یوسف قرآن
استادمحسن قرائتی
مترجم: سید مراد رضا رضوی
مجمع جہانی اہل بیت (ع)
بسم الله الرحمن الرحیم
حرف اول
جب آفتاب عالم تاب افق پر نمودار ہوتا ہے کائنات کی ہر چیز اپنی صلاحیت و ظرفیت کے مطابق اس سے فیضیاب ہوتی ہے حتی ننھے ننھے پودے اس کی کرنوں سے سبزی حاصل کرتے اور غنچہ و کلیاں رنگ و نکھار پیدا کرلیتی ہیں تاریکیاں کافور اور کوچہ و راہ اجالوں سے پرنور ہوجاتے ہیں، چنانچہ متمدن دنیا سے دور عرب کی سنگلاخ وادیوں میں قدرت کی فیاضیوں سے جس وقت اسلام کا سورج طلوع ہوا، دنیا کی ہر فرد اور ہر قوم نے قوت و قابلیت کے اعتبار سے فیض اٹھایا۔
اسلام کے مبلغ و موسس سرورکائنات حضرت محمد مصطفی (ص) غار حراء سے مشعل حق لے کر آئے اور علم و آگہی کی پیاسی اس دنیا کو چشمہئ حق و حقیقت سے سیراب کردیا، آپ کے تمام الٰہی پیغامات ایک ایک عقیدہ اور ایک ایک عمل فطرت انسانی سے ہم آہنگ ارتقائے بشریت کی ضرورت تھا، اس لئے 23 برس کے مختصر عرصے میں ہی اسلام کی عالمتاب شعاعیں ہر طرف پھیل گئیں اور اس وقت دنیا پر حکمراں ایران و روم کی قدیم تہذیبیں اسلامی قدروں کے سامنے ماند پڑگئیں، وہ تہذیبی اصنام جو صرف دیکھنے میں اچھے لگتے ہیں اگر حرکت و عمل سے عاری ہوں اور انسانیت کو سمت دینے کا حوصلہ، ولولہ اور شعور نہ رکھتے تو مذہبِ عقل و آگہی سے روبرو ہونے کی توانائی کھودیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ کہ ایک چوتھائی صدی سے بھی کم مدت میں اسلام نے تمام ادیان و مذاہب اور تہذیب و روایات پر غلبہ حاصل کرلیا۔
اگرچہ رسول اسلام (ص) کی یہ گرانبہا میراث کہ جس کی اہل بیت علیہم السلام اور ان کے پیرووں نے خود کو طوفانی خطرات سے گزار کر حفاظت و پاسبانی کی ہے، وقت کے ہاتھوں خود فرزندان اسلام کی بے توجہی اور ناقدری کے سبب ایک طویل عرصے کے لئے تنگنائیوں کا شکار ہوکر اپنی عمومی افادیت کو عام کرنے سے محروم کردئی گئی تھی، پھر بھی حکومت و سیاست کے عتاب کی پروا کئے بغیر مکتب اہل بیت علیہم السلام نے اپنا چشمہئ فیض جاری رکھا اور چودہ سو سال کے عرصے میں بہت سے ایسے جلیل القدر علماء و دانشور دنیائے اسلام کو تقدیم کئے جنھوں نے بیرونی افکار و نظریات سے متاثر اسلام و قرآن مخالف فکری و نظری موجوں کی زد پر اپنی حق آگین تحریروں اور تقریروں سے مکتب اسلام کی پشتپناہی کی ہے اور ہر دور اور ہر زمانے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات کا ازالہ کیا ہے، خاص طور پر عصر حاضر میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ساری دنیا کی نگاہیں ایک بار پھر اسلام و قرآن اور مکتب اہل بیت علیہم السلام کی طرف اٹھی اور گڑی ہوئی ہیں، دشمنان اسلام اس فکری و معنوی قوت واقتدار کو توڑنے کے لئے اور دوستداران اسلام اس مذہبی اور ثقافتی موج کے ساتھ اپنا رشتہ جوڑنے اور کامیاب و کامراں زندگی حاصل کرنے کے لئے بے چین وبے تاب ہیں،یہ زمانہ علمی اور فکری مقابلے کا زمانہ ہے اور جو مکتب بھی تبلیغ اور نشر و اشاعت کے بہتر طریقوں سے فائدہ اٹھاکر انسانی عقل و شعور کو جذب کرنے والے افکار و نظریات دنیا تک پہنچائے گا، وہ اس میدان میں آگے نکل جائے گا۔
(عالمی اہل بیت (ع)کونسل) مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام نے بھی مسلمانوں خاص طور پر اہل بیت(ع) عصمت و طہارت کے پیرووں کے درمیان ہم فکری و یکجہتی کو فروغ دینا وقت کی ایک اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے اس راہ میں قدم اٹھایا ہے کہ اس نورانی تحریک میں حصہ لے کر بہتر انداز سے اپنا فریضہ ادا کرے، تاکہ موجودہ دنیائے بشریت جو قرآن و عترت کے صاف و شفاف معارف کی پیاسی ہے زیادہ سے زیادہ عشق و معنویت سے سرشار اسلام کے اس مکتب عرفان و ولایت سے سیراب ہوسکے، ہمیں یقین ہے عقل و خرد پر استوار ماہرانہ انداز میں اگر اہل بیت(ع) عصمت و طہارت کی ثقافت کو عام کیا جائے اور حریت و بیداری کے علمبردار خاندان نبوت(ص)و رسالت کی جاوداں میراث اپنے صحیح خدو خال میں دنیا تک پہنچادی جائے تو اخلاق و انسانیت کے دشمن، انانیت کے شکار، سامراجی خوں خواروں کی نام نہاد تہذیب و ثقافت اور عصر حاضر کی ترقی یافتہ جہالت سے تھکی ماندی آدمیت کو امن و نجات کی دعوتوں کے ذریعہ امام عصر (عج) کی عالمی حکومت کے استقبال کے لئے تیار کیا جاسکتا ہے۔
ہم اس راہ میں تمام علمی و تحقیقی کوششوں کے لئے محققین و مصنفین کے شکر گزار ہیں اور خود کو مؤلفین و مترجمین کا ادنیٰ خدمتگار تصور کرتے ہیں، زیر نظر کتاب، مکتب اہل بیت علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، استاد محسن قرائتی کی گرانقدر کتاب یوسف قرآن کو مولاناسید مراد رضا رضوی نے اردو زبان میںاپنے ترجمہ سے آراستہ کیا ہے جس کے لئے ہم دونوں کے شکر گزار ہیں اور مزید توفیقات کے آرزومند ہیں ،اسی منزل میں ہم اپنے تمام دوستوں اور معاونین کا بھی صمیم قلب سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے اس کتاب کے منظر عام تک آنے میں کسی بھی عنوان سے زحمت اٹھائی ہے، خدا کرے کہ ثقافتی میدان میں یہ ادنیٰ جہاد رضائے مولیٰ کا باعث قرار پائے۔
والسلام مع الاکرام
مدیر امور ثقافت،
مجمع جہانی اہل بیت علیہم السلام
گفتارمؤلف
بسم الله الرحمن الرحیم الحمد للّٰه رب العالمین
انبیاء گرامی (ع)خصوصا پیغمبراسلام(ص) اور آپ(ص) کے اہل بیت علیہم السلام پر خداوندمتعال، فرشتوں اور اس کے اولیاء کا درود و سلام ہو۔ خدا کاشکر ادا کرتاہوں کہ اب تک قرآن مجید کے پچیس (25)پاروںکی تفسیر لکھ چکاہوں اور پانچ سالوں میں دس ایڈیشن سے زیادہ شائع ہوچکے ہیں ۔نیز1376 شمسی میںیہ کتاب بعنوان ''کتاب سال جمہوری اسلامی ایران '' کااعزاز بھی حاصل کرچکی ہے ۔خداوندعالم کالطف وکرم ہے کہ اس تفسیرکا خلاصہ بیس سے زیادہ زبانوں میںترجمہ ہوچکاہے اور دوسرے ممالک میں ریڈیو پر بھی نشر ہواہے اس کے علاوہ یہ تفسیر دوسرے مسلمانوں کے درمیان بھی مورد استقبال قرار پائی ہے اگرچہ سورہ یوسف تفسیر نور کی چھٹی جلد میں شائع ہوچکاہے ۔لیکن چونکہ داستان حضرت یوسف علیہ السلام بہت شیریں اور پرکشش ہے. علاوہ ازیں نئی نسل کی تفسیر سے آشنائی اورقرآن کریم کے لطائف اور اشارات و نکات سے معرفت کے لئے بہترین راہ قرآنی داستانیں ہیں ۔لہٰذا ہم نے یہ ارادہ کیاکہ تفسیر نور کے اس حصہ کو علیحدہ شائع کراؤں تاکہ وہ لوگ جو پوری تفسیر کے مطالعہ کا وقت یا حوصلہ نہیں رکھتے یا تفسیر کاایک مکمل دورہ ( set )خریدنے کی صلاحیت نہیں رکھتے وہ بالکل محروم نہ رہ جائیں بلکہ کم از کم قرآن کے کچھ حصہ اور اس کی تفسیر سے آشنا ہوجائیں۔
ہمارے جوانوں کو اس کتاب کے مطالعہ کے بعد یقین ہوجائے گا کہ کس طرح خداوند عالم نے قرآن مجید کے (تقریباً)بارہ صفحات میں ایک ایسی داستان بیان فرمائی ہے جس میںہزاروںنکات پوشیدہ ہیں ۔ میں اپنی کم معلومات کے باوجود تقریباً نو سو (900) نکات حاصل کرکے اس کتاب میں آپ کے سامنے پیش کررہاہوں ۔اس داستان میں تمام سازشوں پر خدا کے ارادہ کاغلبہ ،بدترین اور سخت ترین حالات میں ایک جوان کی پاکدامنی، تدبیر وحکمت سے ایک قحط زدہ ملک کو نجات دلانا ، تلخ حوادث کے مقابلہ میں ایک بوڑھے باپ کاصبر ،حاسدوں کے مقابلے میں عفو و بخشش، نیک کردار افراد پر خدا کا خاص لطف موجود ہے اس کے علاوہ سینکڑوں تربیتی ، خاندانی،اجتماعی ،سیاسی ، اعتقادی ، اور انتظامی نکتے بھی ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ اس سورہ کا مطالعہ دنیائے تفسیر میں وارد ہونے کے لئے بہترین راستہ قرار پائے گا ۔ لیکن اس کے باوجود جلد بازی میں قضاوت کرنا نہیں چاہتابلکہ کتاب کے مطالعہ کے بعد اس سلسلے میں آپ کے فیصلے کامنتظر ہوں ۔
بہرحال جو کچھ بھی ہے خداوندمتعال ، انبیاء (ع)، ائمہ معصومین (ع)، مراجع ، علماء اور مدرسین کے وسیلے سے ہم تک پہنچا ہے اس کے علاوہ ہمیں اسلامی انقلاب ، امام خمینی (رح) اور شہداء کے خون نے قرآن مجید سے انس اور اس میں غور و فکر کی راہ عنایت فرمائی ہے جس کے شکر سے ہم عاجز ہیں ۔ جن افراد کے ذہن میں کوئی نئے نکات یا اعتراضات پیدا ہوں، ہمیں ان سے آگاہ فرمائیں، ہم ان کے شکرگزار ہوں گے ۔
محسن قرائتی
21۔3۔1379 شمسی
سورہ یوسف کا رخ زیبا
سورہ یوسف مکی سورتوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی ایک سو گیارہ ( 111) آیتیں ہیں ، حضرت یوسف علیہ السلام کا نام قرآن میں 27/مرتبہ آیا ہے جس میں پچیس بار خود اسی سورہ میں ہے اس سورہ کی آیتیں آپس میں ایک دوسرے سے پیوستہ ہیں اور چند فصلوں میں جذاب انداز اور خلاصہ کے ساتھ حضرت یوسف علیہ السلام کی داستان کو بچپن سے لے کر مصر کی خزانہ داری تک بیان کیا گیا ، آپ(ع) کی عفت و پاکدامنی ، آپ(ع) کے خلاف تمام سازشوں کا پردہ فاش ہونا اور قدرت الٰہی کی جلوہ نمائی اس سورہ میں نمایاں ہیں۔
حضرت یوسف علیہ السلام کی داستان فقط اسی سورہ میں بیان ہوئی ہے ۔ جبکہ دوسرے انبیاء (ع)کی داستانیں مختلف سوروں میں موجود ہے ۔(1) حضرت یوسف علیہ السلام کی داستان توریت کی ''کتاب پیدائش''میں فصل نمبر 37 سے لیکر پچاس 50 تک مذکور ہے۔
لیکن قرآن اورتوریت کا تقابلی جائزہ لینے سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ قرآن محفوظ ہے اور تورات میں تحریف ہوئی ہے ۔
ادبی دنیا میں بھی یوسف و زلیخا کی داستان ایک خاص اہمیت کی حامل ہے ۔ ''نظامی گنجوی کی منظوم یوسف و زلیخا'' ''فردوسی کی طرف منسوب یوسف و زلیخا''کا نام اس ادبی دنیا میں لیا جاسکتا ہے۔
--------------
( 1 )حضرت آدم و نوح (علیہما السلام) دونوں کی داستانیں بارہ 12 سورتوں میں ، داستان حضرت ابراہیم (ع) اٹھارہ 18 سورتوں میں ، داستان حضرت صالح(ع) گیارہ 11 /سورتوں میں، حضرت داؤود(ع) کا واقعہ پانچ سورتوں میں ، حضرت ہود (ع)و سلیمان (ع)دونوں کی داستانیں چار 4 سورتوں میں اور حضرت عیسیٰ (ع)و زکری(ع) کی داستانیں تین 3 سورتوں میں مذکور ہیں ۔ تفسیر حدائق
قرآن حضرت یوسف علیہ السلام کی داستان میں خود آپ(ع) کی شخصیت کو حوادث کی بھٹی سے گزرنے ہی کو داستان کا اصلی مرکز و محور قرار دیتاہے ۔
جبکہ دوسرے انبیاء (ع)کی داستانوں میں زیادہ تر مخالفین کا انجام ، ان کی ہٹ دھرمی اور ان کی ہلاکت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔
بعض روایتوں میں عورتوں کو سورہ یوسف کی تعلیم سے روکا گیا ہے لیکن بعض صاحبان نظر کے نزدیک ان روایتوں کی سند معتبر نہیں ہے ۔(2)
اس کے علاوہ نہی کا سبب ؛عزیز مصر کی بیوی زلیخاکا عشق کرنا ہے ، جس میں قرآنی بیان کی بنیاد پر کوئی منفی پہلو نہیں ہے ۔
--------------
(2)تفسیر نمونہ.
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ.
شروع کرتاہوں اللہ کے نام سے جو بڑا رحم کرنے والا مہربان ہے ۔
آیت 1:
(1) الۤرٰ تِلْکَ ا یاتُ الْکِتَابِ الْمُبِینِ.
'' الف لام را وہ واضح اور روشن کتاب کی آیتیں ہیں''۔
آیت 2:
(2) اِنّا اَنْزَلْنَاهُ قُرْ اناً عَرَبِیّاً لَعَلّکُمْ تَعْقِلُوْنَ.
'' ہم نے اس قرآن کو عربی میں نازل کیاہے تاکہ تم سمجھو''.
نکات:
قرآن جس زبان میں بھی نازل ہوتا دوسروں پر اس سے آشنائی لازم ہوتی لیکن قرآن کا عربی زبان میں نازل ہونا ایک خاص امتیاز کاحامل ہے ، ان میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں:
الف ۔ عربی زبان کی لغات اتنی وسیع اور اس کے قوانین اتنے محکم ہیں کہ دوسری زبانوں میں ایسی باتیں نہیں ملتیں۔
ب۔ روایات کے مطابق اہل جنت کی زبان عربی ہے ۔
ج۔ جس علاقے کے لوگوں میں قرآن نازل ہوا ان کی زبان عربی تھی لہٰذا آسمانی کتاب کا کسی دوسری زبان میں ہونا ممکن نہ تھا ۔
خداوندعالم نے قرآن مجید کے بھیجنے کے طریقے کو ''نزول '' کہا ہے جیساکہ بارش کے سلسلے میں بھی ''نزول'' ہی استعمال کیا گیا ہے قرآن اور بارش کے درمیان کچھ ایسی مشابہتیں ہیں جن کا ذکر مناسب ہے :
الف۔دونوں آسمان سے نازل ہوتے ہیں(نزّلنا) (1)
ب۔ دونوں خود بھی پاک ہیں اور دوسروں کو پاک کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں(لیطهرکم ) (2) (یزکّیهم ) (3 )
ج۔دونوں زندگی کا وسیلہ ہیں(دعا کم لما یحییکم ) (4) (لنحی به بلدمیتا) (5)
د۔ دونوں باعث برکت ہیں(مبارکاً ) (6)
--------------
( 1 )سورہ ق آیت 9
( 2 )یُنزّل علیکم من السماء ماء لیُطهرّکم بہ۔انفال ،آیت 11
( 3 )ربناوابعث فیهم رسولاً یعلمهم الکتاب والحکم ویزکیهم ۔ بقرہ آیت 129
( 4 )انفال آیت 24
( 5 )فرقان آیت 49
( 6 )هذا کتاب انزلناه مبارک انعام آیت 92نزّلنا من السماء ماء مبارکا ۔(سورہ ق آیت 9
ھ۔ قرآن بارش کی طرح قطرہ قطرہ ، آیت آیت نازل ہواہے(نزول تدریجی)
شائد قرآن کے عربی ہونے پر تاکید کی وجہ یہ ہو کہ ان لوگوں کا جواب دےدیا جائے جو کہتے ہیں کہ قرآن کو ایک عجمی شخص نے پیغمبر اسلام(ص) کو سکھایا تھا۔(1)
پیام:
1۔ قرآن خود معجزہ ہے اس میں معجزات کی تمام اقسام: علمی ، تاریخی ، عینی سب شامل ہیں اس میں انہیں حروف تہجی کو استعمال کیا گیا ہے جنہیں تم استعمال کرتے ہو ۔(الۤر) (سورہ کی پہلی آیت میں اسی طرف اشارہ ہے )
2۔ قرآن کا مقام ومرتبہ بہت بزرگ و برتر ہے(تلک)
3۔ قرآن عربی زبان میں ہے لہٰذا دوسری زبانوں میں اس کاترجمہ نماز میں عربی کا قائم مقام نہیں ہوسکتا(قرآناً عربی)
4۔ ایک طرف قرآن کا عربی میں نازل ہونا ، اور دوسری طرف اس میں تدبراور غور و فکر کا حکم اس بات کی علامت ہے کہ تمام مسلمانوں پر عربی زبان سے آشنائی لازمی ہے(قرآناً عربی)
5-قرآن فقط تلاوت ، تبرّک اور حفظ کے لئے نہیں ہے بلکہ بشر کے لئے تعقل اور تکامل کا ذریعہ ہے ۔(لعلکم تعقلون)
--------------
( 1 )۔.۔وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّهُمْ یَقُولُونَ إِنَّمَا یُعَلِّمُهُ بَشَرٌ لِسَانُ الَّذِی یُلْحِدُونَ إِلَیْهِ أَعْجَمِیٌّ وَهَذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُبِینٌ .( سورہ نحل آیت 103 )
آیت 3:
(3) نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَیْنَا إِلَیْکَ هَذَا الْقُرْآنَ وَإِنْ کُنتَ مِنْ قَبْلِهِ لَمِنْ الْغَافِلِینَ.
''ہم اس قرآن کو آپ کی طرف وحی کرکے آپ سے ایک نہایت عمدہ قصہ بیان کرتے ہیں اگرچہ آپ اس سے پہلے (ان واقعات سے بالکل) بے خبر تھے ''۔
نکات:
''قصص'' داستان اور بیانِ داستان دونوں معانی میں استعمال ہوتا ہے ۔
قصہ اور داستان انسان کی تربیت میں قابل توجہ حصہ رکھتے ہیں کیونکہ داستان ایک امت کی زندگی کا عینی مجسمہ اور عملی تجربہ ہے ۔ تاریخ اقوام کا آئینہ ہے ہم جس قدر ماضی کی تاریخ سے آشنا ہوں گے اتنا ہی محسوس ہو گا کہ ہم نے ان لوگوں کی عمر کے برابر زندگی گزاری ہے ۔
حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ کے مکتوب نمبر 31 میں اپنے فرزند امام حسن علیہ السلام کو مخاطب کرکے کچھ باتیں بیان فرمائی ہیں جن کا مضمون یہ ہے :
''اے میرے لخت جگر ! میں نے ماضی کی تاریخ اور سرگزشت کا اس طریقے سے مطالعہ کیا ہے اور آگاہ ہوں گویا میں نے ان لوگوںکے ساتھ زندگی گزاری ہو اور ان کی عمر پائی ہو ''۔
شاید انسان پر قصہ اور داستان کی تاثیر کی وجہ یہ ہو کہ انسان داستان سے قلبی لگ رکھتا ہے تاریخی کتابیں اور داستانی آثار معمولاً تاریخ بشریت میں ایک خاص اہمیت کے حامل اور اکثر لوگوں کے لئے قابل فہم رہے ہیں ۔ جبکہ عقلی و استدلالی بحثوں کو بہت کم افراد ہی درک کرپاتے ہیں ۔
قرآن مجید نے حضرت یوسف علیہ السلام کی داستان کو بعنوان ''احسن القصص'' یاد کیا ہے لیکن روایات میں پورے قرآن کو ''احسن القصص'' کہا گیا ہے ۔یقینا ان دونوں باتوںمیں کوئی تضاد نہیں ہے اس لئے کہ پورا قرآن تمام کتب آسمانی کے درمیان ''احسن القصص'' ہے جبکہ سورہ یوسف تمام قرآنی سورتوں میں ''احسن القصص'' ہے۔(1)(2)
--------------
(1)تفسیر کنزالدقائق.
(2)اگر آیت کے اس ٹکڑے ''احسن القصص'' کو بغور دیکھا جائے تو اس توجیح کی ضرورت پیش نہیں آئے گی جسے صاحب کنزالدقائق نے پیش کرنے کی کوشش کی ہے ۔ کیونکہ یہاں بہترین داستان مقصود نہیں ہے اس لئے کہ قصہ کی جمع ''قَصص ''نہیں بلکہ '' قِصص ''ہے یہاں خداوندمتعال کا مقصود یہ ہے کہ ہم قصہ گوئی کا بہترین طریقہ اور اس کی روش بیان کررہے ہیں یعنی پورا قرآن ''احسن القصص'' ہے لیکن اس سورہ میں بہترین شیوہ اور اسلوب کو بروئے کار لایا گیا ہے۔ پورے سورہ کا مطالعہ کرنے کے بعد یہ بات واضح ہوجائے گی کہ کون سا بہترین شیوہ یہاں استعمال کیا گیا ہے ۔ جو قصہ گوئی کے فن سے آگاہ ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ بہترین قصہ وہ ہے جو بامقصد ہو۔ قرآن مجید کے سارے سورے بامقصدہیںاور وہ بھی عالی ترین مقصد جو ہدایت ہے وہ اس سورہ میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے ۔لیکن دوسری شرط یہ ہے کہ قصہ ایک جگہ بیان کیا جائے اسی لئے جو چاشنی ایک مکمل ناول میں ہوتی ہے وہ قسط وار میں نہیں ہوتی ۔ یہی وہ بہترین روش ہے جو اس سورے میں استعمال کی گئی ہے۔ اس سے قبل آپ نے ''سورہ یوسف کا رخ زیبا'' عنوان میں ملاحظہ فرمایا کہ دوسرے انبیاء (ع)کی داستان قرآن مجید کے مختلف سوروں میں ملتی ہے لیکن حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ فقط اسی سورہ میں ہے وہ بھی اپنی خاص زیبائی و خوبصورتی کے ساتھ لہٰذا پورا قرآن احسن القصص ہے لیکن جناب یوسف کا قصہ ، قصہ گوئی کے تما م فنون سے بہرہ مند ہے ۔(مترجم)
دوسری داستانوں سے قرآنی داستانوں کا فرق:
1۔قصہ کہنے والا خدا ہے(نحن نقص) (1)
2۔ بامقصد ہے(نقص علیک من انباء الرسل ما نثبّت به فادک) (2)
3۔صحیح اور سچ ہے نہ کہ خیال و تصور۔(نقص علیک نبأهم بالحق) (3)
4۔ علمی بنیاد پر ہے نہ کہ وہمی و گمانی(فلنقصّنّ علیهم بعلم) (4)
5۔وسیلہ تفکر ہے نہ کہ ذریعہ بے حسی(فاقصص القصص لعلهم یتفکرون) (5)
6۔عبرت و نصیحت کا ذریعہ ہے نہ کہ تفریح و سرگرمی(کان فی قصصهم عبر) (6)
--------------
( 1 ) سورہ یوسف آیت 3
( 2 ) سورہ ہود، آیت 120
( 3 )سورہ کہف آیت 13
( 4 )سورہ اعراف آیت 7
( 5 )سورہ اعراف آیت 176
( 6 )سورہ یوسف آیت 111
حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ''احسن القصص ''ہے ، چونکہ:
1۔ تمام قصوں میں معتبرترین قصہ ہے ۔(بما اوحین)
2۔ اس داستان میں عظیم ترین جہاد (جسے جہاد بالنفس سے تعبیر کیا گیا ہے)کا تذکرہ ہے۔
3۔اس داستان کا مرکزی کردار ایک ایسا نوجوان ہے جو تمام انسانی کمالات کا حامل ہے(یعنی صبر، تقویٰ ، پاکدامنی ، ایمان ، امانت ، حکمت ، بخشش ، احسان، وغیرہ)
4۔ اس داستان کے تمام افراد آخرکار خوشبخت ہوگئے ، مثلاًحضرت یوسف (ع)بادشاہ ہوگئے جناب یوسف (ع)کے بھائیوںنے توبہ کرلی ، آپ (ع)کے پدر بزرگوار کی بینائی لوٹ آئی ، قحط زدہ ملک کو نجات مل گئی ، مایوسی اور حسادت ، وصال اور محبت میں تبدیل ہو گئی۔
5۔ اس قصے میں تمام اضداد کو ایک دوسرے کے ساتھ بیان کیا گیا ہے ۔ مثلاًفراق ووصال، خوشی و غم ، خشک سالی و سبزہ زاری ، وفاداری و جفاکاری ، مالک و مملوک ، کنواں اور محل ، فقر و غنا، غلامی و بادشاہی ، نابینائی و بینائی ، ناجائز تہمت اور پاکدامنی ۔
فقط الٰہی قصے ہی نہیں بلکہ خداوندعالم کے تمام کام ''عمدہ '' ہیں اس لئے کہ وہ :
بہترین پیداکرنے والا ہے ۔احسن الخالقین (1)
بہترین کتاب کا نازل کرنے والا ہے ۔نزّل احسن الحدیث (2)
بہترین صورت بنانے والا ہے ۔فاحسن صورکم (3)
بہترین دین کا مالک ہے۔و من احسن دینا ممن اسلم وجهه للّٰ ہ(4)
بہترین جزا دینے والا ہےلیجزیهم الله احسن ما عملوا (5)
اورخداوندعالم ان تمام اچھائیوںکے مقابلے میں انسان سے بہترین عمل چاہتا ہےلیبلوکم ایّکم احسن عملا (6)
قرآن مجید میں غفلت کے تین معانی بیان ہوئے ہیں :
الف ۔ بری غفلت:(و انّ کثیرا من الناس عن ایاتنا لغافلون) (7) اگرچہ بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل رہتے ہیں ۔
ب۔ اچھی غفلت :(الذین یرمون المحصنات الغافلات المومنات
--------------
( 1 )سورہ مومنون آیت 14
( 2 )سورہ زمر آیت 23
( 3 )سورہ غافر آیت 64
( 4 )سورہ نساء آیت 125
( 5 )سورہ نور آیت 38
( 6 )سورہ ہود آیت 7
( 7 )سورہ یونس آیت 92
لعنوا فی الدنیا والاخر) (1) جو لوگ بے خبر پاک دامن مومنہ عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیاو آخرت میں لعنت ہے ۔
ج۔ طبیعی غفلت :یعنی آگاہ نہ ہونا(و ان کنت من قبله لمن الغافلین)
پیام:
1۔ قرآنی داستانوں میں قصہ گو ،خود خداوندعالم ہے(نحن نقص)
2۔دوسروں کےلئے نمونہ پیش کرنے کےلئے بہترین افراد کا انتخاب اور تعارف کروائیں۔(احسن)
3۔ قرآن ''احسن الحدیث'' اور سورہ یوسف ''احسن القصص''ہے( احسن القصص)
4۔بہترین داستان وہ ہے جو وحی کی بنیاد پر ہو(احسن القصص بما اوحین)
5۔قرآن شریف بہترین اور خوبصورت انداز میں داستان بیان کرنے والا ہے۔(احسن القصص)
6- پیغمبر گرامی (ص) وحی کے نازل ہونے سے پہلے ''گزشتہ تاریخ''سے ناآشنا تھے...(لمن الغافلین)
--------------
( 1 )سورہ نور آیت 23
آیت 4:
(4) إِذْ قَالَ یُوسُفُ لِأَبِیهِ یَاأَبَتِ إِنِّی رَأَیْتُ أَحَدَ عَشَرَ کَوْکَبًا وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ رَأَیْتُهُمْ لِی سَاجِدِینَ
'' (وہ وقت یاد کرو )جب یوسف نے اپنے باپ سے کہا: اے بابا! میں نے (خواب میں)گیارہ ستاروں اور سورج اور چاند کو دیکھا ہے ۔ میں نے دیکھا ہے کہ یہ سب مجھے سجدہ کر رہے ہیں''۔
نکات :
حضرت یوسف علیہ السلام کی داستان خواب سے شروع ہوتی ہے تفسیر المیزان میں علامہ طباطبائی(رح) فرماتے ہیں حضرت یوسف علیہ السلام کی داستان ایک ایسے خواب سے شروع ہوتی ہے جو انہیں بشارت دیتا ہے اور مستقبل کے بارے میں روشن امید دلاتا ہے تاکہ انہیں تربیت الٰہی کی راہ میں صابر و بردبار بنائے ۔
جناب یوسف (ع)حضرت یعقوب (ع)کے گیارہویں فرزند ہیں جو بنیامین کے بعد پیدا ہوئے تھے۔ بنیامین کے علاوہ دوسرے بھائی دوسری ماں سے ہیں۔ حضرت یعقوب (ع)حضرت اسحاق (ع)کے اور حضرت اسحاق (ع)حضرت ابراہیم (ع)کے فرزند ہیں(1) ۔
اولیاء ِالٰہی کے خواب مختلف ہوتے ہیں۔ کبھی تعبیر کے محتاج ہوتے ہیں جیسے حضرت یوسف (ع)کا خواب اور کبھی تعبیر کی ضرورت نہیں ہوتی ہے جیسے حضرت ابراہیم کا خواب جس میں حضرت اسماعیل (ع)کو ذبح کرنے کا حکم دیاگیا تھا ۔
--------------
( 1 )تفسیر مجمع البیان
خواب کے سلسلے میں ایک اور گفتگو
پیغمبر اکرم (ص) فرماتے ہیں : الرویا ثلاث : بشری من اللہ ، تحزین من الشیطان والذی یحدث بہ الانسان نفسہ فیراہ فی منامہ(1)
یعنی خواب کی تین قسمیں ہیں: (الف)خدا کی طرف سے بشارت۔ (ب)شیطان کی طرف سے غم و غصہ (ج) وہ مشکلات جن سے انسان روزمرہ دچار ہوتاہے پھر انہیں خواب میں دیکھتا ہے ۔
بعض دانشمند اور علوم نفسیات کے ماہرین خواب دیکھنے کو شکست اور ناکامی کا نتیجہ سمجھتے ہیں وہ اپنی بات کو مستند کرنے کے لئے ایک پرانی ضرب المثل پیش کرتے ہیں ''شتر در خواب بیند پنبہ دانہ'' جسے اردو میں ''بلی کے خواب میں چھیچھڑے ''کہہ سکتے ہیں ۔ بعض تو خواب کو خوف کا نتیجہ سمجھتے ہیں اور اسکے لئے یہ ضرب المثل پیش کرتے ہیں ''دور از شتر بخواب تا خواب آشفتہ نبینی''(اونٹ سے دورسو تاکہ پریشان کنندہ خواب نہ دیکھو)بعض ، خواب کو غرائز اور ہوس کا آئینہ سمجھتے ہیں ۔
--------------
( 1 )بحار الانوار ج 14 صفحہ 441
اگرچہ خواب کے سلسلے میں مختلف نظریات ہیں لیکن کسی نے بھی خواب کی حقیقت و اصلیت سے انکار نہیں کیا ہے ۔ہاں اس بات کی طرف توجہ رکھنی چاہئے کہ تمام خواب ایک ہی تحلیل کے ذریعہ قابل حل نہیں ہیں ۔
علامہ طباطبائی (رح) تفسیر المیزان(1) میں فرماتے ہیں : عالم وجود تین ہیں(1) عالم طبیعت(2) عالم مثال(3) عالم عقل ، چونکہ انسان کی روح مجرد ہے لہٰذا خواب میں ان دو عالم سے ارتباط پیدا کرتی ہے اور استعداد و امکان کے مطابق حقائق کو درک کرتی ہے اگر روح کامل ہو تو صاف فضا میںحقائق کو درک کرلیتی ہے اور اگر روح کمال کے آخری درجوں تک نہ پہنچی ہو تب بھی حقائق کو دوسرے سانچوںمیں درک کرلیتی ہے ۔
جس طرح عالم بیداری میں ہم شجاعت کو شیر کے سانچے میں ،حیلہ و مکر کو لومڑی کے قالب میں اور بلندی کو پہاڑکی صورت میں دیکھتے ہیں اسی طرح خواب میں علم کو نور ، شادی بیاہ کو لباس اور جہل ونادانی کو سیاہ چہرہ کے قالب میں دیکھتے ہیں ۔اس بحث کے نتیجہ کو ہم چند مثالوں میں پیش کرتے ہیں ۔ جو لوگ خواب دیکھتے ہیں ان کی متعدد قسمیں ہیں :
پہلی قسم : ان لوگوں کا خواب جو کامل اور مجرد روح کے حامل ہیں وہ حواس کے خواب آلود ہونے کے بعد عالم عقل سے ارتباط پیداکرتے ہوئے حقائق کو صاف وشفاف دوسری دنیا سے حاصل کرلیتے ہیں (جیسے ٹی۔وی اپنے مخصوص انٹینے کے ذریعہ کہ جو بلندی پر نصب ہوتاہے دور دراز کی امواج کو بھی باآسانی پکڑ لیتاہے )ایسے خواب جو حقائق کو
--------------
( 1 )المیزان فی تفسیر القرآن ج 11 ص 299
براہ راست درک کرلیتے ہیں وہ تعبیر کے محتاج نہیں ہوتے ہیں ۔
دوسری قسم : ان لوگوں کا خواب جو متوسط روح کے حامل ہوتے ہیں ایسے افراد حقائق کو دھندلا ، اور تشبیہ و تخیل کے ساتھ دیکھتے ہیں (ایسے خواب کی تعبیر کے لئے ایسا مفسر درکار ہے جو مشاہدات کی دنیا سے دور رہ کر تفسیر کرے یعنی جوکہ خوابوں کی تعبیر جانتا ہو اسے خواب کی تعبیر کرنی چاہیئے)
تیسری قسم : ایسے افراد کا خواب جن کی روح حد درجہ پریشان اور گوناگوں خیالات میں گم ہوتی ہے ایسے لوگوں کا خواب کوئی مفہوم ہی نہیں رکھتا یہ خواب کی وہ قسم ہے جو تعبیر کے قابل نہیں ہے ایسے ہی خواب کو قرآن نے ''اضغاث احلام''(یعنی پریشان کرنے والے خواب)کے نام سے یاد فرمایا ہے۔
ابن سیرین نے خواب کے موضوع پر ایک کتاب لکھی ہے۔ اس میں یہ بیان ہوا ہے کہ جب کسی نے اس سے پوچھا کہ اس خواب کی تعبیر کیا ہے کہ ایک شخص عالم خواب میں منہ اور شرمگاہ پر مہر لگا رہا ہے ؟ تو ابن سیرین نے جواب دیا : وہ شخص ماہ مبارک رمضان کا موذن ہوگا جو اذان کے ذریعہ کھانے اور جماع کوممنوع اعلان کرے گا (یعنی اذان سنتے ہی کھانا پینا اور جماع حرام ہے)
قرآن نے کچھ ایسے خوابوں کا ذکر کیا ہے جو تحقق پذیر ہوئے ہیں ۔ آپ حضرات مندرجہ ذیل خوابوں کو ملاحظہ فرمائیں :
الف۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا خواب جس میں انہوں نے گیارہ ستارے اور چاند و سورج کو سجدہ کرتے ہوئے دیکھا ۔ اس کی تعبیر یہ ہوئی کہ حضرت یوسف (ع)بادشاہ ہوگئے اور بھائیوں اور ماں باپ نے سرتسلیم خم کردیا۔
ب۔ قید خانے میں حضرت یوسف علیہ السلام کے دونوں ساتھیوں کا خواب جس کی تعبیر یہ ہوئی کہ ایک آزاد ہو گیا دوسرے کو سزائے موت سنائی گئی ۔
ج۔ عزیز مصر کا خواب کہ لاغر اور کمزور گائے موٹی تازی گائے کو کھا رہی ہے جس کی تعبیر یہ ہوئی کہ کھیتی ،سرسبزو شادابی کے بعد خشک سالی میں تبدیل ہوگئی ۔
د۔ جنگ بدر میں پیغمبر اسلام (ص) کا خواب جس میں آپ (ص)نے مشرکین کی تعداد کو کم دیکھاجس کی تعبیر مشرکوں کی شکست ہوئی(1)
ھ۔ حضرت پیغمبر اسلام (ص) کا وہ خواب کہ مسلمین اپنا سر منڈوائے ہوئے مسجد الحرام میں داخل ہورہے ہیں ۔ جس کی تعبیر فتح مکہ اور خانہ خدا کی زیارت ہوئی(2)
و۔ حضرت موسیٰ (ع)کی مادر گرامی کا خواب جس میں انہیں جناب موسیٰ (ع)کو صندوق میں رکھ کر دریائے نیل کے حوالے کرنے کا حکم دیا گیا(اذ اوحینا الی امک ما یوحی ان اقذفیه فی التابوت) (3)
''جب ہم نے آپ کی والدہ کی طرف اس بات کا الہام کیا جو بات الہام کی جاتی ہے (وہ یہ)کہ اس (بچے)کو صندوق میں رکھ دیں...''، روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ
--------------
( 1 )سورہ انفال آیت 43.( إِذْ یُرِیکَهُمُ اﷲُ فِي مَنَامِکَ قَلِیلًا وَلَوْ أَرَاکَهُمْ کَثِیراً لَفَشِلْتُمْ وَلَتَنَازَعْتُمْ...)
( 2 )سورہ فتح آیت 27.( لَقَدْ صَدَقَ اﷲُ رَسُولَهُ الرُّیَا بِالْحَقِّ ...)
( 3 )سورہ طہ آیت 38 ۔ 39
یہاں وحی سے مراد وہی''خواب''ہے
ز۔ حضرت ابراہیم (ع)کا خواب کہ وہ اپنے فرزند اسماعیل (ع)کو ذبح کررہے ہیں(1)
قرآنی خوابوں سے صرف نظر کرتے ہوئے ہم اپنی روزمرہ زندگی میں ایسے افراد کو جانتے ہیں جنہوںنے خواب کے ذریعہ بعض ایسے امور سے آگاہی حاصل کی ہے کہ جہاںتک معمولاً انسان کی رسائی ناممکن ہوتی ہے ۔
سید قطب فرماتے ہیں :میں نے امریکہ میں خواب دیکھاکہ میرے بھانجے کی آنکھ سے خون بہہ رہا ہے ۔ میں نے مصر ایک خط لکھا جواب ملایہ بات صحیح ہے حالانکہ خونریزی ظاہراً آنکھوں سے نہیں ہورہی تھی ۔
ملا علی ہمدانی جو کہ مراجع تقلید میں سے تھے ان سے حکایت ہوئی ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے ایک عالم نے خواب میں پیغمبراکرم (ص) کو دیکھا جنہوںنے اس سے فرمایا:
'' ابھی جو پیغام ایران سے پہنچا ہے کہ اس سال وجوہات سامرہ سے نہیں پہنچیں گی اس سے پریشان نہ ہوں، الماری میں سو تومان ہیں انہیں لے لو''۔
جب میں خواب سے بیدارہوا تو میرزائے شیرازی کے نمائندے نے دروازہ کھٹکھٹایا اور مجھے ان کے سامنے پیش کردیا میں جیسے ہی حاضر ہوا میرزائے شیرازی نے فرمایا :الماری میں سو تومان ہیں دروازہ کھول کر نکال لو اور مجھے سمجھایا کہ خواب کے موضوع کو ظاہر نہ کرو۔
--------------
(1)سورہ صافات آیت 102(فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَيَّ إِنِّي أَرَیٰ فِی الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُکَ...)
صاحب مفاتیح الجنان جناب شیخ عباس قمی (رح) نے اپنے بیٹے کو خواب میں آکرکہا : میرے پاس ایک کتاب امانت تھی اس کو اس کے مالک تک پہنچا دو تاکہ میں برزخ میں آرام سے رہ سکوں۔ جب وہ خواب سے بیدار ہوئے تو اس کتاب کی تلاش میں لگ گئے جو علامتیں باپ نے بتائی تھیں ان کے مطابق کتاب کو لے کر چلے لیکن راستے میں وہ کتاب گر کر تھوڑی سی خراب ہوگئی ۔اسی کتاب کو انہوںنے مالک تک پہنچادیا اور باپ کی طرف سے عذر خواہی بھی کرلی۔ رات کو محدث قمی دوبارہ اپنے فرزندکے خواب میں آئے اور فرمایا: تم نے اس کتاب کے مالک سے کیوں نہیں کہاکہ وہ کتاب تھوڑی سی خراب ہوگئی ہے تاکہ وہ اگرتاوان چاہتا تو تم سے اسکا مطالبہ کرتایا اسی عیب پر راضی ہوجاتا ۔
پیام:
1۔ ماںباپ اپنے بچوں کی مشکلات کو حل کرنے کیا بہترین ذریعہ ہیں(یا ابت)
2۔ والدین کو چاہیئے کہ وہ اپنے بچے کے خواب کے بارے میں بھی متوجہ رہیں(یا ابت)
3۔ خواب کی لغت میں ''اشیاء حقائق کی نمائندگی کرتی ہیں ''(مثلاً خورشید باپ کی اور چاند ماں کی اور ستارے بھائیوں کی علامت ہیں)۔(رایت احد عشرا کوکبا...)
4۔ کبھی خواب دیکھنا حقائق کو دریافت کرنے کا ایک راستہ ہوتاہے ۔( انی رایت)
5۔ کبھی نوجوانوں میں ایسی صلاحیت ہوتی ہے جو بزرگوں کو سرجھکانے پر مجبور کردیتی ہے(ساجدین)
6۔ اولیائے خدا کا خواب سچا ہوتاہے(ر ایت)
اس آیت میں ''رایت ''کی تکرار اس بات کی علامت ہے کہ حتماًدیکھاہے۔ واقعہ خیالی و تصوری نہیں ہے بلکہ خارجی حقیقت رکھتاہے ۔
7۔ حضرت یوسف (ع)شروع میں خواب کی تعبیر نہیں جانتے تھے لہٰذا خواب کی تعبیر کے لئے اپنے باپ سے مدد طلب کی(یا ابت)
آیت 5:
(5) قَالَ یَابُنَیَّ لاَتَقْصُصْ رُیَاکَ عَلَی إِخْوَتِکَ فَیَکِیدُوا لَکَ کَیْدًا إِنَّ الشَّیْطَانَ لِلْإِنسَانِ عَدُوٌّ مُبِینٌ
''یعقوب (ع)نے کہا: اے بیٹا (دیکھو خبردار)کہیں اپنا خواب اپنے بھائیوں سے بیان نہ کرنا (ورنہ) وہ لو گ تمہارے لئے مکاری کی تدبیر کرنے لگیں گے اس میں تو شک ہی نہیں ہے کہ شیطان آدمی کا کھلا ہوا دشمن ہے''۔
نکات:
اصول زندگی میں سے ایک اصل ''راز داری'' ہے اگر مسلمانوں نے اس آیت کی روشنی میں عمل کیا ہوتا تو یہ سب استعداد و سرمایہ ، خطی کتابیں ،علمی آثار اور تما م آثار قدیمہ دوسرے ممالک کے میوزیم میںنہ ہوتے اور محقق ( Diplomite )وسیاح کے روپ میں دشمن ہمارے منافع ، منابع اور امکانات سے باخبر نہ ہوتااور سادہ لوحی و خیانت کی وجہ سے ہمارے اسرار ایسے لوگوںکے ہاتھ میں نہ جاتے جو ہمیشہ مکر وفریب کے ذریعہ ہماری تاک میں رہتے ہیں ۔
حضرت یوسف علیہ السلام کا اپنے بھائیوںکے سامنے اپنے خواب کو اپنے باپ سے بیان نہ کرنا خود آپ (ع)کی عقل مندی کی علامت ہے ۔
پیام:
1۔والدین کو چاہیئے کہ وہ اپنے بچوں کی خواہشات اور عادات سے آگاہ ہوں تاکہ صحیح راستہ کی رہنمائی کرسکیں۔(فیکیدوالک کید)
2۔ معلومات اور اطلاعات کی تقسیم بندی کرتے ہوئے پوشیدہ اور آشکار چیزوں کو ایک دوسرے سے جدا کرنا چاہئے(لاتقصص)
3۔ ہر بات کو ہرکس وناکس سے نہیں کہنا چاہیئے(لاتقصص)
4۔حسادت کی راہوں کو نہ بھڑکائیں(لاتقصص...فیکیدو)
5۔اگر کچھ خواب بیان کرنے کے لائق نہیں ہوتے تو اس کا مطلب یہ ہواکہ بیداری میں دیکھی جانے والی بہت ساری چیزوں کو بھی بیان نہیں کرنا چاہئے(لاتقصص)
6۔ انبیاء (ع)کے گھرانوں میں بھی مسائل اخلاقی مثلاً حسد و حیلہ وغیرہ موجود ہیں(یا بنی لاتقصص...فیکیدوا...)
7۔ اہم مسائل کی صحیح پیش بینی کرتے ہوئے اگر سوء ظن کا اظہار کیا جائے یا بعض خصلتوں سے پردہ فاش کیا جائے تو کوئی برائی نہیں ہے ۔(فیکیدوالک کید)
8۔ انسان کا مکر و فریب میں مبتلا ہونا شیطانی کام ہے(فیکیدوا...ان الشیطان)
9۔ شیطان ہماری اندرونی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم پر مسلط ہوجاتا ہے ۔ بھائیوں کے درمیان حسد و جلن کے ماحول نے شیطان کے لئے انسان سے دشمنی کرنے کی راہ کو ہموار کردیا(فیکیدوا...ان الشیطان للانسان عدو مبین)
آیت 6:
(6) وَکَذَلِکَ یَجْتَبِیکَ رَبُّکَ وَیُعَلِّمُکَ مِنْ تَأْوِیلِ الْأَحَادِیثِ وَیُتِمُّ نِعْمَتَهُ عَلَیْکَ وَعَلَی آلِ یَعْقُوبَ کَمَا أَتَمَّهَا عَلَی أَبَوَیْکَ مِنْ قَبْلُ إِبْرَاهِیمَ وَإِسْحَاقَ إِنَّ رَبَّکَ عَلِیمٌ حَکِیمٌ
''(جو تم نے دیکھا ہے )ایسا ہی ہو گا تمہارا پروردگار تم کو برگزیدہ قرار دے گا اور تمہیں ان باتوں کے انجام کا علم (اور خوابوں کی تعبیر)سکھائے گا اور وہ اپنی نعمت کو تم پر اور خاندان یعقوب پر اسی طرح پوری کرے گا جس طرح اس سے پہلے تمہارے دادا و پردادا پر اپنی نعمتیں پوری کرچکا ہے بے شک تمہارا پروردگار بڑا واقف کار حکمت والا ہے''۔
نکات:
تاویل خواب باطن کو بیان کرنا اور خواب کے وقوع کی کیفیت ہے ''احادیث''کلمہ ''حدیث'' کی جمع ہے یہ کلمہ ''ماجرا بیان کرنے''کے معنی میں استعمال ہوتاہے چونکہ انسان اپنے خواب کو مختلف لوگوں سے بیان کرتاہے لہٰذا خواب کو بھی حدیث کہا جاتا ہے بنابریں''تاویل الاحادیث'' یعنی خوابوں کی تعبیر۔
حضرت یعقوب (ع)اس آیت میں اپنے فرزند جناب یوسف (ع)کو ان کے خواب کی تعبیر بیان کرتے ہوئے ان کے مستقبل کی خبر دے رہے ہیں
پیام:
1۔ اولیائے الٰہی خواب کے ذریعہ افراد کے مستقبل کا نظارہ کرتے ہیں(یجتبیک ربک و یعلمک)
2۔ انبیاء علیہم السلام، خداوندعالم کے برگزیدہ افراد ہیں( یجتبیک )
3۔ انبیاء (ع)اللہ کے بلا واسطہ شاگرد ہیں( یعلمک)
4۔ مقام نبوت و حکومت، نعمتوں کا سرچشمہ ہے( ویتم نعمته)
5۔ انبیاء گرامی (ع)کا انتخاب علم و حکمت الٰہی کی بنیاد پر ہے(یجتبیک. علیم حکیم)
6۔ اپنے برگزیدہ بندوں کے لئے خدا وند عالم کا سب سے پہلا تحفہ ''علم ''ہے(یجتبیک ربک و یعلمک)
7۔ تعبیر خواب ان امور میں سے ہے جسے خداوندمتعال انسان کو عطاکرتاہے ۔(یعلمک من تاویل الاحادیث)
8۔ انتخاب میں لیاقت کے علاوہ اصل و نسب بھی اہمیت رکھتاہے(یجتبیک ...و ابویک من قبل )
9۔ قرآن کی لغت میں اجداد باپ کے حکم میں ہیں:( ابویک من قبل ابراهیم و اسحاق )
آیت 7:
(7) لَقَدْ کَانَ فِی یُوسُفَ وَإِخْوَتِهِ آیَاتٌ لِلسَّائِلِینَ
'' یوسف اور انکے بھائیوں (کے قصہ)میں پوچھنے والوں کےلئے یقینا بہت سی (ارادہ خداکے حاکم ہونے کی) نشانیاں ہیں''۔
نکات:
حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی کی داستان میں بہت سی ایسی علامتیں اور نشانیاں موجود ہیں جن سے خداوندعالم کی قدرت آشکار ہوتی ہے ان میں سے ہر ایک اہل تحقیق و جستجو کے لئے عبرت و نصیحت کا باعث ہے ان میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں :
1۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا پُر اسرار خواب (2)تعبیر خواب کا علم (3) حضرت یعقوب (ع)کا اپنے فرزند کے مستقبل سے مکمل طور پر آگاہ ہونا (4)کنویں میں رہنا اور کسی خطرے سے دوچار نہ ہونا(5) اندھا ہونا اوردوبارہ بینائی کا لوٹنا (6)کنویںکی گہرائی اور جاہ و جلال کی بلندی (7)قید خانہ میں جانااور حکومت تک پہنچنا (8)پاک رہنا اور ناپاکی کی تہمت سننا (9) فراق و وصال (10)غلامی و بادشاہی (11)گناہوں کی آلودگی کے بجائے زندان کو ترجیح دینا (12)اپنی بزرگواری سے بھائیوںکی غلطیوں کو جلد معاف کردینا۔
انہیں نشانیوں کے ساتھ ساتھ بہت سے ایسے سوالات بھی ہیں جن میں سے ہر ایک کا جواب زندگی کی راہوں کو روشن کرنے والا ہے ۔
حسادت انسان کو بھائی کے قتل پر کیسے آمادہ کردیتی ہے ؟
دس آدمی ایک خیانت میں کیسے متحد ہوجاتے ہیں ؟
حضرت یوسف علیہ السلام اپنی بزرگواری کی وجہ سے اپنے خیانت کار بھائیوں کو سزا دینے سے کیسے صرف نظر کرلیتے ہیں ؟
انسان آلودگی اور لذت گناہ پر یاد الٰہی کے ساتھ قید خانہ کو کیسے ترجیح دیتاہے؟
یہ سورہ اس وقت نازل ہوا جب پیغمبر اسلام (ص) اقتصادی اور اجتماعی محاصرہ میں سخت گرفتار تھے۔ یہ داستان ا نحضر(ص)ت کی تسلی ئخاطر کا باعث ہوئی کہ اے پیغمبر اگر آپ کے بعض رشتہ دار ایمان نہیں لاتے ہیں تو آپ رنجیدہ نہ ہوں ،جناب یوسف کے بھائیوں نے تو ان کو کنویں میں ڈال دیا تھا ۔
اس سورہ کی اہم آیتیں سازشوں پر خدا کے غلبہ کے بارے میں ہیں(بشری سازشیں ارادہ الٰہی کے سامنے بیکار ہوجاتی ہیں) حضرت یوسف (ع)کو کنویں میں ڈال دیاتاکہ باپ کے نزدیک محبوب ہوجائیں ۔ لیکن مبغوض ہو گئے دروازوں کو بند کیا گیا تاکہ آپ (ع)شہوت سے آلودہ ہوجائیں لیکن آپ(ع) کی پاکیزگی ثابت ہوگئی ،نہ کنواں ، نہ غلامی نہ قید خانہ نہ قصر اور نہ سازشیں کوئی بھی ارادہ الٰہی پر غالب نہ آسکیں ۔
پیام:
1۔ قصہ بیان کرنے سے پہلے سننے والے کو داستان سننے اور عبرت آموزی کے لئے آمادہ کریں(لقد کان فی یوسف)
2۔ جب تک سننے اور سیکھنے کے عاشق نہ ہوں اس وقت تک قرآنی درسوں سے بطور کامل فائدہ نہیں اٹھا سکتے ہیں(للسائلین)
3۔ داستان ایک ہے لیکن اس واقعہ سے حاصل ہونے والے درس اور نکات بہت ہیں( آیات)
4۔ قرآنی داستانیں زندگی میں پیش آنے والے بہت سے سوالوں کا جواب دیتی ہیں(للسائلین)
5۔ ''حسد''خاندان اور رشتہ داری کے محکم ستون کو بھی منہدم کردیتاہے(لقد کان فی یوسف)
آیت 8:
(8)إِذْ قَالُوا لَیُوسُفُ وَأَخُوهُ أَحَبُّ إِلَی أَبِیْنَا مِنَّا وَنَحْنُ عُصْبَ إِنَّ أَبَانَا لَفِیْ ضَلَالٍ مُبِیْنٍ
''جب (یوسف کے بھائیوں نے)کہا کہ باوجودیکہ ہماری جماعت بڑی طاقت ور ہے تاہم یوسف اور اس کا حقیقی بھائی (بنیامین )ہمارے والد کے نزدیک ہم سے بہت زیادہ پیارے ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے والد یقینا صریح غلطی میں ہیں''۔
نکات:
حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ لڑکے تھے ان میں سے دو (یوسف و بنیامین) ایک ماں سے تھے جبکہ باقی دوسری ماں سے تھے۔ باپ کی محبت جناب یوسف (ع)سے (آپ (ع)کے چھوٹے ہونے یا کمالات کی وجہ سے تھی)بھائیوں کے لئے حسد و جلن کا سبب بنی اور حسادت کے علاوہ ''نحن عصب''کہنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ان کے اندر خوئے تکبر اور غرور بھی موجود تھی اور اسی غرور و تکبرکے نتیجہ میں باپ کو بچوں سے محبت کرنے پر انحراف اور غلطی سے متہم کرنے لگے
معاشرے اور سماج میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جو خود کو بلندی پر لے جانے کے بجائے بلند افراد کو نیچے لے آتے ہیں ۔ خود محبوب نہیں ہیں لہٰذا محبوب افراد کو داغدار کرتے ہیں ۔
تبعیض و تفاوت کے درمیان فرق: تبعیض کسی کو بغیر دلیل کے برتری دینا ۔تفاوت:لیاقت و شرافت کی بنیاد پر برتری دینا ۔ مثلاًڈاکٹر کے نسخے اور معلم کے نمبر فرق کرتے ہیں لیکن یہ تفاوت حکیمانہ ہے ظالمانہ نہیں ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کی حضرت یوسف علیہ السلام سے محبت حکیمانہ تھی نہ کہ ظالمانہ لیکن حضرت یوسف (ع)کے بھائی اس محبت کو تبعیض اور بدون دلیل سمجھ رہے تھے ۔
کبھی زیادہ محبت مصیبتوں کا سبب بنتی ہے ۔ حضرت یعقوب - حضرت یوسف - کو بہت چاہتے تھے یہی محبت بھائیوںکے کینہ اور ان کے کنویں میں ڈالے جانے کا سبب بنی اسی طرح'' زلیخا کی حضرت یوسف (ع)سے محبت '' قید خانہ میں جانے کا سبب بنی لہٰذا جب حضرت (ع)کے اخلاق سے متاثر ہو کر زندان بان نے کہاکہ میں آپ (ع)سے محبت کرتا ہوں تو حضرت (ع)نے فرمایا : میں ڈرتا ہوں کہیں اس محبت و دوستی کے پیچھے بھی کوئی مصیبت پوشیدہ نہ ہو۔(1)
--------------
( 1 )تفسیر الستین الجامع.
