہے _ یہاں تک کہ ایک انسان کی کامل صورت اختیار کرلیتا ہے _ انسان کی عمر حقیقی طور پر اسی زمانے سے شروع ہوجاتی ہے _
ایک دانشور لکھتا ہے :
جس وقت انسان اس دنیا میں آتاہے تو نو مہینے اس کی عمر کے گزرچکے ہوتے ہیں _ اور ان اولین نو مہینوں میں وہ ایسے مراحل سے گزرتا ہے کہ جس میں ایک ایسے وجود کا تعین ہوجاتا ہے جو بالکل مختلف اور بے نظیر ہوتا ہے اور یہ زمانہ اس کی ساری عمر کے لیے مؤثر ہوتا ہے_ (1)
عورت جب حاملہ ہوجاتی ہے تو اسی وقت وہ ماں بن جاتی ہے اور جو بچہ اس کے پیٹ رحم میں پرورش پارہا ہوتا ہے اس کے بارے میں وہ ذمہ دار ہوتیہے _ یہ درست ہے کہ باپ کا نطفہ قانون وراثت کے اعتبار سے بچے کی جسمانی اور نفسیاتی شخصیت پر اثر رکھتا ہے
----------
1_ بیوگرافی پیش از تولد ص 16
لیکن اس موجود زندہ کا مستقبل بہت زیادہ ماں کے اختیار میں ہوتا ہے ، باپ کا نطفہ بیج کی حیثیت رکھتا ہے اور ماحول کسی فرد کی شخصیت کی پرورش پر بہت زیادہ اثر پذیر ہوتا ہے _ ایک دانشور لکھتا ہے :
بچے کے والدین کیایک ایسے ماحول میں نشو و نما کرسکتے ہیں کہ جو اس کی طبیعت اور مزاج کے لیے صحیح و سلامت ہو اور وہ اسے ایک خراب اور گندے ماحول میں بھی پروان چڑھاسکتے ہیں _ اور امر مسلّم ہے کہ ایسا ماحول ایک انسان کی روح جاوداں کے رہنے کی جگہ نہیں ہے _ یہی وجہ ہے کہ ماں باپ انسانیت کی طرف سے سب سے بھاری ذمہ داری کے حامل ہوتے ہیں _ (1)
ہر شخص کی سلامتی یا بیماری ، طاقت یا کمزوری ، خوبصورتی یا بدصورتی ، خوش استعدادی یا بد استعدادی اور خوش اخلاقی یا بد اخلاقی کی بنیاد ماں کے رحم میں پڑتی ہے _بچے کی خوش بختی یا بد بختی کی اساس ماں کے بطن میں ہی رکھی جاتی ہے_
رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:ہر شخص کی سعادت اور بدبختی اس وقت سے شروع ہوتی ہے جب وہ ماں کے رحم میں ہوتا ہے _ (2)
دوران حمل ایک نہایت حساس اور ذمہ داری کا زمانہ ہے _ ایک خاتون کہ جو اپنی اہم ذمہ داری سے واقف ہو وہ دوران حمل کو ایک معمولی زمانہ تصور نہیں کر سکتی اور اس سے بے پرواہ نہیں رہ سکتی کیونکہ اگر وہ تھوڑی سی بھی غفلت یا سہل انگاری سے کام لے تو ممکن ہے اس کی اپنی صحت خراب ہوجائے یا اس کا بچہ ناقص ہوجائے ، یا بیمار پڑجائے اور ہمیشہ کے لئے بد نصیب بن کر دنیا میں آئے _ اور ساری عمر آہ و زاری کرتا رہے _
-----------
1_ راز آفرینش انسان _ ص _ 108_
2_ بحار الانوار _ ج 77_ص 133نیز ج 77_ ص 115
ایک دانشور لکھتے ہیں :
ماں کا بدن اور پر انداز ہونے والے واقعات بچے کے پروان چڑھنے پر اثر انداز ہوتے ہیں اور بچہ ماں کے بدن کی نسبت حساس تر ہو تا ہے چونکہ ماں کا بدن تو کممل ہو چکا ہوتا ہے اور اسے ابھی تکمیل کے مراحل طے کرنا ہو تے ہیں _ لہذا ہر عورت کا یہ فریضہ ہے کہ اپنے بچے کے پہلے گھر کے لیے بہترین ماحول فراہم کرنے کی کوشش کرے اور ایسا وہ صرف اسی صورت میں کرسکتی ہے کہ جب اسے معلوم ہو کہ کون سغ واقعات اور امور بچے کے رشد پر اثر انداز ہوتے ہیں صرف اس امر سے ڈرتے رہنا کہ بچے کا رشد معمول کے خلاف ہو بچے کی بھلائی کے لیے کافی نہیں ہے اور ان عوامل سے عفلت کہ جواس چیز کا باعث بنتے ہیں کیس درد کی دوا نہیں بن سکتی _ انسان کا رشد کس طریقے سے ہوتا ہے اور کس طریقے سے اس میں تبدیلیان جنم لیتی ہیں اگر ماں اس سے واقف ہو تو وہ اپنی ذمہ داری ادا کر سکتی ہے بچے کی نشوو نما کے لیے ولادت سے پہلے یاولادت ک بعد اسک کامل ماحول کی ضمانت کبھی بھی ممکن نہیں البتہ قدر مسلم یہ ہے کہ تمام والدین یہ چاہتے ہیں کہ ایک سالم اور صحت مند بچہ دنیا میں آئے یہ والدین اور گھر کے بڑے افراد کی ذمہ داری ہے کہ بچے کو صحیح و سالم دنیا لانے کی کوشش کریں _ البتہ جہالت طبعی حوادث کونہیں روک سکتی _ اگر انسان کو یہ خبرنہ ہو کہ بچہ کس طرح نشوو نما پاتا ہے تویہ بے خبری آنے والوں کی بدبختی کا باعث بنتی ہے _ دنیا میں بے نقص آنا ہر انسان کا حق ہے (1)
-----------
1_ بیو گرانی پیش از تولد ص 184
جنین کی سلامتی میں ماں کی غذا کااثر
رحم مادر میں بچہ ماں کے بدن کا کوئی با قائدہ حصہ نہیں ہو تا تا ہم وہ ماں کے خون اور غذا سے ہی پرورش پاتا ہے _ ایک حاملہ خاتون کی غذا کا مل ہونی چاہیے جو ایک طرف تو خود اس کے بدن کی ضروریات پوری کرسکے تا کہ اس کی جسمانی طاقت اور تندرستی مین کوئی کمی واقع نہ ہو اور صحیح و سالم طریقے سے اپنی زندگی جاری رکھ سکے اور دوسری طرف اس کی غذا کو _ بچے کے جسم کی ضروریات کا بھی کفیل ہونا جا ہیے تا کہ وہع معصوم بچہ اچھے طریقے سے پرورش پا سکے اور اپنیب اندرونی طاقتوں کو ظاہر کر سکے
لہذا یک حاملہ عورت کا غذائی پرو گرام سو چا سمجھا ' کسی حساب کے تحت اور مرتب ہو نا چاہیے _ کیونکہ ممکن ہے بعض و ٹا من یا غذائی مواد کی کمی سے ماں کی سلامتی خطر ے میں جاپڑے یا بچے کی صحت و سلامتی کو نا قابل تلافی نقصان پہنچ جائے _
اسلام کی نظر مین ماں کی غذا بہت اہمیت رکھتی ہے _ یہاں تک کہ وہ حاملہ عورت کہ جس کے اپنے لیے یا اس کے بچے کے لیے روزہ رکھنا باعث ضرر ہوا سے اجازات دی گئی ہے کہ ماہ رمضان کا واجب روزہ نہ رکھے بعد ہیں فضا کرے _
ایک تحقیق کے مطابق دنیا کے اسی فیصد نا قص الخلقت نیز فکری ' اعصابی یا جسمانی طور پر کمز ور بچوں کے نقص اور کمزوری کا سبب یہ ہے کہ رحم ماور میں نہیں صحیح غذا نہیں طی (1)
---------
1_بہداشت جسمی رو روانی کودک ص 62
ڈاکٹر جزائری کہ جو ایک ماہر غذا ہیں لکھتے ہیں :
ماں اور جنین کی سلامتی اس غذا سے وابستہ ہے کہ جوماں حمل کے دوران میں ک;ھاتی ہے (1)
مدتوں سے انسان کو اس بات کا علم ہے کہ جنین اور بچے کے رشد میں ولادت سے پہلے اور دودھ دینے کے دوران میں ماں کی غذا اثر رکھتی ہے _ ماں کو چاہیے کہ تمام پروٹین ' وٹامن ' کا ربو ہاٹیڈ رٹیس ' روغنیات اور دیگر در کا غذا کو اس زندہ سیل یعنی بچے کی نشوو نما ک لیے فراہم کرے تجربات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ماں کے لیے ضروری ہے کہ وٹامنز کی وہ مخصوص مقدار جنین کے لیے مہیا کر ے کہ جوزندہ خلیوں کے لیے ضروری ہے _ اس طرح سے کہ جنین کے رشد کو یقینی بنا یا جا سکے کیونکہ مختلف دٹا منز کی کمی بچے پ زیاہ اثر انداز ہوتی ہے کیونکہ وہ تو حالت رشد میں ہو تا ہے جب کہ ماں کی نشو ونما تو مکمل ہو چکی ہوتی ہے _ ممکن ہے کہ دوران حمل ماں با لکل تندرست رہے جب کہ بچہ مخصوص وٹا منز کی کمی کا شکار ہوجائے اور اس کے نتیجے میں اس کے رشد کی حالت خلاف معمول ہو ( 2)
کرنر کہتا ہے:بچے کے غیر طبعی ہونے کی وجہ کبھی یہ ہوتی ہے کہ تخم تو اچھا ہوتا ہے لیکن اسے فضا اچھی میسر نہیں آتی اور کبھی یہ ہو تا ہے ' تخم اچھا نہیں ہو تا جبکہ فضا اچھی میسر آجاتی ہے بہت سار ے جسمانی نقائص مثلا ہو نٹوں کا پھٹا ہو اہونا ،آنکھیں چھوٹی اور رھنسی ہوئی ہو نا اور پاوں کے تلوے کاہموار ہونا کہ جنیں پہلے مورد ثی عواملی کا نتیجہ سمجھا جاتا تھا آجکل ماحول با لخصوص حمل آکسیجن کی کمی جیسے عوامل
------------
1_ اعجاز خورا کیھا ص 220
2_ بیو گرافی پیش از تولد ص 182
کا نتیجہ قرار و یا جاتا ہے _ ماحول اور فضا کو بہت س پیدائشےی نقائص اور بچوں کے اعضاء کے فالج ز وہ ہو نے کی علت شمار کیا جاتا ہے ( 1)
امام صادق علیہ السلام ایک حدیث میں فرماتے ہیں :
جو کچھ ماں کھاتی اور پیتی ہے بچے کی خوراک اسی سے بنتی ہے ( 2)
---------
1_ روانشناسی کودک ص 190
2_ بحار الانوار _ جلد 60 _ ص342
جنین کے اخلاق پر ماں کی غذا کا اثر
ایام حمل میں ماں کی غذا کی کیفیت بچے کے اخلاق ' عقل اور استعداد تک پر بہت زیادہ اثر کرتی ہے کیونکہ بچے کے اعصاب اور اس کا مغزماں کی غذا ہی سے تیار ہوتا ہے اور ہر طرح کی غذا اپنا ایک خاص اثر رکھنی ہے _ اسلام نے اس امر کی ہے کہ ماں کی غذا بچے کے اخلاق کی تعمیر میں نہیت موثر ہے _ ہم نمونے کے طور پر چند احادیث پیش کرتے ہیں :
پیغمبر اکرم نے فرمایا :ماوں کو چاہیے کہ دوران حمل کے آخری مہینوں میں کھجو رکھائیں تا کہ ان کے بچے خوش اخلاق اور برد بار رہوں ( 1)
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :حالمہ عورتوں کو تاکید کرو کہ بہی دانہ کھائیں تا کہ ان کہ بچے خوش اخلاق ہوں (2)
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا :بہی دانہ عقل و دانائی کو بڑھاتا ہے ( 3)
---------
1_ مستدرک ج 3 _ ص 113
2_ مستدرک ج 3 _ ص 116
3_ مکارم الاخلاق ج 1_ ص 196
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا :
جو حاملہ عورت خربوزہ کھا ئے گی اس کا بچہ خو بصورت اور خوش اخلاق ہو گا_ ( 1 )
-----------
1_ مستدرک ج 2 _ ص 645
ماں کی غذا
یہاں ان مختلف قسم کی غذا،ں کے بارے میں تحقیق نہیں کر سکتے اور نہ ہی ان کے خواص اور آثار گنواسکتے ہیں کیونکہ ایک دشوار اور مفصّل بحث ہے _ اورراقم اس میں ماہر بھی نہیں ہے خوش قسمتی سے اس سلسلے میں بہت سی مفید کتابیں لکھی جا چکی ہیں _ قارئین ان کی طرف رجوع کر سکتے ہیں _ برا نہیں کچھ مجموعی طور پر اس سلسلے میں بعض امور کی یاددہانی کروادی جائے _
اگر چہ حاملہ عورتوں کی غذائی ضروریات بڑھ جاتی ہیں لیکن یہ امر باعث افسوس ہے کہ ان میں کھانے کی طلب کم پڑجاتی ہے _ اور ان میں اکثر کی طبیعت بوجہل سی ہوجاتی ہے ایسی صورت میں انہیں کوشش کرنی چاہیے کہ ایسی کم حجم غذائیں کھائیں کہ جو غذائیت کے اعتبار سے کامل اور بھر پور ہوں _ انسانی بدن کو جن غذاؤںکی ضرورت ہے وہ مختلف چیزوں میں پھیلی ہوئی ہیں _ لہذا غذا میں تنوّع رکھنے سے ایک عورت کے لیے بہترین غذائی پروگرام تشکیل پا سکتا ہے _ اس ضمن میں ایک ماہر لکھتے ہیں _ ''بدن کو صحیح و سالم رکھنے کے لیے نہ فقط حسب کفایت غذا کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ چاہیے کہ غذا متنوع ہو اور مناسب طور پر صرف کی جائے _ (1)
ایک اور ماہر لکھتے ہیں;
ماں کو چاہیے کہ وہ اپنی صبح و شام کی غذا میں کچھ اضافی وٹامن اور معدنیات اپنے
-----------
1_ علم و زندگی ص 426_
جسم کو مہیا کرے تا کہ جنین اپنے سات مہینے کے رشد کے سفر میں اس سے استفادہ کرسکے اور اس سے نہ صرف دانت اور مسوڑھے بن سکیں بلکہ اس کی پیچیدہ ہڈیاں بھی نشو و نما پا سکیں_ (1)
ڈاکٹر غیاث الدین جزائری لکھتے ہیں;
دہی اور پنیر کا استعمال حالت حمل میں عورت کو وٹامن اور خاص قسم کا خمیر مہیا کرتا ہے اور اسے ادھر ادھر کی دوسری چیزوں کے کھانے سے روکنے میں مفید ہوتا ہے _ البتہ کھٹا دہی استعمال کرنا حاملہ عورت کے لیے مفید نہیں ہے _ باسی پنیر کا بھی کوئی مزہ نہیں ہے _ ہر روز صبح ناشتہ کے طور پر ایک گلاس دودھ کا پینا حاملہ عورت کے لیے ضروری ہے _ نیز آب جو کا خمیر اور دلیہ بھی مفید ہے اور جڑی ،شیردان ، دل کلیجی اور جگر میں وٹامن بی بہت زیادہ پایا جاتا ہے اور یہ مفید بھی ہیں _ (2)
بہت اچھا ہے کہ حاملہ عورتیں مسلسل صحیح طریقے سے دودھ سے استفادہ کریں یہ غذا اس قدر مفید اور کامل ہے کہ انبیاء کی باقاعدہ غذا رہی ہے _
حضرت صادق علیہ السلام فرماتے ہیں;دودھ انبیاء کی غذا ہے _ (3)
ڈاکٹر غیاث الدین جزائری لکھتے ہیں:زیادہ تر عورتیں حمل کے دوران کیلشیم کی کمی کی وجہ سے پاؤں میں درد، کمر درد ، اور ناخنوں کے ٹوٹنے میں مبتلا ہوجاتی ہیں _ لہذا حاملہ خواتین کو نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ ایسے پھل اور سبزیاں کھائیں کہ جن میں کیلشیم زیادہ ہوتی ہے _ اور اسی طرح
----------
1_ بیوگرافی پیش از تولد ص 80_
2_ اعجاز خوراکیہا ص 223_
3_ بحار جلد 66 ص 101_
یخنی اور آبلیمو کو فراموش نہ کریں (1)
عام لوگوں کے لیے اور خاص طور پر حاملہ خواتین کے لئے کچی اور پکی سبزیاں اور مختلف پھل بہترین غذا ہیں _ پودے اور درخت غذائی مواد زمین ، پانی، ہوا اور سورج کی روشنی سے حاصل کرتے ہیں اور ہمارے لئے غذا تیار کرتے ہیں _صحیح و سالم غذا کے لئے تمام پھل مفید میں البتہ خاص طور پر مرکبات ، سی ، بہی دانہ ، ناشپاتی ، اور کھجور مفید ہیں لیکن ہر پھل میں تمام تر مواد غذائی نہیں ہوتا _ ہر ایک کا اپنا خاص فائدہ اور تاثیر ہے _ اسی طرح ہر سبزی کو اپنی خاصیت ہے _ مختلف وٹامن اور مختلف قسم کا غذائی مواد مختلف پھلوں ، اناج اور سبزیوں میں پھیلا ہو اہے _ جو شخص اپنی صحت و تندرستی کا خواہش مند ہو اسے چاہیے کہ وہ مختلف پھلوں اور سبزیوں سے اگر چہ کبھی کبھار ہوا ستفادہ کرے _ خاص طور پر حاملہ عورتوں کے لے ایسا کرنا مفید اور ضروری ہے _ دین اسلام نے مسلمانوں سے اور خاص طور پر حاملہ عورتوں کو تاکید کی ہے کہ وہ پھلوں اور سبزیوں سے استفادہ کریں _ نمونے کے طور پر چند ایک روایات ذکر کی جاتی ہیں _
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:ہر چیز کی کوئی نہ کوئی زینت ہے اور سبزی دستر خوان کی زینت ہے _ (2)
ایک روز امام رضا علیہ السلام کھانے کے لیے بیٹھے دیکھا کہ سلاد موجود نہیں ہے خادم سے فرمایا:توجانتا ہے کہ میں سلاد کے بغیر کھانا نہیں کھاتا مہربانی کر و اور سلاد بھی لے آؤ_اور جب سلاد آیا تو امام نے کھانا شروع کیا _ (3)
پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:بہی دانہ کھاؤکیوں کہ بہی دانہ عقل کو بڑھاتا ہے ، غم کو دور کرتا ہے اور بچے کو
-----------
1_ اعجاز خوراکیہا ص 224
2_ مستدرک _ جلد 3 _ص 118
3_ مکارم الاخلاق _جلد 1 _ص 201
نیک کرتا ہے _ (1)
پیغمبر اسلام(ص) نے فرمایا:
بہی دانہ کھاؤ اور اس اچھے پھل کو اپنے دوستوں کو ہدیہ کے طور پر دو _ کیونکہ بہی دانہ آنکھوں کی بینائی کو زیادہ کرتا ہے اور دلوں کو مہربان کرتا ہے ، حاملہ عورتیں بھی اس میوے سے خوب استفادہ کریں تا کہ ان کی اولاد نیک اور خوبصورت ہو _ (2)
پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا:
حاملہ عورتیں آخری مہینوں میں کھجور کھائیں تا کہ ان کے بچے بردبار ہوں _ (3)
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:کھجور کھاؤ کیونکہ کھجور سب دردوں کی دوا ہے _ (4)
اس طرح کی احادیث بہت سی ہیں _ یہ چند حدیثیں نمونے کے طور پر ذکر کی گئی ہیں _ آپ پھلوں اور سبزیوں کے خواص کتابوں میں پڑھیں اور اس کے مطابق اپنے کھانے کا پروگرام تیار کریں _ یا پھر اس سلسے میں کسی غذا شناس ڈاکٹر سے مشورہ کریں _
---------
1_ مکارم الاخلاق ، ج 1، ص 196
2_ مستدرک ، ج 3 ، ص 116
3_مستدرک، ج 3 ، ص 113
4_ مستدرک ج 3 ، ص 112
تمباکو نوشی
حاملہ عورتوں کو نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ سگریٹ اور ہر طرح کی تمباکو نوشی سے بچیں _ کیونکہ تمباکو نوشی نہ صرف مال کی صحت کے لئے خطرناک ہے بلکہ اس کے برے اثرات رحم میں موجود بچے کے جسم اور اعصاب پر بھی پڑتے ہیں _ اس ضمن میں ہم ایک غیر ملکی مجلے کے ایک مقالے کا خلاصہ نقل کرتے ہیں _ اس کی طرف توجہ فرایئےا _
ایک تحقیق جو سکنڈانیوین ممالک میں 6363 حاملہ عوتروں پرکی گئی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جو عورتیں سگریٹ کی عادی ہیں ان کے بچوں کا اوسط وزن دوسرے بچوں کے اوسط وزن سے 170 گرام کم ہوتا ہے _ وزن کی یہ کمی ان ماؤں کے 50 بچوں میں پائی گئی ہے _ جب کہ دوسری طرف ان بچوں کا قد بھی دوسروں سے کم تر پایا گیا ہے _ اسی طرح سے ان کے سر اور شانے بھی دوسرے بچوں سے چھوٹے ہوتے ہیں _ ان بچوں کی موت بھی دوسرے بچوں کی نسبت چھ گنا زیادہ ہوتی ہے _ ان بچوں کے اعضا میں نقص بھی دوسرے بچوں کی نسبت کہ جن کی مائیں سگریٹ کی عادی نہیں ہیں زیادہ ہوتا ہے _ سگریٹ کا استعمال ماں اور رحم میں بچے کے خون میں آکسیجن کی کمی اور کاربوکسی ہموگلوبین (1) کی زیادتی کا باعث بنتا ہے _ سگریٹ پینے والی ماں کے بچوں میں دل کی پیدائشےی بیماری دوسری ماؤں کے
-------------
1_
بچوں کی نسبت 50 0/0 زیادہ ہوتی ہے اعداد و شمار اس امر کا پتہ دیتے ہیں کہ تمبا کو نو شی کرنے والی ماوں کے بچے تعلیم میں اپنے ہم سن بچوں سے پیچھے ہو تے ہیں اور یہ عقب ماندگی دوران حمل سگریٹ نوشی کی مقدار کے مطابق ہوتی ہے کیونکہ سگریٹ بچے کے مغز کے خلیوں کی کمی کا باعث بنتی ہے _ یہ تو ان نقصانات کا ایک چھو ٹا ساحصہ ہے کہ جو سگریٹ نوشی سے ماوں اور نوزاد بچوں کو پہنچتا ہے _ شاید اس کے اور بھی بہت سے عوارض اور پہلو ہیں کہ جوا بھی نا شناختہ ہوں _ لہذا وہ سب مائیں جو اپنی اور اپنے بچوں کی صحیح و سالم زندذگی کی خواہش رکھتی ہیں انہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ تمبا کو نوشی سے اجتناب کریں ( 1)
ڈاکٹر جزائری لکھتے ہیں :تمبا کو نوشی ماں کے لیے نقصان وہ ہے اور رحم مادر میں موجود بچے کے لئے الکحلی مشروبات بھی حاملہ عورتوں کے لیے غیر معمولی طور پر خطر ناک ہیں _ اس بات سے صرف نظر کہ الکحل جو زہر پیدا کرتی ہے ان و ٹا منز کو بھی تباہ کردیتی ہے کہ جو ماں اور اس کے پیٹ مین بچے کی ضرورت ہوتے ہیں اور اولاد ناقص الخلقہ اور عیب دار ہو جاتی ہے تمبا کو نو شی اور تیز چائے بھی حاملہ عورتوں کے لیے غیر معمولی طور پر ضرر رساں ہیں ( 2)
ڈاکٹر جلالی لکھتے ہیں :الکحل ، چرس اور دیگر تمام منشیات انسان کے خوں میں شامل ہو جاتی ہین اور یہی خون جنین کے گرو ہو تا ہے اور نتیجتا اس کے رشد و نمو پر اثر کرتا ہے یہاں تک کہ بعض ماہرین کا نظر یہ ہے کہ عورتوں کی تمبا کو نوشی سے جنین کا دل متاثر ہو تا ہے اور دل کی دھڑ کن کو تیز کرتا ہے (3)
-------
1_ مکتب اسلام _ سال 15 _ شمار ہ 6
2_ اعجاز خورا کیہا ص 215
3_ روانشناسی کودک ص 222
اگر حاملہ خاتون بیمار ہو جائے
اگر حاملہ عورت بیمار ہو جائے اور ا سے دوا کی ضرورت پڑ جائے تو دوا کے استعمال میں میں بہت زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے کیوں کہ یہ دوازیادہ تر بڑی عمر والوں کے لیے تیار کی جاتی ہے اور جب عورت اس سے استفادہ کرتی ہے تو شکنیہں کہ وہ اس کے پیٹ میں جا کر بچے کے بدن ک جا پہنچتی ہے اور اس پر بھی اثر انداز ہوتی ہے کچھ کہا نہین جا سکتا کہ بچے پروہ کیا اثر ڈا لے _ بحر حال کوئی بھی دوا پیٹ میں موجود بچے کے لئے بے اثر نہیں ہوتی لہذا حاملہ خاتون کو نہیں چا ہیے کہ بغیر سو چے سمجھے نتیجے کو ملحوظ رکھے بغیر دوا استعمال کرے اولا تو جب تک ضرورت تقاضانہ کرے دواستعمال نہ کرے _ ثانیا اگر ناچار ہو جا ئے تو لازمی طور پر ڈاکٹر کو بتا ئے کہ میں حاملہ ہوں کیا یہ دوا میرے بچے کے لیے تو ضرر رساں نہیں لہذا کسی لائق ڈاکٹر کے مشور ے سے ضروری مقدار میں دواکھا ئے _
البتہ اگر بیماری کوئی اہم ہو تو چاہیے کہ اپنی سلامتی اور بچے کی حفاظت کے لئے ڈاکٹر کی طرف رجوع کرے کیونکہ وہ بیماری نہ صرف ماں کے لیے نقصان وہ ہو سکتی ہے بلکہ ممکن ہے بچے کی سلامتی کو بھی خطر ے میں ڈال دے _
ایک ماہر لکھتے ہیں :
ممکن ہے کہ بعض وائرس ( )اور مائیکروب ( ) میاں بیوی سے گرز کررحم ماورمیں موجود اپنا دفاع نہ کرسکنے والے بچے پر حملہ آور ہو جائیں اور اسے بھی اسی بیماری ہیں مبتلا کردیں (1)
----------
1_ بیو گرافی پیش از تولد ص 150
ایک اور مقام پر لکھتے ہیں ;
ماں کی غذائی کیفیت میں تبدیلی اور جودو اوہ استعمال کرتی ہے نیز جن بیماریوں سے وہ دو چار ہوتی ہے یہ سب جنین پر اثر انداز ہوتی ہیں ابتدائی دنوں میں رحم مادر میں بچے میں پیدا ہونے والی چھوٹی سی خرابی بڑے ہو تے ہوئے بہت زیادہ اثرات مرتب کرتی ہے اسی بنیاد پردوران حمل اپنی صحت کی حفاظت کے سلسلے میں خواتین پر خاص ذمہ داری عائد ہوتی ہے یہاں تک کہ ان کے حمل ٹھہر نے کی صلاحیت کے ضائع ہونے کا احتمال ہے (1)
وہ یہ بھی لکھتے ہیں :
بہت سے غیر غذائی مواد بھی ایسے ہیں کہ جواماں باپ سے گزر کر بچے پر اس طرح سے اثر انداز ہو سکتے ہیں کہ اس کی نشو و نما پر منفی اثر ڈالیں _ زیادہ تر دوائیاں جو عموما استعمال کی جاتی ہیں وہ بالغ افراد کی تندرستی کے لیے بنی ہو تی ہیں یعنی ان کا تجربہ پورے ( کامل ) انسان پر کیا جا تا ہے _ ڈائرس ، بیکٹیر یا اور تمام جراثیم کہ جو ماں کے بدن میں ہوتے ہیں بعض اوقات بچے کو بھی اس بیماری میں مبتلا کردیتے ہیں یا بعض اوقات بچے کی نشو و نما کو خراب کردیتے ہین اور بچہ غیر معمولی طور پر بڑاہونے لگتا ہے (2)
----------
1_ بیو گرافی پیش از تولد ص 48
2_ بیو گرافی پیش از تولد ص 183
ماں کی نفسیات کا جنین پراثر
ماہرین کے در میان یہ مسئلہ زیر بحث ہے کہ کیا ماں کی نفسیاتی کیقیات جنیت کی روح پر اثر انداز ہوتی ہیں یا کہ نہیں ؟
بعض ماہرین کہتے ہیں کہ ماں اگر شدید خوف اور اضطراب سے دوچار ہوتو رحم مادر میںموجود بچے پر بھی اس کا اثر ہو گا او ر ممکن ہے کہ وہ بھی ڈرپوک بن جائے او راسی طرح ماں کا حسد اور کینہ بھی جنین کی روح پر اثر ڈالتا ہے اور ممکن ہے یہ دو صفتیں اس کی طرف منتقل ہو جائیں _
اس کے بر عکس خوش خلقی ، انسان دوستی ، ایمان ، شجاعت اور مہر و محبت کہ جو ماں مین موجود ہو بچہ ماں کا ایک حقیقی عضو ہو تا ہے لہذا جیسے ماں کی نفسیاتی کیفیات اور افکار اسکے اپنے جسم پر اثر انداز ہو تے ہیں اسی بات کو رد کردیا ہے اور اس امر کے غلط ہونے کوثابت کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ دوران حمل ماں کے انکار اور اس کی نفسیاتی کیفیت ممکن نہیں ہے کہ مستقیما بچے کے اعصاب اور نظریات پر اثرانداز ہو _
ڈاکٹر جلالی لکھتے ہیں :
ماں او جنین کے در میان مستقیم ربط نہیںہے _ ماں اور بچے کے در میان رابط ناف کے ذریعے سے ہے اور اس ناف میں کو ئی اعصاب نہیں ہیں کہ جو سلسلہ اعصاب کو ہدایت کرے بلکہ بند ناف میں خون کی رگیں ہوت ہیں لہذا
جیسا کہ گزشتہ لوگوں کو خیال رہا ہے کہ اعصاب اور ہیجانی کیفیت بچے پر اثر انداز ہوتی ہے ایسا نہیں ہوسکتا _ (1)
البتہ حق اس دانشور کے ساتھ ہے اور یہ دعوی نہیں کیا جا سکتا کہ حاملہ عورت کے افکار اور نفسیاتی کیفیات بلا واسطہ بچے کی روح اور اعصاب پر اثر انداز ہوتی ہیں _ البتہ یہ بات بھی درست نہیں کہ کوئی یہ کہے کہ ماں کے افکار اور جذبات بچے پر بالکل اثر انداز نہیں ہوتے بالواسطہ طور پر بچے کے اخلاق اور نظریات پرانداز نہیں ہوتے _ اس بات کی وضاحت کے لیے مندرجہ ذیل تین نکات کی طرف توجہ فرمائیں _
1_ انسان کی روح اور جسم ایک دوسرے سے مربوط اور واستہ ہے _ انسانی جسم کی بیماری اور صحت ، اور اعصاب اور جسمانی قوی کی قوت اور کمزوری یہاں تک کہ بھوک اور سیری انسان کے طرز تفکر اور اس کے اخلاق پر اثر انداز ہوتی ہے انسان کی اخلاقی شخصیت اس کے خاص مزاج اور اس کے اعصاب اور مغزی کی تعمیر کے انداز سے کسی حد تک وابستہ ہے _ روح سالم بدن سالم میں ہوتے ہے _ ہوسکتا ہے کہ کچھ غذا کی کمی یا فقدان اعصاب اور مغز کو برے اخلاق اور ہیجانی کیفیت کے ظہور پر ابھارے_
2_ جنین اسی غذا سے استفادہ کرتاہے کہ جو ماں کے اندرونی نظام میں تیارہوکر اس تک پہنچتی ہے _ بچہ جب تک رحم مادر میں زندگی گزارتا ہے غذا کے اعتبار سے ماں کے تابع ہوتا ہے _ ماں کی غذا کی کیفیت بچے کی جسمانی اور نفسیاتی پرورش پر بھی اثر انداز ہوتی ہے
ڈاکٹر جلالی لکھتے ہیں:جو چیز بھی ماں کی سلامتی کے لیے مؤثر ہے وہی جنین کی سلامتی کے لیے مؤثر ہے اگر ماں کی غذا میں کیلشیم کی کمی ہوگی یہ تو کمی بچے کی ہڈیوں اور دانتوں کی تعمیر پر اثر انداز ہوگی _ (2)
----------
1_ روان شناسی کودک ص 188_
2_ روان شناسی کودک ص 422_
3_ یہ بات یقینی طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ انسان کا شدید اضطراب اور ہیجان اس کے سارے بدن بشمول اس کے نظام ہضم کے اثر انداز ہوتا ہے _ رنج و غم کی زیادتی یا خوف کی شدت کھانے کی طلب کو کم کردتی ہے اور غذا صحیح طور پر ہضم نہیں ہوتی _ نظام ہضم خراب ہوجاتا ہے ، منظم اعصاب بگڑجاتا ہے اور غدودوں کے معین اور طبعی نظام میں خلل واقع ہوجاتا ہے _
ان تین مقدمات کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہا ماں کے افکار اورروحانی کیفیات اگر مستقیماً بچے کے اعصاب اور مغز کی طرف مننتقل نہیں ہوتیں تا ہم ان امور کا تعلق ماں کے نظام ہضم سے ہے اور بچے کی خوراک کا تعلق ماں ہی کے نظام ہضم اورغذائی کیفیت سے ہے اور یہ کیفیت بچے کی روح اور مستقبل کی شخصیت پر انداز ہوتی ہے اس لحاظ سے یہ قطعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ ماں کی نفسیاتی کیفیات اور افکار بدون شک بچے کی روح نفسیات پر اثر انداز ہوتے ہیں اور اس کی تعمیر شخصیت میں مؤثر ہیں _
ماں کا شدید غصہ یا اضطراب یا شدید خوف اس کے عمومی مزاج اور نظام ہضم کو دگرگوں کردیتا ہے اس کے اعصاب اس کے باعث خلل کا شکار ہوجاتے ہیں _ یہ غیر معمولی کیفیت جیسے ماں کےجسم وجاں کے لینے باعث ضرر ہے اسی طرح کے رحم میں موجود بچے کی غذائی کیفیت کے لیے خرابی کا سبب ہے _
ممکن ہے اس صورت میں بچے کے اعصاب اور مغز ایک ایسی نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہوجائیں کہ جو بعد میں ظاہر ہو _
ڈاکٹر جلالی لکھتے ہیں :
ماں کو پیش آنے والے شدید ہیجانی کیفیات اور ناراحت کردینے والے امور مسلماً بچے کے مزاج اور رشد کے لیے باعث ضررہیں_ چونکہ اس طرح کی کیفیات نظام کو خراب کردتی ہیں اور غیر طبیعی غدود پیدا ہوجاتے ہیں _ اس کے باعث نظام ہضم اپنا کا م صحیح طور پر انجام نہیں دے سکتا _ شاید یہی ایک وجہ ہو کہ بچہ جو اعصاب رکھتا ہے اور بہت سی نفسیاتی بیماریاں اس میں پیدا ہوسکتی ہیں انہی ہیجانی
کیفیات کی وجہ سے ممکن ہے ایام حمل ہی میں بچہ ضائع ہوجائے _ (1)
ایک حاملہ خاتون کہ جو جسم اور روح کے اعتبار سے بالکل سکون میں ہو _ خوش و خرم ، با ایمان ہو ، انسان دوست ہو ، مہر و محبت سے بسر کرنے والی ہو ، سالم جسم اور پاک روح کی حامل ہو تو اس کے رحم میں زندگی گزارنے والا بچہ بھی جسم و جان کے اعتبار سے پر سکون ہوگا _ ایسا پر امن اور سالم ماحول بچے کی پرورش ، جسمانی نشو و نما اور روحانی شخصیت پر بہت زیادہ اثر انداز ہوگا ، اس کے برعکس ایک بے ایمان ، حاسد ، کینہ پرور ، غصیلی ، دڑپوک ، پریشان حال اور نفسیاتی مریض ماں بچے کے نظام غذاکو تباہ کردے گی ، اس کی روحانی آرام کو ختم کردے گی ، اس کے لیے برے اخلاق اور نفسیاتی بیماریوں کے لیے فضا سازگار بتادے گی _
اس ضمن میں
''ماہرین نفسیات نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ نفسیاتی امراض میں مبتلا 66 فیصد بچے یہ بیماری ماں سے وراثت میں پاتے ہیں چنانچہ اگر ایک ماں صحیح و سالم ہو تو اس کا بچہ بھی ایک صحیح و سالم نظام اعصاب کا حامل ہوگا _ اگر کوئی عورت چاہے کہ اس کا بچہ صحیح و سالم، شاداب اور عقلی قوتوں کے اعبار سے بے نقص ہو تو اسے چاہیے کہ بچے کی ولادت سے پہلے اپنی سلامتی کے بارے میں فکر کرے _ (2)
''ماحول کے عوامل بچے کے جسمانی او رنفسیاتی رشد و تکامل پر اثر انداز ہوتے ہیں '' _ (3)
------------
1_ روان شناسی کودک ص 223_
2_ اطلاعات ، شمارہ 10355، کودک ج 1 ص 119_
3_ بیوگرافی پیش از تولد ص 125
حاملہ خواتین کو ایک نصیحت
حاملہ خواتین کو نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ بھار ی چیزوں کے اٹھانے ، زیادہ سخت کام کرنے اور تھکادینے والے امور سے اجتناب کریں _ کیوں کہ ماں کے لیے تھکادینے والے امور بچے کے امن و آرام کو بھی درہم برہم کردیتے ہیں اور اس کے لئے بھی ناراضی کا سامان بنتے ہیں یہانتک کہ ممکن ہے ایسے کاموں کی وجہ سے حمل ساقط ہوجائے _
حمل کے آخری مہینوں میں عورت کے لیے سفر ضرررساں ہوتا ہے _ اگر اہم مسئلہ نہ ہو تو بہتر ہے کہ سفر ترک کردیا جائے _ البتہ ہلکے پھلکے افعال اور چھوٹی موٹی فعالیت نہ صرف یہ کہ باعث ضرر نہیں ہے بلکہ ماں اور بچے ہر دو کی صحت و سلامتی کے لئے مفید ہے _
ڈاکٹر جلالی لکھتے ہیں :
ماں کی زیادہ خستگی خون میں زہریلے مواد کا موجب بنتی ہے اور چونکہ یہی خون جنین کی غذا بھی بنتاہے لہذا بچے کی نشو و نما پر اثر انداز ہوتا ہے _ (1)
-----------
1_ روانشناسی کودک ص 222
صاف ستھری فضا
رحم مادر میں نشو و نماپانے والا بچہ آکسیجن کا احتیاج مند ہوتا ہے _ البتہ جنین خود سانس نہیں لیتا اور بلا واسطہ ، کھلی ہواسے استفادہ نہیں کرتا بلکہ اس آکسیجن سے استفادہ کرتا ہے کہ جو ماں کے تنفس کے ذریعے سے مہیا ہوتی ہے _ ماں نہ صرف اپنے بدن کی ضرورت کے مطابق آکسیجن فراہم کرتی ہے بلکہ جنین کی ضرورت کو بھی پورا کرتی ہے _ اگر ماں صاف ستھری اور اچھی ہوا میں سانس لے گی تو اپنی سلامتی کی بھی حفاظت کرے گی اور بچے کی بھی سلامتی اور پرورش کے لیے مددگار ثابت ہوگی _
لیکن اگر وہ گندی اور زہریلی ہوا میں سانس لے گی تو اپنی اور بچے دونوں کی صحت کو نقصان پہنچائے گی _ لہذا حاملہ خواتین کو نصیحت کی جاتی ہے کہ وہ کوشش کریں کہ صاف ستھری ہوا ہے استفادہ کریں _ صاف فضا میں چلیں اور گہرا سانس لیں _ اسی طرح تھکادینے والی شب بیداری سے بھی سختی سے اجتناب کریں _
انہیں یہ بھی چاہے کہ تمباکونوشی سے بچیں _ اور مسموم فضا میں سانس لینے سے اجتناب کریں _ سوتے ہوئے کمرے کی کھڑکی کھلی رکھیں تا کہ تازہ ہوا داخل ہوسکے کیونکہ آکسیجن کی کمی ممکن ہے بچے پر ناقابل تلافی اثر ڈالے _
ڈاکٹر جلالی کا وہ پیراہم پھر آپ کی توجہ کے لیے نقل کرتے ہیں جو قبل ازیں آپ کی نظروں سے کبھی گزرچکا ہے _
جسم کے بہت سے نقائص مثلاً ہونٹوں کی خرابی ، پاؤں کے تلوے کا سیدھا ہونا یہاں تک کہ آنکھوں کا بہت چھوٹا ہونا کہ جنہیں پہلے موروثی سمجھاجاتا ہے آج کل ، ماحول بالخصوص دوران حمل آکسیجن کی کمی جیسے عوامل کا نتیجہ سمجھاجاتا ہے _ (1)
--------
1_ روان شناسی کودک ص 190
اسقاط حمل
اسلام کے نقطہ نظر سے عورت اور مرد کی باہمی رضامندی سے حمل ٹھرنے کو روکنے میںکوئی مضائقہ نہیں ہے اگر بیوی اور شوہر اولاد کی خواہش نہ رکھتے ہوں تو پھر وہ ضرر گولیوں، ٹیکوں یا انزال وغیرہ کے ذریعے حمل ٹھہرنے کو روک سکتے ہیں _ البتہ بچے کی پیدائشے کو روکنا اسلام کی نظر میں پسندیدہ نہیں ہے _ کیونکہ اسلام کی خواہش ہے کہ مسلمانوں کی نسل جتنی بھی ہوسکے پھولے پھلے _ لیکن بہر حال ایسا کرنا حرام نہیں ہے لیکن جب نر او ر مادہ سیل ترکیب پاکر عورت کے رحم میں ٹھہر جائیں اور ایک زندہ موجود وجود میں آجائے تو وہ اسلام کی نظر میں محترم ہے اورزندگی کا حق رکھتا ہے _ و ہ نیا موجود اگر چہ بہت چھوٹا ہی کیوں نہ ہو صلاحیت کے اعتبار سے انسان ہے ، وہ ایسا موجود زندہ ہے کہ بڑی تیزی کے ساتھ اور حتمی طور پر غیر معمولی طریقے سے کمالات انسانی کی طرف رواں دواں ہے _ وہ ننھا منا سا موجود جو کہ اتنی غیر معمولی استعداد رکھتا ہے اپنی مہربان ماں سے امید رکھتا ہے کہ وہ اس کے لیے پر امن ماحول فراہم کرے گی تا کہ وہ پرورش پاکر ایک کامل انسان بن سکے _ اگر اس بالیقات اور باشرف وجود کو تونے ساقط کردیا اور اسے قتل کردیا تو تم قاتل قرار پاؤگی اور اس برے عمل کے ارتکاب کی وجہ سے قیامت کے دن تمہاری بازپرس کی جائے گی _
دین مقدس اسلام کہ جو تمام لوگوں کے حقوق کا نگہبان ہے اس نے اسقاط حمل اور اولاد کشی کو کلّی طور پر حرام قراردیا ہے _ اسحان بن عمّار کہتے ہیں کہ میں نے حضر ت موسی (ع) بن جعفر (ع) کی خدمت ہیں عرض کیا کہ وہ عورت جو حاملہ ہونے سے ڈرتی ہے کیا آپ اسے اجازت دیتے ہیں کہ
رہ دراکے ذریعے حمل گرادے _ آپ (ع) نے فرمایا:
نہیں میں ہرگز اس چیز کی اجازت نہیں دیتا _
راوی نے پھر کہا : ابتداء دور حمل کہ جب ابھی نطفہ ہوتا ہے ، اس وقت کے لیے کیا حکم ہے ؟
فرمایا:انسان کی خلقت کا آےاز اسی نطفے سے ہوتا ہے _ (1)
اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے : و اذا الموء دة سئلت _ بای ذنب قتلت
یعنی _ قیامت کے دن ماں باپ سے پوچھا جائے گا کہ تم نے کس جرم میں اپنے بے گناہ بچے کو مارڈالا ؟(تکویر _8،9)
اسقاط حمل نہایت برا عمل ہے کہ جس سے اسلام نے روکا ہے _ علاوہ ازیں یہ کام ماں کے جسم و جاں کے لیے بھی باعث ضرر ہے _ ڈاکٹر پاک ناد نے اسقاط حمل کے بارے میں منعقدہ ایک کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
... یہ ثابت ہواہے کہ اسقاط حمل اوسط عمر میں کمی کردیتا ہے نیز سائنسی تحقیق کے مطابق اسقاط حمل عورتوں کے نفسیاتی اعتدال کو تباہ کردیتا ہے _ (2)
1951 ء سے 1953 ء تک کے نیویارک کے اعداد و شمار کے مطابق 2601 عورتوں کی وفات اسقاط حمل کی وجہ سے ہوئی دس سال کے دوران میں اس تعدا میں 1261 4 کا اضافہ ہوا _ چکی میں 1963 ء کے ریکارڈ کے مطابق 39 عورتوں کا انتقال اسقاط حمل کی وجہ سے ہوا _
---------
1_ وسائل الشیعہ ، ج 19، ص 15
2_ مکتب اسلام سال 13 ، شمارہ 8
اسقاط حمل کا ایک بہانہ فقر و تنگ دستی بھی قراردیا جاتا ہے _ بعض نادان ماں باپ فقر و غربت کے بہانے سے اپنے بے گناہ بچوں کو ضائع کردیتےہیں _اس میں شک نہیں کہ فقر و تگ دستی ایک بڑی مصیبت ہے اور بہت سارے خاندان اس میں مبتلا ہیں اور اسے برداشت کرنا بہت مشکل کام ہے _ لیکن اسلام اسے بچہ ضائع کرنے کا عذر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں _ آخر بے گناہ بچے کا کیا قصور ہے کہ ماں باپ اسے حق حیات سے محروم کردیں _ اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے :
ولا تقتلوا اولاد کم خشیة املاق نحن نرزقهم و ایاکم انّ قتلهم کان خطا کبیراً
اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل نہ کرو ہم ہیں کہ جو تمہیں اور انہیں روز دیتے ہیں _ اولاد کو قتل کرنا یقینا ایک بہت بڑا گناہ ہے _ بنی اسرائیل _آیہ 31
اب جب کہ ایک انسان کا نطفہ ٹھر چکا ہے ماں با پ کو چاہیے کہ سختی کو برداشت کریں ممکن ہے یہی بچہ کل ایک ممتاز اور عظیم شخصیت بن جائے کہ ماں باپ اور معاشرہ جس کے وجود سے استفادہ کریں _ ممکن ہے اسب چے کے وجود کی برکت سے خاندان کی اقتصادی حالت بھی بہتر ہوجائے یا اس کے ذریعے سے فقر و تنگ دستی سے نجات مل جائے _
اس کے علاوہ بھی کئی بہانے پیش کئے جاتے ہیں _ مثلاً گھر سے باہر کی مشغولیات ، دفتر کی مصروفیات یا بچوں کی کثرت و غیرہ لیکن یہ ایسے عذر نہیں ہیں کہ ان کی وجہ سے شریعت یا عقل اس برے عمل کو جائز قراردے دے _
اسقاط حمل نہ یہ کہ اسلام کی نظر میں ایک برا اور حرام عمل ہے بلکہ اس بڑے گناہ کے لیے کفارہ بھی مقرر کیا گیا ہے کہ جو جنین کی عمر کے اختلاف کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے _
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں اگر ساقط شدہ بچہ نطفہ ہواتو اس کا خون بہسونے کے بیس دینا رہے، اگر علقہ اور لوتھڑا ہوتو سونے کے چالیس دینار، اگر مضغہ اور گوشت کی حد تک پہنچ چکا ہوتوسونے کے ساتھ دینار، اگر اس میں ہڈی بن گئی ہو تو سونے کی اسّی دینار،
اگر وہ انسان کی صورت اختیار کر چکا ہو تو سونے کے سودینار اور اگر اس میں روح بھی پیدا ہوچکی ہو تو اس کی دیت ایک کامل انسان کی دیت ہوگی _ (1) خانم افسر الملوک عاملی نے اس بارے میں ایک خوبصورت نظم کہی ہے:
بخواب آمد مرا طفل جنینی-------------------------------- بگو ماد رخطا از من چہ دیدی
بگفتا مادرم را گر بہ بینی----------------------------------- کہ بہ جرمم بہ خونم درکشیدی
درونت کودکی آرام بودم----------------------------------- بخونم چنگ و دندان تیز کردی
کجا محکوم برا عدام بودم؟----------------------------------- نہ خون دامان خود، لبریز کردی
بدم تازہ رسیدہ میہمانت
نہ آسیبی رسید از من بجانت
بہ مہمان بایدت مہمان نوازی
نہ بیرحمانہ اش نابودسازی
تو فکر خرج و برجم را نمودی
زجسم کو چکی جان در ربودی
مرا روزی بہمرہ بود مادر
ولی افسوس ننمودی تو باور
تو گردش را بہ من ترجیح دادی
اساس ظلم در عالم نہادی
------------
1_ وسائل الشیعہ ج 19 ص 169
امید کودکان بر مام باشد----------------------------------------- امید بودردیت را ببینم
چو مادر باشدش آرام باشد--------------------------------------- گلی از گلش حسنت بچینم
ولی میخواست پستانت زنت چنگ----------------------------------- دلم می خواست از شیرت بنوشم
غمت بیرون نمایم از دل تنگ-------------------------------------- صدای مادرم آید بگوشم
امیدم بود لبخندم ببینی------------------------------------------- امیدم بددبستانم فرستی
کنار تختخوابم خوش نشینی------------------------------------------- دھی تعلیم ، درس حق پرستی
بیایم از دردوشادت نمایم
سردو کودکان بہرت سرایم
امیدم بودگروم من جوانی
زمان پیریت قدرم بدانی
زمان پیریت غم خوار باشم
بہر کاری برایت یادباشم
من اینک روح پاکم در جنان است
مکانم در جوار حوریان است
کنون کن توبہ ،استغفار ، شاید
خدای مہربان رحمت نماید
تمنّا دارد و افسر از توانی
پیامم را بہ مادر ہا رسانی (1)
نظم کا ترجمہ :
چھوٹا سا سقط شدہ بچہ میرے خواب میں آیا اور بولا میری ماں کو دیکھو تو اس سے کہو
امّی تو نے میری کیا خطا دیکھی تھی کہ بے جرم ہی تو نے میرا خون بہادیا _
میں تو بچپن میں آرام سے رہتا تھا میرے قتل کا حکم کیسے سرزد ہوگیا _
میرے خون پر تونے اپنے پنجے اور دانت تیز کئے _ اور اپنے دامن کو میرے خون سے آلودہ کرلیا _
میں ابھی تیرے پاس تازہ مہمان آیا تھا اور مجھ سے ابھی آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا _ چاہیے کہ آنے والے مہمان کی مہمان نوازی کی جائے نہ کے بے رحمی سے اس کا کام تمام کردیا جائے _
تجھے میرے بارے میں خرچ کی فکر میں تھی لہذا تو نے میرے ننھے سے جسم سے جان نکال دی _
ماں میں تو اپنی روزی ساتھ لے کر آیا تھا لیکن افسوس کہ تجھے اس کا یقین نہ آیا _
تو نے گھومنے پھر نے کو مجھ پر ترجیح دی او ردنیا میں ظلم کی بنیاد ڈالی _
بچوں کی امید توماں ہی ہوتی ہے _ اور جب ماں کے پاس ہو تو وہ سکھ چین سے ہوتے ہیں _مجھے تمنا تھی کہ میں تیرے چہرے کو دیکھوں اور میں بھی تیرے گلشن حسن سے ایک پھول چنوں _میرا دل چاہتا تھا کہ میںتیرے پستان سے دودھ پیوں اور یوں تیرے دل کا غم دور کروں _ میر ی آرزو تھی کہ تیرا دودھ پیوں اور تیری آواز میرے کانوں میں پڑے _آرزو تھی کہ تو مجھے مدر بھیجتی ، مجھے تعلیم دیتی اور حق پرستی کا درس پڑھاتی _میں گھر آتا اور تجھے خوش کرتا اور بچوں والے گیت تجھے سناتا _
--------
1_ مجلہ مکتب اسلام سال 16_شمارہ 12
خیا ل تھا کہ جب میں جوان ہوجاؤں گا تو پھر تجھے اپنے بڑھاپے میںمیری قدر معلوم ہوتی _ تیرے بڑھاپے میں میں تیرا غم خوار ہوتے اور ہر کام میں تیرا مددگار بنتا _ میں کہ ایک پاک روح بن کر اب جنت میں ہوں اور میرا مقام یہاں حوروں کے جوار میں ہے اب تو توبہ اور استغفار کر کہ شاید خدائے مہربان اپنی رحمت کرے _
اے افسر سیری تجھ سے یہ تمنا ہے کہ تو میرا یہ پیغام تمام ماؤں تک پہنچادے _
پیدائیش کی مشکلات
بچہ عموما رحم مادر میں نو ماہ اور دس دن درہتا ہے_ ولادت سے_ ولادت سے پہلے کی زندگی نہایت حساس اور پر خطر ہوتی ہے کیوں کہ بچہ کا مستقبل اسی سے وابستہ ہو تا ہے _ بچہ اس عرصے مین ایسے محیط میں زندگی گزار تاہے کہ جس کا نظم و ننسق اس کے اپنے ہاتےھ میں نہیں ہوتا اور وہ دسیوں قسم کے جسمانی اور روحانی خطروں میں گھرا ہو تا ہے اور خود انہیں دور کرنے کی اس میں طاقت نہیں ہوتی جب اس مرحلے سے جان سالم لے کر آجائے اور نو ماہ کی خط ناک مسافرت کو تمام کربیٹھے تو اب ناچار ہے کہ ایک اور دشوار مرحلے کا آغاز کرے اور یہ مرحلہ پیدائشے کا ہے _ بچے کی پیدائشے کا مرحلہ ایسا سادہ او رمعمولی سا نہیں بلکہ نہایت دشوار اور حساس ہے _
بچہ نو ماہ اتنا بڑا ہو جاتا ہے ، خاص طور پر دیگر اعضاء کی نسبت اس کا سر بڑ ا ہو چکا ہو تا ہے کہ اس اسے ناچار ایک نئے سخت مرحلے سے گزر ناہی ہوتا ہے _ اس تنگ مقام تولد سے باہر آنا انسان کی پوری زندگی میں انجام پانے والے کسی بھی سفر سے خطر ناک تر ہے _ ممکن ہے بچہ پس جائے یا اس کی کوئی ہڈی ٹوٹ جائے _ ممکن ہے اس کی نازک اور ظریف ہڈیاں کہ جو ابھی با ہم اچھی طرح ملی نہیں ہو تیں ، ان پر دباؤ پڑ جائے جس سے بچے کے اعصاب اور مغز کو نقصان پہنچے _
ایک ماہر لکھتے ہیں :
پیدائشے کا مرحلہ ممکن ہے کہ بچے میں دائمی لیکن غیر مرئی قسم کے نفسیاتی نقائص پیدا ہونے کا سب بنے _ نفسیاتی بیماریوں کے معالجین کے نزدیک پیدائشے کے عمل کو انسان کی پوری زندگی کیماہیت کے لیے ایک مؤثر عامل شمار ہوتا ہے ان ماہرین
کی نظر میں پیدائشے ایک انقلابی تبدیلی کا نام ہے کہ جو بچے کے ماحول اور زندگی مین پیدا ہوتی ہے اور اچانک وہ خاص قسم کی آسودگی اور آرام جو جنین کی زندگی میں اسے حاصل ہوتا ہے و ہ ختم ہو جاتا ہے _ ان کی نظر میں پیدائشے کے موقع پر خوف ارو اضطراب انسان کی نفسیات کاحصہ بن جاتا ہے اور انسان کی آئندہ زندگی ہمیشہ نا معلوم یادوں کے آزار کے تحت گزرتی ہے _ زندگی کا ایک پر آرام دور جنین کا اور پھر مستقل زندگی کی طرف نہایت مشکل عالم میں ورود ( 1)
جب بچہ دنیا میں آتا ہے تو عموما چند گھنٹے وہ ایک دباؤ کے تحت رہتا ہے اور سب سے زیادہ مشکل سے اس کا سر دو چار ہو تا ہے کہ جو اس کے بدن کے تمام تر اعضاء میں سے سب سے بڑا ہوتا ہغ اگر پیدائشے غیر معمولی طریقے سے ہو تو دنیا میں آنے کے مرحلے اور بھی سخت تر ہو جاتے ہیں اور بچہ عام حالات کی مشکلات برداشت کرنے کے علاوہ میکانیاتی آلات کی مصیبت بھی برداشت کرتا ہے اور زیادہ تر بچوں کا ضائع ہو جا نا یا پیدائشے کے تھوڑی ہی مدت بعدت ان کا مرجا نا ایسی ہی مصیبتوں اور مشکلوں کے باعث ہو تا ہے فالج اور دیوانگی و غیرہ جیسے ہدنی اور دہنی نقائص جو بچوں میں دکھائی دیتے ہیں عموما ایسی ہی مصیبتوں کا باعث ہوتے ہیں جو دنیا میں آتے وقت آن پروارد ہوتی ہیں (2)
بنا بریں پیدائشے کا مر حلہ ایک معمولی اور غیر اہم مرحلہ نہیں بلکہ ایک دشوار اور قابل تو جہ عمل ہے کیونکہ ز چہ اور بچہ کی سلامتی اس سے البستہ ہوتی ہے _ ٹھوڑی سے غفات یا سہل انگاری ماں یا بچے کے لیے نا قابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتی ہے _ یہاں تک کہ ممکن ہے اس مرحلے میں ان کی جان چلی جائی لیکن آج کل کی حالت میں جب مرا کز پیدائشے ، ڈاکٹر اور دواز یادہ تر لوگوں کی دسترس
----------
1_ بیو گرافی پیش از تولد ص 160
2_ روانشناسی کودک ص 193
میں ہے تو احتمالی خطرات سے بچا جا سکتا ہے _لہذا حاملہ خواتین کو نصیحت کی جاتی ہے کہ اگر وہ ڈاکٹر یا مرکز پیدائشے تک دسترس رکھتی ہیں تو وقت سے پہلے ان کی طرف رجوع کریں اور بچے کی پیدائشے کے وقت کے بارے میں معلومات حاصل کریں او رجب ضروری ہو تو فورا مرکز پیدائشے کی طرف رجوغ کریں چونکہ یہ مراکز گھر سے ہر لحاظ سے بہتر ہوتے ہیں _ کیونکہ اورلا تو و ہاں ڈاکٹر ، دوا اور نرس موجود ہیں اور ضروری موقع پر وہ و چہ کی فوری مار دکر سکتے ہیں اور اگر پیدائشے میں کوئی غیر معمولی مسئلہ پیش آجائے تو ہر لحاظ سے وسائل موجود ہوتے ہیں اور جلدی سے اس کی مد د کی جاسکتی ہے _ لیکن اگر وہ گھر میں ہو اور پیدائشے میں کوئی غیر معمولی مسئلہ پیش آجائے تو اسے ڈاکٹر یا مرکز پیدائشے تک لے جانے میں ممکن ہے کہ زچہ اور بچہ کی جان خطر ے میں پڑ جائے _
دوسرا یہ کہ مرکز پیدائشے کے کمر ے صحت و سلامتی کے نقطہ نظر سے گھر کے کمروں سے بہتر ہوتے ہیں اور عورت و ہاں زیادہ آرام کرسکتی ہے _
تیسرا یہ کہ وہاں پر رشتے داروں اور ہمسایہ عورتوں کا پیدائشےی عمل میں دخل نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کی مختلف قسم کی آراء ہوتی ہیں جب کہ ان کی وکالت عموماً علم و آگہی کی بناء نہیں ہوتی لہذا ضرررساں ہوسکتی ہے _
مرد کی بھی اص ضمن میں بھاری ذمہ داری ہوتی ہے _ شرعاً اور عقلاً اس کافریضہ ہے کہ ان حسّاس اور خطرناک لمحات میں اپنی بیوی کی مدد کرے اور احتمالی خطرات سے اسے اور بچے کو بچانے کی کوشش کرے _ اگر اس کی غفلت یا سستی کی وجہ سے بیوی یا بچہ تلف ہوجائے یا پھر انہیں جسمانی یا روحانی لحاظ سے نقصان پہنچے تو ایسا بے انصاف شوہر شریعت اور ضمیر کی عدالت میں مجرم قرار پائے گا اور روز قیامت اس سے بازپرس کی جائے گی _ علاوہ ازیں اس جہاں میں بھی وہ اپنے کام کا نتیجہ بھگتے گا اور اگر آج سہل انگاری یا کنجوسی یا کسی اور بہانے سے بیچاری بیوی کی مدد نہیں کرے گا تو بعد میں مجبور ہوگا کہ اس کے مقابلے میں سوگنا خرچ کرے لیکن پھر بھی زندگی کا پہلا سکون واپس نہیں لایا جا سکے البتہ اگر ڈاکٹر اور پیدائشے گا ہ تک رسائی نہ ہو تو پھر گھر میں ہی یہ کام ان دائیوں کے ذریعے انجام پانا چاہیے کہ جو اس کام میں مہارت رکھتی ہیں_
اس ضمن میں مندرجہ ذیل ہدایات کی طرف توجہ کرنی چاہیے _
1_ پیدائشے کے کمرے کا درجہ حرارت معتدل اور طبیعی ہونا چاہیے اور سرد نہیں ہونا چاہیے کیونکہ زبردست دباؤ، درد اور کئی گھنٹوں کی زحمت کی وجہ سے عورت کی طبیعت عام حالات سے مختلف ہوجاتی ہے اسے پسینے آتے ہیں اور بچے کے لیے بھی ٹھنڈلگنے اور بیماری کا خطرہ ہوتا ہے ، جب بچے کی پیدائشے کا دشوار گزار مرحلہ گزر جائے تو اگر کمرے کی ہوا کا درجہ حرارت سرد ہو تو احتمال قوی ہے کہ زچہ کو ٹھنڈلگ جائے اور اس کی وجہ سے کئی بیماریاں پیدا ہوجائیں _ علاوہ ازیں ٹھنڈی ہوا نو مولود کے لیے بھی نہایت خطرناک ہے کیونکہ پچہ رحم مادر میں طبیعی حرارت کے ماحول میں رہا ہوتا ہے کہ جس کا درجہ حرارت تقریباً3765 سینٹی گریڈہوتا ہے _ لیکن جب وہ دنیا میں آتا ہے تو کمرے کا درجہ حرارت عموماً اتنا نہیں ہوتا اس وجہ سے نومولود کو جو بہت ناتوان ہوتا ہے اوراس میں یہ طاقت نہیں ہوتی کہ اپنے بدن کے لیے درکار حرارت اور توانائی مہیا کرسکے، اسے ٹھنڈ لگ جانے کا اور بیماری میں مبتلا ہوجانے کا خطرہ ہوتا ہے اور ان نومولود گان کامعالجہ بھی نہایت مشکل ہوتا ہے _ اس طرح بیمار ہونے والے زیادہ تر بچے مرجاتے ہیں _
2_ محتاط رہنے کی ضرورت ہے کہ کمرے کی ہوا مٹی کے تیل یا کوئلے کے جلنے کی وجہ سے دھوئیں سے مسموم اور آلودہ نہ ہوجائے کیونکہ ایسی مسموم ہوا میں سانس لینا زچہ اور بچہ ہر دو کے لئے ضرر رساں ہے _
3_ بہتر ہے کہ پیدائشے کے کمرے میں حتی المقدور خلوت ہو _ غیر متعلق عورتوں کو کمرے سے باہر کردیں کیونکہ ایسی خواتین علاوہ اس کے کہ ان کی ضرورت نہیں ہوتی وہ زچہ کے لیے ناراضی اور شرمندگی کا باعث بنتی ہیں _ کمرے کی ہوا کو کثیف کرتی ہیں علاوہ ازیں پیدائشے کے وقت زچہ کی شرم گاہ کی طرف دیگر عورتوں کا دیکھنا حرام ہے اوروہ اس عالم میں اپنی سترپوشی نہیں کرسکتی _
امام سجاد علیہ السلام نے ایک موقع پر جب کہ ایک حاملہ عورت کاوضع حمل ہونے والا تھا تو فرمایا عورتوں کو باہر نکال دیں کہ کہیں زچہ کی شرم گاہ کی طرف نہ دیکھیں _ (1)
حاملہ عورت اگر اپنی ذمہ داری پر عمل کرے تو اسے چاہیے کہ پوری احتیاط کے ساتھ اپنے حمل کے زمانے کو اختتام تک پہنچائے اور ایک سالم اور بے عیب بچہ معاشرے کو سونپے اس نے ایک بہت ہی قیمتی کا م انجام دیا _ ایک صحیح اور بے نقص انسان کو وجود بخشا ہے کہ جو ہمیشہ اپنی ماں کا مرہون حق رہے گا _ اس کے علاوہ اس نے انسانی معاشرے کی بھی خدمت انجام دی ہے کہ اسے ایک بے نقص اور قیمتی انسان عطا کیا ہے ممکن ہے اس کا وجود معاشرے کے لیے خیرات و برکات کا موجب قرار پانے اور یہ عظیم خدمت کے نزدیک بھی بے اجر نہیں رہے گی _ ایک روز پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جہاد کی فضیلت کے بارے میں گفتگو فرما رہے تھے _ ایک عورت نے عرض کی یا رسول اللہ کیا عورتیں جہاد کی فضیلت سے محروم ہیں _ پیغمبر (ص) نے فرمایا: نہیں عورت بھی جہاد کا ثواب حاصل کر سکتی ہے _ جس وقت عورت حاملہ ہوتی ہے اور اس کے بعد اس کا وضع حمل ہوتا ہے اور جب بچے کو دودھ دیتی ہے یہاں تک کہ بچہ دودھ پینا چھوڑ دیتا ہے تو اس ساری مدّت میں عورت اس مرد کی طرح ہے جو میدان کارزار میں جہاد کررہا ہو _ اگر اس عرصے میں عورت فوت ہوجائے تو بالکل ایک شہید کے مقام پر ہے _ (2)
----------
1_ وسائل الشیعہ _ جلد 10 ص 119
2_ مکارم الاخلاق _ج 1 ، ص 268
ولادت کے بعد
بچہ پیدا ہوتا ہے تو ہوا اس کے پیپھڑوں میں داخل ہوجاتی ہے _ اس سے وہ سانس لینا شروع کرتا ہے عمل تنفسّ کے آغاز کے بعدو وہ زندگی میں پہلی مرتبہ روتا ہے _ بچے کا یہ رونا اس ہوا کے ردّ عمل کے طور پر ہوتا ہے کہ جو اس کے پھیپھڑوں میں داخل ہوتی ہے _ اگر وہ سانس نہ لے اورنہ روئے تو اسے پاؤں سے پکڑ کر الٹا کرکے اس کے سرپر آہستہ آہستہ ہاتھ مارتے ہیں تا کہ وہ سانس لے _ پھر اس کے بند ناف کو باندھ دیتے ہیں اور بچّے کے بدن سے ابھر ہوئی ناف کو جراثیم سے پاک کسی چیز سے کاٹ دیتے ہیں اور ناف کو بھی جراثیم سے پاک کرتے ہیں _ اس کے بعد بچے کو صابن کے ساتھ نیم گرم پانی سے نہلا کر لباس پہنادیتے ہیں _ کچھ دیر تک بچے کو غذا کی ضرورت نہیں ہوتی _ پھر نیم گرم پانی میں چینی ملا کر اس کے منہ میں میں قطرہ قطرہ ڈالتے ہیں _
بچہ عموماً حالت خواب میں رہتا ہے _ اسے استراحت کی بہت ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اس کی زندگی کی داخلی و خارجی حالت بالکل تبدیل ہوچکی ہوتی ہے _ پہلے وہ ماں کی غذا ہی سے استفادہ کرتا تھا لیکن اب اس کا اپنا نظام ہضم کام کرنا شروع کردیتا ہے_
پہلے بچہ اس آکسیجن سے استفادہ کرتا تھا جو ماں کے تنفس سے حاصل ہوتی تھی لیکن اب اس کا اپنا نظام تنفس کام کرنا شروع کردیتا ہے اور اس کا اپنا نظام اس کے لیے آکسیجن حاصل کرتا ہے اور بدن کے لیے نقصان دہ ہوا خارج کرتا ہے _ اس کی داخلی کیفیت میں بہت بڑی تبدیلی واقع ہوچکی ہوتی ہے _ نیز اس کی خارجی حالت اور ماحول بھی بدل چکا ہوتا ہے _
پہلے وہ رحم مادر میں تھا جہاں درجہ حرارت 3765 درجے سنٹی گریڈ تھا لیکن اب وہ اس ماحول میں ہوتا ہے کہ جس کا درجہ حرارت مستقل نہیں ہے پیدائشے کے وقت بھی اس کے جسم و روح پر مختلف قسم کا دباؤپڑتا ہے جس کی تلافی کی ضرورت ہوتی ہے _ اس عالم میں بچہ ایک ایسے بیمار کے مانند ہوتا ہے جو عمل جرّاحی کے بعد ابھی ابھی آپریشن تھیڑسے باہر آیا ہو جسے ہر چیز سے زیادہ استراحت کی ضرورت ہوتی ہے _ وہ سانچے میں ڈھل کے نکلی ہوئی نئی نئی ایسی مشینری ہے کہ جس کی دیکھ بھال اور خصوصی توجہ ضروری ہے _ اس لحاظ سے بچے کے لیے جو بہترین کام انجام دیا جا سکتا ہے وہ یہ ہے کہ اس کے لیے آرام و ہ ماحول فراہم کیا جائے تا کہ وہ آرام کرسکے _ جس سخت عمل سے گزارہے اس کی تلافی کرسکے اور اپنی زندگی کو نئے حالات کے مطابق ڈھال سکے _
ڈاکٹر جلالی لکھتے ہیں _
بچے کو ہنسانا، اسے مستقل چومتے رہنا اور ہر وقت اسے اٹھا کر دوسروں کو دکھانا اور اس کے کپڑے تبیدل کرتے رہنا تا کہ وہ خوبصورت دکھائی دے یہ سب ایسے نامطلوب کام ہیں کہ جن سے اجتناب کرنا چاہیے بچہ کھیل کا سامان نہیں ہے اسے پھلنے پھولنے کے لیے آرام وہ ماحول کی ضرورت ہے _ ایسا کام نہیں کرنا چاہیے کہ اس کے آرام کی داخلی حالت درہم برہم ہوجائے _ اس کے سامنے اونچی آواز میں نہیں بولنا چاہیے _ اسے کبھی اونچا ، کبھی نیچا نہیں کرنا چاہیے _ اسی طرح اسے چومنا چاٹنا ، اس پہ دباؤ ڈالنا یہ سب چیزیں اس کے منظم رشد اور آرام پر اثر انداز ہوتی ہیں _ (1)
ان کو بھی استراحت اور تقویت کی شدید ضرورت ہوتی ہے دوران حمل نو ماہ کے عرصے میں اس نے بہت مشکلات اٹھائی ہوتی ہیں وہ بالکل ضعیف اور ناتوان ہوچکی ہوتی ہے _ خاص طور پر وضع حمل کے دوران وہ جس جا نگل مرحلے سے گزری ہوتی ہے اور جس طرح
----------
1_ روانشناسی کودک ص 223
سے اس کا خون بہا ہوتا ہے اس کا تن بدن خستہ حال ہوچکا ہوتا ہے _ اس عالم میں مہربان شوہر پر لازم ہے کہ وہ اس کے لیے مکمل آرام کے اسباب فراہم کرے اور غذا کے ذریعے سے اس کی قوت بحال کرے _ اگر ڈاکٹر اور دوا کی ضرورت ہو تو پوری طرح سے معالجہ کرے تا کہ اس کی جسمانی ناتوانی دور ہوسکے اور صحت معمول پر آسکے اور پہلے کی سی سلامتی اور شادابی پلٹ سکے _ تا کہ وہ اپنے سالم جسم اور شاداب روح سے پھر سے زندگی بسر کرنے لگے اور اپنے بچوں اور شوہر کی خدمت کر سکے _ اگر شوہر نے اس امر میں کوتاہی کی تو اس کی شریکہ حیات رنجور اور ناتوان رہ جائے گی اور اس کا نتیجہ بعد میں شوہر کو خود بھگتنا پڑے گا _
ماں کا دودھ بہترین غذا ہے
ماں کا دودھ بچے کے لیے بہترین ، کامل ترین اور سالم ترین غذا ہے اور کئی پہلوؤں سے ہر غذا پر ترجیح رکھتا ہے _ مثلاً
1_ غذائی مواد کی کمیت اور کیفیت کے لحاظ سے ماں کا دودھ بچے کی مشینری سے بالکل ہم آہنگ ہوتا ہے کیونکہ بچہ نو ماہ رحم مادر میں رہا ہوتا ہے اور ماں کی داخلی مشینری سے تیارہ شدہ غذا سے استفادہ کرنا اس کی عادت ہوچکی ہوتی ہے _ اب وہی مواد دودھ کی صورت میں بچے کی غذا بن کے آتا ہے _
2_ مال کا دودھ چونکہ طبعی طور پر اور خام حالت میں استعمال ہوتا ہے اس لیے اپنی غذائیت برقرار رکھتا ہے_ جب کہ اس کے برخلاف گائے و غیرہ کے دودھ کوابالاجاتاہے اور پھر استعمال کیا جاتا ہے _ جس سے اس کے اندرموجود بعض غذائی مواد ضائع ہوچکا ہوتاہے_
3 _بچے کی صحت کے اعتبار سے ماں کا دودھ زیادہ قابل اعتبار ہے اور خارجی جراثیم سے آلودہ نہیں ہوتا کیونکہ ماں کے پستان سے سیدھا بچے کے منہ میں چلا جاتاہے اس کے برخلاف دوسرے دودھ ممکن ہے مختلف برتنوں اور ہاتھوں کے جراثیم سے آلودہ ہوجائیں _
4_ ماں کا دودھ ہمیشہ تازہ بہ تازہ استعمال ہوتا ہے _ جب کہ کوئی دوسرا دودھ ممکن ہے
5_ ماں کے دودھ میں ملاوٹ کی گنجائشے نہیں ہوتی _ جب کہ دوسرے دودھ میں اس کا امکان موجود ہے _
6_ ماں کا دودھ بیماریوں کے حامل جراثیم سے آلودہ نہیں ہوتا اور بچے کی صحت و سلامتی کے لیے زیادہ محفوظ ہوتا ہے _ جب کہ کوئی دوسرا دودھ ممکن ہے بعض جراثیم سے آلودہ ہو جو بچے کوبھی مبتلا اور آلودہ کردیں _
اسہال شیر ، تپ مالت اورسل گاو جیسی بیماریوں دوسرے دودھ ہی سے پیدا ہوتی ہیں _ ان اور دیگر وجوہات کی بناپر ماں کا دودھ بچے کے لیے یقینی طور پر بہترین اور سالم ترین غذا ہے جو بچے ماں کا دودھ پی کر پلتے ہیں وہ دوسرے بچوں کی نسبت زیادہ تندرست ہوتے ہیں اور بیماریوں کے مقابلے کی زیادہ طاقت رکھتے ہیں او رایسے بچوں میں شرح اموات بھی کمتر ہے _
ماں اگر بچے کو دودھ دے تو ایک فائدہ بھی ہے کہ عمل حیض میں زیادہ تر تاخیر ہوجاتی ہے اور نتیجے کے طور پر دیر سے حاملہ ہوتی ہے _
دین اسلام نے بھی ماں کے دودھ کو بچے کے لیے بہترین غذا قرار دیا ہے اور اسے بچے کا ایک فطری حق گردانا ہے _
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :
ما من لبن رضع به الصبی اعظم برکته علیه من لبن امّه
بچے کے لیے کوئی دودھ ماں کے دودھ سے بڑھ کر بہتر نہیں ہے _ (1)
ماں کا دودھ اسلام کی نظر میں اس قدر اہمیت رکھتا ہے کہ ماں کی تشویق کے لئے اس کا بہت زیادہ ثواب مقرر کیا گیا ہے _
پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا: فاذا ارضعت کان لها بکل محّته کعدل عتق محرّر من ولد
-----------
1_ وسائل الشیعہ ج 15 ص 175_
اسماعیل فاذا فرغت من رضاعه ضرب ملک کریم علی جنبها و قال : استفانی العلم فقد غفر لک
یعنی ہر عورت جو اپنے بچے کو دودھ پلائے گی بچہ جتنی مرتبہ بھی اس کے پستان سے دودھ پیے گا اللہ تعالی ہر مرتبہ اسے اولاد اسماعیل میں سے غلام آزاد کرنے کا ثواب عطا کرے گا جس وقت دودھ پلانے کی مدت ختم ہوگی تو ایک مقرر فرشتہ اس کے پہلو پر ہاتھ رکھ کے کہے گا : زندگی کو نئے سرے سے شروع کر کیوں کہ اللہ نہ تیرے پچھلے گناہ بخش دیئے ہیں _ (1)
میڈیکل کا ایک بین الاقوامی سمپوزیم کہ جو شیراز کی یونیورسٹی میں منعقد ہوا اس میں تمام تر ماہرین کی مستتر ارائے یہ تھی کہ کوئی غذا بھی اور وٹامن کا حمل کوئی اور مواد بھی شیر مادر کی جگہ نہیں لے سکتا _ ڈاکٹر سیمین واقفی کہتی ہیں:
باعث افسوس ہے کہ بہت سی جوان مائیں مغربی ماؤن کی تقلید میں کوشش کرتی ہیں کہ اپنے نو نہالوں کو خشک دودھ او ردیگر خاص طرح کی مصنوعی غذائیں دیں اور یہ بچپن میں بچے کی صحیح غذائی ضروریات کے بالکل مخالف ہے جوان مائیں یہ جان لیں کہ کوئی مصنوعی دودھ بھی ماں کے دودھ کے برابر نہیں ہوسکتا _ وہ اپنے بچے کو اس بہترین غذا سے محروم نہ رکھیں کو جو طبیعی طور پر اس کے لئے تیار کی گئی ہے _ (2)
ایک اور ماہر لکھتے ہیں :
شیر مادر ایک ایسی بے مثال غذا ہے کہ جو فطرت نے بچے کے لئے بنائی ہے اور کوئی غذا بھی اس کا بدل نہیں ہوسکتی _ لہذا حتی الامکان کوشش کی جانی چاہیے کہ بچے کو ماں کا دودھ پلایا جائے اور اگر ماں کا دودھ نہ آتا ہو تو اسے کوشش
---------
1_وسائل الشیعہ _جلد 15 ص 175
2_ بہداشت جسمی روانی کودک ص 63
کرنا چایہئے کہ اس بہت بڑے نقص کو مختلف اوردودھ لانے والی غذائیں کھا کر دور کرے _ (1)
ذمہ دار اور آگاہ خواتین کہ جو اپنے بچوں کی صحت و سلامتی سے دلچسپی رکھتی ہیں اپنے عزیز بچوں کی اپنے دودھ کے ذریعے سے پرورش کریں اور انہیں اس عظیم نعمت الہی سے محروم نہ رکھیں کہ جس کا نظام اللہ تعالی نے ن کے لیے پہلے سے بنارکھا ہے _ سمجھدار خواتین ماں کی عظیم ذمہ داری سے آشنا ہوتی ہیں اور بچے کے جسم و جان پر دودھ کے اثر کو سمجھتی ہیں _ اسی وجہ سے وہ خوشی سے اپنے آپ کو بچے کی صحت و سلامتی کے لیے نثار کرتی ہیں اور انہیں شیر جان سے سیراب کرتی ہیں _ ایسی ہی خواتین کو ماں کا نام دیا جا سکتا ہے نہ ان بیوقوف اور خود غرض ماؤں کو کہ جن کا دودھ اترتاہو لیکن وہ طرح طرح کے بے جا بہانوں سے اپنے پستان کو خشک کرلیتی ہیں اور بے گناہ بچے کو خشک دودھ سے پالتے ہیں _ یہ خود غرض عورتیں اتنا بھی جذبہ ایثار نہیں رکھتیں کہ عزیز بچوں کی صحت و سلامتی کی خاطر اپنے آپ کو دودھ پلانے کی زحمت دیں _
علاوہ ازیں جو خواتین بغیر کسی عذر کے بچے کو دودھ نہیں پلاتیں ممکن ہے کہ وہ بعض جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہوجائیں _ سرطان پستان ان خواتین میں زیادہ دیکھا گیا ہے کہ جو اپنے بچے کو دودھ نہیں پلاتیں _
اس مقام پر ضروری ہے کہ جو مائیں بچوں کو دودھ پلاتی ہیں انہیں متوجہ کیا جائے کہ ماں کی غذا کی کیفیت دودھ کی کیفیت پر اثر انداز ہوتی ہے _ دودھ ماں کی غذا سے تیار ہوتا ہے _ لہذا دودھ پلانے والی ماں کی غذا کو متنوع اور مختلف ہونا چاہیے اور اسے ہر طرح کی غذا سے استفادہ کرنا چاہیے _ مختلف پھلوں ، سبزیوں اور دانوں کا گاہے بگاہے استعمال کرناچاہیے تا کہ وہ خود بھی تندرست رہیں او ان کا دودھ بھی بھر پور اور کامل رہے _
مائع او رآبدار غذائیں مفید ہیں _ ماں کو یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ صحیح اور اچھی غذا قیمتی ترین اور خوش مزہ ترین غذائیں ہیں بلکہ کامل غذا کے لیے ایک ایسا پروگرام بنایاجاسکتا ہے کہ جس میں غذا
-----------
1_ اعجاز خوراکیہا ص 258
متنوع ہو ، کم خرچ بھی ، بھر پوربھی اور حفظان صحت کے مطابق بھی ہو _ اس سلسلے میں غذا شناسی کی کتابوں سے استفادہ کیا جا سکتا ہے _ جن میں سے ایک کتاب میں لکھا ہے :
ماہرین غذا دودھ پلانے والی عورتوں کو نصیحت کرتے ہیں کہ ہر طرح کی غذا سے کچھ نہ کچھ استفادہ کرے خصوصا لوبیا ، چنے ، دودھ تازہ مکھن ، ناریل ، ذیتون ، اخروٹ ، بادام ، میٹھے اور رسیلے پھل مثلا خربوزہ ، گرما ، سردا اور نا شپاتی و غیر ہ ( 1)
اسلام نے بھی اس امر کی طرف تو جہ دی ہے کہ ماں کی غذا اس کے دودھ پر اثر انداز ہوتی ہے
اسی وجہ سے
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :
اگر تم نے اپنے بچے کو دود ھ پلانے کے لیے کسی یہودی یا عیسائی عورت کا انتخاب کیا ہے تو انہیں شراب پینے اور سور کا گوشت کھا نے سے رو کو ( 2)
اگر ماں بیمار ہو جائے اور اسے دواکی ضرورت پیش آجائے تو اسے چاہیے کہ اس امر کی طر ف تو جہ رکھے کہ اس کی دوائیں اس کے دورھ پر بھی اثر کریں گی اور ممکن ہے بچے کی صحت وسلامتی کواس سے نقصان پہنچے ماں کو نہیں چاہیے کہ اپنے آپ یا غیر آگاہ افراد کے کہنے سے کوئی دوا استعمال کرے بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ ڈاکٹر کی طرف رجوع کرغ اور اسے یہ بھی بتا ئے کہ میں بچے کو دودھ پلارہی ہوں _
---------
1_ اعجاز خوراکیہا ص 251 تا ص 256
2_ مستدرک جلد 2 ص 224
ماں کے دودھ کے ساتھ ساتھ
بچے کی اصلی غذاماں کادودھ ہی ہے لیکن جب تک فقط غذا کا انحصار ماں کے دودھ پر ہو تو بہتر ہے کہ ہر روز کچھ مچھلی کاتیل اور کچھ پھل اس، دیئےائیں تا کہ وٹا ئیں تاکہ وٹامن اور معدنی مواد کے اعتبا سے اس کی خوراک جامع تر ہوجا ئے اور بچہ بہتر رشد کرے _ بچہ جوں بڑا ہو تا جاتا ہے اس کی غذائی ضرورت بھی بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ مرحلہ آجاتا ہے کہ وہ ماں کے دود ھ سے سیر نہیں ہوتا _ اس صورت میں اہیے کہ دوسری غذاؤں سے شیر مادر کی کمک کے طور پر استفادہ کیا جائے _ چارمہینوں کے بعد اور زیادہ سے زیادہ چھ مہینے کے بعد چا ہیے کہ بچے کودوسری غذاؤں سے آشنا کیا جائے ضروری ہے کہ بچے کی غذا ، سادہ اور مائع کی صورت میں ہو _ مختلف پھلوں کا جوس بچے کے لیے مفید ہوتا ہے _
سبزیوں کو ابال کا پانی بھی بچے کو دیا جا سکتا ہے _ یخنی بچے کی نشود ونما کے لیے مقید ہوتی ہے _ جب بچے دانت کے نکل آئیں تو نسبتا سخت غذادی جاسکتی ہے_ مثلا پکے ہوئے آلو، ابلے ہوئے انڈے بسٹ ، تازہ پنیر اور کچھ روٹی اور مکھن ، چاول ، تازہ پھل ، وغیرہ _ بچے کی غذا مختلف قسم کی ہونی چاہیے _ لیکن دھیان رہے کہ اتنی مقدار میں اسے غذادی جائے جتنی اسے ضرورت ہے نہ کہ اس سے زیادہ _
ماں کے دودھ کی ممانعت
چند مواقع ایسے ہیں کہ جہاں بچہ ماں کے دودھ سے محروم ہو جاتا ہے _
1_ اس صورت مین کہ جب ماں کسی متعدی مرض میں مبتلا ہو مثلاٹی _ بی و غیر ہ
