بسم الله الرحمن الرحیم
فریقین کے عقائد کا تحلیلی جائزہ
(ترجمہ فی رحاب العقیدۃ)
مولف
آیت اللہ العظمی سید محمد سعید طباطبائی حکیم (مد ظلہ العالی)
ترجمہ: مولانا شاہ مظاہر حسین
پہلی جلد
نام کتاب: فریقین کے عقائد کا تحلیلی جائزہ
مولف : آیت اللہ سید محمد سعید الحکیم طباطبائی( مد ظلہ العالی)
مترجم: مولانا شاہ مظاہر حسین
ناشر: انتشارات مرکزجہانی علوم اسلامی (قم ایران)
پہلا ایڈیشن :سنہ 1428 ھ مطابق سنہ 2007 ئ سنہ 1386 ھ شمسی
عرض ناشر
خدا وند متعال کی لامتناہی عنایتوں اور ائمہ معصومین کی لاتعداد توجہات کے سہارے آج ہم دنیا میں انقلاب تغیر مشاہدہ کررہے ہین وہ بھی ایسا بے نظیر انقلاب اور تغیر جو تمام آسمانی ادیان میں صرف دین " اسلام" میں پایا جاتا ہے
گویا عصر حاضر میں اسلام نے اپنا ایک نیا رخ پیش کیا ہے یعنی دنیا کے تمام مسلمان بیدار ہوکر اپنی اصل ،(اسلام)کی طرف واپس ہورہے ہیں اور اپنے اصول وفروع ی تلاش کررہے ہیں-
آخر ایسے انقلاب وتغیر کی وجہ کیا ہوسکتی ہے ؟ سب سے زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم اس بات پرغور کریں کہ اس وقت اس کے آثار تمام اسلامی ممالک حتی مغربی دنیا میں بھی رونما ہوچکی ہے ۔اور دنیا کے آزاد فکر انسان تیزی کے ساتھ اسلام کی طرف مائل ہورہے ہیناور اسلامی معارف اور اصول سے واقف اور آگاہ ہونے کے طالب ہیں اور یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اسلام دنیا والوں کو ہرروز کونسا جدید پیغام دے رہا ہے ؟
ایسے حساس اور نازک موقعوں پر ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اسلام کوکسی قسم کی کمی اور زیادتی کے بغیر واضح الفاظ، قابل درک ، سادہ عبارتوں اورآسان انداز مین عوام بلکہ دنیا والوں کے سامنے پیش کریں اور جو حضرات اسلام اور دیگر مذاہب سے آشنا ہونا چاہتے ہیں ہم اسلام کی حقیقت بیانی سے ان کی صدیوں ی پیاس بجھادیں اور کسی کو اپنی جگہ کوئی بات کہنے یا فیصلہ لینے کا موقع نہ دیں۔
لیکن اس فرق کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہوتا کہ ان سے تال میل نہ رکھا جائے یا ان کا نزدیک سے تعاون نہ کیا جائے ہونا تو یہ چایئے کہ تمام مسلمان ایک ہوکر ایک دوسرے کی مدد کریں اور اپنے اس آپسی تعاون اور تال میل کے سہارے مغرب کی ثقافتی حملوں کا جواب دیں اور اپنی حیثیت اور وجود کا اظہار کریں نیز اپنے مخالفین کو ان کے منصوبوں مین بھی کامیاب ہونے نہ دیں
سچ تو یہ ہے کہ ایسی مفاہمت ، تال میل ،مضبوطی اور گہرائی اسی وقت آسکتی ہے جب ہم اصول وضوابط کی رعایت کریں اس سے بھی اہم یہ ہے کہ تمام اسلامی فرقے ایک دوسرے ک معرفت اور شناخت حاصل کریں تاکہ ہر ایک کی خصوصیت دوسرے پر واضح ہو ، کیونکہ صرف معرفت سے ہی سوئے تفاہم ،غلط فہمی اور بدگمانی دورہوجائے گی اور امداد ،تعاون کا راستہ بھی خودبخود کھل جائے گا۔
آپ کے سامنے موجودہ " فی رحاب العقیدہ: نامی کتاب حضرت آیت اللہ العظمی سید محمدسعید حکیم دام ظلہ کی انتھک اور بے لوثکوششوں کا نتیجہ ہے جیسے اپنی مصروفیتوں کے باوجود کافی عرق ریزی کے ساتھ ، حوزہ علمیہ کھجوا بہار کے افاضل جناب مولانا مظاہر حسین صاحب نے ترجمہ سے آراستہ کیا اور حوزہ علمیہ کے ہونہار طالب افاضل نے اپنی بے مثال کوششوں سے نوکپلک سنوارتے ہوئے اس کتاب کی نشر واشاعت میں تعاول کیا ہے لہذا ہم اپنے تمام معاونین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے خداوند منان سے دعا گو ہیں کہ ہو ان تمام حضرات کو اپنے سایہ لطف وکرم میں رکھتے ہوئے روز افزوں ان کی توفیقات میں اضافہ کرے اور لغزشوں کو اپنی عفو وبخشش سے درگزر فرمائے ۔ آمین
مرکز جہانی علوم اسلامی
معاونت تحقیق
فہرست
عرض ناشر5
پیش لفظ13
سوال نمبر۔115
سوال نمبر۔216
سوال نمبر۔3 16
سوال نمبر۔416
سوال نمبر۔516
سوال نمبر۔617
سوال نمبر۔7 17
سوال نمبر۔817
سوال نمبر۔918
سوال نمبر۔1018
شریعت لڑنے جھگڑنےسے روکتی ہے 20
نتیجہ خیز گفتگو کے لئے مناسب ماحول کا ہونا ضروری ہے 22
سوال نمبر۔125
جواب:25
علم حدیث میں شیعوں کی کتابیں 26
شیعوں کی فقہ کی کتابیں 30
فقہ کی استدلالی کتابیں:31
سیرت کے موضوع پر شیعہ تالیفات 33
عقائد شیعوں کی کتابیں 35
فرقہ شیعہ کی طرف سے لکھی ہوئی ہر کتاب متفق علیہ نہیں ہے 38
سوال نمبر۔241
شیعوں کے نزدیک کفر و اسلام کا معیار41
مسئلہ نمبر1:44
کتاب و سنت اور مسلمانوں کی بول چال میں کفر کا اطلاق مزید کچھ افراد پر ہوتا ہے 46
صحابہ خود اپنی نظر میں قابل احترام نہیں تھے49
عثمان کے معاملے میں صحابہ کے کارنامے50
قتل عثمان کے بعد صحابہ کے درمیان کیا ہوا؟58
نبیﷺکے بعد صحابہ کے درمیان کیا ہوا؟61
صحابہ کی سیرت میں وہ انسانی خامیاں جو عام طور سے سب میں پائی جاتی ہیں 64
صحابہ کا انفرادی اور غیرمناسب کردار بھی ان کی تقدیس کی نفی کرتا ہے 82
صحابہ کے بارے میں تابعین اور تبع تابعین کے خیالات اور نظریئے122
صحابہ کرام کے بارے میں قرآن مجید کا نظریہ129
عام اصحاب کے بارے میں نبی کریمؐ کا نظریہ148
ایک تنبیہ اس بات کے لئے کہ صحابہ طبیعت بشری پر تھے اور اس کے تقاضون کو پورا کرنے پر مجبور تھے159
گذشتہ بیانات کی روشنی میں شیعوں کا صحابہ کے بارے میں نظریہ161
خدا کی راہ میں محبت خدا کی راہ میں روشنی163
صحبت کا اثر اور اس کی اہمیت 166
غیر شیعہ افراد کا شیعوں کے بارے میں مناسب نظریہ169
دوسرے فرقوں سے شیعوں کا حسن معاشرت 170
سوال نمبر۔3 173
اہل سنت اور شیعوں کا عدم تحریف قرآن پر عملی اجماع 174
شیعہ علما عدم تحریف کے قائل ہیں 175
ہم نے اس گفتگو کو طویل دیا اس لئے کہ اس میں دو خاص باتیں ہیں 178
قائلین تحریف کے ساتھ کیا کیا جائے؟185
عدم تحریف کی تاکید186
تحریف قرآن کا موضوع ایک خطرناک موضوع 189
سوال نمبر۔4193
دونوں فرقوں(شیعہ اور سنی)کے علاوہ درمیان نظام حکومت کی تعریف 195
سرکار حجۃ بن الحسن العسکری المہدیؑ کے سلسلے میں مذہب شیعہ کی حقانیت پر چند دلیلیں 203
امام کی معرفت واجب ہے اور اس کے حکم کو بھی ماننا واجب ہے 204
بارہ امام قریش سے ہیں 206
سوال نمبر۔5209
لطف الہی کے قائد کی شرح اور اس کی تعریف 209
لطف الہی کا اصول صرف مذہب امامیہ کا نظریہ ماننے پر ہی ٹوٹےگا213
سوال نمبر۔6217
حدیث ثقلین کے کچھ متن حاضر ہیں 217
حدیث ثقلین دلالت کرتی ہے کہ عترتؑ کی اطاعت واجب ہے 219
عترتؑ کی اطاعت واجب ہونے کا مطلب ان کی امامت ہے 222
سوال نمبر۔7 225
واقعہ غدیر کے موقع پر آیت کا نازل ہونا226
آیہ بلغ کا نزول غدیرخم میں 228
غدیر میں نبیؐ کا نماز جماعت کے لئے پکارنا230
غدیر کے دن حضور اکرمﷺکا خطبہ231
واقعہ غدیر میں اکمال کا نزول 243
ہادی اعظم نے علیؑ کے سر پر عمامہ باندھا246
حاضرین نے غدیرخم میں علیؑ کو مبارک باد دی 246
واقعہ غدیر کے دن حسان بن ثابت کا معرکۃ الآراء قصیدہ248
غدیر کا روزہ249
حارث بن نعمان فہری کا واقعہ((سئل سائل بعذاب واقع))251
حدیث غدیر مقام احتجاج میں 252
رحبہ(کوفہ)میں امیرالمومنینؑ کا حدیث غدیر کےحوالہ سے مناظرہ اور مناشدہ254
جس نے غدیر کی گواہی دینے سے منع کیا اس لئے امیرالمومنین حضرت علیؑ کی بددعا257
حدیث غدیر کی شہرت اور اشاعت پر اس مناشدہ کا اثر258
سنت نبوی کو جامد کرنے اور اس کو پوشیدہ رکھنے کی کوشش کے شواہد259
سوال نمبر۔8266
سوال نمبر۔9272
اسلام کی خدمت کے لئے مشترکہ کوشش کرنا ائمہ اہل بیتؑ کی تعلیم ہے 274
خدمت اسلام کے لئے متحدہ جد و جہد کے بارے میں شیعہ اور ان کے علما کا نظریہ276
حقیقت تک پہونچنے کے لئے میں عملی گفتگو کو خوش آمدید کہتا ہوں 278
شیعہ اور اہل سنت کے درمیان عقیدے کے اعتبار سے اتحاد نہیں پیدا ہوسکتا279
غالیوں کے بارے میں شیعوں کا نظریہ282
سوال نمبر۔10284
حتی لانںخدع جیسی کتابوں کے بارے میں ہمارا نظریہ285
آج کے دور میں شیعوں پر حملے287
شیعوں کو اپنے خلاف حملہ کا مقابلہ کرنے کے لئے کیا کرنا چاہئے؟288
سلفیوں کے واقعات اور ان کے مقاصد290
جو آدمی حقیقت پر بحث کرنا چاہتا ہے اس کے لئے ایک اہم نصیحت 293
پیش لفظ
الحمد لله علی رب العالمین و الصلاة و السلام علی اشرف الانبیاء و المرسلین وخاتم النبیین و علی آله المعصومین
بے شک خالق کائنات کی معرفت اور دین کی تبلیغ و ترویج انسان کا پہلا فریضہ ہے اور دین اسلام میں سب سے زیادہ اہمیت عقیدہ کی ہے جس پر انسان کی سعادت و کامیابی اور نجات کا انحصار ہے جیسا کہ قرآن کریم اور احادیث پیغمبر اعظمؐ سے صاف واضح ہے کہ جنت عقیدہ ہی کی بنیاد پر ملے گی عمل کے ذریعہ نہیں اور ویسے بھی خود عمل کا دار و مدار عقیدہ ہی پر ہے، اسی وجہ سے دین میں عقیدہ اور عمل کی مثال درخت کی جڑ اور شاخوں سے دی جاتی ہے اور یہ بات ہر ذی عقل و شعور پر واضح ہے کہ اگر جڑ میں خرابی آجائے تو شاخیں خودبخود خشک ہوجاتی ہیں اسی بنا پر جڑ کی اہمیت زیادہ ہے اور اس کا تحفظ اور خیال زیادہ رکھا جاتا ہے اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مرکز تحقیقات نشر علوم اسلامی امام حسن عسگری علیہ السلام نے جس کی بنیاد 16 جمادی الثانی 1425 بمطابق 2003 کو رکھی گئی، خدمت دین اور انسانی عقیدہ کی صحت اور پختگی کے لئے عالم جلیل و فاضل و کامل بحرالشریعہ آیۃ اللہ فی العالمین عالم تشیع کے عظیم الشان مرجع حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ سید
محمد سعید حکیم طباطبائی گراں بہا تالیف کا اردو ترجمہ کرایا جسے مرکز جہانی علوم اسلامی نے زیور طبع سے آراستہ کیا تا کہ ہر ایک کے لئے عقیدہ کی اصلاح و پختگی و تکمیل آسان ہوجائے،آیۃ اللہ العظمیٰ سید محمد سعید حکیم طباطبائی دنیائے عالم کے عظیم المرتبت مرجع تشیع سید محسن حکیم طاب ثراہ کے نواسے ہیں جن کی شخصیت محتاج تعارف نہیں ہے موصوف کی اس کے علاوہ بھی دیگر کتابیں زیر طبع ہیں جو انشااللہ عنقریب خدا کی توفیق و مدد اور آپ حضرات کی دعا سے منظر عام پر آجائیں گی،ادارہ بصد خلوص شکر گزار ہے آیۃ اللہ کا جنہوں نے اس گراں بہا تالیف کے ذریعہ سے قوم کی بے لوث خدمت کی اور ان محترم و مکرم علمائ و فضلائ مولانا مظاہر شاہ صاحب و مولانا کوثر مظہری صاحب مولانا سید نسیم رضا صاحب کا جنہوں نے اس کتاب کے ترجمہ و تصحیح کے ذریعہ ادارہ کا تعاون فرمایا ہم اس خدمت دین میں آپ حضرات کے نیک مشوروں کے خواہاں ہیں۔
آخر کلام میں خدائے مہربان سے دعاگو ہیں کہ ہمیں خلوص اور صدق نیت کے ساتھ خدمت دین کی زیادہ سے زیادہ توفیق عطا فرمائے۔
سید نسیم رضا زیدی
19۔9۔85ھ ش،17۔ذیقعدہ1427
مرکز تحقیقات نشر علوم اسلامی امام حسن عسکریؑ قم المقدسہ ایران
بسم الله الرحمن الرحیم
ساری تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو عالمین کا رب ہے اور دورود و سلام ہو خدا کی سب سے بلند مخلوق سیدالانبیاء اور ان کی پاک آل پر اور سلام کا سلسلہ تا قیامت معزز اصحاب پر جاری رہے۔
اما بعد: مرجع دینی عظیم اور بزرگ علامہ سید محمد سعید الحکیم محترم کی خدمت میں سلام عرض ہو پاک و پاکیزہ اور صاحب کرم آپ پر سلام ہو اللہ کا اور اس کی رحمت و برکت ہو۔
جناب عالی سے امید ہے کہ اس خط میں میں نے جو سوالات کئے ہیں اور جو وضاحتیں مانگی ہیں ان کے جوابات عنایت فرمائیں گے۔انشاءاللہ
سوال نمبر۔1
میرا خیال ہے کہ تمام عالم اسلام کو(اس میں شیعہ اور سنی کی قید نہیں ہے)ان باتوں سے واقف ہونا بہت ضروری ہے جو ہماری اسلامی میراث ہیں۔
خصوصاً ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اہل سنت پہلے تو خود اپنی علمی میراث سے ناواقف ہیں پھر شیعوں
کی علمی میراث سے بھی انہیں کوئی واقفیت نہیں ہے۔
گذارش ہے کہ ان کتابوں کا ایک تعارف پیش کریں جو آپ کی نظر میں عقائد، فقہ، حدیث اور سیرت کے سلسلے میں قابل اعتماد ہوں، خداوند عالم آپ کے فضل و کرم کو ہمیشہ باقی رکھے۔
سوال نمبر۔2
صحابہ کو گالیاں دینے اور نہیں کافر قرار دینے کے فعل کو شیوں کی طرف منسوب کیا گیا ہے، خاص طور سے شیعہ ابوبکر،عمر عثمان کو کافر قرار دیتے ہیں،کیا واقعی شیعہ اس بات کے قائل ہیں؟اس طرح عائشہ کو بھی شیعہ کافر قرار دیتے ہیں،کیا یہ بات صحیح ہے؟
سوال نمبر۔3
کچھ اہل سنت حضرات یہ الزام لگاتے ہیں کہ شیعہ تحریف قرآن کے قائل ہیں کیا شیعوں پر یہ الزام صحیح ہے؟حالانکہ میں نے شیخ محمد ابوزہرہ کی کتاب(الامام جعفر الصادقؑ)میں پڑھا ہے کہ محقق طوسی علیہ الرحمہ سے نقل کیا گیا ہے کہ یہ قول صحیح نہیں ہے، آپ کی اس سلسلہ میں کیا رائے ہے؟خداوند عالم آپ کی عمر میں اضافہ کرے.
سوال نمبر۔4
اہل سنت کے امام مہدیؑ کوئی دوسرے ہیں اور شیعوں کے امام مہدیؑ دوسرے، کیا دونوں باتیں ایک ساتھ صحیح ہونا ممکن ہیں یا نہیں؟اور صحیح نظریہ کس کا ہے سنی یا شیعہ کا۔
سوال نمبر۔5
شیعوں کا عقیدہ ہے کہ خداوند عالم نے بندوں پر لطف و کرم کرنے کو اپنے اوپر واجب قرار دیا ہے، اس
لئے واجب ہے کہ وہی امام کو منصوب و معین کرے، اس نظریہ کے تحت امام عادل کا لوگوں کے درمیان ہمیشہ رہنا واجب ہے، کیا یہ نظریہ آج کے دور میں غلط دکھائی نہین دیتا کیونکہ آج لوگوں کے درمیان امام عادل نہیں ہے جو لوگوں کی نظارت کرسکے،پھر لطف الہی کے ذریعہ نصب امام پر استدلال خودبخود ساقط ہوجاتا ہے۔
سوال نمبر۔6
ہمارے آقا و مولا و سردار حضرت علی علیہ الاسلام کی امامت پر حدیث عترت سے کیسے استدلال کیا جاسکتا ہے؟کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ حدیث عترت کے ذریعہ سرکار دو عالم اپنے صحابہ کو اہل بیت علیہم السلام کے ساتھ اچھے سلوک کی وصیت کررہے ہوں اور انھیں اہل بیت علیہم السلام کی طرف متوجہ کررہے ہوں۔
سوال نمبر۔7
واقعہ غدیر کے سلسلے میں شیعوں کا خیال ہے کہ اس حدیث کو تواتر حاصل ہے لیکن اہل سنت نے اپنی کتابوں میں نہیں لکھا ہے پھر یہ حدیث متواتر کیسے ہوسکتی ہے جبکہ اہل سنت نے تو اس کا شمار خبر احاد اور ضعیف میں بھی نہیں کیا ہے۔
سوال نمبر۔8
کیا آپ کے علم میں علامہ ابن تیمیہ کی کتاب((منهاج السنة)) کا جواب کسی شیعہ نے لکھا ہے، یہ کتاب ابن تیمیہ نے علامہ حلی کی کتاب کے جواب میں لکھی تھی، علماء اہل سنت نے بھی اس کتاب کا جواب دیا ہے جن میں ایک شیخ ابوحامد بن مرزوق ہیں پس انھوں نے اپنی کتاب ((براءۃ الاشریں اس کے جواب میں لکھی ہے۔
سوال نمبر۔9
کیا آپ کی رائے میں شیعہ سنی اتحاد کی کوئی گنجائش ہے؟میرا خیال ہے کہ اہل سنت میں خصوصاً اشعری اور ماتریدی فرقے شیعوں کی تفکیر کے قائل نہیں ہیں بلکہ شیعوں کے عقائد کو اپنی کتابوں میں لکھتے بھی ہیں، ان پر بحث بھی کرتے ہیں اگر چہ یہ حضرات کچھ شیعوں کے غلو کی وجہ سے ان کی گمراہی کے قائل ہیں اور اسی طرح کچھ غالی سنیوں کے بھی گمراہ ہونے کےقائل ہیں۔
سوال نمبر۔10
جناب عالی سے امید کرتا ہوں کہ طلاب علم کو فائدہ پہنچانے کے لئے عبداللہ موصلی کی کتاب((حتی لانخدع))( ہم منزل سے بھٹک نہ جائیں)کا جواب تحریر فرمائیں گے۔
جس میں شیعہ اور ان کے علمائے حضرات اہل سنت کو کافر سمجھتے ہیں اور ان کی جان اور مال کو مباح جانتے ہیں، مجھے معلوم ہے کہ بے حد مصروفیت کی بنا پر آپ کے پاس وقت نہیں ہے، اسی لئے میں نے جناب کی توجہ اس طرف مبذول کرائی ہے ورنہ آپ ان معاملات سے زیادہ واقف ہیں۔
مذکورہ کتاب مصر میں چھپی ہے چھاپنے والے ادارہ کا نام((دارالسلام للنشر و التوزیع)) ہے خاص طور سےبعض مبلغین حضرات اس کتاب کے نشر کرنے میں کوشاں رہتے ہیں اور اس پر اعتماد بھی کرتے ہیں۔
آخر کلام میں امید کرتا ہوں کہ طول کلام کو اور اگر کوئی بے ادبی ہو تو در گذر فرمائیں گے،میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ آپ کو مسلمانوں کی خدمت کرنے کی توفیق عنایت فرمائے جس میں اس کی رضا و خشنودی ہے اور امید ہے کہ آپ میرے لئے دعا فرمائیں گے۔
(3۔12۔1999)
اردن عمان
بسم الله الرحمن الرحیم
ہر تعریف کا مستحق عالمین کا پروردگار ہے،درود و سلام ہو اس کی اشرف مخلوقات ہمارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کی پاک و پاکیزہ آل پر اور اسلام کا سلسلہ معزز اصحاب پر روز قیامت تک جاری رہے۔آمین
اما بعد:بخدمت محترم و معزز،عالم و مرجع دینی علامہ السید الحکیم،خداوند عالم کا سلام ہو اور اس کی رحمتیں و برکتیں آپ پر نازل ہوں۔
جناب عالی سے امید ہے کہ میرے ان چند سوالوں کا جواب جو میرے اس خط میں موجود ہیں مرحمت فرما کے مجھے عزت بخشیں گے۔
جواب عرض ہے:
ساری تعریفوں کا مستحق عالمین کا پروردگار ہے،درود و سلام ہو سید المرسلین اور خاتم الانبیاء حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کی آل پاک پر اور ان کے دشمنوں پر قیامت تک لعنت ہو۔آمین
میرے معزز بھائی کی خدمت میں، خدا اپنی رضا کی توفیق عنایت فرمائے۔
السلام علیکم و رحمة الله و برکاته
جناب عالی!آپ کا خط ملا،آپ نے جن سوالوں کا جواب مانگا ہے،وہ سوالات ایسے اہم موضوعات سے متعلق ہیں جن پر کافی بحث و نظر کی ضرورت ہے،موضوع گفتگو بہت نفع بخش ہے اور
اس بحث سے بہت سے علمی فائدے حاصل ہوسکتے ہیں مگر یہ کہ موضوعات بہت حساس بھی ہیں،ان پر بحث کرنے کے لئے کامل موضوعیت کے ساتھ وسعت صدر کی بھی ضرورت ہے،اس کے علاوہ یہ بھی ضروری ہے کہ انسان موروثی عقائد و مسلمات کی سطح سے کچھ بلند ہو کے سوچے یا غور کرے تا کہ ان حقائق تک پہنچ سکے جن کے بارے میں ہم بحث کرنا چاہتے ہیں۔
لیکن وسعت صدر اور وسعت نظر کے ساتھ اگر بحث نہیں کی گئی تو پھر بحث برائے بحث ہو کے رہ جائے گی اس لئے کہ موروثی مسلمات و عقائد سے چمٹے رہنا سچائی تک پہنچنے سے محروم کردیتا ہے،جس کو حاصل کرنا ہمارا ہدف ہے بلکہ معاملہ کچھ اور الجھ جائے گا اس لئے کہ موروثی عقائد مسلمات کے خلاف گفتگو انسان کے دل میں کینوں کو جنم دیتی ہے، انسان اس طرح کی باتوں کو فوراً اپنے وقار کا مسئلہ بنا لیتا ہے پھر ہمدردی اور محبت کے جذبات بزرگوں کی حفاظت کے لئے بڑھتے ہیں،بحث جزباتیت کا رخ اپنا لیتی ہے پھر تو آپس میں بغض و حسد اور کینہ پروری جیسی بہت سی برائیاں پیدا ہوجاتی ہیں اور فرقہ واریت کی بنیاد پڑتی ہے۔
جبکہ ہم اس طرح کا فساد مناسب نہیں سمجھتے ہیں خصوصاً آج عالم اسلام جس دور سے گذر رہا ہے ایسے دور میں ہمیں نفاق اور فرقہ پردازی سے پرہیز کی سخت ضرورت ہے بلکہ سب سے بہتر یہ ہے کہ ہر آدمی اپنے عقیدے کی حفاظت کرے اور تمام فرقے آپس میں حسن معاشرت رکھیں اور مل جل کے رہیں جیسا کہ خداوند عالم نے فرمایا:
(قل کل یعمل علی شاکلته فربّکم اعلم بمن هو اهدی سبیلا)(1)
شریعت لڑنے جھگڑنےسے روکتی ہے
یہی سبب ہے کہ سرور کائنات اور آپ کی آل پاک سے لڑنے جگھڑنے کی نہی وارد ہوئی ہے،مسعدہ ابن صدقہ کی حدیث میں جو امام صادق علیہ السلام سے وارد ہے،سرکار دو عالم نے فرمایا:تین باتیں ایسی ہیں کہ جو ان صفتوں کے ساتھ اللہ سے ملاقات کرے گا تو جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہوجائے گا:
-------------
1:- سورہ اسراء آیت 84
1۔اچھے اخلاق۔2۔عیب و حضور میں اللہ سے ڈرنا۔
3۔لڑائی جھگڑے سے پرہیز اگر چہ حق پر ہی کیوں نہ ہو۔(1)
اسماعیل بن ابی زیاد کی حدیث میں امام صادق علیہ السلام اپنے آباء طاہرین کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ سردار دو عالمؐ نے فرمایا:جو لڑائی جگھڑے کو ترک کردیتا ہے اس کے لئے میں جنت کے بلندترین درجے میں،درمیانی درجے میں اور جنت کے باغ میں ایک گھر دینے کا وعدہ کرتا ہوں(2)
یہی حدیث جبلہ سے بھی وارد ہے مگر اس اضافے کے ساتھ کہ جو جھوٹ کو چھوڑدے اگر چہ وہ جھوٹ مزاحاً بولتا ہو اور جس کے اخلاق اچھے ہوں۔(3)
ابوامامہ کی حدیث میں ہے کہ سرکار دو عالمؐ نے فرمایا جو جھگڑا چھوڑ دے اگر چہ وہ حق پر ہی کیوں نہ ہو تو میں جنت میں اس کو ایک گھر دوں گا اور جو جھوٹ چھوڑ دے چاہے وہ مزاحاً بولتا ہو اس کو میں جنت کے وسط میں ایک گھر دوں گا اور جو اچھے اخلاق کا ہے اس کو میں جنت کے سب سے بلند درجہ میں ایک گھر دوں گا۔(4)
ابوہرپرہ کی حدیث میں ہے،کہتے ہیں سرکار دو عالمؐ نے فرمایا:بندہ اس وقت تک کلّی طور پر مؤمن نہیں ہوتا جب تک وہ جھوٹ بولنا چھوڑے،اگر چہ مزاحاً ہی کیوں نہ ہو اور جھگڑا نہ چھوڑے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔الوسائل ج:8ص:567۔باب135۔دسویں احکام کے ابواب میں۔حدیث2۔
2۔ الوسائل ج:8ص:567۔باب135۔دسویں احکام کے ابواب میں۔حدیث7۔
3۔ الوسائل ج:8ص:567۔باب135۔دسویں احکام کے ابواب میں۔حدیث8۔
4۔سنن ابی داؤدج:4ص:253،کتاب الادب،حسن خلق کے باب میں۔اور اسی طرح سنن ابن ماجہ ج:1ص:19،بدعت اور جدل کے اجتناب کے باب میں،سنن الکبری بیھقی ج:10ص:249،کتاب الشھادات باب المزاح،سنن ترمذی ج:4ص:358،کتاب البروالصلۃ
چاہے وہ سچائی پر ہی کیوں نہ ہو۔(1)
مسعدہ ابن صدقہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایادیکھو لڑائی جھگڑے اور دشمنی سے بچو یہ دونوں چیزیں بھوئیوں کے خلاف دلوں میں بغض اور نفاق پیدا کرتی ہیں۔(2)
لیکن چونکہ آپ کے خط سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ آپ خواہ مخواہ کی بحث اور جھگڑا کرنا نہیں چاہتے بلکہ آپ حقیقت کی تلاش میں مخلص ہیں اس لئے سوالوں کا جواب نہ دینا اور آپ سے سلسلہ منقطع کرنا بہتر نہیں سمجھتا بلکہ آپ کے سوالوں کے جواب میں خاموشی آپ پر ظلم اور حقیقت پر پردہ پوشی ہے،میں نے سوچا کہ آپ کا جواب دینا مجھ پر لازم ہے،خدا کی ذات سے امید ہے کہ وہ ہمیں اور آپ کو حقیقت تک پہنچنے کی توفیق عنایت فرمائے۔آمین
نتیجہ خیز گفتگو کے لئے مناسب ماحول کا ہونا ضروری ہے
یہ بات آپ کو مان کے چلنا چاہئے کہ کوئی حق ایسا نہیں ہے جس میں شبہ نہ پیدا کیا گیا ہو بلکہ حق ہی کا انکار کیا جاتا ہے حق ہی کے بارے میں جھگڑے اٹھائے جاتے ہیں اسی طرح کوئی دلیل اشکال سے خالی نہیں اور دلیل کے خلاف ہی جواب دلیل دیا جاتا ہے،مثال کے لئے وجود باری تعالیٰ کا موضوع کافی ہے۔
ہر صاحب عقل کے سامنے یہ بات واضح ہے کہ کائنات کی ہر شئ میں علت بہرحال موجود ہے اور ہر موجود اپنے وجود میں ایجاد کرنے والے کا محتاج ہے،اس بدیہی دلیل کے باوجود ذات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)مسند احمدج:2ص:352،مسند ابوہریرہ میں۔اسی طرح مجمع الزوائد ج:1ص:92،کتاب الایمان،سچائی ایمان سے ہے کے باب میں،المعجم الاوسط ج:5ص:208۔
(2) الوسائل ج:8ص:567۔باب135۔دس احکام کے باب میں حدیث1۔
باری تعالی کا وجود ہر دور میں شک و انکار اور جنگ و جدل کا موضوع رہا،حد تو یہ ہے کہ ہمارا یہ دور جسے روشن اور ترقی یافتہ دور کہا جاتا ہے،اس دور میں بھی اللہ کو سب لوگ نہیں مانتے،ان تمام برائیوں کا سبب صرف یہ ہے کہ خواہشات نفسانی،جذبات اور میراث میں ملے ہوئے مسلمات اور انہی مسلمات کی پیروی کرتے ہوئے مفروضے صداقت کو دیکھے سے روکتے ہیں اور انسان کو حقیقت کا اقرار و یقین نہیں کرنے دیتے،کسی دلیل کو قبول نہیں کرنے دیتے،ہر محکم دلیل کی تردید کے لئے تیار رہتے ہیں اور اس کے برخلاف شیعہ باتوں اور موضوعات کو حقیقی دلیلوں کے مقابلے میں ماننے پر مجبور کردیتے ہیں۔
چونکہ آپ نے حقیقت تک پہنچنے کا ارادہ کیا ہے اس لئے میں آپ کو مشورہ دیتا ہوں کہ خدا پر توکل اور اس سے مدد و نصرت مانگنے کے بعد پہلے اپنے فکر کے ماحول کو مفروضات و مسلمات موروثی سےآزاد کرلیں اور پھر مفروضات پر غیر جانب دارانہ نظر ڈالیں جو آپ کو حقیقت تک پہنچانے میں معاون ہو،پھر ہمارے درمیان جو گفتگو ہو رہی ہے اسے آپ اپنے ضمیر کی عدالت میں پیش کریں اگر آپ کے مفروضوں کے خلاف میری طرف سےکوئی دلیل دی جائے اور آپ کا نفس اس کو نہیں مانتا ہو تو آپ فرض کرلیں کہ آپ کے پاس اس دلیل کا جواب موجود ہے اور جب آپ کا وجدان ایسا جواب دے جو آپ کے لئے حجت بن جائے تو آپ سمجھ لیں کہ میرے لئے بھی وہی حجت ہے اور آپ پر اس کا یقین کرنا واجب ہے اور یہ کہ میں نے آپ کو حقیقت تک پہنچا دیا ہے اور حجت آپ پر لازم ہوگئی ہے۔
اور اگر آپ کا وجدان کوئی ایسی دلیل نہیں پیش کرسکے جو آپ کے لئے حجت ہو تو برائے مہربانی آپ مجھے بتادیں کہ اس دلیل میں کیا کمزوری ہے اور کون سی بات قابل
گرفت ہے پھر ہم آپ کے اعتراضات پر غور کریں گے اور آپ کے زاویہ نگاہ سے واقف ہونے کے بعد اس کی کمزوری کا ازالہ کریں گے، اس طرح اگر ہم بحث کریں تو انشاء اللہ یہ بحث نتیجہ خیز ہوگی اور ہمارا قیمتی وقت ضائع نہیں ہوگا۔
میں خداوند عالم سے مدد کا خواستگار ہوں اور اس کی توفیق کا طالب ہوں کہ وہ ہمارے لئے کافی ہے اور ہمارا بہترین وکیل ہے۔
سوال نمبر۔1
ہم مسلمانوں کے لئے جن میں شیعہ سنی دونوں ہی شامل ہیں،ضروری ہے کہ ہم اسلامی میراث سے واقف ہوں کہ دونوں فرقوں کی میراث علمی کیا ہے؟خاص طور سے اہل سنت اپنی میراث سے غافل ہیں اور شیعوں کے بھی قلمی کارناموں سے غافل ہیں،برائے مہربانی تحریر فرمائیں کہ آپ شیعہ حضرات کے نزدیک وہ کونسی کتابیں ہیں جن پر آپ عقائد،فقہ،حدیث اور سیرت کے سلسلے میں اعتماد کرتے ہیں؟خداوند عالم آپ کے فضل کو ہمیشگی عنایت فرمائے۔
جواب:
شیعہ علماء اور ذوق تجسّس رکھنے والے شیعہ شروع سے اب تک ان کتابوں سے باخبر ہیں یہ حضرات اپنی علمی میراث اور اہل سنت کے علمی کارناموں سے بھی بخوبی واقف ہین یہ لوگ اہل سنت کی کتابوں ان کے علمی میراث ہونے کی وجہ سے نہیں پڑھتے بلکہ اُن کتابوں سے باخبر ہونا وہ اپنی ثقافت کی تکمیل سمجھتے ہیں۔
اس کے علاوہ اہل سنت کی کتابوں میں انھیں اپنے مذہب کی حمایت میں بہت سی دلیلں ملتی ہیں اور ظاہر ہے کہ اہل سنت کی کتابوں میں شیعہ فرقے کی حمایت میں دلیل اہل سنت کے لئے بہترین حجت ہے چونکہ شیعہ،صاحب حجت و استدلال ہوتے ہیں اور حجت اُس وقت تک تمام نہیں ہوسکتی
جب تک کہ غیروں کی کتابوں میں کیا کچھ لکھا ہے،صاحبان حجت کو معلوم نہ ہوجائے۔
شیوں کے اس سے باخبر ہونے کا ثبوت،دو باتیں ہیں:شیعوں کے کتب خانے چاہے عمومی ہوں یا ذاتی،سنی کتابوں سے بھر پڑے ہیں کتب خانوں کی فہرست میں ان تمام کتابوں کے نام ہیں جو طلب کرنے والا طلب کرتا ہے۔
شیعوں کے اکثر صاحبان تصنیف و تالیف،ان حوالوں کی طرف اشارہ کردیتے ہیں جہاں سے انھوں نے حدیثیں لی ہیں اور ان کے زیادہ تر حوالے سنی کتابوں سے ہوتے ہیں بلکہ اکثر تو یہ ہوتا ہے کہ وہ شیعہ کتابوں کے حوالے کم دیتے ہیں اور سنی کتابوں کے حوالے زیادہ دیتے ہیں۔
علم حدیث میں شیعوں کی کتابیں
مذکورہ بالا مفروضات کے بعد عرض ہے کہ شیعوں کی تالیفکردہکتابیںبہتزیادہہیںانکےپاسکتابوں کا ایک ذخیرہ ہے فی الحال آپ کی خدمت میں حدیث کی کتابوں کے نام پیش کئے جارہے ہیں:
الکافی:یہ ثقۃ الاسلام ابوجعفر جناب شیخ محمد بن یعقوب ابن اسحاق کلینی رازی کی تالیف ہے،آپکی وفات328یا329ھمیں ہوئی،یہ کتاب حضورسرورکائنات اورائمہ اہلبیت علیہم السلام کی حدیثوں پر مشتمل ہے،عمدہ طریقہ سے ابواب قائم کئے گئے ہیں،پہلے اصول عقائد،اخلاق اور آداب کے باب ہیں پھر فروع دین کا بیان کتابوں کی شکل میں ہے کتاب الفقہ کے بہت ابواب ہیں اوریہ کتاب کتاب روضہ پر ختم ہوتئی ہے جس میں بہت سی باتیں بیان کی گئی ہے۔
اصول و فروع میں اس کتاب کو تو جامعیت حاصل ہی ہے اس کے علاوہ بھی اس کی دو خصوصیات ہیں:
صرف یہ کتاب جو مکمل اور وسیع معلومات پر مشتمل ہے،ائمہ اہل بیت علیہم السلام کے بہت قریبی دور میں لکھی گئی ہے،یہ کتاب غیبت صغریٰ کے آخری دور میں لکھی گئی ہے،غیبت صغری کی تعبیر ائمہ علیہم
السلام کے دور سے کی گئی ہے،اس لئے کہ اس دور میں امام کی طرف آپ کے نواب خاص کے ذریعہ رجوع ممکن تھا،نواب کا سلسلہ دور غیبت صغریٰ میں امام سے ملا ہوا تھا گویا کہ وہ دور ایسا تھا جس میں شیعوں کے عقائد و فقہ کی تکمیل ہو رہی تھی اور دینی ثقافت کو مکمل کیا جا رہا تھا۔ائمہ اہل بیت علیہم السلام نے ایک طویل مدت سیاست کے شکنے میں قید و بند کی حالت میں گذٓری لیکن اس پر آشوب دور میں بھی اپنی تعلیمات کے قافلے کو آہستہ آہستہ آگے بڑھاتے رہے تا کہ علوم اہل بیت علیہم السلام کو ایک ارتکاز حاصل ہوجائے اور غیبت کے بعد علمی مراکز اس کے نشر و اشاعت کی ذمہ داری اپنے اوپر لے لیں۔
اس لئے حضرات ائمہ علیہم السلام نے اس میراث کو ضائع ہونے اور تحریف سے بچایا ائمہ اہل بیت علیہم السلام نے اس میراث کو حوزہ علمیہ تک پہنچا دیا تو پھر ان کی غیبت کبریٰ ممکن ہوئی 329ھ میں شیعوں کا اپنے امام سے ظاہری رابطہ منقطع ہوگیا،اس لئے کہ یہ کتاب ان کے لئے کافی تھی جو ان کے ائمہ علیہم السلام کی تعلیم پر مشتمل تھی یہ کتاب شیعوں کے لئے حجت بھی ہے اور شیعوں کے مخالفین پر بھی حجت ہے تا کہ جو ہلاک ہو دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ دلیل کےساتھ زندہ رہے۔
لیهلک من هلک عن بینة و یحیی من حیّ عن بینة (1)
اس کتاب کی دوسری خصوصیت مؤلف نے مقدمہ میں بیان کی ہے کہ ہم نے اس کتاب میں معصومین علیہم السلام سےجو صحیح خبریں ملی ہیں،انہیں جمع کردیا ہے۔اخبار صحیحہ سے مؤلف کی مراد طرق نہیں ہے اس صحیحہ سے مراد یہ ہے کہ مؤلف نے اس کتاب میں ان مکتوبات سے روایت لی ہے جو ائمہ علیہم السلام کے دور میں مشہور تھے اور اس دور کے اس کتاب میں ان مکتوبات سے روایت لی ہے جو ائمہ علیہم السلام کے دور میں مشہور تھے اور اس دور کے شیعوں کے نزدیک قابل اعتبار تھے اس لئے کہ ائمہ علیہم السلام انھیں دیکھ چکے تھے اور سن چکے تھے بلکہ بعض کتابوں کے بارے میں یہ بھی ثابت ہوچکا ہے کہ لوگوں نے انہیں امام کےسامنےپیش کیا اور امام نے ان کی تصحیح فرمائی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ انفال:آیت:42۔
مؤلف کے دعویٰ کی صداقت کا ثبوت خود مؤلف کا حسن انتخاب ہے،اس کے علاوہ بعد کے علماء کی اس کتاب اور مؤلف کی مدح و ثنا بھھی ہے،بعد کے علما نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مؤلف ایک جلیل القدر عالم اور حدیثوں کے عارف ہیں،حدیث میں سب سے زیادہ قابل اعتماد اور صحیح ترین ہیں،یہاں تک کہ علما شیعہ کے درمیاں آپ ثقۃ الاسلام کے لقب سے مشہور ہیں۔
میں یہ تو نہیں کہتا کہ مؤلف نے کافی میں جتنی حدیثیں لکھی ہیں،سب بالکل صحیح ہیں،اس لئے کہ یہ امر مشکل ہے،زمانہ گذر گیا صحت کے قرینے مخفی ہیں،شواہد ہمارے سامنے نہیں،انسان سے غلطیاں اور بھول چوک بھی ہوتی ہے لیکن یہ ضرور عرض کروں گا کہ اصول کافی اہل بیت علیہم السلام کے مفاہیم اور ان کی تعلیمات کا ایک اجمالی عکس ضرور پیش کرتی ہے اور اس راستے پر نظر اتھا کے دیکھے کی دعوت دیتی ہے جس کی طرف اس نے اشارہ کیا ہے۔
البتہ ہم اس کتاب میں وارد شدہ ان خبروں پر اعتبار نہیں کریں گے جو کسی علت کی وجہ سے صادر ہوئیں مثلاً تقیہ یا وجود معارض و غیرہ جس کو اہل نظر جانتے ہیں،چاہے ان کا صدور قابل اعتبار طریقوں سے ہوا ہو۔
من لایحضر الفقیہ: یہ تالیف جناب ابوجعفر محمد بن علی ابن الحسین بابویہ القمی کی ہے،شیعوں کے نزدیک آپ صدوق کے نام سے مشہور ہیں،آپ کی وفات381ھ میں ہوئی ہے،اس کتاب میں بھی سرکار دو عالم اور ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی حدیثیں جمع کی گئی ہیں یہ حدیثیں فقہ کے ابواب کا احاطہ کرتی ہیں اور مؤلف نے اکثر ان حدیثوں کو لیا ہے جو آپ کے فقہی مختارات کی دلیل ہیں۔
تہذیب الاحکام: یہ تالیف جناب شیخ الطائفہ ابوجعفر محمد بن حسن طوسی کی ہے،آپ کی وفات 460ھ میں ہوئی، اس کتاب میں بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمہ اہل بیت علیہم السلام سے حدیثیں لی گئی ہیں اور فقہ کے مسائل کا احاطہ کیا گیا ہے۔
الاستبصار: یہ کتاب بھی جناب شیخ الطائفہ ابوجعفر محمد بن حسن طوسی کی ہے اس کتاب میں بھی
حدیثﷺں سے فقہ کے ابواب کا احاطہ کیا گیا ہے اور شیخ نے کئی جگہ متعارض حدیثوں میں جمع کی صورت نکالنے کی کوشش کی ہے،کہیں کہیں اس سلسلے میں تکلف سے بھی کام لیا ہے،اس لئے کہ آپ کا مذہب ہے کہ متعارض حدیثوں کو چھوڑ دینے سے بہتر ہے کہ تا حد امکان جمع کی صورت نکال لی جائے،اس کتاب کو آپ نے اپنی کتاب تہزیب ہی سےاستخراج کیا ہے اس لئے یہ کتاب تہذیب سے مختصر ہے۔مندرجہ بالا کتابیں وہ ہیں جو شیعوں کے نزدیک بہت اہم ہیں اور ان کی بڑی حیثیت ہے ان کتابوں کو اصول اربعہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
وسائل الشیعہ الی تحصیل مسائل الشرئعہ: جناب محمد بن حسن الحر عاملی کی تالیف ہے،آپ کی وفات1104ھ میں ہوئی،مؤلف نے اس کتاب میں سابق کتابوں کی حدیثیں بھی جمع کی ہیں اور بہت سی حدیثیں ان دوسری کتابوں سے بھی لی ہیں جو مذکورہ بالا کتابوں تک درجہ شہرت نہیں پاسکتی ہیں،مؤلف نے اس کتاب میں فقہ کے ابواب کا احاطہ کیا ہے۔
بحارالانوار: شیخ محمد باقر بن شیخ محمد تقی مجلسی کی تالیف ہے،آپ کی وفات1111ھ میں ہوئی،آپ نے بہت سی کتابوں سے اس میں حدیثیں جمع کی ہیں،آپ نے اس کتاب میں عقیدہ کے اصول آسمان،عالم،معاد،قصص انبیاء،انبیاء کی سیرت،سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کی سریت،فقہ،دعائیں،اخلاق اور دوسری بہت سی چیزوں کا احاطہ کیا ہے،اس کتاب میں شیخ ہر باب کی ابتدا اس باب کی مناسبت سے قرآن مجدی کی آیت سے کرتے ہیں پھر آیت پر بحث کرتے ہیں،اس باب کی مناسبت سے حدیثیں پیش کرتے ہیں اور جہاں شرح کی ضرورت محسوس کرتے ہیں وہاں شرح بھی کرتے ہیں۔شیخ نے اس کتاب میں صرف معتبر حدیثوں ہی پر اکتفا نہیں کی ہے بلکہ شاذ روایتوں کو یہاں تک کہ غریب واقعات کو بھی بیان کیا ہے اور عجیب و غریب واقعات کی غرابت پر متوجہ بھی کیا ہے،یہ بہت بڑی کتاب ہے ماضی قریب میں دوسری بار چھپی ہے اور اس کی تقریباً 110۔جلدیں ہیں،ان کے علاوہ بھی بہت سی کتابیں ہیں جن کا احصا ممکن نہیں ہے یہ کتابیں مختلف علم و فن میں لکھی گئی ہیں مثلاً عقائد،فقہ،سیرت،علل احکام اور حالات ائمہ علیہم السلام و غیرہ کے سلسلے میں۔
شیعوں کی فقہ کی کتابیں
فقہی کتابوں کی دو قسمیں ہیں:فقہی متون:ان کتابوں میں صاحبان کتب کے فتوؤں پر اختصٓر کیا گیا ہے اور مسائل کے بارے میں مختلف لوگوں کی رائیں بیان کی گئی ہیں،ان میں سے بعض کے نام رقم کر رہے ہیں۔
1۔مقنع۔
2۔ہدایہ: دونوں کتابیں جناب شیخ صدوق کی ہیں،جن کا تذکرہ پہلے آچکا ہے۔
3۔مقنعہ: شیخ مفید کی کتاب ہے،شیخ مفید کا نام محمد بن محمد بن نعمان ہے،آپ کی وفات413ھ میں ہوئی۔
4۔نہایہ: جناب شیخ طوسی کی کتاب ہے جن کا تذکرہ پہلے بھی آچکا ہے۔
5۔مراسم: حمزہ عبدالعزیز دیلمی کی کتاب ہے،آپ سلّار کے نام سے مشہور ہیں،آپ کی وفات448ھ یا 463ھ ہوئی۔
6۔وسیلہ: ابن حمزہ کی کتاب ہے،جو پانچویں صدی ہجری کے علماء میں ہیں۔
شرائع الاسلام: ابوالقاسم نجم الدین جعفر بن الحسن حلی کی کتاب ہے،آپ علماء کے درمیان محقق کے لقب سے مشہور ہیں،آپ کی وفات 676ھ میں ہوئی، آپ کی اس کتاب پر بہت سے فقہا نے شرحیں اور تعلیقات لکھی ہیں،یہ وہ کتاب ہے جو حوزات علمیہ میں پڑھائی جاتی رہی ہے یہاں تک کہ دور حاضر میں بھی پڑھائی جاتی ہے۔
8۔مختصر نافع:یہ بھی محقق حلی کی کتاب ہے،بعض فقہاء نے اس کو بھی شرح کی ہے اور تعلیقات بھی لکھی ہیں یہ وہی کتاب ہے جسے مصر میں التقریب بین المذاہب الاسلامیہ،نام کے ادارے نے 1376ھ میں چھپوایا ہے۔
9۔قواعد الاحکام: شیخ جمال الدین حسن ابن علی ابن مطہر حلی کی کتاب ہے،آپ علامہ کے
نام سے مشہور ہے،آپ کی وفات 726ھ میں ہوئی،اس کی بھی بہت سے فقہاء نے شرح و تعلیق لکھی ہیں۔
10۔الدروس الشرعیہ،11۔اللمعۃ الدمشقیہ: یہ دونوں کتابیں شیخ ابوعبداللہ محمد بن مکی کی ہیں،آپ شہید کے نام سے مشہور ہیں،آپ کو 786ھ میں شہید کیا گیا۔اس کے علاوہ بھی متقدمیں و متاخرین علماءکےفقہی متوں ہیں جنھوں نےہردورکااحاطہ کررکھاہےاورہمارےاس دورمیں بھی مسلسل فقہی کتابیں تالیف ہو رہی ہیں،اس لئے کہ فقہاء کے درمیان رسالہ عملیہ لکھنے کا چلن ہے جس میں وہ اپنے فتاویٰ لکھتے ہیں تا کہ اپنے مقلدین کو اپنے فتوے سے آگاہ کرسکیں،مقلدین دینی مسائل میں ان ہی حضرات کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ان کے عملیہ پر عمل کر کے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
فقہ کی استدلالی کتابیں:
یہ وہ کتابیں ہیں جن میں مؤلفین اپنے فتوے پر دلیلیں قائم کرتے ہیں اور کتاب و سنت کے مآخذ کی وضاحت کرتے ہیں،ساتھ میں ان طریقوں کی بھی وضاحت کرتے ہیں جو کتاب و سنت کے علاوہ مقام استدلال مٰں برتے جاتے ہیں چونکہ قدیم و جدید علمائے شیعہ باب اجتہاد کو کھولنا ضروری سمجھتے ہیں یعنی کوئی شخص اس وقت تک فقیہ نہیں ہوسکتا جب تک فقہ میں اپنے تلاش کردہ مسائل کو اختیار نہ کرے اور ان مسائل پر استدلال کی صلاحیت نہ رکھتا ہو یہ الگ بات ہے کہ وہ دلائل و ماخذ کو اپنی کتابوں میں بیان کرتے ہیں ہم جن میں سے بعض کو ذکر کر رہے ہیں۔
1۔من لایحضر الفقیہ: اس کتاب کا ذکر پہلے بھی ہوچکا ہے،اس میں شیخ نے ان حدیثوں کو بیان کیا ہے جو ان کے فقہی مختارات پر دلالت کرتی ہیں۔
2۔کتاب المسبوط: شیخ الطائفہ ابوجعفر محمد بن حسن طوسی کی کتاب ہے۔ان کا ذکر پہلے بھی آچکا ہے،اس کتاب میں شیخ نے فقہی فروع کے مختلف شعبوں پر توجہ دی ہے اور کثرت سے انھیں بیان
کیا ہے،اس کے علاوہ دوسرے مذہبوں کے بھی کچھ نظریات بیان کئے ہیں۔
3۔الخلاف:یہ بھی شیخ طوسی کی کتاب ہے یہ بھی فقہ میں ہے اور عالم اسلام کے مذاہب سے ملتے جلتے مسائل اس میں بیان کئے گئے ہیں۔
4۔کتاب الغنّیہ فی اصول الفقہ و فروعہ: یہ جناب ابوالمکارم عزالدین حمزہ بن علی ابن زہرہ اطینی کی تالیف،آپ کی وفات585ھ میں ہوئی۔
5۔المعتبر: محقق حلی کی کتاب ہے،محقق نے اپنی کتاب مختصر نافع کی شرح میں لکھی ہے لیکن مکمل نہیں کرپائے۔
6۔تذکرۃ الفقھاء7۔منتھی المطلب 8۔مختلف الشیعہ:
یہ تینوں کتابیں شیعہ فقہ میں اور علامہ حلی کے مقارن ہیں۔
9۔جامع المقاصد فی شرح کتاب قواعد:کتاب قواعد،علامہ حلی کی ہے،جامع المقاصد اسی کی شرح ہے جو محقق ثانی شیخ علی ابن الحسین بن عبدالعالی العاملی الکرکی نے تالیف کی ہے،آپ کی وفات قول مشہور کی بنا پر 940ھ میں ہوئی۔
10۔مالک الافھام فی شرح شرائع الاسلام۔
11۔کتاب الروضۃ البھیہ فی شرح اللمعۃ الدمشقیہ:دونوں کتابیں شیخ زین الدین بن نور الدین علی کی ہیں آپ شہید ثانی کے نام سے مشہور ہیں،آپ کو 945ھ یا 966ھ میں شہید کیا گیا۔
12۔کتاب مدارک الاحکام فی شرح الشرائع الاسلام:یہ جناب السید محمد بن علی الموسوی العاملی کی تالیف ہے،آپ کی وفات1009ھ میں ہوئی۔
13۔کشف اللثام:قواعد کی شرح میں لکھی گئی یہ شیخ محمد بن حسن اصفہانی کی تالیف ہے،آپ 1137ھ میں وفات پاگئے،آپ فاضل ہندی کے نام سے مشہور ہیں۔
14۔مفتاح الکرامہ فی شرح قواعد العلامہ:سید محمد جواد الحسین العاملی کی تالیف ہے،آپ کی وفات 1226ھ کے آس پاس ہوئی،یہ کتاب کئی جلدوں میں چھپی ہے،اس کتاب میں مولف نے علماء امامیہ فقہی مسائل پر اقوال بیان کئے ہیں،بعض موقعوں پر مختصر استدلال بھی کیا ہے۔
15۔ریاض المسائل:یہ کتاب محقق کی مختصر نافع کی شرح میں لکھی گئی ہے،جناب سید علی طباطبائی کی تالیف ہے،آپ کی وفات1231ھ میں ہوئی۔
16۔جواھر الکلام:جو شرائع الاسلام کی شرح ہے،اپنے دور کے مرجع جناب شیخ محمد حسن الشیخ باقر کی تالیف ہے،آپ کی وفات 1226ھ میں ہوئی،اس کتاب میں بڑے پیمانے پر فقہی استدلال پیش کئے گئے ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ علماء کی توجہ کا مرکز رہی ہے یہاں تک کہ ہمارے دور میں بھی یہ کتاب بہت مقبول ہے،پہلے یہ چھ جلدوں میں چھپی تھی لیکن دوسری بار43 جلدوں میں چھپی ہے۔
17۔مستمسک العروۃ الوثقیٰ:ہمارے سید استاد اور جد امجد جناب سید محسن الحکیم طباطبائی کی تالیف ہے،آپ نے اپنے دور میں ملت شیعہ کے مرجع تھے،آپ کی وفات1390ھ میں ہوئی۔
ان کتابوں کے علاوہ بھی ہر دور میں بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں اور ہمارے دور میں بھی لکھی جارہی ہیں۔
سیرت کے موضوع پر شیعہ تالیفات
سیرت کی اکثر کتابیں شیعوں کے نزدیک عقائد کی کتابوں کی حیثیت رکھتی ہیں،اس لئے کہ شیعہ حضرات نے یہ کتابیں سیرۃ النبی یا سیرت ائمہ کے عنوان سے لکھی ہیں،ان کتابوں میں نبوت و امامت کی دلیلیں اور ان کے شواہد کے ساتھ نبی و آل نبی علیہم السلام کے فضائل و مناقب بیان کئے گئے ہیں ہم جن میں سے بعض کتابوں کے نام بطور مثال ذکر کر رہے ہیں:
1۔الارشاد:شیخ مفید علیہ الرحمہ کی تالیف ہے،اس کا تذکرہ ہوچکا ہے،آپ نے اس کتاب میں ائمہ اثنا عشر علیہم السلام کی سوانح حیات کے ساتھ ان حضرات کے فضائل اور ان کی امامت کے شواہد بیان کئے ہیں۔
2۔اعلام الوریٰ باعلام الہدیٰ:جناب ابوعلی فضل بن حسن طبرسی کی تالیف ہے آپ کی وفات548ھ میں ہوئی،آپ نے اس کتاب میں چودہ معصومین علیہم السلام یعنی بارہ امام اور جناب صدیقہ طاہرہ فاطمہ زہرا صلوات اللہ علیہا کے ساتھ سرکار نبی اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سیرت لکھی ہے،اس کتاب میں معصومین کی عصمت پر دلیلوں کے ساتھ سرکار دو عالم کی نبوت اور ہر امام کی امامت ثابت کی گئی ہے۔
3۔اثبات الوصیۃ:ابوالحسن علی بن الحسین بن علی المسعودی الہدیٰ کی تالیف ہے آپ کی ایک تالیف مروج الذہب بھی ہے،آپ چوتھی صدی ہجری کے علما میں ہیں۔
4۔کفایہ الا شرفی نص الائمۃ الاثنا عشر:علی بن محمد بن علی خزاز رازی کی تالیف ہے آپ چوتھی ہجری کے علماءمیں ہیں۔
5۔مناقب آل ابی طالب:حافظ رشید الدین بن علی بن ابوعبداللہ محمد بن علی بن علی شہر آشوب السروی المازندرانی کی تالیف ہے،آپ کی وفات588ھ میں ہوئی،اس کتاب میں سیرت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور سیرت ائمہ اثنا عشر علیہم السلام کی امامت کے ثبوت دیئے گئے ہیں،نیز ان حضرات کے فضائل و مناقب بھی بیان کئے گئے ہیں۔
6۔کشف الغمہ فی معرفہ الائمہ:ابوالحسن علی بن عیسی ابن ابوالفتح الاردبلی کی کتاب ہے،آپ ساتویں صدی ہجری کے علماءمیں ہیں،اس کتاب ہے،آپ ساتویں صدمی ہجری کے علما میں ہیں،اس کتاب میں ائمہ اثنا عشر علیہم السلام کے علاوہ صدیقہ طاہرہ فاطمہ زہرا صلوات اللہ علیہا اور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سیرت کے ساتھ ان حضرات کی نبوت و امامت کے متعلق بھی بہت سی باتیں لکھی گئی ہیں،اس کے علاوہ بھی بہت سی کتابیں ہیں جن کے تذکرہ کی گنجائش نہیں ہے۔
عقائد شیعوں کی کتابیں
عقائد کی کتابوں کی دو قسمیں ہیں:
پہلی قسم:جن کتابوں میں عقائد کا بغیر استدلال کے محض اجمالی تذکرہ ہے یا مختصر دلیلیں دی گئی ہیں،ہم ان میں سے بعض کتابوں کے نام رقم کر رہے ہیں۔
1۔الاعتقاد:شیخ صدوق کی تالیف ہے۔
2۔تصحیح الاعتقاد:شیخ صدوق کی تالیف ہے،اس کتاب میں شیخ صدوق کی کتاب الاعتقاد کی شرح کے ساتھ اس پر چو اعتراضات ہوئے ہیں ان کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
3۔اوائل المقالات فی المذاہب و المختارات:شیخ مفید کی تالیف ہے۔
4۔جمل العلم و العمل:شریف المرتضی علی بن الحسین الموسوی کی تالیف ہے،آپ کا انتقال 436ھ میں ہوا۔
5۔الاقتصاد:شیخ طوسی کی کتاب ہے۔
6۔العقائد الجعفریہ:شیخ طوسی کی کتاب ہے۔
7۔عقائد الامامیہ:شیخ محمد رضا مظفر کی کتاب ہے،آپ کی وفات 1384ھ میں ہوئی،اس کتاب میں آپ نے عقائد امامیہ کو مختصر طور پر جمع کردیا ہے،اندر تحریر بالکل نیا ہے یہ کتاب ہمارے دور میں بہت رائج اور مشہور ہے۔دوسری قسم:وہ کتابیں ہیں جن میں عقائد پر استدلال کیا گیا ہے اس طرح کی بہت سی کتابیں ہیں جن میں سے بعض کے نام درج ذیل ہیں:
1۔الشافی:سید مرتضی کی تالیف ہے۔
2۔تلخیص الشافی:شیخ طوسی کی تالیف ہے،آپ نے کتاب کافی کی تلخیص کی ہے
3۔کتاب الالفین:علامہ حلی کی تالیف ہے،آپ نے اس کتاب میں امامت پر کثرت سے
دلیلیں بیان کی ہیں۔
4۔نہج الحق:علامہ حلی کی کتاب ہے جس پر فضل بن روز بیان نے اعتراضات کئے تھے اور اس کے رد میں ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام ابطال الباطل ہے۔
5۔منہاج الکرامۃ:قاضی نوراللہ بن شریف الدین الحسینی المرعشی کی کتاب ہے،آپ کو گیارہویں صدی ہجری میں آگرہ میں شہید کیا گیا،یہ کتاب فضل بن روز بیان کی کتاب ابطال الباطل کے جواب میں ہے اس سے پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ ابطال الباطل علامہ حلی کی کتاب((نہج الحق))کے جواب میں لکھی گئی تھی،احقاق الحق کو تعلیمات اور اضافوں کے ساتھ دوبارہ چھاپا ہے یہ کارنامہ سید شہاب الدیں المرعشی نے انجما دیا،ان کی وفات 1410ھ میں ہوئی۔
7۔دلائل الصدق:شیخ محمد حسن مظفر کی تالیف ہے،یہ((ابطال الباطل))کے جواب میں لکھی گئی ہے،بعض مناسب موقعوں پر ابن تیمیہ کا جواب بھی دیا گیا ہے۔
8۔حق الیقین فی معرفۃ اصول الدین:سید عبداللہ کی تالیف ہے،آپ تیرہویں صدی ہجری کے علماء میں سے تھے۔
9۔صراط الحق فی اصول الدین:صراط الحق فی اصول الدین:شیخ محمد آصف محسنی کی کتاب ہے جو ہمارے معاصر ہیں۔
1۔التوحید:شیخ صدوقؒ کی کتاب ہے،یہ کتاب یوں تو حدیث میں ہے،لیکن مؤلف نے اس کتاب میں باری تعالیٰ کی تجسیم،تشبیہ اور جبر سے تنزیہ کی ہے ظاہر ہے کہ اس موضوع کا لگاؤ عقیدہ سے ہے۔
11۔تنزیہ الانبیاء:شریف المرتضی کی تالیف ہے،آپ نے اس میں عصمت انبیا کو ثابت کرتے ہوئے انبیائے کرام کو گناہوں سے پاک ثابت کیا ہے۔
12۔الغدیرفی الکتاب و السنتہ و الادب:شیخ عبدالحسین کی شاندار کتاب ہے آپ کی وفات1390ھ میں ہوئی،آپ نے اس کتاب میں حدیث غدیر کے بارے میں لکھا ہے،ان طریقوں پر جن سے غدیر کی روایت آئی ہے بحث کی گئی ہے،ان شعرائ کے حالات لکھے گئے ہیں جنھوں نے اپنے کلام میں غدیر کا تذکرہ کیا ہے،مناقب کے ساتھ امیرالمومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کے فضائل بیان کئے گئے ہیں،مذہب اہل بیت علیہم السلام کے متعلق بہت سی باتیں بیان کی گئی ہیں،مذہب اہل بیت علیہم السلام پر حملوں کا جواب دیا گیا ہے اور کثرت سے حوالے بیان کئے گئے ہیں،عقیدہ اور تاریخ میں یہ کتاب بڑی اہمیت رکھتی ہے اور اپنی ضحامت کے اعتبار سے بہت وسیع ہے(اس کا اردو ترجمہ فاضل ہندی السید علی اختر گوپال پوری نے فرمایا ہے،آپ کی وفات 1423ھ میں ہوئی ہے)مترجم
13۔اکمال الدین و اتمام النعمۃ:شیخ صدوق علیہ الرحمۃ کی تالیف ہے،حضرت حجت بن الحسن المہدی علیہ السلام کی غیبت کو اس کتاب میں موضوع بنایا گیا،غیبت پر بہت سی دلیلیں دی گئی ہیں اور غیبت پر اعتراضات کا جواب دیا گیا ہے۔
اس کتاب کے علاوہ بھی بہت سی کتابیں اور رسالے ہیں جو جناب شیخ مفید اور جناب شیخ طوسی نے تحریر فرمائے ہیں دونوں حضرات نے اسی فقیہ غیبت کو موضوع بنایا ہے اور بھی بہت سے علماء نے اس موضوع پر کتابیں لکھی ہیں جن کے ذکر کی گنجائش نہیں ہے۔
14۔المراجعات:سید عبدالحسین شرف الدین الموسوی کی کتاب ہے۔
اس کتاب میں کچھ اعتقادی مسائل پر گفتگو کی گئی ہے یعنی شیخ سلیم البشری جو جامعہ از ہر مصر کے شیخ تھے اور سید عبدالحسین کے در میان ایک نتیجہ خیز بحث کا بیان ہے،یہ کتاب بہت فائدہ مند اور مشہور ہے۔
15۔الغصول المہمہ فی تالیف الامہ:سید عبدالحسن شرف الدین موسوی کی کتاب ہے
اس میں شیعہ سنی اتحاد کی کوشش کی گئی ہے۔
ایک ضروری گزارش یہ بھی ہے کہ جو مصادر شیعہ کے جاننا چاہتا ہے اس کو دو باتوں کا خیال رکھنا چاہئے۔
فرقہ شیعہ کی طرف سے لکھی ہوئی ہر کتاب متفق علیہ نہیں ہے
شیعہ تصنیفات میں ہر کتاب متفق علیہ نہیں ہے،شیعہ علماء کے درمیان صرف اصول اور عقیدہ پر اتفاق ہے،جیسے توحید اور متعلقات توحید یعنی ذات باری کو ظلم و جبر و تشبیہ اور مکان و زمان سے منزہ ماننا،نبوت اور پھر ائمہ اثنا عشر علیہم السلام کو امام بر حق سمجھنا اور امامت کے سلسلے میں جو باتیں ضروری ہیں جیسے انبیاءاور ائمہ کی عصمت اور معاد جسمانی،اس طرح شیعہ علماءکچھ دوسرے معاملات میں بھی متفق ہیں،جیسے نصوص متواترہ،اجماع اور عقل کو دلیل قطعی ماننا،مذکورہ باتوں کا لگاؤ فقہ و سیرت اور مابعد الموت سے ہے لیکن بہت سے امور میں شیعوں کے درمیان اختلاف ہے اس لئے کہ ان کے نزدیک اجتہاد کا دروازہ کھلا ہوا ہے اور مجتہد اپنے استنباط کردہ مسائل کا مکلف ہے یہی وجہ سے کہ ان کے یہاں فرعی مسائل میں اختلاف اب بھی جاری ہے یہاں تک کہ احادیث میں بھی وہ ہر حدیث پر اتفاق نہیں کرتے نہ ہر حدیث کے مضمون پر یقین کرتے ہیں بلکہ بہت سی حدیثیں ایسی ہیں جنہیں متروک قرار دیا گیا ہے۔
حدیثوں کے قابل عمل ہونے کے لئے بھی انہیں پر کھے کا اپنا ایک معیار اور ضابطہ ہے جس کے بیان کی گنجائش نہیں ہے،کچھ حدیثیں اختلافی ہیں اور معیار اور ضابطے کے اعتبار سے بھی مختلف فیہ ہیں۔
اہم ترین یہ بات ہے کہ مذکورہ کتابوں کے مندرجات کو مان لینے میں جلد بازی سے کام نہیں لینا چاہئے خواہ وہ حدیث کی باتیں ہوں یا علماء کے اقوال،یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ تمام شیعوں کا یہی مسلک ہے جب تک اس بات کی تحقیق نہ ہوجائے کہ کتابوں میں لکھی ہوئی باتیں
شیعوں کے نزدیک متفق علیہ ہیں اور تمام شیعوں کا اس پر اجماع ہے ورنہ پھر تمام شیعوں پر کسی ایک کے لکھے ہوئے مندرجات کی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی البتہ مذکورہ بالا کتابیں عام شیعہ نظریات و مسلمات کی نمائندگی کرتی ہیں اور ان کی طرز زندگی اور ثقافت کی آئینہ دار ضرور ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ جس نے اب تک کسی شیعہ کتاب کا مطالعہ نہیں کیا ہے اور سنی کتابوں کا مطالعہ کرتا رہا ہے دھکا تو لگے گا خصوصاً مذہب کے حساس پہلوؤں پر جب اس کی نظر پڑے گی جنہیں اب تک وہ اپنے دل میں محترم اور مقدس سمجھتا رہا ہے لیکن اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ شیعہ کتابوں میں جو بھی لکھا گیا ہے اگر چہ وہ متفرق جگہوں سے لیا گیا ہے لیکن وہ سب اہل سنت کی کتابوں مٰں موجود ہے یا کم سے کم سنی کتابیں ان مندرجات کی شہادت دیتی ہیں یہ الگ بات ہے کہ ایک سنی مسلمان اپنے عظیم ذخیرے کا مطالعہ کرنے کے وقت ان حقائق کی طرف متوجہ نہیں ہوتا اس لئے شیعہ کتابوں کو پڑھتے وقت ضروری ہے کہ آدمی حوصلہ سے کام لے انکار میں جلدی نہ کرے اور وہ بھی کسی انکشاف کے وقت اس لئے کہ کتابوں میں جو کچھ لکھا ہوتا ہے وہ بے بنیاد نہیں ہوتا شیعوں نے ان دلیلوں کو تلاش کرنے میں زحمتیں اٹھائی ہیں اس لئے کہ غیروں کی کتاب میں سے اپنی حمایت میں دلیلیں یکجا کرنا بہت محنت طلب کام ہے جو مذکورہ بالا مشورہ پر عمل کرے گا اور مصنفین کی زحمتوں پر نظر کرے گا اس کے لئے اپنی ہی کتابوں میں اپنے مفروضات و مسلمات کے خلاف بیانات پڑھنا آسان ہوجائے گا اور وہ اس صدمہ کو آسانی سے جھیل جائے گا۔
میری مراد یہ ہرگز نہیں ہے کہ شیعوں نے جو کچھ بھی لکھا ہے وہ سب کچھ صحیح ہے اس لئے کہ وقت سے پہلے فیصلہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے بلکہ میں صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ فیصلہ میں جلدی نہ کی جائے اور بدمزگی سے اس وقت تک گریز کیا جائے جب تک شیعوں کے اصول و عقائد کا بغور مطالعہ نہ کر لیا جائے اور ان کی دلیوں پر غائزانہ نظر نہ ڈال لی جائے اس کے بعد صاحب انصاف خود یہ دیکھے کہ اس کا وجدان کیا کہتا ہے اور اللہ کے
سامنے خود کو مطمئن پاتا ہے یا نہیں،اللہ کے سامنے اس کے پاس کوئی عذر ہے یا نہیں؟یعنی اپنی دلیلوں سے وہ خدا کو راضی کرسکے گا یا نہیں اور اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوسکے گا یا نہیں؟اس لئے کہ خدا ہی بہترین نگراں ہے اور بہترین حساب لینے والا،انسان کی رضا حاصل کرنا اور انہیں لاجواب کرنا کوئی اہمیت نہیں رکھتا جس طرح اپنے خواہشات کو تسکین دینا اور اپنے جذبات کو ٹھنڈا کرنے کی کوئی اہمیت نہیں ہے اس لئے کہ خدا کے علاوہ جو کچھ ہے چاہے کتنا ہی زیادہ اور کم ہے سب کچھ زوال پانے والا ہے اور اسکے بعد انسان سخت حساب سے گزرتا ہے جنت میں جائے یا جہنم میں جہاں بھی رکھا جائے ہمیشہ رہنا ہے۔
سوال نمبر۔2
صحابہ کو گالیاں دینا یا ان کی تکفیر کرنا کیا شیعہ حضرات کی طرف مذکورہ بالا عمل کو منسوب کرنا صحیح ہے؟خصوصاً ابوبکر،عمر اور عثمان کی تکفیر،کیا شیعہ ان حضرات کی تکفیر کے قائل ہیں اور اسی طرح عائشہ کے بارے مین بھی مشہور ہے کہ شیعہ انہیں مسلمان نہیں سمجھتے،کیا یہ صحیح ہے؟
جواب:آپ کے سوال میں دو باتوں کے بارے میں پوچھا گیا ہے۔
1۔تکفیر:(یعنی کافر قرار دینا)عرض ہے کہ شیعہ صحابہ کی تکفیر کے قائل نہیں ہیں بلکہ وہ تو عام مسلمانوں کی تکفیر کے بھی قائل نہیں ہیں اگر چہ ان کے فرقے الگ الگ ہیں اور ان کا نظریہ اسلام کی حقیقت اور اس کے ارکان کی حدوں کی بنیاد پر ہے پھر ان کے علما کے فتوے اور ان کی تصریحات بھی ایک سبب ہے۔
شیعوں کے نزدیک کفر و اسلام کا معیار
سماعہ کی موثق حدیث ملاحظہ ہو،کہتے ہیں میں نے ابوعبداللہ(جعفر صادق علیہ السلام)سے پوچھا کہ آپ مجھے اسلام اور ایمان کے بارے میں بتائیں کیا یہ دونوں چیزیں مختلف ہیں؟حضرتؑ نے فرمایا ایمان میں اسلام شریک ہے لیکن اسلام میں ایمان کی مشارکت نہیں ہے میں نے کہا ان کی تعریف کردیں۔
فرمایا:وحدانیت پروردگار اور تصدیق رسالت اسلام ہے اسی بنیاد پر خون حرام ہوتا ہے اور نکاح و میراث جاری ہوتے ہیں اور لوگوں کی جماعت اسی طاہری رح پر عامل ہے اور ایمان ہدایت ہے....)(1)
سفیان بن سمط کی حدیث ملاحطہ ہو:ایک شخص نے ابوعبداللہ سے اسلام اور ایمان کے درمیان فرق کے بارے میں پوچھا تو فرمایا:اسلام وہ ظاہری رخ ہے جس پر عام لوگ ہیں یعنی لا الہ الا اللہ کی شہادت اور حضور سرور کائنات کی عبدیت اور رسالت،نماز کا قائم کرنا،کو ٰۃ دینا حج کرنا،رمضان کے روزے رکھنا بس یہی سب اسلام ہے۔(2)
حمران بن اعین کی حدیث میں منقول ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ میں نے جناب ابوجعفر یعنی امام محمد باقر علیہ السلام کو فرماتے سنا کہ ایمان وہ ہے جو دل میں جگہ بنالے اور بندے کو خدا تک پہنچائے اور بندے کا عمل خدا کی اطاعت اور اس کی ذات کے لئے سپردگی کے ذریعہ ایمان کی تصدیق کرتا ہو اور اسلام وہ ہے جو قول اورفعل سے ظاہر ہو،اسلام ہی کی بنیاد پر خون کا تحفظ،نکاح و میراث کا جریان اور نکاح کا جواز حاصل ہوتا ہے جولوگ نماز،زکوٰۃ،روزہ اور حج کی بنیاد پر جمع ہوئے ہیں اور کفر کے دائر سے اسی بنیاد پر الگ سمجھے جاتے ہیں۔(3) اس طرح کی بہت سی حدیثیں ہیں۔اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مسلمان ہونے کے لئے اقرار توحید و رسالت اور ضروریات دین کا اعتراف کافی ہے اور یہ بھی کہ مسلمانوں کے دورسرے فرقے جو شیعہ نہیں ہیں وہ اسلام سے خارج نہیں ہیں،ان کا خون اور مال حرام ہے مگر یہ کہ وہ حق کے ذریعہ ہو۔البتہ نواصب کی بات دوسری ہے،وہ لوگ ہیں جو اہل بیت اطہار علیہم السلام کے دشمن ہیں،ان کا تفصیلی تعارف ہم اس کتاب میں نہیں پیش کرسکتے اور ضرورت بھی نہیں سمجھتے اس لئے کہ موضوع گفتگو وہ نہیں دوسرے لوگ ہیں بہرحال تمام علمائے شیعہ کفر و اسلام کے مذکورہ بیان پر متفق ہیں ہر دور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)اصول کافی ج:2ص:25۔کتاب ایمان و کفر،باب ایمان اسلام میں شریک ہے۔
(2) اصول کافی ج:2ص:24۔کتاب ایمان و کفر،باب ایمان اسلام میں شریک ہے۔
(3) اصول کافی ج:2ص:26۔کتاب ایمان و کفر،باب ایمان اسلام میں شریک ہے۔
میں علمائے شیعہ اسی نظریہ کے قائل رہے تھے اور ہیں اگر کوئی شخص اس سلسلے میں شیعوں کی رائے جاننا چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ علماء شیعہ کے فتووں کی کتابیں اور عملیہ دیکھے،اس کو یہ اصول ہر کتاب میں جاری و ساری ملے گا،طہارت،نکاح،ذباحۃ،میراث اور قصاص،غرض ہر جگہ مندرجہ بالا معیار کو سامنے رکھ کر فتوے دئیےگئے ہیں اور چونکہ علماء شیعہ اس معاملے میں تقیہ کی ضرورت محسوس نہیں کرتے اس لئے انہوں نے اسلام کے ساتھ کہیں کہیں ایمان کی بھی شرط رکھی ہے جس کو دیکھا جاسکتا ہے۔
مذکورہ بالا کفر اسلام کے معیار کو ثابت کرنے کے لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ میں شرائع الاسلام کی ایک عبارت آپ کی خدمت میں پیش کردوں۔
شرایع اسلام شیعوں کی مشہورترین فقہی کتاب ہے جو حوزات علمیہ میں پڑھائی جاتی ہے اور بہت سے فقہا نے اس کی شرح لکھی ہے،اس کتاب کی عبارت پر بقیہ مصادر کا قیاس کیا جاسکتا ہے،ملاحظہ ہو،غسل میت کی بحث میں علامہ فرماتے ہیں:
ہر وہ آدمی جو کلمہ شہادتین کا اظہار کرے اسے غسل دینا جائز ہے،سوائے خوارج،غلاۃ اور شہید کے۔(1)
دوسری جگہ کتاب الحدود میں مرتد کی حد بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں،اسلام کا کلمہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ہے اور اگر اس کلمہ کے ساتھ کوئی یہ بھی کہتا ہے کہ میں اسلام کے علاوہ ہر دین سے بری ہوں تو اس کا اسلام مزید موکد ہوجاتا ہے۔(2)
نماز میت کے سلسلے میں فرماتے ہیں:ہر اس شخص کی نماز جنازہ پڑھی جاسکتی ہے جو کلمہ شہادتین کا اظہار کرتا ہو اور اس بچّے کی بھی نماز ہوسکتی ہے جو چھ سال کا ہوا اور حکم اسلام میں داخل ہو(3)
نجاسات کے سلسلے میں فرماتے ہیں:دسویں نجاست کافر ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)شرایع الاسلام ج:1ص:37۔
(2)شرایع الاسلام ج:4ص:185۔186۔
(3)شرایع الاسلام ج:1ص:104۔105۔
اصول یہ ہے کہ کافر وہ ہے جو اسلام سے خارج ہو یا جو خود کو مسلمان تو کہتا ہو لیکن ضروریات دین کا منکر ہو جیسے خوارج اور غلاۃ۔کتاب نکاح میں عقد کے لواحق کے بارے میں فرماتے ہیں:
مسئلہ نمبر1:
نکاح میں دونوں کا کفو ہونا شرط ہے،کفو سے مراد یہ ہے کہ دونوں مسلمان ہوں اور نکاح میں ایمان کی شرط ہے یا نہیں تو اس کے بارے میں دور روایتیں ہیں،اظہر یہ ہے کہ محض اسلام پر اکتفا کیا جائے اگر چہ ایمان کا لحاظ رکھنا مستحب موکد ہے خصوصاً زوجہ کی طرف سے ایمان کی شرط زیادہ ضروری ہے اس لئے کہ عورت اپنے شوہر کے مذہب کو اختیار کر لیتی ہے البتہ نکاح ناصبی سے صحیح نہیں ہے۔(1) جو اعلانیہ اہل بیت علیہم السلام کے دشمن ہیں اس لئے کہ عداوت اہل بیت علیہم السلام کا ارتکاب دین اسلام کو باطل کردیتا ہے۔(3) ذباحۃ کے بارے میں فرماتے ہیں:ذبح کرنے والے کا مسلمان ہونا ضروری ہے،بت پرست کا ذبیحہ قبول نہیں ہے،لیکن ایمان کی شرط نہیں ہے ایک قول بعید میں ایمان کی بھی شرط ہے البتہ جو اہل بیت اطہار علیہم السلام سے اعلانیہ دشمنی رکھتا ہو اس کا ذبیحہ صحیح نہیں ہے،جیسے خارجی اگر چہ وہ اسلام کا اظہار کرے۔(3)
مسائل اللواحق میں فرماتے ہیں:مسلمان بازاروں میں جو ذبیحہ یا گوشت بکتا ہے اس کا خرید ناجائز ہے اور تفحص ضروری نہیں مگر بیچنے والا مسلمان ہو۔(4)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)شرایع الاسلام ج:1ص:53۔
(2)شرایع الاسلام ج:2ص:299۔
(3)شرایع الاسلام ج:3ص:206۔
(4) شرایع الاسلام ج:3ص:206۔
کتاب الفرائض میں فرماتے ہیں:(فرائض سے مراد مواریث ہے یعنی میراث کو روکنے والی چیزیں)تیسری بات یہ ہے کہ مسلمان وارث ہوگا چاہے اس کے مذہب میں اختلاف ہو اور کفار،وارث ہوں گے چاہے ان کے گروہوں میں اختلاف ہو۔(1)
کتاب القصاص میں قصاص کی شرطیں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:دوسری شرط دین میں برابر ہونا،مسلمان کو کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جائے گا چاہے وہ کافر ذمی ہو،مستامن ہو یا کافر حربی۔(2)
جواز قصاص میں مسلمان اور آزاد ہونا ضروری ہے اور یہ کہ مقتول کے ساتھ زیادتی کی گئی ہو یعنی خون ناحق بہایا گیا ہو۔(3)
مذکورہ بیانات کی بنیاد پر شیعوں کا نقطہ نظر سمجھ لینا چاہئے،عام صحابہ کے ساتھ بھی شیعوں کا یہی معاملہ ہے لیکن جن کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سوال کیا گیا اور حضرت نے ان کے بارے میں حدیث فرمائی تو شیعہ اس حدیث کے مطابق عمل کرتے ہیں ورنہ صحابہ اور عام مسلمانوں کے درمیان اسلام کے معاملے میں شیعوں کی نظر میں کوئی فرق نہیں ہے،شیعہ اس کو مسلمان سمجھتے ہیں جو شہادتین کی گواہی دے، اسلام کا پابند ہو،اعلانیہ اسلام کی دعوت دیتا ہو اور اسلامی فرائض کو پورا کرتا ہو،ان کے درمیان جن بنیادوں پر فرقہ بندی یا اختلاف ہے وہ اسلام کے علاوہ ہیں اور شیعہ ان کا خیال نہیں کرتے بلکہ ان کے دل کے اندر کیا ہے اور پر بھی غور نہیں کرتے بلکہ آپسی معاملات کی بنیاد وہ ان کے ظواہر کو بناتے ہیں اور ظاہر پر عمل کرتے ہیں،اور ائمہ طاہرین علیہم السلام کا بھی یہ کردار رہا تھا اور ہر دور میں اسی معیار کو مانا گیا ہے،چنانچہ امیرالمومنین علیہ السلام سے ان لوگوں کے بارے میں جو آپ سے جنگ کرنے آئے سوال کیا گیا، آپ نے فرمایا:وہ ہمارے بھائی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)شرایع الاسلام ج:4 ص:13
(2)شرایع الاسلام ج:4 ص:211
(3)شرایع الاسلام ج:4 ص:234
ہیں جنہوں نے ہم سے بغاوت کی ہے،آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ کافر ہیں،آپ نے ان کی عورتوں کو کنیز نہیں بنایا، ان کے مال کو حلال کیا اس لئے کہ وہ اہل قبلہ یعنی مسلمان تھے،بس یہی شیعوں کا بھی طریقہ ہے وہ ظاہر پر اعتبار کرتے ہیں اور میرا خیال ہے کہ اکثر اسلامی فرقے بھی یہی کرتے ہیں۔
کتاب و سنت اور مسلمانوں کی بول چال میں کفر کا اطلاق مزید کچھ افراد پر ہوتا ہے
بہت سے ایسے مقامات ہیں جہاں کتاب و سنت اور مسلمانوں کی گفتگو میں کفر کا اطلاق بعض ان افراد پر بھی ہوتا ہے جو کلمہ شہادتین کے قائل ہیں،کبھی سابقہ کے طور پر تو کبھی اس کے باطن کا لحاظ کرتے ہوئے کہ وہ آدمی اسلام کے کسی تقاضے کو پورا ہی نہیں کرتا صرف کلمہ کا شاہد ہے لیکن عقیدہ اور عمل میں استقامت نہیں رکھتایا اور بندوں سے اللہ نے جن عبادات اور وفائے عہد کا مطالبہ کیا ہے اس کو انجام نہیں دیتا اور کبھی ایسا ہوتا کہ اس کا باطنی عقیدہ اسلام کی دعوت سے مطابقت نہیں رکھتا، ایسے شخص کو نفاق سے مطعون کیا جاتا ہے، ان صورتوں میں قرآن مجید ایک رخ کی وضاحت کرتا ہے کہ
((و من لم یحکم بما انزل الله فاولئک هم الکٰفرون))(1)
جو اللہ کے نازل کئے ہوئے فیصلہ کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے وہی لوگ کافر ہیں۔
اور دوسری آیت میں ارشاد فرمایا:
((ولله علی الناس حج البیت من الستطاع الیه سبیلا و من کفر فانّ الله غنی عن العالمین))(2)
ترجمہ آیت:((اور لوگوں پر واجب ہے کہ محض خدا کے لئے خانہ کعبہ کا حج کریں، جنہیں وہاں تک پہنچنے کی استطاعت ہو اور جس نے استطاعت کے با وجود حج سے انکار کیا تو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ مائدہ آیت:24
(2)سورہ:آل عمران،آیت:97
(یاد رکھئے کہ)خدا سارے سے بےنیاز ہے۔
اس سلسلے میں سرکار دو عالمؐ کا قول بھی شاہد ہے جو بہت سے راویوں سے مروی ہے چنانچہ آپ نے فرمایا:دیکھو میرے بعد کفر کی طرف نہ پلٹ جانا کہ ایک دوسرے کی گردن کاٹنے لگو(1)
اور جناب عائشہ کا قول، عثمان کے لئے کہ اس نعثل کو قتل کردو یہ کافر ہوگیا ہے(2)
عمر بن خطاب کا حاطب ابن ابی بلتعہ کے بارے میں سرکار سے یہ کہنا کہ اے خدا کے رسول! ان کی گردن ماردینی چاہئے یہ کافر ہوگیا ہے۔(3)
خدیفہ یمانی کا قول کہ نفاق عہد نبیؐ میں تھا آج تو دوہی چیزیں ہیں یا کفر ہے یا ایمان ہے۔(4)
ابوشعیب کا یہ جملہ کہ حفص نامی شخص نے شافعی سے مناظرہ کیا،حفص نے کہا کہ قرآن مخلوق ہے،شافعی نے جواب دیا:تو نے خدا سے کفر کردیا۔(5)
اور یاسر کی حدیث حضرت ابوالحسن علی بن موسی الرضا علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا:جو اللہ کی تشبیہ دے وہ مشرک ہے اور جو اس کی طرف ایسی باتیں منسوب کرے جنہیں اس نے منع کیا ہے وہ کافر ہے۔(6)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)صحیح بخاری ج:1،ص:56،کتاب علم باب الانصات للعمائ،ج:2،ص:619،کتاب الحج ایام منیٰ کے خطبہ کے سلسلے میں
(2)تاریخ طبری،ج:3،ص:12،اس باب میں کہ جس میں عائشہ نے کہا تھا کہ خدا کی قسم میں عثمان کے خون کا بدلہ ضرور لوں گی۔
(3)الاحادیث المختارہ ج:1ص:286،جس میں عبداللہ بن عباس نے عمر سے روایت کی اور کہتے ہیں کہ اس کی سند بھی صحیح ہے،مسند عمر بن خطاب،ج:1،ص:55۔
(4)صحیح بخاری ج:6ص:2406،کتاب الفتن،قسم کے باب میں،سیر اعلام النبلا،ج:10،ص:30،امام شافعی کے حالات میں۔
(5)سنن کبری بیہقی ج:10،ص:43،کتاب الایمان
(6)عیون اخبار رضا ج:1،ص:93
اباصلت ہروی کی ایک حدیث حضرت امام رضا علیہ السلام سے ہے،آپ نے حضرت سے پوچھا:اے فرزند رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس حدیث کا کیا مطلب ہے لا الہ الا اللہ کا ثواب خدا کے چہرے پر نظر کرنے کے ثواب کے برابر ہے،آپ نے فرمایا اے اباصلت! جو اللہ کی تعریف کسی چہرے سے کرتا ہے وہ کافر ہے بلکہ اس کا چہرہ اس کے انبیا،اس کے مرسلین علیہم السلام اور اس کی حجتیں ہیں،یہی وہ حضرات ہیں جن کہ وجہ سے لوگ خدا اور اس کے دین اور اس کی معفت کی طرف متوجہ ہوتے ہیں تو انبیا و مرسلین اور خدا کی حجتوں کو قیامت کے دن ان کے درجات پر نظر کرنا ثواب عظیم کا سبب ہے،اسی لئے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ جو ہمارے اہل بیتؑ سے بغض رکھتا ہے قیامت کے دن مجھے نہیں دیکھے گا۔(1)
اور آپ نے فرمایا:تم میں سے ایسے لوگ بھی ہیں کہ جو مجھ سے جدا ہونے کے بعد پھر مجھے نہٰیں دیکھیں گے اور اس طرح کی بہت سی حدیثیں ہیں۔
لیکن مذکورہ وضاحت اسلام کے اس معنی کے منافی ہے جو اس سے پہلے بیان کیا جاچکا ہے اور نہ احکام کی ترتیب کو روکتی ہیں(یعنی اسلام کا مطلب یہی ہے کہ جو شخص کلمہ شہاتین اور ضروریات دین کا قائل ہے وہ مسلمان ہے)جیسا کہ مسلمانوں کہ فقہ عمومی سے ظاہر ہوتا ہے،مسلمانوں کے تمام فرقے آپس میں معاملات کرتے رہے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ مسلمان ہونے کا برتاؤ کرتے رہے ہیں سوائے بعض خوارج کے یا اسی طرح کے دوسرے فرقوں کے جو شاذ ہیں اور مسلمانوں نے ان سے ہمیشہ سے کنارہ کشی اختیار کر رکھی ہے،عام شیعہ صحابہ یا عام مسلمانوں کو اسلام کے مذکورہ بالا معنی سے خارج نہیں سمجھتے مگر یہ کہ بعض شیعوں کا یہ مسلک کبھی رہا ہے لیکن فی الحال میں ان کو نہیں جانتا اور ان کے بارے میں معلومات کرنا میرے لئے آسان بھی نہیں ہے، اگر کہیں ایسا پایا بھی جاتا ہے تو ایسا شیعہ اپنے نظریہ میں تنہا اور وہ اپنے قول اور موقف کا خود ہی جواب دہ ہے،ظاہر ہے کہ شیعہ عوام یا شیعہ قوم پر اس کا ایک کے نظریہ کا جواب دینے کی ذمہ داری عائد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)توحید(صدوقؒ)ص:118۔117
نہیں ہوتی چہ جائیکہ یہ خطرناک قول تمام شیعوں پر لاددیا جائے اور ان کی طرف منسوب کردیا جائے۔
سوال:2۔مجھ سے دو باتوں کے بارے میں پوچھا گیا تھا، ایک تکفیر صحابہ اور دوسرے صحابہ کو گالیاں بکنا۔
آپ کا دوسرا سوال گالی اور طعن سے متعلق ہے۔
اس معاملے میں شیعوں کا طرز عمل بیان کرنا اور کوئی ٹھوس بات کہنا تو بہت مشکل ہے، شیعوں میں بہت سے شعبے پائے جاتے ہیں اور یہ لوگ بھی بہرحال تمام لوگوں کی طرح انسان ہیں، ان کی قوت جذبات کے برداشت کی طاقت عمومی رہن سہن اور دینی ثقافت کسی ایک صحابی یا تمام اصحاب کے بارے میں ان کا مبلغ علم،ان کی اخلاقی اور دینی ضرورتیں،ان کی گھریلو اور سماجی تربیت اور ان کے اپنے دلی جذبات پر حملہ ہونے کے وقت مذاہب کا طریقہ ظاہر ہے کہ یہ تمام باتیں انسانوں کی مختلف مقدار اور مختلف امکانات میں پائی جاتی ہیں اور شیعہ انسان ہیں مقام عمل میں ان تمام باتوں سے متاثر ہوتے ہیں، اس لئے اجتماعی طور پر یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ شیعوں کا اس سلسلے میں کیا نظریہ ہے،البتہ صحابی کے بارے میں شیعہ یہ نظریہ رکھتے ہیں جس کی انہیں تعلیم دی گئی ہے اور جس پر دلیلیں ان کے پاس موجود ہیں اور صرف صحابہ ہی نہیں بلکہ تابعین اور عام مسلمانوں کے بارے میں بھی ان کا یہی نظریہ ہے۔
صحابہ خود اپنی نظر میں قابل احترام نہیں تھے
اگر جو آدمی صحابہ کی تاریخ کو پڑھے اور بنظر غائر ان حرکات کو دیکھے جو ان سے سرزد ہوئیں ہیں تو یہ بات ثابت ہوجائے گی کہ تمام صحابہ قابل احترام نہیں ہیں اور ان کے تقدس کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آئی ہے جب کہ کچھ لوگوں نے تمام صحابہ کے گرد تقدس کا ایک بے بنیاد دائرہ کھینچ رکھا ہے۔
بلکہ صحابہ کے حالات پر نظر کرنے سے یہ بات بہرحال ثابت ہوجاتی ہے کہ صحبت پیغمبرؐ انہیں گناہوں سے نہیں بچاسکی،ان کے عیب کو دور نہیں کرسکی یہاں تک کہ صحابہ آپس میں ایک دوسرے کو
گالی دینے اور لعن و طعن کرنے سے پرہیز کرتے تھے بلکہ بعض صحابہ نے تو بعض صحابہ کو اتنی گالیاں دیں اتنی لعن و لعن کی کہ ان کا یہ کارنامہ مشہور ہوگیا اور صحبت پیغمبر انہیں گالی گلوج سے باز نہیں رکھ سکی۔
عثمان کے معاملے میں صحابہ کے کارنامے
عثمان کے معاملے میں صحابہ کے درمیان کیا کچھ نہیں ہوا تاریخ سے پوشیدہ نہیں ہے،صحابہ آپس میں دشنام طرازی کرتے رہے اور قول ع عمل سے اپنے تہذیبی دیوانے پن کا ثبوت پیش کرتے رہے۔
عثمان کو گالی دینے میں اور ان پر طعن کرنے میں سب سے زیادہ سخت یہ تین نام آتے ہیں،طلحہ،زبیر اور عائشہ،روایت تو یہاں تک ہے کہ طلحہ صاحب نے عثمان پر پانی بند کردیا تھا(1) اور ان کے پاس لوگوں کی آمد و رفت پر بھی پابندی عائد کردی تھی۔(2)
ابن ابی الحدید نے مقتل عثمان نام کی کتاب میں مدائنی سے نقل کیا ہے کہ طلحہ نے تین دن تک عثمان کی میت کو دفن نہیں ہونے دیا یہاں تک کہ حکیم بن حزام جو بنی اس ابن عبدالعزی کا تھا اور جبیر ابن مطعم ابن حارث بن نوفل نے امیرالمومنین علی علیہ السلام سے گذارش کی کہ عثمان کو قبر ملنی چائے تو طلحہ نے قبرستان کے راستے میں کچھ لوگوں کو پتھر دے کر بٹھا دیا جو عثمان کی میت لیجانے والوں کو پتھر سے مارتے تھے، واقدی کہتے ہیں:جب عثمان قتل ہوئے تو ان کے دفن کے بارے میں بات ہونے لگی طلحہ نے صاف کہہ دیا انہیں دیر سلع یعنی یہودیوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔(3)
واقدی کہتے ہیں کہ عثمان کے گھر پر جب حملہ ہوا تھا اس وقت جو لوگ موجود تھے ان سے روایت ہے کہ طلحہ نے اپنا چہرہ نقاب سے چھپائے ہوئے تھا اور عثمان کے گھر پر پتھر برسا رہے تھے یہ اس دن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)الامامۃ و السیاسۃ ج:1ص:38۔انساب الاشراف ج:5ص:71۔
(2)تاریخ طبری ج:2ص:668۔669۔
(3)شرح نہج البلاغہ ج:10ص:6۔7۔
کی بات ہے جس دن عثمان قتل ہوئے،روایت تو یہاں تک ہے کہ جب محاصرہ کرنے والے عثمان کے گھر میں کود گئے اور انہیں قتل کردیا۔
یہ بھی روایت ہے کہ زبیر فرما رہے تھے عثمان کو قتل کردو انہوں نے تمہارا دین بدل دیا ہے ان سے کہا گیا کہ آپ قتل کا فتوی دے رہے ہیں اور آپ کے بیٹے عثمان کے دروازے پر کھڑے ہوئے عثمان کی حمایت کررہے ہیں تو انھوں نے فرمایا کوئی ہرج نہیں ہے میں اس بات کو ناگوار نہیں سمجھتا کہ عثمان قتل ہوجائیں اگر چہ قتل کی ابتدا میرے بیٹے ہی سے ہو،عثمان کل کڑک پر پڑا ہو ایک مردار ہوگا(1) یہ بات پہلے بھی عرض کی جاچکی ہے کہ عائشہ عثمان کے بارے میں کہتی تھیں اس داڑھی والے کو قتل کردو یہ کافر ہوگیا ہے ایک دن عثمان مسجد نبوی میں نماز پڑھ رہے تھے اور عائشہ اور حفصہ لوگوں کو عثمان کے خلاف بھڑکار رہی تھیں جب عثمان نے سلام پھیرا تو فرمایا یہ دونوں فتنہ پرداز عورتیں لوگوں کی نماز میں رخنہ ڈال رہی ہیں پھر خطاب کر کے فرمایا اگر تم دونوں گالیاں دینے سے باز نہیں آئیں تو میں تمہیں حلال گالیاں دوں گا اور میں تم دونوں کی اصل سے واقف ہوں(2) اور جب سعد نے عثمان کی مخالفت کی تو عثمان انہیں تکلیف پہنچانے کے ارادے سے جارہے تھے امام علیؑ مسجد میں آرہے تھے عثمان امام سے مسجد کے دروازے پر ٹکرا گئے،سعد عثمان کو حضرت علیؑ کے سامنے ہی گالیاں دینے لگے۔(3)
ایک جماعت نے جس میں عثمان بھی شامل ہیں طلحہ،زبیر،اور عائشہ پر یہ الزام لگایا ہے کہ ان لوگوں کو عثمان کے خلاف بھڑکایا انہیں گالیاں دیں اور ان کے قتل پر آمادہ کیا۔(4)
امیرالمومنینؑ نے فرمایا:میں چار افراد کے ذریعہ گرفتار بلا ہوا ہوں مکارترین اور پست
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)شرح نہج البلاغہ ج:9ص:35۔36،طلحہ و زبیر کے بارے میں کلام امامؑ۔
(2)الجامع(ازدی)ج:11ص:335۔356،باب فتن میں۔
(3)الجامع(ازدی)ج:11ص:356،باب فتن میں۔
(4)تاریخ طبری ج:2 ص:668۔669،قتل عثمان کے بارے میں۔
ترین شخص یعنی طلحہ،سب سے بہادر یعنی زبیر،لوگوں کے لئے سب سے زیادہ مرکز اطاعت یعنی عائشہ اور سب سے جلد فتنہ پیدا کرنے والا یعنی ابن امیہ،فرمایا یہ لوگ مجھ سے وہ حق مانگ رہے ہیں جن کو خود ترک کرچکے ہیں،اس خون کا بدلہ مانگ رہے ہیں جسے انہوں نے خود بہایا ہے اور انہوں نے مجھے چھوڑ کے دوسرے کو ولی بنایا ہے اگر میں انکار میں ان کا ساتھ دیتا تو وہ انکار نہیں کرتے اور عثمان کا قصاص سوائے ان کے کسی پر نہیں ہے یہی لوگ باغی گروہ ہیں خدا کی قسم طلحہ و زبیر اور عائشہ یہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ میں حق پر ہوں اور وہ لوگ باطل پرست ہیں(1) دوسری جگہ ارشاد فرمایا لیکن انہیں خدا کی قسم ہرگز دعوت نہیں دی گئی تھی وہ خود خون عثمان کا مطالبہ کرتے ہوئے نکلے بخدا وہی لوگ عثمان کے قاتل ہیں۔(2)
محمد بن طلحہ کہتے ہیں کہ عثمان کا خون تین تہائیوں میں تقسیم ہے ایک تہائی صحاب ہودج یعنی عائشہ کے ذمہ ہے ایک تہائی سرخ اونٹ والے کے ذمہ ہے یعنی طلحہ اور ایک تہائی علی بن ابی طالب کے ذمہ ہے۔(3)
سعد بن ابی وقاص سے کسی نے پوچھا کہ عثمان کا قاتل کون ہے انہوں نے کہا میں تمہیں بتاتا ہوں تلوار عائشہ نے کھینچی اس پر صیقل طلحہ نے کی اور اس کو زہرآلودہ علی بن ابی طالب نے کیا زبیر خاموش رہے لیکن ہاتھ سے اشارہ کیا میں روکنا چاہتا ہوں تو ان کی مدافعت کرتا لیکن عثمان نے دین میں بہت سی بتدیلیاں کردی تھیں۔(4)
اسرائیل بن موسی کہتے ہیں کہ میں نے حسن کو یہ کہتے سنا کہ طلحہ اور زبیر بصڑہ پہنچے لوگوں نے پوچھا تم لوگ کیوں آئے ہو کہنے لگے عثمان کا خون طلب کرنے آئے ہیں حسن نے کہا سبحان اللہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)الاستیعاب ج:2 ص: 213۔214،طلحہ بن عبیداللہ کے بارے میں۔