پیام:
1۔ اگر اولاد تبعیض اور دو گانگی کا احساس کرلے توا ن کے درمیان حسادت کی آگ بھڑک اٹھتی ہے(احب ابینامنّ)
2۔ بچوں کے درمیان تفاوت کرنے سے باپ سے ان کا عشق و محبت کم ہوجاتاہے(ان ابانا لفی ضلال مبین)
3۔ طاقت و قدرت محبت آور نہیں ہے(احب الی ابینا و نحن عصب)
4۔ ''حسد ''نبوت اور پدری حدود کو بھی توڑ دیتاہے اور بچے اپنے باپ کو جو پیغمبر بھی ہیں ''منحرف''اور ''بے انصاف''کہنے لگتے ہیں(ان ابانا لفی ضلال مبین)
5۔ محبوب نظر ہونے کا عشق اور اسکی محبت ہر انسان کی فطرت میں موجود ہے اگر کوئی انسان سے محبت نہ کرے یا کم توجہی برتے تو انسان کو اس سے تکلیف ہوتی ہے(احب الی ابین)
آیت 9:
(9) اقْتُلُوا یُوسُفَ أَوِ اطْرَحُوهُ أَرْضًا یَخْلُ لَکُمْ وَجْهُ أَبِیکُمْ وَتَکُونُوا مِنْ بَعْدِهِ قَوْمًا صَالِحِینَ
''(بھائیوں نے ایک دوسرے سے کہاخیر تو اب مناسب یہ ہے کہ یاتو)یوسف کو مار ڈالو یا (کم از کم ) اس کو کسی جگہ (چل کر)پھینک تو البتہ تمہارے والد کی توجہ صرف تمہاری طرف ہوجائے گی اور اسکے بعد تم سب کے سب (باپ کی توجہ سے)اچھے آدمی بن ج گے''۔
نکات:
جب انسان کو نعمتیں حاصل ہوتی ہیں تو اس کی چار حالتیں ہوتی ہیں ۔حسادت ، بخل ، ایثار، غبطہ ۔ جب یہ فکر ہو کہ اگر ہمارے پاس فلاں نعمت نہیں ہے تو دوسرے بھی اس نعمت سے محروم رہیں تو اسے ''حسادت'' کہتے ہیں۔اگر یہ فکر ہو کہ یہ نعمت فقط میرے پاس رہے دوسرے اس سے بہرہ مند نہ ہوں تو اسے ''بخل''کہتے ہیں اگریہ فکر ہو کہ دوسرے اس سے بہرہ مند ہوں اگرچہ ہم محروم رہیں تو اسے ''ایثار'' کہتے ہیں۔ اگر یہ کہے کہ دوسرے افراد نعمت سے بہرہ مند رہیں ۔اے کاش ہم بھی نعمت سے بہرہ مند ہوتے تو اسے غطبہ اور رشک کہتے ہیں ۔
امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا: میں کبھی اپنے بچوں سے اظہار محبت کرتاہوں اور انہیں اپنے زانوں پر بٹھاتاہوں جبکہ وہ ان تمام محبتوں کے مستحق نہیں ہوتے (میں اس لئے ایسا کرتا ہوں کہ) کہیں ایسا نہ ہوکہ میرے تمام فرزند ایک دوسرے سے حسد وجلن کرنے لگیں اور حضرت یوسف (ع)کے ماجرے کی تکرار ہوجائے۔(1)
--------------
( 1 )تفسیر نمونہ بنقل بحار، ج 74 ص 87
پیام:
1۔ بُری فکر انسان کو خطرناک عمل کی طرف لے جاتی ہے(لیوسف.احب .اقتلو)
2۔ حسد وجلن انسان کو بھائی کے قتل پر آمادہ کرتی ہے(اقتلوا یوسف)
3۔انسان ، محبت کا خواہاں ہے اور محبت کا کم ہونابہت بڑے خطرات و انحرافات کا باعث ہوتاہے(یخل لکم وجه ابیکم)
4۔ اگرچہ قرآن ''محبوبیت کی راہ''ایمان و عمل صالح کو قرار دیتاہے ان الذین
امنوا و عملوا الصالحات سیجعل لهم الرحمن ودّا (1) لیکن شیطان محبوبیت کی راہ کو برادر کشی بتاتا ہے(اقتلوا ...یخل لکم وجه ابیکم)
5۔ حسد کرنے والا یہ سمجھتا ہے کہ دوسروں کو نابود کرنے سے اسے نعمتیں مل جائیں گی ۔(اقتلوا ...یخل لکم وجه ابیکم)
6۔ شیطان کل توبہ کرلینے کا دھوکا دے کر آج گناہ کا راستہ دکھاتا ہے۔(وتکونوا من بعده قوماً صالحین)
7۔ علم و آگاہی ہمیشہ انحراف سے دوری کا سبب نہیں ہے ۔ جناب یوسف (ع)کے بھائیوں نے قتل اور شہر بدر کرنے کو برا سمجھنے کے باوجود اسی کو انجام دی(و تکونوا من بعدہ قوما صالحین)
آیت 10:
(10) قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ لاَتَقْتُلُوا یُوسُفَ وَأَلْقُوهُ فِی غَیَابَ الْجُبِّ یَلْتَقِطْهُ بَعْضُ السَّیَّارَ إِنْ کُنتُمْ فَاعِلِینَ
''ان میں سے ایک کہنے والا بول اٹھا کہ یوسف کو جان سے تو نہ مارو (ہاں اگر تم کو ایسا ہی کرنا ہے) تو کسی اندھے کنویں میں (لے جاکر)ڈال دو کوئی راہ گیر اسے نکال کر لے جائے گا(اور تمہارا مطلب بھی حاصل ہوجائےگا)''
--------------
( 1 )سورہ مریم آیت 96
نکات:
''جُبّ'' اس کنویں کو کہتے ہیں جس میں پتھر نہ بچھائے گئے ہوں''غیابت'' بھی ان طاقچوں کوکہتے ہیں جو کنویںکی دیوار میں پانی کے قریب ہوتے ہیں جو اوپر سے دکھائی نہیں دیتے ہیں ۔
نہی از منکر(برائیوں سے روکنا) ایسی برکتوں کا حامل ہے جو آئندہ روشن ہوتے ہیں۔(لا تقتلوا) نے حضرت یوسف (ع)کو نجات دلائی اور اس کے بعد آپ (ع)نے ایک مملکت کو قحط سے نجات دلائی اسی طرح جس طرح ایک دن جناب آسیہ نے فرعون سے'' لاتقتلوا'' کہہ کرجناب موسی (ع)کو نجات دلائی اور اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دلائی در حقیقت یہ وعدہ الٰہی کا روشن نمونہ ہے خداوندعالم فرماتاہےمن احیاء ها فکانما أحیا الناس جمیعا (1) جو بھی ایک شخص کو حیات دے گا گویا اس نے تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔
پیام:
1۔ اگر برائیوں کو بطور کامل نہیں روک سکتے تو جہاں تک ممکن ہو روکنا چاہئیے۔(لاتقتلوا ...والقوه)
-----------
1:سورہ مائدہ آیت 32.
آیت 11:
(11) قَالُوا یَاأَبَانَا مَا لَکَ لاَتَأْمَنَّا عَلَی یُوسُفَ وَإِنَّا لَهُ لَنَاصِحُونَ
''سب نے (یعقوب سے)کہا اباجان آخر اس کی کیا وجہ ہے کہ آپ یوسف کے بارے میں ہم پر اعتبار نہیں کرتے حالانکہ ہم لوگ تو اس کے خیر خواہ ہیں''۔
پیام:
1۔ جو لوگ کچھ نہیں ہوتے وہ زیادہ دعوی اور پروپیگنڈا کرتے ہیں۔(انا له لناصحون)
2۔ ہر بھائی قابل اطمینان نہیںہے(گویاحضرت یعقوب نے جناب یوسف کوبارہا بھائیوں کےساتھ جا نے سے روکا ہے اسی لئے بھائیوں نے یہ کہہ کر(مالک لاتأمنّ) اعتراض کیا ہے )
3۔ نعرے بازی سے دھوکا نہ کھ اور بے مسمی اسم سے پرہیز کرو (خائن اپنا نام ناصح رکھتا ہے)(لناصحون)
4۔ دشمن بد گمانی کو دور کرنے کے لئے ہر قسم کا اطمینان دلاتا ہے ۔(اناله لناصحون)
5۔ خیانت کار اپنی غلطی کو دوسروں کی گردن پر ڈالتاہے ۔(مالک)
6۔ روز اول ہی سے انسان نے خیر خواہی کے نام پر دھوکا کھایا ہے ، شیطان نے جناب آدم و حوا کوغفلت میں ڈالنے کے لئے یہی کہا تھا کہ میں آپ کا خیر خواہ ہوں(وقاسمهما انی لکما لمن الناصحین) (1) (انا له لناصحون)
7۔بعض و حسد،انسان کو مختلف گناہوں پر مجبور کرتاہے (جیسے جھوٹ ، دھوکہ دینا یہاں تک کہ اپنے محبوب ترین رشتہ دارکو بھی دھوکہ دینا چاہتا ہے ۔(انا له لناصحون)
آیت 12:
(12) أَرْسِلْهُ مَعَنَا غَدًا یَرْتَعْ وَیَلْعَبْ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ.
'' آپ اس کو کل ہمارے ساتھ بھیج دیجئے کہ ذرا (جنگل) سے پھل پھلاری کھائے اور کھیلے کودے اور ہم لوگ تو اس کے نگہبان ہی ہیں''۔
نکات:
انسان تفریح و ورزش کا محتاج ہے جیسا کہ اس آیت میں مشاہدہ ہوتاہے کہ وہ قوی ترین منطق و دلیل جس کی بنیاد پر حضرت یعقوب (ع)کو اپنے بیٹوں کی خواہش کو تسلیم کرنا پڑا وہی تفریح ہے کہ یوسف کو تفریح کی ضرورت ہے، بعض روایتوں میں آیا ہے کہ مومن کو اپنا کچھ وقت تفریح ولذات کے لئے مخصوص کرنا چاہیئے تا کہ اس کے وسیلہ سے تمام کام بخوبی انجام دے(2)
--------------
( 1 )سورہ اعراف آیت 21
( 2 )نہج البلاغہ حکمت 390
فقط کل ہی نہیںبلکہ آج بھی اور آئندہ بھی اس کھیل اور ورزش کے بہانے جوانوں کو سرگرم کیاجارہا ہے اور کیاجاتا رہے گا ہمارے جوانوں کو حقیقی ہدف سے دور اور غفلت میں رکھا جا رہا ہے کھیلوں کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں تاکہ اہم چیزیں کھیل شمار ہونے لگیں۔ استکبار اور سازشی لوگ صرف کھیل کود سے سوء استفادہ نہیں کرتے بلکہ ہر پسندیدہ و مقبول نام سے اپنے برے اہداف کی ترویج کرتے ہیں، ڈپلومیٹ ( diplomate ) کے روپ میں خطرناک ترین جاسوسوں کو دوسرے ممالک میں روانہ کرتے ہیں فورس اور دفاعی امور کے مشیر ہونے کے پیچھے سازش کرتے ہیں اور اس کے راز حاصل کرلیتے ہیں۔
حقوق بشر کے بہانے کرکے اپنے نوکروں کی حمایت کرتے ہیں، دوا کے نام پر اپنے نوکروں کے لئے اسلحہ روانہ کرتے ہیں ، اقتصادی ماہرین کے بہانے ممالک کو کمزور تر بنا دیتے ہیں ، سم پاشی کے بہانے باغات اور کھیتوں کو برباد کردیتے ہیں ۔حتی اسلامی ماہرین کے روپ میں غیر اسلامی چیزوں کو اسلامی لباس میں پیش کرتے ہیں۔
پیام:
1۔بچے کی تفریح باپ کی اجازت سے ہونی چاہیئے(ارسله)
2۔ورزش و تفریح ، کھیل کود شیطانی جالوںمیں سے ایک جال ہے اور غافل کرنے کا ذریعہ ہے(ارسله معنا غدا یرتع و یلعب)
3۔ بھائیوں نے دھوکہ دینے کے لئے مباح اور منطقی وسیلہ سے سوء استفادہ کیا(ارسله ...یرتع و یلعب)
آیت 13:
(13) قَالَ إِنِّی لَیَحْزُنُنِی أَنْ تَذْهَبُوا بِهِ وَأَخَافُ أَنْ یَأْکُلَهُ الذِّئْبُ وَأَنْتُمْ عَنْهُ غَافِلُونَ.
''(یعقوب نے)کہا تمہارا اس کو لے جانا مجھے صدمہ پہنچاتا ہے اور میں تو اس سے ڈرتا ہوں کہ تم سب کے سب اس سے بے خبر ہوج اور (مبادا)اسے بھیڑیا کھا جائے''۔
نکات:
حضرت یعقوب (ع)نے بظاہر بھیڑئے کے حملے سے خوف کا اظہار کیا۔ مصلحتوں کی بنیاد پر حسادت کا ذکر نہیں فرمایاہمارا حال بھی یہی ہے کہ ہمیں جس چیز سے ڈرنا چاہیئے اس سے نہیں ڈرتے۔ ہمیں حساب و کتاب دوزخ سے ڈرنا چاہیئے لیکن نہیں ڈرتے ۔ رزق و روزی، مقام و دولت جو پہلے سے مقدر ہیں اس سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیئے لیکن ہم پھر بھی ڈرتے ہیں!!۔
پیام:
1۔ راز فاش نہ کریں(اخاف ان یاکلہ الذئب) حضرت یعقوب علیہ السلاماپنے بیٹوں کی حسادت سے واقف تھے اسی لئے حضرت یوسف (ع)سے فرمایا تھاکہ بھائیوں سے اپنا خواب بیان نہ کرنا ، لیکن یہاں پر ان کی حسادت کا ذکر نہیں کرتے بلکہ بھیڑئےے اور غفلت کا بہانہ کررہے ہیں ۔
2۔ اپنے بچوں کی نسبت احساس ذمہ داری پیغمبروں (ع)کی ایک خصلت ہے۔(لَیَحْزُنُنِی...اخاف)
3۔ اپنے بچوں کو مستقل بنائیں، عشق پدری اور اپنے بچے کو آنے والے احتمالی خطرہ سے بچانادو حقیقتیں ہیں، لیکن اپنے بچے کو مستقل بنانا بھی ایک حقیقت ہے حضرت یعقوب (ع)نے جناب یوسف (ع)کو تمام بھائیوں کےساتھ روانہ کردیا اسلئے کہ نوجوان کو آہستہ آہستہ باپ سے جدا ہوکر اپنے لئے دوست بنانا چاہیئے اسے فکر کرکے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہیئے چاہے کتنی ہی مشکلات اور غم والم کا سامنا کرنا پڑے۔
4۔جھوٹے کو راستہ نہ دکھ(روایتوںمیں آیا ہے کہ بھیڑئےے کا موضوع جناب یوسف (ع)کے بھائیوں کے ذہن میں نہیں تھا بلکہ حضرت یعقوب (ع)کے بیان نے انہیںاس طرف متوجہ کیا)(1)
--------------
( 1 )تفسیرنورالثقلین
آیت 14:
(14)قَالُوا لَئِنْ أَکَلَهُ الذِّئْبُ وَنَحْنُ عُصْبَ إِنَّا إِذًا لَخَاسِرُونَ
'' وہ لوگ (یعقوب کے بیٹے)کہنے لگے جبکہ ہماری جماعت قوی ہے (اس پر بھی)اگر اس کو بھیڑےا کھاجائے تو ہم لوگ یقینا بڑے گھاٹا اٹھانے والے(نکمے) ٹھہریں گے''۔
نکات:
''عصب'' متحدو قوی گروہ و جماعت کو کہتے ہیں اس لئے کہ وحدت و یکجہتی میں اعصاب بدن کی طرح ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔
پیام:
1۔ کبھی بزرگ اپنے تجربہ اور آگاہی کی بنیاد پر خطرے کا احساس کرلیتے ہیں لیکن جوان اپنی طاقت و قدرت پر مغرور ہوتے ہیںاور خطرہ کو مذاق سمجھتے ہیں ۔(نحن عصب)باپ پریشان ہے لیکن بچے اپنی طاقت و قدرت پر نازاں ہیں۔
2۔اگر کوئی ذمہ داری کو قبول کرلے اور اسے نہ نبھا سکے تو وہ اپنا سرمایہ ، شخصیت ، آبرواور ضمیر کوخطرے میں ڈال دیتا ہے اور آخر کار نقصان اٹھاتاہے(لخاسرون)
3۔ظاہری فریب اور جھوٹے احساسات کا اظہار جناب یوسف (ع)کے بھائیوں کا ایک دوسرا حربہ تھا۔(إِنَّا إِذًا لَخَاسِرُونَ)
آیت 15:
(15) فَلَمَّا ذَهَبُوا بِهِ وَأَجْمَعُوا أَنْ یَجْعَلُوهُ فِی غَیَابَ الْجُبِّ وَأَوْحَیْنَا إِلَیْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُمْ بِأَمْرِهِمْ هَذَا وَهُمْ لاَیَشْعُرُونَ
''غرض یوسف کوجب یہ لوگ لے گئے اور اس پر اتفاق کرلیا کہ اسکو اندھے کنویں میں ڈال دیں اور (آخر کاریہ لوگ کر گزرے تو)ہم نے یوسف کی طرف وحی بھیجی کہ (تم گھبر نہیں)ہم عنقریب تمہیں بڑے مرتبہ پر پہنچائیں گے (تب آپ انکے)اس فعل (بد)کے بارے میں انہیں ضرور بتائیں گے جبکہ انہیں اس بات کا شعور تک نہیں ہوگا''۔
نکات:
جب سے خدا نے حضرت یوسف (ع)کوحاکم بنانے کا ارادہ کیا اسی وقت سے ضروری ہوگیاکہ جناب یوسف (ع)چند مراحل سے گزریں غلام بنیں تاکہ غلاموں پر رحم کریں، کنویں اور قید خانہ میں رہیں تاکہ قیدیوں پر رحم کریں ۔ اسی طرح خداوندمتعال اپنے پیغمبر حضرت محمد (ص) سے فرماتاہے کہ آپ فقیر و یتیم تھے پس یتیم و فقیر کو اپنے پاس سے نہ بھگائےں(الم یجدک یتیمافاوی...فاما الیتیم فلا تقهر...) (1)
پیام:
1۔ کنویں کے اندر جناب یوسف (ع)کے اطمینان کا بہترین وسیلہ روشن مستقبل اور نجات کے بارے میں ''خداکی طرف سے الہام ہے''(اوحینا الیه)
--------------
( 1 )سورہ ضحی آیت 6 تا 9
2۔مخالفین کااتفاق نظر اور اجتماع تمام مقامات پر کارساز اور حقانیت کی دلیل نہیں ہے بلکہ قانون خداوندی ہی حق ہونے کی دلیل ہے ۔(اجمعوا و اوحیناالیه)
3۔ حساس مواقع پر امداد الٰہی ،اولیاء ِخداکی طرف آتی ہے(فی غیابت الجب ...و اوحیناالیه)
4۔ جناب یوسف (ع)جوانی میں بھی وحی الٰہی کو حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے(اوحیناالیه)
سازش اور عمل کے درمیان فاصلہ ہوتا ہے (بھائیوں نے کنویں میں پھینکنے کی سازش کی(القوه) لیکن جب عمل کا مرحلہ آیا تو جناب یوسف (ع)کو کنویں میں چھوڑ دیا(یجعلوه)
آیت 16:
(16) وَجَائُوا أَبَاهُمْ عِشَائً یَبْکُونَ.
''اور یہ لوگ (اپنی سازش کو عملی جامہ پہنانے کے بعد) رات کی ابتدا میں اپنے باپ کے پاس (بناوٹی رونا ) روتے ہوئے آئے ''۔
پیام:
1۔ سازش کرنے والے احساسات اور مناسب موقع سے پورا پورا فائدہ اٹھاتے ہیں۔(عشائ)
2۔گریہ ہمیشہ صداقت کی علامت نہیں ہے لہٰذا ہر آنسو پر بھروسہ نہ کریں ۔(یبکون) (1)
--------------
( 1 )قرآن مجید میں گریہ اور آنسو کی چار قسمیں ہیں:
1 ۔شوق و محبت کے آنسو۔ عیسائیوں کا ایک گروہ قرآن مجید کی آیتیں سن کر آنسو بہاتا تھا(...تری اعینهم تفیض من الدمع مما عرفوا من الحق) (سورہ مائدہ آیت 83 )
2 ۔حزن و حسرت کے آنسو ۔ عشق و محبت سے سرشارمسلمان جیسے ہی رسول اکرم (ص)سے سنتے تھے کہ جنگ میں جانے کی جگہ نہیں ہے تو رونے لگتے تھے۔(تفیض من الدمع حزنا الا یجدوا ما ینفقون) (سورہ توبہ آیت 92 )
3 ۔خوف وہراس کے آنسو: اولیاء الٰہی کے سامنے جیسے ہی آیات کی تلاوت ہوتی ہے روتے ہوئے سجدے میں گر پڑتے ہیں:(خرّواسجداو بکیا) (سورہ مریم آیت 58 )(و یخرون للاذقان یبکون و یزیدهم خشوعا) ( سورہ بنی اسرائیل آیت 109 )
4 ۔ مگرمچھ کے آنسو:سورہ یوسف کی یہی سولہویں آیت جس میں برادران یوسف اپنے باپ کی خدمت میں روتے ہوئے آئے کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا(یبکون)
آیت 17:
(17) قَالُوا یَاأَبَانَا إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَکْنَا یُوسُفَ عِنْدَ مَتَاعِنَا فَأَکَلَهُ الذِّئْبُ وَمَا أَنْتَ بِمُمِنٍ لَنَا وَلَوْ کُنَّا صَادِقِینَ
''اور کہنے لگے : اے بابا !ہم لوگ تو جاکر دوڑ لگانے لگے اور یوسف کو (تنہا)اپنے اسباب کے پاس چھوڑ دیا اتنے میں بھیڑیاآکر اسے کھا گیا اور ہم لوگ سچے بھی ہوں پھر بھی آپ کو ہماری باتوں پر یقین نہیں آئے گا''۔
نکات:
بھائیوں نے اپنی خطا کی توجیہ کے لئے پے درپے تین جھوٹ کا سہارہ لیا:
1۔ کھیلنے گئے تھے۔
2۔ یوسف کو سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا۔
3۔ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا۔
پیام:
1۔خیانت کار ؛ڈرپوک اور جھوٹا ہوتاہے ، راز فاش ہونے سے ڈرتاہے(ما انت بمومن لنا و لو کنا صادقین)
2۔مقابلہ و مسابقہ کا رواج گزشتہ ادیان میں بھی تھا ۔(نستبق)
آیت 18:
(18)وَجَائُوا عَلَی قَمِیصِهِ بِدَمٍ کَذِبٍ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ أَنفُسُکُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِیلٌ وَاﷲُ الْمُسْتَعَانُ عَلَی مَا تَصِفُونَ
''یہ لوگ یوسف کے کرتے پر جھوٹ موٹ (بھیڑ)کا خون بھی(لگا کے باپ کے پاس)لے آئے ۔ یعقوب نے کہا (بھیڑئےے نے نہیںکھایا ہے)بلکہ تمہارے دل نے تمہارے بچ کے لئے ایک بات گڑھی ہے پھر (تو مجھ کو)صبر جمیل (کرنا)ہے اور جو تم لوگ کہتے ہو اس پر خدا ہی سے مدد مانگی جاتی ہے''۔
نکات:
مقدرات الٰہی پر صبر کرنا اچھی بات ہے لیکن ایک بچے پر جو ظلم ہوا ہے اس پر صبر کرنا کون سی ایسی بات ہے جسے حضرت یعقوب(ع)''فصبر جمیل'' سے یاد فرما رہے ہیں؟
جواب :سب سے پہلی بات تو یہ کہ حضرت یعقوب (ع)وحی کے ذریعہ سے جانتے تھے کہ جناب یوسف (ع)زندہ ہیں ۔دوسری بات یہ کہ جناب یعقوب(ع) کی ذرا سی ایسی حرکت جس سے بھائیوں کو گمان ہوجاتا کہ حضرت یوسف (ع)زندہ ہیں تو وہ کنویں پر جاکر انہیں نیست و نابود کردیتے ،تیسری بات یہ کہ ایسا کام نہیں کرنا چاہیئے کہ حتی ظالموں پر بھی مکمل طور پر توبہ کی راہیں بند ہوجائیں۔
پیام:
1۔ مظلوم نمائی کے دھوکے میں نہ (جناب یعقوب (ع)خون بھرے کرتے اور آنسو کے فریب میں نہ آئے بلکہ فرمایا یہ تم نے اپنے بچ کے لئے گڑھا ہے)(بل سولت لکم انفسکم)
2۔سازشوں سے بچتے رہو۔(بدم کذب)
3۔نفس اور شیطان، انسان کے نزدیک گناہ کو اچھا کرکے پیش کرتے ہیں اور گناہگاروں کے لئے طرح طرح کے بہانے بناتے ہیں ۔(بل سولت لکم انفسکم)
4۔ بہترین صبر وہ ہے جہاں دل جل رہا ہو آنسو نہ تھمتے ہوں پھر بھی خدا فراموش نہ ہو ۔(واللّٰه المستعان)
5۔ باطنی طاقت اور صبر کے علاوہ حوادث میں انسان کو اللہ سے بھی مدد حاصل کرنی چاہیئے(فصبر جمیل واللّٰه المستعان)
آیت 19:
(19) وَجَائَتْ سَیَّارَ فَأَرْسَلُوا وَارِدَهُمْ فَأَدْلَی دَلْوَهُ قَالَ یَابُشْرَی هَذَا غُلَامٌ وَأَسَرُّوهُ بِضَاعَ وَاﷲُ عَلِیمٌ بِمَا یَعْمَلُونَ
''اور (خدا کی شان دیکھویوسف کنویں میں تھے کہ )ایک قافلہ (وہاں)آکر اترا ان لوگوں نے اپنے سقے کو (پانی بھرنے)بھیجا اس نے اپنا ڈول ڈالا ہی تھا (کہ یوسف اس میں ہو بیٹھے اور اس نے کھینچا تو باہر نکل آئے)وہ پکارا ! آہا یہ تو لڑکا ہے اور قافلہ والوں نے یوسف کو قیمتی سرمایہ سمجھ کر چھپا رکھا حالانکہ جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں خدا اس سے خوب واقف ہے''۔
نکات:
خداوندمتعال اپنے مخلص بندوں کو ان کے حال پر نہیں چھوڑتا بلکہ مصیبتوں اور مشکلات سے نجات دیتا ہے ۔
جیسا کہ جناب نوح (ع) کو پانی کے اوپر ، جناب یونس (ع) کو پانی کے اندراور جناب یوسف (ع)کو پانی کے کنارے نجات دی ۔ اسی طرح جناب ابراہیم (ع)کو آگ سے جناب موسیٰ(ع) کو وسط دریا میں اور حضرت محمد مصطفی (ص) کو غارکے اندر ، حضرت علی علیہ السلام کو شب ہجرت رسول اکرم (ص)کے بستر پر سوتے ہوئے نجات دی۔
جب بھی خدا ارادہ کرتا ہے تو انسانی درخواست اور خواہش کے بغیر وہ جامہ عمل سے آراستہ ہوجاتا ہے ۔ جناب موسیٰ(ع) آگ لانے گئے تھے لیکن وحی اور پیغمبری کے ساتھ لوٹے، یہ قافلہ پانی لانے کے لئے گیا تھا لیکن وہ جناب یوسف (ع)کو نجات دے کر لوٹا۔
ارادئہ الٰہی سے کنویں کی رسی وسیلہ قرار پائی کہ جناب یوسف (ع)کنویں کی گہرائی سے نکل کر تخت و تاج اور حکومت تک پہنچیں تو ذرا غور کریں کہ''حبل الله'' ( اللہ کی رسی )سے کیا کیا کارنامے انجام پذیر ہوسکتے ہیں اور انسان بلندیوں کی کن منازل تک پہنچ سکتا ہے ۔
پیام:
1۔ جب اپنے حمایت نہیں کرتے توخدا غیروں کے ذریعہ سے مدد کرتا ہے جناب یوسف کے بھائی انہیں کنویں میں ڈال کر چلے گئے لیکن نا آشنا قافلہ نے انہیں نجات دی(جائت سیار)
2۔کام کا آپس میں تقسیم کرنا معاشرتی زندگی کے اصولوں میں سے ایک اصل ہے(واردهم) (پانی لانے کے ذمہ دار شخص کا ذکر ہے)
3۔ کچھ لوگ انسان کو بھی بضاعت اور پونجی سمجھنے لگتے ہیں ۔(بضاع)
4۔حقیقت دوسروں سے پوشیدہ ہوسکتی ہے لیکن عالم الغیب خدا سے کیسے پوشیدہ ہو(1) (اسروه والله علیم)
--------------
( 1 )واقعہ یوسف میں ہر گروہ نے کچھ نہ کچھ چھپانا چاہا لیکن خداوندعالم نے سب کچھ آشکار کردیا بھائیوں نے کنویں میں ڈالنے کو چھپایا، زلیخا نے اپنے عشق کو چھپایا ۔ لیکن خدانے ظاہر کردیا.
آیت 20:
(20) وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ دَرَاهِمَ مَعْدُودَ وَکَانُوا فِیهِ مِنْ الزَّاهِدِینَ
''(قافلے والوں نے)یوسف کو بڑی کم قیمت پر چند گنتی کے کھوٹے درہم کے عوض بیچ ڈالا اور وہ لوگ اس میں زیادہ طمع بھی نہیں رکھتے تھے ''۔
نکات:
ہر آدمی اپنے وجود کے یوسف کو سستا بیچ کر پشیمان ہوتا ہے کیونکہ ، عمر ، جوانی ، عزت و استقلال اور انسان کی پاکیزگی ان میں سے ہر ایک یوسف ہے جسے سستا نہیں بیچنا چاہیئے۔
پیام:
1۔ وہ مال جو آسانی سے آتا ہے وہ آسانی سے چلا بھی جاتا ہے (شَرَوْه)
2۔ جو شخص کسی چیز کی اہمیت اور قیمت کو نہیں پہچانتااسے سستا بیچ دیتا ہے(بِثَمَنٍ بَخْسٍ )(قافلہ والے حضرت یوسف (ع)کی حقیقت و اہمیت سے نا آشنا تھے)
3۔ انسان پہلے گرایا جاتا ہے پھر غلام بنایا جاتا ہے اس کے بعد سستا بیچ دیا جاتا ہے۔
4۔ پیسوں کی تاریخ ،اسلام سے ہزاروں سال پرانی ہے (دَرَاهِمَ )
5۔ نظام غلامی اور غلام فروشی کا سابقہ طولانی ہے ۔ (شَرَوْه)
6۔ قانون طلب و رسد (بازار میں مال کی آمد اور خریدار کی کثرت )قیمت کی تعیین میں موثر ہے (چونکہ قافلے والے بیزار تھے اس لئے یوسف کو ارزاں بیچ دیا)
7۔بے معرفت مردوں نے جناب یوسف (ع)کو کم قیمت میں بیچ دیا لیکن با معرفت عورتوں نے جناب یوسف(ع) کو ایک کریم فرشتہ کہا ۔ روایت میں آیا ہے''رُبّ امرئ افقه من الرجل'' کتنی ہی ایسی عورتیں ہیں جو مردوں سے زیادہ سمجھ دار ہوتی ہیں۔
آیت 21:
(21) وَقَالَ الَّذِی اشْتَرَاهُ مِنْ مِصْرَ لِامْرَأَتِهِ أَکْرِمِی مَثْوَاهُ عَسَی أَنْ یَنفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا وَکَذَلِکَ مَکَّنَّا لِیُوسُفَ فِی الْأَرْضِ وَلِنُعَلِّمَهُ مِنْ تَأْوِیلِ الْأَحَادِیثِ وَاﷲُ غَالِبٌ عَلَی أَمْرِهِ وَلَکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لاَیَعْلَمُونَ
''اور مصر کے لوگوں میں سے جس نے ان کو خریدا تھا اس نے اپنی بیوی سے کہا : اس کو عزت و آبرو سے رکھو (غلام نہ سمجھو) عجب نہیں یہ ہمیں کچھ نفع پہنچائے یا (شاید) اسکو اپنا بیٹا ہی بنالیں ۔اور یوں ہم نے یوسف کو اس سرزمین میں (جگہ دے کر)قابض بنایا اور غرض یہ تھی کہ ہم اسے خواب کی باتوں کی تعبیر سکھائیں اورخدا تو اپنے کام پر ہر طرح سے غالب و قادر ہے مگر بہتیرے لوگ اسے نہیں جانتے ہیں''۔
نکات:
اگر انسان کا خریدار عزیز ہو تو تلخ حوادث میں بھی انجام اچھا ہوتا ہے لہٰذااگر ہم خود کو واقعی عزیز (یعنی خدائے متعال) کے ہاتھوں بیچ ڈالیں تو آخرت میں خسارت و حسرت میں گرفتار نہ ہوں گے ۔
پیام:
1۔ بزرگواری جناب یوسف (ع)کے چہرہ سے نمایاں تھی یہاں تک کہ جس نے آپ (ع)کو خریدا اس نے بھی اپنی بیوی سے تاکید کردی کہ ان کو غلام کی نگاہ سے نہ دیکھے۔(أَکْرِمِی مَثْوَاهُ )
2۔ دل، اللہ کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں۔ لہٰذا حضرت یوسف (ع)کی محبت خریدار کے دل میں بیٹھ گئی( عَسَی أَنْ یَنفَعَنَا أَوْ نَتَّخِذَهُ وَلَدًا )
3۔ لوگوں کا احترام کرکے ان سے مدد کی امید رکھ سکتے ہیں(اکرمی... ینفعن)
4۔ بچے کو گود لینا تاریخی سابقہ رکھتا ہے( نَتَّخِذَهُ وَلَدًا )
5۔ علم و قدرت ،ذمہ داری کو قبول کرنے کی دوشرطیں اور نعمت الٰہی ہیں(مَکَّنَّا... َلِنُعَلِّمَه)
6۔ تلخیاں برداشت کرنے کا نتیجہ شیرینی ہے( بِثَمَنٍ بَخْسٍ... مَکَّنَّا لِیُوسُفَ )
7۔ خدا کا غالب ارادہ جناب یوسف (ع)کو چاہ سے جاہ تک لے گی( مَکَّنَّا لِیُوسُفَ )
8۔ جس کو ہم حادثہ سمجھتے ہیں در حقیقت خداوندعالم اس کے ذریعہ اپنے ارادے کو عملی جامہ پہنانے کی راہ ہموار کرتا ہے( غَالِبٌ عَلَی أَمْرِهِ )
9۔ لوگ ظاہری حوادث کو دیکھتے ہیں لیکن الٰہی اہداف سے بے خبر ہوتے ہیں(لاَیَعْلَمُون)
آیت 22:
(22) وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُ آتَیْنَاهُ حُکْمًا وَعِلْمًا وَکَذَلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ
''اور جب یوسف اپنی جوانی کو پہنچے تو ہم نے ان کو حکم (نبوت یا حکمت)اور علم عطا کیا اور نیکوکاروں کو ہم ایسے ہی جزا دیا کرتے ہیں ''۔
نکات:
کلمہ''أَشُد'' کا ریشہ'' شدّ''ہے جو مضبوط گرہ کے معنی میں استعمال ہوتاہے یہاں بطور استعارہ(1) ''روحی و جسمی استحکام ''کے لئے آیاہے ۔
یہ کلمہ قرآن مجید میں کبھی بلوغ کے معنی میں استعمال ہوا ہے جیسے سورہ بنی اسرائیل میں ارشاد ہوا ہے''حتی یبلغ اشده'' (2) یعنی مال یتیم کے قریب نہ ج یہاں تک کہ وہ سن بلوغ تک پہنچ جائے ۔اور کبھی ''یہی ''اشد چالیس سال کے سن کے لئے استعمال ہوا ہے جیسے سورہ احقاف میں ارشاد ہوا ہے''بلغ اشده و بلغ اربعین سن' '(3) اور کبھی بڑھاپے سے پہلی والی زندگی کے لئے استعمال ہوا ہے جیسے سورہ غافر میں ارشاد ہوا''ثم یخرجکم طفلا ثم لتبلغوا اشد کم ثم لتکونوا شیوخا'' (4)
--------------
( 1 )استعارہ علم معانی بیان کی ایک اصطلاح ہے جو در حقیقت تشبیہ ہے لیکن فرق یہ ہے کہ تشبیہ میں مشبہ و مشبہ بہ مذکور ہوتاہے لیکن جب یہ حذف ہوجاتے ہیں تو اسے ''استعارہ ''کہتے ہیں۔مترجم
( 2 ) سورہ انعام آیت 152 ،
( 3 ) سورہ احقاف آیت 15 ،
( 4 ) سورہ غافر آیت 62
پیام:
1۔ایک قوم و معاشرے کی رہبری کے لئے علم و حکمت کے علاوہ جسمی طاقت بھی ضروری ہے( بَلَغَ أَشُدَّه)
2۔علوم انبیاء (ع)اکتسابی نہیں ہیں(آتَیْنَاهُ عِلْمً)
3۔ الطافِ الٰہی انسان کی لیاقت اور قانون کی بنیاد پر ہےں( نَجْزِی الْمُحْسِنِین)
4۔ پہلے نیکی اور احسان کرنا چاہیئے تاکہ انعام الٰہی کے لائق ہوسکیں( نَجْزِی الْمُحْسِنِین)
5۔نیک کام کرنے والے اس دنیا میں بھی کامیاب ہوجاتے ہیں(کَذَلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ)
6۔ ہر وہ شخص جو علمی اورجسمانی طاقت رکھتا ہے لطف الٰہی اس کے شامل حال نہیں ہوتا بلکہ محسن ہونا بھی ضروری ہے۔(نَجْزِی الْمُحْسِنِین)
آیت 23:
(23) وَرَاوَدَتْهُ الَّتِی هُوَ فِی بَیْتِهَا عَنْ نَفْسِهِ وَغَلَّقَتِ الْأَبْوَابَ وَقَالَتْ هَیْتَ لَکَ قَالَ مَعَاذَ اﷲِ إِنَّهُ رَبِّی أَحْسَنَ مَثْوَایَ إِنَّهُ لاَ یُفْلِحُ الظَّالِمُونَ
'' اور جس عورت کے گھر میں حضرت یوسف رہتے تھے اس نے( اپنا مطلب حاصل کرنے کے لئے) خود ان سے آرزو کی اور تمام دروازے بند کردیئے اور (بے تابانہ ) کہنے لگی : لو میں تمہارے لئے آمادہ ہوںیوسف نے کہا: معاذاللہ(اللہ کی پناہ)وہ میرا پروردگار ہے اس نے مجھے اچھامقام دیا ہے (میں ایسا ظلم کیونکر کرسکتا ہوں)بے شک (ایسا)ظلم کرنے والے فلاح نہیں پاتے ''۔
نکات:
اآیت کے اس جملہ''إِنَّهُ رَبِّی أَحْسَنَ مَثْوَایَ'' کی تفسیر میں دو احتمال پائے جاتے ہیں:
1۔خداوندمتعال میرا پروردگار ہے جس نے مجھے عزت دی ہے اور میں نے اسی کی طرف پناہ لی ہے ۔
2۔عزیز مصر میرا مالک ہے اور میں نے اس کے دسترخوان پر زندگی گزاری ہے ، اس نے تم سے میرے بارے میں ''اکرمی مثواہ '' کہا ہے لہٰذا میں اس سے خیانت نہیں کرسکتا ۔
یہ دونوں احتمال اپنے لئے دلائل رکھتے ہیں اور شواہد کی بنیاد پر استناد بھی کیا جاتا ہے ۔لیکن ہماری نظر میں پہلا احتمال بہتر ہے کیونکہ حضرت یوسف (ع)نے تقوی الٰہی کی بنیاد پر خود کو گناہ سے آلودہ نہ کیا ۔ نہ یہ کہ اس بنیاد پر پرہیز کیا کہ چونکہ میں عزیز مصر کے گھر میں رہتا ہوں اور اس کے مجھ پر حق ہیں لہٰذا اس کی بیوی کے ساتھ برا قصد نہیں کروں گا ۔ کیونکہ یہ کام تقوی سے کم تر ہے۔
یقینا اس سورہ میں چند جگہوں پر کلمہ(ربّک) سے مراد ''عزیز مصر''ہے لیکن کلمہ''ربیّ'' جو استعمال ہوا ہے اس سے مراد خداوندمتعال ہے۔ دوسری طرف جناب یوسف (ع)کی شان سے بعید ہے کہ وہ خود کو اتنا حقیر بنالیں کہ عزیز مصر کو''ربیّ'' کہنے لگیں۔
پیام:
1۔ جہاں کم تقوی اور نامحرم عورتیں رہتی ہیں وہاں جوان لڑکوں کو نہیں چھوڑنا چاہیئے کیونکہ وہاں غلط آرزں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ( وَرَاوَدَتْهُ فِی بَیْتِهَ)
2۔ بڑے گناہ نرم لطیف انداز سے شروع ہوتے ہیں ۔ (وَرَاوَدَتْهُ )
3۔غلط کام کرنے والوں کا نام لینے سے پرہیز کرنا چاہیئے ان کے سلسلے میں فقط اشارہ کنایہ سے بات کرنی چاہیے (الَّتِی)
4۔ مرد کا پاک ہونا کافی نہیں ہے کیونکہ کبھی کبھی عورتیں بھی مردوں کے لئے پریشانی کا باعث ہوتی ہیں (وَرَاوَدَتْهُ )
5۔ نامحرم مرد و عورت کا کسی ایسی جگہ جمع ہونا جہاں کوئی نہ ہو ،گناہ کی راہ ہموار کرتا ہے (غَلَّقَتِ الْأَبْوَابَ وَقَالَتْ هَیْتَ لَکَ)
6۔ہمیشہ تاریخ میں ''زنا کا گناہ ایک ثابت شدہ جرم ہے''اسی وجہ سے عزیز مصر کی بیوی نے تمام دروازوں کو مضبوطی سے بند کردیا تھا ۔(غَلَّقَتْ الْأَبْوَابَ)
7۔ رسوائی سے بچنے کے لئے بذات خود اقدامات کئےے۔ (غَلَّقَتْ)
8۔ عشق بطور دفعی اور یک بارگی نہیںہوتا بلکہ دل لبھانے کے نتیجہ میں تدریجاً پیدا ہوتا ہے یوسف کا مسلسل گھر میں رہنا عشق کا باعث ہوا ( فِی بَیْتِهَ)
9۔ شہوت کی طاقت اس حد تک ہے کہ بادشاہ کی بیوی بھی اپنے غلام کی اسیر ہوجاتی ہے ۔ ( وَرَاوَدَتْهُ الَّتِی)
10۔ تقوی کی بہترین قسم یہ ہے کہ خدا سے محبت کی بنیاد پر گناہ نہ کریں نہ کہ دنیا میں رسوائی اور آخرت کے خوف سے گناہ ترک کریں ( مَعَاذَ اﷲِ إِنَّهُ رَبِّی أَحْسَنَ مَثْوَایَ )
11۔تمام دروازے بند ہیں لیکن خدا کی پناہ کا دروازہ کھلا ہے۔ (غَلَّقَتِ الْأَبْوَاب ...مَعَاذَ اﷲِ)
12۔ تقوی اور انسانی ارادہ انحراف اور غلطیوں کی راہ پرغالب آسکتا ہے (مَعَاذَ اﷲِ) (1)
--------------
(1)اولیاء الٰہی خدا کی پناہ حاصل کرتے ہیں اور اس سے فائدہ بھی اٹھاتے ہیں ۔حضرت موسیٰ(ع) نے فرعون کے فتنوں سے خدا کی پناہ مانگی( انی عذت بربی و ربکم من کل متکبر لا یومن بیوم الحساب .) (سورہ مومن آیت 27)،جناب مریم کی والدہ فرماتی ہیں : خدایا میں مریم اور اسکی نسل کو تیری پناہ میں دیتی ہوں(انی اعیذها بک و ذریتها من الشیطان الرجیم ) (سورہ آل عمران آیت 36)خداوندعالم اپنے پیغمبر کو اپنی ذات کی پناہ حاصل کرنے کا حکم دیتا ہے(قل اعوذ... ) (سورہ فلق آیت 1، سورہ ناس آیت 1)
13۔خدا سے لو لگانا گناہ اور لغزش سے دور رہنے کا سبب ہے( مَعَاذَ اﷲِ)
14۔ اگر ہماراکوئی بزرگ یا سربراہ گناہ کا حکم دے تو ہمیں اس کی اطاعت نہیںکرنا چاہیئے( هَیْتَ لَکَ قَالَ مَعَاذَ اﷲِ ) (لا طاع لمخلوق فی معصی الخالق) لوگوں کی اطاعت کے لئے اللہ کی معصیت نہیں کرنا چاہیئے(1)
15۔ اعوذ باللہ کہنے کے بجائے یک بیک خدا کی پناہ میں چلے گئے اور''مَعَاذَ اﷲِ'' کہہ دیا تاکہ اپنی پناہندگی (کہ میں نے خود پناہ حاصل کی ہے)کو بیان نہ کریں درحقیقت حضرت یوسف(ع) اپنے لئے کسی کمال کے قائل نہ ہوئے۔
16۔گناہ کے انجام کی یاد، گناہ کرنے سے روکتی ہے(لاَ یُفْلِحُ الظَّالِمُون)
17۔ زنا یا پاک دل نوجوان کے خلاف سازش کرنا ،خود اپنے او پر ،اپنے شوہر یا بیوی پر ،معاشرے اور معاشرے کے افراد پر ظلم ہے۔(لاَ یُفْلِحُ الظَّالِمُون)
18۔ پل بھر کا گناہ انسان کو ابدی فلاح و بہبود سے روک دیتا ہے۔(لاَیُفْلِحُ الظَّالِمُون)
19۔ گناہ کرنا ناشکری اور کفران نعمت ہے ۔(لاَ یُفْلِحُ الظَّالِمُون)
--------------
( 1 )بحار۔ج، 10 ص 227
آیت 24:
(24) وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَا لَوْلاَ أَنْ رَّأَی بُرْهَانَ رَبِّهِ کَذَلِکَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِینَ
''(عزیز مصر کی بیوی )زلیخا نے تو ان کے ساتھ (برا)ارادہ کر ہی لیا تھا اور اگر یہ بھی اپنے پروردگار کی دلیل نہ دیکھ چکے ہوتے تو (غریزہ کی بنیاد پر)قصد کر بیٹھتے(ہم نے اس کو یوں بچایا)تاکہ ہم اس کو برائی اور بدکاری سے دور رکھیں، بے شک وہ ہمارے خالص بندوں میں سے تھا''۔
نکات:
امام جعفرصادق علیہ السلام نے فرمایا: ''برہان رب'' علم و یقین اور حکمت کا نور تھا جس کو خداوندعالم نے گزشتہ آیتوں میں ذکر فرمایا ہے(آتیناه علما و حکما) (1) اور جیسا کہ بعض روایتوں میں آیاہے کہ برہان رب سے مراد ؛باپ یا جبرئیل (ع)کی صورت دیکھنا ہے، اس کی کوئی محکم سند نہیں ہے۔
قرآن مجید میں کئی مرتبہ اولیائے خداکے بارے میں دشمنان دین کی سازشوں اور ارادوں کا ذکر آیا ہے لیکن ان تمام موارد میںخداوندعالم نے ان کی سازشوں پر پانی پھیر دیا مثلاًجنگ تبوک سے واپسی پر منافقین نے چاہاکہ پیغمبر اسلام (ص)کے اونٹ کو بھڑکا کر آنحضر(ص)ت کو شہید کردیں لیکن وہ اپنے ارادے میں کامیاب نہ ہوسکے ،(وهموا بما لم ینالوا) (2)
--------------
( 1 )تفسیر کشف الاسرار.
( 2 )۔ سورہ توبہ آیت 74
نیز کچھ لوگوں نے پیغمبر اسل(ص)م کو منحرف کرنے کاارادہ کیا(فهمّت طائف منهم ان یضلوک) (1)
یا دست درازی کا ارادہ کیا لیکن کامیاب نہیں ہوئے(همَّ قوم ان یبسطوا الیکم ایدیهم فکف ایدیهم عنکم (2)
پیام:
1۔ اگر امداد الٰہی نہ ہو تو ہر شخص کے پیر پھسل جائیں(وَهَمَّ بِهَا لَوْلاَ أَنْ رَأَی بُرْهَانَ رَبِّهِ)
2۔ خداوندمتعال اپنے مخلص بندوں کی حفاظت کرتا ہے( لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوئَ... إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِینَ)
3۔انبیاء (ع)میں عام انسانوں کی طرح غریزہ شہوت موجود ہے لیکن خدا پر قوی ایمان ہونے کی بنیاد پر گناہ نہیں کرتے(3) (هَمَّ بِهَا لَوْلاَ أَنْ رَأَی بُرْهَانَ رَبِّه)
--------------
(1) سورہ نساء آیت 113.
(2)سورہ مائدہ آیت 11.
