رسول اکرم (ص) کی سوانح حیات

اصلاح کتب

مؤلف: آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی
رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)


رسول اکرم (ص) کی سوانح حیات

آیت اللہ مکارم شیرازی

مترجم: علامہ صفدر حسین


آغازوحی

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کوہ حرا پر گئے ہوئے تھے کہ جبرئیل آئے اور کھا : اے محمد پڑھ: پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا میں پڑھا ہوانہیں ہوں ۔ جبرئیل نے انہیں آغوش میں لے کردبایا اور پہر دوبارہ کھا : پڑھ، پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پہر اسی جواب کو دہرایا۔ اس کے بعد جبرئیل نے پہر وھی کام کیا اور وھی جواب سنا ، اور تیسری بارکھا:( اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ ) (۱)

جبرئیل (ع)یہ بات کہہ کر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نظروں سے غائب ہوگئے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جو وحی کی پہلی شعاع کو حاصل کرنے کے بعد بہت تھکے ہوئے تھے خدیجہ کے پاس آئے اور فرمایا : ” زملونی ودثرونی “ مجھے اڑھادو اور کوئی کپڑا میرے اوپر ڈال دوتاکہ میں آرام کروں ۔

”علامہ طبرسی“ بھی مجمع البیان میں یہ نقل کرتے ہیں کہ رسو لخدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خدیجہ سے فرمایا :

”جب میں تنھا ہوتا ہوں تو ایک آواز سن کر پریشان ہوجاتاہوں “ ۔ حضرت خدیجہ(ع) نے عرض کیا : خداآپ کے بارے میں خیر اور بھلائی کے سواکچھ نہیں کرے گا کیونکہ خدا کی قسم آپ امانت کو ادا کرتے ہیں اور صلہ رحم بجالاتے ہیں ‘اور جوبات کرتے ہیں اس میں سچ بولتے ہیں ۔

”خدیجہ“(ع) کہتی ہیں : اس واقعہ کے بعد ہم ورقہ بن نوفل کے پاس گئے (نوفل خدیجہ کا زاد بھائی اور عرب کے علماء میں سے تھا )رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جو کچھ دیکھا تھا وہ“ ورقہ“ سے بیان کیا ” ورقہ “ نے کھا : جس وقت وہ پکارنے والا آپ کے پاس آئے تو غور سے سنو کہ وہ کیا کہتا ہے ؟ اس کے بعد مجھ سے بیان کرنا۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی خلوت گاہ میں سنا کہ وہ کہہ رھاہے :

اے محمد ! کہو :

بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ ﴿١﴾ الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿٢﴾ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ ﴿٣﴾ مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ﴿٤﴾ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ﴿٥﴾ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ﴿٦﴾ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ﴿٧﴾

اور کہو ” لاالہ الااللہ“ اس کے بعد آپ ورقہ کے پاس آئے اور اس ماجرے کو بیان کیا ۔

” ورقہ “ نے کھا : آپ کو بشارت ہو ‘ پہر بھی آپ کو بشارت ہو ۔میں گواھی دیتا ہوں کہ آپ وھی ہیں جن کی عیسی بن مریم نے بشارت دی ہے‘ آپ موسی علیہ السلام کی طرح صاحب شریعت ہیں اور پیغمبر مرسل ہیں ۔ آج کے بعد بہت جلدھی جھاد کے لیے مامور ہوں گے اور اگر میں اس دن تک زندہ رھا تو آپ کے ساتھ مل کر جھاد کروں گا “ جب “ ور قہ دنیا سے رخصت ہو گیا تو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”میں نے اس روحانی شخص کو بہشت (برزخی جنت ) میں دیکھا ہے کہ وہ جسم پر ریشمی لباس پہنے ہوئے تھا‘ کیونکہ وہ مجھ پر ایمان لایا تھا اور میری تصدیق کی تھی۔ “(۲)

پ ہ لا مسلمان(۳)

اس سوال کے جواب میں سب نے متفقہ طور پر کھا ہے کہ عورتوں میں سے جو خاتون سب سے پہلے مسلمان ہوئیں وہ جناب خدیجہ(ع) تہیں جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی وفاداراور فدا کار زوجہ تہیں باقی رھا مردوں میں سے تو تمام شیعہ علماء ومفسرین اور اہل سنت علماء کے ایک بہت بڑے گروہ نے کھا ہے کہ حضرت علی (ع) وہ پہلے شخض تھے جنہوںنے مردوں میں سے دعوت پیغمبر پر لبیک کھی علماء اہل سنت میں اس امرکی اتنی شہرت ہے کہ ا ن میں سے ایک جماعت نے اس پر اجماع واتفاق کا دعویٰ کیا ہے ان میں سے حاکم نیشاپوری(۴) نے کھا ہے :

مورخین میں اس امر پر کوئی اختلاف نہیں کہ علی ابن ابی طالب اسلام لانے والے پہلے شخص ہیں ۔ اختلاف اسلام قبول کرتے وقت انکے بلوغ کے بارے میں ہے ۔

جناب ابن عبدالبر(۵) لکھتے ہیں : اس مسئلہ پر اتفاق ہے کہ خدیجہ(ع) وہ پہلی خاتون ہیں جو خدا اور اس بات کا پختہ ارادہ کرلیا کہ خود کو پھاڑ سے گرادیں ‘ اور اسی قسم کے فضول اور بے ہودہ باتیں جو نہ تو نبوت کے بلند مقام کے ساتھ سازگار ہیں اور نہ ھی پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اس عقل اور حد سے زیادہ دانش مندی ‘ مدبریت ‘ صبر وتحمل وشکیبائی ‘ نفس پر تسلط اور اس اعتماد کو ظاہر کرتی ہیں جو تاریخوں میں ثبت ہے ۔

ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اس قسم کی ضعیف ورکیک روایات دشمنان اسلام کی ساختہ وپرداختہ ہیں جن کا مقصد یہ تھا کہ اسلام کو بھی مورد اعتراض قراردے دیں اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات گرامی کو بھی ۔

اس کے رسول پر ایمان لائیں اور جو کچھ وہ لائے تھے اسی کی تصدیق کی ۔ پہر حضرت علی نے ان کے بعد یھی کام انجام دیا ۔(۶)

ابوجعفر الکافی معتزلی لکھتا ہے : تمام لوگوں نے یھی نقل کیا ہے کہ سبقت اسلام کا افتخار علی سے مخصوص ہے ۔(۷) قطع نظر اس کے کہ پیغمبر اکرم سے،خود حضرت علی (ع)سے اور صحابہ سے اس بارے میں بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں جو حد تواتر تک پہنچی ہوئی ہیں ،ذیل میں چند روایات ہم نمونے کے طور پر نقل کرتے ہیں : پیغمبر اکر منے فرمایا :

۱ ۔پہلا شخص جو حوض کوثر کے کنارے میرے پاس پہنچے گا وہ شخص ہے جو سب سے پہلے اسلام لایا اور وہ علی بن ابی طالب ہے۔(۸)

۲ ۔ علماء اہل سنت کے ایک گروہ نے پیغمبر اکرم سے نقل کیا ہے کہ آنحضرت نے حضرت علی (ع)کا ہاتھ پکڑکر فرمایا :

یہ پہلا شخص ہے جو مجھ پر ایمان لایا اور پہلا شخص ہے جو قیامت میں مجھ سے مصافحہ کرے گا اور یہ ”صدیق اکبر“ ہے ۔(۹)

۳ ۔ابو سعید خدری رسول اکرم سے نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت نے حضرت علی علیہ السلام کے دونوں شانوں کے درمیان ہاتھ مارکر فرمایا :”اے علی (ع) : تم سات ممتاز صفات کے حامل ہو کہ جن کے بارے میں روز قیامت کوئی تم سے حجت بازی نہیں کرسکتا ۔ تم وہ پہلے شخص ہو جو خدا پر ایمان لائے اور خدائی پیمانوں کے زیادہ وفادار ہو اور فرمان خداکی اطاعت میں تم زیادہ قیام کرنیوالے ہو ۔۔۔“(۱۰)

تحریف تاریخ

یہ امر لائق توجہ ہے کہ بعض لوگ ایسے بھی جوایمان اوراسلام میں حضرت علی کی سبقت کا سیدہے طریقے سے تو انکار نہیں کرسکے لیکن کچھ واضح البطلان علل کی بنیاد پر ایک اور طریقے سے انکار کی کوشش کی ہے یا اسے کم اہم بنا کر پیش کیا ہے بعض نے کو شش کی ہے ان کی جگہ حضرت ابوبکر کو پہلا مسلمان قرار دیں یہ لوگ کبھی کہتے ہیں کہ علی اس وقت دس سال کے تھے لہٰذا طبعاًنا با لغ تھے اس بناء پر ان کا اسلام ایک بچے کے اسلام کی حیثیت سے دشمن کے مقابلے میں مسلمانوں کے محاذ کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا۔(۱۱)

یہ بات واقعاً عجیب ہے اور حقیقت میں خود پیغمبر خدا پر اعتراض ہے کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ یوم الدار(دعوت ذی العشیرہ کے موقع پر )رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسلام اپنے قبیلے کے سامنے پیش کیا اور کسی نے حضرت علی(ع) کے سوا اسے قبول نہ کیا اس وقت حضرت علی کھڑے ہوگئے اور اسلام کا اعلان کیا تو آپ نے ان کے اسلام کو قبول کیا بلکہ یہاں تک اعلان کیا کہ تو میرے بھائی ،میرا وصی اور میرا خلیفہ ہے ۔

یہ وہ حدیث ہے جو شیعہ سنی حافظان حدیث نے کتب صحاح اور مسانید میںنقل کی ہے، اسی طرح کئی مورخین اسلام نے اسے نقل کیا ہے یہ نشاندھی کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی (ع)کی اس کم سنی میں نہ صرف ان کا اسلام قبول کیا ہے بلکہ ان کا اپنے بھائی ، وصی اور جانشین کی حیثیت سے تعارف بھی کروایا ہے ۔(۱۲)

کبھی کہتے ہیں کہ عورتوں میں پہلی مسلمان خدیجہ تہیں ، مردوں میں پہلے مسلمان ابوبکر تھے اور بچوں میں پہلے مسلمان علی تھے یوں دراصل وہ اس امر کی اہمیت کم کرنا چاہتے ہیں(۱۳)

حالانکہ اول تو جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں حضرت علی علیہ السلام کی اہمیت اس وقت کی سن سے اس امر کی اہمیت کم نہیں ہوسکتی خصوصاً جب کہ قرآن حضرت یحٰیی(ع) کے بارے میں کہتا ہے : ”ہم نے اسے بچپن کے عالم میں حکم دیا“۔(۱۴)

حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں بھی ہے کہ وہ بچپن کے عالم میں بھی بول اٹہے اور افراد ان کے بارے میں شک کرتے تھے ان سے کھا : ”میں اللہ کا بندہ ہوں مجھے اس نے آسمانی کتاب دی اور مجھے نبی بنایا ہے “۔(۱۵)

ایسی آیات کو اگر ہم مذکورہ حدیث سے ملاکردیکہیں کہ جس میں آپ نے حضرت علی (ع)کو اپنا وصی، خلیفہ اور جانشین قرار دیا ہے توواضح ہوجاتاہے کہ صاحب المنار کی متعصبانہ گفتگو کچھ حیثیت نہیں رکھتی ۔

دوسری بات یہ ہے کہ یہ امرتاریخی لحاظ سے مسلم نہیں ہے کہ حضرت ابوبکر اسلام لانے والے تیسرے شخص تھے بلکہ تاریخ وحدیث کی بہت سی کتب میں ان سے پہلے بہت سے افراد کے اسلام قبول کرنے ذکر ہے ۔ یہ بحث ہم اس نکتے پر ختم کرتے ہیں کہ حضرت علی (ع)نے خود اپنے ارشادات میں اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ میں پہلا مومن ، پہلا مسلمان اور سول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ پہلا نماز گذارہوں اور اس سے آپ نے اپنے مقام وحیثیت کو واضح کیا ہے یہ بات آپ سے بہت سی کتب میں منقول ہے۔

علاوہ ازیں ابن ابی الحدید مشہور عالم ابو جعفر اسکافی معتزلی سے نقل کرتے ہیں کہ یہ جو بعض لوگ کہتے ہیں کہ ابوبکر اسلام میں سبقت رکھتے تھے اگر یہ امر صحیح ہے تو پہر خود انھوں نے اس سے کسی مقام پر اپنی فضیلت کے لیے استدلال کیوں نہیں کیا اور نہ ھی ان کے حامی کسی صحابی نے ایسا دعوی کیا ہے۔(۱۶)

دعوت ذوالعشیرة

تاریخ اسلام کی رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بعثت کے تیسرے سال اس دعوت کا حکم ہوا کیونکہ اب تک آپ کی دعوت مخفی طورپرجاری تھی اور اس مدت میں بہت کم لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا ،لیکن جب یہ آیت نازل ہوئی ( وانذر عشیرتک الا قربین ) ۔(۱۷)

اور یہ آیت بھی ( فاصدع بما تومرواعرض عن المشرکین ) ۔(۱۸) تو آپ کھلم کھلا دعوت دینے پر مامور ہوگئے اس کی ابتداء اپنے قریبی رشتہ داروں سے کرنے کا حکم ہوا ۔

اس دعوت اور تبلیغ کی اجمالی کیفیت کچھ اس طرح سے ہے : آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے قریبی رشتہ داروں کو جناب ابوطالب کے گہر میں دعوت دی اس میں تقریباً چالیس افراد شریک ہوئے آپ کے چچاؤں میں سے ابوطالب، حمزہ اور ابولھب نے بھی شرکت کی ۔

کھانا کھالینے کے بعد جب آنحضرت نے اپنا فریضہ ادا کرنے کا ارادہ فرمایا تو ابولھب نے بڑھ کر کچھ ایسی باتیں کیں جس سے سارا مجمع منتشر ہوگیالہٰذا آپ نے انہیں کل کے کھانے کی دعوت دے دی ۔

دوسرے دن کھانا کھانے کے بعد آپ نے ان سے فرمایا : ” اے عبد المطلب کے بیٹو: پورے عرب میں مجھے کوئی ایسا شخص دکھائی نہیں دیتا جو اپنی قوم کے لیے مجھ سے بہتر چیز لایا ہو ، میں تمھارے لیے دنیا اور آخرت کی بھلائی لے کر آیا ہوں اور خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ تمہیں اس دین کی دعوت دوں ، تم میں سے کون ہے جو اس کام میں میرا ہاتھ بٹائے تاکہ وہ میرا بھائی ، میرا وصی اور میرا جانشین ہو“ ؟ سب لوگ خاموش رہے سوائے علی بن ابی طالب کے جو سب سے کم سن تھے، علی اٹہے اور عرض کی : ”اے اللہ کے رسول! اس راہ میں میں آپ کا یاروومددگار ہوں گا“ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنا ہاتھ علی (ع)کی گردن پر رکھا اور فرمایا :”ان هذا اخی ووصی وخلیفتی فیکم فاسمعواله واطیعوه “ ۔ یہ (علی (ع)) تمھارے درمیان میرا بھائی ، میرا وصی اور میرا جانشین ہے اس کی باتوں کو سنو اور اس کے فرمان کی اطاعت کرو ۔ یہ سن کر سب لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور تمسخر آمیز مسکراہٹ ان کے لبوں پر تھی ، ابوطالب (ع)سے سے کہنے لگے، ”اب تم اپنے بیٹے کی باتوں کو سنا کرو اور اس کے فرمان پر عمل کیا کرنا“۔(۱۹)

اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان دنوں کس حدتک تنھا تھے اور لوگ آپ کی دعوت کے جواب میں کیسے کیسے تمسخرآمیزجملے کھا کرتے تھے اور علی علیہ السلام ان ابتدائی ایام میں جب کہ آپ بالکل تنھا تھے کیونکر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مدافع بن کر آپ کے شانہ بشانہ چل رہے تھے۔

ایک اور روایت میں ہے کہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس وقت قریش کے ہر قبیلے کا نام لے لے کر انہیں بلایا اور انہیں جہنم کے عذاب سے ڈرایا، کبھی فرماتے:” یابنی کعب انقذواانفسکم من النار “ ۔

اے بنی کعب : خود کو جہنم سے بچاؤ، کبھی فرماتے : ”یا بنی عبد الشمس“ ۔۔ کبھی فرماتے :” یابنی عبدمناف“ ۔کبھی فرماتے : ”یابنی ھاشم “۔کبھی فرماتے :”یابنی عبد المطلب انقذ وانفسکم النار “ ۔ تم خودھی اپنے آپ کو جہنم سے بچاؤ ، ورنہ کفر کی صورت میں میں تمھارا دفاع نہیں کرسکوں گا ۔

ابن ابی جریر، ابن ابی حاتم ، ابن مردویہ ، ابونعیم ، بیہقی ، ثعلبی اور طبری مورخ ابن اثیر نے یہ واقعہ اپنی کتاب ” کامل “ میں اور ” ابوالفداء “ نے اپنی تاریخ میں اور دوسرے بہت سے مورخین نے اپنی اپنی کتابوں میں اسے درج کیا ہے مزید آگاھی کے لئے کتاب” المرجعات “ص ۱۳۰ کے بعد سے اور کتاب ”احقاق الحق“ ج ۲ ، ص ۶۲ ملاحظہ فرمائیں۔

ایمان ابوطالب

تمام علمائے شیعہ اور اہل سنت کے بعض بزرگ علماء مثلاً ”ابن ابی الحدید“شارح نہج البلاغہ نے اور”قسطلانی“ نے ارشاد الساری میں اور” زینی دحلان“ نے سیرةحلبی کے حاشیہ میں حضرت ابوطالب کو مومنین اہل اسلام میں سے بیان کیا ہے۔اسلام کی بنیادی کتابوں کے منابع میں بھی ہمیںاس موضوع کے بہت سے شواہد ملتے ہیں کہ جن کے مطالعہ کے بعد ہم گہرے تعجب اور حیرت میں پڑجاتے ہیں کہ حضرت ابوطالب پرایک گروہ کی طرف سے اس قسم کی بے جا تہمتیں کیوں لگائی گئیں ؟

جو شخص اپنے تمام وجود کے ساتھ پیغمبر اسلام کا دفاع کیا کرتا تھا اور بار ھا خوداپنے فرزند کو پیغمبراسلام کے وجود مقدس کو بچانے کے لئے خطرات کے مواقع پر ڈھال بنادیا کرتا تھا!!یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اس پر ایسی تہمت لگائی جائے۔

یھی سبب ہے کہ دقت نظر کے ساتھ تحقیق کرنے والوں نے یہ سمجھا ہے کہ حضرت ابوطالب کے خلاف، مخالفت کی لہر ایک سیاسی ضرورت کی وجہ سے ہے جو ” شجرہ خبیثہ بنی امیّہ“ کی حضرت علی علیہ السلام کے مقام ومرتبہ کی مخالفت سے پیداہوئی ہے۔

کیونکہ یہ صرف حضرت ابوطالب کی ذات ھی نہیں تھی کہ جو حضرت علی علیہ السلام کے قرب کی وجہ سے ایسے حملے کی زد میں آئی ہو ،بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر وہ شخص جو تاریخ اسلام میں کسی طرح سے بھی امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام سے قربت رکھتا ہے ایسے ناجو انمردانہ حملوں سے نہیں بچ سکا، حقیقت میں حضرت ابوطالب کا کوئی گناہ نہیں تھا سوائے اس کے وہ حضرت علی علیہ السلام جیسے عظیم پیشوائے اسلام کے باپ تھے۔

ایمان ابو طالب پر سات دلیل

ہم یہاں پر ان بہت سے دلائل میں سے جو واضح طور پر ایمان ابوطالب کی گواھی دیتے ہیں کچھ دلائل مختصر طور پر فہرست وار بیان کرتے ہیں تفصیلات کے لئے ان کتابوں کی طرف رجوع کریں جو اسی موضوع پر لکھی گئی ہیں ۔

۱ ۔ حضرت ابوطالب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت سے پہلے خوب اچھی طرح سے جانتے تھے کہ ان کا بھتیجا مقام نبوت تک پہنچے گا کیونکہ مورخین نے لکھا ہے کہ جس سفر میں حضرت ابوطالب قریش کے قافلے کے ساتھ شام گئے تھے تو اپنے بارہ سالہ بھتجے محمد کو بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے ۔ اس سفر میں انہوں نے آپ سے بہت سی کرامات مشاہدہ کیں۔

ان میں ایک واقعہ یہ ہے کہ جو نہیں قافلہ ”بحیرا“نامی راھب کے قریب سے گزرا جو قدیم عرصے سے ایک گرجے میں مشغول عبادت تھا اور کتب عہدین کا عالم تھا ،تجارتی قافلے اپنے سفر کے دوران اس کی زیارت کے لئے جاتے تھے، توراھب کی نظریں قافلہ والوں میں سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر جم کررہ گئیں، جن کی عمراس وقت بارہ سال سے زیادہ نہ تھی ۔

بحیرانے تھوڑی دیر کے لئے حیران وششدر رہنے اور گہری اور پُرمعنی نظروں سے دیکھنے کے بعد کھا:یہ بچہ تم میں سے کس سے تعلق رکھتا ہے؟لوگوں نے ابوطالب کی طرف اشارہ کیا، انہوں نے بتایا کہ یہ میرا بھتیجا ہے۔

” بحیرا“ نے کھا : اس بچہ کا مستقبل بہت درخشاں ہے، یہ وھی پیغمبر ہے کہ جس کی نبوت ورسالت کی آسمانی کتابوں نے خبردی ہے اور میں نے اسکی تمام خصوصیات کتابوں میں پڑھی ہیں ۔

ابوطالب اس واقعہ اور اس جیسے دوسرے واقعات سے پہلے دوسرے قرائن سے بھی پیغمبر اکرم کی نبوت اور معنویت کو سمجھ چکے تھے ۔

اہل سنت کے عالم شہرستانی (صاحب ملل ونحل) اور دوسرے علماء کی نقل کے مطابق: ”ایک سال آسمان مکہ نے اپنی برکت اہل مکہ سے روک لی اور سخت قسم کی قحط سالی نے لوگوں کوگھیر لیاتو ابوطالب نے حکم دیا کہ ان کے بھتیجے محمد کو جو ابھی شیر خوارھی تھے لایاجائے، جب بچے کو اس حال میں کہ وہ ابھی کپڑے میں لپیٹا ہوا تھا انہیں دیا گیا تو وہ اسے لینے کے بعد خانہ کعبہ کے سامنے کھڑے ہوگئے اور تضرع وزاری کے ساتھ اس طفل شیر خوار کو تین مرتبہ اوپر کی طرف بلند کیا اور ہر مرتبہ کہتے تھے، پروردگارا، اس بچہ کے حق کا واسطہ ہم پر برکت والی بارش نازل فرما ۔

کچھ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ افق کے کنارے سے بادل کا ایک ٹکڑا نمودار ہوا اور مکہ کے آسمان پر چھا گیا اور بارش سے ایسا سیلاب آیا کہ یہ خوف پیدا ہونے لگا کہ کہیں مسجد الحرام ھی ویران نہ ہوجائے “۔

اس کے بعد شہرستانی لکھتا ہے کہ یھی واقعہ جوابوطالب کی اپنے بھتیجے کے بچپن سے اس کی نبوت ورسالت سے آگاہ ہونے پر دلالت کرتا ہے ان کے پیغمبر پر ایمان رکھنے کا ثبوت بھی ہے اور ابوطالب نے بعد میں اشعار ذیل اسی واقعہ کی مناسبت سے کہے تھے :

و ابیض یستسقی الغمام بوج

ثمال الیتامی عصمة الارامل

” وہ ایسا روشن چہرے والا ہے کہ بادل اس کی خاطر سے بارش برساتے ہیں وہ یتیموں کی پناہ گاہ اور بیواؤں کے محافظ ہیں “

یلوذ ب اللاک من آل اشم

فم عند فی نعمة و فواضل

” بنی ھاشم میں سے جوچل بسے ہیں وہ اسی سے پناہ لیتے ہیں اور اسی کے صدقے میں نعمتوں اور احسانات سے بہرہ مند ہوتے ہیں ،،

ومیزان عدله یخیس شعیرة

ووزان صدق وزنه غیر هائل

” وہ ایک ایسی میزان عدالت ہے کہ جو ایک جَوبرابر بھی ادہرادہر نہیں کرتا اور درست کاموں کا ایسا وزن کرنے والا ہے کہ جس کے وزن کرنے میں کسی شک وشبہ کا خوف نہیں ہے “

قحط سالی کے وقت قریش کا ابوطالب کی طرف متوجہ ہونا اور ابوطالب کا خدا کو آنحضرت کے حق کا واسطہ دینا شہرستانی کے علاوہ اور دوسرے بہت سے عظیم مورخین نے بھی نقل کیا ہے ۔“(۲۰)

اشعار ابوطالب زندہ گواہ

۲ ۔اس کے علاوہ مشہور اسلامی کتابوں میں ابوطالب کے بہت سے اشعار ایسے ہیں جو ہماری دسترس میں ہیں ان میں سے کچھ اشعار ہم ذیل میں پیش کررہے ہیں :

