حکومتوں کے زوال اور خاتمے کے اسباب نہج البلاغہ کی نظر میں
مولف : فاطمہ نقیبی
مترجم: محمد عیسی روح اللہ
پیشکش:امام حسین (ع) فاؤنڈیشن قم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
حرف اول از مترجم
نہج البلاغہ امام علی(ع) کے کلام و مکتوبات کا منتخب مجموعہ ہے جو چوتھی صدی ہجری میں سید رضی کے ہاتھوں تدوین ہوچکا ہے۔ (اس کتاب کی تالیف و تحریر کا کام سنہ 400 ہجری میں مکمل ہوا ہے)۔ سید رضی نے ادبی بلاغت کو کلام و مکتوبات کے انتخاب کا معیار قرار دیا تھا۔ اس کتاب میں جمع کردہ کلام کی بلاغت و نفاست اس حد تک ہے کہ سید رضی ـ جو خود ایک عظیم شاعر اور نامور ادیب اور نامی گرامی کاوشوں کے مالک تھے ـ اس تالیف شدہ کاوش کو اپنے لئے باعث فخر و اعزاز سمجھتے ہیں اور لکھتے ہیں:
یہ کام دنیا میں میرے نام کی بلندی اور میری شہرت کا سبب بھی ہے اور میری آخرت کے لئے ایک ذخیرہ بھی ہے؛ نیز امام علی(ع) کے دیگر فضائل و مناقب کے علاوہ فصاحت و بلاغت میں بھی آپ کی عظمت کو پہچانا جائے گا؛ کہ آپ نے اپنے سابقین سے اس حوالے سے سبقت حاصل کی ہے۔ سابقین کے فصیح و بلیغ کلام میں سے بہت تھوڑا سا حصہ ہم تک پہنچ سکا ہے لیکن امیرالمؤمنین(ع) کا کلام ایک بحر بےکراں ہے کہ کسی بھی سخنور میں اس کا سامنا اور تقابل کرنے کی قوت نہیں ہے، اور مجموعہ ہے فضائل کا جن کی ہمسری کسی کے بس میں نہیں ہے۔
امام علی(ع) کا کلام عرب دنیا کے درجہ اول کے ادیبوں ـ منجملہ حاحظ، عبدالحمید اور ابن نباتہ ـ میں خاصا نفوذ رکھتا ہے۔ جاحظ نے سید رضی سے قبل امیرالمؤمنین(ع) کے 100 مختصر کلمات تالیف کئے تھے اور رشید وطواط اور ابن میثم بحرانی نے ان کلمات پر شرحیں لکھی ہیں۔ ان ہی نے آپ کے کئی خطبات اپنی مشہور کتاب "البیان والتبیین" میں نقل کئے ہیں۔ فارسی ادب کے اکابرین کی تالیفات بھی امیرالمؤمنین(ع) کے کلام سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکی ہیں۔
نہج البلاغہ اسلامی تہذیب و تعلیمات کا ایک عظیم مجموعہ ہے:
اصل نکتہ یہ کہ اس پورے کلام سے امیرالمؤمنین علیہ السلام کا مقصد طبیعیات، حیوانیات، فلسفی یا تاریخی نقاط کی تدریس و تفہیم، نہ تھا۔ نہج البلاغہ میں اس قسم کے موضوعات کی طرف اشارے قرآن کریم میں ان ہی موضوعات کی طرف ہونے والے اشاروں کی مانند ہیں جو موعظت و نصیحت کی زبان میں ہر محسوس یا معقول موضوعات کے سلسلے میں روشن اور و قابل ادراک نمونے سننے اور پڑھنے والے کے سامنے رکھتا ہے؛ اور پھر قدم بہ قدم آگے بڑھ کر اس کو اپنے ساتھ اس منزل کی جانب لے جاتا ہے جہاں اس کو پہنچنا چاہئیے، اللہ کی درگاہ اور آستان پروردگار یکتا کی جانب۔
امام علیہ السلام خطبے کے ضمن میں لوگوں کی توجہ اللہ کے اوامر و نواہی اور اس کے واجبات و محرمات کی طرف مبذول کراتے ہیں اور واجبات پر عمل اور محرمات سے پرہیز کی دعوت دیتے ہیں اور اپنے ماتحت حکام کے نام خطوط لکھ کر انہیں عوام کے حقوق کو ملحوظ رکھنے کے سلسلے میں ہدایات دیتے ہیں۔ نہج البلاغہ کے کلمات قصار (مختصر کلمات) امیرالمؤمنین (ع) کے حکیمانہ اور نصیحت آموز اور سبق آموز کلمات و جملات کا مجموعہ ہے جو ادبی بلاغت کا مرقع ہیں۔
مقالہ اور مقالہ نگار
اس عظیم سمندر کا ایک حصہ گذشتہ اقوام کی داستانوں اور ان سے عبرت لینے پر مشتمل ہے۔ امام علی نہج البلاغہ میں جگہ جگہ گذشتہ حکومتوں کی نابودی کے اسباب و عوامل کا تذکرہ فرما رہے ہیں۔ زیر نظر مقالہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جسے خانم فاطمہ نقیبی نے فارسی میں تحریر کیا تھا ، ان کے اکثر مقالات نہج البلاغہ کے بارے میں ہی ہیں جیسے 1- نہج البلاغہ و شؤون انسانی زن (نہج البلاغہ اور عورتوں کا انسانی احترام) 2- بررسی ادلہ جامعیت و جاودانگی قرآن کریم در نہج البلاغہ (قرآن کی جامعیت اور ابدیت کے دلیلوں کا تجزیہ و تحلیل نہج البلاغہ میں) وغیرہ ۔
وہ اس وقت ایک اسلامی اسکالر ہیں اور ساتھ ہی وکالت کا کام بھی کرتی ہیں۔
ترجمہ اور اس کی خصوصیات
اس مقالہ کو اردو میں ترجمہ وقت کئی ایک باتوں کو خیا رکھا گیا ہے:
1. جہاں تک ممکن ہو سادہ اور سلیس انداز میں لکھا جائے۔
2. امام علیہ السلام کے اقوال کے ترجمہ کا زیادہ تر حصہ مرحوم علامہ مفتی جعفر اعلی اللہ مقامہ کے ترجمہ سے لیا گیا ہے
3. عربی عبارات کے سلسلے میں کوشش یہ کی انہیں اعراب کے ساتھ نقل کروں اورتمام عربی عبارتیں نور سافٹ وئیر جامع الاحادیث سے لیا ہے۔
4. کئی جگہ عبارتیں لمبی ہونے کی وجہ سے صرف اس کے ابتداء اور انتہاء کا ایک ایک جملہ نقل کیا ہے اور درمیان میں بعض نقطے سے خالی جگہ کی نشاندہی کی ہے۔
5. خاتمہ میں مناسبت کی وجہ سے حکومت امام زمانہ کے بعض اہم خصوصیتوں کو اختصار کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ اور ساتھ امام کے 313 اصحاب کی بعض اہم خصوصیتوں کو ایک صفحہ میں ذکر کرنے کی کوشش کی ہے۔
6. بعض جگہوں پر بعض مطالب کی کمی تھی جسے مقالہ نگار نے ذکر نہیں کیاتھا اسے حقیر نے مقالہ میں شامل کیا ہے لیکن ان کی عربی عبارات طولانی ہونے کی خوف سے نقل نہیں کی ہیں۔
7. قرآن کریم کا ترجمہ شیخ محسن علی نجفی کے بلاغ القرآن سے لیا ہے۔
خلاصہ
اسلامی نقطہ نظر سے حکومت کا نظام اپنی تمام جہات میں دوسرے نظاموں سے مختلف ہے، اس واضح نقطہ نظر کو نہج البلاغہ سے واضح اور دقیق انداز میں لیا جا سکتا ہے۔ "اسلامی حکومت کی ضرورت اور اہمیت" بہت ہی اہمیت والے موضوعات میں سے ہے؛ اگر اس کی اچھی طرح وضاحت ہو جائے تو اسلامی نظام میں حکومت کا مقام اور دوسرے نظاموں میں اس کے مقام کے درمیان واضح فرق کو درک کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت کسی بھی حکومت کی اچھائی اور برائی یا کمی بیشی کا اندازہ کسی نظام میں اس حکومت کے مقام و منزلت کو دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے۔ اس مقالہ کے افتتاحیہ یا دیباچہ میں اس موضوع کی اہمیت کو نہج البلاغہ کی نگاہ سے بیان کیا ہے
ہمیشہ سے کسی بھی حادثہ یا واقعہ کے وجود میں آنے، یا کسی بھی نظام کے زوال اور نابود ہونے میں مختلف اسباب و عوامل موثر رہے ہیں۔ یقینا حکومت بھی اس اصول سے خارج نہیں ہے ، حکومت کے عروج اور زوال بھی ہمیشہ سے اسباب و عوامل کے تابع ہے۔
حکومتوں کے زوال اور نابودی کے اسباب و عوامل کی شناخت اسلامی معاشرے کو زوال اور نابودی سے دور کرکے اصلی اور حقیقی نظام کی طرف لے جانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
اس مختصر تحقیق میں انہی عوامل و اسباب کو زیر بحث لایا گیا ہے جو کسی بھی حکومت کے زوال اور خاتمے میں بڑا کردار ادا کر سکتی ہیں؛ البتہ بعض جزوی اسباب بھی اس میں موثر واقع ہو سکتے ہیں۔
اسلامی حکومت کا مقام
حکومت کا مفہوم
مفہوم حکومت کو کئی زایے اور نظریے کی بنا پر مودر بحث قرار دیا جا سکتا ہے۔ انسانوں کی تاریخ میں ہر ایک نے اپنے طور پر مفہوم حکومت سے معنی لیا ہے۔ بسا اوقات یہ لفظ اپنے حقیقی معنی سے دور ہو گیا کہ اس سے لجاجت، ہٹ دھرمی، ظلم و ستم نا انصافی، غلبہ اور غیر انسانی سلوک کے علاوہ کسی اور چیز کی بو نہیں آتی تھی۔اس معنی کی بنا پر حکومت، حکمرانوں کے لیے دوسروں کو مغلوب کرنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
نہج البلاغہ میں حکومت کا معنی
حکومت ، نہج البلاغہ کی رو سے حضرت علی علیہ السلام کی نظر میں انتظام، نظم و نسق، مخلوق کی خدمت، ہدایت، الفت اور محبت کے سوا کچھ نہیں ہے۔ حکومت کا یہی مفہوم حضرت امیر علیہ السلام کے بیانات میں اپنی پوری خوبصورتی کے ساتھ جلوہ افروز ہے۔ اشعث بن قیس، جو عثمان کی طرف سے آذربائیجان کا والی مقرر ہوا تھا، حکومت سے صرف غلبہ کا مفہوم اخذ کرتا تھا ؛ اسی لیے امام اسے مخاطب ہو کر لکھتے ہیں:
« وَ إِنَ عَمَلَكَ لَيسَ لَكَ بِطُعْمَةٍ وَ لَكِنَّهُ إَمَانَةٌ وَ فِي يَدَيكَ مَالٌ مِنْ مَالِ اللَّهِ وَ إَنْتَ مِنْ خُزَّانِ اللَّهِ عَلَيهِ حَتَّى تُسَلِّمَهُ إِلَيَّ وَ لَعَلِّي إَلَّا إَكُونَ شَرَّ وُلَاتِكَ لَك»
یہ عہدہ تمہارے لیے کوئی آزوقہ نہیں ہے بلکہ وہ تمہاری گردن میں ایک امانت کا پھندا ہے اور تم اپنے حکمران بالا کی طرف سے حفاظت پر مامور ہو۔ تمہیں یہ حق نہیں پہنچتا کہ رعیت کے معاملے میں جو چاہو کر گزرو۔ خبردار! کسی مضبوط دلیل کے بغیر کسی بڑے کام میں ہاتھ نہ ڈالا کرو۔ تمہارے ہاتھوں میں خدائے بزرگ و برتر کے اموال میں سے ایک مال ہے اور تم اس وقت تک اس کی خزانچی ہو جب تک میرے حوالے نہ کر دو، بہر حال میں غالباً تمہارے لئے براحکمران نہیں ہوں والسلام- (1)
----------------
(1)- نہج البلاغہ ترجمہ علامہ مفتی جعفر ص 561۔ علامہ مفتی جعفر مرحوم اس کی شرح میں فرماتے ہیں: جب امیر المومنین علیہ السلام جنگ جمل سے فارغ ہوئے تو اشعث بن قیس کو جو حضرت عثمان کے زمانہ سے آذر بائیجان کا عامل چلا آرہا تھا تحریر فرمایا کہ وہ اپنے صوبہ کا مال خراج و صدقات روانہ کرے۔ مگر چونکہ اسے اپنا عہدہ و منصب خطرہ میں نظر آرہا تھا، اس لئے وہ حضرت عثمان کے دوسرے عمال کی طرح اس مال کو ہضم کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ اس خط کے پہنچنے کے بعد اس نے اپنے مخصوصین کو بلایا اور ان سے اس خط کا ذکر کرنے کے بعد کہا کہ مجھے اندیشہ ہے کہ یہ مال مجھ سے چھیں نہ لیا جائے۔ لہذا میرا ارادہ ہے کہ میں معاویہ کے پاس چلا جاؤں۔ جس پر ان لوگوں نے یہ کہا کہ یہ تمہارے لئے باعث ننگ و عار ہے کہ اپنے قوم قبیلے کو چھوڑ کر معاویہ کے دامن میں پناہ لو۔چنانچہ ان لوگوں کے کہنے پر اس نے جانے کا ارادہ تو ملتوی کردیا مگر اس مال کے دینے پر آمادہ نہ ہوا۔ جب حضرت کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے اسے طلب کرنے کے لئے حجر ابن عدی کندی کو روانہ کیا جو اسے سمجھا بجھا کر کوفہ لے آئے۔ یہاں پہنچنے پر اس کا سامان دیکھا گیا تو اس میں چار لاکھ درہم پائے گئے جس میں سے تیس 30 ہزار حضر نے اسے دے دئیے اور بقیہ بیت المال میں داخل کر دئیے۔
امیر المومنین علیہ السلام اس خط میں حکومت سے متعلق اس پرانی سوچ کی طرف اشارہ فرماتے ہیں جو بہت عرصہ سے رائج تھا۔ اس فکر کے مقابلے میں حکومت کو ایک امانت ذمہ داری بیان کرتے ہیں کو حاکموں کے ہاتھوں دی گئی ہے کہ اس کی حفاظت گورنر کے اوپر قوم کے ناگزیز حقوق میں سے ایک حق ہے۔ یہ ذمہ داری خدا کی طرف سے گورنر اور عامل پر فرض ہے؛ کیونکہ تمام چیزیں اسی کے ہیں۔
کسی دوسری جگہ آپ فرماتے ہیں:
«إِنَ السُّلْطَانَ لَأَمِينُ اللَّهِ فِي الْخَلْقِ وَ مُقِيمُ الْعَدْلِ فِي الْبِلَادِ وَ الْعِبَادِ وَ ظِلُّهُ فِي الْأَرْضِ»
بے شک حاکم زمین پر اللہ کا امین ہے ملک میں عدل و انصاف قائم کرنے والا اور معاشرے کو گناہ اور فساد سے بچانے والا ہے-(2)
امام علیہ السلام اس فرمان میں مفہوم حکومت کو مدیریت اور نظم و نسق قرار دے رہے ہیں کہ اپنے بروکروں اور گورنروں کو صحیح کام کر کے مدیرت ادا کرنے کی اہمیت پر سخت تاکید فرما رہے ہیں۔ مالک اشتر کے عہدنامہ میں آپ مالک کو لکھتے ہیں:
«وَ لَا تَقُولَنَ إِنِّي مُؤَمَّرٌ آمُرُ فَإُطَاعُ فَإِنَّ ذَلِكَ إِدْغَالٌ فِي الْقَلْبِ وَ مَنْهَكَةٌ لِلدِّينِ وَ تَقَرُّبٌ مِنَ الْغِيَر»
کبھی یہ نہ کہنا کہ میں حاکم بنایا گیا ہوں، لہذا میرے حکم کے آگے سر تسلیم خم ہونا چاہئے؛ کیونکہ یہ دل میں فساد پیدا کرنے، دین کو کمزور بنانے اور بربادیوں کو قریب لانے کا سبب ہے- (3)
-------------------
(2) -شرح غرر الحکم و دررالکلم، ص 604 ; بہ نقل از حکومت حکمت، ص 44
(3)- ترجمہ مفتی جعفر ص 649
حکومتوں کی زوال اور انحطاط کے اسباب امیر المومنین ؑ کی نگاہ میں
1- قائد کی اطاعت سے سرپیچی
الف: معاشرے کا حقیقی قائد اور الہی رہبر
یقیناً ہر معاشرہ قائد رہبر اور امام کا محتاج ہے:
وَ إِنَّهُ لَا بُدَّ لِلنَّاسِ مِنْ إَمِيرٍ بَرٍّ إَوْ فَاجِرٍ يَعْمَلُ فِي إِمْرَتِهِ الْمُؤْمِنُ وَ يَسْتَمْتِعُ فِيهَا الْكَافِرُ وَ يُبَلِّغُ اللَّهُ فِيهَا الْإَجَلَ وَ يُجْمَعُ بِهِ الْفَيءُ وَ يُقَاتَلُ بِهِ الْعَدُوُّ وَ تَإمَنُ بِهِ السُّبُلُ وَ يُؤْخَذُ بِهِ لِلضَّعِيفِ مِنَ الْقَوِيِّ حَتَّى يَسْتَرِيحَ بَرٌّ وَ يُسْتَرَاحَ مِنْ فَاجِر
لوگوں کے لئے حاکم کا ہونا ضروری ہے۔ خواہ اچھا ہو یا برا (اگر اچھا ہوگا تو) مومن اس کی حکومت میں اچھے عمل کر سکے گا اور( برا ہو گا تو ) کافر اس کے عہد میں لذائذ سے بہرہ اندوز ہو گا۔اور اللہ اس نظام حکومت میں ہر چیز کو اس کی آخری حدوں تک پہنچا دے گا ۔ اسی حاکم کی وجہ سے مال (خراج و غنیمت) جمع ہوتا ہے۔ دشن سے لڑا جاتا ہے، راستے پر امن رہتے ہیں اور قوی سے کمزور کا حق دلایا جاتا ہے یہاں تک کہ نیک حاکم (مر کر یا معزول ہو کر) راحت پائے، اور برے حاکم کے مرنے یا معزول ہونے سے دوسروں کو راحت پہنچے۔ (4)
---------------
(4)- ترجمہ مفتی جعفر ص 167
کسی معاشرہ کے لیے ایک رہبر اور قائد کا ہونا دین مبین اسلام میں مسلمات میں سے ہے۔ سب سے اعلی رہبر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تھے۔ آپؐ نے اپنے بعد اپنی عترت اور اہل بیت علیہم السلام کو امت اسلامی کے لئے رہبر کے عنوان سے متعارف کرایا اور حدیث ثقلین میں انہیں قرآن کے برابر قرار دیا اور فرمایا کہ میں دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ایک قرآن ہے اور دوسرا میر ی عترت۔
اسی لیے امام علی علیہ السلام نے اہل بیت علیہم السلام کو اسرار الہی کے خزانےاوردین کے ستون کے ساتھ متصف کیا:
هُمْ مَوْضِعُ سِرِّهِ وَ لَجَإُ إَمْرِهِ وَ عَيبَةُ عِلْمِهِ وَ مَوْئِلُ حُكمِهِ وَ كُهُوفُ كُتُبِهِ وَ جِبَالُ دِينِهِ بِهِمْ إَقَامَ انْحِنَاءَ ظَهرِهِ وَ إَذْهَبَ ارْتِعَادَ فَرَائِصِهِ
وہ سر خدا کے امین اور اس کے دین کی پناہگاہ ہیں علم الہی کے مخزن اور حکمتوں کے مرجع ہیں۔ کتب (آسمانی) کی گھاٹیاں اور دین کے پہاڑ ہیں۔ انہی کے ذریعے اللہ نے اس کی پشت کو مضبوط کیا اور اس کے پہلوؤں سے ضعف کو دور کیا۔(5)
دوسری جگہ امامت ، وصایت اور رہبری کے لائق صرف انہی ہستیوں کو جانتے ہیں:
لَا يُقَاسُ بِآلِ مُحَمَّدٍ ص مِنْ هَذِهِ الْإُمَّةِ إَحَدٌ وَ لَا يُسَوَّى بِهِمْ مَنْ جَرَتْ نِعْمَتُهُمْ عَلَيهِ إَبَداً هُمْ إَسَاسُ الدِّينِ وَ عِمَادُ الْيَقِينِ إِلَيهِمْ يَفِيءُ الْغَالِي وَ بِهِمْ يُلْحَقُ التَّالِي وَ لَهُمْ خَصَائِصُ حَقِّ الْوِلَايَةِ وَ فِيهِمُ الْوَصِيَّةُ وَ الْوِرَاثَة
اس امت میں کسی کو آل محمد پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ جن لوگوں پر ان کے احسانات ہمیشہ جاری رہے ہوں وہ ان کے برابر نہیں ہو سکتے۔ دین کے بنیاد اور یقین کے ستون ہیں۔ آگے بڑھ جانے والے کو ان طرف پلٹ کر آنا اور پیچھے رہ جانے والے کو ان سے آکر ملنا ہے۔ حق ولایت کی خصوصیت انہی کے لیے ہے، اور انہی کے بارے میں پیغمبرؐ کی وصیت او رانہی کے لئے (نبی کی) وراثت ہے۔
-------------
(5)- ترجمہ مفتی جعفر ص 80 خ 2
حضرت علی علیہ السلام قرآن اور عترت کے بارے میں جوکہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے یاد گار چھوڑے ہیں، فرماتے ہیں:
وَ خَلَّفَ فِينَا رَايَةَ الْحَقِ مَنْ تَقَدَّمَهَا مَرَقَ وَ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْهَا زَهَقَ وَ مَنْ لَزِمَهَا لَحِق
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہم میں حق کا وہ پرچم چھوڑ گئے کہ جو اس سے آگے بڑھے گا وہ (دین سے) نکل جائے گا اور جو پیچھے رہ جائے وہ مٹ جائے گا اور جو اس سے چمٹا رہے گا وہ حق کے ساتھ رہے گا۔(6)
نہج البلاغہ کی شرح لکھنے والوں( چاہے ہو سنی ہو یا شیعہ ) کا کہنا ہے کہ حق کے پرچم سے مراد ثقلین یعنی قرآن و عترت ہیں۔(7)
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اگر امت اسلامی عترت رسول اللہ علیہم السلام کو امامت اور رہبری کے لیے انتخاب کرتے تو کبھی بھی شکست اور حیرانی کا شکار نہ ہوتے، ۔ عترت رسول اللہ اس صاف شفاف چشمے کی طر ح ہے کہ جس کی طرف پوری تیزی اور طاقت کے ساتھ دوڑنے کی ضرورت ہے:
فَإَينَ تَذْهَبُونَ وَ إَنَّى تُؤْفَكُونَ وَ الْإَعْلَامُ قَائِمَةٌ وَ الْآيَاتُ وَاضِحَةٌ وَ الْمَنَارُ مَنْصُوبَةٌ فَإَينَ يُتَاهُ بِكُمْ وَ كَيفَ تَعْمَهُونَ وَ بَينَكُمْ عِتْرَةُ نَبِيِّكُمْ وَ هُمْ إَزِمَّةُ الْحَقِّ وَ إَعْلَامُ الدِّينِ وَ إَلْسِنَةُ الصِّدْقِ فَإَنْزِلُوهُمْ بِإَحْسَنِ مَنَازِلِ الْقُرْآنِ وَ رِدُوهُمْ وُرُودَ الْهِيمِ الْعِطَاش
-------------------------
(6)- ترجمہ مفتی جعفر ص 260 خ 98
(7)- شرح نہج البلاغہ، ابن ابی الحدید، ج 7، ص 85