(3)حضرت یوسف (ع)پاکدامن اور معصوم تھے ۔ اسکی دلیل ان لوگوں کا بیان ہے جو کسی نہ کسی طرح آپ (ع)سے متعلق تھے ۔ بطور نمونہ کچھ دلیلیں ملاحظہ ہوں۔1۔خداوندعالم نے فرمایا:لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِینَ ۔2۔خود حضرت یوسف (ع)نے فرمایا:رب السجن احب الی مما یدعوننی الیہ۔پروردگارا! قید خانہ میرے لئے اس سے بہتر ہے جسکی طرف یہ لوگ مجھے بلا رہے ہیں ۔دوسری جگہ پھر فرمایا:انی لم اخنه بالغیب ۔میں نے صاحب خانہ کے پیچھے خیانت نہیں کی ہے ۔3۔زلیخا نے کہا :لقد روادته عن نفسه فاستعصم ۔یقینا میں نے یوسف کو لبھایا تھا لیکن وہ معصوم ہیں ۔4۔عزیز مصر نے کہا :یوسف اعرض عن هذا واستغفری لذنبک ۔اے یوسف تم اس ماجرا سے صرف نظر کرلو ۔ اور زلیخا سے کہا : تم اپنے گناہ سے توبہ کرو۔5۔شاہد جس نے گواہی دی کہ اگر کرتہ پیچھے سے پھٹا ہے تو معلوم ہو گا کہ یوسف پاکدامن ہیں(ان کان قمیصه...) ۔6۔ مصر کی عورتوں نے گواہی دی کہ ہم جناب یوسف کے بارے میں کوئی گناہ نہیں جانتیں،(ما علمنا علیه من السوئ) 7۔ابلیس کہ جس نے تمام لوگوں کو فریب دینے کا وعدہ کیا ہے اس نے کہا :الاعبادک منهم المخلَصین میں تیرے مخلص بندوں کا مقابلہ نہیں کرسکتا ، اور یہ آیت جناب یوسف (ع)کو ''مخلَص'' کہہ رہی ہے ۔
آیت 25:
(25) وَاسْتَبَقَا الْبَابَ وَقَدَّتْ قَمِیصَهُ مِنْ دُبُرٍ وَأَلْفَیَا سَیِّدَهَا لَدَی الْبَابِ قَالَتْ مَا جَزَاءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِکَ سُوئً ا إِلاَّ أَنْ یُسْجَنَ أَوْ عَذَابٌ أَلِیمٌ
''اور دونوں دروازے کی طرف جھپٹ پڑے اور زلیخا نے پیچھے سے ان کا کرتہ (پکڑ کر کھینچا)اور پھاڑ ڈالا ،ناگہانی دونوں نے زلیخا کے شوہر کو دروازے کے پاس کھڑا پایا، زلیخا (یوسف سے انتقام لینے یا اپنی پاکدامنی ثابت کرنے کے لئے )جھٹ (اپنے شوہر)سے کہنے لگی کہ جو تمہاری بیوی کے ساتھ بدکاری کا ارادہ کرے اسکی سزا اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ یا تو قید کردیا جائے یا دردناک عذاب میں مبتلا کردیا جائے ''؟۔
نکات:
''استباق'' کے معنی یہ ہیں کہ دو یا چند آدمی ایک دوسرے سے سبقت و پہل کریں''قدّ'' لمبائی میں پھٹ جانے کو کہتے ہیں۔''لفائ'' یعنی ناگہاں پالینا۔
پیام:
1۔ صرف معاذاللہ کہنے سے کچھ نہیں ہوتا بلکہ گناہ سے فرار بھی ضروری ہے۔(وَاسْتَبَقَا )
2۔ کبھی ظاہری عمل ایک ہوتا ہے لیکن اہداف مختلف ہوتے ہیں ایک دوڑتا ہے تاکہ گناہ میں ملوث نہ ہو ،دوسرا دوڑتا ہے تاکہ گناہ سے آلودہ کردے( اسْتَبَقَا )
3۔ گناہ کی جگہ سے فرار کرنا اور ہجرت ضروری ہے(اسْتَبَقَا الْبَابَ)
4۔دروازے بند ہونے کا بہانہ کرنا کافی نہیں ہے بلکہ بند دروازے کی طرف بھاگنا چاہیئے شاید کھل جائے ۔(اسْتَبَقَا الْبَابَ)
5۔ عزیز مصر کی بیوی نے اپنے شوہر کے احساس اور اس کی محبت سے خوب خوب فائدہ اٹھانا چاہا( بِأَهْلِک)
6۔ مجرم خود کو بری الذمہ کرنے کےلئے دوسروں پر تہمت لگاتا ہے(أَرَادَ بِأَهْلِکَ سُوئ)
7۔ شکایت کرنے والا کبھی کبھی خود مجرم ہوتاہے( قَالَتْ مَا جَزَائ...)
8۔ ہمیشہ سے شوہر دار عورت پر دست درازی کوجرم شمار کیا گیا ہے( مَا جَزَاءُ مَنْ أَرَادَ بِأَهْلِکَ سُوئً)
9۔ قید خانہ اور مجرموں کو قید کرنا تاریخی سابقہ رکھتاہے( یُسْجَنَ)
10۔ عزیز مصر کی طرف سے سزا کا اعلان کرنا بیوی کی قدرت و طاقت کی علامت ہے( یُسْجَنَ أَوْ عَذَابٌ أَلِیمٌ )
11۔ ہوس آلود عشق ،ایک پل میں عاشق کو قاتل بنا دیتاہے۔( یُسْجَنَ أَوْ عَذَابٌ أَلِیمٌ )
آیت 26:
(26) قَالَ هِیَ رَاوَدَتْنِی عَنْ نَفْسِی وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ أَهْلِهَا إِنْ کَانَ قَمِیصُهُ قُدَّ مِنْ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَهُوَ مِنْ الْکَاذِبِینَ
''یوسف نے کہا : اس نے خود مجھ سے (میری خواہش کے برخلاف)میری آرزو کی تھی اور زلیخا ہی کے کنبہ والوں میں سے ایک گواہی دینے والے نے گواہی دی کہ اگر ان کا کرتا آگے سے پھٹا ہوا ہے تو یہ سچی ہے اور وہ جھوٹے (کیونکہ ایسی صورت میں یوسف اور عزیز مصر کی بیوی آگے سے ایک دوسرے سے درگیر ہوتے اور کرتا آگے سے پھٹتا)''
نکات:
بعض روایتوں میں آیا ہے کہ وہ گواہ ایک بچہ تھا جس نے جناب عیسی ٰ علیہ السلام کی طرح گہوارے میں گواہی دی لیکن چونکہ اس کی سند محکم نہیں ہے لہٰذا اس پر اعتبار نہیں کرسکتے ہیں، بہتر یہی ہے کہ عزیز مصر کے مشاوروں میں سے ایک مشورہ دینے والے کو مانیں جو اس کی زوجہ کے خاندان سے تھا اور ذہین و ہوشمند تھا اور وہ عزیز مصر ہی کی طرح واقعہ کا گواہ ہو گیا۔ کیونکہ اگر وہ ماجرے کا عینی گواہ ہوتا تو جملہ شرطیہ کے ساتھ واقعہ کی گواہی دینا بے معنی ہو جائے گا(ان کان...) (1) (اگرایسا...)
--------------
( 1 )مقدسات پر تہمت لگانے کا مسئلہ قرآن مجید میں بہت جگہوں پر موجود ہے مثلاًحضرت مریم پر زنا کی تہمت لگائی گئی لیکن خداوند نے نجات دی ۔ پیغمبر اسلام کی بیوی پر بھی تہمت لگائی گئی اور یہاں جناب یوسف (ع)کی طرف بدکاری کی نسبت دی گئی۔
پیام:
1۔جناب یوسف (ع)نے بات شروع نہیں کی ۔ اگر عزیز کی زوجہ آپ (ع)پر تہمت نہ لگاتی تو شاید آپ(ع) اس کی آبروریزی نہ کرتے اور یہ نہ کہتے:( هِیَ رَاوَدَتْنِی)
2۔ جس پر تہمت لگائی جارہی ہے اس کو اپنا دفاع کرنا چاہیئے اور اصلی مجرم کو پہنچنواناچاہیئے۔( هِیَ رَاوَدَتْنِی)
3۔ جن راہوں کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا خدائے متعال ان راہوں سے مدد فرماتاہے ۔(شَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ أَهْلِهَ)
4۔ جرم شناسی میں باریک نکات سے مسائل کو کشف کیا جاتا ہے ۔( إِنْ کَانَ قَمِیصُه...)
5۔ قاضی قرائن کی بنیاد پر فیصلہ کرسکتا ہے۔( مِنْ قُبُل)
6۔ بے گناہ کا دفاع واجب ہے ، خاموشی ہر جگہ اچھی نہیں ہوتی۔(شَهِدَ شَاهِدٌ)
7۔ جب خدا چاہتا ہے تو مجرم کے رشتہ دار بھی اس کے خلاف گواہی دیتے ہیں۔(شَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ أَهْلِهَ)
8۔ گواہی میں حسب و نسب ، موقعیت اور رشتہ داری نہیں دیکھنی چاہئےے ۔(شَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ أَهْلِهَ)
آیت 27:
(27) وَإِنْ کَانَ قَمِیصُهُ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ فَکَذَبَتْ وَهُوَ مِنْ الصَّادِقِینَ
''اور اگر ان کا کرتہ پیچھے سے پھٹا ہوا ہو تو یہ جھوٹی اور وہ سچے ہیں''۔
نکات:
جناب یوسف (ع)کی داستان میں آپ (ع)کا کرتا بڑا کار ساز ہے ۔ ایک جگہ کرتہ کا پیچھے سے پھٹا ہوناآپ(ع) کی بے گناہی اور زلیخا کا جرم ثابت کر گیا ۔
دوسری جگہ کرتہ کا نہ پھٹنا بھائیوں کے جرم کا گواہ بن گیا کیونکہ جب انہوں نے جناب یوسف (ع)کو کنویں میں ڈالنے کے بعد آپ (ع)کے پیراہن کو خون آلودکر کے باپ کی خدمت میں دکھایا اور کہا کہ جناب یوسف (ع)کو بھیڑیا کھا گیا ہے تو جناب یعقوب (ع)نے پوچھا : پھر کرتہ کیوںنہیں پھٹا ؟ اور قصہ کے آخر میں بھی کرتہ باپ کی بینائی کا سبب بنا۔
پیام:
1۔ جرم اور مجرم کی تشخیص کے لئے جرم شناسی کے طریقوں کا اپنانا ضروری ہے ۔(إِنْ کَانَ قَمِیصُهُ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ...)
آیت 28:
(28) فَلَمَّا رَأَی قَمِیصَهُ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ إِنَّهُ مِنْ کَیْدِکُنَّ إِنَّ کَیْدَکُنَّ عَظِیمٌ
''پھر جب عزیز مصر نے ان کا کرتاپیچھے سے پھٹا ہوا دیکھا (تواپنی بیوی سے )کہنے لگا: یہ تم ہی لوگوں کے چلتر ہیں اس میں کوئی شک نہیں کہ تمہارے چلتر بڑے (غضب کے)ہوتے ہیں''۔
نکات:
کَیْدَکُنَّ سے مراد یہ ہے کہ پاک لوگوں پر تہمت لگانا اور خود سے بغیر پریشانی کے جلد از جلد تہمت کو دور کردینا۔
اگرچہ قرآن مجید نے شیطان کے کید اور فریب کو کمزور شمار کیا ہے ۔ان کید الشیطان کان ضعیفا ۔(1) لیکن اس آیت میں عورتوں کے چلتر کو بڑا بتایا گیا ہے۔ صاحب تفسیر صافی فرماتے ہیں شیطان کا وسوسہ تھوڑی دیر کے لئے ، پیچھے سے ، غائبانہ اور چوری چھپے ہوتا ہے لیکن عورت کا فریب لطائف و محبت کے ساتھ ، سامنے سے اور دائمی ہوتاہے ۔
کبھی کبھی خدا بڑے بڑے کام چھوٹی چھوٹی چیزوں کے ذریعہ انجام دیتا ہے ۔ ابرہہ کو ابابیل کے ذریعہ سرنگوں کرتاہے ، مکڑی کے جالے سے پیغمبر اسلام کی حفاظت کرتاہے ، کوّے کے ذریعہ نسل بشر کو تعلیم دی جاتی ہے ، گود کے بچے کے ذریعہ جناب مریم (ع)کی عفت اور پاکدامنی ثابت ہوتی ہے ، پیچھے سے پھٹے ہوئے کرتے سے جناب یوسف کی پاکدامنی ثابت کرتاہے ،ہدہد کی خبر ایک ملک کو باایمان بنا دیتی ہے اور اصحاب کہف کا انکشاف پیسے کے نمونے کے ذریعہ فرماتا ہے۔
پیام:
1۔ حق نہیں چھپتا لیکن مجرم رسوا ہوجاتا ہے( إِنَّهُ مِنْ کَیْدِکُنَّ )
2۔ ناپاک عورتوں کے مکر و فریب سے بچنا چاہیئے کیونکہ ان کا چلتر بڑے غضب کا ہوتا ہے ۔( إِنَّ کَیْدَکُنَّ عَظِیمٌ )
--------------
( 1 )سورہ نساء آیت 76
آیت 29:
(29) یُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَذَا وَاسْتَغْفِرِی لِذَنْبِکِ إِنَّکِ کُنتِ مِنْ الْخَاطِئِین.
''(اور عزیز مصر نے یوسف سے کہا:)اے یوسف اس کو جانے دو (اسے کہیں اور بیان نہ کرنا)اور (اپنی بیوی سے کہا:)تو اپنے گناہ کی معافی مانگ، کیونکہ بے شک تم ہی از سر تاپا خطاکاروں میں سے ہو''۔
پیام:
1۔ عزیز مصر چاہتا تھا کہ یہ بات مخفی رہ جائے لیکن سارا جہاں اس واقعہ سے مطلع ہو گیا تا کہ جناب یوسف (ع)کی پاکدامنی ثابت ہوجائے( یُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَذَ)
2۔ عزیز مصر نے بھی دوسرے کاخ نشینوں کی طرح ناموس اور غیرت کے سلسلے میں کاہلی کی اور اپنی بیوی کی سرزنش و توبیخ سنجیدگی سے نہیں کی ۔(وَاسْتَغْفِرِی)
3۔ غیر الٰہی نمائندے اپنی بیویوں کی غیر اخلاقی حرکات پر ان کے خلاف کوئی سنجیدہ اور فیصلہ کن اقدام کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ۔(وَاسْتَغْفِرِی)
4۔ عورت کا اپنے شوہرکے علاوہ کسی دوسرے سے جنسی رابطہ نامشروع و ناجائز ہے ۔(وَاسْتَغْفِرِی لِذَنْبِک)
آیت 30:
(30) وَقَالَ نِسْوَهٌ فِی الْمَدِینَ امْرَ الْعَزِیزِ تُرَاوِدُ فَتَاهَا عَنْ نَفْسِهِ قَدْ شَغَفَهَا حُبًّا إِنَّا لَنَرَاهَا فِی ضَلَالٍ مُبِینٍ
''اور شہر (مصر) میں عورتیں چرچا کرنے لگیں کہ عزیز (مصر) کی بیوی اپنے غلام سے (ناجائز) مطلب حاصل کرنے کی آرزومند ہے بےشک غلام نے اسے اپنی الفت میں لبھایا ہے ہم لوگ تو اسے صریح غلطی میں مبتلا دیکھتے ہیں''۔
نکات:
''شغاف '' ''دل کے اوپر پیچیدگی کو یادل کے اوپر نازک جلد جو دل کو اپنے گھیرے میں لئے رہتی ہے ''اسے کہتے ہیں اس جملہ میںشَغَفَهَا حُبًّا ،کے معنی یہ ہیں کہ دل میں محبت رچ بس گئی ہے اور عشق شدید ہو گیا ہے(1)
ہر شخص جناب یوسف (ع)کو اپنانا چاہتاہے جناب یعقوب (ع)اپنا فرزند جانتے ہیں(یا بُنیَّ ) قافلے والے آپ (ع)کو اپنا سرمایہ سمجھتے ہیں(شروه بثمن بخس) عزیز مصر آپ (ع)کو اپنا گود لیا ہوا فرزند سمجھتا ہے(نتخذه ولدا) زلیخا آپ (ع)کو اپنا معشوق سمجھتی ہے(ْ شَغَفَهَا حُبًّا) قیدی آپ (ع)کو خواب کی تعبیرکرنے والا سمجھتے ہیں(نبئنا بتاویله) لیکن خدا آپ کو اپنا برگزیدہ بندہ اور رسول سمجھتا ہے(یجتبیک ربک) اور جو کچھ جناب یوسف (ع)کے لئے رہ گیا تھا وہ مقام رسالت تھا(والله غالب علی امره)
--------------
( 1 )تفسیر نمونہ.
پیام:
1۔ حکومتی افراد اور ان کے خاندان کی خبریں جنگل کی آگ کی طرح پھیل جاتی ہیں ۔(قَالَ نِسْوَ امْرَ الْعَزِیز)
2۔ جب خدا چاہتا ہے تو دروازہ بند کرنے کے بعد بھی رسوائی کا داغ دامن کردار پر لگ ہی جاتا ہے ۔(قَالَ نِسْوَ امْرَ الْعَزِیزِ تُرَاوِدُ...)
آیت 31:
(31) فَلَمَّا سَمِعَتْ بِمَکْرِهِنَّ أَرْسَلَتْ إِلَیْهِنَّ وَأَعْتَدَتْ لَهُنَّ مُتَّکَأً وَآتَتْ کُلَّ وَاحِدَ مِّنْهُنَّ سِکِّینًا وَقَالَتِ اخْرُجْ عَلَیْهِنَّ فَلَمَّا رَأَیْنَهُ أَکْبَرْنَهُ وَقَطَّعْنَ أَیْدِیَهُنَّ وَقُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا هَذَا بَشَرًا إِنْ هَذَا إِلاَّ مَلَکٌ کَرِیمٌ
''تو جب زلیخا نے ان کے طعنے (اور بد گوئی) سنے تو اس نے عورتوں کو بلا بھیجا اور ان کےلئے ایک تکیہ گاہ آمادہ کی اور ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ایک چھری دے دی (تاکہ پھل وغیرہ کاٹ سکیں)اور یوسف سے کہا : اب ان کے سامنے سے نکل تو ج ، پس جب عورتوں نے انہیں دیکھا تو انہیں بڑا حسین پایا اور وہ سب کی سب (بیخودی ) میں اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں اور کہنے لگیں پاک ہے اللہ ،یہ آدمی نہیں ہے یہ تو (ہو نہ ہو بس)ایک معزز فرشتہ ہے ''۔
نکات:
کلمہ'' حاشا'' اور''تحاشی'' کنارے اور الگ تھلگ رہنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ،پرانے زمانے میں یہ رسم تھی کہ لوگ کسی کو بے عیب بتانا چاہتے تھے تو سب سے پہلے خداوندعالم کے بے عیب ہونے کو بیان کرتے پھر اس شخص کی بے عیبی کو بیان کرتے تھے۔(1)
--------------
( 1 )تفسیر المیزان.
پیام:
1۔کبھی کبھی دوسروں کے مسائل پیش کرنے کا ہدف دلسوزی نہیں ہوتی بلکہ حسد و جلن، سازش اور ان کے خلاف نقشہ کشی مدنظر ہوتی ہے(مَکْرِهِنّ)
2۔ جب عشق ہو جاتا ہے تو انسان ہاتھ کٹنے پر بھی متوجہ نہیں ہوتا ۔(قَطَّعْنَ أَیْدِیَهُنّ) (اب اگر آپ نے سنا کہ نماز کے وقت حضرت علی علیہ السلام کے پیروں سے تیر نکال لیا گیا لیکن آپ متوجہ نہ ہوئے تو اس پر تعجب نہ کیجئے ، اس لئے کہ اگر ظاہری حسن اور سطحی عشق ہاتھ کٹنے کی حد تک بڑھ سکتا ہے تو جمال واقعی سے گہرا عشق و محبت انسان کو کس کمال تک پہنچا سکتا ہے؟)
3۔ فوراً کسی پر تنقید نہیں کرنی چاہیئے اس لئے کہ اگر اس کی جگہ پر آپ ہوتے تو شاید وہی کام کرتے ۔(قَطَّعْنَ أَیْدِیَهُنّ) (تنقید کرنے والیوں نے جب ایک لحظہ کے لئے جناب یوسف کو دیکھا تو عزیز مصر کی بیوی کی طرح یوسف کی محبت میں گرفتار ہو گئیں۔)
4۔کبھی کبھی مکر کا جواب مکر سے دیا جاتا ہے (عورتوں نے عزیز مصر کی بیوی کا راز فاش کرنے کی سازش کی تھی لیکن اس نے مہمان بلا کر تمام سازشوں سے پردہ فاش کردیا۔( أَرْسَلَتْ إِلَیْهِنّ)
5 ۔ بزرگ اور بزرگواری کے مقابلہ میں انسان فطری طور پر انکساری وتواضع سے پیش آتا ہے ۔(أَکْبَرْنَه)
6۔ اہل مصر اس زمانے میں خدا اور فرشتوں پر ایمان رکھتے تھے ۔( حَاشَ لِلَّهِ مَلَکٌ کَرِیمٌ )
آیت 32:
(32) قَالَتْ فَذَلِکُنَّ الَّذِی لُمْتُنَّنِی فِیهِ وَلَقَدْ رَاوَدتُّهُ عَنْ نَفْسِهِ فَاسْتَعْصَمَ وَلَئِنْ لَمْ یَفْعَلْ مَا آمُرُهُ لَیُسْجَنَنَّ وَلِیَکُوناً مِّنَ الصَّاغِرِینَ
''(تب زلیخا ان عورتوں سے بولی جو اپنے ہاتھ کاٹ چکیں تھیں)بس یہ وہی تو ہے جس کے بارے تم سبمجھے ملامت کرتی تھیں اور ہاں بے شک میں اس سے اپنا مطلب حاصل کرنے کی خود اس سے آرزو مند تھی مگر اس نے اپنی عصمت قائم رکھی اور جس کام کا میں حکم دیتی ہوں اگر یہ نہ کرے گا تو ضرور قید بھی کیا جائے گا اور خوار بھی ہوگا''۔
نکات:
نفسیاتی اور معاشرتی شرائط انسان کے عکس العمل میں اثر انداز ہوتے ہیں جب زلیخا اپنے برے کام کے آشکار ہونے سے ڈری تو''غلقت الابواب'' دروازے بند کر ڈالے ،لیکن جب مصر کی عورتوں کو اپنی طرح دیکھتی ہے تو علی الاعلان کہتی ہے''انا راودته'' میں اس کی آرزومند تھی ۔
اسی طرح جب کسی معاشرے میں برائی کا احساس ختم ہوجاتا ہے تو ان کے لئے گناہ بڑے آسان ہو جاتے ہیں۔ شاید اسی کو روکنے کے لئے ہم دعائے کمیل میں پڑھتے ہیں''اللهم اغفرلی الذنوب التی تهتک العصم '' پروردگارا! میرے ان گناہوں کو بخش دے جو حیا کے پردے کو چاک کر دیتے ہیں ۔ کیونکہ شروع میں انسان کے لئے گناہ کرنا سخت ہوتا ہے لیکن جب حیا و شرم ختم ہوجاتی ہے تو پھر گناہ کرنا آسان ہو جاتا ہے ۔
پیام:
1۔ دوسروں پر ایسی ملامت نہ کرو جس میں خود ہی گرفتار ہوج( فَذَلِکُنَّ الَّذِی لُمْتُنَّنِی فِیهِ)
2۔گناہ سے آلودہ عشق ،رسوائی کا سبب ہوتا ہے ۔( رَاوَدتُّه)
3۔ جھوٹا رسوا ہوتا ہے ۔ جس نے کل کہا تھا کہ یوسف (ع)بدکاری کرنا چاہتے تھے (اراد باھلک سوئ)وہی آج کہہ رہی ہے۔( لقدرَاوَدتُّه) میں نے آرزو کی تھی ۔
4۔ کبھی دشمن بھی اپنے مدمقابل کی پاکدامنی کی گواہی دیتا ہے۔(فَاسْتَعْصَمَ) کبھی کبھی مجرم کا ضمیر بھی بیدار ہوجاتا ہے ۔
5۔ پاکدامنی نبوت کا لازمہ ہے ۔( فَاسْتَعْصَمَ )
6۔ بہت سے پاکدامن افراد اپنے ارادے اور قصد سے زندان میں جاتے ہیں(فَاسْتَعْصَمَ... لَیُسْجَنَنَّ) جناب یوسف اپنی پاکدامنی کے باوجود قید خانہ میں ڈال دئے جاتے ہیں۔
7۔ قدرت و طاقت سے غلط فائدہ اٹھانا اہل طاغوت کا طریقہ کار ہے۔(لَیُسْجَنَن)
8۔ قید اور رسوا ئی کی دھمکی ،اہل طاغوت کا وطیرہ و حربہ ہے ۔( لَیُسْجَنَنَّ... الصَّاغِرِین)
9۔ ناکام عاشق دشمن ہو جاتا ہے ۔( قَالَت...لَیُسْجَنَنَّ وَلِیَکُوناً مِنَ الصَّاغِرِینَ)
10۔ محل میں رہنے والوں میں غیرت کی حس ختم ہوجاتی ہے( عزیز مصر نے اپنی بیوی کی خیانت کو سمجھ لیا تھا اور اس سے توبہ کرنے کے لئے بھی کہا تھا لیکن اس کے باوجود جناب یوسف (ع)اور زلیخا کے درمیان جدائی نہ ڈالی)
آیت 33:
(33) قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَیَّ مِمَّا یَدْعُونَنِی إِلَیْهِ وَإِلاَّ تَصْرِفْ عَنِّی کَیْدَهُنَّ أَصْبُ إِلَیْهِنَّ وَأَکُنْ مِّنَ الْجَاهِلِینَ.
''(یہ سب باتیں سن کر یوسف نے)عرض کی اے میرے پالنے والے جس بات کی یہ عورتیں مجھ سے خواہش رکھتی ہیں اس کی نسبت مجھے قید خانہ زیادہ پسند ہے اور اگر تو ان عورتوں کا فریب مجھ سے دفع نہ فرمائے گا تو (مبادا)میں ان کی طرف مائل ہوجں اور جاہلوں سے شمار کیا جں''۔
نکات:
جناب یوسف (ع)،سراپا جواں مرد تھے۔ ایک بار بھائیوں کی حسادت کے نتیجے میں فدا ہوئے لیکن دشمنی نہیں کی ۔دوسری مرتبہ زلیخا کی شہوت کی وجہ سے قربان ہوئے لیکن گناہ نہیں کیا ۔ تیسری دفعہ قدرت کے وقت آپ (ع)نے اپنے بھائیوں سے انتقام نہیں لیا۔ چوتھی مرتبہ جیسے ہی ملک کوخطرے میں دیکھاتو وطن لوٹنے کی خواہش کے بجائے ملک کی نجات اور اقتصادی امور کی تدبیر میں لگ گئے ۔
ہر شخص کے لئے کوئی نہ کوئی چیز محبوب ہوتی ہے جناب یوسف (ع)کو اپنی پاکدامنی، عورتوں کی آرزں سے زیادہ محبوب ہے۔ ایک گروہ کےلئے دنیا زیادہ محبوب ہےیستحبون الحیوٰ الدنیا (1) اور مومنین کے لئے اللہ محبوب تر ہے ۔والذین آمنوا اشد حبّاً للّٰ ہ(2)(3)
--------------
( 1 )سورہ ابراہیم آیت 3
( 2 )سورہ بقر آیت 165
( 3 )واضح ہے کہ جناب یوسف(ع) کامرتبہ اس سے بھی بلند و بالا ہے ۔ مترجم.
پیام:
1۔ خداکی ربوبیت کی طرف متوجہ ہونا آداب دعا میں سے ایک ادب ہے۔ (رَبِّ )
2۔ اولیائے خدا شریفانہ زندگی کی پریشانیوں کو،گناہوں میں ملوث آرام دہ زندگی سے بہتر سمجھتے ہیں ۔( رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَیَّ )
3۔ہر آزادی کی اہمیت و عظمت نہیں ہے اور ہر قید خانہ عیب کا باعث نہیں ہے( رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَیَّ)
4۔ انسان، خداکی مدد کی بنیاد پر ہر قسم کے حالات اور شرائط میں گناہ سے کنارہ کشی کرسکتا ہے( رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ) (گناہ کے ماحول سے ہجرت ضروری ہے)
5۔ رنج ومحن گناہ کے مرتکب ہونے کا جواز نہیں ہوسکتے۔( رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ ...)
6۔ گناہ اور جنسی انحرافات سے محفوظ رہنے کےلئے خدا سے دعا اور مدد مانگنی چاہیئے(رَبِّ السِّجْنُّ ...)
7۔ انسان کی شخصیت اسکی روح سے وابستہ ہے نہ کہ اسکے جسم سے اگر روح آزاد ہو تو زندان بھی بہشت ہے اور اگر روح تکلیف میں ہو تو محل سرا بھی قید خانہ ہوتا ہے( السِّجْنُ أَحَبّ)
8۔یا تو تمام عورتیں جناب یوسف (ع)کی عاشق ہو گئیں اور ان تک پیغام بھجوایا یا پھر انہوں نے جناب یوسف (ع)کو عزیز مصر کی بیوی کی درخواست قبول کرنے کے لئے کہا(کَیْدَهُنَّ ، یَدْعُونَنِی)
9۔ کوئی بھی انسان لطف خدا کے بغیر ،گناہوں سے محفوظ نہیں رہ سکتاہے۔(وَإِلاَّ تَصْرِفْ عَنِّی...) بحرانی مواقع میں تنہا راہ نجات خدا پر بھروسہ ہے۔
10۔الٰہی امتحان لحظہ بہ لحظہ سخت سے سخت تر ہوتا جاتا ہے جناب یوسف (ع)پہلے ایک عورت کے مکر میں گرفتار تھے اب کئی عورتوں کے مکر میں گرفتار ہوگئے( کَیْدَهُنَّ ، إِلَیْهِنَّ)
11۔ خدا کی ناراضگی مول لے کر لوگوں کو راضی کرنا ،جہالت اور نادانی ہے۔(مِمَّا یَدْعُونَنِی وَأَکُنْ مِنْ الْجَاهِلِینَ)
12۔ گناہ ؛ وہبی اور خدا دادی علم کے سلب ہونے کا باعث بنتا ہے۔(اتیناه علما وحکما...اکن من الجاهلین)
13۔ صرف علم کا نہ ہونا جہالت نہیں ہے بلکہ ایک لحظہ کی لذت کا انتخاب کرنا اور رضائے الٰہی سے چشم پوشی بھی سب سے بڑی نادانی ہے۔(اکن من الجاهلین)
آیت 34:
(34) فَاسْتَجَابَ لَهُ رَبُّهُ فَصَرَفَ عَنْهُ کَیْدَهُنَّ إِنَّهُ هُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ
''تو ان کے پروردگار نے ان کی سن لی اور ان سے عورتوں کے مکر کو دفع کردیا اس میں شک نہیں کہ وہ بڑا سننے والا واقف کار ہے''۔
پیام:
1۔اللہ والےمستجاب الدعوات ہوتے ہیں۔( فَاسْتَجَابَ لَهُ)
2۔ جو شخص بھی خدا کی پناہ گاہ میں چلاجائے وہ ہر چیز سے محفوظ رہتا ہے۔(فَاسْتَجَابَ لَهُ رَبُّهُ فَصَرَفَ عَنْهُ کَیْدَهُنَّ )
3۔ استجابت دعا خدا کےسمیع و بصیرا ورعلیم ہونے کی دلیل ہے۔(فَاسْتَجَاب هُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ )
آیت 35:
(35) ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِنْ بَعْدِ مَا رَأَوُا الْآیَاتِ لَیَسْجُنُنَّهُ حَتَّی حِینٍ
''پھر (عزیز مصر اور اس کے لوگوں نے )باوجودیکہ (یوسف کی پاکدامنی کی )نشانیاں دیکھ لی تھیں اسکے بعد بھی ان کو یہی مناسب معلوم ہوا کہ کچھ مدت کے لئے ان کو قید ہی کر دیں''۔
پیام:
1۔ حسن و خوبصورتی ہمیشہ خوش بختی نہیں ہے بلکہ )کبھی کبھی( درد سر بھی بن جاتا ہے ۔( ثُمَّ بَدَا لَهُمْ لَیَسْجُنُنَّهُ )
2۔ ایک دیوانہ اگر کنویں میں ایک سوئی ڈال دے توسو(100) عقلمند مل کر بھی باہر نہیں نکال سکتے ایک عورت عاشق ہو گئی لیکن اتنے مرد اور حکومتی افراد مل کر بھی اس رسوائی سے بچنے کے لئے کوئی فکر اور تدبیر نہ کر سکے۔(بَدَا لَهُمْ مِنْ بَعْدِ مَا رَأَوْ)
3۔ اہل طاغوت کے درباروں اور محلوں میں عدالت کا نفاذ اور محاکمہ دکھاوے کے لئے ہوتاہے تاکہ بے گناہ لوگوں کو محکوم کیا جا سکے ۔( لَیَسْجُنُنَّهُ)
4۔ کاخ نشین عام طور پر لا پرواہ اور بے شرم ہوتے ہیں ۔( مِنْ بَعْدِ مَا رَأَوُا الْآیَاتِ لَیَسْجُنُنَّهُ ) جناب یوسف کی پاکدامنی کی ان تمام دلیلوں کے باوجود آپ کو قید خانہ میں ڈال دیتے ہیں۔
آیت 36:
(36) وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ فَتَیَانِ قَالَ أَحَدُهُمَا إِنِّی أَرَانِی أَعْصِرُ خَمْرًا وَقَالَ الْآخَرُ إِنِّی أَرَانِی أَحْمِلُ فَوْقَ رَأْسِی خُبْزًا تَأْکُلُ الطَّیْرُ مِنْهُ نَبِّئْنَا بِتَأْوِیلِهِ إِنَّا نَرَاکَ مِنْ الْمُحْسِنِینَ
''اور قید خانے میں یوسف کے ساتھ دو جوان بھی داخل ہوئے (چند دن کے بعد)ان میںسے ایک نے کہا کہ میںنے (خواب) دیکھا ہے کہ میں شراب (بنانے کے واسطے انگور) نچوڑ رہا ہوں اور دوسرے نے کہا (میں نے بھی خواب میں)اپنے کو دیکھاکہ میں اپنے سرپر روٹی اٹھائے ہوئے ہوں اور پرندے اس میں سے کھا رہے ہیں (یوسف) ہمیں اس کی تاویل بت ،یقینا آپ ہمیں ایک نیک انسان نظر آتے ہیں ''۔
نکات:
ایک حدیث میں آیا ہے کہ جناب یوسف (ع)کو نیک انسان کہنے کی وجہ یہ تھی آپ (ع)قید خانہ میں مریضوں کی خدمت کرتے تھے اور محتاجوں کی مشکلات کو دور کرنے نیز تمام لوگوں کی مشکل حل کرنے کی سعی فرماتے تھے(1)
--------------
( 1 )تفسیر نور الثقلین ۔ میزان الحکم مادہ (سجن)
پیام:
1۔ تاریخی طور پر قیدی اور قید خانہ کا سابقہ بہت قدیمی ہے ۔( وَدَخَلَ مَعَهُ السِّجْنَ)
2۔ جناب یوسف (ع)کا قید خانہ ،عمومی تھا۔( مَعَهُ السِّجْن)
3۔ لوگوں کا احترام کرنا چاہیئے۔ قرآن کریم جناب یوسف (ع)کے قیدی ساتھیوں کو
(فتیان) کہہ رہا ہے ۔
4۔ تمام خوابوں کو آسان نہیں سمجھنا چاہیئے کیونکہ بعض خوابوں میں اسرار پوشیدہ ہوتے ہیں(أَرَانِی أَعْصِرُ خَمْرً) ۔(ممکن ہے کہ معمولی انسان بھی اہم خواب دیکھ لیں)
5۔ اگرانسان کسی پر اعتماد کرلیتاہے تو اسکو اپنے تمام راز بتا دیتاہے( إِنَّا نَرَاکَ مِنْ الْمُحْسِنِینَ)
6۔نیک سیرت افراد قید خانہ میں بھی دوسروں کو متاثر کردیتے ہیں( إِنَّا نَرَاکَ مِنْ الْمُحْسِنِینَ)
7۔ مجرم اور گناہ کار لوگ بھی نیک طینت افراد کے لئے ایک خاص مقام و منزلت کے قائل ہوتے ہیں ۔( إِنَّا نَرَاکَ مِنْ الْمُحْسِنِینَ)
آیت 37:
(37) قَالَ لاَیَأْتِیکُمَا طَعَامٌ تُرْزَقَانِهِ إِلاَّ نَبَّأْتُکُمَا بِتَأْوِیلِهِ قَبْلَ أَنْ یَأْتِیَکُمَا ذَلِکُمَا مِمَّا عَلَّمَنِی رَبِّی إِنِّی تَرَکْتُ مِلَّ قَوْمٍ لاَیُمِنُونَ بِاﷲِ وَهُمْ بِالْآخِرَ هُمْ کَافِرُونَ.
''یوسف نے کہا : اس سے پہلے کہ جو کھانا تمہیں (قید خانہ سے ) دیا جاتا ہے وہ آئے میں تمہیں اسکی تعبیر بتادوں گا یہ (تعبیر خواب بھی)منجملہ ان باتوں میں سے ہے جو میرے پروردگار نے مجھے تعلیم فرمائی ہیں،میں نے ان لوگوں کا مذہب چھوڑ دیا ہے جو خدا پرایمان نہیں لاتے اور آخرت کے بھی منکر ہیں ''۔
نکات:
آیت کے ترجمے کے پہلے حصے میں یہ احتمال ہے کہلاَیَأْتِیکُمَا ... کا مقصود یہ ہو کہ میں خدا کی طرف سے جانتا ہوں کہ وہ غذا جو تمہارے لئے لائیں گے وہ کیا ہے ۔ لہٰذا میں تمہارے خواب کی تعبیر بھی کرسکتا ہوں یعنی جناب یوسف (ع)نے تعبیر خواب کے علاوہ دوسری چیزوں کی بھی خبردی ہے جس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام گھروںمیںجو کچھ غذں کا ذخیرہ ہوتا تھا اور جو لوگ جو کچھ کھاتے تھے سب کی خبر دے دیتے تھے ۔
سوال:جناب یوسف (ع) نے ان کے خواب کی تعبیر فوراً کیوںنہیں بتائی بلکہ اس کو کچھ دیرکے لئے مخر کیوںکردیا؟ اس سوال کے جواب کو فخر رازی کی زبان سے ملاحظہ فرمائیے:
1۔جناب یوسف (ع)ان کو انتظار میں رکھنا چاہتے تھے تاکہ اس مدت میں ان کو نصیحت اور تبلیغ کرسکیں تاکہ شاید وہ شخص جس کو پھانسی دی جانے والی ہے وہ ایمان لے آئے اور باایمان اور عاقبت بخیر اس دنیا سے کوچ کرے ۔
2۔جناب یوسف (ع)اس غذا کی قسم کو بیان کر کے جو ابھی نہیں آئی تھی ا نکا اعتماد حاصل کرنا چاہتے تھے ۔
3۔جناب یوسف (ع)ان کو زیادہ تشنہ کرنا چاہتے تھے تاکہ وہ اچھی طرح سنیں ۔
4۔چونکہ ان میں سے ایک کے خواب کی تعبیر پھانسی تھی لہٰذا دھر ادھر کی باتیں کررہے تھے تاکہ یہ بات سنتے ہی اس کی روح پرواز نہ کرجائے۔
پیام:
1۔ کبھی کبھی زیادہ متاثر کرنے کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ انسان علمی قدرت اور کمالات کو دوسروں سے بیان کرے ۔(نَبَّأْتُکُمَا بِتَأْوِیلِهِ)
2۔ فرصت سے خوب فائدہ اٹھانا چاہیئے ۔(نَبَّأْتُکُمَا بِتَأْوِیلِهِ... إِنِّی تَرَکْتُ مِلَّ...) جناب یوسف (ع)نے تعبیر خواب سے پہلے انکی تربیت اور عقیدہ کی اصلاح شروع کی۔
3۔ اپنی معلومات اور علم کو خدا کی عطا قرار دینا چاہیئے ۔(عَلَّمَنِی رَبِّی )
4۔ تعلیم کاہدف تربیت بھی ہے(عَلَّمَنِی رَبِّی )
5۔ خداوندعالم حکیم ہے لہٰذا بغیر کسی وجہ کے اپنے علم کے دروازے ہر کس و ناکس پر نہیں کھولتا(عَلَّمَنِی رَبِّی ) اس لئے کہ میں نے( تَرَکْتُ مِلَّ قَوْمٍ لاَ یُمِنُونَ) اس قوم کے عقیدہ کو چھوڑ دیا جو ایمان دار نہیں ہے ۔
6۔جو کفر کی ظلمتوں سے فرار کرتا ہے اسکی نور ِعلم تک رسائی ہوتی ہے(عَلَّمَنِی رَبِّی... إِنِّی تَرَکْتُ) میرے علم کا سبب کفر کو ترک کرنا ہے ۔
7۔ تمام ادیان آسمانی میں توحید اور معاد کا عقیدہ ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہے ۔(قَوْمٍ لاَ یُمِنُونَ بِاﷲِ وَهُمْ بِالْآخِرَ هُمْ کَافِرُونَ )
8۔ ایمان کی بنیاد تولیٰ اور تبرا ہے لہٰذا اس آیت میں کفار سے برائت اور بعد والی آیت میں اولیاء الٰہی سے تولیٰ کا تذکرہ ہے۔(إِنِّی تَرَکْتُ...واتبعت)
آیت 38:
(38)وَاتَّبَعْتُ مِلَّ آبَائِی إِبْرَاهِیمَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ مَا کَانَ لَنَا أَنْ نُشْرِکَ بِاﷲِ مِنْ شَیْءٍ ذَلِکَ مِنْ فَضْلِ اﷲِ عَلَیْنَا وَعَلَی النَّاسِ وَلَکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لاَیَشْکُرُونَ
''اور میں تو اپنے باپ دادا ابراہیم و اسحاق و یعقوب کے مذہب کا پیرو ہوں ہمارے لئے مناسب نہیں ہے کہ ہم خدا کے ساتھ کسی چیز کو (اس کا) شریک بنائیں یہ بھی خدا کی ایک بڑی مہربانی ہے ہم پر بھی اور تمام لوگوں پر، مگر بہترے لوگ (اس کا)شکر (بھی )ادا نہیں کرتے''۔
نکات:
خاندانی شرافت جس طرح لوگوں کی شخصیت سازی میں موثر ہے اسی طرح قبول کرنے میں بھی اثر انداز ہے لہٰذا حضرت یوسف علیہ السلام خود کو پہچنوانے کےلئے نہ صرف اپنے باپ دادا کے انبیاء (ع)ہونے پر انحصار کررہے ہیں بلکہ اپنی خاندانی شرافت و عظمت کو پیش کرنے کےساتھ ہی ساتھ اپنی دعوت حق کی اہمیت کو بھی اجاگر کر رہے ہیں یہ وہی روش ہے جسے اپنا تعارف کروانے کےلئے ہمارے پیغمبر (ص) نے اختیار فرمایا : میں وہی نبی امی ہوں جسکا نام و تعارف توریت و انجیل میں موجود ہے ۔ نیز امام حسین علیہ السلام اور امام زین العابدین علیہ السلام نے بھی کربلا و شام میں اپنی معرفت کروانے کےلئے اسی روش سے استفادہ فرمایا تھا:(انا بن فاطم الزهر(ع) (1) ۔
کلمہ ''ملت'' قرآن مجید میںدین و مذہب کے معنی میں استعمال ہوا ہے سورہ حج کی 78 ویں آیت میں مل ابراھیم کی تصویر کشی اسطرح کی گئی ہے ''اور خدا کی راہ میں ایسے جہاد کرو جیسے جہاد کرنے کا حق ہے اس( خدا)نے تمہیں منتخب کیا اور دین کے معاملہ میں تمہیں کسی مشکل سے دوچار نہیں کیا ،یہ تمہارے باپ ابراہیم کا دین ہے .۔۔لہٰذا نماز قائم کرو اور زکو دیا کرو اوراللہ کے ساتھ متمسک رہو۔۔''
--------------
( 1 )میں فرزند فاطمہ الزہرا (ع)ہوں۔
پیام:
1۔ حق تک پہنچنے کے لئے باطل کی شناخت اور اسے ترک کرنا ضروری ہے(تَرَکْتُ مِلَّ قَوْمٍ لاَیُمِنُونَ وَاتَّبَعْتُ مِلَّ...)
2۔ دادا ، باپ کے حکم میں ہے لہٰذا دادا کو بھی ''اب ''کہا گیا ہے ۔( مِلَّ آبَائِی إِبْرَاهِیمَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ)
3۔انبیاء (ع)کو پاک اور شریف خاندان سے ہونا چاہیئے( آبَائِی إِبْرَاهِیمَ وَإِسْحَاقَ...)
4۔تمام انبی(ع)ء ِالٰہی کا ہدف ایک ہے( مِلَّ آبَائِی إِبْرَاهِیمَ وَإِسْحَاقَ...)
5۔نبوت اور ہدایت تمام بشریت کےلئے توفیق اور فضل الٰہی ہے(عَلَیْنَا وَعَلَی النَّاسِ )
6۔ منفی راہوں کے ساتھ مثبت راستوں کی نشاندہی کرنا بھی ضروری ہے۔(تَرَکْتُ مِلَّ... وَاتَّبَعْتُ مِلَّ ...)
7۔ توحید کی طرف رجحان اور شرک سے پرہیز کے لئے ''توفیق الہی''ضروری ہے۔(ذَلِکَ مِنْ فَضْلِ اﷲِ ...)
8۔ شرک تمام صورتوں میں قابل مذمت ہے (ذات ، صفات ، افعال اور عبادات)( مِنْ شَیْئٍ)
9۔ ''کثرت افراد ''شناخت کے لئے صحیح معیار نہیں ہے(أَکْثَر النَّاسِ لاَیَشْکُرُونَ)
10۔ انبیاء (ع)کی راہ سے روگردانی بہت بڑی کفران نعمت ہے ۔( لاَیَشْکُرُونَ)
11۔ شرک کرنا ، خداتعالیٰ کی ناشکری ہے( لاَیَشْکُرُونَ)
آیت 39:
(39) یَاصَاحِبَیِ السِّجْنِ أَأَرْبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَیْرٌ أَمِ اﷲُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ.
''اے میرے قید خانہ کے دونوں رفیقو! (ذرا غور تو کرو کہ) بھلا جدا جدا معبود اچھے ہیں یا خدائے یکتا زبردست''۔
انسانو ں کی تین قسمیں ہیں :
1۔ ''قالب پذیر'' یعنی جن کی اپنی کوئی شکل نہ ہو جیسے پانی اور ہوا ، جس قالب میں ڈالیں وہی شکل اختیار کرلیں گے ۔
2۔ نفوذ ناپذیر اور مقاومت کرنے والے جیسے لوہا جو بیرونی طاقت کے مقابلے میں سختی سے مقابلہ کرتا ہے۔
3۔ لیکن تیسری قسم ان افراد کی ہے جو دوسروں پر اثرانداز ہوتے ہیں جیسے ''امام اور رہبر''جو دوسروں کو خدائی رنگ میں رنگ دیتے ہےں حضرت یوسف علیہ السلام انسانوں کی اس تیسری قسم سے تعلق رکھتے ہیں جس کا ایک نمونہ یہ ہے کہ قید خانہ میں مشرک کو موحد بنا رہے ہیں ۔
قرآن مجید میں مختلف مقامات پر سوالات اور تقابلی جائزہ لینے کی روش سے استفادہ کیا گیا ہے خداوندعالم کے سلسلے میں اس کے بعض نمونے قابل توجہ ہیں ۔
(هل من شرکائکم من یبدأالخلق ثم یعیده) (1) کیا تمہارے شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے جو خلقت کی ابتدا بھی کرتا ہو اور پھر اسے دوبارہ بھی پیدا کرے ؟( هل من شرکائکم من یهدی الی الحق ) (2) کیا تمہارے شریکوں میں سے کوئی ایسا ہے جو حق کی طرف ہدایت کرے ؟(أ غیر الله ابغی رباً وهو رب کل شی) (3)
آیا خدائے یکتا کے علاوہ دوسرے خدا کو قبول کرلوں حالانکہ وہی تمام چیزوں کا پروردگار رہے؟(ءَ اﷲ خیر اما یشرکون ) (4) اللہ بہتر ہے یا وہ جس کو (خدا کا) شریک بنا رہے ہیں؟
--------------
( 1 )سورہ یونس آیت 34
( 2 ) سورہ یونس آیت 35
( 3 ) سورہ انعام آیت 164
(4) سورہ نمل آیت 59
پیام:
1۔ لوگوں کو پیار محبت سے دعوت دیں( یَاصَاحِبَیِ)
2۔ حساس زمان و مکان سے تبلیغ کےلئے استفادہ کرنا چاہیئے ۔( یَاصَاحِبَیِ السِّجْنِ أَأَرْبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ .)
(قید خانہ میں جیسے ہی حضرت یوسف (ع) نے مشاہدہ کیا کہ یہ لوگ تعبیر خواب کے محتاج ہیں فوراً اس موقع کو غنیمت سمجھ کر اس سے تبلیغ کے لئے فائدہ اٹھایا )
3۔سوال و جواب اور تقابلی جائزہ ،ارشاد و ہدایت کے طریقوں میں سے ایک طریقہ ہے ۔( أَأَرْبَابٌ مُتَفَرِّقُونَ خَیْرٌ...)
آیت 40:
(40) مَا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِهِ إِلاَّ أَسْمَائً سَمَّیْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآبَکُمْ مَا أَنزَلَ اﷲُ بِهَا مِنْ سُلْطَانٍ إِنْ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلَّهِ أَمَرَ أَلاَّ تَعْبُدُوا إِلاَّ إِیَّاهُ ذَلِکَ الدِّینُ الْقَیِّمُ وَلَکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لاَیَعْلَمُونَ.
''(افسوس) تم لوگ تو خدا کو چھوڑ کر بس ان چند ناموں ہی کی پرستش کرتے ہو جن کو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے گڑھ لیاہے ،خدا نے تو ان کے لئے کوئی دلیل نہیں نازل کی ، حکومت تو بس خدا ہی کے واسطے (خاص)ہے اس نے (تو)حکم دیا ہے کہ تم اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو یہی مستحکم دین ہے مگر (افسوس) بہتیرے لوگ نہیں جانتے''۔
پیام:
1۔خدائے یکتا کے علاوہ دوسرے خدں کی کوئی حقیقت نہیں ہے بلکہ وہ صرف تمہارے اور تمہارے بزرگوں کی خیال پروری ہے ۔( مَا تَعْبُدُونَ إِلاَّ أَسْمَائً سَمَّیْتُمُوهَا أَنْتُمْ وَآبَکُمْ)
2۔ بہت ساری طاقتیں، کمیٹیاں ، انجمنیں، ادارے ، سیمنار، قراردادیں، ملاقاتیں ، حمایتیں، اطاعتیںاور دوسرے عناوین و القاب ''بے مسمی'' اسم اور ہمارے جدید دور کے بت ہیں جن کو ہم نے خود بنایا ہے اور خدا کے بجائے ان کے گرویدہ ہوگئے ہیں ۔( مَا تَعْبُدُونَ...إِلاَّ أَسْمَائً سَمَّیْتُمُوهَا )
3۔ انسان کے عقائد عقلی اور شرعی دلائل پر استوار ہونے چاہییں۔( مِنْ سُلْطَانٍ)
4۔ خدا کے علاوہ کسی دوسرے کے حکم پر فروتنی کا مظاہرہ نہ کیجئے کیونکہ حکم صادر کرنے کا حق فقط خدا کو ہے ۔( إِنْ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلَّهِ )
5۔ خدا کے قانون کے علاوہ ہر قانون متزلزل ہے ۔(ذَلِکَ الدِّینُ الْقَیِّمُ)
6۔ جہالت و نادانی شرک کا باعث بنتی ہے۔(لاَیَعْلَمُونَ)
7۔ اکثر و بیشتر لوگ جاہل ہیں ۔( أَکْثَرَ النَّاسِ لاَیَعْلَمُونَ) ( یا تو جاہل بسیط ہیں یعنی اپنی نادانی سے واقف ہےں یا جہل مرکب ہیں یعنی اپنے گمان میں عالم ہے حالانکہ حقیقت میں جاہل ہےں)
آیت 41:
(41) یَاصَاحِبَیِ السِّجْنِ أَمَّا أَحَدُکُمَا فَیَسْقِی رَبَّهُ خَمْرًا وَأَمَّا الْآخَرُ فَیُصْلَبُ فَتَأْکُلُ الطَّیْرُ مِنْ رَّأْسِهِ قُضِیَ الْأَمْرُ الَّذِی فِیهِ تَسْتَفْتِیَانِ
''اے میرے قید خانہ کے دونوں رفیقو! (اچھا اب تعبیر خواب سنو)تم میں سے ایک (جس نے انگور دیکھے ہیں، رہا ہو کر)اپنے مالک کو شراب پلائے گا اور دوسرا (جس نے روٹیاں سر پر دیکھی ہیں)سولی پر چڑھایا جائےگا اور پرندے اس کا سر (نوچ نوچ کر)کھائیں گے جس امر کو تم دونوں دریافت کرتے ہو (وہ یہ ہے اور) اس کا فیصلہ ہو چکا ہے''۔
نکات:
کلمہ'' ربّ'' حاکم، مالک اورارباب کے معنی میں استعمال ہوتاہے ۔ بطور مثال ''رب الدار'' یعنی مکان کا مالک۔ پس اس جملہ''فَیَسْقِی رَبَّهُ خمراً'' کا معنی ''اپنے حاکم کو شراب پلائے گا''ہوگا۔
پیام:
1۔ لوگوں کا احترام کرنا چاہیئے اگرچہ وہ آپ کے ہم فکر نہ ہوں۔(یَا صَاحِبَی)
2۔ نوبت اورباری کی رعایت کرنی چاہیئے( أَمَّا أَحَدُکُمَا...) (پہلے وہ جس نے پہلے خواب کا تذکرہ کیا تھا)
3۔ بعض خوابوں کی تعبیر بہت اہم ہو سکتی ہے اگرچہ اس کا دیکھنے والا مشرک ہی کیوں نہ ہو ۔(فَیَسْقِی رَبَّهُ خَمْرً)
4۔ حضرت یوسف (ع) کا خواب کی تعبیر بیان کرنا قیاس یا پیش بینی نہیں ہے بلکہ خدا کی طرف سے قطعی خبر ہے۔( قُضِیَ الْأَمْرُ)
آیت 42:
(42) وَقَالَ لِلَّذِی ظَنَّ أَنَّهُ نَاجٍ مِنْهُمَا اذْکُرْنِی عِنْدَ رَبِّکَ فَأَنسَاهُ الشَّیْطَانُ ذِکْرَ رَبِّهِ فَلَبِثَ فِی السِّجْنِ بِضْعَ سِنِینَ
''اور ان دونوں میں سے جس کی نسبت یوسف نے سمجھا تھا کہ وہ رہا ہو جائے گا اس سے کہا : اپنے مالک (عزیز مصر)کے پاس میرا تذکرہ کرنا مگر شیطان نے اسے اپنے آقا سے (یوسف کا)ذکر کرنا بھلا دیا یوں یوسف قید خانہ میں کئی برس رہے ''۔
نکات:
''ظَنّ'' علم و اعتقاد کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے چونکہ حضرت یوسف (ع) نے گذشتہ آیت میں یقین و صراحت کے ساتھ ایک قیدی کی آزادی اور دوسرے کو سزائے موت کی خبر دی ہے لہٰذا یہاں پر ''ظن' 'کے معنی گمان اور شک و تردید کے نہیں ہیں۔
کلمہ'' بِضْعَ'' دس سے کم عدد کے لئے استعمال کیاجاتاہے اوراکثر مفسرین نے حضرت یوسف (ع)کی قید کی مدت سات سال ذکرکی ہے(والله اعلم)
بعض تفسیروں میں اس جملہ'' فَأَنسَاهُ الشَّیْطَانُ'' کا ترجمہ اس طرح کیا گیا ہے: ''شیطان نے پروردگار کی یاد کو جناب یوسف(ع) کے ذہن سے بھلا دیا اور آپ (ع)نے خدا سے مدد طلب کرنے کے بجائے بادشاہ کے ساقی سے مدد چاہی'' یہ حضرت یوسف (ع)کا ترک اولی تھا لہٰذا چند سال مزید آپ(ع) زندان میں رہے مگر صاحب تفسیر المیزان علامہ طباطبائی (رح)تحریر فرماتے ہیں کہ ایسی روایات قرآن مجید کے خلاف ہیں ۔ کیونکہ قرآن مجید نے حضرت یوسف (ع)کو مخلصین میں شمار کیا ہے اور مخلصین تک شیطان کی رسائی نہیں ہے اس کے علاوہ 45ویں آیت میں آیا ہے کہ''َقَالَ الَّذِی نَجَا مِنْهُمَا وَادَّکَرَ بَعْدَ أُمَّ ''ان دو قیدیوںمیں سے جس (قیدی)نے رہائی پائی تھی اسے بڑی مدت کے بعد وہ بات یاد آگئی۔ یہاں سے معلوم ہوتاہے کہ فراموشی، ساقی سے مربوط ہے حضرت یوسف (ع)سے نہیں۔
پیام:
1۔ انبیاء (ع)بھی معمولی راستوں سے اپنی مشکلات حل کرنے کے لئے اقدامات کرتے ہیں اور یہ توحید و توکل الٰہی کے منافی بھی نہیںہے۔(اذْکُرْنِی عِنْدَ رَبِّکَ)
2۔ ہر تقاضا رشوت نہیں ہے(اذْکُرْنِی عِنْدَ رَبِّکَ) جناب حضرت یوسف (ع)نے ہدایت اور تعبیر خواب کے لئے کوئی اجرت اور رشوت کی درخواست نہیں کی بلکہ فرمایا کہ میری مظلومیت کی خبر بادشاہ تک پہنچادو۔
3۔عام طور پر لوگ کسی مرتبے ، مقام اور آسائش کے بعد پرانے دوستوں کو بھول جاتے ہیں ۔( فَأَنسَاهُ الشَّیْطَانُ)
4۔ حضرت یوسف (ع)کا قید خانہ سے نکلنا اور تہمت سے بری ہونا، شیطان کے اہداف کے خلاف تھا لہٰذا اس نے جناب یوسف (ع)کی یاد کو ساقی کے ذہن سے محو کرنے کی سازش کی( فَأَنسَاهُ الشَّیْطَانُ)
آیت 43:
(43) وَقَالَ الْمَلِکُ إِنِّی أَرَی سَبْعَ بَقَرَاتٍ سِمَانٍ یَأْکُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعَ سُنْبُلَاتٍ خُضْرٍ وَأُخَرَ یَابِسَاتٍ یَاأَیُّهَا الْمَلَأُ أَفْتُونِی فِی رُیَای إِنْ کُنتُمْ لِلرُّیَا تَعْبُرُونَ
''اور (ایک دن)بادشاہ نے (بھی خواب دیکھا اور)کہا کہ میں نے دیکھا ہے کہ سات موٹی تازی گائیں ہیں انکو ساتھ دبلی پتلی گائیں کھائے جاتی ہیں اور سات تازی سبز بالیاں اور (سات) سوکھی خشک بالیاں خواب میں دیکھی ہیں اے (میرے دربار کے)سردارو! اگر تمہیں خواب کی تعبیر آتی ہے تو میرے (اس) خواب کے بارے میں نظریہ پیش کرو''۔
نکات:
ابھی تک اس سورہ میں تین خواب ذکر ہوئے ہیں(1) خود حضرت یوسف (ع)کا خواب(2) قید خانہ کے رفیقوں کا خواب(3) بادشاہ مصر کا خواب۔
پہلا خواب آپ (ع) کے لئے پریشانی کا سبب بنا لیکن دوسروں کے خوابوں کی تعبیر کا بتانا آپ(ع) کےلئے عزت و شرف کا باعث بنا۔ توریت میں آیا ہے کہ ایک بار بادشاہ نے دیکھا کہ لاغر اور کمزور گائیں موٹی تازی گائیوں کو کھائے جارہی ہیں اور دوسری مرتبہ دیکھا کہ سبز بالیاں خشک بالیوں کےساتھ ہیں(1)
--------------
( 1 )تفسیر المیزان.