والله ان یصلوالیک بجمعهم

حتی اوسدفی التراب دفینا

”اے میرے بھتیجے خدا کی قسم جب تک ابوطالب مٹی میںنہ سوجائے اور لحد کو اپنا بستر نہ بنالے دشمن ہرگز ہرگز تجھ تک نہیں پہنچ سکیں گے“

فاصدع بامرک ماعلیک غضاضته

وابشربذاک وقرمنک عیونا

”لہٰذا کسی چیز سے نہ ڈراور اپنی ذمہ داری اور ماموریت کا ابلاع کر، بشارت دے اور آنکھوں کو ٹھنڈا کر“۔

ودعوتنی وعلمت انک ناصحی

ولقد دعوت وکنت ثم امینا

”تونے مجھے اپنے مکتب کی دعوت دی اور مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ تیرا ہدف ومقصد صرف پندو نصیحت کرنا اور بیدار کرنا ہے، تو اپنی دعوت میں امین اور صحیح ہے“

ولقد علمت ان دین محمد(ص)

من خیر ادیان البریة دیناً

” میں یہ بھی جانتا ہوں کہ محمد کا دین ومکتب تمام دینوں اور مکتبوں میں سب سے بہتردین ہے“۔

اور یہ اشعار بھی انہوں نے ھی ارشاد فرمائے ہیں :

الم تعلمواانا وجدنا محمد اً

رسولا کموسیٰ خط فی اول الکتب

” اے قریش ! کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ محمد( صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ) موسیٰ (علیہ السلام) کی مثل ہیں اور موسیٰ علیہ السلام کے مانند خدا کے پیغمبر اور رسول ہیں جن کے آنے کی پیشین گوئی پہلی آسمانی کتابوں میں لکھی ہوئی ہے اور ہم نے اسے پالیاہے“۔

وان علیه فی العباد محبة

ولاحیف فی من خصه الله فی الحب

” خدا کے بندے اس سے خاص لگاؤ رکھتے ہیں اور جسے خدا وندمتعال نے اپنی محبت کے لئے مخصوص کرلیا ہو اس شخص سے یہ لگاؤبے موقع نہیں ہے۔“

ابن ابی الحدید نے جناب ابوطالب کے کافی اشعار نقل کرنے کے بعد (کہ جن کے مجموعہ کو ابن شہر آشوب نے ” متشابھات القرآن“ میں تین ہزار اشعار کھا ہے) کہتا ہے : ”ان تمام اشعار کے مطالعہ سے ہمارے لئے کسی قسم کے شک وشبہ کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی کہ ابوطالب اپنے بھتیجے کے دین پر ایمان رکھتے تھے“۔

۳ ۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے بہت سی ایسی احادیث بھی نقل ہوئی ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ان کے فدا کار چچا ابوطالب کے ایمان پر گواھی دیتی ہیں منجملہ ان کے کتاب ” ابوطالب مومن قریش“ کے مولف کی نقل کے مطابق ایک یہ ہے کہ جب ابوطالب کی وفات ہوگئی تو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کی تشیع جنازہ کے بعد اس سوگواری کے ضمن میں جو اپنے چچا کی وفات کی مصیبت میں آپ کررہے تھے آپ یہ بھی کہتے تھے:

”ھائے میرے بابا! ھائے ابوطالب ! میں آپ کی وفات سے کس قدر غمگین ہوں کس طرح آپ کی مصیبت کو میں بھول جاؤں ، اے وہ شخص جس نے بچپن میں میری پرورش اور تربیت کی اور بڑے ہونے پر میری دعوت پر لبیک کھی ، میں آپ کے نزدیک اس طرح تھا جیسے آنکھ خانہ چشم میں اور روح بدن میں“۔

نیز آپ ہمیشہ یہ کیا کرتے تھے :” مانالت منی قریش شیئًااکرهه حتی مات ابوطالب “

”اہل قریش اس وقت تک کبھی میرے خلاف ناپسندیدہ اقدام نہ کرسکے جب تک ابوطالب کی وفات نہ ہوگئی“۔

۴ ۔ ایک طرف سے یہ بات مسلم ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ابوطالب کی وفات سے کئی سال پہلے یہ حکم مل چکا تھا کہ وہ مشرکین کے ساتھ کسی قسم کا دوستانہ رابطہ نہ رکہیں ،اس کے باوجود ابوطالب کے ساتھ اس قسم کے تعلق اور مہرو محبت کا اظھار اس بات کی نشاندھی کرتا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم انہیں مکتب توحید کا معتقد جانتے تھے، ورنہ یہ بات کس طرح ممکن ہوسکتی تھی کہ دوسروں کو تو مشرکین کی دوستی سے منع کریں اور خود ابوطالب سے عشق کی حدتک مہرومحبت رکہیں ۔

۵ ۔ان احادیث میں بھی کہ جو اہل بیت پیغمبر کے ذریعہ سے ہم تک پہنچی ہیں حضرت ابوطالب کے ایمان واخلاص کے بڑی کثرت سے مدارک نظر آتے ہیں ، جن کا یہاں نقل کرنا طول کا باعث ہوگا، یہ احادیث منطقی استدلالات کی حامل ہیں ان میں سے ایک حدیث چوتھے امام علیہ السلام سے نقل ہوئی ہے اس میں امام علیہ السلام نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا ابوطالب مومن تھے؟ جواب دینے کے بعد ارشاد فرمایا:

”ان هنا قوماً یزعمون انه کافر“ ، اس کے بعد فرمایاکہ: ” تعجب کی بات ہے کہ بعض لوگ یہ کیوں خیال کرتے ہیں کہ ابوطالب کا فرتھے۔ کیا وہ نہیں جانتے کہ وہ اس عقیدہ کے ساتھ پیغمبر اور ابوطالب پر طعن کرتے ہیں کیا ایسا نہیں ہے کہ قرآن کی کئی آیات میں اس بات سے منع کیا گیا ہے (اور یہ حکم دیا گیا ہے کہ ) مومن عورت ایمان لانے کے بعد کافر کے ساتھ نہیں رہ سکتی اور یہ بات مسلم ہے کہ فاطمہ بنت اسدرضی اللہ عنھا سابق ایمان لانے والوں میں سے ہیں اور وہ ابوطالب کی زوجیت میں ابوطالب کی وفات تک رہیں ۔“

ابوطالب تین سال تک شعب میں

۶ ۔ان تمام باتوں کو چھوڑتے ہوئے اگرانسان ہر چیز میں ھی شک کریں تو کم از کم اس حقیقت میں تو کوئی شک نہیں کرسکتا کہ ابوطالب اسلام اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے درجہ اول کے حامی ومددگار تھے ، ان کی اسلام اور پیغمبر کی حمایت اس درجہ تک پہنچی ہوئی تھی کہ جسے کسی طرح بھی رشتہ داری اور قبائلی تعصبات سے منسلک نہیں کیا جاسکتا ۔

اس کا زندہ نمونہ شعب ابوطالب کی داستان ہے۔ تمام مورخین نے لکھا ہے کہ جب قریش نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور مسلمانوں کا ایک شدید اقتصادی، سماجی اور سیاسی بائیکاٹ کرلیا اور اپنے ہر قسم کے روابط ان سے منقطع کرلئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے واحد حامی اور مدافع، ابوطالب نے اپنے تمام کاموں سے ہاتھ کھینچ لیا اور برابر تین سال تک ہاتھ کھینچے رکھا اور بنی ھاشم کو ایک درہ کی طرف لے گئے جو مکہ کے پھاڑوں کے درمیان تھا اور ”شعب ابوطالب“ کے نام سے مشہور تھا اور وھاں پر سکونت اختیار کر لی۔

ان کی فدا کاری اس مقام تک جا پہنچی کہ قریش کے حملوں سے بچانے کےلئے کئی ایک مخصوص قسم کے برج تعمیرکرنے کے علاوہ ہر رات پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ان کے بستر سے اٹھاتے اور دوسری جگہ ان کے آرام کے لئے مھیا کرتے اور اپنے فرزند دلبند علی کو ان کی جگہ پر سلادیتے اور جب حضرت علی کہتے: ”بابا جان! میں تو اسی حالت میں قتل ہوجاؤں گا “ تو ابوطالب جواب میں کہتے :میرے پیارے بچے! بردباری اور صبر ہاتھ سے نہ چھوڑو، ہر زندہ موت کی طرف رواںدواں ہے، میں نے تجہے فرزند عبد اللہ کا فدیہ قرار دیا ہے ۔

یہ بات اور بھی طالب توجہ ہے کہ جو حضرت علی علیہ السلام باپ کے جواب میں کہتے ہیں کہ بابا جان میرا یہ کلام اس بناپر نہیں تھا کہ میں راہ محمد میں قتل ہونے سے ڈرتاہوں، بلکہ میرا یہ کلام اس بنا پر تھا کہ میں یہ چاہتا تھا کہ آپ کو معلوم ہوجائے کہ میں کس طرح سے آپ کا اطاعت گزار اور احمد مجتبیٰ کی نصرت ومدد کے لئے آمادہ و تیار ہوں۔

قارئین کرام ! ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ جو شخص بھی تعصب کو ایک طرف رکھ کر غیر جانبداری کے ساتھ ابوطالب کے بارے میں تاریخ کی سنہری سطروں کو پڑہے گا تو وہ ابن ابی الحدید شارح نہج البلاغہ کا ہمصدا ہوکر کہے گا :

ولولا ابوطالب وابنه

لما مثل الدین شخصا وقاما

فذاک بمکة آوی وحامی

وهذا بیثرب جس الحماما

” اگر ابوطالب اور ان کا بیٹا نہ ہوتے تو ہرگزمکتب اسلام باقی نہ رہتا اور اپنا قدسیدھا نہ کرتا ،ابوطالب تو مکہ میں پیغمبر کی مدد کےلئے آگے بڑہے اور علی یثرب (مدینہ) میں حمایت اسلام کی راہ میں گرداب موت میں ڈوب گئے“

ابوطالب کا سال وفات ”عام الحزن“

۷ ۔”ابوطالب کی تایخ زندگی، جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے ان کی عظیم قربانیاں اور رسول اللہ اور مسلمانوں کی ان سے شدید محبت کو بھی ملحوظ رکھنا چاہئے ۔ ہم یہاں تک دیکھتے ہیں کہ حضرت ابوطالب کی موت کے سال کا نام ”عام الحزن“ رکھا یہ سب باتیں اس امر کی دلیل ہیں کہ حضرت ابوطالب کو اسلام سے عشق تھا اور وہ جو پیغمبر اسلام کی اس قدر مدافعت کرتے تھے وہ محض رشتہ داری کی وجہ سے نہ تھی بلکہ اس دفاع میں آپ کی حیثیت ایک مخلص، ایک جاں نثار اور ایسے فدا کار کی تھی جو اپنے رھبر اور پیشوا کا تحفظ کررھا ہو۔“

ابولھب کی دشمنی

اس کانام ” عبدالعزی“ (عزی بت کا بندہ ) اور اس کی کنیت ”ابولھب“ تھی۔ اس کے لیے اس کنیت کا انتخاب شاید اس وجہ سے تھا کہ اس کا چہرہ سرخ اور بھڑکتا ہوا تھا، چونکہ لغت میں لھب آگ کے شعلہ کے معنی میں ہے ۔

وہ اور اس کی بیوی ”ام جمیل“جو ابوسفیان کی بہن تھی ، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نھایت بدزبان اور سخت ترین دشمنوں میں سے تھے ۔

”طارق محارق “ نامی ایک شخص کہتاہے : میں “ ذی المجاز “ کے بازار میں تھا ۔(۲۱)

اچانک میں نے ایک جوان کو دیکھا جو پکار پکار کر کہہ رھا تھا: اے لوگو: لاالہ الا اللہ کا اقرار کر لو تو نجات پاجاؤگے ۔ اور اس کے پیچہے پیچہے میں نے ایک شخص کو دیکھا جو اس کے پاؤں کے پچھلے حصہ پرپتہر مارتاجاتاہے جس کی وجہ سے اس کے پاؤں سے خون جاری تھا اوروہ چلا چلا کر کہہ رہاتھا ۔اے لوگو! یہ جھوٹاہے اس کی بات نہ ماننا “۔

میں نے پوچھا کہ یہ جوان کون ہے ؟ تو لوگوں نے بتایا :” یہ محمد، ، صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہے جس کا گمان یہ ہے کہ وہ پیغمبر ہے اور یہ بوڑھا اس کا چچا ابولھب ہے جو جو اس کو جھوٹا سمجھتا ہے ۔

”ربیع بن عباد“ کہتا ہے : میں اپنے باپ کے ساتھ تھا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دیکھاکہ وہ قبائل عرب کے پاس جاتے اور ہر ایک کو پکار کر کہتے : میں تمھاری طرف خدا کا بھیجا ہوا رسول ہوں : تم خدائے یگانہ کے سوا اور کسی کی عبادت نہ کرو اور کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ ۔

جب وہ اپنی بات سے فارغ ہوجاتاتو ایک خوبرو بھینگا آدمی جو ان کے پیچہے پیچہے تھا، پکارکرکہتا : اے فلاں قبیلے : یہ شخص یہ چاہتاہے کہ تم لات وعزی بت اور اپنے ہم پیمان جنوں کو چھوڑدو اور اس کی بدعت وضلالت کی پیروی کرنے لگ جاؤاس کی نہ سننا، اور اس کی پیروی نہ کرنا “۔

میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے ؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ ” اس کا چچا ابولھب ہے “۔

ابولھب پیغمبر کا پیچھا کرتارہا

جب مکہ سے باہر کے لوگوں کا کوئی گروہ اس شہر میں داخل ہوتا تھا تو وہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اس کی رشتہ داری اور سن وسال کے لحاظ سے بڑاہونے کی بناپر ابولھب کے پاس جاتاتھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارے میں تحقیق کرتا تھا وہ جواب دیتا تھا: محمد ایک جادوگر ہے ،وہ بھی پیغمبر سے ملاقات کئے بغیر ھی لوٹ جاتے اسی اثناء میں ایک ایسا گروہ آیا جنہوں نے یہ کھا کہ ہم تو اسے دیکہے بغیر واپس نہیں جائیں گے ابولھب نے کھا : ”ہم مسلسل اس کے جنون کا علاج کررہے ہیں : وہ ہلاک ہوجائے “۔

وہ اکثر مواقع پر سایہ کی طرح پیغمبر کے پیچہے لگارہتا تھا اور کسی خرابی سے فروگذاشت نہ کرتا تھا خصوصاً اس کی زبان بہت ھی گندی اور آلودہ ہوتی تھی اور وہ رکیک اورچبھنے والی باتیں کیا کرتا تھا اور شاید اسی وجہ سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سب دشمنوں کا سرغنہ شمار ہوتا تھا اسی بناء پر قرآن کریم اس پر اور اس کی بیوی ام جمیل پر ایسی صراحت اور سختی کے ساتھ تنقید کررھاہے وھی ایک اکیلا ایسا شخص تھا جس نے پیغمبر اکرم سے بنی ھاشم کی حمایت کے عہد وپیمان پر دستخط نہیں کئے تھے اور اس نے آپ کے دشمنوں کی صف میں رہتے ہوئے دشمنوں کے عہد وپیمان میں شرکت کی تھی۔

ابو لھب کے ہاتھ کٹ جائیں

”ابن عباس “سے نقل ہوا ہے کہ جس وقت آیہ”ونذر عشیرتک الاقربین“۔نازل ہوئی اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے قریبی رشتہ داروں کو انذار کرنے اور اسلام کی دعوت دینے پر مامور ہوئے،تو پیغمبرکوہ صفا پرآئے اور پکار کر کھا”یا صباحاہ“(یہ جملہ عرب اس وقت کہتے تھے جب ان پر دشمن کی طرف سے غفلت کی حالت میں حملہ ہو جاتا تھاتا کہ سب کو با خبر کردیں اور وہ مقابلہ کے لیے کھڑے ہو جائیں،لہٰذا کوئی شخص”یا صباحاہ“کہہ کر آواز دیتا تھا”صباح“کے لفظ کا انتخاب اس وجہ سے کیا جاتا تھا کہ عام طور پر غفلت کی حالت میں حملے صبح کے دقت کیے جاتے تھے۔

مکہ کے لوگوں نے جب یہ صدا سنی تو انہوں نے کھا کہ یہ کون ہے جو فریاد کررھا ہے۔

کھا گیا کہ یہ”محمد“ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں ۔ کچھ لوگ آپ کے پاس پہنچے تو آپ نے قبائل عرب کو ان کے نام کے ساتھ پکارا۔ آپ کی آواز پر سب کے سب جمع ہوگئے تو آپ نے ان سے فرما یا:

”مجھے بتلاؤ! اگر میں تمہیں یہ خبر دوں کہ دشمن کے سوار اس پھاڑ کے پیچہے سے حملہ کرنے والے ہیں ،تو کیا تم میری بات کی تصدیق کروگے“۔

انہوں نے جواب دیا:”ہم نے آپ سے کبھی بھی جھوٹ نہیں سنا“۔

آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”انی نذیر لکم بین یدی عذاب شدید“ ۔

”میں تمہیں خدا کے شدید عذاب سے ڈراتا ہوں“۔

(”میں تمہیں توحیدکا اقرار کرنے او ربتوں کو ترک کرنے کی دعوت دیتا ہوں“)جب ابو لھب نے یہ بات سنی تو اس نے کھا:

”تبالک!اٴما جمعتنا الا لهذا؟!“ ۔

تو ہلاک ہو جائے! کیا تو نے ہمیں صرف اس بات کے لیے جمع کیا ہے“؟

اس مو قع پر یہ سورہ نازل ہوا :

( تبت یداا بی لهب وتب ) (۲۲)

اے ابو لھب! تو ھی ہلاک ہو اور تیرے ہاتھ ٹوٹیں،تو ھی زیاں کار اور ہلاک ہونے والاہے،اس کے مال وثروت نے اور جو کچھ اس نے کمایا ہے اس نے، اسے ہر گز کوئی فائدہ نہیں دیا اور وہ اسے عذاب الٰھی سے نہیں بچائے گا“۔

اس تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک دولت مند مغرور شخص تھا جواپنی اسلام دشمن کوششوں کے لئے اپنے مال ودولت پر بہروسہ کرتاتھا۔

بعدمیں قرآن مزیے کہتا ہے،”وہ جلدی ھی اس آگ میں داخل ہوگا جس کے شعلے بھڑکنے والے ہیں “۔(۲۳)

اگر اس کا نام ”ابو لھب“ہے تو اس کے لئے عذاب بھی”بو لھب“ہے یعنی اس کے لئے بھڑگتے ہوئے آگ کے شعلہ ہیں ۔

ایندھن اٹھائے ہوئے

قرآن کریم نے اس کے بعد اس کی بیوی ”ام جمیل “ کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایاہے :”اس کی بیوی بھی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگی ، جو اپنے د وش پر ایندھن اٹھاتی ہے“۔(۲۴)

”اور اس کی گردن میں خرماکی چھال کی رسی یا گردن بند ہے “۔(۲۵)

( فی جیدها حبل من مسد )

”مسد“ (بروزن حسد) اس رسی کے معنی میں ہے جو کھجور کے پتوں سے بنائی جاتی ہے ۔ بعض نے یہ کھا ہے کہ ”مسد“ وہ رسی ہے جو جہنم میں اس کی گردن میں ڈالیںگے جس میں کھجور کے پتوں جیسی سختی ہوگی اور اس میں آگ کی حرارت اور لوہے کی سنگینی ہوگی ۔

بعض نے یہ بھی کھا ہے کہ چونکہ بڑے لوگوں کی عورتیں اپنی شخصیت کو آلات وزیورات خصوصا ًگردن کے قیمتی زیورات سے زینت دینے میں خاص بات سمجھتی ہیں ،لہٰذا خدا قیامت میں اس مضراوروخود پسند عورت کی تحقیر کے لیے لیف خرما کا ایک گردن بند اس کی گردن میں ڈال دے گایا یہ اصلا اس کی تحقیر سے کنایہ ہے ۔

بعض نے یہ بھی کھا ہے کہ اس تعبیر کے بیان کرنے کا سبب یہ ہے کہ ” ام جمیل “ کے پاس جواہرات کا ایک بہت ھی قیمتی گردن بند تھااور اس نے یہ قسم کھائی تھی کہ وہ اسے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی دشمنی میں خرچ کرے گی لہٰذا اس کے اس کام کے بدلے میں خدا نے بھی اس کے لئے ایسا عذاب مقرر کردیا ہے ۔

ابولھب کاعبرت ناک انجام

روایات میں آیا ہے کہ جنگ”بدر“اور سخت شکست کے بعد ،جو مشرکین قریش کو اٹھانی پڑی تھی ، ابولھب نے جوخود میدان جنگ میں شریک نہیں ہوا تھا ،ابوسفیان کے واپس آنے پر اس ماجرے کے بارے میںسوال کیا،ابو سفیان کے قریش کے لشکر کی شکست اور سرکوبی کی کیفیت بیان کی، اس کے بعد اس نے مزید کھا :خدا کی قسم ہم نے اس جنگ میں آسمان وزمین کے درمیان ایسے سوار دیکہے ہیں جو محمد کی مدد کے لیے آئے تھے ۔

اس موقع پر” عباس “ کے ایک غلام ”ابورافع “نے کھا :میں وھاں بیٹھاہوا تھا ،میں نے اپنے ہاتھ بلند کیے اور کھا کہ وہ آسمانی فرشتے تھے ۔

اس سے ابولھب بھڑک اٹھا اور اس نے ایک زوردار تھپڑمیرے منہ پر دے مارا ، مجھے اٹھاکر زمین پر پٹخ دیا اور اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے مجھے پیٹے چلے جآرہا تھا وھاں عباس کی بیوی”ام الفضل“ بھی موجود تھی اس نے ایک چھڑی اٹھائی اور ابولھب کے سرپر دے ماری اور کھا :”کیا تونے اس کمزور آدمی کو اکیلاسمجھا ہے ؟“

ابولھب کا سرپھٹ گیا اور اس سے خون بہنے لگا سات دن کے بعد اس کے بدن میں بدبو پیدا ہوگئی ، اس کی جلد میں طاعون کی شکل کے دانے نکل آئے اور وہ اسی بیماری سے واصل جہنم ہوگیا ۔

اس کے بدن سے اتنی بدبو آرھی تھی کہ لوگ اس کے نزدیک جانے کی جرات نہیں کرتے تھے وہ اسے مکہ سے باہر لے گئے اور دور سے اس پر پانی ڈالا اور اس کے بعد اس کے اوپر پتہر پھینکے یہاں تک کہ اس کا بدن پتہروں اور مٹی کے نیچے چھپ گیا ۔


ابوسفیا ن وابوجہل چھپ کر قرآن سنتے ہیں

ایک شب ابوسفیان ،ابوجہل اور مشرکین کے بہت سے دوسرے سردارجدا گانہ طور پر اور ایک دوسرے سے چھپ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے قرآن سننے کے لئے آگئے آپ اس وقت نماز پڑھنے میں مشغول تھے اور ہر ایک ، ایک دوسرے سے بالکل بے خبر علیحدہ علیحدہ مقامات پر چھپ کر بیٹھ گئے چنانچہ وہ رات گئے تک قرآن سنتے رہے اور جب واپس پلٹنے لگے تو اس وقت صبح کی سفیدی نمودار ہوچکی تھی ۔اتفاق سے سب نے واپسی کے لیے ایک ھی راستے کا انتخاب کیا اور ان کی اچانک ایک دوسرے سے ملاقات ہوگئی اور ان کا بھانڈا وہیں پر پھوٹ گیا انھوں نے ایک دوسرے کوملامت کی اور اس بات پر زوردیا کہ آئندہ ایسا کام نہیں کریںگے ، اگر نا سمجھ لوگوں کو پتہ چل گیا تو وہ شک وشبہ میں پڑجائیں گے ۔

دوسری اور تیسری رات بھی ایسا ھی اتفاق ہوا اور پہروھی باتیں دہرائی گئیں اور آخری رات تو انھوں نے کھا جب تک اس بات پر پختہ عہد نہ کرلیں اپنی جگہ سے ھلیں نہیں چنانچہ ایسا ھی کیا گیا اور پہر ہر ایک نے اپنی راہ لی ۔اسی رات کی صبح اخنس بن شریق نامی ایک مشرک اپنا عصالے کر سیدھا ابوسفیان کے گہر پہنچا اور اسے کھا : تم نے جو کچھ محمدسے سناہے اس کے بارے میں تمھاری کیا رائے ہے ؟

اس نے کھا:خدا قسم : کچھ مطالب ایسے سنے ہیں جن کا معنی ٰبخوبی سمجھ سکاہوں اور کچھ مسائل کی مراد اور معنیٰ کو نہیں سمجھ سکا ۔ اخنس وھاںسے سیدھا ابوجہل کے پاس پہنچا اس سے بھی وھی سوال کیا : تم نے جو کچھ محمد سے سنا ہے اس کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟

ابوجہل نے کھا :سناکیاہے، حقیقت یہ ہے کہ ہماری اور اولاد عبدمناف کی قدیم زمانے سے رقابت چلی آرھی ہے انھوں نے بھوکوں کو کھانا کھلایا، ہم نے بھی کھلایا ، انھوں نے پیدل لوگوں کو سواریاں دیں ہم نے بھی دیں ، انھوں نے لوگوں پر خرچ کیا، سوہم نے بھی کیا گویا ہم دوش بدوش آگے بڑھتے رہے۔جب انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے پاس وحی آسمانی بھی آتی ہے تو اس بارے میں ہم ان کے ساتھ کس طرح برابری کرسکتے ہیں ؟ اب جب کہ صورت حال یہ ہے تو خداکی قسم !ہم نہ تو کبھی اس پر ایمان لائیں گے اور نہ ھی اس کی تصدیق کریں گے ۔اخنس نے جب یہ بات سنی تو وھاں سے اٹھ کر چلاگیا(۲۶)

جی ھاں: قرآن کی کشش نے ان پر اس قدرا ثرکردیا کہ وہ سپیدہ صبح تک اس الٰھی کشش میں گم رہے لیکن خود خواھی ، تعصب اور مادی فوائدان پر اس قدر غالب آچکے تھے کہ انھوں نے حق قبول کرنے سے انکار کردیا ۔اس میں شک نہیں کہ اس نورالٰھی میں اس قدر طاقت ہے کہ ہر آمادہ دل کو وہ جھاں بھی ہو، اپنی طرف جذب کرلیتا ہے یھی وجہ ہے کہ اس (قرآن)کا ان آیات میں ”جھاد کبیر“ کہہ کر تعارف کروایا گیا ہے۔(۲۷)

ایک اور روایت میں ہے کہ ایک دن ”اخنس بن شریق“ کا ابوجہل سے آمناسامنا ہوگیا جب کہ وھاں پر اور کوئی دوسرا آدمی موجود نہیں تھا۔تو اخنس نے اس سے کھا :سچ بتاؤ محمد سچاہے ،یاجھوٹا ؟قریش میں سے کوئی شخص سوامیرے اور تیرے یہاں موجود نہیں ہے جو ہماری باتوں کو سنے ۔

ابوجہل نے کھا: وائے ہو تجھ پر خداکی قسم !وہ میرے عقیدے میں سچ کہتا ہے اور اس نے کبھی جھوٹ نہیں بولا لیکن اگر یہ اس بات کی بناہو جائے کہ محمد کا خاندان سب چیزوں کو اپنے قبضہ میں کرلے، حج کا پرچم ، حاجیوں کو پانی پلانا،کعبہ کی پردہ داری اور مقام نبوت تو باقی قریش کے لئے کیا باقی رہ جائےگا۔(۲۸)

اسلام کے پہلے مہاجرین

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت اور عمومی دعوت کے ابتدائی سالوں میں مسلمان بہت ھی کم تعداد میں تھے قریش نے قبائل عرب کو یہ نصیحت کررکھی تھی کہ ہر قبیلہ اپنے قبیلہ کے ان لوگوں پر کہ جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر ایمان لاچکے ہیں انتھائی سخت دباؤڈالیں اور اس طرح مسلمانوں میں سے ہر کوئی اپنی قوم وقبیلہ کی طرف سے انتھائی سختی اور دباؤمیں مبتلا تھا اس وقت مسلمانوں کی تعداد جھادآزادی شروع کرنے کے لئے کافی نہیں تھی ۔پیغمبراکرم نے اس چھوٹے سے گروہ کی حفاظت اور مسلمانوں کے لئے حجاز سے باہر قیام گاہ مھیاکرنے کے لئے انہیں ہجرت کا حکم دے دیا اور اس مقصد کےلئے حبشہ کو منتخب فرمایا اور کھا کہ وھاں ایک نیک دل بادشاہ ہے جو ظلم وستم کرنے سے اجتناب کرتا ہے ۔ تم وھاں چلے جاؤ یہاں تک کہ خداوند تعالیٰ کوئی مناسب موقع ہمیں عطافرمائے۔پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مراد نجاشی سے تھی (نجاشی ایک عام نام تھا جیسے ”کسریٰ“ جو حبشہ کے تمام بادشاہوں کا خاص لقب تھا لیکن اس نجاشی کا اصل نام جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ہم عصر تھا اصحمہ تھا جو کہ حبشہ کی زبان میں عطیہ وبخشش کے معنی میں ہے )۔

مسلمانوں میں سے گیارہ مرداور چار عورتیں حبشہ جانے کے لئے تیار ہوئے اور ایک چھوٹی سی کشتی کرایہ پر لے کر بحری راستے سے حبشہ جانے کے لئے روانہ ہوگئے ۔یہ بعثت کے پانچویں سال ماہ رجب کا واقعہ ہے ۔کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزراتھا کہ جناب جعفر بن ابوطالب بھی مسلمانوںکے ایک دوسرے گروہ کے ساتھ حبشہ چلے گئے ۔ اب اس اسلامی جمعیت میں ۸۲ مردوں علاوہ کافی تعداد میں عورتیںاور بچے بھی تھے ۔

مشرکین ،مہاجرین کی تعقیب میں

اس ہجرت کی بنیادبت پرستوں کے لئے سخت تکلیف دہ تھی کیونکہ دہ اچھی طرح سے دیکھ رہے تھے کہ کچھ زیادہ عرصہ نہیں گزرے گا کہ وہ لوگ جو تدریجاً اسلام کو قبول کرچکے ہیں اور حبشہ کی سرزمین امن وامان کی طرف چلے گئے ہیں ، مسلمانوں کی ایک طاقتور جماعت کی صورت اختیار کرلیں گے یہ حیثیت ختم کرنے کے لئے انہوں نے کام کرنا شروع کردیا اس مقصد کے لئے انہوں نے جوانوں میں سے دوہوشیار، فعال، حیلہ باز اور عیار جوانوں یعنی عمروبن عاص اور عمارہ بن ولید کا انتخاب کیا بہت سے ہدیے دے کر ان کو حبشہ کی طرف روانہ کیا گیا ،ان دونوں نے کشتی میں بیٹھ کر شراب پی اور ایک دوسرے سے لڑپڑے لیکن آخرکار وہ اپنی سازش کو روبہ عمل لانے کے لئے سرزمین حبشہ میں داخل ہوگئے ۔ ابتدائی مراحل طے کرنے کے بعد وہ نجاشی کے دربار میں پہنچ گئے ،دربار میں باریاب ہونے سے پہلے انہوں نے نجاشی کے درباریوں کو بہت قیمتی ہدیے دے کران کو اپنا موافق بنایا تھا اور ان سے اپنی طرفداری اور تائید کرنے کا وعدہ لے لیا تھا ۔

” عمروعاص “ نے اپنی گفتگو شروع کی اور نجاشی سے اس طرح ہمکلام ہوا:

ہم سرداران مکہ کے بھیجے ہوئے ہیں ہمارے درمیان کچھ کم عقل جوانوں نے مخالفت کا علم بلند کیا ہے اور وہ اپنے بزرگوںکے دین سے پہر گئے ہیں ،اور ہمارے خداؤں کو برابھلا کہتے ہیں ،انہوں نے فتنہ وفساد برپا کردیا ہے لوگوں میں نفاق کا بیچ بودیا ہے ،آپ کی سرزمین کی آزادی سے انہوں نے غلط فائدہ اٹھایا ہے اور انہوں نے یہاں آکر پناہ لے لی ہے ، ہمیں اس بات کا خوف ہے کہ وہ یہاں بھی خلل اندازی نہ کریں بہتریہ ہے کہ آپ انہیں ہمارے سپرد کردیں تاکہ ہم انہیں اپنی جگہ واپس لے جائیں ۔

یہ کہہ کر ان لوگوں نے وہ ہدئیے جو وہ اپنے ساتھ لائے تھے پیش کیے ۔

نجاشی نے کھا : جب تک میں اپنی حکومت میں پناہ لینے والوں کے نمائندوں سے نہ مل لوں اس سلسلے میں کوئی بات نہیں کرسکتا اور چونکہ یہ ایک مذھبی بحث ہے لہٰذا ضروری ہے کہ تمھاری موجودگی میںمذھبی نمائندوں کوبھی ایک جلسہ میں دعوت دی جائے ۔

جعفربن ابی طالب مہاجرین کے بہترین خطیب

چنانچہ دوسرے دن ایک اہم جلسہ منعقد ہوا، اس میں نجاشی کے مصاحبین اور عیسائی علماء کی ایک جماعت شریک تھی جعفر بن ابی طالب مسلمانوں کے نمائندہ کی حیثیت سے موجود تھے اور قریش کے نمائندے بھی حاضر ہوئے نجاشی نے قریش کے نمائندوں کی باتیں سننے کے بعد جناب جعفر کی طرف رخ کیا اور ان سے خواہش کی کہ وہ اس سلسلے میں اپنا نقطہ نظربیان کریں جناب جعفرا دائے احترام کے بعد اس طرح گویا ہوئے : پہلے ان سے پوچھیے کہ کیا ہم ان کے بھاگے ہوئے غلاموں میں سے ہیں ؟

عمرو نے کھا :نہیں بلکہ آپ آزاد ہیں ۔

جعفر: ان سے یہ بھی پوچھئے کہ کیا ان کا کوئی قرض ہمارے ذمہ ہے کہ جس کا وہ ہم سے مطالبہ کرتے ہیں ؟

عمرو : نہیں ہمارا آپ سے ایسا کوئی مطالبہ نہیں ہے ۔

جعفر: کیا ہم نے تمھارا کوئی خون بھایا ہے کہ جس کا ہم سے بدلہ لینا چاہتے ہو ؟

عمرو:نہیں ایسا کچھ نہیں ہے؟

جعفر: تو پہر تم ہم سے کیا چاہتے ہو ؟تم نے ہم پر اتنی سختیاں کیں اور اتنی تکلیفیں پہنچائیں اور ہم تمھاری سرزمین سے جو سراسر مرکز ظلم وجور تھی باہر نکل آئے ہیں ۔

اس کے بعد جناب جعفر نے نجاشی کی طرف رخ کیا اور کھا : ہم جاہل اور نادان تھے، بت پرستی کرتے تھے ،مردار کا گوشت کھاتے تھے ، طرح طرح کے برے اور شرمناک کام انجام دیتے تھے، قطع رحمی کرتے تھے ، اپنے ہمسایوں سے براسلوک کرتے تھے اور ہمارے طاقتور کمزوروں کے حقوق ہڑپ کرجاتے تھے ۔ لیکن خدا وند تعالیٰ نے ہمارے درمیان ایک پیغمبر کو معبوث فرمایا، جس نے ہمیں حکم دیا کہ ہم خدا کا کوئی مثل اورشریک نہ بنائیں اور فحشاء ومنکر، ظلم وستم اور قماربازی ترک کردیں ہمیں حکم دیا کہ ہم نماز پڑہیں ، زکوٰةادا کریں ، عدل واحسان سے کام لیں اور اپنے وابستگان کی مدد کریں ۔

نجاشی نے کھا : عیسیٰ مسیح علیہ السلام بھی انھی چیزوں کے لئے مبعوث ہوئے تھے ۔

اس کے بعد اس نے جناب جعفر سے پوچھا: ان آیات میں سے جو تمھارے پیغمبر پر نازل ہوئی ہیں کچھ تہمیں یاد ہیں ۔جعفرنے کھا : جی ھاں : اور پہر انہوں نے سورہ مریم کی تلاوت شروع کردی ،اس سورہ کی ایسی ھلادینے والی آیات کے ذریعہ جو مسیح علیہ السلام اور ان کی ماں کو ہر قسم کی نارو اتہمتوں سے پاک قراردیتی ہیں ، جناب جعفر کے حسن انتخاب نے عجیب وغریب اثر کیا یہاں تک کہ مسیحی علماء کی آنکھوں سے فرط شوق میں آنسو بہنے لگے اور نجاشی نے پکار کر کھا : خدا کی قسم : ان آیات میں حقیقت کی نشانیاں نمایاں ہیں ۔

جب عمرنے چاھا کہ اب یہاں کوئی بات کرے اور مسلمانوں کو اس کے سپرد کرنے کی درخواست کرے ، نجاشی نے ہاتھ بلند کیا اور زور سے عمرو کے منہ پر مارا اور کھا: خاموش رہو، خدا کی قسم ! اگر ان لوگوں کی مذمت میں اس سے زیادہ کوئی بات کی تو میں تجہے سزادوں گا ،یہ کہہ کر مامورین حکومت کی طرف رخ کیا اور پکار کر کھا : ان کے ہدیے ان کو واپس کردو اور انہیں حبشہ کی سرزمین سے باہر نکال دو جناب جعفر اور ان کے ساتھیوں سے کھا : تم آرام سے میرے ملک میں زندگی بسر کرو ۔

اس واقعہ نے جھاں جعفر اور ان کے ساتھیوں سے کھا تم آرام سے میرے ملک میں زندگی بسرکرو۔(۲۹)

اس واقعہ نے جھاں حبشہ کے کچھ لوگوں پر اسلام شناسی کے سلسلے میں گہرا تبلیغی اثر کیا وھاں یہ واقعہ اس بات کا بھی سبب بنا کہ مکے کے مسلمان اس کو ایک اطمینان بخش جائے پناہ شمارکریں اور نئے مسلمان ہونے والوں کو اس دن کے انتظارمیں کہ جب وہ کافی قدرت و طاقت حاصل کریں ،وھاں پر بھیجتے رہیں ۔

فتح خیبرکی زیادہ خوشی ہے یا جعفرکے پلٹنے کی

کئی سال گزر گئے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بھی ہجرت فرماگئے اور اسلام روزبروز ترقی کی منزلیں طے کرنے لگا،عہدنامہ حدیبیہ لکھا گیا اور پیغمبر اکرم فتح خیبرکی طرف متوجہ ہوئے اس وقت جب کہ مسلمان یہودیوں کے سب سے بڑے اور خطر ناک مرکز کے لوٹنے کی وجہ سے اتنے خوش تھے کہ پھولے نہیں سماتے تھے، دور سے انہوں نے ایک مجمع کو لشکر اسلام کی طرف آتے ہوئے دیکھا ،تھوڑی ھی دیر گزری تھی کہ معلوم ہواکہ یہ وھی مہاجرین حبشہ ہیں ، جو آغوش وطن میں پلٹ کر آرہے ہیں ،جب کہ دشمنوں کی بڑی بڑی طاقتیںد م توڑچکی ہیں اور اسلام کا پودا اپنی جڑیںکافی پھیلا چکا ہے ۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جناب جعفراور مھا جرین حبشہ کو دیکھ کر یہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا:

”میں نہیں جانتا کہ مجھے خیبر کے فتح ہونے کی زیادہ خوشی ہے یا جعفر کے پلٹ آنے کی “

کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے علاوہ شامیوں میں سے آٹھ افراد کہ جن میں ایک مسیحی راھب بھی تھا اور ان کا اسلام کی طرف شدید میلان پیدا ہوگیا تھاپیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضرہو ئے اور انہوں نے سورہ یٰسین کی کچھ آیات سننے کے بعد رونا شروع کردیا اور مسلمان ہوگئے اور کہنے لگے کہ یہ آیات مسیح علیہ السلام کی سچی تعلیمات سے کس قدر مشابہت رکھتی ہیں ۔

اس روایت کے مطابق جو تفسیر المنار، میں سعید بن جبیر سے منقول ہے نجاشی نے اپنے یارو انصار میں سے تیس بہترین افراد کوپیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور دین اسلام کے ساتھ اظھار عقیدت کے لئے مدینہ بھیجا تھا اور یہ وھی تھے جو سورہ یٰسین کی آیات سن کر روپڑے تھے اور اسلام قبول کرلیا تھا۔

معراج رسول (ص)

علماء اسلام کے درمیان مشہور یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جس وقت مکہ میں تھے تو ایک ھی رات میں آپ قدرت الٰھی سے مسجد الحرام سے اقصٰی پہنچے کہ جو بہت المقدس میں ہے ، وھاں سے آپ آسمانوں کی طرف گئے ، آسمانی دسعتوں میں عظمت الٰھی کے آثار مشاہدہ کئے اور اسی رات مکہ واپس آگئے ۔

نیزیہ بھی مشہور ہے کہ یہ زمینی اور آسمانی سیر جسم اور روح کے ساتھ تھی البتہ یہ سیر چونکہ بہت عجیب غریب اور بے نظیر تھی لہٰذا بعض حضرات نے اس کی توجیہ کی اور اسے معراج روحانی قرار دیا اور کھا کہ یہ ایک طرح کا خواب تھایا مکا شفہ روحی تھا لیکن جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں یہ بات قرآن کے ظاہری مفہوم کے بالکل خلاف ہے کیونکہ ظاہرقر آن اس معراج کے جسمانی ہونے کی گواھی دیتا ہے ۔

معراج کی کیفیت قرآن و حدیث کی نظر سے

قرآن حکیم کی دوسورتوں میں اس مسئلے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے پہلی سورت بنی اسرائیل ہے اس میں اس سفر کے ابتدائی حصے کا تذکرہ ہے ۔ (یعنی مکہ کی مسجد الحرام سے بیت المقدس کی مسجد الاقصٰی تک کا سفر) اس سلسلے کی دوسری سورت ۔ سورہ نجم ہے اس کی آیت ۱۳ تا ۱۸ میں معراج کا دوسرا حصہ بیان کیا گیا ہے اور یہ آسمانی سیر کے متعلق ہے ارشاد ہوتا ہے :

ان چھ آیات کا مفہوم یہ ہے : رسول اللہ نے فرشتہ وحی جبرئیل کو اس کو اصلی صورت میں دوسری مرتبہ دیکھا (پہلے آپ اسے نزول وحی کے آغاز میں کوہ حرا میں دیکھ چکے تھے) یہ ملاقات بہشت جاوداں کے پاس ہوئی ، یہ منظر دیکھتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کسی اشتباہ کا شکار نہ تھے آپ نے عظمت الٰھی کی عظیم نشانیاں مشاہدہ کیں۔

یہ آیات کہ جو اکثر مفسرین کے بقول واقعہ معراج سے متعلق ہیں یہ بھی نشاندھی کرتی ہیں کہ یہ واقعہ عالم بیداری میں پیش آیا خصوصا “مازاغ البصروماطغی“ اس امر کا شاہد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آنکھ کسی خطا واشتباہ اور انحراف سے دوچار نہیں ہوئی ۔

اس واقعے کے سلسلے میں مشہور اسلامی کتابوں میں بہت زیادہ روایات نقل ہوئی ہیں ۔

علماء اسلام نے ان روایات کے تو اتر اور شہرت کی گواھی دی ہے ۔(۳۰)

معراج کی تاریخ

واقعہ معراج کی تاریخ کے سلسلے میں اسلامی مورخین کے درمیان اختلاف ہے بعض کا خیال ہے کہ یہ واقعہ بعثت کے دسویں سال ۲۷ رجب کی شب پیش آیا، بعض کہتے ہیں کہ یہ بعثت کے بارہویں سال ۱۷ رمضان المبارک کی رات وقوع پذیر ہوا جب کہ بعض اسے اوائل بعثت میں ذکر کرتے ہیں لیکن اس کے وقوع پذیر ہونے کی تاریخ میں اختلاف،اصل واقعہ پر اختلاف میں حائل نہیں ہوتا ۔

اس نکتے کا ذکر بھی ضروری ہے کہ صر ف مسلمان ھی معراج کا عقیدہ نہیں کھتے بلکہ دیگرادیان کے پیروکار وں میں بھی کم و بیش یہ عقیدہ پایا جاتا ہے ان میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں یہ عقیدہ عجیب تر صورت میں نظر آتا ہے جیسا کہ انجیل مرقس کے باب ۶ لوقاکے باب ۲۴ اور یوحنا کے باب ا ۲ میں ہے:

عیسٰی علیہ السلام مصلوب ہونے کے بعد دفن ہوگئے تو مردوں میں سے اٹھ کھڑے ہوئے ،اور چالیس روز تک لوگوں میں موجود رہے پہر آسمان کی طرف چڑھ گئے ( اور ہمیشہ کے لئے معراج پر چلے گئے )

ضمناً یہ وضاحت بھی ہوجائے کہ بعض اسلامی روایات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ بعض گزشتہ انبیاء کو بھی معراج نصیب ہوئی تھی ۔

پیغمبرگرامی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ آسمانی سفر چند مرحلوں میں طے کیا۔

پہلا مرحلہ،مسجدالحرام اور مسجد اقصیٰ کے درمیانی فاصلہ کا مرحلہ تھا، جس کی طرف سورہ اسراء کی پہلی آیت میں اشارہ ہوا ہے: ”منزہ ہے وہ خدا جو ایک رات میں اپنے بندہ کو مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا“۔ بعض معتبر روایات کے مطابق آپ نے اثناء راہ میں جبرئیل(ع) کی معیت میں سر زمین مدینہ میںنزول فرمایا او روھاں نماز پڑھی ۔

او رمسجد الاقصیٰ میں بھی ابراھیم و موسیٰ و عیسیٰ علیہم السلام انبیاء کی ارواح کی موجود گی میں نماز پڑھی اور امام جماعت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تھے، اس کے بعد وھاں سے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا آسمانی سفر شروع ہوا، اور آپ نے ساتوں آسمانوںکو یکے بعد دیگرے عبور کیا اورہر آسمان میں ایک نیاہی منظر دیکھا ، بعض آسمانوں میں پیغمبروں اور فرشتوں سے، بعض آسمانوں میں دوزخ او ردوزخیوں سے اور بعض میں جنت اور جنتیوں سے ملاقات کی ،او رپیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان میں سے ہر ایک سے بہت سی تربیتی اور اصلاحی قیمتی باتیں اپنی روح پاک میں ذخیرہ کیں اور بہت سے عجائبات کا مشاہدہ کیا جن میں سے ہر ایک عالم ہستی کے اسرار میں سے ایک راز تھا، اور واپس آنے کے بعد ان کو صراحت کے ساتھ اور بعض اوقا ت کنایہ اور مثال کی زبان میں امت کی آگاھی کے لئے مناسب فرصتوں میں بیان فرماتے تھے، اور تعلیم وتربیت کے لئے اس سے بہت زیادہ فائدہ اٹھاتے تھے۔

یہ امر اس بات کی نشاندھی کرتا ہے کہ اس آسمانی سفر کا ایک اہم مقصد،ان قیمتی مشاہدات کے تربیتی و عرفانی نتائج سے استفادہ کرنا تھا،اور قرآن کی یہ پر معنی تعبیر( لقد رایٰ من آیات ربه الکبریٰ ) (۳۱)

ان تمام امور کی طرف ایک اجمالی اور سربستہ اشارہ ہو سکتی ہے۔

البتہ جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ وہ بہشت اور دوزخ جس کو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سفر معراج میں مشاہدہ کیا اور کچھ لوگوں کو وھاں عیش میں اور عذاب میں دیکھا ، وہ قیامت والی جنت اور دوزخ نہیں تہیں ، بلکہ وہ برزخ والی جنت ودوزخ تہیں ، کیونکہ قرآن مجیدکے مطابق جیسا کہ کہتا ہے کہ قیامت والی جنت ودوزخ قیام قیامت اور حساب وکتاب سے فراغت کے بعد نیکو کاروں اور بدکاروں کو نصیب ہوگی ۔

آخر کار آپ ساتویں آسمان پر پہنچ گئے ، وھاں نور کے بہت سے حجابوں کا مشاہدہ کیا ، وھی جگہ جھاں پر”سدرة المنتهیٰ“ اور” جنة الماٴویٰ“ واقع تھی، اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس جھان سراسر نوروروشنی میں، شہود باطنی کی اوج، اور قرب الی اللہ اور مقام ” قاب قوسین اوادنی“پر فائز ہوئے اور خدا نے اس سفر میں آپ کو مخالب کرتے ہوئے بہت سے اہم احکام دیئے اور بہت سے ارشادات فرمائے جن کا ایک مجموعہ اس وقت اسلامی روایات میں” احادیث قدسی “ کی صورت میں ہمارے لئے یادگار رہ گیا ہے ۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ بہت سی روایات کی تصریح کے مطابق پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس عظیم سفر کے مختلف حصوں میں اچانک علی علیہ السلام کو اپنے پھلو میں دیکھا، اور ان روایات میں کچھ ایسی تعبیریں نظر آتی ہیں ، جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد علی علیہ السلام کے مقام کی حد سے زیادہ عظمت کی گواہ ہیں ۔

معراج کی ان سب روایات کے باوجود کچھ ایسے پیچیدہ اور اسرار آمیز جملے ہیں جن کے مطالب کو کشف کرنا آسان نہیں ہے، اور اصطلاح کے مطابق روایات متشابہ کا حصہ ہیں یعنی ایسی روایات جن کی تشریح کوخود معصومین علیہم السلام کے سپرد کردینا چاہئے ۔(۳۲)

ضمنی طورپر، معراج کی روایات اہل سنت کی کتابوں میں بھی تفصیل سے آئی ہیں ،اور ان کے راویوں میں سے تقریباً ۳۰ افراد نے حدیث معراج کو نقل کیا ہے۔

یہاں یہ سوال سامنے آتاہے : یہ اتنا لمبا سفر طے کرنا اور یہ سب عجیب اور قسم قسم کے حادثات، اور یہ ساری لمبی چوڑی گفتگو ، اور یہ سب کے سب مشاہدات ایک ھی رات میں یاایک رات سے بھی کم وقت میں کس طرح سے انجام پاگئے ؟

