عقل و جہل قرآن و حدیث کی روشنی میں

اصلاح کتب

مؤلف: حجت الاسلام آقائے المحمدی الری الشہری
متفرق کتب


عقل و جہل قرآن و حدیث کی روشنی میں

تالیف: محمد رے شہری


بسم اﷲ الرحمن الرحیم


مقدمہ

الحمد ﷲ رب العالمین والصلاة علیٰ عبده المصطفیٰ محمد وآله الطاهرین و خیارصحابته اجمعین

ہم کتاب ''علم و حکمت قرآن و حدیث کی روشنی میں ' کے مقدمہ میں اشارہ کر چکے ہیں کہ اس کتاب کے مباحث کی تکمیل کے لئے کتاب ''عقل و جہل قرآن و حدیث کی روشنی میں '' کا مطالعہ کرنا ضروری ہے اور یہ اس سلسلہ کی پانچویں کتاب ہے جو خدا کے فضل سے پہلی کتاب کی اشاعت کے تھوڑے ہی وقفہ کے بعد شائع ہو رہی ہے ۔

یہ کتاب آیات و روایات کی مدد سے معرفت کے موضوع پر نئے نکات پیش کرتی ہے امید ہے کہ ارباب علم و حکمت کے نزدیک مقبولیت کا درجہ حاصل کر ے گی ۔

اس بات کی طرف اشارہ کر دینا ضروری ہے کہ اس کتاب کا پہلا حصہ حجۃ الاسلام جناب شیخ رضا برنجکار کے تعاون سے اور دوسرا حصہ حجۃ الاسلام جناب عبد الھادی مسعودی کی مدد سے مکمل ہوا۔لہذاہم ان دونوں اور ان تمام حضرات کا شکر یہ ادا کرتے ہیںکہ جنہوںنے اس کتاب کو پایہ تکمیل تک پہنچانے ، صحیح روایات ڈھونڈ نے اور اس سے متعلق دیگر امور میں ہمارا تعاون کیا ہے،اور خدا کی بارگاہ میں دعا گو ہیں کہ خدا انہیں آثار اہلبیت کو مزید نشر کرنے کی توفیق عطا کرے اور جزائے خیر سے نوازے۔

آخر میں اختصار کے ساتھ اپنی تحقیق کا اسلوب بیان کرتے ہیں:

1۔ہم نے یہ کوشش کی ہے کہ ایک موضوع سے مربوط شیعی اور سنی روایات کو جدید وسائل تحقیق سے استفادہ کرتے ہوئے جامع ترین ، موثق ترین اور قدیم ترین مصادر سے اخذ کیا جائے۔


2۔ کوشش کی گئی ہے کہ درج ذیل حالات کے علاوہ تکرار روایات سے اجتناب کیا جائے:

الف: روایت کے مصادر مختلف ہوں اور روایات میں واضح فرق ہو۔

ب: الفاظ اور اصطلاحات کے اختلاف میں کوئی خاص نکتہ مخفی ہو۔

ج: شیعہ اور سنی روایات کے الفاظ میں اختلاف ہو۔

د: متن روایت ایک سطر سے زیادہ نہ ہو لیکن دو بابوں سے مربوط ہو۔

3۔ اور جہاں ایک موضوع سے متعلق چند نصوص ہیں جن میں سے ایک نبی (ص) سے منقول ہو اور باقی ائمہ٪ سے تو اس صورت میں حدیث نبی (ص)کو متن میں اور بقیہ معصومین کی روایات کو حاشہ پر ذکر کیاہے ۔

4۔ہر موضوع سے متعلق آیات کے ذکر کے بعد معصومین(ع) کی روایات کو رسول خدا(ص) سے امام زمانہ (عج) تک بالترتیب نقل کیا جائیگا۔ مگر ان روایات کو جو آیات کی تفسیر کے لئے وارد ہوئی ہیں تمام روایات پر مقدم کیا گیا ہے اور بعض حالات میں مذکورہ ترتیب کا لحاظ نہیں کیا گیا ہے ۔

5۔ روایات کے شروع میں صرف معصوم (ص) کا نام ذکر کیا جائیگا لیکن اگر راوی نے فعلِ معلوم کو نقل کیا ہے یا ان سے مکالمہ کیا ہے یا راوی نے متن حدیث میں کوئی ایسی بات ذکر کی ہے جو معصوم (ع) سے مروی نہیںہے اس میں معصوم کا نام ذکر نہیں کیا گیا ہے ۔

6۔ حاشیہ پر متعدد روایات کے مصادر کواعتبارکے لحاظ سے مرتب کیا گیا ہے ۔


7۔ اگر بنیادی منابع تک دسترسی ہو تو حدیث بلا واسطہ انہیں منابع سے نقل کی جاتی ہے ''بہار الانوار'' اور ''کنزالعمال'' اور اس لحاظ سے کہ یہ دونوں احادیث کا جامع منبع ہیں لہذا منابع کے آخر میں انکا بھی ذکر کر دیا گیا ہے ۔

8۔ منابع کے ذکر کے بعد کہیں پر بعض دوسرے منابع کی طرف ''ملاحظہ کریں'' کے ذریعہ اشارہ کیا ہے ان موارد میں نقل شدہ متن اس متن سے جسکا حوالہ دیا گیا ہے کافی مختلف ہے ۔

9 ۔ اس کتاب میں دوسرے ابواب کا حوالہ اس وقت دیا گیا ہے جہاں روایات میں مناسبت ہے ۔

10۔ کتاب کا مقدمہ اور بعض فصول و ابواب کے آخر میں بیان ہونے والے توضیحات و نتائج اس کتاب یا اس باب کی روایات کا ایک کلی جائزہ ہے اور بعض روایات میں جو دشواریاں ہیں انہیں حل کیا گیا ہے ۔

11۔ اہمترین نکتہ یہ ہے کہ ہم نے حتی الامکان ہر باب میں معصوم سے صادر ہونے والی حدیث کی توثیق کےلئے عقلی و نقلی قرائن کا سہارا لیا ہے ۔

محمد رے شہری

8 صفر 1419ق ھ


پیش لفظ

تفکر و تعقل اسلام کا ستون ہے اور عقائد و اخلاق اور اعمال میں اس کا مرکز ہے لیکن یہ آسمانی شریعت انسان کو اس بات کی ا جازت نہیں دیتی ہے کہ وہ ہر اس چیز کو تسلیم کرے جس کو عقل صحیح نہیں سمجھتی اور نہ ہی ان صفات سے متصف ہونے کا اذن دیتی ہے جس کو عقل برا جانتی ہے۔ اور نہ ان اعمال کو بجالانے کا حق دیتی ہے کہ جن کو عقل اچھا نہیںسمجھتی ہے ۔

لہذا آیات قرآن ، احادیث رسول اور احادیث اہلبیت(ع) غور و فکر اور سوچنے سمجھنے کی دعوت دیتی جیسے تفکر، تذکر، تدبر، تعقل، تعلم، تفقہ، ذکر اور عقل و خرد ہیں یہی تمام چیزیں بنیاد ہیں اور دوسری چیزوں کی نسبت ان کی طرف زیادہ توجہ دلائی گئی ہے ۔ قرآن کریم میں کلمہ علم اور اس کے مشتقات 779 بار، ذکر 274 بار، عقل 49 بار ، فقہ 20 بار ، فکر 18 بار، خرد 61 بار اور تدبر 4 بار آیا ہے ۔

اسلام کی نظر میں عقل انسان کی بنیاد، اسکی قدر و قیمت کا معیار، درجات کمال اور اعمال کے پر کھنے کی کسوٹی ، میزان جزا اور خداکی حجتِ باطنی ہے ۔

عقل انسان کے لئے گرانقدر ہدیہئ الٰہی ، اسلام کی پہلی بنیاد ، زندگی کا اساسی نقطہ اور انسان کا بہترین زیور ہے ۔

عقل بے بہا ثروت ، بہترین دوست و راہنمااور اہل ایمان کا بہترین مرکز ہے اسلام کے نقطئہ نظر سے علم عقل کا محتاج ہے لہذا علم عقل کے بغیر مضر ہے ۔ چنانچہ جسکا علم اسکی عقل سے زیادہ ہو جاتا ہے اس کےلئے وبال جان ہو جاتا ہے ۔


مختصر یہ کہ اسلام کی نظر میں مادی و معنوی ارتقائ، زندگانی ئدنیا و آخرت کی تعمیر، بلند انسانی سماج تک رسائی اور انسانیت کی اعلیٰ غرض و غایت کی تحقیق صحیح فکر کرنے سے ہی ممکن ہے اور انسان کی تمام مشکلات غلط فکر اور جہل کا نتیجہ ہے لہذا دنیا میں قیامت کے بعد باطل عقائد کے حامل افراد حساب کے وقت اپنے برے اعمال اور برے اخلاق کی وجہ سے مشکلات میں مبتلا ہوںگے تو کہیں گے :

وقالوا لوکنا نسمع اونعقل ما کنا فی اصحاب السعیر، فاعترفوا بذنبهم فسحقا لاصحاب السعیر

اور پھر کہیں گے کہ اگر ہم بات سن لیتے اور سمجھتے ہوتے تو آج جہنم والوں میں نہ ہوتے؛ تو انہوںنے خود اپنے گناہ کا اقرار کر لیا تو اب جہنم والوںکے لئے تو رحمت خدا سے دوری ہی دوری ہے ۔

عقل کے لغوی معنی

لغت میں عقل کے معنی منع کرنا، باز رکھنا، روکنا، اور حبس کرنے کے ہیں۔ جیسے اونٹ کو رسی سے باندھنا تاکہ کہیں جانہ سکے ، انسان کے اندر ایک قوت ہوتی ہے جسے عقل کہا جاتا ہے جو اسے فکری جہالت سے بچاتی ہے اور عملی لغزش سے باز رکھتی ہے لہذا رسول خدا)ص( فرماتے ہیں:

العقل عقال من الجهل

عقل جہالت سے باز رکھتی ہے ۔


عقل اسلامی روایات میں

محدث کبیر شیخ حر عاملیؒ بابِ ''وجوب طاعۃ العقل و مخالفۃ الجہل'' کے آخر میں معانی عقل کے سلسلہ میں فرماتے ہیں:

علماء کے کلام میں عقل کئی معنی میں استعمال ہوئی ہے احادیث میں جستجو کے بعد عقل کے تین معنی دستیاب ہوتے ہیں:

1۔ وہ قوت ہے کہ جس سے اچھائیوں اور برائیوں کا ادراک، ان دونوں میں امتیاز اور تمام امورکے اسباب کی معرفت وغیرہ حاصل کی جائے اور یہی شرعی تکلیف کا معیار ہے ۔

2۔ ایسی حالت و ملکہ کہ جو خیر و منافع کے انتخاب اور برائی و نقصانات سے اجتناب کی دعوت دیتا ہے ۔

3۔ تعقل علم کے معنی میں ہے کیوںکہ یہ جہل کے مقابل میں آتا ہے نہ کہ جنون کے اور اس موضوع کی تمام احادیث میں عقل دوسرے اور تیسرے معنی میں زیادہ استعمال ہوئی ہے ۔واللہ اعلم۔

جن موارد میں کلمئہ عقل اور اس کے مترادف کلمات اسلامی نصوص میں استعمال ہوئے ہیں ان میں غور و فکر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کلمہ کبھی انسان کے سرچشمئہ ادراکات اور کبھی اس کے ادراکات سے حاصل شدہ نتیجہ میں استعمال ہوتا ہے اورکبھی دونوں مختلف معنی میں استعمال ہوتے ہیں جو درج ذیل ہیں:

الف: عقل کا استعمال اور ادراکات کا سرچشمہ

1۔ تمام معارفِ انسانی کا سرچشمہ

جن احادیث جن میں حقیقتِ عقل کو نور سے تعبیر کیا گیا ہے یا نور کو وجود عقل کا سرچشمہ قرار دیا گیا ہے یا عقل کو الہی ہدیہ اور انسان کی اصل قرار دیا گیا ہے ،وہ انہیں معنی کیطرف اشارہ کرتی ہیں۔


ان احادیث کے مطابق انسان اپنے وجود میں ایک نورانی طاقت رکھتا ہے جو اسکی روح کی حیات ہے اگر یہ طاقت نشو ونما پائے اور سنور جائے تو انسان اسکی روشنی میں وجود کے حقائق کا ادراک، محسوس وغیر محسوس حقائق میں تمیز، حق و باطل میں امتیاز، خیر و شر اور اچھے و برے میں فرق قائم کر سکتا ہے ۔

اگر اس نورانی طاقت اور باطنی شعور کی تقویت کی جائے تو انسان کسبی ادراکات سے بلند ہو کر سوچے گا یہاں تک کہ تمام غیب کو غیبی بصیرت سے دیکھیگا اورہ رغیب اس کے لئے شہود ہو جائیگا۔ اسلامی نصوص میں اس رتبئہ عقل کو یقین سے تعبیر کیا گیا ہے ۔

2۔ فکر کا سرچشمہ

اسلامی متون میں عقل کو فکر و نظر کا سرچشمہ قرار دیا گیا ہے ۔ ان موارد میں عقل ہوشیاری، فہم اور حفظ کے معنی میں استعمال ہوئی ہے جس کا مرکز دماغ ہے ۔

وہ آیات و احادیث جن میں انسان کو تعقل اور غور و فکر کی طرف ابھارا گیا ہے اسی طرح وہ احادیث جن میں عقل تجربی اور عقل تعلمی کو فطری و موہوبی عقل کے ساتھ بیان کیا ہے یہ ایسے نمونے ہیںجن میں لفظ عقل منبعِ فکر میں استعمال ہوا ہے ۔

3۔الہام کا سرچشمہ

اخلاقی وجدان ایک ایسی طاقت ہے جو انسان کے باطن میں اخلاقی فضائل کی طرف دعوت اور رذائل سے روکتا ہے بعبارت دیگر اخلاقی فضائل کی طرف فطری کشش اور رذائل کی طرف سے فطری نفرت کا احساس ہے ۔

اگر انسان خود کو تمام عقائد و سنن اور مذہبی و اجتماعی آداب سے جدا فرض کرکے مفہوم عدل و ظلم، خیر و شر، صدق و کذب، وفا ئے عہد اور عہد شکنی کے بارے میں غور کریگا تو اسکی فطرت یہ فیصلہ کریگی کہ عدل، خیر ، صدق اور وفائے عہد اچھی چیز ہے جبکہ ظلم ، شر ، جھوٹ اور عہد شکنی بری بات ہے ۔


فضائل کی طرف میلان اور رذائل کی طرف سے نفرت کے احساس کو قرآن نے الہی الہام سے تعبیر کیا ہے چنانچہ ارشاد ہے :

ونفس وما سواها فالهمها فجورها وتقواها

قسم ہے نفس اور اسکی جس نے اسے سنوارا۔

یہ احساس اور یہ الہام انسان کےلئے خدا کی معرفت کا سنگ بنیاد ہے اسکا سرچشمہ یعنی نہفتہ احساس جو انسان کے اندر اخلاقی اقدار کا شعور پیدا کرتا ہے اسی منبع اسلام کو اسلامی متون میں عقل کہا گیا ہے اور تمام اخلاقی فضائل کوعقل کا لشکر اور تمام رذائل کو جہالت کا لشکر کہا گیا ہے ۔

نکتہ

بعض فلسفہ کی کتابوں میں اما م علی (ع) سے عقل کی تفسیر کے بارے میں ایک حدیث بیان کی جاتی ہے جس کی تطبیق فلسفہ میں معانی عقل میں سے کسی ایک معنی پر کی جاتی ہے اور وہ حدیث یہ ہے :

قال السائل: یا مولای وما العقل؟ قالں: العقل جوهر درّاک، محیط بالاشیاء من جمیع جهاتها عارف بالشی قبل کونه فهو علة الموجودات ونهایة المطالب

سائل نے کہا: مولا! عقل کیاہے؟ فرمایا: عقل درک کرنے والا جوہر ہے جو حقائق پر تمام جہات سے محیط ہے۔ اشیاء کو انکی خلقت سے قبل پہچان لیتا ہے یہ جوہر سبب موجودات اور امیدوں کی انتہا ہے ۔

حدیث کے مصادر میں تلاشِ بسیار کے باوجود مذکورہ حدیث کا کوئی مدرک نہیں مل سکا۔


ب: عقل کا استعمال اورنتیجہ ادراکات

حقائق کی شناخت

لفظ عقل مدرِک کے ادراکات کے شعور میں تو استعمال ہوتا ہی ہے۔ مزید بر آن اسلامی متون میں عقلی مدرکات اور مبدا و معاد سے متعلق حقائق کی معرفت میں استعمال ہوتا ہے ۔

اور اسکی بہترین مثال وہ احادیث ہیںجو عقل کو انبیاء کا ہم پلہ اور خدا کی باطنی حجت قرار دیتی ہیں اسی طرح وہ احادیث جو عقل کو تہذیب وتربیت کے قابل سمجھتی ہیں اور اسی کو فضائلِ انسان کا معیار قرار دیتی ہیں کہ جس کے ذریعہ اعمال کی سزا و جزا دی جائیگی۔ یا عقل کو ''فطری''، ''تجربی''، ''مطبوع'' اور''مسموع'' میں تقسیم کرتی ہیں۔ عقل سے مراد شناخت و آگاہی ہے۔

عقل کے مطابق عمل

کبھی لفظ عقل کا استعمال قوت عاقلہ کے مطابق عمل کرنے کے معنی میں ہوتا ہے جیسا کہ عقل کی تعریب کے بارے میں رسول خدا)ص( سے مروی ہے'' العمل بطاعة اﷲ و ان العمال بطاعة اﷲ هم العقلاء'' عقل خدا کے احکام کی پیروی کرنے کو کہتے ہیں یقینا عاقل وہ لوگ ہیں جو خدا کے احکام کی اطاعت کرتے ہیں۔

یا حضرت علی (ع) سے مروی ہے:'' العقل ان تقول ما تعرف و تعمل بما تنطق به'' عقل یہ ہے کہ جس کے بارے میں جانتے ہو وہ کہو اور جو کچھ کہتے ہو اس پر عمل کرو۔

لفظ جہل کا استعمال بھی لفظ عقل کے استعمال کی مانند طبیعت جہل کے مقتضیٰ کے مطابق عمل کرنے کے معنی میں ہوتا ہے جیسا کہ دعا میں وارد ہو اہے'' وکل جہل عملتہ...''اور ہر جہالت کو انجام دیا......


عقل کی حیات

عقل روح کی حیات ہے لیکن اسلامی نصوص کے مطابق اسکی بھی موت و حیات ہوتی ہے ، انسان کا مادی و معنوی تکامل اسی کی حیات کا رہینِ منت ہے ۔ بشر کی حیاتِ عقلی کا اصلی راز قوت عاقلہ (جو کہ اخلاقی وجدان ہے ) کا زندہ ہونا ہے الہی انبیاء کی بعثت کے اغراض میں سے ایک اساسی غرض یہ بھی ہے۔

حضرت علی -نے اپنے اس جملہ ''هو یثیر والهم وفائن العقول'' (اور ان کی عقل کے دفینوں کو باہر لائیں) کے ذریعہ بعثت انبیاء کے فلسفہ کی طرف اشارہ کیا ہے۔

اسرار کائنات کو کشف کرنے کےلئے فکر کو زندہ کرنا انسان کےلئے ممکن ہے ؛ لیکن کمال مطلق کی معرفت کےلئے عقل کو زندہ کرنا اور اعلیٰ مقصد انسانیت پر چلنے کےلئے منصوبہ سازی صرف خدا کے انبیاء ہی کےلئے ممکن ہے۔

قرآن و حدیث میں جو کچھ عقل و جہل اور عقل کے صفات و خصائص اور اس کے آثار و احکام کے بارے میں ذکر ہوا ہے وہ سب ہی عقل کے اسی معنی سے مخصوص ہے ۔

جب انسان انبیاء کی تعلیمات کی روشنی میں حیات عقلی کے بلند ترین مقام پر فائز ہو جاتا ہے تو اس میں ایسی نورانیت و معرفت پیدا ہو جاتی ہے کہ جس کے نتیجہ میں نہ فقط یہ کہ عقل خطا سے دو چار نہیں ہوتی بلکہ انسانیت کے اعلیٰ مقاصد تک پہنچنے کےلئے مدد گار بھی ہے ۔

چنانچہ علی - فرماتے ہیں:

ایسے شخص نے اپنی عقل کو زندہ رکھا ہے ، اور اپنے نفس کو مردہ بنا دیا تھا۔ اسکا جسم باریک ہو گیا ہے اور اس کا بھاری بھرکم جسد ہلکا ہو گیا ہے اس کے لئے بہترین ضو فشاں نور ہدایت چمک اٹھا ہے اور اس نے راستے کو واضح کر کے اسی پر چلا دیا ہے ۔ تمام در وازوں نے اسے سلامتی کے دروازہ اور ہمیشگی کے گھر تک پہنچا دیا ہے اور اس کے قدم طمانینتِ بدن کے ساتھ امن و راحت کی منزل میں ثابت ہو گئے ہیں کہ اس نے اپنے دل کو استعمال کیا ہے اور اپنے رب کو راضی کر لیا ہے ۔


بنا بر ایں اور حقیقی علم و حکمت کی اس تعریف کو مد نظر رکھتے ہوئے جو ہم نے کتاب'' علم و حکمت قرآن و حدیث کی رونشی میں'' بیان کی ہے اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسلامی نصوص نے انسان کے وجود میں باطنی نورانی قوت کو بیان کرنے کےلئے تین اصطلاحیں ، علم، حکمت اور عقل پیش کی ہیںاور یہ نورانی قوت، انسان کو مادی و معنوی تکامل کی طرف ہدایت کرتی ہے لہذا اسکو نور علم سے اور چونکہ اس قوت میں استحکام پایا جاتا ہے اور خطا کا امکان نہیں ہوتا لہذا حقیقی حکمت سے اور یہی قوت انسان کو نیک اعمال کے انتخاب پر ابھارتی ہے اور اسے فکری و عملی لغزشوں سے باز رکھتی ہے لہذا اسے عقل سے تعبیر کرتے ہیں۔ علم و حکمت اور عقل کے سرچشمے، اسباب آثار اور آفات و موانع کی تحقیق سے یہ مدعا اچھی طرح ثابت ہو جاتا ہے۔

عقل نظری اور عقل عملی

عقل نظری و عقل عملی کے سلسلہ میں دو نظریہ موجود ہیں:

پہلا نظریہ یہ ہے کہ عقل، ادراک کا سرچشمہ ہے ، یہاں پر عقل نظری و عقل عملی میں کوئی فرق نہیں ہے ؛ بلکہ فرق مقصد میں ہے۔ اگر کسی چیز کے ادراک کا مقصد معرفت ہو تو اس کے چشمہئ ادراک کو عقل نظری کہتے ہیں؛ جیسے حقائقِ وجودکا ادراک اور اگرکسی چیز کے ادراک کا مقصد عمل ہو تو اس کے سر چشمہ ادراک کو عقل عملی کہتے ہیں؛ جیسے عدل کے حسن، ظلم کے قبیح، صبر کے پسندیدہ اور اور بیتابی کے مذموم ہونے کی معرفت وغیرہ....اس نظریہ کی نسبت مشہور فلاسفہ کی طرف دی گئی ہے اور اس نظریہ کی بناء پر عقل عملی ، ادراک کا سر چشمہ ہے نہ کہ تحریک کا۔


دوسرا نظریہ ، یہ ہے کہ عقل عملی و عقل نظری میں بنیادی فرق ہے ، یعنی ان دونوں کے سرچشمہئ ادراک میں فرق ہے ، عقل نظری، سر چشمہ ادراک ہے چاہے ادراک کا مقصد معرفت ہو یا عمل؛ اور عقل عملی عمل پر ابھارے کا سر چشمہ ہے نہ کہ ادراک کا۔عقل عملی کا فریضہ، عقل نظری کے مدرکات کا جاری کرنا ہے ۔

سب سے پہلے جس نے اس نظریہ کو مشہور کے مقابل میں اختیار کیا ہے وہ ابن سینا ہیں ان کے بعد صاحب محاکمات قطب الدین رازی اور آخر میں صاحب جامع السعادات محقق نراقی ہیں۔

پہلا نظریہ، لفظ عقل کے مفہوم سے زیادہ قریب ہے اور اس سے زیادہ صحیح یہ ہے کہ عقل عملی کی مبدا ادراک و تحریک سے تفسیر کی جائے کیونکہ جو شعور اخلاقی اور عملی اقدار کو مقصد قرار دیتا ہے وہ مبدا ادراک بھی اور عین اسی وقت مبدا تحریک بھی ہے اور یہ قوت ادراک وہی چیز ہے کہ جس کو پہلے وجدان اخلاقی کے نام سے یاد کیا جا چکا ہے ۔ اور نصوص اسلامی میںجسے عقل فطری کا نام دیا گیا ہے ، اس کی وضاحت ہم آئندہ کریں گے۔


عقل فطری اور عقل تجربی

اسلامی نصوص میں عقل کی عملی و نظری تقسیم کے بجائے دوسری بھی تقسیم ہے اور وہ عقل فطری اور عقل تجربی یا عقل مطبوع اور عقل مسموع ہے ، امام علی - فرماتے ہیں:

العقل عقلان: عقل الطبع و عقل التجربہ، و کلاھما یؤدی المنفعۃ۔

عقل کی دو قسمیںہیں: فطری اور تجربی اور یہ دونوں منفعت بخش ہیں۔

نیز فرماتے ہیں:

رأیت العقل عقلین

فمطبوع و مسموع

ولا ینفع مسموع

اذا لم یک مطبوع

کما تنفع الشمس

و ضوء العین ممنوع

میں نے عقل کی دو قسمیں دیکھیں۔ فطری اور اکتسابی، اگر عقل فطری نہ ہو تو عقل اکتسابی نفع بخش نہیں ہو سکتی، جیسا کہ آنکھ میں روشنی نہ ہو تو سورج کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔

ملحوظ خاطر رہے کہ علم کی بھی یہی تقسیم آپ سے منقول ہے:

العلم علمان: مطبوع و مسموع ولا ینفع المسموع اذا لم یکن المطبوع


علم کی دو قسمیں ہیں: فطری اور اکتسابی ، اگر فطری علم نہ ہو تو اکتسابی علم فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔

سوال یہ ہے کہ فطری عقل و علم کیا ہیں اور اکتسابی عقل و علم میں کیا فرق ہے ؟ اور فطری عقل و علم نہ ہونے کی صورت میں عقل تجربی اور علم اکتسابی فائدہ کیوں نہیں پہنچا سکتے؟

اس کا جواب یہ ہے کہ بظاہر فطری عقل و علم سے مقصود ایسے معارف ہیںکہ جنہیں اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوںکی فطرت میں ودیعت کیا ہے تاکہ اپنی راہ کمال پا سکیںاور اپنی غرض خلقت کی انتہا کو پہنچ سکیں۔ قرآن نے اس فطری معارف کو فسق و فجور اور تقویٰ کے الہام سے تعبیر کیا ہے چنانچہ ارشاد ہے :

ونفس وما سواها فالهمها فجورها و تقواها

قسم ہے نفس اور اسکی جس نے اسے سنوارا ہے۔

اسی کو دور حاضر میں وجدان اخلاقی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔

عقل فطری یا وجدان اخلاقی ادراک کا سر چشمہ اور تحریک عمل کا منبع بھی ہے۔

اور اگر اسے انبیاء کی تعلیمات کی بنیاد پر زندہ کیا جائے اور رشد دیا جائے تو انسان وہ تمام معارف جو کسب و تجربہ کے راستوں سے حاصل کرتا ہے ان سے فیضیاب ہو سکتا ہے اور اسے انسانیت کی پاکیزہ زندگی میسر آجائےگی۔اگر عقل فطری خواہشات نفسانی کی پیروی اور شیطانی وسوسوں کے سبب مردہ ہو جائے تو انسان کو کوئی بھی معرفت اسکی مطلوب ومقصود زندگی تک نہیںپہنچا سکتی اور نہ ہی اس کے لئے مفید ہو سکتی ہے؛جیسا کہ امیر المومنین (ع) کے حسین کلام میں موجود ہے کہ: عقل فطری کی مثال آنکھ کی سی ہے اور عقل تجربی کی مثال سورج کی سی ہے ، جیسا کہ سورج کی روشنی نابینا کو پھسلنے سے نہیں روک سکتی اسی طرح عقل تجربی بھی پھسلنے اور انحطاط سے ان لوگوں کو نہیں روک سکتی کہ جنکی عقل فطری اور وجدان اخلاقی مردہ ہو چکے ہیں۔


عاقل و عالم کا فرق

ہم کتاب'' علم و حکمت ، قرآن و حدیث کی روشنی میں'' کے پیش گفتار میں وضاحت کر چکے ہیں کہ لفظ علم اسلامی نصوص میں دو معنیٰ میں استعمال ہوا ہے ، ایک جوہر و حقیقت علم اور دوسرے سطحی و ظاہری علم، پہلے معنیٰ میں عقل اور علم میں تلازم پایا جاتا ہے ، جیسا کہ امیر المومنین (ع) فرماتے ہیں:

العقل و العلم مقروناِ فی قرن لا یفترقان ولا یتباینان

عقل اور علم دونوں ایک ساتھ ہیںجو ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے اور نہ آپس میں ٹکراتے ہیں۔

اس بنیاد پر عالم و عاقل مینکوئی فرق نہیں ہے ۔ عاقل ہی عالم ہے اور عالم ہی عاقل ہے نیز ارشاد پروردگار ہے :

تلک الامثال نضربها للناس وما یعقلها الا العالمون

یہ مثالیں ہم تمام عالم انسانیت کےلئے بیان کر رہے ہیں لیکن انہیں صاحبان علم کے علاوہ کوئی نہیں سمجھ سکتا ہے ۔

لیکن دوسرے معنی کے لحاظ سے؛ عاقل اور عالم میں فرق ہے ، علم کو عقل کی ضرورت ہے کیوں کہ ممکن ہے کہ کوئی عالم ہو لیکن عاقل نہ ہو۔ اگر علم ، عقل کے ساتھ ہو تو عالم اور کائنات دونوںکےلئے مفید ہے اور اگر علم ، عقل کے بغیر ہو تو نہ فقط یہ کہ مفید نہیںہے بلکہ مضر اور خطرناک ہے۔


عقل کے بغیر علم کا خطرہ

امام علی (ع) کا ارشاد ہے العقل لم یجن علیٰ صاحبہ قط و العلم من غیر عقل یجنی علیٰ صاحبہ'' عقل، صاحب عقل کو کبھی تکلیف نہیں پہنچاتی لیکن عقل کے بغیر علم، صاحب علم کو نقصان پہنچاتا ہے ۔

دورحاضر میں علم کافی ترقی کر چکا ہے لیکن عقل کم ہو گئی ہے ، آج کا معاشرہ مولائے کائنات کے اس قول کا مصداق بنا ہوا ہے :

من زاد علمه علیٰ عقله کان وبالا علیه

جس شخص کا علم اسکی عقل سے زیادہ ہو تا ہے وہ اس کےلئے وبال ہو جاتا ہے ۔

نیز اس شعر کا مصداق ہے ۔

اذا کنت ذاعلم و لم تک عاقلا

فانت کذی نعل لیس له رجل

اگر تم عالم ہو اور عاقل نہیں ہو تو اس شخص کے مانند ہو کہ جسکے پاس نعلین تو ہے لیکن پیر نہیں ہے۔

آج علم ، عقل سے جدا ہونے کے نتیجہ میں انسانی معاشرہ کو مادی و معنوی تکامل اور آرام و آسائش عطا کرنے کے بجائے انسان کے لئے بد امنی، اضطراب، فساد اور مادی و معنوی انحطاط کا باعث ہوا ہے ۔

آج کی دنیا میں علم، عیش طلب افراد، مستکبرین اور بے عقلوں کے لئے سیاسی ، اقتصادی اور مادی لذتوں کے حصول کا وسیلہ بنا ہو ا ہے کہ اس اسی سے دوسرے زمانوں سے زیادہ لوگوں کو انحراف و پستی کی طرف لے جارہے ہےں۔


جب تک عقل کے ساتھ علم نہ ہو علم صحیح معنوں میں ترقی نہیں کر سکتا اور انسانی معاشرہ کو آرام و سکون نصیب نہیں ہو سکتا، جیسا کہ امام علی (ع) کا ارشاد ہے :

افضل ما منّ اﷲ سبحانه به علیٰ عباده علم وعقل وملک وعدل

بندوں پر خدا کی سب سے بڑی بخشش علم، عقل ، بادشاہت اور عدل ہے ۔

مختصر یہ کہ دور حاضر میں علم دوسرے زمانوں سے زیادہ عقل کا محتاج ہے اور کتاب ''عقل و جہل قرآن و حدیث کی روشنی میں''جو آپ کے ہاتھوں میں ہے،اسکی ضرورت فرہنگی، اجتماعی اور سیاسی لحاظ سے دوسرے زمانوں سے کہیں زیادہ ہے ۔


دوسری فصل عقل کی قیمت

2/1

خدا کا تحفہ

31۔ رسول خدا(ص): عقل خدا کا تحفہ ہے ۔

32۔ امام علی(ع) : عقلیں عطایا ہیں ، آداب کسبی ہیں۔

33۔ امام علی(ع) : عقل فطری چیز ہے اور علم کسبی ہے ۔

34۔ امام علی(ع) : جب خدا اپنے بندہ کی بھلائی چاہتا ہے تو اسے پائدار عقل اور صحیح کردار سے نوازتا ہے ۔

35۔ امام علی(ع) : جب خدا کسی انسان کو پائدار عقل اور صحیح کردار عطا کرتا ہے تو اس پر اپنی نعمتوں کو فراوان اور اپنے احسان کو زیادہ کرتا ہے ۔

36۔ ابو ہاشم جعفری: میں امام رضا - کی خدمت میں حاضر تھا۔ عقل کا ذکر چھڑ گیاتو آپؑ نے فرمایا: اے ابو ہاشم! عقل خدا کا عطیہ ہے ...جو شخص زحمت سے خود کو عقلمند بنانا چاہتا ہے اس کے اندر جہالت کے سوا اور کسی چیز کا اضافہ نہیں ہوتا۔

37۔ سنن ادریس ؑ میں ہے جب خدا اپنے بندوں کو دوست رکھتا ہے تو انہیں عقل سے سر فراز کرتا ہے اور اپنے انبیاء و اولیاء کو روح القدس سے مخصوص کیا ہے ۔


2/2

بہترین عطیہ

38۔ رسول خدا(ص): خدا نے بندوں کے درمیان کوئی چیز عقل سے افضل تقسیم نہیںکی ہے ۔لہذا عقلمند کا سونا جاہل کے جاگنے سے بہتر ہے ، عاقل کا کھڑا رہنا جاہل کے چلنے سے افضل ہے خدا نے کسی نبی یا رسول کو اس وقت بھیجا جب ان کی عقل کامل اور تمام امت(والوں) کی عقلوں سے بہتر ہو گئی، جو کچھ نبی اپنے اندر پوشیدہ رکھتا ہے وہ کوشش کرنے والوںکی کوششوں سے افضل ہے اور بندہ الٰہی فرائض کو اس وقت انجام دیتا ہے جب انہیں سمجھ لیتا ہے ۔ سارے عبادتگذار اپنی کثرت عبادت کے سبب عقلمند کے مرتبہ کو نہیں پاسکتے عقلاء ہی اولو الالباب (صاحبان عقل) ہیں۔ خدا نے ان کے بارے میں فرمایا ہے (وما یذکر الا اولو الالباب) صرف صاحبان عقل ہی وعظ و نصیحت کو قبول کرتے ہیں۔

39۔ رسول خدا(ص): بابرکت ہے وہ (ذات) جس نے اپنے بندوںکے درمیان عقل کو مختلف پیرا یوںمیں تقسیم کیا ہے ۔ کبھی دو انسانوںکے کردار، نیکیوں ، روزوں اور نمازوں کے لحاظ سے برابر ہو جاتے ہیں لیکن عقل کے اعتبار سے دونوں میں اتنا ہی فرق ہوتا ہے جتناذرہ اور کوہِ احد میں ہے۔ خدا نے اپنی مخلوق کے درمیان عقل سے بہتر کوئی حصہ تقسیم نہیںکیاہے۔

40۔ تاریخ یعقوبی: رسول خدا(ص) سے پوچھا گیا: بندہ کو سب سے بہتر کون سی چیز عطا کی گی ئ ہے ؟ فرمایا: عقل فطری جو پیدا ئشی ہوتی ہے ۔ پھر پوچھا گیا۔ اگر کوئی اس سے بہرہ مند نہ ہو؟ فرمایا: عقل کسب کرے۔

41۔ جامع الاحادیث: امیر المومنینؑ سے پوچھا گیا کہ ا نسان کو سب سے افضل جو چیز عطا کی گئی ہے وہ کیا ہے ؟فرمایا: عقل فطری پوچھا گیا: اگر عقل فطری نہ ہو؟ فرمایا:وہ بھائی ہے کہ جس سے مشورہ کیا جائے۔


پھر پوچھاگیا: اگر یہ بھی نہ ہو؟ فرمایا: بزم میں خاموش رہے پوچھا گیا: اگر یہ بھی نہ ہو؟ فرمایا :موت سر پہ ہے۔

42۔ امام علی(ع) : بہترین عطیہ عقل ہے ۔

43۔ امام علی(ع) : کامل نعمتوںکی نشانی عقل کی فراوانی ہے ۔

44۔ امام علی(ع) : سب سے افضل نعمت عقل ہے ۔

45۔ امام علی(ع) : انسان کا سب سے بہترین حصہ اسکی عقل ہے ۔ اگر اسکی رسوائی ہوتی ہے تو عقل اسے عزت بخشتی ہے اگر وہ پستی کی طرف جاتا ہے تو عقل اسے رفعت عطا کرتی ہے اور اگر گمراہ ہوتا ہے تو عقل اسکی ہدایت کرتی ہے اور اگر کچھہ کہتا ہے تو عقل اسکی حفاظت کرتی ہے ۔

46۔ امام علی(ع) : عقل سے بہتر کوئی نعمت نہیں۔

47۔ امام حسن (ع): عقل بندوںکے لئے خدا کا بہترین عطیہ ہے کیوں کہ یہ دنیوی آفات سے نجات اور آخرت میں عذاب دوزخ سے سلامتی کا باعث ہے ۔

48۔ امام علی(ع) : آپ سے منسوب دیوان میں ہے : خدا کی طرف سے انسان کے لئے بہترین حصہ اسکی عقل ہے نیکیوں میں سے کوئی بھی نیکی اس کے مرتبہ کو نہیںپہنچ سکتی ۔ جب رحمن انسان کی عقل کو کامل کرتا ہے تو اسکی بصیرت و اخلاق بھی کامل ہو جاتے ہیں۔


2/3

انسان کی اصل

49۔ رسول خدا(ص): اے گروہ قریش! انسان کا حسب اس کا دین ہے ، اسکی جوانمردی اس کا اخلاق ہے اور اسکی عقل اسکی اصل ہے ۔

50۔ امام علی(ع) : انسان کی اصل اسکی عقل ہے ، اسکی عقل اس کا دین ہے اور ہر ایک کی جوانمردی یہ ہے کہ وہ خود کو کہاں قراردیتاہے ۔

51۔ امام علی(ع) : ہوشیار انسان کی اصل اسکی عقل ہے۔ اسکی جوانمردی اسکا اخلاق ہے۔ اور اسکا دین اسکا حسب ہے ۔

52۔ امام صادق ؑ: انسان کی اصل اسکی عقل ہے ، اسکی شرافت دین اورعظمت تقوے سے ہے تمام انسان آدم کی اولاد کے ہونے اعتبار سے برابر ہےں۔

53۔ امام علی(ع) : انسان عقل و صورت کا مجموعہ ہے ، بے عقل شخص جو صرف انسان کی صورت رکھتا ہے کامل نہیں ہے اور بے جان مخلوق کی طرح ہے جو تجربی عقل کی جستجو کرتا ہے اسے چاہئے کہ اصول اور فصول (حواشی) کو بھی جانے ، کتنے لوگ ایسے ہیں جو فصول کی تلاش میں ہیں اور اصول کو نظر انداز کرتے ہیں، جس نے اصول کو حاصل کر لیا وہ فضول چیزوں سے بے نیاز ہو گیا۔

54۔ امام علی(ع) : انسان کی عقل اس کا نظام ہے ، ادب اس کا استحکام ہے صداقت اس کا پیشوا ہے اور شکر اس کا کمال ہے ۔

55۔ امام صادق(ع): عقل انسان کا پشت پناہ ہے عقل سے ہوشیاری، فہم ،حفظ اور علم حاصل ہوتا ہے عقل سے انسان کمال تک پہنچتا ہے عقل ہی انسان کا راہنما، بصیرت دینے والی اور اسکے ہر کام کی کنجی ہے ۔


2/4

انسان کی قیمت

56۔ ابن عباس رسول خدا(ص) سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: انسانوں میں سب سے افضل سب سے زیادہ عقلمند انسان ہے ، ابن عباس نے کہا اور وہ آپکا نبی ہے ۔

57۔ امام علی(ع) : ہر انسان کی قیمت اسکی عقل کے مطابق ہے ۔

58۔ امام علی(ع) : ہر انسان کی قیمت کا اندازہ اس کے علم و عقل سے ہوتا ہے ۔

59۔ امام علی(ع) : انسان اپنی عقل کا رہین منت ہے۔

60۔ امام علی(ع) : انسان کی فضیلت کا عنوان عقل اور اس کا حسن اخلاق ہے ۔

61۔ امام علی(ع) : انسان کی فضیلت عقل سے ہے ۔

62۔ امام علی(ع) : انسان کی دو فضیلتیں ہیں: عقل اورزبان، عقل سے فائدہ حاصل کرتا ہے اورزبان سے فائدہ پہنچاتا ہے ۔

63۔ امام علی(ع) :، فضائل کی انتہا عقل ہے ۔

64۔ امام علی(ع) : اعلیٰ ترین رتبہ عقل ہے۔

65۔ امام علی(ع) : بزرگی و شرافت عقل و ادب سے ہے نہ کہ مال اور حسب سے ۔

66۔ امام علی(ع) : انسان کا امتیاز اسکی عقل کی بدولت ہے اور حسن و جمال اسکی دلیری ہے ۔


2/5

اسلام کا پہلا پایہ

67۔ امام علی(ع) ـ:اسلام کے سات ستون ہیں: پہلا ستون عقل جس پر صبر کا دار و مدار ہے، دوسرا ستون، آبرو مندی اور صداقت ہے ، تیسرا ستون،رائج طریقہ کے مطابق تلاوت قرآن، چوتھا ستون ، دوستی و دشمنی خدا کے لئے ہو ، پانچواں ستون، آل محمد کی ولایت کی معرفت اور ان کے حقوق کی رعایت، چھٹا ستون : دوستوں اور بھائیوں کی حمایت اور ان کے حقوق کی رعایت۔ ساتواں ستون: لوگوںکے ساتھ حسن سلوک۔

2/6

انسان کا دوست

68۔ امام علی(ع) : اپنے فرزند امام حسن سے وصیت میں فرمایا: بیٹا! عقل انسان کا دوست ہے ۔

69۔ امام علی(ع) : انسان اپنی معلومات کا دوست ہے ۔

70۔ امام علی(ع) : عقل ایسا دوست ہے جس سے رابطہ ٹوٹ جاتا ہے اور خواہشات ایسا دشمن ہے کہ جس کی پیروی کی جاتی ہے ۔

71۔امام علی(ع) : عقل قابل تعریف دوست ہے ۔

72۔ امام علی(ع) : عقل بہترین ساتھی ہے ۔

73۔ امام رضا(ع): ہر انسان کا دوست اسکی عقل ہے اور اس کا دشمن اسکی جہالت ہے ۔


2/7

مومن کا دوست اور رہنما

74۔ رسول خدا(ص): علم مومن کا دوست، عقل اس کا رہنما، عمل اس کا سر پرست، بردباری اس کا وزیر، صبر اس کے لشکر کا امیر، مہربانی اس کا باپ، اور نرمی اس کا بھائی ہے ۔

75۔ امام علی(ع) : عقل مومن کا دوست ہے ۔

76۔ امام علی(ع) : حسن عقل بہترین رہبرہے ۔

77۔ امام صادق(ع): عقل، مومن کا رہنما ہے ۔

2/8

مومن کا پشت پناہ

78۔ رسول خدا(ص): ہر چیزکے لئے ایک پشت پناہ ہے اور مومن کا پشت پناہ اسکی عقل ہے لہذا مومن اپنی عقل کے مطابق اپنے پروردگار کی عبادت کرتاہے ۔

79۔ رسول خدا(ص): گھر کا دار و مداراسکی بنیادپر ہے ، دین کا ستون خدا وند متعال کی معرفت ، اسکی وحدانیت کایقین اور عقل قامع ہے ۔ لوگوں نے پوچھااے رسول خدا! قامع کیا ہے ؟ فرمایا: گناہوں سے پرہیز، اطاعت خدا کا شوق اور اس کے تمام احسانات و نعمات اور نیک آزمائش پر شکر کرنا ہے ۔


80۔ رسول خدا(ص): ہر چیز کے لئے اوزار اور طاقت کی ضرورت ہوتی ہے اور مومن کا اوزار طاقت وعقل ہے ہر تاجر کا ایک سرمایہ ہوتا ہے اور مجتہدین کا سرمایہ عقل ہے ہر ویرانہ کے لئے آبادی ہے اور آخرت کی آبادی عقل ہے ۔ ہر سفر میں پناہ کےلئے خیمہ نصب کیا جاتا ہے اور مسلمانوںکا خیمہ عقل ہے ۔

81۔ امام علی(ع) : مومن ہشیار و عقلمند ہوتا ہے ۔

2/9

بہترین زینت

82۔ امام علی(ع) : بہترین زینت عقل ہے اور بلدترین رتبہ علم ہے ۔

83۔ امام علی(ع) : عقل سے زیادہ خوبصورت کوئی جمال نہیں۔

84۔ امام علی(ع) : سب سے اچھازیور عقل ہے ۔

85۔امام علی(ع) : مرد کی زینت اسکی عقل ہے ۔

86۔ امام علی(ع) : عقل زینت ہے جہالت رسوائی ہے ۔

87۔ امام علی(ع) : عقلمند کی زینت عقل ہے ۔

88۔ امام علی(ع) : عقل ایسا نیا لباس ہے جو کہنہ نہیں ہوتا۔

89۔ امام علی(ع) : انسان کا حسب اس کا علم ہے اور اس کا جمال اسکی عقل ہے ۔

90۔ امام علی(ع) : حسن عقل ظاہر اور باطن کی زینت ہے ۔

91۔ امام علی(ع) : وہ شخص کامیاب نہیںہو سکتا کہ جس کو اسکی عقل نہ سنوار سکے۔

92۔ امام علی(ع) : دین کی زینت عقل ہے ۔


93۔ امام عسکری(ع): چہرے کا حسن ، ظاہری جمال ہے اور عقل کا حسن ، باطنی جمال ہے ۔

94۔ اما م علیؑ: آپ سے منسوب دیوان میںہے۔

جوان لوگوں کے درمیان عقل کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے اس کا علم اور تجربہ عقل کے مطابق ہوتا ہے۔

صحیح عقل جوان کو لوگوںکے درمیان زینت عطا کرتی ہے، چاہے اس کا کار و بار بے رونق ہو۔

اور کم عقلی جوان کو لوگوں کے درمیان رسوا کرتی ہے چاہے اس کا خاندان کا منصب کتنا ہی بلند کیوںنہ ہو۔

2/10

سب سے بڑی بے نیازی

95۔رسول خدا(ص): جہالت سے بڑھکر کوئی فقر نہیں اور عقل سے زیادہ منفعت بخش کوئی سرمایہ نہیں ہے۔

96۔ امام علی(ع) : عظیم ترین بے نیازی عقل ہے ۔

97۔ امام علی(ع) : سب سے عظیم بے نیازی عقل ہے جو دنیا وآخرت میں سب سے بلند رتبہ شمار ہوتی ہے ۔

98۔ امام علی(ع) : سب سے بڑی بے نیازی عقل ہے ۔

99۔ امام علی(ع) : عقل سے زیادہ نفع بخش کوئی سرمایہ نہیںہے۔

100۔ امام علی(ع) : عقل کی بے نیازی کافی ہے ۔

101۔ امام علی(ع) : عقل جیسی کوئی بے نیازی نہیںہے۔

102۔ امام علی(ع) : کوئی عقلمند نادارنہیں۔

103۔ امام علی(ع) : آپ سے منسوب کلمات قصار میں ہے : سب سے زیادہ گرانبہا سرمایہ ایسی عقل ہے جو سعادت سے نزدیک ہو ۔


104۔ امام صادق(ع): کوئی بے نیازی عقل سے بہتر نہیں ، کوئی فقر بیوقوفی سے بدتر نہیںہے۔

2/11

علم محتاجِ عقل ہے

105۔ امام علی(ع) : آپ سے منسوب کلمات قصار میں ہے ۔ عقل صاحب عقل کے لئے ہر گز ضرر رساں نہیں اور عقل کے بغیر علم کے صاحب علم کے لئے نقصاندہ ہے ۔

106۔ اما م علی(ع) : ہر وہ علم جس کی حمایت عقل نہ کرے گمراہی ہے ۔

107۔ امام علی(ع) : ہر وہ شخص جس کا علم اسکی عقل سے زیادہ ہوتاہے وہ علم اس کے لئے وبال ہوجاتاہے۔

108۔ امام علی(ع) : بندوں پر خدا کی سب سے بڑی بخشش علم ، عقل ،بادشاہت، اور عدل ہے ۔

109۔ امام علی(ع) : کوئی چیز اس عقل سے بہتر نہیںجو علم کے ہمراہ ہو، اس علم سے افضل نہیں جو حلم کے ساتھ ہو اور اس حلم سے برترنہیں جو قدرت کے ساتھ ہو۔

110۔ امام علی(ع) : آپ ؑ سے منسوب دیوان میں ہے ۔

اگر تم صاحب علم ہو اور صاحب عقل نہیں ہو تو اس شخص کے مانند ہو کہ جسکے پاس جوتیاں ہوںلیکن پیر نہ ہوں

اگر عقلمند ہو اورعلم سے عاری ہوتو اس شخص کی طرح ہو کہ جس کے پیر ہوںلیکن جوتے نہ ہوں

دیکھو! ایسا انسان اپنی عقل کا نیام ہے اور تیر کے بغیر ترکش بے سود ہوتاہے ۔


2/12

نادر اقوال

111۔ رسول خدا(ص): اللہ نے عقل کو اپنے اس ذخیرئہ نور سے پیدا کیا ہے جو اس کے علم سابق میں مخفی تھا کہ جس کی کسی نبی مرسل اور ملک مقرب کو اطلاع نہ تھی۔ پھر علم کو عقل کا نفس، فہم کو اسکی روح، زہد کو اس کا سر، حیاء کو اسکی آنکھیں، حکمت کو اسکی زبان، مہربانی کو اس کا منہ، اور رحمت کو اس کا دل قرار دیا۔ اس کے بعد عقل کی ان دس چیزوں یقین، ایمان، صداقت، سکون، اخلاص، مہربانی ،عطیہ، قناعت، تسلیم اور شکر کے ذریعہ اس کی تقویت کی۔

112۔ امام علی(ع) : عقلیں ذخیرہ اور اعمال خزانے ہیں۔

113۔ امام علی(ع) : عقل قوی ترین بنیاد ہے ۔

114۔ امام علی(ع) : عقل تقرب کا باعث اور جہالت دوری کا سبب ہے ۔

115۔ امام علی(ع) : عقل بہترین امید ہے ۔

116۔ امام علی(ع) : عقل اچھی فکر کا باعث ہے ۔

117۔ امام علی(ع) : عقل گرانقدر شرف ہے جو نابود نہیں ہوتا۔

118۔ امام علی(ع) : انسان کارشد اسکی عقل سے ہے ۔

119۔ امام علی(ع) : خدا وند سبحان کے نزدیک آگاہ عقل اور (آلودگیوں) سے پاک نفس سے زیادہ کوئی چیز سر خرو نہ ہوگی۔

120۔ امام علی(ع) : انسان کا حسب اسکی عقل ہے اور اسکی جوانمردی اس کا اخلاق ہے ۔

121۔ امام علی(ع) : انسان کے کمال کی انتہاء اسکی صحیح عقل ہے ۔


122۔ امام علی(ع) : ہر چیز کی ایک انتہاء ہوتی ہے اور انسان کی انتہاء اسکی عقل ہے ۔

123۔ امام علی(ع) : خدا وند سبحان پائدار عقل اور صحیح کام کو پسند کرتا ہے ۔

124۔ امام علی(ع) : عقل دھوکا نہیں کھاتی۔

125۔امام علی(ع) : عقل شفاء ہے ۔

126۔ امام علی(ع) :عقل شمشیر براں ہے ۔

127۔ امام علی(ع) : کوئی بھی عدم، عدم عقل سے بدتر نہیں۔

128۔ امام علی(ع) : عقل کے بغیر دین کی اصلاح نہیں ہو سکتی ۔

129۔ امام علی(ع) : عقل کا فوت ہونا بد بختی ہے ۔

130۔ اما م علی(ع) : کوئی بھی بیماری کم عقلی سے زیادہ تکلیف دہ نہیںہے۔

131۔ امام علی(ع) : ادب جب تک عقل کے ساتھ نہ ہو مفید نہیںہے۔

132۔ اما م حسن (ع): آگاہ ہو جاؤ! عقل پناہگاہ ہے اور بردباری زینت ہے۔

133۔ اما م کاظم (ع):نے ہشام بن حکم سے فرمایا اے ہشام! لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا۔ اے فرزند! دنیا ایسا گہرا سمندر ہے کہ جس میں بے شمار مخلوق غرق ہو چکی ہے۔ لہذا کوشش کرو کہ اس میں تمہاری کشتی ، تقوائے الٰہی، اس کا ساحل ایمان، بادبان(خدا پر) توکل، ناخدا عقل ،رہنما علم اورسوار صبرہو۔


تیسری فصل تعقل

3/1

تعقل کی تاکید

قرآن

(اسی طرح پروردگار اپنی آیات کو بیان کرتا ہے کہ شاید تمہیں عقل آجائے۔)

(وہی وہ ہے جو حیات و موت کا دینے والا ہے اور اسی کے اختیار میں دن و رات کی آمد و رفت ہے تم عقل کو کیوںنہیں استعمال کرتے ہو۔)

(خدا اسی طرح مردوں کو زندہ کرتا ہے اور تمہیںاپنی نشانیاں دکھاتا ہے کہ شاید تمہیں عقل آجائے۔)

(بیشک ہم نے تمہاری طرف وہ کتاب نازل کی ہے جسمیں خو د تمہارا بھی ذکر ہے تو کیا تم اتنی بھی عقل نہیںرکھتے ہو۔)

ملاحظہ کریں: بقرہ : 164، انعام : 32،151، اعراف: 169، ھود: 51، یوسف :2،109، رعد: 4،نحل : 12، 67 حج: 46، نور: 61، قصص:60، عنکبوت: 35، روم:24و 28، یس 62، 68، ص:29، غافر:67و70، زخرف: 3، جاثیہ 5و13، حدید: 17۔


حدیث

134۔ رسول خدا(ص): عقل سے راہنمائی حاصل کرو تاکہ ہدایت یافتہ ہو جاؤ، عقل کی نافرمانی نہ کرو ورنہ پشیمان ہوگے۔

135۔ رسول خدا(ص): بہترین چیز جس سے خدا کی عبادت و بندگی ہوتی ہے وہ عقل ہے ۔

136۔ رسول خدا(ص): دنیا و آخرت میںتمام اعمال کا پیشوا عقل ہے ۔

137۔ ابن عمر رسول خدا سے نقل کرنے ہیں کہ آپؐ نے آیت(تبارک الذی بیده الملک) کو(ایکم احسن عملا) تک پڑھا، پھر فرمایا: تم میں سب سے بہترین عمل والا وہ شخص ہے جس کی عقل سب سے بہتر ہے اور سب سے زیادہ محرمات خدا سے پرہیز کرنے والا اور طاعت خدا میںسب سے زیادہ جلدی کرنے والا ہے ۔

138۔ رسول خدا(ص): نے اپنی وصیت میں ابن مسعود سے فرمایا: اے ابن مسعود! جب بھی کوئی کام انجام دو تو علم و عقل کے معیار پر انجام دو اور تدبر و علم کے بغیر کام انجام نہ دو اس لئے کہ خدا وند متعال کا ارشاد ہے(اس عورت کے مانند نہ ہو جاؤ کہ جس نے اپنے دھاگوںکو مضبوط و محکم بنانے کے بعد خود ہی توڑ ڈالا ہو)

139۔ رسول خدا(ص) :دور جاہلیت کے تمہارے بہترین افراد، اسلام میں بھی تمہارے بہترین افراد ہیں اگر غور و فکر سے کام لیں۔

140۔ رسول خدا(ص): رسولوں کے بعد اہل جنت کا سردارسب سے زیادہ عقلمند شخص ہوگا۔ اور لوگوں میں سب سے افضل انسان وہ ہے جوان میں زیادہ عقلمند ہے ۔


141۔ رسول خدا(ص): اے علی ! جب لوگ نیک اعمال کے ذریعہ خدا سے تقرب حاصل کریں تو تم عقلمندی کو اپنا شعار بنا لیناکہ اس کے ذریعہ تم خدا کا تقرب اور دنیوی و اخروی درجات کو پا لوگے۔

142۔ عطا: ابن عباس عائشہ کے پاس گئے اور کہا اے ام المومنین، ایک شخص معمولی شب زندہ داری کرتا ہے اور زیادہ سوتا ہے دوسرا شخص بیشتر شب زندہ داری کرتا ہے اور کم سوتا ہے آپکی نظر میں کون زیادہ محبوب ہے ؟! عائشہ نے کہا:(میں نے یہی سوال رسول خدا(ص) سے پوچھا) تو آپؐ نے فرمایا: جسکی عقل زیادہ بہتر ہو، میں نے کہا: یا رسول اللہ ؐمیں آپ سے ان دونوں کی عبادت کے متعلق سوال کررہی ہوں؟ تو آنحضرت نے فرمایا : اے عائشہ ان دونوں سے انکی عقل کے مطابق سوال کیا جائیگا، جو زیادہ عقل مند ہے وہی دنیا و آخرت میں افضل ہے ۔

143۔ ابو ایوب انصاری رسول خدا(ص) سے نقل کرتے ہیںکہ آپؐ نے فرمایا: دو شخص وارد مسجد ہوئے دونوں نے نماز پڑھی جب وہ پلٹے تو ایک کی نما ز کا وزن کوہ احد کے سے زیادہ تھا جبکہ دوسرے کی نمازکا وزن ایک ذرہ کے برابر بھی نہیںتھا ، ابو حمید ساعدی نے پوچھا: اے رسول خدا(ص)!ایسا کیوںہے ؟ فرمایا:ایسا اس وقت ہوتا ہے جبکہ ان دونوں میں سے ایک محرمات الٰہی سے زیادہ پرہیز کرتا ہو اور کار خیر کی طرف جلدی کرنے میں زیادہ دلچسپی ہو اور چاہے مستحبات میں دوسرے سے پیچھے ہی کیوں نہ ہو۔

144۔ خدا ئے تبارک و تعالیٰ: حدیث معراج میں فرماتا ہے ، اے احمد! عقل کے زائل ہونے سے پہلے اسے استعمال کرو، جو عقل سے کام لیتاہے وہ نہ خطا کرتا ہے اور نہ سرکشی ۔


145۔ امام علی(ع) : بیشتر تفکر اور غور خوض کثرت تکرار اور تحصیل علم سے زیادہ مفید ہے ۔

146۔ امام علی(ع) : عقل سے راہنمائی حاصل کرو اور خواہشات کی مخالفت کرو کامیاب ہوجاؤگے۔

147۔ امام علی(ع) : عقل بلند ہستیوں تک پہنچنے کا زینہ ہے ۔

148۔ امام علی(ع) : انسان کا رتبہ اسکی عقل کے مطابق ہے ۔

149۔ امام علی(ع) : انسان کا کمال اسکی عقل کی وجہ سے ہے اور اسکی قیمت اسکی فضیلت کی بنا پر ہے ۔

150۔ امام علی(ع) : انسان کا کمال عقل سے ہے ۔

151۔ امام علی(ع) : خوبصورتی کا تعلق زبان سے اور کمال کا تعلق عقل سے ہے ۔

152۔ امام علی(ع) : لوگ ایک دوسرے پرعلم و عقل کے ذریعہ فضیلت رکھتے ہیں نہ کہ اموال و حسب کے ذریعہ۔

153۔ امام علی(ع) : جہالت سے اتنی ہی بے رغبتی ہوتی ہے جتنی عقل سے رغبت ہوتی ہے ۔

154۔ امام علی(ع) : جو شخص عقل سے نصیحت لیتا ہے اسے یہ دھوکا نہیں دیتی۔

155۔ امام علی(ع) : جو شخص عقل سے مدد چاہتا ہے اسکی یہ مدد کرتی ہے ۔

156۔ امام علی(ع) ــ: جو شخص عقل سے راہنمائی حاصل کرتا ہے اسکی یہ راہنمائی کرتی ہے ۔

157۔ امام علی(ع) : جو شخص اپنی عقل سے عبرت حاصل کرتا ہے راستہ پا جاتا ہے ۔

158۔ امام علی(ع) : جو اپنی عقل کا مالک ہو جاتا ہے وہ حکیم ہے ۔

159۔ امام علی(ع) : عقل عیوب کا پردہ ہے۔


160۔ امام کاظم (ع):نے ہشام بن حکم سے فرمایا: اے ہشام! اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی کتاب میں صاحبان عقل و فہم کو بشارت دی ہے پس فرمایا: (میرے ان بندوںکو بشارت دے دیجئے جو باتوں کو سنتے ہیں اور جو بات اچھی ہوتی ہے اسکی اتباع کرتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جنہیںخدا نے ہدایت دی ہے اور یہی وہ لوگ ہےں جو صاحبان عقل ہیں)

اے ہشام! خدا وند عالم نے لوگوں پر اپنی دلیلوں کو عقل کے ذریعہ مکمل کیا ہے ، (قوتِ ) بیان کے ذریعہ انبیاء کی مدد اور برہان کے ذریعہ اپنی ربوبیت کی طرف انکی راہنمائی کی ہے۔ فرمایا: (تمہارا معبود ایک معبود ہے نہیں کوئی معبود مگر اس رحمن و رحیم کے، بیشک زمین و آسمان کی خلقت، روز و شب کی رفت و آمد، ان کشتیوں میں جو دریاؤں میں لوگوں کے فائدہ کےلئے چلتی ہیں، اور اس پانی میں جسے خدانے آسمان سے نازل کرکے اسکے ذریعہ مردہ زمینوں کو زندہ کر دیا ہے اور اس میں طرح طرح کے چوپائے پھیلا دئیے ہیں اور ہواؤں کے چلنے میں اور آسمان و زمین کے درمیان مسخر کئے جانے والے بادل میں صاحبان عقل کےلئے اللہ کی نشانیاں پائی جاتی ہیں)

اے ہشام! خدا نے بعنوان مدبراپنی معرفت کےلئے ان چیزوں کو نشانی قرار دیا ہے (اور اس نے تمہارے لئے رات و دن اور آفتاب و ماہتاب سب کو تمہارا تابع کر دیا ہے اور ستارے بھی اسی کے حکم کے تابع ہیں بیشک اس میں بھی صاحبان عقل کےلئے قدرت کی بہت سی نشانیاں پائی جاتی ہیں)اور فرمایا:(وہی خدا ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، پھر نطفے سے پھر علقہ سے پھر تم کو بچہ بنا کر باہر لاتا ہے پھر زندہ رکھتا ہے کہ توانائیوں کو پہنچو پھر بوڑھے ہو جائے اور تم میں سے بعض کو پہلے ہی اٹھا لیا جاتا ہے اور تم کو اس لئے زندہ رکھتا ہے کہ اپنی مقررہ مدت کو پہنچ جاؤ اور شاہد تمہیں عقل بھی آجائے)خدا فرماتا ہے (اور رات و دن کی رفت و آمد میں اور جو رزق خدا نے آسمان سے نازل کیا ہے جسکے ذریعہ مردہ زمینوں کو زندہ کر دیا ہے اور ہواؤںکو چلانے میں اور آسمان و زمین کے درمیان مسخر کئے جانے والے بادل میں صاحبان عقل کےلئے اللہ کی نشانیاں ہیں)