اب تم کہاں جا رہے ہو، اور تمہیں کدھر موڑا جا رہا ہے؟ حالانکہ ہدایت کے جھنڈے بلند، نشانات ظاہر و روشن اور حق کے مینار نصب ہیں اور تمہیں کہاں بہکایا جا رہا ہے اور کیوں ادھر ادھر بھٹک رہے ہو؟ جب کہ تمہارے نبی ؐ کی عترت تمہارے اندر موجود ہے جو حق کی باگیں، دین کے پرچم اور سچی زبانیں ہیں۔ جو قرآن کی بہترسے بہتر منزل سمجھ سکو، وہیں انہی بھی جگہ دو، اور پیاسے اونٹوں کی طرح ان کے سرچشمہ ہدایت پر اترو۔
ابن ابی الحدید، سنی عالم دین اور نہج البلاغہ کے عظیم شارح اس خطبہ کے ذیل میں حدیث ثقلین اور آیت تطہیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تاکید کرتے ہیں کہ عترت علیہم السلام خدا کی طرف سے معین ہے۔ اس کے بعد "ازمة الحق حق کی باگیں"والی عبارت کی شرح میں لگ جاتے ہیں۔ اس کے بعد لکھتے ہیں کہ: «فانزلوهم باحسن منازل القرآن» والے جملے میں ایک بہت ہی بڑا سر اور راز چھپا ہوا ہے، وہ یہ ہے کہ تمام لوگوں کو حکم دے رہے ہیں کہ اہل بیت علیہم السلام کے آگے سر تسلیم خم کریں، ان کے فرامین کی اطاعت کریں اور قرآن ناطق مان لیں؛ یعنی اہل بیت علیہم السلام کی تعظیم اور ان سے تمسک کریں، انہیں اپنے دل اور سینہ میں جگہ دے دیں؛ وہی دل و جان جس میں تم قرآن کو جگہ دیتے ہو۔ یا حضرت علیہ السلام کی مراد یہ ہو کہ اہل کو وہی مقام دے دیں جسے قرآن نے ان کے لیے مقرر کیا ہے۔ (8)
--------------
(8)- شرح ابن ابی الحدید ج 6، ص 376
"وردوہم ورود الہیم العطاش اور پیاسے اونٹوں کی طرح ان کے سرچشمہ ہدایت پر اترو " والی عبارت میں بھی ان کی پیروی کرنے کے انداز کو بیان کیا ہے کہ جس طرح پیاسا اونٹ پانی کے چشمہ کر طرف دوڑتی ہے تم بھی سر چشمہ ہدایت کی طرف اسی طرح دوڑیں۔
کہا جاتا ہے: وردوہ م ورود سے ہے یعنی خوشگوار چشمہ پر وارد ہونا، اپنے کو پہنچانا، اور الہی م العطاش پیاسے اونٹ کو کہا جاتا ہے۔ اس عبارت کا مطلب یہ ہے کہ اہل بیت علیہم السلام سے دین اوعلم حاصل کرنے میں حد سے زیادہ لالچی بنیں؛ جیسے پیاسا اونٹ پانی پر پہنچنے کے لیے لالچی بنتا ہے۔ (9)
ان کی اطاعت کے سلسلے میں ان سے آگے نکل جانا یا پیچھے رہ جانا دونوں ناقابل تلافی ہیں اور شاہراہ ہدایت سے منحرف ہونے کا سبب بنتا ہے:
انْظُرُوا إَهلَ بَيتِ نَبِيِّكُمْ فَالْزَمُوا سَمْتَهُمْ وَ اتَّبِعُوا إَثَرَهُمْ فَلَنْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ هُدًى وَ لَنْ يُعِيدُوكُمْ فِي رَدًى فَإِنْ لَبَدُوا فَالْبُدُوا وَ إِنْ نَهَضُوا فَانْهَضُوا وَ لَا تَسْبِقُوهُمْ فَتَضِلُّوا وَ لَا تَتَإَخَّرُوا عَنْهُمْ فَتَهلِكُو
اپنے نبی ؐ کے اہل بیت کو دیکھو، ان کی سیرت پر چلو اور ان کے نقش قدم کی پیروی کرو۔ اور نہ گمراہی اور ہلاکت کی طرف پلٹائیں گے۔ اگروہ کہیں ٹھہریں تو تم بھی ٹھہر جاؤ اور اگر وہ اٹھیں تو تم بھی اٹھ کھڑے ہو ۔ ان سے آگے نہ بڑھو۔۔۔ ورنہ گمراہ ہو جاؤ گے، اور نہ (انہیں چھوڑ کر) پیچھے رہ جاؤ، ورنہ تباہ ہو جاؤ گے۔(10)
پس اسلامی معاشرے کے حقیقی رہبر اور حاکم ائمہ علیہم السلام ہیں۔ ان کا وجود ستون کی طرح ہے کہ اگر یہ ستون محفوظ رہیں تو عمارت بھی محفوظ رہے گی ۔
------------
(9)- بحار الانوار، علامہ مجلسی، ج 1، ص 243
(10)- ترجمہ مفتی جعفر ص 255 خ 95
ب۔ غیبت کے زمانے میں قائد کا کردار
امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی غیبت کے زمانے میں معاشرے کا حاکم قائد اوررہبر ولی فقیہ ہے جس کے بارے میں اما م زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف نے فرمایا:
وَ أَمَّا الْحَوَادِثُ الْوَاقِعَةُ فَارْجِعُوا فِيهَا إِلَى رُوَاةِ حَدِيثِنَا فَإِنَّهُمْ حُجَّتِي عَلَيْكُمْ وَ أَنَا حُجَّةُ اللَّهِ عَلَيْكُم (11)
غیبت کے زمانے میں پیش آنے والے واقعات اورحادثات میں ہماری احادیث نقل کرنے والوں کی طرف رجوع کرو کیونکہ یہ میرے طرف سے تم پر حجت ہیں اور میں خدا کی طرف سے تم حجت ہوں۔
پس جامع الشرائط مجتہدین معصوم علیہم السلام کے نائب ہیں، غیبت کے زمانے میں یہ لوگ اللہ کے فرمان کو معاشرے میں نافذ کرتے ہیں۔
قائداور رہبر کو وجود اس حد تک اہمیت کا حامل ہے کہ ہمارے دینی شہ سرخیوں میں بہت زیادہ اس کی تصریح اور تاکید ہوئی ہے:
«وَ الْإِمَامَةَ نِظَاماً لِلْأُمَّةِ، وَ الطَّاعَةَ تَعْظِيماً لِلْإِمَامَةِ» (12)
اور امامت امت کے نظم و نسق کے لیے ہے اطاعت کرنا امامت کی تعظیم ہے؛ یعنی اگر امت امام کے بغیر رہ جائے تو تفرقہ اختلاف اور ہرج و مرج کا شکار ہو گی۔
---------------
(11)- طوسی، محمد بن الحسن، الغیبة (للطوسی)/ کتاب الغیبة للحجة، النص ؛ ص291
(12)- حلوانی، حسین بن محمد بن حسن بن نصر، نزہة الناظر و تنبیہ الخاطر ص46
اسلامی معاشرے میں رہبر کی حیثیت تسبیح کے دھاگے کی طرح ہے جس میں تسبیح کے دانے پروئے گئے ہیں؛ اگر یہ دھاگہ نہ ہوتا تو دانے ادھر ادھر بکھر جاتے اور شاید اسے تسبیح ہی نہ کہا جائے۔ نہج البلاغہ میں ایک جگہ امام فرماتے ہیں:
وَ مَكَانُ الْقَيِّمِ بِالْإَمْرِ مَكَانُ النِّظَامِ مِنَ الْخَرَزِ يَجْمَعُهُ وَ يَضُمُّهُ فَإِنِ انْقَطَعَ النِّظَامُ تَفَرَّقَ الْخَرَزُ وَ ذَهَبَ ثُمَّ لَمْ يَجْتَمِعْ بِحَذَافِيرِهِ إَبَدا
امور (سلطنت) میں حاکم کی حیثیت وہی ہوتی ہے جو مہروں میں ڈورے کی جو انہیں سمیٹ کر رکھتا ہے۔ جب ڈورا ٹوٹ جائے تو سب مہرے بکھر جائیں گے اور پھر کبھی سمٹ نہ سکیں گے۔(13)
پس قائد اوررہبر کا کام امت کو پراکندہ ہونے اور تفرقہ کے شکار ہونے سے بچانا اور ان کے درمیان وحدت ایجاد کرنا ہے۔
اگر کوئی معاشرہ تباہ و برباد ہو نا چاہتا ہے تو سب سے پہلے اس معاشرے میں رہنے والے لوگ اختلاف کا شکار ہو جائیں گےاسی لیے تاریخ میں دشمنوں نے ہمیشہ یہی کوشش کی ہے کہ لوگوں کو اختلاف اور تفرقہ میں مبتلا کریں انہیں اپنے رہبر اور قائد سے دور رکھا جائے، اس ہدف کے لیے انہوں نے نہایت ہی پیچیدہ پروگرام بنائے ہیں ، اس پراجیکٹ پر بہت زیادہ سرمایہ خرچ ہوا ہے؛ اور چونکہ ایک لائق اور الہی رہبر کے ہوتے ہوئے وہ اپنے منحوس عزائم میں کامیاب نہیں ہو سکتے تھے اسی لئے ہمیشہ سے رہبر کو ہی نشانہ بنایا ہے؛ ہم دیکھتے ہیں کہ دشمن اپنے ان اہداف کی حصول کے لیے طرح طرح کے شبہات ایجاد کر رہے ہیں جیسے ایک رہبر الہی اور ایک ڈیکٹر کا ایک جیسا ہونا وغیرہ۔(14)
-------------
(13)- ترجمہ مفتی جعفر ص 340 خ 144
قائد اس وقت معاشرے میں مضبوط ہو سکتا ہے جب اس معاشرے میں رہنے والے تمام لوگ اسے غیبت کے زمانے میں امام معصوم کے نمائندہ اور نائب کے عنوان سے قبول کریں، اور دل و جان سے اس کے ارشادات پر عمل کریں۔
تاریخ میں جب بھی قائد اور رہبر کو چاہے وہ امام معصوم ہو یا نائب امام- امت کی طرف سے سنجیدگی سے نہیں لیا گیا اور اس کے اوامر و نواہی کی اطاعت نہیں کی گئی وہ امت نابود ہوگئی اور ہمیشہ کے لیے صفحہ تاریخ سے محو ہو گئی۔
حکومت امام علی علیہ السلام میں کوفیوں کے منحرف ہونے کی اصلی وجہ اپنے امام کی اطاعت سے سر پیچی تھی یہ نافرمانی سخت منفی حالات کا پیش خیمہ بنی کہ امام علی علیہ السلام کےبعد بھی سالوں سال شکست ہی شکست ان کا مقدر بنا۔ بلکہ کہا جا سکتا ہے اس کے بعد سے خوش قسمتی کے دروازے ان پر بند ہوگئے۔ حجاج بن یوسف جیسے شقی کے حکومت (کہ امام علی علیہ السلام نے اس کی حکومت پر پہچنے کی پیشن گوئی کی تھی) پر پہنچنے کے بعد سے بہت زیادہ قتل و غارت گری ہوئی کہ انسان کا سر ان کو بیان کرتے ہوئے شرم سے جھک جاتا ہے، اسی شقی انسان کے حکومت پر پہنچنے کے نتیجے میں معاویہ کی حکومت کو اور زیادہ تقویت ملی۔ اس کے بعد خلافت کا یزید لعین کے پاس پہنچنا، کوفہ والوں کا کوئی ایکشن نہ لینا، واقعہ کربلا اور دیگر تاریخی اہم واقعات کوفہ والوں امام علی علیہ السلام کی اطاعت نہ کرنے کی وجہ سے رونما ہوئے۔جب تحکیم کےسلسلے میں آپ کے اصحاب پر پیچ و تاب کھانے لگے تو آپ نے ارشاد فرمایا:
إَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَمْ يَزَلْ إَمْرِي مَعَكُمْ عَلَى مَا إُحِبُّ حَتَّى نَهِكَتْكُمُالْحَرْبُ وَ قَدْ وَ اللَّهِ إَخَذَتْ مِنْكُمْ وَ تَرَكَتْ وَ هِيَ لِعَدُوِّكُمْ إَنْهَكُ. لَقَدْ كُنْتُ إَمْسِ إَمِيراً فَإَصْبَحْتُ الْيَوْمَ مَإمُوراً وَ كُنْتُ إَمْسِ نَاهِياً فَإَصْبَحْتُ الْيَوْمَ مَنْهِيّاً وَ قَدْ إَحْبَبْتُمُ الْبَقَاءَ وَ لَيسَ لِي إَنْ إَحْمِلَكُمْ عَلَى مَا تَكرَهُون
اے لوگو! جب تک جنگ نے تمہیں بے حال نہیں کردیا میرے حسب منشاء میری بات تم سے بنی رہی۔ خدا کی قسم!اس نے تم سے کچھ تو اپنی گرفت میں لے لیا اور کچھ کو چھوڑ دیا۔ اور تمہارے دشمنوں کو تو اس نے بالکل ہی نڈھال کر دیا۔ اگر تم جمے رہتے تو پھر جیت تمہاری تھی۔ مگر اس کا کیا علاج کہ میں کل تک امر و نہی کا مالک تھا او رآج دوسروں کےامر و نہی پر مجھے چلنا پڑ رہا ہے۔ تم (دنیا کی ) زندگانی چاہنے لگے اور یہ چیز میرے بس میں نہ رہی کہ جس چیز (جنگ) سے بیزار ہو چکے تھے اس پر تمہیں بر قرار رکھتا۔ (14)
---------------
(14)- ترجمہ مفتی جعفر ص 501 خ 206
دوسری جگہ معاشرےکے رہبر ہونے کی حیثیت سے معاشرے میں موجودامور کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
إَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ بَثَثْتُ لَكُمُ الْمَوَاعِظَ الَّتِي وَعَظَ [بِهَا الْإَنْبِيَاءُ] الْإَنْبِيَاءُ بِهَا إُمَمَهُمْ وَ إَدَّيتُ إِلَيكُمْ مَا إَدَّتِ الْإَوْصِيَاءُ إِلَى مَنْ بَعْدَهُمْ وَ إَدَّبْتُكُمْ بِسَوْطِي فَلَمْ تَسْتَقِيمُوا وَ حَدَوْتُكُمْ بِالزَّوَاجِرِ فَلَمْ تَسْتَوْسِقُوا لِلَّهِ إَنْتُمْ إَ تَتَوَقَّعُونَ إِمَاماً غَيرِي يَطَإُ بِكُمُ الطَّرِيقَ وَ يُرْشِدُكُمُ السَّبِيلَ إَلَا إِنَّهُ قَدْ إَدْبَرَ مِنَ الدُّنْيَا مَا كَانَ مُقْبِلًا وَ إَقْبَلَ مِنْهَا مَا كَانَ مُدْبِراً- وَ إَزْمَعَ التَّرْحَالَ عِبَادُ اللَّهِ الْإَخْيَارُ وَ بَاعُوا قَلِيلًا مِنَ الدُّنْيَا لَا يَبْقَى بِكَثِيرٍ مِنَ الْآخِرَةِ لَا يَفْنَى
اے لوگو! میں نے تمہیں اس طرح نصیحتیں کی ہیں جس طرح کی ابنیاء اپنی امتوں کو کرتے چلے آئے ہیں او ران چیزوں کو تم تک پہنچایا ہے جو اوصیاء بعد والوں تک پہنچایا گئے ہیں۔ میں نے تمہیں اپنے تازیانہ سے ادب سکھانا چاہا مگر تم سیدھے نہ ہوئے اور زجر و توبیخ سے تمہیں ہنکایا لیکن تم ایک جا نہ ہوئے۔ اللہ تمہیں سمجھے کیا میرے علاوہ کسی اور امام کے امید وار ہو جو تمہیں سیدھی راہ پر چلائےاور صحیح راستہ دکھائے۔ دیکھو! دنیا کی طرف رخ کرنے والی چیزوں نے جو رخ کئے ہوئے تھیں پیٹھ پھرالی ، جو پیٹھ پھرائے ہوئے تھیں انہوں نے رخ کر لیا۔ اللہ کے نیک بندوں نے (دنیا سے)کوچ کرنے کا تہیا کر لیا اور فنا ہونے والی تھوڑی سی دنیا ہاتھ سے دے کر ہمیشہ رہنے والی بہت سی آخرت مول لے لی۔ (15)
-------------
(15)- ترجمہ مفتی جعفر ص 419 ، 420 خ 180
امام علی علیہ السلام اپنی حکومت کے سقوط اور اس کے بعد پیش آنے والے واقعات کی پیشن گوئی کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
مَا هِيَ إِلَّا الْكُوفَةُ إَقْبِضُهَا وَ إَبْسُطُهَا إِنْ لَمْ تَكُونِي إِلَّا إَنْتِ تَهُبُّ إَعَاصِيرُكِ فَقَبَّحَكِ اللَّهُ-
یہ عالم ہے اس کوفہ کا جس کا بندو بست میرے ہاتھ میں ہے ۔( اے شہر کوفہ) اگر تیرا یہی عالم رہا کہ تجھ میں آندھیاں چلتی رہیں، تو خدا تجھے غارت کرے ۔ پھر آپ ؑنے شاعر کا یہ شعر بطور تمثیل پڑھا:
لَعَمْرُ إَبِيكَ الْخَيرِ يَا عَمْرُو إِنَّنِي ****** عَلَى وَضَرٍ مِنْ ذَا الْإِنَاءِ قَلِيل
اے عمرو! تیرے اچھے باپ کی قسم ! مجھے اس برتن سے تھوڑی سی چکناہٹ ہی ملی ہے (جو برتن کے خالی ہونے کے بعد اس میں لگی رہ جاتی ہے)
اس کے بعد فرمایا:
إُنْبِئْتُ بُسْراً قَدِ اطَّلَعَ الْيَمَنَ وَ إِنِّي وَ اللَّهِ لَإَظُنُّ إَنَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ سَيُدَالُونَ مِنْكُمْ بِاجْتِمَاعِهِمْ عَلَى بَاطِلِهِمْ وَ تَفَرُّقِكُمْ عَنْ حَقِّكُمْ وَ بِمَعْصِيَتِكُمْ إِمَامَكُمْ فِي الْحَقِّ وَ طَاعَتِهِمْ إِمَامَهُمْ فِي الْبَاطِلِ وَ بِإَدَائِهِمُ الْإَمَانَةَ إِلَى صَاحِبِهِمْ وَ خِيَانَتِكُمْ وَ بِصَلَاحِهِمْ فِي بِلَادِهِمْ وَ فَسَادِكُمْ فَلَوِ ائْتَمَنْتُ إَحَدَكُمْ عَلَى قَعْبٍ لَخَشِيتُ إَنْ يَذْهَبَ بِعِلَاقَتِهِ اللَّهُمَّ إِنِّي قَدْ مَلِلْتُهُمْ وَ مَلُّونِي وَ سَئِمْتُهُمْ وَ سَئِمُونِي فَإَبْدِلْنِي بِهِمْ خَيراً مِنْهُمْ وَ إَبْدِلْهُمْ بِي شَرّاً مِنِّي اللَّهُمَّ مِثْ قُلُوبَهُمْ كَمَا يُمَاثُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ إَمَا وَ اللَّهِ لَوَدِدْتُ إَنَّ لِي بِكُمْ إَلْفَ فَارِسٍ مِنْ بَنِي فِرَاسِ بْنِ غَنْم
مجھے یہ خبر دی گئی ہے کہ بستر میں پر چھا گیا ہے۔ بخدا میں تو اب ان لوگوں کے متعلق یہ خیال کرنے لگا ہوں کہ وہ عنقریب سلطنت و دولت کو تم سے ہتھیا لیں گے، اس لیے کہ:
1. وہ (مرکز ) باطل پر متحد و یکجا ہیں اور تم اپنے (مرکز) حق سے پراگندہ و منتشر۔
2. تم امر حق میں اپنے امام کے نافرمان اور وہ باطل میں بھی اپنے امام کے مطیع و فرمانبردار ہیں ۔
3. وہ اپنے ساتھی (معاویہ) کے ساتھ امانت داری کے فرض کو پورا کرتے ہیں اور تم خیانت کرنے سے نہیں چوکتے۔
4. وہ اپنے شہروں میں امن برقرار رکھتے ہیں اور تم شورشیں برپا کرتے ہو۔
میں اگر تم میں سے کسی کو لکڑی کے ایک پیالے کا بھی امین بناؤ ، تو ڈر رہتا ہے کہ وہ اس کے کنڈے کو توڑ کر لےجائے گا۔
امام اس حد تک ان سے خوف محسوس کر رہے ہیں کہ ایک لکڑی کا پیالہ بھی انہیں دیتے ہوئے امن محسوس نہیں کرتے ہیں۔ چہ جائے کہ ان کی اطاعت اور پیروی پر اعتماد کریں۔ یہ مظلومیت امام علی علیہ السلام کی انتہاء ہے۔ اس کے بعد آپ اللہ کے حضور اس طرح شکوہ کرتے ہیں:
اللَّهُمَّ إِنِّي قَدْ مَلِلْتُهُمْ وَ مَلُّونِي وَ سَئِمْتُهُمْ وَ سَئِمُونِي فَإَبْدِلْنِي بِهِمْ خَيراً مِنْهُمْ وَ إَبْدِلْهُمْ بِي شَرّاً مِنِّي اللَّهُمَّ مِثْ قُلُوبَهُمْ كَمَا يُمَاثُ الْمِلْحُ فِي الْمَاءِ إَمَا وَ اللَّهِ لَوَدِدْتُ إَنَّ لِي بِكُمْ إَلْفَ فَارِسٍ مِنْ بَنِي فِرَاسِ بْنِ غَنْم: هُنَالِكَ لَوْ دَعَوْتَ إَتَاكَ مِنْهُمْ ****** فَوَارِسُ مِثْلُ إَرْمِيَةِ الْحَمِيم
اے اللہ! وہ مجھ سے تنگ دل ہو چکے ہیں اور میں ان سے۔ وہ مجھ سے اکتا چکے ہیں اور میں ان سے، مجھے ان کے بدلے میں اچھے لوگ عطا کر او رمیرے بدلے میں انہیں کوئی اور برا حاکم دے۔ خدا یا! ان کے دلوں کو اس طرح (اپنے غضب سے) پگھلا دے جس طرح نمک پانی میں گھول دیا جاتا ہے۔ خدا کی قسم میں اس چیز کو دوست رکھتا ہوں کہ تمہارے بجائے میرے پاس نبی فراس ابن غنم کے ایک ہی ہزار سوار ہوتے ایسے (جن کا وصف شاعر نے بیان کیا) اگر تم کسی وقت انہیں پکارو، تو تمہارے پاس ایسے سوار پہنچیں جو تیز روئی میں گرمیوں کے ابر کے مانند ہیں۔(16)
امت کے درمیان امام کا وجود چکی میں کیل کی طرح ہےکہ لوگ اس کے ارد گرد نظم و نسق کے ساتھ رہتے ہیں ان میں کوئی بھی اگر اپنی گردش سے منحرف ہو جائے تو اس کا بنیادی ڈھانچہ منہدم ہو جائے گا۔ امام فرماتے ہیں:
وَ إِنَّمَا إَنَا قُطْبُ الرَّحَىتَدُورُ عَلَيَّ وَ إَنَا بِمَكَانِي فَإِذَا فَارَقْتُهُ اسْتَحَارَ مَدَارُهَا وَ اضْطَرَبَ ثِفَالُهَا هَذَا لَعَمْرُ اللَّهِ الرَّإيُ السُّوءُ
میں چکی کے اندر کا وہ قطب ہوں جس کے گرد چکی گھومتی ہے جب تک میں اپنی جگہ پر ٹھہرا رہوں اور اگر میں نے اپنا مقام چھوڑ دیا ، تو اس کے گھومنے کا دائرہ متزلزل ہو جائے گا۔ خدا کی قسم یہ بہت برا مشورہ ہے ۔
امام اور رہبر کی اطاعت اور پیروی امت کو گرداب حوادث میں حیران اور سرگردان ہونے سے بچاتی ہےتاکہ اپنے زمانے اور اس کے حوادث سے انسان امان میں رہیں اور ٹیڑھے راستے پر جانے سے خود کو بچا کے رکھ سکیں، جیسا کہ بنی اسرائیل کے قوم حضرت موسی علیہ السلام کی اطاعت نہ کرنے کی وجہ سے حیرانی اور پریشانی کی گرداب میں پھنس گئے۔ امام فرماتے ہیں:
-------------
(16)- ترجمہ مفتی جعفر ص 136 و 137 خ 25
لَكِنَّكُمْ تِهتُمْ مَتَاهَ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَ لَعَمْرِي لَيُضَعَّفَنَ لَكُمُ التِّيهُ مِنْ بَعْدِي إَضْعَافاً بِمَا خَلَّفْتُمُ الْحَقَّ وَرَاءَ ظُهُورِكُمْ وَ قَطَعْتُمُ الْإَدْنَى وَ وَصَلْتُمُ الْإَبْعَدَ وَ اعْلَمُوا إَنَّكُمْ إِنِ اتَّبَعْتُمُ الدَّاعِيَ لَكُمْ سَلَكَ بِكُمْ مِنْهَاجَ الرَّسُولِ وَ كُفِيتُمْ مَئُونَةَ الِاعْتِسَافِ وَ نَبَذْتُمُ الثِّقْلَ الْفَادِحَ عَنِ الْإَعْنَاق