لیکن ایک نکتہ کی طرف توجہ کرنے سے اس سوال کا جواب واضح ہوجاتاہے ، سفر معراج ہرگز ایک عام سفر نہیں تھا ، کہ اسے عام معیاروں سے پرکھاجائے نہ تو اصل سفر معمولی تھا اور نہ ھی آپ کی سواری معمولی اور عام تھی،نہ آپ کے مشاہدات عام اور معمولی تھے اور نہ ھی آپ کی گفتگو ، اور نہ ھی وہ پیمانے جواس میں استعمال ہوئے، ہمارے کرہ خاکی کے محدود اور چھوٹے پیمانوں کے مانند تھے، اور نہ ھی وہ تشبیھات جواس میں بیان ہوئی ہیں ان مناظر کی عظمت کو بیان کرسکتی ہیں جو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مشاہدہ کیے ، تمام چیزیں خارق العادت صورت میں ، اور اس مکان وزمان سے خارج ہونے کے پیمانوں میں، جن سے ہم آشنا نہیں ، واقع ہوئیں ۔

اس بناپر کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ یہ امور ہمارے کرہ زمین کے زمانی پیمانوں کے ساتھ ایک رات یا ایک رات سے بھی کم وقت میں واقع ہوئے ہوں۔(۳۳)

معراج جسمانی تھی یاروحانی ؟

شیعہ اور سنی علمائے اسلام کے درمیان مشہور ہے کہ یہ واقعہ عالم بیداری میں صورت پذیر ہوا، سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت اور سورہ نجم کی مذکورہ آیات کا ظاہری مفہوم بھی اس امر کا شاہد ہے کہ یہ واقعہ بیداری کی حالت میں پیش آیا ۔

تواریخ اسلامی بھی اس امرپر شاہد وصادق ہیں ،تاریخ کہتی ہے : جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے واقعہ معراج کا ذکر کیا تو مشرکین نے شدت سے اس کا انکار کردیا اور اسے آپ کے خلاف ایک بھانہ بنالیا۔

یہ بات گواھی دیتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہرگز خواب یا مکا شفہ روحانی کے مدعی نہ تھے ورنہ مخالفین اس قدر شور وغوغا نہ کرتے ۔

یہ جو حسن بصری سے روایت ہے کہ : ”یہ واقعہ خواب میں پیش آیا “۔

اور اسی طرح جو حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ : ”خداکی قسم بدن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہم سے جدا نہیں ہوا صرف آپ کی روح آسمان پر گئی“ ایسی روایات ظاہر ًاسیاسی پھلو رکھتی ہیں ۔

معراج کا مقصد

گزشتہ مباحث پر غور کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ معراج کا مقصد یہ نہیں کہ رسول اکرم دیدار خدا کے لئے آسمانوں پر جائیں، جیسا کہ سادہ لوح افرادخیال کرتے ہیں ، افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض مغربی دانشور بھی ناآگاھی کی بناء پر دوسروں کے سامنے اسلام کا چہرہ بگاڑکر پیش کرنے کے لئے ایسی باتیں کرتے ہیں ان میں سے ایک مسڑ” گیور گیو“ بھی ہیں وہ بھی کتاب ”محمد وہ پیغمبر ہیں جنہیں پہرسے پہچاننا چاہئے“(۳۴) میں کہتے ہیں :

”محمد اپنے سفر معراج میں ایسی جگہ پہنچے کہ انہیں خدا کے قلم کی آواز سنائی دی، انہوں نے سمجھا کہ اللہ اپنے بندوںکے حساب کتاب میں مشغول ہے البتہ وہ اللہ کے قلم کی آواز تو سننے تھے مگر انہیں اللہ دکھائی نہ دیتا تھا کیونکہ کوئی شخص خدا کو نہیں دیکھ سکتا خواہ پیغمبر ھی کیوں نہ ہوں“یہ عبارت نشاندھی کرتی ہے کہ قلم لکڑی کا تھا، ایسا کہ کاغذ پر لکھتے وقت لرزتاتھا اور آواز پیدا کرتا تھا، اسی طرح کی اور بہت سارے خرافات اس میں موجود ہیں “۔ جب کہ مقصد معراج یہ تھا کہ اللہ کے عظیم پیغمبر کائنات میں بالخصوص عالم بالا میں موجود عظمت الٰھی کی نشانیوں کا مشاہدہ کریں اور انسانوں کی ہدایت ورھبری کے لئے ایک نیا ادراک اور ایک نئی بصیرت حاصل کریں ۔

یہ ھدف واضح طورپر سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت اور سورہ نجم کی آیت ۱۸ میں بیان ہوا ہے۔

امام صادق علیہ السلام سے مقصد معراج پوچھاگیا تو آپ نے فرمایا :

”خدا ہرگز کوئی مکان نہیں رکھتا اور نہ اس پر کوئی زمانہ گزرتاہے لیکن وہ چاہتا تھا کہ فرشتوں اور آسمان کے باسیوں کو اپنے پیغمبر کی تشریف آوری سے عزت بخشے اور انہیں آپ کی زیارت کا شرف عطاکرے نیزآپ کو اپنی عظمت کے عجائبات دکھائے تاکہ واپس آکر آپ انہیں لوگوں سے بیان کریں“۔

معراج اور سائنس

گزشتہ زمانے میں بعض فلاسفہ بطلیموس کی طرح یہ نظریہ رکھتے تھے کہ نو آسمان پیاز کے چھلکے کی طرح تہہ بہ تہہ ایک دوسرے کے اوپر ہیں واقعہ معراج کو قبول کرنے میں ان کے لئے سب سے بڑی رکاوٹ ان کا یھی نظریہ تھا ان کے خیال میں اس طرح تویہ ماننا پڑتا ہے کہ آسمان شگافتہ ہوگئے اور پہر آپس میں مل گئے۔(۳۵)

لیکن” بطلیموسی “نظریہ ختم ہو گیا تو آسمانوںکے شگافتہ ہونے کا مسئلہ ختم ہوگیا البتہ علم ہئیت میں جو ترقی ہوئی ہے اس سے معراج کے سلسلے میں نئے سوالات ابہر ے ہیں مثلاً؛

۱) ایسے فضائی سفر میں پہلی بار رکاوٹ کشش ثقل ہے کہ جس پر کنٹرول حاصل کرنے کے لے غیر معمولی وسائل و ذرائع کی ضرورت ہے کیونکہ زمین کے مداراور مرکز ثقل سے نکلنے کے لئے کم از کم چالیس ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ رفتار کی ضرورت ہے ۔

۲) دوسری رکاوٹ یہ ہے کہ زمین کے باہر خلا میں ہوا نہیں ہے جبکہ ہوا کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا ۔

۳) تیسری رکاوٹ ایسے سفر میں اس حصہ میں سورج کی جلادینے والی تپش ہے جبکہ جس حصہ پر سورج کی مستقیماً روشنی پڑرھی ہے اور اسی طرح اس حصے میں جان لیوا سردی ہے جس میں سورج کی روشنی نہیں پڑرھی ہے۔

۴) اس سفر میں چوتھی رکاوٹ وہ خطرناک شعاعیں ہیں کہ جو فضا ئے زمین کے اوپر موجود ہیں مثلا کا سمک ریز cosmic ravs الٹرا وائلٹ ریز ultra violet ravs اور ایکس ریز x ravs یہ شعاعیں اگر تھوڑی مقدار میں انسانی بدن پر پڑیں تو بدن کے آرگانزم otganism کے لئے نقصان دہ نہیں ہیں لیکن فضائے زمین کے باہر یہ شعاعیں بہت تباہ کن ہوتی ہیں (زمین پر رہنے والوں کے لئے زمین کے اوپر موجود فضاکی وجہ سے ان کی تپش ختم ہوجاتی ہے )

۵) ایک اور مشکل اس سلسلہ میں یہ ہے کہ خلامیں انسان بے وزنی کی کیفیت سے دوچار ہوجاتا ہے اگرچہ تدریجاًبے وزنی کی عادت پیدا کی جاسکتی ہے لیکن اگر زمین کے باسی بغیر کسی تیاری اور تمھید کے خلا میں جا پہنچیں تو بےوزنی سے نمٹنا بہت ھی مشکل ہے ۔

۶) آخری مشکل اس سلسلے میں زمانے کی مشکل ہے اور یہ نھایت اہم رکاوٹ ہے کیونکہ دورحاضر کے سائنسی علوم کے مطابق روشنی کی رفتار ہر چیز سے زیادہ ہے اور اگر کوئی آسمانوں کی سیر کرنا چاہے تو ضروری ہو گاکہ اس کی رفتار سے زیادہ ہو ۔

ان سوالات کے پیش نظر چندچیزوں پر توجہ

ان امور کے جواب میں ان نکات کی طرف توجہ ضروری ہے ۔

۱ ۔ہم جانتے ہیں کہ فضائی سفر کی تمام تر مشکلات کے باوجود آخر کار انسان علم کی قوت سے اس پر دسترس حاصل کرچکا ہے اور سوائے زمانے کی مشکل کے باقی تمام مشکلات حل ہوچکی ہیں اور زمانے والی مشکل بھی بہت دور کے سفر سے مربوط ہے ۔

۲ ۔اس میں شک نہیں کہ مسئلہ معراج عمومی اور معمولی پھلو نہیں رکھتا بلکہ یہ اللہ کی لامتناھی قدرت و طاقت کے ذریعے صورت پذیر ہوا اور انبیاء کے تمام معجزات اسی قسم کے تھے زیادہ واضح الفاظ میں یہ کھا جاسکتا ہے کہ معجزہ عقلاً محال نہیں ہونا چاہئے اور جب معجزہ بھی عقلاً ممکن ہے ، توباقی معاملات اللہ کی قدرت سے حل ہوجاتے ہیں ۔

جب انسان یہ طاقت رکھتا ہے کہ سائنسی ترقی کی بنیاد پر ایسی چیزیں بنالے جو زمینی مرکز ثقل سے باہر نکل سکتی ہیں ، ایسی چیزیں تیار کرلے کہ فضائے زمین سے باہر کی ہولناک شعاعیں ان پر اثر نہ کرسکیں اور ایسے لباس تیار کرلے کہ جو اسے انتھائی زیادہ گرمی اور سردی سے محفوظ رکھ سکیں اور مشق کے ذریعے بے وزنی کی کیفیت میں رہنے کی عادت پیدا کرلے ،یعنی جب انسان اپنی محدود قوت کے ذریعے یہ کام کرسکتا ہے تو پہر کیا اللہ اپنی لا محدود طاقت کے ذریعہ یہ کام نہیں کرسکتا ؟

ہمیں یقین ہے کہ اللہ نے اپنے رسول کو اس سفر کے لئے انتھائی تیز رفتار سواری دی تھی اور اس سفرمیں در پیش خطرات سے محفوظ رہنے کے لئے انہیں اپنی مدد کا لباس پہنایا تھا ،ھاں یہ سواری کس قسم کی تھی اور اس کا نام کیا تھا براق ؟ رفرف ؟ یا کوئی اور ۔۔۔؟یہ مسئلہ قدرت کاراز ہے، ہمیں اس کا علم نہیں ۔

ان تمام چیزوں سے قطع نظر تیز تریں رفتار کے بارے میں مذکورہ نظریہ آج کے سائنسدانوںکے درمیان متزلزل ہوچکا ہے اگر چہ آ ئن سٹائن اپنے مشہور نظریہ پر پختہ یقین رکھتا ہے ۔

آج کے سائنسداں کہتے ہیں کہ امواج جاذمہ rdvs of at f fion زمانے کی احتیاج کے بغیر آن واحد میں دنیا کی ایک طرف سے دوسری طرف منتقل ہوجاتی ہیں اور اپنا اثر چھوڑتی ہیں یہاں تک کہ یہ احتمال بھی ہے کہ عالم کے پھیلاؤ سے مربوط حرکات میں ایسے منظومے موجودہیں کہ جوروشنی کی رفتارسے زیادہ تیزی سے مرکز جھان سے دور ہوجاتے ہیں (ہم جانتے ہیں کہ کائنات پھیل رھی ہے اور ستارے اور نظام ھائے شمسی تیزی کے ساتھ ایک دوسرے سے دور ہورہے ہیں )(غور کیجئے گا)مختصر یہ کہ اس سفر کے لئے جو بھی مشکلات بیان کی گئی ہیں ان میں سے کوئی بھی عقلی طور پر اس راہ میں حائل نہیں ہے اور ایسی کوئی بنیاد نہیں کہ واقعہ معراج کو محال عقلی سمجھا جائے ,اس راستے میں درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے جو وسائل درکار ہیں وہ موجود ہوں تو ایسا ہوسکتا ہے ۔

بہرحال واقعہ معراج نہ تو عقلی دلائل کے حوالے سے ناممکن ہے اور نہ دور حاضر کے سائنسی معیاروں کے لحاظ سے ، البتہ اس کے غیر معمولی اور معجزہ ہونے کو سب قبول کرتے ہیں لہٰذا جب قطعی اور یقینی نقلی دلیل سے ثابت ہوجائے تو اسے قبول کرلینا چاہئے۔

شب معراج پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے خداکی باتیں

پیغمبر نے شب معراج پروردگار سبحان سے اس طرح سوال کیا :

پروردگار ا: کونساعمل افضل ہے ؟

خدا وند تعالیٰ نے فرمایا :

” کوئی چیز میرے نزیک مجھ پر توکل کرنے ، اور جو کچھ میںنے تقسیم کرکے دیا ہے اس پر راضی ہونے سے بہتر نہیں ہے ،اے محمد جولوگ میری خاطر ایک دوسرے کو دوست رکھتے ہیں میری محبت ان کے شامل حال ہوگی اور جو لوگ میری خاطر ایک دوسرے پر مہربان ہیں اور میری خاطر دوستی کے تعلقات رکھتے ہیں انہیں دوست رکھتا ہوں علاوہ بر ایں میری محبت ان لوکوں کے لئے جو مجھ پر توکل کریں فرض اور لازم ہے اور میری محبت کے لئے کوئی حد او رکنارہ اوراس کی انتھا نہیں ہے “۔!

اس طرح سے محبت کی باتیں شروع ہوتی ہیں ایسی محبت جس کی کوئی انتھا نہیں ،جو کشادہ اور اصولی طور پر عالم ہستی میںاسی محور محبت پر گردش کررھا ہے ۔

ایک اور ددسرے حصہ میں یہ آیا ہے ۔

”اے احمد !بچوں کی طرح نہ ہونا جو سبز وزرد اور زرق وبرق کو دوست رکھتے ہیں اور جب انہیں کوئی عمدہ اور شیریں غذا دیدی جاتی ہے تو وہ مغرور ہوجاتے ہیں اور ہر چیز کو بھول جاتے ہیں “۔

پیغمبرنے اس موقع پر عرض کیا :

پروردگارا :!مجھے کسی ایسے عمل کی ہدایت فرماجو تیری بارگاہ میں قرب کا باعث ہو ۔

فرمایا : رات کو دن اور دن کو رات قرار دے ۔

عرض کیا : کس طرح ؟

فرمایا : اس طرح کے تیرا سونا نماز ہو اور ہرگز اپنے شکم کو مکمل طور پر سیر نہ کرنا ۔

ایک اور حصہ میں آیا ہے :

”اے احمد! میری محبت فقیروں اور محروموں سے محبت ہے ،ان کے قریب ہوجاو اور ان کی مجلس کے قریب بیٹھو کہ میں تیرے نزدیک ہوں اور دنیا پرست اور ثروت مندوں کو اپنے سے دور رکھو اور ان کی مجالس سے بچتے رہو “۔

اہل دنیا و آخرت

ایک اور حصہ میں آیاہے:

”اے احمد !دنیا کے زرق برق اور دنیا پرستوں کو مبغوض شمار کر اور آخرت کو محبوب رکھ“ عرض کرتے ہیں :

پروردگارا :!اہل دنیا اور اہل آخرت کون ہیں ؟۔

فرمایا :”اہل دنیا تو وہ لوگ ہیں جو زیادہ کھاتے ہیں زیادہ ہنستے ہیں زیادہ سوتے ہیں اور غصہ کرتے ہیں اور تھوڑا خوش ہوتے ہیں نہ ھی تو برائیوں کے مقابلہ میں کسی سے عذر چاہتے ہیں ۔اور نہ ھی کسی عذر چاہنے والے سے اس کا عذر قبول کرتے ہیں اطاعت خدا میں سست ہیں اور گناہ کرنے میں دلیر ہیں ، لمبی چوڑی آرزوئیں رکھتے ہیں حالانکہ ان کی اجل قریب آپہنچی ہے مگر وہ ہر گز اپنے اعمال کا حساب نہیں کرتے ان سے لوگوں کو بہت کم نفع ہوتا ہے، باتیں زیادہ کرتے ہیں احساس ذمہ داری نہیں رکھتے اور کھانے پینے سے ھی غرض رکھتے ہیں ۔

اہل دنیا نہ تو نعمت میں خدا کا شکریہ ادا کرتے ہیں اورنہ ھی مصائب میں صبر کرتے ہیں ۔ زیادہ خدمات بھی ان کی نظر میں تھوڑی ہیں (اور خود ان کی اپنی خدمات تھوڑی بھی زیادہ ہیں ) اپنے اس کام کے انجام پانے پر جو انہوں نے انجام نہیں دیا ہے تعریف کرتے ہیں اور ایسی چیز کا مطالبہ کرتے ہیں جو ان کا حق نہیں ہے ۔ ہمیشہ اپنی آرزوؤں اور تمنا وں کی بات کرتے ہیں اور لوگوں کے عیوب تو بیان کرتے رہتے ہیں لیکن ان کی نیکیوں کو چھپاتے ہیں ۔

” عرض کیا :پروردگارا :!کیا دنیا پرست اس کے علاوہ بھی کوئی عیب رکھتے ہیں ؟

”فرمایا : اے احمد !ان کا عیب یہ ہے کہ جھل اور حماقت ان میں بہت زیادہ ہے جس استاد سے انہوں علم سیکھا ہے وہ اس سے تواضع نہیں کرتے اور اپنے آپ کو عاقل کل سمجھتے ہیں حالانکہ وہ صاحبان علم کے نزدیک نادان اور احمق ہیں “ ۔

اہل بہشت کے صفات

خدا وند عالم اس کے بعد اہل آخرت اور بہشتیوں کے اوصاف کو یوں بیان کرتا ہے : ”وہ ایسے لوگ ہیں جو با حیا ہیں ان کی جھالت کم ہے ، ان کے منافع زیادہ ہیں ،لوگ ان سے راحت و آرام میں ہوتے ہیں اور وہ خود اپنے ہاتھوں تکلیف میں ہوتے ہیں اور ان کی باتیں سنجیدہ ہوتی ہیں “۔

وہ ہمیشہ اپنے اعمال کا حساب کرتے رہتے ہیں اور اسی وجہ سے وہ خود کو زحمت میں ڈالتے رہتے ہیں ان کی آنکہیں سوئی ہوئی ہوتی ہیں لیکن ان کے دل بیدار ہوتے ہیں ان کی آنکھ گریاں ہوتی ہے اور ان کا دل ہمیشہ یاد خدا میں مصروف رہتا ہے جس وقت لوگ غافلوں کے زمرہ میں لکہے جارہے ہوں وہ اس وقت ذکر کرنے والوں میں لکہے جاتے ہیں ۔

نعمتوں کے آغاز میں حمد خدا بجالاتے ہیں اور ختم ہونے پر اس کا شکر ادا کرتے ہیں ، ان کی دعائیں بارگاہ خدا میں قبول ہوتی ہیں اور ان کی حاجتیں پوری کی جاتی ہیں اور فرشتے ان کے وجود سے مسرور اور خوش رہتے ہیں ۔۔۔(غافل )لوگ ان کے نزدیک مردہ ہیں اور خدا اُن کے نزدیک حی و قیوم اور کریم ہے (ان کی ہمت اتنی بلند ہے کہ وہ اس کے سوا کسی کے اوپر نظر نہیں رکھتے )

لوگ تو اپنی عمر میںصرف ایک ھی دفعہ مرتے ہیں لیکن وہ جھاد باالنفس اور ہواوہوس کی مخالفت کی وجہ سے ہر روز ستر مرتبہ مرتے ہیں (اور نئی زندگی پاتے ہیں )

جس وقت عبادت کے لئیے میرے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو ایک فولادی باندھ اور بنیان مرصوص کے مانند ہوتے ہیں اور ان کے دل میںمخلوقات کی طرف کوئی توجہ نہیں ہوتی مجھے اپنی عزت و جلال کی قسم ہے کہ میں انہیں ایک پاکیزہ زندگی بخشونگا اور عمر کے اختتام پر میں خود ان کی روح کو قبض کروںگا اور ان کی پرواز کے لئے آسمان کے دروازوں کو کھول دوں گاتمام حجابوں کو ان کے سامنے سے ہٹا دوں گا اور حکم دوں گا کہ بہشت خود اپنے ان کے لئے آراستہ کرے ۔۔۔ ”اے احمد! عبادت کے دس حصہ ہیں جن میں سے نو حصے طلب رزق حلال میں ہیں جب تیرا کھانا اور پینا حلال ہوگا تو تیری حفظ و حمایت میں ہوگا۔۔۔۔“

بہترین اور جاویدانی زندگی

ایک اور حصہ میں آیا ہے:

”اے احمد ! کیا تو جانتا ہے کہ کونسی زندگی زیادہ گوارا اور زیادہ دوام رکھتی ہے“؟

عرض کیا : خداوندا: نہیں ۔

فرمایا: گوارا زندگی وہ ہوتی ہے جس کا صاحب ایک لمحہ کے لئے بھی میری یاد سے غافل نہ رہے، میری نعمت کو فراموش نہ کرے ، میرے حق سے بے خبر نہ رہے اور رات دن میری رضا کو طلب کرے۔

لیکن باقی رہنے والی زندگی وہ ہے جس میں اپنی نجات کے لئے عمل کرے ، دنیا اس کی نظر میں حقیر ہو اور آخرت بڑی اور بزرگ ہو، میری رضا کو اپنی رضا پر مقدم کرے، اور ہمیشہ میری خوشنودی کو طلب کرے، میرے حق کو بڑا سمجھے اور اپنی نسبت میری آگاھی کی طرف توجہ رکہے۔

ہرگناہ اور معصیت پر مجھے یاد کرلیا کرے ، اور اپنے دل کو اس چیز سے جو مجھے پسند نہیں ہے پاک رکہے، شیطانی وسو سوں کو مبغوض رکہے ،اور ابلیس کو اپنے دل پر مسلط نہ کرے ۔

جب وہ ایسا کرے گا تو میں ایک خاص قسم کی محبت کو اس کے دل میں ڈال دوں گا اس طرح سے کہ اس کا دل میرے اختیار میں ہوگا ، اس کی فرصت اور مشغولیت اس کا ہم وغم اور اس کی بات ان نعمتوں کے بارے میں ہوگی جو میں اہل محبت کو بخشتا ہوں ۔ میں اس کی آنکھ اور دل کے کان کھول دیتا ہوں تاکہ وہ اپنے دل کے کان سے غیب کے حقائق کو سننے اور اپنے دل سے میرے جلال وعظمت کو دیکہے“ :

اور آخر میں یہ نورانی حدیث ان بیدار کرنے والے جملوں پر ختم ہوجاتی ہے :

” اے احمد ! اگر کوئی بندہ تمام اہل آسمان اور تمام اہل زمین کے برابر نماز ادا کرے ،اور تمام اہل آسمان وزمین کے برابر روزہ رکہے، فرشتوں کی طرح کھانانہ کھائے اور کوئی فاخرہ لباس بدن پر نہ پہنے (اور انتھائی زہد اور پارسائی کی زندگی بسر کرے) لیکن اس کے دل میں ذرہ برابر بھی دنیا پرستی یا ریاست طلبی یازینت دنیا کا عشق ہو تو وہ میرے جاودانی گہر میں میرے جوار میں نہیں ہوگا اور میںاپنی محبت کو اس کے دل سے نکال دوں گا ،میرا سلام ورحمت تجھ پر ہو ،والحمد للہ رب العالمین “

یہ عرشی باتیں ۔۔جو انسانی روح کو آسمانوں کی طرف بلند کرتی ہیں ، اور آستانہ عشق وشہود کی طرف کھینچتی ہیں ۔حدیث قدسی کا صرف ایک حصہ ہے ۔

مزید براں ہمیں اطمینان ہے کہ پیغمبر نے اپنے ارشادات میں جو کچھ بیان فرمایا ہے ان کے علاوہ بھی، اس شب عشق وشوق اور جذبہ ووصال کی شب میں ، ایسی باتیں ، اسرارورموز اور اشارے آپ کے اور آپ کے محبوب کے درمیان ہوتے ہیں جن کو نہ تو کان سننے کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ عام افکار میں ان کے درک کی صلاحیت ہے، اور اسی بناپر وہ ہمیشہ پیغمبر کے دل وجان کے اندر ھی مکتوم اور پوشیدہ رہے ، اور آپ کے خواص کے علاوہ کوئی بھی ان سے آگاہ نہیں ہوا ۔


ہجرت پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم(۳۶)