آیا عزیز مصر وہی بادشاہ مصر ہے یا دوالگ الگ شخصیات ہیں ؟ اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے چونکہ اس بحث کا کوئی عملی فائدہ نہیں ہے لہٰذا ہم اس بحث سے چشم پوشی کرتے ہیں ۔
کتاب ''روضہ کافی'' میں ہے کہ خواب کی تین قسمیں ہیں :
1۔خدا کی طرف سے خوشخبری۔
2۔شیطان کی طرف سے وحشت زدہ کرنا ۔
3۔ بے سروپا اور پریشان کرنے والے خواب۔
پیام:
1۔ ایک ظالم بادشاہ کے خواب دیکھنے سے خدا ایک قوم کو خشک سالی سے نجات دیتا ہے (بشرطیکہ تعبیر بتانے والا یوسف(ع) ہو)۔(قَالَ الْمَلِکُ إِنِّی أَرَی)
2۔ بادشاہ مصر نے اپنے تعجب آور خواب کو کئی بار دیکھا تھا۔(أَرَی)
3۔ رسا اور صاحب قدرت افراد تھوڑی سی ناگواری سے خطرے کا احساس کرنے لگتے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم سے قدرت چھین لی جائے ۔(قَالَ الْمَلِکُ إِنِّی أَرَی ...أَفْتُونِی فِی رُیَای)
4۔ تعبیر خواب کے لئے اہل کی طرف رجوع کرنا چاہیئے ہر کس و ناکس کی تعبیر پر اعتماد اور توجہ نہیں کرنی چاہیئے ۔(أَفْتُونِی إِنْ کُنتُمْ لِلرُّیَا تَعْبُرُونَ)
آیت 44:
(44) قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ وَمَا نَحْنُ بِتَأْوِیلِ الْأَحْلَامِ بِعَالِمِینَ
''ان لوگوں نے عرض کی یہ تو پریشان خوابوں میں سے ہے اور ہم لوگ اس قسم کے پریشان خوابوں کی تعبیر نہیں جانتے''۔
نکات:
لفظ''اضغاث'' ضَغث کی جمع ہے جو ''مخلوط کرنے'' کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور''ضغث'' لکڑی کے گٹھڑ کوبھی کہتے ہیں، لفظ''احلام'' حلم کی جمع ہے جو پریشان خواب کے معنی میں ہے''اضغاث احلام'' یعنی وہ پراکندہ اور پریشان خواب جس کا سرا تعبیر کرنے والوں کی سمجھ سے باہر ہو۔
پیام:
1۔اپنی جہالت اور نادانی کی توجیہ نہیں کرنی چاہیئے چونکہ اہل دربار خواب کی صحیح تعبیر سے ناواقف تھے لہٰذا بادشاہ کے خواب کو پریشان خواب کہہ دیا ۔(قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ )
2۔ ہر کام کو اس کے اہل کے سپرد کرنا چاہیئے (ماہر محقق اور دانشمند ، تعبیر خواب کرتا ہے لیکن جو اس سے نابلد ہوتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ خواب پریشان ہے جو قابل تعبیر نہیں ہے)۔(مَا نَحْنُ بِتَأْوِیلِ الْأَحْلَامِ بِعَالِمِینَ )
آیت 45:
(45) وَقَالَ الَّذِی نَجَا مِنْهُمَا وَادَّکَرَ بَعْدَ أُمَّ أَنَا أُنَبِّئُکُمْ بِتَأْوِیلِهِ فَأَرْسِلُونِ
''اور جس (قیدی )نے ان دونوں( قیدیوں)میں سے رہائی پائی تھی اور اسے ایک زمانہ کے بعد (یوسف کا قصہ) یاد آیا ،بول اٹھا کہ مجھے (قید خانہ تک)جانے دیجئے تو میں اس کی تعبیر بتائے دیتا ہوں'' ۔
نکات:
''ام'' اگرچہ انسانوں کے اجتماع کو کہا جاتا ہے لیکن یہاں پر ایام (مدتوں)کے اجتماع کے معنی میں استعمال ہوا ہے(1) ۔
پیام:
1۔ اچھائیاں اپنے اثرات کو دیر یا سویر آشکار کر ہی دیتی ہیں ۔(ادَّکَرَ بَعْدَ أُمَّ)
2۔ صاحبان علم کو معاشرے کے سامنے پہچنوائیں تاکہ لوگ ان سے بہرہ مند ہوسکیں۔(فَأَرْسِلُونِ)
3۔ بعض محققین بڑی سخت زندگی گزار رہے ہیں ان سے غافل نہیں ہونا چاہیئے۔(فارْسِلُونِ)
--------------
( 1 )تفسیر کبیر وتفسیرالمیزان.
آیت 46:
(46) یُوسُفُ أَیُّهَا الصِّدِّیقُ أَفْتِنَا فِی سَبْعِ بَقَرَاتٍ سِمَانٍ یَأْکُلُهُنَّ سَبْعٌ عِجَافٌ وَسَبْعِ سُنْبُلَاتٍ خُضْرٍ وَأُخَرَ یَابِسَاتٍ لَعَلِّی أَرْجِعُ إِلَی النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَعْلَمُونَ
''(غرض وہ گیا اور یوسف سے کہنے لگا)اے یوسف اے بڑے سچے (یوسف) ذرا ہمیں یہ تو بتائےے کہ سات موٹی تازی گائیوں کو سات دبلی پتلی گائیں کھائے جاتی ہیں اور سات تازی ہری بالیاں اور پھر سات سوکھی مرجھائی ہوئی (اس کی تعبیر کیا ہے)تا کہ میں لوگوں کے پاس پلٹ کر جں (اور بیان کروں)تا کہ ان کو بھی (تمہاری قدر اور اس خواب کی حقیقت)معلوم ہوجائے''۔
نکات:
' صدّیق' اس شخص کو کہتے ہیں جس کی رفتار و گفتار اور عقیدہ سب ایک دوسرے کی تصدیق کریں ۔چونکہ حضرت یوسف (ع)کے دوست ان کی رفتار و گفتار کا قید خانہ میں مشاہدہ کرچکے تھے اور دوسری طرف اس شخص نے اپنے اور اپنے ساتھی کے خواب کی تعبیر کو واقع کے مطابق پایا تھا لہٰذا حضرت یوسف (ع)کو صدیق کہہ کر پکارا ۔
خداوندعالم نے حضرت ابراہیم (ع)کو صدیق کہا تو انہیں اپنا خلیل بنا لیا(واتخذ الله ابراهیم خلیلا) (1)
حضرت مریم (ع)کو صدیقہ کہا توانہیں برگزیدہ بنا دیا(ان اﷲاصطفاکِ) (2) اورحضرت یوسف (ع)کو صدیق کہا تو ان کو ہر طرح کی قدرت عطا کر دی(وکذلک مکّنا لیوسف ) (3)
حضرت ادریس (ع)کو صدیق کہا تو بلند مقام تک پہنچا دیا(و رفعناه مکاناًعلیاً) (4) اور جو لوگ اس درجہ کے لائق نہیں ہیں انہیں صدیقین اور سچوں کے ساتھ رہنا چاہیئے(فاولئک مع الذین انعم اﷲ علیهم من النبیین والصدیقین...) ۔(5)
'' صدّیق'' ان القاب میں سے ایک لقب ہے جسے پیغمبر اسلام(ص) نے حضرت علی علیہ السلام کو عطا فرمایا ہے۔(6)
ایک احتمال یہ ہے کہ جملہ''لعلهم یعلمون'' کا مقصود لوگوں کو حضرت یوسف کی
ارزش و اہمیت سے واقف کرنا ہو یعنی میں لوگوں کی طرف پلٹوں تاکہ ان کو معلوم ہو سکے کہ آپ کیسے گوہر نایاب ہیں۔
--------------
( 1 )سورہ نساء آیت 125
( 2 ) سورہ آل عمران آیت 42
( 3 ) سورہ یوسف آیت 56
( 4 )سورہ مریم آیت 57
( 5 )سورہ نساء آیت 69
( 6 )تفیسر اطبیب البیان و تفسیر الکبیر سورہ مومن آیت 28 کے ذیل میں.
پیام:
1۔ درخواست سے پہلے مناسب ہے کہ شخص کے ذاتی کمالات کو بیان کریں۔(أَیُّهَا الصِّدِّیقُ )
2۔ اپنے سوالات اور مشکلات کو ایسے لوگوں کے سامنے پیش کریں جن کا سابقہ اچھا ہو اور وہ سچے ہوں۔( أَیُّهَا الصِّدِّیقُ أَفْتِنَ)
آیت 47:
(47)قَالَ تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِینَ دَأَبًا فَمَا حَصَدْتُمْ فَذَرُوْهُ فِی سُنْبُلِهِ إِلاَّ قَلِیلًا مِمَّا تَأْکُلُونَ
''(یوسف نے جواب میں )کہا (اسکی تعبیر یہ ہے)کہ تم لوگ متواتر سات برس کاشتکاری کرتے رہو گے توجو (فصل)تم کاٹو اس (کے دانہ) کو بالیوں ہی میں رہنے دو (چھڑانا نہیں)مگر وہ تھوڑا (بہت) جو تم خود کھ ''۔
نکات:
حضرت یوسف (ع)نے اپنے قیدی ساتھی سے بغیر کسی گلے شکوے کے کہ مجھے کیوں بھول گئے ؟ بادشاہ کے خواب کی تعبیر فوراً بتادی کیونکہ علم و حکمت کا چھپانا بالخصوص ایسے مواقع پر کہ جب لوگ( بلکہ معاشرہ) اس کے بہت زیادہ محتاج ہوں ایک پاک اور نیک خصلت انسان کی شان کے خلاف ہے۔
حضرت یوسف (ع) تعبیر خواب کے بجائے اس خشک سالی سے مقابلہ کرنے کے طریقے تفصیلی طور پر بیان فرما رہے ہیں تاکہ معلوم ہوجائے کہ میں خوابوں کی تعبیر کے علاوہ منصوبہ بندی اور انتظامی صلاحیتوں سے بھی مالا مال ہوں ۔
زراعت کا علم ، ذخیرہ سازی کی سیاست اورخرچ کرنے میں صرفہ جوئی سے کام لینے کے حکمت آمیز پیغامات اس آیت میں واضح طورپر بیان کیے گئے ہیں ۔
پیام:
1۔خدائی افراد کو لوگوں کی فلاح و بہبود اور آرام و آسائش کے متعلق ہمیشہ غور و فکر کرنا چاہیئے نیز طویل مدت اور کم مدت کے پروگرام بھی پیش کرنے چاہئیں ۔( تَزْرَعُونَ سَبْعَ سِنِینَ )
2۔اگر گیہوں اپنی بالیوں کے ساتھ ہو تو اسکی زندگی بڑھ جاتی ہے( فَذَرُوهُ فِی سُنْبُلِهِ)
3۔ منظم پروگرام بنانے کے بعد قدرتی حوادث مثلاًزلزلہ ، سیلاب ، اور خشک سالی کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے ۔( فَذَرُوهُ فِی سُنْبُلِهِ)
4۔ منصوبہ بندی اور مستقبل کے لئے تدبیر کرنا۔ خدا پر توکل اور اس کے آگے سرتسلیم خم کرنے کے منافی نہیں ہے( فَذَرُوهُ فِی سُنْبُلِهِ) (تدبیر کے ساتھ تقدیر کا استقبال کرنا چاہیئے)
5۔ تمام پروگرام عملی صلاحیت کے حامل ہونے چاہئیں( فَذَرُوهُ فِی سُنْبُلِهِ)
اس زمانے میں چونکہ گندم کو محفوظ کرنے کے لئے مخصوص برج نما گودام یاکوئی جدید ٹیکنالوجی نہیں تھی لہٰذا گندم کو محفوظ رکھنے کا بہترین طریقہ یہی تھا کہ گیہوں کو اس کی بالیوں میں رہنے دیا جائے)
6۔ ہر مصیبت اور سختی ، بُری نہیں ہوتی ۔ یہی خشک سالی جناب یوسف (ع)کی حاکمیت کا پیش خیمہ بنی۔ اسی طرح یہ قحط صرفہ جوئی اور لوگوں کے درمیان زیادہ کام کرنے کا رجحان پیداکرنے کا باعث بنا۔(تَزْرَعُونَ... فَذَرُوهُ، إِلاَّ قَلِیلًا...)
7۔ آج کی کفایت شعاری، کل کی خود کفائی ہے اور آج کی فضول خرچی کل کے لئے باعث پریشانی ہے۔( قَلِیلًا مِمَّا تَأْکُلُونَ )
8۔ مستقبل کے بارے میں فکر کرنا اور معاشرے کی اقتصادی مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے لئے طویل مدت کے پروگرام بنانا ملکی نظام کے لئے ضروری ہے۔(تَزْرَعُونَ... فَذَرُوهُ... إِلاَّ قَلِیلًا )
9۔ بحرانی حالات اور شرائط میں تولید و توزیع پر حکومت کا کنٹرول ضروری ہے۔(تَزْرَعُونَ... فَذَرُوهُ... )
10۔ کافروں کے خواب بھی حقائق کو بیان کرسکتے ہیں اور معاشرے کی حفاظت کے لئے دستورالعمل بھی ہوسکتے ہیں۔
آیت 48:
(48) ثُمَّ یَأْتِی مِنْ بَعْدِ ذَلِکَ سَبْعٌ شِدَادٌ یَأْکُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ لَهُنَّ إِلاَّ قَلِیلًا مِمَّا تُحْصِنُونَ
'' پھر اسکے بعد بڑے سخت سات برس آئیں گے جو کچھ تم لوگوں نے ان سات سالوں کے واسطے پہلے سے جمع کررکھا ہوگا لوگ سب کھا جائیں گے مگر قدر قلیل جو تم (بیج کے طور پر)بچا رکھو گے ''۔
آیت 49:
(49)ثُمَّ یَأْتِی مِنْ بَعْدِ ذَلِکَ عَامٌ فِیهِ یُغَاثُ النَّاسُ وَفِیهِ یَعْصِرُونَ
''(بس) پھر اس کے بعد ایک سال آئے گا جس میں لوگوں کے لئے بارش ہوگی (اور خشک سالی کی مشکل حل ہوجائےگی) اور لوگ اس سال (پھلوں اور روغن دار دانوں کی فراوانی کی وجہ سے ان کا رس) نچوڑیں گے''۔
نکات:
'' یُغَاثُ النَّاسُ '' یاتو''غوث'' سے ہے یعنی لوگوں کو خداوندعالم کی طرف سے مدد حاصل ہوگی اور 14 سالہ مشکلات حل ہوجائیں گی یا''غیث'' سے ہے یعنی بارش ہوگی اور تلخ حوادث ختم ہوجائیں گے۔(1)
--------------
( 1 )المیزان فی تفسیر القرآن.
حضرت یوسف (ع)نے سات موٹی گائیں اور سات دبلی پتلی گائیوں اور سبز و خشک بالیوں کی تعبیر یہ فرمائی کہ 14 چودہ سال نعمت اور خشک سالی کے ہوں گے لیکن پندرہواں سال جو باران رحمت اور نعمت کی فراوانی کا ہوگا اس کا تذکرہ بادشاہ کے خواب میں نہیں ہے درحقیقت یہ غیب کی خبر تھی جسے حضرت یوسف(ع) نے بیان فرمایا تاکہ آپ (ع)اعلان نبوت کے لئے راہ ہموار کرسکیں(ثُمَّ یَأْتِی مِن بَعد ذَلِکَ عام...)
سماج میں ایک کارآمد اور کامیاب منتظم اور انتظامیہ کےلئے درج ذیل شرائط کا حامل ہونا ضروری ہے۔
1۔ لوگوں کا اعتماد۔(انا لنراک من المحسنین)
2۔ صداقت۔(یوسف ایها الصدیق)
3۔ علم و دانائی ۔(علّمنی ربّی)
4۔ صحیح پیشین گوئی۔(فَذَرُوهُ فِی سُنْبُلِهِ)
5۔ قوم کی اطاعت۔کیونکہ لوگوں نے حضرت یوسف کی بیان کردہ تجاویزپر عمل کیا۔
پیام:
1۔ مستقبل کی مشکلات کا مقابلہ کرنے کے لئے بچت کرنا اور منظم طریقے سے خرچ کرنا نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے ۔( سَبْعٌ شِدَادٌ یَأْکُلْنَ مَا قَدَّمْتُمْ...)
2۔ خرچ کرتے وقت تھوڑا سا بیج اور سرمایہ ذخیرہ کرلیں( إِلاَّ قَلِیلًا مِمَّا تُحْصِنُونَ) (1)
3۔ خواب نہ صرف آئندہ کے حوادث کو بتا سکتے ہیں بلکہ انسان کے لئے مشکلات سے رہائی اور پھر خوشحالی کا ذریعہ اور اشارہ بھی ہوسکتے ہیں( یُغَاثُ النَّاسُ وَفِیهِ یَعْصِرُونَ )
--------------
( 1 )مِمَّا تُحْصِنُون یعنی محفوظ جگہ پر ذخیرہ کرلیں.
آیت 50:
(50) وَقَالَ الْمَلِکُ ائْتُونِی بِهِ فَلَمَّا جَاءَ هُ الرَّسُولُ قَالَ ارْجِعْ إِلَی رَبِّکَ فَاسْأَلْهُ مَا بَالُ النِّسْوَ اللاَّتِی قَطَّعْنَ أَیْدِیَهُنَّ إِنَّ رَبِّی بِکَیْدِهِنَّ عَلِیمٌ
''(یہ تعبیر سنتے ہی)بادشاہ نے حکم دیاکہ یوسف کو میرے حضور میں لے اور پھر جب (شاہی)چوبدار (یہ حکم لے کر)یوسف کے پاس آیا تو یوسف نے کہا تم اپنے بادشاہ کے پا س لوٹ ج اور اس سے پوچھو کہ ان عورتوں کا مسئلہ کیا تھا جنہوں نے (مجھے دیکھ کر) اپنے ہاتھ کاٹ ڈالے تھے ؟ آیا میں ان کا طالب تھا یا وہ (میری) ،اس میں تو کوئی شک ہی نہیں کہ میرا پروردگار ہی ان کے مکروفریب سے خوب واقف ہے''۔
نکات:
جناب یوسف (ع)نے بادشاہ کے خواب کی تعبیر اور سنجیدہ و منظم پروگرام، بغیر کسی شرط و قید کے بیان کرکے ثابت کردیا کہ وہ کوئی معمولی قیدی نہیں ہیں بلکہ ایک غیر معمولی اور دانا انسان ہیں ۔
جب بادشاہ کا فرستادہ حضرت یوسف (ع)کی خدمت میں آیا تو آپ (ع)نے آزادی کی خبر کا خیر مقدم نہیں کیا بلکہ سابقہ فائل پر دوبارہ تحقیق کی درخواست کی، اس لئے کہ آپ (ع) نہیں چاہتے تھے کہ بادشاہ کا عفو آپ (ع)کے شامل حال ہو بلکہ یہ چاہتے تھے کہ آپ (ع)کی بے گناہی اور پاکدامنی ثابت ہوجائے تاکہ بادشاہ کو سمجھا سکیں کہ تمہاری حکومت میں کس قدر فساد اور ناانصافی کارفرما ہے۔
شاید حضرت یوسف (ع)نے عزیز مصر کے احترام میں اس کی بیوی کا نام نہیں لیا بلکہ اس مہمان نوازی والے واقعہ کی طرف اشارہ کیا۔(قطعهن ایدهن)
حدیث میں موجود ہے کہ پیغمبراسلام (ص)نے فرمایا: مجھے حضرت یوسف (ع)کے صبر پر تعجب ہے اس لئے کہ جب عزیز مصر نے خواب کی تعبیر چاہی تو نہیں فرمایاکہ جب تک قید خانہ سے آزاد نہیں ہوجاتا خواب کی تعبیر بیان نہیں کروں گا ۔لیکن جب حضرت یوسف (ع)کو آزاد کرنا چاہا تو آپ (ع)قیدخانہ سے اس وقت تک باہر تشریف نہ لائے جب تک تہمت کا بالکل خاتمہ نہ ہوگیا۔(1)
--------------
( 1 )تفسیر اطیب البیان.
پیام:
1۔ وہ متفکر ذہن جن کی ملک کو ضرورت ہو اگر وہ کسی جرم کے مرتکب نہیں ہوئے تو حکومت کی مدد سے انہیں آزاد کردینا چاہیئے۔(قَالَ الْمَلِکُ ائْتُونِی بِه...)
2۔ ہر طرح کی آزادی قابل اہمیت نہیں ہے بلکہ بے گناہی کا ثابت کرنا آزادی سے اہم ہے۔(ارْجِعْ إِلَی رَبِّکَ فَاسْأَلْهُ)
3۔ جو قیدی آزادی کے بجائے فائل کی تحقیق کا مشورہ دیتا ہے وہ یقینا بے گناہ ہے۔(فَاسْأَلْهُ )
4۔حضرت یوسف (ع)نے پہلے لوگوں کے ذہن کو پاک کیا پھر مسلیت قبول فرمائی( مَا بَالُ النِّسْوَ)
5۔ آبرو اور عزت کا دفاع واجب ہے۔( مَا بَالُ النِّسْوَ )
6۔ حضرت یوسف (ع)کو قید خانہ میں ڈالنے کی سازش میں تمام عورتیں شریک تھیں۔(کَیْدهنّ)
7۔ حضرت یوسف (ع)نے اپنے پیغام میں بادشاہ کو یہ بھی بتا دیا کہ آزادی کے بعد آپ (ع) بادشاہ کو اپنا مالک نہیں سمجھیں گے اور نہ ہی وہ جناب یوسف (ع)کو اپنا غلام سمجھنے کا اختیار رکھتا ہے۔ بلکہ خدا کو اپنا مالک سمجھتے ہیں( إِنَّ رَبِّی بِکَیْدِهِنَّ عَلِیمٌ )
آیت 51:
(51) قَالَ مَا خَطْبُکُنَّ إِذْ رَاوَدتُّنَّ یُوسُفَ عَنْ نَفْسِهِ قُلْنَ حَاشَ لِلَّهِ مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوئقَالَتِ امْرَ الْعَزِیزِ الْآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ أَنَا رَاوَدتُّهُ عَنْ نَفْسِهِ وَإِنَّهُ لَمِنْ الصَّادِقِینَ.
''چنانچہ بادشاہ نے ان عورتوں (کو طلب کیا اور)ان سے پوچھا کہ جس وقت تم لوگوں نے یوسف سے اپنا مطلب حاصل کرنے کی خود ان سے تمنا کی تھی تو تمہیں کیا معاملہ پیش آیا تھا وہ سب کی سب عرض کرنے لگیں پاکیزہ ہے اللہ ہم نے یوسف میں کسی طرح کی کوئی برائی نہیں دیکھی (تب)عزیز (مصر)کی بیوی (زلیخا) بول اٹھی اب تو حق سب پر ظاہر ہو ہی گیا ہے (اصل بات یہ ہے کہ) میں نے خود اس سے اپنا مطلب حاصل کرنے کی تمنا کی تھی اور بے شک وہ یقینا سچوں میں سے ہے ''۔
نکات:
کسی اہم کام کے سلسلے میں دعوت دینے کو ''خطب '' کہتے ہیں۔
''خطیب'' اس شخص کو کہتے ہیں جولوگوں کو کسی اہم اور بڑے ہدف و مقصد کی دعوت دے''حصص'' یعنی حق کا باطل سے جدا ہوکرآشکار ہوجانا۔(1)
اس داستان میں خداوندعالم کی سنتوں میں سے ایک سنت یہ جلوہ نما ہوئی ہے کہ تقوی الٰہی اور پرہیز گاری کی وجہ سے مشکل کام آسان ہوجاتے ہیں(2)
--------------
( 1 ) تفسیر اطیب البیان.
( 2 )(من یتق الله یجعل له مخرجا و یرزقه من حیث لایحتسب) اور جو تقوی الٰہی اختیار کرتا ہے اللہ اس کے لئے مشکلات سے نکلنے کا راستہ بنادیتاہے اور اسے ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے وہ سوچ بھی نہ سکتا ہو۔ (سورہ طلاق آیت 2 ،و 3 )
پیام:
1۔ جب کوئی مسئلہ بہت سنگین ہوجائے اور کسی سے بھی حل نہ ہو پارہا ہو تو سربراہ مملکت کو اس میں مداخلت کرنی چاہیئے اور تحقیق کے بعد مشکل کو حل کرنا چاہیئے ۔( قَالَ مَا خَطْبُکُنَّ ...)
2۔متہم کو عدالت میں حاضر کرنا چاہیئے تاکہ وہ اپنا دفاع کرسکے ۔( قَالَ مَا خَطْبُکُنَّ ...) یہاں تک کہ زلیخا بھی عدالت میں حاضر تھی( قَالَتِ امْرَ الْعَزِیز)
3۔ پریشانی کے ساتھ آسانی اور تلخی کے ساتھ شیرینی ہے کیونکہ جہاں (اراد باھلک سوئ)ہے وہاں اسی زبان پر( مَا عَلِمْنَا عَلَیْهِ مِنْ سُوئٍ) بھی جاری ہے۔
4۔ حق ہمیشہ کے لئے مخفی نہیں رہ سکتا ۔(الْآنَ حَصْحَصَ الْحَقُّ )
5۔ ضمیر کبھی نہ کبھی بیدار ہوکر حقیقت کا اعتراف کرتا ہے۔(أَنَا رَاوَدتُّهُ )
معاشرے اور ماحول کا دب ضمیر فروشوں کو حق کا اعتراف کرنے پر مجبور کردیتا ہے (عزیز مصر کی بیوی نے جب دیکھا کہ تمام عورتوں نے یوسف (ع)کی پاک دامنی کا اقرار کر لیا ہے تو اس نے بھی حقیقت کا اعتراف کرلیا)
آیت 52:
(52) ذَلِکَ لِیَعْلَمَ أَنِّی لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَیْبِ وَأَنَّ اﷲَ لاَیَهْدِی کَیْدَ الْخَائِنِینَ
''(یوسف نے کہا)یہ قصہ میں نے اس لئے چھیڑا تاکہ(تمہارے )بادشاہ کو معلوم ہوجائے کہ میں نے اس کی عدم موجودگی میں اس کی (امانت میں)خیانت نہیں کی اور خدا خیانت کاروں کے مکر و فریب کو کامیابی سے ہمکنار نہیں کرتا''۔
نکات:
یہ کلام حضرت یوسف علیہ السلام کی گفتگو ہے یا عزیز مصر کی بیوی کے کلام کا حصہ ہے؟اس سلسلے میں مفسرین کے دو نظرئےے ہیں بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ حضرت یوسف علیہ السلام کا کلام ہے(1) جب کہ بعض مفسرین اسے عزیز مصر کی بیوی کا بیان قراردیتے ہیں(2) لیکن آیت کے مضمون کو مد نظر رکھتے ہوئے پہلا نظریہ صحیح ہے لہٰذا یہ جملہ عزیز مصر
--------------
( 1 )تفسیر مجمع البیان، تفسیر المیزان
( 2 )تفسیر نمونہ.
کی بیوی کا کلام نہیں ہوسکتا کیونکہ ایک بے گناہ کو سالہا سال قید خانے میں قیدی بنا کر رکھنے سے بڑی خیانت اور کیا ہوسکتی ہے ؟
یوسف علیہ السلام اپنے اس جملے سے قید خانہ سے دیر سے آزاد ہونے کی وجہ بیان فرما رہے ہیں : دوبارہ ان کے بارے میں تحقیق کی گئی ہے اور وہ اپنی حقیقی حیثیت و فضیلت پرفائز ہوئے ہیں۔
پیام:
1۔ کریم انسان انتقام لینے کے درپے نہیں ہوتا بلکہ حیثیت اور کشف حقیقت کی تلاش میں رہتا ہے( ذَلِکَ لِیَعْلَمَ )
2۔ حقیقی ایمان کی علامت یہ ہے کہ انسان تنہائی میں خیانت نہ کرے( لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَیْبِ)
3۔ دوسروں کی ناموس پر بُری نگاہ ڈالنا گویا اس شخص کےساتھ خیانت کرنا ہے(لَمْ أَخُنْهُ)
4۔ خیانت کار اپنے کام یا برے کام کی توجیہ بیان کرنے کےلئے سازش کرتا ہے(کَیْدَ الْخَائِنِینَ)
5۔ خیانت کار ،نہ صرف اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوتا بلکہ اس کی عاقبت بھی بخیر نہیں ہوتی ،حقیقت میں اگر ہم پاک ہوں( لَمْ أَخُنْهُ بِالْغَیْبِ) تو خداوندعالم اجازت نہیں دیتا کہ ناپاک افراد ہماری آبرو برباد کرسکیں ۔(انَّ اﷲَ لاَیَهْدِی کَیْدَ الْخَائِنِینَ)
6۔ حضرت یوسف علیہ السلام اس کوشش میں تھے کہ بادشاہ کو آگاہ کردیں کہ تمام حوادث اور واقعات میں ارادہئ خداوندی اور سنت الٰہی کارفرما ہوتی ہے(انَّ اﷲَ لاَیَهْدِی ...)
آیت 53:
(53) وَمَا أُبَرِّیئُ نَفْسِی إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَ بِالسُّوءِ إِلاَّ مَا رَحِمَ رَبِّی إِنَّ رَبِّی غَفُورٌ رَّحِیمٌ
''اور میں اپنے نفس کی صفائی پیش نہیں کرتا کیونکہ (انسانی) نفس برائی پر اکساتا ہے مگریہ کہ میرا پروردگار رحم کرے بے شک میرا پروردگار بڑا بخشنے والا رحم کرنے والا ہے''۔
نکات:
قرآن مجید میں نفس کی مختلف حالتیں بیان کی گئی ہیں ان میں سے کچھ درج ذیل ہیں:
1۔ نفس امارہ: یہ نفس انسان کو برائی کی طرف لے جاتا ہے اگر عقل و ایمان کے ذریعہ لگام نہ لگائی جائے تو انسان یک بارگی ذلت و ہلاکت میں گر جائے گا ۔
2۔ نفس لوّامہ : یہ وہ نفسانی حالت ہے جس کی بنیاد پر برائی کرنے والا انسان خود اپنے آپ کو ملامت کرتا ہے ، تو بہ اورعذر خواہی کی طرف قدم بڑھاتا ہے، سورہ قیامت میں اس نفس کا تذکرہ ہے۔
3۔ نفس مطمئنہ: یہ وہ نفسانی حالت ہے کہ جو انبیاء و اولیائے الٰہی اور ان کے حقیقی تریبت یافتہ افراد کو حاصل ہوتی ہے جس کی بنیاد پر وہ ہر وسوسے اور حادثے سے کامیاب و کامران پلٹتے ہیں ایسے افراد فقط خدا سے لو لگائے رہتے ہیں ۔
حضرت یوسف علیہ السلام اس امتحان میں اپنی سربلندی اور عدم خیانت کو خداوندعالم کے لطف کرم کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں اور ایک انسان ہونے کی بنیاد پر جس میں انسانی خصلت موجود ہے خود کو اس سے الگ نہیں سمجھ رہے ہیں۔
متعدد روایات میں نفس کے خطرات اور خود کو بری الذمہ قرار دینے نیز نفس سے راضی ہونے کا تذکرہ موجود ہے اپنے نفس سے راضی ہونے کو روایات میں عقل کا دیوانہ پن اور شیطان کا سب سے بڑا پھندہ قراردیا گیا ہے(1)
--------------
( 1 )غررالحکم.
پیام:
1۔ کبھی بھی اپنے آپ کو پاکباز اور خواہشات نفسانی سے محفوظ قرار نہیں دینا چاہیئے ۔(وَمَا أُبَرِّیئُ نَفْسِی )
2۔ شرط کمال یہ ہے کہ اگرچہ ساری دنیا اسے کامل سمجھ رہی ہو لیکن وہ شخص کبھی خود کو کامل نہ سمجھے ۔ حضرت یوسف (ع)کی داستان میں برادران یوسف ، عزیز مصر کی بیوی ، گواہ ، بادشاہ ، شیطان ، قیدی، سب کے سب آپکی پاکدامنی کی گواہی دے رہے ہیں لیکن آپ (ع)خود فرما رہے تھے کہ۔(مَا أُبَرِّیئُ نَفْسِی )
3۔ ہوا و ہوس اور نفس کا خطرہ بہت ہی خطرناک ہے اسے کھیل نہیں سمجھنا چاہیئے۔( إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَ بِالسُّوئِ) (1)
4۔ انبیاء (ع)، معصوم ہونے کے باوجود انسانی فطری غرائز کے حامل ہیں۔( إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَ بِالسُّوئِ)
5۔ نفس اپنی خواہشات کی باربار تکرار کرتا ہے تاکہ تمہیں مصیبت میں گرفتار کردے۔(لَأَمَّارَ )
6۔ اگر خداوندعالم کا لطف و کرم نہ ہو تو فطرت انسانی منفی امور کی طرف زیادہ میلان رکھتی ہے ۔(2) ( لَأَمَّارَ بِالسُّوئِ)
7۔ فقط رحمت خداوندی ہی سرمایہ نجات ہے اگر انسان کو اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے تو وہ قعر ضلالت و گمراہی میں گر پڑے گا۔( إِلاَّ مَا رَحِم)
8۔جناب یوسف (ع)خداوندعالم کی خاص تربیت کے زیر سایہ تھے لہٰذا کلمہ(رَبِّی) کی تکرار ہوئی ہے۔
9۔ مربی کو رحمت اور مہربانی سے کام لینا چاہیئے ۔( إِنَّ رَبِّی غَفُورٌ رَحِیمٌ )
10۔ عفو و درگزر رحمت الٰہی تک پہنچنے کا مقدمہ ہے پہلے(غَفُور)فرمایا ہے بعد میں(رَحِیم) کا ذکر ہے۔
11۔ تمام خطرات کے باوجود رحمت الٰہی سے مایوس نہیں ہونا چاہیئے۔( غَفُورٌ رَحِیمٌ )
--------------
( 1 ) آیہ شریفہ میں چار طریقوں سے تاکید کی گئی ہے ۔إِنّ ۔ لام تاکید ۔ صیغہ مبالغہ۔ جملہ اسمیہ.
( 2 )امام سجاد علیہ السلام نے مناجات شاکین میں نفس کے لئے 15 پندرہ خطرے ذکر کئےے ہیں جن کی طرف توجہ رکھنا ضروری ہے.
آیت 54:
(54) وَقَالَ الْمَلِکُ ائْتُونِی بِهِ أَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِی فَلَمَّا کَلَّمَهُ قَالَ إِنَّکَ الْیَوْمَ لَدَیْنَامَکِینٌ أَمِینٌ
''اور بادشاہ نے کہا یوسف کو میرے پاس لے ، میں ان کو خاص طور سے (بطور مشاور) اپنے لئے رکھوں گا اس نے یوسف سے باتیں کیں تو (یوسف کی اعلی قابلیت ثابت ہوئی اور)اس نے کہا بے شک آج سے آپ ہمارے بااختیار امانتدار ہیں''۔
نکات:
کتاب ''لسان العرب'' میں ہے :جب بھی انسان کسی کو اپنا محرمِ راز اور اسے اپنے امور میں دخیل قرار دیتا ہے تو ایسی صورت میں(استخلصه) کہا جاتا ہے ۔
جناب یوسف (ع)نے قید خانہ سے نکلتے وقت زندان کے دروازے پر چند جملے لکھے تھے جن میں آپ(ع) نے قید خانہ کی تصویر کشی کی ہے۔هذا قبور الاحیاء ،بیت الاحزان، تجرب الاصدقاء و شماته الاعداء ۔(1) زندان؛ زندہ لوگوں کا قبرستان ، غم و الم
--------------
( 1 )شماتت ،کسی کی تباہی و بربادی پر خوش ہونے کو کہتے ہیں.
کا گھر، دوستوں کو پرکھنے کی جگہ اور دشمنوں کے لئے خندہ زنی کا مقام ہے(1)
بادشاہ کو جب حضرت یوسف (ع) کی امانت و صداقت پر یقین ہوجاتا ہے اور آپ(ع) میں شمہ برابر بھی خیانت نہیں پاتا تو آپ (ع)کو اپنے لئے چن لیتا ہے (غور کیجئے کہ) اگر خدا اپنے بندوں میں خیانت نہ پائے گا تو وہ کیا کرے گا!؟
یقینا ایسے افراد کو خدا اپنے لئے چن لے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں انبیاء (ع)کے لئے یہ جملے مذکور ہیں ۔
(و انا اخترتک فاستمع لما یوحی) (2) ترجمہ: اور میں نے آپ (حضرت موسیٰ) کو منتخب کرلیا ہے لہٰذا جو وحی کی جارہی ہے اسے سنیں(واصطنعتک لنفسی)( 3) ترجمہ: اور میں نے آپ (حضرت موسیٰ) کو اپنے لئے اختیار کیا ہے۔
بادشاہ نے کلمہ ئ''لدینا'' سے یہ اعلان کیا کہ یوسف (ع)ہماری حکومت میں قدرومنزلت کے حامل ہیں، نہ کہ فقط ہمارے دل میں ۔لہٰذا تمام عہدہ دار افراد پر ان کی اطاعت ضروری ہے ۔
چونکہ حضرت یوسف کے لئے حکومت تقدیر الٰہی میں تھی، لہٰذا خداوند عالم نے آپ (ع)کو چند امتحانات میں مبتلا کیا تاکہ آپ (ع)کو تجربہ حاصل ہوجائے بھائیوں کے مکر و فریب میں گرفتار کیا تاکہ صبرکریں ۔ آپ (ع)کو کنویں اور قید خانے میں ڈلوایا تاکہ کسی (بے گناہ) کو
--------------
( 1 ) تفسیر مجمع البیان.
( 2 )سورہ طہ آیت 13
( 3 )سورہ طہ آیت 41
کنویں اور قیدخانے میں نہ ڈالیں ۔
غلامی کی طرف کھینچا تاکہ غلاموں پر رحم کریں. زلیخا کے دام میں گرفتار کیا تاکہ جنسی مسائل کی اہمیت کو سمجھیں. بادشاہ کی مصاحبت میں رکھا تاکہ آپ (ع)کی تدبیر جلوہ نما ہو۔
پیام:
1۔ اگر خدا چاہے تو کل کے قیدی کو آج کا بادشاہ بنا سکتا ہے ۔(قَالَ الْمَلِکُ ائْتُونِی بِهِ أَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِی)
2۔ سربراہ مملکت کے خاص مشیروں کو باتقوی، با تدبیر، قوم کی فلاح و بہبودی کے لئے صحیح پروگرام بنانے کی صلاحیت رکھنے والے ، اور امانت دار ہونا چاہیئے ۔(أَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِی... مَکِینٌ أَمِینٌ) حضرت یوسف (ع)میں یہ تمام صفات موجود تھیں۔
3۔ جب تک انسان خاموش رہے اس وقت تک اس کے عیوب و کمالات مخفی رہتے ہیں ۔( فَلَمَّا کَلَّمَهُ قَالَ)
4۔ انتخاب کرتے وقت حضوری گفتگو مفید ہے( فَلَمَّا کَلَّمَهُ)
5۔ اگر کسی پر اطمینان حاصل ہوجائے تو اسے اختیارات دے دینا چاہئے۔(لَدَیْنَا مَکِینٌ أَمِینٌ)
6۔ کافر و مشرک بھی معنوی کمالات سے لذت محسوس کرتے ہیں ''کمال''کو پسند کرنا ہر انسان کی فطرت میں موجود ہے ۔(أَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِی)
7بااختیار اور امانت دار ہونا دونوں بیک وقت ضروری ہیں(مَکِینٌ أَمِینٌ ) کیونکہ اگر کوئی امین ہو لیکن بااختیار نہ ہو تو بہت سے امور کو انجام دینے کی قدرت نہیں رکھتا اور اگر بااختیار ہو اور امین نہ ہو تو بیت المال کو بے دریغ خرچ کردے گا(1)
--------------
( 1 )اسی بنا پر حضرت علی علیہ السلام نے نہج البلاغہ کے ایک خط میں مصر کے گورنر مالک اشتر کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا : لوگوں کو پہچاننے اور کام کرنے والوں کا انتخاب کرنے کے بعد انہیں کافی مقدار میں حقوق دو۔(اسبغ علیهم الارزاق) ،نہج البلاغہ مکتوب نمبر 53
آیت 55:
(55) قَالَ اجْعَلْنِی عَلَی خَزَائِنِ الْأَرْضِ إِنِّی حَفِیظٌ عَلِیمٌ
''یوسف نے کہا (جب آپ نے میری قدر دانی کی ہے تو) مجھے ملکی خزانوں پر مقرر کیجئے کیونکہ میں (اسکا ) امانت دار خزانچی (اور اس کے حساب کتاب سے بھی)واقف ہوں''۔
نکات:
سوال: حضرت یوسف علیہ السلام نے عہدہ کیوں مانگا ؟ بزبان دیگر جناب یوسف علیہ السلام نے ریاست طلبی کیوں کی؟
جواب: چونکہ حضرت یوسف علیہ السلام نے بادشاہ مصر کے خواب سے لوگوں کے لئے خطرے کو محسوس کرلیا اور خود کو اس اقتصادی بحران سے نجات دلانے کے لائق سمجھ رہے
تھے لہٰذا اس نقصان سے بچانے کے لئے انہوں نے ایسے عہدے کو قبول کرنے کا اعلان کردیا ۔
سوال: حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنی تعریف و توصیف کیوں کی ؟ جبکہ قرآن کا فرمان ہے کہ اپنی تعریف و تمجید نہ کرو۔(1)
جواب: حضرت یوسف علیہ السلام اپنی ستائش کرکے اپنی قابلیت اور استعداد کی یاد دہانی کروا رہے تھے کہ میں عہدہ کو قبول کرنے کی قابلیت و صلاحیت رکھتا ہوں جس کی بنیاد پر قحط اور خشک سالی سے نجات دلائی جاسکتی ہے یہ ستائش تفاخر اور غلط فائدہ اٹھانے کے لئے نہ تھی۔
سوال:حضرت یوسف علیہ السلام نے کافر حکومت کا کیوں ہاتھ بٹایا ؟ جبکہ خداوندعالم نے اس سے روکا ہے(2)
جواب:حضرت یوسف علیہ السلام نے ظالم کی حمایت کرنے کے لئے اس عہدہ کو قبول نہیں فرمایا تھا بلکہ مخلوق خدا کو خشک سالی کی مصیبت سے نجات دلانے کے لئے ایسا قدم اٹھایا تھا حضرت یوسف (ع) نے ذرہ برابر بھی چاپلوسی نہیں کی ۔
تفسیر''فی ظلال القرآن'' کے بیان کے مطابق سیاستمدار افراد ایسے خطرات کے وقت قوم کو چھوڑ کر راہ فرار اختیار کرلیتے ہیں لیکن حضرت یوسف (ع)پر ایسے وقت میں مخلوق
کی حفاظت لازم ہے۔
--------------
( 1 )فلا تزکوا انفسکم سورہ نجم آیت 32
( 2 )لا ترکنوا الی الذین ظلموا... سورہ ہود آیت 113
علاوہ از این اگر ظالم حکومت کو سرنگوں کرنا اور اسکے نظام میں تغیر و تبدل لانا ممکن نہ ہو توجہاں تک ممکن ہو وہاں تک ظلم و انحرافات کا مقابلہ کرنا چاہیئے ۔اگرچہ کچھ امور مملکت کو قبول کرنا پڑے۔
تفسیر نمونہ میں ملتا ہے کہ ''قانونِ اہم و مہم کی رعایت'' عقل اور شرع میں ایک بنیادی چیز ہے ،مشرک حکومت کی حمایت کرنا جائز نہیں ہے لیکن ایک قوم کو قحط سے نجات دلانا ایک اہم کام ہے ۔ اس دلیل کی بنیاد پر ''تفسیرتبیان میں''ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے سیاسی عہدہ قبول نہیں کیا تاکہ ظالم کی مدد نہ ہوسکے اور نہ ہی کوئی دفاعی و نظامی ذمہ داری قبول فرمائی تاکہ کسی کا ناحق خون نہ بہنے پائے فقط اور فقط اقتصادی ذمہ داری کو قبول فرمایا ۔ وہ بھی اس لئے کہ خلق خدا قحط سے محفوظ رہ سکے ۔
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا جب ضرورت نے اس بات کا تقاضا کیا کہ یوسف (ع)مصر کے خزانوں کے سرپرست ہوں تو انہوں نے خود اس بات کا مشورہ دیا(1) علی بن یقطین امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کی بتائی ہوئی نصیحتوں کے بعد عباسی حکومت کے وزیر بنے تھے، اسی قسم کے افراد مظلوموں کے لئے پناہ گاہ ہوسکتے ہیں ۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا :کفار عمل السلطان قضاء حوائج الاخوان۔یعنی حکومتی نظام میں کام کرنے کا کفارہ برادر مومن کی مدد کرناہے(2)
--------------
( 1 )تفسیر نورالثقلین.
( 2 )وسائل الشیعہ ج 12 ص 139
حضرت امام رضا علیہ السلام سے لوگوں نے پوچھا : آپ نے مامون کی ولی عہدی کیوں قبول کی ؟ آپ (ع)نے جواب دیا : یوسف (ع)باوجودیکہ پیامبر (ع)تھے لیکن مشرک کی حکومت میں چلے گئے میں تو وصی پیامبر(ص) ہوں ۔ میں ایسے شخص کی حکومت میں داخل ہوا ہوں جو مسلمان ہونے کا اظہار کرتا ہے ۔ علاوہ ازیں مجھے عہدہ قبول کرنے پر مجبور کیا گیا ہے جبکہ یوسف (ع)نے حالات کی اہمیت کے پیش نظر بذات خود عہدہ کو قبول کیا تھا ۔(1)
حضرت یوسف (ع) نے مقام و منزلت حاصل کرتے ہی فوراً اپنے والدین سے ملاقات کی خواہش نہیں کی بلکہ خزانے کی مسلیت کا تقاضا کیا کیونکہ والدین کے دیدار میں عاطفی پہلوتھے جب کہ لوگوں کو خشک سالی سے نجات دلانا ان کی اجتماعی ومعاشرتی رسالت اور اجتماعی ذمہ داریوں کا تقاضا تھا ۔
امام صادق علیہ السلام نے ایسے افراد کو خطاب کرتے ہوئے کہ جو زہد اختیار کرنے اور دنیا سے کنارہ کشی کا اظہار کررہے تھے اور دوسروں کو بھی اس کی دعوت دے رہے تھے کہ اپنی زندگی کس مپرسی میں گزر بسر کرو ،فرمایا: مجھے ذرا بت کہ تم لوگ یوسف (ع) پیامبر کے بارے میں کیا نظریہ رکھتے ہو جنہوں نے بادشاہ مصر سے خود فرمائش کی کہ(اجعلنی علی خزائن الارض) اسکے بعد حضرت یوسف (ع) کے امور یہاں تک پہنچ گئے کہ پوری مملکت اور اس کے اطراف یمن کی سرحدوں تک اپنے ماتحت لے لئے تھے اسکے باوجود مجھے کوئی شخص نہیں ملتا کہ کسی نے اس کام کو حضرت یوسف (ع)کے لئے معیوب شمار کیا ہو(2)
--------------
( 1 )وسائل الشیعہ ج 12 ص 136
( 2 ) تفسیر نورالثقلین.
ایک روایت میں امام رضا علیہ السلام سے منقول ہے : حضرت یوسف (ع)نے پہلے سات سال گیہوں کو جمع اور ذخیرہ کیا ، دوسرے سات سال میں کہ جب خشک سالی شروع ہوگئی تو آہستہ آہستہ بہت دقت کے ساتھ اسے لوگوں کے حوالے کیا تاکہ وہ اپنے روز مرہ کے مصارف میں اسے خرچ کرسکیں اور بڑی ہی امانت داری اور دقت نظر کے ساتھ مملکت مصر کو بدبختی سے نجات دلائی ۔
حضرت یوسف (ع) نے سات سالہ قحط کے زمانے میں پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا تاکہ کہیں ایسانہ ہو کہ آپ (ع)بھوکے افراد کو فراموش کردیں۔(1)
تفسیر مجمع البیان اور تفسیر المیزان میں حضرت یوسف (ع) کی انداز حکمرانی کو اس طرح ذکر کیا گیا ہے :
جب خشک سالی شروع ہوئی تو حضرت یوسف (ع) نے پہلے سال گیہوں سونے چاندی کے بدلے ، دوسرے سال جواہر اور زیورات کے بدلے ،تیسرے سال چارپایوں کے بدلے ، چوتھے سال غلام کے بدلے ،پانچویں سال گھروں کے عوض میں ۔ چھٹے سال گندم کھیتیوں کے عوض میں اور ساتویں سال خود لوگوں کو غلام بنانے کے عوض میں گندم فروخت کی ۔ جب ساتواں سال ختم ہوگیا تو آپ(ع) نے بادشاہ مصر سے کہا :
تمام افراد اور ان کا تمام سرمایہ میرے پاس ہے لیکن خدا شاہد ہے اور تو بھی گواہ رہ کہ تمام لوگوں کو آزاد کرکے ان کے تمام اموال ان کو لوٹا دوں گا اور تمہارا محل ، تخت ،
--------------
( 1 ) تفسیر مجمع البیان.