تم بنی اسرائیل کی طرح صحرائے تیہ میں بھٹک گئے اور اپنی جان کی قسم میرے بعدتمہاری سرگردانی و پریشانی کئی گنا بڑھ جائے گی۔ کیونکہ تم نے حق کو پس پشت ڈال دیا ہے اور قریبیوں سے قطع تعلق کر لیا اور دور والوں سے رشتہ جوڑ لیا ہے ۔ یقین رکھو کہ اگر تم دعوت دینے والے کی پیروی کرتے تو وہ تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے راستہ پر لے چلتا اور تم بے راہ روی کی زحمتوں سے بچ جاتے اور اپنی گردنوں سے بھاری بوجھ اتار پھینکتے۔ (17)
-----------------
(17)- ترجمہ مفتی جعفر ص 390 خ159
ج- رہبر اور عوام کے ایک دوسرے پر حقوق
کسی بھی معاشرے میں امام اور امت کے ایک دوسرے کے اوپر حقوق ہیں، کہ ان کی رعایت کرنے سے وہ معاشرہ ترقی، کمال اور ہمیشہ کی سعادت اور خوشبختی حاصل کر لے گا۔ان حقوق کی دو قسم ہیں: ایک وہ حقوق ہیں جو امام اور رہبر کی نسبت لوگوں کے گردنوں پر ہیں۔ دوسرے وہ حقوق جو معاشرے میں رہنے والوں کی نسبت امام اور رہبر کی گردن پر ہیں یہ امام کی ذمہ داری ہے کہ لوگوں کی سعادت کی طرف رہنمائی کرے۔ ایک جگہ امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
إَيُّهَا النَّاسُ إِنَ لِي عَلَيكُمْ حَقّاً وَ لَكُمْ عَلَيَّ حَقٌّ فَإَمَّا حَقُّكُمْ عَلَيَّ: 1- فَالنَّصِيحَةُ لَكُمْ 2-وَ تَوْفِيرُ فَيئِكُمْ عَلَيكُمْ 3- وَ تَعْلِيمُكُمْ كَيلَا تَجْهَلُوا 4- وَ تَإدِيبُكُمْ كَيمَا تَعْلَمُوا
وَ إَمَّا حَقِّي عَلَيكُمْ 1- فَالْوَفَاءُ بِالْبَيعَةِ2- وَ النَّصِيحَةُ فِي الْمَشْهَدِ وَ الْمَغِيبِ 3- وَ الْإِجَابَةُ حِينَ إَدْعُوكُمْ 4- وَ الطَّاعَةُ حِينَ آمُرُكُم
اے لوگو! ایک تو میرا تم پر حق ہے اور ایک تمہارا مجھ پر حق ہے کہ 1- میں تمہاری خیر خواہی کو پیش نظر رکھوں2- اور بیت المال سے تمہیں پورا پورا حصہ دوں، 3- تمہیں تعلیم دوں تاکہ تم جاہل نہ رہو4- اور اس طرح تمہیں تہذیب سکھاؤں جس پر تم عمل کرو ۔
اور میرا تم پر یہ حق ہے کہ 1- بیعت کی ذمہ داریوں کو پوا کرو2- اور سامنے اور پس پشت خیر خواہی کرو۔ 3- جب بلاؤں تو میری صدا پر لبیک کہو،4- اور جب کوئی حکم دوں تو اس کی تعمیل کرو۔(18)
---------------
(18)- ترجمہ مفتی جعفر ص 158 خ 34
ہر چیز سے پہلے جس کی اہمیت زیادہ ہے وہ لوگوں کا امام کے اوامر و نواہی کی اطاعت کرنا ہے۔ اسی اطاعت کے چھاؤں میں سماج میں نظم و نسق برقرار رہے گا، معاشرہ دشمنوں کی کھلے اور چھپے حملوں سے محفوظ رہے گا۔ فرمان امام علیہ السلام کے آخری دونوں جملے اسی مطلب کو بیان کر رہے ہیں۔ یہی بے چون و چرا اطاعت معاشرے کو ہمیشہ زندہ رکھے گی۔ معاشرے کی نشو ونما کرے گا۔ اور یہی اطاعت معاشرے کو دشمنوں کی شر سے محفوظ رکھنے کی ضامن ہے۔اسی اطاعت کے سائے میں دشمنوں کے منحوس عزائم سے پردہ اٹھ جائے گا اور ان کے نقشوں کا شکست فاش ہوگا۔
دوسری جانب اس اطاعت اور پیروی ہی کی برکت سے معاشرہ ترقی کرے گا۔ لوگوں کے لیے ترقی کی راہیں کھل جائیں گی۔ علمی چوٹیاں سر ہوں گی۔ انسانوں کا تزکیہ بھی اسی اطاعت کے اندر ہے؛ وہی تزکیہ جس کے انجام دہی پر انبیاء علیہم السلام مامور تھے اور اہداف نبوت و رسالت میں سے ایک یہی تھا:
﴿هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولاً مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَ يُزَكِّيهِمْ وَ يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَ الْحِكْمَةَ﴾
وہی ہے جس نے ناخواندہ لوگوں میں انہی میں سے ایک رسول بھیجا جو انہیں اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور انہیں پاکیزہ کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔(21)
واضح ہے کہ تعلیم او رتزکیہ اہداف رسالت میں سے دو اہم ہدف ہیں کہ جو آیت میں صراحت کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ امام علی علیہ السلام کا وہ فرمان جس میں آپ امام کے اوپر لوگوں کے حقوق کو بیان فرما رہے ہیں ٹھیک اسی نکتہ کی طرف اشارہ ہو رہا ہے کہ لوگوں کو تعلیم سکھانے اور ان کی تربیت کرنے کے علاوہ تزکیہ بھی امام پر ضروری ہے۔
--------------
(21)- سورہ جمعہ : 2
اس بنا پر امام اور رہبر کی اطاعت کرنا حقیقت میں ان دو اہم اہداف کی حفاظت کرنا ہے:
الامامة نظاما للامة و الطاعة تعظيما للامامة
امامت امت کا نظام درست رکھنے کے لیے ہے اور اطاعت کو امامت کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لیے ہے۔(22)
ان تمام باتوں سے ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ کسی معاشرے کے لیے امام اور رہبرکا ہونا دین اسلام کی ضروریات میں سے ہے۔ اس اہم منصب میں کسی قسم کا شبہہ ایجاد کرنامعاشرے کو تباہی اور بربادی کی کھائی میں دھکیل دینے کا سبب بن سکتا ہے؛ لہذا رہبر کو طاقتور بنانا ہر ایک کی ذمہ داری ہے اوربغیر چون و چرا رہبر اور امام کی اطاعت کے بغیر یہ ہدف حاصل نہیں ہو گا۔ اگر معاشرے اس اہم ذمہ داری کو نبھانے میں ناکام رہا تو تباہی کی کنویں میں گر نا یقینی ہے جیسا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رحلت کے بعد اسلامی معاشرہ اس مشکل میں پھنس گیا ۔ اسلامی معاشرہ ایسی بیماری میں مبتلا ہو گیا جس کا علاج سالوں بعد بھی ممکن نہ ہو سکا۔
2- اختلاف اور انتشار کا شکار ہونا
اختلاف و انتشار حکومتوں کی بربادی کا ایک اہم سبب ہے۔ اگر لوگوں کے دل کسی بھی سیاسی اور پارٹی رجحان کے با وجود ایک ہو جائیں، زبان پر ایک ہی نعرہ رہے، سب کے ہاتھ ایک ہی مقصد کے لیے اٹھیں ، تو وہاں یہ توقع رکھی جا سکتی ہے کہ بنیادی پیشرفت ہوگی اور حکومتی نظام کو بدلا جا سکے گا۔
------------
(22)- حلوانی، حسین بن محمد بن حسن بن نصر، نزہة الناظر و تنبیہ الخاطر ص46
اسلام ابتداء ہی سے مسلمانوں کو متحد کرنے کی کوشش کرتا چلا آیا ہے۔قرآن کریم میں خدا فرماتا ہے:
﴿وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِاللَّهِ جَمِيعاً وَ لاَ تَفَرَّقُو وَ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَاناً وَ كُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ﴾ (23)
اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ نہ ڈالو اور تم اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے تو اللہ نے تمہارے دلوں میں الفت ڈالی اور اس کی نعمت سے تم آپس میں بھائی بھائی بن گئے اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ گئے تھے کہ اللہ نے تمہیں اس سے بچا لیا، اس طرح اللہ اپنی آیات کھول کر تمہارے لیے بیان کرتا ہے تاکہ تم ہدایت حاصل کرو۔(24)
-------------
(23)- سورہ آل عمران : 103
(24)- شیخ محسن علی نجفی فرماتے ہیں : جب یہ حکم آتا ہے کہ سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو تو فوراً ذہنوں میں ایک خطرے کا احساس ہوتا ہے کہ کوئی سیلاب آنے والا ہے، غرق ہونے کا خطرہ ہے، کوئی طوفان آنے والا ہے کہ اس امت کی کشتی کا شیرازہ بکھرنے والا ہے، کوئی آندھی آنے والی ہے جو اس انجمن کو منتشر کر دے۔ اللہ کی رسی کو تھام لو،وَّلَا تَفَرَّقُوْا سے پتہ چلا کہ فرقہ پرستی کس قسم کا سیلاب ہے، کس قدر خطرناک طوفان اور کتنی مہلک آندھی ہے۔ چنانچہ رسولِ اسلامؐ کے بعد سے آج تک ہم یہی دیکھ رہے ہیں کہ اپنے مسلک سے ذرا اختلاف رکھنے والوں کو کافر قرار دے دیا جاتا ہے۔ دین سے زیادہ انہیں مسلک عزیز ہے اور دوسروں کو زیر کرنے کی خاطر اپنے دین تک سے ہاتھ دھونے کے لیے آمادہ ہو جاتے ہیں۔
خدا نے سختی کے ساتھ اختلاف اور انتشار سے منع کیا ہے:
﴿وَ لاَ تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَ اخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ وَ إُولئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ﴾
اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہونا جو واضح دلائل آجانے کے بعد بٹ گئے اور اختلاف کا شکار ہوئے اور ایسے لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہو گا ۔(25)
قرآن کریم اتحاد ، اتفاق اور دلوں کے ایک ہونے کو کامیابی اور سعادت کی کنجی کے طور پر بیان کر رہا ہے:
﴿يَا إَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَ صَابِرُوا وَ رَابِطُوا وَ اتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾
اے ایمان والو!صبرسے کام لو استقامت کا مظاہرہ کرو، مورچہ بند رہو اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم کامیابی حاصل کر سکو۔ (26 و 27)
----------------
(25)- سورہ آل عمران : 105
(26)- سورہ آل عمران : 200
(27)- شیخ محسن نجفی فرماتے ہیں: صبر و تحمل ہر تحریک کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے، لیکن امت مسلمہ نے ایک جامع نظام حیات کی تحریک چلانی ہے۔ یہ راستہ خون کی ندیوں، مخالف آندھیوں، مصائب کے پہاڑوں اور دوستوں کی لاشوں پر سے گزرتا ہے۔ ساتھ دینے والوں کی قلت، دشمنوں کی کثرت، قریبیوں کی بے وفائی اور دشمنوں کی چالاکی، ساتھیوں کی سہل انگاری اور مدمقابل کی نیرنگی جیسے کٹھن مراحل طے کرنا پڑتے ہیں، لہٰذا اس کے اراکین کے صبر و تحمل کا دائرہ بھی جامع اور وسیع ہونا چاہیے۔ اللہ کی نافرمانی سے بچنے کے لیے بھی صبر درکار ہے۔ بھوک اور ناداری میں بھی مال حرام سے اجتناب، غیظ و غضب، جذبۂ انتقام اور قوت کے باوجود تجاوز اور ظلم سے پرہیز اور دیگر ہر قسم کی خواہشات کا مقابلہ بھی صبر و تحمل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اطاعت و فرمانبرداری کی بنیاد بھی صبر ہے۔جب تک صبر و حوصلہ نہ ہو اطاعت رب کا بوجھ اٹھانا ممکن نہ ہو گا۔
اختلاف، انتشار، فرقہ واریت، پارٹی بازی، دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف دشمنی اور کینہ توزی مومنوں کی طاقت کو نابود کرنے والی ہیں؛ اسی لیے مومنین کو سفارش کی جارہی ہے کہ اسلام کے پرچم تلے جمع ہو جائیں، خدا اور اس کے رسول کے اوامر کو بے چون چرا مان لیں:
﴿وَ إَطِيعُوا اللَّهَ وَ رَسُولَهُ وَ لاَ تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَ تَذْهَبَ رِيحُكُمْ وَ اصْبِرُوا إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾
اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور آپس میں نزاع نہ کرو ورنہ ناکام رہو گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر سے کام لو، بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔(28 و 29)
امام علی علیہ السلام کوفہ والوں کی شکست کے اسباب میں سے ایک سبب ان کے درمیان اختلاف، پارٹی بازی،فرقہ واریت اور انتشار کو قرار دے رہے ہیں:
---------------
(28)- سورہ انفال : 46
(29)- اطاعت اور تعمیل حکم۔ دوسرے لفظوں میں تنظیم اور ڈسپلن کو جنگی حکمت عملی میں سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہے جیساکہ تمام عسکری قوانین میں اس بات کو اولیت دی جاتی ہے۔ باہمی نزاع سے احتراز کرنا۔ اگرچہ ہر معاشرے کو اتحاد کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے تاہم اس کی ضرورت جنگ میں زیادہ ہوتی ہے ۔ باہمی نزاع اطاعت اور قیادت کے فقدان کی صورت میں رونما ہوتا ہے۔ (بلاغ القرآن - شیخ محسن علی نجفی)
إَلَا وَ إِنَّكُمْ قَدْ نَفَضْتُمْ إَيدِيَكُمْ مِنْ حَبْلِ الطَّاعَةِ وَ ثَلَمْتُمْ حِصْنَ اللَّهِ الْمَضْرُوبَ عَلَيكُمْ بِإَحْكَامِ الْجَاهِلِيَّةِ فَإِنَّ اللَّهَ سُبْحَانَهُ قَدِ امْتَنَ عَلَى جَمَاعَةِ هَذِهِ الْإُمَّةِ فِيمَا عَقَدَ بَينَهُمْ مِنْ حَبْلِ هَذِهِ الْإُلْفَةِ الَّتِي يَنْتَقِلُونَ فِي ظِلِّهَا وَ يَإوُونَ إِلَى كَنَفِهَا بِنِعْمَةٍ لَا يَعْرِفُ إَحَدٌ مِنَ الْمَخْلُوقِينَ لَهَا قِيمَةً لِإَنَّهَا إَرْجَحُ مِنْ كُلِّ ثَمَنٍ وَ إَجَلُّ مِنْ كُلِّ خَطَرٍ وَ اعْلَمُوا إَنَّكُمْ صِرْتُمْ بَعْدَ الْهِجْرَةِ إَعْرَاباً وَ بَعْدَ الْمُوَالاةِ إَحْزَابا مَا تَتَعَلَّقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا بِاسْمِهِ وَ لَا تَعْرِفُونَ مِنَ الْإِيمَانِ إِلَّا رَسْمَه
دیکھو تم نے اطاعت کے بندھنوں سے اپنے ہاتھوں کو چھڑا لیا اور زمانہ جاہلیت کے طور و طریقوں سے اپنے گرچ گچھے ہوئے حصار میں رخنہ ڈال دیا۔ خدا وند عالم نے اس امت کے لوگوں پر اس نعمت بے بہا کے ذریعہ سے لطف و احسان فرمایا کہ جس کی قدر و قیمت کو مخلوقات میں سے کوئی نہیں پہچانتا؛ کیونکہ وہ ہر (ٹھہرائی ہوئی) قیمت سے گراں تر اور ہر شرف و بلندی دے بالا تر ہے۔ اور وہ یہ کہ ان کے درمیان انس و یکجہتی کا رابطہ (اسلام) قائم کیا کہ جس کے سایہ میں وہ منزل کرتے ہیں او رجس کے کنار (عاطفیت) میں پناہ لیتے ہیں۔ یہ جانے رہو کہ تم (جہالت و نادانی) کو خیر باد کہہ دینے کے بعد پھر صحرائی بدو اور باہمی دوستی کے بعد پھر مختلف گروہوں میں بٹ گئے ہو۔ اسلام سے تمہارا واسطہ نام کو رہ گیا ہے اور ایمان سے چند ظاہری لکیروں کے علاوہ تمہیں کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ (30)
--------------
(30)- ترجمہ مفتی جعفر ص 466 خ 190 خطبہ قاصعہ۔
امام علیہ السلام نے اپنے اس نورانی کلام میں امت مسلمہ اور کوفہ والوں کی انحراف اور نابودی کے بعض اسباب و عوامل کی طرف اشارہ فرمایا:
1. امام اور رہبر کی اطاعت نہ کرنا۔
2. جاہلیت کے طور طریقوں کو زندہ کرنا اور اسلامی اقدار کو پامال کرنا۔
3. برادری اور یکجہتی کی نعمت کو کھو دینا۔
4. پارٹی بازی اور فرقہ واریت کو فروغ دینا۔
5. اسلام کے اقدار کو نابود کر کےصرف نام کو باقی رکھنا۔
ان علتوں میں ہر ایک زنجیر کی طرح ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ تعجب کا مقام وہ ہے جہاں اہل حق اپنے حق اور حقانیت کی دفاع میں انتشار اور اختلاف کے شکار ہیں جبکہ باطل والے اپنے باطل کی حمایت میں متحد ہیں۔یہ غم بہت ہی دردناک ہے کہ حضرت علی علیہ السلام کے زبان سے کئی مرتبہ لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے سنا گیا ہے:
فَيَا عَجَباً عَجَباً وَ اللَّهِ يُمِيتُ الْقَلْبَ وَ يَجْلِبُ الْهَمَّ مِنَ اجْتِمَاعِ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ عَلَى بَاطِلِهِمْ وَ تَفَرُّقِكُمْ عَنْ حَقِّكُمْ فَقُبْحاً لَكُمْ وَ تَرَحاً حِينَ صِرْتُمْ غَرَضاً يُرْمَى يُغَارُ
العجب ثم العجب خدا کی قسم ان لوگوں کا باطل پر ایکا کر لینا اور تمہارے جمعیت کا حق سے منتشر ہوجانا دل کو مردہ کر دیتا ہے اور رنج و اندوہ بڑھا دیتا ہے تم تو تیروں کا از خود نشانہ بنے ہوئے ہو۔
بسر بن ارطات کے یمن پر غلبہ پانے کی خبریں سننے کے بعد آپ نے پھر ارشاد فرمایا کہ : میں جانتا تھا کہ شامی تم پر غالب آئیں گے؛ کیونکہ وہ اپنے باطل کی حمایت پر متحد ہیں جبکہ تم اپنے حق کی دفاع میں اختلاف او رانتشار کا شکار ہو۔(31)
------------
(31)- ترجمہ مفتی خ 25
اس بنا پر کامیابی اور فتح کی علت لوگوں کا کم یا زیادہ ہونا نہیں ہے بلکہ مقصد اور ہدف کے راہ میں یکجہت اور متحد ہونا ہے۔ امام ایک جگہ فرماتے ہیں:
وَ الْعَرَبُ الْيَوْمَ وَ إِنْ كَانُوا قَلِيلًا فَهُمْ كَثِيرُونَ بِالْإِسْلَامِ عَزِيزُونَ بِالاجْتِمَاعِ فَكُنْ قُطْباً وَ اسْتَدِرِ الرَّحَى بِالْعَرَب وَ إَصْلِهِمْ دُونَكَ نَارَ الْحَرْب
آج عرب والے اگر چہ گنتی میں کم ہیں مگر اسلام کی وجہ سے وہ بہت ہیں ا وراتحاد باہمی کے سبب سے (فتح و) غلبہ پانے والے ہیں تم اپنے مقام کھونٹی کی طرح جمے رہو اور عرف کا نظم و نسق بر قرار رکھو اور ان ہی کو جنگ کی آگ کا مقابلہ کرنے دو۔(32)
خدا نے ایمان کی وجہ سے مسلمانوں کے دلوں کو ایک دوسرے سے نزدیک کر دیاجو کسی کی بس کی بات نہیں تھی اپنے رسول سے فرما رہا ہے:
﴿وَ إَلَّفَ بَينَ قُلُوبِهِمْ لَوْ إَنْفَقْتَ مَا فِي الْإَرْضِ جَمِيعاً مَا إَلَّفْتَ بَينَ قُلُوبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللَّهَ إَلَّفَ بَينَهُمْ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ﴾
اور اللہ نے ان کے دلوں میں الفت پیدا کی ہے، اگر آپ روئے زمین کی ساری دولت خرچ کرتے تو بھی ان کے دلوں میں الفت پیدا نہیں کر سکتے تھے لیکن اللہ نے ان (کے دلوں) کو جوڑ دیا، یقینا اللہ بڑا غالب آنے والا، حکمت والا ہے۔ (33)
--------------------
(32)- ترجمہ مفتی جعفر ص 340 خ 144
(33)- سورہ مبارکہ انفال : 63
اتحاد و یکجہتی ایک ایسی عظیم نعمت ہے جسے اللہ نے مسلمانوں کو عطا کیا ہے، اور مسلمانوں کو بھی چاہیئے کہ اس نعمت کی قدر کریں اور کسی بھی قیمت پر اسے ہاتھ سے جانے نہ دیں:
﴿لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَإَزِيدَنَّكُمْ وَ لَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ﴾
