قرآن اور چہرۂ منافق

اصلاح کتب

مؤلف: حجۃ الاسلام سید احمد خاتمی
مفاھیم قرآن

قرآن اور چہرۂ منافق

مؤلف : خاتمی، سید احمد

مترجم / مصحح : سید نوشاد علی نقوی خرم آبادی

ناشر : مجمع جہانی اہل بیت (ع)

نشر کی جگہ : قم (ایران)

نشر کا سال : 2006

جلدوں کی تعداد : 1

صفحات : 251

سائز : رقعی

زبان : -


حرف اول

جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیض یاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے ہیں غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کر لیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ وراہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں۔

چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔

اسلام کے مبلغ و مؤسس سرور کائنات حضرت محمد مصطفٰی صل اللہ علیہ وآلم وسلم غار حرا سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگھی کی پیاسی ایک دنیا کو چشمۂ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل، فطرت انسانی سے ہم آھنگ ارتقاء بشریت کی ضرورت تھا۔

اس لئے تیئیس برس کے مختصر سے عرصے میں ہی اسلام کی عالم تاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمران ایران و روم کی قدیم تھذیبیں اسلامی اقدار کے سامنے ماند پڑ گئیں، وہ تھذیبی اصنام صرف جو دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ ولولہ اور شعور نہ رکھتے ہوں تو مذاھب عقل و آگاھی سے رو برو ہونے کی توانائی کھو دیتے ہیں یہی وجہ ہے ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاھب اور تھذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔


اگر چہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ گراں بھا میراث کو جس کی اھلبیت علیہم السلام اور ان کے پیروؤں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرندان اسلام کی بے توجھی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ھوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمۂ فیض جاری رکھا، چودہ سال کے عرصہ میں بھت سے ایسے جلیل القدر علماء اور دانشور دنیائے اسلام کو پیش کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشت پناھی کی ہے ہر دور اور زمانہ میں ہر قسم کے شکوک و شبھات کا ازالہ کیا ہے۔

خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاھیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی طرف اٹھی اور گڑی ھوئی ہیں، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت و اقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذھبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامران زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین و بیتاب ہیں۔

یہ زمانہ علمی و فکری مقابلہ کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بھتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔

مجمع جھانی اہل بیت علیہم السلام (عالمی اہل بیت کونسل) نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت علیہم السلام عصمت وطھارت کے پیروؤں کے درمیان ہم فکری و یکجھتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں بھتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کریں۔


موجودہ دنیاء بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے، زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ھوسکے۔

ھمیں یقین ہے، عقل و خرد پر استوار ماھرانہ انداز میں اگر اہل بیت عصمت و طھارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علم بردار خاندان نبوت و رسالت کی جاوداں میراث، اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کی دشمن، انانیت کی شکار، سامرا جی خونخواروں کی نام نھاد تھذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جھالت سے تھکی ماندی آدمیت کو، امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔

ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنٰی خدمت گار تصور کرتے ہیں۔

زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے فاضل علام حجۃ الاسلام و المسلمین "سید احمد خاتمی" کی گراں قدر کتاب قرآن اور چھرہ نفاق کو فاضل جلیل مولانا "سید نوشاد علی نقوی خرم آبادی" نے اردو زبان میں اپنے سے قلم آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار اور مزید توفیقات کے آرزو مند ہیں۔

اس منزل میں ہم اپنے ان تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنٰی جھاد رضائے مولٰی کا باعث قرار پائے۔ والسلام مع الکرام

مدیر امور ثقافت: مجمع جھانی اہل بیت علیہم السلام


عرض مترجم

((نٓ و القلم و ما یسطرون))

ابراہیم زمن، شہنشاہیت شکن، حضرت امام خمینی (رح) کی قیادت و رہبری میں رونما ہونے والا عظیم اسلامی انقلاب جس نے افکار شرق اور سیاست غرب کو تہ و بالا کر کے رکھ دیا، جس نے عالم اسلام کو نئی حیات و وقار عطا کیا، اس انقلاب کی کامیابی کے بعد، اسلامی تھذیب و تمدن، فرھنگ و ثقافت، افکار و اخلاق کو اہل جہاں تک پہونچانے کے لئے، جہاں اور اہم اسلامی ادارے وجود میں آئے، مجمع جھانی اہل بیت علیہم السلام نے بھی صفحۂ ھستی پر قدم رکھا اس عالمی ادارہ کے بلند اغراض و مقاصد میں سے ایک، معارف اہل بیت علیہم السلام کے تشنگان کو سیراب کرنا ہے، اس مقدس ھدف و مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے دنیا کی ھزاروں رائج زبانوں میں اہل بیت اطھار علیہم السلام کے افکار و اخلاق، افعال و گفتار، رفتار و کردار کو تحریری شکل میں پیش کیا جاتا ہے اسی رائج زبانوں میں ایک اردو بھی ہے، اس عالمی ادارے کی طرف سے اردو زبان میں اب تک قابل توجہ اعداد میں کتب شائع ھوکر منظر عام پر آچکی ہیں۔

آپ کے پیش نظر کتاب "قرآن اور چھرہ نفاق" فارسی کتاب "سیمای نفاق در قرآن" کا اردو ترجمہ ہے، حقیر نے تمام ھمت کے ساتھ کوشش کی ہے کہ مطلب و مفھوم کتاب کو سادے، آسان، عام فھم الفاظ میں پیش کرے، غیر مانوس اور ذھن گریز کلمات سے پرہیز کیا گیا ہے۔


یہ کتاب موضوع نفاق پر ایک جامع و کامل دستاویز ہے جو آپ کے ھاتھوں میں ہے، یہ کتاب صاحبان ایمان کی خدمت میں خصوصی ھدیہ ہے اس لئے کہ ایمان اس وقت تک کامل نہیں ھوسکتا جب تک اجر رسالت کی ادائگی نہ ھو، اجر رسالت اس وقت تک ادا نہیں ھوسکتا جب تک اہل بیت اطھار علیہم السلام سے محبت و مودت نہ کی جائے(1) ان حضرات سے محبت و مودت نہیں ھوسکتی جب تک کہ ان کے دشمنوں کی شناخت کرتے ہوئے ان سے اور ان کے افعال و کردار سے نفرت نہ کی جائے، اور یہ ممکن ہی نہیں جب تک نفاق کی آشنائی کا حصول نہ ھوجائے، اس لئے کہ نفاق کی شناخت اہل بیت اطھار علیہم السلام کے دشمنوں کی شناخت ہے۔

اگر یہ نفاق نہ ہوتا تو امیر المؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام کا حق غصب نہ کیا گیا ھوتا، ام ابیہا فاطمہ زھرا صلوات اللہ علیہا کے شکم و بازو پر جلتا ہوا دروازہ نہ گرایا گیا ھوتا، قرۃ عین رسول اللہ صلی اللہ عیہ وآلہ وسلم امام حسن مجتبی علیہ السلام کے جنازے پر تیروں کی بارش نہ ہوتی اور کربلا کے میدان میں"حسین منی و انا من الحسین" کا تن تنھا مصداق تین دن کا تشنہ لب شھید نہ کیا گیا ھوتا۔

اگر نفاق کے اقدامات نہ ھوتے تو آج کرۂ ارض کی وضعیت و کیفیت کچھ اور ھوتی، جھانی و عالمی معاشرے کا رنگ و روپ کچھ اور ہی ھوتا، آج عالم اسلامی کی ذلت و پستی کی شناخت اور اعدا اسلام کی پیش قدمی اس نفاق کے عملی اقدام کا نتیجہ ہے۔

شناخت نفاق کا ما حصل اہل بیت علیہم السلام کے دشمنوں کی شناخت ہے اور ان کے دشمنوں کی شناخت تبرّا کے قالب میں جزء فروع دین ہے، فروع دین کے اجزا کی بجا آوری تکمیل ایمان کا سبب ہے۔

----------------------

(1): سورہ شوری/ 23۔(قل لا اسئلکم علیه اجراً الا المودة فی القربی)


لہذا استاد محترم حجۃ الاسلام و المسلمین سید احمد خاتمی دام ظلہ العالی کی کتاب "قرآن اور چھرۂ نفاق"، ایمان کو جلا، فکر کو مستحکم، عمل کو قوی، دائرہ ایمان کو وسیع کرنے کے لئے معاون و مدد گار ثابت ھوگی استاد معظم نے دقیق مطالب، شائستہ انداز، زمان و مکان سے تطابق کرتے ہوئے جامع و کامل کتاب تحریر فرمائی ہے۔

آپ آشیانۂ آل محمد علیہم السلام، مرکز تشیع، بستان علم، گلشن فقاھت، حوزہ علمیہ قم جمھوری اسلامی ایران کے ستارہ فروزان ہیں آپ کو علوم اسلامی میں تجرّ حاصل ہے، علم اصول و فقہ و تفسیر قرآن کے ھزاروں تربیت کردہ آپ کے شاگرد خدمات اسلام و قرآن انجام دے رہے ہیں۔

بھر حال بندہ کے لئے باعث افتخار ہے کہ ایسے عظیم المرتبت گراں قدر عالم و فاضل و جلیل کی کتاب کا ترجمہ آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ھوں، معانی و مفاھیم کو منتقل کرنے میں کتنا کامیاب رہا ہوں وہ تو قارئین ہی بتا سکتے ہیں البتہ اس کتاب کو ادبی محک سے نہ پرکھا جائے کیوں کہ کسی ادیب کے ذریعہ ترجمہ شدہ نہیں، لھذا خطا و غلطی کو دامن عفو میں جگہ دیں گے۔

سید نوشاد علی نقوی خرم آبادی

حوزہ علمیہ قم المقدسہ


مقدمہ مصنف

بصیرت و نظر، دینی معاشرے کے لئے بنیادی ترین معیار رشد و کمال ہے، دینی معاشرہ میں فضا سازی، طلاطم آفرینی، معرکہ آرائی، سخن اوّل نہیں ھوتے بلکہ سخن اوّل بصیرت و نظر ہے، دعوت حق کے لئے، بصیرت لازم ترین شرط ہے، اللہ کی طرف دعوت دھندگان کو چاھئے کہ خود کو اس صفت سے آراستہ کریں:

(قل هذه سبیلی ادعوا الی الله علی بصیرة انا و من اتّبعنی) (2)

آپ کہہ دیجئے یھی میرا راستہ ہے، میں بصیرت کے ساتھ خدا کی طرف دعوت دیتا ھوں، اور میرے ساتھ میرا اتباع کرنے والا بھی ہے۔

بصیرت و دانائی کثیر الجھت و مختلف زوایا کی حامل ہے، خدا، نبی (ص) و امام علیہ السلام کی معرفت، قیامت کی شناخت اور وظائف سے آشنائی وغیرہ------

دشمن کی معرفت و، اہم ترین زاویہ بصیرت پر مشتمل ہے، اس لئے کہ قرآن میں اکثر مقام پر خدا کی وحدانیت و عبودیت کی دعوت کے بعد یا اس کے قبل بلا فاصلہ، طاغوت سے انکار(3) طاغوت سے پرہیز(4) عبادت شیطان سے کنارہ کشی(5) کی گفتگو ہے، کبھی دشمن شناختہ شدہ ہے، علی الاعلان، دشمنی کے بیز کو اٹھائے ہوتا ہے، اس صورت میں گرچہ دشمن سے ٹکرانے میں بھت سی مشکلات و سختی کا سامنا ہے، لیکن فریب و اغوا کی صعوبتیں نہیں ہیں۔

---------------------

2. سورہ یوسف /108۔

3. سورہ بقرہ/ 256۔

4. سورہ نحل/ 36۔

5. سورہ یس/ 60۔


لیکن کبھی دشمن ایسے لباس ایسے رسم و رواج میں ظھور پذیر ہوتا ہے، جسے سماج و معاشرہ، مقدس سمجھتا ہے، مخالفت دین کا پرچم اٹھائے نہیں ھوتا، بلکہ اپنی منافقانہ رفتار و گفتار کے ذریعہ خود کو دین کا طرف دار و مروّج، دین کا پاسبان و نگھبان ظاہر کرتا ہے۔

اس حالت میں دشمن سے مبارزہ و مقابلہ کی سختی و مشکلات کے علاوہ دوسری مشکلات و صعوبتیں بھی عالم وجود میں آتی ہیں، جو اصل مقابلہ و مبارزہ سے کہیں زیادہ اور کئی برابر ھوتیں ہیں، اور وہ مشکلات عوام فریبی، اثر گذاری اپنے ہی فریق و دستہ پر ہوتی ہے۔ اسی بنا پر امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی ناکثین، قاسطین، مارقین سے حرب و جنگ، ان جنگوں کی بہ نسبت سخت ترین و مشکل ترین تھی جو پیامبر عظیم الشان نے بت پرستوں و مشرکوں سے کی تھی۔

اس لئے کہ مرسل اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مد مقابل وہ گروہ تھے جن کا نعرہ تھا بت زندہ باد، لیکن امام علی علیہ السلام کا ان افراد سے مقابلہ تھا جن کو بھت سے جھادوں میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہم رکاب جونے کا تمغہ حاصل تھ(6) اور جانباز اسلام کھلاتے تھے(7) ان افراد سے مقابلہ تھا جن کے درخشاں ماضی کو دیکھتے ہوئے پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تعریف و تمجید کی تھی(8)

-------------------

6. جناب زبیر کے قتل کے بعد ان کی شمشیر کو امام علی علیہ السلام کے پاس لایا گیا۔ امام نے فرمایا: "سیف طالما جلی الکرب عن وجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم" یہ وہ شمشیر ہے جس نے رسول خدا کے چھرہ سے ھزاروں غم کو دور کئے۔ (مروج الذھب۔ ج2۔ ص361۔ سفینۃ البحار کلمہ زبر) ۔

7. جناب طلحہ، اکثر معرکے خصوصاً احد و خندق میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہم رکاب و ہم کار زار تھے جنگ احد میں سر پر ضرب لگنے سے شدید زخمی و مجروح بھی ہوئے تھے۔

8. جنگ خندق کےوقت جب پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مشرکوں کے حالات کی آگاھی کے لئے مجمع میں اس بات کا اعلان کیا، قریش میں سے کون ہے جو ان کی خبروں کو ہم تک پہنچائے جناب زبیر کھڑے ہوئے اور اپنی آمادگی کا اظھار کیا پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ سوال تین مرتبہ تکرار کیا اور تینوں مرتبہ جناب زبیر کھڑے ہوئے، آپ گئے اور مشرکوں کے حالات کی آگاھی پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دی، آپ نے ان کی فدا کاری کو دیکھتے ہوئے فرمایا: ہر نبی کے لئے ناصر و مددگار ہیں اور میرے ناصر و مددگار زبیر ہیں (اسد الغابہ، ج2، ص250) ۔


ان افراد سے مقابلہ تھا جن کی پیشانی پر کثرت عبادت و شب زندہ داری کی وجہ سے نشان پڑ گئے تھے(9) ان افراد سے مقابلہ تھا جن کی رات گئے قرائت قرآن کی دلنشین آواز کا جادو کمیل جیسی عظیم ھستی پر بھی اثر انداز ھوگیا تھا(10)

حضرت علی علیہ السلام کا مقابلہ اس نوعیت کے دشمنوں سے تھا۔ ظاہر سی بات ہے ایسے دشمنوں سے معرکہ آرائی، ان کے حقیقی چہرے کی شناسائی علوی نگاہ و بصیرت کا کام ہے، جیسا کہ خود آپ نے نھج البلاغہ میں چند مقام پر اس کی تصریح بھی فرمائی ھے(11)

اہم ترین زاویہ بصیرت ایسے دشمنوں کی شناخت ہے جسے قرآن کریم منافق کے نام سے یاد کرتا ہے۔

قرآن کریم میں نفاق کے رخ کا تعارف کرانے کے سلسلے میں کفر سے کہیں زیادہ اھتمام کیا گیا ہے، اس لئے کہ اسلامی معاشرہ کے لئے خطرات و نقصان کافروں سے کہیں زیادہ منافقوں سے ہے۔

خاص کر آج کے اسلامی و انقلابی معاشرہ کے لئے جس نے بحمد اللہ سر بلندی کے ساتھ اسلامی انقلاب کی چھبیس 26 بھاروں کا مشاہدہ کر چکا ہے اور امید کی جاتی ہے کہ خدا کے فضل و کرم اور پیامبر عظیم الشان (ص) و اہل بیت اطھار علیہم السلام کی ارواح طیبہ کے تصدق میں تمام مشکلات و زحمات کو حل کرتے ہوئے دینی حکومت و معاشرت کا ایک عالی ترین و کامیاب ترین نمونہ و معیار ثابت ہوگا۔

-------------

9. امام علی علیہ السلام نے ابن عباس کو خوارج کی نصیحت کے لئے بھیجا آپ نے واپس آنے کے بعد خوارج کو ان الفاظ میں توصیف کی: "لھم جباۃ قرحۃ لطول السجود و اید کثفنات الابل علیھم قمص مرخصۃ وھم مشمرون"، ان کی پیشانیوں پر کثرت عبادت سے گھٹے پڑے ہوئے ہیں حق کے لئے گرم و خشک زمین پر ھاتھ پیر رکھنے کی بنا پر اونٹ کے پیر کے مثل سخت ھوگئے ہیں، پھٹے پرانے کپڑے پہنتے ہیں لیکن قاطع و با ارادہ انسان ہیں۔

10. بحار الانوار ج33 ص399، سفینۃ البحار کلمہ (کمل) ۔

11. نھج البلاغہ، خطبہ/ 10/ 137/ 93۔


آج بیرونی دشمنوں کے ساتھ ساتھ اندرونی دشمن (منافقین) تمام قدرت و طاقت کے ساتھ سعی لا حاصل میں مصروف ہیں، کہ اسلامی معاشرے کو باور اور یقین کرادیں کہ دینی حکومت و نظام ناکام ہے، تاکہ پوری دنیا کے وہ افراد جو قلباً اس انقلاب سے وابستہ ہیں ان کو نا امید کرسکیں۔

اس سلسلہ میں اپنی تمام توانائی صرف کرچکے ہیں، جو کچھ قدرت و اختیار میں تھا انجام دے چکے ہیں، اگر اب تک کسی کام کو انجام نہیں دیا ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ انجام دینا نہ چاہتے ہوں بلکہ اس فعل کے عمل سے عاجز و ناتواں ہیں۔

عظیم الشان اسلامی انقلاب کی اوائل کامیابی سے ہی کفر کا متحد گروہ خالص محمدی (ص) اسلام کہ مقابل صف آرائی میں مشغول ہے، اور اس گروہ کی عداوت ابھی تک جاری ہے۔

اس جماعت کا اسلامی انقلاب کے مقابلہ میں صف آرا ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ان میں اتحاد ہی اتحاد ہے، بلکہ یہ گروہ اختلاف و افتراق کا مرکز ہے لیکن ان کا مشترک ھدف و مقصد اسلامی انقلاب سے مقابلہ کرنا ہے۔

احزاب کو اسلامی نظام سے ٹکرا دینا، بغیر درک و فھم کے قتل و غارت گری کا بازار گرم کرنا، ایران کی مسلمان ملت پر جنگ مسلط کرنا، ان کے مشترک اھداف و مقاصد کے کچھ نمونہ ہیں۔


اسلامی انقلاب کے کینہ پرور دشمنوں کا آخری حربہ انقلاب کی اصالت و بنیاد پر ثقافتی یورش کرنا ہے لیکن اب تک جس طریقہ سے ان کی سازشیں ناکام ہوتی رھی ہیں، خدا کے فضل و کرم سے یہ سازش بھی شرمندہ تعبیر نہ ھوسکے گی۔

ان سازشوں کا ناکام بنانے کے سلسلہ میں اہم ترین وسیلہ، نفاق و منافقین کی روش و طرزِ عمل کی شناخت ہے، خوش قسمتی سے قرآن مجید اس سلسلہ میں عمیق، جامع، موزون مطالب و نکات کو پیش کر رہا ہے۔

خداوند عالم کے لطف و کرم سے امید کرتا ہوں کے یہ ناچیز کتاب، اسلامی معاشرہ کے لیے دینی بصیرت و بینائی کے اضافہ کا سبب بنے گی، اشاء اللہ

(بشر المنافقین بانّ لهم عذاب الیماً) (12) آپ ان منافقین کو درد ناک عذاب کی بشارت دے دیں۔

سید احمد خاتمی - حوزہ علمیہ، قم المقدسہ

-----------------

12. سورہ نساء / 138۔


فصل اوّل؛ نفاق کی اجمالی شناخت

1۔ نفاق شناسی کی ضرورت

2۔ نفاق کی لغوی و اصطلاحی معانی

3۔ اسلام میں نفاق کے وجود آنے کی تاریخ

نفاق شناسی کی ضرورت

دشمن شناسی کی اھمیت

صاحبان ایمان کے وظائف میں سے ایک اہم وظیفہ خصوصاً اسلامی نظام و قانون میں دشمن کی شناخت و معرفت ہے۔

اس میں کوئی تردید نہیں کہ اسلامی نظام کو برقرار رکھنے اور اس کے استحکام، پائداری کے لئے اندرونی (داخلی) و بیرونی (خارجی) دشمنوں نیز، ان کے حملہ ور وسائل کی شناخت لازم و ضروری ہے، دشمن اور ان کے مکر و فریب کو پہچانے بغیر مبارزہ کا کوئی فائدہ نہیں، بعض اوقات دشمن کے سلسلہ میں کافی بصیرت و ھوشیاری نہ ہونے کے سبب، انسان دشمن سے رھائی حاصل کرنے کے بجائے دشمن ہی کی آغوش میں پہنچ جاتا ہے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام نے ہر اقدام سے پہلے بصیرت و ھوشیاری کو بنیادی شرط بتایا ہے، آپ فرماتے ہیں:

((العامل علی غیر بصیرة کالسائر علی غیر الطریق، لا یزیده سرع ة السیر الا بعداً عن الطریق)) (13)

-----------

13. اصول کافی، ج1، ص43۔


بغیر بصیرت و آگاھی کے عمل کو انجام دینے ولا ایسا ہی ہے جیسے راستہ کو بغیر پہچانے ہوئے چلنے والا، کہ اس صورت میں اصل ھدف و مقصد اور راہ سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔

اسی ضرورت کی بنا پر قرآن میں پندرہ سو آیات سے زیادہ دشمن کی شناخت کے سلسلہ میں نازل ھوئی ہیں، خدا وند عالم ان آیات میں، مومنین اور نظام اسلامی کے مختلف دشمنوں کی (جن و انس میں سے) نشاندھی کی ہے نیز ان کی دشمنی کے انواع و اقسام حربے اور ان سے مقابلہ کرنے کے طور و طریقہ کو بتایا ہے، اور اس بات کی مزید تاکید کی ہے کہ مسلمان ان سے دور رھیں اور برائت اختیار کریں:

(یا ایها الذین آمنوا لا تتخذوا عدوی و عدوکم اولیاء) (14)

اے صاحبان ایمان اپنے اور میرے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔

آیات قرآن کی بنا پر مومنین کے دشمنوں کو بنیادی طور پر چار نوع و گروہ میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

نوع اوّل: شیطان اور اس کے اہل کار

(انّ الشیطان لکم عدو فاتخذوه عدوا) (15)

یقیناً شیطان تم سب کا دشمن ہے، تم بھی اسے دشمن بنائے رکھو۔

---------------

14. سورہ ممتحنہ/ 1۔

15. سورہ فاطر/ 6۔


بعض قرآن کی آیات میں، خداوند عالم نے انسان خصوصاً مومنین کے سلسلہ میں شیطان کے آشکار کینے اور دشمنی کو عدو مبین (آشکار دشمن) سے تعبیر کیا ہے، اللہ انسان کو منحرف کرنے والے شیطان کے مکر و فریب، حیلے کو شمار کرتے ہوئے، مومنین سے چاھتا ہے کے وہ شیطان کے راستے پر نہ چلیں۔

(یا ایها الذین آمنوا لا تتبعوا خطوات الشیطان) (16)

اے صاحبان ایمان شیطان کے قدم بہ قدم نہ چلو۔

نوع دوّم: کفار

قرآن کی نظر میں مومنین کے دشمنوں میں ایک دشمن کفار ہیں۔

(انّ الکافرین کانوا لکم عدوا مبینا) (17)

کفار تمھارے آشکار و عیاں دشمن ہیں۔

------------------

16. سورہ نور/ 21۔

17. سورہ نساء/ 101۔


نوع سوم: بعض اہل کتاب

صاحبان ایمان و اسلام کے دشمنوں میں بعض اہل کتاب خصوصاً یھودی دشمن ہیں، شھادت قرآن کے مطابق، صدر اسلام سے اب تک اسلام و مسلمان کے کینہ توز، عناد پسند دشمن یھودی رہے ہیں، قرآن ان سے دوستانہ روابط برقرار کرنے کو منع کرتا ہے۔

(لتجدنّ اشدّ الناس عداوة للذین آمنوا الیهود) (18)

یقیناً آپ مومنین کے سلسلہ میں شدید ترین دشمن یھود کو پائیں گے۔

نوع چھارم: منافقین

قرآن مجید نے منافقین کے اصلی خدو خال اور خصوصیت نیز ان کی خطرناک حرکتوں کو اجاگر کرنے کے سلسلہ میں بھت زیادہ اھتمام اور بندوبست کیا ہے، تین سو سے زیادہ آیات میں ان کے طرز عمل کو افشا کرتے ہوئے مقابلہ کرنے کی راہ اور طریقہ کو پیش کیا گیا ہے۔

یہ قرآنی آیتیں جو تیرہ سوروں کے ذیل میں بیان کی گئی ہیں بحث حاضر، قرآن میں چھرۂ نفاق کا اصلی محور و موضوع ہیں۔

گرچہ اہل بیت اطھار علیہم السلام ارواحنا لھم الفداء کے زرین اقوال بھی روایات و احادیث کی شکل میں تناسب مباحث کے اعتبار سے پیش کئے جائیں گے۔

-----------------

18. سورہ مائدہ/ 82۔


قرآن میں نفاق و منافقین

منافقین کی خصوصیت و صفات کی شناخت کے سلسلہ میں، قرآن اکثر مقام پر جو تاکید کر رہا ہے وہ تاکید کفار کے سلسلہ میں نظر نہیں آتی، اس کی وجہ یہ ہے کہ کفار علی الاعلان، مومنین کے مد مقابل ہیں، اور اپنی عداوت خصوصیت کا اعلانیہ اظھار بھی کرتے ہیں، لیکن منافقین وہ دشمن ہیں جو دوستی کا لباس پھن کر اپنی ہی صف میں مستقر ھوتے ہیں، اور اس طریقہ سے وہ شدید ترین نقصان اسلام اور مسلمین پر وارد کرتے ہیں، منافقین کا مخفیانہ و شاطرانہ طرز عمل ایک طرف، ظواھر کی آراستگی دوسری طرف، اس بات کا موجب بنتی ہے کہ سب سے پہلے ان کی شناخت کے لئے خاص بینایی و بصیرت چاھئے، دوسرے ان کا خطرہ و خوف آشکار دشمن سے کہیں زیادہ ہوتا ہے۔

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

"کن للعدو المکاتم اشدّ حذر منک للعدو المبارز" (19)

آشکار و ظاہر دشمن کی بہ نسبت باطن و مخفی دشمن سے بھت زیادہ ڈرو۔

آیت اللہ شھید مطھری، معاشرہ میں نفاق کے شدید خطرے نیز نفاق شناسی کی اھمیت کے سلسلہ میں لکھتے ہیں۔

میں نہیں سمجھتا کہ کوئی نفاق کے خطرے اور نقصان جو کفر کے خطرے اور ضرر سے کہیں زیادہ شدید تر ہے، تردید کا شکار ھو، اس لئے کہ نفاق ایک قسم کا کفر ہی ہے، جو حجاب کے اندر ہے جب تک حجاب کی چلمن اٹھے اور اس کا مکروہ و زشت چھرہ عیاں ھو، تب تک نہ جانے کتنے لوگ دھوکے و فریب کے شکار اور گمراہ ھوچکے ہوں گے، کیوں مولائے کائنات امیر المومنین علی علیہ السلام کی پیش قدمی کی حالت، رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرق رکھتی ہے، ہم شیعوں کے عقیدہ کے مطابق امیر المومنین علی علیہ السلام کا طریقۂ کار، رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جدا نہیں ھے،

-----------------------

19. شرح نھج البلاغہ، ابن ابی الحدید، ج20 ص311۔


کیوں پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیش قدمی اتنی سریع ہے کہ ایک کے بعد ایک دشمن شکست سے دوچار ھوتے جارھے ہیں، لیکن جب مولائے کائنات امیر المومنین علی علیہ السلام دشمنوں کے مد مقابل آتے ہیں، تو بھت ہی فشار و مشکلات میں گرفتار ہوجاتے ہیں، ان کو رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسی پیش رفت حاصل نہیں ھوتی، صرف یہی نہیں بلکہ بعض مواقع پر آپ کو دشمنوں سے شکست کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، ایسا کیوں ھے؟!

صرف اس لئے کہ پیامبر عظیم الشان کا مقابلہ کافروں سے تھا اور امیر المومنین علیہ السلام کا مقابلہ منافقین گروہ سے تھا(20)

سورۂ توبہ کی آیت نمبر 101 سے استفادہ ہوتا ہے کہ کبھی چھرۂ نفاق اس قدر غازۂ ایمان سے آراستہ ہوتا ہے کہ پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے بھی عادی علم کے ذریعہ اس کی شناخت مشکل ھوجاتی ہے، اللہ ہے جو وحی کے وسلیہ سے اس جماعت کا تعارف کراتا ہے۔

(وممّن حولکم من الاعراب منافقون و من اهل المدینة مردوا علی النفاق لا تعلمهم نحن نعلمهم سنعذّبهم مرّتین یردّون الی عذاب عظیم) (21)

اور تمھارے گرد دیھاتیوں میں بھی منافقین ہیں اور اہل مدینہ میں تو وہ بھی ہیں جو نفاق میں ماھر اور سرکش ہیں تم ان کو نہیں جانتے ہو لیکن ہم خوب جانتے ہیں ہم عنقریب ان پر دھرا عذاب کریں گے اس کے بعد وہ عذاب عظیم کی طرف پلٹادئے جائیں گے۔

---------------------

20. مسئلہ نفاق: بنابر نقل نفاق یا کفر پنھان، ص52۔

21. سورہ توبہ/ 101۔


مولائے کائنات امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام، اسلامی معاشرہ میں نفاق کے آفات و خطرات کا اظھار کرتے ہوئے نھج البلاغہ میں فرماتے ہیں:

((ولقد قال لی رسول الله: انی لا اخاف علی امتی مومنا ولا مشرکا امّا المؤمن فیمنعه الله بایمانه و امّا المشرک فیقمعه الله بشرکه ولکنی اخاف علیکم کل منافق الجنان، عالم اللسان یقول ما تعرفون و یفعل ما تنکرون)) (22)

رسول اکرم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ھے: میں اپنی امت کے سلسلہ میں نہ کسی مومن سے خوف زدہ ہوں اور نہ مشرک سے، مومن کو اللہ اس کے ایمان کی بنا پر برائی سے روک دے گا اور مشرک کو اس کے شرک کی بنا پر مغلوب کر دے گا، سارا خطرہ ان لوگوں سے ہے جو زبان کے عالم اور دل کے منافق ہیں کہتے وہی ہیں، جو تم سب پہچانتے ہو اور کرتے وہ ہیں جسے تم برا سمجھتے ھو۔

اسی نفاق کے خدو خال کی پیچیدگی کی بنا پر حضرت علی علیہ السلام کی زمام داری کی پانچ سال کی مدت میں دشمنوں سے جنگ کی مشکلات کہیں زیادہ پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی مشکلات و زحمات سے تھیں۔

پیامبر عظیم الشان ان افراد سے بر سر پیکار تھے جن کا نعرہ تھا بت زندہ باد لیکن امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام ان افراد سے مشغول مبارزہ و جنگ تھے جن کی پیشانیوں پر کثرت سجدہ کی بنا پر نشان پڑے ہوئے تھے۔

حضرت علی علیہ السلام ان افراد سے جنگ و جدال کر رہے تھے جن کی رات گئے تلاوت قرآن کی صداء دلسوز حضرت کمیل جیسی فرد پر بھی اثر انداز ھوگئی تھی(23)

------------

22. نھج البلاغہ، نامہ27۔

23. بحار الانوار، ج33، ص399۔


آپ کا مقابلہ ایسے صاحبان اجتھاد سے تھا جو قرآن سے استنباط کرتے ہوئے آپ سے لڑ رہے تھے(24)

وہ افراد جو راہ خدا میں معرکہ و جھاد کے اعتبار سے درخشاں ماضی رکھتے تھے یھاں تک کہ بعض کو تمغہ جانبازی و فدا کاری بھی حاصل تھا، لیکن دنیا پرستی نے ان صاحبان صفات و کردار کو حق کے مقابل لاکھڑا کیا۔

پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زبیر کو (سابقہ، فداکاری و معرکہ آرائی دیکھتے ہوئے) سیف الاسلام کے لقب سے نوازا تھا اور طلحہ جنگ احد کے جانباز و دلیر تھے، ایسے رونما ہونے والے حالات و حادثات کا مقابلہ کرنا علوی بصیرت ہی کا کام ہے۔

قابل توجہ یہ ہے کہ مولائے کائنات نے نھج البلاغہ میں ایسے افراد سے جنگ کرنے کی بصیرت و بینائی پر افتخار کرتے ہوئے فرماتے ہیں میرے علاوہ کسی بھی فرد کے اندر یہ صلاحیت نہ تھی جو ان سے مقابلہ و مبارزہ کرتا۔

((ایها الناس انی فقات عین الفتنة ولم یکن لیجتری علیها احد غیری) )(25)

لوگو! یاد رکھو میں نے فتنہ کی آنکھ کو پھوڑ دیا ہے اور یہ کام میرے علاوہ کوئی دوسرا انجام نہیں دے سکتا ہے۔

--------------

24. سفینۃ البحار، ج1، ص380۔

25. نھج البلاغہ، خطبہ93۔


قرآن مجید حکم دے رہا ہے کے اپنے آشکار و مخفی دشمنوں کو خوفزدہ کرنے کے لئے پوری طاقت سے مستعدر ہو اور طاقت حاصل کرو تاکہ تمھاری قدرت و اقتداران کی خلاف ورزی روکنے کا ذریعہ ہوجائے۔

(واعدّوا لهم ما استتطعتم من قوة و من رباط الخیل ترهبون به عدّو الله و عدوکم آخرین من دونهم لا تعلمونهم الله یعلمهم) (26)

اور تم سب ان کے مقابلہ کے لئے امکانی قوت اور گھوڑوں کی صف بندی کا انتظام کرو جس سے اللہ کے دشمن اپنے دشمن اور ان کے علاوہ جن کو تم نہیں جانتے ہو اور اللہ جانتا ہے (منافقین) سب کو خوفزدہ کردو۔

اس آیت سے استفادہ ہوتا ہے کہ اسلامی نظام میں طاقت و قدرت کا حصول تجاوز و قانون کی خلاف ورزی روکنے کا وسیلہ ہے نہ تجاوز گری کا ذریعہ۔

منافقین ان افراد میں سے ہیں جو ہمیشہ اسلامی نظام و سر زمین پر تعرض و تجاوز کا خیال رکھتے ہیں لھذا نظامی و انتظامی اعتبار سے آمادگی اور معاشرہ کا صاحب بصارت و دانائی ہونا سبب ہوگا کہ وہ اپنے خیال خام سے باز رھیں، اس نکتہ کا بیان بھی ضروری ہے کہ قوت و قدرت کا حصول (آمادگی) صرف جنگ و معرکہ آرائی پر منحصر نہ ہو اگر چہ جنگ ورزم میں مستعد ھونا، اس کے ایک روشن و واضح مصادیق میں سے ہے، لیکن دشمن کی خصوصیت، اس کے حملہ آور وسائل کی شناخت و پھچان کے لئے بصیرت کا وجود، حصول قدرت و اقتدار کے ارکان میں سے ہے۔

جب کہ منافقین کا شمار خطرناک ترین دشمنوں مں ہوتا ہے لھذا، نفاق اور اس کی خصوصیت و صفات کی شناخت ان چند ضرورتوں میں سے ایک ہے جسے عالم اسلام ہمیشہ قابل توجہ قرار دے۔

اس لئے کہ ممکن ہے ھزار چہرے والے دشمن (منافق) سے غفلت ورزی، شاید اسلامی نظام و مسلمانوں کے لئے ایسی کاری ضرب ثابت ہو جو التیام و بہبود کے قابل ہی نہ ھو۔

-----------------

26. سورہ انفال/60۔


نفاق کے لغوی و اصطلاحی معانی

لفظ نفاق کا ریشہ اور اس کے اصل

لفظ نفاق کے معنی، کفر کو پوشیدہ، اور ایمان کا ظاہر کرنا ہے، نفاق کا استعمال اس معنی میں پہلی مرتبہ قرآن میں ہوا ہے، عرب میں اسلام سے قبل اس معنی کا استعمال نہیں تھا، ابن اثیر تحریر کرتے ہیں:

((وهو اسم لم یعرفه العرب بالمعنی المخصوص وهو الذی یستر کفره و یظهره ایمانه)) (27)

لفظ نفاق کا اس خاص معنی میں استعمال لغت کے اعتبار سے چار احتمال ھوسکتا ھے:

پہلا احتمال:

یہ ہے کہ نفاق بمعنی اذھاب و اھلاک کے ہیں، جیسے(نفقت الدّابة) کہ حیوان کے برباد و ھلاک ھوجانے کے معنی میں ہے۔

نفاق کا اس معنی سے تناسب یہ ہے کہ منافق اپنے نفاق کی بنا پر اس میت کے مثل ہے جو برباد و تباہ ھوجاتی ہے۔

دوسرا احتمال:

نفاق ذیل عبارت سے اخذ کیا گیا ھے:

((نفقت لسلعة اذا راجت و کثرت طلابها))

وہ سامان جو بھت زیادہ رائج ہو اور اس کے طلب گار بھی زیادہ ہوں تو یہاں پر لفظ "نفق" کا استعمال ہوتا ہے، اس بنا پر اہل لغت کا اصطلاحی مفھوم سے مرتبط ھوتے ہوئے، نفاق یہ ہے کہ منافق ظاہر میں اسلام کو رواج دیتا ہے، کیوں کہ اسلام کے طلب گار زیادہ ھوتے ہیں۔

----------

27. نھایۃ، ابن اثیر، بحث "نفق" و نیز: لسان العرب، ج10، ص359۔


تیسرا احتمال:

نفاق، زمین دوز راستہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔

((النفق سرب فی الارض له مخلص الی المکان))

اس اصل کے مطابق منافق ان افراد کے مثل ہے جو خطرات کی بنا پر زمین دوز راستہ (سرنگ) میں مخفی ھوجائے، یعنی منافق بھی اسلام کے لباس کو زیب تن کرکے خود کو محفوظ کرلیتا ہے اگر چہ مسلمان نہیں ہوتا ہے۔

چوتھا احتمال: نفاق کا ریشہ "نافقاء" ہے، صحرائی چوھے اپنے گھر کے لئے دو راستہ بناتے ہیں ایک ظاہر و آشکار راستہ، اس کا نام "قاصعاء" ہے، دوسرا مخفی و پوشیدہ راستہ، اس کا نام "نافقاء" ہے، جب صحرائی چوھا خطرہ کا احساس کرتا ہے تو، قاصعاء سے داخل ھوکر نافقاء سے فرار کرتا ہے۔

اس احتمال کی بنا پر، منافق ہمیشہ خروج کے لئے دو راستہ اپناتا ہے، ایمان پر کبھی بھی ثابت قدم نہیں رہتا اگر چہ اس کا حقیقی راستہ کفر ہے لیکن اسلام کا ظاہر کر کے اپنے کو خطرے سے بچا لیتا ہے۔

ابتدا میں دو احتمال یعنی، نفاق بمعنی ھلاک ہونے اور ترویج پانے کے سلسلے میں علماء لغت کی طرف سے کوئی تائید نہیں ملتی ہے، لھذا ان معانی سے اعراض کرنا چاھئے، لیکن تیسرے اور چوتھے احتمال میں سے کون سا احتمال اساسی و بنیادی ہے اس کے لئے مزید بحث و مباحثہ کی ضرورت ہے۔

تمام مجموعی احتمالات سے ایک نکتہ ضرور سامنے آتا ہے، وہ یہ کہ نفاق کے معانی میں دو عنصر قطعاً موجود ہے، 1: عنصر دورخی، 2:عنصر پوشیدہ کاری

اس بنا پر نفاق کے معانی میں دو رخی و پوشیدہ کاری کا بھی اضافہ کردینا چاھئے، منافق وہ ہے جو دو روئی کا حامل ہوتا ہے، اور اپنی صفت کو پوشیدہ بھی رکھتا ہے۔


قرآن و احادیث میں نفاق کے معانی

روایات و قرآن میں نفاق دو معانی اور دو عنوان سے استعمال ہوا ھے:

1۔ اعتقادی نفاق

قرآن و حدیث میں نفاق کا پہلا عنوان اسلام کا ظاہر کرنا، اور باطن میں کافر ھونا، اس نفاق کو اعتقادی نفاق سے تعبیر کیا جاتا ہے۔

قرآن میں جس مقام پر بھی نفاق کا لفظ استعمال ہوا ہے یہی معنی منظور نظر ہے، یعنی کسی فرد کا ظاہر میں اسلام کا دم بھرنا، لیکن باطن میں کفر کا شیدائی ھونا۔

سورہ منافق کی پہلی آیت اسی معنی کو بیان کر رھی ہے۔

(اذا جاءک المنافقون قالوا نشهد انک لرسول الله والله یعلم انک لرسوله والله یشهد ان المنافقون لکاذبون)

پیغمبر! یہ منافقین آپ کے پاس آتے ہیں، تو کہتے ہیں کہ ہم گواھی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ بھی جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں لیکن اللہ گواھی دیتا ہے کے یہ منافقین اپنے قول میں جھوٹے ہیں۔

سورہ نساء میں منافقین کی باطنی وضعیت اس طریقہ سے بیان کی گئی ہے۔

(و دّو لو تکفرون کما کفروا فتکونون سواء) (28)

یہ منافقین چاہتے ہیں کہ تم بھی ان کی طرح کافر ھوجاؤ اور سب برابر ہوجائیں۔

--------------

28. سورہ نساء/ 89۔


اس بنیاد پر امکان ہے کہ مسلمانوں میں بعض افراد ایسے ہوں جو اسلام کا اظھار کرتے ہوں اور باطن میں دین اور اس کی حقانیت پر اعتقاد نہ رکھتے ھوں۔

لیکن ان کے اس فعل کا محرک کیا ھے؟ اس کا ذکر تاریخ نفاق کی فصل میں بیان ہوگا، اس نوعیت کے افراد کا فعل نفاق ہے اور ان کو منافق کھا جاتا ہے۔

یقیناً بعض افراد کا اسلام، جو فتح مکہ کے وقت مسلمان ہوئے تھے اسی زمرہ میں آتا ہے، مثال کے طور پر ابوسفیان کا اسلام، پیامبر عظیم الشان کے بعد کے واقعات، خصوصاً عثمان کے دورہ خلافت میں ظاہر ہوجاتا ہے کہ، ان کا اسلام چال بازی اور مکاری سے لبریز تھا، آھستہ آھستہ خلافتی ڈھانچے میں اثر و رسوخ بڑھاتے ہوئے اسلام کے پردے میں کفر ہی کی پیروی کرتے تھے، یھاں تک کہ عثمان کے عصر خلافت میں ابوسفیان، سید الشھدا حضرت حمزہ کی قبر کے پاس آکر کھتا ہے، اے حمزہ! کل جس اسلام کے لئے تم جنگ کر رہے تھے، آج وہ اسلام گیند کے مثل میری اولاد میں دست بدست ہو رہا ہے(29)

ابوسفیان، خلافت عثمان کے ابتدائی ایام میں خاندان بنی امیہ کے اجتماع میں اپنے نفاق کا اظھار یوں کرتا ہے، خاندان تمیم وعدی (ابوبکر و عمر کے بعد) خلافت تم کو نصیب ھوئی اس سے گیند کی طرح کھیلتے رہو اور اس گیند (خلافت) کے لئے قدم، بنی امیہ سے انتخاب کرو، یہ خلافت صرف سلطنت و بشر کی سرداری ہے اور جان لو کہ میں ہر گز جنت و جھنم پر ایمان نہیں رکھتا ھوں(30)

---------------

29. قاموس الرجال، ج10، ص89۔

30. الاصابہ، ج4، ص88۔


جس وقت ابوبکر نے امور خلافت کو اپنے ھاتھ میں لیا ابوسفیان چاھتا تھا کہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف و تفرقہ پیدا ھوجائے اور اسی غرض کے تحت مولائے کائنات علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے حمایت و مساعدت کی پیشکش کرتا ہے لیکن حضرت علی علیہ السلام اس کو اچھے طریقہ سے پہچانتے تھے، پیشکش کو ٹھکراتے ہوئے فرمایا: تم اور حق کے طرفدار؟! تم تو روز اوّل ہی سے اسلام و مسلمان کے دشمن تھے آپ نے اس کی منافقانہ بیعت کے دراز شدہ دست کو رد کرتے ہوئے چھرہ کو موڑ لیا(31)

بھر حال اس میں کوئی شک نہیں کہ ابوسفیان ان افراد میں سے تھا جن کے جسم و روح، اسلام سے بیگانے تھے اور صرف اسلام کا اظھار کرتا تھا۔

2۔ اخلاقی نفاق

نفاق کا دوسرا عنوان اور معنی جو بعض روایات میں استعمال ہوا ہے اخلاقی نفاق ہے، یعنی دینداری کا نعرہ بلند کرنا، لیکن دین کے قانون پر عمل نہ کرنا، اس کو اخلاقی نفاق سے تعبیر کیا گیا ہے(32) البتہ اخلاقی نفاق کبھی فردی اور کبھی اجتماعی پہلوؤں میں رونما ہوتا ہے، وہ فرد جو اسلام کے فردی احکام و قوانین اور اس کی حیثیت کو پامال کر رہا ہو وہ فردی اخلاقی نفاق میں مبتلا ہے اور وہ شخص جو معاشرے کے حقوق و اجتماعی احکام کو جیسا کہ اسلام نے حکم دیا ہے نہ بجالاتا ہو تو، وہ نفاق اخلاق اجتماعی سے دوچار ہے۔

فردی، نفاق اخلاق کی چند قسمیں، ائمہ حضرات کی احادیث کے ذریعہ پیش کی جارھی ہیں، حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

---------------

31. تفسیر سورہ توبہ و منافقون۔

32. یقیناً اخلاق کی یہ حالتیں، رذائل کے اجزا میں سے ہے لیکن یہ کہ عادت رذیلہ روایات میں نفاق پر اطلاق ہوتی ہے یا نہیں یہ وہ موضوع ہے جسے اجاگر ہونا چاھئے علامہ مجلسی بحار الانوار ج72 ص108 میں اس نظریہ کی تائید کرتے ہیں کہ روایات میں اسی معنی میں استعمال ہوا ہے، اصول کافی ج2 میں ایک باب صفت النفاق و المنافق ہے اس باب کی اکثر احادیث انفرادی، اجتماعی اخلاقی نفاق کے سلسلہ میں بیان کی گئی ہے یہ خود دلیل ہے کہ نفاق روایات میں اس خاص معنی (نفاق اخلاقی) جس کا میں نے اشارہ کیا ہے استعمال ہوا ہے۔


((اظهر الناس نفاقاً من امر با لطاعة ولم یعمل بها ونهی عن المعصیة ولم ینته عنها)) (33) کسی فرد کا سب سے واضح و نمایاں نفاق یہ ہے کہ اطاعت (خداوند متعال) کا حکم دے لیکن خود مطیع و فرمان بردار نہ ھو، گناہ و عصیان کو منع کرتا ہے لیکن خود کو اس سے باز نہیں رکھتا۔