خدا فرماتا ہے (خدا مردہ زمینوں کا زندہ کرنے والا ہے اور ہم نے تمام نشانیوںکو واضح کر کے بیان کر دیا ہے تاکہ تم عقل سے کام لے سکو) نیز فرماتا ہے (اور انگور کے باغات ہیں اور زراعت ہے اور کھجوریںہیں جن میں بعض دو شاخ کی ہیں اور بعض ایک شاخ کی ہیں اور سب ایک ہی پانی سے سینچے جاتے ہیں اور ہم بعض کو بعض پر کھانے میں ترجیح دیتے ہیں اور اس میں بھی صاحبان عقل کےلئے نشانیاں پائی جاتی ہیں) خدا کاارشاد ہے (اور اسکی نشانیوں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ بجلی کو خوف اور امید کا مرکز بنا کر دکھلاتا ہے اور آسمان سے پانی برساتا ہے پھر اسکے ذریعہ مردہ زمینوںکو زندہ بناتا ہے بیشک اس میں بھی عقل رکھنے والی قوم کےلئے بہت سی نشانیاں ہیں) اور فرمایا( کہہ دیجئے کہ آؤ ہم تمہیں بتائیںکہ تمہارے پروردگار نے تمہارے لئے کیا کیا حرام کیا ہے خبردار کسی کو اسکا شریک نہ بنانا اور ماں باپ کےساتھ اچھا برتاؤ کرنا اپنی اولاد کو غربت کی بنا پر قتل نہ کرنا کہ ہم تمہیں بھی رزق دے رہے ہیں اور انہیں بھی اور بدکاریوں کے قریب نہ جانا وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ اور کسی ایسے نفس کو جسے خدا نے حرام کر دیا ہے قتل نہ کرنا مگر یہ کہ تمہارا کوئی حق ہو یہ وہ باتیں ہیں جنکی خدا نے نصیحت کی ہے تاکہ تمہیں عقل آجائے) پروردگار کا ارشاد ہے (کیا اس میں تمہارے مملوک غلام و کنیز میںکوئی تمہارا شریک ہے کہ تم سب برابر ہو جاؤ اور تمہیں انکا خوف اسی طرح ہو جس طرح اپنے نفوس کے بارے میں خوف ہوتا ہے ۔ بیشک ہم اپنی نشاینوںکو صاحبان عقل کےلئے اسی طرح واضح کرکے بیان کرتے ہیں)

اے ہشام! خدا نے اپنے انبیاء و رسل کو اپنے بندوںکی طرف اس لئے بھیجا ہے تاکہ وہ خدا کی معرفت حاصل کریں ۔ انبیاء کی دعوت پر اچھی طرح سے لبیک کہنے والے وہ افراد ہیں جنہوںنے خدا کو اچھی طرح سے پہچانا ہے ۔ امر خدا کے متعلق لوگوں میں سب سے زیادہ جاننے والا وہ شخص ہے جس کی عقل سب سے بہتر ہے ۔ اور جو سب سے زیادہ کامل العقل ہے دنیا و آخرت میں اس کا درجہ سب سے بلند ہے ۔


161۔ جابر بن عبد اللہ: رسول خدا(ص) نے اس آیت( اور یہ مثالیں ہم تمام عالم انسانیت کےلئے بیان کر رہے ہیں اور علماء کے علاوہ انہیں کوئی نہیں سمجھتاہے ) کی تلاوت کی اور فرمایا: عالم وہ ہے جو خدا کی معرفت رکھتا ہے اور اس کے حکم کی طاعت اور اس کے غضب سے دوری اختیار کرتا ہے۔

162۔ رسول خدا(ص)ــ: اللہ تعالیٰ نے عقل کو تین حصوں (خدا کی اچھی طرح معرفت، اسکی بہترین طاعت اور اس کے حکم کے سامنے مناسب ثابت قدمی) میں تقسیم کیا ہے ، جس کے اندر یہ حصے ہوں گے اسکی عقل کامل ہے اور جس میں یہ نہیں ہوں گے وہ عاقل نہیں ہے ۔

163۔ رسول خدا(ص): بہت سے عقلمند ایسے ہیں جنہوںنے امر خدا کو سمجھ لیا ہے لیکن لوگوں کی نظروں میں حقیر اورکریہہ المنظر شمار ہوتے ہیں جبکہ کل یہی نجات پائیں گے اور بہت سے افرادلوگوں کی نظروں میں شستہ زبان اور حسین منظر شمار ہوتے ہیں جبکہ کل قیامت میں یہی ہلاک ہوں گے۔

164۔ رسول خدا(ص): انسان کا دین اس وقت تک ہرگز مکمل نہیںہو سکتا جب تک کہ اسکی عقل مکمل نہ ہو جائے۔

165۔ رسول خدا(ص): ملائکہ نے عقل ہی کے ذریعہ طاعت خدا کے لئے جد و جہد کی اوربنی آدم میں سے مومنین نے بھی اپنی عقل کے مطابق طاعت خدا کے سلسلہ میں سعی و کوشش کی ۔ خدا کی سب سے زیادہ اطاعت کرنے والے وہی لوگ ہیں جو زیادہ عقل رکھتے ہیں۔

166۔ ابن عباس:رسول خدا(ص) سے روایت کرتے ہیں : لوگوں میںسے زیادہ با فضل انسان وہ ہے جوان میں سب سے زیادہ عقلمند ہے ، ابن عباس نے کہا: اور وہ تمہارانبی ہے ۔

167۔ امام صادق(ع): تمہیں کیا ہو گیا ہے جو ایک دوسرے سے الگ رہتے ہو! ، مومنین میں سے بعض بعض سے افضل ہیں، بعض کی نمازیں دوسروں سے زیادہ ہیںاور بعض کی نگاہیںبعض سے زیادہ گہری ہیںیہی درجات ہیں۔

نوٹ: یہ تمام آیات و روایات جو لوگوں کو تفکر، تدبر، تذکر، تفقہ اور بصیرت کی دعوت دے رہی ہیں ،ان میں معرفت اور زندگی کے صحیح راستوں کے انتخاب کی تاکید کی گئی ہے ۔


3/2

ہمیشہ غور و فکر سے کام لو

قرآن

(اور یقینا ہم نے انسان و جنات کی ایک کثیر تعداد کو گویا جہنم کے لئے پیدا کیا ہے کہ ان کے پاس دل ہیں مگر سمجھتے نہیں ہیں اور آنکھیں ہیں مگر دیکھتے نہیں اور کان ہیں مگر سنتے نہیں، یہ چوپایوں جیسے ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں اور یہی لوگ اصل میںغافل ہیں)

(اور وہ ان لوگوں پر خباثت کو لازم قرار دیتا ہے جو عقل سے کام نہیں لیتے ہیں)

( جو اس دنیا میں اندھا ہے وہ قیامت میں بھی اندھا اور بھٹکا ہوا رہیگا)

(حیف ہے تمہارے اوپر اور تمہارے ان خداؤں پر جنہیں تم نے خدا ئے برحق کو چھوڑ کر اختیار کیاہے کیا تمہیں اتنی بھی عقل نہیں ہے)

(اور پھر کہیں گے کہ اگر ہم بات سن لیتے اور سمجھتے ہوتے تو آج جہنم والوں میں نہ ہوتے)

(اور وہ لوگوں جو کافر ہیںا ان کےلئے آتش جہنم ہے اور نہ انکی قضا آئیگی کہ مر جائیں اور نہ عذاب میں کمی کی جائیگی ہم ہر کافر کو سزا دیںگےں اور یہ وہاں فریاد کرینگے کہ پروردگار ہمیں نکال لے ہم اب نیک عمل کریںگے اسکے بر خلاف جو پہلے کیا کرتے تھے تو کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی جسمیں عبرت حاصل کرنے والے عبرت حاصل کر سکتے تھے اور تمہارے پاس ڈرانے والا بھی آیا تھا لہذا اب عذاب کا مزہ چکھو کہ ظالمین کا کوئی مدد گار نہیں ہے )

(کیا آپ کا خیال یہ ہے کہ ان کی اکثریت کچھ سنتی اور سمجھتی ہے ہر گز نہیں یہ سب جانوروںجیسے ہیں بلکہ ان سے بھی کچھ زیادہ ہی گمراہ ہیں)

ملاحظہ فرمائیںـ:44و76۔آل عمران: 65، یونس 16، عنکبوت: 35،43۔ صافات 138۔ فاطر:37۔ جاثیہ: 23۔ احقاف:26


حدیث

168۔ رسول خدا(ص): عقل سے رہنمائی حاصل کروتا کہ ہدایت پا جاؤ اور عقل کی نافرمانی مت کرو کہ پشیمان ہوگے۔

169۔ امام علی(ع) : جو شخص عقل کے استعمال سے عاجز ہے وہ اس کے حاصل کرنے سے زیادہ عاجز ہے۔

170۔ امام علی(ع) : عقلمند ادب سے نصیحت حاصل کرتے ہیں اور چوپائے مار کھائے بغیر قابو میں نہیں آتے ۔

171۔ امام علی(ع) : جہالت سے اتنی ہی بے رغبتی ہوتی ہے جتنی عقل سے رغبت ہوتی ہے ۔

172۔ امام علی(ع) : جو شخص عقل میں جتنا پیچھے ہوتا ہے وہ جہالت میں اتنا ہی آگے ہوتا ہے ۔

173۔ امام علی(ع) : ہم خدا کی پناہ چاہتے ہیں عقل کے خواب غفلت سے اور لغزشوں کی برائیوں سے ۔

174۔ امام علی(ع) : جو شخص غور و فکر نہیں کرتا وہ بے وقعت ہو جاتا ہے اور جو بے وقعت ہو جاتا ہے اسکی کوئی عزت نہیں ہوتی۔

175۔ امام علی(ع) : اے لوگو! جن کے نفس مختلف اور دل متفرق ہیں، بدن حاضر اور عقلیں غائب ہیں، میں تمہیں مہربانی کے ساتھ حق کی دعوت دیتا ہوں اور تم اس سے اس طرح فرار کر رہے ہو جیسے شیر کی ڈکار سے بکریاں۔

176۔ امام علی(ع) :نے اپنے اصحاب کومخاطب کرکے فرمایا: اے وہ قوم جسکے بدن حاضر ہیں اور عقلیں غائب تمہارے خواہشات گوناگوں ہیں اور تمہارے حکام تمہاری بغاوت میں مبتلا ہیں، تمہارا امیر اللہ کی اطاعت کرتا ہے اور تم اسکی نافرمانی کرتے ہو اور شام کا حاکم اللہ کی معصیت کرتا ہے اور اسکی قوم اسکی اطاعت کرتی ہے ۔

177۔ امام صادق(ع): جب خداا پنے کسی بندہ سے نعمت سلب کرنا چاہتا ہے تو سب سے پہلے اسکی عقل کو بدل دیتا ہے ۔

178۔ امام کاظم (ع)نے ہشام بن حکم سے فرمایا: اے ہشام! اللہ تبارک و تعالیٰ نے عقل کے ذریعہ لوگوں پر اپنی حجتیں تمام کی ہیں....پھر صاحبان عقل کو وعظ و نصیحت کی اور انہیں آخرت کی ترغیب دلائی اور فرمایا( اور یہ زندگانی دنیا صرف کھیل تماشہ ہے اور دار آخرت صاحبان تقویٰ کے لئے سب سے بہتر ہے ۔ کیا تمہاری عقل میں یہ بات نہیں آرہی ہے )


اے ہشام! پھر وہ لوگ جو فکر کرنے والے نہیں ہیں خدا نے انہیں اپنے عقاب سے ڈرایا اورفرمایا (پھر ہم نے سب کو تباہ و برباد بھی کر دیا، تم ان کی طرف سے برابر صبح کو گذرتے ہو ، اور رات کے وقت بھی تو کیا تمہیں عقل نہیں آرہی ہے ) اور فرمایا( ہم اس بستی پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں کہ یہ لوگ بڑی بدکاری کر رہے ہیں، اور ہم نے اس بستی میں سے صاحبان عقل و ہوش کےلئے کھلی ہوئی نشانی باقی رکھی ہے )

اے ہشام! عقل علم کے ساتھ ہے جیسا کہ خدا کا ارشاد ہے (اور یہ مثالیں ہم تمام عالمِ انسانیت کےلئے بیان کررہے ہیں لیکن انہیں صاحبان علم کے علاوہ کوئی نہیں سمجھ سکتا ہے )

اے ہشام! پھر خدا نے غور وخوض نہ کرنے والوںکی مذمت کی اور فرمایا( جب ان سے کہا جاتا ہے جو کچھ خد انے نازل کیا ہے اسکی اتباع کرو تو کہتے ہیں کہ ہم اسکی اتباع کرینگے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے، کیا یہ ایسا ہی کرینگے چاہے انکے باپ دادا بے عقل ہی رہے ہوں اور ہدایت یافتہ نہ رہے ہوں) اور فرمایا( جو لوگ کافر ہو گئے ہیں انکو پکارنے والے کی مثال اس شخص کی ہے جو جانوروں کو آواز دے اور جانور پکار اور آواز کے علاوہ کچھ نہ سنیں اور سمجھیں یہ کفار بہرے ، گونگے اور اندھے ہیں، انہیں عقل سے سروکار نہیں ہے ) اور فرمایا( اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں جو بظاہر کان لگا کر سنتے بھی ہیں لیکن کیا آپ بہروںکو بات سنانا چاہتے ہیں جبکہ وہ سمجھتے بھی نہیںہیں) اور فرمایا( کیا آپکا خیال یہ ہے کہ انکی اکثریت کچھ سنتی اور سمجھتی ہے ہرگز نہیں یہ سب چوپایوںجیسے ہیں بلکہ ان سے بھی کچھ زیادہ ہی گمراہیں) اور فرمایا( یہ کبھی تم سے اجتماعی طور پر جنگ نہیںکرینگے مگر یہ کہ محفوظ بستیوں میںہوں یا دیواروںکے پیچھے ہوں انکی دھاک آپس میں بہت ہے اور تم یہ خیال کرتے ہو کہ یہ سب متحد ہیںہر گز نہیں انکے دلوں میں سخت تفرقہ ہے اور یہ اس لئے کہ اس قوم کے پاس عقل نہیں ہے)۔اور فرمایا:( اور تم اپنے نفسوں کو بھلا بیٹھے جبکہ تم کتاب کی تلاوت بھی کرتے ہو کیا تمہیں اتنی بھی عقل نہیں ہے)


اے ہشام! خدا وند عالم نے اکثریت کی مذمت کی اور فرمایا( اور اگر آپ روئے زمین کی اکثریت کا اتباع کرینگے تو یہ آپ کو راہ خدا سے بہکا دینگے ) اور فرمایا( اور اگر آپ ان سے سوال کریں کہ زمین و آسمان کا خالق کون ہے تو کہیں گے کہ اللہ تو پھر کہئے کہ ساری حمد اللہ کےلئے ہے اور انکی اکثریت بالکل جاہل ہے ) اور فرمایا( اور اگر آپ ان سے پوچھیں گے کہ کس نے آسمان سے پانی برسایا اور پھر زمین کو مردہ ہونے کے بعد زندہ کیا ہے تو یہ کہیں گے کہ اللہ، تو پھر کہہ دیجئے کہ ساری حمد اسی کےلئے ہے اور انکی اکثریت عقل کا استعمال نہیں کر رہی ہے )

اے ہشام! پھر اللہ تعالیٰ نے اقلیت کی مدح کی اور فرمایا( اور ہمارے بندوں میں شکر گذار بندے کم ہیں) اور فرمایا( اور وہ بہت کم ہیں) اور فرمایا( اور فرعون والوں میں سے ایک مرد مومن نے جو اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا یہ کہا کہ کیا تم لوگ اس شخص کو صرف اس بات پر قتل کر رہے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا پروردگار اللہ ہے ) اور فرمایا( اور صاحبان ایمان کو بھی لے لو اور ان کے ساتھ ایمان والے بہت ہی کم ہیں) اور فرمایا( لیکن ان کی اکثریت اس بات کو نہیں جانتی) اور فرمایا( او رانکی اکثریت اس بات کو نہیںسمجھتی ۔)

179۔ا مام رضا(ع): بے عقل دینداروں کی طرف توجہ نہیں کی جائیگی۔

180۔ اسحاق بن عمار: میں نے امام جعفر صادق(ع) کی خدمت میں عرض کیا: میں آپ پر فدا ہو جاؤں! میرا پڑوسی بہت زیادہ نمازیں پڑھتا ہے ، بے پناہ صدقہ دیتا ہے، کثرت سے حج کرتا ہے اور نہایت معقول انسان ہے ، امام نے فرمایا: اے اسحاق! اس کی عقل کیسی ہے ؟ میں نے عرض کیا: میری جان آپ پر فدا ہو جائے ، عقل سے کو را ہے ، پھر آپؑ نے فرمایا: اس کے اعمال اسی وجہ سے قابل قبول نہیں ہیں۔


3/3

عقل کا حجت ہونا

181۔ رسول خدا(ص): حق جہاں بھی ہو اس کے ساتھ رہو، جو چیزیں تم پر مشتبہ ہو جائیں انہیں اپنی عقل کے ذریعہ جدا کرو ، کیوں کہ عقل تم پر خدا کی حجت اور تمہارے پاس اسکی امانت اور برکت ہے ۔

182۔ امام علی(ع) : عقل حق کا رسول ہے ۔

183۔ امام علی(ع) : عقل ، باطنی شریعت اور شریعت، ظاہری عقل ہے ۔

184۔ اما م صادق(ع): نبی بندوں پر خدا کی حجت ہے اور عقل بندوں اور خدا کے درمیان حجت ہے ۔

185۔ امام کاظم (ع): نے ہشام بن حکم سے فرمایا: اے ہشام! خدا کی لوگوںپر دو حجتیں ہیں: حجت ظاہری اور حجت باطنی، حجت ظاہری انبیاء و مرسلین،اور ائمہ ہیں لیکن حجت باطنی عقل ہے۔

186۔ امام کاظم (ع): نے نیز ہشام بن حکم سے فرمایا: اے ہشام ! اللہ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں پر عقل کے ذریعہ حجتیں تمام کی ہیں، (قوت) بیان کے ذریعہ انبیاء کی مدد کی ہے اور براہین کے ذریعہ انہیں اپنی ربوبیت سے آشنا کیاہے ۔

187۔ ابویعقوب بغدادی : ابن سکیت نے امام رضاکی خدمت میں عرض کیا.....خدا کی قسم میں نے آپ کے مثل کسی کو نہیں دیکھا، آج خلق پر خدا کی حجت کون ہے ؟ فرمایاؑ: عقل ہے کہ جس کے ذریعہ خدا کے متعلق سچ بولنے والوں کی پہچان اور ان کی تصدیق ہوتی ہے ، خدا پرجھوٹ باندھنے والوں کی شناخت اور ان تکذیب کی ہوتی ہے، ابو یعقوب کہتے ہیںکہ ابن سکیت نے کہا: خدا کی قسم ، یہی( واقعی) جواب ہے ۔


3/4

اعمال کے حساب میں عقل کا دخل

188۔ امام علی(ع) : خدا نے دنیا میں بندوں کو جتنی عقل عطا کی ہے اسی کے مطابق حساب لیگا۔

189۔ امام باقر(ع): خدا نے جو چیزیں موسیٰ بن عمران پر نازل کی ہیں ان میں سے بعض کو ذکر کرتے ہوئے فرمایا: جب موسیٰ پر وحی نازل ہوی....تو اس وقت خدا نے فرمایا: میں نے اپنے بندوں کو جتنی عقل عطا کی ہے اسی کے مطابق حساب لونگا۔

190۔ امام باقر(ع): خدا نے دنیا میں بندوں کو جتنی عقل عطا کی ہے اسی کے مطابق روز قیامت دقیق حساب لیگا۔

191۔ امام باقر(ع): میں نے علی(ع) کی کتاب پر نظر ڈالی تو مجھے یہ بات ملی کہ: ہر انسان کی قیمت اور اسکی قدر و منزلت اسکی معرفت کے مطابق ہے اور خدا نے دنیا میں بندوںکو جتنی عقل عطا کی ہے اسی کے مطابق اسکا حساب لیگا۔

3/5

اعمال کی جزا میں عقل کااثر

192۔ رسول خدا(ص): اگر تمہارے پاس کسی شخص کے نیک چال چلن کے متعلق خبر پہنچے تو تم اس کے حسن عقل کو دیکھو، کیونکہ جزاعقل کے اعتبارسے دی جاتی ہے ۔

193۔رسول خدؐا: اگر کسی کوبہت زیادہ نماز گذار اور زیادہ روزہ دار پاؤ تواس پر فخر و ماہات نہ کرو جب تک کہ اسکی عقل کو پرکھ نہ لو۔


194۔ رسول خدا(ص): وہ شخص جونمازی، زکات دینے والاحج و عمرہ بجالانے والا اور مجاہدہے اسے روز قیامت اسکی عقل کے مطابق جزا دی جائیگی۔

195۔ رسول خدا(ص): جنت کے سو درجے ہیں، نناوے درجے صاحبان عقل کے لئے ہیں اور ایک درجہ بقیہ تمام افراد کے لئے ہے ۔

196۔ رسول خدا(ص): ایک شخص پہاڑ کی بلندی پر ایک گرجا گھرمیں عبادت کیا کرتا تھا، آسمان سے بارش ہوئی زمین سر سبز ہو گئی جب اس نے گدھے کو چرتے دیکھا تو کہا: پروردگارا!! اگر تیرا بھی گدھا ہوتا تو میں اپنے گدھے کے ساتھ اسے بھی چراتا، چنانچہ جب یہ خبر بنی سرائیل کے انبیاء میں سے کسی نبی کو ملی تو انہوںنے اس عابد کے لئے بد دعا کرنی چاہی تو خدا وند عالم نے اس نبی پر وحی نازل کی ، '' میں بندوںکو ان کی عقل کے مطابق جزا دونگا''۔

197۔ تحف العقول: ایک گروہ نے پیغمبر اسلامؐ کی خدمت میںایک شخص کی تعریف کی اور اسکی تمام خوبیوں کو بیان کیا تو رسول خدا(ص) نے فرمایا: اس شخص کی عقل کیسی ہے؟ انہوںنے کہا: اے رسولخدؐا! ہم آپکو عبادت میں اسکی کوشش و جانفشانی اور اسکی دوسری خوبیوں کی خبر دے رہے ہیں اور آپ ہم سے اسکی عقل کے بارے میں پوچھ رہے ہیں؟! آپؐ نے فرمایا: احمق اپنی حماقت کے سبب گنہگار سے زیادہ فسق و فجور کا مرتکب ہوتا ہے ، یقینا بندے روز قیامت اپنی عقل کے مطابق بلند درجات پر فائز ہونگے اور اپنے پروردگار کا تقرب حاصل کرینگے ۔

198۔ رسول خدا(ص):( لوگوںنے جب آپکے سامنے کسی شخص کی بہترین عبادت کی تعریف کی) تو آپ نے فرمایا: اسکی عقل کو دیکھو؛ اس لئے کہ روز قیامت بندوں کو انکی عقل کے مطابق جزا دی جائیگی۔


199۔ امام باقر(ع): موسیٰ بن عمران ؑنے دیکھا کہ بنی اسرائیل کاا یک شخص طولانی سجدے کر تا ہے اور گھنٹوںخاموش رہتا ہے۔جہاں بھی موسیٰ ؑجاتے تھے وہ بھی ساتھ ہو لیتا تھا ایک روز جناب موسیٰ کسی کام کے تحت ایک ہری بھری اور سبزوادی سے گذرے تو اس مرد عبادت گذار نے ایک سرد آہ بھری ، جناب موسیٰ نے اس سے کہا: کیوں آہ بھر رہے ہو؟! اس نے کہا: مجھے اس چیز کی تمنا ہے کہ کاش میرے پروردگار کاکوئی گدھا ہوتا تو میں اسے یہاںچراتا ، جناب موسیٰؑ اسکی اس بات سے اس قدر غمگین ہوئے کہ کافی دیر تک اپنی نظروں کو زمین کی طرف جھکائے رکھا، اتنے میں جناب موسیٰ پر وحی نازل ہوئی کہ اے موسیٰ میرے بندہ کی بات تم پر اتنی گراں کیوں گذری ؟!میں نے اپنے بندوں کو جتنی عقل عطا کی ہے اسی کے مطابق حساب لونگا۔

200۔ سلیمان دیلمی( کابیان ہے کہ) میں نے امام جعفر صادق(ع) کی خدمت میں ایک شخص کی عبادت، دینداری اور فضیلتوں کا تذکرہ کیا تو آپ ؑ نے فرمایا: اسکی عقل کیسی ہے ؟! میںنے کہا: مجھے نہیں معلوم، فرمایا: ثواب عقل کے مطابق دیا جائیگا اس لئے کہ بنی اسرائیل کا ایک شخص سر سبز و شاداب، درختوں اور پانی سے لبریز جزیرہ میں خدا کی عبادت کیا کرتا تھا۔ فرشتوں میں سے ایک فرشتہ اس کے قریب سے گذرا تو اس نے کہا پروردگارا! اپنے اس بندہ کا ثواب مجھے دکھا دے ، پس خدا وند نے اسے اپنے اس بندہ کا ثواب دکھایا لیکن فرشتہ کی نظر میں وہ ثواب بہت معمولی تھا تو خدا نے فرشتہ پر وحی کی کہ اس کے ہمراہ ہو جاؤ، فرشتہ انسانی شکل میں اس کے پاس آیا اور عابد نے اس سے پوچھا تم کون ہو؟ کہا: میں ایک عبادت گذار شخص ہوں مجھے تمہاری اس جگہ عبادت کی اطلاع ملی تو میں تمہارے پاس آیا ہوں تاکہ میں بھی تمہارے ساتھ خد اکی عبادت کروں، لہذا پورے دن وہ فرشتہ اس عابد کے ساتھ رہا، دوسرے روز فرشتہ نے اس سے کہا تمہاری جگہ پاک و پاکیزہ ہے صرف عبادت کے لئے موزوں ہے ، مرد عابد نے کہا: ہماری اس جگہ میں ایک عیب ہے ، فرشتہ نے پوچھا : وہ عیب کیاہے ؟ کہا: ہمارے پروردگارکے پاس کوئی چوپایہ نہیںہے ، اگر خدا کے پاس ایک گدھا ہوتا تو ہم یہاں پر اسے چراتے اس لئے کہ یہ گھاس تلف ہو رہی ہے ، فرشتہ نے اس سے کہا: تمہارا پروردگار گدھا کیا کریگا؟ مرد عابد نے کہا: اگر خدا کے پاس گدھا ہوتا تو یہ گھاس برباد نہ ہوتی ، پس خدا نے فرشتہ پر وحی نازل کی ، کہ میں اس کو اسکی عقل کے مطابق ثواب دونگا۔


چوتھی فصل عقل کے رشد کے اسباب

4/1

عقل کی تقویت کے عوامل

الف۔ وحی

( اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے برہان آچکاہے اور ہم نے تم پر روشن نور بھی نازل کر دیا ہے )

(اللہ صاحبان ایمان کا ولی ہے وہ تاریکیوں سے نکا لکر روشنی میں لے آتا ہے اور کفار کے ولی طاغوت ہیں جو انہیں روشنی سے نکال کر اندھروں میں لے جاتے ہیں۔ یہی تو جہنمی ہیں اور وہاں ہمیشہ رہنے والے ہیں)

(بیشک ہم نے تمہاری طرف وہ کتاب نازل کی ہے جس میں خود تمہارا بھی ذکر ہے تو کیا تم اتنی بھی عقل نہیں رکھتے ہو)

ملاحظہ کریں:بقرہ :242، نور: 61، یوسف:2، زخرف:3


حدیث

201۔ امام علی (ع): پروردگار نے ان کے درمیان رسول بھیجے ، انبیاء کا تسلسل قائم کیا تاکہ وہ ان سے فطرت کے عہد و پیمان پورے کرائیںاور انہیں بھولی ہوئی نعمت پروردگار کو یاد دلائیں، تبلیغ کے ذریعہ ان پر اتمام حجت کریں اور ان کی عقل کے دفینوں کو باہر لائیں۔

202۔ امام علی (ع)نے رسولخدا ؐ کی بعثت کی توصیف میں فرمایا: خدا نے انہیں حق کے ساتھ مبعوث کیا تاکہ خدا کی طرف راہنمائی اور ہدایت کریں، خدا نے انکے ذریعہ ہمیں گمراہی سے ہدایت دی اور جہالت سے باہر نکالا ہے۔

203۔ امام علی (ع): خدا وند متعال نے اسلام کو بنایا اور اسکے راستوں کو اس پر چلنے والوں کےلئے آسان کیا ، اسکے ارکان کو دشمنوںکے مقابل میں پائدار کیا، اسلام کو اسکے اطاعت گذاروں کےلئے باعث عزت اور اس میں داخل ہونے والوں کےلئے سبب صلح و آشتی ...ذہین و ہوشیار انسان کےلئے فہم اور عقلمند کے لئے یقین قرار دیاہے۔

204۔ امام علی (ع): یہاں تک کہ خدا وند سبحان نے اپنے وعدے کو پورا کرنے اور اپنی نبوت کو مکمل کرنے کے لئے حضرت محمد کو بھیج دیا جنکے بارے میں انبیاء سے عہد لیا جا چکا تھا اورجنکی علامتیں مشہور اور ولادت مسعود تھی، اس وقت اہل زمین متفرق مذاہب، منتشر خواہشات اور مختلف راستوں پر گامزن تھے، کوئی خدا کو مخلوقات کے شبیہ بنا رہا تھا، کوئی اس کے ناموں کو بگاڑ رہا تھا، کوئی دوسرے خدا کا اشارہ دے رہا تھا، مالک نے آپ کے ذریعہ سب کو گمراہی سے ہدایت دی اور جہالت سے باہر نکال لیا۔


ب۔ علم

قرآن

اور یہ مثالیں ہم تمام عالم انسانیت کےلئے بیان کر رہے ہیں اور انہیں کوئی نہیں سمجھ سکتا مگر صاحبان علم ہے ۔

حدیث

205۔ رسول خدا(ص): علم جہالت کی نسبت دلوںکی زندگی، تاریکی سے چھٹکارا پانے کے لئے آنکھوںکی روشنی، اور کمزوری سے نجات پانے کے لئے بدن کی طاقت ہے ۔

206۔ امام علی (ع): تم عقل کے ذریعہ تولے جاؤگے لہذا علم کے ذریعہ اسے بڑھاؤ۔

207۔ امام علی (ع): عقل کے رشد کے لئے بہترین چیز تعلیم ہے ۔

208۔ امام علی (ع): عقل ایسی فطرت ہے جو علم اور تجربہ سے بڑھتی ہے ۔

209۔ امام علی (ع): علم، عقلمند کی عقل میں اضافہ کرتاہے ۔

210۔ امام صادق(ع): حکمت کے متعلق زیادہ غور وخوض عقل کو نتیجہ خیز بناتاہے ۔

211۔ امام صادق(ع): علم کی موشگافیاں کرنے سے عقل کے دریچے کھلتے ہیں۔

212۔ امام رضا(ع): جو شخص سوچتا ہے سمجھ لیتا ہے جوسمجھ لیتا ہے عقلمند ہو جاتا ہے ۔


ج۔ ادب

213۔ رسول خدا(ص): حسن ادب عقل کی زینت ہے ۔

214۔ امام علی (ع): ہر چیز عقل کی محتاج ہے لیکن عقل ادب کی محتاج ہے۔

215۔ امام علی (ع): صاحبان عقل کو ادب کی اس طرح ضرورت ہے کہ جس طرح زراعت کوبارش کی ضرورت ہے ۔

216۔ امام علی (ع): عقل کا بہترین ہمنشیں ادب ہے ۔

217۔ امام علی (ع): ادب عقل کی صورت ہے ۔

218۔ امام علی (ع): عقل کی بھلائی ادب ہے ۔

219۔ امام علی (ع): ادب عقل کے لئے نتیجہ خیز اور دل کی ذکاوت ہے ۔

220۔ امام علی (ع): جس کے پاس ادب نہیںہے وہ عقلمند نہیں۔

221۔ امام علی (ع): جس طرح آگ کو لکڑی کے ذریعہ شعلہ ور کرتے ہو اسی طرح عقل کو ادب کے ذریعہ رشد عطا کرو۔

222۔ امام زین العاب دین (ع): علماء کا ادب عقل کی فراوانی کا سبب ہے ۔


د۔ تجربہ

223۔ امام علی (ع): عقل ایسی فطرت ہے جو علم اور تجربات سے بڑھتی ہے ۔

224۔ امام علی (ع): آپ سے منسوب کلمات قصارمیں ہے ،عقل ایسی فطرت ہے جو تجربات سے پروان چڑھتی ہے ۔

225۔ امام علی (ع): فطرت کا بہترین مددگار ادب اور عقل کا بہترین معاون تجربہ ہے ۔

226۔ امام علی (ع): تجربات ختم نہیں ہوتے عاقل انہیں کے ذریعہ ترقی کرتا ہے۔

227۔ امام حسین (ع): طویل تجربہ عقل کی افزائش کا سبب ہے ۔

ھ۔ زمین میں سیر

قرآن

( کیا ان لوگوں نے زمین میں سیر نہیں کی ہے کہ انکے پاس ایسے دل ہوتے جو سمجھ سکتے اور ایسے کان ہوتے جو سن سکتے اس لئے کہ در حقیقت آنکھیں اندھی نہیں ہوتی ہیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہوتے ہیں)

( آپ کہہ دیجئے کہ تم لوگ زمین میں سیر کرو اور دیکھو کہ خدا نے کس طرح خلقت کا آغاز کیا ہے اس کے بعد وہی آخرت میں ایجاد کریگا، بیشک وہی ہر شی پر قدرت رکھنے والا ہے )

( اور ہم نے اس بستی میں سے صاحبان عقل و ہوش کے لئے کھلی ہوئی نشانی باقی رکھی ہے )

(پس آج ہم تیرے بد ن کو بچا لیتے ہیں تاکہ تو اپنے بعد والوںکے لئے نشانی بن جائے ، اگر چہ بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہی رہتے ہیں)


حدیث

228۔ ابن دینار : خدا نے حضرت موسیؑ کو وحی کی کہ لوہے کی نعلین پہن کر اور عصا لیکر زمین میں گردش کرو اور (گذشتگان کی) عبرت و آثارڈھونڈھو ، یہاں تک کہ نعلین گھس جائے اور عصا ٹوٹ جائے۔

229۔ داؤد(ع): علماء سے کہہ دیجئے کہ آہنی عصا لیکر اور آہنی نعلین پہن کر علم کی تلاش میں نکلیں، یہاں تک کہ عصا ٹوٹ جائے اور نعلین پھٹ جائے ۔

و۔مشورہ

230۔ امام علی (ع): جو صاحبان عقل سے مشورہ لیتاہے وہ عقل کی روشنی سے مالا مال ہو جاتا ہے۔

ز۔ تقویٰ

231۔ سید ابن طاؤس : مجھے ایک کتاب دستیاب ہوئی...... جس پر( سنن ادریس)مرقوم تھا ، اس میں لکھا تھا یاد رکھو اور یقین کرو کہ تقوائے الٰہی بہترین حکمت اور عظیم ترین نعمت ہے اور ایسا وسیلہ ہے جو خیر کی طرف دعوت دیتا ہے اور نیکی ،فہم اور عقل کے دروازوں کو کھول دیتا ہے۔


ح۔ جہاد بالنفس

232۔ امام علی (ع): اپنی شہوت کا مقابلہ کرو، اپنے غصہ پر قابو رکھو اور اپنی بری عادتوں کی مخالفت کرو تاکہ تمہاری روح پاک اور تمہاری عقل کامل ہو جائے اور اپنے پروردگار کا ثواب اچھی طرح حاصل کر سکو۔

223۔ امام صادق(ع): امیر المومنینؑ: نے اپنے کسی صحابی کے پاس خط لکھ کر اس طرح نصیحت کی ، تمہیں اور خود اپنے نفس کو اس خدا سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں کہ جس کی نافرمانی مناسب نہیں ، اس کے سوا کوئی امید نہیں اور اس کے علاوہ کوئی بے نیازی نہیں، جو خوف خدا رکھتا ہے جلیل و عزیز، قوی اور سیر و سیراب ہوجاتا ہے خوف خدا اسکی عقل کو اہل دنیا سے باز رکھتا ہے ، اس کا بدن اہل دنیا کے ساتھ ہوتاہے لیکن اس کا دل اور عقل آخرت کا نظارہ کرتی ہے آنکھیں جن چیزوں کو حب دنیا سے لبریز دیکھتی ہیں نور دل کے ذریعہ انہیں بجھا دیتاہے ، حرام دنیا سے چشم پوشی اور شبہات سے پرہیز کرتا ہے خدا کی قسم حلال و مباح سے بھی اجتناب کرتا ہے صر ف ان ٹکڑوں پر گذاراکرتا ہے کہ جن سے اپنی حیات باقی رکھ سکے اور کھردرے و سخت لباس کے ذریعہ اپنی شرمگاہوں کو چھپاتا ہے۔ اپنی حاجتوں میں کسی پر اعتماد اور کسی سے امید نہیں رکھتا تاکہ اعتماد و امید صرف خالق کائنات سے ہو۔ کوشش و جانفشانی کرتا ہے کہ اپنے بدن کو اس قدر زحمت میں ڈالے کہ ان کی پسلیاں دکھائی پڑنے لگیں اور آنکھیں گہرائی میں چلی جائیں پھر خدا اس کے عوض بدن میں طاقت اور عقل کو قوت عطا کرتا ہے اور آخرت کے لئے جو ذخیرہ کرتا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے ۔


ط۔ ذکر خدا

234۔ امام علی (ع): ذکر خدا عقل کا نور، روح کی زندگی اور سینوںکی جلاء ہے ۔

235۔ امام علی (ع): جو شخص زیادہ ذکر خدا کرتا ہے اسکی عقل منور ہو جاتی ہے ۔

236۔ امام علی (ع): جو شخص خدائے سبحان کو یاد کرتا ہے خداا سکے دل کو زندہ رکھتا ہے اور اسکی عقل و خرد کو منور کر دیتا ہے۔

237۔ امام علی (ع): ذکر خدا عقل کو انس اور دل کو روشنی عطا کرتا ہے اوررحمت خدا کو کھینچتا ہے۔

238۔ امام علی (ع): یاد خدا عقل کو ہدایت اور روح کو بصیرت عطا کرتا ہے۔

ی۔ دنیا سے بے رغبتی

239۔ امام علی (ع): جو شخص خود کو دنیا کی بخشش و عطا سے بے نیاز رکھتا ہے اس نے عقل کو کامل کر لیاہے۔

ک: حق کا اتباع

240۔ رسول خدا(ص): ناصح کا اتباع عقل و خرد کی افزائش اور کمال کا سرچشمہ ہے ۔

241۔ اعلام الدین : جب معاویہ کے سامنے عقل کا تذکرہ آیا تو امام حسین (ع) نے فرمایا: عقل اتباع حق کے بغیر کامل نہیںہو سکتی، معاویہ نے کہا: آپ حضرات کے سینوںمیں صرف ایک چیز ہے ۔

242۔ امام کاظم (ع): جناب لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا: حق کے سامنے جھک جاؤ تاکہ لوگوں میں سب سے بڑے عقلمند قرار پاؤ۔


ل۔ حکماء کی ہمنشینی

243۔ امام علی (ع): حکماء کی ہمنشینی اختیار کرو تاکہ تماری عقل کامل ہو، نفس کو شرف ملے اور جہالت کا خاتمہ ہو جائے۔

244۔ امام علی (ع): حکماء کی ہمنشینی دلوںکی حیات اور روح کی شفاء ہے ۔

م۔ جاہلوں پر رحم

245۔ امام علی (ع): محکم ترین عقل کی نشانیوںمیں سے جاہلوں پر رحم کرنا ہے ۔

ن۔ خدا سے مدد چاہنا

246۔ امام زین العاب دین (ع):خدایا! مجھے کامل عقل ، عزم مصمم، ممتاز تدبیر، تربیت یافتہ دل، بے شمار علم اور بہترین ادب عنایت فرما، ان تمام چیزوںکو میرے لئے مفید قرار دے اے ارحم الراحمین تیر رحمت کا واسطہ انہیں میرے لئے ضرر رساں قرار نہ دے۔

247۔ ان مناجات میں مرقوم ہے جو جبریل امین رسول خدا کے پاس لائے تھے، بار الٰہا! میرے گناہوںکو توبہ کے ذریعہ مٹا دے میری توبہ کی قبولیت کے ذریعہ میرے عیوب کو دھو دے اور انہیں میرے دل کے زنگ کے لئے صیقل اور عقل کی تیز بینی کا سبب قرار دے۔

248۔ امام مہدیؑ: نے اس دعا میں فرمایا جو محمد بن علی علوی مصری کو تعلیم دی ہے ، خدایا! میں تیری بارگاہ میںسوال کرتا ہوں.... کہ محمد و آل محمد پر درود بھیج، میرے دل کی رہنمائی کر اور میری عقل کو میرے لئے سازگار بنا۔


4/2

مقویات دماغ

الف: تیل

249۔۔ امام علی (ع): تیل جلد کو ملائم اور دماغ کو پڑھاتاہے ۔

250۔ امام صادق(ع): بنفشہ کا تیل دماغ کو تقویت عطا کرتا ہے ۔

ب: کدو

251۔ رسول خدا(ص):نے علی (ع) کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اے علی (ع)! تم کدو ضرور کھایا کرو کیوں کہ یہ دماغ اور عقل کوبڑھاتاہے۔

252۔ انس: رسول خدا(ص) کدو زیادہ کھاتے تھے، میںنے کہا: اے رسول خدا! آپ کدو پسند کرتے ہیں! فرمایا: کدو دماغ کو بڑھاتا اور عقل کو قوی کرتا ہے ۔

253۔ رسول خدا(ص): کدو(کھانا) تمہارے لئے ضروری ہے اس لئے کہ عقل کو زیادہ اور دماغ کو بڑھاتا ہے ۔

254۔ رسول خدا(ص): میٹھا کدوکھایا کرو،خدا کے علم میں اس سے زیادہ سبک کوئی درخت ہوتا تو اسے برادرم یونس کے لئے اگاتا، تم میں سے جو بھی شوربا بنائے اسے چاہئے کہ اس میںکدو زیادہ ڈالے اس لئے کہ وہ دماغ اور عقل کو بڑھاتا ہے ۔


ج:بہی

255۔ امام رضا(ع): بہی (کھانا) تمہارے لئے ضروری ہے کہ اس سے عقل بڑھتی ہے۔

د:کرفس(خراسانی اجوائن)

256۔ رسول خدا(ص): کرفس (کھانا) تمہارے لئے ضروری ہے کیوں کہ اگر کوئی چیز عقل کو بڑھاتی ہے تو وہ یہی ہے ۔

ھ: گوشت

257۔ امام صادق ؑ: گوشت، گوشت بڑھاتا ہے اور عقل میں اضافہ کرتا ہے جو شخص چند دنوں گوشت نہیں کھاتا اس عقل خراب ہو جاتی ہے ۔

258۔ امام صادق(ع): جو شخص چالیس دن گوشت نہیںکھاتا بد اخلاق ہو جاتا ہے اور اسکی عقل خراب ہو جاتی ہے اور جو بد اخلا ق ہو جائے اس کے کان میں آوازسے اذان دی جائے۔


و: دودھ

259۔ رسول خدا(ص): تمہارے لئے دودھ پینا ضروری ہے کیوں کہ دودھ حرارت قلب کو اس طرح دور کرتا ہے کہ جس طرح انگلی پیشانی سے پسینہ کو صاف کرتی ہے ، اور کمر کو مضبوط، عقل کو زیادہ اور ذہن کو تیز کرتا ہے ، آنکھوںکو جلاء بخشتا ہے اور نسیان کو دور کرتا ہے ۔

260۔ رسول خدا(ص):اپنی حاملہ عورتوں کو دودھ پلاؤ کیوں کہ شکم مادر میں جب بچہ کی غذا ددھ ہوگی تو اس کا دل قوی اور دماغ اضافہ ہوگا۔

ز: سرکہ

261۔ امام صادق(ع): سرکہ عقل کو قوی بناتا ہے ۔

262۔ محمد بن علی ہمدانی : خراسان میں ایک شخص امام رضا(ع) کی خدمت میں تھا آپ ؑ کے سامنے دسترخوان بچھایا گیا کہ جس پر سرکہ اور نمک تھا، امام ؑ نے کھانے کا آغا ز سرکہ سے کیا، اس شخص نے کہا : میں آپ پر فدا ہو جاؤں! ہمیں آپ نے نمک سے آغاز کرنے کا حکم دیا ہے ؟ فرمایاؑ: یہ بھی ایسا ہی ہے ، سرکہ ذہن کو قوی بناتاہے اور عقل کو بڑھاتاہے ۔

ح: سداب( کالا دانہ)

263۔ امام رضا(ع): سداب عقل کو بڑھاتاہے ۔


ط: شہد

264۔ امام کاظمؑ: شہد ہرمرض کےلئے شفاء ہے جو ناشتہ میں ایک انگلی شہد کندر کےساتھ کھائے اسکا بلغم زائل ہو جائیگا، صفراء کو زائل کرتا ہے اور سودا میں تلخی نہیں پیدا ہونے دیتا،ذہن کو صاف و شفاف اور حافظہ کو قوی بناتا ہے ۔

ی: انار کو اس کے باریک چھلکوں کے ساتھ کھانا

265۔ امام صادق(ع): انار کو اس کے باریک جھلکوںکے ساتھ کھاؤ کہ معدہ کو صاف اور ذہن کو بڑھاتا ہے ۔

ک: پانی

266۔ ابو طیفور متطبِّب: کا بیان ہیکہ میں امام کاظم (ع) کی خدمت میں حاضر ہوا اورانہیں پانی پینے سے منع کیا، امام ؑ نے فرمایا: پانی سے کیا نقصان ہے بلکہ کھانے کو معدہ میں گھماتا ہے ، غصہ کو ختم کرتا ہے ، دماغ کو بڑھاتا ہے اورتلخی کو دور کرتاہے ۔

ل: حجامت(فصد کھلوانا)

267۔ رسول خدا(ص): حجامت (فصد کھلوانا)عقل کو بڑھاتی اور حافظہ کو قوی کرتی ہے ۔

268۔ رسول خدا(ص): ناشتہ کے وقت حجامت زیادہ مفید ہے کہ اس سے عقل بڑھتی ہے،حافظہ قوی اور حافظ کے حافظہ میں اضافہ ہوتاہے ۔


م: خرفہ

269۔ رسول خدا(ص): تمہارے لئے خرفہ کھانا ضروری ہے کیوں کہ اس سے زیر کی بڑھتی ہے بیشک اگر کوئی چیز عقل کو بڑھاتی ہے تو وہ یہی ہے ۔

ن: لیمو

270۔ رسول خدا(ص): لیمو کھاؤ اس لئے کہ یہ دل کو روشنی عطا کرتا اور دماغ کوقوی کرتاہے ۔

س: باقلا

271۔امام صادق(ع): باقلا کھانے سے پنڈلیاں گودے دار ہوتی ہیں اور دماغ بڑھتا ہے ۔


پانچویں فصل عقل کی نشانیاں

5/1

عقل و جہل کے سپاہی

272۔ سماعہ بن مہران: میںامام صادق(ع) کی خدمت میں حاضر تھا اور وہاںآپ کے کچھ چاہنے والے بھی موجود تھے عقل اور جہل کاتذکرہ آیا تو امام صادق(ع) نے فرمایا: عقل اور جہل اور ان دونوں کے سپاہیوںکو پہچا

نو تاکہ ہدایت پا جاؤ۔ سماعہ کہتا ہے کہ ؛ میںنے عرض کیا، میری جان آپ پر فدا ہو جائے! ہم کچھ نہیں جانتے سوائے یہ کہ جو آپ نے سکھایا ہے ، امام صادق(ع) نے فرمایا: عقل خدا کی پہلی روحانی مخلوق ہے جسے عرش کے دائیں طرف کے اپنے نور سے خلق کیا، پھر اس سے کہا : پیچھے ہٹو وہ پیچھے ہٹ گئی ، پھر کہا:آگے آؤ، آگے آگئی، اس کے بعد اﷲ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تجھے عظیم مخلوق بنا کر پیدا کیا ہے اور تجھے اپنی تمام مخلوقات پر عزت عطا کی ہے ۔

فرمایا: پھر خدا نے جہل کو شور اور تاریک سمندر سے پیدا کیا، اس کے بعد اس سے کہا: پیچھے ہٹ جا وہ ہٹ گیا، پھر کیا: آگے آ، لیکن آگے نہیں آیا، پھر خدا نے اس سے کہا: تونے خود کوبڑا سمجھ لیا ہے پھر خدا نے اس پر لعنت کی ۔

اس کے بعد عقل کے لئے پچھتر سپاہی قرار دئیے، خدا نے عقل کوجو عزت و احترام عطا کیا ہے جب جہل نے اسے دیکھا تو اس کے دل میں کینہ پیدا ہوا اور کہا: اے پروردگار یہ بھی مخلوق میری ہی طرح ہے، تونے اسے پیدا کرکے عزت بخشی ،قوی بنایااور میں اس کے بر خلاف ہوں مجھ میں کوئی طاقت نہیں ہے ، مجھے بھی عقل کی طرح سپاہی عطا کر، خدا نے قبول فرمایا اور کہا: اگر تونے اس کے بعد نافرمانی کی تو میں تجھے اور تیرے سپاہیوںکو اپنی رحمت سے خارج کر دونگا، جہل راضی ہوا، خدا نے اسے پچھتر(75) سپاہی عطا کئے ۔ وہ 75 سپاہی جو خدا نے عقل کو عطا کئےے ہیں(درج ذیل ہیں) :


خیر جو کہ عقل کا وزیر ہے اور اسکی ضد شر ہے جو کہ جہل کا وزیر ہے ، ایمان کہ جس کی ضد کفر ہے ، تصدیق کہ جس کی ضد انکار ہے ، امید کہ جس کی ضد ناامیدی ہے ، عدل کہ جس کی ضد ستم ہے ،خوشنودی کہ جس کی ضد ناراضگی ہے ، شکر کہ جس کی ضد ناشکری ہے ، طمع کہ جس کی ضد مایوسی ہے ، توکل کہ جس کی ضد حرص ہے ، مہربانی کہ جس کی ضد سنگدلی ہے ، رحمت کہ جس کی ضد غضب ہے ،علم کہ جس کی ضد جہل ہے ، فہم کہ جس کی ضد حماقت ہے ، عفت کہ جس کی ضد بدکرداری ہے ، زہد کہ جس کی ضد رغبت ہے ، نرمی کہ جس کی ضد سختی و تندی ہے ، خوف و ہراس کہ جس کی ضد جرئت مندی اور بیباکی ہے ، تواضع کہ جس کی ضد تکبر ہے، آہستگی کہ جس کی ضد جلد بازی ہے ،بردباری کہ جس کی ضد بیتابی ہے، خاموشی کہ جس کی ضد بکواس ہے ،تابع کہ جس کی ضد سرکشی ہے ، تسلیم کہ جس کی ضد شک ہے ، صبر کہ جس کی ضدگھبراہٹ ہے، چشم پوشی کہ جس کی ضد انتقام ہے ، غنی کہ جس کی ضد فقر ہے ، یاد دہانی کہ جس کی ضد بے خبری ہے ، یاد رکھنا کہ جس کی ضد فراموشی ہے ، عطوفت کہ جس کی ضد جدائی ہے ، قناعت کہ جس کی ضد حرص و لالچ ہے ، ہمدردی کہ جس کی ضد دریغ ہے، دوستی کہ جس کی ضد عداوت ہے، وفا کہ جس کی ضد بے وفائی ہے ، طاعت کہ جس کی ضد معصیت ہے ، خضوع کہ جس کی ضد غرور ہے ، سلامتی کہ جس کی ضد گرفتاری ہے ، محبت کہ جس کی ضد بغض و کینہ ہے ، صداقت کہ جس کی ضد جھوٹ ہے ، حق کہ جس کی ضد باطل ہے امانت کہ جس کی ضد خیانت ہے ، اخلاص کہ جس کی ضد ملاوٹ ہے ، دلیری کہ جس کی ضد بزدلی ہے ، فہم کہ جس کی ضد کند ذہنی ہے ، معرفت کہ جس کی ضد انکار ہے ، رازداری کہ جس کی ضد فاش کرنا ہے ، یک رنگی کہ جس کی ضد دوروئی ہے ، پردہ پوشی کہ جس کی ضد افشاء ہے ، نمازگذاری کہ جس کی ضد ضائع کرنا ہے ، روزہ رکھنا کہ جس کی ضد کھانا ہے ، جہاد کہ جس کی ضد جنگ سے فرار ہے ، حج کہ جس کی ضد پیمان شکنی ہے ، بات کو ہضم کرنا کہ جس کی ضد چغلخوری ہے ۔


والدین کے ساتھ نیکی کہ جس کی ضد اذیت رسانی ہے، حقیقت کہ جس کی ضد ریاکاری ہے ، نیکی کہ جس کی ضد برائی ہے، پوشیدگی کہ جس کی ضد خودنمائی ہے ، تقیہ کہ جس کی ضد لاپروائی ہے، انصاف کہ جس کی ضد جانبداری ہے ، پائداری کہ جس کی ضد تجاوز ہے ، پاکیزگی کہ جس کی ضد آلودگی ہے ، حیاء کہ جس کی ضد بے حیائی ہے ، میانہ روی کہ جس کی ضد حد سے بڑھ جانا ہے ۔، آسودگی و راحت کہ جس کی ضد تھکن ہے ، آسانی کہ جس کی ضد سختی ہے ، برکت کہ جس کی ضد بے برکتی ہے ، عافیت کہ جس کی ضد بلاء ہے اعتدال کہ جس کی ضد افراط ہے ، حکمت کہ جس کی ضد ہوی و ہوس ہے، وقار کہ جس کی ضد خفت ہے ، سعادت کہ جس کی ضد بد بختی ہے۔

توبہ کہ جس کی ضد اصرار گناہ ہے ، استغفار کہ جس کی ضد بیہودگی ہے، محافظت کہ جس کی ضد حقیر و پست سمجھنا ہے، دعا کہ جس کی ضد دعا سے باز رہنا ہے ، نشاط و فرحت کہ جس کی ضد کاہلی ہے ، خوشی کہ جس کی ضد حزن ہے ، الفت کہ جس کی ضد فراق ہے سخاوت کہ جس کی ضد بخل ہے ۔

عقل کے یہ تمام سپاہی صرف بنی یا وصی نبی اور ا س مومن میں جمع ہو تے ہیں جس کے دل کا امتحان اللہ نے ایمان کے ذریعہ لیا ہے، لیکن ہمارے دیگر محبین عقل کے سپاہیوں میں سے بعض کے حامل ہو جائیں کہ جن کے سبب درجہ کمال تک پہنچ جائیں اور جہالت کے سپاہیوں سے پاک ہو جائیں تو اس صورت میں انبیاء و اوصیاء کے ساتھ بلند درجہ میں ہوں گے، اس مقام تک رسائی عقل اور اس کے سپاہیوں کی معرفت اور جہل اور اس کے سپاہیوں سے علٰحدگی کے سبب ہو سکتی ہے۔ خدا وند ہمیں اور آپکو اپنی اطاعت و خوشنودی کی توفیق عطا فرمائے۔


5/2

عقل کے آثار

الف۔ علم و حکمت

قرآن

(وہ جس کو بھی چاہتا ہے حکمت عطا کر دیتا ہے اور جسے حکمت عطا کر دی جائے اسے گویا خیر کثیر عطا کر دیا گیا اور اس بات کو صاحبان عقل کے سوا کوئی نہیں سمجھتا ہے )

(اس واقعہ میں نصیحت کا سامان موجود ہے اس انسان کے لئے جس کے پاس دل ہو یا جو حضور قلب کے ساتھ بات سنتا ہو)

ملاحظہ کریں:آل عمران: 7،رعد:19، ابراہیم 52، سورہ ص:29اور 43 زمر: 9 اور 21، غافر:54۔

حدیث

273۔ سلیمان بن خالد: میں نے امام صادق(ع) سے اس قول خدا( جسے حکمت عطا کی گئی گویا اسے خیر کثیر عطا کیا گیا) کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ حکمت سے معرفت اور دین میں تفقہ مراد ہے ، لہذاتم میں سے جو شخص فقیہ ہو گیا وہ حکیم ہو گیا۔

274۔ امام کاظم (ع): نے ہشام بن حکم کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا۔ اے ہشام اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے (اس واقعہ میں نصیحت کا سامان موجود ہے اس انسان کے لئے جس کے پاس دل ہو) قلب سے عقل مراد ہے ، نیز فرماتا ہے (یقینا ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی ) امام نے فرمایا : فہم و عقل مراد ہے....