2_ جب ماں کسی خطر ناک بیماری میں مبتلا ہو مثلا دل کی بیماری _ اور ڈاکٹر اسے دودھ دینے سے منع کردے _
3_ جب ماں پاگل پن یا مرگی کے مر ض میں مبتلا ہو _
4_ جب ماں خون کی شدید کمی کا شکار ہو ادر دودھ دینا اس کے لیے باعث ضرر ہو _
5_ جب ماں شراب یامنشیات کی عادی ہو کیونکہ ان کاز ہر دودھ مین داخل ہو جاتا ہے اور بچے کو بھی مسموم کردیتا ہے _
ایسے مواقع پر کہ جب دودھ دینا ماںکے لئے باعث ضرر ہو یا بچے کو بیماری میں مبتلا کردے یا اسے مسوم کرود ے تو چاہیے کہ بچے کو ماں کا دودھ نہ پلا یا جائے اور کسی دوسرے طریقے سے اس کو غذا فراہم کی جائے _ اگر دودھ پلانے والی عورت جاملہ ہو جائے تو وہ بتدریج اپنے بچے کا دودھ روک سکتی ہے اور اسے کوی اور خوراک دے سکتی ہے _
دودھ پلانے کا پرو گرام
ماہرین نے بچے کو دودھ پلانے کے لیے دو طریقے تجویز کیے ہیں
بعض کایہ نظریہ ہے کہ بچے کو غذا یا خوراک دینے کے لیے چاہیے کہ منظم اور دقیق پروگرام بنا یا جائے اور بچے کو اسی پروگرام کے تحت معین و قفوں میں دود ھ پلا یا جا ئے _ دو مرتبہ دود ھ پلانے کے در میان بعض نے تین گھنٹے کا و قفہ معین کیا ہے اور بعض نے چار گھنٹے کا یہ ماہرین کہتے ہیں کہ ہر تین یا چار گھنٹے بعد بچے کو دودھ دینا چاہیے اور اس دوران بچے کودودھ دینے پرہیز کرنا چا ہیے _
بعض دوسرے ماہرین نے اس روش کو پسند نہیں کیا اور انہوں نے آزاد پرورش یا طبعی تنظیم کو تجویز کیا ہے _ وہ کہتے ہیں کہ جب بھی بچہ بھو کا ہو جا تا ہے اور وہ بھوک کا تقاضا کرتا ہے تواسے دودھ دینا چاہیے _
بعض کی نظر میں دوسری روش اس پہلی سے بہتر ہے کہ جس میں معین و قفوں کی پابندی کی جاقی ہے چاہے جب دودھ یا جائے بچہ بھو کا بھی نہ ہو ان کے نزدیک دوسری تجویز علاوہ برا ینکہ عملی لحاظ سے آسان ہے ظاہرا پسندیدہ اور معقول تر ہے کیونکہ پہلے مجوزہ پرو گرام کا تقاضا اگر چہ یہ ہے کہ بچے کو بھوک کے وقت دود ھ یا جائے نہ کہ معین اوقات میں لیکن اس کے باو جودیہ بہت سے نقائص کا حامل ہے بہر حال دوسری تجویز بھی نقائص سے خالی نہیں ، ذیل کے چند نکات کی طرف توجہ کیجئے _
1_ بچے میں بھوک اور پیاس کو یقیتی طور پر متشخص نہیں کیا جاسکتا کیونکہ بچہ بات تو نہیں کر
سکتا کہ اپنے داخلی محسوسات کو بیان کرسکے اگر چہ ابتدائی طور پر بچہ بھوک مٹا نے کے لیے دودھ پیتا ہے لیکن آہستہ آہستہ وہ دودھ پینے کا عادی بن جاتا ہے اور پستان کو چو سنے سے لطف آٹھاتا ہے _ اس صورت میں کبھی کبھی بچے کے اندرونی احساسات اسے تجریک کرتے ہیں کہ وہ روئے تا کہ دوسروں کی محبت کو اپنی طرف جذب کرسکے _ ماں بھی اسے چپ کرانے کے لیے اپنا دودھ پیش کردیتی ہے _ بچہ بھوک کے بغیر بھی روتا ہے اور ماں اس خیال سے دودھ دیتی ہے کہ وہ بھوکا ہے _ کبھی بھوک کی وجہ سے دودھ پیتا ہے اور کبھی بغیر بھوک کے بھی _ البتہ ہے کہ نامنظم طور پر اور بھوک کے بغیر غذا کا استعمال جیسے بڑوں کے لیے نقصان وہ ہے اسی طر ح بچوں کے لیے بھی کہ جن کا نظام ہضم ابھی قوی نہیں ہو تا _ نامنظم طور پردودھ دینے سے ممکن ہے بچے کے نظام ہضم میں کوئی خلل پیدا ہو جائے اور بچہ کسی بیماری کے لیے تیار ہو جائے _ اس بنا پر غذا دینے کی آزاد روش بچے کی صحت و سلامتی کے لیے بے ضرر نہیں ہوسکتی کیونکہ اس میں بھوک کے وقت کو متشخص نہیں کیا جا سکتا _ بچوں میں بہت سی بیماریاں نامنظم اور زیادہ غذا کے باعث پیدا ہوتی ہیں _
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا :زیادہ کھانے اور کھا نے کے بعد پھر کھانے سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ زیادہ کھانے والا بیمار بھی زیادہ ہو تا ہے ( 1 )
2_ جو بچہ شروع ہی سے بغیر کسی نظم و حساب کے دودھ پیتا ہے وہ شروع سے بے نظمی کا عادی ہو جاتا ہے اور اپنی آئندہ کی زندگی میں نظم و ضبط سے عاری ایک فر د ثابت ہو گا
3_ جو بچہ جب بھی ردتا ہے اور اس کے منہ میں پستان دے دیا جاتا ہے وہ اسی عمر ے گریہ وزاری کا عادی ہو جاتا ہے اور وہ آئندہ بھی رونے دھونے اور منت
----------
1_مستدرک ج 3ص 82
سماجت کو ہی مقصد تک پہنچنے کا بہترین وسیلہ سمجھنے لگتا ہے _ کاموں میں صبر اور حو صلہ سے کام نہیں لیتا _ وہ چاہتا ہے کہ جتنی جلدی ہو سکے مقصد تک پہنچ جانے اگر چہ اس کے لیے رونا پڑے یا التماس کرنے پڑے یا ذلت کا بو جھ اٹھا نا پڑ ے _
4_ ایسے بچے کے ماں لاپ اور مربیوں کو راحت و آرام نہیں ملتا کیونکہ وہ وقت بے وقت رونے مگتا ہے اور دودھ مانگتا ہے _
انہیں نقائص کی وجہ سے میں پہلی روش کو دوسری روش پر ترجیح دیتا ہوں اور منظم طریقے سے غذا دینے کو بچے کی جسمانی اور روحانی نشو و نما کے لیے بہتر سمجھتا ہوں _
ڈاکٹر جلالی اس بار ے میں لکھتے ہیں:اگر کسی ماہر ڈاکٹر کے کہنے کے مطابق بچے کے لیے دودھ پلانے کا منظم پروگرام بنا یا جائے تو اس میں اسی کے مطابق عادت پیدا ہو جائے گی اورعادت خود اس بات کا سبب بنے گی کہ اس عادت سے مربوط طرز عمل اور رد عمل سے مائیں بچے کی سیری اور بعوک کی حالت سے آگاہ ہو سکیں _
ثانیا انسان کے بہت سارے کام ہر روز چونکہ عادت کے مطابق انجام پانے چاہیں لہذا دود ھ دینے کا یہی منظم پروگرام اس کی بعد کی عادتوں کے لئے اچھی بنیاد بن جائے گا ( 1)
آج کل ہرماں بچے کی پرورش کے سادہ سے حقائق جانتی ہے اور اس کی تربیت کرتی ہے مثلا وہ جانتی ہے کہ بچے کو مناسب وقفوں سے غذا دینا کتنا ضروری ہے نہ کہ جب وہ رورہا ہو اسے علم ہے کہ ایسی پا بندی اس لیے رکھی جاتی ہے ہ یہ غذا کے ہضم ہونے ہیں بہت فائدہ مند ہے ... ...علاوہ از یں تربیت اخلاق کے حوالے سے بھی مطلوب ہے کیونکہ شیر خوار بچے
----------
1_ روان شناسی کودک ص 224
اس سے زیادہ حیلہ ساز اور کمر باز ہوتے ہیں کہ جتنا بڑے ان کے بارے میں تصور کرتے ہیں _ بچے جب دیکھتے ہیں کہ رونے دھونے سے ان کا مقصود حاصل ہوجاتا ہے تو وہ پھر اسی روش کو اختیار کرتے ہیں اور بعد جب کہ وہ دیکھتے ہیں کہ شکوہ اور آہ و زاری کی عادت بجائے اس کے کہ نوازش کا باعث بنے نفرست کا سبب بنتی ہے تو تعجب کرتے ہیں اور ان کو بہت دھچکا پہنچتا ہے اور دنیا ان کے آنکھوں میں سرد ، خشک اور بے روح ہوجاتی ہے _
لیکن چند نکات کی طرف توجہ ضروری ہے _
1_ سب بچوں کے لیے اور دودھ پینے کے تمام عرصے کے لیے غذا کا ایک جبسا پروگرام معین نہیں کیا جا سکتا کیونکہ نظام ہضم اور بچے کی غذائی ضرورت تمام مدّت میں ایک جیسی نہیں رہتی _ نو زائدہ بچہ کا معدہ اور نظام ہضم آغاز تولد سے چالیس پچاس روز تک بہت چھوٹا ہوتا ہے کہ جو تھوڑے سے دودھ سے بھر جاتا ہے _ نو زائدہ بچہ تھوڑے سے دودھ سے سیر ہوجاتا ہے لیکن تھوڑی ہی مدّت بعد پھر بھوکا ہوجاتا ہے اس مدّت میں چاہیے کہ دودھ پلانے کے درمیاں فاصلہ کم ہو مثلاً 21 اسے 2 گھنٹے تک لیکن اس کے بعد بچے کے بڑے ہونے کے اعتبار سے وقفوں میں زیادہ اضافہ کیا جا سکتا ہے مثلاً تین گھنٹے یا چار گھنٹے یہاں تک کہ بعض اوقات اس سے بھی زیادہ کا _
2_ سب بچے جسمانی ساخت اور نظام ہضم کے اعتبار سے ایک جیسے نہیں ہوتے بعض کو جلدی بھوک لگ جاتی ہے اور بعض کو دیر سے لہذا ان سب کے لئے ایک جیسا پروگرام تجویز نہیں کیا جا سکتا _ سمجھدار اور ہوش مند مائیں اپنی ذمہ داری کا احساس کرتی ہیں اور اپنے بچوں کی صحّت و سلامتی کی خواہاں ہوتی ہیں _ وہ بذات خود اپنی بچے کے لیے خاص شرائط و حالات کو مدّنظر رکھتے ہوئے غذا کا پروگرام منظم کرتی ہیں اور ضروری ہو تو وہ ڈاکٹر کی طرف رجوع کرکے مشورہ بھی کرتی ہیں _
3_ جب بھی بچے کو دودھ دیا جائے تو اسے پوری طرح سیر کرنا چاہیے البتہ خواتین کو اس امر کی طرف متوجہ رہنا چاہیے کہ بچے بالخصوص نوزاد بچہ جلدی سوجاتا ہے اور معمولاً دودھ پیتے پیتے سوجاتا ہے جب کہ ابھی وہ سیر نہیں ہواہوتا اس صورت میں ماں بچے کی پشت پر آہستہ آہستہ ہاتھ مارسکتی ہے تا کہ وہ بیدار رہے اور پوری طرح سے سیر ہوجائے _
4_ جب بچے کودودھ دینے کا منظم پروگرام ترتیب پاجائے تو اس پر صحیح طرح سے عمل درآمد کی طرف توجہ رکھنا چاہیے اور مقرر اوقات کے درمیان میں اسے ہرگز دودھ نہیں دینا چاہیے اگر چہ وہ گریہ و زاری کرے _ اس کام میں صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنا چاہیے تا کہ بچہ آہستہ آہستہ اس غذائی پروگرام کا عادی ہوجائے _ اس کے بعد وہ خود بخود معین اوقات میں بیدار ہونے لگے گا اور دودھ کا تقاضا کرنے لگے گا _ ایسی صورت میں ایک صابر ، بردبار اور منظم بچہ بھی پروان چڑھے گا اور آپ بھی آرام وراحت میں رہیں گے_
5_ بچے کے غذائی پروگرام کو اس طریقے سے مرتب کرنا چاہیے کہ آدھی رات کے بعد سے صبح تک اسے غذا نہ دی جائے تا کہ وہ اس طرز عمل کا عادی ہوجائے _ اس صورت میں بچہ بھی آرام و راحت سے سوجائے گا اور ماں بھی چند گھنٹے سکون اور چین سے آرام کرسکے گی_
6_ ہر مرتبہ بچے کو دودھ دینے کے بعد پستان کو تھوڑی سی روٹی سے صاف کرنا چاہیے _ یہ کام بچے کی صحت و سلامتی کے لیے بھی مفید ہے اور پستان کو زخمی ہونے سے بھی بچاتا ہے _
7_ جب بچہ دودھ پیتا ہے تو عموماً کچھ ہوا اس کے معدے میں داخل ہوجاتی ہے _ اور اس کے لیے ناراحتی کا سبب بنتی ہے اور اس کے پیٹ میں ہوا بھر جاتی ہے _ دودھ دینے کے بعد آپ اسے بلند کرسکتے ہیں اور آہستہ آہستہ اس کی پشت پر ہاتھ مارسکتے ہیں تا کہ ہوا نکل جانے اور بچہ دل کی تکلیف میں مبتلا نہ ہو _
8_ بچے کو دونوں پستانوں سے دودھ دیں تا کہ آپ کا دودھ خشک نہ ہو اور آپ پستان کے درد میں مبتلا نہ ہوں _ ایک خاتون کہتی ہے :
حضرت امام صدق علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا اپنے بچے کو ایک پستان سے دودھ نہ دے بلکہ دونوں پستانوں سے دودھ دے تا کہ اسے کامل غذا مل سکے _ (1)
9_ دودھ پلانے والی ماؤں کو چاہیے کہ وہ زیادہ تھکادینے والے کام اور شدید غصہ سے اجتناب کریں کیونکہ ماں کی ناراضی اور شدیدغصّے کے اثرات دودھ پر مرتب ہوتے ہیں کہ جو بچے کے لیے نقصان دہ ہیں _
----------
1_ وسائل _ج 15 ص 176
ماں کا دودھ نہ ہو تو ؟
اگر ماں کا دودھ بچے کی ضرورت پوری نہ کرتا ہو تو ماں کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ اسے اپنے دودھ سے بالکل ہی محروم کردے بلکہ اس کا جتنا بھی دودھ ہے وہ بچے کو پلائے اور کمی کو دوسرے دودھ اور غذا سے پورا کرے _ لیکن اگر ماں کو دودھ بالکل نہ ہو (البتہ ایسا بہت ہی کم ہوتا ہے) یا وہ دودھ دینے سے معذور ہوتو پھرگائے کے دودھ سے استفادہ کیا جا سکتا ہے کہ جو کسی حد تک شیر مادر سے ملتا جلتا یا پھرخشک دودھ سے _ اگر گائے کے دودھ سے استفادہ کیا جائے تو چاہیے کہ مندرجہ ذیل نکات کی طرف توجہ رکھی جائے _
1_ گائے کا دودھ عموماً ماں کے دودھ سے زیادہ گاڑھا اور زیادہ بھاری ہوتا ہے _ اس لحاظ سے چاہیے کہ اس میں کچھ ابلا ہوا پانی ملادیا جائے ، اس حد تک کہ وہ ماں کے دودھ جیسا ہوجائے اس میں تھوڑی سی چینی بھی ملا لینی چاہیے _
2_ دودھ کو پندرہ منٹ تک کے لیے ابال لینا چاہیے تا کہ اگر اس میں جراثیم ہوں تو وہ ختم ہوجائیں _
3_ بچے کو جود ودھ پلایا جائے نہ زیادہ گرم ہو اور نہ زیادہ سرد بالکل ماں کے دودھ جیسی اس کی حرارت ہو _
4_ ہر مرتبہ بچے کو دودھ پلاتے وقت فیڈر (دودھ والی بوتل) کو دھولینا چاہیے تا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ دودھ خراب ہوجائے اور بچہ بیمار ہوجائے _
5_ کوشش کرنی چاہیے کہ حتی المقدور تازہ اور صحیح دودھ سے استفادہ کیا جائے _
اگر آپ بچے کی غذا کے لیے خشک دودھ سے استفادہ کرنا چاہیں ، تو ضروری ہے کہ اس بارے میں ڈاکٹر سے مشورہ کریں کیونکہ خشک دودھ مختلف قسم کا ہوتا ہے اور ہر قسم کا دودھ ہر بچے اور ہر عمر کے لیے مفید او رمناسب نہیں ہوتا _
اس سلسلے میں ڈاکٹر ہی فیصلہ کرکے آپ کی راہنمائی کرسکتا ہے _ اگر ڈاکٹر کوئی دودھ آپ کے بچے کے لئے تجویز کرے اور وہ آپ کے بچے کے مزاج سے ہم آہنگ نہ ہو تو آپ پھر ڈاکٹر کی طرف رجوع کرسکتے ہیں _
دودھ چھڑوانا
بچے کو پورے دوسال دودھ پلانا چاہیے _ دوسال دودھ پینا ہر بچے کا فطری حق ہے کہ جو خداوند بزرگ نے اس کے لیے مقرر کیا ہے _ اللہ تعالی قرآن مجید میں فرماتا ہے _ والوالدات یرضعن اولادهنّ حولین کاملین _
مائیں اپنے بچوں کو پورے دوسال دودھ پلائیں _ بقرہ آیہ 233
اگر ماں چاہے تو دوسال سے جلدی بھی بچے کو دودھ چھڑوا نے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ کہ کم از کم اکیس مہینے اسے دودھ پلا چکی ہو _
حضرت صادق علیہ السلام فرماتے ہیں _ الرضاع واحد و عشرون شهراً انما نقص فهو جور علی الصبی
دودھ پلانے کی مدّت کم از کم اکیس ماہ ہے _ اگر کسی نے اس مدّت سے کم پلایا تو یہ بچے پر ظلم ہے _ (1)
ان دو سالوں میں بچہ آہستہ آہستہ دوسری غذاؤں سے آشنا ہوجاتا ہے _ ماں رفتہ رفتہ بچے کا دودھ کم کردیتی ہے اور اس کے بجائے اسے دوسری غذا دیتی ہے _ دودھ پلانے کی مدت پوری ہونے کے بعد بچے کو دودھ چھڑوایا جا سکتا ہے اور صرف دوسری غذاؤں سے استفادہ کیا جاسکتا ہے _ سمجھدار اور معاملہ فہم مائیں خود بہتر جانتی ہیں کہ بچے کے لیے کس طرح
------------
1_ وسائل الشیعہ جلد 15 ص 177
کی غذا انتخاب کرنی چاہیے کہ جو بچے کے مزاج سے بھی ہم آہنگ ہواور غذائیت کے اعتبار سے بھی کامل _
البتہ بچے کو دودھ چھڑدانا کوئی ایسا آسان کام بھی نہیں _ یقینا وہ چند روز گریہ و زاری و فریاد کرے گا لیکن صبر و استقامت سے کام لیناچاہیے تا کہ وہ بالکل دودھ چھوڑ دے _ مال شرعی حد تک دودھ کو برا کہہ سکتی ہے ، اپنے پستان کو سیاہ اور خراب کر سکتی ہے یا پستان کے سرغ کو کڑوا کر سکتی ہے تا کہ بچہ دودھ پینے سے رک جائے _
لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ اسے کسی خیالی یا دوسری چیزسے دڑایا جائے _ اس امر سے غافل نہ رہیے کہ بچے کو دڑانا کوئی اچھا کام نہیں ہے اس سے اس کے جسم اور روح پر برے اثرات پڑتے ہیں جو بعد میں ظاہر ہوتے ہیں _
بیٹی یا بیٹا
جو نہی عورت حاملہ ہوتی ہے وہ اس مسئلہ میں مضطرب رہتی ہے کہ بیٹا ہوگیا یا بیٹی ، دعا کرتی ہے نذر مانتی ہے نیاز دیتی ہے کہ بیٹا ہو _ جب اس کے عزیز رشتے دار ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ تمہارے چہرے کے رنگ سے لگتا ہے کہ بیٹا پیدا ہوگا _ جب کہ اس کے برخلاف اس کے دشمن کہتے ہیں کہ تمہاری آنکھوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیٹی پیدا ہوگی _ شوہر بھی بیگم سے پیچھے نہیں ہوتا اس کے بھی دل میں بیٹے کی خواہش چٹکیاں لیتی رہتی ہے _ موقع بے موقع وہ اس بارے میں بات کرتا ہے اور ادھر ادھر کے وعدے کرتا رہتا ہے _ پیدائشے کے وقت سب حاضرین کی توجہ اس مسلئے کی طرف رہتی ہے کہ بیٹا ہے یا بیٹی _ اگر بیٹی ہو تو ایک دفعہ کمرہ پیدائشے میں سرتا پا سکوت ہوجاتا ہے اور چہرے اتر جاتے ہیں لیکن اگر بیٹا ہو تو خوشی کا شوروشین بلند ہوجاتا ہے _ ماشاء اللہ سے آواز گونج اٹھتی ہے _ جب بچے کی پیدائشے کی خبر باپ تک پہنچتی ہے تو اگر بیٹا ہو تو خوش ہوجاتا ہے ، ادھر ادھر دوڑتا ہے ، مٹھائیاں اور پھل لاتاہے ،ڈاکٹر اور دوا کا بندوبست کرتا ہے _ کہتا پھرتا ہے بچے کا دھیان رکھنا اسے کہیں ٹھنڈ نہ لگ جائے _ بیگم کے بارے میں احتیاط کرنا کہ کہیں ہلے چلے نہ _ دائیہ اور نرسوں کو انعام دیتا ہے _ لیکن اگر بیٹی جنم لے تو اس کا چہرہ ہی اترجاتا ہے _ کونسے میں جا بیٹھتا ہے اپنی بدبختی پر روتا ہے اور اپنی زندگی کو تلخ بنالیتا ہے _ بیمار بیوی کی طرف اعتنا نہیں کرتا اس کی احوال پرسی اور عیادت نہیں کرتا _ یہاں تک کہ بعض اوقات اسے ایسا غصہ آتا ہے کہ طلاق کی دھمکی دینے لگتا ہے _ ہمارے انحطاط پذیر اور بے تربیت معاشرے کی اکثریت میں ایسے ہی غلط افکار اور بری عادت موجود ہے _ البتہ سب ایسے نہیں ہیں _ روشنفکر
لوگ بھی موجود ہیں کہ جن کی نظر میں بیٹا اور بیٹی برابر ہے لیکن وہ اقلیت میں ہیں _
والد عزیز اور والدہ گرامی
بیٹا ہو یا بیٹی ان میں کیا فرق ہے _ کیا بیٹی میں انسانت کم ہوتی ہے ؟ کیا اس میں ترقی اور پیش رفت کی صلاحیت نہیں ہوتی ؟ کیا وہ ایک مفید اور قیمتی انسان نہیں بن سکتی ؟ کیا بیٹی تمہاری اولاد نہیں ہے ؟ آخر بیٹوں کا ماں باپ کے لیے کون سا ایسا فائدہ ہے جو بیٹی کا نہیں ؟ اگر بیٹی کی کی کوئی اہمیت نہ ہوتی تو اللہ اپنے رسول (ص) کی نسل کو فاطمہ (ع) کے ذریعے کیسے برقرار رکھتا _ اگر بیٹی کی آپ اچھی پرورش کریں تو وہ بیٹے سے پیچھے نہیں رہے گی تاریخ کے اوراق پلٹ کردیکھیں آپ کو ایسی خواتین نظر آئیں گی جن میں سے ایک ایک ہزاروں مردوں پر بھاری ہے _ یہ کیسی غلط افکار کے خلاف جہاد کیجئے بیٹے اور بیٹی میں غلط قسم کے فرق کو اپنے ذہن سے نکال دیجئے _ ذمہ دار اور مفید انسانوں کی تعمیر کے بارے میں سوچیے _ سودمند اور قیمتی انسان بیٹی بھی ہوسکتی اور بیٹا بھی _ جس وقت تمہیں بچے کی پیدائشے کی خبر ملے اگر وہ صحیح و سالم ہو تو خدا کا شکر کرو کہ وہ پروردگار عالم کا عطیہ ہے اور تمہارے وجود کی یادگاری ہے کہ جو زندگی کے حساس اور خطرناک مرحلے سے صحیح و سالم گزر آیاہے اور اس نے زمین پر قدم رکھا ہے _
پیغمبر اکرم اورائمہ اطہار علیہم السلام کی یہی روش تھی _جس وقت اما م سجاد علیہ السلام کو نو مولود کی خبر دی جاتی تو بیٹی کے بارے میں ہرگز سوال نہ کرتے _ لیکن جب ان کو بتایا جاتا کہ صحیح و سالم ہے تو خدا کا شکر ادا کرتے _ (1)
رسول اکرم (ص) اپنے دوستوں کے ساتھ محو گفتگو تھے اسی اثنا میں ایک شخص محفل میں داخل ہوا اورحضور کو خبری دی کہ اللہ نے آپ کو بیٹی علا کی ہے _ رسول اللہ اس خبر پرخوش ہوئے اور اللہ کا شکر ادا کیا آپ (ص) نے جب اپنے اصحاب کی طرف نظر کی تو ان کے چہروں پر ناراحتی کے آثار ہویدا تھے _ آپ (ص) نے برا مانتے ہوئے فرمایا:
----------
1_ وسائل _ ج 15 _ص 143
مالکم ؟ ریحانة اشمها و رزقها علی الله عزوجل
کیا ہوگیا تمہیں ؟ اللہ نے مجھے پھول عطا کیا ہے جس کی مہک میں سونگھتا ہوں اول اللہ نے اس کا رزق دیا ہے _ (1)
اللہ تعالی نے اس بری عادت کی مذمت کی ہے اور قرآن میں فرمایا ہے _
و اذا بشّر احدهم بالانثی ظلّ وجهه مسودًا و هو کظیم _ یتواری من القوم من سوء ما بشّر به _
(سورہ نحل ، آیہ 58 _59)
جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی بشارت دی جاتی ہے تو شرم کے مارے اس کا چہرہ سیاہ ہوجاتا ہے ، غصہ اس پر چھاجاتا ہے _ اس بری خبر کے باعث وہ لوگوں سے منہ چھپائے پھرتا ہے _
-----------
1_ وسائل الشیعہ _ ج 15_ ص 102
بچے کا نام
ماں باپ کی حساس اور اہم ذمہ داریوں میں سے ایک بچے کا نام کا انتخاب ہے _ نام رکھنے کو چھوتی سی اور غیر اہم چیز نہیں سمجھنا چاہیے _ لوگ ناموں اور خاندانوں سے اندازہ لگاتے ہیں اور ان کی خوبی اور خوبصورتی کو شخصیت کی پہچان شمارکرتے ہیں جس کسی کا بھی اپنا اور خاندانی نام خوبصورت ہوگا وہ ہمیشہ ہر جگہ سربلند ہوگا اور جس کسی کا نام بھی برا ہوگا شرمندہ ہوگا _ برے نام کو اپنا عیب سمجھے گا اور احساس کمتری میں مبتلا رہے گا _ بعض اوقات بے ادب لوگ اس کا مذاق بھی اڑائیں گے اور یہ احساس کمتری وہ چاہے نہ چاہے اس کی روح پر برے آثار مرتب کرے گا _ اس وجہ سے اسلام اچھے نام کا انتخاب ماں باپ کی ذمہ داری قرار دیتا ہے اور اسے ان کی اولین نیکی شمار کرتا ہے _
پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا:
ہر باپ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کے لیے خوبصورت نام انتخاب کرے _ (1)
پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:
اولاد کے باپ پر تین حق ہیں _ پہلا یہ کہ اس کا نام اچھارکھے _ دوسرا کہ اسے پڑھنا لکھنا سکھائے تیسرا یہ کہ اس کے لیے شریک حیات ڈھنڈے _ (2)
--------
1_ مستدرک ج 2 ص 618
2_ بحار الانوار ج 104 ص 92
امام موسی کاظم علیہ السلام نے فرمایا:
اوّل ما یبرّ الرّجل ولده ان یسمّیه باسم حسن _
باپ کی پہلی نیکی اولاد کے ساتھ یہ ہے کہ اس کے لیے پیارا سانام انتخاب کرے _ (1)
دوسری طرف نام کا انتخاب بہت زیادہ معاشرتی اثر بھی رکھتا ہے _ نام ہے کہ جو ماں باپ کے مقاصد ، افکار اور آرزوؤں کا ترجمان ہوتا ہے اور انکی اولاد کو باقاعدہ مختلف گروہوں اور اہداف میں سے کسی کے ساتھ وابستہ اور ملحق کرتا ہے _ نام ہی سے سمجھدار ماں باپ کسے افکار اور ارمانوں کا پتہ لگایا جا سکتا ہے _ ماں باپ کو اگر کسی خاص شاعر تعلق خاطر ہوگا تو وہ اپنے بچے کے لیے اسی کا نام انتخاب کریں گے _ اگر وہ علم دوست ہوں گے تو علماء میں سے کسی کے نام سے استفادہ کریں گے _ اگر دیندار ہوں گے تو انبیاء ائمہ اور بزرگان دین کے ناموں میں سے کوئی نام چنیں گے _ اگر وہ ایثار دین کے راستے میں جانبازی اور ستمکاروں کے خلاف جہاد کو پسند کرتے ہوں گے تو محمد ، علی ، حسن (ع) ، حسین (ع) ، ابوالفضل (ع) ، عباس ، حمزہ ، جعفر ، ابوذر، عماراور سعید جیسے ناموں میں سے کوئی نام انتخاب کریں گے _اگر وہ کسی کھیل کو پسند کرتے ہوں کے تو معرف کھلاڑیوں میں سے کسی نام رکھیں گے _ اگر انھیں کوئی گلوکار اچھا لگتا ہوگا تو اپنے بچے کا نام اسی کے نام پر رکھیں گے _
اگر وہ ظلم و ستم سے خوش ہوں گے تو سکندر، تیمور ، چنگیز جیسے ناموں میں سے کسی کا انتخاب کریں گے ہر ماں باپ نام کے انتخاب سے اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو کسی خاص گر وہ سے وابستہ کرلیتے ہیں _ ناموں کہ یہ وابستگی عمومی افکار پر اثر انداز ہونے کے علاوہ زیادہ تر صاحب نام پر بھی اثر انداز ہوتی ہے _رسول اسلام (ص) نے فرمایا:
استحسنوا اسمائکم فانکم تدعون بها یوم القیامة قم یا فلان بن فلان الی نورک وقم یا فلان بن فلان لا نورلک _
-----------
1_ وسائل الشیعہ ج 15 ص 122
اچھا نام رکھو کیونکہ قیامت کے روز تمہیں انہی ناموں سے پکارا جائے گا اور کہا جائے گا اسے فلان ابن فلان اٹھ کھڑے ہو اور اپنے نورسے وابستہ ہو جاؤ اور اے فلاں بن فلاں اٹھ کھڑے ہو کہ تمہارے لیے کوئی روشنی نہیں جو تمہاری راہنمائی کرے _ (1)
ایک شخص نے حضرت امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا : ہم لوگ آپ کے اور آپ کے اجداد کے نام اپنے لیے انتخاب کرتے ہیں _ کیا اس کام کا کوئی فائدہ ہے _ آپ نے فرمایا:
ہاں اللہ کی قسم کیا دین اچھوں سے محبت اور بروں سے نفرت کے سوا بھی کچھ ہے _ (2)
دنیا میں لوگ اپنے مقاصد کی ترویج کے لئے اور شخصتیوں کو نمایاں کرنے کے لئے ہر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہیں _ یہاں تک کہ شہروں ، سڑکوں اور چوراہوں کے نام رکھنے تک سے استفادہ کرتے ہیں _ ایک ذمہ دار اور آگاہ مسلمان بھی دین کی ترویج کے لیے کسی موقع پر یہاں تک کہ نام رکھنے کے موقع پر غفلت نہیں کرتا _
ہاں حسن ، حسین ،ابوالفضل ، علی اکبر، حر ، قاسم ، حمزہ ، جعفر ، ابوذر اور عمار جیسے ناموں کے انتخاب سے اور ان کی ترویج سے اسلام کے مروان مجاہد کی جانبازی اور فداکاری کودلوں میں زندہ رکھا جا سکتا ہے فداکاری اور ظالموں کے خلاف جہاد کی روح ملت میں پھونکی جا سکتی ہے _ اللہ کے عظیم رسولوں مثلاً ابراہیم ، موسی، عیسی ،اور محمد (ص) کا نام انتخاب کرکے خدا پرستوں اورقوانین الہی کے حامیوں کے ساتھ اپنی وابستگی کا اعلان کیا جا سکتا ہے _ فداکار اور مجاہد شیعہ مثلاً ابوذر ، میثم ، عمار اور ایسے سینکڑوں دوسرے حقیقی تشیع کے مصادیق کے ناموں کے حیاء اور ترویج سے ملت کو شخصیت کا حقیقی مفہوم سکھایا جا سکتا ہے _ اسلام کے عظیم
---------
1_ وسائل الشیعہ ج 15 ص 123
2_ مستدرک _ج _ص 218
علماء کے ناموں کا انتخب کرکے ان کے علم و دانش کی قدردانی اور ترویج کی جاسکتی ہے _ ایک سمجھدار مسلمان اس امر پہ تیار نہیں ہوسکتا کہ وہ ظالموں یا اسلام دشمنوں میں سے کسی کا نام اپنے بچے کے انتخاب کرے _ وہ جانتا ہے کہ خود یہ نام رکھنا بھی ایک طرح سے ظلم کی ترویج ہے _امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
لقد احتظرت من الشیطان احتظار شدیدًا انّ الشیطان اذا سمع نادیاً ینادی یا محمد و یا علی ذاب کما یذوب الرصاص ، حتی اذا سمع منادیا ینادی باسم عد و من اعدائنا اهتزّوا ختال_
شیطان سے بچو اور اس سے بہت خبردار ہو، کہ جب شیطان سنتا ہے کہ کسی کو محمد اور علی کہہ کے پکارا جاررہا ہے تو وہ یوں پگھل جاتا ہے جیسے سیسہ پگھل جاتا ہو اور جب وہ سنتا ہے کہ کسی کو ہمارے دشمنوں میں سے کسی کے نام سے پکارا جاتا ہے تو خوشی سے پھولا نہیں سماتا _ (1)
پیغمبر اسلام (ع) نے فرمایا: من ولد له اربقه اولاد کم بسم احدهم باسمی فقد جفانی
جس کسی کے بھی چار بیٹے ہوں اور اس نے کسی ایک کا نام بھی میرے نام پر نہیں رکھا اس نے مجھ پر ظلم کیا ہے _ (2)
امام باقر علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: خیر ها اسماء الانبیائ
بہترین نام نبیوں کے نام ہیں _ (3)
-----------
1_ وسائل الشیعہ _ ج _ص 127
2_ وسائل الشیعہ _ج _ص 127
3_ وسائل الشیعہ _ ج _ ص 124
پیغمبر اسلام (ص) نام کے مسئلے پر اس قدر اہتمام کرتے تھے کہ اگر ان کے اصحاب یا شہروں کے ناموں میں سے کسی کا اچھا نہ لگتا تو فوراً بدل دیتے _ عبدالشمس کو عبدالوہاب میں تبدیل کردیا _ عبد العزی (عزی بت کا بندہ ) کو آپ نے عبداللہ میں بدل دیا _ عبدالحادث ( شیر کا بندہ ) کو عبدالرحمن میں اور عبدالکعبہ کو عبداللہ میں بدل دیا _
صحت و صفائی
بچے کا لباس سال کے مختلف موسموں اور آب دہوا کے اعتبار سے ایسا تیارکنا چاہیے کہ نہ اسے ٹھنڈے مگے اور نہ ہی گرمی کی شدت سے اس کا پسنہ بہتا رہے اور اسے تکلیف محسوس ہو _ نرم اور سادہ سوتی کپڑے بچے کی صحت اور آرام کے لیے بہتر ہیں _ تنگ اور چپکے ہوئے لباس بچے کی آزادی کو سلب کرلیتے ہیں اور ایسا ہونا اچھا نہیں ہے _ ان کو تبدیل کرتے وقت بھی ماں اور بچے دونوں کو زحمت ہوتی ہے _ اکثر لوگوں میں رواج ہے کہ بچے کو سخت کپڑوں میں پیک کردیتے ہیں اور اس کے ہاتھ پاؤں مضبوطی سے باندھ دیتے ہیں _ ظاہراً ایسا کرنا اچھا نہیں ہے اور بچے کے جسم اور روح کے لیے ضرر رساں ہے _ اس غیر انسانی عمل سے اس ننھی سی کمزور جان کی آزادی سلب کرلی جاتی ہے _ اسے اجازت نہیں دی جاتی کہ وہ آزادی سے اپنے ہاتھ پاؤں مارے اور حرکت دے سکے اس طرح سے اس کی فطری نشو و نمااور حرکت میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے _
ایک مغربی مصنف لکھتا ہے :
جو نہی بچہ کے پیٹ سے نکلتا ہے اور آزادی سے لطف اندوز ہونا چاہتا ہے اور اپنے ہاتھ پاؤں کو حرکت دیتا ہے تو فوراً اس کے ہاتھ پاؤں کو ایک نئی قید و بند میں جکڑدیا جاتا ہے _ پہلے تو اسے پیک کردیتے ہیں _ اس کے ہاتھ پاؤں کو دراز کرکے زمین پر سلادیتے ہیں اور پھر اس کے جسم پر اتنے کپڑے اور لباس چڑھاتے ہیں اور کمربند باندھتے ہیں کہ وہ حرکت تک نہیں
کر سکتا اس طرح سے بچے کی داخلی نشو و نما کہ جو وقت کے ساتھ ساتھ زیادہ ہوتی ہے اس خارجی رکاوٹ کی وجہ سے رک جاتی ہے کیونکہ بچہ نشو و نما اور پرورش کے لیے اپنے بدن کے اعضاء کو اچھی طرح سے حرکت نہیں دے پاتا جن ممالک میں اس طرح کی وحشیانہ دیکھ بھال کا معمول نہین ہے اس علاقے کے لوگ طاقت دریاقوی ، بلند قامت اور متناسب اعضا ء کے حال ہوتے ہیں _ اس کے برعکس جن علاقوں میں بچوں کو کس باندھ دیا جاتا ہے وہاں پر بہت سے لوگ لولے لنگڑے ، ٹیڑے میڑھے، پست قامت اور عجیب و غریب ہوتے ہیں کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کی پرورش اور ایسے وحشیانہ عمل اس کے اخلاق اور مزاج کی کیفیت پر نامطلوب اثر نہیں ڈالیں گے _ سب سے پہلا احساس اس میں درد اور قید و بند کا ہوتا ہے کیونکہ وہ ذرا بھی حرکت کرنا چاہتا ہے تو اسے رکاوٹ کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا اس کی حالت تو اس قیدی سے بھی بری ہوتی ہے جو قید بامشقت بھگت رہا ہوتا ہے _ ایسے بچے ایسے ہی کوشش کرتے رہتے ہیں ، پھر انہیں غصہ آتا ہے _ پھر چیختے چلاتے ہیں اگر آپ کے بھی ہاتھ پاؤں باندھ دیے جائیں تو آپ اس بھی زیادہ او ربلند تر چیخیں چلائیں _
بچہ بھی ایک انسان ہے اس میں بھی احساس اور شعور ہے وہ بھی آزادی اورراحت کا طلب گار ہے _ اسے بھی اگر کس باندھ دیا جائے اور اس کی آزادی سلب کرلی جائے تو اسے تکلیف ہوتی ہے _ لیکن وہ اپنا دفاع نہیں کرسکتا اس کا ایک ہی ردعمل ہے گریہ و زاری اور دادو فریاد اور اس کے سوا اس کا کوئی چارہ ہی نہیں _ یہ دباؤ، بے آرامی اور تکلیف تدریجاً بچے کے اعصاب اور ذہن پر اثرانداز ہوتی ہے اور اسے ایک تند مزاج اور چڑچڑآ شخص بنادیتی ہے بچے کے لباس کو صاف ستھرا اور پاکیزہ رکھیں جب بھی وہ پیشاب کرے تو اس کا لباس تبدیل کریں
اس کے پاؤں کو دھوئیں اور زیتون کے تیل سے اس کی مالش کریں تا کہ وہ خشکی اور سوزن کا شکار نہ ہو _ چند مرتبہ پیشاب کے بعد بچے کو نہلائیں اور اسے پاک کریں اس طرح بچے کی صحت و سلامتی میں آپ اس کی مدد کرسکتے ہیں اور اسے بچپنے کی کئی بیماریوں سے بچا سکتے ہیں _ علاوہ ازیں بچہ نفیس و پاکیزہ ہوگا ، آنکھوں کو بھلا لگے گا اور سب اس سے پیار کریں گے _
پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:
''اسلام دین پاکیزگی ہے _ آپ بھی پاکیزہ رہیں کیونکہ فقط پاکیزہ لوگ بہشت میں داخل ہوں گے '' _ (1)
پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:''بچوں کو چلنا ہٹ اور میل کچیل سے پاک کریں کیونکہ شیطان انہیں سونگھتا ہے پھر بچہ خواب میں دڑتا ہے اور بے چین ہوتا ہے اور فرشتہ ناراحت ہوتے ہیں '' _ (2)
بیٹوں کا ختنہ کرنا ایک اسلامی رواج ہے اور واجب ہے _ختنہ بچے کی صحت و سلامتی کے لیے بھی مفید ہے ختنہ کرکے بچے کو میل کچیل اور آلہ تناسل اور اضافی گوشت کے درمیان پیدا ہونے والے موذی جراثیم سے بچایا جا سکتا ہے _ ختنے کو زمانہ بلوغ تک مؤخر کیا جا سکتا ہے لیکن بہتر ہے کہ پیدائشے کے پہلے پہلے دنوں میں ہی یہ انجام پاجائے _ اسلام حکم دیتا ہے کہ ساتویں دن نو مولود کا ختنہ کردیا جائے _حضرت صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: ''اختنوا اولادکم لسبعة ایام، فانه اطهر و اسرع لنبات اللحم ، و ان الارض لتکره بول الاغلف''
''ساتویں دن اپنے بچوں کا ختنہ کریں _ یہ ان کے لیے بہتر بھی ہے اور پاکیزہ تر
-----------
1_ مجمع الزوائد ج 5 ص 132
2_ بحار الانوار ج 104 ص 95
بھی نیز ان کی سریع تر نشو و نما اور پرورش کے لیے بھی مفید ہے اور یقینا زمین اس انسان کے پیشاب سے کراہت کرتی ہے کہ جس کا ختنہ نہ ہوا ہو '' _ (1)
پیغمبر اسلام (ص) فرماتے ہیں: ''اختنوا اولاد کم یوم السابع فانه اطهر و اسرع لنبات اللحم''
''نو مولد کا ساتویں دن ختنہ کریں تا کہ وہ پاک ہوجائے اور بہتر رشد و نمو کرے '' _ (2)
عقیدہ کرنا بھی مستحبات مؤکد میں سے ہے _ اسلام نے اس امر پر زور دیا ہے کہ ساتویںدن بچے کے بال کٹوائے جائیں اور اس کے بالوں کے وزن کے برابر سونے یا چاندی صدقہ دیا جائے اور اسی روز عقیقہ کے طور پر دنبہ ذبح کیا جائے اور اس کا گوشت فقرا میں تقسیم کیا جائے _
یا انہیں دعوت کرکے کھلایاجائے _ عقیقہ کرنا ایک اچھا صدقہ ہے اور بچہ کی جان کی سلامتی اور دفع بلا کے لئے مفید ہے _
نو مولود نہایت نازک او ر ناتوان ہوتا ہے _ اسے ماں باپ کی توجہ اور نگرانی کی بہت احتیاج ہوتی ہے _ صحت و سلامتی یا رنج و بیماری کی بچپن میں ہی انسان میں بنیاد پڑجاتی ہے اور اس کی ذمہ داری ماں باپ پر عائد ہوتی ہے جو ماں باپ اس کے وجود میں آنے کا باعث بنے ہیں ان کا فریضہ ہے کہ اس کی حفاظت اور نگہداشت کے لیے کا وش کریں اور ایک سالم اور تندرست انسان پروان چڑھائیں _ اگرماں باپ کی سہل انگاری اور غفلت کی وجہ سے بچے کے جسم و روح کو کوئی نقصان پہنچا تو وہ مسئول ہیں اور ان سے مؤاخذہ کیا جائے گا _ بچہ دسیوں بیماریوں میں گھر اہوتا ہے ، جن میں سے بہت سی بیماریوں کو لاحق ہونے سے روکا جا سکتا ہے مثلاً بچوں کا فالج ، جسم پر چھالوں کا پیدا ہونا ، خسرہ چیچک ، خناق، تشنج
---------
1_ وسائل الشیعہ ج 15ص 161
2_ وسائل الشیعہ ج 15 ص 165
اور کالی کھانسی و غیرہ جیسی بیماریوں سے متعلقہ ٹیکے لگواکر (دیکسنیشن کے ذریعے ) بچے جا سکتا ہے خوش قسمتی سے شفا خانوں اور طبی مراکز میں اس قسم کی بیماریوں کی روک تھام کا انتظام موجود ہے _ اور رجوع کرنے والوں کو اس مقصد کے لیے مفت ٹیکہ لگایا جاتا ہے _ ماں باپ کے پاس اس بارے میں کوئی عذر موجود نہیں ہے _ اگر وہ کوتاہی کریں اور ان کا عزیز بچہ فالج زدہ ہوجائے اور مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوجائے یا آخر عمر تک ناقص اور بیماررہ جائے تو وہ خدا اور اپنے ضمیر کے سامنے جواب دہ ہوں گے _ بہر حال ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ اپنی اولاد کی صحت و سلامتی کی حفاظت کے لیے کوشش کریں اور توانا اور صحیح و سالم انسان پروان چڑھائیں _
بچے کی نیند اور آزادی
چند ابتدائی ہفتے نو مولود زیادہ وقت سویا رہتا ہے _ شاید رات دن وہ بیس گھنٹے سوتا ہے لیکن رفتہ رفتہ اس کی نیند کی مدت کمتر ہوتی جاتی ہے _ نومولود کو نیند اور مکمل آرام کی شدید ضرورت ہوتی ہے _ زیادہ شور و شین اور مزاحمت سے وہ بیزار اور متنفر ہوتا ہے _ وہ پر سکون ماحول کو پسند کرتا ہے تا کہ آرام سے سوسکے اور اس میں اسے کوئی رکاوٹ نہ ہو _ زیادہ چوما چاٹی اور ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں گردش اور دوسروں کو دکھاتے رہنے سے بچے کا آرام و استراحت تباہ ہوجاتا ہے _ زیادہ غل غپاڑا اور ریڈیو اور ٹیلی وین کی سمع خراش آوازیں بچے کے نازک اعصاب کو متاثر کرتی ہیں _ بچے کی مزے کی نیند کو بے مقصد خراب نہیں کرتا چاہیے اور اسے خواہ مخواہ ادھر ادھر نہیں لے جانا چاہیے _ ایسی حرکتیں بچے کے آرام کو برباد کردیتی ہیں اور اس کے اعصاب کو متاثر کرتی ہیں _ اگر یہ سلسلہ جاری رہے تو ممکن ہے بچے میں تند مزاجی ، کج خلقی ، چڑچڑاپن اور اضطراب پیدا ہوجائے _
زیادہ شور و غل سے اور ادھر ادھر لے جائے جانے سے نومولود نفرت کرتا ہے _البتہ وہ ہلنے جلنے کا مخالف نہیں ہے _ اسے اچھا لکتا ہے کہ ماں کی گود میں یا گہوارے میں اسے حرکت دی جائے _ ہلنے جلنے وہ سکون محسوس کرتا ہے اور اس کا دل خوش ہوتا ہے _ کیونکہ حرکت اس امر کی علامت ہے کہ کوئی اس کے قریب موجود ہے اور اس کی دیکھ بھال کررہا ہے _ جب کہ خاموشی اور بے حرکتی تنہائی کی نشانی ہے علاوہ ازیں عالم جنیں میں بچہ ماں کے گہوارہ شکم میں حرکت کرتا رہا ہے اسی وجہ سے اگلے مرحلے میں بھی وہ
چاہتا ہے کہ ویسی ہی کیفیت جاری رہے _ بچہ ماں کی پیاری اور میٹھی لوریوں سے بھی احساس راحت کرتا ہے _
بچے کی زندگی کا پہلا سال اس کے پٹھوں اور اعضاء کی مشق کا سال ہے _ بچہ پسند کرتا ہے کہ آزادنہ حرکت کرے اور اپنے ہاتھ پاؤں مارے نومولود کا لباس نرم اور کھلا ہونا چاہیے _ بچے کو تہ درتہ کپڑروں میں کس باندھ دینے سے اس کی آزادی حرکت جاتی رہتی ہے اور اس سے اس کے اعصاب پر اثر پڑتا ہے _ جس بچے کی آزادی چھین لی جائے اس کے پاس رونے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوتا لہذا وہ دادو فریاد کرتا رہتا ہے _ اور اعصاب کی یہی بے آرامی ممکن ہے تند مزاجی اور شدید غصیلے پن کا مقدمہ بن جائے _
نومولود اور اخلاقی تربیت
جب بچہ دنیا میں آتا ہے تو بہت کمزور ہوتا ہے _ عقل بالقوت رکھتا ہے مگر کچھ چیز سمجھتا نہیں ، فکر اور سوچ بچار نہیں کرتا ، آنکھ سے دیکھتا ہے لیکن کسی چیز کو پہچانتا نہیں _ رنگوں اورشکلوں کو مشخص نہیں کر پاتا ، دوری اور نزدیکی ، بزرگی اور بچپن کو نہیں سمجھتا ، آوازیں سنتا ہے لیکن ان کے معانی اور خصوصیات اس کی سمجھ میں نہیں آتے اور یہی حالت اس کے تمام حواس کی ہے مگر وہ سمجھنے اور کمال تک پہنچنے کی وقت و استعداد رکھتا ہے تدریجا ً تجربوں سے گزرتا ہے اور چیزوں کو سمجھنے لگتا ہے _ اللہ قرآن میں فرماتا ہے :
والله اخرجکم من بطون امّهاتکم لا تعلمون شیئا و جعل لکم السّمع و الابصار و الافئدة لعلّکم تشکرون
اللہ نہ تمہیں تمہاری ماؤن کے پیٹوں سے اس عالم میں نکالا کہ تم کچھ نہ جانتے تھے اور تمہیں کان ، آنکھیں اور دل عطا کیا شاید کہ تم شکرگزار ہوجاؤ _
سورہ نحل _ آیہ 78
بچے کی زیادہ تر مصروفیات یہ ہیں کہ وہ کھاتا ہے ، سوتا ہے _ ہاتھ پاؤں مارتا ہے روتا ہے اور پیشاب کرتا ہے _ چند ہفتوں تک وہ ان کاموں کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتا _نومولود کے ابتدائی کام اگر چہ بہت سادہ سے اور چند ایک ہیں لیکن انہیں کے ذریعے سے بچہ دوسرے لوگوں سے ارتباط پیدا کرتا ہے ، تجربے کرتا ہے ، عادتیں اپناتا ہے اور علم حاصل
کرتا ہے _ یہی رابطے اور تجربے ہیں کہ جن سے بچے کی آئندہ کی اخلاق اور معاشرتی خصیت کی بنیاد پڑتی ہے اور وہ تشکیل پاتی ہے _
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا :
الا یام تو ضح السّرا ئرا لکا منه
جوں جوں دن گزرتے ہیں بھید کھلتے ہیں (1) بچہ ایک کمز رو معاشر تی فرد ہے کہ جو دوسروں کی مدد کے بغیر نہ زندہ رہ سکتا ہے اورنہ زندگی ، بسر کرسکتا ہے اگر دوسرے اس کی مدد کونہ لپکیں اور اس کی احتیاجات کوپویانے کریں تو وہ مر جائے گا _ نو مو لود کی جسمانی صحت اور پرورش جن کے ذمے ہوتی ہے اس کی اخلاق ، اجتماعی یہاں تک کہ دینی تربیت اور رشد بھی انہیں سے وابستہ ہے
سمجھدار اور احساس دمہ داری کرنے والے ماں باپ اپنے صحیح اور سو چے سمجھے طرز عمل سے نو مولود کی ضروریات کوپورا کرسکتے ہیں اور اس کے جسم و روح کی پرورش کے لیے بہترین ماحول فراہم کرسکتے ہیں اور اس کی حساس اور بے آلائشے روح میں پاکیزہ اخلاق اور نیک عادات پیدا کرسکتے ہیں _ اسی طرح ایک نادان تربیت کرنے، والا اپنے غلط طرز عمل اور اشتباہ سے ایک نو مولود کے پاک اور بے آلائشے نفس میں برے اخلاق او رناپسندیدہ عادات پیدا کر سکتا ہے _
نو مولود کو بھوک لگتی ہے اور اسے غذا کی ضرورت ہوتی ہے وہ اپنی ضرورت کا احساس کرتا ہے اور وہ ایک بڑی قوت کی طرف تو جہ کرتا ہے کہ جواس کی ضروریات کو بر طرف کرسکتی ہو اسی لیے وہ رو تا ہے ، شور مچاتا ہے کہ اس کی فریاد کو پہنچا جائے اور اس کی ضرورتوں کو پورا کیا جائے اگر بچے کی داخلی خواہشات کی طرف پوری تو جہ کی جائے اور ایک صحیح پرو گرام تربیت و یا جائے اسے معین مواقع پرا و ضروری مقدا میں دودھ یا جائے تو وہ آرام محسوس کرتا ہے مطمئن ہو کے سوتا ہے اور معین اوقات پر جب اسے بھوک لگتی ہے
--------
1_ غرر الحکم ص 47
تو بیدا ر ہوتا ہے پھر دود ھ پیتا ہے اور پھر سو جاتال ہے ایسے بچے کے اعصاب آرام و راحت سے رہتے ہیں _ اسے اضطراب اور بے چینی نہیں ہوتی ، اسے زندگی میں اچھے اخلاق، صبر اور نظم و ضبط کی عادت پڑ جاتی ہے اس کی حساس روح میں دوسروں پر اعتماد اور حسن ظن کی بنیاد پڑ جاتی ہے _ نومولود زندگی کے اس مرحلے میں کہ جب وہ کسی کونہیں پہچانتا فطری طور پر دو امور کی طرف تو جہ رکھتا ہے _ ایک اپنی ناتوانی اور نیازمندی کا اسے پورا احساس ہو تا ہے اور دوسری طرف ایک بڑی اور مطلق قوت کی طرف تو جہ رکھتا ہے کہ جو تمام احتیاجات کے لئے ملجاو پناہ گاہ ہے اسی سبب سے روتا ہے اور اس بر تر قوت کو مدد کے لیے پکار تا ہے کہ جسے و ہ پہچانتا نہیں اور وہ غیبی قوت سب اہل جہان کو پیدا کرنے والی ہے بچہ اپنے ضعف و ناتوانی کی وجہ سے اپنے آپ کو ایک بے نیاز طاقت سے وابستہ اور متعلق سمجھتاہے _ اگر یہ احساس تعلق آرام کے ساتھ بخوبی بندھآ رہے تو بچے کے دل میں ایمان اور روحانی سکون کی بنیاد پڑ جاتی ہے _
پیغمبر اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے فرمایا ہے _
(( رونے پر بچوں کونہ مارنا بلکہ ان کی ضروریات کو پورا کرنا کیوں کہ چار ماہ تکح بچے کا رونا پروردگار عالم کے وجود اور اس کی وحدانیت پر گواہی ہو تا ہے (1)
چار ماہ پورے ہونے سے پہلے نومولود ابھی ایک معاشرتی و جود نہیں بنا ہوتا _ کسی کو نہیں پہچانتا _ جتی اپنی ماں اور دوسروں میں فرق نہیں کرپاتا اور ماؤں کے بقول وہ دوری نہیں کرتا یہی چار ماہ ہیں کہ بچہ بس ایک ہی ذات کی طرف متوجہ ہو تا ہے لیکن جو بچہ ماں کی غفلت اور سستی کی وجہ سے صحیح اور منظم توجہ اورغذا سے محروم ہو جاتا ہے ناچار گاہ بگاہ روتا ہے اور شور کرتا ہے تا کہ کوئی اس کی مدد کو پہنچے _ ایسے بچے کے
-----------
1_ بحارالانوار جلد 104 ص 103
اعصاب اورذھن ہمیشہ مضطرب اور دگرگوں رہتے ہیں اور اسے آرام نہیں ملتا _ آہستہ آہستہ وہ چڑ چڑ اور تند خو ہو جاتا ہے _ اس کے اندر بے اعتمادی اور پریشانی کی حس پیدا ہو جاتی ہے اور وہ ایک نامنظم اور ڈہیٹ و جود بن جاتا ہے _
نومولود اور دنی تربیت
یہ صحیح ہے کہ نو مولود الفاظ او رجملے نہیں سمجھتا _ مناظر اور شکلوں کی خصوصیات کو پہچان نہیں سکتا _ لیکن آوازوں کو سنتا ہے اور اس کے اعصاب اور ذہن اس سے متاثر ہوتے ہیں اسی طرح سے مناظر اورشکلوں کو دیکھتا ہے اور اس کے اعصاب اس سے بھی متاثر ہوتے ہیں _ لہذا اس بناپر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ دیکھی جانے والی اور سنی جانے والی چیزیں نو مولود پر اثر نہیں کرتیں اور وہ ان کے بارے میں بالک لاتعلق ہوتا ہے _ نومولود اگر چہ جملوں کے معانی نہیں سمجھتا لیکن یہ جملے اسکی حساس اور ظریف روح پر نقش پیدا کرتے ہیں _ بچہ رفتہ رفتہ ان جملوں سے آشنا ہوجاتا ہے اور یہی آشنائی ممکن ہے اس کے آئندہ کے لیے مؤثر ہو _ جس لفظ سے ہم زیادہ متاثر ہوتے ہیں اس کے معنی کو بہتر سمجھتے ہیں _ نا آشنا افراد کی نسبت آشنا افراد کو ہم زیادہ پسند کرتے ہیں ایک بچہ ہے کہ جو دینی ماحول میں پرورش پاتا ہے ، سینکڑوں مرتبہ اس نے تلاوت قرآن کی دلربا آواز سنی ہے ،اللہ کا خوبصورت لفط اس کے کالوں سے ٹکرایا ہے اور اس نے اپنی آنکھوں سے بارہا ماں باپ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے _ دوسری طرف ایک نومولود ہے کہ اس نے برے اور بے دین ، ماحول میں پرورش پائی ہے ، اس کے کانوں نے غلیظ اور گندے سنے ہیں اور اس کی آنکھیں فحش مناظر دیکھنے کی عادی ہوگئی ہیں یہ دونوں بچے ایک جیسے نہیں ہیں _
سمجھدار اورذمہ دار ماں با پ اپنے بچوں کو تربیت کے لیے کسی موقع کو ضائع نہیں کرتے یہاں تک کہ اچھی آوازیں اور اچھے مناظر سے انہیں مانوس کرنے سے بھی غفلت
نہیں کرتے_
رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بھی اس حساس تربیتی نقطے کو نظر انداز نہیں کیا اور اپنے پیروکاروں کو حکم دیا ہے کہ ''جو نہی بچہ دنیا میں آئے اس کے دائیں کان میں اذان اوربائیں میں اقامت کہیں''_
حضرت علی علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت کی ہے کہ آپ(ص) نے فرمایا:
جس کے ہاں بھی بچہ ہوا سے چاہیے کہ اس کے دائیں کان میں اذان اوربائیں میں اقامت کہے تا کہ وہ شر شیطان سے محفوظ رہے _ آپ نے امام حسن (ع) اور امام حسین(ع) کے بارے میں بھی اسی حکم پر عمل کرنے کے لیے کہا _ علاوہ ازیں حکم دیا کہ ان کے کانوں میں سورہ حمد ، آیة الکرسی ، سورہ حشر کی آخری آیات ، سورہ اخلاق ، سورہ والناس اور سورہ و الفلق پڑھی جائیں_ (1)
بعض احادیث میں آیا ہے :
خود رسول اللہ نے امام حسن (ع) اورامام حسین (ع) کے کان میں اذان و اقامت کہی _
ہاں
رسول اسلام جانتے تھے کہ نو مولود اذان، اقامت اور قرآنی الفاظ کے معانی نہیں سمجھتا لیکن یہی الفاظ بچے کے ظریف اور لطیف اعصاب پر جو اثر مرتب کرتے ہیں آپ (ص) نے اسے نظر انداز نہیں کیا _ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اس نکتے کی طرف توجہ تھی کہ یہ جملے بچے کی روح اور نفسیات پر نقش مرتب کرتے ہیں اور اسے ان سے مانوس کرتے ہیں _ اور الفاظ سے یہ مانوسیت بے اثر نہیں رہے گی _ علاوہ ازیں ممکن ہے کہ اس تاکیدی حکم کے لیے رسول (ع) کے پیش نظر کوئی اور بات ہو _ شاید وہ چاہتے ہوں کہ ماں باپ کو متوجہ کریں کہ بچے کی تعلیم و
-----------
1_ مستدرک ج 2 ص 619
تربیت کے بارے میں سہل انگاری درست نہیں ہے اور اس مقصد کے لیے ہر ذریعے اور ہر موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے جب ایک با شعور مربی نومولود کے کان میں اذان اور اقامت کہتا ہے تو گویا اس کے مستقبل کے لئے واضح طور پر اعلان کرتا ہے اور اپنے پیارے بچے کو خداپرستوں کے گروہ سے ملحق کردیتا ہے _
بچے پرہونے والے اثر کا تعلق صرف سماعت سے متعلق نہیں ہے بلکہ مجموعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ جو چیز بھی بچے کے حواس، ذہن اور اعصاب پر اثر اندازہوتی ہے اس کی آئندہ کی زندگی سے لاتعلق نہیں ہوتی مثلاً جو نو مولود کوئی بے حیائی کا کام دیکھتا ہے اگر چہ اسے سمجھ نہیں پاتا _ لیکن اس کی روح اور نفسیات پر اس برے کام کا اثر ہوتا ہے اور یہی ایک چھوٹا کام ممکن ہے اس کے انحراف کی بنیاد بن جائے _ اسی لیے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایاہے:
''گہوراہ میں موجود بچہ اگر دیکھ رہا ہو تو مرد کو نہیں چاہیے کہ اپنی بیوی سے مباشرت کرے '' _ (1)
--------
1_ مستدرک ج 2 ص 546
احساس وابستگی
نومولود بہت کمزور سا وجود ہے جو دوسروں کی مدد کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے نہ پرورش پا سکتا ہے نو مولود ایسا محتاج وجود ہے جس کی ضروریات دوسرے پوری کرتے ہیں _ جب وہ رحم مادر میں تھا تواسے نرم و گرم جگہ میسّر تھی _ وہاں اس کی غذا اور حرارت کیاحتیاج ماں کے ذریعے پوری ہو رہی تھی _ وہ چین سے ایک گوشے میں پڑاتھا اوراپنی ضروریات کے لیے بالکل بے فکر تھا _ اب جب کہ وہ دنیا میں آیا ہے تو احساس نیاز کرتا ہے _ بچے کا پہلا پہلا احساس شاید سردی کے بارے میں ہوتا ہے اور اس کے بعد بھوک کے بارے میں _ اسے پہلی بار احساس ہوتا ہے کہ حرارت اور غذا کے لیے وہ دوسرے کا محتاج ہے _ اس مرحلے میں وہ کسی کو نہیں پہچانتا _ اپنی ضروریات کو فطرتاً سمجھتا ہے اور ایک انجانی قدرت مطلقہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے _ اپنے تئیں اس قدرت مطلقہ سے منسلک سمجھتا ہے _ اسے انتظار ہوتا ہے وہ قدرت اس کی ضروریات پورا کرے گی _ بچہ زندگی کی ابتدا ہی میں کسی سے وابستگی کا احساس کرتا ہے اور یہ احساس زندگی کے تمام مراحل میں اس کے ساتھ رہتا ہے _ بھوک یا پیاس لگے تو دوسروں کو متوجہ کرنے کے لیے روتا ہے _ ماں کے سینے سے چمٹ جاتا ہے اور اس کی محبتوں اور لوریوں سے سکون محسوس کرتا ہے _ اگر اسے کوئی تکلیف ہو یا کسی خطرے کا احساس کرے تو ماں کے دامن میں پناہ لیتا ہے _
یہی وابستگی اور احساس ضرورت ہے جو بعد میں دوسرے لوگوں کی تقلید کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے_ یہ ایک نفسیاتی وابستگی ہے _ بچہ اپنے اخلاق اور طرز عمل کو اپنے
ارد گردوالوں کے اخلاق اور طرز عمل کے مطابق ڈھالتا ہے _ یہی احساس تعلق ہے جو بعد ازاں کھیلوں اور دوسرے سے مل جل کر کام کرنے اور دوست بنانے میں ظاہر ہوتا ہے _ بیوی بچوں سے الفت و محبت کا سرچشمہ بھی یہی احساس ہے اجتماعی زندگی کی طرف میلان ، باہمی تعاون اور مل جل کر کام کرنے کا مزاج بھی اسی احساس سے تشکیل پاتا ہے _ احساس وابستگی کو کوئی معمولی سی چیز نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ بچے کی اخلاقی اور سماجی تربیت اور اس کی تکمیل شخصیت کا ایک اہم ذریعہ ہے _ اگر اس احساس وابستگی و تعلق کی صحیح طور پر راہنمائی کی جائے تو بچہ آرام و سکون محسوس کرتا ہے _ وہ پر اعتماد اور خوش مزاج ہوجاتا ہے _ اچھی امیدوار توکل کی کیفیت اس میں پیدا ہوجاتی ہے _ دوسروں کے بارے میں اس میں حسن ظن پیدا ہوجاتا ہے _ اس طرح معاشرتی زندگی کی طرف قدم بڑھاتا ہے _ دوسروں کو اچھا سمجھتا ہے اور ان سے تعاون کی امید رکھتا ہے _ جب معاشرے کے بارے میں اس کے رائے اچھی ہوگی تو اس سے تعاون بھی کرے گا اور اس کے لیے ایثار بھی کرے گا _ معاشرے کے لوگ بھی جب اسے اپنا خیر خواہ اور خدمت گزار سمجھیں گے تو وہ بھی اس سے اظہار محبت کریں گے _
اس کے برعکس اگر یہ گراں بہا احساس کچلا جائے اور اس سے صحیح طور پر استفادہ نہ کیا جائے تو خدا نے جو صحیح راستہ بچے کے لیے مقرر کیا ہے اس کی اجتماعی زندگی اس سے بھٹک جائے گی _ ماہرین نفسیات کا نظریہ ہے کہ بہت سے مواقع پر خوف ، اضطراب ، بے اعتمادی ، بدگمانی ، شرمندگی، گوشہ نشینی، افسردگی اور پریشانی یہاں تک کہ خودکشی اور جراثیم کی بنیاد بچپن میں پیش آنے والے واقعات ہوتے ہیں
اگر آپ چاہتے ہیں کہ بچے کے احساس وابستگی کو صحیح طرح سے مطمئن کریں تو ہمیشہ اس کے مددگار ہیں _ جب اسے بھوک لگے تو غذا دیں اور اس کے لیے آرام و راحت کا سامن فراہم کریں _ اگر اسے درد ہو یا کوئی اور تکلیف پیش آئے تو فوراً اس کی داد رسی کریں _ اس کی نیند اور خوراک کو منظم رکھیں _ اس طرح سے کہ اسے بالکل پریشانی نہ ہو او ر وہ آرام کا احساس کرے _
نو مولود کو مارپیٹ نہ کریں _ نو مولود کچھ نہیں پہچانتا _ اسے صرف اپنی ضرورت کا احساس
ہوتا ہے اور ایک انجانی قدرت پر بھروسہ کرتا ہے _ وہ رنے کی زبان سے اس کی پناہ حاصل کرتا ہے اور اپنی احتیاج کا اظہار کرتا ہے _ مارپیٹ کے ذریعے اسے مایوس اور بدظن نہ کردیں _
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
''بچوں کو رونے پر مارنانہ چاہیئےیونکہ چار ماہ تک اپنے اس رونے کے ذریعے وہ اللہ اور اس کی توحید کی گواہی دیتے ہیں '' _ (1)
ہر حال میں بچے کے مددگار رہیں اگر وہ کوئی انجام دینا چاہتا ہے اور آپ اس کی مدد نہیں کرسکتے تو بھی اس سے نوازش و محبت سے پیش آئیں _ اگر بچہ پریشان ہواور وہ ناراحتی محسوس کرتا ہو تو اس پریشانی کے اسباب ختم کریں اور اس کو مطمئن کریں اسے ہرگز ڈانٹ ڈپٹ نہ کریں اور یہ نہ کہیں کہ میں تمہیں یہیں چھوڑ کر جارہی ہوں _ کیونکہ یہی ڈانٹ ڈپٹ ممکن ہے اس کی روح پر برا اثر کرے اور اسے پریشان کردے _ بچہ چاہتا ہے کہ وہ ماں باپ اور دوسروں کو محبوب ہو _ اگر ماں باپ اس سے محبت نہ کریں تو وہ اس پر سخت پریشان ہوتا ہے _ وہ ہمیشہ کوشش کرتا ہے کہ ان کا پیارااور محبت ہمیشہ باقی رہے _ بعض ماں باپ بچے کے اس جذبے سے استفادہ کرتے ہیں اور بچے کو ڈانٹتے ہیں کہ اگر تونسے یہ کام نہ یکا تو ہم تم سے پیار نہیں کریں گے لیکن آپ کو چاہیے کہ اس حربے کو استعمال نہ کریں _ کیونکہ اس طرح کی ڈانٹ ممکن ہے تدریجاً بچے کی روح پر برے اثرات مرتب کرے اور اس سے اس کا عتماد اور رآرام جاتا رہے اور یہ بچے کے ضعیف اعصاب اور داخلی اضطراب کا سبب بن جائے _ اگر وہ رورہا ہو یا شور کررہا ہو تو وہ یہ نہیں چاہ رہا ہوتا کہ آپ کو بے آرام کرے بلکہ وہ آپ کی توجہ مبذول کرنا چاہ رہا ہوتا ہے تا کہ آپ اس کی بات سنیں _ آپ صبر اور سمجھداری کے ساتھ اس کی بے آرامی کی وجوہ سمجھیں اور اس بے آرامی کو دور کریں _ تا کہ اسے آرام ملے _ اگر آپ اسے رونے پر ڈانٹیں گے یا ماریں _ گے تو ممکن ہے وہ خاموش ہوجائے _ لیکن کیسے خاموش ؟ ایک اضطراب آمیز
----------
1_ بحار الانوار _ جلد 104 ص 103
مایوسانہ خاموشی کہ جو بہت خطرناک ہے جو ممکن ہے اس کے مستقبل کو دگرگوں کردے _ ماں باپ کی موجودگی سے بچہ ہمیشہ خوش رہتا ہے اور ان کی جدائی سے وحشت کھاتا ہے _ آپ کبھی اپنی موت کے بارے میں سے بات نہ کریں کیونکہ یہ اس کی پریشانی اور وحشت کا سبب ہوگی _ اگر آپ بیمار ہوجائیں تو موت کاذکر نہ کریں _ بلکہ اپنے بچوں کو پر امید رکھیں اور ان کا حوصلہ بڑھائیں اگر آپ ایک عرصے کے لیے بچوں سے دور ہونے پر مجبور ہوں تو پہلے انہیں اس پر آمادہ کریں _ ان کادل بڑھائیں پھر سفر اختیار کریں اور اس کے بعد ابھی ہمیشہ ان سے رابطہ برقرار رکھیں اور نامہ و پیام کے ذریعے سے ان کی دھارس بندھاتے رہیں_
اگر آپ کا بچہ بیمار ہوجائے تو دوا کھلانے کے لیے اسے موت سے اور اچھا نہ ہونے سے نہ ڈرائیں _ بلکہ ایسے مواقع پر تشویش کی راہ اختیار کریں اور اسے صحیح ہوجانے کی امید دلائیں _ یہاں تک کہ اسے اگر کوئی خطرناک بیماری ہو تو اپنی پریشانی اور اضطراب کو اس سے چھپائے رکھیں _ مختصر یہ کہ پوری عمر اپنے بچوں سے ایسا سلوک رکھیں کہ وہ آپ کو اپنا بہترین غمگسار اور غمخوار سمجھیں _
البتہ اس بات کا خیال رہے کہ بچے سے اظہار محبت ضروری حد تک اور ضروری مقامات پر ہونا چاہیے _ اس طرح سے کہ وہ لا ڈپیارسے بگڑنہ جائے اور خود اعتمادی سے محروم نہ ہوجائے _ جہاں بچہ واقعی کوئی کام نہ کرسکتا ہو اس کی مدد کرنا چاہیے لیکن اگر وہ ایک کام خود کرسکتا ہے اور اسے مدد کی ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ دوسروں پر رعب جمانے کے لیے شور کررہا ہو تو اس کی طرف اعتناء نہیں کرنا چاہیے _
رسل لکھتا ہے :
اگر بچہ کسی وجہ اور واضح علت کے بغیر روئے تو اسے اس کے حال پر چھوڑ دینا چاہیے اور وہ جتنا چلاّ نے دیں _ ایسے مواقع پر اگر کوئی اور روش اپنائی گئی تو وہ جلدی ہی ایک جابر حاکم کی صورت اختیار کرلے گا
ایسے مواقع کہ جہاں ضرورت ہے کہ اس کی طرف توجہ کی جائے وہاں بھی افراط سے کام نہیں لینا چاہیے بلکہ حسب ضرورت طرز عمل اپنا ناچاہیے اور زیادہ ہی اظہار محبت نہیں کرنا چاہیے _ (1)
----------
1_ در تربیت ، ص 79
جب بچہ باہر کی دنیا کو دیکھنے لگتا ہے
بچہ ایک چھو ٹا سا انسان ہوتا ہے اور انسان مدنی با لطبع ہے _ مدد اور تعادن کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اور نہ زندگی گزار سکتا ہے دوسروں کی طرف توجہ رکھتا ہے ان سے استفادہ کرتا ہے اور انہیں فائدہ پہنچا تا ہے _ لیکن نومولود اپنی زندگی کے ابتدائی مہینوں میں کسی کو نہیں پہچانتا اور دوسروں کی طرف توجہ نہیں کرتا یعنی اجتماعی مزاج ابھی اس میں ظاہر نہیں ہوا ہوتا جب تقر بیا چار ماہ کا ہو جاتا ہے تو آہستہ آہستہ مدنی بالطبع ہونے کے آثار اس میں ظاہر ہو نے لگتے ہیں _ اس وقت وہ اپنے سے خارجی دنیا اور اپنےھ ارد گرد کے موجودات کی طرف توجہ کرتا ہے وہ ماں کی حرکات و سکنات کو دیکھتا رہتا ہے _ ماں کی حرکات پر اپنا رو عمل ظاہر کرتا ہے مسکراہٹ کے جواب میں مسکراتا ہے اور اس کی را بردؤں کے جواب میں اپنے ابردؤں کو حرکت دیتا ہے بچوں کے کھیل کو حیرت سے دیکھتا ہے ، اٹھکیلیاں کرتا ہے اور مسکر اتا ہے دوسروں کے جذبات کو محسوس کرتا ہے ، غصے پر اپنے تیئں پیچھے کھینچ لیتا ہے _
خوش دخرم چر ے اور محبّت آمیز آواز ہو تو ھمک ھمک کر قریب آتا ہے _ وہ چا ہتا ہے کہ اسے بٹھا دیا جائے تا کہ دنیا کو اپنے سامنے دیکھے _
جب بچہ اس مرحلے میں پہنچ جائے تو ماں باپ کو توجہ رکھنا چاہیئے کہ بچے میں اجتماعی احساسات پیدا ہو چکے ہیں اور وہ اب خاندان کا ایک با قاعدہ حصہ بن گیا ہے _ دوسروں کی طرف تو جہ رکھٹا ہے اور ان کے جذبات کو کسی حد تک محسوس کرتا ہے _ اب نہیں چائے کہ اسے بے شعور
اور لا تعلق سمجھا جائے اور اس سے لا تعلق ہا جائے _ ان چار اہ کی مدت میں اس نے تجربے کیے ہیں اور چیزوں کو یاد کیا ہے وہ اب خارجی دنیا کو دیکھنے والا اور اجتماعی وجود رکھنے والا انسان ہے _ یہ احساس اگر چہ بہت سادہ اور بار یک ساہے _ لیکن یہ اس کی آئندہ کی مفصّل اجتماعی زندگی کا افق ہے _ اگر ماں باپ اپنے بچے کے اس نئے احساس کو پہچانیں اور سوچ سنجھ کر عقلی بنیاد وں پر اس کی تکمیل کی کوشش کریں تو وہ ایک اجتماعی شعور رکھنے والا مفید انسان پروان چڑھا سکتے ہیں لیکن خارجی دنیا کایہ احساس آہستہ آہستہ دب جاتا ہے اور بچہ داخلی دنیا کی ہو لنا ک وادی کی طرف لوٹ جاتا ہے اور یہ بذات خود نقصان وہ صفات میں سے ہے _ اسی صفت کی وجہ سے انسان گوشہ نشینی پسند کرنے لگتا ہے اور خو د بین ہو جاتا ہے _ معاشر ے اور معاشرتی کاموں سے گریزاں ہو جاتا ہے دوسرں کے بارے میں بد گمال ہو جاتا ہے اور احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہے _ تعاوں اور ہمکار ی سے ڈرتاہے اور خوف کھا تا ہے _
اس موقع پر ماں باپ کے سر پرنئی ذمہ داریاں آجاتی ہیں _ انہیں چا ہیے کہ بچے کو با شعور سمجھیں کہ جو ان کے جذبات کو محسوس کرتا ہے اور ان کے کردار سے اثر قبول کرتا ہے _ بچے کو بھول نہیں جانا چاہیے اور ہمیشہ اس کی طرف تو جہ رکھنا چاہیے اس سے مسکراتے برتٹوں اور اور خوش و
و خرم چہرے سے ملاقات کرناچا ہیے _ اس سے محبت آمیز انداز سے بات کرنا چاہیے _ پیار بھر ے انداز سے بوسہ لے کر اس سے اظہار محبت کرنا چا ہیے _ ایک مہربان ماں اپنے سر اور گردن کی حرکت سے ، اپنے چشم و آبرو کے اشار ے سے ، اپنی میٹھی مسکراہٹ سے اور اپنی محبت آمیز گنگنا ہٹ سے بچے کی حس اجتماعی کو تقویت پہنچا سکتی ہے اور اسے خارجی دنیا کی طرف متوجہ کرسکتی ہے کھیلنے کی اچھی اچھی اور مناسب چیزوں کے ذریعے اسے خارجی دنیا کی طرف متوجہ کیا جاسکتا ہے _
بچے کی اندرونی خواہشات اگر ٹھیک طریقے سے پوری کردی جائیں تو وہ آرام اور سکون محسوس کرتا ہے _ دوسروں کے بارے میں خوش بین ہوجاتا ہے _لوگوں کو خیر خواہ ، مہربان اور ہمدرد سمجھتا ہے _ جب معاشرہ اس سے اچھا سلوک کرتا ہے اور اس کی اندرونی خواہشات کا مثبت جواب دیتا ہے تو بچہ بھی اس سے خوش بین اور مانوس ہو جاتا ہے _ اس طرح کا
طرز فکر بچے کی روح اور جسم پر اچھے اثرات مرتب کرتا ہے اور اس کی آئندہ زندگی کے لیے اچھی بنیاد بنتا ہے اچھے ماں اور باپ بچے کو مارتے نہیں ، تر ش روٹی سے پیش نہیں آتے اور اس کی زندگی کو تلخ نہیں بنا تے کیونکہ انہیں معلوم ہو تا ہے کہ اس طرح کا احمقانہ رویہ بچے پر روحانی اور نفسیاتی اعتبار سے برے اثرات مرتب کرتا ہے اور اس کے جذبات اور پاک احساسات کو مجروح کردیتا ہے اور اس کی شکستگی کا باعث بنتا ہے _ اسی غیر عاقلانہ طر ز عمل کا نتیجہ ہی ہو تا ہے کہ بچہ ڈر پوک ، احساس کمتر ی کا شکار ، گوشہ نشین ، بد بین اوردل گرفتہ ہو جاتا ہے _
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلّم نے فرمایا :
اپنی اولاد کا احترام کرواور ان کی اچھی تربیت کرد تا کہ اللہ تمہین بخش دے ( 1)
--------
1_ مکارم الاخلاق ص 255
محبّت
انسان محبت کا پیا سا ہے محبّت دلوں کو زندگی بخشتی ہے _ جو اپنے آپ کو پسند کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ دوسرے اس سے محبت کریں ، محبوبیت کا یہ احساس اس کے دل کو شاد کردیتا ہے _ جسے یہ معلوم ہو کہ اسے کوئی بھی پسند نہیں کرتا وہ اس پر آشوب زندگی میں اپنے آپ کو تنہا اور بے کس سمجھتا ہے _ اس وجہ سے وہ ہمیشہ افسردہ اور پر مدہ رہتا ہے_ بچہ بھی ایک چھوٹا سا انسان ہے اور اسے بڑوں کی نسبت محبت کی بھی ضرورت ہوتی ہے _ بچہ یہ نہیں سمجھتا کہ محل میں زندگی گزار رہا ہے یا جھونپٹری میں _ البتہ یہ خوب سمجھتا ہے کہ دوسرے اس سے محبت کرتے ہیں یا نہیں _ اس احساس محبت سے وہ آرام و سکون کے ساتھ اپنی نشوو نما کے راستے پر گامزن ہو سکتا ہے اور انسانیت کی بلند صفات حاصل کرسکتا ہے _ اچھے اخلاق کا سرچشمہ محبت ہے _ محبّت کے پر تومیں بچے کے جذبات اور احساسات کو اچھے طریقے سے پروان چڑ ھا یا جا سکتا ہے اور اسے ایک اچھا انسان بنا یا جاسکتا ہے
جس بچے کو بھر پور محبت ملی ہو اس کی روح شاد اور دل پر نشاط ہو تا ہے _ وہ احساس محرومی کا شکار ہو کر بڑاردّ عمل ظاہر نہیں کرتا _ خوش بین ، خوش مزاج اور پر اعتماد ہو تا ہے _ اس فطری نشوونما کی وجہ سے وہ نفسیاتی مشکلات کا شکار نہیں ہو تا _ خیر خواہ اور انسان دوست بن جاتا ہے _ کیونکہ وہ محبت کے میٹھے چشمے سے سیراب ہو ا ہوتا ہے لہذا چاہتا ہے کہ دوسروں کوبھی اس سے سیراب کرے _ وہ لوگوں سے ایسا سلوک کرتا ہے جیسااس سے کیا جاتا ہے _
جو بچہ پیار محبت کے ماحول میں پرورش پاتا ہے وہ دوران بلوغت پیش آنے والی مشکلات اور جسمانی و نفسیاتی تبدیلیوں کا بہتر طور پر مقابلہ کرسکتا ہے _جس لڑکی کو ماں باپ سے محبت ملی ہوا ور اس کا گھریلو حول محبت سے معمور ہو وہ جوانی میں بے کسی اور محرومی کا احساس نہیں کرتی _ وہ کسی خود غرض لڑکے کے چند محبت آمیز جملے سن کر اپنے تئیں اس کے سپرد کرکے اپنا مستقبل تباہ نہیں کردیتی _ جس نوجوان نے پیار اور محبت کے ماحول میں پرورش پائی ہو وہ احساس محرومی کا شکار نہیں ہوتا کہ اسے برائیوں ، منشیات اور شراب کے مراکز پناہ کی ضرورت پڑے _
نفسیاتی نکتہ نظر سے بھی یہ بات ثابت ہے کہ وہ بچے جنہیں خوب محبت ملی ہو ان بچوں کے مقابلے میں زیادہ ہوشمند اور صحیح و سالم ہوتے ہیں جو پرورش گاہوں میں پلے ہوں _ اگر چہ پرورش گاہوں میں پلنے والے بچے غذا اور حفظان صحت کے اعتبار سے اچھے ہوں ،مگر جس نے جذبات سے عاری سرد ماحول میں پرورش پائی ہو اور ماں باپ کی مہر و محبت نہ دیکھی ہو اس شخص کی کیفیت اطمینان بخش اور فطری نہیں ہوگی _ جس شخص نے محبت کا ذائقہ نہ چکھا ہو وہ اسے دوسروں پر کیسے نثار کرسکتاہے _ ایسے محروم انسان سے انسان دوستی کی توقع نہیں کی جا سکتی _
جو بچہ ماں باپ کی محبت سے محروم رہا ہو یا صحیح طریقے سے اس سے بہرہ مند نہ ہوا ہو وہ اپنے اندر احساس محرومی و کمتری کرتا ہے اور اس میں ہر طرح کے انحراف کی گنجائشے ہوتی ہے ، تندخوئی ، غصّہ، ڈھٹائی ، بدبینی ، جھوٹ ، حساسیت ، ناامیدی، افسردگی ، گوشہ نشینی، نام آہنگی کی زیادہ تر وجہ محبت سے محروی ہوتی ہے _
جو محبت سے محروم رہا ہو ، ہوسکتا ہے ، وہ چوری اور قتل میں ملوث ہوجائے تا کہ وہ اس معاشرے سے انتقام لے جو اسے پسند نہیں کرتا یہاں تک ممکن ہے وہ خودکشی کرلے تا کہ وہ وحشت اور تنہائی سے نجات حاصل کرے _ بہت سے چور اور مجروم ایسی ہی محرومیت کا شکار اور دلگرفتہ ہوتے ہیں _ آپ اخبارات اور رسائل کو دیکھ سکتے ہیں اور ایسے لوگوں کا حال پڑھ سکتے ہیں اور اس سے عبرت حاصل کرسکتے ہیں _