اگر تم شکر کرو تو میں تمہیں ضرور زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو تو میرا عذاب یقینا سخت ہے۔ (34 و 35)
3- دنیا داری
دنیا اور اس کی تجلیات و تجملات کی طرف رخ کرنا، دولت جمع کرنا ان عوامل و اسباب میں سےایک ہے جو کسی بھی حکومت کی نابودی اور مٹ جانے کا سبب بنتا ہے۔ دنیا پرستی یا سیکولرازم دو قسم کے بنیادی اور کلیدی افراد کے پاس پائی جاتی ہے:
الف : کمیونٹی رہنماؤں اور سیاستدانوں کی دنیا طلبی
اگر معاشرے کے رہنما او رحکمراں طبقہ دنیا پرستی میں مبتلا ہوگئے تو سماج میں رہنے والے اور رہنما کے درمیان ایک خلیج ایجاد ہو جائے گا؛ اس وقت معاشرے کے کمزور طبقہ ان کو اپنے سے الگ سمجھیں گے اور اس کی حمایت اور مدد سے ہاتھ اٹھا لیں گے، دوسری طرف سے یہ منحوس صفت ایسے لوگوں کو وجود میں لائے گی جو کبھی بھی معاشرے کے کمزور طبقہ کی مصیبت اور درد کو نہیں سمجھیں گے۔
---------------
(34)- سورہ مبارکہ ابراہیم : 7
(35)- شکر کی صورت میں زیادہ کے وعدے کو تاکیدی لفظوں لام اور نون تاکید کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ اس سے یہ بات مترشح ہوتی ہے کہ شکر کی صورت میں اضافہ و فراوانی اللہ کا ایک لازمی قانون ہے، جو خود اپنی جگہ ایک رحمت ہے۔ جبکہ نا شکری کی صورت میں عذاب کے لیے تاکیدی الفاظ اختیار نہیں فرمائے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کفرانِ نعمت کی صورت میں عذاب ایک لازمی قانون نہیں ہے اور یہاں عفو کے لیے گنجائش ہے۔ اسی لیےلَاَزِيْدَنَّكُمْ فرمایا،لاعذبنکم نہیں فرمایا۔ نعمتوں پر شکر کرنا ایک صحیح طرز فکر، متوازن سوچ اور اعلیٰ قدروں کا مالک ہونے کی دلیل ہے۔ ایسے لوگ نعمتوں کی قدر دانی کرتے ہیں۔ شیخ محسن علی نجفی؛ بلاغ القرآن۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، حضرت علیہ السلام اور باقی ائمہ علیہم السلام کا دنیا داری سے بچ کر غریبوں مسکینوں اور فقیروں کے ساتھ رہنا تنگدستی اور پیسہ نہ ملنے کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ کمزور اور ناتوان لوگوں کی مصائب کو سمجھنے کے لیے تھا۔ قرآن کریم کبھی کسی قوم کے لالچی حکمران کو "ملاء " کہ کر خطاب کر رہا ہے اور انہیں طغیان گری اور کفر و نفاق کا ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے:
﴿و قَالَ الْمَلَإُ مِنْ قَوْمِهِ الَّذِينَ كَفَرُوا وَ كَذَّبُوا بِلِقَاءِ الْآخِرَةِ وَ إَتْرَفْنَاهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا مَا هٰذَا إِلاَّ بَشَرٌ مِثْلُكُمْ يَإكُلُ مِمَّا تَإكُلُونَ مِنْهُ وَ يَشْرَبُ مِمَّا تَشْرَبُونَ﴾
اور ان کی قوم کے کافر سرداروں نے جو آخرت کی ملاقات کی تکذیب کرتے تھے اور جنہیں ہم نے دنیاوی زندگی میں آسائش فراہم کررکھی تھی کہا : یہ تو بس تم جیسا بشر ہے، وہی کھاتا ہے جو تم کھاتے ہو اور وہی پیتا ہے جو تم پیتے ہو۔(36)
حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ کے حضور فریاد کر رہے ہیں:
﴿ رَبَّنَا إِنَّكَ آتَيتَ فِرْعَوْنَ وَ مَلَإَهُ زِينَةً وَ إَمْوَالاً فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا رَبَّنَا لِيُضِلُّوا عَنْ سَبِيلِكَ رَبَّنَا اطْمِسْ عَلَى إَمْوَالِهِمْ وَ اشْدُدْ عَلَى قُلُوبِهِمْ فَلاَ يُؤْمِنُوا حَتَّى يَرَوُا الْعَذَابَ الْإَلِيمَ﴾
اے ہمارے پروردگار! تو نے فرعون اور اس کے درباریوں کو دنیاوی زندگی میں زینت بخشی اور دولت سے نوازا ہے پروردگارا! کیا یہ اس لیے ہے کہ یہ لوگ (دوسروں کو ) تیری راہ سے بھٹکائیں؟ پروردگارا ان کی دولت کو برباد کر دے اور ان کے دلوں کو سخت کر دے تاکہ یہ لوگ دردناک عذاب کا سامنا کرنے تک ایمان نہ لائیں۔ (37)
---------------
(36)- سورہ مومنون : 33
(37)- سورہ مبارکہ یونس :88
دوسرا لفظ جسے قرآن نے دنیا پرست رہنماؤں کے لیے استعمال کیا وہ "مترف یعنی عیاش" اور اس کے دیگر مشتقات ہیں۔ جیسے :سورہ سبأ آیت 34 اور 35 میں ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَ مَا إَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِنْ نَذِيرٍ إِلاَّ قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا بِمَا إُرْسِلْتُمْ بِهِ كَافِرُونَ وَ قَالُوا نَحْنُ إَكثَرُ إَمْوَالاً وَ إَوْلاَداً وَ مَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ﴾
اور ہم نے کسی بستی کی طرف کسی تنبیہ کرنے والے کو نہیں بھیجا مگریہ کہ وہاں کے مراعات یافتہ لوگ کہتے تھے: جو پیغام تم لے کر آئے ہو ہم اسے نہیں مانتے۔ اور کہتے تھے: ہم اموال اور اولاد میں بڑھ کر ہیں ہم پر عذاب نہیں ہو گا۔
اسی طرح سورہ اسراء آیت نمبر 16 میں خدا ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَ إِذَا إَرَدْنَا إَنْ نُهلِكَ قَرْيَةً إَمَرْنَا مُتْرَفِيهَا فَفَسَقُوا فِيهَا فَحَقَّ عَلَيهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنَاهَا تَدْمِيراً﴾
اور جب ہم کسی بستی کو ہلاکت میں ڈالنا چاہتے ہیں تو اس کے عیش پرستوں کو حکم دیتے ہیں تو وہ اس بستی میں فسق و فجور کا ارتکاب کرتے ہیں، تب اس بستی پر فیصلہ عذاب لازم ہو جاتا ہے پھر ہم اسے پوری طرح تباہ کر دیتے ہیں۔(38)
امام علی علیہ السلام بھی اپنے گورنروں اور والیوں سمیت تمام کارکنوں کو عیاشی، دنیا پرستی، سیکولرازم اور اشرافیت سے نہی فرماتے تھے، اور ان کاموں میں ہمیشہ ان کے اوپر نگراں رہتے تھے ۔ اپنے کسی والی -عثمان بن حنیف - کے نام خط میں لکھتے ہیں :
----------------
(38)- شیخ محسن علی نجفی فرماتے ہیں: قرآن کے مطابق ہر قوم کی تباہی اس کے مراعات یافتہ طبقہ مترفین کی طرف سے آتی ہے، وہ تمام تر وسائل اور سہولیات کو اپنا حق تصور کرتے ہیں اور محروم طبقہ کے حقوق کو پامال کرتے ہیں۔ یہاں سے بقائے باہمی کا توازن بگڑ جاتا ہے اور قومیں ہلاکت کا شکار ہو تی ہیں۔
إَمَّا بَعْدُ يَا ابْنَ حُنَيفٍ فَقَدْ بَلَغَنِي إَنَ رَجُلًا مِنْ فِتْيَةِ إَهلِ الْبَصْرَةِ دَعَاكَ إِلَى مَإدُبَةٍ فَإَسْرَعْتَ إِلَيهَا تُسْتَطَابُ لَكَ الْإَلْوَانُ وَ تُنْقَلُ إِلَيكَ الْجِفَانُوَ مَا ظَنَنْتُ إَنَّكَ تُجِيبُ إِلَى طَعَامِ قَوْمٍ عَائِلُهُمْ مَجْفُوٌّ وَ غَنِيُّهُمْ مَدْعُوٌّ فَانْظُرْ إِلَى مَا تَقْضَمُهُ مِنْ هَذَا الْمَقْضَم فَمَا اشْتَبَهَ عَلَيكَ عِلْمُهُ فَالْفِظْهُ وَ مَا إَيقَنْتَ بِطِيبِ وُجُوهِهِ فَنَلْ مِنْه
اے ابن حنیف! مجھے یہ اطلاع ملی ہے بصرہ کے جوانوں میں سے ایک شخص نے تمہیں کھانے پر بلایا اور تم لپک کر پہنچ گئے کہ رنگا رنگ کے عمدہ عمدہ کھانے تمہارے لیے چن چن کر لائے جا رہے تھے اور بڑے بڑے پیالے تمہاری طرف بڑھائے جا رہے تھے۔ مجھے امید نہ تھی کہ تم ان لوگوں کی دعوت قبول کر لو گے کہ جن کے یہاں سے فقیر و نادار دھتکارے گئے ہوں اور دولت مند مدعو ہوں۔ جو لقمے چباتے ہو انہیں دیکھ لیا کرو، اور جس کے متعلق شبہ بھی اسے چھوڑدیا کرو اور جس کے پاک و پاکیزہ طریق سے حاصل ہونے کا یقین ہو اس میں سے کھاؤ۔(39)
اس کے بعد امام علیہ السلام اپنی پاک سیرت کو بیان کرتے ہیں اور فرماتے ہیں:
تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ ہر مقتدی کا ایک پیشوا ہوتا ہے جس کی وہ پیروی کرتا ہے، اور جس کے نور علم سے کسب ضیاء کرتا ہے۔ دیکھو تمہارے امام کی حالت تو یہ ہے کہ اس دنیا کے ساز و سامان میں سے دو پھٹی پرانی چادروں اور کھانے میں سے دو روٹیوں پر قناعت کر لی ہے۔ میں جانتا ہوں کہ تمہارے بس کی یہ بات نہیں۔ لیکن اتنا تو کرو کہ پرہیز گاری سعی و کوشش، پاکدامنی اور سلامت روی میں میرا ساتھ دو۔ خدا کی قسم میں نے تمہاری دنیا سے سونا سمیٹ کر نہیں رکھا او رنہ اس کی مال و متاع میںسے انبارجمع کر رکھے ہیں، اور نہ ان کپڑوں کے بدلے میں (جو پہنے ہوئے ہوں) اور کوئی پرانا کپڑا میں نے مہیا کیا ہے۔(40)
--------------
(39)- ترجمہ مفتی جعفر ص 361 مکتوب 45
(40)- ایضا ص 362
اس کے بعد امام فرماتے ہیں:
اگر میں چاہتا تو صاف ستھرے شہد، عمدہ گیہوں اور ریشم کے بنے ہوئے کپڑوں کے لیے ذرائع مہیا کر سکتا تھا لیکن ایسا کہاں ہوسکتا ہے کہ خواہشیں مجھے مغلوب بنالیں، اور حرص مجھےاچھے اچھے کھانوں کے چن لینے کی دعوت دے جبکہ حجاز و یمامہ میں شاید ایسے لوگ ہوں کہ جنہیں ایک روٹی کے ملنے کی بھی آس نہ ہو، اور انہیں پیٹ بھر کر کھانا کبھی نصیب نہ ہوا ہو۔ کیا میں شکم سیر ہو کر پڑا رہا ہوں؟ در آنحالیکہ میرے گرد و پیش بھوک اور پیا سے جگر تڑپتے ہوں یا میں ویسا ہو جاؤن جیسے کہنے والے نے کہا کہ تمہاری بیماری یہ کیا کم ہے کہ تم پیٹ بھر کر لمبی تان لو اور تمہارے گرد کچھ ایسے جگر ہوں جو سوکھے چمڑے کو ترس رہے ہوں، کیا میں اسی میں مگن رہوں کہ مجھے امیر المومنین کہا جاتا ہے مگر میں زمانہ کی سختیوں میں مومنوں کا شریک و ہمدم اور زندگی کے بد مزگیوں میں ان کے لیے نمونہ نہ بنوں! میں اس لیے پیدا نہیں ہوا ہوں کہ اچھے اچھے کھانوں کی فکر میں لگا رہوں۔ اس بندھے ہوئے مغلوب چوپایہ کی طرح جسے صرف پنے چارے ہی کی فکر لگی رہتی ہے یا اس کھلے ہوئے جانور کی طرح جس کا کام منہ مارنا ہوتا ہے، وہ گھاس سے پیٹ بھر لیتا ہے اور جو اس سے مقصد پیش نظر ہوتا ہے اس سے غافل رہتا ہے کیا میں بے قید و بند چھوڑ دیا گیا ہوں؟ یا بیکار کھلے بندوں رہا کر دیا گیا ہوں کہ کمراہی کی رسیوں کو کھینچتا رہوں اور بھٹکے جگہوں میں منہ اٹھائے پھرتا رہوں؟(41)
------------------
(41)- ایضا ص 363
امام علیہ السلام کے اس نورانی کلام میں غور و فکر کرنا اسلامی معاشرے کے حکمرانوں کے لیے بہت زیادہ ضروری ہے کہ وہ اپنے مولا کی پیروی کرتے ہوئے دنیا کی زیب و زینت اور تجملات سے پرہیز کریں، ان لوگوں کی بھی فکر کریں جن کے پاس کھانے کے لیے روٹی کا ایک نوالہ بھی نہیں ہے؛ اس صورت میں حکمرانوں کی انسانی جذبہ میں طوفان آئے گا اور معاشرے کی مشکلات کو حل کرنے کی فکر میں پڑیں گے۔ اسی خط میں امام علیہ السلام دنیا کی مکر اور دھوکہ بازی کو بھی بیان کرتے ہیں اور اپنے حکمرانوں سے فرما رہے ہیں کہ ان لوگوں کے حالات پر غور و فکر کریں جوزمین کےاندر دفن ہو چکے ہیں اور اپنی دنیا کو دوسروں کے لیے چھوڑ گئے ہیں۔ اس کے بعد امام علیہ السلام دنیا داری سے دور رہنے کی سخت تاکید کرتے ہیں اور دنیا پرستوں کو وارننگ دیتے ہیں۔ ساتھ ہی دنیا میں اپنی حالت کو بھی بیان کرتے ہیں کہ کس طرح آپ ؑ نے دنیا کی مہار کو اپنے ہاتھ میں لیا نہ کہ اپنی مہار کو دنیا کے ہاتھ میں دیا۔ اور آخر میں عثمان بن حنیف کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
فَاتَّقِ اللَّهَ يَا ابْنَ حُنَيفٍ وَ لْتَكفُفْ إَقْرَاصُكَ لِيَكُونَ مِنَ النَّارِ خَلَاصُك
پس اللہ سے ڈرو اے ابن حنیف!اور اپنی روٹی کے نوالوں پر بس کرو تا کہ تو دوزخ کی آگ سے بچ سکے۔
دنیا کی زینتوں کی طرف دل لبھاناذاتی نقصانات اور برے اثرات کے علاوہ سماج میں اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ جو انسان دنیا پرست بن جائے وہ خود کو تباہ و برباد کرنے کے علاوہ معاشرہ کو بھی تباہ و بربادی کے کنویں میں دھکیل دے گا، امام علیہ السلام مالک اشتر کے عہد نامہ میں لکھتے ہیں:
فَإِنَّ الْعُمْرَانَ مُحْتَمِلٌ مَا حَمَّلْتَه وَ إِنَّمَا يُؤْتَى خَرَابُ الْإَرْضِ مِنْ إِعْوَازِ إَهلِهَا وَ إِنَّمَا يُعْوِزُ إَهلُهَا لِإِشْرَافِ إَنْفُسِ الْوُلَاةِ عَلَى الْجَمْعِ وَ سُوءِ ظَنِّهِمْ بِالْبَقَاءِ وَ قِلَّةِ انْتِفَاعِهِمْ بِالْعِبَرِ
کیونکہ ملک آباد ہے تو جیسا بوجھ اس پر لا دوگے، وہ اٹھالے گا اور زمین کی تباہی تو اس سے آتی ہے کہ کاشتکاروں کے ہاتھ تنگ ہو جائیں اور ان کی تنگ دستی اس وجہ سے ہوتی ہے کہ حکام مال و دولت کو سمیٹنے پر تل جاتے ہیں اور انہیں اپنے اقتدار کے ختم ہونے کا کھٹکا لگا رہتا ہے اور عبرتوں سے بہت کم فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔(42)
امام علیہ السلام اپنی پوری حکومت کے کے دوران دنیا کی مذمت اور آپ کے دنیا سے تعلق کے علاوہ اپنے گورنروں او رحکمرانوں کو بھی دنیا کی زینتوں او ررنگینیوں سے دور رہنے کی تاکید فرماتے تھے، اور انہیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے طرز زندگی کی یاد دہانی فرماتے تھے۔(43)
----------------
(42)- ترجمہ مفتی جعفر ص 459 مکتوب 53
(43)- ایضا ص 373 خ 159
ب: سماج میں رہنے والے عام لوگوں کی دنیا پرستی
یہ بات واضح ہے کہ صرف حکمرانوں، گورنروں اور صاحب اقتدار لوگوں کی دنیا کی طرف رغبت اور تمایل مذموم نہیں ہے بلکہ اس مشکل میں اگر امت مسلمہ بھی پڑ جائے تو بھی حکومتیں ہی نابود اور برباد ہوں گی۔
حضرت علی علیہ السلام خطبہ 131 میں لوگ اور معاشرے کی تباہی کے اسباب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وَ تَعَادَيْتُمْ فِي كَسْبِ الْأَمْوَالِ
اور مال کے کمانے پر ایک دوسرے سے دشمنی رکھتے ہو۔(44)
اگر کوئی امت دنیا پرستی میں مبتلاء ہونے کے بعد متزلزل ہو جائے اور پر معنی بلندیوں کو سر کرنے کے بجائے ذلت و پستی کے گہرائی کھائی میں گر پڑے تو آپ ع کی نظر میں وہ امت کبھی بھی فلاح و سعادت حاصل نہیں کر سکے گی:
فَإِنَّ النَّاسَ قَدْ تَغَيَّرَ كَثِيرٌ مِنْهُمْ عَنْ كَثِيرٍ مِنْ حَظِّهِمْ فَمَالُوا مَعَ الدُّنْيَا وَ نَطَقُوا بِالْهَوَى وَ إِنِّي نَزَلْتُ مِنْ هَذَا الْإَمْرِ مَنْزِلًا مُعْجِبا اجْتَمَعَ بِهِ إَقْوَامٌ إَعْجَبَتْهُمْ إَنْفُسُهُمْ وَ إَنَا إُدَاوِي مِنْهُمْ قَرْحاً إَخَافُ إَنْ يَكُونَ عَلَقاً
کتنے ہی لوگ ہیں جو آخرت کی بہت سی سعادتوں سے محروم ہو کر رہ گئے ۔ وہ دنیا کے ساتھ ہو لیے۔ خواہش نفسانی سے بولنے لگے۔ میں اس معاملے میں ایک حیرت و استعجاب کی منزل میں ہوں کہ جہان ایسے لوگ اکھٹے ہوں گے جو خود بینی، اور خود پسندی میں مبتلا ہیں۔ میں ان کے زخم کا مداوا تو کر رہا ہوں مگر ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ منجمد خون کی صورت اختیار کر کے لا علاج نہ ہوئے۔ (45)
----------------
(44)- ترجمہ مفتی جعفر ص 325 خ 131
(45)- ترجمہ مفتی جعفر ص 695 مکتوب 78۔
پس امام ع کی نظر میں دنیا پرستی ایک ایسی بیماری ہے جس کا اگر بر وقت علاج نہ ہو تو بہت ہی گہرے زخم میں تبدیل ہو سکتی ہے اس کے بعد پھر اس کا علاج ممکن نہیں ہوگا اور یہ بیماری اپنے بیمار کو مار ڈالے گی:
إَمَّا بَعْدُ فَإِنَّمَا إَهلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ إَنَّهُمْ مَنَعُوا النَّاسَ الْحَقَ فَاشْتَرَوْهُ وَ إَخَذُوهُمْ بِالْبَاطِلِ فَاقْتَدَوْه
اگلے لوگوں کو اس بات نے تباہ کیا کہ انہوں نے لوگوں کے حق روک لئے تو انہوں نے (رشوتیں دے دے کر) اسے خریدا اور انہیں باطل کا پابندبنایا، تو وہ ان کے پیچھے انہی راستوں پر چل کھڑے ہوئے۔ (46)
دنیا داری سے جنم لینے والی بیماریاں
دنیا پرستی شیطانی نقش قدم ہے کہ انسان اس پر چل کر قدم بہ قدم ہلاکت اور نا بودی کے نزدیک ہوجاتے ہیں اور انسان کو دوسرے نابود کرنے والے عوامل سے نزدیک کرتی ہے۔ ان عوامل میں سے کچھ یہ ہیں:
لوگوں کا حق نہ دینا
حرام طریقےسے دولت کمانا
لوگوں کو گمراہ کر کے انہیں باطل کی طرف لے جانا
ان تینوں بیماریوں کی ماں دنیا پرستی، زر اندوزی اور دنیا داری ہے، ایسے انسانوں کو شیطان لمحہ بہ لمحہ نابودی اور ہلاکت کی طرف لے جا تا ہے، قرآن کریم نے حلال طریقے سے کمانے کا حکم دیا ہے اور شیطانی نقش قدم چلنے کی سختی کے ساتھ ممانعت کی ہے:
---------------
(46)- ایضا ص 696 مکتوب 79
﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ كُلُوا مِمَّا فِي الْأَرْضِ حَلاَلاً طَيِّباً وَ لاَ تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ إِنَّمَا يَأْمُرُكُمْ بِالسُّوءِ وَ الْفَحْشَاءِ وَ أَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لاَ تَعْلَمُونَ﴾ (47)
لوگو ! زمین میں جو حلال اور پاکیزہ چیزیں ہیں انہیں کھاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو، یقینا وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ وہ تمہیں برائی اور بے حیائی کا ہی حکم دیتا ہے اور اس بات کا کہ تم اللہ کی طرف وہ باتیں منسوب کرو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے۔(48)
دنیا داری یک لخت انسان کو خراب نہیں کرتی ہے بلکہ آہستہ آہستہ اسے برائی کی طرف دعوت دیتی ہے اور ان برائیوں کو انجام دینے کے نتیجے میں وہ ہلاکت کی گھاٹی میں گر جاتا ہے؛ اسی لیے دنیا داری اس بھنور کی طرح ہے جس میں جنتا زیادہ پاؤں ڈالے غرق ہوتے جاتے ہیں۔ امام علی علیہ السلام ہمیشہ دنیا کی مذمت کرتے تھے اور خود کو دنیا سے دور رکھتے تھے ۔
--------------------