حضرت امام صادق علیہ السلام مرسل اعظم سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

((ما زاد خشوع الجسد علی ما فی القلب فهو عندنا نفاق)) (34)

جب کبھی جسم (ظاہر) کا خشوع، خشوع قلب (باطن) سے زیادہ ہو تو ایسی حالت ھمارے نزدیک نفاق ہے۔

حضرت امام زین العابدین علیہ السلام اخلاقی نفاق کے سلسلہ میں فرماتے ہیں:

((ان المنافق ینهی ولا ینتهی و یامر بما لا یاتی------ یمسی وهمه العشا وهو مفطر و یصبح وهمه النوم ولم یسهر)) (35)

یقیناً منافق وہ شخص ہے جو لوگوں کو منع کرتا ہے لیکن خود اس کام سے پرہیز نہیں کرتا ہے، اور ایسے کام کا حکم دیتا ہے جس کو خود انجام نہیں دیتا، اور جب شب ہوتی ہے تو سواء شام کے کھانے کے اسے کسی چیز کی فکر نہیں ہوتی حالانکہ وہ روزہ سے بھی نہیں ھوتا، اور جب صبح کو بیدار ہوتا ہے تو سونے کی فکر میں رہتا ہے، حالانکہ شب بیداری بھی نہیں کرتا (یعنی ھدف و مقصد صرف خواب و خوراک ھے) ۔

ذکر شدہ روایات اور اس کے علاوہ دیگر احادیث جو ان مضامین پر دلالت کرتی ہیں ان کی روشنی میں بے عمل عالم اور ریا کار شخص کا شمار انھیں لوگوں میں سے ہے جو فردی اخلاقی نفاق سے دوچار ھوتے ہیں۔

--------------

33. غرور الحکم، حدیث 3214۔

34. اصول کافی، ج2، ص396۔

35. اصول کافی، ج2، ص396۔


نفاق اخلاقی اجتماعی کے سلسلہ میں معصومین علیہ السلام سے بھت سی احادیث صادر ھوئی ہیں، چند عدد پیش کی جارھی ہیں۔

امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

((ان المنافق…… ان حدثک کذبک و ان ائتمنه خانک وان غبت اغتابک وان وعدک اخلفک)) (36)

منافق جب تم سے گفتگو کرے تو جھوٹ بولتا ہے، اگر اس کے پاس امانت رکھو تو خیانت کرتا ہے، اگر اس کی نظروں سے اوجھل رہو تو غیبت کرتا ہے، اگر تم سے وعدہ کرے تو وفا نہیں کرتا ہے۔

پیامبر عظیم الشان (ص) نفاق اخلاقی کے صفات کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

((اربع من کن فیه فهو منافق وان کانت فیه واحدة منهن کانت فیه خصلة من النفاق من اذا حدّث کذب واذا وعد اخلف واذا عاهد غدر واذا خاصم فجر)) (37)

چار چیزیں ایسی ہیں کہ اگر ان میں سے ایک بھی کسی میں پائی جائیں تو وہ منافق ہے، جب گفتگو کرے تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے تو پورا نہ کرے، اگر عہد و پیمان کرے تو اس پر عمل نہ کرے، جب پیروز و کامیاب ھوجائے تو برے اعمال کے ارتکاب سے پرہیز نہ کرے۔

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

((کثرة الوفاق نفاق)) (38)

کسی شخصی کا زیادہ ہی وفاقی اور سازگاری مزاج و طبیعت کا ہونا یہ اس کے نفاق کی علامت ہے۔

-------------

36. المحجۃ البیضاء، ج5، ص282۔

37. خصال شیخ صدوق، ص254۔

38. میزان الحکمت، ج8، ص3343۔


ظاہر سی بات ہے کہ صاحب ایمان ہمیشہ حق کا طرف دار ہوتا ہے اور حق کا مزاج رکھنے والا کبھی بھی سب سے خاص کر ان لوگوں سے جو باطل پرست ہیں سازگار و ھمراہ نہیں ھوتا، دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے، صاحب ایمان ابن الوقت نہیں ھوتا۔

نفاق اجتماعی کا آشکار ترین نمونہ اجتماعی زندگی و معاشرے میں دو روئی اور دو زبان کا ہونا ہے، یعنی انسان کا کسی کے حضور میں تعریف و تمجید کرنا لیکن پس پشت مذمت و برائی کرنا۔

صاف و شفاف گفتگو، حق و صداقت کی پرستاری، صاحب ایمان کے صفات میں سے ہیں، صرف چند ایسے خاص مواقع میں جہاں اہم حکمت اس بات کا اقتضا کرتی ہے جیسے جنگ اور اس کے اسرار کی حفاظت، افراد اور جماعت میں صلح و مصالحت کی خاطر صدق گوئی سے اعراض کیا جاسکتا ہے(39)

پیامبر اکرم حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس نوعیت کے نفاق کے انجام و نتیجہ کے سلسلہ میں فرماتے ہیں:

((من کان له وجهان فی الدنیا کان له لسانان من نار یوم القیامة)) (40)

جو شخص بھی دنیا میں دو چہرے والا ہوگا، آخرت میں اسے دو آتشی زبان دی جائے گی۔

امام حضرت محمد باقر علیہ السلام بھی اخلاقی نفاق کے خدو خال کی مذمت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

((بئس العبد یکون ذاوجهین و ذالسانین یطری اخاه شاهداً و یأکله غائباً ان اعطی حسده وان ابتلی خذله)) (41)

بہت بدبخت و بد سرشت ہے، وہ بندہ جو دو چہرے اور دو زبان والا ہے، اپنے دینی بھائی کے سامنے تو تعریف و تمجید کرتا ہے اور اس کی غیبت میں اس کو ناسزا کھتا ہے، اگر اللہ اس کے دینی بھائی کو کچھ عطا کرتا ہے تو حسد کرتا ہے، اگر کسی مشکل میں گرفتار ہوتا ہے تو اس کی اھانت کرتا ہے۔

--------------

39. غیبت و کذب سے مستثنٰی موارد کے سلسلہ میں اخلاقی و فقھی کتب جیسے جامع السعادات اور مکاسب کی طرف مراجعہ کریں۔

40. المحجۃ البیضاء، ج5، ص280۔

41. المحجۃ البیضاء، ج5، ص282۔


اسلام میں وجود نفاق کی تاریخ

مشھور نظریہ

مشھور و معروف نظریہ، نفاق کے وجود و آغاز کے سلسلہ میں یہ ہے کہ نفاق کی بنیاد مدینہ میں پڑی، اس فکر و نظر کی دلیل یہ ہے کہ مکہ میں مسلمین بھت کم تعداد اور فشار میں تھے، لھذا کم تعداد افراد سے مقابلے کے لئے، کفار کی طرف سے منافقانہ و مخفیانہ حرکت کی کوئی ضرورت نہیں تھی، مکہ کے کفار ومشرکین علی الاعلان آزار و اذیت، شکنجہ دیا کرتے تھے۔

عظیم الشان پیامبر اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدینہ ھجرت کرنے کی بنا پر اسلام نے ایک نئی کروٹ لی، روز بروز اسلام کے اقتدار و طاقت، شان و شوکت میں اضافہ ہونے لگا، لھذا اس موقع پر بعض اسلام کے دشمنوں نے اسلام کی نقاب اوڑھ کر دینداری کا اظھار کرتے ہوئے اسلام کو تباہ و نابود کرنے کی کوشش شروع کردی، اسلام کا اظھار اس لئے کرتے تھے تاکہ اسلام کی حکومت و طاقت سے محفوظ رہ سکیں، لیکن باطن میں اسلام کے جگر خوار و جانی دشمن تھے، یہ نفاق کا نقطہ آغاز تھا، خاص کر ان افراد کے لئے جن کی علمداری اور سرداری کو شدید جھٹکا لگا تھا، وہ کچھ زیادہ ہی پیامبر اکرم اور ان کے مشن سے عناد و کینہ رکھنے لگے تھے۔

عبد اللہ ابن ابی انھی منافقین میں سے تھا، رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مدینہ ھجرت کرنے سے قبل اوس و خزرج مدینہ کے دو طاقتور قبیلہ کی سرداری اسے نصیب ھونی تھی، لیکن بد نصیبی سے واقعۂ ھجرت پیش آنے کی بنا بر سرداری کے یہ تمام پروگرام خاکستر ھوکر رہ گئے، بعد میں گر چہ اس نے ظاہراً اسلام قبول کرلیا، لیکن رفتار و گفتار کے ذریعہ، اپنے بغض و کینہ، عناد و عداوت کا ہمیشہ اظھار کرتا رھا، یہ مدینہ میں جماعت نفاق کا رئیس و افسر تھا، قرآن مجید کی بعض آیات میں اس کی منافقانہ اعمال و حرکات کی نشاندھی کی گئی ہے۔


جب پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں وارد ہوئے۔ اس نے پیامبر عظیم الشان (ص) سے کھا: ہم فریب میں پڑنے والے نہیں، ان کے پاس جاؤ جو تم کو یھاں لائے ہیں اور تم کو فریب دیا ہے، عبد اللہ ابن ابی کی اس ناسزا گفتگو کے فوراً بعد ہی سعد بن عبادہ رسول اسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کی آپ غمگین و رنجیدہ خاطر نہ ھوں، اوس و خزرج کا ارادہ تھا کہ اس کو اپنے اپنے قبیلہ کا سردار بنائیں گے، لیکن آپ کے آنے سے حالات یکسر تبدیل ھوچکے ہیں، اس کی فرمان روائی سلب ھوچکی ہے، آپ ھمارے قبیلے خزرج میں تشریف لائیں، ہم صاحب قدرت اور باوقار افراد ہیں(42)

اس میں کوئی شک نہیں کہ نفاق کا مبدا ایک اجتماعی و معاشرتی پروگرام کے تحت مدینہ ہے، نفاقِ اجتماعی کے پروگرام کی شکل گیری کا اصل عامل حق کی حاکمیت و حکومت ہے، جو پہلی مرتبہ مدینہ میں تشکیل ھوئی، پیامبر عظیم الشان کا مدینہ میں وارد ہونا و اسلام کا روز بروز قوی و مستحکم ہونا باعث ہوا کہ منافقین کی مرموز حرکات وجود میں آئیں، البتہ منافقین کی یہ خیانت کارانہ حرکتیں پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جنگوں میں زیادہ قابل لمس ہیں۔

قرآن مجید میں بطور صریح جنگ بدر، احد، بنی نظیر، خندق و تبوک نیز مسجد ضرار کے سلسلہ میں منافقین کی سازشیں بیان کی گئی ہیں۔

مدینہ میں جماعت نفاق کے منظّم و مرتب پروگرام کے نمونے، غزوہ تبوک کے سلسلہ میں پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے مشکلات کھڑی کرنا، مسجد ضرار کی تعمیر کے لئے، چال بازی و شعبدہ بازی کا استعمال کرنا۔

-----------

42. علام الوری، ص44، بحار الانوار، ج19 ص108۔


پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غزوۂ تبوک کے لئے اعلان کرنا تھا کہ منافقین کی حرکات میں شدت آگئی، غزوہ تبوک کے سلسلہ میں منافقانہ حرکتیں اپنے عروج پر پھنچ چکی تھیں، مدینہ سے تبوک کا فاصلہ تقریباً ایک ھزار کیلو میٹر تھا، موسم بھی گرم تھا، محصول زراعت و باغات کے ایام تھے، اس جنگ میں مسلمانوں کی مدّ مقابل روم کی سوپر پاور حکومت تھی، یہ تمام حالات منافقین کے فیور (موافق) میں تھے، تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کو جنگ پر جانے سے روک سکیں، اور انھوں نے ایسا ہی کیا۔

منافقین کے ایک اجتماع میں جو سویلم یھودی کے یھاں برپا ہوا تھا، جس میں منافق جماعت کے بلند پایہ ارکان موجود تھے، طے یہ ہوا کہ مسلمانوں کو روم کی طاقت و قوت کا خوف دلایا جائے، ان کے دلوں میں روم کی ناقابل تسخیر فوجی طاقت کا رعب بٹھایا جائے۔

اس جلسہ اور اھداف کی خبر پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پھنچی، آپ نے اسلام کے خلاف اس سازشی مرکز کو ختم نیز دوسروں کی عبرت کے لئے حکم دیا، سویلم کے گھر کو جلادیا جائے آپ نے اس طریقہ سے ایک سازشی جلسہ نیز ان کے ارکان کو متفرق کر کے رکھ دیا(43)

مسجد ضرار کی تعمیر کے سلسلہ میں نقل کیا جاتا ہے کہ منافقین میں سے کچھ افراد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ایک مسجد قبیلۂ بنی سالم کے درمیان مسجد قبا کے نزدیک بنانے کی اجازت چاھی، تاکہ بوڑھے، بیمار اور وہ جو مسجد قبا جانے سے معذور ہیں خصوصاً بارانی راتوں میں، وہ اس مسجد میں اسلامی فریضہ اور عبادت الہی کو انجام دے سکیں، ان لوگوں نے تعمیر مسجد کی اجازت حاصل کرنے کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے افتتاح مسجد کی درخواست بھی کی، آپ نے فرمایا: میں ابھی عازم تبوک ہوں واپسی پر انشاء اللہ اس کام کو انجام دوں گا، تبوک سے واپسی پر ابھی آپ مدینہ میں داخل بھی نہ ہوئے تھے

------------

43. سیرت ابن حشام، ج2، ص517، منشور جاوید قرآن، ج4، ص112۔


کہ منافقین آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور مسجد میں نماز پڑھنے کی خواہش ظاہر کی، اس موقع پر وحی کا نزول ہوا(44) جس نے ان کے افعال و اسرار کی پول کھول کر رکھدی، پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد میں نماز پڑھنے کے بجائے تخریب کا حکم دیا تخریب شدہ مکان کو شھر کے کوڑے اور گندگی ڈالنے کی جگہ قرار دیا۔

اگر اس جماعت کے فعل کی ظاہری صورت کا مشاہدہ کریں تو پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ایسے حکم سے حیرت ہوتی ہے لیکن جب اس قضیہ کے باطنی مسئلہ کی تحقیق و جستجو کریں تو حقیقت سامنے آتی ہے، یہ مسجد جو خراب ہونے کے بعد مسجد ضرار کے نام سے مشھور ھوئی، ابو عامر کے حکم سے بنائی گئی تھی، یہ مسجد نہیں بلکہ جاسوسی اور سازشی مرکز تھا، اسلام کے خلاف جاسوسی و تبلیغ اور مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ایجاد کرنا اس کے اھداف و مقاصد تھے۔

ابو عامر مسیحی عالم تھا زمانۂ جاھلیت میں عبّاد و زھّاد میں شمار ہوتا تھا اور قبیلۂ خزرج میں وسیع عمل و دخل رکھتا تھا، جب مرسل اعظم نے مدینہ ھجرت فرمائی مسلمان آپ کے گرد جمع ھوگئے خصوصاً جنگ بدر میں مسلمانوں کی مشرکوں پر کامیابی کے بعد اسلام ترقی کرتا چلا گیا، ابو عامر جو پہلے ظھور پیامبر (ص) کا مژدہ سناتا تھا جب اس نے اپنے اطراف و جوانب کو خالی ھوتے دیکھا تو اسلام کے خلاف اقدام کرنا شروع کردیا، مدینہ سے بھاگ کر کفار مکہ اور دیگر قبائل عرب سے، پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف مدد حاصل کرنی چاھی، جنگ احد میں مسلمانوں کے خلاف پروگرام مرتب کرنے میں اس کا بڑا ھاتھ تھا، دونوں لشکر کی صفوں کے درمیان میں خندق کے بنائے جانے کا حکم اسی کی طرف سے تھا، جس میں پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گر پڑے

------------------

44. سورہ توبہ، 107 کے بعد کی آیتیں۔


آپ کی پیشانی مجروح ھوگئی دندان مبارک ٹوٹ گئے، جنگ احد کے تمام ہونے کے بعد، باوجود اس کے کہ مسلمان اس جنگ میں کافی مشکلات و زحمات سے دوچار تھے، اسلام مزید ارتقاء کی منزلیں طے کرنے لگا صدائے اسلام پہلے سے کہیں زیادہ بلند ہونے لگی ابو عامر، یہ کامیابی و کامرانی دیکھ کر مدینہ سے بادشاہ روم ھرقل کے پاس گیا تاکہ اس کی مدد سے اسلام کی پیش رفت کو روک سکے، لیکن موت نے فرصت نہ دی کہ اپنی آرزو و خواہش کو عملی جامہ پھنا سکے، لیکن بعض کتب کے حوالہ سے کھا جاتا ہے، کہ وہ بادشاہ روم سے ملا اور اس نے حوصلہ افزا وعدے بھی کئے۔

اس نکتہ کو بیان کر دینا بھی ضروری ہے کہ اس کی تخریبی حرکتیں اور عناد پسند طبیعت کی بنا پر پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فاسد کا لقب دے رکھا تھا، بھر حال اس کے قبل کہ وہ واصل جھنم ہوا، ایک خط مدینہ کے منافقین کے نام تحریر کیا جس میں لشکر روم کی آمد اور ایک ایسے مکان و مقام کی تعمیر کا حکم تھا جو اسلام کے خلاف سازشی مرکز ھو، لیکن چونکہ ایسا مرکز منافقین کے بنانا چنداں آسان نہیں تھا لھذا انھوں نے مصلحتاً معذوروں، بیماروں، بوڑھوں کی آڑ میں مسجد کی بنیاد ڈال کر ابو عامر کے حکم کی تعمیل کی، مرکز نفاق مسجد کی شکل میں بنایا گیا، مسجد کا امام جماعت ایک نیک سیرت جوان بنام مجمع بن حارثہ کو معین کیا گیا، تاکہ مسجد قبا کے نماز گزاروں کی توجہ اس مسجد کی طرف مبذول کی جاسکے، اور وہ اس میں کسی حد تک کامیاب بھی رھے، لیکن اس مسجد کے سلسلہ میں آیات قرآن کے نزول کے بعد پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مرکز نفاق کو خراب کرنے کا حکم دے دیا(45) ،تاریخ کا یہ نمونہ جسے قرآن بھی ذکر کر رہا ہے منافقین کی مدینہ میں منظّم کار کردگی کا واضح ثبوت ہے۔

----------------

45. مجمع البیان، ج3، ص72۔


مشھور نظریہ کی تحقیق

مشھور نظریہ کے مطابق نفاق کا آغاز مدینہ ہے، اور نفاق کا وجود، حکومت و قدرت سے خوف و ھراس کی بنا پر ہوتا ہے، اس لئے کہ مکہ کے مسلمانوں میں قدرت و طاقت والے تھے ہی نہیں، لھذا وھاں نفاق کا وجود میں آنا بے معنی تھا، صرف مدینہ میں مسلمان صاحب قدرت و حکومت تھے لھذا نفاق کا مبداء مدینہ ہے۔

لیکن نفاق کی بنیاد صرف حکومت سے خوف و وحشت کی بنا پر جو اس کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے، بلکہ اسلام میں منصب و قدرت کے حصول کی طمع بھی نفاق کے وجود میں آنے کا عامل ھوسکتی ہے، لھذا، نفاق کی دو قسم ھونی چاھئے:

1۔ نفاقِ خوف: ان افراد کا نفاق جو اسلام کی قدرت و اقتدار سے خوف زدہ ھوکر اظھار اسلام کرتے ہوئے اسلام کے خلاف کام کیا کرتے تھے۔

2۔ نفاقِ طمع: ان افراد کا نفاق جو اس لالچ میں اسلام کا دم بھرتے تھے کہ اگر ایک روز اسلام صاحب قدرت و سطوت ہوا، تو اس کی زعامت و مناصب پر قابض ہوجائیں یا اس کے حصّہ دار بن جائیں۔

نفاق بر بناء خوف کا سر چشمہ مدینہ ہے، اس لئے کہ اہل اسلام نے قدرت و اقتدار کی باگ ڈور مدینہ میں حاصل کیا۔

لیکن نفق بر بناء طمع و حرص کا مبداء و عنصر مکہ ہونا چاھئے، عقل و فکر کی بنا پر بعید نہیں ہے کہ بعض افراد روز بروز اسلام کی ترقی، اقتصادی اور سماجی بائیکاٹ کے باجود اسلام کی کامیابی، مکرر رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے اسلام کے عالمی ہونے والی خوش خبری وغیرہ کو دیکھتے ہوئے دور اندیش ھوں، کہ آج کا ضعیف اسلام کل قوت و طاقت میں تبدیل ھوجائے گا، اسی دور اندیشی و طمع کی بنا پر اسلام لائے ھوں، تاکہ آئندہ اپنے اسلام کے ذریعہ اسلام کے منصب و قدرت کے حق دار بن جائیں۔


اس مطلب کا ذکر ضروری ہے کہ منافق طمع کے افعال و کارکردگی منافق خوف کی فعالیت و کارکردگی سے کافی جدا ہے، منافق خوف کی خصوصیت خراب کاری، کار شکنی، بیخ کنی، اذیت و تکلیف سے دوچار کرنا ہے، جب کہ منافق طمع ایسا نہیں کرتا، بلکہ وہ ایک تحریک کی کامیابی کے سلسلہ میں کوشش کرتے ہیں، تاکہ وہ تحریک ایک شکل و صورت میں تبدیل ھوجائے، اور یہ قدرت کی نبض اور دھڑکن کو اپنے ھاتھوں میں لے سکیں، منافق طمع صرف وھاں تخریبی حرکات کو انجام دیتے ہیں جہاں ان کے بنیادی منافع خطرے میں پڑجائیں۔

اگر ہم نفاق طمع کے وجود کو مکہ قبول کریں، تو اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ نفاق کا وجود اور اس کے آغاز کو مدینہ تسلیم کیا جائے۔

جیسا کہ مفسر قرآن علامہ طباطبائی (رح) اس نظریہ کو پیش کرتے ھیں(46) آپ ایک سوال کے ذریعہ کو مذکورہ مضمون کی تائید کرتے ہوئے فرماتے ہیں، باوجودیکہ اس قدر منافقین کے سلسلہ میں آیات، قرآن میں موجود ہیں، کیوں پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد منافقین کا چرچا نہیں ھوتا، منافقین کے بارے میں کوئی گفتگو اور مذاکرات نہیں ھوتے، کیا وہ صفحہ ھستی سے محو ھوگئے تھے؟ کیا پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کی بنا پر منتشر اور پراکندہ ھوگئے تھے؟ یا اپنے نفاق سے توبہ کرلی تھی؟ یا اس کی وجہ یہ تھی کہ پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد صاحبان نفاق طمع، صاحبان نفاق خوف کا تال میل ھوگیا تھا، اپنی خواہشات و حکمت عملی کو جامۂ عمل پھنا چکے تھے، اسلام کی حکومت و ثروت پر قبضہ کر چکے تھے اور بہ بانگ دھل یہ شعر پڑھ رہے تھے:

----------

46. تفسیر المیزان، ج19 ص287 تا 290، سورہ منافقون کی آیات 1/ 8 کے ذیل میں۔


((لعبت هاشم بالملک فلا خبر جاء ولا وحی نزل))

خلاصۂ بحث یہ ہے کہ نفاق اجتماعی ایک منظّم تحریک کے عنوان سے مدینہ میں ظھور پذیر ہوا، لیکن نفاق فردی جو بر بناء طمع و حرص عالم وجود میں آیا ہو اس کو انکار کرنے کی کوئی دلیل نہیں، اس لئے کہ اس نوعیت کا نفاق مکہ میں بھی ظاہر ھوسکتا تھا، وہ افراد جو پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دستور و حکم سے سر پیچی کرتے تھے، ان میں بعض وہ تھے جو مکہ میں مسلمان ہوئے تھے، یہ وہی منافق تھے جو طمع و حرص کی بنا پر اسلام کا اظھار کرتے تھے۔

مرض نفاق اور اس کے آثار

نفاق، قلب اور دل کی بیماری ہے، قرآن کی آیات اس باریکی کی طرف توجہ دلاتی ہیں، پاکیزہ قلب خدا کا عرش اور اللہ کا حرم ھے(47) اس میں اللہ کے علاوہ کسی اور کا گذر نہیں ہے، لیکن مریض و عیب دار دل، غیر خدا کی جگہ ہے ہوا و ھوس سے پر دل شیطان کا عرش ہے، قرآن مجید صریح الفاظ میں منافقین کو عیب دار اور مریض دل سمجھتا ھے:

(فی قلوبهم مرض) (48)

-----------------

47. "قلب المؤمن عرش الرحمن" بحار الانوار، ج58، ص39۔ "لقلب حرم اللہ فلا تسکن حرم اللہ غیر اللہ" بحار الانوار، ج70، ص25۔

48. سورہ بقرہ/ 10، مائدہ/52 ، توبہ/ 125، محمد/ 20۔ 29: بعض آیات میں (فی قلوبھم مرض) کے ھمراہ منافقون کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جیسے سورہ انفال کی آیت نمبر 49 و سورہ احزاب کی آیت نمبر 12 (اذا یقول المنافقون والذین فی قلوبھم مرض) یھاں یہ سوال سامنے آتا ہے کہ بیمار دل والے منافق ہی ہیں یا ان کے علاوہ دوسرے افراد، علامہ طباطبائی (رح) تفسیر المیزان، ج15، ص286، ج9، ص99، میں ان دونوں کو الگ الگ شمار کرتے ہیں، آپ کا کھنا ہے کہ بیمار دل والوں سے مراد ضعیف الاعتقاد مسلمان ہیں، اور منافقین وہ ہیں جو ایمان و اسلام کا اظھار کرتے ہیں لیکن باطن میں کافر ہیں، بعض مفسرین کی نظر میں، بیمار دل صفت والے افراد منافق ہی ہیں، نفاق کے درجات ہیں، نفاق کا آغاز قلب و دل کی کجی اور روح کی بیماری سے شروع ہوتا ہے، اور آھستہ آھستہ پایۂ تکمیل کو پھنچتا ہے، لیکن میرے خیال میں منافقون، و (والذین فی قلوبھم مرض) دو مترادف الفاظ کے مثل ہیں جیسے فقیر و مسکین، اگر یہ دو لفظ ساتھ میں استعمال ہو تو ہر لفظ ایک مخصوص معنی کا حامل ہوگا، لیکن اگر جدا استعمال ھوتو دونوں کے معنی ایک ہی ہوں گے، اس بنا پر وہ آیات جس میں لفظ منافقون و (فی قلوبھم مرض) ایک ساتھ استعمال ہوئے ہیں، دونوں کے مستقل معنی ہیں، منافقون یعنی اسلام کا اظھار و کفر کا پوشیدہ رکھنا، و (فی قلوبھم مرض) یعنی ضعیف الایمان یا آغاز نفاق، لیکن جب (فی قلوبھم مرض) کا استعمال جدا ہو تو اس سے مراد منافقین ہیں، کیوں کہ منافقین وہی ہیں جو (فی قلوبھم مرض) کے مصداق ہیں،


نفاق جیسی پُر خطر بیماری میں مبتلا افراد، بزرگترین نقصان و ضرر سے دوچار ھوتے ہیں، اس لئے کہ آخرت میں نجات صرف قلب سلیم (پاکیزہ) کے ذریعہ ہی میسر ہے، ہوا و ھوس سے پر، غیر خدا کا محبّ و غیر خدا سے وابستہ دل نجات کا سبب نھیں۔

(یوم لا ینفع مال ولا بنون الا من اتی الله بقلب سلیم) (49)

اس دن مال اور اولاد کام نہیں آئیں گے۔ مگر وہ جو قلب سلیم کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں حاضر ھو۔

قرآن مجید اس مرض و بیماری کی شناخت و واقفیت کے سلسلہ میں کچھ مفید نکات کا ذکر کر رہا ہے، تمام مسلمانوں کو ان نکات کی طرف توجہ دینی چھاھئے تاکہ اپنے قلب و دل کی صحت و سلامتی و نیز مرض کو تشخیص دے سکیں، نیز ان نکات کے ذریعہ معاشرے کے غیر سلیم و نادرست قلوب کی شناسائی کرتے ہوئے ان کے مراکز فساد و فتنہ سے مبارزہ کرسکیں۔

ایک سرسری جائزہ لیتے ہوئے آیاتِ قرآنی جو منافقین کی شناخت میں نازل ھوئی ہیں ان کو چند نوع میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔

وہ آیات جو اسلامی معاشرے میں منافقین کی سیاسی و اجتماعی روش و طرز کو بیان کرتی ہیں، وہ آیات جو منافقین کی فردی خصوصیت نیز ان کی نفسیاتی شخصیت و عادت کو رونما کرتی ہیں، وہ آیات جو منافقین کی ثقافتی روش و طرز عمل کو اجاگر کرتی ہیں، وہ آیات جو منافقین سے مبارزہ و رفتار کے طور و طریقہ کو پیش کرتی ہیں۔

پھلی نوع کی آیات میں منافقین کی سیاسی و معاشرتی اسلوب، اور دوسری نوع کی آیات میں منافقین کی انفرادی و نفسیاتی بیماری کی علامات کا ذکر ہے اور تیسری نوع کی آیات میں منافقین کی کفر و نفاق کے مرض کو وسعت دینے نیز اسلام کو تباہ و برباد کرنے کے طریقے کو بیان کیا گیا ہے، چوتھی نوع کی آیات میں منافقین کی کار کردگی کو بے اثر بنانے کے طریقۂ کار کو پیش کیا گیا ہے، اگر چہ قرآن میں جو آیات منافقین کے سلسلہ میں آئی ہیں وہ ان کی اعتقادی نفاق کو بیان کرتی ہیں، مگر جو آیات منافقین کی خصوصیت و صفات کو بیان کرتی ہیں وہ ان کی منافقانہ رفتار و گفتار کو پیش کر رھی ہیں خواہ اعتقادی ہوں یا نہ ہوں منافقین کے جو خصائص بیان کئے گئے ہیں، منافقانہ رفتار و گفتار کی شناخت کے لئے معیار و پیمانہ قرار دئے گئے ہیں، اس کے مطابق جو فرد یا جماعت بھی اس نوع و طرز کی رفتار و روش کی حامل ھوگی اس کا شمار منافقین میں ہوگا۔

------------

49. سورہ شعراء/ 88 و 89۔


فصل دوّم؛ منافقین کی سیاسی خصائص

1۔ اغیار پرستی

2۔ ولایت ستیزی

3۔ منافقین کی دوسری سیاسی خصوصیتیں

اغیار پرستی

اغیار سے سیاسی روابط اور اس کے ضوابط و اصول

قرآن مجید کے شدید منع کرنے کے باوجود منافقین کی سیاسی رفتار کی اہم خصوصیت، اغیار سے دوستی و رابطہ کا ہونا ہے، اس بحث میں وارد ھونے، اور ان آیات قرآنی کی تحقیق کرنے سے قبل، جو منافقین کی اغیار پرستی و دوستی کو بر ملا کرتی ہیں ضروری ہے کہ ہم بطور اجمال اغیار سے سیاسی رابطہ و رفتار کے اصول جو اسلام نے پیش کی ہیں، بیان کردیں، تاکہ اغیار سے رابطہ اور رفتار کے قوانین و نظریہ کی روشنی میں منافقین کے اعمال و رفتار کا تجزیہ کیا جاسکے۔

اصل اوّل: شناخت اغیار

جیسا کہ اس سے قبل عرض کیا جاچکا ہے نظام و حکومت اسلامی کے کارکنان کا اہم ترین وظیفہ دشمن کی شناخت و پھچان ہے، قرآن کی مکرر و دائمی نصیحت یہ ہے کہ اپنے دشمن کو پھچانو، ان کے مقاصد و اھداف کو سمجھو، تاکہ ان سے صحیح مقابلہ کرتے ہوئے ان کی کامیابی کے لئے سد راہ بن جاؤ۔


قرآن کریم کی بھت زیادہ آیتیں اغیار کی صفات و خواہشات کو بیان کر رھی ہیں، تاکہ صاحبان ایمان دشمن و اغیار کی شناخت کے لئے ایک معیار پیمانہ قائم کرسکیں، قرآن کریم اغیار کے سلسلہ میں جو صفتیں اور علامتیں بیان کر رہا ہے، ایک خاص عصر و زمان سے مرتبط و محدود نہیں ہے، بلکہ ہر زمان و مکان میں ان کی سیرت و کردار کو پرکھنے کی کسوٹی ہے، قرآن کی روشنی میں بطور اختصار اغیار کی سات خصوصیتیں ذکر کی جارھی ہیں۔

1۔ رجعت و عقب نشینی کی آرزو رکھنا

اغیار کی خواہش مومنین کو رجعت یعنی اسلام سے قبل کی ثقافت و کلچر کی طرف پلٹانے کی ہوتی ہے، دشمنان اسلام کی دلی تمنا ہوتی ہے کہ، مومنین شرک و کفر کے زمانہ کی طرف پلٹ جائیں، مومنین سے اسلامی تھذیب و اقدار کو چھین لیں:

(ودّوا لو تکفرون کما کفروا فتکونون سواء) (50)

منافقین چاہتے ہیں کہ تم بھی ان کی طرح کافر ھوجاؤ اور سب برابر ہوجائیں۔

(ولا یزالون یقاتلونکم حتی یردّوکم عن دینکم ان استطاعوا) (51)

یہ کفار برابر تم لوگوں سے جنگ کرتے رھیں گے، یہاں تک کہ ان کے بس میں ہو تو تم کو تمھارے دین سے پلٹادیں۔

قرآن کی نظر میں کفار اور بعض اہل کتاب مومنین سے عداوت و دشمنی رکھتے ہوئے ان کو کفر و جاھلیت کی طرف پلٹانا چاہتے ہیں:

----------------

50. سورہ نساء/ 89۔

51. سورہ بقرہ/ 217۔


(یا ایها الذین آمنوا ان تطیعوا الذین کفروا یردّوکم علی اعقابکم فتنقلبوا خاسرین) (52)

اے ایمان والو! اگر تم کفر اختیار کرنے والوں کی اطاعت کرو گے تو یہ تمھیں گزشتہ زمانہ کی طرف پلٹا لے جائیں گے، اور سر انجام تم خود ہی خسارہ و نقصان اٹھانے والوں میں ہوگے۔

(ودّ کثیر من اهل الکتاب لو یردّونکم من بعد ایمانکم کفار حسداً من عند انفسهم من بعد ما تبین لهم الحق) (53)

بھت سے اہل کتاب حسد کی بنا پر یہ چاہتے ہیں کہ تمھیں ایمان کے بعد کافر بنادیں حالانکہ حق ان پر بالکل واضح و آشکار ھوچکا ہے۔

2۔ اسلامی اصول و اقدار سے انحراف کی تمنا کرنا

دشمن کی ایک اہم خواہش یہ ہوتی ہے کہ اسلامی حکومت اور مومنین، اسلامی اصول و اقدار سے رو گرداں و منحرف ھوجائیں، مومنین سے اسلامی اصول اور اس کے اقدار پر سودا کرنے کے خواہش مند ھوتے ہیں:

(ودّوا لو تدهن فیه هنون) (54)

یہ چاہتے ہیں کہ آپ تھوڑا نرم (حق کی راہ سے منحرف) ہوجائیں تاکہ وہ بھی نرم ہوجائیں۔

اسلامی حکومت میں الہی سیاست گزار کو صرف اپنی شرعی ذمہ داری و فرائض کا خیال رکھنا ہوتا ہے، ان کے پروگرام میں سر فھرست الہی مقاصد اور اصولوں کی حفاظت مقصود ہوتی ہے، ان کے طریقۂ کار میں اصولی و بنیادی مسائل پر سودا گری اور ساز باز کا کوئی مفھوم نہیں ہوتا ہے۔

------------

52. سورہ آل عمران/ 149۔

53. سورہ بقرہ/ 109۔

54. سورہ قلم/ 9۔


لیکن دنیاوی اور مادہ پرست سیاست گزار کا ھدف و مقصد صرف حکومت و استعماریت ہوتا ہے ان کی سیاست کی بساط، اصول کی سودا گری و ساز و باز پر ہوتی ہے وہی سیاست کہ جس کا معاویہ شیدائی تھا لیکن مولائے کائنات علی ابن ابی طالب علیہ السلام شدت سے مخالف تھے، آپ اس طریقۂ کار کو شیطنت و مکر و فریب سمجھتے تھے۔

حضرت علی علیہ السلام ایسی پست سیاست و طرز عمل سے دور تھے، وہ لوگ جو معاویہ کی حرکات کو زیرکی و دانائی تصور کرتے تھے، امام علی علیہ السلام ان کے جواب میں فرماتے ہیں:

((و الله ما معاویة با دهٰی منی و لکنه یغدر و یفجر ولو لا کراهیة الغدر لکنت منّی ادهی الناس)) (55)

خدا کی قسم! معاویہ مجھ سے زیادہ ھوشیار و صاحب ھنر نہیں ہے، لیکن وہ مکر و فریب اور فسق و فجور کا ارتکاب کرتا ہے، اگر مجھے مکر و فریب نا پسند نہ ہوتا تو مجھ سے زیادہ ھوشیار کوئی نہیں تھا۔

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام اپنی مختصر مدت حکومت و خلافت میں بعض قریبی اصحاب کی نصیحت و مشورہ کے باوجود ھرگز اسلامی اصول سے انحراف و سودا گری کو قطعاً قبول نہیں کرتے تھے، بعض صاحبان تفسیر ابن عباس سے نقل کرتے ہیں، یھودی مذہب کے بزرگان ایک نزاع کے سلسلہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسلامی اصول سے منحرف کرنے کی غرض سے آپ کی خدمت میں آئے، اور اپنی آرزؤں کو اس انداز سے پیش کیا، ہم یھودی قوم و مذہب کے اشراف و عالم ہیں اگر ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے، تو تمام یھودی ہم لوگ کی پیروی کرتے ہوئے آپ پر ایمان لے آئیں گے، لیکن ھمارے ایمان لانے کی شرط یہ ہے کہ آپ اس نزاع میں ھمارے فائدے و حق میں فیصلہ دیں،

-----------------

55. نھج البلاغہ، خطبہ200۔


لیکن مرسل اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی شرط اور ایمان لانے کی لالچ کو ٹھکرادیا، اسلام کے اصول و ارکان یعنی عدالت سے ھرگز منحرف نہیں ہوئے، ذیل کی آیت اسی واقعہ کی بنا پر نازل ھوئی ھے:

( و ان احکم بینهم بما انزل الله ولا تتبع اهوائهم و احذرهم ان یفتنوک عن بعض ما انزل الله الیک) (56)

اور پیامبر آپ کے درمیان تنزیل خدا کے مطابق فیصلہ کریں اور ان کی خواہشات کا اتباع نہ کریں، اور اس بات سے بچتے رھیں کہ یہ بعض احکام الہی سے جو تم پر نازل کیا جاچکا ہے منحرف کردیں۔

سورہ اسراء میں پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اصول سے منحرف کرنے کے لئے دشمنون کے شدید وسوسہ کا ذکر کیا گیا ہے خدا کا ارشاد ہو رہا ہے، اگر آپ کو عصمت اور وحی کی مساعدت نہ ھوتی، اگر آپ عام بشر کے مثل ھوتے تو ان کے دلدادہ ھوجاتے۔

(و ان کادوا لیفتنوک عن الذی اوحینا الیک لتفتری علینا غیره و اذاً لاتّخذوک خلیلا ولولا ان ثبتناک لقد کدت ترکن الیهم شیئا قلیلا) (57)

اور یہ ظالم اس بات کے کوشاں تھے کہ آپ کو میری وحی سے ھٹا کر دوسری باتوں کی افترا پر آمادہ کردیں، اور اسی طرح یہ آپ کو اپنا دوست بنا لیتے اور اگر ھماری توفیق خاص نے آپ کو ثابت قدم نہ رکھا ہوتا تو آپ (بشری طور سے) کچھ نہ کچھ ان کی طرف ضرور مائل ھوجاتے۔

--------------

56. سورہ مائدہ/ 49۔

57. سورہ اسراء/ 73/ 74۔


3۔ خیر خواہ نہ ہونا

قرآن کریم نے اغیار کی شناخت کے سلسلہ میں دوسری جو صفت بیان کی ہے وہ اغیار کا مسلمانوں کے سلسلہ میں خیر خواہ نہ ہونا ہے، وہ اپنی بد خصلت اور پست فطرت خمیر کی بنا پر ہمیشہ اسلام کے افکار و نظام کے خلاف سازش کرتے رہتے ہیں وہ مومنین کے سلسلہ میں صرف عدم خیر خواھی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ صاحبان ایمان کی آسائش و آرام، امن و سکون، فتح و کامرانی کو ایک لمحے کے لئے تحمل بھی نہیں کرسکتے۔

(ما یودّ الذین کرو من اهل الکتاب ولا المشرکین ان ینزل علیکم من خیر من ربکم) ) 58 (

کافر اہل کتاب (یھود و نصاری) اور عام مشرکین یہ نہیں چاہتے کہ تمھارے اوپر پروردگار کی طرف سے کوئی خیر و برکت نازل ھو۔

وہ مومنین کے سلسلہ میں صرف خیر و برکت کے عدم نزول کی خواہش ہی نہیں رکھتے بلکہ مومنین کی سختی و پریشانی کو دیکھ کر خوشحال اور ایمان والوں کی خوشی کو دیکھ کر غمگین ھوتے ہیں۔

(ان تمسسکم حسنة تسؤهم وان تصبکم سیئة یفرحوا بها) ) 59 (

اگر تمھیں ذرا بھی خیر و نیکی ملے تو انھیں برا لگے گا اور اگر تمھیں تکلیف پھونچےتو وہ خوش ہوں گے۔

------------------

58. سورہ بقرہ/ 105۔

59. سورہ آل عمران/ 120۔


4۔بغض و کینہ کا رکھنا

اغیار کی ایک اور اہم خصوصیت بغض اور کینہ پرستی ہے ان کا تمام وجود اسلام کے خلاف عداوت و نفرت سے بھرا ہوا ہے، یہ صفت رذائل فقط دل کی چھار دیواری تک محدود نہیں بلکہ عملی طور سے ان کے افعال و کردار میں حسد و کینہ توزی کے آثار ھویدا ہیں، اپنی اس کیفیت کو پوشیدہ و مخفی رکھے بغیر اہل اسلام کے خلاف وسیع پیمانے پر معرکہ و جنگ کی جد و جھد میں مصروف رہتے ہیں۔

(لا یألونکم خبالا ودّوا ما عنتّم قد بدت البغضاء من افواهم وما تخفی صدورکم اکبر…… اذا لقوکم قالوا آمنا واذا خلوا عضو علیکم الأنامل من الغیظ قل موتوا بغیظکم) ) 60 (

یہ تمھیں نقصان پھونچانے میں کوئی کوتاھی نہیں کریں گے، یہ صرف تمھاری مشقت و زحمت رنج و مصیبت کے خواہش مند ہیں ان کی عداوت و نفرت زبان سے بھی ظاہر ہے اور جو دل میں پوشیدہ کر رکھا ہے وہ تو بھت زیادہ ہے اور جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے اور جب اکیلے ھوتے ہیں تو خشم و غصہ سے انگلیاں کاٹتے ہیں، پیامبر آپ کہہ دیجئے کہ تم اسی غصہ میں مرجاؤ۔

------------------

60. سورہ آل عمران/ 118 و /119۔


5۔ غفلت پذیری میں مبتلا کرنا

دشمن و اغیار کا اپنی کامیابی و موفقیت کے لئے مسلمانوں کو غفلت و بے خبری کے جال میں پھنسائے رکھنا ہے، وہ چاہتے یہ ہیں کہ ایسی فضا و حالات وجود میں لائے جائیں جس کی بنا پر صاحبان ایمان اپنی قوت و طاقت کی صلاحیت و موقف سے غفلت ورزی کا شکار ہوجائیں تاکہ وہ ان پر قابض و کامران ھوسکیں، ان کی دائمی کوشش رھتی ہے کہ مسلمان کی نظر میں ان کی اقتصادی طاقت فوجی قدرت، ثمرۂ وحدت اور دین و دنیا کی شان و شوکت کو بے وقعت پیش کیا جائے، تاکہ زیادہ سے زیادہ غفلت و بے خبری کے دام میں الجھے رھیں جس کے نتیجہ میں اغیار کی فتح و ظفر کی زمین ھموار ھوسکے۔

(ودّا لذین کفروا لو تغفلون عن اسلحتکم و امتعتکم فیمیلون علیکم میلة واحدة) ) 61 (

کفار کی خواہش یھی ہے کہ تم اپنے ساز و سامان اور اسلحہ سے غافل ھوجاؤ تو یہ یکبارگی تم پر حملہ کردیں۔

مذکورہ آیت میں اگر چہ اسلحہ و ساز و سامان کا ذکر ہے لیکن آیت کی دلالت صرف اقتصادی ساز و سامان وجنگی اسلحہ جات پر منحصر نہیں ہے بلکہ تمام وہ وسائل و عوامل جو مسلمانوں کے لئے عزت و شرف قوت و طاقت کا باعث ہو آیت کی غرض وغایت ہے، اس لئے کہ دشمن کا ھدف ان وسائل سے غفلت و لاپرواھی میں مبتلا کرنا ہے تاکہ تسلط کے مواقع فراھم ھوسکیں۔

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام مالک اشتر کو خطاب کرتے ہوئے عہد نامہ میں فرماتے ہیں:

((الحذر کل الحذر من عدوک بعد صلحه فان العدو ربما قارب لیتغفل فخذ با لحزم و اتهم فی ذلک حسن الظن)) ) 62 (

صلح کے بعد دشمن کی طرف سے قطعاً مکمل طور پر ھوشیار رھنا کہ کبھی کبھی وہ تمہیں غفلت میں ڈالنے کے لئے تم سے قربت اختیار کرنا چاھیں گے لھذا اس سلسلہ میں مکمل ھوشیار رھنا، اور کسی حسن ظن سے کام نہ لینا۔

--------------

61. سورہ نساء/ 102۔

62. نھج البلاغہ، نامہ/ 53۔


6۔ مومنین سے سخت و تند برتاؤ کرنا

قرآن کریم کی روشنی میں اغیار کی ایک دوسری صفت، مومنین کی ساتھ سخت طرز عمل و سلوک کا انجام دینا ہے، یہ عہد و پیمان کی پابندی اور دوستی کا اظھار کرتے ہوئے مومنین کو فریب دینا چاہتے ہیں، ان کے عہد و پیمان، قول و قرار پر اعتماد کرنا منطقی عمل نہیں، جب ناتواں اور کمزور ہوجاتے ہیں تو حقوق بشر اور اخلاق انسانی کی بات کرتے ہیں، لیکن جب قوی و مسلط ہوجاتے ہیں، تمام حقوقِ اور انسانی اخلاق کو پامال کرتے ہیں، عہد و پیمان، قول و قرار، حقوق و اصول بشریت، عظمت انسانیت، سب ہتکنڈے ہیں تاکہ اپنے منافع کو حاصل کرسکیں، منظور نظر منافع کے حصول کے بعد ان قوانین و عہد و پیمان کی کوئی وقعت نہیں رھتی ہے۔

(کیف وان یظهروا علیکم لا یرقبوا فیکم الّا ولا ذمّة یرضونکم بأفواههم و تأبی قلوبهم و اکثرهم فاسقون) ) 63 (

ان کے ساتھ کس طرح رعایت کی جائے، جب کہ یہ تم پر غالب آجائیں گے تو نہ کسی ھمسایگی و قرابتداری کی رعایت کریں گے اور نہ ہی کسی عہد و پیمان کا لحاظ کریں گے یہ تو صرف زبانی تم کو خوش کر رہے ہیں، ورنہ ان کا دل قطعی منکر ہے اور ان کی اکثریت فاسق و بد عہد ہے۔

7۔ خیانت کاری اور دشمنی کا مستمر ہونا

اغیار کی ایک اور صفت، تجاوز گری و تخریب کاری ہے، جب تک ان کے اھداف پایہ تکمیل کو نہیں پہنچتے فتنہ گری و خراب کاری کا بازار گرم کئے رہتے ہیں۔