انجمن ملی حمایت بچگان کے شعبہ نفسیات کے سربراہ ڈاکٹر حسن احدی نے پانچ سو مجرموں پر ایک تحقیق کی ہے _ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے افراد نے پہلا جرم 12 سے 13 سال کی عمر کے دوران کیا ہے اور اس کی وجہ خاندان میں محبت کی کمی سے مربوط ہے ...انجمن ملی حمایت بچگان کے نفسیاتی دیکھ بھال کے شعبے کے سربراہ اور معروف ماہر نفسیات و عمرانیات کہتے ہیں :
''بہت سارے نفسیاتی مسائل کو بنیاد بچپن میں پڑی ہوتی ہے _ یہاں تک کہ سمجھدار ترین بچے کو جو مسئلہ پریشان کرتا ہے وہ اس کے جذبات کی تسکین کا معاملہ ہے '' _ (1)
... اپنے خط میں لکھتا ہے :
ایک چھوتے سے قصبے میں، ایک غریب سے گھرانے میں میں نے آنکھ کھولی _ میرے ماں باپ کے لیے میری اور میری دو بہنوں کی پرورش مشکل تھی _ میری دادی مجھے اپنے گھرلے گئی _ ان کی حالت ہم سے بہتر تھی _ وہ مجھ سے بہت محبت کرتی تھی _ میرے لیے اچھے اچھے کپڑے اور دیگر ضروری چیزیں مہیا کرتی تھی _ لیکن یہ رنگارنگ دنیا میری اس تشنگی کو دور نہ کرسکی جو ماں باپ سے دوری کی وجہ سے محسوس ہوتی تھے مجھے یوں لگتا جیسے مجھ سے کچھ کھو گیا ہو _ کبھی کبھی دوسروں کی نظروں سے اوجھل میں پہروں روتا رہتا _ میں تیسری جماعت میں پڑھتا تھا _ ایک مرتبہ میرا باپ مجھے ملنے آیا _ اس نے مجھے اپنے گھر جانے کے لیے کہا _ میں خوش ہوکر چلنے کو تیار ہوگیا _ مجھے یوں لگا جیسے میرا سالہا سال کا غم پل بھر میں ختم ہوگیا ہے _ میں ہر ماں باپ کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ حالات کچھ بھی ہوں اپنے بچوں کو اپنے آپ سے جدا نہ کریں _ انہیں اس امر کی طرف متوجہ رہنا چاہیے کہ ماں باپ سے دوری اور ان کی محبت سے
------------
1_ روزنامہ کیہا ن _ شمارہ 10042
محرومی بچوں کے لیے نہایت سنگین اور تکلیف وہ ہے اس کی جگہ کوئی چیز بھی پر نہیں کرسکتی _
... اپنے ایک خط میں لکھتا ہے _
میں ماں باپ کے پیار سے محروم تھا _ اس لیے میں ایک دل گرفتہ اور حاسد انسان ہوں _ ڈرپوک بھی ہوں اور غصیلا بھی _ بچپن میں میں اسکول سے بھاگ جایا کرتا تھا _ چھٹی جماعت مشکل سے پڑھ پایا ہوں _
دین مقدس اسلام کہ جس کی تربیتی مسائل کی جانب پوری توجہ ہے ، اس نے محبت کے بارے میں بہت تاکید کی ہے _ قرآن او رحدیث میں اس ضمن میں بہت کچھ موجود ہے _ نمونے کے طور پر چند مثالیں پیش خدمت ہیں :
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
انسان کو اپنی اولاد سے جو شدید محبت ہوتی ہے اس کے باعث اللہ اپنے اس بندے کو مشمول رحمت قرار دے گا _ (1)
بچوں سے محبت بہترین عمل ہے کیونکہ ان کی خلقت کی بنیاد خداپرستی اور توحید ہے _ اگر وہ بچپن میں ہی مرجائیں تو بہشت میں داخل ہوں گے _ (2) پیغمبر اکر م صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:بچوں سے پیار کرو اور ان پر مہربانی کرو _ (3)
رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:اپنے بچوں کو خوب چوموکیونکہ ہر بوسے کے بارے میں اللہ جنّت میں تمہارا ایک درجہ بڑھادے گا _ (4)
----------
1_ وسائل ، ج 15 ، ص 98
2_ مستدرک ، ج 2، ص 615
3_ بحار، ج 104، ص 92
4_ بحار، ج104، ص 92
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے کہا :
میں نے آج تک کسی بچے کا بوسہ نہیں لیا _
جب وہ شخص چلا گیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا:
میری نظر میں یہ شخص دوزخی ہے _ (1)
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
جو ، بچوں پر شفقت نہ کرے اور بڑوں کا احترام نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے _ (2)
حضرت علی علیہ السلام نے وصیت کرتے وقت فرمایا:
بچوں پر مہربانی کرو اور بڑوں کا احترام کرو _ (3)
---------
1_ بحار، ج 104، ص 99
2_ بحار ، ج 75، ص 137
3_ بحار، ج 175، ص 136
اظہار محبت
اولاد کی محبت ایک فطری امر ہے _ شاید بہت کم ماں باپ ایسے ملیں جو اپنی اولاد کو دل سے عزیز رکھتے ہوں_ البتہ نری یہ دلی محبت بچے کی خواہشات کی تکمیل کے لیے کافی نہیں ہے _ بچہ اس محبت کا ضرورت مند ہے جو ماں باپ کے طرز عمل سے ظاہر ہو _ بچے سے پیار کیا جائے _ اس کا بوسہ لیا جائے ، اسے گود میں اٹھایا جائے ، اس سے مسکراکر پیش آیا جائے ، یہاں تک کہ ماں باپ چب اسے پیار بھری لوریاں سناتے ہیں تو وہ احساس محبت کرتا ہے _ بچے کا دل چاہتا ہے کہ کبھی ماں باپ سے کھیلے اور اٹھکیلیاں کرے _ اسے وہ محبت کی ایک علامت سمجھتا ہے _ ان کے غصے، جھگڑے اور سختی کو بے مہری کی دلیل سمجھتا ہے _ جب ماں باپ بچے کی طرف دیکھتے ہیں اور اس سے بات کرتے ہیں تو وہ اندازہ لگالیتا ہے کہ اس سے پیارکرتے ہیں یا نہیں _
بعض ماں باپ ایسے بھی ہیں کہ بچہ چھوٹا ہو تواس سے اظہار محبت کرتے ہیں _ لیکن جب بڑا ہوجائے تواظہار محبت تدریجا کم کردیتے ہیں اور جب وہ نوجوان اور جوان ہوجاتا ہے تو اسے بالکل ترک کردیتے ہیں اور کہتے ہیں اب بڑا ہوگیا ہے او راظہار محبت سے بگڑجائے گا اور ویسے بھی بڑا ہو کر کسی محبت اور نوازش کی ضرورت نہیں ہوتی _ لیکن یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ بیٹا تمام عمر محبت کا محتاج رہتا ہے _ ماں باپ کی محبت سے خوش ہوتا ہے اور ان کی بے مہری پر افسردہ ہوجاتا ہے _خاص طور پر نوجوانی اور جوانی کی عمر کہ جو نفسیاتی اعتبار سے ایک ہیجانی دورہوتا ہے اس میں اسے ہر زمانے سے زیادہ ماں باپ کی ہمدردی مہربانی
اور دلجوئی کی احتیاج ہوتی ہے _ یہ بے مہریوں کا نتیجہ ہے کہ بہت سے جوان خودکشی کر لیتے ہیں _ یا اپنے گھر ، شہر اور ملک سے بھاگ جاتے ہیں _ اس مقام پر غیر مناسب نہ ہوگا کہ ایک سولہ سالہ لڑکی کی ڈائری سے چند یادداشتیں آپ کی توجہ کے لیے پیش کی جائیں _ لڑکی کا نام نازنین ہے لکھتی ہے _
واقعاً جب میں اپنی امی اور ابو کے بارے سوچتی ہوں تو ہنستی ہوں اگر چہ ان کی کیفیت نہ صرف کہ ہنسنے کے لائق نہیں بلکہ بہت ہی غم انگیز ہے _ ماں تو اپنی ہی دنیا میں اور اپنی زبان چلانے میں اور نہ جانے اپنے ہی کاموں میں سرگرم رہتی_ اس کی کل خواہش یہی ہے کہ خالہ و رزی جان اور حمیدہ بیگم کے ساتھ بیٹھی رہے اور گھنٹوں باتیں کرتی رہے جب وہ ان سے باتین کررہی ہو تو اگر میں یا میرے بھائی بہنوں کو اس سے کوئی کام پڑجائے تو گویا اس کی گھڑیاں بہت تلخ ہوجاتی ہیں _ اسے معلوم نہیں کہ جب وہ عورتوں کے ساتھ بیٹھی دوسروں کی غیبت کررہی ہوتی ہے _ کبھی کسی کے جوتے کی بات ہے اور کبھی کسی کی پگڑی کی _ اس وقت میرے دل کی حالت ایک ایسے بے آشیاں پرندے کی سی ہوتی ہے کہ جو سرگرداں او رنالاں ہو اور درودیوار سے ٹکرار ہا ہوتا کہ اسے بھی بات کرنے کے لیے کوئی ساتھی مل جائے _ اس سے اپنا دردبیان کرے اور کچھ تسلی پائے _ کوئی ایسا ساتھی ہو کہ جو غلطیوں اور کوتاہیوں پر کبھی برا بھلا نہ کہے اور بے عزتی نہ کرے _ امی اور ابوتوآپس میں تو تکرار کرتے رہتے ہیں یا اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں _ یا پھر گھر میں نہیں ہوتے _ میں بھی صبح سے شام تک مدد سے میں ہوں اور بہت دن گزر گئے کہ میں نے ابوکو نہیں دیکھا کہ انہیں سلام کروں _ میری ادبیات کی استاد ایک ماہر نفسیات ہے آج اس نے کلام میں بیٹی کی زندگی پر باپ کے اثر پر بات کی _ اس کے باتیں کیسے میرے دل میں بیٹھ گئیں _ ہم سب کے دل میں بیٹھ گئیں _ اس نے سچ کہا آج جب کہ میں سب لڑکیوں کی نظروں میں بڑی ہوگئی ہوں ہر زمانے سے زیادہ احساس کرتی ہوں کہ مجھے اپنے باپ کی راہنمائی کی ضرورت ہے
ایک فہمیدہ اور مہربان شخص کی توانائی کی احتیاج ہے _
میں سچ کہتی ہوں :
مجھے اپنے باپ کی عمدہ نوازشات کی چند سال پہلے کی نسبت زیادہ ضرورت ہے _ میرا دل چاہتا ہے کہ کبھی وہ مجھے اپنے زانو پر بٹھالے اور مجھے کہانی سنائے _ مجھے اجازت دے کہ میں ہر چیز کے بارے میں اس سے سوال کروں _ مجھے اجازت دے کہ میرے دل کی گہرائیوں میں اس کے بارے میں جو احساس ہے اور ارادہ ہے اس کا اظہار کروں لیکن ہائے افسوس کہ وہ کس قدر سرد اور ترش رد انسان ہے _ اصلاً اسے اس کا خیال بھی نہیں آتا کہ میں اس کی سولہ سالہ بیٹی چھ سال کی عمر سے زیادہ اس کی دلگرم اور خوبصورت مہربانیوں کی احتیاج مند ہوں _ میرے دل میں کتنی باتیں ہیں جو میں اس سے کہنا چاہتی ہوں _ میرے ایسے غم ہیں کہ ایک دانا شخص بہتر سمجھ سکتا ہے لیکن وہ مجھ سے اور ہم سب سے یوں دور ہے جیسے ہم اس کی زندگی میں کچھ بھی نہیں گھر میں اگر کوئی مہمان نہ ہو تو پھر وہ کتاب پڑھتا ہے _ اخبار کا مطالعہ کرتا ہے یا سردرد اور دل درد لے کر بیٹھ جاتا ہے اور پیار محبت کی کوئی بات نہیں کرتا _ یہ باپ ایسا کیوں سمجھتے ہیں کہ جب وہ خاندان کے لیے نان و نفقہ فراہم کردیں تو اس کے بعد ان کی کوئی ذمہ داری نہیں _ یہ کیوں نہیں سمجھنا چاہتے کہ بیٹی اور بیٹا جب بڑے ہوجاتے ہیں تو بالکل اسی طرح جیسے انہیں غذا کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے انہیں زیادہ معقول اور بیشتر محبت اور توجہ کی بھی نیاز ہوتی ہے _ ماں باپ کیوں یہ سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے اپنی 16 سالہ بیٹی سے کبھی محبت کا اظہار کیا یا کوئی پیار بھر اکلمہ کہہ دیا اس سے پندو نصیحت کے بغیر کوئی دوستانہ بات کردی تو ماں باپ کی شخصیت اور حیثیت مجروح ہوگی _ میرے دل میں بہت غصہ ہے _ میں بہت کمی کا احساس کرتی ہوں _ اگر چہ میرے خوبصورت گھر میں میرے لیے اچھا کمرہ ہے اچھے اسکول میں جاتی ہوں _ میری وضع قطع اور لباس اچھا ہے ان سب چیزوں کے لیے میرے ابو پیسہ بھی دیتے ہیں اور آرام ہے خرچ بھی کرنے ہیں _ زحمت بھی اٹھاتے
ہیں _ لیکن وہ کام جس پر کچھ خرج نہیں ہوتا اور بہت ہی کم زحمت اٹھانا پڑتی ہے وہ نہیں کرتے _ وہ ہماری طرف توجہ نہیں کرتے _ (1)
بچے کی تربیت کے لیے بہترین جگہ ، بالخصوص زندگی کے ابتدائی دور میں گھر کا ماحول ہوتا ہے _ اس میں بچہ اپنے ماں باپ کی پوری توجہ ، نوازش اور محبت سے بہرہ مند ہوتا ہے _ ماں باپ کو یہ نصیحت کی جاتی ہے کہ حتی المقدور اپنے بچوں کو مراکز پرورش کے سپرد نہ کریں کیونکہ ہوسکتا ہے پرورش گاہ غذا اور حفظان صحت کا اعتبار سے گھر کی نسبت بہتر ہو لیکن بچے کے لیے ایک سرد اور بے مہر ماحول ہے _ پرورش گاہ اس بچے کے لیے زندان اور صحت افزا مقام پر جلا وطنی کے مانند ہے کہ جو ماں باپ کی توجہ اور محبت کا ضرورت مند ہے _ اچھی آب و ہوا اوراچھی غذا روحانی مسرت اور مہر و محبت کی جگہ نہیں لے سکتی _
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
جب تم کسی کو پسند کرتے ہو تو اپنے محبت کا اظہار بھی کرو اظہار محبت سے صلح و صفائی وجود میں آتی ہے وہ تمہیں ایک دوسرے کے نزدیک کردیتی ہے _ (2)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم صبح سویرے اپنی اولاد اور نواسوں سے پیار کیا کرتے تھے _ (3)
----------
1_ روزنامہ اطلاعات ، شمار 14113 ، خرداد ماہ ص 1358
2_ مستدرک ، ج 2 ، ص 67
3_ بحار، ج 104، ص 99
محبّت _ کام نکا لنے کاذریعہ نہیں
چونکہ بچے کوماں باپ کی محبّت اور پیار کی ضرورت ہے ، بعض ماں باپ بچے کے اس احساس سے استفادہ کرتے ہیں اور اسے کام نکا لنے کا ذریعہ بنا تے ہیں _ اس سے کہتے ہیں یہ کام کرو تا کہ امی تجھ سے پیار کر ے اور اگرتم نے فلاں کام کیا تو ابوتم سے پیار نہیں کریں گے _ البتہ شک نہیں ہے کہ اس طریقے سے بچے پر اثر انداز ہو ا جاسکتا ہے اور اس کمے کاموں کو ایک حد تک کنٹروں کیا جاسکتا ہے _ لیکن اسی راستی راستے کو اختیار کئے رہنا بے ضرر نہیں ہے کیونکہ اس ذریعہ سے آہستہ آہستہ بچہ میں عادت پیدا ہو جائے گی کہ وہ ماں اور باپ اور دوسر ے لوگوں کی محبت حاصل کرنے کے لیے کام کرے نہ اس لئے کہ وہ کام واقعی اسکے اور معاشر ے کے مفا دمیں ہے وہ کاموں کی اچھائی اور برائی کامعیار انفرادی اور اجتماعی مفاد اور بھلائی اور رضائے الہی کا حصول ہونہ کہ لوگوں خواہش اور ایسا نہیں ہے کہ سب ماں باپ بچے اور معاشر ے کے حقیقی مفادات کو بخوبی پہچان سکیں ایسے ماں باپ بھی ہیں کہ اپنے مفادات اور آرام کو حقیقی فائدے پر ترجیح دیتے ہیں _ اس ذریعہ سے یہ بھی ممکن ہے کہ بچہ چاپلوس ، منافق اور فریب کاربن جائے کیونکہ اس کا مقصد دوسروں کی خوشنودی اور توجہ حاصل کرنا بن جائے گا اگر چہ وہ منافقت اور فریب کاری ہی کے ذریعے کیوں نہ ہو _لہذا ایک سمجھدار مربی محبت کو مطلب نکالنے اور بچے پر اثر انداز ہونے کا وسیلہ قرار نہیں دیتا _
محبّت _ جو تربیت میں حائل نہ ہو
بعض ماں باپ اپنی اولاد سے حد سے زیادہ محبّت رکھتے ہیں اس لیے اس کے لئے جو چیزیں ضرر رساں ہیں قطعا نہیں سمجھتے اور اگر کبھی وہ اس میں عیب و یکھیں یا کوئی دوسرا اس کی طرف متوجہ کرے تو چونکہ یہ نہیں چاہتے کہ بچے کو ناراض کریں لہذا وہ اس عیب کو ان دیکھاکر دیتے ہیں اور اس کی اصلاح کی کوشش نہیں کرتے ہیں آپ ایسے بے ادب بچوں کو دیکھتے ہوں گے جو دوسرے بچوں کو اذیت دیتے ہیں ، لوگوں کو تنگ کرتے ہیں ، لوگں کی در و دیوار کو خراب کردیتے ہیں ، شیشے توڑ دیتے ہیں ، گالیاں دیتے ہیں ،لوگوں کے مال کو نقصان پہنچا تے ہیں اور اسی طر ح کی دوسری حرکتیں کرتے ہیں لیکن ان کے نادان ماں باپ نہ قفط یہ کہ ان کو تنبیہ نہیں کرتے بلکہ ایک احمقانہ ، ہنسی سے ان کا بے جاد فاع کرتے ہیں اور اس طر ح سے ایسے کاموں میں ان کی تشویق کا باعث بنتے ہیں یہ بے وقوف ماں باپ اپنی بے جا محبت سے دوستی کے لباس میں اپنے بچوں کے ساتھ بہت بڑی خیا نت کے مرتکب ہوتی ہیں اور یہ ظلم عظیم اللہ کے نزدیک بے مواخذہ نہیں ہو گا _ بچوں سے محبت کایہ مطلب نہیں کہ ان کی تربیت سے غافل ہو جائیں اور انہیں ہر کام کرنے کی کھلی چھٹی دے دیں _ اظہار محبت تربیت _
کا وسیلہ ہے اسے تربیت میں رکاوٹ نہیں بننا چاہتے _ بہترین ماں باپ وہ ہیں جو بچے کی محبت کو اور تربیت کے مسئلہ کو الگ الگ کرکے دیکھیں، اپنے بچوں سے خوب محبّت کریں لیکن حقیقت بین نظروں سے ان کی خوبیوں اور خامیوں پر نظر رکھیں اور نہایت سمجھداری سے ان کی اصلاح کی کوشش کریں بچے کو بھی یہ بات سمجھنی چاہیئے کہ وہ بر ے کام کرنے
میں آزاد نہیں اور اس پر اس کی باز پرس کی جائے گی اور اس کوہمیشہ خوف اور امید کے عالم میں زندگی گزارنی چاہیئےاں باپ کی محبت سے اس کو دلگرم اور پر امید ہونا چاہیئےور بے کاموں پر ان کی ناراضی اور غصّے کا اسے خوف ہو ناچا ہیئےن ماں باپ کو اپنے بچے سے محبت ہے ان کو یہ جاننا چا ہیئےہ ہمیشہ یہ بچہ ہی نہیں رہیگا اور نہ ہمیشہ ان کے ساتھ ساتھ رہیگا بلکہ وہ بڑا ہو جائے گا اور ناچار معاشر ے میں زندگی گزار ے گالوگوں سے معاشرت کرے گااگر اسے زندگی اور معاشرت کے آداب نہ آنے اور اس نے دوسرں کے حقوق کا احترام کرنانہ سیکھا تو لوگ اس سے نفرت کریں گے اور اس طرح سے وہ لوگوں توجہ او ر محبت حاصل نہیں کرسکے گاکہ جوزندگی کی خوشی اور راحت کے لیے ضروری ہے لوگ ماں باپ کی طرح نہیں ہو تے کہ اولاد کے عیوب کو نظر انداز کردیں _
امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں :
سب سے براباپ وہ ہے کہ جو اولاد سے محبت اور احسان کرنے میں حد سے تجاوز کرے ( 1)
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا :جسے ادب سکھا دیا گیا اس کی برائیاں کم ہو گئیں (2)
امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:میرے اباجان نے ایک شخص کو دیکھا کہ جو اپنے بیٹے کے ساتھ جار ہا تھا _ وہ بے ادب بیٹا اپنے باپ کے ہاتھ کا سہارا لیے ہو ئے تھا _ میر ے والد زین العابدین اس بے ادب بیٹے پر اتنے ناراض ہوئے کہ ساری عمر اس سے بات نہ کی ( 3)
--------
1_ تاریخ یعقوبی ، ج 2 ، ص 320
2_ غررا لحکم ج 2 ، ص 645
3_ بحار جلد 74 ص 64
بگڑا ہو ابچّہ
یہ صحیح ہے کہ بچے کو محبت و نوازش کی ضرورت ہوتی ہے لیکن محبت میں افراط صحیح نہیں ہے _ محبت غذا کے مانند ہے اگر ضروری مقدار میں اپنے مقام پر صرف ہو تومفید ہے لیکن ضروری مقدار سے زیادہ غیر مناسب مقام پر صرف ہو تونہ صرف یہ کہ سود مندنہیں ہے بلکہ کئی ایک نقصانات کی حامل بھی ہے _ زیادہ لا ڈپیار نہ صرف بچے کے لیے مفید نہیں ہے بلکہ ہے نہ ماں باپ کے دل بہلا نے کا ذریعہ ہے وہ ایک چھوٹا سا انسان ہے کہ جس کی خود اس کے لیے اور اکے مستقبل کے لیے تعمیر و تربیت کی جاتی ہے اور یہ بہت بڑی ذمہ داری ماں باپ کے کند ھے پر رکھی گئی ہے _ بچہ ہمیشہ چھوٹا نہیں رھتا بلکہ بڑابھی ہو جاتا ہے اسے معاشر ے میں زندگی بسر کرنا ہے اور زندگی بسر کرنا کوئی آسان کام نہیں بلکہ اس میں اونچ نیچ ، کامیابی و ناکامی ، عروج وزوال راحت و مصیبت اور خوشی اور غم موجود ہو تا ہے _ ایک سمجھدار مربی صحیح اور علاقلانہ طرز تفکر کے ساتھ زندگی کے حوادث کو مدّ نظر رکھتے ہوئے اپنے بچے کی اس طرح سے تربیت کرتا ہے کہ وہ زندگی کے نشیب و فراز سے گزرنے کے لیے تیار ہو جائے _ ماں باپ کویہ بات معلوم ہو نا چاہیے کہ جیسے بچے کی تربیت کے لیے اصولی طور پر محبت ضرور ہی ہے اسی وہ بگڑ جاتے ہیں اوران کے ناز نخر ے بہت بڑھ جاتے ہیں _ اس بری صفت کا نتیجہ خطر ناک نکلتا ہے مثلا ً:
1_ جب بچہ یہ محسوس کرے گا کہ اس کے ماں باپ اسے بے انتہا چاہتے ہیں، پرستش کی حد تک اس سے محبت کرتے ہیں اور اس کی مرضی کے مطابق اسے سے سلوک کرتے ہیں تو اسے سے اس کی خواہشات کا دائرہ بہت وسیع ہوجائے گا _ وہ چاہے گا کہ فقط فرمان صادر کرے اور ماں باپ بلا چون و چرا اس پر عمل کریں کہ کہیں وہ ناراض نہ ہوجائے _ ایسے بچے میں دن بدن استبداد اور قدرت طلبی بڑھتی جائے گی _ یہاں تک کہ وہ ایک آمر حکمران کی صورت اختیار کر لیتا ہے _ ایسا شخص جب معاشرے میں آتا ہے تو لوگوں سے بھی یہ توقع رکھتا ہے کہ اس سے اس کے ماں باپ کی طرح محبت کریں ، اور اس کی خواہشات پر اسی طرح عمل پیراموں جیسے اس کے ماں باپ ہوتے ہیں لیکن لوگ خود غرض شخص سے محبت کرتے ہیں اور نہ اس کی خواہشات کی طرح توجہ کرتے ہیں _ اس بناء پر معاشرے سے اس کادل اچاٹ ہوجاتا ہے _ وہ شکست و ریخت کا شکار ہوجاتا ہے _ احساس کمتری کے باعث تنہائی پسند اور گوشہ نشین ہوجاتا ہے _ وہ مجبور ہوجاتا ہے کہ شکست و ناکامی کے ساتھ زندگی گزارے یا پھر خودکشی کرکے اپنے آپ کو اس سے نجات دے لے _ بگڑے ہوئے اور ناز پرورلوگ ازدواجی زندگی میں بھی عموماً کامیاب نہیں ہوتے _ ایسا شخص اپنی بیوی سے بھی یہ توقع رکھے گا کہ اس کی ماں سے بھی بڑھ کر اس سے اظہار محبت کرے، اس کے فرامین کی پوری طرح اطاعت کرے اور بلا چون و چرا ان پر عمل کرے _ لیکن افسوس کی عملی زندگی میں صورت حال مختلف ہے بہت سی بیویاں اپنے شوہر کے استبداد اور حکم کے سامنے تسلیم محض کے لیے تیار نہیں ہیں _ اس لیے گھریلو لڑائی جھگڑے شروع ہوجاتے ہیں _ اسی طرح ایک بگڑی ہوئی بیٹی بھی جب اپنے سسرال میں جاتی ہے تو اس کی بھی اپنے شوہر سے یہی توقع ہوتی ہے کہ وہ اس سے اس کے ماں باپ سے زیادہ محبت کرے اور اس کی ہر خواہش کوبلا حیل و حجّت قبول کرے _ عموماً مرد بھی ایک بلند پرواز اور ایسی بگڑی ہوئی عورت کی تمام خواہشات پوری نہیں کرسکتے ، لہذا گھر میں لڑائی جھگڑا شروع ہوجاتا ہے _ ایسے مرد اور عورتیں دیکھنے میں آجاتے ہیں جو اپنے بڑھاپے میں بھی اس بات پر تیار نہیں ہیں کہ اس بگڑے پن اور بچگانہ عادت سے دست بردار ہو کر بڑے ہوجائیں _ ایسے لوگ گویا اس پر مصر ہیں کہ ہمیشہ بچے ہی رہیں _
2_ ناز ونعم میں پلنے والے بچے عموماً ضعیف و ناتوان روح اور رنجیدہ نفسیات کے حامل ہوتے ہیں _ یہ دوسروں کا سہارا ڈھونڈتے ہیں اور خود اعتمادی سے عاری ہوتے ہیں _ لہذا جب مشکلات پیش آتی ہیں تو راہ فرار ڈھونڈتے ہیں _ ان میں یہ جرات نہیں ہوتی کہ بڑے کاموں میں ہاتھ ڈالیں _ زندگی کے مسائل حل کرنے کے لیے وہ اللہ پر اور اپنی ذات پر اعتماد کرنے کے بجائے دوسروں کی مدد کی طرف دیکھ رہے ہوتے ہیں _
3_ لاڈپیار سے بگڑے ہوئے اور ناز پروردہ افراد عموماً خودپسند اور اپنے آپ میں مگن ہوتے ہیں _ چونکہ ان کی حد سے زیادہ تعریف کی جاتی ہے اس لیے وہ اپنے تئیں ایک بہت بڑی شخصیت سمجھنے لگتے ہیں جب کہ حقیقت یوں نہیں ہوتی _ وہ اپنی برائیاں نہیں دیکھتے بلکہ عیب کو کمال سمجھتے ہیں اور غرور بھی ایک بہت بڑا اخلاقی عیب اور ایک خطرناک نفسیاتی بیماری ہے _
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:خود پسندی بدترین چیز ہے _ (1) امام علی علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا:جو شخص بھی خودپسند ہواور بس اپنے میں مگن ہواس کے عیب اور برائیاں اس پر واضح ہوجائیں گی _ (2)
ایسا شخص لوگوں سے یہ توقع رکھتا ہے کہ اس کی جھوٹی شخصیت کی تعریف کریں _ اس وجہ سے کاسہ لیس اور چاپلوس قسم کے لوگ اس کے گرد جمع ہوجائیں گے _ لیکن سچ گو اور تنقید کرنے والوں کی اس کے ہاں کوئی جگہ نہ ہوگی _ خود پسند لوگ نہ صرف یہ کہ دوسروں کی محبت اور دوستی کو جذب نہیں کرسکتے بلکہ ہمیشہ دوسروں کے نزدیک قابل نفرت قرار پاتے ہیں _
------------
1_ غررالحکم ، ص 446
2_ غررالحکم ، ص 685
حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا:
جو شخص بھی خودپسند ہوگا اور بس اپنی ذات میں مگن ہوگا وہ بہت زیادہ مشکلوں میں پھنس جائے گا _ (1)
4_ جن بچوں سے حد سے بڑھ کر محبت اور نوازش کی جاتی ہے اور ماں باپ ان کی ہر بات مانے چلے جاتے ہیں وہ رفتہ رفتہ ماں باپ بالکل مسلّط ہوجاتے ہیں _ جب بڑے ہوجاتے ہیں تو بھی اقتدار طلبی سے باز نہیں آتے اور ماں باپ سے بہت زیادہ توقعات رکھتے ہیں _ اگر ماں باپ ان کی خواہش کے مقابلے میں آئیں تو وہ اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے بہت زیادہ غصّہ ،جھگڑا ، اور نازنخرا کرتے ہیں اور عادتیں بگاڑنے والے ماں باپ سے ہر جانہ وصول کرتے ہیں _ چونکہ اپنے لاڈلے پن کا احساس ہوتا ہے اس لیے آخر عمر تک ماں باپ سے جھوٹ بولتے ہیں اور ہر جانہ وصول کرتے ہیں _
5_ محبت میں افراط بعض اوقات اس مقام پر جا پہنچتی ہے کہ اسے خوش رکھنے کے لیے حقیقی مصلحتوں اور تعلیم و تربیت پر اس کی رضامندی کو ترجیح دینا پڑتی ہے _ اس کے عیبوں کو نہیں دیکھا جاتا یا نظر انداز کردیا جاتا ہے اور اس کی اصلاح کی کوشش نہیں کی جاتی _ اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لے کسی بھی کام سے دریغ نہیں کیا جاتا اگر چہ وہ غیر شرعی ہی کیوں نہ ہو اور اس طرح سے ماں باپ اپنے عزیز بچے کے ساتھ عظیم ترین خیانتوں کے مرتکب ہوتے ہیں _
امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:بدترین باپ وہ ہے کہ جو اپنے بچے سے احسان اور مہر و محبت میں افراط اور حد سے تجاوز کرے _ (2) بچے کو ہمیشہ خوف و رجاء کی کیفیت میں زندگی بسر کرنا چاہیے _ اسے یہ اطمینان ہونا
---------
1_ غرر الحکم ، ص 659
2_ تاریخ یعقوبی ، جلد 2 ، ص 320
چاہیے کہ وہ واقعاً ماں باپ کا محبوب ہے اور جہاں بھی ضروری ہو اوہ اس کی مدد کو دوڑیں گے اور دوسری طرف اسے معلوم ہونا چاہیے کہ جہاں بھی اس نے کوئی غلط کام انجام دیا ماں باپ اس کا مؤاخذہ کریں گے _
ڈاکٹر جلالی لکھتے ہیں
بچّے سے پیار ایک ضروری چیز ہے _ لیکن بچے کا یہ چاہنا صحیح نہیں ہے کہ ماں باپ سارا وقت اسی کو دے دیں اور ہمیشہ اسی کے چاؤ چونچلے کرتے _ (1)
ڈاکٹر جلالی ہی لکھتے ہیں :
اگر بچہ ایسے ماحول میں زندگی گزارتا ہو کہ جہاں اسے بہت لاڈسے رکھا جاتاہو _ ہمیشہ دوسرے اس کی حمایت کرتے ہوں _ اس کے برے اور ناپسندیدہ کاموں کو معاف کردیا جاتا ہو اور مشقت طلب دنیا میں رہنے کے لیے اسے تیار نہ کیا جاتا ہو وہ معاشرے میں ہمیشہ بہت ساری مشکلات اور رکاوٹوں کا سامنا کرے گا _ بچے کو آغاز تولد سے ہی یہ سکھایا جانا چاہیے کہ زندگی گزارنے والا وہ اکیلا نہیں ہے بلکہ وہ ایک معاشرے کاحصّہ ہے اور اس کی خواہش کو دوسروں کی خواہشات سے ہم آہنگ ہونا چاہیے _ (2)
اگر بچہ بے مقصد ہی روئے یا غصہ کرے یا سر کو دیوار سے مارے اور اس طرح سے ماں باپ پر کامیابی حاصل کرنا چاہے اور اپنی غلط سلط خواہشات کو منوانا چاہے تو اس کی طرف اعتناء نہیں کرنا چاہیے _ اسے چھوڑدیں تا کہ وہ سمجھ لے کہ اس کے رونے دھونے سے دنیا کا کچھ نہیں بگڑسکتا _ کچھ صبر کریں وہ خود ہی ٹھیک ہو
---------
1_ روانشناسی کودک ص 461
2_ روانشناسی کودک ص 353
جائے گا _
اگر آپ کا بچّہ زمین پرگرجائے تو ضروری نہیں کہ اسے اٹھائیں اور اسے تسلی دیں یا زمین کو برا بھلا کہیں _ رہنے دیں تا کہ وہ خود اٹھے پھر اسے نصیحت کریں کہ محتاط رہے زمین پر نہ گرے _ اگر اس کا سر دیوار سے ٹکرا جائے تو چومنا اور پیار کرنا ضروری نہیں ہے ایسے امور کی پرواہ نہ کریں _ کچھ ذرا ٹھیک ہوجائے تو پھر اسے نصیحت کریں _ جب آپ کا بچہ بیمار ہو جائے تو اس کے علاج کی کوشش کریں _ اس کے لیے دوا اور غذا مہیا کریں _ اس کی دیکھ بھال میں دریغ نہ کریں اس کی بیماری کو ایک معمولی واقعہ قرار دیں اور اپنے روزمرہ کے کام انجام دیتے رہیں _ آپ کی نیند، کھانا اور کام معمول کے مطابق انجام پانا چاہیے _ ایسا نہ ہوکہ اپنے کام اورمعمولات زندگی کو چھوڑ بیٹھیں اور غم و اندوہ کے ساتھ روتی آنکھوں کے ساتھ اس کے بستر کے کنارے بیٹھ جائیں اور وقت بے وقت اس کے بخار میں تپتے ہوئے چہرے کو چومتے رہیں _ یہ کام بچے کے معالجے پر کوئی اثر نہیں ڈالتے البتہ اسے بگاڑ ضرور دیتے ہیں کیوں کہ وہ خوب احساس کرتا ہے کہ اس کی بیماری ایک غیر معمولی واقعہ ہے جس نے ماں باپ کی زندگی کو مفلوج کرکے رکھ دیا ہے _
اپنے خط میں لکھتی ہے :
دو بیٹیوں کے بعد میرے ماں باپ کے ہاں بیٹا پیدا ہوا مجھے اپنی ماں کا شور شرا بہ اور جشن و سرور بھولتا نہیں، میرے ماں باپ نے اس قدر اسے لاڈپیار کیا کہ دو سال کی عمر میں وہ مجھے اور میری بہن کو خوب مارتا اور کاٹتا تھا او رہمیں جرات نہ تھی کہ اپنا دفاع کریں _ جو کچھ وہ چاہتا بلا چون و چرا مہیا کردیا جاتا _ بچوں کو اذیت کرتا _ اس کے مدرسہ جانے کے لیے اس پر بہت زیادہ عنایات کی جاتیں _ لیکن وہ کوئی کام کرنے پر آمادہ نہ ہوتا _ استاد کی بات پر کان نہ دھرتا لہذا وہ سلسلہ تعلیم جاری نہ رکھ سکااور ترقی نہ کر سکا _ اب جب کہ بڑا ہوگیا ہے بالکل ان پڑھ
ہے _ تنہائی پسند، کم گواور اپنے آپ میں کھویا رہتا ہے _ کسی کام کے کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا _ بے مقصد ادھر ادھر غصہ کرتا اور جھگڑتا رہتا ہے _ اپنی بہنوں سے اسے کوئی محبت نہیں _ اس کاانجام کار معلوم نہیں ہے _
ہاں ہمارا پیارا بھائی ماں باپ کی غلط تربیت اور حد سے زیاادہ محبت میں افراط کی بھینٹ چڑھ گیا ہے _
انگوٹھا چوسنا
بچے کی ایک عام عادت انگوٹھا چوسنا ہے _ عموماً بچے اپنے پیدائشے سے تین ماہ بعد انگوٹھا چوسنے لگتے ہیں او رکچھ عرصہ یہ سلسلہ جاری رکھتے ہیں _ اس کام کے فطری عامل اور اصلی بنیاد کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ بچہ اپنی عمر کے ابتدائی ایام میں دودھ کے ذریعے سیراب ہوتا ہے اور دودھ چوس کرہی پیتا ہے _ اسے جب بھی بھوک لگتی ہے اور کچھ ناراحتی دور کرتا ہے _ اس مدّت میں اسے اس عمل کے تکرار سے یہ تجربہ ہوتا ہے کہ چوسنے کے ذریعے ناراحتی دور ہوتی ہے اور آرام سا ملتا ہے _ تدریجاً وہ چوسنے کا عادی ہوجاتا ہے اور اس عمل سے کیف حاصل کرتا ہے _ ان ایام میں جب کہ بچے کے معاشرتی احساسات کسی حدتک بیدار ہوچکے ہوتے ہیں اور وہ خارجی دنیا کی طرف بھی متوجہ ہوتا ہے ، اس کی پوری کوشش یہ ہوتی ہے کہ اس لذت بخش عمل یعنی چوسنے سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جائے اس مقصد کے لیے بہترین اور آسان ترین چیز اس کے پاس انگوٹھا چوسنا ہی ہوتا ہے _ اس وجہ سے وہ اپنا انگوٹھا چوستا ہے اوررفتہ رفتہ اس کا عادی ہوجاتا ہے اور اسے جب بھی موقع ملے ہر طرح کی ناراحتی دور کرنے کے لئے اس لذت بخش مشغولیت سے استفادہ کرتا ہے _ بہت سے ماں باپ انگوٹھا چوسنے کو ایک بری عادت سمجھتے ہیں اور اس پر اپنی ناپسند کا اظہار کرتے ہیں اور ناراض ہوکر اس کا چارہ کار سوچتے ہیں _ یہاں پر اس امر کا ذکر ضروری ہے کہ اگر چہ دانتوں کے بعض ڈاکٹر اس عادت کو نقصان دہ سمجھتے ہیں او ر یہ کہتے ہیں کہ انگوٹھا چوسنے سے دانتوں
اور منہ کی طبیعی و فطری حالت بگڑجاتی ہے لیکن ان کے مقابلے میں دانتوں کے بہت سے ڈاکٹروں اور ماہرین نفسیات نے اس امر کی وضاحت کی ہے کہ انگوٹھا چوسنے _ سے کوئی مسئلہ پیش نہیں آتا _
ایک ماہر لکھتے ہیں:بہت سے معالجین نفسیات اور ماہرین نفسیات اور اسی طرح بچوں کے امور کے بہت سے ماہرین کا نظریہ ہے کہ اصولاً یہ عمل کوئی نقصان وہ عادت نہیں ہے اور بہت سے مقامات پر یہ عمل بچے کہ منہ میں کسی قسم کی تبدیلی کا باعث نہیں بنتا _ ان کا خاص طور پر یہ نظریہ ہے کہ یہ عادت جیسا کہ عموماً دیکھنے میں بھی آیا ہے مستقل دانت نکلنے پر ختم ہوجاتی ہے لہذا یہ بچے کے لیے کسی نقصان کا باعث نہیں بنتی _ (1)
البتہ ممکن ہے کبھی یہ عادت بچے کی صحت و سلامتی کو نقصان پہنچائے کیوں کہ بچے کی انگلی عموماً گندی اور کثیف ہوتی ہے اور ایسی کثیف انگلی چوسنے سے اکثر نقصان کا امکان ہوتا ہے_ زیادہ تر ماں باپ اس عادت کو پسند نہیں کرتے اور شرم کا احساس کرتے ہیں _
بہر حال ظاہراً یہ موضوع کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتا اور بچہ جب چار پانچ سال کا ہوجاتا ہے تو خودبخود یا ماں باپ کے ذریعے یہ عادت ختم ہوجاتی ہے البتہ ماں باپ کو اگر یہ عادت پسند نہیں تو بہتر ہے کہ اس کے وقوع سے پہلے ہی اس کا علاج کریں کیونکہ کسی عادت کو پیدا ہونے سے روکنا ترک عادت کی نسبت بہت آسان ہے _
جب وہ دیکھیں کہ بچہ اپنی انگلی چوسنا چاہتا ہے تو اس کا سبب معلوم کرنے کی کوشش کریں اگر وہ سیر نہیں ہواتواسے دودھ اور پلائیں اگر اسے جلد بھوک لگ جاتی ہو تو غذائی وقفے کے دوران میں اسے کوئی سادہ سی غذا مثلاً بسکٹ اور پھلوں کارس دے سکتے ہیں _
اگر اس کی وجہ احساس تنہائی یا کوئی تکلیف ہے تو اس کی طرف زیادہ توجہ کرنا چاہیے اور
----------
1_ رواں شناسی کودک _ رفتار کودکان _ از تولد تا دہ سالگی ، ص 172
اس سے اظہارت محبت کرین _ ایسی چیزیں ہوسکتا ہے اس عادت کی پیدائشے کا سبب ہوں _ اگر سبب دور کردیا جائے تو زیادہ امکان یہی ہے کہ بچے میں ایسی عادت پیدا نہیں ہوگی _ لیکن اگر عادت پیدا ہوگئی تو پھر اس کا علاج مشکل ہے _ اگر اسے کھیلنے کی مناسب چیزیں دے دی جائیں یا اس کے ساتھ کوئی کھیلنے والا مل جائے تو شاید تدریجاً یہ عادت ترک ہوجائے _ شاید اس کا بہترین علاج اسے چوسنی دے دینا ہو _ لیکن اس میں خرابی یہ ہے کہ اسے چوسنی کی عادت پڑجائے گی _ اگر ایسے کاموں کے ذریعے سے اس عادت کو روک سکیں تو کیا ہی بہتر _ لیکن اگر کامیاب نہ ہوں تو کہیں ایسا نہ ہو کہ اس پر سختی شروع کردی جائے مثلاً اس کے ہاتھ باندھ دیے جائیں ، اسے ماراجائے _ اس سے تلخی کی جائے ، اسے ڈانٹ ڈپٹ یا ملامت و سرزنش کی جائے کیوں کہ ایسے کام اس کے علاوہ کہ عموماً بے فائدہ ہوتے ہیں بچے کی روح اور نفسیات پر بھی برے اثرات مرّتب کرتے ہیں _ بہتر ہے کہ صبر کریں اور کسی مناسب موقع کا انتظار کریں زیادہ تر یہ عادت چار یا پانچ سال کی عمر میں خود، بخود ختم ہوجاتی ہے _
خوف
خوف سب میں پائی جانے والی ایک صفت ہے _ تھوڑا یا زیادہ سب لوگوں میں ہوتا ہے _ اجمالی طور پر خوف انسان کی حفاظت کے لیے ضروری ہے اور اس طرح سے ہونا کوئی بڑی چیز بھی نہیں ہے _ جس میں بالکل ہی خوف نہ ہو وہ انسان معمول کے مطابق نہیں ہے بلکہ بیمار اور ناقص ہے _ یہ خوف ہے جس کی وجہ سے انسان خطرناک حوادث سے بھاگتا ہے اور اپنے آپ کو موت سے بچاتا ہے _ لہذا خوف اللہ کی عظیم نعمتوں میں سے ہے کہ جو خالق کائنات نے انسان کے وجود میں ودیعت کی ہیں اور اس میں مصلحتیں اور حکمتیں پوشیدہ ہیں _ لیکن یہ عظیم نعمت دیگر تما م نعمتوں کی طرح اس صورت میں مفید ہوگی کہ جب انسان اس سے صحیح طور پر استفادہ کرے _ اگر وہ اپنے صحیح مقام کے برخلاف استعمال ہوئی تونہ صرف یہ کہ مفید نہیں ہے بلکہ ممکن ہے برے نتائج کی حامل بھی ہو _ خوف کے مواقع کو مجموعی طور پر 2 حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے _
پہلا _ خیالی ، بے موقع اور غیر عقلی خوف
دوسرا _ معقول ، درست اور بجا خوف
غیر عاقلانہ خوف
پہلی قسم کا غیر عاقلانہ خوف عموماً زیادہ ہوتا ہے _ جیسے جن اور بھوٹ سے ڈرنا تاریکی سے خوف کھانا ، بے ضرر حیوانات سے ڈرنا، بلی ، چوہے ، لال بیگ، مینڈک، اونٹ گھوڑے
اور دیگر ایسے جانوروں سے ڈرنا _ چورسے ڈرنا ، مردے ، قبرستان ، قر اور کفن سے ڈرنا ، ڈاکٹر ، ٹیکے اور دوا سے خوف کھانا، دانتوںکے ڈاکٹر سے ڈرنا ، ریل گاری کی آوازیا بادل کے گر جنے اور بجلی کے کڑکنے سے خوف کھانا، اکیلے سونے سے ڈرنا ، امتحان دینے اور سبق سنانے سے ڈرنا، بیماری سے خوف کھانا، موت سے ڈرنا اور ایسے ہی دیگر دسیوں قسم کے خوف کہ جو بالکل بے موقع ہیں اور ان کی بالکل کوئی عقلی بنیاد نہیں ہے _ ایسے خوف کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے ایسے ہی خوف ہوتے ہیں کہ جو بچے کو دائمی رنج و عذاب میں مبتلا کردیتے ہیں _ یہاں تک کہ وہ سکھ کی نیند سے بھی محروم ہوجاتا ہے اور نیند میں وحشت ناک قسم کے خواب دیکھتا ہے ور چیختا چلاتا ہے _ بے جاف خوف و اضطراب ایک نفسیاتی بیماری ہے جو بچے کی آئندہ زندگی پر بھی برے اثرات مرتب کرے گی _ ڈرپوک آدمی میں جرات نہیں ہوتی کہ وہ کوئی بڑا قدم اٹھائے ہمیشہ اضطراب کے عالم میں رہے گا اور اس کے دل میں ہمیشہ گرہ سی رہے گی ، ملنے جلنے سے کترائے گا، پریشان اور افسردہ رہے گا _ اجتماع سے بھاگے گا اور اپنی ذات میں گم ہوجائے گا _ اکثر نفسیاتی بیماریاں ایسے ہی بے جا خوف سے وجود میں آتی ہیں _
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:خوف بھی ایک مصیبت ہے _ (1)
لہذا ایک اچھا مربی اس امر سے لا تعلق نہیں رہ سکتا بلکہ کوشش کرتا ہے کہ اپنے بچے کے بے جا خوف کو دور کرے _ اس موقع پر مربّی حضرات کی خدمت میں ہم چند گزارشات پیش کرتے ہیں _
1_ خوف کو دور کرنے سے کہیں آسان ہے کہ اسے پہلے سے روکا جائے _ کوشش کریں کہ خوف کے علل اور عوامل حتی المقدور پیدا ہی نہ ہوں تا کہ آپ کا بچہ ڈرپوک نہ بنے ماہرین نفسیات کا نظریہ ہے کہ ریل گاڑی کی آواز، بادل اور بجلی کی صدا، خطرے کے آلارم کی آواز اور بچے کے سربانے شور مچانا بچوں کے لیے خوف کے ابتدائی عومل
---------
1_ غرر الحکم ص 8
میں سے ہیں _ جہاں تک ہوسکے کوشش کریں کہ بچے اس طرح کی چیزوں سے بچیں اگر چہ نو مولود کیوں نہ ہوں ان کے سرہانے شور نہ مچائیں _ ان کی طرف غصے سے نہ دیکھیں _
2_ دڑمتعدی بیماریوں میں ہے _ بچہ ذاتی طور پر ڈرپوک نہیں ہوتا ماں باپ اور اردگرد والے لوگ اگر دڑپوک ہوں تو بچہ دڑپوک بن جاتا ہے _ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے بچے ڈرپوک نہ ہوں تو پہلے اپنے دڑ کا علاج کریں اور غیر عقلی عوامل پر اظہار خوف اور جزع و فزع نہ کریں تا کہ بچے بھی ڈرپوک نہ ہوں _
3_ پولیس اور جرائم سے متعلقہ فلموں کو دیکھنا ، ٹیلویں کے بعض پروگراموں کو دیکھنا ، ریڈیوکی ہیجان آور داستانوں کا سننا ، ہیجان انگیز قصوں او رداستانوں کا پڑھنا اور سننا، یہاں تک کہ مجلوں اور روزناموں میں چھپنے والے بعض اوقات کا پڑھنا بچے کے لیے ضرر رساں ہے بچے کے نازک اور ظریف اعصاب پر ان کا اثر ہوتا ہے اور ان سے بچے کے دل میں ایک خوف ، پریشانی اور گرہ سی پیدا ہوجاتی ہے _ جہاں تک ممکن ہو سکے بچے کو ان چیزوں سے دوررکھیں _ جن اور پری کے بارے میں بات تک نہ کریں _ اگر انہوں نے کسی اور سے سن لیا ہو تو انہیں سمجھائیں کہ جن اگر موجود بھی ہو اجیسا کہ قرآن کریم نے ان کے وجود کے بارے میں تصریح بھی کی ہے تو وہ بھی انسانوں کی طرح سے ہیں اور زندگی گزارتے ہیں اور انسان کے لیے ان کا کوئی نقصان نہیں اور ان سے خوف کی کوئی وجہ نہیں ہے _
4_ بچے کی تربیت کے لیے اس ڈرانے اور سختی سے پرہیز کریں _ بچوں کو بھوت ، دیو، لولو، و غیرہ سے نہ ڈرائیں _ ایسے خوف ہوسکتا ہے کہ وقتی طور پر بچے پر اثر ڈالیں لیکن یقیناً ان سے بچے میں برے اثرات باقی رہ جائیں گے کہ جن کا نقصان فائدے سے زیادہ ہے _ اس طرح سے آپ کو ڈرپوک اور کمزور بنادیں گے بچوں کو تنبیہہ کے لیے تاریک اور دہشت آور جگہوں پر بند نہ کریں _ بچوں کو کتّے بلّی سے نہ ڈرائیں _ بعض بیوقوف ماؤں کی غلط عادت ہے کہ بچے کو چپ کروانے کے لیے
در واز ے اور دیوار کے پیچھے سے میاؤ ں میاؤں کرتی ہیںکرتی ہیں اور دروازے اور دیوار پرہاتھ مارتی ہیں اور اس طرح سے اسے طرح سے اسے ڈراتی ہیں تا کہ وہ چپ کرجائے _ ان نادان ماؤں کو خبر نہیں کہ وہ اس غلط عادت سے کتنے بڑے جرم کی مرتکب ہوتی ہیں اور بچے کی حساس روح کو پریشان کردیتی ہیں اور اس کی آئندہ نفسیاتی زندگی و تباہ کردیتی ہیں اپنی یاد داشتوں میں لکھتا ہے :
ہماری دادی امّاں ہمیں شرارتوں سے روکنے کے لیے دوسرے کمر ے میں چلی اورایک خاص آواز نکال کرکہتی ، میں دیو ہوں ، میں آگیا ہوں کہ تمہیں کھا جاؤں _ ہم ڈر جاتے اور چپ کرجاتے اورسمجھتے کہ یہ حقیقت ہے _ اسی وجہ سے میں ایک ڈر پوک شخص ہوں اور اکیلا گھر ے سے باہر نہیں رہ سکتا _ اب حب کہ بڑا ہ گیا ہوں وہی خوف ایک اضطراب اور دل گرفتگی کی صورت اختیار کر چکا ہے ..._اپنے ایک خط میں لکھتی ہے _
میں پانچ سال کی تھی اپنی خالہ زاد کے ساتھ کھیل رہی تھی اچانک ہم نے ایک وحشت ناک ہیولا بڑا ساسر درشت آنکھیں ، بڑے بڑے دانت ، کھلا سیاہ لباس اور بڑ ے بڑے کا لے جوتے _ وہ صحن کے در میان میں تھا _ عجیب آواز نکا لتے ہوئے وہ چاہتا تھا کہ نہیں کھا جائے _ ہم نے چینح ماری اور تار یک دالان کی طرف بھاگ گئیں _ میں خوف سے یوں دیوار سے جاچمٹی کہ میری انگلیاں زخمی ہو گئیں _ خوف کے مارے میں بے ہوش ہو گئی اور کچھ مجھے سمجھ نہ آیا _ مجھے ڈاکٹر کے پاس لے گئے اور مجھے مرنے سے بچایا _ اس غیر انسانی فعل نے مجھ پر ایسا اثر کیا کہ ایک عرصے تک میں کونوں کھدروں میں چھپتی اور ذر اسی آواز بھی مجھے خوف و وحشت میں مبتلا کردیتی اور میری چینح نکال جاتی اب حب کہ میں بڑی ہوگئی ہوں تو میں ضعف اعصاب او رسوزش قلب میں مبتلا ہو گئی ہوں _ ہمیشہ غم زدہ رہتی ہوں اور عجیب و غریب خیالات آتے ہیں _ کام اور زندگی میں میرا دل نہیں لگتا نہ کسی سے میل ملاقات ہے اور نہ کہیں آتی جاتی ہوں _
بے چین اور مضطرب سی رہتی ہوں _ بعد میں مجھے پتہ چلا کہ ہماری پھوپھی زادنے اپنے سرپر ایک بڑا سادیگچہ رکھ کے وہ ڈراؤنی بھوت کی شکل بنائی تھی تا کہ ہمیں ڈرائے اور وہ ہے میری بیماری اور اعصاب کی کمزوری کی ذمہ دار_
5_ اگر آپ کا بچہ آپ کی سہل انگاری اور عدم توجہ یا دوسرے اسباب کے باعث ڈرپوک بن گیا ہو تو اس کے ڈر کو غیر اہم چیز نہ سمجھیں _ کوشش کریں کہ جتنی جلدی ہوسکے اس کی روح کو آرام پہنچائیں اور اس کا خوف دور کریں _ اگربچے کو اپنے بعض کاموں کے حقیقی اسباب کاعلم ہوگیا تو اس کا کچھ خود بخود جاتا رہے گا لیکن خوف کا علاج بچے کہ جھاڑ پھٹکار پلانا اس کا مذاق اڑانا اور دوسروں کے سامنے شرمندہ کرنا نہیں ہے_ ایسا کام نہ فقط یہ کہ بچے کا خوف دور نہیں کرے گا بلکہ اس کی حسّاس روح کو آزردہ ترکردے گا _ خوف میں اس کا کوئی گناہ نہیں ہے _ وہ دڑنا نہیں چاہتا _ آپ خود اور دوسرے عوامل اس کے خوف کا سبب بنے ہیں _ اسے کیوں قصور وار ٹھہراتے ہیں _ صبر ، بردباری سمجھداری اور تحقیق و جستجو کے ساتھ اس کے خوف کے علل و اسباب معلوم کریں پھر ان کے لیے چارہ کارسوچیں _ اگر وہ جنّ اور بھوت سے دڑتا ہے تو اسے پیار محبت سے سمجھائیں کہ بھوت ، لولواور دیو و غیرہ کا وجود جھوٹ ہے اور ایسی چیزوں کا اصلاً وجو د ہی نہیں ہے _ اسے مطمئن کریں کہ جن کا انسان سے کوئی کام نہیں _ کوشش کریں کہ ان چیزوں کا اس کے سامنے اصلاً ذکر ہی نہ کیا جائے تا کہ رفتہ رفتہ ان کا خیال بچے کے ذہن سے محو ہوجائے _ اگر وہ بے ضرر حیوانات سے دڑے توان کا بے ضرر ہونا اس کے سامنے عملی طور پر ثابت کریں _ ان حیوانات کے قریب جائیں اور انہیں چھوئیں اور ہاتھ پکڑیں تا کہ بچہ تدریجاً ان سے مانوس ہوجائے اور اس کا خوف دور ہو جائے _ اگر وہ اندھیرے سے دڑتا ہے تو اسے کم روشنی کا عادی کریں تا کہ رفتہ رفتہ اس کا خوف جاتارہے اور وہ تاریکی کا بھی عادی ہوجائے _ جب آپ خود بچے کے پاس موجود ہوں تو کچھ دیر کے لیے چراغ گل کردیں _ پھر تدریجاًاس مدت کو بڑھائیں _ جب آپ کسی کمرے میں بچے سے کچھ فاصلے پر ہوں تو یہی عمل دھرائیں _ صبر اور حوصلے سے اس عمل کا تکرار کریں یہاں تک بچے کا خوف دور ہوجائے اور وہ تاریکی میں رہنے کا عادی ہوجائے _
اس امر کی طرف بہرحال متوجہ رہیں کہ دڑانے ڈھمکانے ، مارپیٹ اور سختی سے کام نہ لیں کیونکہ اس طرز عمل سے آپ بچے کا خوف دورنہیں کر سکتے _ بلکہ ممکن ہے یہ برے اعمال کا پیش خیمہ بنے _ بچے کو اس امر پر مجبور کرنا کہ وہ جن چیزوں سے دڑتا ہے ان کے سامنے جائے ، اس کے اضطراب اور پریشانی میں اضافے کا سبب بنتا ہے _ اس طریقے سے اس کے اعصاب پر بہت دباؤ پڑتا ہے _ اگر بچہ ڈاکٹر اور ٹیکے سے دڑتا ہے تو اسے پیار اور محبت کی زبان میں سمجھائیں کہ وہ بیمار ہے اور اگر وہ تندرست ہونا چاہتا ہے تو ضروری ہے کہ دو اکھائے اور ٹیکہ لگوائے _ اسے دکھائیں کہ دوسرے لوگ بھی ٹیکہ لگواتے ہیں اور روتے دھوتے نہیں تا کہ وہ آہستہ آہستہ ڈاکٹر اور ٹیکے سے مانوس ہوجائے اور اس کا خوف زائل ہوجائے _ اگر کوئی مجبوری نہ ہو تو اسے زبردستی ٹیکہ نہ لگایا جائے کیونکہ ممکن ہے اس کے بر ے اثرات مرتب ہوں _ کبھی ضرورت کا تقاضا ہوتا ہے کہ بچہ ہسپتال میں داخل ہوجائے لیکن اکثر بچے ہسپتال میں داخل ہونے اور ماں باپ کی جدائی سے دڑتے ہیں _ اس بناء پر کبھی وہ ماں باپ کے لیے بڑی مشکل پیدا کردیتا ہے _ اگر اسے سختی سے ہسپتال میں داخلے پرمجبور کیا جائے تومسلماً اس سے روحانی اور نفسیاتی طور پر اس پر برے اثرات مرتب ہوں گے _ اگر ماں باپ یہ سمجھیں کہ ہسپتال میں داخل نہ کروانا اس کی صحت و سلامتی کے لیے نقصان وہ ہے ، یہاں تک کہ اس کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے تو والدین کے لیے ضروری ہے کہ بچے کو پہلے ہی سے ہسپتال کے ماحول سے مانوس کریں _ جب کبھی وہ کسی مریض کی عیادت کے لیے جائیں تو اپنے بچے کو بھی ساتھ لے جائیں اور وہاں کچھ دیر ٹھہریں اور اسے یہ بات اچھی طرح سمجھائیں کہ ہسپتال ایک اچھی اور آرام وہ جگہ ہے جہاں پر ڈاکٹر اور مہربان نرسیں موجود ہیں اور یہ لوگ مریض کا علاج کرتے ہیں اسے بتائیں کہ خطرناک بیماریوں کا علاج ہسپتال ہی میں ممکن ہے _ بچے کوتدریجاً ہسپتال کے ماحول سے مانوس کیا جا سکتا ہے _ ایسی صورت میں اگر بچے کو ہسپتال میں داخل کرنا پڑجائے تو وہ اس کے لیے آمادہ ہوگا _ بہتر ہے کہ پہلے اس بات کی یاد دہانی کرو ادی جائے کہ تم بیمار ہو ، تندرست ہوجاؤ گے لیکن اس کے لیے تمہیں کچھ عرصہ ہسپتال میں رہنا ہوگا _ وہاں پر نرسیں اور مہربان ڈاکٹر موجود ہیں جو تمہاری تندرستی کے لیے کوشش کریں گے _ ہم بھی تمہیں لئے
آتے رہیں گے لیکن آپاس امر کی طرف متوجہ رہیں کہ بچے سے جھوٹ نہ بولیں جب آپ کو جانا ہے تو اس سے یہ نہ کہیں کہ یہاں سوجاؤ، ہم تمہارے پاس ہی ہیں اس سے یہ نہ کہیں کہ ڈرومت تمہیں دوا نہیں دی جائے گی اورٹیکہ نہیں لگایا جائے گا _ اس سے یہ نہ کہیں کہ ہسپتال میں تمہارا وقت خوب گزرے گا کیونکہ یہ تمام باتیں خلاف حقیقت ہیں _ ان سے بچے کا اعتماد جاتا رہتا ہے بلکہ اس سے یہ کہیں کہ تم بیمار ہو اورتمہارے علاج کے لیے ہسپتال میں داخلے کے سواچارہ نہیں ہے _ ہسپتال میں داخلے کے بعدجہاں تک ممکن ہو سکے اس کی عیادت کے لیے جائیں اس کے پاس ٹھہریں اور اس کے لیے خوشی اور آرام وراحت کا باعث بنیں
معقول خوف
معقول خوف کے معاملے میں مربّی کو چاہیے کہ ایک معتدل اور عاقلانہ نہ روش اختیار کرے بچے کے سامنے خطرناک موضوعات چھیڑے اور اسے ان سے بچنے کی تدابیر بتائے ، نیز اسے بے احتیاطی کے برے نتائج سے ڈرائے اسے گیس، ماچس اور برقی اشیاء کے استعمال کا درست طریقہ سمجھائے اسے ممکنہ خطرات کے بارے میں آگاہ کرے اسے سڑک پار کرنے کا صحیح طریقہ بتائے _ گاڑیوں کی آمدو رفت کے ممکنہ خطرات اس سے بیان کرے اور بچے کو اس بات پر ابھارے کہ وہ اجتماعی قوانین ، خصوصاً ٹریفک قوانین کی پابندی کرے اور اسے قانون کی خلاف ورزی کے ممکنہ برے نتائج سے ڈرائے مجموعی طور پر احتمالی خطرات کی اس کے سامنے وضاحت کرے اور ان سے اسے ڈرائے مجموعی طور پر احتمالی خطرات کی اس کے سامنے وضاحت کرے اور ان سے اسے ڈرائے اور ان سے بچنے کا طریقہ اسے سمجھائے لیکن اس امرمیں مبالغہ سے کام نہ لے _ مبالغہ آرائی سے ایسا نہ کرے کہ بچہ وحشت و اضطراب میں گھر جائے ڈرپوک اوروسواسی بن جائے _ اوریوں سمجھنے مگے کہ اس کے بچنے کا کوئی راستہ نہیں _ کوشش یہ کرنا چاہیے کہ اس میں توکل علی اللہ اور امید بر خدا کا جذبہ بیدار ہو خوف کا ایک صحیح مقام موت کاڈرہے البتہ موت سے خوف اگر حدّ سے تجاوز کرجائے تو یہ بھی ایک نفسیاتی بیماربی بن جاتا ہے یہ بیماری انسان سے روحانی آرام و سکون چھین لیتی ہے اور اس کی عملی صلاحیتوں کو ناکارہ کردیتی ہے لہذا اس کے لیے بھی حفاظتی تدابیر ضروری ہیں
کچھ عرصے تک بچہ اصلاً موت کا مفہوم ہی نہیں سمجھتا _ بہتر یہ ہے کہ مربی حضرات اس بارے میں بات نہ کریں لیکن کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بچہ اپنے کسی واقف کاریارشتے دار کے مرنے سے موت کی طرف متوجہ ہوتاہے ممکن ہے ایسے موقع پر وہ ماں باپ سے موت کے بارے میں سوالات پوچھے _ اگر اس وقت بچہ رشد و تمیز کے سن کو پہنچ چکا ہو تو ماں باپ اسے اس قضیے کی حقیقت بتادیں _ اس سے کہیں کہ موت کوئی خاص چیز نہیں ہے _ انسان مرنے کی وجہ سے اس جہاں سے دوسرے جہاں میں منتقل ہوجاتاہے ، اسے جہاں آخرت کہتے ہیں _ اس جہاں میں انسان کو اچھے کاموں کا ثواب ملے گا اور برے کاموں پر اسے عذاب ملے گا ، سب نے مرجاتا ہے ، اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے _
''تمام لوگ مرجائیں گے ''
موت اہم چیز نہیں ہے بلکہ اہم یہ ہے کہ انسان برے کام نہ کرے اور اچھے کام کرے تا کہ مرنے کے بعد وہ آرام سے رہے _
موت کی یا دحدّ سے تجاوز نہیں کرنی چاہیے اور اسے وسواس کے مقام تک نہیں پہنچنا چاہیے _ ایسا ہونا نقصان وہ ہے جب کہ اسی یادسے بچے کی تعلیم و تربیت کے لیے بھی استفادہ کیا جاسکتا ہے _
خوف کا ایک مثبت مقام خوف خدا یا خوف قیامت ہے _ یہ خوف بھی اگر ایک نفسیاتی بیماری کی صورت میں نہ ہو تو نہ فقط یہ کہ برا نہیں ہے بلکہ انسان کی دنیاوی اور اخروی سعادت کے لیے بہت مفید ہے _ خوف الہی اور عذاب آخرت کاخوف انسان کونیک کاموں پر ابھارتا ہے اور برے کاموں سے روکتا ہے _ اسی لیے اللہ تعالی قرآن مجید میں لوگوں سے فرماتا ہے :
فلا تخافوهم و خافون ان کنتم مومنین اگر تم اہل ایمان ہو تو دوسروں سے نہ ڈرو صرف سمجھ سے دڑو_(آل عمران _175)
نیز قرآن قیامت کی مشکلات اور عذاب کو لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے _ لہذا ایک عقل مند ، سمجھ دار اور متدین مربّی کوشش کرتا ہے کہ خوف الہی گناہ سے خوف اور خوف قیامت کا بیج بچے کی حسّاس روح میںاس کے بچپن ہی میں بودتے تا کہ رفتہ رفتہ وہ نشو و نما پائے
157
اور بڑا ہوکر اس کا نیک ثمرہ ظاہر ہو_
البتہ اس نکتے کی یاددھانی بھی ضروری ہے کہ ایک بہترین مربی کو یہ نہیں چاہیے کہ وہ ہمیشہ دوزخ اور عذاب دوزخ کا ذکر کرتا رہے اور اللہ کو سخت ، جابر شخض کی حیثیت سے متعارف کروائے بلکہ اس کی رحمت ، مہربانی ، شفقت اور لطف کی صفت کا زیادہ تذکرہ کرے _ اس کے ذریعے سے اللہ کو محبوب کے طور پر منوائے اورلوگوں کو گناہ کے عذاب اور اللہ کی عظمت سے اس طریقے سے ڈرائے کہ وہ ہمیشہ خوف و رجاء کی حالت میں رہیں _
کھیل کود
جیسے سانس لینا بچے کے لیے ضروری ہے ایسے ہی کھیل کوداس کے لیے ایک فطری امرہے _ پر ائمری و مڈل میں بچے کی سب سے بڑی سرگرمی اور مشغولیت کھیل ہے _ اس کے بعد آہستہ کم ہوجاتی ہے اور پھر ضروری کام اس کی جگہ لے لیتے ہیں _ کھیل کے لیے بچے کے پاس دلیل نہیں ہے _ البتہ وہ ایسا نہیں کرسکتاکہ کھیلے نہ _ بچہ ایک موجود زندہ ہے اور ہر موجود زندہ کو چاہیے وہ فعّال رہے _ کھیل بھی بچے کے لیے ایک قسم کی فعالیت اور کام ہے بچے کانہ کھیلنا اس کی بیماری اور ناتوانی کی علامت ہے _ اسلام نے بھے بچے کی فطری ضرورت کی طرف توجہ دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ اسے آزاد چھوڑا جائے تا کہ وہ کھیلے _
حضرت صادق علیہ السلام نے فرمایا:بچے کہ سات سال تک آزاد چھوڑدیں تا کہ وہ کھیلے _ (1)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ بچوں کے پاس سے گزرے کہ جومٹی سے کھیل رہے تھے _ آپ(ص) کے بعض اصحاب نے اہیں کھیلنے سے منع کیا _رسول اللہ نے فرمایا:انہیں کھیلنے دومٹی بچوں کی چراگاہ ہے _ (2)
-----------
1_ وسائل ج 15 ص 193
2_ مجمع الزوائد ج 8 ص 159
کھیل بچے کے لیے ایک فطری ورزش ہے _ اس سے اس کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں _ اس کی فہم اورعقلی قوتوں کو کام میں لاتی ہے اور اسے مزید طاقت عطا کرتی ہے _ بچے کے اجتماعی جذبات اور احساسات کو بیدار کرتی ہے _ اسے معاشرتی زندگی گزارنے اور ذمہ داریوں کو قبول کرنے پر آمادہ کرتی ہے _
ماہرین نفسیات کھیل کے اصلی محرک کے بارے میں اختلاف نظر رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں انہوں نے جو تحقیقات کی ہیں وہ ہمارے کام کی ہرگز نہیں ہیں ہمارے لیے جو اہم ہے وہ یہ ہے کہ اس فطری امر سے بچے کی تعلیم و تربیت کے لیے استفادہ کریں اور اس کی آئندہ کی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اسے کام میں لائیں _ ایک ذمہ دار مرّی کو نہیں چاہیے کہ وہ کھیل کو بس ایک مشغولیت شمارکرے اور اس حساس اورپر اہمّیت عرصے کو بے وقعت سمجھے _ بچے کھیل کے دوران خارجی دنیا سے آشنا ہوتا ہے _ حقائق سمجھنے لگتا ہے _ کام کرنے کا انداز سیکھتاہے _ خطرات سے بچنے اور ایک دوسرے کے ساتھ ہم دست ہونے ، مشق کرنے اور مہارت حاصل کرنے کا انداز سیکھتا ہے _ اجتماعی کھیل میں دو دوسروں کے حقوق کا خیال رکھنا اوراجتماعی قوانین کی پابندی کرنا سیکھتا ہے _دیلیم اسٹرن لکھتے ہیں :کھیل صلاحیتوں کے رشد و نمو کا ایک فطری ذریعہ ہے یا آئندہ کے اعمال کے لیے ابتدائی مشق کے مانند ہے (1) الیکسی میکیم دیچ گورکی لکھتے ہیں:کھیل بچوں کے لیے جہاں ادراک کی طرف راستہ ہے _ وہ راستہ کہ جس پہ وہ زندگی گزارتے ہیں ، وہ راستہ کہ جس پہ بدل کے انہیں جانا ہے _ کھیلنے والا بچہ اچھلنے کودنے کی ضرورت پوری کرتا ہے چیزوں کے خواص سے آشنا ہوتا ہے _ کھیل بچے کو آداب معاشرت سیکھنے میں مدد دیتا ہے _ بچے نے
---------
1 _ روانشناسی کودک تالیف دکتر جلالی ص 331
جو کچھ دیکھا ہوتا ہے اور جو کچھ وہ جانتا ہے اسے کھیل میں ظاہر کرتاہے _ کھیل اس کے احساس کو مزیدگہرا کردیتا ہے اور اس کے تصورات کو واضح تر بنادیتا ہے _ بچے گھر بناتے ہیں _ کارخانہ تعمیر کرتے ہیں _ قطب شمالی کی طرف جاتے ہیں _ فضا میں پرواز کرتے ہیں ، سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں اور گاڑی چلاتے ہیں _
آنٹن سمیو نویچ ماکارنو جو روس کے معروف ماہر امور پرورش ہیں ، کہتے ہیں : کھیل میں بچہ جیسا ہوتا ہے، بڑا ہوکر کام میں بھی ویسا ہی ہوگا _ کیونکہ ہر کھیل میں ہر چیز سے پہلے فکر و عمل کی کوشش کارفرما ہوتی ہے _ اچھا کھیل اچھے کام کے مانند ہے _ جو کھیل آشکارہوتا ہے اس میں بچے ے احساسات اور آرزوئیں ظاہر ہوتی ہیں _ کھیلنے والے بچے کو غور سے دیکھیں _ اسے دیکھیں کو جو پروگرام اس نے اپنے لیے بنایا ہے اس پر کیسے حقیقت پسندی سے عمل کرتا ہے _ کھیل میں بچے کے احساسات حقیقی اور اصلی ہوتے ہیں _ بڑوں کو ان سے کبھی بھی بے اعتناء نہیں رہنا چاہیے (1)
ولیم میکڈوگل رقم طراز ہیں:قبل اس کے کہ فطرت میدان عمل میں داخل ہو، کھیل کسی شخص کے فطری میلان کا مظہر ہوتا ہے (2) لہذا بچہ اگر چہ کھیل میں ظاہراً کوئی اہم مرسوم کام انجام نہیں دے رہا ہوتا لیکن اس کے باوجود کھیل کام سے کوئی نمایان فرق بھی نہیں رکھتا _ اسی کھیل کے دوران میں بچے کے فطری اور ذاتی میلانات ظاہر ہوتے ہیں اسی میں اس کا اجتماعی و انفرادی کردار صحت پذیر ہوتا ہے اور اس کے مستقبل کو روشن کرتا ہے _
---------
1_ روان شناسی تجربی کودک ص 130
2_ روان شناسی کودک از ڈاکٹر جلالی ص 332
بچے کے سرپرستوں کو چند قسموں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے_
بعض ایسے ہیں جو کھیل کو بچے کا عیب اور بے ادبی کی علامت سمجھتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ حتی المقدور بچے کو کھیل سے بازرکھیں تا کہ وہ آرام سے ایک گوشے میں بیٹھا رہے _
کچھ ایسے بھی ہیں جو بچوں کے کھیل کے مخالف نہیں ہیں اور وہ بچے کو کھیلنے کے لیے آزاد چھوڑدیتے ہیں اور اس کے کھیل میں کوئی دخل بھی نہیں رکھتے کہتے ہیں کہ بچہ خود ہی اچھی طرح جانتا ہے کہ کسے اور کس چیز سے کھیلا جائے _
تیسری قسم ایسے سرپرستوں کی ہے جو بچوں کے کھیل کے لیے مشغولیت کے علاوہ کوئی ہدف نہیں سمجھتے _ وہ کھیل کے مقصد کی طرف توجہ کیے بغیر بچوں کے لیے کھیل کا سامان خرید تے ہیں کھیل کا اچھا برا سامان خرید کر بچوں کے ہاتھوں میں تھمادیتے ہیں اور اپنے گھر کو کھیل کے سامان کی دوکان بنادیے ہیں لیکن بچوں کے کھیل میں کوئی دخل اندازی نہیں کرتے بچہ اپنی مرضی سے کھیلتا ہے ، بگاڑتا ہے اور پھینک دیتا ہے ہنستا ہے اورخوش ہوتا ہے اوراپنے خوبصورت کھلونوں کی بناء پر دوسروں پر فخر کرتا ہے _
چوتھی قسم ایسے سرپرستوں کی ہے جو نہ صرف بچے کو کھیل کی اجازت دیتے ہیں بلکہ ان کے کھیل پر پوری نظر بھی رکھتے ہیں _ اور گوئی مشکل پیش آجائے تو وضاحت کرتے ہیں اور اس مشکل کو حل کرتے ہیں _بچے کوموقع نہیں دیتے کہ مشکلات میں اپنی فکر و عقل کو استعمال کرے اور اپنی صلاحیت سے مشکلات کو حل کرے، اس طرح سے بچے میں خود صلاحیت پیدانہیں ہوتی اور اس کی قوت ارادی پروان نہیں چڑھتی بلکہ وہ تمام تر ماں باپ پر انحصار کرتا ہے کہ وہ فوراً اس کی مدد کو لپکیں _
ان چاروں میں سے کوئی طریقہ بھی پسندیدہ اور سودمند نہیں ہے کہ جسے بچے کی تعلیم و تربیت کے لیے مفید اور بے نقص قراردیا جائے _ ہر ایک میں ایک یا زیاہ نقص موجود ہیں _ بہترین روش کو جو ایک ذمہ دار اور آگاہ مربی اختیار کرسکتا ہے یہ ہے کہ _
اولاً: بچے کو کاملاً آزاد چھوڑ دے تا کہ وہ اپنے میلان کے مطابق کھیلے _
ثانیاً: اس کے کھیلنے کے لیے ضروری چیزیں فراہم کرے _
ثالثاً: کھیل کے لیے ایسی چیزوں کا انتخاب کرے کہ جن سے بچے کی فکر اور دماغی صلاحیتوں کو تقویت پہنچے اور دوسری طرف اس میں کوئی فنی پہلو بھی موجود ہونا چاہیے جوبچے کو مفید کاموں کے لیے تشویق کرے اور اسے اجتماعی اور معاشرتی امور اور کاموں کی انجام وہی پر آمادہ کرے کھیلوں کی زیادہ تر چیزیں وقت اور پیسے کے ضیاع کے علاوہ کچھ ثمر نہیں رکھتیں _
مثلاً اگر آپ اس کے لیے بجلی سے چلنے والی کاریاریل گاڑی خریدیں یا کوئی اور چیز _خریدیں تو آپ کا بچہ صرف ایک تماشہ بن جائے گا _ سارادن اسی میں گمن رہے گا _ اسے دیکھے گا _ ہنسے گا _ نہ اس میں کوئی اس کی فکر استعمال ہوگی _ نہ کوئی ایسی چیز یاد کرسکے گا جو آئندہ زندگی میں اس کے کام آسکے _
کھیلنے کے لیے بہترین چیزیں کھیل کا وہ سامان ہے جو فنی پہلو رکھتا ہو اور نامکملہوجسے بچے مکمل کریں مثلاً کسی عمارت کے مختلف حصے اور ٹکڑے ہوں _ نامکمل تصویرں _ سلائی اور کڑھائی کا سامان ، بجلی کی لائن بچھانے اور دیگر میکانیاتی کام _ اسی طرح بڑھئی اور دیگر فنون سے متعلقہ چیزں _ زراعت اور درخت لگانے میں درکار اشیاء ٹریکٹر ، اور کھیتی باڑی کی مشنیں _ دھاگا بننے اور کپڑے بننے کی مشینیں ڈرائنگ اور مصور ہی و نقاشی کی اشیاء _ الگ الگ الف، ب ، اسی طرح سکھلانے اور بنانے کی چیز یں اور مجموعی طور پر کھیل کا وہ ستاسامان کو جو بچے کے کام آسکے اور وہ اسے بناتا رہے _ بگاڑے پھر بنائے اور اس طرح سے اپنے تجربے اور پہچان کو بڑھاتا رہے _ کھیل کا ایسا سامان بچے کی دماغی صلاحیت کو تقویت پہنچاتا ہے اور اسے مفید اجتماعی کاموں کی طرف راغب کرتا ہے اور اسے تعمیری اور پیداداری سرگرمیوں کے لیے ابھارتا ہے _ نہ کہ اسے ایک تماشائی اور صارف اور خرچ کرنے والا بنادیتا ہے _
اس کے بعد بچہ کو راہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے تو ایک اچھا مربی بچوں کے کھیل کو نظر انداز نہیں کرسکتا اور اس پر نظررکھتا ہے _ کھیل کی نگرانی بذات خود ایک طرح کی تعلیم و تربیت ہے _
ایک آگاہ اور ذمہ دار مربی کھیل کا مفید سامان بچے کے سپرد کرنے کے بعد اسے آزاد چھوڑدیتا ہے تا کہ وہ کھیلے اور اس میں اپنی فکر کو استعمال کرے لیکن بالواسطہ وہ کھیل کی نگرانی
کرتا ہے اور جہاں ضرور ی ہو اس کی مدد کرتا ہے _
مثلاً اگر اس کے لیے کئی گاڑی یا ریل گاڑی خریدتا ہے تو اس سے پوچھ کہ کار اور ریل گاڑی کس کام آتی ہے _ بچہ سوچنے کے بعد جواب دیتا ہے مسافروں اور سامان کولے جانے کے لیے _ پھر وہ مزید اس میں دخالت نہیں کرتا _ بچہ خود سوچنے لگتا ہے کہ اس پر سامان اور مسافر سوار کرے اور اگر اس کام میں کوئی کمی ہو اور کسی اور چیز کی ضرورت ہو تو وہ خود اسے مہیا کرے گا _ اگر گاڑی میں یا کسی اور کھلونے میں کوئی فنی خرابی پیدا ہوجائے تو نہ آپ خود اس خرابی کو دورکریں اور نہ اس کے لیے کوئی اور کھلونا خریدیں _ بلکہ خودبچے کوتشویق کریں کہ وہ اس کی خرابی کو دور کرے اور مجموعی طور پر اس کمے مسائل حل کرنے میں بلا واسطہ دخالت نہ کریں _ بلکہ اس سلسلے میں خود بچے سے کام لیں اور اس کی راہنمائی کریں تا کہ اس میں اپنے آپ پر اعتماد پیدا ہو اور اس کا ذوق اور ہنر ظاہر ہونے لگے اگر آپ اپنی بیٹی کے لیے گڑیا خریدیں تو اسے بالکل کامل صورت میں نہ خریدیں بلکہ اس کی تکمیل کرنے کے لیے خود بیٹی سے کہیں _ اگر آپ بیٹی سے پوچھیں کہ اس گڑیا کے لیے کیا چیز ضروری ہے تو وہ سوچنے کے بعد جواب دے گی کہ اسے لباس کی ضرورت ہے _ پھر آپ اسے کپڑادے سکتے ہیں تا کہ وہ اس کے لیے لباس تیارکرے _ آپ کی راہنمائی میں وہ اپنی گڑیا کے لیے لباس تیار کرے گی _ اس پہنائے گی _ اس کے کپڑے دھوئے گی گڑیا کے لیے کھانا تیار کرے گی _ اس کا منہ دھوئے گی _ اسے نہلائے گی _ اسے سلادے گی _ پھر اسے جگائے گی پھر اسے مہمان کے طور پر لے جائے گی _ پھر اس کو بات کرنا اور ادب آداب سکھائے گی اس طرح سے بیٹی گڑیا سے کھیلے گی _ لیکن ایک سودمند مفید اور تعمیری کھیل_
اس وقت آپ یہ دیکھیں گے آپ کی بیٹی نے جو کچھ دیکھا یا سنا ہے وہ اپنی گڑیا پر آزمائے گی بچہ ایک مقلّد ہے _ بہت سے کام اپنے ماں باپ، بھائی بہنوں اور دوسرے لوگوں کی تقلید میں انجام دیتا ہے _ کھلونے اس وقت مفید ہیں جب بچہ ان سے کھیلے اور کام اور ہنر سیکھے نہ یہ کہ انہیں حفاظت سے رکھے اور ان کی حرکات کو کافی سمجھے اور دوسرے بچوں پر فخر کرے _ کھلونوں کے لیے ایک مخصوص جگہ ہونا چاہیے جہاں بچہ کھیل کے بعد انہیں رکھ سکے _
اس جگہ کی صفائی اور تنظیم و ترتیب بچے کے ذمّے ہونی چاہیے کھلونے بہت زیادہ نہیں ہونے چاہئیں کہ بچہ ان میں الجھارہے اور یہ نہ سمجھ سکے کہ اسے کس کے ساتھ کھیلنا ہے بلکہ ضروری مقدار پر اکتفاء کرنا چاہیے _ ضروری نہیں کہ کھلونے بہت خوبصورت اور مہنگے ہوں _ خود بچہ کاغذ ، گتے ،ڈبّے ، ٹکٹوں و غیرہ کے ذریعے کھلونے بنا سکتا ہے یا جو کھلونے اس نے خریدے ہیں انہیں کھل کر سکتا ہے _مجموعی طور پر کھیل کو چند قسموں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:
1_ انفرادی کھیل کہ جس میں بچہ خو اکیلا ہی کھیل سکتا ہے _
2_ اجتماعی کھیل کہ جو دوسروں سے مل کر کھیلا جاتا ہے
3_ فکر کھیل کہ جو فہم و امداک کو تقویت پہنچاتا ہے _
4_ ورزشی کھیل کہ جو جسم اور پٹھوں کو مضبوط کرتا ہے _
5_ حملے اور دفاع کا کھیل کہ جس میں کھلاڑی حملہ اور دفاع کے بارے میں سیکھتا ہے _
6_ ایک دوسرے سے تعاون کرکے کھیلا جانے والا کھیل کہ جس میں دوسروں سے تعاون کی روح کو تقویت پہنچائی جا سکتی ہے _
ابتداء میں بچہ انفرادی کھیل کھیلتا ہے _ اس مرحلے میں بچے کو آزاد چھوڑدینا چاہیے تا کہ وہ کھلونے سے کھیلتا رہے _ لیکن مربّی کی ذمہ داری ہے کہ اس کے کھیل پر نظر رکھے اس کے لیے کھلونوں کا انتخاب کرے اس کی دماغی قوت کو کام میں لائے اور اس کی سوجھ بوجھ میں اضافہ کرے دوسری طرف ، مربی یہ بھی دیکھے کہ بچے کا کھیل فنّی اور پیدا داری پہلو بھی رکھتا ہوتا کہ اسے مفید اجتماعی کاموں کا عادی بنایا جا سکے ، کبھی بچہ یہ چاہ رہا ہوتا ہے کہ اپنا کوئی کھلونا توڑبگاڑدے اور پھر اسے دوبارہ ٹھیک کرے _ اسے اس کام میں آزادی دینا چاہیے کیوں کہ وہ تجربہ کرنا چاہتا ہے اور اس کے فنّی پہلو کو سیکھنا چاہتا ہے _ لیکن اگر اسے کوئی مشکل دور پیش آجائے تو مربّی کو چاہیے کہ اس کی راہنمائی کرے _ کچھ عرصے بعد بچہ کسی حد تک اجتماعی مزاج کا حامل ہوجاتا ہے _ اس موقع پر اسے اجتماعی اور گروہی کھیل پسند ہوتے ہیں _ جب مربّی دیکھے کہ بچہ معاشرے کی طرف متوجہ