مختلف قبائل قریش اور اشراف مکہ کا ایک گروہ جمع ہوا تاکہ وہ” دار الند وہ“ میں میٹنگ کریں اور انہیں رسول اللہ کی طرف سے درپیش خطرے پر غور وفکر کریں

(کہتے ہیں ) اثنائے راہ میں انہیں ایک خوش ظاہر بوڑھا شخص ملا جو در اصل شیطان تھا (یا کوئی انسان جو شیطانی روح وفکر کا حامل تھا)۔

انہوں نے اس سے پوچھا : تم کون ہو؟

کہنے لگا : اہل نجد کا ایک بڑا بوڑھا ہوں، مجھے تمھارے اراداے کی اطلاع ملی تو میں نے چاھا کہ تمھاری میٹنگ میں شرکت کروں اور اپنا نظریہ اور خیر خواھی کی رائے پیش کرنے میں دریغ نہ کروں ۔

کہنے لگے : بہت اچھا اندر آجایئے ۔

اس طرح وہ بھی” دارالندوة“میں داخل ہوگیا ۔

حاضرین میں سے ایک نے ان کی طرف رخ کیا اور ( پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) کھا : اس شخص کے بارے میں کوئی سوچ بچار کرو ، کیونکہ بخدا ڈر ہے کہ وہ تم پر کامیاب ہوجائے ( اور تمھارے دین اور تمھاری عظمت کو خاک میں ملادے گا )

ایک نے تجویز پیش کی : اسے قید کردو یہاں تک کے زندان ھی میں مرجائے۔

بوڑہے نجدی نے اس تجویز پراعتراض کیا اور کھا : اس میں خطرہ یہ ہے کہ اس کے طرف دار ٹوٹ پڑیں اور کسی مناسب وقت اسے قید خانے سے چھڑا کر اس سرزمین سے باہر لے جائیں لہٰذا کوئی اور بنیادی بات کرو ۔

ایک اورشخص نے کھا: اسے اپنے شہرسے نکال دو تاکہ تمہیں اس سے چھٹکارامل جائے کیونکہ جب وہ تمھارے درمیان سے چلا جائے گا تو پہر جو کچھ بھی کرتا پہرے تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اور پہر وہ دوسروں ھی سے سروکار رکہے گا ۔

اس بوڑہے نجدی نے کھا : واللہ یہ نظریہ بھی صحیح نہیں ہے ، کھا تم اس کی شیریں بیانی ،قدرت زبان اور لوگوں کے دلوں میں اس کے نفوذ نہیں دیکھتے؟ اگر ایسا کروگے تو وہ تمام دنیائے عرب کے پاس جائے گا اور وہ اس کے گرد جمع ہوجائیں گے اور پہر وہ ایک انبوہ کثیر کے ساتھ تمھاری طرف پلٹے گا اور تمہیں تمھارے شہروں سے نکال باہر کرے گا اور بڑوں کو قتل کردےگا ۔

مجمع نے کھا بخدا یہ سچ کہہ رھاہے کوئی اور تجویزسو چو۔

ابوجہل کی رائے

ابوجہل ابھی تک خاموش بیٹھا تھا ، اس نے گفتگو شروع کی اور کھا : میرا ایک نظریہ ہے اور اس کے علاوہ میں کسی رائے کو صحیح نہیں سمجھتا ۔

حاضرین کہنے لگے :وہ کیا ہے ؟

کہنے لگا : ہم ہر قبیلے سے ایک بھادر شمشیر زن کا انتخاب کریں اور ان میں سے ہر ایک ہاتھ میں ایک تیز تلوار دے دیدیں اور پہر وہ سب مل کر موقع پاتے ھی اس پر حملہ کریں جب وہ اس صورت میں قتل ہوگا تو اس کا خون تمام قبائل میں بٹ جائے گا اور میں نہیں سمجھتا کہ بنی ھاشم تمام قبائل قریش سے لڑسکیں گے لہٰذا مجبورا اس صورت میں خون بھا پر راضی ہوجائیں گے اور یوں ہم بھی اس کے آزار سے نجات پالیں گے۔

بوڑہے نجدی نے (خوش ہوکر ) کھا: بخدا : صحیح رائے یھی ہے جو اس جواں مرد نے پیش کی ہے میرا بھی اس کے علاوہ کوئی نظریہ نہیں ۔

اس طرح یہ تجویز اتفاق رائے سے پاس ہوگئی اور وہ یھی مصمم ارادہ لے کروھاںسے اٹہے ۔

حضرت علی علیہ السلام نے اپنی جان کو بیچ ڈالی

جبرئیل نازل ہوئے اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو حکم ملا کہ وہ رات کو اپنے بستر پر نہ سوئیں ،پیغمبر اکرم رات کو غار ثور کی طرف روانہ ہوگئے اور حکم دے گئے کہ علی آپ کے بستر پر سوجائیں (تاکہ جو لوگ دروازے کی درازسے بستر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نظر رکہے ہوئے ہیں انہیں بستر پر سویا ہوا سمجہیں اور آپ کو خطرے کے علاقہ سے دور نکل جانے کی مھلت مل جائے )۔

اہل سنت کے مشہور مفسر ثعلبی کہتے ہیں کہ جب پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہجرت کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا تو اپنے قرضوں کی ادائیگی اور موجود امانتوں کی واپسی کے لئے حضرت علی علیہ السلام کو اپنی جگہ مقرر کیا اور جس رات آپ غار ثور کی طرف جانا چاہتے تھے اس رات مشرکین آپ پر حملہ کرنے کے لئے آپ کے گہر کا چاروں طرف سے محاصرہ کئے ہوے تھے، آپ نے حضرت علی علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ آپ کے بستر پر لیٹ جائیں ، اپنی مخصوص سبز رنگ کی چادر انہیں اوڑھنے کو دی ، اس وقت خدا وند عالم نے جبرائیل اور میکائیل پر وحی کی کہ میں نے تم دونوں کے درمیان بھائی چارہ اور اخوت قائم کی ہے اور تم میں سے ایک کی عمر کو زیادہ مقرر کیا ہے تم میں سے کون ہے جو ایثار کرتے ہوئے دوسرے کی زندگی کو اپنی حیات پر ترجیح دے ان میں سے کوئی بھی اس کے لئے تیار نہ ہوا تو ان پروحی ہوئی کہ اس وقت علی میرے پیغمبر کے بستر پر سویا ہوا ہے اور وہ تیار ہے کہ اپنی جان ان پر قربان کردے، زمین پرجاؤ اور اس کے محافظ ونگھبان بن جاؤ ،جب جبرئیل ،حضرت علی علیہ السلام کے سرھانے آئے اور میکائیل پاؤں کی طرف بیٹہے تو جبرئیل کہہ رہے تھے: سبحان اللہ، صدآفرین آپ پر اے علی علیہ السلام کہ خدا آپ کے ذریعے فرشتوں پر فخر ومباھات کررھاہے ،اس موقع پر آیت نازل ہوئی ”کچھ لوگ اپنی جان خدا کی خوشنودی کے بدلے بیچ دیتے ہیں اور خدا اپنے بندوں پر مہربان ہے“ اور اسی بناء پروہ تاریخی رات ” لیلة المبیت“(شب ہجرت) کے نام سے مشہور ہوگئی ۔

ابن عباس(رض) کہتے ہیں :جب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مشرکین سے چھپ کر ابوبکر کے ساتھ غار کی طرف جارہے تھے یہ آیت علی علیہ السلام کے بارے میں نازل ہوئی جو اس وقت بستر رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر سوئے ہوئے تھے ۔

ابوجعفر اسکافی کہتے ہیں :جیسے ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ، جلد ۳ ص ۲۷۰ پر لکھا ہے :

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بستر پر حضرت علی علیہ السلام کے سونے کا واقعہ تو اتر سے ثابت ہے اور اس کا انکار غیر مسلموں اور کم ذہن لوگوں کے علاوہ کوئی نہیں کرتا(۳۷)

جب صبح ہوئی تومشرکین گہر میں گھس آئے ۔ انہوں نے جستجو کی تو حضرت علی علیہ السلام کو پیغمبر کی جگہ پر دیکھا ۔ اس طرح سے خدا نے ان کی سازش کو نقش برآب کردیا ۔

وہ پکارے: محمد کھاں ہے ؟

آپ نے جواب دیا : میں نہیں جانتا ۔

وہ آپ کے پاؤں کے نشانوں پر چل پڑے یہاں تک کہ غار کے پاس پہنچ گئے لیکن (انہوں نے تعجب سے دیکھا کہ مکڑی نے غار کے سامنے جالاتن رکھاہے ایک نے دوسرے سے کھا کہ اگر وہ اس غار میں ہوتے تو غارکے دھانے پر مکڑی کا جالا نہ ہوتا ، اس طرح وہ واپس چلے گئے )

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تین دن تک غار کے اندر رہے ( اور جب دشمن مکہ کے تمام بیابانوں میں آپ کو تلاش کرچکے اور تھک ھار کرمایوس پلٹ گئے تو آپ مدینہ کی طرف چل پڑے )۔

قبلہ کی تبدیلی

بعثت کے بعد تیرہ سال تک مکہ میں اور چند ماہ تک مدینہ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حکم خدا سے بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے لیکن اس کے بعد قبلہ بدل گیا اور مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ مکہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑہیں ۔

مدینہ میں کتنے ماہ بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھی جاتی رھی؟ اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے، یہ مدت سات ماہ سے لے کر سترہ ماہ تک بیان کی گئی ہے لیکن یہ جتنا عرصہ بھی تھا اس دوران یہودی مسلمانوں کو طعنہ زنی کرتے رہے کیونکہ بیت المقدس دراصل یہودیوں کا قبلہ تھا وہ مسلمانوں سے کہتے تھے کہ ان کا اپنا کوئی قبلہ نہیں بلکہ ہمارے قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے ہیں اور یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ہم حق پر ہیں ۔

یہ باتیں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور مسلمانوں کے لئے ناگوار تہیں ایک طرف وہ فرمان الٰھی کے مطیع تھے اور دوسری طرف یہودیوں کے طعنے ختم نہ ہوتے تھے، اسی لئے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آسمان کی طرف دیکھتے تھے گویا وحی الٰھی کے منتظر تھے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا خانہ کعبہ سے خاص لگاؤ

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خصوصیت سے چاہتے تھے کہ قبلہ، کعبہ کی طرف تبدیل ہوجائے اور آپ انتظار میں رہتے تھے کہ خدا کی طرف سے اس سلسلہ میں کوئی حکم نازل ہو، اس کی وجہ شاید یہ تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو حضرت ابراھیم علیہ السلام اور ان کے آثار سے عشق تھا، علاوہ از ایں کعبہ توحید کا قدیم ترین مرکز تھا، آپ جانتے تھے کہ بیت المقدس تو وقتی قبلہ ہے لیکن آپ کی خواہش تھی کہ حقیقی و آخری قبلہ جلد معین ہوجائے۔

آپ چونکہ حکم خدا کے سامنے سر تسلیم خم تھے،پس آپ یہ تقاضا زبان تک نہ لاتے صرف منتظر نگاہیں آسمان کی طرف لگائے ہوئے تھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کو کعبہ سے کس قدر عشق اور لگاؤ تھا۔

اس انتظار میں ایک عرصہ گذرگیا یہاں تک کہ قبلہ کی تبدیلی کا حکم صادر ہوا ایک روز مسجد ”بنی سالم“ میں پیغمبر نماز ظہر پڑھارہے تھے دورکعتیں پڑھ چکے تھے کہ جبرئیل کو حکم ہوا کہ پیغمبر کا بازو تھام کر ان کارخ انور کعبہ کی طرف پھیردیں۔

مسلمانوں نے بھی فوراً اپنی صفوں کا رخ بدل لیا،یہاں تک کہ ایک روایت میں منقول ہے کہ عورتوں نے اپنی جگہ مردوں کو دی اور مردوں نے اپنے جگہ عورتوں کو دیدی ،(توجہ رہے کہ بیت المقدس شمالی سمت میں تھا ،اور خانہ کعبہ جنوبی سمت میں تھا۔)

اس واقعے سے یہودی بہت پریشان ہوئے اور اپنے پرانے طریقہ کے مطابق، ڈھٹائی، بھانہ سازی اور طعنہ بازی کا مظاہرہ کرنے لگے پہلے تو کہتے تھے کہ ہم مسلمانوں سے بہتر ہیں کیونکہ ان کا کوئی اپنا قبلہ نہیں ، یہ ہمارے پیروکار ہیں لیکن جب خدا کی طرف سے قبلہ کی تبدیلی کا حکم نازل ہوا تو انہوں نے پہر زبان اعتراض درازکی چنانچہ قرآن کہتا ہے۔

”بہت جلد کم عقل لوک کہیں گے ان (مسلمانوں) کو کس چیز نے اس قبلہ سے پھیردیا جس پر وہ پہلے تھے“۔(۳۸)

مسلمانوںنے اس سے کیوں اعراض کیا ہے جو گذشتہ زمانہ میںانبیائے ماسلف کا قبلہ رھا ہے، اگر پہلا قبلہ صحیح تھا تو اس تبدیلی کا کیا مقصد،اور اگر دوسرا صحیح ہے تو پہرتیر ہ سال اور پندرہ ماہ بیت المقدس کی طرف رخ کرکے کیوں نماز پڑھتے رہے ہیں ۔؟!

چنانچہ خدا وند عالم نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا:

”ان سے کہہ دو عالم کے مشرق ومغرب اللہ کے لئے ہیں وہ جسے چاہتا ہے سیدہے راستے کی ہدایت کرتا ہے“۔(۳۹)

تبدیلی قبلہ کا راز

بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی طرف قبلہ کی تبدیلی ان سب کے لئے اعتراض کا موجب بنی جن کا گمان تھا کہ ہر حکم کو مستقل رہنا چاہئے تھااگر ہمارے لئے ضروری تھا کہ کعبہ کی طرف نماز پڑہیں تو پہلے دن یہ حکم کیوں نہ دیا گیا اور اگر بیت المقدس مقدم ہے جو گذشتہ انبیاء کا بھی قبلہ شمار ہوتا ہے توپہراسے کیوں بدلاگیا۔؟

دشمنوں کے ہاتھ بھی طعنہ زنی کا موقع آگیا، شاید وہ کہتے تھے کہ پہلے تو انبیاء ماسبق کے قبلہ کی طرف نماز پڑھتا تھا لیکن کامیابیوں کے بعد اس پر قبیلہ پرستی نے غلبہ کرلیا ہے لہٰذا اپنی قوم اور قبیلے کے قبلہ کی طرف پلٹ گیا ہے یاکہتے تھے کہ اس نے دھوکا دینے اور یہودو نصاریٰ کی توجہ اپنی طرف مبذول کرنے کے لئے پہلے بیت المقدس کو قبول کرلیا اور جب یہ بات کار گرنہ ہوسکی تو اب کعبہ کی طرف رخ کرلیا ہے ۔

واضح ہے کہ ایسے وسوسے اور وہ بھی ایسے معاشرے میں جھاں ابھی نور علم نہ پھیلا ہو اور جھاں شرک وبت پرستی کی رسمیں موجود ہوں کیسا تذبذب واضطراب پیدا کردیتے ہیں اسی لئے قرآن صراحت سے کہتا ہے کہ” یہ مومنین اورمشرکین میں امتیاز پیدا کرنے والی ایک عظیم آزمائش تھی“۔(۴۰)

ممکن ہے کہ قبلہ کی تبدیلی کے اہم اسباب میں سے درج ذیل مسئلہ بھی ہو! خانہ کعبہ اس وقت مشرکین کے بتوں کامرکز بنا ہوا تھا لہٰذا حکم دیا گیا کہ مسلمان وقتی طور پر بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نمازپڑھ لیا کریں تاکہ اس طرح مشرکین سے اپنی صفیں الگ کرسکیں۔

لیکن جب مدینہ کی طرف ہجرت کے بعد اسلامی حکومت وملت کی تشکیل ہوگئی اور مسلمانوں کی صفیں دوسروں سے مکمل طور پر ممتاز ہوگئیں تو اب یہ کیفیت برقرار رکھنا ضروری نہ رھا ،لہٰذا اس وقت کعبہ کی طرف رخ کرلیا گیا جو قدیم ترین مرکز توحید اور انبیاء کا بہت پرانا مرکز تھا ۔

ایسے میں ظاہر ہے کہ جو کعبہ کو اپنا خاندانی معنوی اور روحانی سرمایہ سمجھتے تھے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھنا ان کے لئے مشکل تھا اور اسی طرح بیت المقدس کے بعد کعبہ کی طرف پلٹنا، لہٰذا اس میں مسلمانوں کی سخت آزمائش تھی تاکہ شرک کے جتنے آثار ان میں باقی رہ گئے تھے اس کٹھالی میں پڑکر جل جائیں اور ان کے گذشتہ شرک آلود رشتے ناتے ٹوٹ جائیں۔

جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں اصولی طور پر تو خدا کے لئے مکان نہیں ہے قبلہ تو صرف وحدت اور صفوں میں اتحاد کا ایک رمزہے اور اس کی تبدیلی کسی چیز کود گرگوں نہیں کرسکتی ، اہم ترین امر تو خدا کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے اور تعصب اورہٹ دہرمی کے بتوں کو توڑناہے ۔

جنگ بدر(۴۱)

جنگ بدرکی ابتداء یہاں سے ہوئی کہ مکہ والوں کا ایک اہم تجارتی قافلہ شام سے مکہ کی طرف واپس جآرہا تھا اس قافلے کو مدینہ کی طرف سے گزرنا تھا اہل مکہ کا سردار ابوسفیان قافلہ کا سالار تھا اس کے پاس ہزار دینار کا مال تجارت تھا پیغمبر اسلام نے اپنے اصحاب کو اس عظیم قافلے کی طرف تیزی سے کوچ کا حکم دیا کہ جس کے پاس دشمن کا ایک بڑا سرمایہ تھا تاکہ اس سرمائے کو ضبط کرکے دشمن کی اقتصادی قوت کو سخت ضرب لگائی جائے تاکہ اس کا نقصان دشمن کی فوج کو پہنچے ۔(۴۲)

بہرحال ایک طرف ابوسفیان کو مدینہ میں اس کے ذریعے اس امر کی اطلاع مل گئی اور دوسری طرف اس نے اہل مکہ کو صورت حال کی اطلاع کے لئے ایک تیز رفتار قاصد روانہ کردیا کیونکہ شام کی طرف جاتے ہوئے بھی اسے اس تجارتی قافلہ کی راہ میں رکاوٹ کا اندیشہ تھا ۔

قاصد ،ابوسفیان کی نصیحت کے مطابق اس حالت میں مکہ میں داخل ہوا کہ اس نے اپنے اونٹ کی ناک کوچیر دیا تھا اس کے کان کاٹ دیئے تھے ، خون ہیجان انگیز طریقہ سے اونٹ سے بہہ رھا تھا ،قاصد نے اپنی قمیض کو دونوں طرف سے پھاڑدیا تھا اونٹ کی پشت کی طرف منہ کرکے بیٹھا ہوا تھا تاکہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرسکے ، مکہ میں داخل ہوتے ھی اس نے چیخنا چلانا شروع کردیا :

اے کا میاب وکامران لوگو! اپنے قافلے کی خبر لو، اپنے کارواں کی مدد کرو ۔ لیکن مجھے امید نہیں کہ تم وقت پر پہنچ سکو ، محمد اور تمھارے دین سے نکل جانے والے افراد قافلے پر حملے کے لئے نکل چکے ہیں ۔

اس موقع پر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پھوپھی عاتکہ بنت عبدالمطلب کا ایک عجیب وغریب خواب تھا مکہ میں زبان زد خاص وعام تھا اور لوگوں کے ہیجان میں اضافہ کرھا تھا ۔ خواب کا ماجرایہ تھا کہ عاتکہ نے تین روزقبل خواب میں دیکھاکہ :

ایک شخص پکاررھا ہے کہ لوگو! اپنی قتل گاہ کی طرف جلدی چلو، اس کے بعد وہ منادی کوہ ابوقیس کی چوٹی پر چڑھ گیا اس نے پتہر کی ایک بڑی چٹان کو حرکت دی تو وہ چٹان ریزہ ریزہ ہوگئی اور اس کا ایک ایک ٹکڑا قریش کے ایک ایک گہرمیں جاپڑا اور مکہ کے درے سے خون کا سیلاب جاری ہوگیا ۔

عاتکہ وحشت زدہ ہوکر خواب سے بیدار ہوئی اور اپنے بھائی عباس کو سنایا ۔ اس طرح خواب لوگوں تک پہنچاتو وہ وحشت وپریشانی میں ڈوب گئے ۔ ابوجہل نے خواب سنا تو بولا : یہ عورت دوسرا پیغمبر ہے جو اولادعبدالمطلب میں ظاہر ہوا ہے لات وعزیٰ کی قسم ہم تین دن کی مھلت دیتے ہیں اگر اتنے عرصے میں اس خواب کی تعبیر ظاہر نہ ہوئی تو ہم آپس میں ایک تحریر لکھ کر اس پر دستخط کریں گے کہ بنی ھاشم قبائل عرب میں سے سب سے زیادہ جھوٹے ہیں تیسرا دن ہوا تو ابوسفیان کا قاصد آپہنچا ، اس کی پکار نے تمام اہل مکہ کو ہلاکو رکھ دیا۔

اور چونکہ تمام اہل مکہ کا اس قافلے میں حصہ تھا سب فوراً جمع ہوگئے ابوجہل کی کمان میں ایک لشکر تیار ہوا ، اس میں ۵۰ ۹ جنگجو تھے جن میں سے بعض انکے بڑے اور مشہور سردار اور بھادر تھے ۷۰۰ اونٹ تھے اور ۱۰۰ گھوڑے تھے لشکر مدینہ کی طرف روانہ ہوگیا ۔

دوسری طرف چونکہ ابو سفیان مسلمانوں سے بچ کر نکلنا چاہتاتھا ،لہٰذا اس نے راستہ بدل دیا اور مکہ کی طرف روانہ ہو گیا۔

۳۱۳ وفادار ساتھی

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ۳۱۳ افراد کے ساتھ جن میں تقریباً تمام مجاہدین اسلام تھے سرزمین بدرکے پاس پہنچ گئے تھے یہ مقام مکہ اور مدینہ کے راستے میں ہے یہاں آپ کو قریش کے لشکر کی روانگی کی خبر ملی اس وقت آپ نے اپنے اصحاب سے مشورہ کیا کہ کیا ابوسفیان کے قافلہ کا تعاقب کیا جائے اور قافلہ کے مال پر قبضہ کیا جائے یا لشکر کے مقابلے کے لئے تیار ہواجائے؟ ایک گروہ نے دشمن کے لشکر کامقابلہ کرنے کو ترجیح دی جب کہ دوسرے گروہ نے اس تجویز کو ناپسند کیا اور قافلہ کے تعاقب کو ترجیح دی ،ان کی دلیل یہ تھی کہ ہم مدینہ سے مکہ کی فوج کا مقابلہ کرنے کے ارادہ سے نہیں نکلے تھے اور ہم نے اس لشکر کے مقابلے کے لئے جنگی تیاری نہیں کی تھی جب کہ وہ ہماری طرف پوری تیاری سے آرہا ہے ۔

اس اختلاف رائے اور تردد میں اس وقت اضافہ ہوگیا جب انہیں معلوم تھاکہ دشمن کی تعداد مسلمانوں سے تقریبا تین گنا ہے اور ان کا سازوسامان بھی مسلمانوں سے کئی گنا زیادہ ہے، ان تمام باتوں کے باوجود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پہلے گروہ کے نظریے کو پسند فرمایا اور حکم دیا کہ دشمن کی فوج پر حملہ کی تیاری کی جائے ۔

جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تودشمن کو یقین نہ آیا کہ مسلمان اس قدر کم تعداد اور سازو سامان کے ساتھ میدان میں آئے ہوں گے ،ان کا خیال تھا کہ سپاہ اسلام کا اہم حصہ کسی مقام پر چھپاہوا ہے تاکہ وہ غفلت میں کسی وقت ان پر حملہ کردے لہٰذا انہوں نے ایک شخص کو تحقیقات کے لئے بھیجا، انہیں جلدی معلوم ہوگیا کہ مسلمانوں کی جمعیت یھی ہے جسے وہ دیکھ رہے ہیں ۔

دوسری طرف جیسا کہ ہم نے کھا ہے مسلمانوں کاایک گروہ وحشت وخوف میں غرق تھا اس کا اصرار تھا کہ اتنی بڑی فوج جس سے مسلمانوں کا کوئی موازنہ نہیں ، خلاف مصلحت ہے، لیکن پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خدا کے وعدہ سے انہیں جوش دلایا اور انہیں جنگ پر اُبھارا، آپ نے فرمایا :کہ خدا نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ دوگرو ہوں میں سے ایک پر تمہیں کا میابی حاصل ہوگی قریش کے قافلہ پر یا لشکر قریش پراور خداکے وعدہ کے خلاف نہیں ہوسکتا۔

خدا کی قسم ابوجہل اور کئی سرداران قریش کے لوگوں کی قتل گاہ کو گویا میں اپنی آنکھوں سے دیکھ رھا ہوں ۔