اورمہروانگوٹھی بھی تمہیں لوٹا دوںگا حکومت میرے لئے خلائق کو نجات دینے کے علاوہ کچھ نہیں تھی ۔
تم ان کے ساتھ عدالت کے ساتھ پیش بادشاہ ان باتوں کو سننے کے بعد ایسا مسحور ہوا اور خود کو یوسف (ع)کی معنوی عظمتوں کے مقابلے میں اس طرح حقیر سمجھنے لگا کہ یک بارگی بول اٹھا(اشهدان لا اله الا اللّٰه و انک رسوله) میں بھی ایمان لے آیا لیکن تم کو حاکم رہنا پڑے گا۔(فإنّکَ لدینا مکین امین)
افراد کی تشخیص اور ان کے انتخاب میں قرآنی معیار کی طرف توجہ کرنی چاہیئے''حفیظ و علیم'' کے علاوہ قرآن مجید میں دوسرے معیار بھی ذکر کئے گئے ہیں ان میں سے بعض حسب ذیل ہیں:
ایمان: افمن کان مومنا کمن کان فاسقا لایستوون ۔(1)
کیا جو مومن ہو وہ فاسق کی طرح ہوسکتا ہے ؟ یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔
سبقت:والسابقون السابقون اولئک المقربون (2)
اور سبقت لے جانے والے تو آگے بڑھنے والے ہی ہیں یہی مقرب لوگ ہیں۔
ہجرت:والذین آمنوا و لم یهاجروا ما لکم من ولایتهم من شی (3)
--------------
( 1 ) سورہ سجدہ آیت 18
( 2 )سورہ واقعہ آیت 10 ۔ 11
( 3 )سورہ انفال آیت 72
اور جو لوگ ایمان تو لائے مگر انہوں نے ہجرت نہیں کی انکی ولایت سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے۔
علمی و جسمی قوت:وزاده بسط فی العلم والجسم (1)
اور اسے (طالوت کو) اللہ نے علم اور جسمانی طاقت کی فراوانی سے نوازاہے۔
خاندانی فضیلت:ماکان ابوک امرأَ سوءٍ (2) تیرا باپ برا آدمی نہ تھا۔
جہادومبارزت:فضل اللّٰه المجاهدین علی القاعدین اجراً عظیما (3)
اللہ تعالی نے بیٹھنے والوں کی نسبت جہاد کرنے والوں کو اجر عظیم کی فضیلت بخشی ہے۔
پیام:
1۔جب ضرروت پڑے تو حساس عہدوں کی فرمائش کرنی چاہیئے(اجْعَلْنِی )
2۔نبوت؛ حکومت اور سیاست سے جدا نہیں ہے جس طرح دیانت سیاست سے جدا نہیں ہے(اجْعَلْنِی عَلَی خَزَائِنِ الْأَرْضِ)
--------------
( 1 )سورہ بقرہ آیت 247
( 2 )سورہ مریم آیت 28
( 3 )سورہ نساء آیت 95
3۔اسلامی حاکم کےلئے کسی خاص مملکت کا باشندہ ہونا ضروری نہیں ہے حضرت یوسف (ع) مصری نہیں تھے لیکن حکومت مصر میں عہدہ دار ہوئے(بعبارت دیگر قوم پرستی ( Nationalism )ممنوع ہے)
4۔بوقت ضرورت اپنی لیاقت و شائستگی کا بیان توکل ، زہد ، اور اخلاص سے منافات نہیں رکھتا۔(إِنِّی حَفِیظٌ عَلِیمٌ )
5۔دو صفات جو بادشاہ نے حضرت یوسف (ع) کے لئے بیان کئے ''مکین ، امین'' اور دو صفات جو حضرت یوسف (ع) نے خود اپنے لئے بیان فرمائے''حفیظ ، علیم'' ہیں ،ان بیانات سے بہترین اور شائستہ عہدےداروں کے اوصاف سمجھ میں آتے ہیں کہ ان کے اوصاف قدرت ، امانت ، حفاظت اور اپنے متعلقہ کام میں مہارت عہدےداروں کے لئے ضروری ہے ۔
6۔منصوبہ بندی اور مصارف و اخراجات کی نگرانی کرتے وقت آئندہ آنی والی نسلوں کا حصہ بھی ملحوظ خاطر ہونا چاہیئے(حَفِیظٌ عَلِیمٌ )
آیت 56:
(56) وَکَذَلِکَ مَکَّنَّا لِیُوسُفَ فِی الْأَرْضِ یَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَاءُ نُصِیبُ بِرَحْمَتِنَا مَنْ نَشَاءُ وَلاَنُضِیعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِینَ ۔
''اور ہم نے یوسف کو اس ملک میں اقتدار دیا کہ اس میں جہاں چاہیں اپنا مسکن بنالیں ہم جس پر چاہتے ہیں اپنا فضل کرتے ہیں اور ہم نیکوکاروں کے اجر کو اکارت نہیں کرتے''۔
آیت 57:
(57) وَلَأَجْرُ الْآخِرَ خَیْرٌ لِلَّذِینَ آمَنُوا وَکَانُوا یَتَّقُونَ
''اور جو لوگ ایمان لائے اور پرہیزگاری کرتے رہے ان کےلئے آخرت کا اجر اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے''۔
نکات:
ان دو آیتوں میں حضرت یوسف (ع) کی توصیف محسن ، مومن اور متقی کہہ کر کی گئی ہے(1) اس پورے سورہ میں خداوندعالم کے ارادے کا مخلوق کے ارادہ سے تقابل کیا جاسکتا ہے (یعنی اس سورہ میں مختلف لوگوں کے مختلف ارادے تھے لیکن خدا کا ارادہ سب پر مسلط ہو کر رہا )
برادران یوسف (ع) نے ارادہ کیا تھا کہ حضرت یوسف (ع) کو کنویںمیں ڈال کر انکو غلام بنا کر ذلیل و رسوا کریں لیکن عزیز مصر نے سفارش کرتے ہوئے کہا تھا''اکرمی مثواه' 'یعنی انکی عزت کرو۔
-------------
( 1 )خداوندعالم نے آیہ شریفہ میں یوسف علیہ السلام کو محسنین کے مصادیق میں سے ایک مصداق قرار دیا ہے قرآن مجید میں محسنین کے لئے دس سے زیادہ الطاف خاصہ خداوندی مذکور ہیں۔
عزیز مصر کی بیوی نے ارادہ کیا تھا کہ آپ (ع)کے دامن کردار کو آلودہ کردے لیکن خداوندعالم نے اس سے بچا لیا۔زلیخا نے چاہا تھا کہ حضرت یوسف (ع) کو زندان میں بھیج کر ان کی مقاومت کو درہم برہم کردے اور ان کی تحقیر کرے ''لیسجنن ولیکونا من الصاغرین'' لیکن ان سب کے مقابلے میں خداوندعالم نے ارادہ کیا تھا کہ ان کو صاحب عزت قرار دے اور ان کو مصر کا حاکم قراردے۔(مَکَّنَّا لِیُوسُفَ...)
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا یوسف (ع) اس آزاد مرد انسان کا نام ہے جس پر بھائیوں کی حسادت ، کنویں میں ڈالا جانا ، شہوت ، تہمت ، ریاست و قدرت کوئی چیز بھی ان کی مقاومت پر اثرانداز نہ ہوسکی(1) ۔
قرآن مجید میں لفظ'' خیر '' مختلف امور کے سلسلے میں استعمال کیا گیا ہے ۔
مومن کے لئے آخرت بہتر ہے(والاخر خیر و ابقی) (2)
روزہ داروں کے لئے روزہ بہتر ہے(ان تصومواخیرلکم) (3)
حاجی کے لئے قربانی بہتر ہے(لکم فیها خیر) (4)
انسانوں کے لئے تقوی بہتر ہے(ولباس التقوی ذلک خیر) (5)
--------------
( 1 )تفسیر نور الثقلین.
( 2 )سورہ اعلیٰ آیت 17
( 3 )سورہ بقرہ آیت 184
( 4 )سورہ حج آیت 36
( 5 )سورہ اعراف آیت 26
سپاہی کے لئے جہاد بہتر ہے(عسی ان تکرهوا شیائً و هو خیرلکم) (1)
جزائے اخروی جزائے دنیوی سے بہتر ہے کیونکہ آخرت کی جزا :
(الف) نامحدود ہے(لهم ما یشاون) (2)
(ب) ختم ہونے والی نہیں ہے(خالدین) (3)
(ج)کسی خاص مکان میںمحدود نہ ہوگی(نتبوا من الجنه حیث نشائ) (4)
(د)ہمارے لئے اس کا حساب کرنا ممکن نہیں(اجرَهم بغیر حساب) (5)
(ھ)وہاںامراض ، آفات اور پریشانیوں کا گزر نہیں(لایصدعون) (6)
(و)اضطراب و بے چینی کا گزر نہیں(لاخوف علیهم ولا هم یحزنون) (7)
(ز)جزا پانے والے اولیا، خداوندعالم کے پڑوسی ہیں(وهم جیرانی)
--------------
( 1 )سورہ بقرہ آیت 216
( 2 )سورہ زمر آیت 34
( 3 )سورہ فرقان آیت 16
( 4 )سورہ زمر آیت 74
( 5 )سورہ زمر آیت 10
( 6 )سورہ واقعہ آیت 19
( 7 )سورہ بقرہ آیت 112
پیام:
1۔خدا کی سنت ہے کہ پاکدامن اور باتقوی افراد کو عزت بخشے گا۔(کذلک...)
2۔اگرچہ بظاہر بادشاہ مصر نے حضرت یوسف (ع) سے کہا تھا کہ(انک الیوم لدینا مکین) لیکن در حقیقت خدا وندعالم نے حضرت یوسف (ع) کو قدرت دی تھی(مکن)
3۔حضرت یوسف (ع) کے اختیارات کا دائرہ وسیع تھا(حیث یشائ)
4۔مملکت کے بحرانی حالات میں حکومتیں اس بات کا اختیار رکھتی ہیں کہ لوگوں کے اپنے اموال و املاک میں تصرف کی آزادی کو محدود کرتے ہوئے اسے اپنے اختیار میںلے کر عمومی مصالح میں خرچ کریں(یَتَبَوَّأُ مِنْهَا حَیْثُ یَشَائ)
5۔قدرت اگر اہل افراد کے ہاتھوں میں ہوتو رحمت ہے وگرنہ نقصان دہ ہے(نُصِیبُ بِرَحْمَتِنَ)
6۔اگر انسان تقوی الٰہی اختیار کرے تو خدا اپنی رحمتیں اس پر نازل کرتا ہے(نُصِیبُ بِرَحْمَتِنَا...لِلَّذِینَ...کَانُوا یَتَّقُونَ)
7۔الٰہی نظریہئ کائنات میں کوئی کام بھی بغیر اجر کے نہیں رہتا ہے(لاَنُضِیعُ )
8۔لوگوں کے حقوق کا ضائع کرنایا تو جہالت کی بنیاد پر ہوتا ہے یا بخل کی وجہ سے یا پھر نادانی کی وجہ سے یا...جن میں سے کوئی بھی خدا میں موجود نہیں ہے۔(لاَنُضِیعُ)
9۔مشیت الٰہی ،بانظم اور قانون وضابطہ سے ہے(نُصِیبُ بِرَحْمَتِنَا... وَلاَ نُضِیعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِینَ )
10۔حالانکہ تمام چیزیں مشیت الٰہی کے تحت ہوتی ہےں لیکن چونکہ خداوندعالم حکیم ہے لہٰذا کسی کوبھی بغیر لیاقت کے قدرت و صلاحیت نہیں دیتا(أَجْرَ الْمُحْسِنِینَ)
11۔نیک سیرت اور اچھے اعمال بجالانے والے اشخاص جہاں دنیاوی زندگی میں نعمتوں سے بہرہ مند ہوتے ہیں وہاں آخرت میں اس سے کہیں بہتر اجر و ثواب ان کے شامل حال ہوتا ہے۔( وَلاَ نُضِیعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِینَ وَلَأَجْرُ الْآخِرَ خَیْرٌ )
12۔راہ خدا پر گامزن مردانِ خدا کے لئے مادی وسائل اور ظاہری حکومت لذت آور نہیں ہے بلکہ ان کے لئے جو چیز مطلوب و محبوب ہے وہ آخرت ہے(وَلَأَجْرُ الْآخِرَ خَیْرٌ )
13۔ایمان کے ساتھ ساتھ باتقوی ہونا بھی ضروری ہے وگرنہ گنہگار مومن کی عاقبت مبہم اور غیر یقینی ہے( آمَنُوا وَکَانُوا یَتَّقُونَ)
14۔وہ تقوی قابل قدر ہے جس میں پائیداری و ہمیشگی پائی جائے،(کَانُوا یَتَّقُونَ)
15۔ایمان و تقوی کا لازم ملزوم ہونا آخرت کے اجر و ثواب سے بہرہ مند
ہونے کی شرط ہے(وَلَأَجْرُ الْآخِرَ خَیْرٌ لِلَّذِینَ آمَنُوا وَکَانُوا یَتَّقُونَ )
16۔اگر نیک سیرت افراد کو اس دنیا میں اجر و مقام و منزلت نہ مل سکے تو اسے مایوس اور مضمحل نہیں ہونا چاہیئے کیونکہ آخرت میںاس کی جزا مل جائے گی۔(لاَنُضِیع... وَلَأَجْرُ الْآخِرَ خَیْرٌ)
آیت 58:
(58) وَجَاءَ إِخْوَ یُوسُفَ فَدَخَلُوا عَلَیْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُ مُنکِرُونَ
''اور (چونکہ کنعان میں بھی قحط تھا، اس وجہ سے) یوسف (ع) کے (سوتیلے)بھائی (غلہ خریدنے کےلئے مصر میں)آئے اور یوسف کے پاس گئے تو یوسف نے ان کو فوراً پہچان لیا اور وہ یوسف کو پہچان نہیں رہے تھے''۔
نکات:
حضرت یوسف (ع) کی پیشین گوئی کے عین مطابق لوگوں کو سات سال تک بے حساب نعمت اور بارش میسر رہی ۔لیکن جب دوسرے سات سال آئے اور لوگ قحط وخشک سالی سے دوچار ہوئے تو اس خشک سالی کا دائرہ مصر سے فلسطین و کنعان تک آگے بڑھ گیا۔
حضرت یعقوب (ع) نے اپنے فرزندوں سے کہا کہ گیہوں مہیا کرنے کے لئے مصر ج ۔ وہ لوگ مصر میں وارد ہوئے اور اپنی درخواست پیش کی ۔ حضرت یوسف (ع) نے ان تقاضا مندوں کے درمیان اپنے بھائیوں کو دیکھ لیا لیکن وہ لوگ حضرت یوسف (ع) کو پہچان نہ سکے اور حق بھی یہی تھا کہ نہ پہچانیں کیونکہ حضرت یوسف (ع) کو کنویں میں ڈالنے سے لے کر مصر کی حکومت تک پہنچنے میں تقریباً 20 بیس سے تیس 30 سال کا عرصہ گزر چکا تھا ۔(1)
--------------
( 1 )یوسف (ع)کو جب کنویں سے نکالا گیاتو آپ (ع)نوجوان تھے (یابشری ھذا غلام)چند سال عزیز مصر کے خدمت گزار رہے،چندسال قید خانہ میں زندگی بسر کی، زندان سے آزادی کے بعد بھی سات سال کا دور(نعمات کی فراوانی اورکثیر پانی کا زمانہ )گزرچکا تھا۔ اب جب قحط کا زمانہ آیا تو اس وقت برادران یوسف مصر آئے۔
پیام:
1۔خشک سالی کے زمانہ میں معین اور محدود مقدارمیں غذا تقسیم کرنی چاہیئے اور ہر شخص کوا پنا حصہ لینے کے لئے خود آنا چاہیئے تا کہ دوسرے اس کے نام سے سوء استفادہ نہ کرسکیں(اخو )حالانکہ ممکن تھا کہ ایک بھائی کو سب کا نمائندہ بنا کر مصر روانہ کردیا جاتا لیکن سب بھائی اکٹھے مصر آئے ۔
2۔خشک سالی کے زمانہ میں اگر دوسرے شہروں کے افراد امداد طلب کریں تو ان کی مدد کرنی چاہیئے( وَجَاءَ إِخْوَ یُوسُفَ)
3۔حضرت یوسف (ع) سے لوگ بہت آسانی سے ملاقات کرلیا کرتے تھے یہاں تک کہ غیر مصری افراد بھی(وَجَاءَ إِخْوَ یُوسُفَ ...فَدَخَلُو) (حکمرانوں کو ایسا پروگرام بنانا چاہیئے کہ لوگ بآسانی ان سے ملاقات کرسکیں)
آیت 59:
(59) وَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ قَالَ ائْتُونِی بِأَخٍ لَکُمْ مِنْ أَبِیکُمْ ألاَ تَرَوْنَ أَنِّی أُوفِی الْکَیْلَ وَأَنَا خَیْرُ الْمُنزِلِینَ
''اور جب یوسف ان کے لئے سامان تیار کرچکے تو کہنے لگے :(دوبارہ تو)باپ کی طرف سے اپنے ایک سوتیلے بھائی کو میرے پاس لانا ۔ کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں پورا ناپتا ہوں اور بہترین مہمان نواز ہوں؟''
نکات:
حضرت یوسف (ع) نے فرمایا(ائْتُونِی بِأَخٍ لَکُمْ ) یعنی آئندہ اپنے اس بھائی کو اپنے ہمراہ لانا جو تمہارا پدری بھائی ہے آپ (ع)نے یہ نہیں فرمایا : میرے بھائی کو لیتے آنا ،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (ع) نے دانستہ تجاہل سے گفتگو کا سلسلہ جاری کیا تھا ۔
ان لوگوں نے بھی (جیسا کہ تفاسیر میں آیا ہے) بتانا شروع کردیا کہ ہم حضرت یعقوب (ع) کے فرزند اور جناب ابراہیم کے پوتے ہیں، ہمارے والدگرامی ضعیف ہوچکے ہیں جو اپنے اس فرزند کے غم و اندوہ میں جسے بھیڑئے نے پھاڑ ڈالا تھا،وہ سالہاسال سے گریہ کررہے ہیں ۔ انہوں نے گوشہ نشینی اختیار کرلی ہے اور نابینا ہوچکے ہیں ہم لوگوں نے اپنے ایک بھائی کو انہی کی خدمت کے لئے چھوڑ دیا ہے ممکن ہو تو اس بھائی اور والد کا حصہ ہمیں عنایت فرمادیں تاکہ ہم خوشحال ہوکر واپس لوٹیں (یہ سن کر)حضرت یوسف (ع)نے حکم دیا کہ :دس اونٹوں پر لادے جانے والے بار میں دو حصوں( حضرت یعقوب (ع) اور ان کے بیٹے کے لئے )کا اضافہ کردیا جائے۔ حضرت یوسف (ع)نے اپنے بھائیوں کو اپنی طرف کھینچنے اور جذب کرنے کےلئے فرمایا(انَا خَیْرُ الْمُنزِلِینَ ) (یعنی ) میں بہترین میزبان ہوں اس کا اثر یہ ہوا کہ اس جملے کو سنتے ہی وہ لوگ حضرت یوسف کے زیادہ قریب ہوگئے لیکن (مقام افسوس ہے) کہ خداوندعالم اپنے بندوں کو اپنی طرف کھینچنے اور جذب کرنے کے لئے مختلف تعبیرات استعمال فرماتا ہے لیکن اس کے باوجود بہت سے افراد اس کی طرف مائل نہیں ہوتے!!۔(1)
--------------
( 1 )خیر الرازقین ، وہ بہترین روزی دینے والا ہے۔سورہ مومنون آیت 72 ۔ خیر الغافرین ، وہ بہترین بخشنے والا ہے سورہ اعراف آیت 155 ۔ خیر الفاتحین ، وہ بہترین گشایش کرنے والا ہے۔سورہ اعراف آیت 89 ۔ خیرالماکرین ، وہ بہترین تدبیر کرنے والا ہے سورہ انفال آیت 30 ۔ خیر الحاکمین ، وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے، سورہ یونس آیت 109
پیام:
1۔حضرت یوسف (ع) اس غلے کی ذاتی طور پر نگرانی فرمارہے تھے جو مصر میںخشک سالی کے ایام کے لئے ذخیرہ کیا گیا تھا(جَهَّزَهُمْ )
2۔راز داری و سچائی دونوں ضروری ہیں حضرت یوسف (ع) نے فرمایا(أَخٍ لَکُمْ) ''تمہارا بھائی'' ''میرا بھائی نہیں فرمایا'' تاکہ سچائی اور راز داری دونوں کا پاس رکھا جاسکے ۔
3۔بحران اورخشک سالی کے زمانہ میں بھی بے عدالتی اور کم ناپ تول ممنوع ہے(أُوفِی الْکَیْل)
4۔معاملے کے دوران ''جنس'' کی مقدار معین ہونی چاہیئے(الْکَیْل)
5۔جولوگ ، ادارے یا ممالک کسی کی اقتصادی مدد کرتے ہیں وہ اس کی صحیح سمت رہنمائی یا دیگر مصلحتوں کے پیش نظر بعض شرطوں کو پیش کرسکتے ہیں(ائْتُونِی بِأَخٍ...)
6۔کسی ادارے یا ملک میں کام کرنے والے افراد اگر کوئی برا کام کریں یا عدل و انصاف سے کام لیں تو اس کا سارا کریڈٹ سربراہ کو جاتا ہے۔(أَنِّی أُوفِی (ع)(ع)الْکَیْلَ )
7۔مہمان نوازی انبیاء (ع)کے اخلاق میں سے ہے(خَیْرُ الْمُنزِلِین)
8۔وہ مسافر یا کاروان جو آپ کے علاقہ میں وارد ہو ،اس کا احترام کرنا چاہیئے اگرچہ قحط کا زمانہ ہی کیوں نہ ہو۔(خَیْرُ الْمُنزِلِین)
آیت 60:
(60) فَإِنْ لَمْ تَأْتُونِی بِهِ فَلاَ کَیْلَ لَکُمْ عِندِی وَلاَ تَقْرَبُونِ.
''پس اگر تم اس کو میرے پاس نہ ل گے تو تمہارے لئے نہ میرے پاس کچھ (غلہ وغیرہ) ہوگا اور نہ ہی تم میرے نزدیک آسکوگے''۔
پیام:
1۔انتظامی امور میں محبت و دھمکی دونوں ضروری ہیں حضرت یوسف (ع) نے پہلے مژدہ ئ محبت دیا(أنَا خَیْرُ الْمُنزِلِینَ ) پھر تہدید اورالٹی میٹم ( ultimatum )دیا(فَإِنْ لَمْ تَأْتُونِی)
2۔قانون کو جاری کرتے وقت ،بھائی، خاندان اور دیگر افراد کے درمیان فرق نہیں کرنا چاہیئے(فَلاَکَیْلَ لَکُمْ ) (ہر شخص کا ایک خاص حصہ تھا اور اسے اپنا حصہ خود آکر لینا تھا)
3۔دھمکی و وعید میں ضروری نہیں ہے کہ سربراہ و مدیر صددرصد اس دھمکی کے اجرا کا ارادہ بھی رکھتا ہو(فَلاَکَیْلَ لَکُمْ) (کیونکہ حضرت یوسف (ع) ایسے نہ تھے کہ وہ قحط کے زمانہ میں اپنے بھائیوں کو مرتا ہوا دیکھےں)
4۔رہبری کی ایک بڑی شرط یہ ہے کہ وہ اپنے منصوبے اور پروگرام ( program ) کا اجرا کرنے میں مصمم ارادے کا حامل ہو( فَلاَ کَیْلَ لَکُمْ وَلاَ تَقْرَبُون)
آیت 61:
(61)قَالُوا سَنُرَاوِدُ عَنْهُ أَبَاهُ وَإِنَّا لَفَاعِلُونَ
''وہ لوگ کہنے لگے ہم اس کے والد سے اس کے بارے میں جاتے ہی درخواست کریں گے اور ہم ضرور اس کام کو کریں گے''۔
نکات:
مراود: یعنی پے درپے اور مسلسل التماس کے ساتھ یا دھوکہ کے ساتھ رجوع کرنے کو کہتے ہیں۔
ان بھائیوں کی گفتگو میں اب بھی حسد کی بو محسوس کی جاسکتی ہے ذرا غور کیجئے ''ابانا'' ہمارے باپ کی بجائے ''اباہ'' اس کے باپ کہا ہے جب کہ سورہ کے آغاز میں ان کی گفتگو یہ ہے کہ (لیوسف و اخوہ احب الی ابینا منا)یعنی حضرت یعقوب (ع)ہمارے باپ ہیں لیکن یوسف (ع)اور ان کے بھائی کو ہم سے زیادہ چاہتے ہیں۔
آیت 62:
(62) وَقَالَ لِفِتْیَانِهِ اجْعَلُوا بِضَاعَتَهُمْ فِی رِحَالِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَعْرِفُونَهَا إِذَا انقَلَبُوا إِلَی أَهْلِهِمْ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُونَ
''اور یوسف نے اپنے ملازموں کو حکم دیا کہ ان کی (جمع)پونجی جو غلے کی قیمت تھی ان کے سامان میں (چپکے سے) رکھ دو تاکہ جب یہ لوگ اپنے اہل (و عیال) کے پاس لوٹ کرجائیں تو اپنی پونجی کو پہچان لیں (اور اس طمع میں) شاید پھر لوٹ کر آئیں''۔
نکات:
حضرت یوسف (ع) جیسی شخصیت جن کے بارے میں گزشتہ آیات نے صادق ، محسن ، مخلص جیسے گراں بہا الفاظ کے ذریعہ قصیدے پڑھے ،ان سے یہ بات ناممکن ہے کہ وہ بیت المال کو اپنے باپ اوربھائیوں میں تقسیم کردیں، ممکن ہے کہ آپ (ع)نے غلے کی قیمت اپنی ذاتی ملکیت سے ادا کی ہو۔
پیسہ لوٹا دیا تا کہ فقر و ناداری دوسرے سفر میں حائل نہ ہونے پائے( لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُونَ)
علاوہ ازیں پیسہ کا لوٹا دینا اس بات کی دلیل ہے کہ ہم قلبی لگ کی بنیاد پر دوبارہ بلا رہے ہیں اور بھائی کو بلانے میں ہمارا کوئی بُرا ارادہ بھی نہیں ہے ،نیز حضرت یوسف، اجناس کے درمیان ان کی رقم کو مخفیانہ طور پر رکھوا کر نہ صرف ان پر کوئی احسان جتلانا نہیں چاہتے تھے بلکہ چوروں اور رہزنوں سے اس رقم کو محفوظ بھی کررہے تھے ۔
حضرت یوسف (ع) کہ جو کل تک غلام تھے آج آپ کے اردگرد غلام ہیں( لِفِتْیَانِهِ) لیکن بھائیوں سے ملاقات کے وقت نہ ہی ان سے انتقام لیا ،نہ ہی کوئی گلہ شکوہ کیا اور نہ ہی دل میں کینہ رکھا، بلکہ ان کا سرمایہ لوٹا کر انہیں متوجہ کیا کہ میں تم لوگوں کو چاہتا ہوں ۔
پیام:
1۔لائق و فائق رہبر کے منصوبے ، نئے اور جدید ہونے چاہیئےں( اجْعَلُو)
2۔انتقام و کینہ کچھ بھی نہیں بلکہ آئندہ کے رابطے کو یقینی بنانے کے لئے ہدیہ پیش کیا جارہا ہے۔( اجْعَلُوا بِضَاعَتَهُمْ فِی رِحَالِهِمْ... لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُونَ )
3۔لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لئے روپے پیسے کی پرواہ نہیں کرنی چاہیئے ۔(اجْعَلُوا بِضَاعَتَهُمْْ... لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُونَ)
4۔محتاجی و نیاز مندی کے زمانے میں بوڑھے باپ اور بھائیوں سے پیسہ لینا کرامت نفس کے منافی ہے( اجْعَلُوا بِضَاعَتَهُمْ فِی رِحَالِهِمْ)
5۔صلہ رحم یعنی مدد کرنا ، نہ کہ کاروبار کرنا( اجْعَلُوا بِضَاعَتَهُم)
6۔برائیوں کا بدلہ اچھائیوں سے دینا چاہیئے( اجْعَلُوا بِضَاعَتَهُم)
7۔پروگرام ( pragrams )اور منصوبوں کے سو فیصد قابل عمل ہونے کا یقین ضروری نہیں ہے( لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُونَ)
آیت 63:
(63) فَلَمَّا رَجَعُوا إِلَی أَبِیهِمْ قَالُوا یَاأَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْکَیْلُ فَأَرْسِلْ مَعَنَا أَخَانَا نَکْتَلْ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ
''غرض جب یہ لوگ اپنے والد کے پاس پلٹ کر آئے تو سب نے مل کر عرض کی اے بابا! ہمیں (آئندہ) غلہ ملنے کی ممانعت کردی گئی ہے لہٰذا آپ ہمارے ساتھ ہمارے بھائی (بنیامین) کو بھیج دیجئے تاکہ ہم (پھر) غلہ حاصل کریں اور بے شک ہم اس کی پوری حفاظت کریں گے''۔
پیام:
1۔حضرت یعقوب (ع) کو اپنے خاندان اور بیٹوں پر مکمل کنٹرول اور تسلط حاصل تھا(یَاأَبَانَا مُنِعَ )
2۔باپ کو حق ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو حکم دے یا کسی کام سے روک دے(فَأَرْسِلْ)
3۔بنیامین اپنے باپ کی اجازت کے بغیر سفر نہیں کرتے تھے(فَأَرْسِلْ مَعَنَ)
4۔کسی چیز کو لینے اور کسی کے اعتماد کو حاصل کرنے کے لئے عواطف و احساسات سے استفادہ کیا جاتا ہے(أَخَانَا )
5۔مجرم چونکہ اپنے ضمیر کی عدالت میں پریشان ہوتا ہے لہٰذا اپنی گفتگو میںپے درپے یقین دلانے کی کوشش کرتا ہے(إِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ) ''لفظإنّا ''اور حرف لام اور اس جملے کا جملہ اسمیہ ہونا یہ سب تاکید پر دلالت کرتے ہیں یعنی آپ(ع) کے بیٹے آپ(ع) کو بھرپور یقین دلوانا چاہتے تھے ۔
آیت 64:
(64) قَالَ هَلْ آمَنُکُمْ عَلَیْهِ إِلاَّ کَمَا أَمِنتُکُمْ عَلَی أَخِیهِ مِنْ قَبْلُ فَاﷲُ خَیْرٌ حَافِظًا وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ
''(حضرت )یعقوب(ع) بولے : کیا میں اس کے بارے میں تم پر اسی طرح اعتماد کروں جس طرح اس سے پہلے اس کے بھائی (یوسف) کے بارے میں کیا تھا؟ اللہ بہترین محافظ ہے اور وہ بہترین رحم کرنے والا ہے''۔
نکات:
سوال: حضرت یعقوب(ع) کے بیٹوںکی بری سیرت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ سوال اٹھتا ہے کہ دوبارہ حضرت یعقوب (ع) نے پھر کیوں اپنے دوسرے فرزند (بنیامین ) کو ان کے حوالے کردیا؟
اس سوال کے جواب میں فخر رازی نے متعدد احتمالات پیش کئے ہیں جس کی بنیاد پر حضرت یعقوب (ع) کے اس عمل کی توجیہ کی جاسکتی ہے :
1۔حضرت یوسف (ع) کے بھائی گزشتہ عمل کی بنیاد پر اپنا مقصد (باپ کی نگاہ میں محبوبیت) حاصل نہ کرسکے تھے۔
2۔وہ بنیامین سے حضرت یوسف (ع) کی نسبت کم حسد کرتے تھے ۔
3۔شایدخشک سالی کی وجہ سے مشکلات اتنی زیادہ ہوگئی ہوں کہ بنیامین کے ہمراہ دوسرا سفر ضروری ہو گیا ہو۔
4۔حضرت یوسف (ع) کے واقعہ کو دسیوں سال گزر چکے تھے اور اس کا زخم کافی ہلکا ہوچکا تھا۔
5۔خداوندعالم نے حضرت یعقوب(ع) سے ان کے بچے کی حفاظت کا وعدہ کرلیا تھا۔
پیام:
1۔جس شخص کا گزشتہ ریکارڈ( record ) خراب ہو اس پر فوراً اعتماد کرنا صحیح نہیںہے۔(هَلْ آمَنُکُمْ )
2۔ماضی کی تلخ یادیں انسان کو آئندہ پیش آنے والے حادثات کا سامنا کرنے کے لئے آمادہ کردیتی ہیں۔( هَلْ آمَنُکُمْ ...عَلَی أَخِیهِ مِنْ قَبْلُ)
3۔خداوندعالم کی بے نظیر رحمت کو پیش نظر رکھتے ہوئے نیز اس پر توکل و بھروسہ کرتے ہوئے حادثات ِ زندگی کا مقابلہ کرنا چاہیئے( فَاﷲُ خَیْرٌ حَافِظًا وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ)
4۔ایک شکست یا کسی تلخ تجربے کی بنیاد پر انسان کو پیچھے نہیں ہٹنا چاہیئے۔(هَلْ آمَنُکُمْ عَلَیْهِ...فَاﷲُ خَیْرٌ حَافِظً) (1) یعقوب نے خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے دوبارہ بھی دوسرے فرزند کو ان کے حوالے کردیا۔
5۔رحمت خدا، سرچشمہ حفاظت ہے( فَاﷲُ خَیْرٌ حَافِظًا وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ)
آیت 65:
(65)وَلَمَّا فَتَحُوا مَتَاعَهُمْ وَجَدُوا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ إِلَیْهِمْ قَالُوا یَاأَبَانَا مَا نَبْغِی هَذِهِ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ إِلَیْنَا وَنَمِیرُ أَهْلَنَا وَنَحْفَظُ أَخَانَا وَنَزْدَادُ کَیْلَ بَعِیرٍ ذَلِکَ کَیْلٌ یَسِیرٌ
''اور جب ان لوگوں نے اپنے اپنے اسباب کھولے تو اپنی اپنی پونجی کو دیکھا کہ بعینہ واپس کردی گئی ہے (تو اپنے باپ سے) کہنے لگے اے بابا! ہمیں(اور) کیا چاہیے (دیکھئے ) یہ ہماری (جمع) پونجی تک تو ہمیں واپس دےدی گئی ہے (اور
--------------
( 1 )آیت نمبر 12 میں حضرت یعقوب(ع) نے حضرت یوسف (ع)کے لئے ان کے بھائیوں کے محافظ ہونے پر بھروسہ کیا تھا جس کے نتیجے میں یوسف (ع)کی جدائی اور نابینائی کا داغ اٹھانا پڑا لیکن بنیامین کے مورد میں خدا پر بھروسہ کیا اور کہا(فَاﷲُ خَیْرٌ حَافِظًا) نتیجہ یہ ہوا کہ بینائی بھی مل گئی اور فراق و جدائی ،وصال و ملن میں تبدیل ہوگئی۔
غلہ مفت ملا اب آپ بنیامین کو جانے دیجئے تو ) ہم اپنے اہل و عیال کے واسطے غلہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی پوری حفاظت کریں گے۔ اور ایک بار شتر غلہ اور بڑھوا لائیں گے یہ (جو اب کی دفعہ لائے تھے ) تھوڑا سا غلہ ہے (یا معنی یہ ہو کہ ایک اضافی اونٹ کا بار عزیز مصر کےلئے معمولی چیز ہے)''
نکات:
کلمہ ''نمیر'' مادہ ''میر ''سے ہے یعنی کھانے پینے کا سامان''نمیر اهلنا'' یعنی اپنے گھر والوں کی غذا فراہم کریں گے ۔
جملہ'' َنَزْدَادُ کَیْلَ بَعِیرٍ'' سے استفادہ ہوتا ہے کہ ہر شخص کا حصہ ایک بارِ شتر تھا جس کی بنیاد پر خود حاضر ہونا ضروری تھاتا کہ اسے حاصل کرسکے ۔
پیام:
1۔فرزندان یعقوب (ع) اپنے باپ کے ساتھ تو زندگی بسر کرتے تھے اور اپنے گھر والوں کےلئے اسباب خوردونوش فراہم کرنے کےلئے تلاش و جستجو کرتے تھے۔( فَتَحُوا مَتَاعَهُمْ یَاأَبَانَا...)
2۔حضرت یوسف (ع) کا ہنر فقط یہ نہ تھا کہ وہ انسان کامل تھے بلکہ آپ کا کمال یہ تھا کہ آپ انسان سازی کررہے تھے۔''اپنے حاسد اور جفاکار بھائیوں کو مخفی طور پر ہدیہ دیا تاکہ دوبارہ آنے کے لئے راستہ ہموار ہوسکے''(وَجَدُوا بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ إِلَیْهِمْ) (1)
3۔اگر شروع میں جنس کی قیمت نہ لی جائے تو خریدار کی تحقیر ہو گی ۔ اگر ہدیہ کا قصد ہے تو پہلے قیمت لے لی جائے پھر محبت آمیز شکل میں پلٹا دیا جائے(رُدَّتْ إِلَیْهِمْ)
4۔اگر فراری کبوتر کو پکڑنا چاہو تو تھوڑا سا دانہ اسے ڈالنا پڑے گا '' یوسف (ع) نے غلہ کی قیمت لوٹا دی تا کہ پلٹنے کا ارادہ اور قوی ہوجائے''( بِضَاعَتَهُمْ رُدَّتْ إِلَیْهِمْ )
5۔مرد گھر والوں کو غذا فراہم کرنے کا ذمہ دار ہے۔(نمیر اهلن)
6۔قحط اور کمیابی کے حالات میں اشیاء خوردونوش کو محدود حصوں میں بانٹنا یوسفی سنت ہے۔(نَزْدَادُ کَیْلَ بَعِیرٍ )
--------------
( 1 )قرآن مجید میں خدا فرماتا ہے(ادفع باللتی هی احسن ) یعنی برائی کا جواب اچھائی سے دو۔ سورہ فصلت آیت 34
آیت 66:
(66) قَالَ لَنْ أُرْسِلَهُ مَعَکُمْ حَتَّی تُتُونِ مَوْثِقًا مِّنْ اﷲِ لَتَأْتُنَنِیْ بِهِ إِلاَّ أَنْ یُحَاطَ بِکُمْ فَلَمَّا آتَوْهُ مَوْثِقَهُمْ قَالَ اﷲُ عَلَی مَا نَقُولُ وَکِیلٌ
''(یعقوب (ع) نے)کہا جب تک تم لوگ میرے سامنے خدا سے عہد نہ کرلو گے کہ تم اس کو ضرور مجھ تک (صحیح و سالم ) لے گے مگر یہ کہ تم خود کسی مشکل میں گھر ج (تو مجبوری
ہے ورنہ میں تو تمہارے ساتھ ہر گز اس کو نہ بھیجوں گا) پھر جب ان لوگوں نے ان کے سامنے عہد کرلیا تو یعقوب نے کہا کہ ہم لوگ جو کہہ رہے ہیں خدا اس کا ضامن ہے''۔
نکات:
موثق : یعنی وہ چیز جو مدّ مقابل یعنی مخاطب کے بارے میں مایہئ وثوق و اطمینان ہو جو عہد، قسم یا نذر ہوسکتی ہے۔(مَوْثِقًا مِنْ اﷲِ)
ہمارا پروردگار ہم پر ہمارے باپ سے بھی زیادہ مہربان ہے۔ اس داستان میں حضرت یعقوب (ع) نے اپنے فرزندوں کی ایک خیانت پر اپنے دوسرے فرزند کو ان کے حوالے نہ کیا۔ لیکن ہم لوگ ہر روز خداوندعالم کے احکام کی صریحا ً خلاف ورزی کرتے ہیں لیکن وہ اس معصیت کے باوجود ہم سے اپنی نعمات کو سلب نہیں کرتا۔
پیام:
1۔خدا پر ایمان ، ذات خداوند کی قسم نذر و عہد کل بھی قوی ترین سہارا تھا اور آج بھی محکم پشت پناہ ہیں(مَوْثِقًا مِنْ اﷲِ )
2۔کسی کی بدقولی و بدرفتاری کے مشاہدہ کے بعد دوسرے موقع پر اس سے محکم و مستحکم معاہدہ کرنا چاہیئے(مَوْثِقً)
3۔اپنے بچوں کو آسانی کے ساتھ دوسروں کے ساتھ بھیجنا صحیح نہیں ہے۔(تُتُونِ مَوْثِقًا مِنْ اﷲِ )
4۔معاہدہ کرتے وقت ناگہانی اورغیر متوقع حوادث کی پیش بینی بھی کرنا چاہیئے( إِلاَّ أَنْ یُحَاطَ بِکُمْ ) یعنی تکلیف مالا یطاق ممنوع ہے۔
5۔تمام تر حقوقی اور قانونی معاہدوںکے ہوتے ہوئے خدا پر مکمل توکل سے غافل نہیں ہونا چاہیئے( اﷲُ عَلَی مَا نَقُولُ وَکِیلٌ)
آیت 67:
(67) وَقَالَ یَابَنِیَّ لاَ تَدْخُلُوا مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ وَادْخُلُوا مِنْ أَبْوَابٍ مُتَفَرِّقَ وَمَا أُغْنِی عَنکُمْ مِنْ اﷲِ مِنْ شَیْءٍ إِنْ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلَّهِ عَلَیْهِ تَوَکَّلْتُ وَعَلَیْهِ فَلْیَتَوَکَّلْ الْمُتَوَکِّلُون
''اور یعقوب نے (نصیحت کے طور پر چلتے وقت بیٹوں سے کہا) اے فرزندو! (دیکھو خبردار) سب کے سب ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہونا (کہ کہیں نظر نہ لگ جائے) اور متفرق دروازوں سے داخل ہونا اور میں تم سے اس (بلا) کو جو خدا کی طرف سے (آئے کچھ بھی ٹال نہیں سکتا) حکم تو (دراصل) خدا ہی کے واسطے ہے میں نے اسی پر بھروسہ کیا ہے اور بھروسہ کرنے والوں کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہیئے''۔
پیام:
1۔نافرمان بیٹوں سے بھی باپ کی محبت ختم نہیں ہوتی( یَابَنِیَّ)
2۔بچوں کی حفاظت وسلامتی کےلئے تدبیر و غوروفکر ضروری ہے( یَابَنِیَّ لاَتَدْخُلُوا)
3۔وعظ و نصیحت کے بہترین اوقات میں سے ایک اہم وقت وہ ہے جب انسان سفر کے لئے تیار ہو۔ حضرت یعقوب (ع) نے سفر کے موقع پر فرمایا:( یَابَنِیَّ لاَ تَدْخُلُوا مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ) (1)
4۔حساسیت ، بدگمانی اور بری نگاہ سے لوگوں کو بچانا چاہیئے جوانوں کا گروہی طور پر کسی اجنبی جگہ پر جانا بدگمانی و چغل خوری کا سبب بن سکتا ہے(لاَتَدْخُلُوا مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ)
5۔لطف و کرم اور قدرت خداوندی کو کسی ایک راہ میں منحصر نہیں سمجھنا چاہیئے اس ذات اقدس کا دست قدرت انتہائی وسیع ہے وہ جس راستہ سے چاہے مدد پہنچا سکتا ہے۔(لاَ تَدْخُلُوا مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ) (2)
--------------
( 1 )روایات میں بھی ہے کہ سفر کرتے وقت وعظ و نصیحت کرنی چاہیئے
( 2 )روایات میں ہے کہ : تاجر افراد اپنی تمام جمع پونجی کی سرمایہ کاری ایک جگہ پر نہ کریں تا کہ اگر ایک راستہ بند ہوجائے تو دوسری راہ کھلی رہے.
6۔احتیاط اور تدبیر کے ساتھ ساتھ(لاَ تَدْخُلُوا...) خدا پر توکل اور بھروسہ بھی ضروری ہے(عَلَیْهِ تَوَکَّلْتُ)
7۔بہترین مدیر و سربراہ وہ ہے جو پروگرام اور منصوبے کے علاوہ تمام احتمالات کو مدنظر رکھے کیونکہ انسان اپنے امور کی انجام دہی میں مستقل نہیں ہے یعنی تمام تر احتیاط اور دقت کے باوجود خدا کا دست قدرت وسیع تر ہے اور ہماری تمام تر احتیاط اور حساب و کتاب کے باوجود ان کی انجام دہی پر صد در صد ضمانت نہیں ہے(وَمَا أُغْنِی عَنکُمْ مِنْ اﷲِ مِنْ شَیْئٍ)
8۔خدا کے علاوہ کسی دوسرے پر بھروسہ نہیں کرنا چاہیئے'' عَلَیْهِ تَوَکَّلْتُ'' کیونکہ وہ تن تنہا کافی ہے(و کفی بالله وکیل) (1) اور اللہ بہترین وکیل ہے(نعم الوکیل) (2)
9۔حضرت یعقوب (ع) نے خود بھی خدا پر بھروسہ کیا اور دوسروں کو بھی خدا پر'' توکل'' کرنے کا حکم فرمایا۔( تَوَکَّلْت... فَلْیَتَوَکَّلْ ...)
10۔خداوندمتعال کے فیصلوں کے آگے سرتسلیم خم کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔(مَا أُغْنِی عَنکُمْ مِنْ اﷲِ مِنْ شَیْئٍ)
11۔اس کائنات میں حکم کرنے کا مطلقا ًحق ، صرف ذات پروردگار کو ہے(إِن الْحُکْمُ إِلاَّ لِلَّهِ )
--------------
( 1 )سورہ نساء آیت 81
( 2 )سورہ آل عمران آیت 173
آیت 68:
(68) وَلَمَّا دَخَلُوا مِنْ حَیْثُ أَمَرَهُمْ أَبُوهُمْ مَا کَانَ یُغْنِی عَنْهُمْ مِنْ اﷲِ مِنْ شَیْءٍ إِلاَّ حَاجَ فِی نَفْسِ یَعْقُوبَ قَضَاهَا وَإِنَّهُ لَذُو عِلْمٍ لِمَا عَلَّمْنَاهُ وَلَکِنَّ أَکْثَرَ النَّاسِ لاَیَعْلَمُون
''اورجب یہ سب بھائی جس طرح انکے والد نے حکم دیا تھا اسی طرح (مصر میں)داخل ہوئے تو (جو حکم) خدا (کی طرف سے آنے کو تھا اس ) سے انہیں کوئی بچانے والا نہ تھا مگر (ہاں) یعقوب کے دل میں ایک تمنا تھی جسے انہوں نے بھی یوں پورا کرلیا چند مختلف دروازوں سے اپنے بیٹوں کو داخلے کا حکم دے کر یعقوب ان کو نظر بد سے بچانا چاہتے تھے کیونکہ اس میں تو کوئی شک نہیں ہے کہ اسے چونکہ ہم نے علم دیا تھا صاحب علم ضرور تھامگر بہتےرے لوگ (اس سے بھی)واقف نہیں ہیں''۔
نکات:
حضرت یعقوب علیہ السلام کی کونسی اندرونی خواہش پوری ہوئی اس میں چند احتمالات ہیں :
1۔ بنیامین حضرت یوسف علیہ السلام تک پہنچ جائیں اور حضرت یوسف (ع)کو تنہائی سے نجات ملے اگرچہ بنیامین پر چوری کی تہمت لگے ۔
2۔ باپ بیٹے کے ملن میں سرعت اور جلدی ہوسکے جس کے بارے میں آئندہ اشارہ کیا جائے گا ۔
3۔ فریضہ کی انجام دہی ، اگرچہ نتیجہ کی کوئی ضمانت نہ ہو حضرت یعقوب علیہ السلام کی حاجت یہ ہے کہ ملاقات کے مقدمات میں کوتاہی نہ ہو اور وہ لوگ ایک ہی دروازے سے داخل نہ ہوں لیکن جو ہو گا وہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔
پیام:
1۔ تلخ تجربے انسان کو باادب بنادیتے ہیں اور وہ بزرگوں کی باتوں کو قبول کرنے لگتا ہے ۔(دَخَلُوا مِنْ حَیْثُ أَمَرَهُمْ أَبُوهُمْ)
2۔ اگر کسی کی بے ادبی کا ذکر کیا ہے تو اس کے ادب کو بھی بیان کرنا چاہیئے ۔(دَخَلُوا أَبُوهُمْ) (اگر برادران یوسف نے کل اپنے بابا پر گمراہی کا الزام لگایا تھا تو آج فرمان پدری پر سرتسلیم خم کردیا ہے۔)
3۔ پروگرام ، عزائم ، تخمینہ جات اورمصمم ارادے کے ساتھ اگر خداوندمتعال کا ارادہ بھی ہو تو پھر تمام پروگرام عملی جامہ پہن سکتے ہیں لیکن اگر خدا کا ارادہ شامل حال نہ ہو تو تمام عزم و ارادے بے کار ہوجاتے ہیں ۔( مَا کَانَ یُغْنِی عنهم مِنْ اﷲِ مِنْ شَیْئٍ)
4۔ جناب یعقوب (ع)تمام مطالب و اسرار سے آگاہ تھے لیکن مصلحتاً ان کا اظہار نہیں فرمایا۔(حَاجَ فِی نَفْسِ یَعْقُوبَ)
5۔ اولیائے خداکی دعائیں مستجاب ہوتی ہیں ۔( حَاجَ فِی نَفْسِ یَعْقُوبَ قَضَاهَا )
6۔ انبی(ع)ء کا علم خداوندعالم کی طرف سے ہے(عَلَّمْنَ)
7۔ اکثر لوگ اسباب و علل کو دیکھا کرتے ہیں لیکن خدا کی حاکمیت اور لزوم توکل سے بے خبر ہوتے ہیں۔(أَکْثَرَ النَّاسِ لاَ یَعْلَمُون)
آیت 69:
(69)وَلَمَّا دَخَلُوا عَلَی یُوسُفَ آوَی إِلَیْهِ أَخَاهُ قَالَ إِنِّی أَنَا أَخُوکَ فَلاَ تَبْتَئِسْ بِمَا کَانُوا یَعْمَلُونَ
''اور جب یہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے حقیقی بھائی بنیامین کو اپنے پاس جگہ دی اور (چپکے سے ) اس (بنیامین) سے کہہ دیا کہ میں تمہارا بھائی ہوں تو جوکچھ (بدسلوکیاں) یہ لوگ تمہارے ساتھ کرتے رہے ہیں اسکا رنج نہ کرو ''۔
نکات:
تفسیروں میں مذکور ہے کہ جب برادران یوسف (ع)وارد مصر ہوئے تو حضرت یوسف علیہ السلام نے ان کی مہمان نوازی فرمائی جس میں ہر دو آدمیوں کے لئے غذا کا ایک طبق معین کردیا آخر میں بنیامین تنہا رہ گئے تو حضرت یوسف (ع)نے ان کو اپنے نزدیک بٹھا لیا اس کے بعد ہر دو آدمیوں کے لئے ایک کمرہ معین کیا تو پھر بنیامین تنہا رہ گئے تو انہیں اپنے حجرے میں رکھ لیا وہاں بنیامین نے اپنے بھائیوں کی بے وفائی اور ظلم و ستم کا ذکر چھیڑ دیا جو انہوں نے حضرت یوسف (ع)پر ڈھائے تھے یہاں پر کاسہ صبر یوسفی لبریز ہوگیا ۔ فرمایا: پریشان مت ہو میں وہی یوسف ہوں اور تاکید کے ساتھ فرمایا۔(انی انا اخوک) میں ہی تمہارا بھائی ہوں تاکہ ایسا کوئی احتمال نہ آئے کہ میں تمہارے بھائی کی جگہ پر ہوں۔
جملہ(فَلاَ تَبْتَئِسْ بِمَا کَانُوا یَعْمَلُون ) کے معنی کے سلسلے میں دو احتمال ہیں ۔
1۔ یا تو یہ کہ وہ اپنے بھائیوں کی گزشتہ کارستانیوں سے غمناک نہ ہو۔
2۔ یا یہ کہ وہ پروگرام جسے ہمارے غلاموں نے تمہارے لئے بنایا ہے کہ تمہارے حصے میں پیمانہ ڈال دیں گے تاکہ تم میرے پاس رہ سکو اس سے پریشان نہ ہونا۔
پیام:
1۔ وہ برادران جنہیں کل اپنی قدرت پر ناز تھا اور کہہ رہے تھے ''نحن عصبہ'' ہمارا گروہ قوی ہے وہی آج اس درجہ کو پہنچ چکے ہیں کہ اپنا آذوقہ (انتہائی کم غذا) مہیا کرنے کے لئے آستانہ حضرت یوسف (ع)پر تواضع کے ساتھ بوسہ دینے پر مجبور ہیں۔(دَخَلُوا عَلَی)
2۔ کلام اور گفتگو کے مختلف مرحلے ہیں کہیں مخفیانہ گفتگو ہوتی ہے تو کہیں اعلانیہ، حضرت یوسف نے مخفیانہ انداز سے فقط بنیامین سے کہا :( إِنِّی أَنَا أَخُوک) (ہرسخن جائی و ہر نکتہ مقامی دارد) ہر سخن اور نکتہ کا اپنا موقع و محل ہوتا ہے۔
3۔ بعض امور سے فقط خاص لوگوں کو باخبر کرنا چاہیئے(فَلاَ تَبْتَئِسْ )
4۔ جب بھی کوئی نعمت حاصل ہوتو ماضی کی تلخ کامیوں کو بھول جانا چاہیئے (یوسف (ع)اور بنیامین نے ملاقات کی چاشنی محسوس کرلی ہے تو اب ضرورت اس بات کی ہے کہ پرانی باتوں کو بھلا دیا جائے۔)(فَلاَ تَبْتَئِسْ)
5۔ کسی بھی پروگرام اور نقشہ کو عملی جامہ پہنانے سے قبل بے گناہ شخص کو روحانی و نفسیاتی طور پر آمادہ کرلینا چاہیئے ۔ (بنیامین سے کہا گیا کہ تمہیں چور قراردے کر یہاں روکا جائے گا لہٰذاپریشان نہ ہونا۔)(فَلاَ تَبْتَئِسْ)
آیت 70:
(70) فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَ فِی رَحْلِ أَخِیهِ ثُمَّ أَذَّنَ مُذِّنٌ أَیَّتُهَا الْعِیرُ إِنَّکُمْ لَسَارِقُونَ
''پھر جب یوسف نے ان کا ساز وسامان (سفر غلہ وغیرہ)تیار کرا دیا تو اپنے بھائی کے سامان میں پانی پینے کا کٹورا رکھ دیا پھر ایک منادی للکار کے بولا کہ اے قافلے والو(ہو نہ ہو)یقینا تمہیں لوگ چور ہو''۔
نکات:
یہ دوسری نقشہ کشی ہے جسے حضرت یوسف علیہ السلام انجام دے رہے ہیں پہلی مرتبہ غلہ کی قیمت کو بھائیوں کے سامان میں رکھ دیا تاکہ وہ دوبارہ پلٹ آئیں اس بار قیمتی برتن اپنے بھائی کے سامان میں رکھ دیا تاکہ اسے اپنے پاس رکھ سکیں ۔
''سقایه'' اس کٹورے اور پیمانے کو کہتے ہیں جس میں پانی پیا جاتا ہے''رحل'' اس خوگیر یا بوری کو کہتے ہیں جو اونٹ کے اوپر رکھی جاتی ہے اور اس کے دونوں اطراف سامان وغیرہ رکھنے کی گنجائش ہوتی ہے (پالان ، محمل) ''عیر''اس قافلہ کو کہتے ہیں جو غذائی اجناس لے کر جاتا ہے(1)
تفسیروں میں بیان ہوا ہے کہ حضرت یوسف اور بنیامین کے درمیان جو نشست ہوئی اس میں حضرت یوسف نے بنیامین سے پوچھا کہ کیا وہ یوسف کے پاس رہنا پسند کرتے ہیں ؟ تو جناب بنیامین نے رضایت کا اظہار کردیالیکن یہ بتا دیاکہ ان کے بابا نے بھائیوں سے تعہد لیا ہے کہ بنیامین کو اپنے ہمراہ واپس لے کر آئیں گے ۔ اس پر حضرت یوسف نے فرمایا : گھبر نہیں ، میں تمہارے رہنے کے لئے نقشہ کشی کرکے ایک راستہ نکال لوں گا۔
اس ماجرے میں بے گناہوں پر چوری کاالزام کیوں لگایا گیا؟
--------------
( 1 )مفردات راغب.