ہے اور اجتماعی کھیل کھیلنے کا آرزو مند ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اس کی حوصلہ افزائی کرے تا کہ بچے کا یہ اجتماعی جذبہ دن بدن ترقی کرتا جائے _ اس مرحلے پر بھی مربی کے لیے ضروری ہے کہ وہ بچے کے کھیل پر نظر رکھے اور اسے مفید اجتماعی کھیلوں کی طرف راہنمائی کرے _ زیادہ مروّج کھلیں فٹ بال ، والی بال اور باسکٹ با ل ہیں _ (1) اکثر بچے اسکول میں اور اسکول سے باہر اپنے فارغ اوقات انہی کھیلوں میں گزارتے ہیں _ یہ کھیلیں اگر بچہ پٹھوں کی ورزش اور مضبوطی کے لیے سودمند ہیں لیکن یہ امر باعث افسوس ہے کہ ان کھیلوں میں ایک بہت بڑا نقص بھی ہے وہ یہ کہ حملہ آور ہونے کی کھیلیں ہیں اور ایسی کھیلیں بچے میں جنگجوئی اور تشدد پسندی کا مزاج پیدا کردیتی ہیں _ ان کھیلوں میں حصّہ لینے والے بچوں کی پوری توجہ اس جانب مبذول ہوتی ہے کہ اپنے ساتھیوں یعنی دوسرے انسانوں پر کس طرح برتری حاصل کی جائے اور انہیں کیسے مغلوب اور شکست خورد کیا جائے اور یہ انسان کے لیے ایک بری صفت ہے _ ان کھیلوں میں اگر چہ تعاون بھی ہوتا ہے لیکن یہ تعاون بھی دوسرے انسانوں پر غلبہ حاصل کرنے کی نیت سے ہوتا ہے _ ان کھیلوں سے بھی بدتر کشتی اور باکسنگ ہے _ جو کہ ابتدائی انسان کے وحشی پن کی ایک کامل یادگار ہے _ کالش اس طرح کے کھیل بالکل رائج نہ ہوتے اور ان کی جگہ ایسے کھیل مرسوم ہوتے جن میں اجتماعی تعاون کی روح کارفرما ہوتی اور بچوں میں انسان دوستی کے جذبے کوتقویت ملتی اور وہ فائدہ مند پیداواری سرگرمیوں کی طرف متوجہ ہوتے _ رسل اس ضمن میں تحریرکرتے ہیں:آج کی انسانیت پہلے کی نسبت بہت زیادہ فکری پرورش اور باہمی تعاون کی محتاج ہے کہ جس کا سب سے بڑا دشمن مادہ پرستی ہے _انسان رقابت آمیز اعمال اور مزاحمت و حسد کا محتاج نہیں ہے کیونکہ یہ تو وہ چیزیں ہیں کہ جو کبھی انسان پر غالب آجاتی ہیں اور کبھی وہ ان پر غالب آجاتا ہے _ (2)
----------
1_ ایران میں یہی کھیل زیادہ رائج ہیں (مترجم)
2_ در تربیت ص 121
باعث افسوس ہے کہ سرپرست حضرات نہ فقط یہ کہ اس امر کے بارے میں نہیں سوچتے بلکہ دانستہ یا نا دانستہ ایسے کھیلوں کی بہت زیادہ ترویج کررہے ہیں اور بچوں اور نوجوانوں کو حدّ سے زیادہ ان میں مصروف کررہے ہیں _ اے کاش اسکولوں اور کالجوں کے سمجھدار اور ذمہ سرپرست اس بارے میں کوئی چارہ کار سوچتے اور ہمدرد ماہرین کے ذریعے فائدہ مند اجتماعی کھیلوں کو رواج دیتے جو ایسے مذکورہ کھیلوں کی جگہ لے سکتے _
اس سلسلہ بحث کے آخر پر اس نکتے کا ذکر بھی پر اس نکتے کا ذکر کر بھی ضروری ہے کہ بچھ کو اگر چہ کھیل کی ضرورت ہے اور یہ اس کے لیے ضروری ہے لیکن کھیل کے اوقات محدود ہونے چاہئیں _ ایک سمجھدار اور با شعور مرّبی بچے کے کھیل کے اوقات اس طرح سے مرتب کرتا ہے کہ بچہ خود بخود اجتماعی اور سودمندپیدا واری سرگرمیوں کی طرف مائل ہو جاتا ہے _ یوں زندگی کے دوسے مرحلے میں کھیل کو چھوڑ کرحقیقی اور سودمند کام انجام دینے لگتا ہے _ ایسا مربی اس امر کی اجازت نہیں دیتا کہ بچے کا مزاج ہی کھیل کودکا بن جائے اور اس کا کمال یہی کھیل کود بن جائے او ر وہ اس بات پر فخر کرنے لگے کہ میںبہترین کھلاڑی ہوں _
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا :جو کھیل کارہیا ہو گا کامیاب نہ ہو سکے گا _ (1) رسل اس کے متعلق لکھتا ہےیہ نظریہ کہ کسی انسان کی شخصیت کا معیار کھیل میں اس کا سابقہ ہے ، ہمارے سماجی عجزو تنزل کی علامت ہے کہ ہم یہ بات نہیں سنجھ سکے کہ ایک جدید اور پیچیدہ دنیا میں رہنے کے لیے معرفت اور تفکر کی ضرورت ہے (2)
اجتماعی کھیلوں کی ایک مشکل یہ ہے کہ ان سے بچوں میں کدورت اور لڑائی جھگڑا پیدا ہو جاتا ہے _ اکٹھے کھینے والے بچے کبھی ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے بھی ہیں _
----------
1_ غر الحکم ، ص 854
2_ در تربیت ص 122
ایسے موقع پر سرپرست حضرات کی ذمہ داری ہے کہ فورا دخالت کریں اور ان میں صلح و محبت پیدا کرکے انہیں کھیل میں مشغول کردیں یہ کام اتنا مشکل بھی نہیں ہے کیونکہ ابھی تک عناد اور دشمنی بچوں کے دل میں جڑ پیدا نہیں کرچکی ہوتی _ اس لیے وہ بہت جلد ایک دوسرے سے پھر گھل مل جاتے ہیں _
بد قسمتی سے بعض اوقات بچوں کا جھگڑا بڑوں میں سرایت کرجاتا ہے اور وہ کہ جو عقل مند ہیں ایک دوسرے کے مقابل کھڑ ے ہو جاتے ہیں _ پھرماں باپ بغیر تحقیق کے اور کی بات سمجھے بغیراپنے بچے کا دفاع شروع کردیتے ہیں اور یہ امر کبھی لڑائی جھگڑا مار پیٹ یہاں تک کہ کبھی تھا نے تک جاپہنچتا ہے _ جب کہ ایسا کرنے سے بچوں کی غلط تربیت ہوتی ہے اور یہ بچے پر بہت بڑا ظلم ہے جو بچے ایسے واقعے کو دیکھتا ہے سو چتا ہے کہ جق و حقیقت کی کوئی اہمیت نہ8یں اور کسی کو حق سے سرو کاو نہیں اور ہر ماں باپ تعصب کی بنا پر اپنے بچے کا دفاع کررہے ہیں _ اس طرح کا بچہ بے جا تعصب اور حق کشی کا عملی سبق اپنے ماں باپ سے لیتا ہے اور کل کے معاشر ے میں اس سے کام لیتا ہے
خود نمائی
خود نمائی اور اپنی شخصیت کو نما یاں کرنے کا احساس ہر ایک میں تھوڑا بہت موجود ہے _
ہر انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ جاذب نظر اور اہم کام انجام دے کر اپنی شخصیت و اہمیت دوسروں پر ثابت کرسکے تا کہ دوسرے اسے سرا ہیں ، اس کی قدر پہچانیں اور اس کے وجود کو غنیمت شمار کریں _ تقریبا ایک سال کی عمر کے بعد اس فطری خواہش کی علامتیں بچے میں ظاہر ہونے لگتی ہں _ بچہ کوشش کرتا ہے کہ محفل میں ایک سے دوسری جگہ جاتا رہے اور اپنی حرکات سے دوسروں کی توجہ اپنی طرف ہبذول کروائے_جس کام سے اس کے ماں باپ اور دوسرے لوگ خوش ہوں اور وہ ہنسیں ان کا تکرار کرتا ہے ، انہیں دیکھ کر خوش ہو تا ہے اور اپنی کا میابی پر فخر کرتا ہے _ کبھی اشار ے اور کبھی تصریح کے ساتھ یہ کہتا ہے کہ دیکھیں میں کتنا اہم کام انجام دے رہاہوں
خود نمائی کی خواہش فی نفسہ کوئی بری صفت نہیں ہے _ یہی درونی احساس انسان کو کوشش اور جدو جہد کے لیے ابھار تا ہے تا کہ وہ سبق پڑھ کر بہتریں نمبر حاصل کرے یا بہترین مقرربن جائے یا اچھا خطیب قرار پائے یا ماہر مصور ہو جائے یا ایک زبر دست شاعر بن جائے یا ایک اچھا مصنف بن جائے یا ایک اچھا صنّاع یا موجد ہو جا ئے _
اس صفت کا اصل وجود برانہیں لیکن اہم بات اس سے استفادہ ہے _ اگر اس خواہش کی درست راہنمائی کی جائے اسے صحیح طریقے سے سیراب کیا جائے تو یہ بہترین نتائج کی حاصل ہو تی ہے _ ابتدائی طور پر بچہ اچھے اور برے میں تمیز نہیں کرسکتا _ ہر کام کی اچھائی
یا برائی کا معیار اس کے لیے یہ ہے کہ اس کے والدین اسے پسند کرتے ہیں یا ناپسند _ ایک اچھا مربی کہ جس کی اس نکتے پر توجہ ہو وہ تحسین و تشویق کے ذریعے بچے کی خودنمائی کی خواہش کی تقویت کرتا ہے _ اس کے اچھے اور مفید کاموں پر اظہار مسرت کرتا ہے اور اس طرح سے اس میں اچھے اخلاق و آداب کی بنیاد رکھتا ہے اگر اس سے کوئی غلط اور خلاف ادب کام دیکھتا ہے تو نہ صرف یہ کہ اظہار مسرت نہیں کرتا بلکہ اپنی ناراضی اور ناپسندیدگی کا اظہار بھی کرتا ہے اور اس طرح سے اس عمل کی برائی بچے کو سمجھتا ہے _ اس کی طرف سے تھین و تعریف سوچی سمجھی اور حقیقت کے مطابق ہوتے ہیں اور اس بارے میں وہ تھوڑی سی بھی سہل انگاری اور غفلت نہیں کرتا _ اور اس طریقے سے وہ بچے کو اچھائیوں کی طرف جذب کرتا ہے اور برائیوں سے روکتا ہے _
البتہ بعض نادان ماں باپ اس بارے میں افراط سے کام لیتے ہیں _ بچے کے ہر کام پر اگر چہ وہ غلط او ربے ادبی پر مبنی کیوں نہ ہو اظہار مسرت کرتے ہیں اور اس طرح سے اس میں ناپسندیدہ اخلاق و آداب کی بنیاد رکھتے ہیں _ اس کی خوبیوں کے بارے میں مبالغہ کرتے ہیں _ ہر جگہ او رہر کسی کے سامنے اس کی تعریف کرتے ہیں _ اس کی ہنر نمائیوں کو دوسروں کے سامنے پیش کرتے ہیں _ ایسا بچہ ممکن ہے تکبر اور خود پسندی میں مبتلا ہوجائے اور پھر آہستہ آہستہ ایک خو د غرض اور جاہ طلب شخص بن جائے اور اپنے لیے ایک جھوٹی شخصیت گھڑے اور لوگوں سے خواہس کرے کہ اس کے ماں باپ کی طرح اس کی موہوم اور خیالی شخصیت کی تعریف و توصیف کریں اور اگر وہ اس بارے میں کامیاب نہ ہو ا تو ممکن ہے اس میں ایک نفسیاتی عقدہ پیدا ہوجائے اور وہ لوگوں کو قدر ناشناس سمجھنے لگ جائے _ یہاں تک ممکن ہے کہ اپنی خیالی شخصیت کے لیے اور لوگوں کی ناقدری کا بداء لینے کے لیے وہ کوئی غلط یا خطرناک اقدام کرے _ وہ چاہے گا کہ اپنی شکست خوردہ خواہشات کو پورا کرے اور دوسروں کی توجہ اپنی شخصیت کی طرف مبذول کرے چاہے اس کے لیے کچھ بھی ہوجائے _
اس نکتے کی یاد دھانی بھی ضروری ہے کہ ماں باپ کو چاہیے کہ بچے کے اس احساس
سے استفادہ کریں اور تدریجاً اس کی تربیت او رتکامل کی کوشش کریں اور اس کی ایک بلند اور بہتر راستے کی طرف راہنمائی کریں _ ماں باپ کی رضا اور خوشنودی کی جگہ آہستہ آہستہ اللہ کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کی اس میں خوپیدا کریں _ آہستہ آہستہ اس طرح کے جملے کہنے کی بجائے کہ مجھے یہ کام پسند نہیں یا فلاں کام ابو کو پسند نہیں یہ کہیں کہ اللہ کو یہ کام پسند نہیں او روہ اس کام پر راضی نہیں _
تقلید
تقلید کی سرشت انسانی فطرت میں موجود قوی ترین جبلتّوں میں سے ہے یہ بھی ایک سودمند اور تعمیری سرشت ہے _ اسی طبیعت کی بدولت بچہ بہت سی رسوم زندگی آداب معاشرت کھانا کھنا ، لباس پہننا ، طرز تکلّم ، اور الفاظ اور جملوں کی ادائیگی کا طریقہ ماں باپ اور دوسروں سے سیکھتا ہے انسان ایک مقلّد ہے اوراپنی پوری زندگی میں دوسروں کی تھوڑی یا زیادہ تقلید کرتا ہے لیکن ایک سے پانچ چھ سال کی عمر کے دوران اس میں یہ سرشت زیادہ نمایان ہوتی ہے ، بچہ ایک عرصے تک چیزوں کے حقیقی مصالح اور مفاسد سے ہرگز آگاہ نہیں ہوتا وہ اپنے کاموں کے لیے ایک عاقلانہ اور درست ہدف کا تعین نہیں کرسکتا اس مدت میں اس کی تمام تر توجہ ماں باپ اور ارد گرد کے دوسرے لوگوں کی طرف ہوتی ہے ان کے اعمال اور حرکات کو دیکھتا ہے اور ان کی تقلید کرتا ہے _
لفظ پانی ماں باپ سے سنتا ہے تقلید کرتے ہوئے وہی لفظ اپنی زبان سے ادا کرتا ہے _ پھر اس کے معنی کی طرف توجہ کرتا ہے پھر اسے اس کے موقع پر استعمال کرتا ہے ایک بچی دیکھتی ہے کہ ماں صفائی کرتی ہے اور کپڑے دھوتی ہے وہ بھی بالکل ایسے ہی کام انجام دیتی ہے _ دیکھتی ہے کہ ماں آگ میں ہاتھ نہیں ڈالتی وہ بھی اس سے بچتی ہے _ وہ دیکھتی ہے کہ وہ پھلوں کو دھوتی ہے ان کے چھلکے اتارتی ہے اور پھر کھاتی ہے وہ بھی یہی عادت اپنا لیتی ہے _ وہ دیکھتی ہے کہ امی ابو اور اس کے بہن بھائی گھر کے امور میں منظم ہیں اور ہر چیز کو اس کی مخصوص جگہ پر رکھتے ہیں وہ بھی اپنی زندگی میں اس نظم کے بارے ان کی تقلید کرتی ہے
وہ دیکھتی ہے کہ اس کے ماں باپ ادب سے بات کرتے میں وہ بھی مؤدب ہوجاتی ہے وہ دیکھتی ہے کہ گھر کے چلانے میں ماں باپ اور بہن بھائی ایک دوسرے سے تعاون کرتے ہیں وہ بھی اس تعاون میں اپنا حصّہ ادا کرتی ہے _ جب وہ دیکھتی ہے کہ سڑک عبور کرتے ہوئے اس کے ماں باپ اس جگہ سے عبور کرتے ہیں جہاں لائنیں لگی ہوئی ہیں وہ بھی یہی کام انجام دیتی ہے اور رفتہ رفتہ اسے اس کی عادت پڑجاتی ہے جب بیٹا دیکھتا ہے کہ اس کا باپ باغبانی کرتا ہے یا لکڑی کاکام کرتا ہے یا تعمیر کا کام کرتا ہے _
وہ بھی شروع شروع میں وہی کام کھیل کی طرح انجام دیتا ہے اور یہی کھیل ممکن ہے اس کی زندگی کے آئندہ پیشے کے طور پر مؤثر ہو _
بچے کی تعلیم و تربیت اور اسی کی تعمیر میں تقلید کا اثر و عظ ونصیحت سے زیادہ ہوتا ہے _ تقلید خودبخود انچام پاتی ہے اور اس کے لیے کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی _ کہ دیکھ امّی کیا کررہی ہے بلکہ کہے بغیر ہی وہ امّی اور ابو کے کام کی طرف پوری توجہ دیتا ہے _ ایک متکبر، بد اخلاق، بے ادب اور بد زبان باپ اپنے بچے کے لیے سرمشق قرار پائے گا _ اور ایک ہٹ ڈھرم ، گستاخ بے ادب اور بد زبان ماں اپنے ننھے بچے کو ایسی ہی بری صفات سے پر کردے گی _ ایک جھوٹا ، بزدل اور خیانت کارمربّی ، ایک سچا ، شجاع اور امانت دار بچہ پروان نہیں چڑھا سکتا _ بچے آپ کی وعظ ونصیحت اور گفتگو پر کوئی توجہ نہیں کرتے وہ آپ کے اعمال اورکردار کی طرف پوری توجہ کترے ہیں اور اسے کے مطابق عمل کرتے ہیں _ لہذا تقلید کی سرشت کو اہم تربیتی عوامل میں سے شمار کیا جا سکتا ہے _ اس مقام پر ماں باپ اورتمام تربیت کرنے والے ایک بہت ہی بھاری ذمہ داری کے حامل ہیں وہ اپنے کاموں کے بارے میں بے توجہ نہیں رہ سکتے وہ اپنے اچھے اعمال و اخلاق سے اپنے بچوں کے لیے بہترین نمونہ بن سکتے ہیں _ اگر ماں باپ برے ہوں گے تو وہ وعظ و نصیحت سے بچوں کی نیکی اور بھلائی کی طرف ہدایت نہیں کرسکتے _ لہذا جن ماں باپ کو اپنے بچوں سے محبت ہے انہیں چاہیے کوشش کریں کہ پہلے اپنے آپ کی اور گھر کے ماحول کی اصلاح کریں اور اپنے بچوں کے لیے بہترین
نمونہ عمل بنیں _ خود ایسا عمل کریں جیسا وہ چاہتے ہوں کہ ان کی اولاد عمل کرے _ تقلید سے روکنا بہت مشکل ہے آپ کوشش کریں کہ اپنی اولاد کے لیے بہترین نمونہ عمل بنیں _امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں :اگر آپ دوسروں کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اصلاح کریں یہ بہت بڑی برائی ہے کہ آپ دوسروں کی اصلاح کے لیے اٹھ کھڑ ے ہوں اور خود فاسد رہیں ( 1)پیغمبر اکر م صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت ابوذر سے فرمایا :
اللہ تعالی ماں باپ کی نیکی اور پر ہیز گاری و جہ سغ ان کی اولاد اور پھران کی اولاد کو صلاح اور نیک تربناد ے گا (1)
ایک ذمہ دار مربی اپنے بچے کے دوستوں اور ہم جو لیوں سے لا تعلق اور بے توجہ نہین رہ سکتا کیونکہ بچہ بہت سارے کاموں میں اپنے دوستوں اور ہم جو لیوں کی تقلید کرے گا _ (2)
ایک ذمہ دا ر مربی اپنے بچے کے دوستوں اور ہم جو لیوں سے لا تعلق اور بے توجہ نہیں رہ سکتا کیونکہ بچہ بہت سارے کاموں میں اپنے دوستوں اورہم جو لیوں کی تقلید کرے گا _ بعض اوقات بچہ سینما میں یا ٹیلی وین کی سکر ین پر ادا کاروں کو قتل ، جرم ، چوری ، اور چاقو زنی کرتے ہوئے دیکھتا ہے تو اس کے اندر بھی اس سے تحریک پیدا ہوتی ہے اور وہ بھی و یسے ہی اعمال کرنے لگتا ہے _ آپ مجلوں اور اخبار وں میں ان بچوں کے احوال پڑھتے ہوں گے کہ جو اعمال کرنے لگتا ہے _ آپ مجلوں اور اخبار وں میں ان بچوں کے احوال سینما اور ٹیلی وین میں انہوں نے جو پو لیس کے کام دیکھے یا قتل اور جرم کے مناظر دیکھے تو وہ ان میں تحریک پیدا کرنے کا عامل بن گئے _ ایسی صورت میں کیا بچوں کو ایسی چیزیں دیکھنے کے لیے کھلا چھوڑا جا سکتا ہے ؟
------------
1_ غررالحکام ص 278
2_ مکارم الا خلاق ص 546
تلاش حقیقت
جب نومولود دنیا میں آتا ہے تو جہان خارج کی اسے کوئی خبر نہیں ہوتی _ ہر چیز اس کے لیے برابر ہے _ وہ شکلوں میں ، رنگوں میں اور لوگوں میں فرق نہیں کرسکتا _ وہ شکلوں اور آوازوں سے متا ثر ہو تا ہے لیکن انہیں پہچان نہیں پاتا _ لیکن اسی وقت سے اس میں تحقیق ، جستجو اور چیزوں کے پہچاننے کی شدید خواہش اور تمنا ہوتی ہے _ وہ مسلسل اس طرف طرف اور طرف دیکھتا ہے اور لوگوں کی صورتیں دیکھ دیکھ کے حیران ہوا ہے بچہ اپنے حواس کے ذریعے اوراپنی تحقیق و جستجو لگن سے اپنی معلومات میں اضافہ کرتا ہے اور کسب علم کرتا ہے اللہ تعالی قرآن میں فرماتا :
والله اخرجکم من بطون امها تکم لا تعلمون شیئا وجعل لکم السمع و الا بصار والا فئد ة لعلکم تشکرون
اللہ نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے اس عالم میں نکالا کہ تم اللہ کی نعمتوں کو پہچا نو اور شکر گزار بن جاؤ _ (1)
کچھ مدت کے بعد بچہ جہان خارج کی طرف تو جہ کرنے لگتا ہے _ چیزوں کو ہاتھوں سے پکڑ لیتا ہے _ انہیں حرکت دیتا ہے _ پھر زمین پر پھنیک دیتا ہے _ منہ میں لے جاتا ہے آوازوں
--------
1_ نحل ، 78
کی طرف دھیان دیتا ہے _ آنکھول سے لوگوں کی حرکتوں کودیکھتا رہتا ہے _ اس طرح سے تلاش حقیقت کی خواہش اور حس کو وہ پورا کرتا ہے اور دنیا کو پہچاننے کی کوشش کرتا ہے اللہ تعالی نے تحقیق و جستجو کی سرشت نوع انساں کو و دیعت کی ہے تا کہ ہے تا کہ اپنی کوشش اور جستجو سے اسرار جہان کے پر دے ہٹا ئے اور تخلیق عالم کار از پالے_ بچہ میں فطری طور پر تحقیق اور جستجوکاماوہ ہوتا ہے اور وہ اس سلسلے میں حتی المقدور کوشش کرتا ہے _ ماں باپ اس ضمن میں بچے کوتشویق و تحریک بھی کرسکتے ہیں اور اس داخلی احساس کو دبا بھی سکتے ہیں _ اگر ماں باپ تحقیق سے متعلقہ چیزیں اسے دیں اور اسے یہ آزادی بھی دیں کہ وہ اپنی خواہش کے مطابق تجربہ کرے اور اس کی عمر کے تقاضے کے مطابق اسے فکری و علمی اعتبار سے جاذب کھلونے خرید دیں تو س کی تحقیق و جستجو کی روح پر و ان چڑ ھے گی بچے کی یہی ہے _ ایک کمر ے میں موجود مختلف چیزیں اس کے اختیار میں نہ دیں اور اسے تحقیق و تجربے سے منع کریں تو تلاش حقیقت کی روح اس کے اندر دب جائے گی _ اور وہ سائنسی اور تحقیقی امور میں شکست خوردہ اور مایوس ہو گا_ اس مرحلے سے اہم تر وہ مرحلہ ہے جب بچہ مختلف قسم کے علمی تحقیقی اور معلوماتی سوالات کرنے لگتا ہے دو سال سے اور وہ باتبں کرنا سیکھ لیتا ہے _ اور ماں باپ سے بہت سے سوالات کرنے لگتا ہے مثلا میں بعد میں ماں بنوں گا یا باپ ؟ ابو ہر روز گھر سے با ہر کیوں جاتے ہیں ؟ پتھر سخت اور پانی نرم کیوں ہے ؟ مجھے دادی اماں اچھی نہیں لگتی میں ان کے گھر کیوں جاؤں ؟ بارش میں کیوں نہ کھیلوں ؟ مچھلیاں پانی میں مر کیوں نہیں جاتیں ؟ آپ ہر روز نماز کیوں پڑ ھتے ہیں ؟ نماز کیا ہے ؟ سورج رات کو کہاں چلا جاتا ہے ؟ بارش اور بر فباری کہاں سے ہوتی ہے ؟ یہ ستار ے کیا ہیں ؟ کس نے ان کو بنا یا ہے ؟ مکھی اور مچھر کا کیا فائدہ ہے ؟ جب
داداجان مرے تھے تو انہین مٹی میں کیوں ڈال دیا تھا؟ وہ کہاں گئے ہیں ؟ واپس کسب آئیں گے ؟یہ موت کیا ہوتی ہے ؟ کم و بیش بچوں کے اس طرح کے سوالات ہوتے ہیں بچوں کے سوالات ایک جیسے نہیں ہوتے عمر اور افراد کے فرق کے ساتھ سوالات بھی مختلف ہوتے ہیں _ سمجھدار بچے زیادہ گہر ے اور زیادہ سوال کرتے ہیں _ جوں جوں ان کی معلومات بڑھتی جاتی ہیں ان کے سوالات دقیق تر ہوتے جاتے ہیں _ بچہ سوالات اور تحقیق سے خارجی دنیا کی شناخت کے لیے دوسروں کی معلومات اور تجربات سے استفادہ کرناچاہتا ہے _ تلاش حقیقت اور جستجو کی سر شت انسان کی بہت ہی قیمتی سر شتوں میں سے ہے _ اس سرشت کے وجود کی برکت سے انسان نے کمال حاصل کیا ہے _ جہان خلقت کے بہت سے اسرار اور از کشف کیے ہیں _ اور سائنس اور صنعت میں حیران کن ترقی کی ہے _ جن ماں باپ کو اپنی اولاد اور انسانی معاشر ے کی ترقی اور کمال عزیز ہے وہ اس خداو ادصلاحیت سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرتے ہیں _ بعض ماں باپ بچگانہ سوالات کو ایسے ہی بے کار اور فضول سمجھتے ہیں اور جواب دینے کی طرف ہر گز تو جہ نہیں دیتے کہتے ہیں بچہ کیا سنجھتا ہے ؟ بڑا ہو گا تو خود ہی سمجھ لے گا آخر ہم بچوں کے سوالوں کا جواب کیسے دے سکتے ہیں _ بچوں کے سوالات سن کرکہتے ہیں بیٹا جی اتنی باتیں نہ کرو _ ایسے ہی نہ بو لتے رہو _ مجھے کیا پتہ جب بڑے ہو گے تو خود ہی سنجھ لوگے _ ایسے سوالاں کا وقت نہیں ہے ان کو چھوڑو یہ میرے بس میں نہیں ہے _ ایسے ماں باپ اپنے بچے کی قیمتی ترین انسانی صلاحیت کو خاموش کردیتے ہیں _ اس کی عقلی رشد و نمو کو روک دیتے ہیں _ پھر شکایت کرتے ہیں کہ ان کے بچے میں سائنس انکشافات سے دلچسپی کیوں نہیں ہے _ وہ علمی اور سائنسی سوالات حل کرنے میں عاجز کیوں ہے _ جب کہ خود ہی وہ اس کام کا سبب بنے ہیں _ اگر اس صلاحیت کی صحیح تسکین نہ کی جائے تو ہو سکتا ہے کہ وہ حقیقی راستے سے بھئک جائے اور بعد ازاں لوگوں کے راز معلوم نے اور لوگوں کے اسرار کے بارے میں تجسس کی صورت میں ظاہر ہو _
بعض ماں باپ اپنے بچوںکو خوش کنے کے لیے ان کے سوالوں کا جواب دیتے ہیں
لیکن انہین ہرگز سے دلچسپی نہیں ہوتی کہ جواب صحیح ہو وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ چپ کرجائے جواب صحیح ہو یا غلط _ وہ سمجھتے ہیں کہ صحیح جواب بچوں کے لیے سمجھنا بہت مشکل ہے _ لہذا انہیں مطمئن کرنے کے لیے ایسا جواب دیتے ہیں کہ بس وہ چپ کرجائے _ ممکن ہے بچہ اس طرح سے وقتی طور پر خاموش ہو جائے _ لیکن تلاش حقیقت کے بارے میں اس کی خواہش سیر نہیں ہوئی اور کمال کے راستے پر آگے نہیں بڑھی بلکہ گمراہی او رخلاف حقیقت راستے کی طرف بھٹک گئی ہے جب وہ بڑا ہو گا _ اور حقیقت اسے معلوم ہو جائے گی تووہ ان ماں باپ کے بارے میں بد بین ہو جائے گاجنہوں نے اسے گمراہ کیا تھا بلکہ یہاں تک ممکن ہے وہ ایک شکی قسم کا شخص بن جائے کہ جوہر کسی کے بارے میں ہر مقام پر بد گمانی کرے _ لیکن سمجھدار اور فرض شناس ماں باپ اس قیمتی خدا داد صلاحیت کو ضائع نہیں کرتے اور راس سے اور قابل فہم جوابدیں _ پہلے وہ اپنے آپ کو اس کے لیے تیار کرتے ہیں مطالعہ کرتے ہیں _ سو چتے ہیں _ بچوں سے ان کی زبان میں بات کرتے ہیں اور ان کے یوالوں کی طرف خوب تو جہ کرتے ہیں اور جواب دیتے ہیں ہر گز خلاف حقیقت بات نہیں کرتے اگر کسی موقع پروہ جواب دینے سے عاجز ہوں تو با قاعدہ اپنی لا علمی کا اظہار کرتے ہیں اور اس طرح بچے کی تلاش حقیقت کی اس صلاحیت کو بھی ابھار تے ہیں او رساتے ہی ساتھ انہیں یہ بھی سکھا تے ہیں کہ جب کسی چیز کا علم نہ ہو تو لا علمی کا اظہار کرنے میں شرم ومحسوس نہیں کرنے چاہیے _ بعض ماں باپ بچوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے حد سے بڑھ جاتے ہیں یعنی ایک چھوٹے سے سوال کا جواب دینے کے لیے تفصیلات میں چلے جاتے ہیں اور جو کچھ بھی انہیں معلوم ہوتا ہے سب کچھ کہہ ڈا لتے ہیں یہ کام بھی درست نہیں کیونکہ تجربے سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ بچہ زیادہ باتیں سننے کا حوصلہ نہیں رکھتا _ اسے صرف اپنے سوال کے جواب سے غرض ہوتی ہے اور زیادہ باتوں سے وہ تھک جاتا ہے تحقیق و جستجو میں بچوں اور نو چوانوںکی تشویق کریں _ انہیں بحث و استدلال سے آشنا کریں اور جہاں امکان ہو اور ضروری ہو و ہاں انہیں تجربے کے لیے بھی ابھلاریں _ بچہ ایک سو چنے والا انسان ہے _ اس کی سوچ
کو تقوبت دیں تا کہ اس کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتّیںکام آئیں اور وہ اپنے فکر و شعور سے استقادہ کرے اور اپنےلئےآنئدہ ک ی زندگی کے لیے، تیار ہوجا ئے _ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں : جو بھی بچین میں سوال کرسکے بڑا ہو کر جواب دے سکے گا (1)
امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا:
بچے کادل نرم زمین کے مانند ہے آپ جو بھی اس میں ڈالیں گے قبول کرے گا (2)
ایک خاتون اپنے خط میں لکھتی ہے ...
ایک رات ابو گھر آئے اور مجھ سے ایک پہیلی کہی _ اور کہا کہ میر ے ساتھی اس پہیلی کو نہیں بو جھ سکے سب سو گئے لیکن میں نے ارادہ کیا کہ اس کو بو جھ کے رہوں گی _ اور دیر تک سو چتی رہی اور آخر کار میں نے اسے بو جھ لیا _ خوشی خوشی میں نے ابو کو جگا یا اور انہیں اس پہیلی کا جواب دیا ابو خوش ہو گئے _ مجھے شا باش کہی الو ہمیشہ فکر ی قسم کے کام مجھ سے کہتے اور اس سلسلے میں مجھے تشویق کرتے اسی لیے میں فکری مسائل حل کرنے میں طاق ہو گئی ہوں _ اور زندگی کی مشکلات کو سوچ بچار سے حل کر لیتی ہو ں
--------
1_ غرر الحکام ص 645
2_ غررالحکام ص 302
خود اعتمادی
تمام زندگی جد و جہد ، پکار ، کوشش اور جستجو کا نام ہے ، ہر انسان کو زندگی بھر میں سینکڑوں بلکہ ہزاروں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے _ زندہ رہنے اور زندگی گرانے کے لیے اسے عالم طبیعت کی قوتوں سے ناچار جنگ کرنا پڑتی ہے اور انہیں تسخیر کرنا پڑتا ہے بیماریوں اور ان کے اسباب کے خلاف لڑنا پڑتا ہے _ تجاوزوں ، زیادیتوں اور آرام و آزادی کے خلاف مزاحمت کرنے والے عوامل کے خلاف جد و جہد کرنا پڑتی ہے _ کارزار زندگی میں وہی کامیاب ہے جس کا دل بڑا ہو ، ہمت بلند ہو _ اور ارادہ قوی ہو _ ہر کسی کی خوش بختی یا بدبختی کی بنیاد ود اس کے وجود میں موجود ہے _ دنیا کے بڑے انسان کی درخشان کامیابیوں کا سبب ان کی خود اعتمادی ، قوت ارادی اور مسلسل کوشش رہی ہے عظیم اور قوی لوگ زندگی کی مشکلات سے نہیں دڑتے _ وہ ذاتی استقلال اور خدا پر بھروسنہ کرتے ہوئے ان کے خلاف بر سر پیکار ہوتے ہیں _ اور کمر ہمت باندھ کے جد و جہد کرتے ہیں اور انہیں مغلوب کرلیتے ہیں _ ہمت اور عالمی حوصلگی ہر مشکل کو آسان بنادیتی ہے _ بلکہ جو چیز دوسروں کے لیے محال ہوتی ہے اسے ممکن بنادیتی ہے _ وہ زندگی کے گہرے سمندر میں کسی تنکے کی مانند نہیں ہوتے کہ جو فقط لہروں کے سہارے ادھر ادھر بھٹکتے رہیں بلکہ ایک ماہر پیراک کی طرح اپنے قوی بازؤں آہنی ارادوں اور توکل الی اللہ سے جس طرف کو چاہتے ہیں تیرتے ہیں بلکہ دنیا کے واقعات کا رخ بدل دیتے ہیں _ ہر انسان اپنے ذاتی استقلال ، خود اعتمادی ، ارادے اور جد و جہد سے اپنی زندگی میں کامیاب ہوتا ہے دین مقدس اسلام میں بھی دنیاوی اور اخروی
کامیابی و ناکامی کو انسان کے اعمال اور کوشش کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے _ چنانچہ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے :
و ان لیس للانسان الاّ ما سعی _ و انَّ سعیه سوف یری
انسان کے لیے جو کچھ بھی ہے وہ اس کی کوشش کا ماحصل ہے اور وہ جلد اپنی سعد کو (مجسّم) دیکھ لے گا_(نجم ، 39، 40)
حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
الصوء بهمّته
ہر کسی کی قیمت اس کی ہمت کے مطابق ہے _ (1)
جو شخص خود استقلال اور خود اعتمادی کا حامل ہو وہ مشکلات کے حل لیے دوسروں کا منتظر نہیں رہتا بلکہ اپنی بلند ہمتی اور پختہ ارادے کے ذریعے میدان عمل میں کودپڑتاہے اور جب تک اپنے مقصد کو پانہیں لیتا کوشش اور جدّ و جہد سے دستبردار نہیں ہوتا _
امام سجّاد علیہ السلام فرماتے ہیں :تمام اچھائیاں اس امر میں جمع ہیں کہ انسان دوسروں کے بھر وسے پر نہ بیٹھارہے _
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:مومن کی عزت اور بزرگی کا راز یہ ہے کہ وہ لوگوں کے ہاتھوں میں موجود چیز سے امید وابستہ نہ رکھے _ (2) البتہ خو د اعتمادی سے محروم افراد اپنی ذات پر بھروسنہ نہیں کرتے _ وہ اپنے تئیں حقیر اور ناتوان سمجھتے ہیں ، زندگی کے مسائل کا سامنا کرنے سے گھبراتے ہیں اور ان کے ساتھ مقابلے
------------
1_ نہج البلاغہ ج 3 ص 163
2_ اصول کافی ، ج 2 ص 148
3_ اصول کافی ، ج 2 ص 148
کی جرات سے عاری ہوتے ہیں _ وہ شکل کاموں اور ذمہ داریوں سے بھاگتے ہیں _ منفی سوچوں اور پاس و ناامیدی کی وجہ سے ممکن کاموں کو بھی محال بناکر پیش کرتے ہیں _ اپنی زندگی کو محرومی اور کنارہ کسی کے عالم میں گزاردیتے ہیں _
اب جب کہ استقلال اور خود اعتمادی کی اہمیت واضح ہوگئی ہے ، اس امر کی یاددہانی بھی ضروری ہے کہ اس انسانی کمال کی بنیاد ہر انسان کے اپنے وجود میں مخفی ہے لیکن تربیت اور تکامل کی محتاج ہے _ اس کی تربیت کا بہترین اور حسّاس ترین زمانہ بچپن کا دور ہے _
روح انسانی میں استقلال اور خود اعتمادی کی بنیاد بچپن ہی میں پڑجاتی ہے _ چنانچہ بے اعتمادی اور قوت ارادی سے محرومی ، دوسروں کے انتظار بیٹھے رہنے کا سرچشمہ بھی بچپن کی غلط تریت ہی ہے _ وہ ماں باپ جو اپنے بچوں سے محبت رکھتے ہیں اور انہیں اپنی ذمہ داری کا احساس بھی ہے _ انہیں چاہیے کہ اپنی اولاد کی تربیت کریں اور آئندہ کی زندگی کے لیے انہیں تیار کریں _ اس صورت میں وہ اپنے فریضے پر بھی عمل کریں گے اور اپنی کامیابی کے اسباب بھی فراہم کریں گے _
حضرت امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں:
اپنی اولاد کی اس طرح سے تربیت کر کہ وہ تیری عزت و سربلندی کا باعث بنے _ (1)
چار سال کی عمر سے لے کر آٹھ سال کی عمر تک شخصیت کی پرورش ، استقلال، اور خود اعتمادی پیدا کرنے کا بہترین دور ہے _ اس زمانے میں بچہ استقلال کی طرف میلان رکھتا ہے اور اپنے آپ کو مشکلات سے مقابلے کے لیے تیار کرتا ہے _ کم سن بچہ اگر چہ اپنی کمزوری کا احساس بھی رکھتا ہے اور وہ کسی بڑی طاقت کے زیر سایہ رہنا چاہتا ہے تا ہم استقلال اور خود اعتمادی کی طرف میلان بھی اس کی ذات میں چھپا ہوتا ہے _ وہ چاہتا ہے کہ
----------
1_ تحف العقول ص 269_
اپنی ضروریات کو پورا کرے اور ذاتی استقلال حاصل کرلے _ وہ نئے نئے کاموں اور اپنی ایجادات سے بہت خوش ہوتا ہے اور فخر سے انہیں دوسروں کو دکھاتا ہے _ آپ نے بچوں سے ایسے جملے بہت سنے ہوں گے _
_ دیکھ میں کیا کررہا ہوں ؟_ دیکھا میں نے کتنی بڑی چھلانگ لگائی ہے _ _ دیکھو میں اپنے کپڑے خود پہن سکتا ہوں _
_ میں جوتا خود ہی پہنوں گا _ _ میں گلاس میں پانی پیوں گا _ _ میں خود ہی کھانا کھاؤں گا _ _ میں نہیں چاہتا کہ آپ میرے لیے چائے ڈالیں _ _ دیکھو میں نے کیسی خوبصورت تصویر بنائی ہے _ _ میں درخت پہ چڑھنا چاہتا ہوں _
وہ ضد کرتاہے کہ اس کی جیب میں جو پیسے ہیں انہیں اپنی مرضی کے مطابق خرچ کرے اس کی خواہش ہوتی ہے کہ کھلونے اپنی مرضی سے رکھے _ کبھی کبھی ماں باپ کے حکم کے خلاف ضد کرتا ہے _ کبھی چاہتا ہے کہ ماں باپ کی مدد کرے _ چھوٹی بیٹی برتن اور لباس دھونے میں مان کی مدد کرتی ہے _ چاہتی ہے کہ کھانا پکانے ، دستر خوان بچھانے اور گھر کی صفائی میں ماں کی مدد کرے _ چھوٹا بیٹا چاہتا ہے کیا رہی کو ٹھیک کرے ، تصویر بنائے ، خط لکھے اور چیزیں خرید نے میں اپنے باپ کی مدد کرے _ اور ضد کرتا ہے کہ اپنا لباس اور جوتا خود انتخاب کرے راستے میں چلتے ہوئے ماں باپ سے آگے یا پیچھے چلتا ہے _ خانہ داری کے امور میں اور گھر کے سامان کے سلیقے میں دخل دیتا ہے _ بعض چیزیں بالکل نہیں کھاتا _ ان کاموں سے اور ایسے سینکڑوں دیگر کاموں سے بچہ اپنے وجود کے استقلال کا اعلان کرنا ہے اور چاہتا ہے کہ اپنی شخصیت کا اظہار کرے اور اپنے تئیں کمال تک پہنچائے _ چاہتا ہے کہ اپنے آپ کو قوی بنائے وہ چاہتا ہے کہ
جہاں تک ممکن ہو سکے دوسروں پر اپنے انحصار کو کم کرے اور اپنے استقلال میں اضافہ کرے لیکن بچے کی شخصیت ماں باپ کے طرز عمل سے بہت زیادہ واستہ ہوتی ہے _ ماں باپ بچے کو آزاد چھوڑسکتے ہیں تا کہ وہ خودارادی سے کام کرے _ انہیں چاہیے کہ وہ اس کی کامیابی پر اور نئی نئی چیزوں پر اظہارمسرت کریں _ اسے شاباش کہیں اور اس کا حوصلہ بڑھائیں اس کے ذوق اور استعداد کے مطابق مفید کام اس کے ذمہ چھوڑ دیں _ راہنمائی اور حوصلہ افزائی کے ذریعے اس کام اور کوشش پر ابھاریں_ اس طرح بچے کی شخصیت او راستقلال کی تدریجاً تکمیل ہوتی جائے گی _ وہ اپنے وجود کے آثار اپنی آنکھوں سے دیکھے گا اور اس میں خود اعتمادی پیدا ہوگی _ اس کاارادہ قوی ہوگا _ ایسے بچوں میں بچپن ہی سے عقلی صلاحیتوں اور خود اعتمادی کے آثار ظاہر ہوتے ہیں _
ایک ماہر نفسیات لکھتے ہیں:
ایک شخص نے ایک ننھے ماہی گیر کو دیکھا کہ وہ بڑی مہارت سے مچھلیاں پکڑنے میں مصروف ہے _ اور بڑی بڑی مچھلیاں پکڑرہاہے _ اسے تعجب ہوا ، اور اس نے اس کی مہارت کی تعریف کی _ ننھے ماہی گیر نے اس کا شکریہ ادا کیا اور کہا میری مہارت کوئی تعجب کی بات نہیں :یونکہ میں بچپن ہی سے ماہی گیری کررہاہوں _ اس نے پوچھا مگر تمہاری عمر کیا ہے ؟ کہنے لگا چھ سال (1) اگر ماں باپ نے اس بچے کی حوصلہ افزائی نہ کی ہوتی بلکہ اس کی حوصلہ شکنی کے اسباب فراہم کئے ہوتے تو اس میں ایسی مہارت ہرگز پیدا نہیں ہوسکتی تھی اور اس میں کبھی خود اعتمادی پیدا نہ ہوتی _ بعض ماں باپ کہ جو اپنے بچوں سے بہت زیادہ محبت رکھتے ہیں کوشش کرتے ہیں کہ بچوں کا وجود ان کا محتاج بنارہے _ انہیں کام کی اجازت نہیں دیتے _ ان کے تمام کام خود انجام دیتے ہیں _ خود ہی ان کے لئے ارادہ کرتے ہیں اور خود ہی انتخاب بہت سے ماں باپ نہ صرف یہ کہ اپنی اولاد میں استقلال اور خود اعتمادی پید اکرنے
-----------
1_ روان شناسی کودک و بالغ ص 246
میں مدد نہیں کرتے بلکہ اپنی ڈانٹ ڈپٹ اور ان کے کاموں میں کیڑے نکالنے سے ان کی روح استقلال طلبی کو سلادیتے ہیں بچے کو ایجادات سے روکتے ہیں اور اس کے رساتے میں رکاوٹ کھڑی کردیتے ہیں _ اس کے کام پر تنقید کرتے ہیں اور برا بھلا کہتے ہیں _ اور اسے کے کام کیڑنے نکال کر اسے شرمندہ کرتے ہیں اور اس کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں _
اے عزیز ماں باپ ہمارے بچوں نے بہر حال بڑا ہونا ہے اور آخر کار ہم سے جدا بھی ہونا ہے آئندہ کی زندگی میں انہیں مشکلات اور مسائل کا سامنا بھی کرنا ہے _ آپ کو بھی فطرت سے ہم آہنگ ہونا چاہیے اور ان کی آزادی کی خواہش کا جواب دینا چاہیے _ آزادی کی خواہش کوئی عیب کی بات نہیں کہ آپ اس کا مقابلہ کرنے لگیں _ بلکہ یہ آزادی کسی وجود کے استقلال اور کمال کا اظہار ہوتی ہے _ آپ کوشش کریں کہ صحیح طریقے سے اس سے فائدہ اٹھائیں اور بچوں کو آئندہ کی زندگی کے لیے تیار کریں _ آپ امن پر اصرار نہ کریں کہ جہاں آپ کے بچوں کو ارادہ کرنا چاہیے وہاں آپ خود ان کے لیے ارادہ کریں _ بلکہ آپ کو چاہیے کہ ان کے لیے مسئلہ کو واضح کردیں اور اس کے بعد انتخاب اورارادہ ان کے ذمہ چھوڑ دیں _
اگر بچہ کوئی کام شروع کرے اور اسے اس میں رغبت نہ ہو تو آپ اس میں دخالت نہ کریں بے جا دخل اندازی سے اسے آزردہ خاطر نہ کریں _ اسے چھوڑدیں کہ وہ اپنے سلیقے سے کام مکمل کرے _ او ر اپنی نئی نئی چیزوں سے خوش ہو _ اس کے کام پر تنقید نہ کریں ، گریہ کہ خود وہ اس چیز کا اظہار کرے _
اگر آپ کی بیٹی چاہتی ہے کہ خود سے کھانا تیار کرے تو اس کی راہنمائی کریں اور کام اس کے ذمہ چھوڑدیں _ اور اس میں دخیل نہ ہوں _ کیا حرج ہے کہ ایک مرتبہ وہ خراب کھانا پکاٹے _ اس کے کھانا پکانے پر نکتہ چینی نہ کریں _ کیا آپ کو معلوم ہے آپ کی نکتہ چینی اور ڈانٹ ڈپٹ اس کی روح کو کس قدر مجروح کردیتی ہے _ اور کس قدر اس کی خود اعتمادی کو نقصان پہنچاتی ہے _
ایک خاتون اپنے خط میں لکھتی ہیں:
بچپن میں میں جو کام بھی کرنا چاہتی مجھ سے کہا جاتا تجھے نہیں پتہ تو کیا ہے ؟
تونے یہ برتن توڑدیا ہے _ تیرے کھانے میں نمک زیادہ ہے _ تونے پانی زیادہ ڈال دیا ہے _ خراب کردیا ہے _ تم کام کو ہاتھ نہ لگاؤ _ جھاڑونہ دے تجھے کیا پتہ جھاڑوکیسے دیا جاتا ہے _ مہمانوں کے سامنے بات نہ کر _ اور اسی طرح کی سینکڑوں باتیں _ جب میں کھانا پکاتی تو کئی دفعہ چکھتی کہ کہیں نمک زیادہ نہ ہو _ پانی زیادہ نہ ہو _ لیکن پھر مجھے سرزنش کی جاتی _ یہی وجہ ہے کہ مجھ میں خود اعتمادی پیدا نہیں ہوسکی _ میں خود کو کمزور اور بے حیثیت سمجھتی ہوں _ احساس کمتری اور خود پر عدم اعتماد سے میں بہت دکھی ہوں _ یہ حالت اب بھی مجھ میں باقی ہے _ ایک مجلس کا انتظام میرے ذمہ ہے ہر ہفتے جب کہ مجھے اس مجلس کے انتظام کے لیے جانا ہوتا ہے تو مجھ میں اضطراب
پیدا ہوجاتاہے اور میرا دل گھبراتا ہے _ میں کہتی ہوں کہ شاید اچھی تقریر نہ کر سکوں کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ بہت سی باتیں یادہوتی ہیں اور یہ باتیں متعدد مجالس میں بیان بھی کر چکی ہوتی ہوں لیکن پھر بھی خوف و ہراس ہوتا ہے _ دل چاہتا ہے کہ میرے سر پر کوئی ذمہ داری نہ ہو _ جس کام کی طرف بھی بڑھتی ہوں اپنے آپ کو روکتی رہتی ہوں تا کہ کسی طرح سے درمیان میں ہی کام چھوٹ جائے _ بہت چاہتی ہوں کہ بے اعتمادی کی یہ کیفیت ختم ہوجائے لیکن نہیں ہوتی _
ایک اور خاتون لکھتی ہیں:
بچپن ہی سے میری ماں کی کوشش ہوتی تھی کہ وہ کاموں میں میری مدد کرے _ وہ مجھے اجازت نہ دیتی کہ میں کوئی کام تنہا انجام دوں _ رفتہ رفتہ مجھے اس کی عادت ہوگئی _ اور کسی دوسرے کا سہارا لینا میرا مزاج بن گیا_ میں کاموں کی انجام د ہی اور مشکلات کے حل میں اپنی طاقت سے استفادہ نہ کرتی بلکہ امی سے یا دوسروں سے مدد لیتی _ بے اعتمادی کی یہ حالت ہوگئی کہ کسی چھوٹی سی مشکل پر بھی بجائے اس کے کہ خود اس کے حل کے لے کوئی چارہ کرتی دوسروں سے مدد لیتی اور
اپنے تئیں اس کا اہل نہ سمجھتی _
آخر میں اس امر کی یاددہانی ضروری ہے کہ ممکن ہے بعض بچے اپنے وجود کے اظہار کے لیے غلط کام شروع کردیں _ مثلا پھولوں کو مسل دیں _ درختوں کی ٹہنیوں کو توڑدیں _ پرندے ، کتے او ربلّی کو تکلیف پہنچائیں _ اپنے ہم جو لیوں کو اذیت دیں _ دوسروں کو نقصان پہنچائیں _ اپنی بہن کے بال کھینچیں _ ایسے امور میں ماں باپ خاموش بیٹھے نہیں رہ سکتے اور ان کے کاموں کی تائید نہیں کرسکتے _ البتہ اس امر کی طرف انہیں متوجہ رہنا چاہیے کہ بچے کا مقصد کسی سے دشمنی یا سرکشی نہیں بلکہ وہ اپنے وجود کا اظہار چاہتا ہے _ ایسے امور سے روکنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کی توجہ دوسرے مفید کاموں کی طرف مبذول کردی جائے _ اور اسے تعمیری کھیلوں کی طرف اور مفید کاموں میں مہارت حاصل کرنے میں مشغول کردیا جائے تا کہ وہ غلط کام چھوڑ دے _
آزادی
بہت سے ماں باپ بچے کی تربیت اس میں سمجھتے ہیں کہ اس کی آزادی محدود کردی جائے یا چھین لی جائے _ کہتے ہیں بچہ اچھائی اور برائی میں تمیز نہیں کرسکتا _ اس کی اتنی عقل نہیں ہوتی _ اگر اسے آزاد چھوڑدیں تو وہ خرابی کرے گا _ چاہیے کہ اسے محدود اور پابند رکھا جائے _ ایسے اں باپ اپنے آپ کو بچے کی عقل کے مطابق فرض کرلیتے ہیں _ اس کے مقام پر سوچتے ہیں _ اس کی جگہ ارادہ کرتے ہیں _ اس کی بجائے خود انتخاب کرتےہیں یہاں تک کہ اس کے کھانے ، پینے اور کھیلنے پر بھی کنٹرول رکھتے ہیں _ اور اس کے ہر مسئلے پر نظر رکھتے ہیں _ اور اپنے سلیقے کے مطابق اس کی زندگی کا نظام چلاتے ہیں _ ان کے نزدیک بچہ آزادی اور خود ارادی کا حق نہیں رکھتا _ اور ماں باپ کی اجازت کے بغیر کام نہیں کر سکتا _ جو کچھ وہ اس کے لیے پسند کریں اسے ناچار بے چون و چرا کرتا ہوگا _ اور جسے وہ برا سمجھیں مجبوراً بغیر کچھ کہے اسے ترک کرنا ہو گا _ ماں باپ کے تربیتی پروگرام اور ان کے حکم اور ممانعت پر بچوں کو اطاعت کے ھلاوہ چارہ نہیں _ پہلے خاندان اسی طریقے سے اپنی اولاد کی تربیت کرتے تھے اور وہ زبردستی اور بزور اپنے احکام پر عمل کراتے تھے _ دور حاضر میں بھی بہت سارے خاندان اسی طریقے پرچل رہے ہیں _
مذکورہ طریقہ کاراگر چہ معمول رہا ہے اور آج بھی ہے لیکن یہ تربیت کی صحیح روش نہیں ہے _ اس میں بہت سے عیوب و نقائص موجود ہیں _ اس پروگرام کے مطابق ممکن ہے کہ بچوں کی ایسی تربیت ہوجائے کہ وہ بہت حد تک آرام سے رہیں ، خاموش رہیں اور
فرمانبردار ہیں اور ماں باپ کی مرضی کے مطابق عمل کریں _ ایسے بچے زیادہ تر بے دبے اور قوت ارادی سے عاری رہ جاتے ہیں _ ان کی تخلیقی صلاحیتیں خاموش ہوجاتی ہیں _ اہم کاموں میں ہاتھ ڈالنے کی جرات ان میں نہیں ہوتی _ اور وہ عزم و ارادہ سے محروم رہ جاتے ہیں _ دشوار ذمہ داریوں کو قبول کرنے سے ہچکچاتے ہیں _ یہ قیادت نہیں کرسکتے اور کمانڈر نہیں بن سکتے لیکن فرمانبرداری ان کے لیے مشکل نہیں ہوتی ایسے بچے ستم اٹھانے اور ظلم کو قبول کرنے کے عادی ہوجاتے اور بڑے ہوکر اس بری عادت سے دستبردار نہیں ہوتے چونکہ یہ لوگ آزادی سے محروم رہے ہیں اور اپنی اندرونی خواہشات کی تکمیل نہیں کرسکے ہیں _ ان کے دل میں گویا ایک گرہ سی پڑگئی ہے _ ممکن ہے یہ گرہ بہت سی نفسیاتی اور اعصابی بیماریوں کا باعث بن جائے _ یہ بھی ممکن ہے کہ ایسے عقدہ افراد ردّ عمل کے طور پر ظلم کرنے لگیں تا کہ اس ذریعے سے اپنے ماں باپ اور پورے معاشرے سے انتقام لے سکیں اور اپنی کمی کو پورا کرسکیں _ انہی برائیوں کی بناء پر حال ہی میں بعض دانشوروں اور ماہرین نفسیات نے اس ظالمانہ طرز تربیت کے خلاف علم جہاد بلند کیا ہے اور اس کی سخت مذمّت کی ہے اور بچے کی کامل آزادی کی حمایت میں آوازی اٹھائی ہے _ ان دانشورون نے ماں باپ کو نصیحت کی ہے کہ اپنے بچے کو بالکل آزاد چھوڑدیں تا کہ وہ اپنے ذوق و سلیقے کے مطابق چلے _ وہ کہتے ہیں کہ بچے کو آزادی دیں کہ وہ جو کام چاہیے کرے اگر چہ وہ کام آپ کی نظروں میں درست نہ ہو یا بچہ اس کام کی صلاحیت نہ رکھتا ہو _ اس چیز سے بچہ آزادی مزاج ہوکر پروان چڑھے گا اور اس کا دل کسی گرہ سے دوچار نہیں ہوگا _
معروف دانشور فرائڈ اسی نظرے کا حامی ہے اور اس نے مشرق و مغرب میں اپنے اس نظریہ کے بہت سے پیروکار پیدا کرلیے ہیں _ بہت سے ماں باپ نے بھی اس نظریے کو قبول کرکے اس پر عمل کیا ہے اور اپنے بچوں کوکامل آزادی دے وہی ہے ایسے ماں باپ اپنے بچوں کو کوئی حکم نہیں دیتے اور ان سے بے تعلق رہتے ہیں _ یہ طرز عمل بھی درست نہیں _ اس میں بھی بہت سے نقائص موجود ہیں _ وہ بچے جو اس طرز عمل کے مطابق پروان چڑھتے ہیں وہ کاموں کی انجام وہی میں کسی بھی محدودیت کے
قائل نہیں ہوتے _ ایسے بچے زیادہ تر خود غرض ، شہوت پرست اور دھونس دھاندلی جمانے والے ہوتے ہیں اور دوسروں کے لیے کسی حق کے قائل نہیں ہوتے دوسروں کے حقوق پر ڈالتے ہیں _ ماں باپ سے چین لیتے ہیں _ بہن بھائیوں اور دوسرے بچوں کو تکلیف پہنچا تے ہیں _ ہمسایوں اور رشتے داروں کو اذیت دیتے ہیں _ ان کی خواہشات چونکہ مطلق آزادی کی حامل ہوتی ہیں لہذا ایسے بچے عموما افراط اور زیادتی کی طرف مائل ہوتے ہیں _ یہ افراط ان کے لیے خرابی اور تباہی کا باعص بنتی ہے _ افراط اور نا معقول آزادی بچے کو اضطراب اور پریشانی میں مبتلا کردیتی ہے ممکن ہے ان کی تو قعات اس ہمد تک جا پہنچیں کہ ان کی انجام دہی ایک شکل کام بن جائے _ اس طرح کے بچے حب بڑے ہوجا تے ہیں تو دوسروں سے ان کی یہ توقع ہوتی ہے کہ ان کے ماں باپ کی طرح ان کی اطاعت کریں _ وہ چاہتے ہیں کہ ہر جگہ ان کی فرمااں روائی ہو _ وہ کسی کی اطاعت قبول نہیں کرتے معاشر ے کے افراد پر ان کی نہیں چلتی اور جب وہ شکست کا سامنا کرتے ہیں تو پھران کے دل میں ایک گرہ پڑ جاتی ہے _ ایسی صورت میں وہ گوشہ نشین ہو جاتے ہیں یا اپنے شکست کی تلافی کے لیے ظلم اور خطر ناک کام انجام دیتے ہیں _ بے قید آزادی کبھی بچے کی ہلاکت کا باعث بھی بن جاتی ہے _ شاید بچے کادل یہ چاہتا ہو کہ وہ بغیر کسی پابندی کے سڑک پردورڈے یا بجلی کے ننگے تار کو چھو ئے یا گرم سماوار کو ہاتھ لگا ئے _ اس بناء پر تربیت کے یہ دو طریقے کہ جوایک دوسرے کے مقابل ہیں ایکم افراط کا حافل ہے اور دوسرا تفریط کا _ یہ دونوں طرز عمل درست نہیں ہیں _ بچے کی تربیت کے معاملے میں ان پر عمل پیرا نہیں ہوا جاسکتا _ اس معاملے میں بہترین قابل انتخاب روش بچے کی محدود اور معتدل آزادی ہے _ اللہ نے انسانی وجود کو مختلف جبلتوں اور محسوسات کا مرکب بنا یا ہے کہ جو انسانی شخصیت کی تکمیل کے لیے سودمند ہیں _ مثلا محبت ، نفرت ، شجاعت ، خوف ، دفاع ، جستجو ، تقلید اور کھیل کا غوغا و غیرہ یہ داخلی کیفیات و محسوسات اللہ کی طرف سے انسانی قوتوں کا سر چشمہ ہین اورزندگی کی مشکلات کو حل کرنے کے لیے انسان کو عطا کی گئی ہیں _ انہیسے انسانی شخصیت تشکیل پاتی ہے _ ان جبلتوں کو آزاد ماحول میں پرورش اور رشد کا موقع ملنا چاہیے _ انہیں کچلنے
سے انسانی شخصیت بری طرح مجروح ہو جاتی ہے _
خوف خطرات سے بچنے کے کام آتا ہے غصہ دشمن پر حملہ آور ہونے کے کام آتا ہے جستجو حصول علم کے لیے ضروری ہے _ جس شخص میں خوف اور غصہ نہ ہو وہ ناقص انسان ہے یہ درست نہیں ہے کہ بچے کے ان احساسات کو دباد یا حائے یا کچل دیا جائے _ آزاد ماحول میں بچہ ان احساسات سے استقادہ کحرسکتا ہے آزادانہ عمل کرسکتا ہے ، اپنی شخصیت کو پروان چڑھا سکتا ہے اور اجتماعی زندگی کے لیے اپنے تئیں تیار کرسکتا ہے _دین مقدس اسلام نے آزادی کی طرفی خصوصی تو جہ دلائی ہے _ نمونے کے طور پر چند ایک احادیث ملا حظہ فرمائیں _حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا :
لا تکن عبد غیرک فقد جعلک الله حدا
غیرہ کا بندہ نہ بن اللہ نے تجھے آزاد پیدا کیا ہے ( 1)حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:جس شخص میں یہ پانچ خصوصیات نہ ہوں اس کا وجود فائدہ مند نہیں ہے _
اوّل _ دین دوم _ عقل سوم _ادب چہادم _ آزادی پنجم _ خوش اخلاقی (2)
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نغ فرمایا:بچہ سات سال کی عمر تک فرماں رواہے _ سات سال کی عمر سے لے کر
--------
1_ بحار الانوار ج 77 ، ص 214
2_ بحار ، ج ، 1 ، ص 83
چو دہ سال تک فرماں بروار ہے چودہ سال کے بعد سات سال ماں باپ کا وزیر اور مشیر ہے ( 1)
البتہ مطلق آزادی بھی ممکن نہیں ہے _ معاشر ے میں زندگی بسر کرنے والا انسان کا ملانہیں رہ سکتا کیونکہ معاشرے کے تمام افراد آزادی اور زندگی کا حق رکھتے ہیں _ ایک فرد کی آزادی کے لیے دوسروں کے حقوق پا مال نہیں کیے جا سکتے _ بچے کو بچپن ہی سے سمجھا دینا چاہیے کہ بے قید و شرط آزادی کے ساتھ زندگی بسر نہیں کی جاسکتی _ دوسرے لوگ بھی زندگی اوور کے حقدار ہیں _ مثلا بچہ چاہتا ہے کہ کھیلے _ کھیل اس کی تربیت کے لیے بھی ضروری ہے _ اسے اس بات کی آزادی ہو ناچا ہیے کہ اپنے ذوق اور سلیقے کے مطابق کھیلے لیکن اس کھیل میں ماں باپ ، ہمساسوں اور دوسرے بچوں کے حقوق کا بھی خیال رکھے اور ان کی آزادی میں حائل نہ ہو _ درست ہے کہ اسےکھیلنا چاہیے لیکن اسے یہ بھی معلوم ہو نا چاہیے کہ اسے لوگوں کے در و دبوار خراب اور گندہ کرنے اور شیشے توڑ نے کا حق نہیں _ لہذا کھیل میں تو اسے آزادی ہے لیکن ایک محدود او رمشروط آزادی نہ کہ بے قید و شرط آزادی _ بچہ اپنے غصّے کو استعمال کرسکتا ہے _ اسے مناسب موقعے پر استعمال کرکے اپنال دفاع کرسکتا ہے _ لیکن اسے یہ بھی معلوم ہو نا چاہیے ہ غصّے کے وقت اسے یہ حق حاصل نہیں کہ گھر کے سامان کی توڑ پھوڑ شروع کردے یا ماں باپ اور دوسرے لوگجوں کو کوی نقصان پہنچائے یا کسی کی تو ہین کرے یاکسی کا حق پامال کرے _اس حکمت عملی کے لیے ماں باپ کو چاہیے کہ بچے کی عمر ، فہم ، طاقت ، خواہشات اور جذبات کو ملحوظ نظر رکھیں اور اس کے اعمال او رحرکات کو دوحصّوں میں تقسیم کریں _
1_ وہ کام جو اس کے لیے جائز ہیں _
2_ و ہ کام جن کا وہ مجاز نہیں ہے _
انھیں ان میں سے ہر ایک کی حدود پوری طرح سے واضح کرنا چاہیے _ اس کے
--------
1_ وسائل ، ج 15 ، ص 195
بعد انہیں چا ہیے کہ جائز امور میں بچوں کو پوری آزادی دیں تا کہ وہ اپنی جبلّت اور طبیعت کے مطابق عمل کرسکیں اور اپنی شخصیت کو پر وان چڑھا سکیں _ بچے کو اجازت دینی چاہیے کہ وہ خود غور کرے _ ارادہ کرے اور کام کے _ نہ صرف بچے کو کامل آزادی دینی چاہیے بلکہ ضروری مواقع پر اس کی مدد بھی کرنا چاہیے لیکن جو کام اس کے لیے مناسب نہیں ان سے سختی سے رو کنا چاہیے اور ان کی خلاف ورزی کی اجازت نہین دینا چاہیئے
اس طرز عمل سے بچے کی آزادی سلب نہیں ہو گی او رنہ ہی اس کی صلاحیتیں کچلی جائیں گی _ بلکہ اس کو آزادی ہو گی البتہ حدود کے اندر _ اور ساتھ ہی اس کے جذبات اور طبیعت پر کنٹرول بھی پیدا ہو جائے گا _ جبلّت پر کنٹرول اس کو کچلنے اور اسے پیچھے کھینچنے کے معنی میں نہیں ہ8ے بلکہ اس کا مطلب ہے نفس پر قابو اور تقویت ارادہ تا کہ وہ اپنی صلا حیتوں کو غلط کاموں پہ صرف نہ کرے بلکہ انہیں مفید اور سودمند کاموں کمے لیے جمع رکھے _
آخر میں ماں باپ کو نصیحت کی جاتی ہے کہ پہلے تو وہ صحیح اور غیر صحیح کاموں کی حدود کو قطعی طور پر معین کریں تا کہ بچہ اپنی ذمہ داری کو سمجھ سکے _ مثلا ایسے کام جو بچے یا خاندان کی سلامتی اور امن و سکون کے لیے نقصان وہ ہیں _ نیز ایسے کام جو جسمانی یا مالی طور پر ضرر ساں ہیں _ اسی طر ح شریعت او رقانون کے خلاف کام نیز اخلاقی اور معاشرتی اصولوں کے خلاف کام او رایسے کام جو دوسروں کی آزادی میں حائل ہو تے ہیں اور ان کے حقوق ضائع کرنے کا باعث بنتے ہیں انھیں بلیک لسٹ کردیا جاناچاہیے او ربچے کو ان سے سختی سے روک دیناچاہیے _ ایسے کاموں کے علاوہ دیگر کاموں میں بچہ بالکل آزاد ہو ناچاہیے _ اور ان امور دوسرایہ کہ بچے کی تو نائی کو ملحوظ رکھنا چاہیے _ اس کے عقلی رشد اور جسمانی طاقت کے مطابق اس کے لیے نظم و ضبط ہو نا چاہیے اور سخت قسم کے نظم و ضبط اور غیر منطقی احکام سے پرہیزکرنا چاہیے _ تیسرا یہ کہ ماں باپ کو چاہیے کہ وہ اپنے قول پر پکے رہیں اور بچے سغ پوری صراحت سے کہہ دینا چاہیے کہ
یہ کام تو انجام دنے سکتا ہے اور وہ کام تجھے حتماترک کرنا چاہیے ماں باپ کو چاہیے کہ بے جا احساسات او رجذبات کو ایک طرف رکھ دیں _ شک و شبہ سے اجتناب کرین تا کہ بچہ اپنی ذمہ دار ی کو سمجھے اور اپنے فریضہ کی ادائیگی میں شک نہ کے _
امام حسن عسگری علیہ السلام فرماتے ہیں :
بچپن میں کسی بچے کی ماں باپ کے حکم کے خلاف جسارت اور بے اعتنائی بڑا ہو کراس کے سر کش اور نافرمان ہو جانے کا باعث بنتی ہے (1)
چوتھا یہ کہ ماں باپ کو چاہیے کہ آپس میں ہم آہنگ ہوں او راہتلاف سے سختی سے پہیز کری'ں اور اپنے اختلافات سے بچے کو شک اور دو دلی میں مبتلا نہ کردیں _
------------
1_ بحار ، ج ، 78، ص 374
ضدّی پن
سب بچوں میں کچھ نہ کچھ ضدی پن اور خود سری ہوتی ہے خصوصاً دو سال کی عمر میں _ ضدی بچہ اصرار کرتا ہے کہ جو کچھ بھی اس دل میں آئے انجام دے اور کوئی اس کے راستے میں حائل نہ ہو _ اگر وہ اپنی خواہش کے مطابق کام نہ کرسکے تو پھر وہ روتا ہے چیختا چلاتا ہے تا کہ کوئی راہ مکمل آئے _ اپنے آپ کو زمین پرگھیٹتا ہے _ سر دیوار سے ٹکراتا ہے _ شور مچاتا ہے غصہ کرتا ہے اور کھانا چھوڑدیتا ہے _برتن توڑتا ہے یہاں تک کہ کبھی ماں باپ یا بہن بھائی پر حملہ بھی کرتا ہے _ اتنا شورمچاتا ہے کہ ماں باپ پر اس کو کامیابی حاصل ہوجائے اور وہ اپنا مقصد پالے _ یہ بچپنے کی ایسی عادت ہے کہ کبھی تو نسبتاً بڑے بچوں میں بھی دیکھی جاتی ہے _ اکثر ماں باپ بچوں کی اس عادت سے نالاں رہتے ہیں اور اس کاحل سوچتے رہتے ہیں _ بچوں کے ضدی پن کے بارے میں ماں باپ عموماً ان دو طریقوں میں سے ایک اختیار کرتے ہیں _
پہلا طریقہ: بعض ماں باپ کا یہ نظریہ ہے کہ بچے کی ضد کے مقابلے میں سخت ردّ عمل کا مظاہرہ کیا جائے اور اس کی خواہشات کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا جائے _ ایسے ماں باپ کا کہنا ہے کہ یہ بچہ بہت خود سراور ضدّی ہوچکا ہے _ اس کے مقابلے میں استقامت کا مظاہرہ کی جانا چاہیے تا کہ یہ اپنے ضدّی پن سے دستبردار ہوجائے _ و کہتے ہیں کہ ہم اس بچے کو ایک انچ بھی اپنا زور چلانے کی اجازت نہیں دیں گے _ وہ سختی ، زور اور مارپیٹ کے ذریعے بچے کو روکتے ہیں اور اپنی خواہشات اس پر سوار کردتیے ہیں _ یعنی در حقیقت وہ
بچے کی ہٹ دھرمی کے جواب میں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہیں _ یہ طرز عمل درست نہیں ہے کیوں کہ اگر چہ انہوں نے مارپیٹ اور زور کے ذریعے بچے کو اس کی ضد سے پیچھے ہٹا دیا ہے اور چپ کروادیا ہے لیکن دوسری طرف اس کی شخصیت پر بڑی کارہی ضرب لگائی ہے _ دو سال کی عمر شخصیت اور ارادے کے اظہار کی عمر ہے اور ضدّی پن ارادے کی پختگی اور خود اعتمادی کا بنیادی جوہر ہے بچے کی عقلاس عمر میں اتنی رشد یافتہ نہیں ہوتی کہ وہ اپنی خواہشات پر کنٹرول کرسکے اور ان کے نتائج کے بارے میں غور و فکر کرسکے _ وہ سوچے سمجھے بغیر کسی کام کا ارادہ کرلیتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کی خواہش کے مطابق عمل کیا جائے تا کہ اس کے وجود کا اظہار ہوسکے اور اس کی شخصیت نمایان ہوسکے _ اگر ماں باپ اس کی مخالفت کریں گے تو وہ گویا اس کی شخصیت کو مجروح کریں گے _ ممکن ہے وہ ایک پر سکون فروبن جائے لیکن حیثیت اور ارادے سے عاری_ جب بچہ یہ دیکھتا ہے کہ کوئی اس کی خواہش پوری نہیں کررہا اور طاقت کے ذریعے اسے روکا جارہاہے تو وہ مایوس اور بدگمان ہوجاتا ہے _ اضطراب اور پریشانی کی یہی حالت اس میں باقی رہتی ہے البتہ اس بات کا امکان بھی ہے کہ اپنی خواہشات کی شکست کا بدلہ لینے کے لیے وہ بڑا ہو کر خطرناک کاموں کا مرتکب ہو مثلاً قتل اور ظلم و غیرہ تا کہ اس ذریعے سے وہ اپنے وجود کا اظہار کرسکے اور اپنی شخصیت منواسکے _
دوسرا طریقہ : بعض پرورش کنندگان کا نظریہ ہے کہ جہاں تک ممک ہوسکے بچے کے دل کو راضی کرنا چاہیے _ اور اس کی خواہش کے مطابق عمل کرنا چاہیے _ اسے جازت دی جانا چاہیے کہ جو کام وہ چاہے انجام دے ، یہ لوگ کہتے ہیں کہ بچے کی ضد اور اصرار کے سامنے تسلیم محض ہونا چاہیے _ یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ بچہ ہے اسے آزادی ملنی چاہیے جب بڑا ہوگا تو خودہی ضد اور بہانے بنانے چھوڑدے گا _ یہ طریقہ بھی غیبت سے خالی نہیں ہے _
اولاً: بعض کام ایسے ہوتے ہیں کہ جو بڑے جانی یا مالی نقصان کے حامل ہوتے ہیں او رخود بچے کی یا دوسروں کی جان و ماں کو خطرہ میں ڈال دیتے ہیں ایسے کاموں میں بچے کو آزادی دینا خلاف عقل او رخلاف وجدان ہے ہوسکتا ہے دو تین سالہ بچہ بڑی سیڑھی کے ذریعے اوپر
جانا چاہے کہ جس میں احتمال ہے وہ گر پڑے گا اور اس کے ساتھ پاؤں ٹوٹ جائیں گے ممکن ہے وہ چاہے کہ ماچں سے خود گیس جلائے کہ جس میں امکان ہے کہ وہ اپنے آپ کو اور پورے گھر کو جلادے گا _ ہوسکتا ہے وہ دوسروں کے احوال اور حقوق پر تجاوز کرنا چاہے یا دوسرے بچوں کو اذیت دینا چاہے _ ایسے کاموں میں بچوں کو آزادی نہیں دی جا سکتی _
ثانیاً: جو بچہ ہمیشہ مطلق العنان رہا ہو _ ضد سے اور شور شرابے سے اپنے مقاصد حاصل کرتا رہا ہو ، جس نے اپنے سامنے کسی کو ٹھرتے نہ دیکھا ہو رفتہ رفتہ اس طریقے کا عادی ہو جاتا ہے اور ایک خود غرض اور ڈکٹیڑبن جاتا ہے _ اسے لوگوں سے توقع ہوتی ہے کہ وہ بے چون و چرا اس کی خواہش پر عمل کریں اور اس کے طرز عمل اور کردار پر کوئی تنقید نہ کریں _
اس نے بچپن میں اپنی خواہشات کے مقابلے میں کسی کو قیام کرتے نہیں دیکھا کہ وہ دوسروں کی خواہشات کا اعتناء کرے _ اگر وہ دیکھے کہ زور و زیادتی سے اپنی خواہشات کو سیرات کرسکے اور اپنے مقصد کو پائے تو بہت خوش ہوتا ہے _ لیکن زیادہ تر ایسا نہیں ہوتا کیوں کہ دوسرے تیار نہیں ہوتے کہ اس کی ڈکٹیڑی کو برداشت کریں _ اس لحاظ سے وہ معاشرے سے مایوس ہوکر گوشہ نشین ہوجاتا ہے ہمیشہ آہ و زاری کرتا رہتا ہے _ اپنے تئیں شکست خوردہ سمجھتا ہے اورلوگوں کو حق ناشناس سمجھتا ہے _
اسلام ہٹ دھرمی کو بری صفات میں سے شمار کرتا ہے اور اس کی مذّمت میں بہت سی حدیثیں وارد ہوٹی ہیں _
نمونہ کے طور پر _ حضر ت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
''ہٹ دھرمی برائیوں کا سبب ہے '' (1) امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا:'' ڈھٹائی عقل انسانی کو نقصان پہنچاتی ہے'' (2)
-----------
1_ غرر الحکم ، ص 16
2_ غرر الحکم ، ص 17
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:
''ہٹ دھرمی جنگ اور دشمنی کا باعث ہے'' (1)
حضرت علی علیہ السلام نے ہی فرمایا:''ہٹ دھرمی کا نقصان انسان کی دنیا اور آخرت کے لیے سب سے زیادہ ہے ''_ (2)
تیسرا طریقہ: بہترین روش اعتدال کو ملحوظ رکھنا ہے _ یہ وہ طریقہ ہے کہ جس کے مطابق ماں باپ بچے کی خودسری کو عیب نہیں سمجھتے بلکہ اس کی استقامت اور اصرار کو اس کے وجود اور قوت ارادی کے اظہار کا وسیلہ جانتے ہیں _ نہ صرف یہ کہ اس کو ختم نہیں کرتے بلکہ تعلیم و تربیت کے لیے اسی فائدہ اٹھاتے ہیں ، بچے کی خواہشوں کے درمیان فرق کرتے ہیں، بے ضرر خواہشات کے ضمن میں بچے کو آزادی دیتے ہیں تا کہ وہ اپنے میلان کے مطابق عمل کرے اور اس طرح اپنی قوت ارادی میں اضافہ کرے _ اس کے بے ضرر یا کم ضرر کاموں میں زیادہ دخالت نہیں کرتے وہ بچے کے دوست بن جاتے ہیں اور کاموں کی ادائیگی میں اس کی راہنمائی کرتے ہیں _ایسی صورت میں بچے کو زیادتر کاموں میں آزادی حاصل ہوتی ہے اس طرح سے وہ اپنے ارادے کو مضبوط کرسکتا ہے اور اپنے وجود کا اظہار کرسکتا ہے _ ماں باپ کے بارے میں وہ بھی اچھی رائے رکھتا ہے اور انھیں اپنے راستے میں حائل نہیں سمجھتا _
لیکن خطرناک نقصان وہ اور خلاف و ضمیر کاموں میں ناجائز امور میں اور دوسروں کے حقوق پر تجاوز کے معاملے میں بچے کے سامنے استقامت کرتے ہیں اور اس سلسلے میں ذرا سی بھی ڈھیل نہیں دیتے وہ پوری بے نیازی سے اور صراحت سے بچے سے کہتے ہیں اس کام کو نہ کرنا _ وہ کوشش کرتے ہیں کی حتی الامکان اس کام سے روکنے کی وجہ اسے
---------
1_ غرر الحکم، ص 18
2_ غرر الحکم ، ص 104
بائیں اوراسے مطمئن کریں اور اس کی توجہ کسی اور اچھے کام کی طرف موڑدیں _ بچہ چونکہ ماں باپ کے بارے میں اچھے رائے رکھتا ہے اور اس پر زیادہ پابندیاں نہیں ہوتیں زیادہ تر مان جاتا ہے اور اس کام کو چھوڑدیتا ہے _ لیکن اگر وہ غلط کاموں کے بارے میں ضد کرے _ شورشرابہ کرے _ زمین پر پاؤں مارے تو آپ سختی سے اسے روک دیں _ اور اس سلسلے میں کوئی ڈھیل نہ دیں _ اس کے شوروشین اور رونے دھونے پر توجہ نہ دیں _ اسے اس کے حال پر رہنے دیں تا کہ وہ سمجھے کہ دنیا میں ہر چیز کا کوئی حساب ہے کہ جو اس کے شورشرابے سے بدل نہیں سکتا _ آپ کچھ صبر کریں وہ خود شو رشرابے سے تھک ہارکر چپ کرجائے گا _ بچے کو سمجھائیں کہ آپ کی نہ حقیقی نہ ہے _ اسے سمجھائیں کہ زور اور خود سری سے زندگی نہیں گزاری جاسکتی دوسروں کے حقوق کا بھی لحاظ رکھنا چاہیے _ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ اس کی ہٹ دھرمی اور شور شرابے پر مارپیٹ شروع کردیں اور سختی سے اسے چپ کرائیں کیونکہ اس طرح سے اسے چپ تو کرایا جاسکتا ہے لیکن حتمی طور پر اس کی روح اور نفسیات پر اس کے برے اثرات باقی رہ جائیں گے کیوں کہ وہ آپ سے بدبین ہوجائے گا _ اور آپ کو بھی ایک زیادتی کرنے والا اور ڈکٹیٹر سمجھے گا _ ہوسکتا ہے کہ آپ کے خلاف اس کے دل میں کینہ پیدا ہوجائے اور وہ انتقام لینے کی ٹھان لے ہوسکتا ہے آپ کی آمریت کو اپنے لیے نمونہ بنالے _ اس بحث کے اختتام پر ضروری ہے کہ مربّی حضرات کی خدمت میں چند امور ذکر کیے جائیں _
1_ جہاں تک ممکن ہو بچوں کو عمل کی آزادی دیں _ ان کے امور میں زیادہ دخالت نہ کریں اور ہر وقت یہ کرو یہ نہ کرو نہ کرتے رہیں _ بچہ کرسی ، درخت یا چھوٹی سیڑھی کے ذریعے اوپر جانا چاہتا ہے آپ کہیں بیٹے گر جاؤگے وہ پھل کا چھلکا اتارنے لگے تو آپ کہیں بیٹا ہاتھ کو زخمی کرلوگے ، وہ سما وار روشن کرنے لگے تو آپ کہیں جل جاؤگے ، وہ چائے ڈالنا چاہے تو آپ کہیں چینک توڑ دوگے ،گھر میں کھیلنا چاہے تو کہیں شور نہ کرو _ گلی میں جانا چاہے تو آپ کہیں سائیکل کے نیچے آجاؤگے _
پھر یہ ننھا بچہ کیا کرے آخر وہ بھی انسان ہے _ اس کا بھی ارادہ ہے _ وہ بھی اپنے وجود کا اظہار کرنا چاہتا ہے _ جب آپ اس کے کاموں میں دخالت کریں گے وہ
خستہ حال ہوجائے گا اور اس کے اندر ایک ہٹ دھرمی اور خود مری کی کیفیت پیدا ہوجائے گی بچے کی ہٹ دھرمیوں کی ایک وجہ ماں باپ کی اس کے کاموں میں زیادہ دخالت ہے _
2_ جب آپ کا بچہ ضد کرے تو کوشش کریں کہ اس کی ضد کی وجہ معلوم کریں اور اس کو دور کریں تا کہ وہ خود بخود مطمئن ہوجائے _ اگر اسے بھوک لگی ہو تو کھانا دیں _ اگر وہ تھکا ہوا ہے تو اسے سلادیں _ اگر وہ گھر کے تنگ ما حول ، ریڈیو اور ٹیلی وین کے شور اور مہمانوں کی وجہ سے تنگ آگیا ہے تو اس کے لیے آرام وہ ماحول فراہم کریں _
3_ بچے کی توہین اور اسے سرزنش نہ کریں کیونکہ توہین اور سرزنش اسے ضد بازی پر ابھارتی ہے وہ اپنے آپ سے کہتا ہے کہ یہ میری توہین کرتے ہیں اور مجھے ملامت کرتے رہتے ہیں _ میں بھی ان کے سامنے ڈٹ جاؤں گا اور ان سے انتقام لوں گا _
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :''سرزنش میں زیادتی ہٹ دھرمی کی آگ کو بھر کاتی ہے '' _ (1)
4_ کبھی کسی بچے پر اس کے بھائی بہن ظلم اور زیادتی کرتے ہیں اور اس کی کوئی حمایت نہیں کرتا یوں وہ ہٹ دھرمی اور سرکشی پر اتر آتا ہے اس صورت میں ماں باپ کو چاہیے کہ اس کی سرکشی کی وجہ معلوم کریں _ اور اسے دور کریں تا کہ وہ اسے چھوڑدے _
5_ اگر آپ کا بچہ شد کرتا ہے اور آپ کو اس کی وجہ معلوم نہیں ہوتی تو آپ اپنے آپ کا جائزہ لیں او ردیکھیں کہ خود آپ کہیں ضدی پن کا شکار تو نہیں ہیں _ شاید آپ کا ضدی پن بچے کے ضدی پن کا باعث بنا ہو _ ایسا بہت ہوتا ہے کہ بچے ماں باپ ہی کے ضدی پن کا مظہر ہوتے ہیں اور انہیں کی تقلید کرتے ہیں _ایک خاتون اپنی یادداشتوں میں لکھتی ہیں کہ مجھے یادہے بچپن میں ایک روز ہمارے ہاں مہمان آئے _ میں نے کسی بات پہ ضدکی تو اس پہ مہمانوں کے سامنے
----------
1_ تحف العقول ،ص 80_
مجھے مارپڑی مجھے مہمانوں سے بہت شرمندگی ہوئی _ میں نے بہت چیخ و پکار کی _ امی مسلسل کہے جاتی تھیں چپ کر ہابیٹی کا شور مچانا اچھا نہیں ہوتا_ میں آرہی ہوں تمہیں چپ کرواتی ہوں _ امی نے اس بارے میں بالکل نہ سوچا کہ میری ضدکی وجہ کیا ہے اور میں کیوں شورمچار ہی ہوں _وہ صرف یہ چاہتی تھیں کہ اس طرح کی باتوں سے مجھے چپ کروادیں ، جو مجھے اور بھی بری لگتی ہیں _ لیکن میں نے بھی زیادہ شورمچایا _ ماں نے اپنے تئیں اس کا بہترین حل سوچا _ گڑیا کے جو کپڑے میں نے خودسیے تھے وہ اٹھالائیں مجھے وہ جان سے زیادہ عزیز تھے _ انھیں امّی نے میرے سامنے آگ لگادی _ گویا میری ساری امیدیں ختم ہوگئی _ میں آگ کے شعلے کی طرف دیکھتی تھی اور آنسو بہاتی تھی _ اس وحشیانہ واقعہ سے میرے دل میں ایک گرہ سی پڑگئی کہ جسے میں آج تک بھلانہیں سکی _ اور اب بھی مجھے اس پر افسوس رہتا ہے اور کبھی کبھی میں اپنی امّی سے کہتے ہوں ... ...