اے ہشام! خدا نے اپنے انبیاء ومرسلین کوا پنے بندوں کی طرف نہیں بھیجا ہے مگر یہ کہ وہ خدا کے بارے میں غور و خوض کریں۔ اور انبیاء کی دعوت کو سب سے اچھی طرح اس شخص نے قبول کیا ہے جو سب سے بہتر معرفت رکھتا ہے اورامر خدا کے بارے میں سب سے زیادہ علم رکھنے والا وہ شخص ہے جس کی عقل سب سے بہتر ہے اور ان میں جس کی عقل زیادہ کامل ہے دنیا و آخرت میں اس کا درجہ زیادہ بلند ہے...اے ہشام ! تمہارا عمل اللہ کے نزدیک کیوں کر پاک ہو سکتا ہے جبکہ تمہارا دل امر پروردگار سے منحرف ہے اور اپنی خواہشات کی پیروی کرکے انہیں اپنی عقل پر غالب کر لیا ہے ؟!....اے ہشام ! حق کی بنیاد طاعت خدا پر ہے ، اور بغیر طاعت کے نجات نہیں مل سکتی ، طاعت علم سے حاصل ہوتی ہے اور علم سیکھنے سے حاصل ہوتا ہے اور سیکھنے کا تعلق عقل سے ہے ، البتہ علم ، خدا رسیدہ عالم کے بغیر حاصل نہیںہو سکتا اور علم کی معرفت کا دارومدار عقل پر ہے ....بیشک وہ شخص خدا کا خوف نہیں رکھتا جو خدا کے بارے میں آگاہی نہیں رکھتا ، اور جو خدا کے بارے میں آگاہی نہیں رکھتا اس کا دل مستحکم معرفت کا گروی نہیں ہو سکتا کہ جس کے ذریعہ وہ اپنے دل میں حقیقت معرفت کو درک اور محسوس کر سکے، اور ایسی معرفت کا حامل وہی ہو سکتا ہے کہ جس کا قول اس کے کردار کی تصدیق کرتا ہے اور اسکاباطن اس کے ظاہر سے ہم آہنگ ہوتاہے، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے عقل کے ظاہر کو اس کے باطن کی علامت اور اس کا غماز قرار دیا ہے۔

275۔ امام کا ظم ؑ: اے ہشام! بیشک عقل علم کے ساتھ ہے ، چنانچہ ارشا د ہے :'' اور مثالیں ہم تمام عالم انسانیت کے لئے بیان کر رہے ہیں لیکن انہیں صاحب علم کے علاوہ کوئی نہیں سمجھ سکتا ہے''

276۔ امام علی (ع): عقل اور علم دونوں ایک دوسرے سے اس طرح ملے ہوئے ہیں کہ نہ کبھی جدا ہوں گے اور نہ ہی آپس میں ٹکرائیں گے ۔


277۔ رسول خدا(ص): عقل جہالت سے باز رکھتی ہے اور نفس نہایت سر کش چوپایہ کی طرح ہے کہ اگر بے مہار چھوڑ دیا جائے تو سر گرداںرہتا ہے ، پس جہالت کی مہار عقل ہے ۔

278۔ امام علی (ع): جس نے غورکیا وہ سمجھ گیا۔

279۔ امام علی (ع): عقل علم کا ستون اور فہم کی طرف دعوت دینے والی ہے ۔

280۔ امام علی (ع): عقلوں کے ذریعہ علوم کی بلندیوںتک رسائی ہوتی ہے ۔

281۔ امام علی (ع): علم کا مرکب عقل اور حلم کا مرکب علم ہے ۔

282۔ امام علی (ع): علم، عقل کا عنوان ہے ۔

283۔ امام علی (ع): علم ، عقل پر دلالت کرتا ہے لہذا جس نے جان لیا عقلمند ہے ۔

284۔ امام علی (ع): عقل کے ذریعہ حقیقت حکمت حاصل ہوتی ہے اور حکمت کے ذریعہ حقیقت عقل ۔

285۔ امام علی (ع): حکمت عقلمندوں کا باغ اور فضلاء کی تفریحگاہ ہے ۔

286۔ امام علی (ع): جس شخص کی عقل اس کے قابو میں ہے وہ حکیم ہے۔

287۔ امام صادق ؑ: انسان کا پشت پناہ عقل ہے اور زیرکی، فہم، حفظ اور علم کا سرچشمہ عقل ہے ، عقل کے ذریعہ انسان کمال تک پہنچتا ہے ، عقل انسان کا رہنما ہے ، اسے بصیرت و بینائی عطا کرنے والی اور اس کے کاموں کی کنجی ہے ، اگر انسان کی عقل کی تائیدنور سے ہو تو وہ عالم ، حافظ،ذاکر، زیرک اور صاحب فہم ہے اس کے ذریعہ ''کس طرح ، کیوں اور کہاں'' کے جواب سے بھی واقف ہو جائیگا، نیز اپنے خیر خواہ اور دھوکا دینے والے کو پہچان لیگا۔ اگر وہ انہیں جان لیگا تو ان کے موقع و محل سے بھی واقف ہو جائیگا اور خدا کی وحدانیت کو خالص کر لیگااور اسکی طاعت کا اقرار کریگا، اگر ایسا ہو جائے تو چھوٹ جانے والی چیزوں کو پالیگااور آئندہ کے لئے محتاط رہیگا، اور وہ اپنے متعلق سمجھ لیگا کہ اس دنیا میں اسکی زندگی گذارنے کا مقصد کیا ہے اور کہاں سے آیا ہے اور کہاں پلٹ کر جائیگا، یہ تمام عقل کی تائید و حمایت سے ہےں۔

288۔ امام صادق ؑ: نے عقل و جہل کے سپاہیوں کی توصیف کرتے ہوئے فرمایا: حکمت اور اسکی ضد خواہشات نفسانی ہے۔


ب۔ معرفت خدا

289۔رسول خدا(ص): اللہ تعالیٰ نے عقل کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے ،جس شخص میں یہ حصے ہیںاسکی عقل کامل ہے اور جس میں یہ نہیں ہیںوہ عقل سے بے بہرہ ہے : خدا کی بہترین معرفت،اسکی بہترین طاعت اور امرپروردگارپر اچھی طرح صابررہنا۔

290۔ تحف العقول۔ اہل نجران سے ایک نصرانی مدینہ آیا، وہ سخنور، با وقار اور با ھیبت تھا، پوچھا گیا: کہ اے رسول خدا ؐ! کس چیز نے اس نصرانی کو عقلمند بنایا ہے ؟!رسول خدا ؐنے قائل کو ڈانٹا اور فرمایا: خاموش ہو جاؤ! عقلمند وہ شخص ہے جو خدا کی وحدانیت کا قائل اور اس کا مطیع ہو۔

291۔امام علی -: مخلوقات کے ذریعہ خدا پر استدلال کیا جاتا ہے ، اور عقل کے وسیلہ سے خدا کی معرفت مستحکم ہوتی ہے اور فکر کے ذریعہ اسکی حجتیں ثابت ہوتی ہیں۔

292۔ امام علی -: ساری تعریف اللہ کے لئے ہے...وہ خدا جو پوشیدہ امور سے نہاں ہے اور عقلوں میں آشکار ان چیزوں کے سبب ہے جنہیں اپنی مخلوق میں تدبیر کی نشانیاں قرار دیاہے وہ خدا کہ جس کے بارے میں جب انبیاء سے پوچھا گیا تو وہ اسکی توصیف نہ حد کے ذریعہ کر سکے اور نہ ہی جزء کے ذریعہ ، بلکہ اسکی توصیف اس کے افعال کے ذریعہ کی ، اور اسکی طرف اسکی آیات کے ذریعہ راہنمائی کی ۔ غور و خوض کرنے والوں کی عقلیں خدا کا انکار نہیں کر سکتی ہیں۔ کیوں کہ جو آسمان و زمین کا خالق اور ان کے درمیان تمام چیزوںکا صانع ہے ، اسکی قدرت کا انکار ممکن نہیں ہے ۔


293۔ امام صادق -: ہر کام کا آغاز اور اسکی ابتدا اور استحکام و آباد کاری ، کہ جس سے ہر منفعت کا تعلق ہے ، عقل ہے ؛ کہ جس کو اللہ نے اپنی مخلوق کے لئے زینت اورنور قرار دیا ہے ، عقل کے ذریعہ بندوں نے اپنے خالق کو پہچانا اور خود کو مخلوق جانا، اور اس کو اپنا مدبر اور خود کو اسکی تدبیر کے ما تحت سمجھا اور اس کے باقی اور خود کے فانی ہونے کا علم ہوا جو کچھ اسکی مخلوق (آسمان و زمین ، سورج و چاند اور شب و روز) میں دیکھتے ہیںاپنی عقلوں کے ذریعہ اس پر دلیل قائم کرتے ہیں کہ ان چیزوںکااور خودہماراایک خالق وکار ساز ہے جو ہمیشہ سے تھا اور ہمیشہ رہیگا، اور عقل کے وسیلہ سے حسن کو قبیح سے جدا کرتے ہیں اور اس سے بھی واقف ہوتے ہیں کہ جہالت میںتاریکی ہے اور علم میںنور ہے یہ ہیں وہ چیزیں جن کی طرف عقل رہنمائی کرتی ہے ۔

پوچھا گیا: کیا بندے صرف عقل پر اکتفا کریں؟! فرمایا: عقلمند اپنی عقل کے ذریعہ (جسے اللہ نے اس کے لئے ستون ، زینت اور ہدایت قرار دیا ہے) جانتا ہے کہ خداہی حق ہے ، وہ اس کا پروردگار ہے ، اوریہ بھی جان لیتاہے کہ اس کے خالق کی کچھ پسند اور کچھ نا پسند ہے کچھ طاعت اور کچھ معصیت ہے ، فقط عقل ہی کے ذریعہ ان چیزوں کو نہیں حاصل کر سکتا، وہ جانتا ہے کہ ان چیزوں تک رسائی علم اور تحصیل علم کے بغیر ممکن نہیں ہے ، وہ اپنی عقل سے بہرہ مند نہ ہوتا اگر وہ اپنے علم کے ذریعہ ان چیزوں تک نہ پہنچتا، پس عاقل پر اس علم و ادب کا سیکھنا واجب ہے کہ جس کے بغیر اسکی کوئی حیثیت نہ ہو۔

294۔ امام کاظم (ع): نے ہشام سے اپنی وصیت میں فرمایا: اے ہشام: بدن کا نور آنکھوں میں ہے ۔ اگرآنکھیںروشن ہیں تو بدن بھی نورانی ہوگا۔ اور روح کی روشنی عقل ہے لہذا اگر بندہ عقلمند ہو تو اپنے پروردگار سے آگاہ ہوگا اور جو اپنے پروردگار سے آگاہ ہوگا وہ اپنے دین میں صاحب بصیرت ہوگا۔ اور اگر بندہ اپنے پروردگار سے نا آشنا ہو تو اس کا دین پائیدار نہیں ہوگا۔ اور جس طرح زندہ روح کے بغیر جسم قائم نہیں رہ سکتا اسی طرح سچی نیت کے بغیر دین بھی قائم نہیں رہ سکتا اور عقل کے بغیر سچی نیت ثابت نہیںرہ سکتی۔

295۔ امام رضا(ع): عقل کے ذریعہ خدا کی تصدیق کی جاتی ہے ۔


ج۔دین

296۔ رسول خدا(ص): جس کے پاس عقل نہیں اس کے پاس دین نہیں ہے ۔

297۔ امام علی (ع): جبریل ؑ حضرت آدم ؑ پر نازل ہوئے اور فرمایا: اے آدم! مجھے حکم دیا گیاکہ تمہیں تین چیزوں میں سے ایک کا اختیار دوں لہذا ، ایک لے لو اور دو چھوڑ دو، حضرت آدم نے کہا: اے جبریل ! وہ تین (چیزیں) کیا ہیں؟! کہا: عقل ، حیا اور دین ، پس حضرت آدم نے کہا: میں نے عقل کوانتخاب کیا، اس وقت جبریل نے حیا اور دین کی طرف رخ کرکے کہا: تم دونوں جاؤ اور عقل کا ساتھ چھوڑ دو، تو ان دونوں نے کہا: اے جبریل! ہم مامور ہیں کہ ہمیشہ عقل کے ساتھ رہیں ، جبریل نے کہا: تم خود جانو اور اوپر پرواز کر گئے۔

298۔ امام علی (ع): مومن ایمان نہیں لاتا یہاں تک کہ عقلمند ہو جائے۔

299۔ امام علی (ع): دین اور ادب عقل کا نتیجہ ہیں۔

300۔ امام صادق(ع): جو شخص عقلمند ہے وہی دیندار ہے اور جو دیندار ہے وہ داخل بہشت ہوگا۔

301۔ ارشاد القلوب: توریت موسیؑ میں ہے ، کوئی عقل دینداری کے مانند نہیں۔

د۔ کمال دین

302۔ رسول خدا(ص): انسان کا دین ہر گز کامل نہیں ہو سکتا جب تک کہ اسکی عقل کامل نہ ہو۔

303۔ رسول خدا(ص): کسی شخص کا اسلام تمہیں خوش نہ کرے جب تک کہ تم اسکی عقلمندی نہ دیکھ لو۔

304۔ رسول خدا(ص): کسی شخص کا اسلام تمہیں فریفتہ نہ کرے مگر یہ کہ تم اسکی عقل کی گہرائی کو جان لو۔


305۔ امام علی (ع): جس میں یہ تین خصلتیں ، عقل ، حلم اور علم ، ہوں اس کا ایمان کامل ہے ۔

306۔ امام علی (ع): دین، عقل کے مطابق ہوتا ہے اور قوت یقین ، دین کے مطابق ہے ۔

307۔ امام کاظم (ع): جس طرح جسم، زندہ روح کے بغیر قائم نہیں رہتا اسی طرح دین بھی سچی نیت کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا اور سچی نیت کا دار و مدار عقل پر ہے ۔

ھ۔ مکارم اخلاق

308۔ رسول خدا(ص): نے اس شخص کے جواب میں''کہ جس نے پوچھا عقل کیاہے؟ اور اسکی کیفیت کیا ہے؟ عقل سے کون سی چیزیں پیدا ہوتی ہیں اورکون سی چیزیں پیدا نہیںہوتیں اور اقسام عقل کیا ہیں؟'' فرمایا: عقل، جہالت کی نکیل ہے، روح شریر ترین چوپائے کے مانند ہے کہ اگر اسے مہار نہ کیا جائے تو سر گرداںرہتا ہے، پس عقل ، جہالت کی مہار ہے ، اللہ نے عقل کو خلق کیا اور اس سے کہا: آگے آؤ وہ آگے آگئی، پھر کہا: پیچھے ہٹو ، پیچھے ہٹ گئی ، تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: میری عزت و جلال کی قسم ، میں نے تجھ سے زیادہ عظیم اور اطاعت گذار مخلوق نہیں پیدا کی، میں تیرے ہی سبب آغاز کرتا ہوں اور تیرے ہی ذریعہ پلٹاؤنگا، تیرے ہی سبب جزا و سزادوںگا ، پس حلم کا سر چشمہ عقل، علم کامنبع حلم، رشد کا مرکزعلم، پاکدامنی کا سرچشمہ رشد، تحفظ کا منبع پاکدامنی ، حیا کا سرچشمہ تحفظ، متانت کا مرکزحیا، نیکیوں پر دوام کامنبع متانت، برائیوں سے پرہیز کا سرچشمہ نیکیوں پر دوام اور ناصح کی اطاعت کا سرچشمہ برائیوں سے پرہیز ہے ۔

309۔رسول خدا(ص): لوگوں کے ساتھ مہربانی نصف عقل ہے ۔

310۔ رسول خدا(ص): حسن ادب ، عقل کے صحیح ہونے کی دلیل ہے ۔

311۔ امام علی (ع): بیوقوفوں کی ہمنشینی سے اخلاق تباہ ہو جاتے ہیں اور عاقلوںکی ہمنشینی سے اخلاق سنور جاتے ہیں۔

312۔ امام علی (ع): انسان میں ادب ایسا درخت ہے جس کی جڑ عقل ہے ۔

313۔ امام علی (ع): ادب، عقل کی دلیل اور علم، دل کی دلیل ہے ۔

314۔ امام علی (ع): بہترین عقل، ادب ہے ۔


315۔ امام علی (ع): عقلمندی کی حد عاقبت اندیشی اور قضائے الہی پر راضی رہناہے ۔

316۔ امام علی (ع): دور اندیش انسان اپنی عقل کی بنا پر ہر پستی سے باز رہتا ہے ۔

317۔ امام علی (ع): اچھی فکر والا ذلیل نہیں ہوگا۔

318۔ امام علی (ع): نفس کے کمال کا انحصار عقل پر ہے۔

319۔ امام علی (ع): پسندیدہ اخلاق، عقل کا ثمرہ ہے ۔

320۔ امام علی (ع): عقل کے مانند کوئی چیز فضیلتوں کو نہیں سنوارتی۔

321۔ امام علی (ع): خوف خدا رکھنے والاعقلمند ہے ۔

322۔ امام علی (ع): عقل درخت کے مانند ہے کہ جس کا میوہ سخاوت اور حیا ہے....

323۔ امام علی (ع): عقل ایسا درخت ہے کہ جس کی جڑ تقویٰ ِ شاخیں حیا اور پھل ورع ہے تقویٰ تین خصلتوں ، فہم دین ، دنیا سے بے رغبتی اور خدا سے لو لگانے کی دعوت دیتا ہے ، اور حیا، تین خصلتوں ، یقین ، حسن خلق اور تواضع کی دعوت دیتی ہے اور ورع، تین خصلتوں ، صداقت ، نیکیوںکی طرف بڑھنے اور ترک شبہات کی دعوت دیتا ہے۔

324۔ امام علی (ع): عقل کا نتیجہ عبرت و پشتپناہی اور جہل کانتیجہ غفلت و خود پسندی ہے۔

325۔ امام علی (ع): انسان کی عقل کی شناخت اسکی پاکدامنی اور قناعت کی آراستگی سے ہوتی ہے ۔

326۔ امام علی (ع): تمہارے لئے سخاوت ضروری ہے؛ اس لئے کہ یہ عقل کا ثمر ہے ۔

327۔امام علی (ع): عقلمند کے لئے یہی کافی ہے کہ اپنے خواہشات کو کم رکھے۔

328۔ امام علی (ع): عقلمندی کی علامت حسن سلوک ہے ۔

329۔ امام علی (ع): عقلمندی کی علامت لوگوں سے نیک برتاؤ ہے۔

330۔ امام علی (ع): کوئی عقلمندی تجاہل کے مثل نہیں۔


331۔ امام علی (ع): عقلمندی ہر جگہ انس و الفت کے ساتھ ہوتی ہے ۔

332۔ امام علی (ع): بردباری عقلمندی کی دلیل اور فضیلت کی علامت ہے ۔

333۔ امام علی (ع): عقلمند پہچانا نہیں جاتا مگر یہ کہ بردباری ، تقاضوں کی کمی اور نیکیوں کے ذریعہ۔

334۔ امام علی (ع): ہر چیز کی زکات ہوتی ہے اور عقلمندی کی زکات جاہلوں کو برداشت کرنا ہے ۔

335۔ امام علی (ع): انسان کی جوانمردی اسکی عقل کے مطابق ہوتی ہے ۔

336۔ امام علی (ع):علم کے ذریعہ نفس کا جہادعقل کی نشانی ہے ۔

337۔ امام علی (ع): عقلمندی، گناہوں سے دوری ،عاقبت اندیشی اور احتیاط ہے ۔

338۔ امام علی (ع): عقل، ہوشیاری کا سبب ہے ۔

339۔ امام علی (ع):...مومن کی عقلمندی کی نشانی خود کے ساتھ انصاف ، اپنی مخالفت کے وقت غیظ و غضب کا ترک کرنا اور جب حق اس کے لئے روشن ہو جائے تو اس کا قبول کرنا ہے ۔

340۔ امام علی (ع): بردباری ایسا نور ہے کہ جس کی اساس عقلمندی ہے ۔

341۔ امام علی (ع): عقلمندی سے بردباری میں اضافہ ہوتا ہے ۔

342۔ امام علی (ع): عقل کی فراوانی سے بردباری میں اضافہ ہوتا ہے۔

343۔ امام علی (ع): عقلمندی یہ ہے کہ میانہ روی اختیار کرو اور اسراف نہ کرو ،وعدہ کرو تو اسکی خلاف ورزی نہ کرو اور جب غصہ آجائے تو بردباری کا مظاہرہ کرو۔

344۔ امام علی (ع): سکون عقلمندی کی نشانی ہے۔

345۔ امام علی (ع):عقلمندی کا نتیجہ حق کاپابند ہونا ہے ۔


346۔ امام علی (ع): عقلمندی کا نتیجہ صداقت ہے ۔

347۔ امام علی (ع): عقلمندی کا نتیجہ دنیا سے بیزاری اور خواہشات کی پامالی ہے ۔

348۔ امام علی (ع): عقلمندی کا نتیجہ پائداری ہے۔

349۔ امام علی (ع): جو عقلمند ہوگا فیاض ہوجائےگا۔

350۔ امام علی (ع): عقلمندی کی جڑ پاکدامنی ہے اور اس کا نتیجہ گناہوں سے بچناہے ۔

351۔ امام علی (ع):جو عقلمند ہوگا سمجھے گااور جو عقلمند ہوگا پاکدامن ہو جائیگا۔

352۔ امام علی (ع): آپ سے منسوب کلمات قصار میں ہے ۔ کسی کی گفتگو سے خوش نہ ہو جب تک کہ اس کے کردار سے راضی نہ ہو جاؤ، اور اس کے کردار کو اس وقت تک پسند نہ کروجب تک کہ اسکی عقلمندی سے راضی نہ ہو جاؤ اور اسکی عقلمندی سے اس وقت تک راضی نہ ہو جب تک کہ اسکی حیا سے راضی نہ ہو جاؤ، کیوں کہ انسان بزرگی و پستی سے مرکب ہے لہذا جب اسکی حیا قوی ہوگی تو اسکی عظمت بھی مستحکم ہو جائیگی اور اگر حیا کم ہوگی تو اسکی پستی مستحکم ہو جائیگی۔

353۔ امام علی (ع): آپ سے منسوب کلمات قصار میں ہے ، عقل اور مکارم اخلاق کا معیار، آبرو مندی ، واجبات کی جزا، انجام مستحبات، عہد و پیمان کی پابندی اور وعدوں کی وفا ہے ۔

354۔ اما م حسن (ع): جس شخص کے پاس عقل نہیں اس کے پاس ادب نہیں۔


355۔ امام حسن (ع): جب آپ ؑ سے عقل کے متعلق پوچھا گیا، تو فرمایا غم و غصہ کو گھونٹ گھونٹ کر کے پینا ہے ، یہاں تک کہ موقع ہاتھ آجا ئے۔

356۔ اما م حسین (ع): جب آپؑ سے عقل کے بارے میں پوچھا گیا، تو فرمایا: غم و غصہ کو گھونٹ گھونٹ کر کے پی جانا اور دشمنوں کے ساتھ مہربانی کرنا ہے ۔

357۔ امام صادق(ع): لوگوں کے ساتھ نیک برتاؤسے پیش آنا ایک تہائی عقلمند ی ہے ۔

358۔ امام صادق(ع): عقلمند ، عقلمند نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس میں یہ تین چیزیں کامل نہ ہوجائیں: خوشی و ناراضگی دونوں حالتوں میں حق اداکرنا، جو چیز اپنے لئے پسند کرتا ہے وہی لوگوں کے لئے بھی پسند کرنا اور دوسروں کی لغزش کے وقت بردباری کا مظاہرہ کرنا۔

359۔ امام صادق(ع): بندوں کے درمیان پانچ سے کم خصلتیں تقسیم نہیںہوئی ہیں:یقین، قناعت، صبر، شکر اور عقل جو ان تمام کو کامل کرنے والی ہے ۔

و۔ نیک اعمال

قرآن

(کیا وہ شخص جو یہ جانتا ہے کہ جو کچھ آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا سب بر حق ہے وہ اس کے جیسا ہو سکتا ہے جو بالکل اندھا ہے( ہرگز نہیں) اس بات کو صرف صاحبان عقل ہی سمجھ سکتے ہیں)

( جو عہد خدا کو پورا کرتے ہیں اور عہد شکنی نہیں کرتے ہیں)

( اور جو ان تعلقات کو قائم رکھتے ہیں جنہیں خدا نے قائم رکھنے کا حکم دیا اور اپنے پروردگار سے ڈرتے رہتے ہیں اور بدترین حساب سے خوفزدہ رہتے ہیں)


حدیث

360۔ رسول خدا(ص): طاعت پروردگار کے سلسلہ میں فرشتوں نے عقل کے ذریعہ جد و جہد اور کوشش کی ، اور مؤمنین نے اپنی عقل کے مطابق طاعت خدا میںسعی و کوشش کی ، پس وہ لوگ جو بیشتر عقل کے مالک ہیں وہ بیشتر خدا کی پیروی کرتے ہیں۔

361۔ رسول خدا(ص): جب آپ سے عقل کے متعلق سوال کیا گیا، تو فرمایا: حکم خدا کی تعمیل کرنا ہے ، اور بیشک حکم خدا کی تعمیل کرنے والے عقلاء ہی ہیں۔

362۔ جابر بن عبد اللہ : نبی نے اس آیت (اور مثالیں ہم عالم انسانیت کے لئے بیان کر رہے ہیں لیکن انہیں صاحب علم کے علاوہ کوئی نہیں سمجھ سکتاہے)کی تلاوت کی اور فرمایا: عالم و ہ شخص ہے جو خدا کے بارے میں آگاہی رکھتا ہے اور اسکی پیروی کرتا اور اس کے غضب سے پرہیز کرتا ہے ۔

363۔ سوید بن غفلہ: کا بیان ہے ایک روز ابو بکر نکلے ، رسول خدا نے ان کا خیر مقدم کیاتو ابو بکر نے پوچھا، اے رسول خدا! آپ کس چیز کی بدولت مبعوث ہوئے؟ فرمایا: عقل کے سبب ، ابو بکر نے عرض کیا: عقل تک ہماری رسائی کیسے ہو سکتی ہے؟ رسول خدا نے فرمایا: عقل کی کوئی حد نہیں جو حلال خدا کو حلال اور حرام خدا کو حرام سمجھے اسے عقلمند کہا جاتا ہے ۔ لہذا جو اس کے علاوہ سعی و کوشش کر یگا وہ عابد کہا جائیگا اور اگر اس سے زیادہ کوشش کریگا تو سخی کہا جائیگا اور جو عبادت میں جد و جہد اور نیکیوں کی مشکلات کو برداشت کرتا ہے لیکن ایسی عقل کا حامل نہیں ہے جو اسے حکم خدا کی پیروی اور اسکی نواہی سے پرہیز کی طرف ہدایت کرے، یہی لوگ اپنے کام کے اعتبار سے خسارہ میں ہیں اور ان کی سعی و کوشش زندگانی دنیا میں تباہ و برباد ہوگئی در حالانکہ وہ اپنے گمان کے مطابق نیک کام انجام دے رہے ہیں۔


364۔ امام علی (ع): عقلیں افکار کی پیشوا اور افکار دلوںکے پیشوا ہیں ، قلوب حواس کے پیشوا اور حواس اعضا کے پیشوا ہیں۔

365۔ امام علی (ع): اطاعت ، عقل کے مطابق ہوتی ہے ۔

366۔ امام علی (ع): جس کی عقل کامل ہوتی ہے اسکاکام نیک ہو تا ہے ۔

367۔ امام علی (ع): جو شخص اپنی عقل کو خواہشات پر مقدم رکھتا ہے اسکی سعی مشکور ہوتی ہے ۔

368۔ امام علی (ع): عقلمندی کی نشانیوں میں سے عادلانہ رویہ اختیار کرنا ہے ۔

369۔ امام علی (ع): عنصر عقل( انسان ) کو عدالت سے کام لینے پر ابھارتا ہے ۔

370۔ امام علی (ع): عقلمندی یہ ہیکہ جو جانتے ہو وہی کہو اور جو کہتے ہو اس پر عمل کرو۔

371۔ امام علی (ع):جو شخص اپنی زبان کوصحیح رکھتا ہے اسکی عقل سنورجاتی ہے ۔

372۔ امام علی (ع): معذرت، عقلمندی کی نشانی ہے ۔

373۔ امام علی (ع): عقلمندی کا نتیجہ نیکو کاروںکی ہمنشینی ہے ۔

374۔ امام صادق(ع): عقلمندی کی بہترین سرشت، عبادت ہے ، اس کے لئے محکم ترین سخن علم ہے ؛ اسکی عظیم ترین بہرہ مندی حکمت اور اس کا عظیم ترین ذخیرہ نیکیاںہیں۔


ز۔ ہر شی کو اسکی جگہ پر رکھنا

375۔ امام علی (ع): عاقل وہ ہے جو ہر شی کو اسکی جگہ پر رکھتا ہے اور جاہل اس کے بر خلاف ہوتا ہے ۔

376۔امام علی (ع):آپ سے گذارش کی گئی کہ عاقل کی توصیف فرمائیں ۔ تو فرمایاکہ عاقل وہ ہے جو ہر شی کو اسکی جگہ پر رکھتا ہے! عرض کیاگیا، پھر جاہل کی تعریف کیا ہے ۔ فرمایایہ تو میں بیان کر چکا ۔

377۔ امام علی (ع): عقلمند وہ ہے جو اپنے کام کو بحسن وخوبی انجام دیتا ہے اورموقع و محل کے اعتبار سے کوشش کرتا ہے۔

378۔ امام علی (ع): عاقل کے لئے مناسب نہیںکہ حدود سے تجاوز کرے ، بلکہ ہر چیز کو اسکی جگہ پر قرار دے۔

فائدہ

جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں آثار عقل میں سے ہر چیز کو اسکی جگہ پر قرار دیناہے اور دوسری جانب ، یہی معنیٰ عدل کی تعریف میں گذر چکے ہےں ۔ لہذا ان دونوں احادیث کے موازنہ سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آثار عقل میں سے عدل کی رعایت بھی ہے اور عاقل ، عدل کے مطابق عمل کرتا ہے۔ اور اس نتیجہ کی بعض احادیث میں وضاحت کی گئی ہے ۔

ح۔ بہتر کا انتخاب

379۔ امام علی (ع): عقل تمہیں زیادہ نفع بخش کا حکم دیتی ہے اور جوانمردی زیادہ حسن و جمال کا۔

380۔ امام علی (ع): جو شخص خیر کو شر سے جدا نہیں کر سکتاوہ چوپایوں کے مثل ہے ۔

381۔ امام علی (ع): عاقل وہ نہیں ہے کہ جو خوبی کو بدی سے پہچانے، بلکہ عاقل وہ ہے جو دوبرائیوں کے درمیان زیادہ مناسب کی تشخیص کرے۔


ط۔ عمر کو غنیمت سمجھنا

382۔ امام علی (ع): عقلمند وہ ہے جو غیر مفید کاموں میں خود کو ضائع نہیں کرتا اور وہ چیز جو اس کے ساتھ ہمیشہ رہنے والی نہیں ہے اسے ذخیرہ نہیں کرتا۔

383۔ امام علی (ع): اگر عقل سالم ہو تو ہر انسان اپنی فرصت کو غنیمت سمجھتا ہے ۔

ی۔ صحیح بات

384۔ امام علی (ع): عقل کی نشانیوں میں سے صحیح بات کہنا ہے ۔

385۔ امام علی (ع): اچھی گفتگو فراوانی عقل کی نشانی ہے ۔

386۔ امام علی (ع): انسان کی عقل کا اندازہ اسکی اچھی گفتگو سے اور اس کے نسب کی پاکیزگی کا اندازہ اس کے بہترین افعال سے ہوتا ہے ۔

387۔ امام صادق(ع): انسان تین طرح کے ہوتے ہیں ، عاقل ، احمق اور فاجر، عاقل وہ ہے جب اس سے کلام کیا جاتا ہے تو وہ جواب دیتا ہے ، جب وہ خود بولتا ہے تو سچ بولتا ہے اور جب سنتا ہے توسمجھتا ہے ، اور احمق وہ ہے جب کلام کرتا ہے تو جلد بازی کرتا ہے جب گفتگو کرتا ہے تو حیران ہوتا ہے اور جب برائیوں کی طرف ابھارا جاتا ہے تو اسے کر بیٹھتا ہے اور فاجر وہ ہے اگر اسے امانتدار سمجھوگے تو وہ خیانت کریگا اور اگر اس سے گفتگو کروگے تو تمہیں متھم کر دیگا۔


ک۔ تجربات کا تحفظ

388۔امام علی (ع): عقلمندی ، تجربات کا تحفظ ہے اور بہترین تجربہ وہی ہے جس سے تمہیں نصیحت حاصل ہو۔

389۔امام علی (ع): تجربات کا تحفظ عقلمندی کا سرمایہ ہے ۔

390۔ امام حسن (ع): جب آپ سے آپ کے پدر بزرگوار نے عقل کے متعلق دریافت کیا۔ تو فرمایا: (عقلمندی) یہ ہے کہ جو کچھ دل کے سپرد کیا ہے وہ اسے محفوظ رکھے!

391۔ امام علی (ع): عاقل وہ شخص ہے جو اپنے تجربات سے نصیحت حاصل کرے۔

ل۔ حسن تدبیر

392۔ رسول خدا(ص): نے حضرت علی (ع) کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا۔ کوئی عقل تدبیر کی مانند نہیں۔

393۔ امام علی (ع): عقل کی فراوانی کی بہترین دلیل حسن تدبیر ہے ۔

394۔ امام علی (ع): عقلمندی کی نشانی بیہودگی سے اجتناب اور حسن تدبیر ہے ۔

م۔صحیح گمان

395۔ امام علی (ع): عاقل کا گمان پیشینگوئی ہے ۔

396۔ امام علی (ع): صحیح گمان صاحبان عقل کی روش ہے ۔

397۔ امام علی (ع): عقلمند کا گمان ، جاہل کے یقین سے زیادہ درست ہوتا ہے۔

398۔ امام علی (ع): صاحبان عقل و خرد کا گمان ، حقیقت سے زیادہ قریب ہوتا ہے ۔

399۔ امام علی (ع): آپ سے منسوب کلمات قصار میں ہے ۔عقل ، صحیح گمان اور ماضی کی بنیاد پر مستقبل کی معرفت ہے ۔


ن ۔دنیا سے بے رغبتی

400۔ امام علی (ع): عقل کی حد ناپائدار و فانی سے گریز اور پائدار و باقی سے لگاؤ ہے ۔

401۔ امام علی (ع): عقل کی فضیلت دنیا سے بے رغبتی ہے ۔

402۔ امام علی (ع): نفس کو دنیا کے زرق و برق سے جدا رکھنا عقل کا نتیجہ ہے ۔

403۔ امام علی (ع): جو عقلمند ہوتا ہے قناعت کرتاہے ۔

404۔ امام علی (ع): عاقل وہ ہے جو پست و ناپائدار دنیا سے دل نہیں لگاتا اور خوبصورت و جاوداں اور بلند مرتبہ جنت سے رغبت رکھتا ہو۔

س۔ فضول باتوں کا ترک کرنا

405۔ امام کاظم (ع):عاقلوںنے دنیا کی بیہودہ باتوں کو ترک کر دیا، چہ جائیکہ گناہ، ترک دنیا مستحب ہے اور ترک گناہ واجب ۔

406۔ اما م علی (ع): جب عقلیں کم ہوجاتی ہیں تو فضول باتیں زیادہ ہو جاتی ہےں۔

407۔ امام علی (ع): جو خود کو فضول باتوں سے باز رکھتا ہے ، عقلیں اسکی رائے کو درست بنا دیتی ہیں۔

408۔ امام علی (ع): عاقل وہی ہے جو باطل کو ٹھکرادے۔


ع۔آخرت کا زاد راہ

409۔ رسول خدا(ص): نے جمعہ کے کسی خطبہ میں۔ فرمایا: آگاہ ہو جاؤ! عقل کی علامتوں میں سے دار غرور (دنیا ) سے بے رغبتی اور دائمی ٹھکانہ کی طرف میلان پیدا کرنا ہے اور قبر وںکے لئے توشہ فراہم کرنا اور روز قیامت کے لئے آمادہ ہونا ہے ۔

341۔ امام علی (ع): عقل کی نشانی روز قیامت کے لئے توشہ مہیا کرنا ہے ۔

411۔ امام علی (ع): جو اپنی دائمی قیامگاہ کو آباد کرتاہے وہ عقلمند ہے ۔

412۔ امام علی (ع): عقلمند وہ ہے جس نے اپنی شہوت کو بالائے طاق رکھ دیاہے اور دنیا کو آخرت کے عوض بیچ دیا۔

413۔ امام علی (ع): عقلمند نہیں ہے ، مگر یہ کہ خدا کی معرفت رکھتا ہو اور دار آخرت کے لئے عمل کرتا ہو۔

414۔ امام علی (ع): عاقل وہی ہے جو اپنی خواہشات پر غالب ہو اور اپنی آخرت کو دنیا کے بدلے فروخت نہ کیا ہو۔

415۔ امام علی (ع): جو عقلمند ہے وہ خواب غفلت سے بیدار ہو کر سفر کے لئے آمادہ ہو جاتا ہے اور اپنی قیامگاہ کو آباد کرتا ہے ۔

416۔ امام کاظم (ع): عاقل دنیا سے کنارہ کش اور آخرت کی طرف مائل ہوتے ہیں چونکہ وہ جانتے ہیں کہ دنیا طالب و مطلوب ہے، اور آخرت بھی چاہتی ہے اور چاہی جاتی ہے ، لہذا جو آخرت کا طلبگار ہو جائیگا دنیا خود اس کے پیچھے آئیگی یہاں تک کہ اس کے رزق کو پورا کریگی، لیکن جو دنیا کا طلبگار ہے اس سے آخرت اپنے حق کا مطالبہ کریگی، یہاں تک کہ اسے موت آجائیگی اور اسکی دنیا و آخرت کوتباہ کر دیگی۔

417۔ امام کاظم (ع): عقلمند نے دنیا اور دنیا کی چیزوںپر نظر ڈالی تو اسے معلوم ہوا کہ دنیا بغیر مشقت کے حاصل نہیں ہوتی ہے اور آخرت پر نظر ڈالی تو پتہ چلا کہ آخرت بھی بغیر مشقت کے حاصل نہیں ہو سکتی ہے ۔ لہذا اس نے ان دونوں میں سے مشقت سے اس کو حاصل کیا جو باقی رہنے والی ہے ۔


418۔ سوید بن غفلہ: کا بیان ہیکہ امیر المومنین ؑ کے منصب خلافت پر فائز ہونے کے بعد میں آپکی خدمت میں حاضرہوا، آپ ایک چھوٹی سی چٹائی پر تشریف فرماتھے کہ جس کے علاوہ آپ کے گھر میں کچھ بھی نہ تھا۔ میں نے عرض کیا: اے امیر المومنین ؑ! بیت المال آپ کے اختیار میں ہے لیکن میں آپ کے گھر میں گھر کے اسباب نہیں دیکھ رہا ہوں! فرمایا: اے ابن غفلہ ! عقلمند چھوٹ جانے والے مکان کے لئے اثاثہ جمع نہیں کرتا ، ہمارے لئے پر امن گھر ہے ہم نے اپنا بہترین سرمایہ وہاں منتقل کر دیا ہے ۔ اور عنقریب ہم بھی ادھر ہی سفر کرنے والے ہیں۔

ف۔نجات

419۔ رسول خدا(ص): خدا نے کسی کو عقل ودیعت نہیں کی مگر یہ کہ اس کے ذریعہ اسے ایک دن نجات دیگا۔

420۔ تاریخ کبیر: قرہ بن ہبیرہ رسول خدا کی خدمت میں آیا اور کہا: ہمارے کچھ ارباب تھے خدا کے بجائے جنکی عبادت کی کی جاتی تھی ، خدا نے آپ کو مبعوث کیا، تو اس کے بعد ہم نے انہیں لاکھ پکارا مگرانہوں نے کوئی جواب نہ دیا اور ہم نے ان سے طلب کیا لیکن کچھ عطا نہ کیا، اور ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے خدا نے ہماری ہدایت کی، رسول خدا(ص) نے فرمایا: یقینا وہ کامیاب ہو گیا جسکوعقل عطا ہوئی ہے ۔ قرہ نے کہا: اے رسول خدا! مجھے دو لباس پہنا دیجئے جنہیں آپ پہن چکے ہیں، آپ ؐ نے ایسا ہی کیا، پس جب وہ موقف عرفات میں تھا تو رسول خدا(ص) نے اس سے فرمایا: تو اپنی بات کی تکرار کر، اس نے تکرار کی ، اس وقت رسول خدا نے فرمایا: کامیاب ہے وہ شخص جس کوعقل سے نوازاگیا ہے۔


421۔ امام علی (ع): عقل ہدایت اورنجات دیتی ہے اور جہالت ،گمراہ اور پست کرتی ہے۔

422۔ امام علی (ع): فراوانی عقل ، نجات عطا کرتی ہے ۔

423۔ امام علی (ع): عقلمندی کا تقاضانجات کے لئے عمل کرنا ہے ۔

424۔ امام علی (ع): آپ سے منسوب کلمات قصار میں ہے ۔ اگر زمام عقل کو آزاد چھوڑ دیا جائے اور خواہشات نفس،دینی رسم یا عصبیت ماسلف کی شکار نہ ہوتواپنے حامل کو نجات سے ہمکنار کریگی۔

425۔ امام علی (ع): عقلمند کی رائے نجات دیتی ہے ۔

426۔ امام علی (ع): عقل کی جڑ فکر و نظر ہے اور اس کا پھل سلامتی ہے ۔

ص۔ جنت پر اختتام

427۔ رسول خدا(ص): نے علی (ع) سے اپنی وصیت میں ۔ فرمایا: عقل وہ ہے جس سے جنت کا اکتساب اور خوشنودی پروردگار حاصل ہو۔

428۔ رسول خدا(ص): بہت سے عقلمند ایسے ہیں جو امر خدا کی معرفت رکھتے ہیں ، اگر چہ لوگوں کی نظروں میں حقیر اور کریہہ المنظرہوں لیکن آئندہ نجات یافتہ ہیں ، اور بہت سے خوش بیان اور حسین صورت ہیںلیکن روز قیامت ہلاک ہونے والے ہیں۔

429۔ انس: سوال کیا گیا، اے رسول خدا!کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص حسن عقل کا مالک ہو اور کثرت سے گناہ بھی کرتا ہو؟ رسول خدا(ص) نے فرمایا: کوئی شخص ایسا نہیںہے جو گناہوں اور خطاؤں کا مرتکب نہ ہو، پس ہر وہ شخص جس کی فطرت عقلمندی اور طبیعت یقین ہوتو گناہ اسے ضرر نہیں پہنچا سکتے، کہا گیا: اے رسول خدا(ص)! یہ کیسے ممکن ہے؟ فرمایا: چوں کہ (عقلمند) جب خطا کا مرتکب ہوتا ہے تو توبہ و پشیمانی کے ذریعہ اسکی تلافی کرتا ہے ۔لہذا اس کے سارے گناہ محو ہو جاتے ہیں فقط نیکیاں باقی رہ جاتی ہیں جس کی بدولت وہ وارد بہتشت ہوگا۔


430۔ امام علی (ع):کچھ گروہ بہشت بریں کی طرف (دوسروں پر) سبقت لے جائینگے کہ جو دوسروں کی نسبت نہ زیادہ نماز و روزہ کے پابند اور نہ ہی حج و عمرہ بجالائے ہوں گے لیکن انہوںنے مواعظ الٰہی کو سمجھ لیا تھا۔

431۔ امام صادق(ع): جو عقلمند ہوگا انشاء اللہ اس کا خاتمہ جنت پر ہوگا۔

432۔ محمد بن عبد الجبار: نے امام جعفر صادق(ع) کے شاگردوں میں سے کسی ایک سے نقل کیا ہے کہ میں نے آپکی خدمت میں عرض کیا: عقل کیاہے؟ فرمایا: جس سے خدا کی عبادت کیجائے اور جنت حاصل کیجائے، میںنے کہا: وہ چیز جو معاویہ میں تھی؟ فرمایا: وہ چالاکی اور شیطنت ہے، جو عقل کی شبیہ ہوتی ہے لیکن عقل نہیں ہے۔

ق۔ ہر کام میں بھلائی

433۔ امام علی (ع): عقل کے ذریعہ ہر کام کی بھلائی ہے ۔

434۔ امام علی (ع): عقل ہر کام کی اصلاح کرتی ہے ۔

ر۔ دنیا و آخرت کی بھلائی

435۔ امام علی (ع): عقل نیکیوں کا سرچشمہ ہے ۔

436۔ امام علی (ع): عقل کے سبب نیکیاںحاصل ہوتی ہیں۔

437۔ امام علی (ع): ہر دلیری کو عقل کی ضرورت ہے ۔

438۔ امام علی (ع): عقل نفع بخش ہے ،علم سر فرازی ہے اور صبر دفاع کرنے والا ہے ۔


439۔ امام علی (ع): عقلمندی سے کام لو تاکہ( منزل مقصود ) تک پہنچ جاؤ۔

440۔ امام حسن (ع): عقل کے ذریعہ دنیا و آخرت حاصل ہوتی ہے اور جو عقل سے محروم ہوگا وہ آخرت سے بھی محروم ہوگا۔

441۔ امام زین العاب دین (ع): عقل نیکیوںکی رہبر ہے ۔

442۔ عبد اللہ بن عجلان سکونی: کا بیان ہے میں کہ نے امام محمد باقر(ع) کی خدمت میں عرض کیا: جب میں چاہتا ہوں کہ مال کو صلہ رحم کے عنوان سے اپنے دوستوں کو عطا کروں، تو انہیں کس طرح عطا کروں؟ فرمایا: دین کی راہ میں ہجرت اور عقل وفہم کی بنیاد پر انہیں عطا کرو۔

443۔ اما م صادق(ع): کام کا آغاز اور اسکی ابتدا اور اس کا استحکام و آبادکاری عقل کے باعث ہے وہ عقل کہ جسے خدا نے بندوںکی زینت اور ان کے لئے نورانیت کا سبب قرار دیا ہے ۔

444۔ امام کاظم (ع): اے ہشام! وہ شخص جو مال کے بغیربے نیازی ، حسد سے دل کی حفاظت اور دین میں سلامتی چاہتا ہے اسے چاہئے کہ بارگاہ احدیت میں گڑ گڑائے اور اس سے عقل کے کامل ہونے کی دعا کرے، اس لئے کہ جو عقلمند ہو جاتا ہے جو کچھ اس کے پاس ہے اس پر قناعت کرتا ہے اور جوقناعت کرتا ہے وہ بے نیاز ہے ۔


5/3

وہ اشیاء جن سے عقل آزمائی جاتی ہے

الف: عمل

445۔ امام علی (ع): عمل کی کیفیت سے عقل کی مقدار کا اندازہ ہوتا ہے ، لہذا اس کے لئے بہترین عمل کا انتخاب کرو اور اسے قوی و محکم بناؤ۔

446۔ امام علی (ع): اچھی گفتگو اور اچھے عمل کے مالک بنو چونکہ انسان کی گفتگو اسکی فضیلت کی نشانی ہے اور اس کا عمل اسکی عقلمندی کی دلیل ہے ۔

447۔ امام علی (ع): جو شخص اپنے کاموں کو بحسن وخوبی انجام دیتا ہے اپنی فراوانی عقل کا پتہ دیتاہے ۔

448۔ امام علی (ع): عاقل وہ ہے جس کے افعال اس کے اقوال کی تصدیق کریں۔

ب: کلام

449۔ امام علی (ع): انسان کا کلام اسکی عقل کی کسوٹی ہے ۔

450۔ امام علی (ع): فی البدیہ گفتگو کے وقت انسان کی عقل کی آزمائی جاتی ہے ۔

451۔ امام علی (ع): انسان جو کچھ اپنی زبان پر جاری کرتا ہے اس سے اسکی عقل کا اندازہ ہوتا ہے ۔

452۔ امام علی (ع): ہر شخص کی زبان اسکی عقلمندی کا پتہ دیتی ہے اور اس کا بیان اسکی فضیلت پر دلالت کرتا ہے ۔

453۔ امام علی (ع): زبان ایسی میزان ہے جسے عقل سنگین اور نادانی سبک بناتی ہے ۔


454۔ امام علی (ع): ایسے کلام سے اجتناب کرو کہ جس کی روش سے ناواقف اور حقیقت سے ناآشنا ہو۔ کیوں کہ تمہاری گفتگو تمہاری عقل کی نشانی اور تمہاری باتیں تمہاری میزان معرفت کا پتہ دیتی ہےں۔

455۔ امام علی (ع): انسان جو کچھ اپنی زبان پر جاری کرتا ہے اس کے ذریعہ اسکی عقل پر دلیل قائم کی جاتی ہے ۔

456۔ امام علی (ع): انسان کی گفتگو اسکی عقل کی نشانی ہے اور انسان کے نسب کی دلیل اس کا عمل ہے ۔

457۔ امام علی (ع): جو شخص اپنی زبان پر قابو نہیں رکھتاوہ اپنی کم عقلی کو آشکار کرتا ہے ۔

458۔ رسول خدا(ص): خدا نے جناب موسیٰ پر وحی کی : کہ بہت زیادہ باتیںکرکے بکواس کرنے والے نہ بنو، کیونکہ زیادہ باتیں علماء کے لئے باعث بدنامی ہیں اور کم عقلوں کی برائیوں کو آشکار کرتی ہیں ، لہذا میانہ روی سے کام لو؛ چونکہ میانہ روی کا سرچشمہ توفیق و درستی ہے ۔

ج: خاموشی

459۔ امام علی (ع): خاموشی ،شرافت و نجابت کی نشانی اور عقل کا ثمرہ ہے ۔

460۔ امام علی (ع): جو عقلمند ہو جاتا ہے وہ خاموش رہتا ہے ۔

461۔ امام علی (ع): جو شخص خود کو فضول باتوں سے باز رکھتا ہے با عظمت افراد اسکی عقلمندی کی گواہی دیتے ہیں۔

462۔ امام علی (ع): انسان کی عقلمندی کی علامت یہ ہے کہ ہر وہ چیز جسے جانتا ہے زبان پر جاری نہ کرے۔

463۔ امام علی (ع): عاقل وہ ہے جو اپنی زبان کوصرف ذکر خدامیں مصروف رکھتا ہے۔

464۔امام علی (ع): عقلمند زبان نہیںکھولتا مگر یہ کہ ضرورت کے وقت یا دلیل و برہان کےلئے۔


د: رائے

465۔ امام علی (ع): انسان کی رائے اسکی عقل کی میزان ہے ۔

466۔ امام علی (ع): انسان کا گمان اسکی عقل کی میزان اور اس کا عمل اسکی اصل کا بہترین گواہ ہے ۔

467۔ امام علی (ع): انسان کا گمان اسکی عقل کے مطابق ہوتا ہے ۔

468۔ امام علی (ع): یقینا عقلمند اپنی عقل کے سبب رشد و ہدایت پر ہے اور اپنی رائے و نظر کے باعث ترقی پر ہے ، لہذااسکی رائے درست اور عمل قابل تعریف ہے ۔

ھ: قاصد

469۔ امام علی (ع): تمہارا قاصد تمہاری عقل کا ترجمان ہوتا ہے اور تمہارا خط تمہارا بہترین ترجمان ہوتا ہے ۔

470۔ امام علی (ع): تمہارا قاصد تمہاری عقل کا ترجمان اور تمہارا تحمل تمہاری بردباری کی دلیل ہے۔

471۔ امام علی (ع): قاصد کی عقل اور اس کے ادب سے بھیجنے والے کی عقل پر دلیل قائم کی جاتی ہے ۔

و: لکھنا

472۔ امام علی (ع): انسان کا خط اسکی عقلمندی کی نشانی اور اسکی فضیلت کی دلیل ہے ۔

473۔ امام علی (ع):جب تم خط لکھو، اس پر مہر لگانے سے پہلے اسکی نظر ثانی کرلو: کیوں کہ اپنی عقل پر مہر لگا رہے ہو۔

474۔ امام صادق(ع): انسان کے خط سے اسکی عقل و بصیرت پر برہان قائم کی جاتی ہے اور اس کے قاصد سے اسکی فہم و زیرگی کا اندازہ ہوتا ہے ۔


ز: تصدیق اور انکار

475۔ امام صادق(ع): اگر کسی بزم میں کسی شخص کی عقل کو آزمانا چاہتے ہو تو اپنی گفتگو کے دوران کسی محال چیز کا تذکرہ کرو اگر وہ اس سے انکار کرے تو وہ عاقل اور اگر تصدیق کرے تو احمق ہے۔

ح: دوست

476۔ امام علی (ع): انسان کا دوست اسکی عقل کی دلیل ہے اور اس کا کلام اسکی فضیلت کی نشانی ہے ۔

5/4

عقل کا معیار

477۔ رسول خدا(ص): سات چیزیں صاحبان عقل کی عقلمندی پر دلالت کرتی ہین: مال سے مالدار کی عقل کااندازہ ہوتا ہے، حاجت حاجتمند کی عقل پر دلالت کرتی ہے ؛ مصیبت مصیبت زدہ کی عقل پر دلالت کرتی ہے ، غضب غضبناک ہونے والے کی عقل پر دلالت کرتا ہے ، خط صاحب خط کی عقل پر دلالت کرتا ہے ، قاصد بھیجنے والے کی عقل پر دلالت کرتا ہے ۔ہدیہ ہدیہ دینے والے کی عقل پر دلالت کرتا ہے ۔

478۔ رسول خدا(ص): انسان کی عقل کو تین چیزوں سے آزماؤ! اسکی داڑھی کی لمبائی ، اسکی کنیت اور اسکی انگوٹھی کے نگینہ کے نقش سے۔

479۔ امام علی (ع): چھ چیزوں کے ذریعہ مردوں کی عقل آزمائی جاتی ہے، ہمنشینی، معاملات،منصب و مقام سے کنارہ کشی، غنیٰ اور فقر۔


480۔ امام علی (ع): چھہ چیزوں سے لوگوںکی عقلوں کو آزمایا جاتا ہے، غضب کے وقت بردباری ، خوف کے موقع پر صبر، خواہشات میںاعتدال، تمام حالات میں تقوائے الٰہی، لوگوں کےساتھ نیک برتاؤاور کم جنگ و جدال ۔

481۔ امام علی (ع): تین چیزوں سے مردوں کی عقلیں آزمائی جاتی ہیں، مال، منصب اور مصیبت ۔

482۔ امام علی (ع): انسان تین جگہوں پر بدل جاتا ہے ، بادشاہوں کی قربت ، منصب اور فقر سے نجات کے بعد، جو شخص ان تین حالات میں تبدیل نہ ہو وہ عقل سلیم اور بہترین اخلاق کا مالک ہے ۔

483۔ امام علی (ع): تین چیزیں ارباب عقل پر دلالت کرتی ہیں، قاصد، خط اور ہدیہ۔

484۔ امام علی (ع): عقلمند کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس میں تین خصلتیں موجود ہوں: جب اس سے سوال کیا جائے تو وہ جواب دے، جب لوگ کلام کرنے سے عاجز ہو جائیں تو وہ زبان کھولے ، اور ایسی رائے کا اظہار کرتا ہے کہ جس میں اس کے اہل کے لئے بھلائی ہوتی ہے ، پس جس شخص میں ان تین خصلتوں میں سے کوئی بھی نہ ہو وہ احمق ہے۔

485۔ امام علی (ع): بے پناہ وقار اور نہایت صبر و تحمل کے ذریعہ انسان کی عقلمندی اور اچھے کردار سے اس کے نسب کی شرافت پر استدلال ہوتا ہے ۔

486۔ امام علی (ع): لالچ اور آرزئیں جب فریب دیتی ہیں تو جاہلوںکی عقلیں دھوکا کھا جاتی ہیں اور مردوں کی عقلیں آزمائی جاتی ہیں۔

487۔ امام علی (ع): عقل کی سنجیدگی خوشی و غم کے وقت جانچی جاتی ہے۔

488۔ امام علی (ع): آپ سے منسوب کلمات قصار میں ہے: عقل معاملات کے ذریعہ آشکار ہوتی ہے اور مردوںکی خصلت کا اندازہ ان کے منصب سے ہوتا ہے ۔


5/5

عاقلوںکے صفات

489۔ رسول خدا(ص): عاقل کی صفت یہ ہے کہ وہ نادانوںکی حماقت کو برداشت کرتا ہے ، جو اس پر ظلم کرتا ہے تو اس سے در گذر کرتاہے ، اپنے ما تحت لوگوں کے سا تھ تواضع سے پیش آتا ہے ، نیکیوں کے حصول میں اپنے سے بلند لوگوں پر سبقت لے جاتا ہے، جب کلام کرنا چاہتا ہے تو پہلے فکر کرتا ہے ۔ اگر کوئی خوبی ہوتی ہے تو زبان کھولتا ہے اور اس سے فائدہ حاصل کرتا ہے اور اگر بدی ہوتی ہے تو خاموشی اختیار کرتا ہے ۔اور محفوظ رہتاہے ، جب اس کے سامنے کوئی فتنہ آتا ہے تو ایسے موقع پر اللہ سے سلامتی چاہتا ہے اور اپنے ہاتھ اور زبان کوروکے رکھتا ہے ،اگر کوئی فضیلت دیکھتا ہے تو اسے حاصل کرنے کے لئے تیزی سے بڑھتا ہے ، شرم و حیا کو خود سے جدا نہیں کرتا اور حرص اس سے ظاہر نہیں ہوتی ان دس صفات کے ذریعہ عقلمند پہچانا جاتا ہے ۔

490۔ رسول خدا(ص): نے(ان چیزوںکے متعلق کہ جن کا سر چشمہ عقل ہے) فرمایا: لیکن سنجیدگی ومتانت جن چیزوں کا سرچشمہ ہے ، وہ مہربانی ، دور اندیشی ، ادائے امانت ، ترک خیانت، صداقت، پاکدامنی ، ثروت، دشمن کے مقابلہ میں آمادگی ، برائیوں سے باز رہنا اور بیوقوفی کو ترک کرنا ہے یہ وہ صفات ہیں جو سنجیدگی و متانت کے سبب عقلمند کو نصیب ہوتی ہیں، پس خوش نصیب ہے وہ شخص کہ جو صاحب و قار ہے اور لا ابالی اور نادان نہیں ہے اور جس کا شعار عفو و بخشش اور نظر انداز کرنا ہے ۔

491۔ رسول خدا(ص): عقلمند وہی ہے جو خدا کے امر و نہی کوسمجھ لیتا ہے۔

492۔ رسول خدا(ص): عاقل تنہائی میں اپنی عقل کے سبب خوش ہوتا ہے اور نادان ، خودہی سے وحشت کرتا ہے؛ اس لئے کہ ہر شخص کا دوست اسکی عقل اور اس کا دشمن اسکی نادانی ہے ۔


493۔ رسول خدا(ص): عاقل، ہمیشہ خوبیوںکو کشف کرتا ہے اگر چہ لوگوں کے درمیان رسوا کن عیب ہو۔

494۔ رسول خدا(ص): عقلمند نہایت خوفزدہ ہوتا ہے اور اسکی امیدیں اور آرزوئیں کم ہوتی ہےں۔

495۔ امام علی (ع): آپ سے منسوب کلمات قصار میں ہے ۔ عاقل جب کلام کرتا ہے تو اس کا کلام حکمت آمیز اور ضرب المثل کے ساتھ ہوتا ہے اور احمق جب کلام کرتا ہے تو قسم کے ساتھ ہوتا ہے ۔

496۔ امام علی (ع): آپ سے منسوب کلمات قصار میں ہے، عاقل صالحین سے رشک کرتا ہے تاکہ ان سے ملحق ہو جائے اور انہیں دوست رکھتا ہے تاکہ انکی دوستی کے سبب انکا شریک ہو جائے اگر چہ عمل میں انکے مانند نہ ہو۔

497۔ امام علی (ع): آپ سے منسوب کلمات قصار میں ہے، عاقل ، بیوقوفوں کی عیش و آرام کی زندگی کی نسبت عقلمندوں کی سخت زندگی سے زیادہ مانوس ہوتا ہے۔

498۔ امام علی (ع): عقلمند وہ ہے جو دوسروں میں عبرت ڈھونڈتا ہے ۔

499۔ امام علی (ع): عقلمند ، کمال کی جستجو میں ہوتا ہے اور جاہل ، مال کی تلاش میں ۔

500۔ امام علی (ع): عقلمندوہ ہے جو علم ہوتے ہی ٹھہر جاتا ہے ۔

501۔ امام علی (ع): عاقل وہ ہے جب علم ہوتا ہے تو عمل کرتا ہے، جب عمل کرتا ہے توخلوص کےساتھ اور جب خلوص اختیار کرتاہے تو کنارہ کش ہو جاتا ہے ۔

502۔امام علی (ع): عقلمند وہ ہے جو اپنی رائے پر شک کرے اور اسکا نفس جو کچھ اس کےلئے مزین کرتا ہے اس پر اعتماد نہ کرے۔


503۔ امام علی (ع): عاقل وہ ہے جو ناراضگی اور رغبت و خوف کے وقت اپنے نفس پر قابو رکھتا ہے ۔

504۔ امام علی (ع): عاقل وہ ہے جو اپنی زبان کو غیبت سے محفوظ رکھتا ہے ۔

505۔ امام علی (ع): عاقل جب خاموش ہوتا ہے تو سوچتا ہے، جب زبان کھولتا ہے تو ذکر خد اکرتا ہے اور جب دیکھتاہے تو عبرت حاصل کرتا ہے ۔

506۔ امام علی (ع): عقلمند اپنی لذت کا دشمن اور جاہل اپنی شہوت کا غلام ہوتا ہے ۔

507۔ امام علی (ع): عقلمند وہ ہے جو اپنی شہوت کو کچل دیتا ہے۔

508۔ امام علی (ع): عقلمند خواہشات نفسانی کے اسباب پر غالب ہوتا ہے ۔

509۔ امام علی (ع): عاقل وہ ہے جو عقل کے ذریعہ اپنی خواشات نفسانی کا گلا گھونٹ دیتا ہے ۔

510۔ امام علی (ع): عاقل اپنے عمل پر اعتماد کرتا ہے اور جاہل اپنی آرزوپر۔

511۔ امام علی (ع): عاقل ، عاقل سے الفت پیدا کرتا ہے اور جاہل ، جاہل سے۔

512۔ امام علی (ع): عقلمند وہ ہے کہ جن چیزوں سے جاہل رغبت رکھتا ہے وہ ان سے بیزار رہتا ہے۔

513۔ امام علی (ع): سختی عقلمند کو افراط پرنہیں ابھارتی اور ناتوانی اسے کام سے نہیں روکتی۔

514۔ امام علی (ع): عاقل وہ ہے جو اپنے کام کو محکم رکھتا ہے۔

515۔ امام علی (ع): عاقل اپنے کام میں سعی و کوشش کرتا ہے اور اپنی آرزؤوں کا دامن کوتاہ رکھتا ہے ۔

516۔امام علی (ع): عاقل پر جو چیزیں و اجب ہیں ان کے متعلق اپنے نفس سے باز پرس کرتا ہے اور جو چیزیں اس کے لئے منفعت بخش ہیں ان کے متعلق خود کو زحمت میں نہیں ڈالتا۔


517۔ امام علی (ع): عاقل وہ ہے جو مغفرت کے ذریعہ گناہوںکی پر دہ پوشی کرتا ہے ۔

518۔ امام علی (ع): عاقل وہ ہے جو قضائے (الہی) کے سامنے سراپا تسلیم ہوتا ہے اور دور اندیشی سے کام لیتا ہے۔

519۔ امام علی (ع): عاقل وہ ہے جو سخاوت کرتاہے ۔

520۔ امام علی (ع): عقلمند خود کو ناچیز شمار کرتا ہے لہذا بلند ہو جاتا ہے ۔

521۔ امام علی (ع): عقلمند تہذیب و ادب کے ذریعہ نصیحت حاصل کرتا ہے اور چو پائے مارکے ذریعہ ۔

522۔ امام علی (ع): یقینا عقلمند وہ ہے کہ جس کی نظر مستقبل پر ہوتی ہے ۔ اور اپنی نجات کے لئے کوشش کرتا ہے اور جس چیز سے چھٹکارا نہیں ہے اس کو انجام دیتا ہے ۔

523۔ امام علی (ع): عقلمند لالچ کافریفتہ نہیں ہوتا۔

524۔ امام علی (ع): ہر عقلمند محزون ہوتا ہے ۔

525۔ امام علی (ع): عقلمند مہموم و مغموم ہوتا ہے ۔

526۔ امام علی (ع): ہر عاقل مغموم ہوتا ہے ۔

527۔ امام علی (ع): عاقل کے لئے ہرکام میں نیکی ہے اور جاہل ہمیشہ نقصان میں ہے ۔

528۔ امام علی (ع): ہوا و ہوس کا ترک کرناعاقلوںکی عادت ہے ۔

529۔ امام علی (ع): عقلمندوںکی پہچان یہ ہے کہ ان میں شہوت و غفلت کم ہوتی ہے۔

530۔ امام علی (ع): عاقل کا سرمایہ اس کے علم و عمل میں ہے اور جاہل کا سرمایہ اس کے مال و آرزو میں ہے ۔

531۔ امام علی (ع): حکمت ، عاقل کی گمشدہ ہے ، لہذا حکمت جہاں بھی وہ عاقل کا حق ہے۔

532۔ امام علی (ع): عاقل کوحکمت سے شغف ہوتاہے اور جاہل کوحماقت سے۔


533۔ امام علی (ع): عاقل اپنی حکمت کے باعث بے نیاز اور اپنی قناعت کے سبب معزز ہوتا ہے۔

534۔ امام علی (ع): عاقل اپنے علم کے باعث بے نیاز ہوتا ہے۔

535۔ امام علی (ع): عاقل کا سینہ اس کے اسرار کا صندوق ہے ۔

536۔ امام علی (ع): عاقل کی زبان اس کے قلب کے پیچھے ہوتی ہے اور احمق کا قلب اسکی زبان کے پیچھے ہوتا ہے۔

537۔ امام علی (ع): احمق کا قلب اس کے دہن میں ہوتا ہے اور عاقل کی زبان اس کے قلب میں ۔

538۔ امام علی (ع): عاقل کا کلام غذا ہے اور جاہل کا جواب خاموشی ہے ۔

539۔ امام علی (ع): جاہل کی ناراضگی اس کے کلام سے اور عاقل کی ناراضگی اس کے عمل سے آشکار ہوتی ہے۔

540۔ امام علی (ع): عاقل اس وقت تم سے قطع تعلق ہوتا ہے جب تمہارے اندر حیلہ گری پیدا ہو جاتی ہے۔

541۔ امام علی (ع): عاقل کی جوانمردی اس کا دین ہے اور اس کا حسب اس کا ادب ہے ۔

542۔ امام علی (ع): عاقل کی سلطنت اسکی خوبیوں کو نشر کرتی ہے ۔

543۔ امام علی (ع): عاقل کے علاوہ بیوقوفوں سے کوئی در گذرنہیں کرتا۔

544۔ امام علی (ع): عاقل کا نصف تحمل اور دوسرا نصف تغافل ہے۔

545۔ امام علی (ع): جو کچھ تمہارے اورپر گذرے اسے برداشت کرو کیوں کہ برداشت کرنے سے عیوب چھپے رہتے ہیں اور بیشک عاقل کا نصف تحمل اور دوسرا نصف تغافل ہے۔

546۔ امام علی (ع): عاقل کے سوا کوئی خود کو حقیر نہیں سمجھتا ، صاحب کمال کے علاوہ کوئی خود کو ناقص نہیں شمار کرتا اور جاہل کے سوا اپنی رائے سے کوئی خوش نہیں ہوتا۔


547۔ امام علی (ع): نادان کو سرزنش نہ کرو کہ وہ تمہارا دشمن ہو جائیگا اور عقلمند کو سرزنش کرو کہ وہ تم سے محبت کریگا۔

548۔ امام علی (ع): اپنے عقلمند دشمن پر نادان دوست سے زیادہ اعتماد کرو۔

549۔ امام علی (ع): عقلمند کی دشمنی ، نادان کی دوستی سے بہتر ہے ۔

550۔ امام علی (ع): مہربان عاقل سب سے زیادہ لوگوںکی حاجت کو محسوس کرتا ہے ۔

551۔ امام علی (ع): تم پر صبر لازم ہے چونکہ عاقل اسے اختیارکرتا ہے اورجاہل گریز کرتا ہے ۔

552۔ امام علی (ع): عاقل کی دردناک سرزنش اسکی لغزشوں کی طرف اشارہ کرنا ہے ۔

553۔ امام علی (ع): اگر تم نے عاقل سے کنایہ میںکوئی بات کہی تو گویا دردناک صورت میں اسکی سرزنش کی ۔

554۔ امام علی (ع): عاقلوں کی سزا، کنایہ ہے ۔

555۔ امام علی (ع): عاقل سے تعریض کی صورت میں کوئی بات کہنا، اسکی بدترین سر زنش ہے ۔

556۔ امام علی (ع): آپ سے منسوب کلمات قصار میں ہے۔ عاقل کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ ایسی باتیں زبان پر نہیں لاتا کہ جن کی وجہ سے اس کو جھٹلایا جا سکے۔

557۔ امام علی (ع):عاقل دنیا میں گرانبار ہے اور احمق سبکدوش ہے۔

558۔ امام علی (ع): مرد تین طرح کے ہوتے ہیں: عاقل، احمق اور فاجر، عاقل کا مذہب دینداری ہے اسکی سرشت بردباری اور فکر و رائے اسکی فطرت ہے، جب اس سے سوال کیا جاتا ہے تو جواب دیتا ہے جب کلام کرتا ہے تو درست ہوتاہے اور جب سنتا ہے تو اسے قبول کرتا ہے، جب گفتگو کرتا ہے تو سچ بولتا ہے اور جب کوئی اس پر اعتماد کرتا ہے تو وفا کرتا ہے ۔احمق، جب کسی اچھے کام سے آگاہ ہوتا ہے تو غفلت برتتا ہے، جب اسے کسی اچھے مقام سے نیچے لایاجاتا ہے تو وہ نیچے آجاتا ہے، جب اسے نادانی کی طرف ابھارا جاتا ہے تو وہ نادانی پر اتر آتا ہے، جب گفتگو کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور جب اسے سمجھایا جاتا ہے تو وہ آگاہ نہیں ہوتا وہ کچھ نہیں سمجھتا ہے۔ فاجر ،کو جب امانتداربناؤ گے تو وہ تم سے خیانت کریگا ، اگر اسکی ہمنشینی اختیار کروگے تو وہ تمہیں رسو اکریگا اور اگر اس پر اعتماد کروگے تو وہ تمہارا خیر خواہ نہیں ہوگا۔


559۔ امام حسن (ع): عقلمند سے جو نصیحت چاہتا ہے وہ اسے دھوکا نہیں دیتا۔

560۔ امام حسن (ع): میں تمہیں خبر دیتا ہوں ایسے بھائی کے بارے میں جو میری نظر میں لوگوں میں سب سے افضل تھااور وہ چیز کہ جس کے سبب میری نظر میں افضل تھا وہ دنیا کا اسکی نظر میں ہیچ ہونا ہے......وہ جہالت کے تسلط سے خارج تھا اور اپنے ہاتھ اطمینان بخش منفعت ہی کے لئے بڑھاتا تھا۔

561۔ اما م حسین (ع): جب عاقل پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ دور اندیشی کے سبب اندوہ کو دور کرتاہے اور عقل کو چارہ سازی کی طرف ابھارتا ہے ۔

562۔ امام صادق(ع): عقلمند بخشنے والا اور جاہل فریبکار ہے ۔

563۔ امام صادق(ع): صاحب فہم و عقل ، درد مند، محزون اور شب زندہ دار ہوتا ہے ۔

564۔ اما م صادق(ع): عقلمند ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاتا۔

565۔امام صادق(ع): مصباح الشریعہ میں آپ سے منسوب کلام میں ہے ، عقلمند حق کو قبول کرنے میںمنکسر، قول میں منصف اور باطل کے مقابل سرکش ہوتاہے اور اپنے کلام سے حجت قائم کرتا ہے ، دنیا کو ترک کر دیتا ہے اور اپنے دین سے دستبردار نہیں ہوتا۔

566۔ امام صادق(ع): عقلمند کسی کو سبک نہیں شمار کرتا ۔

567۔ امام صادق(ع): مصباح الشریعہ میں آپ سے منسوب کلام میں ہے ، عاقل ایسی باتیں نہیں کرتاکہ عقلیں جن کا انکار کریں، تہمت کی جگہوں پر نہیںجاتااور جس شخص کے سبب گرفتار ہے اس کے ساتھ بھی نرمی کو نظر انداز نہیں کرتا۔


568۔ امام کاظم (ع):نے ہشام بن حکم سے فرمایا: اے ہشام! عاقل، حکمت کے ہوتے ہوئے دنیا کی تھوڑی پونجی پر بھی راضی رہتا ہے لیکن تھوڑی حکمت کے ساتھ دنیا کو قبول نہیں کرتالہذا سکی تجارت نفع بخش ہے ۔

اے ہشام! عقلاء نے دنیا کی فضیلتوں کو ٹھکرادیا ہے چہ جائیکہ گناہوںکو ! حالانکہ ترک دنیا مستحب اور ترک گناہ واجب ہے ....اے ہشام ! عقلمند جھوٹ کی خواہش کے باوجود جھوٹ نہیں بولتا ہے ......۔

اے ہشام! عاقل اس شخص سے کلام نہیں کرتا کہ جس سے اپنی تکذیب کا خوف ہوتا ہے اور اس شخص سے کوئی حاجت طلب نہیںکرتا کہ جس سے یہ ڈر ہوتا ہے کہ منع کر دیگا، جو اسکی قدرت میں نہیں ہے اس کا وعدہ نہیں کرتا، جس چیز کی آرزو کے سبب اسکی سرزنش ہوتی ہے اسکی تمنا نہیں کرتا اور اپنی عجز و ناتوانی کے باعث جس چیز کے چھوٹنے کا ڈر ہوتا ہے اس کا اقدام نہیںکرتا۔

569۔ امام کاظم (ع): نے ہشام بن حکم سے، فرمایا: اے ہشام ! ہر چیز کی ایک علامت ہے اور عقلمند کی علامت تفکر ہے ، اور تفکر کی علامت خاموشی ہے، ہر شی کے لئے ایک سواری ہوتی ہے اور عاقل کی سواری تواضع ہے ، تمہاری جہالت کے لئے یہی کافی ہے کہ جس سے تمہیں روکا گیا ہے اس کو انجام دیتے ہو۔

اے ہشام ! اگر تمہارے ہاتھ میں اخروٹ ہو اور لوگ اسے موتی کہیں توتمہیں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا جبکہ تمہیں اخروٹ کا علم ہے ، اور اگر تمہارے ہاتھ میں موتی ہواور لوگ اسے اخروٹ کہیں تواس سے تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچیگا جبکہ تمہیں موتی ہونے کا علم ہے ۔

اے ہشام! خدا نے اپنے انبیاء و مرسلین کو لوگوں کی طرف نہیں بھیجا مگر یہ کہ خدا کی معرفت حاصل کریں، لوگو ں میں خدا کی اچھی معرفت رکھنے والا انبیاء و مرسلین کو سب سے بہتر طریقہ پر قبول کرتا ہے، اور سب سے اچھی عقل رکھنے والا احکام الہی کا سب سے بڑا عالم ہے اور سب سے بڑ ے عقلمند کادنیا و آخرت میں سب سے بلند مرتبہ کا ہوگا۔


اے ہشام! ہر بندہ کی پیشانی کو ایک فرشتہ پکڑے ہوئے ہے جو بھی ان میں سے خاکساری کرتا ہے خدا اسے بلند کردیتا ہے اور جو تکبر کرتا ہے خدا اسے پست کر دیتا ہے ۔

اے ہشام! لوگوں پر خدا کی دو حجتیں ہیں! ظاہری حجت اور باطنی حجت ، حجت ظاہری انبیاء و مرسلین اور ائمہ ہیں اورحجت باطنی، عقلیں ہیں۔

اے ہشام ! عاقل وہ ہے کہ جسے حلال کام شکر گذاری سے روگرداں نہیں کرتا اور حرام اس کے صبر پر غالب نہیں ہوتا۔

اے ہشام ! جس نے تین چیزوں کو تین چیزوں پر مسلط کیا گویا اس نے عقل کی نابودی کےلئے خواہشات نفس کی مدد کی جس نے اپنی فکر کی روشنی کو طولانی آرزؤں کے ذریعہ تاریک، اپنی فضول کلامی کے سبب حکمت کی خوبیوںکو محو اور خواہشات نفسانی کے باعث اپنے نور عبرت کو خاموش کر دیا ہے، ایسے شخص نے گویا اپنی عقل کی تباہی کےلئے اپنی ہوا و ہوس کی مدد کی اور جس نے اپنی عقل کو تباہ کر دیاگویا اس نے اپنے دین و دنیا کو برباد کردیا۔

اے ہشام! کس طرح تمہارا عمل خدا کی بارگاہ میں شائستہ قرار پا سکتا ہے حالانکہ تم نے اپنی عقل کو امر پروردگار سے منحرف کر رکھا ہے اور اپنی عقل پر خواہشات کو غالب کرنے میں اسکی پیروی کی ہے ؟!