---------------

63. سورہ توبہ/ 8۔


(لا یزالون یقاتلونکم حتی یردّوکم عن دینکم) ) 64 (

اور یہ کفار برابر تم لوگوں سے جنگ کرتے رھیں گے، یہاں تک کہ ان کے امکان میں ہو تو وہ تم کو تمھارے دین سے پلٹادیں۔

اسی بنا پر دشمن کی عارضی، خاموشی و سکوت یا دوستی و محبت کا اظھار، دشمنی کے پایان و اتمام کی علامت نہیں، یہ صرف دشمن کی بدلتی ھوئی طرز و روش ہے، برابر کچھ وقفہ کے بعد کوئی نہ کوئی خیانت کاری کا آشکار ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ جب تک اغیار و دشمن اپنے اھداف و مقاصد کو عملی جامہ نہ پہنالیں تب تک وہ فتنہ گری و دشمنی سے دست بردار نہیں ہوں گے۔

(ولا تزال تطلع علی خائنة منهم) ) 65 (

آپ ان کی طرف سے خیانتوں پر مطلع ھوتے رھیں گے۔

اصل اوّل کا ماحصل، اسلام کے پیش نظر اغیار سے سیاسی روابط و اصول اور اغیار کی شناخت ہے جس میں ان کی چند خصائص کو بیان کیا گیا ہے کسی فرد یا گروہ میں ایک خصوصیت کا بھی پایا جانا قرآن کی رو سے اس کا شمار اغیار میں ہے، لھذا ان سے رابطہ کے سلسلہ میں اسلام کے اغیار سے رابطہ و اصول کا لحاظ کیا جانا چاھئے۔

------------------

64. سورہ بقرہ/ 217۔

65. سورہ مائدہ/ 13۔


اصل دوّم: دشمن کے مقابلہ میں ھوشیاری اور اقتدار کا حصول

اسلام کے فردی و اجتماعی روابط میں حسن ظن کی رعایت اسلام کے اصل دستورات میں سے ہے لیکن اغیار سے روابط کے سلسلہ میں اسلام کی تاکید سوء ظن پر ہے، ہر زمان و مکان میں ان سے بھترین اقتصادی، سیاسی، ثقافتی روابط ہونے کے باوجود سوء ظن کی کیفیت باقی رکھتے ہوئے ھوشیار رھنا چاھئے۔ ان کی چھوٹی حرکتیں اور ھلکے مناظر دشمنی کو نظر انداز نہیں کرنا چاھئے۔

اسلام کی تاکید یہ ہے کہ اسلامی نظام و حکومت اغیار کے مقابلہ میں زیادہ سے زیادہ قدرت و طاقت کا حصول کریں، اس قدر قوی اور طاقتور ہوں کہ دشمن تجاوز کا خیال بھی دل میں نہ لاسکے۔

(و اعدّوا لهم ما استطعتم من قوة و من رباط الخیل ترهبون به عدو الله و عدوکم) ) 66 (

اور تم سب ان کے مقابلہ کے لئے امکانی قوت اور گھوڑے کی صف بندی (سلاح) کا انتظام کرو جس سے اللہ کے دشمن اور اپنے دشمن سب کو خوف زدہ کردو۔

آیت قرآن سے استفادہ ہوتا ہے کہ دشمن کے مقابلہ میں قوی و قدرت مند ھونا، جدید اسلحہ جات سے آراستہ ہونا ضروری ہے تاکہ اسلامی حکومت و نظام کا دفاع کیا جاسکے، (ما استطعتم) عبارت کا مفھوم وسیع ہے وسائل و سلاح، اطلاعاتی و نظامی، اقتصادی و سیاسی، فرھنگی و ثقافتی آمادگی، سب پر منطبق ہوتا ہے، جیسا کہ ذیل کی آیت میں کلمہ حذر کا مفھوم وسیع و عریض

ہے۔

(یا ایها الذین آمنوا خذوا حذرکم فانفرو اثبات او انفروا جمیعا) ) 67 (

اے صاحبان ایمان! اپنے تحفظ کا سامان سنبھال لو اور گروہ در گروہ یا اکٹھا جیسا موقع ہو سب نکل پڑو۔

------------------

66. سورہ انفال/ 60۔

67. سورہ نساء/ 71، بعض مفسرین نے کلمہ حذر کو اسلحہ سے تفسیر کی ہے حالانکہ حذر کے معنی وسیع ہیں وسائل جنگ سے مختص نہیں نساء کی آیت 102 حذر و اسلحہ کے تفاوت کو پیش کر رھی ہے اس آیت میں دونوں لفظ کا استعمال ہوا ہے اور یہ تعدد معنا کی علامت ہے، (ان تصنعوا اسلحتکم و خذو احذرکم) ۔


یہ آیت ایک جامع و کلی آئین و دستور ہر زمان و مکان کے مسلمانوں کو دے رھی ہے، اپنی امنیت و سرحد کی حفاظت کے لئے ہر وقت آمادہ رھیں اجتماع و معاشرے میں ایک قسم کی مادی و معنوی آمادگی کا ہمیشہ وجود رھے۔

حذر کے معنی اس قدر وسیع ہیں کہ ہر قسم کے مادی و معنوی وسائل پر اطلاق ھوتے ہیں۔

مسلمانوں کو چاھئے کہ مدام دشمن کی حرکات و سکنات، سلاح کی نوعیت، جنگ کے اطوار پر نگاہ رکھے رھیں، اس لئے کہ یہ تمام موارد دشمن کے خطرات کو روکنے میں مؤثر اور آیت حذر کے مفھوم کی نشان دھی ہے۔

آیت حذر کے دستور کے مطابق مسلمانوں کے چاھئے کہ اپنے تحفظ کے لئے زمان و مکان کے اعتبار سے انواع و اقسام کے وسائل کو فراھم کریں، نیز ان وسائل و سلاح سے بھترین استفادہ کے طور و طریقہ کو بھی حاصل کریں۔


اصل سوم: اغیار سے دوستی و صمیمیت کا ممنوع ھونا

اغیار سے سیاسی رفتار و روابط کے سلسلہ میں اسلام کی نظر کے مطابق ان سے دوستانہ روابط و صمیم قلبی کو منع کیا گیا ہے، عداوت پسند افراد نیز وہ لوگ جو اسلامی مقدسات کی بے حرمتی کرتے ہیں ان سے سخت برتاؤ سے پیش آنا چاھئے۔

(یا ایها الذین آمنوا لاتتخذوا الذین اتخذوا دینکم هزوا ولعبا من الذین اوتوا الکتاب من قبلکم و الکفار اولیاء واتقوا الله ان کنتم مؤمنین و اذا نادیتم الی الصلاة اتخذوها هزوا ولعبا ذلک بانهم قوم لا یعقلون) ) 68 (

اے ایمان والو! خبر دار اہل کتاب میں جن لوگوں نے تمھارے دین کو مزاق و تماشا بنا لیا ہے اور دیگر کفار کو بھی اپنا ولی (دوست) و سرپرست نہ بناؤ اور اللہ سے ڈرو، اگر تم واقعی صاحب ایمان ہو اور تم جب نماز کے لئے اذان دیتے ہو تو یہ اس کو مذاق و کھیل بنالیتے ہیں اس لئے کہ یہ بالکل بے عقل قوم ہیں۔

ھنر و تمسخر آمیز گفتگو و حرکات کو کھا جاتا ہے جو کسی چیز کی قدر و قیمت کو کم کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

لعب، وہ افعال جب کے اھداف غلط یا بے ھدف ہوں ان پر اطلاق ہوتا ہے آیت کا مفھوم یہ ہے کہ مومنین کی حیا وغیرت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اسلامی مقدسات و دینی اقدار کو پامال کرنے والوں سے سخت اور تند برتاؤ کریں، اور ان کا یہ برتاؤ دینی تقوے کی ایک جھلک ہے، کیونکہ تقوا صرف فردی مسائل پر منحصر نہیں ہے۔

---------------

68. سورہ مائدہ/ 57، 58۔


سورۂ ممتحنہ کی پہلی آیت میں بھی صریحاً اغیار سے دوستانہ روابط برقرار کرنے کی ممانعت کی گئی ہے۔

(یا ایها الذین آمنوا لا تتخذوا عدوی و عدوکم اولیاء تلقون الیهم بالمودة وقد کفروا بما جاءکم من الحق)

اے ایمان والو خبردار میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بنانا، کہ تم ان کی طرف دوستی کی پیش کش کرو جب کہ انھوں نے اس حق کا انکار کیا ہے، جو تمھارے پاس آچکا ہے۔

اس بنا پر تمام وہ افراد، جو دین اسلام اور اس کی شائستگی کے معتقد نہیں ہیں ان کا شمار اغیار و بیگانے میں ہوتا ہے، لھذا ان سے دوستی و نشست و برخاست کو منع کیا گیا ہے، قرآن مجید نے اغیار سے، خصوصاً جو اسلامی مقدسات کی بے حرمتی کرتے ہیں، فکری و ثقافتی قربت کو خسران و نقصان سے تعبیر کیا ہے، کیونکہ رفت و آمد و دوستی کے اثرات انسان پر ضرور مرتب ھوتے ہیں اور اسی کے مثل بنا دیتے ہیں۔

(وقد نزّل علیکم فی الکتاب ان اذا سمعتم آیات الله یکفر بها و یستهز ٔبها فلا تقعدوا معهم حتی یخوضوا فی حدیث غیره انکم اذا مثلهم) ) 69 (

اور اللہ نے کتاب میں یہ بات نازل کردی ہے کہ جب آیات الہی کے بارے میں یہ سنو کہ ان کا انکار اور استھزا ھورھا ہے تو خبردار ان کے ساتھ نشست و برخاست نہ کرو جب تک وہ دوسری باتوں میں مصروف نہ ہوجائیں ورنہ تم انھیں کے مثل ھوجاؤ گے۔

بیان شدہ اصل سوم کا مفھوم یہ نہیں کہ دیگر مذاھب کے پیروکاروں کے ساتھ مسالمت آمیز زندگی کی نفی کی جائے یا ان کے انسانی حقوق کو ضائع کیا جائے غیر اسلامی حکومتوں سے رابطہ نہ رکھا جائے) 70 (

----------------------------

69. سورہ نساء/140۔

70. اس سلسلہ میں بحث اصل چھارم میں پیش کی جائے گی۔


بلکہ اصل سوم کا مفھوم یہ ہے کہ مسلمان دشمن سے دوستانہ وصمیمی روابط سے پرہیز کریں اغیار کی اطاعت و اثر پذیری سے دور رھیں، ان کو فکری و سیاسی اعتبار سے غیر ہی سمجھیں، قرآن اغیار پرستی سے مبارزہ اور برائت کے سلسلہ میں حضرت ابراھیم علیہ السلام اور آپ کے مقلدین کی سیرت کو بطور نمونہ پیش کر رہا ہے آپ اور آپ کے اصحاب اپنی ہی قوم کی بت پرستی کو مشاہدہ کرنے کے بعد، باوجودیکہ ان کے قرابتدار بھی اس میں شریک تھے ان کے افعال سے برائت کرتے ہیں۔

(قد کانت لکم اسوة حسنة فی ابراهیم و الذین معه اذ قالوا لقومهم انّا برآؤا منکم و مما تعبدون من دون الله کفرنا بکم و بدا بیننا وبینکم العداوة و البغضاء ابدا حتّی تؤمنوا بالله وحده؛) ) 71 (

تمھارے لئے بھترین نمونہ عمل ابراھیم اور ان کے ساتھیوں میں ہے، جب انھوں نے اپنی قوم سے کہدیا ہم تم سے اور تمھارے معبودوں سے بیزار ہیں ہم نے تمھارا انکار کردیا ہے اور ھمارے تمھارے درمیان بغض اور عداوت بالکل واضح ہے یھاں تک کہ تم خدائے وحدہ لاشریک پر ایمان لے آؤ۔

---------------

71. سورہ ممتحنہ/ 4۔


اصل چھارم: غیر حربی اغیار سے صلح آمیز روابط رکھنا

اسلام کے سیاسی نظریہ و اصول میں اغیار و بیگانے کی دو قسم ہیں۔

1۔ حربی: وہ افراد اور حکومت جو اسلامی حکومت اور نظام سے برسر پیکار ہیں اور مدام سازشیں و خیانتیں کرتے رہتے ہیں۔

2۔ غیر حربی: وہ کفار جو اپنے دین و مذہب پر عمل کرتے ہوئے اسلامی سر زمین پر اسلامی قانون کے تحت اسلامی حکومت کو جزیہ دیتے ہوئے زندگی گزارتے ہیں، یا وہ ممالک جو اسلامی حکومت سے پیمان صلح یا اس کے مثل عہد و پیمان رکھتے ہیں، اور اس عہد کے پابند بھی ہیں۔اگرچہ دونوں ہی دستہ کا فکری و ثقافتی اعتبار سے اغیار میں شمار ہوتا ہے اور اصل سوم میں شمولیت رکھتے ہیں لیکن ان سے معاشرتی و سماجی رفتار و سلوک میں فرق ہونا چاھئے۔

قرآن کریم ان سے رفتار و برتاؤ کی نوعیت کو بیان کر رہا ہے۔

(لا ینها کم الله عن الذین لم یقاتلوکم فی الدین ولم یخرجوکم من دیارکم ان تبرّوهم و تقسطوا الیهم ان الله یحسب المقسطین انما ینها کم الله عن الذین قاتلوکم فی الدین و اخرجوکم من دیارکم و ظاهرو اعلی اخراجکم ان تولّوهم و من یتولّهم فاولئک هم الظالمون) ) 72 (

خدا تمھیں ان لوگوں کے بارے میں جنھوں نے تم سے دین کے معاملہ میں جنگ نہیں کی ہے اور تمھیں وطن سے نہیں نکالا ہے اس بات سے نہیں روکتا ہے کہ تم ان کے ساتھ نیکی اور انصاف کرو کہ خدا انصاف کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے وہ تمھیں صرف ان لوگوں سے روکتا ہے جنھوں نے تم سے دین میں جنگ کی ہے، اور تمھیں وطن سے نکال باہر کیا ہے اور تمھارے نکالنے پر دشمن کی مدد کی ہے کہ ان سے دوستی کرو اور جو ان سے دوستی کرے گا وہ یقیناً ظالم ہوگا۔

------------------

72. سورہ ممتحنہ/ 8، 9۔


آیت مذکورہ سے استفادہ ہوتا ہے کہ وہ افراد یا حکومتیں جو مومنین کے حق میں ظالمانہ رویہ اپناتی ہیں نیز اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نا شائستہ عمل انجام دیتی ہیں اور اسلام کے دشمنوں کی مساعدت کرتی ہیں، اہل اسلام کے وظائف کا تقاضا یہ ہے کہ ان سے سخت و تند رفتار کا مظاہرہ کریں، ان سے ہر قسم کے سماجی و معاشرتی رابطہ کو منقطع کردیں، لیکن وہ افراد جو بے طرف رہے ہیں مسلمانوں کے خلاف سازش میں ملوث نہیں رہے ہیں ان کے حقوق کی رعایت اور اسلامی حوکمت کی حمایت حاصل ہونا چاھئے، ان پر ظلم و تعدی شدید ممنوع ہے۔

پیامبر عظیم الشان (ص) فرماتے ہیں:

((من ظلم معاهداً و تخلّف فوق طاقته فانا حجیجه)) ) 73 (

جو شخص بھی معاھدہ پر ظلم کرے گا میں روز قیامت اس سے باز پرس کروں گا۔

معاہد سے مراد وہ یھودی و نصرانی ہیں جو جزیہ دیتے ہوئے اسلامی حکومت کے زیر سایہ زندگی بسر کرتے ہیں، اسلامی فقہ میں اغیار سے روابط کے تمام حقوقی جوانب توجّہ کے قابل ہیں، اگر اغیار و بیگانے سیاسی و فکری اعتبار سے مسالمت آمیز زندگی کی رعایت کریں مسلمانوں کے حقوق کا احترام کریں تو وہ اپنے تمام بنیادی اور جمھوری حقوق سے فیضیاب ھوسکتے ہیں کسی کو ان سے مزاحمت کا حق نہیں، ذیل کا واقعہ اسلامی نظام اور حکومت میں اغیار غیر حربی کے بنیادی حقوق کی رعایت کا آشکار نمونہ ہے۔

------------------

73. فتوح البلدان، ص67۔


امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے ایک نابینا بوڑھے آدمی کو دیکھا جو گدائی کر رہا تھا جب مولا نے اس کے احوال دریافت کئے تو معلوم ہوا وہ نصرانی ہے علی علیہ السلام رنجیدہ خاطر ھوے، فرمایا: وہ تمہارے درمیان میں تھا اس سے کام لیا گیا، لیکن جب وہ بوڑھا ھوگیا تو اس کے حال پر چھوڑ دیا گیا، آپ نے اس کے مخارج بیت المال سے اداء کرنے کا حکم دیا) 74 (

منافقین کا اغیار سے ارتباط اور ان کا طرز عمل

گزشتہ بحث میں اغیار سے روابط اور اسلام کے کلی و جامع اصول پیش کئے جاچکے ہیں، اب اغیار کے سلسہ میں منافقین کی روش اور طرز عمل کا مختصر تجزیہ پیش کیا جارھا ہے۔

قرآن کریم سے استفادہ ہوتا ہے کہ منافقین تمام دوستی و محبت اغیار اور بیگانوں پر نچھاور کرتے ہیں، یہ مسلمانوں کے ساتھ شرارت و خباثت سے پیش آتے ہیں، مومنین کو حقارت و ذلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، تمسخر و نکتہ چینی ان کا مشغلہ ہے ان کی تمام سعی و کوشش اور جد و جھد یہ ہوتی ہے کہ اغیار سے قریب تر ہوجائیں اغیار سے صمیمیت و اخلاص اور دوستانہ رفتار و گفتار کے حامی ہیں۔

(الم تر الی الذین تولّوا قوما غضب الله علیهم ما هم منکم ولا منهم و یحلفون علی الکذب وهم یعلمون) ) 75 (

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا ہے جنھوں نے اس قوم سے دوستی کرلی ہے جس پر خدا نے عذاب نازل کیا ہے کہ یہ نہ تم میں سے ہیں اور نہ ان میں سے ہیں اور یہ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں اور خود بھی اپنے جھوٹ سے باخبر ہیں۔

------------------

74. وسائل الشیعہ، ج11، ص49۔

75. سورہ مجادلہ/14۔


منافقین کے بیگانوں سے ارتباط کے جلووں میں سے، مشترک کانفرنس کا انجام دینا، ان سے ہم آواز وھم نشین ہونا ہے، قرآن صریح الفاظ میں کفار اور الہی دستور و آئین کا استھزا کرنے والوں کے ساتھ ہم نشینی کو منع کرتا ہے۔

(واذا رأیت الذین یخوضون فی آیاتنا فاعرض عنهم حتی یخوضوا فی حدیث غیره) ) 76 (

اور جب تم دیکھو کہ لوگ ھماری آیات کا استھزا و تمسخر کر رہے ہیں تو ان سے کنارہ کش ھوجاؤ یہاں تک کہ وہ دوسری باتوں میں مصروف ہوجائیں۔

لیکن قرآن کے صریح دستور و حکم کے باوجود منافقین، مخفی طریقہ سے اغیار کے جلسات و نشست میں شریک ہوا کرتے تھے لھذا سورہ نساء کی آیت نمبر 140 منافقین کو اس رفتار و طرز عمل پر سرزنش و توبیخ کر رھی ہے۔

منافقین کے اجنبی و غیر پرستی کے مظاہر میں سے ایک، ان کے لئے مطیع و فرمان بردار ہونا ہے سورۂ آل عمران کی آیت نمبر 149 منافقین کی اسی روش کو بیان کر رھی ہے اگر تم کفار کے مطیع و دوست ھوگے جیسا کہ بعض منافقین کا یہ طرز عمل ہے تو قدیم و جاھلی اطوار کی طرف پلٹا دیئے جاؤ گے،

(یا ایها الذین آمنوا ان تطیعوا الذین کفروا یردوکم علی اعقابکم) ) 77 (

اے ایمان لانے والو اگر تم کفر اختیار کرنے والوں کی اطاعت کرو گے تو یہ تمھیں گزشتہ طرز زندگی و عمل کی طرف پلٹالے جائیں گے۔

-----------------

76. سورہ انعام/ 68۔

77. سورہ آل عمران/ 149۔


دشمنوں کی جماعت میں مدام مومنین سے عداوت و دشمنی رکھنے والے بعض یھودی ہیں خدا نے قرآن مجید میں دشمنوں کے عمومی و کلی اوصاف کو بیان کیا ہے لیکن اس عمومیت کے باوجود بعض دشمنوں کے اوصاف کے ساتھ ان کے نام کا بھی ذکر کیا ہے کہ جس میں یھودی سر فھرست ہیں۔

ہم جب عصر پیامبر عظیم الشان کے منافقین کی تاریخ کی تحقیق کرتے ہیں تو منافقین کے روابط کے شواہد یھودی کے تینوں گروہ بنی قینقاع، بنی نظیر، بنی قریظہ میں پائے جاتے ہیں۔

اغیار سے منافقین کے روابط کا فلسفہ

وہ اہم نکتہ جس کی اس فصل میں تحقیق ھونی چاھئے یہ کہ اغیار سے منافقین کے ارتباط کی حکمت کا پس منظر کیا ہے، وہ کن مضمرات کی بنا پر اس سیاست کے پجاری ہیں، قرآن مجید منافقین کے اغیار سے روابط کی ریشہ یابی کرتے ہوئے دو وجہ کو بیان کر رہا ھے:

1۔ تحصیل عزت

منافقین اپنے اس رویہ و طرز عمل کے ذریعہ محبوبیت و شھرت، عزت و منصب کے طلب گار ہیں، منافقین اغیار کے زیر سایہ خواہشات نفسانی کی تکمیل کے آرزو مند ہیں، شرک کا آشکار ترین جلوہ، وقار و عزت کو کسب کرنے کے لئے غیر (خدا) سے تمسک کرنا ہے۔


(و اتّخذوا من دون الله الهةً لیکونوا لهم عزّا) ) 78 (

اور ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر دوسرے خدا اختیار کر لئے ہیں تاکہ وہ ان کے لئے باعث عزت رہے (کیا خیام خیالی ھے!) ۔

اسی طریقہ سے منافقین جو باطن میں مشرک ہیں، اغیار سے وابستگی و تعلقات کے ذریعہ عزت و آبرو کسب کرنا چاہتے ہیں۔

(الذین یتّخذون الکافرون اولیاء من دون المؤمنین أیبتغون عندهم العزة فان العزّة لله جمیعا) ) 79 (

جو لوگ مومنین کو چھوڑ کر کفار کو ولی و سرپرست بناتے ہیں، کیا یہ ان کے پاس عزت تلاش کر رہے ہیں جب کہ ساری عزت صرف اللہ کے لئے ہے۔

خداوند تبارک و تعالی نے عزت کو اپنے لئے مخصوص کر رکھا ہے، پیامبر عظیم المرتبت (ص) اور صاحبان ایمان کی عزت کا سر چشمہ عزت الہی ہے، منافقین عدم ایمان کی بنا پر اس کو درک کرنے سے قاصر ہیں۔

(ولله العزّة و لرسوله و للمؤمنین ولکن المنافقین لا یعلمون) ) 80 (

ساری عزت اللہ، رسول، اور صاحبان ایمان کے لئے ہی ہے اور منافقین یہ جانتے بھی نہیں ہیں۔

---------------

78. سورہ مریم/ 81۔

79. سورہ نساء/ 139۔

80. سورہ منافقون/8۔


قرآن کریم فقط اللہ تعالی کے وجود اقدس اور جھان کے حقیقی صاحب عزت (محبوب) سے تمسک کو عزت و عظمت کا سر چشمہ جانتا ہے۔

(من کان یرید العزّة فللّٰه العزّة جمیعا) ) 81 (

جو شخص بھی عزت کا طلب گار ہے وہ یہ سمجھ لے کہ عزت سب پروردگار کے لئے ہے۔

اسی ذیل کی آیت میں پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل کیا گیا ہے کہ تحصیل عزت کا واحد راستہ خدا کی اطاعت و فرمان برداری ہے۔

((ان الله یقول کلّ یوم انا ربّکم العزیز فمن اراد عزّ الدارین فلیطع العزیز)) ) 82 (

خداوند عالم ہر روز اعلان کرتا ہے کہ میں تمھارا عزت دار پروردگار ہوں جو شخص بھی آخرت و دنیا کی عزت کا خواہش مند ہے اسے چاھئے کہ حقیقی صاحب عزت کا مطیع و فرمانبردار ھو۔

شاید کوئی فرد خدا کی اطاعت کئے بغیر کسی اور طریقہ سے عزت کا حصول کر لے، لیکن یہ عزت وقتی و کھوکھلی ہوتی ہے یھی عزت اس کے لئے ذلت کا سبب بن جاتی ہے۔

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

((من اعتز بغیر الله اهلکه العز)) ) 83 (

جو شخص غیر خدا سے عزت یافتہ ہے وہ عزت اس کو تباہ کردے گی۔

-----------

81. سورہ فاطر/ 10۔

82. الدرالمنصور، ص2، ص717۔

83. میزان الحکمہ، ج6، ص298۔


((العزیز بغیر الله ذلیل)) ) 84 (

وہ عزت جو غیر خدا کے ذریعہ حاصل ہوتی ہے ذلت میں تبدیل ھوجایا کرتی ہے۔

قرآن کی نظر میں وہ عزت جو خدا کی طرف سے عطا نہ ہو وہ تار عنکبوت کے مانند ہے جس کا شمار غیر مستحکم ترین گھروں میں ہوتا ہے۔

(مثل الذین اتّخذوا من دون الله أولیاء کمثل العنکبوت اتّخذت بیتاً و اِنّ اوهن البیوت لبیت العنکبوت لو کانوا یعلمون) ) 85 (

اور جن لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر دوسرے سرپرست بنالئے ہیں ان کی مثال مکڑی جیسی ہے کہ اس نے گھر تو بنا لیا لیکن سب سے کمزور گھر مکڑی کا ہوتا ہے اگر ان لوگوں کے پاس علم و ادراک ہو (تو سمجھیں) ۔

یہ آیت منافقین کی وضعیت کو سلیس و دلربا مفھوم، خوش گفتار تشبیہ، دقیق مثال کے ذریعہ ترسیم کر رھی ہے۔

عنکبوت کے آشیانے بھت ہی نازک تار کے ذریعہ بنے ھوتے ہیں، نہ دیوار ہوتی ہے نہ چھت، دروازے اور صحن کی بات ہی الگ ہے اس کے میٹیریل اتنے کمزور ھوتے ہیں کہ کسی حادثہ کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتے، بارش کے چند قطرےاس کو تباہ و برباد، آگ کے ھلکے شعلے اسے خاکستر، گرد و غبار کے خفیف جھٹکے اس اس کو صفحہ ھستی سے محو کرنے کے لئے کافی ہے کسی بھی مسئلہ میں غیر کدا پر اعتماد و اعتبار خصوصاً عزت و آبرو کسب کرنے کے لیے، یقیناً اسی نوعیت کے ہیں، بی ثبات و ناتواں، ناقابل بھروسہ، حوادث کے مقابلہ میں غیر مستحکم، غیر خدا جو بھی اور جیسا بھی ہو عزت وعظمت کا حامل ہے ہی نہیں کہ عزت بخشش و نچھاور کرسکے۔

-----------

84. بحار الانوار، ج78، ص10۔

85. سورہ عنکبوت/ 41۔


اگر ھزاروں مکر و فریب کے بعد ظاہری طاقت و قوت حاصل کر بھی لی، اور کسی شخص کو عزت و مقام دے کر قابل عزت بنا بھی دیا تو بھی یہ (عزت) قابل اعتماد نہیں ھوسکتی اس لئے کہ جس وقت بھی ان کے منافع اقتضا کریں گے وہ بے درنگ اپنے صمیمی اتحادی گروہ کو ترک کردیں گے اور توانائی و قدرت حاصل ہونے کی صورت میں وہ تمھیں خاک ذلت پر بیٹھا دیں گے۔

2۔ رعب وحشت

منافقین کا اغیار سے پیوستہ دوستانہ روابط کا ھونا، ان سے وحشت زدہ ہونے کی علامت ہے، ان کے خیال خام میں یہ آئندہ اوضاع و احوال پر مسلّط نہ ھوجائیں، اس لئے ان سے خائف رہتے ہیں، یہ اس بنا پر بیگانوں سے دوستانہ روابط برقرار رکھتے ہیں کہ اگر ایک روز حکومت و طاقت ان کے ھاتھوں میں آجائے تو اپنی عزیز دنیا کو بچا سکیں، زندگی و حیات کا تحفظ کرسکیں، اسلام کے نظریہ کے مطابق وہ فرد جس کی روح و جان گوھر ایمان سے آراستہ ھوچکی ہے وہ صرف اللہ سے خائف رہتا ہے، غیر اللہ سے ذرہ برابر بھی وحشت زدہ نہیں ھوتا، اللہ کی سفارش یہ ہے کہ خوف و خشیت اس کے لئے ھو، اور کسی قدرت و طاقت سے خوفزدہ نہ ہوا جائے یہ فقط ایمان ہی کی بنا پر عملی ھوسکتا ہے۔

قرآن مجید انبیاء علیھم السلام کی تعریف ان صفات کے ذریعہ کر رہا ھے:

(الذین یبلّغون رسالات الله و یخشونه ولا یخشون احدا الا الله) ) 86 (

وہ لوگ جو اللہ کے پیغام کو پہنچاتے ہیں دل میں اسی کا خوف رکھتے ہیں اور اللہ کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتے۔

--------------

86. سورہ احزاب/ 39۔


پیغمبران الہی اور حقیقی صاحبان ایمان صرف یہی نہیں کہ غیر اللہ کی قدرت و طاقت سے ھراساں نہیں ھوتے، بلکہ جس قدر ان کو خوفزدہ اور ھراساں کیا جاتا ہے اسی اعتبار سے ان کا ایمان و اعتماد خدا کی طاقت و قدرت پر زیادہ ہی ہوتا جاتا ہے۔

(الذین قال لهم الناس ان الناس قد جمعوا لکم فاخشوهم فزادهم ایمانا و قالوا حسبنا الله ونعم الوکیل) ) 87 (

یہ وہ ایمان والے ہیں کہ جب ان سے بعض لوگوں نے کہا کہ لوگوں نے تمھارے لئے عظیم لشکر جمع کرلیا ہے لھذا ان سے ڈرو تو ان کے ایمان میں اور اضافہ ھوگیا۔ اور انھوں نے کہا کہ ھمارے لئے خدا کافی ہے اور وہی ھمارا ذمہ دار ہے۔

مذکورہ آیت میں زیادی ایمان اور خدا پر توکل، نیز خوف الہی اور دلوں میں اس کی عظمت ایک فطری امر ہے۔

افراد جس قدر خدا کی عظمت، قدرت، شوکت، کو زیادہ سے زیادہ درک کریں اور خالص وحدانیت سے نزدیک تر ھوں، تمام قدرت و اقتدار ان کی نظروں میں پست سے پست نظر آئیں گے۔

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام متقین کے صفات کے سلسلہ میں فرماتے ہیں:

((عظم الخائق فی انفسهم فصغر ما دونه فی اعینهم)) ) 88 (

خالق ان کی نگاہ میں اس قدر عظیم ہے کہ ساری دنیا نگاہوں سے گر گئی ہے۔

------------

87. سورہ آل عمران/ 173۔

88. نھج البلاغہ، خطبہ193۔


اگر انسان خدا سے ویسے ہی خائف رہے جیسا کہ خائف ہونے کا حق ہے اور محبت خدا سے اس کا قلب لبریز ہو تو سب کے سب اس کی عظمت کے معترف اور محبت کے قائل ہوجائیں گے لیکن اگر حریم پروردگار کہ جس کے لئے شائستہ و سزاوار ہے، رعایت نہ کی، تو ہر شی سے وہ خوف زدہ و مقہور رہتا ہے، مجاھدین راہ حقیقت و ہدایت کی صلابت و استقامت نیز راہ حق و ہدایت سے منحرفین کی دائمی تشویش اور اضطراب کا راز یہی ہے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

((من خاف الله اخاف الله منه کل شیء ومن لم یخف الله اخافه الله من کل شیء)) ) 89 (

جو خدا سے خائف ہوتا ہے خدا ہر شی سے اس کے خوف کو ختم کر دیتا ہے اور جو خدا سے خائف نہیں ہوتا خدا اس کو ہر شی سے مرعوب کر دیتا ہے۔

وہ منافقین جو ادنی درجہ کے ایمان سے خالی ہیں اور توحید کے معانی درک کرنے سے قاصر، مادہ پرست طاقتوں کی وحشت و ہیبت اس قدر ان کے افکار پر طاری ہے کہ ان سے ایجاد روابط کے لئے کوشاں ہیں کہ آئندہ کہیں یہ تسلط پیدا نہ کرلیں۔

(فتری الذین فی قلوبهم مرض یسارعون فیهم یقولون نخشی ان تصیبنا دائرة فعصی الله ان یأتی بالفتح أو أمر من عنده فیصبحوا علی ما اسروا فی انفسهم نادمین) ) 90 (

پیامبر!آپ دیکھیں گے کہ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ دوڑ دوڑ کر ان کی طرف (یہود و نصاری) جا رہے ہیں اور یہ عذر بیان کرتے ہیں کہ ھمیں گردش زمانہ کا خوف ہے پس عنقریب خدا اپنی طرف سے فتح یا کوئی دوسرا امر لے آئے گا تو اپنے دل کے چھپائے ہوئے راز پر پشیمان ہوجائیں گے۔

-------------

89. اصول کافی، ج2، ص68۔

90. سورہ مائدہ/ 52۔


بیگانوں و اغیار سے منافقین کے ایجاد روابط کا فلسفہ یہ ہے کہ اگر آئندہ اغیار مسلمانوں پر غالب ہوجائیں تو اپنے مخفی ارتباط کے صلہ میں حیات اور اموال کا تحفظ کرسکیں، قرآن مجید منافقین کے اس طرز فکر و منطق کا جواب مذکورہ آیت سے دے رہا ہے، قضیہ کے اس پھلو کی طرف بھی توجہ کرنی چاھئے کہ اگر مسلمانوں کو فتح و کامرانی ملی تو یہ صاحب قدرت و سطوت ہوں گے اس صورت میں تمھارا کیا حال ہوگا؟ یقیناً اہل اسلام فاتح و کامیاب ہوں گے اور تم (منافقین) اپنی زشت حرکات اور غلط افعال کی وجہ سے پشیمان و شرمندہ ہوگے۔

ولایت ستیزی

ولایت اور اسلام میں ولایت پذیری

منافقین کی سیاسی رفتار و کردار کی دوسری خصوصیت و صفت، ولایت ستیزی ہے اس بحث کی تحقیق سے قبل، مقدمہ کے عنوان سے بہ طور اختصار، اسلام کی نگاہ میں ولایت پذیری اور ولایت کی منزلت و مقام کے سلسلہ میں کچھ باتیں عرض کرنا ضروری ہے تاکہ منافقین کی ولایت ستیزی نیز رفتار و سیاست کو قرآنی شواہد کی روشنی میں تحقیق کی جاسکے۔

اسلام کی نگاہ میں ولایت اور ولایت پذیری، اصول اعتقادی و عملی دونوں ہی سے مرتبط ہے، اصول اعتقادی کی بنیاد پر نبوت و امامت کا تعلق عقائد اور اصول دین سے ہے، اصول عملی کی بنیاد پر ولی کی اطاعت کا واجب ہونا اثبات ولایت کا لازمہ ہے، یعنی ولی کی اطاعت اور اس کے دستور و حکم کو قبول کرنا اسی وقت ہوگا جب اسے ہم اپنے اوپر حاکم قرار دیں۔


حضرت امام محمد باقر علیہ السلام ایک حدیث میں اسلام کے عملی عمود و ستون کا ذکر کرتے ہوئے ولایت کو اہم ترین ستون قرار دیتے ہیں۔

((بنی الاسلام علی خمس علی الصلوة و الزکاة و الصوم و الحج و الولایة ولم یناد بشیء ما نودی بالولایة)) ) 91 (

اسلام کی بنا پانچ (عملی ستون) پر واقع ہے نماز، زکاة، روزہ، حج، ولایت، کسی بھی موارد کی، ولایت کے مثل سفارش نہیں کی گئی ہے۔

قرآن کریم اور روایات میں تولّا اور ولایت پذیری، محبت اور قلبی لگاؤ کے مرتبے سے کہیں زیادہ بلند و بالا ہے، اسلام میں مسئلہ ولایت کا پایا جانا، اسلام کے سیاسی نظریہ کے اہم ترین مبانی میں سے ہے، ولایت، نظام اسلامی کے فقرات کے مثل ہے۔

اگر چہ قرآن میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کی گفتگو ہے، لیکن یہ ولایت حاکمیت کے معنا میں ہے، ولایت پذیری، یعنی ولایت کے دستور و احکام کی عملی اطاعت اگر چہ اہل بیت اطھار علیہم السلام کی محبت و مودت کا دینی اقدار کی بنا پر ایک الگ ہی مقام ہے۔

(النبی اولٰی بالمؤمنین من انفسهم) ) 92 (

بے شک نبی (ص) تمام مومنین سے ان کے نفس کی بہ نسبت زیادہ اولی ہے۔

-------------

91. وسائل الشیعہ، ج1، ص10۔

92. سورہ احزاب/6۔


(انما ولیکم الله ورسوله و الذین آمنوا الذین یقیمون الصلاة و یؤتون الزکاة وهم راکعون ) ) 93 (

ایمان والو! پس تمھارا ولی اللہ ہے اور اس کا رسول اور وہ صاحبان ایمان جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوة دیتے ہیں۔

نبوت و امامت کا لازمہ حاکمیت و ولایت کا وجود ہے، ان لوگوں کی ولایت کی مشروعیت (جواز) کا منشا وہی ہے جس نے ان کو رسالت اور امامت عطا کی ہے۔

(وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن الله ) ) 94 (

اور ہم نے کسی رسول کو نہیں بھیجا ہے مگر صرف اس لئے کہ حکم خدا سے اس کی اطاعت کی جائے۔

ولایت پذیری، کمال مطلق سے عشق و محبت کا جلوہ ہے اور الہی حاکمیت کو قبول کرنے کا لازمہ ہے۔

وہ شخص جس کے وجود میں توحید خالص نیز کمال حقیقی کی محبت کی جڑیں مضبوط ہوں گی اور وہ محبوب الہی کا اشتیاق مند ہوگا یقیناً وہ ولایت پذیر ہوگا۔

(قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونی یحببکم الله) ) 95 (

ای پیامبر! کہہ دیجئے کے اگر تم لوگ اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو خدا بھی تم سے محبت کرے گا۔

--------------

93. سورہ مائدہ/ 55۔

94. سورہ نساء/ 64۔

95. سورہ آل عمران/ 31۔


اس اعتبار سے مومنین، حقیقی ولایت کو قبول کرنے والے ہیں قرآن کے صریح دستورات کی پیروی کرتے ہوئے خداوند عالم کی طرف سے نصب شدہ ولی کو قبول کرنا مومنین کے صفات میں سے ہے،

(انما کان قول المؤمنین اذا دعوا الی الله و رسوله لیحکم بینهم ان یقولوا سمعنا و اطعنا و اولئک هم المفلحون) ) 96 (

مومنین کو تو خدا و رسول کی طرف بلایا جاتا ہے کہ وہ فیصلہ کریں تو ان کا قول صرف یہ ہوتا ہے کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی، اور یھی لوگ در حقیقت فلاح پانے والے ہیں۔

قرآن کی روشنی میں سعادت کا یک و تنھا راستہ یھی ہے، اولیا حق کی محبت کے راستہ سے خارج ہونا باطل اور طاغوت کی آغوش میں گر پڑنا ہے، اس لئے کہ حق کے بعد باطل کے علاوہ کچھ بھی نہیں) 97 (

(و من یطع الله و رسوله و یخش الله و یتقه فاولئک هم الفائزون) ) 98 (

اور جو بھی اللہ و رسول کی اطاعت کرے گا اور اس کے دل میں خوف خدا ہوگا اور وہ پرہیز گاری اختیار کرے گا تو وہی کامیاب کہا جائے گا۔

پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و ائمہ اطھار علیھم السلام کے بلند پایہ اور ممتاز اصحاب، ولایت پرستی کے بلند مقام پر فائز تھے اور اس پر افتخار کیا کرتے تھے، عبد اللہ بن ابی یعفور اس گروہ میں سے ہیں وہ مفسر قرآن تھے اور کوفہ میں درس تفسیر دیا کرتے تھے،

--------------

96. سورہ نور/ 51۔

97. سورہ یونس/32، "فما ذا بعد الحق الا الضلال"۔

98. سورہ نور/ 52۔


حضرت امام صادق علیہ السلام آپ سے بے حد محبت و احترام کرتے تھے، امام صادق علیہ السلام ان کے بارے میں فرماتے ہیں:

((ما وجدت احدا یقبل وصیتی ویطیع امری الا عبد الله بن ابی یعفور)) ) 99 (

کسی کو عبداللہ بن ابی یعفور جیسا نہیں پایا وہ میرے دستورات و نصائح کو قبول کرتے ہیں اور میرے حکم کے فرمان بردار ہیں۔

بغیر قید و شرط کے ولایت پذیری ان کی ممتاز خصوصیت تھی، ایک دن امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا: اگر آپ ایک انار دو حصے میں تقسیم کریں، اس کے ایک حصے کو حلال دوسرے حصے کو حرام بتائیں، آپ کے حلال بتائے ہوئے حصے کو حلال اور حرام حصے کو حرام سمجھوں گا۔

حضرت امام صادق علیہ السلام نے ان کی اس ارادت و اطاعت کو دیکھتے ہوئے فرمایا: ((رحمک اللہ)) خدا تم کو مشمول رحمت قرار دے۔

ولایت کے مسئلہ میں منافقین کی روش

قرآن کریم سے استفادہ ہوتا ہے کہ عمیق و خالص نفاق کی علامت، عدم قبولیت ولایت اور ولایت ستیزی ہے۔

(و یقولون آمنّا بالله و بالرسول و اطعنا ثم یتولّی فریق منهم من بعد ذالک وما اولئک بالمؤمنین و اذا دعوا الی الله و رسوله لیحکم بینهم اذا فریق منهم معرضون) ) 100 (

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئے ہیں، اور ان کی اطاعت کی ہے، اور اس کے بعد ان میں سے ایک فریق منہ پھیر لیتا ہے، یہ واقعاً صاحبان ایمان نہیں ہیں، اور جب انھیں خدا و رسول کی طرف بلایا جاتا ہے کہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کریں تو ان میں سے ایک فریق کنارہ کش ہوجاتا ہے۔

--------------

99. قاموس الرجال، ج6، ص121۔

100. سورہ نور، 47، 48۔


مذکورہ آیت کے شان نزول کے سلسلہ میں بیان کیا جاتا ہے کہ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام اور ایک فرد کے درمیان جس نے آپ سے زمین خریدی تھی اختلاف در پیش ہوا وہ مرد اس پتھر کی بنا پر جو زمین میں تھے معیوب قرار دے رہا تھا اور معاملہ کو فسخ کرنا چاھتا تھا امام علی علیہ السلام نے قضاوت کے لئے رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیش کش کی، لیکن حکم بن ابی العاص جس کا شمار منافقوں میں ہوتا تھااس نے خریدار کو ور غلایا کہ اگر رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ گے تو وہ حضرت علی علیہ السلام کے فائدہ میں فیصلہ کریں گے کیونکہ علی علیہ السلام ان کے چچا زاد بھائی ہیں۔

یہ آیت اسی مناسبت سے نازل ھوئی اور حکم بن ابی العاص کی شدّت سے سرزنش کی اور اس بات کا اضافہ بھی کیا کہ، اگر حق ان کے ساتھ ہو اور فیصلہ ان کے حق میں ہوتا ہے تو وہ دست بستہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ھوتے ہیں لیکن اب جب کہ وہ جانتے ہیں کہ حق ان لوگوں کے ساتھ نہیں تو پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قضاوت سے منہ موڑ لیتے ھیں) 101 (

منافقین، حق کی حکومت اور اسلامی نظام کی حاکمیت کے دشمن ہونے کی بنا پر طاغوت کے قبضہ و دبدبہ کو وجود بخشنے کی فکر میں رہتے ہیں، ہمیشہ اسلامی نظام کے اہم ترین رکن، ولایت سے برسر پیکار رہے ہیں، مختلف اطوار سے اپنے اس کینہ و عداوت کو بروئے کار لاتے ہیں۔حقیقی ولایت پرستی، اور ولایت پرست ہونے کا نعرہ بلند کرنے میں زمین و آسمان کا فرق ہے، منافقین نہ صرف یہ کہ زبان سے ولایت کو قبول نہ کرنے کا اظھار نہیں کرتے بلکہ ولایت پذیری کے نعروں کے ذریعہ اپنے کو سب سے زیادہ ولایتی فرد بتاتے ہیں، لیکن پس پردہ ولایت ستیزی و ولایت کے خلاف عملی اقدام کی فکر و ذکر میں مشغول رہتے ہیں۔

----------------

101. سورہ نور/ 49۔


ولایت ستیزی کے عملی مناظر

جس طریقہ سے صاحبان ایمان کی ولایت پرستی اور ولایت پذیری کے خاص عملی جلوے نظر آتے ہیں، منافقین کی بھی ولایت ستیزی کی جلوہ افروزی کم نہیں، ان جلوے اور مناظر کے ذریعہ، تحریک نفاق کی شناخت بخیر و خوبی کی جاسکتی ہے قرآن مجید منافقین کی ولایت سے برسر پیکار عملی جلوے و مناظر کے چند نمونے پیش کر رہا ہے۔

1۔ دینی حکومت و حاکمیت کو قبول نہ کرنا

منافقین کی ولایت ستیزی کا ایک عملی نمونہ ان کا دینی حکومت و اسلامی نظام کی حاکمیت کو قبول کرنے سے انکار کرنا ہے، اسلام کے سیاسی نظریہ میں ولایت، اسلامی نظام کا اہم ترین، رکن ہے بغیر ولایت کے حکومت کا نظام ایک طاغوتی نظام ہے۔

قرآن کریم کے پیش نظر ایمان کا معیار و پیمانہ ولایت کے دستور و احکام کو از حیث قلب و عمل قبول و تسلیم کرنا ہے۔

(فلا و ربّک لا یؤمنون حتی یحكّموک فیما شجر بینهم ثم لا یجدوا فی انفسهم حرجا مما قضیت و یسلّموا تسلیما ) ) 102 (

پس آپ کے پروردگار کی قسم یہ ھرگز صاحبان ایمان نہ بن سکیں گے جب تک آپ کو اپنے اختلافات میں حکم نہ بنائیں اور پھر جب آپ فیصلہ کردیں تو اپنے دل میں کسی طرح کی تنگی کا احساس نہ کریں، اور آپ کے فیصلہ کے سامنے سراپا تسلیم ہوجائیں۔

روایات میں بھی اس نکتہ کی تصریح کی گئی ہے، اس عصر و زمان میں جب کہ اسلامی نظام و حکومت قائم نہیں ہے، اہل بیت اطھار علیھم السلام کے افکار کے مقلدین کو طاغوت کی حاکمیت قبول نہیں کرنا چاھئے، اس حالت میں اسلامی نظام کی حاکمیت کے عصر میں ان کا وظیفہ بالکل عیاں و آشکار ہے، حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

-------------

102. سورہ نساء/ 65۔


((من تحاکم الیهم فی حق او باطل فانما تحاکم الی الطاغوت وما یحکم له فانما یاخذ سحتا وان کان حقه ثابتا لانه اخذه بحکم الطاغوت و قد امر الله ان یکفر به)) ) 103 (