(2)تاریخ طبری ج: 3 ص: 2،بیعت علیؑ کے ذکر میں۔
(3)تاریخ طبری ج: 3 ص: 16 ۔
(4)الامۃ و السیاسۃ ج: 1ص: 48،اور اسی طرح العقد الفرید،ج:4ص:295،کتاب السجدۃ الثانیہ۔
کیا اس قوم کے پاس بالکل ہی سمجھ نہیں ہوتی تو یہ کہتے کہ عثمان کو تمہارے علاوہ علاوہ کسی اور نے قتل کیا۔(1)
یہ کہانی بھی بہت مشہور ہے کہ مروان نے عثمان کے بدلے میں طلحہ کو قتل کردیا(2) بلکہ استعیاب کا مولف لکھتا ہے قابل اعتبار علما کا اس معاملے میں بالکل اختلاف نہیں کہ جنگ جمل میں مروان نے طلحہ کو قتل کیا حالانکہ طلحہ اسی کی فوج میں تھا۔(3)
اسی طرح یہ بھی مشہور ہے کہ طلحہ اور عثمان کے درمیان جو کچھ ہوا اس پر نادم تھے لوگ کہتے ہین کہ طلحہ کے گناہوں کا کفارہ یہی تھا کہ وہ قتل کردئیے جائیں۔(4) عثمان کا انکار کرنے والے اور ان پر طعنہ کرنے والوں میں عمار یاسر بھی تھے عمار اور محمد بن ابی بکر کہا کرتے تھے کہ عثمان ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے ہیں اور انہوں نے منافقت کی ہے(5)اور عمار خون عثمان کو اتنا محترم نہیں سمجھتے تھے کہ اس کا قصاص لیا جائے۔(6)
باقلانی کہتے ہیں کہ عمار عثمان کے بارے میں صاف کہتے تھے کہ وہ کافر ہوگئے ہیں اور عثمان کے قتل کے بعد انہوں نے کہا کہ ہم نے عثمان کو قتل کردیا اور جس دن ہم نے قتل کیا وہ کافر ہوچکے تھے شاید کہ عثمان نے عمار کوڈ انٹا تھا،ان کی تادیب کی تھی ان کے اس قول کی بنا پر جو اکثر کہتے تھے کہ ہم نے عثمان کو ہٹا دیا اور ہم اس سے بری ہیں۔(7)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)المستدرک علی صحیحین ج:3ص:128،کتاب معرفۃ الصحابہ
(2)الطبقات الکبری ج:3ص:222۔223،ج:5ص:38،مستدرک صحیحین،ج:3ص:417۔418،کتاب معرفت صحابہ،المعجم الکبیر،ج:1ص:113(اور اس میں ہے کہ مروان نے طلحہ کو قتل کیا)الاستیعاب ج:2ص:213،214،طلحہ بن عبیداللہ کے حالات میں
(3)الاستیعاب ج:2ص:79
(4)الطبقات الکبری ج:3ص:222،الاستیعاب،ج:2ص:213،مستدرک علی صحیحین،ج:3ص:419،کتاب معرفۃ الصحابہ
(5)معجم الکبیر،ج:1ص:79
(6)مجمع الزوائد ج:9ص:97۔98،باب امر عثمان اور ان کی وفات کے سلسلہ میں المعجم الکبیر،ج:1ص:81
(7)التمہید ص:220
کلثوم ابن جبر ابوغدبہ جہنی سے روایت کرتا ہے الغاویۃ جو عمار کا قاتل ہے الغٓویۃ کہتا ہے کہ ہم نے وادی عقبہ میں رسولؐ کی بیعت کی اس دن آپ نے فرمایا کہ خبردار ہوجاؤ اے لوگوں کہ تمہارا خون اور تمہارا مال ایک دوسرے پر حرام قرار دیا گیا اس دن تک کے لئے کہ تم اپنے پروردگار سے اسی حرمت کے ساتھ ملاقات کرو یہ حکم اسی دن اسی مہینہ اور اسی شھر میں دیا گیا کیا میں نے حکم خدا پہنچادیا؟ہم نے کہا ہاں تو پھر فرمایا دیکھو ہمارے بعد کا فرمت ہوجانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔
کلثوم کہتا ہے کہ الغاویۃ جہنی نے کہا ہم عمار یاسر کو شریف آدمی سمجھتے تھے لیکن میں نے ایک دن مسجد قبا میں عمار کو کہتے سنا کہ یہ لمبی داڑھی والا یہودی عثمان اگر میں اس کے خلاف اپنا مددگار پاتا تو اب تک اسے قتل کرچکا ہوتا الغاویہ نے کہا کے پالنے والے اگر تو چاہے تو مجھے عمار پر تمکن دیدے جب صفین کا دن آیا تو وہ فوج کے اگلے حصے میں پیدل آگے بڑھا اتنے میں ایک مرد دکھائی دیا جو نقاب پوش تھا پس اس نے اس مرد کے گھٹنے میں نیزہ مارا جب وہ گرگیا تو اس نے آگے بڑھ کے اس کی پٹی کو ہٹایا پتہ چلا یہ عمار یاسر ہیں اس نے عمارت کا سر کاٹ لیا۔
کلثوم کہتا ہے کہ میں نے اس الغاویہ سے زیادہ گمراہ کسی کو نہیں پایا اس لئے کہ عمار کے قتل کے بارے میں اس نے سرکار دو عالم سے اپنے کانوں سے سنا تھا کہ عمار کا قاتل اور ان کا سامان لوٹنے والے دونوں جہنمی ہیں(1)
ابھی عرض کیا جاچکا ہے کہ عثمان عمار کو بہت گالیاں دیتے تھے کبھی کہتے اے بہت زیادہ پیشاب کرنے والی کے بیٹے(2) کبھی کہتے تو جھوٹا ہے اے سمیہ کے بیٹے(3)کبھی کہتے کہ یا عاض ایرابیہ(4)اور کبھی فرماتے کہ میری طرف اس کلوٹی کے بیٹے پر وائے ہو۔(5)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)الطبقاب الکبری ج:3ص:260۔(2)انساب الاشراف ج: 5 ص: 48۔
(3)انساب الاشراف ج: 5 ص: 49۔
(4)انساب الشراف:ج: 5 ص: 54۔
(5)تاریخ یعقوبی،ج:2ص:171
(صحابی تو عثمان بھی تھے اور جناب عمار یاسر بھی لیکن دونوں کی آپس میں مار پیٹ مشہور ہے)جیسے کہ عثمان نے حکم دیا کو عمار کو پیٹا جائے اس غریب پر اتنی مار پڑی کہ وہ بے ہوش ہوگئے اور کتنی نمازیں چھوٹ گئیں(1) یا ان کے پیر پر مار پڑی یہاں تک کہ چوٹ ان کے خصیوں پر پڑی اور وہ چھٹک(2) یا پھر انہیں کھینچتے ہوئے لائے اور دروازہ پر ڈال دیا گیا(3) عثمان ان کے پیٹ پر کھڑے ہو کے ان کے پیٹ کو ملنے لگے یہاں تک کہ وہ بیہوش ہوگئے(4) بلکہ انہوں نے تو عمار کے قتل کا بھی اردہ کر لیا تھا مگر بنی مخزوم نے عثمان سے بات کی اور ان کو اس اقدام سے باز رکھا۔(5) پھر عثمان اور عبدالرحمٰن بن عوف کے درمیان جو معاملات ہوئے وہ بھی قابل غور ہیں عبدالرحمٰن بن عوف عثمان پر بہت سختی کرتے تھے اور انہوں نے امیرالمومنینؑ سے کہا کہ آپ اپنی تلوار لیں اور میں اپنی تلوار اٹھاتا ہوں، بیشک عثمان نے مجھ سے بدعہدی کی ہے(6) اور عبدالرحمٰن بن عوف نے یہ قسم بھی کھائی کہ تا حیات عثمان سے نہیں بولیں گے(7) جب وہ بیمار پڑے تو عثمان عیادت کو گئے لیکن عبدالرحمٰن نے کوئی توجہ نہیں دی(8) اور ناراضی کی حالت میں مرگئے(9) یہ وصیّت بھی کر کے گئے کہ عثمان ان کے جنازے کی نماز نہیں پڑھیں گے۔(10)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)انساب الاشراف،ج5ص:48۔
(2)انساب الاشراف،ج:5ص:49۔
(3)الامۃ و السیاسۃ،ج:1ص:33۔
(4)مصنف ابن ابی شیبہ،ج:4ص:199،کتاب الامرائ،العقد الفرید،ج:4ص:307،العسجدۃ الثانیہ۔
(5)انساب الاشراف،ج:5ص:54۔55،تاریخ یعقوبی،ج:2ص:73۔
(6)انساب الاشراف،ج:5ص:57۔
(7)انساب الاشراف،ج:5ص:57،تایخ ابی الفدائ،ج:1،ص:166،العقد الفید،ج:4،کتاب العسجدۃ الثانیہ،ص:280،305۔
(8)تاریخ ابی الفدائ،ج:1ص:144،شرح نہج البلاغہ،ج:1ص:196،العقد الفرید،ج:4ص:280،کتاب العسجدۃ الثانیۃ۔
(9)تاریخ ابی الفدائ،ج:1ص:144،شرح نہج البلاغہ،ج:1ص:196،العقد الفرید،ج:4ص:280،کتاب العسجدۃ الثانیۃ۔
(10)انساب الاشراف،ج:5ص:57۔
عثمان نے ایک بڑا محل بنایا تھا اس میں جب ولیمہ کیا تو بہت سے لوگوں کے ساتھ عبدالرحمٰن کو بھی بلایا عبدالرحمٰن نے اس محل میں صاف کہہ دیا کہ اے عفان کے بیٹے لوگ تمہارے بارے میں جن باتوں کو جھوٹ سمجھے رہے تھے اسے تم نے سچ کر دکھایا میں تمہاری بیعت سے خدا کی پناہ چاہتا ہوں یہ سنتے ہی عثمان غضبناک ہوگئے اور غصے میں ایک غلام سے کہا عبدالرحمٰن کو ابھی میری محفل سے نکال دو اور فرمایا کہ خبردار عبدالرحمٰن کے پاس کوئی نہیں بیٹھے(1)
عبدالرحمٰن کے سامنے عثمان کا تذکرہ کیا گیا جب وہ مرض موت میں مبتلا تھے تو عبدالرحمٰن نے کہا کہ انہوں نے فرمایا کہ میں کلافت کے کنویں تک پہنچ چکا ہوں اور اس کا پانی بھی پی لیا ہے لیکن عبدالرحمٰن اس پانی سے محروم رہ گئے(2) یہی نہیں بلکہ عبدالرحمٰن پر عثمان،نفاق کا الزام رکھتے تھے بلکہ انہیں منافق شمار کرتے تھے(3) یہاں تک روایت ہے عبدالرحمٰن نے فرمایا کے مجھے جینے کی اب کوئی خواہش نہیں کہ عثمان مجھے منافق کہتے ہیں۔(4)
عثمان اور ابوذر کے درمیان بھی جو کچھ ہوا وہ کافی مشہور ہے یہاں تک کہ ابوذر کو عثمان نے ربزہ جانے پر مجبور کیا اور ربزہ ہی میں ان کا انتقال بھی ہوگیا۔(5)
ابواسحاق لکھتے ہیں کہ ایک دن ابوذر عثمان کے دربار پہنچے اور ان کے کسی عیب کی نشاندہی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)شرح نہج البلاغہ ج:1ص:196۔
(2)انساب الشراف ج:5ص:57۔
(3)صواعق المحرقہ،ص:112،السیرۃ الحلبیۃ،ج:2ص:273،باب مدینہ کی طرف ہجرت۔
(4)شرح نہج البلاغہ ج:20ص:25۔
(5)المستدرک علی صحیحین ج:3ص:52،کتاب المغازی والسرایا ص:387،کتاب معرفۃ الصحابۃ،مسند احمد،ج:5ص:144،طبقات الکبریٰ،ج:4ص:227،234،السنۃ لابی ابی عاصم،ج:2ص:501،شرح ابن ماجہ،للسیوطی،ص:15،باب سننے اور اطاعت کے باب میں،استیعاب، ج:1 ص:215،حالات ابوذر میں،سیر اعلام النبلائ،ج:2ص:57۔71۔77،حالات ابوذر میں،سیرۃ النبویۃ،ج:5ص:205،جنگ تبوک،تاریخ طبری،ج:2ص:184۔
کی پھر ابوذر کھڑے ہوگے مولائے کائناتؑ اپنے عصا کا سہارا لیتے ہوئے عثمان کے پاس آئے عثمان نے ان سے پوچھا کہ اس آدمی کے بارے میں آپ کیا کہتے ہیں جو اللہ کے رسول کے بارے میں جھوٹ بولتا ہے امام نے فرمایا اس کو مومن آل فرعون کی منزل میں رکھئے اگر وہ جھوٹا ہے تو اس کو جھوٹ کی سزا ملے گی اور اگر سچا ہے تو آپ کو جس بات سے ڈرا رہا ہے وہ آپ کے سامنے مصیبت بن کے آئے عثمان کو مولا علیؑ کی یہ بات بڑی بری لگی،آپؑ غصہ میں فرمایا تیرے منھ میں خاک پڑے جب امام نے فرمایا خاک تمہارے منہ میں پڑے کیا تم ہر کام ہماری رائے سے کرتے ہو جو مجھ سے مشورہ کر رہے ہو۔(1)
سعید ابن مسیّب کہتے ہیں کہ عثمان نے سرکار دو عالمؐ کے وقف کئے ہوئے کسی کوئیں کو خرید لیا تھا مولائے کائنات نے انہیں روکنا چاہا تو دونوں کے درمیان بات بڑھ گئی یہاں تک کہ عباس آگئے انہوں نے دیکھا کہ عثمان نے مولائے کائناتؑ کو مارنے کے لیے اپنا تازیانہ اٹھایا ہوا ہے اور مولاؑ نے عثمان کو مارنے کے لئے اپنا ڈنڈا اٹھایا ہوا ہے تو عباس نے دونوں کو سمجھا بجھا کے ٹھنڈا کیا۔(2)
عثمان کے سامنے عبداللہ بن مسعود لائے گئے تو عثمان نے کہا:اب تمہارے سامنے وہ چوپایہ آیا ہے جو اپنے کھانے پر چلتا ہے،پھر قے کرتا ہے اورلید کرتا ہے اور یہ کہ عثمان نے حکم دیا کہ عبداللہ بن مسعود کو زمین پر گرا کر مارا جائے،پس اتنا مارا کہ یہاں تک کہ ان کی پسلی ٹوٹ گئی عثمان عبداللہ بن مسعود پر یہ الزام رکھتے تھے کہ وہ عثمان کا خون حلال سمجھتے ہیں(3) عثمان نے عبداللہ ابن مسعود کے وظیفہ کو روک دیا(4) یہاں تک عبداللہ ابن مسعود مرگئے اور عثمان کو خبر تک نہیں ہوئی۔(5)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)الجامع(ازدی) ج:11ص:349،باب الامرائ۔
(2)مجمع الزوائدج:7ص:226،اور اسی طرح المعجم الاوسط،ج:7ص:367۔
(3)انساب الاشراف ج:5ص:36۔
(4)تاریخ یعقوبی ج:2ص:147،انساب الاشراف،ج:5ص:37،تاریخ الخمیس،ج:2ص:268۔
(5)تاریخ الخمیس ج:2ص:268،انساب الاشراف،ج:5ص:37۔
محمد ابن ابوخدیجہ اور محمد ابن ابی بکر مصر میں عثمان کا عیب کھول کھول کے بیان کرتے تھے اور کہتے تھے کہ عثمان کا خون حلال ہے۔(1)
مختصر یہ کہ عثمان اور صحابہ کے درمیان منافرت،گالم گلوج اور اختلافات کے اتنے شواہد تاریخ میں موجود ہیں جن کا شمار نہیں کیا جاسکتا ہے اور اتنے روشن واقعات ہیں جن کی وضاحت کی ضرورت نہیں ہے حد یہ ہوگئی کہ دور عثمان میں ایک صحابی جو مدینہ میں مقیم تھا ایک دوسرے صحابی کو جو مدینہ میں نہیں تھا لکھا کہ تم لوگ مدینہ سے باہر جہاد کے لئے گئے اور چاہتے ہو کہ دین محمدیؐ برباد ہوچکا ہے اور لوگ اس کو چھوڑ چکے ہیں نلدی آگے دین محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہاں قائم کرو، اس خط کا اثر یہ ہوا کہ لوگ چاروں طرف سے مدینہ میں آکے جمع ہوگئے اور عثمان کو قتل کرڈالا۔(2)
قتل عثمان کے بعد صحابہ کے درمیان کیا ہوا؟
قتل عثمان کے بعد صحابہ اور بری حالت ہوگئی صحابہ ایک دوسرے پر گناہ کبیرہ کا الزام لگانے لگے ہر ایک سامنے والے کو دنیا کی محبت میں فتنہ پرور کہنے لگا۔اور انہوں نے سارے عہد و پیمان توڑ ڈالے مولا کائناتؑ نے صاف کہہ دیا کہ طلحہ زبیر اور عائشہ یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں حق پر ہوں اور وہ باطل پرست لوگ ہیں۔
مولائے کائناتؑ کا کلام ایک جگہ تو گذشتہ بیان سے زیادہ سخت ہے جب آپ نے صحابہ اور تابعین کی جماعت کے سامنے ان کی اور معاویہ کی پول کھولی ہے آپ فرماتے ہیں میں نے فتنہ کی آنکھیں کھول دی ہیں اگر میں نہین ہوتا تو فلاں فلاں اور فلاں سے جنگ نہیں ہوتی اور نہ اہل نہروان سے جنگ کرنی پڑتی اگر تم اس کام کے ذمہ دار نہیں بنتے اور عمل کرنا چھوڑ دیتے تو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)تاریخ طبری ج:2ص:620
(2)تاریخ طبری ج:2ص:662
تمہارے درمیان وہ خرابی پیدا ہوجاتی جس کی تمہارے نبی نے پیش گوئی کی تھی اس شخص کے لئے جو کسی کو گمراہ دیکھ کے اس سے قتال کرتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ ہم حق پر ہیں۔(1)
اور دوسرے خطبہ میں ارشاد رفرمایا کہ محمد بن ابی بکر کی آواز آرہی ہے وہ مدد کے لئے پکار رہے ہیں اس لئے کہ نابغہ کا بیٹا خدا کا دشمن اور دشمنان خدا کا سرپرست ان کی طرف چل پڑا ہے دیکھو ایسا نہ ہو کہ گمراہ لوگ اپنے باطل کے لئے طاغوت کے راستے پر بھروسہ کرتے ہوئے تم سے زیادہ جمع ہوجائیں جب کہ تم حق پر ہو۔(2)
سب کو معلوم ہے کہ مولائے کائناتؑ اور عمرو بن عاص کے درمیان تحکیم کا صلح نامہ لکھنے کے وقت کیا کچھ نہیں ہوا جب اہل شام نے صاف انکار کیا کہ علی کو امیرالمومنین نہ لکھا جائے حضرت نے فرمایا اللہ اکبر،اللہ اکبر،تاریخ اپنے کو دہرا رہی ہے اور ایک مرتبہ یہ واقعہ دوسری صورت میں پیش آچکا ہے خدا کی قسم مجھے صلح حدیبیہ کا صلح نامہ یاد آرہا ہے جب میں ہادی اعظم کے سامنے خود آپ کی ہدایت پر لکھ رہا تھا میں نے جب ہادی اعظم کو رسول لکھا تو کفار قریش بگڑ گئے اور کہنے لگے ہم انہیں خدا کا رسول مانتے تو پھر جھگڑا کس بات کا تھا ہم تو ان کی گواہی نہیں دیتے آپ صرف اپنے نبی کا نام اور ان کے باپ کا نام لکھیں اللہ آپ ہماری کس سے مثال دے رہے ہیں وہ لوگ تو کفار تھے آپ ہمیں کفار سے مشابہ قرار دے رہے ہیں جب کہ ہمارا اور مسلمانوں کا دشمن نہیں رہا تیری مثال تو صرف تیری ماں سے دی جاسکتی ہے جس نے تجھے پیدا کیا عمروعاص یہ سن کے اٹھ گیا اور بولا ہم آج کے بعد آپ کے ساتھ کسی مجلس میں ایک جگہ نہیں ہوں گے امیرالمومنینؑ نے جواب دیا کہ میں بھی خدا سے یہ امید کرتا ہوں کہ وہ میری مجلس مجھ سے بلکہ تیری جیسے لوگوں سے پاک رکھے گا۔(3)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)مصنف بن ابی شیبہ ج:7ص:528،کتاب السنۃ،لعبداللہ بن احمد،ج:2ص:627،کتاب الفقن،حلیۃ الاولیائ،ج:4ص:186
(2)تاریخ طبری ج:3ص:134
(3)تاریخ طبری ج: 3 ص: 134
جنگ صفین میں آپ نے عمار کے حادثہ کے بعد ایک خطبہ دیا آپ نے فرمایا:اے لوگو!ہمارے ساتھ ان کی طرف چلو جو خون عثمان کو طلب ر رہے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ عثمان مظلوم مارے گئے(سب نہیں)بلکہ انہوں نے دینا کو چکھا اور اس سے محبت کرنے لگے اور اپنا ہدف دنیا ہی کو بنالیا یہ لوگ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ اگر حق پر چلیں گے تو حق ان کے اور دنیا کے درمیان حائل ہوجائے گا جس کے یہ لوگ عادی ہوچکے ہیں اس قوم کا اسلام کی سابقہ تاریخ میں کوئی کارنامہ بھی تو نہیں ہے جس کی بنیاد پر یہ لوگوں سے طلب اطاعت کا حق رکھتے یا ان کے ولی ہوتے اس لئے انہوں نے اپنے پیچھے چلنے والوں کو یہ کہہ کے دھوکا دیا کہ ہمارا رہبر مظلوم مارا گیا تا کہ خون عثمان کے طلب کرنے کے بہانے سے جابر بادشاہ بن سکیں پھر آپ خطاب فرما رہے تھے یہاں تک کہ آپ عمروعاص کے پاس پہنچنے اور فرمایا تو نے اپنے دین کو ملک مصر کے بدلے میں بیچ دیا ہے خدا تجھے ہلاک کرے پھر ہلاک کرے تو بہت دنوں سے اسلام میں کجی پیدا کرتا چلا آرہا ہے۔
امیرالمومنین ہی نے عبیداللہ بن عمر بن خطاب سے فرمایا خدا تجھے غارت کرے تو نے اپنے دین کو دشمن اسلام اور دشمن اسلام کے بیٹے سے بیچ دیا ہے ابن عمر کہنے لگے میں تو عثمان بن عفان کا خون طلب کرنے نکلا ہوں آپ نے فرمایا:جہاں تک میرا علم گوہی دے رہا ہے تو خدا کو طلب کرنے ہرگز نہیں نکلا ہے۔(1)
معاویہ اور اہل معاویہ بھی امیرالمومنین علیہم السلام اور آپ کے اصحاب کو برا کہنے میں کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔
یہی صحابہ ہیں جنھوں نے آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرنا حلال سمجھ لیا تھا جس کے نتیجے میں صفین کی جنگ ہوئی اور دس ہزار سے زیادہ مسلمانوں کو کھا گئی یہاں تک کہ بات تحکیم تک پہنچی پھر بھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)تاریخ طبری ج:3ص:98
امیرالمومنینؑ کی صحابیت میں تو کسی کو شک نہیں سب مانتے ہیں کہ آپ صحابہ میں نمایاں حیثیت کے حامل ہیں لیکن طبری لکھتا ہے کہ نماز صبح کے قنوت میں امیرالمومنینؑ فرماتے تھے پالنے والے لعنت کر معاویہ،عمر وعاص اور عورسلمی،حبیب،عبدالرحمٰن بن خالد،ضحاک بن قیس اور ولید پر،معاویہ اپنی ایک جماعت کے ساتھ قنوت میں علیؑ،حسنؑ،حسینؑ،ابن عباسؑ اور اشترؑ پر لعنت بھیجتا تھا(1) یہاں تک کہ مسلمانوں کے منبروں سے امیرالمومنین علیؑ پر لعنت بھیجنے کا سلسلہ اور آپ کے اہل بیتؑ کے قتل کرنے کا اور آپ کے شیعوں کے قتل کرنے کا سلسلہ بہت دنوں تک اموی بادشاہوں کی سنت بنا رہا جس کی تفصیل بیان کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔
نبیﷺکے بعد صحابہ کے درمیان کیا ہوا؟
حق تو یہ ہے کہ صحابہ کے درمیان خلافت کا مسئلہ لے کر وفات پیغمبرؐ کے بعد ہی اختلاف کی ابتدا ہوگئی تھی ایک گروہ قریش کا تھا تو دوسرا انصار کا پھر یہ اختلافات قریش اور اہل بیتؑ کے درمیان بھی پیدا ہوئے اور ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے،ساتھ ساتھ ایک دوسرے پر الزام تراشی کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا اور وقت کے ساتھ اس میں شدت آتی گئی۔
تاریخی شواہد ملاحظہ ہوں،عمر کہنے لگے خدا سعد بن عبادہ کو قتل کرے(2) یا سعد بن عبادہ کو قتل کردو،خدا اسے قتل کرے(3) یا سعد کو قتل کردو وہ منافق ہے۔(4)
اہل بیتؑ اور قریش میں جو اختلاف ہوا وہ سب کو معلوم ہے میں تفصیل میں جانا نہیں چاہتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)تاریخ طبری ج:3ص:113۔
(2)صحیح بخاری،ج:2ص:2506،کتاب المحاربین،باب رجم الحبلی۔
(3)منصف بن ابی شیبۃ،ج:7ص:432،کتاب المغازی،فتح الباری،ج:7ص:32،ریاض النضرۃ،ج:2ص:208،تیرہویں فصل،تاریخ طبری،ج:2ص:244۔
(4)تاریخ طبری،ج:2ص:244۔
البتہ امیرالمومنینؑ کے کچھ خطبے جو آپ نےمناسب مقامات پر ارشاد فرمائے ہیں صورت حال کی سختی اور ماحول کی تنگی کی عکاسی کرتے ہیں کچھ باتیں صدیقہ طاہرہ صلوات اللہ علیھا کے دو خطبوں سے بھی واضح ہوتی ہیں جن کی روایت بلاغات النسائ(1) اور اعلام النسائ(2) جیسی کتابوں میں ہے اس کے علاوہ مورخین نے بھی ماحول کی تصویر کھینچنےکی کوشش کی ہے لکھتے ہیں کہ فتنہ خلافت کے فرو ہونے کی دو وجہ تھی ایک تو یہ کہ انصار کا معاملہ ٹھنڈا پڑگیا اور انہوں نے اپنے نفس پر جبر کیا دوسرے اہل بیت نبیؐ کے قائد سرکار مولائے کائناتؑ نے یہ دیکھا کہ اگر وہ غاصبان خلافت سے بالکل الگ ہوجاتے ہیں اور سخت موقف اختیار کرتے ہیں تو اسلام کو بہت بڑے نقصان سے دوچار ہونا پڑے گا اور یہ نقصان اس نقصان سے بڑا ہوگا جو آپ کے حق کے فوت ہونے سے آپ کو پہنچا ہے،اس لئے آپ نے محض اتمام حجت کے لئے اپنے مطالبوں کو نرم انداز میں پیش کیا تا کہ لوگ متوجہ ہوجائیں کہ حقدار خلافت کوئی اور ہے جیسا کہ آپ نے ایک عملی نمونہ اس وقت پیش کیا جب لوگ شوری میں عثمان کی بیعت کر رہے تھے اور آپ کا احتجاج اسی نرمی کے ساتھ مناسب مقامات پر جاری رہا مقصد محض اتمام حجت تھا۔
جو یہ سمجھتا ہے کہ حقائق کو جاننا بہت ضروری ہے اس کو چاہئے کہ وہ اپنے دل کی قوت فیصلہ کو آواز دے اور اپنے جذبات و عقائد سے دل کو آذاد کر کے کتابوں کا مطالعہ کرے تو اس کے سامنے حقیقت روز روشن کی طرح واضح ہوجاتے گی اور شک و شبہہ کی کوئی گنجائش نہیں رہے گی اس لئے کہ اللہ کی حجت واضح ہے۔
و مان کان الله لیضل قوماً بع اذهداهم حتی یبیّن لهم ما یتقون(3)
ترجمہ:اللہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ نہیں کرتا یہاں تک کہ ان چیزوں کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)تاریخ طبری،ج:2،ص:23۔
(2)تاریخ طبری،ج:4ص:116۔128۔
(3)سورہ توبہ آیت:115۔
جتادے جس سے وہ پرہیز کریں۔
جب انسان مذکورہ بالا باتوں کا وقت نظر اور اخلاص سےمطالعہ کرے گا تو پھر وہ حصول حق کی ذمہ داری کو ادا کرسکے گا اور خدا کے سامنے اس کو جوابدہ نہیں ہونا پڑے گا قیامت کا تذکرہ کرتے ہوئے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے۔
یوم لا یغنی مولی عن مّولی شیئاً و لا هم ینصرون(1)
ترجمہ:اس دن کسی بھی انسان کو اس کا دوست کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا نہ ان کی کوئی مدد کی جاسکے گی۔
یوم ندعو کل اناس بامامهم فمن اوتی کتٰبه بیمینه فاولئک یقرئون کتٰبهم و لا یظلمون فتیلا(2)
ترجمہ:اس دن ہم ہر انسان کو اس کے امام کے حوالے سے پکاریں گے اور جس کا نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ مٰں دیا جائے گا وہ لوگ خوشی خوشی اپنے نامہ اعمال کو پڑھتے ہوں گے اور ان پر ذرا بھی ظلم نہیں ہوگا۔
و من کان فی هذه اعمیٰ فهو فی الاخرة اعمیٰ و اضلُّ سبیلا(3)
ترجمہ:اور جو اس دنیا میں اندھا رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا اور گمراہ کن راستے پر چلنے والا ہوگا۔
اس کے علاوہ یہ بات بھی قابل غور ہے کہ بعض صحابہ کوئی بہت بڑی چیز یا عام انسانوں سے اوپر کوئی چیز نہیں تھے بعض صحابہ کی زبان خراب تھی،اخلاقی اصولوں سے نابلد تھے اور ان سے گالی گلوج سرزد ہوتی تھی جو کسی خاص اختلاف یا موقعے کا انتظار نہیں کرتا تھا بلکہ یہ بداخلاقی، بدتمیزی اور بدگوئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ دخان آیت:41۔
(2)سورہ اسرائ :آیت:71۔
(3)سورہ اسرائ :آیت:72۔
ان کی تہذیب کا تقاضا بھی اور ان کی ثقافت کا حصہ تھی اور ان کا مزاج عام انسانوں سے مختلف نہیں تھا۔
اپنے گذشتہ بیان کی تصدیق کے لئے میں کچھ مثالین پیش کر رہا ہوں تا کہ آپ کی سمجھ میں آجائے کہ صحابہ پر کچھ لوگوں نے تقدس کا جو ایک خول چڑھا رکھا ہے وہ ان حضرات پر کسی طرح فٹ نہیں ہوتا آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ صحابہ کے کردار کے یہ نمونے ان کے کردار کا ضعف انہیں سمجھتے ہیں بلکہ ان کے معاشرے میں ایک صحابی دوسرے صحابی کے ساتھ نامناسب سلوک کرتا رہتا اور ان کا ضمیر انہیں ملامت۔
صحابہ کی سیرت میں وہ انسانی خامیاں جو عام طور سے سب میں پائی جاتی ہیں
پہلی قسم:وہ کمزوریاں جو عام صحابی میں تھیں اور کسی کی شخصی کمزوری نہیں تھی اس سلسلے میں نمونے کے طور پر چند واقعات حاضر ہیں۔
1۔فدک کا مشہور و معروف واقعہ جس میں ان حضرات نے نبی کی عزت پر براہ راست حملہ کیا تھا اور سرکار کو کافی اذیت پہنچائی تھی،نبی کی عزت سے کھیلا تو گیا چاہے وہ عاتشہ کے سلسلے میں ہو،جن میں بعض صحابہ یہاں تک کہ وہ صاحب بھی تھے جو بدی سپاہی تھے اور حسان بن ثابت و غیرہ کا بھی نام آتا ہے اور چاہے جناب ماریہ کے چچازاد بھائی کی غلطی کا نتیجہ ہیں اور نبی کے بیٹے نہیں ہیں(معاذ اللہ عن ذلک)جیسا کہ عائشہ سے روایت کی گئی ہے بہرحال ماریہ اور عائشہ دونوں نبی کی بیویاں تھیں اور ان پر جنسی بے راہ روی کا الزام خود سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عزت پر حملہ تھا، استعمال کیا ان سے نبی کی تشفی بھی ہوگی اور الزام تراشی کرنے والے کی تہدید بھی کردی گئی،ملاحطہ فرمائیں کتنے سخت الفاظ ہیں۔
ان الذین جاؤو بالافک عصبه-------------------(1)
جنھوں نے جھوٹی تہمت لگائی وہ تم ہی میں سے ایک گروہ ہے،تم اپنے حق میں اس تہمت کو برا نہ سمجھو بلکہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے ان میں سے جس شخص نے جتنا گناہ سمیٹا اس کی سزا کو وہ خود بھکتے گا اور ان میں سے جس شخص نے اس تہمت میں بڑا حصہ لیا اس کو بڑی سزا ملے گی۔
و لو لا فضل الله علیکم و رحمته-------------------(2)
دوسری آیت میں ارشاد فرماتا ہے:
ترجمہ:اگر خدا کا فضل و کرم دنیا و آخرت میں تمہارے شامل نہ ہوتا تو جس بات کی تم نے چرچا کی تھی اس کی وجہ سے تم پر کوئی سخت عتاب آتا اس لئے کہ تم اس گندی بات کو ایک دوسرے سے بیان کئے جارہے تھے اور ایسی بات کہتے تھے جس کا تمہیں علم بھی نہیں تھا اور تم اس بات کو آسان سمجھتے تھے حالانکہ اللہ کے نزدیک وہ بڑی سخت بات تھی۔
2۔اس طرح صحابہ سرکار نبوت کی خاندانی شرافت اور نجابت پر بھی حملہ کرنے سے نہیں چوکتے تھے اور بنی ہاشم جو سرکار صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا قبیلہ تھا اس کو برا بھلا کہہ کے آپ کو تکلیف پہنچاتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے سرکار کو غضب ناک کردیا اور ان کی باتوں کا جواب دینے کے لئے آپ کو منبر پر آنا پڑا،صحابہ کہتے تھے کہ محمدؐ کی مثال تو ایسی ہی ہے کہ کوڑے پر جیسے کھجور کا درخت نکل آئے(3)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ نور:آیت:11۔
(2)سورہ نور:آیت:15،14
(3)المستدرک علی صحیحین ج:3ص:275
کبھی کہتے کہ محمدؐ تو بنوہاشم میں یوں ہیں جیسے بدبودار کوڑے پر کوئی پھول کھل جائے(1) یا زمین کیچڑ میں گلاب یا کوڑے پر کھجور کا درخت۔(2)
عبدالمطلب بن ربیعہ سے روایت ہے کہ انصار کے کچھ لوگ حضور کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے کہ آپ کی قوم کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ محمد تو کوڑے پر کھجور کا درخت ہیں۔
عبدالمطلب بن ربیعہ کہتے ہیں سرکار نے جب اپنے خاندان کے بارے میں یہ خیالات سنے تو آپ نے صحابہ کی جماعت سے پوچھا اے لوگوں میں کون ہوں؟جواب ملا آپ خدا کے رسول ہیں فرمایا میں محمدؐ بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہوں میں ایسی باتیں سنتا ہوں جو پہلے نہیں سنی تھیں،سنو!اللہ نے اپنی مخلوقات کو پیدا کر کے دو حصوں میں تقسیم کیا پھر ان کے قبائل بنائے اور مجھے سب سے بہتر قبیلے میں رکھا گھروں میں سب سے بہتر گھرانے میں مجھے قرار دیا دگھرانے اور نفس کے اعتبار سے تم سب لوگوں سے بہتر ہوں۔(3)
بعض روایتوں میں ہے کہ سابقہ خرافات کچھ صحابہ خود سرکار کی صاحب زادی سے کہتے تھے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو خبر دی(4)اور بعض روایتوں میں ہے کہ جناب عباس نے نبیؐ سے شکایت کی تھی کہ لوگ ایسا کہہ رہے ہیں بعض روایتوں میں ہے کہ عمر نے نبی کریمؐ سے کہا:(5)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)معجم الکبیر،ج:12ص:455،مجمع الزوائدج:8ص:215 ،کتاب علامت النبوۃ ، باب کرامۃ اصلہ،معفت علوم الحدیث،ص:166،الکامل فی الضعفائ،ج:6ص:200۔
(2)فضائل الصحابہ،ج:2ص:937۔
(3)مسند احمد،ج:4ص:165،اور اسی طرح مصنف ابن ابی شیبہ،ج:6ص:303،کتاب فضائل،باب اعطی اللہ محمداً،السنۃ لابن ابی عاصم،ج:2ص:632۔633،باب فی ذکر قریش،ج:20ص:286،مجمع الزوائد،ج:8ص:215۔216،کتاب علامات النبوۃ،فی کرامات صلہ۔
(4)معرفت علوم حدیث:ص:166،الکامل فی الضعفائ،ج:6ص:200،معجم الکبیر،ج:12،ص:455،مجمع الزوائد،ج:8،ص:215،کتاب علامات النبوۃ،باب کرامات اصلہ۔
(5)مجمع الزوائد،ج:8ص:216،علامات النبوۃ،باب کرامات اصلہ۔
3۔افک کے واقعات کا تتمہ بھی پڑھ لیجئے۔
روایت ہے کہ جب یہ بات نبی تک پہنچی تو آپ منبر پر گئے اور خدا کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا:اے لوگو!تم میں سے کون سزا دے جو جو مجھے تکلیف پہنچا رہا ہے،سعد بن معاذ نے تلوار نکالی اور کہنے لگے خدا کے رسولؐ اگر وہ قبیلہ اوس سے ہے تو میں ابھی اس کا سر آپ کی خدمت میں پیش کروں اور اگر قبیلہ خزرج کا ہے تو آپ جو حکم دیں گے اس پر عمل کیا جائے گا یہ سن کے عبادہ کھڑے ہوئے اور بولے کہ تم جھوٹے ہو خدا کی قسم تم ایس کے قتل پر قدرت نہیں رکھتے تم تو محض ایام جاہلیت کا کینہ نکالنے کے لئے ہمارے قبیلہ کے بارے میں ایسی بات بول رہے ہو پھر دونوں جلال میں آگئے سعد بن معاذ نے آواز دی اے اوس والو!اور سعد بن عبادہ نے پکارا اے خررج والو!پھر اس کے بعد اینٹ پتھر پھینکنے لگے اس پر جنگ مغلوبہ شروع ہوگئی بات ختم کرنے کی نیت سے اسید بن حضیر کھڑے ہوئے انہوں نے پوچھا یہ جھگڑا بیکار ہے یہ پیغمبر خداؐ خدا کے حکم سے ہمیں حکم دینے کا حق رکھتے ہیں چاہے کسی کو اچھا لگے یا برا۔(1) اس واقعہ کو امام بخاری نے عائشہ کے لفظوں میں بیان کیا ہے،عائشہ کہتی ہیں کہ اس درمیان ایک شخص کھڑا ہوا ام احسان،اس کی بنت عم اس کے قبیلہ سے تھی،کھڑا ہونے والا شخص سعد بن عبادہ تھا جو قبیلہ خزرج کاسردار تھا عائشہ کہتی ہیں پہلے سعد بن عبادہ بہت شریف آدمی تھے لیکن اس وقت قبیلہ کا تعصب ان پر غالب تھا انہوں نے سعد بن معاذ سے کہا تم خدا کی قسم جھوٹے ہو تم اس کو نہیں قتل کرسکتے اگر وہ تمارے قبیلہ سے ہوتا تو تم اس کا قتل ہرگز نہیں چاہتے،اسی وقت اسید بن حضیر جو سعد کے چچا تھے کھڑے ہوئے اور بولے خدا کی قسم اب تو اسے ضرور قتل کریں گے،تم منافق ہو اور منافقوں کی حمایت میں لڑ رہے ہو،یہ سنتے ہی قبیلہ اوس و خزرج جمع ہوگئے اور جنگ پر آمادہ نظر آنے لگے سرکار منبر پر کھڑے تھے اور انہیں ٹھنڈا کر رہے تھے یہاں تک کہ وہ لوگ چپ ہوئے۔(2)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)مجمع الزوائد،ج:9ص:238،کتاب المناقب،باب حدیث الافک،معجم الکبیر،ج:23،ص:127۔
(2)صحیح بخاری ج:4ص:1520۔کتاب مغازی، باب حدیث افک۔
4۔بعض حدیثوں سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ مدینہ کے کچھ لوگ نماز مجعہ کو اہمیت نہیں دیتے تھے اور اس میں شرکت سے پہلو تہی کرتے تھے نبی کو یہ بات ناگوار گذری آپ نے انہیں متوجہ کیا اور ڈرایا۔
کعب بن مالک کی حدیث ملاحظہ ہو حضرت ہادی اعظم نے فرمایا:جو لوگ نماز جمعہ کی اذان سنتے ہیں اور جمعہ میں شریک نہیں ہوتے وہ ایسا کرنا چھوڑ دیں ورنہ خدا ان کے دلوں پر مہر لگادے گا اور وہ لوگ غافلوں میں سے ہوجائیں گے۔(1)
5۔سرکار جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے کہ شہر میں ایک قافلہ خواراک لادے ہوئے آیا،مجمع اس قافلے کا شہرہ سنتے ہی نبی کا خطبہ کے چل پڑا اور خطبہ میں صرف بارہ آدمی رہ گئے(2)
حدیث میں ہے کہ جس وقت نبی جمعہ کو چھوڑ کے قافلے کی طرف دوڑا خطبہ میں فقط بارہ آدمی رہ گئے حضرت نے فرمایا:اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے،اگر تم سب چلے جاتے تو وادی مدینہ آگ سے بھر جاتی اس واقعہ کے بارے میں سورہ جمعہ کی یہ آیت نازل ہوئی:
و اذا راو تجارة او لهواً انفضّوا الیها و ترکوک قائماً(3)
ترجمہ:جن انہوں نے مال تجارت یا ڈھول باجا دیکھا تو اس کی طرف بھاگ گئے۔
6۔جب پہل بار روزہ واجب ہوا تھا تو روزہ دار پر افطار کے بعد کھانا پینا اور مباشرت کرنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)مجمع الزوائد ج:2ص:193،اسی طرح کتاب الصلوٰۃ،باب فی من ترک الجمعۃ،مسند الشامین،ج:2ص:285،معجم کبیر،ج:19ص:99،الترغیبو الترھیب،ج:1ص:295،
(2)صحیح بخاری ج:1ص:316،کتاب جمعہ،باب الساعۃ......،صحیح بخاری،ج:2ص:590،کتاب الجمعۃ،باب فی قولہ تعالی،((واذا راوا تجارۃ....))
(3)سورہ جمعہ:آیت:11،صحیح بن حبان،ج:15ص:299،مسند ابی یعلی،ج:3ص:486،تفسیر طبری،ج:28ص:104
حرام تھا لیکن بعض لوگ مباشرت کرے جب کہ وہ حرام تھی باری تعالیٰ نے اس حرکت پر عتاب فرمایا پھر حکم میں تخفیف کردی قرآن مجید میں اس آیت کا ارشارہ مسلمانوں کی اسی نازیبا حرکت کی طرف ہے۔
اُحل لکم لیلة الصیام الرفث الی نسائکم هنّ لباس لکم و انتم لباس لهن علم الله انّکم----------------(1)
ترجمہ:روزے کی راتوں میں عورتوں سے مباشرت تمہارے لئے حلال کردی گئی ہے وہ تمہارے لئے پردہ ہے اور تم ان کے لئے پردہ ہو،خدا کو معلوم ہوا کہ تم اپنے نفس میں جنابت کرتے ہو تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی اور تمہیں معاف کردیا پس تم ان سے مباشرت کرو اور اپنی روزی تلاش کرو،کھاؤ،پیئو ،یہاں تک کہ صبح صادق نمودار ہو۔
7۔بدر کے غزوہ کا مال غنیمت تقسیم ہونے لگا اس واقعہ کا پس منظر یہ ہے کہ اسلامی فوج کے تین حصے تھے ایک تہائی دشمن سے جنگ کر رہا تھا اور دشمن کو قید کر رہا تھا اور دشمن کے حملے سے آپ کو بچا رہا تھا اب جب مال غنیمت جمع ہوگیا تو اس کی تقسیم میں اختلاف ہوا جمع کرنے والوں نے کہا یہ سب ہمارا ہے،جنگ کرنے والوں اور اسیر کرنے والوں نے کہا تم سے زیادہ ہم حقدار ہیں ہم نے دشمن کا دھیاں تمہاری طرف سے ہٹا دیا تھا اس لئے تم ہم سے زیادہ حقدار نہیں ہو اور جو نبی کی حفاظت کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ ہم دشمن کو قتل بھی کرسکتے تھے اور مال غنیمت بھی لوٹ سکتے تھے ہمیں کوئی روکنے والا نہیں تھا لیکن ہم نے صرف پیغمبرؐ کی حفاظت کی اسی لئے اس کے اصل مستحق ہم ہیں۔(2)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ بقرہ آیت:187،صحیح بخاری،ج:4ص:639،کتاب التفسیر،کتاب احل لکم لیلۃ الصیام،تفسیر بن کثیر،ج:1ص:221۔
(2)سنن کبریٰ بیھقی ج:2ص:292،کتاب قسم الفیءوالغنیمۃ،باب بیان مصرف الغنیمۃ،ثقات لابن حبان،ج:1ص:179۔
عبادہ ابن صامت کہتے ہیں ہمارے درمیان اختلاف ہوگیا اور ہماری کج خلقی کی وجہ سے خدا نے وہ دولت ہم سے لے لی اور اس کا مالک تنہا کو بنادیا پھر حضرت نے برابری کی بنیاد پر اس مال کو تقسیم کردیا اس میں تقویٰ اور اطاعت خدا کے ساتھ اطاعت رسول اللہؐ اور آپس کی اصلاح پوشیدہ تھی۔
((یسألونک عن الانفال قل الانفال لله و الرسول فاتقوالله و اصلحوا ذات بینکم)(1)
ترجمہ:خدا نے کہا ہے،لوگ آپ سے انفال کے بارے میں پوچھتے ہیں آپ ان سے کہہ دیں انفال تو اللہ اور اللہ کے رسولؐ کا حق ہے تم لوگ آپس میں سدھار پیدا کرو۔
8۔صحابہ کو مال غنیمت کی بڑی فکر رہتی تھی بلکہ سب سے زیادہ فکر مال غنیمت ہی کی رہتی تھی،ملاحظہ ہو!حارث بن مسلم اپنے باپ سے روایت کرتا ہے کہ ایک قریہ میں ہم نے کافروں کے ایک قبیلہ پر حملہ کیا تو ہمارے اصحاب نے ہمیں آگے بڑھا دیا ہم نے دیکھا اس کافر قبیلے کے بچے اور عورتیں فریاد کر رہی ہیں ہم نے پوچھا کیا تما پنی جان بچانا چاہتے ہو تو وہ بولے بالکل جان بچ جائے تو کیا کہنا ہم نے کہا جلدی سے کلمہ طیبہ پڑھ لو وہ سب کے سب کلمہ پڑھنے لگے اتنے میں ہمارے ساتھی پہونچنے اور(چونکہ وہ لوٹنے کی نیت سے آئے تھے)پورا واقعہ جان کے ہمیں ملامت کرنے لگے کہ ہمیں تو بہت سا مال غنیمت ملنے والا تھا اس بدھوکی وجہ سے ہم مال غنیمت سے محروم رہ گئے بہرحال ہم لوگ ہادی برحق کی خدمت میں پہنچے آپ نے پوری تفصیل سننے کے بعد فرمایا کہ جس نے بھی سریہ میں شرکت کی ہے قیامت میں اسے اجر ملےگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ انفال:آیت:1،سنن الکبری للبیھقی،ج:6ص:292،کتاب الفیءوالغنیمۃ،باب بیان مصرف الغنیمۃ،حدیث عبادۃ بن صامت،فی ذکر بدر،مجمع الزوائد،ج:7ص:26،کتاب تفسیر سورہ انفال،مسند احمد،ج:5ص:322،تاریخ طبری،ج:2ص:38،سیرۃ نبویۃ،ج:3ص:219۔
(2)المعجم الکبیرج:19ص:433مجمع الزوائد،ج:1ص:26،کتاب الایمان،باب فی مایحرم دم المرئ و مالہ۔
ملاحظہ فرمائیے اس واقعہ میں مسلمانوں کی اخلاقی پستی اور ضمیر کی خرابی یہ لوگ اس کا فر قبیلہ کے اسلام پر خوش نہیں ہوئے بلکہ اس بات پر ناراض ہیں کہ انہیں مال نہیں ملا اپنے ساتھی کی ملامت بھی اسی وجہ سے کررہے ہیں۔
9۔ابن عباس کہتے ہیں کہ بدر کے مال غنیمت میں ایک مخملی چادر تھی جو تقسیم کے وقت نہیں مل رہی تھی اصحاب کے دل میں فوراً یہ خیال آیا کہ لگتا ہے ہادی برحق نے دبالی ہے خدا کو یہ بات اتنی بری لگی کہ اس نے اپنے نبی کی صفائی میں آیت نازل کی:
((و ما کان لنبی ان یغلّ و من یغلل یات بما غل یوم القیامة))(1)
ترجمہ:نبی مال نہیں دباتا اور جو مال دبائےگا قیامت میں اسے اسی مال معضوب کے ساتھ لایا جائےگا۔
دوسری روایت میں ہے کہ اصحاب نے کہنے لگتا ہے نبی نے وہ چادر رکھ لی ہے(2) اور یہ بات مشہور ہوگئی طبری ابن عباس سے نقل کرتے ہیں کہ اصحاب کہنے لگے کہ نبی نے وہ چار کہیں دبادی ہے(3) ابن کثیر کی تفسیر میں ہے کہ ابن عباس کہتے تھے کہ جب کوئی چیز گم ہوجاتی تھی تو منافقین اس کی چوری کا الزام ہادی برحق پر لگاتے تھے۔(4)
10۔برا ابن عاذب کہتے ہیں احد کے دن حضور نے پچاس تیرا انداز کو ایک درہ پر معین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)آل عمران آیت:161تفسیر ابن کثیرج:1ص:422،تفسیر طبری،ج:4،ص:155،اس آیت کی تفسیر میں،سنن ابن داؤود،ج:4ص:31،سنن ترمذی،ج:5ص:230،کتاب تفسیر القرآن،عن رسول اللہ،مسند ابی یعلی،ج:4ص:327،مسند بن عباس،ج:5ص:60،معجم کبیر،ج:11ص:364۔
(2)تفسیر ابن کثیر ج:1ص:422 تفسیر آیت،((و مان کان لنبی ان یغل))کے ضمن میں،تفسیر طبری،ج:4ص:154،تفسیر سورہ آل عمران میں۔
(3)تفسیر طبری،ج:4ص:155،تفسیر آیت،آل عمران۔
(4)تفسیر ابن کثیر ج:1ص:422تفسیر آیت،سورہ آل عمران میں((و ما کان لنبی ان یغل))کے ضمن میں۔
کیا فرمایا:اور کہہ دیا کہ جب تک میرا پیغام نہ پہونچے خبردار یہاں سے مت ہٹنا چاہے ہماری ہار ہو یا جیت اور تھوڑی ہی دیر میں جنگ شروع ہوئی پس کفار پسپا ہوگئے اور ہم خدا کی قسم ان کی عورتوں کی پہاڑوں پر بھاگتے ہوئے دیکھ رہے تھے ان کی پنڈلیاں کھلی ہوئی تھیں اور ان کی پازیبیں دکھائی دے رہی تھیں وہ اپنے لباس کو اٹھا کے بھاگے جارہی تھیں یہ دیکھ کر اس معین درے کے اصحاب اپنے امیر عبداللہ بن جبیر سے کہنے لگے کہ کفار تو بھاگ رہے ہیں اے میری قوم والو مال غنیمت لوٹنے کا موقعہ بھی تو ہاتھ سے نکلا جارہا ہے ہمیں ضرور مال غنیمت لوٹنا ہے قصہ مختصر یہ کہ 38 آدمی وہاں سے ہٹ کے مال غنیمت لوٹنے میں لگ گئے اور صرف کچھ آدمی معینہ جگہ پر رہ گئے بھاگا ہوا لشکر واپس آیا اور انہیں آدمیوں کو ریلتا ہوا مسلمانوں کے لشکر پر پشت سے حملہ کردیا پیغمبرؐ کے پاس صرف بارہ آدمی رہ گئے باقی مسلمان پیغمبر کو چھوڑ کے بھاگ گئے اس دن ستر مسلمان شہید ہوئے۔(1)
خداوند عالم نے مسلمان کی اس کمزوری کی طرف اشارہ کیا:
((ولقس صدقکم الله وعده ا-----))
ترجمہ:خدا نے اپنا وعدہ پورا کیا جب تم اس کی اجازت سے فتحیاب ہونے ہی والے تھے کہ تم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)مسند احمد،ج:4ص:293،حدیث:البرابن عازب،سنن کبری(نسائی)ج:6ص:315،کتاب تفسیر:قولہ تعالیٰ:(والرسول یدعوکم فی اخراکم)سنن ابی داؤود،ج:3ص:51،کتاب الجہاد،باب فی کمنائ،مسند ابن الجمعد،ص:375،تفسیر ابن کثیر،ج:1،ص:415،معرکہ احد،صحیح بخاری،ج:3ص:1105،کتاب الجھاد و السیر ،باب ما یکرہ من من التنازع و اختلاف،نیز مختصر طور پر روایت کی گئی ہے صحیح بخاری،ج:4ص:1468،کتاب المغازی باب غزوہ احد صحیح بن حبان،ج:11ص:40،باب خروج و کیفیت جہاد،تفسیر ابن کثیر،ج:1ص:414
(2)سورہ آل عمران آیت:152،تفسیر طبری،ج:4ص:128،تفسیر قرطبی،ج:4ص:236۔
پھیل گئے اور تم میں اختلاف پیدا ہوگیا مال غنیمت دیکھ کے تم نبی کی نافرمانی کر بیٹھے تم میں سے کچھ لوگ دینا کے مرید تھے کہ تمہیں آزمائے۔
ابن مسعود کہتے ہیں کہ ہمیں یقین نہیں تھا کہ کہ اصحاب پیغمبر بھی دنیا کے مرید ہوسکتے ہیں لیکن اس آیت نے آگے پردہ اٹھایا:
((منکم من یرید الدنیا و منکم من یرید الاخرة))(1)
ترجمہ:تم میں سے کچھ وہ ہیں جو آخرت کےعاشق ہیں اور کچھ دنیا کے شیدا ہیں۔
کہتے ہیں کہ جنگ احد میں انس بن نضر نے سنا کچھ مسلمان کہہ رہے تھے جب انہیں قتل پیغمبر کی خبر ملی کہ کاش ہمارے پاس کوئی پیغمبر،ہوتا جو عبداللہ ابن ابی تک ہماری بات پہونچا دیتا تو وہ ہمیں ابوسفیان سے پناہ دلا دیتا لوگو!محمد تو قتل ہوگئے تم اپنے پہلے مذہب پر پلٹ جاتےقبل اس کے کہ وہ لوگ تمہیں پالیں اور قتل کردیں،انس نے جواب دیا اے قوم!اگر محمد قتل ہوگئے تو محمد کا پروردگار تو قتل نہیں ہوا تم اسی عقیدہ پر جنگ کرو جس پر محمد جنگ کررہے تھے پالنے والے یہ لوگ جو کچھ کہہ رہے ہیں مجھے اس سے دور رکھنا میں ان کے قول و فعل سے بری ہوں پھر انھوں نے مضبوطی سے اپنی تلوار پکڑ لی اور جنگ کرتے رہے یہاں تک کہ شہید ہوئے۔(2)
11۔جب حدیبیہ کے عمرہ میں کفار قریش نے ہادی اعظم کو مکہ میں داخل ہونے سے روکا اور یہ بات طے ہوگئی کہ پیغمبر اپنےاصحاب کے ساتھ مدینہ واپس جائیں گے اور اپنا عمرہ اگلے سال پورا کریں گے پھر صلح نامہ تیار ہونے لگا تو مسلمانوں میں زبردست اختلاف پیدا ہوگیا اور انہوں نےصلح سے انکار کردیا،حدیث میں ہے عمر بن خطاب کہنے لگے کہ جب سے میں مسلمان ہوا اتنا بڑا شک کبھی نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)تفسیر ابن کثیرج:1ص:414،سورہ آل عمران کی تفسیر میں معرکہ احد،مجمع الزوائد،ج:6ص:327۔328،کتاب تفسیر قولہ تعالی((منکم من یرید الدنیا))تفسیر طبری،ج:4ص:130،تفسیر قرطبی،ج:4ص:237۔
(2)تاریخ طبری ج:2ص:67،غزوہ احد،تفسیر طبری،ج:4ص:112،((و ما محمد الا رسول))کی تفسیر میں فتح الباری،ج:7ص:351،دوسرے الفاظ میں
ہوا تھا،پھر میں حضور کی خدمت میں آیا اور پوچھا کیا آپ نبی برح نہیں ہیں آپ نے فرمایا بیشک ہوں،پوچھا کیا ہم لوگ حق پر اور ہمارا دشمن باطل پر نہیں ہے سرکار دو عالمؐ نے فرمایا ہم حق پر ہیں، میں نے کہا پھر اتنا جھک کے آپ نے صلح کیوں کر لی اپنے دین میں اتنی پستی کیوں قبول کی؟سرکار نے فرمایا میں خدا کا رسول ہوں اور اپنے مالک کی نافرمانی نہیں کرسکتا ہوں وہی میرا مددگار ہے میں نے کہا آپ نے کہا نہیں تھا کہ ہم جلد ہی کعبہ کا طواف کریں گے آپ نے فرمایا کہا تھا لیکن کیا میں نے یہ کہا تھا کہ اسی سال کریں گے،میں نے کہا نہیں یہ تو نہیں کہا تھا آپ نے فرمایا پھر تم مکہ بھی آؤگے اور طواف بھی کروگے میں اپنے عودہ پر قائم ہوں،عمر کہتے ہیں پھر میں ابوبکر کے پاس آیا اور پوچھا ابوبکر کیا یہ شخص نبی برحق نہیں ہے انہوں نےکہا ہیں،کیا ہم حق پر اور ہمارے دشمن باطل پر نہین ہیں ابوبکر نے کہا بالکل ہیں میں نے کہا پھر اس شخص نے ہمیں دین کے معاملے اور اپنے پروردگار کی نافرمانی نہیں کرنے کا کہہ دیا وہی ان کا مددگار ہے۔تم ان کے ہم رکاب رہو یہاں تک کہ مرجاؤ،میں نے کہا کیا انہوں نے ہم سے نہیں کہا تھا کہ ہم عنقریب کعبہ کی زیارت کریں گے اور اس کا طواف بھی کریں گے ابوبکر نے کہا کہ سرکار نے کہا تو تھا لیکن آج کی قید تو نہیں لگائی تھی میں نے کہا نہیں آج کی شرط نہیں تھی ابوبکر نے کہا پھر وقت آئےگا اور مستقبل میں تم طواف بھی کروگے عمر کہتے ہیں کہ اس دن میں نے اپنی بےآبروئی کے بہت سے کام کئے۔(1)
جب صلح نامہ لکھا جانے لگا تو سرکار اٹھے اور اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ اٹھو قربانی اور تحلیق کرڈالو لیکن مسلمانوں کے کان پر جوں نہ رینگی،سرکار نے تین بار حکم دیا مگر مسلمان ٹس سے مس نہیں ہوئے،بیٹھے رہے آپ شکستہ ہوکے ام المومنین ام سلمہ کے پاس آئے اور مسلمانوں کی نافرمانی کے بارے میں بتایا ام المومنین(ام سلمہؐ)نے عرض کیا خدا کے رسول اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کا حکم مانیں تو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)۔صحیح بن حبان،ج:11ص:224۔225،کتاب السیر اباب الموادعہ و المہادنہ(مصنف عبدالرزاق)،ج:5ص:33،کتاب المغازی،غزوۃ حدیبیہ،صحیح بخاری،ج:2ص:977،کتاب الشروط باب الشروط فی الجھاد و المصالحۃ۔
آپ باہر نکلیں کسی سے کچھ نہ کہیں اپنے تحلیق کرنے والے کو بلا کے تحلیق کر لیں اور قربانی کا جانور ذبح کردیں۔
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ام سلمہؐ کے کہنے کے مطابق باہر نکلے کسی سے کچھ نہیں فرمایا اپنا جانور ذبح کر کے اپنے حالق کو بلایا اور تحلیق کرلی جب مسلمانوں نے یہ دیکھا تو طوعاً کرہاً اٹھے اور پیغمبرؐ کی پیروی میں قربانی ذبح کرکے ایک دوسرے کی تحلیق کرنے لگے۔(1)
واقدی کہتا ہے ابوسعید کہتے تھے کہ عمر نے کہا حدیبیہ کے دن میرے دل میں امر عظیم واقع ہوگیا اور میں نے پیغمبر سے ایسی کج بحثی کی جیسی پہلے کبھی نہیں کی تھی۔(2)
دوسری حدیث میں عمر کہتے ہیں رائے کو دین پر لاددیا گیا تھا،میں پیغمبرؐکی رائے کو رد کر رہا تھا اور حق سے ہٹا نہیں تھا،اسی حدیث میں ہے کہ پیغمبر صلح پر راضی ہوگئے میں نے انکار کیا آخر پیغمبرؐ نے مجھ سے فرمایا عمر میں دیکھتا ہوں کہ میں راضی ہوں اور تم انکار کررہے ہو۔(3)
سہل بن حنیف کہتے ہیں کہ عمر کہتے تھے اے لوگو!اپنی رائے کو دین پر اہمیت دو میں نے صلح حدیبیہ کے دن ابوجندل کو دیکھنے کے بعد یہ سوچا کہ اگر میں پیغمبرؐ کے خلاف کچھ مددگار پاتا تو پیغمبرؐکی بات سے انکار کردیتا۔(4)
ابن اسحاق کی روایت میں ہے کہ ام سلمہ اور نبی کے درمیان یوں گفتگو ہوئی،آپ نے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)صحیح بخاری ج:2ص:978کتاب الشروط،صحیح بن حبان،ج:11ص:225،مصنف لعبدالرزاق،ج:5ص:340،کتاب المغازی
(2)فتح الباری ج:5ص:346،نیل الاوطارج:8ص:200،باب جواز مصالحہ.......
(3)فتح الباری ج:5ص:364،
(4)معجم الکبیرج:6ص:90،اسی طرح دوسرے لفظ میں بھی یہ حدیث نقل ہوئی ہے کہ اگر میں رسول کے حکم کو رد کر پاتا تو رد کر دیتا،معجم الصغیر(للطبرانی)ج:2ص:57،باب المیم(من اسمہ محمد)الفتن نعیم،بن حماد:ج:1ص:93،تاریخ بغدادج:4ص:116،احمد بن حجاج شیبانی کے حالات میں اور تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ تفسیر ابن کثیر،ج:4ص:201،صحیح بخاری ج:3ص:1161،باب الجزیۃ و الموادیہ،باب اسم من عاھد ثم غدر،صحیح مسلم ج:3ص:1412،کتاب الجھاد،والسیر کتاب صلح حدیبیہ
فرمایا:ام سلمہ تم دیکھ رہی ہو کہ میں لوگوں کو حکم دے رہا ہوں اور لوگ میری نافرمانی کر رہے ہیں(1)
ابوالملیح کہتے ہیں کہ لوگوں کی نافرمانی پیغمبر کو بری لگی اور آپ ام سلمہؐ کے پاس آئے آپ نے فرمایا کہ مسلمان ہلاک ہوگئے میں نے انہیں حکم دیا کہ وہ سرمنڈائیں اور قربانی کریں لیکن انھوں نے نہیں کیا۔(3)
12۔اس طرح اختلاف اس وقت بھی ہوا جب متعۃ الحج کو شرعی حیثیت دی گئی ہادی اعظم نے فرمایا کہ جو لوگ قربانی کا جانور نہیں لائے ہیں اپنے حج کو عمرہ سے بدل کے احرام کھول دیں پھر حج کے لئے ایام حج میں احرام کی تجدید کریں،یہ حکم اصحاب کو بہت گراں گذرا اور انہوں نے اس کو بڑا گناہ سمجھا(4)جیسا کہ جابر کی حدیث میں ہے کہ یہ عمل ان کی عادت کے خلاف تھا ایام جاہلیت کے عادی مسلمان یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ اس عمل سے حج اور مشاعر مقدسہ کی بے حرمتی ہوئی ہے نبی کی بات کو رد کردیا اور آپ کے حکم کی ان سنی کر کے ایام جاہلیت کی طرح حج کرنے لگے یہاں تک کہ نبی کو غصہ آگیا۔
جابر سےدوسری حدیث میں مندرجہ ذیل باتیں نقل کی گئی ہیں،ہم لوگ حج کے ارادے سے نکلے تھے تو ماہ ذی الحجہ میں صرف چار دین باقی تھے جب ہم طواف کعبہ کر کے سعی اور رمی جمرات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)فتح الباری ج:5ص:347
(2)فتح الباری ج:5ص:347
(3)فتح الباری ج:5ص:346،نیل الاوطارج:8ص:200،باب جواز مصالحۃ المشرکین
(4)صحیح مسلم ج:2ص:883،سنن کبری بیھقی ج:4ص:356،کتاب الحج،باب المتع فی العمرۃ،سنن کبریٰ(للنسائی)ج:2ص:417،کتاب الحج،مسند احمد ج:3ص:302
بھی کرچکے تو سرکار نے حکم دیا کہ اب احرام کھول دو اور عورتوں کو حلال سمجھو،ہم نے کہا یا رسول اللہؐ اب تو عرفہ کا دن صرف پانچ دن کے فاصلے پر ہے کیا ہم حج کے لئے اس حال میں نکلیں گے کہ منی ہمارے عضو ذکر سے ٹپکتی ہوگی حضرت نے فرمایا میں تم لوگوں سے زیادہ نیک اور سچا ہوں اگر میرے پاس بھی قربانی ہوتی تو میں بھی احرام کھول دیتا،سراقہ بن مالک نے پوچھا یہ حکم صرف اسی سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے آپ نے فرمایا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے۔(1)
برابن عاذب کی حدیث میں ہے کہ سرکار اپنے اصحاب کے ساتھ نکلے ہم نے حج کا احرام باندھا جب ہم مکہ میں پہنچے تو سرکار نے فرمایا اپنے حج کو عمرہ سے بدل دو ہم نے کہا سرکار ہم نے حج کا احرام باندھا ہے اس کو عمرہ سے کیسے بدل دیں فرمایا وہ کردو جو میں کہہ رہا ہوں اصحاب نے آپ کی بات ماننے سے انکار کیا آپ کو غصہ آگیا عائشہ کے پاس آئے،عائشہ نے کہا آپ کو کس نے غضبناک کیا خدا اس کو غضبناک کرے آپ نے فرمایا مجھے کیوں نہ غصہ آئے میں لوگوں کو حکم دیتا ہوں اور لوگ میرا حکم نہیں مانتے۔(2)
پیغمبر کے حکم کے خلاف ان کے دل میں گرہ پڑگئی یہاں تک کہ جب پیغمبر کی وفات ہوگئی اور عمر صاحب تخت سلطنت پر آئے تو ایام جاہلیت کی یہ رسم جاری کردی اور بالا علان رسول کی مخالفت کرنے لگے عمر نے ((متعتہ الحج اور متعتہ النسائ))دونوں کو حرام قرار دیا عثمان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سنن ابن ماجہ ج:2ص:992،کتاب المناسک الحج کے باب میں،اسی طرح صحیح بن جبان ج:9ص:232،باب تمتع،شرح معانی الآثار ج:2ص:192،اسکے علاوہ بھی بہت سی کتابوں میں۔
(2)مسند احمد ج:4ص:286،حدیث برائ بن عازب اور اسی طرح مسند ابی یعلی ج:3ص:233،مسند برائ بن عازب،مجمع الزوائد ج:3ص:233،کتاب الحج باب فسخ الحج الی العمرہ تذکرۃ الحفاظ ج:1ص:115۔116،ابی اسحاق کے حالات میں،سیر اعلام نبلائ ج:5ص:400،ابی بکر بن عیاش کے حالات میں مصباح الزجاجۃ ج:3ص:199،سنن الکبری للنسائی ج:6ص:56،کتاب عمل الیوم و الیلۃ،سنن بن ماجہ ج:2ص:993،کتاب المناسک باب فتح الحج،عمل الیوم و الیلۃ ج:3ص:199،شرح نووی علی صحیح مسلم ج:1ص:115۔116،نیل الاوطار،ج:5ص:62،اور دیگر کتابوں میں بھی۔
اور بعد کے بادشاہ بھی سنت عمر پر عمل کرتے رہے یہاں تک کہ خدا کی شریعت تقریباً برباد ہوگئی۔
محمد بن عبداللہ بن نوفل بن عبدالمطلب کی حدیث میں ہے کہ معاویہ کے ساتھ لوگ ایک سال حج کر رہے تھے تو ضحاک نے کہا اسے نہیں بنایا مگر اس شخص نے جو اللہ کے حکم سے جاہل ہے،سعد بن وقاص نے کہا اے میرے بھائی کے بیٹے تو نے یہ بات غلط کہی ضحاک نے کہا نہیں حج تمتع ہوتا تھا پیغمبر اسلامؐ خود کرتے تھے اور لوگوں کو حکم دیتے تھے عمر نے اپنے دور میں اس کو منع کردیا ورنہ ہم پیغمبرؐ کے ساتھ حج تمتع کرچکے ہیں۔(1)
مطرف کہتے ہیں کہ مجھے عمران بن حصین نے اپنے آخری وقت میں بلایا اور پھر کہا کہ میں تم سے کچھ باتیں کہہ رہا تم کو میرےہوں جو خدا کی طرف سے فائدہ پہونچائیں گی اگرم یں زندہ رہا تو اس کو کسی کے سامنے مت کہنا اگر میں مرگیا تو ان بتوں کو دوسروں کو بتاسکتے ہو بات یہ ہے کہ سرکار نے حج اور عمرہ کو جمع کیا تھا اور اس کے بعد کتاب خدا میں کوئی آیت اس کی ممانعت کی نہیں اتری اور نہ نبی نے منع کیا،اس کو ایک آدمی نے اپنی رائے سے حرام کیا ہے۔(2)
13۔اصحاب کی زبان پر اکثر جاہلیت کے دور کی باتیں جاری ہوجاتی تھیں۔
ابواقدلیثی کہتا ہے کہ جب مکہ فتح ہوا تو سرکارؐ ہمارے ساتھ ہوازن کی طرف بڑھے یہاں تک کہ ہم لوگ ایک بیر کے درخت کے پاس پہونچے یہ وہ درخت تھا جس کی کفار عبادت کرتے تھے اور اس کو ذات انواط ہمارے لئے بھی ہونا چاہئے رسولؐ نے فرمایا اللہ اکبر یہ تو وہی بات ہے جو بنی اسرائیل نے اپنے نبی سے کہی تھی کہ ہمارے لئے بھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)صحیح بن حبان ج:9ص:246حج و عمرہ کے باب میں،اور اسی طرح سنن الترمذی ج:3ص:185،کتاب الھج عن رسول اللہؐ ص:1،باب ما جائ فی التمتع،سنن الکبریٰ للبیہقی ج:5ص:16کتاب الحج جماع ابواب الاختیار فی افرادالحج و التمتع با عمرہ،باب من اختار التمتع،مسند الشافعی ص:218موطا مالک ج:1ص:344،کتاب الحج باب ماجائ فی التمتع مسند الشاشی ج:1ص:210،مسند احمد ج:1ص:173،مسند ابی اسحاق سعد بن ابی وقاص،مسند ابی یعلی ج:2ص:130،مسند سعد بن وقاص و غیرہ میں
(2)صحیح مسلم ج:2ص:899کتاب حج،باب جواز التمتع اور اسی طرح طبقات الکبریٰ ج:4ص:290،حالات عمران بن حصین میں،مسند احمد ج:4ص:428،حدیث عمران بن حصین
ایک خدا بنادے جیسا کافروں کے لئے خدا ہے موسیؑ نے جواب دیا تھا تم جاہل لوگ ہو،رسولؐ نے فرمایا یا تم لوگ اپنے سابق لوگوں کے طریقوں پر ضرور چلوگے۔(1)
در منشور میں ہے ہم لوگ ایک درخت سے ہوکے گذرے جو بیرکا تھا اور کفار قریش اپنے ہتھیار اس پر لٹکایا کرتے تھے اسی لئے اسے ذات انواط کہتے تھے اس درخت کی کفار خدا کو چھوڑ کے پرستش بھی کرتے تھے جب سرکار ادھر سے گذرے تو آپ نے اس کو چھوڑ کے اس سے کم سایہ دار جگہ پر بیٹھے،حالانکہ دن بہت گرم تھا اسی وقت ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ ہمارے لئے بھی ایک ذات انواط ہوتا جیسا کفار کے لئے ہے۔(2)
ابوعاصم کے الفاظ ہیں پیغمبرؐ کے ساتھ حنین کی طرف جارہے تھے اور ہم لوگ نئے نئے مسلمان ہوئے تھے اصل میں ہم لوگ فتح مکہ کے دن مسلمان ہوئے تھے پس ہم ایک درخت سے ہوکے گذرے تو ہم نے کہا۔(3)
14۔جب سرکار ھوازن کے اسیروں کو واپس کرچکے اور اپنی سواری پر بیٹھے تو لوگوں نے انہیں گھیر لیا اور کہنے لگے مال غنیمت میں ہمارا حصہ دیجئے لوگ پیغمبر کو کھینچ کے ایک ببوک کے نیچے لے گئے اتنا ہجوم ہوا کہ ردا آپ کے دوش مبارک سے گرگئی حضرت نے تنگ آکے فرمایا اے لوگو!ہماری ردا تو واپس کرو خدا کی قسم اگر تہامہ کے درختوں کے تعداد کے برابر بھی ہو تو اس کو میں تقسیم کروں گا اور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)صحیح بن حبان ج:15ص:94،اس باب میں کہ یہ امت اپنے پہلے والوں کا اتباع کرے گی۔
(2)در منشور:ج:3ص:114ابن ابی حاثم و ابن مدوبۃ اور طبرانی کی تفسیر آیت((و جاوزنا بنی اسرائیل))میں بیان کیا گیا ہے
(3)سنن بن ابی عاصم ج:1ص:37،باب فیما اخبربہ النبی ان امتہ ستفترق علی اثنتین و سبعین فرقۃ و ذمہ الفرق کلھا،اور تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ،سنن الکبریٰ نسائی:ج:6ص:346،کتاب تفسیر سورہ اعراف(فاتو علی قوم)کے ذیل میں،سنن ترمذی ج:4ص:475،باب ما جائ لترکبن سنن من کان قبلکم،مصنف ابن ابی شیبۃ ج:7ص:479،کتاب الفقن،باب من کرہ الخروج فی الفتنۃ...،مسند الحمیدی ج:2ص:375،الجامع(ازری)ج:11ص:369،باب سنن من کان قبلکم،مسند احمد ج:5ص:218،ابی الواقد لیثی کی حدیث میں۔
نہ بخالت کروں گا نہ ڈروں گا اور نہ ہی جھوٹ بولوں گا پھر آپ اپنے اونٹ کے قریب گئے اور اس کی پیشانی سے ایک بال اکھیڑا اسے آپ نے اپنے بیچ کی انگلی اور برکت کی انگلی کے درمیان رکھ کے مجمع کو دکھایا پھر فرمایا اے لوگو!مال میں میرا تو اس بال کے برابر بھی حصہ نہیں ہے یہ صرف خمس ہے اور وہ خمس بھی میں تم کو واپس کر رہا ہوں۔(1)
15۔جب حنین کا مال تقسیم ہونے لگا تو آپ نے قریش کے نئے مسلمانوں کا دل جیتنے کے لئے کچھ زیادہ مال دیدیا اس بات پر انصار بگڑ گئے اور آپس میں باتیں کرنے لگے حضرت کو غصہ آگیا آپ انصار کے درمیان تشریف لے گئے اور خطبہ دیا پھر آپ نے انہیں اپنے اخلاق اور اپنی دل پذیر باتوں سے راضی کرلیا۔(2)
16۔آخر عمر میں سرکار نے اسامہ بن زید کی سرداری میں ایک لشکر ترتیب دیا جس میں مہاجرین و انصار شامل تھے۔(4)
ہشام بن عروہ کہتا ہے:جیش اسامہ کے ساتھ نمایاں افراد اور بہترین لوگ مدینہ سے باہر نکل گئے۔(4)
اسی جیش اسامہ میں ابوبکر عمر اور ابوعبیدہ بن جراج بھی شامل تھے اور ان کے والد شہید
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)مسند احمدج:2ص:184،سنن کبریٰ(للنسائی)ج:4ص:120،کتاب الھبہ،سیرہ نبویہ(لابن ہشام)ج:5ص:168،مجمع الزوائد ج:5ص:338۔339،کتاب الجھاد ما جائ فی الغلول،تاریخ طبری ج:2ص:174۔175،سنن کبری(للبیہقی)ج:6ص:336،باب التسویۃ فی الغنیمۃ
(2)مصنف ابن ابی شیبۃ ج:7ص:418۔419،کتاب المغازی غزوہ حنین،مجمع الزوائد ج:10ص:29۔30۔31،کتاب المناقب فضائل انصار میں،معجم الکبیر ج:7ص:151،جامع(ازدی)ج:11ص:64،باب فضائل انصار و غیرہ،اور مختصر طور پر ذکر ہوا ہے،صحیح بخاری ج:4ص:1573،کتاب المغازی باب غزوہ الطائف،صحیح مسلم ج:2ص:738،کتاب الزکوٰۃ باب اعطائ المولفۃ سنن الکبری(للبیھقی)ج:6ص:339،باب سہم اللہ
(3)طبقات الکبری ج:2ص:249،
(4)طباقات الکبری ج:4ص:67۔68،تاریخ دمشق ج:8ص:62،اسامہ بن زید کے حالات میں
ہوئے تھے مذکورہ بالا لوگ اسامہ کی سرداری پر اعتراض کرنے لگے خبر پیغمبرؐ تک پہنچی آپ ممبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا خدا کی قسم اگر تم کو اسامہ کی سرداری پر اعتراض ہے تو کل تم اس کے باپ کی سرداری پر بھی اعتراض کرچکے ہو اگر اس کا باپ سرداری کی صلاحیت رکھتا تھا تو یہ بھی سرداری کی صلاحیت رکھتا ہے۔(1)
پھر آپ نے مرض ہی کی حالت میں اس لشکر کو روانگی کی تاکید فرمائی(2) اور جو اس لشکر سے منھ موڑے اس کو ناطق صادق نے ملعون قرار دیا لیکن صحابہ پہلو تہی کرتے رہے اور لشکر نہیں جاسکا یہاں تک کہ سرکار کی وفات ہوگئی(3)
17۔حضور نے ارادہ کیا کہ آخری وقت میں اپنی امت کے لئے ایک تحریر لکھیں تا کہ لوگ گمراہی سے بچیں لوگوں نے اس میں بھی نبی کی مخالفت کی اور تحریر نہیں لکھنے دی۔
ابن عباس کہتے ہیں جب سرکار کا آخری وقت آیا اس وقت آپ کے حجرے میں کچھ لوگ موجود تھے جس میں عمر بھی تھے نبی نے فرمایا لاؤ میں ایک تحریر لکھ دوں کہ تم لوگ کبھی میرے بعد گمراہ نہیں ہوگے عمر نے کہا خبردار کچھ مت دینا نبی پر درد کا غلبہ ہے تمہارے پاس قرآن موجود ہے اور ہمارے لئے کتاب خدا کافی ہے گھر میں جو لوگ موجود تھے ان میں اختلاف ہوگیا کچھ لوگ کہتے تھے دے دینا چاہئیے کچھ لوگ عمر کی تائید کرنے لگے جب جھگڑا بہت بڑھا تو آپ نے فرمایا تم لوگ یہاں سے اٹھ جاؤ۔
عبیداللہ کہتا ہے کہ ابن عباس کہا کرتے تھے سب سے بڑی مصیبت اس دن آئی جب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(3)طبقات الکبری ج:2ص:249،سیرۃ نبویہ ج:6ص:65
(2)طبقات الکبری ج:4ص:67،صحیح بخاری ج:3ص:1365،کتاب فضائل الصحابہ،باب مناقب زید بن حارث،ج:4ص:1620کتاب المغازی،باب بعثت النبی،مصنف بن ابی شیبۃ،ج:7ص:415،غزوہ موطا،طبقات الکبری،ج:2ص:249،و غیرہ
(3)الملل و النحل(شہرستانی)،ج:1ص:23،چوتھے مقدمہ میں،شرح نہج البلاغہ،ج:6ص:52
لوگوں نے نبی کو تحریر نہیں لکھنے دی اور آپس میں جھگڑا کرنے لگے۔(1)
دوسری حدیث میں ہے کہ مسلمان لڑنے جھگڑنے لگے اور نبی کے پاس لڑائی جھگڑا نبی کی شان کے خلاف ہے مگر مسلمان کہنے لگے پیغمبر معاذ اللہ ہذیان بک رہے ہیں آپ نے فرمایا مجھے چھوڑ دو(2) خدا کی قسم میری حالت تم سے بہت بہتر ہے اس کے علاوہ بھی بہت سی باتیں ہوئیں جن کے بیان کی گنجائش نہیں ہے۔
18۔اصحاب کا جنگ احد اور جنگ حنین اور خیبر سے فرار اور جنگ احزاب میں نبی کی مدد سے انکار یہ سب کہانیاں تو بہت مشہور و معروف ہیں۔
19۔اسی طرح بعض اصحاب کا مرتد ہوجانا اس لئے کہ جمہور مسلمین میں صحابی اس کو کہتے ہیں جو پیغمبر کو دیکھے اور ان کی حدیث سن لے،اشعث بن قیس جیسے لوگ جو بعد میں مرتد ہوگئے سب صحابی ہی تھی۔
صحابہ کا انفرادی اور غیرمناسب کردار بھی ان کی تقدیس کی نفی کرتا ہے
دوسری قسم:وہ انفرادی اعمال جو کسی ایک صحابی یا صحابہ سے سرزد ہوئے بہت سے ہیں جن کی حکایت قرآن کرتا ہے۔
1- وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُن لَّهُمْ شُهَدَاء إِلَّا أَنفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ (٦) وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَيْهِ إِن كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ (٧) وَيَدْرَأُ عَنْهَا الْعَذَابَ أَنْ تَشْهَدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ (٨) وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّهِ عَلَيْهَا إِن كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ( 9 )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)صحیح مسلم ج:3ص:1259۔،کتاب الوصیۃ،باب ترک الوصیۃ
(2)صحیح بخاری ج:3ڈ:1111،کتاب الجہاد و السیر باب یقاتل عن اہل الذمۃ(3)سورہ نور:آیت:9،8،7،6
ترجمہ:جو لوگ اپنی بیویوں پر تہمت لگاتے ہیں اور ان کا گواہ سوائے ان کے اپنے نفس کے کوئی نہیں ہے تو چار بار یہ کہیں گے کہ خدا گواہ ہے کہ وہ سچے ہیں اور پانچویں بار کہیں گے کہ اگر وہ جھوٹے ہیں تو ان پر خدا کی لعنت اور اس عورت کو سزا نہیں دی جائےگی جو اپنے شوہر کے جواب میں چار مرتبہ کہےگی کہ خدا گواہ ہے کہ وہ جھوٹا ہے اور پانچویں بار کہےگی کہ اگر وہ سچا ہے تو اس(بیوی)پر خدا کا غضب آئے۔
یہ عظیم آیتیں اسی وقت نال ہوئیں جب بعض صحابہ نے اپنی بیویوں پر الزام لگایا کہ ان کی بیوی کے ساتھ ایک مسلمان این ہی کے گھر میں زنا کررہا تھا جب آیتیں نازل ہوئیں تو لعن کا سلسلہ چلا۔(1)
لعان کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں اگر لعان کرنے والا اپنے دعوے میں سچا ہے تو اس کا مطلب ہوا کہ صحابہ نے ایک صحابی کو اپنے گھر میں داخل کیا اور اس صحابی نے اس کے ساتھ زنا کیا پھر وہ صحابیہ اسی پر اکتفا نہیں کرتی بلکہ چار مرتبہ خدا کو جھوٹی گواہی میں پیش کرتی ہے اور پانچویں بار خود کو خدا کے غضب کے لئے پیش کرتی ہے اور اگر صحابی صاحب جھوٹے ہیں تو ملاحظہ فرمائیے،ان کا کردار اللہ کہہ رہا ہے۔
إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ(1)
ترجمہ:جو لوگ پاک دامن اور مومن عورتوں پر زنا کی تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں خدا کی لعنت ہے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)تفسیر طبری ج:82۔83۔84۔85۔تفسیر ابن کثیر ج:3ص:266۔267۔268،صحیح بخاری ج:4ص:1771،کتاب التفسیر باب تفسیر سورہ نور،صحیح مسلم ج:2ص:1133،کتاب اللسان و غیرہ۔
(2)سورہ نور:آیت:23
وہ صحابی صاحب اسی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ چار مرتبہ اپنے جھوٹ میں خدا کو گواہ بناتے ہیں اور پانچویں بار خود پر خدا کی لعنت گورا کرلیتے ہیں۔
2-((ولا تجادل عن الذین یختانون انفسهم ان الله لا ٰهب من کان خو انا اثیما))(1)
ترجمہ:آپ ان لوگوں کی طرف سے جنگ نہ کریں جو اپنے نفس سے خیانت کرتے ہیں خدا کسی بھی خیانت کرنے والے اور گنہکار آدمی کو پسند نہیں کرتا۔
یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب ایک صحابی نے دوسرے صحابی کا مال ہڑپ لیا حالانکہ حقیقت کچھ اور تھی پھر نبی کے پاس شکایت پہنچی تو نبی کو مجبور کیا گیا کہ وہ شکایت کرنے والوں کو سزا دیں لیکن آیت نے آکر پول کھول دی اور مظلوم کی نصرت کا پتہ جو شکایت لے کر آیا تھا وہی ظالم تھا۔(2)
3۔دوسری جگہ ارشاد ہوا((یا ایها الذین امنوا ان جاءکم فاسق بنبا فتبیّنوا ان تصیبو قوماً بجهالة فتصبحوا علی ما فعلتم نادمین)) (3)
ترجمہ:اے ایمان لانے والو!جب کوئی فاسق خبر لے آئے تو فوراً ہی مت یقین کرلیا کرو بلکہ اس خبر کی جانچ پڑتال کرلیا کرو ورنہ تم کسی قوم کے لئے مصیبت بن جاؤگے پھر اپنے کئے پر پچھتاتے رہوگے۔
یہ آیت ولید بن عقبہ بن ابی معیط کے بارے میں نازل ہوئی ہے سنی مسلمانوں کی صحابیت کی تعریف کے دائرے میں یہ بھی آتے ہیں ہوایوں کہ سرکار دو عالم نے ولید بن عقبہ کو قبیلہ نبی مصطلق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ نسائآیت:107
(2)تفسیر قرطبی ج:5ص:375۔376،تفسیر طبری ج:5ص:276۔265266،تفسیر ابن کثیر ج:1ص:553۔552،سنن ترمذی ج:5ص:224
(3)سورہ حجرات:آیت:6
میں صدقات وصولنے بھیجا ولید بن عقبہ اس قبیلہ سے کینہ رکھتے تھے آپ وہاں گئے اور پھر خالی ہاتھ واپس آکے خبر دی کہ وہ لوگ تو مرتد ہوگئے ہیں۔
کوشش یہ تھی کہ نبی اور اصحاب نبی اس قبیلہ پر ٹوٹ پڑیں اور انہیں قتل کرڈالیں پس یہ آیت نازل ہوئی تا کہ ولید بن عقبہ کی پول کھل جائے اور قبیلہ نبی مصطلق کی جان بھی بچ جائے(1) یہ صاحب یعنی ولید بن عقبہ ایک بار مولائے کائنات سے مفاخر کرنے لگے مولائے کائنات نے کہا اے فاسق خاموش رہ مولائے کائنات کی تصدیق کرتے ہوئی یہ آیت نازل ہوئی۔
((افن کان مومنا کمن کان فاسقاً لایستوون))(2)
ترجمہ:کیا مومن اور فاسق برابر ہوسکتے ہیں۔
مندرجہ بالا دونوں ہی آیتیں ولید بن عقبہ کے فسق پر دلالت کرتی ہیں اور فسق بہت بڑی بیماری ہے ابھی تو اس طرح کی بہت سی آیتیں ہیں جو ان کے اصحاب کے نقاب کشائی کرتی ہیں جنھیں اہل سنت حضرات صحابی کہتے ہیں اور ان کی بد کرداری کا انکار کرتے ہیں جن کے تذکرہ کی یہاں گنجائیش ہے ویسے آگے چل کے ہم کچھ اور آیتیں بھی مقام مثال میں پیش کریں گے۔
4۔غزوہ بدر کے دن سرکار دو عالمؐ نے اپنے اصحاب کو بتایا تھا کہ بنی ہاشم اور دوسرے قبیلے کے کچھ لوگ جنگ بدر میں کفار قریش کے مجبور کرنے پر ہمارے مقابلے میں آگئے ہیں اس لئے ایسے لوگوں کو قتل نہ کرنا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)تفسیر ابن کثیرج:4ص:210،مجمع الزوائدج:7ص:109۔110۔111،سنن کبری(للبیہقی)ج:9ص:54،کتاب السیر،باب قسمۃ الغنیمۃ فی دارالحرب،مسند اسحاق بن راھوتہ،ج:1ص:118۔119،الاحاد و المثانی،ج:4ص:310،309،معجم الکبیر،ج:3ص:273،طبقات الکبریٰ،ج:2ص:161،الاصابۃ،ج:4ص:561،القمہ بن ناجیہ کے حالات میں
(2)تفسیر قرطبی کی طرف مراجع کریں ج:14ص:105،تفسیر قرطبی ج:21ص:107،تاریخ دمشق،ج:63ص:235،ولید بن عقبہ کے حالات میں،الکامل فی الضعفائ الرجال،ج:6ص:118،محمد بن سائب کلبی کے حالات میں،تایخ بغداد،ج:13ص:321،نوح بن خلو کے حالات میں،فضائل الصحابۃ لابن حنبل،ج:2ص:610
بنی ہاشم میں سے اگر تمہارا کسی سے مقابلہ ہو تو اس کو جان سے مت مارنا۔
عباس بن عبدالمطلب جو پیغمبرؐ کے چچا تھے ان کو بھی جنگ میں مارنا نہیں اس لئے کہ وہ آنے پر مجبور کئے گئے ہیں ابوخدیجہ ابن عتبہ ابن ربیعہ نے کہا(کیا خوب انصاف ہے)ہم اپنے باپ،بیٹے،بھائی اور قبیلہ کو قتل کروادیں اور عباس کو چھوڑ دیں خدا کی قسم میں تو نہیں چھوڑوں گا اگر وہ ہمارے سامنے آگئے تو انہیں تلوار کا مزہ ضرور چکھاؤں گا روایت ہے کہ یہ جملہ سن کے عمر نے پیغمبرؐ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ یہ شخص کافر ہوگیا ہے آپ حکم دیں تو اس کی گردن ماردوں۔(1)
5۔کہتے ہیں کہ ایک آدمی اپنی چچازاد بہن سے جو نبی کی بیوی تھیں بات کرنے لگا،نبی نے اس کو منع کیا کہ آئندہ وہ بات نہ کرے اس نے کہا اب کیا محمد چچازاد بہنوں سے پردہ کرائیں گے،خود تو ان سے نکاح کئے بیٹھے ہیں اگر نبی مرگئے تو ہم ان کی بیوی سے نکاح کریں گے اس سلسلے میں آیت نے آکے ان صحاب کو ڈانٹا،ارشاد ہوا:
وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعاً فَاسْأَلُوهُنَّ مِن وَرَاء حِجَابٍ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ وَمَا كَانَ لَكُمْ أَن تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ وَلَا أَن تَنكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِن بَعْدِهِ أَبَداً إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِندَ اللَّهِ عَظِيماً(2)
ترجمہ:جب تم ان سے کوئی سامان مانگو(یعنی نبی کی عورتوں سے)تو پردے کے پیچھے سے مانگو اس سے تمہارے دل بھی پاک رہیں گے اور ان کے دل بھی اور تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ تم نبی کو اذیت دو اور نہ یہ کہ نبی کے بعد نبی کی بیویوں سے کبھی بھی نکاح کرو یہ خدا کے نزدیک گناہ عظیم ہوگا۔
بے شمار روایتوں میں بات آئی ہے کہ جس بیوی کا تذکرہ وہ عائشہ ہیں اور جسے روکا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)طبقات الکبری ج:4ص:10۔11،تفسیر ابن کثیر،ج:2ص:327،328،آیہ کریمہ(ما کان لنبی)کی تفسیر میں،سیرہ نبویہ لابن ہشام ج:3ص:177،تاریخ طبری ج:2ص:34،الثقات ج:1ص:161،السنۃ الثانیۃ من الھجرۃ۔
(2)سورہ احزاب:آیت:53
ہے وہ صحابی پیغمبر طلحہ ہیں جو عائشہ کے چچازاد بھائی تھے۔(1)
6۔ایک صحابی رسول سنی حضرات کی نیک تعریف کے مطابق ذوالخویصرۃ بھی ہیں ابوسعید حذری سے ان کے بارے میں سنئے ابوسعید حذری کہتے ہیں ہم نبی کے پاس بیٹھے تھے اور آتے ہی کہنے لگا خدا کے رسول انصاف کریں،انصاف کریں پیغمبرؐ نے فرمایا تم پروائے ہو میں انصاف نہیں کروں گا تو کون کرےگا اگر انصاف نہی کروں گا تو ناکام ہوں گا اور گھاٹا اٹھاوں گا،عمر بن خطاب نے کہا سرکار آپ اجازت دیں تو اس بدتمیز کی گردن اڑادوں!آپ نے فرمایا عمر اس کو چھوڑ دو آئندہ زمانے میں اس کے اصحاب کی نمازیں دیکھ کے تم اپنی نمازوں کو حقیر سمجھوگے یہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کی زبان پر ہوگا حلق سے نیچے نہیں اترےگا یہ لوگ اسلام سے یوں نکل چکے ہوں گے جیسے کمان سے تیر نکل جاتا ہے(2)
دوسری روایت میں ہے کہ اس نے کہا خدا کے رسول میں نے آپ کو عادل سمجھا ہی نہیں(3)
7۔یہ سیف اللہ خالد بن ولید ہیں ذرا انہیں بھی پہچانئے،فتح مکہ کے بعد ہادی برحق نے خالد بن ولید کو نبی جذیمہ کے پاس بھیجا سالم اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں خالد ین ولید کو نبی نے بنو جذیمہ کے پاس بھیجا یہاں انہوں نے نبی جذیمہ کو اسلام کی طرف بلادیا وہ بیچارے یہ نہ کہہ سکے کہ ہم اسلام لائے انھوں نے اپنی لغت میں کہا کہ صبانا۔ہم نے شوق کیا با ہم مشتاق ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)فتح القدیر ج:4ص:299،300،وزادالمسیر ج:6ص:416آیت کی تفسیر میں،تفسیر ابن کثیر،ج:3ص:506۔507،روح المعانی،ج:22ص:69،در منشورج:5،ص:214،آیت(وما کان لکم ان توزو)کی تفسیر میں
(2)صحیح مسلم ج:2ص:744،کتاب الزکوٰۃ باب ذکر الخوارج و صفات ہما،صحیح بخاری ج:3ص:1321،کتاب المناقب،باب علاماۃ النبوۃ فی الاسلام،سنن کبریٰ(للبیہقی)ج:8ص:171،کتاب قتال اہل البغی،سنن کبریٰ(نسائی)ج:5ص:159،کتاب الخصائص۔
(3)مجمع الزوائد ج:6ص:228،کتاب قتال اہل البغی،باب ما جائ فی الخوارج،مسند احمد،ج:2ص:219،السنۃ لابن ابی عاصم،ج:2ص:453۔454،باب المعرکۃ و الحروریۃ،السنۃ لعبداللہ بن احمد،ج:2ص:632،تاریخ طبری ج:2ص:176فتح الباری ج:12ص:292،کتاب قتال اہل البغی۔
بہرحال خالد بن ولید کو بہانہ مل گیا اور انہوں نے ان مظلوموں کو قتل کرنا شروع کردیا۔
ان کے کہنے سے لوگوں کو گرفتار کر کے ہر مسلمان کو ایک ایک اسیر دیا جب صبح ہوئی تو انھوں نے حکم دیا کہ جس کے حوالے کیا گیا ہے وہ اپنے اسیر کو قتل کرڈالے میں نے کہا(یعنی سالم کے باپ نے)کہ میں اپنے قیدی کو قتل نہیں کروں گا اور ہمارے کچھ اصحاب نے بھی کہا کہ وہ قیدیوں کو قتل نہیں کریں گے،ہم جب نبی کی خدمت میں پہنچے اور پوری صورت حال بتائی تو نبی نے دو مرتبہ دعا کے لئے ہاتھ اٹھادئے اور فرمایا مالک!خالد نے جو کچھ کیا میں اس سے بری ہوں۔(1)
یہ واقعہ دوسرے طریقہ سے بھی نقل کیا گیا ہے۔
وہ یہ کہ خالد بن ولید کو نبی نے بنوجذیمہ کے پاس بھیجا کہ وہ ان سے جنگ کریں بلکہ اسلام کی دعوت دیں بنوجذیمہ نے خالد کے چچا فاکہہ عوف اور ابوعبدالرحمٰن بن عوف کو دعوت دی بنوجذیمہ خالد سے انتقام کے لئے بے چین تھے۔جب یہ اس قبیلہ کے پاس پہنچے تو انہوں تو تلوار اٹھائی خالد نے کہا سب لوگ مسلمان ہوچکے ہیں تم لوگ بھی ہتھیار رکھدو ان لوگوں نے ہتھیار رکھ دئیے اب خالد نے ان تمام لوگوں کو باندھ دیا اور تلوار کی دھار پر رکھدیا اور ان کے بہت سے لوگوں کو مارڈالا جب یہ خبر ہادی برحق کو پہنچی تو آپ نے دعا کے لئے آسمان کی طرف ہاتھ اٹھائے اور فرمایا پالنے والے میں خالد بن ولید کے عمل سے بری ہوں۔(2)
خالد کی اس حرکت پر عاصم صحابہ نے بھی ان کو برا بھلا کہا عبدالرحمن بن عوف اور خالد کے درمیان اس موضوع پر بات ہوئی و عبدالرحمٰن نے خالد سے کہا تم نے جاہلیت کے خون کا انتقام اب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)صحیح بخاری ج:4ص:1577،کتاب المغازی،باب بعثت النبی،سنن کبریٰ للنسائی ج:3ص:474،کتاب القطاء،سنن کبریٰ بیہقی،ج:9ص:115،کتاب السیر،باب المشرکین لصلمون،المصنف لعبد الرزاق،ج:5ص:221۔222،باب دعاء العدو،صحیح بن حبان،ج:11ص:53،کتاب السیر،مسند احمد،ج:2ص:150
(2)طبقات الکبریٰ ج:2ص:148،سیرہ نبویہ ابن ہشام ج:5ص:94۔98،سیر اعلام النبلاء،ج:1ص:370،371،خالد بن ولید کے حالات میں تاریخ طبری ج:2ص:163(فتح مکہ)
لیا یہ غلط ہے تم نے اپنے چچا فاکہہ کے بدلے میں ان لوگوں کو قتل کیا خدا تمہیں قتل کرے عمر نے بھی اعتراض کیا خالد کہنے لگے ہم نے تو تمہارے باپ کے بدلے میں انہیں قتل کیا ہے عبدالرحمٰن قتل کیا ہے عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا تم جھوٹے ہو۔
میں تو اپنے باپ کے قاتل کو اپنے ہاتھ سے قتل کرچکا ہوں اور اگر انہیں قتل کیا تو بھی تمہیں حق نہیں تھا کہ تم مسلمان قوم کو میرے اس باپ کے بدلے میں قتل کرو جو جاہلیت کے دور میں تھا۔خالدنے کہا یہ کس نے کہا کہ وہ مسلمان ہوچکے تھے عبدالرحمٰن نے کہا اہل سر یہ(لشکر والوں)نے بتایا خالد بولے مجھے تو پیغمبرؐ نے حکم دیا تھا کہ ان پر غارت گری کروں،سومیں نے کردی یہ سن کے عبدالرحمٰن نے کہا کہ تو رسولؐ پر جھوٹ کیوں باندھتا ہے اور نبی نے بھی اس سے منھ موڑلیا اور غضبناک ہوئے۔(1)
8۔مذکورہ واقعہ پر میں خالد بن ولید اور عبدالرحمٰن بن عوف میں اچھی خاصی گالی گلوج ہوئی۔(2)
9۔عمار یاسر اور خالد میں بھی کافی گالیاں بکی گئیں(3) خالد کہتے ہیں کہ میں نے پیغمبرؐ سے عرض کیا حضور آپ نے ہوتے تو سمیہ کے بیٹے کی مجال نہیں تھی کہ مجھے گالی دیدتا آپ نے فرمایا خالد کو جو عمار کو گالی دے خدا اس کو گالی دےگا اور جو عمار کو حقیر سمجھے ہیں اللہ اس کو حقیر کرےگا۔(1)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سیرہ اعلام نبلاءج:1ص:370،۔371،خالد بن ولید کے حالات میں،سیرہ نبویہ ابن ہشام ج:5ص:97،تاریخ طبری ج:2ص:164۔165،تاریخ دمشق ج:16ص:234،خالد بن ولید کے حالات میں
(2)صحیح مسلم ج:4ص:1967،کتاب فضائل الصحابہ،باب تحریم سب الصحابہ،صحیح بن حبان،ج:15ص:455،فتح الباری ج:7ص:34۔35،عون المعبود،ج:12ص:269،مسند ابی یعلی، ج:2ص:396،مسند ابی سعید خدری،ص:228،باب الادب،البیان و التعریف،ج:2ص:278،(حرف لا)تحفۃ الاحوزی،ج:10،ص:245،باب فی سب اصحاب النبی،تغلیق التعلیق،ج:4ص:59۔
(3)تفسیر طبری،ج:5ص:148،سورہ نسائ آیہ(اطیعوا اللہ.....)کی تفسیر میں،ابن کثیر،ج:1ص:519،سورہ نسائ آیہ(اطیعوا اللہ.....)