جواب: بنیامین نے اپنے بھائی کے پاس رکنے کے لئے بسر و چشم اس منصوبے کو قبول کیا تھا باقی برادران اگرچہ کچھ دیر کے لئے ناراض ہوئے لیکن تحقیق کے بعد ان سے الزامات مرتفع ہوگئے علاوہ ازیں کام کرنے والوں کو خبر نہ تھی کہ حضرت یوسف نے خود سامان کے درمیان پیمانہ ڈال دیا ہے ۔ (جعل) ان لوگوں نے تو طبیعی طور چیخنا شروع کردیا کہ(انکم لسارقون) تم ہی لوگ چور ہو۔
امام صادق علیہ السلام نے فرمایا: ان لوگوں نے حضرت یوسف (ع)کو حضرت یعقوب (ع)کی بارگاہ سے چرا لیاتھا لہٰذاکام کرنے والوں نے یہ کہاکہ ہم نے بادشاہ کا پیمانہ گم کردیا ہے یہ نہیں کہا کہ تم لوگوں نے بادشاہ کا پیمانہ چرالیا ہے فقط حضرت یوسف علیہ السلام یہ بتانا چاہتے تھے تم لوگوں نے حضرت یعقوب (ع)کی بارگاہ سے یوسف (ع)کو چرایا ہے(1)
پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا:''لاکذب علی المصلح'' اگر کوئی شخص دو آدمیوں کے درمیان صلح و آشتی اور رفع اختلافات کے لئے جھوٹ کا سہارہ لیتا ہے تو وہ جھوٹ شمار نہیں ہوتا ، اس وقت آنحضرت (ص)نے اسی آیہ شریفہ کی تلاوت فرمائی۔(2)
--------------
(1)تفسیر نور الثقلین ۔البتہ اس عمل کو اصطلاح میں''توریہ'' کہتے ہیں یعنی کہنے والا ایک خاص ہدف رکھتا ہے لیکن سننے والا دوسرا ہدف سمجھتا ہے ۔ بہرحال اگر موذن سے مراد آیت میں حضرت یوسف علیہ السلام ہیں تو یہ توریہ صحیح ہے ۔ واللہ العالم۔
(2)تفسیر نورالثقلین۔ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ ایسے موارد کذب میں شمار ہوتے ہیں یا نہیں یعنی آیا مصلح یا اس قسم کے لوگوں سے کذب کا حکم اٹھا لیا گیا ہے یا اصلاً جھوٹ ہی نہیں ہے۔ اس مشکل کو حل کرنے کےلئے صدق و کذب ، سچ اور جھوٹ کے معنی کو دیکھنا پڑے گا عام طور پر صدق کی تعریف اس طرح کی جاتی ہے : وہ خبر جو مطابق واقع ہو ۔ جھوٹ کی تعریف میںیہ کہا جاتا ہے : وہ خبر جو مخالف واقع ہو۔ اگر یہی تعریف صحیح ہے تو پھر بہت سے مقاما ت پر یہ قاعدہ ٹوٹ جائے گا مثال کے طور پر سورہ منافقین کی پہلی آیت میں خداوندعالم گواہی دیتا ہے کہ نبی اکرم (ص) خدا کے رسول ہیں لیکن وہیں پر فرماتا ہے کہ ''واﷲ یشھد ان المنافقین لکاذبون''اگر مطابق واقع خبر سچ ہے تو پھر منافقین کو سچا ہونا چاہیئے لیکن قرآن کریم فرما رہا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں ۔ اسی طرح مصلح خلاف واقع گفتگو کرتا ہے لیکن نبی اکرم فرماتے ہیں کہ یہ جھوٹ نہیں ہے ۔ اسکا مطلب یہ ہوا کہ معیار صدق و کذب مطابق و مخالف واقع ہونا نہیں ہے بلکہ معیار کچھ اور ہے درحقیقت معیار صدق و کذب عدل و ظلم ہے جہاں ایک کلام عدل ہوگا وہ صدق ہوگا اور جہاں ظلم ہوگا وہاں کذب اور جھوٹ ہو گا غالبا ًجوکلام صادق ہوتا ہے وہ عدل ہوتا ہے لیکن بہت کم موارد میں ایسا ہوتا ہے جہاں کذب عدل ہوتا ہے دوسری طرف غالباً کذب ظلم ہوتا ہے اور کم مواقع ایسے آتے ہیں جہاں صدق اور سچ ظلم ہوتا ہے اور یہ بات واضح ہے کہ حکم شرعی ، حرام اور مباح ،دائر مدار صدق و کذب نہیں ہے بلکہ دائر مدار عدل و ظلم ہے ۔ بنابریں مصلح کا صلح قائم کرنے کےلئے صحیح بات بتانے سے گریز کرنا عدل ہے لہٰذا وہ جھوٹ نہیں ہے ، منافقوں کا رسول اکرم (ص) کو رسول کہنا باوجودیکہ دل سے ان کے مخالف تھے ظلم ہے، لہٰذا وہ سچ نہیں ہے ،جناب یوسف (ع)کا اپنے بھائی کو روکنا عدل ہے تاکہ آئندہ کےلئے راہ ہموار ہوسکے ، لہٰذا جھوٹ نہیں ہے۔مترجم۔
پیام:
(1) کبھی کبھی کسی ماجرے کی گہرائی تک پہنچنے کے لئے نقشہ کشی اور سازش کا سہارہ لیا جاتا ہے(1) بنابریں اہم مصلحتوں کے پیش نظر بے گناہ شخص پر چوری کا الزام لگانا کہ جس کے بارے میں پہلے آگاہ کردیا ہو کوئی مشکل کام نہیں ہے(2)
آیت 71:
(71)قَالُوا وَأَقْبَلُوا عَلَیْهِمْ مَاذَا تَفْقِدُونَ
''یہ سن کر یہ لوگ پکارنے والوں کی طرف رخ کرکے کہنے لگے (آخر) تمہاری کونسی چیز گم ہوگئی ہے ؟''
--------------
(1)مثلاًنمائش ، تصاویر اورفلم وغیرہ میں بظاہر لوگوں کو مجرم ، گناہگاروغیرہ جیسے خطاب سے مخاطب کیا جاتا ہے حتی انکو شکنجہ بھی دیا جاتا ہے لیکن چونکہ ان لوگوں کو پہلے سے متوجہ کردیا جاتا ہے اور وہ راضی ہوتے ہیں اسی بنیاد پر اہم مصلحت کودیکھتے ہوئے اسے قبول کرلیتے ہیں۔
(2)تفسیر المیزان ج ،11 ص 244
آیت 72:
(72) قَالُوا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِکِ وَلِمَنْ جَاءَ بِهِ حِمْلُ بَعِیرٍ وَأَنَا بِهِ زَعِیمٌ
'' ان لوگوںنے جواب دیاکہ ہمیں بادشاہ کا پیالہ نہیں ملتا ہے جو شخص اسے پیش کرے گا اس کےلئے بارشتر(غلہ انعام) ہے اور میں اس کا ضامن ہوں''۔
نکات:
'' صُوَاعَ '' (1) اور''سقایہ''دونوں ہم معنی ہیں یعنی وہ ظرف جس سے پانی پیا جاتا ہو اور اسی سے گیہوں بھی تولا جاتا ہو جو صرفہ جوئی کی علامت ہے یعنی ایک چیز سے چند کام۔
''حِملْ'' بار کو کہتے ہیں ''حَمل'' بھی بار ہی کو کہتے ہیں لیکن اس بار کو جو پوشیدہ ہو مثلاًوہ بارش جو بادل میں چھپی ہو یا وہ بچہ جو شکم مادر میں ہو(2)
جملہ''َلِمَنْ جَاءَ بِهِ حِمْلُ بَعِیر'' یعنی جو ایسا کرے گا اس کی جزا یہ ہو گی اسے فقہی اصطلاح میں''جُعاله '' کہتے ہیںجو سابقہ اور قانونی اعتبار کا حامل ہے
پیام:
1۔ انعام و اکرام کی تعیین پرانی روش ہے(لِمَنْ جَاءَ بِهِ حِمْلُ بَعِیر)
2۔انعام و اکرام انسان اور زمانے کی مناسبت سے ہونا چاہیئے ۔ خشک سالی کے زمانے میں بہترین انعام غلے سے لدا ہوا ایک اونٹ ہے( حِمْلُ بَعِیر)
3۔ حصول اطمینان کے لئے ضامن قرار دینا تاریخی سابقہ رکھتا ہے(أَنَا بِهِ زَعِیم)
--------------
(1) تفسیر اطیب البیان میں آیا ہے کہ صواع اس ظرف کو کہتے ہیں جس میںایک صاع (تقریبا تین کلو) گیہوں کی گنجائش ہوتی ہے.
(2)مفردات راغب.
آیت 73:
(73) قَالُوا تَاﷲِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْأَرْضِ وَمَا کُنَّا سَارِقِینَ
''تب یہ لوگ کہنے لگے خدا کی قسم تم تو جانتے ہو کہ ہم (تمہارے )ملک میں فساد کرنے کی غرض سے نہیں آئے اور نہ ہی ہم لوگ چور ہیں ''۔
نکات:
برادران یوسف نے کہا : آپ لوگ جانتے ہیں کہ ہم لوگ چوری اور فساد برپا کرنے کے لئے نہیں آئے وہ لوگ یہ کیسے جانتے تھے کہ یہ چور اور فسادی نہیں ہیں ؟ اس میں چند احتمال ہیں ۔(1) شاید حضرت یوسف نے اشارہ کیا ہو کہ یہ لوگ چور نہیں ہیں(2) شاید شخصی داخلہ کے وقت کچھ افراد معین ہوں کہ جو رفت و آمد پر نظر رکھتے ہوں۔ جی ہاں! یقینا باہر سے آنے جانے والے افراد کی نگرانی کرنی چاہیئے خصوصا ًاس وقت جب ملک بحرانی کیفیت میں ہو تو زیادہ گہری نگاہ رکھنی چاہئےے تاکہ آنے والے مسافرین کے اہداف کا علم رہے ۔
پیام:
1۔ بے داغ ماضی ،بری الذمہ ہونے کی علامت ہے ۔( لَقَدْ عَلِمْتُم)
2۔ ''چوری'' بھی زمین پر فساد کا ایک مصداق ہے( مَا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْأَرْضِ وَمَا کُنَّا سَارِقِینَ )
آیت 74:
(74) قَالُوا فَمَا جَزَهُ إِنْ کُنتُمْ کَاذِبِینَ
''وہ (ملازمین) بولے کہ اگر تم جھوٹے نکلے تو پھر اس (چور) کی سزا کیا ہونی چاہیئے ''۔
نکات:
جو بات سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ سوال تیار کرنے والے حضرت یوسف علیہ السلام ہیں چونکہ وہ جانتے تھے کہ ان کے بھائی کنعان کے علاقائی قانون اور حضرت یعقوب کے( نظریہ کے )مطابق اپنا نظریہ پیش کریں گے ۔
کیا قاضی کے علم اور ملزم کے قسم کھانے کے باوجود بھی تحقیق کرنا ضروری ہے ؟( تَاﷲِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ)
جواب: جی ہاں ۔ اس کی دلیل جملہ'' فَمَا جَزَهُ إِنْ کُنتُمْ کَاذِبِینَ '' ہے۔
پیام:
1۔ مجرم کی سزا کو معین کرنے کے لئے اس کے ضمیر سے سوال کیا جائے( فَمَا جَزَهُ...)
آیت 75:
(75) قَالُوا جَزَهُ مَنْ وُّجِدَ فِی رَحْلِهِ فَهُوَ جَزَهُ کَذَلِکَ نَجْزِی الظَّالِمِینَ
''وہ (بے دھڑک)بول اٹھے کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے بورے میں وہ (پیالہ) پایا جائے تو وہی اس کا بدلہ ہے (تو وہ مال کے بدلے میں غلام بنایا جائے گا)ہم لوگ تو(اپنے یہاں کنعان میں) ظالموں(چوروں) کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں''۔
پیام:
1۔ بعض گزشتہ اقوام میں چوری کی سزا چور کو غلام بنا لینا تھی(1) ۔( فَهُوَ جَزَهُ)
2۔ قانون میں کوئی استثناء اور پارٹی بازی نہیں ہونی چاہیئے ۔ جو بھی چور ہوگا غلامی کی زنجیر اس کے پیروں میں ہوگی۔( مَنْ وُجِدَ فِی رَحْلِهِ)
3۔ ممکن ہے کہ مجرم کی سزا اس کے علاقے کے قانون کے مطابق ہو ۔ میزبان ملک کے قانون کے مطابق سزا دینا ضروری نہیں ہے۔(کَذَلِکَ نَجْزِی الظَّالِمِینَ)
4۔ چوری ، ظلم کا کھلا ہوانمونہ ہے کیونکہ آیت کے آخری حصے میں لفظ ''سارق'' کے بجائے ''ظالم ''استعمال ہوا ہے۔
--------------
(1) بنابر نقل تفسیر مجمع البیان اس غلامی کی مدت ایک سال تھی.
آیت 76:
(76) فَبَدَأَ بِأَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَاءِ أَخِیهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِعَاءِ أَخِیهِ کَذَلِکَ کِدْنَا لِیُوسُفَ مَا کَانَ لِیَأْخُذَ أَخَاهُ فِی دِینِ الْمَلِکِ إِلاَّ أَنْ یَشَاءَ اﷲُ نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَنْ نَشَاءُ وَفَوْقَ کُلِّ ذِی عِلْمٍ عَلِیمٌ
''غرض یوسف نے اپنے بھائی کے شلیتے کھولنے سے پہلے دوسرے بھائیوں کے شلیتوں سے (تلاشی) شروع کی اس کے بعد (آخر میں) اس (پیالے) کو یوسف نے اپنے بھائی کے شلیتہ سے برآمد کیا ،یوسف کے (بھائی کو روکنے کی) ہم نے یوں تدبیر بتائی ورنہ وہ (بادشاہ مصر کے) قانون کے مطابق اپنے بھائی کو نہیں روک سکتے تھے مگر ہاں جب ہم چاہتے ہیں اس کے درجات بلند کر دیتے ہیں ،اور ہر صاحب علم سے بڑھ کر ایک بہت بڑی دانا ذات (بھی) ہے ''۔
نکات:
چونکہ بنیامین اس واقعہ سے آگاہ تھے لہٰذا تلاشی کے وقت کافی مطمئن تھے ، یہی وجہ ہے کہ اس پورے ماجرے میں کہیں بھی ان کی طرف سے کوئی اعتراض نقل نہیں کیا گیا ہے ۔ علاوہ ازین تاکہ یہ نقشہ کشی مخفی رہ سکے اور بدگمانی کا سبب نہ بنے تلاشی کو دوسرے لوگوں سے شروع کیا گیا یہاں تک کہ بنیامین کی نوبت آگئی اور جب وہ پیمانہ ان کے سامان میں پایا گیا تو اب گزشتہ قراردادکے مطابق ان کا مصر میں رہنا ضروری ہوگیا ۔یہ خدائی تدبیر تھی کیونکہ جناب یوسف علیہ السلام مصری قوانین کے تحت چور کو بعنوان غلام نہیں رکھ سکتے تھے۔
کلمہ''کید'' تمام مقامات پر مذموم معنی میں استعمال نہیں ہواہے بلکہ تدبیر ، چارہ اندیشی اور منصوبہ بندی کے معنی میں بھی مستعمل ہے (کدنا)
پیام:
1۔اطلاعات جمع کرنے پر مامور افراد کو کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہئے جس سے دوسروں کو ان پر شک ہو جائے( فَبَدَأَ بِأَوْعِیَتِهِمْ ) (وہ تلاشی لینے کےلئے سب سے پہلے بنیامین کے پاس نہیں گئے بلکہ تلاشی دوسرں کے سامان سے شروع کی۔)
2۔ کارکنان کے کاموں کی نسبت مسل کی طرف دی جاتی ہے (فَبَدَ) (برحسب ظاہر حضرت یوسف (ع)نے تلاشی نہیں لی تھی لیکن قرآن فرماتا ہے کہ تلاشی انہوں نے شروع کی تھی۔)
3۔ فکر و تخلیقی صلاحیت، منصوبہ بندی و چارہ جوئی غیبی امداد سے حاصل ہوتی ہے(کِدْنَ)
4۔ حضرت یوسف علیہ السلام کی تدبیریں الہامی تھیں۔(کِدْنَا لِیُوسُفَ)
5۔ حضرت یوسف (ع)کے پاس بنیامین کا رہنا حضرت یوسف کے لئے فائدہ مند تھا ۔(کَذَلِکَ کِدْنَا لِیُوسُفَ )
6۔ قانون کااحترام اور اس کی رعایت غیر الٰہی حکومت میں بھی ضروری ہے۔(مَا کَانَ لِیَأْخُذَ أَخَاهُ فِی دِینِ الْمَلِک)
7۔ معنوی مقامات مختلف درجات اور مراتب کے ایک سلسلہ کے حامل ہیں ۔(نَرْفَعُ دَرَجَات...)
8۔ علم و آگاہی برتری کا سرمایہ ہے( نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ. وَفَوْقَ کُلِّ ذِی عِلْمٍ عَلِیمٌ)
9۔ بشری علم محدود ہے(فَوْقَ کُلِّ ذِی عِلْمٍ عَلِیمٌ)
آیت 77:
(77) قَالُوا إِنْ یَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌ لَهُ مِنْ قَبْلُ فَأَسَرَّهَا یُوسُفُ فِی نَفْسِهِ وَلَمْ یُبْدِهَالَهُمْ قَالَ أَنْتُمْ شَرٌّ مَکَانًا وَاﷲُ أَعْلَمُ بِمَا تَصِفُونَ
''(غرض بنیامین روک لئے گئے )تو یہ کہنے لگے اگر اس نے چوری کی ہے تو (کونسی تعجب کی بات ہے) اس سے پہلے اسکا بھائی (یوسف) چوری کرچکا ہے تو یوسف نے (اس تہمت کا کوئی جواب نہیں دیا اور)اس کو اپنے دل میں پوشیدہ رکھا اور ان پر ظاہر نہ ہونے دیا (مگر) یہ کہہ دیاکہ تم لوگ برے ہو(نہ کہ ہم دونوں) اور جو (اس کے بھائی کی چوری کا) حال تم بیان کررہے ہو اس سے خدا خوب واقف ہے ''۔
پیام:
1۔ متہم یا تو انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں چور نہیں ہوں(ما کنا سارقین) یا یہ توجیہ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کا چوری کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے اس سے پہلے بھی اس کا بھائی چوری بھی کر چکا ہے۔( فَقَدْ سَرَقَ أَخٌ لَهُ مِنْ قَبْل)
2۔ حسد کا مریض سالہا سال کے بعد بھی چٹکی لینے سے باز نہیں آتا ۔( فَقَدْ سَرَقَ أَخٌ لَهُ مِنْ قَبْل)
3۔ ایک بھائی کا اخلاق دوسرے بھائی پر اثر انداز ہوتاہے( أَخٌ لَهُ) ماں کا کردار بھی بچوں پر اثر انداز ہوتا ہے (یوسف (ع)اور بنیامین کی ماں ایک تھی)
4۔ جہاں محبت اور دل صاف نہ ہو وہاں تہمت بہت جلد لگا دی جاتی ہے ۔(إِنْ یَسْرِقْ فَقَدْ...) (پیمانہ کا بنیامین کے سامان سے باہر نکلنا چوری کی دلیل نہیں ہے، لیکن چونکہ بھائیوں کو بنیامین سے محبت نہ تھی اس لئے ان لوگوں نے چوری کا الزام لگا دیا اور مسئلہ کو تسلیم کرلیا۔)
5۔ جہاں محبت نہیں ہوتی وہاں جزئی اور چھوٹی سی غلطی کو کلی اور بڑی بھاری خطا شمار کیا جاتاہے (انہوں نے''سرق'' فعل ماضی کے بجائے فعل مضارع''یسرق' 'استعمال کیا یعنی اس کام میں استمرار ہے گویا بنیامین کا روزانہ کاکام یہی تھا)۔
6۔ ہدف تک پہنچنے کے لئے لعن و طعن کے تیر سہنے پڑتے ہیں ۔( سَرَقَ أَخٌ لَهُ مِنْ قَبْلُ)
7۔ کچھ لوگ بعض مواقع پر اپنی آبرو بچانے کے لئے دوسرے پر تہمتیں لگاتے ہیں ۔( سَرَقَ أَخٌ لَهُ مِنْ قَبْلُ)
8۔ جواں مردی اور کشادہ قلبی رمز رہبری ہے۔(أَسَرَّهَا یُوسُفُ)
9۔ راز کا فاش کرنا ہمیشہ قابل اہمیت و ارزش نہیں ہے ۔(وَلَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ)
10۔ ''تحقیر'' نہی از منکر کا ایک طریقہ ہے۔( أَنْتُمْ شَرٌّ مَکَانً)
آیت 78:
(78) قَالُوا یَاأَیُّهَا الْعَزِیزُ إِنَّ لَهُ أَبًا شَیْخًا کَبِیرًا فَخُذْ أَحَدَنَا مَکَانَهُ إِنَّا نَرَاکَ مِنْ الْمُحْسِنِینَ
(اس پر) ان لوگوں نے کہا : اے عزیز ! اس (بنیامین) کے والد بہت بوڑھے (آدمی) ہیں (اور اس کو بہت چاہتے ہیں)تو آپ اس کے عوض ہم میں سے کسی کو رکھ لیجئے اور اس کو چھوڑ دیجئے کیونکہ ہم آپ کو نیکوکار بزرگ سمجھتے ہیں ''۔
نکات:
جب برادران یوسف (ع)نے دیکھ لیا کہ بنیامین کا روکا جانا قطعی ہوگیا ہے تو حضرت یوسف (ع)کے سلسلے میں اپنے سابقے اور بنیامین کے بارے میں اپنے باپ سے کئے گئے عہد و پیمان کو پیش نظر رکھتے ہوئے نیز یہ احساس کرتے ہوئے کہ بنیامین کے بغیر پلٹنے کے نتائج بڑے تلخ ہوں گے، نفسیاتی طریقے سے حضرت یوسف (ع)سے التماس کرنے لگے۔ گڑگڑانے لگے اور احساسات کو بھڑکاتے ہوئے یہ کہنے لگے آپ(ع) صاحب عزت و قدرت اور نیک کردار ہیں ۔ اس کا باپ بوڑھا ہے اس کے بدلے میں آپ ہم میں سے کسی کو بھی غلام بنالیجئے اور سب بھائی بنیامین کی بخشش کرانے کےلئے آمادہ ہو گئے ۔
پیام:
1۔ مقدارت الٰہی ایک دن ہر سنگ دل اور ستمگر کو ذلت ورسوائی کی خاک چٹواتی ہے بلکہ گڑگڑانے پر مجبور کردیتی ہے ان لوگوں کے جملہ( یَاأَیُّهَا الْعَزِیزُ...) کے آہنگ میں اس بات کا ثبوت موجود ہے۔
2۔ اقتدار کے زمانے میںبھی حضرت یوسف (ع)کا نیک کردار نمایاں تھا۔(نَرَاکَ مِنْ الْمُحْسِنِینَ )
آیت 79:
(79) قَالَ مَعَاذَ اﷲِ أَنْ نَأْخُذَ إِلاَّ مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ إِنَّا إِذًا لَظَالِمُونَ
''(حضرت یوسف نے)کہا : معاذاللہ (یہ کیونکر ہوسکتا ہے کہ )ہم نے جس کے پاس اپنی چیز پائی ہے اسے چھوڑ کر دوسرے کو پکڑ لیں ؟(اگر ہم ایسا کریں)تو ہم ضروربڑے بے انصاف ٹھہریں گے''۔
نکات:
حضرت یوسف علیہ السلام کے نپے تلے الفاظ اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ آپ (ع)بنیامین کو چور ثابت کرنا نہیں چاہتے ہیں اسی لئے آپ (ع)نے ''وجدنا سارقا '' نہیں فرمایا بلکہ'' وَجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهُ'' فرمایا ۔ یعنی متاع و پیمانہ اس کے سامان میں تھا وہ خود چور نہیںہے ۔
اگر جناب یوسف (ع)بنیامین کے بجائے کسی دوسرے بھائی کو رکھ لیتے تو ان کے سارے کئے کرائے پر پانی پھر جاتا اس کے علاوہ دوسرے بھائی ، بنیامین کے ساتھ چوروں جیسا سلوک کرتے انہیں مختلف طریقوں سے اذیت پہنچاتے اور جو شخص بنیامین کے بجائے رکتا وہ یہ سوچتا کہ ناحق گرفتار ہوگیا ہوں۔
پیام:
1۔ قانون کی رعایت ہر شخص پر لازم ہے حتی عزیز مصر کےلئے بھی قانون شکنی ممنوع ہے ۔(مَعَاذَ اﷲِ )
2۔ قانون شکنی ظلم ہے (کسی کے کہنے پر قانون توڑنا صحیح نہیں ہے)( مَعَاذَ اﷲِ أَنْ نَأْخُذَ لَظَالِمُونَ )
3۔ بے گناہ کو گناہ گار کے بدلے سزا نہیں دینی چاہیئے اگرچہ وہ خود اس پر راضی ہو،(مَعَاذَ اﷲ)
آیت 80:
(80) فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِیًّا قَالَ کَبِیرُهُمْ أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ أَبَاکُمْ قَدْ أَخَذَ عَلَیْکُمْ مَوْثِقًا مِنْ اﷲِ وَمِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطتُمْ فِی یُوسُفَ فَلَنْ أَبْرَحَ الْأَرْضَ حَتَّی یَأْذَنَ لِی أَبِی أَوْ یَحْکُمَ اﷲُ لِی وَهُوَ خَیْرُ الْحَاکِمِینَ
''پھر جب یوسف کی طرف سے مایوس ہوگئے تو باہم مشورہ کرنے کے لئے الگ کھڑے ہوئے ۔ تو جو شخص ان سب میں بڑا تھا کہنے لگا ! (بھائیو!)کیا تم کو معلوم نہیں ہے کہ تمہارے والد نے تم سے خداکا عہد لیا ہے اور اس سے پہلے تم لوگ یوسف کے بارے میں کیا کچھ تقصیر کر ہی چکے ہو،تو(بھائی) جب تک میرے والد مجھے اجازت (نہ) دیں یا خدا مجھے کوئی حکم (نہ) دے میں اس سرزمین سے ہرگز نہ ہلوں گا ۔اور خدا تو سب حکم دینے والوں سے کہیں بہتر ہے ''۔
نکات:
''خلصوا''یعنی اپنے گروہ کو دوسرے سے جدا کرنا'' نَجِیًّا'' یعنی سرگوشی کرنا ، لہٰذا''خَلَصُوا نَجِیًّا '' یعنی محرمانہ نشست( secret meeting ) تشکیل دی کہ اب کیا کریں ۔
پیام:
1۔ احکام الٰہی کو جاری کرنے کی راہ میں التماس و خواہشات مانع نہیں ہونا چاہئے۔(اسْتَیْئَسُوا مِنْه)
2۔ ایک دن وہ تھا جب یہی بھائی اپنی قدرت کے نشہ میں مست ہوکر جناب یوسف (ع)کے سلسلے میں مشورہ کر رہے تھے کہ ان کو کیسے ختم کریں(اقتلوا یوسف او طرحوه ارضا لاتقتلوا القوه...) آج وہ زمانہ آگیا ہے کہ کاسہئ التماس ہاتھوں میں لئے بنیامین کی آزادی کی بھیک مانگ رہے ہیں اور اسی کاسہئ التماس کے ہمراہ نجویٰ اور سرگوشی کررہے ہیں کہ کیسے بنیامین کو آزاد کرایا جائے ۔(خَلَصُوا نَجِیًّ)
3۔ تلخ اور ناگوار حوادث میں بڑے لوگ زیادہ ذمہ دار اور شرمسار ہوتے ہیں(قَالَ کَبِیرُ هُمْ)
4۔ عہد و پیمان کا پوراکرنا ضروری ہوتا ہے۔( أَخَذَ عَلَیْکُمْ مَوْثِقً)
5۔ سخت اور محکم عہد وپیمان غلط فائدہ اٹھانے کی راہ کو مسدود کردیتے ہیں۔(أَخَذَ عَلَیْکُمْ مَوْثِقً)
6۔ خیانت اور جنایت مرتے دم تک زندہ ضمیروں کو اذیت پہنچاتی رہتی ہے۔(مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطتُمْ فِی یُوسُفَ)
7۔ دھرنا ڈالنا ایک پرانی روش اور انداز ہے۔(فَلَنْ أَبْرَحَ الْأَرْض)
8۔ غربت (یعنی پردیس کو وطن پر ترجیح دینا)شرمندگی سے بہتر ہے( فَلَنْ أَبْرَحَ الْأَرْضَ)
9۔ خداوندعالم کے بارے میں ہمیشہ حسن ظن رکھناچاہئے ۔(هُوَ خَیْرُ الْحَاکِمِینَ )
آیت 81:
(81) إِرْجِعُوا إِلَی أَبِیکُمْ فَقُولُوا یَاأَبَانَا إِنَّ ابْنَکَ سَرَقَ وَمَا شَهِدْنَا إِلاَّ بِمَا عَلِمْنَا وَمَا کُنَّا لِلْغَیْبِ حافِظِینَ
''تم لوگ اپنے والد کے پاس پلٹ کر ج اور (ان سے جاکر) عرض کرو اے بابا آپ کے صاحبزادے نے سچ مچ چوری کی ہے اور ہم لوگوں نے تواپنی دانست کے مطابق (اس کے لئے آنے کا عہد کیا تھا )اور ہم کچھ (از) غیبی (آفت )کے نگہبان تو تھے نہیں''۔
پیام:
1۔ انسان خود خواہ ہے ،جب زیادہ گیہوں لانے کی بات تھی تو بھائیوں نے(ارسل معنا اخان) کہا یعنی ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ روانہ کردیجئے لیکن جب آج تہمت کی بات آئی تو(ابْنَکَ) (یعنی آپ کے صاحبزادے نے چوری کی )کہنے لگے ۔ ''ہمارے بھائی'' نہیں کہا۔
2۔ شہادت اور گواہی ، علم کی بنیاد پرہونا چاہیئے ۔( وَمَا شَهِدْنَا إِلاَّ بِمَا عَلِمْنَ)
3۔ عہد و پیمان میں ان حوادث کے سلسلے میں بھی ایک تبصرہ کرنا چاہیئے جس کی پیش بینی نہ ہوئی ہو( وَمَا کُنَّا لِلْغَیْبِ...)
4۔ عذر کو صراحت کے ساتھ پیش کرنا چاہیئے ۔( وَمَا کُنَّا لِلْغَیْبِ حَافِظِینَ)
آیت 82:
(82) وَسْئَلِ الْقَرْیَ الَّتِی کُنَّا فِیهَا وَالْعِیرَ الَّتِی أَقْبَلْنَا فِیهَا وَإِنَّا لَصَادِقُونَ
''اور (اگر ہماری باتوں پر اعتبار نہیں ہے تو)آپ اس بستی کے لوگوں سے جس میں ہم لوگ تھے پوچھ لیجئے اور اس قافلہ سے بھی جس میں ہم آئے ہیں (دریافت کرلیجئے ) اور ہم یقینا بالکل سچے ہیں ''۔
نکات:
''قریہ'' فقط دیہات کے معنی میں استعمال نہیں ہوتا ہے بلکہ ہر محل اجتماع اور رہائشی علاقہ کو ''قریہ'' کہتے ہیں چاہے وہ شہر ہو یا دیہات ۔ یہاں پر یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہوسئل القریه سے مراد'' واسئل اهل القریه'' ہےں ۔یعنی اہل قریہ سے سوال کیجئے ۔
''عیر'' خوردونوش کی چیزوں کو لانے لے جانے والے کارواں کو کہا جاتا ہے۔
کل حضرت یوسف (ع)کے قتل کے سلسلے میں (کہ بھیڑیا یوسف کو کھا گیا) بھائیوں کے پاس کوئی دلیل نہیں تھی لیکن یہاں پر انہوں نے اپنے دعوے کی دو دلیلیں پیش کیں(1) اہل مصر سے سوال کیجئے(2) اہل قافلہ سے سوال کیجئے کہ جن کے ساتھ ہم نے سفر کیا، علاوہ ازیں حضرت یوسف (ع)کے قتل کے واقعہ میں ان لوگوں نے''لوکنا صادقین'' کہا تھا جس میں ''لو'' تردید ، بے چینی اور سستی کی علامت ہے لیکن اس واقعہ میں کلمہ''انّا' 'اور حرف لام کو جو''لَصَادِقُونَ ''میں ہے استعمال کیا ہے جو اس بات کی علامت ہے کہ و ہ قطعا ًسچے ہیں ۔
پیام:
1۔ برا سابقہ اور جھوٹ تادم مرگ، انسان کی گفتگو قبول کرنے میں شک و تردید پیدا کردیتاہے ۔( وَاسْأَلْ الْقَرْیَ)
2۔ اپنے مدعا کو ثابت کرنے کے لئے عینی شاہدوں کی گواہی ایک معتبر روش ہے۔(وَاسْأَلْ الْقَرْیَ...وَالْعِیرَ...)
آیت 83:
(83) قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ أَنفُسُکُمْ أَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِیلٌ عَسَی اﷲُ أَنْ یَأْتِیَنِی بِهِمْ جَمِیعًا إِنَّهُ هُوَ الْعَلِیمُ الْحَکِیمُ
''(غرض جب ان لوگوں نے جاکر بیان کیا تو )یعقوب نے کہا :(اس نے چوری نہیں کی ہے)بلکہ یہ بات تم نے اپنے دل سے گڑھ لی ہے، میں توصبر جمیل (اور خدا کاشکر)کروںگا خدا سے تو مجھے امید ہے کہ میرے سب (لڑکوں) کو میرے پاس پہنچا دے بے شک وہ بڑا واقف کار حکیم ہے''۔
نکات:
جب حضرت یوسف (ع)کے بھائی بناوٹی غمگین صورت میں ٹسوے بہاتے ہوئے خون بھرا کرتا لے کر اپنے بابا کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا تو اس وقت حضرت یعقوب (ع)نے فرمایا تھا(َبَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ أَنفُسُکُمْ ) یعنی یہ تمہارا نفس ہے جس نے اس کام کو تمہارے سامنے اچھا کرکے پیش کیا ہے لیکن میں بہترین صبرکروں گا۔
اور آج اس موقع پر جب آپ (ع)کے دو فرزند (بنیامین اور بڑا بیٹا) آپ (ع)سے جدا ہوگئے تو آپ (ع)نے پھر وہی جملہ دھرایا ۔ یہاں پر ممکن ہے ایک سوال پیداہو کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے ماجرے میں تو ان لوگوں نے سازش اور خیانت کی تھی لیکن بنیامین کے سلسلے میں اس قسم کی بات نہ تھی پھر دونوں مواقع پر حضرت یعقوب (ع)کا لب ولہجہ ایک ہی کیوں ہے ؟(بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ أَنفُسُکُمْ أمراً فَصَبْرٌ جَمِیل) تفسیر المیزان میں اس کا جواب اس طرح دیا گیا ہے: ''حضرت یعقوب (ع)بتانا چاہتے تھے کہ بنیامین کی دوری بھی تمہاری اسی پہلی حرکت کا نتیجہ ہے جو تم نے حضرت یوسف (ع)کے ساتھ انجام دی تھی یعنی یہ تمام تلخیاں اسی بدرفتاری کا نتیجہ ہیں ''۔
یہ کہنا بھی ممکن ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کا مقصد یہ تھاکہ تم یہاں بھی یہی خیال کررہے ہو کہ تم بے گناہ ہو اور تمہارا کام صحیح ہے جبکہ تم گناہ گار ہو کیونکہ سب سے پہلے تو یہ کہ تم نے اپنے بھائی کے سامان میں پیمانہ دیکھ کر اسے چور سمجھ لیا، ہوسکتا ہے کسی دوسرے نے اس کے غلہ میں پیمانہ ڈال دیا ہو ۔ دوسری بات یہ کہ تم لوگ اتنا جلدی کیوں پلٹ آئے ،تمہیں تحقیق کرنا چاہیئے تھی ۔ اور تیسری بات یہ کہ تم نے چور کی سزا اس کو غلام بنانا کیوں قراردیا(1)
صبر کبھی ناچاری اور بے چارگی کی بنیاد پر ہوتا ہے جیساکہ اہل جہنم کہیں گے(سواء اصبرنا ام جز عنا) مقصود یہ ہے کہ صبر یا فریاد کرنا ہماری نجات کا باعث نہیں بن سکتا ، لیکن کبھی کبھی صبر باخبر ہونے کے باوجود اپنی پسند سے خداوندعالم کی رضا کی خاطر کیا جاتا ہے اس صبر کا رخ زیبا مختلف مقامات پر مختلف اندازمیں نکھرتا ہے ۔ میدان جنگ میں اس کا نام ''شجاعت'' ، دار دنیا میں اس کانام''زہد''، گناہوں کے مقابلے میں اس کانام ''تقوی''، شہوت کے مقابلے میں اس کانام ''عفت'' اور مال حرام کے مقابلے میں اس کانام ''ورع''ہے۔
--------------
(1) تفسیر نمونہ، لیکن صاحب تفسیر المیزان کا کلام زیادہ مناسب ہے کیونکہ بنیامین کے سامان میں پیمانہ ملنے کی وجہ سے سب کو یقین ہو جاتاہے کہ وہی چور ہیں علاوہ ازیں بڑے بھائی کا مصر میں رکنا اسی کام کی تحقیق اور احساسات کو جلب کرنے کے لئے تھا اور چور کی سزا کی جو بات ہے تو اس علاقے میں چور کی سزا وہی تھی جو انہوں نے قرار دی بنابریں ان تینوںمیں سے کوئی ایک مسئلہ بھی ایسا نہیں ہے جس میں نفس کا دخل ہواور( بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ أَنفُسُکُمْ) کہا جائے۔
پیام:
1۔ نفس گناہوں کی توجیہ کے لئے برے کام کو انسان کی نگاہ میں اچھا کرکے دکھاتاہے( بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ أَنفُسُکُمْ) (1)
2۔ صبر کرنا مردان خدا کا شیوہ ہے اور'' صبر جمیل' 'اس صبر کو کہتے ہیں جس میں رضائے الٰہی کے لئے سر تسلیم خم کیا جائے اور زبان سے کوئی فقرہ بھی ادا نہ ہو(2) ( فَصَبْرٌ جَمِیلٌ )
3۔ کبھی بھی قدرت خدا سے مایوس نہیں ہونا چاہیئے(عَسَی اﷲُ أَنْ یَأْتِیَنِی بِهِمْ جَمِیعً)
4۔ حضرت یعقوب (ع)کو اپنے تینوں فرزندوں (یوسف ، بنیامین ۔ بڑے بیٹے) کی زندگی کا یقین تھا اور ان سے ملاقات کی امید تھی(أَنْ یَأْتِیَنِی بِهِمْ جَمِیعً)
5۔ پروردگار عالم تمام مسائل کو حل کرنے پر مکمل قدرت رکھتا ہے خداوندعالم کل کے یوسف اور آج کے بنیامین وغیرہ کو جمع کرسکتا ہے ۔( جَمِیعً)
6۔ مومن ،تلخ حوادث کو بھی خداوندعالم کی حکمت سمجھتا ہے ۔(الْحَکِیمُ )
7۔ افعال الٰہی کے عالمانہ اور حکیمانہ ہونے پر یقین رکھنا انسان کو دشوار سے دشوار حادثات میں صبر وشکیبائی پر آمادہ کرتا ہے۔(فَصَبْرٌ جَمِیلٌ إِنَّهُ هُوَ الْعَلِیمُ الْحَکِیم)
--------------
(1)شیطان بھی اسی چال کا استعمال کرتا ہے ۔(زین لھم الشیطان ماکانوا یعملون۔ انعام:43)اسی طرح دنیا کے زرق برق بھی اس قسم کی خوشنمائی میں کارآمد ثابت ہوتے ہیں ۔ حتی اذا اخذت الارض زخرفھا و ازینت ۔یونس 24.
(2)تفسیر نور اثقلین.
آیت 84:
(84) وَتَوَلَّی عَنْهُمْ وَقَالَ یَاأَسَفَی عَلَی یُوسُفَ وَابْیَضَّتْ عَیْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ کَظِیمٌ
''اور یعقوب نے ان لوگوں سے منہ پھیر لیا اور (روکر) کہنے لگے : ہائے افسوس یوسف پر (اور اس قدر روئے کہ) غم کی وجہ سے ان کی آنکھیںسفید ہوگئیں وہ تو بڑے رنج کے ضابط تھے''۔
نکات:
کلمہ ''اسف'' غضب کے ہمراہ حزن وملال کو کہتے ہیں جناب یعقوب (ع)کی آنکھیں گریاں ، زبان پر ''یااسفا''اوردل میں حزن و ملال تھا ۔
ایک روایت میں امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے کہ آپ (ع)نے فرمایا: میرے بابا علی بن الحسین + واقعہئ کربلا کے بعد بیس )20(سال تک ہر گھڑی آنسو بہاتے رہے۔ آپ (ع)سے سوال کیا گیا آپ اتنا کیوں روتے ہیں ؟ تو آپ (ع)نے جواب دیا : یعقوب کے گیارہ فرزند تھے جس میں سے ایک غائب ہوا تھا جبکہ (وہ جانتے تھے کہ) وہ زندہ ہے لیکن اتنا روئے کہ آنکھےں سفید ہوگئیں جبکہ ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے بابا، اپنے بھائیوں اور خاندان نبوت کے سترہ افراد کو شہید ہوتے ہوئے دیکھا ہے (ذرا بت)ہم کیسے آنسو نہ بہائیں؟
پیام:
1۔ حاسد کو ایک زمانہ تک حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ۔( وَتَوَلَّی عَنْهُمْ)
2۔ ان لوگوں نے چاہا کہ یوسف کو درمیان سے نکال کر اپنے بابا کے محبوب ہوجائیں گے ۔(یخل لکم وجه ابیکم) لیکن حسد و جلن نے باپ کے قہر و غضب میں اضافہ کردیا(تَوَلَّی عَنْهُم)
3۔ غم و اندوہ اور گریہ و زاری کبھی کبھی بصارت کے زائل ہونے کا سبب ہوتی ہے ۔(ابْیَضَّتْ عَیْنَاهُ مِنَ الْحُزْن)
4۔ گریہ و غم، ضبط و تحمل اور صبر کے منافی نہیں ہے( فَصَبْرٌ جَمِیلٌ یَاأَسَفَی، فَهُوَ کَظِیمٌ )
5۔ حضرت یعقوب (ع)کو معلوم تھا کہ ظلم صرف یوسف (ع)پر ہوا ہے دوسروں پر نہیں۔(یاأَسَفَا عَلَی یُوسُف)
6۔ فریاد وبکا سوز وعشق معرفت کے محتاج ہےں (حضرت یعقوب(ع) کو حضرت یوسف (ع)کی معرفت تھی اسی بنیاد پر ان کی آنکھوں کی بنیائی زائل ہوگئی۔)
7۔ مصائب کی اہمیت کا دارومدار افراد کی شخصیت پر ہے (یوسف (ع)پر ڈھائے گئے مظالم دوسروں پر کئے گئے مظالم سے فرق رکھتے ہیں اسی لئے یوسف (ع)کا نام لیا جاتا ہے دوسروں کا ذکر بھی نہیں ہوتا)
8۔ عزیزوں کے فراق میں غم واندوہ، آہ و بکا اور نوحہ و ماتم جائز ہے۔(وَابْیَضَّتْ عَیْنَاهُ مِنَ الْحُزْنِ)
آیت 85:
(85) قَالُوا تَاﷲِ تَفْتَأُ تَذْکُرُ یُوسُفَ حَتَّی تَکُونَ حَرَضًا أَوْ تَکُونَ مِنَ الْهَالِکِینَ
''(یہ دیکھ کر ان کے بیٹے )کہنے لگے آپ تو ہمیشہ یوسف ہی کو یاد کرتے رہئےے گا یہاں تک کہ بیمار ہوجائےے گا یا جان دے دیجئے گا''۔
نکات:
''حرض '' اس شخص کو کہتے ہیں جسے عشق یاحز ن ، کمزور و ناتواں بنادے۔
پیام:
1۔ ہر یوسف (ع)کو ہمیشہ اپنی یادوں کے فانوس میں سجائے رکھنا چاہئےے(تَفْتَأُ تَذْکُرُ یُوسُفَ) (جیسا کہ اولیائے الٰہی دعائے ندبہ میں یوسف زماں کو آواز دے کر آنسو بہاتے ہیں ۔)
2۔ مقدس عشق اورملکوتی آہیں قابل قدر ہیں ۔( تَذْکُرُ یُوسُفَ حَتَّی تَکُونَ حَرَضً) (اولیائے خدا کی یاد خدا کی یاد ہے )(1)
3۔ نفسیاتی اور روحی مسائل جسم پر اثر انداز ہوتے ہیں(حَرَضًا أَوْ تَکُونَ مِنَ الْهَالِکِین) (فراق اور جدائی انسان کے وجود کو توڑ دیتی ہے بلکہ موت کی حد تک پہنچا دیتی ہے چہ جائیکہ اگر کوئی داغ مفارقت اور مصیبت کے پہاڑ اٹھائے ہوئے ہو۔)
4۔ باپ کی محبت عام محبتوں سے جدا ہے۔( تَکُونَ مِنَ الْهَالِکِینَ)
--------------
(1) یعقوب (ع)اس سوز و گداز میں ہیں جسے عام افراد سمجھ نہیں سکتے ہیں(مجلس عزا ،نوحہ و ماتم پر طنز نہ کیجئے)
آیت 86:
(86)قَالَ إِنَّمَا أَشْکُو بَثِّی وَحُزْنِی إِلَی اﷲِ وَأَعْلَمُ مِنْ اﷲِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ
''یعقوب نے کہا : (میں تم سے کچھ نہیں کہتا ) میں تو اپنی بے
قراری اور رنج کی شکایت خدا ہی سے کرتا ہوں اور خدا کی طرف سے جوباتیں میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے''۔
نکات:
''بث'' اس شدید حزن وملال کو کہتے ہیں جس کی شدت کو صاحب غم بیان نہیں کرپاتا ۔
قرآن مجید میں ہے کہ حضرت آدم (ع)نے اپنے فعل پر خدا کی بارگاہ میں نالہ و شیون کیا(ربنا ظلمنا انفسنا) (1) حضرت ایوب (ع)نے اپنی بیماری پر خدا سے فریاد کی(مسّنی الضر) (2) حضرت موسی (ع)نے فقر و ناداری کی شکایت کی(رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر) (3) اور حضرت یعقوب(ع) نے فراق فرزند میں آنسو بہائے(انما اشکو بثی و حزنی)
پیام:
1۔ توحید پرست انسان ،اپنا درد فقط خدا سے کہتا ہے( إِنَّمَا أَشْکُو... إِلَی اﷲِ)
2۔ جو چیز مذموم ہے وہ یا تو خاموشی ہے جو انسان کے قلب و اعضاء پر حملہ آور ہوتی ہے اور انسان کی سلامتی خطرے میں پڑ جاتی ہے یا وہ نالہ و شیون ہے جو انسان کے
--------------
(1)سورہ اعراف آیت 23.
(2) انبیاء آیت 83
(3)سورہ قصص آیت 24.
سامنے کیا جاتا ہے جس سے انسان کی قدر و منزلت میں کمی آجاتی ہے لیکن خد اسے شکایت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔(أَشْکُو... إِلَی اﷲِ)
3۔ خدا سے گفتگو کرنے میں ایک لذت ہے جسے عام لوگ نہیں سمجھ سکتے ہیں۔(أَشْکُو بَثِّی إِلَی اﷲِ ...مَا لاَ تَعْلَمُونَ.) (1)
4۔ ظاہر بین افراد ،حوادث کے سامنے سے بڑی آسانی سے گزر جاتے ہیں اور اس سے کچھ حاصل نہیں کرپاتے ہیں، لیکن حقیقت بین افراد حادثات کے آثار کا تا قیامت مشاہدہ کرتے ہیں ۔(أَعْلَمُ مِنْ اﷲِ ...)
5۔ حضرت یعقوب علیہ السلام حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی ، فراق کے خاتمہ کی مدت ،نیز خداوندعالم اور اس کی صفات سے آگاہ تھے لیکن یہ امور دوسروں پر مخفی تھے ۔(اعْلَمُ مِنْ اﷲِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ )
--------------
(1)ایک فارسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
دست حاجت چوں بری نزد خداوند بر
کہ کریم است و رحیم است و غفور است و ودود
نعمتش نامتناہی کرمش بی پایاں
ھیچ خوانندہ از این در نرود بی مقصود
آیت 87:
(87)یَابَنِیَّ اذْهَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِنْ یُوسُفَ وَأَخِیهِ وَلاَ تَیْئَسُوا مِنْ رَوْحِ اﷲِ إِنَّهُ لاَ یَایْئَسُ مِنْ رَوْحِ اﷲِ إِلاَّ الْقَوْمُ الکَافِرُونَ.
''اے میرے بیٹو! (ایک بار پھر مصر)ج اور یوسف اور اس کے بھائی کو (جس طرح بنے) تلاش کرو اور خدا کے فیض سے ناامید نہ ہونا کیونکہ خدا کے فیض سے کافروں کے سوا اور کوئی ناامید نہیں ہوا کرتا ''۔
نکات:
کسی چیز کے بارے میں حواس کے ذریعہ جستجو کرنے کو''تحسس'' کہتے ہیں ،''تحسس'' کسی کی اچھائی کے سلسلے میں جستجو کو کہتے ہیںلیکن کسی کی برائی کے کھوج اور تلاش میں لگنے کو''تجسس'' کہتے ہیں۔
راغب اصفہانی کے بیان کے مطابق ''رَوح اور رُوح'' دونوں جان کے معنی میں استعمال ہوتے ہیںلیکن روح، فرج ، گشائش اور رحمت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے گویا مشکلات کا حل ہونا، انسان میں ایک تازہ اور نئی جان ڈال دیتا ہے، تفسیر تبیان میں ہے کہ رَوح کا مادہ ریح ہے جس طرح انسان ہوںکے جھونکوں سے سکون و اطمینان محسوس کرتا ہے اسی طرح رحمت الٰہی سے بھی شادمان ہوتا ہے ۔
پیام:
1۔ باپ کو اپنے بچوں سے دائمی طور پر قطع تعلق نہیں کرنا چاہیئے ۔(فتولی عنهم یابنی)
2۔ معرفت و شناخت کے لئے کوشش ضروری ہے۔(اذْهَبُوا فَتَحَسَّسُو)
3۔ لطف الٰہی تک پہنچنے میں سستی و کاہلی مانع ہے(اذْهَبُوا ، وَلاَ تَیْئَسُو) (1)
4۔اولیائے خدا بھی مایوس نہیں ہوتے اور دوسروں کو بھی ناامیدی کی راہ سے دور رکھتے ہیں(لاَ تَیْئَسُو)
5۔ ناامیدی ، کفر کی علامت ہے کیونکہ مایوس ہونے والااپنے اندر یہی محسوس کرتا ہے کہ خدا کی قدرت ختم ہوگئی(لاَ یَیْئَسُ...إِلاَّ الْقَوْمُ الکَافِرُونَ)
آیت 88:
(88) فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَیْهِ قَالُوا یَاأَیُّهَا الْعَزِیزُ مَسَّنَا وَأَهْلَنَا الضُّرُّ وَجِئْنَا بِبِضَاعَ مُزْجَ فَأَوْفِ لَنَا الْکَیْلَ وَتَصَدَّقْ عَلَیْنَا إِنَّ اﷲَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِینَ
'' پھر جب یہ لوگ (تیسری بار) یوسف کے پاس گئے تو (بہت گڑگڑاکر ) عرض کی : اے عزیز مصر ! ہم کو اور ہمارے (سارے) کنبہ کو قحط کی وجہ سے بڑی تکلیف ہورہی ہے اور ہم کچھ تھوڑی سی پونجی لے کر آئے ہیں تو ہم کو (اس کے عوض ) پورا غلہ دلوا دیجئے اور (قیمت ہی پر نہیں) ہمیں (اپنا) صدقہ خیرات دیجئے اس میں تو کوئی شک نہیں کہ خدا صدقہ و خیرات دینے والوں کو جزائے خیر دیتا ہے۔
--------------
(1)روایات سے ثابت ہے کہ رحمت خداوندی سے مایوسی گناہ کبیرہ ہے (من لا یحضرہ الفقیہ باب معرف الکبائر)
نکات:
''بضاعت'' اس مال کو کہتے ہیں جس پر قیمت کا عنوان صادق آتا ہو''مزج'' کا مادہ ''ازجاء '' ہے جس کے معنی ''دور کرنے'' کے ہیں کیونکہ بیچنے والے کم قیمت دیتے ہیں اس لئے ''بضاعت مزج'' کہتے ہیں ۔
بعض مفسرین کا کہنا ہے کہ'' تصدق علینا'' سے مراد یہ ہے کہ آپ بنیامین کو لوٹا دیجئے ۔
روایت میں ہے کہ حضرت یعقوب (ع)نے حضرت یوسف (ع)کے نام ایک خط لکھا تھا جس میں ان کی جلالت قدر کو بیان فرمایا تھا۔ کنعان کی خشک سالی کا ذکر تھا اور بنیامین کی آزادی کی درخواست تھی آپ (ع)نے لکھاتھا کہ ''اب ہم پر رحم کرو اور احسان کرکے اسے رہائی دیدو اور اسے چوری کے الزام سے بری کردو '' اس خط کو آپ نے اپنے بیٹوں کے ہمراہ حضرت یوسف (ع)کی خدمت میں روانہ کیا تھا، جب حضرت یوسف علیہ السلام نے بھائیوں کے سامنے اس خط کو کھول کر پڑھا اس کا بوسہ لیا آنکھوں سے لگایا اور آنسوںکی بارش ہونے لگی جن کے قطرات آپ کے لباس پر گرنے لگے برادران جو ابھی تک حضرت یوسف (ع)کو نہیں پہنچانتے تھے تعجب کرنے لگے کہ یہ ہمارے باپ کا اتنا احترام کیوں کررہے ہیں۔ آہستہ آہستہ ان کے دلوں میں امیدوں کی کرن پھوٹنے لگی جب حضرت یوسف علیہ السلام کو ہنستے ہوئے دیکھا تو سوچنے لگے کہ کہیں یہی یوسف (ع)نہ ہوں(1)
--------------
(1)تفسیر نمونہ.