(47)- سورہ مبارکہ بقرہ : 168 - 169
(48)- اس آیت سے اصل حِلّیّت ثابت ہوتی ہے کہ زمین میں موجود چیزیں دو شرطوں کے ساتھ انسان کے لیے مباح ہیں۔ پہلی شرط یہ ہے کہ حلال ہوں، دوسری شرط یہ ہے کہ پاکیزہ ہوں۔ شیطان کی گمراہ کن تحریک کے دو عناصر ہیں: ایک یہ کہ انسان کو بے حیائی کے ارتکاب پر آمادہ کرتا ہے اور دوسرا یہ کہ بغیر علمی سند کے اللہ کی طرف باتیں منسوب کرے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے:إیّاک و خصلتین ففیهما هلک من هلک : ان تفتی برأیک و تدین بما لا تعلم (وسائل الشیعہ27:21)۔دو باتوں سے اجتناب کیا کرو، ان دو باتوں کی وجہ سے لو گ ہلاکت میں پڑتے رہے ہیں: اپنی ذاتی رائے سے حکم نہ بتایا کرو اور جن چیزوں کا تمہیں علم نہیں ہے انہیں اپنے دین کا حصہ نہ بناؤ۔
امام علیہ السلام اور دنیا کی ستائش
ہاں امام علی علیہ السلام کے دنیا سے دور رہنے کا مطلب اس کی زینتوں اور رنگینیوں سے دور رہنا ہے کہ جس میں پڑنے سے انسان طغیان گر اور ستم گر ہو جاتا ہے دوسروں کے حقوق کو پامال کرتا ہے۔ لیکن اگر دنیا کو آخرت کے لیے مقدمہ قرار دیا جائے اور یہاں سے آخرت کے لیے ذخیرہ کیا جائے تو دنیا خدا کے اولیاء کے تجارتگاہیں ہیں۔
پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں:
الدُّنْيَا مَزْرَعَةُ الْآخِرَة (49)
دنیا آخرت کی کھتی ہے
امام علی ایک جگہ دنیا کی تعریف اور تمجید کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
إِنَّ الدُّنْيَا دَارُ صِدْقٍ لِمَنْ صَدَقَهَا وَ دَارُ عَافِيَةٍ لِمَنْ فَهِمَ عَنْهَا وَ دَارُ غِنًى لِمَنْ تَزَوَّدَ مِنْهَا وَ دَارُ مَوْعِظَةٍ لِمَنِ اتَّعَظَ بِهَا مَسْجِدُ إَحِبَّاءِ اللَّهِ وَ مُصَلَّى مَلَائِكَةِ اللَّهِ وَ مَهبِطُ وَحْيِ اللَّهِ وَ مَتْجَرُ إَوْلِيَاءِ اللَّهِ اكتَسَبُوا فِيهَا الرَّحْمَةَ وَ رَبِحُوا فِيهَا الْجَنَّةَ
یقیناً دنیا سچائی کا گھر ہے اور جو اس کی ان باتوں کو سمجھے اس کے لیے امن و عافیت کی منزل ہے اور اس سے زاد راہ حاصل کر لے ،اس کے لیے دولتمندی کی منزل ہے اور جو اس سے نصیحت حاصل کر ے ،اس کے لیے وعظ و نصیحت کا محل ہے۔وہ دوستان خدا کے لیے عبادت کی جگہ ،اللہ کے فرشتوں کے لیے نماز پڑھنے کا مقام وحی الہی کی منزل اور اولیاء اللہ کی تجارت گاہ ہے انہوں نے اس میں فضل و رحمت کا سودا کیا اور اس میں رہتے ہوئے جنت کو فائدہ میں حاصل کیا۔ (50)
---------------
(49)- ورام بن ابی فراس، مسعود بن عیسی، تنبیہ الخواطر و نزہة النواظر ج1 ؛ ص183
(50)- کلمات قصار 131
4- اقدار کا چہرہ بگاڑنا
کسی غیر اسلامی حکومت کا اسلامی حکومت میں تبدیل ہونے کی اصلی اور بنیادی وجہ اس غیر اسلامی حکومت کی خرابیاں اور اسلامی حکومت کی خوبیاں اور اقدار ہے۔جب کوئی غیر اسلامی حکومت میں لوگ اس حکومت کی خرابیوں اور غلط قوانین کو دیکھتے ہیں اور اسلامی حکومت کی خوبیوں کو بھی مشاہدی کرتے ہیں تو انقلاب اور تبدیلی کا آغاز ہو جاتا ہے، بالآخر وہ کامیاب بھی ہو جاتی ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ اسلامی اقداریں دینی حکومت کی قیام کی بنیادی علتیں ہیں اگر چہ اس کے قیام میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کے مقابلے میں مزاحمت کرنے کے بعد ہی کامیابی ممکن ہے:
﴿إِنَّ الَّذِينَ قَالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوا تَتَنَزَّلُ عَلَيهِمُ الْمَلاَئِكَةُ إَلاَّ تَخَافُوا وَ لاَ تَحْزَنُوا وَ إَبْشِرُوا بِالْجَنَّةِ الَّتِي كُنْتُمْ تُوعَدُون﴾
جو کہتے ہیں: ہمارا پروردگار اللہ ہے پھر ثابت قدم رہتے ہیں ان پر فرشتے نازل ہوتے ہیں (اور ان سے کہتے ہیں) نہ خوف کرو نہ غم کرو اور اس جنت کی خوشی مناؤ جس کا تم سے وعدہ کیا تھا۔
چنانچہ اگر کسی معاشرے میں دینی اقدار کمزور ہو گئے یا اس کی روشنی ماند پڑ جائے اور اس معاشرے میں رہنے والے لوگ اس مسئلے سے لاتعلقی کا اظہار کریں تو اس معاشرے کی نابودی ، ہلاکت اور بربادی کا انتظار کرنا چاہئے۔ اس بناء پر کسی اسلامی حکومت کی حفاظت اس کو وجود میں لانے سے زیادہ اہم اور سخت بھی ہے۔
اس سے بھی افسوس کا مقام وہاں ہے جہاں کسی حکومت کی قیام کے لیے جانوں کا نذرانہ دیا ہوں اولاد قربان کی ہو مال اور دولت خرچ کئے ہوں اور پھر اپنے ہاتھوں سے اسے تباہ و برباد کردیں۔
اس طرح کے تحولات تمام انسانوں کے ساتھ پیش آتے رہتے ہیں۔ ائمہ معصومین علیہم السلام اور خاص کر امام علی علیہ السلام کے زمانے میں آپ کے بہت سارے رفقاء ایک مدت کے بعد دشمن سے جا ملے؛ یعنی ایک مدت حضرت کی خدمت کرنے کے بعد دشمن کے صفوں میں جا پہنچیں۔
امام علی علیہ السلام اپنے بیانات میں بہت ذرہ بینی کے ساتھ اس بات کی طرف اشارہ فرماتے تھے اور انہیں نصیحت کیا کرتے تھے تاکہ بعض لوگوں کے دل گمراہی اور غفلت سے نکل آئیں اور راہ ہدایت کو پا لیں۔ ایک جگہ امام فرماتے ہیں:
عِبَادَ اللَّهِ إِنَّكُمْ وَ مَا تَإمُلُونَ مِنْ هَذِهِ الدُّنْيَا إَثْوِيَاءُ مُؤَجَّلُونَ وَ مَدِينُونَ مُقْتَضَوْنَ إَجَلٌ مَنْقُوصٌ وَ عَمَلٌ مَحْفُوظٌ فَرُبَ دَائِبٍ مُضَيَّعٌ وَ رُبَّ كَادِحٍ خَاسِرٌ وَ قَدْ إَصْبَحْتُمْ فِي زَمَنٍ لَا يَزْدَادُ الْخَيرُ فِيهِ إِلَّا إِدْبَاراً وَ لَا الشَّرُّ فِيهِ إِلَّا إِقْبَالًا وَ لَا الشَّيطَانُ فِي هَلَاكِ النَّاسِ إِلَّا طَمَعاً فَهَذَا إَوَانٌ قَوِيَتْ عُدَّتُهُ وَ عَمَّتْ مَكِيدَتُهُ وَ إَمْكَنَتْ فَرِيسَتُهُ
اللہ کے بندو! تم اور تمہاری اس دنیا سے بندھی ہوئی امیدیں مقررہ مدت کی مہمان ہیں اور ایسے قرض دار جن سے ادائیگی کا تقاضا کیا جا رہا ہے عمر ہے جو گھٹتی جا رہی ہے اور اعمال ہیں جو محفوظ ہو رہے ہیں ۔ بہت دوڑ دھوپ کرنے والے اپنی محنت اکارت کرنے والے ہیں اور بہت سے سعی و کوشش میں لگے رہنے والے گھاٹے میں جا رہے ہیں تم ایسے زمانہ میں ہو کہ جس میں بھلائی کے قدم پیچھے ہٹ رہے ہیں اور برائی آگے بڑھ رہی ہے۔ اور لوگوں کو تباہ کرنے میں شیطان کی حرص تیز ہوتی جا رہی ہے چنانچہ یہی وہ وقت ہے کہ اس کے (ہتھکنڈوں کا) سر و سامان مضبوط ہو چکا ہے اور اس کی سازشیں پھیل رہی ہیں اور اس کے شکار آسانی سے پھنس رہے رہیں۔ (51)
-----------------
(51)- ترجمہ مفتی جعفر ص 317 ۔ 318 خ 131
اس کے بعد امام ع معاشرے کی ستم ظریفی کی طرف اشارہ فرماتے ہیں معاشرے میں کیا کیا گزر رہے ہیں آپ اسی خطبہ میں ارشاد فرماتے ہیں:
جدھر چاہو لوگوں پر نگاہ دوڑاؤ تم یہی دیکھو گے کہ ایک طرف کوئی فقیر فقر و فاقہ جھیل رہا ہے اور دوسری طرف دولت مند نعمتوں کو کفران نعمت سے بدل رہا ہےاور کوئی بخیل اللہ کے حق کو دبا کر مال بڑھا رہا ہے اور کوئی سرکش پند و نصیحت سے کان بند کئے پڑا ہے۔
اس کے بعد امام ع معاشرے کے صالح او رآزاد لوگوں کو یاد کرتے ہیں ؛ یعنی ایک طرح سے لوگوں کو متوجہ کرا رہے ہیں کہ تمہارے اندر صالح لوگ بھی تھے ۔ آپ اسی خطبے میں ایک جگہ فرماتے ہیں:
کہاں ہیں تمہارے نیک اور صالح افراد اور کہاں ہیں تمہارے عالی حوصلہ اور کریم النفس لوگ؟ کہاں ہیں کاروبار میں (دغا و فریب سے) بچنے والے اور اپنے طور طریقوں میں پاک و پاکیزہ رہنے والے لوگ؟ کیا وہ سب کے سب اس ذلیل اور زندگی کا مزا کر کرا کرنے والی تیز رو دنیا سے گزر نہیں گئےاور کیاتم اس کے بعد ایسے رذیل اور ادنی لوگوں میں نہیں رہ گئے کہ جن کے مرتبہ پست و حقیر سمجھتے ہوئے اور ان کے ذکر سے پہلو بچاتے ہوئے ہونٹ ان کی مذمت میں کھلنا گوارا نہیں کرتے
یہاں امام علیہ السلام کلمہ استرجاع زبان پہ جاری کرتے ہیں اور دور فساد کے آغاز کا ذکر کرتے ہیں:
فَ إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيهِ راجِعُونَ ظَهَرَ الْفَسَادُ فَلَا مُنْكِرٌ مُغَيِّرٌ وَ لَا زَاجِرٌ مُزْدَجِرٌ إَ فَبِهَذَا تُرِيدُونَ إَنْ تُجَاوِرُوا اللَّهَفِي دَارِ قُدْسِهِ وَ تَكُونُوا إَعَزَّ إَوْلِيَائِهِ عِنْدَهُ هَيهَاتَ لَا يُخْدَعُ اللَّهُ عَنْ جَنَّتِهِ وَ لَا تُنَالُ مَرْضَاتُهُ إِلَّا بِطَاعَتِه
پس ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ فساد ابھر آیاہے برائی کا وہ دور ایسا ہے کہ انقلاب کے کوئی آثار نہیں اور نہ کوئی روک تھام کرنے والا ہے جو خود بھی باز رہے کیا انہیں کرتوتوں سے جنت میں اللہ کے پڑوس میں بسنے اور اس کا گہرا دوست بننے کا ارادہ ہے۔ ارے توبہ! اللہ کو دھوکہ دے کر اس سے جنت نہیں لی جا سکتی اور بغیر اس کی اطاعت کے اس کی رضا مندی حاصل نہیں ہو سکتی ۔
یہاں امام علیہ السلام ان بے لوگوں پر لعنت کر رہے ہیں جو باتیں تو کرتے ہیں لیکن عمل نہیں کرتے ہیں:
لَعَنَ اللَّهُ الْآمِرِينَ بِالْمَعْرُوفِ التَّارِكِينَ لَهُ وَ النَّاهِينَ عَنِ الْمُنْكَرِ الْعَامِلِينَ بِه
خدا ان لوگوں پر لعنت کرے کہ جو اوروں کو بھلائی کاحکم دیں اور خود اسے چھوڑ بیٹھیں اور دوسروں کو بری باتوں سے روکیں اور خود ان پر عمل کرتے رہیں۔ (52)
----------------
(52)- ایضا ص 318 ۔ 319
امام علیہ السلام لوگوں کی حالات بیان کرتے ہوئے حقیقت میں کسی انسانی معاشرے کی تباہی کے اسباب و عوامل بیان فرما رہے ہیں:
وَ اعْلَمُوا رَحِمَكُمُ اللَّهُ إَنَّكُمْ فِي زَمَانٍ الْقَائِلُ فِيهِ بِالْحَقِّ قَلِيلٌ وَ اللِّسَانُ عَنِ الصِّدْقِ كَلِيلٌ وَ اللَّازِمُ لِلْحَقِّ ذَلِيلٌ إَهلُهُ مُعْتَكِفُونَ عَلَى الْعِصْيَانِ مُصْطَلِحُونَ عَلَى الْإِدْهَانِ فَتَاهُمْ عَارِمٌ وَ شَائِبُهُمْ آثِمٌ وَ عَالِمُهُمْ مُنَافِقٌ وَ [فَارِئُهُمْ] قَارِنُهُمْ مُمَاذِقٌ لَا يُعَظِّمُ صَغِيرُهُمْ كَبِيرَهُمْ وَ لَا يَعُولُ غَنِيُّهُمْ فَقِيرَهُم
جان لیں خدا تم پر رحم کرے- کہ تم ایسے دور میں ہو جس میں حق گوئی کم، زبانیں صدق بیانی سے کند اور حق والے ذلیل و خوار ہیں۔ یہ لوگ گناہ و نا فرمانی پر جمے ہوئے ہیں اور ظاہر داری و نفاق کی بناء پر ایک دوسرے سے صلح و صفائی رکھتے ہیں ان کے جوان بد خو، ان کے بوڑھے گنہگار، ان کے عالم منافق اوران کے واعظ چاپلوس ہیں ، نہ چھوٹوں بڑوں کی تعظیم کرتے ہیں اور نہ مال دار فقیر و بے نوا کی دستگیری کرتے ہیں۔(53)
مگر رحلت رسول خدا ص کے بعد سے کتنا عرصہ گزر گیا تھا کہ امت ایسی سخت بیماری میں مبتلا ہو گئی؟ کیا قرآن جیسا دستور زندگی مسلمانوں کے ہاتھوں میں نہیں تھا؟!کیا نفس رسول جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد ان کے جانشین تھے، جو حدیث ثقلین کی رو سے ثقل اصغر تھے قرآن ناطق تھے، مسلمانوں کے درمیان نہیں تھے؟!کیوں قرآن اور علی ع کے ہوتے ہوئے امت طغیان گری اور سر کشی میں مبتلا ہو گئے؟! انہوں نے علی ؑ سے پشت کیا قرآن سے منہ موڑ لیا اسلامی اقدار کو پامال کیا یہاں تک کہ دین سے کچھ بھی نہیں بچا۔
---------------
(53)- ایضا ص 547 خ 230
جب الہی دستورات اور خدائی عہد و پیمان ذاتی منافع کی خاطر پامال کی جاتی ہیں تو حکومت کے ستون ہل جاتے ہیں۔ رحمتیں اور برکتیں نازل ہونے کے بجائے عذاب اور بلائیں نازل ہوتی ہیں یہی اللہ کا انتقام ہے خدا اگر کسی سے انتقام لینا چاہتا ہے تو اس سے برکت او ررحمت کو اٹھا لیتا ہے ۔ مولا ایک جگہ اپنے اصحاب سے خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وَ قَدْ بَلَغْتُمْ مِنْ كَرَامَةِ اللَّهِ تَعَالَى لَكُمْ مَنْزِلَةً تُكرَمُ بِهَا إِمَاؤُكُمْ وَ تُوصَلُ بِهَا جِيرَانُكُمْ وَ يُعَظِّمُكُمْ مَنْ لَا فَضْلَ لَكُمْ عَلَيهِ وَ لَا يَدَ لَكُمْ عِنْدَهُ وَ يَهَابُكُمْ مَنْ لَا يَخَافُ لَكُمْ سَطْوَةً وَ لَا لَكُمْ عَلَيهِ إِمْرَةٌ وَ قَدْ تَرَوْنَ عُهُودَ اللَّهِ مَنْقُوضَةًفَلَا تَغْضَبُونَ وَ إَنْتُمْ لِنَقْضِ ذِمَمِ آبَائِكُمْ تَإنَفُونَ وَ كَانَتْ إُمُورُ اللَّهِ عَلَيكُمْ تَرِدُ وَ عَنْكُمْ تَصْدُرُ وَ إِلَيكُمْ تَرْجِعُ فَمَكَّنْتُمُ الظَّلَمَةَ مِنْ مَنْزِلَتِكُمْ وَ إَلْقَيتُمْ إِلَيهِمْ إَزِمَّتَكُمْ وَ إَسْلَمْتُمْ إُمُورَ اللَّهِ فِي إَيدِيهِمْ يَعْمَلُون بِالشُّبُهَاتِ وَ يَسِيرُونَ فِي الشَّهَوَاتِ وَ ايمُ اللَّهِ لَوْ فَرَّقُوكُمْ تَحْتَ كُلِّ كَوْكَبٍ لَجَمَعَكُمُ اللَّهُ لِشَرِّ يَوْمٍ لَهُم
تم اپنے اللہ کے لطف و کرم کی بدولت ایسے مرتبے پر پہنچ گئے کہ تمہاری کنیزیں بھی محترم سمجھی جانے لگیں اور تمہارے ہمسایوں سے بھی اچھا برتاؤ کیا جانے لگا اور وہ لوگ بھی تمہاری تعظیم کرنے لگے جن پر تمہیں نہ کوئی فضیلت تھی نہ تمہارا کوئی ان پر احسان تھا، اور وہ لوگ بھی تم سے دہشت کھانے لگے جنہیں تمہارے حملے کا کوئی اندیشہ نہ تھا، اور نہ تمہارا ان پر تسلط تھا۔ مگر اس وقت تم دیکھ رہے ہو کہ اللہ کے عہد توڑٰے جا رہے ہیں، اور تم غیظ میں نہیں آتے۔ حالانکہ اپنے آباء و اجداد کے قائم کردہ رسم و آئین کے توڑ جانے سے تمہاری رگ حمیت جنبش میں آجاتی ہے۔
حالانکہ اب تک اللہ کے معاملات تمہارے ہی سامنے پیش ہوتے رہے اور تمہارے ہی (ذریعہ سے) ان کا حل ہوتا رہا، اور تمہاری ہی طرف ہر پھر کر آتے ہیں۔ لیکن تم نے اپنی جگہ ظالموں کے حوالے کردی ہے، اور اپنی باگ دوڑ انہیں تھما دی ہے اور اللہ کے معاملات انہیں سونپ دئیے ہیں کہ وہ شبہوں پر عمل پیرا او رنفسانی خواہشوں پر گامزن ہیں۔ خدا کی قسم! اگر وہ تمہیں ہر ستارے کے نیچے بکھیر دیں تو اللہ تمہیں اس دن (ضرور) جمع کرے گا جو ان کےلئے بہت برا دن ہوگا۔(54)
ایسے لوگوں سے آس لگائے بیٹھنا شکست اور ناکامی کے علاہ کچھ نہیں ہے جنہوں نے طاقت اور مضبوطی کے بعد سستی اور کمزوری کا مظاہرہ کیا خدا کو طلب کرنے کے بجائے شہوت پرستی اور شکم پروری کو اپنا شیوہ بنا رکھا، صرف باتوں پر اکتفاء کیا میدان عمل میں کچھ بھی نہیں، ایسے لوگوں پر آس لگا ئے بیٹھنا ان پر بھروسہ رکھنا ایسے ہیں جیسے کسی کند تلوار یا ٹوٹے ہوئے تیر کے سہارے میدان جنگ میں جانا۔ اس صورت میں شکست یقینی ہے۔امام ایک جگہ فرماتے ہیں:
ذلیل آدمی ذلت آمیز زیادتیوں کی روک تھام نہیں کر سکتا اور حق تو بغیر تلاش کے نہیں ملا کرتا۔ اس گھر کے بعد اور کس امام کے ساتھ ہو کے جہاد کرو گے۔ خدا کی قسم جسے تم نے دھوکا دے دیا ہو اس کے فریب خوردہ ہونے میں کوئی شک نہیں اور جسے تم جیسے ملے ہوں تو اس کے حصے میں وہ تیر آتا ہے جو خالی ہوتا ہے اور جس نے تم (تیروں کی طرح) دشمنوں پر پھینکا ہو ، اس نے گویا ایسا تیر پھینکا ہے جس کا سوفار ٹوٹ چکا ہو اور پیکان بھی شکستہ ہو۔
--------------------
(54)- ایضا ص 269 - 270 خ 104
خدا کی قسم! میری کیفیت تو اب یہ ہے کہ نہ میں تمہاری کسی بات کی تصدیق کر سکتا ہوں اور نہ تمہاری نصرت کی مجھے آس باقی رہی ہے، اور نہ تمہاری وجہ سے دشمن کو جنگ کی دھمکی دے سکتا ہوں، تمہیں کیا ہو گیا ، تمہارا مرض کیا ہے ؟ اور اس کا چارہ کیا ؟ اس قوم (اہل شام) کے افراد بھی تمہاری ہی شکل و صورت کے مرد ہیں، کیا باتیں ہی باتیں رہیں گی؟ جانے بوجھے بغیر اور صرف غفلت اور مدہوشی ہے۔ تقوی و پرہیزگاری کے بغیر (بلندی) کی حرص ہی حرص ہے مگر بالکل ناحق۔(55)
یہ کمزور اور ناتوان لوگ (ضعفاء) فرقہ واریت، زر اندوزی، ذاتی مفادات، زر پرستی اور تعصب کے پیداوار ہیں ، ایک عرصہ کے بعد اسلامی حکومتوں اور رہنماؤں کے گلے پڑ سکتے ہیں۔
اس بنا پر اگر امت مسلمہ میں اقدار کی پامالی کی سوچ پروان چڑھنے لگا اور یہ سوچ عملی میدان میں بھی انفکشن ہوگیا تو دشمن کے لیے راستہ کھول دیتا ہےکہ وہ ان اقدار کو مٹانے کی تاک میں رہیں۔ امت مسلمہ کو خیال رکھنا چاہئے کہ ایسے حالات میں خدا بھی اس کی مدد نہیں کرے گا کیونکہ یہ خدا کی سنت ہے کہ:
﴿إِنَّ اللَّهَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيِّرُوا مَا بِإَنْفُسِهِمْ وَ إِذَا إَرَادَ اللَّهُ بِقَوْمٍ سُوْءاً فَلاَ مَرَدَّ لَهُ وَ مَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَالٍ﴾
اللہ کسی قوم کا حال یقینا اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے اور جب اللہ کسی قوم کو برے حال سے دوچار کرنے کا ارادہ کر لے تو اس کے ٹلنے کی کوئی صورت نہیں ہوتی اور نہ ہی اللہ کے سوا ان کا کوئی مددگار ہوتا ہے۔ (56 و 57)
----------------
(55)- ایضا ص 145 ، 146 خ 29
(56)- سورہ مبارکہ رعد : 11
(57)- شیخ محسن علی نجفی فرماتے ہیں:اِنَّ اللهَ لَا يُغَيِّرُ : حالات میں تغیر کی دو صورتیں ممکن ہیں: ٭اصلاح احوال کی صورت میں دوام نعمت۔ اس صورت کے بارے میں یہ آیت ایک ضابطہ قائم کرتی ہے کہ جب تک اصلاح احوال موجود ہے، اس صورت میں اللہ کوئی تبدیلی نہیں لائے گا، جب تک لوگ خود تبدیلی نہ لائیں۔ ٭فساد احوال کی صورت میں زوال نعمت۔ متعدد آیات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ظلم کا نتیجہ ہلاکت اور گناہوں کا نتیجہ ذلت و خواری ہے۔ تاہم یہ لطف خداوندی ہے کہ اس نتیجہ کو لازمی قرار نہیں دیا بلکہ بعض حالات میں در گزر فرماتا ہے:وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَّا تَرَكَ عَلَيْهَا مِنْ دَاۗبَّةٍ (نحل: 61) اگر اللہ لوگوں کا ان کے ظلم پر مؤاخذہ فرماتا تو روئے زمین پر کوئی جاندار نہ چھوڑتا۔