(1)المعجم الکبیرج:4ص:113،مجمع الزوائد،ج:9ص:294،کتاب المناقب باب فی فضائل عمار بن یاسر و اہل بیتہ،المستدرک علی صحیحین،ج:3ص:441،کتاب معرفۃ الصحابۃ ذکر مناقب عمار بن یاسر
10۔بنی یربوع کا وقعہ بھی کوئی چھپی بات نہیں ہے خالد نے مالک بن نویرہ کو قتل کر کے ان کی بیوی سے اسی شب میں نکاح کیا اور ان سے جب معافی مانگنے اور توبہ کرنے کو کہا گیا تو وہ تیار نہیں ہوئے صحابہ کی ایک جماعت اس بات پر بہت غضب ناک ہوئی اب اس درندگی کا مختصر تذکرہ ابوفتادہ سے سنئے،وہ تمام واقعات کے عینی شاہد ہین ابوفتادہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ خالد کی سرکردگی میں اصحاب ردہ تک پہنچے اس وقت سورج ڈوب رہا تھا اس نے پوچھا بھائی آپ لوگ کون ہیں ہم نے کہا ہم سب خدا کے بندے ہیں وہ بولے اسی خدا کے بندے تم ہم بھی ہیں لیکن خالد بن ولید نے انہیں قید کرلیا اور رات بھر باندھے رکھا صبح کے وقت حکم دیا کہ سب کی گردنیں ماردی جائیں میں نے کہا خالد خدا سے ڈرو ان کا خون تمہارے لئے حلال نہیں ہے خالد نے کہا چپ بیٹھو تم کو اس سے کوئی مطلب نہیں ہے،راوی کہتا ہے کہ ابوفتادہ نے اس کے بعد قسم کھائی کہ وہ کسی غزوے میں خالد کے ساتھ شریک نہٰں ہوں گے۔(1)
اس واقعہ پر عمر بن خطاب نے ابوبکر سے بہت بحث کی اور صاف کہہ دیا کہ خالد کو سزا ملنی چاہئے لیکن ابوبکر نے کہا انہوں نے(خالد)تاویل میں غلطی کی ہے مالک ابن نویرہ کا خوں بہا دیا جائے اور ان کی عورتوں کو آزاد کردیا جائے۔
خالد جب یہ کارنامہ انجام دے کے پہنچے تو مسجد نبوی میں عمر بھی موجود تھے خالد اس شان سے پہنچے کہ ان کے جسم پر ایک قبا تھی اور اپنے عمامے میں تیز کھونسے ہوئے تھے عمر اٹھ کے ان کے عمامے سے تیز نکال کے چل دئیے اور پھر بری طرح ڈانٹا کہ تو ایک مسلمان کو قتل کر کے اور اس کی بیوی سے زنا کرکے آرہا ہے خدا کی قسم میں تجھے سنگسار کروں گا لیکن عمر آخر تک خالد کا کچھ نہیں بگاڑسکے،اس لئے کہ ابوبکر مسلسل ان کی جانبداری کررہے تھے۔(2)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)المصنف لعبد الرزاق ج:10ص:173،کفر بعد الایمان
(2)تاریخ طبری ج:2ص:272،اعلام النبلاءج:1ص:378،خالد کے حالات میں،الاصابۃ،ج:5ص:755،مالک بنن نویرہ کے حالات میں
11۔جب ابوبکر کی وفات ہوگئی تو عمر ان کی جگہ تخت حکومت پر بیٹھے انہوں نے اپنی خلافت کا سب سے اہم کام خالد کو معزول کرنا سمجھا اور یہ کہہ دیا کہ ہماری طرف سے خالد کو کبھی کوئی ذمہ داری نہیں دی جائے گی عمر نے ابوعبیدہ کو لکھا کہ اگر خالد خود کو جھٹلائیں تو ان کی امارت نبی رہےگی ورنہ تم ان سے امارت لے لینا ان کا عمامہ اتار لینا اور ان کا مال تقسیم کردینا ابوعبیدہ نے مرکز کا حکم پرھ کے خالد کو سنایا تو خالد نے اپنی بہن فاطمہ سے جو حارث بن ہشام کی بیوی تھیں مشورہ کیا بہن نے کہا بھائی آپ کو معلوم ہے کہ عمر آپ کو شروع سے ناپسند کرتے ہیں ان کا ارادہ صرف یہ ہے کہ آپ اپنا گناہ قبول کرلیں پھر وہ آپ کو معزول کردیں گے خالد نے فاطمہ کے سر کا بوسہ لیا اور کہا نہیں تم ٹھیک کہتی ہو پس خالد نے خود کو جھٹلانے سے انکار کیا ابوعبیدہ نے ان کا عمامہ اتار لیا اور ان کا مال تقسیم کردیا۔(1)
12۔غزوہ ذات السلاسل میں ابوعبیدہ نے لشکر کی سرداری عمروبن عاص کو دےدی یہ بات عمر کو بہت گراں گذری عمر نے ابوعبیدہ سے کہا کیا تم ابن نابغہ کی اطاعت کروگے؟اور اس کو خود پر،مجھ پر اور ابوبکر پر امیر بنادوگے یہ تو اچھی رائے نہیں ہے۔(2)
13۔مسروق عائشہ سے روایت کرتے ہیں کہ عائشہ کو یہ بتایا گیا کہ علی علیہ السلام نے ذوالثدیہ کو قتل کردیا۔
عائشہ نے کہا جب میں کوفے پہنچوں تو کوجہ میں جن لوگوں کو تم جانتے ہو ان میں سے کچھ لوگوں کی اس واقعہ پر گواہی لکھ لینا جب میں کوفہ پہنچا تو بہت سے لوگوں کو ملا کر میں نے ہر گروہ میں سے دس دس آدمیوں کی گواہی لکھی اور عائشہ نے کہا خدا لعنت کرے عمر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)تاریخ طبری ج:2ص:357۔356،الکامل فی التاریخ،ج:2ص:427،تاریخ دمشق،ج:16ص:268،خالد بن ولید بن مغیرہ کے حالات میں
(2)المصنف لعبد الرزاق ج:5ص:453۔454،کتاب المغازی،غزوہ ذات السلاسل،تاریخ دمشق ج:2ص:25
بن عاص پر اس نے ہمیں بتایا تھا کہ اس نے دوالثدیہ کو مصر میں مارا ہے۔(1)
14۔عمر کے دور خلافت میں زبیر نے جہاد پر نکلنے کی اجازت چاہی عمر نے منع کیا اور کہا کہ آپ تو پیغمبر کی سرداری میں جہاد کر ہی چکے ہیں یہ سن کے زبیر غصہ ہوئے اور منھ پھلایا عمر نے کہا اگر میں نہ بند کروں تو امت محمد ہلاک کردے۔(2)
15۔عمان بن حنیف اور عمر میں بحث ہو رہی تھی حالانکہ عثمان بن حنیف عمر کے گورنر تھے عمر کو غصہ آیا اور انہوں نے ایک مٹھی کنکر اٹھا کے عثمان کے منھ پر پھینکا جس سے ان کی پیشانی زخمی ہوگئی اور داڑھی خون آلودہ ہوگئی عمر یہ دیکھ کے پچھتانے لگے اور بولے آؤ میں تمہارا خون صاف کروں عثمان نے کہا امیرالمؤمنین اتنا خون گرنے سے میں ہلاک نہیں ہوجاؤں گا مجھے اتنا افسوس تو یہ ہے کہ آپ نے جس عوام کا ولی مجھے بنایا اس نے مجھے اتنا ذلیل نہیں کیا جتنا میں نے آپ کو ذلیل کیا عمر کو یہ بات اچھی لگی اور عمر ان کے بھلائی میں پیسہ اضافہ کرتےچلے گئے۔(3)
16۔حضور کی موجودگی میں عمر اور ابوبکر میں جھگڑا ہورہا تھا عمر کہہ رہے تھے کہ اقرع بن حابس کو امیر بنایا جائے ابوبکر کہہ رہے تھے دوسرے کو پھر عمر نے ابوبکر سے کہا تم ہمیشہ ہماری مخالفت کرتے ہو مطلب یہ تھا کہ تم جو مشورہ دے رہے ہو وہ خدا ور رسول کی خیرخواہی میں نہیں بلکہ میری ضد میں بول رہے ہو عمر نے کہا اس سے تمہاری مخالفت مقصود نہیں اتنی بحث ہوئی کہ پیغمبر کے سامنے ہی دونوں کی آوازیں بلند ہوگئیں اور دونوں لڑنے لگے باری تعالی نے سرکار کی موجودگی میں یہ گستاخی برداشت نہیں کی اور آیت نے آکے دونوں کو راستہ دکھایا:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)المستدرک علی صحیحین ج:4ص:14،کتاب معرفۃ الصحابۃ،سیرہ اعلام النبلاءج:2ص:200،عائشہ ام المومنین کے حالات میں
(2)تاریخ بغداد ج:7ص:453،حرف یامن آبائ الحسین،حسن بن یزید بن ماجہ قزوینی کے حالات میں،تاریخ دمشق،ج:18ص:403،زھیر بن عوام کے حالات میں
(3)الجامع(ازدی)ج:11ص:332،باب السمع و الطاعۃ،معجم الکبیرج:9ص:29،مجمع الزوائد،ج:9ص:371،کتاب المناقب،عثمان بن حنیف کے باب میں
(يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ)(1)
ترجمہ:اے ایمان لانےوالو اپنی آوازوں کو نبی کی آواز پر بلند نہ کرو اور نبی کے سامنے چیخ کے نہ بولو جیسا کہ تم آپس میں کرتے ہو ورنہ تمہارے اعمال ضبط ہوجائیں گے اور تم سمجھ نہیں پاؤگے۔
17۔دونوں حضرات(عمر اور ابوبکر)کے ساتھ ایک خادم تھا انہوں نے اس کو کسی کام سے جگایا تو وہ نہیں اٹھا دونوں حضرات اس خادم کی غیبت کرنے لگے جب وہ جگا تو اس کو نبی کے پاس بھیجا کہ جاکے کچھ سالن نبی سے مانگ لائے نبی نے کہا تم نےابھی گوشت کھایا ہے انہوں نے پوچھا ہم نے کس چیز کا گوشت کھایا ہے فرمایا اپنے بھائی کا گوشت اور بخدا میں تمہارے دانتوں میں اس گوشت کے ریشے پھنسے ہوئے دیکھ رہا ہوں یہ لوگ کہنے لگے،خدا کے رسول ہماری بخشش کے لئے دعا کریں آپ نے فرمایا اسی سے کہو کہ تمہارے لئے استغفار کرے۔(2)
18۔مقدام بن معدیکرب کہتے ہیں کہ عقیل بن ابی طالب اور ابوبکر میں خوب گالم گلوج ہوئی۔(3)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ حجرات:آیت:2،صحیح بخاری،ج:4ص:1833،کتاب تفسیر،باب(لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی)،ص:1834،کتاب تفسیر،باب(انّ الذین ینادوک منورائ الحجرات...)اور اسی طرح ص:1587،کتاب المغازی،باب وفد بنی تمیم،ج:6ص:2662،کتاب الاعتصام بالکتاب و النسۃ،باب یکرہ من التعمیق و التنازع فی العلم و الغلو فی الدین و البدع،تفسیر قرطبی،ج:16ص:303۔304،مسند احمد،ج:4ص:6،تفسیر ابن کثیر،ج:4ص:206۔207،آیت(یا ایھا الذین آمنوا لاترفعوا اصواتکم)کی تفسیر میں۔
(2)تفسیر ابن کثیرج:4ص:217،سورہ حجرات،آیت،(ایجب احدکم ان یاکم لحم اخی ه ) کی تفسیر میں،درمنشورج:6ص:96،آیت(ولا یغتب لعلکم بعضاً )کی تفسیر میں،الاحادیث المختار،ج:5ص:71۔72
(3)تاریخ الخلفاءص:54،ریاض النضرہ ج:2ص:18،الفصل التاسع الخصائص الکبری ج:2ص:86،ابب لم یعنونہ تاریخ دمشق ج:30ص:110،ابوبکر کے حالات میں
19۔سلیمان بن صرد کہتے ہیں کہ دو صحابی نبی کے سامنے ایک دوسرے کو گالیاں بکنے لگے جس میں ایک اتنا غصہ ہوا کہ اس کی آنکھیں سرخ ہوگئیں اور جبڑے پھول گئے ہادی عالم نے فرمایا کہ میں ایک ایسا کلمہ بتا رہا ہوں جو تمہارے غصہ کو ختم کردےگا۔
جب غصہ آئے تو کہہ لیا کرو،(اعوذ بالله من الشیطان الرجیم)
ایک شخص نے کہا کیا آپ ہم میں جنون کی کیفیت پاتے ہیں(1)
20۔صفوان بن عبداللہ نے عمیہ سلمہ بن امیہ اور یعلی ابن امیہ سے روایت کی ہے دونوں کہتے ہیں کہ ہم پیغمبرؐ کے ساتھ غزوہ تبوک میں جارہے تھے کہ ایک ساتھی نے ایک مسلمان آدمی سے لڑنا شروع کردیا اس نے اس کے ہاتھ پر منہ مارا اور اچھا خاصا گوشت اس کے ہاتھ سے کاٹ لیا۔
اب مجروح پیغمبرؐ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا حضورؐ مجھے میرے ساتھی نے کاٹ لیا ہے ہر جانہ دلوائیاے حضور نے فرمایا کہ تم اپنے بھائی سے الجھے اور اس نے نروانٹ کی طرح تمہیں بھنوڑ ڈالا،پھر میرے پاس ہر جانہ لینے پہونچ گئے اس عمل کا کوئی ہرجانہ نہیں پس نبی نے اس عمل کو باطل قرار دیا۔(2)
21۔پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد مسلمانوں کو جیش اسامہ کی روانگی کا خیال آیا ابوبکر نے عمر اور کچھ انصار کو مشورہ کرنے کے لئے بلایا کہ کیا لشکر کا سردار اب بدل جائے؟عمر نے کہا بدل جائے پس ابوبکر نے اچھل کے ان کی داڑھی پکڑ لی اور بولے اے خطاب کے بیٹے!تیری ماں تیرے ماتم میں بیٹھے اور خدا کرے تو مرجائے پیغمبرؐ نے اسامہ کو لشکر کا سردار بنایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)صحیح مسلم ج:4ص:2015،کتاب البر و الصلہ و الاداب،باب فضل بن یملک نفسہ عند الغضب...سنن ابی داؤودج:4ص:249،کتاب الاداب،معجم الکبیرج:7ص:99،صحیح بخاری،ج:5ص:2248،سنن ابی داؤود،ج:4ص:249
(2)سنن کبری نسائی ج:4ص:255،کتاب القسامۃ اور اسی طرح ص:224پر بھی باب الرجل یدفع عن نفسہ،سنن دارقطنی ج:4ص:222،صحیح مسلم ج:2ص:1301،کتاب القسامۃ،باب الصائل علی نفس الانسان....،معجم الکبیر،ج:7ص:55
ہے اور تو کہا ہے اس کو ہٹا دیا جائے عمر اسی حال میں محفل سے باہر نکلے اور لوگوں سے کہنے لگے۔لوگو!تمہاری ماں تمہارے ماتم میں بیٹھے دیکھو تمہاری وجہ سے مجھے کیا جھیلنا پڑرہا ہے۔(1)
آپ دیکھ رہے ہیں کہ صحابہ شروع ہی سے آپس میں لڑتے جھگڑتے،گالی گلوج کرتے رہے اور ایک دوسرے کو نوچ کھسوٹ،بلکہ کاٹنے بھبھوڑنے سے باز نہیں آئے۔
22۔عبدالرحمٰن بن ابی بکر سے سنئے وہ کہتے ہیں کہ ابوبکر کچھ مہمان لے کے اپنے گھر آئے اور انہیں چھوڑ کے نبی کے پاس چلے گئے۔
کافی رات کو واپس آئے تو میری ماں نے کہا آپ اپنے مہمانوں کو چھوڑ کے چلے گئے تھے انہوں نے پوچھا تم نے انہیں کیا کھلایا ماں نے کہا میں نے کھانا پیش کیا تھا لیکن انہوں نے(میزبان کی غیر موجودگی میں)کھانے سے انکار کیا یہ سن کے ابوبکر کو غصہ آیا وہ مہمانوں کو گالیاں دینے لگے اور قسم کھائی کہ ان کو کھانا نہیں دیں گے۔(2)
23۔ابوبکر اپنے دور خلافت میں اکثر فرماتے کہ جب تم دیکھو کہ میں سیدھا چل رہا ہوں تو میرے پیچھے چلو اور جب دیکھو کہ میں ٹیڑھا ہوگیا ہوں تو سیدھا کردینا یہ سمجھ لو کہ میرا ایک شیطان ہے جو مجھ کو بہکاتا رہتا ہے جب تم مجھے غصہ میں دیکھو تو دور رہو اس لئے کہ اس وقت میں تمہارے سمجھانے بجھانے پر کوئی دھیاں نہیں دوں گا۔(3)
24۔ابوبکر نے ایک طائر کو درخت پر بیٹھے ہوئے دیکھا اور اپنے دل کا درد بیان کرنے لگے بولے اے طائر تو کتنا اچھا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)تاریخ طبری ج:2ص:232،اسی طرح تاریخ دمشق ج:2ص:50،باب ذکر بعثت النبیؐ اسامۃ قبل الموت...
(2)صحیح بخاری ج:5ص:2274،کتاب الادب باب قول الضعیف لصاحبہ
(3)الطبقات الکبری ج:3ص:213،اسی طرح الجامع(ازدی)،ج:11ص:332،باب الاطاعۃ فی معصیۃ اللہ،تاریخ طبری،ج:2ص:245،ریاض النضرۃ،ج:2ص:231،مجمع الزوائد،ج:5ص:183،کتاب الخلافۃ،باب الخلافۃ،تاریخ دمشق،ج:30ص:303،صفوۃ الصفوۃ،ج:1ص:261،ابوبکر کے حالات میں
کاش میں بھی تیرے ہی جیسا ہوتا تو درخت کے پھلوں کو کھاتا ہے اور اڑجاتا ہے لیکن خوف حساب سے آزاد ہے خدا کی قسم میری تمنا ہے کہ میں راستے کے کنارے کا درخت ہوتا ور کوئی اونٹ راستے چلتے ہوئے مجھے کھا جاتا اور گھونٹ جاتا اور ہضم کرنے کے بعد مجھے اپنا فضلہ بنا کے باہر نکال دیتا کاش کہ میں انسان نہ ہوتا۔(1)
ابوبکر کی یہ تمنا اس بات کی شاہد کی وہ بھی عام آدمی کی طرح کود کو خطرے میں محسوس کررہے تھے اور انہیں یقین تھا کہ صحابیت آخرت میں کام نہیں آئےگی اور یہ کہ صحابیت کامیابی کا ثبوت ہے کہ سلامتی کا سبب۔
25۔صحیح مسلم میں عائشہ سے حدیث ہے کہ جس میں نبی کی ازواج نے عدل کا مطالبہ کیا ہے وہ بھی نبی سے عائشہ کہتی ہیں کہ ازواج نبی نے جناب زینب حجش کو نبی کے پاس بھیجا یہ زینب بنت حجش وہ ہیں جو نبی کی عورتوں میں آپ کے نزدیک میرے مقابلے کی تھیں میں نے زینب سے زیادہ دیندار سچّی صلہ رحم کرنے والی صدقہ دینے والی اپنے نفس کو تقرب خدا کے لئے پیش کرنے والی عورت نہیں دیکھا بہرحال انہوں نے سرکار کی خدمت پیغمبر میں عرض کی سرکار آپ کی ازواج نے مجھے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے کہ میں آپ سے عائشہ کے بارے میں عدل کا مطالبہ کروں اس وقت عائشہ زینب کے پیچھے چھپی تھیں اور انہوں نے ان کو چھپا رکھا تھا عائشہ کہتی ہیں میں نبی کی نگرانی کررہی تھی کہ حضورؐ اس سلسلے میں بات کرنے کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں بہرحال زینب بنت حجش نے نبی کا دامن اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک میں نے یہ جان لیا کہ نبی میری مدد کرنے کو ناگوار نہیں سمجھتے جب میں نے نبی کی مرضی لی تو زینب کے پیچھے تھوڑا ساجھکی رسولؐ نے مسکرا کے فرمایا میں نے پہنچان لیا تمہارے پیچھے ابوبکر کی بیٹی ہیں،راویوں کے نام سلسلے سے یوں ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)مصنف بن ابی شیبہ ج:7ص:91،کتاب الزھد،شعب الایمان ج:1ص:485،باب خوف من اللہ،تاریخ دمشق ج:30ص:330،ابوبکر کے حالات میں،الزھد لھناد بن السری،ج:1ص:258،باب من قال لیتنی لم اخلق
محمد بن عبداللہ بن قہر زاد سے عبداللہ عثمان نے ان کے بعد سعد بن مبارک نے انھوں نے یونس سے انھوں نے یونس انہوں نے زہری سے بھی اسی طرح کی روایت کی ہے صرف ایک جملہ کا فرق ہے (میں ان سے چمٹی نہیں کہ کہیں وہ گرنہ جائیں۔(1)
26۔معاذ جبل نے ایک بار نماز جماعت میں نماز کو اچھا خاصہ طول دیا نتیجہ میں ایک نوجوان نےدرمیان نماز فردای کی نیت کرلی اور نماز مکمل کی جب معاذ نماز سے فارغ ہوئے تو وہ نوجوان آگے بڑھا اور معاذ کو گالیاں دینے لگا اور برا بھلا کہنے لگا۔معاذ نے اس دن خدمت نبی میں شکایت کی اس نوجوان نے نبی سے عرض کیا کہ سرکار میں کار و باری آدمی ہوں اور مجھے بہت س کام کرنے تھے معاذ نماز کو لمبی کئے جارہے تھے میں کیا کرتا؟سرکار دو عالم نے معاذ کی طول صلوٰۃ پر ملامت فرمائی۔(2)
27۔ابوہریرہ نے ایک مسلمان کو ماں کی گالی دی اس کی ماں ایام جاہلیت ہی میں مرگئی تھی،بہرحال اس آدمی نے ابوہریرہ کی شکایت خدمت پیغمبر میں کی آپ نے ابوہرہ سے فرمایا:ابھی تمہارے اندر کفر کا شعبہ باقی ہے ابوہریرہ نے قسم کھائی کہ آئندہ کسی مسلمان کو گالی نہیں دیں گے۔(3)
28۔واقعہ بدر کا مطالعہ کریں عبدالرحمٰن عوف نے بلال کو غلام سمجھ کے گالی دی تھی۔
29۔ابن مسعود کا کچھ قرض سعد کے ذمہ تھا،ابن مسعود نے سعد سے کہا بھئی میرا مال ادا کرو،سعد نے کہا کہیں ایسا نہ ہو کہ مجھ سے کچھ برائی پہنچ جائے تم ابن مسعود اور ہذیل کے غلام کے علاوہ بھی کچھ ہو ابن مسعود نے ترکی جواب دیا تم بھی تو حمنہ کے بیٹے ہو یہ بات ہاشم بن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)صحیح مسلم ج:4ص:1891۔1892،کتاب فضائل الصحابۃ،باب فضل عائشہ اور اسی طرح سنن کبریٰ بیہقی ج:7ص:299،کتاب القسم و النشوز قول خداوند عالم(لن تسطیعوا ان تعدلوا)کے باب میں،سنن کبری للنسائی ج:5ص:281 کتاب عشرہ النساءحب النساء
(2)المصنف لعبد الرزاق ج:2ص:365،کتاب الصلاۃ،باب تخفیف الامام
(3)مجمع الزوائدج:8ص:86،کتاب الادب باب فی من یعیر بالنسب(وغیرہ)
عتبہ کے سامنے ہورہی تھی انہوں نے سمجھایا کہ بھائی آپ لوگ اصحاب پیغمبر ہیں لوگ آپ کے اندر سیرت پیغمبرؐ کا عکس دیکھنا چاہتے ہیں۔(1)
30۔جب ہادی برحق فتح مکہ کے لئے چلے تو چاہا کہ اس ارادے کو قریش اور اہل مکہ سے پوشیدہ رکھیں لیکن حاطب بن ابی بلتعہ نے ایک خط کے ذریعہ جاسوسی کردی اس نے کسی عورت کے ہاتھ سے اہل مکہ کو پیغمبر کے ارادے سے باخبر کردیا سرکار کو یہ بات معلوم ہوگئی اور آپ نے ایک آدمی کو بھیجا جو اس عورت سے خط واپس لے آیا اس سلسلے میں عمر کا یہ قول پہلے گذرچکا ہے کہ اے رسول مجھے اجازت دیں کہ(حاطب کی گردن ارادوں یہ کافر ہوگیا ہے)(2)
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاء تُلْقُونَ إِلَيْهِم بِالْمَوَدَّةِ(3)
ترجمہ:اور اپنے دشمن سے دوستی نہ کرو تم لوگ ان سے محبت سے پیش آرہے ہو۔
31۔ابوبرزہ اسلمی کہتے تھے کہ مروان اور ابن زبیر دنیا کے لئے جنگ کرتے ہیں۔(4) حالانکہ یہ دونوں یا ان میں سے کم سے کم ایک(ابن زبیر)تو بہر حال اصطلاحی صحابی تھے۔
32۔عمر بن خطاب کو خبر دی گئی کہ سمرہ بن جنوب نے شراب خریدی ہے عمر نے کہا خدا سمرہ کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)مجمع الزوائدج:9ص:154،کتاب المناقب،باب مناقب سعد بن ابی وقاص،معجم الکبیرج:1ص:139،تاریخ طبری ج:2ص:595،سیر اعلام النبلاء،ج:1ص:114،سعد بن ابی وقاص کے حالات میں،تاریخ دمشق،ج:20،ص:343۔344،سعد بن ابی وقاص کے حالات میں
(2)الاحادیث المختارۃ،ج:1ص:286،
(3)سورہ ممتحنہ آیت:1،صحیح بخارری،ج:4ص:1557،کتاب المغازی،ص:1885،کتاب التفسیر،باب لاتتخزوا عدوی و عدوکم اولیاءصحیح مسلم،ج:4ص:1941،کتاب فضائل الصحابہ باب من فضل اہل بدر،سنن کبری بیھقی،ج:9ص:146،کتاب السیر،جماع ابواب السیر باب یدل المشرکین علی عورۃ المسلمین،وغیرھا،
(4)صحیح بخاری،ج:6ص:2603،کتاب الفقن،باب اذا قال عند قوم شئی،المستدرک علی صحیحین،ج:4ص:517،کتاب الفتن و الملاحم۔
قتل کرے کیا اس کو معلوم نہیں ہے کہ شراب حرام کردی گئی تھی لیکن وہ اس کو بیچتے اور خریدتے تھے(1)
33۔سمرہ نے معاویہ اور زیاد کی حکومت میں بہت سی ناشائستہ حرکتیں انجام دی یہاں تک کہ جب معاویہ نے ان کو معزول کردیا تو کہا کہ خدا کی قسم اگر خدا کی اطاعت اس شان سے کم ہوتی جس شان سے معاویہ کی اطاعت کی ہے تو وہ مجھے ہرگز عذاب نہ دیتا(2) آخر کار زمہریر کے مرض میں وہ بہت بری موت مرا۔(3)
34۔ایک صحابی حنین یا خبیر کے دن مرگیا پیغمبرؐ نے اس کی نماز جنازہ سے منع کردیا اس لئے کہ اس نے راہ خدا میں دھوکا دیا جب اس کے اسباب کا جائزہ لیا گیا تو یہودی جس میں جونک رہتی ہے ایک ہارملا جس کی قیمت دو درہموں سے زیادہ نہیں تھی۔(4)
35۔ابوہریرہ کہتے ہیں کہ ہم پیغمبر کے ساتھ جنگ خبیر میں شریک تھے،آپ نے ایک آدمی کے بارے میں جو اسلام کے دعویدار تھا فرمایا یہ اہل نار میں سے ہے،جب جنگ شروع ہوئی تو اس شخص نے سخت جنگ کی اور خود بھی بہت سے زخم کھائے اور زمین پر گرگیا پیغمبرؐ کے پاس آئے اور کہا سرکار آپ تو فرمارہے تھے کہ وہ جہنمی ہے اس نے تو راہ خدا میں زبردست جنگ کی اور کثیر زخا کھائے آپ نے فرمایا لیکن وہ جہنمی ہے اب قریب تھا کہ لوگوں کے دل میں شک پیدا ہو کہ اس شخص کو زخمی کی وجہ سے درد ہونے لگا اور اس نے اپنے ترکش سے ایک تیر کھینچ کے خود کو ذبح کرلیا لوگ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)صحیح مسلم ج:3ص:1207،کتاب المسافات،باب تحریم بیع الخمر و المیۃ و الخنزیر والصنام اور اسی طرح مسند احمد ج:1ص:25،مسند عمر بن خطاب،سنن کبریٰ نسائی ج:3ص:87،کتاب فرع و العتیرۃ،فی(نھی عن الانتفاع بما حرمہ اللہ تبارک و تعالی)ج:6ص:342،کتاب تفسیر،سورہ انعام فی قولہ تعالی،(و علی الذین ھادوا حمنا...)سنن کبریٰ بیہقی ج:6ص:12،کتاب البیوع جمع ابواب بیوع الکلاب،المصنف لعبد الرزاق،ج:6ص:75،کتاب اہل الکتاب،صحیح ابن حبان،ج:14ص:146،کتاب التاریخ،المسند للحمیدی،ج:1ص:9مسند ابی یعلی،ج:1ص:178،مسند عمر بن الخطاب۔
(2)تاریخ طبری،ج:3ص:240
(3)تاریخ طبری،ج:3ص:240
(4)مستدرک علی صحیحین ج:2ص:139،آخر کتاب الجھاد،مسند احمدج:4ص:114،بقیہ احادیث زید بن خالد جہنی عن النبی
بھاگے ہوئے پھر خدمت پیغمبرؐ میں پہنچنے اور کہنے لگے یا رسول اللہؐ خدا نے آپ کی تصدیق کردی اس شخص نے خود کو اپنے ہاتھ سے مار ڈالا آپ نے فرمایا اے بلال اٹھو اور اعلان کردو کہ (جنت میں صرف مومن جائے گا رہا اس دین کی مدد کرنا تو کیا اللہ اس دین کی مدد بد کردار شخص کے ذریعہ کرے گا۔)(1)
36۔ابوفراس جو نو مسلم تھے ان سے روایت ہے کہ ایک دن پیغمبر نے فرمایا تم مجھ سے جو پوچھنا چاہو پوچھو ایک شخص کھڑا ہوا اور پوچھا یا رسول اللہ میرا باپ کون ہے فرمایا وہی ہے جس کا دعوی کرتے ہو اور جس کے نام سے تم پکارے جاتے ہو ایک آدمی نے پوچھا حضور میں جنت میں جاؤنگا؟آپ نے فرمایا ہاں ایک اور آدمی نے پوچھا حجور میں جنت میں جاؤں گا؟فرمایا جہنم میں جاؤگے اتنے میں عمر کھڑے ہوئے اور کہا بس ہم اس بات پر راضی ہیں کہ اللہ ہمارے پروردگار ہے۔(2)
37۔عمر کے دور خلافت میں قدامہ بنی مظعون نے شراب پی عمر نے ان کو تازیانے لگائے ابن مظعون عمر سے ناراض ہوگئے اور بات چبت کرنا چھوڑدی،کچھ دن بعد پھر خود ہی بولنے لگے اور ان کے لئے استغفار کیا۔(3)
ابوایوب کہتے ہیں کہ بدری صحابیوں میں سواء قدامہ بن مظعون کے کسی کی شراب خواری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)صحیح بخاری ج:6ص:2436،کتاب القدر،باب العمل بالخواتیم،اور اسی طرح ج:4ص:1530،کتاب المغازی،باب غزوہ خیبر،سنن کبریٰ بیہقی،ج:8ص:197،کتاب المرتد،باب ما یحرم بہ الدم من الاسلام زندیقاً کان،مجمع الزوائد ج:7ص:213،کتاب القدر،باب الاعمال بالخواتیم،مسند احمد،ج:2ص:309،معجم الکبیر،ج:9ص:83،باب لم یعونہ
(2)معجم الکبیرج:5ص:60،فیما رواہ ربیعۃ بن کعب الاسلمی یکنی ابافرس،مجمع الزوائدج:1ص:161،کتاب العلم،باب قول العالم سلونی
(3)الاصابۃ ج:5ص:424۔425،قدمۃ بن مظعون بن حبیب کے حالات میں،سنن کبریٰ بیہقی،ج:8ص:315،کتاب الاشربۃ،والحد فیھا،باب من وجد منہ ریح شراب اولقی سکران،المصنف لعبد الرزاق،ج:9ص:421،
نہیں پکڑی گئی۔(1)
38۔ابوعبیدہ بن جراح نے شام میں مندرجہ ذیل لوگوں کو شراب کے نشے کی حالت میں دیکھا ابوجندل بن سہیل بن عمرو و ضرار بن خطاب محاربی اور ابواز یہ تینوں حضرات صحابی تھے۔(2)
39۔روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے ابومحجن ثقفی کو شراب خواری کی وجہ سے چار بار کوڑے لگوائے(3) حالانکہ ابومحجن صحابی تھے ابن جریح سے روایت ہے کہ شراب کی علت میں ابومحجن بن عمرو بن عمیر ثقفی کو عمر نے سات بار کوڑوں کی سزادی۔(4)
قبیصہ بن زویب کہتے ہیں آٹھ بار سزادی(5) عمر بن سیرین کہتے ہیں کہ ابومحجن کو بار بار کوڑے پڑتے تھے جب بہت زیادہ کوڑے پڑچکے تو آخر لوگوں نے انہیں قید کردیا اور اطمینان سے بیٹھ گئے کہ اب ان تک شراب نہیں پہنچےگی۔( 6 )
ابن عبدالبر کہتے ہیں کہ انہیں شراب کی لت پڑگئی تھی اور چھوٹے نہیں چھوٹتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)الاصابۃ ج:5ص:425،حالات قدمۃ بن مظنون میں،المصنف لعبد الرزاق،ج:9ص:240،کتاب الاشرابۃ،باب من حد من اصحاب النبیؐ،الاستیعاب ج:3ص:250۔251،حالات قدمۃ بن مظنون بن حبیب میں،تفسیر قرطبی،ج:6ص:299،آیت(لیس علی الذین آمنوا....)جناح کی تفسیر میں۔
(2)المصنف لعبد الرزاق ج:9ص:244،کتاب الشرابۃ،باب من حد من اصحاب النبیؐ،الاصابۃ ،ج:7ص:11حالات ابی الازوار میں،الاستیعاب ج:4ص:34،حالات ابی جندل بن سھیل بن عمرو میں۔
(3)فتح الباری،ج:12ص:81
(4)المصنف لعبد الرزاق ج:9ص:247،کتاب الاشرابۃ،باب من حد من اصحاب النبیؐ،الاصابۃ،ج:7ص:263،حالات ابی محجن الثقفی میں،الاستیعاب،ج:4ص:183،حالات ابی محجن ثقفی
(5)المصنف لعبد الرزاق،ج:7ص:381،باب حد الخمر،ج:9ص:247،کتاب الاشرابۃ،باب من حد من اصحاب النبیؐ،الاستیعاب،ج:4ص:183،حالات ابی محجن الثقفی المحلی میں،ج:11ص:369،پر،فتح الباری،ج:12،ص:80پر۔
(6)المصنف لعبد الرزاق،ج:9ص:243،کتاب الاشرابۃ،باب من حد اصحاب النبیؐ،الاصابۃ ج:7ص:362،حالات ابی محجن ثقفی میں،الاستیعاب ج:4ص:184،حالات ابی محجن ثقفی،التوابین لابن قدامۃ،ص:131۔
ان پر نہ حد کا اثر ہوتا تھا نہ ملامت کا عمر بن خطاب نے ان پر کئی مرتبہ حد جاری کی آخر انہیں ایک جزیرے میں بھیج دیا ساتھ میں ایک نگران بھی لگادیا یہ حضرت وہاں سے بھی بھاگ لئے اور سعد بن ابی وقاص سے قادسیہ میں ملاقات کی اور انہوں نے ارادہ کیا کہ اپنے نگراں ہی کو قتل کردیں اس آدمی کو معلوم ہوگیا وہ بیچارا بھاگ کر عمر کے پاس واپس آیا۔(1)
ابن سیرین سے روایت ہے کہ جنگ قادسیہ میں ابومحجن سعد کے ساتھ تھے لیکن انھیں شراب نوشی کی وجہ سے قید میں رکھا گیا تھا ابومحجن نے دیکھا کہ مشرکین مسلمان کے لئے مصیبت بنتے جارہے ہیں ابومحجن نے سعد کی بوی کی خوشامد کی کہ وہ انہیں قید سے رہا کردے کہ وہ جنگ میں شریک ہوجائیں اور وعدہ کیا کہ اگر مارے نہیں گئے تو پھر وہ قید میں واپس آجائیں گے بہرحال اس عورت نے ان کو آزاد کرادیا اور وہ میدان جنگ میں کود پڑے سعد بن ابی وقاص ان کے جنگی کارنامے دیکھنے لگے لیکن پہچان نہیں پارہے تھے کہ یہ کون جوان مرد ہے شام کو ان کی بیوی نے جب پوری بات بتائی تو وہ ابومحجن کے شکرگذار ہوئے اور انہیں بلا بھیجا اور انہیں قید سے آزاد کردیا۔اور کہنے لگے کہ اب تمہاری شراب خواری کی وجہ سے ہرگز تمہیں کوڑے نہیں ماروں گا،ابومحجن نے کہا کہ میں نے آج سے شراب خواری بھی ترک کردی اس لئے کہ اب کسی کے دل میں یہ خیال نہیں آئے گا کہ ابومحجن نے تازیوں کے خوف سے شراب چھوڑی۔(2) شاید علامہ اقبالؒ نے اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے:زاہد دلیل لائے جو مئے کے جواز میں۔۔۔اقبال کو یہ ضد ہے کہ پینا بھی چھوڑدے(مترجم)
40۔عبدالرحمٰن ابن عمر ابن خطاب اور ابوسروعہ عقبہ ابن حارث نے شراب پی یہ دونوں حضرات صحابی تھے عمر بن عاص نے عمر بن خطاب کے دور خلافت میں ان دونوں کو کوڑے لگائے پھر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)الاستیعاب ج:4ص:182،ابی محجن الثقفی کے حالات میں
(2)مصنف عبدالرزاق ج:9ص:243۔244،کتاب الاشرابۃ،باب من حد من اصحاب النبیؐ اور اسی طرح الاصابۃ ج:7ص:362،ابی محجن ثقفی کے حالات میں،الاستیعاب ج:4ص:184۔185،ابی محجن ثقفی کے حالات میں،التوابین بن قدامۃ ص:131۔132،باب ثوبۃ محجن ابی ثقفی میں۔
عمر کو معلوم ہوا تو انہوں نے عمرعاص کو لکھا کہ عبدالرحمٰن ابن عمر کو فوراً بھیجے عمروعاص نے عبدالرحمٰن کو عمر کے پاس بھیج دیا عمر نے عبدالرحمٰن کو پھر کوڑے لگائے اور سزادی جس کے بعد وہ کچھ دنوں تک زندہ رہے پھر مرگئے۔(1)
42۔اور انہیں بھی پہچانئے یہ معاویہ ابن ابوسفیان ہیں اپنے ایام خلافت میں شراب بیچتے بھی تھے(4) اور پیتے بھی تھے۔(5)
43۔مغیرہ ابن شعیہ جو ایک مشہور صحابی ہیں ان کے خلاف ابوبکر جو خود صحابی تھے اور ان کے دو بھائیوں نے زنا کی گواہی دی لیکن چونکہ گواہ تین تھے اور زنا کے لئے چار گواہ ہونے چاہئے اس لئے عمر نےمغیرہ کو تو چھوڑدیا البتہ ان تینوں گواہوں کے زنا کا بہتان لگانے کی سزادی۔(6)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سنن کبریٰ بیہقی ج:8ص:312،کتاب الاشرابۃ و الحد فیھا،باب ما جاء فی وجوب الحد....،المصنف لعبدلرزاق ج:9ص:232،کتاب الاشرابۃ،باب الشراب فی رمضان و حلق الراس،تاریخ بغداد ج:5ص:455،حالات محمد بن عبداللہ بن مغفرلی لمزنی میں اور ابن حجر نے اشارہ کیا اصابۃ،ج:4ص:44،حالات عبدالرحمٰن بن عمر بن الخطاب میں اور اسی طرح عبداللہ نے الاستیعاب میں،ج:2ص:395،حالات عبدالرحمٰن الاکبر بن عمر بن خطاب میں۔
(2)تہذیب التہذیب،ج:11ص:126،حالات ولید بن عقبہ بن ابی محیط میں،تہذیب الکمال،ج:31ص:58،حالات ولید بن عقبہ بن ابی محیط میں،استیعاب،ج:3ص:598،حالات ولید بن عقبہ بن ابی محیط میں،الوقوف،ص:19حالات ولید بن عقبہ بن ابی محیط میں
(3)تہذیب الکمال ج:31ص:58،حالات ولید بن عقبہ بن ابی محیط میں
(4)مسند احمد،ج:5ص:347،تاریخ دمشق ج:127،حالات عبداللہ بن برید الاسلمی میں
(5)سیرہ اعلام النبلاءج:2ص:10،تاریخ دمشق ج:26ص:198،حالات عبادۃ بن صامت میں
(6)سنن کبریٰ بیہقی ج:8ص:235،کتاب الحدود،باب شھود الزنا،تاریخ دمشق ج:26ص:198،حالات مغیرہ بن شعبۃ میں
44۔ابوالسیر بدری مجاہدین میں ہیں(1) وہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت مجھ سے خرمہ خریدنے آئی، میں نے کہا میرے گھر میں اس سے بہتر ہے،وہ میرے ساتھ کمرے میں چلی آئی میں نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا اور خود سے چمٹا لیا،پھر بوسہ لیا اور ابوبکر کے پاس آیا اور اپنی حرکت بتائی،ابوبکر نے کہا خاموش رہو اور ٹال جاؤ،لیکن مجھے صبر نہ آیا اور میں حضور کی خدمت میں آیا اور حضور سے پوار ماجرا عرض کیا آپ نے فرمایا تم نے ایک غازی کی ناموس کے ساتھ ایسا کیا؟یہاں تک کہ میں سوچنے لگا کاش میں اسی وقت اسلام کا تقاضے کو پورا کرتا پھر سوچا،لگتا ہے میں جہنمی ہوں میری کہانی سن کے حضورؐ نے سر جھکا لیا بہت دیر تک خاموش رہے یہاں تک کہ مندرجہ ذیل آیت نازل ہوئی۔
(اقم الصلوٰة طرفی النهار و زلفامن الیل...)(2)
ترجمہ:دن کے دونوں کناروں پر نماز قائم کرو....
45۔یحییٰ بن جعدہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی جو نبی کا صحابی تھا نبی کے پاس بیٹھ کے ایک عورت کے بارے میں تبا رہاتھا پھر وہ نبی کے پاس سے کسی کا بہانہ کرکے اٹھا اور اس عورت کو تلاش کرتا ہوا باہر نکلا لیکن اس کو نہیں پایا پھر وہ نبی کو بارش کی خوش خبری دینے کے لئے آپ کی طرف چلا تو اس عورت کو ایک چشمہ کے پاس بیٹھے دیکھا اس نے اس عورت کے سینہ پر ہاتھ مار کے اس کو گرادیا اور اس کے دونوں پیروں کے درمیاں بیٹھ گیا لیکن اس کا آلہ تناسل ایک گھنڈی کی طرح ہوکے رہ گیا۔
(یعنی استادگی نہیں ہوئی)وہ پچھتاتا ہوا اٹھا اور نبی سے اس بات کا تذکرہ کیا حضورؐ نے فرمایا اپنے رب سے معافی مانگ اور چار رکعت نماز پڑھو اس کے بعد آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:(اقم الصلوٰة طرفی النهار و زلفامن اللیل....) (3)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)المعجم الکبیر، ج:19،ص:163،فیما رواہ عمار بن ابی الیسر عن ابیہ،ص:167،روایت حنظلہ ابن قیس ابی الیسر سے
(2)معجم الکبیرج:19ص:165،اسی طرح تفسیر ابن کثیرج:2ص:464،آیت کی تفسیر میں
(3)تفسیر ابن کثیرج:2ص:464،آیت کی تفسیر میں،تفسیر طبری،ج:12ص:136،آیت کی تفسیر میں،المصنف لعبدالرزاق،ج:7ص:447،باب التعدی فی الحرمات الفطام
ترجمہ:دن کے دونوں کناروں پر نماز قائم کرو....اصحاب پیغمبرؐ کے بارے میں اس طرح کی رنگیں روایتیں اور بھی ہیں۔(1)
46۔عائشہ اور حفصہ نے نبی اکرمؐ کے خلاف پارٹی بنالی،سورہ تحریم میں خدا نے ان کی سرزنش کی۔(2)
(ان تتوبا الی الله فقد صغت قلوبکما و ان تظاهرا علیه فان الله هو مولاه و جبریل صالح المومنین و لملائکة بعد ذلک ظهیر)(3)
ترجمہ:اگر تم اللہ سے توبہ کروگی ٹھیک ہے ورنہ تمہارے دل ٹیڑھے ہوگئے ہیں اور اگر تم نبی کی مخالف میں ایک دوسرے کی مدد کروگی تو نبی کو اس کی پرواہ نہیں ہے اس لئے کہ اللہ ان کا سرپرست ہے،ساتھ ہی جبرئیل امین اور نیک کردار مومن اور سارے فرشتے نبی کے مددگار ہیں،زاغت قلوبکما سے مراد مالت قلوبکما ہے یعنی تمہارے دل مائل بہ کجی ہوگئے ہیں ابن عباس اور قتادہ نے اس کی یہی تفسیر کی ہے۔(4)
اسی سورہ تحریم میں اللہ نے دونوں عورتوں کی مثال،دو عظیم عورتوں سے دی ہے اور فرمایا تم دونوں، جناب نوح اور جناب لوط کی بیویوں کی طرح ہو جنھوں نے اپنے شوہروں سے خیانت کی یہ مثال اس لئے دی کہ یہ زوجیت پیغمبر کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاسکتی اگر نبیؐ کی نافرمانی کی جائے۔(5)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)تفسیر ابن کسیر،ج:2ص:464،تفسیر آیت،مجمع الزوائد،ج:7ص:38،سورہ ھود کی آیت کی تفسیر میں،تفسیر طبری،ج:12،ص:134،آیت کی تفسیر میں،فتح الباری،ج:8ص:356،
(2)صحیح بخاری،ج:4ص:1886،کتاب التفسیر،باب ان اسرالنبی...،و فی باب قولہ،(ان تتوبا الی اللہ)ج:2ص:871،کتاب المظالم،باب اماطۃ الاذی،صحیح مسلم،ج:2ص:1110،کتاب اطلاق،باب فی الایلاء و اعتزال النساء....
(3)سورہ تحریم آیت:4
(4)تفسیر طبری ج:28ص:161،تفسیر آیت(ان تتبوبا الی اللہ...)
(5)تفسیر قرطبی،ج:18،ص:202،آیت(ضرب اللہ مثلاً للذین کفروا...)کی تفسیر میں فتح القدیر،ج:5ص:255۔256،مذکورہ آیت کی تفسیر میں،زادالمسیر،لابن جوزی،ج:8ص:315،اور دیگر کتابوں میں
47۔جونیہ کی شادی جب نبی کے ساتھ ہوئی تو ان بزرگ خواتین نے مکاری کی حد کردی،جونیہ کی تزویج کا سارا انتظام ان لوگوں نے اپنے ہاتھ میں رکھا اور جونیہ کا سب سے بڑا ہمدردخو نے شوہر کا دل ہاتھ میں لینے کے کچھ گربتائے اور کہا کہ نبی اس کلمہ سے بہت خوش ہوتے ہیں۔((اعوذ باللہ منک))میں آپ سے خدا کی پناہ مانگتی ہوں))جب نبی تمہارے پاس آئیں تو یہی کہنا وہ بیچاری معصوم ان کے جال میں پھنس گئی نبی جیسے ہی آئے اس نے یہ جملہ اپنی زبان پر جاری کردیا نبی نے اس سے ہاتھ کھینچ لیا اور اس کو اس گھر والوں کو واپس کردیا اور پھر طلاق دے دی۔(1)
48۔عائشہ خود کہتی ہیں کہ نبی کی عورتوں میں دوپارٹی تھی ام سلمہ ایک اور دوسری بیویوں کی الگ پارٹی تھی حضصہ،صفیہ،سودہ،میری پارٹی میں تھیں۔(2)
49۔پارٹی بندی کی بنیاد مولائے کائنات کی ذات اقدس تھی اس کے قبل بھی عائشہ کے خیالات پر روشنی ڈال جاچکی ہے کہ وہ امیرالمومنینؑ سے کتنی دشمنی رکھتی تھیں،جب امیرالمومنینؑ کی شجاعت کی خبر ملی تو عائشہ نے ترنگ میں آکر یہ شعر پڑھا۔
((پس اس نے اپنا عصا رکھ دیا تو وہ منزل پہنچ گیا جیسے کہ مسافر کے واپس آنے پر آنکھ کو ٹھنڈک ملتی ہے۔
پھر پوچھا علی کو قتل کس نے کیا جواب ملا قبیلہ نبی مراد کے ایک شخص نے اگر مرنے والا دور تھا تو کیا ہوا اس کی موت کی خبر تو اس جوان نے دی ہے کہ جس کے منھ میں خاک نہ ہو))یہ اشعار سن کے زینب بنت ابوسلمہ نے کہا کیا آپ یہ اشعار علیؑ کے لئے پڑھ رہی ہیں تو چونک گئیں اور کہا کبھی میں بھول جاتی ہوں جب میں بھول جاؤں تو یاد دلا دیا کرو۔(3)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)الطبقات الکبری ج:8ص:146،فی ذکر من تزوج رسول اللہؐ من النساء الاصابۃ ج:7ص:495،حالات اسماء بنت نعمان بن حارث،مستدرک علی صحیحین ج:4ص:39،کتاب المعرفۃ الصحابۃ،تلخیص الجبیرج:3ص:132،ومن خصائصہ فی محرمات النکاح
(2)صحیح بخاری ج:2ص:911،کتاب الھبہ و فضلھا،باب من اہدیٰ الی صاحب..
(3)تاریخ طبری ج:3ص:159،فی اعشم دخلت سنۃ اربعین اور اسی طرح الکامل فی التاریخ ج:2ص:394،اور اسی جیسا طبقات الکبریٰ ج:3ص:40،عبدالرحمٰن بن ملجم مراد کے ذکر میں
50۔ایک کارنامہ اور ملاحظہ ہو ام المومنین ماریہ پیغمبرؐ کی خدمت میں ایک ہدیہ کے طور پر بھیجیں گئیں ان کے ساتھ ان کے چچازاد بھائی بھی تھے بہرحال پیغمبرؐ کی خدمت میں آئیں اور آپ کو استقرار حمل ہوگیا اس لئے نبی نے ان کے چچازاد بھائی کے پاس ان کو چھوڑ دیا،اب بہتان طرازوں اور افترپرداز لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ جو اولاد کا حاجت مند ہو وہ دوسرے کے بچے پر دعوی کردے۔
بہرحال ولادت ہوئی ماریہ کو دودھ بہت کم ہوتا تھ اس لئے ایک دودھ بکری خرید گئی تا کہ نبی کے بیٹے کو دودھ کی کمی نہ ہو اس دودھ کے اثر سے ان پر خوب گوشت بڑھا۔
عائشہ کہتی ہیں کہ ایک دن نبیؐ انہیں لے کر میرے پاس آئے اور پوچھا عائشہ میرا بیٹا کیسا لگتا ہے میں نے کہا جو بکری کا دودھ پئےگا وہ موٹا اور اس پر گوشت ہوگا ہی،آپؐ نے فرمایا اور میری مشا بہت نہٰں پائی جاتی عائشہ کہتی ہیں کہ مجھے غیرت آئی اس لئے میں وہ سب باتیں نبی کو نہیں بتائیں لیکن ہادی اعظمؐ تک وہ باتیں پہنچ گئیں اور یہ بھی کہ لوگوں کا خیال ہے کہ ماریہ کا بیٹا ان کے ابن عم کا نطفہ ہے اعوذ باللہ بہرحال جب نبیؐ نے سنا تو آپ نے مولائے کائنات کو بلا کر تلوار دی اور کہا کہ ماریہ کے ابن عم کی گردن قلم کردو،مولا علیؑ تلوار لےکر اس کو ڈھونڈھتے ہوئے چلے وہ ایک خرمے کے باغ میں دیوار پر چڑھا ہوا خرمے توڑ رہا تھا مولا علیؑ کو جو آتے دیکھا تو مارے ڈر کےکانپنےلگا اور اس کا پیراہن نیچے گرگیا پتہ چلا کے اس کے پاس عضو تناسل ہی نہیں تھا۔(1)
51۔اسامہ بن زید نے اپنے بعض اصحاب سے انہوں نے عائشہ سے روایت کی ہے کہ عائشہ اکثر فرمایا کرتی تھیں کہ کاش میں پیدا نہیں ہوئی ہوتی یا میں ایک درخت ہوتی جو تسبیح کرتی رہتی اور مجھ پر جو واجب تھا اس کو ادا کرتی رہتی۔(2)
عیسی بن دینار نے کہا میں نے ابوجعفر سے عائشہ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا ان کے لئے استغفار کرو تم کو معلوم نہیں ہے وہ کیا کہتی ہے وہ کیا کہتی تھیں میں نے کہا کیا کہتی تھیں کہا کہتی تھیں کاش
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)مستدرک علی صحیحین ج:4ص:41،کتاب معرصفۃ الصحابۃ فی ذکر سراری رسول اللہؐ
(2)طبقات الکبریٰ ج:8ص:74،عند حدیث(عائشہ بنت ابی بکر)
میں درخت ہوتی کاش میں پتھر ہوتی،کاش میں کنکر ہوتی تو میں نے پوچھا اس کا کیا مطلب؟کہا توبہ کرنے کا ایک طریقہ ہے۔(1)
ذکوان جو عائشہ کے حجاب کا انتظام کرتا تھا کہتا ہے کہ ابن عباس عائشہ کے مرنے کے وقت ان کے پاس گئے اور ان کی تعریف کی عائشہ نے کہا اے ابن عباس مجھے چھوڑ دو کاش میں بھولی بچھری چیز ہوتی۔(2) قیس کہتے ہیں کہ عائشہ نے مرنے کے عقت وصیت کہ کہ میں پیغمبرؐ کے بعد بہت سی نازیبا حرکتیں کی ہیں مجھے نبی اکرمؐ کی بیویوں کے ساتھ دفن کرو۔(3)
52۔مسلم سے روایت ہے کہ سرکار ایک بار گرمی میں سفر کررہے تھے آپ نے فرمایا کہ پانی کم ہے مجھ سے پہلے اسے کوئی استعمال نہیں کرےگا جب پانی تک پہنچے تو معلوم ہوا کہ کچھ لوگ اس کو پہلے ہی ختم کرچکے ہیں پس آپ نے ان لوگوں پر لعنت کی۔(4)
53۔جس طرح سرکار نے حکم بن عاص پر لعنت کی(5) وہ آپ کی نقل کرتا تھا اور انگلیوں سے اشارہ کرکے آپ کا مذاق اڑاتا تھا۔(6)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)طبقات الکبریٰ ج:8ص:74،عند حدیث(عائشہ بنت ابی بکر)
(2)طبقات الکبریٰ ج:8ص:75،ذکر ازواج رسول اللہؐ میں اور اسی طرح صحیح بخاری ج:4ص:1779،کتاب تفسیر،باب ولولا اذا سمعتم...مسند احمدج:1ص:276،مسند عبداللہ بن عباس،فتح الباری ج:8ص:484،سیر اعلام النبلائ ج:2ص:180،ام المومنین عائشہ کے حالات میں
(3)طبقات الکبریٰ ج:8ص:74،ازواج رسول کے ذکر میں،مصنف ابی ابی شیبۃ،ج:7ص:536،کتاب الجمل
(4)طبقات الکبریٰ ج:8ص:73،عند حدیث(عائشہ بنت ابی بکر)
(5)طبقات الکبری ج:8ص:75،ذکر ازواج رسول اللہ میں اور اسی طرح صحیح بخاری ج:4ص:1779،کتاب تفسیر،باب ولولا ازا سمعتم...مسند احمد ج:1ص:276،مسند عبداللہ بن عباس،فتح الباری ج:8ص:484،سیر اعلام النبلائ ج:2ص:180،ام المومنین عائشہ کے حالات میں
(6)الاصابۃ ج:6ص:558،حالات ھند بن ھند بن ابی ھالۃ میں اسی طرح ج:2ص:105،پر حالات الحکم بن ابی العاص میں اور تھوڑے سے اختلاف کے ساتھ،الاستیعاب ج:3ص:570،حالات ھند بن ابی ھالۃ میں اور معجم الصحابۃ،ج:3ص:196،حالات ھند بن ابی ھالہ میں مجمع الزوائد ج:5ص:243،کتاب الخلافۃ،باب ائمۃ الظلم و الجور و ائمہ الضلالۃ
آپ نے اس کے لئےبد دعا کی تو اس کو راعشہ کا مرض ہوگیا۔(1)
ایک حدیث میں ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا کہ جب کوئی بچہ پیدا ہوتا تو نبی کے پاس لایا جاتا اور آپ اس کے لئے دعائے خیر کرتے جب مروان بن حکم لایا گیا تو آپ نے فرمایا، وہ ذلیل بن ذلیل اور ملعون ابن ملعون ہے۔(3)
54۔انس بن مالک کہتے ہیں،اصحاب پیغمبرؐ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دفن کرتے ہی منکر ہوگئے(4) فتح باری میں اس جملہ کی تشریح یوں کی ہے کہ وہ لوگ اس عہد وفا کو بھول گئے جو آپسی محبت،صفا قلب اور نرمی دل کے بارے میں پیغمبرؐ سے باندھا تھا اس لئے اس تعلیم و تادیب کا فقدان تھا اور معلم اخلاق منومٹی کے نیچے سورہا تھا۔(5)
55۔عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ وفات پیغمبر کے بعد ہمیں ڈر ہوگیا کہ ہماری خوبیاں اسی دنیا میں نہ ختم ہوجائیں(6) اور یہ بھی کہتے تھے کہ ہمیں مصیبتوں سے آزمایا گیا تو ہم نے صبر کیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)طبقات الکبریٰ ج:8ص:74،ازواج رسول کے ذکر میں،مصنف ابی ابی شیبۃ،ج:7ص:536،کتاب الجمل
(2)معجم الکبری ج:12ص:148،مجمع الزوائد ج:8ص:43،کتاب الادب،باب فی الاستند ان و فیمن اطلع فی دار بغیر اذن،الاصابۃ،ج:2ص:104،حالات الحکم بن ابی العاص میں
(3)المستدرک علی صحیحین ج:4ص:526،کتاب الفتن و الملاحم اور اسی طرح کتاب الفتن (نعیم بن حماد)ج:1ص:131
(4)الاحادیث المختارۃ،ج:4ص:419،فیمارواہ(جعفر بن سلیمان الضبعی عن ثابت)سنن بن ماجہ،ج:1ص:522،کتاب الجنائز،باب ذکر وفاتہ و دفنہ،مصنف بن ابی شیبۃ،ج:7ص:133،کتاب الزھد،کلام بن مالک،مسند احمد ج:3ص:221،مسند انس بن مالک،ص:268،سنن ترمذی،ج:5ص:588،کتاب المناقب،باب فی فضل النبیؐ،صحیح بن حبان،ج:14،ص:601،ذکر انکار(الصحابۃ قلوبھم عند دفن صفی اللہؐ)
(5)فتح الباری،ج:8ص:149
(6)حلیۃ الاولیائ،ج:1ص:100،حالات عبدالرحمٰن بن عوف میں،صحیح بخاری،ج:1ص:428،کتاب الجنائز باب الکفن،صحیح بن حبان،ج:15،ص:485،کتاب اخبارہ عن مناقب الصحابہ،مصنف بن شیبہ،ج:4ص:216،کتاب الجھاد،سیر اعلام النبلاء،ج:1ص:1411،حالات مصعب بن عمیر میں
لیکن جب مسرتیں دے کے آزمایا گیا تو ہم صبر نہیں کرسکے۔(1)
56۔ابوبکر نے مرنے کے پہلے عمر بن خطاب کو خلیفہ بنادیا جب عبدالرحمٰن بن عوف ان کے مرنے کے وقت ان کے پاس پہونچے اور سرزنش کی تو ابوبکر نے کہا میں نے تم پر ایسے کو ولی بنایا ہے جو میرے علم میں تم سب سے بہتر ہے اب میں دیکھ رہا ہوں کہ سب کی ناک سوجی ہوئی ہے ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ خلافت عمر کے بجائے اس کے پاس آجاتی اصل میں تم دنیا کو اپنی طرف بڑھتا ہوا دیکھ رہے ہو،حالانکہ ابھی دنیا تمہاری طرف آئی نہیں ہے،ابھی تو یہ آتی رہے گی یہاں تک کہ تم حریر و دیبا کے کپڑے پہننے لگوگے خدا کی قسم اگر تم میں سے کوئی آگے بڑھا تو یہ سمجھ لے کہ دنیا کے چکر میں بہتر یہ ہے کہ اس کی گردن بغیر کسی جرم کے ماردی جائے کل آنے والے وقتوں میں تم لوگ عوام کو گمراہ کروگے اور صراط مستقیم میں رکاوٹ پیدا کرکے داہنے بائیں بھٹکادوگے،اے ہادی راستہ دکھا راستہ یا تو صحیح ہے یا سیرابی۔(2)
57۔ایک دن ابوبردہ بن موسیٰ اشعری سے عمر کے صاحب زادے نےپوچھا کہ تمہیں معلوم ہے ہمارے ابا تمہارے ابا سے کیا کہتے تھے،میں نے کہا نہیں بولے ایک دن میرے والد ماجد آپ کے والد ماجد سے پوچھنے لگے اے ابوموسیٰ کیا تم اسی بات پر خوش ہو کہ ہم لوگ نبی کے ہاتھوں مسلمان ہوئے اور آپ کے ساتھ ہجرت کی اور جہاد کیا تو یہ بات تو ہمارے لئے ثابت ہے لیکن سوال یہ ہے کہ جو حرکتیں ہم نے نبی کے بعد کیں کیا تمہیں یقین ہے کہ ان کی سزا سے ہاتھ پاؤں بچا کے نجات پاجائیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)حلیۃ الاولیاءج:1ص:100،حالات عبدالرحمٰن بن عوف میں،الاحادیث المختارۃ ج:3ص:121۔122،مسند عبدالرحمٰن بن عوف،مسند الشاشی ج:1ص:280
(2)تاریخ طبری ج:2ص:353،الضعفا للعقیلی ج:3ص:420،حالات عوان بن داؤد الجبلی،لسان المیزان،ج:4ص:189،حالات عوان بن داؤد الجبلی میں،مجمع الزوائد ج:5ص:202،کتاب الخلافۃ باب کراھۃ الولایۃ،الاحادیث المختارۃ ج:1ص:89،معجم الکبیر،ج:1ص:62
ابوموسیٰ نے کہا خدا کی قسم مجھے تو پیغمبرؐ کے بعد بھی اپنا کوئی برا عمل نہیں دکھائی دیتا ہے ہم نے نبی کے بعد بھی جہاد کئے،نمازیں پڑھیں،روزے رکھے بہت سے عمل خیر انجام دئیے اور بہت سے لوگوں کو مسلمان بنایا،عمر نے کہا لیکن اس کی قسم جس کے قبضہ میں عمر کی جان ہے میری تمنا ہے کہ صحابیت پیغمبرؐ سے مجھے بچائے اور نبی کے بعد ہن نے جو کچھ کیا ہے اس کی سزا سے ہاتھ پاؤں بچا کے نکل جائیں یہ سن کے ابوموسیٰ نے کہا تمہارے باپ بخدا میرے باپ سے بہتر تھے۔(1)
58۔جب عمر زخمی ہوئے تو کہنے لگے کاش میرے پاس زمین کے برابر سونا ہوتا جس کودے کے میں عذاب سے بچ جاتا(2) اور میرے پاس ساری زمین کی دولت ہوتی تو میں اسے صدقہ میں دے کے قیامت کے ہول سے بچ جاتا(3) اور یہ بھی کہا کہ کاش میں خلافت سے اس طرح باہر نکلوں جیسا داخل ہوا تھا یعنی بالکل صاف پاک، نہ مزدوری لی اور نہ بوجھ اٹھایا۔(4)
کبھی کہا میں چاہتا ہوں کہ خلافت میں جسے داخل ہوا تھا ویسے ہی نکل آؤں سورج جن چیزوں پر چمکتا ہے اگر ان کے برابر بھی سونا ہوتا تو میں اس کو قیامت کا فدیہ قرار دیتا(5) کبھی کہا میں چاہتا ہوں خلافت جب چھوڑوں تو میرا ہاتھ صاف رہے،نہ میرا فائدہ ہو نہ نقصان اور صحبت پیغمبر سلامت رہے۔(6)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)صحیح بخاری ج:3ص:1425،کتاب فضائل الصحابۃ،باب ہجرۃ النبی،واصحابہ،الی المدینۃ،اور اسی طرح سنن الکبری بیھقی ج:6ص:359،کتاب القسم و الفئۃ و الغنیمۃ،جماع ابواب تفریق...،باب الاختیار فی التعجیل...