اس کے بعد آپ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ بدر کے کنوئیں کے قریب پڑاؤ ڈالیں ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پہلے سے خواب میں اس جنگ کا منظر دیکھا تھا، آپ نے د یکھا کہ دشمن کی ایک قلیل سی تعداد مسلمانوں کے مقابلہ میں آئی ہے، یہ در اصل کامیابی کی ایک بشارت تھی آپ نے بعینہ یہ خواب مسلمانوں کے سامنے بیان کردیا، یہ بات مسلمانوں کے میدان بدر کی طرف پیش روی کے لئے ان کے جذبہ اور عزم کی تقویت کا باعث بنی۔

البتہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ خواب صحیح دیکھا تھا کیونکہ دشمن کی قوت اور تعداد اگرچہ ظاہراً بہت زیادہ تھی لیکن باطناً کم، ضعیف اور ناتواں تھی، ہم جانتے ہیں کہ خواب عام طور پر اشارے اور تعبیر کا پھلو رکھتے ہیں ، اور ایک صحیح خواب میں کسی مسئلے کا باطنی چہرہ آشکار ہوتا ہے۔

قریش کا ایک ہزار کا لشکر

اس ہنگامے میں ابوسفیان اپنا قافلہ خطرے کے علاقے سے نکال لے گیا ۔اصل راستے سے ہٹ کردریائے احمر کے ساحل کی طرف سے وہ تیزی سے مکہ پہنچ گیا ۔ اس کے ایک قاصدکے ذریعے لشکر کو پیغام بھیجا:

خدانے تمھارا قافلہ بچالیا ہے میرا خیال ہے کہ ان حالات میں محمد کامقابلہ کرنا ضروری نہیں کیونکہ اس کے اتنے دشمن ہیں جو اس کا حساب چکالیں گے ۔

لشکر کے کمانڈرابوجہل نے اس تجویز کو قبول نہ کیا ، اس نے اپنے بتوں لات اور عزیٰ کی قسم کھائی کہ نہ صرف ان کا مقابلہ کریں گے بلکہ مدینہ کے اندر تک ان کا تعاقب کریں گے یا انہیں قیدکرلیں گے اور مکہ میں لے آئیں گے تاکہ اس کامیابی کا شہرہ تمام قبائل عرب کے کانوں تک پہنچ جائے ۔ آخر کارلشکر قریش بھی مقام بدر تک آپہنچا، انہوں نے اپنے غلام کوپانی لانے کے لئے کنویں کی طرف بھیجے ،اصحاب پیغمبر نے انہیں پکڑلیا اور ان سے حالات معلوم کرنے کے لئے انہیں خدمت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں لے آئے حضرت نے ان سے پوچھا تم کون ہو ؟ انہوں نے کھا : ہم قریش کے غلام ہیں ، فرمایا: لشکر کی تعداد کیا ہے ؟ انہوں نے کھا : ہمیں اس کا پتہ نہیں ، فرمایا : ہرروز کتنے اونٹ کھانے کے لئے نحرکرتے ہیں ؟ انہوں نے کھا : نو سے دس تک، فرمایا: ان کی تعداد ۹ سوسے لے کر ایک ہزار تک ہے (ایک اونٹ ایک سو فوجی جوانوںکی خواراک ہے ) ۔

ماحول پُر ھیبت اور وحشت ناک تھا لشکر قریش کے پاس فراواں جنگی سازوسامان تھا ۔ یہاں تک کہ حوصلہ بڑھانے کے لئے وہ گانے بجانے والی عورتوں کو بھی ساتھ لائے تھے ۔ اپنے سامنے ایسے حریف کو دیکھ رہے تھے کہ انہیں یقین نہیں آتا تھا کہ ان حالات میں وہ میدان جنگ میں قدم رکہے گا۔

مسلمانو! فرشتے تمھاری مدد کریں گے

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دیکھ رہے تھے کہ ممکن ہے آپ کے اصحاب خوف ووحشت کی وجہ سے رات میں آرام سے سونہ سکیں اور پہر کل دن کو تھکے ہوئے جسم اور روح کے ساتھ دشمن کے مقابل ہوں لہٰذا خدا کے وعدے کے مطابق ان سے فرمایا:

تمھاری تعداد کم ہوتو اس کا غم نہ کر، آسمانی فرشتوں کی ایک عظیم جماعت تمھاری مدد کے لئے آئے گی، آپ نے انہیں خدائی وعدے کے مطابق اگلے روز فتح کی پوری تسلی دے کر مطمئن کردیا اور وہ رات آرام سے سوگئے۔

دوسری مشکل جس سے مجاہدین کو پریشانی تھی وہ میدان بدر کی کیفیت تھی ،ان کی طرف زمین نرم تھی اور اس میں پاؤں دھنس جاتے تھے اسی رات یہ ہوا کہ خوب بارش ہوئی ،اس کے پانی سے مجاہدین نے وضو کیا ، غسل کیا اور تازہ دم ہوگئے ان کے نیچے کی زمین بھی اس سے سخت ہوگئی ،تعجب کی بات یہ ہے کہ دشمن کی طرف اتنی زیادہ بارش ہوئی کہ وہ پریشان ہوگئے ۔

دشمن کے لشکر گاہ سے مسلمان جاسوسوں کی طرف سے ایک نئی خبر موصول ہوئی اور جلد ھی مسلمانوں میں پھیل گئی ، خبریہ تھی کہ فوج قریش اپنے ان تمام وسائل کے باوجود خو فزدہ ہے گویا وحشت کا ایک لشکر خدا نے ان کے دلوں کی سرزمین پر اتار دیا تھا ،اگلے روز چھوٹا سا اسلامی لشکر بڑے ولولے کے ساتھ دشمن کے سامنے صف آراء ہوا، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پہلے انہیں صلح کی تجویز پیش کی تاکہ عذر اور بھانہ باقی نہ رہے، آپ نے ایک نمائندے کے ہاتھ پیغام بھیجا کہ میں نہیں چاہتا کہ تم وہ پہلا گروہ بن جاؤ کہ جس پر ہم حملہ آور ہوں ، بعض سردار ان قریش چاہتے تھے یہ صلح کا ہاتھ جوان کی طرف بڑھایا گیا ہے اسے تھام لیں اور صلح کرلیں، لیکن پہر ابوجہل مانع ہوا۔

ستر قتل ستر اسیر

آخرکار جنگ شروع ہوئی ،اس زمانے کے طریقے کے مطابق پہلے ایک کے مقابلے میں ایک نکلا ،ادہر لشکر اسلام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچا حمزہ اور حضرت علی علیہ السلام جوجو ان ترین افراد تھے میدان میں نکلے، مجاہدین اسلام میں سے چند اور بھادر بھی اس جنگ میں شریک ہوئے ،ان جوانوں نے اپنے حریفوں کے پیکر پر سخت ضربیں لگائیں اور کاری وار کئے اور ان کے قدم اکھاڑدیئے ،دشمن کا جذبہ اور کمزور پڑگیا ،یہ دیکھا تو ابوجہل نے عمومی حملے کا حکم دے دیا ۔

ابوجہل پہلے ھی حکم دے چکا تھا کہ اصحاب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں سے جو اہل مدینہ میں سے ہیں انہیں قتل کردو ، مہاجرین مکہ کو اسیر کرلو مقصدیہ تھا کہ ایک طرح کے پر وپیگنڈا کے لئے انہیں مکہ لے جائیں ۔

یہ لمحات بڑے حساس تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ جمعیت کی کثرت پر نظر نہ کریں اور صرف اپنے مد مقابل پر نگاہ رکہیں دانتوں کو ایک دوسرے پررکھ کر پیسیں ، باتیں کم کریں ، خدا سے مدد طلب کریں ، حکم پیغمبر سے کہیں رتی بہر سرتابی نہ کریں اور مکمل کامیابی کی امید رکہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دست دعا آسمان کی طرف بلند کئے اور عرض کیا : ”پالنے والے! اگر یہ لوگ قتل ہوگئے تو پہر تیری عبادت کوئی نہیں کرے گا“۔

دشمن کے لشکر کی سمت میں سخت ہوا چل رھی تھی اور مسلمان ہوا کی طرف پشت کرکے ان پر حملے کررہے تھے ۔ ان کی استقامت ، پامردی اور دلاوری نے قریش کا ناطقہ بندکردیا ابوجہل سمیت دشمن کے ستر آدمی قتل ہوگئے ان کی لاشیں خاک وخون میں غلطاں پڑی تہیں سترا فراد مسلمانوں کے ہاتھوں قید ہوگئے مسلمانوں کے بہت کم افراد شھید ہوئے ۔

اس طرح مسلمانوں کی پہلی مسلح جنگ طاقتور دشمن کے خلاف غیر متوقع کامیابی کے ساتھ اختتام پذیزر ہوئی ۔

جنگ بدر میں مسلمانوں کی تعداد تین سو تیرہ تھی، ان میں ۷۷ مھاجر تھے اور دوسو چھتیس ( ۲۳۶) انصار، مہاجرین کا پرچم حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھ میں تھا، اور انصار کا پرچم بردار” سعد بن عبادہ“ تھے، اس عظیم معرکہ کے لئے ان کے پاس صرف ۷۰ اونٹ دو گھوڑے، ۶ زرہیں اور آٹھ تلواریں تہیں ، دوسری طرف دشمن کی فوج ہزار افراد سے متجاوز تھی، اس کے پاس کافی ووافی اسلحہ تھا اور ایک سو گھوڑے تھے، اس جنگ ۲۲ مسلمان شھید ہوئے ان میں چودہ مھاجر او ر ۸ انصار تھے، دشمن کے ستر( ۷۰) افراد مارے گئے اور ستر ھی قیدی ہوئے، اس طرح مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور یوں مکمل کامرانی کے ساتھ وہ مدینہ کی طرف پلٹ گئے۔

واقعاً یہ عجیب و غریب بات تھی کہ تواریخ کے مطابق مسلمانوں کے چھوٹے سے لشکر کے مقابلہ میں قریش کی طاقتور فوج نفسیاتی طور پر اس قدر شکست خودرہ ہوچکی تھی کہ ان میں سے ایک گروہ مسلمانوں سے جنگ کرنے سے ڈرتا تھا، بعض اوقات وہ دل میں سوچتے کہ یہ عام انسان نہیں ہیں ، بعض کہتے ہیں کہ یہ موت کو اپنے اونٹوں پر لادکر مدینہ سے تمھارے لئے سوغات لائے ہیں ۔

”سعدبن معاذانصاری “نمائندہ کے طور پر خدمت پیغمبر میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے :

میرے ماں پاپ آپ پر قربان اے اللہ کے رسول ! ہم آپ پر ایمان لائے ہیں اور ہم نے آپ کی نبوت کی گواھی دی ہے کہ جو کچھ آپ کہتے ہیں خدا کی طرف سے ہے، آپ جو بھی حکم دینا چاہیں دیجئے اور ہمارے مال میں سے جو کچھ آپ چاہیں لے لیں، خدا کی قسم اگر آپ ہمیں حکم دیں کہ اس دریا ( دریائے احمر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ،جووھاں سے قریب تھا ) میںکود پڑو تو ہم کو د پڑیں گے ہماری یہ آرزو ہے کہ خدا ہمیں توفیق دے کہ ایسی خدمت کریں جو آپ کی آنکھ کی روشنی کا باعث ہو۔

روز بدر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا:

زمین سے مٹی اور سنگریزوں کی ایک مٹھی بہر کے مجھے دیدو۔

حضرت علی علیہ السلام نے ایسا ھی کیا اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسے مشرکین کی طرف پھینک دیا اور فرمایا:

”شاہت الوجوہ“(تمھارے منھ قبیح اور سیاہ ہوجائیں)

لکھا ہے کہ معجزانہ طور پر گرد و غبار اور سنگریزے دشمن کی آنکھوں میں جا پڑے اور سب وحشت زدہ ہوگئے۔

مجاہدین کی تشویق

ابن عباس(رض) سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جنگ بدر کے روز مجاہدین اسلام کی تشویق کے لئے کچھ انعامات مقررکیے مثلاً فرمایا کہ جو فلاں دشمن کو قید کر کے میرے پاس لائے گا اُسے یہ انعام دوں گا ان میں پہلے ھی روح ایمان وجھاد موجود تھی اوپر سے یہ تشویق بھی، نتیجہ یہ ہو اکہ جوان سپاھی بڑے افتخار سے مقابلہ کے لئے آگے بڑہے اور اپنے مقصد کی طرف لپکے بوڑہے سن رسیدہ افراد جھنڈوں تلے موجودرہے جب جنگ ختم ہوئی تو نوجوان اپنے پر افتخار انعامات کے لئے بارگاہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف بڑہے، بوڑہے ان سے کہنے لگے کہ اس میں ہمارا بھی حصہ ہے کیونکہ ہم تمھارے لئے پناہ اور سھارے کاکام کررہے تھے اور تمھارے لئے جوش وخروش کا باعث تھے اگر تمھارا معاملہ سخت ہوجاتاہے تو تمہیں پیچہے ہٹنا پڑتا تو یقیناً تم ہماری طرف آتے اس موقع پر دو انصاریوں میں تو تو میں میں بھی ہوگئی اور انہوں نے جنگی غنائم کے بارے میں بحث کی ۔

اس اثناء میں سورہ انفال کی پہلی آیت نازل ہوئی جس میں صراحت کے ساتھ بتایا گیا کہ غنائم کا تعلق پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ہے وہ جیسے چاہیں انہیں تقسیم فرمائیں، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بھی مساوی طور پر سب سپاھیوں میں غنائم تقسیم کردیئے اور برادران دینی میں صلح ومصالحت کا حکم دیا ۔

جنگ کا خاتمہ اور اسیروں کا واقعہ

جنگ بدر کے خاتمہ پر جب جنگی قیدی بنالئے گئے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ حکم دیاکہ قیدیوں میں سے دو خطر ناک افراد عقبہ اور نضر کو قتل کردیاجائے تو اس پر انصار گھبراگئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ حکم تمام قیدیوں کے متعلق جاری ہوجائے اور وہ فدیہ لینے سے محروم ہوجائیں ) لہٰذا انہوں نے رسول اللہ کی خدمت میں عرض کیا : ہم نے سترآدمیوں کو قتل کیا ہے اور سترھی کو قیدی بنایا ہے اور یہ آپ کے قبیلے میں سے آپ ھی کے قیدی ہیں ،یہ ہمیں بخش دیجئے تاکہ ہم ان کی آزادی کے بدلے فدیہ لے سکیں ۔

(رسول اللہ اس کے لئے وحی آسمانی کے منتظر تھے ) اس موقع پروحی الٰھی نازل ہوئی اورقیدیوں کی آزادی کے بدلے فدیہ لینے کی اجازت دیدی گئی ۔

اسیروں کی آزادی کے لئے زیادہ سے زیادہ چار ہزار درہم اور کم سے کم ایک ہزار درہم معین کی گئی، یہ بات قریش کے کانوں تک پہونچی تو انھوں نے ایک ایک کے بدلے معین شدہ رقم بھیج کرا سیروں کو آزاد کرالیا۔

تعجب کی بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا داماد ابوالعاص بھی ان قیدیوں میں تھا ،رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بیٹی یعنی زینب جو ابولعاص کی بیوی تھی نے وہ گلو بند جو جناب خدیجہ نے ان کی شاد ی کے وقت انہیں دیا تھا فدیہ کے طور پررسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس بھیجا،جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نگاہ گلو بند پر پڑی تو جناب خدیجہ(رض) جیسی فداکار اور مجاہدہ خاتون کی یاد یں ان کی آنکھوں کے سامنے مجسم ہوگئیں ،آپ نے فرمایا:خدا کی رحمت ہو خدیجہ پر ،یہ وہ گلو بند ہے جو اس نے میری بیٹی زینب کو جھیز میں دیا تھا(اور بعض دوسری روایات کے مطابق جناب خدیجہ کے احترام میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے گلو بند قبول کرنے سے احرازکیا اور حقوق مسلمین کو پیش نظر کرتے ہوئے اس میںان کی موافقت حاصل کی)۔

اس کے بعد پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ابوالعاص کو اس شرط پر آزاد کردیا کہ وہ زینب کو (جو اسلام سے پہلے ابوالعاص کی زوجیت میں تہیں )مدینہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس بھیج دے ، اس نے بھی اس شرط کو قبول کرلیا او ربعد میں اسے پورا بھی کیا۔

آنحضرت کے چچا عباس کا اسلام قبول کرنا

انصار کے کچھ آدمیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اجازت چاھی کہ آپ کے چچا عباس جو قیدیوں میں تھے ان سے آپ کے احترام میں فدیہ نہ لیا جائے لیکن پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

”خداکی قسم اس کے ایک درہم سے بھی صرف نظر نہ کرو“( اگر فدیہ لینا خدائی قانون ہے تو اسے سب پر جاری ہونا چاہئے ،یہاں تک کہ میرے چچا پر بھی اس کے اور دوسروں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔)

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم عباس(رض) کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اپنی طرف سے او راپنے بھتیجے ( عقیل بن ابی طالب) کی طرف سے آپ کو فدیہ ادا کرنا چاہئے۔

عباس(رض) ( جو مال سے بڑا لگاؤ رکھتے تھے ) کہنے لگے: اے محمد! کیا تم چاہتے ہو کہ مجھے ایسا فقیر او رمحتاج کردو کہ میں اہل قریش کے سامنے اپنا ہاتھ پھیلاؤں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: اس مال میںسے فدیہ ادا کریں جو آپ نے اپنی بیوی ام الفضل کے پاس رکھا تھا اور اس سے کھا تھا کہ اگر میں میدان جنگ میں مارا جاؤں تو اس مال کو اپنے اور اپنی اولاد کے مصارف کے لئے سمجھنا۔

عباس یہ بات سن کر بہت متعجب ہوئے اور کہنے لگے: آپ کو یہ بات کس نے بتائی ( حالانکہ یہ تو بالکل محرمانہ تھی )؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : جبرئیل نے، خدا کی طرف سے۔

عباس(رض) بولے : اس کی قسم کہ جس کی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم قسم کھاتا ہے کہ میرے اور میری بیوی کے علاوہ اس راز سے کوئی آگاہ نہ تھا۔

اس کے بعد وہ پکار اٹہے:”اشهد انک رسول الله“

( یعنی میں گواھی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں )

اور یوں وہ مسلمان ہوگئے۔

آزادی کے بعد بدر کے تمام قیدی مکہ لوٹ گئے لیکن عباس، عقیل اور نوفل مدینہ ھی میں رہ گئے کیونکہ انہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا۔

عباس(رض) کے اسلام لانے کے بارے میں بعض تواریخ میں ہے کہ اسلام قبول کرلینے کے بعد وہ مکہ کی طرف پلٹ گئے تھے اور خط کے ذریعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو سازش سے باخبر کیا کرتے تھے ، پہر ۸ سے پہلے فتح مکہ کے سال مدینہ کی طرف ہجرت کر آئے۔


جنگ احد(۴۳)

جنگ احد کا پیش خیمہ

جب کفار مکہ جنگ بدر میں شکست خوردہ ہوئے اور ستر( ۷۰) قیدی چھوڑکر مکہ کی طرف پلٹ گئے تو ابو سفیان نے لوگوں کو خبر دار کیا کہ وہ اپنی عورتوں کو مقتولین بدر پر گریہ وزاری نہ کرنے دیں کیونکہ آنسو غم واندوہ کو دور کردیتے ہیں اور اس طرح محمد کی دشمنی اور عداوت ان کے دلوں سے ختم ہوجائے گی ، ابو سفیان نے خود یہ عہد کررکھا تھا کہ جب تک جنگ بدر کے قاتلوں سے انتقام نہ لے لے اس وقت تک وہ اپنی بیوی سے ہمبستری نہیں کرے گا ،بہر حال قریش ہر ممکن طریقہ سے لوگوں کوپیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خلاف اکساتے تھے اور انتقام کی صدا شہر مکہ میں بلند ہورھی تھی ۔

ہجرت کے تیسرے سال قریش ہزار سوار اور دوہزار پیدل کے ساتھ بہت سامان جنگ لے کر آپ سے جنگ کرنے کے لئے مکہ سے نکلے اور میدان جنگ میں ثابت قدمی سے لڑنے کے لئے اپنے بڑے بڑے بت اور اپنی عورتوں کو بھی ہمراہ لے آئے ۔

جناب عباس کی بر وقت اطلاع

حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچاحضرت عباس جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے اور قریش کے درمیان ان کے ہم مشرب و ہم مذھب تھے لیکن اپنے بھتیجے سے فطری محبت کی بنا پر جب انھوں نے دیکھا کہ قریش کا ایک طاقتور لشکر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جنگ کرنے کے لئے مکہ سے نکلا ہے تو فوراً ایک خط لکھا اور قبیلہ بنی غفار کے ایک آدمی کے ہاتھ مدینہ بھیجا ،عباس کا قاصد بڑی تیزی سے مدینہ کی طرف روانہ ہوا ،جب آپ کو اس کی اطلاع ملی تو آپ نے سعد بن ابی کو عباس کا پیغام پہنچایا اور حتی الامکان اس واقعہ کو پردہ راز میں رکھنے کی کوشش کی ۔

پیغمبر کا مسلمانوں سے مشورہ

جس دن عباس(رض) کا قاصد آپ کو موصول ہوا آپ نے چند مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ مکہ ومدینہ کے راستہ پر جائیں اور لشکر کفار کے کوائف معلوم کریں، آپ کے دو نمائندے ان کے حالات معلوم کرکے بہت جلدی واپس آئے اور قریش کی قوت وطاقت سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مطلع کیا اور یہ بھی اطلاع دی کہ طاقتور لشکر خود ابوسفیان کی کمان میں ہے ۔

پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے چند روز کے بعد تمام اصحاب اور اہل مدینہ کو بلایا اور ان در پیش حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے میٹنگ کی، اس میں عباس کے خط کو بھی پیش کیا گیا اور اس کے بعد مقام جنگ کے بارے میں رائے لی گئی اس میٹنگ میں ایک گروہ نے رائے دی کہ جنگ دشمن سے مدینہ کی تنگ گلیوں میں کی جائے کیونکہ اس صورت میں کمزور مرد ،عورتیں بلکہ کنیزیں بھی مدد گار ثابت ہوسکیں گی۔

عبد اللہ بن ابی نے تائید ا ًکھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آج تک ایسا نہیں ہوا کہ ہم اپنے قلعوں اور گہروں میں ہوں اور دشمن ہم پر کامیاب ہوگیا ہو ۔

اس رائے کو آپ بھی اس وقت کی مدینہ کی پوزیشن کے مطابق بنظر تحسین دیکھتے تھے کیونکہ آپ بھی مدینہ ھی میں ٹھہرنا چاہتے تھے لیکن نوجوانوں اورجنگجو وں کا ایک گروہ اس کا مخالف تھا چنانچہ سعد بن معاذ اور قبیلہ اوس کے چند افراد نے کھڑے ہو کر کھا اے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم گذشتہ زمانے میں عربوں میں سے کسی کو یہ جراءت نہ تھی کہ ہماری طرف نظر کرے جبکہ ہم مشرک اور بت پرست تھے اب جبکہ ہمارے درمیان آپ کی ذات والا صفات موجود ہے کس طرح وہ ہمیں دبا سکتے ہیں اس لئے شہرسے باہر جنگ کرنی چاہئے اگر ہم میں سے کوئی مارا گیا تو وہ جام شھادت نوش کرے گا اور اگر کوئی بچ گیا تو اسے جھاد کا اعزازوافتخار نصیب ہوگا اس قسم کی باتوں اور جوش شجاعت نے مدینہ سے باہر جنگ کے حامیوں کی تعدا دکو بڑھا دیا یہاں تک کہ عبد اللہ بن ابی کی پیش کش سرد خانہ میں جاپڑی خود پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بھی اس مشورے کا احترام کیااور مدینہ سے باہر نکل کر جنگ کے طرف داروں کی رائے کو قبول فرمالیا اور ایک صحابی کے ساتھ مقام جنگ کا انتخاب کرنے کے لئے شہر سے باہر تشریف لے گئے آپ نے کوہ احد کا دامن لشکر گاہ کے لئے منتخب کیا کیونکہ جنگی نقطہ نظر سے یہ مقام زیادہ مناسب تھا۔

مسلمانوں کی دفاعی تیاریاں

جمعہ کے دن آپ نے یہ مشورہ لیا اور نماز جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے آپ نے حمدو ثناء کے بعد مسلمانوں کو لشکر قریش کی آمد کی اطلاع دی اور فرمایا:

” تہہ دل سے جنگ کے لئے آمادہ ہوجاؤ اور پورے جذبہ سے دشمن سے لڑو تو خدا وند قددس تمہیں کامیابی وکامرانی سے ہمکنار کرے گا اور اسی دن آپ ایک ہزار افراد کے ساتھ لشکر گاہ کی طرف روانہ ہوئے آپ خود لشکر کی کمان کررہے تھے مدینہ سے نکلنے سے قبل آپ نے حکم دیا کہ لشکر کے تین علم بنائے جائیں جن میں ایک مہاجرین اور دو انصار کے ہوں“۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مدینہ اور احد کے درمیانی فاصلے کو پاپیادہ طے کیا اور سارے راستے لشکر کی دیکھ بھال کرتے رہے خود لشکر کی صفوں کو منظم ومرتب رکھا تاکہ وہ ایک ھی سیدھی صف میں حرکت کریں ۔