کسی شخص کا اپنے اس حق کے لئے جو ضائع ھوگیا ہے یا باطل دعوی کے سلسلہ میں ان (اھل باطل و ظالم) کے پاس جانا یعنی محاکمہ کے لئے طاغوت کے پاس جانے کے مترادف ہے، اور جو کچھ ان کی حکمیت کے ذریعہ حاصل کیا ہے وہ حرام ہے چاھے اس کا حق ہی کیوں نہ ہو اس لئے کہ اپنے حق کو طاغوت کے ذریعہ حاصل کیا ہے، حالانکہ خداوند عالم نے حکم دیا ہے کہ طاغوت کا انکار کریں۔

نفاق کی اہم خصوصیت، دینی حکومت کا انکار اور اغیار کی حکومت و حاکمیت کا اقرار کیا ہے، منافقین پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور دین و مذہب کی حاکمیت کو قبول نہیں کرتے ہیں، لیکن طاغوت کی حاکمیت کو دل و جان سے تسلیم کرتے ہیں۔

(الم تر الذین یزعمون انهم آمنوا بما انزل الیک وما انزل من قبلک یریدون ان یتحاکموا الی الطّاغوت و قد أمروا ان یکفروا به )) 104 (

کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کا خیال یہ ہے کہ وہ آپ پر اور آپ کے پہلے نازل ہونے والی چیزوں پر ایمان لے آئیں ہیں اور پھر یہ چاہتے ہیں کہ سرکش لوگوں کے پاس فیصلہ کرائیں جب کہ انھیں حکم دیا گیا ہے کہ طاغوت کا انکار کریں۔

--------------

103. وسائل الشیعہ، ج18، ص3۔

104. سورہ نساء/60۔


تفاسیر کی کتب میں آیا ہے کہ ایک منافق کا یھودی فرد سے اختلاف ھوگیا یھودی شخص نے اس منافق کو پیامبر عظیم الشان (ص) کی قضاوت قبول کرنے کی عدوت دی، کھا تمھارے پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو حکم بھی کریں گے اس کو قبول کرلوں گا، لیکن اس منافق نے رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکمیت کو قبول کرنے سے انکار کردیا اور اسے کعب بن اشرف یھودی کی حکمیت کی دعوت دی، مذکورہ آیت منافقت کی غلط سیاست و رفتار کی سرزنش کے سلسلہ میں نازل ھوئی ھے) 105 (

منافقین ہمیشہ پیامبر عظیم الشان کے دستورات و احکام سے مقابلہ اور صف آرائی میں مشغول رہتے تھے، نہ خود ہی حق و حقیقت کی اطاعت کرتے تھے اور نہ ہی دوسروں کو اس کی اجازت دیتے تھے۔

(اذا قیل لهم تعالوا الی ما انزل الله و الی الرسول رأیت المنافقین یصدون عنک صدودا) ) 106 (

اور جب ان سے کھا جاتا ہے کہ حکم خدا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف آؤ تو آپ منافقین کو دیکھیں گے کہ وہ شدت سے انکار کرتے ہیں۔

منافقین نہ صرف یہ کہ دین کی حاکمیت کو قبول نہیں کرتے اور خود کو اس کے حوالہ نہیں کرتے، بلکہ مدام اسلامی نظام کی حاکمیت اور دین و مذہب کی قدرت کی تضعیف و تحقیر میں مشغول رہتے ہیں۔

---------------

105. مواھب الرحمٰن، ج8، ص253۔

106. سورہ نساء/61۔


پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حاکمیت کو ضعیف و کمزور کرنے کے لئے منافقین کے طریقۂ کار میں سے ایک، اقتصادی ناکہ بندی اور مشکلات کی ایجاد، کا حربہ تھا جس کا استعمال ہمیشہ دشمنوں نے کیا ہے اور آج بھی اسلامی نظام کی تضعیف کے لئے اس حربہ سے استفادہ ھورھا ہے۔

(هم الذین یقولون لا تنفقوا علی من عند رسول الله حتی ینفضوا) ) 107 (

یھی وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول اللہ کے ساتھیوں پر کچھ خرچ نہ کرو تاکہ یہ لوگ منتشر ہوجائیں۔

پیامبر رحمت (ص) کے سلسلہ میں عبد اللہ ابن ابی کی سازش یہ تھی کہ ہر قسم کا معاملہ اور خرید و فروخت، مھاجرین اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شیدائی افراد سے ممنوع قرار دیا جائے تاکہ اقتصادی و معاشی کی بنا پر رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شیدائی ان کے اطراف سے منتشر ہوجائیں۔

بالکل وہی پالیسی جو مشرکین قریش نے مکہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ انجام دی تھی، قریش کے سر کردہ افراد نے ایک پیمان کو ترتیب دیا اور دستخط کے بعد خانۂ کعبہ کی دیوار پر آویزاں کردیا، اس عہد و پیمان کی بنا پر ہر قسم کے اقتصادی معاشرتی روابط مسلمانوں سے ممنوع تھے، کسی کو بھی حق نہ تھا کہ بنی ھاشم، پیامبر، اور ان کے اصحاب سے رشتہ داری کے روابط برقرار کرے، نیز بنی ہاشم سے ہر قسم کی دفاعی قرار داد کا انعقاد بھی ممنوع کردیا گیا تھا۔

------------

107. سورہ منافقون/7۔


اس سازش کو عملی جامہ پہنایا گیا لیکن وہ تمام صعوبت اور رنج و تکلیف جو اس قرار اور پیمان کی بنا پر مسلمان شکار ہوئے، اہل اسلام کی استقامت و صبر کی بنا پر مشرکین کے سارے پروگرام نقش بر آب ھوگئے، اور اسلام کی طاقت و اقتدار میں اضافہ ہوتا رہا۔

تعجب آور ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد یہی پروگرام آپ کے وصی و جانشین اور خلیفہ برحق حضرت علی علیہ السلام پر جاری کیا گیا، حضرت زھرا سلام اللہ علیھا سے فدک غصب کرلیا گیا تاکہ حضرت علی علیہ السلام کی اقتصادی در آمد کے وسیلہ کو ختم کردیا جائے۔

2۔ ولایت کے دستورات و احکام کی عملی مخالفت

منافقین کی ولایت کی عدم قبولیت کا ایک اور نمونہ، ولی کے فرامین کی عملی مخالفت ہے، سورہ نور کی آیت نمبر اکاون جو اس سے قبل پیش کی گئی ہے، ولایت کے اوامر کی سماعت اور اس کی اتباع، حقیقی صاحبان ایمان کے اوصاف و صفات میں شمار کیا گیا ہے، لیکن منافق دین کی حکمیت کو قبول نہیں کرتے ہیں، ظاہر میں پیروی کا ادعا کرتے ہیں، مگر اعمال میں ولی کے فرمان کی مخالفت کرتے ہیں۔

(ویقولون طاعة فاذا برزوا من عندک بیت طائفة منهم غیر الذی تقول) ) 108 (

اور یہ لوگ پہلے اطاعت کی بات کرتے ہیں، پھر جب آپ کے پاس سے باہر بکلتے ہیں تو پھر ایک گروہ اپنے قول کے خلاف تدبیریں کرتا ہے۔

----------------

108. سورہ نساء/ 81۔


قرآن کریم نے ایمان اور نفاق کو جانچنے اور پرکھنے کے لئے معاشرتی و سیاسی میدان میں حضور کو، معیار و محک قرار دیا ہے، صرف پیامبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اجازت سے اس میدان کو ترک کیا جاسکتا ہے۔

(انما المؤمنون الذین آمنوا بالله و رسوله و اذا کانوا معه علی امر جامع لم یذهبوا حتی یستأذنوه ان الذین یستأذنونک اولئک الذین یؤمنون بالله ورسوله) ) 109 (

مومنین صرف وہ افراد ہیں جو خدا اور رسول پر ایمان رکھتے ہوں اور جب اجتماعی کام میں مصروف ہوں تو اس وقت تک کہیں نہ جائیں جب تک اجازت حاصل نہ ھوجائے، بے شک جو لوگ آپ سے اجازت حاصل کرتے ہیں وہی اللہ و رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔

مذکورہ آیت کے مصادیق میں سے ایک غسیل الملائہ (ملائکہ کے ذریعہ غسل دئے ہوئے) حنظلہ ہیں جناب حنظلہ کی شادی ہی کی شب، مسلمان احد کے لئے حرکت کر رہے تھے، جناب حنظلہ نے رسول گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت چاھی کہ ایک شب شریک حیات کے پاس گزار کر صبح کو احد میں حاضر ہوجائیں گے، آپ نے اجازت بھی فرمادی جناب حنظلہ دوسرے روز احد پہونچ کر جنگ کے لئے آمادہ ہوئے اور اسی جنگ میں درجۂ شھادت پر فائز بھی ہوئے، پیامبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شھادت کے بعد فرمایا: حنظلہ کو ملائکہ غسل دے رہے تھے۔

--------------

109. سورہ نور/62۔


جناب حنظلہ کے عمل کے نقطۂ مقابل، جنگ خندق میں منافقین کی حرکت ہے، رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس جنگ میں خندق بنانے کے لئے، دس دس افراد کا دستہ بنا کر ایک ایک حصہ ان کے حوالہ کردیا تھا جس وقت منافقین مسلمانوں کی چشم سے پوشیدہ ھوتے تو فریضہ سے سر ییچی کرتے اور جب مسلمان کی آھٹ پاتے تو مشغول ہوجاتے ذیل کی آیت منافقین کے زشت فعل کو بیان کررھی ہے۔

(قد یعلم الله الذین یتسلّلون منکم ولو اذاً فلیحذر الذین یخالفون عن امره ان تصیبهم فتنه او یصیبهم عذاب الیم ) ) 110 (

اللہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں سے خاموشی سے الگ ہوجاتے ہیں لھذا جو لوگ حکم خدا کی مخالفت کرتے ہیں وہ اس امر سے ڈریں کہیں ان تک کوئی فتنہ پہونچ جائے یا کوئی درد ناک عذاب نازل ہوجائے۔

دوسری آیت جو منافقین کی، دستورات پیامبر (ص) سے عملی مخالفت کو بیان کر رھی ہے، سورہ توبہ کی آیت نمبر اکاسی ہے، خداوند عالم اس آیت اور بعد والی آیت میں منافقین کے عمل کی شدت سے سرزنش و توبیخ کرتے ہوئے سخت عذاب کا وعدہ دے رہا ہے۔

(فرح المخلّفون بمقعدهم خلاف رسول الله و کرهوا أن یجاهدوا باموالهم وأنفسهم فی سبیل الله وقالوا لا تنفروا فی الحرّ قل نار جهنّم اشدّ حرّا لو کانوا یفقهون فلیضحکوا قلیلا و لیبکوا کثیرا جزاء بما کانوا یکسبون) ) 111 (

جو لوگ جنگ تبوک میں نہیں گئے وہ رسول اللہ کے پیچھے بیٹھے رہ جانے پر خوشحال ہیں اور انھیں اپنے جان و مال سے راہ خدا میں جھاد ناگوار معلوم ہوتا ہے اور یہ کہتے ہیں کہ تم لوگ گرمی میں نہ نکلو تو اے پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ کہہ دیجئے کہ آتش جھنم اس سے زیادہ گرم ہے اگر یہ لوگ کچھ سمجھنے والے ہیں اب یہ لوگ ہنسیں کم اور روئیں زیادہ کہ یہی ان کے کئے کی جزا ہے۔

-------------

110. سورہ نور/63۔

111. سورہ توبۂ/ 81، 82۔


جیسا کہ آیت کے لحن و طرز سے ظاہر ہے منافقین رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جنگوں میں شریک نہیں ھوتے تھے اور وہ اپنے اس زشت عمل سے نادم و پشیمان ہونے کے بجائے اس خلاف ورزی سے خوش حال اور مسرور بھی رہتے تھے، وہ صرف یھی نہیں کہ خود میدان جنگ میں شریک نہ ھوتے بلکہ اپنی مغرضا نہ و معاندانہ تبلیغ سے جھاد پر جانے والوں کو روکتے بھی تھے۔

3۔ ولایت کی حریم کو پامال کرنا

ولایت ستیزی کے زمرہ میں منافقین کا ایک اور عملی شاھکار، حریم ولایت کی حرمت کو پامال کرنا ہے۔

قرآن مجید نے ولایت کی حریم کو معین کر دیا ہے اور اس حریم کا تحفظ و احترام، اہل اسلام کا وظیفہ ہے، پھلی حریم یہ ہے کہ جب صاحب ولایت کی طرف سے کوئی حکم صادر ھو، بغیر کسی چون و چرا کے اطاعت کی جائے اگر ولی یعنی صاحب ولایت کی اطاعت نہ ہو تو اسلامی نظام کہیں کا نہیں رہے گا۔

(وما کان لمؤمن ولا مؤمنة اذا قضی الله و رسوله امرا ان یکون لهم الخیرة من امرهم ومن یعص الله و رسوله فقد ضلّ ضلالا مبینا) (112)

اور کسی مومن مرد یا عورت کو اختیار نہیں ہے کہ جب خدا و رسول کسی امر کے بارے میں فیصلہ کردیں تو وہ بھی اپنے امر کے بارے میں صاحب اختیار بن جائے اور جو بھی خدا و رسول کی نافرمانی کرے گا وہ بڑی کھلی ھوئی گمراہی میں مبتلا ہوگا۔

--------------

112. سورہ احزاب/36۔


صاحب ولایت کی طرف سے فرمان و حکم جاری ھوجانے کے بعد اظھار نظر، ذاتی سلیقہ و روش، اشکال تراشی کی کوئی گنجائش نہیں منافقین صاحب ولایت کے فرامین کی مخالفت و رو گردانی سے ولایت کی حریم کو پامال کرنا چاہتے ہیں اور اپنے اس فعل کے ذریعہ دوسروں کو بھی نافرمانی کی تشویق دلاتے ہیں۔

سورہ توبہ کی آیت نمبر اکاسی میں پیامبر عظیم الشان (ع) کے فرمان کی، مخالفین کے ذریعہ رو گردانی و مخالفت، نیز ان کی خوشحالی و رضایت کا ذکر، صراحتاً ھوچکا ہے، البتہ فرامین کا بغیر چون و چرا اجرا کرنے کا مطلب، مشورت و نصیحت نیز یاد دھانی کے متعارض نہیں ہے۔

جب تک منصب ولایت کی طرف سے کوئی حکم و دستور کا صدور نہ ہوا ھو، نہ صرف یہ کہ افراد نصیحت و مشورہ کا جواز رکھتے ہیں بلکہ "النصیحۃ لائمۃ المسلمین" کی بنا پر اپنے نظریات و خیالات کا صاحب ولایت کے محضر میں بیان کرنا واجب ہے لیکن جب ولی نے کسی امر کی تصمیم گیری کر لی ہے تو سب کا وظیفہ اطاعت و فرماں برداری ہے، حتی وہ افراد بھی جو مشورت کے مرحلے میں اس تصمیم و عمل کے مخالف نظر تھے یعنی کوئی بھی فرد، مخالف نظر، کا عذر پیش کرتے ہوئے اطاعت سے رو گردانی نہیں کرسکتا ہے۔

ابن عباس، امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کو مشورے دیتے ہیں کہ آپ معاویہ کو شام میں رھنے دیں اور بصرہ و کوفہ کی امارت طلحہ و زبیر کے سپرد کردیں حالات آرام ھوجانے کے بعد ان کو معزول کردیں، امام علی علیہ السلام نے ابن عباس کا مشورہ رد کرتے ہوئے فرمایا:

((لا افسد دینی بدنیا غیری لک ان تشیر علی و اری فان عصیتک فأطعنی)) (113)

میں اپنے دین کو دوسروں کی دنیا کے لئے تباہ و برباد نہیں کرسکتا، تمھیں مجھے مشورہ دینے کا حق حاصل ہے، اس کے بعد رای میری ہے، لھذا اگر میں تمھارے خلاف رای قائم کرلوں تو تمھارا فریضہ ہے کہ میری اطاعت کرو۔

-----------

113. نھج البلاغہ، حکمت 321 و نیز تاریخ طبری ض6، ص3089، مروج ذھب، ج2، ص365۔


بھت زیادہ روایات، اسلامی معاشرے کے قائدین کی نصیحت و خیر خواھی کے سلسلہ میں آئی ہیں، نصیحت و خیر خواھی ایک قیمتی شیء اور لوگوں کے لئے ایک فریضہ ہے حضرت امام علی علیہ السلام اشخاص پر رھبر و رھنما کے حقوق میں ایک نصیحت و رھنمائی کو سمجھتے ہیں۔

((و امام حقی علیکم…… النصیحة فی المشهد والمغیب)) (114)

میرا حق تم پر یہ ہے کہ باطن و ظاہر میں نصیحت و خیر خواھی کو ھاتھ سے نہ جانے دو۔

اسی طریقہ سے حضرت علی علیہ السلام نے پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اپنے نیک و ممتاز اصحاب کی تجلیل و تکریم کے بعد، ان سے چاہتے ہیں کہ خالصانہ نصیحت سے ان کی مساعدت کریں۔

((…… فاعینونی بمنا صحة خلیلة من الغش سلیمة من الریب)) (115)

مجھے خالصانہ و ہر قسم کے شک و تردید سے جدا، نصیحت سے میری مدد و نصرت کرو۔

نصیحت و خیر خواھی سب کے لئے، خصوصاً معاشرہ کے افراد کی نصیحت اسلامی نظام کے رھبر کے لئے، ایک قیمتی شی اور فریضہ ہے، اس شرط کے ساتھ کہ واقعی مصداق نصیحت ھو، اس لئے کہ کینہ پروری کی بنا پر عیب کی تلاش، در حقیقت نصیحت نہیں ہے، معرکہ آرائی، بے مورد اتھام، ایک طرفہ و شتاب زدہ فیصلہ وغیرہ نصایح نہیں ہیں۔

اس نکتہ کی طرف بھی توجہ مرکوز ھونی چاھئے کہ، ولائی اوامر، میں خواہ ولائی معصوم (ع) ، خواہ ولائی ولی فقیہ، میں مطیع فرماں بردار ہونا چاھئے اور یہ وہ نکتہ ہے جسے قرآن کریم نے بھی بیان کیا ہے، اور علم فقہ میں بھی (حاکم کے حکم کو دوسرے مجتھد کا نقض کرنا حرام ھے) کے تحت ذکر کیا گیا ہے۔

--------------

114. نھج البلاغہ، خطبہ 34۔

115. نھج البلاغہ، 118


لیکن جہاں حکم، الہی و شرعی نہ ھو، ہر مسلمان کو نظر کے اظھار کا حق ہے، کبھی بھی پیامبر عظیم الشان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس نوع کے اظھار کو منع نہیں کرتے تھے بلکہ تعریف و تشویق بھی کرتے تھے۔

جنگ احزاب میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سلمان (رض) کی خندق بنانے کی فکر و نظر اور خیر خواھی کو قبول کرتے ہوئے مورد تاکید بھی قرار دیا، حضرت سلمان (رض) نے پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا، فارس علاقہ میں جب بھی دشمن کا خطرہ ہوتا ہے شھر کے اطراف میں خندق کھود کر دشمن کی پیش قدمی کو روکا جاتا ہے لھذا مدینہ کے اطراف میں آسیب پذیر علاقے جہاں دشمن وسائل جنگی کو آسانی سے عبور دے سکتا ہے، وھاں خندق کھود کر ان کی پیش قدمی کو روک دیا جائے، اور خندق کے اطراف میں سوراخ و برج بنا کر دشمن کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھتے ہوئے شھر کا دفاع کیا جائے، پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت سلمان (رض) کی نظر کو منظور کرتے ہوئے خندق کھودنے میں مشغول ھوگئے(116)

ایک دوسری آیت تصریح کر رھی ہے کہ صاحب ولایت کے فرامین سے ھمراھی لازم ہے، اس کے اوامر پر سبقت ممنوع ہے۔

(یا ایها الذین آمنوا لا تقدموا بین یدی الله ورسوله) (117)

اے ایمان والو! خبردار خدا و رسول کے سامنے اپنی بات کو آگے نہ بڑھاؤ۔

خدا اور پیامبر سے سبقت لینا یعنی خدا و پیامبر (ص) کے باصراحت دستور و حکم کے سامنے شخصی طور و طریقہ کو استعمال کرنا، یا کسی دوسرے نظریہ کو بیان کرنا، ولایت سے سبقت لینا یعنی صاحب ولایت کی گفتار و اقوال کو کچھ اس طرح تفسیر و تشریح کرنا کہ اپنی پسند و خواہش کے مطابق ھو۔

------------

116. تاریخ طبری، ج2، ص224۔ فروغ ابدیت، ج2، ص535۔

117. سورہ حجرات/1۔


حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس نوعیت کی تاویل کو مورد لعنت قرار دیا ہے۔

((قوم یزعمون انی اما مهم والله ما انا بامام لهم لعنهم الله کلما سترت سرا هتکوه اقول کذا وکذا فیقولون انما یعنی کذا و کذا فیقولون انما یعنی کذا و کذا انما انا امام من اطاعنی)) (118)

بعض خیال کرتے ہیں کہ میں ان کا امام ہوں خدا کی قسم میں ان لوگوں کا امام نہیں ہوں خدا ان لوگوں پر لعنت کرے، میں جس راز کو مخفی رکھنا چاھتا ہوں وہ افشا کرتے ہیں، میں کسی قول کو پیش کرتا ھوں، وہ لوگ کہتے ہیں کہ امام کا مقصد یہ ہے وہ ہے (تاویل کرتے ھیں) میں صرف ان افراد کا امام ہوں جو میرے اطاعت گزار و فرمان بردار ہیں۔

بھر حال ولایت کی حریم میں سے ایک، بغیر چون و چرا صاحب ولایت کے احکام و دستور کی پیروی و اطاعت کرنا ہے۔

منافقین کا طرز عمل پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان و دستور کی خلاف ورزی، اور حضرت کے حریم کی حرمت شکنی تھا، لیکن جیسا کہ وضاحت کی گئی کہ معاشرے کے قائدین کے لئے ناصح و خیر خواہ کا لازم ھونا، چون و چرا کے بغیر اطاعت گزار و فرمان بردار ہونے سے کوئی تعارض و تضاد نہیں رکھتا ہے۔

ولایت کے لئے دوسری حریم جو قرآن بیان کر رہا ہے، ولایت کے احترام کا لازم ہونا ہے، قرآن مجید کا پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں صدا کو بلند نہ کرنے کا حکم دینا احترام ولایت کے مصادیق میں سے ہے۔

--------------

118. بحار الانوار، ج68، ص164۔


(یا ایها الذین آمنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النّبی ولا تجهروا اله بالقول کجهر بعضکم لبعض )(119)

اے صاحبان ایمان خبردار! تم اپنی آواز کو نبی کی آواز پر بلند نہ کرنا، اور ان سے اس طرح بلند آواز میں بات نہ کرنا جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ھو۔

دوسری آیت میں بھی اسی قسم کے مفھوم کو پیش کیا گیا ہے۔

(لا تجعلوا دعاء الرسول بینکم کدعاء بعضکم بعضاً) (120)

مسلمانوں! خبردار رسول کو اس طرح نہ پکارو۔ جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ھو۔

فوق کی دونوں آیات صاحب ولایت سے مومنین کے صحیح برتاؤ و رفتار کو بیان کرتے ہوئے پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منافقین کے زشت برتاؤ و روش کو بھی بطور کنایہ پیش کر رھی ہے، صاحب ولایت کے احترام کو تباہ کرنے کے سلسلہ میں منافقین کا ایک اور حربہ، صاحب ولایت (ولی) کو سادہ لوحی کا خطاب دینا ہے۔

(ومنهم الذین یوذون النبی و یقولون هو اذن) (121)

ان میں سے وہ بھی ہیں جو پیامبر کو اذیت دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ تو صرف کا ن والے خوش خیال و سادہ لوح) ہیں۔

ولایت کی حریم کو پامال کرنے کے لئے منافقین کی ایک دوسری روش صاحب ولایت (پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے افعال و رفتار پر تنقید کرنا تھا۔

-----------

119. سورہ حجرات/2۔

120. سورہ نور/63۔ اس آیت کے لئے دو تفسیر بیان کی گئی ہے، ایک وہ جو متن میں موجود ہے دوسرے وہ جس کی علامہ طباطبائی تاکید کرتے ہیں کہ یہ آیت پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کے سلسلہ میں ہے اور مفھوم یہ ہے کہ جس وقت پیامبر (ص) تم کو کسی امر کے لئے بلائیں چونکہ دعوت الہی رھبر کی طرف سے ہے لھذا پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کو ایک معمولی و عادی دعوت نہیں سمجھنا چاھئے۔

121. سورہ توبہ/61۔


حرقوص ابن زھیر جو بعد میں خوارج کا سرغنہ قرار پایا جنگ حنین کے غنائم کی تقسیم کے وقت رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اعتراض کرتے ہوئے کھا: عدالت سے تقسیم کریں حضرت نے فرمایا: مجھ سے عادل تر کون ھے؟ اس سوء ادب کی بنا پر ایک مسلمان نے اس کو ھلاک کرنا چاھا، پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑدو اس کے کچھ مرید ہوں گے اور اتنی عبادت کریں گے کہ تم لوگ اپنی عبادت کو کم حیثیت سمجھو گے لیکن اس قدر عبادت کرنے کے باوجود دین سے خارج ہوجائیں گے(122) حرقوص ابن زھیر نھروان میں امام علی علیہ السلام کے ھاتھوں واصل جھنم ہوا۔(123)

ذیل کی آیت حرقوص کی حرکت کی مذمت میں اور بعض منافقین کے لئے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قتل کرنا چاہتے تھے نازل ھوئی ہے۔

(ومنهم من یلمزک فی الصدقات فان اعطوا منها رضوا وان لم یعطوا منها اذا هم یسخطون) (124)

اور ان میں سے وہ بھی ہیں جو خیرات کے بارے میں الزام لگاتے ہیں کہ انھیں کچھ مل جائے تو راضی ہوجائیں گے، اور نہ دیا جائے تو ناراض ہوجائیں گے۔

---------------

122. الدرالمنثور، ذیل آیت58 سورہ توبہ۔

123. اسد الغابہ، ص1، ص474۔

124. سورہ توبہ 58: لمز ونصح کے معنی میں فرق ہے لمز کینہ پروری کے بناء پر عیب یابی کے لئے ہوتا ہے تا کہ شخصیت کو نظروں سے گرا دیا جائے، کھا جاتا ہے۔


منافقین کی دوسری سیاسی خصوصیتیں

موقع پرست ھونا

قرآن کی نظر کے مطابق منافقین کی سیاسی خصائص میں سے ایک موقع پرست ہونا ہے، ان کے لئے صرف اپنے منافع اھمیت کے حامل ھوتے ہیں، نفاق کی طرف مائل ہونے کی وجہ بھی یھی ہے، موقع پرستی کا آشکار و ظاہر مصداق کہ جس کے چند مورد کی قرآن نے تصریح کی ہے۔

غنائم کو حاصل کرنے اور میدان نبرد و جنگ سے فرار کرنے میں موقع پرستی کے ماھر تھے، جس وقت مسلمین کامیاب ھوتے تھے بلا فاصلہ خود کو مسلمانوں کی صف میں پھنچا دیتے تھے تاکہ جنگ کے غنائم سے بھرہ مند ھوسکیں اور جس وقت مسلمان شکست وناکامی سے دوچار ھوتے تھے، فوراً اسلام کے دشمنوں سے کہتے تھے، کیا تم سے نہیں کھا تھا کہ اسلامی حکومت نام نھاد حکومت ہے، اور تم کامیاب ھوگے، ھمارا حصہ حوالہ کردو، قرآن مجید منافقین کی موقع پرستیں کو ان الفاظ میں بیان کر رہا ہے۔

الذین یتربصون بکم فان کان لکم فتح من الله قالوا الم نکن معکم وان کان للکافرین نصیب قالوا الم نستحوذ علیکم و نمنعکم من المؤمنین فالله یحکم بینکم یوم القیامة و لن یجعل الله للکافرین علی المومنین سبیلا) (125)

اور یہ منافقین تمھارے حالات کا انتظار کرتے رہتے ہیں کہ تمھیں خدا کی طرف سے فتح نصیب ہو تو کہیں کیا ہم تمھارے ساتھ نہیں تھے اور اگر کفار کو کوئی حصہ مل جائے گا تو ان سے کہیں گے کہ کیا ہم تم پر غالب نہیں آگئے تھے اور تمھیں مومنین سے بچا نہیں لیا تھا، تو اب خدا ہی قیامت کے دن تمھارے درمیان فیصلہ کرے گا اور خدا کفار کے لئے صاحبان ایمان کے خلاف کوئی راہ نہیں دے سکتا۔

---------------

125. سورہ نساء/ 141، نکتہ قابل توجہ یہ ہے کہ اس آیت میں مسلمانوں کی کامیابی کو فتح سے تعبیر کیا گیا ہے جب کہ کفار کی کامیابی کو نصیب سے تعبیر کیا گیا، اس بات کی طرف اشارہ ہے اگر کفار کو کامیابی ملے تو وہ وقتی اور محدود و پائدار نہیں ہے، لیکن دائمی فتح مومنین کے لئے ہے اس آیت کے ذیل میں اسی نکتہ کی تصریح ھورھی ہے کہ کفار مومنین پر مسلط نہیں ھوسکتے۔


موقع پرست اشخاص مشکلات و رنج میں ھمراہ نہیں ھوتے، لیکن فتح و ظفر کی علامت ظاہر ھوتے ہی ان کے چہرے نظر آنے لگتے ہیں اور اپنے سھم و حقوق کا مطالبہ ہونے لگتا ہے، ذیل کی آیت واضح طریقہ سے ان کی موقع پرستی کو بیان کر رھی ہے۔

(اشحّة علیکم فاذا جاء الخوف رأیتهم ینظرون الیک تدور اعینهم کالذی یغشی من الموت فاذا ذهب الخوف سلقو کم بألسنة حداد اشحة علی الخیر) (126)

یہ تم سے جان چراتے ہیں اور جب خوف سامنے آجائے گا تو آپ دیکھیں گے کہ آپ کی طرف اس طرح دیکھیں گے کہ جیسے ان کی آنکھیں یوں پھر رھی ہیں جیسے موت کی غشی طاری ہو اور جب خوف چلا جائے گا تو آپ پر تیز زبانوں کے ساتھ حملہ کریں گے اور انھیں مال غنیمت کی حرص ھوگی۔

سورۂ احزاب کی آیت نمبر بیس میں بھی ان کے سخت، حساس، بحران زدہ لحظات سے فرار کو اچھے طرز سے بیان کیا گیا ہے۔

(یحسبون الأحزاب لم یذهبوا و ان یأت الأحزاب یودو لو أنهم بادون فی الاعراب یسئلون عن انبائکم ولو کانوا فیکم ما قاتلوا الا قلیلا)

یہ لوگ ابھی تک اس خیال میں ہیں کہ کفار کے لشکر گئے نہیں ہیں اور اگر دوبارہ لشکر آجائیں تو یہ یھی چاھیں گے کہ کاش دھاتیوں کے ساتھ صحراؤں میں آباد ھوگئے ھوتے اور وھاں سے تمھاری خبریں دریافت کرتے رہتے اور اگر تمھارے ساتھ ھوتے بھی تو بھت کم ہی جھاد کرتے۔

---------------

126. سورہ احزاب/ 19۔


مذکورہ دونوں آیات (19، 20 سورہ احزاب) سے استفادہ ہوتا ہے کہ منافقین مسلمانوں کے حق میں فوق العادہ بخیل ہیں، اہل اسلام کے لئے کسی قسم کی ھمراھی کرنے کے لئے حاضر نہیں، کسی بھی قسم کی مالی، جانی، فکری مساعدت سے گریز کرتے ہوئے بالکل غیرت برتتے ہیں جب ایثار و شہوت کی بات آتی ہے تو خلاف عادت بزدلی کا شکار ہوجاتے ہیں، قلب و دل کھو بیٹھنے کا امکان رہتا ہے لیکن جب خطرات دور ہوجاتے ہیں تو مال غنیمت کے لئے میدان میں حاضر ہوجاتے ہیں یہ چاہتے ہیں کہ ہمیشہ حالات کا نظارہ کرتے رھیں دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ تالاب کے کنارہ بیٹھے رہتے رھیں اور حالات کا جائزہ لیتے رھیں اور قدم اس وقت رکھتے ہیں جب مطمئن ہوجائیں کہ خطرہ ٹل چکا ہے، ان کا ہم و غم مال غنیمت کا حصول ھے(127)

تاریخ سے نقل کیا جاتا ہے کہ پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ خیبر کے موقع پر فرمایا: خیبر کے غنائم ان اشخاص کے لئے ہیں جو حدیبیہ اور اس کے سخت شرائط میں شریک تھے منافقین نے حدیبیہ میں شرکت نہیں کی تھی وہ جنگ خیبر میں اس فکر کے ساتھ کہ مال غنیمت زیادہ ملے گا شریک ہونا چاہتے تھے، پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس فرمان کے ذریعہ، ان کی موقع پرستی کو بے آبرو کر کے رکھ دیا، اگر چہ منافقین نے پیامبر عظیم الشان و مسلمانوں پر نکتہ چینی و اعتراضات کرتے ہوئے حسادت ورزی کے الزام لگائے ذیل کی آیت اسی سلسلہ میں نازل ھوئی ھے:

--------------

127. "سلقوکم، سلق" مادّہ سے ہے اس کے معنی، کسی چیز کو غصہ سے کھولنا ہے خواہ یہ کھولنا ھاتھ سے ہو یا زبان سے، یہ تعبیر ان لوگوں کے لئے استعمال ھوئی ہے جو آمرانہ و طالبانہ طرز سے چیختے ہیں اور کسی چیز کو طلب کرتے ہیں۔ السنہ حداد تیز و طرار زبان خشن ہونے کے لئے کنایہ ہے۔


(سیقولون المخلفون اذا انطلقتم الی مغانم لتاخذوها ذرونا نتبعکم یریدون ان یبدلوا کلام الله قل لن تتبعونا کذلکم قال من قبل فسیقولون بل تحسدوننا بل کانوا لا یفقهون الا قلیلا) (128)

عنقریب یہ پیچھے رہ جانے والے تم سے کہیں گے جب تم مال غنیمت لینے کے لئے جانے لگو گے کہ اجازت دو ہم بھی تمھارے ساتھ چل چلیں یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے کلام کو تبدیل کردیں تو تم کہدو کہ تم لوگ ھمارے ساتھ نہیں آسکتے ھو، اللہ نے یہ بات پہلے سے طے کردی ہے پھر یہ کہیں گے کہ تم لوگ ہم سے حسد رکھتے ھو، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ بات کو بھت کم سمجھ پاتے ہیں۔

اگر ہم اوّل اسلام سے اب تک کی تاریخ کو ملاحظہ کریں تو اس نکتہ کی طرف ضرور متوجہ ھونگے کہ مسلمانوں کو اب تک جو ھزیمت اٹھانی پڑی ہے اس کے اسباب و علل، اہل اسلام کی صفوف میں موقع پرست افراد کی در اندازی کا نتیجہ ہے۔

بنی امیہ جس نے ایک ھزار سال، اسلامی مملکت پر حکومت کی اور اپنے ادوار حکومت میں شرم آور ترین افعال اور قبیح و زشت کارنامے کے مرتکب ہوئے اسلام میں موقع پرست اشخاص کے نفوذ کا نتیجہ تھا۔

ابو سفیان جس کے پاس فتح مکہ کے بعد اظھار اسلام کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا جس کے جسم و روح میں اسلام نام کی کوئی شی نہ تھی وہ موقع پرستی کی بنا پر حکومت کے عالی منصب میں نفوذ کرتا چلا گیا، یھاں تک کہ عثمان کے زمانے میں بھت زیادہ ہی قدرت و اقتدار کا حامل تھا، بلکہ اس سے قبل ہی شام کی حکومت اس کے فرزندوں کے ھاتھ میں تھی۔

---------------

128. سورہ فتح/15۔


بنی عباس کی بھی موقع پرستی، انقلاب کے تمام طرفدار حضرات کے لئے ایک عبرت کا مقام ہے، بنی عباس نے اہل بیت اطھار علیھم السلام کی محبوبیت و آل محمد علیھم السلام کی رضایت کے نام پر قیام کر کے لوگوں کو اپنے اطراف جمع کر لیا اور جب اپنے اس ھدف میں کامیاب ھوگئے تو اہل بیت اطھار پر ویسے ہی مظالم کئے جیسے بنی امیہ کرتے تھے تقریباً شیعوں کے نصف ائمہ کی تعداد، بنی امیہ اور نصف ائمہ، بنی عباس کے ذریعہ شھید کئے گئے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام آغاز ہی سے اس موقع پرستی کی تحریک کو پھچانتے تھے جس وقت ابو مسلم نے آپ کے پاس خط لکھا کہ آپ تیار رھیے ہم خلافت آپ کے حوالہ کرنا چاہتے ہیں امام نے فرمایا:

((ما انت من رجالی ولا الزمان زمانی)) (129)

نہ تم میرے افراد میں سے ہو اور نہ ہی زمانہ میرا زمانہ ہے۔

جس وقت ابو سلمہ خلال، بنی عباس کے طرفدار نے اس مضمون کا خط امام کے لئے بھیجا آپ نے نامہ جلاتے ہوئے فرمایا:

((مالی و لأبی سلمة هو شیعة لغیری)) (130)

مجھے ابو سلمہ سے کیا کام؟ وہ تو کسی اور کا تابع اور پیرو ہے۔

-------------

129. الامام الصادق و المذاھب الاربعہ، ج3 و 4، ص 312۔

130. ملل و نحل شھرستانی، ج1، ص241؛ الامام الصادق و المذاھب الاربعہ،ج3 و4، ص314۔


تاریخ معاصر میں بھی مشروطیت تحریک میں موقع پرستوں کے نفوذ کی بنا پر تاریخ درد ناک حوادث کو اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے، مشروطیت تحریک اور قیام کو وجود میں لانے والے وحید خراسانی، شیخ فضل اللہ مازندرانی و شیخ فضل اللہ نوری جیسے عظیم و ممتاز علماء تھے یہ علماء تھے جو سخت و مشکل مراحل میں میدان میں حاضر اور تحریک کو کامیابی کی طرف لے جارھے تھے، جیسے ہی کامیابی کے آثار نمایاں ہونے لگے مغرب زدہ افراد، آزادی اور عدم استبداد کا نعرہ بلند کرتے ہوئے موقع پر حاضر ھوگئے، علماء پر تمھت کی بارش کرتے ہوئے، مشروطیت کو اس کے صحیح راہ و روش سے منحرف کر بیٹھے، اس وقت حالات یہ ھوگئے کہ، ماحصل مشروطہ، استبداد سے لبریز پھلوی کی پچاس سالہ حکومت تھی۔

شیخ فضل اللہ نوری جو مشروطہ کے بانی حضرات میں سے تھے، مشروطہ کی مخالفت کے جرم میں تختہ دار پر لٹکادئے گئے اور شھادت کے بعد ان کے بدن و جسم سے وہ بے حرمتی کی گئی جسے قلم بیان کرنے سے قاصر ھے(131)

آخوند خراسانی اور انجمن کے دیگر قائدین مخفیانہ شھید کر دئے گئے موقع پرست تحریک کو اصل ھدف و مقصد سے موڑ کر اپنے منافع کی خاطر تحریک پر قابض ھوگئے۔

صنعت پیٹرولیم کو ملّی کرنے کی تحریک میں مرحوم آیت اللہ کاشانی مبارزے کے میدان میں وارد عمل ہوئے ہم عصر بزرگ فقھاء جیسے آیت اللہ محمد تقی خوانساری، آیت اللہ سید محمد روحانی، سے فتاوی حاصل کرکے، اس تحریک کے لئے معاشرہ کے افراد کی حمایت کو منظّم کیا، لیکن اس تحریک کی کامیابی کے بعد موقع پرست، تعصب قومی کے دلدادہ (مذھب و روحانیت کے مخالف) حاضر و آمادہ دستر خوان پر براجمان ھوگئے، شکر یہ سپاس گذاری کے بجائے نمک کھاکر، نمک حرامی کے مصادیق افعال انجام دینے لگے۔

---------------

131. فضل اللہ نوری و مشروعیت: رویاروئی دو اندیشہ، ص251 و 255۔


آیت اللہ کاشانی کے محضر میں بدترین و بیھودہ ترین حرکات انجام دیتے تھے، آپ کو گوشہ نشینی پر مجبور کردیا گیا، شھید نواب صفوی اور آپ کے ہم رکاب جو اس تحریک کو کامیاب بنانے میں اہم رول ادا کئے تھے، مصدّق کے مسند قدرت پر تکیہ دینے کے بعد زندان کے حوالہ کر دئے گئے۔

آیت اللہ شھید مطھری قدس سرہ نے مختلف تحریکوں میں، موقع پرستوں کے نفوذ کے سلسلہ میں عمیق و کامل نکات کو عرض کیا ہے جس کو نقل کرنا بھت فائدہ مند ہے۔

ایک تحریک کے اندر، موقع پرست افراد کا نفوذ اور رخنہ اس تحریک کے لئے عظیم آفت و مصیبت ہے، تحریک کے ارکان و قائدین کا اہم فریضہ ہے کہ اس قسم کے افراد کے نفوذ و رخنہ کے راستے کو مسدود کردیں، جو تحریک بھی اپنے اول مرحلہ کو طے کررھی ہوتی ہے اس کی مشکلات و دشواری وغیرہ صاحب ایمان اور اخلاص و فداکار افراد کے کاندھوں پر ہوتی ہے لیکن جیسے ہی اس تحریک کے ثمرہ دینے کا وقت آتا ہے یا اس کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں، گلستان تحریک کی کلیاں کھلنے لگتی ہیں، موقع پرست افراد کے سرو گردن دکھائی دینے شروع ہوجاتے ہیں، جیسے جیسے دشواری میں کمی آنے لگتی ہے اور ثمرے کے استفادہ کا وقت نزد یکتر ہوتا رہتا ہے موقع پرست و فرصت طلب پہلے سے کہیں زیادہ تحریک اور انجمن کے لئے سینہ چاک کر کے میدان عمل میں وارد ھوتے ہیں اور آھستہ آھستہ تحریک کے سابقین، انقلابی، فداکار مومن اور دل سوز کو میدان سے بے دخل کرتے چلے جاتے ہیں، اس نوعیت کے اقدام اس طرح عام ھوچکے ہیں کہ مثل کے طور پر کھا جانے لگا ہے انقلاب فرزند خور ہے گویا انقلاب کی خاصیت یہ ہے کہ جیسے ہی کامیابی سے ہم کنار ہوا اپنے فرزند (ممبران) کو ایک ایک کر کے ختم کردیتا ہے، لیکن انقلاب فرزند خور نہیں ہے بلکہ موقع پرست افراد کے رخنہ و نفوذ سے غفلت ورزی ہے جو حادثہ کو وجود میں لاتا ہے کہیں دور تلاش کرنے کی ضرورت نہیں، مشروطیت تحریک کے انقلاب کو کون سے افراد نے پایۂ تکمیل تک پھنچایا؟


کامیابی دلانے کے بعد کیسے کیسے چہرے منصب اور مقام پر قابض ہوئے اور سر انجام کیا ہوا؟ آزادی طلب مجاھدین، قومی سر براہ و قائدین ایک گوشہ میں ڈال دئے گئے فراموشی کے حوالے کردئے گئے اور آخرکار گرسنگی و گمنامی کی حالت میں سپرد خاک کردئے گئے لیکن وہ فلان الدولہ وغیرہ------ جو کل تک استبداد و ڈکٹیر کے پرچم تلے انقلابی طاقتوں سے برسر پیکار تھے، نیز مشروطیت تحریک کے ممبران کی گردنوں میں پھانسی کی رسی ڈال رہے تھے، وہ صدارت عظمی کے منصب پر فائز ھوگئے سر انجام مشروطیت تحریک ڈکٹیر شپ میں تبدیل ھوکر رہ گئی۔

موقع پرستی کا منحوس اثر اسلام کی اول تاریخ میں بھی آشکار ہوا عثمان کے دور خلافت میں موقع پرست افراد نے صاحبان ایمان و اسلام کے مقام و مقاصد کو اپنے ھاتھوں میں لے لیا، رسول کے ذریعہ مدینہ سے اخراج شدہ فرد وزیر بن گئے اور کعب الاحبار کردار والے اشخاص مشاور، ابوذر و عمار صفت والے یا تو شھر بدر کردئے گئے یا خلافت کے قدموں تلے روند ڈالے گئے۔

کیوں قرآن فتح مکہ کے قبل کے جھاد، و انفاق میں اور فتح مکہ کے بعد کے انفاق و جھاد میں فرق قرار دے رہا ہے، در حقیقت قرآن فتح مکہ کے قبل کے مومن و منفق اور فتح مکہ کے بعد مومن منفق کے درمیان تفریق کا قائل ہے۔

(لا یستوی منکم من انفق من قبل الفتح و قاتل اولئک اعظم درجة من الذین انفقوا من بعد و قاتلوا و کلا وعدا الله الحسنی والله بما تعملون خبیر) (132)

اور تم میں فتح مکہ سے پہلے انفاق کرنے والا اور جھاد کرنے والا اس شخص کے جیسا نہیں ھوسکتا ہے کہ جس نے فتح مکہ کے بعد انفاق اور جھاد کیا ہے پہلے جھاد کرنے والے کا درجہ بہت بلند ہے اگر چہ خدا نے سب سے نیکی کا وعدہ کیا ہے اور وہ تمھارے جملہ اعمال سے باخبر ہے۔

-------------

132. سورہ حدید/10۔


راز مطلب واضح ہے فتح مکہ جو کچھ بھی تھا دشواری، مشکلات، مشقت کا تحمل ہی تھا فتح مکہ سے قبل ایمان، انفاق و جھاد، اخلاص ترو بے شائبہ تر تھا موقع پرستی کی روح و فکر سے بعید تھا، برخلاف فتح مکہ کے بعد کے انفاق، ایمان و جھاد، ان میں اخلاص بی شایبہ نہ تھا۔

تحریک کو ایک اصلاح طلب فرد آغاز کرتا ہے موقع پرست نہیں، اسی طریقہ سے تحریک کے مقاصد کو ایک اصلاح طلب مومن آگے بڑھا سکتا ہے نہ موقع پرست کہ ہمیشہ اپنے منافع کے فکر و خیال میں رہتا ہے۔

بھر حال موقع پرست افراد کے نفوذ و رخنہ سے مبارزہ و معرکہ آرائی ہی (فریب دینے والے ظواھر کے باوجود) ایک بنیادی شرط ہے تاکہ ایک تحریک اپنے اصلی راستہ و ھدف پر گام زن رھے(133)

انقلاب اسلامی کے اصلی معمار حضرت امام خمینی (رح) بھی اس خطرے کو محسوس کرتے ہوئے، نیز تاریخ ماضی سے عبرت حاصل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

ہمیشہ موقع پرست اور سوء استفادہ کرنے والوں سے ھوشیار رھنا چاھئے، اور ان کو فرصت نہیں دینا چاھئے کہ کشتی انقلاب اور اس کے چھوٹے موٹے وسائل کی بھی باگ ڈور اپنے ھاتھوں میں لے سکیں، آنے والی نسلوں کے لئے آپ کی وصیت و نصیحت یہ ہے کہ:

-------------

133. نھضتھای اسلامی در صد سال اخیر، ص96۔99۔


میں تمھارے درمیان میں رھوں یا نہ رھوں تم سب لوگوں کو وصیت کر رہا ہوں کہ موقع و فرصت نہ دینا کہ اسلامی انقلاب نا اہل و نامحرم (غیر) افراد کے ھاتھوں میں چلا جائے(134) ۔

امام خمینی (رح) مشروطہ تحریک سے عبرت گیری کی ضرورت کو پیش کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

اگر علماء، ملت، خطبا، دانشور، روشنفکر، صحافی اور متعھد حضرات سستی کریں اور مشروطہ کے واقعات سے عبرت حاصل نہ کریں تو انقلاب انھیں حالات سے دوچار ہوگا جس سے مشروطہ تحریک دوچار ھوئی تھی(135)