اے ہشام ! تنہائی پرصبرکرنا، عقل کی توانائی کی علامت ہے ، پس جو بھی خدائے تبارک و تعالیٰ کی معرفت رکھتا ہے وہ دنیا پرست اور اہل دنیا سے کنارہ کش ہوجاتا ہے ، اور خدا کے پاس جو کچھ ہے اسکی طرف مائل ہوتا ہے خدا و حشت میں اس کا مونس، تنہائی میں ساتھی ، تنگدستی میں بے نیازی اور حسب و نسب نہ ہونے کے باوجود اسے عزت دینے والا ہے ۔

اے ہشام! مخلوق، خدا کی اطاعت کےلئے پیدا کی گئی ہے ، اور طاعت کے بغیرنجات نہیں ہے اور طاعت علم کے سبب، علم ، تحصیل کے باعث اور تحصیل کا تعلق عقل سے ہے۔علم، خدا رسیدہ عالم کے بغیر حاصل نہیںہو سکتا اور خدا رسیدہ عالم کے لئے معرفت عقل کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

اے ہشام! عاقل کا کم عمل قابل قبول اور کئی گنا ہے ، لیکن نفس پرست اور جاہل کا کثیر عمل قابل قبول نہیںہے ۔


5/6

ارباب عقل کے صفات

قرآن

(اس نے تمہارے لئے زمین کو گہوارہ بنایا ہے اور اس نے تمہارے لئے راستے بنائیں ہیں اور آسمان سے پانی برسایا ہے جس کے ذریعہ ہم نے مختلف قسم کے نباتات کا جوڑا پیدا کیاہے ، کہ تم خود بھی کھاؤ اور اپنے جانوروںکو بھی چراؤ، بیشک اس میں صاحبان عقل کے لئے بڑی نشانیاں پائی جاتی ہےں)

( کیا انہیں اس بات نے رہنمائی نہیں دی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی نسلوںکو ہلاک کر دیا جو اپنے علاقہ میں نہایت اطمینان سے چل پھر رہے تھے بیشک اس میں صاحبان عقل کے لئے بڑی نشانیاں ہیں)

حدیث

570۔ امام باقر ؑ: رسول خدا(ص) نے فرمایا: تم میں سب سے بہتر ارباب عقل ہیں ، دریافت کیا گیا: اے رسول خدا! ارباب عقل کون ہیں؟ فرمایا: وہ حسن اخلاق کے مالک ، باوقاربردبار ، صلہ رحم، والدین کے ساتھ نیکی ، فقرائ، پڑوسیوں اور یتیموںکی دیکھ بھال کرتے ہیں ، کھانا کھلاتے ہیں ، دنیا میں سلامتی پھیلاتے ہیں اور نمازیں پڑھتے ہیں جب کہ لوگ خواب غفلت میں ہوتے ہیں ۔

571۔ رسول خدا(ص): تم میں سب سے بہتر صاحبان عقل ہیں ، پوچھا گیا: اے رسول خدا! صاحبان عقل کون ہیں؟ فرمایا: صاحبان عقل ، سچے بردبار ِ، خوش اخلاق ، کھانا کھلانے والے،سلامتی پھیلانے والے اور شب زندہ داری میں مصروف ہوتے ہیں، جبکہ لوگ سوئے ہوتے ہیں۔


572۔ امام علی (ع): حوادث کی تبدیلیوں میں صاحبان عقل و خرد کے لئے عبرت و نصیحت ہے۔

573۔ امام علی (ع): صاحبان عقل و نظر کی صفت یہ ہے کہ دار بقا کی طرف متوجہ ، دار فنا سے روگرداں اور جنتِ ماوٰی کے دلدادہ ہوتے ہیں۔

574۔ امام علی (ع):حُب علم ، حسن حلم اور ثواب کا در پے ہونا صاحبان عقل و خرد کی فضیلتوں میں سے ہے۔

575۔ امام علی (ع): عاقل اعمال کو خالص کرنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

576۔ امام علی (ع): صاحبان عقل و خرد کے لئے مثالیں پیش کی جاتی ہےں۔

577۔امام علی (ع):جو شخص صاحبان عقل و خرد سے مشورہ کرتا ہے وہ دور اندیشی اوردرستی سے ہمکنار ہوتا ہے ۔

578۔امام علی (ع): جو شخص صاحبان عقل و خرد سے مشورہ کرتا ہے صحیح معنیٰ میں وہی سر فراز ہوتا ہے ۔


5/7

صاحبان عقل کے صفات

قرآن

( بیشک زمیں و آسمان کی خلقت ، لیل و نہار کی آمد و رفت میں صاحبان عقل کے لئے ، قدرت خدا کی نشانیاں ہیں ، جو لوگ اٹھتے ، بیٹھتے لیٹتے خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی تخلیق میں غور و فکر کرتے ہیں ، کہ خدایا تونے یہ سب بیکار نہیںپیدا کیا ہے ، تو پاک و بے نیاز ہے ہمیں عذاب جہنم سے محفوظ رکھ)

( جو باتوں کوغورسے سنتے ہیں اور جو بات اچھی ہوتی ہے اس کا اتباع کرتے ہیں ، یہی وہ لوگ ہیں جنہیں خدا نے ہدایت دی اور یہی وہ لوگ ہیں جو صاحبان عقل ہیں)

( یقینا ان کے واقعات میں صاحبان عقل کے لئے سامان عبرت ہے )

حدیث

579۔ رسول خدا(ص): عقلمند وہ ہے جو اپنے دین میں انہماک کے سبب دوسری چیزوں سے روگرداںہوتا ہے ۔

580۔ امام علی (ع): نرمی، صواب و درستی کی کنجی اور صاحبان عقل کی صفت ہے ۔

581۔ امام علی (ع): عقلمند سے زیادہ کوئی شجاع نہیںہے۔

582۔ امام علی (ع):مروت عقلمند ہی کے لئے کامل ہوتی ہے۔


583۔ امام علی (ع): عقلمند کے دل کی بصیرت اپنے انجام کو دیکھتی ہے اور اس کے نشیب و فراز سے واقف ہوتی ہے ۔

584۔ امام علی (ع): جو صاحبان عقل سے کمک لیتا ہے وہ راہ رشد و ہدایت کو پاجاتا ہے ۔

585۔ امام علی (ع): آگاہ ہو جاؤ! عقلمند وہ ہے جو درست فکر کے ذریعہ گونا گوں آراء کا استقبال کرتاہے اور عواقب پر نظر رکھتا ہے ۔

586۔ امام علی (ع): عقلمند وہی ہے جو کینہ کو آسانی سے نکال پھینکتا ہے ۔

587۔ امام علی (ع): مجھے اس شخص پر تعجب ہے جو بے پناہ دوستوںکی تلاش میں ہوتا ہے؛ لیکن عقلمند اور پرہیزگار علماء کی ہمنشینی اختیار نہیں کرتا؛ کہ جنکی فضیلتوں سے بہرہ مند ہو اور جنکے علوم اسکی ہدایت کریں اور جنکی ہمنشینی اسے آراستہ کرے۔

588۔ امام علی (ع): عقلمند دوست کی ہمنشینی روح کی زندگی ہے ۔

589۔ امام باقر(ع): اے جابر....دنیا کو اس منزل کی طرح سمجھو کہ جسمیں جاکر ٹھہرتے ہو اور پھر وہاں سے کوچ کر جاتے ہو؛ چونکہ دنیا عقلمند اور خدا کی معرفت رکھنے والے افراد کے نزدیک گذرنے والے سایہ کے مانند ہے ۔

590۔ امام صادق(ع): صاحبان عقل وہی لوگ ہیں جنہوںنے غور و فکر سے کا م لیا اور اس کے سبب محبت خدا کو حاصل کر لیا۔

591۔ امام کاظم (ع): نے ہشام بن حکم ۔ سے فرمایا: اے ہشام! آگاہ عقلمند وہ ہے جو جس چیز کی طاقت نہیں رکھتا اسے چھوڑ دیتاہے ۔


5/8

کامل عقل کے علامات

592۔ رسول خدا(ص): اللہ نے عقل کو تین چیزوں میں تقسیم کیا ہے ، جس شخص میں یہ چیزیں پائی جائیں گی اسکی عقل کامل ہے اور جس میں یہ چیزیںنہیںہوں گی وہ عقلمند نہیںہے : خدا کی حسن معرفت ، خدا کی حسن طاعت اور امر خدا پر حسن صبر۔

593۔ رسول خدا(ص):خدا کی عبادت عقل سے بہتر کسی اور چیز کے ذریعہ نہیںہوئی اور مومن عقلمند نہیں ہو سکتا جب تک کہ اس میں یہ دس چیزیں جمع نہ جائیں!اس سے نیکی کی امید ہوتی ہے اور برائی کی توقع نہیں ہوتی ، دوسروںکی کم خوبیوںکو زیادہ اور اپنی زیادہ خوبیوںکو کم سمجھتاہے ؛ ساری زندگی تحصیل علم سے نہیںتھکتا ہے، حاجت مندوںکی آمد و رفت سے ملول و پریشان نہیںہوتا؛ خاکساری اس کے نزدیک عزت سے زیادہ محبوب ہے، فقر اس کے نزدیک بے نیازی سے زیادہ پسندیدہ ہے ، دنیا سے اس کا حصہ فقط معمولی غذا ہے ؛ لیکن دسواں اور دسواں کیا ہے ؟ کسی کو دیکھتا ہے توکہتاہے : یہ مجھ سے زیادہ پرہیزگار ہے لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں: ایک وہ شخص جو اس (مومن) سے بہتر اور اس سے زیادہ پرہیزگار ہوتا ہے ؛ دوسرا وہ شخص جو اس سے بدتر اور پست ہوتا ہے ۔ لہذا جو شخص اس سے بہتر اور اس سے زیادہ پرہیزگار ہے اس کے ساتھ انکساری سے پیش آتاہے تاکہ اس سے ملحق ہو جائے۔ اور جو اس سے بدتر اور پست ہے جب اس سے ملاقات کرتا ہے تو کہتاہے : شاید اسکی خوبی پوشیدہ ہو اور برائی آشکار اور شاید اس کا انجام بخیرہو، جب ایسا کر تا ہے تو اسکی عظمت بڑھتی ہے اور اپنے زمانہ والوںکا سردار قرار پاتا ہے۔


594۔ امام علی (ع): اللہ کی عبادت عقل سے بہتر کسی اور چیز کے ذریعہ نہیں ہو ئی؛ کسی انسان کی عقل کامل نہیں ہوتی جب تک کہ اس میں چند خصال نہ ہوں : کفر و شر سے محفوظ ہو، رشد و خیر کی اس سے توقع ہو، اپنے اضافی مال کو بخشتا ہو، فضول کلامی سے گریز کرتا ہو؛ دنیا سے اس کا حصہ معمولی غذا ہو؛ پوری زندگی علم سے سیر نہ ہو، خدا کی بارگاہ میں خاکساری کو دو سروں کے ساتھ سر بلندی سے پیش آنے سے زیادہ پسند کرتا ہے ، تواضع اسکی نظر میں شرف سے زیادہ محبوب ہے؛دوسروں کی کم خوبیوںکو زیادہ اور اپنی زیادہ خوبیوں کو کم سمجھتا ہے ؛ تمام لوگوںکو خود سے بہتر اور خود کو سب سے بدتر سمجھتا ہے ، اور یہ اہم ترین خصلت ہے ۔

595۔ امام علی (ع): تمہاری عقل کا کمال یہ ہے کہ تم اپنی عقل کے ذریعہ خود کو استوار کرو۔

596۔ امام علی (ع): جس شخص کی عقل قوی ہوگی وہ زیادہ عبرت حاصل کریگا۔

597۔ امام علی (ع): جس شخص کی عقل کامل ہو جاتی ہے دین میں اس کے اعمال و افکار اچھے ہو جاتے ہیں۔

598۔ امام علی (ع): آپ سے منسوب کلمات قصار میںہے ، عقلمند انسان کی مثال سخت و موٹے جسم کی سی ہے جو دیر میں گرم ہوتا ہے اور اسکی گرمی کافی دیر بعد ختم ہوتی ہے ۔

599۔ امام علی (ع): جس شخص کی عقل کامل ہوتی ہے وہ اپنی شہوتوں کوسبک سمجھتا ہے ۔

600۔ امام علی (ع): جب عقل کامل ہو تی ہے تو شہوت گھٹ جاتی ہے ۔

601۔ امام علی (ع): جب عقل کامل ہوتی ہے تو کلام کم ہوجاتاہے ۔

602۔ امام علی (ع): کامل عقل بری فطرت پر غالب ہوتی ہے ۔

603۔ امام علی (ع): جتنی انسان کی عقل بڑھتی ہے اتنا ہی قضا و قدرپراسکا اعتقاد قوی ہو جاتا ہے اور حوادث زمانہ کوہلکا سمجھتا ہے۔


604۔امام علی (ع): انسان کا خود کو کم سمجھنا متانت و سنجیدگی کی علامت اور فراوانی فضیلت کی نشانی ہے ۔

605۔ امام علی (ع): عقلمندی کی انتہاجہالت کا اعتراف ہے ۔

606۔ امام علی (ع) :عقل اس وقت کامل ہوتی ے جبکہ ہمیشہ اسکی تکمیل کے لئے کوشاں رہے۔

607۔ امام علی (ع): بے فائدہ کاموںکو ترک کرنے سے تمہاری عقل کامل ہوتی ہے ۔

608۔ امام علی (ع):۔سالک الی اللہ کی توصیف میں ۔ فرمایا: اس نے اپنی عقل کو زندہ رکھا ہے اور اپنے نفس کو مار ڈالا ہے اس کا جسم نحیف ہو گیا ہے اور اسکابھاری بھرکم بدن ہلکا ہو گیا ہے اس کے لئے بہترین ضوء پاش نور ہدایت چمک اٹھا ہے اور اس نے راستے کو واضح کرکے اسی پر اسے گامزن کردیا ہے تمام دروازوں نے اسے سلامتی کے دروازہ اور ہمیشگی کے گھر تک پہنچا دیاہے اور اس کے قدم طمانینتِ بدن کے ساتھ امن وراحت کی منزل میں ثابت ہو گئے ہیں کہ اس نے اپنے دل کو استعمال کیا ہے اور اپنے رب کو راضی کر لیا ہے ۔

609۔ امام زین العاب دین (ع):کمال عقل کی نشانی آزار رسانی سے بچناہے ۔

610۔ اما م صادق(ع): عقل کا کمال تین چیزوںکے باعث ہے : خدا کے لئے تواضع، حسن یقین اور نیک کاموںکے علاوہ خاموش رہنا۔

611۔ امام کاظم (ع): نے ہشام بن حکم سے فرمایا: اے ہشام! تنہائی میں صبر عقل کی قدر تمندی کی نشانی ہے جو شخص خدا کی معرفت رکھتا ہے وہ دنیا اور دنیا پرستوں سے کنارہ کش ہوجاتا ہے اور جو کچھ خدا کے پاس ہے اسکی طرف مائل ہوتا ہے ، وحشت میں خدا اس کا مونس، تنہائی میں اس کا ساتھی ، تنگدستی میں اس کےلئے بے نیازی اور حسب و نسب نہ ہونے کی صورت میں اسے عزت بخشنے والا ہے ۔


5/9

عقلمند ترین انسان

612۔ رسول خدا(ص): کامل ترین انسان عاقل ہے جوخدا کا بڑااطاعت گذار وبڑا حکم کی تعمیل کرنے والاہے ۔

613۔ رسول خدا(ص): کامل ترین انسان عاقل جو خدا سے زیادہ ڈرنے والا اور اسکی اطاعت کرنے والا ہے ۔

614۔ رسول خدا(ص): تم میں سے عاقل ترین وہ ہے جو محرمات خدا سے پرہیز اور احکام الہی کا جاننے والا ہے۔

615۔ رسول خدا(ص): خدا کے کچھ برگزیدہ بندے ہیں جنہیںوہ جنت کے بلند و بالا مقام میں جگہ دیگا کیونکہ وہ دنیا میں سب سے بڑے عقلمند تھے ،پوچھا گیاوہ لوگ کس طرح کے تھے؟ فرمایا: ان کی ساری کوشش ان چیزوںکے لئے ہوتی تھی کہ جس سے خوشنودی خدا حاصل ہو سکے، دنیا ان کی نظروں میں حقیر ہوگئی تھی اور وہ کثرت دنیا کی طرف مائل نہ تھے ، انہوںنے مختصر مدت کے لئے دنیا میں صبر و تحمل سے کام لیا اور طولانی راحت و چین حاصل کر لیا۔

616۔ رسول خدا(ص): آگاہ ہو جاؤ!عقلمند ترین انسان وہ بندہ ہے جو اپنے رب کو پہچانتا ہے اور اسکی طاعت کرتا ہے ، خدا کے دشمن کو پہچانتا ہے اور اسکی نافرمانی کرتا ہے، اپنی قیامگاہ کو پہچانتا ہے اور اسے سنوارتاہے ،اوراسے معلوم ہے کہ عنقریب رخت سفر باندھناہے لہذا اس کے لئے زاد راہ مہیا کرلیا ہے ۔

617۔ رسول خدا(ص): عاقل ترین انسان خائف ونیکو کار ہے اور نادان ترین انسان بدکار امان دینے والا ہے ۔

618۔ رسول خدا(ص): عقلمند ترین انسان وہ ہے جو لوگوں پرزیادہ مہربان ہوتاہے ۔


619۔ امام علی (ع): لوگوں میں سب سے بڑا عقلمند وہ ہے جو ان میں سب سے زیادہ با حیا ہے ۔

620۔ امام علی (ع): لوگوںمیں سب سے برا عقلمند وہ ہے جو ان میں خدا کا سب سے بڑامطیع ہے ۔

621۔ امام علی (ع): تم میں سب سے بڑا عقلمند وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ اطاعت گذار ہے ۔

622۔ امام علی (ع):تم میں سب سے بڑا عاقل وہ ہے جو عاقلوںکا اتباع کرتا ہے ۔

623۔ امام علی (ع): لوگوںمیں سب سے بڑا عقلمند وہ ہے جو ان میں خدا سے سب سے زیادہ قربت رکھتا ہے ۔

624۔ امام علی (ع): عقلمندترین انسان وہ ہے جو حق کے سامنے سراپا تسلیم ہواور اس کے حق کو ادا کرے اور حق کے سبب باعزت قرار پائے؛ لہذاحق پر قائم رہنے اور اس پر اچھی طرح عمل کرنے کو بے وقعت نہیںسمجھتا۔

625۔ امام علی (ع): عقلمندترین انسان وہ ہے ، جو ہر قسم کی پستی سے بہت دور رہتا ہے۔

626۔ امام علی (ع): عقلمند ترین انسان وہ ہے جس کی سنجیدگی اسکی بیہودگی پر غالب ہو اور عقل کی مدد سے خواہشات نفسانی پر کامیاب ہو۔

627۔ امام علی (ع): عقلمند ترین انسان وہ ہے جو جاہلوں کو سزا دینے میں صرف خاموشی کا مظاہرہ کرتا ہے۔

628۔ امام علی (ع): عقلمند ترین انسان وہ ہے جو کاموںکے انجام پرسب سے زیادہ نظر رکھتاہے ۔

629۔ امام علی (ع): عاقل وہ ہے جو اپنے عیوب پر نظر رکھتا ہے اور دوسروںکے عیوب سے چشم پوشی کرتا۔

630۔ امام علی (ع): عقلمند ترین انسان وہ ہے جو لوگوںکی معذرت کوسب سے زیادہ قبول کرتا ہے۔

631۔ امام علی (ع): سب سے بہتر عقلمندی حق کو حق سے پہچاننا ہے ۔


632۔ امام علی (ع): سب سے بہتر عقلمندی بیہودگی سے اجتناب ہے ۔

633۔ امام علی (ع): عقلمندی کے لحاظ سے لوگوںمیں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے کسب معاش کے لئے بہترین تدبیرکرے ، اور آخرت کی اصلاح کے لئے سب سے زیادہ اہتمام کرے۔

634۔ امام علی (ع): سب سے بہتر عقلمندی رشد و ہدایت ہے ۔

635۔ امام علی (ع): سب سے بہتر عقلمندی انسان کا اپنے آپ کو پہچاننا ہے ؛ جس نے خود کو پہچان لیا عقلمند ہے اور جس نے خود کو نہ پہچانا وہ گمراہ ہے ۔

636۔ امام علی (ع): سب سے بڑی عقلمندی نصیحت آموزی ہے ، سب سے بہتر دور اندیشی مدد چاہنا ہے ، اور سب سے بڑی حماقت غرورہے ۔

637۔ امام علی (ع): آپ سے منسوب کلمات قصارمیںہے ، عقلمندی کے لحاظ سے مناسب ترین انسان اور فضائل کے اعتبار سے کامل ترین انسان وہ ہے جو زمانے کی ہمراہی دشمنی کو چھوڑ کر صلح سے کرتا ہے ، دوستوں کے ساتھ مسالمت آمیز زندگی بسر کرتا ہے ، اور زمانہ کی عفو و بخشش کو قبول کرتا ہے ۔

638۔ امام صادق(ع):عقلمندی میں سب سے کامل انسان وہ ہے جو ان میں سب سے زیادہ با اخلاق ہے ۔

639۔ امام صادق(ع): سب سے بہتر فطرتِ عقل ، عبادت ہے ، اس کے لئے سب سے محکم چیز علم ہے ، سب سے اچھی بہرہ مندی حکمت ہے اور سب سے عمدہ ذخیرہ نیکیاں ہیں۔

640۔ وہب بن منبِّہ: لقمان نے اپنے بیٹے سے کہا: بیٹا! خداکی معرفت حاصل کرو اس لئے کہ جو شخص خدا کے بارے میں بیشتر معرفت رکھتا ہے وہ عقلمندترین انسان ہے اور شیطان عقلمند سے فرار کرتا ہے اور اسے فریب نہیں دے سکتا۔


چھٹی فصل عقل کی آفتیں

6/1

خواہشاتِ نفسانی

قرآن

(کیا آپ نے اس شخص کو بھی دیکھا ہے جس نے اپنی خواہش ہی کو خدا بنا لیا ہے اور خدا نے اسی حالت کو دیکھ کر اسے گمراہی میں چھوڑ دیاہے اور اس کے کان اور دل پر مہر لگا دی ہے اور اسکی آنکھ پر پردے ڈال دئےے ہیں اور خدا کے بعدکون ہدایت کر سکتا ہے کیا تم اتنا بھی غور نہیں کرتے ہو)

حدیث

641۔ امام علی (ع): عقل کی آفت بو الہوسی ہے ۔

642۔ ہوا و ہوس عقل کی آفت ہے ۔

643۔ امام علی (ع): معمولی سی خواہش نفس عقل کو تباہ کردیتی ہے۔

644۔ امام علی (ع): خواہش نفس کی پیروی عقل کو برباد کر دیتی ہے۔

645۔ امام علی (ع): خواہش نفس کا غلبہ دین اور عقل کو تباہ کر دیتاہے ۔

646۔ امام علی (ع): ہوا و ہوس، عقل کی دشمن ہے ۔


647۔ امام علی (ع): ہوا و ہوس کے مانند کوئی چیز عقل کی دشمن نہیں۔

648۔ امام علی (ع): عقل خواہشات نفسانی کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتی۔

649۔ امام علی (ع): عقل کا تحفظ خواہشات کی مخالفت اور دنیا سے دوری کے سبب ہے ۔

650۔ امام علی (ع): جو شخص اپنی شہوت پر غالب آجاتا ہے اسکی عقل آشکار ہو جاتی ہے ۔

651۔ امام علی (ع): جس شخص کی خواہشات نفسانی عقل پر غالب آجاتی ہے ذلیل ہو جاتا ہے ۔

652۔ امام علی (ع): جو شخص اپنی خواہشات نفسانی کو عقل پرمسلط کر لیتا ہے اسکی رسوائیاں آشکار ہوجاتی ہیں۔

653۔ امام علی (ع): شہوت کا ہمنشیں، بیمار نفس اور معیوب عقل کا مالک ہوتا ہے ۔

654۔ امام علی (ع): کتنی ہی عقلیں ہیں جو خواہشاتِ نفسانی، کی غلام ہیں۔

655۔ امام علی (ع): اپنی جلد بازی کو سنجیدگی سے، اپنی سطوت کو مہربانی سے اور اپنی برائیوںکو اپنی نیکیوںسے جوڑ دو، اور اپنی عقل کو خواہشات پر مسلط کردوتاکہ عقل کے مالک ہو جاؤ ۔

656۔ امام علی (ع): عقل لشکر خدا کی امیر ہے، ہوا و ہوس لشکر شیطان کی سر براہ ہے، نفس دونوں کی طرف کھنچتا ہے لہذ اجو بھی غالب آ جاتا ہے اسی کا ہو جاتا ہے۔

657۔ امام علی (ع): عقل اور شہوت ایک دوسرے کی ضد ہیں ، عقل کی حمایت کرنے والا علم ہے شہوت کو آراستہ کرنے والی ہوا و ہوس ہے نفس ان دونوں کے درمیان کشمکش کے عالم میں ہوتاہے لہذا جو بھی غالب ہو گاا سی کی طرف مائل ہو جائیگا۔

658۔ امام علی (ع): ہر وہ عقل جوشہوت کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہے اس کے لئے حکمت سے بہرہ مند ہونا حرام ہے ۔

659۔ امام علی (ع): جو خواہشات نفس سے دوری اختیار کرتا ہے اسکی عقل صحیح ہو جاتی ہے ۔


660۔ امام علی (ع): جب آپ کو خبر ملی کہ آپ کے قاضی شریح بن حارث نے اسی دینار کا ایک مکان خریدا ہے اور اس کے لئے بیعنامہ بھی لکھا ہے اور اس پر گواہی بھی لے لی ہے تو اپنے ایک خط میں سرزنش و ملامت کرنے کے بعد تحریر فرمایا: میری ان باتوں کی گواہی وہ عقل دیگی جو خواہشات کی قید سے آزاد اور دنیا کی وابستگی سے محفوظ ہے ۔

661۔ امام علی (ع): جو شخص کسی چیز کاعاشق ہو جاتا ہے وہ اسے اندھا بنا دیتی ہے اور اس کے دل کو بیمار کر دیتی ہے : وہ دیکھتا بھی ہے توغیرسالم آنکھوںسے اور سنتا بھی ہے تو نہ سننے والے کانوںسے ، خواہشات نے ان کی عقلوں کو پارہ پارہ کر دیا ہے اور دنیا نے ان کے دلوںکو مردہ بنا دیا ہے ۔

662۔ امام علی (ع): عقل چھپانے والا پردہ ہے اور فضیلت ظاہری جمال ، لہذا اپنے اخلاق کے نقائص کو اپنی فضیلت کے ذریعہ چھپاؤ، اور اپنی خواہشات کو عقل کے ذریعہ موت کے گھاٹ اتار دو تاکہ تمہاری دوستی سالم اور محبت آشکار ہو جائے۔

663۔ امام علی (ع): خواہشات نفس اور شہوت سے عقل برباد ہو جاتی ہے۔

664۔ امام علی (ع): عقل اور شہوت دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتی ہیں۔

665۔ امام علی (ع): شہوت کے ساتھ عقل نہیں ہو سکتی۔

669۔ امام علی (ع): جو اپنی شہوت کامالک نہیں ہے وہ اپنی عقل کابھی مالک نہیںہے۔

667۔ امام علی (ع): خواہشات کی مخالفت کے مانند کوئی عقلمندی نہیں۔

668۔ امام علی (ع): خواہشات نفسانی بیدار ہے اور عقل سوئی ہوئی ہے ۔


6/2

گناہ

669۔ رسول خدا(ص): جو شخص گناہ کا مرتکب ہوتا ہے ، عقل اسے چھوڑ کر چلی جاتی ہے پھر اسکی طرف کبھی نہیں پلٹتی۔

6/3

دل پر مہرلگنا

قرآن

( جو لوگ آیات الہی میں بحث کرتے ہیں بغیر اس کے کہ ان کے پاس خدا کی طرف سے کوئی دلیل آئے وہ اللہ اور صاحبان ایمان کے نزدیک سخت نفرت کے حقدار ہیں اور اسی طرح ہر مغروروسرکش انسان کے دل پر مہر لگا دیتا ہے )

( اسکے بعد ہم نے مختلف رسول انکی قوم کی طرف بھیجے اور وہ انکے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لیکر آئے لیکن وہ لوگ پہلے کے انکار کرنے کی بنا پر انکی تصدیق نہ کر سکے اور ہم اسی طرح ظالموں کے دل پر مہر لگا دیتے ہیں)

( بیشک اسی طرح خدا ن لوگوں کے دلوںپر مہر لگا دیتا ہے جو علم رکھنے والے نہیں ہیں)

(یہ وہ بستیاں ہیں جنکی خبریں ہم آپ سے بیان کر رہے ہیں کہ ہمارے پیغمبر انکے پاس معجزات لیکر آئے، مگر پہلے سے تکذیب کرنے کی بنا پر یہ ایمان نہ لا سکے ہم اسی طرح کا فروںکے دلوں پر مہر لگا دیا کرتے ہیں)


حدیث

670۔ رسول خدا(ص): مہر ستون عرش پر آویزاں ہے ، لہذا جب ہتک حرمت کی جاتی ہے ، گناہوں کا ارتکاب ہوتا ہے اور خدا کے متعلق لا پروائی رواج پاتی ہے تو خدا مہر کو ابھارتا ہے اور اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے پھر اس کے بعد وہ کوئی چیزنہیں سمجھتا ہے ۔

671۔ رسول خدا(ص): طمع کو اپنا شعار قرار دینے سے پرہیز کرو چونکہ طمع دل کو شدید حرص سے مخلوط اور حب دنیا کی مہر دلوں پر لگادیتی ہے ۔

672۔ امام حسین (ع): جب عمر ابن سعد نے اپنے سپاہیوں کو امام حسین (ع) سے جنگ کےلئے آمادہ کیا اور حضرت کو ہر جانب سے حلقہ کی صورت میں گھیر لیا!توامام حسین (ع) خیمہ سے بر آمد ہوئے اور لوگوں کے سامنے آئے، انہیں خاموش ہونے کو کہا لیکن وہ چپ نہ ہوئے تو فرمایا:وائے ہوتم پر! اگر تم خاموش ہو کر میری باتوں کو سنو تو تمہارا کیا نقصان ہے! میں تمہیں راہ ہدایت کی دعوت دیتا ہوں......تم سب میری نافرمانی کر رہے ہو اور میری بات نہیں سنتے؛ یقینا تمہارے پیٹ حرام سے پر ہیں اور تمہارے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے ۔

673۔ امام باقر(ع): نے خدا کے قول( ان کے پاس ایسے دل ہیںکہ جنکے ذریعہ نہیں سمجھتے) کی تفسیر کے متعلق فرمایا: خدا نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے لہذا کچھ نہیں سمجھتے۔


6/4

آرزو

674۔ امام علی (ع): یاد رکھو! کہ آرزو عقل کو فراموشی سے دو چار اور یاد خدا سے غافل بنا دیتی ہے ۔

675۔امام علی (ع): بیشک آرزو عقل کو برباد اور وعدوں کی تکذیب کرتی ہے ، نیز غفلت پر ابھارتی اور حسرت کا باعث ہوتی ہے ۔

676۔ امام علی (ع): جس کی آرزو طولانی ہے وہ عقلمند نہیں۔

6/5

تکبر

677۔ امام علی (ع): عقل کی بدترین آفت تکبر ہے ۔

678۔ امام باقر(ع): تکبر کسی شخص کے دل میں پیدا نہیں ہو سکتا مگر یہ کہ تکبر کے تناسب سے اسکی عقل گھٹ جاتی ہے چاہے کم ہو یا زیادہ۔


6/6

فریب

679۔ امام علی (ع):کسی کے فریب میں آنا ہے عقل کی بربادی

680۔ امام علی (ع): عقلمند فریب میں نہیں آتا۔

681۔ امام علی (ع): اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو کہ جس طرح وہ صاحب عقل ڈرتاہے جس کے دل کو فکر آخرت نے مشغول کر لیاہو.....اور فریب کے بھندوں میں نہ پھنسا ہو۔

6/7

غیظ و غضب

682۔ امام علی (ع): غیظ و غضب عقل کو تباہ اور حقیقت سے دور کرتا ہے ۔

683۔ امام علی (ع): وہ شخص جوغضب و شہوت سے مغلوب ہے اسے عاقل تصور کرنا مناسب نہیں ہے۔

684۔ امام علی (ع): تعصب نفس، غیظ و غضب کی شدت، ہاتھ سے حملہ اور زبان کی تیزی پر قابو رکھو۔ ان تمام کا تحفظ تیزی میںتاخیر اور حملہ سے پرہیز کے ذریعہ کرو تاکہ تمہارا غضب کم ہو جائے اور تمہاری عقل تمہاری طرف پلٹ آئے۔

685۔ امام علی (ع): غیظ و غضب اور شہوت کے سبب بیمار ہونے والی عقل حکمت سے فیضیاب نہیں ہوتی۔

686۔ امام علی (ع): جو شخص اپنے غیظ و غضب پر قابو نہیںرکھتا وہ اپنی عقل کا مالک نہیں ہے۔


6/8

حرص و طمع

687۔ امام علی (ع): عقلوں کی تباہی کی بیشتر منزلیں حرص و طمع کی چمک دمک کے ماتحت ہیں۔

688۔ امام کاظم (ع): نے ہشام بن حکم ۔ سے فرمایا: اے ہشام! حرص و طمع سے پرہیز کرو، جو کچھ لوگوںکے پاس ہے اس سے نا امید رہو، اور ان کی طرف سے لالچ کو ختم کر دو کیونکہ لالچ ذلت کی کنجی ، عقل کی تباہی، دلیری کا زوال، آبرو کی آلودگی اور علم کی پامالی ہے......

6/9

خود پسندی

689۔ امام علی (ع): انسان کا خودپسندی میں مبتلا ہو جانا خود اپنی عقل سے حسد کرنا ہے ۔

690۔ امام علی (ع): انسان کی خود بینی ، عقل کی کمزوری کی دلیل ہے ۔

691۔ امام علی (ع): انسان کی خودبینی کم عقلی کی دلیل او ر ضعف عقل کی نشانی ہے ۔

692۔ امام علی (ع): خود بینی عقل کو تباہ کر دیتی ہے ۔

693۔ امام علی (ع): عقل کی آفت خود بینی ہے ۔

694۔ امام علی (ع): خود بینی صواب و درستی کی ضد اور عقلوں کی آفت ہے ۔

695۔ امام علی (ع):خود پسندعقل نہیں رکھتا۔


696۔ امام علی (ع): انسان کا خود پسند ہونا اسکی سبک عقلی کی دلیل ہے ۔

697۔ امام علی (ع): جو شخص اپنے کام سے خوش ہوتا ہے اسکی عقل بیمارہے ۔

698۔ امام علی (ع):جس شخص کو اپنی ہی بات بھلی لگتی ہے اس کا عقل سے واسطہ نہیں ہوتا۔

699۔ امام علی (ع): خود پسند ہونا، عقل کی تباہی کی نشانی ہے ۔

6/10

عقل سے بے نیاز ہونا

700۔ امام علی (ع): نے اپنے بیٹے امام حسین کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: جواپنی عقل سے بے نیازہوا وہ گمراہ ہو گیا۔

701۔ امام علی (ع): اپنی عقل کو متہم قرار دو ، چونکہ اس پر اعتماد خطاء کا سرچشمہ ہے ۔

6/11

حب دنیا

702۔ امام علی (ع): عقل کی تباہی کا سبب حب دنیا ہے ۔

703۔ امام علی (ع): حب دنیا، عقل کو تباہ اور دل کو حکمت سننے سے تھکادیتی ہے اور درد ناک عذاب کا باعث ہوتی ہے ۔

704۔ امام علی (ع): دنیا کی زیبائی ، کمزور عقلوںکو تباہ کر دیتی ہے ۔

705۔ امام علی (ع): دنیا عقلوںکی بربادی کی منزل ہے ۔


706۔ امام علی (ع): دنیا سے گریز کرو اور اپنے دلوںکو اس سے بازرکھو، اس لئے کہ دنیا مومن کے لئے قید خانہ ہے اس میں اس کا حصہ کم ہے مومن کی عقل اس کے سبب علیل اور اس میں اس کی نگاہ کمزور ہے ۔

707۔ امام علی (ع):نے اہل دنیا کی توصیف میںفرمایا: یہ سب چوپائے ہیں جن میں سے بعض بندھے ہوئے ہیں اور بعض آوارہ ۔ جنہوںنے اپنی عقلیں گم کر دی ہیں اور نا معلوم راستہ پر چل پڑے ہیں۔

708۔ امام علی (ع): نے اپنے اصحاب کو مخاطب کرکے فرمایا: حیف ہے تمہارے حال پر، میں تمہیں ملامت کرتے کرتے تھک گیا، کیا تم لوگ واقعا آخرت کے عوض زندگانی دنیا پر راضی ہو گئے اور تم نے ذلت کو عزت کا بدل سمجھ لیا ہے ؟ جب میں تمہیں دشمن سے جہاد کی دعوت دیتا ہوں تو تم آنکھیں پھیر نے لگتے ہو، جیسے موت کی بیہوشی طاری ہو اور غفلت کے نشہ میں مبتلا ہو، تم پر جیسے میری گفتگو کے دروازے بند ہو گئے ہیں کہ تم گمراہ ہوتے جا رہے ہو اور تمہارے دلوں پر دیوانگی کا اثر ہو گیا ہے کہ تمہاری سمجھ ہی میں کچھ نہیں آرہا ہے ۔

709۔ عبد اللہ بن سلام: خدا وند توریت میں فرماتا ہے: بیشک قلوب حب دنیا سے وابستہ ہیں اور عقلوں پر میرے لئے پردہ پڑا ہوا ہے ۔

710۔ الاختصاص: خدا نے جناب داؤد سے فرمایا: اے داؤد! شہوات دنیا سے وابستہ دلوں سے بچو کہ ان کی عقلوں پر میرے لئے پردہ پڑا ہوا ہے ۔


6/12

مے کشی

711۔ امام علی (ع): خدا نے شراب خوری کے ترک کو عقل کی حفاظت کے لئے واجب کیا ہے ۔

712۔ امام علی (ع): خدا نے شراب کو حرام کیا ہے ، اس لئے کہ اس میں تباہی ہے، اور شراب خوروںکی عقلوںکو تبدیل کر دیتی ہے ، نیز انکار خداا ور اللہ اور اس کے رسولوںپربہتان، دوسری تباہیوں اور قتل کا موجب ہے ۔

6/13

پانچ چیزوں کی مستی

713۔ امام علی (ع): مناسب ہیکہ عقلمند خود کو مال کی مستی ، قدرت کی مستی ، علم کی مستی ، مدح و تعریف کی مستی اور جوانی کی مستی سے محفوظ رکھے؛ کیوں کہ یہ سب ناپاک بدبودار ہوائیںہیں کہ عقل کو سلب کرتی اور وقار کو سبک بناتی ہیں۔


6/14

زیادہ لہوو لعب

714۔ امام علی (ع): جو زیادہ لہو و لعب میں مبتلا ہوتا ہے اسکی عقل کم ہو جاتی ہے ۔

715۔ امام علی (ع): جو شخص کھیل کا عاشق اور عیش و نشاط کا شیدائی ہوتا ہے ، عقلمند نہیں ہے ۔

716۔ امام علی (ع): عقل کھیل کو د سے نتیجہ خیز نہیں ہوتی ہے۔

717۔ امام علی (ع): جس شخص پر ہنسی مذاق کا غلبہ ہوتا ہے اسکی عقل تباہ ہو جاتی ہے ۔

718۔ امام علی (ع): جو شخص زیادہ ہنسی مذاق میں مبتلا رہتا ہے اسکی بیہودگی بڑھ جاتی ہے ۔

6/15

بیکاری

719۔ امام صادق(ع): ترک تجارت عقل کو کم کر دیتا ہے ۔

720۔ امام صادق(ع): ترک تجارت عقل کو زائل کر دیتا ہے ۔

721۔ فضیل اعور : کا بیان ہے کہ ، میں نے دیکھا کہ معاذ بن کثیر نے امام صادق(ع) سے عرض کیا: میں مالدار ہو چکا ہوں لہذا تجارت کو چھوڑنا چاہتا ہوں! امام نے فرمایا: اگر تم نے ایسا کیا تو تمہاری عقل کم ہو جائیگی۔( یا اس کے مانند امام نے کوئی جملہ کہا ہے)


722۔ کپڑے فروش معاذ: کا بیان ہے کہ امام صادق(ع) نے مجھ سے فرمایا: اے معاذ! کیا تجارت کرنے کی توانائی نہیں رکھتے یا اس سے بے رغبت ہو گئے ہو؟! میں نے عرض کیا نہ ناتواں ہو ا ہوں اور نہ ہی اس سے اکتایا ہوںفرمایا: پھرکیا وجہ ہے ؟ میں نے عرض کیا: آپ کے حکم کا منتظر تھا، جب ولید قتل ہوا اس وقت میرے پاس کافی مال تھا اور کسی کی کوئی چیز میرے پاس نہیں تھی ، اور گمان کرتا ہوں کہ تا زندگی کھاؤ نگا اور ختم نہیںہوگا، پس فرمایاتجارت نہ چھوڑوکیونکہ بیکاری عقل کو زائل کر دیتی ہے ، اپنے اہل و عیال کے لئے کوشش کرو؛ ایسا نہ کرو کہ وہ تمہاری بد گوئی کریں۔

723۔ اسباط بن سالم(ہندوستانی کپڑے بیچنے والے) کا بیان ہے کہ ایک روز امام صادق ؑ نے کھدر کے کپڑے فروخت کرنے والے معاذ کے متعلق سوال کیا اور میں بھی وہاں موجود تھا، کہا گیا: کہ معاذ نے تجارت چھوڑ دی ہے ، امام نے فرمایا! شیطان کا عمل ہے؛ شیطان کا عمل ہے ؛ یقینا جو شخص تجارت کو چھوڑ دیتا ہے اسکی دو تہائی عقل زائل ہو جاتی ہے ۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ جب شام سے قافلہ پہنچا تو رسول خدا(ص) نے ان سے خریداری کی اور ان سے تجارت کی اور فائدہ حاصل کیا اور اپنے قرض کو ادا فرمایا۔

6/16

زیادہ طلبی

724۔ امام علی (ع):ضرورت سے زیادہ طلب کرنے کے سبب عقلیں ضائع ہو جاتی ہیں۔


6/17

نادان کی ہمنشینی

725۔ امام علی (ع): جو شخص نادان کی ہمنشینی اختیار کرتا ہے اسکی عقل کم ہو جاتی ہے ۔

726۔ امام علی (ع): عقل کی نابودی کا سبب نادانوں کی ہمنشینی ہے ۔

6/18

حد سے تجاوز کرنا

727۔ امام علی (ع): جو اپنی حد اور حیثیت سے تجاوز کرتاہے عقلمند نہیں ہے ۔

728۔ امام علی (ع): جو شخص اپنی بساط سے زیادہ قدم اٹھاتاہے عقلمند نہیںہے ۔

6/19

بیوقوفوں سے مجادلہ

729۔ امام علی (ع): جو شخص بیوقوفوں سے مجادلہ کرتا ہے عقلمند نہیں ہے ۔


6/20

عاقل کی بات پر کان نہ دھرنا

730۔ امام علی (ع): جو شخص صاحبان عقل کی باتیں نہیں سنتا اسکی عقل مردہ ہو جاتی ہے ۔

731۔ امام کاظم (ع): نے ۔ہشام بن حکم ۔ سے فرمایا: اے ہشام! جو شخص تین چیزوں کو تین چیزوں پر مسلط کریگا، گویا اس نے اپنی عقل کی پامالی میںمدد کی ہے: جس نے طولانی آرزو کے سبب اپنے چراغ فکر کو بجھا دیا، جس نے حکمت کی خوبیوں کو فضول کلامی کے باعث محو کر دےا، اور جس نے اپنی شہوات نفسانی کے ذریعہ عبرت آموزی کے نور کو خاموش کر دےا ، تو گویا اس نے اپنی عقل کی تباہی میں اپنی ہوا و ہوس کی مدد کی اور جس نے اپنی عقل تباہی کی اسکی دنیاو دین دونوں برباد ہو جائیں گے ۔

6/21

جنگلی جانور اور گائے کا گوشت

732۔ امام رضا(ع): جنگلی جانوراور گائے کا گوشت زیادہ کھانے کے سبب عقل میں تبدیلی ، فہم میں حیرانی ، کند ذہنی اور بیشتر فراموشی پیدا ہو تی ہے ۔


ساتویں فصل عاقل کے فرائض

7/1

عاقل کے واجبات

قرآن

(اے صاحبان عقل اللہ سے ڈرتے رہو شاید کہ تم اس طرح کامیاب ہو جاؤ)

( اے ایمان والو! اور عقل والو اللہ سے ڈرو کہ اس نے تمہاری طرف اپنے ذکر کو نازل کیا ہے )

حدیث

733۔ رسول خدا(ص): چار چیزیں میری امت کے ہر عاقل و خرد مند پر واجب ہیں۔ دریافت کیا گیا، اے رسول خدا وہ چار چیزیں کیا ہیں: فرمایا: علم کا سننا، اس کا محفوظ رکھنا، نشر کرنا اور اس پر عمل کرنا۔

734۔ رسول خدا(ص): عاقل وہ ہے جو خدا کی اطاعت کرتا ہے گرچہ بد صورت اور پست مقام رکھتا ہو۔

735۔ رسول خدا(ص): جب عقل کے بارے میں پوچھا گیا۔ تو فرمایا: (عقل) طاعت خدا پر عمل ہے اور یقینا خدا کے احکام پر عمل کرنے والے ہی عقلمند ہوتے ہیں۔


736۔ رسول خدا(ص): اپنے رب کی اطاعت کرو عقلمند کہے جاؤ گے اور معصیت نہ کرو کہ جاہل کہے جاؤ گے ۔

737۔ امام علی (ع): عاقل وہ ہے جو اپنے پروردگار کی اطاعت کی خاطر اپنی خواہشات نفس کی مخالفت کرتا ہے ۔

738۔ امام علی (ع): اگر خدائے سبحان نے اپنی طاعت کی ترغیب نہ بھی کی ہوتی تو بھی وہ مستحق تھا کہ اسکی رحمت کی امید سے اسکی طاعت کی جائے ۔

739۔ امام علی (ع)؛ آپ سے منسوب کلمات قصارمیں ہے۔ عقلمند پر لازم ہے کہ حکمت کے ذریعہ عقل کو زندہ کرنے کےلئے زیادہ کوشاں رہے ان غذاؤں کی نسبت کہ جن سے اپنے جسم کو زندہ رکھتا ہے ۔

740۔ امام علی (ع): اللہ کے بندو! اللہ سے ڈرو! اسطرح جسطرح وہ صاحب عقل ڈرتا ہے جسکے دل کو فکر آخرت نے مشغول کر لیا ہو اور اسکا بدن خوفِ خدا سے خستہ حال ہے اور شب داری نے اسکی بچی کھچی نیند کو بھی شب بیداری میں بدل دیا ہو اور امیدوںنے اسکے دل کی تپش کو پیاس میں گذار دیا ہو ۔اور زہد نے اسکے خواہشات کو پیروں تلے روند دیا ہو اور ذکر خدا اسکی زبان پر تیزی سے دوڑ رہا ہو اور اس نے قیامت کے امن و امان کےلئے یہی خوف کا راستہ اختیار کر لیاہو اور سیدھی راہ پر چلنے کےلئے ٹیڑھی راہوں سے کترا کر چلا ہو اور مطلوب راستے تک پہنچنے کےلئے درمیانی راستہ اختیار کیا ہو،۔ نہ خوش فریبیوں نے اس میں اضطراب پیدا کیا ہو اور نہ مشتبہ امور نے اسکی آنکھوںپر پردہ ڈالا ہو، بشارت کی مسرت اور نعمتوںکی راحت بہترین نیند اور پر امن ترین دن میں حاصل کر لی ہو۔

دنیا کی گذر گاہ سے قابل تعریف انداز سے گذر جائے اور آخرت کا زاد راہ نیک بختی کے ساتھ آگے بھیج دے وہاںکے خطرات کے پیش نظر عمل میں سبقت کی اور مہلت کے اوقات میں تیز رفتاری سے قدم بڑھایا، طلب آخرت میں رغبت کےساتھ آگے بڑھا اور برائیوں سے مسلسل فرار کرتا رہا۔ آج کے دن کل پر نگاہ رکھی، اور ہمیشہ اگلی منزلوںکو دیکھتا رہا۔

لہذا یقینا ثواب و عطا کےلئے جنت اور عذاب و وبال کےلئے جہنم سے بالا تر کیا ہے اور پھر خدا سے بہتر مدد کرنے والا اور انتقام لینے والا کون ہے اور قرآن کے علاوہ حجت اور سند کیا ہے ۔


7/2

عاقل کے لئے حرام اشیائ

قرآن

(کہدیجئے کہ آؤ ہم تمہیں بتائیں کہ تمہارے پروردگار نے کیا کیا حرام کیا ہے ، خبردار کسی کو اسکا شریک نہ بنانا اور ماں باپ کےساتھ اچھا برتاؤ کرنا اپنی اولاد کو غربت کی بنا پر قتل نہ کرنا کہ ہم تمہیں بھی رزق دے رہے ہیں اور انہیں بھی، اور بدکاریوں کے قریب نہ جانا وہ ظاہرہوں یا چھپی ہوئی اور کسی ایسے نفس کو جسے خدا نے حرام کر دیا ہے قتل نہ کرنا مگر یہ کہ تمہارا کوئی حق ہو، یہ وہ باتیں ہیں جنکی خدا نے تمہیں نصیحت کی ہے تاکہ تمہیں عقل آجائے)

حدیث

741۔ امام علی (ع): اگر خدا نے محرمات سے روکا نہ بھی ہوتا تو بھی وہ مستحق تھا کہ عقلمند ان سے اجتناب کرے۔

742۔ امام علی (ع): اگر خدا نے اپنی نافرمانی پر عتاب کا وعدہ نہ بھی کیا ہوتا تو بھی وہ مستحق تھا کہ شکر نعمت کے عنوان سے اسکی نافرمانی نہ کی جائے ۔

743۔ امام علی (ع): منعم کم از کم جس چیز کا استحقاق رکھتا ہے وہ یہ ہےکہ اسکی نعمتوں کے سبب اسکی نافرمانی نہ کی جائے۔

744۔ امام علی (ع): گناہوں سے پرہیزعقلمندوںکی صفت اور بزرگواروںکی عادت ہے ۔

745۔ امام علی (ع): عقلمند وہ ہے جو گناہوںسے دور اور لغزشوں سے پاک ہوتاہے ۔


746۔ امام علی (ع): عقلمند کی کوشش گناہوں کے ترک اور عیوب کی اصلاح کے لئے ہوتی ہے ۔

747۔ امام علی (ع): عقل برائیوں سے پاک کرتی ہے اور نیکیوں کا حکم دیتی ہے۔

748۔ امام علی (ع): عاقل جھوٹ نہیں بولتا اور مومن زنا کا ارتکاب نہیں کرتا۔

749۔ امام علی (ع): فطرت عقل برے کاموں سے روکتی ہے ۔

750۔ امام علی (ع): عقلمندی کی نشانی اسراف سے اجتناب اور اچھی تدبیرہے ۔

751۔ امام علی (ع): دور اندیشی کے لئے اسکی عقل کی بدولت پستیوں سے ایک باز رکھنے والا ہوتا ہے ۔

752۔ امام علی (ع): عقل کی اساس، پاکدامنی اور اس کا پھل گناہوں سے بیزاری ہے ۔

753۔ امام علی (ع): دلوں کے لئے برے خیالات ہیں لیکن عقلیں دلوں کوان سے باز رکھتی ہیں۔

754۔ امام علی (ع): نفوس آزاد ہیں لیکن عقلیں انہیں آلودگیوں سے باز رکھتی ہیں۔

755۔ امام علی (ع): عقلمند جھوٹ نہیں بولتا چاہے اس کے فائدہ ہی میں ہو۔


7/3

عاقل کے لئے مناسب اشیائ

756۔ رسول خدا(ص): عاقل اگر عاقل ہے تو اسے چاہئے کہ اپنے دن کے اوقات کو چار حصوں میں تقسیم کرے: ایک حصہ میں ، اپنے پروردگار سے مناجات کرے، ایک حصہ میں اپنے نفس کا محاسبہ کرے، ایک حصہ میںایسے صاحبان علم کے پاس جائے جو اسے دین سے آشنا اور نصیحت کریں اور ایک حصہ کو اپنے نفس اور دنیا کی حلال و حسین لذتوںکے لئے مخصوص کرے۔

757۔ ابو ذر غفاری: میں نے پوچھا اے رسول خدا: صحف ابراہیم میں کیا تھا؟ فرمایا: اس میں امثال اور عبرتیں تھیں: اگر عقلمند کی عقل مغلوب نہیں ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ اپنی زبان کی حفاظت کرے ، اپنے زمانہ سے واقفیت رکھے اور اپنے کام کی طرف متوجہ رہے ، یقینا ہر وہ شخص جس کا کلام اس کے عمل کے مطابق ہوتاہے تو وہ کم سخن ہو جاتاہے مگر یہ کہ جو اس سے مربوط ہو۔

758۔ رسول خدا(ص): مناسب ہے کہ عاقل تین چیزوںکے علاوہ گھر سے باہر قدم نہ نکالے: کسب معاش کےلئے، یا آخرت کے لئے یا غیر حرام سے لذت کے لئے۔

759۔ رسول خدا(ص):نے علی (ع): کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا:اے علی ! مناسب نہیں ہے کہ عاقل تین چیزوںکے علاوہ گھر سے قدم نکالے : کسب معاش کے لئے ، قیامت کے لئے زادراہ مہیا کرنے کے لئے اورغیر حرام سے لذت اندوزی کے لئے ۔

760۔ رسول خدا(ص): عاقل کے لئے ضروری ہے کہ اپنے زمانہ سے آگاہی رکھتا ہو۔

761۔ امام علی (ع): نے ۔ اپنے بیٹے اما م حسن ؑ۔ کو وصیت کرتے ہوئے ۔ فرمایا: بیٹا! عاقل کے لئے ضروری ہے کہ اپنے موقع کی نزاکت کو دیکھے۔ اپنی زبان کی حفاظت کرے اور اہل زمانہ کو پہچانے۔


762۔ امام صادق(ع): فرماتے ہیں کہ حکمت آل داؤدمیں ہے عقلمند کےلئے لازم ہےکہ وہ اپنے زمانہ سے واقف ہو، اپنی حیثیت کی طرف متوجہ ہو اور اپنی زبان پر قابو رکھے۔

763۔ رسول خدا(ص): خدا پر ایمان کے بعدعقل کا سرمایہ ، حیا اور حسن اخلاق ہے ۔

764۔ رسول خدا(ص):خدا پر ایمان کے بعد عقل کا سرمایہ لوگوںسے اظہار محبت ہے ۔

765۔ رسول خدا(ص): دین کے بعد عقل کاسرمایہ لوگوںکے ساتھ اظہار محبت اور ہر اچھے اور برے کے ساتھ نیکی کرنا ہے ۔

766۔ رسول خدا(ص): عقل کی اساس مہربانی کرنا ہے ۔

767۔ رسول خدا(ص): خدا پر ایمان کے بعد عقل کا سرمایہ لوگوںکے ساتھ مہربانی کرنا ہے مگر یہ کہ کوئی حق ضائع نہ ہو۔

768۔ امام علی (ع): عقل کا سرمایہ کاموں میں اطمینان ہے اور حماقت کا سرمایہ عجلت پسندی ہے ۔

769۔ اما م حسن ؑ: عقل کا سرمایہ لوگوںکے ساتھ حسن ِ معاشرت ہے ۔

770۔ امام علی (ع): عقل کا سرمایہ خواہشات نفسانی سے جہاد ہے ۔

771۔ امام علی (ع): عقل کے ذریعہ خواہشات نفسانی کا مقابلہ کرو۔

772۔ امام علی (ع): جس شخص کی عقل اسکی خواہشات پر غالب آگئی وہ کامیاب ہو گیا۔

773۔ امام علی (ع): جس شخص کی عقل اسکی شہوت پراور بردباری اس کے غیظ و غضب پر غالب آجائے تو وہ حسن سیرت کا مستحق ہے ۔

774۔ امام علی (ع): غیظ و غضب کا خاموشی کے سبب اور شہوت کا عقل کے ذریعہ علاج کرو۔


775۔ امام علی (ع): خواہشات نفسانی کو اپنی عقل کے ذریعہ قتل کر دو تاکہ ہدایت یافتہ ہو جاؤ۔

776۔ امام علی (ع): بردباری چھپانے والا پردہ ہے اورعقل شمشیر براں ہے ، لہذا اپنے اخلاق کی کمیوںکو بردباری سے چھپاؤ اور خواہشات کو عقل کے ذریعہ قتل کردو۔

777۔ امام علی (ع): خبردار، خبردار، اے سننے والو!کوشش، کوشش، اے عقلمندو! آگاہ شخص کے مانند تمہیں کوئی خبر نہیںدے سکتا۔

778۔ امام علی (ع): لہو و لعب میں مبتلا عاقل ہدایت تک نہیں پہنچتا لیکن کوشش اور جد و جہد کرنے والا پہنچتا ہے ۔

779۔ امام علی (ع): ضروری ہے کہ عاقل قیامت کے لئے کوشش کرے اور زیادہ سے زیادہ توشہ فراہم کرے۔

780۔ امام علی (ع): عاقل کے لئے سزاوار ہے کہ ہمیشہ رہنمائی کا خواہاں ہو اور خود رائی ترک کر دے۔

781۔ امام علی (ع): مناسب ہے کہ عاقل کسی بھی حالت میں اطاعت پروردگار اور جہاد بالنفس سے دستبردار نہ ہو۔

782۔ امام علی (ع): عاقل کے لئے ضروری ہے کہ اپنے مال کے سبب تعریف حاصل کرے اور خود کو سوال سے محفوظ رکھے۔

783۔ امام علی (ع): عاقل کے لئے سزاوار ہے کہ علماء اور ابرار کی ہمنشینی زیادہ سے زیادہ اختیار کرے ، اور اشرار و فجار کی ہمنشینی سے پرہیز کرے۔

784۔ امام علی (ع): عاقل کے لئے ضروری ہے کہ جب تعلیم دے تو سختی سے پیش نہ آئے اور جب تحصیل کرے تو لاپروائی نہ کرے۔

785۔ امام علی (ع): عاقل کے لئے ضروری ہے کہ جب جاہل کو خطاب کرے تو اس طرح کرے جیسے طبیب، مریض سے کرتاہے ۔


786۔ امام علی (ع): عاقل کے لئے ضروری ہے کہ اپنے چہرے کو آئینہ میں دیکھے اگر حسین ہے تو اس کے ساتھ قبیح عمل کو مخلوط نہ کرے کہ حسن و قبیح یک جا ہو جائیں ، اور اگر قبیح ہو ، تو بھی قبیح عمل انجام نہ دے کہ دو قبیح یک جا ہو جائیں گے۔

787۔ امام علی (ع): عاقل کے لئے ضروری ہے کہ جب کسی مصیبت میں گرفتار ہو جائے تو صبرکرے یہاں تک کہ اس کا وقت گذر جائے، چونکہ اس کا وقت گذرنے سے قبل اس کے دور کرنے کی کوشش مزید رنج کا باعث ہوگی ۔

788۔ امام علی (ع): ضروری ہے کہ انسان کا علم اس کے نطق سے زیادہ ہو اور اسکی عقل اسکی زبان پر غالب ہو۔

789۔ امام علی (ع): آ پ سے منسوب کلمات قصارمیںہے ، عاقل کے لئے ضروری ہے کہ ضرورت کے وقت نرمی سے پیش آئے اور ہر زہ سرائی سے پرہیز کرے۔

790۔ امام علی (ع): آپ سے منسوب کلمات قصارمیںہے ۔ عاقل کے لئے سزاوار ہے کہ غذا کی لذت کے وقت دوا کی تلخی کو یاد کرے۔