ان میں سے کچھ ایسے افراد کو دیکھا جو پہلی وفعہ آپ کو نظر پڑے پوچھا کہ یہ لوگ کون ہیں ؟ بتایا گیا کہ یہ عبداللہ بن ابی کے ساتھی کچھ یہودی ہیں اور اس مناسبت سے مسلمانوں کی مدد کے لئے آئے ہیں آپ نے فرمایا کہ مشرکین سے جنگ کرنے میں مشرکین سے مدد نہیں لی جاسکتی مگریہ کہ یہ لوگ اسلام قبول کرلیں یہودیوں نے اس شرط کو قبول نہ کیا اور سب مدینہ کی طرف پلٹ آئے یوں ایک ہزار میں سے تین سو افراد کم ہوگئے ۔

لیکن مفسرین نے لکھا ہے کہ چونکہ عبداللہ بن اُبی کی رائے کو رد کیا گیا تھا اس لئے وہ اثنائے راہ میں تین سوسے زیادہ افراد کو لے کر مدینہ کی طرف پلٹ آیا بہر صورت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم لشکر کی ضروری چھان بین (یہودیوں یا ابن ابی ابی کے ساتھیوں کے نکالنے) کے بعد سات سو افراد کو ہمراہ لے کر کوہ احد کے دامن میں پہنچ گئے، اور نماز فجر کے بعد مسلمانوں کی صفوں کو آراستہ کیا۔

عبد اللہ بن جبیر کو پچاس ماہر تیر اندازوں کے ساتھ پھاڑ کے درہ پر تعینات کیا اور انہیں تاکید کی کہ وہ کسی صورت میں اپنی جگہ نہ چھوڑیں اور فوج کے پچھلے حصے کی حفاظت کریں اور اس حد تک تاکید کی کہ اگر ہم دشمن کا مکہ تک پیچھا کریں یا ہم شکست کھاجائیں اور دشمن ہمیں مدینہ تک جانے پر مجبور کردے پہر بھی تم اپنا مورچہ نہ چھوڑنا، دوسری طرف سے ابو سفیان نے خالد بن ولید کو منتخب سپاھیوں کے ساتھ اس درہ کی نگرانی پر مقرر کیا اور انہیں ہر حالت میں وہیں رہنے کا حکم د یا اور کھا کہ جب اسلامی لشکر اس درہ سے ہٹ جائے تو فوراً لشکر اسلام پر پیچہے سے حملہ کردو۔

آغاز جنگ

دونوں لشکر ایک دوسرے کے آمنے سامنے جنگ گے لئے آمادہ ہوگئے اور یہ دونوں لشکر اپنے نوجوانوں کو ایک خاص انداز سے اکسا رہے تھے، ابوسفیان کعبہ کے بتوں کے نام لے کر اور خوبصورت عورتوں کے ذریعے اپنے جنگی جوانوںکی توجہ مبذول کراکے ان کو ذوق وشوق دلاتا تھا۔

جب کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خدا کے اسم مبارک اور انعامات اعلیٰ کے حوالے سے مسلمانوں کو جنگ کی ترغیب دیتے تھے اچانک مسلمانوں کی صدائے اللہ اکبراللہ اکبر سے میدان اور دامن کوہ کی فضا گونج اٹھی جب کہ میدان کی دوسری طرف قریش کی لڑکیوں نے دف اور سارنگی پر اشعار گا گا کر قریش کے جنگ جو افراد کے احساسات کو ابھارتی تہیں ۔

جنگ کے شروع ہوتے ھی مسلمانوں نے ایک شدید حملہ سے لشکر قریش کے پرخچے اڑادئیے اور وہ حواس باختہ ہوکر بھاگ کھڑے ہوئے اور لشکر اسلام نے ان کا پیچھا کرنا شروع کردیا خالدبن ولید نے جب قریش کی یقینی شکت دیکھی تو اس نے چاھا کہ درہ کے راستے نکل کر مسلمانوں پر پیچہے سے حملہ کرے لیکن تیراندازوں نے اسے پیچہے ہٹنے پر مجبور کردیا قریش کے قدم اکھڑتے دیکھ کر تازہ مسلمانوں کے ایک گروہ نے دشمن کو شکت خوردہ سمجھ کرمال غنیمت جمع کرنے کے لئے اچانک اپنی پوزیشن چھوڑدی ، ان کی دیکھا دیکھی درہ پر تعینات تیراندازوں نے بھی اپنا مورچہ چھوڑدیا، ان کے کمانڈرعبد اللہ بن جبیرنے انہیں آ نحضرت کا حکم یاددلایا مگرسوائے چند (تقریبا ًدس افراد) کے کوئی اس اہم جگہ پر نہ ٹھہرا۔

پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مخالفت کا نتیجہ یہ ہوا کہ خالدبن ولید نے درہ خالی دیکھ کر بڑی تیزی سے عبد اللہ بن جبیر پر حملہ کیا اور اسے اس کے ساتھیوں سمیت قتل کردیا، اس کے بعد انہوں نے پیچہے سے مسلمانوں پر حملہ کردیا اچانک مسلمانوں نے ہر طرف چمک دار تلواروں کی تیزدھاروں کو اپنے سروں پر دیکھا تو حواس باختہ ہوگئے اور اپنے آپ کو منظم نہ رکھ سکے قریش کے بھگوڑوں نے جب یہ صورتحال دیکھی تو وہ بھی پلٹ آئے اور مسلمانوں کو چاروں طرف سے گھیرلیا۔

اسی موقع پر لشکر اسلام کے بھادر افسر سید الشہداء حضرت حمزہ نے دوسرے مسلمانوں کے ساتھ جام شھادت نوش کیا ،سوائے چند شمع رسالت کے پروانوں کے اور بقیہ مسلمانوں نے وحشت زدہ ہوکر میدان کو دشمن کے حوالے کردیا۔

اس خطرناک جنگ میں جس نے سب سے زیادہ فداکاری کا مظاہرہ کیا اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر ہونے والے دشمن کے ہر حملے کا دفاع کیا وہ حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام تھے ۔

حضرت علی علیہ السلام بڑی جراءت اور بڑے حوصلہ سے جنگ کررہے تھے یہاں تک کہ آپ کی تلوار ٹوٹ گئی، اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی تلوار آپ کو عنایت فرمائی جو ذوالفقار کے نام سے مشہور ہے بالآخر آپ ایک مورچہ میں ٹھہرگئے اور حضرت علی علیہ السلام مسلسل آپ کا دفاع کرتے رہے یہاں تک کہ بعض مورخین کی تحقیق کے مطابق حضرت علی علیہ السلام کے جسم پر ساٹھ کاری زخم آئے، اور اسی موقع پر قاصد وحی نے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے عرض کیا :اے محمد ! یہ ہے مواسات ومعاونت کا حق ،آپ نے فرمایا ( ایسا کیوں نہ ہو کہ ) علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں ،تو جبرئیل نے اضافہ کیا : میں تم دونوں سے ہوں ۔

امام صادق ارشاد فرماتے ہیں کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے قاصد وحی کو آسمان میں یہ کہتے ہوئے دیکھا کہ:”لاسیف الاذوالفقار ولا فتی الا علی “ (ذوالفقار کے علاوہ کوئی تلوار نہیں اور علی کے سوا کوئی جوانمرد نہیں )

اس اثناء میں یہ آواز بلند ہوئی کہ محمد قتل ہوگئے ۔

یہ آواز فضائے عالم میں گونج اٹھی اس آواز سے جتنابت پرستوں کے جذبات پر مثبت اثر پیدا ہوا اتناھی مسلمانوں میں عجیب اضطراب پیدا ہوگیا چنانچہ ایک گروہ کے ہاتھ پاؤں جواب دے گئے اور وہ بڑی تیزی سے میدان جنگ سے نکل گئے یہاں تک کہ ان میں سے بعض نے سوچا کہ پیغمبر شھیدہو گئے ہیں لہٰذا اسلام ھی کو خیرباد کہہ دیا جائے اور بت برستوں کے سرداروں سے امان طلب کرلی جائے لیکن ان کے مقابلہ میں فداکاروں اور جانثاروں کی بھی ایک قلیل جماعت تھی جن میں حضرت علی ابود جانہ اور طلحہ جیسے بھادر لوگ موجود تھے جوباقی لوگوں کوپامردی اور استقامت کی دعوت دے رہے تھے ان میں سے انس بن نضر لوگوں کے درمیان آیا اور کہنے لگا :اے لوگو ! اگر محمد شھید ہوگئے ہیں تو محمد کا خدا تو قتل نہیں ہوا چلو اور جنگ کرو ،اسی نیک اور مقدس ہدف کے حصول کے لئے درجہ شھادت پر فائز ہو جاؤ ،یہ گفتگو تمام کرتے ھی انھوں نے دشمن پر حملہ کردیا یہاں تک کہ شھید ہوگئے ،تاہم جلد معلوم ہوگیا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سلامت ہیں اور اطلاع ایک شایعہ تھی ۔

کون پکارا کہ محمد (ص) قتل ہوگئے ؟

”ابن قمعہ“ نے اسلامی سپاھی مصعب کو پیغمبر سمجھ کر اس پر کاری ضرب لگائی اور باآواز بلند کھا :لات وعزی کی قسم محمد قتل ہوگئے ۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ افواہ چاہے مسلمانوں نے اڑائی یا دشمن نے لیکن مسلمانوں کے لئے فائدہ مند ثابت ہوئی اس لئے کہ جب آواز بلند ہوئی تو دشمن میدان چھوڑ کر مکہ کی طرف چل پڑے ورنہ قریش کا فاتح لشکر جو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے دلوں میں کینہ رکھتا تھا اور انتقام لینے کی نیت سے آیا تھا کبھی میدان نہ چھوڑتا، قریش کے پانچ ہزار افراد پر مشتمل لشکر نے میدان جنگ میں مسلمانوں کی کامیابی کے بعد ایک رات بھی صبح تک وھاں نہ گذاری اور اسی وقت مکہ کی طرف چل پڑے۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شھادت کی خبر نے بعض مسلمانوں میں اضطراب وپریشانی پیدا کردی ،جو مسلمان اب تک میدان کارزار میں موجود تھے، انھوں نے اس خیال سے کہ دوسرے مسلمان پراکندہ نہ ہوں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو پھاڑ کے اوپر لے گئے تاکہ مسلمانوں کو پتہ چل جائے کہ آپ بقید حیات ہیں ، یہ دیکھ کر بھگوڑے واپس آگئے اور آنحضرت کے گرد پروانوں کی طرح جمع ہوگئے ،آپ نے ان کو ملامت وسرزنش کی کہ تم نے ان خطرناک حالات میں کیوں فرار کیا ،مسلمان شرمندہ تھے انہوں نے معذرت کرتے ہوئے کھا : یا رسول خدا ہم نے آپ کی شھادت کی خبر سنی تو خوف کی شدت سے بھاگ کھڑے ہوے۔

مفسر عظیم مرحوم طبرسی، ابو القاسم بلخی سے نقل کرتے ہیں کہ جنگ احد کے دن( پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے علاوہ)سوائے تیرہ افرادکے تمام بھاگ گئے تھے، اور ان تیرہ میں سے آٹھ انصار اور پانچ مھاجرتھے، جن میں سے حضرت علی علیہ السلام اور طلحہ کے علاوہ باقی ناموں میں اختلاف ہے، البتہ دونوں کے بارے میں تمام مورخین کا اتفاق ہے کہ انھوں نے فرار نہیں کیا۔

یوں مسلمانوں کو جنگ احد میں بہت زیادہ جانی اورمالی نقصان کا سامنا کرنا،پڑا مسلمانوں کے ستر افراد شھید ہوئے اور بہت سے زخمی ہوگئے لیکن مسلمانوں کو اس شکست سے بڑا درس ملا جو بعد کی جنگوں میں ان کی کامیابی و کامرانی کا باعث بنا ۔


جنگ کا خطرناک مرحلہ

جنگ احد کے اختتام پر مشرکین کا فتحیاب لشکر بڑی تیزی کے ساتھ مکہ پلٹ گیا لیکن راستے میں انہیں یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ انہوں نے اپنی کامیابی کو ناقص کیوں چھوڑدیا ۔کیا ھی اچھا ہو کہ مدینہ کی طرف پلٹ جائیں اور اسے غارت و تاراج کردیں اور اگر محمد زندہ ہوں تو انہیں ختم کردیں تاکہ ہمیشہ کے لئے اسلام اور مسلمانوں کی فکر ختم ہوجائے ، اور اسی بنا پر انہیں واپس لوٹنے کا حکم دیا گیا اور درحقیقت جنگ احد کا یہ وہ خطر ناک مرحلہ تھا کیونکہ کافی مسلمان شھید اور زخمی ہوچکے تھے اور فطری طور پر وہ ازسر نو جنگ کرنے کے لئے آمادہ نہیں تھے ۔جبکہ اس کے برعکس اس مرتبہ دشمن پورے جذبہ کے ساتھ جنگ کرسکتا تھا۔

یہ اطلاع پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو پہنچی تو آپ نے فوراً حکم دیا کہ جنگ احد میں شریک ہونے والا لشکر دوسری جنگ کے لئے تیار ہوجائے ،آپ نے یہ حکم خصوصیت سے دیا کہ جنگ احد کے زخمی بھی لشکر میں شامل ہوں،(حضرت علی علیہ السلام نے جن کے بدن پر دشمنوں نے ۶۰ زخم لگائے تھے،لیکن آپ پہر دوبارہ دشمنوں کے مقابلہ میں آگئے) ایک صحابی کہتے ہیں :

میں بھی زخمیوں میں سے تھا لیکن میرے بھائی کے زخم مجھ سے زیادہ شدید تھے ، ہم نے ارادہ کرلیا کہ جو بھی حالت ہو ہم پیغمبر اسلام کی خدمت میں پہونچے گے، میری حالت چونکہ میرے بھائی سے کچھ بہتر تھی ، جھاں میرا بھائی نہ چل پاتا میں اسے اپنے کندہے پر اٹھالیتا، بڑی تکلیف سے ہم لشکر تک جا پہنچے، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور لشکر اسلام ”حمراء الاسد“ کے مقام پر پہنچ گئے اور وھاں پر پڑاؤ ڈالا یہ جگہ مدینہ سے آٹھ میل کے فاصلے پر تھی۔

یہ خبر جب لشکر قریش تک پہنچی خصوصاً جب انھوں نے مقابلہ کے لئے ایسی آمادگی دیکھی کہ زخمی بھی میدان جنگ میں پہنچ گئے ہیں تو وہ پریشان ہوگئے اور ساتھ ھی انہیں یہ فکر بھی لاجق ہوئی کہ مدینہ سے تازہ دم فوج ان سے آملی ہے۔

اس موقع پر ایسا واقعہ پیش آیا جس نے ان کے دلوں کو اور کمزور کردیا اور ان میں مقابلہ کی ہمت نہ رھی ، واقعہ یہ ہوا کہ ایک مشرک جس کا نام ”معبد خزاعی“ تھا مدینہ سے مکہ کی طرف جآرہا تھا اس نے پیغمبر اکرم اور ان کے اصحاب کی کیفیت دیکھی تو انتھائی متاثر ہوا، اس کے انسانی جذبات میں حرکت پیدا ہوئی، اس نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے عرض کیا: آپ کی یہ حالت و کیفیت ہمارے لئے بہت ھی ناگوار ہے آپ آرام کرتے تو ہمارے لئے بہتر ہوتا، یہ کہہ کر وہ وھاں سے چل پڑااور” روحاء“ کے مقام پر ابو سفیان کے لشکر سے ملا، ابو سفیان نے اس سے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارے میں سوال کیا تو اس نے جواب میں کھا: میں نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو دیکھا ہے کہ وہ ایسا عظیم لشکر لئے ہوئے تمھارا تعاقب کرہے ہیں ایسا لشکر میں نے کبھی نہیں دیکھا او رتیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں ۔

ابوسفیان نے اضطراب اور پریشانی کے عالم میں کھا : تم کیا کہہ رہے ہو؟ہم نے انہیں قتل کیا زخمی کیا اور منتشر کر کے ر کھ دیا تھا ،معبد خزاعی نے کھا: میں نہیں جانتا کہ تم نے پایا کیا ہے ،میں تو صرف یہ جانتا ہوںکہ ایک عظیم اور کثیر لشکر اس وقت تمھارا تعاقب کر رھا ہے ۔

ابو سفیان اور اسکے سا تھیوں نے قطعی فیصلہ کر لیا کہ وہ تیزی سے پیچہے کی طرف ہٹ جا ئیں اور مکہ کی طرف پلٹ جا ئیں اور اس مقصد کے لئے کہ مسلمان ان کا تعاقب نہ کریں اور انہیں پیچہے ہٹ جا نے کا کا فی مو قع مل جا ئے ، انہوں نے قبیلہ عبد القیس کی ایک جما عت سے خواہش کی کہ وہ پیغمبر اسلا م صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور مسلما نوں تک یہ خبر پہنجا دیں کہ ابو سفیان اور قریش کے بت پر ست با قی ماندہ اصحا ب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ختم کرنے کے لئے ایک عظیم لشکر کے ساتھ تیزی سے مدینہ کی طرف آ رہے ہیں ، یہ جما عت گندم خرید نے کے لئے مدینہ جا رھی تھی جب یہ اطلاع پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور مسلما نوں تک پہنچی تو انہوں نے کھا :”حسبنا اللہ و نعم الو کیل“ (خدا ہمارے لئے کافی ہے اور وہ ہمارا بہترین حامی اور مدافع ہے )۔

انہوں نے بہت انتظار کیا لیکن دشمن کے لشکر کی کو ئی خبر نہ ہو ئی ، لہٰذا تین روز توقف کے بعد ،وہ مدینہ کی طرف لوٹ گئے۔

کھوکھلی باتیں

جنگ بدر میں بعض مسلمانوں کی پر افتخا ر شھادت کے بعد بعض مسلمان جب باہم مل بیٹھتے تو ہمیشہ شھادت کی آرزو کرتے اور کہتے کاش یہ اعزاز میدان بدر میں ہمیں بھی نصیب ہوجا تا ،یقینا ان میں کچھ لوگ سچے بھی تھے لیکن ان میں ایک جھوٹا گروہ بھی تھا جس نے اپنے آپ کو سمجھنے میں غلطی کی ،بہر حال زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ جنگ احد کا وحشتناک معرکہ در پیش ہوا تو ان سچے مجا ہدین نے بھادری سے جنگ کی اور جام شھادت نوش کیا اور اپنی آرزوکو پا لیا لیکن جھوٹوں کے گروہ نے جب لشکر اسلام میں شکست کے آثار دیکہے تو وہ قتل ہونے کے ڈر سے بھاگ کھڑے ہوئے تو یہ قرآن انہیں سرزنش کرتے ہوئے کہتا ہے کہ” تم ایسے لوگ تھے کہ جو دلوں میں آرزو اور تمنائے شھادت کے دعویدار تھے، پہرجب تم نے اپنے محبوب کو اپنی آنکھوںکے سامنے دیکھا تو کیوںبھاگ کھڑے ہوئے“۔(۴۴)

حضرت علی علیہ السلام کے زخم

امام باقر علیہ السلام سے اس طرح منقول ہے:حضرت علی علیہ السلام کو احد کے دن اکسٹھ زخم لگے تھے اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ”ام سلیم“ اور ”ام عطیہ“ کو حکم دیا کہ ہ دونوںحضرت علی علیہ السلام کے زخموںکا علاج کریں،تھوڑی ھی دیر گذری تھی کہ وہ حالت پریشانی میں آنحضرتکی خدمت میںعرض کرنے لگے: کہ حضرت علی علیہ السلام کے بدن کی کیفیت یہ ہے کہ ہم جب ایک زخم باندھتے ہیں تو دوسرا کھل جا تاہے اور ان کے بدن کے زخم اس قدرزیادہ اور خطرناک ہیں کہ ہم ان کی زندگی کے بارے میں پریشان ہیں تو حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور کچھ دیگر مسلمان حضرت علی علیہ السلام کی عیادت کے لئے ان کے گہرآئے جب کہ ان کے بدن پر زخم ھی زخم تھے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے دست مبارک ان کے جسم سے مس کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ جو شخص راہ خدا میں اس حالت کو دیکھ لے وہ اپنی ھی ذمہ داری کے آخری درجہ کو پہنچ چکا ہے اور جن جن زخموں پرآپ ہاتھ رکھتے تھے وہ فوراًمل جاتے تھے تواس وقت حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: الحمدا للہ کہ ان حالات میں جنگ سے نہیں بھا گا اوردشمن کو پشت نہیں دکھائی خدا نے ان کی کو شش کی قدر دانی کی۔

ہم نے شکست کیوں کھائی ؟

کا فی شھید دےکر اور بہت نقصان اٹھا کر جب مسلمان مدینہ کی طرف پلٹ آئے تو ایک دوسرے سے کہتے تھے کہ کیا خدانے ہم سے فتح و کامیابی کا وعدہ نہیں کیا تھا،پہر اس جنگ میں ہمیں کیوں شکست ہوئی ؟اسی سے قرآن میں انہیں جواب دیا گیا اور شکست کے اسباب کی نشاندھی کی گئی۔(۴۵)

قرآن کہتا ہے کہ کامیابی کہ بارے میں خدا کا وعدہ درست تھا اور اس کی وجہ ھی سے تم ابتداء جنگ میں کامیاب ہوئے اور حکم خدا سے تم نے دشمن کو تتر بتر کر دیا ۔ کامیا بی کا یہ وعدہ اس وقت تک تھا جب تک تم استقامت اور پائیداری اور فرمان پیغمبری صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیروی سے دست بردار نہیں ہو ئے اور شکست کا دروازہ اس وقت کھلا جب سستی اور نا فرمائی نے تمہیں آگھیرا ،یعنی اگر تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ کا میابی کا وعدہ بلا شرط تھا تو تمھاری بڑ ی غلط فہمی ہے بلکہ کامیابی کے تمام وعدے فرمان خدا کی پیروی کے ساتھ مشروط ہیں ۔

عمومی معافی کا حکم

جو لوگ واقعہ احد کے دوران جنگ سے فرار ہوگئے تھے وہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گرد جمع ہوگئے اور انہوں نے ندامت وپشیمانی کے عالم میںمعافی کی درخواست کی تو خدا ئے تعالیٰ نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے انہیں عام معافی دینے کے لئے فرمایا لہٰذا حکم الٰھی نازل ہوتے ھی آپ نے فراخ دلی سے توبہ کرنے والے خطا کاروں کو معاف کردیا ۔

قرآن میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ایک بہت بڑی اخلاقی خوبی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ تم پروردگار کے لطف وکرم کے سبب ان پر مہربان ہوگئے اور اگر تم ان کے لئے سنگدل،سخت مزاج اور تند خو ہوتے اور عملا ًان پر لطف وعنایت نہ کرتے تو وہ تمھارے پاس سے بکہر جاتے ۔ اس کے بعد حکم دیا گیا کہ” ان کی کوتاھیوں سے درگزر فرمائیے اور انہیں اپنے دامن عفو میں جگہ دیجئے“۔(۴۶)

یعنی اس جنگ میں انہوں نے جو بے وفائیاں آپ سے کی ہیں اور جو تکا لیف اس جنگ میں آپ کو پہنچائی ہیں ، ان کے لئے ان کی مغفرت طلب کیجئے اور میں خود ان کے لئے تم سے سفارش کرتا ہوں کہ انہوں نے میری جو مخالفتیں کی ہیں ،مجھ سے ان کی مغفرت طلب کرو دوسرے لفظوں میں جو تم سے مربوط ہے اسے تم معاف کردو اورجو مجھ سے ربط رکھتا ہے اسے میں بخش دیتا ہوں، آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمان خدا پر عمل کرتے ہوئے ان تمام خطا کاروں کو عام معافی دےدی ۔(۴۷)

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم شہداء سے مخاطب

ابن مسعود پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے روایت کرتے ہیں : خدا نے شہداء بدرواحد کی ارواح کو خطاب کرتے ہوئے ان سے پوچھا کہ تمھاری کیا آرزو ہے تو انہوں نے کھا : پروردگارا! ہم اس سے زیادہ کیا آرزو کرسکتے ہیں کہ ہم ہمیشہ کی نعمتوں میں غرق ہیں اور تیرے عرش کے سائے میں رہتے ہیں ، ہمارا تقاضا صرف یہ ہے کہ ہم دوبارہ دنیا کی طرف پلٹ جائیں اور پہر سے تیری راہ میں شھید ہوں، اس پر خدا نے فرمایا : میرااٹل فیصلہ ہے کہ کوئی شخص دوبارہ دنیا کی طرف نہیں پلٹے گا ۔

انہوں نے عرض کیا : جب ایسا ھی ہے تو ہماری تمنا ہے کہ ہمارے پیغمبر کو ہماراسلام کو پہنچادے ، ہماری حالت ہمارے پسما ندگان کوبتادے اور انہیں ہماری حالت کی بشارت دے تاکہ ہمارے بارے میں انہیں کسی قسم کی پریشانی نہ ہو۔