صاحبان غیرت دینی کی تحقیر

ادوار تاریخ میں انبیاء کے دشمنوں کی سیاسی رفتار کی ایک خصوصیت، متدین غیرت دار افراد کی تحقیر ہے حضرت نوح کے دشمن نوح کی پیروی کرنے والے افراد کو پست، حقیر، وکوتاہ فکر سمجھتے تھے۔

(وما نریک اتبعک الا الذین هم ارا ذلنا بادی الرای) (136)

اور تمھارے اتباع کرنے والوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ ھمارے پست طبقہ کے سادہ لوح افراد ہیں۔

----------------

135. کلمات قصار پند ھاو حکمتھا، ص176۔

136. سورہ ھود/ 27۔


حضرت نوح علیہ السلام کے دشمن آپ کی پیروی نہ کرنے کی توجیہ و تاویل کرتے ہوئے یہ عذر پیش کرتے تھے کہ آپ کی پیروی کرنے والے پست انسان ہیں اور ہم ان کے ساتھ ھماھنگ معاسرت نہیں کرسکتے۔

(قالوا أنومن واتبعک الارذلون) (137)

ان لوگوں نے کہا کہ ہم آپ پر کس طرح ایمان لے آئیں جب کہ آپ کے سارے پیروکار پست طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

پیامبر اسلام کی تاریخ میں بھی اسی قسم کے واقعات ھمیں دکھائی دیتے ہوئے نظر آتے ہیں قریش کے بزرگان اپنے جاھل افکار کی بنا پر مستضعف مومنین کے پہلو میں بیٹھنے کو اپنے لئے ننگ و عار سمجھتے تھے، پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیشکش کی کہ آپ ان افراد کو اپنے سے دور کردیں تو ہم آپ سے مل بیٹھیں گے اور آپ سے استفادہ کریں گے، کفار قریش کی اس پیشکش کے بعد ذیل کی آیت نازل ھوئی اور پیامبر اسلام کو حکم دیا گیا کہ بطور قاطع کافروں کی پیشکش کو ٹھکرادیں۔

واصبر نفسک مع الذین یدعون ربهم بالغدٰوة والعشی یریدون وجهه ولا تعد عیناک عنهم ترید زینة الحیوٰة الدنیا ولا تطع من اغفلنا قلبه عن ذکرنا واتبع هواه وکان امره فرطاً) (138)

اور اپنے نفس کو ان لوگوں کے ساتھ صبر پر آمادہ کرو جو صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں اور اسی کی مرضی کے طلبگار ہیں اور خبردار تمھاری نگاھیں ان کی طرف سے نہ پھر جائیں کہ نزندگانی دنیا کی زینت کے طلبگار بن جاؤ اور ھرگز اس کی اطاعت نہ کرنا جس کے قلب کو ہم نے اپنی یاد سے محروم کردیا ہے اور وہ اپنی خواہشات کا پیروکار ہے اور اس کا کام سراسر زیادتی کرنا ہے۔

--------------

137. سورہ شعراء/111۔

138. سورہ کھف/ 28۔


تحقیر اور سفاھت کی تھمت انبیاء حضرات کے ماننے والوں تک محدود نہیں بلکہ خود انبیاء حضرات بھی دشمنوں کی طرف سے سفاھت کی تھمت کے شکار ھوتے تھے، قوم عاد صرحتا اور تاکید کے ساتھ حضرت ھود علیہ السلام کو سفیہ کھتی تھی۔

(قال الملاء الذین کفروا من قومه انا لنراک فی سفاهة) (139)

قوم میں سے کفر اختیار کرنے والے رؤسا نے کہا کہ ہم تم کو حماقت میں مبتلا دیکھ رہے ہیں۔

انبیاء و صاحبان ایمان کے دشمنوں میں سے بعض دشمن منافق ہیں جو دونوں روش کا استعمال کرتے ہیں، رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بھی تحقیر کرتے ہیں اور مومنین کی بھی، منافق پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سادہ لوح اور خوش خیال (زود باور) کہتے تھے اور مومنین کو سفھاء میں شمار کرتے تھے(140)

(واذا قیل لهم آمنوا کما آمن الناس قالوا انؤمن کما امن السفهاء الا انهم هم السفهاء ولکن لا یعلمون) (141)

جب ان سے کھا جاتا ہے کہ دوسرے مومنین کی طرح ایمان لے آؤ تو کہتے ہیں کیا ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان اختیار کریں؟ حالانکہ اصل میں یھی بیوقوف ہیں اور انھیں اس کی واقفیت بھی نہیں ہے۔

لیکن چونکہ منافقین، دین و ایمان کا اظھار کرتے تھے لھذا پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت میں زیادہ اعتراضات و تکذیب کی جرأت نہیں رکھتے تھے بلکہ حضرت کی رفتار و گفتار اور اخلاقی خصائص میں عیب جوئی کیا کرتے تھے، اسی طریقہ سے مومنین کی تحقیر و توھین میں ان کی دینی و سیاسی کار کردگی کو مورد تنقید قرار دیتے تھے، تاکہ اس تنقید کے ذریعہ ان کے اصل ایمان کا مضحکہ و تمسخر کیا جاسکے۔

-------------

139. سورہ اعراف/66۔

140. سورہ توبہ/ 16۔

141. سورہ بقرہ/ 13۔


وہ افراد جو جنگ کے سلسلہ میں زیادہ خدمات انجام دے چکے تھے، ان کی تحقیر کی نوعیت کچھ اور تھی اور وہ افراد جو اپنی بے بضاعتی کی بنا پر کم خدمات انجام دیتے تھے ان کی دوسرے طریقہ سے توھین کرتے تھے۔

(الذین یلمزون المطوعین من المؤمنین فی الصدقات والذین لا یجدون الا جهدهم فیسخرون منهم سخر الله منهم ولهم عذاب الیم) (142)

جو لوگ صدقات میں فراخ دلی سے حصہ لینے والے مومنین اور ان غریبوں پر جن کے پاس ان کی محنت کے علاوہ کچھ نہیں ہے الزام لگاتے ہیں اور پھر ان کا مزاق اڑاتے ہیں، خدا ان کا بھی مزاق بنادے گا اور اس کے پاس بڑا درد ناک عذاب ہے۔

صاحبان ایمان کی تحقیر و توھین کرنے میں منافقین کا اساسی ھدف یہ ہے کہ ان کی دینی غیرت و حیا کو سست کرتے ہوئے دینی فرائض کے انجام دینے کی حساسیت و اشتیاق کو مومنین سے سلب کر لیا جائے، یہ بات سب کے لئے آشکار ہے کہ جب تک مسلمانوں میں بے لوث دینداری کے جذبات، موجزن رھیں گے اسلامی اقدار کی توھین کے مقابلہ میں عکس العمل کا اظھار کرتے رھیں گے، لھذا منافقین اپنے اصلی ھدف و مقصد میں، جو کہ دین کی حاکمیت کو پامال کرنا ہے، کامیاب نہیں ھوسکتے منافقین، مومنین اور ان کے دینداری کے مظاہر کی تحقیر و توھین کے ذریعہ کوشش کرتے ہیں کہ دین و مذہب کی حساسیت کو ختم یا کم کردیں، دین و اسلامی اقدار کو فردی و شخصی رفتار کے دائرہ میں محدود کردیں تاکہ اس طریقۂ و زاویہ سے اسلامی حکومت کو تسخیر اور دین کے چھرہ کو مسخ کرسکیں۔ اسی بنیاد پر منافقین اغیار و بیگانہ سے روابط رکھے ہوئے ہیں اور دوستانہ سلوک کرتے ہیں، لیکن اپنوں اور مومنین سے غضب ناک ظلم و بربریت کا سلوک کرتے ہیں بالکل ان صفات کے مخالف ہیں جسے خداوند متعال مومنین کے لئے ترسیم کر رہا ہے، خدا مومنین کے لئے (رحماء بینھم و اشداء علی الکفار) تعریف کر رہا ہے لیکن منافقین کی بہ نسبت اشداء، اغیار کی بہ نسبت رحماء ھیں(143)

--------------

142. سورہ توبہ/ 79۔

143. سورہ فتح/ 29۔ (محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء الکفار رحماء بینھم) محمد خدا کے فرستادہ ہیں اور وہ لوگ جوان کے ساتھ ہیں کفار کے مقابلہ میں سخت اور اپنوں کے درمیان مھربان ہیں۔


وحدت اور ھمبستگی

منافقین کی سیاسی رفتار کی خصوصیت یہ ہے کہ اسلامی نظام کی حاکمیت و اسلام پر ضرب لگانے کے لئے وہ ایک دوسرے سے مرتبط ہیں وہ لوگ اسلام کو آسیب پزیر بنانے کے لئے اور دینی حاکمیت کو ضعیف کرنے کے لئے اپنے داخلی اختلافات سے ھاتھ روک رکھے ہیں اور اسلام کے مقابلہ میں متحد ہوجاتے ہیں۔

(المنافقون والمنافقات بعضهم من بعض) (144)

منافق مرد اور منافق عورتیں آپس میں سب ایک دوسرے سے ہیں۔

اس وحدت و یکجھتی کی آبیاری کے لئے سازشی مرکز بناتے ہیں اور اسلام کے خلاف کارکردگی کے لئے جلسات بھی تشکیل دیتے ہیں، ہر زمانہ کے سازشی مراکز اس عصر و زمان کے تناسب سے ہوتا ہے، اس کا ایک نمونہ مسجد ضرار کی تعمیر ہے، کہ اس قضیہ کو بیان کیا جاچکا ہے، وہ لوگ چاہتے تھے کہ مسجد کے ذریعہ مومنین کے درمیان تفرقہ کی ایجاد، اور دشمن کے لئے جاسوسی کریں اور مسلمین پر ضربہ وارد کرنے، نیز کفر کی ترویج کے لئے استفادہ کریں کہ رسوا و ذلیل کردئے گئے، اس واقعہ سے استفادہ ہوتا ہے کہ منافقین اپنے منظّم پروگرام کے تحت دین کے خلاف ہر وسیلہ سے استفادہ کرتے ہیں، جہاں مناسب سمجھتے ہیں وھاں دین سے سوء استفادہ کرتے ہوئے حقیقی دین ہی کے خلاف استعمال کرتے ہیں، جیسے کہ ان کی خواہش تھی کہ مسجد بناکر، اس کے ذریعہ پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنگ کے لئے استعمال کریں، مختلف جلسات کی تشکیل و تنظیم، تاکہ اسلام کے خلاف پروگرام مرتب کیا جائے ان کی تشکیلاتی افعال میں سے ہے۔

--------------

144. سورہ توبہ/67۔


قرآن باصراحت اعلان کر رہا ہے کہ منافقین روز میں پیامبر گرامی کی سخن و گفتگو سماعت کرتے تھے، لیکن شب میں سازشی جلسہ کی تشکیل کر کے پیامبر گرامی (ص) کے رھنمود و گفتگو کے مقابلہ کی راھیں تلاش کرتے تھے۔

(ویقولون طاعة فاذا برزوا من عندک بیت طائفة منهم غیر الذین تقول والله یکتب ما یبیتون) (145)

یہ لوگ پہلے اطاعت کی بات کرتے ہیں پھر جب آپ کے پاس سے باہر نکلتے ہیں تو ایک گروہ اپنے قول کے خلاف تدبیر کرتا ہے اور خدا ان کی باتوں کو لکھ رہا ہے۔

وہ جلسہ جو جنگ تبوک کے سلسلہ میں سویلم یھودی کے گھر میں تشکیل پایا تھا تاکہ لوگوں کو جنگ تبوک سے روکنے کے لئے راہ و روش کو پیدا کیا جاسکے، ان ھزاروں سازشی جلسے و پروگرام میں سے ایک ہے جسے منافقین انجام دیتے تھے۔(146)

منافقین سے مقابلہ کرنے کے لئے، یکجھتی و اتحاد اور پروگرام مرتب کرنے کی ضرورت ہے یکجھتی ایسی ہو جس کا ھدف و مقصد فرائض کی انجام دھی اور سازش سے مقابلہ کرنا ھو، یکجھتی کے اھداف اسلامی معاشرے میں وحدت و اتحاد کے لئے میدان ھموار کرنا ھو، تاکہ دشمنوں کی سازش کو ناکام بنایا جاسکے، نہ کہ یکجھتی خود جدید اور ماڈرن بتوں میں تبدیل ھوجائے اور تفرقہ و اختلاف کے عوامل بن جائے(147)

اختلاف سلائق، کثرت آراء، اسلامی شایستگی و اقدار کے دائرے میں ہی رشد و نمو پاتی ہیں لیکن اگر خود پرستی، اھانت نمائی، آبروریزی وتھمت زنی وغیرہ------ خدا محوری، شرح صدر، تحمل و بردباری کی جگھیں لے لیں، تو صرف دشمن ہی اس سے فایدہ اٹھائیں گے جس کے نتیجہ میں اسلامی معاشرہ نا قابل تلافی اور ضرر سے دوچار ہوگا، جیسے اختلاف و تشتت اور پراکندگی نیز اسلام کی حاکمیت کی تضعیف وغیرہ-------- کہ دشمنان اسلام کی دیرینہ و بنیادی آرزو بھی یھی ہے۔

--------------

145. سورہ نساء/ 81۔

146. اس جلسہ کی تشکیل اور اس کے افشاء ہونے کے سلسلہ میں بیان کیا جاچکا ہے۔

147. سورہ روم/31، 32 (ولا تکون من المشرکین من الذین فرقوا دینھم وکانوا شیعاً کل حزب بما لدیھم فرحون) مشرکوں میں سے نہ ھوجانا، ان لوگوں میں سے جنھوں نے دین میں تفرقہ پیدا کیا ہے اور گروھوں میں بٹ گئے ہیں پھر ہر گروہ جو کچھ اس کے پاس ہے اسی پر مست ومگن ہے۔


حضرت علی علیہ السلام نے شھرانبار (عراق) میں معاویہ کے جاسوس و کار گزار کی دخالت اور تجاوز، اور افراد کے تجاوز کو رفع و دفع کرنے کے سلسلہ میں سستی برتنے کی بنا پر فرمایا:

((فیا عجباو الله یمیت القلب و یجلب الّهم من اجتماع هولاء القوم علی باطلهم و تفّرقکم عن حقکم)) (148)

کس قدر حیرت انگیز و تعجب خیز صورت حال ہے خدا کی قسم یہ بات دل کو مردہ بنادینے والی ہے اور ہم و غم کو سمیٹنے والی ہے کہ یہ لوگ اپنے باطل پر مجتمع اور متحدہ ہیں اور تم اپنے حق پر بھی متحد نھیں۔

اس نکتہ کی یاد آوری بھی ضروری ہے کہ منافقین کا اتحاد و وحدت وقتی اور مخصوص زمانہ کے لئے ہوتا ہے صرف اسلامی نظام کو ختم کرنے کے لئے ہے، لیکن جب اپنے مقاصد میں کامیاب ھوگئے یا صرف یہ کہ ابھی کامیابی کی خفیف علامت ہی سامنے آئی، تفرقہ و جدائی میں گرفتار ہونے لگتے ہیں اس لئے کہ ان کے اتحاد کا محور و مرکز باطل ہے اور ایسی وحدت کبھی بھی پائدار نہیں رہ سکتی ہے اس کا سبب یہ ہے کہ باطل ہمیشہ کمزور و ناپائدار ہے، باقی رھنے والی شی صرف حق ہے اور بس۔

-------------

148. نھج البلاغہ، خطبہ27۔


فتنہ پروری

منافقین کی سیاسی رفتار کی وہ خصوصیت جسے قرآن با صراحت بیان کر رہا ہے فتنہ پروری ہے منافقین اسلامی معاشرہ میں فتنہ و آشوب برپا کرنے کی فکر میں رہتے ہیں اور اس وسیلہ سے اپنے شوم و نحس مقاصد تک پھنچنا چاہتے ہیں۔

کلمۂ فتنہ کے لئے چند معانی ذکر کئے گئے ہیں لیکن آیات میں منافقین کی توصیف کرتے ہوئے جو قرائن استعمال کئے گئے ہیں، اس پر توجہ کرتے ہوئے، دو معانی منافقین کی فتنہ گری کے مفھوم کو بیان کرنے والے ھوسکتے ھیں(149)

پھلا احتمال: یہ ہے کہ منافقین کی فتنہ پروری کا ھدف اسلامی معاشرہ میں اختلاف کی ایجاد اور مسلمانوں کے اندر فتنے و افتراق کا پیدا کرنا ہے۔

دوسرا احتمال: یہ ہے کہ ان کی فتنہ گری کا مقصد شرک و بی ایمانی کی ترویج کرنا ہے، ذیل کی آیت میں فتنہ بہ معنی شرک کا مشاہدہ ہوتا ہے۔

(وقاتلوهم حتی لا تکون فتنة ویکون الدین کله لله) (150)

اور تم لوگ ان کفار سے جھاد کرو یھاں تک کہ فتنہ کا وجود نہ رہ جائے۔

---------------

149. اصل لغت میں فتنہ، وھاں استعمال ہوتا ہے جہاں سونے کو خالص کرنے کے لئے آگ میں قرار دیتے ہیں۔ قرآن میں فتنہ سات معانی میں استعمال ہوا ہے ان کا قدر مشترک (مشکل و سختی کا وجود ھے) ۔

150. سورہ انفال/39، سورہ بقرہ/193۔


یہ آیت دو مرتبہ قرآن میں نازل ھوئی ہے فتنہ ان آیات میں شرک کے معنی میں استعمال ہوا ہے، صاحب ایمان حضرات کو حکم دیا گیا ہے کہ جھان میں شرک و بت پرستی کے ریشہ کنی تک مبارزہ و جنگ کرتے رھیں۔

اکثر مفسرین حضرات منافقین کے لئے فتنہ گری کے معانی میں پہلے احتمال کو قبول کرتے ہیں اور فتنہ گری کے معانی کو (تفریق کلمہ) مسلمین کے درمیان تشتت و افتراق کو سمجھتے ہیں لیکن میری نظر میں دونوں احتمال کو جمع کیا جاسکتا ہے، اس بیان کے ذریعہ کہ، منافقین ایجاد و اختلاف کے ذریعہ مسلمین کی وحدت اور اسلامی حاکمیت کو تضعیف و سرنگوں کرتے ہوئے، شرک کے حامی اور طاغوتی حکومت کے خواستگار ہیں اس لئے کہ اسلام نیز حق کی حاکمیت ختم ھوجانے کے بعد طاغوت و باطل کے سواء رہ ہی کیا جاتا ہے۔

(فماذا بعد الحق الّا الضلال) (151)

حق کے بعد، گمراھی کے علاوہ کیا رہ گیا۔

بھر حال طول تاریخ میں مشاہدہ ہوتا ہے کہ انبیاء کے دشمنوں نیز استعمار گروں کا شیوۂ کار یہ رہا ہے کہ، اختلاف ڈالو اور حکومت کرو، جن لوگوں نے اس شیوہ طرز کا استعمال کیا ہے ان میں سے ایک، فرعون بھی ہے۔

(ان فرعون علا فی الارض و جعل اهلها شیعا) (152)

فرعون نے روئے زمین پر بلندی اختیار کی اور اس نے اہل زمین کو مختلف حصوں میں تقسیم کردیا۔

-------------

151. سورہ یونس/32۔

152. سورہ قصص/4۔


منافقین بھی اس شیوہ، اختلاف ڈالو اور حکومت کرو کا استعمال کر کے فائدہ حاصل کرتے تھے، ہمیشہ اختلاف ایجاد کرنے کی فکر میں رہتے تھے تاکہ دوبارہ کفر کی حاکمیت کو واپس لے آئیں۔

(لو خرجوا فیکم مازادوکم الا خبالا ولأ وضعوا خلالکم یبغونکم الفتنة وفیکم سمّاعون لهم والله علیم باالظالمین) (153)

اگر یہ تمھارے درمیان نکل پڑتے تو تمھاری وحشت میں اضافہ ہی کرتے اور تمھارے درمیان فتنہ کی تلاش میں گھوڑے دوڑاتے اور تم میں سے ایسے لوگ بھی تھے جو ان کی سننے والے بھی تھے، اور اللہ تو ظالمین کو خوب جاننے والا ہے۔

مذکورہ کی آیت سے استفادہ ہوتا ہے کہ جھاد کی صف میں منافقین کا وجود، تفرقہ و تردید اور قلوب کو ضعیف کرنے کا سبب ہے، یہ اپنے سریع حضور و شدید ھنگامہ آرائی کی بنا پر ان مسلمانوں کو جو عمیق فکر نہیں رکھتے تھے اور منافق کے خطرات کو درک کرنے سے قاصر تھے فوراً تحت تاثیر قرار دیتے تھے، تاکہ لشکر کے افراد میں تفرقہ ایجاد کرسکیں۔

مسجد ضرار کے بنانے میں بھی، ھنگامہ، فتنہ گری، مومنین کے درمیان ایجاد تفرقہ اور کفر کی ترویح جیسے امور ان کے اھداف و مقاصد تھے(154)

خداوند عالم سورہ توبہ کی آیت نمبر اڑتالیس جو منافقین کی جنگ تبوک میں فتنہ انگیزی کے صورت حال کو بیان کرتی ہے اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ فتنہ انگیزی منافقین کی دائمی رفتار ہے اور اس میدان میں سبقت رکھتے ہیں منافقین جنگ احزاب (خندق) میں بھی تفرقہ ایجاد کرنے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن کامیاب نہیں ھوسکے۔

---------------

153. سورہ توبہ/47۔ یھاں (سماع) سے مراد سادہ لوح اور تاثیر پذیری ہے گرچہ بعض مفسرین نے جاسوس کے معنی میں لیا ہے لیکن جب منافقین خود ہی لشکر میں ہوں تو جاسوسی کرنا لغو ہے۔

154. سورہ توبہ/107 (والذین اتخذوا مسجدا ضرارا وکفرا وتفریقا بین المومنین) ۔


(لقد ابتغوا الفتنة من قبل و قلبوا لک الامور حتی جاء الحق و ظهر امر الله وهم کارهون) (155)

بے شک انھوں نے اس سے قبل بھی فتنہ کی کوشش کی تھی اور تمھارے امور کو الٹ پلٹ دینا چاہتے تھے یھاں تک کہ حق آگیا اور امر خدا واضح ھوگیا اگر چہ یہ لوگ اسے ناپسند کر رہے تھے۔

تاریخ میں وافر شواہد موجود ہیں کہ منافقین، مومنین میں ایجاد اختلاف اور وحدت کلمہ کو نیست و نابود کرنے کے لئے بھت زیادہ سعی و کوشش کیا کرتے تھے صرف دو مورد کو بیان کیا جارھا ھے:

1۔ جنگ احد میں عبد اللہ ابن ابی جو منافقین کے ارکان میں سے تھا، تین سو افراد کو لے کر رسول اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لشکر سے جدا ھوکر، مدینہ پلٹنے کا ارادہ کر لیا، بعض اشخاص نے جیسے عبد اللہ جابر انصاری کے والد جو خزرج قبیلہ کے سرداروں میں سے تھے کافی نصیحتیں کیں لیکن فائدہ بخش نہ رھی، عبد اللہ ابن ابی رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفوں سے جدا ہونے کا بھانہ یہ کر رہا تھا کہ ہم جن افراد کی قدر و قیمت کے قائل نہیں، پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے مشورہ کو قبول کرتے ہوئے احد کی طرف حرکت کی ہے، عبد اللہ ابن ابی اپنے ان الفاظ و حرکات سے چاھتا تھا کہ قبیلہ کے سرداروں کو بھڑکائے اور احد میں شریک ہونے سے منع کرسکے لیکن کامیاب نہ ھوسکا(156)

--------------

155. سورہ توبہ/48۔

156. تفسیر المیزان، ج10، ص238۔


2۔ مھاجرین میں سے ایک شخص بنام "جھجاة" اور ایک فرد انصار بنام "سنان" کا کنویں سے پانی لینے کے موقع پر اختلاف ھوگیا شخص مھاجر کے انصار کے منہ پر طمانچہ مار دینے کی وجہ سے، رسم جاھلیت کی بنا پر دونوں طرف کے افراد اپنے قبیلہ و گروہ کی نصرت کے لئے ننگی تلواریں لے کر میدان میں اتر آئے، قریب تھا کہ طرفین میں شدید جنگ شروع ھوجائے لیکن رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مداخلت سے ایسا نہ ھوسکا آپ نے فرمایا: اس طرح سے لڑنا اور مدد کا مانگنا شرم اور نفرت انگیز ہے منافق جماعت چاھتی تھی کہ اس موقعیت سے فائدہ اٹھائیں اور طرفین میں قبیلہ کے تعصب کو بھڑکائیں اور فتنہ ایجاد کریں لیکن مرسل اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دخالت سے یہ سازش بھی ناکام رھی(157)

اس طرز کے مشابہ حوادث اور واقعات سے عبرت حاصل کرنا چاھئے اور اس نکتہ کی طرف متوجہ رھنا چاھئے کہ دشمن ہمیشہ چاھتا یہ ہے کہ فضا کو کینہ عداوت اور اختلاف سے آلودہ کئے رہے تاکہ دوبارہ جاھلیت کے رسم و رواج کو حاکمیت بخش سکے، یہ رفتار و شیوہ فقط کل کے منافقین کا نہیں تھا بلکہ آج اور آئندہ کے منافقین کا بھی ایسا ہی طرز عمل رہے گا۔

حضرت امام علی افتراق کے نقصانات، منافقین کی فتنہ گری کے خطرات کار گر ہونے کے سلسلہ میں فرماتے ہیں:

((و ایم الله ما ختلفت امة قط بعد نبیها الاظهر اهل باطلها علی اهل حقها الا ما شاء الله )) (158)

خدا کی قسم ہر امت ان کے پیامبر کے بعد اختلافات سے دوچار ھوئی ہے اور اہل باطل حق پر قابض ھوگئے ہیں مگر وھاں جہاں خدا نے نہیں چاھا ہے۔

-------------

157. سیرت ابن ھشام ج2، ص29۔ منشور جاوید قرآن، ج4، ص81، 82۔

158. شرح نھج البلاغہ، ابن ابی الحدید، ج5، ص181۔


اہل حق کا آپس میں اختلاف و تفرقہ پیدا کرنے کا نتیجہ و ثمرہ، اہل باطل کا ابھرنا اور ان کے اقتدار و قبضہ کا وسیع ہونا ہے لھذا اسی دلیل کی بنا پر منافق جماعت شدت سے کوشش کرتی ہے کہ اہل حق کے درمیان اختلاف اور دو دلی ایجاد کردیں تاکہ اس کے ثمرہ سے فائدہ اٹھا سکیں۔

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے دوران حکومت، معاویہ اور اس کے اہل کار امام کے لشکر اور افراد میں فتنہ برپا کرنے اور اختلاف ڈالنے میں کامیاب ھوگئے اور جب آپ کے افراد اختلاف و تفرقہ کی بنا پر مختلف گروھوں میں تقسیم ھوگئے، باوجودیکہ ان کا رھبر و قائد (امام علی علیہ السلام) جیسا بھترین فرد زمان و مکان تھا لیکن منافق جماعت اپنے ھدف میں کامیاب ھوگئی اور روز بروز امام علی علیہ السلام کی حکومت کا دائرہ تنگ سے تنگ تر کرنے لگی تھی۔

جب امام علی علیہ السلام کو یمن پر بسر بن ابی ارطاة کے مسلط ھونے، نیز اس کے حولناک مظالم کی خبر پائی کوفہ کے لوگوں کو مخاطب کر کے کھا: خدا کی قسم میں جانتا تھا کہ تمھاری رفتار و اطوار اور آپسی اختلاف و تفرقہ کی بناء پر ایسا دن ضرور آئے گا۔

(انی والله لأظن ان هولاء اقوم سید الون منکم باجتماعهم علی باطلهم وتفرقکم عن حقکم) (159)

خدا کی قسم میرا خیال یہ ہے کہ عنقریب یہ لوگ تم پر مسلط و قابض ہوجائیں گے اس لئے کہ یہ اپنے باطل پر متحد اور تم اپنے حق پر متحد نہیں ھو۔

-------------

159. نھج البلاغہ، خطبہ25۔


نفسیاتی جنگ کی ایجاد

قرآن میں منافقین کی سیاسی رفتار کی خصوصیت میں سے ایک نفسیانی جنگ کی ایجاد ہے، متزلزل و مضطرب ماحول سازی، نا امن فضا کی جلوہ نمائی، غلط اور جھوٹ افواہ کی نشر و اشاعت، معاشرے میں بے بنیاد و مختلف تھمتوں کا وجود، معاشرہ میں ایک نفسیاتی جنگ کے عناصر ہیں وہ ہمیشہ اس کوشش میں رہتے ہیں کے نفسیاتی جنگ کے ذریعہ معاشرے کو اضطراب کی طرف لے جاتے ہوئے عمومی حوصلہ کو ضعیف کردیں اور مایوسی و ناامیدی کا شکار بنادیں، تاکہ مومنین وقت پر صحیح اور ضروری اقدام کی صلاحیت کھو بیٹھیں، اور بر محل مناسب حرکت کی قدرت بھی نہ رکھ سکیں۔

نفسیاتی جنگ کی ایجاد کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ معاشرے کو حالت تردید کا مریض بنادیں، تاکہ وہ ملک کی اطلاعات و اخبار کے سلسلہ میں مشکوک ھوجائے، اسلامی نظام کے ارکان اور کار گذاران نیز ممتاز شخصیت پر سے اعتماد سلب ھوجائے، جس کا ثمرہ معاشرے میں اختلاف و تفرقہ اور اسلامی حکومت کی تصعیف ہے منافقین نفسیاتی جنگ کو وجود میں لانے کے لئے مختلف طریقہ کار و طرز عمل سے استفادہ کرتے ہیں۔


نفسیاتی جنگ کے حربے اور وسائل

1) دشمن کے عظیم اور بزرگ ہونے کی جلوہ نمائی کرانا

نفسیاتی جنگ کے سلسلہ میں ان کے وسایل میں سے ایک، دشمن کے عظیم و بزرگ ہونے کی جلوہ نمائی کرانا،اور مسلمانوں کی قوتوں کو پست و تحقیر کرنا ہے، وہ دشمن کے افراد اور وسائل کو شمار کرتے ہوئے مسلمانوں کے لشکر کو بھت معمولی اور حقیر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں، کہ مومنین کے دلوں میں خوف و رعب ڈال دیں تاکہ وہ دشمن کے مقابلہ میں نہ ٹھر سکیں۔

(واذا قالت طائفة منهم یا اهل یثرب لا مقام لکم فارجعوا) (160)

اور جب ان کے ایک گروہ نے کہدیا کہ مدینہ والو اب یھاں ٹھکانہ نہیں ہے لھذا واپس اپنے گھر چلے جاؤ۔

منافقین دشمنوں کی کامیابی کو عظیم تصور کرتے ہیں، اور مومنین کی فتح و کامیابی کو حقیر سمجھتے ہیں، مشرکین کو مفتضحانہ شکست کو ناچیز اور لشکر اسلام پر وارد شدہ نقصان کو خوف ناک انداز سے بیان کرتے ہیں، کبھی بے محل کامیابی کی خبر سنا کر مومنین کو غرور کا شکار بنادیتے ہیں اور کبھی بے وقت شکست و خطرات کی اطلاع دے کر مومنین کو رعب و وحشت سے دوچار کردیتے ھیں(161)

(واذا جاءهم أمر من الأمن او الخوف اذاعوا به ولو ردّوه الی الرسول والی اولی الأمر منهم لعلمه الذین یستنبطونه منهم) (162)

جب ان کے پاس امن یا خوف کی خبر آتی ہے تو فوراً نشر کردیتے ہیں حالانکہ اگر رسول اور صاحبان امر کی طرف پلٹا دیتے تو تو ان سے استفادہ کرنے والے حقیقت حال کا علم پیدا کر لیتے۔

----------------

160. سورہ احزاب/13۔

161. اس نکتہ کو سورہ احزاب کی آیت نمبر 60 سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

162. سورہ نساء/83۔


مذکورہ آیت سے استفادہ ہوتا ہے کہ واصل شدہ خبریں، باوجودیکہ اس کی صحت و درستگی پر مطمئن ہی ہوں منتشر نہیں کرنا چاھئے، بلکہ اس کے نتائج و اثرات کی تحقیق کرتے ہوئے نیز ذمہ دار افراد سے مشورہ کرنے کے بعد اسے نشر کرنا چاھئے اس بات کی کوئی ضرورت نہیں کہ انسان کے علم میں جو کچھ بھی ہے وہ بیان کردے۔

حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

((لاتقل کل ما تعلم فان الله فرض علی جوارحک کلها فرائض تحتج بها علیک یوم القیامة)) (163)

ہر وہ بات جسے تم جانتے ہو اسے مت بیان کرو اس لئے کہ اللہ نے ہر عضو بدن کے کچھ فرائض قرار دئے ہیں اور ان ہی کے ذریعہ حجت قائم کی جائے گی۔

مضمون حدیث اس کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ بعض گفتگو و سخن کا اظھار مومنین یا اسلامی نظام کے اسرار کو افشا کرنے کے مترادف ہے یا فساد و فتنہ کا باعث ہے لھذا ایسی گفتگو کرنے والا کہ جس سے ایسے اثرات مرتب ہوں عدل الہی کے محضر میں جوابدہ ہوگا لھذا کوئی بھی کلام و گفتگو زبان پر لانے سے قبل اس کے عواقب و نتائج کے بارے میں بھی غور و فکر کرنی چاھئے، ہر بات چاھے کتنی ہی سچ کیوں نہ ہو بیان کرنے سے پرہیز کرنا چاھئے۔

-------------

163. نھج البلاغہ، حکمت، 382۔


2) مشتبہ خبروں کی ایجاد و تشھیر

نفسیاتی جنگ کا دوسرا وسیلہ مشتبہ خبروں کی ایجاد اور معاشرے میں وسیع پیمانہ پر تشھیر کرنا ہے، افواہ پھیلانے والوں کا مقصد افراد پر اثر انداز ہونا ہے خواہ تھوڑے ہی عرصہ کے لئے ھو، مشتبہ خبروں کو شائع کرنا منافقین کا طرز عمل تھا اور ہے، یہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں بحرانی حالات میں رونما ھوتے تھے اضطراب اور افواہ کو پھیلا کر اسلامی معاشرے کو مضطرب کیا کرتے تھے، یہ شیطانی حرکات جنگ کے زمانے میں زیادہ عروج پر پہونچ جاتی تھیں، دشمن کے وسائل اور تعداد کا مبالغہ آمیز بیان یا پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قتل کردئے جانے یا اسیر ھوجانے کی خبر، افواہ کے اصل محور ہوا کرتے تھے۔

جنگ احزاب کے موقع پر مسلمانوں کی نفسیاتی کیفیت کچھ زیادہ مناسب نہیں تھی اس لئے کہ اسلام کے تمام مخالف گروہ پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حکومت کو صفحۂ ھستی سے محو کرنے کے لئے جمع ھوگئے تھے، اور مدینہ پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، اس موقع پر منافقین افواہ پھیلا کر مسلمانوں کی روحی حالت کو زیادہ سے زیادہ کمزور کر رہے تھے۔

خداوند عالم ذیل کی آیت میں منافقین کی حرکات کو برملا کرتے ہوئے تھدید کررھا ہے کہ اگر اس بد رفتاری سے دست بردار نہ ہوئے تو ان کے ساتھ ایسا کیا جائے گا کہ یہ مدینہ میں رہ ہی نہیں سکتے ہیں۔

(لئن لم ینته المنافقون والذین فی قلوبهم مرض و المرجفون فی المدینة لنغرینک بهم ثم لا یجاورونک فیها الا قلیلا) (164)

پھر اگر یہ منافقین اور وہ لوگ کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور مدینہ میں افواہ پھیلانے والے اپنی حرکتوں سے بعض نہ آئے تو ہم آپ ہی کو ان پر مسلط کردیں گے پھر تو یہ آپ کے ساتھ میں چند ہی دن رہ پائیں گے۔

--------

164. احزاب 60 اس آیت میں جو تین عنوان ذکر کئے گئے ہیں 1: منافقین 2: مریض دل 3: مرجفون (افواہ پھیلانے والے) کیا یہ تینوں عنوان تین گروہ کے ہیں جو مدینہ میں سازش کر رہے تھے یا یہ ایک ہی گروہ کے صفات ھیں؟ بعض نے فرمایا ہے کہ سازش کرنے والے تین گروہ تھے منافقین، مریض دل کہ جن کا شمار اراذل و اوباش میں ہوتا تھا جو محاذ جنگ پر جانے کے بجائے مسلمانوں کے لئے اذیت و تکلیف کے اسباب فراھم کرتے تھے، مرجفون افواہ پھیلانے والے ہیں، لیکن یہ بھی احتمال ہے کہ یہ تینوں عنوان منافقین کے لئے ہوں اس توضیح کے ساتھ کہ دوسرا اور تیسرا عنوان ان کی خصوصیت کو بیان کررھا ہے جس کو اصطلاح میں ذکرالخاص بعدالعام کھا جا تا ہے۔


سماج اور معاشرے میں مشتبہ خبروں کے رائج ہونے سے روکنے کا بھترین راستہ یہ ہے کہ:

الف) اشخاص و افراد ان اخبار یا افواہ کو سننے کے بعد، جن کے صحیح ہونے میں شک و شبہ رکھتے ہیں اس کی تشھیر سے پرہیز کریں، افواہ کی تکرار و تشھیر دشمن کی ایک طرح سے مدد ہے اس لئے کہ وہ اس طرح سے اپنے شوم ارادہ اور مقصد میں کامیاب ہوجاتے ہیں اکثر مواقع پر اسلامی معاشرہ اس مصیبت میں گرفتار ہوجاتا ہے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام نے انسان کو ہر سماعت کردہ خبر نقل کرنے سے منع فرمایا ہے

((کفی بالمرء کذبا ان یحدث بکل ما سمع)) (165)

کسی انسان کے کاذب ہونے کے لئے یھی کافی ہے کہ جس چیز کو سماعت کرے زبان پر بھی لے آئے۔

ب) حقایق کو کشف کرنے، باطل کو حق سے جدا کرنے اور مشتبہ خبر کو الگ کرنے کے لئے قابل اطمینان منبع کی طرف رجوع کرنا چاھئے تاکہ وہ ابھام کو آشکار کردیں اور دشمن اپنے شوم و منحوس مقاصد یعنی مسلمانوں کی روحی وضعیت کو ضعیف کرنے یا مسلمانوں کے ایک دوسرے بالخصوص کار گزاران سے اعتماد کو سلب کرنے میں کامیاب نہ ھوسکیں۔

--------------

165. بحار الانوار، ج2، ص159۔


3) افترا پردازی و الزام تراشی

تیسرا ذریعہ جو منافقین نفسیاتی جنگ کو وجود میں لانے کے لئے استعمال کرتے ہیں افتراء پردازی و الزام تراشی ہے، منافقین کی سیاسی رفتار کے خصائص میں سے ایک خصوصیت نفسیاتی جنگ کی ایجاد ہے تا کہ اسلامی معاشرے کی حرمت و آبرو اور امنیت کو خطرہ میں ڈال سکیں۔

اسلامی فرھنگ (کلچر) میں اشخاص کی آبرو، عزت، جان و اموال قابل احترام ہیں کوئی کسی ایک پر بھی تعرض کا حق نہیں رکھتا، اسی وجہ سے قانون معاشرت، حدود و قصاص مرتب کئے گئے ہیں تاکہ معاشرے کی امنبیت مختلف زاویہ سے قائم رھے، ان تینوں یعنی جان، اموال اور آبرو میں سے حرمت و آبرو کا خاص مقام ہے پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:

((ان الله حرّم من المسلم دمه و عرضه وان یظن به ظن السوء)) (166)

خداوند عالم مومن کی جان و آبرو کو محترم سمجھتا ہے، مومن کے سلسلہ میں سوء ظن حرام ہے

اسلام کی نگاہ میں آبرو، حرمت کا تحفظ اس قدر اھمیت کا حامل ہے کہ زنا و لواط کے الزام لگانے کو اگر ثابت نہ کرسکے تو اسی کوڑے مارنے کا حکم ہے اسی طریقہ سے غیر جنسی الزام لگانے پر حاکم شرع سزادے سکتا ہے، انبیاء حضرات کے مخالفوں کا دائمی شیوۂ کار، پاکیزہ ھستیوں پر الزام و افتراء پردازی رھی ہے خصوصاً جنسی بھتان تراشی، یھاں تک کہ حضرات موسی علیہ السلام اور بعض پیامبران پر بھی یہ تھمت لگائی گئی۔

-----------

166. تفسیر قرطبی، ج16، ص332۔


نقل کیا جاتا ہے کہ قارون صرف اس لئے کہ زکاة کے قانون کو قبول نہ کرے اور فقرا و غربا کے حقوق ادا نہ کرے، ایک سازش رچی، ایک بد کردار عورت کو حکم دیا کہ مجمع میں اٹھ کھڑی ہو اور حضرت موسی علیہ السلام پر نا مشروع روابط کا الزام لگائے، خدا کے لطف کی بنا پر صرف یھی نہیں کہ قارون کی سازش ناکام رھی بلکہ اس عورت نے حضرت موسی علیہ السلام کی پاکیزگی کا اعلان کرتے ہوئے قارون کی سازش کا بھی اعلان کردیا۔

خداوند متعال اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو نصیحت کر رہا ہے کہ تم لوگ قارون جیسی صفت کے حامل نہ ھونا۔

(یا ایها الذین آمنوا لا تکونوا کا الذین آذوا موسی فبرأه الله مما قالوا وکان عند الله وجیهاً) (167)

ایمان والو! خبردار ان کے جیسے نہ بن جاؤ جنھوں نے موسی کو اذیت دی تو خدا نے موسی کو ان کے قول سے بری ثابت کردیا اور وہ اللہ کے نزدیک ایک وجیہ انسان تھے

حضرت یوسف پر تھمت لگائی گئی کہ وہ زنا کا ارادہ کررھے تھے، حضرت داؤد علیہ السلام پر الزام لگایا گیا کہ وہ ایک سپاھی کی بیوی سے شادی کرنا چاہتے تھے لھذا اس کے شوھر کو محاذ جنگ پر بھیج کر قتل کرادیا، تاکہ اس کی بیوی سے شادی کرسکیں حضرت مریم عذرا سلام اللہ علیھا پر نا مشروع روابط کی بھتان تراشی کی گئی۔

--------------

167. سورہ احزاب/96۔


قرآن کریم کی آیتوں سے استفادہ ہوتا ہے کہ منافقین بھی اسلامی معاشرہ کے پاک طینت افراد کو اپنی پلید فکر کا نشانہ بناتے رہے ہیں، افک کا واقعہ اسی طرز عمل کا ایک نمونہ ہے آیت افک کی شان نزول اور اصل واقعہ کو دو طریقہ سے بیان کیا گیا ہے۔

لیکن جو طرفین سے مسلم ہے وہ یہ ہے کہ ایک پاک دامن خاتون منافقین کی طرف سے مورد اتھام قرار دی گئی تھی، اسلامی معاشرے کے افراد اس کی عزت و آبرو کا دفاع کرنے کے بجائے اس افواہ کو وسعت دے رہے تھے خداوند عالم سورہ نور کی گیارھویں آیت سے لے کر سترھویں آیت تک کے ضمن میں منافقین کی رفتار کی سرزنش اور مسلمانوں کے رد عمل کی توبیخ کرتے ہوئے، اس قسم کی افواہ و افتراء پردازی سے مبارزہ کرنے کے صحیح اصول و شیوہ کو بتا رہا ہے، آیات کا ترجمہ پیش کیا جارھا ھے:

بے شک جن لوگوں نے زنا کی تھمت لگائی وہ تم ہی میں سے ایک گروہ تھا۔ تم اسے اپنے حق میں شر نہ سمجھو یہ تمھارے حق میں خیر ہے اور ہر شخص کے لئے اتنا ہی گناہ ہے جو اس نے خود کمایا ہے اور ان میں سے جس نے بڑا حصہ لیا ہے اس کے لئے بڑا عذاب ہے، آخر ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم لوگوں نے اس تھمت کو سنا تھا تو مومنین و مومنات اپنے بارے میں خیر کا گمان کرتے اور کہتے کہ یہ تو کھلا ہوا بھتان ہے، پھر ایسا کیوں نہ ہوا پھر یہ چار گواہ بھی لے آتے اور جب گواہ نہیں لائے تو یہ اللہ کے نزدیک بالکل جھوٹے ہیں اور خدا کا فضل دنیا و آخرت میں اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جو چرچا تم نے کیا تھا اس سے تمھیں بڑا عذاب گرفت میں لے لیتا، جب تم اپنی زبان سے چرچا کر رہے تھے اور اپنے منہ سے وہ بات نکال رہے تھے جس کا تمھیں علم بھی نہیں تھا اور تم اسے بھت معمولی سمجھ رہے تھے حالانکہ اللہ کے نزدیک وہ بھت بڑی بات تھی، اور کیوں نہ ایسا ہوا جب تم لوگوں نے اس بات کو سنا تھا تو کہتے کہ ھمیں ایسی بات کھنے کا کوئی حق نہیں ہے، خدایا! تو پاک و بے نیاز ہے اور یہ بھت بڑا بھتان ہے، اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے کہ اگر تم صاحب ایمان ہو تو اب ایسی حرکت دوبارہ ھرگز نہ کرنا۔


امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے خلاف معاویہ کی پرو پیگنڈا مشیزی بھت زیادہ فعّال تھی، موقع بہ موقع، بھتان تراشی و افترا پردازی سے کام لیتی رھتی تھی، معاویہ کے افتر و الزام میں سے ایک عثمان کے قتل میں آپ کی شرکت کا پروپیگنڈا تھا، جب کہ آپ کی ذات ایسی حرکات سے مبرا تھی، آپ کا تارک الصلاۃ ہونا ایک دوسری تھمت تھی جو معاویہ نے پورے شام میں تشھیر کرا رکھی تھی۔

ہاشم بن عتبہ کا بیان ہے کہ معاویہ کے لشکر میں ایک جوان کو دیکھا جو بھت جوش ولولہ سے لڑرھا تھا اس سے اس جوش و خروش کی وجہ دریافت کی، اس نے کہا میں اس کو قتل کرنا چاھتا ہوں جو نماز نہیں پڑھتا ہے اور عثمان کا قاتل ہے(168)

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے فرق مبارک پر مسجد میں ضربت لگنے اور اس کے ذریعہ سے آپ کی شھادت واقع ہونے کی خبر جب شام میں منتشر ھوئی تو بعض شامی تعجب سے کہتے تھے کیا علی علیہ السلام نماز پڑھتے تھے؟!