پیام:
1۔ حضرت یعقوب کو یوسف (ع)کی تلاش ہے ۔(فَتَحَسَّسُوا مِنْ یُوسُف) لیکن بھائیوں کو گیہوں کی پڑی ہے ۔( فَأَوْفِ لَنَا الْکَیْلَ)
2۔ رسوا کرنے والے ایک دن خود رسوا ہوتے ہیں ۔ وہ لوگ جو کل کہہ رہے تھے(نحن عصب) ہم طاقتور ہیں(سرق اخ له من قبل )اس سے پہلے اس کے بھائی نے چوری کی ہے ۔(انا ابانا لفی ضلال) ہمارے بابا گمراہی میں پڑ گئے ہیں ۔ آج نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ ذلیل و رسوا ہوکر خود کہہ رہے ہیں ۔(مَسَّنَا وَأَهْلَنَا الضُّرّ)
3۔ حمایت اور مدد حاصل کرنے کے کچھ خاص طریقے ہیں۔
جس نے حمایت و مدد کی ہے اس کی تعریف و تمجید کی جائے۔( یَاأَیُّهَا الْعَزِیز)
اپنی نیاز مندی کے حال و احوال بیان کئے جائیں(مَسَّنَا وَأَهْلَنَا الضُّرّ)
مالی فقر کا تذکرہ ہو ۔(ِبِضَاعَ مُزْجَ)
مدد کے لئے کوئی سبب و علت ایجاد کرنا(وَتَصَدَّقْ عَلَیْنَا إِنَّ اﷲَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِینَ)
4۔ فقر و محتاجی انسان کو ذلیل کردیتی ہے۔(مَسَّنَا وَأَهْلَنَا الضُّر)
بقول فارسی شاعر:
آنچہ شیران را کند روبہ مزاج
احتیاج است احتیاج است احتیاج
آیت 89:
(89) قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوسُفَ وَأَخِیهِ إِذْ أَنْتُمْ جَاهِلُونَ
''(اب تو یوسف سے نہ رہا گیا) کہا کہ تمہیں معلوم ہے کہ جب تم نادان تھے تو تم نے یوسف اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟''
نکات:
ایک سوال میں ممکن ہے کہ مختلف مقاصد و اہداف پوشیدہ ہوں ، مثبت اورتعمیری اہداف یا منفی اور اذیت کنندہ مقاصد ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا یہ سوال : تمہیں معلوم ہے کہ تم نے یوسف اور ان کے بھائی کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟
1۔ شاید اس لئے ہوکہ مجھے سب کچھ معلوم ہے۔
2۔ ممکن ہے کہ سوال کا مقصد یہ ہو کہ تم نے بہت برا کام کیا ہے لہٰذا توبہ کرو ۔
3۔ ممکن ہے بنیامین کی تسلی خاطر مدنظر ہو جو وہاں موجود تھے ۔
4۔ممکن ہے کہ ان کی سرزنش اور ملامت مدنظر ہو ۔
5۔ یا اپنی عزت آشکار کرنا مقصود ہو ۔
6۔ یا اس بات کی سرزنش کررہے ہوں کہ تم کو اتنے مظالم کے بعد صدقہ و خیرات کی امید کیسے ہوگئی ؟ مذکورہ اہداف ومقاصد میں سے پہلے تین اہداف حضرت یوسف علیہ السلام کے اہداف سے مطابقت رکھتے ہیں لیکن بقیہ موارد یوسفی کرامت اور جواں مردی (جسے آئندہ آیتیں واضح کریں گی ) کے خلاف ہےں( آپ (ع)نے بادشاہت کے رتبہ پر پہنچنے کے بعد چوری کا الزام سنا ) ، آپ کو چور کہا گیا لیکن آپ (ع)نے کچھ نہ کہا اور آخر کا ر اپنے بھائیوں سے کہہ دیا(لا تثریب علیکم الیوم)
جہالت فقط نادانی کانام نہیں ہے بلکہ ہوا و ہوس کا غلبہ بھی ایک قسم کی جہالت ہے ۔ گناہگار انسان چاہے جتنا بڑا عالم ہو جاہل ہے کیونکہ وہ متوجہ نہیں ہے کہ جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ خرید رہا ہے ۔
پیام:
1۔ جواں مردی یہ ہے کہ جرم کی جزئیات کو بیان نہ کیا جائے۔(مَا فَعَلْتُمْ)
2۔ جوان مردی یہ ہے کہ( اشاروں میں) خطا کار کو عذر خواہی کا راستہ دکھایا جائے۔( إِذْ أَنْتُمْ جَاهِلُون)
آیت 90:
(90) قَالُوا أَإِنَّکَ لَأَنْتََ یُوسُفُ قَالَ أَنَا یُوسُفُ وَهذَا أَخِی قَدْ مَنَّ اﷲُ عَلَیْنَا إِنَّهُ مَنْ یَتَّقِ وَیَصْبِرْ فَإِنَّ اﷲَ لاَ یُضِیعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِینَ
''(اس پر وہ لوگ چونکے اور) کہنے لگے (ہائیں)کیا تم ہی یوسف ہو ؟ یوسف نے کہا : ہاں میں ہی یوسف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے ، بے شک خدانے مجھ پر احسان کیا ہے کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو شخص (اس سے) ڈرتا ہے اور (مصیبت میں) صبر کرتا ہے تو خدا ہرگز (ایسے) نیکوکاروں کا اجر برباد نہیں کرتا ''۔ نکات:
زمانہ جتنا گزرتا جارہاتھا برادران اتنا ہی تعجب کی شدت سے مبہوت ہوئے جارہے تھے کہ عزیز مصر ہمارے بابا کے خط کو دیکھ کر کیوں رو رہے ہیں ؟ عزیز کو ماجرائے یوسف (ع)کا علم کہاں سے ہوگیا! غور سے دیکھا جائے تو اس کا چہرہ بالکل یوسف (ع)سے ملتا جلتا ہے کہیں ایسا نہ ہوکہ یہی یوسف (ع)ہو ؟ بہتر ہے کہ انہی سے پوچھ لیں اگر یہ یوسف (ع)نہ ہوئے تو کوئی ہمیں دیوانہ نہیں کہے گا لیکن اگر یہ یوسف (ع)ہوئے تو شرمندگی کی پھٹکار کا کیا ہوگا ؟ اس فکر نے بھائیوں کے وجود میں ہیجان برپا کردیا کہ ہم کیا کریں ؟ اسی ادھیڑ بن میں یکایک اس سوال سے سکوت کا طلسم ٹوٹا :أَاِنَّکَ لَأَنْتََ یُوسُفُ ۔ کیا آپ ہی یوسف(ع) ہیں اس طلسم کے ٹوٹنے کے بعد کا سماں کیسا تھا وہاں کا ماحول کیا تھا آیا کسی نقاش میں اتنی صلاحیت ہے کہ اس کا نقشہ کھینچ سکے ؟ آیا شرمندگی و خوشی ، گریہ و محبت اور آغوش پھیلا کر سمیٹ لینا ان تمام دل کش اور روح فرسا مناظر کی تصویر کشی ہوسکتی ہے ؟ اسے تو بس خدا ہی جانتا ہے اور کوئی نہیں ۔
ایسا ماحول فراہم کردیا جائے کہ لوگ خود سوال کرنے لگیں ۔ رشد و تربیت کے لئے جوش و ولولہ کو بلند کرنا چاہئےے ۔ بھائیوں کے لحظہ بہ لحظہ جذبہئ جستجو اور سوال میں زیادتی ہورہی تھی ۔ اپنے آپ سے کہہ رہے تھے ۔ انہیں اصرار کیوں تھا کہ ہم بنیامین کو اپنے ساتھ لائیں؟ پیمانہ ہمارے ہی غلے میں کیوں ملا ؟ پہلی مرتبہ ہمارا پیسہ کیوں لوٹا دیا گیا یوسف (ع)کے قصہ سے یہ کیسے باخبر ہوگئے ؟ کہیں ایسا نہ ہوکہ اب ہمیں غلہ نہ دیں ؟جب یہ تمام ہیجانات ذہن پر اثر انداز ہوئے ، جب روح بلبلا اٹھی ، ذہن کی نسیں پھٹنے لگیں تو یکایک سوال کردیا : کیا آپ(ع) ہی یوسف ہیں ؟ جواب دیا: ہاں !
امام جعفرصادق علیہ السلام نے فرمایا درحقیقت حضرت قائم علیہ السلام کے سلسلے میں حضرت یوسف (ع)کی سنت ہے لوگ ان کو نہیں پہچانیں گے مگر جب خداوندعالم انہیں اجازت دے گا تو وہ خود کو پہچنوائیں گے(1)
پیام:
1۔ گزرتے وقت اور تلخ و شیریں حوادث سے روابط اور شناسائی میں تبدیلی آتی
ہے۔(أاِنَّکَ َأَنْتََ یُوسُف)
2۔ عوام کے احسانات تلخ ہیں لیکن احسانات الٰہی شیریں ہیں۔( مَنَّ اﷲُ عَلَیْنَ)
3۔ اولیائے الٰہی تمام نعمتوں کا مصدر و منبع خداوندعالم کو جانتے ہیں۔( مَنَّ اﷲُ عَلَیْنَ)
4۔ لطف خداوندی ،حکیمانہ اور معیار کے مطابق ہوتا ہے( مَنْ یَتَّقِ وَیَصْبِرْ فَإِنَّ اﷲَ ...)
--------------
(1)بحار الانوار ج 12 ص 283.
5۔ جوعہدہ داری اور حکومت کا اہل ہوتا ہے اسے حوادث ، حسادت ، شہوت ، ذلت، قیدخانہ، اور پروپیگنڈے جیسے امتحانات کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔(مَنْ یَتَّقِ وَیَصْبِرْ...)
6۔ خطرناک اور حساس ترین اوقات سے تبلیغ کے لئے استفادہ کرنا چاہیئے ۔ جب بھائیوں کو اپنے کئے پر شرمندگی کا پورا احساس ہوگیا اور وہ دریائے شرم میں ڈوبنے لگے اور حضرت یوسف علیہ السلام کی تمام باتوں کو بغور سننے کے لئے آمادہ ہوگئے تب آپ (ع)نے فرمایا:(مَنْ یَتَّقِ وَیَصْبِرْ...)
7۔ صبر اور تقوی عزت کا پیش خیمہ ہیں( مَنْ یَتَّقِ وَیَصْبِرْ فَإِنَّ اﷲَ لاَ یُضِیعُ...)
8۔ صالحین کی حکومت ،خدا کی سنتوں میں سے ایک سنت ہے(لاَ یُضِیعُ أَجْرَ الْمُحْسِنِینَ)
آیت 91:
(91) قَالُوا تَاﷲِ لَقَدْ آثَرَکَ اﷲُ عَلَیْنَا وَإِنْ کُنَّا لَخَاطِئِینَ
''وہ لوگ کہنے لگے خدا کی قسم آپ کو خدا نے ہم پر فضیلت دی ہے اور بےشک ہم ہی (سرتاپا) خطاکار تھے ''۔
نکات:
ایثار یعنی دوسروں کو خود پر برتری دینا ۔ یوسف (ع)کے بھائیوں نے اپنی کج فکری (نحن عصب)کی بنیاد پراتنا بڑا غلط کام انجام دیاکہ کہنے لگے اسے کنویں میں پھینک دو، ''القوہ فی غیابت الجب'' خداوندعالم نے ان کو ایسے مقام پر پہنچا دیا کہ اپنا پیٹ بھرنے کے لئے گدائی پر مجبور ہوگئے(مَسَّنَا وَأَهْلَنَا الضُّر)
آخر کار اعتراف پر مجبور ہوگئے کہ ہماری ساری سازشوں پر پانی پھر گیا'' کُنَّا خَاطِئِینَ '' بالآخر انہوں نے اپنے غلط تفکر کے بجائے ایک حقیقت کو قبول کرلیا'' لَقَدْ آثَرَکَ اﷲُ عَلَیْنَا''
برادران یوسف (ع)نے تاللہ کہہ کر چند بار قسم کھائی ہے ۔( تَاﷲِ لقد علمتم ما جئنا لنفسد فی الارض) خدا کی قسم آپ خود جانتے ہیں کہ ہم فساد اور چوری کےلئے آپ کی سرزمین پر نہیں آئے ہیں ۔
( تَاﷲِ تفت تذکر یوسف) اللہ کی قسم آپ تو ہمیشہ یوسف یوسف کرتے رہتے ہیں ۔(تَاﷲِ انک لفی ضلالک القدیم) خدا کی قسم باباجان آپ تو یوسف کی محبت میں گمراہ ہوکر اپنی پرانی گمراہی میں پڑے ہیں۔
( تَاﷲِ لَقَدْ آثَرَکَ عَلَیْنَا) خداکی قسم اللہ نے تمہیں ہم پر فضیلت دی ہے۔
پیام:
1۔اگر حسد و بغض کی بنیاد پر ہم کسی کی فضیلت کا اعتراف نہیں کریں گے تو ذلت و خواری کے ساتھ اس کا اقرار کرنا پڑے گا ۔(لَقَدْ آثَرَکَ اﷲُ عَلَیْنَ)
2۔ خدا کے ارادے کے مقابلے میں کوئی ٹھہر نہیں سکتاہے(1) ۔( آثَرَکَ اﷲُ عَلَیْنَ)
3۔ خطا و غلطی کا اعتراف ،عفو و بخشش کی راہیں ہموار کرتا ہے ۔(إِنْ کُنَّا لَخَاطِئِینَ )
--------------
(1) فانوس بن کے جس کی حفاظت ہوا کرے
وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے
آیت 92:
(92)قَالَ لاَ تَثْرِیبَ عَلَیْکُمْ الْیَوْمَ یَغْفِرُ اﷲُ لَکُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ
''یوسف نے کہا : آج تم پر کوئی عقاب نہیں ہوگا خدا تمہارے گناہ معاف فرمائے وہ تو سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ''۔
نکات:
''تثریب'' کے معنی توبیخ ، گناہ گنوانااور زیادہ ملامت کرنا ہے ۔فتح مکہ کے موقع پر مشرکین نے کعبہ میں پناہ لی تھی ۔ عمر نے کہا : ہم تو انتقام لے کر رہیں گے ۔ پیغمبر (ص) نے فرمایا : آج کا دن ،رحمت کا دن ہے، پھر مشرکین سے پوچھا : آج تم لوگ میرے بارے میں کیا گمان رکھتے ہو ؟ ان لوگوں نے جواب دیا : بہتری ! آپ (ع)ہمارے کریم بھائی ہیں ۔ اس وقت پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا : آج میں وہی کہوں گا جو حضرت یوسف علیہ السلام کا کلام تھا۔( لَا تَثْرِیبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ ) عمر نے کہا : میں اپنی بات پر شرمندہ ہوگیا۔(1)
حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا :اذا قدرتَ علی عدوّک فاجعل العفو عنه شکر القدر علیه جب تم اپنے دشمن پر قابو پالو تو اس کا شکر اس کی بخشش قراردو(2)
حدیث میں وارد ہوا ہے : جوان کا دل نرم ہوتا ہے پھر معصوم نے اسی آیہئ شریفہ کی تلاوت فرمائی:، فرمایا: یوسف چونکہ جوان تھے اس لئے بھائیوں کو فوراً بخش دیا(3)
--------------
(1)تفسیر قرطبی
(2) نہج البلاغہ کلمات قصار 11.
(3)بحار الانوار ج 12 ص 280.
پیام:
1۔ کشادہ قلبی ، ریاست و حکومت کا سبب ہے ۔( لَا تَثْرِیبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ)
2۔ جواں مردی حضرت یوسف سے سیکھنا چاہیئے جنہوں نے اپنا حق بھی معاف کردیا اور خداوندعالم سے بھی عفو و درگزرکی درخواست کی ۔( لَاتَثْرِیبَ عَلَیْکُمْ یَغْفِرُ اﷲُ )
3۔ لوگوں کی خطں کو فوراً معاف کردینا چاہیئے ۔(الْیَوْمَ)
4۔ جیسے ہی برائی کرنے والا غلطی کا اعتراف کرلے اسے فوراً قبول کرلینا چاہیئے اسے زیادہ شرمندہ نہیں کرنا چاہیئے ۔(إِنْ کُنَّا لَخَاطِئِینَ قَالَ لَاتَثْرِیبَ ...)
5۔ عفو و درگزر کا اعلان کردینا چاہیئے تاکہ دوسرے افراد بھی سرزنش نہ کریں(لَاتَثْرِیبَ عَلَیْکُم)
6۔ بھر پور عزت و قدرت کے وقت عفو و درگزرکرنا، اولیائے الٰہی کی سیرت رہی ہے(لَاتَثْرِیبَ عَلَیْکُمْ الْیَوْمَ )
7۔ خداوندعالم کی بخشش ان لوگوں کے بھی شامل حال ہوتی ہے جنہوں نے سالہاسال خدا کے دو پیغمبروں (یعقوب (ع)و یوسف(ع)) کو اذیت پہنچائی تھی ۔(هُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ)
8۔ جب بندہ معاف کررہا ہے تو''ارحم الراحمین '' خدا سے بخشش کے علاوہ کیا امید رکھی جاسکتی ہے(یَغْفِرُ اﷲُ لَکُمْ)
9۔ شرمندہ افراد کو معاف کردینا الٰہی سنت ہے (یغفر۔ صیغہ مضارع ہے جو استمرار پر دلالت کرتاہے )
10۔ مظلومین کا ظالموں کو معاف کردینا رحمت الٰہی کے شامل حال ہونے کا پیش خیمہ ہے لیکن ایسے افراد کو معاف کردیا جانا مغفرت و رحمت الٰہی پر موقوف ہے ۔( لَا تَثْرِیبَ عَلَیْکُمْ الْیَوْمَ یَغْفِرُ اﷲُ لَکُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ .)
11۔ خداوندعالم کو صفت مغفرت و رحمت (مانند ارحم الراحمین) سے یاد کرنا، دعا و استغفار کے آداب میں سے ہے ۔
آیت 93:
(93) اذْهَبُوا بِقَمِیصِی هَذَا فَأَلْقُوهُ عَلَی وَجْهِ أَبِیْ یَأْتِ بَصِیرًا وَأْتُونِی بِأَهْلِکُمْ أَجْمَعِینَ
''یہ میرا کرتا لے ج اور اس کو ابا جان کے چہرہ پر ڈال دینا کہ وہ پھر بینا ہوجائیں گے اور تم لوگ اپنے سب اہل و عیال کو لے کر میرے پاس آج''۔
نکات:
حضرت یوسف علیہ السلام کی داستان میں آپ (ع)کے کرتے کا تذکرہ مختلف مقامات پر ملتا ہے ۔
(الف) (و جا علی قمیصہ بدم کذب)بھائیوں نے جناب یوسف(ع) کے کرتے کو جھوٹے خون سے آ غشتہ کردیا اور اسے باپ کے پاس لے گئے کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا۔
(ب)(قدّ قمیصه من دبر) پیچھے سے پھٹا ہوا کرتا جرم اور مجرم کے کشف کا سبب بنا ۔
(ج)(اذْهَبُوا بِقَمِیصِی) کرتا نابینا یعقوب (ع)کے لئے شفا کا سبب بنا ۔
اگر ایک کرتا یوسف (ع)کے ہمراہ رہنے کی بنیاد پر نابینا کو بینا بنا دیتاہے تو مرقد و صحن اس کے در و دیوار اور کپڑے بلکہ ہر وہ چیز جو اولیائے الٰہی کے جوار میں ہے وہ تبرک ہے اور اس سے شفا کی امید ہے ۔
یہ مرحلہ توحل ہوگیاجس میں بھائیوں نے جناب یوسف (ع)کو پہچان لیا، عذر خواہی کرلی اور حضرت یوسف علیہ السلام نے بخش بھی دیا ۔ لیکن ابھی دوسرا مرحلہ باقی ہے ابھی بھائیوں کے ظلم کے آثار باپ کی نابینائی کی شکل میں آشکار ہیں ۔لہٰذا اسی مشکل کو یوسفی تدبیر نے اس آیت میں حل کیا ۔ روایتوں میں آیا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا: میرا کرتا لے کر بابا کے پاس وہی جائے جو میرا خون بھرا کرتا لے گےا تھا تاکہ جس طرح بابا کو آزردہ خاطر کیاتھا اسی طرح ان کا دل شاد کرے ۔
روایتوں میں آیاہے کہ اس عذر خواہی وغیرہ کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام ہر روز و شب اپنے بھائیوں کے ساتھ کھانا کھایا کرتے تھے جس کی وجہ سے( حضرت یوسف (ع)کا سامنا کرنا پڑتا اور) بھائیوں کو شدید شرمندگی کا احساس ہوتا لہٰذا ان لوگوںنے پیغام بھیجاکہ ہمارا کھانا الگ لگایا جائے کیونکہ آپ(ع) کاچہرہ دیکھ کر ہم بے حد شرمندہ ہوتے ہیں اس پر حضرت یوسف علیہ السلام نے جواب دیا : لیکن میرے لئے یہ باعث افتخار ہے کہ میں آپ لوگوں کے ساتھ رہوں اور ایک ساتھ کھانا تناول کروں ۔ دنیا جب مجھے دیکھتی تھی تو یہ کہتی تھی: ''سبحان من بلغ عبدا بیع بعشرین درھما ما بلغ''خدا کی شان تو دیکھو کہ بیس درہم میں بکنے والا غلام آج کہاں سے کہاں پہنچ گیا ۔ لیکن آج آپ لوگوں کا وجود میرے لئے عزت کا سبب ہے ان لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ میں غلام اور بے حسب و نسب نہیں ہوں بلکہ آپ جیسے ہمارے بھائی اور حضرت یعقوب(ع) جیسے ہمارے بابا ہیں، یہ الگ بات ہے کہ میں غریب الوطن ہوگیا تھا (اللہ اکبر یہ جواں مردی ، یہ حلم و بردباری)
ظاہم واقعہ : منقول ہے کہ جب حضرت آی اللہ العظمیٰ شیخ عبدالکریم حائری یزدی اعلی اللہ مقامہ (حوزہ علمیہ قم کے مسس)نے علاج کے لئے اراک سے تہران کی سمت حرکت فرمائی تو درمیان راہ ایک شب قم میں ٹھہرے وہاں لوگوں نے تقاضا کیا کہ حوزہ علمیہ اراک کو قم منتقل کردیجئے کیونکہ قم حرم اہلبیت اور حضرت معصومہ ٭ کا مدفن ہے ۔ آپ نے استخارہ کیا تو یہ آیت برآمد ہوئی( وَأْتُونِی بِأَهْلِکُمْ أَجْمَعِینَ )
پیام:
1۔ جو چیزیں اولیائے الٰہی سے مربوط ہیں ان سے برکت حاصل کرنا جائز ہے۔( اذْهَبُوا بِقَمِیصِی ) (یوسفی کرتا نابینا کو بینا بنا دیتاہے )
2۔ جو ہوا و ہوس کا مقابلہ کرتا ہے اس کا لباس بھی مقدسات میں شمار ہوجاتا ہے(بِقَمِیصِی)
3۔ غم اور خوشی آنکھوں کی روشنی میں موثر ہیں ۔(وابیضت عیناه من الحزن... یَأْتِ بَصِیرًا ) شاید اسی وجہ سے ہونہار فرزند کو''قر عین '' اور خنکی چشم کہا جاتا ہے (یہ اس صورت میں ہے جب اس واقعہ کے معجزاتی پہلو کو مدنظر نہ رکھا جائے )
4۔ معجزہ اور کرامت میں سن و سال کی قید نہیں ہے (بیٹے کا کرتا باپ کی آنکھوں کی بینائی کا باعث بنتا ہے)
5۔ حضرت یوسف علیہ السلام عالم علم غیب تھے وگرنہ انہیں کہاں سے معلوم ہوگیا کہ یہ کرتا باپ کو بینائی عطا کردے گا( یَأْتِ بَصِیرً)
6۔ صاحب قدرت فرزندوں کو اپنے کمزور رشتہ داروں خصوصا ً بوڑھے ماں باپ کو اپنے ساتھ رکھنا چاہیئے ۔( وَأْتُونِی بِأَهْلِکُمْ أَجْمَعِینَ )
7۔ معاشرتی حالات ، فریضہ کی انجام دہی میں موثر ہیں( وَأْتُونِی بِأَهْلِکُمْ أَجْمَعِینَ) (جناب یوسف (ع)کاایسے حالات میں صلہ رحم ایسا تھا کہ رشتہ داروں کو مصر آنا ہی پڑا )
8۔ تمام افراد کے حقوق کا لحاظ رکھتے ہوئے رشتہ داروں کاخیال رکھنا لازم ہے۔(أْتُونِی بِأَهْلِکُم)
9۔ گھر کا بدل دینا اور ہجرت کرنا بہت سارے آثار کا حامل ہے مثلاًغم انگیز یادیں خوشیوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں ۔(وَأْتُونِی بِأَهْلِکُمْ أَجْمَعِینَ)
10۔ جن لوگوں نے فراق اور جدائی کی مصیبت اٹھائی ہے ان کی آسائش کی فکر کرنا چاہیئے۔(أَجْمَعِینَ) اب حضرت یعقوب (ع)مزید فراق کی تاب نہیں رکھتے ۔
11۔ بہترین لطف وہ ہے جو سب کے شامل حال ہو۔( أَجْمَعِینَ)
آیت 94:
(94) وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِیرُ قَالَ أَبُوهُمْ إِنِّی لَأَجِدُ رِیحَ یُوسُفَ لَوْلَا أَنْ تُفَنِّدُونِ.
''اور جوں ہی یہ قافلہ (مصر سے حضرت یعقوب کے شہر کنعان کی طرف) چلا تو ان لوگوں کے والد (یعقوب) نے کہہ دیا کہ اگر مجھ کو سیٹھایا ہوا نہ کہو تو (ایک بات کہوںکہ) مجھے یوسف کی بو معلوم ہورہی ہے ''۔
نکات:
'' فَصَلَتْ'' یعنی دور ہوگئے ۔فَصَلَتِ الْعِیرُ ۔یعنی کارواں، مصر سے دور ہوگیا ۔''ْ تُفَنِّدُون'' کا مادہ (فند)سٹھیانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔
جناب یعقوب(ع) کو اس کی فکر تھی کہ کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ ان کی عقل جواب دے گئی ہے۔ لیکن ہائے افسوس پیغمبر اسلام (ص) کے اردگرد رہنے والے بعض صحابیوں نے پیغمبر (ص) کو اس نسبت سے منسوب کردیا یہ اس وقت ہوا جب بوقت رحلت آپ (ص)نے فرمایا : قلم و کاغذ لے تاکہ ایسی چیز لکھ دوں کہ اگر اس پر عمل کرو گے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے اس وقت تاریخ کی ایک طویل القامت شخصیت نے کہا : ان الرجل لیھجر۔یہ مرد ہذیان بک رہا ہے۔ اسکے بعدآنحضرت(ص) کو کچھ لکھنے نہ دیا ۔
انی لاجد ریح یوسف۔ کوئی مشکل نہیں ہے ۔ کیونکہ جس طرح انبیاء (ع)وحی کو درک کرتے ہیں لیکن ہم درک کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اسی طرح بقیہ امور میں بھی ممکن ہے کہ ایسی چیزوں کو درک کرلیں جو ہماری عقول سے بالاتر ہیں ۔ کیا پیغمبر اسلام (ص)نے جنگ خندق میں خندق کھودتے ہوئے کدال اور پتھر سے مل کر نکلتی ہوئی چنگاری کو دیکھ کر نہیں فرمایا کہ میں نے اس چنگاری میں بڑے بڑوں کو خاک چاٹتے ہوئے دیکھ لیا ؟ لیکن جو ضعیف الایمان تھے وہ کہنے لگے پیغمبر (ص) تو اپنی جان کے خوف سے اردگرد خندق کھود رہے ہیں لیکن آنحضرت(ص) نے کدال کی ہر ضرب پر ایک حکومت کی شکست اور فتح کا وعدہ دےدیا ۔
شرح نہج البلاغہ آی اللہ خوئی قدس سرہ میں ہے کہ امام کے لئے ایک نوری ستون ہے جب خدا چاہتا ہے تو امام اس پر نگاہ کرنے کی وجہ سے آئند ہ کو دیکھ لیتا ہے اور کبھی ایک عام آدمی کی طرح ہوتا ہے(1) ایک فارسی شاعر نے کیا خوب کہاہے :
زمصر بوی پیراہن شنیدی
چرا در چاہ کنعانش ندیدی۔
مصر سے تو (حضرت یعقوب(ع))کو کرتے کی خوشبو آگئی مگر کنعان کے کنویں میں حضرت یوسف (ع)کو آپ نہ دیکھ سکے.
بگفت احوال ما برق جہان است
گہی پیدا و دیگر دم نہان است
انھوں نے کہا: ہمارا حال آسمانی بجلی کی مانند ہے کبھی روشن اور کبھی پنہان ہوجاتی ہے.
گہی برطارم اعلی نشینم
گہی تا پشت پای خود نبینم
(حکمت خدا کے تحت)کبھی ہم لوح محفوظ کا مطالعہ کرتے ہیں اور کبھی اپنے پں کے نیچے پڑی چیز سے بھی بے خبر ہوتے ہیں ممکن ہے کہ خوشبوئے یوسف (ع)سے مراد جناب یوسف (ع)کے بارے میں کوئی نئی خبر ہو یہ
--------------
(1) تفسیر نمونہ.
مسئلہ آج کی ترقی یافتہ دنیا میں بنام( telepathy ) (یعنی انتقال فکر یا ارتباط معنوی و فکری )مشہور و معروف ہے اور ''مسلّم علمی مسئلہ ''کے عنوان سے قبول شدہ ہے ۔ یعنی جو لوگ ایک دوسرے سے نزدیکی تعلق رکھتے ہیں یا ایک خاص قسم کی روحی قدرت سے سرشار ہیں جیسے ہی دنیا کے کسی گوشے میں کسی شخص پر کوئی مصیبت آتی ہے وہ دوسری جگہ اس سے مطلع ہوجاتے ہیں(1)
ایک شخص نے امام محمد باقر علیہ السلام سے سوال کیا : کبھی کبھی میرادل کسی سبب کے بغیر غمناک ہوجاتا ہے اور وہ بھی اس حد تک کہ دوسرے سمجھ لیتے ہیں ۔ امام علیہ السلام نے فرمایا : مسلمین خلقت میں ایک حقیقت وطینت سے ہیں جیسے ہی کوئی تلخ حادثہ کسی پر رونما ہوتا ہے دوسرا شخص دوسری زمین پر غمناک ہوجاتا ہے۔
اگر حضرت یوسف (ع)کی خوشبو کے سونگھنے کا تعلق صرف ''قوت شامہ '' سے ہے تو یہ ایک معجزہ اور خارق عادت واقعہ ہے کہ حضرت یعقوب (ع)اتنے طویل فاصلے پر حضرت یوسف (ع)کی خوشبو کو محسوس کرلیتے ہیں۔
آپ بیتی:جس وقت عراق نے ایران پر حملہ کیا تھا اور امام خمینی (رح)کے فرمان پرپوری قوم غربی و جنوبی محاذ پر موجود اور حاضر تھی میں بھی شہید آی اللہ اشرفی کے ہمراہ جو 90/ نوے سال کے تھے، عملیات ''مسلم بن عقیل'' میں موجود تھا ۔ انہوں نے بارہا حملے کی رات مجھ سے کہا : میں بہشت کی خوشبو محسوس کررہا ہوں ۔ لیکن میں نے اپنی تمام تر کوششوں
--------------
(1) تفسیر نمونہ.
کے باوجود کوئی خوشبو محسوس نہ کی ۔ ہاں کیوں نہ ہو جس نے نوے سال علم و تقوی و زہد میں اپنی زندگی گزاری ہو وہ اتنی قدرت رکھتا ہے کہ وہ ایسی چیزوں کا احساس کرے جس سے دوسرے عاجز ہوں ۔ اسی طرح آپ کی وہ پیشین گوئی کہ میں چوتھا شہید محراب ہوں ،دنیا کے سامنے آشکار ہوگئی(1) بہرحال ممکن ہے کہ بوئے بہشت سے مراد عرفانی خوشبو ہو جیسے مناجات کی شیرینی جو ایک معنوی مزہ ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ طبیعی خوشبو ہو لیکن ہر مشام اس خوشبو کو محسوس نہیں کرپاتا ۔ جیسے فضا میں ریڈیو کی تمام موجیں ہیں لیکن تمام ریڈیو اسے نہیں کھینچ پاتے۔
پیام:
1۔ انسان باطنی صفات کے ذریعہ معنوی حقائق کو درک کر سکتا ہے ۔ (انی لاجد ریح یوسف)۔ لیکن درک حقائق محدود ہے ایسا نہیں ہے کہ ہر زمان و مکان میں جو چاہیں درک کرلیں ، یہی وجہ ہے کہ یوسف کی خوشبو کو اس وقت محسوس کیا جب کاروان مصر سے دور ہوگیا( فَصَلَتِ الْعِیرُ)
2۔ اگر حقائق کو درک نہیں کرسکتے تو دوسروں کے بلند مقام کا انکار نہیں کرنا چاہیئے ۔(لَوْلَا أَنْ تُفَنِّدُونِ)
3۔ نادانوں کے درمیان عالموں کی زندگی بڑی تکلیف دہ ہے( لَوْلَا أَنْ تُفَنِّدُونِ)
--------------
(1)منافقین نے ایک دوسال کے اندر اندر آیت اللہ مدنی، صدوقی ، دستغیب، کو نماز جمعہ یا نماز جمعہ کے راستے میں بم سے شہید کردیا.
آیت 95:
(95) قَالُوا تَاﷲِ إِنَّکَ لَفِی ضَلَالِکَ الْقَدِیمِ
''وہ لوگ کہنے لگے : آپ یقینا اپنے پرانے خبط (محبت) میں (مبتلا) ہیں''۔
نکات:
اس سورہ کی آٹھویں آیت میں ہم نے پڑھا کہ بھائیوں نے باپ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے کہا:(انا ابانا لفی ضلال مبین) ہمارے بابا تو یوسف (ع)اور اس کے بھائی کی بے جا محبت میں آشکارا گمراہی میں پڑ گئے ہیں ۔ اس آیت میں کہہ رہے ہیں کہ(ضلالک القدیم ) یوسف(ع) کے سلسلے میں اب بھی اسی غلطی پر ڈٹے ہیں ۔
عوام الناس ،اولیائے الٰہی کو اپنی ناقص عقل کی کسوٹی پر نہ تولیں اور یہ فیصلہ صادر نہ کریں کہ فلاں کام ہوسکتا ہے اور فلاں کام نہیں ہوسکتا ۔ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: الناس اعداء ماجهلوا ۔انسان ہر اس چیز کا دشمن ہے جسے نہیں جانتا۔
پیام:
1۔ نیک کردار افراد کے افعال کو خود سے قیاس نہ کیجئے(إِنَّکَ لَفِی ضَلَالِک...) (باپ کی طرف گمراہی کی نسبت دینا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ لوگ نبی کو اپنی عقل سے درک کرنا چاہتے تھے )
2۔ حضرت یعقوب علیہ السلام اس جدائی کی طولانی مدت میں حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی سے مطمئن تھے اور اس کا اظہار بھی فرمایا کرتے تھے اسی وجہ سے آپ کے بیٹوں نے کہا(إِنَّکَ لَفِی ضَلَالِکَ الْقَدِیمِ )
آیت 96:
(96) فَلَمَّا أَنْ جَاءَ الْبَشِیرُ أَلْقَاهُ عَلَی وَجْهِهِ فَارْتَدَّ بَصِیرًا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَکُمْ إِنِّی أَعْلَمُ مِنَ اﷲِ مَا لاَتَعْلَمُونَ.
''پھر یوسف کی خوشخبری دینے والا آیا اور یوسف کے کرتے کو یعقوب کے چہرہ پر ڈال دیا تو یعقوب فوراً بینا ہوگئے (تب یعقوب نے) کہا کیوں میں تم سے نہ کہتا تھا جو باتیں خدا کی طرف سے میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے''۔
نکات:
اگر آنکھ کے سفید ہونے''وابیضت عیناه'' سے مراد بینائی میں کمی واقع ہونا ہے تو''بصیراً'' سے مراد آنکھوں کا پر نور ہونا ہے اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ خوشی اور غم انسان کی قوت باصرہ پر اثر انداز ہوتے ہیں لیکن اگر مراد مطلق نابینائی ہے یعنی جناب یعقوب (ع)فراق یوسف (ع)میں دیکھنے کی صلاحیت کھو بیٹھے تھے جیساکہ ظاہر آیت''فَارْتَدَّ بَصِیرًا'' سے یہی سمجھ میں آتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک معجزہ اورتوسل تھا جس کی طرف قرآن مجید اشارہ کررہا ہے۔
دنیا نشیب و فراز سے بھری ہوئی ہے حضرت یوسف (ع)کے بھائیوں نے ایک دن خبر پہنچائی تھی کہ یوسف (ع)کو بھیڑیا کھا گیا اور آج وہی بھائی حضرت یوسف (ع)کے حاکم ہونے کی خبر لا رہے ہےں ۔
پیام:
1۔ علم انبیاء (ع)کا سرچشمہ، علم الٰہی ہوتا ہے ۔( أَعْلَمُ مِنَ اﷲِ ...)
2۔ الٰہی نمائندوں کو خدا کے وعدوں پر یقین و اطمینان ہوتا ہے ۔( أَلَمْ أَقُلْ...)
3۔ حضرت یعقوب(ع) اپنے فرزندوں کے برعکس حضرت یوسف (ع)کی زندگی اور فراق کے وصال میں تبدیل ہونے پر مطمئن تھے ۔( أَلَمْ أَقُلْ لَکُمْ)
4۔ ارادہ الٰہی طبیعی قوانین پر حاکم ہوتا ہے۔( فَارْتَدَّ بَصِیرً)
5۔ اولیائے الٰہی کا لباس اور ان سے ارتباط بااثر ہوسکتا ہے۔( فَارْتَدَّ بَصِیرً)
آیت 97:
(97) قَالُوا یَاأَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا إِنَّا کُنَّا خَاطِئِینَ
''ان لوگوں نے عرض کی : اے بابا ہمارے گناہوں کی مغفرت کی (خدا کی بارگاہ میں )ہمارے واسطے دعا مانگئے ہم بے شک از سر تاپا گنہگار ہیں''۔
نکات:
فرزندان حضرت یعقوب(ع) موحد تھے اور اپنے باپ کے والا مقام سے آگاہ تھے( یَاأَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا) بنابریں اپنے باپ کو جو ''گمراہی اور ضلالت '' کی نسبت دی تھی اس کا مقصد عقیدہ میں گمراہی نہ تھا بلکہ ان کے زعم ناقص میں حضرت یعقوب (ع)حضرت یوسف (ع)کی محبت میں غلط تشخیص کی بنا پر گمراہ تھے ۔
ظالم کے تین طرح کے دن ہوتے ہیں:
1۔ قدرت کے روز۔
2۔ مہلت کے روز۔
3۔ ندامت کے روز۔
اسی طرح مظلوم کے بھی تینطرح کے دن ہوتے ہیں:
1۔ ''روز حسرت'' جس دن اس پر ظلم ہوتا ہے۔
2۔ ''روز حیرت'' جس میں وہ کسی تدبیر کی فکر میں ہوتا ہے۔
3۔ ''روز نصرت ومدد'' چاہے وہ دنیا میں ہو یاآخرت میں۔
پیام:
1۔ ظلم، مایہ ذلت و خواری ہے ، جس دن بھائیوں نے حضرت یوسف کو کنویں میں ڈالا تھا وہ روز ان کی خوشی اور حضرت یوسف (ع)کی ذلت کا دن تھا ۔لیکن آج معاملہ برعکس ہے ۔
2۔ گناہوں کی بخشش کے لئے اولیائے الٰہی سے توسل جائز ہے۔( یَاأَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَ)
آیت 98:
(98) قَالَ سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَکُمْ رَبِّی إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ
''یعقوب نے کہا میں بہت جلد اپنے پروردگار سے تمہاری مغفرت کی دعا کروں گا بے شک وہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے ''۔
نکات:
جو کل اپنی غلطیوں کی بنیاد پر اپنے باپ کو(ان ابانا لفی ضلال مبین) کہہ رہے تھے، آج وہی اپنی غلطیوں کی طرف متوجہ ہو کر(إِنَّا کُنَّا خَاطِئِینَ) کہہ رہے ہیں۔
پیام:
1۔باپ کو کینہ توز نہیں ہونا چاہیئے اور بچوں کی لغزشوں کو دل میں نہیں رکھنا چاہیئے۔(استَغْفِرُ لَکُمْ )
2۔ دعا کے لئے خاص اوقات اولویت رکھتے ہیں ۔( سَوْف) (1)
3۔ لطف الٰہی، عظیم سے عظیم گناہ اور بڑے بڑے گناہگاروں کے بھی شامل حال ہوتا ہے۔( هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ) حالانکہ سالہا سال دو الٰہی نمائندے اذیت وآزار میں مبتلا رہے لیکن پھر بھی بخشش کی امید ہے ۔
4۔ باپ کی دعا فرزندوں کے حق میں انتہائی موثر ہوتی ہے( سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَکُمْ) (2)
5۔ اگر غلطی کرنے والا غلطی کا اعتراف کرلے تو اس کی ملامت نہیں کرنا چاہیئے جیسے ہی بیٹوں نے کہا( إِنَّا کُنَّا خَاطِئِینَ ) ہم خطا کار تھے ۔ویسے ہی باپ نے کہا(سَوْفَ أَسْتَغْفِرُ لَکُمْ )
--------------
(1)تفسیر مجمع البیان میں اور اطیب البیان میں موجود ہے کہ حضرت یعقوب شب جمعہ یا سحر کے منتظر تھے تاکہ بچوں کے لئے دعائیں کریں.
(2) اس سلسلے میں بہت ساری روایات موجود ہیں.
آیت 99:
(99) فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَی یُوسُفَ آوَی إِلَیْهِ أَبَوَیْهِ وَقَالَ ادْخُلُوا مِصْرَ إِنْ شَاءَ اﷲُ آمِنِینَ
''(غرض) جب یہ لوگ (حضرت یوسف کے والد، والدہ ، اور بھائی) یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے والدین کو اپنے پاس بٹھایا اور کہا: مصر میں داخل ہوجاہیئے اللہ نے چاہا توا من سے رہیں گے ''۔
نکات:
داستان کے اس حصے کو میں کیسے لکھوں میں نہیں جانتا حضرت یوسف (ع)اپنے والدین کے استقبال کے لئے بیرون شہر خیمہ ڈال کر انتظار کی گھڑیاں گزار رہے ہیں تاکہ بڑے ہی عزت و احترام سے انہیں شہر مصر میں لے جائیں(دَخَلُوا عَلَی یُوسُفَ... ادْخُلُوا مِصْرَ...)
اسی طرح فطری بات ہے کہ ادھر جب حضرت یوسف (ع)کے والدین اور بھائی سفرکی تیاری کررہے ہوں گے تو پورے کنعان میں ہنگامہ ہوگا ۔ لوگ بغور ملاحظہ کر رہے تھے کہ کس طرح سالہاسال کے بعد بیٹے کی سلامتی کی خبر سن کر خوشی سے جھومتے ہوئے حضرت یعقوب روشن و منور آنکھوں کے ہمراہ مشتاقانہ دیدار فرزند کے لئے آمادہ سفر ہیں۔
اہل کنعان بھی باپ اور بیٹے کے اس ملن کی خبر سے بے حد خوشحال تھے بطور خاص اس بات پر خوش تھے کہ حضرت یوسف (ع)مصر کے خزانہ دار ہیں اور خشک سالی کے زمانے میں غلہ بھیج کران کی مدد فرمائی ہے ۔نہیں معلوم کس شوق و ولولہ اور عشق و محبت کے ساتھ اس واقعہ کو حوالہئ قرطاس کیا جائے اور کہاں پراسے تمام کیا جائے !
کلمہ ''ابویہ'' سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (ع)کی مادر گرامی بھی زندہ تھیں ۔ لیکن سوال جو ذہن میں اٹھتا ہے اور میں خود بھی اس کا جواب نہیں جانتا کہ آخر وجہ کیا تھی کہ پورے قصے میں حضرت یوسف(ع) کی مادر گرامی کا گریہ ، نالہ و شیو ن کہیں نہیں ملتا ۔ پوری داستان اس سلسلے میں خاموش ہے ۔(1)
روایات میں آیا ہے کہ حضرت یعقوب(ع) نے قسم دے کر حضرت یوسف (ع)سے اصرار کیا کہ انہیں اپنی پوری داستان سنائیں ۔ حکم پدری پر حضرت یوسف (ع)نے داستان شروع کی جب اس موقع پر پہنچے کہ بھائیوں نے کنویں کے پاس لے جا کر زبردستی میرا کرتا اتروا لیا تو یہ سنتے ہی حضرت یعقوب (ع)بے ہوش ہوگئے ۔ جیسے ہی ہوش میں آئے فرمایا : داستان سناتے رہو لیکن حضرت یوسف (ع)نے فرمایا : بابا آپ (ع)کو ابراہیم و اسماعیل و اسحق ٪ کے حق کا واسطہ، مجھے اس داستان کے سنانے سے معاف فرمائیں! حضرت یعقوب علیہ السلام نے اسے قبول فرمالیا(2)
--------------
(1)تحقیق سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جناب یوسف کی ماں بچپن میں ہی اس دنیا سے رخصت ہوگئی تھیں، حضرت یوسف کو ان کی خالہ نے پالا تھا، آیہئ شریفہ میں ''ابویہ'' اس لئے کہا گیا ہے کہ آپ F کی خالہ آپ کی تربیت کی ذمہ داری تھیں، جس طرح قرآن مجید نے آذر کو جناب ابراہیم(ع) کا باپ کہا ہے، جبکہ وہ آپ کا چچا تھا۔
علاوہ از ایں، ماں کا گریہ، آہ و نالہ، نوحہ و ماتم او رفریاد و زاری ایک عام بات ہے، کیونکہ ہر ماں اپنے بچے کے فراق پر آنسو بہاتی ہے، یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے لیکن اس کے مقابلہ میں مرد عقل کے ساتھ قدم آگے بڑھاتا ہے، باپ ہونے کے باوجود وہ صبر و ضبط سے کام لیتا ہے، اور اگر وہ باپ نبی ہو تو پھر اس کا آنسو بہانا بہت بعید ہے، کیونکہ یہ خلاف عقل ہے ،گمشدہ چیز پر رونے سے کیا فائدہ، خصوصاً جب یقین ہو کہ فرزند زندہ ہے تو پھر آنسو بہانا دیوانہ پن ہے، زندہ شخص پر آنسو بہانے سے کیا فائدہ۔
انہی تمام پندار غلط اور تصورات ناقص پر خط بطلان کھینچنے کے لئے خداوندعالم نے حضرت یعقوب(ع) کے آنسووں کا تذکرہ فرمایا کہ جو اپنے وقت کے نبی بھی تھے اور اس کی تائید بھی فرمائی کہ یہ آنسو مقدس ہے، اور اس کا ذکر کرکے دنیا کے سامنے ایک مثال قائم کرنا ہے کہ یوسف کے فراق میں حزن و ملال، نالہ و شیون مقدس ہے، قابل اعتراض نہیں۔ مترجم۔
(2)تفسیر نمونہ، تفسیر مجمع البیان.
پیام:
1۔ بیرون شہر استقبال کرنا اچھی بات ہے ۔( دَخَلُوا عَلَی یُوسُفَ) شہر کے باہر استقبالیہ مراسم ادا کئے گئے تھے اور وہیں پر خیمہ ڈالاگیا تھا۔
2۔عہدہ اور مقام ہمیں والدین کے احترام سے غافل نہ کریں(قَالَ ادْخُلُوا مِصْرَ...)
3۔سربراہ مملکت بھی اگر اپنے ملک کے امن و امان کے سلسلے میں گفتگو کررہا ہے تو اس کو بھی خدا وندعالم کے لطف کی طرف متوجہ ہونا چاہیئے(إِنْ شَاءَ اﷲُ ) (1)
4۔رہائش ومحل وقوع کے انتخاب میں سب سے پہلا قابل غور مرحلہ امنیت ہے۔(آمِنِینَ)
5۔ اگر ہر دور میں یوسف زمان حاکم ہوں تو امینت برقرار ہوجائے گی۔(آمِنِینَ)
--------------
(1)ایک قوم نے پہاڑوں کو تراش کر اپنے گھر بنالئے تھے تاکہ امن و سکون سے رہ سکیں لیکن خدائی قہر نے ان کے امن و امان کو درہم برہم کردیا۔(وکانوا ینحتون من الجبال بیوتاآمنین فاخذتہم الصیح مصبحین) حجر 82۔83.
آیت 100:
(100) وَرَفَعَ أَبَوَیْهِ عَلَی الْعَرْشِ وَخَرُّوا لَهُ سُجَّدًا وَقَالَ یَاأَبَتِ هَذَا تَأْوِیلُ رُیَای مِنْ قَبْلُ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّی حَقًّا وَقَدْ أَحْسَنَ بِی إِذْ أَخْرَجَنِی مِنْ السِّجْنِ وَجَاءَ بِکُمْ مِنْ الْبَدْوِ مِنْ بَعْدِ أَنْ نَزَغَ الشَّیْطَانُ بَیْنِی وَبَیْنَ إِخْوَتِی إِنَّ رَبِّی لَطِیفٌ لِمَا یَشَاءُ إِنَّهُ هُوَ الْعَلِیمُ الْحَکِیمُ
''اور(مصر پہنچ کر) یوسف نے اپنے ماں باپ کو تخت پر بٹھایا اور وہ سب کے سب (یوسف کی تعظیم کے واسطے )ان کے سامنے سجدہ میں گر پڑے اور (اس وقت)یوسف نے کہا : اے بابا یہ تعبیر ہے میرے اس پہلے خواب کی میرے پروردگار نے اسے سچ کردکھایا،بے شک اس نے میرے ساتھ احسان کیا ہے جب اس نے مجھے قیدخانہ سے نکالااور باوجودیکہ کہ مجھ میں اور میرے بھائیوں میں شیطان نے فساد ڈال دیا تھا ،اس کے بعد بھی آپ لوگوں کو صحرا سے (کنعان سے مصر)لے آیا (اور مجھ سے ملا دیا) بے شک میرا پروردگارجو چاہتا ہے اسے تدبیر خفی سے انجام دیتا ہے ، بے شک وہ بڑا واقف کار حکمت والا ہے ''۔
نکات:
''عرش'' اس تخت کو کہتے ہیں جس پر بادشاہ بیٹھتا ہے''خرّوا'' زمین پر گرنا ''بدو'' بادیہ اور صحرا،''نزغ'' کسی کے درمیان فساد کی غرض سے وارد ہونا۔
''لطیف'' خداوندعالم کا ایک نام ہے ، یعنی اس کی قدرت پیچیدہ اور مشکل امور میں بھی اپنا راستہ بنالیتی ہے اس نام کا تناسب آیت میں یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی میں ایک ایسی مشکل گرہ تھی جسے صرف قدرت خدائی ہی کھول سکتی تھی ۔
حضرت یوسف علیہ السلام مثل کعبہ ہوگئے تھے اور انکے ماں باپ اور بھائیوں نے انکے بلند رتبے اور کرامت کی وجہ سے انکی طرف رخ کرکے خداوند عالم کا سجدہ کیا(خَرُّوا لَهُ سُجَّدًا) اگر یہ سجدہ غیر خدا کےلئے اور شرک کا باعث ہوتا تو یوسف اوریعقوب + جیسے دو پیغمبر الٰہی کبھی ایسے عظیم گناہ کے مرتکب نہ ہوتے ۔
پیام:
1۔ ہم جس مقام پر بھی ہیں اپنے والدین کو اپنے سے برترسمجھیں(رَفَعَ أَبَوَیْهِ) جس نے زیادہ رنج و مصیبت کاسامنا کیا ہے اس کو زیادہ صاحب عزت ہونا چاہئےے۔
2۔ انبیاء بھی تخت حکومت پر جلوہ افروز ہوئے ہیں( عَلَی الْعَرْش)
3۔ حاکم برحق کا احترام اور اس کے سامنے تواضع ضروری ہے۔(خَرُّوا لَهُ سُجَّدً)
4۔ سجدہئ شکر ،تاریخی سابقہ رکھتا ہے(خَرُّوا لَهُ سُجَّدً) (1)
5۔خداوندعالم حکیم ہے کبھی کبھی سالہاسال کی طولانی مدت کے بعد دعا مستجاب فرماتاہے یا خواب کی تعبیر دکھاتاہے( هَذَا تَأْوِیلُ رُیَای مِنْ قَبْل)
6۔ تمام پروگرام کو اس کے حقیقی انجام تک پہنچانا خداوندعالم کے ہاتھ میں ہے( قَدْ جَعَلَهَا رَبِّی حَقًّ) جی ہاں حضرت یوسف (ع)اپنی مقاومت اور صبر کے سلسلے میں رطب اللسان نہ تھے بلکہ ہر چیز کو خداوندعالم کا لطف سمجھ رہے تھے ۔
7۔ اولیاء خدا کے خواب برحق ہوتے ہیں(جَعَلَهَا رَبِّی حَقًّ)
8۔ تمام اسباب و علل اور وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ہمیشہ حقیقی اصل اور سبب خداوندعالم کو سمجھنا چاہیئے حضرت یوسف کی زندگی میں مختلف اسباب و علل نے مل کر انہیں اس بزرگ مقام تک پہنچایا لیکن پھر فرماتے ہیں(قَدْ أَحْسَنَ بِی)
9۔ایک دوسرے سے ملاقات کے وقت گزشتہ تلخیوں کا ذکر نہیں کرنا چاہیئے۔(أَحْسَنَ بِی إِذْ أَخْرَجَنِی مِنْ السِّجْنِ) باپ سے ملاقات کے وقت حضرت یوسف (ع)کا سب سے پہلاکام خدا کا شکر تھا گزشتہ واقعات کی تلخیوں کا ذکر نہیں فرمایا۔
10۔انسان کو جواں مرد ہونا چاہیئے اور مہمان کی دل آزاری نہیں کرنی چاہیئے (آیہ شریفہ میں حضرت یوسف (ع)زندان سے نکلنے کا واقعہ تو بیان فرماتے ہیں لیکن کنویں سے
--------------
(1)امام علی نقی علیہ السلام نے فرمایا: جناب یعقوب (ع)اور ان کے فرزندوں کا سجدہ ،سجدہئ شکر تھا۔ احسن القصص.