کام اور فرض کی ادائیگی
کام اور کوشش انسانی زندگی کی بنیاد ہیں _ کام کے ذریعے انسان روٹی کپڑا اور مکان مہیا کرتا ہے _ کام اور محنت کے ذریعے زمین آباد ہوتی ہے _ اور لوگوں کے لیے آرام و آسائشے کے اسباب فراہم ہوتے ہیں یہ اتنی صنعتیں او رحیران کن ایجادات انسانی کام او رمحنت کا نتیجہ ہیں _ یہ علم اور محنت ہے کہ جس نے موجودہ تمندن کو جود بخشا ہے اور انسان کویہ عظمت علا کی ہے _ ہر ملک کی ترقی اور پیش رفت اس ملک کے افراد کی محنت اور کوشش سے وابستہ ہے _ اگر کسی ملک کے افراد مختلف حیلوں بہانوں سے کام کرنے سے بچپں_ بالخصوص پیداواری کاموں سے بچپں تو وہ ملک خوشحال نہیں ہوسکتا _ ایسی قوم پیدا کرنے والی نہیں صرف صرف کرنے والی ہوگیاور وہ استعماری قوتوں کے ہاتھوں میں چلی جائے گی _ ہر فرد کی ترقی بھی اس کے علم ، کام اور کوشش سے وابستہ ہے _ دنیا کام اور محنت کا مقام ہے نہ کہ سستی اور تن پروری کا _ اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے _
'' وَاَن لیس للانسان الاّ ما سعی''
''انسان کے لیے جو کچھ بھی ہے وہ اس کی کوشش کا ماحصل ہے'' (1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں :
----------
1_ سورہ نجم ، آیہ 39
''وہ جو اپنا بوجھ دوسروں پہ ڈالے رکھے وہ ملعون ہے'' (1)
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں کہ ''عبادت کے ستّر (70) حصے ہیں _ جن میں سب سے افضل رزق حلال کے حصول کی کوشش ہے '' (2)
حضرت صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
'' میرے دوستوں اور شیعوں کو میرا سلام پہنچانا اور ان سے کہنا تقوی کو نہ چھوڑنا اور اپنی آخرت کے لیے تو شہ تیار کرنا _ خدا کی قسم میں صرف اس چیز کا تمہیں حکم دیتا ہوں کہ جس پر خود عمل کرتا ہوں _ محنت او رکوشش کریں _ نماز صبح کے بعد جلد کام پر نکل جائیں اور رزق حلال حاصل کریں _ کام کریں ، خدا تمہیں رزق دے گا اور تمہاری مدد کرے گا '' _ (3)
امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:''جو شخص دنیاوری امور میں سست اور کاہل ہو وہ مجھے برا لگتا ہے _ جو شخص محنت و مشقت میں سست ہو وہ امور آخرت میں بھی سست ہوگا '' _ (4) ثواب ملے گا'' _ (5)
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
-----------
1_ کافی، ج 5، ص 72
2_ کافی ، ج 5، ص 78
3_ کافی،ج 5، ص 78
4_ کافی، ج 5، ص85
5_ کافی، ج 5،ص 88
''کسان انسانوں کے لیے خدا کے خزانے ہیں ، وہ اچھا بیج بولتے ہیں اور خدا اس بیج کو اگاتا ہے قیامت میں کسانوں کا بہترین مقام ہے _ اور انہیں '' مبارکین'' کے نام سے پکاراجائے گا '' _ (1)
ہر انسان دوسروں کی محنت اور کام سے فائدہ اٹھاتا ہے _ وہ دوسروں کی محنت اور زحمت کے بغیر زندگی نہیں گزارسکتا اس کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنی طاقت کے مطابق کام اور محنت کرے اور دوسرے انسانوں کو بھی فائدہ پہنچائے _ مزدور بہترین اور شریف ترین انسان ہیں جو لوگ خود طاقت رکھتے ہیں لیکن کام نہیں کرتے اور دوسروں کی محنت پر پلتے ہیں وہ پروردگار عالم کی رحمت سے دور ہیں جن ماں باپ کو اپنی اولاد کی سعادت اور خوش بختی مطلوب ہے اور جنہیں اپنے ملک کی خوشحالی اور ترقی پسندہے وہ اپنے تربیت پروگرام میں بچوں کو محنت کرنا بھی سکھائیں _ اپنے بچوں کی اس طرح سے تریت کریں کہ وہ بچپن ہی سے کام کرنے کے شوقیں اور عادی ہوجائیں تا کہ بڑے ہوکرنہ صرف یہ کہ وہ کام کرنے کو ننگ و عار نہ سمجھیں بلکہ اس پر افتخار کریں _ بہت سے ماں باپ زندگی کے اس انتہائی اہم موضوع سے غفلت برتتےہیں اور اس طرف بالکل توجہ نہیں دیتے یہاں تک کہ ایک عرصے تک وہ بچوں کے کام خو انجام دیتے ہیں اور انھیں کوئی ذمہ داری نہیں سونپتے وہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح سے وہ اپنی اولاد کی خدمت کررہے ہیں جب کہ یہ خدمت نہیں بلکہ بہت بڑی خیانت ہے بچے سے بھی ملک و قوم سے بھی ،کبھی وہ یہ بہانہ کرتے ہیں کہ کام کرنے میں جلدی نہیں کرنا چاہیے ، کام کرنے بچے کے لیے دشوار ہے _ بڑا ہوگا تو خود ہی کام کے پیچھے چل پڑے گا _ جب کہ ان کی یہ بات درست نہیں ہے کیونکہ جو کام بچے کی عمر اور طاقت کے مطابق ہو وہ بچے کی طبیعت کے مخالف نہیں ہے جب کہ اس کی جبلّت اور ضرورت کے مطابق ہے_ اگر انسان کو بچپن ہی سے کام کر نے کی عادت نہ پڑے تو بڑا ہوکر کام کرنے میں دیر بھی لگے گی اور اس کے لیے دشوار بھی ہوگا _ اگر صحیح تربیت کی جائے تو کام کرنابچے کے لیے پسندیدہ بھی ہوگا اور لذّت بخش بھی
---------
1_کافی ، ج 5، ص 261_
ایسے ماں باپ کبھی کہتے ہیں اتنا حوصلہ کس میں ہے کہ انتظار کرے کہ بچہ اپنا کام خود انجام دے _ ہم اس کے لیے زیادہ جلد ہی کام کرکے فارغ ہوسکتے ہیں _ بڑا ہوگا تو خود کام کرتارہے گا _
ان نادان ماںباپ کو اگر واقعاً اپنی اولاد سے محبت ہو تو وہ ایسے بے جا بہانے کر اپنے آپ کو اولاد کی تربیت سے بری الذمہ قرار نہ دیں اور سست کاہل اور بے کار افراد معاشرے میں بطور یادگار نہ چھوڑیں _فرض شناس اور سمجھدار ماں باپ بچے کی عمر ، جسمانی قوت اور اس کے فہم و شعور کو مدّ نظر رکھتے ہوئے کوئی کا م اسے کے ذمّے لگاتے ہیں نیز اس کام کی انجام دہی میں اس کی مدد کرتے ہیں ، مثلاً تین سالہ بچے سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اپنا جوتا اور جرابیں خو پہنو اور خود اتارو، اپنی نیکر خود پہنو نمک دانی ، چمچہ اور کانٹا لاؤ_ جب بچہ کچھ بڑا ہوجائے تو تدریجاً بڑے کام اس کے ذمّے لگائے جا سکتے ہیں _مثلاً اپنا بستر خود بچھائے اور خود ہی نہ کرے کوڑا کر کٹ کابرتن خالی کرکے لائے، کھانا پکائے ، دستر خوان لگائے اور اٹھائے ، برتن دھوئے ، کمروں میں جھارو دے، مخصوص اوقات میں اپنے چھوٹے بہن بھائیں کی حفاظت کرے باغیچے میں پھلوں اور درختوں کو پانی دے ، پالتو جانوروں کو پانی اور کھانا دے ، روٹی، سبزی، دودھ، دہی، سرف ، صابن ، ٹوتھ، پیسٹ خرید کر لائے، کھیل کا سامان صاف کرے اور سلیقے سے رکھے، ایسے کام بچے آرام سے انجام بھی دے سکتے ہیں اور انہیں اپنے ذمہ بھی نے سکتے ہیں _
جب بچے کچھ اور بڑے ہوجائیں تو کچھ مشکل تر کام ان کے ذمّے لگائے جا سکتے ہیں _
اس سلسلے میں ماں باپ کے لیے چند باتیں ضروری ہیں:
1_ بچے کی عمر اور بدنی قوت کو مدّ نظر رکھتے ، جب بھی وہ دیکھیں کہ بچہ کسی کام کی استعداد رکھتا ہے تو وہ کام اسے کے ذمّے لگادیں _ بالخصوص جب چہ خود کوئی کام کرنے کی خواہش کرے _ خاص طور پر وہ کام جو خود بچے کی ذات سے مربوط ہیں تا کہ
و ہ بچپن ہی سے کام کرنے کا عادی ہوجائے اور سست اور آرام طلب فرد نہ بن جائے _
2_ بچے کی قوت اور حوصلے کو پیش نظر رکھا جانا چاہیے اور مشکل کو اور زیادہ سخت کام اس کے ذمے نہ لگایاجائے _ کیوں کہ ممکن ہے کہ ایسا کرنے سے وہ کام سے بیزار ہو جائے اور آئندہ کام سے جی چرائے _ اگر کام تھکادینے والا ہو تو ہوسکتا ہے بچہ سرکشی کا مظاہر ہ کرے_
3_ کوشش کریں کہ کام بچے کے سپرد کرتے وقت افہام و تفہیم سے کام لیں _ اسے سمجھائیں کہ گھر کے کام خودبخود انجام نہیں پاتے _ باپ محنت و مشقت کرکے گھر کا خرچ چلاتا ہے ،ماں بھی گھریلو کام انجام دیتی ہے ، تم بھی اسی خاندان کے ایک فرد ہو ، گھر کے کام چلانے کے لیے ہمت کرو اور اپنی طاقت کےمطابق ان کاموں میں کمک کرو_ ایسے مواقع پر حتی المقدور زور اورو جبر سے پرہیز کرنا چاہیے _ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ غلط اور اندھی اطاعت کا عادی ہوجائے _
4_ اگر ممکن ہو تو کسی ذمہ داری کو قبول کرنے کے لیے حق انتخاب بچے کو دیں مثلاً آپ کہہ سکتے ہیں اگر تو چاہے تو برتن دھولے چاہے تو کمرہ صاف کرلے _
5_کام کی حدود اور مقدار بچوں پہ بالکل واضح کریں تا کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور اس میں شک و شبہ میں نہ پڑیں _
6_ جن بچوں میں صلاحیت ہو ان کے لیے مستقل کام معین کردیں _ اس طرح سے کہ وہ متوجہ رہیں اور ان میں احساس ذمہ داری پیدا ہو _ مثلاً کسی ایک بچے سے آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے دستر خوان پہ ہمیشہ سلادہونا چاہیے _ سلاد خریدنا تیرے ذمے ہے _ سرف ، صابن اور ٹوتھ پیسٹ خریدنا بھی تیرے ذمہ ہے _ ہمیشہ توجہ رکھنا کہ گھر صرف ، صابن اور ٹوتھ پیسٹ سے خالی نہ ہو _
7_ کوشش کریں کہ حتی المقدور بچے کے ذمّے ایسا کام کریں جو اس کی طبیعت اور پسند کے مطابق ہوتا کہ وہ اپنا کام خوشی خوشی انجام دے _ البتہ بعض استثنائی مواقع
پر اسے طبیعت کے خلاف کام بھی کرنا چاہیے _ اور چاہیے کہ وہ ایسے کام بھی ناک منہ چڑھائے بغیر انجام دے _
حضر ت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :''گھر میں سب کام کرنے والوں کے لیے ایک کام معین کردو اور ہر کسی کی ذمہ داری اس کے سرڈال دو جب وہ اپنی ذمہ داری سمجھ لیں گے تو پھر یہ نہیں سوچیں گے کہ یہ کام کسی دوسرے کو کرنا ہے '' (1)
8_ اگر آپ کے گھر میں متعدد بچے ہوں تو تقسیم کار میں عدالت کو محلوظ رکھیں تا کہ لڑائی جھگڑا نہ ہو اور وہ خوشی خوشی اپنا کام انجام دیں _
9_ بچوں کو کام کرنے پر مائل کرنے کے لیے آپ ان کے ساتھ مل جل کر کام کرسکتے ہیں کیونکہ بچوں کو یہ بات اچھی لگتی ہے کہ وہ بڑوں سے ساتھ مل کر کام کریں _
10_ اگر ماں باپ کے درمیان گھر کا نظام چلانے میں ہم آہنگی اور تعاون ہو تو وہ اپنی اولاد کے لیے بہترین نمونہ اور اس طرح سے وہ بچوں میں ذمہ داری قبول کرنے کا شوق پیدا کرسکتے ہیں _
11_ جب بچے بڑے ہوجائیں اور وہ کوئی ایسا کام کرسکیں جو مادی اعتبار سے مفید ہو تو چھٹیوں کے دنوں میں ان کے لیے کوئی کام اور ممکن ہو تو کوئی پیدا وار کام ان کے لیے مہیا کریں اور اس کی انجام دہی میں انھیں تشویش کریں _ اس طرح سے انہیں کام کرنے کی عادت بھی پڑے گی اور گھر کے خرچ میں وہ مدد کرسکیں گے او راس کے ساتھ ساتھ وہ قوم و ملک کی خدمت بھی کر سکیں گے _ انہیں سمجھائیں کہ کام کرنے میں کوئی عار نہیں بلکہ یہ باعث افتخار و شرف ہے _ البتہ ان پر زیادہ دباؤ بھی نہ ڈالیں _ انہیں تفریح اور کھیل کا بھی موقع دیں یہ درست نہیں کہ ماں باپ کہیں ہم مالی اعتبار سے خوش حال ہیں اور اپنے بچوں سے کام لینے کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں _ کیونکہ اس صورت میں
------------
1_ غرر الحکم ، ص 124
تو وہ آوارہ گرد اور مفت خور بن جائیں گے _
آخر میں ہم ایک بار پھر یاددلادیں کہ کام کرے کے شوق اور محبت کی بنیاد بچپن میں رکھی جانا چاہیے تا کہ یہ بات بچے کی طبیعت میں رچ بس جائے اور وہ اس کا عادی ہوجائے ورنہ بعد میں یہ کام دشوار ہوجائے گا _ فرض شناس ماں باپ کو چاہیے کہ اس اہم فرض سے غفلت نہ کریں _
ایک عورت اپنی یادداشتوں میں لکھتی ہے _
''میں بہت سست، بے حوصلہ اور ضدی عورت ہوں _ بچے چین او رڈری ڈری رہتی ہوں _ میرے معدے میں ورم ہے _ کچھ کام کرنے کو میرا جی نہیں چاہتا _ کام کرنا تو میرے لیے بہت مشکل ہے _ گھر کانظام سنبھالنے اور کھانا پکانے سے عاجز ہوں _ اسیوجہ سے شوہر اور ساس سے ہمیشہ میری جنگ رہتی ہے _ اور ان سب بدبختیوں کا سبب میر ی ماں ہے _ وہ بہت مہربان، باصبر ، اور باحوصلہ عورت تھیں _ میں ایکم گھریلو لڑکی تھی _ لیکن امّی کوئی کام میرے سپرد نہیں کرتی تھی _ گھر کے سب کام خود انجام دیتی تھی انہوں نے مجھے کام کرنا اور گھر کا نظام چلانا نہ سکھایا _ کوئی ذمہ داری مجھ پر نہ ڈالی کہ مجھے بھی کوئی ذمہ داری نبھانے کی عادت پڑتی _ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ میں تھک جاؤں اور اپنے تئیں وہ میرے بارے میں اچھا سوچتی تھیں _ لیکن اس بات کی طرف ان کی توجہ نہ تھی کہ مجھے آئندہ زندگی بھی گزارنا ہے اور مجھے بھی ایک گھر کا نظام چلاناہے _
ایک صاحبہ اپنے ایک خط میں لکھتی ہیں:
... ... میں گھر کی سب سے بڑی بیٹی ہوں _ اپنی زندگی سے پوری طرح مطمئن ہوں اور کسی قسم کی کمی محسوس نہیں کرتی _ بخیل اور حاسد نہیں ہوں _ دوسروں کے لیے مہربان اور ہمدرد ہوں _ دنیا کے زور و زیور کی میرے نزدیک کوئی حیثیت نہیں _ سب کچھ کرنا جانتی ہوں _ زندگی کے معاملات احسن طریقے سے نبھاتی ہوں _ مجھے کسی قسم کا کوئی غم نہیں ہے _ ایک صاف ستھری ، پر سکون اور آرام دہ زندگی بسر کررہی ہوں _ میں اپنے ماں باپ کی شکرگزار ہوں کیوں کہ یہ انہی کی عاقلانہ
تربیت کا نتیجہ ہے _
جب میرے ابو گھر میں داخل ہوتے تو مجھے پکارتے جو کچھ لاتے مجھے تھمادیتے _ زیادہ پیسے لاتے تو میرے سپردکردیتے کہ سیف میں رکھ دوں _ اگر ان کا بٹن توٹ گیا ہوتا یا ان کے لباس کو استری یا سلائی کی ضرورت ہوتی تومجھے دے دیتے تا کہ میں یہ کام انجام دوں _ جب میں وہ کام کردیتی تو مجھے شاباش دیتے _ ایک روز میں نے ان کا لباس خوب اچھا طریقے سے سیا وہ بہت خوش ہوئے اور کہنے لگے : میں تمہارے لیے ایک سلائی مشین لاؤںگا _
چندی ہی روز بعد انہوں نے اپنا وعدہ کو پورا کردیا اور میرے لیے سلائی مشین لے آئے _ اس دن سے سلائی کا کام میرے ذمّے ہوگیا _ میری امّی قیمتی کپڑا مجھے دیتی اور کہتیں : جاؤ اسے سیو، اگر خراب ہوجائے توکوئی حرج نہیں ٹھیک ہوجائے گا _
میری امّی چونکہ مجھے اطمینان دلاتی تھی لہذا مجھ میں خود اعتمادی بڑھ گئی _ میں کوشش کرتی کہ کام اچھے طریقے سے انجام دوں _ مجھے نہیں یادکہ میں نے کبھی کوئی کپڑا خراب کیا ہو _
خلاصہ یہ کہ میں اپنے ماں باپ کی توجہ او ر تشویق کی وجہ سے تمام کام کرنا سیکھ گئی _کام کرنے اور ذمہ داری نبھانے کی عادی ہوگئی میرا ارادہ ہے کہ میں اپنی اولاد کی بھی اسی طرح تربیت کروں گی _
راستگوئی
جھوٹ بولنا ایک انتہائی بری صفت ہے اور گناہان کبیرہ میں ہے _ دنیا کی تمام قومیں اور ملتیں ، جھوٹ بولنے کی مذمت کرتی ہیں _ اور جھوٹ بولنے والے کو پست اورگھٹیا قرار دیتی ہیں _ جھوٹ بولنے والے شخص کا دنیا والوں کی نظر میں کوئی عزت واعتبار نہیں ہوتا _ ایک شریف اور اچھا شخص جھوٹ نہیں بولتا _ اسلام نے بھی اس بری صفت کی مذمت کی ہے _ اور اسے گناہ کبیرہ اور حرام قرار دیا ہے _
امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
''جھوٹ خرابی ایمان کی بنیاد ہے '' (1)
حضرت صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
کہ حضرت عیسی علیہ السلام نے فرمایا جو زیادہ جھوٹ بولتا ہے اس کی کوئی عزت نہیں ہوتی (2)
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
کوی کام جھوٹ سے بڑھ کے گھٹیا نہیں _ (3)
-----------
1_ اصول کافی ، ج 4، ص 36
2_ اصول کافی ، ج 4، ص 33
3_ مستدرک ، ج 2، ص 100
اللہ کے سب نبیوں اور سب دینی رہنماؤں نے لوگوں کو سچائی کی دعوت دی ہے _ سچ ایک فطری اور طبیعی چیز ہے _ اور انسان کی سرشت کا حصہ ہے سب سچ اور سچّے کو پسند کرتے ہیں _ اور جھوٹے سے نفرت کرتے ہیں _ یہاں تک کہ جھوٹ بولنے والا شخص بھی ایسا ہی ہے _ اگر بچے کو اس کے حال پہ چھوڑدیاجائے تو فطری طور پر اس کی تربیت ایسی ہوگی کہ وہ سچا ہوگا _ یہ تو خارجی عوامل اور اسباب ہیں کہ جو اسے خداداد فطرت سے منحرف کردیتے ہیں اور اسے دروغ گوئی کی طرف لے جاتے ہیں _ جھوٹ بولنا ایک ننھے بچے سے اصلاً میں نہیں کھاتا _ بعد از آن اس سے منحرف ہوجائے اور جھوٹ بولنے کا عادی بن جائے تو بڑے ہوکر یہ عادت ترک کرنا اس کیلئے دشوار ہوگا اور زیادہ امکان یہی ہے کہ وہ اس سے دستبر دار نہیں ہوگا پھر اس پر نہ کوئی آیت اثر کرے گی نہ روایت اور نہ وعظ ونصیحت _ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچپن ہی سے اس بات کی فکر کریں کہ ان کی اولاد سچی ہو _ جھوٹ کے علل و اسباب کوروکیں _ اور سچائی کو جو ان کی سرشت میں شامل ہے اس کی پرورش کریں _ سچائی کی تربیت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور نہ اسے بڑے ہونے پرٹال دینا چاہیے _جو ماں باپ اپنی اولاد کی تربیت کے خواہش مند ہیں اور احساس ذمہ داری رکھتے ہیں توانہیں چاہیے کہ مندرجہ ذیل امور کی طرف توجہ فرمائیں _
1_ بچے کی تربیت پر اثر انداز ہونے وای ایک نہایت اہم چیز خاندان کا ماحول ہے _ خاندان کے ماحول میں بچہ پروان چڑھتاہے _ اور وہ ماں باپ سے اور ساتھ رہنے والوں سے اخلاق سیکھتا ہے اور ان کی پیروی کرتا ہے _ اگرگھر کا ماحول سچائی اور درستی پر بنی ہو ، ماں باپ اور دیگر افراد صداقت اور سچائی سے ایک دوسرے کے ساتھ پیش آنے والے ہوں تو ان کے بچے بھی یہی سیکھیں گے _ اس کے برعکس اگر گھر کا ماحول ہی جھوٹ اور دروغ گوئی پر بنی ہو، ماں باپ ایک دوسرے سے اپنی اولاد سے اور دیگر افراد سے جھوٹ بولتے ہوں _بے گناہ بچے جو ایسے ماحول میں پرورش پائیں گے یہی بری عادت ماں باپ سے سیکھیں گے اور دروغ گو بن جائیںگے _ جن بچوں کے کان جھوٹ سے آشنا ہو گئے ہوں اور جو ہر روز
ماں باپ سے دروغ گوئی کے مظاہر دیکھتے ہوں ان سے کیسے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ سچّے اور صادق پروا ن چڑھیں _ ایسے ماحول میں یہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ جھوٹے اور فریبی شخص کے علاوہ کچھ تریت کرے _ ایسا زہر یلا ماحول ہی ہے کہ جو ایک حساس اور اثرات قبول کرنے والے بچے کی فطرت کو سچائی سے منحرف کردیتا ہے اور دروغ گوئی کا عادی بنادیتا ہے _ بعض نادان ماں باپ نہ صرف یہ کہ خود جھوٹ بولتے ہیں بلکہ اپنے بچوں کو بھی جھوٹ بولنے کی تلقین کرتے ہیں _ باپ گھر پہ ہے لیکن بچے کو کہتا ہے فلان شخص سے کہو ابو گھر پہ نہیں ہیں _ بچہ جو ٹھیک ٹھاک تھا اور اس نے گھر کا کام نہیں کیا باپ اس سے کہتاہے استاد سے کہنا میں بیمار تھا _ ایسے سینکڑوں جھوٹ ہیں جن کا بعض گھروں میں ہر روز تکرار ہوتا ہے _ ایسے نادان ماں باپ اپنے بچوں سے بہت بڑی خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں _ جھوٹ بولنا گناہ ہے لیکن جھوٹ سکھانا اس سے کہیں بڑا گناہ ے _ جھوٹے ماں باپ جھوٹ بولنے کی سزاکی علاوہ بھی بہت بڑی سزاپائیں گے اور وہ ہے جھوٹ بولنے کی تربیت دینا _
ماں باپ کہ جو خاندان کے سرپرست ہوتے ہیں وہ جھوٹ بولیں تو یہ کوئی معمولی گناہ نہیں ہے بلکہ ہمت بڑا گرناہ ہے اس کے ساتھ بہت بڑا گناہ نمسلک ہے اور وہ ہے بچوں کو جھوٹ سکھانا _ ایسے ماں باپ نہ صرف گناہ کبیرہ کے مرتکب ہوتے ہیں اور انہیں اس کی سزا ملے گی بلکہ وہ اپنے معصوم بچوں کے ساتھ بھی ایک بہت بڑی خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں _ جب کہ یہ بچے ان کے پاس اللہ کی امانت ہیں _ اور یہ خیانت ان کی معاشرے کے ساتھ بھی ہے _ ایسے ماں باپ ہی ہیں جو ایک جھوٹے اور فریب کار معاشرے کو وجود دیتے ہیں _
لہذا جو ماں باپ چاہتے ہیں ان کے بچے سچے ہوں ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ وہ خود راست گوئی اختیار کریں اور اپنی اولاد کے لیے بہترین ماحول فراہم کریں اور ان کے لیے نمونہ عمل بنیں _
رسل لکھتا ہے _'' اگر آپ چاہتے ہیں کہ بچے جھوٹ بولنا نہ سیکھیں تو اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ بڑے پور ی توجہ سے ہمیشہ بچوں کے سامنے سچائی
اختیار کریں ''_ (1)
اے کاش رسل کہتا کہ بچوں کے سامنے بھی اور ہر کسی کے سامنے بھی سچائی اختیار کریں _
کیونکہ بچوں کی پاک فطرت ہر جھوٹ سے متاثر ہوتی ہے _ یہاں تک کہ مخفی جھوٹ بھی جلد ان کے سامنے آشکار ہوجاتے ہیں _
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:''لوگوں کو بغیر زبان کے اچھائی کی طرف دعوت دیں لوگ آپ سے تقوی ، محنت، نماز ، نیکی دیکھیں اور اس طرح اس ان کے لیے ایک نمونہ عمل مہیا ہوجائے '' _ (2)
2_ بچہ فطری طور پر دروغ گو نہیں ہوتا بلکہ اس کی فطرت اولیہ تقاضا کرتی ہے کہ وہ راستگو ہو _ اس کے جھوٹ بولنے کے لیے کسی سبب کی ضرورت ہے _ اگر ماں باپ جھوٹ بولنے کے علل و اسباب پہچان لیں اور ان کی روک تھام کریں تو بچہ طبعاً راست گو ہوگا _ ایک سبب جو بچے کو جھوٹ بولنے پر ابھارتا ہے وہ ماں باپ کی مارپیٹ اور ڈانٹ ڈپٹ کا خطرہ ہے مثلاً بچے نے کھڑکی کا شیشہ توڑدیا _ ماں باپ سے دڑتا ہے کہیں اسے ماریں نہ _ لہذا جب اس سے پوچھئے کہ شیشہ تم نے توڑا ہے تو جواب دیتا ہے نہیں مجھے بالکل نہیں پتہ یا پھر شیشہ توڑنے کا الزام کسی دوسرے پر لگادیتا ہے _ مثلاً کہتا ہے کہ میں نے دیکھا ہے کہ حسن نے شیشے کو پتھر مارا ہے واضح ہے کہ اس بچے کے جھوٹ بولنے کی وجہ اس کا ماں باپ سے خوف ہے _ اگر ماں باپ سمجھدار ، ہوش مند اور منصف مزاج ہوں اور بچوں کی تربیت کے لیے انہوں نے صحیح حکمت عملی اپنائی ہو تو ان میں ایسا خوف پیدا نہیں ہوگا کہ جس کی وجہ سے وہ جھوٹ بولین اور پھر تدریجاً جھوٹ بولنے کی انہیں عادت
----------
1_ در تربیت _ ص 148
2_ اصول کافی ، ج2، ص 78
پڑجائے _ کیونکہ ہوسکتا ہے شیشہ سہواً اور بلا ارادہ ٹوٹ گیا ہو _ اس صورت میں بچہ تنبیہ اور سرزنش کا مستحق نہیں ہے _ یہ تو کئی دفعہ ماں باپ کے ساتھ بھی پیش آیا ہوگا کہ شیشہ ان سے غیر ارادی طور پر ٹوٹ گیا ہو اور اس صورت میں انہوں نے اپنے آپ کو مجرم نہیں سمجھا ہوگا _ پھر بیچارے بچے کو وہ کیوں مجرم سمجھتے ہیں اور اس پہ کیوں غصّہ جھاڑتے ہیں اور اگر شیشہ کم توجہی اور بے احتیاطی کی وجہ سے ٹوٹ گیا ہے توماں باپ کو چاہیے کہ نرمی سے اس کو نصیحت کریں _ اور سمجھائیں اور اسے کہیں کہ وہ اپنے کاموں میں توجہ اور احتیاط سے کام لے تا کہ اس طرح کے واقعات پیش نہ آئیں _
اس صورت میں بھی بچہ مارپیٹ اور ملامت کا مستحق نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے وہ خوف زدہ ہوکر جھوٹ کا سہارا لے _ اور اگر اس نے شیشہ عمداً توڑا ہے اور اس کے لیے اسی نے سرکشی اور ڈھٹائی کامظاہرہ کیا ہے پھر بھی مارپیٹ اور سرزنش مسئلے کا حل نہیں ہے _ کیونکہ مارپیٹ اور ڈانٹ ڈپٹ سے بچے کی تربیت نہیں ہوسکتی _ اور نہ اس طرح سے اسے خرابیوں اور ضد بازیوں سے روکا جا سکتا ہے _ اس سلسلے میں ماں باپ کو اس امر کی طرف خیال رکھنا چاہیے کہ بچہ فطری اعتبار سے شر دوست اور بدجنس نہیں ہوتا _ اس کی شرارت اور ضد کا یقیناً کوئی خارجی سبب موجود ہے _ لہذا کوشش اور تحقیق کرنی چاہیے تا کہ شیشے توڑنے کا اصل سبب اور وجہ معلوم کی جائے _ جب سبب دور ہوجائے گا تو پھر اس طرح کے کاموں کی تکرار نہیں ہوگی _ مثلاً ہوسکتا ہے اس کی تحقیر اور توہین کی گئی ہو _ ہوسکتا ہے اس کی طرف کم توجہ دی جاتی ہو _ ہوسکتا ہے ماں باپ کی سردمہری کا شکار ہو ، ہوسکتا ہے ماں باپ یا کسی اور نے اس پر ظلم کیا ہو _ ہوسکتا ہے اس سے غیر مساویانہ سلوک برتاگیا ہو _ ہوسکتا ہے ایسی ہی کسی وجہ سے بچے کے اندر ضد اور سرکشی پیدا ہوگئی ہو _ اس صورت میں ہوسکتا ہے کہ شیشہ اس نفسیاتی کیفیت یا احساس کمتری کی وجہ سے یا دوسروں کی توجہ اپنی طرف کرنے کے لیے توڑا ہو یا ایسے ہی کسی سبب سے اس نے کوئی اور غلط کام سرانجام دیا ہو _ اگر ماں باپ اس کے غلط کام کی نفسیاتی وجہ برطرف کردیں تو بچہ بھی غلط کام اور سرکشی چھوڑدے گا تو پھر ڈانٹ ڈپٹ اور مارپیٹ کی ضرورت ہی باقی نہیں رہ جائے گی _ لہذا ایسے موقع پر بھی مارپیٹ اور ڈانٹ
ڈپٹ کا خوف نہیں ہوگا کہ بچے کو جس کی وجہ سے جھوٹ بولنا پڑے_
3_ اگر آپ کو معلوم ہو کہ آپ کے بچے نے کوئی غلط کا م کیا ہے اور آپ اس کی راہنمائی کرنا چاہیں تو اس سے اعتراف جرم کر انے کے لیے ایک سخت گیر اور بدتمیز پولیس والے کی طرح بازپرس اور سوال نہ کریں ہوسکتا ہے وہ اپنی عزت بچانے کے لیے حقیقت چھپائے اور جھوٹ بولے _ ایسے موقع پر بہتر ہے کہ بغیر سوال و جواب کے اس سے کہیں مثلاً اسی سے کہیں مجھے معلوم ہے کہ جو کتاب تم اپنے دوست سے امانتاً لے کر آئے تھے ابھی تم نے اسے واپس نہیں کی _ یہ اچھا نہیں ہے لوگوں کی امانت مقر ر موقع پر انہیں واپس کرنا چاہیے _ اپنے دوست کی کتاب فوراً اسے لوٹا دو اور اس سے معذرت کرو _
4_ بچہ کو ایسی دھمکی ہرگز نہ دیں کہ جسے انجام دینے کا آپ کا ارادہ نہ ہو _مثلاً اس سے نہ کہیے کہ تو نے فلان کام کیا تو تجھے مارڈالوں گا یا پیٹوں گا _ یا پولیس کے حوالے کردوںگا یا تجھے گھر سے نکال دوں گا _ یا تجھے فلاں کے ہاں دعوت پہ ساتھ نہ لے جاؤں گا کیوں کہ ایسی جھوٹی دھمکیوں سے آپ بچے کہ جھوٹ بولنا سکھائیں گے _ آپ کو چاہیے کہ بچے سے وہی بات کریں جسے آپ انجام دینا چاہتے ہیں اور جس کا انجام دینا درست بھی ہے وہی بات کریں جسے آپ انجام دینا چاہتے ہیں اور جس کا انجام دینا درست بھی ہے
5_ جو ماں باپ اپنی اولاد سے سختی کرتے ہیں اور ان کی طاقت اور صلاحیت سے زیادہ ان سے توقعات رکھتے ہیں ہوسکتاہے وہ اس طرح سے بچوں کو جھوٹ کی طرف دھکیل دیں مثلاً اگر وہ جانتے ہوں کہ ان کا بچہ پڑھنے کی استعداد نہیں رکھتا اور یہ اس سے توقع رکھتے ہوں کہ مبشر بہترین نمبر لے کر آئے بلکہ کلاس میں فرسٹ آئے ہر روز اس سے پوچھتے رہتے ہوں کہ کتنے نمبر لیے ہیں اور پھر اسے ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں _ بچہ میں چوں کہ یہ استعداد نہیں ہے وہ جتنی بھی کوشش کرتا ہے ماں باپ کی توقع کے مطابق نمبر نہیں لا پاتا_ بچہ چونکہ چاہتا ہے ماں باپ کی خوشنودی حاصل کرے اور ان کی ڈانٹ ڈپٹ سے ڈرتا ہے تو وہ مجبور ہوجاتا ہے کہ کبھی کبھی جھوٹ بولے یا کہے کہ امتحان کے موقع پر میرے سر میں درد ہونے لگا تھا _ میں اچھے طریقے سے امتحان نہیں دے سکا یا کہتا ہے میرے کلاس فیلونے ایسی باتیں کہیں جس سے میرے حواس کھوگئے ، یا کہتا ہے استاد کو مجھ سے غرضی تھی
اس لیے اس نے مجھے اچھے نمبر نہیں دیے _ یا کہتا ہے آج میں نے پورے سو نمبر لیآ ہیں _ اگر اس بچے کے ماں باپ اس کی صلاحیت اور طاقت کو سمجھ لیتے اور اس سے بے جا توقعات نہ رکھتے تو اسے دروغ گوئی پر آمادہ نہ کرتے اور اس طرح اسے رفتہ رفتہ جھوٹ بولنے کی عادت نہ پڑتی _
6_ بعض ماں باپ جب اپنے ننھے بچے سے کوئی برا کام دیکھتے ہیں تو اس کو بری الذمہ قراردیتے ہیں اور یہ برا کام دوسروں کے ذمے لگادیتے ہیں یہاں تک کہ بعض اوقات حیوانات اور جمادات پر الزام دھرنے لگتے ہیں مثلاً کہتے ہین کہ حسن تو اچھا بچہ ہے اس نے یہ کام نہیں کیا یہ کسی بلی چوہے نے کیا ہے _ ہمسایے کے بچے نے کیا ہے _ یا کسی درخت نے کیا ہے _ گندی بلی نے کیوں یہ کام کیا ہے ؟
یہ نادان ماں باپ اپنے تئیں اچھا کام کررہے ہوتے ہیں کہتے ہیں بہتر ہے بچے کے سامنے برا کام کرنے کی بات کو کھولانہ جائے _ لیکن اس کے اخلاقی نقصانات اور بد آموزیوں سے غافل ہیں _ اسی کام کے دوبڑے نقصانات ہیں _
ایک طرف تو یہ بچے کو غلط بیانی کی تقلین کرنے کے مترادف ہے اور اسے جھوٹ بولنا سکھاتا ہے _ دوسری طرف عملاً اور قولاً اسے یہ بتاتا ہے کہ غلط اور برے کام انجام دے کر انہیں دوسروں کی گردن پر ڈالا جا سکتا ہے _ اور یہ کام جھوٹ بولنے سے بھی زیادہ برا ہے اور اس کا نقصان بھی زیادہ ہے _
اگر اتفاقاً آپ کے بچے جھوٹ بولین تو کوشش کریں کہ اس کی وجہ معلوم کریں اور اس کے علاج کے درپے ہوں _ البتہ اس بات پر زور نہ دیں کہ تحقیق و جستجو سے ان کا جھوٹ بولنا ثابت کیا جائے اور انہیں شرمندہ اور رسوا کیا جائے _ کیونکہ جھوٹ بولنا اگر ثابت ہوجائے تو اس کا اس کے سوا کوئی فائدہ نہ ہوگا کہ بچے کو شرمندہ اور رسوا کیا جائے اور الٹا وہ اس سے اور بھی بے باک ہوجائے گا _ اور اس کی جرات بڑھ جائے گی _
وفائے عہد
انسانی زندگی کا نظام عہد و پیمان کے بغیر نہیں چل سکتا _ لوگ ایک دوسرے کے ساتھ قول و قرار کرتے ہیں یہ عہد و پیمان ہی ہے جس کے ساتھ خاندان تشکیل پاتاہے _ شہروں اور ملکوں کو معاہدے ہی ایک دوسرے سے مربوط کرتے ہیں _ لوگ اس قول و قرار کو بہت اہمیت دیتے ہیں اور یہ ان کی اجتماعی زندگی کی بنیاد ہے ایفائے ہد کا ضروری ہونا ایک فطری چیز ہے اور ہر انسان فطرتاً اس کو سمجھتا ہے اورعہد و پیمان کی خلاف ورزی کو برا اور قبیح سمجھتا ہے _ ہر شخص جو دوسرے سے عہد و پیمان باندھتا ہے توقع کرتاہے کہ وہ اس کی پاسداری کرے گا _ جو گروہ بھی اپنے عہد و معاہدوں کا وفادار ہوگا ان کا اجتماعی نظام اچھے طریقے سے چلے گا _ کیوں کہ ان کو ایک دوسرے پر اعتماد اور حسن ظن ہوگا _ وہ نفسیاتی طور پر آرام اور اطمینان سے رہیں گے _ ان کے درمیان زیادہ لڑائی جھگڑا نہیں ہوگا _ وہ اعصاب کی کمزوریوں اور نفسیاتی پریشانیوں میں کم مبتلا ہوں گے _ ان کی زندگی سعادت و خوش بختی سے ہمکنار ہوگی _ لوگ جس قدر بھی اپنے عہد کے زیادہ وفادار ہوں گے وہ زیادہ سکون و آرام سے زندگی گزارسکیں گے _ جب کہ اس کے برعکس جن ملک کے لوگ اپنے عہد کے وفادار نہ ہوں اس کا نظم و ضبط درست نہیں ہوگا ایسے لوگ باہمی لڑائی جھگڑے میں مبتلا رہیں گے _ ان کے درمیان نفسیاتی پریشانیاں ، اضطراب اور بے چینی زیادہ ہوگی _ ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کریں گے اور بدگمان رہیں گے _ ہر شخص یا ہر وہ معاشرة کو جو اپنے عہد وپیمان کا پابند ہو دوسروں کے نزدیک عزیز، محترم اور قابل اعتماد ہوگا _ جب کہ عہد شکن لوگ دوسروں کے نزدیک ذلیل اور گھیا سمجھے
جائیں گے _ اسلام کامقدس دین ایک فطری دین ہے اس میں اس حیات آفرین امر پر بہت تاکید کی گئی ہے _ اور ایفائے عہد کو واجب اور ایمان کی نشانیوں میں سے قرار دیا گیا ہے _ مثال کے طور پر اللہ تعالی قرآن حکم میں فرماتا ہے :
'' اوفو بالعهد ان العهد کان مسئولا''
اپنے وعدے کو پورا کرو کیوں کہ وعدے کے بارغ میں پوچھا جائے گا _(اسراء ، آیہ 34)
اللہ تعای قرآن حکیم میں ایک دوسری جگہ فرماتا ہے :
والذین هم لاماناتهم و عهدهم راعون
(اورکامیاب مومنین کی ایک نشانی یہ ہے کہ ) وہ امانت ادا کرتے ہیں اور عہد کی پاسداری کرتے ہیں _ (سورہ مومنون _ آیہ 8)
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
'' لا له دین لمن لاعهد''
''جن شخص کا عہد نہیں اس کا دین ہی نہیں ہے '' _ (1)
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:جو شخص بھی ا للہ اورروز جزا پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنا وعد ہ و فاکرئے (2) حضرت علی علیہ السلام مالک اشتر سے فرماتے ہیں :پیمان شکنی سے خدا بھی ناراض ہو تا ہے اور لوگ بھی (3) حضرت علی علی السلام فرماتے ہیں :
------------
1_ بحار ، ج 75 ، ص 96
2_ کافی ، ح 2 ، ص 364
3_ بحار ، ج 77 ، ص 96
جس مقام پر اپنا وعدہ پورا نہیں کرسکتا وہاں وہاں وعدہ ہی نہ کر اور جہاں تو ضمانت پوری نہیں کرسکتا وہاں ضامن نہ بن (1)
اس لئے کہ پورے معاشر ے میں ایفا ئے عہد کا احیاء ہو اور وہ سب لوکوں کی ایک ذمہ دار یکے طور پر جانا جائے تو آپ اس اچھی عادت کو قانون فطرت کی خلاف ورزی سمجھیں تا کہ انہیں ایفا ئے عہد کی عادت پڑے _ اور وعدہ خلافی کو قانون فطرت کی خلاف ورزی سمجھیں _ ایفائے عہد کی تربیت بچپن میں اور گھر کے ماحول سے شروع کی جانا چاہیے _ بچہ ماں باپ کی طرف احترام کی نظر سے دیکھتا ہے اور گفتار و کردار میں ان کی تقلید کرتا ہے _ ماں باپ بچے کے لیے نمونہ عمل ہیں ، بچے کا ذہن بہت حساس ہوتا ہے اور بہت چھوٹی چھوٹی چیزوں کی تصویر بھی اس کے ذہن میں نقش ہوجاتی ہے _ وہ ماں باپ کے کاموں کو بہت گہر نظر سے دیکھتا ہے اور آئندہ کی نزدگی میں اس سے استفادہ کرتا ہے _ بچہ اپنی طبیعت اور فطرت کے باعث ایفائے عہد کے ضروری ہونے کو سمجھتا ہے جب ماں باپ اس سے وعدہ کرتے ہیٹ تو اسے ان سے توقع ہوتی ہے کہ وہ اپنے وعدہ پر عمل کریں گے _ اگر وہ عمل کریں تو بچہ ایفائے عہد کا عملی درس ان سے حاصل کرتا ہے _ لیکن اگر وہ اپنا وعدہ پورا نہ کریں تو اسے دکھ ہوتا ہے اور ماں باپ کو غلط کام کرنے والا سمجھتا ہے _ جس گھر میں ماں باپ اپنے وعدے پر عمل کریں آپس میں اپنے بچوں سے اور دوسرے لوگوں سے وعدہ خلافی نہ کریں اس گھر کے بچوں میں بھی ایفائے عہد کی عادت ہوگی _ جب کہ اس کے برعکس جس گھر میں ماں باپ اپنے وعدوں ہر روز ماں باپ کی عہد شکنی کو دیکھتے ہیں ان کی نظر میں ایفائے عہد کی کوئی حیثیت نہیں _ اور وعدے کو فقط چکرا اور فریب دینے کا بہانہ سمجھتے ہیں _
اگر ماں باپ خود عہد شکن ہوں اور جھوٹے وعدوں سے بچے کو فریب دیں اور اپنے وعدے پر عمل نہ کریں _ یا اپنے غلط طرز عمل سے معصوم بچوں کو عہد شکنی کا سبق دیں اور
--------
1_ غرر الحکم ص 801
عملاً انہیں سمجھائیں کہ انسان اپنے مفادات کے لیے جھوٹے وعدے کرسکتا ہے اور پھر انہیں توڑسکتا ہے جو معصوم اور سادہ بچے اپنے ماں باپ سے سینکڑوں جھوٹ اور وعدہ خلافیاں دیکھتے ہیں _ کیا ایسے بچوں سے توقع ہوسکتی ہے کہ وہ باوفا ہوں ماں بچے کو چپ کرانے کے لیے اس سے وعدہ وعید کرتی ہے کہ میں تمہارے لیے مٹھائی لاؤں گی آئس کریم لے کے دوں گی ، ٹافی کھلاؤں گی _ پھل کے کے دوں گی جوتا نیا خریدوں گی نئے کپڑے لاؤں گی، کھلونے خریدوں گی ، تمہیں دعوت پر اور سیر پر لے جاؤں گی یہ وعدے وہ کبھی صرف اس لیے کرتی ہے کہ بچہ کڑدی دوائی پے لے _ اس لیے کہ بچہ ڈاکٹر کے پاس اور انجکشن لگانے والے کے پاس چلاجائے اسے خوشخبریاں دیتی ہے _ اس سے کہتی ہے اگر تو نے فلاں کام کیا تو تجھے پیٹوں گی ، ماڑ ڈالوں گی ، پولیس کے حوالے کہ دوں گی _ گھر سے نکال دوں گی _ تہہ خانے میں بند کردوں گی _ تم سے کوئی بات نہیں کروں گی _ پیسے نہیں دوں گی عید پر تمہارے لیے نئے کپڑے نہیں خریدوں گی _ تمہیں دعوت پہ نہیں لے جاؤں گی تمہارے ابو سے شکایت کروں گی اور ایسی سینکڑوں دہمکیاں _ اگر آپ مختلف خاندانوں اور خود اپنی زندگی پر غورں کریں تو دیکھیں گے کہ ہر روز سادہ لوح بچوں سے کتنے وعدے کیے جاتے ہیں کہ جن میں سے اکثر پرعمل نہیں ہوتا _ کیا ماں باپ جانتے ہیں کہ ان وعدہ خلافیوں کی بچوں کی حساس روح پر کتنی بری تاثیر ہوتی ہے اور اس طریقے سے وہ ان کے بارے میں کتنی بڑی خیانت کے مرتکب ہوتے میں _ بچہ ماں باپ سے جو ناپسندیدہ عمل دیکھتا یا سنتا ہے وہ اس سے اس قدر متاثر ہوتا ہے کہ اس کے اثرات آخر عمر تک نہیں جاتے _
خاندان ماں باپ کہ جو وعدہ خلافی کرتے ہیں ایک تو وعدہ خلافی کے گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں دوسرا وہ ان وعدہ خلافیوں سے اور جھوٹ سے بچے کی بھی تربیت کرتے ہیں کہ جس کا گناہ مسلّمہ طور پر عہد شکنی سے بھی بڑا ہے _
اس وجہ سے اسلام ماں باپ سے کہتا ہے کہ آپ جو وعدہ اپنے بچوں سے کریں اسے حتماً ایفا کریں _
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں :
بچوں سے پیار کریں ، ان سے مہربانی سے پیش آئیں اور اگر ان سے کوئی وعدہ کریں تو اسے حتماً پورا کریں _ بچے یہ خیال کرتے ہیں کہ آپ ان کو روزی دیتے ہیں'' _ (1)
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
جب آپ بچوں سے کوئی وعدہ کریں تو اسے حتماً پورا کریں _
----------
1_ وسائل، ج 15 ، ص 201، بحار ج 104 ، 92
2_مستدرک ج 2 ، ص 606_
ملکیت
ماں سے محبت انان کی طبیعت کا حصّہ ہے جن چیزوں کی انسان کو ضرورت ہوتی ہے انہیں اپنی ملکیت بنالیتا ہے _ اور اپنے تئیں اس کا مالک سمجھتا ہے _ دوسروں سے بھی وہ توقع رکھتا ہے کہ اس کی ملیکت کا حترام کریں اور اس کے مزاحم نہ ہوں _ ملکیت کی خواہش انسان کی فطرت ہیں اس طرح سے، موجود ہے کہ اسے کاملاً ختم نہیں کیا جا سکتا _ جدھرسے بھی اس کا مقابلہ کیا جائے وہ کسی اور صورت میں ظاہر ہوجائے گی _ ملکیت اگر چہ ایک امر اعتباری ہے لیکن ایسا امر اعتباری کہ جس نے حقیقت کی صورت اختیار کررکھی ہے اور انسان کی فطرت میں جاگزیں ہوچکا ہے اور اس کے بغیر انسانی کا نظام چلنا ممکن نہیں ہے _ جب سے بچہ اپنے آپ کو بچاننے لگتا ہے اور اپنے احتیاجات کو سمجھنے لگتا ہے تو اس کا اشیاء سے تعلق پیدا ہوجاتا ہے اور اس کا احساس اس کے وجود میں پیدا ہوجاتا ہے _
بچے کو جو چیز زمین پہ پڑی مل جائے یا کسی کے ہاتھ سے لے لے وہ اسے اپنے آپ سے مختص سمجھتا ہے _ اسے مضبوط سے تھام لیتا ہے اور آسانی سے تیار نہیں ہوتا کہ کسی کودے دے _ وہ اپنے جوتے ، لباس اور کھلونوں کا اپنے آپ کو مالک سمجھتا ہے اور کسی کو اجازت نہیں دیتا کہ ان میں تصرف کرے اور اگر کوئی اجازت کے بغیر انہیں استعمال کرے تو اسے غاصب اور متجاوز سمجھتا ہے اور اس کے خلاف قیام کرتا ہے اور لڑتا ہے _
آپ نے دیکھا ہوگا کہ بچے اپنے کھلونوں سے یہاں تک کہ نایت غیر اہم سی چیزوں سے کتنی محبت کرتے ہیں اور ان کی حفاظت کرتے ہیں اور ان کے لیے لڑتے
جھگڑتے ہیں او ریہ ان کا حق ہے کیوں کہ وہ مالک ہیں اور اپنے حق کا دفاع کرتے ہیں _ اگر کوئی اپنے حق کے حصول کے لیے قیام کرے تو اسے شریر اور غلط نہیں سمجھنا چاہیے _ احساس ملکیت کوئی غلط چیز نہیں ہے بلکہ ہر انسان کے لیے فطری ہے _ ماں باپ کو چاہیے کہ بچے کے اس فطری احساس کو قبول کرلیں اور اس کی خلاف ورزی نہ کریں _
ایسا بہت ہوتا ہے کہ بچے ایک دوسرے کی ملکیت میںتجاوز کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دوسروں کی چیزوں او رکھلونوں میں تصرف کریں یا انہیں غصب کرلیں ماں باپ کو چاہیے کہ ایسے کاموں کی بچوں کو اجات نہ دیں _ کیوں کہ جن میں زیادہ طاقت ہوگی انہیں دوسروں کے حقوق اس طرح غصب کرنے کی عادت پڑجائے گی _ اور چھوٹے مظلوم بن جائیں گے او ران کے دل اس پر ملول ہوں گے _ اگر ماں باپ ایسے امور میں ظالم کی حمایت کریں تو وہ شریک جرم ہوں گے اور جو بچہ مظلوم ہوگاوہ ان کے بارے میں بدگمان ہوجائے گا _ اگر وہ ایسے مسئلے پر چپ رہیں تو اپنے سکوت سے بھی وہ زیادتی کرنے والے کے عمل کی تائید کریں گے اور اسے تشویق کریں گے _ اور اس طرح سے وہ بچوں کو تجاوز پر سکوت اور حق کا دفاع نہ کرنا سکھائیں گے _ اور یہ بھی ایک بہت بڑا جرم ہے _ ماں باپ کو ایسے امور میں دخیل ہونا چاہیے _ زیادتی کرنے والے بچے کی زیادتی کو روکنا چاہیے اور اسے اجازت نہیں دینا چاہیے کہ وہ طاقت سے کسی دوسرے بچے کے کھلونے چھین لے _ لیکن یہ کام مارپیت اور گالی گلوچ کے ذریعے نہیں ہونا چاہیے _ بلکہ شروع میں اچھے انداز سے اور مشفقانہ طریقے سے اسے سمجھائیں کہ یہ چیز تمہاری بہن کی ہے یا تمہارے بھائی کی ہے _ اور تمہیں ان میں تصرف کا حق نہیں پہنچتا _ بعد ازاں پوری قاطعیت سے کہیں کہ ہم اجازت نہیں دے سکتے کہ تم اپنی بہن یا بھائی کی چیزوں پر زبردستی قبضہ جمالو_ اور اگر یہ طریقہ بھی مؤثر نہ ہو تو کچھ سختی اور ڈانٹ ڈپٹ سے روکیں اور جس بچے کے ساتھ زیادتی ہوتی ہو اس کی حمایت کریں یہ صحیح ہے کہ احساس ملکیت کا احترام کیا جانا چاہیے اور جائز حدود میں اس کی حمایت کی جانا چاہیے لیکن اس بالکل آزاد او رغیر مشروط نہیں چھوڑ دینا چاہیے _ انسان کی نفسانی خواہشات ہمیشہ بڑھتی رہتی ہیں اور کسی معین حد پر جاکر ٹھرتی نہیں _ اگر ان پر کنڑول نہ کیا جائے تو انسان کی تباہی اور ہلاکت کا سبب بن جاتی ہیں _
اصول ملکیت انسانی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہیے _ اور ملیکت کے حصول کے لیے کام اور محنت کو جائز قرار دیا گیا ہے _ اور حبّ مال جائز حدود میں نہ فقط عیب نہیں ہے بلکہ انسان کے لیے ایک فطری امر شمار ہوتا ہے لیکن اگر بالکل آزادی دے دی جائے تو پھر یہ مال پرستی کی صورت اختیار کرے گی _ ایسے بہت سے لوگ ہیں کہ جو مال و دولت پہ مرے جاتے ہیں _ بغیر ضرورت کے شب و روز دیوانہ وار اس کے لیے لگے رہتے ہیں ، یہاں تک کہ بعض لوگ حصول دولت کے لیے اپنا آرام و راحت عزت و آبرو، ، دین و اکرام اور احترام و شرافت سب کچھ فردا کردیتے ہیں ایسے لوگوں کو عقل مند انسان نہیں سمجھا جا سکتا _ ماں پرستی بھی ایک طرح کا جنون ہے وہ لوگ کہ جنہیں نہ ضرورت ہوتی ہے نہ خود کھاتے ہیں نہ دوسروں کو دیتے ہیں فقط اور فقط جمع کیے جاتے ہیں اور ڈھیر لگائے جاتے ہیں ایسے لوگوں کو عاقل اور خردمند نہیں سمجھاجاسکتا_
لہذا ماں باپ بچے کے احساس ملکیت کے حترام کے ساتھ ساتھ اس کی زیادہ طلبی کی خواہش کو بھی روکیں _ اس کے کھلونے ضرورت کے مطابق ہونا چاہئیں _ زیادہ نہیں _ بس اتنے کہ ان سے وہ کھیل سکے اور کوئی کام سیکھ سے _ نہ اتنے کے بس جمع کررکھے اور دوسرے بچوں کے مقابلے میں فخر کرتا رہے _ اگر اس کے پاس اتنے کھلونے ہوں کہ اسے ان کی ضرورت نہ ہو اور انہیں اس نے بس جمع کرکے رکھ چھوڑا ہو تو بہتر یہ ہے کہ ماں باپ اسے شوق دلائیں کہ وہ دوسرے بچوں کو دے دے جنہیں ان کی ضروت نہیں جب کہ دوسرے بچوں کے پاس کھلونے نہیں ہیں او ران کو ضرورت بھی ہے _ مناسب نہیں ہے کہ تم ان کا ذخیرہ کر رکھو اور دوسروں کو نہ دو _ جن کھلونوں کی تمہیں ضرورت نہیں ہے وہ دوسرے ضرورت مند بچوں کو دے دو _ وہ خوش ہوں گے خدا بھی خوش ہوگا او رماں باپ بھی _ بچہ چون کہ صاف ذہن ہوتا ہے اور فطری طور پر خیرخواہ ہوتا ہے اور اس کی خواہش ہوتی ہے کہ ماں باپ کی خوشنودی حاصل کرے وہ ان کی بات سنتا ہے اور یوں اس کے اندر جو دو عطا کی ایک پسندیدہ عادت پیدا ہوجائے گی _ اس صورت میں جب کہ بچے کو کھلونے کی ضرورت نہیں _
اور دوسرا بھی کوئی بچہ ان کھلونوں سے کھیلنا چاہتا ہے تو بہتر ہے کہ ماں باپ بچے کو نرمی اور پیار سے تشویق کریں کہ وہ کچھ دیر کے لیے کھلونے دوسرے بچے کو دے دے تا کہ وہ ان سے کھیل سکے _ اس طرح سے اس میں تعاون اور ایثار کا جذبہ پیدا کیا جا سکتا ہے _ باہمی تعاون کے جذبے کو فروغ دینے کے لیے ایسے کھلونے بچوں کو خرید کردیے جا سکتے ہیں کہ جن سے مشترکہ طور پر کھیلا جائے _ اور انہیں شوق دلانا چاہیے کہ مل جل کر کھیلیں _ اور مل جل کر فائدہ اٹھائیں _ مختصر یہ کہ ماں باپ کو چاہیے تریت کرتے ہوئے تمام مراحل بچوں کے لیے حد اعتدال کو محلوظ رکھیں احساس ملکیت کے اصول کی حمایت کریں اور خرابیوں کو روکیں ، کوشش کریں کہ اس احساس کو کنٹرول کریں اور صحیح راستے پر ڈالیں _ اور اس امر پر نظررکھیں کہ کہیں وہ مال و دولت کے اندھے عاشق اور زرپرست نہ بن جائیں _
سخاوت
جو دو سخا ایک اچھی اور پسندیدہ صفت ہے _ ایک سخی انسان مال و دولت جمع کرنے میں محنت کرتا ہے لیکن مال سے دل بستگی نہیں رکھتا _ وہ دولت چاہتا ہے لیکن خرچ کرنے کے لیے دوسروں کو دینے کے لیے _ وہ مال کو ذخیرہ اندوزی کے لیے جمع نہیں کرتا _ وہ اپنے خاندان کے ساتھ اچھی زندگی گزارتا ہے اور فلاحی کاموںمیں شرکت بھی کرتا ہے _ وہ محروم اور بے نوا لوگوں کی مدد کرتا ہے _ ایسے لوگ اپنے مال سے صحیح استفادہ اٹھاتے ہیں _ کنجوس شخص مال کو جمع کرنے اور ذخیرہ اندوزی کے لیے اکٹھاکرتا ہے ، خرچ کرنے کے لیے نہیں اس سے نہ وہ خود فائدہ اٹھاتا ہے اور نہ اس کا خاندان _ نہ ہی دل اسے راہ خیر میںخرچ کرنے کو چاہتا ہے _ ایسا ذخیرہ اندوز شخص ایک ایسا ملازم ہے جو بغیر خواہش کے مال ورثاء کے لیے اکٹھاکرتاہے _
اسلام نے بخل کی مذمت اور سخاوت کی تعریف کی ہے _
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں:
سخاوت ایمان کا حصّہ ہے اور ایمان بہشت میں لے جاتا ہے _ (1)
نبی اکرم (ص) فرماتے ہیں:
سخاوت ایک ایسا شجر بہشت ہے کہ جس کی شاخیں زمین تک پہنچی ہوئی ہیں _
--------
1_ جامع السعادت ، ج 2 ، ص 113
جس نے بھی ان میں سے کوئی ایک شاخ پکڑلی وہ اسے جنت تک لے جائے گی _ (1)
پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں:بہشت اہل سخاوت کا گھر ہے _ (2)
پیغمبر اسلام (ص) فرماتے ہیں:اللہ جوّاد اور سخی ہے اور وہ سخاوت کو پسند کرتا ہے (3)
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و الہ و سلم فرماتے ہیں:
''بخل وہ درخت ہے کہ جو آتش دوزخ میںاگتا ہے _ اور کنجوس لوگ دوزخ میں جائیں گے '' _ (4)
پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں:''مومن کے لیے مناسب نہیں کہ وہ بخیل اور بزدل ہو '' _ (5)
جو د وبخشش دلوں اور محبتوں کوانسان کی طرف جذب کرلیتے ہیں ، لوگ ایک شخی شخص کو پسند کرتے ہیں اس کا احترام کرتے ہیں اور اس کی عزت کرتے ہیں _ جو د و بخشش سے دلوں کو تسخیر کیا جا سکتا ہے اور ان پہ حکومت کی جاسکتی ہے _
پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:سخی شخص اللہ کے بندوں اور بہشت کے نزدیک ہے اور آتش دوزخ سے دور ہے _ اور بخیل انسان خدا سے دور ہے اور انسانوں سے بھی دور ہے ،
----------
1_ جامع السعادات ، ج 2، ص 113
2_ جامع السعادات ، ج 2، ص 114
3_جامع السعادات ، ج 2، ص 113
4_جامع السعادات ، ج 2، ص 110
5_جامع السعادات ، ج 2، ص ص 111
بہشت سے دور ہے ، لیکن آگ سے نزدیک ہے _ (1)
بخیل شخص اپنے اموال سے واجب حقوق ادا نہیں کرتا اور اس وجہ سے بھی وہ عذاب اخروی کا حقدار ہوگا سخاوت انسان کی دنیا و آخرت کو آباد کرتی ہے اور بخل انسان کی دنیا و آخرت کو تباہ کردیتا ہے جو دو سخا کی بنیاد دیگر تمام اچھی صفات کی طرح سے فطری ہے لیکن اسے پروان چھڑھانا بہت حد تک ماں باپ کے اختیار میں ہے _ یہ درست ہے کہ ہر بچہ ایک خاص مزاج رکھتا ہے ، بعض مزاج جود و عطا کے لیے زیادہ تیار ہوتے ہیں اور بعض بخل اور کنجوسی کے لیے زیادہ تیار ہوتے ہیں _ لیکن بہر حال ماں باپ کی تربیت بلا شک بہت اہم اثرابت مترتب کرتی ہے _ ماں باپ اگر باتدبیر اور داناہوں تو وہ بخل کے اسباب و عوامل کو روک سکتے ہیں اور بچوں کی طبیعت ہیں جودو سخا کی پرورش کر سکتے ہیں _
جو چیز ان میں سے زیادہ اثر رکھتی ہے وہ ماں باپ کا کردار ہے _ ماں باپ بچے کے لیے نمونہ عمل اور سرمشق ہیں _ اگر ماں باپ سخی ہوں خود خرچ کرنے والے ہوں اور نیک کاموں میں شرکت کرنے والے ہوں تو ان کے بچے بھی ماں باپ کا کردار دیکھیں گے اور ان کی تقلید کریں گے _ او ررفتہ رفتہ ان کے ندر بھی اس کی عادت پڑ جائے گی _ اس کے برعکس اگر والدین بخیل اور کنجوس ہوں تو ان کے بچے بھی زیادہ تر انہیں کا نمونہ اپنائیں گے اور کنجوسی کے عادی بن جائیں گے _ اخلاق کو پروان چڑھانے میں عادت بہت کردار ادا کرتی ہے _ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:'' اپنے نفس کو بخشش کا عادی بناؤ اور ہر خلق میں سے بہتر کا انتخاب کرو کیونکہ خوبی عادت کی شکل اختیار کر لیتی ہے _ (2) حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:''سخاوت اچھی عادتوں میں سے ہے '' (3)
-----------
1_ مہجة البیضاء ، ج 3 ، ص 248
2_ بحار، ج 77، ص 213
3_ غرر الحکم ، ص 17
حضرت صادق علیہ السلام نے فرمایا:
''انان کی گنہکار ی کے لیے یہی کافی ہے وہ اپنے خاندا کے لیے کچھ خرچ نہ کرے اور اسے محروم رکھے'' (1)
ماں باپ بچے میں سخاوت اور بخشش کے جذبے کو فروع دینے کے لیے مندرجہ ذیل طریقوں سے استفادہ کرسکتے ہیں _
1_ بچوں سے کہیں کہ جو چیزوں ان کی ہیں ان میںسے کچھ ماں باپ کو یا بہی بھائی کو دے دیں اور جب ایسا کریں تو ان کی تعریف و ستائشے کریں _ اور ان کا شکریہ ادا کریں تا کہ آہستہ آہستہ انہیں سخاوت کی عادت پڑجائے _ البتہ اس امر کی طرف توجہ رکھیں کہ ممکن ہے شروع شروع میں یہ عمل بچوں کے لیے مشکل ہو _ لہذا یہ علم کبھی کبھی اور کم مقدار میں ہونا چاہیے _ اور اس میں زبردستی بھی نہ کی جائے کہیں الٹ نتیجہ نہ نکل آئے اور بچے سرکشی نہ کرنے لگیں _
2_ کبھی کبھی بچوں سے کہیں کہ وہ اجازت دیں کہ ان کے کھلونوں سے دوسروے بچے کھیلیں _ اسی طرح انہیں نصیحت کریں کہ ان کے پاس جو کھانے کی چیزیں ہیں وہ اپنے دوستوں اور ہم جولیوں کو دیں اور اس امر پر ان کو شاباش بھی دیں _
3_ کبھی کبھی انہیں نصیحت کریں کہ وہ اپنے جیب خرچ میں سے کچھ غریب لوگوں کو دیں _ یا کسی کار خیر میں صرف کریں _ اور اگر یہ کام ایک دائمی شکل اختیار کرے تو اس کا اثر بہتر ہوگا _
4_ اپنے بچوں سے کہیں کہ وہ اپنے دوستوں کی گھر پہ دعوت کریں اور پھر ان کی خاطر تواضع کریں _
5_ آپ ہر روز کچھ پیسے بچے کو دے سکتے ہیں کہ وہ کسی غریب کو دے یا کار خیر میں صرف کرے _
----------
1_ رسائل ، ج 15، ص 521
6_ غریب لوگوں کی مشکلات اور ان کی زندگی کی دشواریوں کو بچوں سے بیان کریں ممکن ہو تو انہیں اپنے ہمراہ ہسپتال ، یتیم خانوں اور غریب مسکین اور گھروں میں لے جائیں اور ان کی موجودگی میں ضرورت مند وں کی مدد کریں _
اس طریقے سے آپ بچوں کے احساسات کو تحریک کر سکتے ہیں او ران کی طبیعت میں سخاوت کا جذبہ پیدا کرسکتے ہیں تا کہ آہستہ آہستہ وہ قوی ہوجائے اور ایک عادت اور اخلاق کی شکل اختیار کرے البتہ ہم اس بات کے مدعی نہیں ہیں کہ اس طرح کے کام سب بچوں پر سو فیصد کامیاب اثر ڈالیں گے اور سب کے اندر جو د و سخا کا جذبہ پیدا کردیں گے _ آپ کو بھی روشن امید نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ ہر شخص کی ایک خاص استعداد ہوتی ہے اور خصوصی مزاج ہوتا ہے کہ شاید جسے انہوں نے ماں باپ سے یابزرگوں سے درثے میں پایا ہو _ لیکن یہ دعوی یقینا کیا جا سکتا ہے کہ بچوں کے لیے ماں باپ کی تربیت اور کوشش بے اثر نہیں رہے گی _ اور کچھ نہ کچھ ان پر ضرور اثر کرے گی _ کامل نتیجہ نہ بھی نکلے تو بھی بے نتیجہ تو نہیں رہے گی _
ایک خاتون اپنے ایک خطر میں لکھتی ہے :
... ایک پر فضا مقام پر ہمارا ایک باغ تھا اس میں مختلف قسم کے پھل تھے امی او او رہماری دادی اماں کچھ پھل حاجت مندوں کو بھیجی تھیں _ جو خدمت گزار ہوتے ان پر ان کی خصوصی عنایت ہوتی تھی _ اور یہ کام وہ میرے ذریعے سے انجام دیا کرتی تھی _ چھ ، سات سال کی عمر سے مجھے اس کام کی عادت پڑگئی ، گاؤں میں دو نابینا خاندا ن تھے _ میرا دل ان کی حالت پہ بہت کڑھتا تھا _ ہر روز جب میں ان کے گھر جاتی ان کا ہاتھ پکڑتی ،کمرے سے انہیں صحن میں لے آتی اور پھر صحن سے انہیں کمرے میں لے جاتی اور چشمے سے ان کے برتن بھی کر ان کے کمرے میں رکھ دیتی وہ میرے لیے دعا کرتے جب مین نے یہ بات اپنی امّی ابو کو بتائی وہ بہت خوش ہوئے _ میرے ابو نے یہ شعر پڑھا
شکر خدای کن کہ موفق شدی بہ خیر
زانعام و فضل خود نہ معطل گذاشتت
میری امی نے کہا جو نابینا ہوجا ئے وہ واقعاً ہی مستحق ہے _
وہ ہمیشہ اچھے کاموں میں مجھے تشویق کرتے _ میں اپنا جیب خرچ جمع کرتی اور فقرا کو دے دیتی آہستہ آہستہ اس کام کی مجھے عادت ہوگئی _ اس وقت میں سماجی خدمت کے ایک ادارے میں :ام کرتی ہوں اور چودہ خاندانوں کی سرپرستی کر رہی ہوں _
میرے طرز علم نے میرے بچے پر بھی اچھا اثر کیا ہے ایک دن کہنے لگا کہ ہر روز مجھے کچھ دیا کریں مں نے کہا کیا کروگے ؟ او رکتنے پیسے کہنے لگا ہر روز دو روپے مین چاہتا ہوں جمع کروں ہر روز میں اسے دو روپے دے دیتی ہوں _ اور کہتی دعاین رکھنا فضول خرچی نہ کرنا _ چند دنوں بعد وہ اپنا گلاّلے آیا اس میں اڑتالیس روپے تھے کہنے لگا امّی مجھے اجازت دیں یہ پیسے میں فلان نابینا کو دے آؤں وہ ہمارے سکول کے راستے میں رہتا ہے _ مجھے بے حد خوشی ہوئی اور میں نے بے اختیار اس کو چوم لیا _
نیک کاموں میں تعاون
بعض کا خصوصاً اہم اور بڑے کام اکیلا شخص نہیں کرسکتا _ البتہ دوسروں کے تعاون اور ہمکاری سے اہم اور بڑے بڑے کام انجام دیے جا سکتے ہیں _ اگر انسان اکیلا اور تنہا ہی کام کرنا چاہے تو بہت سے اہم اور نہایت مفید کام کرنے سے محروم رہ جائے گا اور وہ کام پڑے رہ جائیں گے ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی شخص تنہا سماجی بھلائی کا کوئی ادارہ بنا سکے مثلاً ہسپتال، شفاخانہ ، سکون ، مسجد ، یتیم خانہ ، لائبریری اور تربیت گاہ و غیرہ _ بلکہ بیشتر اوقات اکیلا شخص کسی ایسے ادارے کا نظام بھی نہیں چلا سکتا _ البتہ دوسروں کے تعاون اور مدد سے ایسے اور زبادہ اہم کام انجام دیے جا سکتے ہیں _ کسی قوم میں امداد باہمی اور مل جل کر کام کرنے کا جذبہ جتنا قوی ہو گا اتنا ہی ان کا اجتماعی امور کانظام بہتر چل سکے گا _
اس اعتبار سے دین اسلام ایک کامل اجتماعی نظام ہے کہ جو لوگوں کو باہمی طور پر ایک دوسرے سے تعاون کی دعوت دیتاہے _اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے _
''تعانوا علی البر و التقوی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان ''
''ایک دوسرے سے بھلائی اور پرہیزگاری کے کاموں میں تعاون کریں اور گناہ اور سرکشی کے کاموں میں تعاون نہ کریں'' (1)
--------
1_ سورہ مائدہ ، آیہ 4
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:
''حق کے قیام کے لیے تعاون کرنا امانت اور دیانت ہے '' (1)
تعاون اور ہمکاری کا جذبہ بچپن سے ہی پیدا ہونا چاہیے _ خوش قسمتی سے انسان فطری طور پر معاشرتی مزاج رکھتا ہے _ لیکن اس سے صحیح طریقے سے استفادہ کرنا چاہیے جو ماں باپ اپنے بچوں کی تربیت کے خواہش مند ہیں وہ مختلف طریقوں سے بچوں کے اندر سے یہاں تک کہ مناسب کھیلوں سے تعاون اور ہمکاری کا جذبہ پیدا کرسکتے ہیں اور ان کی توجہ امور خیر کی طرف جذب کرسکتے ہیں اور اس خداداد فطرت کو پروان چڑھا سکتے ہیں _ مثلاً بچوں کے لیے مناسب کھلونے خرید کر ان کو باہم مل جل کر ایسا ہسپال یا سکول یا پل بنانے کی دعوت دیں بچوں کے لیے وہ ایک مشترک گلّا بنا سکتے ہیں اور ان سے کہہ سکتےہیں کہ اپنے جیب خرچ میں سے کچھ پیسے گلّے میں ڈالیں _ کچھ عرصہ بعد نکالیں اور ماں باپ کی نگرانی میں امور خیر میں صرف کریں _ یہ بھی ہوسکتا ہے وہ پیسوں سے پھل یا مٹھائی خریدیں اور ماں باپ سے مل کر یا تنہا بیماروں کی عیادت کے لیے جائیں _ وہ غریب لوگوں کی مدد بھی کر سکتے ہیں _ ماں باپ انہیں کچھ پیسے دے سکتے ہیں تا کہ وہ طے شدہ طریقے سے یا کبھی کبھی کسی امور خیر کے ادارے کو دیں یا کسی عمومی کتاب خانے کے لیے کتاب خریدیں ، بچوں کو یہ تجویز بھی دی جا سکتی ہے کہ وہ خود سے ایک کمیٹی بنائیں اور اس کی میٹینک کریں اور کسی اچھے کام کے لیے کوشش کریں _ اور اس سلسلے میں ان کی مدد کی جا سکتی ہے _
اگر ماں باپ سماجی خدمت کے کسی ادارے میں شرکت کرتے ہوں تو اپنے بچوں کو بھی ان میں شریک کرسکتے ہیں اور کچھ رقم ان کے حوالے کرسکتے ہیں کہ وہ خود سے اس ادارے کو دیں اور اس کے با قاعدہ ممبر بن جائیں _
----------
1_ غرر الحکم ص 48
انسان دوستی اور بچّے
سب لوگ اللہ کے بندے ہیں _ سب کا ماں باپ ایک ہے اور در اصل ہر انسان ایک خاندان کا فردہے _ اللہ تعالی نے انہیں پیدا کیا ہے اور انہیں پسند کرتا ہے _ ہر کسی کو روزی دیتاہے ان کی ضروریات کو اللہ نے پیداکیا ہے اور پھر انہیں ان کے اختیار میں دیا ہے _ عقل اور طاقت دی ہے تا کہ اللہ کی نعمات سے استفادہ کریں _ اللہ نے ان کی روح کو کمال تک پہنچانے اور ان کی اخروی سعادت کی طرف بھی توجہ فرمائی ہے ان کی ہدایت کا سامان بھی فراہم کیا ہے ان کی ہدایت و راہنمائی کے لیے انبیاء کو بھیجا ہے _ اماموں اور دنی رہبروں کو مامور کیا ہے تاکہ وہ انسانوں کی سعادت اور انھیں کمال تک پہنچانے کی کوشش کریں _ یہ سب اس لیے ہے کہ اللہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے اور سب کی بھلائی اور سعادت کا آرزومند ہے _ اس نے سب انسانوں سے چاہا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے ہمدرد ، مہربان ، خیرخواہ خوں اور ایک دوسرے کے لیے سودمند بنیں _ ایک دوسرے کے ساتھ نیکی کریں اور ایک دوسرے کی ضروریات پوری کریں _ مشکلوں اور مصیبتوں میں ایک دوسرے کی فریاد کو پہنچیں _ انسانوں کے خدمتگزار بنیں اور سب کے فائدے کو ملحوظ خاطر رکھیں _ انسان کی خدمت گزار اور خیرخواہ اللہ کے خاص بندے ہوتے ہیں اور بلند مرتبے کے حامل ہوتے ہیں _ ان لوگوں کے لیے بہت زیادہ جزا مقرر کی گئی ہے _ دین اسلام کہ جو ایک مقدس اجتماعی نظام ہے اس نے اس بارے میں توجہ دی ہے اور ان امور کو سب کی ذمہ داری قرار دیا ہے _
پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا:
'' سب بندے اللہ کا رزق کھاتے ہیں _ پس انسانوں میں سے اللہ کے نزدیک محبوب ترین وہ ہے جو انسانوں کو فائدہ پہنچائے یا کسی خاندان کو خوش کرے '' _ (1)
امام صادق (ع)نے فرمایا:'' خدا فرماتا ہے کہ لوگ میرارزق کھاتے ہیں اور بندوں میں سے میرے نزدیک محبوب ترین وہ ہے کہ جو میرے بندوں کے لیے زیادہ ہمدرد ہو او ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے زیادہ کوشش کرے '' _ (2)
رسول خدا سے پوچھا گیا:کہ لوگوں میں سے اللہ کے نزدیک محبوب ترین کون ہے، آپ نے فرمایا:وہ کہ جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ فائدہ رساں ہو _ (3) پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:دین کے بعدسب سے اہم دانائی لوگوں سے محبت اور نیکی ہے ہر کسی سے اگر چہ وہ اچھا ہو یا برا ہو _ (4)
پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا: '' من اصبح و لم یهتمّ بامور المسلمین فلیس بمسلم:''
جو مسلمان کے امور کے اصلاح کی فکر میں نہ ہووہ مسلمان نہیں ہے '' (5)
حضرت صادق علیہ السلام نے فرمایا:
------------
1_ بحار، ج 74، ص 317
2_ بحار، ج 74، ص 337
3_ بحار، ج 74، ص 339
4_ بحار ، ج 74، ص 392
5_ بحار، ج 74، ص 337
اللہ کے خاص بندے وہ ہیں کہ لوگ اپنی ضروریات کے وقت ان کی پناہ میں آئیں _ یہی وہ لوگ ہیں جو قیامت میں اللہ کی امان میں ہوں گے _ (1)
رسول اکرم (ص) نے فرمایا:''جو شخص کسی مسلمان کی فریا د سنے اور اس کا جواب نہ دے وہ مسلمان نہیں ہے '' _ (2)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:''اللہ اپنے بندوں پر مہربان ہے اور وہ مہربان لوگوں کو دوست رکھتا ہے ''_ (2)
پیغمبر اکرم اورائمہ اطہار (ع) سے ایسی سینکڑؤں احادیث مروی ہیں کہ جو حدیث کی کتب میں موجود ہیں _
شارع مقدس اسلام نے ایک وسیع نظر سے پورے انسانی معاشرے کو اور بالخصوص اہل ایمان کے معاشرے کو ایک کائی کے طور پر جانا ہے اور اپنے پیروکاروں سے خواہس کی ہے کہ وہ سب کی بھلائی اور سعادت کی کوشش کریں اور سب کےخیرخواہ بنیں _ اسلام سو فیصد ایک معاشرتی دین ہے اور وہ افراد کی بھلائی کو معاشرے کی بھلائی سمجھتا ہے اور وہ ہر طرح کی خود غرضی کے خلاف جہاد کرتا ہے _ ایک مسلمان اور دیندار شخص خود غرض نہیں ہوسکتا اور یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ دوسروں کے مفادات کو نظر انداز کردے _
انسان دوستی ایک بہت ممتاز انسانی صفت ہے اور یہ انسان کے مزاج میں داخل ہے البتہ تربیت کے ذریعے سے اسے کمال تک پہنچایا جا سکتا ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ختم بھی ہوجائے_ یہ عادت بھی تمام پسندیدہ انسانی صفات کے مانند ہے کہ جس کی بنیاد بچپن ہی میں رکھی جانا چاہیے _ ماں باپ کا فریضہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو انسان دوست مہربان اور خیرخواہ
--------
1_ بحار ، ج 74، ص 318
2_ بحار، ج 74، ص 339
3_ بحار، ج 74، ص 394
بنائیں _ اگر ماں باپ خود مہربان اور خیرخواہ ہوں اور خیر خواہی کے آثار ان کی گفتار و کردار میں نظر آئیں تو وہ اپنے بچوں کو بھی مہربان اور انسان دوست بنا سکتے ہیں _
فرض شناس اور آگاہ ماں باپ کبھی کبھی اپنے بچوں کے سامنے ان کی حالت بیان کر سکتے ہیں جو محتاج ہوں ، غریب ہوں ،ناتوان ہوں اور ممکن ہو تو ایسے لوگوں سے انہیں ملوا بھی سکتے ہیں اور بچوں سے کہہ سکتے ہیں یہ سب انسان ہیں اور ہمارے بھائی ہیں _ ان کے حقوق پامان کیے گئے ہیں یہ محروم و بے نوا ہیں _ ہمیں چاہیے کہ ہم ان کا دفاع کریں اور ان کے پامان شدہ حقوق انہیں واپس دلوائیں اور اب وقتی طور پر جو کچھ ہمارے بس میں ہے ان کی مدد کریں _ وہ بچوں کی موجودگی میں بلکہ خود بچوں کے ذریعے سے ایسے افراد کی مدد کریں _ ماں باپ کبھی کبھی ظالموں کے ظلم اور مظلوموں کی غم ناک حالت بچوں سے بیان کریں نیز ایک مسلمان انسان کی اس بارے میں ذمہ داری بھی انہیں بتائیں _ وہ بچوں کو ہسپتال اور شفاخانوں میں بھی لے جا سکتے ہیں اور محتاج بیماروں کو انہیں دکھا سکتے ہیں _ اور اس سلسلے میں اسلام ذمہ داریاں انہیں بیان کرسکتے ہیں اور اپنی طاقت کے مطابق ان کی مدد بھی کرسکتے ہیں ننّعے یتییم بچے کہ جن کے سرپہ کوئی نہ ہو کی حالت بھی وہ بچوں کے سامنے بیان کرستے ہیں اور ممکن ہو تو ان سے ملوا بھی سکتے ہیں _ اور بچوں کو بتا سکتے ہیں کہ ان کی حمایت اور مدد کس قدر ضروری ہے _
عدل و مساوات
چند افراد پر مشتمل خاندان ایک چھوٹے سے ملک کی طرح ہے اور ماں باپ اس چوٹے سے ملک کو چلاتے ہیں _ جیسے ایک ملک کا اچھا نظام عدل و مساوات کے بغیر ممکن نہیں ایک گھر کے نظام کے لیے بھی عدل و مساوات ضروری ہے _ صاف دلی اور خلوص ، محبت و الفت ، اعتماد و حسن ظن ، آرام و راحت ، عدل و مساوات کے ماحول میں ہی میسّر آسکتی ہے _ ایسے ہی ماحول میں صحیح بچے پرورش پاسکتے ہیں اور انکی داخلی صلاحیتیں نکھر سکتی ہیں اور وہ ماں باپ سے عملی طور پر عدل و مساوات کا درس لے سکتے ہیں _ جیسے بڑے عدل وانصاف کے احتیاج مند ہیں ایسے ہی بچّے بھی عدل ومساوات کے پیاسے ہیں_
حضرت صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
ایک پیاسے انسان کے لیے جیسے ٹھنڈا اور اچھا پانی بہت اچھا لگتا ہے اس سے کہیں زیادہ لوگوں کے لیے عدل وانصاف کا ذائق شیرین تر اورعمدہ تر ہوتا ہے _ کاموں کو چلانے کے لے اگر چہ کوئی چھوٹا سا کام ہی کیوں نہ ہو عدل سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے _ (1)
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
تین طرح کے لوگ قیامت میں خدا کے قریب ترین ہوں گے
--------
1_ اصول کافی ، ج 2، ص 147
اوّل _ وہ کو جو غصّے کے عالم میں اپنے ما تحتوں پہ ستم نہ کرے _
دوم _ کہ جو دوافرادمیں صلح کے لے ان کے پاس آئے جائے لیکن حق کی ذرا بھی خلاف ورزی نہ کرے _
سوم حق کہے اگر چہ خود اس کے اپنے نقصان میں ہو '' _ (1) اللہ تعالی قرآن میں فرماتاہے :
''انّ الله یامر بالعدل و الاحسان''
''اللہ عدل او ر نیکی کا حکم دیتا ہے'' (2)
عادل اور منصف ماں باپ سب چوں سے ایک جیسا سلوک کرتے ہیں _ اور کسی کو دوسرے پر ترجیح نہیں دیتے ، بیٹی ہو یا بیٹا _ خوبصورت ہو یا بدشکل ، بڑاہو یا چھوٹا با صلاحیت ہو یا کم استعداد ، جسمانی طور پر سالم ہو یا غیر سالم سب کو اپنی اولاد سمجھتے ہیں اور ان کے درمیان تفاوت کے قائل نہیں ہوتے ، مہر بانی ، اظہار محبّت ، پیار ، احترام ، کھانے پینے لباس ، جیب خرچ ، گھر میں کاموں کی تقسیم اور زندگی کے باقی تمام امور میں بجوں کو برابر سمجھتے ہیں اور سب سے ایک طرح کا سلوک کرتے ہیں _
پیغمبر اکر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا :عدم مو جودگی میں بھی اپنی اولاد میں عدل کو ملحوظ رکھیں _ اگر تم یہ چاہتے ہو کہ تمہاری اولادتم سے احسان،محبّت اور عدالت کے ساتھ پسش آئے تو وہ بھی تم سے اسی بات کی توقع رکھتے ہیں ( 3)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ جو اپنے ایک بچے سے پیار کر رہاتھا اوردوسرے سے نہیں تو آپ نے اس سے فرمایا :
--------
1_ بحار ، ج 75 ، ص 33
2_ سورہ نحل ، آیہ 90
3_ مکارم الاخلاق ، ج ، ص 252
تم عدل ومساوات کا خیال کیوں نہیں رکھتے ( 1) ایک شخص آنحضرت صلی اللہ علمیہ و آلہ وسلم کی خدمت میٹ بیٹھا تھا کہ ا س کا بیٹا و ہاں پر آگیا _ اس شخص نے اپنے بیتے کو چوم کراپنے زانو پر بٹھا لیا _ تھوڑی دیر کے بعد اس کی بیٹی آئی تو اس شخص نے بچی کو اپنے، سامنے بٹھا لیا _ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا :
تم نے اپنی اولادکے در میان عدالت کاو ربرابری کا لحاظ کیوں نہیں رکھّا ( 2)
حضرت علی علیہ السّلام نے فرمایا :عدالت و مساوات کی پا سداری بہترین سیاست ہے ( 3 )
ایک عورت اپنے دو چھو ٹے بچوں کے ہمراہ زوجہ رسول حضرت عائشےہ کے پاس آئی _ حضرت عائشےہ نے اس عورت کو تین کھجوریں دیں _ان بچوں کی ماں نے ہر بچے کو ایک ایک کھجورد ے دی پھر تیسری کھجور کے بھی دوحصّے کرکے آدھی آدھی دونوں کو دے دی _ جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم گھر میں تشریف لائے تو حضرت عائشےہ نے انہیں واقعہ سنا یا _
رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے فرمایا :
کیا تجھے اس عورت کے عمل پر حیرت ہوئی ہے ؟ اللہ عدالت و مساوات کا خیال رکھنے کی بناء پر اس عورت کو جنّت میں داخل کرے گا ( 4)اگر ماں باپ اپنی اولاد کے ساتھ عادلا نہ بر تا ؤ کے بجائے امتیازی طرز عمل کامظاہر ہ کریں اور ایک کو دوسرے پر تر جیح دیں تو ان بچوں پر اخلاقی لحاظ سے نا قابل تلا فی برے اثرات پڑیں گے _ مثلا
1_ گھر کے ماحول میں بچے عملی طور پر ماں باپ سے نا انصافی کا سبق سیکھیںگے اور
----------
1_ مکارم الاخلاق ، ج 1 ، ص 252
2_ مجمع الزوائد ، ج 8 ، ص 156
3_ عزر الحکم ص 64
4_ سنن ابن ماجہ ، ج 2 ، ص 1210
رفتہ رفتہ اس کے عدی ہو جائیں گے _
2_ جن بچوں سے ن انصافی کی گئی ہو ماں باپ کے بار ے میں ان کے دل میں کینہ پیداہو جاتا ہے _ ممکن ہے وہ کسی ردّ عمل کا مظاہرہ کریں اور نا فرمانی و سرکشی پر اتر آئیں
چ3_ غیر عادلانہ سلوک سے بہن بھا ئیوں کے در میان حسد اور دشمنی پیدا ہو جائے گی اور وہ ہمیشہ لڑتے جھگڑ تے رہیں گے ممکن ہے وہ کسی سخت ردّ عمل کا اظہار کریں اور کسی مسئلے پر شرارت اور زیادتی کے مرتکب ہوں
4_ وہ بچے جن سے نا انصافی کی گئی ہے ، احساس محرومی و مظلومی کا شکار ہو جاتے ہیں اور بات ان کے دل میں بیٹھ جاتی ہے _ ممکن ہے یہی بات ان کی پر یشانی ، اظطراب ، بے چینی ، اعصاب کی کمزوری اور متعد د نفسیاتی بیماریؤن کا باعث بن جائے
ان تمام قباحتوں کے ذمہ دار وہ ماں باپ ہیں جنہوں نے عدل و مساوات کے لازمی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہو ئے فرق رو ارکھا ہو _
البتہ ماں باپ اپنی تمام اولاد کے ساتھ ایک جیسا سلو ک نہیں کرسکتے محتلف عمر میں بچوں کی ضروریات مختلف ہوتی ہیں _مختلف اد وار اور مختلف جنس ہونے کے اعتبار سے بھی ان کی ضروریات ایک جیسی نہیں ہوتیں_ عدل و مساوات کا قانون بھی ایسے مواقع پر ایک جیسے سلوک کا تقاضا نہیں کرتا _ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ بڑے بچّے کو گود میں لیا جائے اور اس سے دودھ پیتے بچے کی طرح پیار کیا جائے؟ اسی طرح کیا ہو سکتا ہے کہ تین سالہ بچے کو اتنا ہی جیب خرچ دیا جائے جتنا اٹھارہ سالہ بچے کو دیا جاتا ہے ؟ کیا بیٹی بھی بیٹے کی طرح آزادی سے آنے جانے اور ملنے جلنے کا حق رکھتی ہے عدالت و مساوات بھی اس بات کا تقاضا نہیں کرتی اور ہم بھی اس بات کا مشورہ نہیں دیتے _بہر حال ماں با پ کو چاہیے کہ وہ پوری طرح سے عقل و تدبیر کے ساتھ ایسے سلوک کا انتخاب کریں کہ جس ان کے بچے نا انصافی کا احساس نہ کریں یہ بات حسد کی بحث میں بیان کی گئی ہے اس حصّے کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے _
ایک صاحب اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں :
... بچپن کی یہ یادتو بہت ہی تلخ ہے کہ جسے میں فراموش نہیں کرسکتا _ ابو میرے اور بھائی کے درمیان فرق روار کھتے تھے اس کی پوری خواہشوں پر عمل کرتے اور میری طرف اعتنا نہ کرتے _ اس کا احترام کرتے اور میری توہین کرتے _ اسے مجھ سے زیادہ پیار کرتے اور اس پر نواز شیں کرتے _ نتیجہ یہ ہوا کہ ابو اور بھائی مجھے بہت برے لگنے لگے _ میرا دل چاہتا کہ اس غیر انسانی سلوک پر ابوسے بدلہ لوں لیکن یہ کام میرے بس میں نہ تھا _ پریشانی کے مارے ہر وقت میں تنہا تنہا رہتا _ مہمان خانے میں چلا جاتا _ دیواروں میں کہیں تھوکتا اور انہیں خراب کرکے رہتا _ شیشے توڑدیتا _ اورکیا کرتا؟ کچھ اورکر نہیں سکتا تھا _ لیکن ابو کو اس بات کا خیال بھی نہ تھا اور انہیں ہرگز پتہ نہ تھا کہ میں یہ نقصان ان کو پہنچا رہا ہوں _
ایک خاتون اپنی ڈائری میں لکھتی ہیں:
... ہمارے قریبی عزیزوں میں سے ایک خاتون کو دو بیٹیاں تھیں _ ایک زیادہ لائق تھی اور دوسری کچھ کم _ دونوں سکول جاتیں _ بڑی بیٹی جو زیادہ لائق تھی اور دوسری کچھ کم _ دونوں سکول جاتیں _ بڑی بیٹی جو زیادہ با صلاحیت نہ تھی کم نمبر لاتی اور چھوٹی زیادہ نمبر لاتی _ ماں جس کے پاس بھی بیٹھتی چھوٹی کی تعریف کرتی رہتی اور بڑی کو برا کھلا کہتی _ چھوٹی کو زیادہ نوازتی ، شاباش کہتی اور بڑی سے کہتی تمہارے سر میں خاک کیا فضول بچی ہو _ پیسے حرام کرتی ہو اور سبق یاد نہیں کرتی ہو _ کھانا کھانے اور لباس بدلنے کا تمہیں کیا فائدہ _ بدبخت ، سست آخر کیا بنوگی ،