(2)صحیح بخاری،ج:3ص:1350،کتاب الفضائل الصحابۃ،باب مناقب عمر بن خطاب ابی حفص القرشی
(3)طبقات الکبریٰ،ج:3ص:355،ذکر(استخلاف عمر)میں اسی طرح مجمع الزوائد،ج:9ص:75،کتاب المناقب،باب وفاۃ عمر،مصنف ابی شیبۃ،ج:7ص:100،کتاب الزھد(کلام عمر بن خطاب)میں،المستدرک علی صحیحین،ج:3ص:98کتاب معرفۃ الصحابۃ،مقتل عمر علی الاختصار
(4)سنن کبریٰ بیہقی ج:10ص:97،کتاب آداب القاضی:باب کراھیۃ الامارۃ،حلیۃ الاولیاء،ج:1ص:52،کلمات عمر میں اور اسی طرح طبقات الکبریٰ ج:3ص:351
(5)طبقات الکبریٰ،ج:3ص:355
(6)مجمع الزوائد ج:9ص:77،کتاب المناقب:باب وفاۃ عمر،صحیح بن حبان ج:15،ص:332،ذکر(مصطفیٰؐ رضا عن عمر)میں،مسند ابی یعلی،ج:5ص:116،اول مسند ابن عباس میں اور اسی طرح مسند الطیائسی ج:2ص:6
59۔جب عمر زخمی ہوئے تو صحابہ اس بات پر تیار نہیں تھے کہ وہ خلافت سے استیفا دیں لیکن عمر نے اس پوچھا اور پھر کہا تمہاری ہی رائے اور مشورہ پر تو عمل کرنے سے مجھ پر یہ مصیبت آئی ہے تو صحابہ نے اس بات سے اظہار برائت کیا اور حلف اٹھایا کہ ایسا نہیں ہے۔(1)
60۔ابوبکر کے دور خلافت میں کچھ لوگ یمن آئے اور قرآن کی تلاوت سن کر رونے لگے،ابوبکر نے کہا ہم لوگ بھی پہلے ایسے ہی تھے پھر سخت دل ہوگئے۔(2) 61۔سعد نے عمار سے تعلقات منقطع کر لئے،واقعہ یوں ہے کہ ایک دن سعد نے عمار سے کہا کہ میری نظر میں تم اصحاب میں فاضل ترین لوگوں میں سے تھے اب تمہاری زندگی میں سے گدھے کی سیرابی کے برابر دن باقی رہ گئے ہیں(یعنی بہت ٹھوڑے دن)تو تم نے اپنی گردن سے اسلام کا قلادہ اتار پھینکا پھر پوچھا تم کیا پسند کرتے ہو؟قلبی محبت یا خوبصورتی سے تعلقات کا منقطع کرنا عمار نے کہا:قطع تعلق ہی بہتر ہے سعد نے کہا میں خدا کی قسم کھاتا ہوں کہ تم سے کبھی نہیں بولوں گا۔(3) 62۔اسی طرح عائشہ نے حفصہ سے قطع تعلق کرلیا تھا جو موت کے وقت باقی رہا۔(4) 63۔خالد بن ولید اور عمر میں بول چال نہیں تھی آخر تک قطع تعلق رہا۔(5) 64۔معاویہ نے سعد کو سلام کیا تو انھوں نے جواب سلام نہیں دیا۔6) 65۔یہ بات پہلے ہی گذرچکی ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف اور عثمان میں قطع تعلق ہوچکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)مصنف عبدالرزاق ج:10ص:357،باب ھل یدخل المشرک فی الحرم،الاستیعاب ج:2ص:461،حالات عمر بن خطاب میں،طبقات الکبریٰ ج:3ص:348۔341،تاریخ طبری ج:2ص:560،مصنف ابن ابی شیبۃ،ج:7ص:440،کتاب المغازی،حلیۃ الاولیاء،ج:4ص:151،فضائل الصحابہ،ج:1ص:263،فضائل عمر بن خطاب میں
(2)حلیۃ الاولیاءج:1ص:34،حالات ابی بکر میں،تاریخ الخلفاءص:98،جس میں ابوبکر صدیق سے روایت ہوئی ہے۔
(3)المعارف لابن قتیبہ ص:550،المتھاجرین میں
(4)المعارف لابن قتیبہ ص:550،المہاجرین میں
(5)العقد الفریدج:3ص:235،کتاب الدرۃ فی النوادب
(6)التاریخ الکبیر للبخاری ج:4ص:285،حالات صالح بن عبدالرحمٰن بن مسعود میں
66۔ابوردائ کہتے تھے کہ ہمیں امت محمد میں سوائے نماز جماعت کے کوئی خوبی نہیں دکھائی دیتی(1) دوسری حدیث میں ہے کہ خدا کی قسم میں سیرت پیغمبر کی کوئی جھلک آپ کی امت میں نہیں دیکھتا مگر یہ کہ نماز جماعت سے ادا کر لیتے ہیں۔(2) ایک اور حدیث میں ہے کہ امر محمد میں سوائے نماز کے کچھ نہیں دیکھتا۔(3)
67۔انس کہتے ہیں کہ اے مسلمان دور رسول کی کوئی چیز تم میں باقی نہیں لوگوں نے کہا کیوں؟نماز تو ہے انس نے کہا اسے بھی تو تم سے جتنا ہوسکا ضائع کرچکے ہو۔(4)
68۔ابھی حذیفہ سے ایک حدیث آئے گی کہ مسلمان مبتلا ہوئے یہاں تک کہ لوگ چھپ چھپ کر نماز پڑھنے لگے۔
69۔ابوموسیٰ اشعری کہتے ہیں کہ علی نے ہمیں وہ نماز یاد دلائی جو ہم نبی کے ساتھ پڑھتے تھے اور جس کو ہم بھول گئے تھے یا جان بوجھ کر چھوڑ دیا تھا۔(5)
70۔مسیّب کی حدیث میں ہے کہ براء بن عازب سے ملا اور کہا کہ آپ کو مبارک ہو آپ کو نبی کی صحبت ملی اور آپ نے شجرہ کے نیچے نبی کی بیعت کی،کہنے لگے بھیجتے...اس کے بعد ہم لوگوں نے کیا کیا کہا تم نہیں جانتے۔(6)
71۔دوسری حدیث ابوسعید سے ہے کہ انھوں نے براء بن عازب سے کہا کہ آپ کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)صحیح بخاری ج:1ص:232،کتاب الجماعۃ و الامامۃ،اب فضل صلوٰۃ الفجر فی جماعۃ
(2)مسند احمدج:5،ص:195حدیث ابی الدردا
(3)مسند احمدج:6ص:443،من حدیث ابی الدردا
(4)صحیح بخاری ج:1ص:197،کتاب مواقیت الصلوٰۃ تضییع الصلوٰۃ عن وقتھا
(5)مسند احمدج:4ص:392۔411۔415،حدیث موسیٰ میں،مصنف ابی ابی شیبۃ ج:1ص:217،کتاب الصلوٰۃ،شرح معانی الآثارج:1ص:221،کتاب الصلوٰۃ،فتح الباری ج:2ص:270وغیر
(6)صحیح بخاری ج:4ص:1529،کتاب المغازی،باب غزوۃ الحدیبیۃ
مبارک ہو کہ آپ نے نبی کو دیکھا اور ان کی صحبت میں رہے کہنے لگےکہ اس کے بعد ہم نے کہا کیا؟تم کو نہیں معلوم ہے۔(1)
72۔محمد کی حدیث ہے کہ نبیؐ کے اصحاب میں سے ایک صاحب کہنے لگے کہ ہم میں سے کسی کو فتنہ نے گرفتار نہیں کیا۔اگر تم کہو کہ میرا خیال صحیح نہیں ہے تو میں کہوں گا کہ سوائے عبداللہ بن عمر کے کوئی مفتون نہیں ہوا۔(2)
73۔حذیفہ کی حدیث ہے کہ منافقین کی شرارت آج کل عروج پر ہے،اس لئے کہ عہد نبوی میں ہو پوشیدہ تھے اب کھل کر سامنے آگئے ہیں،(3) دوسری حدیث میں ہے کہ حذیفہ نے کہا:نفاق تو نبی کے دور میں تھا،آج تو ایمان کے بعد صرف کفر ہے۔(4)
74۔تاریخ میں غزوہ تبوک کی واپسی کا واقعہ بہت مشہور ہے جب منافقین نے کوشش کی تھی کہ نبی کے ناقے کو بھڑکاکر آپ کو پہاڑ سے وادی میں گرادیں۔(5)
مجمع زوائد میں ابوطفیل سے اس کی تفصیل نقل کی گئی ہے،ابوطفیل کہتے ہیں کہ نبی تبوک کی طرف جارہے تھے یہاں تک کہ ایک وادی میں پہونچے پس آپ نے اپنے منادی کو حکم دیا کہ اعلان کردو کہ وادی میں کوئی بھی داخل نہ ہو پیغمبر وادی میں سفر کررہے ہیں حذیفہ آپ کے اونٹ کو ہنکار ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)الاصابۃ ج:3ص:79،حالات سعد بن مالک میں،تاریخ دمشق ج:20،ص:391،حالات سعد بن مالک میں،(ابی سعید الخدری)
(2)مصنف ابن ابی شیبۃ ج:7ص:468،کتاب الفتن،طبقاب الکبریٰ ج:4ص:144،و من بنی عدی بن کعب
(3)صحیح بخاری ج:6ص:2604،کتاب الفتن،باب اذا قال عند مقوم شیاً
(4)صحیح بخاری ج:6ص:2604،کتاب الفتن،باب اذا قال عند مقوم شیاً
(5)مجمع الزوائد ج:1ص:110،کتاب الایمان،باب منہ فی المنافقین،مسند احمدج:5ص:453،حدیث ابی الطفیل عامر بن وائلہ،الاحادیث المختارۃ ج:8ص:221۔222،البدایۃ و النھایۃ،ج:5ص:19۔20۔21،فضائل غزوہ تبوک،در منثور،ج:3ص:259۔260،آیت(یحلفون اللہ ما قالوا)کی تفسیر میں،تفسیر بن مسعود،ج:4ص:84،سورہ توبہ،آیت74کی تفسیر میں،تفسیر بن کثیر،ج:2ص:372۔274،آیت(و ھموابمالم ینالو)کی تفسیر میں،معجم الکبیر،ج:3ص:165،
تھےاور عمار کھینچ رہے تھے کہ وادی میں کچھ لوگ نقاب پہنے ہوئے تھے اور انھوں نے نبیؐ کو چاروں طرف سے گھیر لیا وہ لوگ اپنی سواریوں پر تھے عمار پلٹ کر ان کے ناقوں کے پر منھ مارا،نبیؐ نے حذیفہ سے فرمایا کہ میرے ناقےکو آگے بڑھاؤ اور عمار سے کہا کہ تم اس کو کھینچو یہاں تک کہ عمار نے ناقہ کو بھڑکا دیا،آپؐ نے عمار سے کہا کہ کیا تم ان نقاب پوشوں کو پہچانتے ہو،عمار نے کہا یا رسول اللہ ان کے چہروں پر نقابیں ہیں میں انھیں نہیں پہچانتا،ہاں البتہ سواریوں کو پہچانتا ہوں آپؐ نے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ پیغمبرؐ کے بارے میں ان کے کیا ارادے ہیں میں نے کہا اللہ اور اس کا رسول جانتا ہے آپ نے فرمایا کہ ان کا ارادہ ہے کہ وہ ناقے کو بھڑکا دیں تا کہ رسول وادی میں گرجائے اور قصہ ختم ہوجائے۔
بات ختم ہوگئی لیکن اس واقعہ کے بعد عمار اور کسی آدمی میں کچھ بحث ہوگئی اس شخص نے کہا کہ میں تم کو خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ اصحاب عقبہ کتنے تھے؟جنہوں نے پیغمبرؐ سے مکر کرنا چاہا تھا عمار نے کہا میرا خیال ہے کہ وہ چودہ تھے اس نے کہا کہ اگر میں بھی ان میں ہوتا تو پندرہواں ہوتا،عمار اس بات کےگواہ ہیں ان میں سے بارہ تو وہ تھے جو دنیا میں پیغمبرؐ سے لڑتے ہی رہے آخرت میں بھی پیغمبرؐ کے دشمن ہوں گے طبرانی نے کبیر میں اس روایت کو ثقہ روایوں کے سلسلے سے لکھا ہے۔(1)
بہت سی حدیثوں میں عقبہ کی کہانی بیان کی گئی ہے کہ سرکار دوعالم نے اس رات اپنے ساتھیوں کو حکم دیا تھا کہ نقاب پوشوں کے نام راز میں رکھیں گے،اگر چہ اس میں اختلاف ہے کہ انھیں پہچانتا کون تھا؟حذیفہ اور عمار یا صرف حذیفہ،بہرحال صورت حال چاہے جو بھی ہو نبی نے ان کے نام پوشیدہ رکھنے کی ہادیت کی تھی اس لئے کہ وہ لوگ یا ان میں سے کچھ لوگ مسلمانوں کے درمیان منافق نہیں سمجھے جاتے تھے،بلکہ اس لئے بھی کہ مسلمانوں کے درمیان جو کچھ ان کا احترام ہے وہ ختم ہوجائےگا،اس کے علاوہ ان کے نام کے اعلان سے ملت اسلامیہ میں کچھ ایسی مشکلیں آجاتیں جن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)مجمع الزوائدج:1ص:110کتاب الایمان:باب منہ فی المنافقین
سے اس دور میں پرہیز کرنا اچھا تھا اس لئے کہ عروہ ان لوگوں کو منافق نہیں مانتے تھے بلکہ صحابہ مانتے تھے جیسا کہ عروہ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ حضرات منافق نہیں صحابہ تھے۔(1)
75۔بعض حدیثوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بعض صاحبان مرتبہ صحابہ،کچھ عزت دار صحابہ کے حالات سے واقف تو تھے لیکن چونکہ ان کی عوام میں ایک عزت تھی اس لئے ان کی عزت کو بچانے کے لئے ان کے حالات پر پردہ نہ ڈالتے تو عوام میں ایک طوفان کھڑا ہوجاتا۔
جیسا ابی بن کعب کی اس روایت سے ظاہر ہوتا ہے اور ابوطفیل کا یہ بیان بھی شاہد ہے،ابوطفیل کہتے ہیں کہ میں اور عمر بن صلیع محاربی حذیفہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا حدیث بیان کرو انہوں نے کہا خدا کی قسم اگر میں تم سے ہر مخفی بات بتادوں تو تم مجھے قتل کردوگے،یا یہ کہا کہ تم ہماری تصدیق نہیں کروگے۔
انھوں نے کہا کہ کیا یہ حق ہے،حذیفہ نے کہا کہ ہاں یہی سچ ہے،انھوں نے کہا آپ ہم سے وہ مخفی باتیں بتایئے جو ہمیں فائدہ پہونچائیں اور آپ کو نقصان بھی نہ ہو،ہمیں ایسا سچ نہیں چاہئے جس کو سننے کے بعد ہم آپ کو قتل کردیں،حدیفہ نے کہا اچھا اگر میں یہ کہوں کہ تمہاری ماؤں نے ہی تمہیں پیدا کیا ہے تو تم ہماری تصدیق کروگے،انھوں نے کہا ہاں یہ سچ ہے۔(2)
76۔ابن حزم کہتے ہیں اور زید بن وہب سے بھی بخاری شریف کے طریق سے روایت ہے کہ حذیفہ نے کہا:اصحاب محمد میں مندرجہ ذیل آیت کے مصداق صرف تین آدمی باقی رہ گئے ہیں،آیت یہ ہے کہ:
(و ان نّکثوا ایمانهم من بعد عهدهم و طعنوا فی دینکم فقاتلوا ائمّة الکفر انّهم لاایمان لهم لعلّهم ینتهون)(3)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سنن کبری للبیھقی ج:9ص:33،کتاب السیر:باب من لیس للامام من یغرو..،درّ منثور ج:3ص:259،آیت(یحلفون باللہ ما قالوا)کی تفسیر میں
(2)جامع اذدی ج:11ص:52۔53،باب القبائل
(3)سورہ توبہ آیت:12
ترجمہ:اگر یہ لوگ اپنے عہدہ کو توڑیں اور تمہارے دین پر حملہ کریں تو کفر کے اماموں کو مار ڈالو ان کے لئے کوئی عہد و پیمان نہیں ہے تا کہ وہ لوگ اپنی حرکتوں سے باز رہیں۔
حذیفہ نے فرمایا کہ اب صرف چار منافقین باقی رہ گئے ہیں،ایک عرب نے کہا کہ آپ لوگ اصحاب محمد ہیں ہمیں وہ باتیں جو ہم نہیں جانتے وہ کون لوگ ہیں جو ہمارے گھروں میں نقب لگاتے ہیں اور ہمارا سامان چرالے تے ہیں؟
حذیفہ نے کہا وہ فاسق لوگ ہیں منافق نہیں،اس لئے کہ اب تو منافقین میں سے چار ہی بچے ہیں ایک بڈھا ہے اگر پانی پی لیتا تو ٹھنڈا پڑجاتا(1) (یعنی ایک بڈھا منافق ہے اگر اس کو موت آجاتی تو فساد ختم ہوجاتا)(مترجم)
صورت حال جو بھی رہی ہو اصحاب عقبہ کے نام بہرحال پوشیدہ رہے ہاں کبھی کبھی اشاروں اور کنایوں میں کسی کی طرف نظر اٹھ گئی تو وہ دوسری بات ہے سب سے واضح اشارہ ابوموسی نے مولائے کائناتؑ کو واقعہ تحکیم میں خلافت سے الگ کردیا تو پھر وہ مولائے کائناتؑ کے مخالفین میں شامل ہوگئے یہاں تک کہ حذیفہ کے بارے میں بھی وہ بکواس کرنے لگے جواب میں حذیفہ نے بھی ان کے بارے میں ایسی باتیں کہیں جس کا ذکر کرنا بھی مکروہ ہے اللہ انھیں بخشے۔(2)
ابن ابی الحدید کہتے ہیں کہ ابوعمر بن عبدالبر نے جس بات کی طرف اشارہ کیا ہے اور جس بات کا تذکرہ مکروہ سمجھ کر نہیں کیا وہ یہ ہے کہ حذیفہ نے اس شخص(ابوموسیٰ)کے دین کے بارے میں کہا تھا،حذیفہ نے کہا جہاں تک تم لوگوں کا سوال ہے تو تم لوگ اس کے بارے میں جو چاہو عقیدہ رکھو لیکن جہاں تک میرا خیال ہے تو ابوموسیٰ وہ ہے جو خدا کا دشمن خدا کے رسول کا دشمن ہے اس کی میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اس دنیا میں بھی،آخرت میں بھی اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنے والا ہے قیامت کے دن بھی وہ خدا اور اس کے رسول کا دشمن ہوگا جس دن ظالموں کو کوئی بہانہ کام نہ آئےگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)المحلی،ج:11ص:222(فی مسئلۃ من المنافقین و..)
(2)الاستیعاب ج:2ص:364،عبداللہ بن قیس بن سلیم کے حالات میں
ان کے لئے لعنت اور اٹھکانہ ہے اور حذیفہ منافقین کے نام جانتے تھے،پیغمبرؐ نے اس بارے میں انھیں رازدار بنایا تھا اور ان کے ناموں کی نشان دہی کی تھی۔روایت ہے کہ عمار سے ابوموسیٰ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے کہا میں نے اس آدمی کے بارے میں حذیفہ سے بہت بڑی بات سنی ہے وہ فرماتے تھے کہ یہ کالی ٹوپی والا ہے اور پھر انھوں نے ایسا منھ بنایا کہ میں سمجھ گیا کہ عقبہ والی پارٹی سے لگاؤ رکھتا ہے۔(1) حکیم کی حدیث میں ہے کہ میں عمار یاسر کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ابوموسیٰ آئے عمار نے کہا ابوموسی مجھے تم سے کوئی مطلب نہیں،ابوموسیٰ نے کہا کیا میں تمہارا بھائیی نہیں ہوں عمار نے کہا کہ یہ تو میں نہیں جانتا لیکن یہ جانتا ہوں کہ ہادی اعظم نے تم پر پہاڑ والی رات وادی عقبہ میں لعنت بھیجی تھی،موسیٰ نے کہا اور استغفار بھی تو کیا تھا،عمار نے کہا اور استغفار بھی تو کیا تھا،عمار نے کہا میں لعنت کا گواہ ہوں استغفار کا نہیں۔(2)
اسی طرح کی دوسری حدیث ہے ابوطفیل کی حدیث ملاحظہ کریں(3)
حذیفہ سے ایک ایسے آدمی کا جھگڑا ہوگیا جو وادی عقب میں شریک تھا اس نےکہا حذیفہ میں آپ کو خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں اصحاب عقبہ کتنےتھے حذیفہ خاموش تھے کہ لوگوں نےکہا حذیفہ آپ سے وہ سوال کررہا ہے اس کا جواب دیجئے،ابوموسیٰ بول پڑے ہمیں تو بتایا گیا ہے کہ وہ چودہ تھے،حذیفہ نے کہا اور اگر تم بھی ان میں شامل تھے تو پندرہویں ہوئے،میں خدا کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ ان میں بارہ تو وہ تھے جو خدا اور خدا کے رسول کے دشمن تھے اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور تین نے اپنی معذوری ظاہر کردی تھی اور کہہ دیا تھا کہ ہم نے پیغمبرؐ کی منادی نہیں سنی تھی اور ہمیں معلوم نہیں تھا کہ ان لوگوں کے کیا ارادے ہیں۔(4)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)شرح نہج البلاغہ ج:13ص:314،(فضل فی نسب ابی موسیٰ..)
(2)کنز العمال ج:13ص:608
(3)الکامل فی الضعفاء ج:2ص:362،حالات حسین بن حسن الاشقر میں،تاریخ دمشق ج:32ص:93،حالات عبداللہ بن قیس میں
(4)مصنف ابی شیبہ ج:7ص:445،کتاب المغازی،کنز العمال ج:14ص:86،حدیث:38011
شفیق کی حدیث ملاحظہ وہ ہو کہتا ہے کہ ہم مسجد نبوی میں حذیفہ کے ساتھ بیٹھے تھے کہ عبداللہ اور ابوموسی مسجد میں داخل ہوئے،حذیفہ نے کہا ان میں سے ایک منافق ہے اور بیشک چلنے پھرنے میں اور دلیلیں دینے میں اور سمت معین کرنے میں عبداللہ،پیغمبر برحق سے بہت مشابہ ہیں۔(1)
اس سلسلے میں تو ابن جزم نے ان خبروں کا بھی ذکر کیا ہے جس میں منافقین کے ناموں کی صراحت ہے(2) لیکن ابن جزم نے خود ہی انھیں ناگوار خاطر بتایا ہے۔اور ان کے متن کا تذکرہ نہیں کیا ہے نہ یہ بتایا ہے کہ یہ روایتیں کہاں سے لی گئی ہیں جیسا کہ سیوطی،طبرانی اور ابن کثیر نے دوسری حدیثوں میں تذکرہ کیا ہے(3) جس کی خواہش مزید تحقیق کی ہے وہ مذکورہ بالا مصنفین کی کتابوں کی طرف رجوع کرے اور پھر اچھی طرح سے موضوع پر جان کاری حاصل کرے تا کہ اس کو تسلی بخش جواب مل جائے،میں اس موضوع پر زیادہ بات نہیں کرنا چاہتا،اس لئے کہ میرا مقصد منافقین کی نقاب کشائی نہیں ہے،میں تو صرف یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ جن صحابہ کو دنیا اتنا محرم سمجھتی ہے اور جن کے تقدس کی قسم کھاتی ہے وہی صحابہ شب عقبہ میں پیغمبرؐ کے قتل کی سازش کرتے ہیں اور اس جرم عظیم پر پچھتاتے تک نہیں ہیں نامعلوم کر کے کیا کروگے؟بڑے بڑے لوگ ہیں۔
77۔قیس بن عبادہ،ابی بن کعب سے بیان کرتے ہیں کہ پھر حضور نے قبلہ کی طرف رخ فرمایا اور تین مرتبہ کہا کہ کعبہ پروردگار کی قسم کہ اہل عقد ہلاک ہوگئے،خدا کی قسم مجھے اس کا افسوس نہیں ہے بلکہ افسوس تو اس بات کا ہے کہ وہ کس چیز پر گمراہ ہوئے راوی کہتا ہے کہ میں نے حضور سے پوچھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سیر اعلام النبلاءج:2ص:393۔394،حالات ابی موسیٰ اشعری میں،تاریخ دمشق ج:32ص:93،عبداللہ بن قیس سلیم کے حالات میں(ابوموسیٰ اشعری)
(2)المحلی،ج:11ص:224،مسئلہ منافقین و المرتدین میں
(3)معجم الکبیر،ج:3ص:165،فی تسمیہ اصحاب العقبۃ،تفسیر بن کثیر،ج:2ص:374،سورہ توبہ کی آیت،74۔73کی تفسیر میں،در منثور،ج:3ص:259،آیت(یحلفون باللہ)کی تفسیر میں
اہل عقد سے آپ کی کیا مراد ہے؟فرمایا امرا۔(1)
اسی کے قریب المعنی ایک دوسری حدیث ہے،جس میں راوی پوچھتا ہے،اے ابویعقوب،اہل عقد سے کیا مراد ہے،کہا:امرا۔(2)
اسی معنی میں ایک اور دوسری حدیثیں بھی ہیں(3) اس کے علاوہ ایک حدیث میں جندب بن عبداللہ بجلی،ابی بن کعب سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا:کعبہ پروردگار کی قسم اصحاب عقدہ ہلاک ہوگئے اور مجھے ان سے ہمدردی بھی نہیں ہے،راوی کہتا ہے کہ میرا خیال ہے کہ انھوں نے یہ جملہ کئی مرتبہ کہا،پھر کہنے لگے پالنے والے اگر میں جمعہ کے دن تک زندہ رہا تو باتیں ضرور کہوں گا جو میں نے پیغمبرؐ سے سنی ہیں،مجھے کسی ملامت کا خوف نہیں اور جمعہ کا انتظار کرتا رہا جب جمعرات کا دن آیا تو میں کسی کام سے باہر نکلا تو میں نے یہ دیکھا کہ تمام گلیاں لوگوں سے بھری ہوئی ہیں سوائے اس گلی کے جس سے میں لوگوں تک پہنچ سکتا تھا میں نے پوچھا اتنا مجمع کیوں ہے؟لوگ گھروں سے باہر کیوں نکل پڑے ہیں،لوگوں نے کہا لگتا ہے تم پرائے ہو،میں نے کہا ہاں،لوگوں نے کہا سیدالمسلمین اُبی ابن کعب کا انتقال ہوگیا۔(4) عُتی ابن ضمرہ کی حدیث میں ہے کہ اُبی ابن کعب نے کہا بخدا اگر میں جمعہ تک زندہ رہا تو کچھ باتیں کہوں گا،اس کے بعد لوگ مجھے زندہ رہنے دیں یا ماردیں،ابھی جمعہ میں کچھ دن باقی ہی تھا کہ میں نے دیکھا کہ لوگ عمارتوں سے نکل پڑے ہیں اور گلیوں میں کاندھے سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)المستدرک علی صحیحین ج:1ص:334،کتاب الصلوٰۃ،ومن کتاب الامامۃ و صلوٰۃ الجماعۃ
(2)سنن کبریٰ للنسائی ج:1ص:287،کتاب الامامۃ و الجماعۃ
(3)الاحادیث المختارۃ،ج:4ص:30۔31،فیما رواۃ قیس بن عباد البصری،المستدرک علی صحیحین،ج:4ص:571،کتاب الفتن و الملاحم،مسند ابن الجعد،ص:197،حلیۃ الاولیاء،ج:1ص:252،حالات ابی بن کعب میں
(4)طبقات الکبریٰ ج:3ص:1501،حالات ابی بن کعب میں،حادیث المختارۃ ج:3ص:347،346،(جندب المنہ بن عبداللہ وھو صحابی)تاریخ دمشق ج:7ص:341،حالات ابی بن کعب بن قیس میں
کاندھا چھل رہا ہے میں نے پوچھا لوگوں کو کیا ہوا ہے؟کہنے لگے مسلمانوں کے سردار ابی بن کعب کا انتقال ہوگیا۔(1)
یہ وہ حالات تھے جو صحابہ کے بارے میں عرض کئے گئے ہیں،اس سے پتہ چلتا ہے کہ صحابہ کے آپس میں کیسے تعلقات تھے اور انھوں نے کیا کیا حرکتیں انجام دی ہیں اور خود اپنے بارے میں ان کا کیا نظریہ تھا یہ شواہد بہت جلدی میں پیش کئے گئے ہیں اور مناسب موقعہ پر کچھ اور حالات آپ کی نگاہوں کے سامنے آئیں گے،اس لئے کہ یہاں پر بعض شواہد اس لئے بھی چھوڑ دیئے گئے ہیں کہ ان کے بیان کی کوئی گنجائش نہیں تھی یا پھر ان کا تذکرہ مناسب نہیں تھا۔
ان تمام حالات سے ایک بات بہرحال ثابت ہے کہ وضع طبعی کے لحاظ سے جو باتیں چھوٹ گئی ہیں وہ بیان کی وئی باتوں سےزیادہ ہیں اس لئے کہ صحابی کی عام تعریف یہ ہے کہ جو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دیکھے اور آپ سے حدیث سنے تو ایسے لوگ تو بہت سے ہیں اور انہوں نے نبی کے بعد ایک طویل زمانہ اس دنیا میں گذارا ہے اور بڑے بڑے کارنامے انجام دیئے ہیں تاریخ کی کتابیں احادیث و واقعات سے بھری پڑی ہیں جن میں ان حضرات نے شرکت کی بلکہ بعض واقعات میں تو انھیں قیادت حاصل ہے۔
یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ تاریخ نے تمام واقعات کو بیان بھی نہیں کیا ہے اس لئے کہ اصحاب پیغمبر کی تعداد محدود نہیں ہے اس کے علاوہ یہ بھی ممکن ہے کہ کسی صحابی کے حالات کچھ دنوں تک تاریخ بیان کرتی رہی پھر اس کی گرفت سے وہ حالات ہی نکل گئے ہوں یا جان بوجھ کر انہیں ضائع کردیا گیا ہو یا حقیقت میں تحریف کردی گئی ہو جیسا کہ ایک تلاش حق کا ذمہ دار عام انسانوں کے حالات میں محسوس کرتا ہے اس کے علاوہ ہم اس بات کے بھی دعویدار نہیں ہیں کہ جتنے حالات اور جو کچھ بیان کئے ہیں وہ سب کے سب حرف بہ حرف صحیح ہیں اس لئے کہ ہم نے جو نہیں بیان کیا ہے ممکن ہے وہ بیان کی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)طبقات الکبریٰ ج:3ص:501،500،حالات ابی بن کعب میں،سیر اعلام النبلاءج:1ص:399،حالات ابی بن کعب میں تہذیب الکمال ج:2ص:270،حالات ابی بن کعب میں،تاریخ دمشق ج:7ص:340،حالات ابی بن کعب میں
ہوئی باتوں سے زیادہ ہوں،مثلاً ہم نے دو صحابہ کا جھگڑا تو دکھا دیا لیکن یہ فیصلہ نہیں کیا کہ ظالم کون ہے اور مظلوم کون ہے؟
یا حق پر کون ہے اور باطل پر کون ہے؟اس کا فیصلہ تو صاحبان فکر و نظر کریں گے ہم تو صرف اور صرف یہ ثابت کرنا چاہتے تھے کی صحابہ صرف انسان ہیں جیسے کے عام انسان ہوئے ہیں کبھی صالح کبھی حق پر،کبھی باطل،ایک عام انسان کی طرح ان کے اعمال جذبات و افکار کا نتیجہ ہوتے ہیں اور وہ کوئی ایسی چیز نہیں ہیں کہ انہیں بہت توپ سمجھا جائے۔
صحابہ کے بارے میں تابعین اور تبع تابعین کے خیالات اور نظریئے
صحابہ کے بعد جو مسلمان تھےان کے درمیان صحابہ کے بارے میں جو خیالات باقی رہے اگر انسان غفلت سے کام نہ لے تو پتہ چلےگا کہ صحابہ کے درمیان جو اختلاف تھا اور ان کے آپس میں ایک دوسرے کے بارے میں جو نظریہ تھے وہ تابعین کی نظر میں تھے۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ بنوامیہ کے دور میں لوگوں کی عظمت کا معیار عثمان کا معاملہ تھا،بلکہ ابوبکر اور عمر کو بھی معیار بنایا گیا تھا تا کہ ان کے خلاف حجت قائم کی جائے اور ان کو سزا دی جائے یعنی جو ابوبکر،عمر،عثمان کا معترف تھا وہ قابل انعام تھا اور جو ان کا مخالف تھا وہ قابل سزا تھا۔
لوگ امیرالمومنین علیؑ اور آپ کے اہل بیت بلکہ شیعوں کی دشمنی پر فخر کرتے تھے اور ان کی عداوت پر ناز کرتے تھے اس سے یہ بات بہرحال ثابت ہوجاتی ہے کہ اس دور کے لوگ بھی تمام صحابہ کے عادل ہونے پر متفق نہیں تھے اور سب کو مقدس اور محترم نہیں سمجھتے تھے بلکہ بہت سےگروہ تو کچھ صحابہ کو اعلانیہ برا بھلا کہتے تھے،جیسے امامی شیعہ،زیدی،خوارج اور اس کے تمام فرقے اور معتزلہ بلکہ فرقہ نظامیہ تو بڑے بڑے صحابہ پر لعن،طعن کیا کرتا تھا(1) اور صحابہ کی اکثریت ان کی نظر میں مطعون تھی۔(2)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)الفرق بین الفرق ص:162،ملل و نحل ج:1ص:72،الباب الاول الفصل الاول فی الحدیث عن الفرقہ..
(2)الفرق بین الفرق ص:304
اس طرح کے کچھ شواہد مندرجہ ذیل ہیں۔
1۔کلثوم بن جبر کی حدیث ابوالغادیہ کے بارے میں گذرچکی ہے۔
2۔طلحہ اور زبیر کے بارے میں حسن بصری کی حدیث بھی گذرچکی ہے۔
3۔حسن بصری کہتے تھے کہ معاویہ کے اندر چار خرابیاں ایسی تھیں کہ ان میں سے ایک اس امت پر بیوقوف لوگوں کو مسلط کرنا اور امت کے امور کا فیصلہ بغیر مشورے کے جاری کرنا جب مشورہ کرنے کے لئے صحابہ اور صاحبان فضل موجود تھے،دوسرے اپنے بیٹے کو اپنے بعد خلیفہ بنانا جب کہ وہ نشہ کرتا تھا،شرابی بھی تھا اور حریر و دیبا پہنتا تھا اور طنبور بجاتا تھا۔
تیسرے زیاد کو اپنے باپ کا بیٹا کہہ دینا جب کہ سرکار کی حدیث ہے کہ لڑکا صاحب فراش کا ہوتا ہے اور زانی کے لئے پتھر ہے اور چوتھے جناب حجر بن عدی کو شہید کرنا۔((حجر کے بارے میں اس پر وائے ہو))یہ جملہ خواجہ حسن بصری نے دو مرتبہ کہا۔(1)
4۔اور یہ جناب عروہ بن زبیر ہیں جو فرماتے ہیں کہ حسان بن ثابت عائشہ پر بہت زیادہ اعتراض کرتے تھے تو میں نے انہیں گالی دے دی،عائشہ نے کہا میرے بھانجے اس کو چھوڑ دو یہ پیغمبرؐ کا سر چڑھایا ہوا ہے۔(2)
5۔کہا جاتا ہے کہ حریز بن عثمان جس کو اک جماعت ثقہ سمجھتی تھی اور انہیں لوگوں میں امام احمد بن حنبل بھی تھے(3) یہ شخص مولائے کائنات سے بغض رکھتا تھا اور آپ کے اوپر طعن کرتا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)تاریخ طبری ج:3ص:232،مختصر طور پر بدایۃ النہایہ ج:8ص:130،حالات معاویہ میں ذکر ہوا ہے۔
(2)صحیح مسلم ج:4ص:1933،کتاب فضائل الصحابۃ،باب فضائل حسان بن ثابت اور اسی طرح صحیح بخاری ج:4ص:1523،کتاب المغازی،باب حدیث الافک اور اسی طرح،ج:5ص:2278،کتاب الادب،باب ھجائ المشرکین،مستدرک علی صحیحین ج:3ص:555،مناقب حسان بن ثابت میں،الادب المفرد للبخاری ص:299،باب(من الشعر حکمۃ)میں
(3)تہذیب التہذیب ج:2ص:حالات حریز بن عثمان بن جبر میں
آپ کو بہت گالیاں دیتا تھا اور کہتا تھا کہ اس شخص(علی)نے میرے باپ داد کے سروں کو کاٹا ہے۔(1)
6۔کہتے ہیں کہ یحییٰ بن عبدالحمید کہتے تھے کہ معاویہ ملت اسلام کے خلاف مرا ہے۔(2)
7۔اور یہ عبدالرزاق صنعانی ہیں،اہل حدیث کی نظر میں ان کا مرتبہ بہت بلند ہے اور بہت جلیل القدر ہیں،اتنے سچے کہ یحیٰ بن معین کہتے ہیں اگر عبدالرزاق اسلام سے مرتد بھی ہوجائیں تو میں ان سے حدیثیں لینا نہیں چھوڑوں گا۔(3)
ان تمام باتوں کے سامنے رکھتے ہوئے اب واقعہ ملاحظہ فرمائیں۔
مالک بن اوس بن حدثان کے حوالے سے عبدالرزاق وہ واقعہ بیان کرتے ہیں جس میں عمر سے عباس بن عبدالمطلب اور مولائے کائناتؑ نے میراث پیغمبرؐ کا مطالبہ کیا تھا،عمر کہتے ہیں کہ یہ شخص یعنی عباس اپنے بھتیجے کی میراث لینے آیا ہے اور تم علی اپنی بیوی کی میراث مانگ رہے ہو،پھر عبدالرزاق کہتے ہیں ذرا اس احمق کو دیکھو یہ کہہ رہا ہے کہ تم اپنے بھتیجے کی میراث مانگتے ہو اور یہ اپنے خسر کی طرف سے اپنی بیوی کی میراث مانگتے ہیں دونوں ہی جملوں میں حوالہ پیغمبر کا ہے لیکن یہ اپنے منہ نہیں پھوٹ رہا ہے کہ تم رسول خدا کی میراث لینے آئے ہو۔(4)
ذہبی کہتے ہیں عبدالرزاق کو ایک سے زیادہ لوگوں نے ثقہ قرار دیا ہے ان کی حدیثیں صحاح میں لی گئی ہیں اور کچھ حدیثیں ایسی ہیں جو صرف ان سے روایت کی گئی ہیں،لیکن لوگوں نے ان پر تشیع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)تہذیب التہذیب ج:2ص:209،حالات حریز بن عثمان بن جبر میں،المجر وحین ج:1ص:268،حالات حریز بن عثمان میں
(2)تاریخ بغدادج:14ص:176،حالات یحییٰ بن ھمام میں،میزان الاعتدال ج:4ص:344،حالات عبد الرزاق بن ھمام میں،الکامل فی الضعفاء الرجال ج:5ص:311،حالات عبدالرزاق بن ھمام میں معرفۃ علوم حدیث ص:139،ذکر النوع الثانی و الثلاثین
(4)سیر اعلام النبلاء ج:9ص:572،حالات عبدالرزاق بن ہمام میں،الضعفاء للعقیلی ج:3ص:110،حالات عبدالرزاق بن ہمام میں،میزان الاعتدال ج:4ص:344،حالات عبدالرزاق بن ہمام میں
کے ساتھ ساتھ غلو کا بھی الزام لگایا ہے وہ مولا علی سے محبت کرتے تھے اور آپ کے قاتل کو ملعون کہتے تھے۔(1)
8۔جب عبدالرزاق کی مجلس میں معاویہ کا ذکر آیا تو آپ نے فرمایا میری مجلس کو ابوسفیان کے بیٹوں کا ذکر کر کے گندی مت کرو۔(2)9۔جو لوگ امیرالمومنین علیہ السالم کے ساتھ تھے ان کے خیالات طلحہ،زبیر،عثمان،عائشہ اور ان کے حمایتی اصحاب کے بارے میں سب کو معلوم ہیں، اس طرح جو لوگ علی کے ساتھ تھے معاویہ اور اصحاب معاویہ ان کے بارے میں کتنے گندے خیالات رکھتے تھے سب کو معلوم ہے جیسے جناب عمار بن یاسر۔
10۔انس ابن مالک جو مذہب مالکی کے بانی ہیں کہتے تھے کہ عثمان،علی،طلحہ اور زبیر کے درمیان صرف حلوے پر اٹھے کی لڑائی تھی۔(3) 11۔سدی ابوبکر اور عمر کو گالیاں دیا کرتے تھے۔(4)
12۔صالح جزرہ سے روایت ہے کہ عباد عثمان کو گالیاں دیتے تھے اور کہتے تھے کہ اللہ کے عدل کا تقاضا ہے کہ وہ طلحہ اور زبیر کو جنت میں نہ داخل کرے انہوں علی سے بیعت کی پھر انھیں سے قتال بھی کیا۔(5)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)تذکرۃ الحفاظ ج:1ص:364،حالات عبدالرزاق بن ہمام میں
(2)سیر اعلام النبلاءج:9ص:570،حالات عبدالرزاق بن ہمام میں،الضعفاءللعقیلی ج:3ص:109،حالات عبدالرزاق بن ہمام میں،معجم البلدان ج:3ص:429،میزان الاعتدال ج:4ص:343،حالات عبدالرزاق بن ہمام میں
(3)العقد الفرید ج:2ص:235،کتاب الیاقوت فی العلم و الادب،باب من اخبار العلماء و الادباء
(4)احوال الرجال ص:54،حالات محمد بسائب الکلبی میں،الضعفاءللعقیلی ج:1ص:87،حالات اسمٰعیل بن عبدالرحمٰن اسدی،معرفۃ علوم حدیث ص:137،فی ذکر نوع النوع الثانی و الثلاثین،فی معرفۃ مذاہب المحدثین
(5)سیر اعلام النبلاء ج:11ص:537،حالات عباد بن یعقوب الرواجنی میں اور اسی طرح:ج:14ص:29،تھذیب التھذیب ج:5ص:95،حالات عباد بن ابی یزید میں،تھذیب الکمال ج:14ص:178،حالات عباد بن ابی یزید میں،میزان الاعتدال ج:4ص:44،حالات عباد بن یعقوب میں
13۔شداد،ابوعمار کہتے ہیں کہ میں کچھ لوگوں کے پاس گیا تو ان کے درمیان علی کا تذکرہ ہوا تو لوگوں نے انہیں گالیاں دیں تو میں نے بھی ان کے ساتھ علی کو گالیاں دیں۔(1)
14۔یونس ابن جناب اسدی جو کو ابن معین و غیرہ نے ثقہ کہا ہے وہ عثمان کو گالیاں دیتے تھے۔(2)
15۔ابوالحسن احمد بن علی غزنوی صحابہ سے چڑھتے تھے۔(3)
16۔ابواسرائیل ملائی عثمان کو گالیاں دیتے تھے(4) اور بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ان کو کافر کہتے تھے۔(5)
17۔الزہر حرانی اور اسد بن وادعۃ جنہیں امام نسائی و غیرہ نے ثقہ کہا ہے وہ علی کو گالیاں دیتے تھے۔(6)
18۔ابوسلیمان تلید بن سلیمان محاربی کوفی عثمان کو گالی دیتے تھے،ابوداؤد کہتے ہیں کہ وہ ابوبکر اور عمر کو بھی گالی دیتے تھے۔(8)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)مصنف ابن ابی شیبۃ ج:6ص:370،کتاب الفضائل:فضائل علی بن ابی طالبؑ میں،فضائل الصحابہ ج:2ص:578،فضائل حضرت علی بن ابی طالبؑ میں،مجمع الزوائدج:9ص:167،کتاب المناقب،باب فی فضل اہل بیتؑ
(2)تہذیب التہذیب ج:11ص:385،حالات یونس بن خباب
(3)لسان المیزان ج:1ص:232،حالات احمد بن علی غزنوی میں،میزان الاعتدال ج:1ص:265،حالات احمد بن علی غزنوی میں،المغنی فی الضعفاء و المتروکین ج:1ص:116،حالات اسمٰعیل بن ابی اسحاق میں
(5)الضعفا للعقیلی،ج:1ص:76،حالات اسمٰعیل بن ابی اسحاق ابواسرائیل میں،الضعفا المتروکین،ج:1ص:116،حالات اسمٰعیل بن ابی اسحٰق میں
(6)لسان المیزان ج:1ص:385،حالات اسد بن وداعۃ میں،الضعفاءللعقیلی ج:1ص:26،حالات اس بن وداعۃ میں
(7)تہذیب التہذیب ج:1ص:447،حالات تلید بن سلمان المحاربی میں،الکشف الحثیث حلّی ص:80،تحالات رلید بن سلمان المحاربی میں،ھذیب الکمال ج:4ص:322،حالات تلید بن سلمان المحاربی میں تاریخ بغداد ج:7ص:137،حالات تلید بن سلمان المحاربی میں،
(8)تہذیب التھذیب ج:1ص:447،حالات تلید بن سلمان المحاربی میں
19۔ابوعثمان بصری عمرو بن عبید بن باب صحابہ کو گالیاں دیتے تھے۔(1)
20۔ابن حبان نے لکھا ہے کہ حکم بن ظہیر فزاری بن ابی لیلی کوفی صحابہ کو گالیاں دیتے تھے۔(2)
21۔ربیعہ بن یزید سلمی ناصبی تھا اور مولائے کائنات کو گالیاں دیتا تھا۔(3)
22۔یہ جعفر بن سلیمان ہیں جن کی توثیق ابن حبان کرتے ہیں،جعفر بن سلمان سے پوچھا گیا کہ سنا ہے تم ابوبکر اور عمر کو گالی دیتے ہو انہوں نے کہا گالی والی بات تو خیر جھوٹ ہے لیکن میں ان سے شدید بغض رکھتا ہوں۔آزدری کہتے ہیں کہ جعفر بعض بزرگوں پر الزام تراشی کرتے تھے لیکن حدیث میں جھوٹ نہیں بولتے تھے،بلکہ یہ زہد و تقوی اور رقت قلب کا نمونہ تھے،دوری کہتے ہیں کہ جب ان کے سامنے معاویہ کا ذکر آتا تو وہ اس کو گالی بکتے اور جب علی کا ذکر آتا تو صدمہ سے بیٹھ جاتے اور رونے لگتے۔(4)
23۔یہ سالم بن ابوحفصہ ہیں ان سےعمر بن ذر نے کہا تم نے عثمان کو قتل کیا تھا؟تو اس نے انکار کیا،انھوں نے پھر پوچھا تو قتل عثمان پر راضی تھا،کہنے لگا نعثل کے قاتل کو خوش آمدید بنوامیہ کی ہلاکت کو خوش آمدید۔خلف بن جوشب کہتے ہیں کہ جو لوگ ابوبکر اور عمر کی خامیاں بیان کرتے ہیں ان کے سردار سالم تھے۔(5)
24۔ابن حجر نے اسفندیار ابن موفق کے بارے میں کہا ہے کہ بےشمار ابن نجار نے ان سے روایت کی،وہ کہتا ہے اسفندیار بہترین ادیب تھے،شافعی فقہ پر عمل کرتے تھے اور شیعہ تھے۔منکسر مزاج،عبادت گذار اور تلاوت شعار تھے ابن جوزی کہتا ہے بغداد کے ایک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)تہذیب التہذیب ج:8ص:64،حالات تلید بن سلمان المحاربی میں،الضعفاء و المتروکین ج:1ص:229،حالات مذکورہ میں
(2)تہذیب التہذیب ج:2ص:368،حالات تلید بن سلمان المحاربی میں
(3)الاصابہ ج:2ص:477،حالات تلید بن سلمان المحاربی میں،الاستیعاب ج:1ص:498،حالات ربیعہ بن عمر الجرشی میں
(4)تہذیب التہذیب ج:2ص:82،حالات تلید بن سلمان المحاربی میں
(5)تہذیب التہذیب ج:3ص:374،حالات تلید بن سلمان المحاربی میں،تہذیب الکمال ج:10ص:136،حالات تلید بن سلمان المحاربی میں،ضعفاءللعقیلی ج:2ص:153،حالات تلید بن سلمان المحاربی میں
عادل شخص نے ان کے بارے میں کہا کہ ہم لوگ ان کے پاس بیٹھے تھے اور وہ کہہ رہے تھے کہ جب سرکار دو عالم نے فرمایا:جس کا میں مولا ہوں علی بھی اس کا مولا ہے تو ابوبکر اور عمر کے چہرے اتر گئے۔اس کی حکایت کرتی ہوئی یہ آیت اتری:(فلمّاہ راوہ زلفۃ سیئت وجوہ الّذین کفروا)ترجمہ:جب انہوں نے اس کو قریب ہوتے دیکھا تو کافروں کے چہرے اتر گئے۔یہ ان کی شیعیت میں غلو کی علامت ہے،ابن بابویہ نے کہا ہے کہ اسفندیار صالح آدمی تھے اور ان کا لقب صائن الدین تھا۔(1)
25۔ابن تیمیہ جس کی امامت پر امت کا اتفاق ہے اس کا زیادہ تر کلام مولائے کائناتؑ کی تنقیص کرتا ہے،جیسا کہ ابھی ابن حجر کے حوالہ آٹھویں سوال کے جواب میں عرض کیا جائےگا۔
26۔جب بنوعباس کا انقلاب آیا اور عباسی لشکروں نے فتح حاصل کی،بنوعباس کے پہلے خلیفہ ابوعباس سفع کی بیعت لی گئی اور لشکر کوفہ داخل ہوا تو داؤد بن علی بن عبداللہ بن عباس نے منبر کوفہ پر ایک خطبہ دیا اس وقت وہ سفاح کے تین زینہ نیچے بیٹھا تھا،اس نے خدا کی حمد و ثنا اور نبی پر درود پڑھنے کہ بعد کہا اے لوگو!خدا کی قسم تمہارے اور نبی کے درمیان صرف دو ہی خلیفہ ہیں ایک مولائے کائنات علی بن ابی طالب اور دوسرے وہ امیرالمومنینؑ جو میرے پیچھے ہے۔(2)
27۔جب مامون سربراہ سلطنت ہوا اور شام کی طرف جانے لگا تو متعہ کی حلیت کا اعلان کردیا گیا،ایک دن ابوعینا اور محمد بن منصور اس کی خدمت میں پہنچے اس وقت وہ مسواک کررہا تھا اور غصہ میں تھا ان دونوں کو دیکھتے ہی اس نے(عمر کی نقل کی)کہا دو متعہ نبی کے دور اور ابوبکر کے دور میں رائج تھے،لیکن میں ان دونوں سے روکتا ہوں،پھر بولا اے کانے تو کون ہوتا ہے روکنے والا؟جب ایک کام کو نبیؐ اور ابوبکر نے نہیں روکا۔(3)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)لسان المیزان ج:1ص:387،حالات تلید بن سلمان المحاربی میں
(2)تاریخ طبری ج:4ص:350،فی(ذکر بقیۃ الخبر عما کان من الاحداث..)
(3)تاریخ بغداد ج:4ص:199،حالات یحییٰ بن اکثم میں،طبقات الحنابلہ،ج:1ص:413،حالات یحی بن اکثم میں،تہذیب الکمال ج:31ص:214حالات مذکورہ میں،تاریخ دمشق،ج:64،ص:71،حالات مذکورہ میں
28۔مہدی بن منصور عباسی ابوعون عبدالملک بن یزید کی عیادت میں گیا تو ابوعون کی باتیں سن کے بہت خوش ہوا،ابوجعفر طبری کہتے ہیں کہ مہدی نے ابوعون سے کہا آپ مجھ سے کچھ کہئے کچھ مانگئے اور مجھے اپنا ذمہ دار بنادیجئے زندگی اور موت دونوں معاملے میں تو ابوعون نے اس کا شکریہ ادا کیا اور دعا کی اور بولے اے امیرالمومنینؑ میری ھاجت یہ ہے کہ آپ عبداللہ بن ابوعون سے راضی ہوجائیں اور اس کو اپنےپاس بلالیں بہت دنوں سے،وہ شہر بدر ہے ہے۔
مہدی نے کہا ابوعون!وہ شخص تو غیرمذہب پر ہے ہمارے اور آپ کے مذہب پر تو نہیں اور شیخین یعنی ابوبکر اور عمر کے بارے میں بری باتیں کہتا ہے،ابوعون نے کہا اے امیرالمومنین خدا کی قسم وہ اس راستے پر ہے جس سے ہم نکل چکے ہیں اور اسی طرف ہمیں بلایا گیا تھا اگر آپ کی سمجھ میں آئے تو آپ بھی اسی راستے پر واپس چلے جائیں اور ہم بھی آپ کی اطاعت کریں گے۔(1)
اور بہت سی باتیں ہیں جنک ے بیان کی گنجائش نہیں ہے۔
صحابہ کرام کے بارے میں قرآن مجید کا نظریہ
صحابہ کرام میں جو مشہور نظریہ ہے وہ یہ ہے کہ سارے صحابہ عادل نہیں اور نہ سب صحابہ قابل اقتدا ہیں وہ لوگ عام انسانوں سے مختلف نہیں ہیں اور نہ کوئی بہت اونچی چیز ہیں یہی مشہور نظریہ ہے اور اسی کی قرآن مجید بھی تائید کرتا ہے۔(1)
قرآن مجید صحابہ کے بارے میں یہ قطعی فیصلہ نہیں کرتا کہ وہ نجات ہی پاجائیں گے اور جہنم کی آگ سے سلامت رہیں گے بلکہ قرآن ان کی عدالت اور تقدیس کا بھی قائل نہیں ہے بلکہ اکثر مقامات پر تو قرآن صحابہ کو ڈانٹ دیتا ہے اور ان کی نصیحت کرتا ہے ان پر عتاب والا انھیں جب غور سے دیکھتا ہے تو اس مزاج کی بہت سی آیتیں نظر آتی ہیں ملاحظہ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)تاریخ طبری ج:4ص:589۔590،فی ذکر بعض سیر الہدی و اخبارہ...تاریخ دمشق ج:7ص:180۔181،حالات عبدالملک بن یزید ابی عون الازدی میں
(الم یان للذین امنوا ان تخشع)الی آخر(1)
ترجمہ:کیا صاحبان ایمان کے لئے اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل ذکر خدا کے وقت ڈریں اور قرآن جو حق کی طرف سے نازل ہوا ہے اس کی تلاوت سے خشوع حاصل کریں اور ان لوگوں جیسے نہ ہوجائیں جو ان سے پہلے تھے کہ ان پر جب کچھ مدت گذر گئی تو ان کے دل سخت ہوگئے اور ان میں بہت سے لوگ فاسق ہوگئے۔اور ارشاد ہوتا ہے کہ:
(الم تر الی الذّین قیل لهم کفّوا ایدیکم و اقیموا الصّلاة)الی آخر(2)
ترجمہ:اے رسول کیا تم نے ان لوگوں کے حال پر نظر نہیں کی جن کو(جہاد کی)آرزو تھی اور ان کو حخم دیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رہو اور پابندی سے نماز پڑھو اور زکات دیئے جاؤ مگر جب جہاد ان پر واجب کیا گیا تو جیسے کوئی خد اسے ڈرے بلکہ اس سے کہیں زیادہ اور گھبرا کر کہنے لگے خدایا تو نے ہم پر جہاد کیوں واجب کردیا ہم کو کچھ دنوں کی اور مہلت کیوں نہ دی اے رسول ان سے کہہ دو دنیا کی آسائش بہت تھوڑی سی ہے اور جو خدا سے ڈرتا ہے اس کی آخرت اس سے کہیں بہتر ہے اور وہاں تو تم پر بال برابر بھی ظلم نہیں کیا جائےگا۔پھر دوسری آیت میں ارشاد ہوا:
(ولقد کنتم تمنّون الموت من قبل ان تلقوه فقد رایتموه و انتم تنظرون)(3)
ترجمہ:اور تم موت کے آنے سے پہلے لڑائی میں مرنے کی تمنا کرتے تھے پس اب تم نے اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور تم اب دیکھ رہے ہو(پھر لڑائی سے جی کیوں چراتے ہو)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ حدید آیت:16
(2)سورہ نساء آیت:77
(3)سورہ آل عمران آیت:143
سورہ صف میں ارشاد ہوتا ہے:
(یاایها الذین آمنوا لم تقولون ما لاتفعلون-کبر مقتا عند الله ان تقولوا ما لاتفعلون)(1)
ترجمہ:اے ایمان لانے والو!ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں خدا کے نزدیک یہ بہت بڑا گناہ ہے کہ تم ایسی باتیں کہو جو تم نہیں کرتے۔
بلکہ بہت سے موقع پر اس نے انھیں سختی سے ڈانٹا سورہ نور میں ارشاد ہوتا ہے کہ:
(ویقولون آمنّا بالله و بالرّسول و اطعنا ثمّ یتولّی فریق منهم مّن بعد)الی آخر(2)
ترجمہ:اور کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا ور اس کے رسول پر ایمان لائے اور ہم نے اطاعت قبول کی پھر اس کے بعد ان میں سے کچھ لوگ(خدا کے حکم سے منہ پھیر لیتے ہیں)اور(سچ تو یہ ہے کہ)یہ لوگ ایمان دار تھےہی نہیں اور جب وہ لوگ خدا اور اس کےرسول کی طرف بلائے جاتے ہیں تا کہ رسول ان کے آپسی جھگڑے کا فیصلہ کردیں تو ان کی طرف ہوتا تو گردن جھکائے ہوئے رسول کے پاس دوڑئے ہوئے آئے کیا ان کے دل میں کفر کا مرض باقی ہے(؟)یا شک میں پڑے ہوئے ہیں؟یا اس بات سے ڈرتے ہیں کہ(مبادا)خدا اور اس کے رسول ان پر ظلم کر بیٹھیں؟(یہ سب کچھ نہیں)بلکہ یہی لوگ ظالم ہیں ایمان داروں کا قول تو بس یہ ہے کہ جب ان کو خدا اور اس کے رسول کے پاس بلایا جاتا کہ ان کے باہمی جھگڑوں کا فیصلہ کردیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے حکم سنا اور دل سے مان لیا اور یہی لوگ(آخرت میں)کامیاب ہونے والے ہیں۔
اور بہت سی آیتوں میں تو قرآن مجید صراحۃً کہہ رہا ہے کہ بعض صحابہ ایمان کے دائرے سے نکل چکے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ صف آیت:3،2
(2)سورہ نور آیت:51،47
(یاایها الذین آمنوا لاتتّخذوا الیهود و النّصاری اولیائ)الی آخر(1)
ترجمہ:اے ایمان لانے والو یہودیوں اور نصرانیوں کو اپنا سرپرست نہ بناؤ کیوں کے یہ لوگ تمہارے مخالف ہیں مگر باہم ایک دوسرے کےدوست ہیں اور یاد رہے کہ تم میں سے جس نے ان کو اپنا سرپرست بنایا پس پھر وہ بھی انہیں لوگوں میں سے ہوگیا،بیشک خدا ظالم لوگوں کو راہ راست پر نہیں لاتا تو اے رسول جن لوگوں کے دلوں میں(نفاق)ہے تم انہیں دیکھوگے کہ ان میں دوڑتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کے نہ ملنے سے زمانہ کی گردش میں مبتلا ہوجائیں تو عنقریب ہی خدا مسلمان کی فتح یا کوئی اور بات اپنی طرف سے ظاہر کرےگا،تب یہ لوگ اس بدگمانی پر جو اپنے دل میں چھپاتے تھے شرمائیں گےاور مومنین(جب ان پر نفاق ظاہر ہوجائےگا تو)کہیں گے کیا یہ وہی لوگ ہیں جو سخت سے سخت قسمیں کھا کر ہم سے کہتے تھے کہ ہم ضرور تمہارے ساتھ ہیں ان کا سارا کیا دھرا اکارت ہوا اور سخت گھاٹے میں ہوگئے۔
اور سورہ توبہ جو منافقین کی مذمت سے مخصوص ہے اور منافقین کے مکروہ کارناموں کو کھل کر بیان کرتا ہے یہاں تک کہ اس کا نام ہی سورہ فاضحہ(فضیحت کرنے والا سورہ)رکھ دیا گیا۔(2)
اس طرح سورہ آل عمران بھی ان کے کارناموں کو بیان کررہا ہے۔
یہ لوگ غزوہ احد میں کیا کہہ رہے تھے،اگر چہ احد میں بھاگنے والوں کو معاف کردیا گیا ہے لیکن یہ بات بھی بتادی گئی ہے کہ صحابہ میں سے کچھ وہ لوگ بھی تھے جو دنیا کو چاہتے تھے اور وہ منافقین بھی تھے،جو اللہ کے بارے میں ایام جاہلیت کی طرح سوچتے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ مائدہ آیت:53،51
(2)صحیح بخاری ج:4ص:1852،کتاب التفسیر،باب تفسیر سورہ حشر،صحیح مسلم ج:4ص:2322،کتاب التفسیر،باب فی سورۃ براۃ،و انفال و الحشر،تفسیر ابن کثیرج:2ص:368،آیت(تحذر المنافقون)کی تفسیر میں،سنن سعید بن منصور،ج:5ص:232،باب تفسیر سورہ توبہ،تفسیر طبری،ج:10،ص:171،(تحذر المنافقون)کی تفسیر میں،تفسیر قرطبی،ج:8ص:61،سورہ توبہ کی تفسیر میں
سورہ آل عمران میں ارشاد ہوتا ہے:
(حتی اذا فشلتم و تنازعتم فی الامر و عصیتم)الی آخر (1) ترجمہ:یہاں تک کہ تمہارے پسند کی چیز(فتح)تمہیں دکھادی اس کے بعد بھی تم نے(مال غنیمت دیکھ کر)بزدلانہ عمل کیا اور حکم رسول میں باہم جھگڑا کیا اور رسول کی نافرمانی کی تم میں سے کچھ تو طالب دنیا ہیں جو مال غنیمت کی طرف جھک پڑے اور کچھ طالب آخرت کہ جس نے رسول پر اپنی جان فدا کردی۔اور ابن مسعود کی حدیث میں یہ گذرچکا ہے کہ ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اصحاب پیغمبرؐ بھی دنیا کے خواہاں ہیں مگر اس آیت نے آکے ڈھول کی پول کھول دی۔(2) آل عمران میں ارشاد ہوتا ہے:(ثم انزل علیکم من بعد الغم امنة نعاساً یغشی طائفة منکم و طائفة قد اهمتهم انفسهم یظّنون)الی آخر (3) ترجمہ:پھر خدا نے اس رنج کے بعد تم پر اطمینان کی حالت طاری کی کہ تم سے ایک گروہ کو(جو نیچے ایمان دار تھے)خوب گہری نیند آگئی اور ایک گروہ جن کو اس وقت بھی(بھاگنے کی شرم سے)جان کے لالے پڑے تھے خدا کے ساتھ زمانہ جاہلیت جیسی بدگمانیاں کرنے گے اور کہنے لگے بھلا کیا یہ فتح کچھ بھی ہمارے اختیار میں ہے اے رسول کہہ دو کہ ہر امر کا اختیار خدا ہی کو ہے،زبان سے تو کتے ہی نہیں یہ اپنے لوں میں ایسی باتیں چھپائے ہوئے ہیں جو تم سے ظاہر نہیں کرتے ب سنو کہتے ہیں کہ اس امر(فتح)میں ہمارا کچھ بھی اختیار ہوتا تو ہم یہاں مارے نہ جاتے اے رسول تم ان سے کہہ دو کہ تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کی تقدیر میں لڑ کے مرجانا لکھا تھا وہ اپنے گھروں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(2)سورہ آل عمران آیت:152
(2)تفسیر ابن کثیرج:1ص:414،آیت(منکم من یرید الدنیا)کی تفسیر میں،مجمع الزوائدج:6ص:327۔328،تفسیر طبری ج:4ص:130،کتاب اکتفسیر،سورہ آل عمران کی تفسیر میں،تفسیر قرطبی،ج:4ص:237،سورہ آل عمران کی تفسیر میں
(3)سورہ آل عمران آیت:154
سے نکل نکل کے اپنے مرنے کی جگہ ضرور آجاتے اور یہ اس واسطے کیا گیا ہے کہ جو کچھ تمہارے دل میں ہے اس کا امتحان کر لے(اور لوگ دیکھ لیں)تا کہ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے صاف کردے اور خدا تو دلوں کے راز کو خوب جانتا ہے۔
جنگ خندق میں اصحاب پیغمبر کے حالات کی عکاسی کرتا ہوا قرآن سورہ احزاب میں انہیں تین حصوں میں تقسیم کررہا ہے۔
1۔ثابت قدم مومنین جو صاحبان بصیرت ہیں،یہ وہ لوگ ہیں جو ذرا بھی نہیں بدلے اور ان کی حالت میں تغیر نہیں ہوا۔
2۔منافقین جو زبانوں سے اسلام اظہار کرتے ہیں لیکن ان کے دل گواہی نہیں دیتے۔
3۔وہ لوگ جن کے دل بیمار ہیں جن کے ایمان کمزور ہیں ہدایت اور گمراہی کے درمیان پھنسے ہوئےہیں اور قوت ظاہری کی پیروی کرتے ہیں اور ہوا کے جھونکے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔
ارشاد ہوتا ہے:
(ولما رای المومنون الاحزاب قالوا هذا ما وعدنا الله و رسوله و صدق الله و رسوله و مازادهم الا ایماناً و تسلیماً-من المومنین رجال صدقوا ما عاهدوا الله علیه فمنهم من قضٰی نحبه و منهم مّن ینتظر و ما بدّلوا تبدیلا)(1)
ترجمہ:جب مومنین نے کفار کے گروہ دیکھے تو کہنے لگے اسی کا وعدہ اللہ اور اللہ کے رسول نے ہم سے کیا تھا،اللہ اور اس کے رسول سچے یں ان کے ایمان میں اضافہ ہوا اور جذبہ تسلیم میں اضافہ ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ احزاب آیت:22۔23
یہ لوگ ان صاحبان ایمان میں سے ہیں جنہوں نے للہ سے جو عہد کیا تھا اسے پورا کردکھایا،ان میں سےکچھ نے اپنی زندگی کی مدت پوری کرلی اور کچھ وہ ہیں جو انتظار کررہےہیں ان میں کچھ بھی تبدیلی نہیں آئی۔
پھر ارشاد ہوتا ہے:(اذ جاؤوکم من فوقکم و من اسفل منکم و اذ زراعت) الی آخر(1)
ترجمہ:جب تمہارے اوپر نیچے سے فوجوں نے تمہیں گھیرلیا اور جب آنکھیں پھٹی سی ہوگئیں اور دل اچھل کے حلق میں آگئے اور تم اللہ کے بارے میں بدگمانیوں میں مبتلا ہوگئے یہی وہ جگہ ہےجہاں مومنین مقام ابتدا میں تھے،جب منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری تھی کہنے لگے کہ ہم سے اللہ اور اللہ کے رسول نے جو بھی وعدہ کیا تھا وہ جھوٹا تھا۔
سورہ انفال میں خدا نے واقعہ بدر کو پیش کیا ہے،یہ وہ جنگ ہے جس میں مسلمانوں کو واضح فتح حاصل ہوئی تھی اور جنگ کا پانسہ پلٹ گیا تھا،اللہ نے متوجہ کیا یہ سمجھانے کے لئے کہ اس جنگ میں فتح اللہ کی طرف سے ایک معجزہ تھی اور ارشاد ہوا:(لیهلک من هلک عن بیّنة و یحی من حی عن بینة) (2)
ترجمہ:جو ہلاک ہوتا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہوا اور جو زندگی پاتا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندگی پائےگا۔
حالانکہ جنگ بدر میں اکثر مسلمان نفس کے بندے تھے اور بہت سی غلطیاں کرچکے تھے،ان کا ہدف آسانی اور کسب مال تھا اور ان کے اعمال ایسے نہیں تھے کہ انہیں نصرت اور فتح دلاسکیں اگر اللہ کی مدد شامل حال نہ ہوتی تو نصرت و فتح کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔سورہ انفال میں ارشاد ہوتا ہے:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ احزاب آیت:12،11،10
(2)سورہ انفال آیت:42
(کما اخرجک ربک من بیتک بالحق و انّ فریقاً) الی آخر(1)
ترجمہ:اور جس طرح تمہارے پروردگار نے تمہیں بالکل ٹھیک مصلحت سے تمہارے گھر سے نکالا اور مومنین کا ایک گروہ اس سے ناخوش تھا،وہ لوگ حق کے ظاہر ہونے کے بعد بھی خواہ مخواہ سچی بات میں تم سے جھگڑتے تھے اور اس طرح کرنے گے گویا کہ وہ زبردستی موت کے منہ میں ڈھکیلے جارہے ہوں اور اس کو اپنی آنکھوں سے یکھ رہے وں یہ وہ وقت تھا جب خدا تم سے وعدہ کررہا تھا کہ کفار مکہ کی دو جماعتوں میں سے ایک جماعت تمہارے لئے ضروری ہے اور تم یہ چاہتے تھے کہ کمزور جماعت تمہارے ہاتھ لگے اور خدا یہ چاہتا تھا کہ اپنی باتوں کو حق ثابت کرے اور باطل کو ملیا میٹ کردے،اگر چہ گنہگار کفار اس سے ناخوش ہی کیوں نہ ہوں؟جب تم اپنے پروردگار سے فریاد کررہے تھے اس نے تمہاری سن لی اور جواب دیا کہ میں تمہاری لگاتار ہزار فرشتوں سے مدد کروں گا،یہ امداد غیبی خدا نے صرف تمہاری خاموشی کے لئے کی تھی اور یاد رکھو مدد سوائے خدا کے اور کے یہاں سے ہرگز نہیں ہوتی اور خدا غالب،حکمت والا ہے۔
اور سورہ انفال ہی میں ارشاد ہوتا ہے:(اذ یریکهم الله فی منامک قلیلاً و لو) الی آخر(2)
ترجمہ:جب خدا نے تمہیں خواب میں کفار کو کم کرکے دکھلایا تھا اور ان کو تمہیں زیادہ کرکے دکھلاتا تو تم یقیناً ہمت ہار جاتے اور لڑائی کے بارے میں آپس میں جھگڑ نے لگتے مگر خدا نے اس(بدنامی)سے بچایا اس میں تو شک نہیں کہ وہ دل کے خیالات سے واقف ہے۔اللہ نے مشرکین کے دلوں کو مرعوب کردیا تھا جس کا فائدہ مسلمانوں نے اٹھایا نتیجہ میں مقتولوں سے زیادہ اسیروں کی تعداد تھی،مسلمانوں نے کافروں کو زیادہ قیدی اس لئے بنایا کہ وہ ان کے وارثوں سے خوب فدیہ اور مال وصول کرسکیں یہاں تک کہ مارے گئے تو ستر ہی اور کچھ اسیر بھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ انفال آیت:10،9،8،7،6،5
(2)سورہ انفال آیت:43
ہوئے،انہیں واقعات کے سلسلے میں ملتا ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف نے مال غنیمت میں بہت سی زر ہیں لوٹی تھیں جب وہ امیہ ابن خلف اور اس کے بیٹے علی کے پاس سے گذرے امیہ بن خلف نے کہا کہ مجھے اسیر کرنے سے تمہیں کچھ فائدہ ہوگا،عبدالرحمٰن بن عوف نے کہا بات تو تم ٹھیک کہہ رہے ہو پس انہوں نے زر ہیں چھوڑ دیں اور امیہ بن خلف اور اس کے بیٹے علی کا ہاتھ پکڑ لیا عبدالرحمٰن کہتے ہیں میں ان دونوں باپ بیٹوں کو گرفتار کرکے لے جارہا تھا کہ راستے میں بلال ملے امیہ بن خلف نے مکہ میں جب بلال تھے تو ان پر بڑی سختیاں کی تھیں اور انہیں بہت ستاتا تھا کہ وہ اسلام چھوڑ دیں اکثر انہیں پکڑ کے مکہ کے ریگستانوں میں لےجاتا اور پیٹھ کے بل لٹا کے ان کے سینہ پر ایک بڑا پتھر رکھوا دیتا صورت حال یہ تھی کہ ریگستان تپ رہا تھا اور بلال کے سینے پر گرم پتھر رکھا رہتا اور امیہ ان سے کہتا یا تو اسلام چھوڑ دو یا یہی سزا جھیلتے رہو لیکن بلال کی زبان پر ایک ہی کلمہ ہوتا،احد،احد بہرحال جب بلال نے امیہ ابن خلف کو اسیر کی حالت میں دیکھا تو چیخ اٹھےکہ لوگوں اس کفر کی جڑ امیہ ابن خلف ہے اگر یہ بچ گیا تو میں نہیں بچوں گا،عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں میں نے پوچھا بلال کیا میرے اسیر ہونے کے لئے کہہ رہے ہو؟فرمایا ہاں اگر یہ بچ گیا تو میں نہیں بچوں گا۔
میں نے امیہ بن خلف سے پوچھا کے اے کالی عورت کے بیٹے تو سن رہا ہے؟پھر بلال نے ایک چیخ ماری اور پکارکے کہا اے اللہ کے مددگاروں یہ کفر کی جڑ امیہ ابن خلف ہے اگر یہ بچ گیا تو میں نہیں بچوں گا،پس لوگوں نے ہمیں گھیرلیا اور میں امیہ ابن خلف کی حفاظت کررہا تھا کہ ایک آدمی نے تلوار کھینچ کے اس کے بیٹے پر حملہ کردیا اس کا بیٹا گرگیا اور امیہ نے ایک دردناک چیخ ماری میں نےکہا امیہ اپنی فکر کرو،تمہاری کوئی پناہ گاہ نہیں میں تم کو بالکل بھی نہیں بچاسکتا اتنے میں لوگ دونوں باپ بیٹوں پر تلوار لےکے ٹوٹ پڑے اور ان کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا،یہاں تک کہ ان کا کام تمام کردیا۔عبدالرحمٰن بن عوف کہنے لگے خدا بلال پر رحم کرے میرے ہاتھ سے زر ہیں بھی نکل گئیں اور میں اپنے قیدی کے فدید سے محروم رہا۔(1)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سیرہ نبویہ ابن ہشام ج:3ص:179۔181،تاریخ طبری ج:2ص:35،واقع بدر میں،الثقات لابن حبان ج:1ص:172،173،ذکر السنۃ الثانیہ من الہجرۃ میں
بخاری کے الفاظ میں یہ واقعہ یوں بیان کیا گیا ہے عبدالرحمٰن بن عوف نے بتایا کہ بدر کے دن میں امیہ بن خلف کو لےکے یہاڑوں کی طرف نکل گیا تا کہ میں اس کو بچاؤں اس وقت لوگ سو رہے تھے لیکن بلال کو پتہ چل گیا پس بلال باہر نکلے اور انصار کی ایک جماعت کے پاس آئے آکے کہنے لگے کہ امیہ بن خلف گرفتار ہوا ہے،اگر ہو بچ گیا تو میں نہیں بچوں گا پس بلال کے ساتھ انصار کا ایک گروہ نکلا تو جب مجھے یہ خوف ہوا کہ وہ لوگ امیہ بن خلف کو قتل کرنے کے لئے ہم کو گھیرلیں گے تو میں نے اس کے بیٹے کو پیچھے چھوڑدیا تا کہ وہ لوگ آئیں اور اس میں مصروف ہوجائیں،لیکن انھوں نے اسے قتل کردیا اور پھر ہمارے پیچھے لگ گئے،امیہ بھاری بھر کم تھا،جب وہ ہمارے پاس پہونچے تو میں نے اس سے کہا کہ جھک جاپس وہ جھک گیا اور میں اس پر چھا گیا تا کہ اس کو بچاسکین لیکن لوگوں نے تلوار سے کونچ کونچ کر اس کو میرے نیچے سے نکال لیا اور قتل کرڈالا ایک تلوار سے میرا پیر بھی زخمی ہوگیا۔(1)
مختصر یہ کہ خونزریزی اور سفا کی جنگ بدر کے بعد اسیروں کے ساتھ ہوگئی یہاں تک کہ سعد بن معاذ کو یہ بات ناگوار خاطر گذری سرکار دو عالم نے سعد کے چہرے پر آثار کراہت دیکھے تو آپ نے پوچھا سعد کیا مسلمانوں کی خون ریزی تمہیں بری لگ رہی ہے سعد نے بہت معقول جواب دیا کہ یا رسول اللہ مشرک تو پہلی مرتبہ گرفتار بلا ہوئے ہیں میرا خیال ہے کہ ان کی جان بخشی ان کی خونزیزی سے زیادہ بہتر ہے قرآن مجید نے بھی ان کی تائید کی اور یہ آیت نازل ہوئی۔(2)
(ما کان لنبیّ ان یکون له اسری حتّی یثخن فی الارض) (3)
ترجمہ:نبی کے شایان نہیں کہ وہ اپنے لئے اسیروں کو رکھےتا کہ ان کا خون زمین پر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)صحیح بخاری ج:2ص:807،کتاب الولایۃ،باب اذا و کل المسلم حریباً..
(2)الثقات لابن حبان ج:1ص:169،اسی طرح سیرہ نبویہ لابن ہشام ج:3ص:176،تاریخ طبری ج:2ص:34واقعہ بدر میں
(3)سورہ انفال آیت:68،67
بہایا جائے تم لوگ عوارض دنیا کو دوست رکھتے ہو اور اللہ آخرت کو چاہتا ہے اور اللہ حکمت و قوت والا ہے اگر جو کچھ گذرچکا(یعنی فتح،مقتولین کی تعداد)وہ تقدیر میں لکھا نہیں ہوتا تو تم عذاب عظیم سے دوچار ہوتے۔
خداوند عالم نے اصحاب پیغمبر اور تمام مسلمانوں کو سمجھانے کے لئےقرآن مجید میں سابقہ امتوں کے کارنامے مقام مثال میں پیش کئے ہیں خاص طور سے بنی اسرائیل کو پیش کیا ہے ان کی وہ کارستانیاں کے طور پر مثال میں آتی ہیں جو انھوں نے اپنے انبیا کے ساتھ انجام دیں(انبیا کی مخالفت،ان کو اذیت دینا)اور کتاب خدا آنے کے بعد ان کے درمیان اختلافات اس مضمون کی بہت سی آیتیں نازل ہوئی ہیں۔
(ومااختلف فیه الا الّذین اوتوه من بعد ما جائتهم البیّنات..) الی آخر(1)
ترجمہ:اس میں اختلاف وہی لوگ کرتے ہیں جو لوگ دلیلیں آنے کے باوجود پہلے بھی اختلاف کرچکے ہیں آپس کی بغاوت کی بناپر اور اللہ صاحبان ایمان کو ہدایت کا راستہ دکھا دیتا ہے اور ان چیزوں کے بارے میں مقام اختلاف کی وضاحت کردیتا ہےتو اس کی اجازت سے حق کا اعلان کرتے ہیں،اللہ جس کو چاہتا ہے صراط مستقیم کی ہدایت کرتا ہے۔
پھر اللہ انہیں گذشتہ امتوں کے بڑے اعمال دکھاکے ڈراتا ہے۔
(ولا تکونوا کالّذین تفرّقوا و اختلفوا من بعد ما...) الی آخر(2)
ترجمہ:اے مسلمانوں ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو گروہ در گروہ بٹ گئے حب ان کے پاس دلیلیں آئیں ان کے لئے تو بہت بڑی سزا ہے۔جس دن کچھ چہرے چمک رہے ہونگے اور کچھ چہرے سیاہ پڑچکے ہونگے ان سے پوچھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ بقری آیت:213
(2)سورہ آل عمران آیت:107،106،105
جائےگا کیا تم نے ایمان کے بعد کفر اختیار کرلیا،اب اپنے کفر کی وجہ سے عذاب کا مزہ چکھو لیکن جن کے چہرے آبدار ہوں گے وہ خدا کی رحمت میں ہوں گے اور ہمیشہ اسی حال میں ہوں گے۔
اور ارشاد ہوا:(یاایها الذین آمنوا لاتکونوا کالّذین اذوا موسی فبرّاه الله ممّا قالوا و کان عندالله وجیهاً) (1)
ترجمہ:اے ایمان لانے والو!ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنھوں نے موسیٰ کو اذیت دی،تو خدا نے ان کی تہمتوں سے موسیٰ کو بری کردیا موسی تو اللہ کے نزدیک صاحب منزلت ہیں اور دوسری جگہ ارشاد ہوا:(وما کان لکم ان توذوا رسول اللہ و لا ان تنکحوا ازواجہ من بعدہ ابداً)(2)
ترجمہ:تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ تم نبی کو اذیت دو اور ان کی ازواج سے نبی کے بعد نکاح کرلو۔
پھر ارشاد ہوا:(انّ الّذین یوذون الله و رسوله لعنهم الله فی الدّنیا و الآخرة و اعدّ لهم عذاباً مهیناً)
ترجمہ:بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچاتے ہیں تو اللہ ان پر لعنت کرتا ہے اور آخرت میں ان کے لئے ہمیشہ کے لئے سخت عذاب ہے۔
اور اللہ نے نبی کے احسانات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا:(یمنّون علیک ان اسلموا قل لا تمنّوا علیّ اسلامکم بل الله یمنّ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ احزاب آیت:69
(2)سورہ احزاب آیت:53
(3)سورہ احزاب آیت:57
علیکم ان هداکم للایمان ان کنتم صادقین) (1)
ترجمہ:اے نبی!یہ لوگ آپ پر احسان رکھتے ہیں کہ مسلمان ہوگئے آپ ان سے کہہ دیں مجھ پر اپنے مسلمان ہونے کا احسان مت رکھو بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہاری ایمان کی طرف رہنمائی کی اگر تم سچے دل سے مسلمان ہوئے ہو۔
ارشاد ہوا:(واعلموا انّ فیکم رسول الله لو یطیعکم فی کثیر من الامر لعنتّم )(2)
ترجمہ:مسلمانوں تمہارے درمیان اللہ کا رسول موجود ہے اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ بہت سی باتوں میں تمہاری اطاعت کرے پھر تو تم بکھر جاؤگے۔
اور دوسری جگہ ارشاد ہوا:(الم تر الی الّذین نهوا عن النّجوی) الی آخر(3)
ترجمہ:آپ ان لوگوں کو نہیں دیکھتے جنہیں راز کی گفتگو کرنے سے روکا گیا لیکن وہ باز نہیں آئے اور اب بھی کانا پھوسی کرتے رہتے ہیں ان کی یہ راز کی گفتگو گناہ سرکشی اور پیغمبر کی نافرمانی کے لئے ہے جب آپ کو سلام کرتے ہیں تو اللہ نے جن الفاظ سے سلام کیا ہے ان الفاظ کا استعمال نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ ہماری باتوں پر الللہ ہمیں سزا کیوں نہیں دیتا؟ان کے لئے جہنم کافی ہے جس میں وہ جھونکے جائیں گے اور وو(جہنم)ٹھکانہ ہے اے ایمان لانے والو!اگر آپس میں راز کی باتیں کرنا ہی ہیں تو گناہ عدوان اور معصیت پیغمبر کے لئے رازداری کی بات مت کرو بلکہنیکی اور تقویٰ کے لئے کرو اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف واپس جاکے تم سب کو ہمیشہ رہنا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ حجرات آیت:17
(2)سورہ حجرات آیت:7
(3)سورہ مجادلہ آیت:9،8
اللہ نے یہ کہہ کر پیغبر کی حوصلہ افزائی کی ہے:(یاایها الرّسول لا یحزنک الّذین یسارعون فی الکفر من الّذین قالوا آمنّا بافواههم ولم تومن قلوبهم) (1)
ترجمہ:اے رسول جن لوگوں نے صرف اپنی زبان سے ایمان کا اقرار کیا ہے اور جلدی جلدی پھر کافر ہورہے ہیں ان کو دیکھ کے آپ کو رنجیدہ خاطر نہیں ہونا چاہئے اصل میں ان کے دل میں ایمان نہیں لائے تھے۔
جیسا کہ اللہ نے ان لوگوں کو پیغمبرؐ کی اذیت رسانی پر ڈرایا ہے اور آپ کی مخالفت پر تنبیہ کی ہے:(یاایّها الّذین آمنوا استجیبوا لله و للرّسول اذا دعاکم لما یحییکم واعلموا...) الی آخر(2)
ترجمہ:اے ایمان لانے والو!جب اللہ اور اس کا رسول تمہیں پکارتے تو ان کی آواز پر لبیک کہو،اس لئے کہ انہوں نے تمہیں حیات ایمان بخشی ہے اور یہ جان لو کہ اللہ انسان اور اس کے دل کے درمیان حاءل ہوجاتا ہے اور تم اسی کی طرف واپس جانے والے ہو اور اس فتنہ سے ڈرو جو خاص ظالموں کے لئے مصیبت بنےگا اور یہ جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔
عون بن قتادہ کہتے ہیں کہ زبیر بن عوام نے کہا ہمیں پیغمبرؐ نے ایسے فتنے سے ڈرایا جو ہم دیکھ کر نہ تو سمجھتے تھے اور نہ ہی دیکھتے تھے کہ ہم اسی فتنہ کے لئے پیدا ہوئے ہیں ارشاد ہوا۔
(واتّقوا فتنةً لاتصیبنّ الّذین ظلموا منکم خاصّةً)
ترجمہ:ایسا فتنہ جو خاص ظالموں کو پہنچےگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ مائدہ آیت:41
(2)سورہ انفال آیت:25،24
ہم بہت مدت تک اس آیت کو پڑھتے رہے بعد میں پتہ چلا کہ جنگ جمل کے لئے کہنے لگے تجھ پروائےہو ہم سب جانتے تھے مگر صبر نہیں کرسکے۔(1)
اسی طرح خدا سورہ نور میں ارشاد فرماتا ہے:(لاتجعلوا دعاء الرّسول بینکم کدعاء بعضکم بعضاً قد) الی آخر(2)
ترجمہ:اے ایمان دارو!جس طرح سے تم سے ایک دوسرے کو نام لے کر بلایا کرتے ہو اس طرح آپس میں رسول کو بلایا نہ کرو خدا ان لوگوں کو خراب جانتا ہے جو تم میں سے آنکھ بچاکے(پیغمبرؐ کے پاس سے)کھسک جاتے ہیں اور جو لوگ اس کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو اس بات سے ڈرتے رہنا چاہئے کہ مبادا ان پر کوئی مصیبت یا ان پر کوئی دردناک عذاب نازل ہو۔
پھر اس بھی اکتفا نہیں کی بلکہ انہیں دھمکایا کہ تم آزمائے جاؤگے بغیر آزمایش کے ہم ایمان کی سند نہیں دیتے۔
سورہ عنکبوت میں ارشاد ہوا:(أحسب النّاس ان یترکوا ان یقولوا آمنّا و هم لایفتنون-ولقد فتنّا الّذین من قبلهم فلیعلمنّ الله الّذین صدقوا ولیعلمنّ الکاذبین) (3)
ترجمہ:کیا لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ صرف یہ کہہ دینے سے کہ ہم ایمان لائے ان کو چھوڑ دیا جائےگا اور آزمایا نہیں جائےگا پھر ہم نے تو ان لوگوں سے پہلے جو امتیں تھیں انہیں آزمایا اور کون جھوٹے اور سچے ہیں ان کا بھی پتہ لگا۔
دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)السنن الواردۃ فی الفتن ج:1ص:204،باب قول اللہ عزّ و جل(واتّقوا فتنةً لاتصیبنّ الّذین) تفسیر ابن کثیرج:2ص:300،آیت کی تفسیر میں
(2)سورہ نور آیت:63
(3)سورہ عنکبوت آیت:3،2
(ام حسب الّذین فی قلوبهم مّرض ان لم یخرج الله اضغانهم-ولو نشاء لارینا کهم فلعرفتهم...) الی آخر(1)
ترجمہ:کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں نفاق کا مرض ہے یہ خیال کرتے ہیں کہ خدا دل کے کینوں کو کبھی ظاہر نہیں کرےگا اور اگر ہم چاہتے تو ہم تمہیں ان لوگوں کو دکھا دیتے تو تم ان کی پیشانی سے ہی ان کو پہچان لیتے اور تم انہیں ان کے انداز گفتگو سے ہی ضرور پہچان لوگے اور خدا تو تمہارے اعمال سے واقف ہے اور ہم تم لوگوں کو ضرور آزمائیں گےتا کہ تم میں جو لوگ جہاد کرنے والے اور تکلیف جھیلنے والے ہیں ان کو دیکھ لیں اور تمہارے حالات جانچ لیں۔
اور اللہ نے بتادیا کہ وہ مقام امتحان میں بہت کمزور ہیں اور مال خرچ کرنے میں بہت بخیل ہیں،دوسری جگہوں کو چھوڑ کے صرف نجوی ہی کے معاملے کو لے لیجئے اللہ نے انہیں حکم دیا کہ جب نبی سے کچھ راز کی بات کہنا چاہین تو کچھ صدقہ نکال دیں اس حکم کا آنا تھا کہ بھیڑ چھٹ گئی اور سوائے امیرالمومنین علیؑ کے نبیؐ سے راز کی بات کہنے کے لئے کوئی آگے نہیں بڑھا۔(2)
اس لئے کہ اب مال خرچ ہورہا تھا قرآن مجید نے مسلمانوں کی اس حرکت پر انہیں بری طرح ذلیل کیا ہے(یاایّها الّذین آمنوا ازا ناجیتم الرّسول فقدّموا بین یدی نجواکم صدقةً ذلک خیر لّکم و اطهر فان لّم تجدوا فانّ الله غفور رّحیم-ءاشفقتمان تقدّموا بین یدی نجواکم صدقات فاذلم تفعلوا و تاب الله علیکم فاقیموا الصّلوة و آتوا الزّکوة و اطیعوا الله و رسوله و الله خبیر بما تعملون) (3)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ محمد آیت:31،30،29
(2)المستدرک علی صحیحین ج:2ص:524،کتاب التفسیر سورہ مجادلہ کی تفسیر میں،تفسیر ابن کثیرج:4ص:328،سورہ مجادلہ کی آیت نجوی کی تفسیر میں،تفسیر قرطبی ج:17ص:320 اس آیت نجوی کی تفسیر میں
(3)سورہ مجادلہ آیت:13،12
ترجمہ:اے ایمان دارو!جب پیغمبر سے کوئی بات کان میں کہنی چاہو تو کچھ خیرات اپنی سر گوشی سے پہلے دےدیا کرو یہی تمہارے واسطے بہتر اور پاکیزہ بات ہے پس اگر تم اس پر مقدور نہ ہو تو بیشک خدا بڑا بخشنے والا مہربان ہے(مسلمانوں)کیا تم اس بات سے ڈرگئے کہ(رسول کے)کان میں بات کہنے سے پہلے خیرات کرلو تو جب تم لوگ(اتنا)نہ کرسکے اور خدا نے تمہیں معاف کردیا تو پابندی سے نماز پڑھو اور زکوۃ دیتے رہو اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس سے باخبر ہے۔
بلکہ اللہ نے سورہ محمد میں ان کی کنجوسی کے اوپر بہت ذلیل ہے اور صاف صاف یہ کہہ دیا کہ اصحاب پیغمبرؐ بہت کنجوس ہیں،سورہ محمد میں ارشاد ہوتا ہے۔
إِنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَإِن تُؤْمِنُوا وَتَتَّقُوا يُؤْتِكُمْ أُجُورَكُمْ وَلَا يَسْأَلْكُمْ أَمْوَالَكُمْ-إِن يَسْأَلْكُمُوهَا فَيُحْفِكُمْ تَبْخَلُوا وَيُخْرِجْ أَضْغَانَكُمْ-هَا أَنتُمْ هَٰؤُلَاءِ تُدْعَوْنَ لِتُنفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَمِنكُم مَّن يَبْخَلُ وَمَن يَبْخَلْ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ عَن نَّفْسِهِوَاللَّهُ الْغَنِيُّ وَأَنتُمُ الْفُقَرَاءُوَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُم(1)
ترجمہ:دنیاوی زندگی تو بس کھیل تماشہ ہے اور اگر تم(خدا پر)ایمان رکھو گے اور پرہیزگاری کروگے تو وہ تم کو تمہارا اجر عنایت کرےگا اور تم سے تمہارا مال طلب نہیں کرےگا اور وہ تم سے مال طلب،رحم سے چمٹ کے مانگے بھی تو(ضرور)بخیل لگو اور خدا تو تمہارے کینہ کو ضرور ظاہر کرکے رہےگا،دیکھو تم لوگ وہی تو ہو کہ خدا کی راہ میں خرچ کے لئے بلائے جاتے ہو تو بعض تم میں ایسے بھی ہیں جو بخل کرتے ہیں اور(یاد رہے کہ)جو بخل کرتا ہے تو خود اپنے ہی سے بخل کرتا ہے اور خدا تو بے نیاز ہے اور تم(اس کے)محتاج ہو اور اگر تم(خدا کے حکم سے)منہ پھیروگے تو خدا(تمہارے سوا)دوسروں کو بدل دےگا اور وہ تمہارے ایسے(بخیل)نہ ہوں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ محمد آیت:38،37،36
اور اللہ نے اصحاب پیغمبر کے انقلاب،ارتداد اور بدکرداری پر صاف اعتراض کیا ہے چنانچہ سورہ آل عمران میں ارشاد ہوتا ہے۔﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُأَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْوَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللَّهَ شَيْئًاوَسَيَجْزِي اللَّهُ الشَّاكِرِينَ﴾ (1)
ترجمہ:محمد تو صرف رسول ہیں ان سے پہلے اور بھی بہتر پیغمبر گذرچکے ہیں پھر کیا اگر محمد اپنی موت سے مرجائیں یا مارڈالیں تو تم الٹے پاؤں اپنے کفر کی طرف پلٹ جاؤگے اور جو الٹے پاؤں پھرےگا بھی تو ہرگز خدا کا کچھ بھی نہ بگاڑےگا اور اللہ عنقریب شکر کرنےوالوں کو اچھا بدلہ دےگا۔
اور سورہ حج میں ارشاد ہوا- ﴿وَمِنَ النَّاسِ مَن يَعْبُدُ اللَّهَ عَلَىٰ حَرْفٍ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرٌ اطْمَأَنَّ بِهِ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةٌ انقَلَبَ عَلَىٰ وَجْهِهِ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ ذَٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ﴾ (2)
ترجمہ:لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو ایک کنارے پر کھڑے ہوکے اللہ کی عبادت کرتے ہیں تو اگر ان کو کوئی فائدہ پہنچ گیا تو اس کی وجہ سے وہ مطمئن ہوگئے اور کہیں ان کو کوئی مصیبت چھوبھی گئی تو فوراً منھ پھیر کے کفر کی طرف پلٹ پڑے انہوں نے گھاٹا اٹھایا دنیا و آخرت میں(صریح گھاٹا)
سورہ محمد میں ارشاد ہوا۔فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِن تَوَلَّيْتُمْ أَن تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ آل عمران آیت:144
(2)سورہ حج آیت:11
أُولَٰئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَىٰ أَبْصَارَهُمْ) (1)
ترجمہ:کیا تم سے کچھ دور ہے کہ اگر تم حاکم ہوتے تو روئے زمین مٰں فساد پھیلانے اور اپنے رشتہ ناتوں کو توڑنے لگو یہ وہی لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور اللہ نے ان کے کانوں کو بہرا اور آنکھوں کو اندھا کردیا۔
اللہ نے اسی پر اکتفا نہیں کی بلکہ صراحت سے بتادیا کہ اصحاب پیغمبرؐ میں کچھ لوگ طیب ہیں اور کچھ خبیث اور تمام چہرے جانے پہچانے ہیں کسی شک و شبیہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے سورہ آل عمران میں ارشاد ہوتا ہے:
(مَّا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلَىٰ مَا أَنتُمْ عَلَيْهِ حَتَّىٰ يَمِيزَ الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَيْبِ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يَجْتَبِي مِن رُّسُلِهِ مَن يَشَاءُ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَإِن تُؤْمِنُوا وَتَتَّقُوا فَلَكُمْ أَجْرٌ عَظِيمٌ)(2)
ترجمہ:(منافقو)خدا ایسا نہیں کہ برے بھلے کی تمیز کئے بغیر جس حالت میں تم ہو اسی حالت پر مومنوں کو بھی چھوڑ دے اور خدا ایسا بھی نہیں غیب کی باتیں بتادے مگر ہاں خدا اپنے رسولوں میں سے جسے چاہتا ہے غیب کی باتیں بتانے کے لئے چن لیتا ہے۔
ظاہر ہے کہ اللہ نے جنہیں غیب کی باتیں بتانے کے لئے چنا ہے وہ منافقین نہیں ہیں اس لئے منافقین تو اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے پہچانے جاچکے ہیں۔
صالح بندے بہت کم ہیں کہ جن کی طرف متنبہ کیا گیا ہے:
ارشاد ہوا:(وَقَلِيلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ) (3)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ محمد آیت:22/23
(2)سورہ آل عمران آیت:179
(3)سورہ سبا آیت:13
میرے شکرگذار بندے بہت کم ہیں
سورہ واقعہ میں ارشاد ہوا: (ثُلَّةٌ مِّنَ الْأَوَّلِينَ-وَقَلِيلٌ مِّنَ الْآخِرِينَ) (1)
ترجمہ:بے شک صالح لوگ کچھ گذشتہ امتوں سے تھے اور کچھ آنے والی امتوں میں اسی طرح اللہ نے متوجہ کیا ہے کہ مقام امتحان میں ثابت قدم رہنے والے بھی بہت کم ہیں سورہ نساء میں ارشاد ہوتا ہے: (وَلَوْ أَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ أَنِ اقْتُلُوا أَنفُسَكُمْ أَوِ اخْرُجُوا مِن دِيَارِكُم مَّا فَعَلُوهُ إِلَّا قَلِيلٌ مِّنْهُمْوَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا مَا يُوعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتًا) (2)
ترجمہ:اگر ان پر ہم واجب کردیں کہ اپنے نفسوں کو قتل کرڈالو یا اپنے گھروں سے نکل جاؤ تو یہ لوگ ایسا نہیں کریں گے سوائے چند افراد کے حالانکہ جن باتوں کو کرنے کے لئے ان سے کہا جارہا ہے ان میں انھیں کی بھلائی ہے اور شدید ثابت قدمی کا ثبوت ہے۔
کتاب عزیز میں اللہ نے منافقین کے بارے میں اور مریض دلوں کے بارے میں بہت کچھ کہا ہے کبھی ان کی مذمت کی ہے کبھی انھیں برا کہا ہے،کبھی انہیں عذاب شدید سے ڈرایا ہے کبھی دنیا کی ذلت اور آخرت کے عذاب کی پیشین گوئی کی ہے ظاہر ہے کہ اس مختصر سے کتابچہ میں ان تمام باتوں کے بیان کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔
عام اصحاب کے بارے میں نبی کریمؐ کا نظریہ
وہ حدیثیں جو اصحاب کے بارے میں نبیؐ سے مروی ہیں ان آیتوں سے تعداد میں کم نہیں ہیں روایت ہے کہ سرکار دو عالم نے انھیں خطاب کرکے فرمایا تم ضرور گذشتہ امتوں کی پیروی کروگے،ہر قدم پر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ واقعہ آیت:14،13
(2)سورہ نساءآیت:66
پیروی کروگے ان کے قدموں سے قدم ملا کر چلوگے،یہاں تک کہ اگر وہ بچھو کے سوراخ میں بھی داخل ہوئے ہوں تو تم ان کے پیچھے پیچھے چلے جاؤگے،مجمع نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کیا گذشتہ امتوں سے مراد یہود و نصاری ہیں،آپ نے فرمایا پھر کون ہے؟(1) اسی طرح جناب حذیف کا قول ہے کہ تم بنواسرائیل کی قدم بقدم پیروی کروگے البتہ میں یہ نہیں جانتا کہ تم بنواسرائیل کی طرح بچھڑے کو پوجوگے یا نہیں؟(2) اور مام مالک کی موطا میں یہ حدیث ہے کہ امام مالک ابونضر سے جو عبداللہ ابن عمر کے غلام تھے یہ بات سنی کہ عبیداللہ ابن عمر کو بتایا کہ سرکارؐ نے فرمایا میں احد کے شہیدوں پر گواہ ہوں تو ابوبکر نے پوچھا یا رسول اللہؐ کیا ہم لوگ ان میں شامل نہیں ہیں ہم بھی انھیں کی طرح اسلام لائے اور ہم نے بھی انھیں کی طرح جہاد کیا حضورؐ نے فرمایا یقیناً تم اسلام لائے اور تم نے جہاد کیا لیکن مجھے نہیں معلوم کہ میرے بعد تم کیا حرکتیں انجام دوگے؟ین سن کے ابوبکر رونے لگے اور بہت دیر تک روتے رہے پھر کہنے لگے کیا آپ کے بعد ہم کچھ برے کام کرنے والے ہیں؟(3)
حدیث حسن میں ہے کہ سرکار دو عالمؐ جنت البقیع کے قبرستان میں کھڑے ہوئے اور فرمایا اے قبروں میں سونے والے مومنو اور مسلمانوں تم پر سلام ہو کاش تم جان سکتے کہ اللہ نے تمہیں کن فتنوں سے نجات دی جو تمہارے بعد اٹھنے والے ہیں پھر آپ نے اپنے اصحاب کی طرف دیکھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)صحیح بخاری ج:6ص:2669،کتاب الاعتصام بالکتاب و السنۃ،نبی کا قول کے اپنے سے پہلےوالوں کے اتباع کے بارے میں،اسی طرح ج:3ص:1274،کتاب الانبیاء:باب ما ذکر عن بنی اسرائیل،سنن بن ماجہ ج:2ص:1322،کتاب الفتن،افتراق امم کے باب میں مجمع الزوائدج:7ص:261،کتاب الفتن،ماضی کے سنتوں پر عمل کرنے کے باب میں۔المستدرک علی صحیحین ج:1ص:92۔93کتاب الایمان،صحیح بن جبان ج:15ص:95،اس حدیث کے ذیل میں کہ جس میں کہا گیا ہے کہ امت فتن و حوادث کا شکار ہوگی،مسند احمدج:2ص:327،مسند ابی ھریرہ ج:3ص:89مسند سعید الخدری،مسند الطالسی ج:2ص:289جس میں ابوسعید خدری نے نبیؐ سے روایت کی ہے
(2)مصنف ابن ابی شیبہ ج:7ص:481،کتاب الفتن،جو فتنہ سے بھاگتے ہیں اور پناہ مانگتے ہیں
(3)موطا مالک ج:2ص:461۔کتاب الجھاد:باب الشہداء فی سبیل اللہ،التمھید بن عبدالبرج:21ص:228
اور فرمایا قبروں میں سونے والے تم سے اچھے ہیں اصحاب کہنے لگے خدا کے رسولؐ وہ ہم سے اچھے کس وجہ سے ہوگئے ہماری طرح وہ بھی مسلمان ہوئے ہماری طرح انہوں نے بھی ہجرت کی اور ہماری طرح انہوں نے بھی راہ خدا میں خرچ کیا پھر وہ ہم سے اچھے کس طرح ہوگئے آپ نے فرمایا کہ انھوں نے محنت کی لیکن مزدوری میں سے کچھ کھایا نہیں میں ان پر گواہ ہوں اور تم نے جو محنت کی تو اس کی مزدوری کھارہے ہو اور مجھے نہیں معلوم کہ میرے بعد تم کیا کروگے۔(1)
اس طرح ہادی برحق نے آنےوالے فتنوں کے خطرے سے اپنے اصحاب کو آگاہ کردیا اسامہ بن زید کہتے ہیں کہ سرکارؐ مدینہ کے ایک ٹیلے پر چڑھے اور فرمایا مسلمانوں کیا تم بھی وہ دیکھ رہے ہو جو میں دیکھ رہا ہوں میں تو تمہارے گھروں میں فتنوں کو گرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں جیسے بارش کے قطرے گرتے ہیں۔(2)
اور عبداللہ ابن عمر کہتے ہیں کہ ایک دن پیغمبرؐ عائشہ کے گھر سے نکلے اور کہا فتنہ کی جڑ یہاں ہے اور یہیں سے شیطان کی سینگ نکلےگی۔(3)
عبداللہ ابن عمر ہی کہتے ہیں کہ ایک دن سرکارؐ عائشہ کے حجرہ کا سہارا لےکر کھڑے تھے اور فرمارہے تھے فتنہ یہاں پر ہے فتنہ یہاں پر ہے یہیں سے شیطان کی سینگ نکلیں گے(4) پھر ان عمر ہی سے روایت ہے کہ حضرت نے منبر کی طرف بڑھتے ہوئے فرمایا فتنہ یہاں ہے اور یہیں سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)تاریخ مدینہ منورہ ج:1ص:94،اسی طرح الزہد لابن مبارک ص:171،المصنف عبدالرزاق ج:3ص:575،کتاب الجنائز،قبروں پر سلام کے باب میں،تفسیر ثعلبی ج:4ص:154
(2)صحیح بخاری ج:2ص:871،کتاب المظالم:باب اماطۃ الاذی،صحیح مسلم ج:4ص:2211،کتاب الفتن و اشتراط الساعۃ:باب نزوالفتن کمواقع القطر،المستدرک علی صحیحین ج:4ص:553،کتاب الفتن و الملاحم،مسند احمدج:2ص:200،حدیث اسامہ بن زید
(3)مسند احمدج:2ص:23،اور اسی طرح مسند عبداللہ بن عمر بن خطاب میں ص:26
(4)السنن الواردہ فی الفتن ج:1ص:235،نبی کے قول کے باب میں،فتنہ شرق کی طرف سے ہوگا
شیطان کے سینگ نکلیں گے۔(1)
نافع نے عبداللہ سے روایت کی ہے کہ پیغمبر ممنبر سے خطبہ دے رہے تھے کہ آپ نے عائشہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا اور تین مرتبہ فرمایا کہ وہاں فتنہ ہے وہیں سے شیطان کے سینگ نکلیں گے۔(2)
ابی مویہبہ جو پیغمبرؐ کے غلام تھے کہتے ہیں کہ ایک دن سرکار جنت البقیع کے قبرستان میں داخل ہوئے اور فرمایا اے قبر میں سونےوالو تم پر سلام ہو جس حال میں تم ہو وہ زندہ لوگوں سے بہت بہتر ہے کاش تم جان سکتے کہ اللہ نے کن برے حالات سے تمہیں نجات دی ہے فتنے بڑھے چلے آرہے ہیں جیسے اندھیری رات آتی ہے،جس میں ایک فتنہ کے بعد دوسرا فتنہ آرہاہے اور دسرا فتنہ پہلے فتنہ سے بڑا ہے۔(3)
کعب بن عجرہ انصاری کہتے ہیں کہ ہم مسجد نبوی میں بیٹھے تھے اور ہم نو آدمی تھے کہ پیغمبرؐ مسجد میں داخل ہوئے اور تین بار فرمایا کہ کیا تم سن رہے ہو تمہارے اوپر کچھ لوگ امام ہونےوالے ہیں پس جوان کے جھوٹ کی تصدیق اور ان کے ظلم کی تائید کرےگا وہ مجھ سے نہیں ہے نہ میں اس سے ہوں وہ حوض کوثر پر مجھ سے نہیں ملےگا اورجوان کے پاس جاکر ان کے جھوٹ کی تصدیق نہیں کرےگا اور ان کے ظلم میں اعانت نہیں کرےگا وہ مجھ سے اور میں اس سے ہوں وہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کرےگا۔(4)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)فوائد للیث بن سعدص:70،گیارویں حدیث
(2)صحیح بخاری ج:3ص:1130،ازواج نبی کے بیوت کے باب میں
(3)مسند احمدج:3ص:489،حدیث ابی مویہبہ مولی رسول اللہ،المستدرک علی صحیحین ج:3ص:57،کتاب المغازی،مجمع الزوائدج:9ص:24،کتاب علامات النبوۃ،باب تخّیر بین الدنیا والآخرۃ،المعجم الکبیرج:22ص:346،اور اسی طرح سنن الدارمی ج:1ص:50،باب وفات النبیؐ طبقات الکبریٰ ج:2ص:204،فی ذکر خروج رسول اللہ
(4)السنن الکبریٰ بیہقی ج:8ص:165،کتاب قتال اہل البغی:جماع ابواب العاۃ...،مجمع الزوائدج:5ص:247،کتاب الخلافۃ:باب فیمن یصدق الامراء،المعجم الکبیرج:19ص:141،شعب الایمان ج:7ص:46،السادس و الستون من باب الایمان
اور اسی طرح اس کے علاوہ بھی حدیث ہے(1)
ابومریم کی حدیث ہے کہ میں نے عماریاسر کو کہتے سنا کہ انہوں نے ابوموسیٰ سے کہا اے ابوموسی میں تمہیں خدا کی قسم دے کے پوچھ رہاہوں کہ پیغمبرؐ نے خاص کر تمہاری طرف متوجہ ہوکے نہیں کہا تھا کہ ہماری امت میں عنقریب فتنہ اٹھنےوالا ہے اے ابوموسیٰ اس وقت تم سوجاؤگے جب کہ اٹھ بیٹھنےوالا تم سے بہتر ہوگا اور تم بیٹھے ہوگے جب کہ کھڑا رہنےوالا تم سے بہتر ہوگا اور تم کھڑے ہوگے جب کہ چلنے والا تم سے بہتر ہوگا ابوموسیٰ پیغمبرؐ نے خاص تمہیں مراد لیا تھا اور لوگوں کو شامل نہیں کیا تھا،راوی کہتا ہے کہ یہ سن کے ابوموسیٰ بہت خاموشی سے کھسک گئے اور عمار کا کوئی جواب نہیں دیا۔(2)
حذیفہ کہتے ہیں ہم پیغمبرؐ کی خدمت میں تھے کہ آپ نے فرمایا جو لوگ اسلام کا اقرار کرتے ہیں انہیں شمار تو کرو ہم نے خدا کے رسول ہم لوگ چھ یا سات سال سو ہیں آپ کو ہمارے بارے میں کوئی خوف ہے کیا؟آپ نے فرمایا تمہیں معلوم نہیں ہے تم لوگ آزمائے جاؤگے حذیفہ کہتے ہیں کہ پیغمبرؐ کی پیشن گوئی سچ ثابت ہوئی اور ہم لوگ ایسے آزمائش میں پڑے کہ چھپ کے نماز پڑھی پڑی(3) اور پیغمبرؐ کے دور کی نماز کو چھپاکے پڑھنا ہمیں ضروری ہوگیا ورنہ نمازیں ہمارے یہاں جماعت سے پڑھی جاتی تھیں لیکن نبی والی نماز نہیں تھی(ختم حدیث)مناسب معلوم ہوتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)السنن الکبریٰ بیھقی ج:8ص:165،کتاب قتال اہل البغی:جماع ابواب الرعاۃ،سنن الترمذی ج:4ص:525،کتاب الفتن،المستدرک علی صحیحین ج:1ص:151،کتاب الایمان،صحیح ابن حبان ج:1ص:513 اسی طرح،ص:517،کتاب البر و الاحسان:باب الصدق و الامر بالمعروف،اور ص:519،مسند احمدج:4ص:243،المعجم الکبیرج:19ص:135،134،اور اسی مضمون میں ص:41
(2)مجمع الزوائدج:7ص:246،کتاب الفتن:باب فی الحکمین،الکامل فی الضعفاءج:5ص:186حالات علی بن فیروز میں،تاریخ دمشق ج:32ص:92،حالات عبدالبر بن قیس بن سلیم میں
(3)مصنف بن ابی شیبہ ج:7ص:468،کتاب الفتن:باب من کرہ الخروج فی الفتنۃ...،صحیح ابن حبان ج:14ص:171کتاب التاریخ،باب
ابتداءاسلام میں اسلام کا دعویٰ کرنےوالے،سنن للنسائی ج:5ص:267،الایمان لابن مسندہ ج:1ص:536،ایسی روایت کا ذکر جس میں پہلے اسلام لانےوالوں کو مقدم کیا گیا ہے
ہے کہ ایک بار پھر آپ کے گوش گذار کروں کہ انس کے بیان کے مطابق یا تو وہ نماز جو رسول کے ساتھ پڑھتے تھے بھول گئے یا جان بوجھ کے وہ نماز چھوڑ دی تھی۔
سرکار دو عالمؐ نے تو بعض صحابہ کے گمراہ ہونے کی یا منافق ہونے کی یا اسلام سے کل جانے کی صراحت کردی تھی،مثلاً آپ نے فرمایا تھا کہ عمار کو قتل کرنے والا آپ کا لباس چھیننےوالا جہنمی ہوگا۔(1)
یا یہ کہ عمار کو باغی گروہ قتل کرےگا۔(2)
اور آپ نے حکم دیا تھا کہ جب معاویہ کو منبر یا اس کی لکڑیوں پر دیکھنا تو اس کو قتل کردینا۔(3)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)الطبقاب الکبریٰ ج:3ص:261،فی ذکر(و من خلفاء بنی مخزوم(عمار بن یاسر)المستدرک علی صحیحین ج:3ص:437،کتاب معرفۃ الصحابہ(عمار بن یاسر)کے مناقب میں،سیر اعلام نبلاءج:426،425،حالات عمار بن یاسر میں،الاصابۃ ج:7ص:312،حالات ابی الفادیہ جہنی میں،مجمع الزوائدج:7ص:244،کتاب الفتن:باب فما کان بینھم فی الصفین،مسند احمدج:4ص:198،عمر بن عاص نے رسولؐ سے حدیث نقل کی
(2)صحیح بخاری ج:1ص:172،کتاب الصلوٰۃ:باب المساجد،اور ج:3ص:1035،کتاب الجہاد و السیر:باب مسح الغبار عن الناس فی السبیل،صحیح مسلم ج:4ص:2236،کتاب الفتن و اشراط الساعۃ باب لاتقوم الساعۃ حتی یمر الرجل بقبر الرجل..