حضرت علی علیہ السلام پر معاویہ کی طرف سے انتھائی دردناک و تکلیف دہ الزامات و اتھام میں سے ایک آپ کی طرف سے مرسل اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قتل کرنے کے لئے سازش اور پروگرام مرتب کرنے کی تھمت تھی(169)

بھر حال منافقین کا طریقہ عمل، معاشرہ میں تلاطم و اضطراب پیدا کرنے کے لئے اتھام و الزام کے حربے کا استعمال ہوتا ہے ان کے بعض مقاصد اس سلسلہ میں بطور اجمال پیش کئے گئے ہیں۔

شخصیت کے مجروح اور افراد کو متھم کرنے کے سلسلہ میں منافقین کے اھداف یہ ھوتے ہیں کہ اپنے امنیتی و حفاظتی دائرہ کو محکم اور اپنی شخصیت کو مبرّہ قرار دیں کیونکہ اپنی پوشیدہ حالت کے آشکار و عیاں ہونے سے خوف زدہ رہتے ہیں، لھذا دیگر اشخاص پر افتراء پردازی و الزام تراشی سے ھنگامہ و اضطراب پیدا کرتے رہتے ہیں تاکہ صاحبان ایمان کی شخصیت اس سے مضمحل اور متأثر ہوتی رھے(170)

-------------------

168. تاریخ طبری، ج6، ص2556۔

169. الغارات، ج2، ص581۔

170. اس نکتہ کو سورہ فتح کی آیت نمبر 15 سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔


فصل سوم : منافقین کی نفسیاتی خصائص

منافقین کی نفسیاتی خصائص

1) تکبر اور خود بینی

قرآن مجید وہ نکات جو منافقین کی نفسیاتی شناخت کے سلسلہ میں، روحی و نفسیاتی خصائص کے عنوان سے بیان کر رہا ہے، پھلی خصوصیت تکبر و خود محوری ہے۔

کبر کے معنی اپنے کو بلند اور دوسروں کو پست تصور کرنا، تکبر پرستی ایک اہم نفسیاتی مرض ہے جس کی بنا پر بھت زیادہ ہی اخلاقی انحرافات پیش آتے ہیں امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں۔

((ایاک والکبر فانه اعظم الذنوب والئم العیوب)) (171)

تکبر سے پرہیز کرو اس لئے کہ عظیم ترین معصیت اور پست ترین عیب ہے۔

کبر، اعظم الذنوب ہے یعنی عظیم ترین معصیت ہے کیونکہ تکبر ہی کے ذریعہ کفر نشو و نما پاتا ہے، ابلیس کا کفر اسی کبر سے وجود میں آیا تھا، جس وقت اسے آدم (ع) کے سجدہ کا حکم دیا گیا، اس نے خود کو آدم علیہ السلام سے بزرگ و برتر تصور کرتے ہوئے سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور اس فعل کی بنا پر کفر کے راستہ پر چل پڑا۔

(ابی واستکبر و کان من الکافرین) (172)

اس نے انکار و غرور سے کام لیا اور کافرین میں ھوگیا۔

--------------

171. تصنیف الغرر الحکم، ص309۔

172. سورہ بقرہ/34۔


انبیاء حضرات کے مخالفین، تکبر فطرت ہونے ہی کی بنا پر پیامبروں کے مقابلہ میں قد علم کرتے تھے، اور انبیاء حضرات کی تحقیر و تکفیر کرتے ہوئے آزار و اذیت دیا کرتے تھے، جب ان کو ایمان کے لئے دعوت دی جاتی تھی وہ اپنی تکبری فکر و فطرت کی بنا پر انکار کرتے ہوئے کہتے تھے۔

(قالوا ما انتم اِلّا بشر مثلنا) (173)

ان لوگوں نے کہا تم سب ھمارے ہی جیسے بشر ھو۔

کبر، الئم العیوب، ہے یعنی تکبر پست ترین عیب ہے اس لئے کہ متکبر فرد کی نفسیاتی حقارت و پستی کی نشان دھی ہوتی ہے، وہ فرد جو خود کو بزرگ تصور کرتا ہے وہ احساس کمتری کا شکار رہتا ہے، لھذا چاھتا ہے کہ تکبر کے ذریعہ اس کمی کا مداوا کرسکے۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

((مامن رجل تکبّر او تجبّر اِلا لذلّة و جدها فی نفسه)) (174)

کوئی فرد نہیں، جو تکبر یا ظالمانہ گفتگو کرتا ھو، اور پست طبیعت و حقیر نفس کا حامل نہ ھو۔

احادیث و روایات کے مطابق تکبر میں دو اہم بنیادی عنصر پائے جاتے ہیں، افراد کو پست و حقیر سمجھنا اور حق کے مقابلہ میں سر تسلیم خم نہ کرنا۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

((الکبر ان تغمص الناس و تسفه الحق)) (175)

تکبر یہ ہے کہ لوگوں کی تحقیر کرو اور حق کو بے مقدار تصور کرو۔

----------

173. سورہ یس/15۔

174. اصول کافی، ج2، ص312۔

175. میزان الحکمۃ، ج8، ص305، بحارالانوار، ج73، ص217۔


اسلامی اخلاق کے پیش نظر تکبر کے دونوں عنصر شدید مذموم ہیں اس لئے کہ اشخاص کی تحقیر کرنا خواہ وہ ظاہراً کسی جرم کے مرتکب بھی ہوئے ہوں محرمات میں شمار ہوتا ہے، امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

((ان الله تبارک و تعالی ……اخفی ولیه فی عباده فلا تستصغرون عبدا من عبید الله فربما یکون ولیه وانت لا تعلم)) (176)

خداوند عالم نے اپنے خاص افراد کو اپنے بندوں کے درمیان پھیلا رکھا ہے، بندگان خدا میں کسی کی تحقیر و بے احترامی نہ کرو، شاید وہ اللہ کے دوستوں میں سے ہوں اور تمھیں علم نہ ھو۔

ایک دوسری روایت میں حضرت امام صادق علیہ السلام سے نقل کیا گیا ہے کہ خدا فرماتا ھے:

((لیأذن بحرب منی من اذلّ عبدی المؤمن)) (177)

جو بھی کسی بندۂ مومن کی تحقیر و تذلیل کرے ہم سے جنگ کے لئے آمادہ ہوجائے۔

جمھوری اسلامی ایران کے بانی حضرت امام خمینی (رح) کتاب تحریر الوسیلہ کے امر بالمعروف والے باب میں تحریر فرماتے ہیں۔

معروف کے حکم دینے اور برائی سے روکنے والے خود کو مرتکب گناہ فرد سے برتر و بغیر عیب کے نہ جانیں، شاید ھوسکتا ہے کہ مرتکب گناہ (خواہ کبیرہ) اچھے صفات کا حامل ہو اور خدا اس کو دوست بھی رکھتا ہو لیکن تکبر و خود بینی کے گناہ کی وجہ سے امر بالمعروف کرنے والا سقوط کرجائے اور شاید ھوسکتا ہے کہ آمر معروف و ناھی منکر ایسے برے صفات کے حامل ہوں کہ خداوند متعال کی نگاہ میں مبغوض ہوں چاھے خود انسان اپنے اس برے صفت کا علم نہ رکھتا ھو۔

------------

176. بحار الانوار، ج90، ص263۔

177. بحار الانوار، ج75، ص145۔


لیکن اس بات کو عرض کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ امر بالمعروف اور حدود الہی کا اجرا ترک کردیا جائے بلکہ انسان و اشخاص کی کرامت و حرمت اور ایمانی منزلت کو حفظ کرتے ہوئے امر بالمعروف اور حدود کا اجرا کرنا چاھیے۔

پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:

((اذا زنت خادم احدکم فلیجلدها الحدو لا یعیرها)) (178)

اگر تمھاری کسی کنیز نے زنا کا ارتکاب کیا ہے تو اس پر زنا کی حد جاری کرو مگر اس کی عیب جوئی و طعنہ زنی کا تم کو حق نھیں۔

اسی بنا پر بارھا دیکھا گیا کہ رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امیر المومنین نے زناء محصنہ کے مرتکب افراد پر حد جاری کرنے کے بعد خود با احترام اس کے جنازہ پر نماز میت پڑھی ہے اور ان کی حرمت و آبرو کو حفظ کیا ہے(179)

اکثر روایات اور احادیث میں حق کو قبول نہ کرنے کی وجہ سے، نزاع اور جدال غیر احسن کے عنوان سے اس کی مذمت کی گئی ہے۔

حضرت امام صادق علیہ السلام کا قول ھے:

((ما الجدال الذی بغیر التی هی احسن ان تجادل مبطلا فیورد علیک مبطلا فلا تردّه بحجة قد نصبها الله ولکن تحجد قوله او تحجد حقا یرید ذالک المبطل ان یعین به باطله فتجحد ذلک الحق مخافة ان یکون علیک فیه حجة)) (180)

جدال غیر احسن یہ ہے کہ کسی ایسے فرد سے بحث کیا جائے جا ناحق ہے اور اس کے ساتھ حجت و منطق نیز شرعی دلیل کے ذریعہ وارد بحث نہ ہوا جائے اور اس کے قول یا اس کے حق کو انکار کردیا جائے اس خوف کی بنا پر کہ خدا ناخواستہ (حق) کے ذریعہ اپنے باطل کے لئے مدد لے۔

-------

178. مجموعہ ورام، ج1، ص57۔

179. سفینۃ البحار، ج1، ص512، وسائل الشیعہ، ج18، ص375، بحار الانوار، ج28 ص12۔

180. تفسیر نور الثقلین، ج2، ص163۔


قرآن و روایات میں تسلیم حق کے سلسلہ میں زیادہ تاکید کی گئی ہے حق پذیری بندگان خدا اور مومنین کے صفات میں بیان کیا گیا ہے۔

(فبشّر عباد الذین یستمعون القول فیتّبعون احسنه،) (181)

اے پیغمبر! آپ میرے بندوں کو بشارت دے دیجئے جو باتوں کو سنتے ہیں اور جو بات اچھی ہوتی ہیں اس کا اتباع کرتے ہیں،

حق کے مقابلہ سر تسلیم خم کرنا مومنین کے صفات و خصائص میں سے ہے اور کبر کا نکتۂ مقابل ہے۔

(طلبت الخضوع فما وجدت الا بقبول الحق، اقبلوا الحق فان قبول الحق یبعد من الکبر) (182)

میں نے خضوع کو طلب کیا اور اس کو صرف تسلیم حق میں پایا حق کے مقابل تسلیم پزیر رہو کہ یہ حالت تم کو کبر سے دور رکھتی ہے۔

آیات قرآن کی بنا پر تکبر منافقین کی صفات میں سے ہے۔

(و اذا قیل لهم تعالوا یستغفر لکم رسول الله لوّوا رئوسهم ورایتهم یصدون وهم مستکبرون) (183)

اور جب ان سے کھا جاتا ہے کہ آؤ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمھارے حق میں استغفار کریں گے تو یہ سر پھرا لیتے ہیں اور تم دیکھو گے کہ استکبار کی بنا پر منہ بھی موڑ لیتے ہیں۔

(و اذا قیل له اتّق الله اخذته العزّة بالاثم) (184)

جب ان سے کھا جاتا ہے کہ تقوائے الہی اختیار کرو تو وہ تکبر کے ذریعہ گناہ پر اتر آتے ہیں۔

-------------

181. سورہ زمر/17، 18۔

182. بحار الانوار، ج69، ص399۔

183. سورہ منافقون/5۔

184. سورہ بقر/ 206۔


(و اذا قیل لهم لا تفسدوا فی الارض قالوا انّما نحن مصلحون) (185)

جب ان سے کھا جاتا ہے کہ زمین میں فساد برپا نہ کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔

قرآن کریم منافقین کے سلسلہ میں دونوں مناظر (تحقیر افراد اور عدم تسلیم حق) کی تصریح کررھا ہے کہ وہ خود کو اہل فھم و فراست اور دیگر افراد کو سفیہ (احمق) سمجھتے ہیں اور اس وسیلہ سے اشخاص کی تحقیر کرتے ہیں۔

(و اذا قیل لهم آمنو کما آمن الناس قالوا أنؤمن کما آمن السفهاء) (186)

جب ان سے کھا جاتا ہے کہ دوسرے مومنین کی طرح ایمان لے آؤ تو کہتے ہیں کہ کیا ہم بے وقوفوں کی طرح ایمان اختیار کرلیں؟

منافقین کے بارے میں عدم تسلیم حق کی تصویر کشی کرتے ہوئے خدا ان کو خشک لکڑیوں سے تشبیہ دے رہا ہے۔

(کأنّهم خشب مسنّدة) (187)

گویا سوکھی لکڑیاں ہیں جو دیوار سے لگادی گئی ہیں۔

----------

185. سورہ بقر/11۔

186. سورہ بقرہ/13۔

187. سورہ منافقون/4۔


2) خوف و ھراس

قرآن کریم منافقین کی نفسیاتی خصوصیت کے سلسلہ میں دوسری صفت خوف و ھراس کو بتا رہا ہے، قرآن ان کو بے حد درجہ ھراساں و خوف زدہ بیان کررھا ہے، اصول کی بنا پر شجاعت و شھامت، خوف وحشت کا ریشہ ایمان ہوتا ہے، جہاں ایمان کا وجود ہے دلیری و شجاعت کا بھی وجود ہے۔

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:

((لایکون المومن جبانا)) (188)

مومن بزدل و خائف نہیں ہوتا ہے۔

قرآن مومنین کی تعریف و توصیف کرتے ہوئے ان کی شجاعت اور مادی قدرت و قوت سے خوف زدہ نہ ہونے کی تصریح کر رہا ہے۔

(…… وانّ الله لا یضیع اجر المؤمنین الذین استجابوا لِلّٰه والرسول من بعد مَا اصابهم القرح للّذین احسنوا منهم واتقوا اجر عظیم الذین قال لهم النّاس ان النّاس قد جمعوا لکم فاخشوهم فزادهم ایمانا و قالوا حسبنا لله و نعم الوکیل) (189)

خداوند عالم صاحبان ایمان کے اجر کو ضائع نہیں کرتا (خواہ شھیدوں کے اجر کو اور نہ ہی مجاہدوں کے اجر کو جو شھید نہیں ہوئے ہیں) یہ صاحبان ایمان ہیں جنھوں نے زخمی ہونے کے بعد بھی خدا اور رسول کی دعوت پر لبیک کھا (میدان احد کے زخم بہبود بھی نہ ہونے پائے تھے کہ حمراء الاسد میدان کی طرف حرکت کرنے لگے) ان کے نیک کردار اور متقی افراد کے لئے نھایت درجہ عظیم اجر ہے، یہ وہ ایمان والے ہیں کہ جب ان سے بعض لوگوں نے کہا کہ لوگوں نے تمھارے لئے عظیم لشکر جمع کرلیا ہے لھذا ان سے ڈرو تو ان کے ایمان میں اور اضافہ ھوگیا اور انھوں نے کہا کہ ھمارے لئے خدا کافی ہے اور وہی ھمارا ذمہ دار ہے۔

----------------

188. بحار الانوار، ج67، ص364۔

189. سورہ آل عمران/ 173، 171۔


حقیقی صاحبان ایمان کی صفت شجاعت ہے لیکن چونکہ منافقین ایمان سے بالکل بے بھرہ مند ہیں، ان کے نزدیک خدا کی قوت لایزال وبی حساب پر اعتماد و توکل کوئی مفھوم و معنا نہیں رکھتا ہے لھذا ہمیشہ موجودہ قدرت سے خائف و ھراساں ہیں خصوصاً میدان جنگ کہ جہاں شھامت، سرفروشی، ایثار ہی والوں کا گذر ہے، وھاں سے ہمیشہ فرار اور دور ہی سے جنگ کا نظارہ کرتے ہیں اور نتیجہ کے منتظر ھوتے ہیں۔

(فاذا جاء الخوف رأیتهم ینظرون الیک تدور أعینهم کا الذی یغشی علیه من الموت) (190) جب خوف سامنے آجائے گا تو آپ دیکھیں گے کہ آپ کی طرف اس طرح دیکھیں گے جیسے ان کی آنکھیں یوں پھر رھی جیسے موت کی غشی طاری ھو۔

سورہ احزاب کی آٹھویں آیت سے پینتیسویں آیت، جنگ خندق کے سخت حالات و مسائل سے مخصوص ہے، ان آیات کے ضمن میں چھ مرتبہ صداقت کا ذکر کیا گیا ہے اور اسی کے ساتھ بعض افراد کے خوف و ھراس کو بھی بیان کیا گیا ہے، جنگ احزاب اپنے خاص شرائط (زمانی و مکانی) کی بنا پر مومنین کی ایمانی صداقت اور منافقین کے جھوٹے دعوے کو پرکھنے کے لئے بھترین کسوٹی و محک ہے۔

------------

190. سورہ احزاب/19۔


ایمان میں صادق افراد کا ذکر آیت نمبر تئیس اور چوبیس میں ھورھا ھے:

(من المؤمنین رجال صدقوا ما عاهدوا الله علیه فمنهم من قضی نحبه و منهم من ینتظرو ما بدّلوا تبدیلا لیجزی الله الصادقین بصدقهم و یعذب المنافقین ان شاء او یتوب علیهم ان الله کان غفورا رحیما) (191)

مومنین میں ایسے بھی مرد میدان ہے جنھوں نے اللہ سے کئے وعدہ کو سچ کر دیکھایا ہے ان میں بعض اپنا وقت پورا کرچکے ہیں اور بعض اپنے وقت کا انتظار کررھے ہیں اور ان لوگوں نے اپنی بات میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے تا کہ خدا صادقین کو ان کی صداقت کا بدلہ دے اور منافقین کو چاھے تو ان پر عذاب نازل کرے یا ان کی توبہ قبول کرے اللہ یقیناً بھت بخشنے والا اور مھربان ہے۔

ان آیات سے استفادہ ہوتا ہے کہ ایمان میں صادق سے مراد دین کی راہ میں جھاد و شھادت ہے بعض افراد نے شھادت کے رفیع مقام کو حاصل کرلیا ہے اور بعض اگر چہ ابھی اس عظیم مرتبہ پر فائز نہیں ہوئے ہیں لیکن شجاعت و شھامت کے ساتھ ویسے ہی منتظر و آمادہ ہیں، اسی سورہ کی آیت نمبر بیس میں خوبصورتی کے ساتھ منافقین کے اضطراب و خوف کو میدان جنگ کے سلسلہ میں بیان کیا گیا ہے، آیت اور اس کا ترجمہ اس سے قبل پیش کیا جاچکا ہے۔

-----------

191. سورہ احزاب 32، 24۔


3) تشویش و اضطراب

منافقین کی نفسیاتی خصوصیت میں سے، تشویش و اضطراب بھی ہے چونکہ ان کا باطن ظاہر کے بر خلاف ہے لھذا ہمیشہ اضطراب کی حالت میں رہتے ہیں کہیں ان کے باطن کے اسرار افشانہ ہوجائیں اور اصل چھرہ کی شناسائی نہ ھوجائے جس شخص نے بھی خیانت کی ہے یا خلافِ امر شی کا مرتکب ہوا ہے اس کے افشا سے ڈرتا ہے اور تشویش و اضطراب میں رہتا ہے عربی کی مثل مشھور ہے "الخائن خائف" خائن خوف زدہ رہتا ہے، دوسرے یہ کہ منافقین نعمت ایمان سے محروم ہونے کی بنا پر مستقبل کے سلسلہ میں کبھی بھی امید واری و در خشندگی کا اعتقاد نہیں رکھتے ہیں اور اپنے انجام کار سے خائف اور ھراساں رہتے ہیں اس کے برخلاف صاحبان ایمان یاد الہی اور اپنے ایمان کی بنا پر اطمینان و سکون سے ھمکنار رہتے ہیں۔

(ألا بذکر الله تطمئن القلوب) (192)

آگاہ ھوجاؤ کہ ذکر خدا ہی سے دلوں کو سکون ملتا ہے۔

منافقین اپنی خیانت کارانہ حرکات کی وجہ سے اضطراب و تشویش کی وادی میں پڑے رہتے ہیں لھذا ہر قسم کی افشا گری و تھدید کی آواز کو اپنے خلاف ہی تصور کرتے ہیں۔

(یحسبون کل صیحة علیهم) (193)

یہ ہر فریاد کو اپنے خلاف ہی گمان کرتے ہیں۔

-------------

192. سورہ رعد/28۔

193. سورہ منافقون/4۔


منافقین کی دائمی کوشش یہ رھتی ہے کہ جس طرح سے بھی ہو خود کو مومنین کی صفوں میں داخل کریں اور صاحبان ایمان کو مطمئن کرادیں کہ ہم بھی ایمان والے ہیں لیکن ہمیشہ پریشان خیال رہتے ہیں کہ کہیں رسوا و ذلیل نہ ہوجائیں۔

(و یحلفون بالله انهم لمنکم و ماهم منکم و لکنهم قوم یفرقون) (194)

اور یہ اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ یہ تم ہی میں سے ہیں حالانکہ یہ تم میں سے نہیں ہیں یہ لوگ بزدل ہیں۔

ان کے ھراسان و پریشان رھنے کی کیفیت یہ ہے کہ جب بھی کوئی جدید آیت کا نزول ہوتا ہے تو ڈرتے ہیں کہ کہیں وحی کے ذریعہ ھمارے اسرار فاش نہ ھوجائیں، اس نکتہ کو قرآن کریم صراحت سے بیان کررھا ہے اور تاکید کررھا ہے کہ راہ نفاق کا انجام خیر نہیں ھوسکتا، اگر چہ چند روز اپنے باطن کو چھپانے میں کامیاب ہوجائیں لیکن سر انجام رسوا و ذلیل ھوکر رھیں گے۔

(یحذر المنافقون ان تنزل علیهم سورة تنبّئهم بما فی قلوبهم قل استهزئوا ان الله مخرج ما تحذرون) (195)

منافقین کو یہ خوف بھی ہے کہ کہیں کوئی سورہ نازل ھوکر مسلمانوں کو ان کے دل کے حالات سے باخبر نہ کردے تو آپ کہہ دیجئے کہ تم اور مزاق اڑاؤ اللہ بھر حال اس چیز کو منظر عام پر لے آئے گا جس کا تمھیں خطرہ ہے۔

سورہ بقرہ کی آیات نمبر سترہ سے بیس تک میں منافقین کی کشمکش، ترس و اضطراب کی حالت، کو دو معنی خیز تشبیھوں کے ذریعہ بیان کیا گیا ہے۔

-------------

194. سورہ توبہ/56۔

195. سورہ توبہ/64۔


4) لجاجت گری

منافقین کی چوتھی نفسیاتی خصوصیت لجاجت گری ہے لجاجت ایک روحی و نفسانی مرض ہے جو صحیح معرفت کے حصول میں اساسی مانع ہے معرفت شناسی میں اس نکتہ کو بیان کیا گیا ہے کہ بعض اخلاقی رذائل سبب ھوتے ہیں کہ انسان حقیقت تک نہ پہونچ سکے، جیسے بیھودہ تعصب، بغیر دلیل خاص، نظریہ پر اصرار، غلط آرزو اور خواہشات وغیرہ-------(196)

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام دو حدیث میں اس مطلب کو صراحتاً بیان فرما رہے ہیں:

((اللجاجة تسل الرای)) (197)

لجاجت صحیح و مستحکم رای کو فنا کردیتی ہے۔

((اللجوج لا رای له)) (198)

لجاجت گر فرد صحیح فکر و نظر کا مالک نہیں ھوتا۔

جو فرد لجاجت گری کی وادی میں سر گردان ہو وہ صاحب رای و نظر نہیں ھوسکتا ہے کیوں کہ لجاجت اس کی بینائی و دانائی پر ایک ضخیم پردہ ڈال دیتی ہے جس کی بنا پر لجاجت گر فرد تمام حقائق کو اپنی خاص نظر سے دیکھتا ہے لھذا ایسا فرد حق شناسی کے وسائل و نور حق کو اختیار میں رکھتے ہوئے بھی حقیقت تک نہیں پہونچ سکتا ہے چونکہ منافقین کا بنیادی منشا اپنی آمال و خواہشات کی تکمیل اور باطل راہ میں قدم رکھنا ہے لھذا کبھی بھی حق کو حاصل نہیں کرسکتا ہے، امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

------------

196. نظریۃ المعرفہ، ص319۔

197. نھج البلاغہ، حکمت، 179۔

198. میزان الحکمۃ، ج8، ص484۔


((من کان غرضه الباطل لم یدرک الحق ولو کان اشهر من الشمس)) (199)

جس کا بنیادی ھدف باطل ہو کبھی بھی حق کو درک نہیں کرسکتا ہے خواہ حق آفتاب سے روشن ترھی کیوں نہ ہو

قرآن مجید منافقین کی حالت لجاجت کو بیان کرتے ہوئے ان کی یوں توصیف کر رکھا ھے:

(صم بکم عمی فهم لا یرجعون) (200)

یہ سب بہرے، گونگے اور اندھے ھوگئے ہیں اور پلٹ کر آنے والے نہیں ہیں۔

منافقین کی لجاجت سبب بن گئی کہ وہ نہ سن سکے جو سننا چاھئے تھا، نہ دیکھ سکے جو دیکھنا چاھئے تھا، نہ کہہ سکے جو کھنا چاھئے تھا، باوجودیکہ آنکھ، کان، زبان جو ایک انسانِ بااعتدال کے لئے صحیح ادراک کے وسائل ہیں، یہ بھی اختیار میں رکھتے ہیں لیکن ان کی لجاجت گری سبب ھوئی کہ عظیم نعمات سے محروم، اور جھالت کی وادی میں سر گرداں ہیں۔

منافقین کا بھرہ، اندھا، گونگا ہونا آخرت سے مخصوص نہیں بلکہ اس دنیا میں بھی ایسے ہی ہیں، ان کا قیامت میں بھرہ، اندھا، گونگا ہونا ان کے حالات سے اسی دنیا میں مجسم ہے۔

(لهم قلوب لا یفقهون بها ولهم اعین لا یبصرون بها ولهم آذان لا یسمعون بها) (201)

ان کے پاس دل ہے مگر سمجھتے نہیں ہیں، آنکھیں ہیں مگر دیکھتے نہیں ہیں، کان ہیں مگر سنتے نھیں۔

مذکورہ آیت سے استناد کرتے ہوئے کھا جاسکتا ہے منافقین اسی دنیا میں اپنی لجاجت کی بنا پر صحیح سماعت و بصارت، زبان گویا، حق کو درک اور بیان کرنے کے لئے نہیں رکھتے ہیں، اور مدام باطل کے گرداب میں غوطہ زن ہیں۔

--------------

199. غرر الحکم، نمبر 8853۔

200. سورہ بقرہ/18۔

201. سورہ اعراف/179۔


ماحصل یہ ہے کہ منافقین کے فھم و شعور کے منافذ و مسلمات لجاجت پسندی کی بنا پر بند ھوچکے ہیں۔

قرآن مجید نفاق کی اس حالت کو (طبع قلوب) سے یاد کررھا ہے۔

(طبع الله علی قلوبهم فهم لا یعلمون) (202)

خدا نے ان کے دلوں پر مھر لگادی ہے اور اب وہ لوگ کچھ جاننے والے نھیں۔

(فطبع علی قلوبهم فهم لا یفقهون) (203)

ان کے دلوں پر مھر لگادی گئی ہے تو اب کچھ نہیں سمجھ رہے ہیں۔

جو مھر ان کے دلوں پر لگائی گئی ہے اس کا سبب یہ ہوگا کہ حق کی گفتگو سماعت نہ کرسکیں اور حق کی عدم قبولیت ان کی ہمیشہ کی روش بن جائے، البتہ یہ بات واضح ہے کہ طبع قلوب (دلوں پر مھر لگانا) کے اسباب خود انھوں نے فراھم کئے ہیں اور ان کے دلوں پر مھر لگنا خود ان کے افعال و کردار کا نتیجہ ہے۔

------------

202. سورہ توبہ/93۔

203. سورہ منافقون/3۔


5) ضعف معنویت

منافقین کی پانچویں نفسیاتی و نفسانی صفت جسے قرآن مجید بیان کررھا ہے معنویت میں ضعف و سستی کا وجود ہے، یہ گروہ ضعف بصارت کی بنا پر خدا سے زیادہ عوام اور لوگوں کے لئے حرمت و عزت کا قائل ہے۔

منافقین محکم و راسخ ایمان نہ رکھنے کی وجہ سے غیبی و معنوی قدرت پر بھی محکم و کامل ایمان نہیں رکھتے، ان کی ساری غیرت اور خوف فقط ظاہری ہے، عوام سے حیا کرتے ہیں، لیکن خدا کے محضر میں بے حیا ہیں چونکہ خود کو الہی محضر میں سمجھتے ہی نہیں اور خدا کو فراموش کر بیٹھے ہیں۔

(یستخفون من الناس ولا یستخفون من الله وهو معهم اذ یبیتون مالا یرضی من القول وکان الله بما یعلمون محیطاً) (204)

یہ لوگ انسانوں کی نظروں سے اپنے کو چھپاتے ہیں اور خدا سے نہیں چھپ سکتے ہیں جب کہ وہ اس وقت بھی ان کے ساتھ رہتا ہے جب وہ ناپسندیدہ باتوں کی سازش کرتے ہیں اور خدا ان کے تمام اعمال کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔

اگر ظاہر میں ایک عبادت انجام دیں یا ظواھر اسلامی کی رعایت کریں تو صرف عوام نیز لوگوں کی توجہ و اعتماد کو حاصل کرنے کے لئے ہوتی ہے ورنہ ان کی عبادتیں ہر قسم کے مفھوم اور معنویت سے خالی ہیں۔

(ان المنافقین… اذا قاموا الی الصلوٰة قاموا کسالی یرائون الناس ولا یذکرون الله الا قلیلا) (205)

منافقین---- جب نماز کے لئے اٹھتے بھی ہیں تو سستی کے ساتھ، لوگوں کو دکھانے کے لئے عمل کرتے ہیں، اور اللہ کو بھت کم یاد کرتے ہیں۔

--------------

204. سورہ نساء/108۔

205. سورہ نساء/142۔


(ولا یأتون الصلوٰة الا وهم کسالی) (206)

اور یہ نماز بھی سستی اور تساھلی کے ساتھ بجالاتے ہیں۔

اگر چہ مذکورہ دونوں آیات میں منافقین کی ریا و کسالت (سستی) نماز کے موقع کے لئے بیان کی گئی ہے، لیکن علامہ طباطبائی (رح) تفسیر المیزان میں فرماتے ہیں نماز، قرآن میں تمام معنویت کا محور و مرکز ہے لھذا اس نکتہ پر توجہ کرتے ہوئے دونوں آیت کا مفھوم یہ ہے کے منافقین تمام عبادت و معنویت میں بے حال و سست ہیں اور صاحبان ایمان کے جیسی نشاط و فرحت، سرور و شادمانی نہیں رکھتے ہیں۔

البتہ قرآن مجید کی بعض دوسری آیات میں بھی منافقین کی عبادات کو بے معنویت اور سستی سے تعبیر کیا گیا ہے۔

(ولا ینفقون الا وهم کارهون) (207)

اور راہ خدا میں کراھت و ناگواری کے ساتھ خرچ کرتے ہیں۔

یہ آیت صراحتاً بیان کررھی ہے کہ ان کے انفاق کی بنا اخلاص و خلوص پر نہیں ہے، سورہ انفال میں بھی مسلمانوں کے مبارزہ و جھاد کی صف میں ان کی حرکات کو ریا سے تعبیر کیا گیا ہے اور مسلمانوں کو اس منافقانہ عمل سے دور رھنے کے لئے کھا گیا ھے:

(ولا تکونوا کالذین خرجوا من دیارهم بطرا و رئاء الناس) (208)

اور ان لوگوں کے جیسے نہ ھوجاؤ جو اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھانے کے لئے نکلتے ہیں۔

------------

206. سورہ توبہ/54۔

207. سورہ توبہ/54۔

208. سورہ انفال/47۔


بھر حال جن اشخاص نے دین کے اظھار کو قدرت طلبی، شیطانی خواہشات کے حصول کے لئے وسیلہ قرار دیا ہے، ان کی رفتار و گفتار میں دین داری کی حقیقی روح نہیں ملتی ہے وہ عبادت کو خود نمائی کے لئے اور سستی سے انجام دیتے ہیں۔

6) خواہشات نفس کی پیروی

منافقین کی چھٹی نفسیاتی خصوصیت، خواہشات نفسانی کی پیروی اور اطاعت ہے، منافقین حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنے اور عقل و نقل کی پیروی اور اطاعت کرنے کے بجائے، امیال و خواہشات نفسانی کے تابع و پیروکار ہیں، صعیف اعتقاد نیز باطل اور نحس مقاصد کی بنا پر خدا پرستی و حق محوری ان کے لئے کوئی مفھوم و معنی نہیں رکھتا ہے وہ خواہشات نفسانی کے مطیع و خود محوری کے تابع ہیں۔

(اولئک الذین طبع الله علی قلوبهم واتبعوا اهوائهم) (209)

یھی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر خدا نے مھر لگادی ہے اور انھوں نے اپنی خواہشات کا اتباع کرلیا ہے۔

تکبر اور برتر بینی خواہشات نفسانی کی نمائش و علامت میں سے ایک ہے، خواہشات نفسانی کے دو آشکار نمونے، ریاست و منصب کی طلب اور دنیا پرستی ہے جو منافقین میں پائی جاتی ہے، مال و منصب کی محبت، نفاق کی جڑوں کو دلوں میں رشد اور مستحکم کرنے کے عوامل میں سے ہیں۔

-----------

209. سورہ محمد/16۔


پیامبر عظیم الشان فرماتے ہیں:

((حب الجاه و المال ینبتان النفاق کما ینبت الماء البقل)) (210)

مال دنیا اور مقام و منصب کی محبت، نفاق کو دل میں یوں رشد دیتی ہے جیسے پانی سبزے کو نشو نما دیتا ہے۔

ظاہر ہے کہ وہ ریاست و منصب قابل مذمت ہے جس کا مقصد و ھدف انسان ہو یہ وہی مقام پرستی ہے جو لوگوں کے دین کے لئے بھت بڑا خطرہ ہے۔

نقل کیا جاتا ہے کہ حضرت امام رضا علیہ السلام کے محضر میں کسی کا نام لیتے ہوئے کھا گیا وہ منصب و مقام پرست ہے، آپ نے فرمایا:

((ما ذئبان ضاریان فی غنم قد تفرق رعاؤهابأ ضرّ فی دین المسلم من الریاسة)) (211)

دو خونخوار بھیڑیوں کا خطرہ ایسے گلہ کے لئے جو بغیر چوپان کے ہو اس خطرہ سے زیادہ نہیں، جو خطرہ مسلمان کے دین کو ریاست طلبی و مقام پرستی سے ہے۔

لیکن وہ مال و مقام جو اپنی اور اپنے خانوادے کی زندگی کی بھتری نیز مخلوق خدا کی خدمت اور پرچم حق کو بلند و قائم کرنے اور باطل کو ختم کرنے کے لئے ھو، وہ قابل مذمت نہیں ہے بلکہ عین آخرت اور حق کی راہ میں قدم بڑھانا ہے، شاید کبھی واجب بھی ھوسکتا ہے۔

-------------

210. المحجۃ البیضاء، ج،6، ص، 112۔

211. بحار الانوار، ج73، ص145۔


امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام اپنی پیوند زدہ اور بے قیمتی نعلین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ابن عباس کو خطاب کرکے فرماتے ہیں:

((والله لهی احب الی من امرتکم الا ان اقیم حقا او ادفع باطل)) (212)

خدا کی قسم! یہ بی قیمت نعلین مجھے تمھارے اوپر حکومت سے زیادہ عزیز ہے مگر یہ کہ حکومت کے ذریعہ کسی حق کو قائم کرسکوں یا کسی باطل کو دفع کرسکوں۔

اس بنا پر اسلام میں اپنے اور خانوادے کی معاشی زندگی کے لئے کوشش و تلاش کو راہ خدا میں جھاد سے تعبیر کیا گیا ہے۔

((الکاد علی عیاله کالمجاهد فی سبیل الله)) (213)

جو فرد بھی اپنے خانوادے کی امرار معاش کے لئے کوشش وسعی کرتا ہے وہ مجاھد راہ خدا ہے

دوسرے افراد کی خدمت گذاری کو بھی بھترین افعال میں شمار کیا گیا ہے۔

((خیر الناس انفعهم للناس)) (214)

بھترین فرد وہ ہے جس سے بیشتر فائدہ لوگوں کو پھنچتا ہے۔

لیکن منافقین کے اھداف فقط دنیا کے اموال، مناصب و اقتدار پر قبضہ کرنا ہے، دوسروں کی خدمت مدنظر نہیں ہے، اور اپنے اس پست و حقیر مقصد کے حصول کی خاطر تمام اسلامی و انسانی اقدار کو پامال کرنے کے لئے حاضر ہیں۔

-------------

212. بھج البلاغہ، خطبہ33۔

213. بحار الانوار، ج96، ص324۔

214. مستدرک الوسایل، ج12،ص391۔


مدینہ کے منافقین کا سرغنہ، عبد اللہ ابن ابی کا باطنی مرض یہ تھا کہ جب اس نے اپنی ریاست کے دست و بازو قطع ھوتے دیکھے تو تمام خیانت کاری و پست فطرتی کا مظاہرہ پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و مسلمانوں پر کرنے لگا کہ شاید ھاتھ سے جاچکا مقام و منصب دوبارہ حاصل ہوجائے۔

منافقین کی دنیا طلبی کی شدید خواہش کی کیفیت کو قرآنی آیات نے بخوبی بیان کیا ہے، قرآن کریم اکثر موارد پر اس نکتہ کو بیان کررھا ہے کہ منافقین اگر چہ میدان جنگ میں کوئی فعال کردار ادا نہیں کرتے لیکن جنگ ختم ھوتے ہی غنائم کی تقسیم کے وقت میدان میں حاضر ہوجاتے ہیں، اور اپنے سھم کا مطالبہ کرنے لگتے ہیں اس موضوع سے مربوط بعض آیات کو منافقین کی موقع پرستی کی بحث میں بیان کیا جاچکا ہے۔

7) گناہ کی تاویل گری

منافقین کی نفسیاتی خصوصیت کی ساتویں کڑی، گناہ کی توجیہ و تاویل گری ہے اس سے قبل اشارہ کیا گیا ہے کہ منافقین کی تمام سعی لا حاصل یہ ہے کہ اپنے باطن اور پلید نیت کو مخفی کرکے، اور جھوٹی قسمیں کھاکر، ظواھر کی آراستگی کرتے ہوئے خود کو صاحبان ایمان واقعی کی صفوف میں شامل کرلیں۔


اگر چہ صدر اسلام میں ایسا ممکن ھوسکا ہے لیکن ہمیشہ کے لئے اپنے باطن کو مخفی نہیں رکھ سکتے چونکہ ان سے بعض اوقات ایسے افعال و اعمال صادر ہوجاتے ہیں کہ جس کی وجہ سے مومنین ان کے ایمان میں شک کرنے لگتے ہیں لھذا منافقین، اس لئے کہ مسلمانوں کی نظروں سے نہ گر جائیں، نیز مسلمانوں کا اعتماد ان سے سلب نہ ھوجائے اپنے کردار اور برے افعال کی عام پسند توجیہ و تاویل کرنے لگتے ہیں۔

(فکیف اذا اصابتهم مصیبة بما قدمت ایدیهم ثم جاؤوک یحلفون بالله ان اردنا الا احسانا و توفیقا اولئک الذین یعلم الله ما فی قلوبهم فأعرض عنهم و عظهم و قل لهم فی انفسهم قولا بلیغا) (215)

پس اس وقت کیا ہوگا جب ان پر ان کے اعمال کی بنا پر مصیبت نازل ھوگی وہ آپ کے پاس آکر خدا کی قسم کھائیں گے کہ ھمارا مقصد صرف نیکی کرنا اور اتحاد پیدا کرنا تھا یھی وہ لوگ ہیں جن کے دل کا حال خدا خوب جانتا ہے لھذا آپ ان سے کنارہ کش رھیں انھیں نصیحت کریں اور ان کے دل پر اثر کرنے والی موقع و محل سے مربوط بات کریں۔

جھاد و معرکہ کا میدان ان مقامات میں سے ہے جہاں منافقین حاضر ھوتے ہوئے بے حد درجہ خائف و ھراساں رہتے ہیں لھذا جھاد میں شریک نہ ہونے کی خاطر (جھاد میں عدم شرکت عظیم گناہ ھے) عذر تراشی کرتے ہوئے تاویل و توجیہ کیا کرتے تھے ذیل کی آیت میں ایک منافق کی جنگ تبوک میں عدم شرکت کی عذر تراشی اور تاویل کو بیان کیا گیا ہے۔

(ومنهم من یقول ائذن لی ولا تفتنی الا فی الفتنة سقطوا وان جهنم لمحیطة بالکافرین) (216)

ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم کو اجازت دے دیجئے اور فتنہ میں نہ ڈالیے تو آگاہ ھوجاؤ کہ یہ واقعاً فتنہ میں گر چکے ہیں اور جھنم تو کافرین کو ہر طرف سے احاطہ کئے ہوئے ہے۔

------------

215. سورہ نساء/ 62، 63۔

216. سورہ توبہ/49۔


اس آیت کی شان نزول کے لئے بیان کیا گیا ہے کسی قبیلہ کا ایک بزرگ جو منافقین کے ارکان میں تھا رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت چاھی کہ جنگ تبوک میں شرکت نہ کرے اور عدم شرکت کی وجہ اور دلیل یہ بیان کی کہ اگر اس کی نطریں رومی عورتوں پر پڑے گی تو ان پر فریفتہ اور گناھوں میں مبتلا ھوجائے گا، پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجازت فرمادی کہ وہ مدینہ ہی میں رھے، اس واقعہ کے بعد یہ آیت نازل ھوئی جس نے اس کے باطن کو افشا کر کے رکھ دیا اور خداوند عالم نے اسے جنگ میں عدم شرکت کی بنا پر عصیان گر اور فتنہ میں غریق فرد سے تعبیر کیا ہے(217) ، منافقین کے دوسرے وہ افراد جو جنگ احزاب میں شریک نہیں ہوئے تھے ان کا عذر یہ تھا کہ وہ اپنے گھر اور مال و دولت کے تحفظ سے مطمئن نہیں ہیں، ذیل کی آیت ان کی پلید فکر کو فاش کرتے ہوئے ان کی عدم شرکت کے اصل مقصد کو جنگ سے فرار بیان کیا ہے۔

(ویستاذن فریق منهم النبی یقولون ان بیوتنا عورة وما هی بعورة ان یریدون الا فرارا) (218)

اور ان میں سے ایک گروہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت مانگ رہا تھا کہ ھمارے گھر خالی پڑے ہوئے ہیں حالانکہ وہ گھر خالی نہیں تھے بلکہ یہ لوگ صرف بھاگنے کا ارادہ کررھے تھے۔

بھر حال گناہ کی تاویل و توجیہ خود عظیم گناہ ہے جس کے منافق مرتکب ھوتے رہتے تھے بسا اوقات ممکن ہے منافقین سیدھے، سادے و زور باور و مومنین کو فریب دیدیں، لیکن وہ اس سے غافل ہیں کہ خدا ہر اس شی سے جو وہ اپنے قلب کے اندر مخفی کئے ہوئے ہیں آگاہ ہے ان کو اس دنیا میں ذلیل و رسوا کرے گا اور آخرت میں بھی دوزخ کے عذاب سے ان کا استقبال کیا جائے گا، یہ نکتہ بھی قابل ذکر ہے کہ منافقین کی تاویل و توجیہ کا سلسلہ صرف فردی مسائل سے مختص نہیں بلکہ اجتماعی و معاشرتی، ثقافتی اور سیاسی مسائل میں بھی تاویل و توجیہ کرتے رہتے ہیں کہ اس موضوع پر بھی بحث ھوگی۔

--------------------------

217. مجمع البیان، ج3، ص36۔

218. سورہ احزاب/13۔


فصل چھارم: منافقین کی ثقافتی (کلچرل) خصائص

1۔ خودی اور اپنائیت کا اظھار

2۔ دینی یقینیات کی تضعیف

خودی اور اپنائیت کا اظھار

منافقین کو اپنی تخریبی اقدامات جاری رکھنے کے لئے تاکہ صاحب ایمان حضرات کی اعتقادی اور ثقافتی اعتبار سے تخریب کاری کرسکیں، انھیں ہر چیز سے اشد ضرورت مسلمانوں کے اعتماد و اعتبار کی ہے تاکہ مسلمان منافقین کو اپنوں میں سے تصور کریں اور ان کی اپنائیت میں شک سے کام نہ لیں، اس لئے کہ منافقین کے انحرافی القائات معاشرے میں اثر گذار ہوں اور ان کے منحوس مقاصد کی تکمیل ھوسکے۔

ان کی تمام سعی و کوشش یہ ہے کہ خود معاشرے میں اپنائیت کی جلوہ نمائی کرائیں، اس لئے کہ وہ جانتے ہیں اگر ان کے باطن کا افشا، اور ان کے اسرار آشکار ھوگئے تو کوئی شخص بھی منافقین کی باتوں کو قبول نہیں کریگا اور ان کی سازشیں جلد ہی ناکام ہوجائیں گی، ان کے راز افشا ہونے کی بنا پر اسلام کے خلاف ہر قسم کی تبلیغی فعالیت، نیز سیاسی سر گرمی سے ھاتھ دھو بیٹھیں گے، لھذا منافقین کا بنیادی اور ثقافتی ھدف اپنے خیر خواہ ہونے کی جلوہ نمائی اور عمومی مسلمانوں کے اعتماد کو کسب کرنا ہے اور یہ بھت عظیم خطرہ ہے کہ افراد و اشخاص، بیگانے اور اجنبی شخص کو اپنوں میں شمار کرنے لگیں، اور معاشرہ میں خواص کی نگاہ سے دیکھا جانے لگے،


ثقافتی حادثہ اس وقت وجود میں آتا ہے کہ جب مسلمین منافقین کی ثقافتی روش طرز سے آشنائی نہ رکھتے ہوں اور ان کو اپنا دوست بھی تصور کریں، امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام مختلف افراد کے ظواھر پر اعتماد کرنے کے خطرات اور اشخاص کی اھمیت پر توجہ کرنے کی ضرورت کے متعلق فرماتے ہیں۔

((انما اتا کبا لحدیث اربعة رجال لیس لهم خامس رجل منافق مظهر للایمان متصنع بالاسلام لا یتأثم ولا یتحرج یکذب علی رسول الله متعمدا فلو علم الناس انه منافق کاذب لم یقبلوا منه ولم یصدقوا قوله ولکنهم قالوا صاحب رسول الله رآه وسمع منه و لقف عنه فیاخذون بقوله) (219)

یاد رکھو کہ حدیث کے بیان کرنے والے چار طرح کے افراد ھوتے ہیں جن کی پانچویں کوئی قسم نہیں ایک وہ منافق ہے جو ایمان کا اظھار کرتا ہے اسلام کی وضع و قطع اختیار کرتا ہے لیکن گناہ کرنے اور افترا میں پڑنے سے پرہیز نہیں کرتا ہے اور رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف قصداً جھوٹی روایتیں تیار کرتا ہے کہ اگر لوگوں کو معلوم ھوجائے کہ یہ منافق اور جھوٹا ہے تو یقیناً اس کے بیان کی تصدیق نہیں کریں گے لیکن مشکل یہ ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ صحابی ہیں انھوں نے حضور کو دیکھا ہے ان کے ارشاد کو سنا ہے اور ان سے حاصل کیا ہے اور اسی طرح اس کے بیان کو قبول کرلیتے ہے۔

----------------

219. نھج البلاغہ، خطبہ 210۔


اظھار اپنائیت کے لئے منافقین کی راہ و روش

منافقین اظھار اپنائیت کے لئے مختلف روش و طریقے سے استفادہ کرتے ہیں، چونکہ یہ مبدا و معاد پر ایمان ہی نہیں رکھتے ہیں، لھذا راہ و روش کی مشروعیت یا عدم جواز ان کے لئے کوئی معنی نہیں رکھتا، اور ان کے نزدیک قابل بحث بھی نہیں ہے ان کی منطق میں ھدف کی تحصیل و تکمیل کے لئے، ہر وسائل سے استفادہ کیا جاسکتا ہے خواہ وسائل ضد انسانی ہی کیوں نہ ہوں یھاں منافقین کی اظھار اپنائیت کے سلسلہ میں فقط پانچ طریقوں کی جانب اشارہ کیا جارھا ہے۔

1) کذب و ریاکاری کے ذریعہ اظھار کرنا

جیسا کہ پہلے اشارہ کیا گیا ہے نفاق کا اصلی جو ہر کذب اور اظھار کا ذبانہ ہے منافقین اظھار اپنائیت کے لئے وسیع پیمانہ پر حربۂ کذب سے استفادہ کرتے ہیں کبھی اجتماعی اور گروھی شکل میں پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتے ہیں اور آپ کی رسالت کا اقرار کرتے ہیں، خداوند عالم با صراحت ان کو اس اقرار میں کاذب تعارف کراتا ہے اور پیامبر عظیم الشان سے فرماتا ہے، اگر چہ تم واقعاً فرستادہ الہی ہو لیکن وہ اس اقرار میں کاذب ہیں اور دل سے تمھاری رسالت پر ایمان نہیں رکھتے ہیں۔