وہی بڑی بیٹی اب شادی شدہ ہے _ اس کے چند بچے ہیں _ وہ ایک معمول کی خاتون نہیں ہے _ بیماری لگتی ہے _ احساس کمتری کا شکار ہے چپ چپ او رڈری ڈری رہتی ہے _ کسی دعوت میں ہو تو کونے میں جا بیٹھتی ہے اور بات نہیں کرتی _ جب میں اس سے کہتی ہوں کو تم بھی کچھ کہو _ تو آہ بھرتی ہے _ کہتی ہے کیا کہوں اس کی شادی سے پہلے کی بات ہے کہ میں ایک مرتبہ اسے اعصاب کے ڈاکٹر کے پاس لے گئی _
242
ڈاکٹر نے معانہ اور اس سے گفتگو کے بعد کہا یہ صاحبہ مریض نہیں ہے بلکہ اس کے ماں باپ مریض ہیں جنہوں نے اس بے گناہ بیٹی کو ان دنوں تک پہنچایا ہے _
ایک دن ڈاکٹر نے اس سے پوچھا کہ کھانا پکالیتی ہو وہ رونے لگی اور اس نے کہا پکالیتی ہوں لیکن جب بھی کھانا پکاتی ہو ں تو امّی ابو پرواہ نہیں کرتے کہتے ہیں ماشاء اللہ اس کی بہن خوب کھانا پکاتی ہے _
بچّون کا احترام
بچہ بھی ایک انسان ہوتا ہے اور ہر انسان کو اپنے آپ سے محبت ہوتی ہے _ اس کی خواہش ہوتی ہے کہ دوسرے اس کی قدر جانین اور اس کا احترام کریں _ دوسرے جب اس کا احترام کرتے ہیں تو وہ اسے اپنی بڑائی سمجھتا ہے اور اسے ایک طرح کی قدردانی سمجھتا ہے _ جن ماں باپ کو اپنی اولاد سے محبت سے انہیں چاہیے کہ ہمیشہ ان کا احترام ملحوظ رکھیں اور ان کے وجود کو اہمیت دیں _ بچے کی تربیت میں اس کا احترام اہم عوامل میں سے شمار کیا جاتا ہے _ جس بچے کو عزت و احترام میسّر ہو وہ بزرگوار، شریف اور باوقار بنتا ہے _ اور اپنے مقام کی حفاظت کے لیے برے کاموں سے بچتا ہے _ وہ کوشش کرتا ہے کہ اچھے اچھے کام کرکے دوسروں کی نظر میں اپنے مقام کو اور بھی بڑھائے تا کہ اس کی زیادہ سے زیادہ عزت کی جائے _ جس بچے کا ماں باپ احترام کرتے ہوں وہ اپنے عمل میں ان کی تقلید کرتا ہے اور ماں باپ کا اور دوسرے لوگوں کا احترام کرتا ہے _ بچہ ایک چھوٹا سا انسان ہے اسے اپنی شخصیت سے پوری محبّت ہے _ توہین اور تحقیر سے آزردہ خاطر ہوجاتا ہے _ ماں باپ جس بچے کی توہین و تحقیر کرتے ہوں اس کے دل میں ان کے بارے میں کینہ پیداہوجاتا ہے اور جلد یا بدیر و ہ سرکش اور نافرمان بن جاتا ہے اور ان سے انتقام لیتا ہے _ نادان ماں باپ کہ بدقسمتی سے جن کی تعداد کم نہیں سمجھتے ہیں کہ بچون کا احترام ان کی تربیت کے منافی ہے _ ماں باپ کے شایان شان نہیں ہے _ کہتے ہیں کہ اگر ہم نے بچے کا احترام کیا تو وہ بگڑجائے گا _ اور پھر ہمارا احترام نہیں کرے گا _ وہ بچوں سے بے اعتنائی
اور ان کی بی احترامی کو ان کی تربیت کا ذریعہ شمار کرتے ہیں اس طرح وہ ان کی شخصیت کو کچل دیتے ہیں اور ان کے دل میں احساس کرمتری پیدا کردیتے ہیں _ جب کہ یہ روش تربیت کے حوالے سے بہت بڑا اشتباہ ہے اگر ماں باپ بچے کا احترام کریں تو اس سے نہ صرف یہ کہ ان کا مقام بچے کی نظر میں کم نہ ہوگا بلکہ اس طرح سے اس کے اندر بھی بزرگواری اور وقار کی روح پر وان چڑھے گی _ بچہ اسی بچپن سے سمجھنے لگتا ہے کہ ماں با پ اسے ایک انسان سمجھتے ہیں اور اس کی اہمیت کے قائل ہیں _ اس طرح سے جو کام معاشرے میں اچھے نہیں سمجھتے جاتے وہ ان سے بچتا ہے _ وہ اچھے کام کرتا ہے تا کہ اپنے مقام کو محفوظ رکھے _ یہ بات باعث افسوس ہے کہ ہمارے معاشرے میں بچوں کا جس طرح سے احترام ہونا چاہیے نہیں کیا جاتا اور انہیں خاندان کا ایک باقاعدہ جزوشمار نہیں کیا جاتا _ یہاں تک کہ دعوتوں میں بچے ماں باپ کے طفلی ہوتے ہیں انہیں باقاعدہ دعوت نہیں دی جاتی _ اور انہیں کسی نچلی جگہ پر یا کمرے کے دروازے کے ساتھ جگہ ملتی ہے اور ان کے لیے باقاعدہ پلیٹ، چمچہ و غیرہ پیش نہیں کیا جاتا _ آتے وقت اور جاتے وقت کوئی ان کا احترام نہیں کرتا _ گاڑی میں ان کے لیے مخصوص نشست نہیں ہوتی _ یا تووہ کھڑے ہوں یا ماں باپ کی گود میں بیٹھے ہوں _ محفل میں انہیں بات کرنے کاحق نہیں ہوتا اگر وہ بات کریں بھی تو کوئی ان کی سنتا نہیں بے احترامی سے بلایا جاتا ہے ، میل ملاقات اور بات چیت میں ان سے مؤدبانہ سلوک نہیں کیا جاتا _ ان کے لیے سلام خوش آمدید ، خداحافظ اور شکریہ نہیں ہوتا_ ان کی خواہش کی طرف کوئی توجہ نہیں کرتا _ گھریلو امو رمیں ان سے مشورہ نہیں لیا جاتا _ گھٹیا اور توہین آمیز کام کرنے کے لیے ان سے کہا جاتا ہے _
دین مقدس اسلام نے بچوں کی طرف پوری توجہ دی ہے اس نے بچوں کا احترام کرنے کا حکم دیا ہے _
رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
اپنی اولاد کی عزّت کرو اور ان کی اچھی تربیت کرو تا کہ اللہ تمہیں بخش دے _
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:
سب سے گھٹیا انسان وہ ہے جو دوسروں کی توہین کرے _ (1)
رسول اللہ ہمیشہ اور ہر جگہ بچوں سے محبت اور شفقت سے پیش آتے _ جب وہ سفر سے واپس آتے تو بچے ان کے استقبال کے لیے دوڑتے _ رسول اللہ ان سے پیار کرتے ، محبت کرتے اور ان میں سے بعض کو اپنے ساتھ سوار کرلیتے اور اپنے اصحاب سے بھی وہ کہتے کہ دوسروں کو وہ سوار کرلیں _ اور اس حال میں شہر کے اندر لوٹتے _
بچوں سے یہاں تک شیرخوار بچوں کی توہین سے بھی سختی سے پرہیز کرنا چاہیے _ ام الفضل کہتی ہیں _ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حسین علیہ السلام کو جب کہ وہ شیرخوار تھے مجھ سے لے لیا _ اور سینہ سے لگایا _ حسین علیہ السلام نے رسول (ع) کے کپڑوں پر پیشاب کردیا میں نے حسین (ع) کو رسول اللہ (ص) سے زبردستی لے لیا _ اس طرح سے کہ وہ رونے لگے رسول اللہ (ص) نے مجھ سے فرمایا _ ام الفضل آرام سے اس پیشاب کو پانی پاک کردے گا لیکن حسین علیہ السلام کے دل سے ناراضی اور ناراحتی کون دور کرے گا ؟ (3) ایک صاحب لکھتے ہیں :ماں باپ کی نظر میں میری کوئی اہمیت نہ تھی _ نہ صرف وہ میرا احترام نہ کرتے تھے بلکہ اکثر میری توہین اور سرزنش کرتے رہتے کاموں میں مجھے شریک نہ کرتے اور اگر میں کوئی کام انجام دیتا تو اس میں سے کپڑے نکالتے _ دوستوں کے سامنے یہاں تک کہ میرے دوستوں کے سامنے میری بے عزتی کر دیتے _ مجھے دوسروں کے سامنے بولنے کی اجازت نہ دیتے _ اس وجہ سے ہمیشہ میرے دل میں اپنے بارے میں احساس ذلت و حقارت رہتا _میں اپنے تئیں ایک فضول اور اضافی چیز سمجھتا _ اب جب کہ میں بڑا ہوگیا ہوں
------------
1_ بحار ، ج 104، ص 25
2_ غرر الحکم ، ص 189
3_ ہدیة الاحباب ، ص 176
اب بھی میری وہی کیفیت باقی ہے _ بڑے کام سامنے آجائیں تو میں اپنے آپ کو کمزور سمجھنے لگتا ہوں _ کاموں کی انجام وہی میں فیصلہ نہیں کرپاتا _ میں اپنے تئیں کہتا ہوں میری رائے چونکہ درست نہیں ہے اس لیے دوسروں کو میرے بارے میں اظہار رائے کرنا چاہیے _ اپنے تئیں حقیر و ناچیز سمجھتا ہوں سمجھے اپنے آپ پر اعتماد نہیں ہے یہاں تک کہ دوستوں کی موجودگی میں مجھ میں بات کرنے کی ہمت نہیں ہوتی اور اگر کچھ کہہ بیٹھیوں تو کئی گھنٹے سوچتا رہتا ہوں کہ کیا میری بات درست تھی اور صحیح موقع پر تھی _
خودشناسی اور بامقصد زندگی
حیوان کی ساری زندگی کھانے ، سونے ، خواہشات نفس کی تکمیل اور اولاد پیداکرنے سے عبارت ہے _ حیوان کی عقل اور آگاہی کامل نہیں ہوتی وہ اچھائی اور برائی میں تمیز نہیں کرسکتا _ اس لیے اس پر کوئی فرض اورذمہ داری نہیں ہے اس کے لیے کوئی حساب و کتاب اور ثواب و عذاب نہیں ہے _ اس کی زندگی میں کوئی عاقلانہ پروگرام اور مقصد نہیں ہوتا _ لیکن انسان کہ جو اشرف المخلوقات ہے وہ حیوان کی طرح نہیں ہے _ انسان عقل ، شعور اور آگاہی رکھتا ہے _ اچھے ، برے ، خوبصورت اور بد صورت میں تمیز کر سکتا ہے _ انسان کو ایک دائمی اور جاوید زندگی کے لیے پیدا کیا گیا ہے نہ کہ نابودی اور فنا کے لیے _ اس اعتبار سے اس کے سر پہ ذمہ داری بھی ہے اور فرض بھی _ انسان خلیفة اللہ ہے اور امین الہی ہے _ انسان کی زندگی کا حاصل فقط کھانا ، سونا ، خواہشات کی تکمیل اور نسل بڑھانا ہی نہیں ہوسکتا انسان کو ایسے راستے پر چلنا چاہیے کہ وہ فرشتوں سے بالاتر ہوجائے _ وہ انسان ہے اسے چاہیے کہ اپنی انسانیت کو پروان چڑھائے او راس کی تکمیل کرے انسان کی زندگی کا کوئی مقصد ہے البتہ ایک بلند ہدف نہ کر پست حیوانی ہدف _ انسان رضائے خدا کے لیے اورمخلوق خدا کی خدمت کے لیے کوشش اور جد و جہد کرتا ہے نہ کہ زود گزر دنیاوی مفادات کے حصول کے لیے _ انسان متلاشی حق اور پیروحق ہے _
ہاں انسانی وجود ایسا گوہر گران بہا ہے کہ جو حیوانات سے بہت ممتاز ہے یہ امر بہت افسوس نا ک ہے کہ بہت سے انسانون نے اپنی اس انمول انسانی قیمت کو گنوادیا ہے _
اور اپنی قیمتی زندگی کو ایک حیوان کی طرح سے گزار رہے ہیں اور ان کی نظر میں حیوانوں کی طرح سے کھانے ، پینے ، سونے اور خواہشات نفسانی کی تکمیل کے علاوہ کوئی ہدف نہیں ہے _ ہو سکتا ہے کہ ایک انسان سو سال زندہ رہے لیکن اپنی انسانی قیمت کو نہ پہچان سکے اور اپنے بارے میں جاہل ہی مرجائے _ دنیا میں ایک حیوان کی صورت آئے اور ایک حیوان کی صورت چل بسے بے مقصد اور سرگردان رہے اور اس کی ساری جد و جہد کا نتیجہ بدبختی کے علاوہ کچھ نہ نکلے _
انسان کو جاننا چاہیے کہ وہ کون ہے ؟ کہاں سے آیا ہے ؟ اور کہاں جانا ہے ؟ اس کے آنے کا مقصد کیا ہے ؟ اور اس کو کس راستے پر چلنا چاہیے _ اور اس کے لیے حقیقی کمال اور سعادت کیا ہے _
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :بہترین معرفت یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو پہچان نے اور سب سے بڑی نادانی یہ ہے کہ اپنے آپ کو نہ پہچانے _ (1) امیر المومنین علیہ السلام فرماتے ہیں:جس نے اپنے آپ کو نہ پہچانا وہ راہ نجات سے دور اور جہالت و گمراہی کے راستے پر رہا _ (2) حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
خدا کے نزدیک انسانوں میں سے ناپسندیدہ ترین شخص وہ ہے کہ جس کا زندگی میں مقصد شکم سیری اور خواہشات نفسانی کی تکمیل کے علاوہ کچھ نہ ہو _ (3) حضر ت علی علیہ اسلام فرماتے ہیں:
----------
1_ غررالحکم ، ص 179
2_ غررالحکم ، ص 707
3_ غررالحکم ، ص 205
''جس نے اخروی سادت کو اپنا مقصد بنالیا وہ بلندترین خوبیوں کو پالے گا '' (1)
ماں باپ کو چاہیے خودشناسی اور بامقصدیت کا درس بچے کو دیں ، وہ تدریجاً اپنی اولاد کی تعمیر کرسکتے ہیں اور انہیں بامقصد اور خودشناس بناسکتے ہیں _ وہ آہستہ آہستہ اپنی اولاد کو انسانیت کا بلند مقصد سمجھا سکتے ہیں اور ان کے سامنے زندگی کا مقصد واضح کرسکتے ہیں _ بچے کو ماں باپ کے ذریعے رفتہ رفتہ سمجھنا چاہیے وہ کون ہے ؟ کیا تھا؟ کہاں سے آیا ہے _
اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے _ آخر کار اسے کہاں جانا ہے _ اس دنیا میں اس کی ذمہ داری اور فریضہ کیا ہے _ اور اسے کس پروگرام اور ہدف کے تحت زندگی گزارنا چاہیے اس کی خواہش نصیبی اور بد نصیبی کس میں ہے _ اگر ماں باپ خودشناس ہوں اور ان کی اپنی زندگی با مقصد ہو اور وہ اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہوں تو وہ خودشناس اور بامقصد انسان پروان چڑھا سکتے ہیں _
----------
1_ غرر الحکم ، ص 693
گھر کی آمدنی اور خرچ
کسی گھر کے انتظامی امور میں سے اہم ترین اس کا معاشی پہلو ہے اور گھر کی آمدن اور خرچ کا حساب ہے اور با سمجھ خاندان آمد و خرچ کے حساب کو پیش نظر رکھتے ہیں _ اور آمدنی کے مطابق خرچ کرتے ہیں _ ہر خاندان کو جاننا چاہیے کہ پیسہ کس راستے پر خرچ کرے سمجھدار خاندان قرض سے ہمیشہ بچنے کی کوشش کرتے ہیں _ اور پریشانیوں میں گرفتار نہیں ہوتے اور زندگی آرام سے اور دردرسر کے بغیر گزارتے ہیں _ ان کے اقتصادی حالات خراب بھی ہوں تو تدریجاً انہیں بہتر بناتے ہیں _ اور زندگی کو فقر و بے سروسامانی سے نکال لیتے ہیں _
اس کے برعکس جس خاندان کا معاشی اعتبار سے ، اور آمدن و خرچ کے اعتبار سے نظام درست نہ ہو اور اس کے افراد بغیر کسی حساب کے خرچ کرتے ہوں تو ایسا خاندان عموماً دوسروں کا مقروض اور مرہون رہتا ہے _ اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے ایسا خاندان ناچار سودی قرض لیتا ہے_ یا قرض پر مہنگی چیزیں خریدتا ہے _یعنی دوسروں کے لیے زخمت اٹھاتا ہے _ ایسے خاندان کی زندگی زیادہ تر خوش نہیں گزرتی اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ زندگی کی ابتدائی ضروریات سے محروم رہے اور ان کی زندگی کی حالت مناسب نہ ہو، اگر چہ اس کی آمدنی اچھی ہی کیوں نہ ہو لیکن چونکہ ان کے گھر میں کوئی عقل و تدبیر نہیں ہوتی اورایسے گھر کے لوگ ہوس اور بلند پروازی کا شکار ہوتے ہیں لہذا زیادہ تر گرفتار بلاہی رہتے ہیں _ کسی خاندان کی خوش حالی اور آسائشے صرف کمال کرلانے پر منحصر نہیں ہے بلکہ اس سے بھی اہم عقل و تدبیر اور کسی منظم معاشی پروگرام کے مطابق اس کو خرچ کرنا ہے _
امام صدق علیہ السلام فرماتے ہی:
''جب اللہ کسی خاندان کے لیے بھلائی اور سعادت چاہتا ہے تو انہیں زندگی میں تدبیر اور سلیقہ عطا کردیتا ہے '' _ (1)
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:''تمام کمالات تین چیزوں میں جمع ہیں ان میں سے ایک زندگی میں فہم و تدبیر (سے) اور معاشی امور میں عقل (سے کام لینا)ہے _ (2)
حضرت صادق علیہ السلام ہی فرماتے ہیں:''فضول خرچی غربت و ناداری کا باعث بنتی ہے اور زندگی میں اعتدال اور میانہ روی بے نیازی اور استغناء کا باعث بنتے ہیں'' _ (3)
حضرت علی علیہ اسلام فرمایا:اعتدال سے آدھی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں _ (4)
امیر المومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں:فضول خرچ کی تین نشانیاں ہیں:
1_ جو چیز اس کے پاس نہیں ہوتی وہ کھاتا ہے
2_ جس چیز کے لیے اس کے پاس پیسے نہیں ہوتے وہ خرید تاہے اور
3_ جس لباس کی قیمت ادا نہیں کرسکتا اسے پہنتا ہے _ (5)
---------
1_ کافی ، ج 5، ص 88
2_ کافی ، ج 5، ص 87
3_ وسائل ، ج 12 ، ص 41
4_ مستدرک ، ج 2 ، ص 424
5_ وسائل، ج 21، ص 41
گھر کے مالی امور کو منظم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ سب سے پہلے میاں بیوی کے درمیان ہم آہنگی پائی جائے اگر میاں یا بیوی گھر کی آمدنی کو مد نظر نہ رکھیں اور بغیر کسی حساب کتاب کے خرچ کریں تو ان کے گھر کاکام نہیں چل سکتا _
دوسرے درجے پربچوں میں بھی باہمی تعاون اور ہم آہنگی کی ضرورت ہوتی ہے _ گھر کے بچے بھی اگر آمدنی کو پیش نظر نہ رکھیں اور بغیر کسی حساب کتاب کے خرچ کریں تو بھی خاندان مشکلات اور مصائب کا شکار ہوجائے گا _
ماں باپ کو چاہیے کہ مالی امور میں اپنے بچوں کے ساتھ ہم فکری پیدا کریں اور انہیں گھر کی آمدنی اور خرچ سے آگاہ کریں _ بچوں کو تدریجاً یہ بات سمجھنا چاہیے کہ پیسے آسانی او رایسے ہی ہاتھ نہیں آجاتے بلکہ اس کے لیے محنت صرف ہوتی ہے _ انہیں جاننا چاہیے کہ باپ زحمت اٹھاتا ہے اور ہرروز کام پر جاتا ہے تا کہ پیسے کماکرلائے اور گھر کے اخراجات پورے کرے _ اور اگر ماں بھی کہیں کام یا ملازمت کرتی ہو تو یہ بات بھی بچوں کو سمجھنا چاہیے اور اگر ماں خانہ دار ہو تو بچوں کو یہ بھی جاننا چاہیے کہ گھر کا نظام آسانی سے نہیں چلتا بلکہ اس کی ماں شب و روز محنت کرتی ہے _
چاہیے کہ بچے آہستہ آہستہ ماں باپ کے کام اور گھر کی آمدنی کی مقدار کو جانیں انہیں یہ سمجھنا چہیے کہ ماں باپ کی آمدنی ہی سے گھر کسے سارے اخراجات پور ے ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ ان کے لیے کوئی اور راستہ نہیں اور انہیں سمجھناچاہیے کہ گھر کے تمام اخراجات کو ان پیسوں کے اندر پورا ہونا چاہیے اور سارے اخراجات ایک ہی سطح کے نہیں ہوتے بلکہ بعض اخراجات کو ترجیح دینا پڑتی ہے مثلاً مکان کا خرچ یا مکان کا کرایہ ، پانی اور بجلی کابل، روٹی اور کپڑے کے پیسے ، گھر میں روزمرّہ کی ضروریات کاسامان اور ڈاکٹر کی فیس دیگر ضروریات پر مقدم ہیں _ پہلے مرحلے میں زندگی کی ضروریات پوری کرناچاہئیں باقی چیزیں بعد میں آتی ہیں _ باقی چیزیں بھی ایک سطح کی نہیں ةوتیں بچوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے اور ماں باپ کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے _
بچوں کو ابتدائی زندگی ہی سے اس امر کا عادی بنایا جانا چاہیے کہ ان کی خواہشات
اور توقعات کو گھر کی آمدنی سے ہم آہنگ ہونا چاہیے_ انہیں بے جا خواہشات اور بڑھ چڑھ کر خرچ کرنے سے بچنا چاہیے _ انہیں چاہیے کہ اپنے آپ کو گھر کا ایک باقاعدہ فرد سمجھیں اور گھر کا خرچ چلانے میں اپنے آپ کو شریک سمجھیں _ وہ یہ نہ سمجھنے لگ جائیں کہ ہم کوئی بلند مرتبہ لوگ ہیں اور ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ ہمارے خرچے پورے کریں _ بچوں کو صرف اپنی خواہشات کو پیش نظر رکھ کر گھر کی باقی ضروریات کو نظر انداز نہیں کردینا چاہیے _ بچے کو اوائل عمر ہی سے اپنی خواہشات سے چشم پوشی کرکے گھر کی ضروریات کو ترجیح دینے کی عادت پڑنی چاہیے _
انہیں بچوں نے آئندہ بڑے ہو کر نظام چلانا ہے _ لہذاانہیں ابھی سے فضول خرچ نہیں ہونا چاہیے گھر کی مالی حالت خوب اچھی ہی کیوں نہ ہو پھر بھی ماں باپ کو نہیں چاہیے کہ وہ بچوں کو اجازت دیں کہ وہ بے حدو حساب خرچ کرتے ہیں _ انہیں چاہیے کہ بچوں کو سمجھائیں کہ سب لوگ ایک خاندان کے فروہیں اور امیر وں کو چاہیے کہ غریبوں کی مدد کریں اور اگر کوئی کم آمدنی والا خاندان ہے اور مشکل سے روزانہ کے اخراجات پورے ہوتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ اپنی روزانہ کی آمدن کے مطابق اخراجات کریں البتہ انہیں نہیں چاہیے کہ اپنی مشکلات کی شکایت اپنے بچوں سے کریں بلکہ انہیں صبر و استقامت کا درس دیں اور انہیں آئندہ زندگی کو بہتر کرنے کے لیے آمادہ کریں_ جب بچے میں کام کرنے کی صلاحیت پیدا ہوجائے تو اسے کام کرنے پر ابھاریں بچے سے کہا جا سکتا ہے کہ اگر تم بھی کام کروگے تو اس سے آمدنی ہوگی اور پھر ہمارے گھر کے حالات بھی بہتر ہوجائیں گے _ بچے کو یہ عادت ڈالیں کہ وہ اپنی آمدنی کاکچھ حصّہ گھر میں دے دے کیونکہ وہ اسی خاندان کے ساتھ کررہتا ہے بچے میں مفت خوری کی عادت نہیں پیدا ہونی چاہیے _ بچوں کا جیب خرچ بھی گھر کی آمدنی کے مطابق ہونا چاہیے _
قانون کااحترام
لوگ قانون کے بغیر زندگی نہیں گزارسکتے _ معاشرے کے نظام کو چلانے کے لیے برائیوں کو روکنے کے لیے لوگوں کی جان و مال کی حفاظت کے لیے اور عوام کے آرام و آسائشے کے لیے قانون ضروری ہے جن ملکوں میں قانون بنانے والے افراد اور عوامل کے اچھے باہمی ربط ہوتے ہیں اور جہاں لوگوں کے لیے قانون بنائے گئے ہیں وہاں لوگ قانون کا احترام بھی کرتے ہیں اور قانون کے احترام سے ہی ملک میں امن و امان اور عوام کی زندگی کے لیے آرام و راحت وجود میں آتا ہے _
لیکن جن ملکوں میں قانون بنانے والے لوگ حکومتوں کے مفادات کے لیے قانون بناتے ہوں اور عوام کے حقیقی مفادات ان کی نظر میں نہیں ہوتے وہاں عوام کی نظر میں قانون کا کوئی احترام بھی نہیں ہوتا اور مل بھی امن او رچین سے محروم رہتا ہے _ بدقسمتی سے پہلے ہمارے ملک کی بھی یہی حالت تھی _ بیشتر قوانین اسلامی اور عوامی نہ تھے بلکہ حکومتوں کی خواہش پر او رمغرب و مشرق کی سامراجی طاقتوں اور ان کے چیلوں کے فائدے میں قانون بنتے تھے _ مزدور ، محنت کس اور محروم افراد کے حقیقی مفادات کی طرف کوئی توجہ نہ تھی _ ان کی کوشش ہوتی تھی کہ رعب و دبدبہ سے اور مکر و فریب سے عوامل دشمن قوانین ہی کہ عوام پر نافذ کریں_ لیکن ایران کے مسلمان عوام چونکہ ان قوانین ک و اسلامی اور اپنے مفادات کا محافظ نہیں سمجھتے تھے _ لہذا ان کی نظر میں ان کی کوئی حیثیت نہ تھی _ البتہ ان قوانین میں کچھ عوامی فائدے کے قوانین بھی موجود تھے لیکن چونکہ عوام کا ان پر اعتماد نہیں تھا لہذا ان کا احترام بھی نہیں کرتے تھے _ البتہ جائز
صحیح اور سودمند قانون کا احترام ضروری ہے اور ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ یہ بات اپنی اولاد کو سمجھائیں _ جب بچے اپنے ماں باپ کو دیکھتا ہے کہ وہ سڑ ک پار کرتے ہوئے سڑک پار کرنے کی معینہ جگہ (زیبرا کراسنگ) ہی سے سڑک پارکرتے ہیں تو اس میں بھی اس کی عادت پڑ جاتی ہے اور پھر وہ اس کی خلاف ورزی کو اچھا نہیں سمجھتا _
خصوصاً ماں باپ کو چاہیے کہ بچوں کو سمجھائیں سڑک کو استعمال کرنا ڈرائیوروں کا حق ہے اور زیبرا کراسنگ پیدال چلنے والوں کا حق ہے اور دوسرے کے حق پہ تجاوز درست نہیں ہے _ جب بچہ یہ سمجھ جاتا ہے کہ قانون پر عمل در آمد خود اس کے اور معاشرے کے فائدے میں ہے تو پھر تدریجاً ماں باپ کے عمل کو دیکھتے ہوئے اس کے اندر بھی اس بات کی عادت پڑ جاتی ہے
حضرت علی علیہ السام فرماتے ہیں:
''عادت فطرت ثانیہ ہے '' _ (1)
--------
1_ غرر الحکم ، ص 26
ادب
ہر ماں باپ کی یہ حتمی خواہش ہوتی ہے کہ ان کے بچے مہذب ہوں، اچھے اور باادب بچے ہر ماں باپ کی سربلندی کا ذریعہ ہوتے ہیں اور وہ ان پر فخر کرتے ہیں _ جو بچے دوسروں سے ملاقات کے موقع پر سلام کرتے ہیں اور جدا ہونے پر خداحافظ کرتے ہیں _ مصافحہ کرتے ہیں _ حال پوچھتے ہیں ،پیار سے انداز سے بات کرتے ہیں، بزرگوں کا احترام کرتے ہیں ، ان کے آنے پر احتراماً کھڑے ہوجاتے ہیں _ صاحبان علم ، باتقوی اور نیک افراد کا احترام کرتے ہیں _ محفل میں مؤدب رہتے ہیں شور نہیں کرتے اور اگر کوئی کچھ دے تو اس کا شکریہ ادا کرتے ہیں _ کسی کو گالی نہیں دیتے ، دوسروں کو تکلیف نہیں پہنچاتے ، دوسروں کی بات نہیں کاٹتے، کھانے کے آداب ملحوظ رکھتے ہیں _ بسم اللہ کہتے ہیں _ چھوتے نوالے لیتے ہیں ، آہستہ آہستہ چباتے ہیں، اپنے سامنے سے کھاتے ہیں ، زیادہ نہیں کھاتے ، کھانا زمین پر نہیں پھینکتے ، اپنے ہاتھوں اور لباس کو خراب نہیں کرتے ، صاف ستھرے اور پاکیزہ رہتے ہیں _ کسی کی توہین نہیں کرتے _ دوسروں کا لحاظ کرتے ہیں اور صحیح طریقے سے بیٹھتے اور اٹھتے ہیں، صحیح انداز سے چلتے ہیں _ اطاعت شعار اور فرمان بردار ہوتے ہیں _ کسی کا تمسخر نہیں اڑاتے _ اور دوسروں کی بات کان لگاکر سنتے ہیں ایسے بچے باادب ہوتے ہیں _
نہ صرف والدین بلکہ سب لوگ با ادب بچوں سے پیار کرتے ہیں اور گستاخ اور بے ادب بچوں سے نفرت_
امیر المؤمین علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
''ادب انسان کا کما ل ہے'' _ (1)
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
''ادب انسان کے لیے خوبصورت لباس کے مانند ہے '' _ (2)
''لوگوں کو اچھے آداب کی سونے اور چاندی سے زیادہ ضرورت ہے '' _ (3)
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:''ادب سے بڑھ کے کوئی زینت نہیں '' _ (4) امیر المومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں:''باپ کی بہترین وراثت اپنے بچے کے لیے یہ ہے کہ اسے اچھے آداب کی تربیت دے '' _ (5)
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:''بے ادب شخص میں برائیاں زیادہ ہوں گی'' _ (6) حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:''سات سال تک اپنے بچے کو کھیلنے کی اجازت دو اور سات سال سے آدا ب زندگی سکھاؤ'' _ (7)
---------
1_ غرر الحکم ، ص34
2_ غرر الحکم ، ص 21
3_ غرر الحکم ، ص 242
4_ غرر الحکم ، ص 830
5_ غرر الحکم ، ص 393
6_ غرر الحکم ، ص 634
7_ بحار، ج 104، ص 95
رسول اکر م صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں:''بچے کے والدین پر تین حق ہیں ،
1_ اس کے لیے اچھا نام منتخب کریں
2_ اسے با ادب بنائیں اور
3_ اس کے لیے اچھا شریک حیات انتخاب کریں '' _ (1)
ہر ماں باپ کی انتہائی آرزو یہ ہوتی ہے کہ ان کی اولادبا ادب ہو لیکن یہ آرزو خود بخود اور بغیر کوشش کے پوری نہیں ہو سکتی اور نہ ہی زیادہ و عظ و نصیحت سے بچوں کو مؤدب بنایا جا سکتا ہے _ اس مقصد تک پہنچنے کے لیے بہترین راستہ ان کے لیے اچھا نمونہ عمل مہیا کرنا ہے _ ماں باپ کو خود مؤدب ہونا چاہیے _ تا کہ وہ اپنی اولاد کو عملی سبق دے سکیں _
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:''بہترین ادب یہ ہے کہ اپنے آپ سے آغاز کرو'' (2) امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:''اپنے کردار کو مؤدب بنائیں پھر دوسروں کو وعظ و نصیحت کریں'' _ (3)
بچہ تو نرا مقلّد ہوتا ہے تقلید کی فطرت اس کے اندر بہت اہم اور طاقتور ہوتی ہے _ بچہ ماں باپ اور دوسرے لوگوں کے گفتار و کردار کی پیروی کرتا ہے _ یہ صحیح ہے کہ تلقین بھی تربیتی عوامل میں سے ایک ہے _ لیکن تقلید انسانی جبلّت میں زیادہ قوی اور طاقت ور ہوتی ہے خصوصاً بچپن میں جن ماں باپ کی خواہش ہے کہ ان کے بچے مؤدب ہوں انہیں چاہیے کہ پہلے اپنے طرز عمل کی اصلاح کریں وہ با ادب ماں باپ بنیں _ انہیں چاہیے کہ
---------
1_ وسائل ، ج 15 ص 123
2_ غرر الحکم ، ص 191
3_ نہج البلاغہ ، ج 3 ، ص 166
ایک دوسرے سے ، اپنے بچوں سے اور تمام لوگوں سے مؤدبانہ طرز عمل اختیار کریں _ اور آداب زندگی کی پابندی کریں تا کہ بچے ان سے سبق حاصل کریں ان سے درس حیات حاصل کریں _ اگر ماں باپ آپس میں ایک دوسرے سے بااب ہوں ، گھر میں آداب واقدار کو ملحوظ رکھتے ہوں بچوں سے بھی با ادب رہتے ہوں لوگوں سے مؤدبانہ طریقہ سے میل ملاقات کرتے ہوں ایسے گھر کے بچے فطری طور پر مؤدب ہوں گے _ وہ ماں باپ کا طرز عمل دیکھیں گے اور اسے اپنے لیے نمونہ عمل بنائیں گے اور اس کے لیے ان کو وعظ و نصیحت کی ضرورت نہیں ہوگی _
جو ماں باپ خود آداب کو محلوظ نہیں رکھتے _ انہیں بچوں سے بھی ادب کی توقع نہیں کرنی چاہیے اگر چہ سینکڑوں مرتبہ انہیں نصیحت کریں _ جو ماں باپ ایک دوسرے کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آتے ہیں اور خود اپنے بچوں کے ساتھ غیر مودبانہ سلوک کرتے ہیں وہ کیسے توقع کرسکتے ہیں کہ ان کے بچے با ادب ہوں _
ایسے گھر کے بچے زیادہ تر ماں باپ کی طرح یا ان سے بھی زیادہ بے ادب ہوں گے اور انہیں اچھی تلقین اور وعظ و نصیحت کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا _ بچے بھی سوچتے ہیں کہ اگر ماں باپ کی بات صحیح ہوتی تو وہ خود عمل نہ کرتے لہذا یہ ہمیں دھوکا دے رہے ہیں _
البتہ تلقیں بالکل بے اثر نہیں ہوتی لیکن اس کا پورا اثر اس وقت ہوتا ہے کہ جب بچے اس کا نمونہ عمل دیکھیں _ با ادب ماں باپ بچوں کو اچھے آداب کی نصیحت بھی کر سکتے ہیں _ لیکن اچھے انداز سے _ ادب کو ملحوظ رکھتے ہوئے ، تندی ، بدتمیزی اور بے ادبی سے نہیں _ بعض ماں باپ کی عادت ہوتی ہے کہ جب وہ بچوں کا کوئی خلاف ادب کام دیکھتے ہیں تو دوسروں کی موجودگی میں ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں اور برا بھلا کہتے ہیں _ مثلاً کہتے ہیں اوبے ادب تو نے سلام کیوں نہیں کیا خداحافظ کیوں نہیں کیا ؟ گونگے ہو احمق اور بے شعو ربچے تو نے دوسروں کے سامنے پاؤں کیوں پھیلائے ؟ کسی کے ہاں آکر شور کیوں مچا رہے ہو حیوان کہیں کے دوسروں کی باتوں میں بولتے کیوں ہوں _یہ نادان ماں باپ اپنے تئیں اس طرح سے اپنے بچوں کی تربیت کررہے
ہوتے ہیں جب کہ بے ادبی سے ادب نہیں سکھایا جا سکتا_ اگر بچے سے کوئی بے ادبی سرزد ہوجائے تو اسے نصیحت کرنی چاہیے _ لیکن بے ادبی سے نہیں _ نہ دوسروں کے سامنے بلکہ تنہائی میں اور بھلے انداز سے _
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ بچوں کو سلام کرتے تھے اور فرماتے تھے ''میں بچوں کو سلام کرتا ہوں کہ سلام کرنا ان کا معمول بن جائے ''
چوری چکاری
کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے بچہ دوسروں کے ماں کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے کھانا ، پھل یا کسی اور بچے کے کھلونے زبردستی لے لیتا ہے _ باپ کی جیب سے یا ماں کے پرس سے چوری چھپے پیسے نکال لیتا ہے _ ماں نے کھانے کے لیے چیزیں چھپا کے رکھی ہوتی ہیں اس میں ہاتھ مارتا ہے _ دکان سے چپکے سے چیزا اٹھا لیتا ہے _ بہن یا بھائی یا ہم جماعت کی پنسل ، پین ، رہبڑیا کا پی اٹھالیتا ہے _ اکثر بچے بچپن میں اس طرح کے کم زیادہ کام کرتے ہیں _ شاید ایسا شخص کوئی کم ہی ملے کہ جسے بچپن کے دنوں میں اس طرح کے واقعات ہر گز پیش نہ آئے ہوں ، بعض ماں باپ اس طرح کے واقعات دیکھ کر بہت ناراحت ہوتے ہیں اور بچے کے تاریک مستقبل کے بارے میں اظہار افسوس کرتے ہیں ، وہ پریشان ہوجاتے ہیں کہ ان کا بچہ آئندہ ایک قاتل یا چور بن جائے گا اس وجہ سے وہ اپنے آپ میں کڑھتے رہتے ہیں _
سب سے پہلے ان ماں باپ کو اس امر کی طرف توجہ دلانا چاہیے کہ زیادہ ناراحت نہ ہوں اور اس پہ اظہار افسوس نہ کریں _ کیونکہ یہ چھوٹی چھوتی چیزیں اٹھالینا یا چرا لینا اس امر کی دلیل نہیں کہ آپ کا بچہ آئندہ شریر ، غاصب اور چور ہوگا ، کیونکہ بچہ ابھی رشد و تمیز کے اس مرحلہ پر نہیں پہنچا کہ کسی کی ملکیت کے مفہوم کو اچھی طرح سمجھ سکے اور اپنے اور د وسرے کی ملکیت میں فرق کرسکے _ بچے کے احساست اس کی عقل سے زیادہ قوی ہوتے ہیں اس لیے جو چیز بھی اسے اچھی لگتی ہے انجام سوچے بغیر اس کی طرف لپکتا ہے _ بچہ فطری طور پر شریر نہیں ہوتا اور بچے کی یہ غلطیاں اس کے باطن سے پیدا نہیں ہوتی _ یہ تو عارضی سی چیزیں ہیں _ جب بڑا
ہوگا تو پھر ان کا مرتکب نہیں ہوگا _ ایسے کتنے ہی پرہیزگار ، امین اور راست باز انسان ہیں کہ جو بچپن میں اس طرح کی ننّھی منی خطائیں کرتے رہے ہیں _ البتہ میرے کہنے کا یہ مقصد نہیں کہ آپ ایسی خطاؤں کو دیکھ کر کوئی رد عمل ظاہر نہ کریں اور اس سے بالکل لا تعلق رہیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ ان کو دیکھ کر بچے کو شریر اور ناقابل اصلاح نہ سمجھ لیں _ ایسے ہی داد و فریاد نہ کرنے لگین بلکہ صبر اور بردباری سے ان کا علاج کریں _
خاص طور پر دو تین سالہ بچہ اپنے اور غیر کے مال میں فرق نہیں کرسکتا اور ملکیت کی حدود کو اچھی طرح نہیں سمجھ سکتا _ جس چیز تک اس کا ہاتھ پہنچ جائے اس اپنا بنالیتا چاہتا ہے _ جو چیز بھی اسے اچھی لگے اٹھالینا چاہتا ہے اس مرحلے پر ڈانٹ ڈپٹ اور مارپیٹ کا کوئی فائدہ نہیں _ اس مرحلہ پر ماں باپ جو بہترین روش اپنا سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ بچے کو عملاً اس کام سے روک دیں _ اگر وہ زبردستی کوئی چیز دوسرے بچے سے لینا چاہے تو اسے اجازت نہ دیں اور اگر وہ لے لے تو اس سے لے کر واپس کردیں _جو چیز وہ چاہتے ہیں کہ بچہ نہ اٹھائے اسے اس کی دسترس سے دور رکھیں _ زیادہ تر بچے جب رشد و تمیز کی حد تک پہنچ جاتے ہیں اور ملکیت کی حدود کو اچھی طرح جان لیتے ہیں تو پھر دوسروں کے مال کی طرف وہ ہاتھ نہیں بڑھاتے اور چوری نہیں کرتے البتہ بعض بچے اس عمر میں بھی اس غلط کا م کے مرتکب ہوجاتے ہیں _ اس موقع پر ماں باپ کو خاموش اور لاتعلق نہیں رہنا چاہیے یہ درست نہیں ہے کہ ماں باپ اپنے بچے کی چوری چکاری کو دیکھیں اور اس کی اصلاح نہ کریں اور یہ کہتے رہیں کہ ابھی بچہ ہے _ اس کی عقل ہی اتنی ہے جب بڑا ہوگا تو پھر چوری چکا ری نہیں کرے گا _ البتہ یہ احتمال ہے کہ جب وہ بڑاہو تو چوری نہ کرے لیکن یہ احتما ل بہت ہے کہ ان چھوٹی چھوٹی چوریوں سے اسے چوری کی مستقل عادت پڑجائے اور وہ ایک چورا اور غاصب بن کر ابھر سے _ علاوہ ازیں یہ بات بھی درست نہیں ہے کہ بچہ کسی کا یاماں باپ کا مال اٹھا لے اور کوئی اس سے کچھ نہ کہے _ او راس سے بھی بدتر یہ ہے کہ ماں باپ اپنے بچے کے غلط کام پر اسے منع کرنے کی بجائے اس کا دفاع اور اس کی حمایت کرنے لگیں _ اگر کوئی ان سے شکایت کرے کہ ان کے بچے نے اس کا مال چرایا ہے تو یہ شور و غل کرنے لگیں کہ ہمارے
بچے پر یہ الزام لگا یا کیوں گیا ؟
اس طرح کے نادن ماں باپ اپنے طرز عمل سے اپنی اولاد کو چوری چکاری کی تشویق کرتے ہیں اور عملاً انھیں سبق دیتے ہیں کہ وہ چوری کریں اور مکر جائیں اور اپنے آپ کو درست ثابت کرنے کے لیے شور مچائیں _
اس بناپر ماں باپ کو نہیں چاہیے کہ وہ اپنے اولاد کے غلط کاموں سے لاتعلق رہیں بلکہ انہیں کوشش کرنا چاہیے کہ وہ انہیں ایسے کام سے روکیں _ کہیں ایسا نہ ہو کہ برائی ان کے اندر جڑ پکڑے اور عادت بن جائے اور عادت کو ترک کرنا بہت مشکل ہے _
حضرت علی علیہ اسلام فرماتے ہیں:''عادت کو ترک کرنا انتہائی کٹھن کام ہے '' _ (1)
ماں باپ کو پہلے مرحلے پر کوشش کرنا چاہیے کہ ان عوامل کو دور کریں کو جو بچے کی چوری کا سبب بنے ہیں تتا کہ یہ عمل اصلاً پیش ہی نہ آئے _ اگر بچے کو پنسل ، ربٹر، کاپی یا قلم کی ضرورت ہے ت وماں باپ کو چاہیے کہ اس کی ضرورت کو پورا کریں _ کیونکہ اگر انہوں نے اس کی ضروریات کو پورا نہ کیا تو ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے ہم درس کی چیز اٹھالے یا ماں باپ کی جیب سے پیسے چوری کرے _ اگر اسے کھیل کے لیے گیندکی ضرورت ہے اور ماں باپ نہ لے کردیں تو ممکن ہے کہ وہ کسی دوسرے بچے کا گیندزبردستی لے لے _ یا محلّے کی دوکان سے چوری کرے _ ماں باپ کو چاہیے کہ حتی المقدور بچے کی حقیقی ضروریات کو پورا کریں _ اور اگر ممکن نہ ہو توبچے کو پیار سے سمجھائیں اور اس کاحل خود اس پہ چھوڑدیں _ مثلاً اسے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے پاس اتنے پیسے نہیں کہ تمہارے لیے رنگوں والی پینسلیں خرید سکیں _ تم فلاں دوکان سے ادھار لے لو _ بعد میں اسے پیسے دے دیں گے _ یا آج اپنے دوست سے عاریتاً لے لو بچے پر زیادہ سختیاں اور کنٹرول اور سخت پا بندیاں اس کے ذہن میں چوری کاراستہ پیدا کرسکتی ہیں _ اگر ماں باپ کھانے پینے کی چیزیں کسی الماری میں یا کسی اور ڈبے میں رکھ
---------
1_ غرر الحکم ، ص 181
کر اس کوتا لگادیں اور اس کی چابی چھپالیں تو بچہ اس سوچ میں پڑجائے گا کہ کسی طرح سے چابی ڈھونڈے اور مناسب موقع پاکر اس چیز کو نکالے_ یہ بات خاص طور پر اس وقت ہوتی ہے جب ماں باپ خود کھائیں اور بچے کہ نہ دیں _
جب ماں باپ اپنے پیسے سات تہوں میں کسی جگہ چھپادیں تو ممکن ہے بچے میں تحریک پیدا ہو اور وہ اتنا انہیں تلاش کرے کہ آخر پالے _ ممکن ہو تو ماں باپ کو پیسے زیادہ بھی باندھ باندھ کر نہیں رکھنے چاہئیں _ انہیں بچوں سے مل جل کر اور ہم رنگ ہوکر رہنا چاہیے اور ان کے ساتھ افہام و تفہیم پیدا کرنا چاہیے _ انہیں سمجھائیں کہ زندگی کس حساب کے تحت ہی بسر ہوسکتی ہے کھانے پینے کی چیزوں کی معین وقت پر ہی استعمال کرنا چاہیے اور پیسے ضروریات زندگی کی تکمیل کے لیے ہیں انہیں کسی حساب کے مطابق ہی خرچ کرنا چاہیے _
بچوں کہ چوری ، ڈاکے اور قتل کی فلمیں نہیں دکھانا چاہئیں _ ریڈیوا اور کتابوں کی ایسی کہانیوں سے بھی بچوں کو دور رکھنا چاہیے _کئی دفعہ ایسا ہوا ہے کہ چوری کرنے کے جرم میں عدالت میں پیش ہونے والے بچوں نے یہ بیان دیا ہے کہ یہ کام انہوں نے سینما یا ٹیلی وین میں ہوتے دیکھا ہے _
سب سے اہم یہ ہے کہ ماں باپ اور گھر کے سارے افراد کوشش کریں کہ ان کے گھر کا ماحول امانت داری اور سچائی پر مبنی ہو _ دوسروں کی ملکیت کا احترام کیا جائے اور اس پر تجاوز نہ کیا جائے _ ماں باپ کی اجازت کے بغیر ان کی جیب سے پیسے نہ نکالے اور اسے بتائے بغیر اس کے اموال میں بے جا تصرّف نہ کرے _ شوہر بھی بتائے بغیر زوجہ کی الماری اور سوٹ کیس کو ن چھپیڑے اور اس کے لیے مخصوص چیزوں میں تصرف نہ کرے _ ماں باپ کو بھی بچوں کی ملکیت کا احترام کرنا چاہیے اور بچوں کی اجازت کے بغیر ان سے مخصوص الماری طور اٹیچی کیس کو ہاتھ نہ لگائیں اور ان کے کھیلوں کے سامان میں تصرّف نہ کریں _
بچے کے چھوٹے سے تجاوز پر اس کی عزّت و آبرو کو نابود کرکے اسے ذلیل و خوار نہ کریں اسے یہ نہ کہیں اسے چور اسے خیانت کرے تم چور بن جاؤ گے اور جیل خانے میں جاؤگے ان توہین خطابات کے ساتھ آپ بچے کو چوری سے نہیں روک سکتے بلکہ
اسے سے وہ ڈھیٹ بن جائے گا اور ممکن ہے کہ ان سب باتوں کا انتقام لینے کے لیے وہ بڑی بڑی چوریاں شروع کردے _
وہ بہترین طریقہ کہ ماں باپ کو جس کا انتخاب کرنا چاہیے یہ ہے کہ محبت اور نرمی کے ساتھ بچے کو سمجھائیں چوری کی برائی کو بیان کریں اور ملکیت کی وضاحت کریں _ مثلاً اسے کہیں تم نے جو فلان چیزا ٹھائی ہے وہ کسی اور شخص کی ہے اسے فوراً واپس لوٹادیں _ اور آئندہ ایسا عمل نہ دہرائیں _
لیکن اگر اس طرز عمل سے بھی کوئی مثبت نتیجہ حاصل نہ کیا جا سکے تو مجبوراً بچے کو سختی اور ڈانٹ ڈپٹ سے روکا جائے اور اگر ناگزیر ہو توبعض مواقع پر مارپیٹ سے بھی بچے کو چوری سے روکا جا سکتا ہے _
حسد
حسد ایک بری صفت ہے حاسد شخص ہمیشہ دوسروں کی خوشی اور آرام و سکون کو دیکھ کررنج اور دکھ میں مبتلا رہتا ہے کسی اور شخص کے پاس کوئی نعمت دیکھنے کے بعد غمگین ہو جاتا ہے اور اس سے نعمت کے چھن جانے کی آرزو کرتا ہے _ چونکہ عموماً یہ کسی کو کسی قم کا نقصان نہیں پہنچا سکتا اور اس سے وہ نعمت بھی نہیں چھین سکتا لہذا غمگین رہتا ہے اور حسد کی آگ میں دن رات جلتا رہتا ہے _ حاسد شخص دنیا کی لذت اور آسائشے سے محروم رہتا ہے حسد اور کینہ پروری انسان پروری انسان پر عرصہ حیات تنگ کردیتے ہیں _ اور انسان سے راحت و آرام چھین لیتے ہیں _
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:''حاسد انسان کو سب لوگوں سے کم لذت اورخوشی محسوس ہوتی ہے '' _ (1)
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:''حسد حاسد کی زندگی کو تاریک کردیتا ہے '' _ (2)
امیر المومنین علی علیہ السلام ہی فرماتے ہیں:''حاسد شخص کو ہرگز راحت اور مسرت نصیب نہیں ہوتی '' _ (3)
-----------
1_ مستدرک ، ج 2، ص 327
2_مستدرک ، ج 2، ص 328
3_مستدرک ، ج 2، ص 327
حسد انسان کے دل اور اعصاب پر بے اثر مرتب کرتا ہے اور انسان کو بیمار اور علیل کردیتا ہے _
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:''حاسد شخص ہمیشہ بیمار اور علیل رہتا ہے '' _ (1)
حسد ایمان کی بنیادوں کو تباہ کردیتا ہے اور انسان کو گناہ اور نافرمانی پہ ابھارتا ہے بہت سے قتل ، جرم ،جھگڑے، لڑائیاں اور حق تلفیاں حسد ہی کی بنیاد پر ہوتی ہیں _ حاسد کبھی محسود کی غیبت اور بدگوئی کرتا ہے اور اس پہ تہمت بھی لگاتا ہے اس کے خلاف باتیں بناتا ہے _ اس کا مال ضائع کرتا ہے _
اما م باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
''حسد ایمان کو یوں تباہ کردیتا ہے جیسے آگ ایندھن کو جلادیتی ہے '' _ (2)
حسد انسان کی طبیعت کا حصہ ہے _ ایسا شخص کوئی کم ہی ہوگا کہ جو اس سے خالی ہو _ پیغمبر اکرم اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں:''تین چیزیں ایسی ہیں کہ جن سے کوئی شخص نہ ہوگا _
_ گمان بد،_ فال بد_ او رحسد (3)
لہذا اس بری صفت کا پوری قوت سے مقابلہ کیا جانا چاہیے اور اسے بڑھنے اور پھلنے پھولنے سے روکنا چاہیے _ اگر اس بری عادت کو نظر انداز کردیا جائے تو چوں کہ اس کاریشہ انسان کی طبیعت کے اندر ہوتا ہے لہذا یہ پھلنے پھولنے لگتی ہے اور اس حد تک
--------
1_ مستدرک، ج 2، ص 328
2_ شافی ، ج 1 ، ص 173
3_ مہجة البیضاء ، ج 3 ، ص 189
جا پہنچتی ہے کہ اس کا مقابلہ کرنا اور اس کا قلع قمع کرنا بہت مشکل ہوجاتا ہے _ بہترین موقع کہ جب اچھے اخلاق کی پرورش کی جاسکتی ہے اور برے اخلاق کو پھلنے پھولنے سے روکا جاسکتا ہے بچپن کا زمانہ ہے _ اگر چہ یہ چھوٹی عمر میں ہی بچوں کی طبیعت میں موجود ہوتا ہے لیکن ماں باپ اپنے اعمال اور طرز عمل سے اس بری عادت کو تحریک بھی کرسکتے ہیں اور اس کا قلمع قمع بھی_ اگر ماں باپ1پنی ساری اولاد سے عادلانہ سلوک کریں اور کسی کو دوسرے پہ ترجیح نہ دیں _ لباس ،خوراک کے معاملے میں ، گھر کے کاموں کے معاملے میں _ جیب خرچ اور اظہار محبت کے معاملے میں میل جول کے معاملے میں عدالت و مساوات کو ملحوظ نظر رکھیں چھوٹے بڑے میں _ خوبصورت اور بدصورت میں _ بیٹے بیٹی میں _ با صلاحیت اور بے صلاحیت میں کوئی فرق نہ کریں تو بچوں میں حسد پروان نہیں چڑھے گا اور ممکن ہے تدریجاً ختم ہی ہوجائے _ بچوں کی موجودگی میں کبھی کسی ایک کی تعریف و ستائشے نہ کریں اور ان کا آپس میں موازنہ نہ کریں _ بعض ماں باپ تعلیم و تربیت کے لیے اور بچوں کی تشویق کے لیے ان کا آپس میں موزانہ کرتے ہیں مثلاً ہتے ہیں احمد بیٹا دیکھ تماری بہن نے کتنا اچھا سبق پڑھا ہے کتنے اچھے نمبر لاتی ہے _ گھر کے کاموں میں ماں کی مدد کرتی ہے ، کتنی با ادب اور ہوش مند ہے _ تم بھی بہن کی طرح ہو جاؤ تا کہ امّی ابو تم سے بھی پیار کریں _ یہ نادان ماں باپ اس طرح چاہتے ہیں کہ اپنے بچے کی تربیت کریں جب کہ ایسا بہت کم ہوتاہے کہ اس طریقے سے مقصد حاصلہ ہو _ جب کہ اس کے برعکس معصوم بچے کے دل میں حسد اور کینہ پیدا ہوجاتا ہے اور اسے حسد اور دشمنی پر آمادہ کردیتا ہے _ ہوسکتا ہے اس طرح سے بچہ کے دل میں اپنی بہن یا بھائی کے لیے کینہ پیدا ہوجائے اور وہ اسے نقصان پہنچانے پر تل جائے اور ساری عمران کے دل میں حسد اور دشمنی باقی رہے _کبھی اپنے بچوں کا دوسرے بچوں سے موازنہ نہ کریں اور اپنی اولاد کے سامنے دوسروں کی تعریف نہ کریں _ یہ درست نہیں ہے کہ ماں باپ اپنی اولاد سے کہیں فلاں کے بیٹے کو دیکھو کتنا اچھا ہے کتنا با ادب ہے _ کتنا اچھا سبق پڑھتاہے _ کتنا فرمانبردار ہے گھر کے کاموں میںامّی ابّو کا کتنا ہاتھ بٹاتا ہے _ اس کے ماں باپ کس قدر خوش قسمت ہیں _ ان کے حال پہ رشک آتاہے _ ایسے ماں باپ کو سمجھنا چاہیے کہ اس طرح کاموازنہ اور
اس طرح کی سرزنش کا نتیجہ حسد کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا _ زیادہ تر ان کا نتیجہ الٹ ہی نکلتا ہے اور انہیں ڈھٹاتی اور انتقام پر ابھارتا ہے _ماں باپ کو ایسے طرز عمل سے سختی ہے پرہیز کرنا چاہیے _ البتہ سارے بچے ایک سے نہیں ہوتے کوئی بیٹا ہے کوئی بیٹی ہے _ کوئی باصلاحیت ہے کوئی نہیں ہے کوئی خوش اخلاق ہے کوئی بد اخلاق ہے کوئی خوبصورت ہے کوئی نہیں ہے _ کوئی فرمانبردار ہے کوئی نہیں ہے _ کوئی تیز کوئی سست ہے _ ہوسکتا ہے ماں باپ ان میں سے کسی ایک سے دوسروں کی نسبت زایدہ محبت کرتے ہوں اس میں کوئی حرج نہیںہے _ دل کی محبت اور پسند انسان کے اختیار میں نہیں ہے _ اور جب تک اس فرق کا عملاً اظہار نہ ہو تو یہ نقصان دہ نہیں ہے _ لیکن ماں باپ کو عمل اور زبان سے ایک کو دوسرے پر ترجیح دینے سے سختی سے بچنا چاہیے _ عمل ، گفتار ،اور اظہار محبت کرتے ہوئے مساوات اور برابری کو پوری طرح سے ملحوظ رکھنا چاہیے اس طرح سے کہ بچہ محسوس نہ کرے کہ دوسرے کو مجھ پر ترجیح دی جا رہی ہے _ اگر آپ کسی بچے کو اس کے کام پر تشویق کرنا چاہیے ہیں تو مخفی طور پر کریں _ دوسرے بہن بھائیوں کی موجودگی میں نہ کریں _ البتہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ ماں باپ عادلانہ طرز عمل اور مساوات بہن بھائیں کی موجودگی میں نہ کریں _ البتہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ ماں باپ عادلانہ طرز عمل اور مساوات سے بہن بھائیوں کے درمیان محبّت سے حسد بالکل ختم کردیں _ کیونکہ حسد انسان کے باطنی مزاج میں موجود ہوتا ہے _ ہر بچے کی خواہش ہوتی ہے کہ وہی ماں باپ کو زیادہ لاؤ لاہو اور اس لے علاوہ دوسرا ان کے دل میں نہ سمائے _ جب وہ دیکھتا ہے کہ ماں باپ دوسرے سے اظہار محبت کررہے ہیں تو اسے اچھا نہیں لگتا اور اس کے دل میں حسد پیدا ہوتا ہے لیکن اس کا کوئی چارہ نہیں _ بچے کو آہستہ آہستہ یہ بات سمجھنی چاہیئے کہ وہ تنہا ماں باپ کا محبوب نہیں بن سکتا _ دوسروں کا بھی اس میں حق ہے_ ماں باپ اپنے عاقلانہ اور عادلانہ طرز عمل سے بچے کو دوسرے بہن بھائیوں کو قبول کرنے کے لیے آمادہ کرسکتے ہیں اور جہاں تک ممکن ہوسکے اس ک حسد سے بچا سکتے ہیں _
اگر آپ دیکھیں کہ آپ کا بیٹا دوسرے بھائی یا بہن سے حسد کرتا ہے _ اسے اذیت کرتا ہے _ مارتا ہے ، چٹکیاں لیتا ہے _گالی دیتا ہے اس کے کھلونے توڑتا ہے ،ان
کے حصے کے پھل اور کھانا چھین لیتا ہے _ اس صورت میں ماں باپ خاموش نہیں رہ سکتے کیوں کہ ہوسکتا ہے ان کی خاموشی کے اچھے نتائج نہ نکلیں _ ناچار زیادتی کرنے والے بچے کو انہیں روکنا چاہیے لیکن مارپیٹ سے اصلاح نہیں ہوگی _ کیونکہ اس طریقے سے ممکن ہے صورت حال اور بھی بگڑجائے اور اس کے حسد میں اضافہ ہوجائے _ بہتر ہے کہ اسے سختی سے روکیں اور کہیں میں اجازت نہیں دے سکتا کہ اپنی بہن یا بھائی کو تنگ کرو _ آخر یہ تمہاری بہن ہے اگر تم اسے پیار نہ کروگے تو کون کرے گا او ر یہ تمہارا بھائی ہے تمہیں تو چاہیے کہ دوسرے ان پہ زیادتی کریں تو تم ان کی حفاظت کرو _ یہ تم سے کتنا پیار کرتے ہیں _ اللہ نہ تمہیں کتنے پیارے بہن بھائی دیے ہیں اور ہمیں تم سب سے پیار ہے _ تمہیں نہیں چاہیے کہ ایک دوسرے کو ستاؤ اور تنگ کرو_
آخر میں ضرور ی ہے کہ اس با ت کا ذکر کیا جائے کہ بچوں کے درمیان کامل مساوات کو ملحوظ رکھنا شاید ممکن نہ ہو _ ماں باپ چھوٹے بڑے ،بیٹی اور بیٹے کے ساتھ ایک جیسا سلوک کیسے کرسکتے ہیں _ بڑے بچوں کو نسبتاً زیادہ آزادی دی جا سکتی ہے _ لیکن چھوٹوں کو آزادی نہیں دی جا سکتی _ بڑے بچوں کو زیادہ جیب خر چ کی ضرورت ہوتی ہے اور چھوٹوں کو نہیں چھوٹے بچوں کو زیادہ ضرورت ہوتی ہے کہ ان کی رکھوالی کی جائے اور ماں باپ انی کی طرف زیادہ توجہ دیں _ کہیں آتے جاتے ہوئے بیٹیوں کی نسبت بیٹوں کو زیادہ آزادی دی جا سکتی ہے اور مناسب بھی نہیں کہ بیٹیوں کو زیادہ آزادی دی جائے _ لہذا مساوات اور عدالت کو ملحوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ عمر اور جنس کے اختلاف کے تقاضوں کو بھی ماں باپ کو ملحوظ رکھنا ہوتا ہے اور ان کی ضروریات کے فرق کا بھی لحاظ رکھنا پڑتا ہے _ اس وجہ سے خواہ مخواہ فرق پیدا ہوتا ہے لیکن سمجھدار ماں باپ اس طرح کے فرق کو اپنی اولاد کے سامنے بیان کرسکتے ہیں اور انہیں سمجھا سکتے ہیں کہ یہ اس لیے نہیں ہے کہ ہم ایک کو دوسرے پر ترجیح دیتے ہیں بلکہ عمر اور جنس کے فرق کی وجہ سے ایسا ہے مثلاً بڑے بیٹیوں سے کہا جا سکتا ہے _ تمہارا یہ بھائی چھوٹا اور کمزور ہے _ خود سے کام نہیں
کرسکتا _ اپنے آپ کو گندا کرلیتا ہے _ خود سے کھانا نہیں کھاسکتا _ اسے امی اور ابو کی زیادہ ضرورت ہے لیکن تم ماشاء اللہ بڑے ہوگئے ہو _ تم میں توانائی زیادہ ہے اور تھے کی طرح سے تمہاری دیکھ بھال کی ضرورت نہیں ہے _ اگر ہم اس پر زیادہ وقت لگاتے ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہمیں اس سے زیادہ محبت ہے _ بلکہ چارہ ہی نہیں ہے _ مطمئن رہو کہ ہماری تم سے محبت کم نہیں ہوگی _ جب تم چھوٹے سے تھے تو اسی طرح سے تمہارا بھی خیال رکھنا پڑتا تھا _
آخر میں اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ اسلام کی نظر میں حسد اگر چہ تقبیح اور برا ہے اور اسے گناہوں میں سے شمار کیا گیا ہے لیکن رشک نہ صرف یہ کہ برا نہیں ہے بلکہ جد و جہد ، کوشش اور انسانی ترقی کے عوامل میں سے ہے _ رشک اور حسد میں فرق یہ ہے کہ دوسروں کے پاس کسی نعمت کو دیکھ کر اگر انسان ناراحت ہوجائے اور یہ آرزو کرے کہ یہ ان کے پاس نہ رہے تو یہ حسد ہے _ جب کہ رشک یہ ہے کہ انسان دوسروں سے اس نعمت کے چھن جانے کی آرزو نہ کرے _ بلکہ یہ آرزو کرے کہ یہ نعمت اس کو بھی میسر آئے _ اور یہ آرزو بری نہیں ہے _
ایک صاحب لکھتے ہیں:
میری ایک بہن تھی مجھ سے دوسال بڑی تھی امی ابو بہن کی نسبت مجھ سے زیادہ پیار کرتے تھے _ جو بھی میں آرزو کرتا فوراً اسے پورا کردیتے _ ہر جگہ مییرے تعریف کرتے لیکن میری بہن کی طرف کوئی توجہ نہ دیتے _ جب کہ بہن مجھے تنگ کرتی ادھر ادھر جب بھی اسے موقع ملتا مجھے مارتی ہمیشہ مجھے تنگ کرتی رہتی _ برا بھلا کہتی _ مذاق اڑاتی _ میرے کھلونے خراب کردیتی _ اسے اچھ ا نہ لگتا کہ میں ایک منٹ بھی خوش رہوں میں ہمیشہ سوچتا رہتا کہ بہن مجھے آخر تنگ کیوں کرتی ہے آخر میں نے کیاکیا ہے وہ مجھ سے بہت
حسد کرتی تھی اور شاید اس کی وجہ وہی ماں باپ کا مجھ سے ترجیحی سلوک تھا _ وہ اپنے تئیں مجھ سے بھلائی کرنا چاہتے تھے لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ بہن مجھ سے انتقام لے گی اور صبح و شام مجھے ستائے گی _ اب جب کہ میرے والدین دینا سے جا چکے ہیں میری بہن مجھ پر انتہائی مہربان ہے_ وہ تیار نہیں ہے کہ مجھ ذرّہ بھر بھی تکلیف پہنچے _
غصّہ
غصّہ انسانی طبیعت کا حصّہ ہے اس کی بنیاد انسانی جہلت میں موجود ہے اس غیر معمولی نفسیاتی کیفیت کا آغاز انسان کے دل و دماغ سے ہوتا ہے ، پھر یہ کیفیت شعلہ آگ کے مانند پورے جسم پرچھا جاتی ہے _ آنکھیں اور چہرہ سرخ ہوجاتا ہے _ ہاتھ پاؤں کا نپنے لگتے ہیں _ منہ سے جھاگ لگتی ہے _ انسان کے اعصاب اس کے کنٹرول سے نکل جاتے ہیں _ غصیلے شخص کی عقل کام نہیں کرتی اوراس حالت میں اس میں اور کسی پاگل میں کوئی فرق نہیں ہوتا _ ایسے عالم میں ممکن ہے اس سے ایسی غلطیاں سرزد ہوں جن کی سزا اسے پوری عمر بھگتنا پڑے _
حضرت علیہ علیہ السلام فرماتے ہیں:
غصّے سے بچو کیونکہ اس کی ابتداء جنون سے ہوتی ہے اور انتہاء پشیمانی پر _ (1)
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
غصّہ تمام برائیوں اور جرائم کی کنجی ہے _ (2)
غصّہ انسان کے دین اور ایمان کو بھی نقصان پہنچاتا ہے اور اس کے نیک اعمال کو بھی غارت کردیتا ہے _
---------
1_ مستدرک ، ج 2 ، ص 326
2_ اصول کافی ، ج 2 ، ص 303
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں:
غصّہ ایمان کو یوں ختم کردیتا ہے جیسے سر کہ شہد کو تباہ کردیتا ے ( 1)
غصّہ ایمان کے عالم میں انسان احمقانہ باتیں کرتا ہے اور اس سے ایسا غلط کام صادر ہوتے ہیں جو اس کے باطن کو آشکار کردیتے ہیں اور اسے دوسروں کی نظر میں رسوا کردیتے ہیں _ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
غصہ ایک برا ساتھی ہے کہ جو انسان کی خامیوں کو آشکار کردیتاہے _ انسان کو برائی سے قریب اور نیکی سے دور کردیتاہے _ (2)
دائمی غصّہ انسان کے دل اور اعصاب پر برے اثرات مرتب کرتا ہے اور انہیں کمزور مضمحل کردیتا ہے _ لہذا جو شخص اپنی حیثیت ، صحت اور دین کا خیرخواہ ہے اسے چاہے کہ اس بری صفت کا سختی سے مقابلہ کرے اور اس امر کے لیے خبردار ہے کہ کہیں غصّہ اس کے اعصابی کنٹرول کو چھین لے اور اس کا دین و دنیا اور عزت و آبرو برباد کردے _ اس نکتے کی یاددھانی بھی ضروری ہے کہ غصّہ ہر جگہ اور ہر حال میں برا، ناپسندیدہ اور نقصان وہ نہیں ہے بلکہ اگر اس سے صحیح موقع پر صحیح طریقے سے استفادہ کیا جائے تو یہ انسانی زندگی کے لیے بہت فائدہ مند ہے _ اسی جہلت سے انسان اپنی جان ، مال، اولاد ، دین ، وطن اور دیگر انسانوں کا دفاع کرتا ہے _ اس جہلت کی موجودگی کے بغیر انسان آبرو مندانہ زندگی نہیں گزارسکتا _ یہ جہلّت اگر عقل کے اختیار میں رہے تو نہ فقط نقصان وہ نیں ہے بلکہ مفید ہے _
راہ خدا میں جہاد، دین ووطن کا دفاع، امر بالمعروف و نہی عن المنکر عزت و ناموس کی حفاظت ، ظلم کے خلاف قیام ، مظلوموں کی حمایت ، کفر اور بے دینی سے مقابلہ اور ستم رسیدہ انسانوں کی حمایت _ یہ سب کام اسی قوّت کی برکت سے انجام پاتے ہیں _
-------------
1_ اصول کافی ، ج 2 ، ص 302
2_ مستدرک، ج 2 ، ص 326
ایک متدین اور ذمہ دار مسلمان زندگی کے تلخ و ناگوار حوادث کے سامنے ، ظلم اور حق کشی کے سامنے ، استبداد اور آمریت کے سامنے ، برائی اور گناہ کے سامنے ، لوگوں کے اموال پر تجاوز کے مقابلے میں ، سامرا حج اور استعمار کے مقابلے میں ، ملّتون کو غلامی کے طوق پہنانے کے مقابلے میں ، بے دینی اور مادہ پرستی کے مقابلہ میں خاموش اور لا تعلق رہے ، اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا _ لیکن اس کے غصّے کو اس کی عقل پر بالادستی حاصل نہیں ہونا چاہئے کیونکہ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
اگر تونے غصّے کی پیروی کی تو یہ تجھے ہلاکت تک جا پہنچائے گا _ (1)
یہ درست نہیں ہے کہ اس قوت کو بالکل ختم کردیا جائے اور انسان لا تعلق ، بے حسّ اور بے غیرت ہوجائے _ بلکہ افراط و تفریط سے اجتناب کرنا چاہیے اور اس قوت کو صحیح طریقے سے پران چڑھانا چاہیے _ تا کہ ضروری مواقع پر اس سے استفادہ کیا جاسکے _ غصّہ دیگر صفات کی طرح بچپن ہی سے انسان میں نشوو نما حاصل کرتا ہے _ یہ تما م انسانوں کی سرشت کا حصّہ ہے لیکن ، اس کی کمی یا زیادتی کا تعلق تربیت ، ماحول اور ماں باپ سے ہے ماں باپ اپنے طرز عمل سے اس قوت کو حالت اعتدال میں بھی رکھ سکتے ہیں اور افراط یا تفریط کی طرف بھی لے جا سکتے ہیں _ اس امر کی طرف توجہ بھی ضروری ہے کہ سب انسانوں کا مزاج ایک سا نہیں ہوتا کسی میں غصّہ زیادہ ہوتا ہے اور کسی میں پیدائشےی طور پر کم _ عقلمند اور باتدبیر ماں باپ بچے کے خاص مزاج کو مدّ نظر رکھتے ہوئے اس کی تربیت کرتے ہیں اور اس کی جبلّی قوتوں کو اعتدال پر لاتے ہں اور اسے افراط و تفریط کے عوامل سے بچاتے ہیں _
بچہ غصّے میں چیختا چلاّنا ہے ، اس کا بدن کا پنتا ہے ، چہرے کا رنگ متغیر ہوجاتا ہے زمین پر پاؤں مارتا ہے اور لوٹتا ہے ایسے عالم میں وہ سخت سست جملے بولتا ہے کونسے میں جالگتا ہے لیکن اس کا مقصد شرارت نہیں ہوتا _ ضروری ہے کہ بچے کے غصّے کی وجہ دریافت کی جائے اور اسے دور کیا جائے _
---------
1_ مستدرک، ج 2، ص 326
غصہ کلی طور پر کسی پریشانی اور ناراحتی سے پیدا ہوتا ہے _ شدید درد تھکاوٹ زیادہ بے خوابی ، بھوک ، شدید پیاس اور گرمی اور سردی کا غیر معمولی احساس نو مولود اور چھوٹی عمر کے بچوں کو بے آرام کردیتا ہے اور اس کے غصّے کو بڑھاتا ہے بچے کی توہین کرنا اور اسے اذیت دینا _ اس کی خواہشوں کے خلاف قیام کرنا، اس کی آزادی کو سب کرنا ، خواہ مخواہ اس پر پابندیاں عائد کرنا ، دوسرے کو ترجیح دیے جانے کا احساس اور ناانصافیاں ، اس امر کا احساس کہ مجھ سے پیار نہیں کیا جاتا ، اس پر زبردستی بات ٹھونسنا ، بچے کی خود اعتمادی کو نقصان پہنچانا ، ناتوانی کا احساس اور کامیاب نہ ہونے کا احساس ، مشکل اور طاقت فرسا احکامات ، سخت ڈانٹ ڈپٹ ان میں سے ہر امر بچے کا چین چھین لیتا ہے اور اس کے غصے کو بڑھاتا ہے اور اگر ایسی چیزوں کا تکرار ہوتا رہے تو بچے کے اندر غصّے کی سرشت کو تقویت ملتی ہے اور وہ ایک غصیلہ اور چر چڑا شخص بن جاتا ہے _ بعض ماں باپ عملاً بچوں کو غصّے کا سبق دیتے ہیں _ ان پر چیختے ہیں اور سختی کرتے ہیں _ ان کے غصّے کے مقابلے میں غصّے ہو جاتے ہیں _ اس طرح سے انہیں زیادہ غصیلہ بناتے ہیں _
اگر آپ کا بچہ غصّے میں آیا ہو تو آپ اس کے مقابلے میں غصّہ نہ کریں _ اس بات کا اطمینان رکھیں وہ کسی برائی کا ارادہ نہیں کرتا _ آپ اس امر کی کوشش کریں کہ اس کی ناراضگی کی وجہ معلوم کریں _ اگر اس در د ہے تو اس کا علاج کریں _
اگر بھوکا اور پیاسا ہے تو اسے کوئی چیز کھانے پینے کے لیے دیں _ اگر تھکا ہوا ہے تو اسے تو اسے سلادیں _ اگر آپ کے کاموں یا طرز عمل کی وجہ سے وہ غصّے میں ہے تو آپ تلافی اور اصلاح کریں _ اگر اس کا غصّہ خیال ادھر ادھر بھٹکنے کی وجہ سے پیدا ہوگیا ہے تو اس کے اشتباہ کو دور کریں _ اگر اسے روحانی طور پر تقویت کی ضرورت ہے تو آپ وہ مہیا کریں _ اگر اس کی کوئی جائز خواہش ہے اور آپ اسے پورا کرسکتے ہیں تو پورا کریں لیکن جب وہ معمول کی حالت پر آجائے تو کہیں کہ انسان کو جو چیز چاہیے تو اسے زبان سے مانگنا چاہیے نہ کے غصّے اور زور سے اس دفعہ تو میں نے تمہاری خواہش پوری کردی ہے لیکن آئندہ اگر تم نے غصّے اور زور سے کوئی بات منوانے کی کوشش کی تو پوری نہیں کی جائے گی _
حضرت علیہ علیہ اسلام فرماتے ہیں:
''غصّے سے بچو کہیں یہ تم پر مسلط ہی نہ ہوجائے اور ایک عادت ہی نہ بن جائے '' _ (1)
چڑچڑ ے بچے زود رنج ہوتے ہیں اور چھوٹی سی بات پر غصّے میں آجاتے ہیں _ کیونکہ ان کی روح قوی نہیں ہوتی _ لہذا و ہ کوئی بھی ناپسندیدہ بات برداشت نہیں کرسکتے اور معمولی سی چیز پر بھی متاثر ہوجاتے ہیں اور غصّے میں آجاتے ہیں _
-------
1_ غررالحکم ص 809
بدزبانی
بدگوئی ایک بری عادت ہے _ بدزبان اپنی بات کا پابند نہیں ہوتا _ جو کچھ اس کے منہ میں آتا ہے کہے جاتا ہے ، گالی بکتا ہے ، ناسزا کہتا رہتا ہے ، شور مچاتا ہے ، برا بھلا کہتا رہتا ہے _ طعن زنی کرتا ہے ، زبان کے چرکے لگاتا ہے _
بدزبانی حرام ہے اور گناہان کبیرہ میں سے ہے _
رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
بد زبانی کرنے والے پر اللہ نے بہشت کو حرام قرار دیا ہے اور گالی دینے والے ، بے حیا اور بدتمیز پر بھی جنت حرام ہے _ بدگو شخص جو کچھ دوسروں کے بارے میں کہتا ہے نہ اس کا خیال رکھتا ے اور جو کچھ دوسرے اس کے بارے میں کہتے ہیں ن اس پر دھیان دیتا ہے _ (1) امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
دشنام طرازی ، بدگوئی اور زبان درازی نفاق اور بے ایمانی کی نشانیوں میں سے ہے _ (2)
اللہ تعالی قرآن میں فرماتا ہے :
---------
1_ اصول کافی ، ج 2 ، ص 323
2_ اصول کافی ، ج 2 ، ص 235
ویلٌ لکلّ همزة لمزة _
افسوس ہے ایسے سب افراد پر کہ جو لوگوں کی عیب جوئی اور طعن و تمسخر کرتے ہیں _ (ہمزہ _1)
بدزبانی افراد گھٹیا اور کم ظرف ہوتے ہیں اس بری عادت کی وجہ سے لوگوں کو اپنا دشمن بنالیتے ہیں _ لوگ ان سے نفرت کرتے ہیں _ لوگ ان کی زبان سے ڈرتے ہیں اور ان سے میل ملاقات سے دور بھاگتے ہیں _
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:لوگوں میں سے بدترین وہ ہے کہ لوگ جس کی زبان سے ڈریں اور اس کے ساتھ ہم نشینی کو پسند نہ کریں _ (1) حضرت صادق علیہ اسلام نے فرمایا:لوگوں میں سے بدترین وہ ہے کہ لوگ جس کی زبان سے ڈریں اور اس کے ساتھ ہم نشینی کو پسند نہ کریں _ (1) حضرت صادق علیہ السلام نے فرمایا:لوگ جس کی زبان سے بھی دڑیں وہ جہنم میں جائے گا _ (2) رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:مومن طعن زنی نہیں کرتا ، برا بھلا نہیں کہتا رہتا ، دشنام طرازی نہیں کرتا اور بدزبانی نہیں کرتا _ (3) بچہ فطری طور پر بدزبان نہیںہوتا _ یہ بری صفت وہ اپنے ماں باپ ، بہن بھائی یا ، دوستوں ، ہم جولیوں اور ہم جماعت بچوں سے سیکھتا ہے _ لیکن اس سلسلے میں ماں باپ کا اثر سب سے زیادہ ہوتا ہے _ ماں باپ اپنے بچے کے لیے مؤثر ترین نمونہ عمل ہوتے ہیں _ لہذا ماں باپ نہ فقط اپنے قول و عمل کے ذمہ دار ہیں بلکہ بچوں کی تربیت کے بھی ذمہ دار ہیں _ یہ ماں باپ ہی ہیں جو بچے کو خوش کلام یا بدزبان بنادیتے ہیں ب_ بعض ماں باپ مذاق
----------
1_ اصول کافی ، ج 2 ، ص 325
2_ اصول کافی ، ج 2، ص 327
3_ مہجة البیضائ، ج 3 ، ص 127
کے طور پر یا غصّے میں اپنے بچوں کو بدزبانی کا عملی درس دیتے ہیں _ بعض گھروں میں اس طرح کے کلمات روز مرّہ کا معمول ہیں:
کتے کا بچہ ، کتے کی ماں ،کیتا کی بیٹی، احمق ، بے وقوف ، بے شعر ، گدھا ، حیوان ، حرام زادہ ، پاگل ، سست ، بے ادب ، بے غیرت ،خدا تمہیں موت دے ، گاڑی کے نیچے آؤوغیرہ _ کبھی ماں باپ ایک دوسرے کی عیب جوئی کرتے ہیں ، ایک دوسرے کامذاق اڑاتے ہیں یا ایک دوسرے کو گالی دیتے ہیں _
ماں باپ جن کا فرض یہ ہے کہ بچوں کی کمزوریوں کو چھپائیں وہ کبھی خود بچوں کی عیب جوئی کرنے لگتے ہیں ، انہیں طعنے دیتے ہیں ، ان پر طنز کرتے ہیں اور انہیں سخت سست کلمات کہتے ہیں _ کیا ایسے ماں باپ کو توقع ہے کہ ایسے خاندان کا بچہ خوش زبان ہوگا _ ایسی توقع عموماً پوری نہیں ہوتی _ ایسے ماں باپ کو توقع رکھنا چاہیے کہ ان کے بچے انہی کی طرح بلکہ ا سے بڑھ کر بدزبان ہوں گے _ انہیں امید رکھنا چاہیے کہ وہ بعینہ یہی الفاظ بچوں کے منہ سے سنیں گے _ وعظ و نصیحت اور مارپیٹ سے بچے کو اس بری عادت سے نہیں روکا جا سکتا _ بہترین طریقہ یہ ہے کہ ماں باپ اپنی اصلاح کریں اور پھر بچے کی اصلاح کی طرف متوجہ ہوں _
کبھی بچے یہ بری عادت اپنے ہمجولیوں سے سیکھتے ہیں لہذا ماں باپ کو اس امر کی طرف توجہ رکھنا چاہیے کہ ان کے بچوں کے دوست کس طرح کے ہیں _ انہیں اس بات کی اجازت نہ دیں کہ بدزبان بچوں سے میل جول رکھیں _
اگر آپ کبھی اپنے بچے سے کوئی فحش یا بری بات سنیں تو ہنس کر یا مسکر اکر اس کی تائید نہ کریں _ گالی اور غصّے کے ذریعے سے بھی بچے کو ایسی بات سے نہ روکیں کیونکہ اس طریقے کا نتیجہ زیادہ تر الٹ ہی نکلتا ہے بلکہ اسے اچھے انداز سے اور پیارسے سمجھائیں _
اس سے کہیں گالی دینا بری عادت ہے اچھے بچے کبھی گالی نہیں دیتے _
چغل خوری
چغل خوری ایک انتہائی بری عادت ہے کہ جو بد قسمتی سے بہت سے افراد میں پائی جاتی ہے اگر کوئی شخص کسی کے بارے میں بری بات کرتو چغل خور اسے اگے پہنچاتا ہے اور کہتا ہے فلان نے تیرے بارمیں ایسا ویسا ہا ہے چغل خوری پست فکری اور شیطنت کی صفات میں سے ہے _ اس سے ایک دوسرے کے درمیان کینہ اور دشمنی پیدا ہوجاتی ہے _ دوستوں کو ایک دوسرے سے جدا کردیتی ہے _ بہت سے جرائم ، جھگڑے ، قتل ، لڑائیاں اسی چغل خوری کا نتیجہ ہوتی ہیں _ کتنے گھروں کو اس عادت نے خراب کردیا ہے میاں بیوی کو ایک دوسرے سے جدا کردیا ہے والدین سے بچوں کو جدا کردیا ہے _ والدین سے بچوں کو جدا کردیا ہے _ چغل خور لوگوں کے راز فاش کرتا ہے _ جب کہ خدا اس امر پر راضی نہیں ہے _ چغل خور کی لوگوں میں کوئی حیثیت نہیں ہوتی _ اسے شیطان ، جاسوس اور بدذات سمجھا جاتا ہے ، زیادہ تر لوگ اس سے ہم نشینی اوردوستی سے گریز کرتے ہیں اور اس پر اور اس کے والدین پر لعنت بھیجتے ہیں _ بدترین چغل خوری ظالموں کے لیے جاسوسی کرنا اور ٹوہ لگانا ہے _ اگر کوئی شخص کسی ظالم کے لیے جاسوسی کرے اور کسی مسلمان کو مصیبت میں پھنسادے _ اور اس کی قید ، اذیت یا قتل کا سبب بنے تو و ہ ظالم کے ظلم میں شریک ہے _ روز قیامت اسے سزا ملے گی _ اگر چہ وہ ظلم اور قتل کے جرم میں ظاہراً شریک نہ ہو _
رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں:
سب سے برا شخص وہ ہے جو اپنے مسلمان بھائی کی بادشاہ کے پاس چغلی کرے
اور اس کی جاسوسی کرے _ یہ جاسوسی اس کے لیے بھی باعث ہلاکت ہے
اس کے بھائی کے لیے بھی اور بادشاہ کے لیے بھی _ (1)
اسلام کے دین مقدس نے جاسوسی اور چغل خوری کو حرام قرار دیا ہے اور اس سلسلے میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں _
امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
چغل خور پہ بہشت حرام کردی گئی ہے اور وہ اس میں داخل نہیں ہوسکتا _ (2)
امیر المومین علی علیہ السلام فرماتے ہیں:تم میں سے شریر اور برے وہ ہیں کہ جو چغل خوری سے دوستوں کے درمیان جدائی ڈال دیتے ہیں اور پاکدامن افراد کی عیب جوئی کرتے ہیں _ (3)
چغل خوری کی مختلف وجوہات ہوسکتی ہیں _ کبھی دشمنی اس کا باعث بنتی ہے _ چغل خور کو کسی ایک یا دونوں افراد سے دشمنی ہوتی ہے اس لیے ایک سے دوسرے کی بات بیان کرتا ہے تا کہ ان میں پھوٹ پڑجائے _ اور وہ آپس میں لڑ پڑیں _ کبھی کوئی شخص خودنمائی اور دوستی و خیرخواہی جتانے کے لیے چغلی کھاتا ہے _ اور کبھی اس کا مقصد فقط محفل آرائی ہوتا ہے _ بہر حال مقصد کچھ بھی ہوکام بہت برا ہے کہ ایک مسلمان کو جس سے بہر حال اجتناب کرنا چاہیے _ دین مقدس اسلام نے چغلی سننے تک کو حرام قرار دیا ہے _پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں:چغل خوری نہ کرو اور نہ چغل خور کی بات پر کان لگاؤ_ (4)
-----------
1_ بحار، ج 75، ص 266
2_ اصول کافی، ج 2 ص 369
3_ اصول کافی ، ج 2 ، ص 379
4_ مجمع الزوائد ، ج 8، ص 91
علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
ٹوہ لگانے والے اور چغل خور کی بات کی تکذیب کرو وہ غلط ہو یا صحیح _ (1)
واضح ہے کہ اگر کوئی شخص چغل خور کی باتوں پر کان نہ دھرے گا تو وہ ناچار اس عادت سے دستبردار ہوجائے گا_ جو شخص کسی کی چغلی آپ کے سامنے کرتا ہے آپ اطمینان رکھیں کہ وہ آپ کا حقیقی دوست اور خیر خواہ نہیں ہے _ اگر وہ آپ کا دوست ہوتا تو کہنے والے کے سامنے تمہارا دفاع کرتا نہ کہ اس کی بات آکر تمہارے سامنے نقل کرتا _ تا کہ تم غصّے میں جلو اور پریشان ہو _ اور کبھی وہ تمہیں غلط کاموں پہ ابھارتا ہے ، مسلمان کو چاہیے کہ وہ راز دار ہو اور اپنی زبان پر کنڑول کرے اور جاسوسی اور چغل خوری سے پرہیز کرے _ بہت سے لوگ یہ ناپاک عادت بچپن ہی میں ماں باپ کے ہاں سے حاصل کرتے ہیں _ لہذا ماں باپ کی بھی اس سلسلے میں ذمہ داری ہے _ اپنی اولاد کو اس بری عادت سے بچانے کے لیے پہلے ماں باپ کو چاہیے کہ وہ کسی کی چغلی نہ کھائیں ماں کو نہیں چاہیے کہ وہ پھوپھی ، باجی ، خالہ اور ہمسائیوں کی شکایتیں اپنے شوہر سے کرے _ اور شوہر بھی بیوی سے دوسروں کی چغلی نہ کھائے کیونکہ اگر ماں باپ کو چغل خوری کی عادت ہوگی تو ان کی اولاد بھی ان کی تقلید کرے گی _ اور اس بری عادت کو ان سے سیکھے کی _ کبھی کوئی بچہ اپنی امی، بہن یا بھائی کی شکایت ابو سے کرتا ہے اور چغلی کھاتا ہے _ اس موقع پر باپ کی ذمہ داری ہے کہ فوراً بچے کو روکے اور اس سے کہیں کہ چغلی کھانا برا کام ہے _ کیوں امّی امّی کی بات میرے سامنے بیان کرتے ہو؟ مجھے اچھا نہیں لگتا کہ تم دوسروں کی باتیں مجھ سے بیان کرو _ پھر میں نہ دیکھوں کہ تو چغلی کھاتاہے _ علاوہ ازیں اس کی چغلیوں پر رد عمل بھی بالکل ظاہر نہ کریں اور انہیں بالکل نظر انداز کردیں _ بچوں کو یہ بری عادت نہ پڑے اس لیے
پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا:''چغل خوری کی چغلیوں پہ کان نہ دھرو''
---------
1_ غررالحکم ، ص 125
عیب جوئی
لوگوں میں یہنی کیڑے نکالنا بھی بری اور مذموم عادتوں میں سے ہے _ عیب جوئی کرنے والے شخص سے لوگ نفرت کرتے ہیں اور اس سے میل ملاپ پسند نہیں کرتے _ عیب جوئی دشمنی اور کینے کا باعث بن جاتی ہے ، دوستیوں کے بندھن توڑدیتی ہے اور دوستوں کے ما بین جدائی ڈال دیتی ہے _ اگر کسی کی غیر موجودگی میں اس کی عیب جوئی کی جائے تو یہ غیبت ہے اور سامنے کی جائے تو بھی برائی ہے _ دین مقدس اسلام نے اس بڑی عادت کو گناہوں کبیرہ میں سے شمارکیا ہے اس بارے میں بہت سی احادیث مروی ہیں _ مثلاً:
رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک خطبہ دیتے ہوئے بآواز بلند فرمایا:
اے وہ لوگو کہ جو زبان سے ایمان کا دعوی کرتے ہو _ لیکن تمہارے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہو مسلمانوں کی غیبت اور بدگوئی نہ کرو اور ان کے عیب تلاش نہ کرتے رہو کیونکہ ہر وہ شخص جو اپنے بھائی کے عیب ڈھونڈے اللہ اس کے عیوب آشکار کردے گا اور اسے لوگوں کی نظروں میں رسوا کردے گا _ (1)
-------
1_ جامع السعادات ، ج 2 ، ص 203
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
جو شخص بھی کسی مومن سے متعلق کوئی ایسی بات کہے کہ جس سے اس کی عزت و آبرو جاتی ہو ، اللہ اسے اپنے دوستوں کے زمرے سے نکال کر شیطان کے دوستوں میں شامل کردے گا اور شیطان بھی اسے قبول نہیں کرے گا _ (1)
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
جو کوئی بھی کسی مسلمان مرد یا عورت کی غیبت اور بدگوئی کرے گا ، اللہ چالیس روز تک اس کی نماز روزہ قبول نہیں کرے گا مگر یہ کہ جس کی اس نے غیبت کی ہے اس راضی کرلے _ (2)
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
غیبت اور بدگوئی حرام ہے اور نیکیوں کو یوں تباہ کردیتی ہے جیسے آگ ایندھن کو جلاڈالتی ہے _ (3)
بد قسمتی سے اتنا برا گناہ ہمارے لوگوں کا معمول بن چکا ہے _ یہاں تک کہ اب یہ لوگوں کو برائی ہی معلوم نہیں ہوتا اور لوگ اس کے عادی ہوچکے ہیں _ ماں باپ کی برائی کرتی ہیں اور باپ ماں کی _ ہمسائے اور رشتے دار ایک دوسرے کی عیب جوئی کرتے ہیں _ معصوم بچے یہ بری عادت اپنے گھر اور ماں باپ ہی سے اپناتے ہیں _ بچے دوسرے بچوں کی عیب جوئی کرتے ہیں _ تدریجاً بڑے ہوجاتے ہیں تو پھر اس خود کو چھوڑنا ان کے لیے مشکل ہوجاتا ہے _
بعض نا سمجھ ماں باپ اپنے بچوں کی برائی بھی کرتے ہیں جب کہ انہیں اپنی اولاد
-------------
1_ جامع السعادات ، ج 2 ، ص 305
2_ جامع السعادات ، ج 2 ، ص 304
4_ جامع السعادات ، ج 2 ، ص 305
کی کوتاہیوں کو چھپانا چاہیے _ کبھی ماں باپ اپنی اولاد کی برائی اس کے سامنے مذاق کے طور پر یا غصّے میں بیان کرتے ہیں _
ایسی صورت میں بچے ماں باپ کے بارے میں بدظن ہوجاتے ہیں ، یا ان میں بھی یہ عادت پڑجاتی ہے اور یا پھر اپنے بارے میں وہ احساس کمتری کا شکار ہوجاتے ہیں لہذا ماں باپ کو بچوں کی عیب جوئی سے پرہیز کرن چاہیے _
گھر میں بچوں کا لڑائی جھگڑا