791۔امام علی (ع): آپ سے منسوب کلمات قصارمیں ہے ۔ عاقل کے لئے ضروری ہے کہ اپنی نیکی و خوبی کو جاہل، پست اور بیوقوفوں کے سپرد نہ کرے، اس لئے کہ جاہل خوبی کو نہیں پہچانتا اور نہ ہی اس کا شکر کرتا ہے ۔

792۔امام صادق(ع): عاقل کے لئے ضروری ہیکہ سچا ہو تاکہ اس کے قول پر اعتماد کیا جائے اور شکر گذار ہو تاکہ شکر فراوانی (نعمت) کا موجب ہو۔

793۔ امام علی (ع): عاقل کے لئے ہر کام میں نیکی ہے اور جاہل کے لئے ہر حالت میں خسارہ ہے ۔

794۔ امام علی (ع): عاقل کے لئے ہر کام میں ریاضت ہے ۔

795۔ امام علی (ع): عاقل کے لئے ہر کلمہ میں شرافت و فضیلت ہے ۔


796۔ امام علی (ع): عاقل کے لئے ضروری ہے کہ دین ، رائے ، اخلاق اور ادب میں اپنی برائیوںکو شمار کرے اور انہیں اپنے سینہ یا ڈائری میں لکھے پھر ان کے ازالہ کی کوشش کرے۔

797۔ امام صادق(ع): عاقل کے لئے علم و ادب کا سیکھنا ضروری ہے کیوں کہ اسی پر اس کا دار و مدار ہے۔

798۔ امام صادق(ع): زیارت امام حسین (ع) میں ۔ فرماتے ہیں: بار الٰہا: بیشک میںگواہی دیتا ہوںکہ یہ قبر تیرے حبیب اور خلق میں تیرے برگزیدہ کے فرزند کی ہے ، وہ تیری کرامت کے سبب کامیاب ہیں ، تونے ان کواپنی کتاب کے ذریعہ مکرم کیا ہے ، تونے ان کو اپنی وحی کا امین شمار کیا ہے اور ان کو اس سے مخصوص کیا ہے ، تونے ان کو انبیاء کی میراث عطا کی ہے، اور ان کو اپنی مخلوق پر حجت قرار دیا ہے تو انہوںہے بھی اتمام حجت میں امت سے تمام عذر کو دور کر دیا اور تیری راہ میں اپنا خون بہایا تاکہ تیرے بندوں کو گمراہی و جہالت ، تاریکی اور شک و تردید سے نجات دیں اور تباہی و پستی سے ہدایات و روشنی کی طرف رہنمائی کریں۔

799۔ امام صادق(ع): روز اربعین زیارت امام حسین (ع) میں۔ فرماتے ہیں: خدایا! میں گواہی دیتا ہوںکہ وہ تیرے دوست اور تیرے ولی کے فرزند اور تیرے برگزیدہ اور گزیدہ کے فرزند ہیں۔ تیری کرامت پر فائز ہیں، تونے انکو شہادت کے ذریعہ مکرم کیا ہے، اور انکو سعادت سے مخصوص کیا ہے ، انکو پاکیزگی ولادت کے ساتھ منتخب کیاہے، اور انکو سرداروں میں سے سردار بنا یا ہے، اور قائدوں میںسے قائد بنایا ہے ، اور اسلام سے دفاع کرنے والوں میں ایک بڑا دفاع کرنے والا بنایا ہے اور تونے انکو انبیاء کی میراث عطا کی ہے ، اور اپنے اوصیاء میں سے انکو اپنی مخلوق پر حجت قرار دیا ہے تو انہوںنے بھی اتمام حجت میں امت سے تمام عذر کو دور کر دیا اور امت کی نصیحت کو انجام دیا اور تیری راہ میں اپنا خون بہایا تاکہ تیرے بندوں کو جہالت اور گمراہی کی حیرانی سے نجات دیں۔

800۔ امام کاظم (ع): عاقل کے لئے ضروری ہے کہ۔ جب کوئی کام انجام دے تو خدا سے شرم کرے اور جب نعمتوں سے سرشار ہو تو اپنے ساتھ اپنے علاوہ کسی اور کو شریک کرے۔

801۔امام رضا(ع): جو خدا کی معرفت رکھتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ خدا کو قضا و قدر میں متہم قرار نہ دے اور رزق دینے میں اس کو سست شمار نہ کرے۔


7/4

عاقل کے لئے نامناسب اشیائ

802۔امام علی (ع): عاقل کے لئے سزاوار نہیں ہے کہ امید کی بنا پر خوشی کا اظہار کرے؛ کیوں کہ امید دھوکا ہے ۔

803۔ امام علی (ع): آپ سے منسوب کلمات قصارمیں ہے ۔ عاقل کے لئے مناسب نہیں ہے کہ دوسروں سے اپنی اطاعت کرائے جبکہ خوداسکا نفس اس کا مطیع نہ ہو۔

804۔ امام علی (ع): عاقل کےلئے سزاوار نہیں ہے کہ جب راہ امن حاصل ہو جائے تو وہ خوف سے گوشہ نشینی اختیار کرے۔

805۔ اما م علی (ع): تعجب ہے کہ عقلمند شہوت پر کس طرح نظر ڈالتا ہے کہ بعد میں اس کےلئے حسرت و ندامت کا باعث ہوتی ہے۔

806۔ امام علی (ع): شریح بن حارث کے نام اپنے خط میں تحریر فرماتے ہیں۔ میںنے سنا ہے کہ تم نے اسّی دینار کا مکان خریدا ہے اور اس کے لئے بیعنامہ بھی لکھا ہے اور اس پر گواہی بھی لی ہے؟

اے شریح!عنقریب تیرے پاس وہ شخص آنے والا ہے جو نہ اس تحریر کو دیکھے گا اور نہ تجھ سے گواہوں کے بارے میں سوال کریگا بلکہ تجھے اس گھر سے نکال کر تنِ تنہا قبر کے حوالے کر دیگا۔اگر تم نے یہ مکان دوسرے کے مال سے خریدا ہے اور غیر حلال سے قیمت اداکی ہے تو تمہیں دنیا و آخرت دونوں میں خسارہ ہوا ہے ۔یاد رکھو! اگر تم اس مکان کو خریدتے وقت میرے پاس آتے اور مجھ سے دستاویز لکھواتے تو ایک درہم میں بھی خریدنے کے لئے تیار نہ ہوتے۔ اسی دینار تو بہت بڑی بات ہے ، میں اسکی دستاویز اس طرح لکھتا: یہ وہ مکان ہے جسے ایک بندہ ذلیل نے اس مرنے والے سے خرید ا ہے جسے کوچ کے لئے آمادہ کر دیا گیا ہے ، یہ مکان دنیائے پر فریب میں واقع ہے جہاں فنا ہونے والوں کی بستی ہے اور ہلاک ہونے والوں کا علاقہ ہے


۔ اس مکان کے حدود اربعہ یہ ہےں؛ ایک حد اسباب آفات کی طرف ہے اور دوسری اسباب مصائب سے ملتی ہے ۔ تیسری حد ہلاک کر دینے والی خواہشات کی طرف ہے اور چوتھی گمراہ کرنے والے شیطان کی طرف اور اسی طرف اس گھر کا دروازہ کھلتا ہے ۔ اس مکان کو امیدوں کے فریب خوردہ نے اجل کے راہ گیر سے خریدا ہے ، جس کے ذریعہ قناعت کی عزت سے نکل کر طلب و خواہش کی ذلت میں داخل ہو گیا ہے ۔ اب اگر اس خریدار کو اس سو دے میں کوئی خسارہ ہوا تو یہ اس ذات کی ذمہ داری ہے جو بادشاہوں کے جسموںکا تہہ و بالا کرنے والا ۔ جابروںکی جان نکال لینے والا۔ فرعونوں کی سلطنت کو تباہ کر دینے والا، کسریٰ، قیصر، تبع اور حِمیر اورزیادہ سے زیادہ مال جمع کرنے والوں ، مستحکم عمارتیں بنا کر انہیں سجانے والوں ، ان میں بہترین فرش بچھانے والوں اور اولاد کے خیال سے ذخیرہ کرنے والوں اور جاگیر بنانے والوںکو فنا کے گھاٹ اتار دینے والا ہے۔ کہ ان سب کو قیامت موقف حساب اور منز ل ثواب عذاب میں حاضر کر دے جب حق و باطل کا حتمی فیصلہ ہوگا'' اور اہل باطل یقینا خسارہ میںہوں گے'' میری ان باتوں کی گواہی اس عقل نے دی ہے جو خواہشات کی قید سے آزاد اور دنیا کی وابستگیوں سے محفوظ ہے''۔

807۔ امام صادق(ع): تین چیزیں ایسی ہیں کہ عاقل کو انہیں ہر گز فراموش نہیں کرنا چاہئے:

دنیا کی بے ثباتی، حالات کی تبدیلی اور وہ آفات کہ جن سے اماں نہیں۔


دوسرا حصہ

جہل

اس حصہ کی فصلیں:

پہلی فصل : مفہوم جہل

دوسری فصل : جہل سے پرہیز

تیسری فصل : جاہلوں کے اقسام

چوتھی فصل : جہل کے علامات

پانچویں فصل : جاہل کے احکام

چھٹی فصل : پہلی جاہلیت

ساتویں فصل : دوسری جاہلیت

آٹھویں فصل : جاہلیت کا خاتمہ


پہلی فصل مفہوم جہل

808۔ امام حسن ؑ:نے اپنے والد کے جواب میں جب جہل کی تعریف کے متعلق پوچھا ۔تو فرمایا: فرصت سے فائدہ اٹھانے کی قدرت نہ ہونے کے باوجود اس پر جلدی سے ٹوٹ پڑنا اور جواب دینے سے عاجز رہنا ہے۔

809۔ امام علی (ع): محال امور میں تمہاری رغبت کا ہونا نادانی ہے ۔

810۔ امام علی (ع): دنیا کی فریبکاریوںکو دیکھتے ہوئے اس کی طرف رخ کرنا جہالت ہے ۔

811۔ امام علی (ع): بغیر کوشش و عمل کے رتبہ و مقام کا طلب کرنا نادانی ہے ۔

812۔ عیسیٰؑ: نے اپنے حواریوں سے فرمایا: دیکھو تمہارے اندر جہالت کی دو نشانیاں ہیں: بلا سبب ہنسنا اور شب زندہ داری کے بغیر صبح کو سونا۔

813۔ امام علی (ع): شب زندہ داری کے بغیر سونا جہالت کی نشانی ہے۔

814۔ امام صادق(ع): بلا سبب ہنسنا نادانی کی نشانیوں میں سے ہے ۔

815۔ امام صادق(ع): جہالت تین چیزوں میں ہے: دوست بدلنا،بغیر وضاحت کے علیحدگی، اس چیز کی جستجو کرنا جس میں کوئی فائدہ نہیںہے۔


816۔ امام صادق(ع): مصباح الشریعہ میں آ پ سے منسوب کلام میں ہے ۔ جہالت ایسی صورت ہے جو اولاد آدم میں قرار دی گئی ہے، اسکی طرف رخ کرنا تاریکی اور گریز کرنا روشنی ہے، بندہ اس کے ساتھ ساتھ اس طرح پھرتا ہے جیسے سورج کے ساتھ ساتھ سایہ ، کیا ایسے انسان کو نہیں دیکھتے جو اپنی خصوصیات سے ناواقف ہے لیکن اپنی تعریف کرتاہے حالانکہ اسی عیب کو جب دوسروں میں ملاحظہ کرتا ہے تو اس سے نفرت کرتا ہے ۔ اور کبھی اسے دیکھتے ہو ۔

جو اپنی کچھ ذاتی خصوصیات سے آشنا ہوتاہے اور ان سے نفرت کرتا ہے حالانکہ جب اپنے غیر میںمشاہدہ کرتاہے تو تعریف کرتا ہے پس ایسا انسان عصمت و رسوائی کے درمیان سرگرداں ہے ، اگر عصمت کی طرف رخ کیا تو واقع تک پہنچ جائیگا اور اگر رسوائی کی طرف رخ کیا تو واقع سے دور ہو جائیگا۔

جہالت کی کنجی خوشنودی اور اس پر اعتقاد ہے ، علم کی کنجی توفیق کی موافقت کے ساتھ تبادلہ ہے ، اور جاہل کی پست ترین صفت یہ ہے کہ بغیر لیاقت کے علم کا دعویٰ کرتا ہے اور اس سے بھی بدتر اس کا اپنی جہالت سے ناواقف ہونا ہے اور اسکی بالا ترین صفت جہالت سے انکار ہے جہالت اوردنیاو حرص کے علاوہ کوئی چیز ایسی نہیں کہ جس کا اثبات درحقیقت اسکی نفی ہو۔ یہ سب گویا ایک ہیں اور ان میںکا ایک سب کے برابرہے۔


مفہوم جہل کی تحقیق

اسلام نے معرفت شناسی کے جو مختلف ابواب پیش کئے ہیں اس سے پتہ چلتا ہے کہ دین الہی ایک عظیم معاشرہ بنانے کے لئے ہر چیز سے قبل اور ہر چیز سے بیشتر، فکر و نظر اور آگاہی و معرفت کو اہمیت دی ہے ، اور جہالت کے گڑھے میں گرنے اور فکر کو نظر انداز کرنے سے تنبیہ کی ہے ۔

اسلام کی نگاہ میں جہل ایسی آفت ہے کہ جوانسان کی رونق اور خوبیوں کو پامال کر دیتا ہے اور تمام اجتماعی و فردی برائیوں کا سر چشمہ ہے ، جب تک یہ آفت جڑ سے نہیں اکھاڑی جائیگی اس وقت تک فضیلتیں ابھر کر سامنے نہیں آ سکتیں اور نہ ہی انسانی معاشرہ وجود پذیر ہو سکتا ہے۔

اسلام کی نظر میں جہل تمام برائیوں کا سر چشمہ ، عظیم ترین مصیبت، مہلک و بدترین بیماری اور خطرناک ترین دشمن ہے ۔ جاہل انسان روئے زمین پر چوپائے سے بدتر، بلکہ زندوں کے درمیان ایک لاش ہے ۔

وہ آیات و احادیث جو جہل اور جاہل کی مذمت اور اس کے علامات و احکام اور جہل سے دوری کے متعلق وارد ہوئی ہیں ان کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے ضروری ہیکہ پہلے یہ جانیںکہ جہل کیا ہے ؛ آیا مطلق جہل اسلام کی نظر میں مذموم و خطرناک ہے یا کوئی خاص جہل ہے ؟


اور اگر یہ دوسری صورت درست ہے تو اسکی تعیین کرنا ضروری ہے کہ وہ خاص جہل کون سا ہے۔

کون سا جہل تمام برائیوں کا سرچشمہ ہے ؟

کون سا جہل عظیم ترین مصیبت ہے؟

کون سا جہل بدترین اور سب سے مہلک بیماری ہے ؟

کون سا جہل شدید ترین فقر ہے ؟

کون سا جہل خطرناک ترین دشمن ہے ؟

کون سا جاہل قرآن کی رو سے ، چوپائے سے بدتر۔ہے ، اور کس جہل کو امام علی (ع) نے ۔ زندوںکے درمیان لاش۔ سے تعبیر کیا ہے ۔


مفہوم جہل

مذموم جہل کے چار معنی ہیں:

اول: مطلق جہل

دوم: تمام مفید و کارساز علوم و معارف سے جہالت

سوم: انسان کے لئے ضروری و اہمترین معارف سے جہالت

چہارم : جہل، عقل کے مقابل میں ایک قوت ہے۔

معانی کی وضاحت

1۔ مطلق جہل

گر چہ بادی النظر میں یہ محسوس ہوتا کہ مطلق جہل مضر اور مذموم ہے لیکن غور و فکر کے بعد معلوم ہوتاہے کہ ہر چیز کا نہ جاننا مذموم اور جاننا پسند یدہ نہیں ہے بلکہ اس کے بر خلاف کچھ چیزوں کا جاننا مضر و مہلک اور کچھ چیزوں کا نہ جاننا مفید و کارساز ہے اسلام میں اسی دلیل کی بنا پربعض امور اوربعض پوشیدہ چیزوںکی تحقیق و جستجو کو ممنوع قرار دیا گیا ہے ۔

اس موضوع کی مزید وضاحت، اس فصل کے باب''احکام جاہل'' اور کتاب ''علم و حکمت قرآ ن و حدیث کو روشنی میں'' کے باب احکام تعلم کے(شق ج۔ جن چیزوں کا سیکھنا حرام ہے) اسی طرح اس کتاب کے ''آداب سوال'' کے ''باب چہارم'' میں مذکورہ احادیث میںکی گئی ہے ۔


2۔ مفید معارف سے جہالت

بلا شک و شبہ اسلام تمام مفید علوم و معارف کو احترام کی نظر سے دیکھتا ہے اور ان کے سیکھنے کی دعوت بھی دیتاہے ، بلکہ اگر معاشرہ کو ان کی حاجت و ضرورت ہو اور ایسے افراد موجود نہ ہوں جو اس ضرورت کے لئے کافی ہوں تو ان علوم و فنون کو واجب قرار دیاہے۔ لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہےں کہ ان تمام علوم کے متعلق جہل تمام لوگوں کے لئے مذموم یا خطرناک ہو۔

بعبارت دیگر ، ادبیات، صرف و نحو، منطق و کلام ، فلسفہ،ریاضیات، فیزکس، کیمیا اور دیگر علوم و فنون جو انسان کی خدمت کے لئے ہیں وہ اسلام کی نظر میں قابل احترم اور اہمیت کے حامل ہیں لیکن ان تمام علوم کا نہ جاننا تمام برائیوںکا سر چشمہ ، عظیم ترین مصیبت، بدترین بیماری، خطرناک ترین دشمن ، شدید ترین فقر نہیں ہے ، اور ان علوم میں سے جو بعض یا تمام کو نہیں جانتا ہے اسے روئے زمین پر چو پائے سے بدتر یا زندوںمیں مردہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

3۔ انسان کی ضروری معارف سے جہالت

وہ معارف و علوم جو انسان کو اسکی ابتداء و انتہاء سے آشنا اور اسکی غرض خلقت کی حکمت کو کشف کرتے ہیں وہ اسکی زندگی کے اہمترین و ضروری معارف میں سے ہیں۔

انسان کے لئے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ کس طرح وجود میں آیا؟ اور اسکی غرض خلقت کیاہے؟ کون سا عمل انجام دے کہ اپنی غرض خلقت کے فلسفہ تک پہنچ جائے؟ کون سے خطرات اسے ڈراتے ہیں؟


وہ معارف جو ان تمام مسائل کا جواب دیتے ہیںوہ میراث انبیاء ہیں ۔ یہ معارف تمام خیر و برکت کا سرچشمہ، عقل عملی اور جوہر علم کے روشن و بارونق ہونے کے لئے زمین ہموار کرتے ہیں۔ اور ان معارف سے لاعلمی انسانی معاشرہ کو دشوار ترین مشکلات اور دردناک مصائب میں مبتلا کرتی ہے۔

البتہ تنہا ان معارف کا جاننا ہی کافی نہیں ہے ؛ بلکہ یہ معارف اس وقت کا ر آمد و کارساز ہیںجب عقل کے ذریعہ جہل چوتھے مفہوم کے لحاظ سے مہار کیا جائے ۔

4۔ عقل کے مقابل میں ایک قوت

اسلامی نصوص میں جہل کا چوتھا مفہوم گذشتہ مفاہیم کے بر خلاف ایک امر وجودی ہے نہ کہ عدمی ، اور عقل کے مقابل مخفی و پوشدہ شعور ہے اور عقل کے مانند مخلوق خدا ہے جس کے کچھ آثار و مقتضیات ہیں کہ جنہیں'' عقل کے سپاہی'' کے مقابل میں''جہل کے سپاہی'' سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس جہل کو قوت سے اس لئے تعبیر کیا ہے تاکہ یہ پوری طور پر عقل کے مقابل قرار پا سکے اس قوت کے لئے دوسرے بھی نام ہیںکہ جن کا بیان خلقت عقل کی بحث میں ہو چکا ہے ۔

جیسا کہ علامات عقل کے باب اول میں ذکر ہو چکا ہے کہ تمام اعتقادی و اخلاقی اورعملی حسن وجمال جیسے خیر، علم ، معرفت ، حکمت ، ایمان ، عدل ، انصاف، الفت، رحمت، مودت، مہربانی ، برکت، قناعت، سخاوت، امانت، شہامت ، حیا، نظافت ،امید، وفا، صداقت، بردباری، صبر، تواضع ،بے نیازی، نشاط وغیرہ کو عقل کے سپاہیوں میںشمار کیاہے ۔

اور ان کے مقابل میں تمام اعتقادی و اخلاقی اورعملی برائیوں جیسے : شر، جہل، حماقت، کفر، ستم ،جدائی، قساوت، قطع رحم ، عداوت، بغض، غضب، بے برکتی، حرص ، بخل ، خیانت، بزدلی ، بے حیائی، آلودگی ، ہتک ، کثافت، نا امیدی ، کذب، سفاہت،بیتابی، تکبر، فقر اور سستی وغیرہ کو جہل کے سپاہیوں میں شمار کیا ہے ۔


انسان ان دونوں قوتوں کے سلسلہ میں صاحب اختیار ہے کہ ان میں سے جس کو چاہے انتخاب کرے اور پروان چڑھائے۔ وہ قادر ہیکہ اپنی قوت عقل کا اتباع کرے اور اس کو زندہ کرکے جہل و شہوت اور نفس امارہ کو فنا کر دے۔ اور عقل کے سپاہی اور اس کے مقتضیات کی تربیت کرکے انسان کے بلند مقصد تک پہنچ جائے اور خدا کا نمائندہ بن جائے ۔ یا قوت جہل کا اتباع اور اس کے سپاہی اور مقتضیات کی تربیت کرکے پست ترین حالت اور قعر مذلت میں گر جائے۔

اس وضاحت کی روشنی میں دو مہم اور قابل غور نکات روشن ہو جاتے ہیں ،وہ یہ ہیں:-

1۔خطرناک ترین جہل

پہلا نکتہ یہ ہے کہ گر چہ اسلام تیسرے معنی کے اعتبار سے مذموم جہل کی شدت سے مخالفت کرتا ہے ؛ لیکن اس مکتب کی نظر میں خطرناک ترین جہل، چوتھے معنی کے اعتبار سے ہے ؛ یعنی ایسی راہ کا انتخاب کہ جس کی طرف قوت جہل انسان کو دعوت دیتی ہے؛ کیوں کہ اگر انسان اس راہ پرگامزن ہو جسے عقل نے معین کیا ہے تو بلا شبہ علم و حکمت اور دیگر عقل کے سپاہی انسان کواس کے مبدا و مقصد تک پہنچاتے اور تمام مفید و سازگار معارف کی طرف ہدایت کرتے ہیں اور وہ اپنی استعداد اور کوشش کے مطابق اپنی خلقت کے فلسفہ تک پہنچتا ہے۔

لیکن اگر انسان ایسی راہ کا انتخاب کرے جو جہل کا تقاضا تھاتو جہل کے سپاہی مفید معارف اور ایسے بلند حقائق جوانسان کو انسانیت کے بلند مقصد سے آشنا کرتے ہیں کی راہ شناخت کو مسدود کر دیتے ہیں۔ لہذا اس حالت میں اگر کوئی اعلم دوراں بھی ہو جائے تو بھی اس کا علم اسکی ہدایت کے لئے کافی نہ ہوگا اور جہل کی بیماری اسے موت کے گھاٹ اتار دیگی(اور خدا نے اسی حالت کو دیکھ کر اسے گمراہی میں چھوڑ دیا ہے)


اس بنیاد پر اسلامی روایات میں جب جہل کے متعلق تحقیق کی جاتی ہے تو بحث کا اصلی محور جہل کا چوتھا معنی قرار پاتاہے، البتہ جہل کے بقیہ معنی و مفاہیم بھی ترتیب وار اہمیت کے حامل ہیں۔

2۔ عقل و جہل کا تقابل

دوسرا مہم نکتہ یہ ہے کہ اسلامی نصوص میں عقل و جہل کے تقابل کا راز کیاہے۔ اور دوسرا سوال یہ ہے کہ معمولا جہل علم کے مقابل میں پیش کیا جاتا ہے لیکن اسلامی نصوص اور اس کے کے اتباع میں حدیث کی کتابوں میں معمول کے خلاف جہل کو کیو ںعقل کے مقابل قرار دیا گیا ہے؟

جب آپ حدیث کی کتابوں کی طرف رجوع کریں گے تو عنوان ''علم و جہل'' نہیں پا سکیں گے اور اس کے بر خلاف عنوان ''عقل و جہل'' ا کثر یا تفصیلی کتابوںمیں پائیں گے اس کا راز یہ ہے کہ اسلام، جہل کو چوتھے معنی کے لحاظ سے جو کہ امر وجودی ہے اور عقل کے مقابل ہے جہل کے دوسرے اور تیسرے معنی۔ امر عدمی اور علم کے مقابل ہے سے زیادہ خطرناک جانتا ہے ۔

بعبارت دیگر، اسلامی نصوص میں عقل و جہل کا تقابل اس چیز کی علامت ہے کہ اسلام عقل کے مقابل جہل کو علم کے مقابل جہل سے زیادہ خطرناک جانتا ہے اور جب تک اس جہل کی بیخ کنی نہ ہوگی صرف علم کے مقابل جہل کی بیخ کنی سے معاشرہ کے لئے اساسی فائدہ حاصل نہیں ہو سکتااور یہ نکتہ نہایت ظریف اور دقیق ہے لہذا اسے غنیمت سمجھو!


دوسری فصل جہل سے بچو

2/1

جہل کی مذمت

قرآن

( بیشک ہم نے امانت کو آسمان ، زمین اور پہاڑ سب کے سامنے پیش کیا اور سب نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور خوف ظاہر کیا بس انسان نے اس بوجھ کواٹھا لیا کہ انسان اپنے حق میں ظالم اور نادان ہے)

الف: عظیم ترین مصائب

حدیث

817۔ امام علی (ع): عظیم ترین مصائب نادانی ہے ۔

818۔ امام علی (ع): شدید ترین مصائب میں سے جہل کاغلبہ بھی ہے ۔

819۔ امام علی (ع): بدترین مصائب جہالت ہے۔

820۔ امام صادق(ع): کوئی بھی مصیبت جہل سے بڑھکر نہیں۔


ب: بدترین بیماری

821۔ امام علی (ع): بدترین بیماری نادانی ہے۔

822۔ امام علی (ع): جہالت، بدترین بیماری ہے ۔

823۔امام علی (ع): جہالت سے بڑھ کر ناتواں کرنے والی کوئی بیماری نہیں ہے۔

824۔امام علی (ع): جہالت بیماری اور سستی ہے۔

825۔ امام علی (ع): انسان میں جہالت جذام سے زیادہ مضر ہے ۔

ج: شدید ترین فقر

826۔ رسول خدا(ص): اے علی (ع):جہالت سے بدتر کوئی فقرنہیں۔

827۔ امام علی (ع): کوئی بے نیازی عقل کے مانند نہیں اور کوئی فقر جہالت کے مثل نہیں۔

828۔ امام علی (ع): جاہل کے لئے کوئی بے نیازی نہیں۔

د: خطرناک ترین دشمن

829۔ رسول خدا(ص): ہر انسان کا دوست اسکی عقل ہے اور دشمن اسکی جہالت ہے ۔

830۔ رسول خدا(ص): وہ شخص کہ جس کا فہم اس کے لئے نفع بخش نہیں ہے تو اسکی نادانی اس کے لئے مضر ہے۔

831۔ امام علی (ع): کوئی دشمن ، جہل سے زیادہ خطرناک نہیں۔

832۔ امام علی (ع): جہل سب سے بڑا دشمن ہے ۔

833۔ امام عسکری ؑ: نادانی ، دشمن ہے اور بردباری حکمرانی ہے ۔


ھ: رسوا ترین بے حیائی

834۔ امام علی (ع): کوئی بے حیائی نادانی سے بدتر نہیں۔

835۔ امام علی (ع): جہالت کی مذمت کے لئے یہی کافی ہے کہ جاہل خود اس سے بیزاری اختیار کرتا ہے ۔

836۔ امام علی (ع): آپ سے منسوب کلمات قصار میں ہے ۔ خوبصورت انسان کے لئے کتنا قبیح ہے کہ جاہل ہو وہ اس خوبصورت مکان کی طرح ہے کہ جس کے رہنے والے شریر لوگ ہوں یا ایسے باغ کی مانند ہے کہ جس کو الو ؤںنے آباد کیا ہو، اور یا(بھیڑ بکریوں) کے ریوڑ کے مثل ہے کہ جس کی نگہبانی بھیڑ یاکر رہا ہو۔

2/2

جاہل کی مذمت

قرآن

( اللہ کے نزدیک بدترین زمین پر چلنے والے وہ بہرے اور گونگے ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے ہیں)

حدیث

837۔ رسول خدا(ص): اللہ تعالیٰ نے کسی بندہ کو رسوا و ذلیل نہیں کیا مگر یہ کہ اسے علم و ادب سے محروم رکھا ہو۔

838۔ امام علی (ع): جب خدا کسی بندہ کو رسوا کرنا چاہتا ہے تو اسے علم وانش سے محروم کر دیتا ہے ۔

839 ۔ رسول خدا(ص): وہ دل جس میں حکمت نہیں ویران گھر کی طرح ہے ؛ لہذا سیکھو اور سکھاؤ؛ علم و فقہ حاصل کرو اور جاہل مت مرو، یقینا خدا جاہل کے عذر کو قبول نہیں کریگا۔


840۔ رسول خدا(ص): جاہل زاہد شیطان کا ٹھٹھا ہے ۔

841۔امام علی (ع): جسم کی بلندی و بزرگی سے کوئی فائدہ نہیں جبکہ دل نقصان میں ہو۔

842۔ امام علی (ع): اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض ترین خلائق، جاہل ہے ؛ کیوں کہ خدا نے اس کو اس نعمت سے محروم رکھا ہے کہ جس کے ذریعہ اس نے اپنے تمام بندوں پر احسان کیا ہے ؛ اور وہ عقل ہے ۔

843۔ امام علی (ع): جاہل کا عمل وبال ہے اور اس کا علم گمراہی ہے ۔

844۔ امام علی (ع): بدبخت ترین انسان ، جاہل ہے ۔

845۔ امام علی (ع): جاہل زندوں کے درمیان مردہ ہے ۔

846۔ امام علی (ع): جاہل، چھوٹا ہے چاہے بوڑھا ہی ہو اور عالم بزرگ ہے چاہے چھوٹا ہی ہو۔

847۔ امام علی (ع): جاہل ایسی چٹان ہے کہ جس سے پانی کے چشمے نہیں پھوٹتے، ایسا درخت ہے کہ جس کی شاخ سر سبز نہیںہوتی اور ایسی زمین ہے کہ جس پر سبزہ نہیںاگتا۔

848۔ امام علی (ع): جاہل کے لئے ہر حالت میں خسارہ ہے ۔

849۔ امام علی (ع): ہر جاہل فتنہ میں مبتلا ہے ۔

850۔ امام علی (ع): جاہل ، حیران و سرگرداں ہے ۔

851۔ امام علی (ع): جاہل کا تسلط اس کے عیوب کو آشکار کرتا ہے ۔

852۔ امام علی (ع): جاہل کے ہاتھ میں نعمت، مزبلہ پر گلزار کے مانند ہے ۔

853۔ امام علی (ع):جاہل کی نعمت جتنی حسین ہوتی جائیگی اتنی ہی قبیح ہوتی جائیگی۔

854۔ امام علی (ع): جاہل کی حکومت اس مسافر کی سی ہے جو ایک جگہ نہیں ٹھہرتا ۔

855۔ امام علی (ع): جو عقل سے محروم ہے ، اس سے امید نہ رکھو۔


856۔ امام علی (ع): نیکوکار کی زبان ، جاہلوں کی حماقت سے باز رہتی ہے ۔

857۔ امام علی (ع): تلوار کی تیزی کے علاوہ جاہل کو کوئی روک نہیں سکتا۔

858۔ امام علی (ع): نے واقعہ جمل کے بعد اہل بصرہ کی مذمت میں فرمایا: تمہاری زمین پانی سے قریب اور آسمان سے دور ہے ، تمہاری عقلیں ہلکی اور تمہاری دانائی احمقانہ ہے ، تم ہر تیرانداز کا نشانہ ، ہر بھوکے کا لقمہ اور ہر شکاری کا شکار ہو۔

859۔ امام علی (ع): نادان دوست کی ہمنشینی اختیار مت کرو اور اس سے پرہیز کرو کتنے نادانوں نے دوستی کے سبب بردبار انسانوں کو ہلاکت کے دہانے تک پہنچا دیاہے۔

860۔ امام باقر(ع): بیشک وہ دل جس میں ذرا بھی علم نہ ہو، اس کھنڈر کے مانند ہے جس کا کوئی آباد کرنے والا نہ ہو۔

861۔ امام عسکری ؑ: جاہل کی تربیت اورعادی کو اسکی عادت سے روکنا معجزہ ہے ۔

862۔ لقمان : صاحب علم و حکمت کا تمہیں مارنا اور اذیت پہنچانااس سے بہتر ہے کہ جاہل خوشبودار تیل سے تمہاری مالش کرے۔


2/3

نادر اقوال

863۔ رسول خدا(ص): خدا نے جہل کے سبب کسی کو عزیز نہیں کیا اور بردباری کے سبب کسی کو رسوا نہیں کیا۔

864۔ امام علی (ع): فضائل سے ناواقفیت ،بد ترین رذائل ہے۔

865۔ امام علی (ع): نادانی و بخل ، برائی اور ضرر ہے ۔

866۔ امام علی (ع): نادانی سے بدترکوئی موت نہیں۔

867۔ امام علی (ع): جہل وبال ہے ۔

868۔ امام علی (ع): جہل کے ساتھ کوئی مذہب ترقی نہیں کر سکتا۔

869۔ امام علی (ع): بیشک تم لوگ نادانی کی بدولت نہ کسی مطلوب کو حاصل کر سکتے ہو اور نہ کسی نیکی تک پہنچ سکتے ہو اور نہ ہی کسی مقصد آخرت تک تمہاری رسائی ہو سکتی ہے۔

870۔ امام علی (ع): یقینا جہل سے بے رغبتی اتنی ہی ہے کہ جتنی مقدار میں عقلمندی سے رغبت ہے ۔


تیسری فصل جاہلوں کے اقسام

871۔ امام علی (ع): لوگ چار طرح کے ہوتے ہیں: وہ شخص جو جانتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ میں جانتا ہوں۔ ایسا شخص حقیقتاً عالم ہے لہذا اس سے سوال کرو؛ وہ شخص جو نہیں جانتا لیکن یہ جانتا ہے کہ میں نہیں جانتا ہوں راہ ہدایت کا طالب ہے لہذا اسکی ہدایت کرو، وہ شخص جو نہیں جانتا اور یہ بھی نہیں جانتا کہ نہیں جانتا ہوں ، ایسا شخص جاہل ہے اسے چھوڑ دو، اور وہ شخص جو جانتا ہے لیکن یہ نہیں جانتا کہ میں جانتا ہوں یہ سویا ہوا اہے لہذا سے بیدار کرو۔

872۔ امام صادق(ع): لوگ چار طرح کے ہوتے ہیں: وہ شخص جو جانتا ہے اور یہ بھی جاتاہیکہ میں جانتا ہوں پس یہ شخص عالم ہے لہذا اس سے علم حاصل کرو؛ وہ شخص جو جانتا ہے اور یہ نہیں جانتا کہ میں جانتاہوں یہ سویا ہوا ہے اسے بیدار کرو، وہ شخص جو نہیں جانتا اور یہ جانتاہے کہ نہیں جانتا ہوں ایسا شخص جاہل ہے اسے تعلیم دو، اور وہ شخص جو نہیںجانتا اور یہ بھی نہیں جانتا کہ نہیں جانتا ہوں یہ احمق ہے اس سے اجتناب کرو۔

اقسام جہل کی وضاحت

جیسا کہ ان روایات میں اشارہ کیا گیا ہے کہ حقائق کی معرفت کے اعتبار سے انسان کی چار حالتیں ہیں اور ان حالات میں سے ہر حالت کے لئے فرد اور معاشرہ کے لحاظ سے خاص احکام و تکالیف ہیں، وہ حالات حسب ذیل ہیں۔


1۔ علم

پہلی حالت، علم و آگاہی ہے ؛ جو شخص جانتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ میں جانتا ہوں اسے عالم کہا جاتا ہے ، ایسا شخص دوسروں کے لئے معلم بننے کا حق رکھتا ہے اور اسلام کی رو سے ایسے شخص کا فریضہ لوگوں کو تعلیم دینا اور لوگوںکافریضہ علم حاصل کرنا ہے ، جیسا کہ ارشاد خدا ہے:

( فسئلوا اهل الذکر ان کنتم لا تعلمون)

اہل ذکر سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے!

2۔ غفلت

دوسری حالت، غفلت ہے ؛ غافل وہ شخص ہے جو جانتا ہے اور یہ نہیں جانتا کہ میں جانتا ہوں ، یہاں پر بیدار لوگوں پر لازم ہیکہ اسے خواب غفلت سے بیدار کریں(فذاک نائم فأنبهوه) وہ سویا ہوا ہے اسے بیدار کرو(و ذکر فان الذکریٰ تنفع المؤمنین) اور یاد دہانی کرتے رہو کہ یاد دہانی صاحبان ایمان کے حق میں مفید ہوتی ہے ۔

3۔ جہل بسیط

تیسری حالت، جہل بسیط ہے ؛ جاہل وہ ہے جوکچھ نہیں جانتا؛ اور چاہے وہ جانتا ہو کہ میں نہیں جانتا ہوں یا نہ جانتا ہو کہ نہیں جانتا ہوں ، ہر حالت میں عالم پر لازم ہے کہ اسے تعلیم دے اور اس پر ضروری ہے کہ سیکھے تاکہ آیت( فسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون ) کا مصداق قرار پائے۔


4۔ جہل مرکب

چوتھی حالت، جہل مرکب ہے ؛ یہ جہل دو جہل سے مرکب ہے ، وہ دو جہل عدم علم اور توہم علم ہےں۔ جاہل مرکب وہ ہے جو نہیںجانتا اور خیال کرتا ہے کہ میں جانتا ہوں ،بظاہر اس فصل کی روایات میں وارد اس جملہ( لا یعلم ولا یعلم انہ لا یعلم) یعنی نہیںجانتا اور یہ بھی نہیں جانتاکہ نہیںجانتا ہوں؛ اور اسی طرح(لا یدری ولا یدری انہ لا یدری)یعنی نہیں جانتا اور یہ بھی نہیں جانتاکہ نہیں جانتا ؛ یہی معنی مراد ہےں لہذا علی علیہ السلام نے ایسے جاہل کے مقابل میں لوگوں کا وظیفہ یہ قرار دیا ہے کہ اسے چھوڑ دیا جائے :- (فذاک جاہل فارفضوہ؛ پس یہ جاہل ہے اسے چھوڑ دو) اور امام صادق(ع) نے لوگوں کو ایسے شخص سے اجتناب کا حکم دیا ہے: (فذاک احمق فاجتنبوہ؛ وہ جاہل ہے اس سے اجتناب کرو)

لا علاج بیماری

اس سلسلہ کی احادیث کے اندر جاہلوں کے اقسام کے حوالہ سے جو ہدایت پیش کی گئی ہے اس کے متعلق اساسی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ معاشرہ کے آگاہ افراد پر غافل اور جاہل بسیط کو آگاہ کرنا کیوں لازم ہے؛ لیکن جاہل مرکب کے متعلق نہ فقط یہ کہ کوئی فریضہ نہیں ہے بلکہ فریضہ یہ ہے کہ اس سے اجتناب کیا جائے اور چھوڑ دیا جائے؟

جواب یہ ہے کہ جہل مرکب، خطرناک ترین اقسام جہل ہے اور در حقیقت لا علاج بیماری ہے جو شخص نہیںجانتا اور یہ خیال کرتا ہے کہ جانتا ہے وہ اپنے خیال اور احساس آگاہی کی ایسی خطرناک بیماری میں مبتلا ہے کہ جو ناقابل علاج ہے۔


اس سلسلہ میں امام صادق - فرماتے ہیں:

''من اعجب بنفسه هلک، ومن اعجب برأیه هلک، وان عیسیٰ بن مریم (ع) قال: داویت المرضی فشفیتهم باذن اﷲ، وابرأت الاکمه والابرص باذن اﷲ، وعالجت الموتیٰ فاحییتهم باذن اﷲ، وعالجت الاحمق فلم اقدر علیٰ اصلاحه فقیل یا روح اﷲ، وما الاحمق؟ قال: المعجب برأیه ونفسه، الذی یریٰ الفضل کله له لا علیه، ویوجب الحق کله لنفسه ولا یوجب علیها حقا، فذاک الاحمق الذی لا حیلة فی مداواته''

جو شخص اپنے متعلق خوش فہمی میں مبتلا ہوتا ہے تباہ ہو جاتا ہے ، اور جو اپنی رائے و نظر سے خوش ہوتا ہے ہلاک ہو جاتا ہے ، بیشک عیسیؑ بن مریم فرماتے ہیں( بیماروںکا خدا کے اذن سے علاج کیا شفایاب ہوگئے، نابینا اور کوڑھیوںکو خدا کے اذن سے شفا بخشی ؛ اور مردوں کو باذن الہی زندہ کیا؛ اور احمق کا علاج کیالیکن اسکی اصلاح نہ کرسکا!

پوچھا گیا: اے روح اللہ! احمق کون ہے ؟ فرمایا:( وہ شخص جو خود کواور اپنی رائے ہی کو صحیح سمجھتا ہے)تمام فضیلتوں کو اپنا ہی حق سمجھتاہے ، اپنے کسی عیب کو تسلیم نہیں کرتا اپنے حقوق کوواجب جانتا ہے اور اپنے اوپرکسی کاحق واجب نہیں سمجھتا یہ شخص ایسا احمق و نادان ہے کہ جس کا کوئی علاج نہیں ہے۔

اس وضاحت کے لحاظ سے حقیقی احمق و نادان وہ شخص نہیںہے جو دماغی مشکلات میں مبتلا ہو اور جسمی بیماریوںکی وجہ سے مسائل کے سمجھنے پر قادر نہ ہو۔ اس طرح کے مریض اگر طبیعی طور پر قابل علاج نہ ہوں تو معجزہ کے ذریعہ ان کا علاج ممکن ہے ۔ حقیقی احمق وہ ہے کہ جس کا دماغ سالم ہو؛ لیکن خود بینی اور احساس دانائی کی بیماری نے اسکی عقل و فکر کو فاسد کر دیا ہے جس کے نتیجہ میں عقل عملی کی دعوت کو قبول نہیں کرتا لہذا اسکی عقل کی فنا و موت کازمانہ آپہنچتا ہے ۔ ایسے مردہ کا علاج ممکن نہیں ۔ ایسے مردہ کو حضرت عیسیؑ بھی زندہ نہیںکر سکتے۔


حضرت عیسیٰ باذن خدا ہر قسم کی جسمی بیماریوں کا طبی آلات کے بغیر علاج کرتے تھے؛ یہاں تک کہ مردوںکو بھی زندہ کرتے تھے؛ لیکن مردہ فکرو عقل کے زندہ کرنے پر قادر نہ تھے، کسی بنی کو اس پر قدرت نہ تھی جیسا کہ قرآن کریم خاتم الانبیاء محمد مصطفی ؐ سے فرماتا ہے:

(انک لا تسمع الموتیٰ ولا تسمع الصم الدعائ)

یقینا آپ اپنی آواز نہ مردوں کو سنا سکتے ہیں اور نہ ہی بہروںکو۔

اس قسم کے انسان فقط دنیا کے ظواہر پر نظر رکھتے ہیں اور حقیقت سے غافل ہوتے ہیں:

(یعلمون ظاهرا من الحیاة الدنیا و هم عن الآخرة هم غافلون)

یہ لوگ صرف زندگانی دنیا کے ظاہر کو جانتے ہیں اور آخرت کی طرف سے بالکل غافل ہیں۔

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مردہ کو تعلیم دینا بے سود ہے اور جس کی عقل و فکر مردہ ہو چکی ہو وہ خطرناک ترین چوپائے میں تبدیل ہو جاتاہے جیسا کہ قرآن کا ارشادہے:

( ان شر الدواب عند اﷲ الصم البکم الذین لایعقلون)

اللہ کے نزدیک بدترین زمین پر چلنے والے وہ بہرے اور گونگے ہیںجو عقل سے کام نہیں لیتے ہیں۔

اسی بنا پر، ایسے شخص سے قریب ہونا ہی خطرناک ہے : کیوں کہ عقلی و فکری بیماری متعدی ہوتی ہے ممکن ہے کہ دوسروںمیںسرایت کر جائے لہذا لوگوںکا ریضہ یہ ہے کہ ایسی بیماریوں سے اجتناب کریں اور اس سے دور رہیں؛ جیسا کہ خدا فرماتا ہے :

(فاعرض عن من تولیٰ عن ذکرنا و لو یرد الا الحیاة الدنیا)

لہذا جو شخص بھی ہمارے ذکر سے منہ پھیرے اور زندگانی دنیا کے علاوہ کچھ نہ چاہے آپ بھی اس سے کنارہ کش ہو جائیں۔


چوتھی فصل جہل کے علامات

4/1

آثار جہل

الف : کفر

قرآن مجید

(جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ خدا نے نازل کیا ہے اس کا اتباع کرو تو کہتے ہیں کہ ہم اس کا اتباع کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ۔ک یا یہ ایسا ہی کریںگے چاہے ان کے باپ دادا بے عقل ہی رہے ہوں اور ہدایت یافتہ نہ ہوں)

(جو لوگ کافر ہو گئے ہیں ان کے پکارنے والے کی مثال اس شخص کی سی ہے جو جانوروں کو آواز دے اور جانور پکار اور آواز کے علاوہ کچھ نہ سنیں اور نہ سمجھیںیہ کفار بہرے، گونگے اور اندھے ہیں۔ انہیں عقل سے سروکار نہیں ہے)

(اور جب تم نماز کے لئے اذان دیتے ہو تو یہ اس کو مذاق اور کھیل بنا لیتے ہیں اس لئے کہ یہ بالکل بے عقل قوم ہیں)

حدیث

873۔ رسول خدا(ص): تمام خوبیاں عقل کے سبب حاصل ہوتی ہیں اور جسکے پاس عقل نہیںہے اسکے پاس دین نہیں۔

874۔ رسول خدا(ص): انسان کی اصل اسکی عقل ہے اور جس کے پاس عقل نہیںہے اس کے پاس دین نہیں۔

875۔ رسول خدا(ص): انسان کا دین اسکی عقل ہے اور جس کے پاس عقل نہیںہے اس کے پاس دین نہیں۔


876۔ امام علی (ع): کوئی شخص کافر نہیں ہو ا مگر یہ کہ جاہل تھا۔

877۔ امام علی (ع): کافر ایسا پست حیلہ باز، خیانتکار ، اور مغرور ہے جو اپنی جہالت کے سبب نقصان میں ہے۔

878۔ امام علی (ع): کافر، بدکارجاہل ہے ۔

879۔ امام علی (ع): جاہل جب بخل سے کام لیتا ہے تو مالدار ہوجاتا ہے اور جب مالدار ہو جاتا ہے توبے دین ہو جاتا ہے۔

880۔ امام علی (ع): علی بن اسباط: کسی معصوم ؑ سے نقل کرتے ہیں: خدا کی جانب سے حضرت عیسیؑ کو کی جانے والی نصیحتوں میں ملتا ہے: اے عیسی! میرے ساتھ کسی چیز کو شریک مت قرار دو....ہر جگہ حق کے ساتھ رہو، خواہ ٹکڑے ٹکڑے کرکے آگ میں جلا دئے جاؤ۔ پھر بھی میری معرفت کے بعد کفر اختیار نہ کرنا تاکہ جاہلوں میں سے نہ ہوجاؤ۔

ب: برائیاں

881۔ رسول خدا(ص): جہل تمام برائیوں کا سرغنہ ہے ۔

882۔ امام علی (ع): جہالت تمام برائیوں کی جڑہے ۔

883۔ امام علی (ع): جہالت ہر کام کی تباہی ہے ۔

884۔ امام علی (ع): جہالت کے سبب تمام برائیاں پیدا ہوتی ہیں۔

885۔ امام علی (ع): جہالت برائی کا سرچشمہ ہے ۔


ج: علم اور عالم سے دشمنی

886۔ امام علی (ع): لوگ نامعلوم چیزوںکے دشمن ہوتے ہیں۔

887۔ امام علی (ع): جو کسی چیز سے ناواقف ہوتا ہے اس کا دشمن ہوتا ہے ۔

888۔امام علی (ع): جو شخص کسی چیز سے بے خبر ہوتا ہے اس میں عیب نکالتا ہے ۔

889۔ امام علی (ع): جو شخص کسی چیز کی معرفت سے قاصر ہوتا ہے اس میں نقص نکالتا ہے ۔

890۔ امام علی (ع): کسی نے بھی جاہلوں کی طرح علماء کی مخالفت نہیںکی۔

891۔ امام علی (ع): جن چیزوںکو نہیں جانتے ان کے دشمن نہ بنو اس لئے کہ بیشتر علم انہیں چیزوں میں ہے جنہیں تم نہیںجانتے۔

د: روح کی موت

892۔ امام علی (ع): جہل، زندوںکو مردہ اور بدبختوں کو دوام بخشتا ہے ۔

893۔ امام علی (ع): جہالت موت ہے اور سستی فنا ہے ۔

894۔ امام علی (ع): جاہل مردہ ہوتا ہے چاہے زندہ ہی کیوں نہ ہو۔

895۔ امام علی (ع): عالم مردوں کے درمیان زندہ اور جاہل زندوں کے درمیان مردہ ہے ۔

896۔ امام علی (ع): آپ سے منسوب کلمات قصارمیں ہے ۔ فضائل سے ناواقفیت موت کے برابر ہے۔


897۔ امام علی (ع): جس شخص میں نیک صفات میں سے کوئی صفت مستحکم ہو جائے تو میں اس کو اس صفت کی وجہ سے تحمل کرونگا اور اس کے علاوہ دیگر صفات کے فقدان پر اسے معاف کر دونگا۔لیکن عقل اور دین کے فقدان پر اسے معاف نہیں کرونگا اس لئے کہ دین سے دوری امن و امان سے دوری ہے ، اور خوف کے عالم میں زندگی خوشگوار نہیں ہوتی، عقل کا فقدان ، حیات کا فقدان ہے جس کو صرف مردوںپر قیاس کیا جاتا ہے ۔

ھ: برے اخلاق

898۔ صالح بن مسمار: کا بیان ہیکہ مجھے یہ خبر ملی کہ رسول خدا(ص) نے اس آیت(اے انسان تجھے رب کریم کے بارے میںکس شی نے دھوکا میں رکھا) کی تلاوت کی پھر فرمایا: اسکی جہالت نے۔

899۔ امام علی (ع): حرص،برائی اور بخل جہل کانتیجہ ہےں۔

900۔ امام علی (ع): نادانی کی بنیاد حماقت ہے ۔

901۔ امام علی (ع): اپنی دعا میں فرماتے ہیں: میں ناواقف ہوں اور میںنے اپنی ناواقفیت کی بنا پر تیری نافرمانی کی ہے ۔ اپنی نادانی کے سبب گناہوںکا ارتکاب کیا ہے ، میری لا علمی کی وجہ سے دنیا نے مجھے منحرف کیا ہے ، اپنی جہالت کی بدولت تیری یاد سے غافل ہوا اور اپنی بے خبری کے باعث دنیا کی طرف مائل ہوا۔

902۔ اما م صادق(ع): نادانی تین چیزوں میں ہے: غرور، زیادہ جھگڑا اور خدا سے بے خبری۔یہی لوگ خسارہ میں ہیں۔

903۔ امام علی (ع): جو شخص نیکی کرنے سے بخل کرتا ہے وہ عقلمند نہیں۔


و: اختلاف و جدائی

قرآن

(یہ کبھی تم سے اجتماعی طور پر جنگ نہ کریں گے مگر یہ کہ محفوظ بستیوں میں ہوں یا دیواروںکے پیچھے ہوں ان کی دھاک آپس میں بہت ہے اور تم یہ خیال کرتے ہو کہ یہ سب متحد ہیں ہرگز نہیں ان کے دلوں میں سخت تفرقہ ہے اور یہ اس لئے کہ اس قوم کے پاس عقل نہیں ہے)

حدیث

904۔ امام علی (ع): اگر جاہل خاموش رہتے تو لوگوں میں اختلاف نہ ہوتا۔

905۔امام علی (ع):نے اہل بصرہ کو مخاطب کرکے۔ فرمایا: اے وہ قوم! جس کے بدن حاضر ہیں اور عقلیں غائب۔ تمہاری خواہشات گوناگوں ہیں اور تمہارے حکام تمہاری بغاوت میں مبتلا ہیں۔ تمہارا امیر اللہ کی اطاعت کرتا ہے اور تم اسکی نافرمانی کرتے ہو؛ اور شام کا حاکم اللہ کی معصیت کرتا ہے اور اسکی قوم اسکی اطاعت کرتی ہے !

906۔ امام علی (ع): اے وہ لوگ جنکے نفوس مختلف ہیں اور دل متفرق،بدن حاضرہیں اور عقلیں غائب، میں تمہیں مہربانی کے ساتھ حق کی دعوت دیتا ہوں اور تم اس طرح فرار کرتے ہو جیسے شیر کی ڈکار سے بکریاں!


ز: لغزش

907۔ امام علی (ع): جو شخص اپنے قدم رکھنے کی جگہ کو نہیںدیکھتا وہ پھسلتا ہے ۔

908۔ امام علی (ع): جہالت قدم کو متزلزل کر دیتی ہے اور پشیمانی کی باعث ہوتی ہے۔

909۔ امام علی (ع): جہل ایسی سرکش سواری ہے کہ جو اس پر سوار ہوگا پھسل جائیگا اور جو اسکی ہمراہی کریگا بھٹک جائیگا۔

910۔ امام علی (ع): جاہل کی واقع تک رسائی ، عالم کی لغزش کے برابر ہے ۔

911۔امام علی (ع): جاہل کی واقع تک رسائی ، عاقل کی لغزش کے مانند ہے ۔

912۔ امام علی (ع): آپ سے منسوب کلمات قصار میں ہے۔جاہلوں کے صحیح ہونے کامعیار،علماء کے اشتباہ جیسا ہے ۔

ح: ذلت

913۔ امام علی :ؑ جو شخص عقل کو گنوا دیتا ہے ، ذلت اس کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔

914۔ امام علی (ع): کتنے ہی معزز افراد کو جہالت نے ذلیل کر دیا ۔

915۔ امام علی (ع): جہالت کی ذلت، عظیم ترین ذلت ہے ۔

916۔ امام علی (ع): ذلت و پستی کے لئے نادانی ہی کافی ہے ۔

917۔ امام علی (ع): جاہل خود کو بلند کرتا ہے لیکن پست ہو جاتا ہے۔

918۔ امام علی (ع): دولتمند کی نادانی اس کو پست بنا دیتی ہے اور فقیرکی دانائی اس کو بلند کرتی ہے ۔

919۔ امام صادق(ع): نادانی ، ذلت ہے ۔


ط: افراط و تفریط

920۔ امام علی (ع): جاہل ہمیشہ کوتاہی کرتا ہوا پایا جاتا ہے ۔

921۔ امام علی (ع): جاہل ہمیشہ افراط و تفریط کا شکا ررہتا ہے (یعنی حد سے آگے بڑھ جاتا ہے یا پیچھے رہ جاتا ہے)

ی: دنیا و آخرت کی برائی

922۔ رسول خدا(ص): دنیا وآخرت کی برائی جہالت کے سبب ہے ۔

923۔ امام علی (ع): نادانی ،آخرت کو تباہ کردیتی ہے ۔

ک: نادر اقوال

924۔ رسول خدا(ص): جو شخص کہتا ہے ''میں عالم ہوں'' در حقیقت وہ جاہل ہے ۔

925۔ رسول خدا(ص): جہالت، گمراہی ہے ۔

926۔ امام علی (ع): حماقت، نادانی کا نتیجہ ہے۔

927۔ امام علی (ع): جہل کا ہتھیار، بیوقوفی ہے ۔

928۔ امام علی (ع): جو جہالت کی بنا پر جھگڑے کرتا رہتا ہے وہ حق کی طرف سے اندھا ہو جاتا ہے ۔

929۔ امام علی (ع): جو شخص جاہل ہوتا ہے ، اسکی پروا نہیںکی جاتی۔

930۔ امام علی (ع): نادانی فریب وضرر کوکھینچتی ہے ۔

931۔ امام علی (ع): جو شخص اپنی عقل کو ضائع کر دیتا ہے ، اسکی کم عقلی کا اندازہ ہو جاتا ہے ۔

932۔ امام علی (ع): جو شخص کم عقل ہوجاتا ہے ، اسکی باتیں بری ہوتی ہیں۔


933۔ امام علی (ع): جس شخص کی عقل کم ہوتی ہے ، مذاق زیادہ کرتا ہے ۔

934۔ امام علی (ع): آزمائے بغیر ہر شخص پر اعتماد کرنا، کم عقلی کی نشانی ہے ۔

935۔ امام علی (ع): جو شخص نادان و کم عقل سے دوستی کرتا ہے ، خود اسکی کم عقلی کی نشانی ہے ۔

936۔ امام علی (ع): جو شخص نیکیوںکو برے اعمال کے ذریعہ طلب کرتا ہے وہ، اپنی عقل و شعور کو تباہ و برباد کر دیتا ہے ۔

937۔ امام علی (ع): عقل ، ہدایت اور نجات دیتی ہے اور جہالت گمراہ و نابود کر دیتی ہے ۔

938۔ اما م زین العاب دین (ع): میری نظر میں یقینا ایک محتاج کا دوسرے محتاج سے طلب کرنا، اسکی کوتاہ فکری اور عقلی گمراہی کی نشانی ہے ۔

939۔ امام باقر(ع): جوانمردی یہ ہے کہ طمع نہ کرو کہ ذلیل ہو جاؤگے، دست نیاز نہ بڑھاؤ کہ سبک ہو جاؤگے، بخل نہ کرو کہ گالی کھاؤ گے اور جہالت نہ کروکہ دشمن سمجھے جاؤ گے۔

940۔ محمد بن خالد: نے امام صادق(ع) کے چاہنے والوں میں سے کسی ایک سے نقل کیاہے کہ؛ امام صادق(ع) نے فرمایا: ایمان اور کفر کے درمیان صرف کم عقلی کا فاصلہ ہے ، پوچھا گیا: اے فرزند رسول یہ کیونکر ممکن ہے ؟ فرمایا: یقینا ایک بندہ اپنی حاجت کو لیکر دوسرے بندہ کے پاس جاتا ہے ، جبکہ اگر خالص نیت سے خدا کو پکارا ہوتا تو نہایت کم مدت میںاپنی مراد پاجاتا۔

941۔ امام صادق(ع): اے مفضل! جو عقل سے کام نہیںلیتا وہ کامیاب نہیںہوتااور جو علم نہیں رکھتا وہ عقل سے کام بھی نہیںلیتا۔

942۔ امام جوادؑ: جو شخص وارد ہونے کی جگہوں سے ناواقف ہوتاہے نکلتے وقت یہ جگہیں اسکو تھکا دیتی ہےں۔


4/2

جاہلوں کے صفات

(اور اس وقت کوبھی یاد کرو جب موسیٰ نے قوم سے کہا خدا کا حکم ہے کہ ایک گائے ذبح کرو تو ان لوگوںنے کہا کہ آپ ہمارامذاق بنا رہے ہیں ،فرمایا پناہ بخدا کہ میںجاہلوںمیں سے ہو جاؤں)

(ارشاد ہوا کہ نوح یہ تمہارے اہل سے نہیںہیں یہ عمل غیر صالح ہے لہذا مجھ سے اس چیز کے بارے میں سوال نہ کرو جس کا تمہیں علم نہیں ہے ۔ میںتمہیں نصیحت کرتا ہوںکہ تمہارا شمار جاہلوںمیں نہ ہو جائے)

(یوسف نے کہا پروردگار یہ قید مجھے اس کام سے زیادہ محبوب ہے جس کی طرف یہ دعوت دے رہی ہیں اور اگر تو ان کے مکر کو میری طرف سے موڑ نہ دیگا تو میں ان کی طرف مائل ہو سکتا ہوں اور میرا شمار بھی جاہلوں میںہو سکتا ہے) ملاحظہ کریں: بقرہ:170و 171، مائدہ:58، حشر:14

حدیث

943۔ رسول خدا(ص): اپنے رب کی اطاعت کر و تاکہ عقلمند کہے جاؤ اور اسکی نافرمانی نہ کرو کہ جاہل کہے جاؤ۔

944۔ رسول خدا(ص): جاہل وہ ہے جو خدا کی نافرمانی کرتا ہے چاہے خوبصوت اوربا حیثیت ہی ہو۔

945۔ رسول خدا(ص): نے اس شخص کے جواب میں جس نے جاہل کی نشانیوںکے بارے میں پوچھا تھا۔ فرمایا: اگر اس کی ہمنشینی اختیارکروگے تو تمہیں تھکاڈالیگا، اگر اس سے کنارہ کش رہوگے تو تمہیں گالی دیگا۔اگر کچھ تمہیں عطا کریگا تو تم پر احسان جتا ئیگا اور اگر تم اسے کچھ دوگے تو ناشکری کریگا، اگر رازداں بناؤگے تو خیانت کریگا، اگر وہ تمہیں رازداںبنائے گا تو تم پر الزام لگائےگا، اگر بے نیاز ہو جائیگا تو اترائیگااور نہایت بد اخلاقی و سخت کلامی سے پیش آئیگا، اگر فقیر ہو جائیگا تو بے جھجک خدا کی نعمتوںکا انکار کریگا،


اگر خوش ہوگا تو اسراف اور سرکشی کریگا، اگر محزون ہوگا تو ناامید ہوجائیگا، اگرہنسیگا تو قہقہہ لگائیگا، اگر گریہ کریگا تو بیتاب ہو جائیگا اور خود کو ابرار میں شمار کریگا، حالانکہ نہ خدا سے محبت کرتاہے اور نہ ہی خدا سے ڈرتا ہے اور خدا سے نہ حیا کرتاہے اور نہ ہی اسے یاد کرتا ہے،اگر اسے راضی کروگے تو تمہاری تعریف کریگا اور تمہارے اندر جو خوبیاں نہیںپائی جاتی ہیں ان کی بھی تمہاری طرف نسبت دیگا اور اگر تم سے ناراض ہوگا تو تمہاری تعریف نہیں کریگا اور جو برائیاں تمہارے اندر نہیںہیں ان کی بھی تمہاری طرف نسبت دیگا،یہ جاہل کی روش ہے ۔

946۔ رسول خدا(ص): دنیا اس شخص کی قیامگاہ ہے جسکے گھر نہیں، اس شخص کی ثروت ہے جسکے پاس ثروت نہیں، اس کےلئے ذخیرہ ہے جو عقلمند نہیں، دنیوی خواہشات کو وہ طلب کرتا ہے جو فہم و ادراک نہیں رکھتا، دنیا کےلئے وہ دشمنی کرتا ہے جو عالم نہیں ۔ دنیا کےلئے وہ حسد کرتا ہے جو شعورنہیںرکھتا۔ اور دنیا کےلئے وہ کوشش کرتاہے جو یقین نہیں رکھتا۔

947۔ رسول خدا(ص): جاہل کی صفت یہ ہے کہ جو اس سے گھل مل جاتا ہے اس پر ظلم کرتا ہے ۔اپنے سے کم لوگوںپر تجاوز کرتا ہے، اپنے سے بلند لوگوںکا مقابلہ کرتا ہے ، اسکی گفتگو فکر و تدبر کے بغیر ہوتی ہے ، جب کلام کرتا ہے تو گناہ کامرتکب ہوتا ہے ، جب خاموش رہتا ہے تو غفلت کرتا ہے ، اگر کوئی فتنہ کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے تو اسکی طرف ٹوٹ پڑتا ہے اور اس کے سبب ہلاک ہو جاتاہے ، جب کوئی فضیلت دیکھتا ہے تو اس سے روگردانی اورسستی کرتا ہے ، گذشتہ گناہوں سے نہ خوفزدہ ہو تا ہے اور نہ ہی اپنی باقی عمر میں گناہوں سے پرہیز کرتا ہے ۔ نیک کاموں میں سستی اور اس سے کنارہ کشی اختیار کرتا ہے اور جو اچھائیاں ا س سے ترک یا ضائع ہو گئی ہیں ان پرافسوس نہیں کرتا____یہ دس خصلتیں جاہل کے خصوصیات میں سے ہیں جو عقل کی نعمت سے محروم ہے ۔