باہر نکلنے کی داستان نہیں دہراتے کہ کہیںدوبارہ ایسا نہ ہو کہ بھائی شرمندہ ہوجائیں )( إِذْ أَخْرَجَنِی مِنْ السِّجْنِ )
11۔انسان کو جواں مرد ہونا چاہیئے اہل کینہ و انتقام نہیں حضرت یوسف (ع)فرمارہے ہیں ۔(نَزَغَ الشَّیْطَانُ) یعنی شیطان نے وسوسہ کیا ورنہ میرے بھائی برے نہیں ہیں ۔
12۔اولیائے الٰہی زندان میں قید ہونے اور وہاں سے آزادی کو توحید و ربوبیت کا محور سمجھتے ہیں (رب السجن احب)گزشتہ آیتوں میں ملتا ہے اور ابھی فرمایا:(أَحْسَنَ بِی إِذْ أَخْرَجَنِی مِنْ السِّجْنِ )
13۔مصیبتوں کے بعد خوشی ہے ، مشکلوں کے بعد آسانی ہے ۔(أَخْرَجَنِی مِنْ السِّجْنِ)
14۔بادیہ نشینی ضرورت ہے، فضیلت نہیں۔(قَدْ أَحْسَنَ بِی إِذ...جَاءَ بِکُمْ مِنْ الْبَدْوِ...)
15۔بچوں کے ہمراہ والدین کا زندگی بسر کرنا ایک لطف الٰہی ہے(قَدْ أَحْسَنَ بِی إِذ...جَاءَ بِکُمْ )
16۔بھائیوں ،بلکہ گھر کے ہر ہر فرد کو یہ جان لینا چاہیئے کہ شیطان ان کے درمیان اختلاف، افتراق اور جھگڑا کرانے کے چکر میں لگا رہتا ہے ۔( نَزَغَ الشَّیْطَانُ بَیْنِی وَبَیْنَ إِخْوَتِی )
17۔اپنے آپ کو برتر شمار نہ کیجئے( بَیْنِی وَبَیْنَ إِخْوَتِی ) حضرت یوسف (ع)نے یہ نہیں کہاکہ شیطان نے ان لوگوں کو فریب اور دھوکادیا بلکہ فرمایا میرے اور ان کے درمیان یعنی اپنے آپ کو بھی ان کے ہمراہ مدمقابل قراردیا ۔
18۔خداوندعالم کے امور نرمی، مہربانی ، اور لطف و کرم پر استوار ہوتے ہیں۔(لَطِیف)
19۔تمام تلخ و شیریں حادثات ،علم و حکمت الٰہی کی بنیاد پر وقوع پذیر ہوتے ہیں۔(الْعَلِیمُ الْحَکِیمُ)
20۔کسی کو معاف کرنے کے بعد اسے شرمندہ نہ کیجئے جب حضرت یوسف (ع)نے بھائیوں کو بخش دیا تو واقعہ بیان کرنے میں کنویں کا نام نہیں لیتے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ بھائیوں کو شرمندگی ہو۔
آیت 101:
(101) رَبِّ قَدْ آتَیْتَنِی مِنْ الْمُلْکِ وَعَلَّمْتَنِی مِنْ تَأْوِیلِ الْأَحَادِیثِ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنْتَ وَلِیِّ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَ تَوَفَّنِی مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِی بِالصَّالِحِینَ
''(اس کے بعد یوسف نے دعا کی )پروردگار تو نے مجھے اقتدار کا ایک حصہ بھی عطا فرمایا اور مجھے خواب کی تعبیر بھی سکھائی، اے آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے تو ہی میرا مالک و سرپرست ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی تو مجھے (دنیا سے)مسلمان اٹھالے اور مجھے نیکوکاروں میں شامل فرما''۔
نکات:
اولیائے خدا جب بھی اپنی عزت و قدرت کو ملاحظہ کرتے ہیں تو فوراً یاد خدا میں سر نیاز خم کردیتے ہیں اور کہنے لگتے ہیں: خدایاجو کچھ بھی ہے تیرا ہی دیا ہوا ہے۔ حضرت یوسف(ع) نے بھی یہی کہا ،باپ سے گفتگو کرتے کرتے خدا کی طرف متوجہ ہوگئے ۔ خداوندعالم نے مصر کی حکومت دو افراد کے ہاتھ میں دی ایک فرعون کہ جس نے اس حکومت کو اپنی طرف منسوب کرلیا۔(الیس لی ملک مصر) (1) دوسرے حضرت یوسف علیہ السلام جنہوں نے اس کی نسبت خداوندعالم کی طرف دی(اتیتنی من الملک)
ابراہیمی طرز تفکر ،ان کی نسل میں بھی جلوہ گر ہے ۔کل حضرت ابراہیم (ع)نے فرمایا تھا۔(اسلمت لرب العالمین) (2) میںپروردگارعالم کے سامنے تسلیم ہوں ۔ آپ(ع) کے بعد آپ (ع)کے پوتے حضرت یعقوب (ع)اپنے فرزندوں سے وصیت فرماتے ہیں کہ باایمان اس دنیا سے رخصت ہوں(لاتموتن الا و انتم مسلمون) (3) یہاںفرزند یعقوب حضرت یوسف بھی وقت وفات تسلیم و رضائے الٰہی کی درخواست کررہے ہیں (توفنی مسلما)۔ بہرحال حضرت ابراہیم علیہ السلام کا شمار صالحین میں ہوتا ہے(انه فی الاخر لمن الصالحین) (4) اورحضرت یوسف (ع)چاہتے ہیں کہ انہی سے ملحق
--------------
(1) سورہ زخرف آیت 51 (2)سورہ بقر آیت 131.
(3) سورہ بقر آیت 132 (4) سورہ بقر آیت 130
ہوجائیں(الحقنی بالصالحین)
خداوندعالم نے حضرت آدم (ع)کو اسما کی تعلیم دی(علم آدم الاسماء کلها) (1) حضرت دد (ع)کو زرہ سازی کی تعلیم دی(علمناه صنعه لبوس) (2) حضرت سلیمان (ع)کومنطق الطیر (پرندوں کی بولی سمجھنا )کا علم دیا(علمنامنطق الطیر) (3) اسی طرح حضرت یوسف (ع)کو تعبیر خواب کا علم عنایت فرمایا(علمتنی من تاویل الاحادیث) لیکن ہمارے نبی کو علم اولین و آخرین عنایت فرمایا۔علمک مالم تکن تعلم (4)
یوسفی چہرہ (ایک کامیاب رہبر کی صفات و خصوصیات)
حضرت یوسف علیہ السلام کی داستان کے اختتام پر ان کا رخ زیبا دیکھتے چلیں۔
--------------
(1) سورہ بقر آیت 31
(2) سورہ انبیاء آیت 80.
(3) سورہ نمل آیت 16.
(4) سورہ نساء آیت113.
(1) تلخیوں میں خداوندعالم پر بھرپور بھروسہ(رب السجن احب...) اور خوشی و شاد کامی میں بھی اسی پر توجہ(رب قد اتیتنی من الملک)
(2) ہر منحرف گروہ کی انحرافی را ہ اور نقوش ترک کرنا(انی ترکت مل قوم لا یومنون باللّٰه و هم بالاخر کافرون)
(3) بزرگوں کی راہ ِمستقیم پر گامزن ہونا(واتبعت مل آبائی ابراهیم ،
والحقنی بالصالحین)
(4) خدا کی راہ میں تادم مرگ پائیداری(توفنی مسلما)
(5) رقیبوں کے مقابلے میں وقار(احب الی ابینا منّا)
(6) حوادث اور تلخیوں میں صبر(یجعلوه فی غیابت الجب ، ارادباهلک سوئ)
(7) آرام و آسائش پر پاکدامنی اور تقوی کو ترجیح دینا(معاذاللّٰه ، رب السجن احب الی مما یدعوننی)
(8) غیروں سے باتوں کو چھپانا(وشروه بثمن بخس)
(9) وافر علم(علمنی من تاویل الاحادیث ، انی حفیظ علیم...)
(10)فصیح اور خوبصورت انداز بیان(فلما کلّمه قال انک لدینامکین)
(11)خاندانی عظمت وبزرگی(آبائی ابراهیم و اسحق...)
(12)دینی اور فکری مخالفین سے محبت سے پیش آنا(یا صاحبی السجن)
(13)اخلاص۔(کان من المخلصین)
(14)دوسروں کی ہدایت کے لئے سوز دل(ءَ ارباب متفرقون)
(15)منصوبہ بندی کرنے کی قدرت وتخلیقی صلاحیت(جعل السقای ، ائتونی باخ لکم ، فذروه فی سنبله...)
(16)تواضع اور فروتنی(رفع ابویه علی العرش )
(17)عفو و اغماض نظر(لاتثریب علیکم)
(18)شجاعت وجواں مردی(نزغ الشیطان بینی و بین اخوتی)
(19)امانتداری(اجعلنی علی خزائن الارض انی حفیظ علیم)
(20)مہمان نوازی(انا خیرالمنزلین)
پیام:
1۔اعطائے حکومت؛ الٰہی ربوبیت کی شان ہے( رَبِّ قَدْ آتَیْتَنِی مِنْ الْمُلْکِ )
2۔حکومت کو اپنی فکر، مال، قدرت، یارومددگار اور منصوبہ بندی کا نتیجہ نہ سمجھئے بلکہ ارادہ خداوندی اصلی اور حقیقی عامل ہے(آتَیْتَنِی )
3۔جو چیز خدا ہمیں دیتا ہے یا ہم سے لے لیتا ہے سب کے سب ہماری تربیت کے لئے ہیں(رب بما اتیتنی، رب السجن احبّ)
4۔حکومت تعلیم یافتہ افراد کا حق ہے جاہلوں کا نہیں( آتَیْتَنِی... عَلَّمْتَنِی) حضرت یوسف (ع)کا علم ان کی حاکمیت کا وسیلہ قرار پایا۔
5۔ہر حال میں خود کو خدا کے سپرد کردینا چاہیئے(أَنْتَ وَلِیِّ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَ )
6۔قدرت و حکومت و سیاست ، دین الٰہی سے دور ہونے کی راہ کو ہموار کرتے ہیں مگر یہ کہ لطف خداوندشامل حال ہو( تَوَفَّنِی مُسْلِمً) (حضرت یوسف (ع)نے کنویں میں ایک دعا کی ، قید خانہ میں ایک دوسری دعا کی لیکن جیسے ہی مسند حکومت پر پہنچے آپ (ع)کی دعا یہ تھی: ''خدایا میںمسلمان اس دنیا سے رخصت ہوں '')
7۔اللہ کے بندے عزت و طاقت کی معراج پر بھی موت ، قیامت اور عاقبت کی یاد میں ہوتے ہیں(توفنی مسلما و الحقنی بالصالحین) (1)
8۔عظمت خدا فقط یہی نہیں کہ وہ ہماری نعمتوں میں اضافہ کردے بلکہ وہ تمام ہستی کو معرض وجود میں منصہئ شہود پر ظہور پذیر کرنے والا ہے( فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ)
9۔افتخار یوسف (ع)یہ نہیں کہ وہ لوگوں پر حاکم ہیں بلکہ آپ (ع)کا افتخار یہ ہے کہ خدا آپ (ع)پر حاکم ہے(أَنْتَ وَلِیِّ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَ )
10۔کار خیر میں پائیداری اور اس کا نیک انجام اس کے شروع ہونے سے بہتر ہے ۔ انبیاء حسن عاقبت کے لئے دعا فرماتے ہیں( تَوَفَّنِی مُسْلِمً) یعنی مجھے اپنی تسلیم و رضا کی راہ میں تادم مرگ پائیداری عنایت فرما(2)
11۔دعا میں پہلے خداوندعالم کی نعمتوں کا ذکر کیجئے( رَبِّ قَدْ آتَیْتَنِی) اس کے بعد اپنی
--------------
(1)اسی طرح فرعون کی بیوی آسیہ بھی اس کے محل میں قیامت کی فکر میں تھیں۔ فرمایا:(رب ابن لی عندک بیت فی الجن ة ) خدایا جنت میں تو اپنے پاس میرے لئے ایک گھر بنا دے.
(2)تفسیر المیزان.
درخواست پیش کیجئے(تَوَفَّنِی مُسْلِمًا) (1)
12۔جب قدرت مل جائے تو خدا سے مناجات فراموش نہ ہو(رَبِّ قَدْ آتَیْتَنِی...)
13۔دعا اور مناجات میں فقط دنیا اور مادیات کے چکر میں نہیں رہنا چاہیئے(فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَ )
14۔انسان کی قدرت ناچیز ہے(مِنْ الْمُلْکِ ) انسان کا علم کم ہے(مِنْ تَأْوِیلِ الْأَحَادِیثِ...) لیکن خدا وندعالم کی حکومت تمام ہستی پر حکم فرما ہے( فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ)
15۔باایمان دنیا سے رخصت ہونا اور صالحین میں شمار ہونا ایک بہت بڑی فضلیت ہے ۔(تَوَفَّنِی مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِی بِالصَّالِحِینَ )
--------------
(1)حضرت یوسف (ع)جن کو خداوندعالم نے شروع سے محفوظ رکھا، انہیں علم عطا فرمایا۔حکومت عنایت فرمائی ، خطرات سے بچایا، وہ اپنی عاقبت اور انجام کار سے مضطرب اور پریشان ہیں ،ان لوگوں کا کیا برا حال ہوگا جنہوں نے کرسی ، حکومت ، علم سب کے سب مکاری اور فریب کاری سے حاصل کئے ہیں.
آیت 102:
(102)ذَلِکَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَیْبِ نُوحِیهِ إِلَیْکَ وَمَا کُنتَ لَدَیْهِمْ إِذْ أَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ وَهُمْ یَمْکُرُونَ
''(اے رسول) یہ قصہ غیب کی خبروں میں سے ہے جسے ہم آپ کی طرف وحی کررہے ہیں ورنہ جس وقت یوسف کے بھائی مشورہ کررہے تھے اور ( ہلاک کرنے کی) تدبیریں کررہے تھے آپ انکے پاس موجودنہ تھے ''۔
پیام:
1۔انبیاء (ع)بذریعہ وحی غیب کی باتوں سے آشنا ہوتے ہیں(ذَلِکَ مِنْ أَنْبَاءِ الْغَیْبِ...)
2۔انبیاء (ع)غیب کی تمام خبروں سے واقف نہیں ہوتے(مِنْ أَنْبَاءِ الْغَیْبِ)
3۔جب تک مشیت خداوندی نہ ہو تو نہ کسی کا ارادہ(أَمْرَهُم) نہ کسی قوم کا اجماع(أَجْمَعُو) اور نہ ہی کسی کی پالیسی اور سازش( یَمْکُرُونَ) کوئی بھی اثرانداز نہیں ہوسکتا۔
4۔جب پے درپے حوادث رونما ہورہے ہوں تو اس میں اصلی نکتہ اور شروع ہونے کے محل کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہئےے حضرت یوسف (ع)کی داستان کا مرکزی نقطہ حضرت یوسف (ع)کو نابود کرنا تھا۔(أَجْمَعُوا أَمْرَهُمْ وَهُمْ یَمْکُرُون)
آیت 103:
(103)وَمَا أَکْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُمِنِینَ
''اور آپ کتنے ہی خواہش مند ہوں مگر بہترے لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں ''۔
نکات:
''حرص'' یعنی کسی چیز سے بے حد لگ اور اس کو پانے کے لئے حد سے زیادہ جدوجہد کرنا۔
پیام:
1۔بارہا قرآن مجید میں انسانوں کی کثیر تعداد اپنے دینی عقائد و نظریات کی وجہ سے مورد تنقید قرار پائی ہے(وَمَا أَکْثَرُ النَّاسِ... بِمُمِنِینَ)
2۔الٰہی نمایندے دوسروں کی ہدایت کےلئے سوز، درد ، اور اشتیاق رکھتے ہیں(حَرَصْت)
3۔اکثر و بیشتر لوگوں کا ایمان نہ لانا پیغمبروں (ع)کی کوتاہی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ خود انسان کی آزادی اور اختیار کا نتیجہ ہے کہ وہ ایمان لانا نہیں چاہتے تھے(مَا أَکْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُمِنِینَ)
آیت 104:
(104) وَمَا تَسْأَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ هُوَ إِلاَّ ذِکْرٌ لِلْعَالَمِینَ
''حالانکہ آپ ان سے اس بات (تبلیغ رسالت)کا کوئی صلہ بھی نہیں مانگتے اور یہ قرآن تو تمام جہان کے واسطے نصیحت (ہی نصیحت) ہے''۔
نکات:
دوسرے پیغمبروں ٪ کی طرح پیغمبر اسلام (ص) نے بھی قوم کی ہدایت کے لئے کوئی اجزت نہیں مانگی کیونکہ اگر لوگوں سے اجر کی توقع رکھی جائے تو لوگ دعوت حق کو قبول کرنے سے اجتناب اور بوجھ محسوس کرتے ہیں ۔سورہ طور کی 40ویں آیت میں خداوندعالم فرماتا ہے :(ام تسئلھم اجرا فھم من مغرمٍ مثقلون)مگر کیا ان سے آپ نے کسی اجر کی درخواست کی ہے کہ جس کی ادائیگی ان پر بھاری ہے ۔اب اگر ہم دوسری آیت میں ملاحظہ فرماتے ہیں کہ قربی کی مدت اجر رسالت قرار پارہی ہے(الاّالمد فی القربی) (1) تو اس کا ہدف یہ ہے کہ اہلبیت (ع)کی پیروی میں خود امت کا فائدہ ہے، پیغمبر اسلام (ص) کا نہیں۔ کیونکہ اسی قرآن میں ایک دوسری جگہ پر موجود ہے کہ(وماسئلتکم من اجر فهو لکم) (2) ہم جو اجر تم سے مانگ رہے ہیںوہ تمہارے لئے ہی ہے ۔ جی ہاں جوشخص اہل بیت (ع)سے محبت کرے گا اور ان کی اطاعت کرے گا در حقیقت اس نے خداوپیغمبر (ص) کی اطاعت کی ہے۔
--------------
(1)سورہئ شوری آیت۔23.
(2)سورہ ئسبا آیت43.
قرآن ذکر ہے اس لئے کہ :
خدا کی آیات و نعمات و صفات کا یاد دلانے والا ہے ۔
انسان کے ماضی و مستقبل کویاد دلانے والا ہے ۔
سماج کی عزت و ذلت کے اسباب کو یاددلانے والا ہے۔
میدان قیامت کے احوال یاد دلانے والا ہے ۔
جہان و ہستی کی عظمتوں کو یاد دلانے والا ہے۔
تاریخ ساز شخصیتوں کی تاریخ اور زندگی یاد دلانے والا ہے۔
قرآن مجید کے معارف و احکام وہ حقائق ہیں جن کا جاننا ضروری ہے اور انہیں ہمیشہ ذہن میں رکھنا ضروری ہے کیونکہ ''ذکر'' اس علم و معرفت کو کہتے ہیں جو ذہن میں حاضر ہو اور اس سے کبھی غفلت نہ ہو۔
پیام:
1۔جس طرح انبیاء (ع)،قوم سے کوئی توقع نہیں رکھتے اس طرح مبلغ کو بھی قوم سے توقع نہیں رکھنی چاہیئے(مَا تَسْأَلُهُمْ مِنْ أَجْر)
2۔اجر کی درخواست بری چیز ہے نہ اجر کا دریافت کرنا( تَسْئل)
3۔پیغمبراسلام (ص) کی رسالت تمام کائنات کے لئے ہے( لِلْعَالَمِینَ )
4۔امت کا ایک گروہ حتی اکثریت کہیں کسی وقت ایمان نہ لائے تو دینی مبلغ کو مایوس اور غمگین نہیں ہونا چاہیئے اگر زمین کے کسی حصے میں کسی گروہ نے ایمان قبول نہیں کیا تو دوسری جگہ جاکر تبلیغ کرنی چاہیئے( لِلْعَالَمِینَ )
آیت 105:
(105)وَکَأَیِّنْ مِنْ آیَ فِی السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ یَمُرُّونَ عَلَیْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ
''اور آسمانوں اور زمین میں (خدا کی قدرت کی) کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ لوگ (دن رات) گزرا کرتے ہیں اور اس سے منہ پھیرے رہتے ہیں''۔
نکات:
در حقیقت یہ آیہ شریفہ رسول اکرم (ص) کی تسلی خاطر کے لئے نازل ہوئی ، بلکہ ہر برحق رہبر و پیشوا کے لئے تسلی ہے کہ اگر قوم ان کے فرامین کی نسبت بے توجہ ہے اور اسے قبول نہیں کررہی ہے تو اس سے پریشان نہ ہوں ،ایسے لوگ تو ہمیشہ طبیعت و خلقت خدائی میں قدرت و حکمت خداوندی کے شاہکار کا سامنا کرتے ہیں لیکن کبھی بھی اس سلسلے میں غور و فکر نہیں کرتے ہیں۔ یہ لوگ زلزلے ،سورج گرہن چاند گرہن ، بجلیوںکی کڑک ستاروں کی گردش ، کہکشں کا اپنے مدار پر حرکت کرنا ان سب نشانیوں کو دیکھتے ہیں پھر بھی ان سے منہ موڑ لیتے ہیں ۔
یمرون علیھا کا تین طرح معنی کیا گیا ہے :(الف) آیات الٰہی کا سامنا کرنے سے مقصود ان نشانیوں کا مشاہدہ کرنا ہے ۔(ب)انسانوں کا'' الٰہی نشانیوںسے گزرنے'' سے مراد زمین کی حرکت ہے کیونکہ زمین کی حرکت سے انسان اجرام فلکی پر مرور کرتا ہے۔(1)
--------------
(1)تفسیر المیزان.
3۔'' الٰہی نشانیوں سے گزرنا''ایک پیشنگوئی ہے کہ انسان فضائی وسائل پر سوار ہوگا اور آسمانوں میں حرکت کرے گا۔(1)
کسی چیز سے منہ موڑنا ، غفلت سے زیادہ خطرناک ہے چونکہ ان نشانیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے(کَأَیِّنْ ) اور انسان ان سے دائماً رابطے میں بھی ہے'' یَمُرُّونَ'' لیکن اسکے باوجود نہ صرف اسے فراموش کرتا ، اور ان سے غافل رہتا ہے بلکہ بعض اوقات متوجہ ہونے کے باوجود ان سے منہ موڑ لیتا ہے ۔
پیام:
1۔انسان اگر ہٹ دھرمی سے کام لے تو کسی نشانی کو بھی قبول نہیں کرسکتا(وَکَأَیِّنْ مِنْ آیَ... یَمُرُّونَ عَلَیْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُون)
2۔تمام کائنات خدا کی پہچان کے اسرار و رموز اور نشانیوں سے بھری ہوئی ہے۔(آیَ)
--------------
(1)سفر نامہ حج آیت اللہ صافی.
آیت 106:
(106) وَمَا یُمِنُ أَکْثَرُهُمْ بِاﷲِ إِلاَّ وَهُمْ مُشْرِکُونَ
''اور ان میں کی اکثریت خدا پر ایمان بھی لاتی ہے تو شرک کے ساتھ''۔
نکات:
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:شرک اس آیت میں کفر و بت پرستی کے معنی میں استعمال نہیں ہوا ہے بلکہ غیر خدا کی طرف لو لگانا مقصودہے(1)
امام صادق علیہ السلام نے فرمایاشرک انسان میں ''اندھیری رات میں سیاہ پتھر پر سیاہ چیونٹی کی حرکت ''سے بھی خفیف تر ہے(2)
امام باقر علیہ السلام نے بھی فرمایا لوگ عبادت میں موحد ہیں لیکن اطاعت میں غیر خدا کو شریک بنالیتے ہیں(3) دوسری روایات میں آیا ہے کہ اس آیت میں شرک سے مراد شرک نعمت ہے۔
مثلاًانسان کہے ''کہ فلاں انسان نے ہمارا کام کردیا ''۔ ''اگر فلاں صاحب نہ ہوتے تو ہم نابود ہو گئے ہوتے ''اس جیسی دوسری مثالیں(4)
--------------
(1)تفسیر نمونہ.
(2)سفینہ البحار، ج 1، ص 697.
(3)کافی ،ج 2، ص 692.
(4)تفسیر نمونہ.
مخلص انسان کی علامتیں
1۔انفاق میںکسی سے اجر کی توقع اور تشکر کا انتظار نہیں رکھتا(لانرید منکم جزاء ولا شکور) (1)
2۔عبادت میںخدا کے علاوہ کسی دوسرے کی بندگی نہیں کرتا۔(ولا یشرک بعباد ربه احد )(1)
3۔تبلیغ میں خدا کے علاوہ کسی دوسرے سے اجر نہیں چاہتا(ان اجری الا علی اللّٰه) (2)
4۔شادی بیاہ میں فقر و تنگدستی سے نہیں ڈرتا بلکہ خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے شادی کرلیتا ہے(ان یکونوا فقراء یغنهم اللّٰه من فضله) (3)
5۔لوگوں سے سلوک کرنے میں خدا کی رضا کے علاوہ دوسری تمام چیزوں کو چھوڑ دیتا ہے(قل اللّٰه ثم ذرهم) (4)
6۔جنگ اور دشمن سے مقابلہ کرنے میں خدا کے علاوہ کسی دوسرے سے خوفزدہ نہیں ہوتا۔(لایخشون احداالا اللّٰه ) (5)
7۔مہرو محبت میں خدا سے زیادہ کسی سے محبت نہیں کرتا(والذین آمنوا اشد حبا للّٰه) (6)
--------------
(1)سورہ انسان آیت 9.
(1)سورہ کہف آیت 110.
(2)سورہ یونس آیت 72.
(3)سورہ نور آیت 32.
(4)سورہ انعام آیت 91.
(5)سورہ احزاب آیت 39.
(6)سورہ بقرہ آیت 165.
(٭)عباس ساجری ہو کہ اکبر سامہہ جبیں
تجھ کو سبھی عزیز تھے لیکن خدا کے بعد
8۔تجارت اور کسب معاش میں خداوندعالم کی یاد سے غافل نہیں ہوتا۔(لاتلهیهم تجار ولا بیع عن ذکر اللّٰه) (1)
مومن مشرک کی علامتیں
1۔دوسروں سے عزت کا آرزومند ہوتا ہے(ایبتغون عندهم العز) (2)
2۔عمل میںاچھے اور برے عمل کو مخلوط کردیتاہے(خلطوا عملا صالحا و آخر سیّ) (3)
3۔لوگوں سے ارتباط میں حزبی اور گروہی تعصبات میں مبتلا ہو جاتا ہے۔(کل حزب بما لدیهم فرحون) (4)
4۔عبادت میںبے توجہ اور ریاکار ہوجاتا ہے(الذین هم عن صلاتهم ساهون والذین هم یرن )(5)
5۔جنگ و جدال میں انسانوں سے ڈرتا ہے(یخشون الناس کخشی اللّٰه ) (6)
--------------
(1)سورہ نور آیت 37.
(2)سورہ نساء آیت 139.
(3)سورہ توبہ آیت 102.
(4)سورہ مومنون آیت 53.
(5)سورہ ماعون آیت 6۔5.
(6)سورہ نساء آیت 77.
6۔تجارت اوردنیاوی امورمیں زیادتی اور اضافہ کی طلب اسے سرگرم کئے رکھتی ہے(الهٰکم التکاثر) (1)
7۔دنیا اور دین کے انتخاب میں دنیا کو منتخب کرلیتے ہیں اور پیغمبر (ص) کو تنہا چھوڑ دیتے ہےں(واذا رأو تجار او لهوا انفضوا الیها وترکوک قائم) (2)
پیام:
1۔ایمان کے مختلف مراتب ہیں۔خالص ایمان جس میں کوئی شرک نہ ہو بہت کم ہے۔(وَمَا یُمِنُ...إِلاَّ وَهُمْ مُشْرِکُونَ)
آیت 107:
(107)أَفَأَمِنُوا أَنْ تَأْتِیَهُمْ غَاشِیَ مِنْ عَذَابِ اﷲِ أَوْ تَأْتِیَهُمْ السَّاعَ بَغْتَ وَهُمْ لاَیَشْعُرُونَ.
''کیا وہ لوگ (جو ایمان نہیں لائے) اس بات سے مامون ہیں کہ خدا کی طرف سے گھیرنے والا عذاب جو ان پر چھا جائے یا ان پر اچانک قیامت کی گھڑی آجائے اور ان کو کچھ خبربھی نہ ہو''۔
نکات:
''غاشیہ'' اس عذاب و عقاب کو کہتے ہیں جو کسی فرد یا معاشرے کو اپنے گھیرے میں لے لے۔
--------------
(3)سورہ تکاثر آیت 1.
(4)سورہ جمعہ آیت 11.
پیام:
1۔کوئی بھی خود کو ضمانت یافتہ نہ سمجھے(افامنوا...)
2۔خدائی قہر ،ناگہاں دامن گیر ہوتا ہے۔(بغت)
3۔خدائی قہر ،ہمہ گیر ہوتا ہے جس سے فرار کی کوئی راہ نہیں ہے(غاشیه)
4۔قہر الٰہی کا احتمال ہی انسان کے لئے حق کی طرف قدم بڑھانے کے لئے کافی ہے ۔ مشکل یہ ہے کہ بعض افراد قہر الٰہی کا احتمال بھی نہیں دیتے ۔(افامنو)
5۔عذاب کا ایک چھوٹا سا نمونہ انسان کو گرفتار کرنے کے لئے کافی ہے۔(غاشیمن عذاب)
6۔قیامت کی یاد، تربیت کے لئے بہترین عامل ہے۔( تَأْتِیَهُمْ السَّاعَ )
آیت 108:
(108) قُلْ هَذِهِ سَبِیلِی أَدْعُو إِلَی اﷲِ عَلَی بَصِیرَ أَنَا وَمَنْ اتَّبَعَنِی وَسُبْحَانَ اﷲِ وَمَا أَنَا مِنْ الْمُشْرِکِینَ.
''(اے رسول) ان سے کہہ دو : یہی میر ا راستہ ہے میں اور میرے پیروکار پوری بصیرت کے ساتھ اللہ کی طرف دعوت دیتے ہیں اور خدا (ہر عیب و نقص سے)پاک و پاکیزہ ہے اور میں مشرکین سے نہیں ہوں''۔
نکات:
توحید کی طرف دعوت دینے والا شخص عوام سے جدا ہوتا ہے کیونکہ گزشتہ دو آیتوں سے ثابت ہے کہ عوام الناس کا ایمان غالباً شرک سے آلودہ ہوتا ہے( وَمَا یُمِنُ أَکْثَرُهُمْ بِاﷲِ إِلاَّ وَهُمْ مُشْرِکُونَ ) لیکن دینی مبلغ کو ایسا ہونا چاہیئے کہ علی الاعلان کہہ سکے :(وما انا من المشرکین)
پیام:
1۔انبیاء (ع)کی راہ تمام افراد کے سامنے واضح اور روشن ہے( هَذِهِ سَبِیلِی)
2۔رہبر کو بصیرتِ کامل کا حامل ہونا چاہیئے(عَلَی بَصِیرَ )
3۔رہبر کی دعوت خدا کی طرف سے ہو ،نہ کہ اپنی طرف سے( أَدْعُو إِلَی اﷲ)
4۔دینی مبلغ کو خالص و مخلص ہونا چاہیئے(وَمَا أَنَا مِنْ الْمُشْرِکِینَ)
5۔تبلیغ کا مرکز و محور ''خداوند عالم کو ہر شرک و شریک سے منزہ کرنا'' ہونا چاہیئے(سُبْحَانَ اﷲِ)
6۔پیغمبر اسلام (ص) کے ہر پیروکار کو ایسا مبلغ ہونا چاہیئے کہ وہ بصیرت و آگاہی کے ساتھ لوگوں کو خدا کی طرف بلا سکے(أَدْعُو إِلَی اﷲِ...أَنَا وَمَنْ اتَّبَعَنِی)
7۔توحید کا اقرار اور شرک کی نفی دین اسلام کی بنیاد ہے۔(أَدْعُو إِلَی اﷲِ...َمَا أَنَا مِنْ الْمُشْرِکِینَ)
آیت 109:
(109)وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ إِلاَّ رِجَالًا نُوحِی إِلَیْهِمْ مِنْ أَهْلِ الْقُرَی أَفَلَمْ یَسِیرُوا فِی الْأَرْضِ فَیَنْظُرُوا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَدَارُ الْآخِرَ خَیْرٌ لِلَّذِینَ اتَّقَوْا أَفَلاَتَعْقِلُونَ
''اور (اے رسول )آپ سے پہلے بھی ہم ان بستیوں میں صرف مردوں کو ہی بھیجتے رہے ہیں جن کی طرف ہم وحی بھیجتے تھے تو کیا یہ لوگ روئے زمین پر چل پھر کر نہیں دیکھتے کہ ان سے پہلے والوں کا انجام کیا ہوا ؟ اور جن لوگوں نے پرہیز گاری اختیارکی ان کے لئے آخرت کا گھر (دنیا سے )یقینا بدرجہا بہتر ہے کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟''
نکات:
مخالفین انبیاء ٪ نے یہی بہانہ تراشی کی کہ پیغمبران (ع)ہم ہی جیسے انسان کیوں ہیں ؟گویا پیغمبر اسلام (ص) کے زمانے میں بھی یہی فکر کار فرماتھی اور لوگ یہی سوال کررہے تھے، یہ آیہ شریفہ اسی کا جواب ہے اور لوگوں کو خبردار کررہی ہے۔
پیام:
1۔تمام انبیاء (ع)مرد تھے(رجالً) کیونکہ تبلیغ اور ہجرت و جستجو کا امکان مرد کے لئے زیادہ ہے ۔
2۔انبیاء (ع)کے علوم، وحی کے ذریعے یا بعبارت دیگر''لدنی'' تھے(نُوحِی إِلَیْهِمْ )
3۔انبیاء (ع)انسانوں ہی کی صنف سے تھے اور انسانوں کے درمیان ہی زندگی بسر کرتے تھے (نہ تو فرشتہ تھے نہ ہی گوشہ نشین تھے اور نہ ہی آرام و آسائش کے خوگر تھے)(مِنْ أَهْلِ الْقُرَی)
4۔سیر و سفر باہدف ہونا چاہئے۔(أَفَلَمْ یَسِیرُوا... فَیَنْظُرُو)
5۔زمین میں سیر و سیاحت کرنا ، تاریخی معلومات اور اس سے عبرت حاصل کرنا ہدایت و تربیت کے لئے بے حد مثر ہے(فَیَنْظُرُو)
6۔عبرت اور آنے والی نسلوں کے لئے آثار قدیمہ کا محفوظ رکھنا بے حد ضروری ہے۔(فَیَنْظُرُو)
7۔انبیاء (ع)کا بھیجنا ، وحی کا نزول اور ہٹ دھرم مخالفین کی ہلاکت سب کے سب تاریخ میں سنت الٰہی کے عنوان سے محفوظ ہیں(کَیْفَ کَانَ عَاقِبَ الَّذِینَ مِنْ قَبْلِهِمْ)
8۔پیغمبروں (ع)کی مخالفت کرکے کفار کچھ بھی حاصل نہیں کرپاتے بلکہ دنیا ہی میں قہر وعذاب میں گرفتار ہوجاتے ہیں جبکہ اہل تقوی آخرت تک پہنچتے ہیں جو دنیا سے بہتر ہے ۔( وَلَدَارُ الْآخِرَ خَیْر)
9۔عقل و خرد انسان کو انبیائی مکتب کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔(أَفَلاَ تَعْقِلُونَ)
آیت 110:
(110) حَتَّی إِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ کُذِبُوا جَاءَ هُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَشَاءُ وَلاَیُرَدُّ بَأْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِینَ
''(پیغمبران ماسلف نے تبلیغ رسالت کی) یہاں تک کہ جب (قوم کے ایمان لانے سے ) انبیاء مایوس ہوگئے اورلوگ بھی یہ خیال کرنے لگے کہ ان سے (عذاب کا وعدہ بطور) جھوٹ کہا گیا تھا توانبیاء کے لئے ہماری نصرت پہنچ گئی اس کے بعد جسے ہم نے چاہا اسے نجات مل گئی اور مجرموں سے تو ہمارا عذاب ٹالا ہی نہیں جاسکتا''۔
نکات:
ہمیشہ سے تاریخ گواہ ہے کہ انبیاء (ع)اپنی دعوت میں پائیدار اورمُصرّ رہے اور آخری وقت تک خداوندعالم کی طرف بلایا کرتے تھے ۔ مگر یہ کہ کسی کی ہدایت سے مایوس ہوجائیں ۔! اسی طرح ہٹ دھرم مخالفین بھی مقابلہ سے دست بردار نہیں ہوتے تھے ۔ اس کے نمونے قرآن مجید میں موجود ہیں :
انبیاء (ع)کی ناامیدی کا نمونہ
سالہا سال حضرت نوح علیہ السلام قوم کو خدا کی طرف دعوت دیتے رہے لیکن چند افراد کے علاوہ کوئی بھی دولت ایمان سے بہرہ مند نہ ہوا ،خداوندعالم نے حضرت نوح (ع)کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:(لن یمن من قومک الا من قدامن) (1) جو ایمان لاچکے ہیں ان کے علاوہ کوئی بھی آپ کی قوم میں سے ایمان نہیں لائے گا۔
حضرت نوح (ع)اپنی قوم کےلئے بددعا کرتے ہوئے جو ان کی مایوسی کی علامت ہے فرماتے ہیں :(لایلدوا الّافاجراً وکفار) (2) ان سے کافر و فاجر کے علاوہ کوئی دوسرا پیدا نہ ہوگا اسی طرح حضرت ہو د، صالح، شعیب، موسیٰ، عیسیٰ ٪ بھی اپنی اپنی زندگی میں امت کے ایمان لانے سے مایوس دکھائی دیتے ہیں ۔
قوم کی انبیاء (ع)سے بدگمانی کا نمونہ
انبیاء ٪ کی تہدید کو کفار کھوکھلے دعوے اور جھوٹ سمجھتے تھے ۔ سورہ ہود کی 27ویں آیت میں کفار کا قول نقل کیا گیا ہے کہ(بل نظنکم کاذبین) یعنی ہمارا گمان تو یہی ہے کہ تم لوگ جھوٹے ہو ،یا فرعون نے حضرت مو(ع)سیٰ سے کہا(انی لاظنک یا موسیٰ مسحور) (3) درحقیقت میرا گمان ہے کہ اے موسیٰ تم سحرزدہ ہوگئے ہو۔
--------------
(1)سورہ ہود آیت 36.
(2)سورہ نوح آیت 27
(3)سورہ بنی اسرائیل آیت 101.
خداکی مدد
ایسی حالت میں خداوندعالم نے نصرت و مدد کو اپنا حق بتایا ہے اور اپنے اوپر لازم کیا ہے کہ مومنین کی نصرت فرمائے(وکان حقا علینا نصر المومنین) (1) یادوسری جگہ فرمایا:(نجینا هودا والذین آمنوا معه) (2) ہم نے ہود اور ان مومنین کو نجات دی جو ان کے ساتھ تھے ۔
خدائی قہر
وہی خداوندعالم یہ بھی فرماتا ہے کہ میرا قہر وغضب نازل ہونے کے بعد پلٹنے والا نہیں ہے ۔ سورہ رعد میں ارشاد ہوا :(اذا اراد اﷲ بقوم سوء فلا مردّله) (3) جب بھی خدا کسی قوم کو برے حال سے دوچار کرنے کا ارادہ کرلے تو اس کے ٹلنے کی کوئی صورت نہیں ہوتی ۔
پیام:
1۔انسان میں قساوت اور ہٹ دھرمی کبھی کبھی اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ بردبار خدائی نمائندوں کو بھی مایوس کردیتی ہے۔(إِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ )
2۔خوش بینی ، حسن نیت اور حوصلہ کی ایک حد ہوتی ہے (حتی)
--------------
(1)سورہ روم آیت 47.
(2)سورہ ھود آیت 58.
(3) سورہ رعد آیت 11.
3۔اپنی طاقت کو غیر قابل نفوذ افراد میں صرف نہیں کرنا چاہیئے بلکہ بعض لوگوں سے صرف نظر کرلینا چاہیئے(اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ)
4۔مجرمین کو مہلت دینا اور انکے عذاب میں تاخیر کرنا سنت الٰہی ہے(حَتَّی إِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ) یعنی ہم نے مجرموں کو اتنی مہلت دی کہ انبیاء بھی ان کی ہدایت سے مایوس ہوگئے۔
5۔عذاب الٰہی میں تاخیر مجرموں کو جری بنا دیتی ہے اور وہ جھٹلانے لگتے ہیں۔( حَتَّی إِذَا... وَظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ کُذِبُو)
6۔انبیاء (ع)کا کسی قوم کی ہدایت سے مایوس ہوجانا نزول عذاب کی شرط ہے۔(إِذَا اسْتَیْئَسَ...لاَیُرَدُّ بَأْسُنَا ...)
7۔پیغمبروں (ع)کے لئے خدائی امداد کی بھی ایک خاص گھڑی ہوتی ہے(إِذَا اسْتَیْئَسَ... جاء هم)
8۔قہر الٰہی ،انبیاء (ع)اور حقیقی مومنین کے شامل حال نہیں ہوتا(فَنُجِّیَ)
9۔قہر و عذاب اور لطف و امداد دونوں خدا کے دست قدرت میں ہیں(نَصْرُنَا...بأسن)
10۔قہر یا نجات کاانجام خودانسان ہی کے ہاتھ میں ہے( مَنْ نَشَاءُ ، مُجْرِمِینَ )
11۔خداوندعالم کا ارادہ، قانون مندہے(مَنْ نَشَاء وَلاَیُرَدُّ بَأْسُنَا عَنْ الْقَوْمِ لْمُجْرِمِینَ)
12۔خدا کی راہ کہیں پر ختم نہیں ہوتی(إِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ... جَاءَ هُمْ نَصْرُنَا )
(یعنی جہاں پر لوگ راستہ کو بند پاتے ہیں اور اندھیرے کا احساس کرتے ہیں وہیں پر خدائی قدرت جلوہ نما ہوتی ہے)
13۔قہر خدا کو کوئی طاقت ٹال نہیں سکتی( لَا یُرَدُّ بَأْسُنَا )
14۔انبیاء (ع)کی حمایت ، مجرمین کی ہلاکت، سنت خداوندی ہے(جَاءَ هُمْ نَصْرُنَا، لاَ یُرَدُّ بَأْسُنَا )
آیت 111:
(111) لَقَدْ کَانَ فِی قَصَصِهِمْ عِبْرَ لِّأُوْلِی الْأَلْبَابِ مَا کَانَ حَدِیثًا یُفْتَرَیٰ وَلَکِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِی بَیْنَ یَدَیْهِ وَتَفْصِیلَ کُلِّ شَیْءٍ وَهُدًی وَرَحْمَ لِقَوْمٍ یُمِنُونَ
''اس میں شک نہیں کہ ان انبیاء کے قصوں میں عقل مندوں کے واسطے (اچھی خاصی) عبرت و نصیحت ) ہے یہ (قرآن) کوئی ایسی بات نہیں جو (خوامخواہ) گڑھ لی گئی ہو بلکہ (جو آسمانی کتابیں) اسکے پہلے سے موجودہیں یہ قرآن ان کی تصدیق کرتا ہے اور ہر چیز کی تفصیل اور ایمان داروں کے واسطے (از سرتاپا) ہدایت ورحمت ہے''۔
نکات:
''عبرت'' و ''تعبیر'' یعنی عبور کرنا ، ایک واقعہ سے دوسرے واقعہ کی طرف عبور کرنا، ''تعبیر خواب'' یعنی خواب سے حقیقت کی طرف عبور کرنا۔ ''عبرت'' یعنی دیکھنے والی اور سنی جانے والی چیزوں سے ایسی چیز کی طرف عبور کرنا جو دیکھی اور سنی نہ جاسکیں ۔
'قصصهم'' سے مراد شاید تمام انبیاء (ع)کی داستان ہو ، نیز یہ بھی ممکن ہے کہ حضرات یعقوب (ع)و یوسف(ع) اور ان کے بھائیوں اور عزیز مصر کی داستان مدنظر ہو جس میں تلخ و شیریں حوادث رونما ہوئے جو اسی سورہ میں آئے ہیں ۔
پیام:
1۔داستانوں کے امتیاز کی سب سے بڑی شرط یہ ہے کہ وہ نصیحت آموز ہوں۔ سورہ کے شروع میں ارشاد فرمایا:(نحن نقص علیک احسن القصص) اور آخر میں فرمایا( لَقَدْ کَانَ فِی قَصَصِهِمْ عِبْرَ )
2۔قرآن مجید کی داستانیں چشم دید واقعات کو بیان کرتی ہیں اور عبرت آموز ہوتی ہیں (گڑھے ہوئے افسانے نہیں ہیں)(مَا کَانَ حَدِیثًا یُفْتَرَی )
3۔سچی اور حقیقی باتیں زیادہ اثر انداز ہوتی ہیں ۔(عبر...مَا کَانَ حَدِیثًا یُفْتَرَی )
4۔فقط عقلمند افراد ہی داستانوں سے پند و عبرت حاصل کرتے ہیں(عِبْرَ لِأُوْلِی الْأَلْبَابِ)
5۔قرآن مجید دوسری آسمانی کتابوں سے جدا نہیں ہے بلکہ ان کی تصدیق کرتا ہے (ان کے شانہ بشانہ ہے)( تَصْدِیقَ الَّذِی...)
6۔قرآن مجید انسان کی تمام نیاز مندیوں اور احتیاجات کو بیان فرماتا ہے(تَفْصِیلَ کُلِّ شَیْئٍ)
7۔قرآن عظیم خالص ہدایت ہے اور کسی گمراہی سے آمیختہ نہیں ہے۔(هُدًی)
8۔فقط اہل ایمان ہی قرآنی ہدایت اور رحمت سے بہرہ مند ہوتے ہیں(هُدًی وَرَحْمَ لِقَوْمٍ یُمِنُونَ )
9۔نکتہ سنجی اور درس حاصل کرنے کے لئے عقل درکار ہے(عِبْرَ لِأُوْلِی الْأَلْبَابِ) لیکن نور اور رحمت الٰہی کو درک کرنے کے لئے ایمان بھی لازمی ہے(لِقَوْمٍ یُمِنُونَ )
10۔قرآنی قصوں سے عبرت اور نصیحت آموزی کسی ایک زمانے سے مخصوص نہیں ہے۔(لِأُوْلِی الْأَلْبَابِ)
اللّٰهم صل علی محمد و آل محمد و عجل فرجهم.
تمت بالخیر
فہرست
حرف اول 3
گفتارمؤلف 6
سورہ یوسف کا رخ زیبا 8
آیت 1: 10
آیت 2: 10
نکات: 10
پیام: 12
آیت 3: 13
نکات: 13
پیام: 18
آیت 4: 19
نکات : 19
خواب کے سلسلے میں ایک اور گفتگو 20
پیام: 25
آیت 5: 26
نکات: 26
پیام: 27
آیت 6: 28
نکات: 28
پیام: 29
آیت 7: 30
نکات: 30
پیام: 32
آیت 8: 32
نکات: 32
پیام: 34
آیت 9: 35
نکات: 35
پیام: 36
آیت 10: 36
نکات: 37
پیام: 37
آیت 11: 38
پیام: 38
آیت 12: 39
نکات: 39
پیام: 40
آیت 13: 41
نکات: 41
پیام: 42
آیت 14: 43
نکات: 43
پیام: 43
آیت 15: 44
نکات: 44
پیام: 44
آیت 16: 46
پیام: 46
آیت 17: 47
نکات: 47
پیام: 47
آیت 18: 48
نکات: 48
پیام: 49
آیت 19: 50
نکات: 50
پیام: 51
آیت 20: 52
نکات: 52
پیام: 52
آیت 21: 53
نکات: 53
پیام: 54
آیت 22: 55
نکات: 55
پیام: 56
آیت 23: 56
نکات: 57
پیام: 58
آیت 24: 61
نکات: 61
آیت 25: 63
نکات: 63
پیام: 64
آیت 26: 65
نکات: 65
پیام: 66
آیت 27: 66
نکات: 66
پیام: 67
آیت 28: 67
نکات: 68
پیام: 68
آیت 29: 69
پیام: 69
آیت 30: 70
نکات: 70
پیام: 71
آیت 31: 71
نکات: 71
پیام: 72
آیت 32: 73
نکات: 73
پیام: 74
آیت 33: 75
نکات: 75
پیام: 76
آیت 34: 78
پیام: 78
آیت 35: 78
پیام: 79
آیت 36: 80
نکات: 80
پیام: 81
آیت 37: 82
نکات: 82
پیام: 84
آیت 38: 85
نکات: 85
پیام: 86
آیت 39: 87
پیام: 88
آیت 40: 88
پیام: 89
آیت 41: 90
نکات: 90
پیام: 90
آیت 42: 91
نکات: 91
پیام: 92
آیت 43: 92
نکات: 93
پیام: 94
آیت 44: 95
نکات: 95
پیام: 95
آیت 45: 96
نکات: 96
پیام: 96
آیت 46: 97
نکات: 98
پیام: 99
آیت 47: 99
نکات: 99
پیام: 100
آیت 48: 101
آیت 49: 101
نکات: 101
پیام: 103
آیت 50: 104
نکات: 104
پیام: 106
آیت 51: 107
نکات: 107
پیام: 108
آیت 52: 109
نکات: 109
پیام: 110
آیت 53: 111
نکات: 111
پیام: 112
آیت 54: 113
نکات: 113
پیام: 115
آیت 55: 116
نکات: 116
پیام: 122
آیت 56: 123
آیت 57: 124
نکات: 124
پیام: 127
آیت 58: 129
نکات: 129
پیام: 130
آیت 59: 130
نکات: 131
پیام: 132
آیت 60: 133
پیام: 133
آیت 61: 134
نکات: 134
آیت 62: 135
نکات: 135
پیام: 136
آیت 63: 137
پیام: 137
آیت 64: 138
نکات: 138
پیام: 139
آیت 65: 139
نکات: 140
پیام: 141
آیت 66: 142
نکات: 142
پیام: 143
آیت 67: 143
پیام: 144
آیت 68: 146
نکات: 146
پیام: 147
آیت 69: 148
نکات: 148
پیام: 149
آیت 70: 150
نکات: 150
پیام: 152
آیت 71: 152
آیت 72: 153
نکات: 153
پیام: 153
آیت 73: 154
نکات: 154
پیام: 154
آیت 74: 155
نکات: 155
پیام: 155
آیت 75: 156
پیام: 156
آیت 76: 157
نکات: 157
پیام: 158
آیت 77: 159
پیام: 159
آیت 78: 161
نکات: 161
پیام: 161
آیت 79: 162
نکات: 162
پیام: 162
آیت 80: 163
نکات: 163
پیام: 164
آیت 81: 165
پیام: 165
آیت 82: 166
نکات: 166
پیام: 166
آیت 83: 167
نکات: 167
پیام: 169
آیت 84: 170
نکات: 170
پیام: 171
آیت 85: 172
نکات: 172
پیام: 172
آیت 86: 173
نکات: 173
پیام: 173
آیت 87: 175
نکات: 175
پیام: 176
آیت 88: 176
نکات: 177
پیام: 178
آیت 89: 179
نکات: 179
پیام: 180
آیت 90: 180
پیام: 181
آیت 91: 182
نکات: 182
پیام: 183
آیت 92: 184
نکات: 184
پیام: 185
آیت 93: 186
نکات: 186
پیام: 188
آیت 94: 189
نکات: 189
پیام: 192
آیت 95: 193
نکات: 193
پیام: 193
آیت 96: 194
نکات: 194
پیام: 194
آیت 97: 195
نکات: 195
پیام: 196
آیت 98: 196
نکات: 196
پیام: 197
آیت 99: 198
نکات: 198
پیام: 200
آیت 100: 201
نکات: 201
پیام: 202
آیت 101: 204
نکات: 204
پیام: 208
آیت 102: 211
پیام: 211
آیت 103: 212
نکات: 212
پیام: 212
آیت 104: 213
نکات: 213
پیام: 214
آیت 105: 215
نکات: 215
پیام: 216
آیت 106: 217
نکات: 217
مخلص انسان کی علامتیں 218
مومن مشرک کی علامتیں 219
پیام: 220
آیت 107: 220
نکات: 220
پیام: 221
آیت 108: 222
نکات: 222
پیام: 222
آیت 109: 223
نکات: 223
پیام: 223
آیت 110: 225
نکات: 225
انبیاء (ع)کی ناامیدی کا نمونہ 226
قوم کی انبیاء (ع)سے بدگمانی کا نمونہ 226
خداکی مدد 227
خدائی قہر 227
پیام: 227
آیت 111: 229
نکات: 229
پیام: 230