(3)سیر اعلام النبلاء ج:3ص:149،حالات معاویہ میں اورج:6ص:105،حالات عمر بن عبید میں،تھذیب التھذیب ج:2ص:368،حالات الحکم بن ظہیر الفزاری میں،ج:5ص:95،حالات عباد بن یعقوب میں،ج:8ص:64،حالات عمر بن عبید میں،ج:7ص:284،حالات علی بن زید بن جدعان میں،الکافی فی الضعفاءج:2ص:146حالات جعفر بن سلیمان الضعبی میں،ص:209،حالات حکم بن ظہیر میں ج:5ص:98۔101۔103،حالات عمر بن عبید میں ص:200،حالات علی بن زید بن جدعان میں،ص:314،حالات عبدالرزاق بن ہمام میں،ج:6ص:422،حالات مجالد بن سعید بن عمیر میں،ج:7ص:83،حالات الولید بن قاسم بن الولید میں المجروحین لابن حبان ج:1ص:162،حالات احمد بن محمد بن مصعب میں،ص:250،حالات حکم بن ظھیر میں،ج:2ص:172،حالات عبادہ بن یعقوب میں،الضعفاءللعقیلی ج:3ص:280،حالات عمروبن عبید بن باب میں،العلل و معرفۃ الرجال ج:1ص:406،تاریخ دمشق ج:59ص:157،156،155،حالات معاویہ بن صخر ابی سفیان میں
عبداللہ ابن زبیر کے بارے میں فرمایا تھا کہ مکہ میں ایک منیڈھا الحاد کرےگا جو قریشی ہوگا اور اس کا نام عبداللہ ہوگا وہ ساری دنیا کے گناہوں کے مقابلے میں اس کا آدھا گناہ ہوگا یا یہ مکہ کے حرم کو قریش کا ایک شخص حل سے بدل دےگا،اگر اس کے گناہوں کو تولا جائے تو ثقلین کے گناہوں سے بھاری پڑےگا۔(1) اور حضرت نے ناکثین قاسطین اور مارقین سے لڑنے کا حکم دیا تھا۔(2)
چنانچہ مخنف بن سلیم سے روایت ہے کہ ہم لوگ ابوایوب انصاری کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ ضعا میں اپنےکچھ گھوڑوں کو چرارہے تھے تو ہم نے کہا ابوایوب آپ نے پیغمبرؐ کی قیادت میں تو مشرکوں سے جنگ کی اب آپ مسلمانوں سے لڑنے نکلے ہیں ابوایوب نے فرمایا ہمیں پیغمبرؐ نے ناکثین،قاسطین اور مارقین سے لڑنے کا حکم دیا تھا ہم قاسطین اور ناکثین سے تو لڑچکے اور انشااللہ اب ہم مارقین سے نہروان میں لڑیں گے اور نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہیں۔(3) جبیر بن مطعم سے روایت ہے کہ میں نے سرکار سے پوچھا کہ حضورؐ کچھ لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہمیں مکہ میں رہنے کی وجہ سے اجر نہیں ملےگا حضورؐ نے فرمایا ضرور اپنا اجر پاؤگے چاہے تم سخت پتھروں کے درمیان رہو وہ کہتا ہے کہ یہ سن کرکے میں آپؐ کی طرف جھکا آپؐ نے فرمایا میرے اصحاب کچھ منافق ہیں(4)اور ابومسعود کہتے ہیں کہ ایک دن سرکارؐ نے خطبہ میں خدا کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)مجمع الزوائدج:3ص:284۔285،کتاب الحج:باب فی حرم مکۃ و النھی عن استحلالھا،اور اسی طرح تاریخ دمشق ج:28ص:218۔219،حالات عبدالبر بن الزبیر میں
(2)المستدرک علی صحیحین ج:4ص:150،کتاب معرفۃ الصحابہ،مجمع الزوائدج:5ص:186،کتاب الخلافۃ:باب الخلفاءوالاربعۃ،کتاب خلافت چاروں خلیفہ کے باب میں ج:7ص:238،کتاب الفتن:باب فیما کان بینھم فی صفین،مسند ابی یعلی ج:1ص:379،مسند علی بن ابی طالب میں،مسند البرازج:2ص:215ج:3ص:27،مسند شاشی ج:2ص:342،المعجم الکبیرج:4ص:91
(3)مجمع الزوائدج:6ص:235،کتاب قتال اہل البغی:باب ما جاء فی ذی الثدیۃ اور اسی طرح معجم الکبیرج:4ص:172،الکامل فی الضعفاءج:2ص:187،حالات الحارث بن حصیرۃ الازدی میں
(4)مجمع الزوائدج:5ص:252،کتاب الجہاد:باب ہجرۃ الباثہ و البادیۃ اور اسی طرح مسند احمدج:4ص:83،جبیر بن مطعم کی حدیث میں،مسند الطیاسی ج:2ص:128،جبیر بن مطعم کی حدیث میں
مسلمانو!تمہارے درمیان بیٹھے ہیں تو میں جس کا نام لوں وہ کھڑا ہوجائے اس کے بعد آپ نے فرمایا اے فلان اٹھ جا،اے فلان اٹھ جا،اے فلان اٹھ جا،اس طرح آپ نے چھتیس آدمیوں کو اٹھایا پھر فرمایا تمہارے ہی اندر ہے ہاں تم ہی میں سے ہے،پس خدا سے ڈرو۔(1)
مسلم اپنی سند کے ساتھ حذیفہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت نے فرمایا ہمارے اصحاب میں بارہ منافق ہیں ان میں تو آٹھ جنت میں داخل ہی نہیں ہوسکتے یہاں تک کہ سوئی کے ناکے میں اونٹ داخل ہو۔(2)
مسلم کہتے ہیں کہ سرکار دو عالمؐ نے فرمایا میں اس آدمی جیسا ہوں جس نے آگ روشن کی اور جب آگ روشن ہوگئی تو اس سے بچنے کی کوشش کرتا ہے لیکن آگ میں اس کا سامان جل رہاہے یہی مثال ہماری اور تمہاری ہے میں نے تمہارے کمربند کو پکڑ رکھا ہے تا کہ آگ سے باہر کھینچ لوں پس آگ سے بچو آگ سے بچو،اگر تم مجھ سے بھاری پڑے تو آگ میں گرجاؤگے(3) اس طرح کی روایت جناب جابر سے ہے حضور نے فرمایا میری اور تمہاری مثال ایسی ہے جیسے کسی نے آگ جلائی تو آگ نے اس کا بستر اور ساز و سامان پکڑلیا وہ اپنے سامان کو بچا تو رہا ہے مگر میں نے تمہیں آگ سے بچانے کے لئے پکڑ رکھا ہے اور تم میرے ہاتھوں سے پھسلے جارہےہو۔(4)
زبیر بن عوام کی حدیث میں ہے کہ آپ نے فرمایا تمہارے جسم میں گذشتہ امتوں کی بیماریاں داخل ہوگئی ہیں یعنی حسد اور بغض اور بغض کو کاٹنےوالی ہیں سر کے بال کاٹنے والی نہیں دین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)مسند احمدج:5ص:273،حدیث ابی سعود عقبہ،مسند عبدبن حمیدص:106،المعجم الکبیرج:17ص:246،حدیث عیاض بن عیاص
(2)صحیح مسلم ج:4ص:2143،کتاب صفات المنافقین،سنن کبریٰ بیھقی ج:8ص:198،کتاب المرتد:باب ما یحرم بہ الدم،مسند احمدج:5ص:390،حدیث حذیفۃ بن الیمان
(3)صحیح مسلم ج:4ص:1789،کتاب الفضائل:باب شفقۃ،صحیح بخاری ج:5ص:2379،کتاب الرقاق:باب الانتھاءعن المعاصی،مسند احمدج:2ص:312،مسند ابی ہریرہ میں
(4)صحیح مسلم ج:4ص:1790،کتاب الفضائل:شفقتہ علی امتہ،تفسیر قرطبی ج:20ص:165،الترغیب و الترھیب ج:4ص:245، ،کتاب صفۃ الجنۃ و النار
کا گلا اتارنےوالی،ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمدؐ کی جان ہے جب تک تم آپس میں محبت نہیں کروگے اس وقت تک تمہارا ایمان ثابت نہیں ہوگا۔(1) ام سلمہ سلام اللہ علیہا فرماتی ہیں سرکارؐ نے کہا میرے اصحاب میں کچھ ایسے بھی اصحاب ہیں جو مجھے مرنے کے بعد نہیں دیکھیں گے اور نہ میں ان کو دیکھوں گا۔(2) عقبہ کہتے ہیں ایک دن سرکار صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کسی کی نماز جنازہ پڑھانے نکلے نماز کے بعد آپ منبر پر گئے اور آپ نے فرمایا مسلمانوں میں تم سے پہلے مرنےوالا ہوں اور میں تم پر گواہ ہوں خدا کی قسم اس وقت میں اپنے حوض کو دیکھ رہاہوں مجھے زمین کے خزانوں کی کنجیاں دی گئی ہیں خدا کی قسم میں اس سے نہیں ڈرتا کہ میرے بعد شرک اختیار کروگے بلکہ اس سے ڈرتا ہوں کہ تم دنیا میں الجھ جاؤگے۔(3) انس کہتے ہیں سرکارؐ نے فرمایا کہ قیامت کے دن حوض کوثر پر میرے دو صحابی لائے جائیں گے۔(4)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)مسند احمدج:1ص:163،مسند الذبیر بن العوام،سنن ترمذی ج:4ص:664،663،کتاب صفۃ القیامۃ و الرقائق:باب لم یعنونہ،مجمع الزوائدج:8ص:30،کتاب الادد:باب ماجاء فی الاسلام سنن الکبری بیھقی ج:10ص:232،کتاب الشہادات:جماع ابواب من تجوز شہادتہ..،مسند البرازج:6ص:192،مسند شناشی ج:1ص:114،فیما رواۃ یعیش بن الولید مولی ابن الزبیر عنہ،مسند الطیالسی ج:1ص:127،احادیث الزبیر بن عوام میں
(3)صحیح بخاری ج:5ص:2408،کتاب الرقاق:باب فہ الحوض،صحیح مسلم ج:4ص:1795،کتاب الفضائل:باب اثبات حوض نبینا ص وصفاتہ،سنن الکبریٰ بیہقی ج:4ص:14،جماع ابواب الشہید...،مسند احمدج:4ص:149،حدیث عقبۃ بن عامر الجہنی،صحیح ابن حبان ج:8ص:18،کتاب الزکوٰۃ:باب جمع المال من حلہ...،مسند رویانی ج:1ص:157،مسند مرثد بن عبداللہ،سیر اعلام النبلاءج:6ص:33،حالات یزید بن ابی حبیب
(4)مسند احمدج:3ص:140،مسند انس بن مالک میں
ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ حضورؐ نے فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے یہ کہتے ہیں پیغمبرؐ کے بعد پیغمبرؐ سے رشتہ داری لوگوں کو فائدہ نہیں پہنچائےگی خدا کی قسم مجھ سے رشتہ داری دنیا اور آخرت دونوں جگہ فائدہ دےگی۔
اے لوگو!میں تم سے پہلے حوض پر پہنچوں گا،جب تم آؤگے تو تم میں سے ایک کہےگا اے خدا کے رسولؐ میں فلاں ہوں اور فلاں کا بیٹا ہوں میں کہوں گا جہاں تک خاندان کا سوال ہے وہ تو میں جانتا ہی ہوں لیکن تم نے میرے بعد بھی کچھ کارنامے انجام دیئے ہیں اور اپنے پچھلے مذہب پر پلٹ گئے۔(1)
ابوہریرہ کہتے ہیں حضور نے فرمایا کے میرے اصحاب میں سے کچھ لوگ قیامت کے دن میرے پاس آتئیں گے لیکن انہیں حوض کے پاس سے بھگا دیا جائےگا میں آواز دوں گا مالک یہ تو میرے اصحاب ہیں جواب ملےگا وہ تو ہیں لیکن انھوں نے آپ کے بعد بھی کچھ کانامے انجام دیئے ہیں جو آپ کو معلوم نہیں ہیں یہ لوگ اپنے پچھلے مذہب پر پلٹ گئے تھے۔(2)
دوسری حدیث میں ہے کہ حضورؐ نے فرمایا میں قیامت میں حوض کے کنارے کھڑا ہوں گا کہ اس وقت ایک گروہ میرے سامنے سے گذرےگا جس کو میں پہچانتا ہوں گا کہ میرے بعد ان کے درمیان ایک آدمی آکے کھڑا ہوجاےگا اور ان سے کہے چلو،میں پوچھوں گا کہاں جواب ملےگا جہنم میں پوچھوں گا ان کا قصور کیا ہے؟جواب ملےگا انہوں آپ کے بعد بہت سے کارنامے انجام دیئےہیں اور اپنےپچھلے مذہب پر واپس پلٹ گئے تھے پھر ایک گروہ آئےگا جن کو میں پہچان رہا ہوں گا کہ ایک آدمی میرے بعد ان کے درمیان آکے کہےگا چلو میں پوچھوں گا کہاں جواب ملےگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)مجمع الزوائدج:10ص:364،کتاب البعثت:باب ماجاءفی حوض النبیؐ اور اسی طرح مسند ابی یعلی ج:2ص:433،مسند ابی سعید خدری میں،مسند عبد بن حمیدج:1ص:304،مسند ابی سعید خدری میں،فتح الباری ج:11ص:386
(2)صحیح بخاری ج:5ص:2407،کتاب الرقاق:باب فی الحوض،تفسیر قرطبی ج:4ص:168،مسند عمر بن خطاب ص:86،تغلیق تعلیق ج:5ص:186،کتاب الرقاق:باب فی الحوض
جہنم میں پوچھوں گا انہوں نے کیا کیا ہے؟جواب ملےگا آپ کے بعد اپنے پچھلے مذہب پر رجعت قہقری کی ہے تو میں ان میں سے کسی کو نجات یافتہ نہیں دیکھتا مگر جیسے بھولا بھٹکا کوئی اونٹ۔(1)
جابر بن عبداللہ انصاریؒ سے روایت ہے کہ پیغمبرؐ نے اپنی مسجد سے بہت سے لوگوں کو نکال دیا اور کہا مسجد میں سویا نہ کرو لوگ نکلنے لگے تو علیؑ بھی ان کے ساتھ نکلے آپ نے علیؑ سے کہا تم مسجد میں واپس جاؤ اس میں جو میرے لئے حلال ہے وہ تمہارے لئے بھی حلال ہے گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں تم ان لوگوں کو حوض کوثر سے ہٹا رہے ہو اور تمہارے ہاتھ میں ایک عصا اور عوسج ہے۔(2)
میں نے حدیثوں کے سمندر سے کچھ قطرے آپ کی خدمت میں پیش کردیئے ہیں اس لئے کہ گنجائش بہت کم تھی،ہم نے شیعوں کی دلیلں نہیں پیش کیں نہ ان کے نظریات پیش کئے اس لئے کہ ہم وہ نہیں چاہتے تھے۔اب ہر مسلمان پر واجب ہے کہ وہ رضائے حق کا طالب ہو اور خدا کے غضب سے ڈرے اس کی سزا سے بچے اور خلوص کے ساتھ اپنی تحقیق کو مکمل کرے تا کہ جہنم کی آگ سے محفوظ رہے ارشاد ہوتا ہے۔
(و من جاهد فانّما یجاهد لنفسه انّ الله لغنی عن العالمین)(3)
ترجمہ:جو کوشش کرتا ہے وہ اپنے نفس ہی کے لئے کوشش کرتا ہے اللہ تو تمام عالم سے بےنیاز ہے۔
جب خدا اس کے جذبہ خلوص اور تلاش و جستجو کے ارادوں کو جان جاےگا تو اس کی طرف سے مدد بھی ہوگی اور وہ حق کے راستے کی ہدایت بھی کردےگا ارشاد ہوتا ہے: وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ (4)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)صحیح بخاری ج:5ص:2408،2407،2406،2404،کتاب رقاق،باب حوض میں
(2)تاریخ المدینۃ المنورہ ج:1ص:38
(3)سورہ عنکبوت:آیت6
(4)سورہ عنکبوت آیت69
ترجمہ:جو ہماری راہ میں کوشش کرتا ہے ہم اسے اسے اپنے راستے کی ہدایت بھی کردیتے ہیں اللہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
ایک تنبیہ اس بات کے لئے کہ صحابہ طبیعت بشری پر تھے اور اس کے تقاضون کو پورا کرنے پر مجبور تھے
یہ بات زیادہ قابل توجہ ہے کہ صحابہ بہرحال انسان تھے اور انسانی طبیعت کے تقاضون کو پورا کرنے پر مجبور تھے،ایک انسان کے اندر خیر و شر کے دواعی موجود رہتے ہیں اور اس کا نفس خیر و شر کے درمیان الجھا رہتا ہے اس طرح صحابہ نے اپنی زندگی کے بہت سے سال ایام جاہلیت میں گذارے اور جاہلیت کی عادتیں ان کے اندر جڑ پکڑچکی تھیں اور اسلام بھی ایک اصلاحی دعوت ہے جس کے ذریعہ انہیں بلایا گیا اور اصلاح کی کوشش کی گئی پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ محض کلمہ پڑھ لینے سے اچانک ان کی طبیعتیں بدل گئیں اور نفس صاف ہوگئے جب کہ اسلام میں داخل ہونے کے وقت پر مسلمانوں کے حالات جدا جدا تھے،کوئی رغبت کے ساتھ مسلمان ہوا،کوئی خوف سے ان کے اسلام لانے کی بنیاد تک کہ اسلام کی طرف متوجہ کرنے کے لئے حضور کو ان کی تالیف قلب کرنی پڑی اور مال کے ذریعہ ان کو اپنی طرف راغب کرنا بڑا،حسن اخلاق کے ذریعہ اور کبھی تال میل اور غلطیوں سے چشم پوشی کرکے سرکارؐ نے انہیں مسلمان بنائے رکھا جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے:
(فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللَّهِ لِنتَ لَهُمْوَلَوْ كُنتَ فَظًّا غَلِيظَ الْقَلْبِ لَانفَضُّوا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَشَاوِرْهُمْ فِي الْأَمْرِ)(1)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ آل عمران آیت159
ترجمہ:آپ خدا کی رحمت کی وجہ سے ان کے لئے بہت نرم ہیں اگر آپ بداخلاق اور سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے پاس سے چلے جاتے پس آپ انہیں معاف کرتے رہیں اور ان کے لئے دعائے مغفرت کے ساتھ ہی امور میں مشورہ بھی کرتے رہیں۔
بلکہ جو لوگ اسلام پر اعتماد کرکے یا بصیرت قلب کی بنیاد پر اسلام کو قبول کرچکے تھے ان کے بارے میں بھی یہ فرض نہیں کہ وہ اسلام پر ثابت قدم رہ جائیں اور فتنوں کے دور میں استقامت سے کام لیں،اس لئے کہ نفس انسانی برائی کی طرف کھینچتا ہے اور شیطان اپنے ہاتھ سے موقع جانے نہیں دیتا،ہمارے لئے سامری کے واقعہ میں ایک بڑا مقام عبرت ہے ہم دیکھتے ہیں کہ ایمان کے باوجود موسی کے اصحاب کس طرح راہ حق سے ہٹ گئے اور فتنہ میں گرفتار ہوگئے،قرآن مجید حکایت کرتا ہے: ( قَالَ بَصُرْتُ بِمَا لَمْ يَبْصُرُوا بِهِ فَقَبَضْتُ قَبْضَةً مِّنْ أَثَرِ الرَّسُولِ فَنَبَذْتُهَا وَكَذَٰلِكَ سَوَّلَتْ لِي نَفْسِي) (1)
ترجمہ:سامری نے کہا میں نے وہ بات دیکھی جو آپ کے صحابہ نہ نہیں دیکھی تھی تو میں نے جبرائیل کے نشان قدم سے ایک مٹھی خاک اٹھائیپس میں نے اس کو ذخیرہ کرلیا اور میرے نفس نے مجھ سے یہی سوال کیا تھا۔
بلعم باعور کا واقعہ کم عبرت ناک نہیں جس کی تفصیل قرآن بیان کرتا ہے: (وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِي آتَيْنَاهُ آيَاتِنَا فَانسَلَخَ مِنْهَا فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَانُ فَكَانَ مِنَ الْغَاوِينَ-وَلَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنَاهُ بِهَا وَلَٰكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ وَاتَّبَعَ هَوَاهُ فَمَثَلُهُ كَمَثَلِ الْكَلْبِ إِن تَحْمِلْ عَلَيْهِ يَلْهَثْ أَوْ تَتْرُكْهُ يَلْهَث ذَّٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ) (2)
-----------------
(1)سورہ طہ آیت:23
(2)سورہ اعراف 175،176
ترجمہ:اور اس کی خبر بھی بتادیجیے جس کو ہم نے اپنی نشانی دی تھی وہ اس کے ہاتھ سے نکل گئی اور شیطان اس کے پیچھے پڑگیا،پس وہ گمراہ ہوگیا اور ہم چاہتے تو اس کو اس کے ساتھ لیتے لیکن ہم نے اسے ہمیشہ کے لئے زمین ہی میں رہنے یا تو وہ اپنے خواہش نفس کی پیروی کرنےلگا،وہ تو کتّے جیسا ہوگیا کہ اس پر بار لادو جب بھی زبان نکالےگا اور چھوڑ دو جب بھی زبان نکالےگا،جیسے وہ قوم جو ہماری نشانیاں جھٹلاتی ہے تو آپ اسکے قصے بیان کردیں تا کہ یہ لوگ سوچیں۔یاد رکھئے مخلوقات کے سلسلے میں اللہ کی سنت ایک ہی ہے-(وَلَنتَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا) (1) ترجمہ:اور کبھی تم اللہ کی سنت کو تبدیل ہوتا ہوا نہیں پاؤگے۔
میں خدا کی پناہ چاہتا ہوں گمراہ کن فتنوں سے اور برے نتیجوں سے سوائے خدا کے کوئی بچانے والا بھی نہیں ہے اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنےوالا ہے۔صحابہ کے موضوع پر اہل سنت اور شیعوں کے درمیان ہر دور میں بحث ہوتی رہی ہے۔سب کا تذکرہ کرنے کی اس خط میں گنجائش نہیں ہے،اگر مزید معلومات چاہئے تو ان کتابوں کا مطالعہ کیجئے جو ساتویں صدی کے بعض علما نے لکھی ہیں اور ان کی تفصیل ابن ابی الحدید نے لکھی ہے(2) اس موضوع پر وہ کتاب بہت فائدہ بخش ہوگی،لیکن ہم اس بات کی ذمہ داری نہیں لیتے کہ اس کتاب کی سب باتیں آپ کی خدمت میں پیش کردیں گے۔
گذشتہ بیانات کی روشنی میں شیعوں کا صحابہ کے بارے میں نظریہ
گذشتہ بیانات کو دیکھتے ہوئے شیعہ اس معاملے میں حق بجانب ہیں کہ وہ تمام صحابہ کو مقدس اور محترم نہیں سمجھتے اور صحابہ کو تنقیدی نظر سے دیکھتے ہیں بلکہ قابل تنقید بات کرتے ہیں اور ان کے بارے میں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ فتح آیت:23
(2)شرح نہج البلاغہ ج:2ص:10،اور اس کے بعد
ان کے اعمال اور سلوک کو دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں صحابہ کے بارے میں بولنے سے پہلے انہیں شریعت اور عقل کے ضابطوں پر پرکھتے ہیں تا کہ جو کچھ بولیں دلیل کے ساتھ بولیں اس لئے شیعوں کی نظر میں صرف وہی صحابہ قابل تعظیم ہیں جنہوں نے حق کو لازم سمجھا عقیدہ اور سلوک میں ثابت قدم رہے اور اپنے پروردگار کے امر کو کج فہمی کا شکار نہ بنایا بلکہ وجائے عہد کرتے رہے یہ وہ صحابہ ہین جن کی شیعہ تعظیم بھی کرتے ہیں تقدیس بھی کرتے ہیں اور ان پر فخر بھی کرتے ہیں،اس لئے کہ یہی لوگ وہ ہیں جن کے سہارے اسلام کی چکی چلتی ہے اور دین کا ستون کھڑا ہے،یہ لوگ موالات کے قابل ہیں بلکہ حق تو یہ ہے کہ یہی لوگ اللہ کے ولی ہیں،جیسا کہ خداوند عالم ان کی تعریف میں ارشاد ہوتا ہے: ( إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلَائِكَةُ أَلَّا تَخَافُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنتُمْ تُوعَدُونَ-نَحْنُ أَوْلِيَاؤُكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ-نُزُلًا مِّنْ غَفُورٍ رَّحِيمٍ) (1) ترجمہ:بیشک وہ لوگ جنہوں نے یہ کہہ دیا کہ ہمارا پروردگار تو بس اللہ ہے اور اسی بار پر قائم رہے ان کے یہاں فرشتے نازل ہوتے رہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم ڈرو نہیں گھبراؤ نہیں اور اس جنّت کی بشارت حاصل کرو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے ہم دنیا اور آخرت میں تمہارے سرپرست ہیں جنّت میں تم جو چاہوگے تمہیں ملےگا اور جو مانگوگے پاؤگے فرشتوں کا نزول خدائے غفور و رحیم کی طرف سے ہوتا ہے۔
اور جس نے عہد کو توڑا حق سے جدا ہوگیا عقیدہ بدلا پچھلے مذہب پر پلٹا وہ سزا وبال اور لعنت کا مستحق ہے چاہے وہ صحابی ہی کیوں نہ ہو جیسا کہ سورہ فتح میں ارشاد ہوتا: (فَمَن نَّكَثَ فَإِنَّمَا يَنكُثُ عَلَىٰ نَفْسِهِ وَمَنْ أَوْفَىٰ بِمَا عَاهَدَ عَلَيْهُ اللَّهَ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ فصلت آیت32،31،30
فَسَيُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا)(1)
ترجمہ:پس جو اپنے عہد کو توڑدے اس نے اپنے نفس ہی کے عہد کو توڑا ہے اور جو اللہ سے کئے ہوئے وعدے کو وفا کرتا ہے اس کو اللہ اجر عظیم دیتا ہے۔
سورہ رعد میں ارشاد ہوتا ہے:( وَالَّذِينَ يَنقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ مِن بَعْدِ مِيثَاقِهِ وَيَقْطَعُونَ مَا أَمَرَ اللَّهُ بِهِ أَن يُوصَلَ وَيُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِأُولَٰئِكَ لَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ) (2)
ترجمہ:جو لوگ اللہ سے عہد باندھنے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور جہاں اللہ نے ملنے کا حکم دیا ہے وہ قطع تعلق کرتے ہیں اور زمین میں فساد برپا کرتے رہتے ہیں ان پر لعنت ہے اور ان کا بڑا ٹھکانہ ہے۔
خدا کی راہ میں محبت خدا کی راہ میں روشنی
قرآن مجید نے ان سے محبت کرنے کی بہت سخت تاکید کی ہے جو اللہ سے محبت کرتے ہیں اور ان کو دشمن رکھتے ہیں،حدیث نبوی اور اہل بیت اطہار علیہم السلام کے ارشادات بھی اس بات کی تاکید کرتے ہیں کہ خدا کی راہ میں محبت کی جائے اور خدا ہی کی راہ میں دشمنی کی جائے۔
چنانچہ سورہ مجادلہ میں ارشاد ہوتا ہے: (لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْأُولَٰئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُم بِرُوحٍ مِّنْهُ) (3)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ فتح آیت10
(2)سورہ رعد آیت25
(3)سورہ مجادلہ آیت:22
ترجمہ:جو لوگ اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں انہیں تم اللہ اور اللہ کے رسول کے دشمنوں سے محبت کرتا ہوا نہیں پاؤگے چاہے وہ ان کے باپ ہوں یا ان کے بیٹے ہوں ان کے بھائی ہوں،ان کے خاندان والے ہی کیوں نہ ہوں یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں ایمان بیٹھ گیا ہے اور ایمان کی روح ان کی تائید کرتی رہتی ہے۔
اور سورہ ہود میں ارشاد ہوتا ہے کہ:فَاسْتَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَن تَابَ مَعَكَ وَلاَ تَطْغَوْاْ إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌوَلاَ تَرْكَنُواْ إِلَى الَّذِينَ ظَلَمُواْ فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللّهِ مِنْ أَوْلِيَاء ثُمَّ لاَ تُنصَرُونَ (1)
ترجمہ:آپ کو جس بات کا حکم دیا گیا ہے اس پر قائم رہئے اور وہ بھی قائم رہیں جو آپ کے ساتھ توبہ کرتے ہیں اور تم لوگ طغیانی مت کرنا اس لئے کہ اللہ تمہارے اعمال کو دیکھ رہا ہے اور ظالموں کا سہارا تو لینا ہی نہیں ورنہ آگ تم کو چھولےگی،یاد رکھو خدا کے علاوہ کوئی تمہارا ولی نہیں(اگر تم نے ظالموں کا سہارا لیا)تو پھر تمہاری مدد نہیں کی جائےگی۔
عمروبن مدرک طائی امام صادق علیہ السلام سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ سرکار نے اپنے اصحاب سے پوچھا کہ ایمان کے لئے سب سےزیادہ قابل اعتماد کیا پہچان ہے؟لوگوں نے کہا اللہ اور اللہ کا رسول بہتر جانتا ہے بعض لوگوں نے کہا کہ مومن نماز سے پہچانا جاتا ہے کسی نے کہا زکوٰۃ سے،کسی نے کہا روزے سے،کسی نے کہا حج اور عمرہ سے اور کسی نے کہا جہاد سے آپ نے فرمایا تم نے جن اعمال کا بھی ذکر کیا سب کی فضیلت اپنی جگہ پر ہے،لیکن یہ چیزیں ایمان کی قابل اعتماد نشانی نہیں بن سکتیں،البتہ قابل اعتماد سہارا ایمان کا اللہ کی راہ میں محبت اور اللہ کی راہ میں بغض ہے اور اللہ کے دوستوں سے محبت کرنا اور اللہ کے دشمنوں سے الگ رہنا۔(2)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ ہود آیت112۔113
(2)الکافی ج:2ص:125۔126کتاب الایمان و الکفر باب الحب فی اللہ و البغض فی اللہ چھٹی حدیث
عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ سرکار نے کہا اے عبداللہ سب سے زیادہ قابل اعتماد سہارا اسلام کا کیا ہے؟میں نے کہا اللہ اور اللہ کا رسول بہتر جانتا ہے،آپ نے فرمایا خدا کی راہ میں ولا،خدا کی راہ میں محبت اور خدا کی راہ میں بغض۔(1)
ابن عمر کی حدیث ہے کہ حضرت فرمایا خدا کی راہ میں محبت کرو خدا ہی کی راہ میں بغض کرو خدا کی راہ میں دوستی کرو خدا ہی کی راہ میں دشمنی کرو،تم اسی کے ذریعہ خدا کی ولایت کو پاسکتے ہو انسان ایمان کا مزہ پا ہی نہٰں سکتا جب تک محبت اور عداوت کا معیار خدا کی ذات کو نہ بنائے چاہے کتنا ہی روزہ دار ہو چاہے کتنا ہی نمازی ہو۔(2)
اسحاق ابن عمار کی حدیث امام صادق علیہ السلام سے ہے حضرت نے فرمایا جو دین کی بنیاد پر محبت نہیں کرتا اس کا کوئی دین نہیں(3) اور اس طرح کی بہت سی حدیثیں ہیں جنھیں اہل سنت نے بھی روایت کی ہیں اور شیعوں نے بھی۔(4)
شیعوں پر واجب ہے کہ وہ اللہ کی آواز پر لبیک کہیں اس کے حکم کی پیروی کریں اور اس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)السنن الکبریٰ بیہقی ج:10ص:233۔کتاب الشہادت،اہل عصبیہ کے شہادات کے باب میں اور یہ روایت حدیث براد ابن عباس اور عائشہ سے بھی منقول ہے،مجمع الزوائدج:1ص:162کتاب العلم اس باب میں کہ سب سے زیادہ کون اعلم ہے،معجم الاوسط ج:4ص:376،اس کے علاوہ بھی کتابوں میں ہے
(2)مجمع الزوائدج:1ص:90،کتاب الایمان اللہ کے لئے دوستی اور اللہ کے لئے دشمنی کے باب میں
(3)الکافی ج:2ص:127کتاب الایمان و الکفر حب فی اللہ بغض فی اللہ کے باب میں حدیث16
(4)الکافی ج:2ص:124،کتاب الایمان و الکفر حب فی اللہ بغض فی اللہ کے باب میں،وسائل الشیعہ ج:11ص:431باب 15 امر و نہی کے لئے جو مناسب ہے اس کے باب میں،اور یہ تمام کی تمام کتاب امر و نہی میں موجود ہے اس کے لئے دوسرے بھی بہت سارے مصادر شیعہ موجود ہیں،سنن کبریٰ نسائی ج:6ص:527،کتاب الایمان و شرائعہ،سنن کبری بیھقی ج:10ص:233کتاب الشہادات،مصنف بن شیبہ ج:6ص:164،کتاب الایمان،چھٹا باب،:ج:7ص:134،کتاب الزھد،سنن ابی داؤدج:4ص:198،کتاب الدیات،مجمع الزوائدج:1ص:89۔90،کتاب الایمان،باب الایمان حب فی اللہ و البغض فی اللہ،تمھیدج:17ص:429۔430۔431
کے فیصلہ پر سر جھکائیں اللہ کہتا ہے۔
(وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِينًا)(1)
ترجمہ:مومن اور مومنہ کے شایان شان ہرگز نہیں کہ جب اللہ اور اللہ کا رسول کوئی فیصلہ کردے تو پھر وہ خود کو بھی صاحب اختیار سمجھیں جو اللہ اور اللہ کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے وہ کھلی ہوئی گمراہی میں ہے۔
صحبت کا اثر اور اس کی اہمیت
جہاں تک صحبت پیغمبرؐ کا سوال ہے تو اگر صحابی نے حق صحبت کو ادا کیا ہے تو یقیناً صحبت پیغمبرؐ انسان کی رفعت و شاناور اس کے تقدس میں اضافہ ہی کرےگی اس لئے کہ پیغمبر کے اصحاب نے حرمت رسول کا خیال کیا ہے حق صحبت کی رعایت کی اور اللہ کا اس کی اس نعمت پر شکریہ ادا کیا ہے ہمارے لئے تو اصحاب پیغمبرؐ یوں بھی قابل احترام ہیں کہ وہ حضرات سابق الایمان ہیں اللہ کی دعوت کو انہیں نے ہم تک پہنچایا ہے اور یہی صحابہ ہمارے لئے ہدایت اور نجات کا سبب ہیں۔
ارشاد ہوتا ہے: (وَالَّذِينَ جَاءُوا مِن بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ) (2)
ترجمہ آیت:اور وہ لوگ جو بعد میں آئے کہتے ہیں پالنے والے ہمیں بخش دے اور ہمارے ان بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دلوں میں کینہ مت چھوڑنا بیشک تو مہربان اور رحیم ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ احزاب آیت:36
(2)سورہ حشر آیت:10
جیسا کہ خداوند عالم نے قرآن مجید میں ان اصحاب کی تعریف کی ہے اور نبی کریمؐ اور آپ کے اہل بیت طاہرین علیہم السلام نے بھی حدیثوں کے ذریعہ ان حضرات کو سراہا ہے اگرچہ اس مختصر کتاب میں ان آیتوں اور حدیثوں کے بیان کی گنجائش نہیں ہے۔
البتہ اصحاب کی دوسری قسم وہ ہے جنہیں صحبت پیغمبرؐ کے غرور نے سرکش،مجرم،ملعون اور قابل سزا بنادیا ہے اس لئے کہ وہ صحبت پیغمبرؐ سے کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھاسکے ان کے سامنے حجت ظاہر ترتھی جس کی وجہ سے ان کی ذمہ داریاں زیادہ تھیں لیکن وہ مستقبل کے لوگوں کی گمراہی کا سبب بن گئے اور انہوں حق صحبت کو ضائع کردیا۔
ارشاد ہوتا ہے: ( أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ-جَهَنَّمَ يَصْلَوْنَهَاوَبِئْسَ الْقَرَارُ) (1)
ترجمہ آیت:آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے خدا کی نعمتوں کو کفر ان میں بدل دیا اور اپنی قوم کو سزا کے ٹھکانے پر لے گئے،وہ جہنم جس میں انہوں نے اپنی قوم کو پہنچادیا اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔
دوسری جگہ ارشاد ہوا: (إِنَّ الَّذِينَ يَكْتُمُونَ مَا أَنزَلْنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالْهُدَىٰ مِن بَعْدِ مَا بَيَّنَّاهُ لِلنَّاسِ فِي الْكِتَابِ أُولَٰئِكَ يَلْعَنُهُمُ اللَّهُ وَيَلْعَنُهُمُ اللَّاعِنُونَ) (2)
ترجمہ آیت:بیشک وہ لوگ جو ہماری نازل کی ہوئی ان نشانیوں اور ہدایتوں کو چھپاتے ہیں جنہیں ہم نے قرآن میں واضح کردیا ہے یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ لعنت کرتا ہے اور لعنت کرنے والے لعنت کرتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ ابراہیم:آیت:28۔29
(2)سورہ بقرہ:آیت:159
سرکار دو عالم کے دور میں جو مرد اور عورتیں تھیں ان کی ذمہ داریاں بہت زیادہ تھیں اسی لئے خداوند عالم نے نبی کی عورتوں سے فرمایا: (يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ مَن يَأْتِ مِنكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُضَاعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَيْنِ - وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا-يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاءِ - إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوفًا) (1)
ترجمہ آیت:اے نبی کی عورتو!تم میں سے جو فاحشہ مبینہ(زنا)کی مرتکب ہوئیں اس کو دو گنا عذاب ملےگا اور اللہ کے لئے یہ آسان بات ہے جو اللہ اور اللہ کے رسول کی نافرماں برداری کرےگی اور نیک کام انجام دےگی ہم اس کو دہرا اجر دیں گے اور اس کے لئے عزت دار حلال رزق کا انتظام کردیں گے۔
پھر فرمایا اے شقر ان اچھائی تو کسی کی طرف سے بھی ہوا چھائی ہی ہوتی ہے،لیکن تم نیک کام کروگے تو زیادہ اچھا ہوگا،اس طرح برائی تو برائی ہے چاہے جو کرے لیکن لیکن اگر تم برائی کروگے تو زیادہ برا ہوگا اس لئے کہ شقر ان سرکار دو عالم کے غلاموں کی اولاد میں تھا اور بہت شراب پیتا تھا۔(2)
صحابہ کو پرکھنے کے لئے ضروری ہے کہ دو باتوں کا لحاظ کیا جائے پہلی بات تو یہ ہے کہ عقلی دلیلوں اور شرعی دلیلوں کے مطابق استقامت کی ایک حد معین کی جائے جو صحیح راستے پر پہنچاسکے اور جب صحابہ کو پرکھا اور پہچانا جائے تو جذبات اور احساسات کے آئینے میں نہ پہچانا جائے۔
دوسرے یہ کہ یہ دیکھا جائے کہ اچھے اور پاک باز صحابہ کی جو حدیں معین کی گئی ہیں ان تمام باتوں کے بعد مناسب نظریے معین کئے جائیں ارادہ اور شجاعت کے سلسلے میں تا کہ کوئی نتیجہ سامنے آئے کیونکہ حق سے بلند و بالا کوئی چیز نہیں ہے جیسا کہ خداوند عالم فرماتا ہے:
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ احزاب:آیت:30۔31
(2)شرح نہج البلاغہ ج:8ص:205،اسی طرح بحارالانوارج:4ص:349،العدد القویہ علامہ حلی:ص:152
(وَهُوَ يَهْدِي السَّبِيلَ)(1)
صحابہ یا غیرصحابہ کے احترام کے لئے شیعوں کا یہی طرز فکر ہے اور شروع سے یہی طرز فکر رہاہے اس میں شیعہ کہیں سے کمزور نہیں پڑتا اور نہ کبھی کمزور پڑےگا انشاءاللہ،حالانکہ اس طرز فکر اور نظریہ پر قائم رہنے کے لئے شیعوں کو ہر دور میں بھاری قیمت ادا کرنی پڑی ہے سخت مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور بڑے مشکل حالات سے گذرنا پڑا ہے لیکن ان پر جو بھی مصیبتیں اس سلسلے میں آئی ہیں سب سے خدا واقف ہے اور شیعوں نے ان حالات کو ابتلا سمجھ کے خوشی سےقبول کیا ہے۔
غیر شیعہ افراد کا شیعوں کے بارے میں مناسب نظریہ
میں نے شیعہ نظریات آپ کی خدمت میں پیش کردیئے،اگر یہ نظریات آپ کو اور آپ کے ہم مذہب بھائیوں کو اچھے لگیں تو کیا کہنا،الحمد اللہ ہم آپ ایک دوسرے سے متفق ہیں لیکن یہ نظریات آپ کو پسند نہیں آتے جب بھی آپ کو چاہئیے کہ شیعوں کو معذور سمجھ کے ان کے متعلق احترام و عزت کا اظہار کریں،اس لئے کہ ان کا نظریہ جو کچھ بھی ہے وہ بےدلیل نہیں ہےور دلیل کےاتھ بات کرنےوالے یہ کہہ کے معاف کیا جاسکتا ہے کہ اس نے کوشش تو کی لیکن اجتہاد میں غلطی کی ظاہر ہے کہ شیعوں کا نظریہ کسی تعصب،دشمنی یا بغض و عناد کا نتیجہ نہیں ہے کہ ان کی حرمت کو پامال کردیا جائے اور انہیں چاروں طرف بدنام کیا جائے یا ان کے اوپر طعن و تشنیع کیا جائے۔
مجھے نہیں معلوم کے دوسرے فرقے کے لوگ شیعوں کو ان کے نظریات و عقائد کی بنیاد پر کس دلیل سے برا بھلا کہتے ہیں جب کہ نظریاتی اختلاف کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ شیعوں کو برا بھلا کہا جائے اور مخالف کا نظریہ نہیں ماننے کی وجہ سے شیعوں کی حرمت پامال کردی جائے ان پر طعن و تشنیع کی جائے اور انہیں طرح طرح کی سزائیں دی جائیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سورہ احزاب:آیت:4
دوسرے فرقوں سے شیعوں کا حسن معاشرت
خصوصاً شیعہ فرقہ دوسرے مسلمانوں سے معاشرت کرنے میں اپنے نبیؐ اور آئمہ اطہارؑ کی تعلیم پر عمل کرتا ہے انہوں نے شیعوں کو یہ تعلیم دی ہے کہ ہر حال میں اپنے عقیدے کی حفاظت کرو اور ذاتی طور پر اپنے عقیدے کے مطابق عمل کرتے رہو۔
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تم دوسروں کے جذبات کو ٹھیں پہنچاؤ اور ان سے رواداری کرنا چھوڑ دو بلکہ تمہیں چاہئیے کہ غیروں سے حسن معاشرت کا اہتمام کرو خوش اخلاقی سے ملو اور ان کے حقوق کو ادا کردتا کہ قوم ہوشیار رہے اور نفاق کی برائی پیدا نہ ہو۔
سکونی کی حدیث ملاحظہ ہو:امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں سرکار دوعالمؐ نے فرمایا:جس کے اندر تین باتیں نہیں اس کا عمل مکمل نہیں۔
1۔ورع:جو انسان کو خدا کی نافرمانی سے روکتا ہے۔
2۔اخلاق:جس کے ذریعہ دوسرےلوگوں سے ملا جلا جاتا ہے۔
3۔علم:جس کے ذریعہ جاہل کی جہالت کا جواب دیا جاتا ہے۔(1)
مرازم چھٹے امامؑ سے روایت کرتے ہیں کہ تم پر واجب ہے کہ مسجدوں میں نماز پڑھو لوگوں کے ساتھ اچھے پڑوسیوں کی طرح رہو،شہادت قائم کرو اور جنازوں میں شرکت کرو اس لئے کہ جب تک انسان زندہ ہے دوسرے انسان سے بےنیاز نہیں ہوسکتا سماج کا ہر آدمی ایک دوسرے کے لئے ضروری ہے۔(2)
اس سلسلہ آخری حدیث میں ملاحظہ ہو،معاویہ بن وہب کہتے ہیں کہ میں نے امام سے پوچھا کہ ہمارا سلوک ان لوگوں کے ساتھ کیا ہونا چاہئیے جو ہمارے آس پاس رہتے ہیں لیکن ہماری
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)الکافی ج:2ص:116،کتاب ایمان و کفر،باب مدارات حدیث1
(2)کافی ج:2ص:635،کتاب معاشرت جو چیز معاشرت میں محبوب ہے کے باب میں،حدیث:1
طرح شیعہ نہیں ہیں،آپ نے فرمایا تم اپنے اماموں کی سیرت پہ غور کرو جن کی تم اقتدا کرتے ہو،پس جیسے وہ کرتے ہیں تم بھی کرو،خدا کی قسم وہ غیروں کے مریضوں کی عیادت کرتے ہیں،ان کے جنازوں میں شریک ہوتے ہیں،ان کے لئے گواہیاں دیتے ہیں اور ان کی امانت کو ادا کرتے ہیں(1) اس کے علاوہ بھی بہت سی حدیثیں ہیں جن کے بیان کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔
کتنا اچھا ہوتا کہ تمام مسلمان انہیں حدیثوں پر عمل کرتے اپنے عقیدوں کی حفاظت کے ساتھ بہترین طریقے سے لوگوں کو دعوت بھی دیتے رہتے اور دوسروں سے میل جول کے ساتھ اچھا سلوک اور محبت کا برتاؤ کرتے تا کہ مسلمان متحد رہیں بات ایک جگہ رہے اور آپس کی محبت دلوں میں باقی رہے پھر ہم سب مل جل کر عالم انسانیت کو اسلام عظیم کی طرف بلائیں اسلام کی آواز لوگوں کو سنائیں کلمہ طیبہ کو بلند کریں اور ظالموں کو منہ توڑ جواب دیں اور ایک مشترک ہدف کی خدمت کریں،نویں سوال کے جواب میں ہو باتیں پیش کروں گا جو وہاں پر نفع بخش ہوں،اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہماری مدد کرے اور ہمیں توفیق دے وہ سب سے زیادہ رحم کرنےوالا ہے مومنین کا سرپرست ہے وہ میرے لئے کافی ہے اور بہترین وکیل ہے،
والحمد اللہ رب العلمین
-----------
(1)فی ج:2 ص 636 ،کتاب معاشرۃ حدیث 4
سوال نمبر۔3
کچھ اہل سنت حضرات یہ الزام لگاتے ہیں کہ شیعہ تحریف قرآن کے قائل ہیں،شیعوں پر الزام صحیح ہے؟حالانکہ میں نے علامہ شیخ محمد ابوزہرہ کتاب(الامام جعفر الصادقؑ)میں پڑھا ہے کہ محقق طوسیؒ سے نقل کیا گیا ہے کہ یہ قول صحیح نہیں ہے،آپ کی اس سلسلے میں کیا رائے ہے؟خداوند عالم آپ کی عمر میں اضافہ کرے۔
جواب:اس سوال کے جواب میں مندرجہ ذیل امور آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔
1۔پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ کہنا غلط ہے کہ ہر سنی عالم تحریف قرآن کی نسبت شیعوں کی طرف دیتا ہے،بلکہ بعض علمائے سنت نے تو شیعوں کی طرف سے خود ہی صفائی پیش کی ہے یہاں شیعہ سے مراد امامیہ عدلیہ ہے۔
ابوالحسن علی بن اسماعیل اشعری متوفی330 فرماتے ہیں،قرآن میں کمی اور زیادتی کے بارے میں رافضیوں کے درمیان اختلاف ہے،اس سلسلے میں تین فرقے ہیں ایک فرقہ کہتا ہے کہ قرآن میں کچھ کمی ہے زیادتی کا وہ بھی قائل نہیں،اس طرح وہ یہ بھی نہیں مانتا کہ قرآن کے اندر کچھ تبدیلی کی گئی ہے،لیکن اکثر لوگوں کا یہ خیال ہے کہ قرآن میں سے کچھ ضائع ہوگیا ہے اس کو صرف امام جانتے ہیں،شیعوں کا تیسرا فرقہ جو اعتزال اور امامت کا قائل ہے اس کا خیال ہے کہ نہ قرآن میں کچھ کمی ہوئی نہ کوئی زیادتی اللہ نے جیسا ہمارے نبی پہ اتارا تھا ویسا ہی ہے نہ بدلا گیا ہے نہ کوئی لفظ اپنی جگہ سے ہٹایا گیا ہے اور ہمیشہ قرآن ایسا رہےگا۔(1)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)مقالات الاسلامیین ج:1ص:114۔115
شیخ رحمۃ اللہ ہندی اپنی کتاب اظہار الحق میں لکھتے ہیں کہ شیعہ اثنا عشری کے جمہور علما کا عقیدہ ہے کہ قرآن مجید تغییر و تبدیل سے محفوظ ہے قرآن میں وقوع نقصان کا قول مردود ہے۔(1) اور شیعہ علما اسے قبول نہیں کرتے پھر شیخ نے شیعوں کے بعض اقوال کو مقام شہادت میں پیش کیا ہے۔
ہاں بعض سنی علما تحریف کو شیعوں کی طرف منسوب کرتے ہیں،جیسے ابن حزم ظاہری اپنی کتاب الفصل فی الملل و الںحل میں اور ایک جماعت متاخرین کی ہے،ان لوگوں نے اپنے قلم کو شیعوں کو بدنام کرنے کے لئے اور ان پر حملے کرنے کے لئے وقف کردیا ہے،سچ تو یہ ہے کہ انہوں نے شیوں پر بہت سے بہتان باندھے ہیں،ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے،تاریخ کے ذمہ ہے اور ہر ذوق جستجو رکھنےوالا اگر منصف ہے تو وہ بھی ان کا حساب کرےگا۔
اہل سنت اور شیعوں کا عدم تحریف قرآن پر عملی اجماع
2۔شیعہ ہوں یا سنی تمام مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ دو دفتیوں کے درمیان مصحف ہے وہ پورا قرآن مجید ہے وہی قرآن تمام اسلامی ملکوں میں پھیلا ہوا ہے اور تمام مسلمانوں کے درمیان تلاوت کیا جاتا ہے جب اس قرآن کو مسلمان ختم کرلیتا ہے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس نے پورا قرآن پڑھ لیا،جس طرح جب ایک سورہ پڑھتا ہے جو سورہ اس قرآن میں موجود ہے تو اس میں نہ کسی ایک کلمہ کی زیادتی کرتا ہے نہ کمی اور اس کو پڑھ نے کے بعد کہتا ہے کہ ہم نے فلاں سورہ پڑھ لیا،یہ باتیں ثابت کرتی ہیں کہ مسلمان چاہے سنی ہو یا شیعہ تحریف قرآن کا قائل بہرحال نہیں ہے یہ بات تمام مسلمانوں کی سیرت اور ان کے فقہا کے کلمات سے ظاہر ہے۔جب علما یہ کہتے ہیں کہ نماز میں سورہ کا کچھ حصہ یا فلاں سورہ پڑھنا مستحب ہے تو ان کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ وہ سورہ جو مصحف پاک میں لکھا ہوا ہے بغیر کسی کمی و زیادی کے وہ یہ نہیں کہتے کہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)اظہارالحق ص:354،چوتھی فصل میں جو احادیث پر شبہوں کے جواب ہیں،اور یہ شبھہ اول کے جواب کے باب میں ہے
اس سورہ کو پڑھنے کے وقت فلاں کلمہ کو زیادہ یا فلاں کلمہ کو کم کرلینا چاہئیے جب کہ اگر قرآن میں وہ کلمہ زیادہ ہوتا تو علما ضرور متنبہ کرتے کہ اس کلمہ کو حذف کردینا اس لئے کہ آدمی کا کلام نماز کے درمیان پڑھنا نماز کو باطل قرار دینا ہے اور اگر اس سورہ میں کچھ کم ہوتا تو علما ضرور ہدایت کرتے کہ سورہ کو مکمل کرنے کے لئے فلاں کلمہ ملا لینا اس لئے کہ خصوصا فرقہ امامیہ کے یہاں مشہور ہے کہ نماز میں سورہ فاتحہ کے بعد ایک مکمل سورہ پڑھنا واجب ہے،علما کا سورہ پڑھنے پر خاموش ہنا اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جو قرآن ہمارے سامنے ہے اسی کو وہ قرآن سمجھتے ہیں اور جو سورہ قرآن میں لکھے ہیں وہ سب کے سب مکمل سورہ ہیں۔
البتہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کے معاملے میں سنی،شیعہ کے درمیان اختلافات ہے شیعہ کہتے ہیں کہ سورہ توبہ کے علاوہ بسم اللہ..ہر سورہ کا جز ہے لہذا وہ نماز میں تلاوت سورہ کے وقت بسم اللہ کہتے ہیں،لیکن بسم اللہ کے علاوہ کسی چیز میں بھی عملاً اختلاف نہیں ہے۔یہی اجماع عملی ہے جو تمام مسلمانوں کو قرآن مجید کے بارے میں ایک نظریہ پر قائم رکھتا ہے چاہے وہ سنی ہوں یا شیعہ کا یہ کہنا ہے کہ قرآن اپنی اصل صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے اور اس کے مقابلے میں یعنی اس کے خلاف کسی مسلمان کا کوئی نظریہ نہیں ہے اس لئے قرآن مجید کے حقیقت کی دلیل ہے اور قرآن اپنی حقیقت کو خود ثابت کرتا ہے تمام عالم اسلام نے اس حقیقت کو مانا ہے اور اس پر عمل کیا ہے اور ان شبہات کو قوت مل ہی نہیں سکتی ہے جن کی وجہ سے ملت اسلامیہ میں کوئی ٹیڑھاپن یا کجی پیدا ہو یا قرآن مجید کی حقانیت میں کسی شک کی گنجائش ہو۔
شیعہ علما عدم تحریف کے قائل ہیں
3۔جن شیعہ علما نے صراحت فرمائی ہے کہ مصحف کی دودفتیوں کے درمیان جو(کچھ موجود ہے وہ کل کا کل قرآن ہے وہ حضرات شیعوں کے بڑے علما ہیں ار ہر دور میں شیعوں کے علما نے تحریف کا انکار کیا ہے صرف شیخ طوسی ہی پر یہ بات منحصر نہیں ہے بلکہ ان کے پہلے اور بعد کے تمام علما نے عدم
تحریف کی تائید کی ہے۔
الف:شیخ صدوق محمد بن بابویہ قمی جن کی نیت ابوجعفر ہے اور آپ کے والد علی بن الحسن ہیں آپ شیعوں کے قدیم علما میں ہیں مدرسہ قم کے زعیم اور اہل حدیث کے استاد ہیں آپ کی کتاب اعتقادات کا تذکرہ مصادر شیعہ کے ذیل میں آچکا ہے،اسی کتاب میں آپ لکھتے ہیں۔
((ہمارا عقیدہ ہے کہ جو قرآن اللہ نے ہمارے نبی محمدؐ پر نازل کیا تھا وہ دودفتیوں کے درمیان موجود ہے یہ وہی قرآن ہے جو لوگوں کے پاس ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے اس میں(114)ایک سو چودہ سورہ ہیں ہمارے نزدیک((الم نشرح)) اور((الضحی)) ایک ہی سورہ ہے اور((لایلاف)) اور((الم تر کیف)) بھی ایک ہی سورہ ہے اور جو ہماری یہ قول منسوب کرتا ہے کہ ہم قرآن مجید کو اس سے زیادہ مانتے ہیں وہ جھوٹا اور ہمارے یہاں جو روایتیں پائی جاتی ہیں جیسے ہر سورہ قرآن پڑھنے کے ثواب کے بارے میں ختم کرنے کے بارے میں نماز نافلہ میں دو سوروں کے پڑھنے کے بارے میں اور نماز میں دو سوروں کے درمیان نبی کے بارے میں یہ روایتیں اس بات کی شاہد ہیں کہ ہم اسے قرآن سمجھتے ہیں جو لوگوں کے پاس موجود ہے اسی طرح ہمارے یہاں یہ روایتیں بھی ملتی ہیں جن میں ایک رات میں قرآن ختم کرنے کو منع کیا گیا ہے کم سے کم تین رات میں قرآن ختم کرنے کے ہدایت کی گئی ہے یہ روایتیں بھی قرآن کے بارے میں ہمارے عقیدے کی تصدیق کرتی ہیں بلکہ ہم اس بات کے قائل ہیں کہ جو کچھ وحی نازل ہوئی اگر سب کو قرآن میں شامل کرلیا جاتا تو قرآن میں کم سے کم17،ہزار آیتیں ہوتیں۔
غیرقرآنی وحی کی مثال جیسے جبرئیل کا سرکار سے کہنا کہ اے محمد ہماری مخلوق کی مدارات کردیا لوگوں کی کینہ پروری اور ان کی عداوت سے پرہیز کرو یا یہ کہ جتنا ہے جی لو تم بہرحال میت ہو جس سے چاہو دل لگاؤ بہرحال اس سے جدا ہوجاؤگے،جو عمل چاہے انجام دو اپنے عمل سے تمہاری ملاقات ہوگی،مومن کا شرف نماز شب ہے اور اس کی عزت لوگوں کو تکلیف نہیں دینا ہے یا سرکار دوعالم کا یہ قول کہ جبرئیل مجھ کو مسواک کی ہدایت کرتے رہے قریب تھا کہ میں اپنے دانت توڑ لوں یا دانتوں کی
جڑوں میں گڈھے کرلوں اور پڑوسی کے بارے میں اتنی حدیثں ہیں کہ میں سمجھا اب وہ پڑوسی کو میراث بھی دےدیں گے،عورت کے بارے میں اتنی حدیثیں ہیں کہ میں سمجھا اس کو طلاق دینا ہی نہیں چاہئے اور غلاموں کے بارے میں اتنی حدیثیں ہیں کہ میں سمجھا اب وہ ایک مدت معین کردیں گے جو اس کی آزادی کا وقت ہوگا۔
یا غزوہ خندق سے فارغ ہونے کے بعد جبرئیل کا یہ پیغام لانا کہ اے محمدؐ اللہ آپ کو حکم دیتا ہے کہ آپ نماز عصر بن قریظہ ہی میں ادا کریں یا سرکار کا یہ کہنا میرا پروردگار مجھے حکم دیتا ہے کہ میں لوگوں سے حسن اخلاق برتوں ان کی عقلوں کے مطابق جیسا کہ اللہ نے مجھے فرائض کے ادا کرنے کا حکم دیا ہے سرکار کا یہ قول کہ میرے پروردگار کی طرف سے جبرئیل ایسا حکم لے کےآئے جس سے میری آنکھیں ٹھنڈی ہوگئیں اور میرا سینہ اور دل خوش ہوگیا پیغام یہ ہے کہ اللہ کہتا ہے بیشک علی امیرالمومنین ہیں اور روشن پیشانی والوں کے قائد ہیں۔
یا سرکار کا یہ کہنا کہ جبرئیل مجھ پر یہ پیغام لےکے نازل ہوئے ہیں کہ اے محمد اللہ نے علی سے فاطمہ کی تزویج عرش پر کردی ہے اور اس پر اپنے بہترین فرشتوں کو گواہ بنایا ہے آپ اس نیک کام کو زمین پر انجام دے کے اپنی مات کے بہترین اصحاب کو گواہ بنادیں،اس طرح کی بہت سی خبریں اور پیغامات ہیں جو وحی تو ہیں مگر قرآن نہیں۔
ظاہر ہے کہ یہ جملے اگر قرآن ہوتے تو قرآن میں ملادیئے جاتے اور اس سے الگ نہ رکھے جاتے۔
جیسا امیرالمومنین نے قرآن کو جمع کیا اور مسلمانوں کے پاس لےکے آئے فرمایا:یہ تمہارے پروردگار کی کتاب ہے ٹھیک اس طرح جمع کی گئی ہے جیسی نازل ہوئی ہے اس میں نہ کمی ہے نہ زیادتی ایک حرف بھی زیادہ یا کم نہیں ہے مسلمانوں نے کہا ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے ویسا ہی قرآن ہمارے پاس بھی ہے آپ یہ کہتے ہوئے وہاں سے چلے گئے کہ انہوں نے اس کو پس پشت ڈال دیا اور چھوٹی قیمت پر اس کو خرید لیا،پس بری چیز خریدی ہے۔(1)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)الاعتقادات:ص:83۔86
ہم نے اس گفتگو کو طویل دیا اس لئے کہ اس میں دو خاص باتیں ہیں
1۔پہلی بات تو یہ ہے کہ عدم تحریف کے اوپر میں نے تمام مسلمانوں کے اجماع عملی کا دعوی کیا لیکن دلیلیں شیعوں کی طرف سے پیش کیں مثلا ختم قرآن اور قرات سورہ و غیرہ کے مسائل میں میں نے صرف شیعہ علما کی طرف سے پیش کرکے مسلمانوں کے اجماع عملی پر صرف شیعوں کی طرف سے دلیل دی ہے۔
2۔دوسری بات یہ ہے کہ میں نے ان روایتوں کی تاویل پیش کی ہے جس سے تحریف کا وہم پیدا ہوتا ہے اور پھر یہ عرض کیا ہے کہ ہر وحی قرآن انہیں ہوتی لیکن اہم ترین بات یہ ہے کہ میں نے یہ تاویل اپنی طرف سے نہیں پیش کی ہے بلکہ جناب شیخ صدوق جیسے علما کا قول نقل کیا ہے یہ وہ لوگ ہیں حو ائمہ ۃدی علیہم الصلوۃ و السلام کے زمانے سے بہت قریب تھے اور اہل حدیث کے شیخ اور استاد تھے جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے اس سے یہ بات ثابت ہے کہ اس طرح کی تاویلیں شیعوں کے یہاں زمانہ شروع میں پائی جاتی تھیں۔یعنی یہ تاویلیں متاخرین کی ایجاد نہیں ہیں اور شادی یہی وجہ ہے کہ قدیم علما ان روایتوں کی بنا پر تحریف اور نقص کے قائل نہیں تھے۔
ب:شیخ محمد بن لغمان آپ کا ذکر پہلے بھی آچکا ہے
آپ قدیم علما میں ہیں بغداد کے مدرسہ کے زعیم ہیں اور اہل اجتہاد و نظر کے استاد ہیں شیخ مفید کے نام سے مشہور ہیں آپ اپنی کتاب(اوائل المقالات)میں فرماتےیں امامیہ فرقے کی ایک جماعت اس بات کی قائل ہے کہ قرآن میں سے کوئی کلمہ کوئی آیت اور کوئی سورہ کم نہیں ہے لیکن مصحف امیرالمومنین میں آیتوں کی جو تاویل پیش کی گئی تھی اور حقیقت تنزیل کی بنیاد پر معانی کی جو تفسیریں پیش کی گئی تھیں وہ قرآن سے حذف کردیا گیا ہے۔
حالانکہ میرے نزدیک یہ قول نفس قرآن میں نقص کے قول سے زیادہ مشتبہ اور کمزور ہے میں ڈوند عالم سے دعا کرتا ہوں کہ ایسے لوگوں کو اللہ حق و حقیقت کی توفیق عنایت فرمائے۔
لیکن جہان تک قرآن میں زیادتی کا سوال ہے تو یہ قول میرے نزدیک ایک رخ سے تو بالکل ہی غلط ہے اور ایک رخ سے صحیح بھی ہے میں جس رخ سے اس کے غلط ہونے کا یقین رکھتا ہوں وہ یہ ہے کہ مخلوق کے لئے ممکن نہیں ہے کہ ایک سورہ کے برابر اضافہ کردے اور فصحا کے سامنے یہ بات ثابت نہ ہوسکے اس لئے کہ قرآن کا اپنا ایک لہجہ اور ایک انداز ہے جس کی نقل مخلوق کے بس کاروگ نہیں،جس رخ سے زیادتی جائز سمجھی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ ایک کلمہ یا دو کلمہ ایک لفظ یا دو لفظ یا ایک دو حروف کلمات سے مشابہ ہو جس کی وجہ سے فصیحوں کے نزدیک تمیز نہ ہوسکی ہے حلانکہ اس میں بھی یہ کہنے کی گنجائش ہے کہ اللہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ رہبری کردے کہ قرآن میں فلاں زیادتی ہے میرا کلام نہیں ہے مجھے اس طرح کی زیادتی کا یقین بھی نہیں ہے بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ قول بھی مشتبہ ہے بلکہ حق یہ ہے کہ اس طرح کی زیادتی قرآن میں سرے سے واقع نہیں ہوئی اس کے ساتھ ہی میرے پاس امام جعفر صادق علیہ السلام سے عدم تحڑیف کی حدیثیں ہیں۔(1)
((اس کے علاوہ جناب شیخ نے اس سلسلے میں بہت سی باتیں کی ہیں۔))
ج:سید مرتضی علی بن الحسن الموسوی آپ اپنے استاد شیخ مفید کے جانشین تھے اور شیخ کی جہ مدرسہ بغداد کے زعیم تھے،اہل نظر و اجتہاد کے استاد تھے آپ نے اپنی کتاب مجمع البیان میں تحریف کے سلسلے میں کلام پیش کرنے کے بعد کہا،یہ وہ نظریہ ہے جس می مرتضی تائید کرتے ہیں اور یہ مکمل گفتگو انھوں نے مسائل طرابلس یات کے جواب میں لکھی ہے کہ نقل قرآن کی صحت کا علم اس طرح ہے جیسے کہ شہروں کے بارے میں بڑے بڑے واقعات کے بارے میں،عظیم حادثوں کے بارے میں،مشہور کتابوں کے بارے میں عرب کے اشعار کے بارے میں جاننا ہے،اس طرح کی چیزیں لکھنے کے وقت انسان بہت شدت سے توجہ دیتا ہے اور اپنے قلم کو بہت محتاط کرلیتا ہے اس طرح قرآن کو نقل کرنے میں قرآن جمع کرنےوالوں نے بہت احتیاط سے کام لیا ہے اس لئے نبوت کا معجزہ علوم شرعیہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)اوائل المقالات ص:81۔82،تالیف قرآن کے اقوال کے بارے میں
اور احکام دین کا ماخذ ہے اور مسلمان علما نے اس کو نقل کرنے میں تا حد امکان احتیاط سے کام لیا ہے یہاں تک کہ انہوں نے وہ اختلافات بھی نقل کردیئے ہیں جو قرآن کے اعراب،قرات حروف اور آیتوں کے سلسلے میں ہوتے ہیں پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اس نظر کے ساتھ اور کامل توجہ کے ساتھ جمع کیا ہوا کلام مغیر یا منقوص ہو،سید فرماتے ہیں کہ تفسیر قرآن یا لفظ قرآن کے نقل کی صحت کا علم ایسا ہی ہے جیسے من جملہ قرآن کا علم اس کے نقل کرنے میں وہی طریقہ اپنایا گیا ہے جو طریقہ کسی مصنف کی تصنیفات کو نقل کرنے میں استعمال ہوا ہے،جیسے سیبویہ اور مزنی کی کتابیں۔
صاحبان نظر جس طرح ان کتابوں کی تفصیل سے واقف ہیں اس طرح ان کتابوں کے اجمال سے بھی واقف ہیں یہاں تک کہ اگر کوئی داخل کرنےوالا کوئی ایسا باب سیبویہ کی کتاب میں داخل کردیتا ہے،جو اس کی اصل کتاب میں نہ ہو تو صاحبان نظر و اجتہاد فوراً اس کو پہچان لیتے ہیں اور جان جاتے ہیں کہ یہ الحاق ہے اور اصل کتاب میں نہیں پایا جاتا ہے یہی بات کتاب مزنی کے بارے میں کہی جاسکتی ہے ظاہر ہے کہ جب مسلمان کتاب سیبویہ اور شعرا کے دیوان کو نقل کرنے میں اتنی احتیاط اور دقت نظر سے کام لیتا ہے تو قرآن مجید کے بارے میں بےاحتیاطی کیسے کرےگا۔
جناب سید تو یہ بھی فرماتے ہیں کہ قرآن تو دور پیغمبرؐ میں ہی جمع ہوچکا تھا ارو تالیف پاچکا تھا،وہی قرآن آج ہمارے سمانے ہے سید مقام استدلال میں فرماتے ہیں کہ ہم جانتے ہیں عہد پیغمبرؐ میں قرآن پڑھا جاتا تھا اور لوگ قرآن کو حفظ کیا کرتے تھے،یہاں تک صحابہ کی ایک جماعت کو حفظ قرآن پر معین کیا گیا تھا،جنہیں پیغمبرؐ کے سامنے پیش کیا جاتا تھا اور یہ لوگ آپ کے سامنے قرآن کی تلاوت کرتے تھے کچھ صحابہ نے مثلاً عبداللہ بن مسعود اور ابی بن کعب نے تو پیغمبرؐ کے حضور میں کئی مرتبہ قرآن ختم کیا تھا۔
ان تصریحات کو دیکھتے ہوئے ہم تھوڑی سی توجہ دیں تو یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ درود پیغمبرؐ میں قرآن مجموعی طور پر موجود اور مرتب تھا نہ کہ بکھرا ہوا اور منتشر۔
سید فرماتے ہیں کہ امامیہ اور حشویہ میں جن لوگوں نے اس نظریہ کی مخالفت کی ہے ان کی تعداد
بہت کم ہے اس لئے کہ یہ اختلاف اہل حدیث کے ایک گروہ کی طرف منسوب ہوتا ہے،جنہوں نے کمزور حدیثیں نقل کی ہیں اور گمان کرتے ہیں کہ یہ حدیثیں ہیں ظاہر ہے ایسی حدیثوں کی طرف رجوع کرکے ایک یقینی بات کو جھٹلایا نہیں جاسکتا ہے۔(1)
ابن حزم نے یہ تو اعتراف کیا ہے کہ شیعہ امامیہ تحریف کے قائل ہیں لیکن ان کی عبارت ملاحظہ ہو،وہ کہتے ہیں((امامیہ فرقہ چاہے قدیم ہو یا جدید ان کا قول ہے کہ قرآن بدلا ہوا ہے اس میں کچھ زیادتی بھی ہے اور بہت زیادہ کمی بھی ہے۔
سواعلی بن الحسن(الحسین)بن علی ابی طالب کے یہ امامی فرقے سے ہیں اور اعتزال کا مظاہرہ کرتے ہیں تحریف قرآن کے منکر ہیں اور اس کے قاءل کو کافر کہتے ہیں اس طرح ان کے دو ہم مذہب ابویعلی میلاد الطّوسی اور ابوالقاسم رازی ہیں۔(2)
سب سے زیادہ قابل توجہ بات یہ ہے کہ ابن حزم کہتے ہیں کہ جو تحریف قرآن کا قائل ہے اس کو سید مرتضی کے بارے میں لکھتے ہیں کہ یہ اعلام شیعہ میں سے تھے اور سید مرتضی کہتے ہیں کہ تحریف قرآن کا ماننےوالا کافر ہے پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ شیعوں کی طرف تحریف قرآن کو منسوب کیا جائے جب کہ ان کا مرجع دینی،تحریف قرآن والے کو کافر کہتا ہے۔
د:شیخ ابوجعفر طوسی آپ کا تذکرہ مصادر شیعہ کے ذیل میں گزرچکا ہے آپ اپنے دور میں حدیث اور اجتہاد کے جامع تھے،یعنی اہل حدیث اور اہل اجتہاد دونوں کے مرجع تھے آپ نے اپنی تفسیر کی شاندار کتاب التبیان کے مقدمہ میں عدم تحریف کی صراحت کی ہے آپ نے فرماتے ہیں((قرآن مجید میں زیادتی اور نقص کے بارے میں گفتگو کرنا ہماری اس کتاب تبیان کے شایان نہیں ہے اس لئے کہ زیادتی کے بطلان پر تو امت کا اجماع ہے اب رہ گیا نقصان کا سوال تو ظاہر یہ ہے کہ عام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)مجمع البیان ج:1ص:15
(2)الفصل فی الملل و النحل:ج:4ص:182
مسلمان اس کے خلاف ہے اور ہمارا مذہب بھی قرآن میں نقصان کا قائل نہیں ہے اس کی تائید جناب سید مرتضی نے بھی فرمائی ہے اور روایات سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے یہ الگ بات ہے کہ شیعہ سنی دونوں فرقوں میں بہت سی روایتیں ایسی پائی جاتی ہیں جن میں یہ بتایا گیا ہے کہ قرآن کی بہت سی آیتیں کم ہوگئیں یا کسی آیت کا کوئی ٹکڑا دوسری آیت میں جوڑ دیا گیا لیکن یہ روایتیں احاد کے طریقہ سے نقل کی گئی ہیں جو نہ علم کا۔
سبب بنتی ہیں اس لئے ان کی طرف توجہ نہ دی جائے اور اپنا قیمتی وقت ان پر ضائع نہیں کیا جائے اس لئے کہ ایسی روایتوں کی تاویل ممکن ہے پھر ہماری وہ روایتیں جن کے ذریعہ قرآن کی قرات پر اور قرآن میں جو کچھ ہے اس کے تمسک پر اور خبروں کے اختلاف کی وجہ سے ان پر جو اعتراض کیا گیا ہے اور وہ ان سے تحریف کے خلاف ہیں خود سرکار دو عالم کی یہ متفق علیہ حدیث جس کو کسی نے بھی غلط نہیں کہا ہے۔
(انی تاریک فیکم الثّقلین ما ان تمسکمتم بهما لن تضلّوا بعد کتاب الله و اهل بیتی و انّهما لن یّفترقا حتی یرد علی الحوض)
ترجمہ حدیث:میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑ کے جارہا ہوں جب تک ان دونوں کو پکڑے رہوگے میرے بعد ہرگز گمراہ نہیں ہوگے یہ دونوں چیزیں اللہ کی کتاب اور میری عترت ہیں یہ دونوں کبھی ایک دوسرے سے ہرگز الگ نہیں ہوں گی،یہاں تک کہ مجھ سے حوض کوثر پہ ملاقات کریں گی۔
یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ قرآن ہر دور میں مکمل طور پر موجود رہا اس لئے کہ نبی کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ ہمیں ایسی چیز کے تمسک کا حکم دیا جائے جس کے تمسک پر ہم قدرت نہیں رکھتے ہوں۔(1)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)تفسیر تبیان:ج:1ص:3۔4
ھ:شیخ ابوعلی فضل بن حسن طبرسی متوفی 548 آپ تفسیر مجمع البیان کے مقدمہ میں لکھتے ہیں اور قرآن میں زیادتی اور کمی کا موضوع تفسیر کے شایان نہیں ہے جہاں تک زیادتی کا سوال ہے تو امت کا اس کے بطلان پر اجماع ہے لیکن کمی کے بارے میں ہمارے علما نے اور اہل سنت کے فرقہ حشویہ نے کچھ روایتیں پیش کی ہیں جن سے یہ پتہ چلتا ہے قرآن میں تغیر اور نقصان ہوا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ ہمارے علما کا مذہب اس کی مخالفت کرتا ہے اسی نظریہ کی تائید سید مرتضی نے فرمائی ہے اور بھر پور دلیلوں کے ساتھ تحریف کو غلط ثابت کیا ہے سید مرتضی مسائل طرابلسات کا جواب دے رہے ہیں اس کے بعد سید مرتضی کی مذکورہ عبارت پیش کی گئی ہے۔(1)