یہ خدا کا وعدہ ہے جو بر حق ہے خدا کی سنت کسی کے لیے بدل تو نہیں جاتی ہے گذشتہ قوموں کی تاریخ اس بات کا گواہ ہے ۔
ہم امید کرتے ہیں خدا وند عالم امت مسلمہ کو اقدار کی پامالی سے بچائے، انہیں بر وقت دشمن کو پہچاننے کی توفیق دے، ہر حال میں امت مسلمہ کی مدد فرما کر انہیں کافروں کے مقابلے میں کامیاب ہونے کی توفیق دے۔
5- راہ خدا میں جہاد سے منہ موڑنا
قرآن کریم میں جہاد کی فضیلت
قرآن کریم میں خدا وند عالم نے جگہ جگہ جہاد کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، جن اجر و ثواب کا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے لئے وعدہ کیاہے کسی اور کے لئے وعدہ نہیں کیا ہے:
﴿لاَ يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيرُ إُولِي الضَّرَرِ وَ الْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِإَمْوَالِهِمْ وَ إَنْفُسِهِمْ فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ بِإَمْوَالِهِمْ وَ إَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقَاعِدِينَ دَرَجَةً وَ كُلاًّ وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَى وَ فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ إَجْراً عَظِيماً﴾
بغیر کسی معذوری کے گھر میں بیٹھنے والے مؤمنین اور راہ خدا میں جان و مال سے جہاد کرنے والے یکساں نہیں ہو سکتے، اللہ نے بیٹھے رہنے والوں کے مقابلے میں جان و مال سے جہاد کرنے والوں کا درجہ زیادہ رکھا ہے، گو اللہ نے سب کے لیے نیک وعدہ فرمایا ہے، مگر بیٹھنے والوں کی نسبت جہاد کرنے والوں کو اجر عظیم کی فضیلت بخشی ہے۔(58 و 59)
جہاد کرنے والوں کی جانوں کا خریدار خود ذات پر وردگار ہے:
﴿إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ إَنْفُسَهُمْ وَ إَمْوَالَهُمْ بِإَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَ يُقْتَلُونَ وَعْداً عَلَيهِ حَقّاً فِي التَّوْرَاةِ وَ الْإِنْجِيلِ وَ الْقُرْآنِ وَ مَنْ إَوْفَى بِعَهدِهِ مِنَ اللَّهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ وَ ذلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ﴾
یقینا اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال جنت کے عوض خرید لیے ہیں، وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں پھر مارتے ہیں اور مارے جاتے ہیں، یہ توریت و انجیل اور قرآن میں اللہ کے ذمے پکا وعدہ ہے اور اللہ سے بڑھ کر اپنا عہدپورا کرنے والا کون ہو سکتا ہے؟ پس تم نے اللہ کے ساتھ جو سودا کیا ہے اس پرخوشی مناؤ اور یہ تو بہت بڑی کامیابی ہے۔ (60)
----------------
(58)- سورہ مبارکہ نساء : 95
(59)- شیخ محسن فرماتے ہیں: گو اللہ نے سب کے لیے نیک وعدہ فرمایا ہے۔ یہ جہاد فرض کفایہ ہونے کی صورت میں ہے کہ دشمنوں کے مقابلے کے لیے کفایت کے لڑنے والے موجود ہیں۔ اس صورت میں جہاد میں شرکت نہ کرنے والوں کا درجہ اگرچہ کم ہے تاہم ان کے لیے بھی نیک وعدہ ہے، لیکن اگر جہاد کے لیے کفایت کے لوگ موجود نہ ہوں یہ جہاد واجب عینی ہو جاتا ہے۔ اس صورت میں جہاد میں شرکت نہ کرنے والے میدان جنگ سے فرار کرنے والوں کی طرح ہیں۔ یہ لوگ اللہ کے نیک وعدوں میں شامل نہیں ہوتے۔
(60)- سورہ مبارکہ توبہ : 111
اسلام میں جہاد دفاع ہے
دین مقدس اسلام میں جہاد کا دفاعی پہلو ہے ائمہ معصومین علیہم السلام ، اسلامی حکمرانوں او ر دیگر بزرگوں کی سیرتیں ہمیشہ سے یہ رہی ہیں کہ خودجنگ کو شروع نہ کریں:
لَا تُقَاتِلُوا الْقَوْمَ حَتّى يَبْدَؤُوكُمْ،
ان کے ساتھ جنگ کریں یہاں تک وہ خود شروع نہ کریں۔(61)
ایک جگہ امام علیہ السلام جہاد کو جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ قرار دے رہے ہیں او ر جو لوگ جہاد میں جانے سے انکار کر رہے ہیں ان کے انجام کو بھی بیان فرما رہے ہیں:
إَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الْجِهَادَ بَابٌ مِنْ إَبْوَابِ الْجَنَّةِ فَتَحَهُ اللَّهُ لِخَاصَّةِ إَوْلِيَائِهِ وَ هُوَ لِبَاسُ التَّقْوَى وَ دِرْعُ اللَّهِ الْحَصِينَةُ وَ جُنَّتُهُ الْوَثِيقَةُ فَمَنْ تَرَكَهُ رَغْبَةً عَنْهُ إَلْبَسَهُ اللَّهُ ثَوْبَ الذُّلِّ وَ شَمِلَهُ الْبَلَاءُ وَ دُيِّثَ بِالصَّغَارِ وَ الْقَمَاءَةِ وَ ضُرِبَ عَلَى قَلْبِهِ بِالْإِسْهَابِ وَ إُدِيلَ الْحَقُّ مِنْهُ بِتَضْيِيعِ الْجِهَادِ وَ سِيمَ الْخَسْفَ وَ مُنِعَ النَّصَف
جہاد جنت کے دروازوں میں ایک دروازہ ہے جسے اللہ نے اپنے خاص دوستوں کے لئےکھولا ہے ۔ یہ پرہیزگاری کا لباس، اللہ کی محکم زرہ، او رمضبوط سپر ہے جو اس سے پہلو بچاتے ہوئے اسے چھوڑ دیتا ہے خدا اسے ذلت و خواری کا لباس پہنا اور مصیبت و ابتلا کی ردا اوڑھا دیتا ہے او رزلت و خواری کے ساتھ ٹھکرا دیا جاتا ہے او رجہاد کو ضائع و برباد کرنے سے حق اس کے ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ ذلت اسے سہنا پڑتا ہے او رانصاف اس سے روک لیا جاتا ہے۔ (62)
--------------
(61)- کلینی، محمد بن یعقوب بن اسحاق، الکافی (ط - دارالحدیث)، 15 ج9 ؛ ص435
(62)- ترجمہ مفتی جعفر ص 140 خ 27
جہاد میں سستی کا انجام
چنانچہ اگر مسلمانوں نے دشمنوں سے جہاد کرنے سے سرپیچی کیا اور سستی اور کمزوری کا مظاہر کیا تو اسلامی ممالک میں دشمنوں کو قدم جمانے کی جگہ ملے گی اور وہ اسلامی ممالک میں مستقر ہو جائیں گے۔ امام علیہ السلام فرماتے ہیں:
إَلَا وَ إِنِّي قَدْ دَعَوْتُكُمْ إِلَى قِتَالِ هَؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَيلًا وَ نَهَاراً وَ سِرّاً وَ إِعْلَاناً وَ قُلْتُ لَكُمُ اغْزُوهُمْ قَبْلَ إَنْ يَغْزُوكُمْ فَوَاللَّهِ مَا غُزِيَ قَوْمٌ قَطُّ فِي عُقْرِ دَارِهِمْ إِلَّا ذَلُّوا فَتَوَاكَلْتُمْ وَ تَخَاذَلْتُمْ حَتَّى شُنَّتْ عَلَيكُمُ الْغَارَاتُ وَ مُلِكَتْ عَلَيكُمُ الْإَوْطَانُ
میں نے اس قوم سے لڑنے کے لئے دن رات اور علانیہ و پوشیدہ تمہیں پکارا اور للکارا، اور تم سے کہا کہ قبل اس کے وہ جنگ کے لئے بڑھیں تم ان پر دھاوا بول دو۔ خدا کی قسم جن افراد پر ان کے گھروں کے حدود کے اندر ہی حملہ ہو جاتا ہے وہ ذلیل و خوار ہو تے ہیں۔لیکن تم نے جہاد کو دوسروں پر ٹال دیا اور ایک دوسرے کی مدد سے پہلو بچانے لگے یہاں تک کہ تم پر غارت گریاں ہوئیں اور تمہارے شہروں پر زبردستی قبضہ کر لیا گیا۔(63)
امام علیہ السلام اس خطبہ کے آخر میں امت کی سستی اور سرکشی اور جہاد کو ترک کرنے پر اس حد تک دلبرداشتہ ہو جاتے ہیں کہ انہیں بد دعا دیتے ہیں اور اپنے دل کے عقدے کو اس طرح بیان کرتے ہیں:
------------
(63)- ایضا
اے مردوں کی شکل و صورت والے نا مردو! تمہاری عقلیں بچوں کی سی ، اور تمہاری سمجھ حجلہ نشین عورتوں کے مانند ہے۔ میں تو یہی چاہتا تھا کہ نہ تم کو دیکھتا ، نہ تم سے جان پہچان ہوتی۔ ایسی شناسائی جو ندامت کا سبب اور رنج و اندوہ کا باعث بنی ہے ۔ اللہ تمہیں مارے، میرے دل کو پیپ سے بھر دیا ہے اور میرے سینے کو غیظ و غضب سے چھلکا دیا ہے۔ تم نے مجھے غم و حزن کے گھونٹ پے در پے پلائے، نا فرمانی کر کے میری تدبیر و رائے کو تباہ کر دیا یہاں تک کہ قریش کہنے لگے کہ علی ہےتو مرد شجاع لیکن جنگ کے طور و طریقوں سے واقف نہیں۔ اللہ ان کا بھلا کرے کیا ان میں سے کوئی ہے جو مجھ سے زیادہ جنگ کی مزاولت رکھنے والا اور میدان وغا میں میرے پہلے سے کار نمایاں کئے ہوئےہو۔ میں تو ابھی بیس برس کا بھی نہ تھاکہ حرب و ضرب کے لیے اٹھ کھڑا ہو او راب تو ساٹھ سے بھی اوپر ہو گیا ہوں لیکن اس کی رائے ہی کیا جس کی بات نہ مانی جائے۔(64)
-------------
(63)- ایضا ص 141 - 142
کوفیوں کی شکست کے اسباب
امام علیہ السلام کوفہ والوں کی شکست اور دشمنوں کی کامیابی کی علت کوفہ والوں کی جہاد میں جانےسے سرپیچی کو بیان کر رہے ہیں:
اگر اللہ نے ظالم کو مہلت دے رکھی ہے تو اس کی گرفت سے تو وہ ہرگز نہیں نکل سکتا، اور وہ اس کی گزر گاہ اور گلے میں ہڈی پھنسنے کی جگہ پر موقع کا منتظر ہے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے ، یہ قوم (اہل شام) تم پر غالب آکر رہے گی۔ اس لیے نہیں کہ ان کا حق تم سے فائق ہے ۔ بلکہ اسی لیے کہ وہ اپنے ساتھی (معاویہ) کی طرف باطل پر ہونے کے باوجود تیزی سے لپکتے ہیں اور تم میرے حق پر ہونے کے باوجود سستی کرتے ہو۔ رعیتیں اپنے حکمرانوں کے ظلم وجور سے ڈرا کرتی تھیں اور میں اپنی رعیت کے ظلم سے ڈرتا ہوں۔ میں نے تمہیں جہاد کے لیے ابھار ا ، لیکن تم (اپنے گھروں سے ) نہ نکلے ۔ میں نے تمہیں (کارآمد باتوں کو) سنانا چاہا مگر تم نے ایک نہ سنی اور میں نے پوشیدہ بھی اور علانیہ بھی تمہیں جہاد کے لیے پکارا اور للکارا۔ لیکن تم نے ایک نہ مانی اور سمجھایا بجھایا مگر تم نے میری نصیحتیں قبول نہ کیں ۔ کیا تم موجود ہوتے ہوئے بھی غائب رہتے ہو، حلقہ بگوش ہوتے ہوئے گویا خود مالک ہو، میں تمہارے سامنے حکمت اور دانائی کی باتیں بیان کرتا ہوں اور تم ان سے بھڑکتے ہو۔ تمہیں بلند پایہ نصیحتیں کرتا ہوں اور تم پراگندہ خاطر ہو جاتے ہو ۔ میں ان باغیوں سے جہاد کرنے کے لیے تمہیں آمادہ کرتا ہوں، تو ابھی میری بات ختم بھی نہیں ہوتی کہ میں دیکھتا ہوں کہ تم اولاد سبا کی طرح تتر بتر ہو ہو گئے۔(65)
---------------
(65)- ایضا ص 253- 254 خ 95
امام ع جہاد چھوڑٰنے والوں حاضر نما بیان کررہے ہیں کہ غایب ہیں ؛ کیونکہ نفسیاتی حوالے سے کسی قیمت کا نہیں رہا صرف ان کے اجسام باقی ہیں۔ یہ لوگ مالکیت کا دعوی بھی کریں اور اپنے کو دوسروں سے برتر بھی سمجھیں تو چونکہ اپنی ہوائے نفس کے اسیر ہیں، اپنے قفس میں زندان ہیں۔
دشمن سے مقابلہ کرنے کا وقت آنے کے بعد جہاد کا ترک کرنا اپنے سردار کی حکم کی مخالفت کرناامت کے درمیان ضعف و ناتوانی پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہےایسے لوگوں میں دس آدمی کو دے کر مولا دشمن کے ایک آدمی کو لینے پر آمادہ ہیں۔ یہ اس لئے ہے کہ جو چیز مسلمانوں کی قوت ہے او ر انہیں دشمن کے مد مقابل فاتح بنانے کی ضامن ہے وہ ایمان اور حوصلہ ہےاگر یہ طاقت مسلمانوں سے سلب ہو جائےتو وہ قابل اعتماد نہیں رہ جاتا ہے۔ امام فرماتے ہیں:
صبح کو میں تمہیں سیدھا کرتا ہوں اور شام کو جب آتے ہو تو (ویسے کے ویسے) کمان کی پشت کی طرح ٹیڑھے ۔ سیدھاکرنے والا عاجز آگیا، اور جسے سیدھا کیا جارہا ہے ۔ وہ لاعلاج ثابت ہوا ، اے وہ لوگو! جن کے جسم تو حاضر ہیں اور عقلیں غائب اور خواہشیں جُدا جدا ہیں۔ ان پر حکومت کرنے والے ان کے ہاتھوں آزمائش میں پڑے ہوئے ہیں۔ تمہارا حاکم اللہ کی اطاعت کرتا ہے ۔ اور تم اس کی نافرمانی کرتے ہو، اور اہل شام کا حاکم اللہ کی نافرمانی کرتا ہے ۔ مگر وہ اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ خدا کی قسم! میں یہ چاہتا ہوں کہ معاویہ تم میں سے دس مجھ سے لے لے ، اور بدلے میں اپنا ایک آدمی مجھے دے دے ، جس طرح دینار کا تبادلہ در ہموں سے ہوتا ہے۔(66)
-------------
(66)- ایضا ص 254 خ 95
اسی خطبے میں ایک جگہ مولا فرماتے ہیں:
اے اہل کوُفہ میں تمہاری تین اور ان کے علاوہ دو باتوں میں مبتلا ہوں پہلے تو یہ کہ تم کان رکھتے ہوئے بہرے ہو، اور بولنے کے باوجود گونگے ہو، اور آنکھیں ہوتے ہوئے اندھے ہو۔ اور پھر یہ کہ نہ تم جنگ کے موقعہ پر سچے جوانمرد ہو، اور نہ قابل اعتماد بھائی ہو۔ اے ان اونٹوں کی چال ڈھال والو کہ جن کے چرواہے گم ہو چکے ہوں اور انہیں ایک طرف سے گھیر کر لایا جاتا ہے تو دوسری طرف سے بکھر جاتے ہیں۔ خدا کی قسم! جیسا کہ میرا تمہارے متعلق خیال ہے ۔ گویا یہ منظر میرے سامنے ہے کہ اگر جنگ شدت اختیار کر لے اور میدان کا راز گرم ہو جائے ، تو تم ابن ابی طالب ع سے ایسے شرمناک طریقے پر علیحدہ ہو جیسے عورت بالکل برہنہ ہو جائے ۔(67)
امام علیہ السلام مختلف میدانوں میں کوفہ والوں کی نافرمانی او رجہاد میں جانے سے انکار کو ذلت کے مترادف سمجھتے ہیں اور امت کی اس ذلت آمیز کام کی وجہ سے اللہ سے اپنی موت کو مانگ رہے ہیں۔یقینا ایک ایسے مرد دلاور کے لئے جس نے صدر اسلام کی جنگوں میں جرأت اور بہادری کے وہ جوہر دکھائے ہوں جنہیں دیکھ کر دشمنوں کے رونگٹے کھڑے ہوتے تھے اور کبھی بھی راہ خدا میں جہاد کرنےسے ذرہ برابر سستی نہیں دکھاتے تھےکوفیوں کی اس ذلت کو قبول کرنا بہت ہی دشوار مرحلہ تھاکہ معاویہ کے مقابلے میں پیچھے ہٹیں! ایک جگہ آپ فرماتے ہیں:
------------
(67)- ایضا ص 255
إَحْمَدُ اللَّهَ عَلَى مَا قَضَى مِنْ إَمْرٍ وَ قَدَّرَ مِنْ فِعْلٍ وَ عَلَى ابْتِلَائِي بِكُمْ إَيَّتُهَا الْفِرْقَةُ الَّتِي إِذَا إَمَرْتُ لَمْ تُطِعْ وَ إِذَا دَعَوْتُ لَمْ تُجِبْ إِنْ [إُهمِلْتُمْ] إُمْهِلْتُمْ خُضْتُمْ وَ إِنْ حُورِبْتُمْ خُرْتُمْ وَ إِنِ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَى إِمَامٍ طَعَنْتُمْ وَ إِنْ إُجِئْتُمْ إِلَى مُشَاقَّةٍ نَكَصْتُمْ. لَا إَبَا لِغَيرِكُمْ مَا تَنْتَظِرُونَ بِنَصْرِكُمْ وَ الْجِهَادِ عَلَى حَقِّكُمْ الْمَوْتَ إَوِ الذُّلَّ لَكُمْ فَوَاللَّهِ لَئِنْ جَاءَ يَومِي وَ لَيَإتِيَنِّي لَيُفَرِّقَنَّ بَينِي وَ بَينَكُمْ وَ إَنَا لِصُحْبَتِكُمْ قَالٍ وَ بِكُمْ غَيرُ كَثِيرٍ لِلَّهِ إَنْتُم
میں اللہ کی حمد و ثناء کرتا ہوں ہر اس امر پر جس کا اس نے فیصلہ کیا اور ہر اس کا م پر جو ا س کی تقدیر نے طے کیاہو اور اس آزمائش پر جو تمہار ے ہاتھوں اس نے میری کی ہے ۔اے لوگو! کہ جنہیں کوئی حکم دیتا ہوں تو نافرمانی کرتے ہیں اور پکارتا ہوں تو میری آواز پر لبیک نہیں کہتے ۔اگر تمہیں (جنگ سے)کچھ مہلت ملتی ہے تو ڈینگیں مارنے لگتے ہو او ر اگر جنگ چھڑ جاتی ہے تو بزدلی دکھاتے ہو ۔اور جب لوگ امام پر ایکا کر لیتے ہیں تو تم طعن و تشنیع کرنے لگتے ہو اگر تمہیں (جکڑ کر باندھ کر) جنگ کی طرف لایا جاتا ہے۔تو الٹے پیروں لوٹ جاتے ہو تمہارے دشمنوں کا برا ہو ۔تم اب نصرت کے لےے آمادہ ہو نے اور اپنے حق کے لےے جہاد کرنے میں کس چیز کے منتظر ہو ۔موت کا دن آئے گا اور البتہ آکر رہے گا تو وہ میرے اور تمہارے درمیان جدائی ڈال دے گا ۔درآنحالانکہ میں تمہاری ہم نشینی سے بیزار اور (تمہاری کثرت کے باوجود ) اکیلا ہو ں ۔اب تمہیں اللہ ہی اجر دے کیا کوئی دین تمہیں ایک مرکز پر جمع نہیں کرتا اور غیرت تمہیں (دشمن کی روک تھا م پر ) آمادہ نہیں کرتی ۔ (68)
--------------
(68)- ایضا ص 413 خ 178
6- غربت اور نا انصافی
معاشرے کے کمزور طبقوں میں غربت اور بد حالی کی وبا کا پھیل جاناانہیں حکمرانوں سے دور کرنے کا سبب بنتا ہے، ان بیماریوں کی وجہ سے غریبوں اور حکمرانوں کے درمیان ایک خلیج وجود میں آتا ہے، اور یہ خلیج اس معاشرے میں رہنے والے تمام لوگوں کے لئے نقصان دہ ہے، اسی حکمراں طبقہ بھی اس کے شر سے محفوظ نہیں رہ سکتے ہیں۔غربت و افلاسی ان اہم اسباب و عوامل میں سے ایک ہے جو حکومتوں کی زوال او ربربادی کا سبب بن سکتا ہے؛ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ انقلابات کی لہریں ہمیشہ معاشرے کے کمزور طبقے سے اٹھتے ہیں۔
اگر کسی معاشرہ میں رہنے والے لوگ غربت و افلاسی کا شکار ہو جائیں تو آہستہ آہستہ اس معاشرہ میں اقدار ختم ہو جاتے ہیں کہ جن اقدار پر حکومتوں کی ستونیں رکھی گئی ہیں۔ہمیشہ روزگاری او رمعاش کی فکر میں رہنے، غربت و افلاسی کے خوف میں مبتلا رہنے سے کئی ایک اخلاقی بیماریاں جنم لیتی ہیں؛ اسی لیے فقر او رغربت کو روایتوں میں کفر اور موت سے بھی تعبیر کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں:
كَادَ الْفَقْرُ إَنْ يَكُونَ كُفْراً
فقر اور غربت انسان کو کافر بنا دیتے ہیں۔ (69)
---------------
(69)- الکافی (ط - الاسلامیة) ؛ ج2 ؛ ص307
اسی طرح ایک جگہ امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں:
وَ الْفَقْرُ الْمَوْتُ الْإَكبَر
فقر سب سے بڑی موت ہے۔(70)
امام علی علیہ السلام اپنے بیٹے محم بن حنفیہ سے فرماتے ہیں:
يَا بُنَيَّ إِنِّي إَخَافُ عَلَيكَ الْفَقْرَ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ مِنْهُ
اے فرزند ! میں تمہارے لیے فقر و تنگدستی سے ڈرتا ہوں لہٰذا فقر و ناداری سے اللہ کی پناہ مانگو۔(71)
اگر غربت صرف اس حد تک ہو کہ انسان کو ایمان سے دور نہ کرے اور اس کی زندگی کو مشکلات میں نہ ڈالے تو یہ پسندیدہ چیز ہے ، اسے اللہ کا امتحان ہی سمجھنا چاہئےجس کے بارے میں خدا فرماتا ہے:
﴿وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوعِ وَ نَقْصٍ مِنَ الْإَمْوَالِ وَ الْإَنْفُسِ وَ الثَّمَرَاتِ وَ بَشِّرِ الصَّابِرِينَ﴾
اور ہم تمہیں کچھ خوف، بھوک اور جان و مال اور ثمرات (کے نقصانات) سے ضرور آزمائیں گے اور آپ ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجیے۔ (72)
---------------
(70)- برقی، احمد بن محمد بن خالد، المحاسن، جی2 ؛ ص601
(71)- ح 319
(72)- سورہ مبارکہ بقرہ : 155
لیکن اگر غربت حد سے گزرجائے اور یہ خطرے کی گھنٹی ہے؛ جب مالداروں کی عمارتیں بلند و بالا ہو جائیں اور یہی لوگ حکمران بن جائیں ، معاشرے کے مختلف لوگوں کے درمیان طبقاتی افکار جنم لینے لگیں تو وہ معاشرہ ہر لحاظ (ثقافتی اخلاق) سے برباد ہو جائے گا اس معاشرہ میں اقدار اور انسانیت پامال ہو جائیں گے۔ امام ع فرماتے ہیں:
إِنَّمَا يُؤْتَى خَرَابُ الْإَرْضِ مِنْ إِعْوَازِ إَهلِهَا
اور زمین کی تباہی تو اس سے آتی ہے کہ کاشتکاروں کے ہاتھ تنگ ہو جائیں ۔ (73) "اعواز" "عوز" سے مشتق ہے اس سے مراد وہ ضرورت مند اور محتاج جس کے ہاتھ ہر لحاظ سے خالی ہیں۔ (74)
--------------
(73)- ترجمہ مفتی جعفر ص 459 مکتوب 53
(74)- دیکھئے: عوامل سقوط حکومتہا در قرآن و نہج البلاغہ، ص 216
عہدنامہ مالک اشتر کے بعض اقتباسات
امام علیہ السلام جب معاشرےکےمختلف طبقوں اور ان میں سے نچلے طبقے کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ایک جگہ ارشادفرماتے ہیں:
ثُمَ اللَّهَ اللَّهَ فِي الطَّبَقَةِ السُّفْلَى مِنَ الَّذِينَ لَا حِيلَةَ لَهُمْ مِنَ الْمَسَاكِينِ وَ الْمُحْتَاجِينَ وَ إَهلِ الْبُؤْسَى وَ الزَّمْنَى فَإِنَّ فِي هَذِهِ الطَّبَقَةِ قَانِعاً وَ مُعْتَرّاً فَإِنَّ هَؤُلَاءِ مِنْ بَينِ الرَّعِيَّةِ إَحْوَجُ إِلَى الْإِنْصَافِ مِنْ غَيرِهِم
۔ اس کے بعد اللہ سے ڈرو اس پسماندہ طبقہ کے بارے میں جو مساکین 'محتاج فقراء اور مغدور افراد کا طبقہ ہے جن کا کوئی سہارا نہیں ہے۔ اس طبقہ میں مانگنے والے بھی ہیں اور غیرت داربھی ہیں جن کی صورت سوال ہے۔ ان کے جس حق اللہ نے تمھیں محافظ بنا یا ہے اس کی حفاظت کرو اور ان کے لئے بیت المال اورارض غنیمت کے غلات میں سے ایک حصہ مخصوص کر دو کہ ان کے دو ر افتادہ کا بھی وہی حق ہے جوقریب والوں کا ہے اور تمھیں سب کا نگراں بنا یا گیا ہے اہٰذا خبر دار کہیں غروتکبرّ تمھیں ان کی طرف سے غافل نہ بنادے کہ تمھیں بڑے کا موں کے مستحکم کر دینے سے چھوٹے کاموں کی بربادی سے معاف نہ کیا جائے گا۔ (75)
--------------
(75)- عہدنامہ مالک اشتر
اس کے بعد امام فرماتے ہیں:
نہ اپنی توجہ کوان کی طرف سے ہٹانا اور نہ غرور کی بناپر اپنا منھ موڑلینا۔ جن لوگوں کی رسائی تم تک نہیں ہے اور انھیں نگاہوں نے گرادیا ہے اور شخصیتوں نے حقیر بنادیا۔
ان کے حالات کی دیکھ بھال بھی تمھارا ہی فریضہ ہے لہٰذا ان کے لئے متواضع اور خوفِ خدا رکھنے والے معتبر افراد کو مخصوص کردو جوتم تک ان کے معاملات کو پہونچاتے رہیں اور تم ایسے اعمال انجام دیتے رہو جن کی بنا پر روز قیامت پیش پروردگار معذور کہے جا سکو کہ یہی لوگ سب سے زیادہ انصاف کے محتاج ہیں۔
اور دیکھو صاحبانِ ضرورت کے لئے ایک وقت معین کر دو جس میں اپنے کو ان کے لئے خالی کر لو ۔
ایک عمومی مجلس میں ان کے ساتھ بیٹھو۔
اپنے تمام نگہبان' پولیس ' فوج اعوان وانصار سب کو دور بٹھا دو تا کہ بولنے والا آزادی سے بول سکے اور کسی طرح کی لکنت کا شکارنہ ہو ۔
میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خود سُنا ہے کہ آپؐ نے بار بار فرمایا ہے کہ "وہ امت پاکیزہ کردار نہیں ہو سکتی ہے جس میں کمزور کو آزادی کے ساتھ طاقتور سے اپنا حق لینے کا موقع نہ دیا جائے "۔
ان سے بد کلامی یا عاجزی کلام کا مظاہرہ ہو تو اسے برداشت کرو ۔
دل تنگی اور غرورکو دور رکھو تا کہ خدا تمھارے لئے رحمت کے اطراف کشادہ کرے اور اطاعت کے ثواب کو لازم قرار دیدے۔
جسے جو کچھ دو خوشگوار کے ساتھ دو اور جسے منع کرو اسے خوبصورتی کے ساتھ ٹال دو۔اس کے بعدتمہارے معاملا ت میں بعض ایسے معاملات بھی ہیں جنہیں تمہیں خودبراہ راست انجام دینا ہے۔(76)
---------------
(76)- عہدنامہ مالک اشتر
امام علیہ السلام اپنی ان نصیحتوں میں تمام حکمرانوں کے لیے درست راستے کی نشاندہی فرما رہے ہیں۔ اگر حکمرانوں اور عوام کے حقوق کی رعایت ہو جائے تو کبھی بھی وہ معاشرہ زوال کی طرف نہیں جائے گا؛ کیونکہ معاشرے کا بڑا حصہ انہی کمزور اور ضعیف لوگوں کا ہے ، اور یہی حکومتوں کے حمایتی اور دین کے ستون ہیں:
وَ إِنَّمَا عِمَادُ الدِّينِ وَ جِمَاعُ الْمُسْلِمِينَ وَ الْعُدَّةُ لِلْإَعْدَاءِ الْعَامَّةُ مِنَ الْإُمَّةِ فَلْيَكُنْ صِغْوُكَ لَهُمْ وَ مَيلُكَ مَعَهُم
دین کا ستون۔ مسلمانوں کی اجتماعی طاقت دشمنوں کے مقابلہ میں سامان دفاع عوام الناس ہی ہوتے ہیں لہٰذا تمھارا جھکاؤ انھیں کی طرف ہونا چاہئے اور تمھارا رجحان انھیں کی طرف ضروری ہے۔(77)
اسلامی حکمرانوں کا جھکاؤ عوام کی طرف ہونا چاہیے نہ خواص کی طرف؛ کیونکہ یہی عام لوگ اور متوسط طبقے کے لوگ ہیں جو سخت حالات میں اپنے حکمران کا ساتھ نہیں چھوڑتے ہیں اور ہر وقت ان کے شانہ بشانہ چلتے ہیں:
۔ تمھارے لئے پسندیدہ کام وہ ہونا چا ہئے جو حق کے اعتبار سے بہترین انصاف کے اعتبار سے سب کو شامل اور رعایا کو مرضی سے اکثریت کے لئے پسندیدہ ہو کہ عام افراد کی ناراضگی خواص کی رضامندی کو بھی بے اثر بنا دیتی ہے اور خاص لوگوں کی ناراضگی عام افراد کی رضامند کے ساتھ قابل معافی ہو جاتی ہے۔ رعایا ہیں خواص سے زیادہ والی پر خوشحال میں بوجھ نبنے والا اور بلاؤں میں کم سے کم مدد کرنے والا۔ انصاف کو نا پسند کرنے والا اور اصرار کے ساتھ مطالبہ کرنے والا عطا کے موقع پر کم سے کم شکریہ ادا کرنے والا اور نہ دینے کے موقع پر بمشکل عذر قبول کرنے والا۔ زمانہ کے مصائب میں کم سے کم صبر کرنے والا۔کوئی نہیں ہوتا ہے ۔(78)
-------------
(77)- ایضا
(78)- ایضا
امام علیہ السلام مالک کو تین اہم اور قیمتی چیزوں کی طرف دعوت دے رہے ہیں:
٭ حق کے اعتبار سے بہترین
٭ انصاف کے اعتبار سے سب کو شامل
٭ لوگوں کی خوشنودی کے لیے وسعت نظری سے کام لینا
رعایا کے حقوق کی پاسداری کرنا اور انصاف حکومت کے تجلیات اور خوبصورتیوں میں سے ہے کہ آپ ع اپنے گورنروں کی اس کی تاکید کر رہے ہیں۔ آپ ہمیشہ اپنے والیوں اور گورنروں کو غربت کے خاتمے اور لوگوں کی حاجات روائی کی تاکید کرتے تھے، ایک طرف سے آپ عدل و انصاف اور اعتدال پسندی کی تاکید بھی کرتے تھے؛ کیونکہ عدل و انصاف اور اعتدال ہی کے ذریعے فقر و غربت جیسی بیماریوں کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
اسْتَعْمِلِ الْعَدْلَ وَ احْذَرِ الْعَسْفَ وَ الْحَيفَ فَإِنَّ الْعَسْفَ يَعُودُ بِالْجَلَاءِ وَ الْحَيفَ يَدْعُو إِلَى السَّيف
عدل کی روش پر چلو۔ بے راہ روی اور ظلم سے کنارہ کشی کرو کیونکہ بے راہ روی کا نتیجہ یہ ہو گا کہ انہیں گھر بار چھوڑنا پڑے گا اور ظلم انہیں تلوار اٹھانے کی دعوت دے گا۔ (79)
----------------
(79)- ح 476۔
امام علیہ السلام اپنے والیوں کو یہاں تک تاکید فرماتے تھے کہ معاشرے کے مختلف طبقے میں لوگوں کو دیکھتے ہوئے بھی عدل و انصاف کی رعایت کریں کہیں ایسا نہ کہ رعایا اور خواص کے درمیان امتیازی سلوک اور نا انصافی کا سبب بنے۔ آپ محمد بن ابی بکر رح سے فرماتے ہیں:
فَاخْفِضْ لَهُمْ جَنَاحَكَ وَ إَلِنْ لَهُمْ جَانِبَكَ وَ ابْسُطْ لَهُمْ وَجْهَكَ وَ آسِ بَينَهُمْ فِي اللَّحْظَةِ وَ النَّظْرَةِ حَتَّى لَا يَطْمَعَ الْعُظَمَاءُ فِي حَيفِكَ لَهُمْ وَ لَا يَيإَسَ الضُّعَفَاءُ مِنْ عَدْلِكَ عَلَيهِمْ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُسَائِلُكُمْ مَعْشَرَ عِبَادِهِ عَنِ الصَّغِيرَةِ مِنْ إَعْمَالِكُمْ وَ الْكَبِيرَةِ وَ الظَّاهِرَةِ وَ الْمَسْتُورَةِ فَإِنْ يُعَذِّبْ فَإَنْتُمْ إَظْلَمُ وَ إِنْ يَعْفُ فَهُوَ إَكرَم
لوگوں سے تواضع کے ساتھ ملنا، ان سے نرمی کا برتاؤ کرنا، کشادہ روئی سے پیش آنا اور سب کو ایک نظر سے دیکھنا تاکہ بڑے لوگ تم سے اپنی ناحق طرف داری کی امید نہ رکھیں اور چھوٹے لوگ تمہارے عدل و انصاف سے ان (بڑوں) کے مقابلے میں ناامید نہ ہو جائیں۔ کیونکہ اے اللہ کے بندو! اللہ تمہارے چھوٹے، بڑے، کھلے، ڈھکے اعمال کی تم سے باز پرس کرے گا، اور اس کے بعد اگر وہ عذاب کرے، تو یہ تمہارے خود ظلم کا نتیجہ ہے اور اگر وہ معاف کردے تو وہ اس کے کرم کا تقاضا ہے۔ (80)
-------------
(80)- ترجمہ مفتی جعفر ص 590 مکتوب 27
ظلم و نا انصافی کہ جس کا نتیجہ فقر اور غربت میں اضافہ، بھوکے لوگوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ، ظالموں کی تعداد میں اضافہ ہے،اس حد تک خدا کے ہاں قبیح ہے کہ وہ علما سے مظلوموں کے حقوق دلانے اور ظالموں سے مقابلہ کرنے کا وعدہ لیتا ہے۔ امام خطبہ شقشقیہ میں فرماتے ہیں:
وَ الَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَ بَرَإَ النَّسَمَةَ لَوْ لَا حُضُورُ الْحَاضِرِ وَ قِيَامُ الْحُجَّةِ بِوُجُودِ النَّاصِرِ وَ مَا إَخَذَ اللَّهُ عَلَى الْعُلَمَاءِ إَلَّا يُقَارُّوا عَلَى كِظَّةِ ظَالِمٍ وَ لَا سَغَبِ مَظْلُومٍ لَإَلْقَيتُ حَبْلَهَا عَلَى غَارِبِهَا وَ لَسَقَيتُ آخِرَهَا بِكَإسِ إَوَّلِهَا وَ لَإَلْفَيتُمْ دُنْيَاكُمْ هَذِهِ إَزْهَدَ عِنْدِي مِنْ عَفْطَةِ عَنْز
اس ذات کی قسم جس نے دانے کو شگافتہ کیا اور ذی روح چیزیں پیدا کیں۔ اگر بیعت کرنے والوں کی موجودگی اور مدد کرنے والوں کے وجود سے مجھ پر حجت تمام نہ ہو گئی ہوتی اور وہ عہد نہ ہوتا جو اللہ نے علماء سے لے رکھا ہے کہ وہ ظالم کی شکم پری اور مظلوم کی گرسنگی پرسکون و قرار سے نہ بیٹھیں تو میں خلافت کی باگ دوڑ اسی کے کندھے پر ڈال دیتا اور اس کے آخر کو اس پیالے سے سیراب کرتا جس پیالے سے اس کے اول کو سیراب کیا تھا اور تم اپنی دنیا کو میری نظروں میں بکری کی چھینک سے بھی زیادہ ناقابل اعتناء پاتے ۔ (81)
------------------
(81)- ترجمہ مفتی جعفر ص 85 خ 3
پس اسلامی معاشرے کے حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ ظالموں اور دولتمندوں سے غریبوں او ربھوکے لوگوں کے حقوق لا کر انہیں دلائیں اگر ایسا نہیں کیا تو خدا کی نعمتیں بدل جائیں گی۔ امام فرماتے ہیں:
وَ لَيسَ شَيءٌ إَدْعَى إِلَى تَغْيِيرِ نِعْمَةِ اللَّهِ وَ تَعْجِيلِ نِقْمَتِهِ مِنْ إِقَامَةٍ عَلَى ظُلْمٍ فَإِنَّ اللَّهَ [يَسْمَعُ] سَمِيعٌ دَعْوَةَ الْمُضْطَهَدِينَ وَ هُوَ لِلظَّالِمِينَ بِالْمِرْصَاد
اللہ کی نعمتوں کی بر بادی اور اس کے عذاب میں عجلت کا کوئی سبب ظلم پر قائم رہنے سے بڑا نہیں ہے۔ اس لئے کہ وہ مظلوموں کی فریاد کا سننے والا ہے اور ظالموں کے لئے موقع کا انتظار کر رہا ہے۔ (82)
7- گذشتہ امتوں کی تباہیوں سے عبرت نہ لینا
گذشتہ امتوں اور حکمرانوں سے عبرت نہ لینا خود تو حکومتوں کے سقوط کے اسباب میں سے نہیں ہے لیکن گذشتہ لوگوں کی حالات کے مطالعہ کرنے اور ان کی تباہیوں سے عبرت حاصل کرنے سے معاشرہ تباہ و بربادی سے بچ سکتا ہے، اور ناقابل شکست بن جاتا ہے؛ کیونکہ تاریخیں ہمیشہ دہرائی جاتی ہیں، وہی موضوعات، وہی حالات، وہی فتح و شکست، سب کے سب وہی کے وہی ہیں لیکن صرف انسان آتے جاتے ہیں۔ (83)
----------------
(82)- عہد نامہ مالگ اشتر
(83)- مترجم : جیسے ایک فٹبال کا میدان جہاں مختلف ٹیمیں آتی ہیں اور کھیل کر چلی جاتی ہیں تاریخ بھی اسی طرح ہے۔ بقول شکسپئیر یہ دنیا ایک سٹیج ہے جہاں ہر فنکار اپنے اپنے فن کا مظًاہرہ کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔
پس تاریخ سے نصیحت لے سکتے ہیں، اور اس کے تجربوں سے کسی معاشرے کی بقا کے لیے سامان تیار کر سکتے ہیں۔
عِبَادَ اللَّهِ إِنَّ الدَّهرَ يَجْرِي بِالْبَاقِينَ كَجَرْيِهِ بِالْمَاضِينَ لَا يَعُودُ مَا قَدْ وَلَّى مِنْهُ وَ لَا يَبْقَى سَرْمَداً مَا فِيهِ آخِرُ فَعَالِهِ كَإَوَّلِهِ مُتَشَابِهَةٌ إُمُورُهُ مُتَظَاهِرَةٌ إَعْلَامُهُ فَكَإَنَّكُمْ بِالسَّاعَةِ تَحْدُوكُمْ حَدْوَ الزَّاجِرِ بِشَوْلِه فَمَنْ شَغَلَ نَفْسَهُ بِغَيرِ نَفْسِهِ تَحَيَّرَ فِي الظُّلُمَاتِ وَ ارْتَبَكَ فِي الْهَلَكَاتِ وَ مَدَّتْ بِهِ شَيَاطِينُهُ فِي طُغْيَانِهِ وَ زَيَّنَتْ لَهُ سَيِّئَ إَعْمَالِهِ فَالْجَنَّةُ غَايَةُ السَّابِقِينَ وَ النَّارُ غَايَةُ الْمُفَرِّطِين
اے اللہ کے بندو! باقی ماندہ لوگوں کے ساتھ بھی زمانہ کی وہی روش رہے گی جو گزر جانے والے کے ساتھ تھی جتنا زمانہ گزر چکا ہے وہ پلٹ کر نہیں آئے گا اور جو کچھ اس میں ہے وہ بھی ہمیشہ رہنے والا نہیں آخر میں بھی اس کی مصیبتیں ایک دوسرے سے بڑھ جانا چاہتی ہیں اور اس کے جھنڈے ایک دوسرے کے عقب میں ہیں‘ گویا تم قیامت کے دامن سے وابستہ ہو کہ وہ تمہیں دھکیل کر اس طرح لیے جا رہی ہے جس طرح للکارنے والا اپنی اونٹنیوں کو جو شخص اپنے نفس کو سنوارنے کے بجائے اور چیزوں میں پڑ جاتا ہے وہ تیرگیوں میں سرگرداں اور ہلاکتوں میں پھنسا رہتا ہے اور شیاطین اسے سرکشیوں میں کھینچ کر لے جاتے ہیں اور اس کی بداعمالیوں کو اس کے سامنے سجا دیتے ہیں آگے بڑھنے والوں کی آخری منزل جنت ہے اور عمداً کوتاہیاں کرنے والوں کی حد جہنم ہے۔ (84)
---------------
(84)- ترجمہ مفتی جعفر ص 365 خ ا155
صرف گہری نگاہ ، صاف و شفاف دل، منطقی عقل اور تحقیق سوچ رکھنے والے انسان ہی گذشتہ لوگوں کے حالات سے عبرت حاصل کر سکتے ہیں،اور اس دریا میں غوطہ ور ہو گر موتی حاصل کر سکتے ہیں، اور پھر ان حاصل شدہ موتیوں سے اپنی دونوں جہانوں کی زندگیاں سنوار سکتے ہیں۔سورہ مبارکہ یوسف میں خدا ارشاد فرماتا ہے:
﴿لَقَدْ كَانَ فِي قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِأُولِي الْأَلْبَابِ مَا كَانَ حَدِيثاً يُفْتَرَى وَ لكِنْ تَصْدِيقَ الَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ وَ تَفْصِيلَ كُلِّ شَيْءٍ وَ هُدًى وَ رَحْمَةً لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ﴾ (85)
بتحقیق ان (رسولوں) کے قصوں میں عقل رکھنے والوں کے لیے عبرت ہے، یہ (قرآن) گھڑی ہوئی باتیں نہیں بلکہ اس سے پہلے آئے ہوئے کلام کی تصدیق ہے اور ہر چیز کی تفصیل (بتانے والا) ہے اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت و رحمت ہے۔
اسی طرح ایک اور جگہ ارشاد فرماتا ہے:
﴿قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ فَسِيرُوا فِي الْإَرْضِ فَانْظُروا كَيفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ﴾
تم سے پہلے مختلف روشیں گزر چکی ہیں پس تم روئے زمین پرچلو پھرو اور دیکھو کہ جھٹلانے والوں کاکیا انجام ہوا۔ (86)
---------------
(85)- سورہ مبارکہ یوسف 111
(86)- سورہ مبارکہ آل عمران : 137
قرآن اقوام عالم کی سرگزشت کا مطالعہ کرنے کے لیے (سیر فی الارض) زمین کے مطالعاتی سفر کی دعوت دیتا ہے۔جابر بادشاہوں، ظالم حکمرانوں اور خونخوار فرعونوں کے باقی ماندہ آثار بتلاتے ہیں کہ کسی زمانے میں ان قصور و محلات میں کچھ لوگ انا ربکم الاعلی کے مدعی تھے اور اپنی ہوسرانی میں بدمست ہو کر انسانیت سوز جرائم کا ارتکاب کیا کرتے تھے اورکسی قسم کی اقدار پر ایمان نہیں رکھتے تھے۔ آج انہی لوگوں کے محلات ویرانوں میں بدل گئے ہیں۔ ان کی ہڈیاں خاک ہو چکی ہیں، جو آنے والی نسلوں کے لیے عبرت بن گئی ہیں۔ انہوں نے چند روزہ عیش و نوش میں اپنی ابدی زندگی کو برباد کیا اور آخرکار اس دنیا کی زندگی بھی ہار بیٹھے۔ آج ان ویرانوں سے ان کی بوسیدہ ہڈیاں آواز دے رہی ہیں کہ دیکھ لو تکذیب کرنے والوں کا کیا انجام ہوا ہے۔
قرآن کی تمام داستانیں نصیحت لینے اور عبرت حاصل کرنے کے لئے ہیں قرآن کے اول سے آخر تک انبیاء علیہم السلام کے قصے ، کبھی کنواں کا تذکرہ، کبھی بطن ماہی کا ذکر، کبھی آگ میں پھینکنے کا واقعہ، کبھی طوفان اور کشتی کی کہانی، کبھی برادر کشی کی داستان یہ سب عبرت کے لیے ہیں، جو امتیں نابود ہوئی ہیں ان کی نابودی میں غور و فکر کرو، جو اللہ کے عذاب سے وقت آخر بچ گئے ہیں اس میں سوچو۔ امام علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں:
فَاعْتَبِرُوا بِحَالِ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ وَ بَنِي إِسْحَاقَ وَ بَنِي إِسْرَائِيلَ ع فَمَا إَشَدَّ اعْتِدَالَ الْإَحْوَالِ وَ إَقْرَبَ اشْتِبَاهَ الْإَمْثَالِ وَ إَصْنَامٍ مَعْبُودَةٍ وَ إَرْحَامٍ مَقْطُوعَةٍ وَ غَارَاتٍ مَشْنُونَة