ایک بہت بڑی گھریلو پریشانی بچوں کا لڑائی جھگڑا ہے _ بچے جب ایک سے زیادہ ہوجائیں تو پھر ان کے درمیان لڑائی جگھڑا بھی شروع ہوجاتا ہے _ ایک دوسرے کو اپنے لیے بدشگون سمجھتا ہے _ وہ آپس میں ایک دوسرے کو دھکّے د یتے ہیں ، کھلونے چھینتے ہیں ، ایک دوسرے کی کاپی پر لکیریں کھینچ دیتے ہیں ،مذاق اڑاتے ہیں، ایک شور مچاتاہے تا کہ دوسرا اسکول کا سبق یا دنہ کر سکے ، ہر بچہ جانتا ہے کہ وہ کن طریقوں سے اپنے بھائی یا بہن کو ستا اور لا سکتا ہے وہ ایک دوسرے کی خوب خبر لیتے ہیں _ اس صورت حال پر ماں باپ بے چار ے کڑھتے رہتے ہیں _ لڑائی جھگڑے کی شکایت ان کے پاس آتی ہے ، خرابی تو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب بچوں کی لڑائی ماں باپ پر اثر انداز ہوجاتی ہے _ ماں ، باپ س کہتی ہے تم تو بچے کی تربیت کی طرف توجہ نہیں دیتے ، وہ تم سے دڑتے تک نہیں ، یہ تمہاری لا پروا ہی کی وجہ ہی سے گھر میدان جنگ بن چکا ہے _
باپ ، ماں سے کہتا ہے ،اگر تو سمجھدار عورت ہوتی تو یہ سچے اتنے شیطان اور نالائق نہ ہوتے _ تیری حمایت کی وجہ سے بچوں کی یہ حالت ہے _
یہاں پر ماں باپ کو یادرکھنا چاہیے کہ بچے تو بچے ہوتے ہیں _ ان سے اس بات کی توقع نہ رکھیں کہ وہ پینتالیس سالہ کسی شخص کی طرح آرام سے کسی کونسے میں بیٹھے ہوں _ آپ اس حقیقت کو قبول کریں کہ بچوں کا لڑائی جھگڑا تو ایک فطری سی بات ہے _ لڑائی تو بڑوں میں بھی ہوجاتی ہے _ ایک گھر میں بچوں سے کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ ہمیشہ آرام و
سکون سے بیٹھے رہیں اور کبھی لڑائی جھگڑا نہ کریں_ بچے تو شریر ہوتے ہی ہیں _ وہ جلدی پھر آپس میں گھل مل جاتے میں بڑوں کی طرح دیر تک ایک دوسرے سے منہ بسورے بیٹھے نہیں رہتے _ ایک ماہر نفسیات اس سلسلے میں لکھتے ہیں:
یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ یہ بات ہمیں سوچنا ہی نہیں چاہیے کہ ایک گھر ، اس میں چند بچے بھی ہوں مگر وہ ہمیشہ مل جل کر رہیں کبھی لڑیں جھگڑیں نہیں _ ہم نے جس بچے سے بھی بات کی ہے وہ یہ کہتا ہے کہ امی ابو یہ سوچتے رہتے ہیں کہ ہم بہن بھائی جب اکھٹے ہوں تو ہمیں بہت زیادہ اتفاق و آرام سے رہنا چاہیے _ اگر آپ حقیقت کو مدّ نظر رکھتے ہوئے اپنی اس توقع سے تھوڑا سا پیچھے ہٹ جائیں توبچوں کے اس لڑائی جھگڑے سے اتنا پریشان نہیں ہوں گے _ (1)
ہمیں یہ بات بھی معلوم ہونی چاہیے کہ بچوں کہ یہ عادت ہمیشہ نہیں رہے گی بلکہ عمر کے ساتھ ساتھ خود بخود ختم ہوجائے گی _ اگر ماں باپ ان کے بچن کے طرز عمل کو ایک حقیقت کے طور پر مان لین تو پھر کسی حد تک انہیں اطمینان ہوجائے گا اور کم از کم وہ ان کے بچپن کے لڑائی جھگڑے خو د ان تک نہیں پہنچنے دیں گے _
ایک ماہر نفسیات لکھتے ہیں:
شاید بچوں کے بہت سارے کام مثلاً آپس میں مذاق کرنا _ ایک دوسرے سے لڑائی جھگڑا کرنا _ کشتی کرنا _ صرف وقت کے ساتھ ساتھ اور ان کے بڑے ہونے سے ختم ہوجاتے ہیں _ (2)
ہاں یہ درست ہے کہ زیادہ تر موقع پر ماں باپ بچوں کے لڑائی جھگڑوں کو ختم نہیں کرسکتے لیکن عقل اور تدبیر سے ان میں کمی پیدا کرسکتے ہیں_ عقل مند ماں باپ بچوں کے
-----------
1_ روان شناسی کودک از تولّد تادہ سالگی ، ص 286
2_ روان شناسی کودک _ رفتار کودکان از تولد تا دہ سالگی ص 286
لڑائی جھگڑے پر بالکل تماشائی نہیں بنے رہ سکتے _ بلکہ ان کی ذمہ داری ہے کہ عقل و تدبیر سے اس کے عوامل کو ختم کریں _ انہیں اجازت نہ دیں کہ وہ ایک دوسرے کو اذیت پہنچائیں _ ماں باپ کو چاہیے کہ پہلے وہ اختلاف کے عوامل کو سمجھیں اور ان اسباب کو پیدا ہونے سے روکیں وگرنہ بعد میں مسئلہ مشکل ہوجائے گا _ بچوں کے درمیان اختلاف کی ایک اہم وجہ ان کا آپس میں حسد ہے نظر انداز کرنے سے حسد ختم نہیں ہوسکتا _ اور ڈانٹ ڈپٹ بھی اس کا علاج نہیں ہے _ چاہیے کہ حسد پیدا ہونے کے اسباب کو روکا جائے _
بچہ خود پرست ہے وہ چاہتا ہے کہ فقط وہی ماں باپ کا محبوب ہو اور کوئی اور ان کے دل میں جگہ نہ پائے _ پہلا بچہ عموماً ماں باپ کو لاڈلاہوتا ہے _ وہ اس سے پیار محبت کرتے ہیں _ اس کی خواہشات کو پورا کرتے ہیں _ لیکن جب دوسرا بچہ دنیا میں آتا ہے تو حالات بدل جاتے ہیں _ ماں باپ کی پوری توجہ نو مولودکی طرف ہوجاتی ہے اب بڑا بچہ خطرہ کا احساس کرتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ یہ ننھا بن بلا یا مہمان اب اس کا رقیب بن گیا ہے _ اور ماں باپ کو اس نے اپنا بنالیا ہے _ وہ سمجھتا ہے کہ اس سے انتقام لینا چاہیے _ لیکن نومولود پر اں باپ کی شفقت ہوتی ہے لہذا اسے قبول کیے بغیر چارہ بھی نہیں ہوتا _ ان حالات میں ممکن ہے بڑا بچہ اپنے آپ کو بیمار ظاہر کرے ، زمین پر گرجائے ، کھانا ہ کھائے ، غصّہ کرے ، روئے یا اپنے کپڑوں کو خراب کردے تا کہ اس طرح سے وہ ماں باپ کی توجہ اپنی طرف مبذول کرسکے یہ بچہ اپنے آپ کو مظلوم سمجھتا ہے اور اسی وقت سے بھائی یا بہن کے بارے میں اپنے دل میں کینہ کرلیتا ہے _ اور اس موقع کے انتظام میں رہتا ہے کہ اس سے انتقام لے سکے _ اس کیفیت میں سب بچے پیدا ہوتے ہیں اور گھر کے دوسرے بچوں سے آملتے ہیں _ انہیں حالات میں حسد اور کینہ پیدا ہوتا ہے _ کیا یہ بہتر نہیں ہے کاماں باپ شروع ہی ہے اپنے طرز عمل پر توجہ رکھیں _ اور بچوں میں حسد کے اسباب پیدا نہ ہونے دیں _ سمجھدار ماں باپ نو مولود کے دنیا میں آنے سے پہلے ہی بڑے بچوں کو ذہنی طور پر اس کے استقبال کے لیے اور قبول کرنے کے لیے تیار کرتے ہیں _ ان سے کہتے ہیں _ انہیں پہلے ہی سمجھاتے ہیں کہ جلد ہی تمہارا ننھا بھائی یا ننھی بہن پیدا ہوگی _ تعجب وہ بڑی ہوگی تو
تم سے پیار کرے گی _ تمہارے ساتھ مل کے کھیلے گی _
اگر وہ نو مولود کے لیے کوئی چیز تیار کریں تو بڑے بچوں کے لیے بھی کوئی چیز خریدیں جب ماں نئی پیدائشے کے لیے کسی میڈیکل سینٹر میں داخل ہوجائے تو باپ بچوں کے لیے تحفہ لاسکتا ہے اور ان سے کہہ سکتا ہے کہ یہ ننّھے کی آمد کی خوشی میں تمہارے لیے تحفہ لایا ہوں _ جب نو مولود گھر آئے تو زیادہ شورو شرابہ نہ کریں اور دوسرے بچوں کی موجودگی میں اسی کی زیادہ تعریف نہ کریں _ پہلے کی طرح بلکہ پہلے سے بھی زیادہ ان کا خیال کریں _ ان سے محبت کریں ایسا سلوک کریں کہ بڑے بچے مطمئن ہوں وہ سمجھیں کہ نئے بچے کہ آنے سے ان کی زندگی کو نقصان نہیں پہنچا _ اس طرح سے وہ نئے بچے کے لیے اپنی گو دپھیلا سکتے ہیں اور خوشی خوشی اس کا استقبال کرسکتے ہیں _ مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر ماں باپ چاہیں کہ ان کے بچے آپس میں دوست ہوں اور ان میں لڑائی جھگڑانہ ہو تو ان میں حسد کے اسباب پیدا ہونے دیں اور ان کو ایک آنکھ سے دیکھیں _ سب سے ایک جیسا سلوک کریں تا کہ وہ آپس میں دوست ہوں _حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:انصاف اختلاف کو ختم کردیتا ہے اور دوستی کا سبب بنتا ہے _ (1) امیر المومنین علی علیہ السلام ہی فرماتے ہیں:عادلانہ سلوک بہترین تدبیر ہے _ (2) ممکن ہے بعض بچوں میں واقعاً ایسی خصوصیت ہو کہ جس کی وجہ سے ماں باپ کی محبت ان سے زیادہ ہوجائے _ ہوسکتا ہے بعض بچے زیادہ ذہین ہوں ، زیادہ خوبصورت ہوں _ بعض کا اخلاق بہتر ہو _ ہوسکتا ہے زیادہ محنتی ہو _ ہوسکتا ہے بعض زیادہ خوش زبان ہوں ، ہو سکتا ہے کسی کا سلوک دوسرے سے ماں باپ سے بہتر ہو _ ہوسکتا ہے کوئی کلاس سے دوسروں کی نسبت نمبر اچھے لائے _ ہوسکتا ہے ماں باپ بیٹی یا بیٹے کو زیادہ پسند
------------
1_ غرر الحکم ، ص 64
2_ غررالحکم ، ص 64
کرتے ہوں _
ممکن ہے اس میں کوئی حرج بھی نہ ہو کہ ماں باپ قلباً کسی ایک بچے کو زیادہ پسند کرتے ہوں لیکن ان کا سلوک سب سے ایک جیسا ہونا چاہیے او راس میں فرق نہیں کرنا چاہیے _ یہاں تک کہ بچے ذرا بھی دوسرے کے بارے میں ترجیحی سلوک نہ دیکھیں _ یہاں اس امر کا تذکرہ ضروری ہے کہ بچے ماں باپ کی محبت کے بارے میں بہت حساس ہوتے ہیں _ اور اس پر بہت توجہ دیتے ہیں اور حقیقت کو جلد سمجھ لیتے ہیں _ لہذا ماں باپ کو بہت محتاط ہونے کی ضرورت ہے _
بعض ماں باپ بچوں کی تربیت کے لیے ایک کی خصوصیات دوسرے کے سامنے بیان کرتے ہیں_ مثلاً کہتے ہیں : حسن خوب سبق پڑھوتا کہ عباس کی طرح اچھے نمبر حاصل کرسکو_ کہتے ہیں: زہرا تم اپنی بہن زینب کی طرح ماں کی مدد کرو زینب کتنی اچھی بچی ہے کہتے ہیں: رضا تم بھی اپنے بھائی علی کی طرح دستر خوان پر سلیقے سے بیٹھو_ دیکھو وہ کتنا با ادب بچہ ہے _ ایسے ماں باپ کا طرز عمل بالکل غلط ہے کیونکہ غلط ہے کیونکہ اس کا نہ فقط مثبت تربیتی نتیجہ نہیں نکلتا بلکہ اس سے بچوں میں رقابت اور حسد پیدا ہوجاتاہے اور انہیں انتقام اور دشمنی پر ابھارتا ہے _ کبھی بچے خود بھی ایسی باتوں کا اظہار کرتے ہیں _
بچوں کے لڑائی جھگڑے کی ایک وجہ ماں باپ کی ان سے بے جا توقع ہے _ بچہ چاہتا ہے کہ اپنے بھائی یا بہن کے کھلونوں سے کھلیے لیکن وہ اسے اس کی اجازت نہیں دیتے _ لہذا لڑائی جھگڑا شروع ہوجاتا ہے _ ایسے وقت ماں یا باپ دخالت کرتے ہیں اور پیاز کے ساتھ سمجھاتے ہیں اور اگر پیار کا اثر نہ ہو تو سختی سے انہیں سمجھا تے ہیں کہ وہ اپنے کھلونے اپنے بھائی کودے دیں _ مثلاً کہتے ہیں: یہ تمہارا بھائی ہے ، کیوں اے کھلونے نہیں دیتے ہو کھلونے لائے و ہم ہی ہیں ، کیا یہ تمہاری ملکیت ہیں کہ جو اسے کھیلنے کی اجازت نہیں دیتے ہو اگر تم نے ایسا کیا تو پھر تم سے ہم پیار نہیں کریں گے اور نہ ہی آئندہ تمہیں کھلونے خرید کردیں گے _
بچہ بیچار مجبور ہوجاتا ہے _ کھلونے دے تو دیتا ہے لیکن ماں یا باپ کو سخت مزاج
اور بھائی کو ظالم سمجھنے لگتا ہے اور دل میں دونوں سے نفرت پیدا ہوجاتی ہے اور جب بھی اسے موقع ملتا ہے پھر وہ اس کا اظہار کرتا ہے کیوں کہ بچہ ان کھلونوں کو اپنا مال سمجھ رہا ہوتا ہے اور اس کا خیال ہوتا ہے کہ کسی کو حق نہیں کہ اس کی اجازت کے بغیر انہیں ہاتھ لگائے لہذا وہ اپنے آپ کو مظلوم اور اپنے بھائی اور باپ کو ظالم سمجھتا ہے _ ایسے موقع پر یہ بچہ حق پر ہے کیوں کہ ماں باپ کسی کو اجازت نہیں دیتے کہ ان کی مخصوص چیزوں کو کوئی چھیڑے پھر یہ حق وہ بچوں کو کیوں نہیں دیتے اور ہر شخص کی کچھ اپنی چیزیں ہوتی ہیں کہ جن کے استعمال سے وہ دوسروں کو روک سکتا ہے _ البتہ عقل مند اور باتدبیر ماں باپ آہستہ آہستہ بچوں کے اندر تعاون اور ایثار کا جذبہ پیدا کرسکتے ہیں _ اور ایسی فضا پیدا کرسکتے ہیں کہ وہ خوشی خوشی اپنے بہن بھائیوں کو اپنے کھلونوں سے کھیلنے اور اپنی چیزوں کے استعمال کی اجازت دیں کبھی اختلاف کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ کبھی ماں باپ کوئی کا م ایک بچے کے سپردکردیتے ہیں اور دوسروں کو ایسے ہی چھوڑدیتے ہیں اس صورت میں لڑائی جھگڑا شروع ہوجاتا ہے _اگر ماں باپ اس طرح کی کشمکشوں سے بچنا چاہیں تو انہیں چاہیے کہ سب بچوں کو ایک نظر سے دیکھیں اور ان میں کوئی تفریق روانہ رکھیں _ یا تو کسی سے کوئی نہ کہیں _ یا پھر ان کی صلاحیت کو سمجھ کر ہر کسی کے لیے کوئی کام متعین کریں اور ان کے ذمہ لگائیں تا کہ اختلاف پیدا نہ ہو بیکاری بھی خرابیوں کی ایک وجہ ہے بچوں کی مشغولیت کے لیے کوئی کام ہونا چاہیے تا کہ ان میں جھگڑا کم سے کم ہو _ خاص طور پر اگر ہ سکے تو انہیں کسی ایسے کھیل پر ابھاریں کہ جسے وہ مل جل کر کھیل سکیں _ یہ ان کے لیے بہت مفید ہوگا _کبھی ماں باپ کی آپس کی لڑائی بھی بچوں میں جھگڑے کا باعث بن جاتی ہے _ جب معصوم بچے دیکھتے ہیں کہ ان کے ماں باپ ہمیشہ ایک دوسرے سے قوتکار اور لڑائی جھگڑا کرتے رہتے ہیں تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید لڑائی جھگڑا زندگی کے لازمی امور میں سے ہے _ اور ایک ایسا کام ہے جس سے بچا نہیں جا سکتا _ اس لحاظ سے وہ ماں باپ کی تقلید کرتے ہیں _ اور یہی کام وہ آپس میں کرتے ہیں _لہذا جو ماں باپ بچوں کے لڑائی جھگڑے سے تنگ ہوں انہیں پہلے اپنی اصلاح
کرنا چاہیے _ آپس کے نزاع اور کشمکش کو ترک کردینا چاہیے پھر بچوں کی اصلاح کے درپے ہونا چاہیے _ شاید ایسا کوئی خاندان کم ہی ہو کہ جس میں کبھی کوئی جھگڑا پیدانہ ہواہو _ لیکن یہ ہوسکتا ہے کہ بچوں کی عدم موجودگی میں وہ آپس میں اس سلسلے میں بات کریں _ اور اگر کوئی بات بچوں کے سامنے ہوجائے تو وہ بچوں سے کہہ سکتے ہیں کہ کسی مسئلے پر ہمارا اختلاف رائے ہے _ ہم چاہتے ہیں کہ اسے حل کریں _
آخر میں ہم اس بات کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں توجہ دلانا چاہتے ہیں کہ ممکن ہے آپ ان تمام امور کو ملحوظ خاطر رکھیں لیکن پھر بھی بچوں کے لڑائی جھگڑے سے کامل طور پر نہ بیچ سکیں _ آپ کو یہ توقع نہیں ہونی چاہیے _ نہ ہی ہم نے اس کی ضمانت دی ہے _ آپ کے بچے بھی عام بچوں کی طرح ہیں _ بچوں کے جھگڑے ایک فطری سی بات ہے _ بچوں میں توانائی زیادہ ہوتی ہے _ جو وہ ایسے کاموں پہ خرچ کرتے ہیں _ آپ متوجہ رہیں کہ وہ ایک دوسرے نقصان نہ پہنچائیں اور ایک دوسرے کو شدید اذیت نہ دیں بہتر یہ ہے کہ حتی الامکان بچوں کے چھوٹے موٹے جگڑوں میں آپ شریک نہ ہوں _ انہیں آپ رہنے دیں کہ وہ اپنے مسئلے خود حل کریں _ نہ ہی آپ ایسی باتوں پر زیادہ پریشان ہوں _ ان کا طرز عمل خود ہی ٹھیک ہوجائے گا _
دوست اور دوستی
اچھا دوست اور مہربان رفیق اللہ کی عظم نعمتوں میں سے ہے _ مصیبت میں دوست ہی انسان کی پناہ ہوتا ہے اور قلب ور وح کے آرام کا ذریعہ ، مشکلات سے بھر ی اس دنیا میں ایک حقیقی دوست کی موجودگی ہر انسان کی ضرورت ہے _ جو شخص ایک مہربان دوست کی نعمت ہے محروم ہو وہ وطن سے دور تنہائی کی سی کیفیت میں ہوتا ہے اور کوئی اس کا غمخوار نہیں ہوتا کہ زندگی کی مشکلات میں وہ جس کا سہارا لے سکے _
حضرت امام موسی بن جعفر علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ دنیا میں آرام کا بہترین وسیلہ کیا ہے _ فرمایا: کھلا گھر اور زیادہ دوست '' (1) حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: کمزورترین شخص وہ ہے جو کسی کو دوست اور بھائی نہ بنا سکے _ (2)
حضرت علی علیہ السلام ہی فرماتے ہیں:
دوستوں کا نہ ہونا ایک طرح کی غریب الوطنی او رتنہائی ہے _ (3)
-----------
1_ بحار ، ج 74، ص 177
2_ نہج البلاغہ ، ج 3، ص 153
3_ بحار، ج 74، ص 178
جیسے بڑوں کو دوستوں کی ضرورت ہوتی ہے ویسے ہی بچوں کو بھی یاردوست کی ضرورت ہوتی ہے جس بچے کا کوئی دوست نہ ہو وہ ہر جگہ تنہا تنہا سا ، مرجھایا مرجھا یا سا اور افسردہ افسردہ سا رہتا ہے _ بچے کو فطری طور پر دوست کی خواہش ہوتی ہے اور اس فطری خواہش سے اسے محروم نہیں رکھا جا سکتا _ دوست اور ہم جولی میں فرق ہے _ ہوسکتا ہے اس کا ہم جولی تو ہو مگر دوست نہ ہو _ کبھی بچہ ہم جولیوں اور کلاس فیلوزیں میں سے کسی دوست کا انتخاب کرتا ہے _ شاید دوستی کا اصلی محرک اور عامل زیادہ واضح نہ ہو _ ہوسکتا ہے دو افراد کی باہمی روحانی ہم آہنگی انہیں ایک دوسرے کے نزدیک کردے _
امیر المومنی علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
لوگوں کے دل بھکتے ہوئے جنگلیوں کے مانند ہیں جو بھی ان سے محبت کرے اسی میں کھوجاتے ہیں _ (1)
دوست کسی پر ٹھونسا نہیں جا سکتا کہ ماں باپ اپنی اولاد سے کہیں کہ فلاں بچے کو دوست بناؤ اور فلاں کو نہ بناؤ _ دوست کے انتخاب میں بچے کو آزادی ملنا چاہیے البتہ ہر طرح کی آزادی نہیں دی جا سکتی کیونکہ دوستوں کا اخلاق و کردار ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتا ہے اور ایک دوست دوسرے کے اخلاق اور طرز عمل کو اپناتا ہے _ اگر بچے نے ایک خوش اخلاق اور اچھا دوست بنالیا تو وہ اس سے اچھائیاں اپنائے گا اور برا دوست مل گیا تو اس کی برائیاں اس پر ا ثر انداز ہوں گی _ بہت سے معصوم بچے اور نوجوان ہیں کہ جو اپنے برے دوستوں کے باعث گناہ کی وادی میں جا پہنچے ہیں اور ان کی دنیا و آخرت تباہ ہوچکی ہے _
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: انسان اپنے دوست کے مذہب ، طریقے اور روش کا خوگر بن جاتا ہے _ (2)
------------
1_ بحار، ج 74، ص 178
2_ اصول کافی ، ج 2 ، ص 375
حضرت علی علیہ السلام فرمایا ہیں :
لوگوں میں سب سے زیادہ خوش نصیب وہ ہے کہ جس کامیل جول اچھے لوگوں کے ساتھ ہو (1)
اسی وجہ سے اسلام اپنے ماننے والوں کو اس امر کا حکم دیتا ہے کہ وہ برے دوست سے اجتناب کریں
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :
فاسقوں اور گنہ گاروں کے ساتھ دوستی سے بچو کیونکہ برائی کہ تاثیر برائی ہی ہے (2)
امام سجاد علیہ السلام نے اپنے فرزند و لبند امام باقر علیہ السلام سے فرمایا :
اے میرے بیٹے : پانچ طرح کے لوگوں سے رفاقت نہ رکھو :
1_ جھوٹے کے ساتھ رفاقت نہ کرو کہ وہ سرا ب کے مانند ہے _ وہ تجھے فریب دے گا _ دور کو نزدیک اور نزدیک کو دور بتا ئے گا _
2_ فاسق اور بد کار کو دوست نہ بناؤ کہ وہ تجھے بہت کم قیمت پریہاں تک کہ ایک نوالے کے مول بیچ دے گا_
3_ کنجوس کو دوست نہ بناؤ کیونکہ وہ ضرورت پڑنے پر مدد نہیں کرے گا_
3_ کسی احمق کو دوست نہ بناؤ کیوں کہ وہ اپنی بے وقوفی کے باعث تمہیں نقصان پہنچائے گا _ بلکہ یہ تک ممکن ہے کہ وہ فائدہ پہنچانا چاہے مگر نقصان پہنچائے گا _ بلکہ یہ تک ممکن ہے کہ وہ فائدہ پہنچانا چاہے مگر نقصان پہنچادے _
5_ قطع رحمی کرنے والے کو دوست نہ بناؤ کیونکہ قطع رحمی کرنے والا خدا کی رحمت سے دو ر اور ملعون ہے (3)
لہذا سمجھدا ر اور فرض شناس ماں باپ کی دمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کے دوستوں سے لا تعلق نہ دہیں کیونکہ ایسا کرنا نہ بچوں کے فائدہ ے میں ہے اور نہ مال باپ کے البتہ ماں باپ کی اس معاملے میں بلا واسطہ دخالت بھی درست نہیں ہے _
اگر ماں باپ اپنے بچوں کے لیے ایک اچھا اور نیک دوست مہیا کر سکیں توانہوں نے بچے کی بھلائی کا انتظام کیا ہے اور اسے تباہی کے راستے سے بچایا ہے _ لیکن یہ بھی کوئی آسان کا م نہیں _ اس کے لیے بہترین طریقہ یہ ہے کہ جب اچھے برے کی کچھ تمیز کرنے لگے تو اسے پیار محبت سے ایک اچھے اور برے د وست کی صفات بتائیں برے بچوں کے ساتھ دوستی کے نتائج بھی اس پر واضح کریں _
پھر بچوں کے دوستوں اور ان کے طرز عمل پر کچھ فاصلے سے نگاہ رکھیں اگر ماں باپ دیکھیں کہ ان کے دوست اچھے ہیں تو ان کی تائید و تشویق کریں اور انہیں ملنے جلنے کے مواقع فراہم کریں لیکن اگر دیکھیں کہ ان کے بچے دھو کا کھا گئے ہیں اور برے بچوں کو دوست بنار ہے ہیں تو پیار محبت سے ان کی خامیوں کی طرف متوجہ کرکے اپنے بچوں کو ان سے میں ملاقات سے روکیں _ پیار محبت سے یہ کام نہ ہو سکے تو کچھ سختی سے منع کیا جاسکتا ہے _ ایک اور طریقے سے بھی ماں باپ بچے کے لیے اچھے دوست کے انتخاب میں مدد کرسکتے ہیں _ اس کے ہمجولیوں ، محلے والوں ، ہمسایوں ، و غیرہ میں سے کسی اچھے دوست کو تلاش کریں اور ان کے در میان بہتر رابطے کا وسیلہ فراہم کریں _ اس طرح اگر وہ آپس میں دوست ہو جائیں تو ان کی تشویق کریں _ اس طرح ماں باپ بہت اچھی خدمت سرانجام دے سکتے ہیں اور بچوں کی بہت سی خامیاں اچھے دوست کے انتخاب سے دور کرسکتے ہیں _ مثلا وہ ماں باپ جن کا بیٹا بزول ہے وہ اس کے لیے کوئے شجاع بچہ انتخاب کریں کہ جس سے دوستی کے ذریعے اس کی بزولی جاتی رہے _
بہر حال ماں باپ کو نہیں چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے دوستوں بالخصوص نو جوانی کے دور میں ان کے دوستوں سے غافل رہیں اور انہیں ان کے حال پر چھوڑدیں کیونکہ بچہ اور نو جوان کے لیے بدلنے کے زیادہ امکانات ہیں _ حب کہ عمومی اخلاق اور معاشر ہے کی حالت
بھی ٹھیک نہ ہو تو ممکن ہے تھوڑی سی غفلت سے آپ کا فرزند دلبند برائی اور بد بختی کے گڑھے میں جاگرے _ لہذا یاد رکھیں کہ پر ہنر علاج سے کہیں بہتر ہے _حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں :ہر چیز کے لیے ایک آفت ہے اور نیکی کے لیے آفت برا دوست ہے ایک صاحب لکھتے ہیں :
میرے ماں باپ مجھے دوستوں سے ملنے کی اجزات نہ دیتے تھے _ اگر دوست مجھے گھر پر ملنے آتے تو میںمجبور ہوتا کہ ایک دو باتیں کرکے انہیں رخصت کردوں _ ایک دوست ہمارے گھر کے قریب ہی رہتا ہے _ امّی ابو اسے جانتے تھے لیکن وہ ہمیں ایک دوسرے کے ہاں آنے جانے کی اجازت نہ دیتے _ مجھے بہت خواہش ہوتی کہ دوستوں سے لموں ، ان کے ساتھ بیٹھوں اور ان سے بات چیت کروں لیکن کیا کرتا امّی ابو حائل تھے _ مجھے اس کا بہت غم تھا _ ایک روز میں نے ارادہ کرلیا کہ جیسے بھ ہو دوستوں سے ملنے ضرور جاؤں گا _ میں نے امّی سے کہا : میرا امتحان ہے اس کے لیے مجھے جانا ہے اجازت تو امتحان کے لیے لی لیکن اپنے دوست کے ہاں جا پہنچا _ اس دوست کا گھر کچھ دور تھا _ ایک دیگن پر بیٹھا اور اس کے ہاں چلا گیا _ وہاں اور دوست بھی تھے _ دن ان کے ساتھ خوب خوش گپیوں میں گزرا _ شام واپس آیا تو امّی نے کہا بہت دیر سے آئے ہو پھر _ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے مجھے اور کئی جھوٹ بولنا پڑے _آج سو چتا ہوں کہ کیا امّی جان کو معلوم نہ تھا کہ دوست اور رفیق کی کسی بچے کو کتنی ضرورت ہوتی ہے _ انہوں نے مجھے ای قدر پابند کیوں کر رکھّا تھا _
ایک لڑکی لکھتی ہے :ایک مرتبہ میں نے اپنی کچھ سہیلیوں کو گھر بلا یا _ اور میرے پاس جو پیسے گلّے میں جمع تھے _ وہ نکالے بھا گم بھاگ گئی اور ان کے لیے آئس کریم لائی _ امّ کہیں
گئی ہوئی تھیں _ سہیلیاں آئس کریم کھا رہی تھیں او پر سے امی گھر میں داخل ہوئیں
مجھے بہت خوف ہو ا خدا جائے امی کیا کہیں کیوں کہ وہ تو ہمیشہ مجھے سہیلیوں سے ملنے سے منع کرتی رہتی تھیں : انہیوں نے با لکل میری عزت کا خیال نہ کیا اور میری سہیلیوں سے کہنے لگیں تم نے صائمہ سے فضول خرچی کروائی ہے _
میری استانی سے حاکر شکایت کے لہجے میں میری سہیلیوں کے بارے میں کہا یہ ہمارے گھر آتی ہیں اور میری بیٹی کو فضول خرچی پر مجبور کرتی ہیں _ کل میری بیٹی سے آئس کریم کھا رہی تھیں _ سہیلیاں جو میری ہم کلاس بھی تھں وہ کہنے لگیں _ آنٹی کل والی آئس کریم کے پیسے ہم دے دیتی ہیں _ مجھے اتنی شرم آئی دل چاہتا تھا زمین پھٹ جائے اور میں غرق ہو جاوں _ وہ دن اور آج کادن پھر میں سکول نہیں جاسکی _ سہیلیاں اگلی کلاسوں میں جاپہنچیں _ اور میں پشیمان پشیمان سی سہمی سہمی سی _
او اس اواس سی آج ان سے کہیں پیچھے رہ گئی ہوں _
بچہ اور دینی تعلیم
اللہ اور دین کی طرف توجہ انسان کی فطرت میں داخل ہے اس کا سرچشمہ انسان کی اپنی سرشت ہے _
اللہ تعالی قرآن حکیم میں فرماتا ہے :
فاقکم وجهک للدّین حنیفا _ فطرة الله التی فطر النّاس علیها
اپنا رخ دین مستقیم کا طرف کرلو_ وہی دین کو جو فطرت الہی کا حامل ہے اور وہی فطرت کی جس کی بنیاد پر اس نے انسان کو خلق فرمایاہے _ (روم _30)
ہر بچہ کی فطری طور پر خدا پرست ہے لیکن خارجی عوامل اثر انداز ہوجائیں تو صورت بدل جاتی ہے جیسا کہ
رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے:
کل ّ مولد یولد علی فطرة الاسلام ...
ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے مگر بعدا ز اں اس کے ماں باپ اسے یہودی ، عیسائی یا مجوسی ، بنادیتے ہیں _ (1)
ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچے کے لیے ایسا ماحول پیدا کریں کہ اس میں
----------
1_ بحار، ج 3 ، ص 281
فطری طور پر ودیعت کیے گئے عقائد نشو و نما پا سکیں _ انسان بچپن ہے سے ایک ایسی قدرت کی طرف متوجہ ہوتا ہے کہ جو اس کی ضروریات پوری کر سکے _ لیکن اس کا ادراک اس حد تک نہیں ہوتا کہ وہ اپنی مرتکز شدہ توجہ کو بیان کرسکے _ لیکن آہستہ آہستہ یہ توجہ ظاہر ہوجاتی ہے _ جو بچہ ایک مذہبی گھرانے میں پرورش پاتا ہے وہ کوئی چار سال کی عمر میں اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور یہی وہ عمر ہے جس میں بچے کے ذہن میں مختلف قسم کے سوالات ابھر نے لگتے ہیں _ کبھی کبھی وہ اللہ کا نام زبان پر لاتا ہے _ اس کے سوالوں اور باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی فطت بیدا ہوچکی ہے اور وہ اس سلسلے میں زیادہ معلومات حاصل کرنا چاہتے ہے بچہ سوچتا ہے کہ :سورج کس نے بنایا ہے ؟ چاندتارے کس نے پیدا کیے ہیں؟ کیا اللہ تعالی مجھ سے پیار کرتا ہے؟ کیا اللہ تعالی میٹھی چیزیں پسند کرتا ہے؟ بارش کون برساتا ہے؟ ابو کو کس نے پیدا کیا ہے؟ کیا اللہ ہماری باتیں سنتا ہے؟ کیا ٹیلی فون کے ذریعے اللہ سے باتیں کی جاسکتی ہیں؟ اللہ کہاں رہتا ہے ؟ اس کی شکل کس طرح کی ہے ؟ کیا خدا آسمان پر ہے؟ چارسال کے بعد بچے اس طرح کے ہزاروں سوال کرتے اور سوچتے ہیں _
ان سوالات سے واضح ہوجاتا ہے کہ اس کی فطرت خداپرستی بیدار ہوچکی ہے اور وہ یہ باتیں پوچھ کر اپنی معلومات مکمل کرنا چاہتا ہے _ معلوم نہیں کہ ننّھا منّا بچہ خدا کے بارے میں کیا تصور رکھتا ہے _ شاید وہ یہ سوچتا ہے کہ خدا اس کے ابّو کی طرح ہے لیکن اس
سے بڑا اور زیادہ طاقتور ہے _ بچے کا شعور جس قدر ترقی کرتا جاتا ہے _ خدا کے بارے میں اس کی شناخت برھتی جاتی ہے _ اس سلسلے میں ماں باپ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے _ وہ اپنے بچوں کے عقائد کی تکمیل میں بہت اہم خدمت انجام دے سکتے ہیں _ اس سلسلے میں اگر انہوں نے کوتاہی کی تو روز قیامت ان سے بازپرس کی جائے گی _ ماں باپ کو چاہیے کہ بچے کے تمام سوالوں کا جواب دیں اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو بچے کی روح تحقیق مرجائے گی _ لیکن بچے کے سوالوں کا جواب دینا کوئی آسان کام نہیں _ جواب صحیح ، مختصر اور بچے کے لیے قابل فہم ہونا چاہیے _ بچے کا شعور جس قدر ترقی کرتا جائے جواب بھی اس قدر عمیق ہونا چاہیے _ یہ کام ہر ماں باپ نہیں کرسکتے _ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ پہلے سے اس کے لیے تیاری کریں _ زیادہ گہرے اور صبر آزما مطلب بیان نہ کریں کیونکہ یہ نہ فقط بچے کے لیے سودمند نہ ہوں گے بلکہ ناقابل فہم اور پریشان کن بھی ہوں گے _ چھوٹا بچہ مشکل مطالب نہیں سمجھ پاتا لہذا اس کی طبیعت ، فہم اور صلاحیت کے مطابق اسے دینی تعلیم دی جانا چاہیے _
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
بچہ تین سال کا ہوجائے تو اسے ''لا الہ الا اللہ '' سکھائیں _پھر اسے چھوڑدیں _ جب اس کی عمر تین سال ، سات ماہ اور بیس دن ہوجائے تو اسے ''محمد رسول اللہ'' یاد کروائیں پھر چار سال تک اسے چھوڑدیں _ جب چار سال کا ہوجائے تو اسے پیغمبر خدا پر درود بھیجنا سکھائیں _ (1) بچوں کا چھوٹے چھوٹے اور سادہ دینی اشعار یادکروانا ان کے لیے مفید اور لذت بخش ہوتا ہے _ اسی طرح انہیں آہستہ آہستہ نبوت اور امامت کے بارے _ پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارے میں بتائیں کہ اللہ نے انہیں نبی بنا کر بھیجا تا کہ ہماری ہدایت کریں _ پھر ان کی خصوصیات اور کچھ واقعات بتائیں _ پھر عمومی نبوت کا مفہوم بتائیں اور نبوت کی ضروری ضروری شرائط سے انہیں آگاہ کریں او ر یوں ہی امامت کے بارے میں بھی سمجھائیں _
-----------
1_ مکارم الاخلاق ، ج 1 ، ص 254
چھوٹے چھوٹے واقعات کے ذریعے کہانی کی صورت میں پیار سے یہ باتیں کریں گے _ تو بہت مؤثر ہوں گے _
ہاں قیامت کے بارے میں بچہ جلدی متوجہ نہیں ہوتا وہ سوچتا ہے کہ وہ اور اس کے ماں باپ ہمیشہ یوں ہی رہیں گے _ مرنے کو وہ ایک لمبے سفر کی طرح خیال کرتا ہے _ جب تک بچہ موت کی طرف متوجہ نہ ہو تو ضروری نہیں ہے بلکہ شاید مناسب بھی نہیں کہ اس سے اس سلسلے میں بات چیت کی جائے _ البتہ نہ چاہتے ہوئے بھی ایسے واقعات پیش آجاتے ہیں کہ ماں باپ کو مجبوراً ان کے سامنے موت کی حقیقت کے بارے میں کچھ اظہار کرنا پڑجاتا ہے _ ممکن ہے کسی رشتے دار، دوست یا جان پہچان والے شخص کی موت بچے کو سوچنے پر مجبور کردے _ مثلاً خدا نخواستہ بچے کے دادا وفات پاجائیں اور وہ پوچھے کہ :
امّی دادا بّو کہاں چلے گئے ہیں؟
ایسے موقع پر بچے کو حقیقت بتادنی چاہیے _ جھوٹ نہیں بولنا چاہیے _ بچے سے یہ کہا جا سکتا ہے تمہارے دادا جان وفات پاگئے ہیں ، وہ دوسرے دنیا میں چلے گئے ہیں _ ہر مرنے والا اس دنیا میں چلا جاتا ہے _ اگر کوئی نیک ہوا تو جنت کے خوبصورت باغوں میں خوشی رہے گا اور اگر کوئی برا ہوا تو جہنم کی آگ میں وہ اپنی سزا بھگتے گا _ بچے کو موت کا یع معنی رفتہ رفتہ سمجھایاجائے کہ یہ ایک دنیا سے دوسری دنیا کی طرف انتقال ہے _ اسے جنت ، دوزخ ، حساب کتاب اور قیامت کے بارے میں ساداسادا اور مختصر طور پر بتایا جانا چاہیے _
تربیت عقاید کا یہ سلسلہ پرائمری ، مڈل ، ہائی اور پھر بالائی سطح تک جاری رہنا چاہیے _
بچہ اور فرائض دینی
یہ درست ہے کہ لڑکا پندرہ سال کی عمر میں اور لڑکی نو سال کی عمر میں مکلّف ہوتے ہیں اور شرعی احکام ان پر لاگو ہو جاتے ہیں _ لیکن دینی فرائض کی انجام دہی کو بلوغت تک ٹالانہیں جا سکتا_ انسان کو بچپن ہی سے عبادت اور دینی فرائض کی انجام دہی کی عادت ڈالنی چاہیے تا کہ بالغ ہوں تو انہیں شوق سے بجالائیں خوش قسمتی سے ایک مذہبی گھرانے میں پرورش پانے والا بچہ تین سال کی عمر ہی سے اپنے ماں باپ کی تقلید میں بعض مذہبی کام بجالاتا ہے _ کبھی ان کے لیے جائے نماز بچھاتا ہے ، کبھی ان کے ساتھ سجدے میں جاتا ہے ، اللہ اکبر اور لا الہ اللہ کہتا ہے چھوٹے چھوٹے مذہبی اشعار مزے مزے سے پڑھتا ہے _ فرض شناس اور سمجھ دار ماں باپ بچے کی ان فطری حرکات سے استفادہ کرتے ہیں _ ان پر مسکراکر اور اظہار مسرت کرکے اسے تقویت کرتے ہیں _ اگر زبردستی یہ چیزیں بچے پر ٹھونس نہ جائیں تو بہت مفید ہوتی ہیں _ اس عمر میں ماں باپ کو نہیں چاہیے کہ بچے کو سکھانے اور نماز پڑھانے و غیرہ کے امور میں جلدی کریں یا ان پر دباؤ ڈالیں _ پانچ سال کی عمر کے قریب بچہ سورہ فاتحہ و غیرہ یا دکرسکتا ہے آہستہ آہستہ یادکروانا شروع کریں اور پھر سات سال کی عمر میں اسے حکم دیں کہ وہ باقاعدہ نماز پڑھا کرے _ اول وقت میں خود بھی نماز پڑھا کریں اور بچوں کو بھی اس کی نصیحت کریں _ نو سال کی عمر میں انہیںحتمی طور پر نماز پڑھنے کی تلقین کریں _ انہیں سمجھائیں کہ سفر حضر میں نماز پڑھا کریں _ عمل نہ کرے تو سختی بھی کریں اور اس سلسلے میں کوئی سستی نہ کریں _ اگر ماں باپ خود نمازی ہوں تو آہستہ آہستہ بچوں کو بھی اس کا عادی بناسکتے ہیں اور پھر وہ سنّ بلوغ تک پہنچ کر خود
بخود شوق و ذوق سے نماز پڑھنے لگیں گے _ اگر ماں باپ نے یہ عذر سمجھا کہ بچہ ابھی چھوٹا ہے ، بالغ نہیں ہوا اور اس پر نماز ابھی فرض نہیں ہوئی لہذا اسے کچھ نہ کہیں تو پھر بالغ ہوکر بچے کے لیے نماز پڑھنا مشکل ہوگا_ کیوں کہ جس عمل کا انسان بچپن میں عادی نہ ہو اہو بڑے ہو کر اسے اپنا نا مشکل ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ائمہ اطہار(ع) نے چھ یا سات سال کی عمر میں بچے کو نماز پڑھنے کا عادی بنانے کا حکم دیا ہے _
امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا:
ہم اپنے بچوں کو پانچ سال کی عمر میں نماز پڑھنے پر آمادہ کرتے ہیں اور سات سال کی عمر میں انہیں نماز پڑھنے کا حکم دیتے ہیں _ (1)
پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا:
جب آپ کے بچے چھ سال ہوجائیں تو انہیں نماز پڑھنے کاحکم دیں اور سات سال کے ہوجائیں تو انہیں اس کے لیے زیادہ تاکید کریں اور اگر ضرورت ہو تو مارپیٹ سے بھی انہیں نماز پڑھوائیں _ (2) امام باقر علیہ السلام یا امام صادق علیہ السام نے فرمایا:
جب بچہ سات سال کا ہوجائے تو اسے کہیں کہ منہ ہاتھ دھوئے اور نمازپڑھے لیکن جب 9 سال کا ہوجائے تو اسے صحیح اور مکمل وضو سکھائیں اور سختی سے نماز پڑھنے کا حکم دیں _ ضرورت پڑے تو اسے مارپیٹ کے ذریعے بھی نماز پڑھنے پر مائل کیا جا سکتا ہے _ (3) امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:جب بچہ چھ برس کا ہوجائے تو ضروری ہے کہ وہ نماز پڑھے اور جب وہ روزہ
----------
1_ وسائل ، ج 3، ص 12
2_ مستدرک ، ج 1 ، ص 171
3_ وسائل، ج 3، ص 13
رکھ سکتا ہو تو ضروری ہے کہ روزہ رکھتے _ (1)
روزے کے معاملے میں بچے کو آہستہ آہستہ عادت ڈالنا چاہیے _ جو بچہ سن تمیز کو پہنچ چکا ہوا سے سحری کے لیے بیدار کریں تا کہ وہ ناشتے کی جگہ سحری کھائے اور اس کا عادی ہو جائے _ جب بچہ روزہ رکھ سکتا ہو تو ضروری ہے کہ اسے اس کی ترغیب دی جائے اور اگر وہ روزہ رکھ کر اسے نبھانہ پارہاہو تو اسے درمیان میں کچھ کھانے پینے کو دیا جا سکتا ہے _ آہستہ آہستہ اس کے روزوں کی تعداد بڑھائی جائے البتہ اس کی طاقت کو ملحوظ خاطر رکھا جائے بچہ بالغ ہوجائے تو اسے کہا جائے کہ تم پر فرض ہے کہ روزہ رکھواور نماز پڑھوا اگر تم نے ایسا نہ کیا تو گنہ کار ہوگے _ بہتر یہ ہے کہ اسے روز ے کی فضیلت اور ثواب بھی بتایا جائے تا کہ اس میں برداشت کرنے کی قوت بڑھے_ رمضان المبارک کے آخری ایام میں بچے کی دیگر ذمہ داریوں میں کمی کی جانا چاہیے تا کہ وہ آرام سے روزہ رکھ سکے _ آخر رمضان المبارک میں اسے انعام کے طور پر بھی کچھ دیں _ دن دھیان رکھیں کہ کہیں چھپ چھپا کرروزہ توڑنہ لے _
ماں باپ کے لیے ضروری ہے کہ بلوغ سے پہلے بچے کو احتلام کی علامتوں سے آگاہ کریں _ غسل اور استنجا کے بارے میں اسے بتائیں_
اس نکتے کی یاددہانی بھی ضروری ہے کہ اگر ماں باپ کی خواہش ہے کہ ان کے بچے اہل مسجد ہوں اور دینی محافل کی طرف راغب ہوں تو پھر بچپن ہی سے انہیں اس کا عادی بنائیں _ مسجد اور دینی محفل میں انہیں اپنے ہمراہ لے جایا کریں تا کہ ان میں بھی اس کا شوق پیدا ہوجائے ورنہ بڑے ہوکر وہ رغبت سے ایسی محفلوں میں نہیں جایا کریں گے _
آخر میں اس بات کی طرف بھی توجہ ضروری ہے کہ بچہ بالغ ہونے سے پہلے مکلف نہیں ہوتا اور مذہبی فرائض اس پر عائد نہیں ہوتے اور انہیں ترک کرنے پر اسے گناہ نہیں ہوگا مگر ماں باپ کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ بلوغ سے پہلے بچوں کو آزاد چھوڑدیں کہ وہ جو چاہیں کرتے پھریں _ کیونکہ نماز روزہ اس پر واجب نہ بھی ہو تو اگر وہ کسی کا شیشہ توڑ آئے کسی کے جسمانی عضو کو نقصان
پہنچائے مثلاً کسی کا کان کاٹ دے ، آنکھ اندھی کردے یا ہاتھ توڑڈالے تو واجب ہے کہ بالغ ہوکر اس کی شرعی دیت اداکرے _
دوسری طرف اگر آزاد چھوڑدیا جائے کہ جو اس کے جی میں آئے کرے تو پھر بڑا ہوکر بھی وہ گناہ اور غلط کاموں کا عادی ہوگا کیونکہ بالغ ہوکر پھر وہ بچپن کا طر ز عمل نہیں چھوڑے گا _ لہذاا ماں باپ کے لیے ضروری ہے کہ اسے بچپن ہی سے واجبات اور محرّمات کی حدود سے آگاہ کریں _ حرام کا م انجام دینے سے روکیں او رواجب کام کی انجام وہی میں اس کی مدد کریں _
سیاسی اور سماجی تربییت
آج کے بچے کل کے جوان ہیں _ ملک انہیں کاماں ہے _ اور انہیں کو کل ملک کا نظام چلاناہ ے _ ان کی سیاسی آگاہی اور شعور ملک کے مستقبل پر اثر انداز ہوگا ی_ یہی ہیں کہ جنہیں ملک کی ثقافتی اور اسلامی دولت کی پاسداری کرنا ہے _ اور ملک کی عظمت و سربلندی کے لیے انہیں کو کوشش کرنا ہے _ انہیں کو سامرا جی اور استعماری قوتوں کے، ظلم و ستم کا مقابلہ کرنا ہے _ بچوں کو آج ہی اس مقصدتکے لیے تیارکرنا چاہیے _ ان کی تربیت کرنا چاہیے اور یہ بھاری ذمہ داری بھی ماں باپ کے کندھوں پر عائد ہوتی ہے _
سیاسی و سماجی تربیت کی بنیاد بھی بچپن ہی میں رکھی جانا چاہیے تا کہ وہ زیادہ ثمر بخش ہو _ جب بچہ سن تمیز کو پہنچے تو اسے اس کے فہم و شعور کی حد تک سیاسی و سماجی مسائل کو سمجھنا چاہیے _ اسے اقتصادی اور سیاسی حالات کو آہستہ آہستہ جاننا چاہیے _ ملک کے فقر محرومیت اور پسماندگی کی وجوہات تدریجاً اسے سمجھائی جانا چاہیئں _ حکمرانوں کی اچھائیاں اور برائیاں بچوں سے بیان کی جا سکتی ہیں _ اور نظام کس طرح سے چلتا ہے انہیں سمجھایا جا سکتا ہے گاؤں، شہر اور ملک کمی عمومی حالت اس سے بیان کی جا سکتی ہے _بچہ انتخابات میں شرکت نہیں کرسکتا ، لیکن ماں باپ انتخابات میں شرکت کی خصوصیات اور شرائط کی اس کے سامنے وضاحت کرسکتے ہیں _ اور اسے سمجھا سکتے ہیں کہ کس طرح کے لوگوں کو منتخب کرنا چاہیے _ مثلاً اس سے کہہ سکتے ہیں ہم نے فلاں شخص کو دوٹ دیا ہے کیونکہ اس میں فلان خوبی ہے بچہ بھی جلسے جاسوس میں شرکت کرسکتا ہے _ وہ بھی نعرہ لگا سکتا ہے _ تقریریں سکتا ہے _
اشتہارات تقسم کرسکتا ہے _ اور دیوار نویسی (وال چاکنگ) کرسکتا ہے _ اور یہ کام اس کے لیے مؤثر بھی ہوں گے _ ایران کے اسلامی انقلاب نے بخوبی ثابت کردیا ہے کہ بچے اور نوجواں بھی سیاسی امور میں مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں _ یہی تو تھے کہ جنہوں نے اپنے نعروں ، جلسے جلوسوں اور ہڑتالوں سے طاغوت کی آلہ کار خود غرض حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا _ انہیں نے انقلابیوں کو تقویت بخشی اور ایران کی مسلمان ملت کی مظلومیت اور شاہی حکومت کے ایجنٹوں کے ظلم و خیانت کو دنیا والوں کے کانوں تک پہنچایا _ سب جانتے ہیں کہ ایران کے عظیم انقلاب کی کامیابی کا ہم حصّہ نوجوانوں ہی کی فعّال اور متحرک قوّت اور انہیں کی جانثاریوں کامرہون منت ہے _
چاہیے کہ بچے سیاسی واقعات کا مطالعہ کرکے ، اخبارات وجرائد کو پڑھ کر ، ریڈیو اور ٹیلی وین کے سیاسی اور سماجی پروگرام سن اور دیکھ کر ماں باپ اور دوسرے بچوں سے بات چیت کر کے تدریجاً سیاسی رشد پیدا کریں _ اور اپنے اور اپنے ہموطنوں کے مستقبل کے بارے میں دلچسپی پیدا کریں _ انہیں جاننا چاہیے کہ مستقل میں ان کے وطن کی تقدیر ان کے اور ان کے ہم سن بچوں اور نوجوانوں کے ہاتھ میں ہوگی _ بچے کو سمجھنا چاہیے کہ دنیا آخرت سے اور دین سیاست سے جدا نہیں ہے _ اور لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے سماجی اور دنیاوی امور میں دخیل رہیں تا کہ ملک آباد اور ملت با شعور بنے _
نوجوانی اور جوانی میں اولاد کو نسبتاً زیادہ آزاید ملنی چاہیے تا کہ وہ خود با قاعدہ سیاسی امور سماجی امور میں شرکت کریں _
بچہ اور ریڈیو ٹی وی
ریڈیوی، ٹیلی وی ژ ن اور سینما بہت ہی سودمند ایجادات ہیں _ ان کے ذریعے سے تعلیم و تربیت کی جاسکتی ہے _ لوگوں کے افکار کو جلا بخشی جا سکتی ہے _ دینی و اخلاقی اقدار کو رائج کیا جا سکتا ہے زرعی اور صنعتی شعبوںمیں راہنمائی کی جا سکتی ہے _ صحت و صفائی کے امور پر رشد پیدا کیا جا سکتا ہے _ سیاسی اور سماجی حوالے سے عوام کی سطح معلومات کو بلند کیا جا سکتا ہے _
انسان عوامی رابطے کے ان وسائل سے سینکڑوں قسم کے فائدے اٹھا سکتا ہے البتہ یہ وسائل جس قدر مفید ہوسکتے ہیں اسی قدر ان سے سوء استفادہ بھی کیا جا سکتا ہے _ اگر یہ وسائل نا اہل لوگوں کے ہاتھوں میں آجائیں تو وہ غلط راستے پر ڈال دیں گے اور ان کے ذریعے سے عوام کو صحت ، ثقافت ، دین ، اخلاق ، اقتصاد اور سیاست کے حوالے سے سینکڑوں قسم کے نقصانات پہنچائیں گے _ ریڈیو اور ٹی _ وی تقریباً عمومی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور اب ہرگھر میں جا پہنچا ہے _ بیشتر لوگ اسے ایک تفریح اور مشغولیت کا ذریعہ سمجھتے ہیں _ اور انہیں دیکھنا اورسننا پسند کرتے ہیں _ خصوصاً بچے اور نوجواں ان سے بہت دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں _
باخبر لوگوں کی رائے کے مطابق ایرانی بچے امریکہ ، فرانس، برطانیہ اور جاپان جیسے ترقی یافتہ ملکوں کے بچوں کی نسبت ٹیلی وین کے پروگراموں سے زیادہ دلچپسی رکھتے ہیں ، ایران میں 207 کے ناظریں میں سے چالیس فیصد بچے ہیں ، تیس فیصد نوجوان ہیں جب کہ بچپن
اور نوجوانی کی عمر تعلیم و تربیت کے اعتبار سے حساس ترین دور ہوتا ہے _ ریڈیوٹیلی وین کے پروگرام اچھے ہوں یا برے بلا شک ان کی حساس روح پر بہت اثر کرتے ہیں _ اور انہیں سطحی اور بے اثر نہیں سمجھنا چاہیے _ بچّے کو آزادی نہیں دی جا سکتی کہ وہ ہر طرح کا پروگرام دیکھے یا سنے کیونکہ بعض پروگرام بچے کے لیے نقصان وہ ہوتے ہیں _ کاش ریڈیواور 207 کے اہل کار یہ جانیں کہ وہ کس حساس منصب پر کام کررہے ہیں اور کتنی عظم ذمہ داری ان کے دوش پر ہے افراد ملت خصوصاً بچوں اور نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کا بڑا حصّہ انہیں کے ذمہ ہے _ ماں باپ بھی اس سلسلے میں لا تعلق نہیں رہ سکتے اور بچوں کو ہر طرح کا پروگرام سننے اور دیکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے _
ریڈیو، 207 کے پروگراموں کا یاک حصہ ایسی کہانیوں اور فلموں پر مشتمل ہوتا ہے جس میں قتل ، ڈاکلہ ، چوری ، جرم ، اغوائ، لڑائی جھگڑا، تشدد، فریب ، دھوکا و غیرہ جیسی چیزیں شامل ہوتی ہیں _ بچے ایسی کہانیوں اور فلموں کے شوقیں ہوتے ہیں اور ان سے بہت لطف اٹھاتے ہیں _ جب کہ ایسی فلمیں اور کہانیاں بچوں کے لیے کئی جہات سے نقصان وہ ہیں _ مثلاً
1_ بچوں کی حساس اور لطیف روح کو بڑی شدت سے تحریک کرتی ہیں _ ہوسکتا ہے کہ ان کی وجہ سے بچوں کے اندر ایک اضطراب اور خوف ووحشت کی کیفیت پیدا ہوجائے _ہوسکتا ہے وہ رات کو ڈراؤنے خواب دیکھیں اور سوتے میں چیخ ماریں _ ہوسکتا ہے انیہں سردرد لاحق ہوجائے اور یہاں تک ممکن ہے کہ وہ ایسی فلمیں دیکھتے ہوئے بے ہوش ہوجائیں یا ان پر سکتہ طاری ہوجائے _
2_ ایسی فلموں سے ہوسکتا ہے کہ اخلاق کے حوالے سے نقصان وہ اثرات مرتب ہوں _ اور بچوں کی پاک طبیعت کو وہ گناہ اور برائیوں کی طرف کھینچ لائیں _ ہوسکتا ہے کہ بچے ان سے اس قدر متاثر ہوں کہ ان کے ہیرو کی تقلید کریں _ اور جرم ، تقل اور چوری کرنے لگیں _
یونسکو نے اس سلسلے میں جو تفصیل جاری کی ہے اس کے مطابق اسپین میں 1944 سے لے کر 1953 ء تک سزا پانے والے بچوں میں سے 37 فیصد نے جرائم پر مبنی فلموں سے متاثر
ہوکر جرم کیا ہے _
امریکہ میں وسیع پیمانے پر ہونے والی تحقیقات کے مطابق مجرم بچوں میں سے دس فیصد لڑکے اور پچیس فیصد لڑکیاں جرائم سے بھر پور فلمین دیکھ کر مجرم بنتی ہیں _ یہ اعداد شمار واقعاً ہلاکررکھ دینے والے ہیں _ (1)
بلامرد پازرکے نظریے کے مطابق 49/ مجرم فلموں سے متاثر ہوکر اپنے ساتھ اسلحہ رکھتے ہیں _ 28/ چوری کرنے اور 21/ فیصد قانون کی گرفت سے بھاگنے اور پولیس کوچکّرد ینے کے طریقہ انہی فلموں سے سیکھتے ہیں _ تحقیق سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ 25/ عورتیں بری فلموں کے زیرا اثر برائی اور بدکاری کی راہ پر چل پڑی ہیں نیز 54/ عورتیں پلا پرواہ فلمی ستاروں کی تقلید میں قحبسہ خانوں اور برائی کی محفلوں کی زینت بنی ہیں _ (2)
یونیورسٹی لاس اینجلز کے ایک پروفیسر واکس مین کہتے ہیں:
اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹی وی کی سکرین سے نکلنے والی الیکٹرک مقناطیسی لہریں انسانی آرگنزم پر بہت اثر کرتی ہیں _ ٹیلی وین یا رڈاریا گھریلو ضرورت کی بجلی کی چیزوں سے نکلنے والی لہریں شارٹ ویوز کی قسم میں سے ہیں _ اور اس کا پہلا اثر یہ ہوتا ہے کہ انسان کے سر میں درد ہوتا ہے اورسر چکرانے لگتا ہے _ اس سے انسان کی فکری صلاحیت کم ہوجاتی ہے _ خون کا دباؤ تبدیل ہوجاتا ہے _ طبیعت میں ہیجان پیدا ہوتا ہے اور خون کے سفید خلیوں کو نقصان پہنچتا ہے علاوہ ازیں یہ لہریں انسان کے نظام ، اعصاب پر بہت برا اثر ڈالتی ہیں اور مختلف بیماریوں کا سبب بن جاتی ہیں _ (3)
---------
1_ مجلہ : مکتب اسلام جلد 15 شمارہ 11
2_ مجلہ: مکتب اسلام ، جلد 15 شمارہ 11
3_ مجلہ ; مکتب اسلام ، جلد 18 ، شمارہ 1
ڈاکٹر الکسنر کارل لکھٹے ہیں:
ریڈیو _ ٹی وی اور نامناسب کھیل ہمارے بچوں کے جذبات کو تباہ کر دیتے ہیں _ (1)
روزنامہ اطلاعات اپنے شمارہ 15743 میں ایک یورپی طالب علم کے بارے میں لکھتا ہے:
کالج کے ایک اٹھارہ سالہ طالب علم کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا _ اس پر الزام ہے کہ اس نے ایک فلمی اداکار والٹر کا تائر کے بیٹے اغوا کیا اور پھر دھمکی دی کہ اسے ایک لاکھ پچاس ہزار ڈالر پہنچادیے جائیں ورنہ وہ اسے قتل کردے گا _ ملزم نے عدالت کے سامنے بیان دیتے ہوئے کہا کہ قتل کی دھمکی دے کر غنڈہ ٹیکس وصول کرنے کا خیل اس کے ذہن میں ٹیلی وین کی ایک فلم دیکھتے ہوئے پیدا ہوا _
اس سلسلے میں پولی کا کہنا یہ ہے کہ ایسے بہت سے کیس ہمارے پاس پہنچے ہیں کہ نوجوانوں نے ٹیلی وین سے جرم کا ارتکاب کرنا سیکھا ہے _ مشہد میں ایک دس سالہ بچے نے کراٹے کی ایک فلم دیکھنے کے بعد اپنے آٹھ سالہ دوست کو کک مارکر مارڈالا _ (2)
تعلیم و تربیت کے نائب وزیر جناب صفی نیا کہتے ہیں:
جب ٹی وی برائی کا درس دے رہا ہو تو بہترین استاد بھی کچھ نہیں کرسکتا _ (2)
کیوبا کے ایک پندرہ سالہ لڑکے رونے زامورانے ایک 83 سالہ بوڑھی عورت کو قتل
---------
1_ مکتب اسلام ،جلد 15 ، شمارہ 3
2_ مکتب اسلام ، جلد 15 ، شمارہ 11
3_ مکتب اسلام ، جلد 18 ، شمارہ 1
کردیا اس نے یہ جرم فلوریڈ میں انجام دیا _ اور اب وہ اس شہر کی ایک جیل میں اس جرم کی سزا کے طور پر عمر قید کاٹ رہا ہے _ اس کے والدین نے امریکی ٹیلی وین کے تین چینلوں کے خلاف دوکروڑ پچاس لاکھ ڈالر ہر جانے کا دعوی دائر کیا ہے _ انہوں نے عدالت میں اپنے دعوی کے ثبوت میں جو شواہد پیش کیے ہیں ان کے مطابق بچے نے آدم کشی کا سبق اسی ٹیلی وین کے پروگراموں سے سیکھا ہے _ گذشتہ ستمبر عدالت میں اس کیس کی سماعت ہوئی اس موقع پر یہ بات سامنے آئی کہ ملزم جب بچہ تھا تو آیا اسے چپ کرانے کے لیے ٹی _ وی کے سامنے بٹھادیتی _ اس سے اس میں ٹیلی وین دیکھنے کا بہت شوق پیدا ہوگیا وہ روزانہ آٹھ اٹھ گھنٹے تیلی وین پروگرامم دیکھتا رہتا _ اسے ٹی _ وی کے پروگراموں سے بہت دلچسپی پیدا ہوگئی خاص طور پر '' پلیس کو جاک'' نامی سیریز سے وہ بہت متاثر تھا ارتکاب جرم سے ایک رات پہلے اس فلم میں دکھایا گیا کہ کس طرح سے ایک امیر عورت کو لوٹا گیا _
ایک لڑکی جس کا نام رضائیہ تھا _ پندرہ سال اس کی عمر تھی بہت خوبصورت لڑکی تھی ٹیلی وین پر ایک پر ہیجان فلم دیکھتے ہوئے اس پر اس قدر اثر ہو اکہ وہ زمین پری گری اور مرگئی _ جب اس نے فلم میں دیکھا کہ ایک سفید فام شخص ایک سیاہ فام کے سر کی چمڑی ادھیڑنے لگا ہے تو اس نے ایک چیخ ماری _ پھر اس کے دل کی دھڑکن بند ہوگئی _ ڈاکٹروں نے بتایا کہ اس کے دماغ کی رگ پھٹ گئی _
اعصاب اور نفسیات کے ماہر ڈاکٹر جلال بریمانی کہتے ہیں:
خوف ناک، ڈراؤنی اور ہیجان انگیز فلمیں بچوں کی نفسیات پر نامطلوب اثر ڈالتی ہیں _ ہم نے دیکھا ہے کہ ایک بچہ ماردھاڑسے بھر پور فلم دیکھنے کے بعد فلم کے ہیر و کی تقلید میں اپنے چھوٹے بھائی یا بہن کو قتل کردیتا ہے _ ایسی فلمیں بچے کی آئندہ شخصیت پر برے اثرات مرتب کرتی ہیں خوفناک فلموں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ برے ہوکر ان کے اندر بزدلی پیدا ہوجاتی ہے ، مارڈھاڑ کی فلمیں آئندہ کی زندگی میں انہیں بھی ایسا ہی بنادیتی ہیں _ ان کے اثرات انسان کی روح پر رہتے ہیں اور پھر جہاں موقع ملتا ہے کسی غلط واقع کی صورت میں
نمودار ہوتے ہیں اور انسان کو برائی کی طرف کھینتے ہیں _
نفسیات کے ڈاکٹر شکر اللہ طریقتی کہتے ہیں:
بری فلموں کا اثر بچے کے مستقبل پر ناقابل انکار ہے _ یہ فلمیں بچوں کی نفسیات پر ایسا نامطلوب اثر ڈالتی ہیں کا بالغ ہوکر جب مناسب موقع ملتا ہے اور دوسرے اسباب بھی فراہم ہوجاتے ہیں تو وہ خطرناک کاموں کی انجام دہی کی صورت میں اس کی مدد کرتا ہے _ لہذا میں ماں باپ و نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنے بچوں کو ہرگز اجازت نہ دیں کہ وہ غلط فلمیں دیکھیں _ خاص طور پر وہ فلمیں جو بڑوں کے لیے مخصوص ہیں خصوصاً رات کے دس بجے کے بعد آنے والی فلموں کی اجازت نہ دیں _ اگر بچے ایسی فلمیں دیکھنے کے لیے ضد کریں اور والدین انہیں اس کی اجازت نہ دیں تو اولاد کے حق میں یہی ان کی محبت ہے _
تہران یونیورسٹی کے ایک استاد اور جرم شناسی ڈاکٹر رضا مظلومی کہتے ہیں:
ٹیلی وین اور سینما گھروں میں دکھائی جانے والی بہت سی فلمیں ہمارے معاشرے کے لیے خطرناک ہیں _ ان کے خطرات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ گیارہ سالہ بچی کو انہوں نے زندگی سے محروم کردیا اور اس کے دل کی دھڑکن کو بند میں جرات مندی کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ عصر حاضر میں ہونے والے بہت سے جرائم اور مظالم انہیں فلموں کے برے اثرات کی وجہ ہیں _ (1)
نیویارک کے ایک ہسپتال میں کام کرنے والے ڈاکٹر آرنالڈ فریمانی نے جدیدترین الیکٹرانک آلات اور تجربات سے یہ ثابت کیا ہے روحانی اور فکری کمزوری اور شدید سردرد ریڈیوپر نشر ہونے والی موسیقی کے سننے سے پیدا ہوتے ہیں _ (2)
اخبار ٹائمز اپنے 1964 کے شمارہ میں لکھتا ہے:
---------
1_ روزنامہ اطلاعات _ 10 آبان ماہ 1352
2_ مکتب اسلام : جلد 15 شمارہ 3
بچوں کی بیماریوں کے ماہر ڈاکٹر نے فضائیہ کی دو چھاؤنیوں میں اس بات کو محسوس کیا کہ اس علاقے میں کام کرنے والے افسران کے بچے کہ جن کی عمر 3 سال سے بارہ سال کے درمیان ہے ہمیشہ دردسر، بے خوابی ، معدہ کی گڑبڑ، قے پیچش اور دیگر بیماریوں میں گھرے رہتے ہیں _ طبی نقطہ نظر سے اس بیماری کی کوئی وجہ معلوم نہ ہوئی _ لیکن مکمل طور پر تحقیق کرنے کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ یہ تمام بچے ٹیلی وین کے طویل پروگرام دیکھنے کے عادی ہیں اور ہر روز 3 گھنٹے سے 4 گھنٹے تک ٹی _ وی پروگرام دیکھتے ہیں _ ڈاکٹروں نے ان کے لیے صرف یہی علاح متعین کیا کہ ان کوئی _ وی پروگرام دیکھنے کی اجازت نہ دی جائے _ یہ علاج کیا اور مؤثر بھی رہا _ سردرد ، قے ، پیچش اور باقی تمام بیماریاں ختم ہوگئیں _ (1)
لہذا جن والدین کو اپنے بچوں سے محبت ہے وہ انہیں دن رات ریڈیو اور ٹیلی وین سننے اور دیکھنے کی اجازت نہ دیں _ صرف ان پروگراموں کو دیکھنے کی اجازت دیں جن سے بچوں کو کوئی نفسیاتی ، روحانی اور اخلاقی نقصان نہ پہنچے _
--------
1_ پیوند ہای کودک و خانوادہ ص 131
جنسی مسائل
جنسی قوت انسان کی انتہائی قوی اور حساس جبلّتون میں سے ہے _ یہ قوت انسان کے لیے بہت تعمیری ہے _ انسان کی نفسیاتی اور جسمانی زندگی کے لئے اس کے اچھے یا برے اثرات مرتب ہوتے ہیں انسان کے بہت سے اعمال، یہاں تک کہ متعدد جسمانی اور نفسیاتی بیماریوں کی بنیاد یہی جبلّت ہوتی ہے اگر انسان کی پرورش عاقلانہ اور دست ہو تو یہ قوت انسان کی خوشی اور آرام کا ذریعہ بنتی ہے _ اور اگر تربیت میں افراط یا تفریط ہو تو ممکن ہے سینکڑوں جسمانی اور نفسیاتی نقصانات کا سبب بنے _ اور انسان کی دنیا و آخرت کو تباہ کردے _
ایسا نہیں ہے کہ جنسی قوت بلوغت کے زمانے میں پیدا ہوتی ہو _ بلکہ یہ بچپن ہی سے انسانی طبیعت میں خوابیدہ ہوتی ہے _ اور مختلف شکلوں میں اس کا ظہور ہوتا ہے _ چھوٹے بچے اپنے آلہ تناس کو چھکر لذت محسوس کرتے ہیں اور اس سے ان کے اندر ایک تحرک کی سی کیفیت پیدا ہوتی ہے وہ والدین کے اظہار محبت اور بوسوں سے لذت محسوس کرتے ہیں _ وہ خوبصورتی اور بد صورتی کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور کبھی زبان سے اس کا اظہار بھی کرتے ہیں _ دو تین سال کی عمر میں وہ لڑکے اور لڑکی میں فرق سمجھنے لگتے ہیں اور بڑی توجہ اور جستجو سے ایک دوسرے کی شرم گاہ کو دیکھتے ہیں _ جب کچھ بڑے ہوجائیں تو وہاں تصویریں انہیں اپنی طرف کھینچتی ہیں _ وہ حیران ہو ہو کر ان کی طرف دیکھتے ہیں _ز بان سے فحش اور گندے مذاق کرتے ہیں اور ان پر خوش ہوتے ہیں جنس مخالف کی طرف انہیں کچھ کچھ میلان پیدا ہوجاتا ہے _ اور انہیں اپنی طرف
متوجہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں _ کبھی کبھی وہ تصریحاً یا اشارة جنسی امور کے بارے میں والدین سے سوال کرتے ہیں _ ماں باپ کی سرگوشیوں کی طرف وہ کان دھرتے ہیں اور ان کے کاموں پر نظر کرھتے ہیں _ اپنے دوستوں اور ہم عمروں سے گوشہ و کنار میں بیٹھ کر راز و نیاز کرتے ہیں _ ان سب چیزوں سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ جنسی قوت نابالغ بچوں میں بھی موجود ہوتی ہے لیکن مبہم اور تاریک صورت میں _ بغیر آگاہی اور کامل شعور کے ان کی توجہ اس کی طرف کھنچتی ہے لیکن انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا چاہتے ہیں اس امر کی طرف ان کی توجہ ہوتی ہے کہ لذّت کہاں سے حاصل ہوتی ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ یہ لذت کیسے حاصل کریں ؟ دس بارہ سال کی عمر تک بچے اسی حالت میں ہوتے ہیں اور ان کی جنسی جبلّت پوری طرح سے بیدار نہیں ہوتی اور ایک ابہام کی سی کیفیت ہوتی ہے لیکن بارہ سے پندرہ سال کی عمر میں وہ بڑی تیزی سے پروان چڑھتی ہے اور تقریبا بیدار ہوجاتی ہے _
فرض شناس ماں باپ اپنے بچوں کی جنسی جبلّت سے لا تعلق نہیں رہ سکتے اور یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ اس بارے میں کوئی حکمت عملی وضع نہ کریں _ کیوں کہ جنسی اعتبار سے تربیت دشوار ترین اور حساس ترین تربیتوں میں سے ہے _ اس سلسلے میں ذرّہ بھر اشتباہ یا غفلت بھی ممکن ہے بچوں کو برائی اور تباہی کی وادی کی طرف کھینچ لے جائے _
ماں باپ کی توجہ اس امر کی طرف ہونی چاہیے کہ بلوغ سے پہلے بدنی اور فکری رشد کے اعتبار سے بچے تولید نسل او رجنسی قوت کو عمل میں لانے کی صلاحیت نہیں رکھتے _ اس لیے اللہ تعالی نے بلوغ سے پہلے ان کی جنسی جبلّت کو ان کی طبیعت میں خفتہ و خوابیدہ رکھا ہوتا ہے _ بچوں کی انفرادی اور اجتماعی بھلائی بھی اس میں ہے کہ بلوغ سے پہلے ان کی جنسی قوّت بیدار اور متحرک نہ ہو کیونکہ اگر جنسی قوت بلوغت سے پہلے اور جلدی ہی بیدار ہوجائے تو اس سے بچے کی زندگی بہت سی مشکلات کا شکار ہوجائے گی اور ہوسکتا ہے وہ اس کی بدبختی اور انحراف کے اسباب فراہم کرے _
لہذا ماں باپ کو ہر اس علم سے سخت پرہیز کرنا چاہیے کہ جس سے بچوں کی جنس جبلّت کو تحریک ہوسکے اور وہ بیدا رہوسکے _ اور ان کے لیے ایسے حالات فراہم کریں کہ ان کی
نشو و نما تدریجی طور پر اور قطری لحاظ سے ہو _ والدین اگر عقل مند اور باتدبیر ہوں تو وہ خود اس ضمن میں تمیز کرسکتے ہیں کہ کون سے کام مفید ہیں اور کون سے مضر _ لیکن ہم یاد دہانی کے طورپر کچھ باتیں بیان کرتے ہیں بچوں کی شرمگاہ پر ہاتھ پھیرنا ، وہاں پیار کرنا _ اخبار و جرائد کی خوبصورت اور ننگی تصویروں کو دیکھنا ، عشقیہ اور تحرک انگیز کانوں اور کہانیوں کو سننا، دوسروں کی شرم گاہ کی طرف دیکھنا یا اس پہ ہاتھ پھیرنا ، دوسروں کے حسن اور خوبصورت کی تعریف کرنا ، اور دوسروں کے ہر حصّہ بدن اور ننگی ٹانگوں کی طرف دیکھنا _ ماں باپ کی آپس میں یا دوسروں سے معاشقہ بازی اور جنسی مذاق ، شہوت انگیز مناظر کو دیکھنا یا ان کے بارے میں سننا اور اس طرح کے دیگر امور کو سرانجام دینا بچے کی جنسی قوت کو تحرک کرنے اور بیدا کرنے کا سبب بنتا ہے اور بچہ بھی ایسی لذت کے حصول کے بارے میں سوچنے لگتا ہے _
پانچ چھ سال سے اوپر کی عمر کے بچوں کو تنہا نہ رہنے دیں _ ہوسکتا ہے وہ ایک دوسرے کی شرمگاہ سے کھیلیں اور اس سے ان میں تحریک پیدا ہو بچوں کو اجازت نہ دیں کہ وہ بستر پہ ایسے ہی پڑے رہیں اور جاگتے رہیں پانچ چھ سال کے بچوں کے بستر جدا کردیں اور انہیں ایک بستر پر نہ لٹائیں کیوں کہ ممکن ہے ایک دوسرے سے مس ہونے سے ان میں تحریک پیدا ہو _ پانچ چھ سال کے بچوں کو خود اپنے بستر پر نہ لٹائیں خاص طور پر مخالف جنس کے بچوں کو _ یہاں تک کہ ماں کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنا بدن اپنی چھ سالہ بیٹی کے بدن کے ساتھ ملے _پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:جب بچّے سات سال کی عمر کو پہنچ جائیں تو ان کے بستر جد اکردیں _ (1) امام صادق (ع) اپنے بزرگوں سے نقل فرماتے ہیں:عورتوں اور دس سالہ بچوں کے بستر جدا ہونے چاہئیں _ (2) امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
----------
1_ مکارم الاخلاق ، ج 1 ، ص 356
2_ وسائل ، ج 14،ص 286
جو ماں اپنی چھ سالہ بیٹی سے اپنا بدن ملتی ہے ایک طرح کے زنا کا ارتکاب کرتی ہے _ (1)
امام صادق علیہ السلام ہی فرمات ہیں:
مرد اپنی چھ سالہ بیٹی کو نہ چومے اور عورت اپنے سات سالہ بیٹے کو نہ چومے _ (2)
بہت سے گھرانوں میں ;عمول ہے کہ عورتیں عریان یا نیم عریان بدن کے ساتھ گھروں میں چلتی پھرتی ہیں ، بعض مرد بھی اس سلسلے مین ھورتوں سے پیچھے نہیں رہتے _ وہ اپنے گھروں میں نیم عریان بدن یا ننگی پیڈلیاں اپنے چھوٹے بڑے بیٹے بیٹیوں کو دکھاتے رہتے ہیں _ ان گھروں کی بیٹیاں اور بیٹے بھی اپنے ماں باپ کی پیروی کرتے ہیں اور گھر میں نیم عریان بدن کے ساتھ رہتے ہیں _ اپنے تئیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ایک خاندان کے افراد ہیں _ اپنے میں محرم ہیں_ محرموں کے درمیان کوئی پابندی اور حجاب نہیں ہے یا ماں باپ سمجھتے ہیں کہ ان کے نیم عریان بدن اور ان کی ننگی ٹانگیں ان کے بچوں پر کوئی اثر نہیں ڈالتے کیوں کہ اولاً تو وہ محرم ہیں اور ثانیاً بچے بھی ابھی کچھ نہیں سمجھتے _ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ ان کی بیٹی کا کھلا سینہ اور ننگی ٹانگیں ان کے بیٹے پر کوئی اثر نہیں ڈالتی اور اس سے ان کی جنسی جبلّت کو کوئی تحریک نہیں ہوتی کیوں کہ وہ آپس میں بھائی بہن ہیں _ جب کہ یہ بات درست نہیں _ البتہ ہوسکتا ہے کہ بہت سے بچے ان واقعات کی طرف توجہ دیں _ لیکن یہ بات اتنی اطمینان بخش نہیں ہے _ جنسی جبلّت ایک بہت طاقتور قوّت ہے _ اور محرم و ناحرم ہونا ، بھائی اور بہن ہونا ، ماں اور باپ ہونا اس کے سر میں نہیں سماتا _ ہوسکتا ہے ایک نظر دیکھنے سے ان میں تحریک پیدا ہوجائے اور جنسی لذت کے حصول کی فکر ان میں بیدار ہوجائے _
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
----------
1_ وسائل ، ج 14، ص 170
2_ وسائل، ج 14، ص 170
بہت ممکن ہے کہ ایک ہی نظر سے عشق اور جنسی خواہشات بیدار ہوجائیں _ (1)
ایسی زودرس تحریکات ممکن ہے سادہ روح ، ناتجربہ کاراور نادان بچے کے لیے بہت برے نتائج کی حامل ہوں _ ہوسکتا ہے ناتجربہ کار بچہ یا نوجوان ان کے باعث زنا یا لواطہ کی طرف کھینچ جائے _ ہوسکتا ہے اس کے نتیجے میں استمناء کی ہولناک بیماری میں مبتلا ہوجائے اس سلسلے میں ایسے بچوں کے ماں باپ ذمہ دار ہیں کہ جن کی بے احتیاطیوں اور غیر عاقلانہ طرز عمل کی وجہ سے ان کے بچوں کی اس قوت کو تحریک ملی _اس مقام پر برا نہیں ہے کہ ایک دانشور کی اس تحریر کی طرف توجہ فرمائیں _
اپنے بچوں کی نفسیاتی سلامتی کے لیے چاہیے کہ ہم اپنا جسم ان کے سامنے عریان نہ کریں _ اور حتی المقدور اس سے اجتناب کریں _ بعض اوقات ممکن ہے ہمارے بچے چوری چھپے جب ہم نہارہے ہوں یا کپڑے تبدیل کررہے ہوں ہماری طرف دیکھیں _ ہمیں نہیں چاہیے کہ اس کام پر ان کی تشویق کریں _ (2) یہ صحیح ہے کہ ماں باپ اپنی اولاد کے لیے محرم ہیں اور گھر میں جیسے جی چاہے رہیں لیکن اپنے اور اپنے بچوں کے اجتماعی فوائد کو اپنی بے جا ہوس اور آزادی کی نذر نہیں کردینا چاہیے اور اپنی اور اپنی اولاد کی زندگی کو تباہی کے خطرے سے دوچار نہیں کرنا چاہیے _ کیونکہ اس کے نتیجہ میں زندگی حسرت و ندامت کی نذر ہوجائے گی _
ایک شخص کی ران ننگی تھی _ رسول اکرم (ص) کی نظر پڑی تو فرمایا:اپنی ران کو ڈھانپ لو کیونکہ یہ بھی چھپانے کی چیز ہے _ (3) مناسب نہیں ہے کہ چار سال سے زیادہ عمر کا بیٹا ماں کے ساتھ مل کے نہائے _اسی طرح چار سالہ بیٹی کو بھی باپ کے ساتھ نہیں نہانا چاہیے _ بچوں اور بالخصوص نوجوانوں کو
-------------
1_ غررالحکم ، ص 416
2_ پیوند ہای کودک و خانوادہ ، ص 177
3_ مستدرک حاکم ، ج 4 ، ص 181
تنہا اور بیکار نہ رہنے دیں کہ کہیں وہ حصول لذّت اور استمناء کی فکر میں نہ پڑ جائیں _ منھے بچے کی شرم گاہ کو حتی المقدور اس کے بہن بھائیوں سے پوشیدہ رکھیں _ کبھی کبھی بچوں کو فحش لگانے نہ دیں _ میاں بیوی کو نہیں چاہیے کہ بچوں کی موجودگی میں ایک بستر پرسوئیں اور ان کی موجودگی میں ایک دوسرے سے چھیڑ چھاڑکریں _
ایک خاندان کی مشکلات میں سے میاں بیوی کے جنسی روابط کا مسئلہ بھی ہے میاں بیوی کا حق ہے کہ وہ اکٹھے ہوئیں اور اس کے سواچارہ بھی نہیں ہے _ اور اگر گھر میں چند ایک چھوٹے بڑے بچّے ہوں تو ماں باپ کے لیے آپس میں رابطے کی مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں _ بہر حال اس سلسلے میں ان کی ذمہ داری ہے کہ یہ عمل ایسے طریقے سے انجام دیں کہ ان کے بچے بالکل اس طرف متوجہ نہ ہوں ، ورنہ ممکن ہے کہ ان کے جذبات بھڑک اٹھیں اور وہ برائی، تباہی اور گناہ کی طرف کھینچ جائیں _
حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
مرد کو نہیں چاہیے کہ جب بچہ کمرے میںموجود ہو تو وہ اپنی بیوی کے قریب ہو _ کیونکہ یہ عمل زناکاباعث بنے گا _ (1)
رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
واللہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے مباشرت کرے جب کہ بچہ کمرے میں جاگ رہا ہو _ وہ انہیں دیکھے اور ان کی آواز سانسوں کی صدا سنے تو وہ بچہ کبھی فللاح نہیں پائے گا _ لڑکا یا لڑکی آلودہ زنا ہوجائے گا _
جب کبھی امام سجاد علیہ السلام اپنی زوجہ کے قریب ہونا چاہتے تو خدمت گزاروں کو باہر بھیج دیتے دروازے بند کرلیتے اورپردے گرالیتے (2) رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے منع کیا ہے کہ مرد اپنی بیوی کے نزدیک ہو جب کہ
------------
1_ وسائل ، ج 14 ، ص 94
2_ وسائل، ج 14 ، ص 94
ننھا بچہ گہوارے میں ان کی طرف دیکھ رہا ہو _ (1)
لہذا جن میاں بیوی کا بچہ ہوا نہیں پہلے کی سی آزاد روش اختیار نہیں کرنا چاہیے _ اپنے بچوں کی عفت کی حفاظت کی خار ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ جنسی تعلق بالکل مخفی طر یقے سے کریں اور اس طرح سے چھپ کرکہ بچے کو بالکل بونہ آئے جب کہ ایسا کرنا کوئی آسان نہیں ہے _ یہ نہ کہیئے گا کہ بچے تو نادان ہیں انہیں کسی چیز کا کیا پتہ _ جب کہ بچے بڑے تیز اور شیطان ہوتے ہیں _ ماں باپ کے کاموں پر بڑی نظر رکھتے ہیں _ انہیں بڑی خواہش ہوتی ہے کہ ماں باپ کی پوشدیہ باتیں معلوم کریں _ یہاں تک کہ بعض اوقات اپنے تئیں سوتا ظاہر کرتے ہیں تا کہ ماں باپ کے مخفی کاموں کا انہیں پتہ چلے _ دروازے اور دیوار کی اوٹ سے کبھی بڑی توجہ سے کان لگاکے ماں باپ کی باتیں سننے کی کوشش کرتے ہیں لہذا ایک خاندان کی مشکلات میں سے ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ جس کا حل کوئی آسان بھی نہیں _ ممکن ہو تو اچھا ہے کہ میاں بیوی کی خلوت کا کمرہ بچوں کے سونے کے کمرے کے نزدیک نہ ہو اور بچوں کو وہ ایسی عادت ڈالیں کہ جب وہ سور ہے ہوں یا آرام کررہے ہوں تو ان کے خاص کرمے میں اجازت کے بغیر داخل نہ ہوں اور جنسی عمل ان اوقات میں انجام دیں جب بچے پوری طرح سورہے ہوں لیکن ایسا کمرہ ہر کسی کو میسّر نہیں ہے _
ایک مغربی دانشور لکھتے ہیں:
دور حاضر کی عمارتوں میں بیشتر گھر ایسے بنے ہوتے ہیں کہ بناتے وقت جنسی مسائل کو ملحوظ نہیں رکھا گیا ہوتا _ در حقیقت آج کل کے گھروں کو جنسی تقاضوں کے مخالف گھر قرار دینا چاہیے _ بہت کم ایسے گھر یا فیلٹ ملتے ہیں کہ جن میں والدین کے لیے جدا کمرے کی ضرورت کو ملحوظ رکھا گیا ہو _ اکثر ایسے کمروں کی دیوار میں باریک ہوتی ہیںاور بچے ان کے گرداگرد ہوتے ہیں _ یہ ایک تلخ اور ناگوار حقیقت ہے کہ ان نکات کو ملحوظ خاطر نہ رکھنے کی وجہ سے
-----------
1_ مستدرک، ج 2، ص 546
جن والدین کے لیے الگ گوشہ آرام نہ ہو ان والیدن کی طبعی خواہشات گھٹی رہتی ہیں _ (1)
البتہ مخصوص کمرے کا ایک نقصان یہ ہے کہ والدین سوتے ہوئے اپنی اولاد سے بے خبر ہوجاتے ہیں _ انہیں بھی اکیلا چھوڑدیتے ہیں خصوصاً جب ان میں کوئی بڑا بچہ ہو _ اور بیٹا اور بیٹی ہو تو یہ کام بے احتیاطی سے خالی نہیں ہے _ اگر چہ کم خطرہ ہے بہر حال احتیاط ضروری ہے _ خود ماں باپ جیسے بھی ہو مشکل کو حل کریں _ البتہ اس صورت میں جب ماں باپ مجبور ہوں کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ ایک کمرے میں سوئیں تو وہ مجبور ہیں کہ وہ آپس میں تعلق کو مخفی رکھیں اور اس سلسلے میں زیادہ توجہ اور احتیاط سے کام لیں _ اولا ماں باپ کو ایک بستر پر نہیں سونا چاہیے بلکہ ان کا بستر جدا جدا ہونا چاہیے _ ممکن ہو تو وہ آپس مں اسی وقت میں جب بچے گھر پر نہ ہوں _ ایسا نہ ہو تو نصف شب جب یقین ہو کہ بچے بالکل سو رہے ہیں تو چپکے سے کمرے سے نکل جائیں اور کسی خلوت کی جگہ پر چلے جائیں اور پھر سونے کے کمرے میں لوٹ آئیں _ بہر حال اگر ماں باپ مسئلے کی اہمیت جانتے ہوں اور اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوں تو ہر مسئلے کو حل کرہی لیں گے _ یہ مسئلہ اس قدر اہم ہے کہ خداوند کریم قرآن حکیم میں ارشاد فرماتا ہے :
یا ایہا الذین آمنوا لیستاذنکم الذین ملکت ایمانکم و الذین لم یبلغوا الحلم منکم ثلث مرّات من قبل صلوة الفجر و حین تضعون ثیابکم من الظہیرة و من بعد صلوة العشاء ثلث
-------------
1_ پیوندہا ی کودک و خانوادہ ، ص 178
عورات: لکم_
اے ایمان والو تمہارے خادموں اور نابالغ بچوں کو تین اوقات میں اجازت لے کر تمہارے پاس آناچاہیے _ ایک تو نماز صبح سے پہلے دوسرے دوپہر کو جب (سوتے وقت) کپڑے بدلتے ہیں اور تیسرے نماز عشاء کے بعد ، یہ تین وقت تمہارے پردوں کے وقت ہیں _
(سورہ نورہ _ آیت 58)
بالغ ہونے سے پہلے بچے عموماً ماں باپ سے بلاواسطہ یا بالواسطہ جنسی مسائل کے بارے میں سوال کرتے ہیں _ بعض ماں باپ پردہ پوشی کے لیے سوال کوٹال دیتے ہیں _ مثلاً کہتے ہیں:
چپ رہو ، فضول باتیں نہ کرو ، یہ بات تم سے متعلق نہیں ہے ، بڑے ہوکر سمجھ جاؤگے _
یوں وہ بچوں کو چپ کروادیتے ہیں _ لیکن بعض ماں باپ بچوں کے سوالوں کا جواب تو دیتے ہیں لیکن غلط اور خلاف حقیقت _ بچے بھی سمجھ جاتے ہیں کہ ہمارے ماں باپ ہمیں دھوکا دے رہے ہیں _
یہ دونوں طرز عمل درست نہیں ہیں کیوں کہ بچہ سمجھنے کے لیے سوال کررہا ہے اگر آپ نے اس کی صحیح راہنمائی نہ کی تو ممکن ہے دوسرے اسے بھٹکادیں _ خوش قسمتی سے بلوغ سے پہلے جنسی امور سے متعلق بچوں کے سوال کوئی ایسے پیچیدہ اور ناقابل جواب بھی نہیں ہوتے بلکہ ان کے سادا سے سوالوں کا آسانی سے جواب دیا جا سکتا ہے _ سب بڑی بات جو بچے کو ایک عرصے تک سوچ میں ڈالے رکھتی ہے وہ بچے اور بچی کی شرمگاہ میں فرق ہے ایک چھوتا بچہ خوب سمجھتا ہے کہ اس کی اور لڑکی کی شرمگاہ میں فرق ہے لیکن اسے اس کی وجہ معلوم نہیں ہوتی _ وہ کبھی اپنے آپ کو ناقص سمجھتا ہے اور کبھی لڑکی کو _ اس کا دل چاہتا ہے کہ اس فرق کو سمجھے _ اسی لیے وہ ماں باپ سے اس کے بارے میں سوال کرتاہے _ماں باپ کا فرض ہے کہ اس سلسلے میں اس سے صراحت سے کہیں کہ تمام لڑکے اسی طرح سے پیدا ہوتے ہیں اور تمام لڑکیاں بھی اسی طرح سے پیدا ہوتی ہیں پھربعد میں لڑکے باپ بن جائیں گے اور لڑکیاں ماں بن جائیں گی اور پھر ان کی اولاد ہوگی اور یوں انسان دنیا میں آتے
رہیں گے اور یوں یہ دنیا آباد رہے گی _
آپ یہ نہ سوچیں کہ آپ کا بچہ تمام حقائق جاننا چاہتا ہے _ وہ جتنا پوچھتا ہے اتنا سی جاننا چاہتا ہے ، اس سے زیادہ نہیں بلوغ سے پہلے بچے کو اس کی فکری سطح کے مطابق تدریجا جنسی مسائل سے آگاہ کریں _ اگر آپ نے اسے کچھ نہ بتایا تو اسکول یا گلی محلے کے بچوں سے اسے معلوم ہوجائے گا _ یوں یہ راز کی باتیں اس کے لیے راز نہیں رہیں گی _ ماں باپ سے یہ باتیں سننا گلی محلّے کے گندے بچوں سے سننے کی نسبت بہتر ہے _ اگر آپ نے اس کی صحیح راہنمائی کی تو وہ گندے بچوں کی گمراہی سے بچ سکتا ہے _
جب آپ کا بچہ بالغ ہوجائے اور آپ کو یہ احساس ہو کہ اس کی جنسی قوت کسی حد تک بیدار ہوچکی ہے اور اس میں مسلسل تبدیلی پیدا ہورہی ہے تو آپ کسی مناسب موقع پر اسے کہہ سکتے ہیں:
جب بچے جوان ہوجاتے ہیں تو انہیں خواہش ہوتی ہے کہ وہ کسی کو اپنا رفیق بنائیں لڑکیاں لڑکوں کو اور لڑکے لڑکیوں کو چاہتے ہیں _ اس میں کوئی عیب کی بات نہیں _ البتہ اگر کوئی پاک باز اور نیک رفیق ہو تو انسان کی خوش نصیبی ہے ورنہ بڑا رفیہ تو انسان کی دنیا و آخرت کو تباہ کردیتا ہے ...