(اذا جاءک المنافقون قالوا نشهد انک لرسول الله والله یعلم انک لرسوله والله یشهد ان المنافقون لکاذبون) (220)

پیامبر! یہ منافقین آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواھی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور اللہ بھی جانتا ہے کہ آپ اس کے رسول ہیں لیکن اللہ گواھی دیتا ہے کہ یہ منافقین اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں۔

----------------

220. سورہ منافقون/1۔


جس وقت مومنین، منافقین کو ایجاد فساد و تباھی سے منع کرتے ہیں، خود کو تاکید کے ساتھ مصلح و آباد گر کہتے ہیں خداوند عالم ان کی گفتار کی تکذیب کرتے ہوئے ان کے مفسد ہونے کا اعلان کررھا ہے۔

(واذا قیل لهم لا تفسدوا فی الارض قالوا انما نحن مصلحون الا انهم هم المفسدون ولکن لا یشعرون) (221)

جب ان سے کھا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ برپا کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں حالانکہ یہ سب مفسد ہیں اور اپنے فساد کو سمجھتے بھی نہیں ہیں۔

منافقین اپنی کذب بیانی سے، پہلے کھی گئی بات کو آسانی سے انکار بھی کردیتے ہیں، تاریخی شواہد کے مطابق کسی مودر میں جب یہ کوئی بات کرتے تھے اور اس کی خبر رسول اسلا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ھوجاتی تھی تو یہ سرے ہی سے اس کا انکار اور شدت سے اس خبر کی تکذیب کردیتے تھے۔

نقل کیا گیا ہے کہ"جلاس" نام کا منافق جنگ تبوک کے زمانہ میں پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعض خطبے کو سننے کے بعد اس کا انکار کرتے ہوئے پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکذیب بھی کی، حضور کی مدینہ واپسی کے بعد عامر ابن قیاس نے پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جلاس کی حرکات کو بیان کیا، جب جلاس حضور کے خدمت میں پھونچا تو عامر بن قیس کی گزارش کو انکار کر بیٹھا، آپ نے دونوں کو حکم دیا کہ مسجد نبوی میں منبر کے نزدیک قسم کھائیں کہ جھوٹ نہیں بول رہے ہیں دونوں نے قسم کھائی، عامر نے قسم میں اضافہ کیا خدایا! اپنے پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر آیت نازل کرکے جو صادق ہے اس کا تعارف کرادے، حضور اور مومنین نے آمین کھی، جبرئیل نازل ہوئے اور اس آیت کو پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔

-------------

221. سورہ بقرہ/11، 12۔


(یحلفون بالله ما قالوا ولقد قالوا کلمة الکفر وکفروا بعد اسلامهم) (222)

یہ اپنی باتوں پر اللہ کی قسم کھاتے ہیں کہ ایسا نہیں کھا حالانکہ انھوں نے کلمہ کفر کھا اور اپنے اسلام کے بعد کافر ھوگئے ہیں۔

یہ اور مذکورہ آیات سے استفادہ ہوتا ہے کہ کذب اور تکذیب، منافقین کا ایک طرۂ امتیاز ہے تاکہ مومنین کی صفوف میں نفوذ کرکے اپنائیت کا اظھار کرسکیں۔

منافقین پیامبر عظیم الشان (ص) کے دور میں تصور کرتے تھے کہ کذب و تکذیب کے ذریعہ آپ کو فریب دے سکتے ہیں تاکہ اپنے باطن کو مخفی کرسکیں خداوند عالم منافقین کی اس روش کو افشا کرتے ہوئے تاکید کررھا ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ پیامبر گرامی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تمھارے احوال و اوضاع سے بے خبر ہیں یا خوش خیالی کی بنا پر تمھاری باتوں پر اطمینان کرلیتے ہیں۔

نقل کیا جاتا ہے کہ جماعت نفاق کے افراد آپس میں بیٹھے ہوئے پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ناسزا الفاظ سے یاد کررھے تھے، ان میں سے ایک نے کھا: ایسا نہ کرو، ڈرتا ہوں کہ یہ بات (حضرت) محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کانوں تک پہنچ جائے اور وہ ہم کو برا بھلا کہیں اور افراد کو ھمارے خلاف ورغلائیں، ان میں سے ایک نے کھا: کوئی اہم بات نہیں، جو ھمارا دل چاھے گا کہیں گے، اگر یہ بات ان کے کانوں تک پہنچ بھی جائے، تو ان کے پاس جاکر انکار کردیں گے چونکہ (حضرت) محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوش خیال و منہ دیکھے ہیں، کوئی جو کچھ بھی کھتا ہے قبول کرلیتے ہیں اس موقع پر سورہ توبہ کی ذیل آیت نازل ھوئی اور ان کے اس غلط تصور و فکر کا سختی سے جواب دیا۔

--------------

222. سورہ توبہ/74۔


(منهم الذین یوذون النبی ویقولون هو اذن) (223)

ان (منافقین) میں سے جو پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیت دیتے ہیں اور کہتے ہیں وہ تو صرف کان (سادہ لوح و خوش باور) ہیں۔

2) باطل قسمیں یاد کرنا

دوسری وہ روش جس کو استعمال کرتے ہوئے منافقین مومنین کے حلقہ میں نفوذ کرتے ہیں، باطل قسمیں کھانا ہے، وہ ہمیشہ شدید قسموں کے ذریعہ سعی کرتے ہیں تاکہ اپنے باطن کو افشا ہونے سے بچا سکیں اور اسی کے سایہ میں تخریبی حرکتیں انجام دیتے ہیں۔

(اتخذوا ایمانهم جنةً فصدوا عن سبیل الله) (224)

انھوں نے اپنی قسموں کو سپر بنا لیا ہے اور لوگوں کو راہ خدا سے روک رہے ہیں۔ منافقین باطل اور جھوٹی قسموں کے ذریعہ کوشش کرتے ہیں کہ خود کو مومنین کا خیر خواہ ثابت کریں، اور صاحب ایمان کے حلقہ میں اپنا ایک مقام بنالیں۔

(ویحلفون بالله انهم لمنکم وما هم منکم و لکنهم قوم یفرقون) (225)

اور یہ اللہ کی قسم کھاتے ہیں اس بات پر کہ یہ تمھیں میں سے ہیں حالانکہ یہ تم میں سے نہیں ہیں یہ بزدل لوگ ہیں۔

--------------

223. سورہ توبہ/61۔

224. سورہ منافقون/2۔

225. سورہ توبہ/56۔


منافقین چونکہ واقعی ایمان کے حامل نہیں، رضائے الہی کا حصول ان کے لئے اھمیت نہیں رکھتا ہے اور معاشرے میں اپنی ساکھ اور اعتبار بھی بنائے رکھنا چاہتے ہیں اور معاشرہ کے افراد کی توجہ کی حصول کے لئے زیادہ اھتمام بھی کرتے ہیں لھذا مختلف میدان میں جھوٹی قسمیں کھاکر مومنین حضرات کی رضایت و خشنودی کو حاصل کرتے ہیں۔

خدا قرآن میں تصریح کررھا ہے کہ منافقین کا بنیادی مقصد مومنین کی رضایت کو حاصل کرنا ہے حالانکہ رضایت الہی کا حصول اھمیت کا حامل ہے جب تک خدا راضی نہ ہو بندگان خدا کی رضایت منافقین کے لئے سودمند ہو ہی نہیں سکتی ہے شاید مومنین کی رضایت سے سوء استفادہ کرتے ہوئے مزید کچھ دن تخریبی کاروائی انجام دے سکیں۔

(یحلفون بالله لکم لیرضوکم والله ورسوله احق ان یرضوه ان کانوا مومنین) (226)

یہ لوگ تم لوگوں کو راضی کرنے کے لئے خدا کی قسم کھاتے ہیں حالانکہ خدا و رسول اس بات کے زیادہ حق دار تھے اگر یہ صاحبان ایمان تھے تو واقعاً انھیں اپنے اعمال و کردار سے راضی کرتے۔

(یحلفون لکم لترضوا عنهم فان ترضوا عنهم فان الله لا یرضی عن القوم الفاسقین) (227) یہ تمھارے سامنے قسم کھاتے ہیں کہ تم ان سے راضی ھوجاؤ اگر تم راضی بھی ھوجاؤ تو بھی خدا فاسق قوم سے راضی ہونے والا نھیں۔

-------------

226. سورہ توبہ/62۔

227. نھج البلاغہ، خطبہ194۔


3) غلط اقدامات کی توجیہ کرنا

منافقین صاحبان ایمان کی تحصیل رضایت اور حسن نیت کی اثبات کے لئے اپنے غلط اقدامات و حرکات کی توجیہ کرتے ہیں کہ اپنائیت کا اظھار کرتے ہوئے فائدہ حاصل کرسکیں منافقین کی نفسیاتی خصوصیت میں یہ نکتہ مورد بحث قرار دیا گیا ہے اور تصریح کیا گیا ہے کہ منافقین تاویل و توجیہ کے ہتکنڈے کو تمام ہی موارد میں استعمال کرتے ہیں۔

منافقین عمومی افکار اور اعتماد کو ھاتھ سے جانے دینا نہیں چاہتے لھذا اظھار اپنائیت کرتے ہوئے اپنے غلط اقدامات و حرکات کی توجیہ کرتے ہیں اور اپنے باطل مقاصد کو حق کے لباس اور قالب میں پیش کرتے ہیں۔

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام اہل نفاق کی توصیف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

((یقولون فیشبهون ویصفون فیموهون)) (228)

جب بات کرتے ہیں تو مشتبہ انداز میں اور جب تعریف کرتے ہیں تو باطل کو حق کا رنگ دے کر، کرتے ہیں۔

---------------

228. نھج البلاغہ، خطبہ 194۔


قرآن مجید نے منافقین کے مختلف عذر اور غلط اقدامات کا ذکر کیا ہے اور ان کی تکذیب بھی کی ہے، بطور مثال جنگ تبوک میں اپنے عدم حضور کی توجیہ، ناتوانی و عدم قدرت کی شکل میں پیش کرنا چاہتے تھے کہ خداوند عالم ان سے قبل ان کی اس توجیہ کی تکذیب کرتے ہوئے فرماتا ھے:

(لو کان عرضاً قریباً و سفرا قاصدا لا تبعونک ولکن بعدت علیهم الشقّه وسیحلفون بالله لو استطعنا لخرجنا معکم یهلکون انفسهم والله یعلم انهم لکاذبون) (229)

پیامبر! اگر کوئی فوری فائدہ یا آسان سفر ہوتا تو تمھارا اتباع کرتے لیکن ان کے لئے دور کا سفر مشکل بن گیا ہے اور عنقریب یہ خدا کی قسمیں کھائیں گے اس بات پر کہ اگر ممکن ہوتا تو ہم ضرور آپ کے ساتھ چل پڑتے، یہ اپنے نفس کو ھلاک کررھے ہیں اور خدا خوب جانتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔

منافقین کے غلط اقدام کی توجیہ کا ایک اور موقع یہ ہے کہ، تقریباً منافقین میں سے ایک سو اسّی افراد نے غزوہ تبوک میں شرکت نہیں کی، جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور مسلمان وھاں سے واپس آئے تو منافقین مختلف توجیہ کرنے لگے۔

--------------

229. سورہ توبہ/42۔


ذیل کی آیت منافقین کی اس غلط حرکات کی سرزنش کے لئے نازل ھوئی ہے خداوند عالم بطور واضح بیان کررھا ہے کہ ان کے جھوٹے عذر خدا کے لئے پوشیدہ نہیں ہیں ان کے حالات سے مومنین کو باخبر کرکے منافقین کے اسرار سے پردہ اٹھا رہا ہے۔

(یعتذرون الیکم اذا رجعتم الیهم قل لا تعتذروا لن نؤمن لکم قد نبّأنا الله من اخبارکم و سیری الله عملکم ورسوله ثم تردون الی عالم الغیب و الشهادة فینبئکم بما کنتم تعملون) (230)

یہ تخلف کرنے والے منافقین تم لوگوں کی واپسی پر طرح طرح کے عذر بیان کریں گے تو آپ کہہ دیجئے کہ تم لوگ عذر نہ بیان کرو ہم تصدیق کرنے والے نہیں ہیں اللہ نے ھمیں تمھارے حالات بتادیئے ہیں وہ یقیناً تمھارے اعمال کو دیکھ رہا ہے اور رسول بھی دیکھ رہا ہے اس کے بعد تم حاضر و غائب کے عالم (خدا) کی بارگاہ میں واپس کئے جاؤ گے اور وہ تمھیں تمھارے حال سے باخبر کرے گا۔

----------------

230. سورہ توبہ/94۔


4) ظاہر سازی کرنا

ظواھر دینی کی شدید رعایت، خوش نما و اشخاص پسند گفتگو، اصلاح طلب نظریات و افکار کا اظھار، منافقین کے حربہ ہیں تاکہ طرف کے مقابل کو اپنا ھمنوا بناکر خودی ہونے کا القاء کرسکیں۔

امیر المومنین حضرت امام علی علیہ السلام کے ہم عصر بعض منافقین ظاہر میں عبّاد و زہاّد دھر تھے نماز شب، قرآن کی تلاوت، ان سے طولانی ترین سجدے ترک نہیں ھوتے تھے، ان کی ظاہر سازی سے اکثر مومنین فریب کے شکار ہوجاتے تھے، بھت کم ہی تھے جو ان کے دین و ایمان میں شک رکھتے ھوں۔

منافقین کی ظاہر سازی کچھ اس نوعیت کی تھی کہ بقول قرآن، خود پیامبر عظیم الشان (ص) کے لئے بھی باعث حیرت و تعجب خیز تھی۔

(واذا رأیتهم تعجبک اجسامهم ان یقولوا تسمع لقولهم) (231)

اور جب آپ انھیں دیکھیں گے تو ان کے جسم بھت اچھے لگیں گے اور بات کریں گے تو اس طرح کہ آپ سننے لگیں گے۔

منافقین کی ظواھر سازی، رفتار و کردار سے اختصاص نہیں رکھتی بلکہ ان کی گفتار بھی فریب و جاذبیت سے لبریز ہے۔

(ومن الناس من یعجبک قوله فی الحیوة الدنیا و یشهد الله علی ما فی قلبه وهو الدّ الخصام) (232)

انسانوں میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کی باتیں زندگانی دنیا میں بھلی لگتی ہیں اور وہ اپنے دل کی باتوں پر خدا کو گواہ بتاتے ہیں حالانکہ وہ بدترین دشمن ہیں۔

----------------

231. سورہ منافقون/2۔

232. سورہ بقرہ/204۔


5) جھوٹے عہد و پیمان کرنا

خودی ظاہر کرنے کے لئے منافقین کا ایک اور وطیرہ وعدہ اور اس کی خلاف ورزی ہے بسا اوقات منافقین سے عادتاً ایسی خطائیں سرزد ہوتی تھیں کہ جس کی کوئی توجیہ و تاویل ممکن نہیں تھی یا مومنین کے لئے قابل قبول نہیں ہوتی تھی ایسے مقام پر وہ توبہ کو وسیلہ بناتے تھے اور عہد کرتے تھے اب ایسی خطائیں نہیں کریں گے اور صحیح راستہ پر مستحکم و ثابت قدم رھیں گے لیکن چونکہ دین اور دین کے اعتبارات کے لئے منافقین کے قلب میں کوئی جگہ تھی ہی نہیں جو اپنے عہد و پیمان پر باقی رھتے، تخلف وعدہ ایسے ہی تھا جیسے ان کے لئے کذب وغیرہ------جنگ احزاب میں منافقین کی وعدہ خلافی کی بنا پر ذیل کی آیت کا نزول ہوا:

(ولقد کانوا عاهدوا الله من قبل لا یولون الأدبار وکان عهد الله مسئولا) (233)

اور ان لوگوں نے اللہ سے یقینی عہد کیا تھا کہ ھرگز پشت نہیں دکھائیں گے، اور اللہ کے عہد کے بارے میں بھر حال سوال کیا جائے گا۔

خداوند عالم "ثعلبہ بن حاطب" کی عہد گزاری نیز پیمان شکنی کے واقعہ کو یاد دھانی کے طور پر پیش کررھا ہے، ثعلبہ بن حاطب ایک فقیر مسلمان تھا اس نے پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دعا کرنے کی خواہش کی تاکہ وہ صاحب ثروت ھوجائے حضرت نے فرمایا: وہ تھوڑا مال جس کا تم شکر ادا کرسکتے ہو اس زیادہ اموال سے بھتر ہے جس کی شکر گزاری نہیں کرسکتے ھو، ثعلبہ نے کھا: اگر خدا عطا کرے تو اس کے تمام واجب حقوق کو ادا کرتا رھوں گا۔

----------------

233. سورہ احزاب/15۔


پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعا سے اموال میں اضافہ ہونے لگا، یھاں تک کہ اس کے لئے مدینہ میں قیام، نماز جماعت نیز جمعہ میں شرکت کرنا مشکل ھوگیا اطراف مدینہ میں منتقل ھوگیا، جب زکوٰۃ لینے والے گئے تو یہ کہہ کر واپس کردیا کہ مسلمان اس لئے ہوئے ہیں تاکہ جزیہ و خراج نہ دینا پڑے، اگر چہ بعد میں ثعلبہ پشیمان تو ہوا لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی تنبیہ اور دوسروں کی عبرت کے لئے زکوٰۃ لینے سے انکار کردیا، ذیل کی آیت اسی واقعہ کو بیان کررھی ہے۔

(ومنهم من عاهد الله لئن آتانا من فضله لنصدقن و لنکونن من الصالحین فلما آتیهم من فضله بخلوا به وتولوا وهم معرضون فاعقبهم نفاقاً فی قلوبهم الی یوم یلقونه) (234)

ان میں سے وہ بھی ہیں جنھوں نے خدا سے عہد کیا اگر وہ اپنے فضل و کرم سے عطا کرے گا، تو اس کی راہ میں صدقہ دیں گے اور نیک بندوں میں شامل ہوجائیں گے، اس کے بعد جب خدا نے اپنے فضل سے عطا کردیا تو بخل سے کام لیا، اور کنارہ کش ھوکر پلٹ گئے تو ان کے بکل نے ان کے دلوں میں نفاق راسخ کردیا، اس دن تک کے لئے جب یہ خدا سے ملاقات کریں گے اس لئے کہ انھوں نے خدا سے کئے ہوئے وعدہ کی مخالفت کی ہے اور جھوٹ بولتے ہیں۔

پیمان گزاری و پیمان شکنی، وعدہ اور وعدہ کی خلاف ورزی، آئندہ صالح ہونے کا پیمان اور اس سے روگردانی وغیرہ-------، یہ وہ طریقے ہیں جس سے منافقین استفادہ کرتے ہوئے مومنین کے حلقہ و دینی معاشرے میں خود کو مخفی؛ کئے رہتے ہیں اور عوام فریبی کے لئے زمین ھموار کرتے ہیں۔

---------------

234. سورہ توبہ/75/77۔


دینی یقینیات و مسلّمات کی تضعیف

منافقین کی ثقافتی رفتار و کردار کی دوسری خصوصیت دینی و مذھبی یقینیات و مسلّمات کی تضعیف ہے یقیناً جب تک انسان کا عقیدہ تحریف، تزلزل، ضعف سے دوچار نہ ہوا ھو۔ کوئی بھی طاقت اس کے عقیدہ کے خلاف زور آزمائی نہیں کرسکتی قدرت کا اقتدار، حکومت کی حاکمیت اجسام و ابدان پر تو ھوسکتی ہے دل میں نفوذ و قلوب پر مسلط نہیں ھوسکتی سر انجام انسان کی رسائی اس شی تک ہو ہی جا تی ہے جسے دل اور قلب پسند کرتا ہے اسلام کا اہم ترین اثر مسلمانوں پر، بلکہ تمام ہی ادیان کا اپنے پیروکاروں پر یہ رہا ہے کہ فرضی و خرافاتی رسم و رواج کو ختم کرتے ہوئے منطقی و محکم اعتقاد کی بنیاد ڈالیں، پہلے تو اسلام نے انسانوں کے اندرونی تحول و انقلاب کے لئے کام کیا ہے پھر اسلامی حکومت کے استقرار کی کوشش کی ہے تاکہ ایسا سماج و معاشرہ وجود میں آئے جو اسلام کے نظریہ کے مطابق اور مورد تایید ھو۔

پیامبر عظیم الشان (ص) پہلے مکہ میں تیرہ سال تک انسان سازی اور ان کے اخلاقی، فکری، اعتقادی ستون کو محکم مضبوط کرنے میں مصروف رہے اس کے بعد مدینہ میں اسلام کی سیاسی نظریات کی تابع ایک حکومت تشکیل دی منافقین جانتے تھے کہ جب تک مسلمان پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انسان ساز تعلیمات پر گامزن اور خالص اسلامی عقیدہ پر استوار و ثابت قدم رھیں گے، ان پر نہ تو حکومت کی جاسکتی ہے اور نہ ہی وہ تسلیم ھوسکتے ہیں، لھذا ان کی طرف سے ہمیشہ یہ کوشش رھی ہے کہ مومنین عقائد، دینی و مذھبی تعلمیات کے حوالہ سے ہمیشہ شک و شبہ میں مبتلا رھیں جیسا کہ آج بھی اغیار کے ثقافتی یلغار و حملہ کا اہم ترین ھدف یھی ہے۔


منافقین کے اھداف یہ ہیں کہ اہل اسلام سے روح اسلام اور ایمان کو سلب کرلیں، منافقین کی تمام تر سعی، دین کے راسخ عقائد اس کے اھداف و نتائج، مذہب کی حقانیت و مسلمات سے مسلمانوں کو دور کردینا ہے تاکہ شاید اس کے ذریعہ اسلامی حکومت کی عنان اپنے ھاتھ میں لے سکیں اور مسلمانوں پر تسلط و قبضہ کرسکیں لھذا منافقین کا اپنے باطل مقاصد کے تکمیل کے لئے بھترین طریقۂ کار یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کے دلوں میں طرح طرح کے شکوک پیدا کریں، اور انواع و اقسام کے شبھات کے ذریعہ مسلمانوں کو دینی مسلّمات کے سلسلہ میں وادی تردید میں ڈال دینے کی کوشش کرتے ہیں، تاریخی شواہد اور وہ آیات جو منافقین کی اس روش کو اجاگر کرتی ہیں، بیان کرنے سے قبل، ایک مختصر وضاحت سوال اور ایجاد شبہ کے سلسلہ میں عرض کرنا لازم ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ سوال اور جستجو کی فکر ایک مستحسن اور مثبت پہلو ہے، تمام علوم و معارف انھیں سوالات کے رھین منت ہیں جو بشر کے لئے پیش آئے ہیں اور جس کے نتیجہ میں اس نے جوابات فراھم کئے ہیں، اگر انسان کے اندر جستجو و تلاش کا جذبہ نہ ہوتا جو اس کی فطرت کا تقاضا ہے نیز ان سوالات کا حل تلاش کرنے کی فکر دامن گیر نہ ہوتی تو یقیناً موجودہ علوم و دانش کی یہ ترقی کسی صورت سے حاصل نہ ھوتی۔


ان سوالات کے حل کے لئے جو انسان کے لئے پیش آتے ہیں دین اسلام میں فراوان تاکید کی گئی ہے، یہ کھا جاسکتا ہے جس قدر علم و تحصیل کی تشویق و ترغیب کی گئی ہے اسی طرح سوالات اور اس کے حل پر بھی زور دیا گیا ہے، قرآن مجید صریح حکم دے رہا ہے اگر کسی چیز کو نہیں جانتے ہو تو اس علم کے علماء اور دانشمندوں سے سوال کرو۔

(فاسئلوا اهل الذکر ان کنتم لا تعلمون) (235)

اگر نہیں جانتے ہو تو اہل ذکر (علماء) سے سوال کرو۔

دوسرا وہ مطلب جو اسلام میں جواب و سوال کی اھمیت کو ظاہر کرتا ہے وہ جوابات ہیں جو خداوند عالم نے قرآن میں بیان کئے ہیں یہ سوالات پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کئے جاتے تھے خدا نے قرآن میں"یسئلونک" سے بات آغاز کرتے ہوئے ان کے جوابات دئے ھیں(236)

پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جب روح، ھلال، انفال شراب و قمار کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ سوال اور فکر سوال کی تشویق و تمجید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

((العلم خزائن و مفاتیحها السوال فاسئلوا یرحمکم الله فانه یوجر فیه اربعة السائل والعالم و المستمع والمحب لهم)) (237)

علم خزانہ ہے اور اس کی کنجیاں سوال کرنا ہے، سوال کرو، (جس چیز کو نہیں جانتے ھو) خداوند متعال تم کو اپنی خاص رحمت سے نوازے گا ہر سوال میں چار فرد کو فائدہ نفع حاصل ہوتا ہے سوال کرنے والے، جواب دینے والے، سننے والے اور اس فرد کو جو ان کو دوست رکھتا ہے۔

------------------

235. سورہ نحل/42 و سورہ انبیاء/7۔

236. رجوع کریں بقرہ/89 /215 /217 /219۔

237. میزان الحکمۃ ج4، ص330۔


ائمہ حضرات کے بھت سارے دلائل، بحث و مباحثات نیز مختلف افراد کے سوالات کا جواب دینا، حتی دشمنوں اور کافرین کے مسائل کا حل پیش کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ سوال ایک امر پسندیدہ و مطلوب شی ہے، ائمہ حضرات کی سیرت میں اس امر کا اھتمام کافی حد تک مشھور ہے(238)

ظاہر ہے کہ وہ سوالات جو درک و فھم اور استفادہ کے لئے کیا جائے، وہ مفید ہے اور فھم و کمال کو بلندی عطا کرتا ہے، لیکن وہ سوالات جو دوسروں کی اذیت، آزمایش یا ایسے علم کے حصول کے لئے ہو جو انسان کے لئے فائدہ مند نہیں ہے، صرف یھی نہیں کہ ایسے سوالات بے قدر و قیمت ہیں بلکہ ممنوع قرار دئے گئے ہیں۔

امیر المومنین حضرت امام علی علیہ السلام نے ایک پیچیدہ اور بی فائدہ سوال کے جواب میں فرمایا:

((سل تفقها ولا تسأل تعنتا)) (239)

سمجھنے کے لئے دریافت کرو الجھنے کے لئے نھیں۔

قرآن مجید میں بھی پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کئے گئے بعض سوالوں کے جواب کے لحن و طرز سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایسے سوالات نہیں کرنا چاھئے جن کے جوابات ثمر بخش نہیں ہیں۔

بعض مسلمانوں نے ھلال (ماہ) کے سلسلہ میں سوالات کئے کہ ماہ کیا ہے، وہ کیوں تدریجاً کامل ہوتا ہے، پھر کیوں پہلی حالت پر پلٹ آتا ھے(240)

----------------

238. بعض مطالب کو کتاب الاحتجاج، مرحوم طبرسی، ج1، 2 میں حاصل کیا جاسکتا ہے۔

239. نھج البلاغہ، حکمت320۔

240. سورہ بقرہ/189۔


اللہ اس سوال کے جواب میں پیامبر عظیم الشان کو حکم دیتا ہے کہ ھلال کے تغییرات کے آثار و فوائد کو بیان کریں، ھلال کے متعلق اس جواب کا مفھوم یہ ہے کہ وہ چیز جو سوال کرنے و جاننے کے قابل ہے وہ ھلال کی تغییرات کی بنا پر اس کے آثار و فوائد ہیں نہ یہ کہ، کیوں ماہ تغییر کرتا ہے اور اس کی علت کیا ہے (علت شناسی زیادہ اھمیت کی حامل نھیں) ۔

سوال اور شبہ کا اساسی و بنیادی فرق یہ ہے کہ شبہ القا کرنے والے کا ھدف، جواب کا حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ شبہ کا موجد اپنے باطل مطلب کو حق کے لباس میں ان افراد کے سامنے پیش کرتا ہے، جو حق و باطل میں تشخیص دینے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں امیر المونین حضرت علی علیہ السلام شبہ کی اسم گزاری کے سلسلہ میں فرماتے ہیں:

((وانما سمیت الشبهة شبهة لانها تشبه الحق)) (241)

شبہ کو اس لئے شبہ کا نام دیا گیا کہ حق سے شباھت رکھتا ہے۔

اگر شبہ ایجاد کرنے والے کو علم ھوجائے کہ کسی مقام پر ھمارا مغالطہ کشف ھوجائے گا اور اس کا باطن ہونا آشکار ھوجائے گا تو ایسی صورت میں وہ اس مقام یا فرد کے پاس اصلاً شبہ کو طرح و پیش ہی نہیں کرتا بلکہ وہاں پیش کرنے سے گریز کرتے ہیں سعی و کوشش یہ ہوتی ہے کہ شبہ کے احتمالی جواب کو بھی مخدوش کرکے پیش کرے۔

---------------

241. نھج البلاغہ، خطبہ38۔


ایسے افراد کے اھداف بعض اشخاص کو اپنے میں جذب اور ان کے مبانی و اصول میں تزلزل پیدا کرنا ہوتا ہے، تاکہ حق کو دور و جدا کرسکیں، شبہ کرنے والے حضرات اپنے باطل کو حق میں اس طرح آمیزش کردیتے ہیں کہ وہ افراد جو تفریق و تمیز کی صلاحیت نہیں رکھتے ہیں وہ فریب کا شکار ہوجائیں۔

شبھات ہمیشہ حق کے لباس میں پیش کئے جاتے ہیں اور آسانی سے سادہ لوح افراد مجذوب ہوجاتے ہیں، شبہ خالص باطل نہیں ہے اس لئے کہ باطل محض اور خالص آسانی سے ظاہر ہوجاتا ہے۔

حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام فتنہ کا سر چشمہ حق و باطل کی آمیزش کو بیان کرتے ہیں، آپ مزید فرماتے ہیں کہ اگر حق و باطل ایک دوسرے سے جدا کردئے جائیں تو راستہ کی تشخیص بھت ہی آسان اور سھل ھوجاتی ہے۔

((انما بدء وقوع الفتن اهواء تتبع و احکام تبتدع یحلاف فیها کتاب الله ویتولی علیها رجال رجالا علی غیر دین الله فلو ان الباطل خلص من مزاج الحق لم یخف علی المرتادین ولو ان الحق خلص من لبس الباطل انقطعت عنه السن المعاندین ولکن یوخذ من هذا ضغث و من هذا ضغث فیمز جان)) (242)

فتنہ کی ابتدا ان خواہشات سے ہوتی ہے جن کا اتباع کیا جاتا ہے اور ان جدید ترین احکام سے ہوتی ہے جو گڑھ لئے جاتے ہیں اور سراسر کتاب خدا کے خلاف ھوتے ہیں اس میں کچھ لوگ دوسرے لوگوں کے ساتھ ہوجاتے ہیں اور دین خدا سے الگ ہوجاتے ہیں کہ اگر باطل حق کی آمیزش سے الگ رہتا تو حق کے طلبگاروں پر مخفی نہیں رہ سکتا تھا اور اگر حق باطل کی ملاوٹ سے الگ رہتا تو دشمنوں کی زبانیں کھل نہیں سکتی تھیں، لیکن ایک حصہ اس میں سے لیا جاتا ہے اور ایک اس میں سے، اور پھر دونوں کو ملا دیا جاتا ہے۔ تحقیقی اور تخصصی مسائل کو علمی ظاہر کرتے ہوئے، غیر علمی حلقے و ماحول میں پیش کرنا ایجاد کرنے کا روشن ترین مصداق ہے۔

---------------

242. نھج البلاغہ، خطبہ50۔


شبہ کا القا

دینی و اعتقادی مسلّمات کو ضعیف و کمزور کرنے کے لئے منافقین کی اہم ترین روش، القا شبہ ہے جس کے ذریعہ دین و ایمان کی روح و فکر کو خدشہ دار کردیتے ہیں۔

منافقین سخت اور حساس مواقع پر خصوصاً جنگ و معرکہ کے ایام میں شبہ اندازی کرکے مومنین کی مشکلات میں اضافہ اور مجاھدین کی فکر و حوصلہ کو تباہ اور برباد کر دیتے ہیں تاکہ میدان جنگ و نبرد کے حساس مواقع پر شرکت کرنے سے روک

سکیں۔

اس مقام پر منافقین کی طرف سے پیش کئے گئے دو شبہ قرآن مجید کے حوالہ سے پیش کئے جارھے ہیں۔

1) دین کے لئے فریب کی نسبت دینا

منافقین جنگ بدر کے موقع پر خداوند عالم کی نصرت و مدد اور مسلمین کی کامیابی و فتح یابی کے وعدے کی تکذیب کرتے ہوئے، ان کے وعدے کو فریب و خوش خیالی قرار دے رہے تھے، قصد یہ تھا کہ ایجاد اضطراب کے ذریعہ وعدہ الہی کے سلسلہ میں مسلمانوں کے اعتقاد و ایمان میں ضعف و تزلزل پیدا کردیں، تاکہ وہ میدان جنگ میں حاضر نہ ھوسکیں۔


خداوند عالم اس مسئلہ کی یاد دھانی کرتے ہوئے مسلمانوں کے لئے تصریح کرتا ہے کہ خدا کا وعدہ یقینی ہے اگر توکل و اعتماد رکھو گے تو کامیاب و کامران ھوجاؤ گے۔

(واذ یقول المنافقون والذین فی قلوبهم مرض غرّ هولاء دینهم ومن یتوکل علی الله فان الله عزیز حکیم) (243)

جب منافقین اور جن کے دل میں کھوٹ تھا کہہ رہے تھے کہ ان لوگوں (مسلمان) کو ان کے دین نے دھوکہ دیا ہے حالانکہ جو شخص اللہ پر اعتماد کرتا ہے تو خدا ہر شی پر غالب آنے والا اور بڑی حکمت والا ہے۔

منافقین نے اسی سازش کو جنگ احزاب (خندق) میں بھی استعمال کیا۔

(واذ یقول المنافقون والذین فی قلوبهم مرض ما وعدنا الله ورسوله الا غرورا) (244)

اور جب منافقین اور جن کے دلوں میں مرض تھا یہ کہہ رہے تھے کہ خدا و رسول نے ہم سے صرف دھوکہ دینے والا وعدہ کیا ہے۔

---------------

243. سورہ انفال/49۔

244. سورہ احزاب/12۔


آیت فوق کی شان نزول یہ ہے کہ مسلمان خندق کھودتے وقت ایک بڑے پتھر سے ٹکرائے، سعی فراوان کے بعد بھی پتھر کو نہ توڑ سکے، رسول اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مدد کے لئے درخواست کی، آپ نے الہی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تین وار اور ضرب سے پتھر کو توڑ ڈالا، اور آپ نے فرمایا: یھاں سے حیرہ، مدائن، کسری و روم کے قصر و محل میرے لئے واضح و آشکار ہیں، فرشتۂ وحی نے مجھے خبر دی ہے کہ میری امت ان پر کامیاب اور فتحیاب ھوگی نیز ان کے تمام قصر و محل زیر تصرف ہوں گے پھر آپ نے فرمایا: خوش خبری اور مبارک ہو تم مسلمانوں پر اور اس خدا کا شکر ہے کہ اس محاصرہ و مشکلات کے بعد فتح و ظفر ہے۔

اس موقع پر ایک منافق نے بعض مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کھا: تم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات پر تعجب نہیں کرتے ھو، کس طریقہ سے تم کو بے بنیاد وعدوں کے ذریعہ خوش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یھاں سے روم و حیرہ و مدائن کے قصر کو دیکھ رہا ہوں اور جلد ہی فتح نصیب ھوگی، یہ اس حال میں تم کو وعدہ دے رہے ہیں کہ تم دشمن سے مقابلہ کرنے میں خوف و ھراس کے شکار ہو(245)

---------------

245. سیرۃ ابن ھشام، ج2، ص219، منشور جاوید، ص74، 75۔


2) حق پر نہ ہونے کا شبہ ایجاد کرنا

دوسرا وہ القاء شبہ جسے ہمیشہ منافقین خصوصاً میدان جنگ اور معرکہ میں ایجاد کرتے تھے حق پر نہ ہونے کا شبہ تھا، جب جنگوں میں مسلمان خسارہ اور نقصان میں ھوتے تھے یا بعض مجاھدین درجہ شھادت پر فائز ھوتے تھے، یا اہل اسلام شکست سے دوچار ھوتے تھے تو منافقین اس کا بھانہ لے کر طرح طرح کے شبہ ایجاد کرتے تھے کہ اگر حق پر ھوتے تو شکست نہیں ھوتی، یا قتل نہیں کئے جاتے، اور اس طرح سے مسلمانوں کو شک اور تزلزل میں ڈال دیتے تھے۔

قرآن مجید سے استفادہ ہوتا ہے کہ منافقین نے جنگ احد اور اس کے بعد سے اس انحرافی فکر کو القا کرنے میں اپنی سعی تیز تر کردی تھی۔

(ویقولون لو کان لنا من الأمر شیء ما قتلنا ههنا) (246)

اور کہتے ہیں کہ اگر اختیار ھمارے ھاتھ میں ہوتا ہم یھاں نہ مارے جاتے۔

منافقین میدان جنگ میں شکست کو نبوت پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے آئین کی نا درست و ناسالم ہونے کی علامت سمجھتے تھے اور یہ شبہ ایجاد کرتے تھے اگر یہ (شھدا) میدان جنگ میں نہ جاتے تو شھید نہ ھوتے۔

(الذین قالوا لأخوانهم و قعدوا لو اطاعونا ما قتلوا) (247)

یھی (منافقین) وہ ہیں جنھوں نے اپنے مقتول بھائیوں کے بارے میں یہ کھنا شروع کردیا کہ وہ ھماری اطاعت کرتے تو ھرگز قتل نہ ھوتے۔

------------------

246. سورہ آل عمران/154۔

247. سورہ آل عمران/168۔


خداوند عالم ان کے اس شبہ (جنگ میں شرکت قتل کئے جانے کا سبب ھے) کا جواب بیان کررھا ہے، موت ایک الہی تقدیر و سر نوشت ہے موت سے فرار میسر نہیں، اور معرکہ احد میں قتل کیا جانا نبوت و پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نا سالم ہونے اور ان کے نادرست اقدام کی علامت نہیں، جن افراد نے اس جنگ میں شرکت نہیں کی ہے موت سے گریز و فرار نہیں کرسکتے ہیں یا اس کو موخر کرنے کی قدرت و توانائی نہیں رکھتے ہیں۔

(قل لو کانوا فی بیوتکم لبرز الذین کتب علیهم القتل الی مضاجعهم) (248)

تو آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم گھروں میں بھی رہ جاتے تو جن کے لئے شھادت لکھ دی گئی ہے وہ اپنے مقتل تک بہر حال جاتے۔

قرآن موت و حیات کو خدا کے اختیار میں بتاتا ہے معرکہ و جنگ کے میدان میں جانا موت کے آنے یا تاخیر سے آنے میں مؤثر نہیں ہے۔

(والله یحیی و یمیت والله بما تعملون بصیر) (249)

موت و حیات خدا کے ھاتھ میں ہے اور وہ تمھارے اعمال سے خوب باخبر ہے اس مطلب کی تاکید کی کہ موت و حیات انسان کے اختیار میں نہیں ہے منافقین کے لئے اعلان کیا جارھا ہے کہ اگر تمھارا عقیدہ یہ ہے کہ موت و حیات تمھارے اختیار میں ہے تو جب فرشتۂ مرگ نازل ہو تو اس کو اپنے سے دور کردینا اور اس سے نجات حاصل کرلینا۔

(قل فادرئوا عن انفسکم الموت ان کنتم صادقین) (250)

پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان سے کہہ دیجئے کہ اگر اپنے دعوے میں سچے ہو تو اب اپنی ہی موت کو ٹال دو۔

-----------------

248. سورہ آل عمران/154۔

249. سورہ آل عمران/156۔

250. سورہ آل عمران/168۔


مسلمانوں کو اپنے مذہب و عقیدہ میں شک سے دوچار کرنے کے لئے منافقین ہمیشہ یہ نعرہ بلند کیا کرتے تھے، اگر ہم حق پر تھے تو کیوں قتل ہوئے اور کیوں اس قدر ھمیں قربانی دینی پڑی، ھمیں جو جنگ احد میں ضربات و شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ھمارا دین اور آئین حق پر نہیں ہے۔

قرآن کے کچھ جوابات اس شبہ کے سلسلہ میں گزر چکے ہیں، اساسی و مرکزی مطلب اس شبہ کو باطل کرنے کے لئے مورد توجہ ہونا چاھئے وہ یہ کہ ظاہری شکست حق پر نہ ہونے کی علامت نہیں ہے جس طریقہ سے ظاہری کامیابی بھی حقانیت کی دلیل نہیں ہے۔

بھت سے انبیاء حضرات کہ جو یقیناً حق پر تھے، اپنے پروگرام کو جاری کرنے میں کامیابی سے ہم کنار نہیں ھوسکے، بنی اسرائیل نے بین الطلوعین ایک روز میں ستر انبیاء کو شھید کر ڈالا اور اس کے بعد اپنے کاموں میں مشغول ھوگئے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں، کوئی حادثہ وجود میں آیا ہی نہیں، تو کیا ان پیامبران الہی کا شھید و مغلوب ہونا ان کے باطل ہونے کی دلیل ھے؟ اور بنی اسرائیل کا غالب ھوجانا ان کی حقانیت کی علامت ھے؟ یقیناً اس کا جواب نہیں میں ہے، دین کے سلسلہ میں فریب کی نسبت دینا اور حق پر نہ ہونے کے لئے شبہ پیدا کرنا، منافقین کے القاء شبھات کے دو نمونہ تھے جسے منافقین پیش کرتے تھے لیکن ان کے شبھات کی ایجاد ان دو قسموں پر منحصر و محصور نہیں ہے۔


دین کو اجتماع و معاشرت کے میدان سے جدا کرکے صرف آخرت کے لئے متعارف کرانا، دین کے تقدس کے بھانے دین و سیاست کی جدائی کا نعرہ بلند کرنا، تمام ادیان و مذاھب کے لئے حقانیت کا نظریہ پیش کرنا، صاحب ولایت کا تمام انسانوں کے برابر ھونا، صاحب ولایت کی درایت میں تردید اور اس کے اوامر میں مصلحت سنجی کے نظریہ کو پیش کرنا، احکام الہی کے اجرا ہونے کی ضرورت میں تشکیک وجود میں لانا، خدا محوری کے بجائے انسان محوری کی ترویج کرنا، اس قبیل کے ھزاروں شبھات ہیں جن کو منافقین ترویج کرتے تھے اور کررھے ہیں، تا کہ ان شبھات کے ذریعہ دین کے حقایق و مسلّمات کو ضعیف اور اسلامی معاشرہ سے روح ایمان کو خالی کردیں اور اپنے باطل و بیھودہ مقاصد کو حاصل کرلیں۔

البتہ یہ بات ظاہر و عیاں ہے کہ منافقین مسلمانوں کے اعتقادی و مذھبی یقینیات و مسلّمات میں القاء شبھات کے لئے اس نوع کے مسائل کا انتخاب کرتے ہیں جو اسلامی حکومت و معاشرے کی تشکیل میں مرکزی نقش رکھتے ہیں اور ان کے تسلط و قدرت کے لئے موانع ثابت ھوتے ہیں، اسی بنا پر منافقین کے القاء شبھات کے لئے زیادہ تر سعی و کوشش دین کے سیاسی و اجتماعی مبانی نیز دین و سیاست کی جدائی اور دین کو فردی مسائل سے مخصوص کردینے کے لئے ہوتی ہیں۔


فصل پنجم: منافقین کی اجتماعی و معاشرتی خصائص

1) اہل ایمان و اصلاح ہونے کی تشھیر

منافقین ہمیشہ سماج اور معاشرہ میں ظاہراً ایمان اور اصلاح کا نعرہ بلند کرتے ہوئے قد علم کرتے ہیں، دین اور اسلامی نظام سے و معرکہ آرائی کی صریح گفتگو نہیں کرتے اسی طرح منافقین کبھی بھی فساد کا دعوی نہیں کرتے بلکہ شدت سے انکار کرتے ہوئے، بلکہ خود کو اصلاح کی دعوت دینے والا اور دینداری کا علمبردار پیش کرتے ہیں۔

اس سے قبل منافقین کی فردی رفتار کی خصوصیت کے ذیل میں بعض آیات جو منافقین کے کردار کی عکاسی کرتی ہیں، پیش کی گئی ہیں، جس میں عرض کیا گیا کہ منافقین اس طرح خوبصورت اور دلچسپ انداز میں گفتگو کرتے ہیں کہ پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے بھی تعجب خیز ہوتا ہے، پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بعض منافقین کو پہچانتے بھی تھے، لیکن اس کے باوجود دیکھتے تھے کہ وہ اچھائی اور بھتری کا نعرہ لگاتے ہیں، دل موہ لینے والی گفتگو کرتے ہیں، ان کی گفتگو میں خیر و صلاح کی نمائش بھی ہوتی ہے، منافقین کی یہ فردی خصوصیات ان کی اجتماعی رفتار میں بھی مشاہدہ کی جاسکتی

ہے۔

(ویقولون آمنّا بالله و بالرسول و اطعنا ثم یتولّی فریق منهم من بعد ذلک وما اولئک بالمومنین) (251)

اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور رسول پر ایمان لے آئے اور ہم نے ان کی اطاعت کی اور اس کے بعد ان میں سے ایک فریق منہ پھیر لیتا ہے اور یہ واقعاً صاحبان ایمان نہیں ہیں۔

--------------

251. سورہ نور/47۔


مسجد ضرار کی سازش میں منافقین کا نعرہ مریض، بیمار افراد کی مساعدت اور ایک مقدس ھدف کا اظھار تھا، قرآن صریحی اعلان کررھا ہے کہ ان لوگوں نے مسجد، اسلام و مسلمانوں کو ضرر اور نقصان پھونچانے اور کفر کی تقویت دینے کے لئے بنائی تھی، مسجد کا ھدف صاحبان ایمان کے مابین تفرقہ و اختلاف کی ایجاد اور دشمنان اسلام کے لئے سازشی مرکز تیار کرنا تھا حالانکہ وہ قسم کھاتے تھے کہ ھمارا ارادہ خدمت خلق اور نیکی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔

(ولیحلفن ان اراد الّا الحسنی) (252)

اور یہ قسم کھاتے ہیں کے ہم نے صرف نیکی کے لئے مسجد بنائی ہے۔

ایک دوسرے مقام پر قرآن منافقین کو اس طرح بیان کررھا ہے کہ منافقین پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں ان کے دستور و آئین کی فرماں فرداری اور مطیع محض ہونے کا اظھار کرتے ہیں لیکن جب خصوصی جلسہ تشکیل دیتے ہیں تو پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف سازش کا پروگرام بناتے ھیں(253)

ظواھر کا آراستہ ہونا اور اچھے اچھے نعرے لگانا، منافقین کے دونوں گروہ، یعنی منافق خوف، اور منافق طمع، کی اجتماعی خصوصیات میں سے ہے، منافقین، اسلامی و ایمانی معاشرے میں پلید افعال انجام دینے کے لئے ایمان کے نعرے بلند کرتے ہیں اور دین داری و اصلاح طلبی کا اظھار کرتے ہیں۔

----------

252. سورہ توبہ/107۔

253. سورہ نساء/ 81۔


2) معروف کی نھی و منکر کا حکم

منافقین کی دوسری اجتماعی خصوصیت معروف کی نھی اور منکر کا حکم دینا ہے کلمہ (معروف و منکر) وسیع مفھوم کے حامل ہیں، تمام فردی، اجتماعی، سیاسی، نظامی ثقافتی اور معاشرتی اقدار و ضد اقدار کو شامل ھوتے ہیں جماعت نفاق کا نشانہ اور ھدف انواع منکرات کی اشاعت اور اسلامی اقدار و شائستگی کو محو کرنا ہے، لھذا اپنے منافقانہ کردار و رفتار کے ذریعہ شوم مقاصد کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

(المنافقون والمنافقات بعضهم من بعض یامرون باالمنکر وینهون عن المعروف) (254)