و:علامہ حلی جمال الدین بن حسن بن علی مطہر جن کا تذکرہ مصادر شیعہ میں ہوچکار ہے یہ اپنے دور میں نمایان شیعوں میں تھے ان سے سید مہنا نے کچھ سوالات کئے ہیں اس میں ایک سوال یہ بھی ہے۔
((کتاب عزیز کے بارے میں ہمارے سردار کا کیا قول ہے۔))
کیا ہمارے علما اس بات کو صحیح سمجھتے ہیں کہ قرآن میں نقص یا زیادتی ہوئی ہے یا یہ کہ اس کی ترتیب بدل دی گئی ہے یا ہمارے اس علما اس میں سے کسی بات کے قائل نہیں؟آپ مجھے فائدہ پہنچائیں خدا آپ کو اپنے فضل سے فائدہ پہنچائے اور آپ کے شایان سلوک آپ کے ساتھ کرے۔
علامہ نے جواب دیا،حق یہ ہے کہ قرآن میں تقدیم ہے اور نہ تاخیر زیادتی ہے نہ کمی میں اس طرح عقائد سے خدا کی پناہ چاہتا ہوں،اس سے سرکار دو عالم کے معجزہ پر بات آتی ہے جو تواتر کے ذریعہ ثابت ہے۔(2)
ان حضرات کے بعد علما کی ایک کثیر جماعت ہے جو تحریف قرآن کی سختی سے منکر ہے جیسے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)مجمع البیان ج:1ص:15
(2)اجوبۃ المسائل المھناویہ المسلہ:13ص:121،نجفی تمرین قرآن شریف کے سلسلے میں جو کتاب المحقق میں نقل ہوا ہےص:15
محقق کرکی،صاحب مقاصد،محقق اردبیلی متوفی993شیخ بہائی متوفی1031فیض کاشانی متوفی1090محدث حرعاملی متوفی1104،آپ کی کتاب وسائل الشیعہ کا تذکرہ ہوچکا ہے اور جناب کاشف الغطا متوفی1228،اس کے علاوہ بعد میں آنے والے علما میں ایک بڑی جماعت ہے جن کو طول کلام کی وجہ سے چھوڑا جارہا ہے،پھر ہمارے دور میں بھی بہت سے علما ہیں جن میں شیعہ فرقے کے مرجع اور ہمارے استاد ابوالقاسم الخوئی نے اپنی کتاب البیان فی تفسیر القرآن کے مقدمے میں دعوہ تحریف کو ایک لمبی بحث کرکے توڑ پھوڑ دیا ہے۔
علما کی ایک بڑی جماعت ہے جنہوں نے اس موضوع پر مستقل کتابیں لکھی ہیں اور عدم تحریف پر مضبوط دلیلیں دی ہیں ان خبروں پر تنقید کی ہے جو وقوع تحریف کی شہادت دیتی ہیں اور ان حدیثوں کی تاویل بھی بیان کی ہے،ظاہر ہے کہ ہم اس مختصر کتاب میں ان کے بیانات کی گنجائش نہیں پاتے،یوں بھی شیعہ قوم کے نمایان علما کے اقوال اور ان کے اساتذہ کی تصریحات جو میں آپ کی خدمت میں پیش کرچکا ہوں میرے دعوائے عدم تحریف کے لئے کافی ہے بلکہ میں یہ عرض کرنے کی جسارت کررہا ہوں کہ اہل سنت کے علما نے اس کثرت سے عدم تحریف کی صراحت نہیں کی ہے جیسا کہ شیعوں کے یہاں پائی جاتی ہے،سنی علما نے عدم تحریف پر استدلال کرنے میں زیادہ زحمت بھی نہیں اٹھائی ہے جب کہ شیعوں نے کافی تحقیق اور تفصیل سے کام لیا ہے سنی علما کا نظریہ تو اس اجماع عملی سے ثابت ہوتا ہے جس میں شیعہ اور سنی مشترک ہیں۔
4۔ہم شیعوں کے پاس جتنی بھی روایتیں ہیں ان میں سے اکثر اہل سنت کے طریقوں پر مروی ہیں دونوں فرقے کے مصادر کو دیکھےگا وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھ جائےگا اور یہ حدیثیں ایسی ہیں بھی نہیں جن سے قرآن شریف کی واقعیت پر بات آئے یا قرآن مجید کو مقام تشکیک میں ڈال دیا جائے جیسا کہ گذشتہ اور آئندہ بیان سے ثابت ہوگا،اس لئے اگر کسی کو اس طرح کی روایت ملتی بھی ہے تو ضروری ہے کہ یا تو اس کی تاویل کردی جائے یا پھر خاموش ہوجایا جائے اس لئے کہ ایسی روایت بدیہیات سے ٹکراؤ کا سبب ہے،یوں بھی اس طرح کی روایتیں یا بعض روایتیں تحریف کے
نظریہ کی تائید بھی نہیں کرتیں یا اس لئے کہ جمع کرنےوالے نے تحریف پر استدلال کرنے کے لئے جمع بھی نہیں کیا ہے بلکہ اس کا مقصد حدیثوں کو جمع کرنا تھا اس نے تو وہ روایتیں بھی جمع کی ہیں جو تحریف کے خلاف ہیں یا جن کی تاویل لازم ہے جیسا کہ جناب شیخ صدوق کے بیان سے ظاہر ہورہا ہے اس لئے بھی کہ یہ روایتیں بداہت سے ٹکرا رہی ہیں یا بغیر بداہت کے پیش کی جا رہی ہیں۔
ہاں بعض شیعہ اور بعض سنی علما ان حدیثوں کی بنیاد پر تحریف کو صحیح قرار دیتے ہیں بلکہ کچھ لوگوں نے اپنے گذشتہ دلام میں اشارہ کیا ہے تو اسیے علما نے بنیادی غلطی یہ کی ہے کہ تحریف والی خبروں کو صحیح مانا ہے اور اس پر غور نہیں کیا ہے کہ کوئی بھی اس طرح کی کبریں پڑھ کے بداہت سے انکار نہیں کرسکتا حالانکہ شیعوں میں ایسے لوگ بہت کم ہیں،اتنے کم کہ انہیں مقام مثال میں نہیں لایا جاسکتا ہے ثابت ہوچکا ہے اور شیعوں کے بڑے بڑے علما اور شیوح جو شیعوں کے لئے نمونہ عمل ہیں عدم تحریف پر ان کی تصریحات پیش کی جاچکی ہیں۔
قائلین تحریف کے ساتھ کیا کیا جائے؟
میرا خیال ہے کہ قائلیں تحریف کے ساتھ سختی نہیں کرنی چاہئے اس لئے کہ وہ محض خطاکار ہیں اور یہ غلطی بھی ان سے غفلت کی بنیاد پر ہوئی ہے اس لئے وہ بےحرمتی کے مستحق نہیں ہیں اور نہ کافر ہیں خاص طور سے جب وہ اس بات پر تمام مسلمانوں سے متفق ہیں کہ قرآن مجید میں زیادتی یا نقصان نہیں ہوا ہے اس لئے کہ یہ بات یا تو تواتر سے ثابت ہے یا درجہ اعجاز تک پہنچی ہوئی ہے اس لئے کہ عدم زیادتی پر تو اجماع ثابت ہوچکا ہے،قائلین تحریف کے ساتھ احترام سے پیش آنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ دیکھ رہے ہیں کہ شیعہ اور ایک سنی فرقہ کے درمیان بسم اللہ..کو لےکے اچھا خاصہ اختلاف ہے سنی یہ کہتے ہیں کہ بسم اللہ..ہر سورہ کا جز نہیں ہے جب کہ شیعہ اس کی جزئیت کے قائل ہیں ظاہر ہے کہ یہ معمولی اختلاف اس بات کی اجازت تو نہیں دیتا کہ جزئیت کے قائل کو عدم جزئیت کا قائل کافر کہے یا عدم جزئیت کے قائل کو جزئیت کا قائل کافر
کہے تو پھر قائلین تحریف کو بھی ہمیں کافر کہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
ویسے جناب عبداللہ بن مسعود جو قرآن کی قرات کی دنیا میں ایک قدآور شخصیت ہیں آپ خود معوذتین کو قرآن میں شامل نہیں سمجھتے لیکن ہم انہیں صرف اس بنیاد پر کافر نہیں کہہ سکتے،اگر اس قول کی نسبت ان کی طرف صحیح ہو۔
عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس طرح کے چھوٹے چھوٹے اختلاف ہمیں سقوط حرمت کا حق نہیں دیتے اور نہ کسی کو کافر کہنے کی جازت دیتے ہیں زیادہ سے زیادہ ہم یہ کرسکتے ہیں کہ ان کے شبہات کو رفع کردیں یا ان کی غلطیوں کی نشاندہی کردیں تا کہ دوسرے لوگ بھی ان کی طرح غلطی نہ کریں اس لئے کہ اسلام اس اللہ کا دین ہے جس نے اپنے بندوں کے لئے اس دین کو شریعت بناکے نافذ کیا ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہم اسلام اور کفر کی حدیں معین کرنے سے پہلے اللہ کے حکم کو دیکھ لیں(دین اس کا،شریعت اس کی،جس کو وہ کافر کہےگا وہ کافر اور جس کو وہ مومن کہےگا وہ مومن)کسی کو حق نہیں پہونچتا کہ محض اپنے نظریہ اور مسلمات کا مخالف ہونے کی وجہ سے کسی کو کافر کہہ دے جب مخالف کا انکار،اصول اسلام اور ان حدود الہیہ کو نہ پہنچتا ہو جو اللہ نےقائم کی ہوں تو ہم پر واجب ہے کہ ہم اس طرح کے خیالات سے بچیں اور سختی سے پرہیز کریں۔
عدم تحریف کی تاکید
5۔ظاہر ہے کہ قرآن مجید اپنی حقانیت خود ثابت کرتا ہے،قرآن کوئی انسان کا انشا کیا ہوا نہیں ہے جیسا کہ خود قرآن کہتا ہے-(وَمَا كَانَ هَٰذَا الْقُرْآنُ أَن يُفْتَرَىٰ مِن دُونِ اللَّهِ) (1)
ترجمہ آیت:ایسا نہیں ہے کہ یہ قرآن خدا کےسوا کوئی اور اپنی طرف سے جھوٹ بناڈالے۔
یہی وجہ ہے کہ وہ تواتر سے مستغنی ہے اگر چہ قرآن کے بارے میں تواتر پایا جاتا ہے اور یہی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سورہ یونس آیت:37
وجہ ہے کہ قرآن سرکار دو عالم کا معجزہ ہے جو آپ کی صداقت پر گواہی دیتا ہے،سرکار دو عالمؐ نے انفرادی طور پر قرآن کو اللہ کی طرف منسوب کیا ہے اور کسی کو اس نسبت کا گواہ نہیں بنایا اگر قرآن قرآن خود کو ثابت نہ کرتا ہوتا اور تواتر سے مستغی نہ ہوتا تو اس کے اندر صلاحیت اعجاز بھی نہیں ہوتی اس کی طرف وہ تمام آیتیں اشارہ کرتی ہیں جو قرآن میں تحدی کے طور پر آئی ہیں۔
ارشاد ہوتا ہے:قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَن يَأْتُواْ بِمِثْلِ هَـذَا الْقُرْآنِ لاَ يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيراً (1)
ترجمہ آیت:اے رسول آپ کہہ دیں کہ اگر سارے دنیا و جہاں کے آدمی اور جن اس پر اکھٹے ہوں کہ اس قرآن کا مثل لےآئیں تو غیرممکن اس کے برابر نہیں لاسکتے اگر چہ اس کوشش میں ایک کا ایک مددگار بھی بنے۔
اب یہیں سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ وہ خبریں جن سے تحریف کا وہم پیدا ہوتا ہے اگر زیادتی کی طرف اشارہ کرتی ہیں یعنی قرآن میں انسان کا کلام بھی شامل ہے اور دو دفتیوں کے بیچ جو کچھ ہے وہ سب کا سب کلام اللہ نہیں ہے یا اس کو بدل دیا گیا ہے تو خود قرآن ان کی مدد کرےگا اس لئے کہ قرآن کا لہجہ اور اس کا اسلوب کہیں پر بھی بدلا نہیں ہے تا کہ یہ تمیز کی جاسکے کہ یہاں تک کہ قائلین تحریف بھی اس کو کلام خدا مانتے ہیں۔
اور اگر تحریف کی خبرون سے وہ روایتیں مراد ہیں کہ جن میں قرآن کو ناقص بتایا گیا ہے یعنی دو دفتیوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ مکمل قرآن نہیں ہے بلکہ اس میں سے کچھ ضائع ہوگیا ہے تو اس کو رد کرنے کے لئے سید مرتضی کی دلیل کافی ہے کہ صاحبان نظر جب غیراللہ کے کلام کو جمع کرنے کے لئے بہت زیادہ احتیاط اور دقت نظر سے کام لیتے ہیں تو پھر اللہ کے کلام کو جمع کرنے میں اتنی بے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ اسراءآیت:88
احتیاطی کیسے کرسکتے ہیں کہ اس میں کا کچھ حصہ ضائع ہوجائے اور انہیں کبر تک نہ ہو،ایک مضبوط دلیل اور بھی ہے وہ یہ کہ اب تک کسی نے بھی کوئی ایسا جملہ نہیں پیش کیا جس میں آیات قرآن جیسی صلاحیت ہو اور اس سے یہ سمجھ لیا جائے کہ یہ قرآن تھا جواب تک قرآن میں شامل نہیں ہوا تھا۔
صدر اول کے مسلمان اپنے کلام میں مقام احتجاج میں قرآن مجید کی آیتیں پیش کرتے تھے اس وقت کسی نے یہ نہیں کہا کہ یہ قرآن نہیں ہے،ظاہر ہے کہ قرآن کے باہر کے جملوں سے شہادت اور دلیل دینا اور مصحف کے اندر جملوں سے استدلال کرنا دونوں میں فرق ہے۔
مثلاً معصومہ کونینؐ نے دو خطبے ارشاد فرمائے دونوں ہی خطبوں میں استدلال کے لئے قرآنی آیات کا سہارا لیا،لیکن آپ نے جو آیتیں استعمال کی ہیں وہ مصحف شریف میں موجود ہیں حالانکہ مصحف شریف نسلاً بعد نسل ہم تک پہنچاہے لیکن حوالہ اسی مصحف کی آیتوں کا ہے جب کا معصومہ کا قرآن اس وقت کی بات ہے نبیؐ کی وفات کو زیادہ زمانہ نہیں گذرا تھا اور قرآن کے ضائع ہونے یا پوشیدہ رہنے کا کوئی بھی سبب نہیں تھا۔
اب رہ گئیں وہ روایتیں جو بعض کلمات اور عبارت اک طرف قرآن کے تحریف ہونے کا اشارہ کرتی ہیں تو ایسی روایتوں پر توجہ نہیں دینی چاہئیے اس لئے کہ اصلی بات یہ ہے کہ وہ عبارتیں قرآنی نہیں ہیں ان کا اسلوب لب و لہجہ اور ضعف بیان اس بات کا شاہد ہے کہ وہ قرآن نہیں ہیں اور عدم تحریف پر یہ کافی دلیل ہے اس لئے کہ خداوند عالم نے اپنے مخصوص لب و لہجہ سے قرآن کو کامل بنادیا ہے اور ایک معجزاتی کتاب کی حیثیت دے کے حجت تمام کی ہے۔
اس لئے یہ بات طے ہے کہ اگر تاویل ممکن نہ ہو تو ایسی روایتوں کو چھوڑ دیا جائے کیونکہ اس طرح کی کمزور روایتیں قرآن مجید کی اصلیت اور اس کے تواتر اور اعجاز کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہیں اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان روایتوں کو جھوٹا مانتے ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ ایسی روایتوں کو اللہ کی طرف پلٹا دینا چاہئیے کہ خدا جانتا ہے اور ان روایتوں کا قائل جانتا ہے۔
اس لئے کہ یہ وہ اشکالی روایتیں ہیں جن کے بارے میں ہمارے اماموں نے وقوف کی ہدایت
کی ہے اور اس کے اہل کی طرف اس کے علم کو پلٹانے کی ہدایت کی ہے اس لئے کہ کبھی بھی ماحول سے متاثر ہو کے بھی انسان ایسی باتیں کہہ دینا ہے کو وہ کہنا نہیں چاہتا کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی بات کی جھوٹی نسبت بھی کسی کی طرف دیدی جاتی ہے اور اس کا علم صرف خدا کو ہوتا ہے۔
تحریف قرآن کا موضوع ایک خطرناک موضوع
6۔ہم جس طرح خطرناک دور سے گذر رہے ہیں اس میں مسلمانوں کے لئے بہتر ہے کہ بجائے اس کے کہ ایک دوسرے پر کیچڑا اچھالیں اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کریں یا انہیں بدنام کریں،ہمیں چاہئے کہ ہم سب مل کر مندرجہ ذیل باتوں کی طرف زیادہ توجہ دیں۔
1۔دینی حقائق کی تحقیق کامل موضوعیت کے ساتھ تعصب اور جذبات سے دورہ کرکریں اور اس تحقیق میں ہمارا ہدف یہ ہو کہ ہم خدا کے نزدیک جواب دہی کے ذمہ دار ہیں اور دنیا میں اس کے خذلان اور آخرت میں اس کے عذاب سے محفوظ رہیں۔
2۔جن عقائد میں ہم مشرک ہیں اس میں اسلام کے جھنڈے کے نیچے کھڑے ہو کر اتحاد کا ثبوت دیں اور کلمہ اسلام کو بلند کرنے کے لئے اور مشترک ہدف کی خدمت کرنے کے لئے متحد ہوجائیں۔
اس دور میں میری ان لوگوں سے پرزور گذارش ہے جو شیعوں پر تہمت رکھتے ہیں اور بدنام کرتے رہتے ہیں کہ برائے مہربانی صرف وہ تہمتیں رکھئے جو صرف شیعہ فرقہ کے لئے نقصان دہ ہوں اور اس طرح کی تہمتیں ہرگز مت رکھئے جو اسلام کو نقصان پہنچانےوالی ہوں اور جن کا لگاؤ اسلام کے مقدسات و رموز سے ہو مثلاً یہ الزام رکھنا کہ شیعہ غلو کرتے ہیں یہ ایک سنگدلانہ اور ظالمانہ الزام تو ہے لیکن اس کا نقصان صرف شیعوں کو پہنچتا ہے اب یہ شیعوں کی ذمہ داری ہے کہ یا تو وہ اس کی مدافعت کریں گے اور اس الزام کے نتیجوں سے خود کو نجات دینے کی کوشش کریں گے یا پھر اس کا جواب دینے سے عاجز ہوں گے،چاہے ان کا یہ ضعف صرف الزام دینےوالا ہی محسوس کرے،بہرحال الزام تراشی
کرنےوالے کا مقصد تو حل ہوجائےگا اور اس کے غصہ کی آگ کو تشفی مل جائےگی۔
لیکن شیعوں پر یہ الزام کہ وہ تحریف قرآن کے قائل ہیں صرف شیعوں تک نہیں بلکہ قرآن مجید کے لئے بھی خطرناک ہے جو قرآن اسلام کا دائمی معجزہ ہے وہی قرآن پر عام مسلمانوں کا اجماع نہیں ہے اور وضاحت و ظہور میں اتنا کمزور ہے کہ ہر مسلمان اس کو کلام خدا نہیں مانتا بلکہ مسلمانوں کا ایک بڑا گروہ اس کا اقرار نہیں کرتا اور اس میں تحریف کو مانتا ہے پھر یہ قرآن دوسری آسمانی کتابوں سے ممتاز کیوں کر ہوا جب کہ دوسری کتابوں کی طرح قرآن میں بھی تحریف ہوئی ہے،سوچئے کہ یہ بات کہاں تک پہنچی!آپ شیعہ دشمنی نے قرآن اور اسلام کے دشمنوں کو جو قرآن اور اسلام پر کسی مصیبت کے آنے کا انتظار کرتے رہتے ہیں انھیں کتنا بڑا ہتھیار دےدیا۔
جو لوگ اس طرح کے الزام شیعوں پر رکھتے ہیں اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے شیعوں کی شان کھٹ جائےگی اور شیعوں کو اسلام سے نکالا جائےگا تو ان کا خیال ہے اس لئے کہ شیعہ فرقہ تمام اسلامی فرقوں کے اندر بلکہ خود اسلام کے اندر اتنی اہمیت رکھتا ہے اور اس کی جڑیں اتنی مضبوط ہیں کہ اس فرقہ کو ہٹ دھرمی اور غلط الزام تراشی کے ذریعہ نقصان نہیں پہنچایا جاسکتا ہے،شیعوں کی اپنی ایک مستقل حیثیت ہے اگر شیعہ اتنے مضبوط اور پائدار وجود کے حامل نہ ہوتے تو تمام مسلمان مل کے شیعوں پر یہ اعلامی حملے ہرگز نہیں کرتے اور شیعوں سے لوگوں کے دل میں وہ کینے اور عداوت ہرگز نہیں ہوتی جس کو ہم شیعہ آج جھیل رہے ہیں۔
یہ خدائی معجزہ ہے کہ بنی امیہ و بنی عباس کے دور سے شیعہ ظلم سہتے چلے آرہے ہیں(مترجم)مگر دشمنان اسلام کے لئے قرآن مجید اور اسلام عظیم کے اوپر اس طرح کے الزامات یقیناً ایک خوش خبری ہوں گی انہیں دیر سویر تو معلوم ہو ہی جائےگا کہ یہ مسلمان خود قرآن مجید کی واقعیت پر متحد نہیں ہیں تو شیعہ کے خلاف یہ کوشش در حقیقت اسلام اور قرآن کو کمزور کردےگی،آپ یقین کریں اس طرح کے الزامات شیعوں کے خلاف نہیں بلکہ براہ راست اسلام اور قرآن کو نقصان پہنچاتے ہیں اب تو یہ ہوگا کہ اگر شیعہ تحریف قرآن کے الزام سے خود کو الگ ثابت کرنے کے لئے اور جھوٹ کو
جھوٹ ثابت کرنے کے لئے دلیلیں بھی دیں گے تو شیعہ سنی کا جو مشترک دشمن ہے وہ ان کی بات نہیں سنےگا اور اس الزام کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرےگا،بلکہ جہاں تک ممکن ہوگا اس جھوٹ کو مضبوط کرنے کی کوشش کرےگا،اب اگر شیعوں نے الزام کے جواب میں الزام رکھا اور جواباً کہہ دیا کہ سنی بھی تحریف قرآن کے قائل ہیں تو ظاہر ہے وہ سنی کتابوں سے دلیلیں دیں گے یہ اور برا ہوگا،اس لئے کہ دشمن کہےگا کہ تحریف قرآن کے اوپر تو سنی اور شیعوں کا اجماع ہوچکا ہے اس لئے کہ اس کی نسبت قرآن کی کرامت اور اسلام کی عظمت کو نقصان پہنچانا ہے اور پس وہ جان بوجھ کے اس اجماع عمل سے تجاہل برتےگا جو ابھی کچھ صفحات پہلے بیان کیا جاچکا ہے،بلکہ وہ اسلامی علما کی تصریحات اور تحریف قرآن کے خلاف جو شواہد پیش کئے گئے ہیں ان کی طرف بھی جان بوجھ کے توجہ نہیں دےگا اور مسلمانوں کے اختلاف کو مشہور کرکے اپنا گندا مقصد حاصل کرےگا،اب وہ وقت نہیں رہا کہ مسلمانوں کے فرقے آپس میں ایک دوسرے پر اندر ہی اندر الزام تراشی کریں اور اس کی خبر دشمنوں کو نہ ہو،آج تو میڈیا نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف کی خبر دشمنوں کو فوراً ہوجاتی ہے،جس طرح مسلمانوں کو آپسی اختلاف کی خبر رہتی ہے تو جب دشمن باخبر ہوجائےگا تو اس کے لئے اسلام کو کمزور کرنا اور اس کو بدنام کرنا بہت آسان ہوجائےگا۔
جن حضرات نے اپنے قلم کے نیزے شیعوں کو نشانہبانے کے لئے اٹھا رکھے ہیں اور شیعوں کے حساس پہلوؤں پر چوٹیں کررہے ہیں انہیں سمجھنا چاہئیے کہ اپنی اس حرکت سے وہ اسلام اور مقدسات اسلامی کو کتنا نقصان پہنچا رہے ہیں۔میں تو عرض کرتا ہوں کہ تمام ملت اسلامیہ کو ایسے لوگوں کے خلاف متحد ہوجانا چاہئیے تا کہ ان کے دین اور مقدسات دین کو نقصان نہ پہنچانےوالوں سے سوال کیا جائے کہ وہ ایسا کیوں کررہے ہیں اور بہتر طریقہ سے انہیں روک دیا جائے۔
تقریباً سات سال پہلے میرے سامنے ایک بہت خطرناک مسئلہ آیا تھا کچھ شیعہ نوجوان تحریف قرآن کے الزام سے تنگ آکے جوش میں آگئے تھے اور انہوں نے اہل سنت کے پاس تحریف قرآن کی جو روایتیں ہیں انہیں جواب میں پیش کرنے کی ٹھان لی تا کہ جواب بالمثل دیا جاسکے بلکہ انہوں
نے سنی حدیثوں سے اس عجیب و غریب اور ناقابل گفتگو موضوع پر اچھا خاصہ مواد بھی اکٹھا کرلیا تھا،لیکن جب مجھے معلوم ہوا تو میں نے ان کے جوش کو ٹھنڈا کیا اور انہیں سمجھایا کہ ہماری اس حرکت سے کتنی مشکلیں سامنے آئیں گی،ہم نے انہیں سمجھایا کہ جو کچھ آپ جانتے ہیں اسے وسیع پیمانے پر مشہور نہ کریں اور انفرادی طور پر صرف معترضین کو ان کی غلطی پر متوجہ کردیں بڑے پیمانے پر اس آپسی الزام تراشی اور طعن و تشنیع کے طریقے سے بچیں تا کہ اس حساس مسئلہ میں ان کے کسی طریقہ سے قرآن مجید کو شعوری یا لاشعوری طور پر کوئی نقصان نہ پہنچ سکے،ہم نے انہیں سمجھایا کہ شیعوں پر زیادتی اور حملے سے زیادہ بری بات قرآن مجید کی رفعت اور اس کی عظمت پر حملہ ہے،بات ان لوگوں کے سمجھ میں آگئی اور خدا ہی مکروہات کے معاملے میں بھی حمد کا مستحق ہے-(انا لله و انا الیه راجعون و العاقبة للمتقین) (1)
ہم تو بس خدا کے ہیں او اسی کی طرف واپس جانے والے ہیں اور عاقب تو صاحبان تقویٰ کا حق ہے۔
--------------
سورہ قصص : آیت 83
سوال نمبر۔4
سنیوں کے امام مہدی جن کا انتظار کیا جارہا ہے دوسرے ہیں اور شیعوں کے دوسرے کیا دونوں رائے ایک ساتھ صحیح ہوسکتی ہے؟صحیح رائے کس کی ہے سنیوں کی یا شیعوں کی؟
جواب:اس سوال کے جواب میں مندرجہ ذیل امور آپ کی خدمت میں پیش کئے جارہے ہیں
1۔امام مہدیؑ وہی صاحب ہیں جن کی سرکار دو عالمؐ اور آئمہ ہدیٰؑ نے خبر دی ہے اور وہ تمام مسلمانوں کےنزدیک ایک ہی ہیں لیکن اختلاف کا موضوع دو باتیں ہیں۔
الف:حضرت کا نسب،شیعوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ امام مہدی ابوعبداللہ الحسینؑ کی اولاد میں سے ہیں آپ امام حسینؑ کی ذریت کے نویں اور شیعوں کے بارویں امام ہیں علما اہل سنت کی ایک جماعت بھی شیعوں کہ اس عقیدے سے متفق ہے اس عقیدے کی گواہ وہ بہت سی حدیثیں ہیں جو نبیؐ اور آپ کے آل اطہارؑ سے مروی ہیں یا کسی دوسری بات پات کی دلیل میں ضمیمہ کرکے پیش کی گئی ہیں۔
ب:دوسرا اختلاف آپ کی ولادت کے سلسلے میں ہے،یعنی یہ کہ آپ پیدا ہوچکے ہیں اور فعلاً
موجود ہیں یا ابھی پیدا ہی نہیں ہوئے ہیں،بلکہ اپنے قیام کے کچھ دن پہلے پیدا ہوں گے امامیہ فرقہ کا اجماع قول اول پر ہے یعنی آپ پیدا ہوچکے ہیں،ان کا عقیدہ ہے کہ آپ بہ حکم خدا غائب ہیں اور ظہور کے لئے خدا کی اجازت کا انتظار کررہے ہیں۔اہل سنت کی ایک جماعت بھی شیعوں کے اس قول سے متفق ہے لیکن علما اہل سنت کی ایک بڑی جماعت دوسرے قول کی قائل ہے یعنی آپ پیدا نہیں ہوئے ہیں بلکہ ظہور سے قبل پیدا ہوں گے۔
شیعہ فرقہ اور وہ حضرات جو شیعوں سے معاملے میں متفق ہیں وہ آپ کی ولادت پر حدیثوں کے ذریعہ دلیلیں دیتے ہیں لیکن دوسرے فریق کے پاس ظاہر ہے کہ ایسی خبریں نہیں ہیں جو آپ کی ولادت کی نفی کرسکیں۔
بلکہ ان کے انکار کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ شیعہ دلیلوں پر غور نہیں کرتے یا ان حدیثوں پر بھروسہ نہیں کرتے اور چونکہ ان کے نزدیک امام کی ولادت ثابت نہیں ہوسکی۔
اور آپ کی لمبی حیات کو وہ بعید از قیاس سمجھتے ہیں اس لئے انہوں نے گھبرا کے فیصلہ کردیا کہ ابھی آپ پیدا نہیں وہئے ہیں اور پھر چونکہ آپ کے متعلق وافر مقدار میں خبریں ہیں اس لئے انہوں نے مجبوری میں یہ فیصلہ کیا کہ آپ ظہور کے کچھ پہلے پیدا ہوں گے۔
2۔اب رہ گیا آپ کا یہ سوال کہ کیا سنی عقیدےوالے مہدی اور شیعہ عقیدے والے مہدی ایک ہوسکتے ہیں تو عرض ہے کہ ایک ہونے کی کوئی گنجائش نہیں،اس لئے کہ امام مہدی ایک واحد شخص کا نام ہے جس کے بارے میں نبی نے پیشن گوئی فرمائی ہے اور ظاہر ہے کہ شخص واحد کا دو مختلف حالتوں میں پایا جانا محال ہے دونوں میں سے کوئی ایک ہی قول صحیح ہوسکتا ہے۔یعنی یا تو یہ مان لیا جائے کہ پیدا ہونگے اس لئے کہ معاملہ انہیں دو باتوں کے درمیان محصوت ہے اور جب دونوں باتوں میں سے ایک بات ثابت ہوجائے گی تو دوسری خودبخود باطل ہوجائےگی۔
3۔اگر آپ مجھ سے پوچھیں گے کہ کون سے رائے صحیح ہے تو فطری طور پر میں یہی کہوں گا کہ میرے مذہب کی رائے صحیح ہے اس کی وجہ وہ ٹھوس دلیلیں ہیں جو میری بات کی حمایت میں مجھ حاصل
ہیں ظاہر ہے کہ آپ کے نزدیک میری رائے کی خاص اہمیت نہیں ہوگی کہ آپ میری دلیلوں کی اہمیت سے ناواقف ہیں۔
چونکہ امام غائب اثنا عشری شیعوں کے خاتم الائمہ ہیں اس عقیدہ سے امامت کی تکمیل ہوتی ہے اور امامت و خلافت کو ثابت کرنے میں بھی حدیثیں اہل سنت کے دعوائے خلافت و امامت کے خلاف بھی استعمال ہوتی ہیں۔
لیکن اس سلسلے میں کافی لمبی گفتگو کی ضرورت ہے جس کو میں اس مختصر سی بحث میں چھیڑنا نہیں چاہتا جو حقیقت کا طالب ہے اس کو چاہئیے کہ خود تلاش کرے۔
دونوں فرقوں(شیعہ اور سنی)کے علاوہ درمیان نظام حکومت کی تعریف
ایک بات عرض کرنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ شیعہ اور سنی دونوں فرقوں کے درمیان جب امامت پر گفتگو ہو تو کسی شخص کا تقابل کرنے کےبجائے نظام حکومت کو سمجھ لیا جائے یعنی اس بات پر بحث نہ ہو کہ علیؑ مستحق خلافت تھے یا ابوبکر یا یہ کہ اہل بیت کو یا پھر قرشی اور مہاجرین صحابہ میں تقابل کردیا جائے اس طرح تو بحث محدود ہو کے شخصی ہوجائے گی اس لئے کہ اسلام دین خاتم ہے اور جب تک یہ زمین باقی رہےگی اس وقت تک یہ دین بھی باقی رہےگا اور یہ بھی طے ہے کہ اسلام ہی تا قیامت اس دنیا کے لئے ایک حکومت کا نظارہ رکھتا ہے تو پھر نظام حکومت کے نفاذ کے لئے اور اسلامی حکومت کی تشریع کے لئے ایک ایسا نظام چاہئیے جس کے اندر زمین میں استمرار کی صلاحیت ہو اگر اس نظام امامت و حکومت کو ہم کسی ایک شخص یا چند افراد سے مخصوص کردیں گے تو ظاہر ہے کہ جب وہ افراد دنیا میں رہیں گے تو نظام چلےگا اور اس کے بعد اسلام تو موجود رہےگا لیکن نظام اسلام کو نافذ کرنےوالا کوئی نہ ہوگا۔
اب اگر آپ چاہتے ہیں کہ دونوں کے نظام حکومت و امامت میں مقارنت ہونی چاہئیے تو پھر یہ
ضروری ہے کہ دونوں کے پاس ایک ایسا نظام صالح ہونا چاہئیے جس کے ذریعہ اسلامی حکومت کے قانون کا نفاذ اور اس کی تشریع ہوسکے اور اس کے اندر اتنا امتداد ہو کہ جب تک اس زمین کے سینے پر ایک بھی انسان ہے اس کے لئے تشریع اور تنظیم کے لئے کوئی ہو جو نظام حکومت اسلامی کے معیار پر پورا اترتا ہو اور جب ہم نظام حکومت کو معین کریں گے اور اس کی حقانیت پر شرعی دلیلیں قائم کریں گے تو پھر اس کے معیار پر حاکم بھی مل جائےگا اس لئے کہ اب ہم حاکم کی تلاش،شرعی اساس پر کریں گے اور جو ہماری نظام حکومت کی تعریف کی حدوں میں آئےگا وہی حاکم ہوگا باقی جو ان حدوں کے اندر نہیں آتا ہے خودبخود نکل جائےگا،حق کو پہچان لو اہل حق کو پہچان جاؤگے(1) البتہ اگر ہم شرعی نظام حکومت معین نہیں کریں گے اور پھر بھی حاکم شرعی بات کرنا چاہیں گے تو یہ گفتگو بےمعنی ہوگی اور یہ سوچنا ہی بے معنی ہے کہ کس کی حکومت شرعی تھی یا غیر شرعی اس لئے کہ ابھی تو ہم نے حکومت شرعیہ کو معین ہی نہیں کیا ہے۔اس تمہید کے بعد عرض ہے کہ شیعوں کے نزدیک اسلامی نظام حکومت کا مطلب یہ ہے کہ امام کا تعین اللہ کی طرف سے ہو اس میں کسی سے مشورہ لینے،بیعت لینے یا اقرار لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
خداوند عالم کے لئے یہ ضروری ہے کہ امام کا تعیّن کرے اور اس کو مشخص کردے اس کے لئے ایسی دلیل دے کہ جو واضح ہو،تعین اللہ کی طرف سے یا تو نبی کے ذریعہ ہوتا ہے یا پھر اس امام کے ذریعہ ہوتا ہے جو نبی کی طرف سے معین کیا گیا ہو،اس لئے کہ نبی کا تعین کردہ امام نبی کے اشارہ پر ہی امام کو مشخص کرےگا اور نبی خدا کے اشارے پر۔
اس بنا پر عرض ہے کہ:
شیعوں کے نزدیک وہ امام جنہیں اللہ نے نبی کے بعد امامت کی ذمہ داری دی ہے اور جن کے ذریعہ اپنی تبلیغ مکمل کرتا ہے وہ بارہ امامؑ ہیں اور وہ سب کے سب نبیؐ کے اہل بیت میں سے ہیں
-------------
(1)تفسیر قرطبی،ج:1ص:340،آیت(ولاتلبسوا الحق بالباطل) کی تفسیر میں،فیض القدیر شرح جامع الصغیر،ج:1ص:272،28،حدیث،288،کی شرح میں،اسی طرح،ج:4،ص:2409،23حدیث کی شرح میں،ابجد العلوم،ج:1ص:126،الاعلام الثامن فی آداب المتعلم و المعلم فی الجمل السابقہ
ان میں سب سے پہلے امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ اسلام پھر حسن سبط الزکی علیہ السلام،پھر حسین سبط شہید علیہ السلام پھر نو امام سبط اصغر امام حسینؑ کی ذریت میں ہیں،جن کے نویں،امام ابن الحسن العسکری،الغائبہ المہدی،المنتظر ہیں بارہ حضرات ہیں جو خلافت و حکومت شرعی کے مالک ہیں،ان کے علاوہ کوئی کتان ہی بڑا آدمی ہو امام نہیں ہوسکتا شیعوں کے پاس اپنے اس عقیدے کے لئے بھر پور دلیلیں ہیں جن پر وہ بھروسہ کرتے ہیں اور جن کے ذریعہ وہ حجت قائم کرکے اپنے مخالف کو تسلی بخش جواب دیتے ہیں۔
لیکن افسوس کے ساتھ عرض کرنا پڑتا ہے کہ اہل سنت کے پاس نظام حکومت کا ایسا کوئی تصور نہیں ہے بلکہ ان حضرات نے اب تک امت کو اندھرے میں رکھا ہے میرے لئے ممکن نہیں ہے کہ میں ان کے نظام حکومت و شریعت کی تعریف کرسکوں اس لئے کہ وہ شیعوں کے عقیدے سے بالکل الگ عقیدہ رکھتے ہیں اگر کوئی آدمی ان کے خلفاء کے واقعات کو دیکھے اور ان خلفاء کی خلافت کو شرعی حیثیت دینے کے لئے ان حضرات نے جو مفروضات قائم کئے ہیں ان پر غور کرے تو اس کی نظر میں بات خودبخود واضح ہوجائےگی یہ الگ بات ہے کہ بعض اہل سنت کی یہ کوشش رہی ہے کہ خلافت کا اختیار امت کو ہے،چاہے جس کو خلیفہ بنائے،حالانکہ اگر یہ بات مان لی جائے تو پھر نظام مکمل نہیں ہوگا اس لئے کہ جب ہم اس کی تحدید کرتےہیں تو مندرجہ ذیل سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
1۔امامت و خلافت کا انتظام کرنے کا حق کس کو ہے؟اس کا نسب اس کا سن اس کی دینی اور سماجی حیثیت کیا ہونی جاہئے؟
2۔خلافت کے لئے منتخب شخص کی اہلبیت کب ساقط ہوجائےگی اور وہ کون سے اسباب ہیں جو اس کو معزول کردیں گے؟
مثلاً فیصلے میں ظلم یا مطلق فسق،خرافات و مرض،عجز مطلق اور ضعف و غیرہ ان تمام باتوں کو بہت توجہ کے ساتھ واضح کرنا ضروری ہے تا کہ اختلافات کی کوئی صورت نہ پیدا ہو اس سلسلے میں عثمان کے معاملے میں جو کچھ ہوا اس سے امن بچانا بھی ضروری ہے،اس وقت عثمان کے مخالفین اس بات کا
مطالبہ کررہے تھے کہ عثمان کو خلافت سے معزول کردیا جائے اس لئے کہ وہ اس کی اہلیت نہیں رکھتے اور عثمان کہہ رہے تھے کہ اللہ نے جو لباس پہنایا ہے،اس کو وہ نہیں اتاریں گے،اس طرح کے واقعات حکومت اموی اور عباسی میں بھی سامنے آئے۔
3۔خلیفہ منتخب کرنے کا اختیار کا حق کس کو ہے؟اس کی خاندانی،دینی اور سماجی حیثیت کیا ہونی چاہئے؟کس عمر میں اس کو یہ حق حاصل ہوتا ہے؟مردوں ہی کو یہ حق حاصل ہے یا عورتیں بھی حقدار ہیں و غیرہ۔
4۔ان امور کی نگرانی اور جانچ کیسے ہوگی؟یعنی کیسے پتہ چلےگا کہ کس کے اندر خلافت کی صلاحیت ہے؟اور کس کے اندر انتخاب و اختیار ہے؟منتخب شخص کے اندر کب تک وہ صلاحیتیں موجود ہیں اور کب ختم ہوجاتی ہیں کس طریقہ پر ہم ان امور کو ثابت کرسکیں گے۔
5۔امام اور خلیفہ کی صلاحیت کیا ہونی چاہئیے اس لئے کہ جب اہل سنت کا شیعوں سے اختلاف ہوا تو انہوں نے کہہ دیا کہ خلیفہ کا معصوم ہونا ضروری نہیں ہے کیونکہ وہ اپنے اجتہاد پر عمل کرسکتا ہے،اپنے اجتہاد میں وہ خدا اور رسول کا پابند نہیں ہے،اس لئے خلیفہ کی صلاحیت کی حدیں کیا ہیں؟طے ہوجانا چاہئے اس لئے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ اہل سنت کے خلفاء کے کردار میں بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے۔
جیسے اہل سنت اس بات کے قائ ہوگئے کہ نبی نے کسی کو خلیفہ نہیں بنایا تھا اور خلیفہ کے اختیار کا حق امت کو دےدیا تھا پھر ہم دیکھتے ہیں کہ ابوبکر،عمر کو خلیفہ بناتے ہیں پھر عمر خلیفہ بنانےکا ایک الگ طریقہ اختیار کرتے ہیں،ان کے خیال میں خلافت کی صلاحیت چند افراد میں تھی اور خلیفہ بنانے کا اختیار بھی چند افراد کو تھا،پھر امیرالمومنینؑ کی بیعت عثمان کے بعد اجتماعی حیثیت سے کی جاتی ہے اور مہاجرین و انصار کے نمایان افراد امیرالمومنینؑ کی بیعت کرتے ہیں اور عام مسلمان آپ کی خلافت کو قبول کرتے ہیں جب کہ عثمان کے دور میں ایسا نہیں تھا۔پھر امام حسنؑ کی بیعت ہوتی ہے لیکن آپ کی خلافت پر امیرالمومنینؑ نص فرماتے ہیں یا بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ عوام نے امام حسن کو خلیفہ مانا،
واقعہ تحکیم میں معاویہ اپنے آپ کو خلیفہ شرعی ہونے کا اعلان کردیتے ہیں(یعنی انتخاب خلیفہ کا کوئی اصول نہیں ہے جس کو جیسے موقع ملا وہ خلیفہ بناتا چلا گیا،اپنی اپنی ڈفلی اپنا اپنا راگ)مترجم
اس کے بعد اکثر خلفاء کی نص پر مستحق قرار پائے پھر معیار خلافت قوت کو مان لیا گیا اور اب خلیفہ نے ایک سے زیادہ اور دوسری اسلامی حکومتوں میں بھی یہی سلسلہ اپنایا گیا جیسے کبھی کسی کو خلافت سے لگ کردیا گیا کبھی ولی عہد بنایا گیا،کبھی طاقت کے ذریعہ خلافت حاصل کی گئی اور کبھی دوسرے ذریعوں سے جس کی تفصیل مورخین نے پنی کتابوں میں بیان کی ہے۔
بلکہ اکثر بات اس سے بھی آگے بڑھ گئی ہے خلیفہ صرف اپنے بعد والے پر نص ہی نہیں کرتا بلکہ اپنے دور خلافت میں کچھ لوگوں کو خلافت کا حصہ دار بنانا چاہتا ہے،چنانچہ ابوبکر نے امیرالمومنین علیہ السالم کی قوت کو کمزور کرنے کے لئے عباس بن عبدالمطلب کو اپنے ساتھ ملانا چاہا اور انہیں خلافت میں ایک حصہ دینے کی پیش کش کی یہ الگ بات ہے کہ جناب عباس بن عبدالمطلب نے ابوبکر کی یہ پیش کش ایک تاریخی جملہ کہہ کے ٹھکرادی عباس بن عبدالمطلب نے فرمایا کہ تم ہمیں جو خلافت کا حصہ دار بنانا چاہتے ہو تو اگر خلافت تمہارا حق ہے تو ہم کیوں لیں؟اپنے حق کو اپنے پاس رکھو اور اگر مومنین کا حق ہے تو تمہیں اس میں حکم کرنے کا کوئی حق نہیں ہے اور اگر ہمارا حق دے رہے ہو تو سب دو ورنہ ہم کچھ حصہ لےکے راضی نہیں ہوں گے۔(1) تو جناب والا اہل سنت کے نظریہ خلافت کے متعلق یہ ساری باتیں ہیں اور اب رہ گئے بقیہ دینی امور اور ان کی شرعی حیثیتیں تو خلفا نے اس میں بھی مداخلت کی ہے۔جیسا کہ ابھی ہم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)شرح نہج البلاغہ ج:1ص:221 الامامۃ و السیاسۃ ج:1ص:18،علیؑ کی بیعت کس طرح ہوئی تھی،تاریخ یعقوبی ج:2ص:125۔126،سقیفہ بنی ساعدہ کی روایت اور بیعت ابی بکر کے باب میں۔
آپ کے ساتویں سوال کے جواب میں عرض کریں گے کہ عمر اور ابوبکر کے دور خلافت میں سنت نبوی کو معطل کردیا گیا اور حدیث نبی بیان کرنے کا حق بھی مسلمانوں سے سلب کرلیا گیا صرف چند حدیثیں(جو بظاہر ان کے مفاد میں تھیں،مترجم)بیان کرنے کی اجازت دی گئی یہی حال معاویہ کے دور میں خلافت میں رہا،وہ مسلمانوں سے کہا کرتا تھا کہ اے لوگو!پیغمبرؐکی حدیثیں کم سے کم بیان کرو اگر تم حدیث بیان کرنا ہی چاہتے ہو تو صرف وہ حدیثیں بیان کرو جو عمر کے دور میں رائج تھیں(1) عمر نے مسلمانوں پر ہمیشہ پر ہمیشہ دینی امور میں اپنی رائے مسلط کی،جیسے متعۃ الحج اور متعۃ النساء کو حرام قرار دینا(اسلام پر ایسا بھی وقت پڑا ہے،مترجم)کہ لوگ فقہ،عقائد اور حدیث کی توجیہ کے وقت اس بات کا خیال رکتھے تھے کہ حکما وقت ان کی طرف متوجہ ہوں،بلکہ حکام اپنے مطلب کی توجیہ کرنے کے لئے علما کی پرورش کرتے تھے جیسے منصور عباسی نے امام مالک بن انس سے کہا کہ فقہ کی ایسی کتاب لکھیں جو لوگوں پر تحمیل کردی جائے اور مامون نے ارادہ کیا تھا کہ متعہ کو حلال کردے لیکن لوگوں کے ڈر سے خاموش رہا،مامون نے قرآن کے مخلوق ہونے کا نظریہ اور اللہ کی قیامت کے دن نفی رویت ہونے کے نظریہ کی مسلمانوں پر تحمیل کی۔
مامون،معتزلہ کے مذہب کی ترویج کرتا رہا،یہاں تک کہ متوکل نے آکے اس کو بدل ڈالا اور رویت کی حدیثوں کو عام کرنے کا حکم دیا۔پھر قرآن کے عدم خلقت کا نظریہ بھی رائج کیا اور معتزلہ کے مذہب کے خلاف نظریوں کی حوصلہ افزائی کی۔
سن408میں قادر نے حنفی معتزل اور شیعوں سے توبہ کرنے کو کہا،ان کے علاوہ بھی جو لوگ اس کے نظریوں کے مخالف تھے سب سے توبہ کرنے کو کہا اور مناظرہ کرنے کو منع کردیا،پھر بات یہاں تک پہنچی کہ صرف مذاہب اربعہ کے نظریات کے مطابق فیصلہ ہونے لگا،اس کی سختی سے پابندی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)کنزالعمال ج:10ص:291،حدیث29473،اور اسی طرح معجم الکبیرج:19ص:370،جس میں عبداللہ بن عامر الحصی التاری نے معاویہ سے روایت کی ہے
کی گئی اور آج تک اہل سنت میں مذاہب اربعہ ہی قابل اعتبار ہیں آخرم یں عثمانیوں نے امام ابوحنیفہ کے مسلک کو شاہی مذہب قرار دیا۔اس کے علاوہ بھی خلفا کے دور میں بہت ہرج مرج ہوتا رہا جن کو بیان کرنے کی گنجائش نہیں لیکن اس تناقض دینی کا نتیجہ عوام کو بھگتنا پڑا حالانکہ سب کو معلوم ہے کہ حکومت بدلنے سے دین نہیں بدلا کرتا یہ ساری خرابیاں صرف اس لئے پیدا ہوئیں کہ خلیفہ کی صلاحیت کے بارے میں اہل سنت کے پاس کوئی ٹھوس نظریہ نہ پہلے تھا،نہ اب ہے اور ظاہر ہے کہ آج بھی خلافت کی جب تک حدیں معین نہ کی جائیں مکمل نہیں مانا سکتا اور خلافت کی تحدید نہٰں ہوسکتی یہ بات طے شدہ ہے چونکہ میں اہل سنت کے مذہب کے بارے میں بہت کم جان سکاہوں اس لئے میں اہل سنت کو اس بات کا ذمہ دار بناتا ہوں کہ وہ اپنے مذہب کی تشریع اور تعارف کرادیں۔
جب اہل سنت حضرات خلیفہ اور نظام خلافت کی واضح تعریف کردیں گے اور اس تعریف کو شرعی دلائل سے مضبوط کریں گے اس حیثیت سے کہ وہ تعریف ان کے لئے معیار بن جائے اور اس کی شرعیت،امامت اور خلافت کے دعوے مٰں ثابت ہوجائے تو پھر ممکن کہ ہم شیعہ سنی دونوں کے نظام حکومت کو سامنے رکھ کے اشتراک کے راستے تلاش کریں اور دونوں کی دلیوں کو ان دلیلوں کے لحاظ سے موازنہ کر کے اور اسنی اور شیعوں کی دلیلوں کے درمیان جہاں ترجیح کا پہلو نکلتا ہے اس پر غور کرکے دونوں کی دلیلوں میں جو قوی تر دلیل ہو جو قیامت کے دن اللہ کے سامنے پیش کی جاسکتی ہے،اسے اختیار کریں۔
ارشاد ہوتا ہے: ( يَوْمَ تَأْتِي كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَن نَّفْسِهَا وَتُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ) (1)
ترجمہ:اس دن کو یاد کرو جس دن ہر شخص اپنی ذات کے بارے میں جھگڑنے کے لئے موجود ہوگا اور ہر شخص کو جو کچھ بھی اس نے کیا تھا پورا پورا بدلہ ملےگا اور ان پر کسی طرح کا ظلم نہیں کیا جائےگا۔
لیکن اگر نظام خلافت کی مذکورہ جہات سے شرعی تعریف ہی نہیں ہوسکے تو پھر ایسا نظام کس
-------------------
(1)سورہ نحل آیت:111
کام کا اس کے اندر یہ صلاحیت ہی نہیں ہے کہ وہ شیعہ نظریہ کے مقابلے میں رکھا جاسکے اور موازنہ کیا جاسکے پھر اس کی اسلامی تشریع بھی تو ناممکن ہے۔خلافت و امامت کا مسئلہ ایک شرعی مسئلہ ہے(اور اس موضوع کی تعریف اور اس کا تعارف اگر شریعت کی طرف سے نہیں کیا گیا ہے تو ایک اہم تریں موضوع سے چشم پوشی برتی گئی ہے بلکہ اپنے موضوع کو ناقص رکھا گیا ہے جس کا لگاؤ ملت کے مستقبل سے ہے،اگر ہم یہ مان لیں کہ خلافت اور امامت کا تعارف اور تعریف دین میں موجود نہیں ہے تو پھر مندرجہ ذیل خرابیاں سامنے آتی ہیں)(1)
1۔پہلی بات تو یہ ہے کہ دین ہی ناقص ہے اور شارع اقدس کی طرف سے ایک شرعی موضوع کی تعریف کی گئی اور نہ امت کے سامنے اس کی وضاحت کی گئی ہے اس لئے کہ امامت کے لئے کچھ شرعی احکام بھی وارد کئے ہیں۔
امامت ایک شرعی موضوع ہے اس کو ثابت کرنے کے لئے یہ ہم پہلے مان چکے ہیں کہ امام کا وجود واجب ہے امام کی اطاعت واجب ہے جو امام پر خروج کرے اس سے جنگ واجب یہ سب کیسے ادا ہوں گے؟اس کا مطلب یہ ہے کہ شارع اقدس نے اس موضوع کی وضاحت نہیں کی اور ظاہر ہے کہ یہ دین کا نقص ہے شریعت کی کمزوری ہے اور اسلام عظیم ان کمزوریوں سے پاک ہے بلکہ دین کو ناقص چھوڑ دنیا خدا کے اس قول کی مخالفت ہے کہ جس میں ارشاد ہوتا ہے: (أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا) (2)
ترجمہ:آج ہم نے تمہارے دن کو کامل کردیا اپنی نعمتیں تم پر تمام کیں اور تمہارے اسلام دین کو پسند کرلیا،یہ آیت بتارہی ہے کہ دین کامل ہوچکا ہے۔
2۔نظام سلطنت کے بارے میں شریعت کی خاموشی بہت سی مشکلات پیدا کرےگی مثلاً
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)مترجم
(2)سورہ مائدہ آیت3
نظام میں خلل،امامت کے مختلف دعویداروں کی سرکشی،خواہشات نفس کی طغیانی اور ان خرابیوں سے جو خرابیاں پیدا ہوں گی وہ بھی بے حد خطرناک ہیں،مثلاً مسلمانوں کی ہتک حرمت،فساد کا انتشار،جان اور مال کا ضائع ہونا(جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا ماحول پیدا ہوجائےگا)(مترجم)حلانکہ ملت اسلامیہ ان تمام بری حالتوں کو جھیل چکی ہے،اسلامی تاریخ کی کتابیں اس بات کی شاہد ہیں۔
اور کیا یہ ممکن ہے کہ اللہ اور اس کا رسولؐ دنیا کو ایک نظام حکومت بھی دےدے،خلافت کے منصب کا تعارف بھی کرادے اور خلیفہ کے معین کرنے کا طریقہ نہ بتائےجب کہ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے قوانین کو وضع کرنےوالے نظام سلطنت کی تشریع اور قوانین پر سب سے زیادہ توجہ دیتے ہیں تا کہ قانونی نقص سے محفوظ رہ سکتے پھر اللہ اور اس کا رسول اتنے اہم موضوع کو مہمل کیسے قرار دےگا جبکہ مذکورہ خرابیوں سے بچنے کا قانون نے ہت زیادہ اہتمام کیا ہے خاص طور سے حکومت اور خلافت کا اسلامی قانون میں ایک بلند مرتبہ ہے اور مقدس مقام ہے یہاں تک کہ مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ امام وقت کی معرفت ضروری ہے اور اس کی بیعت واجب ہے،جو بغیر معرفت امام کے مرجاتا ہے وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے جیسا کہ آنےوالے صفحات میں ہم عرض کریں گے مسلمانوں کا اس بات پر بھی اجماع ہے کہ امام کی طاعت واجب ہے اس کے خلاف خروج حرام ہے امام کے خلاف خروج کرنےوالا باغی ہے اور مسلمانوں پر واجب ہے کہ ایسے شخص سے جنگ کریں۔
سرکار حجۃ بن الحسن العسکری المہدیؑ کے سلسلے میں مذہب شیعہ کی حقانیت پر چند دلیلیں
اب ہم امام مہدی علیہ السلام کی طرف واپس آتے ہیں عرض ہے کہ مہدی کی امامت خود ہی وجود مہدی کا مطالبہ کرتی ہے اور اگر چہ حضرتؑ کی ذات گرامی،عمارت امامت کی آخری انیٹ ہے گویا کہ رسالہ امامت کا وہ آخری حصہ ہے جہاں پر مہر لگائی جاتی ہے،پہلے بھی عرض کیا جاچکا ہے کہ شیعوں
کے پاس نظام امامت کی ٹھوس واضح اور مظبوط دلیلیں کثرت سے موجود ہیں لیکن یہی دو باتوں پر توجہ دلائی جارہی ہے،پہلے حضرت حجۃؑ کا وجود اور دوسرے آپ کی امامت عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف۔
امام کی معرفت واجب ہے اور اس کے حکم کو بھی ماننا واجب ہے
حضور سرکار کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے بہت سی حدیثیں وارد ہیں۔جو اپنے زمانے کے امام کی معرفت کے بغیر مرجائے وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔(1) جو بغیر امام کے مرجائے وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔(2) جو اس حال میں مرجائے کہ کسی امام کی امامت میں نہ ہو وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے(3) جو کسی امام کی امامت میں نہ مرے وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔(4)
جو مرجائے اور اس کی گردن میں کسی کی بیعت نہ ہو وہ جاہلیت کی موت مرتا ہے۔(5)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)ینابیع المودۃ ج:3ص:372،طبقات الحنیفۃ ص:457
(2)مسند احمدج:4ص:96،معاویہ ابن ابی سفیان کی حدیث میں،حلیۃ الاولیاءج:3ص:224زید بن اسلم کے حالات میں،معجم الکبیرج:19ص:388،جس میں شریح بن عبید نے معاویہ سے روایت کی ہے مسند الشامین ج:2ص:438،ضمضم میں شریح بن عبید،مجمع الزوائدج:5ص:218،کتاب الخلافۃ،لزوم جماعت اور طاعت ائمہ اور ان سے قتال کے نہی ہونے کے بارے میں
(3)السنۃ بن ابی عاصم ج:1ص:503،امیر کے وقار و عزت کے فضل کے باب میں،مسند ابی یعلی ج:13ص:366معاویہ بن ابی سفیان کی حدیث میں
(4)مجمع الزوائدج:5ص:224،کتاب الخلافۃ،لوگوں کے ساتھ رہنے اور امت سے خروج اور اس کے قتال کی نہی کے باب میں،مجروحین ج:1ص:286،حلیج بن دعلج کے حالات میں
(5)صحیح مسلم ج:3ص:1478،کتاب الامارۃ:باب وجوب ملازمت جماعت مسلمین،سنن الکبریٰ بیہقی ج:8ص:156،کتاب قتال اہل بغی،جماع ابواب الرعاۃ باب الترغیب،تفسیر ابن کثیرج:1ص:158،آیت:59،کی تفسیر میں سورہ آل عمران،مجمع الزوائدج:5ص:218،کتاب خلافت باب لزوم جماعت و اطاعت ائمہ اور نہی قتال کے بارے میں،کبائر للذھبی ص:169،السنۃ ابن ابی عاصم ج:2ص:514باب عزت و توقیر امیر کے بارے میں معجم الکبیرج:19ص:334،اور اسی طرح یہ روایت شیعہ مصادر میں بھی وارد ہوئی ہے،کافی جؒ:1ص:376،کتاب حجت باب من مات و لیس من ائمۃ الہدی،حدیث1۔2۔3،ص:378کتاب حجت:باب مایجب علی الناس عند مضٰی الامام حدیث2 اور ص:180کتاب حجت باب معرفت امام ص:374،کتاب حجت باب من دان اللہ عز و جل بغیر امام من اللہ،بحارالانوارج:23،ص:76۔95باب معرفت امام
اس طرح کی بہت سی حدیثیں ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ کوئی بھی زمانہ امام سے خالی نہیں ہے،ہر دور میں ایک امام موجود رہتا ہے جس کی اطاعت لوگوں پر واجب ہوتی ہے اس لئے کہ اس کی امامت،شرعی اصولوں پر ہوتی ہے اس سلسلے میں خداوند عالم کا یہ قول بھی ہے کہ: (يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ) (1)
ترجمہ:قیامت کے دن ہم لوگوں کو ان کے امام کے ساتھ پکاریں گے۔
حالانکہ کچھ لوگوں نے اس آیت میں امام سے نبی مراد لیا ہے،یعنی ہر امت اپنے اپنے نبی کے ساتھ بلائی جائےگی،لیکن امام کا اطلاق نبی کے لئے آیت کے ظاہر معنی کے خلاف ہے اس لئے کہ عرف عام میں امام اس کو کہتے ہیں جو دینی اور دنیاوی امور مٰں ان کی امامت کرتا ہے اور لوگ اسی کی اطاعت کرتے ہیں جبکہ نبی اپنے زمانے میں اپنی امت کا امام ہوتا ہے نبی کے مرنے کے بعد دوسرا نبی آتا ہے جو امت کا امام اور قابل پیروی ہوتا ہے،آیت میں امام تذکرہ ہے حدیث میں بھی امام کا تذکرہ ہے اس لئے سب سے بہتر یہ ہے کہ یہ مان لیا جائے کہ حدیثیں آیت کی تشریح کررہی ہیں اور امام سے وقت کا امام مراد ہے اگر اس بات کو نہ بھی مانا جائے تو جن حدیثوں کو پیش کیا گیا ہے وہ بہرحال اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ کوئی بھی زمانہ امام سے خالی نہیں ہے،ایسا امام جس کی بیعت لوگوں پر واجب ہے اس لئے کہ اس کی امامت شرعی ہے اور یہی حدیثیں اور آیتیں اس بات کی شہادت دیتی ہیں کہ مذہب شیعہ کا قول بالکل صحیح ہے کہ امام مقرر کرنا اللہ کی ذمہ داری ہے اور امام کو منصوص من اللہ ہونا چاہئیے امام اس بات کا ہرگز محتاج نہیں ہے کہ لوگ اس کو امام مانیں اور اس کی بیعت کریں اور اطاعت کریں اس لئے کہ وہ اللہ کی طرف سے امام بنایا گیا ہے،گذشتہ صدی میں تو یہ بات بالکل واضح ہوگئی اس لئے کہ1342کے بعد اہل سنت نے اپنا بنایا اور اس کی بیعت کرنا بالکل چھوڑ دیا،اس لئے کہ مذکورہ سال میں ترکستان میں خلافت عثمانیہ ساقط ہوگئی،(اب اس دور میں
------------------
(1)سورہ اسراء:آیت:71
کوئی خلیفہ یا امام موجود نہیں ہے تو پھر مذکورہ حدیثوں کے مطابق کیا مسلمان جاہلیت کی موت مررہے ہیں مترجم)جبکہ حدیثیں کہتی ہیں کہ ہر دور میں اور اس دور میں بھی ایک امام ہے جو واجب الطاعۃ ہے ماننا پڑےگا کہ امام موجود ہے اور وہی امام مہدی ہیں اس لئے کہ اس دور میں ہم دونوں ہی کے پاس سوائے امام مہدی کے کوئی امام نہیں ہے اور نہ کسی کی امامت کا احتمال ہے۔
بارہ امام قریش سے ہیں
2۔سرکار دو عالم سے کثیر تعداد میں ایسی حدیثیں وارد ہوئی ہیں کہ جن میں اس امت کے اماموں کو شمار کیا گیا ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ امام سارے کے سارے قریشی ہیں۔یہ حدیثیں بہت سے طریقوں سے مروی ہیں،جن کو اکثر اہل سنت نے صحیح قرار دیا ہے بلکہ بغوی تو کہتے ہیں کہ یہ حدیثیں متفق علیہ ہیں۔(1)
لطف کی یہ بات یہ ہے کہ یہ ساری حدیثیں مذہب امامیہ کے عقیدے کے مطابق ہیں،اس لئے کہ شعیوں کے نزدیک بارہ امام ہیں جن کے پہلے مولائے کائنات امیرالمومنین علیؑ ہیں اور آخری امام مہدی منتظر عجل اللہ فرجہ،مری سمجھ میں کوئی وجہ نہیں ہے کہ ان حدیثوں سے آئمہ اہل بیت کو مراد نہ لیا جائے،اگر کوئی وجہ سمجھ میں آتی ہے تو اہل سنت کا امامت کے بارے میں وہ عقیدہ ہے جس میں خلافت کو شرعی حیثیت دینے کی کوشش کی ہے لیکن ان کے بنائے ہوئے خلفا کی حرکتوں نے ان کی دلیلوں کا تیاپانچہ کردیا ہے چونکہ ان کے خلفا کے کردار مذکورہ حدیثوں کےمطابق نہیں تھے اس لئے انہوں نے حدیثوں کی توجیہ کی اور پھر اس توجیہ پر باقی نہیں رہے،بعض حضرات نے تو ایسی توجیہات کی ہیں جن کی کمزوری روز روشن ظاہر ہے۔(2)
انہوں نے زبردستی اور ہٹ دھرمی سے اپنی بات کو ثابت کرنا چاہا ہے حالانکہ منطق کا تقاضا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)شرح السنۃ ج:15ص:30۔31،دلیل متحرین فی بیان الناجین ص:226سے نقل کیا گیا ہے
(2)فتح الباری ج:13ص:211۔215
ہے کہ واقعات کو دلیل کے مطابق ہونا چاہئیے،حیثیت طے کرنی چاہئیے اس لئے کہ امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے((حق کو پہچانو اہل حق سمجھ میں آجائیں گے))پھر دلیلوں کو توڑ مروڑ کر واقعات کے مطابق کرنا اور واقعات کے ہاتھ میں دلیل کا فیصلہ دے کے ان واقعات کو صحیح ثابت کرنے کے لئے دلیلوں کی توجیہ کرنا بے معنی بات ہے،مذہب شیعہ کا عقیدہ امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں جو کچھ ہے اس کی صحت پر دلیل دینے میں بس اسی منزل پر اکتفا کی جاتی ہے۔
جب امامت کے مباحث میں گفتگو کی جائےگی اور شیعہ دلیلیں اس سلسلے میں پیش کی جائیں گی تو باقی باتیں بھی ہوجائیں گی خاص طور سے ابھی سرکار حجۃ بن العسکری المہدیؑ کے بارے میں بہت سی باتیں رہ گئی ہیں،اسی لئے شیعوں نے حضرت حجۃؑ کے موضوع پر بہت زیادہ گفتگو کی ہے یہاں تک کہ بعض علما نے تو اس موضوع پر مستقل کتابیں لکھی ہیں،جو چاہتا ہے کہ حقیقت کا پتہ چلائے اور اللہ کے سامنے مسئولیت سے بچے،اس کو چاہئیے کہ ان کتابوں کا مطالعہ کرے اور ان کو پڑھ کر غور و فکر کرے اس لئے کہ خدا کی طرف سے توفیق ملتی ہے اور اسی کی طرف سے ودیعت ہوتی ہے۔
سوال نمبر۔5
نصب امام کے سلسلے میں شیعہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ خدا پر واجب ہے کہ وہ بندوں پر لطف و کرم کرے اور لوگوں کے درمیان عدل کا جاری رہنا اس کا لطف ہے اور یہ عدل امام کے ذریعہ ہی قائم ہوسکتا ہے اس لئے خدا پر واجب ہے کہ وہ نصب امام کرے لیکن آج کے دور میں جبکہ لوگوں کے درمیان کوئی امام عادل نہیں ہے کیا یہ دلیل صحیح نہیں ہوجاتی؟(یعنی امام عادل نہیں اور عدل لطف الہی ہے تو اب دنیا لطف الہی سے محروم ہے)
جواب:سب سے پہلے ضروری ہے کہ لطف الہی کی تشریح کردی جائے وہ لطف الہی جس کی بنیاد پر شیعہ کہتے ہیں کہ نصب امام خدائے متعال پر واجب ہے۔
پہلے یہ عرض کردای جائے کہ لطف الہی سے کیا مراد ہے؟پھر اس دلیل کے بارے میں طے کیا جائے کہ دلیل ابطال کے لائق ہے یا نہیں؟
لطف الہی کے قائد کی شرح اور اس کی تعریف
عالم بشریت کے لئے لطف الہی کے قائدہ کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ انسان ذاتی طور پر ناقص ہے اپنے اچھے برے کو نہٰں جانتا فساد،شر اور ظلم سے معصوم نہیں ہے بلکہ کبھی کبھی صلاح و فساد کے
درمیان تنازع ہوتا ہے خیر و شر،ظلم و عدل کو نہیں سمجھتا اس لئے ایک امام معصوم کا بہرحال محتاج ہے جو عالم انسانیت کو خیر و عدل پر جمع کرسکے اور شر و فساد و ظلم سے دور رکھے،خدا کی حکمت اور اس کی رحمت کا تقاضہ یہ ہےکہ وہ بندوں پر رحم کرے،اس کے لئے ضروری ہے کہ خدا ایک امام معصوم کو منصوب کرے اور پھر ٹھوس دلیلوں اور وضح نشانیوں کے ساتھ عوام کے سامنے اس امام کو معارف کرے شاید اسی کی طرف قدرت کا اشارہ ہے۔
ارشاد ہوتا ہے کہ: (وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ إِذْ قَالُوا مَا أَنزَلَ اللَّهُ عَلَىٰ بَشَرٍ مِّن شَيْءٍ) (1)
ترجمہ:انہوں نے خدا کی جس میں قدر چاہئیے تھی نہیں کہ جب وہ کہتے ہیں کہ اللہ نے بشر پر کچھ نہیں نازل کیا۔
چونکہ انسان ہر دور میں ہدایت کا محتاج ہے اس لئے کہ وہ ہر وقت ناقص ہے اس لئے امام کا وجود ہر دور میں ضروری ہے اور امام کی ضرورت نبیؐ کے ذریعہ پوری نہیں ہوسکتی اس لئے کہ نبیؐ تو اپنے دور کا امام ہوگا لیکن نبیؐ کی وفات کے بعد ضرورت باقی رہےگی اور ضرورتوں کو پورا کرنےوالا مفقود ہوگا،ایسی صورت میں نبیؐ کے بعد امت میں اختلاف پیدا ہوجائےگا شر و فساد پیدا ہوجائیں گے اور امت کے کچھ لوگ اللہ کی اطاعت سے خروج کا اعلان کردیں گے دین کے علوم ضائع ہوں گے اور امت انتشار کا شکار ہوجائےگی لطف الہی کے قاعدہ کا یہی فائدہ ہے کہ عوام کی شرعی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے امام کا ہونا ضروری ہے اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ پھر امام کو تسلط و اختیار حاصل ہونا چاہئے اور زمانہ کا اقتدار امام کے ہاتھوں میں کردینا خدا کے اوپر واجب ہے کہ وہ بندوں کو امام کا حکم ماننے پر اس کے سامنے سر جھکانے پر مجبور کرے اس لئے کہ یہ صورت حال تو بہت کم حاصل ہوتی ہے اور ظاہر ہے کہ تاریخ کے ان مختصر زمانوں کو مقام مثال میں پیش نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس مطلب یہ ہے کہ خدا کے اوپر نصب امام واجب ہے تا کہ انسان کی نفسانی کمزوریوں کے علاج کا ایک ذریعہ موجود رہے اور وہ امام وقت سے متعارف رہیں تا کہ ان پر واجب حجت تمام کی جاسکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ انعام آیت:91
(لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَيَّ عَن بَيِّنَةٍ)(1)
ترجمہ:جو ہلاک ہو دلیل کی بنیاد پر ہلاک ہو اور جو زندہ رہے وہ دلیل کی بنیاد پر زندہ رہے۔
پھر اس کے بعد عوام کو اختیار ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے منصوب امام کو مانے یا نہ مانے اگر لوگ خدا کی نعمت کا شکریہ ادا کرکے امام کی اطاعت کرتے ہیں تو ان کے امور کی اصلاح ہوجائےگی اور ان کے درمیان خیر و عدل عام ہوجائےگا جیسا کہ خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے کہ: ( وَلَوْ أَنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأَدْخَلْنَاهُمْ جَنَّاتِ النَّعِيمِ-وَلَوْ أَنَّهُمْ أَقَامُوا التَّوْرَاةَ وَالْإِنجِيلَ وَمَا أُنزِلَ إِلَيْهِم مِّن رَّبِّهِمْ لَأَكَلُوا مِن فَوْقِهِمْ وَمِن تَحْتِ أَرْجُلِهِم مِّنْهُمْ أُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌوَ كَثِيرٌ مِّنْهُمْ سَاءَ مَا يَعْمَلُونَ) (2)
ترجمہ:اور اہل کتاب ایمان لاتے اور(ہم سے)ڈرتے تو ہم ضرور ان کے گناہوں سے درگذر کرتے اور ان کو نعمت و آرام(بہشت)کے باغوں میں پہنچادیتے اور یہ لوگ تو ریت اور انجیل اور جو(صحفے)ان کے پاس ان کے پروردگار کی طرف سے نازل کئے گئے تھے(ان کے احکام کو)قائم رکھتے تو ضرور(ان کے)اوپر سے بھی(رزق برس پڑتا)اور پاؤں کے نیچے سے بھی(ابل آتا اور یہ خوب چین سے)کھاتے ان میں سے کچھ لوگ تو اعتدال پر ہیں،مگر ان میں کے بہتر جو کچھ کرتے ہیں برا ہی کرتے ہیں۔
اگر مسلمان خدا کا کفران نعمت کرتے ہیں اور امام وقت کی مخالفت کرتے ہیں تو ظاہر ہے کہ انہیں اپنے اعمال کا مزہ چھکنا پڑےگا اور ان کے درمیان ظلم و فساد عام ہوجائےگا اس لئے کہ خدا فرماتا ہے:( مَّا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّهِ وَمَا أَصَابَكَ مِن سَيِّئَةٍ فَمِن نَّفْسِكَ) (3)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ انفال آیت:42(2)سورہ مائدہ آیت:65۔66
(3)سورہ نساءآیت:79
ترجمہ:تمہیں جو اچھائیاں ملتی ہیں وہ اللہ کی طرف سے ہیں اور تم جو برائیاں جھیلتے ہو یہ تمہارے نفس کے اعمال کا نتیجہ ہے.
اللہ پر کوئی حجت نہیں ہے اس لئے کہ اس نے عوام پر لطف و کرم کیا تھا کہ امام مقرر کردیا اور سیدھے راستے کی ہدایت کردی اب یہ ان کی غلطی تھی کہ انہوں نے خدا کے معین کردہ امام کو چھوڑ کر اپنی طرف سے ایک ایک امام بنالیا اور اپنی غلطیوں کا ذمہ دار بھی اس کو ٹھرادیا اور اپنے گناہ بھی اسی پر لاد دیئے۔
خداوند عالم اگر اسی گمراہی میں بندوں کو چھوڑ دے یعنی ان کے لئے کوئی ایسا امام نہ بنائے جو ان کے درمیان ہدایت کرنےوالا ہے اور ان کے حالات کے مطابق انہیں ہدایت پر مضبوطی سے قائم رکھنےوالا ہے تو یہ بندوں کی حق تلفی ہوگی اور اللہ کے لطف کے خلاف ہوگا عوام کی ہدایت و اصلاح کے لئے ان کو شریعت کی طرف متوجہ کرنے کا ذریعہ ناکافی ہوگا بلکہ بندے خدا پر حجت قائم کردیں گے کہ ہماری ہدایت کا انتظام نہیں کیا گیا اور اللہ ان باتوں سے بہت بلند ہے اس لئے کہ خداوند اپنی کتاب پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
وَهَـذَا كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ مُبَارَكٌ فَاتَّبِعُوهُ وَاتَّقُواْ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ 0أَن تَقُولُواْ إِنَّمَا أُنزِلَ الْكِتَابُ عَلَى طَآئِفَتَيْنِ مِن قَبْلِنَا وَإِن كُنَّا عَن دِرَاسَتِهِمْ لَغَافِلِينَ 0أَوْ تَقُولُواْ لَوْ أَنَّا أُنزِلَ عَلَيْنَا الْكِتَابُ لَكُنَّا أَهْدَى مِنْهُمْ فَقَدْ جَاءكُم بَيِّنَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَهُدًى وَرَحْمَةٌ فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّن كَذَّبَ بِآيَاتِ اللّهِ وَصَدَفَ عَنْهَا سَنَجْزِي الَّذِينَ يَصْدِفُونَ عَنْ آيَاتِنَا سُوءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُواْ يَصْدِفُونَ(1)
ترجمہ:ہم نے اس کتاب مبارک کو نازل کیا پس تم اس کی پیروی کرو اور پرہیزگار بنوتا کہ تم پر رحم کیا جائے(تا کہ تم یہ نہ کہہ سکو)کتاب ہمارے پہلے دو گروہوں(یہود و نصاری)پر نازل کی گئی مگر یہ کہ ہم انکی تعلیمات سے غافل رہے یا یہ(نہ کہو)کہ وہ کتابیں ہم پر نازل ہوتیں تو ہم ان سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے اب تو تہمارے پروردگار کی طرف سے خود ہی دلیل آگئی اور ہدایت و رحمت بھی..