948۔ رسول خدا(ص): جاہل میںچھہ خصلتیں پائی جاتی ہیں: کسی برائی کے بغیر ناراضگی ، بے فائدہ گفتگو، بے محل عطا و بخشش، راز کا فاش کرنا، ہر شخص پر اعتماد اور اپنے دوست و دشمن کونہ پہچاننا۔


949۔ رسول خدا(ص): نادان اپنی بے حیائی کو آشکار کرتا ہے چاہے لوگوںکے درمیان دور اندیش اور اچھا سمجھا جاتا ہو۔

950۔ اما م علی (ع): خدا کے مقابل میںسوائے بد بخت جاہل کے کوئی جرئت نہیںکرتا۔

951۔ امام علی (ع): جاہل وہ ہے جو خدا کی نافرمانی کے لئے اپنے خواہشات کی پیروی کرتا ہے۔

952۔ امام علی (ع): جاہل نہ پشیمان ہوتا ہے اور نہ ہی برے کاموں سے دستبردار ہوتا ہے ۔

953۔ امام علی (ع): جاہل وہ ہے جو اپنے خواہشات کے چنگل اور فریب میں آجاتا ہے ۔

954۔ امام علی (ع):جاہل وہ ہے جس کو اسکی حاجتیں دھوکا دیتی ہےں۔

955۔ امام علی (ع): جاہل وہی ہے جس کو اسکی حاجتیں غلام بنا لیتی ہیں۔

956۔ امام علی (ع): جاہل، ناممکن اورباطل چیزوںکے سبب دھوکا کھاتا ہے ۔

957۔ اما م علی (ع): عاقل اپنے عمل پر اعتماد کرتاہے اور جاہل اپنی آرزو پر۔

958۔ امام علی (ع): جاہل اپنی امیدپر اعتماد کرتا ہے اور عمل میںکوتاہی کرتا ہے ۔

959۔ امام علی (ع): جاہل اپنے ہی جیسوں کی طرف جھکتاہے ۔

960۔ امام علی (ع): عاقل کمال کا طالب ہوتا ہے اور جاہل مال کا۔

961۔ امام علی (ع):جاہل ان چیزوں سے وحشت کرتا ہے جن سے حکیم مانوس ہوتا ہے ۔

962۔۔ امام علی (ع): زبان ایسا پیمانہ ہے کہ جہل جس کو ہلکااور عقل جس کو سنگین بناتی ہے ۔

963۔ امام علی (ع): جاہل وہ ہے جو اپنے خیر خواہ کو دھوکا دیتا ہے۔

964۔ امام علی (ع): یقینا وہ جاہل ہے جو اپنے دشمنوں کو خیر خواہ سمجھتا ہے ۔

965۔ امام علی (ع): جاہلوںکا اتباع جہالت کی نشانی ہے ۔


966۔ امام علی (ع): جاہلوںکی اطاعت اور فضولیات کی کثرت، جہالت کی نشانیاں ہیں۔

967۔ امام علی (ع): آپ سے منسوب کلمات قصار میں ہے۔ جاہل پر برہان قائم کرنا آسان ہے ،لیکن جاہل سے اس کا اعتراف کرانا دشوارہے ۔

968۔ امام علی (ع): آپ سے منسوب کلمات قصارمیں ہے ۔ جاہل کو اپنے دل میں حماقت کادرد محسوس کرنے سے وہ چیز باز رکھتی ہے جو مست کو کانٹوں میں ہاتھ ڈالنے کے احساس سے باز رکھتی ہے ۔

969۔ امام علی (ع): مردوں کے ساتھ نفرت، جاہلوںکی صفت ہے ۔

970۔ امام علی (ع): جاہل اپنی کوتاہی کو نہیں جانتا اور اپنے خیر خواہ کی بات قبول نہیں کرتا۔

971۔ امام علی (ع): جاہل ، عالم کو نہیں پہچانتا، اس لئے کہ وہ اس سے قبل عالم نہیں تھا۔

972۔ امام علی (ع): جاہل باز نہیں آتا اور نصیحتوں سے بہرہ مند نہیںہوتا۔

973۔ امام علی (ع): جاہل کی فکر گمراہی ہے ۔

974۔ امام علی (ع): عالم اپنے دل و دماغ سے دیکھتاہے اور جاہل اپنی آنکھ اور نظر سے۔

975۔ امام علی (ع): جاہل کی ناراضگی اس کے قول سے ظاہر ہوتی ہے اور عاقل کی ناراضگی اس کے عمل سے۔

976۔ امام علی (ع): جاہل کی فکر و رائے فنا ہو جاتی ہے۔

977۔ امام علی (ع): جاہل کی کوئی گمشدہ نہیں ہے۔

978۔ امام علی (ع): جو شخص تمہاری طرف رغبت رکھتا ہے اس سے کنارہ کشی کم عقلی ہے اور جو تم سے کنارہ کشی اختیار کرتا ہے اسکی طرف تمہا راراغب ہونا اپنے نفس کو ذلیل کرنا ہے ۔

879۔ امام علی (ع): جاہلوںکی ہمنشینی بے عقلی کی نشانی ہے ۔


980۔ امام علی (ع): آرزؤں کی کثرت عقل کی بربادی کی علامت ہے ۔

981۔ امام علی (ع): عاقل اپنے علم کے ذریعہ بے نیاز ہوتاہے اور جاہل اپنے مال کے ذریعہ ۔

982۔ امام علی (ع): جاہل کا سرمایہ اس کا مال اور آرزو ہے ۔

983۔ امام علی (ع): جاہل اپنی نادانی کے سبب گمراہ کرتا ہے اور اپنی خواہشات کی بنا پر خود فریب کھاتاہے لہذاا سکی بات بے اعتباراور عمل مذموم ہوتاہے ۔

984۔ امام علی (ع): بیشک لالچ و طمع جاہلوںکے قلوب کو پریشان کرتی ہے ،امیدیںانہیں گروی بنا لیتی ہیں اور نیرنگیاں انہیں اسیرکر لیتی ہیں۔

985۔ امام علی (ع): اے لوگو! یاد رکھو یقینا وہ عقلمند نہیں ہے جو اپنے متعلق نازیبا کلمات کے سبب بپھر جائے ، وہ حکیم و آگاہ نہیںہے جو جاہل کی تعریف سے خوش ہو، لوگ اپنی خوبیوں کے فرزند ہیں اور ہر انسان کی قدرو قیمت اسکی خوبیوں کے مطابق ہے پس علمی باتیں کرو تاکہ تمہاری قدر و منزلت آشکار ہو جائے۔

986۔ امام علی (ع): آپ سے منسوب کلمات قصارمیں ہے، جاہل دنیا کی مذمت کرتا ہے اور خرچ کرنے میں بخل کرتا ہے، سخاو ت کی تعریف کرتاہے اور بخشش سے بخل کرتا ہے، طولانی آرزؤں کے ساتھ توبہ کی تمنا کرتا ہے، موت کے خوف سے توبہ کرنے میں جلدی نہیںکرتا، اس کام کی جزا کی امید رکھتا ہے کہ جسے انجام نہیں دیاہے ، لوگوں سے فرار کرتا ہے تاکہ اسے ڈھونڈیں، خود کو پوشیدہ رکھتا ہے تاکہ مشہور ہو جائے، خود کی ملامت کرتا ہے تاکہ اسکی مدح کی جائے ، لوگوںکو اپنی مدح سرائی سے روکتا ہے جبکہ پسند کرتاہے کہ اسکی مدح و ثنا ہوتی رہے۔

987۔ امام صادق(ع): جاہل کے صفات میں سے یہ ہے کہ جاہل(سوال) سننے سے پہلے جواب دیتاہے ، سمجھنے سے پہلے جھگڑنے لگتا ہے اور نامعلوم چیزوںکا فیصلہ کرتا ہے ۔


988۔ امام صادق(ع): عاقل در گذر کرتا ہے اور جاہل دھوکا دیتا ہے ۔

989۔ امام صادق(ع): مصباح الشریعہ میں آپ سے منسوب کلام میںہے ۔جاہل کی ادنیٰ صفت لیاقت کے بغیر علم کا دعویٰ کرنا ہے اور اس سے بڑھ کر اس کا اپنی جہالت سے ناواقف ہونا ہے اور اس سے بھی بڑھکر اس کا اس سے انکار کرنا ہے ۔

990۔ امام کاظم (ع):جاہل کو جو عاقل پر تعجب ہوتا ہے وہ عاقل کے جاہل پر تعجب سے زیادہ ہوتا ہے ۔

991۔ امام ہادی(ع): جاہل اپنی زبان کا اسیر ہوتاہے ۔

992۔ امام ہادی(ع): مسخرہ پن بیوقوفوںکا مذاق اور نادانوںکاشعارہے ۔

993۔ عیسی(ع):میں تم سے صحیح کہتا ہوں: حکیم ، نادان سے عبرت حاصل کرتا ہے اور نادان اپنے خواہشات نفسانی سے ۔

4/3

جہالت کے لئے اتنا ہی کافی ہے

الف: خودرائی

994۔ رسول خدا(ص): انسا ن کی دانائی کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ خدا کی بندگی کرے اور نادانی کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اپنی رائے کا شیفتہ ہو۔

995۔ امام علی (ع): تمہارے علم کے لئے بس یہی کافی ہے کہ تم خدا سے ڈرو، اور تمہاری نادانی کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ تم اپنے علم سے خوش رہو۔


ب: خود کو اچھا سمجھنا

996۔ رسول خدا(ص): انسان کے علم و آگاہی کے لئے بس یہی کافی ہے کہ خدا سے ڈرے اور اسکی نادانی کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ(ہر حالت میں) خود کو اچھا سمجھتا ہے ۔

997۔ امام علی (ع):انسان کی جہالت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اپنے نفس سے راضی ہو۔

ج: اپنے عیوب سے بے خبری

998۔ امام علی (ع): انسان کی جہالت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اپنے عیوب سے بے خبر ہو اور لوگوں پر ان چیزوں کی وجہ سے طنز کرے کہ جن میں خود بھی ملوث ہو۔

999۔ امام علی (ع):انسان کی جہالت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اپنے عیوب سے بے خبر ہو۔

د: اپنی قدر و منزلت سے ناواقفیت

1000۔ رسول خدا(ص): عالم وہ ہے جو اپنی قدر کو جانتا ہو اورانسان کی جہالت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنی قدر کو نہ پہچانے۔

1001۔ امام علی (ع): عالم وہ ہے جو اپنی قدر کو جانتا ہواور جاہل وہ ہے جو خود سے بے خبر ہو۔

1002۔ امام علی (ع): عاقل وہ ہے جو اپنے مقام کو پہچانتا ہو اور جاہل وہ ہے جو اپنی حدود کو نہ جانتا ہو،

1003۔ امام علی (ع): انسان کی نادانی کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنی حدود سے ناواقف ہو۔


1004۔ امام علی (ع):نے (گورنر کے کاتب کے خصوصیات کے سلسلہ میں ) فرمایا: یہ لوگ معاملات میں اپنے صحیح مقام سے ناواقف نہ ہوں کہ اپنی قدر و منزلت کا نہ پہچاننے والا دوسرے کے مقام و مرتبہ سے یقینا زیادہ ناواقف ہوگا۔

1005۔ امام علی (ع): جو شخص اپنی قدرو منزلت نہیں پہچانتا ، اپنی حدود سے گذر جاتا ہے

ھ: علم و عمل میں منافات

1006۔ امام علی (ع): عالم کی جہالت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ اس کا علم اس کے عمل سے منافات رکھتا ہو۔

و:خود را فضیحت دیگراں را نصیحت

1007۔ امام علی (ع): انسان کی جہالت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ دوسروں کے جس فعل کو ناپسند کرتا ہے اسی کو خود انجام دیتا ہے ۔

1008۔ لقمان : تمہاری جہالت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ دوسرں کو جن چیزوں سے روکتے ہو ان ہی کاخودارتکاب کرتے ہو۔ تمہاری عقلمندی کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ لوگ تمہارے شر سے محفوظ رہیں۔

ز: گناہوںکا ارتکاب

1009۔ امام علی (ع): انسان کی نادانی کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ جس سے منع کرتا ہے اسی کو انجام دیتا ہے ۔

1010۔ امام کاظم (ع): اے ہشام!...تمہاری جہالت کےلئے اتنا ہی کافی ہے جس سے منع کرتے ہو اسی کو انجام دیتے ہو۔


ح: ہر معلوم چیز کا اظہار

1011۔ رسول خدا(ص): تمہارے جھوٹ کے لئے اتنا ہی کافی ہے جو کچھ سنو زبان پر جاری کرو اور جہالت کی نشانیوںمیں سے ایک یہ ہے کہ جو کچھ جانتے ہو اس کا اظہارکرو۔

1012۔ امام علی (ع): تمہاری نادانی کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ جو کچھ جانتے ہو اس کا اظہار کرو۔

ط: ہر سنی چیز کا انکار

1013۔ امام علی (ع):لوگ جو بھی تم سے بیان کرتے ہیں اسکا انکار نہ کرو کہ تمہاری نادانی کے لئے اتنا ہی کافی ہے۔

ی: خدا کو دھوکا دینا

1014۔ رسول خدا(ص): جہالت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ خدا کو دھوکا دیں۔

ک: بے سبب ہنسنا

1015۔ امام علی (ع): انسان کی جہالت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ بے سبب ہنسے۔


4/4

جاہل ترین انسان

1016۔ رسول خدا(ص): عقل کے اعتبار سے ناقص ترین انسان وہ ہے جو بادشاہ سے زیادہ خائف ہوتا ہے اور اسکی زیادہ پیروی کرتاہے ۔

1017۔ رسول خدا(ص): عقل کے لحاظ سے ناقص ترین انسان وہ ہے جو شیطان کی سب سے زیادہ اطاعت کرے اور سب سے زیادہ اس کے حکم کی تعمیل کرے۔

1018۔ امام صادق: عقل کے اعتبار سے ناقص ترین انسان وہ ہے جو اپنے سے چھوٹے پر ـ ظلم کرتا ہے اور معذرت کرنے والے سے درگزر نہیں کرتا۔

1019۔ امام علی (ع): بیشک جاہل ترین انسان وہ شخص ہے جو اپنی قدر ومنزلت نہ جانتا ہو اور انسان کی جہالت کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنی قدر ومنزلت نہ پہچانے۔

1020۔ امام علی (ع): سب سے بڑی نادانی یہ ہے کہ انسان خود سے بے خبر ہو۔

1021۔ امام علی (ع): آپ سے منسوب کلمات قصار میں ہے ۔ سب سے بڑا جاہل وہ شخص ہے جو ایک پتھر سے دو بار پھسلے۔

1022۔ امام علی (ع): سب سے بڑا جاہل گناہوں کی تکرار کرنے والا ہے ۔

1023۔ امام علی (ع): جاہل ترین انسان وہ ہے جو چاپلوس اور تعریف کرنے والے کی بات کے فریب میں آجائے، جو قبیح کو اس کے لئے حسن اور خیر خواہ کو دشمن بنا کر پیش کرتاہے ۔


1024۔ امام علی (ع): جہالت کی انتہاء یہ ہے کہ انسان اپنی نادانی پر فخر کرے۔

1025۔ امام علی (ع): عظیم ترین جہالت ، قدرتمند سے نفرت ، فاجر سے دوستی اور دغاباز پر اعتماد ہے۔

1026۔ امام علی (ع): سب سے بڑی جہالت لوگوںکے ساتھ نفرت و دشمنی کرنا ہے ۔

1027۔ امام علی (ع): اس سے بڑی جہالت اور کیا ہوگی کہ ان چیزوںکے سبب خود کوبڑا سمجھنا جو تمہارے لئے باقی رہنے والی نہیں ہیںاور نہ تم ان کے لئے باقی رہوگے۔

1028۔ امام علی (ع): جو شخص علم کے بلند درجہ تک پہنچنے کا مدعی ہے گویا اس نے اپنی نادانی کی انتہاء کو آشکار کر دیا ہے۔

1029۔ امام علی (ع): جو نادان کو دوست بناتا ہے وہ اپنی کثرت نادانی پر دلیل قائم کرتاہے ۔

1030۔ رسول خدا(ص): جو خدا کی نعمتوںکو صرف کھانے ،پینے کی چیزوں میں دیکھتا ہے ، اس کا علم کم اورجہالت زیادہ ہے۔

1031۔ امام علی (ع): کثرت خطا، کثرت نادانی کا پتہ دیتی ہے۔

1032۔ امام علی (ع): نادانی کی انتہاء ظلم و ستم ہے۔

1033۔ امام علی (ع): حماقت کا سرمایہ خشونت ہے ۔


پانچویں فصل نادانوں کے فرائض

5/1

جاہل پر واجب چیزیں

الف: سیکھنا

1034۔ رسول خدا(ص): جو تعلم کی ایک ساعت کی رسوائی برداشت نہیںکرتا، وہ ہمیشہ نادانی کی ذلت میں رہیگا۔

1045۔ رسول خدا(ص): عالم کے لئے سزاوار نہیںکہ وہ اپنے علم پر سکوت اختیار کرے اور اسی طرح جاہل کے لئے مناسب نہیں کہ وہ اپنی جہالت پر خاموش رہے ۔ چنانچہ خدا کا ارشاد ہے(اہل ذکر سے پوچھو اگر تم نہیں جانتے)

1036۔ امام علی (ع): ایک شخص نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سی چیز مجھ سے جہالت کی حجت کو دور کرتی ہے ؟ فرمایا: علم ، پھر اس نے کہا: کون سی چیز مجھ سے علم کی حجت کو دور کر سکتی ہے ؟ فرمایا: عمل

1037۔ امام علی (ع): اے لوگو! جان لو جو زبان پر قابو نہیںرکھتا، پشیمان ہوتاہے ،جو نہیں سیکھتاوہ جاہل رہتاہے اورجو بردبار ہونے کی کوشش نہیں کرتا وہ بردبارنہیںہو سکتا۔

1038۔ امام علی (ع): جو نہیںسیکھتاعالم نہیںہو سکتا

1039۔ امام علی (ع): جاہل اگر نہیں جانتا تو اسے سیکھنے سے حیا نہیں کرنی چاہئے۔

1040۔ امام علی (ع): جو شخص نہیں جانتا اسے سیکھنے سے گریز نہیںکرنا چاہئے۔

1041۔ امام علی (ع): جہالت کی بیماری عالم کے سامنے پیش کی جاتی ہے ۔


1042۔امام علی (ع): اگر پانچ خصلتیں نہ ہوتیں تو تمام لوگ صالح ہوجاتے: جہالت پر قناعت، حرص دنیا، فراوانی کے باوجود بخل، عمل میں ریاکاری اور خود رائی۔

1043۔ ابن جریج: کا بیان ہے کہ جنگ جمل میں محمد بن حنفیہ اپنے باپ (علی ) کا پرچم اٹھائے ہوئے تھے۔ باپ نے محمد بن حنفیہ میں کچھ سستی دیکھی تو پرچم لے لیا۔ محمد کا بیان ہے : میں والد کی خدمت میں پہنچا اور تقاضا کیا کہ مجھے علم دو بارہ عطا کر دیں انہونے کافی دیر تک دینے سے انکار کیا، پھر دے دیااور فرمایا:۔

لو اور اچھی طرح اٹھاؤ ، اور اپنے ساتھیوں کے بیچ میں آجاؤ اور پرچم کے اوپری حصہ کو جھکنے نہ دو اور اس کو اس طرح بلند کرو کہ تمہارے تمام ساتھی دیکھ سکیں ، محمد کا کہنا ہے کہ جو کچھ مجھ سے کہا تھا میں نے اس پر عمل کیا، تو عمار یاسر نے کہا: اے ابو القاسم! آج کتنے سلیقہ سے پرچم اٹھائے ہوئے ہوامیرالمومنین نے فرمایا:تمہارا مقصد کیا ہے؟ عمار نے کہا: علم سیکھنے کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔

1044۔ اما م زین العاب دین (ع): خدا نے حضرت دانیال پر وحی کی :میرے بندہ دانیال!....بیشک میرے بندوں میںسب سے زیادہ محبوب وہ متقی ہے جو بے پناہ ثواب کا طالب ہوتاہے جو ہمیشہ علماء کے ساتھ رہتا ہے اور حکماء کی پیروی کرتا ہے اور ان کی باتیں قبول کرتاہے ، بیشک میںنے اکثر لوگوں کوجہل سے پیدا کیا ہے ۔

1045۔ امام باقر(ع):خطبہ ابو ذر میںہے: اے نادان علم حاصل کر، یقینا وہ دل جس میں علم نہیںہوتاا س کھنڈر کے مانند ہے جس کا کوئی آباد کرنے والا نہیں۔

1046۔ منیۃ المرید:میں ہے کہ خدا انجیل کے ستر ہویں سورہ میں فرماتا ہے: حیف ہے اس شخص پر کہ جو علم کو سنتا ہے لیکن اس کا طالب نہیں ہوتا، وہ جاہلوں کے ساتھ کس طرح آگ کی طرف لایاجائیگا؟ علم کی جستجو میں رہو اور اسے سیکھو! اس لئے کہ اگر علم تمہیں سعادتمند نہ بنا سکا تو بدبخت بھی نہیں بنائےگا اگر تمہیں بلند نہ کر سکا تو پست بھی نہیں کریگا، اگر تمہیں غنی نہ بنا سکا تو فقیر بھی نہیں بنائیگا اور اگر فائدہ نہ پہنچا سکا تو ضرر بھی نہیں پہنچائیگا۔


ب :توبہ

1047۔ امام علی (ع): جو گناہوں سے باز نہیں رہتا وہ جاہل ہے ۔

1048۔ امام زین العاب دین (ع): اپنی دعاء میں فرماتے ہیں : خدایا! محمد و آل محمد پر درود بھیج، ہمیں ایسے لوگوں میں قرار دے جو شہوات کے بجائے تیری یاد میں مشغول ہیں ، اور جنہوںنے واضح و روشن معرفت کی بنا پر غرور و تکبر کے اسباب کی مخالفت کی ہے ، اورآتش شہوت کے پردوں کو آب توبہ کے چھڑکنے سے چاک کر دیا ہے اور جہالت کے ظروف کو زندگی کے آب خالص سے دھوڈالا ہے۔

ج: تقویٰ

1049۔ امام باقر ؑ: خدا تقویٰ کے سبب ان چیزوںکو محفوظ رکھتاہے جو بندہ کی عقل سے پوشیدہ ہوتی ہیں اور تقویٰ کے ذریعہ اسکی نابینائی اور نادانی کو دور کرتا ہے ۔

د: شبہ کے وقت احتیاط

1050۔ رسول خدا(ص): اے علی : مومن کے صفات میں سے یہ ہے کہ...وہ محرمات سے دوری اور شبہات کے وقت احتیاط کرے۔

1051۔ امام علی (ع): دور اندیشی کی بنیاد شبہ کے وقت احتیاط ہے ۔

1052۔ امام علی (ع):(آپ سے منسوب کلمات قصارمیں ہے) سب سے بہتر عبادت خود کو معصیت سے باز رکھنا اور شبہ کے وقت احتیاط ہے ۔


1053۔ امام علی (ع): شبہات میں احتیاط جیسی کوئی پر ہیزگاری نہیں ہے ۔

1054۔ امام علی (ع): سب سے بڑاحق یہ ہے کہ انسان علم ہونے کے باوجود احتیاط کرے۔

1055۔ امام علی (ع): نے انتقال کے وقت اپنے بیٹے امام حسن (ع) کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: بیٹا! میں تمہیں وقت پر نماز ادا کرنے، زکات کو اسکے مستحق تک اسکی جگہ پر پہنچانے اور شبہات کے وقت خاموشی کی وصیت کرتا ہوں۔

1056۔ امام علی (ع): اگر بندے لا علمی کے وقت احتیاط کرتے تو کافر ہوتے اور نہ گمراہ۔

1057۔ امام صادق(ع): اگر بندے نادانی کے وقت احتیاط کرتے تومنکر ہوتے اور نہ کفراختیار کرتے۔

1058۔ امام زین العاب دین (ع):اگر کوئی امر تمہارے لئے واضح ہو جائے تو اس کو قبول کر لو ورنہ خاموش رہو تاکہ محفوظ رہو، اور اس کے علم کو خدا کی طرف پلٹا دو اس لئے کہ تمہارے لئے آسمان و زمین کے فاصلہ سے زیادہ گنجائش ہے۔

1059۔ اما م باقر(ع): شبہ کے وقت احتیاط کرنا ہلاکت میں پڑنے سے بہتر ہے اور اس حدیث کا چھوڑ دینا جسے خود تم نے روایت نہیں کیا ہے ، اس حدیث کی روایت کرنے سے بہتر ہے کہ جس پر تمہیں مکمل طور پر دسترسی نہیںہے ۔

1060۔ امام باقر(ع): یقینا خدا ئے عز وجل نے کچھ امور کو حلال ، کچھ کو حرام اور کچھ کو واجب قرار دیا ہے اور مثالیں بیان کی ہیں اور کچھ سنتوںکوجاری کیاہے.....اگر خدا کی جانب سے کوئی دلیل ہو، اور اپنے کام پر یقین ہو اور تمہاراموقف آشکار ہو تو (لے لو)ورنہ شبہ ناک امور کے پیچھے مت جاؤ۔

1061۔ زرارہ بن اعین : میں نے امام باقر(ع) سے دریافت کیا: بندوںپر خدا کا کیا حق ہے ؟ فرمایا: زبان پر وہی چیز یں جاری کریں جنہیں جانتے ہوں اور جنہیں نہیں جانتے ان میں احتیاط کریں ۔

1062۔ ہشام بن سالم : میں نے امام صادق(ع) سے دریافت کیا: بندوںپر خدا کا کیا حق ہے ؟ فرمایا جو کچھ جانتے ہوں انہیں زبان پر جاری کریں اور جو نہیںجانتے ان سے باز رہیں۔ اگر انہوںنے ایسا کیا تو گویا حق خدا کو ادا کیا۔

1063۔ امام صادق(ع): خاموشی اور فراوان خزانہ ،بردبار کی زینت اور جاہل کی پردہ پوشی ہے ۔


ھ: جہالت کا اعتراف

1064۔ امام علی (ع): عقلمندی کی انتہاء ، اپنی جہالت کا اعتراف ہے۔

1065۔ امام علی (ع): یہ دنیا اسی حالت میںبر قراررہ سکتی ہے جس میں مالک نے قرار دیا ہے یعنی نعمت ، آزمائش ، آخرت کی جزا یاوہ بات جو تم نہیںجانتے ہو، اب اگر اس میں سے کوئی بات سمجھ میں نہ آئے تو اسے اپنی جہالت سمجھوکہ تم ابتدا میں جب پیدا ہوئے ہو تو جاہل ہی پیدا ہوئے ہوبعد میں تمہیںعلم دیا گیاہے اور اسی بنا پر مجہولات کی تعداد زیادہ ہے جس میںتمہاری رائے متحیر رہ جاتی ہے اور نگاہ بہک جاتی ہے ، اور بعد میں صحیح حقیقت نظر آتی ہے ۔

1066۔ امام علی (ع): اور یہ یاد رکھو کہ راسخون فی العلم وہی افراد ہیں جنہیں غیب الہی کے سامنے پڑتے ہوئے پردوں کے اندر درانہ داخل ہونے سے اس امر نے بے نیاز بنا دیاہے کہ وہ اس پوشیدہ غیب کا اجمالی اقرار رکھتے ہیں اور پروردگار نے ان کے اسی جذبہ کی تعریف کی ہے کہ جس چیز کو ان کا علم احاطہ نہیںکر سکتا اس کے بارے میں اپنی عاجزی کا اقرار کر لیتے ہیں اور اسی صفت کو اس نے رسوخ سے تعبیر کیا ہے کہ جس بات کی تحقیق ان کے ذمہ نہیںہے اسکی گہرائیوں میں جانے کا خیال نہیں رکھتے ہیں۔

1067۔ امام باقر(ع): جو جانتے ہو بیان کرو اور جو نہیں جانتے کہو(اللہ بہتر جانتا ہے)


و: جہالت پر معذرت

1068۔ امام زین العاب دین (ع): خدایا! میں اپنی نادانی کے سبب تجھ سے معذرت چاہتا ہوں اور اپنے برے اعمال کے لئے تجھ سے بخشش طلب کرتا ہوں۔

ز: جہالت سے خدا کی پناہ چاہنا

1069۔ ام سلمہ: رسول خدا(ص) جب بھی گھر سے بر آمد ہوتے تھے تو فرماتے تھے: خدا کے نام سے، پروردگارا میں تیری پناہ چاہتا ہوں اس سے کہ پھسلوں یا گمراہ ہو جاؤں، ستم کروںیا مجھ پرستم کیا جائے، جاہل رہوں یا مجھ پر کوئی چیز مخفی رہے۔

1070۔ امام علی (ع):نے جنگ صفین میں یوم الھریر کی دعا میں فرمایا: خدایا! بیشک میں...جہالت ،بیہودگی اور قول و فعل کی برائیوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔

1071۔ امام علی (ع): پروردگارا!...میں تیری پناہ چاہتاہوں اپنی قوت سے، اور تیری پناہ میں آنا چاہتا ہوں اپنی جرات سے ، اپنی جہالت کے سبب تیری پناہ کاطلبگار ہوں اور اپنے گناہوںکے باعث تیرے اسباب کی رسیوں کو پکڑنا چاہتا ہوں ۔

1072۔ امام علی (ع): پروردگارا! تیری پناہ چاہتا ہوں کہ علم کے عوض جہالت خریدوں جیسا کہ دوسروںنے کیاہے ، یا یہ کہ بردباری کے بدلہ حماقت خریدوں۔

1073۔ امام صادق(ع): صبح و شام کی دعا میں فرماتے ہیں؛ خدایا! ہم تیری مدد سے شام کرتے ہیں اور صبح بھی ، تیری بدولت زندہ رہتے ہیں اور مرتے بھی ہیں، اور تیری طرف پلٹے ہیں، اور میں تیری پناہ چاہتا ہوںکہ میںکسی کو رسوا کروں یا رسوا کیا جاؤں، گمراہ کروں یا گمراہ ہو جاؤں، ظلم کروںیا مجھ پرظلم کیا جائے، میں جاہل رہوں یا مجھ پر مخفی رہے۔


1074۔ عبد الرحمن بن سیابہ: کابیان ہے کہ امام صادق(ع) نے یہ دعا مجھے دی: حمد اس خدا کے لئے جو صاحب حمد اور اس کا اہل ہے ، اسکی نہایت اور اس کا محل ہے ،...میںپناہ چاہتا ہوں کہ علم کے بدلہ جہالت ، بردباری کے عوض بدسلوکی، عدل کے بدلہ ستم ، نیکی کے بدلہ قطع تعلقی اور صبر کے عوض بیتابی کو خریدوں۔

ح: جہالت سے توبہ

1075۔ رسول خدا(ص):۔آپ ؐ اس طرح دعا فرماتے تھے۔بار الہا: میری خطا و جہالت، اور اپنے کام میں حد سے تجاوز کرنے اور جسکوتو مجھ سے بہتر جانتا ہے اس سے مجھکو معاف کر دے۔ پروردگارا! میرے مذاق او رسنجیدگی ، میری خطا اور دانستہ طور پر ہو جانے والے کاموں اور بقیہ میرے گناہوں سے مجھکو بخش دے۔

5/2

جاہل کے لئے حرام چیزیں

الف: علم کے بغیر لب کشائی

قرآن

(اور اپنے منہ سے وہ بات نکال رہے تھے جس کا تمہیں بھی علم نہیں تھا)


حدیث

1076۔رسول خدا(ص): جو شخص علم کے بغیر لوگوںکو فتوے دیتا ہے وہ اصلاح سے زیادہ دین کو برباد کرتا ہے ۔

1077۔ رسول خدا(ص): جو شخص علم کے بغیر لوگوںکو فتویٰ دیتاہے وہ ناسخ و منسوخ اورمحکم و متشابہ میں فرق نہیں کر پاتا، لہذا وہ ہلاک ہے اور دوسروں کو ہلاک کردیتا ہے ۔

1078۔ رسول خدا(ص): جو بغیر علم کے فتوے دیتاہے اس پر آسمان و زمین کے ملائکہ لعنت بھیجتے ہیں۔

1079۔ رسول خدا(ص): وہ شخص جس کو بغیر تحقیق کے فتویٰ دیا جاتا ہے اس کا گناہ فتویٰ دینے والے کے سر ہے ۔

1080۔ امام علی (ع): جس کے بارے میں آگاہی نہیںرکھتے ہو، اطلاع نہ دو۔

1081۔ امام علی (ع): جو نہیںجانتے اس کو زبان پر جاری نہ کرو چوں کہ بیشترحق ان چیزوں میں ہے جن کا تم انکار کرتے ہو۔

1082۔ امام زین العاب دین (ع): خدایا! میں تیری پناہ چاہتا ہوں...کہ ظالم کی مدد کروں...یا بغیر علم کے علمی گفتگو کروں۔

1083۔ امام باقر(ع): جو علم اور الہی ہدایت کے بغیر فتویٰ دیتا ہے اس پر رحمت اور عذاب کے فرشتے لعنت کرتے ہیں اور اس کے فتوے پر عمل کرنے والے کا عقاب اسی کو ملیگا۔


ب: نامعلوم چیز کا انکار

قرآن

(در حقیقت ان لوگوںنے اس چیز کی تکذیب کی ہے جس کا مکمل علم بھی نہیں ہے)

حدیث

1084۔ امام علی (ع): نے- اپنے بیٹے امام حسن ؑ: کو وصیت کرتے ہوئے - فرمایا: بیشک نادان وہ ہے جو نامعلوم چیزوں میں خود کو عالم شمار کرتا ہے اور اپنی ہی فکر و رائے پر اکتفا کرتا ہے ، ہمیشہ علماء سے دوری اختیار کرتا ہے اور انہیں برا بھلا کہتا ہے جو اسکی مخالفت کرتاہے اس کو خطا کا ر سمجھتا ہے اور جو شخص کچھ بھی نہیں جانتااسے گمراہ کرتا ہے ، پس جب اس کے سامنے کوئی امرآتا ہے جسے وہ نہیںجانتاتو اس سے انکار کر دیتا ہے اور اسے جھوٹ تصور کرتا ہے اور اپنی جہالت کی بدولت کہتا ہے : میں اس کو نہیں جانتا ہوںاور نہ اس سے پہلے کبھی اس کو دیکھا ہے اور گمان نہیں کرتا کہ بعد میںیہ وجود پذیربھی ہوگا۔ یہ ساری باتیں اس کا اپنی رائے پر اعتماد اور جہالت و کم علمی کے سبب ہیں۔ اور ہر وہ چیز جس کا وہ قائل ہے اور یا عدم علم کی بنیاد پر جس چیز کا غلط معتقد ہے اس سے دستبردار نہیںہوتا، اپنی نادانی سے استفادہ کرتا ہے اور حقیقت کا انکار کرتا ہے ، نیز اپنی جہالت و نادانی میں حیران و سرگرداں ہوتاہے اور تحصیل علم سے باز رہتاہے ۔

1085۔ امام علی (ع): جو کسی چیز سے ناواقف ہوتاہے اس کا دشمن ہو جاتا ہے ۔


1086۔ اما م علی (ع): میں نے چار چیزیں کہیں کہ جنکی خدا نے اپنی کتاب میں تصدیق کی ، میں نے کہا: انسان اپنی زبان کے نیچے چھپا ہوتا ہے جب کلام کرتا ہے تو ظاہر ہو جاتا ہے ، پس خدا نے یہ آیت:(اور آپ ان کی گفتگو کے انداز سے انہیں بہر حال پہچان لیں گے)نازل کی، میں نے کہا: جو کسی چیز سے جاہل ہوتاہے اسکاد شمن ہوجاتاہے ، خدا نے فرمایا:( در حقیقت ان لوگوں نے اس چیز کی تکذیب کی ہے جس کا مکمل علم بھی نہیںہے اور اسکی تاویل بھی ان کے پاس نہیں آئی ہے) میں نے کہا: ہر شخص کی قدر و قیمت اسکی دانائی کے مطابق ہے ، خدا نے قصہ طالوت میں فرمایا:( انہیں اللہ نے تمہارے لئے منتخب کیاہے اور علم و جسم میں وسعت عطا فرمائی ہے)میں نے کہا: قتل، قتل کو کم کرتاہے ، خدا نے فرمایا:(صاحبان عقل تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے )

1087۔ امام علی (ع): جو کچھ میں نے زبان رسول سے سنا ہے اگر تمہارے سامنے بیان کردوں تو تم میرے پاس سے اٹھکر چلے جاؤ گے اور کہوگے ، یقینا علی سب سے بڑا جھوٹا اور سب سے بڑا فاسق ہے ، خدا فرماتا ہے :(بلکہ در حقیقت ان لوگوں نے اس چیز کی تکذیب کی جس کا مکمل علم بھی نہیں ہے)

1088۔ اما م صادق(ع): خدا نے اپنی کتاب میں دو آیتیں اپنے بندوں سے مخصوص کی ہیں : وہ لوگ جب تک نہیںجانتے لب کشائی نہیںکرتے اور جب تک علم نہیں رکھتے تردید نہیںکرتے ، خدا ارشاد فرماتا ہے :(کیا ان سے کتاب کا عہد نہیںلیا گیا کہ خبردار خدا کے بارے میں حق کے علاوہ کچھ نہ کہیں)نیز فرماتا ہے (یقینا ان لوگوں نے اس چیز کو جھٹلایا جس کا مکمل علم بھی نہیں رکھتے اور اسکی تاویل بھی ان کے پاس نہیں آئی ہے)


5/3

ممدوح جہالت

1089۔ امام علی (ع): کتنے جاہلوں کی نجات ان کی جہالت میں ہے ۔

1090۔ امام علی (ع): آپ سے منسوب کلمات قصارمیں ہے۔ دو گروہوںپر ہر چیز آسان ہے ؛ وہ عالم جو کام کے انجام سے واقف ہو، اور وہ جاہل جو اپنی حیثیت سے بے خبر ہو۔

1091۔ اما م علی (ع): آپ سے منسوب کلمات قصار میں ہے، اگر عقل کے نو حصے ہوتے تو جہالت کے ایک حصہ کی طرف محتاج ہوتی تاکہ عقلمند اپنے امور پر اسے مقدم کرے ،کیوں کہ عاقل ہمیشہ سہل انگار،نگراں اور خوفزدہ ہوتا ہے ۔

1092۔ امام علی (ع): بسا اوقات نادانی ، بردباری سے زیادہ مفید ہوتی ہے ۔

1093۔ ابراہیم بن محمد بن عرفہ: احمد بن یحیٰ ثعلب نے مجھے یہ اشعار سنائے اور بتایا کہ یہ اشعار علی (ع) بن ابی طالب کے ہےں:

اگر مجھے بردباری کی ضرورت ہے تو بیشک بعض اوقات مجھے جہالت کی زیادہ ضرورت ہے ۔ میں نادانی کو ندیم و ہمنشیں کے عنوان سے پسند نہیںکرتا لیکن ضرورت کے وقت پسند کرتاہوں میرے پاس بردباری کا مرکب ہے کہ جس کی لجام بھی بردباری ہی ہے ، اور میرے پاس جہالت کا مرکب ہے کہ جس کی زین نادانی ہے ۔

1094۔ امام حسین ؑ: اگر لوگ غور و فکر کرتے اور موت کو اسکی صورت میں تصور کرتے تو دنیا ویرانہ ہوجاتی۔

1095۔ امام عسکری ؑ: اگر تمام اہل دنیا عقلمند ہوتے تو دنیا ویران ہو جاتی۔


1096۔ اما م صادق(ع)ـ: نے ۔ مفضل بن عمر۔ سے فرمایا: اے مفضل ! ان چیزوںکے بارے میں غور وفکر کرو کہ جن میں انسان کو اپنی مدت حیات کے متعلق آگاہی نہیں ہے ؛ اس لئے کہ انسان اگر اپنی عمر کی مقدار سے باخبر ہو جائے اور (بالفرض) اسکی زندگی کم ہو تو موت کے خوف سے کہ جس کا وقت معلوم ہے اسکی زندگی تلخ ہو جائیگی؛ بلکہ اس شخص کے مانند ہوگا کہ جس کا مال تباہ ہو گیا یابرباد ہونے کے قریب ہے ؛ گویا یہ شخص فقر اور مال و ثروت کی بربادی اور خوف فقر کے اندیشہ سے نہایت خوفزدہ رہتا ہے ۔

جبکہ یہ تلخی جو انسان کی فنائے عمرکے تصور سے پیدا ہوتی ہے انسان کے فنائے مال سے کہیں زیادہ تلخ ہے ؛ چونکہ جب کسی شخص کی ثروت کم ہو جاتی ہے تو وہ اسکی جگہ پر ثروت کے آنے کی امید رکھتا ہے ، جس کے سبب اس کو سکون حاصل ہوتا ہے ؛ لیکن جو عمرکی فنا کا یقین رکھتا ہے اس کے لئے صرف مایوسی ہوتی ہے ۔ اور اگر اسکی عمر طولانی ہوتی ہے اور وہ اس سے آگاہ ہو جاتاہے تو بقا کا اعتماد پیدا کرکے لذات اور معصیتوں میں غرق ہو جاتا ہے اور اس خیال سے عمل کرتاہے کہ اپنی لذتوںکو حاصل کرے اور آخیر عمر میں توبہ کرلیگا؛ یہ ایسی روش ہے کہ خدا پنے بندوں سے نہ پسند کرتا ہے اورنہ قبول۔

اگر تم کہو! کیا ایسا نہیں ہے کہ انسان ایک عرصے تک گناہ کرتاہے پھر توبہ کرتا ہے اور اسکی توبہ قبول ہوتی ہے۔؟!

ہم جواب دیں گے : ایسا اس لئے ہے کہ شہوت انسان پر غالب آجاتی ہے تونہ وہ کوئی منصوبہ بناتا ہے اور نہ ہی اس کے مطابق کوئی کام انجام دیتاہے ، لہذا خدا اس سے درگذر کریگا اور مغفرت کے ذریعہ اس پر فضل و احسان کریگا۔

لیکن وہ شخص جس نے اپنی زندگی کی بنا اس بات پر رکھی ہے کہ گناہ کرے گااور آخر عمر میں توبہ کرلیگا؛ یہ اس ذات کو دھوکا دینا چاہتاہے کہ جو دھوکا نہیںکھاتا اور کوشش کرتا ہے کہ جلد لذت اندوزہو اور اپنے نفس سے وعدہ کرتا رہتا ہے۔


کہ بعد میں توبہ کر لیگا۔ حالانکہ اپنے وعدہ کو پورا نہیںکرتا؛ اس لئے کہ آسائش اور لذات سے چھٹکاراپانا اور توبہ کرنا، خصوصاً جب بوڑھا اور ناتواںہو جائے، نہایت دشوار کام ہے ، انسان توبہ کرنے میں ٹال مٹول کرکے امان نہیں پا سکتاچونکہ اسکی موت آپہنچتی ہے اور وہ توبہ کے بغیر دنیا سے چلا جاتا ہے ، اسکی مثال اس شخص کی سی ہے کہ جس کی گردن پر قرض ہو کہ جس کی میعاد آئندہ آئیگی اور وہ قرض کی ادائیگی کی قدرت ہونے کے باوجود ٹال مٹول کرتا رہتاہے یہاں تک کہ اسکی ادائیگی کا وقت آجاتاہے لیکن اب اس کے پاس مال نہ ہونے کی وجہ سے اسکی گردن پر قرض باقی رہ جاتاہے۔

لہذاا نسان کے لئے بہتر ہے کہ اپنی عمر کی مقدار سے واقف نہ ہو اور اپنی ساری زندگی موت سے خوفزدہ رہے تاکہ گناہوں سے پرہیز کرے اور نیک عمل بجالاتا رہے۔

اگر تم کہو: ایسے بھی لوگ ہیںجو اپنی زندگی کی مقدار سے با خبر نہیں ہیں اور ہر لمحہ موت کے انتظار میں ہیں لیکن ہمہ وقت بدکرداری اور محرمات کا ارتکاب کرتے ہیں۔

ہم جواب دیں گے: بیشک اس سلسلہ میں بہترین تدبیر وہ ہے جو اب جاری ہوئی ہے ؛ اگر انسان الہی تدبیر کے باوجود بدکرداری اور گناہوں سے دستبردار نہ ہو تو یہ اسکی عیش و نشاط اور سنگدلی کا نتیجہ ہے نہ کہ تدبیر میں کوتاہی کا، جیسے ڈاکٹر کبھی کوئی مفید دوا بیمار کے لئے تجویز کرتا ہے ؛ لیکن اگر مریض ڈاکٹر کے حکم کی مخالفت کرے اور اسکی پابندیوں پر عمل نہ کرے تو وہ ڈاکٹر کی تجویز سے بہرہ مند نہیں ہوتاا ور اس نقصان کا تعلق ڈاکٹر سے نہیںہے چونکہ اس نے بیماری کی شناخت کر لی ہے لیکن مریض نے اسکی بات قبول نہیںکی۔


اگر انسان ہر لمحہ موت کے انتظار میں ہونے کے باوجود گناہوںسے دستبردار نہیں ہوتا تو اگر طولانی زندگی کا اطمینان ہو تو کہ بڑے گناہوں کا اور زیادہ ارتکاب کریگا، بہر حال موت کے انتظار میں رہنا، اس کے لئے دنیا میں اطمینان بقا سے بہترہے ، اور اس سے قطع نظر اگر موت کا انتظار ایک گروہ کے لئے مفید نہ ہو اور وہ لہو و لعب میں مصروف ہو اور اس سے نصیحت حاصل نہ کرے تو دوسرا گروہ نصیحت حاصل کریگا اور گناہوں سے گریز کریگااور نیک عمل بجالائیگا۔ اور اپنے اموال و گر انبہا اجناس کو فقراء و مساکین کوصدقہ دینے میںدریغ نہیں کریگا ۔ لہذا یہ انصاف نہیں ہے کہ یہ گروہ اس فضیلت سے بہرہ مند نہ ہوتو دوسرا گروہ بھی بہرہ مندنہ ہو۔

5/4

جاہل سے مناسب برتاؤ

الف: گفتگو کے وقت سلام کرنا

قرآن

(اور اللہ کے بندے وہی ہیں جو زمین پر آہستہ چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے خطاب کرتے ہیں تو سلامتی کا پیغام دے دیتے ہیں)

(اور جب لغویات سنتے ہیں تو کنارہ کشی اختیاکرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال ہیں ، تم پر ہمارا سلام کہ ہم جاہلوںکی صحبت پسند نہیںکرتے )


حدیث

1097۔ نعمان بن مقرِّن : رسول خدا کے سامنے ایک شخص نے ایک شخص کو گالیاں دیں، اور اس نے اس کے جواب میں کہا: تم پر سلام ہو! رسول خدا(ص) نے فرمایا: یاد رکھو! تم دونوں کے درمیان ایک فرشتہ ہے جو تم سے دفاع کرتا ہے ، جب وہ تم کو گالی دیتا ہے اور کہتا ہے : تم ایسے ہو، تووہ(فرشتہ) اس سے کہتا ہے : بلکہ تم اور تم اس کے زیادہ مستحق ہو اور جب اس کے جواب میںکہتا ہے؛ تم پر سلام ہو! تو وہ (فرشتہ )کہتاہے : نہیں ، بلکہ تم(درود و سلام) کے مستحق ہو۔

1098۔ امام علی (ع): نے ۔ اپنے چاہنے والوں کی توصیف میں ۔ فرمایا: اگر تم انہیں دنوں میں دیکھو گے تو ایسی قوم پاؤ گے جو(زمین پر آہستہ چلتے ہیں) اور لوگوں سے اچھی باتیں کرتے ہیں:(اور جب جاہل ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو سلامتی کا پیغام دیتے ہیں) اور(اور جب لغو کاموںکے قریب سے گذرتے ہیں تو بزرگانہ انداز سے گذر جاتے ہیں)

1099۔ امام صادق(ع): نے۔ شیعوں کی توصیف میں۔ فرمایا: جب کوئی جاہل انہیں مخاطب کرتا ہے تو سلامتی کا پیغام دیتے ہیں اور جب کوئی حاجت مند ان کی پناہ میں آتا ہے تو اس پر رحم کرتے ہیں اور موت کے وقت غمگین نہیںہوتے۔

1100۔ اغانی: خلیفہ عباسی کا بیٹا ابراہیم، علی بن ابی طالب کا شدید دشمن تھا، ایک روز مامون سے کہا کہ میں نے خواب میں علی کو دیکھا ہے اور ان سے پوچھا: تم کون ہو؟ جواب دیا کہ علی ابن ابی طالب ہوں ، ابراہیم نے کہا: ہم دونوں کچھ دور گئے اور ایک پل نظر آیا انہوںنے چاہا کہ مجھ سے پہلے پل سے گذر جائیں۔ میںنے ان کو ؛پکڑا اور کہا: آپ امیر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیںجبکہ ہم اس کے زیادہ مستحق ہیں ، تو انہوںنے ایسا فصیح و بلیغ جواب نہ دیا جیسا کہ ان کی شہرت ہے، مامون نے کہا انہوںنے کیا جواب دیا؟ ابراہیم نے کہا: فقط سلاماً سلاماً کہا ہے۔مامون نے کہا: خدا کی قسم بلیغ ترین جواب تم کو دیا ہے ؛ ابراہیم نے کہا: کس طرح ؟ مامون نے کہا: تم کو یہ سمجھا دیا کہ تم جاہل ہو اور قابل گفتگو نہیںہو، خدا کا ارشاد ہے:(جب ان سے جاہل خطاب کرتے ہیں تو سلامتی کا پیغام دیتے ہیں) پس ابراہیم شرمندہ ہوا اور کہا: کاش کہ یہ واقعہ آپ کو نہ سنایا ہوتا۔


ب: جھگڑے کے وقت خاموشی

1101۔ رسول خدا(ص): جناب موسیٰ ؑ نے جناب خضر سے ملاقات کی اور کہا: مجھکو نصیحت کیجئے! جناب خضر نے کہا: اے علم کے طلب کرنے والے.... اے موسیٰ ! اگر علم چاہتے ہو تو خود کو اس کےلئے وقف کر دو؛ اس لئے کہ علم اس شخص کےلئے ہے جو خود کو اس کےلئے وقف کر دیتا ہے...اور جاہلوں سے کنارہ کشی اختیار کرو اور احمقوںکے مقابل میں بردبار رہو، اس لئے کہ یہ بردباروںکےلئے فضیلت ہے اور علماء کیلئے زینت، اگر جاہل تم کو گالی دے تو تم نرمی کا برتاؤ کرتے ہوئے خاموش ہو جاؤ، اور دور اندیشی کےساتھ اس سے دوری اختیار کرو: چوں کہ تمہارے لئے جو نادانی و گالی باقی ہے وہی زیادہ ہے ۔

1102۔ امام علی (ع): آپ سے منسوب کلمات قصار میں ہے ۔ جاہل کے ساتھ جھگڑانہ کرو۔

1103۔ امام علی (ع): بیوقوفوں سے جھگڑا نہ کرو، اور عورتوں پر فریفتہ نہ ہو اس لئے کہ یہ خصلتیں عاقلوںکوبدنام کرتی ہیں۔

1104۔ امام باقر(ع): مرد دو طرح کے ہوتے ہیں: مومن اور جاہل ، مومن کو اذیت نہ دو، اور جاہل کو جاہل نہ سمجھو ورنہ اس کے مانند ہو جاؤگے۔

ج: بردباری

1105۔ رسول خدا(ص): جس میں یہ تین چیزیں نہ ہونگی اسکاکوئی عمل صحیح نہیں ہوگا: پرہیزگاری جو اسے خدا کی نافرمانی سے باز رکھے ، اخلاق کہ جسکے سبب لوگوں کےساتھ مہربانی سے پیش آئے اور بردباری کہ جسکے ذریعہ جاہل کی جہالت کا جواب دے۔

1106۔ امام علی (ع): اپنے غیظ و غضب کو دور کروتاکہ رسوائی سے محفوظ رہو، اگر کوئی جاہل تمہارے ساتھ نادانی کرے تو ضروری ہے کہ تمہاری بردباری اس پر حاوی ہو۔


1107۔ امام علی (ع):نے ۔ اپنے بیٹے اما م حسن ؑکو وصیت میں۔ فرمایا: میں تم کو وصیت کرتا ہوںکہ دوسروں کے گناہوںکو بخش دینا، غصہ کو پی جانا، صلہ رحم کرنا اور جاہل کے ساتھ بردباری کا مظاہرہ کرنا۔

1108۔ امام علی (ع): جاہل کو برداشت کرنا صدقہ ہے ۔

1109۔ امام علی (ع): مومن بردبار ہوتا ہے اور نادانی نہیں کرتا اور جب اس کے ساتھ کوئی نادانی کرتا ہے تو وہ بردباری کا ثبوت پیش کرتاہے ۔

1110۔ موسیٰ ؑ بن محمد محاربی : ایک شخص سے نقل کرتے ہیں: مامون نے امام رضا(ع) سے کہا: کیا آپ شعر نقل کرتے ہیں؟ فرمایا: مجھے بہت سارے اشعار یاد ہیں۔ اس نے کہا: بردباری کے متعلق کوئی بہترین شعر مجھے سنائےںامام (ع) نے فرمایا:

میں اپنے سے پست انسان کی جہالت کا شکار ہوں، میں نے اپنے نفس کو روک رکھا ہے کہ اس کا جواب جہالت سے دے، اگر عقلمندی میں اپنے مانند کسی کو پاؤں تو بردباری کاثبوت دوں؛ تاکہ میں اپنے مثل سے بلند ہو جاؤں؛ اور اگر علم و عقل میں ، میں اس سے کمتر ہوں تو اس کے لئے حق تقدم کا قائل ہوں۔

مامون نے کہا: کیا خوب شعر ہے؛ کس نے کہاہے؟! امام رضا(ع) نے فرمایا:ہمارے بعض جوانوں نے۔


د: تعلیم

1111۔ امام کاظم (ع): نے ۔ ہشام بن حکم ۔ سے فرمایا: اے ہشام! جو کچھ نہیں جانتے اسے سیکھو؛ اور جو سیکھ لیا ہے اسے جاہل کو سکھاؤ، عالم کو اس کے علم کے سبب عظیم سمجھو اور اس سے جھگڑا نہ کرو اور جاہل کو اسکی نادانی کے سبب چھوٹا سمجھو، اس کو جھڑکو نہیں بلکہ خود سے قریب کرو اور تعلیم دو۔

1112۔ اما م صادق(ع): میںنے علی (ع) کی کتاب میں پڑھا ہے کہ خدا نے جاہلوں سے علم سیکھنے کا عہد و پیمان اس وقت تک نہیں لیا جب تک کہ علماء سے انہیں سکھانے کا عہد نہیں لے لیا، اس لئے کہ علم کا وجود جہالت سے پہلے ہے ۔

ھ: عدم اعتماد

1113۔ امام علی (ع): اپنے عقلمند دشمن پر اپنے نادان دوست سے زیادہ اعتماد کرو۔

1114۔ امام علی (ع):جو عاقل نہیں ہے اس کے عہد و پیمان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

و: نافرمانی

1115۔امام علی (ع): جاہل کی نافرمانی کرو تاکہ محفوظ رہو۔


ز: اعراض

قرآن

(آپ عفو کا راستہ اختیار کریں نیکی کا حکم دیں اور جاہلوں سے کنارہ کشی کریں)

حدیث

1116۔ رسول خدا(ص): سب سے بڑا حکیم وہ ہے جو جاہل انسانوںسے فرار کرتا ہے ۔

1117۔ رسول خدا(ص):لوگ دو طرح کے ہوتے ہیں: مومن اور جاہل ، مومن کو اذیت نہ دو اور جاہل کی ہمنشینی اختیار نہ کرو۔

1118۔ امام علی (ع): نے ۔ امام حسن ؑسے اپنی وصیت میں ۔ فرمایا: کفر ان نعمت پستی ہے اور جاہل کی ہمنشینی نحوست ہے ۔

1119۔ امام علی (ع): ۔ آپ سے منسوب کلمات قصار میں ہے ۔ جاہل کی قربت اور اسکی ہمسائیگی تم کو اپنے شر سے محفوظ نہیںرکھتی، چوںکہ آگ سے جتنا زیادہ قریب ہوگے جلنے کا خطرہ اتنا ہی زیادہ ہوگا۔

1120۔ اما م علی (ع): جو عقل سے محروم ہے اسکی صحبت اختیار نہ کرو اورجو صاحب حسب و نسب نہیں ہے اس کو اپنا خاص نہ بناؤ کیوں کہ جو عقلمند نہیںہے وہ تم کو اپنے خیال میں فائدہ پہنچانے کے بجائے ضرر پہنچا ئیگا، اور جو صاحب حسب و نسب نہیںہے وہ اس کے ساتھ بھی برائی کرتا ہے جو اس کے ساتھ نیکی کرتا ہے ۔

1121۔ امام علی (ع):جو عقل سے محروم ہے اس سے نیکی کی امید نہ رکھواور جو بے نسب ہے اس پر اعتماد نہ کرو اس لئے کہ جو عقلمند نہیں ہے وہ اپنے خیال میں خیر خواہی کرتا ہے حالانکہ اس سے نقصان پہنچتا ہے اور بے نسب اصلاح کرنے کے بجائے تباہ کرتا ہے ۔


1122۔ امام علی (ع): بدترین شخص کہ جس کی تم ہمنشینی اختیار کرتے ہو وہ جاہل ہے ۔

1123۔ امام علی (ع): بدترین دوست جاہل ہے ۔

1124۔ امام علی (ع): جاہل سے قطع تعلق ہونا عقلمند سے وابستہ ہونے کے برابر ہے ۔

1125۔ امام علی (ع): عاقل سے بچو جب تم اس کو غضبناک کردو، کریم سے بچو جب تم اسکی اہانت کرو، حقیر و پست سے بچو جب تم اس کا احترام کرو اور جاہل سے بچو جب تم اس کے ہمنشیں ہو جاؤ۔

1126۔ امام علی (ع): نادان کا دوست معرض ہلاکت میں ہوتا ہے ۔

1127۔ امام علی (ع): نادان کا دوست تباہی کے دہانے پر ہوتا ہے ۔

1128۔ امام عسکری:ؑ نادان کا دوست غمگین رہتا ہے ۔

1129۔ اما م کاظم (ع): عالم سے مزبلہ پر گفتگو ، جاہل سے گرانبہافرش پر گفتگو کرنے سے بہترہے ۔

1130۔ امام رضا(ع): نے ۔ محمد بن سنان کو ایک خط میں۔ تحریر فرمایا: خدا نے ہجرت کے بعد بادیہ نشینی کو حرام کر دیا تاکہ کوئی دین سے نہ پھرے ، انبیاء اور پیشواؤں کی نصرت کرنے سے گریز نہ کرے اس لئے کہ یہ (حرمت) تباہی و بربادی اور صاحبان حق کے حقوق کی پامالی کی وجہ سے ہے نہ اس جہت سے کہ بادیہ نشینی ناروا ہے ، لہذا اگر کوئی شخص دین سے مکمل طور پر آگاہ ہو تو اس کے لئے مناسب نہیں ہے کہ جاہلوںکے درمیان سکونت پذیر ہو اور اس چیز کا بھی خوف ہے کہ وہ کہیں علم کو چھوڑ کر جاہلوںکے جرگے میں پھنس جائے اور اس میں بہت آگے بڑھ جائے۔


چھٹی فصل پہلی جاہلیت

6/1

مفہوم جاہلیت

قرآن

( اور پہلی جاہلیت جیسا بناؤ سنگار نہ کرو)

( اور ہم نے انہیں ایسی کتابیں نہیں عطا کی ہیں جنہیں یہ پڑھتے ہوں اور نہ ان کی طرف آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا بھیجا ہو)

( اور آپ طور کے کسی جانب اس وقت نہیں تھے جب ہم نے موسیٰ کو آواز دی لیکن یہ آپ کے پروردگار کی رحمت ہے کہ آپ اس قوم کو ڈرائیںجسکی طرف آپ سے پہلے کوئی پیغمبر نہیں آیا ہے کہ شاید وہ اس طرح عبرت و نصیحت حاصل کر لیں)

حدیث

1131۔رسول خدا(ص): اعمال میں ضعف اور لوگوں کی جہالت کی بنا پر جاہلیت کہا گیا ہے ...بیشک اہل جاہلیت غیر خدا کی عبادت کرتے تھے ، ان کے لئے آخرت میں ایک مدت ہوتی تھی جہاں تک وہ پہنچتے تھے اور اسکی ایک انتہا ہوتی تھی جہاں تک وہ جاتے تھے اور ان کے عقاب روز قیامت تک ٹال دیا گیا تھا، خدا نے ان کواپنی قدرت و بزرگی اور عزت کی بنا پر مہلت دے دی تھی لہذا قدرتمند ، کمزوروں پر مستلط ہوئے اور بڑے ، چھوٹوں کو اس دوران کھا گئے ۔


1132۔ جعفر بن ابی طالب نے ۔ اپنی قوم کی حبشہ کے بادشاہ نجاشی سے اسطرح تعریف کی: اے بادشاہ! ہم لوگ جاہل تھے ، بتوںکی پرستش کرتے تھے مردار کھاتے تھے، برائیوںکا ارتکاب کرتے تھے ، قطع رحم کرتے تھے۔ اور پڑوسیوںکےساتھ بدسلوکی کرتے تھے، ہم میں سے قدرتمند کمزور کو کھاجاتا تھا، ہماری یہی کیفیت تھی کہ اللہ نے ہماری طرف ہمیں میں سے رسول بھیجا کہ ہم جسکے نسب، صداقت، امانت اور پاکدامنی سے واقف ہیں، اس نے ہمیں اللہ کیطرف دعوت دی تاکہ ہم اسکی وحدانیت کے قائل ہو جائیںاور اسکی عبادت کریں، اورجن چیزوںجیسے پتھر اور بت وغیرہ کی ہم اور ہمارے آباء و اجداد پرستش کیا کرتے تھے، انہیں چھوڑ دیں اور ہمیں سچ بولنے، ادائے امانت، صلہ رحم، پڑوسی کےساتھ نیکی، محرمات اور خونریزی سے پرہیز کرنے کا حکم دیا، ہمیں برائیوں، باطل کلام ،یتیم کا مال کھانے اور پاکدامن پر بہتان لگانے سے منع فرمایا۔ہمیں حکم دیا کہ ہم صرف اللہ کی عبادت کریں اور اسکے ساتھ کسی کو شریک قرار نہ دیں، ہمیں نماز و زکات اور روزہ کا حکم دیا...پس ہم نے اسکی تصدیق کی اور اس پر ایمان لے آئے، وہ جو کچھ لیکر آئے تھے ہم نے اسکی اتباع کی، ہم نے صرف خدا کی عبادت کی اور اسکے ساتھ کسی کو شریک قرار نہ دیا اور ہم پر جو حرام کیا تھا ہم نے اسے حرام جانا اور جو حلال کیاتھا ہم نے اسے حلال جانا، لہذا ہماری قوم نے ہم پر ستم کیا، ہمیں عذاب دیا اور ہمیں ہمارے دین سے پلٹانے کےلئے شکنجے دئے، تاکہ ہم خدا کی عبادت سے بت پرستی کی طرف پلٹ آئیں اور جن بری چیزوںکو حلال جانتے تھے انہیں دوبارہ حلال سمجھیں۔

1133۔ امام علی (ع): اما بعد! اللہ نے حضرت محمد مصطفیٰ(ص) کو اس دور میں بھیجا ہے جب عرب میں نہ کوئی کتاب پڑھنا جانتا تھا اور نہ نبوت اور وحی کا ادعاء کرنے والا تھا۔

1134۔ امام علی (ع): خدا نے انہیں اس وقت بھیجا جب انبیاء کا سلسلہ موقوف تھا اوربد عملی کا دور دورہ تھا اور امتیں غفلت میں ڈوبی ہوئی تھیں۔


1135۔ امام علی (ع): میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اﷲکے بندہ اور رسول ہیں۔ انہیںاس وقت بھیجا جب ہدایت کے نشانات مٹ چکے تھے، دین کے راستے بے نشان ہوچکے تھے، انہوںنے جنکا واشگاف اندازسے اظہار کیا، لوگوںکو نصیحت کی ۔

1136۔ امام علی (ع): خدا نے انہیں اس وقت مبعوث کیاجب نہ کوئی نشان ہدایت تھا نہ کوئی منارئہ دین روشن تھا اور نہ کوئی راستہ واضح تھا۔