منافق مرد اور منافق عورتیں آپس میں سب ایک دوسرے سے مربوط ہیں سب برائیوں کا حکم دیتے ہیں اور نیکیوں سے روکتے ہیں۔

مذکورہ آیت میں جیسا کہ اس کے شان نزول سے استفادہ ہوتا ہے منکر کا مصداق سیاسی اقدار کی خلاف ورزی ہے، منافقین افراد کو پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ھمراھی نہ کرنے کی دعوت دیتے تھے جو اسلامی نظام کی علامت اور بانی تھے، صاحبان ایمان حضرات کو ولایت کے فرامین سے عدول اور نافرمانی کی ترغیب دلاتے تھے، ظاہرا ہے کہ اس منکر سیاسی کا خطرہ، فردی منکرات سے کہیں زیادہ ہے۔

لیکن کبھی خطا سرزد ھوجاتی ہے اور معروف کی جگہ منکر اور منکر کی جگہ معروف انجام ہوجاتا ہے قصد تخریب نہیں ہوتا ہے، لھذا اس قسم کے موراد قابل گذشت ہیں لیکن اس کے مقابل بعض افراد معروف کی شناخت رکھتے ہوئے اس کے برخلاف دعوت عمل دینے کے پابند ہیں منکر سے آگاہ ھوتے ہوئے بھی لوگوں کو اس کے انجام کے لئے ورغلاتے ہیں۔

------------

254. سورہ توبہ/67۔


ابو حنیفہ کی یہ کوشش رھتی تھی کہ وہ بعض موارد میں حضرت امام صادق علیہ السلام کے خلاف فتوی دے، چنانچہ وہ سجدے کے مسئلہ میں حضرت امام صادق علیہ السلام کے فتوے کو نہیں جانتا تھا کہ اس حالت میں آپ کا فتوی آنکھ بند کرنے کا ہے یا کھلی رکھنے کا لھذا اس نے فتوی دیا کہ ایک آنکھ کھلی اور ایک بند رکھی جائے تاکہ ہر حال میں حضرت امام صادق علیہ السلام کے فتوے کی مخالفت ھوسکے۔

منافقین، اسلامی معاشرے میں معروف و منکر کی عمیق شناخت رکھتے ہوئے منکر کا حکم اور معروف سے نھی کرتے تھے لیکن انتھائی زیر کی اور فریب کاری کے ساتھ کہ کہیں ان کے راز فاش نہ ہوجائیں اور ان کے حربے ناکام ہوجائیں۔

3) بخل صفت ہونا

منافقین کی اجتماعی رفتارکی دوسری خصوصیت بخیل ہونا ہے وہ سماج و معاشرے کی تعمیر اور اصلاح کے لئے مال صرف کرنے سے گریز کرتے ہیں۔

(یقبضون ایدیهم) (255)

اور (منافقین وہ لوگ ہیں جو) اپنے ھاتھوں کو (نفاق و بخشش سے) روکے رہتے ہیں۔

سورہ احزاب میں بھی منافقین کی توصیف کرتے ہوئے ان کی اس معاشرتی فکر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

(اشحة علیکم) (256)

وہ (منافقین) تمام چیزوں میں، تمھارے حق میں بخیل ہیں۔

------------

255. سورہ توبہ /67۔

256. سورہ احزاب 19، اشحۃ، شیح کی جمع ہے اس کے معنی شدید بخل حرص کے ساتھ، کرنا ہے۔


منافقین نہ صرف یہ کہ خود بخیل، کوتاہ دست، نیز محرومین و فقراء کی مدد و مساعدت نہیں کرتے بلکہ دوسروں کو بھی اس صفت کا عادی بنانا چاہتے ہیں اور انفاق کرنے سے روکتے ہیں۔

(هم الذین یقولون لا تنفقوا علی من عند رسول الله حتی ینفضّوا ولله خزائن السماوات والارض ولکن المنافقین لا یفقهون) (257)

یھی وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول اللہ کے ساتھیوں پر کچھ خرچ نہ کرو تاکہ یہ لوگ منتشر ہوجائیں حالانکہ آسمان و زمین کے سارے خزانے اللہ ہی کے ہیں اور یہ منافقین اس بات کو نہیں سمجھ رہے ہیں۔

مذکورہ آیت کی شان نزول کے بارے میں کھا جاتا ہے کہ غزوہ بنی المصطلق کے بعد مسلمانوں کے دو فرد کا کنویں سے پانی لینے کے سلسلہ میں جھگڑا ھوگیا ان میں ایک انصار اور دوسرا مھاجرین کے گروہ سے تعلق رکھتے تھے دونوں نے اپنے اپنے گروھوں کو مدد کے لئے آوازدی، عبداللہ ابن ابی جو منافقین کے ارکان میں سے تھا، گروہ انصار کی طرف داری کرتے ہوئے میدان میں اتر آیا دونوں گروہ میں لفظی جنگ شروع ھوگئی۔

عبد اللہ ابن ابی نے کھا: ہم نے مھاجرین جماعت کو پناہ دی، اور ان کی مدد کی لیکن ھماری مدد و مساعدت اس معروف مثل کے مانند ھوگئی جس میں کھا جاتا ہے "ثمن کلبک یأکلک" اپنے کتے کو کھلا پلا کر فربہ کرو تاکہ وہ تم کو کھا جائے یہ ہم انصار کی مدد و نصرت کا نتیجہ ہے جو ہم نے مھاجرین ھمارے ساتھ کررھے ہیں ہم نے اس گروہ (مھاجر) کو اپنے شھر میں جگہ دی اپنے اموال کو ان کے درمیان تقسیم کئے، اگر اپنی باقی ماندہ غذا کو ان مھاجرین کو نہ دیتے تو آج ہم انصار کی یہ نوبت نہ آتی کہ مھاجر ھماری گردنوں پر سوار ھوتے بلکہ ھماری مدد نہ کرنے کی صورت میں اس شھر سے چلے جاتے اور اپنے قبائل سے ملحق ھوجاتے۔

قرآن عبداللہ ابن ابی کی توھین آمیز گفتگو اور اس کی تاکید کہ انصار مھاجرین کی مدد کرنا ترک کردیں، کا ذکر کرتے ہوئے اضافہ کررھا ہے کہ آسمان و زمین کے خزائن خدا کے ھاتھوں میں ہے منافقین کے بخل کرنے اور انفاق سے ھاتھ روک لینے سے، کچھ بدلنے والا نہیں ہے۔

-----------

257. سورہ منافقون/7۔


4) صاحبان ایمان کی عیب جوئی اور استھزا

منافقین کی اجتماعی خصائص میں سے ایک خصوصیت صاحب ایمان کا استھزا، عیب جوئی اور تمسخر ہے، منافقین سے ایسے افعال کا صدور ان کی ناسالم طبیعت اور روحانی مریض ہونے کی غمازی کررھا ہے، تمسخر اور عیب جوئی ایک قسم کا ظلم شخصیت پر دست درازی اور انسانی حیثیت کی بے حرمتی ہے، حالانکہ انسان کے لئے اس کی شخصیت و حرمت اور آبرو ھرشی سے عزیز تر ہوتی ہے۔

اشخاص کی تمسخر و عیب جوئی کے ذریعہ رسوائی اور بے حرمتی کرنا، فرد مقابل کے مریض، کینہ پرستی سے لبریز قلب اور پست فطرتی کی علامت ہے، منافقین بھی اس مرض میں مبتلا ہیں۔

(واذا لقوا الذین آمنوا قالوا آمنا واذا خلوا الی شیاطینهم قالوا انا معکم انما نحن مستهزون) (258)

جب صاحبان ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم اہل ایمان ہیں، اور جب اپنے شیاطین کے ساتھ خلوت اختیار کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تمھارے ساتھ ہیں، ہم تو صرف صاحبان ایمان کا مذاق اڑاتے ہیں۔

منافقین جنگوں میں ہر زاویہ سے مومنین پر اعتراض کرتے تھے جو جنگ میں زیادہ حصہ لیتے تھے اور اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے تھے ان کو ریا کاری کا عنوان دیدیتے تھے اور جن کی بضاعت کم تھی اور مختصر مساعدت کرتے تھے، تو ان کا استھزا کرتے ہوئے کہتے تھے لشکر اسلام کو اس کی کیا ضرورت ھے؟!

-------------

258. سورہ بقرہ/14۔


نقل کیا جاتا ہے ابو عقیل انصاری نے شب و روز کام کرکے دومن خرمے حاصل کئے ایک من اپنے اہل و عیال کے لئے رکھے اور ایک من پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا، منافقین ابو عقیل انصاری کے اس عمل پر تمسخر و استھزا میں مشغول ھوگئے، اس وقت ذیل کی آیت کا نزول ہوا۔

(الذین یلمزون المطوعین من المؤمنین فی الصدقات والذین لا یجدون الا جهدهم فیسخرون منهم سخر الله منهم ولهم عذاب الیم) (259)

جو لوگ صدقات میں فراخ دلی سے حصہ لینے والے مومنین اور ان غریبوں پر جن کے پاس ان کی محنت کے علاوہ کچھ نہیں ہے الزام لگاتے ہیں اور پھر ان کا مذاق اڑاتے ہیں خدا ان کا بھی مذاق بنادے گا اور اس کے پاس بڑا درد ناک عذاب ہے۔

آیت فوق سے استفادہ ہوتا ہے کہ منافقین ایک گروہ کی عیب جوئی کرتے تھے اور ایک گروہ کا استھزا و مسخرہ کرتے تھے ان کا استھزا ان افراد کے لئے تھا جو لشکر اسلام کے لئے مختصر اور ناچیز مساعدت کرتے تھے اور عیب جوئی ان اشخاص کے لئے تھی جو وافر مقدار میں نصرت و مدد کرتے تھے پہلی قسم کے افراد کو استھزا کرتے ہوئے بے مقدار و ناچیز مدد کرنے والے القاب سے نوازتے تھے اور دوسری قسم کے اشخاص کو ریا کار سے تعارف کراتے تھے۔

----------------

259. سورہ توبہ/79۔


5) تضحیک و خندہ زنی

منافقین کی ایک دوسری اجتماعی رفتار کی خصوصیت تضحیک اور خندہ زنی ہے یعنی جب بھی صاحب ایمان سختی و عسرت میں ھوتے تھے تو منافقین خوشحال ھوتے اور ھنستے تھے اور مومنین کی سرزنش کیا کرتے تھے لیکن جب صاحبان ایمان کو آرام اور آسائش میں دیکھتے تھے تو ناراض اور غمزدہ ھوتے تھے، قرآن مجید چند آیات کے ذریعہ منافقین کی اس کیفیت کو بیان کر رہا ہے۔

(ان تمسسکم حسنة تسؤهم وان تصبکم سیئة یفرحوا بها) (260)

تمھیں ذرا بھی نیکی پہنچتی ہے تو وہ ناراض ھوتے ہیں اور تمھیں تکلیف پھنچتی ہے تو وہ خوش ھوتے ہیں۔

(وان اصابتکم مصیبة قال قد انعم الله علی اذالم اکن معهم شهیداً) (261)

اور اگر تم پر کوئی مصیبت آگئی تو کہیں گے خدا نے ہم پر احسان کیا کہ ہم ان کے ساتھ حاضر نہیں تھے۔

(ان تصبک حسنة تسؤهم وان تصبک مصیبة یقولوا قد اخذنا امرنا من قبل ویتولوا وهم فرحون) (262)

ان کا حال یہ ہے کہ جب آپ تک نیکی آتی ہے تو انھین بری لگتی اور جب کوئی مصیبت آجاتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنا کام پہلے ہی ٹھیک کرلیا تھا اور خوش و خرم واپس چلے جاتے ہیں۔

----------------

260. سورہ آل عمران/120۔

261. سورہ نساء/72۔

262. سورہ توبہ/50۔


منافقین عداوت و دشمنی کی بنا پر جو مسلمانوں کے لئے رکھتے ہیں ان کی خوش حالی اور آسائش کو دیکھنا پسند نہیں کرتے ہیں لیکن جب صاحب ایمان مصیبت یا جنگ میں گرفتار ھوتے ہیں تو بھت شادمان اور خوش نظر آتے ہیں۔

جب مسلمان سختی و عسرت میں ھوتے ہیں تو ان کی سرزنش کرتے ہیں اور اپنے موقف کو ان سے جدا کر لیتے ہے، اور شکر خدا بھی کرتے ہیں کہ ہم مومنین کے ساتھ (گرفتار) نہیں ہوئے۔

6) کینہ توزی

منافقین، مومنین و اسلامی نظام کی نسبت شدید عداوت و کینہ رکھتے ہیں، کینہ و عداوت کے شعلے ہمیشہ ان کے دل و قلب میں افروختہ ہیں جو کچھ بھی دل میں ہوتا ہے وہ ان کی زبان و عمل سے ظاہر ہو ہی جاتا ہے خواہ وہ اظھار خفیف ہی کیوں نہ ھو۔

امیر المومنین حضرت امام علی علیہ السلام اپنی گران قدر گفتگو میں صراحت کے ساتھ اس باریکی کو انسانوں کے لئے بیان فرماتے ہیں۔

((ما اضمر احد شیئا الا ظهر فی قلتات لسانه و صفحات وجهه)) (263)

انسان جس بات کو دل میں چھپانا چاھتا ہے وہ اس کی زبان کے بے ساختہ کلمات اور چھرہ کے آثار سے نمایاں ھوجاتی ہے۔

مذکورہ کلام کی بنیاد پر منافقین جو شدید کینہ و عداوت صاحب ایمان سے رکھتے ہیں اس کا مختصر حصہ ہی منافقین کی رفتار و گفتار میں جلوہ گر ہوتا ہے۔

--------------

263. نھج البلاغہ، حکمت26۔


قرآن مجید نے اس باریک مطلب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وضاحت کی ہے کہ منافقین نے اپنے دلوں میں جو مخفی کر رکھا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو ان کی رفتار و گفتار میں دیکھا جاتا ہے۔

(قد بدت البغضاء من افواههم وما تخفی صدورهم اکبر) (264)

ان کی عداوت زبان سے بھی ظاہر ہے اور جو دل میں چھپا رکھا ہے وہ تو اس سے بھی زیادہ ہے۔

لھذا منافقین کی رفتار و گفتار کے ظواھر سے اسلامی نظام اور صاحبان ایمان سے عداوت و کینہ کے کچھ بخش و حصہ کی شناخت کی جاسکتی ہے اور یہ آگاھی و شناخت مقدمہ ہے کہ ان سے مبارزہ کیا جاسکے اور اس نوعیت کے دشمنوں کو اسلامی معاشرے سے جدا اور اخراج کیا جاسکے۔

----------------

264. سورہ آل عمران/118۔


فصل ششم: منافقین سے مقابلہ کرنے کی راہ و روش

روشن فکری و افشا گری

منافقین سے مقابلہ و مبارزہ کرنے کی راہ و روش ایک مفصل اور طولانی بحث ہے، یھاں بطور اجمال اشارہ کیا جارھا ہے، منافقین سے مقابلہ کے طریقوں میں زیادہ وہ طریقے قابل بحث ہیں جو منافقین کے سیاسی و ثقافتی فعالیت کو مسدود کرسکیں اور ان کے شوم اھداف کے حصول کو ناکام بناسکیں۔

منافقین سے مقابلہ اور مبارزہ کے سلسلہ میں پھلا مطلب یہ ہے کہ تحریک نفاق، ان کے اھداف نیز ان کے طور طریقہ اور روش کے سلسلہ میں روشن فکر ہونا چاھئے، نفاق کے چھروں کا تعارف نیز ان کے اعمال و افعال کا افشا کرنا نفاق و منافقین سے مقابلے و مبارزہ کے سلسلہ میں ایک مؤثر قدم ھوسکتا ہے۔

بطور مقدمہ اس مطلب کی یاد دھانی بھی ضروری ہے کہ دوسروں کے گناہ، اسرار کا افشا اور عیب جوئی کو اسلام میں شدت سے منع کیا گیا ہے۔

بعض روایات و احادیث میں دوسروں کی معصیت و گناہ کو فاش کرنے کا گناہ، اسی معصیت و گناہ کے مطابق ہے، صاحبان ایمان کو نصیحت کی گئی ہے اگر تم چاہتے ھوکہ خداوند عالم قیامت میں تمھارے عیوب پر پردہ ڈالے رہے تو دنیا میں دوسروں کے عیوب کی پردہ پوشی کرتے رھو۔


رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک سوال کے جواب میں، جس نے سوال کیا تھا ہم کون سا فعل انجام دیں کہ اللہ قیامت میں ھمارے عیوب کو ظاہر نہ کرے، آپ فرماتے ہیں:

((استر عیوب اخوانک یستر الله علیک عیوبک)) (265)

اپنے (دینی) برادران کے عیوب کو پوشیدہ رکھو تاکہ اللہ بھی تمھارے عیوب کو پوشیدہ اور چھپائے رکھے۔

امیر المومنین حضرت علی نھج البلاغہ میں فرماتے ہیں:

جو لوگ گناھوں سے محفوظ ہیں اور خدا نے ان کو گناھوں کی آلودگی سے پاک رکھا ہے ان کے شایان شان یھی ہے کہ گناھگاروں اور خطا کاروں پر رحم کریں اور اس حوالے سے خدا کی بارگاہ میں شکر گزار ہوں کیوں کہ ان کا شکر کرنا ہی ان کو عیب جوئی سے محفوظ رکھ سکتا ہے، چہ جائیکہ انسان خود عیب دار ہو اور اپنے بھائی کا عیب بیان کرے اور اس کے عیب کی بنا پر اس کی سرزنش بھی کرے، یہ شخص یہ کیوں نہیں فکر کرتا ہے کہ پروردگار نے اس کے جن عیوب کو چھپاکر رکھا ہے وہ اس سے بڑے ہیں جن پر یہ سرزنش کر رہا ہے اور اس عیب پر کس طرح مذمت کررھا ہے جس کا خود مرتکب ہوتا ہے اور اگر بعینہ اس گناہ کا مرتکب نہیں ہوا ہے تو اس کے علاوہ دوسرے گناہ کرتا ہے جو اس سے بھی عظیم تر ہیں اور خدا کی قسم! اگر اس سے عظیم تر نہیں بھی ہیں تو کمتر تو ضرور ہی ہیں اور ایسی صورت میں برائی کرنے اور سرزنش کرنے کی جرأت بھر حال اس سے بھی عظیم تر ہے۔

------------------

265. میزان الحکمۃ، ج7، ص145۔


اے بندہ خدا! دوسرے کے عیب بیان کرنے میں جلد بازی سے کام نہ لے خدا نے اسے معاف کردیا ہو اور اپنے نفس کو معمولی گناہ کے بارے میں محفوظ تصور نہ کر شاید کہ خداوند عالم اسی پر عذاب کردے ہر شخص کو چاھئے کہ دوسرے کے عیب بیان کرنے سے پرہیز کرے کیونکہ اسے اپنا عیب بھی معلوم ہے اور اگر عیب سے محفوظ ہے تو اس سلامتی کے شکریہ ہی میں مشغول رھے(266)

حضرت علی علیہ السلام کی فرمایش کے مطابق نہ صرف یہ کہ افراد کو چاھئے کہ اپنے دینی اور انسانی برادران کے اسرار کو فاش نہ کریں اور ان کی بے حرمتی نہ کریں بلکہ حضرت کی فرمایش و نصیحت یہ ہے کہ اگر حکومت بھی، سماج و معاشرہ کے جن افراد کے اسرار و عیوب کو جانتی ہے تو اس کو چاھئے، ان کے عیوب کو پوشیدہ رکھے ان کی خطاؤں سے جہاں تک ممکن ہے چشم پوشی کرے، حضرت ایک نامہ کے ذریعہ مالک اشتر کو لکھتے ہیں:

((ولیکن ابعد رعیتک منک واشنأهم عندک اطلبهم لمعائب الناس فان فی الناس عیوبا الوالی احق من سترها فلا تکشفنّ عما غاب عنک منها فانّما علیک تطهیر ما ظهر لک والله یحکم علی ما غاب عنک فاستر العورة ما استطعت یستر الله منک ما تحبّ ستره من رعیتک)) (267)

رعایا میں سب سے زیادہ دور اور تمھارے نزدیک مبغوض وہ شخص ہونا چاھئے جو زیادہ سے زیادہ لوگوں کے عیوب کو تلاش کرنے والا ہو اس لئے کہ لوگوں میں بھر حال کمزوریاں پائی جاتی ہیں ان کی پردہ پوشی کی سب سے بڑی ذمہ داری، والی پر ہے لھذا خبردار جو عیب تمھارے سامنے نہیں ہے اس کا انکشاف نہ کرنا تمھاری ذمہ داری صرف عیوب کی اصلاح کرنا ہے اور غائبات کا فیصلہ کرنے والا پروردگار ہے جہاں تک ممکن ہو لوگوں کے ان تمام عیوب کی پردہ پوشی کرتے رہو کہ جن کے سلسلہ میں اپنے عیوب کی پردہ پوشی کی پروردگار سے تمنا کرتے ھو۔

----------------

266. نھج، البالغہ، خطبہ140، خطبہ طولانی ہونے کی بنا پر عربی عبارت نقل کرنے سے صرف نظر کیا گیا۔

267. نھج البلاغہ، نامہ53۔


البتہ گناہ و معصیت کو پوشیدہ رکھنے اور فاش نہ کرنے کا حکم اور دستور وھاں تک ہے جب تک گناہ فردی و شخصی ہو اور سماج و معاشرے یا اسلامی نظام کے مصالح کے لئے ضرر و زیان کا باعث نہ ہو لیکن اگر کسی فرد نے بیت المال میں خیانت کی ہے، عمومی اموال و افراد کے حقوق ضائع کئے ہیں یا اسلامی نظام کے خلاف سازش اور فعالیت انجام دی ہے، تو اس کے افعال و رفتار کی خبر دینی چاھئے اور اس کو بیت المال کی خیانت و افراد کے حقوق ضائع کرنے کی بنا پر محاکمہ اور سزا دینی چاھئے۔

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام اپنے تعیین کردہ امراء اور کارندوں کے افعال و رفتار کی تحقیق و نظارت کے لئے بھت سے مقام پر اپنے تفتیش کرنے والوں کو بھیجا کرتے تھے، اور جب کبھی ان کار گزاروں کی طرف سے خطا و نافرمانی کی خبر ملتی تھی ان کو حاضر کر کے شدید توبیخ کرتے اور سزا دیتے تھے۔

امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام بیت المال کے خیانت کاروں اور اموال عمومی کو ضائع کرنے والوں سے قاطعانہ طور پر باز پرس کرتے تھے آپ کے دوران خلافت و حکومت میں یہ مسئلہ بطور کامل مشھود ہے۔

منافقین کے عیوب و معصیت کے لئے یہ دونوں طریقے یقینی طور پر قابل اجرا ہیں، اگر ان کے گناہ، فسق و فجور فردی ہیں تو چشم پوشی سے کام لینا چاھئے لیکن اگر ان کی سرگرمی و فعالیت دشمن اسلام کے مانند ہو ان کا ھدف اسلام اور اسلامی نظام کی بنیاد کو اکھاڑ پھینکنا ہو تو ایسی صورت میں ان کی حرکت کو فاش کرنا چاھئے ان کے افراد و ارکان کا تعارف کرانا چاھئے تاکہ امنیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تخریبی حرکتیں انجام نہ دیں، جیسا کہ اس سے قبل عرض کیا گیا قرآن مجید نے تین سو آیات کے ذریعہ منافقین کی افشا گری کرتے ہوئے ان کی تخریبی فعالیت کی نشاندھی کی ہے اور ان کی صفات کو بطور دقیق بیان کیا گیا ہے، نفاق کی تحریک اور منافقین جماعت کی افشا گری چند بنیادی فوائد رکھتے ہیں۔


1۔ منافق جماعت کے ذریعہ فریب کے شکار ہوئے افراد خواب غفلت سے بیدار ھوکر حق کے دامن میں واپس آجائیں گے۔

2۔ دوسرے وہ افراد جو تحریک نفاق سے آشنائی نہیں رکھتے وہ ھوشیار ہوجائیں گے اور اس کے خلاف موقف اختیار کریں گے ان کے موقف کی بنا پر حزب نفاق کے افراد کنارہ کش اور خلوت نشین ہوجائیں گے۔

3۔ تیسرے منافقین کی جانی امنیت اور مالی حیثیت، افشا گری کی بنا پر خطرہ سے مواجہ ہوجائیں گی اور ان کی فعالیت میں خاصی کمی واقع ھوجائے گی۔

نفاق کے وسائل سے مقابلہ

منافقین سے مقابلہ کے سلسلہ میں دوسرا نکتہ یہ ہے کہ نفاق کے وسایل و حربے نیز ان کی راہ و روش کی شناخت ہے، پہلے منافقین کی تخریبی فعالیت کے وسایل اور اھداف کی شناخت ہونا چاھئے پھر ان سے مقابلہ کرنا چاھئے۔

نفاق کی شناخت کے لئے ضروری ترین امر، ان کی سیاسی و ثقافتی فعالیت کی روش اور طریقہ کی شناسائی ہے، یہ شناخت نفاق ستیزی کے لئے بنیادی رکن کی حیثیت رکھتی ہے، اس لئے کہ جب تک دشمن اور اس کے وسایل و حربے شناختہ شدہ نہ ہوں تو مبارزہ و مقابلہ کی بساط کہیں کی نہیں ہوتی ہے۔

یھاں پر وسائل نفاق سے مقابلہ و مبارزہ کے لئے چند اساسی و بنیادی طریقہ کو بیان کیا جارھا ہے ، البتہ دشمن کے ھجومی اور ہر قسم کے تخریبی حملے سے مقابلہ کے لئے کچھ خاص طریقۂ کار کی ضرورت ہے کہ جس کا یھاں احصا ممکن نھیں۔


1) صحیح اطلاع فراھم کرنا

اس سے قبل اشارہ کیا جاچکا ہے کہ منافقین کا ایک اور حربہ و وسیلہ افواہ کی ایجاد ہے، اس حربہ سے مقابلہ کے لئے بھترین طریقۂ کار صحیح اور موقع سے اطلاع کا فراھم کرنا ہے، افواہ پھیلانے والے افراد، نظام اطلاعات کے خلاء سے فائدہ اٹھاتے ہوئے افواھوں کا بازار گرم کرتے ہیں، اگر اخبار و اطلاعات بہ موقع، صحیح اور دقیق، افراد و اشخاص اور معاشرے کے حوالہ کی جائے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ افواہ و شایعات اپنے اثرات کھو بیٹھیں گے۔

امیرالمومنین حضرت علی علیہ االسلام نھج البلاغہ میں حاکموں پر عوام کے حقوق میں سے ایک حق، ملک کے حالات سے عوام کو آگاہ کرنا بتاتے ہیں، آپ فرماتےھیں:

((ألا و انّ لکم عندی ان لا احتجز دونکم سراً الا فی حرب)) (268)

یاد رکھو! مجھ پر تمھارا ایک حق یہ بھی ہے کہ جنگ کے علاوہ کسی بھی موقع پر کسی راز کو تم سے چھپاکر نہ رکھوں۔

مذکورہ کلام میں جنگ کے مسائل و فوجی و نظامی اسرار کا ذکر کسی خصوصیت کا حامل نہیں، صرف ایک نمونہ کا ذکر ہے، نظامی اسرار اور اطلاعات کے سلسلہ میں عدم افشا کا معیار معاشرہ اور حکومت کے لئے ایک مصلحت تصور کرنا چاھئے، لھذا اسی اصل پر توجہ کرتے ہوئے اور اموی مشیزی کی افواہ سازی کے حربہ کو ناکام بنانے کے لئے آپ نے جنگ صفین کے اتمام کے بعد مختلف شھروں میں خطوط بھیجے اور ان خطوط میں جنگ صفین کے تمام تفصیلات بیان کئے، معاویہ اور اس کے افراد کی جنگ طلبی کی وجہ اور علت کو تحریر فرمایا اور دونوں گروہ کے مذاکرات کی تفصیل بھی مرقوم فرمائی(269)

--------------

268. نھج البلاغہ، نامہ50۔

269. نھج البلاغہ، نامہ58۔


امام علیہ السلام کے خطوط بھیجنے کی اصل وجہ یہ تھی کہ امام پیش بینی کر رہے تھے کہ معاویہ اور اس کے افراد افواھوں کا بازار گرم کریں گے مسلمانوں کے درمیان مسموم تبلیغ کے ذریعہ، عمومی افکار کی تخریب کرتے ہوئے علوی حکومت کے خلاف عوام کو ورغلائیں گے لھذا امام نے پھل کرتے ہوئے سریع اور صحیح اطلاعات فراھم کرتے ہوئے لوگوں کے افکار اور قضیہ کے ابھامات روشن کردیئے۔

مذکورہ مقام کے علاوہ بھت سے ایسے موارد نھج البلاغہ میں پائے جاتے ہیں کہ جس میں حضرت نے مختلف مواقع پر حکومتی امور کی گزارش عوام کے سامنے پیش کی ہے، اور اس عمل کے ذریعہ بھت سی افواہ و شایعات کو وجود میں آنے سے روک دیا ہے۔

2) شبھات کی جواب دھی اور سیاسی و دینی بصیرت کی افزائش

شبہ کا القا ایک دوسری روش ہے جس کے ذریعہ منافقین سوء استفادہ کرتے ہیں، منافقین کے شبھات کا منطقی اور بر محل جواب دے کر ان کو خلع سلاح کرتے ہوئے اثرات کو زائل کیا جاسکتا ہے۔

شبھات کے جواب میں منطقی استدلال پیش کرنا ایک، مکتب فکر کے قدرت مند اور مستحکم ہونے کی اہم ترین علامت ہے، بحمداللہ اسلام کے حیات بخش آئین کو عقل قوی اور فطرت کی پشت پناھی حاصل ہے، اہل نفاق کے اس حربہ سے مقابلہ کرنے کے لئے لازم ہے کہ اسلامی مکتب فکر سے عمیق آشنائی رکھتے ہوئے ایجاد کردہ شبھات کی شناسائی اور ان کے شبھات کو حل کرتے ہوئے ان کو گندے عزائم کی تکمیل و تحصیل سے روکنا چاھئے۔


انسان حق پزیر فطرت و خصلت کے حامل ہیں اگر ہم حق کی صورت کو شفاف پیش کرنے کی کوشش کریں تو وہ حق کے مقابل تسلیم ھوسکتے ہیں، خصوصاً نوجوان افراد جن کے یھاں شناخت کے موانع کمتر اور حقیقت پیدا کرنے کی خواہش شدید تر ہے، وہ حق کو جلد ہی درک کر لیتے ہیں اور حق کے مقابل خاضع ہوجاتے ہیں روایات میں جوانی کے زمانہ کو بالیدگی فکر اور بلند ھمتی کا زمانہ کھا گیا ہے اور تاریخی شواہد بھی اس کی تائید کرتے ہیں۔

حضرت موسی علیہ السلام پر ایمان لانے والے افراد بنی اسرائیل سے جوان ہی تھے پیامبر عظیم الشان نے بعثت کے آغاز میں، مکہ کے سخت شرائط میں اکثر جوانوں کو ہی اسلام کی طرف جذب کیا تھا۔

دوسرا اصول اور بنیادی طریقہ جو شبہ کے انعقاد کو روکنے میں مفید ہے سماج و معاشرہ کی سیاسی و دینی بصیرت کو زیادہ سے زیادہ ارتقاء دیا جائے، اگر تمام افراد اچھی طرح سے دین کی شناخت و پھچان رکھتے ہوں اور ان کے اندر شبھات کی تنقید و تحقیق کی صلاحیت بھی ہو تو منافقین کبھی بھی القا شبہ کے ذریعہ اہل اسلام کو شک میں نہیں ڈال سکتے ہیں، اور ان کی سازش ابتدائی ہی منزل پر ناکام ھوکر رہ جائے گی۔

اگر معاشرے کے تمام افراد سیاسی بصیرت کے حامل ہوں اور سیاسی حوادث کی تحقیق و تحلیل کی توانائی بھی رکھتے ہیں تو منافق کبھی بھی اپنی سازش و فتنہ گری کے ذریعہ لوگوں کو فریب دینے میں کامیاب نہیں ھوسکتے ہیں،

اگر امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ معرکہ صفین میں جنگ کرنے والے سیاسی بصیرت کے حامل ھوتے تو قرآن کو نیزہ پر بلند کئے جانے والے حیلہ اور حربے سے شک و شبہ میں مبتلاء نہیں ھوسکتے تھے اور معاویہ کی فوج نفاق کے ذریعہ جنگ کو متوقف نہیں کرسکتی تھی۔

معاشرے کے افراد کی دینی و سیاسی بصیرت کی ارتقاء، نفاق اور اس کے مختلف وسایل سے مبارزہ اور مقابلہ کے لئے سب سے بنیادی طریقہ ہے معاشرے میں اگر کافی مقدار میں صاحبان بصیرت کا وجود ھوتو، منافقین کے مختلف حیلہ و مکر کو خنثی اور ناکام بنایا جاسکتا ہے۔


3) اتحاد و وحدت کا تحفظ

مسلمانوں کے درمیان تفرقہ و چند احزاب و گروہ کی ایجاد، منافق جماعت کا اصلی حربہ ہے، اس تحریک نفاق سے مقابلہ کرنے کا طریقہ اسلامی معاشرت کی حریم اور اس کی وحدت کی حفاظت کرنا ہے، اگر اہل اسلام خدا محوری کی بنیاد پر حرکت کریں، خود محوری کو ترک کردیں، یقیناً منافقین کا تفرقہ اندازی کا حربہ اپنا اثر کھو بیٹھے گا اسلام کا دستور حبل خدا کو مضبوطی سے تھامنے اور تفرقہ سے جدا رھنے کا ہے۔

دین اور احکام اسلامی کی حاکمیت کو دل و جان سے قبول کرنا، اسلامی اخلاق و آداب سے خود کو آراستہ کرنا اور خواہشات نفسانی کی پیروی سے پرہیز کرنا وغیرہ ایسے اسباب ہیں کہ جس کی وجہ سے ایک متحد سماج اور منظّم معاشرہ عالم ظھور میں آسکتا ہے، جب تک اسلامی معاشرے و سماج میں اتحاد وحدت کی ضوفشانی رہے گی ھرگز اسلام کے مخالفین حتی منافقین اپنے اھداف و مقاصد میں ظفر یاب نہیں ھوسکتے ہیں۔

وحدت و اتحاد کی حفاظت، اختلاف کو ختم کرنے کی جد و جھد قابل قدر و اھمیت کی حامل ہیں، لھذا ہر فرد کا وظیفہ بنتا ہے کہ اپنی توانائی کے اعتبار سے اس کی کامیابی کے لئے سعی و کوشش کرے۔

پیامبر عظیم الشان اکثر موارد میں خود حاضر ھوکر افراد اور قبائل کے مابین اختلاف اور ان کی آپسی دشمنی کو حل و فصل کراتے تھے ان کو دوستی مساوات اور اسلامی اقدار پر گامزن رھنے کے لئے نصیحت فرمایا کرتے تھے۔


منافقین سے قاطعانہ برتاؤ

منافقین سے مقابلہ کا ایک اور طریقہ ان کے ساتھ قاطعانہ برتاؤ اور غیر مصلحت آمیز سلوک ہے، جب تک منافقین کی جد وجھد قیل و قال کے مرحلہ میں ہے اسلامی نظام کو روشن فکری کے ذریعہ سے مقابلہ کرنا چاھئے لیکن جب منافقین تخریبی اعمال و حرکات انجام دینے لگیں تو شدت و قوت سے مقابلہ ہونا چاھئے۔

خداوند عالم آخرت میں منافقین سے قاطعانہ برتاؤ کا اعلان کرتے ہوئے صاحبان ایمان کو بھی ویسے ہی برتاؤ کرنے کا سبق سکھاتا ہے۔

(ان المنافقین فی الدرک الا سفل من النار) (270)

بے شک منافقین جھنم کے سب سے نچلے طبقہ میں ہوں گے۔

اسی بنا خداودند متعال قرآن میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خطاب کرتے ہوئے فرما رہا ھے:

(یا ایها النبی جاهد الکفار والمنافقین واغلظ علیهم) (271)

پیامبر! آپ کفار اور منافقین سے جھاد کریں اور ان پر سختی کریں۔

--------------

270. سورہ نساء/145۔

271. سورہ توبہ/73، سورہ تحریم/9۔


کفار کے مقابلہ میں جھاد کا طریقۂ کار آشکار ہے، یہ جھاد ہر زاویے سے ہے بالخصوص مسلحانہ ہے، لیکن منافقین سے جھاد کا طور و طریقہ مورد بحث ہے اس لئے کہ یہ بات مسلم ہے کہ پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منافقین سے مسلحانہ جنگ نہیں کی تھی۔

حضرت امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:

((ان الرسول الله لم یقاتل منافقاً)) (272)

رسول خدا نے منافق سے جنگ نہیں کی تھی۔

منافقین سے جھاد نہ کرنے کی دلیل بھی واضح ہے اس لئے کہ منافقین ظواھر اسلام کا اظھار کرتے تھے لھذا تمام اسلامی آثار و فوائد کے مستحق تھے، گر چہ باطن میں وہ اسلامی آئین کی خلاف ورزی کرتے تھے اسلام کے اظھار کرنے والے سے، کسی کو غیر اسلامی رفتار کرنے کا حق نہیں یعنی منافق کے ساتھ وہ سلوک نہیں ہونا چاھئے جو غیر اسلام (کافر) سے کیا جاتا ہے۔

پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں کسی منافق نے علی الاعلان اسلام کی مخالفت میں پرچم بلند نہیں کیا تھا لھذا پیامبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی مسلحانہ جنگ انجام نہیں دی تھی۔

لھذا قرآن میں منافق سے جھاد کے دستور کے معنی و مفھوم کو جنگ و جھاد کی دوسری اشکال سے تعبیر کرنا ہوگا جو غیر مسلحانہ ھو، جیسے ان کی سرزنش و توبیخ کرنا مذمت و تھدید سے پیش آنا، رسوا اور ذلیل کرنا وغیرہ شاید "واغلظ علیھم" کا مفھوم بھی ان ہی قسم کے برتاؤ پر صادق آتا ہے۔

------------

272. مجمع البیان، ج10، ص319۔


البتہ یہ احتمال بھی ھوسکتا ہے کہ جب تک منافین کے اندرونی اسرار اور خفیہ پروگرام آشکار نہ ہوں نیز ان کی تخریبی حرکات سامنے نہ آئے تب تک وہ اسلامی احکام کے تابع ہیں لیکن جب ان کے باطنی اسرار فاش ہوں اور یہ واضح ھوجائے کہ اسلام و اسلامی نظام کے سلسلہ میں تخریبی اعمال انجام دینا چاہتے ہیں تو ان کو سر کوب کرنا ضروری ہے خواہ مسلحانہ طریقہ ہی کیوں نہ اپنانا پڑے۔

بھر حال بنی امیہ کی منافق جماعت کے ارکان اور اس کے سرغنہ معاویہ سے امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کا برتاؤ اور رویہ مذکورہ آیت کا بھترین مصداق ہے۔

جب تک منافقین کا طرز عمل سخن و گفتگو تک محدود تھا آپ نے کوئی فوجی کاروائی نہیں کی بلکہ صرف گفت و شنود اور مذاکرات کے ذریعہ مسئلہ کا حل تلاش کرتے رہے لیکن جب نفاق حرف و کلام سے آگے بڑھ گیا اور حرب و جنگ کی نوبت آگئی تو آپ قاطعانہ و قھر آمیز برتاؤ سے پیش آئے۔

آپ نے اپنی گفتگو و خطبات کے ذریعہ ان کے افکار و نظریات کو مسمار اور مسلحانہ اقدام کے ذریعہ ان کو ہمیشہ کے لئے ذیل و رسوا کرکے رکھ دیا۔

(و آخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمین الهم صل علی محمد وآله الطاهرین


مصادر و مآخذ

1۔ قرآن کریم

2۔ نھج البلاغہ

3۔ الاحتجاج: مرحوم طبرسی

4۔ اسدا الغاب: ابن اثیر

5۔ الاصابۃ:ابن حجر عسقلانی

6۔ اصول کافی: مرحوم کلینی

7۔ اعلام الوری: طبرسی

8۔ الامام الصادق والمذاھب الاربعۃ: اسد حیدر

9۔ بحار الانوار: علامہ مجلسی

10۔ تاریخ الامم والرسل: طبرسی

11۔ تفسیر قرآن: قرطبی

12۔ تفسیر نمونہ: مکارم شیرازی و ھمکاران

13۔ تفسیر سورہ توبہ و منافقون: جعفر سبحانی

14۔ تفسیر المنیر: دکتر و ھبۃ زحیلی

15۔ تصنیف غررالحکم: دفتر تبلیغات اسلامی قم

16۔ جاذبہ و دافعہ امام علی علیہ السلام: شھید مطھری

17۔ حدیث الافک: سید جعفر مرتضی

18۔ خصال: شیخ صدوق


19۔ الدرالمنثور: جلال الدین سیوطی

20۔ رسالت خواص و عبرتھای عاشورا: سید احمد خاتمی

21۔ سفینۃ البحار: شیخ عباس قمی

22۔ سیرۂ: ابن ھشام

23۔ شرح نھج البلاغہ: ابن ابی الحدید

24۔ شرح نھج البلاغہ: مرحوم خوئی

25۔ شیخ فضل اللہ نوری و مشروطیت: رویارویی دو اندیشہ: مھدی انصاری

26۔ العقد الفرید: ابن عبدر بہ اندلسی

27۔ الغارات: ابو اسحاق ابراھیم بن محمد

28۔ غرر الحکم

29۔ فتوح البلدان: بلاذری

30۔ فروغ ابدیت: جعفر سبحانی

31۔ قاموس الرجال: تستری

32۔ کلمات قصار، پندھا و حکمتھا، گزیدہ سخنان امام خمینی (رح)

33۔ لسان العرب: ابن منظور

34۔ مجمع البیان: طبرسی

35۔ مجموعہ ورام

36۔ المحجۃ البیضاء: فیض کاشانی

37۔ مروج الذھب: مسعودی


38۔ مسالہ نفاق: شھید مطھری

39۔ مستدرک الوسائل: محدث نوری

40۔ المصباح المنیر: فیومی

41۔ ملل و نحل: شھرستاتی

42۔ منشور جاوید قرآن؛ جعفر سبحانی

43۔ مواھب الرحمان: سید عبد الاعلی سبزواری

44۔ میزان الحکمہ: محمد ری شھری

45۔نظریہ المعرفۃ: جعفر سبحانی

46۔ النھایۃ: ابن اثیر

47۔ نھضتھای اسلامی در صد سال اخیر: شھید مطھری

48۔ نور الثقلین: جمعۃ العروسی الحویزی

49۔ وسایل الشیعہ: شیخ حر عاملی


فہرست

حرف اول 2

عرض مترجم 5

مقدمہ مصنف 8

فصل اوّل؛ نفاق کی اجمالی شناخت 13

نفاق شناسی کی ضرورت 13

دشمن شناسی کی اھمیت 13

نوع اوّل: شیطان اور اس کے اہل کار 14

نوع دوّم: کفار 15

نوع سوم: بعض اہل کتاب 16

نوع چھارم: منافقین 16

قرآن میں نفاق و منافقین 17

نفاق کے لغوی و اصطلاحی معانی 22

لفظ نفاق کا ریشہ اور اس کے اصل 22

پہلا احتمال: 22

دوسرا احتمال: 22

تیسرا احتمال: 23

قرآن و احادیث میں نفاق کے معانی 24

1۔ اعتقادی نفاق 24

2۔ اخلاقی نفاق 26

اسلام میں وجود نفاق کی تاریخ 30


مشھور نظریہ 30

مشھور نظریہ کی تحقیق 35

مرض نفاق اور اس کے آثار 37

فصل دوّم؛ منافقین کی سیاسی خصائص 39

اغیار پرستی 39

اغیار سے سیاسی روابط اور اس کے ضوابط و اصول 39

اصل اوّل: شناخت اغیار 39

1۔ رجعت و عقب نشینی کی آرزو رکھنا 40

2۔ اسلامی اصول و اقدار سے انحراف کی تمنا کرنا 41

3۔ خیر خواہ نہ ہونا 44

4۔بغض و کینہ کا رکھنا 45

5۔ غفلت پذیری میں مبتلا کرنا 46

6۔ مومنین سے سخت و تند برتاؤ کرنا 47

7۔ خیانت کاری اور دشمنی کا مستمر ہونا 47

اصل دوّم: دشمن کے مقابلہ میں ھوشیاری اور اقتدار کا حصول 49

اصل سوم: اغیار سے دوستی و صمیمیت کا ممنوع ھونا 51

اصل چھارم: غیر حربی اغیار سے صلح آمیز روابط رکھنا 54

منافقین کا اغیار سے ارتباط اور ان کا طرز عمل 56

اغیار سے منافقین کے روابط کا فلسفہ 58

1۔ تحصیل عزت 58

2۔ رعب وحشت 62


ولایت ستیزی 65

ولایت اور اسلام میں ولایت پذیری 65

ولایت کے مسئلہ میں منافقین کی روش 69

ولایت ستیزی کے عملی مناظر 71

1۔ دینی حکومت و حاکمیت کو قبول نہ کرنا 71

2۔ ولایت کے دستورات و احکام کی عملی مخالفت 75

3۔ ولایت کی حریم کو پامال کرنا 78

منافقین کی دوسری سیاسی خصوصیتیں 85

موقع پرست ھونا 85

صاحبان غیرت دینی کی تحقیر 94

وحدت اور ھمبستگی 98

فتنہ پروری 101

نفسیاتی جنگ کی ایجاد 107

نفسیاتی جنگ کے حربے اور وسائل 108

1) دشمن کے عظیم اور بزرگ ہونے کی جلوہ نمائی کرانا 108

2) مشتبہ خبروں کی ایجاد و تشھیر 110

3) افترا پردازی و الزام تراشی 112

فصل سوم : منافقین کی نفسیاتی خصائص 116

منافقین کی نفسیاتی خصائص 116

1) تکبر اور خود بینی 116

2) خوف و ھراس 122


3) تشویش و اضطراب 125

4) لجاجت گری 127

5) ضعف معنویت 130

6) خواہشات نفس کی پیروی 132

7) گناہ کی تاویل گری 135

فصل چھارم: منافقین کی ثقافتی (کلچرل) خصائص 138

خودی اور اپنائیت کا اظھار 138

اظھار اپنائیت کے لئے منافقین کی راہ و روش 140

1) کذب و ریاکاری کے ذریعہ اظھار کرنا 140

2) باطل قسمیں یاد کرنا 143

3) غلط اقدامات کی توجیہ کرنا 145

4) ظاہر سازی کرنا 148

5) جھوٹے عہد و پیمان کرنا 149

دینی یقینیات و مسلّمات کی تضعیف 151

شبہ کا القا 157

1) دین کے لئے فریب کی نسبت دینا 157

2) حق پر نہ ہونے کا شبہ ایجاد کرنا 160

فصل پنجم: منافقین کی اجتماعی و معاشرتی خصائص 164

1) اہل ایمان و اصلاح ہونے کی تشھیر 164

2) معروف کی نھی و منکر کا حکم 166

3) بخل صفت ہونا 167


4) صاحبان ایمان کی عیب جوئی اور استھزا 169

5) تضحیک و خندہ زنی 171

6) کینہ توزی 172

فصل ششم: منافقین سے مقابلہ کرنے کی راہ و روش 174

روشن فکری و افشا گری 174

نفاق کے وسائل سے مقابلہ 178

1) صحیح اطلاع فراھم کرنا 179

2) شبھات کی جواب دھی اور سیاسی و دینی بصیرت کی افزائش 180

3) اتحاد و وحدت کا تحفظ 182

منافقین سے قاطعانہ برتاؤ 183

مصادر و مآخذ 186


قرآن اور چہرۂ منافق

قرآن اور چہرۂ منافق

اصلاح کتب

مؤلف: حجۃ الاسلام سید احمد خاتمی
قسم: مفاھیم قرآن
صفحے: 193