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ انعام آیت155۔156۔157
(تو قاعدہ لطف)امامت کے معاملے میں بھی اس طرح جاری ہے جس طرح دوسرے احکام کے بارے میں جیسے واجبات،محرمات اور آداب و غیرہ میں۔
قائدہ لطف کا تقاضہ یہ ہے کہ چونکہ لوگ اپنی جہالت اور محتاجی کی بنیاد پر قاصر ہیں اس لئے اللہ پر واجب ہے کہ ان پر لطف و کرم کرے ان کے لئے ایک ایسا نظام وضع کردے جن سے ان کے امور کی اصلاح ہوجائے ان کے معاد و معاش اور خود خدا سے رابطہ اور ان کی آپسی معاشرت کو قانونی حیثیت مل جائے لیکن قاعدہ لطف اس بات کا تقاضہ نہیں کرتا کہ اللہ اس قانون کو نافذ کرنے کے لئے مناسب ماحول بھی تیار کرے اور ان پر زبردستی ان کے احکام لادے،تا کہ وہ خیر و صلاح کے راستے میں کامیاب ہوسکیں اور شر و فساد سے دور رہ سکیں بلکہ خدا پر صرف یہ واجب ہے کہ وہ ایسے احکام جو بندوں کے لئے صالح ہوں ان کا ایک نظام ان کے سامنے رکھ دے جبکہ اس نظام کو اختیار کرنے کا حق بندوں کو دےدے جس کی طرف سورہ دہر کی ابتدائی آیت میں۔
ارشارہ کیا ہے:(إِنَّا هَدَيْنَاهُ السَّبِيلَ إِمَّا شَاكِرًا وَإِمَّا كَفُورًا) (1)
ترجمہ:ہم نے اس کو راستہ دکھا دیا اب چاہے وہ شکر کرے چاہے وہ کفران نعمت کرے۔
پس جو خدا کی اطاعت کرےگا اور اور ان احکام پر عمل کرےگا وہ کامیاب اور خوش بخت ہوگا اور جو نافرمانی کرےگا اور ان احکام سے منہ موڑ لےگا وہ بدبخت اور نقصان اٹھانےوالوں میں ہوگا اور اس کی خدا پر کوئی حجت نہیں ہے۔
لطف الہی کا اصول صرف مذہب امامیہ کا نظریہ ماننے پر ہی ٹوٹےگا
میں نے لطف الہی کے اصول کی وضاحت کردی اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ صرف امامیہ مذہب کے قائل ہونے پر ہی اس اصول کو مانا جاسکتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ انسان آیت:3
اس لئے کہ اس دور میں بھی شیعہ فرقہ بارہویں امام کے وجود کا قائل ہے جو حضرت حجت ابن الحسن صلوۃ اللہ علیہ کی ذات مقدس ہے الحمداللہ وہ بالفعل موجود ہیں اور اپنی ذمہ داریاں پوری کررہے ہیں آپؐ جسمانی اعتبار سے موجود ہیں اور اپنی قدرت کا استعمال کررہے ہیں،بلکہ آپ کا وجود مبارک قاعدہ لطف الہی پر ایک ٹھوس دلیل ہے۔
کوئی یہ نہ سمجھے کہ جب آپؐ کو سلطنت او اقتدار ہی حاصل نہیں ہے اور آپؐ اس دور میں عدالت قائم ہوگا جب دنیا چاہےگی اور اس کی ضرورت محسوس کرےگی،اس سے آپؐ کی امامت پر نہیں فرق آتا اور نہ خدا چاہےگی اور اس کی ضرورت محسوس کرےگی،اس سے آپؐ کی امامت پر نہیں فرق آتا اور نہ خدا کے فضل اور اس کی تشریع میں کوئی کمی ثابت ہوتی ہے بلکہ آپ کی حالت آپؐ کے آباء کرام علیہم السلام سے مختلف نہیں ہے جن کی سلطنت اور اقتدار کے درمیان اس دور کے ظالم لوگ حائل ہوگئے اور انھیں امور کی قیادت اور لوگوں کے درمیان عدالت قائم کرنے سے روک دیا،بلکہ آپؐ کے حالات اور اکثر انبیاء کے حالات ملتے جلتے ہیں،اس لئے کہ حضور بھی عام عالم انسانیت کے درمیان عدالت کا نفاذ نہیں کرپائے اس لئے کہ آپؑ کی عمر نے وفا نہیں کی امام مہدی کی غیبت اور آپؑ کی امامت پر کوئی الزام نہیں آتا نہ یہ کہ آپؑ ایسے امام ہیں جو امامت کی ذمہ داریاں پوری کرنے سے قاصر ہیں اور نہ قائدہ لطف الہی پر کوئی الزام آتا ہے بلکہ آپؑ کی امامت میں اور بر سر اقتدار آنے میں سب سے بڑی رکاوٹ وہ ماحول ہے جو آپؑ کے اردگرد پایا جاتا ہے۔
وہ ماحول جس کا نتیجہ فاسد سماج اور ظالم حکومتوں کا قیام ہے دوسری رکاوٹ خود عالم انسانیت کی غیر ذمہ داری ہے کہ انسان اس فرض اطاعت کو ادا نہیں کرتا ہے جو حق ہے اور اللہ جسے چاہتا ہے بلکہ ہوں سمجھ لیجئے کہ جس طرح آپؑ کے آباء طاہرین جناب ابوابراہیمؑ،حضرت موسیؑ بن جعفر الکاظم علیہ السلام،ابوالحسینؑ علی ابن محمد الہادی النقی علیہ السالم اور ابومحمد العسکری علیہ السلام نے قیدخانے میں زندگی گذاری اسی طرح آپؑ غیبت میں زندگی گذار رہے ہیں مذکورہ حضرات میں اور آپؑ کی
غیبت میں اگر فرق ہے تو بس اتنا کہ وہ حضرات جبری طور پر ظالموں کی قید میں ڈال دئیے گئے تھے آپؑ نے ظالموں کی طرف سے خوف جان کی وجہ سے غیبت اختیار کررکھی ہے ابھی ماحول آپؑ کے ظہوار کے لئے سازگار نہیں ہے اور آپؑ کی غیبت کی دوسری مصلحتیں بھی ہیں،جن کا علم اللہ کو ہے یعنی غیبت میں آپؑ کی امامت کا قصور نہیں ہے بلکہ خدا کی مصلحت کا تقاضہ ہے،جس دن یہ اسباب ختم ہوجائیں گے اس دن آپؑ انشاءاللہ ظاہر ہوں گے اور لوگوں سے اپنے نفس کو پوشیدہ نہیں کریں گے پھر آپؑ کی امامت اپنے فرائض کو جو اللہ کی طرف سے عائد کئے گئے ہیں اور مقام سلطنت میں حاصل ہوں گے پورا کرنے میں کوتاہی نہیں کرےگی،آپؑ کے اندر عدل و انصاف کو قائم کریں گے اور تمام امور کو اپنے طور پر جاری کریں گے(انشاءاللہ تعالی)
حاصل کلام یہ ہےکہ آپؑ کی اور آپؑ کے آبائے طاہرین علیہم السلام کی امامت کی شرعی حیثیت قائدہ لطف الہی کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے،بالفعل جو عدل و انصاف آپؑ کی طرف سے نہیں قائم ہو پارہا ہے وہ اس لئے کہ انسانی سماج آپؑ کی امامت کے مزاج کے مطابق نہیں ہے آپؑ کی امامت کے قیام میں جو رکاوٹیں وہ لوگوں کی تقصیر اور مداخلت بےجا کا نتیجہ ہیں جو پہلے بھی عرض کیا جاچکا ہے قاعدہ لطف الہی ان موانع کو دور کرنے کا ذمہ دار نہیں ہے۔
جب آپ کے سامنے ساری باتیں رکھ دی گئیں تو پھر آپ اپنے اس قول پر غور کریں(کیا اس زمانے کے امام کا عدل سے خالی ہونا قاعدہ لطف الہی سے نہیں ٹکراتا)اگر امام کو غیر موجود سمجھتے ہیں کہ خدا کی طرف سے ابھی کوئی اور یہ زمانہ یا کوئی بھی زمانہ امام سے خالی نہیں ہے لہذا قاعہ لطف نہ ٹوٹتا ہے اور نہ باطل ہوتا ہے اور اگر امام کے غیر موجود ہونے سے آپ کی یہ مراد ہے کہ امام کو نہ سلطنت و اقتدار ہے اور نہ اقامہ عدل ہورہا ہے تو یہ قاعدہ لطف الہی کے منافی نہیں ہے کیونکہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ امام صالح کی امامت میں عدل کو قائم کرنے کے لئے ماحول کا سازگار ہونا ضروری ہے اور سلطنت کا حاصل نہ ہونا بالفعل اقامہ عدل میں بڑی رکاوٹ ہے اور شیعوں کا لطف الہی کی بنیاد پر امامت کا استدلال کسی بھی طرح ساقط نہیں ہوتا۔
سوال نمبر۔6
حدیث عترت سے مولا علیؑ کی امامت کا وجود کیسے ثابت ہوسکتا ہے؟کیا ممکن ہے کہ حدیث عترت سے سمجھا جائے کہ سرکار صحابہ کو اہل بیتؑ کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کررہے ہوں اور صحابہ کو اہل بیتؑ کی طرف متوجہ کررہے ہوں اور اس حدیث کو خلافت پر نس نہ سمجھا جائے؟
جواب:آپ کے اس سوال کے جواب میں کچھ امور پیش کئے جارہے ہیں جو ایک دوسرے پر مرتب ہیں۔
1۔عرض ہے کہ یہ حدیث کثیر طریقوں سے اور قریب المعنی الفاظ کے ساتھ وارد ہوئی ہے حضور سرور کائناتؐ نے اس حدیث کو مختلف موقعوں پر ارشاد فرمایا ہے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اس منزل میں موقعہ پر کچھ ثبوت پیش کروں جن کے ذریعہ یہ حدیث وارد ہوئی ہے اور جو بعض طریقوں سے شامل ہیں تا کہ مجھے اپنی بات ثابت کرنے میں آسانی ہو۔
حدیث ثقلین کے کچھ متن حاضر ہیں
الف:جابر بن عبداللہ انصاری سے روایت ہے کہ ایام حج میں عرفہ کے دن میں نے سرکار کو خطبہ دیتے ہوئے سنا اس وقت آپ اپنے ناقہ پر سوار تھے اور میں نے سنا کہ حضورؐ فرما رہے تھے اے لوگو!میں تمہارے درمیان چھوڑ دی ہیں اللہ کی کتاب اور میری عترت(اہل بیتؑ)جس کو پکڑے رہوگے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے۔(1)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سنن ترمذی،ج:5،ص:662،کتاب مناقب،باب مناقب اہل بیتؑ نبیؐ
ب:زید بن ارقم اور ابوسعید کہتے ہیں کہ حضورؐ نے فرمایا:میں تمہارے درمیان دوچیزیں چھوڑے جارہا ہوں کہ جب تک تم ان سے تمسک رکھوگے ہرگز گمراہ نہیں ہوگے ان میں ہر ایک،ایک،دوسرے سے عظیم تر ہے اللہ کی کتاب ایک ایسی رسی ہے جو آسمان سے زمین تک پھیلی ہوئی ہے اور میری عترت جو میرے اہلبیتؑ ہوئے ہیں اور یہ دونوں ہرگز جدا نہیں ہوں گے،یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملیں گے پھر دیکھو کو میرے بعد تم ان کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو...؟(1)
ج:زید بن ارقم سے روایت ہے کہ حضور ہادی برحق مکہ اور مدینہ کے درمیان اس جگہ اترے جہاں پانچ بڑے اور سایہ دار درخت ہیں۔لوگوں نے درخت کے نیچے جھاڑو دیکر صاف کردیا پھر سرکارؐ نے وہاں رات کو قیام کیا اور عشا کی نماز پڑھی،پھر آپ خطبہ دینے کھڑے ہوئے،آپؑ نے خدا کی حمد و ثنا کی اور جب تک خدا نے چاہا وعظ و پند اور ذکر و تذکر کرتے رہے پھر فرمایا لوگو!میں تمہارے درمیان دو امر چھوڑ کے جارہا ہوں جب تک تم ان دونوں کی پیروی کرتے رہوگے ہرگز گمراہ نہیں ہوگے وہ دو امر کتاب خدا اور میرے اہل بیتؑ میری عترت ہیں۔(2)
د:ابوسعید خدی نبیؐ سے روایت کرتے ہیں کہ حضورؐ نے فرمایا مجھے لگتا ہے کہ خدا کی طرف سے مجھے بلایا جائے گا اور میں جواب دوں گا(میں وفات پا جاؤں گا)اس لئے میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں خدائے عز و جل کی کتاب اور میری عترت اہل بیتؑ۔
کتاب خدا ایک ایسی رسی ہے جو آسمان سے زمین تک پھیلی ہوئی ہے۔
لطیف و خبیر خدا نے خبر دی ہے کہ یہ دونوں بھی ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں پر تم غور کرو کہ میرے بعد ان کے ساتھ تم کیا سلوک کرتے ہو۔؟(3)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سنن ترمذی ج:5،ص:663،کتاب مناقب،باب اہل بیت نبیؐ
(2)مستدرک علی صحیحن،ج:3،ص:618،کتاب معرفت صحابہ میں مناقب امیرالمومنین علی بن ابی طالبؑ
(3) مسند احمد،ج:2،ص:18،مسند ابی سعد خدری میں،طبقات کبریٰ،ج:2،ص:194،میں جس میں رسولؐ کی وفات کے قریب کی چیزیں ذکر ہوئی ہیں------ ھ:زید بن ثابت سے روایت ہے کہ حضورؐ نے فرمایا!میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں ایک اللہ کی کتاب((جو آسمان سےزمین تک پھیلی ہوئی رسی ہے))اور دوسرے میری عترت،میرے اہل بیتؑ اور یہ دونوں بھی ہرگز جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے۔(1) ----و:ابوسعید خدری کہتے ہیں کہ سرکارؐ نے فرمایا میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوں جب تک تم ان دونوں کو پکڑے رہوگے ہرگز گمراہ نہیں ہوگے ان میں ہر ایک،ایک دوسرے سے بڑی ہے ایک اللہ کی کتاب((جو آسمان سے زمین تک پھیلی ہوئی ہے))اور دوسرے میری عترت اہل بیتؑ اور سنو یہ دونوں کبھی بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کریں گے،(2) یہ وہ قریب المعنی الفاظ ہیں جن میں یہ حدیث،بہت ساری مشہور و معروف کتابوں میں وارد ہوئی ہے۔(3)
حدیث ثقلین دلالت کرتی ہے کہ عترتؑ کی اطاعت واجب ہے
2۔متن حدیث کے الفاظ میں کوئی گنجائش نہیں چھوڑی گئی ہے کہ حدیث کو محض ایک وصیت سمجھا جائے جس میں سرکارؐ اہل بیتؑ کی محبت،ان کا احترام،ان کی تعظیم،ان کی طرف نگاہ توجہ اور ان کے حقوق کی رعایت کا حکم دےرہے ہیں بلکہ حدیث کے الفاظ پکار رہے ہیں کہ نبیؐ و اہل بیتؑ کی اطاعت اور ان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)مسند احمد،ج:5،ص:181۔189،حدیث زید بن ثابت میں جو نبیؐ سے نقل کی ہے(2)مسند احمد،ج:3،ص:59،مسند ابی سعید خدری کے مسند میں
(3)تفسیر ابن کثیرج:4،ص:114،مجمع الزوائدج:9،ص:162۔165،کتاب مناقب اہل بیتؑ،سنن کبریٰ نسائی،ج:5،ص:45،مصنف بن شیبہ،ج:6،ص:309،کتاب الفضائل باب مااعطی اللہ محمد معجم الاوسط،ج:3،ص:374،معجم صغیر،ج:1،ص:226،مسند ابی یعلی ج:2ص:297،مسند ابی الجعدج:1ص:397،سنۃ ابن ابی عاصم ج:2ص:351،باب ما ذکر عن النبیؐ انہ و عد من تمسک بامرہ و رود حوضہ و نوادر الاصول فی احادیث الرسول،ج:1ص:258،الاصل الحمسون فی الاعتصام بالکتاب والعترۃ،سیرہ اعلام النبلاءج:9ص:365،حالات ہارون بن یزید میں
کے اتباع کا حکم دےرہے ہیں دیکھئے قابل الذکر معنی پر محمول کرنے کے مندرجہ ذیل اسباب ہیں:
الف:اکثر متون حدیث سے ظاہر ہے کہ جب سرکار کو اپنی وفات کے دن قریب ہونے کا احساس ہوا تو آپؐ نے یہ حدیث امت کے سامنے پیش فرمائی،اگر ان حدیثوں سے مقصد یہ تھا کہ امت اہل بیتؑ سے محبت کرھے اور ان کا احترام کرے تو پھر اس کی ہدایت مخصوص وقت میں کیوں فرمائی،کیا حضورؐ کی زندگی میں اہل بیتؑ سے محبت اور ان حضرات کا احترام ضروری نہیں تھا ماننا پڑےگا کہ ان الفاظ سے محض اہل بیتؑ کی محبت مقصود نہیں تھی بلکہ حضورؐ کے انتقال کا وقت قریب تھا اور اپنی زندگی میں امت کے مرجع اور ان کے حیات کے ناظم تھے آپؐ کے اوپر امت کی قیادت کی ذمہ داریاں تھیں ظاہر ہے کہ وفات کے بعد امت آپؐ کی قیادت سے محروم ہورہی تھی،اس لئے حضورؐ نے ان حدیثوں میں ایک ایسے گروہ کا تعارف کرادیا جو امت کی قیادت اور مرجعیت کا ذمہ دار ہے اور اس سلسلے میں آپؐ کی جانشین کرسکتا ہے تا کہ امت کے اندر اس بات کا احساس نہ رہے کہ اب ہمارا کوئی قاعد و سرپرست نہیں اور حضورؐ نے عترتؑ کی نشاندہی کردی کہ ان کی پیروی سے تم بھی گمراہ نہیں ہوگے۔
زید بن ارقم کی حدیث ملاحظہ فرمائیں اس میں کچھ زیادہ وضاحت کردی گئی ہے آپؐ نے فرمایا((میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں))حدیث کے الفاظ پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ اس حدیث میں خلیفہ سےمراد جو حضرات بھی ہیں وہ سرکار دو عالمؐ کی غیر موجودگی میں سرکاری ذمہ داریوں کو ادا کرنےوالے ہیں اور آپؐ کے قائم مقام کی حیثیت رکھتے ہیں،جو لوگ ہیں جو قیادت کے وظیفہ کو ادا کریں گے اس لئے ان کی محبت اور اطاعت دونوں ہی واجب ہے۔
ب:آپ نے ہر حدیث میں عترتؑ کو قرآن مجید کے سیاق میں رکھا ہے تا کہ لوگوں کی سمجھ میں آجائے کہ آپ قرآن مجید کے لئے محض عزت و احترام کا مطالبہ نہیں کررہے ہیں کہ اس کو چوم لیا جائے اور اس کو بلند جگہ پر رکھا جائے بلکہ آپؐ کا مقصد یہ ہے کہ قرآن مجید کی پیروی کی جائے اور اس
کے اوامر و نواہی پر عمل کیا جائے۔
تو جب عترتؑ کا تذکرہ و سیاق کتاب میں ہے تو پھر عترت کے لئے قرآن ہی کی طرح اطاعت و اتباع کا مطالبہ ہی سمجھا جائےگا۔
ج:ہر حدیث میں آپؐ نے فرمایا:((تا کہ تم میرے بعد گمراہ نہ ہو،جب تک ثقلین سے متمسک رہوگے گمراہی سے محفوظ رہوگے))میں مانتا ہوں کہ عترتؑ طاہرہ کا احترام اگر چہ بنفسہ واجب ہے لیکن احترام کی حیثیت ویسے ہی ہے جیسے دوسرے فرائض محض احترام گمراہی سے تو نہیں بچاسکتا،گمراہی سے تو صرف معصوم افراد کی پیروی ہی بچاسکتی ہے اور ان کے طریقہ کو لازم سمجھ کر ہر امر میں ان کی طرف رجوع کرنا ہی گمراہی سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔
د:تمام حدیثوں میں اس بات کی طرف خاص طور سے متوجہ کیا گیا ہے کہ کتاب و عترت میں اختلاف نہیں ہوسکتا وہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہ الفاظ کہہ رہے ہیں کہ کتاب و عترتؑ کی محض تعظیم و احترام مقصود نہیں ہے تعظیم تو تمام انبیا کی واجب ہے جبکہ ان حضرات کی شریعتوں میں اختلاف ہے پھر کتاب و عترتؑ میں خوف اختلاف نہیں ہونے کی وجہ سے ان کی تعظیم کا وجوب کیا معنی رکھتا ہے؟
اسی لئے ماننا پڑےگا کہ عدم اختلاف پر زور دینے کی وجہ یہی ہے کہ نبیؐ کتاب و عترتؑ کی پیروی اور اطاعت کا حکم دےرہے ہیں اگر کتاب و عترتؑ میں کسی منزل پر اختلاف ہوگیا تو پھر امت کے لئے سوال پیدا ہوگا کہ کس کی پیروی کرے کتاب کی یا عترتؑ کی۔
اس لئے سرکارؐ نے فرمایا کہ یہ دونوں ایک دوسری سے جدا نہیں ہوں گے((یعنی ان میں اختلاف نہیں ہوگا کہ امت ان کے اختلاف کو عذر بنا کر پیروی سے باز رہنے کی گنجائش پیش کرے،حضورؐ کا کتاب و عترتؑ کے بارے میں بار بار عدم افتراق کا اعلان یہ بتا رہا ہے کہ دونوں بظاہر دو ہو کر بھی دو نہیں ہیں کتاب،عترتؑ کی پیروی کو مانع ہے نہ عترتؑ کتاب کی پیروی سے روکتی ہے مرجع دو ہیں لیکن تعلیمات اور ہدایتیں ایک ہیں۔(مثال کے طور پر جو خدا کہےگا وہی نبی کہےگا مطلب دونوں ایک رہےگا۔مترجم)
ھ:حدیث ثقلین جن مقامات پر وارد ہوئی ہے ان میں غدیر کا بھی ایک موقع ہے ان کے لئے جو زید بن ثابت کی حدیث پر غور کریں یہ حدیث مولائے کائناتؑ کی ولایت پر نص کرنے کے پہلے تمہیداً وارد ہوئی،چونکہ حضورؐ امیرالمومنینؑ کی ولایت اور اطاعت پر نص کرنےوالے تھے،اس لئے مناسب سمجھا کہ حدیث ثقلین کو اعلان ولایت کا سیاق قرار دیں۔
و:سب سے اہم بات جو ان حدیثوں میں ہے اور جو حدیث ثقلین کے لئے متون ہیں ان سب میں جو مشرک بات ہے وہ ہے لفظ تمسک کا استعمال کہیں تمسک کا مطالبہ ہے کہیں اتباع کا اور کہیں اخذ کا،ظاہر ہے کہ تمسک،اتباع اور اخذ کسی کا بھی تحقق بغیر پیروی کے ممکن نہیں تمسک کا مطلب ہے پیروی اور ان اوامر و نواہی سے اتفاق جو قرآن مجید میں مذکور ہیں اور عترتؑ طاہرہ سے صادر ہوئے ہیں۔
اس کے علاوہ طبرانی نے جو حدیث ثقلین وارد کی ہے اس کا تتمہ ملاحظہ فرمائیں:دیکھو ان دونوں سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ ہلاک ہوجاؤگے اور ان دونوں کو چھوڑ دینے کی کوشش نہ کرنا ورنہ ہلاک ہوجاؤگے انہیں تعلیم دینے کی کوشش نہ کرنا وہ تم سے زیادہ جانتے ہیں۔(1)
یہ الفاظ صراحت سے اطاعت و اتباع پر دلالت کرتے ہیں اور اب کسی اشکال کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی۔
عترتؑ کی اطاعت واجب ہونے کا مطلب ان کی امامت ہے
3۔چونکہ عترتؑ طاہرہ اور اہل بیت اطہارؑ کی اطاعت واجب ہے اس لئے امامت بھی انہیں کی ثابت ہے اس لئے کہ امام تو اپنے مامومین کے لئے صرف نمونہ عمل ہوتا ہے اور مامومین پر واجب ہے کہ وہ امام کی اطاعت اور متابعت کریں یہ نہیں ہوسکتا ہے کہ امت اطاعت کسی اور کی کرے اور امامت کسی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)معجم کبیرج:5ص:166،جس میں ابوطفیل عامر بن واثلہ نے زید بن ارقم سے روایت کی،مجمع الزوائدج:9ص:163،کتاب مناقب،فضائل اہل بیت علیھم السلام کے باب میں
اور کی ہو ورنہ پھر حاکم محکوم ہوجائےگا اور سائس مسوس ہوجائےگا اور یہ بات بالکل غلط ہے جس کی ضرورت نہیں۔
4۔جب یہ ثابت ہوچکا کہ امامت کی حقدار صرف عترتؑ ہے اور عترتؑ کی اطاعت واجب ہے تو عترتؑ کے سردار حضرت علیؑ ہیں اس قول سے کسی کو اختلاف نہیں ہے،جب حدیث ثقلین کی تفسیر آپ کے سامنے پیش کردی گئی تو اس خاص موقعہ پر عترتؑ کا تعارف بھی کرادینا مناسب ہے،دیکھئے حضور سرور کائناتؑ نے جب بھی اپنی عترتؑ پر کوئی نص فرمائی ہے تو عترتؑ سے مراد خاص طور سے یہی پانچ افراد رہے ہیں امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام صدیقہ طاہرہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا،اور سبطین کریمین حضرت امام حسن و امام حسین علیہماالسلام۔
ثبوت کے لئے حضرت عائشہ کی حدیث ملاحطہ فرمائیں،عائشہ کہتی ہیں:حضور سرور کارئناتؑ ایک روز روشن میں باہر نکلے آپ کے جسم اقدس پر ایک ادنی یا ریشمی چادر تھی اتنے میں حسنؑ بن علیؑ آئے آپؑ اسی چادر میں داخل ہوگئے پھر حسینؑ ابن علیؑ آئے اور اس چادر میں داخل ہوگئے پھر فاطمہ سلام اللہ علیہا آئیں آپ کو بھی اسی چادر میں لےلیا،پھر علیؑ آئے آپ نے علیؑ کو بھی اسی چادر میں لےلیا پھر فرمایا:
ترجمہ:اے اہل بیت!خدا تو بس یہ چاہتا ہے کہ تم سے ہر برائی(رجس)کو دور رکھے اور ایسا پاک و پاکیزہ رکھے جیسا کہ پاک رکھنے کا حق ہے۔(1)
ام سلمہ کہتی ہیں کہ آیت تطہیر میرے گھر میں نازل ہوئی،جب آیت تطہیر نازل ہوئی تو آپ نے علی و فاطمہ،حسن و حسین کو بلا بھیجا اور فرمایا:یہی ہمارے اہل بیتؑ ہیں۔(2)
اس کے علاوہ بھی بہت ساری حدیثیں ہیں اس کثرت سے یہ حدیثیں پائی جاتی ہیں کہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)صحیح مسلم ج:4ص:1883،کتاب فضائل صحابہ،فضائل اہل بیت نبیؐ کے باب میں تحفۃ الاحوذی ج:9ص:49
(2)مستدرک علی صحیحین ج:3ص:158،کتاب معرفت الصحابہ،اہل رسول اللہ کے مناقب میں
جب اہل بیتؑ کی لفظ کا استمعال ہوتا ہے یہی حضرات سمجھے جاتے ہیں اور اگر اہل بیت کی لفظ میں عمومیت پیدا کرنا ہے تو پھر تکلف اور خاص توجہ کی ضروت پڑتی ہے۔
مذکورہ بالا صراحتوں میں نبیؐ کے بعد صرف امیرالمومنینؑ کو حق حاصل ہے اور خلافت کا تعین صرف آپ کی مقدس ذات کے لئے ہے اسی لے عباس ابن عبدالمطلب نے آپ کی بیعت کرنی چاہی تھی اور آپ کے دونوں فرزندان امام حسنؑ اور امام حسینؑ آپ کے حکم کی پیروی کرتے تھے بنی ہاشم اور ان کے نقش قدم پر چلنےوالے آپ ہی کا نام پکار رہے تھے ابوبکر کے مقابلے میں صرف آپ ہی کی ایک ہستی تھی جو خلافت کی صلاحیت رکھتی تھی جبکہ انصار کا دعوی ٹھنڈا ہوچکا تھا یہ تمام باتیں حدیث ثقلین سے آپ کی بیعت کو واجب قرار دیتی ہیں،مزید تاکید جب حاصل ہوتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ حدیث ثقلین غدیر خم کا مقدمہ ہے،غدیر خم میں امیرالمومنین کو خلافت کے لئے منصوب کیا تھا اور غدیر سے پہلے یہ حدیث ارشاد فرمائی تھی۔
ہاں اگر اس حدیث کو غدیر سے الگ کر بھی دیا جائے تب بھی تنہا یہ حدیث اہل بیتؑ کی اطاعت اور متابعت کے وجوب پر دلالت کرتی ہے اور یہ ثابت کرتی ہے کہ خلافت کے درمیان ہے اور ان سے خارج نہیں ہوسکتی البتہ یہ حدیث اہل بیتؑ میں کسی خاص شخص کو امام معین نہیں کرتی لیکن گذشتہ ضمیمہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امامت کا تعین امیرالمومنین علی ابن ابیطالبؑ کی ذات کے لئے ہے۔
سوال نمبر۔7
واقعہ غدیر کے بارے میں شیعوں کا کہنا ہے کہ وہ متواتر ہے لیکن اہل سنت نے اپنی حدیث کی کتابوں میں اس کو نقل نہیں کیا ہے پھر وہ واقعہ متواتر کیسے ہوگیا جبکہ اہل سنت نے کسی کمزور خبر احاد کے طور پر بھی اس کو نہیں لکھا ہے؟
جواب:میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ آپ نے اتنی بڑی بات کیسے کہہ دی جبکہ شیعہ سنی دونوں ہی روایت غدیر پر متفق ہیں محدثین،مفسرین اور مورخین نے اس واقعہ کو اسی شان و شوکت سے لکھا ہے جس شان و شوکت سے دنیا کے بڑے اور مشہور واقعات لکھتے ہیں شعرا نے اس واقعہ کو اپنے اشعار میں نظم کیا ہے اور علما نے اس واقعہ کو اپنی کتابوں میں پیش کیا ہے۔
اب تک کسی مورخ نے اس واقعہ سے انکار نہیں کیا ہے اگر کہین ایک دو آدمیوں نے انکار بھی کیا ہے تو اکثریت نے اس کی مخالفت کی ہے۔(1)
اس واقعہ کو موضوع بنا کر بہت سے لوگوں نے مستقل کتابیں لکھی ہیں،انھیں کتابوں میں ایک کتاب الغدیر بھی ہے اس کتاب کا پورا نام الغدیر فی الکتاب و السنہ و الادب ہے اس کی تالیف شیخ عبدالحسین امینی نے کی ہے۔
یہ کتاب گیارہ جلدوں پر مشتمل ہے جو چھپ چکی ہے اور میرے علم میں ہے،جو مصادر شیعہ کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)الغدیرج:1ص:294۔322
طور پر پیش کئے جاتے ہیں اور ان کی یہی جلد حدیث غدیر اور ان کے واقع کو اہل بیت کی روایت سے ثابت کیا ہے۔
شیخ امینی نے واقعہ غدیر کو ایک سو دس صحابہ اور چوراسی تابعین کے حوالے سے لکھا ہے تین سو ساٹھ علمائے اہل سنت نے مختلف طبقوں میں اس کی روایت کی ہے اور شیخ امینی نے ہر عالم کی کتاب کا حوالہ دیا ہے ظاہر ہے کہ موضوع اتنا وسیع ہے کہ اس مختصر کتاب میں اس کے تمام پہلوؤں کو سمیٹ کے بیان کردینانا ممکن ہے۔اگر تواتر سے آپ کی مراد یہ ہے کہ اس واقعہ کی تفصیل اور خصوصیات میں تواتر چاہئیے تو شیعہ اس تواتر کا دعوی نہیں کرتا بلکہ شیعہ اجمالی تواتر کا دعوی کرتا ہے اگر چہ کچھ کتابوں میں کچھ حادثے اور روایت کے چند طریقے تواتر کی حد تک نہیں کرتا بلکہ شیعہ اجمالی تواتر کا دعوی کرتا ہے اگر چہ کچھ کتابوں میں کچھ حادثے اور روایت کے چند طریقے تواتر کی حد تک نہیں پہونچتے لیکن اس سے شیعوں کا دعوائے تواتر نہیں توٹتا اس لئے کہ تمام حادثات جن کے تواتر کا دعوی کیا جاتا ہے مقام روایت میں سب اسی طرح ہیں جیسے مکہ مکرمہ میں مسلمانوں کی جفا کشی حضور سرور کائناتؐ کی مدینہ منورہ کی طرف ہجرت آپ کے دور کے غزوات یا واقعات اور حجۃ الوداع و غیرہ...میں سوچتا ہوں کہ غدیر کے سلسلے میں جو اہم باتیں ہیں انہیں زمانے کے تسلسل کے ساتھ یہاں بیان کردینا بہتر ہوگا میں کوشش کروں گا کہ عبارت اس طرح ہو کہ ان چند واقعات و حوادث کے مصادر کا تذکرہ اور ان کے ثبوت کے طریقے پیش کردئے جائیں۔
واقعہ غدیر کے موقع پر آیت کا نازل ہونا
يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ(1)
ترجمہ:اے پیغمبر آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ کے اوپر جو کچھ نازل ہوچکا ہے اسے پہونچادیں اگر آپ نے ایسا نہیں کیا تو گویا آپ نے رسالت کا کوئی کام نہیں کیا اور اللہ کو لوگوں کے شر سے بچائےگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ مائدہ آیت:67
یہ آیت امیرالمومنین علیہ السلام کی ولایت کی تبلیغ کے بارے میں نازل ہوئی سرکار دو عالمؐ نےاسی آیت کی وجہ سے غدیر خم میں خطبہ دیا اور ولایت علیؑ کا اعلان کردیا بہت بڑی جماعت نے اس حدیث کو اپنی کتابں میں لکھا ہے۔
1۔حافظ عبدالرحمٰن بن ابی حاتم محمد بن ادریس حنظلی رازی کو وفات327میں ہوئی یہ اپنی اسناد کے ساتھ ابوسعید خدری سے روایت کرتے ہیں یہ آیت غدیر خم میں علی ابن طالبؑ کے بارے میں نازل ہوئی حافظ عبدالرحمٰن ہی کی کتاب کی بنیاد پر سیوطی(1) اور شوکانی(2) نے بھی یہ روایت کی ہے۔
2۔حافظ ابوبکر احمد بن موسیٰ بن مردویہ اصفہانی ان کی وفات416میں ہوئی یہ اپنی اسناد کے ساتھ ابوسعید خدری سے سیوطی اور شوکانی کی روایت نقل کرتے ہیں۔
3۔ابوالحسن ابن احمد بن علی بن متویہ واحدی نیشاپوری متوفی468غدیر کی روایت ابوسعید خدری سے نقل کرتے ہیں۔(3)
4۔عبیداللہ بن عبداللہ حاکم نیشابوری جو ابن حداد حسکانی کے نام سے مشہور ہیں ان کی وفات پانچویں صدی ہجری کے آخر میں ہوئی اپنی سند کے ساتھ حدیث غدیر کی روایت ابن عباس اور جابر بن عبداللہ انصاری سے نقل کرتے ہیں۔(4)
5۔حافظ ابوالقاسم علی بن حسن بن ہبۃ اللہ شافعی جو ابن عساکر کے نام سے مشہور ہیں اور لقب ثقہ الدین ہے اپنی اسناد کے ساتھ ابوسعید خدری سے روایت کرتے ہیں اور سیوطی(5) و شوکانی کے حوالے سے روایت کرتے ہیں۔(6)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)الدر المنثورج:2ص:298،آیت کی تفسیر میں(2)فتح القدیرج:2ص:60،آیت کی تفسیر میں
(3)اسباب النزول واحدی،ص:135،آیت کی تفسیر میں
(4)شواہد التنزیل لقواعد التفصیل و التاویل،ج:1،ص:250۔251،آیت کے نزول میں
(5)در منثورج:2ص:298،آیت کی تفسیر میں(6)فتح القدیرج:2ص:60،آیت کی تفسیر میں
شیخ امینی نے تو ان کتابوں اور راویوں کی تعداد تیس تک پہونچائی ہے(1) لیکن ان میں سے بعض حضرات کا خیال ہے کہ آیہ بلغ کا ایک رخ واقعہ غدیر بھی ہے۔اور بعض نے ایسے مصادر کا تذکرہ کیا ہے جو اب تک میری نظر سے نہیں گذرے ہیں شیعہ مصادر کا تذکرہ یہاں عمداً چھوڑ رہا ہوں اگر چہ ان مصادر کی صداقت کا قائل ہوں اس کے علاوہ بھی بہت سے مصادر ہیں جو حدیث غدیر سے بھرے پڑے ہیں جیسا کہ ثعلبی کے بارے میں لکھا ہے کہ انھوں نے پنی تفسیر میں محمد بن علی الباقر علیہ السلام اور ابن عباس سے بھی روایت کی ہے۔(2) آئندہ صفحات میں ہم امام رازی کے کلام پر بھی بات کریں گے جہاں انہوں نے اپنی تفسیر میں مبارک باد کا تذکرہ کیا ہےور اس کو ان دو بزرگواں امام محمد باقرؑ اور ابن عباسؑ کے علاوہ بر ابن عازب کی طرف بھی منسوب ہے۔
آیہ بلغ کا نزول غدیرخم میں
2۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ اعلان ولایت کی حدیث کا واقعہ غدیرخم میں ہوا حدیث و تاریخ کی دنیا میں یہ بات اس حد تک ثابت اور مسلم ہے کہ یہ حدیث((حدیث غدیر))کے نام سے مشہور ہوگئی اس کے باوجود اہل سنت و الجماعت کے بہت سے لوگوں نے اس صراحت بھی کردی ہے مثلاً:
1۔ابوالمحاسن یوسف بن موسیٰ حنفی۔(3)
2۔حنبلی فرقہ کے امام احمد بن حنبل شیبانی متوفی241(4)
3۔حافظ ابوسعید ہیثم بن کلیب شاشی متوفی335(5)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)الغدیرج:1ص:214۔229(2)الغدیرج:1ص:217
(3)معتصر المختصرج:1ص:307،کتاب النکاح فی کراھۃ التزویج علی فاطمۃ ج:2ص:301
(4)مسند احمدج:1ص:84۔118۔152،مسند بن ابی طالب ج:4ص:281،حدیث براء بن عازب ج:1ص:368۔372،حدیث زید بن ارقم
(5)مسند الشاشی ج:2ص:127،حارث بن مالک نے سعد سے روایت کی ہے،ص:166،اس میں عامر بن سعد نے سعد سے روایت کی۔
4۔حافظ ابوعمر یوسف بن عبداللہ محمد بن عبد البرنمری قرطبی متوفی436(1) 5۔حافظ ابوعبدالرحمٰن احمد بن شعیب نسائی متوفی303(2) 6۔حافظ ابوالحسن علی بن ابی بکر بن سلیمان ہیثمی متوفی807(3) 7۔ابوبکر عبداللہ بن محمد ابوشیعہ کوفی متوفی235(4)
8۔حافظ ضیاء الدین ابوعبداللہ محمد بن عبدالواحد بن احمد حنبلی مقدسی متوفیٰ643(5)
9۔حافظ ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ حاکم نیشاپوری(ابن بیع کے نام سے مشہور ہیں)متوفی405(6)
10۔حافظ ابوبکر احمد بن عمرو بن ابوالعاصم بن مخلد شیبانی متوفی287(7)
اا۔حافظ ابویعلی احمد بن علی بن مثنی موصلی تمیمی متوفی307(8)
12۔حافظ ابوالقاسم سلیمان بن احمد بن ایوب طبرانی متوفی360(9)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)استیعاب ج:3ص:36،علی بن ابی طالب علیہ السلام کے حالات میں
(2)سنن کبری نسائی ج:5ص:45،کتاب مناقب فضائل علی علیہ السلام،ص:132،کتاب خصائص باب قول نبیؐ ص:134،کتاب الخصائص،الترغیب فی مولاۃ علیؑ،و الرھیب فی معاداتہ،و رواہ اسی طرح کتاب خصائص علی ص:93قول نبیؐ،ص:100
(3)مجمع الزوائدج:9،ص:107،106،105،104،کتاب مناقب علی،باب مناقب علی بن ابی طالبؑ
(4)مصنف ابن ابی شیبۃج:6،ص:372،کتاب فضائل علی ابنی ابی طالبؑ
(5)الحادیث المختارۃ ج:2،ص:106،105،روایت سعید بن وھب ہمدانی حضرت علیؑ سے
(6)مستدرک علی صحیحین ج:3،ص:118،کتاب معرفت صحابہ،مناقب علی ابن ابی طالبؑ سے ص:126،کتاب معرفت صحابہ،مناقب علی ابن ابی طالبؑ سے ص:613۔
(7)السنۃ لابن ابی عاصم ج:2،ص:607،باب من کنت مولاہ فعلی مولاہ
(8)مسند ابی یعلی ج:1،ص:429،مسند علی ابنی ابی طالبؑ میں
(9)معجم الصغیرج:1،ص:119،معجم الکبیرج:4ص:16،روایت(حبشی بن جنادہ سلولی)ج:5،ص:170روایت ابوضحیٰ مسلم صبیح نے زید ابن ارقم سےص:171روایت یحییٰ بن جعدہ زید بن ارقم سےص:192،روایت ابواسحاق سبیعی نے زید سے،ص:194،روایت ثویر بن ابی فاختہ نے زید بن ارقم سےص:195روایت عطیہ العوفی نے زید بن ارقم سے
13۔عزالدین علی بن محمد المعروف ابن اثیر جزری متوفی360(1)
14۔حافظ عماد الدین ابوالفداء اسماعیل بن عمر بن کثیر شافعی دمشقی متوفی774و غیرہ(2)
بہت زیادہ حدیثوں میں سے بعض حدیثوں کا ہم تذکرہ کرنےوالے ہیں ان میں روایت ہے کہ یہ واقعہ مقام جحفہ میں پیش آیا ان حدیثوں کا ایک راوی دوسرے کا حوالہ دیتا ہے اس لئے کہ غدیرخم جحفہ کے پاس واقع ہ لسان عرب میں لکھا ہے کہ غدیرخم مکہ اور مدینہ کے درمیان مقام جحفہ میں ہے ابن درید نے لکھا ہے کہ خم کی(خ)مضموم(پیش کے ساتھ)پڑھی جائےگی اور اس کا تذکرہ حدیثوں میں آیا ہے،ابن اثیر کہتے ہیں کہ غدیر خم مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے جہاں ایک چشمہ پایا جاتا ہے انہیں دونوں شہروں کے درمیان وہاں ایک مسجد بھی ہے جو ہمارے سردار پیغمبر اسلامؐ کی مسجد ہے ظاہر ہے کہ وہاں مسجد واقعہ غدیر کی یادگار کے طور پر بنائی گئی ہے۔
غدیر میں نبیؐ کا نماز جماعت کے لئے پکارنا
3۔تیسری بات یہ ہے کہ اس موقع پر سرکار دو عالمؐ نے نماز جماعت کا اعلان کردیا تا کہ نماز جماعت میں جمع ہو کر مسلمان آپؐ کا خطبہ اور حدیث سنیں۔علما اہل سنت کی ایک بڑی جماعت نے اسے لکھا ہے ملاحظہ ہو۔الف:حافظ ابوالحسن علی ابن ابی بکر بن سلیمان ہیثمی(3) ب:ابوبکر عبداللہ بن محمد بن ابوشیعہ کوفی(4) ج:حنبلی فرقہ کے امام ابوعبداللہ احمد بن حنبل شیبانی(5)
-----------------
(1)اسد الغابہ،ج:3ص:107،حالات عبدالرحمٰن بن عبد رب انصاری میں
(2)البدایۃ و النھایۃج:7ص:349،ہجرت کے چالسویں سال،باب ذکر فضائل علی بن ابی طالبؑ
(3)مجمع الزوائدج:9ص:106،کتاب مناقب،مناقب علی ابن ابی طالبؑ کے باب میں،من کنت مولاہ فعلی مولاہ کے ذیل میں
(4)مصنف ابن ابی شیبہ ج:6ص:372،کتاب فضائل،فضائل علی بن ابی طالبؑ
(5)مسند احمدج:4،ص:281،حدیث براء بن عازب میں ص:372،حدیث زید بن ارقم میں
4۔چوتھی بات یہ ہے کہ سرکار دو عالمؐ نے حکم دیا کہ جو آگے بڑھ گئے ہیں وہ واپس آجائیں اور جو پیچھے رہ گئے ہیں ان کا انتظار کیا جائے تا کہ آپ کی تبلیغ کو عموم حاصل ہوجائے اور ہر آدمی تک بات پہونچ جائے اس بات کو بھی اہل سنت کے بہت سے علما نے لکھا ہے جیسے
الف:حافظ ابوعبدالرحمن شیعب نسائی(1) ب:حافظ ضیاءالدین ابوعبداللہ محمد بن عبدالواحد بن احمد حنبل مقدسی(2)
غدیر کے دن حضور اکرمﷺکا خطبہ
5۔پانچویں اہم بات یہ ہے کہ اس دن سرکار دو عالم کا خطبہ ہے،بہت سی حدیثوں میں اگر چہ لوگوں نے اس خو خطبہ سے تعبیر نہیں کیا ہے لیکن اس کا تذکرہ کیا ہے اور لکھا ہے تو((قال))ضرور لکھا ہے یعنی ((خطب))نہیں لکھا ہے بلکہ((قال))لکھا ہے(یعنی حضورؐ نے فرمایا)مگر بعض حضرات نے خطبہ سے بھی تعبیر کیا ہے جیسے مسند احمد(3) اور نسائی کتاب سنن کبریٰ(4) میں خطبہ ہی لکھا ہوا ہے،سنن کبریٰ میں لکھا ہے کہ آپ کھڑے ہوئے اور فرمایا:
دوسری کتاب میں ہے کہ آپؐ نے حمد و ثنائے الہی کیا اور فرمایا:اور اسی طرح کے الفاظ دوسرے لوگوں نے بھی استمعال کئے ہیں اس لئے کہ پیغمبرؐ کے ساتھ اس وقت بہت سے لوگ تھے۔
مختصر یہ ہے کہ حدیث کے بہت سے طریقے ہیں اور مختلف طریقوں سے کلام نبیؐ کی نقل کی گئی ہے بعض نے اختصار سے کام لیا ہے اور بعض نے تفصیل سے پھر جس نے تفصیل سے کام لیا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سنن کبری نسائی ج:5ص:135،کتاب الخصائص علیؑ سے محبت کی ترغیب اور ان سے دوری کے لئے پرہیز اور اسی طرح کتاب خصائص علیؑ میں بھی روایت کی ہےص:101
(2)احادیث المختارہ ج:3ص:213،عائشہ بنت سعد نے اپنے باپ سے اس کی روایت کی ہے
(3)مسند احمدج:4ص:372،زید بن ارقم کی حدیث
(4)مسند احمدج:5،ص:134،کتاب الخصائص ص:100،علیؑ کی محبت کی ترغیب اور ان سے دوری سے پرہیز
ان میں کثرت و قلت کا اختلاف ہے ہم یہاں کچھ متن پیش کررہے ہیں.
حذیفہ بن اسید سے روایت ہے کہ جب سرکارؐ حج آخر سے واپس آرہے تھے تو آپؐ نے اپنے اصحاب کو ان درختوں کے پاس روکا جو ایک وادی میں تھے اور وہیں اترنےکا حکم دیا پھر آپؐ نے وہاں کچھ لوگوں کو بھیج کر کانٹے و غیرہ کی صفائی کرائی تا کہ وہاں نماز پڑھی جاسکے پھر آپ کھڑے ہوئے اور فرمایا:
اے لوگو!مجھے لطیف و خبیر نے خبر دی ہے کہ ہر نبیؑ اپنے سابق نبیؐ کی آدھی عمر کے برابر زندہ رہتا ہے میں سمجھ رہا ہوں کہ مجھے میرے رب کی طرف سے بلایا جائےگا تو میں داعی اجل کو لبیک کہوں گا،مجھ سے بھی پوچھا جائےگا اور تم سے بھی پوچھا جائےگا تو تم کیا جواب دوگے انہوں نے کہا ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپؐ نے تبلیغ کی،جہاد کیا اور ہماری خیرخواہی کی خدا آپ کو بہتر جزائے خیر دے۔
آپؐ نے فرمایا کیا تم اس بات کی گواہی نہیں دیتے کہ خدا کے علاوہ اللہ نہیں محمد اس کا بندہ اور رسول ہے اور یہ کہ خدا کی جنت حق ہے جہنم حق ہے،موت حق ہے،موت کے بعد زندہ کیا جانا حق ہے قیامت آنےوالی ہے اس میں کوئی شک نہیں اور خدا قبروں سے مردوں کو مبعوث کرےگا انہوں نے کہا ہاں!ہم اس بات کے گواہ ہیں۔آپ نے فرمایا پالنےوالے گواہ رہنا پھر آپ نے فرمایا:اے لوگو!میرا مولا خدا ہے اور میں مومنین کا مولا ہوں اور ان کے نفسوں پر ان سے زیادہ اختیار رکھتا ہوں،پس میں جس کا مولا ہوں یہ بھی اس کا مولا ہے آپ کی مراد علیؑ سے تھی پالنےوالے اس سے محبت کر جو علی سے محبت کرےاور اس کو دشمن رکھ جو علی کو دشمن رکھے پھر فرمایا اےلوگو!میں تم سے جدا ہوجاؤں گا اور تم لوگ حوض کوثر پر میرے پاس وارد ہوگے حوض کوثر جو صعناء اور بصرہ کے درمیان کی مسافت کے برابر پھیلا ہوا ہےاس میں چاندی کے پیالے،ستاروں کی تعداد کے برابر چمک رہے ہیں وہاں جب تم میرے پاس آؤگے تو میں تم سے ثقلین کے بارے میں پوچھوں گا تو سوچو کہ تم میرے بعد ان کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو ثقل اکبر اللہ کی کتاب ہے یہ ایک ایسا وسیلہ ہے جس کا ایک کنارہ اللہ کے
ہاتھ میں ہے اور دوسرا کنارہ تمہارے ہاتھ میں ہے تم اس کو پکڑے رہو گمراہ مت ہونا بدل مت جانا(اور دوسرا ثقل)ہمارے اہل بیت ہماری عترت ہیں مجھے لطیف و خبیر نے خبری دی ہے کہ یہ دونوں کبھی بھی جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملیں گے۔(1)
اس خطبہ کو دیکھئے بعض حدیثوں میں اس خطبہ میں کچھ اضافہ کے ساتھ وارد ہوئے ہیں بعض میں کچھ تقلیل کی گئی ہے لیکن جن طریقوں سے بھی حدیث وارد ہوئی ہے بہرحال ان تمام حدیثوں میں ایک جملہ اجماع کی حدوں کو چھوتا ہے اور وہ جملہ یہ ہے:جس کا میں مولا ہوں اس کا علی مولا ہے یا جس کا میں ولی ہوں اس کا علی ولی ہے یا اسی کے ہم معنی کوئی جملہ۔
ہاں بعض شاذ حدیثوں میں نبی کا اقتصار صرف حدیث ثقلین پر کردیا گیا ہے جسے یزید بن حیان کہتا ہے میں اور حصین بن سبرہ اور عمر بن مسلم زید بن ارقم صحابی کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم ان کے پاس بیٹھے تو حصین نے کہا اے زید آپ نے تو خیر کثیر حاصل کیا آپ نے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور آپ نے حدیثیں سنیں اور آپ نے ان کے ساتھ غزوات میں جہاد کیا ور آپ نے پیچھے نماز پڑھنے کا شرف حاصل کیا زید آپ نے تو خیر کثیر حاصل کیا برائے مہربانی ہمیں بھی کچھ حدیثیں سنایئے جو آپ نے پیغمبرؐ سے سنی ہیں زید کہنے لگے بھتیجے اب میں تو بوڑھا ہوگیا ہوں اور پیغمبرؐ نے جو کچھ سنایا تھا اس میں سے کچھ بھول گیا ہوں اس لئے جو حدیث بیان کررہا ہوں اسی پر اکتفا کرو اور مجھے زیادہ تکلف مت دو پھر کہنے لگے کہ ایک دن سرکارؐ ایک چشمہ کے پاس جسے خم کہتے ہیں خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے وہ جگہ مکہ اور مدینہ کے درمیان میں ہے بہرحال آپؐ نے خدا کی حمد و ثنا اور ذکر و وعظ کرتے رہے پھر فرمایا((اما بعد:اے لوگو!میں ایک بشر ہوں اور قریب ہے کہ خدا کا پیغام مجھ تک پہونچے اور میں لبیک میں تمہارے درمیان دو
---------------
(1)معجم کبیرج:2ص:180،حذیفہ بن اسید ابوسرعیۃ الغفاری میں جس میں ابوالطفیل عامر بن واثلہ نے حذیفہ بن اسید سے روایت کی ہے،مجمع الزوائدج:9،ص:163،کتاب المناقب باب فضائل اہل بیتؑ میں،تاریخ دمشق ج:42،ص:219،علی بن ابی طالبؑ کے حالات میں
چیزیں چھوڑے جارہا ہوں اول کتاب خدا جس میں ہدایت اور نور ہے پس کتاب خدا کو پکڑے رہو اور اس سے تمسک رکھو پس کتاب خدا کے التزام پر ابھارا پھر فرمایا اور دوسرے میرے اہل بیت کے بارے میں خدا کو یاد رکھنا،میرے اہل بیت کے بارے میں خدا کو یاد رکھنا خدا کو یاد رکھنا،حصین نے پوچھا اہل بیتؑ کون ہیں؟
جب اس حدیث کے مختلف طریقوں پر غور کیا جاتا ہے تو پھر کوئی شبہ باقی نہیں رہتا ہے کہ حدیث میں کاٹ چھانٹ ہوئی ہے یا خود زید بن ارقم نے اس میں سے کچھ حصہ اڑا دیا یا بعض رجال نے و اس حدیث کے سلسلے میں آئے ہیں اور یہ کاٹ چھانٹ بھی یا تو عمداً کی ہے یا اس لئے کہ خطبہ میں مولائے کائناتؑ کی ولایت کا اعلان ہے اور یہ ان کے مزاج سے میل نہیں کھاتا ہے یا خوف کی وجہ سے کی ہے اس لئے کہ بنوامیہ کے دور حکومت میں مولائے کائناتؑ سے کھلی دشمنی کی جاتی تھی،اس کی طرف یزید بن حیان کی حدیث اشارہ کرتی ہے۔
راوی اپنے تتمہ کلام میں کہتا ہے کہ یزید بن حیان نے مجھ سے کہا کہ زید بن ارقم نے بیان کیا ہے:ایک بار عبیداللہ بن زیاد نے مجھے بلایا میں اس کے پاس گیا تو وہ بولا زید تو کیسی حدیثیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی روایت کرتا ہے اور بیان کرتا ہے جن کو ہم کتاب خدا میں نہیں پاتے،تو کہتا ہے کہ جنت میں ایک حوض ہوگا زید نے کہا مجھے یہ بات پیغمبرؐ نے بتائی ہے اور مجھ سے اس حوض کا وعدہ بھی کیا ہے۔عبیداللہ بولا تو جھوٹا ہے بلکہ تو بوڑھا ہوگیا ہے اس لئے خرافات بک رہا ہے زید نے کہا میں نے اپنے کانوں سے یہ بات پیغمبرؐ سے سنی ہے اور میرے دل میں یہ بات اترچکی ہے۔(1)
ظاہر ہے کہ جب حکومت امویہ زید سے منقول حدیث حوض کا انکار کرسکتی ہے تو پھر ان حدیثوں کی کیا گت بنائی گئی ہوگی جن میں مولائے کائناتؑ کی ولایت کا اعلان ہے،بہرحال ایک بات طے ہے کہ طرق حدیث میں نبیؐ کے خطبہ کا کچھ حصہ اڑا دی گیا ہے خاص طور سے وہ حصہ جس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)مسند احمدج:4س:366،زید بن ارقم کی حدیث
میں ولایت والی بات ہے جیسا کہ بہت سے طرق حدیث میں اس کو شامل رکھا گیا ہے۔
بلکہ غدیر میں اعلان ولایت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اس لئے جب بھی مطلق غدیر کہا جاتا ہے تو محدثین کا ہی نہیں بلکہ عام مسلمان کا ذہن بھی حدیث ولایت کی طرف چلا جاتا ہے اور کانوں میں پیغمبر کا یہ قول گونجنے لگتا ہے((من کنت مولا فعلی مولاہ))جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں یا جس کا میں ولی ہوں اس کے علیؑ ولی ہین یا اس طرح کے جملے کو ایک بڑی جماعت نے صحیح قرار دیا ہے ان میں بعض کا حوالہ ہم ذیل میں عرض کرتے ہیں۔
1۔ابوعیسیٰ محمد بن عیسیٰ الترمزی سلمی متوفی279(1) 2۔حافظ ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ الحاکم الضبی نیشاپوری۔(2)
3۔حافظ ابوالحسن علی ابن ابی بکر بن سلیمان ہیثمی(3) 4۔ابوالفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی شافعی متوفی852(4)
5۔حافظ ابوعمر یوسف بن عبداللہ محمد عبدالبرنمری قرطبی(5)
6۔ابوجعفر محمد بن حریر بن یزید بن خالد الطبری متوفی310(6)
7۔ابوالحسن یوسف بن موسیٰ الحنفی(7)
---------------
(1)سنن ترمذی ج:5ص:633،کتاب مناقب رسول اللہؐ،باب مناقب علی بن ابی طالبؐ
(2)مستدرک علی صحیحن ج:3ص:118،119،کتاب معرفت صحابہ،مناقب علی ابی طالبؑ ص:613،کتاب معرفت صحابہ،حالات زید بن ارقم کی روایت میں
(3)مجمع الزوائدج:9ص:104۔105۔106۔107۔108،کتاب مناقب،باب مناقب علی بن ابی طالبؑ اور باب قول رسولؐ،من کنت مولاہ فعلی مولاہ،
(4)فتح الباری ج:7ص:74
(5)الستیعاب ج:3،ص:36،حالات علی بن ابی طالبؑ میں
(6)تھذیب التھذیب ج:7ص:297،حالات امام علی بن ابی طالبؑ میں
(7)معتصر المختصرج:2ص:301،کتاب جامع ممالیس فی موطا،مناقب امام علیؑ میں
8۔ابوعبداللہ محمد بن احمد بن عثمان بن قائماز ذہبی متوفی748(1) انہوں نےابن کثیر سے بھی روایت لی ہے۔(2)
9۔علی بن برہان الدین شافعی الحلبی متوفی1044(3)
10۔حافظ عماد الدین ابوالفداء اسماعیل بن عمر بن کثیر شافعی دمشقی متوفی774(4)
11۔حافظ عماد الدین ابوعبداللہ محمد بن عبدالواحد بن احمد حنبلی مقدسی۔(5)
12۔محمد ناصرالدین البانی اور ان کے علاوہ بھی بہت سے لوگ ہیں۔(6)
بلکہ ایک جماعت نے صریحاً کہا ہے کہ یہ حدیث متواتر ہے،متواتر ہونے کی صراحت کرنےوالوں میں کچھ علماء کے نام مندرجہ ذیل ہیں:
1۔ابوعبداللہ محمد بن احمد بن عثمان قائماز ذہبی۔(7)
2۔حافظ جلال الدین ابوالفضل عبدالرحمٰن بن ابی بکر سیوطی متوفی911ابنحرانی دمشقی(8) اور کتانی نے انہیں کے حوالہ سے نقل کیا ہے۔(9)
-----------
(1)تذکرۃ الحفاظ ج:3ص:1043،حالات حاکم ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ نیشاپوری
(2)البدایۃ و النھایۃ ج:5ص:209،فصل فی ایراد الحدیث الدال علی انہ علیہ السلام خطب بمکان بین مکۃ و المدینۃ من حجۃ الوداع
(3)السیرۃ الحلبیۃج:3ص:308،حجۃ الوداع میں
(4)البدایۃ و النھایۃ ج:5ص:210،فصل فی ایراد الحدیث الدال علی انہ علیہ السلام خطب بمکان بین مکۃ و المدینۃ من حجۃ الوداع
(5)الاحادیث المختارۃج:2ص:105،روایت سعید بن وھب ہمدانی حضرت علیؑ سےج:3ص:139
(6)صحیح سنن ابن ماجہ ج:1ص:26،باب فضائل اصحاب رسول اللہؐ
(7)سیرہ اعلام النبلاءج:8،ص:335،فی آخر حالات المطلب بن زیاد
(8)البیان و التعریف ج:2،ص:230،حدیث1577
(9)نقلہ عن المنادی فی نظم المتناثرص:195
3۔ابوعبداللہ محمد بن جعفر کتانی۔(1)
جناب شیخ امینی نے اتنی بڑی جماعت کے کلمات نقل کئے ہیں کہ کسی طرح حد تواتر سے کم نہیں ہیں۔(2)
اور بڑی جماعت نے اس حدیث کے متعلق مستقل کتابیں لکھی ہیں ان مؤلفین میں سے چند کے نام ملاحظہ ہوں۔
1۔ابوجعفر محمد بن حریر بن یزید بن خالد طبری یہ صاحب تاریخ ہیں ان کے حوالہ سے ایک بڑی جماعت ناقل ہے جن میں ابن حجر(3) اور ذہبی بھی ہیں۔تذکرہ حفاظ کے مولف لکھتے ہیں کہ میں نے ابن حریر کی ایک کتاب دیکھی جس میں حدیث کے سلسلہ رواۃ کو دیکھ کر مجھے دہشت ہونےلگی۔(4) اعلام النبلا کے مصنف کہتے ہیں کہ ابن حریر نے غدیرخم کے روایوں اور سلسلہ رواۃ کو چار جلدوں میں جمع کیا ہے میں نے کچھ حصوں کا مطالعہ کیا تو مجھے ان کی وسعت علم پر حیرت ہونےلگی اور مجھے یقین ہوگیا کہ غدیر کا واقعہ بہرحال ہوا تھا(5) ابن جریر کے معترفین میں ابن کثیر بھی ہیں وہ کہتے ہیں کہ مجھے اس حدیث کی طرف ابوجعفر محمد بن جریر طبری نے متوجہ کیا جو صاحب تاریخ و تفسیر ہیں،علامہ طبری نے اس موضوع پر دو کتابیں لکھی ہیں،طرق اور الفاظ دونوں کتابوں میں وارد کئے ہیں اسی طرح ابوالقاسم بن عساکر نے اس خطبہ غدیر کے بارے میں بہت سی حدیثیں وارد کی ہیں ہم تو اس موضوع کی صرف نمایاں باتوں کو وارد کررہے ہیں۔(6)
---------------
(1)نظم المتناثر،ص:194،عند ذکر الحدیث
(2)الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الادب ج:1،ص:294۔313
(3)تھذیب التھذیب ج:7،ص:297،حالات امیرالمومنینؑ میں
(4)تذکرہ الحفاظ ج:2،ص:713،حالات محمد بن جریر طبری
(5)سیر اعلام النبلاءج:14،ص:277،حالات محمد بن جریر الطبری میں
(6)البدایۃ و النھایۃ ج:5،ص:208،فصل فی ایراد الحدیث الدال علی انہ علیہ السلام خطب بمکان بین مکۃ و المدینۃ من حجۃ الوداع
2۔ابوالعباس احمد بن محمد بن سعید ہمدانی جو ابن عقدہ کے نام سے مشہور ہیں متوفی33ان سے ایک جماعت نے ذکر کیا ہے جن میں ابن حجر بھی ہیں۔
ابن حجر اپنی کتاب تہذیب التہذیب میں کہتے ہیں کہ ابوعباس بن عقدہ نے حدیث غدیر کو صحیح قرار دیا ہے اور اس کے طریقوں کو جمع کیا ہے انہوں نے اسی حدیث غدیر کو صحیح قرار دیا ہے اور اس کے طریقوں کو جمع کیا ہے،انہوں نے اسی حدیث کی روایت یا اس سے زیادہ صحابیوں سے نقل کی ہے۔(1)
فتح باری کے مولف لکھتے ہیں کہ جہاں تک حدیث((من کنت مولاه فهذا علی مولاه)) کا سوال ہے تو اس کو نسائی اور ترمذی نے نقل کیا ہے اور بھی بہت سے طریقوں سے روایت کی ہے ابن عقدہ نے اس حدیث کے طریقوں کو ایک الگ کتاب میں جمع کیا ہے اس کی زیادہ تر اسناد یا تو صحیح ہیں یا حسن اور میں امام احمد سے روایت کرتا ہوں کہ جتنے فضائل مولائے کائنات کے ہم تک پہونچے ہیں کسی صحابی کے نہیں پہونچے۔(2)
ابوعبداللہ محمد بن احمد بن عثمان بن قائماز ذہبی جیسا کہ انہوں نے حاکم نیشاپوری کے حالات میں لکھا ہے کہ حدیث طیر کے بہت سے راوی ہیں میں نے ایک کتاب میں الگ سے جمع کیا ہے اور راویوں کے اس مجموعہ کو دیکھ کر یہ ماننا پڑتا ہے کہ حدیث طیر کی اصل ہے لیکن حدیث((من کنت مولاہ((تو اس کے بھی بہت سے راوی ہیں اور اس کے لئے بھی میں نے الگ کتاب لکھی ہے۔(3) لیکن خطبہ کے باقی کے فقروں کے راوی مختلف ہیں اس خطبہ میں سرکار دو عالمؐ نے حدیث میں تقدیم کرنے کے لئے یہ جملہ بھی ارشاد فرمایا تھا۔کیا میں مومنین پر ان کے نفسوں سے زیادہ صاحب اختیار نہیں ہوں؟یا یہ فرمایا تھا کہ:
----------------
(1)تھذیب التھذیب ج:7،ص:297،حالات امیرالمومنینؑ
(2)فتح الباری ج:7ص:73
(3)تذکرۃ الحفاظ ج:3ص:1042۔1043
میں مومنین کے نفسوں سے اولیٰ ہوں ان کے لئے؟))اس فقرہ کا بھی کثیر طریقوں سے ذکر کیا گیا ہے یہاں تک کہ بات حد تواتر تک پہونچی ہے بلکہ کچھ اس سے بھی زیادہ حدیث کی کتابوں میں یہ جملہ موجود ہے اور ایک جماعت نے اس کا ذکر کیا ہے ان میں۔
1۔امام حنابلہ ابوعبداللہ احمد بن حنبل شیبانی ہیں(1) 2۔حافظ ابوسعید ہیثم بن کلیب شاشی ہیں(2) 3۔حافظ عبدالرحمٰن احمد بن شعیب نسائی ہیں(3) 4۔حافظ ابوالحسن علی بن ابوبکر بن سلیمان ہیثمی ہیں(4) 5۔حافظ عماد الدین ابوالفداء اسماعیل بن عمر بن کثیر شافعی دمشقی ہیں(5) 6۔ابن اثیر جزری کے نام سے مشہور عزالدین علی بن محمد ہیں(6) 7۔ابوبکر عبداللہ بن محمد بن ابوبکر شیبہ کوفی ہیں(7)
8۔ابوالمحسن یوسف بن موسیٰ الحنفی(8) 9۔حافظ ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ تمیمی بیشاپوری(9)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)مسند احمدج:1ص:119،مسند علی بن ابی طالبؑ ج:4ص:281،حدیث براءبن عازب ص:368۔372،حدیث زید بن ارقم
(2)مسند الشاشی ج:2ص:127،روایت حارث بن مالک نے سعید سے
(3)سنن کبریٰ نسائی ج:5ص:45،کتاب مناقب،فضائل علیؑ ص:130۔131،کتاب الخصائص،باب قول نبیؐ،ص:134،کتاب خصائص:الترغیب فی موالاۃ علیؑ و الترھیب فی معاداتہ،اور اسی طرح روایت کی کتاب خصائص علیؑ میں ص:101۔100
(4)مجمع الزوائدج:9ص:104۔105۔107،کتاب مناقب،باب مناقب علی ابن ابی طالبؑ
(5)البدایۃ و النھایۃج:5ص:209،حدیث:غدیر خم کے میدان میں جو فرمائی:ج:7ص:349
(6)اسد الغابۃج:4ص:28،حالات علی بن ابی طالبؑ
(7)مصنف ابن ابی شیبہ ج:6ص:372،کتاب الفضائل،فضائل علی ابن ابی طالبؑ
(8)معتصر المختصرج:2ص:301،کتاب جامع ممالیس فی الموطا:مناقب علیؑ
(9)مستدرک علی صحیحین ج:3ص:118،کتاب معرفت صحابہ،مناقب امیرالمومنین علیؑ ص:616
10۔حافظ ابوبکر احمد بن عمرو بن عمرو بن ابوعاصم الضحاک بن مخلد شیبانی(1)
11۔حافظ ابویعلی احمد بن علی بن مثنی موصلی تمیمی(2)
12۔حافظ ابوالقاسم سلیمان بن احمد بن ایوب طبرانی(3)
13۔ابوالحسن علی بن عمر بن احمد دارقطنی متوفی367کچھ لوگوں نے کہا ہے کہ:
من کنت مولاہ))کے بعد حضرت نے فرمایا:(4) اللھم وآل من ولاہ و عاد من عادہ(مالک تو اس سے محبت کر جو علی سے محبت کرے اور اس کو دشمن رکھ جو علیؑ کو دشمن رکھے)اہل سنت کی ایک جماعت نے اس کا ذکر کیا کیا ہے اور بہت سے طریقوں سے وارد کیا ہے اہل سنت نے اس جملہ کو اپنی کتابوں میں شامل کیا ہے ان لوگوں کے چند نام مندرجہ ذیل ہیں:
1۔ابوالمحاسن یوسف بن موسیٰ حنفی(5) 2۔امام حنابلہ ابوعبداللہ احمد بن حنبل شیبانی(6) 3۔حافظ ابوسعید ہیثم بن کلیب شاشی(7)
4۔حافظ ابوعمر یوسف بن عبداللہ محمد بن عبدالبرنمری قرطبی(8) 5۔حافظ ابوعبدالرحمٰن بن شعیب نسائی(9)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)السنۃ لابن ابی عاصم ج:2ص:606،605،باب من کنت مولاہ فعلی مولاہ
(2)مسند ابی یعلی ج:1ص:429،مسند بن ابی طالبؑ
(3)معجم الکبیرج:5ص:194،ص:195،روایت عطیہ عوفی نے زید بن ارقم سے
(4)جزء ابی طاہر ص:50
(5)معتصر المختصرج:1ص:307،کتاب النکاح:فی کراھۃ التزویج علی فاطمہ،اسی طرح،ج:2ص:301،کتاب جامع ممالیس فی الموطا
(6)مسند احمدج:1ص:118۔119،مسند علی بن ابی طالبؑ میں ج:4ص:281،حدیث براءبن عاذبص:372،حدیث زید بن ارقم،ج:5ص:370
(7)مسند الشاشی ج:2ص:166
(8)الاستیعاب ج:3ص:36،حالات علی بن ابی طالبؑ
(9)سنن کبری نسائی ج:5ص:45،کتاب مناقب،فضائل علیؑ ص:132،کتاب خصائص:باب قول نبیؐ اور اسی طرح روایت کتاب خصائص علی ص:93،قول نبیؐ ص:100،الترغیب فی مولاتہ و الترھیب عن معاداتہ
6۔حافظ ابوالحسن علی بن ابی بکر بن سلیمان ہیثمی(1) 7۔ابوبکر عبداللہ بن محمد بن ابوبکر شیبہ کوفی(2)
8۔حافظ ضیاءالدین ابوعبداللہ محمد بن عبدالواحد بن احمد حنبلی مقدسی(3) 9۔حافظ ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ حاکم ضبی نیشاپوری(4)
10۔حافظ ابوالقاسم سلیمان بن احمد بن ایوب طبرانی و غیرہ(6)
بہت سے گوں نے((اللھم و آل من والاہ))کی دعا کے ساتھ((وانصر من نصرہ واخذل من خذلہ))(مالک تو اس کی مدد کرنا جو علی کی مدد کرے اور اس کو رسوا کر جو علی کو رسوا کرے)اس دعائیہ جملہ کی بھی روایت کی گئی ہے کہ سرکار نے حدیث من کنت میں یہ بھی فرمایا تھا بعض طرق حدیث سے اس کی روایت کی گئی ہے اور ایک جماعت نے اس کا تذکرہ کیا ہے ان میں سے:
1۔ابوالمحاسن یوسف بن موسیٰ حنفی(7) 2۔حنبلی فرقہ کے امام ابوعبداللہ احمد بن حنبلی شیبانی(8)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)مجمع الزوائدج:9ص:108،107،106،105،104،کتاب مناقب،باب مناقب علیؑ
(2)مصنف ابن ابی شیبہ ج:6ص:368۔369۔372،کتاب فضائل،فضائل علیؑ
(3)الاحادیث المختارہ ج:2ص:106،105،فیما رواہ سعید بن وھب الھمدانی عن علیؑ
(4)مستدرک علی صحیحین ج:3ص:118،کتاب معرفت صحابہ،مناقب علیؑ،ص:126،کتاب معرفت صحابہ ص:419،کتاب معرفت صحابہ،فی ذکر مناقب طلحۃ بن عبیداللہ التیمی
(5)مسند ابی عیلی ج:1ص:429،مسند علی بن ابی طالبؑ ج:11ص:308
(6)معجم الصغیرج:1ص:119،باب من اسمہ احمد،معجم الکبیرج:4ص:16،ص:173،ج:5ص:170،ص:171،ص:175،ص:192،ص:193،ص:194ص:195،عطیہ عوفی نے زید بن ارقم سے روایت کی ہے
(7)معتصر المختصرج:1ص:307،کتاب النکاح:کراھۃ التزویج علی فاطمہ
(8)مسند احمدج:1ص:119،مسند علی بن ابی طالب علیہما السلام میں
3۔حافظ ابوالحسن علی بن ابوبکر سلیمانی ہیثمی(1)
4۔علی بن برہان الدین شافعی حلبی(2)
ان کے علاوہ بھی بہت سے لوگ ہیں،یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ سرکارؐ نے جس خطبہ غدیر میں مولائے کائناتؑ کی ولایت پر نص فرمائی تھی اس خطبہ میں عترت و کتاب والی حدیث ثقلین بھی شامل ہے یا یہ کہ اسی خطبہ میں اعلان ولایت کے بعد حدیث ثقلین عنایت فرمائی۔
ممکن ہے کہ اختلافات نقل کی جہت سے بھی ہوسکتے ہیں یعنی نقل بالمعنی یا بہت زمانہ گذر جانے کی وجہ سے بھی ہوسکتے ہیں کہ راوی نظم کلام یا تسلسل بھول گیا یا یہ کہ خطبہ کے کچھ فقرے بھول گیا۔
بہرحال جو بھی وجہ ہو لیکن حدیث ثقلین بھی اس خطبہ میں ہے اس کی بعض طرق حدیث سے روایت کی گئی ہے اور ایک جماعت نے ذکر بھی کیا ہے ملاحظہ ہو..
1۔حافظ ابوعبدالرحمٰن شعیب نسائی(3) 2۔حافظ ابوالحسن علی بن ابوبکر بن سلیمان ہیثمی(4) 3۔حافظ ابوعبداللہ محمد بن عبداللہ حاکم ضبی نیشاپوری(5) 4۔حافظ ابوالقاسم سلیمان بن احمد بن ایوب طبرانی(6) 5۔ابوالحسن علی بن عمر بن حمددار قطنی(7)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)مجمع الزوائدج:9ص:105،کتاب المناقب:باب مناقب علی بن ابی طالبؑ فی باب قولہ((من کنت مولا فعلی مولاہ))
(2)السیرۃ الحلبیۃج:3ص:308،حجۃ الوداع
(3)سنن کبریٰ نسائی ج:5ص:308،کتاب المناقب:فضائل علیؑ مین
(4)مجمع الزوائدج:9ص:164،کتاب المناقب:باب فضائل اہل بیت علیہم السلام میں
(5)مستدرک علی صحیحین ج:3ص:118،کتاب معرفۃ الصحابۃ:مناقب امیرالمومنینؑ میں
(6)معجم الکبیرج:5ص:171
(7)جزءابی طاہر،ص:50
6۔حافظ عمادالدین ابوالفداء اسماعیل بن عمر بن کثیر شافعی دمشقی(1)
7۔علی بن برہان الدین شافعی حلبی و غیرہ(2)
خطبہ غدیر میں اور بھی بہت سے فقرے ہین جن کے بارے میں فی الحال ہم گفتگو کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔
واقعہ غدیر میں اکمال کا نزول
6۔غدیر خم میں جب سرکار دو عالمؐ نے علیؑ کی ولایت کی تبلیغ فرمائی تو یہ آیت نازل ہوئی:(الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا) (3)
ترجمہ:آج کے دن ہم نے تمہارے دین کو کامل کیا اور تم پر اپنی نعمتیں تمام کیں اور تمہارے لئے دین اسلام پر راضی ہوا۔
شیعہ امامیہ کا یہی مسلک ہے اور انھوں نےاس سلسلے میں آئمہ اہل بیت علیہ السلام کو اپنا مرجع بنایا ہے اور انھیں حضرات علیہم السلام سے روایتیں لی ہیں۔
اہل سنت میں ابوسعید خدری،ابوہریرہ،زید بن ارقم اور مجاہد نے مانا ہے کہ یہ آیت غدیرخم میں اعلان ولایت کے بعد نازل ہوئی اور شیخ نے اس آیت کے ذیل میں اہل سنت کے علما کے بہت سے نام پیش کئے ہیں۔(4)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)البدایۃ و النہایۃ ج:5ص:209،فصل فی ایراد الحدیث...من حجۃ الوداع،اسی طرح،ج:7ص:348،(سنۃ اربعین من الہجرۃ النبویہ)باب ذکر شئی من فضائل امیرالمومنین علی بن ابی طالبؑ میں
(2)السیرہ الحلبیۃج:3ص:308،حجۃ الوداع میں
(3)سورہ مائدہ آیت:3
(4)الغدیر فی کتاب و السنۃ و الادب ج:1ص:238،230،
جو اس بات کے قائل ہیں کہ اس آیت کی شان نزول غدیر ہے ان علما میں ابونعیم اصفہانی ہیں آپ نے ایک کتاب لکھی ہے جس کا نام((مانزل من القران فی علی))(یعنی قرآن میں جو علی کے بارے میں نازل ہوا)وہ اپنی اسناد سے ابوسعید خدری سے روایت کرتے ہیں کہ سرکار دو عالمؐ نے غدیرخم میں لوگوں کو علیؑ کی طرف بلایا ببول کے درختوں کے نیچے جو کانٹے و غیرہ تھے ڈال کر اٹھایا اور اتنا بلند کیا کہ لوگ پیغمبر کے بغل کی سفیدی دیکھنے لگے پھر لوگ ابھی متفرق نہیں ہوئے تھے کہ یہ آیہ((اکملت))نازل ہوئی پس سرکار نے فرمایا کہ:دین کے کامل ہونے،نعمت کے تمام ہونے،پروردگار کی میری رسالت کے پسند کرنے،اور علی کی ولایت پر راضی ہونے پر خدا کی تکبیر کرتا ہوں،پھر فرمایا:جس کا میں مولا ہوں اس کے علی مولا ہیں،پالنےوالے تو اس سے محبت کر جو علی سے محبت کرے اور اس کو دشمن رکھ جو علی کو دشمن رکھے،اس کی مدد کر جو علی کی مدد کرے اور اس کو رسوا کر جو علی کو رسوا کرے،پھر حسان بن ثابت کھڑے ہوئے اور پوچھا،کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ علیؑ کے سلسلہ میں چند شعر پڑھوں آپ سنیں گے آپ نے فرمایا:خدا کی برکت ہو،بسم اللہ،پڑھو،حسان کھڑے ہوئے اور بولے:
اے قریش کے سردارو!میں شہادت پیغمبرؐ کے ساتھ اس ولایت کا بھی قائل ہوں جو ابھی پیش کی گئی یعنی((اشھد ان محمداً رسول کے ساتھ علی ولی اللہ))بھی کہوں گا پھر آپ نے کچھ اشعار پڑھے جو پیش کئے جائیں گے۔(1)
یوم غدیر کے بارے میں ابوہریرہ کی حدیث بھی پیش کی جائےگی۔
لیکن ابن کثیر کہتے ہیں کہ ابن مردویہ نے ہاروں عبدی سے اور انہوں نے ابوسعید خدری سے روایت کی ہے کہ آیہ((اکمال دین))غدیرخم میں نازل ہوئی جب حضورؐ نے علیؑ کے لئے فرمایا کہ میں جس کا مولا ہوں علی بھی اس کے مولا ہیں پھر وہ ابوہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ زی الحجہ کی18تاریخ
-----------------
(1)الغدیر فی الکتاب و النسۃ و الادب،ج:1ص:232
تھی ابوہریرہ کی مراد یہ ہے کہ جب حضور حجۃ الوداع سے واپس ہورہے تھے اس وقت کا یہ واقعہ ہے لیکن صحیح تر جو ہے وہ یہ ہے کہ یہ آیت عرفہ کے دن نازل ہوئی اس کی روایت عمر بن خطاب اور علی ابن ابی طالبؑ نے کی ہے اور اسلام کے پہلے بادشاہ معاویہ اور ترجمان القرآن عبداللہ بن عباس اور ثمرہ بن جندب نے بھی یہی روایت کی ہے۔(1)
سیوطی کہتے ہیں کہ ضعف سندوں کے ساتھ ابن مرودویہ اور عساکر نے ابوسعید خدری سے نقل کیا ہے کہ:جب پیغمبرؐ نے علیؑ کو غدیرخم میں کھڑا کیا پس آپ نے علیؑ کی ولایت کا اعلان کیا تو جبرئیل یہ آیت لےکر نازل ہوئے۔
اور ابن مردویہ،خطیب اور ابن عساکر نے ضعیف اسناد کے ساتھ ابوہریرہ سے نقل کیا ہے کہ جب غدیرخم کا دن آیا(وہ اٹھارہ ذی الحجہ تھی)تو آپ نے فرمایا:جس کا میں مولا ہوں اس کے علی بھی مولا ہیں،پس خداوند کریم نے آیہ اکمال دین نازل فرمائی۔( 2 )
شیخ امینی نے ان دونوں راویوں کو بعد میں ذکر کر کے جواب بھی دیا ہے اور اہل سنت کے معیار جرح و تنقید پر اس حدیث کو صحیح ثابت کیا ہے۔(3)
انشااللہ یہ گفتگو اس وقت پیش کی جائےگی جب یوم غدیر کے بارے میں خطیب بغدادی سے حدیث میں قوت کا رجحان حدیث ابوہریرہ میں پایا جاتا ہے۔
یہ باتیں پیش بھی نہیں کرنا چاہتا اس لئے کہ میرا مقصد صرف یہ ہے کہ اہل سنت کے یہاں واقعہ غدیر کا تذکرہ شدت کیا گیا ہے اس بات کو میں آپ کے سامنے پیش کروں احادیث سے احتجاج میرا ہدف نہیں ہے۔
---------------
(1)تفسیر ابن کثیر،ج:2ص:15،آیت کی تفسیر میں
(2)الدر المنثورج:2ص:259،آیت کی تفسیر میں
(3)الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الادب،ج:1ص:402
ہادی اعظم نے علیؑ کے سر پر عمامہ باندھا
7۔اس موقع پر حضور کائناتؐ نے علیؑ کے سر پر عمامہ باندھا۔
امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ سرور کائناتؐ نے غدیر کے دن میرے سر پر عمامہ باندھ کر پیچھے کی طرف شملہ چھوڑ دیا پھر فرمایا:اللہ نے بدر و حنین کے دن جب فرشتوں سے میری مدد کی تھی وہ یہی عمامہ باندھے ہوئے تھے فرمایا عمامہ کفر اور ایمان کے درمیان حد فاصل ہے۔(1)
حاضرین نے غدیرخم میں علیؑ کو مبارک باد دی
8۔حدیث،تاریخ اور تفسیر کے بہت سے علما نے لکھا ہے کہ سرکار دو عالمؐ نے ولایت علیؑ کی نص فرمائی تو حاضرین نے مولائے کائناتؑ کی خدمت میں ہدیہ تبریک پیش کیا اس بات کو لکھنےوالوں میں۔
1۔ابوبکر عبداللہ بن محمد بن ابی بکر شیبہ کوفی ہیں وہ براء بن عازب سے نقل کرتے ہیں کہ ہم سفر میں پیغمبرؐ کے ساتھ تو تھے پس جب ہم غدیرخم میں اترے تو حضورؐ نے نماز جماعت کا اعلان کرایا سرکار دو عالمؐ کے لئے درختوں کے نیچے صفائی کردی گئی آپ نے وہاں ظہر کی نماز پڑھائی اور علی کا ہاتھ تھام کر لوگوں سے پوچھا کہ کیا تم لوگ نہیں مانتے کہ میں مومنین پر ان کے نفسوں سے زیادہ حق رکھتا ہوں انھوں نے کہا ہاں پھر پوچھا کہ کیا تم نہیں مانتے کہ میں ہر مومن پر اس کے نفس سے زیادہ حق رکھتا ہوں لوگوں نے کہا ہاں،آپ نے علی کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا جس کا میں مولا ہوں علی اس کے مولا ہیں،پالنےوالے تو اسے دوست رکھ جو علی کو دوست رکھے اور اسے دشمن رکھ جو علی کو دشمن رکھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سنن کبریٰ بیہقی ج:10ص:14،کتاب السبق و الرمایۃ:باب التحریض علی الرمی اور اسی طرح مسند الطیالسی ج:2ص:23،احادیث علی بن ابی طالبؑ میں،الکامل فی الضعفاءج:4ص:173،حالات عبدالبشر بن الشامی میں،الاصابۃج:4ص:25،حالات عبدالبشر بن الشامی میں،تحفۃ الاحوذی،ج:5ص:336،ابواب اللباس:باب فی سدل العمامۃ بین الکتفین
براء نے کہا اس وقت عمر اٹھے اور علی کے پاس گئے اور کہنے لگے علی آپ کو مبارک ہو آپ ہر مومن و مومنہ کے مولا ہوگئے۔(1) 2۔امام حنابلہ،ابوعبداللہ احمد بن حنبل شیبانی ہیں،امام صاحب نے اس حدیث کو اسناد کے ساتھ براء بن عاذب سے لیا اور انہوں نے ابن شیبہ سے لیا ہے۔لیکن ان کی حدیث میں((اللھم و آل..))والا دعائیہ جملہ نہیں ہے۔(2)
3۔ابوبکر احمد بن خطیب بغدادی متوفی463ہیں انہوں نے ابوہریرہ کے حوالہ سے روایت کی ہے(3) اور اس کا بیان یوم غدیر کے بارے میں گفتگو تو لکھا جائےگا۔
4۔حافظ شہاب الدین احمد بن محمد بن علی بن حجر ہیثمی سعدی انصاری متوفی974ہیں کہتے ہیں کہ:یہ وہ معنی ہے جس کو ابوبکر اور عمر نے سمجھا اور آپ کو مبارک باد دی۔اور میں ان حدیث تمہارے سامنے رکھتا ہوں جب ان لوگوں نے پیغمبر سے((من کنت مولاہ))کا جملہ سنا تو دونوں نے مولائے کائنات سے کہا اے علی آپ ہر مومن اور مومنہ کے مولا ہوگئے اس حدیث کو دارقطنی نے بھی روایت کیا ہے۔(4) 5۔حافظ عمادالدین ابوالفداء اسماعیل بن عمر بن کثیر شافعی دمشقی(5)
6۔ابوعبداللہ محمد بن عمر بن حسن فخر الدین رازی شافعی متوفی606نے لکھا ہے کہ اس آیتیا ایها الرسول بلغ کے نزول کے ذیل میں جو اقوال آئے ہیں انھیں اقوال میں سے دسواں قول یہ ہے۔(6)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)مصنف ابن ابی شیبہ ج:6ص:372،کتاب فضائل،فضائل علی بن ابی طالبؑ
(2)مسند احمدج:4ص:281،حدیث براء بن عاذب میں
(3)تاریخ بغدادج:8ص:290،حبثون بن موسیٰ بن ایوب کے حالات میں
(4)الصواعق محرقہ ص:42،گیارہویں شبہ کے جواب میں تیسری وجہ میں
(5)البدایۃ و النھایۃج:5ص:229،ایسی حدیث کی فصل میں جو دلالت کرتی ہے کہ آنحضرتؐ نے مکہ اور مدینہ کے درمیان خطاب فرمایا حجۃ الوداع کے وقت ہے اور وادی جحفہ سے قریب ہے جیسے غدیرخم کہا جاتا ہے
(6)سورہ مائدہ آیت:67
آیہ اکمال علی ابن ابی طالبؑ کی فضیلت میں نازل ہوئی کہتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو سرکارؐ نے علی بن ابی طالبؑ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا:میں جس کا مولا ہوں علی بھی اس کے مولا ہیں پالنےوالے جو ان سے دوستی رکھے تو بھی اس سے دوستی رکھ اور جو ان سے دشمنی کرےتو بھی اس سے دشمنی رکھ،پس عمر نے حضرت علیؑ سے ملاقات کی اور کہا اے ابوطالب کے بیٹے آپ کو مبارک ہو کہ آپ میرے اور ہر مومنین و مومنات کے مولا ہوگئے اور یہی قول ابن عباس اور براء بن عازب اور محمد بن علی کا بھی ہے۔(1)
شیخ امینی نے ساٹھ راویوں تک کا شمار کیا ہے لیکن مجھے اختصار اجازت نہیں دیتا کہ تفصیل میں جاؤں۔
واقعہ غدیر کے دن حسان بن ثابت کا معرکۃ الآراء قصیدہ
9۔حسان بن ثابت اس تاریخی واقعہ کے پس منظر میں مندرجہ ذیل اشعار پڑھے۔
غدیرخم میں ان کا نبی انہیں آواز دے رہا تھا اور میں نبی کا اعلان سن رہا تھا میں نے بھی جواب دینے میں چشم پوشی نہیں کی اور کہا آپ کا خدا ہمارا مولا ہے اور آپ ہمارے ولی ہیں اور مقام ولا میں آپ ہمیں نافرمان نہیں پائیں گے۔
پس آپ نے فرمایا علی اٹھو،بیشک میں اپنے بعد تمہاری امامت اور رہبری پر راضی ہوں۔
پس جس کا میں مولا ہوں یہ بھی اس کا مولا ہے تم لوگ اس ک سچے ناصر اور چاہنےوالے بن جاؤ یہیں پہ سرکار دو عالمؐ نے دعا کی پالنےوالے تو اس محبت کر جو علی کا دوست ہے اور اسے دشمن رکھ جو علی کو دشمن رکھے۔
تمام اہل حدیث اور دوسروں نے اس قصیدے کو نقل کیا ہے اگر چہ اشعار کی تعداد میں اختلاف ہے،جب کہ بعض الفاظ میں اختلاف ہے لیکن یہ اختلاف کچھ اہم نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)تفسیر کبیرج:12،ص:50،49
1۔حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہ اصفہانی متوفی430ہجری،اپنی کتاب مانزل من القرآن فی علی میں اس حدیث کے تتمہ میں لکھا ہے کہ اکمال دین کی آیت غدیر میں نازل ہوئی۔
2۔موفق بن احمد بن محمد مکی خواررمی متوفی568غدیر کا واقعہ لکھنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں کہ حسان بن ثابت نے کہا کہ سرکار مجھے اجازت ہے کہ میں اشعار پڑھوں آپ نے فرمایا:خدا کی برکت ہے پڑھو،حسان کھڑے ہوئے اور کہا:اے قریش کے بزرگو!شہادت رسالت کے کلمہ کو سنو!پھر حسان نے مندرجہ بالا اشعار پڑھے۔(1) 3۔جمال الدین بن یوسف بن حسن زرندی،حنفی مدنی متوفی750(2) 4۔حافظ عبداللہ المرزبانی محمد بن عمران خراسانی اپنی کتاب مرقاۃ الشعر میں حسان کے یہ اشعار غدیر کے دن کے حوالے سے شیخ امینی کے بیان کے مطابق لکھے ہیں۔(3)
5۔حافظ جلال الدین ابوالفضل عبدالرحمٰن بن ابوبکر سیوطی نے پنے رسالہ((الازدھار فیما عقد الشعراء من الاشعار))میں یہ اشعار تحریر کرتے ہیں اور غدیرخم ان اشعار کا تذکرہ کیا ہے جیسا کہ شیخ امینی نے لکھا ہے۔(4) تو جناب عالی یہ ہے غدیر کے اہم واقعات اب کچھ اور باتیں رہ گئیں ہیں جن کا لگاؤ غدیر سے ہے۔
غدیر کا روزہ
1۔شیعوں کے یہاں غدیر کا روزہ آئمہ اہل بیتؑ کی ہدایتوں کی بنیاد پر مستحب ہے(5)
اہل سنت کے یہاں بھی ابوہریرہ کے حوالہ سے غدیر کے روزے کے بارے میں روایت ملتی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)مناقب خوارزمی ص:136،حدیث152(2)نظم دررالسمطین ص:113،112(3)الغدیرج:2ص:34
(4)الغدیرج:2ص:36
(5)وسائل الشیعہ:ج:7ص:322،کتاب الصوم،باب 14،مستحب روزوں کے ابواب میں سے اور بعض حدیثوں میں آیا ہے کہ یہ روزہ ساٹھ ماہ کے روزوں کے برابر ہے،حدیث10،2
ابوہریرہ نے آیۂ اکمال کا تذکرہ کرتے ہوئے غدیر کے روزے کی صراحت کی ہے ابوہریرہ سے جن لوگوں نے صوم غدیر والی روایت نقل کی ہے ان میں خطیب بغدادی ہیں وہ اپنی سند کے ساتھ لکھتے ہیں کہ ابوہریرہ نے کہا کہ اٹھارہ ذی الحجہ کا روزہ ساٹھ مہینوں کے روزوں کے برابر ہے جو غدیر کا روزہ رکھے اس کو ساٹھ مہینوں کے روزوں کا ثواب ملےگا۔
غدیر کا دن وہی دن ہے جب حضورؐ نے علیؑ کا ہاتھ پکڑ کر مسلمانوں سے پوچھا تھا کہ کیا میں مومنین کا ولی نہیں ہوں لوگوں نے کہا ہاں اے خدا کے رسول آپ نے فرمایا:جس کا میں مولا ہوں اس کے یہ علی مولا ہیں پس عمر نے کہا اے ابوطالب کے بیٹے آپ کو مبارک ہو مبارک ہو آپ میرے اور ہر مسلمان کے مولا ہوگئے پس یہ آیت نازل ہوئی: (الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا) (1)
اور جو27/رجب کا روز رکھےگا اس کو ساٹھ مہینوں کے روزوں کا ثواب ملےگا۔
27/رجب وہ پہلا دن ہے جب محمدؐ پر جبرئیل رسالت کا پہلا پیغام لائے تھے۔
پھر خطیب لکھتے ہیں کہ یہ حدیث جبثون کی روایتوں میں مشہور ہے اور وہ اس کا تنہا راوی ہے اس حدیث میں احمد بن عبداللہ بن نیری نے اس کی متابعت کی ہے اس روایت کو اس نے علی بن سعید سے بیان کیا ہے اس کی خبر مجھے ازہری نے دی ہے،مجھ سے محمد بن عبداللہ بن اخی میمی نے اس کو لکھوایا یا احمد بن عبداللہ بن احمد بن عباس بن سالم نے اس کو مہران سے جو ابن نیری کے نام سے مشہور ہیں اس سے علی ابن سعید شامی نے س سے ضمرہ بن ربیعہ نے اس سے ابن شوذم نے،اس سے مطرنے،اس سے شہر ابن شامی نے،اس سے ابوہریرہ نے کہ جو اٹھارہ ذی الحجہ کا روزہ رکھے اس کو ساٹھ مہینوں روزے کا ثواب ملےگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ مائدہ آیت:3
اکمال دین والی آیت پر جب گفتگو ہورہی تھی تو میں نے اشارتاً عرض کیا تھا کہ اس صوم غدیروالی حدیث کی صحت میں اختلاف ہے۔
حارث بن نعمان فہری کا واقعہ ((سئل سائل بعذاب واقع))
2-(سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ-لِّلْكَافِرِينَ لَيْسَ لَهُ دَافِعٌ-مِّنَ اللَّهِ ذِي الْمَعَارِجِ)(1)
ترجمہ:ایک سائل نے کافروں پر واقع ہونےوالے عذاب کا سوال کیا جو بلندیوں والے خدا کی طرف سے آتا ہے اور اس کو روکنےوالا کوئی نہیں۔اس آیت کی شان نزول ملاحظہ ہو جب غدیرخم کا واقعہ اور اس دن مولا علی کے سلسلہ میں سرکار نے جو کچھ فرمایا تھا وہ بات شہروں میں پھیل گئی تو یہ بات حارث بن نعمان فہری تک بھی پہونچی پس وہ حضور کی خدمت میں ایک ناقہ پر سوار ہو کر آیا اور ایک نالے میں اپنے ناقہ سے اترا اور اسے بٹھادیا،پھر حضور سے کہنے لگا،محمدؐ آپ نے ہمیں کلمہ شہادتیں کا حکم دیا تو ہم نے گواہی دی آپ نے ہمیں نماز پنجگانہ کا حکم دیا تو ہم نے قبول کرلیا پھر آپ نے ہمیں زکات نکالنے کا حکم دیا تو ہم نے قبول کرلیا آپ نے ہمیں ایک مہینہ روزہ رکھنے کا حکم دیا تو ہم نے قبول کرلیا آپ نے ہمیں حج کا حکم دیا تو ہم نے قبول کرلیا پھر آپ نے اتنے ہی پر اکتفا نہیں کی بلکہ اپنے چچازاد بھائی کو بلند کرکے ہم سب پر اس کو افضل قرار دیا اور کہا:((میں جس کا مولا ہوں علیؑ اس کا مولا ہے))سچ بتایئےگا کہ یہ آپ نے اپنی طرف سے ہا ہے یا خدا کی طرف سے۔
سرکارؐ نے فرمایا:اس کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں یہ میں نے اپنی طرف سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے کہا ہے یہ سن کر حارث بن نعمان اپنی سواری کی طرف یہ کہتا ہوا مڑا:پالنےوالے اگر محمدؐ حق کہہ رہے ہیں تو مجھ پر آسمان سے پتھر برسادے یا ہمیں دردناک عذاب دیدے ابھی وہ اپنی سواری تک پہونچا نہیں تھا کہ اللہ نے اس پر ایک پتھر مارا جو اس کے سر پر لگا اور سر کو پھاڑتا ہوا نیچے سے نکل گیا اور خدا نےیہ آیت نازل فرمائی((سأل سائل..)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ معارج:آیت:3،2،1
مذکورہ بالا حدیث کی علماء اہل سنت کی ایک بڑی جماعت نے روایت کی ہے کچھ کے نام ذیل میں دیئے جارہے ہیں۔
1۔جمال الدین محمد بن یوسف بن حسن بن محمد زرندی حنفی مدنی(1) 2۔سلیمان بن ابراہیم قندوزی حنفی متوفی1294(2)
3۔محمد بن عبدالرؤف مناوی متوفی1331(3) 4۔علی بن برہان الدین شافعی حلبی۔(4)
5۔حافظ کبیر عبیداللہ بن عبداللہ بن احمد جو حاکم حسکانی کے نام سے مشہور ہیں۔(5) 6۔خطیب شربینی(6)
7۔ابوعبداللہ محمد بن ابوبکر قرطبی متوفی681(7) لیکن انہوں نے آیت کی وجہ بیان کرتے وقت کہا ہے کہ ایک قول یہ ہے کہ یہاں پر سائل نے کہا..8۔قاضی القضاۃ امام ابوسعود محمد بن محمد عمادی متوفی591(8) انہوں نے اس روایت کے ذکر کے ساتھ اس کی تضعیف کی ہے جیسا قرطبی و غیرہ کا قول گذرچکا ہے۔
حدیث غدیر مقام احتجاج میں
3۔حدیث غدیر کو دلیل بنا کر امیرالمومنینء،اہل بیت اطہارؑ اور شیعوں نے خلافت بلافصل پر احتجاج کیا ہے اس سلسلہ میں بہت سی باتیں ہیں اس لئے حدیث غدیر بذات خود بہت سے واقعات کی جامع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)نظم دررالسمطین ص:93
(2)ینابیع المودۃج:2ص:369،398
(3)فیض القدیر شرح جامع الصغیرج:6ص:282،من کنت مولا...کی شرح میں
(4)سیرہ حلبیہ ج:3ص:309،308،حجۃ الوداع میں
(5)شواہد التنزیل ج:2ص:289،286،آیت سال سائل کے ذیل میں
(6)سراج المنیرج:4ص:364،آیت کی تفسیر میں
(7)تفسیر قرطبی ج:18ص:279،278آیت سال سائل کے ذیل میں
(8)تفسیر ابی مسعود ج:9ص:29،آیت کی تفسیر میں
ہے،شیخ امینی نےاس پر بھرپور اور مکمل بحث کی ہے،میں تو صرف اس واقعہ کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں جو کوفہ میں مقام رحبہ میں پیش آیا۔
رحبہ(کوفہ)میں امیرالمومنینؑ کا حدیث غدیر کےحوالہ سے مناظرہ اور مناشدہ
احمد بن حنبل نے حسین بن محمد اور ابونعیم معنی سے روایت کی ہے کہ ان دونوں نے کہا:ہم سے فطر نے کہا ہے اس نے ابوطفیل سے روایت کی ہے کہ وہ کہتا ہے امیرالمومنینؑ نے رحبہ میں ہم لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا:میں ہر اس مسلمان کو خدا کی قسم دیتا ہوں جس نے پیغمبر کو غدیرخم میں سنا تھا وہ بتائے کہ کیا سنا تھا؟پس تیس آدمی کھڑے ہوگئے۔
ابونعیم کہتا ہے کہ بہت سے آدمی کھڑےہوئے اور انہوں نے گواہی دی کہ جب پیغمبر نے علی کا ہاتھ پکڑ کر تمام لوگوں سے کہ تھا((کیا میں مومنین پر ان کے نفسوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا انہوں نے کہا تھا:ہاں اے خدا کے رسولؐ،آپ نے فرمایا:جس کا میں مولا ہوں اس کا علی مولا ہے پالنےوالے جو علی کو دوست رکھے تو بھی اسے دوست رکھ اور جو علی کو دشمن رکھے تو بھی اس کو دشمن رکھ،وہ کہتا ہے کہ پس میں اس مجلس سے اٹھا اس حال میں کہ یری دل میں پھانسی تھی کہ زید بن ارقم صحابی نل گئے میں نے علی سے جو کھ سنا تھا انہیں بتایا اور کہا علی ایسے ایسے کہہ رہے تھے زید نے کہا پھر تمہیں انکار کی جرات کیسے ہوئی؟میں نے خود پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو علی کے لئے یہ باتیں کہتے سنا تھا۔(1)
ہیثمی اس حدیث کے تذکرہ کے بعد کہتے ہیں کہ اس حدیث کے رجال صحیح ہیں سوائے فطر بن خلیفہ کے حالانکہ وہ ثقہ ہے۔(2)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)مسند احمدج:4ص:30،حدیث زید بن ارقم میں
(2)مجمع الزوائدج:9ص:104،کتاب المناقب،مناقب علی بن ابی طالبؑ کے باب میں،من کنت مولا کے ضمن میں
مولائے کائنات کا یہ منا شدہ مشہور ہے اور متعدد طریقوں سے اس کی روایت کی گئی ہے اگر چہ اس کی خصوصیات میں اختلاف ہے جس طرح ہر تفصیلی واقعہ میں ہوتا ہے۔اہل سنت و الجماعت کی ایک کثیر تعداد نے اس کا ذکر کیا ہے ان میں سے بعض کے نام حاضر ہیں۔
1۔حافظ ابوعبدالرحمٰن بن احمد بن شعیب نسائی۔(1) 2۔حافظ ابوالحسن علی بن ابی بکر سلیمان ہیثمی۔(2)
3۔ابوبکر عبداللہ بن محمد بن ابی شیبہ کوفی۔(3) 4۔ابوالمحاسن یوسف یوسف بن موسیٰ حنفی۔(4)
5۔حافظ ضیاءالدین ابوعبداللہ محمد بن عبدالواحد بن احمد حنبلی مقدسی(5) 6۔حافظ ابوبکر احمد بن عمر بن ابی عاصم ضحاک مخلد شیبانی(6)
7۔حافظ ابویعلی احمد بن علی بن مثنیٰ موصلی تمیمی(7)
8۔امام حنابلہ ابوعبداللہ احمد بن حنبل شیبانی(8)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سنن کبریٰ ج:5ص:131،کتاب الخصائص نبیؐ کے قول،من کنت مولاہ،ص:134،کتاب الخصائص ترغیب محبت علی بن ابی طالبؑ اور عداوت سے پرہیز،اور کتاب خصائص ص:96،95،قول نبیؐ کی روایت ہوئی ہےص:100،اور دعائے نبیؐ ص:104،103،پر جس میں علیؑ کے اور چاہنے والوں کے دعا کی ہے،اور دشمنوں کے لئے بددعا کی ہے
(2)مجمع الزوائدج:9ص:108،107،106،105،104،کتاب،مناقب،مناقب علی بن ابی طالب،قول من کنت مولاہ کے ضمن میں
(3)مصنف ابن ابی شیبہ ج:6ص:368،کتاب الفضائل،فضائل علی بن ابی طالب میں
(4)معتصر المختصرج:2ص:301،کتاب جامع مما لیس فی الموطا،مناقب علیؑ
(5)الاحادیث المختارۃج:2ص:106،105،سعید بن وھب ہمدانی کے علی سے اس کی روایت کی ہے
(6)السنۃ ابن ابی عاصم ج:2ص:607،من کنت مولاہ فعلی مولاہ کے باب میں
(7)مسند ابی یعلی ج:1ص:429،علی بن ابی طالب کے مسند میں
(8)مسند احمدج:1ص:118،84،علی بن ابی طالبؑ کے مسند میں
9۔حافظ ابوالقاسم سلیمان بن احمد بن ایوب طبرانی(1)
10۔علی ابن محمد حمیری متوفی323(2)
11۔حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہ اصفہانی متوفی430(3)
12۔علی بن برہان الدین شافعی حلبی(4)
یہاں ایک دوسرا واقعہ بھی بیان کیا جاتا ہے جسے ایک جماعت نے دوسری ہی شکل میں پیش کیا ہے اور شاید یہ مذکورہ بالا مناشدہ کی مدافعت بھی کررہا ہے،یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ واقعہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے بالکل ہی الگ ہو۔
زیر نظر واقعہ کی جو صورتیں کی گئی ہیں ان میں ایک صورت واقعہ یہ ہے کہ احمد اپنی سند سے ریاح بن حارث سے روایت کرتے ہیں کہ مولائے کائناتؑ کے پاس ایک گروہ مقام رحبہ میں آیا اور بولا آپ پر سلام ہو میرے مولا،علیؑ نے فرمایا:میں تمہارا مولا کیسے ہوگیا؟
تم تو عرب ہو،انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے غدیرخم میں سرکار دو عالمؐ سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا تھا:میں جس کا مولا ہوں یہ(علی)اس کا مولا ہے۔
ریاح کہتے ہیں کہ:جب وہ لوگ جانے لگے تو میں بھی ان کے پیچھے چلا اور میں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟مجھے بتایا گیا کہ انصار کا ایک گروہ ہے ان میں ابوایوب انصاری بھی ہیں۔(5)
ایک اور واقعہ اس طرح ہے کہ ابن کثیر نے ابن عقدہ کی کتاب((الموالات))کے حوالہ سے
-------------------------
(1)معجم الصغیرج:1ص:119،باب الا نومن اسمہ احمد،معجم کبیرج:5ص:171جس میں زید بن وھب نے ارقم سے روایت کی ہے
(2)جزءالحمیری ص:33(3)حلیۃ الاولیاءج:5ص:26،طلحہ بن مصرف کے حالات میں(4)سیرۃ الحلبیہ،ج:3ص:308،حجۃ الوداع میں
(5)مسند احمدج:5ص:419،ابوایوب انصاری کی حدیث میں،مجمع الزوائدج:9ص:104،103،کتاب مناقب،باب مناقب علیؑ من کنت مولاہ فعلی مولاہ کے قول کے ضمن میں،معجم کبیرج:4ص:173،ریاح بن حادث نے ابوایوب سے جو روایت کی ہے
لکھا ہے کہ ابن عقدہ نے اپنی اسناد سے روایت کی ہے ابومریم زربن حبیش سے کہ وہ کہتے ہیں کہ مولائے کائناتؑ قصر سے باہر نکلے تو تلواروں کو آویزان کئے ہوئے کچھ سواروں نے آپ کا استقبال کیا اور کہا اے امیرالمومنین آپ پر سلام ہو،آپ پر سلام ہو اے ہمارے مولا،مولائے کائناتؑ نے فرمایا:یہاں پر نبی کے اصحاب کون لوگ ہیں؟وہاں بارہ آدمی کھڑے ہوئے ان میں قیس بن ثابت بن مشاس ہاشم بن عتبہ،حبیت بن بدیل بن ورقاء تھے انہوں نے شہادت دی کہ انہوں نے نبی کو یہ کہتے سنا ہے کہ:میں جس کا مولا ہوں علی اس کے مولا ہیں۔(1)
جس نے غدیر کی گواہی دینے سے منع کیا اس لئے امیرالمومنین حضرت علیؑ کی بددعا
ان مناشدوں یا دونوں مناشدوں کے ذیل عرض ہے کہ بعض صحابہ نے جو غدیر میں حاضر تھے لیکن نبی سے حدیث((من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ))سننے کے باوجود غدیر کی گواہی دینے سے انکار کیا۔
مولائے کائنات نے انکار کرنےوالوں پر بددعا کی اور اس کا اثر بھی ظاہر ہوا،ملاحظہ ہو..