1137۔ امام علی (ع): اسکے بعد مالک نے آنحضرؐت کو حق کےساتھ مبعوث کیا جب دنیا فنا کی منزل سے قریب تر ہوگئی اور آخرت سر پر منڈلانے لگی دنیا کا اجالا اندھیروں میں تبدیل ہونے لگا اور وہ اپنے چاہنے والوںکےلئے ایک مصیبت بن گئی، اسکا فرش کھردرا ہوگیا اور وہ فنا کے ہاتھوں میں اپنی مہاردینے کےلئے تیار ہوگئی، اسطرح کہ اسکی مدت خاتمہ کے قریب پہنچ گئی اسکی فنا کے آثار قریب آگئے ،اسکے اہل ختم ہونے لگے اسکے حلقہ ٹوٹنے لگے، اس کے اسباب منتشر ہونے لگے، اسکے نشانات مٹنے لگے ، اسکے عیب کھلنے لگے ، اور اسکے دامن سمٹنے لگے۔

1138۔ امام علی (ع): اللہ نے انہیں اس وقت بھیجا جب لوگ گمراہی میں متحیر تھے اور فتنوں میں ہاتھ پاؤں مار رہے تھے ، خواہشات نے انہیں بہکا دیا تھا اور غرور نے ان کے قدموںمیں لغزش پیدا کر دی تھی جاہلیت نے انہیں سبک سر بنا دیاتھا، اور وہ غیر یقینی حالات اور جہالت کی بلاؤں میں حیران و سرگرداں تھے ، آ پ نے نصیحت کا حق ادا کر دیا ، سید ھے راستہ پر چلے اور لوگوںکو حکمت اور موعظہ حسنہ کی طرف دعوت دی۔


1139۔ امام علی (ع): اے لوگو! اللہ نے تمہاری طرف رسول بھیجا اور ان پرحق کےساتھ کتاب نازل کی، حالانکہ اس وقت تم کتاب اور جو کچھ اس نے نازل کیا ہے اور رسول اور اسکے بھیجنے والے سے بیگانہ تھے اس وقت جبکہ ابنیاء کا سلسلہ موقوف تھااور امتیں خواب غفلت میں پڑی ہوئی تھیں، جہالت کا دور دورہ تھا، فتنے چھائے ہوئے تھے، محکم عہد و پیمان توڑے جارہے تھے، لوگ حقیقت سے اندھے تھے، جور و ستم کے سبب منحرف تھے، دینداری زیر پردہ تھی، جنگ کے شعلے بھڑک رہے تھے باغات دنیا کے گلستان پژمردہ ہوگئے تھے، انکے درختوں کی شاخیں خشک ہو چکی تھیں، باغ زندگی کے پتوں پر خزاں تھی، ثمرات حیات سے مایوسی پیدا ہو چکی تھی، پانی بھی تہ نشیںہو چکا تھا، ہدایت کے پرچم بھی سرنگوںہوچکے تھے اور ہلاکت کے نشانات بھی نمایاں تھے۔

یہ دنیا اپنے اہل کو ترش روئی سے دیکھ رہی تھی اور ان کی طرف پیٹھ کئے ہوئے تھی اور منہ بگاڑ کر پیش آرہی تھی اس کا ثمرہ فتنہ تھا اور اسکی غذا مردار ، اس کا اندرونی لباس خوف تھا اور بیرونی لباس تلوار، تم لوگ ٹکڑے ٹکڑے ہو چکے تھے ، اہل دنیا کی آنکھیں اندھی ہو چکی تھیں، ان کی تمام زندگی تاریک ہو چکی تھی، اپنے عزیز و رشتہ دار سے قطع تعلق کر چکے تھے، ایک دوسرے کا خون بہاتے تھے، اپنی نو زاد بچیوں کو زندہ در گور کر دیتے تھے، خوشحال زندگی اور عیش و آرام ان کے درمیان سے رخت سفر باندھ چکا تھا نہ خدا سے ثواب کی امید رکھتے تھے اور نہ ہی اس کے قہر و غضب سے ڈرتے تھے، ان کے زندہ اندھے اور ناپاک تھے، اور مردے آگ کے اندر لڑھک رہے تھے، پھر اس کے بعد رسول خدا اولین کی کتابوں سے ایک نسخہ لیکر آئے اور جو کچھ اس کے پاس حق و حقیقت تھی اسکی تصدیق کی اور حلال و حرام کو اچھی طرح سے جداکیا۔


1140۔ امام علی (ع): میں گو اہی دیتا ہوں کہ محمد اللہ کے بندہ اور رسول ہیں، انہیں خدا نے مشہور دین کےساتھ بھیجا...یہ بعثت اسوقت ہوئی ہے جب لوگ ایسے فتنوں میں مبتلا تھے جن سے ریسمانِ دین ٹوٹ چکی تھی، یقین کے ستون ہل گئے تھے، اصول میں شدید اختلاف تھا، اور امور میں سخت انتشار، مشکلات سے نکلنے کے راستے تنگ و تاریک ہو گئے تھے، ہدایت گمنام تھی اور گمراہی برسرعام، رحمن کی معصیت ہو رہی تھی اور شیطان کی نصرت، ایمان یکسر نظر انداز ہو گیا تھا، اسکے ستون گرگئے تھے اور آثارناقابل شناخت ہوگئے تھے، راستے مٹ گئے تھے اور شاہراہیں بے نشان ہوگئی تھیں، لو گ شیطان کی اطاعت میں اسی کے راستے پر چل رہے تھے اور اسی کے چشموںپر وارد ہو رہے تھے۔انہیں کی وجہ سے شیطان کے پرچم لہرا رہے تھے اور اسکے علم سر بلند تھے، یہ لوگ ایسے فتنوں میں مبتلا تھے جنہوںنے انہیں پیروں تلے روند دیا تھا اور سموں سے کچل دیا تھا، اورخود اپنے پنجوں کے بل کھڑے ہو گئے تھے، یہ لوگ فتنوں میں حیران و سرگرداں اور جاہل و فریب خوردہ تھے، پروردگار نے انہیں اس گھر( مکہ) میں بھیجا جو بہترین مکان تھا لیکن بدترین ہمسایہ، جنکی نیندیں بیداری تھیں اور جن کا سرمہ آنسو۔ وہ سرزمین جہاں عالم کو لگام لگی ہوئی تھی اور جاہل محترم تھا۔

1141۔ امام علی (ع): میں گواہی دیتا ہوں کہ سوائے اللہ کے کوئی خدا نہیں اور حضرت محمد(ص) اسکے بندہ اور رسول ہیں، اس کے منتخب و مصطفیٰ ہیں، انکے فضل کا کوئی مقابلہ نہیںکر سکتا ہے، اور نہ انکے فقدان کی تلافی، انکی وجہ سے تمام شہر ضلالت کی تاریکی، جہالت کے غلبہ اور بدسرشتی و بد اخلاقی کی شدت کے بعد جب لوگ حرام کو حلال اور صاحبان حکمت کو ذلیل سمجھ رہے تھے، رسولوں سے خالی دور میں زندگی گذار رہے تھے اور کفر کی حالت میں مر رہے تھے، منور اور روشن ہو گئے۔

1142۔ امام علی (ع):(خدا وند متعال) نے آنحضرؐت کو مبعوث کیا اور اے گروہ عرب ! تم بدترین حالت میں تھے، تم میں سے بعض کتوں کو اپنی غذا بناتے تھے، اپنی اولاد کو قتل کرتے تھے ،دوستوں کو غارت کرتے تھے اور جب پلٹے تھے تو دوسرے انہیں غارت کر چکے ہوتے تھے، تم لوگ حنظل و اندرائن کے دانے ، خون اور مردار کھاتے تھے، تمہاری بود و باش نا ہموار پتھروں اور گمراہ کرنے والے بتوں کے درمیان تھی، تم بد ذائقہ کھانا کھاتے اور بد مزہ پانی پیتے تھے آپس میں ایک دوسرے کا خون بہاتے اور ایک دوسرے کو اسیر کرتے تھے۔


1143۔ امام علی (ع): یہ آپکے اس خط کا ایک حصہ ہے جو آپ نے محمد بن ابی بکر کے قتل کے بعد اپنے بعض اصحاب کو لکھا تھا۔ یقینا اللہ نے آنحضرؐت کو عالمین کےلئے عذاب الہی سے ڈرانے والا، تنزیل کا امانتدار اور اس امت کا گواہ بنا کر اسوقت بھیجا ہے، جب تم گروہ عرب ،بدترین دین کے مالک اور بدترین علاقہ کے رہنے والے تھے، نا ہموار پتھروں، زہریلے سانپوں اور خار مغیلاںکے درمیان بود و باش رکھتے تھے بد مزہ پانی پیتے اور بدذائقہ کھانا کھاتے تھے، آپس میں ایک دوسرے کا خون بہاتے تھے، ایک دوسرے کو قتل کرتے تھے اور اپنے قرابتداروں سے بے تعلقی رکھتے تھے اور تم آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقہ سے کھاتے تھے، تمہارے راستے پر خطر تھے، بت تمہارے درمیان نصب تھے( اور گناہ تمہیں گھیرے ہوئے تھے) اور ان میں سے اکثر کا خدا پر ایمان شرک سے مخلوط تھا۔

1144۔ امام علی (ع): نے ۔گذشتہ امتوں سے عبرت و نصیحت اور مغرور و گنہگار سے بچنے کے متعلق فرمایا: اب تم اولاد اسماعیل اور اولاد اسحاق و اسرائیل(یعقوب) سے عبرت حاصل کرو کہ سب کے حالات کسقدر ملتے ہوئے اور کیفیات کسقدر یکساںہیں، دیکھو انکے انتشار و افتراق کے دور میں انکا کیا عالم تھا کہ قیصر و کسریٰ انکے ارباب بن گئے تھے، اور انہیں اطراف عالم کے سبزہ زاروں، عراق کے دریاؤں اور دنیا کی شادابیوں سے نکال کر خار دار جھاڑیوں اور آندھیوں کی بے روک گذر گاہوں اورمعیشت کی دشوار گذار منزلوں تک پہنچ کر اس عالم میں چھوڑ دیاتھا کہ وہ فقیر و نادار، اونٹوں کی پشت پر چلنے والے اور بالوں کے خیموں میں قیام کرنے والے ہو گئے تھے، گھر بار کے اعتبار سے تمام قوموں سے زیادہ ذلیل اور جگہ کے اعتبار سے سب سے زیادہ خشک سالیوں کا شکار تھے، نہ ان کی آواز تھی جنکی پناہ لیکر اپنا تحفظ کر سکیں اور نہ کوئی الفت کا سایہ تھا جس کی طاقت پر بھروسہ کر سکیں ، حالات مضطرب، طاقتیں منتشر، کثرت میں انتشار، بلائیں سخت، جہالت کا دور دورہ، زندہ در گور بیٹیاں، پتھر پر ستش کے قابل، رشتہ داریاں ٹوٹی ہوئی اور چاروں طرف سے حملوں کی یلغار۔


اس کے بعد دیکھو کہ پروردگار نے ان پر کس قدر احسانات کئے جب ان کی طرف ایک رسول بھیج دیا ، جس نے اپنے نظام سے ان کی اطاعت کو پابند بنا یا اور اپنی دعوت پر ان کی الفتوں کو متحد کیا اور اس کے نتیجہ میں نعمتوں نے ان پر کرامت کے بال و پر پھلا دئےے اور راحتوں کے دریا بہا دئےے، شریعت نے انہیں اپنی برکتوں کے بیش قیمت فوائد میں لپیٹ لیا، وہ نعمتوں میں غرق ہو گئے اور زندگی کی شادابیوں میںمزے اڑانے لگے، ایک مضبوط حاکم کے زیر سایہ حالات ساز گار ہوگئے اور حالات نے غلبہ و بزرگی کے پہلو میں جگہ دلوا دی اور ایک مستحکم ملک کی بلندیوں پر دنیا و دین کی سعادتیں انکی طرف جھک پڑیں، و ہ عالمین کے حکام ہو گئے اور اطراف زمین کے بادشاہ شمار ہونے لگے جو کل انکے امور کے مالک تھے آج وہ انکے امور کے مالک ہو گئے اور اپنے احکام ان پر نافذ کرنے لگے جو کل اپنے احکام ان پر نافذ کر رہے تھے کہ اب نہ انکا دم خم نکالا جا سکتا تھا اور نہ انکا زور ہی توڑا جا سکتا تھا دیکھو تم نے اپنے ہاتھوں کو اطاعت کے بندھنوں سے چھڑا لیا ہے اور اللہ کی طرف سے اپنے گرد کھنچے ہوئے حصار میں جاہلیت کے احکام کی بنا پر رخنہ پیدا کر دیا ہے ۔

1145۔ : فاطمۃ ؑ: نے۔ وفات پیغمبر کے بعد مسلمانوں کو مخاطب کرکے۔ فرمایا: تم لوگ آگ کے گڑھے کے دہانے پر تھے، پینے والوںکے لئے پانی ملا دودھ کا گھونٹ ، حریص کی فرصت اور اس شخص کے مانند تھے جو گھر میں داخل ہو اور صرف آگ لینے تک ٹھہرے، اور دوسروں کے پیروں تلے کچلے جا رہے تھے ، گدلا پانی پیتے تھے اور گوسفند کی کھال تمہاری غذائیں تھیں، ذلیل و پست تھے، اورخوف لا حق رہتا تھا کہ کہیں لوگ اطراف سے تمہیں اچک نہ لے جائیں ۔ پس اللہ نے تمہیں میرے باپ محمد(ص)کے ذریعہ نجات بخشی۔


1146۔ اما م ہادی ؑ: نے۔ اپنے خطبہ میں فرمایا: حمد اس اللہ کے لئے ہے جو ہر موجود سے آگاہ ہے قبل اس کے کہ اسکی مخلوق میں سے کسی کا اسکی گردن پر قرض ہو... اور بیشک محمد(ص) اس کے بندہ اس کے برگزیدہ رسول اور پسندیدہ دوست ہیں اور ہدایت کے ساتھ مبعوث کئے گئے ہیں۔ اور انہیں رسولوں سے خالی عہد، امتوں کے اختلاف ، راستوں کے انقطاع، حکمت کی بوسیدگی اور نشانات ہدایت و شواہد کے محو ہونے کے زمانہ میں بھیجا ہے ۔ انہوںنے رسالت پروردگار کو پہنچایا۔ اور اس کے حکم کو واضح کیا۔ اور ان پر جوفریضہ تھا اس کو انجام دیا اور جب وفات پائی تو محمود و پسندیدہ تھے۔

جاہلیت کے متعلق کچھ باتیں

قرآن نے ظہور اسلام سے پہلے والے زمانہ کو جاہلیت سے تعبیر کیا ہے ، اس کا سبب یہ ہے کہ اس وقت علم کے بجائے جہالت، حق کے بجائے ہر چیز میں خلاف حق اور احمقانہ رائے کا دور دورہ تھا قرآن نے ان کی خصوصایت کو اس طرح بیان کیا ہے:

(یظنون باﷲ غیر الحق ظن الجاهلیة)

وہ لوگ خدا کے متعلق خلاف حق جاہلیت جیسے خیالات رکھتے تھے۔

اور فرمایا(افحکم الجاهلیة یبغون)

کیایہ لوگ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں فرمایا:( اذ جعل الذین کفروا فی قلوبهم الحمیة حمیة الجالیة)

یہ اس وقت کی بات ہے جب کفار نے اپنے دلوں میں زمانہ جاہلیت جیسی ضد قرار دے لی تھی۔

نیز فرماتا ہے:(ولا تبر جن تبرج الجاهلیة الاولیٰ)

اور پہلی جاہلیت جیسا بناؤ سنگار نہ کرو۔


اس وقت عرب معاشرہ کے جنوب میں حبشہ کہ جہاں کے باشندوں کا مذہب نصرانی تھا، اور مغرب میں حکومتِ روم تھی کہ جسکا مذہب نصرانی تھاشمال میں ایران جسکا مذہب مجوسی تھا اور دوسرے اطراف میں ہندوستان اور مصر ایسے بت پرست ممالک واقع تھے۔

خود عرب کے درمیان یہودیوں کے چند گروہ آباد تھے، خود عرب بت پرست تھے، اکثرلوگ قبیلوں میں زندگی بسر کرتے تھے یہ تمام چیزیں اس چیز کی باعث ہوئیں کہ ایک بے بنیادبادیہ نشیں معاشرہ وجود میں آجائے کہ جو یہود و نصاریٰ اور مجوس کے آداب و رسوم سے مخلوط ہو، لوگ جہالت و نادانی اور مکمل بے خبری میں زندگی بسر کر رہے تھے۔خدا انکے بارے میں اس طرح فرمایا:

(ان تطع اکثر من فی الارض یضلوک عن سبیل اﷲ ان یتبعون الا الظن و ان هم الا یخرصون)

اور اگر آپ روئے زمین کی اکثریت کا اتباع کر لیں گے تو یہ آپ کو راہ خدا سے بہکا دیں گے اور یہ صرف گمان کا اتباع کرتے ہیں اور صرف اندازوں سے کام لیتے ہیں۔

یہ صحرا نورد قبائل بہت پست زندگی گذارتے تھے؛ مسلسل جنگ و غارت گری ، لوٹ مار ایک دوسرے کی ناموس پر تجاوز کرتے تھے، ان میں کسی طرح کا امن و امان ، امانتداری اور صلح و آشتی نہ تھی، اسی کی چودھراہٹ و حکمرانی ہوتی جو ان میں نہایت سرکش و قدرتمند ہوتا تھا۔

ان کے درمیان مردوںکی فضیلت خونریزی، جاہلیت کی ضد، کبر و غرور، ظالموں کا اتباع، مظلوموں کا حق پامال کرنا، آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی، نفسہ نفسی، جوا کھیلنا شرابخوری، زنا کاری، مردار و خون اور کھجوروںکا بیج کھانا، تھی۔

لیکن ان کی عورتیں انسانی حقوق سے محروم تھیں، وہ خود مختار اور صاحب ارادہ نہیں ہوتی تھیں انہیں اپنے کسی کام میںکوئی اختیار نہیںہوتا تھا، یہاں تک کہ وراثت کی بھی مالک نہیںہوتی تھیں اور مرد بغیر کسی قید و بند کے ان سے شادیا ںکرتے تھے جیسا کہ بعض یہودی اور بت پرستوںکی عاد ت تھی۔ در عین حال عورتیں بھی خود کو آراستہ اور بناؤ سنگار کرکے جس کوچاہتی تھیں اپنے پاس بلا لیتی تھیں، زنا و بے حیائی ان میں عام تھی یہاں تک کہ شادی شدہ عورتیں بھی زنا کا ارتکاب کرتی تھیں اور بسا اوقات عریاں حج کے لئے آتی تھیں۔


لیکن ان کی اولاد باپ سے منسوب ہوتی تھی، لیکن بچپن میں وراثت سے محروم ہوتی تھی، صرف بڑی اولاد کو میراث کے تصرف کا حق ہوتا تھا، منجملہ ان کی میراث متوفیٰ کی بیوہ ہوتی تھی، بطور کلی لڑکیاں چاہے چھو ٹی ہوں یا بڑی اور چھوٹے لڑکے میراث کا حق نہیں رکھتے تھے، مگر جب کوئی شخص مرتا اور کوئی کمسن بچہ چھوڑ کر جاتا تو سر غنہ قسم کے افراد زبردستی اس کے اموال کے سر پرست بن کر اس کے اموال کو کھاجاتے تھے، اور اگر یہ یتیم بچی ہوتی تو اس کے ساتھ شادی کرتے اور اس کے اموال کوچٹ کر جانے کے بعد اس کو طلاق دیکرنکال دیتے تھے اس صورت میں اس بچی کے پاس نہ مال ہوتا تھا کہ جس سے زندگی گذار سکے اور نہ ہی کوئی اس سے شادی کے لئے تیار ہوتا تھا کہ اس کے اخراجات کا ذمہ دار بنے۔

ان کے درمیان یتیموں کامال غصب کرنا عظیم ترین حادثہ تھا، تا ہم وہ ہمیشہ جنگ و جدال اور غارت گری میں مبتلا رہا کرتے تھے جس کے نتیجہ میں قتل و خونریزی زیادہ ہوتی تھی لہذا بے سر پرست یتیموںکے حادثات اور رونما ہوتے تھے۔

ان کی اولاد کی عظیم بدبختی و شقاوت کا سبب یہ تھا کہ وہ بنجر اور نا ہموار زمینوں میں آباد تھے جو بہت جلد قحط کا شکار ہو جایا کرتی تھیں، لہذا فقر و ناداری کے خوف سے وہ اپنے بیٹوں کو قتل اور بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے، ان کے لئے سب سے زیادہ ناگوار اور دردناک خبر ان کے یہاں بیٹی کی ولادت ہوتی تھی۔

اگرچہ جزیرہ نما عرب کے اطراف میں کچھ بادشاہ حکومت کرتے تھے اور یہ عرب والے انہیں بادشاہوں میں سے اپنے سے قریب اور طاقتور بادشاہ کی زیر حمایت زندگی گذارتے تھے ۔ جیسے ایران شمال کی سمت میں ، روم مغرب کی سمت میںاور حبشہ مشرق کے اطراف میں آباد تھے مگر یہ کہ مرکزی شہر جیسے مکہ ، یثرت اور طائف وغیرہ ایسی کیفیت میں تھے کہ جو جمہوریت کے مثل تھے لیکن جمہوری نہیں تھے اور قبائل صحراؤں میں اور کبھی کبھار شہروں میں زندگی گذارتے تھے اور رؤساء اور بزرگان قبیلہ کے ذریعہ ان کی کفالت ہوتی تھی اور کبھی یہ کیفیت بادشاہی حکومت میں تبدیل ہو جاتی تھی۔


یہ عجیب ہرج و مرج ان میں سے ہر گروہ میں ایک خاص صورت میں نمایاںتھا، اورجزیرہ نما عرب کی سرزمین کے ہر گوشے کا ہر گروہ عجیب و غریب آداب و رسوم اور باطل عقائد کا پابند تھا، اس سے قطع نظر وہ سب کے سب تعلیم و تعلم کے فقدان کی بلاء میں مبتلا تھے حتیٰ کہ شہر بھی چہ برسد عشائر و قبائل ۔

جو میں نے ان کے تمام حالات و کردار اور عادات و رسومات بیان کئے ہیں یہ ایسے امور ہیں جنہیں قرآن کی آیات اور ان ارشادات سے بخوبی سمجھا جا سکتا ہے جن میں ان کا ذکر موجود ہے ۔

لہذاجوآیات پہلے مکہ میں پھر اسلام کے ظہور کے بعد مدینہ میں نازل ہوئی ہیں کہ جن میں ان کے خصوصیات کا تجزیہ کیا گیا ہے، اسی طرح جن آیات میں ان کی شدید و معمولی سر زنش کی گئی ہے ان سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ یہ ان مطالب کی سب سے بڑی سند ہے جو ہم نے بیان کئے ہیں نہایت مختصرجملہ جو ان تمام امور کو بخوبی ثابت کرتا ہے وہ یہ ہے کہ قرآن نے اس زمانہ کو دور جاہلیت سے تعبیر کیا ہے ، فقط یہی مختصر سی تعبیر ان تمام معانی کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے، یہ تھی اس زمانہ میں عرب کی حالت۔


6/2

دین جاہلیت

الف : غیر اللہ کی عبادت

قرآن

(اور ان لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر ایسے خدا بنالئے ہیں جو کسی بھی شی کے خالق نہیںہیں بلکہ خود ہی مخلوق ہیں اور خود اپنے بھی کسی نقصان یا نفع کے مالک نہیںہیں اور نہ انکے اختیار میں موت و حیات یا حشر و نشر ہی ہے)

ب: خدا کے لئے بیٹا قرار دینا

(اور ان لوگوں کو ڈراؤ جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو اپنا فرزند بنا یا :اس سلسلہ میں نہ انہیں کوئی علم ہے اور نہ انکے باپ دادا کو یہ بہت بڑی بات ہے جو انکے منہ سے نکل رہی ہے کہ یہ جھوٹ کے علاوہ کوئی بات ہی نہیں کرتے)

(اور یہ اللہ کےلئے بیٹیاں قرار دیتے ہیں جبکہ وہ پاک ہے اور یہ جو کچھ چاہتے ہیں وہ سب انہیں کےلئے ہیں)

(کیا یہ تمہارے رب نے تم لوگوں کےلئے لڑکوں کو پسند کیا ہے اور اپنے لئے ملائکہ میں سے لڑکیاں بنائی ہیں یہ تم بہت بڑی بات کہہ رہے ہو)

(یا خدا کے لئے لڑکیاں اور تمہارے لئے لڑکے ہیں)

(کیا تم لوگوں نے لات و عزی کو دیکھا ہے اور منات جو ان کا تیسرا ہے اسے بھی دیکھا ہے، تو کیاتمہارے لئے لڑکے ہیں اور اس کے لئے لڑکیاں ہیں یہ انتہائی ناانصافی کی تقسیم ہے)


حدیث

1147۔ رسول خدا(ص): خدا نے فرمایا: فرزند آدم نے میری تکذیب کی، جبکہ اسکو یہ حق نہیں تھا اور مجھ کو گالی دی حالانکہ اس کےلئے یہ مناسب نہیں تھا، لیکن میری تکذیب اس لئے کی تھی کہ اسکا گمان تھا کہ وہ جسطرح دنیا میں ہے میں اسے اسی طرح نہیں پلٹا سکتا ہوں؛ اور اسکا مجھے گالی دینا اس لئے تھا کہ اس نے میرے لئے بیٹا قرار دیا۔ میں اس چیز سے منزہ ہوں کہ میرے لئے زوجہ اور بیٹا ہو۔

1148۔ مجاہد: کہ کفار قریش کہتے تھے: ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں اور ان کی مائیں بڑی پریوںکی بیٹیاں ہیں۔

1149۔ ابن عباس:نے اس آیت (اور یہ اللہ کےلئے بیٹیاں قرار دیتے ہیں) کی تفسیر میںفرمایا:وہ لوگ اللہ کےلئے بیٹیاں قرار دیتے تھے ، اور تم اس بات کو پسند کرتاتے ہو کہ میرے(خدا) یہاں لڑکیاں ہوں لیکن اپنے لئے پسند نہیں کرتے ، اسی لئے دور جاہلیت میں جب کسی کے یہاں بیٹی پیدا ہوتی تھی تو اسے ذلت و حقارت کے ساتھ باقی رکھتے تھے یا زندہ در گور کر دیتے تھے۔

ج: جنات کو خداکا شریک قرار دینا

( اور انہوں نے جنات کو خداکا شریک بنایا حالانکہ خدا نے انہیںپیدا کیا ہے پھر اس کےلئے بغیر جانے بوجھے بیٹے اور بیٹیاں بھی تیار کر دی ہیں، جبکہ وہ بے نیاز اور انکے بیان کر دہ اوصاف سے کہیں زیادہ بلند و بالا ہے )

(اور جس دن خدا سب کو جمع کریگا اور پھر ملائکہ سے کہے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری ہی عبادت کرتے تھے تو وہ عرض کریں گے کہ تو پاک و بے نیاز اور ہمارا ولی ہے یہ ہمارے کچھ نہیں ہیں اور یہ جنات کی عبادت کرتے تھے اور ان کی اکثریت انہیں پر ایمان رکھتی تھی)


د: خدا اور جنات کا رشتہ

(اور انہوںنے خدا و جنات کے درمیان بھی رشتہ قرار دے دیا حالانکہ جنات کو معلوم ہے کہ انہیں بھی خدا کی بارگاہ میں حاضر کیا جائےگا)

ھ: بعض چوپایوں کو حرام قرار دینا

(آپ کہہ دیجئے کہ خدا نے تمہارے لئے رزق نازل کیاتو تم نے اس میں بھی حلال و حرام بنانا شروع کر دیا تو کیا خدا نے تمہیں اسکی اجازت دی ہے یا تم خدا پر افتراء کر رہے ہو)

(لہذا اب تم اللہ کے دئےے ہوئے رزق حلال و پاکیزہ کو کھاؤ اور اسکی عبادت کرنے والے ہو تو اسکی نعمتوں کا شکریہ بھی ادا کرتے رہو اس نے تمہارے لئے صرف مردار، خون ، سور کا گوشت اور جو غیر خدا کے نام پر ذبح کیا جائے اسے حرام کر دیا ہے اور اس میں بھی اگر کوئی شخص مضطر و مجبور ہو جائے اور نہ بغاوت کرے ، نہ حد سے تجاوز کرے تو خدا بہت بڑا بخشنے والا مہربان ہے اور خبردار جو تمہاری زبانیں غلط بیانی سے کام لیتی ہیں اسکی بنا پر یہ نہ کہو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ اس طرح خدا پر جھوٹا بہتان باندھنے والے ہو جاؤ گے اور جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتے ہیں ان کے لئے فلاح اور کامیابی نہیں ہے )

( اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ جانور اور یہ کھیتی اچھوتی ہے اسے ان کے خیالات کے مطابق وہی کھا سکتے ہیں جنکے بارے میں وہ چاہیں گے اور کچھ چوپائے ہیں جنکی پیٹھ حرام ہے اور کچھ چوپائے ہیںجنکو ؟ذبح کرتے وقت نام خدا بھی نہیںلیا گیا اور سب کی نسبت خدا کی طرف دے رکھی ہے ، عنقریب ان تمام بہتانوں کا بدلہ انہیں دیا جائیگا اور کہتے ہیں کہ ان چوپایوں کے پیٹ میںجو بچے ہیں وہ صرف ہمارے مردوں کے لئے ہیں اور عورتوں پر حرام ہیں ہاں، اگر مردار ہوں تو سب شریک ہوں گے، عنقریب خدا ان بیانات کا بدلہ دیگا کہ وہ صاحب حکمت بھی ہے اور سب کا جاننے والا بھی ہے )


( اللہ نے بحیرہ ، سائبہ، وصیلہ اور حام کا کوئی قانون نہیں بنایا یہ جو لوگ کافر ہو گئے ہیں وہ اللہ پر جھوٹا بہتان باندھتے ہیں اور ان میں کے اکثر بے عقل ہیں)

1150۔ امام صادق(ع): جب اونٹنی بچہ دیتی ہے پھر اس کا بچہ بھی بچہ دے دے تو اس ناقہ کو بحیرہ کہتے ہیں۔

1151۔ امام صادق(ع): نے خدا کے اس قول( اللہ نے بحیرہ ، سائبہ ، وصیلہ اور حام کا کوئی قانون نہیں بنایا)کے بارے میں فرمایا: دور جاہلیت کے لوگ اس اونٹنی کو جو جوڑواں بچہ دیتی تھی وصیلہ کہتے تھے لہذا اس کا ذبح کرنااور کھانا ناجائز سمجھتے تھے، اور اگر دس بچے پیدا ہو جاتے تھے تو اس اونٹنی کو سائبہ کہتے تھے اس پر سواری کرنا اور اس کے کھانے کو حلال نہیں سمجھتے تھے اور حام وہ نرجانور ہے (جس کے ذریعہ مادہ کو حاملہ کراتے تھے) وہ اسے بھی حلال نہیںسمجھتے تھے، پھر خدا نے آیت نازل کی کہ ان میں سے کسی کو حرام نہیںکیا ہے ۔

وضاحت

اسلام سے قبل عرب کی بدترین جاہلیت کی بدولت ان کے رؤسا اور بزرگان کے استفادہ کے لئے زمین ہموار تھی اور دور جاہلیت کے سرکش و ظالم افراد رسولوں سے خالی دور میں دینی اور اجتماعی آداب و رسومات کے نام پر لوگوں کے پاکیزہ احساسات سے غلط فائدہ اٹھاتے تھے اور اپنے منافع کے لئے کچھ بدعات و خرافت ایجاد کررکھی تھیں، ان میں کا ایک کہ جس کو تاریخ عمروبن لحی کے نام سے جانتی ہے اس نے اس وقت عرب کی اہمترین ثروت یعنی اونٹ کو اپنے اختیار میں لیا اور اس کے لئے کچھ احکام بنا کر مقدس رسم کی صورت میںپیش کیا۔


اس بدعت کے نتیجہ میں ان کی در آمد اونٹ کی چار قسموں ، بحیرہ ، سائبہ ، وصیلہ ، اورحام ، میں منحصرہو گئی تھی اور تفسیروں میں کم و بیش اختلاف کے ساتھ اس سلسلہ میں اس کا ذکر موجود ہے ۔ اور تمام تفسیروں کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ لوگ ان چاروں اونٹوں کے لئے خود ساختہ احترام کے قائل تھے کہ دودھ، گوشت، اون، ا ن پر سواری کو اکثر کے لئے حرام اور بعض کے لئے منجملہ متولی اور بتوں کے خدمت گذاروںکے لئے حلال سمجھتے تھے۔

یہ بدعت ، عورتوںکے متعلق عرب کے حقارت آمیز نظریہ سے مل کر عورتوںکے لئے اس حکم کے مزید سخت ہونے کا باعث ہوئی؛ وہ یہ کہ عورتیں ان مذکورہ اونٹوں کا گوشت صرف مرنے کے بعد ہی کھا سکتی تھیں۔

اس کے علاوہ اس خیالی حرمت کے نتیجہ میں بتوںکے متولیوں اور خادموں کے لئے چراگاہوں ، پانی کے چشموں اور جزیرۃ العرب کے نایاب کنوؤں سے استفادہ کر ناجائز و مباح تھا۔ نیز اس چیز کابھی باعث ہوئی کہ وہ شکریہ کے طور پر یا اپنی حاجات کے پوری ہونے پر پتھر کے بتوں اور ان کے متولیوںکی خدمت میں نذرانہ پیش کریں۔

قرآن مجید مذکورہ چار آیات کے ذریعہ جاہلیت کے بدعات و خرافات سے برسرپیکار ہوا یعنی بت پرستوں ، اور ان کے خود ساختہ رسومات اور دعووں کو محض افتراء سے تعبیر کیا ہے ، متولیوں ،بت پرستوں، اور بت گروںکو بے نقاب کر دیا اور اعلان کیا کہ چوپایوں کا حرام یا حلا ل قرار دیناصرف خدائے سبحان کے اختیار میں ہے ، اور اس نے ان چار طرح کے حیوانات کو عرب کے عقیدئہ جاہلیت کے بر خلاف حرام نہیںجانا ہے ، فقط مردار اور وہ تمام چیزیں جو بتوں اور غیر خدا سے مربوط ہیں انہیں حرام قرار دیا ہے ۔


و:خدا اور اصنام کے درمیان کھیتی اور چوپایوں کی تقسیم

قرآن

(اور ان لوگوں نے خدا کی پیدا کی ہوئی کھیتی میں اور جانوروںمیں اسکا حصہ بھی لگایا ہے اور یہ اعلان کیاہے کہ یہ انکے خیال کے مطابق خدا کےلئے ہے اور یہ ہمارے شریکوںکےلئے ہے ، اسکے بعد جو شرکاء کا حصہ ہے وہ خدا تک نہیں جاسکتا اور جو خدا کا حصہ ہے وہ انکے شریکوں تک پہنچ سکتاہے کس قدر بدترین فیصلہ ہے جو یہ لوگ کر رہے ہیں)

(اور یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ جانور اور کھیتی اچھوتی ہے اسے انکے خیالات کے مطابق وہی کھا سکتے ہیںجنکے بارے میںوہ چاہیں گے اور کچھ چوپائے ہیں جنکی پیٹھ حرام ہے اور کچھ چوپائے ہیں جنکو ذبح کرتے وقت نام خدا بھی نہیںلیا گیا اور سب کی نسبت خدا کی طر ف دے رکھی ہے عنقریب ان تمام بہتانوں کا بدلہ انہیں دیا جائیگا)

( اور یہ ہمارے دئےے ہوئے رزق میں سے ان کا بھی حصہ قرار دیتے ہیں جنہیں جانتے بھی نہیں ہیں تو عنقریب تم سے تمہارے افتراء کے بارے میںبھی سوال کیا جائیگا)


وضاحت

عقیدئہ جاہلیت (کہ بتوں کو خدا کا شرکاء قرار دیتے تھے) نے عرب کو اس چیز پر ابھارا کہ وہ اپنے خداؤں اور بتوںکےلئے بتکدہ بنائیں اور ان کے خدمت گذاروں اور متولیوں کے لئے معاش فراہم کریں، انہیں اپنی زندگی ، رزق اور مملکت میں شریک بنائیں اور اپنی عمدہ روت(زراعت و چوپائے) ان کے درمیان تقسیم کریں اور خدا کے حصہ کے ساتھ ان کا بھی حصہ قرار دیں۔ خدا کے حصہ کو عمومی مصارف جیسے مہمانوںکو کھانا کھلانے اور فقراء و مساکین کی مدد کرنے میں خرچ کرتے اور بتوںکے حصہ کو ان کے خدمت گذاروں کو عنایت کرتے تھے۔جب کبھی زراعت پر کوئی آفت آتی یا کم پیدوار ہوتی یا ان کا حصہ خدا کے حصہ سے مخلوط ہو جاتا تو یہ حریص و لالچی خدمت گذار اپنے مفاد کی خاطر دھوکا دھڑی سے کام لیتے اور کہتے (خدا بے نیازہے) لہذا وہ اپنا پورا حصہ بغیر کسی کم و کاست کے لے لےتے تھے اور اپنے حصوں کی کمی کا جبران خدا کے حصہ سے کرتے تھے اور کبھی بھی خدا کے حصہ کا جبران بتوں کے حصہ سے نہیں کرتے تھے محصول میںیہ کمی وزیادتی کبھی کبھار ان کی پہلے کی فریبکاریوںکی بنا پر ہوتی تھی؛ اور وہ یہ کہ جب سینچائی کے وقت خد اکے حصہ کے کھیتوں سے پانی بتوں کے کھیتوں میں جانے لگتا تھا تو وہ اس کو روکتے نہیں تھے، لیکن اس کے بر خلاف خداکے کھیتوں میں بتوںکے کھیتوں سے پانی نہیں جانے دیتے تھے۔ اسی طرح یہ فرسودہ رسم چوپایوںمیں بھی تقسیم و شراکت کے اعتبار سے بر قرار تھی کہ جس کی طرف گذشتہ فصل میں اشارہ ہو چکاہے ۔ملاحظہ کریں:تفسیر مجمع المبیان : 4/571، تفسیر قمی: 1/217، تفسیر طبری : 5، جزء 8/40 تفسیر در منثور:3،362، المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام:6 /193


ز: عریاں طواف

1152۔ امام صادق(ع): زمانہ جاہلیت میں عرب کے گروہ تھے : حل اور حمس۔ حمس قریش تھے۔ اور حل تمام عرب تھے حل میں سے کوئی فرد ایسی نہیںتھی جو حمس کی پناہ میں نہ ہوتی اور جو حمس کی پناہ میں نہیں ہوتا تھا وہ عریاں طواف کرتاتھا۔

رسول خدا(ص) عیاض بن حمار مجاشعی کو پناہ دیتے تھے ، عیاض عظیم المرتبت انسان تھا اور جاہلیت میں اہل عکاظ کا قاضی تھا، وہ جب بھی مکہ وارد ہوتا ، اپنے گناہ آلود لباس کو اتار دیتا اور چونکہ پیغمبر کا لباس پاک و پاکیزہ ہوتا تھا لہذآنحضرت کا لباس پہن کرطواف کرتا تھا، اور طواف کے بعد آپکا لباس واپس دے دیتا تھا۔جب پیغمبرؐ مبعوث برسالت ہوئے تو عیاض آپ کے لئے ایک ہدیہ لیکر آیا، لیکن نبیؐ نے اسے قبول نہ کیا اور فرمایا: اے عیاض! اگر مسلمان ہو جاؤگے تو تمہارا ہدیہ قبول کرونگا؛ یقینا خدا مشرکوں کی داد و دہش کو میرے لئے پسند نہیںکرتا، پھر اس کے بعد عیاض نے اسلام قبول کیا اور اس کا اسلام قابل تحسین ہوا۔ اور رسول خدا کے لئے ہدیہ لیکر آیا اور آپ نے اس کو قبول فرمایا۔

1153۔ امام صادق(ع): عرب کے درمیان یہ رائج تھا کہ جو بھی مکہ میں وارد ہوتا اور اپنے لباس میں طواف کرتااس کے لئے جائز نہ تھاکہ وہ اپنے لباس کو باقی رکھتا اور اسے دو بارہ پہنتا بلکہ وہ اسے صدقہ دے دیا کرتاتھا۔

؛ لہذا جب وہ لوگ مکہ میں داخل ہوتے تھے تو عاریتاً کسی سے لباس لیکر طواف کرتے پھر واپس کر دیتے تھے، اگر عاریتاً لباس نہیںملتا تھا تو کرایہ پر لیتے اور اگر یہ بھی ممکن نہ ہوتا اور ان کے پاس فقط ایک ہی لباس ہوتا تھا تو وہ برہنہ طواف کرتے تھے۔

لہذا عرب کی ایک حسین و جمیل عورت وارد مکہ ہوئی لیکن عاریت اور کرایہ پر کوئی لباس نہ مل سکا۔ لوگوں نے اس سے کہا: اگر تونے اپنے اس لباس میں طواف کیا تو اس کو تجھے صدقہ دینا ہوگا، عورت نے کہا: کیونکر صدقہ دوں گی جبکہ میرے پاس اس کے علاوہ دوسرا لبا س نہیںہے؟!


لہذا اس نے برہنہ طواف کرنا شروع کر دیا اور لوگ تماشہ دیکھ رہے تھے جس کی وجہ سے اس نے ایک ہاتھ آگے اور دوسرا ہاتھ پیچھے رکھا اور اس طرح رجز خوانی کی :

'' آج شرمگاہ کا کچھ حصہ یا تما م حصہ ظاہر ہے ، اور جو ظاہرہے اس کو جائز نہیں جانتی''

پھر طواف کے بعد کچھ لوگوں نے اس کے پاس شادی کے لئے پیغا م بھیجا لیکن اس نے کہا میں شادی شدہ ہوں۔

ح: قیامت کا انکار

قرآن

( اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیاتو کیا تمہارے سامنے ہماری آیات کی تلاوت نہیںہو رہی تھی لیکن تم نے اکڑ سے کام لیا اور بیشک تم ایک مجرم قوم تھے اور جب یہ کہا گیا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میں کوئی شک نہیںہے تو تم نے کہہ دیا کہ ہم تو قیامت نہیں جانتے ہیںہم اسے ایک خیالی بات سمجھتے ہیں اور ہم اس کا یقین کرنے والے نہیں ہیں اور ان کے لئے ان کے اعمال کی برائیاں ثابت ہو گئیں اور انہیں اس عذاب نے گھیر لیا جس کا وہ مزا ق اڑا یا کرتے تھے اور ان سے کہا گیا کہ ہم تمہیں آج اسی طرح نظر انداز کریں گے جس طرح تم نے آج کے دن کی ملاقات کو بھلا دیاتھاا ور تم سب کا انجام جہنم ہے اور تمہارا کوئی مدد گار نہیںہے یہ سب اس لئے ہے کہ تم نے آیات الہی کا مذاق بنا یا تھا اور تمہیں زندگانی دنیا نے دھوکا میں رکھا تھا توآج یہ لوگ عذاب سے باہر نہیں نکالے جائیں گے اور انہیں معافی مانگنے کا موقع بھی نہیںدیا جائیگا۔


جاہلیت کے عقائد پر ایک نظر

زمانہ جاہلیت یعنی وحی اور انبیاء سے خالی دور میں عرب وادی ضلالت و گمراہی میں زندگی بسر کر رہے تھے، حیران و سرگرداں اور مذہبی و فکر ی اختلاف کے شکار تھے، درج ذیل مطالب میں عرب کے فرق و مذاہب پر ایک طائرانہ نظر ڈالی گئی ہے ۔

1۔ خدا اور قیامت کے معتقد نہیں تھے اور ہستی کو اسی دنیا میں محدود و منحصر خیال کرتے تھے اور کہتے تھے

(و ما هی الاحاتنا الدنیا نموت و نحیٰ و ما یهلکنا الا الدهر)

یہ صرف زندگانی دنیا ہے اسی میں مرتے ہیں اور جیتے ہیں اور زمانہ ہی ہم کو ہلاک کر دیتا ہے ۔

2۔ قیامت پر اعتقاد نہیں رکھتے تھے، جیسا کہ آیت سے واضح ہے:

( و اذا قیل ان وعد الله حق و الساعة لا ریب فیها قلتم ما ندری ما الساعة ان نظن الا ظناً وما نحن بمستیقنین)

اور جب یہ کہا گیا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت میںکوئی شک نہیں ہے تو تم نے کہہ دیا کہ ہم تو قیامت نہیںجانتے ہیں اور ہم اس کا یقین کرنے والے نہیںہیں۔ نیز ارشاد ہے

(و ضرب لنا مثلا و نسی خلقه قال من یحیی العظام و هی رمیم قل یحییها الذی انشأها اول مرة)

اور وہ ہمارے لئے مثال بیان کرتاہے اور اپنی خلقت کو بھول گیا ہے کہتا ہے کہ ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کر سکتا ہے آپ کہہ دیجئے کہ جس نے پہلی مرتبہ پیدا کیاہے وہی زندہ بھی کریگا ۔

اس آیت سے استفادہ کیا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ پہلی خلقت پر اعتقاد رکھتے تھے اور تعبیر حدیث کے مطابق وجود خداکے قائل تھے لیکن:(لا یرجون من الله ثواباً ولا یخافون الله منه عقابا)

خدا کے ثواب کی امید نہیںرکھتے تھے اور نہ ہی اس کے عقاب سے ڈرتے تھے۔


3۔ وہ کبھی ملائکہ و جنات میں سے اور کبھی اصنام و شیاطین میں سے خدا کا شریک قرار دیتے تھے۔ ان شرکاؤ کبھی اصل خلقت میں دخیل قرار دیتے اور کبھی تدبیر امور میں ؛ یا وہ لوگ خدا کو مادی موجودات سے تشبیہ دیتے اور یا انہیںمادی موجودات میں سے کسی ایک کی پروردگار عالم کے عنوان سے پرستش کرتے تھے؛ وہ مادی موجودات جیسے کواکب یا حیوانات اور یا اشجار ہیں، جزیرۃ العرب میں اس عقیدہ کے معتقد افراد( جو گذشتہ بالا عقیدہ کے معتقد افراد سے کچھ چیزوںمیں شبیہ ہیں) کی اکثریت تھی۔

(وما یؤمن بالله الا وهم مشرکون)

ان میں سے اکثر خدا پر ایمان نہیں رکھتے تھے مگر یہ کہ مشرک تھے۔

4۔ جزیرۃ العرب کے بعض مناطق میں اہل کتاب کے دو گروہ یہود و نصاریٰ آباد تھے جس کے ثبوت کے لئے منجملہ آیہ مباہلہ ہے جو نجران کے ان علماء اور نصاریٰ پر دلالت کرتی ہے جو مدینہ کے جنوب میں زندگی گذارتے تھے، نیز صدر اسلام کی عظیم جنگیں بھی اس چیز پر دلالت کرتی ہیں کہ جن میں یہودیوںکا اساسی کردار تھا، جیسے جنگ احزاب (خندق) اور اس کے بعد بنی قینقاع اور بنی قریظہ کے ساتھ کشمکش یہاں تک کہ جنگ خیبر دلالت کرتی ہے ۔

5۔ کچھ مجوسی اور صائبہ بھی آباد تھے لیکن قابل اعتنا نہیں تھے۔

6۔ کچھ لوگ دین حنیف ابراہیم کے معتقد تھے جو نہایت اقلیت میں تھے جنکے اسماء حسب ذیل ہیں:

1۔ ابو طالب (رسول اکرم (ص) کے چچا)

2۔ ابو قیس صرمہ بن ابی انس

3۔ ارباب بن راب

4۔ اسعد ابوبکر حمیری


5۔ امیہ بن ابی صلت

6۔ بحیرائے راہب

7۔ خالد بن سنان عبسی

8۔ زہیر بن ابی سلمی

9۔ زید بن عمرو بن نفیل عبد العزیٰ

10۔ سوید بن عامر مصطلقی

11۔ سیف بن ذی یزن

12۔ عامر بن ضرب عدوانی

13۔ عبد الطا نجہ بن ثعلب بن وبرۃ بن قضاعہ

14۔ عبد اللہ قضاعی

15۔ عبد اللہ (رسول اکرم ؐکے والد محترم)

16۔ عبد المطلب (رسول اکرمؐ کے دادا)

17۔ عبید بن ابرص اسدی

18۔ علاف بن شہاب تمیمی

19۔ عمیر بن جندب جہنی

20۔ کعب بن لو ئی بن غالب

21۔ ملتمس بن امیہ کنانی

22۔ وکیع بن زہیر ایادی


6/3

دور جاہلیت کے اوصاف

قرآن

( یہ اس وقت کی بات ہے جب کفار نے اپنے دلوں میں زمانہ جاہلیت جیسی ضد قرار دے لی تھی )

(کیا تم نے اسکو دیکھا ہے جو قیامت کو جھٹلاتا ہے ، وہی ہے جو یتیم کو جھڑکتا ہے ، اور کسی کو مسکین کے کھلانے کےلئے تیار نہیں کرتا ہے)

حدیث

1154۔ رسول خدا(ص): جس شخص کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر تعصب ہوگا، خدا اس کو روز قیامت زمانہ جاہلیت کے عربوں کے ساتھ محشور کریگا۔

1155۔ رسول خدا(ص): جو شخص پرچم گمراہی کے نیچے جنگ کرے اور تعصب کی بنا پر غضبناک ہو یا تعصب کی دعوت دے یا کسی عصبیت کی مدد کرتے ہوئے قتل ہو جائے تو اس کا قتل جاہلیت پر ہوگا۔

1156۔ رسول خدا(ص): بیشک اللہ نے غرور جاہلیت اور انکے آباء و اجداد کے سبب تکبر کو دور کیا، تم سب کی نسبت آدم و حوا سے ایسی ہے جیسے ترازو کے دو پلڑے، بیشک تم میں سب سے زیادہ مکرم وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ پرہیزگار ہے ، لہذا جو تمہارے پاس شادی کا پیغام لیکر آئے اگر تم اسکی دینداری و امانتداری سے راضی ہو تو اس کے ساتھ شادی کر دو۔


1157۔ امام باقر(ع): رسول خدا(ص) فتح مکہ کے روز منبر پر گئے اور فرمایا: اے لوگو! اللہ نے غرور جاہلیت اور آباء و اجداد پر تمہارے فخر کو تم سے دور کیا۔ یاد رکھو! تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے خلق ہوئے ہیں، آگاہ ہو جاؤ! خدا کے بندوں میں سب سے بہتر وہ بندہ ہے جو خدا کا خوف رکھتا ہے بیشک عرب ہونا، عرب باپ کی بنا پر نہیں ہے بلکہ عرب ہونا، ایک تکلم کی زبان ہے ، لہذا جس کا عمل کم ہوگا اس کا حسب و نسب اس کا جبران نہیںکریگا۔

1158۔ امام علی (ع): تمہارا فرض ہے کہ تمہارے دلوں میں جو عصبیت اور جاہلیت کے کینوں کی آگ بھڑک رہی ہے اسے بجھا دو کہ یہ غرور ایک مسلمان کے اندر شیطانی وسوسوں ، نخوتوں، فتنہ انگیزیوں اور فسوں کاریوں کا نتیجہ ہے ۔

1159۔ امام علی (ع): حسد اور کینہ سے پرہیز کرو! اس لئے کہ یہ جاہلیت کی خصلتیں ہیں:(اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لئے کیا بھیجا ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو کہ وہ یقینا تمہارے اعمال سے باخبر ہے ۔)

1160۔ امام علی (ع): خدا را خدا سے ڈرو! تکبر کے غرور اور جاہلیت کے تفاخر کے سلسلہ میں کہ یہ عداوتوں کے پیدا ہونے کی جگہ اور شیطان کی فسوں کاری کی منزل ہے ، اسی کے ذریعہ اس نے گذشتہ قوموں اور اگلی نسلوں کو دھوکا دیا ہے ، یہاں تک کہ وہ لوگ جہالت کے اندھیروں اور ضلالت کے گڑھوں میں گر پڑے، وہ اپنے ہنکانے والے کے مکمل تابع اور کھیچنے والے کے سراپا اطاعت تھے، یہی وہ امر ہے جس میں قلوب سب ایک جیسے ہیں اور نسلیں اسی راہ پر چلتی رہی ہیں اور یہی وہ تکبر ہے جس کی پردہ پوشی سے سینے تنگ ہیں۔

آگاہ ہو جاؤ! اپنے ان بزرگوں اور سرداروں کی اطاعت سے محتاط رہو جنہوںنے اپنے حسب پر غرور کیااور اپنے نسب کی بنیاد پر اونچے بن گئے، بد نما چیزوں کو اللہ کے سر ڈال دیا اور اس کے حسنات کا صریحی انکار کر دیا ہے ، انہوںنے اس کے فیصلہ سے مقابلہ کیاہے اور اسکی نعمتوں پر غلبہ حاصل کر نا چاہا ہے ، یہی وہ لوگ ہیں جو عصبیت کی بنیاد ، فتنوں کے ستون اور جاہلیت کے غرور کی تلوار ہیں۔


1161۔ امام علی (ع): تمہارے چھوٹوں کو چاہئے کہ اپنے بڑوں کی پیروی اور بڑوں کا فرض ہے کہ اپنے چھوٹوں پر مہربانی کریں، اور خبردار تم لوگ جاہلیت کے ان ظالموں جیسے نہ ہو جانا جو نہ دین کا علم حاصل کرتے تھے اور نہ اللہ کے بارے میں عقل و فہم سے کام لیتے تھے، انکی مثال ان انڈوں کے چھلکوں جیسی ہے جو شتر مرغ کے انڈے دینے کی جگہ پر رکھے ہوںکہ انکا توڑنا تو جرم ہے لیکن پرورش کرنا بھی سوائے شر کے کوئی نتیجہ نہیں دے سکتاہے ۔

1162۔ محمد قصری: بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام صادق(ع) سے زکات کے بارے میں سوال کیا: تو فرمایاؑ: خدا نے جنکو زکات دینے کا حکم دیا ہے انہیں کے درمیان اسے تقسیم کرو لیکن قرضداروںکے حصہ سے ان قرضداروںکا قرض ادا نہیں کیا جاسکتا جو مہر کے مقروض ہیں اور نہ ہی ان افراد کا قرض ادا کیا جائیگا جو جاہلیت کی دعوت دیتے ہیں، میں نے عرض کیا!جاہلیت کی دعوت کیاہے؟فرمایا: وہ شخص جو یہ کہتا ہے : اے فلاں قبیلہ کی اولاد، پھران کے درمیان قتل و خونریزی برپا ہو جاتی ہے انہیںقرضداروںکے حصہ سے نہیں دیا جا سکتا؛ اسی طرح اس حصہ سے اس شخص کو بھی نہیں دیا جا سکتا جو لو گوں کے اموال میں لاپروائی برتتا ہے ۔

1163۔ جابر: مہاجرین و انصار کے دو غلاموں میں جھگڑا ہو گیا ، مہاجر کے غلام نے فریاد کی اے مہاجرین میری مدد کو آؤ! اور انصار کے غلام نے فریاد کی اے انصار مدد کو پہنچو! رسول خدا(ص) باہر تشریف لائے اور فرمایا: یہ اہل جاہلیت کا دعویٰ کیسا ہے؟ ان لوگوں نے کہا: اے رسول خدا(ص) یہ دعوائے جاہلیت نہیں صرف دو غلاموںنے آپس میں جھگڑا کیا ہے ایک نے دوسرے کو زمین پر پٹخ دیا ہے، رسولخدؐا نے فرمایا: کوئی مضائقہ نہیں، ہر شخص کو چاہئے کہ اپنے بھائی کی مدد کرے چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم، اگر ظالم ہے تو اسکو اسکے ظلم سے باز رکھے یہی اس کےلئے مدد ہے اور اگر مظلوم ہے تو اسکی مدد کرے۔


1164۔علی بن ابراہیم : رسولخدا ؐ کے اصحاب ، رسول خدا(ص) کے پاس آئے اور اپنے حاجات کے پورے ہونے کےلئے خدا سے دعا کرنے کی درخواست کی۔ انکا تقاضا ایسی چیزوں کے سلسلہ میں تھا جو ان کےلئے حلال و مباح نہ تھا، پس خدا نے آیت نازل کی:وہ لوگ گناہ، ظلم اور رسول کی نافرمانی کے ساتھ راز کی باتیں کرتے ہیں۔اور جب وہ لوگ رسولخدؐاکے پاس آئے:انعم صباحا وانعم مساء اً کہا جو کہ اہل جاہلیت کا سلام تھا، تو خدا نے آیت نازل فرمائی:اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو اسطرح سلام کرتے ہیں کہ جسطرح خدا نے انہیں نہیں سکھایا ہے پھر رسول خدا(ص) نے ارشاد فرمایا: خدا نے ہمارے لئے اسکے عوض میں اس سے بہتر قرار دیا ہے جو کہ اہل جنت کا سلام ہے اور وہ (سلام علیکم) ہے۔

6/4

جاہلیت کے جرائم

الف :بیٹیوں کو زندہ دفن کرنا

قرآن

(اور جب ان میں سے کسی کو بیٹی کی بشارت دی جاتی ہے تو اس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے اور وہ خون کے گھونٹ پینے لگتا ہے ، قوم سے منھ چھپاتا ہے کہ بہت بری خبر سنائی گئی ہے اب اس کو ذلت سمیت زندہ رکھے یا دفنا دے یقینا یہ لوگ بہت برا فیصلہ کر رہے ہیں)

(اور جب زندہ در گور بیٹیوں کے بارے میں سوال کیا جائیگا کہ انہیں کس گناہ میں مارا گیا ہے)


حدیث

1165۔ رسول خدا(ص) :خدا نے تمہارے لئے ماؤں کی نافرمانی ، بیٹیوں کو زندہ در گور کرنا اور حقوق و واجبات کی عدم ادائیگی کو حرام قرار دیا ہے ۔ وہ تم سے قیل و قال ، کثرت سوال اور مال کے ضائع کرنے کو ناپسند کرتا ہے ۔

1166۔امام صادق(ع): ایک شخص رسول خدا(ص) کی خدمت میں آیا اور کہا: میرے یہاں بیٹی پیدا ہوئی اور میں نے اسکی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہو گئی پھر اسے لباس پہنایا، آراستہ کیا اور کنویں میں لے جاکر ڈال دیا۔ اسکی جو آخری آواز میں نے سنی وہ یہ تھی کہ اے ابا جان! (اے اللہ کے رسول )اس عمل کا کفارہ کیا ہے ؟ رسول خدا(ص)نے فرمایا کیا تمہاری ماں زندہ ہے؟ کہا: نہیں، فرمایا:ؐ کیا تمہاری خالہ زندہ ہے؟ کہا: ہاں، فرمایا: اس کے ساتھ نیکی کرو کہ خالہ ماں کی جگہ پر ہوتی ہے تمہارے گناہوں کا کفارہ ہو جائیگا۔

ابو خدیجہ کہتا ہے : میں نے امام صادق(ع) سے پوچھا: یہ کس زمانہ میں پیش آیا تھا؟ فرمایا: جاہلیت میں ، وہ اپنی بیٹیوں کو اسیری کے خوف سے قتل کر دیتے تھے کہ کہیں اسیر ہوگئیں تو دوسری قوموں میں جاکر ان کے شکم سے بچے پیدا ہوں گے۔

ب: اولاد کشی

قرآن

(اور اسی طرح ان شریکوں نے بہت سے مشرکین کےلئے اولاد کے قتل کو بھی آراستہ کر دیا ہے تاکہ انکو تباہ و برباد اور ان پر دین کو مشتبہ کر دیں حالانکہ خدا اسکے خلاف چاہ لیتا تو یہ کچھ نہیں کر سکتے تھے لہذا آپ انکوانکی افتراء پردازی پر چھوڑ دیں اور پریشان نہ ہوں)


(یقینا وہ لوگ خسارہ میں ہیں جنہوںنے حماقت میں بغیر جانے بوجھے اپنی اولاد کو قتل کر دیا اور جو رزق خدا نے انہیں دیا تھا اسے اسی پر بہتان لگا کر اپنے اوپر حرام کر لیا یہ سب بہک گئے ہیں اور ہدایت یافتہ نہیںہیں)

(پیغمبر اگر ایمان لانے والی عورتیں آپ کے پاس اس امر پر بیعت کرنے کے لئے آئیں کہ کسی کو خدا کا شریک نہیں بنائیں گی اور چوری نہیں کریں گی ، زنا نہیں کریں گی، اولاد کو قتل نہیں کریں گی اور اپنے ہاتھ پاؤں کے سامنے سے کوئی بہتان (لڑکا) لیکر نہیں آئیں گی، اور کسی نیکی میں آپکی مخالفت نہیں کریں گی تو آپ ان سے بیعت لے لیںاور ان کے حق میں استغفار کریں کہ خدا بڑا بخشنے والا اور مہربان ہے)

(اور خبردار اپنی اولاد کو فاقہ کے خوف سے قتل نہ کرنا ہم انہیں بھی رزق دیتے ہیں اور تمہیں بھی بیشک ان کا قتل کر دینا بہت بڑا گناہ ہے)

ج: بد کرداری

(اور یہ کوئی برا کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو اسی طریقہ پر پایا ہے اور اللہ نے یہی حکم دیا ہے ، آپ فرما دیجئے کہ خدا بری بات کا حکم نہیں دے سکتا کیا تم خدا کے خلاف وہ کہہ رہے ہو جو جانتے بھی نہیں ہو)

(کہدیجئے کہ ہمارے رب نے صرف بدکاریوں کو حرام کیا ہے چاہے وہ ظاہری ہو ں یا باطنی اور گناہ، ناحق ظلم اور بلا دلیل کسی چیز کو خدا کا شریک بنانے اور بلا جانے بوجھے کسی بات کو خدا کی طرف منسوب کرنے کو حرام قرار دیا ہے)


حدیث

1167۔ امام زین العاب دین (ع): جب ظاہری اور باطنی بدکرداریوں کے بارے میں آپ سے پوچھا گیا تو فرمایا: ظاہری بدکرداری ، باپ کی بیوی کے ساتھ نکاح ہے اور باطنی بدکرداری زنا ہے۔

1168۔ امام کاظم (ع): نے خدا کے اس قول:(کہدیجئے ہمارے رب نے ظاہری و باطنی بدکرداریوں، گناہ اور ناحق ظلم کو حرام قرار دیا ہے)کے بارے میں فرمایا: ظاہری بد کرداری یعنی کھلی زنا کاری اور پرچم کو نصب کرنا ہے جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں فاحشہ عورتیں بدکرداری و زناکاری کےلئے (اپنے گھروں پر) پرچم نصب کرتی تھیں، اور باطنی بدکرداری یعنی باپ کی بیوی سے نکاح کرنا ہے اس لئے کہ بعثت نبی ؐ سے قبل جب کوئی شخص مر جاتا اور اس کے کوئی بیوی ہوتی تھی تو اس کا بیٹا اگر وہ ماں نہیںہوتی تھی تو اس کے ساتھ نکاح کر لیتا تھا،پس خدا نے اس کو حرام قرار دیا ۔

د: لڑکیوں کو بد کاری پر مجبور کرنا

قرآن

(اور خبردار اپنی کنیزوںکو اگر وہ پاکدامنی کی خواہش مند ہیں تو زنا پر مجبور نہ کرنا کہ ان سے زندگانی دنیا کا فائدہ حاصل کرنا چاہو کہ جو بھی انہیں مجبور کریگا خدا مجبوری کے بعد ان عورتوں کے حق میں بہت زیادہ بخشنے والا اور مہربان ہے )


حدیث

1169۔ امام باقر(ع): عرب اور قریش کنیزوںکو خریدتے تھے اور ان کے لئے بہت زیادہ مالیت رکھتے تھے، اور کہتے تھے: جاؤ فاحشہ گیری کرو اور پیسے کماؤ؛ پس خدا نے انہیں اس کام سے منع فرمایا۔

ھ: شراب، جوا، بت اور پانسہ

قرآن

(ایمان والو! شراب، جوا، بت ،پانسہ یہ سب شیطانی اعمال ہیں لہذا ان سے بچو تاکہ کامیابی حاصل کر سکو)

حدیث

1170۔امام باقر(ع): جب خدا نے رسول خدا(ص) پر نازل کیا:(ایمان والو! شراب میسر،(جوا)، انصاب (بت) اور ازلام (پانسہ) یہ سب گندے شیطانی اعمال ہیں لہذا ان سے پرہیز کرو تاکہ کامیابی حاصل کر سکو)

تو پوچھا گیا: اے رسول خدا(ص)، میسر کیا ہے؟ فرمایا: ہر وہ چیز جس سے جوا کھیلا جائے حتی کہ نرو کے مہرے اور اخروٹ، پوچھا گیا: انصاب کیا ہے؟ فرمایا: وہ چیزیں جو اپنے معبود وں کےلئے ذبح کرتے ہیں، پھر پوچھا گیا: ازلام کیا ہے؟ فرمایا: وہ پانسہ ہے کہ جس کے ذریعہ تقسیم کرتے تھے۔