(اب ذرا ) اسماعیل کی اولاد اسحاق کے فرزندوں اوریعقوب کے بیٹوں کے حالات سے عبرت حاصل کرو ۔حالات کتنے ملتے جلتے ہیں اور طور طریقے کتنے یکساں ہیں ۔ان کے منتشر و پراگند ہ ہو جانے کی صورت میں جو واقعات رو نما ہو ئے ،ان میں غور و فکر کرو کہ جب شاہا ن عجم اور سلاطین روم پر حکمران تھے وہ انہیں اطراف عالم کے سبزہ زاروں عراق کے دریاؤں اور دنیا کی شادابیوںسے خار دار جھاڑیوں ہواؤں کے بے روگ گزر گاہوں اور معیشت کی دشواریوں کی طرف دھکیل دیتے تھے اور آخر کار انہیں فقیرو نادار او رزخمی پیٹھ والے اونٹوںکا چرواہا اور بالوں کی جھونپڑیوں کا با شند ہ بنا چھوڑتے تھے ۔
ان کے گھر بار دنیا جہاں سے بڑھ کر خستہ و خراب اور ان کے ٹھکانے خشک سالیو ں سے تباہ حال تھے ،نہ ان کی کوئی آواز تھی جس کے پرو بال کا سہارا لیں ،نہ انس و محبت کی چھاؤں تھی جس کے بل بوتے پر بھروسا کریں ۔ان کے حالات پراگندہ ہاتھ الگ الگ تھے کثرت و جمعیت بٹی ہوئی ، جانگدار مصیبتوں اورجہالت کی تہ بہ تہ تہوں میں پڑے ہو ئے تھے یوں کہ لڑکیا ں زندہ درگور تھیں (گھر گھر مورتی پوجا ہوتی تھی)رشتے ناتے توڑے جا چکے تھے اورلوٹ کھسوٹ کی گر م با زاری تھی ۔(87)
ایک جگہ امام فرماتے ہیں
وَ احْذَرُوا مَا نَزَلَ بِالْإُمَمِ قَبْلَكُمْ مِنَ الْمَثُلَاتِ بِسُوءِ الْإَفْعَالِ وَ ذَمِيمِ الْإَعْمَالِ فَتَذَكَّرُوا فِي الْخَيرِ وَ الشَّرِّ إَحْوَالَهُمْ وَ احْذَرُوا إَنْ تَكُونُوا إَمْثَالَهُم
زمین میں شر انگیزی سے دامن بچانا تمہیں ان عذابوں او ر بد کرداریوں کی وجہ سے نازل ہو ئے اور (اپنے)اچھے اوربر ے حالا ت میں ان کے احوال و وار دات کو پیش نظر رکھو اور اس امر سے خائف و ترساں رہو کہ کہیں تمہیں بھی انہی کے جیسے نہ ہو جاؤ۔ (88)
--------------
(87)- ترجمہ مفتی جعفر ص 453 ۔ 455 خ 190 خطبہ قاصعہ
(88)- ایضا
اسی خطبے میں امام ایک جگہ فرماتے ہیں:
وَ اعْتَبِرُوا بِمَا قَدْ رَإَيتُمْ مِنْ مَصَارِعِ الْقُرُونِ قَبْلَكُمْ ----- فَإِنَّ الْإَمْرَ وَاضِحٌ وَ الْعَلَمَ قَائِمٌ وَ الطَّرِيقَ جَدَدٌ وَ السَّبِيلَ قَصْد
تم نے اپنے سے پہلے لوگوں کے جو گرنے کی جگہیں دیکھی ہیں ان سے عبرت حاصل کرو کہ ان کے جوڑ بند الگ الگ ہوگئے۔ نہ ان کی آنکھیں رہی اور نہ کان۔ ان کا شرف و وقار مٹ گیا‘ ان کی مسرتیں اور نعمتیں جاتی رہیں اور بال بچوں کے قرب کے بجائے علیحدگی اور بیویوں سے ہم نشینی کے بجائے ان سے جدائی ہوگئی۔ اب نہ وہ فخر کرتے ہیں اور نہ انکے اولاد ہوتی ہے۔ نہ ایک دوسرے سے ملتے ملاتے ہیں اور نہ آپس میں ایک دوسرے کے ہمسایہ بن کر رہتے ہیں۔ اے اللہ کے بندو! ڈرو جس طرح اپنے نفس پر قابو پالینے والا اور اپنی خواہشوں کو دبانے والا اور چشم بصیرت سے دیکھنے والا ڈرتا ہے کیونکہ (ہر) چیز واضح ہوچکی ہے۔ نشانات قائم ہیں راستہ ہموار ہے اور راہ سیدھی ہے۔(88)
امام علیہ السلام نے خطبہ قاصعہ میں بعض نہایت ہی قیمتی باتیں فرمائی ہیں، جن کی طرف محترم قارئین کی توجہ کے طالب ہیں۔
امام خطبہ قاصعہ کے آخر میں لوگوں سے گذشتہ امتوں کی حالات سے عبرت حاصل کرنے کی طرف دعوت دے رہے ہیں:
--------------
(88)- ترجمہ مفتی جعفر ص 374 خ 159
زمین میں شر انگیزی سے دامن بچانا تمہیں ان عذابوں او ر بد کرداریوں کی وجہ سے نازل ہو ئے اور (اپنے)اچھے اوربر ے حالا ت میں ان کے احوال و وار دات کو پیش نظر رکھو اور اس امر سے خائف و ترساں رہو کہ کہیں تم بھی انہی کے جیسے نہ ہو جاؤ۔اگر تم نے ان کی دونوں (اچھی بری ) حالتوںپر غور کرلیا ہے تو پھر ہراس چیز کی پابندی کرو کہ جس کی وجہ سے عزت و برتری نے ہر حال میں ان کاساتھ دیا اور دشمن ان سے دور دور رہے اور عیش و سکون کے دامن ان پرپھیل گئے ۔اور نعمتیں سرنگوں ہو کر ان کے ساتھ ہو لیں اور عزت و سرفرازی نے اپنے بندھن ان سے جوڑ لئے ۔(وہ کیاچیز یں تھیں )یہ کہ وہ افتراق سے بچے اور اتفاق و یکجہتی پر قائم رہے ۔اسی پرایک دوسرے کو ابھارتے تھے او راسی کی باہم سفارش کرتے تھے۔
ور تم ہر اس امر سے بچ کر رہو کہ جس نے ان کی ریڑھ کی ہڈی کو توڑ ڈالا اور قوت و توانائی کو ضعف سے بدل دیا ۔(اور وہ یہ تھا )کہ انہوں نے دلوں میں کینہ اور سینوں میں بغض رکھا ایک دوسرے کی مدد سے پیٹھ پھر الی او ر باہمی تعاون سے ہاتھ اٹھا لیا ۔اور تمہارے لیے ضروری ہے کہ گزشتہ زمانہ کے اہل ایمان کے وقائع و حالات پر غور و فکرکرو،کہ (صبر آزما) ابتلاؤں اور (جانکاہ )مصیبتوں میں ان کی کیا حالت تھی کیا وہ ساری کائنات سے زیادہ گرانبار تمام لوگوں سے زائد مبتلائے تعب و مشقت اور دنیاجہان سے زیادہ تنگی و ضیق کے عالم میں نہ تھے ؟کہ جنہیں دنیا کے فرعون نے اپنا غلام بنارکھاتھا اور انہیں سخت سے سخت اذیتیں پہنچاتے اور تلخیوں کے گھونٹ پلاتے تھے ا ور ان کی یہ حالت ہو گئی تھی کہ وہ تباہی و ہلاکت کی ذلتوں اورغلبہ و تسلّط کی قہر سامانیوں میں گھرتے چلے جارہے تھے ۔نہ انہیں بچاؤ کی کو ئی تدبیر اور نہ روک تھام کا کوئی ذریعہ سو جھتا تھا ۔ یہاں تک کہ جب اللہ سبحانہ نے دیکھا کہ یہ میری محبت میں اذیتوں پر پوری کدو کاوش سے صبر کئے جارہے ہیں اور میرے خیال سے مصیبتوں کو جھیل رہے ہیں تو ان کے لےے مصیبت و ابتلاء کی تنگنائے سے وسعت کی راہیں نکالیں اور ان کی ذلت کو عز ت و سرفرازی حاصل ہوئی ۔
غور کرو !کہ جب ان کی جمعیتیں یک جا ،خیالات یکسو اور دل یکساں تھے او ران کے ہاتھ ایک دوسرے کو سہارا دیتے اور تلواریں ایک دوسرے کی معین و مددگار تھیں اور ان کی بصیرتیں تیز اور ارادے متحد تھے ،تو اس وقت ان کا کیا عالم تھا ،کیا وہ اطراف زمین میں فرمانروا اور دنیا والوں کی گردنوں پر حکمرا ن نہ تھے؟اور تصویر کا یہ رخ بھی دیکھو !جب ان میں پھوٹ پڑگئی ۔یکجہتی درہم برہم ہو گئی ۔ان کی باتوں اور دلوں میں اختلافات کے شاخسانے پھوٹ نکلے ،او ر وہ مختلف ٹولیوں میں بٹ گئے اور الگ جتھے بن کر ایک دوسرے سے لڑنے بھڑنے لگے تو ان کی نوبت یہ ہوگئی کہ اللہ نے ان سے عزت و بزرگی کا پیراہن اتار لیا اور نعمتوں کی آسائش ان سے چھین لی اور تمہارے درمیان ان کے واقعات کی حکایتیں عبر ت بن کر رہ گئیں ۔
تتمۂ مؤلف
مذکورہ بیانات کی روشنی میں یہ نتیجہ حاصل کیا جا سکتا ہے:
کسی اسلامی معاشرے کی بیماری کی پہچان میں مولا کی نظر بہت ہی وسیع اور گہری ہے، اس گہرے دریا میں غوطہ لگانے کے لئے بہت زیادہ فہم و فراست اور تیز بینی کی ضرورت ہے۔ امام ع کے ہر ہر نکتوں پر غور و فکر کرنا ہمارے لئے علوم و معارف کا دروازہ کھول سکتا ہے۔
جوکچھ اس کتابچہ میں بیان ہوا ہے، ان اہم اہم بیماریوں کی فہرست تھی جن کی طرف اگر توجہ نہ دی جائے تو ان میں سے ہر ایک کسی حکومت کی نابودی کے لئے کافی ہے۔
ہم نے یہاں ان بیماریوں کو ان کی اہمیت کے حساب سے ترتیب دے کر بیان کیا ۔ اگر چہ ان میں سے ہر ایک ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور کبھی امام علیہ السلام ایک ہی کلام میں کئی بیماریوں کا تذکرہ فرماتے تھے۔
اگر امام علیہ السلام نے کہیں اپنی حکومت پر حق سے متعلق بات کی ہے تو اس حکومت پر قبضہ جمانے کے لئے نہیں ہے بلکہ آپ اس بات سے ڈرتے تھے کہیں یہ بیماریاں اسلامی حکمرانوں کو لاحق نہ ہوجائیں۔ امام خود حاکم بن کر ان کو نہ صرف حکمرانوں سے بلکہ عوام اور رعایا سے بھی دور کر سکتے تھے۔ اسی لئے جب تک آپ زندہ تھے امت کو مشکلات میں پڑنے نہیں دیااگر کہیں کسی مشکل میں پھنس بھی جاتی تو آپ ع کی ہوشیاری اور وقت پر قدم اٹھانے کی وجہ سے وہ بلا ٹل جاتی تھی۔ لیکن جوں ہی آپ نے اس دنیا سے کوچ فرمایا امت ان تمام بلاؤں میں مبتلا ہو گئی جن سے حضرت ہمیشہ امت کو ڈراتے تھے۔
آخر میں ہم امید کرتے ہیں معاشرے کی بیماریوں کی بروقت پہچان کے لئے امام علیہ السلام کےباتوں میں غور وفکر کریں اور وقت پر ان کی علاج کے سلسلے میں قدم اٹھائیں، تاکہ خود اور معاشرے کو مختلف قسم کی اذیتوں سے بچایا جا سکے، اور خدا کی اس امانت اور اس کے اصلی مالک یعنی حضرت حجت ابن الحسن عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے دست مبارک میں پیش کرنےکی سعادت حاصل کر سکیں۔ انشاء اللہ
تتمۂ مترجم
بہر حال حضرت علی علیہ السلام کو مہلت نہیں ملی کہ ایک الہی حکومت کو برپا کر سکیں لیکن آپ یہ خوشخبری سنا کے گئے کہ امام مہدی عج کے دست مبارک پر ایسی حکومت قائم ہوگی۔ جس میں انصاف کا دور دورا ہوگا اور ظلم کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ ذیل میں اس عظیم حکومت کی بعض اہم خصوصتیں عرض کرنا مناسب سمجھتا ہوں:
حضرت امام مہدی (عج) کی حکومت کی خصوصیتیں
پہلی خصوصیت
حضرت امام مہدی (عج) کی حکومت کی پہلی خصوصیت یہ ہے کہ وہ حکومت زمین کے کسی ایک خاص حصہ پرنہیں بلکہ پوری دنیاپرہوگی۔ اس بارے میں بہت سی آیات و روایات موجودہیں جن میں سے ہم یہاں پر صرف ایک آیت کی طرف اشارہ کررہے ہیں :
﴿وَ لَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكرِ إَنَّ الْإَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ﴾
اور ہم نے زبور میں ذکر کے بعد لکھ دیا ہے کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔ دنیا میں ہر شخص موجودہ صورت حال سے نالاں ہے، کوئی مالی فقر میں مبتلا ہے تو کوئی روحانی محرومیت سے دوچار ہے۔ اس لیے ہر شخص کا ضمیر ایک عدل و انصاف اور امن وآشتی پر مبنی نظام کا طالب ہے۔ ظاہر ہے جس چیز کا سرے سے کوئی وجود نہ ہو انسانی ضمیر اسے طلب نہیں کرتا۔ اگر پانی کا وجود نہ ہوتا تو اس کی کسی کو طلب بھی نہ ہوتی۔ لہٰذا انسانی ضمیر کی طلب اس بات کی دلیل ہے کہ انسانیت کوایک ایسا نظام ملنے والا ہے جس میں اللہ کے نیک بندے ہی زمین کے وارث ہوں گے اور زمین عدل و انصاف سے اس طرح پر ہو جائے گی جس طرح یہ ظلم وجور سے پر ہو گئی تھی۔
دنیا کو ہے اس مہدیؑ بر حق کی ضرورت ******** ہو جس کی نگہ زلزلہ عالم افکار
اس کے علاوہ دوسری آیتیں بھی ہیں جواس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ ایک زمانہ میں نیک لوگ زمین پرحاکم ہوں گے۔ اس حکومت کی ایک خصوصیت جو دوسری حکومتوں سے مختلف ہے وہ یہ ہے کہ پوری دنیاپرصرف ایک ہی حکومت ہوگی ،دنیاکی حکومت مختلف حصوں میں نہیں بٹے گی۔ ہم شیعوں کایہی عقیدہ ہے کہ دنیاکی مختلف حکومتیں ختم ہوں اور ایک انٹرنیشنل حکومت بنے ،جس میں سب کوحصہ ملے۔
دوسری خصوصیت
حضرت امام مہدی (عج) کی حکومت کی دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اس وقت اسلام پوری دنیامیں پھیل جائے گا،کوئی بستی ایسی نظرنہ آئے گی جس سے آذان کی آوازنہ آئے۔
سوال : اس وقت مختلف آسمانی دین جیسے یہودی وعیسائی باقی رہیں گے یانہیں؟
جواب : ابھی ہم اس بارے میں بحث نہیں کررہے ہیں اس کے بارے میں بعدمیں بحث کریں گے ابھی توہم صرف یہی بتاناچاہتے ہیں کہ اسلام پور ی دنیامیں پھیل جائے گا۔
آپ سب جانتے ہیں کہ اس وقت دنیامیں مسلمانوں کی آبادی کتنی ہے ،آج دنیامیں 6/1 مسلمان ہیں آج دنیاکازیادہ حصہ غیرمسلم لوگوں کے ہاتھ میں ہے لیکن حضرت امام مہدی (عج) کی حکومت کے وقت پوری دنیامسلمانوں کے ہاتھ میں ہوگی ۔
تیسری خصوصیت
حضرت امام مہدی(عج) کی حکومت کی تیسری خصوصیت ظلم کامقابلہ اوراس کومٹاناہے اس کام میں حضرت کوپوری طرح سے کامیابی ملے گی وہ زمین سے ظلم کوبالکل مٹادیں گے ۔ روایات میں ملتاہے کہ حضرت ظلم کاصفایاکردیں گے۔ نہ عوام ایک دوسرے پرظلم کرے گے اورنہ حکومت عوام پرظلم کرے گی۔
چوتھی خصوصیت
حضرت امام مہدی(عج) کی حکومت کی چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ پوری دنیامیں چاروں طرف انصاف ہوگا،ظلم کانام ونشان مٹ جائے گاکوئی کسی پرظلم نہیں کرے گا،زندگی کے ہر پہلو میں انصاف ہی انصاف نظرآئے گا۔ روایتوں میں ملتاہے کہ حضرت امام مہدی علیہ السلام زمین کو عدل وانصاف سے اس طرح بھردیں گے جس طرح وہ ان سے پہلے ظلم و جور سے بھری ہوئی ہوگی۔
پانچویں خصوصیت
حضرت امام مہدی(عج) کی حکومت کی پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ وہ اسلام کوزندگی کے ہرپہلو میں داخل کریں گے ۔ یعنی پوری دنیامیں انسانوں کی زندگی میں اسلامی قانون جاری ہوگااس وقت سارے علاقوں میں اسلامی قانون جاری ہوں گے۔ اس طرح حضرت امام مہدی علیہ السلام پوری دنیاسے ظلم مٹاکرعدالت کے ساتھ حکومت کریں گے اورسب کوان کے حق دئیے جائیں گے۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے اصحاب
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے اصحاب 313 ہیں۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں لکھی گئی کتابوں میں یہ ذکرملتا ہے کہ آپ کے ظہورکے وقت ان کے 313 خاص اصحاب ان سے آکر ملیں گے اورہرمشکل میں پہاڑکی طرح جم کرامام کے ساتھ رہیں گے یہ حدیث بحارالانوار،اثبات الہداة اور منتخب الاثر جیسی کتابوں میں نقل ہوئی ہیں۔
1۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام 313 اصحاب کے انتظار میں ہیں
ظہور کے وقت اس سے پہلے کہ وہ کعبہ کے پاس جائیں اور کعبہ سے لگ کرکھڑے ہوں اور اپنی بلند آواز کو پوری دینا کے لوگوں تک پہنچائیں، ذی طوی نامی جگہ پر اپنے 313خاص اصحاب کے انتظار میں رکیں گے تا کہ وہ آکر امام سے مل لیں وہاں سے پھر وہ امام کے ساتھ خانہ کعبہ کے پاس جائیں گے۔
2۔ یہ 313 اصحاب پوری دنیا سے جمع ہوں گے
حضرت امام محمد باقر علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ اللہ حضرت قائم کے لئے ،جنگ بدر میں لڑنے والوں کی تعداد 313 کے برابر انسانوں کو دور دور کے شہروں سے اکھٹا کرے گا۔
3۔ وہ سب سے پہلے امام کی بیعت کریں گے
روایات میں ہے کہ ظہور کے وقت جبرئیل کے بعد امام کی بیعت کرنے والے یہی 313 اصحاب ہوں گے ۔
اس بات پر توجہ رہے کہ ظہور کے وقت امام کے اصحاب کی تعداد 313 ہے لیکن وہ تعداد بڑھتی رہے گی اور ظہور کے فورا بعد ہی 10000 تک پہنچ جائے گی ۔
4۔ وہ بہادر اور جاں نثارہوں گے
حضرت امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ وہ 313 اصحاب اتنے بہادر اور جاں نثارہوں گے کہ جب دشمن جمع ہوکر قائم آل محمد کو قتل کرنا چاہیں گے تو یہ 313 اصحاب بہادری کے ساتھ حضرت کا دفاع کریں گے۔
5۔ وہ زمین پر حاکم ہوں گے
حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ”ایسا ہے جیسے میں امام قائم کو کوفہ کے منبر پر دیکھ رہا ہوں اور ان کے اصحاب،(جنگ بدرمیں مسلمانوں کی تعدادکے برابرہیں یعنی 313 ) ان کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں یہ اصحاب اللہ کی طرف سے زمین پر حاکم ہیں۔
6۔ وہ امت معدودہ ہیں
قرآن کریم کی آیت ہے کہ تم جہاں پر بھی ہوں گے اللہ تم سب کو جمع کرے گا اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اللہ کی قسم سورہ ہود میں امت معدودہ سے مراد حضرت امام مہدی علیہ السلام کے اصحاب ہیں اللہ کی قسم وہ سب ایک پل میں اس طرح جمع ہوں جائیں گے ،جس طرح ہوا کے اثر سے بادل جمع ہوجاتے ہیں۔
7۔ 313 اصحاب میں سے 50 عورتیں ہیں
حضرت امام باقرعلیہ السلام نے فرمایاہے کہ اللہ کی قسم بادلوں کی طرح آنے والے ان 313 اصحاب میں پچاس عورتیں ہیں۔
فہرست
حرف اول از مترجم 3
مقالہ اور مقالہ نگار 5
ترجمہ اور اس کی خصوصیات 5
خلاصہ 6
اسلامی حکومت کا مقام 7
حکومت کا مفہوم 7
نہج البلاغہ میں حکومت کا معنی 8
1- قائد کی اطاعت سے سرپیچی 10
الف: معاشرے کا حقیقی قائد اور الہی رہبر 10
ب۔ غیبت کے زمانے میں قائد کا کردار 15
ج- رہبر اور عوام کے ایک دوسرے پر حقوق 24
2- اختلاف اور انتشار کا شکار ہونا 26
3- دنیا داری 33
الف : کمیونٹی رہنماؤں اور سیاستدانوں کی دنیا طلبی 33
ب: سماج میں رہنے والے عام لوگوں کی دنیا پرستی 40
دنیا داری سے جنم لینے والی بیماریاں 41
امام علیہ السلام اور دنیا کی ستائش 43
4- اقدار کا چہرہ بگاڑنا 44
5- راہ خدا میں جہاد سے منہ موڑنا 52
قرآن کریم میں جہاد کی فضیلت 52
اسلام میں جہاد دفاع ہے 54
جہاد میں سستی کا انجام 55
کوفیوں کی شکست کے اسباب 57
6- غربت اور نا انصافی 61
عہدنامہ مالک اشتر کے بعض اقتباسات 64
7- گذشتہ امتوں کی تباہیوں سے عبرت نہ لینا 70
تتمۂ مؤلف 77
تتمۂ مترجم 79
حضرت امام مہدی (عج) کی حکومت کی خصوصیتیں 79
پہلی خصوصیت 79
دوسری خصوصیت 80
تیسری خصوصیت 80
چوتھی خصوصیت 81
پانچویں خصوصیت 81
حضرت امام مہدی علیہ السلام کے اصحاب 81
1 ۔ حضرت امام مہدی علیہ السلام 313 اصحاب کے انتظار میں ہیں 82
2 ۔ یہ 313 اصحاب پوری دنیا سے جمع ہوں گے 82
3 ۔ وہ سب سے پہلے امام کی بیعت کریں گے 82
4 ۔ وہ بہادر اور جاں نثارہوں گے 82
5 ۔ وہ زمین پر حاکم ہوں گے 83
6 ۔ وہ امت معدودہ ہیں 83
7 ۔ 313 اصحاب میں سے 50 عورتیں ہیں 83