احمد بن حنبل نے احمد بن عمرو کیعی سے،انہوں نے ابن حباب سے،انہوں نے ولید بن عقبہ بن نزاد عبسی سے،انہوں نے سماک بن عبید بن ولید عبسی سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے ہمیں بتایا کہ انہوں نے مقام درحبہ میں علی کے بارے میں شہادت دی تھی،علی نے اس دن فرمایا میں ہر اس آدمی کو خدا کی قسم دیتا ہوں جس نے غدیرخم میں رسول اکرمؐ سے حدیث سنی تھی کھڑا ہوجائے اور وہ کھڑا نہ ہو جس نے پیغمبر کو نہیں دیکھا تھا،یہ سنتے ہی بارہ آدمی کھڑے ہوگئے اور انہوں نے گواہی دی کہ ہم نے غدیرخم میں سنا بھی تھا اور دیکھا بھی تھا کہ سرکار نےعلی کا ہاتھ پکڑ کر کہا تھا((پالنےوالے اس کی مدد کر جو علی کی مدد کرے،اس سے محبت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)اسدالغابۃج:1ص:369،368،حبیب بن بدیل بن ورقاء کے حالات میں
کر جو علی سے محبت کرے اور اسے دشمن رکھ جو علی سے دشمنی رکھے اور اس کو رسوا کردے جو علی کو رسوا کرے،پس سب لوگ گواہی دینے کو کھڑے ہوگئے سوائے تین آدمیوں کے تو مولائے کائناتؑ نے انہیں بددعا دی اور آپ کی بددعا فوراً قبول ہوگئی۔(1)
احمد بن حنبل کے علاوہ سنی علماء کی ایک بڑی جماعت نے لکھا ہے۔
کہ مولائے کائنات نے ان پر بددعا کی تھی جنہوں نے گواہی نہیں دی تھی اور آپ کی بددعا کا اثر بھی ہوا تھا،ان لوگوں میں:
1۔حافظ ابوالحسن علی بن ابی بکر سلیمان ہیثمی ہیں۔(2) 2۔حافظ ابوالقاسم سلیمان بن احمد بن ایوب طبرانی ہیں۔(3)
3۔حافظ ابونعیم احمد بن عبداللہ اصبہانی ہیں۔(4) 4۔علی بن برہان الدین شافعی حلبی ہیں۔(5)
حدیث غدیر کی شہرت اور اشاعت پر اس مناشدہ کا اثر
ظاہر ہے کہ مناشدہ کا یا اس طرح کے مناشدوں کا خصوصاً مولائے کائنات کی دعا کے قبول ہونے کی شہرت کا حدیث غدیر کے ظہور اور اس کی شیاع نیز اس کو باقی رکھنے پر اچھا خاصا اثر پڑا اس لئے کہ عام مسلمان اس حدیث کو بلکہ فضائل اہل بیتؑ میں وارد بہت سی حدیثوں سے ناواقف تھے اس لئے کہ حکومت وقت کی طرف سے ایسی سنت نبوی پر جمود طاری کردیا تھا اور حکومت کو اپنے مطابق گھمارہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)مسنداحمدج:1ص:119،مسند علی بن ابی طالبؑ
(2)مجمع الزوائدج:9ص:106،کتاب مناقب،مناقب علیؑ من کنت مولا کے قول کے ضمن میں
(3)معجم کبیرج:5ص:171،زید بن وجب نے زید بن ارقم سے روایت کی ہے
(4)حلیۃ الاولیاءج:5ص:27،طلحہ بن مصرف کے حالات میں
(5)سیرۃ الحلبیہ ج:3ص:308،حجۃ الوداع میں
سنت نبوی کو جامد کرنے اور اس کو پوشیدہ رکھنے کی کوشش کے شواہد
کتابوں کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ سیرت نبوی کا اخفا اور اس کو ضائع کرنے کی کوشش حیات پیغمبرؐ میں ہی شروع ہوگئی تھی جب کہ طوعاً یا کرہاً بہت سے لوگ مسلمان ہونےوالوں نے دیکھا کہ نبی ان کی ذاتی مصلحتوں اور ان کی انانیت کی طرف متوجہ نہیں ہیں تو خاص طور سے علیؑ اور ان کے اہل بیتؑ اور اصحاب خاص کے لئے ان کے دلوں میں کینہ اور دشمنی بھری ہوئی تھیں جو اہل بیت کی اطاعت کو معیار حب و بغض نبوی کو قرار دیتے تھے۔
نمونہ کے طور پر ایک حدیث ملاحظہ ہو،عبداللہ بن عمر کہتے ہیں کہ میں سرکار دو عالم سے جو کچھ سنا کرتا تھا اسے لکھ لیا کرتا تھا تا کہ حفظ کرسکوں تو قریش نے اس کام سے منع کیا انہوں نے کہا تم تو ہر چیز جو نبی سے سنتے ہو لکھے جارہے ہو پیغمبر تو ایک بشر ہیں کبھی غصہ میں بولتے ہیں کبھی خوش ہو کر بولتے ہیں عبداللہ بن عمر نے کہا پھر میں نے لکھنا چھوڑ دیا لیکن نبی سے اس کا تذکرہ کردیا حضورؐ نے فرمایا:تم لکھا کرو اس خدا کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے مجھ سے حق کے علاوہ کچھ نہیں نکلتا۔(1)
(تاریخ کہتی ہے کہ سرکار کائناتؐ نے اس بات کا احساس کرلیا تھا آپ کی سنت اور حدیثوں کے خلاف سازشیں شروع ہوگئی ہیں)(مترجم)اس لئے حضورؐ نے ان کوشش پر اعتراض کیا تھا،حضرت فرماتے ہیں کہ میں نہیں چاہتا ایسا آدمی جو اپنے بستر پر مسند علم سے تکیہ لگائے بیٹھا رہے اور اس کے سامنے اوامر و نواہی آئیں تو یہ کہہ کر ٹال دے کہ میں نہیں جانتا کہ اس کا کیا حکم ہے اس لئے کہ کتاب خدا میں اس کے بارے میں کچھ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)مسنداحمدج:2ص:162،مسندعبداللہ بن عمرو بن العاص،اور اسی طرح ص:192،مسند عبداللہ بن عمر بن العاص،سنن ابی داؤودج:3ص:318،اول کاتب العلم:باب کتاب العلم،سنن درامی ج:1ص:136،باب من رخص فی کتابہ العلم،مستدرک علی صحیحین ج:1ص:187،کتاب العلم،تحفۃ الاحوذی ج:7ص:357،فی شرح احادیث باب ماجاء فی الرخصۃ،المدخل السنن الکبریٰ ج:2ص:415،باب من رخص فی کتابہ العلم،الجامع الاخلاق الراوی و آداب السامع ج:2ص:36،الکتابۃ عن المحدث فی المذاکرۃ
نہیں پاتا کہ اس کی پیروی کرسکوں۔(1)
آثار پیغمبرگو نقصان پہونچانے کی کوششیں اس وقت اور تیز ہوگئی جب سرکار دو عالمؐ پر مرض کی حالت طاری ہوئی اور قریش کے لوگوں کی حرکتوں میں تیزی آگئی انہوں نے حضور سرور کائنات کو وہ تحریر دینے سے روک دیا جس میں وہ اپنی امت کو گمراہی سے بچانا چاہتے تھے اس سلسلے میں آپ کے دوسرے سوال کے جواب میں عمر کا قول گذرچکا ہے کہ انہوں نے یہ کہہ کہ پیغمبرؐ کی بات رد کردی کہ ہمارے لئے کتاب خدا کافی ہے۔
تاریخ بتاتی ہے کہ جب قریش کے لوگ حکومت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو آثار نبوی کو مٹانے کی کوشش کو کھل کر عملی شکل دیدی اس لئے کہ حضور سرور کائناتؑ اب اس دنیا میں موجود نہٰں تھے چنانچہ ابوبکر نے پانچ سو حدیثوں میں جنہیں انہوں نے خود لکھا تھا آگ لگادی(2) اور خطبہ میں ارشاد فرمایا کہ کوئی نبیؐ سے حدیث کو بیان نہ کرے،کہتے ہیں:تم لوگ نبی سے مختلف حدیثیں بیان کرتے ہو جس کی وجہ سے تمہارے درمیان اختلاف ہوجاتا ہے اور تمہارے بعد آنےوالوں میں زیادہ اختلاف ہوگا،اس لئے تم نبی سے حدیثیں بیان مت کرو تم سے اگر کوئی پوچھے بھی تو کہہ دو کہ ہمارے درمیان کتاب خدا موجود ہے کتاب خدا میں جو حلال ہے اسے حلال سمجھو اور جو حرام ہے اسے حرام سمجھو۔(3)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)السنن الکبریٰ للبیہقی ج:7ص:76،کتاب النکاح:جماع ابواب ماخص بہ رسول اللہؐ،سنن ابی داؤودج:4ص:200،کتاب السنۃ:باب فی لزوم السنۃ،سنن ابن ماجہ ج:1ص:6،سنن ترمذی ج:5ص:37،کتاب العلم عن رسول اللہؐ باب ما نہی عنہ ان یقال عند حدیث النبیؐ مستدرک علی صحیحین ج:1ص:190،کتاب العلم،صحیح ابن حبان ج:1ص:191،ذکر الخبر المصر ح..اور اسی طرح تذکرۃ الحفاظ ج:3ص:1190،حالات ابی اسماعیل عبداللہ بن محمد الانصاری
(2)تذکرۃ الحفاظ ج:1ص:5،حالات ابی بکر میں،الریاض النضرۃج:2ص:144،ابوبکر کے ذکر میں،کنزالعمال ج:10ص:285،باب فی اداب العلم و العلماء:فصل فی روایۃ الحدیث
(3)تذکرۃ الحفاظ ج:1ص:2۔3،طبقہ اولی،حالات ابی بکر میں
عمر نے اصحاب کو حکم دیا کہ جنہوں نے سرکار دو عالم کی حدیثیں لکھی ہیں وہ ان کے پاس لائیں بےچارے اصحاب سمجھے کہ عمر حدیث نبی کو جمع کرکے کتابی شکل دینا چاہتے ہیں ایک مہینہ تک عمر کے پاس لوگ وہ مکتوبات جمع کرتے رہے اس کے بعد عمر نے اس میں آگ لگادی(1) قرظہ اور ان کے ساتھی جب عراق کے لئے جارہے تھےتو عمران کی مشایعت میں نکلے اور ان سے کہنے لگے تمہیں معلوم ہے میں تمہارے ساتھ کیوں چل رہا ہوں ان لوگوں نے کہا ہاں اس لئے کہ ہم اصحاب پیغمبر ہیں اس لئے تم ہماری مشایعت کررہے ہو،عمر نے کہا(نہیں بلکہ میں اس لئے چل رہاہوں کہ راستے میں میں تم سے کچھ وصیتیں کرسکوں)(مترجم)
تم اپنے شہر میں جارہے ہو جہاں قرآن مجید کی تلاوت کی آواز گونج رہی ہے(اس لئے کہ وہاں قرآن کے لئے ماحول سازگار ہے)اب تم وہاں حدیثیں مت پیش کرنا کہ وہ قرآن کو چھوڑ کر حدیثوں میں مشغول ہوجائیں قرآن کو حدیثوں سے الگ رکھو اور پیغمبر سے حدیثیں کم سے کم بیان کرو اس کام کو جاری رکھو میں تمہارا شریک ہوں اب جو قرظہ عراق میں پہونچے(تو مجمع سمجھا یہ اصحاب پیغمبر ہیں ہم سے کچھ محبوب و دیار محبوب کی باتیں کریں گے)تو لوگوں نے کہا پیغمبر کی حدیثیں سنایئے انہوں نے کہا کہ عمر نے ہمیں سختی سے منع کیا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ قرظہ نے کہا ہم پیغمبر کی کوئی حدیث نہیں سناسکتے۔(2)
کچھ اصحاب کو تو صرف اس لئے قید کردیا گیا کہ وہ کثرت سے احادیث پیغمبرؐ بیان کرتے تھے جیسے عبداللہ بن مسعود،ابوذر و غیرہ۔(3)
عبدالرحمٰن بن عوف کہتے ہیں کہ عمر اس وقت تک زندہ رہے کہ انھوں نے چاروں طرف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)الطبقات الکبریٰ ج:5ص:188،سیرہ اعلام النبلاءج:5ص:59،حالات ابوالقاسم بن محمد بن ابی بکر میں
(2)معتصر المختصرج:2ص:381،کتاب جامع ممالیس فی الموطا..،تذکرۃ الحفاظ ج:1ص:7،عمر بن خطاب کے حالات میں،مستدرک علی صحیحن ج:1ص:183،کتاب العلم
(3)تذکرۃ الحفاظ ج:1ص:7،عمر بن خطاب کے حالات میں،معتصر المختصر،ج:2ص:380،کتاب جامع ممالیس فی الموطا
سے اصحاب پیغمبر کو بلا بھیجا،جیسے عبداللہ،حذیفہ،ابودرداء،ابوذر اور عقبہ بن عامر جب یہ لوگ جمع ہوگئے تو عمر نے ان سے کہا تم لوگ پیغمبرؐ کی کون سی حدیثیں دنیا بھر میں پھیلا رہے ہو اصحاب نے کہا تم ہمیں حدیث پیغمبرؐ کی نشر و اشاعت سے روکتے ہو،عمر بولے نہیں،لیکن اب تم لوگ میرے پاس ہی رہو خدا کی قسم میں تمہیں اپنے سے جدا نہیں کروں گا جب تک زندہ رہوں گا(اس لئے کہ عوام کو حدیثیں لینے کا سلیقہ نہیں ہے)ہم جانتے ہیں کہ کون سی حدیثیں تم سے لینی چاہئے اور کون سی حدیثیں نہیں لینی چاہئے۔(1)
اس کے علاوہ بھی بہت سے تفصیلی شواہد ہیں جن کی یہاں کوئی گنجائش نہیں ہے۔
سوچئے جب حدیث پیغمبرؐ گو اس طرح چھپانے کی کوششیں کی جارہی تھیں تو حدیث(پیغمبرؐ)غدیر تو حکومت کے خلاف متوجہ کرنےوالی حدیث ہے قرشیوں کے اقتدار کو الٹ دینےوالی حدیث ہے ظاہر ہے کہ اس حدیث کو کم سے کم بیان کیا گیا ہوگا تو اس کی توضیح و تفصیل چھانٹ کر بالکل سرسری طور پر بیان کیا گیا ہوگا اس سلسلے میں مولائے کائنات کا مناشدہ بھی قابل غور ہے جس میں آپ نے حدیث غدیر کی طرف متوجہ کیا ہے اور ان کے سامنے حدیث غدیر کی اہمیت پیش کی ہے،ابھی آپ نے ابوطفیل کی حدیث میں یہ دیکھا کہ بعض سامعین کو حدیث غدیر سے کتنا صدمہ ہو اور اجنبیت کا احساس ہوا اور آپ نے یہ بھی ملاحظہ فرمایا کہ وہ طریقے جو حدیث مناشدہ پر منتہی ہوتے ہیں ان کا نشر حدیث ظہور حدیث اور ان کی شہرت پر خاطر خواہ اثر پڑتا ہے اس لئے کہ یہاں بات حدیث سے نکل کر تاریخ کے دائرے میں داخل ہوجاتی ہے اور یہ نقطہ تاریخ کا مرکز بن جاتا ہے خاص طور سے جب حکومت نے حدیث غدیر کی مخالفت کی تو اس کے روایوں کے لئے خودبخود احترام کا ایک ماحول بن گیا،یعنی محبان اہل بیتؑ کے لئے حدیث غدیر کے ساتھ ان حدیثوں کو بھی عام کیا جائے جس میں سرکار نے اہل بیتؑ کے فضائل و مناقب بیان کئے ہیں نتیجہ میں اہل بیتؑ کے چاہنےوالوں نے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)تاریخ دمشق ج:40ص:501،500،حالات عقبۃ بن عامر عبس بن عمرو،اور اسی طرح کنزل العمال ج:1ص:393،حدیث29479
ان حدیثوں کی نشر و اشاعت کا ذمہ اپنے سرلے لیا ان کے مدرسوں میں اس طرح کی حدیثیں پڑھائی جانے لگیں،مقام استدلال میں ایسی حدیثوں کو پیش کیا جاتا رہا اور آثار اہل بیتؑ شیرازہ کی ترتیب انہیں حدیثوں کی بنا پر ہوئی ظاہر ہے کہ جب کسی واقعہ کا شدت سے انکار کیا جائے اور اس سے زیادہ دوسری طرف سے اعلان و اشتہار کی کوشش کی جائے تو وہ واقعہ دائرہ تاریخ کا مرکز بن جاتا ہے اور کوشش و اجتہاد کا ایک ماحول خودبخود اسے اپنے احاطہ میں لے لیتا ہے۔
اس سلسلے میں طرفہ کی وہ روایت ہے جس کو شیخ مفید علیہ الرحمۃ نے اپنی کتاب امالی میں نقل کیا ہے شیخ مفید لکھتے ہیں کہ مجھ سے ابوبکر محمد بن عمر جعابی نے بیان کیا پھر راویوں کا ایک سلسلہ ہے ابوالعباس احمد بن محمد بن سعید یعنی ان عقدہ،ان سے علی بن حسین ہیثمی نے نقل کیا انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے والد ماجد کی کتاب میں یہ تحریر دیکھی..
محمد بن مسلم اشجعی سے محمد بن نوفل عائذ صیرفی نے بیان کیا کہ ہم لوگ ہیثم بن حبیب صیرفی کے پاس تھے اتنے میں ابوحنیفہ نعمان بن ثابت داخل ہوئے تو مولائے کائنات کا تذکرہ ہونےلگا اور غدیرخم کے بارے میں ہمارے درمیان بات ہونےلگی،ابوحنیفہ نے کہا:ہم نے تو اپنے صحابہ کو یہ ہدایت کردی ہے کہ حدیث غدیر مت پڑھا کرو ورنہ تمہارے درمیان جھگڑا ہوجائےگا،یہ سن کے ہیثم ابن حبیب صیرفی کے چہرے کا رنگ بدل گیا وہ بولے وہ کیوں نہ حدیث غدیر پڑھیں نعمان کیا تمہارے پاس وہ حدیث نہیں ہے؟نعمان نے کہا ہمارے پاس وہ حدیث ہے اور ہم نے اس کی روایت بھی کی ہے ہیثم نے کہا تو پھر اس حدیث کا اقرار کیوں نہیں کرتے؟اور مجھ سے حبیب ابن ابی ثابت نے بیان کیا ان سے ابوطفیل نے ان سے زید ابن ارفع نے کہ مولائے کائنات نے مقام رحبہ میں ان لوگوں سے ایک حلف اٹھوایا تھا جنہوں نے یہ حدیث نبی اکرمؐ سے سنی تھی،ابوحنیفہ کہنے لگے کہ تم دیکھ رہے ہو کہ یہ حدیث اتنی زیادہ اختلافی ہوگئی کہ لوگوں سے اس کے لئے حلف اٹھوایا جانےلگا،ابوہیثم نے کہا کہ ٹھیک ہے لیکن کیا ہم علیؑ کی تکذیب کرسکتے ہیں یا انہیں رد کرنے کی ہمت کرسکتے ہیں
لیکن تم جاننے ہو(کہ اس حدیث کی بناپر)بہت سے لوگ غالی ہوگئے ہیں،ہیثم نے کہا پیغمبرؐ خود اس حدیث کے قائل ہیں آپ نے خطبہ میں یہ حدیث ارشاد فرمائی ہے پھر ہم کون ہوتے ہیں کہ اس حدیث کو روایت کرنے میں کسی غالی کو غلو سے ڈریں یا کسی قائل کے قول کی پرواہ کریں۔(1)
صورت حال مزید واضح ہوجاتی ہے جب ہم بخاری شریف کو پڑھتے ہیں ابوحنیفہ کے ذیل میں کہا تھا بخاری کی تحریر سے واضخ ہوگیا اس لئے کہ بخاری نے اپنی صحیح میں سرے سے حدیث غدیر کی روایت ہی نہیں کی یعنی حدیث غدیر کو مہمل قرار دیا اور مسلم نے اپنی صحیح میں یہ لکھ دیا کہ یہ حدیث شاذ طریقہ سے آئی ہے میں نے گذشتہ صفحات میں خبطۂ نبیؐ پر گفتگو کرتے وقت مسلم کی طرف آپ کو متوجہ کیا مسلم نے خطبہ غدیر میں جوکاٹ چھانٹ کی ہے اور صرف حدیث ثقلین پر اکتفا کیا ہے وہ بھی قابل توجہ ہے انہوں نے ان تمام طرق حدیث کو مہمل قرار دیا جن میں اعلان ولایت کیا گیا ہے حالانکہ خطبۂ غدیر میں مرکزی کردار اعلان ولایت کو حاصل ہے۔
میرا تو خیال ہے کہ مولائے کائناتؑ نے جو مناشدہ کیا اسی کی وجہ سے لوگ حدیث نبیؐ کی اہمیت کی طرف متوجہ ہوئے اور حدیثوں کے جمع کرنے،اس کے اہتمام کرنے اور حدیثوں کو درس تبلیغ کی بنیاد بنانے کا ایک دروازہ کھل گیا۔اسی کے بعد لوگ حدیثوں کو ایک دوسرے سے بیان کرنے لگے اور حدیثوں کے معانی و مفاہیم کا احاطہ کرنے کی کوشش اور حدیثوں کو ظاہر کرنے کی کوشش دونوں میں ماحول کے اعتبار سے اتار چڑھاؤ ہوتا رہا اس لئے کہ حکومتیں بدلتی رہیں اور حکومتوں کا نظریہ بدلتا رہا۔
کبھی شدت،کبھی نرمی،کبھی فتح،کبھی شکست کا ماحول بنا رہا۔
واقعہ غدیر کے سلسلے میں میں نے آپ سے بہت طویل گفتگو کی اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ نے اپنے سوال میں یہ لکھا ہے کہ اہل سنت واقعہ غدیر کی روایت نہیں کرتے ان کے یہاں احاد اور ضعیف
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)امالی شیخ مفیدص:24،23،تیسری مجلس
خبروں میں بھی واقعہ غدیر کا تذکرہ نہیں پایا جاتا آپ نے دیکھا کہ اہل سنت حضرات نے کس شدت سے ہر دور میں واقعہ غدیر کو موضوع بحث بنایا ہے،میں نے تو وقت کی تنگی کا لحاظ کرتے ہوئے بہت سی باتیں چھوڑ دی ہیں،اس لئے کہ گنجائش بھی نہیں تھی اور جو میں ثابت کرنا چاہتا تھا وہ اسی تحریر سے ثابت ہوجاتا ہے۔
میں اللہ سے توفیق اور خدمت کرنے کی دعا کرتا ہوں۔
سوال نمبر۔8
کیا آپ کے علم میں ابن تیمیہ کی کتاب((منھاج السنۃ))کی رد کسی شیعہ عالم نے پیش کی ہے،منھاج السنۃ علامہ حلیؒ کی کتاب کے جواب میں لکھی گئی ہے حالانکہ اہل سنت نے ابن تیمیہ کی اس کتاب کی رد لکھی ہے اس کا جواب لکھنےوالوں میں شیخ ابوحامد بن مرزوق بھی ہیں جنہوں نے اپنی کتاب((براءۃ الاشعرین))میں ابن تیمیہ کا جواب دیا ہے۔
جواب:جہاں تک میں جانتا ہوں ان دو کتابوں کے علاوہ کوئی کتاب نہیں لکھی گئی ہے
1۔منھاج الشریعہ سید مہدی بن سید صالح قزوینی نے یہ کتاب ابن تیمیہ کی رد میں1315میں لکھی اور یہ1318میں منظر عام پر آئی۔
2۔اکمال المنۃ فی نقض منھاج السنۃ:یہ کتاب سید سراج الدین حسن بن عیسیٰ یمانی لکھنوی نے جلدی لکھی ہے اس کتاب کا تذکرہ الذریعہ الی تصانیف الشیعہ کے مصنف نے کیا ہے۔(1)
(تو مستقل کتابوں کا جہاں تک سوال ہے بس یہ دو ہی کتابیں ہیں)لیکن بعض کتابوں میں ضمنی طور پر ابن تیمیہ کے جواب میں عبارتیں پائی جاتی ہیں جیسے شیخ حسن مظفر کی تالف دلائل الصدق جو ابطال باطل کے رد میں لکھی گئی ہے ابطال باطل علامہ حلی کی کتاب نہج الحق کے جواب میں لکھی گئی تھی،ابطال باطل کے مصنف روز بہان میں پھر شیخ عبدالحسین امینی کی کتاب((الغدیر فی الکتاب و السنۃ و الادب))میں بھی ابن تیمیہ کی رد لکھی گئی ہے۔(2)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)الذریعہ الی تصانیف الشیعہ ج:2ص:283،
(2)الغدیرج:3ص:217،148
اس کتاب کا تذکرہ میں آپ کے پہلے سوال کے جواب میں کرچکا ہوں جہاں میں نے مصادر شیعہ کے بارے میں عرض کیا تھا۔
حقیقت تو یہ ہے کہ ابن تیمیہ کی کتاب منھاج السنۃ جواب کی مستحق نہیں ہے ابن تیمیہ نے اپنی اس کتاب کو گالیوں سے بھر دیا ہے جھوٹ اور زبردستی کی حد کردی ہے بعض بہت ہی شاذ عقائد پیش کئے ہیں جو حدیثیں انہیں اچھی لگی ہیں ان کو صحیح قرار دیا ہے اور جو ان کے خلاف ہیں انہیں ہٹ دھرمی سے رد کردیا ہے۔یہاں تک کہ ابن سبکی جو منھاج الکرامۃ کے مصنف ہیں ان کو آداب علم کے خلاف گالیاں دیتے ہیں اور بن تیمیہ سے بہت خوش ہیں کہ انہوں نے منھاج الکرامہ کا کیا خوب جواب دیا ہے منھاج السنۃ میں ابن تیمیہ کے جواب سبکی کو بہت اچھے لگے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ ابن تیمیہ کی غلطیوں کو محسوس کرتے ہوئے ان کو مندرجہ ذیل الزامات میں ماخوذ کرتے ہیں وہ کہتے ہیں،ابن تیمیہ نے حق و بطال کو خلط و ملط کردیا ہے،بغیر کسی امتیاز کے ہر دلیل پر کچھ نہ کچھ حاشیہ چڑھا ہے،صفات خدا کے بارے میں ہماری طرف سے ایسے عقاید پیش کئے ہیں جو بالکل ہی شاذ یہ تمام باتیں سبکی نے ان اشعار میں نظم کی ہیں جن کے نقل کی میں ضرورت محسوس نہیں کرتا۔(1)
ابن حجر کہتے ہیں کہ میں نے ابن تیمیہ کی منھاج السنۃ پڑھی جیسا کہ سبکی نے لکھا ہے کہ یہ کتاب بھر پور جواب ہے لیکن میں نے محسوس کیا ہے کہ ابن مطہر کی طرف سے وارد شدہ حدیثوں کو رد کرنے میں ابن تیمیہ نے زبردستی اور ہٹ دھرمی سے کام لیا ہے ابن مطہر کی زیادہ تر حدیثیں تو بیشک واہیات و خرافات ہیں لیکن ان کو رد کرنے کے جوش میں ابن تیمیہ نے بہت سی عمدہ حدیثوں کو بھی رد کردیا ہے ایسی حدیثیں جو مصنف کے گمان میں حاضر نہیں تھیں اسے مصنف نے اگر چہ بہت سی حدیثوں کو یاد کیا ہے لیکن انہیں حدیثوں پر بھروسہ کیا ہے جو اس وقت ان کے حافظے میں موجود تھیں اور انسان جان بوجھ کے بھول جاتا ہے پھر لکھتے ہیں کہ رافضی کے کلام کو ہلکا کرنے کے لئے ابن تیمیہ نے اس قدر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)طبقات الشافعیۃ الکبری،ج:6ص:159۔160،حالات علی بن عبدالکافی،السبکی،الوافی بالوفیات ج:21،ص:262،کتاب ابن تیمیہ سے نقل ہےص:216
مبالغہ سے کام لیا کہ غلطی سے مولا علی کی تنقیص کرڈالی۔(1)
یہ تو ابن تیمیہ کے ہم مذہب افراد ہیں جن کے خیالات آپ کے سامنے پیش کئے گئے لیکن خود علامہ حلیؒ کی بات بھی قابل غور ہے صاحب منھاج الکرامۃ علامہ حلی کے بارے میں ابن حجر کہتے ہیں ابن مطہر ایک مشہور آدمی ہیں اور خوش اخلاق بھی ہیں جب ان کے سامنے ابن تیمیہ کی کتاب پیش کی گئی تو آپ نے فرمایا اگر یہ شخص میری بات سمجھتا ہوتا تو میں اس کا جواب بھی دیتا۔(2)
شیخ محمد حسن مظفر اپنی کتاب دلائل الصدق کے مقدمہ میں لکھتے ہیں کہ میں نے کتاب کو زیادہ فائدہ مند بنانے کے لئے ابن تیمیہ کی کتاب سے بھی کچھ کلمات پیش کردیئے ہیں جو ابن تیمیہ نے منھاج الاکرامۃ کی رد میں لکھے ہیں اگر ابن تیمیہ کی کتاب میں سفلہ پن،قلم کی زبان میں گستاخی اور فحش گوئی نہیں ہوتی،اس نے عبارتوں کو طول نہ دیا ہوتا اور اس کی عبارتوں سے نبی امین اور؟آپ کی آل طاہرینؑ کی عداوت کا اظہار نہ ہوتا تو میں اس سے بحث کرنے کو حق سمجھتا اس لئے کہ میں نے ابھی تک اپنے کس عالم کو اس کا جواب لکھتے ہوئے نہیں پایا لیکن میں نے اپنے قلم کو اس کا جواب دینے سے پاک رکھا جیسا کہ ہمارے علما نے اپنے قلم کو اس کی فحشی گوئی کے جواب سے آلودہ نہیں کیا ہے اور میں نے اس لئے بھی اس کا جواب نہیں دیا کہ میں نے ایک طرح سے اپنے مقدمہ میں اس کا جواب دےدیا ہے۔
میں نے اس مقدمہ میں امامت کے سلسلے میں اور فضائل اہل بیتؑ کے سلسلے میں جو حدیثیں وارد ہوئی ہیں اس پر بحث کی ہے اور ان کی اسناد پر بھی بحث کی ہے وہ بحث ہی ابن تیمیہ کے سوالوں کا بہترین جواب ہے اگر چہ اجمالی ہے۔(3)
اور مجھے25سال قبل کا ایک واقعہ یاد آرہا ہے جب میں نجف اشرف میں تھا اور محرم کے
-------------------
(1)لسان المیزان ج:6ص:319،حسن بن یوسف بن علی مطہر حلی کے والد حسن کے حالات میں
(2)لسان المیزان ج:2ص:317،حسن بن یوسف بن مطہر کے حالات میں
(3)دلائل الصدق ج:1ص:3
زمانے میں اپنے گھر پر ایک مجلس حسینؑ برپا کی تھی اس مجلس میں کچھ علما بھی تھے ان میں سے ایک عالم نے مجھ سے کہا کہ((ھل اتیٰ))کی ابتدائی آیتوں کا اہل بیت اطہارؑ کے حق میں ہونے پر ابن تیمیہ کو اعتراض ہے اور وہ کہتا ہے کہ((سورہ ھل اتیٰ))مکی ہے آپ کے پاس کا کیا جواب ہے؟
میں نے کہا تھا کہ کیا ابن تیمیہ کی باتیں بھی قابل شمار ہیں؟انہوں نے پوچھا کہ کیا آپ کے اس جملے سے اس کا جواب ہوگیا؟میں نے کہا تھا ٹھیک ہے ہم غور کریں گے پھر میرے سامنے علامہ امینی کی((الغدیر))کی تیسری جلد لائی گئی میں نے اس کے صفحہ169کی عبارت پڑھی جس میں ابن تیمیہ کی حدیث اور علامہ حلیؒ کی گفتگو کا خلاصہ تھا ابن تیمیہ نے لکھا ہے کہ علامہ نے اپنے جھوٹ کا ذکر کیا ہے جو اپنے بولنےوالے کی جہالت پر خود دلیل ہے جیسے ان کا یہ کہنا کہ اہل بیتؑ کے حق میں سورہ ہل اتی نازل ہوا،اس لئے کہ ہل اتی مکی سورہ ہے اس پر علماء کا اتفاق ہے اور اس بات پر بھی اتفاق ہے کہ فاطمہ سلام اللہ علیہا کا عقد مدینہ میں ہوا اور حسنین علیہما السلام وہیں پیدا ہوئے یہ بات ہجرت کے بعد کی ہے تو اب علامہ حلی کا یہ کہنا کہ ہل اتی اہل بیتؑ کی فضیلت میں نازل ہوئی ایسا جملہ ہے جس کا جھوٹ(اس پر جو نزول قرآن اور حسنین علیہما السلام جیسے بڑے سرداروں کے حال سے واقف ہو)اس پر بالکل پوشیدہ نہیں پھر شیخ امینی ابن تیمیہ کے اس سوال کا کئی رخ سے جواب دیتے ہیں۔
جن میں منہ توڑ جواب یہ ہے کہ علما جمہور ابن تیمیہ کے قول مخالف ہیں ان کے نزدیک((ہل اتیٰ))مدنی سورہ ہے اور علامہ امینی نے ایک بڑی جماعت کے اقوال اپنے اس دعوے کی شہادت میں پیش کئے ہیں پھر اس جواب کو زیادہ مضبوط کرنے کے لئے آج کے دور میں مسلمانوں کے درمیان جو قرآن مجید کے نسخے رائج ہیں ان سب کا حوالہ دیتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ صحیفوں میں ھل اتٰی کو مدنی لکھا گیا ہے حالانکہ بعض لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ سورہ مکہ ہے لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اطعام مسکین و یتیم و اسیر والی آیت اس سورہ میں مدنی ہے۔
آپ خود سوچیں ایک ایسا انسان جو شہرت کے خلاف علماء کے اتفاق کا دعوی کرنے میں ذرا نہیں جھجکتا جبکہ دعوائے اتفاق کے بھروسے پر ہی مسلمان عمل کرتا ہے اور ایسا شخص جو اپنے مخالف کو
جاہل کہتا ہے اسکی بات کو کیسے قابل شمار سمجھا جائے؟اس کی گفتگو کیسے لائق بحث سمجھی جائے؟خاص طور سے جب کہ وہ آدمی بدگوئی اور کج خلقی میں مشہور ہے.کسی ایک مختصر جماعت کی طرف سے اگر اس کو عالم مجتہد اور شیخ الاسلام بھی کہا جاتا ہے تو کسی ایک جماعت کے تعریف کردینے سے اس کی شان بلند تو نہیں ہوجائےگی نہ قیمت بڑھےگی نہ شیعوں کو یا علامہ حلیؒ کو اس شخص کی دشمنی کوئی نقصان پہنچائےگی اور نہ اس کی زبردستی اور گالی گلوج سے علامہ کی شان میں کوئی کمی آئےگی بلکہ ان کی شان میں اضافہ ہی ہوگا اور اسی طرح ابن تیمیہ کی شان میں کمی آجائےگی اور اس کی جماعت کی توہین بھی ہوگی اس لئے کہ انسان اپنے دوست اور دشمن سے پہچانا جاتا ہے اور((کند ہم جنس با ہم جنس پرواز))کا قول بھی اپنی جگہ صحیح ہے ابن تیمیہ کے اردگرد کا ماحول یا کسی بھی آدمی کا ماحول اس کی حقیقت کی عکاسی اور سیرت کا آئینہ ہوتا ہے اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ابن ابی الحدید معتزلی جو مذہب اہل سنت سے ہیں ہیں ان کا یہ قول پیش کردیا جائے،وہ اپنی کتاب شرح نہج البلاغہ کے مقدمہ میں مولائے کائنات کی سیرت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ آپ کی وسعت اخلاق،خندہ پیشانی اور زندہ دلی اور تبسم ضرب المثل تھا یہاں تک کہ آپ کے دشمن آپ کی خوش مزاجی کو عیب کہہ کہ پیش کرتے تھے۔
عمرو ابن عاص نے اہل شام کو یہ سمجھایا تھا کہ حضرت علی بہت تمسخر باز ہیں لیکن مولائے کائنات کی یہ خوش مزاجی آپ کے چاہنےوالوں اور آپ سے محبت کرنےوالوں میں میراث کی طرح منتقل ہوتی رہی جیسے ظلم،بداخلاقی اور بدروئی آپ کے دشمنوں میں منتقل ہوتی رہی جواب بھی ہے جس کے پاس اخلاقیات کا تھوڑا سا بھی علم ہوگا وہ اس بات کو اچھی طرح جان لےگا۔(1)
البتہ اہل سنت کے لئے لازم ہے کہ وہ ابن تیمیہ کا جواب دیں اور اس کے اقوال سے اظہار برائت کریں اس لئے کہ وہ ان کے درمیان بہت محترم ہے اسے سنی کہا بھی جاتا ہے،کثرت سے اس کا تذکرہ بھی ہوتا ہے اور سنیوں کے دعوے کی مدافعت کرتا ہے اس کی کتابوں کو پڑھنےوالا یہی سمجھےگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)شرح نہج البلاغہ ج:1ص:26،25
کہ اس تحریر سنی نظریوں کا عکس پایا جاتا ہے۔
ظاہر ہے کہ وہ سنیوں ہی کی کشتی میں سوار ہے تو اس پر جو بھی مصیبت آئےگی وہ تمام اہل کشتی پر آئےگی اور اس کی وجہ سے سنیوں کے دامن پر جودھبے پڑھتے ہیں بغیر اس کی تردید کے اور اس کے قول سے اظہار برائت کے وہ دھلنےوالے بھی نہیں یہی وجہ ہے کہ ہم اس جیسے آدمیوں کی طرف متوجہ نہیں ہوتے ابھی بات ختم نہیں ہوئی انشاءاللہ دسویں سوال کے جواب میں بھی کچھ نفع بخش باتیں عرض کی جائیں گی۔
سوال نمبر۔9
کیا آپ کی رائے کے مطابق ممکن ہے کہ شیعہ،سنی آپس میں متحد ہوجائیں اس لئے کہ مجھے معلوم ہے سنیوں میں اشعری اور ماتریدی فرقے شیعوں کی تکفیر نہیں کرتے بلکہ شیعوں کی رائے اور ان کے عقیدوں کو اپنی کتابوں میں لکھتے ہیں اور ان پر بحث بھی کرتے ہیں اگر چہ بعض غالی اہل سنت کو بھی گمراہ مانتے ہیں۔
جواب:آپ کے اس سوال کے جواب میں چند امور پیش کئے جارہے ہیں.اسلام کی خدمت کے لئے سنی،شیعہ اتحاد کو خوش آمدید کہتا ہوں آپ کے دوسرے سوال کے جواب میں عرض کیا جاچکا ہے کہ شیعوں کے نزدیک اسلام کیا کیا مطلب ہے،شیعہ اس آدمی کو مسلمان کہتے اور سمجھتے ہیں جو کلمہ کا قائل ہے اور بالاعلان ان امور کی طرف دعوت بھی دیتا ہے اسی بنیاد پر شیعہ اور سنی متحد ہیں اور مسلمانوں کو یہ دین عظیم اسی بنیاد پر جمع کرتا ہے وہ دین جو کائنات کا سب سے بلند دین ہے اور خاتم الادیان ہے اور اسی دن کی بنیاد پر مسلمان کی جان اور مال محترم ہے دین کے مشترک اہداف سب کے نزدیک اہم ہیں اور وہ یہ اہداف ہیں،دین کے لئے دعوت دینا،اس کے کلمے کو بلند کرنا،دشمنوں کی سازشوں کی تردید کرنا،مسلمانوں کو چاہئیے کہ ان مقاصد کے لئے متحد ہوجائیں لیکن اس کے ساتھ ہی غیرمسلموں کے ساتھ اس اخلاق حسنہ کا بھی سلوک رکھیں جس کی اسلام تعلیم دیتا ہے اور ظاہر ہے کہ جب اسلام غیرمسلموں کے ساتھ اخلاق کا حکم دیتا ہے تو پھر مسلمانوں کے ساتھ بدرجہ اولی اخلاق سے
پیش آنا چاہئے اور آپ کے دوسرے سوال کے جواب کے سلسلے میں اس بات کی طرف توجہ دلائی جاچکی ہے اسی وسعت نظر اور وسعت قلب کے ذریعہ مسلمانوں کے درمیان اسلام کی مصلحتوں کے لئے عمل اتحاد ہوسکتا ہے جب کہ وہ اسلام کے بارے میں اصول و عقائد کی حفاظت کے ساتھ اور احسن طریقہ سے اس کی طرف دعوت دیتے رہنے کے ساتھ مسلمانوں کے درمیان اتحاد ممکن ہے،البتہ انہیں چاہئے کہ اپنے عقائد کی طرف دعوت دیں تو عملی طریقوں سے اور با مقصد براہین کے ساتھ جس سے غیروں کی رہنمائی ہوسکے،اس سلسلے میں کذب و بہتان سے پرہیز کرنا پڑےگا اور گالی گلوج اور طعن و تشنیع سے بھی پرہیز کرنا ہوگا اس لئے کہ:
پہلی بات تو یہ ہے کہ سب و شتم اور طعن و تشنیع کرنے سے حقیقت ثابت نہیں ہوسکتی اور نہ قیامت کے دن خدا کے سامنے حجت پیش کی جاسکتی ہے قیامت کا وہ دن ہوگا جب لوگ خدا کے سامنے ہوں گے،ارشاد ہوتا ہے: (يَوْمَ تَأْتِي كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَن نَّفْسِهَا وَتُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ) (1)
ترجمہ:اور اس دن کو یاد کرو جس دن ہر شخص اپنی ذات کے بارے میں لڑنے کے لئے موجود ہوگا اور ہر نفس کو جو کچھ بھی اس نے کیا تھا اس کا پورا پورا بدلہ ملےگا اور ان پر ذرا بھی ظلم نہیں کیا جائےگا۔
دوسری بات یہ ہے کہ بہتان تراشی اور جھوٹ سے کینہ پروری کو بڑھاوا ملتا ہے امت کا شیرازہ بکھر جاتا ہے لوگ ایک دوسرے کے خلاف مشغول ہوجاتے ہیں اور اہداف مشترکہ بھول جاتے ہیں اور آپس میں پھوٹ پڑجاتی ہے یہی وہ مقصد ہے جس کے لئے دشمنان اسلام صدیوں سے کوشاں ہیں تا کہ وہ اپنےگندےمقاصد،اسلام میں پھوٹ ڈال کر حاصل کرسکیں،اکثر تو ایسا ہوتا ہے کہ مسلمان ان کے جال میں پھنس جاتے ہیں اور دوسرے فرقے کو نقصان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ نحل آیت:111
پہچاننے کے لئے اسلام دشمن عناصر سے ہاتھ ملانے سے بھی نہیں چوکتے۔
جب ہدف مشترک ہو تو انسان کبھی کبھی اپنے دشمن سے ہاتھ ملانے سے بھی نہیں چوکتا ہے اس کی مثال ماضی قریب میں ملتی ہے جب کفر و الحاد کے خلاف مسلمانوں نے عیسائیوں سے مل کے جنگ کی تھی اس وقت وہ اپنے مذہبی اختلافات بھول گئے تھے اور مادی مصلحتوں کو طاق نسیاں میں رکھ دیایا تھا محض اس لئے کہ ہدف مشترک تھا اور دشمن مشترک تھا تو جب مسلمان مشترک ہدف کو حاصل کرنے کی لئے غیر مسلموں سے ہاتھ ملاسکتا ہے تو پھر بین اسلامی فرقوں میں آپسی تعاون کا جذبہ کیوں نہیں پیدا ہوتا۔
((علامہ اقبال کے جواب شکوا کا ایک بند میرے جذبات کی ترجماتی کرتا ہے))
ایک ہی سب کا نبی دین بھی ایمان بھی ایکحرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک
فائدہ ایک ہے اس قوم کا نقصان بھی ایککچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں (مترجم)
اسلامی فرقوں کو دین واحد ایک نقطہ پر جمع کرتا ہے،ان کے اصول مشترکہ ہیں پھر کیا بات ہے کہ اسلام دشمن قوموں کی طاقتیں جیسے جیسے بڑھتی جارہی ہیں مسلمانوں کے درمیان اختلاف بھی ویسے ہی ویسے بڑھتا جارہا ہے اور ایک دوسرے پر لعن و طعن گالی گلوج اور بہتان تراشی میں ترقی جاری ہے۔
اسلام کی خدمت کے لئے مشترکہ کوشش کرنا ائمہ اہل بیتؑ کی تعلیم ہے
ائمہ اہل بیتؑ نے بےحد مشترک بہترین مثالیں قائم کی ہیں ملاحظہ ہو:
یہ علی بن ابی طالب علیہ السلام ہیں کہ جب آپ نے دیکھا کہ حق خلافت غصب کرلیا گیا تو اپنے حق کو ثابت کرنے کے لئے ان دونوں حضرات سے کنارہ کشی اختیار کر لی لیکن جب آپ نے
محسوس کیا کہ ان کے دور خلافت میں اسلام اور اہل اسلام کو خطرہ ہوسکتا ہے اور اسلام کو عموماً نقصان پہونچ سکتا ہے تو آپ نے فوراً ان کے امور میں مداخلت شروع کردی اور ان کا ساتھ دینا شروع کردیا تا کہ اسلام کی عموماً حفاظت ہوسکے اس صورت حال کو آپ نے اپنے ایک خطبہ میں بہت وضاحت سے پیش کردیا ہے،فرماتے ہیں:میں نے اپنے ہاتھ روک لئے اور یہ دیکھتا رہا کہ لوگوں کا رجحان کیا ہے؟لوگ دین سے منہ موڑچکے تھے اور دین محمدؐ کو مٹانے کی دعوت دےرہے تھے تو میں ڈرا کہ اگر میں نے اسلام اور اہل اسلام کی مدد نہیں کی تو دین اسلام میں ایسا شگاف پڑجائےگا یا دین کا ایسا ستون گرجائےگا جس کے نتیجے میں ملنےوالی مصیبت تمہاری حکومت کے میرے ہاتھوں سے نکل جانے سے بڑی ہوگی حکومت تو ایک ایسی پونجی ہے جس کی مدت بہت قلیل ہے اور سراب کی طرح زائل ہوجانےوالی ہے یایوں گذرجانےوالی ہے جیسے بادل،لیکن دین ایک پائیدار چیز ہے اس لئے میں ان حادثوں کا مقابلہ کر نیکے لئے کھڑا ہوگیا یہاں تک کہ باطل مٹ گیا اور زائل ہوگیا اور دین مطمئن ہوکے بےفکر ہوگیا اور گنگنانےلگا۔(1)
تاریخ بتاتی ہے کہ آپؑ مسلمان حکومتوں کو مسلسل اپنی تدبیروں اور اچھے مشوروں سے نوازتے رہتے یہاں تک کہ اسلام کی عظمت بڑھی اور اس کا پرچم بلند ہوگیا اور اس کی دعوت عام ہوگئی۔
دوسری مثال اموی دور حکومت میں ابوجعفر محمد بن علی الباقر علیہ السلام نے قائم کی،سب جانتے ہیں کہ بنوامیہ کا دور آئمہ اہل بیتؑ اور ان کے شیعوں کیلئے تاریک ترین دور تھا لیکن اس کے باوجود امام نے اپنی معتمد رائے دینے میں بخالت نہیں کی،جب آپ نے محسوس کیا کہ اس وقت اموی حکومت کو مضبوط کرنے سے اسلام کو تقویت ملےگی تو آپ نے اپنی مضبوط رائے سے اسلام کی مدد کی یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب اموی بادشاہ کو درہم و دینار کے معاملے میں شاہ روم کی طرف سے دھمکایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)نہج البلاغہ:ص:547،مالک اشتر کے نام اپنے ایک خط میں
گیا تھا اس وقت امامؑ نے ہدایت فرمائی کہ اسلامی طرز پر سکے ڈھالے جائیں،تا کہ شاہ روم جو مسلمانوں سے اپنی شرطیں منوایا چاہتا اس کا راستہ بند ہوجائے۔(1) امام محمد باقر علیہ اسلام کے بزرگوں نے ایسے وقت میں جب سلطان جائر کے حکم سے قتال حرام تھا تاکید کی کہ اسلام کی حفاظت کے لئے جہاد مشروع ہے حاکم جور کے بھی دور میں اگر اسلام کو خطرہ در پیش ہو تو جہاد کی جاسکتا ہے چنانچہ امام صادق علیہ السلام سے حدیث ہے کہ:اپنے نفس کے لئے مدافعت کرے اور حکم خدا و رسول کے تحت قتال کرے لیکن حاکم جور کے حکم سے قتال ان کے طریقہ پر ہو تو یہ حلال نہیں ہے۔(2)
دوسری حدیث میں امام علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ((مسلمان کو چاہئے کہ لگاؤ رکھے لیکن قتل نہ کرے اور اس بات کا خوف ہو کہ اسلام کو نقصان پہنچےگا تو قتال بھی کرے اس لئے کہ اس کا قتال اب اپنے نفس کے لئے ہوگا نہ کہ سلطان جائر کے لئے اس لئے کہ اسلام کے دروس میں محمدؐ کے ذکر کا درس بھی شامل ہے۔(3)
اسی طرح آئمہ اہل بیت علیہم السلام نے اپنے شیعوں کو تاکید کی دوسروں سے حسن معاشرت رکھیں میل جول بڑھائیں ان کے حقوق کی رعایت کریں ان کی طرف محبت اور دوستی کا ہاتھ بڑھائیں آپ کے دوسرے سوال کے جواب میں،میں اس سلسلے میں کچھ حدیثیں بھی پیش کرچکا ہوں۔
خدمت اسلام کے لئے متحدہ جد و جہد کے بارے میں شیعہ اور ان کے علما کا نظریہ
تاریخ شاہد ہے کہ ائمہ اہل بیت علیہم السلام کے شیعہ ہر موڑ پر کفر کے خلاف عام مسلمانوں کے ساتھ رہے اور ان سےگھل مل کر ایک ایسے سماج کی تخلیق کرتے رہے جو ملت اسلام کی حفاظت کرتا رہے،
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)حیاۃ الحیوان دمیری ج:1ص:114
(2)وسائل الشیعہ ج:11ص:21،20چھٹا باب،دشمن سے جہاد،حدیث3
(3)وسائل الشیعہ ج:11ص:20،19چھٹا باب،دشمن سے جہاد،حدیث2
یہاں تک کہ ماضی قریب کی تاریخ بھی اس کی شہادت دیتی ہے۔
بیسویں صدی کے شروع میں اسلام پر برا وقت پڑا تھا جب برطانوی فوجوں نےعراق پر چڑھائی کی تھی ان کی جنگ عثمانیوں سے تھی اور سب جانتے ہیں کہ ترکستان کی عثمانی خلافت میں شیعہ کس سختی کے دور سے گذر رہے تھے شیعہ علماء کے ساتھ قساوت کا مظاہرہ کیا جاتا تھا ظلم اور تشدد کا ایک سلسلہ جاری تھا شیعوں سے تجاہل برتا جاتا تھا حد تو یہ ہے کہ ان کی فقہ کو بھی حکومت فقہ ماننے پر تیار نہیں تھی شیعوں کے دینی طلبہ کو فوجی خدمات اس وقت تک نہیں دی جاتی جب تک ان کا فقہ حنفی میں امتحان نہیں لیا اس لئے کہ مذہب حنفی حکومت کا مذہب تھا لیکن شیعہ علما نے ان تمام باتوں سے چشم پوشی برتی،جب انھوں نے دیکھا کہ بات ملت اسلام پر آرہی ہے تو عثمانیوں کی مدد کی اور ان کے ساتھ جہاد کا فتوی دےدیا،خود علماء کرام میدان جہاد میں نکل پڑے اور شعیبۃ اور رکوت میں بنفس نفیس جہاد کیا ار جہاد کے سلسلے میں جو بھی مصیبتیں آئیں وہ جھیل گئے محض اس لئے کہ بیضہ اسلام کی حفاظت ہوا وردین کے دشمنوں سے دین کو بچایا جاسکے اسی طرح فلسطین کے معاملے میں بھی شیعہ علما نے مختلف مرحلوں میں یہی موقف اختیار کیا اور فلسطین کے معاملے کو اسلام کا معاملہ قرار دیا تا کہ اسلام کی سرزمین سے دشمن اسلام کو دفع کیا جاسکے۔
بیسویں صدی کے آخر میں بھی عراق میں یہی سب کچھ دیکھنے میں آیا جب شیعہ علما نے دیکھا کہ عراق پر کمیونزم قبضہ کررہا ہے تو ان لوگوں نے مرجعیت کے دروازے کھول دیئے اور آقائے حکیم طاب ثراہ کی قیادت میں سنیوں سے ہاتھ ملا لیا اور انہیں خوش آمدید کہا تا کہ کلمہ توحید کی حفاظت ہوسکے اور اس موقف کا سب بھی وہی تھا یعنی عالم اسلام کی حفاظت اور بس۔
یہ تمام باتیں اس لئے ہوئیں کہ شیعوں کی نظر میں اسلام کی حفاظت اور فلاح مذہبی اختلافات سے بالاتر ہے اور مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی بات میں متحد رہیں اور جب یہ محسوس کریں کہ دشمن طاقتوں نے اسلام کو برباد کرنا اپنا ہدف بنایا ہے تو اپنے اختلافات کو بھول جائیں تا کہ یہ نظریہ ہمیں
عبرت دے سکے اور مسلمان عملی طور پر ایک ہو کے دشمنان اسلام کو دفع کرسکیں اور ان دشمنوں کے راستے بند کرسکیں جو اسلام پر مصیبتیں آنے کے انتظار میں ہیں اور اسلام کی کمزوریاں تلاش کرتے رہتے ہیں۔
حقیقت تک پہونچنے کے لئے میں عملی گفتگو کو خوش آمدید کہتا ہوں
جس طرح میں یہ چاہتا ہوں کہ مسلم فرقوں کے درمیان عملی مناظرہ ہوتا رہے اور ایسی گفتگو جاری رہے جو مقصد آفرین ہو،لیکن عناد اور تعصب سے پاک،لڑائی فساد سے دور ہوتا کہ ہر ایک دوسرے کے مسائل کو سمجھ سکے اور علمی طریقوں سے دوسرے سے گفتگو کرسکے،تا کہ کوئی بھی کسی پر اپنے مسائل اور عقائد کو لادنے کی کوشش نہ کرے.گفتگو اور مناظرہ کا مقصد صرف حقیقت تک پہونچنا اور سامنےوالے کی دلیلوں کو سمجھ کے کوئی فیصلہ کرنا ہو،اس کئے لئے مندرجہ ذیل باتوں کا ہونا ضروری ہے۔
1۔دین کے معاملے میں بہت زیادہ محتاط ہونا،بصیرت کا کامل ہونا،یہ عقلی اور شرعی اعتبار سے بہت ضروری ہے۔
2۔ایک دوسرے سے خندہ پیشانی سے پیش آنا اور آپسی محبت کو برقرار رکھنا،ان تمام چیزوں کو جن سے رکاوٹ اور وحشت پیدا ہوتی ہے جن کی وجہ سے آپسی تعلقات منقطع ہوجاتے ہیں دور رکھنا،اس لئے کہ ایسی باتوں کا نتیجہ دلوں میں شیک پیدا کرتا ہے اور آپسی اختلافات سے دشمن فائدہ اٹھاتا ہے۔
3۔ہر دو فریق پر واجب ہے کہ وہ سامنےوالے کے عقیدے سے واقف ہو اور اس کی طرف سے دی ہوئی دلیلوں کے نتائج پر نظر رکھتا ہو.جھوٹ،بہتان تراشی،مبالغہ،بدگوئی اور بےکار گفتگو سے پرہیز کرنا بھی بہت ضروری ہے۔
4۔ہر دو فریق پر واجب ہے کہ جب سامنےوالے کی دلیل اور حجتوں میں وزن کا احساس کرے اور یہ سمجھ لے کہ اس کے پاس کسی بھی عقیدہ ےکو ماننے کے لئے ٹھوس دلیلیں موجود ہیں تو اس کو چھوڑ دینے پر اصرار نہ کرے اور دشمنی اور تعصب سے کام نہ لے۔
5۔ہم دلیلوں کی بنیاد پر عقیدوں میں اتفاق پیدا کرسکتے ہیں.ضروری ہے کہ ایک دوسرے کی دلیلوں کو سمجھنے کی کوشش کی جائے اور موضوع کے اوپر غائرانہ نظر کی جائے،ان تمام باتوں کے ابوجود اگر دوسرے کا عقیدہ ہماری سمجھ میں نہیں آتا تو ہمیں اپنے عقیدے کی حفاظت بھی کرنا چاہئے اور دوسرے کا احترام بھی کرنا چاہئے۔
شیعہ اور اہل سنت کے درمیان عقیدے کے اعتبار سے اتحاد نہیں پیدا ہوسکتا
تیسری بات اگر آپ شیعہ،سنی اتحاد کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ ان کا عقیدہ ایک ہوجائے یعنی شیعہ بعض سنی عقائد کے قائل ہوجائیں اور سنی بعض شیعہ عقائد کے۔اور ہر ایک اپنی ان دلیلوں سے تجاہل برتے جن پر وہ شروع سے اعتماد کرتا آیا ہے تو یہ دعوت غیر عملی دعوت ہوگی یعنی عملی طور پر اس دعوت اتحاد پر عمل نہیں ہوپائےگا۔
اس کے مندرجہ ذیل اسباب ہیں۔
1۔اس لئے کہ اس کی وجہ سے مسلمانوں کے درمیان اختلاف میں اضافہ ہوگا ظاہر ہے کہ اس نظریہ کو سب لوگ تو مانیں گے نہیں،نہ ہر سنی مانےگا اور نہ ہر شیعہ مانےگا اور جب کچھ شیعہ مانیں گے تو ایک فرقہ سنیوں کی طرف سے عالم وجود میں آئےگا اور ایک شیعوں کی طرف سے،نتیجہ یہ ہوگا کہ ہم فرقوں کو ملانے کی کوشش میں دو فرقے اور پیدا کردیں گے.یعنی اب تک سنی،شیعہ دو فرقے تھے اب چار فرقے ہوجائیں گے۔
شیعہ،سنی اتحاد کے چکر میں عقیدوں کی ایک عجیب سی شکل سامنے آئےگی حالانکہ عقیدہ ہی ایک ایسی چیز ہے ہر ایک مسلمان کو سب سے عزیز ہے.
اگر ہم دعوت اتحاد دینے کے لئے مسلمانوں کو یہ مشورہ دیں کہ وہ اپنے عقیدوں کو چھوڑ دیں تو اس سے خود دعوت بدنام ہوجائےگی،بہت سے سوالات پیدا ہوں گے.اور لوگا س دعوت کا مقابلہ کرنے لئے اٹھ کھڑے ہوں گے اس لئے کہ وہ جاننا چاہیں گے کہ نئی شریعت کا سبب کیا ہے اور آیا یہ مشروع
ہے بھی یا نہیں؟اس لئے کہ یہ شریعت بعض لوگوں کی نظر میں بالکل نئی ہوگی ان اسباب کی وجہ سے یا تو دعوت اتحاد مشکل ہوگی یا معطل ہوجائےگی۔
میرا خیال ہے کہ ہر دو فریق یہ سوچنے پر مجبور ہوجائیں گے کہ ان کی یہ دعوت اسی وقت مکمل ہوگی جب وہ عالم اسلامی سماج سے ہٹ جائیں اور اس کی وجہ سے اختلاف کی خلیج کچھ اور وسیع ہوجائےگی،یعنی دعوت کا الٹا اثر ہوگا مسلمانوں کا شیرازہ وحدت پارہ پارہ ہوجائےگی ان کی بات میں پھوٹ پڑجائےگی اور ان کے مسائل میں اضافہ ہوجائےگی ہماری یہ بات دعوت کے متضاد ہوگی جس میں ہم نے محض کلمہ اسلام کی رفعت کے لئے اور اہداف مشترکہ کو حاصل کرنے کے لئے مسلمانوں کے درمیان عملی اتحاد کی دعوت دی تھی میں نے عرض کیا تھا کہ یا تو ہر فرقہ اپنے عقیدے پر مضبوطی سے قائم رہے،یا بہتر طریقے سے اپنے عقیدے کی طرف دوسروں کو دعوت دے،میری اس گذارش کا مقصد تمام مسلمانوں کو عملی اعتبار سے ایک پلیٹ فارم پر لانا تھا اور حقیقت تک پہونچنے کے لئے دلیلوں کی چھان بین کرنی تھی۔
میں نے دو باتوں کی طرف توجہ دلائی تھی اور دونوں ہی باتوں کا مقصد بہت بلند ہے اور نتیجہ بہت اطمینان بخش ہے ان کو چھوڑنے کی وجہ نہیں دکھائی دیتی بلکہ ہر مسلمان پر(جس کے اندر ذرا بھی غیرت اسلام پائی جاتی ہے)واجب ہے کہ اس دعوت کو قبول کرلے اور اس وقت تک نہ چھوڑے جب تک یہ شبہ نہ ہو کہ اس سے اسلام کو نقصان پہونچ سکتا ہے لیکن شیعہ سنی کے درمیان عقیدے کے اعتبار سے اتحاد کی دعوت کو قبول کرنے سے اسلام کو بھی نقصان پہنچےگا اور اس نقصان کی اصلاح بھی ناممکن ہے اس لئے بہتر یہ ہے کہ ایسی دعوت کو مہمل قرار دیا جائے اوراس سے تجاہل برتا جائے۔
ارشاد باری تعالی ہوتا ہے کہ:(يَوْمَ تَأْتِي كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَن نَّفْسِهَا وَتُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ) (1)
------------
(1)سورہ توبہ:آیت:47
ترجمہ آیت:اگر یہ لوگ تم میں نکلتے بھی تو بس تم میں فساد ہی برپا کردیتے اور تمہارے حق میں فتنہ انگیزی کی غرض سے تمہارے درمیان اِدھر اُدھر گھوڑے دوڑاتے پھرتے اور تم میں سےان کے جاسوس بھی ہیں جو تمہاری باتیں ان سے بیان کرتے ہیں اور اللہ شریروں سے خوب واقف ہے۔اور اللہ ان لوگوں سے بےنیاز ہے۔
ارشاد ہوتا ہے: (إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ) (1)
ترجمہ:بےشک اللہ بےنیاز اور قابل تعریف ہے۔
2۔دوسری بات دینی حقائق کا اعتقاد اسی وقت واجب ہے جب اس پر تھوس دلیلیں قائم ہوں اور حجت تمام ہوچکی ہو لیکن وہ امور جو سنیوں کے لئے ہوں یا شیعوں کے لئے بغیر دلیل اگر عقیدے کی شکل میں اختیار کرگئے ہیں تو ان کا ماننا حرام ہے،چاہے دونوں فرقےاس پر متفق ہوں یا مختلف،ہاں اگر ان میں سے ایک فرقہ کسی بات پر خاموش ہو اور اس پر مستحکم دلیلیں حاصل ہوچکی ہوں تو ایسی صوررت میں اس کا اعتقاد واجب ہے پھر آپ سوچیں(غور کریں)کہ محض اتحاد کے لئے کوئی اپنے واجب شرعی کو کیسے چھوڑسکتا ہے۔
3۔اگر کوئی(چاہے وہ سنی ہو یا شیعہ)آپ کے اتحاد کے لئے اپنے مدلل عقیدے کو چھوڑ دیتا ہے تو یہ حقیقت پر ظلم ہی ہوگا۔بلکہ شریعت اور وجدان اس بات کو ہرگز قبول نہیں کریں گے کہ ایک مسلمان چاہے وہ سنی ہو یا شیعہ ایسے عقیدے کو چھوڑ دے جس کو ماننا اللہ نے اس پر فرض کیا ہے اور جس کے حق میں حجت تمام ہوچکی بلکہ جس عقیدے کے لئے اس کے دوستوں نے اللہ کے چاہنےوالوں نے اور اسکے نیک بندوں نے امر الہی کو تسلیم کرتے ہوئے اور اس کی رضا کو طلب کرتے ہوئے عظیم قربانیاں دی ہیں اور خدا کے ظالم دشمنوں سے،اسلام میں تفرقہ پیدا کرنےوالوں سے علوم اسلامی کو ضائع کرنےوالے دشمنوں سے،اسلام میں تفرقہ پیدا کرنےوالوں سے علوم اسلامی کو ضائع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ لقمان:آیت26
کرنےوالوں سے لڑتے رہے۔یہاں تک کہ اس کی وجہ سے امت فرقوں میں تقسیم ہوگئی اور مسلمانوں میں ایک پائیدار اختلاف پیدا ہوگیا۔
ایسے مدلل عقیدے کو محض اتحاد کے لئے چھوڑ دینا حقیقت پر ظلم ہی نہیں بلکہ اللہ کے اس امر کی تردید کرنا ہے جو اس نے ہم پر فرض کیا ہے.اللہ کی باتوں کو ہلکا سمجھنا ہے اور اس کے اولیاء کرام کی کوششوں اور قربانیوں کو(جو انہوں نےعقیدے کی حفاظت کے لئے دی ہیں)ضائع کرنا ہے صرف یہی نہیں بلکہ اس سے خدا کے ظالم دشمنوں کے ہدف کو حق ثابت کرنا اور انہیں ان کی کوششوں میں کامیاب کرنا بھی لازم آتا ہے۔
ہم اللہ سے سوال کرتے ہیں کہ وہ ہمیں،آپ کو اور تمام مسلمانوں کو دینی حقیقتوں کی تحقیق کی توفیق عنایت فرمائے،مسلمانوں کے درمیان الفت و محبت کو محکم کرے اور ان کے فرقوں میں اتحاد پیدا کرے ان کی بات کو یکجا کرے بیشک وہ سب سے بڑا رحم کرنےوالا ہے۔
غالیوں کے بارے میں شیعوں کا نظریہ
سنیوں کی طرح شیعہ بھی غالیوں کو گمراہ سمجھتے ہیں بلکہ انہیں کافر سمجھتے ہیں لیکن اس وقت جب ان کا غلو توحید کو نقصان پہنچاتا ہو یا مقام نبوت سے آگے بڑھاتا ہو چاہے نبوت کا دعوی حضور سرور کائناتؐ کے بعد کوئی کرتا ہو یا کسی ایسے ضروری حکم کا انکار کرتا ہو،جس کی وجہ سے اللہ کے نازل کردہ احکام کی تردید ہوتی ہو یا اس کے حضورؐ میں تسلیم سے روکتا ہو اگر غلو کی وجہ سے مندرجہ بالا باتیں نہیں پیدا ہوتیں تو پھر نہ وہ کافر ہے نہ گمراہ مثلاً بعض اولیا کے کرامات یا خدا کے نزدیک ان کے مقام بلندی مقصد یہ ہے کہ کسی کو بھی کافر کہنے سے پہلے اس کے کفر کو ٹھوس دلیلوں سے ثابت کرنا بہت ضروری ہے اس کے لئے وافی معقول دلیل چاہئیے ورنہ بہتر ہے کہ خاموش رہے جیسا کہ خداوند عالم نے حکم دیا ہے:
(وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌإِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا)(1)
ترجمہ:اور جس چیز کا یقین نہ ہو خواہ مخواہ اس کے پیچھے نہ پڑا کرو کیوں کہ کان آنکھ اور دل ان سب کی قیامت کے دن یقیناً بازپرس ہوگی۔
خداوند عالم دوسری جگہ ارشاد فرماتا ہے: (سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ) (2)
ترجمہ:ابھی ان کی شہادت قلم بند کرلی جاتی ہے اور قیامت میں ان سے پوچھا جائےگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ اسراءآیت:36
(2)سورہ زخرف آیت:19
سوال نمبر۔10
امید کرتا ہوں کہ طالب علم کو آپ اس کتاب کا جواب لکھنے پر آمادہ کریں گے جس کا نام(حتی لاننخدع عبداللہ الموصلی)جس میں اس نے یہ دعوی کیا ہے کہ شیعہ اور ان کے علماء اہل سنت کو کافر کہتے ہیں اور ان کے جان و مال مباح سمجھتے ہیں میں جانتا ہوں کہ آپ کے پاس وقت کم ہے اور آپ بہت مصروف ہیں اسی لئے میں نے آپ کو یہ مشورہ دیا ہے،حالانکہ آپ زیادہ جاننےوالے ہیں۔
یہ کتاب مصر میں چھپی ہے اور اس کتاب کے چھاپنےوالے ادارہ کا نام(دارالسلامۃ اللنشر و التوزیع)سلفی فرقہ کے بعض لوگ اس کتاب کو پھیلا رہے ہیں اور اس میں جو کچھ لکھا ہے اس پر اندھا اعتماد کرتے ہیں۔
جواب:اس سلسلے میں آپ کو مندرجہ ذیل امور کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔
1۔آپ کے دوسرے سوال کے جواب میں عرض کیا گیا تھا کہ شیعوں کے نزدیک مسلمان وہ ہے جو کلمہ شہادتیں کا اقرار کرتا ہو،عالم اسلامی فرائض سے انکار نہ کرتا ہو اور اسلام کی طرف اعلانیہ دعوت دیتا ہو اس اسلام کو جو ماننےوالا ہے شیعوں کی نظر میں اس کا خون اور مال(دونوں ہی)محترم ہے۔
میں نے یہ عرض کیا تھا کہ صحابہ اور غیر صحابہ سبھی اس اصول کے تحت آتے ہیں اور شیعوں کی کتابیں اس فتوے سے بھری پڑی ہیں،میں نے بعض علما کے کلمات بھی مقام مثال میں پیش کئے تھے میرا خیال ہےکہ یہی عبارتیں(حتی لاننخدع)کی تکذیب کرتی ہیں اور شیعوں کو اس الزام سے بری کرتی ہیں۔
حتی لانںخدع جیسی کتابوں کے بارے میں ہمارا نظریہ
اب تک تو مجھے اس کتاب کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ملی ہے لیکن آپ کی گفتگو سے جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ آج کل شیعوں کے خلاف بہت سی کتابیں نکل رہی ہیں جن کا اہم ترین مقصد شیعوں کو بدنام کرنا،ان کے بارے میں جھوٹی سچی باتیں پھیلانا اور ان پر الزام تراشی کرنا ہے تا کہ دوسرے لوگوں کے جذبات ان کے خلاف ہوجائیں۔
میرا خیال ہے کہ یہ کتاب انہیں کتابوں میں سے ایک ہے.اس طرح کی کتابوں کی تردید اگر اس لئے کی جائے کہ جواب پڑھ کر اظہار حقیقت کے بعد اپنے نظریوں کو بدل دیں گے تو یہ ناممکن ہے اس لئے کہ وہ لوگ جاہل نہیں ہیں اور اگر جاہل ہیں بھی تو حقیقت تک پہونچنا نہیں چاہتے تا کہ اشکال حل ہوجائے اور وہ اپنی غلطی کی طرف متوجہ ہوں.بلکہ ان کا ایک خاص مقصد ہے جس کو پانے کے لئے ان کی کوشش جاری ہیں اور وہ اس مقصد کو چھوڑنا بھی نہیں چاہتے۔
اس کے پہلے بھی میں اس طرح کے تجربوں سے گذرچکا ہوں اور میں نے بہت کچھ سیکھا ہے میں نے یہ معلوم کرلیا کہ ایسے لوگوں سے بحث کا کیا نتیجہ ہوتا ہے۔
اگر آپ مذکورہ کتاب کا جواب دینا اس لئے ضروری سمجھتے ہیں کہ اس کتاب کے مرقومات کو پڑھ کر نیک نیت مسلمانوں کے فریب کھا جانے کا امکان ہے،تو یہ امکان اس زمانے میں تھا جب شیعہ کتابیں پوشیدہ تھیں اور لوگ مصادرہ کا مطالبہ نہیں کرتے تھے.ان کی کمیابی یا نایابی کی بنیاد پر آج کا دور تو ایسا ہے کہ شیعہ مصادر عام ہیں اور ان کی کتابیں بہرحال ہر آدمی کے لئے ممکن الحصول ہیں غیر شیعہ
ان سے جاہل نہیں ہے.اور شیعہ ان کتابوں کی تحریر سے انکار نہیں کرسکتا پھر دھوکا اور فریب کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے؟
یہ تو انصاف نہیں ہے کہ شیعہ کتابوں کو بغیر پڑھے ہوئے اور ان کے حالات سے بغیر مطلع ہوئے شیعوں کے دشمنوں کی اور شیعوں پر الزام رکھنےوالوں کی تصدیق کردی جائے۔
خصوصاً اس کتاب میں جو تہمتیں شیعوں پر لگائی گئی ہیں ان کی تکذیب تو شیعوں کے طرز زندگی کا مطالعہ کرکے ہوجاتی ہے اس لئے کہ شیعہ کسی خاص علاقے میں یا کسی کونے میں تو نہیں رہتے کہ ان کی طرز زندگی اور ان کی سماجی زندگی بالکل لوگوں سے پوشیدہ ہے اور وہ چھپ کے اپنے مذہبی مراسم انجام دیتے ہیں،بلکہ شیعہ تو کھلم کھلا تمام مسلمانوں کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں اور ان کے ساتھ رہتے سہتے ہیں موسم حج میں جب تمام عالم اسلام کعبہ میں مرتکز ہوتا ہے تو شیعہ بھی اسلام کی شان بڑھانے کے لئے ان میں شامل ہوتے ہیں میرے کہنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ شیعہ اتنے امانت دار ہوتے ہیں کہ انہیں ان کی امانت داری اور تقویٰ کی وجہ سے پہچانا جاسکتا ہے اور وہ مسلمانوں کے جان مال کا احترام دوسروں سے زیادہ کرتے ہیں لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ ان کے اندر دوسروں سے زیادہ خیانت نہیں پائی جاتی اور وہ مسلمانوں کے جان و مال کا دوسروں سے کم احترام نہیں کرتے خصوصاً وہ شیعہ جنھیں متدین سمجھا جاتا ہے اور دین کا پابند سمجھا جاتا ہے یہ وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ جب یہ دوسروں سے ملتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ معاشرت کرتے ہیں تو ان کے کردار سے شیعہ مذہب جھلکتا ہے اور دوسرے لوگ ان کو شیعوں کی پہچان مانتے ہیں۔
سب سے زیادہ قابل توجہ بات یہ ہےکہ آخر شیعہ تہمت اور بہتان تراشی کے جال میں کب تک پھنسے ہیں گے اور صفائیاں پیش کرتے رہیں گے اور لوگ ان تہمتوں کو شیعوں کے بارے میں کس وقت تک سچ مانتے رہیں گے جب تک شیعہ اپنی صفائی نہ پیش کریں جب اصول انصاف یہ ہے کہ جس پر تہمت لگائی جاتی ہے وہ اس وقت تک صاف سمجھا جاتا ہے ب تک جرم ثابت نہ ہوجائے شیعوں کی کتابیں موجود ہیں ان کتابوں میں ان تہمتوں کو دفع کیا گیا ہے۔جو حتی لاننخدع میں شیعوں پر تہمتیں لگائی گئی ہیں کوئی بھی آدمی شیعوں کی کتابوں کو پڑھ کے آسانی سے حقیقت معلوم کرسکتا ہے اور
اگر شیعہ کتابوں کو پڑھنے کے بعد بھی کوئی حتی لاننخدع کی تحریروں کو صحیح سمجھتا ہے اور آپ ہم سے اس کتاب کا جواب لکھنے کو کہتے ہیں تو میں سمجھتا ہوں کہ اگر شیعہ مصادر ان الزامات سے آپ کی نظر میں شیعوں کو بری نہیں کرسکتی تو پھر میرے بس سے باہر ہے کہ میں شیعوں کی منشور اور وسیع پیمانے پر پھیلی ہوئی کتابوں کے باوجود اس کتاب کا جواب لکھنے بیٹھ جاؤں۔
آج کے دور میں شیعوں پر حملے
اس دور میں شیعہ الزام تراشی کسی ایک یا دو کتاب میں محدود نہیں ہے بلکہ مختلف سمتوں سے شیعوں پر حملوں کی بھر مار ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ اس طرح کے حملے شیعوں پر بڑھتے ہی جارہے ہیں مثلاً مصر میں آج سے تقریباً چالیس سال پہلے مذاہب اسلامیہ کو قریب لانے کی ایک کوشش کی گئی تھی جامع ازہر کے شیخ الجامع شیخ محمود شلتوت نے اپنے مشہور فتویٰ میں یہ فرمایا تھا کہ فقہ جعفری کے اصولوں پر عبادت کی جاسکتی ہے اور فقہ جعفری کو تعبد شرعی حاصل ہے لیکن آج مصر ہی میں شیعوں کی شدید مخالفت کی جارہی ہے۔
شیعوں کے ساتھ یہ زیادتی کوئی نئی بات نہیں ہے،صرف یہ دور اس سے مخصوص ہے اور اس زیادتی کا مقصد بھی نہیں ہے کہ شیعوں کی کوئی کمزوری جواب تک پوشیدہ تھی عام مسلمانوں پر ظاہر کردی جائے بلکہ یہ زیادتی ان تبدیلیوں کا نتیجہ ہے جو مصر میں ظاہر ہوئی ہیں اور اس میں شیعہ بھی قصور وار ہیں اس لئے کہ انہوں نے عالم اسلام میں اپنی فعالیت تیز کردی ہے جو لوگ ان حملوں کا حقیقی سبب جانتے ہیں وہی اس سے فائدہ بھی اٹھارہے ہیں ان حملوں کے پیچھے ایک بہت بڑی قوت ہے جس کو صاحبان معرفت خوب پہچانتے ہیں۔اگر میں اس طرح کی تہمتوں کا جواب لکھنے بیٹھ جاؤں اور ان کی تکذیب میں خود کو الجھا لوں یا اس طرح کی لاحاصل باتوں کے خلاف کتاب لکھنا شروع کروں تو اس سے ہماری طاقت محدود ہوجائےگی اور محنت ضائع ہوجائےگی اور ایک بےفائدہ کام میں وقت برباد ہوگا اس لئے کہ جھوٹ اور گالی کی زبان بہت لمبی ہوتی ہے بلکہ بہتر یہ ہے کہ ہم ان کو مہمل قرار دیں اور انہوں نے جو راستہ اختیار کیا ہے
وہ خود ان کی حقیقت کا انکشاف کررہا ہے۔
اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے اس لئے کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے،جیسا کہ خداوند عالم ارشاد فرماتا ہے: (كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا وَوَجَدَ اللَّهَ عِندَهُ فَوَفَّاهُ حِسَابَهُوَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ) (1)
ترجمہ:جیسے ایک چٹیل میدان کا چمکتا ہوا بالو کہ پیاسا اس کو دور سے دیکھے تو پانی خیال کرتا ہے یہاں تک کہ جب اس کے پاس آیا تو اس کو کچھ بھی نہ پایا(اور پیاس سے تڑپ کر مرگیا)اور خدا کو اپنے پاس موجود پایا تو اس نے اس کا حساب کتاب پورا پورا چکا دیا۔
شیعوں کو اپنے خلاف حملہ کا مقابلہ کرنے کے لئے کیا کرنا چاہئے؟
اس دور میں شیعوں پر واجب ہے کہ وہ ان حالات میں صبر کریں،ایک دوسرے کو تلقین صبر کریں،آپس میں اتحاد رکھیں،اپنے نفس کی طرف متوجہ ہوں اور اللہ سے مضبوط تعلق قائم کریں اور اللہ پر بھروسہ کرکے اپنے حق اور حقیقت کو اپنے افعال اور طرز عمل سے ثابت کریں اور دنیا کو واقعیت کا یقین دلائیں،دنیا کو بتائیں کہ تاریخ ان کی مظلومیت کی شاہد ہے پھر اپنے حق پر دلیلیں دیں اور اپنی اصلی ثقافت کی اس دور کے مطابق مناسب طریقہ سے نشر و اشاعت کریں اور لوگوں کے لئے اپنی حقانیت پر حجت قائم کریں،اس میں کوئی شک نہیں کہ حق کی بہرحال فتح ہوگی جیسا کہ ارشاد ہوا ہے: (فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءًوَأَمَّا مَا يَنفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِكَذَٰلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ) (2)
ترجمہ:پھین(جھاگ)تو خشک ہو کر غائب ہوجاتا ہے اور جس سے لوگوں کو نفع پہونچتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ نور آیت:39
(2)سورہ رعد:آیت:17
(پانی)حوض میں ٹھہرا رہتا ہے یوں خدا لوگوں کو سمجھانے کے واسطہ مثالیں بیان فرماتا ہے اور ارشاد ہوتا ہے کہ:
فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِينَ لَا يُوقِنُونَ(1)
ترجمہ:تم صبر کرو بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے اور ایسا نہ ہو کہ جو لوگ تمہاری تصدیق نہیں کرتے تمہیں ہلکا اور خفیف کردیں۔
میرا خیال ہے کہ طعن و تشنیع کے مقابلے میں یہ طریق کار،ایک پائیدار کوشش ہوگی اور دلیلوں کی مزید وضاحت کرےگی اس لئے کہ جب حقائق منکشف ہوجائیں گے اور کذب و افترا کی حقیقت اور حملہ کرنےوالے دلیلوں کے اعتبار سے اتنے مفلس ہیں کہ انہوں نے مجبور ہو کے کذب و بہتان کا سہارا لیا ہے اور طعن و تشنیع پر اتر آئے ہیں اس کے ساتھ ہی حملہ آوروں کی بدنیتی بھی سامنے آجائےگی.اور دنیا ان کے گندے مقاصد کو سمجھ جائےگی.میرے خیال میں شیعیت کی خدمت کے لئے یہی کافی ہے اور شیعوں کے فخر کے لئے یہی کافی ہے اور اس حقیقت کے لئے بھی جو مسلسل حملوں کا نشانہ نبی ہوئی ہے۔
ماضی کے تجربے میری عبرت کے لئے کافی ہیں اور میری بات کی شہادت دیتے ہیں شیعہ قوم شروع ہی سے اپنے عقائد و مسلمات کے لئے جنگ کرتی آئی ہے اور شیعیت ابتدا ہی سے سب و شتم اور کذب و بہتان کا نشانہ بنتی رہی ہے شیعوں کے بارے میں آج کے سلفیوں کے خیالات کل کے امویوں عباسیوں اور عثمانیوں سے کسی طرح ہلکے نہیں ہیں اور وہ بھی جو ان کی مدافعت کرتے ہیں۔
لیکن شیعیت ہر دور میں اپنے حق و حقیقت پر ثابت قدم رہی ہے زلزلوں نے اور وقت کی آندھیوں نے اس کی قوت،ثابت قدمی اور نشر و اشاعت میں اضافہ ہی کیا ہے،سچ فرمایا ہے خداوند عالم نے:
-------------------
(1)سورہ روم آیت:60
(أَلَمْ تَرَ كَيْفَ ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا كَلِمَةً طَيِّبَةً كَشَجَرَةٍ طَيِّبَةٍ أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ-تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ بِإِذْنِ رَبِّهَاوَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ-وَمَثَلُ كَلِمَةٍ خَبِيثَةٍ كَشَجَرَةٍ خَبِيثَةٍ اجْتُثَّتْ مِن فَوْقِ الْأَرْضِ مَا لَهَا مِن قَرَارٍ-يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِوَيُضِلُّ اللَّهُ الظَّالِمِينَوَيَفْعَلُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ)(1)
ترجمہ:(اے رسول)کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے اچھی بات مثلاً کلمہ توحید کی کیسی اچھی مثال بیان کی ہے کہ(اچھی بات)گویا ایک پاکیزہ درخت ہے کہ س کی جڑ مضبوط ہے اور اسکی ٹہنیاں آسمان میں لگی ہوئی ہیں اپنے پروردگار کے حکم سے ہمہ وقت پھلا پھولا رہتا ہے اور خدا لوگوں کے واسطے(اس لئے)مثال بیان فرماتا ہے تا کہ لوگ نصیحت(عبرت)حاصل کریں اور گندی بات جیسے(کلمہ شرک)کی مثال گویا ایک گندے درخت کی سی ہے(جس کی جڑ ایسی کمزور ہے)کہ زمین کے اوپر ہی اکھاڑ پھینکا جائے کیوں کہ اس کی کچھ ٹھہراؤ تو ہے نہیں جو لوگ پکی بات کلمہ توحید پر صدق دل سے ایمان لاچکے ان کو خدا دنیا کی زندگی میں بھی ثابت قدم اور آخرت میں بھی ثابت قدم رکھےگا اور انہیں سوال و جواب میں کوئی دقت نہیں ہوگی اور سرکشوں کو خدا گمراہی میں چھوڑ دیتا ہے اور خدا جو چاہتا کرتا ہے۔
سلفیوں کے واقعات اور ان کے مقاصد
جہاں تک سلفیوں کا سوال ہے جو آج کل شیعوں پر مسلسل حملے کررہے ہیں تو ہم جانتے ہیں کہ یہ شیعوں کے خلاف بلکہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ان کی پہلی شرارت نہیں ہے بلکہ دو صدی یا اس سے کچھ پہلے جب مسلمانوں میں کمزوری آگئی اور مسلم حکومتیں کمزور ہوگئیں تو مغربی کفار،مسلمان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ ابراہیم آیت:24۔27
شہروں کو لالچ بھری نظروں سے دیکھنے لگے اور مسلمان حکومتوں کو کمزور کرنے کے لئے بلکہ انہیں برباد کرنے کے لئے انہوں نے سلفیوں کو بھیجا اور یہ سمجھا کر بھیجا کہ وہ توحید اور شرک کی انحراف شدہ تفسیریں کرکے مسلمانوں کو گمراہ کریں اور کچھ ایسا کریں کہ عام مسلمانوں پر کفر کی حکومت قائم ہوجائے مسلمانوں کی جان و مال حلال ہوجائے اور ان کی حرمت برباد ہوجائے مغربی حکومتوں نے ایسے گروہ تیار کئے جو مسلمان ملکوں میں جاکے رہیں اور ان کی حکومت کو کمزور کریں ان کا بہت خاص ہدف عثمانی حکومت تھی جو مسلمانوں کی سب سے مضبوط حکومت تھی مسلمانوں کی اکثریت اس حکومت سے اس لئے عقیدت رکھتی تھی کہ عثمانیوں نے اپنی حکومت کو خلافت کا عنوان دیا تھا سلفیوں نے اس حکومت کو دو طرف سے نقصان پہنچایا۔
انھوں نے کعبہ محترم پر کئی بار حملے کرکے حاجیوں کو قتل کرکے اور ان کا مال لوٹ کے اور مسلمانوں کے مقدس مقامات کی توہین کرکے بہت فساد پھیلایا یہاں تک کہ کئی سال تک لوگ حج سے محروم رہے اس طرح انہوں نے شیعوں پر بھی حملہ کیا اور مشاہد مقدسہ کی توہین کی کئی بار مدینہ اور کربلائے معلیٰ پر بھی حملہ کیا وہ کربلا جو راہ خدا میں قربانی اور شہادت کی ایک علامت ہے اور جہاں نبیؐ کے اہل بیتؑ کا پاک خون بہایا گیا انہوں نے اپنے کچھ حملوں میں ہتک حرمت کی انتہا کردی کربلا کے بہت سے رہنےوالوں کو قتل کردیا سبط نبی سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام کی قبر کو منہدم کردیا اور روضہ مطہر میں جتنی نفیس چیزیں تھیں سب کو لوٹ کے لے گئے انہوں نے نجف اشرف پر بھی متعدد حملے کئے لیکن چونکہ علماء نے زبردست مدافعت کی اس لئے وہ حضرت علی علیہ السلام کی قبر تک نہیں پہنچ سکے ان کا فساد بلاد اسلامیہ میں بڑھتا چلاگیا یہاں تک کہ مغربی ملکوں کا مقصد حاصل ہوگیا اور حکومت و خلافت عثمانی اپنے انجام کو پہنچ گئی،مغربی ملکوں نے عثمانی حکومت کے شہروں کو آپس میں تقسیم کرلیا اور مسلمانوں کے مشرقی ممالک بھی پہلی جنگ عظیم کے بعد ان کے قبضے میں چلے گئے پھر سلفیوں نے حرمین کی آئمہ اور صالحین کی قبروں کو نشانہ بنایا اور کوشش کی نبیؐ اور اہل بیتؑ کے آثار کو بالکل ہی مٹادیں پھر کچھ دنوں کے لئے ان کی شرارتیں بند ہوگئیں اور طویل مدت تک ان کی تحریکیں معطل رہیں اس لئے کہ اب ان
کی ضرورت نہیں رہ گئی تھی یہاں تک کہ پھر مسلمانوں کا نشہ ٹوٹا اور وہ دین کی طرف متوجہ ہوئے مشرقی ملکوں میں کفار مغرب کو اپنی مصلحتیں خطرہ میں پڑتی ہوئی دکھائی دیں اور انہوں نے پھر سلفیوں کو جدید ہتھیار سے لیس کرکے بھیجا وہ مسلمانوں میں نئے موضوع،تحریف شدہ تفسیر اور مغربی ملکوں کے عطا کردہ مادی وسائل لیکے پھر پہنچ گئے تا کہ مسلمانوں میں پھوٹ ڈالیں ان کے شیرازۂ وحدت کو منتشر کردیں ان کے درمیان عداوت اور کینوں کی کاشت کریں تا کہ ان کی طاقت آپس میں لڑنے ہی میں زائل ہوجائے اور وہ دشمن اور دشمن کے ارادوں کی طرف متوجہ نہ ہوسکیں۔
اس بار انہوں نے نیا چولہ بدلا ہے وہ مسلمانوں کے ہمدرد بن کے آئےہیں اور سمجھا رہے ہیں کہ وہ شیعوں سے دور رہیں اس لئے کہ شیعہ انہیں کافر کہتے ہیں ان کے جان و مال کو حلال سمجھتے ہیں مسلمانوں کو ان سے بچ کے رہنا چاہئیے اور دھوکا نہیں نہیں کھانا چاہئیے وہ خود مسلمانوں کو اپنے تحریف شدہ نظریات سے غافل رکھنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں جبکہ وہ خود مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں ان کو شریک سے منسوب کرتے ہیں ان کی حرمت کو ساقط کرتے ہیں ان کا کون بہاتے ہیں اور مال لوٹتے ہیں وہ اپنی ساری کارستانیاں بھول گئے ہیں،وہ بھول گئے کہ انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ کیا کیا تھا مسلمانوں کے مشاہد مقدسہ کی کتنی توہین کی تھی میں نے تو ابھی ابھی ان کی تاریخ بیان کی ہے،(مثل مشہور ہے کہ اپنی بیماری کا الزام وہ مجھ پر لگاتے ہیں)(انا اللہ و انا الیہ راجعون)ہر حال میں خدا کی حمد ہے اور وہ بہترین فیصلہ کرنےوالا ہے۔آخر کلام میں عرض ہے کہ میں نے بات کو بہت طول دیا معاف فرمائیں گے.اور اگر کوئی بےادبی ہوگئی ہو تو درگذر کریں گے.میں اللہ سے آپ کے لئے توفیقات کا امیدوار ہوں اور یہ کہ آپ دین اور مسلمانوں کی خدمت کرتے رہیں جو خدا کو محبوب ہے اور اس کا پسندیدہ کام ہے۔
والسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
2/12/1999
اردن عمان
میں نے آپ سے جو بھی کہا ہے اس کے آخر میں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ ہماری گفتگو مقصد اور اس لمبی بحث کا ہدف صرف حقیقتوں کو بیان کرنا ہے وہ حقائق جن کے گردیہ گفتگو گھومتی رہی،میں امید کرتا ہوں کہ ہماری نیت اور ہمارا ارادہ صرف حقیقت تک پہونچنے کا ہے اور آئینہ حقیقت پر جو گرد و غبار چڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے اختلافات پیدا ہوگئے ہیں اس کو صاف کرنے کا ہے،اس لئے گردآلود حقیقت کو دیکھ کر شرپسند طاقتوں کی ہمت بڑھتی ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ حقیقت کو برباد کردیا جائے۔
جو آدمی حقیقت پر بحث کرنا چاہتا ہے اس کے لئے ایک اہم نصیحت
بات ختم ہوگئی لیکن ابھی کچھ عرض کرنا ضروری ہے وہ دینی حقائق جن کو اللہ نے اپنے ثواب و عقاب کا معیار قرار دیا ہے انہیں یوں ہی نہیں چھوڑ دیا ہے بلکہ ان کے لئے ٹھوس دلیلیں اور واضح حجتیں قرار دی ہیں: (لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَن بَيِّنَةٍ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَيَّ عَن بَيِّنَةٍ) (1)
ترجمہ:تا کہ جو ہلاک ہو وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو زندگی پائے وہ دلیل کے ساتھ زندگی پائے۔
اگر صاحب ادراک ان حقیقتوں کو ثابت نہیں کرپاتا تو صرف اس لئے کہ اس کی تلاش و جستجو میں کمی ہے اس نے حق تک پہونچنے کی کوشش ہی نہیں کی یا تو اس لئے کہ وہ ان باتوں کو بہت ہلکا سمجھتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ انفال:آیت:42
ہے یا اس لئے کہ وہ انہیں نظرانداز کررہا ہے اس کے علاوہ بھی بہت سے اسباب ہیں مثلاً آباء و اجداد کی تقلید،تعصب کی خواہشیں اور موروثی مسلمات یا خود اس کے اپنے جذبات یہ تمام باتیں بہت سی خرابیاں پیدا کرتی ہیں ان کی وجہ سے بحث و مباحثہ اور غیر منطقی جنگ و جدال کے دروازے کھلتے ہیں اور آپسی کشمکش کا ایک ایسا ماحول پیدا ہوجاتا ہے جس کو طبیعی طور پر انسان پسند نہیں کرتا.انسان کو قدرت نے جو قوت مدرکہ دی ہے اپنے ماحول میں وہ مات کھا جاتی ہے جبکہ تعصب و تقلید کو چھوڑ دیا جائے تو انسان فوراً حقیقت کا ادراک کرلیتا ہے۔
مذکورہ بالا خرابیاں خدا کے سامنے حجت نہیں بن سکتیں اور تعصب و تقلید کا عذر کرکے انسان خدا کے سامنے بری نہیں ہوسکتا اس لئے کہ خداوند عالم بندوں پر جو حقیقت فرض کی ہے اس کے لئے دلائل اور روشن حجت کا قیام پہلے کردیا ہے۔
پس صاحب عقل اور سمجھدار آدمی کو چاہئیے کہ اپنے نفس کے لئے احتیاط برتے اس لئے کہ اس کی جان اس کے لئے تمام جانوں سے عزیز ہے وہ اپنی جان کو دائمی ہلاکت میں نہ ڈالے اور ہمیشہ کے عذاب سے بچائے اور یہ جب وہ حقیقت کو جذبات اور تقلید کی عینک سے نہ دیکھے بلکہ اس عقل و وجدان کا استعمال کرے جو خدا نے اس کے لئے حجت قرار دیا ہے حقیقت تک پہونچنے کی بہرحال کوشش کرے چاہے وہ جہاں بھی ہو اور جیسے بھی ہو نیت امر الہٰی کی تسلیم اور اسکے حکم کی پیروی ہونی چاہئیے تا کہ وہ اپنے نظریوں کو بصیرت کی بنیاد پر حاصل کرے اور اپنے پروردگار کے سامنے عذر پیش کرسکے اور خدا سے دعا کرے کہ وہ اس کو مضبوطی عنایت فرمائے اور گمراہی سے بچائے اور صراط مستقیم کی ہدایت کرے اس لئے کہ اسی کے ہاتھ میں توفیق کے اسباب بھی ہیں اور خذلان کے بھی۔
(وَعَلَى اللَّهِ قَصْدُ السَّبِيلِ وَمِنْهَا جَائِرٌوَلَوْ شَاءَ لَهَدَاكُمْ أَجْمَعِينَ)(1)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ نحل آیت:9
ترجمہ:اور سیدھی راہ ہدایت تو خدا ہی کے ذمہ ہے اور بعض راستے ٹیڑھے ہیں اگر خدا چاہتا تو تم سب کو منزل مقصود تک پہونچا دیتا.
خداوند عالم مخلص افراد کے لئے اور دعا کرنےوالوں کے لئے اپنی توفیقات میں بخالت نہیں کرتا،وہ اپنی رضا تک پہونچنے کے لئے وسیع عنایتیں پیش کرتا ہے۔
ارشاد ہوتا ہے: (وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَاوَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَ)( 1)
ترجمہ:اور جن لوگوں نے ہماری راہ خدا میں جہاد کیا انہیں ہم ضرور اپنی راہ کی ہدایت کریں گے اور اس میں شک نہیں کہ خدا نیکوکاروں کا ساتھی ہے۔
اور ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اپنی رحمت و لطف و کرم سے ہماری دعائیں قبول کرے ہمیں اپنے راستے کا مجاہد بنائے ہمارے لئے ایسے اسباب توفیق پیدا کرے کہ ہم اس کےنور و ہدایت سے فائدہ اٹھائیں اور اس شریعت پر چلتے رہیں جو اس کی بنائی ہوئی ہے اس دین حق کو اپنا شعار بنائیں جس سے وہ راضی ہے بےشک وہ سب سے زیادہ رحم کرنےوالا اور مومنین کا سرپرست ہے،بیشک وہ سب سے بہتر وکیل،بہترین سرپرست اور بہترین مددگار ہے،ہم صرف اللہ سے توفیق چاہتے ہیں اسی پر توکل کرتے ہیں اور اسی سے امید رکھتے ہیں،آخر میں ہماری یہ آواز ہے کہ ساری تعریفیں رب العالمین کے لئے ہیں۔
میں امید کرتا ہوں کہ آپ تفصیلی جواب سے عزت بخشیں گے ایسا جواب جس کی توثیق مراجع نے کی ہو۔
شکریہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1)سورہ عنکبوت آیت:69
میں نے بھرپور کوشش کی ہے کہ آپ کے سوالوں کا اور آپ کی طلب کا جواب دے سکوں،اگر چہ اس سلسلے میں میں نے ایک طویل وقت اور بڑی محنت کی ہے میری محنت ضائع نہیں ہوگی(انشاءاللہ)مجھے اس بات کا احساس ہے کہ بحث کا پورا حق تو ادا نہیں ہوسکا لیکن یہ کہ جو میسر ہے اس کو چھوڑ کر جو مشکل ہے اس کے لئے کوشش نہیں کی جاتی میں آپ کا شکرگذار ہوں کہ آپ نے ایسی گفتگو کا دروازہ کھولا ہے جو بہت نتیجہ خیز ہے اللہ کی توفیق اور اس کی رعایت سے یہ سلسلہ شروع ہوا ہے.
والسلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