1171۔ امام باقر(ع): نے خدا کے اس قول:(ایمان والو! شراب، جوا، بت اور پانسہ یہ سب گندے شیطانی اعمال ہیں لہذا ان سے پرہیز کرو تاکہ کامیابی حاصل کرسکو)کے بارے میں فرمایا:.......انصاب یہ ایسے بت تھے کہ جنکی مشرکین پرستش کرتے تھے اور ازلام ایسے پانسے ہیں کہ زمانہئ جاہلیت میں مشرکین عرب جنکے ذریعہ تقسیم کرتے تھے۔


و: خون مالی

1172۔اسماء بنت عمیس: (ولادت امام حسن (ع) کے متعلق بیان فرماتی ہیں) نبی اکرمؐ نے امام حسن (ع) کی ولادت کے ساتویں روز دو سیاہ مینڈھوں سے عقیقہ کیا اور ایک ران اور ایک دینار دایہ کو دیا پھر ان کے سر کو مونڈا ور ان کے بال کے برابر سکہ صدقہ دیا، پھر سرکوخَلوق(ایک قسم کی خوشبو جس کا جزء اعظم زعفران ہوتا ہے) سے دھویا اور فرمایا: اے اسمائ! خون مالی کرنا جاہلیت کا عمل ہے ۔

1173۔ عاصم کوزی : کابیان ہے کہ میں نے امام صادق(ع) سے سنا ہے کہ وہ اپنے والد سے نقل کرتے تھے کہ رسول خدا(ص) نے امام حسن (ع) ور امام حسین (ع) کاایک ایک مینڈھے سے عقیقہ کیا، دایہ کو ہدیہ دیا اور ان کی ولادت کے ساتویں روز ان کے سروں کو مونڈا اور ان کے بالوں کے برابر چاندی صدقہ کی۔

راوی کہتا ہے کہ میں نے امام صادق ؑ سے عرض کیا: کیاعقیقہ کے خون سے بچہ کے سر پر مالش کی جا سکتی ہے؟ فرمایا: یہ شرک ہے۔ میں نے کہا: سبحان اللہ! شرک ہے ؟ فرمایا: اگر شرک نہیں ہے تو یقینا زمانہ جاہلیت کا عمل ہے اسلام میں اس سے روکا گیا ہے۔

ز: بد شگونی

1174۔ ابو حسان : ایک شخص نے عائشہ سے کہا کہ ابو ہریرہ ، پیغمبر اکرم ؐسے روایت کرتا ہے کہ آنحضرت نے فرمایا: عورت، گھر اور چوپائے باعث بدشگونی ہیں ، عائشہ نہایت ناراض ہوئی گویا ان کا آدھا حصہ آسمان پر چلا گیا اور آدھا زمین پر باقی تھا، پھر کہا: بیشک دور جاہلیت کے افراد ان چیزوںکو بدشگونی سمجھتے تھے۔


1175۔ عائشہ: رسول خدا(ص) فرماتے تھے: جاہلیت کے افراد کہا کرتے تھے، تین چیزیں بدشگونی کا باعث ہےں، عورت، چوپایہ اور گھر، پھر یہ آیت پڑھی:(زمین میں کوئی بھی مصیبت وارد ہوتی ہے یا تمہارے نفس پر نازل ہوتی ہے تو نفس کے پیدا ہونے سے قبل وہ کتاب الٰہی میں مقدر ہو چکی ہے اور یہ خدا کےلئے بہت آسان ہے)

ح: جنات کی پناہ ڈھونڈنا

قرآن

(اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنات میں سے بعض کی پناہ ڈھونڈ رہے تھے تو انہوںنے گرفتاری میں اور اضافہ کر دیا)

حدیث

1176۔ زرارہ: میں نے امام صادق(ع) سے اس آیت:(اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ جنات میں سے بعض کی پناہ ڈھونڈ رہے تھے تو انہوںنے گرفتاری میں اور اضافہ کر دیا)کی تفسیر کے بارے میں دریافت کیا تو فرمایا: ایک شخص فال کھولنے اورتقدیر کا حال بتانے والے کے پاس گیا کہ شیطان جس سے کانا پھونسی کرتا تھا، اور اس سے کہا: اپنے شیطان سے کہو کہ فلاں نے تمہاری پناہ لی ہے ۔

ط:جنات کے لئے قربانی کرنا

1177۔ امام علی (ع): بیشک رسول خدا(ص) جنات کےلئے قربانی کرنے سے روکتے تھے ، پوچھا گیا : اے رسولخدؐا: جنات کےلئے قربانی کیاہے ؟ نبی ؐ نے فرمایا: جو لوگ اپنے گھروں میں رہنے والے جنات سے ڈرتے تھے ان کےلئے قربانی کرتے تھے۔


ی: گھونگا پہننا

1178۔ قاضی نعمان: رسول خدا(ص) نے تمائم اور تَوَل سے منع کیا؛ ''تمائم'' ڈورے میں پروئے ہوئے گھونگے یا نوشتے جسے لوگ اپنے گلے میں آویزاں کرتے ہیں، اور ''تَوَل'' وہ کام ہے جسے عورتیں اپنے شوہروںکی نظر میں محبوب ہونے کےلئے انجام دیتی ہیں؛ جو فال بینی اور قسمت بینی کے مانند ہے نیز پیغمبر نے سحر سے روکا ہے۔

ک: میت پر عورتوںکا بین کرنا

1179۔رسول خدا(ص): مردوں پر عورتوں کا جمع ہو کر وا ویلا کرنا جاہلیت کا عمل ہے ۔

1180۔ رسول خدا(ص): جاہلیت کے رسم و رواج میں سے میت پر بین کرنا، انسان کا اپنے بیٹے سے بیزار ہونا اور لوگوںپر فخر کرنا ہے۔

1181۔انس: رسول خدا(ص) نے عورتوں سے بیعت لیتے وقت ان سے یہ بیعت لی کہ میت پر بین نہیں کرینگی عورتوںنے کہا: اے رسولخدا! دور جاہلیت میں کچھ عورتوں نے میت پر بین کرنے میں ہماری مدد کی تھی کیا ہم انکی مدد کر سکتے ہیں؟ رسول خدا(ص) نے فرمایا: اسلام میں یہ عمل شائستہ نہیں ہے۔

1182۔ رسول خدا(ص): نے اس آیت:(اور کسی نیکی میں ان کی مخالفت نہیں کریں گی)کی تفسیر میں فرمایا: جمع ہو کر رونے والی عورتیں مراد ہیں۔


ل: غیر خدا کی قسم کھانا

1183۔ زرارہ : کا بیان ہے کہ میںنے امام باؑقر سے اس آیت:(پس خدا کو اسطرح یاد رکھو جسطرح اپنے باپ دادا کو یاد کرتے ہو بلکہ اس سے بھی زیادہ)کی تفسیرکے بارے میں پوچھا تو فرمایا: اہل جاہلیت کا تکیہ کلام یہ تھا: نہیں، تمہارے باپ کی قسم، ہاں، تمہارے باپ کی قسم، پھر اسکے بعد انہیں یہ حکم دیا گیا کہ وہ کہیں: نہیں، خدا کی قسم، ہاں، خدا کی قسم۔

1184۔ امام صادق(ع): میںمناسب نہیں سمجھتا کہ غیر خدا کی قسم کھائی جائے، کسی کا یہ کہنا: نہیں، تمہارا برا چاہنے والا ایسا ہو جائے۔ اہل جاہلیت کاقول ہے، اگر کوئی شخص یہ یا ایسی ہی کوئی دوسری قسم کھائیگا تو وہ خدا کی قسم سے چشم پوشی کریگا۔ 6/5

اسلام کا جاہلیت کے رواج کو مٹا نا

1185۔ رسول خدا(ص): بیشک اللہ نے مجھے عالمین کےلئے رحمت بنا کر بھیجا ہے اور اس لئے بھی تاکہ گانے بجانے کے آلات، بانسری، رواج جاہلیت اور بتوںکو نابود کروں۔

1186۔ رسول خدا(ص): خدا کے نزدیک مبغوض ترین انسان تین قسم کے ہیں: جو حرم میں بے دینی اختیار کرے ،جو اسلام میں جاہلیت کے رسم و رواج کے پیچھے جائے اور وہ جو کسی کا ناحق خون بہانے کے در پے ہو۔

1187۔ رسول خدا(ص): نے روز عرفہ کے خطبہ میں فرمایا: یاد رکھو! میں نے جاہلیت کی ہر رسم کو ترک کیا اور اپنے پیروں تلے کچلا ہے ۔ جاہلیت کے خون کا بدلہ بھی ترک کیا جائےگا۔ اور یقینا پہلا خون جسے ترک کرونگا وہ ابن ربیعہ بن حارث کا ہے۔ قبیلہ بنی سعد میں دوران رضاعت کو گذار رہا تھا اور قبیلہ ہذ یل نے اسے قتل کر دیا، اور جاہلیت کا سود بھی لغو ہے ، پہلا سود جو میں لغو کرونگا وہ عباس بن عبد المطلب کا ہے؛ بیشک یہ تمام چیزیںلغو ہیں۔


1188۔ ابو عبیدہ: جاہلیت میں یَشکرُ کے نمایاں کاموںمیں سے یہ ہے: فتح مکہ کے روز رسول خدا(ص) نے خطبہ دیا اور فرمایا: آگاہ ہو جاؤ: میںنے سوائے حاجیوں کو پانی پلانے اور کعبہ کی پردہ پوشی کے جاہلیت کی ہر بزرگی کو اپنے پیروں سے کچلا ہے ۔ اس وقت اسود بن ربیعہ بن ابو الاسود بن مالک بن ربیعہ بن جمیل بن ثعلبہ بن عمرو بن عثمان بن حبیب بن یشکر کھڑا ہوا اور کہا: اے رسول خدا! یقینا میرے والد زمانہ جاہلیت میں اپنے اموال کو سفر میں بیچارہ ہوجانے والے کو صدقہ دیتے تھے ، اگر یہ میرے لئے بزرگی ہے تو اسے چھوڑ دوںاور اگر بزرگی و شرافت نہیںہے تو میں سزا وار ہوں کہ اس کو انجام دیتا رہوں؟ رسول خدا(ص) نے فرمایا: یہ تمہارے لئے باعث افتخار ہے لہذا تم اس کو قبول کرو۔

1189۔ علی بن ابراہیم : رسول خدا(ص) نے دس ہجری میں،حجۃ الوداع انجام دیا؛ سر زمین منا میں حمد و ثنائے الٰہی کے بعد جو ارشاد فرمایا تھا اس کا ایک ٹکڑا یہ ہے :

فرمایا...یاد رکھو! جاہلیت کی تمام خاندانی سر بلندیاںیا بدعت اور تمام خون و مال میرے پیروںکے نیچے ہیں ، کوئی شخص آپس میں ایک دوسرے پر تقویٰ کے سوا کوئی فضیلت نہیں رکھتا، کیا میں نے پہنچادیا؟: انہوںنے کہا: ہاں! آپ ؐ نے فرمایا: خدایا: گواہ رہنا، پھر فرمایا: خبردار! تمام جاہلیت کے سود لغو ہیں؛ اور پہلا سود جو لغو ہوا وہ عباس بن عبد المطلب کا ہے ، آگاہ ہو کہ تمام جاہلیت کے خون کو لغو کر دیا گیا ہے پہلا خون جو لغو ہوا ہے وہ ربیعہ کا ہے کیا میںنے پہنچادیا؟ لوگوںنے کہا: ہاں، نبی نے فرمایا: خدایا! گواہ رہنا۔

1190۔ رسول خدا(ص): نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمایا: جاہلیت کا سودختم کر دیا گیا ہے اور پہلا سود جس سے میں آغاز کرتا ہوں وہ عباس بن عبد المطلب کا ہے ، جاہلیت کا خون بھی معاف کر دیاگیا ہے، اور بیشک پہلا خون جس سے ابتدا کرتا ہوںوہ عامر بن ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب کا ہے، اور بیشک جاہلیت کے تمام افتخارات کو چھوڑ دیا گیا ہے سوائے کعبہ کی پردہ پوشی اورحاجیوں کو پانی پلانے کے، عمداً قتل کےلئے قصاص ہے اور قتلِ شبہ عمد جو کہ لاٹھی یا پتھر سے قتل ہو تو اس کےلئے سو اونٹ دیت ہے؛ جو اس میں اضافہ کریگا اسکا تعلق جاہلیت سے ہوگا۔


1191۔ امام باقر(ع): فتح مکہ کے دن رسول خدا(ص) منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا: اے لوگو! خدا نے تمہاری جاہلیت کے غرور اور آباو اجداد کی جاہلیت کے تفاخر کو دور کیا۔ آگاہ ہو کہ تم سب کے سب آدم سے اور آدم مٹی سے پیدا ہوئے ہیں۔ دیکھو! سب سے بہتر خدا کا بندہ وہ شخص ہے جو خدا سے زیادہ ڈرے۔ بیشک عرب ہو نا اس باپ کے سبب نہیںہے جس نے تمہیں پیدا کیاہے؛ بلکہ یہ ایک زبان ہے جو بولی جاتی ہے ؛ جس کے عمل میں کو تاہی ہوگی اس کا حسب و نسب اس کا جبران نہیں کریگا۔ جان لو! تمام جاہلیت کے خون یا کینے قیامت تک میرے قدموں کے نیچے ہیں۔

1192۔ رسول خدا(ص): بیشک اللہ نے جو زمانہ جاہلیت میں با شرف تھے انہیں اسلام کے سبب پست کیا اور جو زمانہ جاہلیت میں پست تھے انہیں اسلام کے باعث شرف عطا کیا، جو دور جاہلیت میں رسوا تھے انہیں اسلام کے سبب عزت عطا کی۔ اور اسلام کے سبب زمانہ جاہلیت کی نخوتوں، قبیلوں کے فخر و مباہات اور اونچے حسب و نسب کو ختم کیا، چنانچہ اب تمام لوگ (کالے ، گورے، قرشی اور عربی و عجمی) آدم کی اولاد ہیں اور آدم کو خدا نے مٹی سے خلق کیا ہے ۔ اور روز قیامت خدا کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب وہ ہوگا جو ان میںسب سے زیادہ اطاعت گذار اور سب سے بڑا متقی ہے۔

1193۔ امام صادق(ع): رسول خدا(ص) رسم جاہلیت کے بر خلاف( مشعر الحرام سے منا کی طرف) نکلے دور جاہلیت میں لوگ مشعر سے گھوڑے اور اونٹوںکے ساتھ تیزی سے نکلتے تھے، لیکن رسول خدا(ص)نہایت سکون و وقار کے ساتھ مشعر سے منا کی طرف چلے۔ لہذا تم بھی ذکر خدا اور استغفار کرتے ہوئے چلو اور اپنی زبان پہ ذکر خدا جاری رکھو، اور جب وادی مُحَسِّریہ جمع اور منا کے درمیان عظیم وادی ہے اور منا سے نزدیک ہے میں پہنچوتو وہاں سے تیزی سے گذر جاؤ۔

1194۔ امام باقر(ع): رسول خدا(ص) نے علی (ع) سے فرمایا:اے علی (ع)! بنی مصطلق کے طائفہ بنی خزیمہ کے پاس جاؤ اور انہیں ولید بن خالد کے کرتوت سے راضی کرو۔ آگاہ ہو کہ رسول خدا(ص) نے اپنے پیروںکواٹھایا اور فرمایا: اے علی (ع) ، اہل جاہلیت کے فیصلہ کو اپنے پیروںکو نیچے قرار دو۔ پھر علی (ع) ان کے پاس گئے اور حکم خدا کے مطابق ان کے درمیان فیصلہ کیا۔ جب پیغمبرکے پاس پلٹ کر آئے تو رسول خدا(ص) نے فرمایا: اے علی : مجھے بتاؤ تم نے کیاکیا...


1195۔ امام باقر(ع): رسول خدا(ص) نے علی (ع) بن ابی طالب ؐ کو بلایا اور فرمایا: اے علی (ع)! اس قوم(بنی خزیمہ) کے پاس جاؤ اور ان کے حالات کا جائزہ لو، اور رسم جاہلیت کو اپنے پیروں کے نیچے قرار دو۔ لہذا علی (ع) نکلے اوران کی طرف روانہ ہوئے اور ان کے پاس رسول خدا(ص) کا بھیجا ہوا کچھ مال تھا، اس کے ذریعہ ان کے خون کی دیت اور تلف شدہ اموال یہاں تک کہ کتے کے پانی پینے کے کاسہ کا بھی خسارہ دیا۔

1196۔ امام زین العاب دین (ع) : بیشک اللہ نے اسلام کے سبب حقارت و پستی کو دور کیا اور اس کے ذریعہ کمی ونقص کوزائل کیا نیز اسکی بدولت کمینگی کو شرافت میں تبدیل کیا، لہذا مسلمان کے لئے کوئی پستی نہیںہے پستی اور حقارت صرف وہی ہے جو دوران جاہلیت تھی۔

1197۔ امام صادق(ع): اہل مصیبت کے سامنے کھانا اہل جاہلیت کی صفت ہے ۔ اسلامی سنت یہ ہے کہ اہل عزا و مصیبت کے لئے کھانا بھیجا جائے۔ جیسا کہ پیغمبر اسلام ؐ نے جب جعفر بن ابی طالب کی خبر موت سنی تو حکم دیا کہ ان کے گھر والوںکے لئے کھانا پہنچایا جائے۔


6/6

اچھی سنن کی تائید

1198۔ رسول خدا(ص): نے معاذ بن جبل کو یمن روانہ کرتے وقت انہیں وصیت کی کہ رسم جاہلیت کو پامال کر دینا سوائے ان رسم و رواج کے کہ جنکی اسلام نے حمایت کی ہے اور اسلام کے تمام چھوٹے بڑے امور کو ظاہر کرنا۔

1199۔رسول خدا(ص): نے معاذ بن جبل کو یمن روانہ کرتے وقت انہیں وصیت کی کہ: عاداتِ جاہلیت کا خاتمہ کرنا مگر یہ کہ جو نیک ہوں۔

1200۔ رسول خدا(ص): بیشک عبد المطلب نے زمانہ جاہلیت میں پانچ سنتیں جاری کی تھیں، جنہیں خدا عز و جل نے اسلام میں جاری و ساری رکھا: باپ کی بیویوں کو اولاد پر حرام کیا تھا، خدا نے آیت نازل کی:(اپنے باپ کی بیویوں کے ساتھ نکاح نہ کرو)

جب کوئی خزانہ پاتے تھے تو اس میں سے خمس نکالتے اور صدقہ دیتے تھے خدا نے آیت نازل کی( آگاہ ہو جاؤ کہ جو چیز تمہیں غنیمت میں ملے اسکا خمس خدا و رسول کے لئے ہے اور.....تا آخر)جب زمزم کنویںکو کھودا تو اس کا نام ''سقایۃ الحاج'' رکھا ، خدا نے آیت نازل کی( کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد الحرام کی آبادی کو اس جیسا سمجھ لیا ہے جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے ....تا آخر) قتل پر سو اونٹوں کی دیت قرار دی تھی، خدا نے اسلام میں اسے بھی جاری رکھا، اور قریش طواف کے لئے خاص عدد کے قائل نہ تھے مگر عبد المطلب نے سات چکر قرار دئےے تھے، اور خدا نے اسلام میں اس کو جاری و ساری رکھا۔

1201۔ رسول خدا(ص): اسلام میں کوئی عہد و پیمان نہیںہے جو عہد و پیمان زمانہ جاہلیت میں تھا خدا نے اسی کو محکم کیا ہے ۔


1202۔عمرو بن شعیب: اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم ؐ، فتح مکہ کے سال کعبہ کے زینے پر بیٹھے ہوئے تھے، پس خدا کی حمد و ثنا کی اور فرمایا: جس کا بھی زمانہ جاہلیت میںکوئی عہد و پیمان تھا اسلام نے اس کو مزید محکم کیا ہے ۔

1203۔ جوحصہ بھی زمانہ جاہلیت میں تقسیم ہوا وہ اسی تقسیم پر باقی ہے، اور جو حصہ بھی اسلام نے درک کیا ہے پس وہ اسلام کا حصہ ہوگا۔

1204۔ رسول خدا(ص): ہر گھر اور زمین جو جاہلیت میں تقسیم ہوئی وہ اسی جاہلیت کی تقسیم پر ہے اور ہر وہ گھر اور زمین جسے اسلام نے درک کیا ہے لیکن تقسیم نہیں ہوئی تھی وہ اسلام کے حکم پر تقسیم ہوگی۔

1205۔ رسول خدا(ص): ہر وہ میراث جو جاہلیت میں تقسیم ہوئی تھی وہ اسی تقسیم پر باقی ہے۔ اور ہر وہ میراث جسے اسلام نے درک کیا وہ اسلام کی رو سے تقسیم ہوگی۔

1206۔ ابن عباس:جاہلیت کا جماعتی حلف لوگوں کے درمیان رکاوٹ تھا اور جو بھی قسم صبر کھاتا تھا- یعنی کسی کو اس لئے قید کرتا تاکہ وہ قسم کھائے- ان گناہوں کے سبب کہ جو اس نے انجام دیئے تھے تاکہ اسے خدائی عذاب دکھاکر محارم کو کچلنے سے باز رکھیں، لہذا قسم صبر سے اجتناب کرتے اور اس سے ڈرتے تھے پس جب خدا نے حضرت محمد(ص) کو مبعوث کیاتو اس قسم کو بر قرار رکھا۔

1207۔ فُضیل بن عیاض : کا بیان ہے کہ میں نے امام صادق(ع) سے کہا: جاہلیت کے رسم و رواج میں سے کیا کوئی چیز محترم بھی ہے؟ فرمایا: اہل جاہلیت نے ہر وہ چیز جو دین ابراہیم سے تھی اسے تباہ و برباد کر دیا، سوائے ختنہ کرنے اور شادی و حج کے ۔ وہ لوگ ان تین کے پابند رہے اور انہیں ضائع نہیں کیا۔


1208۔ عبد اللہ بن عمر:عمر نے رسول خدا سے عرض کیا: اے رسول خدا! زمانہ جاہلیت میں میں نے نذر کیا تھا کہ ایک شب مسجد الرام میں اعتکاف کرونگا، رسول خدا(ص) نے فرمایا: تم اپنی نذر کو پورا کرو۔

1209۔ رسول خدا(ص): یاد رکھو! رجب اللہ کا اَصَمّ (بھاری)مہینہ ہے جو نہایت عظیم ہے ۔ رجب کے مہینہ کو ''اصم'' اس وجہ سے کہا گیا ہے کہ کوئی بھی مہینہ خدا کے نزدیک احترام و فضیلت میں اس کے برابر نہیںہے زمانہ جاہلیت کے افراد اس مہینے کو عظیم سمجھتے تھے اور اسلام کے بعد اسکی عظمت و فضیلت دو بالا ہو گئی۔

1210۔ مجاہد: سائب بن عبد اللہ نے کہا: فتح مکہ کے روز مجھے پیغمبر اسلام ؐ کی خدمت میں لایا گیا۔ عثمان بن عفان اور زبیر مجھ کو لے آئے تھے ، انہوںنے سائب کی تعریف کی تو پیغمبر ؐنے ان سے فرمایا: اسکے بارے میں مجھے اطلاع نہ دو، وہ دور جاہلیت میں میرا ہمنشین تھا۔ سائب نے کہا: ہاں ، اے رسولخدا! آپ بہت اچھے ہمنشیں تھے، تو رسول خدا(ص) نے فرمایا: اے سائب! زمانہ جاہلیت میں جو تمہارے عادات و اطوار تھے ان پر نظر کرو اور انہیں اسلام میں محفوظ رکھو، مہمانوں کو کھانا کھلاؤ، یتیموں کا احترام کرو اور پڑوسی کے ساتھ نیکی کرو۔

1211۔ زرارہ: میں نے امام باقر(ع)کی خدمت میں عرض کیا: لوگ نقل کرتے ہیں کہ رسول خدا(ص) نے فرمایا: زمانہ جاہلیت میںجو تم میں سے زیادہ شریف تھا وہ تم میں اسلام میں بھی زیادہ شریف ہے ؛ امام ؑ نے فرمایا: وہ سچ کہتے ہیں، لیکن نہ اس طرح کہ جیسا کہ وہ گمان کرتے ہیں؛ دور جاہلیت میںسب سے زیادہ باشرف وہ انسان ہے جو ان میں بیشتر سخی، سب سے زیادہ خوش اخلاق اور پڑوسیوںکے ساتھ سب سے زیادہ نیکی کرنے والا اور سب سے کم اذیت پہنچانے والا ہے ۔ انہوںنے جب اسلام قبول کیا تو ان کی خوبیاں دو بالا ہو گئیں۔


1212۔ علقمہ بن یزید بن سوید ازدی : کا بیان ہے کہ سوید بن حارث نے کہا: میں اپنے قبیلہ کی ساتویں فرد تھا کہ رسول خدا(ص) کی خدمت میں وارد ہوا، رسول خدا(ص): میرے طور طریقہ سے خوش ہوئے اور فرمایا: تم لوگ کیسے ہو؟ ہم نے کہا: ہم مومن ہیں، رسول خدؐا مسکرائے اور فرمایا: ہر قول کی ایک حقیقت ہوتی ہے اور تمہارے ایمان کی حقیقت کیا ہے ؟ سوید کہتاہے کہ ہم نے کہا: پندرہ خصلتیں ہیں، پانچ خصلتوں کا آپ کے نمائندوں نے حکم دیا کہ ہم ان پر ایمان لے آئے، اور پانچ خصلتوں کے متعلق حکم دیا کہ ہم ان پر عمل کریں اور پانچ خصلتیں زمانہ جاہلیت میں ہمارے اندر تھیں اب بھی ہم ان پر عمل پیرا ہیں مگر یہ کہ آپ ان میں جس کو ناپسند کریں۔

رسول خدا ؐ نے فرمایا: وہ پانچ خصلتیں کیا ہیں جن پر ایمان لانے کامیرے نمائندوں نے تمہیں حکم دیا ہے؟ ہم نے کہا: یہ کہ ہم خدا پر، اس کے فرشتوں پر، اسکی کتابوںپر، اس کے انبیاء اور مرنے کے بعد زندہ ہونے پر ایمان لے آئےں۔

فرمایاؐ: پانچ خصلتیں جن پر عمل کرنے کا میرے نمائندوں نے تمہیں حکم دیا ہے؟ ہم نے کہا: لا الٰہ الا اللہ و محمد رسول اللہ؛ ہم نمازقائم کریں ، زکات ادا کریں ، حج خانہ خدا بجالائیں، اور ماہ رمضان کا روزہ رکھیں ؛ اور فرمایا:ؐ وہ پانچ خصلتیں کہ زمانہ جاہلیت میں جن کے عادی ہو چکے تھے وہ کیا ہیں؟ ہم نے کہا: عیش و آرام پر شکر، مصیبت پر صبر، دشمن سے مقابلہ کے وقت صبر (ثابت قدمی)، راضی بقضائے الٰہی اور دشمنوں کی ملامت و سرزنش کے وقت صبر۔ تو رسول خدا(ص) نے فرمایا: قریب تھا کہ بردبار علماء اپنی صداقت کی بناپر انبیاء ہو جائیں۔


ساتویں فصل دوسری جاہلیت

7/1

پیچھے کی طرف پلٹنا

قرآن

(اور محمد صرف اللہ کے رسول ہیں جن سے پہلے بہت سے رسول گذر چکے ہیں کیا اگر وہ مر جائیں یا قتل ہو جائیں توتم الٹے پیروں پلٹ جاؤگے تو جو بھی ایسا کریگا وہ خدا کا کوئی نقصان نہیں کریگا اور خدا تو عنقریب شکر گذاروںکو ان کی جزا دیگا)

حدیث

1213۔ امام باقر(ع): نے اس آیت:(اور پہلی جاہلیت جیسا بناؤ سنگارنہ کرو)کی تفسیر کے سلسلہ میں فرمایا: عنقریب دوسری جاہیت آنے والی ہے۔

1214۔ رسول خدا(ص): میں دو جاہلیتوں کے درمیان مبعوث ہوا ہوں، دوسری جاہلیت پہلی سے بدتر ہے ۔

1215۔ رسول خدا(ص): قیامت برپا نہیں ہوگی جب تک کہ علم محدود نہ ہو جائے۔

1216۔ رسول خدا(ص): آثار قیامت میں سے علم کا کم ہونا اور جہالت کا آشکار ہونا ہے ۔

1217۔ رسول خدا(ص): قیامت کی نشانیوں میں سے علم کا اٹھ جانا اور جہالت کاراسخ ہونا ہے ۔


1218۔ رسول خدا(ص): بیشک قیامت سے قبل کچھ ایسے دن آئیں گے جن میں جہالت پھیلیگی اور علم اٹھا لیا جائیگا۔

1219۔ امام علی (ع): یا درکھو! تم نے اپنے ہاتھوں کو اطاعت کے بندھنوں سے جھاڑ لیا ہے اور اللہ کی طرف سے اپنے گرد کھنچے ہوئے حصار میں جاہلیت کے احکام کی بنا پر رخنہ پیدا کر دیا ہے ۔ اللہ نے اس امت کے اجتماع پر یہ احسان کیا ہے کہ انہیں الفت کی ایسی بندشوں میں گرفتار کر دیا ہے کہ اسی کے زیر سایہ سفر کرتے ہیں اور اسی کے پہلو میں پناہ لیتے ہیں اور یہ وہ نعمت ہیں جس کی قدر و قیمت کو کوئی بھی نہیںسمجھ سکتا ہے اس لئے کہ ہر قیمت سے بڑی قیمت اور شرف و کرامت سے بالاتر کرامت ہے ، اور یاد رکھو! کہ تم ہجرت کے بعد پھر صحرائی بدو ہو گئے ہو اور باہمی دوستی کے بعد پھر گروہوں میں تقسیم ہو گئے ہو، تمہارا اسلام سے رابطہ صرف نام کارہ گیا ہے اور تم ایمان میں سے صرف علامتوں کو پہچانتے ہو۔

7/2

جاہلیت کی طرف پلٹنے کے اسباب

الف: امام کی عدم معرفت

1220۔ رسول خدا(ص): جو شخص امام کے بغیر مرا اسکی موت جاہلیت کی موت ہے۔

1221۔ رسول خدا(ص): وہ شخص جو مر جائے اور اس کے اوپر کوئی امام نہ ہو اسکی موت، جاہلیت کی موت ہے۔

1222۔ رسول خدا(ص): وہ شخص جو مر جائے اور اپنے امام کو نہ پہچانتا ہو اسکی موت ،جاہلیت کی موت ہے۔

1223۔ رسول خدا(ص): وہ شخص جس کو اس عالم میں موت آئے کہ اسکی گردن پر کسی(امام )کی بیعت نہ ہو اسکی موت جہالت کی موت ہے۔


1224۔ رسول خدا(ص): وہ شخص جس کو اس حالت میں موت آئے کہ میری اولاد میں سے اس کا کوئی امام نہ ہو اسکی موت جاہلیت کی موت ہے اور جو کچھ جاہلیت اور دوران اسلام کیا ہے اس کا اس سے مؤاخذہ کیا جائیگا۔

1225۔ امام علی (ع): مسلمان کو اس شخص کے حکم پرجہاد کے لئے نہیں نکلنا چاہئے کہ جو امانتدار نہیںہے اور مصرف فی ئ(عمومی اموال) میں حکم خدا کو نافذ نہیں کرتا، ورنہ اگر اس راہ میں مرگیاتوہمارے حقوق کو تلف کرنے اور ہمارے خون کو بہانے میں ہمارے دشمنوںکا مددگار ہوگا، اور اسکی موت، جاہلیت کی موت ہوگی۔

ب: نشہ آور اشیاء کا استعمال

1226۔رسول خدا(ص): کوئی ایسا نہیںہے کہ جو شراب پئے اور خدا اسکی نماز چالیس روز تک قبول کرے، اگر وہ مر جائے اور اس کے مثانہ میں شراب کے آثار باقی ہوں تو جنت اس پر حرام ہوگی، اور اگر ان چالیس دنوں میںمر یگا تووہ جاہلیت کی موت مریگا۔

1227۔ رسول خدا(ص): شراب بدکردار ی اور گناہ کبیرہ کا سرچشمہ ہے ۔

1228۔ رسول خدا(ص): شراب، تمام گناہوں کو جمع کرنے والی ، خباثتوں کا سرچشمہ اور برائیوںکی کنجی ہے۔

1229۔ رسول خدا(ص) :شراب خور، بت پرست کے مانند خدا سے ملاقات کریگا۔

1230۔ رسول خدا(ص):شراب خور، بت پرست کے مانند ہے نیز شراب خور، لات و عزّٰی کی پرستش کرنے والے کے مانند ہے ۔


1231۔ رسول خدا(ص): جو شخص شب میں شراب پیتا ہے وہ صبح کو مشرک ہوتا ہے، اور جو صبح کو شراب پیتا ہے وہ شام تک مشرک ہوتا ہے۔

1232۔ ابو ال حسن (ع): شراب خور کافر ہے ۔

1233۔ امام صادق(ع): جو شراب پیتا ہے وہ اپنی عقل کو کھو دیتا اور روح ایمان اس سے نکل جاتی ہے ۔

جاہلیت کی طرف پلٹنے کے اسباب کی تحقیق

قرآن کریم اور احادیث میں عہد بعثت رسول ؐ کوعقل و علم کی حاکمیت کا زمانہ اورآپکی بعثت سے پہلے والے زمانہ کو عہد جاہلیت سے تعبیر کیا گیا ہے ، اسکی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ آنحضرت کی بعثت سے قبل آسمانی ادیان کی تحریف کے سبب لوگوںکے لئے حقائق ہستی کی معرفت اور صحیح زندگی گذارنے کا کوئی صحیح طریقہ نہیںتھا، اور وہ چیز جو دین کے نام پر لوگوں کی گردنوںپر ڈالی جارہی تھی اس میںتوہمات و خرافات کی آمیزش تھی ، تحریف شدہ ادیان کو مفاد پرست، موقع کو غنیمت سمجھنے والے، اور عوام سے جھوٹی ہمدردی کا اظہارکرنے والے افراد نے جو کہ ان کے دکھ درد کو محسوس نہیںکرتے تھے، اپنی حکومت اور منفعت کا وسیلہ قرار دے رکھا تھا۔

رسول خدا(ص) کی بعثت،دورِعلم کا آغاز تھا اور ان کی اہمترین ذمہ داری لوگوںکے لئے حقائق کو روشن کرنا اور انہیں صحیح زندگی کے اسلوب سے روشناس کرنا تھا، اورگذشتہ ادیان کی تحریف اور معاشرہ میں دین کے نام پر جو بدعتیں و خرافات ایحاد کی جا رہی تھیں ان کے مقابل میں نبرد آزما ہونے کا درس دینا تھا۔ رسول خدا خود کو لوگوں کے لئے مہربان و شفیق باپ اور ہمدرد معلم سمجھتے تھے اور فرماتے تھے۔


(أنالکم مثل الوالد أعلمکم)

یقینا میں تمہارے لئے باپ کے مثل ہوں ، تمہیں تعلیم دیتا ہوں۔

نبی اکرم ؐ خدا وند متعال کی جانب سے لوگوں کی صحیح زندگی کے طور طریقہ کو منظم کرنے کے لئے جو نبوت اور ضابطہ لیکر آئے تھے وہ عقلی میزان اور علمی معیار کے مطابق تھا کہ اگر علماء و دانشور اس کے حقائق کی چھان بین کریں تو مبدا ہستی سے اس کے ارتباط کی صداقت ان کے لئے روز روشن کی طرح واضح ہو جائیگی:

(و یر ی الذین اوتوا العلم الذی انزل الیک من ربک هو الحق و یهدی الیٰ صراط العزیز الحمید)

''اور جن لوگوں کو علم دیا گیا ہے وہ جانتے ہیں کہ جو کچھ آپ پر آپ کے پرروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے وہ بالکل حق ہے اور خدا ئے غالب و قابل حمد و ثنا کی طرف ہدایت کرنے والا ''

اس بنیاد پرآنحضرت لوگوںکو ان چیزوں کی پیروی سے شدت سے روکتے تھے کہ جن کے بارے میں وہ نہیں جاتے تھے ، اور ان کے سامنے اس آیت کی تلاوت فرماتے تھے:

(ولا تقف ما لیس لک به علم ان السمع و البصر و الفؤاد کل اولٰئک کان عنه مسؤلا)

'' اور جس چیز کا تمہیں علم نہیںہے اس کے پیچھے مت جانا کہ روز قیامت سماعت، بصارت اور قوت قلب سب کے بارے میں سوال کیا جائیگا''


قرآن کی تنبیہہ

قرآن نے اسلام کے علمی و ثقافتی پیغامات کے تحفظ و دوام کی تاکیدہے اور مسلمانوں کو جوتنبیہہ کی ہے اس کے ذریعہ انہیں آگاہ کیا ہے کہ کہیں پیغمبر اکرم ؐ کے بعد عہد جاہلیت کی طرف نہ پلٹ جائیں، جیسا کہ ارشاد ہے:

(وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل أفان مات او قتل انقلبتم علیٰ اعقابکم)

''اور محمد تو صرف ایک رسول ہیں جن سے پہلے بہت سے رسول گذر چکے ہیں کہ اگر وہ مر جائیں یا قتل ہو جائیں تو تم الٹے پیروں پلٹ جاؤ گے''۔

یہ اور سورئہ احزاب کی 33 ویںآیت(ولا تبرجن تبرج الجاهلیة الاولیٰ)'' اور وہ پہلی جاہلیت کا بناؤ سنگار نہیں کرینگی۔'' امام محمد باقر -کی تفسیر کے مطابق اس بات کو سمجھا رہی ہے کہ:(لیکون جاهلیة اخریٰ) عنقریب دوسری جاہلیت آنے والی ہے ۔

تاریخ اسلام میں جہل کی طرف پلٹنے کا ارشاد موجود ہے: یہاں تک کہ خود آنحضرت نے اس کے متعلق فرمایا ہے:

(بعثت بین جاهلیتین؛ لا خراهما شر من اولاهما)

میں دو جاہلیتوں کے درمیان مبعوث ہوا ہوں، دوسری جاہلیت پہلی سے بدتر ہے۔

پلٹنے کے اسباب

اہمترین مسئلہ، جاہلیت کی طرف پلٹنے کے اسباب کی شناخت ہے جس کو قرآن نے پیچھے کی طرف پلٹنے سے تعبیر کیا ہے۔ مجموعی طور پر پلٹنے کے اسباب کو دو حصوںمیں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔ فردی اور اجتماعی۔


الف: فردی اسباب

ہر وہ چیز جو کتاب ''علم و حکمت، قرآن و حدیث کی روشنی میں'' کے عنوان ''موانع علم و حکمت'' اور اسی کتاب میںعنوان'' آفات عقل''کے تحت ذکر ہو چکی ہے ، وہ معاشرہ کے افراد کے پہلی جاہلیت کی طرف پلٹنے کے اسباب میں شمار ہوتی ہے اور پیغمبر نے ان موانع سے مقابلہ کرنے کے لئے حد بندی کی تھی ، اور یہ عقلی آفات و موانع جس مقدار میں بھی کسی شخص میں موجود ہوںگے اسے اتنا ہی جاہلیت کی سرحد سے قریب تر کریں گے ، لیکن پلٹنے کے تمام فردی اسباب میں سے شراب خوری سے متعلق روایات کی طرف نہایت توجہ دی گئی ہے ، اور اس چیز کا سبب بعد کی روایات میں بیان ہوا ہے کہ شراب تمام برائیوں ، بدکرداریوں اور تمام خباثتوں کی کنجی ہے ، در حقیقت نشہ آور اشیاء اور عقل کو زائل کرنے والی چیزوںکی عادت ڈالنا انواع و اقسام کے موانع معرفت کی زمین کو ہموار کرتا ہے ،ا ور انسان کے لئے جاہلیت کے عقائد، اخلاق اور اعمال میں مبتلا ہونے کے باعث ہوتا ہے۔

ب: اجتماعی اسباب

جاہلیت کی طرف الٹے پاؤں پلٹنے کے اجتماعی اسباب و علل وہ آفات ہیں کہ جو اسلامی نظام کےلئے خطرہ بنے ہوئے ہیںاور ان میں نہایت واضح وہ اختلاف ہے کہ جسکے بارے میں پیغمبر فرماتے ہیں:

(ما اختلفت امة بعد نبیها الا ظهر اهل باطلها علٰی اهل حقها)

کسی نبی کی امت نے اس کے بعد اختلاف نہیں کیا مگر یہ کہ اہل باطل اہل حق پر کامیاب ہو گئے۔

اور جاہلیت کی طرف پلٹنے کے اسباب و عوامل میں سے سب سے زیادہ خطرناک گمراہ اماموںکی قیادت تھی جیسا کہ رسول خدا(ص) کا ارشاد گرامی ہے:


(ان اخوف ما اخاف علی امتی الائمة المضلون)

سب سے زیادہ خوف جو مجھے اپنی امت کے بارے میں ہے وہ گمراہ کرنے والے پیشواؤں سے ہے۔

حدیث میں ہے کہ عمر بن خطاب نے کعب سے پوچھا:

انی اسئلک عن امر فلا تکتمنی،قال: لا والله لا اکتمک شیأ اعلمه ؛ قال : ما اخوف شیء تخافه علیٰ امة محمد ؟ قال: ائمة مضلین قال عمر: صدقت قد اسرّ الیّ ذالک و اعلمنیه رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم

میں تم سے ایک مسئلہ پوچھنا چاہتاہوں ، تم اسے چھپا نا نہیں ، کعب نے کہا: خدا کی قسم ، جو کچھ میں جانتا ہوں اسے آپ سے نہیں چھپاؤنگا، عمر نے کہا: امت پیغمبر کے سلسلے میں سب سے زیادہ کس چیز سے ڈرتے ہو؟ کعب نے کہا: گمراہ کرنے والے پیشواؤں سے ، عمر نے کہا: سچ کہتے ہو، رسول خدا(ص) نے مجھ سے مخفیانہ طور پر فرمایا تھا۔

گمراہ پیشواؤں سے اسلام کو عظیم خطرہ لاحق تھا اور یہ مسلمانوں کوعصر جاہلیت کی طرف پلٹانے میں اس قدر مؤثر تھے کہ رسول خدا نے مسلمانوں کے درمیان متفق علیہ اور معتبر حدیث میں فرمایا:

''من مات بغیر امام ، مات میتة جاهلیة''

جو امام کے بغیر مرا اسکی موت جاہلیت کی ہوگی، اس کے معنی یہ ہیں کہ ائمہ عدل و حق کا وجود عصر علم کے دوام یعنی اسلام حقیقی کی بقا کا ضامن ہے ، اور اس قیادت و رہبری کے نہ ہونے کی صورت میں اسلامی معاشرہ دو بارہ پہلی جاہلیت کی طرف پلٹ جائیگا۔

یہ تلخ حقیقت تاریخ اسلام میں رونما ہوئی جس کے سبب آج نہ فقط اسلامی معاشرے بلکہ پورا عالم علوم تجربی میں تعجب خیز تر قیوں کے باجود دوسری جاہلیت سے دو چار ہے ۔


رسول خدا(ص) نے دنیا کے تمام انسانوں کو یہ خوشخبری دی کہ اس عہد کی بھی ایک انتہا ہے اور یہ اس وقت ہوگا، جب ان کی نسل کا چشم و چراغ ، مہدی آل ؐمحمد ظہور کریگا، اور جب وہ آئیگا تو اسکی ہدایت و رہبری کے سبب دنیا کی جاہلیت کا قصہ تمام ہوگا، بدعات و خرافات کا قلع قمع ہوگا، عدل و انصاف کا بول بالا ہوگا، فساد و تباہی کا خاتمہ ہوگا، دنیا کے چپہ چپہ پر حقیقی علم ضوفشاں ہوگا، اس کتاب کی آٹھویں فصل کو ہم نے ان ہی بشارتوں سے مخصوص کیاہے ۔ دعا ہے کہ ایران میں حیات اسلام کی تجدید اس بشارت کا پیش خیمہ ہو۔


آٹھویں فصل جاہلیت کا خاتمہ

1234۔ رسول خدا(ص): نے ائمہ ٪کے سلسلہ میںفرمایا: ان کا نواں قائم ہے کہ خدا جس کے وسیلہ سے زمین کو ظلمت و تاریکی کے بعد نور سے ، ظلم و جور کے بعد عدل و انصاف سے۔ جہل و نادانی کے بعد علم سے بھر دیگا۔

1235۔ امام علی (ع):نے پیشینگوئیوں اور فتنوں کے ذکر کے بعد فرمایا: ایسا ہی ہوگا، یہاں تک کہ زمانہ کی سختیوں اور لوگوں کی نادانیوں کے وقت خدا آخری زمانہ میں ایک ایسے شخص کو بھیجے گا کہ جس کی حمایت اپنے فرشتوںکے ذریعہ کریگا، اس کے یاورو انصار کو محفوظ رکھے گا، اپنی آیات سے اسکی مدد کریگا، اور اسے تمام اہل زمین پر کامیابی عطا کریگا تاکہ لوگ بادل خواستہ یا بادل نخواستہ دیندار ہو جائیں۔ اور وہ زمین کو انصاف و علم اور نورو برہان سے بھردیگا ، زمین اپنی تمام وسعتوں( عرض و طول) کے ساتھ اسکی فرمانبردار ہوگی، کوئی کافر نہ ہوگا مگر یہ کہ ایمان لے آئے کوئی بدکردار نہ ہوگا مگر یہ کہ صالح و نیک ہو جائے۔ درندے اسکی حکومت میں مہربان ہوں گے۔ زمین اپنی روئیدگی کو آشکار کریگی، آسمان اپنی بر کتیں نازل کریگا، خزانے اس کے لئے ظاہر ہوں گے ، اور وہ چالیس سال زمین و آسمان کے درمیان حکومت کریگا، خوشابحال وہ شخص جو اس کے زمانے کو دیکھے گا اور اس کے کلام کو سنے گا۔


1236۔ امام علی (ع): نے اس خطبہ میں جس میں زمانہ کے حوادث اور پیشینگوئیوںکی طرف اشارہ کیا ہے فرمایا: ان لوگوں نے گمراہی کے راستوں پر چلنے اور ہدایت کے راستوںکو چھوڑ نے کے لئے داہنے بائیں راستے اختیار کر لئے ہیںمگر تم اس امر میں جلدی نہ کرو جو بہر حال ہونے والا ہے اور جس کا انتظام کیا جا رہا ہے اور اسے دور نہ سمجھو جو کل آنے والا ہے کہ کتنے ہی جلدی کے طلبگار جب مقصد کو پالیتے ہیں تو سوچتے ہیںکاش اسے حاصل نہ کرتے۔ آج کادن کل کے سویرے سے کس قدر قریب ہے ۔ لوگو! یہ ہر وعدہ کے ورود اور ہراس چیز کے ظہور کی قربت کا وقت ہے جسے تم نہیں ۔ پہچانتے ہو۔ لہذا جو شخص بھی ان حالات تک باقی رہ جائے اس کا فرض ہے کہ روشن چراغ کے سہارے قدم آگے بڑھائے اور صالحین کے نقش قدم پر چلے تاکہ ہر گرہ کو کھول سکے اور ہر غلامی سے آزادی حاصل کر سکے ، ہرگروہ کوبوقت ضرورت منتشر کر سکے اور ہر انتشار کو جمع کر سکے اور لوگوں سے یوں مخفی رہے کہ قیافہ شناس بھی اس کے نقش قدم کو تاحد نظر نہ پاسکیں۔ اس کے بعد ایک قوم پر اس طرح صیقل کی جائیگی کہ جس طرح لوہار تلوار کی دھار پر صیقل کرتا ہے ۔ ان لوگوںکی آنکھوں کو قرآن کے ذریعہ روشن کیا جائیگا، اور ان کے کانوں میں تفسیر کو مسلسل پہنچایا جائیگا اور انہیں صبح و شام حکمت کے جاموں سے سیراب کیا جائیگا!

1237۔ امام باقر(ع): جب ہمارا قائم ، قیام کریگا تو خدااپنے ہاتھ کو بندوںکے سروںپر رکھیگا جس کے سبب ان کی عقلیں اکٹھا ہو جائیں گی اور ان کی خرد کامل ہو جائے گی۔

1238۔ فضیل بن یسار: کا بیان ہے کہ میں نے امام صادق(ع) کو فرماتے ہوئے سنا ہے : جب ہمارا قائم ، قیام کریگا اس کو لوگوں کی جہالت کا سامنا اس سے زیادہ کرنا ہوگا کہ جتنا رسول کو جاہلیت کے جاہلوں کا سامنا کرناپڑا تھا۔ میںنے کہا: وہ کس طرح؟ فرمایاؑ: بیشک رسول خدا(ص) جب لوگوںکے درمیان تشریف لائے تھے۔


اس وقت وہ لوگ پتھروں، چٹانوں اور تراشی ہوئی لکڑیوں کی پرستش کرتے تھے، لیکن جب ہمارا قائم قیام کریگا اور ان کے پاس آئیگا تو وہ سب کے سب کتاب خدا کی تاویل کریں گے اور اسی کے ذریعہ ان پر احتجاج کریں گے ، پھر فرمایا: لیکن خدا کی قسم، وہ اپنے عدل و انصاف کو ان کے گھروں میں اس طرح داخل کریگا کہ جس طرح ان کے گھروں میں سردی و گرمی داخل ہوتی ہے ۔

1239۔ امام صادق(ع): علم ستائیس (27) حروف کے مجموعہ کا نام ہے ۔ وہ تمام علوم جو انبیاء لیکر آئے وہ فقط دو حرف تھے اور لوگ اب تک ان دو حرف کے سوا اور کچھ نہیں جانتے ، لیکن جب قائم قیام کریگا تو دوسرے پچیس حروف کو ظاہر کریگا اور لوگوں کے درمیان ان کی اشاعت کریگا، اور ان دو حروف کو بھی انہیںکے ساتھ ضمیمہ کریگا یہاں تک کہ وہ علم کو ستائیس حروف پر مشتمل کر دیگا۔

1240۔ امام صادق(ع) : نے جب کوفہ کا ذکر کیا تو فرمایا: عنقریب کو فہ مومنوں سے خالی ہو جائیگا اور علم وہاں سے ایسے نکل جائیگا جیسے سوراخ سے سانپ نکل جاتا ہے ، پھراس شہر میںظاہر ہوگا جسے قم کہا جاتا ہے ، جو علم و فضیلت کا سر چشمہ ہوگا، روئے زمین پر دین کے اعتبار سے کوئی ناتواں و کمزور باقی نہ ہوگا حتی کہ حجلہ نشین عورتیں بھی ، اورا یسا اس وقت ہوگا جب ہمارے قائم کا ظہور نزدیک ہوگا پھر خدا قم اور اہل قم کو حجت کا جانشین قرار دیگا، اگر ایسا نہ ہوگا تو زمین اپنے اہل کے ساتھ دھنس جائیگی۔

اور زمین پر کوئی حجت باقی نہ رہیگی، پھر علم شہر قم سے مشرق و مغرب کے تمام شہروں میںپھیلیگا تاکہ خلق پر خدا کی حجت تمام ہو جائے اور زمین پر کوئی ایسا باقی نہ رہیگا کہ جس تک دین اور علم نہ پہنچا ہو، اس کے بعد قائم ؑ ظاہر ہوگا اور بندوں پر خدا کی ناراضگی و غضب کاوسیلہ ہوگا، اس لئے کہ خدا اپنے بندوں سے انتقام نہیںلیگا مگر یہ کہ وہ لوگ حجت کے منکر ہو جائیں۔


1241۔ سید ابن طاؤوس: کا بیان ہیکہ زیارت امام زمانہ - میں ہے: خدایا! محمد اور اہلبیت محمد(ص) پر درود بھیج، اور ہمیں ہمارے سردار، ہمارے آقا، ہمارے امام ، ہمارے مولا صاحب الزمان کا دیدار کرادے، وہ ہی زمانہ کے لوگوں کے لئے پناہگاہ اور ہمارے زمانہ کے افراد کو نجات دینے والے ہیں، ان کی گفتار آشکار اور رہنمائی روشن ہے، وہ ضلالت و گمراہی سے ہدایت دینے والے اور جہالت ونادانی سے نجات دینے والے ہیں۔

خدایا!میں اپنی جہالت و نادانی کے سبب تجھ سے معذرت چاتا ہوں۔

بار الٰہا! میں اپنی نادانی کے باعث تیری پناہ چاہتا ہوں۔

پروردگارا!! میری لغزش ، خطا، میری نادانی اور کاموں میں مجھے میرے اسراف سے بخش دے اور ان چیزوں کو معاف کر دے کہ جن کو تو مجھ سے بہتر جانتا ہے۔

خدایا! محمد و آل محمدپردرود بھیج اور ان کے قائم کے ظہور میں تعجیل فرما، اور ان کے سبب زمین کو اسکی ظلمت و تاریکی کے بعد نور سے اور جہالت کے بعد علم سے بھر دے ، اور ہمیں عقلِ کامل ، عزم محکم، قلب پاکیزہ، علم کثیر اور اچھے ادب کی توفیق عطا فرما اور ان سب کو ہمارے لئے مفید قرار دے اور ہمارے لئے مضر قرار نہ دے۔

بار الٰہا! محمد اور ان کی آل پاک پر درود بھیج ، اور اے برائیوں کو نیکیوںمیں تبدیل کرنے والے اپنے فضل و رحمت کے سبب ہماری اس کوشش کو قبول فرما، اے ارحم الراحمین۔


فہرست

مقدمہ 4

پیش لفظ 7

عقل کے لغوی معنی 8

عقل اسلامی روایات میں 9

الف: عقل کا استعمال اور ادراکات کا سرچشمہ 9

1۔ تمام معارفِ انسانی کا سرچشمہ 9

2۔ فکر کا سرچشمہ 10

3۔الہام کا سرچشمہ 10

نکتہ 11

ب: عقل کا استعمال اورنتیجہ ادراکات 12

حقائق کی شناخت 12

عقل کے مطابق عمل 12

عقل کی حیات 13

عقل نظری اور عقل عملی 14

عقل فطری اور عقل تجربی 16

عاقل و عالم کا فرق 18

عقل کے بغیر علم کا خطرہ 19

دوسری فصل عقل کی قیمت 21

خدا کا تحفہ 21

بہترین عطیہ 22


انسان کی اصل 24

انسان کی قیمت 25

اسلام کا پہلا پایہ 26

انسان کا دوست 26

مومن کا دوست اور رہنما 27

مومن کا پشت پناہ 27

سب سے بڑی بے نیازی 29

علم محتاجِ عقل ہے 30

نادر اقوال 31

تیسری فصل تعقل 33

تعقل کی تاکید 33

قرآن 33

حدیث 34

ہمیشہ غور و فکر سے کام لو 40

قرآن 40

حدیث 41

عقل کا حجت ہونا 44

اعمال کے حساب میں عقل کا دخل 45

اعمال کی جزا میں عقل کااثر 45

چوتھی فصل عقل کے رشد کے اسباب 48

عقل کی تقویت کے عوامل 48


الف۔ وحی 48

حدیث 49

ب۔ علم 50

قرآن 50

حدیث 50

ج۔ ادب 51

د۔ تجربہ 52

ھ۔ زمین میں سیر 52

قرآن 52

حدیث 53

و۔مشورہ 53

ز۔ تقویٰ 53

ح۔ جہاد بالنفس 54

ی۔ دنیا سے بے رغبتی 55

ک: حق کا اتباع 55

ل۔ حکماء کی ہمنشینی 56

م۔ جاہلوں پر رحم 56

ن۔ خدا سے مدد چاہنا 56

مقویات دماغ 57

الف: تیل 57

ب: کدو 57


ج:بہی 58

د:کرفس(خراسانی اجوائن) 58

ھ: گوشت 58

و: دودھ 59

ز: سرکہ 59

ح: سداب( کالا دانہ) 59

ط: شہد 60

ی: انار کو اس کے باریک چھلکوں کے ساتھ کھانا 60

ک: پانی 60

ل: حجامت(فصد کھلوانا) 60

م: خرفہ 61

ن: لیمو 61

س: باقلا 61

پانچویں فصل عقل کی نشانیاں 62

عقل و جہل کے سپاہی 62

عقل کے آثار 65

الف۔ علم و حکمت 65

قرآن 65

حدیث 65

ب۔ معرفت خدا 68

ج۔دین 70


د۔ کمال دین 70

ھ۔ مکارم اخلاق 71

و۔ نیک اعمال 75

قرآن 75

حدیث 76

ز۔ ہر شی کو اسکی جگہ پر رکھنا 78

فائدہ 78

ح۔ بہتر کا انتخاب 78

ط۔ عمر کو غنیمت سمجھنا 79

ی۔ صحیح بات 79

ک۔ تجربات کا تحفظ 80

ل۔ حسن تدبیر 80

م۔صحیح گمان 80

ن ۔دنیا سے بے رغبتی 81

س۔ فضول باتوں کا ترک کرنا 81

ع۔آخرت کا زاد راہ 82

ف۔نجات 83

ص۔ جنت پر اختتام 84

ق۔ ہر کام میں بھلائی 85

ر۔ دنیا و آخرت کی بھلائی 85

وہ اشیاء جن سے عقل آزمائی جاتی ہے 87


الف: عمل 87

ب: کلام 87

ج: خاموشی 88

د: رائے 89

ھ: قاصد 89

و: لکھنا 89

ز: تصدیق اور انکار 90

ح: دوست 90

عقل کا معیار 90

عاقلوںکے صفات 92

ارباب عقل کے صفات 101

قرآن 101

حدیث 101

صاحبان عقل کے صفات 103

قرآن 103

حدیث 103

کامل عقل کے علامات 105

عقلمند ترین انسان 108

چھٹی فصل عقل کی آفتیں 111

خواہشاتِ نفسانی 111

قرآن 111


حدیث 111

گناہ 114

دل پر مہرلگنا 114

قرآن 114

حدیث 115

آرزو 116

تکبر 116

فریب 117

غیظ و غضب 117

حرص و طمع 118

خود پسندی 118

عقل سے بے نیاز ہونا 119

حب دنیا 119

مے کشی 121

پانچ چیزوں کی مستی 121

زیادہ لہوو لعب 122

بیکاری 122

زیادہ طلبی 123

نادان کی ہمنشینی 124

حد سے تجاوز کرنا 124

بیوقوفوں سے مجادلہ 124

عاقل کی بات پر کان نہ دھرنا 125

جنگلی جانور اور گائے کا گوشت 125

ساتویں فصل عاقل کے فرائض 126

عاقل کے واجبات 126

قرآن 126

حدیث 126

عاقل کے لئے حرام اشیائ 128

قرآن 128

حدیث 128

عاقل کے لئے مناسب اشیائ 130

عاقل کے لئے نامناسب اشیائ 135

دوسرا حصہ 137

جہل 137

پہلی فصل مفہوم جہل 138

مفہوم جہل کی تحقیق 140

مفہوم جہل 142

معانی کی وضاحت 142

1۔ مطلق جہل 142

2۔ مفید معارف سے جہالت 143

3۔ انسان کی ضروری معارف سے جہالت 143

4۔ عقل کے مقابل میں ایک قوت 144

1۔خطرناک ترین جہل 145

2۔ عقل و جہل کا تقابل 146

دوسری فصل جہل سے بچو 147

جہل کی مذمت 147

قرآن 147

الف: عظیم ترین مصائب 147

حدیث 147

ب: بدترین بیماری 148

ج: شدید ترین فقر 148

د: خطرناک ترین دشمن 148

ھ: رسوا ترین بے حیائی 149

جاہل کی مذمت 149

قرآن 149

حدیث 149

نادر اقوال 152

تیسری فصل جاہلوں کے اقسام 153

اقسام جہل کی وضاحت 153

1۔ علم 154

2۔ غفلت 154

3۔ جہل بسیط 154

4۔ جہل مرکب 155

لا علاج بیماری 155

چوتھی فصل جہل کے علامات 158

آثار جہل 158

الف : کفر 158

قرآن مجید 158

حدیث 158

ب: برائیاں 159

ج: علم اور عالم سے دشمنی 160

د: روح کی موت 160

ھ: برے اخلاق 161

و: اختلاف و جدائی 162

قرآن 162

حدیث 162

ز: لغزش 163

ح: ذلت 163

ط: افراط و تفریط 164

ی: دنیا و آخرت کی برائی 164

ک: نادر اقوال 164

جاہلوں کے صفات 166

حدیث 166

جہالت کے لئے اتنا ہی کافی ہے 171

الف: خودرائی 171

ب: خود کو اچھا سمجھنا 172

ج: اپنے عیوب سے بے خبری 172

د: اپنی قدر و منزلت سے ناواقفیت 172

ھ: علم و عمل میں منافات 173

و:خود را فضیحت دیگراں را نصیحت 173

ز: گناہوںکا ارتکاب 173

ح: ہر معلوم چیز کا اظہار 174

ط: ہر سنی چیز کا انکار 174

ی: خدا کو دھوکا دینا 174

ک: بے سبب ہنسنا 174

جاہل ترین انسان 175

پانچویں فصل نادانوں کے فرائض 177

جاہل پر واجب چیزیں 177

الف: سیکھنا 177

ب :توبہ 179

ج: تقویٰ 179

د: شبہ کے وقت احتیاط 179

ھ: جہالت کا اعتراف 181

و: جہالت پر معذرت 182

ز: جہالت سے خدا کی پناہ چاہنا 182

ح: جہالت سے توبہ 183

جاہل کے لئے حرام چیزیں 183

الف: علم کے بغیر لب کشائی 183

قرآن 183

حدیث 184

ب: نامعلوم چیز کا انکار 185

قرآن 185

حدیث 185

ممدوح جہالت 187

جاہل سے مناسب برتاؤ 190

الف: گفتگو کے وقت سلام کرنا 190

قرآن 190

حدیث 191

ب: جھگڑے کے وقت خاموشی 192

ج: بردباری 192

د: تعلیم 194

ھ: عدم اعتماد 194

و: نافرمانی 194

ز: اعراض 195

قرآن 195

حدیث 195

چھٹی فصل پہلی جاہلیت 197

مفہوم جاہلیت 197

قرآن 197

( اور پہلی جاہلیت جیسا بناؤ سنگار نہ کرو) 197

حدیث 197

جاہلیت کے متعلق کچھ باتیں 204

دین جاہلیت 208

الف : غیر اللہ کی عبادت 208

قرآن 208

ب: خدا کے لئے بیٹا قرار دینا 208

حدیث 209

ج: جنات کو خداکا شریک قرار دینا 209

د: خدا اور جنات کا رشتہ 210

ھ: بعض چوپایوں کو حرام قرار دینا 210

وضاحت 211

و:خدا اور اصنام کے درمیان کھیتی اور چوپایوں کی تقسیم 213

قرآن 213

وضاحت 214

ز: عریاں طواف 215

ح: قیامت کا انکار 216

قرآن 216

جاہلیت کے عقائد پر ایک نظر 217

دور جاہلیت کے اوصاف 220

قرآن 220

حدیث 220

جاہلیت کے جرائم 223

الف :بیٹیوں کو زندہ دفن کرنا 223

قرآن 223

حدیث 224

ب: اولاد کشی 224

قرآن 224

ج: بد کرداری 225

حدیث 226

د: لڑکیوں کو بد کاری پر مجبور کرنا 226

قرآن 226

حدیث 227

ھ: شراب، جوا، بت اور پانسہ 227

قرآن 227

حدیث 227

و: خون مالی 228

ز: بد شگونی 228

ح: جنات کی پناہ ڈھونڈنا 229

قرآن 229

حدیث 229

ط:جنات کے لئے قربانی کرنا 229

ی: گھونگا پہننا 230

ک: میت پر عورتوںکا بین کرنا 230

ل: غیر خدا کی قسم کھانا 231

اسلام کا جاہلیت کے رواج کو مٹا نا 231

اچھی سنن کی تائید 235

ساتویں فصل دوسری جاہلیت 239

پیچھے کی طرف پلٹنا 239

قرآن 239

حدیث 239

جاہلیت کی طرف پلٹنے کے اسباب 240

الف: امام کی عدم معرفت 240

ب: نشہ آور اشیاء کا استعمال 241

جاہلیت کی طرف پلٹنے کے اسباب کی تحقیق 242

قرآن کی تنبیہہ 244

پلٹنے کے اسباب 244

الف: فردی اسباب 245

ب: اجتماعی اسباب 245

آٹھویں فصل جاہلیت کا خاتمہ 248


عقل و جہل قرآن و حدیث کی روشنی میں

عقل و جہل قرآن و حدیث کی روشنی میں

اصلاح کتب

مؤلف: حجت الاسلام آقائے المحمدی الری الشہری
قسم: متفرق کتب
صفحے: 258