... شادی کے بعد انسان کی ذمہ داریاں بہت بڑھ جاتی ہں بیوی کے خراجات جدا اور اولاد ہوجاتی ہے تو اس کے مخارج جدا _ یہ سب کچھ مرد کو پورا کرنا ہوتا ہے _ تم بھی تعلیم پوری کرلو اور کمانے لگوتو تمہارہی بھی شادی کردیں گے _ خوب دل لگاکر پڑھو ، لائق بن جاؤ تو اچھے لوگ تم سے پیار کریں اور تمہیں بھی کوئی اچھی سی بیوی مل جائے ...
... استمناء سے بچناء یہ بہت بری لا ہے _ گناہ ہے ، خدا دیکھتا ہے اس کی نظر میں یہ برا جرم ہے پھر انسان کی صحت کے لیے بھی تباہی کا باعث ہے شاید پھر انسان شادی کے بھی قابل نہ رہے _
برے دوستوں سے بچناء ان کی بری باتوں سے بچناء وہ انسان کو تباہ کردیتے ہیں ...
بچے بالغ ہوجائیں تو ان کے زیر بغل اور زیر ناف بال اگنے لگتے ہیں _ انہیں ہوسکتا ہے وہ اپنا کوئی عجیب سمجھیں _ ان کی راہنمائی کیجئے گا _ بال صاف کرنے کا طریقہ اور اس کی اہمیت انہیں سمجھایئےا بجی کو خون آنے لگے تو ہوسکتا ہے وہ خوف زدہ ہوجائے دور چھپاتی پھرے ماں کو اس سلسلے میں پیارہے اس کی راہنمائی کرنا چاہیے ، اسی طرح اس کی چھپاتیاں ابھر نے لگیں تو ہوسکتا ہے وہ بہت عجیب محسوس کرے _ ماں کو اس بارے میں بھی پیارسے اسے ضروری امور کی راہنمائی کرنا چاہیے _
اسی طرح بیٹے ہییں جب علامت بلوغ پیدا ہوتی ہے تو وہ سوتے ہوئی الٹے الٹے خواب دیکھتا ہے _ جس سے اس کو تحریک ہوتی ہے اور احتلام ہوجاتا ہے _ کبھی وہ اس کو نقص سمجھنے لگتا ہے اور اپنے آپ کو گنہگار اضطراب کی وجہ سے اس سلسلے میں کسی سے بات چیت بھی نہیں کرتا _ ایسے ایسے موقع پر والدین کی ذمہ داری ہے کہ اسے سمجھائیں اس کی مشکل حل کریں _ ماں بھی بیٹی کی مشکل حل کرے اور اس سے کہے تیرے زیرناف و بغل بالوں کا اگنا ، یا خون بالغ ہونے کی علامت ہے لڑکیوں میں اس عمر میں اسی طرح کی علامات ہوتی ہیں خون کے ایام میں تجھ پر نماز واجب نہیں ہے ، روزہ بھی نہ رکھو بعد میں قضا کرلینا _ پھر اسے ماہواری کے احکم اور غسل و نظافت و غیرہ کا طریقہ بتائے _ باپ بھی بیٹے سے اس طرح کہے کہ اب تو بالغ ہوگیا ہے ، تیرے زیر ناف و بغل بال اگیں گے _ تحریک کنندہ خواب دیکھو گے تمام لڑکوں سے ایسی عمر میں ایسا ہی ہوتا ہے اس سے کوئی زیر پریشانی محسوس نہ کرو _ اگر محتلم ہو جاؤ تو اس سے تمہارا لباس نجس ہو جائے گا _ غسل بھی تم پر واجب ہوجائے گا _ غسل کرنے کا طریقہ یہ ہے اس طرح ماں باپ بچوں کے اضطراب اور پریشانی کو دور کرکے انہیں زمان بلوغ کے واقعات کے لیے پہلے سے آمادہ کردیتے ہیں جس سے بچے اس دور کو ایک طبیعی دور سمجھ کے چھپاتے نہیں _
کتاب کا مطالعہ
کتا ب کا مطالعہ تعلیم و تربیت کا ایک بہترین طریقہ ہے _ اچھی کتاب قاری کی روح پر بہت گہر اثر ڈالتی ہے _ اس کی روح اور نفس کو کمال عطا کرتی ہے اور اس کی انسانی حیثیت کربلند کردیتی ہے _ اس کے علم میں اضافہ کرتی ہے _ اس کی معلومات بڑھاتی ہے _ اخلاقی اور اجتماعی خرابیاں دور کرتی ہے _ خصوصاً دور حاضر کی مشینی زندگی میں کہ جب انسان کے پاس فرصت کم ہوگئی ہے اور علمی و دینی محافل میں شرکت مشکل ہوگئی ہے کتاب کا مطالعہ تعلیم و تریت کے لیے اور بھی اہمیت اختیار کرگیا ہے ممکن ہے کتاب کے مطالعے سے انسانی روح پر جو اثرات مترتب ہوں وہ دیگر حوالوں سے مترتب ہونے والے اثرات سے عمیق ترا ور زیادہ گہرے ہوں کبھی انسان کا مطالعہ اس کی شخصیت کو تبدیل کرکے دکھ دیتا ہے علاوہ ازیں مطالعہ کتاب بہترین مشغولیت بھی ہے اور صحیح تفریح بھی _ جو لوگ اپنی فراغت کے اوقات کتاب کے مطالعہ میں گزارتے ہیں وہ علمی اور اخلاقی استفادہ کے علاوہ اعصابی کمزوری اور روحانی پریشانی سے بھی محفوظ رہتے ہیں اور ان کی زندگی زیادہ آرام وہ ہوتی ہے _ کتاب ہر نظارے سے زیادہ خوبصورت اور ہر باغ اور ہر چمن سے زیادہ فرحت بخش ہے لیکن جو اہل ہو اس کے لیے _ کتاب دلوں کی پاکیزگی اور نورانیت عطا کرتی ہے اور غم بھلادیتی ہے اگر چہ وقتی طور پر ہی سہی_
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:جو شخص اپنے آپ کو کتابوں کے ساتھ مصروف رکھتا ہے اس کا آرام خاطر
ضائع نہیں ہوتا _ (1)
امیرالمومنین علیہ السلام ہی فرماتے ہیں:
تازہ بہ تازہ علمی مطالب حاصل کرکے اپنے دلوں کی کسالت اور خستگی کو دور کروکیوں کہ دل بھی بدن کی طرح تھک جاتے ہیں _ (2)
ہر ملت کی ترقی اور تمدّن کا معیار ان کی کتابوں کی کیفیت ، تعداد اشاعت اور مطالعہ کرنے والوں کی تعداد کو قرار دیا جا سکتا ہے پڑھا لکھا ہونا ترقی کی علامت نہیں بلکہ مطالعہ اور تحقیق ملتوں کی ترقی کی علامت ہے _ہمارے پاس پڑھے لکھے بہت ہیں لیکن یہ بات باعث افسوس ہے کہ محقق اور کتاب دوست زیادہ نہیں _ زیادہ تر لڑکے لڑکیاں جب فارغ التحصیل ہوجاتے ہیں تو کتاب کو ایک طرف رکھ دیتے ہیں وہ کاروبار اور زندگی کے دیگر امور میں مشغول ہوجاتے ہیں لہذا ن کی معلومات کا سلسلہ وہیں پر رک جاتا ہے _ گویا حصول تعلیم کا مقد بس حصول معاشر ہی تھا _ جب کہ حصول تعلیم کو انسان کے کمال اور علمی پیش رفت کے لیے مقدم ہونا چاہیے _ انسان ابتدائی تعلیم کے حصول سے مطالعہ اورتحقیق کی صلاحیت پیدا کرتا ہے _ اس کے بعد اس کو چاہیے کہ وہ مطالعہ کرے _ تحقیق کرے اور کتاب پڑھے تا کہ اپنے آپ کی تکمیل کرسکے اور پھر ایک مرحلے پر انسانی علوم کی ترقی میں مددکرسکے اور یہ کام توانائی اور وسائل کے مطابق آخر عمر تک جاری رکھے _ دین مقدس اسلام نے بھی اپنے پیروکاروں کو حکم دیا ہے کہ بچپن سے لے کر موت کی دہلیز تک حصول علم کو ترک نہ کریں _
رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:حصول علم ہر مسلمان کا فریضہ ہے اور اللہ طالب علموں کو پسند کرتا ہے _ (3)
-------------
1_ غرر الحکم ، ص 636
2_ اصو ل کافی ، ج 1 ، ص48
3_ اصول کافی ، ج 1 ، ص 30
حضرت صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
میرے اصحاب کو اگر تازیانے سے بھی حصول علم کے لیے آمادہ کیا جائے تومجھے یہ پسند ہے _ (1)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
دو افراد کے علاوہ زندگی میں کسی کے لیے بھلائی نہیں پہلا وہ عالم کہ جس کی ابتاع کی جانے اور دوسرا کہ جو حصول علم میں مشغلو ہو (3) امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:لوگ تین طرح کے ہیں:
1_ عالم ،
2_ طالب علم اور
3_ باقی کو ڑاکر کٹ کا ڈھیر _ (3)
امام صادق علیہ السلام ہی فرماتے ہیں:حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے فرمایا: بیٹا اپنے شب و روز میں کچھ وقت مطالعہ اور حصول علم کے لیے مختص کرو کیونکہ اگر تم نے مطالعہ ترک کردیا تو تمہارا علم ضائع ہوجائے گا _ (4) امام جعفر صادق علیہ السلام ہی نے ارشاد فرمایا:حصول علم ہر حال میں واجب ہے (5)
----------
1_ اصول کافی ، ج 1 ، ص 31
2_ اصول کافی ، ج 1 ، ص 33
3_ اصول کافی ، ج 1 ، ص 34
4_بحار، ج 1 ، ص 169
5_ بحار، ج 1 ، ص 172
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
طلب العم فریضة علی کل مسلم و مسلمة
علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور ہر مسلمان عورت پر فرض ہے _ (1)
امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
اگر لوگوں کو علم کا فائدے معلوم ہوتے تو اس کے حصول کے لیے کوشش کرتے اگر چہ اس کام میں ان کی جان خطرے میں پڑجاتی یا انہیں حصول علم کیلئے سمندر پار کا سفر کرنا پڑتا _ (2)
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
اگر میرا کوئی ایک دن ایسا گزرجائے کہ جس دن میرے علم میں کچھ بھی اضافہ نہ ہو تو ہ دن نا مبارک ہے _ (3)
ماں باپ کی ابتدائی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پڑھنے لکھنے کے لیے اسکول بھیجیں اسلام نے اس سلسلے میں بھی بڑی تاکید کی ہے _حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:بچہ سات سال کھیلتا ہے سات سال پڑھتا ہے اور سات سال حلال و حرام کے متعلق جانتا ہے _ (4) پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: بیٹے کے باپ پر تین حق ہیں _
-----------
1_ اس کا اچھا سانام رکھے،
1_ بحار، ج 1، ص 177
2_ بحار، ج 1 ، ص 177
3_ مجمع الزوائد، ج1، ص 137
4_ مستدرک ، ج 2، ص 625
2_ اسے پڑھنا لکھنا سکھائے اور
3_ جب بڑا ہوجائے تو اس کی شادی کرے _ (1)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:جب بچے کو مدرسے لے جاتے ہیں اور استاد اسے بسم اللہ پڑھتا ہے تو خدا اس کے والدین کو جنہم کی آگ سے بچالیتا ہے _ (2) پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
افسوس ہے دور آخر کے بچوں پر کہ جوان کے آباء کے ہاتھؤں ان چہ گزرے گی _ اگر چہ وہ مسلمان ہوں گے لیکن اپنی اولاد کو دینی فرائض سے آگاہ نہیں کریں گے _ (3) ماں باپ کی دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کی اس طریقے سے پرورش کریں کہ وہ علم و دانش حاصل کرنے، کتاب پڑھنے اور بحث و تحقیق کے شیدا بنیں_ ان کے گھر کا ماحول عملی ہونا چاہیے _ اور وہ اپنے بچوں کو قول و عمل سے مطالعہ کرنے کا شوق دلائیں _ بہتر یہ ہے کہ یہ طریقہ کاربچپن ہی سے شروع کردیا جائے _ اور بچے کے سکول جانے سے پہلے اسے اس طرز عمل کا عادی بنایا جائے _ پہلے آپ بچوں کو کتاب پڑھ کر سنائیں _ چھوٹے چھوٹے _ سادہ اور قابل فہم قصّوں اور کہانیوں کی کتابیں انہیں لاکردیں _ اگر یہ کتابیں تصویروں والی ہوں تو اور بھی بہتر ہے _ پھر ہر روز ماں باپ یا بڑی بہن یا بھائی اس کتاب کا کچھ حصہ چھوٹے بچے کو پڑھ کر سنائیں اور اگر اس کتاب میں تصویریں بھی ہوں تو کتاب کے مطالب کی ان تصویروں کے ساتھ تطبیق کرکے بچوں کو بتائیں _ پھر اس سے کہا جائے کہ اس کہانی کا خلاصہ بتائے _ اور اگر اس میں چھوٹے چھوٹے شعر بھی ہوں تو اسے وہ شعر یاد کرائے _
-----------
1_ مستدرک، ج 2، ص 625
2_ مستدرک، ج 2 ، ص 625
3_ مستدرک، ج 2، ص 625
جائیں _ البتہ اس سلسلے میں جلدی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے _ یا بچے کی استعداد اور خواہش کے مطابق اسے کہانیاں پڑھ کر سنائی جائیں نہ کہ اس کی استعداد سے زیادہ _ کیوں کہ اگر اس کی استعداد اور فہم سے زیادہ اس پر ٹھونسنے کی کوشش کی گئی تو وہ شروع ہی سے کتاب پڑھنے سے بیزار ہوجائے گا _یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رکھیں جب تک بچہ خود پڑھنا اور لکھنا سیکھ نہیں جاتا _
اس کے بعد کتاب پڑھنے کی ذمہ داری خود بچے پر ڈال دی جائے _ کبھی کبھی کتاب کے متعلق اس کی رائے معلوم کی جائے _ کتاب کے مطالب کے بارے میں اس گفتگو کی جائے _ یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رکھیں جب بچہ خود بخود کتاب پڑھنے کا عادی ہوجائے _
یہاں پر والدین کی خدمت میں چند نکات کی یاددہانی ضروری ہے _
1_ بچے کہانیاں پسند کرتے ہیں _ اور ان کے مطالب کو اچھی طرح سمجھتے ہیں _ البتہ کلی مطالب کو وہ اچھی طرح نہیں سمجھتے _ اس لحاظ سے بچوں کی کتابیں حتی المقدور کہانیوں کی صورت میں ہونی چاہیے _
2_ ہر بچہ ایک الگ شخصیت کا مالک ہے _ تمام افراد کی استعداد اور ذ وق برابر نہیں ہوتے _ مختلف عمروں میں ان میں تبدیلی آتی رہتی ہے _ لہذا ماں باپ پہلے اپنے بچے کی استعداد اور ذوق کو سمجھیں اور پھر اسی کے مطابق اس کے لیے کتابیں لائیں _ مشکل اور بوریت سے بھر پور مطالب اس پر ٹھونسنے سے پرہیز کریں _ کیوں کہ ممکن ہے ایسا کرنا اسے کتابیں پڑھنے سے بیزار کردے _
3_ چونکہ بچے کی شخصیت کی تعمیر ہو رہی ہوتی ہے _ اور کتاب اس پر گہرا اور عمیق اپر چھوڑتی ہے _ لہذا اسے ہر طرح کی کتاب نہیںدی جاسکتی _ ماں باپ پہلے خود خود وہ کتاب پڑھیں ، اس کے مطالب پر مطمئن ہونے کے بعد وہ بچے کے سپردکریں _ اگر بچے نے کوئی گندی کتاب پڑھی تو یہ اس کی روح پر برا اثر ڈالے گی _ جب کہ اس کی دوبارہ تربیت کرنا اور اسے سدھارنا بہت مشکل کا م ثابت ہوگا _
4_ بچے جرائم کی کتابیں جن میں پولیس ، قتل، اور چوری ڈاکہ کی باتیں ہوں بڑے شوق سے
پڑھتے ہیں _ لیکن اس طرح کی کتابیں نہ فقط یہ کہ بچوں کے لیے سودمند نہیں ہیں بلکہ انہیں قتل ، جرم اور چوری و غیرہ کے طریقے سکھاتی ہیں _ جس سے ان کی سلامتی ، اور روحانی و نفسیاتی سکون تباہ و برباد ہوجاتا ہے _ اور اسی طرح جنسی قوت کو تحریک دینے والی کتابیں بھی بچوں کے لیے نقصان وہ ہیں _ کیوں کہ ممکن ہے ان کتابوں سے ان کی جنسی قوت وقت سے پہلے بیدا ر ہوجائے اور انہیں تباہی و بربادی کی وادی میں دھکیل دے _
ایک صاحب اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں:
... میری دادی اماں تھیں جو مجھ سے بہت محبت کر تی تھیں _ رات کو میں ان کے پاس ہوتا اور ان سے کہانی سنانے کی ضد کرتا _ وہ مجھے سلانے کے لیے ہر رات ایک کہانی سناتیں _ وہ مجھے جن بابا کی کہانی سناتیں اور اسی طرح دوسری ڈراؤنی کہانیاں _ ان کہانیوں نے میری روح اور نفسیات پر اپنا اثر چھوڑا _ میں اسی پریشانی کن حالت میں سوجاتا _ اور خواب میں بھی یہ افکار مجھے پریشان کرتے رہتے میں ان تحریک آمیز اور فرضی کہانیوں اور افسانوں کو بہت پسند کرتا انہوں نے میری روح کو بہت حساس اور پریشان کردیا _ میں بزدل اور ڈرپوک بن گیا _ تنہائی سے مجھے خوف آتا _ میں غصیلہ اور زود رنج ہوگیا _ یہ کیفیت ابھی بھی مجھ میں باقی ہے _ کاش والدین اس طرح کی جھوٹی اور تحریک آمیز کہانیاں اپنے بچوں کو نہ سنائیں _ میں نے یہ پکاارادہ کیا ہوا ہے کہ اپنے بچوں کو اس طرح کی کہانیاں نہیں سناؤں گا _ میں عموماً انہیں قرآنی قصے اور دیگر سچی کہانیاں سناتا ہوں _
5_ کتاب پڑھنے کا مقصد صرف وقت گزاری نہیں ہے _ بلکہ اس کا اصل مقصد اس کے مطالب کو سمجھنا او ر ان سے استفادہ کرناہے _ یہ بات اہم نہیں ہے کہ بچہ کتنی کتاب پڑھتا ہے بلکہ اہم یہ ہے کہ اس نے یہ کتاب کس طریقے سے پڑھی ہے _ کیا سرسری طور پر پڑھ کرگزرکیا ہے یا غور فکر سے اور سمجھ کر اس نے پڑھی ہے ماں باپ کو اس سلسلے میں پوری توجہ رکھنی چاہیے _ بچے سے کبھی کبھی کتاب کے مطالب کے متعلق
سوال کرتے رہنا چاہیے _ اور ان مطالب کے صحیح یا غلط ہونے کے بارے میں بھی اس کی رائے معلوم کرتے رہنا چاہیئے نیز چاہیئے کہ اس سے دریفات کیا جائے اس سے اس نے کیا نتیجہ حاصل کیا ہے _
6 _ بچوں کو انسانوں اور جھوٹ پر مشتمل حیر ت انگیز کتابیں بھی بہت اچھی لگتی ہیں بچوں کی ایسی کتابوں سے محبت کی ہی بعض دانشور تائید کرتے ہیں اور کہتے ہیں اس طرح کی کتابیں بچے کے وسعت تخیل کے لیے بہت مفید ہیں _ لیکن راقم کی رائے یہ ہے کہ غیر حقیقی اور افسانوں کی کہانیاں بچوں کو جھوٹ کا عادی بنادیتی ہیں اور اس کے دماغ میں جھوٹے اور غیر حقیقی افکار جاگزیں ہوجاتے ہیں جب وہ بڑا ہوجائے گا تو اپنی خواہشات کی تکمیل کے لیے بھی غیر حقیقی راستے تلاش کرے گا _
7_ یہ صحیح ہے کہ بچہ کہانیوں کو باقی سب چیزوں کی نسبت زیادہ پسند کرتا ہے _ لیکن ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ وہ فقط کہانیوں پڑھنے کا عادی ہوجائے _ بلکہ کبھی کبھی علمی ، اخلاقی اور اجتماعی امور پر مشتمل فائدہ بخش کتب بھی اسے دی جائیں تا کہ وہ آہستہ آہستہ گہرے اور دقیق علمی مطالب سمجھنے کے لیے آمادگی پیدا کرے اور بعد میں فقط علمی کتابیں پڑھنے کا عادی ہوجائے _
8_ ایسا نہیں ہے کہ بچہ فقط افسانوی اور جھوٹی کتابوں کو پسند کرتاہو بلکہ بڑی شخصیات اور حقیقی تاریخ ساز انسانوں کی زندگی پر مشتمل کتابیں بڑے شوق سے پڑھتا ہے اور اس طرح کی کتابیں پڑھنے سے کسی شخصیت کو اپنا ائیڈیل اور نمونہ عمل قرار دیتا ہے اس طرح کی کتابیں بچے کے لیے دلچسپ بھی ہیں اور مفید بھی ہیں _
ناقص الخلقت بچّے
بعض بچے پیدائشےی طور پر ناقص الخلقت ہوتے ہیں یا بعد میں کسی حادثے کی وجہ سے ان کے بدن میں کوئی نقص پیدا ہوجاتا ہے _ اندھے لولے لنگڑے گونگے بہرے اور اسی طرح کے دوسرے نقائص میں بہت سے افراد مبتلا ہوتے ہی بعض بچے اگر چہ بدن کے کسی عضو کے اعتبار سے تو نقص نہیں رکھتے لیکن مناسب قامت اور مکمل خوبصورتی سے محروم ہوتے ہیں _ کالے ، پیلے ، کمزور ، بہت چھوٹے ، بہت بڑے ، بہت موٹے، چھوٹی ناک والے ، بڑے منہ والے یا چھوٹے منہ والے ، اندر کو دھنسی ہوئی آنکھوں والے ، اور بڑے دانتوں والے ، ان نقائص کے حامل افراد اگر چہ کسی ع ضو کے نقص میں مبتلا نہیں ہوتے لیکن دوسروں کی نسبت مکمل اور خوبصورت بھی نہیں ہوتے _
اسی میں ان افراد کا کوئی قصور نہیں ہے خدا نے انہیں اس طرح پیدا کیا ہے نظام خلقت میں تمام اشیاء خوبصورت اور مناسب ہیں یہ تو ہماری کم فہمی اور کم ذوقی کا قصور ہے کہ کسی کو خوبصورت سمجھتے ہیں اور کسی کو بد صورت _
ناقص اور معذور افراد چونکہ اپنے نقص کی طرف متوجہ ہوتے ہیں لہذا ہمیشہ غم و اندوہ میں مبتلا رہتے ہیں _ وہ احساس کمتری میں مبتلا رہتے ہیں _ اگر اس احساس کو ختم نہ کیا جائے بکلہ اس کی تائید کی جائے تو وہ ہمیشہ کے لیے احساس کمتری اور کم نگہی کا شکار ہوجائیں گے _ جن لوگوں کے دل میں احساس کمتری گھر کرلے تو وہ تو اپنی شخصیت گنوابیٹھتے ہیں _ اپنے تئیں بے لیاقت ، ناچیز اور نااہل سمجھتے ہیں _ وہ ذمہ داریوں کو قبول کرنے اور کاموں کے لیے لپک
کے آگے بڑھنے سے گریزان رہتے میں گویا ذلت و بدبختی کے سامنے ہتھیار پھینک دیتے ہیں _ ممکن ہے کبھی وہ اپنے اظہار وجود کے لیے قتل یا کسی دوسرے جرم کا ارتکاب کر بیٹھیں اپا ہج قال رحم ہوتے ہیں _ لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کے نقص کو بالک نظر انداز کر دیں _ ان کے ساتھ ایسا سلوک کریں کہ جیسا وہ دیگر افراد کے ساتھ کرتے ہیں اور ان کے نقص کے بارے میں نہ سوچیں نہ ان پر طنز کریں نہ تمسخر اڑائیں _ اور نہ ان کے نازک دلوں پر زبان کے چرکے لگائیں _ دین مقدس اسلام نے عیب جوئی ، تمسخر بازی ، سرزنش اور دوسروں کی ذات میں کیڑے نکالنے کو گناہوں کبیرہ میں سے اور حرام قرار دیا ہے _ اور اس بارے میںاس قدر تاکید کی ہے کہ اپنے پیروکاروں کو حکم دیا ہے کہ آپ ہرگز کوئی ایسا کام نہ کریں کہ ناقص الخلقت افراد اپنے نقص کی طرف متوجہ ہوجائیں _پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں:مصیبت میں گھر سے افراط اور کوڑھیوں کی طرف زیادہ نہ دیکھیں کیوں کہ ممکن ہے آپ کی نظر یں ان کے لیے باعث حزن و ملال ہوں _ (1) علاوہ ازیں مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ ایسے افراد کے ساتھ زیادہ محبت اور ہمدردی کریں اور اس طرح سے ان کے احساس کمتری کا ازالہ کریں _ اور ان میں احساس زندگی کو تقویت بخشیں _ ایسے بچوں کے ماں باپ کی ذمہ داری بھی سنگین تر ہے _ اس امر پر ان کی توجہ ہونا چاہیے کہ ناقص افراد بھی ترقی اور کمال کی صلاحیت رکھتے ہیں _ اگر ان کی صلاحیتوں کا اندازہ لگایاجائے اور ان دیگر قوتوں کو ابھار کر تقویت پہنچائی جائے تو وہ کسی نہ کسی علمی ، سائنسی یا فنی شعبے میں مہارت حاصل کرسکتے ہیں اور اس طرح سے اپنے نقص کا ازالہ کرسکتے ہیں اور معاشرے میں بلند مقام حاصل کرسکتے ہیں اور اس طرح سے اپنے نقص کا ازالہ کرسکتے ہیں اور معاشرے میں بلند مقام حاصل کرسکتے ہیں _ کتنے ہی ناقص افراد ہیں کہ جو کوشش اور ہمت سے ایسے بلند مقام پر پہنچے ہیں کہ جس سے ان کا نقص بہت ہی پیچھے رہ گیا ہے _ ماں باپ کو چاہیے کہ اپنی اولاد کے نقص سے بالکل چشم پوشی کریں اور اس بارے میں بالکل بات نہ کریں یہاں تک کہ مذاق ، اظہار ہمدردی یا غصّے
---------
1_ بحار ، ج 75، ص 15
کی صورت میں بھی ذکر نہ کریں _ ایسے بچوں کے ساتھ بھی ان کا سلوک بالکل ایسا ہو جیسا دوسرے بچوں کے ساتھ ہوتا ہے _ اگر خود بچے اس سلسلے میں پریشانی کا اظہار کریں تو کوشش کریں کہ اس نقص کو غیر اہم قرار دیں _ اور اسے اس کی دوسروی صلاحیتں یا ددلائیں ان ان کی تعریف و ستائشے کریں _
ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ پوری توجہ سے تحقیق کریں کہ بچوں میں کیا کیا استعداد اور صلاحیت موجود ہے اور اس سلسلے میں جاننے والے افرا د سے مشورہ کریں _ اور پھر بچے کو اس طرف متوجہ کریں _ اور اس بارے میں ان کی تائید کریں اور انہیں ترغیب دیں _ اگر ماں باپ اس سلسلے میں کچھ توجہ کریں تو وہ اپنے ناقص بچے کی اور معاشرے کی بہت بڑی خدمت سرانجام دیں گے _
اس صورت میں اس طرح کا شخص گویا اپنی کھوئی ہوئی صورت کو پالے گا اور اپنی خداد اد صلاحیتوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکے گا _ اور معاشرت میں بھی وہ ایک اہم مقام حاصل کرسکے گا _
ایک لڑکی اپنے خط میں لکھتی ہے_
... میر ی ایک سہیلی نے اپنی زندگی کی داستان مجھے اس طرح سنائی میں تیرہ سال کی تھی _ ایک دفعہ میں چھت سے گڑپڑی _ میری ریڑھ کی ہڈی پر چوٹ لگی _ جس کی وجہ سے میں معذور ہوگئی _ کچھ عرصہ ہسپتال میںمیرا علاج ہوتا رہا _ اگرچہ مجھے تکالیف تھی لیکن مجھے بعد میں سمجھ آئی کہ یہ دن میرے لیے بہت بہتر تھے _ جب مجھے ہسپتال سے چھٹی ملی اور میں گھر پہنچی تو میرے والدین نے مجھے ازلی دشمنوں کی طرح دیکھتا شروع کردیا _ انہوں نے کہا تم ہمارے لیے باعث ننگ و ارہو _ ہم لوگوں کو کیسے بتائیں کہ ہم ایک معذور بیٹی کے والدین ہیں _ تم ہمیشہ ہم پر سوار ہوگی _ وہ مجھے دلاسہ دینے کی بجائے دن رات ایسی ہی باتیں کرتے اور میری پمردہ روح کو اور چرکے (زخم) لگاتے _ وہ یہ نہیں سوچتے تھے کہ میں بے قصور ہوں _ میں روزانہ کئی مرتبہ خدا سے اپنی موت کی دعا کرتی تا کہ
اس سخت زندگی سے میری جان چھوٹ جائے _ میں اپنے مفلوج پاؤں کے ساتھ سارا دن گھر میں کام کرتی _ لیکن کوئی میری دلجوئی نہ کرتا مجھے اصلاً اپنی بیٹی ہی نہ سمجھتے میری جوانی کے بہترین ایام رنج و درد کے عالم میں گزرے _ پندرہ سال کی عمر میں میں ایک پچاس سالہ بوڑھی کی طرح نظر آتی جب میرے ماں باپ مر گئے _ میرے بہن بھائی بھی بچپن ہی سے مجھ سے متنفر تھے وہ بھی میری احوال پرسی نہ کرتے _ پھر میری شادی کردی گئی _ میرے شوہر بہت مہربان شخص تھے _ مجھ سے بہت محبت کرتے _ اس وقت تک مجھے محبت کی ٹھنڈی چھاؤں نصیب نہیں تھی اب میری حالت دن بدن اچھی ہونے لگی اب میں بالکل تندرست ہوگئی ہوں _ خدا نے مجھے اولاد بھی عطا کی ہے _ اور میں خوش و خرم اور صحت و سلامتی کے ساتھ زندگی گزار رہی ہوں _
جسمانی سزا
بہت سے والدین بچوں کی تربیت کے لیے جسمانی سزا ضروری سمجھتے ہیں اور اکثر اساتذہ کے ذہن میں بھی یہ سودا سمایا ہوتا ہے لوگوں میں مشہور ہے کہ ''لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے _ گزشتہ زمانے میں اس طرز عمل کے حامی بہت افراد تھے _ اور یہ طریقہ کارائج بھی تھا _ سکول کی ضروریات میں سے ڈنڈا، زنحیر اور کوڑا و غیرہ بھی تھا _ جو والدین اپنی اولاد کی تربیت کے خو اہش مند ہوتے وہ انہیں مارنے سے دریغ نہ کرتے _ لیکن بہت سے دانشور بالعوم اور ماہرین نفسیات بالخصوص اس طرز عمل کو بچے کے لیے نقصان وہ سمجھتے ہیں _ اور اس سے منع کرتے ہیں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں جسمانی سزا پر تقریباً تقریباً پابندی ہے اور اس سلسلے میں کئی قوانین منظور اور نافذ ہوچکے ہیں _ دانشور کہتے ہیں _
جسمانی سزا سے بچے کی اصلاح نہیں کی جا سکتی _ ممکن ہے ظاہری طور پر اس کا تھوڑا بہت اثر ہولیکن یہ ناقابل تلافی نقصان کی حامل بھی ہوتی ہیں مثلاً
1_ مارکھا کھا کر بچہ اس بات کا عادی ہوجاتا ہے کہ وہ زور اور طاقت کے سامنے بلا چون و چرا سر جھکالے _ اور ہوسکتا ہے اس طریقے سے وہ یہ سمجھے لگے کہ طاقت ہی کامیابی کی کلید ہے _ اور جب بھی غصّہ آئے مارناچاہیے _ اور اس سلسلے میں کچھ لحاظ نہیں رکھنا چاہیے _ مارپیٹ کے ذریعے ماں باپ جنگل کے وحشیانہ قوانین اپنے بچے پر لاگوکردیتے ہیں _
2_ مارکھانے والے بچے کے دل میں والدین کے بارے میں کینہ و نفرت پیدا ہو
جاتی ہے اورزیادہ تریہی ہوتا ہے کہ وہ آخر تک اسے فراموش نہیں کرتا _ ہوسکتا ہے وہ کسی رد عمل کا مظاہرہ کرے اور سرکش ہوجائے _
3_ مارپٹائی بچے کو بزدل بنادیتی ہے _ اس کے ذریعے سے بچے کی شخصیت بھی کچلی جاتی ہے اور اس کا روحانی توازن بگڑجاتا ہے اور وہ غصّے اور دوسری نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے _
4_ جسمانی مارپیٹ زیادہ تر بچے کی اصلاح نہیں کرتی اور اس کے اندر اصلاح کا جذبہ نہیں ابھارتی _ ممکن ہے مارپیٹ اور ڈنڈے کے خوف سے ظاہراً وہ برا کام نہ کرے _ اور دوسروں کی موجودگی میں وہ کچھ نہ کرے لیکن اس کی حقیقی برائی اس طرح سے دور نہیں ہوتی اور باطن موجود رہتی ہے اور بعد ازاں کسی دوسرسی صورت میں آشکار ہوتی ہے _ایک صاحب کہتے ہیں:میرے بارہ سال بیٹے نے الماری سے ماں کے پیسے اٹھالیے _ اس کام پر میں نے اس کی ڈنڈے سے پٹائی کی _ اس کے بعد وہ خوف کے مارے الماری کے قریب نہیں جاتا تھا _اور یہ درست ہے کہ بچے نے اس کے بعد الماری سے پیسے نہیں اٹھائے اور اس لحاظ سے باپ نے اپنا مقصد پالیا ہے لیکن معاملہ اتنا سادہ نہ تھا _ یہ قصہ آگے بڑھا _ بعد ازاں وہ بس کا کرایہ ادا نہ کرتا _ ماں سوداسلف کے لیے پیسے دیتی تو اسی میں چرالیتا _ بعد میں معلوم ہو اکہ اس نے اپنے دوستوں کے بھی پیسے چرائے ہیں _ گویا مارنے بچے کو مجبور کیا وہ ایک کام کا تکرار نہ کرے _ لیکن اس کام کی اصل حقیقت تو ختم نہ ہوئی _ (1) ایک دانشور لکھتے ہیں :جن بچوں کی مارپٹائی ہوتی رہتی ہے وہ بعد از ان ڈھیلے ڈھالے اور بیکارسے
-------------
1_ روان شناسی تجربی کودک، ص 263
شخص بن سکتے ہیں _ یا پھر دھونس ڈعاندلی جماتے ہیں گویا پوری زندگی اپنے افسردہ بچپن کا انتقام لیتے ہیں _ (1)
مسٹررسل لکھتے ہیں:
میرے نظرلیے کے مطابق بدنی سزا کسی لحاظ سے بھی درست نہیں ہے _ (3)
اسلام نے بھی جسمانی سزا کو نقصان وہ قرار دیا ہے اور اس سے روکا ہے _ حضرت علی علیہ اسلام فرماتے ہیں:
عقل مند ادب کے ذریعے نصیحت حامل کرتا ہے _ یہ تو صرف حیوانات ہیں جو مارکے بغیر ٹھیک نہیں ہوتے _ (3)
حضرت صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
جو شخص بھی دوسرے کو ایک تازیانہ مارے گا _ اللہ تعالی اس پر آگ کا تازیانہ برسائے گا _ (4)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
ایک شخص کہتا ہے کہ میں نے امام موسی بن جعفر علیہ السلام سے اپنے بیٹے کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا:
اسے مارنانہ البتہ اس سے کچھ دور رہو لیکن تمہاری یہ دوری اور ناراضی زیادہ
----------
1_ روان شناسی تجربی کودک، ص 266
2_ در تربیت ، ص 169
3_ غرر الحکم ، ص 236
4_ وسائل، ج 19 ، ص 12
5_ بحار، ج 77، ص 175
دیرے کے لیے نہ ہو _ (1)
بہر حال بدنی سزائیں تربیت کے لیے نہایت ہی خطرناک ہیں اور حتی الامکان ان سے بچنا چاہیے لیکن اگر کوئی دوسرا طریقہ مؤثر نہ ہو اور مارکے علاوہ کوئی چارہ کارنہ ہو تو ایک ضرورت کی حد تک اس سے کام لیا جا سکتا ہے _ اسلام نے بھی اس کے لیے اجازت دی ہے مثلاً رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:
اپنے بچوں کو چھ سال کی عمر میں نماز کے لیے کہو اور اگر نصیحت اور ڈانٹ مؤثر نہ ہوں اور وہ تمہارے حکم کی خلاف ورزی کریں _ تو سات سال کی عمرمیں تم انہیں مارکر نماز کے لیے کہہ سکتے ہو _ (2)
ایک اور حدیث میں امام محمد باقر یا امام جعفر صادق علیہما السلام نے فرمایا:
جب بچہ نو سال کی عمر کو پہنچے تو اس وضو کرنا سکھاؤ اور اس سے کہو کہ وضو کرے اور نماز پڑھے _ اور اگر وہ نہ مانے تو مار کر نماز پڑھاؤ _ (3) حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:اگر تمہارا خادم خدا کی نافرمانی کرے تو اسے مارو اور اگر تمہاری نافرمانی کرے تو اسے معاف کردو _ (4) امیر المومنین علیہ السلام ہی فرماتے ہیں:جس طرح سے اپنے بیٹے کو سرزنش کرواسی طریقے سے تیمم کو سرزنش کرو اور جس مقام پر اپنے بیٹے کو سرزنش کے لیے مارو اس مقام پر تیمم کے لیے بھی اس سے کام لو _ (5)
--------
1_ بحار، ج 104 ، ص 99
2_ مستدرک، ج 1 ، ص 171
3_ وسائل، ج 3 ، ص 13
4_ غرر الحکم ، ص 115
5_ وسائل ،ج 15 ، ص 197
ایک شخص نبی اکر م (ص) کی خدمت میں آیا اور عرض کی ایک تیمم بچہ میری سرپرستی میں ہے کیا میں اسے سرزنش کے لیے مارسکتا ہوں فرمایا:
جس مقام پر تم اپنے بیٹے کو تربیت کے لیے مارسکتے ہو اس مقام پر تیمم کی تربیت کے لیے بھی مارسے کام لے سکتے ہو _ (1)
بہر حال جب تک ضرورت نہ پڑجائے اس حساس اور خطرناک وسیلے سے کام نہیں لینا چاہیے _ اور جب ضروری ہو اس وقت بھی احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے _ اور سزا جچی تلی اور سوچی سمجھی ہوئی چاہیے _
ایک شخص نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں عرض کی میرے گھر والے میری نافرمانی کرتے ہیں میں کس طریقے سے انہیں تنبیہ کروں _ فرمایا:انہیں معاف کردو _ اس نے دوسری اور تیسری مرتبہ یہی سوال کیا تو حضور(ص) نے یہی جواب دیا _ اور اس کے بعد فرمایا:اگر تم انہیں سرزنش کرنا چاہتے ہو تو پھر تمہیں دھیان رکھنا چاہیے کہ سزا ان کے جرم سے زیادہ نہ ہو اور چہرے پر مارنے سے اجتناب کرنا _ (2)
حضرت صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:
ضرورت کے موقع پر بچے اور خادم کو تنبیہ کے لیے پانچ یا چھ ضربوں سے زیادہ نہ مارو او رزیادہ زور سے بھی نہ مارو _ (3)
تنبیہ کے موقع پر کوشش کریں کہ دوسروں کی موجودگی میں نہ ہو کیونکہ روحانی طور پر بچے پر اس کے برے اثرات مرتب ہوئے ہیں اور اسے وہ عمر بھی نہیں بھلاتا _ مارحدسے
---------
1_ مستدرک ، ج 2 ، ص 625
2_ مجمع الزوائد ، ج 8، ص 106
3_ وسائل ، ج 18 ، ص 581
بڑھ جائے تو اسلام میں اس کے لیے دیت اور جرمانہ مقررکیا گیا ہے _ لہذا اس حد تک نہیں مارنا چاہیے _ اسلام کے قوانین کے مطابق اگر مارنے کے نتیجے میںکسی کا چہرہ سیاہ پڑجائے تو مارنے والے کو اس چھ طلائی دینار دینا ہوں گے _ اور اگر چہرہ سبز پڑجائے تو تین دینار اور گر سرخ ہوجائے تو ڈیڑھ دینارے_ (1)
ماں باپ کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ پاگلوں کی طرح بیچارے بچے کی جان کے درپئے ہو جائیں _ اور اس مکوں اور لاتوں سے ماریں _ یازنجیز اور ڈنڈے سے اس کا بدن سیاہ کردیں _ بہر حال ضرورت کے موقع پر اسلام نہ فقط بدنی سزا کو مفید سمجھتا ہے بلکہ اس کا حکم دیتا ہے _کیونکہ بے حد و حساب اور مطلق آزادی کا بھی مفید نتیجہ برآمد نہیں ہوتا _ یہی بے حساب اور غلط آزادی ہے کہ جس نے مغرب کے بچوں اور نوجوانوں کو بگاڑدیا ہے _
-----------
1_ وسائل ، ج 19 ، ص 295
غیر جسمانی سزائیں
بہت سے والدین اپنے بچوں کی تربیت کے لیے غیر بدنی سزاؤں سے استفادہ کرتے ہیںمثلاً بچے کو کسی اندھیرے کمرے میں بند کردیتے ہیں _ یا تہہ خانے میں بند کردیتے ہیں یا کسی صندوق و غیرہ میں _ کبھی اس کو غصّے کے ساتھ گالی بکتے ہیں _ اس طرح کی وحشیانہ سزاؤں کا نقصان بدنی سزاؤں اور مارپیٹ سے کم نہیں ہے _
حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
بہت سی سزائیں ایسی ہوتی ہیں جن کا اثر حملے سے زیادہ ہوتا ہے _ (1)
اور ممکن ہے یہ بدنی سزاؤں سے بھی زیادہ و نقصان وہ ہوں _ اس طرح کی سزائیں بچے کی شخصیت کو مجروح کردتی ہیں اور خوف و اضطراب کے عوامل اس میں پیدا کردیتی ہیں _ ایسا بہت دفہ ہوا ہے کہ کسی کمرے میں بند بچے کے اعصاب پر اتنا شدید خوف طاری ہوا ہے جس سے وہ پوری زندگی نجات حاصل نہیں کرسکا کبھی اس خوف کے زیر اثر اث پر سکتہ طاری ہوجاتا ہے _ لہذا والدین کو اس طرح کی سزائیں دینے سے پرہیز کرنا چاہیے _ بدزبانی اور گالی حرام ہونے کے ساتھ ساتھ بچے کی تربیت پر بھی برے اثرات مرتب کرتی ہیں اور اسے اس برے عمل کا عادی بنادیتی ہیں _
لیکن بعض غیر جسمانی سزاؤں میں اس طرح کا نقصان نہیں ہے جیسے بچے کے ساتھ
---------
1_ غرر الحکم ، ص 415
ناراض ہوجانا ، اسے سیر و تفریح کے لیے نہ لے جانا ، اسے دعوت پر نہ لے جانا اسے ایک وقت کا کھانا نہ دینا _ اس کے جیب خرچ میں کمی کردینا اسے کھیلنے سے روک دینا _ اس کے ذمہ مشکل کام لگادینا یا گھر کے بعض کام اس کے سپرد کردینا اور اسی طرح کی دوسری سادہ اور بے ضرر قسم کی سزائیں _ بہت سے والدین اپنے بچوں کی تنبیہ کے لیے اس طرح کی سزائیں دیتے ہیں _ سکولوں میں بھی کم و بیش اس طرح کی سزائیں رائج ہیں _ اس طرح کی سزاؤں کا استعمال اگر صحیح اور عاقلانہ طریقے سے کیا جائے تو یہ بچے کی تربیت کے لیے کسی حد تک سودمند ہوتی ہیں _ اور کسی قسم کا نقصان بھی نہیں رکھتیں _ سزا میں یہ ایک عمومی نقص ہے کہ یہ بچے کی باطنی اور اندرونی اصلاح کیلئے مؤثر نہیں ہوتی اور اس میں اصلاح کارجحان پیدا نہیںکرتی _ سزا کے ڈرسے ممکن ہے وہ کھلے عام اس برے کام کے انجام دینے سے بازرہے لیکن برائی کو وہ جڑے سے نہیں کاٹ پھینکتا بلکہ ظاہری طور پر وہ اس برائی کے جذبے کو چھپالیتا ہے اور پھر یہ جذبہ کسی دوسری جگہ پر اپنا کام دکھاتاہے _ یہ بھی ممکن ہے کہ سزا کسے خوف سے فریب کاری، جھوٹ اور ریا کاری سے کام لے ، ان سزاؤں سے بہتر استفادہ کرنے کے لیے چند نکات کی طرف توجہ ضروری ہے _
1_ سزا سوچ سمجھ کر دینا چاہیے _ لازمی مقدار سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے _سزا جرم سے زیادہ نہ ہو _ کیونکہ بچے نے اگر سزا کو اپنے خلاف ایک جنگ سمجھ لیا تو وہ رد عمل کے طور پر اپنا دفاع کرے گا اور نافرمانی و سرکشی کا مظاہر کرے گا _
2_ سزا اس طریقے سے نہیں ہونی چاہیئے کہ بچہ والدین کو اپنا دشمن سمجھنا شروع کردے یا وہ یہ سوچے کہ والدین مجھ سے محبت نہیں کرتے _
3_ بچے سے اگر غیر ارادی طور پر ایک فع سرزد ہوگیا ہے تو اسے سزانہ دیں _ کیوں کہ اس میں اس کا قصور نہیں ہے _ اس کے باوجود اگر اسے سزادی گئی تو یہ اس کے جذبات و احساسات پر منفی اثرات مرتب کرے گی _
4_ سزا کبھی کبھی دینا چاہیے _ تا کہ اس سے مثبت نتائج حاصل کیے جا سکیں ، کیوں کہ اگر اسے مسلسل سزادی گئی تو وہ اس کا عادی بن جائے گا _ او ریہ سزا اس پر کسی قسم کا
اثر نہیں ڈالے گی _
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:
ملامت اور سرزنش کی زیادتی ڈہیٹ پن کا باعث بنتی ہے _ (1)
5_ کسی انفرادی واقعے میں بچے کو سزادینی چاہیے نہ کہ کلی طور پر ، تا کہ بچہ سزاکی وجہ سمجھ سکے اور پھر اس کا اعادہ نہ کرے _ صرف بے نظمی پر بچے کو سزادیں _ بلکہ ایک خاص مقام پر بدنظمی کی وجہ سے بچے کو سزادیں _
6_ حتی المقدور اس امر کی کوشش کرنا چاہیے کہ ایسی سزا کا انتخاب کیا جائے تو بچے کے جرم سے مناسبت رکھتی ہو _ مثلاً اگر اسے نے ریاضی کاکام نہیں کیا تو ریاضی کی مشق ہی اس سے سزا کے طور پر حل کرائی جائے _ نہ یہ کہ اس سے حساب کی کتاب کو اول سے آخر تک لکھنے کی سزاد ے دیں _ اگر اس نے اپنا بستہ اور کپڑے پھینک دیے ہیں تو اس ان کو اٹھاکر مرتب طریقے سے رکھنے کا حکم دیا جائے نا یہ کہ اسے دعوت پر نہ لے جایا جائے _ یا اسے گھمانے پھر انے سے محروم کردیا جائے _ اگی کسی دعوت پر اس نے بدتمیزی کا مظاہرہ کیا ہے تو اسے اور دعوت پہ نہ لے کر جائیں _ نایہ کہ اس کا جیب خرچ کم کردیں _ اگر اس نے فضول خرچی کی ہے تو اسے جیب خرچ نہ دیں نا یہ کہ اسے سفر پہ نہ لے جائیں _ اگر اس نے اپنی پنسل یا قلم بے احتیاطی کی وجہ سے گم کردیا ہے تو اتنے پیسے ہی اس کے جیب خرچ سے کم کردیئے جائیں _
7_ سزا کے بعد بچے کی غلطی کو بھول جائیں _ اور دوبارہ اس کا ذکر نہ کریں _ ایک شخص کہتا ہے میں نے حضرت موسی بن جعفر علیہ السلام کی خدمت میں اپنے بیٹے کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا:
اسے مارو پیٹونہ _ اس کے ساتھ ناراض ہوجاؤ لیکن تمہاری یہ ناراضگی زیادہ دیر تک نہیں رہنی چاہیے _ (2)
-----------
1_ غرر الحکم ، ص 70
8_ اگر آپ بچے کو سزا دینا چاہتے ہیں تو اس کا دوسرے بچوں کا ساتھ مقایسہ نہ کریں _ اور دوسروں کی خوبیاں اس کے سامنے بیان نہ کرنے بیٹھ جائیں _ کیونکہ اس طریقے سے آپ اسے سدھار نہیں سکتے بلکہ اس میں حسد پیدا کرنے کا باعث بن سکتے ہیں _
ایک صاحب اپنی یادداشتوں میں لکھتے ہیں:
بچپن میں میرے والد مجھے بہت برا بھلا کہتے تھے _ رشتہ داروں اور میرے ہم جولیوں کے سامنے میری بے عزتی کردیتے _ اور مجھے ڈانٹتے ڈپٹتے _ ہمیشہ دوسروں کی گن میرے سامنے گنواتے رہتے _ اور مجھے حقیر سمجھتے رہتے _ میرے والد میری جتنی بھی بے عزتی کرتے میں بھی اتنا ہی ڈعیٹ بنتا گیا _ مجھ میں سبق پڑھنے کا حوصلہ نہ رہا _ میں اپنے آپ کو نا چیز سمجھتا _ کام اور سبق سے بھاگتا _ کسی قسم کی ذمہ داری قبول نہ کرتا _ میرے والد کی مسلسل ڈانٹ ڈپٹ نے میری شخصیت کو مجروح کردیا _ اب میں ایک کام چوراور گوشہ نشین فروہوں _
حوصلہ افزائی اور انعام
تربیت کا ایک ذریعہ بچے کے اچھے کاموں پر اس کی تعریف اور حوصلہ افزائی ہے _ بچے کی حوصلہ افزائی اس کی تربیت کا بہترین اور مؤثرترین ذریعہ ہے _ یہ بچے کی روح پر اثر انداز ہوتی ہے _ اور اسے اچھا بننے کی ترغیب دلاتی ہے _ ہر انسان اپنی ذات سے محبت کرتا ہے اور اپنی شخصیت کی تکمیل چاہتا ہے اس کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ دوسرے لوگ بھی اس کی شخصیت سے آگاہ ہوں ، اس کی قدر و قیمت پہنچانیں _ اور اس کا شکریہ ادا کریں _ اگر اس کی حوصلہ افزائی کی ئی تو پھر اس کارجحان اچھائی کی طرف اور بڑھے گا اور وہ تکامل کے راستے پر گامزن ہوگا _ لیکن اگر اس کے برعکس اس کی حوصلہ شکنی کی گئی تو وہ نیکی اور اچھائی سے دور بھاگے گا _ اس کی حوصلہ افزائی کرنے سے اچھے نتائج کے حصول کے لیے چند باتوں کی یاددھانی ضروری ہے _
1_ اس کی حوصلہ افزائی کبھی کبھی اور بڑے کاموں پر کی جانی چاہیے _ نہ یہ کہ ہمیشہ اور ہر کام پر _ کیوں کہ اگر ایسا کیا گیا تو بچّے کی نظر میں حوصلہ افزائی اپنی اہمیت کھوبیٹھے گی _
2_ اس کی حوصلہ افزائی کسی خاص مقام پر ہونی چاہیے تا کہ وہ یہ سمجھ سکے کہ اس کو واو کس لیے دی جارہی ہے _ لہذا وہ دوسرے مقام پر بھی اسی طرح کے شائستہ طرز عمل کا مظاہرہ کرے گا _ ویسے ہی عمومی طور پر اس کی حوصلہ افزائی فائدہ مند نہیں ہوسکتی مثلاً اگر بچے کو اس لیے شاباش دی جائے کہ وہ ایک اچھا اور پابند بچہ ہے
تو یہ حوصلہ افزائی کسی کامل نتیجے کی حامل نہیں ہوگی _ اچھے بچے کو یہ معلوم نہیں ہوسکے گا کہ اس کو کیوں شاباش دی جارہی ہے _
3_ یہ بھی ضروری ہے کہ بچے کے اچھے کام یا اخلاق کی تعریف کرنا چاہیے نہ کہ خود بچے کی تا کہ وہ یہ بات اچھی طرح سمجھ سکے کہ اہمیت اچھے کام کی ہے نہ کہ کسی شخص کی _ اور ہر آدمی کی اہمیت اس کے اچھے کام کی وجہ سے ہے _
4_ بچے کی حوصلہ افزائی کرتے وقت اس کا دوسرے بچوں کے ساتھ مقایسہ نہ کریں مثلاً باپ کا اپنے بچے سے یہ کہنا اچھا نہیں ہے کہ تجھ پر آفرین کہ تم ایک سچے بچے ہو اور حسن کی طرح جھوٹے نہیں ہو _ حسن برا بچہ ہے کیوں کہ جھوٹ بولتا ہے _ کیونکہ ایسا کرنے سے بچہ دوسرے بچے کو حقیر سمجھے گا _ اور یہ بھی بذات خود ایک بری تربیت ہے _
5_ شاباش اور حوصلہ افزائی حد سے تجاوز نہیں کرنی چاہیے کیونکہ ممکن ہے اس سے بچہ معزور اور خودبین ہوجائے _
امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
بہت سے لوگ اس تعریف کی وجہ سے معزور ہوجاتے ہیں جو ان کی شان میں کی جاتی ہے _ (1)
حضرت علی علیہ السلام ہی فرماتے ہیں:
کسی کی تعریف و ستائشے میں زیادہ روی اور مبالغہ نہ کرو _ (2)
تعلیم و تربیت کا ایک اور وسیلہ انعام دینا ہے _ انعام دینا بری بات نہیں ہے بشرطیکہ غیر متوقع ہو کسی پہلے وعدہ کی ایفائیں نہ دیا جائے _ اور اچھا کام کرنے پردیا جائے _ پہلے سے اگر انعام کا وعدہ کردیا جائے تو یہ بچے میں برے اثرات مترتب کرے گا کیونکہ ممکن ہے ایسا کرنے سے بچہ اس بات کا عادی ہوجائے کہ وہ ہر نیک کام کے مقابلے میں انعام کا منتظر رہے
----------
1_ بحار، ج 73، ص 295
2_ غرر الحکم ، ص 309
اور یہ ایک طرح کی رشوت ہوجائے _ وہ اس انعام اور رشوت کے بغیر اس کام کی انجام وہی پر راضی نہ ہو _
انسان کو نیک کاموں کا عادی ہونا چاہیے _ اور وہ ان کو خدا کی رضا اور بندگان خدا کی خدمت کے لیے انجام دے _ نہ یہ کر ہر کام پر اس کی آنکھیں لوگوں سے انعام کی منتظر رہیں _ اس طرح کا بچہ جب بڑآ ہوتا ہے تو وہ کوتاہ فکر ہوجاتا ہے ، اور لوگوں کے کاموں کی انجام وہی اپنی ذمہ داری نہیں سمجھتا _ حتی المقدور دوسروں کے کام آنے سے فرار کرتا ہے _ مگر یہ کہ اسے کسی انعام یا رشوت کا لالچ دیا جائے _ یہ ایک بہت بڑی اجتماعی بڑائی ہے _ لہذا اس لیے کہ انعام اس برائی کا باعث نہ بنے ضروری ہے کہ انعام اتنی مقدار کا ہونا چاہیے کہ وہ انعام یافتہ شخص کی عادت ثانوی نہ بن جائے _ جب بچہ کاموں کا عادی ہوجائے تو آہستہ آہستہ انعام و اکرام کا سلسلہ ختم کردیں _ اور اسے کاموں کی انجام دہی کر ترغیب دلائی جائے _ ضروری ہے کہ بچہ آہستہ آہستہ اپنی ذمہ داری پر عمل پیرا ہونے کا عادی ہوجائے تا کہ وہ اس کی انجام دہی سے لذت و خوشی محسوس کرے _ بہت سے ماں باپ اپنے بچوں کو امتحان میں سو فیصد نمبر لینے پر انعام دیتے ہیں اور اس ذریعے سے وہ انہیں سبق پڑھنے کی ترغیب دلاتے ہیں _ ممکن ہے یہ کسی حد تک مؤثر بھی ہو _ لیکن اس میں ایک بہت بڑا نقصان بھی ہے وہ یہ کہ یہ پروگرام بچے کے احساس ذمہ داری پر کاری ضرب لگاتا ہے _ یہ بچے اس لیے پڑھتے ہیں تا کہ اچھے نمبر حاصل کرکے انعام لے سکیں _ حالانکہ یہ ضروری ہے کہ بچے اپنی ذمہ داری اور مشغولیت کو سمجھ کر پروان چڑھیں نا یہ کہ ہر کام کے مقابلے میں کسی مادی انعام کے خواہش مند
ایک صاحب اپنے خط میں لکھتے ہیں:
چھوتھی کلاس سے مجھے ایک دینی مدرسہ میں داخل کروادیا گیا _ میں قرآن کا سبق یاد کرنے میں بہت پچھیے تھا یہاں تک کہ مجھے قران کا ایک کلمہ بھی یادنہیں تھا لیکن میرے ہم جماعت بہت اچھی طرح قرآن پڑھتے تھے_ قرآن کے پہلے پیڑیڈمیں ہی ہمارے قارے صاحب نے خندہ پیشانی کے ساتھ مجھ سے پوچھا کیا تم قرآن پڑھ لیتے ہو میں نے پریشان ہوکر کہا نہیں _ تو انہوں نے کہا کوئی حرج
نہیں _ میں تجھے سبق دوں گا اور مجھے معلوم ہے کہ تم کلاس کے لائق ترین بچے بن جاؤگے _ جو کچھ بھی تمہارا دل چاہے مجھے سے پوچھ لیا کرو اور اپنے استاد کی باتوں سے مجھ میں پڑھنے کا اتنا شوق پیدا ہوا کہ میں نے مصمم ارادہ کرلیا کہ میں سبق میں کمزور رہنے کی تلافی کروں گیا میں نے خوف محنت کی _ اورسال کے آخر میں قرآن کے سبق میں بہترین ہوگیا _ یہاں تک کہ کبھی کبھی قاری صاحب کہ جگہ میں کلاس کو پڑھاتا _ اور صبح کی اسمبلی میں قرآن کی تلاوت کرتا _
ایک لڑکی اپنی یادداشتوں میں تحریر کرتی ہے _
میرے والد ایک روشن خیال شخص تھے _ ایک دن میری ماں کی غیر موجودگی میں انہوں نے میرے چند اساتذہ کی دعوت کردی _ کھانے پینے کا سامان لاکر میرے سپردکردیا میں نے بھی خوشی خوشی کھانا پکانا شروع کردیا _ دو پہر کو میرے ابو مہمانوں کو اپنے ساتھ لے آئے _ جب میں نے کھانا برتنوں میں ڈالا تو معلوم ہوا کہ یہ تو اچھی طرح پکاہی نہیں ہے _ مرغ بھی کچھا تھا اور چاول بھی خراب ہوچکے تھے چونکہ مجھے کھانا پکانے کا طریقہ نہیں آتا تھا _ لہذ میں بہت غمگین تھی _ اور کسی متوقع ڈانٹ ڈپٹ کی منتظر _ لیکن میری توقع کے برخلاف میرے والد نے مہمانوں کے سامنے تعریف کی اور کہا یہ کھانا میری بیٹی نے پکایا ہے او رکتنا لذیذ پکایا ہے _ مہمانوں نے بھی ان کی تائید کی _ او رمیری سلیقہ شعاری کی تعریف کی _ بعد میں باپ نے بھی مجھے شاباش دی _ اپنے باپ کی حوصلہ افزائی سے میں کھانے پکانے کے امور کی طرف متوجہ ہوئی اور اب میں مزیدار قسم کے کھانے پکانے اور دستر خوان کے باقی لوازمات میں پوری طرح ماہر ہو چکی ہوں _
فہرست کتاب
عرض ناشر 5
انتساب 8
کچھ تر جمے کے بار ے میں 9
پیشگفتار 11
ماں باپ کی ذمہ داری 15
تربیت کرنے والوں کی آگاہی اور باہمی تعاون 22
تربیت عمل سے نہ کہ زبان سے 27
گھریلو لڑائی جھگڑے سے پرہیز 32
ماں کی حیثیت سے زندگی کا آغاز 39
جنین کی سلامتی میں ماں کی غذا کااثر 42
جنین کے اخلاق پر ماں کی غذا کا اثر 45
ماں کی غذا 47
تمباکو نوشی 51
اگر حاملہ خاتون بیمار ہو جائے 53
ماں کی نفسیات کا جنین پراثر 55
حاملہ خواتین کو ایک نصیحت 59
صاف ستھری فضا 60
اسقاط حمل 61
نظم کا ترجمہ : 66
پیدائیش کی مشکلات 68
ولادت کے بعد 73
ماں کا دودھ بہترین غذا ہے 76
ماں کے دودھ کے ساتھ ساتھ 81
ماں کے دودھ کی ممانعت 82
دودھ پلانے کا پرو گرام 83
ماں کا دودھ نہ ہو تو ؟ 89
دودھ چھڑوانا 91
بیٹی یا بیٹا 93
بچے کا نام 96
صحت و صفائی 101
بچے کی نیند اور آزادی 106
نومولود اور اخلاقی تربیت 112
نومولود اور دنی تربیت 116
احساس وابستگی 119
جب بچہ باہر کی دنیا کو دیکھنے لگتا ہے 124
محبّت 127
اظہار محبت 132
محبّت _ کام نکا لنے کاذریعہ نہیں 136
محبّت _ جو تربیت میں حائل نہ ہو 137
بگڑا ہو ابچّہ 139
انگوٹھا چوسنا 146
خوف 149
معقول خوف 155
کھیل کود 158
خود نمائی 168
تقلید 171
تلاش حقیقت 174
خود اعتمادی 179
آزادی 187
ضدّی پن 194
کام اور فرض کی ادائیگی 201
راستگوئی 209
وفائے عہد 216
ملکیت 221
سخاوت 225
نیک کاموں میں تعاون 231
انسان دوستی اور بچّے 233
عدل و مساوات 237
بچّون کا احترام 243
خودشناسی اور بامقصد زندگی 247
گھر کی آمدنی اور خرچ 250
قانون کااحترام 254
ادب 256
چوری چکاری 261
حسد 266
غصّہ 273
بدزبانی 278
چغل خوری 281
عیب جوئی 284
گھر میں بچوں کا لڑائی جھگڑا 287
دوست اور دوستی 294
بچہ اور دینی تعلیم 300
بچہ اور فرائض دینی 304
سیاسی اور سماجی تربییت 308
بچہ اور ریڈیو ٹی وی 310
جنسی مسائل 317
کتاب کا مطالعہ 328
ناقص الخلقت بچّے 336
جسمانی سزا 340
غیر جسمانی سزائیں 346
حوصلہ افزائی اور انعام 350