حنظلہ غسیل الملائلکہ

”حنظلہ بن ابی عیاش“ جس رات شادی کرنا چاہتے تھے اس سے اگلے دن جنگ احد برپاہوئی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے اصحاب سے جنگ کے بارے میں مشورہ کررہے تھے کہ وہ آپ کے پاس آئے اور عرض کی اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اجازت دےدیں تو یہ رات میں بیوی کے ساتھ گزرالوں ، آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے انہیں اجازت دےدی ۔

صبح کے وقت انہیں جھاد میں شرکت کرنے کی اتنی جلدی تھی کہ وہ غسل بھی نہ کرسکے اسی حالت میں معرکہ کارزار میں شریک ہوگئے اور بالآخر جام شھادت نوش کیا ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا :میں نے فرشتوں کو دیکھا ہے کہ وہ آسمان وزمین کے درمیان حنظلہ کو غسل دے رہے ہیں ۔

اسی لئے انہیں حنظلہ کو:” غسیل الملائکہ“ کے نام سے یاد کیا جاتاہے ۔

قبیلہ بنی نضیر کی سازش

مدینہ میں یہودیوں کے تین قبیلے رہتے تھے ، بنی نظیر، بنو قریظہ اور بنو قینقاع، کھا جاتاہے کہ وہ اصلاً اہل حجازنہ تھے لیکن چونکہ اپنی مذھبی کتب میں انہوں نے پڑھا تھا کہ ایک پیغمبر مدینہ میں ظہور کرے گا لہٰذا انہوں نے اس سر زمین کی طرف کوچ کیا اور وہ اس عظیم پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے انتظار میں تھے۔

جس وقت رسول خدا نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی تو آپ نے ان کے ساتھ عدم تعرض کا عہد باندھا لیکن ان کو جب بھی موقع ملا انہوں نے یہ عہد توڑا ۔

دوسری عہد شکنیوں کے علاوہ یہ کہ جنگ احد(جنگ احد ہجرت کے تیسرے سال واقع ہوئی ) کعب ابن اشرف چالیس سواروں کے ساتھ مکہ پہنچا وہ اور اس کے ساتھی سب قریش کے پاس اور ان سے عہد کیا کہ سب مل کر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خلاف جنگ کریں اس کے بعد ابوسفیان چالیس مکی افراد کے ساتھ اور کعب بن اشرف ان چالیس یہودیوں کے ساتھ مسجد الحرام میں وارد ہوئے اور انہوں نے خانہ کعبہ کے پاس اپنے عہددپیمان کو مستحکم کیا یہ خبر بذریعہ وحی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مل گئی۔

دوسرے یہ کہ ایک روز پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے چند بزرگ اصحاب کے ساتھ قبیلہ بنی نضیر کے پاس آئے یہ لوگ مدینہ کے قریب رہتے تھے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے صحابہ کا حقیقی مقصدیہ تھا کہ آپ اس طرح بنی نظیر کے حالات قریب سے دیکھناچاہتے تھے اس لئے کہ کہیں ایسانہ ہو کہ مسلمان غفلت کا شکار ہوکر دشمنوں کے ہاتھوں مارے جائیں۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم یہود یوںکے قلعہ کے باہر تھے آپ نے کعب بن اشرف سے اس سلسلہ میں بات کی اسی دوران یہودیوں کے درمیان سازش ہونے لگی وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ ایسا عمدہ موقع اس شخض کے سلسلہ میں دوبارہ ہاتھ نہیں آئے گا، اب جب کہ یہ تمھاری دیوار کے پاس بیٹھا ہے ایک آدمی چھت پر جائے اور ایک بہت بڑا پتہر اس پر پھینک دے اور ہمیں اس سے نجات دلادے ایک یہودی ،جس کا نام عمر بن حجاش تھا ،اس نے آمادگی ظاہر کی وہ چھت پر چلا گیا رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بذریعہ وحی باخبر ہوگئے اور وھاں سے اٹھ کر مدینہ آگئے آپ نے اپنے اصحاب سے کوئی بات نہیں کی ان کا خیال تھا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم لوٹ کر مدینہ جائیں گے ان کو معلوم ہوا کہ آپ مدینہ پہنچ گئے ہیں چنانچہ وہ بھی مدینہ پلٹ آئے یہ وہ منزل تھی کہ جھاں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر یہودیوں کی پیما ن شکنی واضح وثابت ہوگئی تھی آپ نے مسلمانوں کو جنگ کے لئے تیار ہوجانے کا حکم دیا۔

بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ بنی نظیر کے ایک شاعر نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ہجومیں کچھ اشعار کہے اور آپ کے بارے میں بد گوئی بھی کی ان کی پیمان شکنی کی یہ ایک اور دلیل تھی۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس وجہ سے کہ ان پر پہلے سے ایک کاری ضرب لگائیں ، محمد بن مسلمہ کو جو کعب بن اشرف رئیس یہود سے آشنائی رکھتا تھا ،حکم دیا کہ وہ کعب کو قتل کردے اس نے کعب کو قتل کردیا، کعب بن اشرف کے قتل ہوجانے نے یہودیوں کو متزلزل کردیا،ا س کے ساتھ ھی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حکم دیا کہ ہر مسلمان اس عہد شکن قوم سے جنگ کرنے کے لئے چل پڑے جس وقت وہ اس صورت حال سے باخبر ہوئے تو انہوں نے اپنے مضبوط ومستحکم قلعوں میں پناہ لے لی اور دروازے بند کرلئے ،پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حکم دیا کہ وہ چند کھجوروں کے درخت جو قلعوں کے قریب ہیں ، کاٹ دیے جائیں یا جلادئے جائیں۔

یہ کام غالبا ًاس مقصد کے پیش نظر ہوا کہ یہودی اپنے مال واسباب سے بہت محبت رکھتے تھے وہ اس نقصان کی وجہ سے قلعوں سے باہرنکل کر آمنے سامنے جنگ کریں گے مفسرین کی طرف سے یہ احتمال بھی تجویز کیا گیا ہے کہ کاٹے جانے والے کھجوروں کے یہ درخت مسلمانوں کی تیز نقل وحرکت میں رکاوٹ ڈالتے تھے لہٰذا انہیں کاٹ دیا جانا چاہئے تھا بہرحال اس پر یہودیوں نے فریاد کی انہوں نے کھا :”اے محمد ًآپ تو ہمیشہ اس قسم کے کاموں سے منع کرتے تھے یہ کیا سلسلہ ہے” تو اس وقت وحی نازل ہوئی(۴۸) اور انہیں جواب دیا کہ یہ ایک مخصوص حکم الٰھی تھا۔

محاصرہ نے کچھ دن طول کھینچا اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خوں ریزی سے پرھیز کرتے ہوئے ان سے کھا کہ وہ مدینہ کو خیر باد کہہ دیں اور کہیں دوسری جگہ چلے جائیں انہوں نے اس بات کو قبول کرلیا کچھ سامان اپنا لے لیا اور کچھ چھوڑدیا ایک جماعت” اذرعات “ شام کی طرف اور ایک مختصر سی تعداد خیبر کی طرف چلی گئی ایک گروہ” حیرہ“ کی طرف چلا گیا ان کے چھوڑے ہوئے اموال،زمینیں،باغات اور گہر مسلمانوں کے ہاتھ لگے، چلتے وقت جتنا ان سے ہوسکا انہوں نے اپنے گہر توڑپھوڑدئےے یہ واقعہ جنگ احد کے چھ ماہ بعد اور ایک گروہ کی نظرکے مطابق جنگ بدر کے چھ ماہ بعد ہوا(۴۹)

جنگ احزاب

تاریخ اسلام کے اہم حادثوںمیں سے ایک جنگ احزاب بھی ہے یہ ایک ایسی جنگ جو تاریخ اسلام میں ایک اہم تاریخی موڑ ثابت ہوئی اور اسلام وکفر کے درمیان طاقت کے موازنہ کے پلڑے کو مسلمانوں کے حق میں جھکادیا اور اس کی کامیابی آئندہ کی عظیم کامیابیوں کے لئے کلیدی حیثیت اختیارکر گئی اور حقیقت یہ ہے کہ اس جنگ میں دشمنوں کی کمر ٹوٹ گئی اور اس کے بعد وہ کوئی خاص قابل ذکر کار نامہ انجام دینے کے قابل نہ رہ سکے ۔

” یہ جنگ احزاب“ جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے تمام اسلام دشمن طاقتوں اور ان مختلف گرو ہوں کی طرف سے ہر طرح کا مقابلہ تھا کہ اس دین کی پیش رفت سے ان لوگوں کے ناجائز مفادات خطرے میں پڑگئے تھے ۔ جنگ کی آگ کی چنگاری”نبی نضیر“ یہودیوں کے اس گروہ کی طرف سے بھڑکی جو مکہ میں آئے اور قبیلہ ”قریش“ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے لڑنے پر اکسایا اور ان سے وعدہ کیا کہ آخری دم تک ان کا ساتھ دیں گے پہر قبیلہ ”غطفان “ کے پاس گئے اور انہیں بھی کارزار کے لئے آمادہ کیا ۔

ان قبائل نے اپنے ہم پیمان اور حلیفوں مثلاً قبیلہ ” بنی اسد “ اور” بنی سلیم “ کو بھی دعوت دی اور چونکہ یہ سب قبائل خطرہ محسوس کئے ہوئے تھے، لہٰذا اسلام کا کام ہمیشہ کے لئے تمام کرنے کے لئے ایک دوسرے کے ہاتھ میں ہاتھ دےدیا تاکہ وہ اس طرح سے پیغمبر کو شھید ، مسلمانوں کو سر کوب ، مدینہ کو غارت اور اسلام کا چراغ ہمیشہ کے لئے گل کردیں ۔

کل ایمان کل کفر کے مقابلہ میں

جنگ احزاب کفر کی آخری کوشش ،ان کے ترکش کا آخری تیراور شرک کی قوت کا آخری مظاہرہ تھا اسی بنا پر جب دشمن کا سب سے بڑا پھلو ان عمروبن عبدودعالم اسلام کے دلیر مجاہد حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے مقابلہ میں آیا تو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :”سارے کا سارا ایمان سارے کے سارے (کفر اور ) شرک کے مقابلہ میں آگیا ہے “۔

کیونکہ ان میں سے کسی ایک کی دوسرے پر فتح کفر کی ایمان پر یا ایمان کی کفر پر مکمل کا میابی تھی دوسرے لفظوں میں یہ فیصلہ کن معرکہ تھا جو اسلام اور کفر کے مستقبل کا تعین کررھا تھا اسی بناء پر دشمن کی اس عظیم جنگ اور کار زار میں کمر ٹوٹ گئی اور اس کے بعد ہمیشہ مسلمانوں کاپلہ بھاری رھا ۔

دشمن کا ستارہ اقبال غروب ہوگیا اور اس کی طاقت کے ستون ٹوٹ گئے اسی لئے ایک حدیث میں ہے کہ حضرت رسول گرامی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جنگ احزاب کے خاتمہ پر فرمایا :

”اب ہم ان سے جنگ کریں گے اور ان میں ہم سے جنگ کی سکت نہیں ہے“ ۔

لشکر کی تعداد

بعض مورخین نے لشکر کفار کی تعداد دس ہزار سے زیادہ لکھی ہے ۔مقریزی اپنی کتاب ”الا متاع “ میں لکھتے ہیں :”صرف قریش نے چارہزار جنگ جوؤں ، تین سو گھوڑوں اور پندرہ سواونٹوں کے ساتھ خندق کے کنارے پڑاؤ ڈالا تھا ،قبیلہ” بنی سلیم “سات سو افراد کے ساتھ ”مرالظہران “ کے علاقہ میں ان سے آملا، قبیلہ ”بنی فرازہ“ ہزار افراد کے ساتھ ، ”بنی اشجع“ اور” بنی مرہ“ کے قبائل میں سے ہر ایک چار چار سو افراد کے ساتھ پہنچ گیا ۔ اور دوسرے قبائل نے بھی اپنے آدمی یہ بھیجے جن کی مجموعی تعداد دس ہزار سے بھی زیادہ بنتی ہے “

جبکہ مسلمانوں کی تعداد تین ہزار سے زیادہ نہ تھی انہوں نے (مدینہ کے قریب )” سلع “ نامی پھاڑی کے دامن کو جو ایک بلند جگہ تھی وھاںپر لشکر کفر نے مسلمانوں کا ہر طرف سے محاصرہ کرلیا اور ایک روایت کے مطابق بیس دن دوسری روایت کے مطابق پچیس دن اور بعض روایات کے مطابق ایک ماہ تک محاصرہ جاری رھا ۔

باوجودیکہ دشمن مسلمانوں کی نسبت مختلف پھلوؤں سے برتری رکھتا تھا لیکن جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں ،آخر کار ناکام ہو کر واپس پلٹ گیا۔

خندق کی کھدائی

خندق کے کھودنے کا سلسلہ حضرت سلمان فارسی (رض)کے مشورہ سے وقوع پذیر ہوا خندق کے اس زمانے میں ملک ایران میں دفاع کا موثر ذریعہ تھا اور جزیرة العرب میں اس وقت تک اس کی مثال نہیں تھی اور عرب میں اس کا شمار نئی ایجادات میں ہوتا تھا اطراف مدینہ میں اس کا کھود نا فوجی لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل تھا یہ خندق دشمن کے حوصلوں کو پست کرنے اور مسلمانوں کے لئے روحانی تقویت کا بھی ایک موثر ذریعہ تھی ۔

خندق کے کو ائف اور جزئیات کے بارے میں صحیح طور پر معلومات تک رسائی تو نہیں ہے البتہ مورخین نے اتنا ضرور لکھا ہے کہ اس کا عرض اتنا تھاکہ دشمن کے سوار جست لگا کر بھی اس کو عبور نہیں کرسکتے تھے اس کی گہرائی یقینا اتنی تھی کہ اگر کو ئی شخص اس میں داخل ہوجاتاہے تو آسانی کے ساتھ دوسری طرف باہر نہیں نکل سکتا تھا ،علاوہ ازیں مسلمان تیر اندازوں کا خندق والے علاقے پر اتنا تسلط تھا کہ اگر کوئی شخص خندق کو عبور کرنے کا ارداہ کرتا تھا تو ان کے لئے ممکن تھا کہ اسے خندق کے اندرھی تیر کا نشانہ بنالیتے ۔

رھی اس کی لمبائی تو مشہور روایت کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دس ،دس افراد کو چالیس ہاتھ (تقریباً ۲۰ میڑ) خندق کھودنے پر مامور کیا تھا،اور مشہور قول کے پیش نظر لشکر اسلام کی تعداد تین ہزار تھی تو مجموعی طورپر اس کی لمبائی اندازاً بارہ ہزار ہاتھ (چھ ہزار میڑ) ہوگی۔

اس بات کا بھی اعتراف کرنا چاہئے کہ اس زمانے میںنھایت ھی ابتدائی وسائل کے ساتھ اس قسم کی خندق کھودنا بہت ھی طاقت فرسا کام تھا خصوصاً جب کہ مسلمان خوراک اور دوسرے وسائل کے لحاظ سے بھی سخت تنگی میں تھے ۔

یقینا خندق کھودی بھی نھایت کم مدت میں گئی یہ امر اس بات کی نشاندھی کرتا ہے کہ لشکر اسلام پوری ہوشیاری کے ساتھ دشمن کے حملہ آور ہونے سے پہلے ضروری پیش بندی کرچکا تھا اور وہ بھی اس طرح سے کہ لشکر کفر کے مدینہ پہنچنے سے تین دن پہلے خندق کی کھدائی کا کام مکمل ہوچکا تھا۔

عمرو بن عبدود دسے حضرت علی (ع)کی تاریخی جنگ

اس جنگ کا ایک اہم واقعہ حضرت علی علیہ السلام کا دشمن کے لشکر کے نامی گرامی پھلو ان عمروبن عبددد کے ساتھ مقابلہ تھا تاریخ میں آیا ہے کہ لشکر احزاب نے جن دلاوران عرب میں سے بہت طاقت ور افراد کو اس جنگ میں اپنی امداد کے لئے دعوت دے رکھی تھی، ان میں سے پانچ افراد زیادہ مشہور تھے، عمروبن عبدود ، عکرمہ بن ابی جھل ،ھبیرہ ، نوفل اور ضرار یہ لوگ دوران محاصرہ ایک دن دست بدست لڑائی کے لئے تیار ہوئے ، لباس جنگ بدن پر سجایا اور خندق کے ایک کم چوڑے حصے سے ، جو مجاہدین اسلام کے تیروں کی پہنچ سے کسی قدر دور تھا ، اپنے گھوڑوں کے ساتھ دوسری طرف جست لگائی اور لشکر اسلام کے سامنے آکھڑے ہوئے ان میں سے عمروبن عبدود زیادہ مشہور اور نامور تھا اس کی”کوئی ہے بھادر “کی آواز میدان احزاب میں گونجی اور چونکہ مسلمانوں میں سے کوئی بھی اس کے مقابلہ کے لئے تیار نہ ہوا لہٰذا وہ زیادہ گستاخ ہوگیا اور مسلمانوں کے عقاید اورنظریات کا مذاق اڑا نے لگا اور کہنے لگا :

”تم تویہ کہتے ہو کہ تمھارے مقتول جنت میں ہیں اور ہمارے مقتول جہنم میں توکیاتم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جسے میں بہشت میں بھیجوں یا وہ مجھے جہنم کی طرف روانہ کرے ؟“

اس موقع پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حکم دیا کہ کوئی شخص کھڑا ہواور اس کے شر کو مسلمانوں کے سرسے کم کردے لیکن حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے سوا کوئی بھی اس کے ساتھ جنگ کے لئے آمادہ نہ ہوا تو آنحضرت نے علی ابن اطالب علیہ السلام سے فرمایا : یہ عمر وبن عبدود ہے “ حضرت علی علیہ السلام نے عرض کی حضور : میں بالکل تیار ہوں خواہ عمروھی کیوں نہ ہو، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے فرمایا ” میرے قریب آؤ : چنانچہ علی علیہ السلام آپ کے قریب گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کے سر پر عمامہ باندھا اور اپنی مخصوص تلوار ذوالفقار انہیں عطا فرمائی اور ان الفاظ میں انہیں دعا دی :

خدایا ،علی کے سامنے سے ، پیچہے سے ، دائیں اور بائیں سے اور اوپر اور نیچے سے حفاظت فرما ۔

حضرت علی علیہ السلام بڑی تیزی سے عمرو کے مقابلہ کےلئے میدان میں پہنچ گئے ۔

یھی وہ موقع تھا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ختمی المرتبت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وہ مشہور جملہ ارشاد فرمایا :

”کل ایمان کل کفر کے مقابلہ میں جآرہا ہے “۔

ضربت علی (ع) ثقلین کی عبادت پر بھاری

امیر المو منین علی علیہ السلام نے پہلے تو اسے اسلام کی دعوت دی جسے اس نے قبول نہ کیا پہر میدان چھوڑکر چلے جانے کو کھا اس پر بھی اس نے انکار کیا اور اپنے لئے باعث ننگ وعار سمجھا آپ کی تیسری پیشکش یہ تھی کہ گھوڑے سے اتر آئے اور پیادہ ہوکر دست بدست لڑائی کرے ۔

عمرو آگ بگولہ ہوگیا اور کھا کہ میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ عرب میں سے کوئی بھی شخص مجھے ایسی تجویزدے گا گھوڑے سے اتر آیا اور علی علیہ السلام پر اپنی تلوار کا وار کیا لیکن امیرالمومنین علی علیہ السلام نے اپنی مخصوص مھارت سے اس وار کو اپنی سپرکے ذریعے روکا ،مگر تلوار نے سپر کو کاٹ کرآپ کے سرمبارک کو زخمی کردیا اس کے بعد حضرت علی علیہ السلام نے ایک خاص حکمت عملی سے کام لیا عمر وبن عبدود سے فرمایا :تو عرب کا زبردست پھلو ان ہے ، جب کہ میں تجھ سے تن تنھا لڑرھا ہوں لیکن تو نے اپنے پیچہے کن لوگوں کو جمع کررکھا ہے اس پر عمر ونے جیسے ھی پیچہے مڑکر دیکھا ۔

حضرت علی علیہ السلام نے عمرو کی پنڈلی پر تلوار کا وار کیا ، جس سے وہ سروقد زمین پر لوٹنے لگا شدید گردوغبار نے میدان کی فضا کو گھیررکھا تھا کچھ منافقین یہ سوچ رہے تھے کہ حضرت علی علیہ السلام ، عمرو کے ہاتھوں شھید ہوگئے ہیں لیکن جب انھوں نے تکبیر کی آواز سنی تو علی کی کامیابی ان پر واضح ہوگئی اچانک لوگوں نے دیکھا کہ آپ کے سرمبارک سے خون بہہ رھا تھا اور لشکر گاہ اسلام کی طرف خراماں خراماں واپس آرہے تھے جبکہ فتح کی مسکراہٹ آپ کے لبوں پر کھیل رھی تھی اور عمر و کا پیکر بے سر میدان کے کنارے ایک طرف پڑا ہوا تھا ۔

عرب کے مشہور پھلوان کے مارے جانے سے لشکر احزاب اور ان کی آرزوؤں پر ضرب کاری لگی ان کے حوصلے پست اور دل انتھائی کمزور ہوگئے اس ضرب نے ان کی فتح کی آرزووں پر پانی پھیردیا اسی بناء پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کامیابی کے بارے میں حضرت علی علیہ السلام سے ارشاد فرمایا :

”اگر تمھارے آج کے عمل کو ساری امت محمد کے اعمال سے موازنہ کریں تو وہ ان پر بھاری ہوگا، کیونکہ عمرو کے مارے جانے سے مشرکین کا کوئی ایسا گہر باقی نہیں رھا جس میں ذلت وخواری داخل نہ ہوئی ہو اور مسلمانوں کا کوئی بھی گہر ایسا نہیں ہے جس میں عمرو کے قتل ہوجانے کی وجہ سے عزت داخل نہ ہوئی ہو“ ۔

اہل سنت کے مشہور عالم ، حاکم نیشاپوری نے اس گفتگو کو نقل کیا ہے البتہ مختلف الفاظ کے ساتھ اور وہ یہ ہے :

” لمبارزة علی بن ابیطالب لعمروبن عبدود یوم الخندق افضل من اعمال امتی الی یوم القیامة “

” یعنی علی بن ابی طالب کی خندق کے دن عمروبن عبدود سے جنگ میری امت کے قیامت تک کے اعمال سے ا فضل ہے “

آپ کے اس ارشاد کا فلسفہ واضح ہے ، کیونکہ اس دن اسلام اور قرآن ظاہراً نابودی کے کنارے پر پہنچ چکے تھے، ان کے لئے زبردست بحرانی لمحات تھے،جس شخص نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی فداکاری کے بعد اس میدان میں سب سے زیادہ ایثار اور قربانی کا ثبوت دیا،اسلام کو خطرے سے محفوظ رکھا، قیامت تک اس کے دوام کی ضمانت دی،اس کی فداکاری سے اسلام کی جڑیں مضبوط ہوگئیں اور پہر اسلام عالمین پر پھیل گیا لہٰذا سب لوگوں کی عبادتیں اسکی مرہون منت قرار پا گئیں۔

بعض مورخین نے لکھا ہے کہ مشرکین نے کسی آدمی کو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں بھیجا تاکہ وہ عمر و بن عبدود کے لاشہ کو دس ہزار درہم میں خرید لائے (شاید ان کا خیال یہ تھا کہ مسلمان عمرو کے بدن کے ساتھ وھی سلوک کریں گے جو سنگدل ظالموںنے حمزہکے بدن کےساتھ جنگ میں کیاتھا)لیکن رسول اکرم نے فرمایا: اس کا لاشہ تمھا ری ملکیت ہے ہم مردوں کی قیمت نہیں لیا کرتے۔

یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ جس وقت عمرو کی بہن اپنے بھائی کے لاشہ پر پہنچی اوراس کی قیمتی زرہ کو دیکھا کہ حضرت علی علیہ السلام نے اس کے بدن سے نہیں اتاری تو اس نے کھا:

”میں اعتراف کرتی ہوں کہ اس کا قاتل کریم اور بزرگوارشخص ھی تھا“

نعیم بن مسعود کی داستان اور دشمن کے لشکر میں پھوٹ

نعیم جو تازہ مسلمان تھے اور ان کے قبیلہ”غطفان “کو لشکر اسلام کی خبر نہیں تھی،وہ پیغمبر اکرم کی خدمت میں آئے اور عرض کی کہ آپمجھے جو حکم بھی دیں گے ،میں حتمی کامیابی کے لئے اس پر کار بند رہوں گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :

”تمھارے جیسا شخص ہمارے درمیان اور کوئی نہیں ہے ۔اگر تم دشمن کے لشکر کے درمیان پھوٹ ڈال سکتے ہو تو ڈ الو! ۔کیونکہ جنگ پوشیدہ تدابیر کا مجموعہ ہے “۔

نعیم بن مسعود نے ایک عمدہ تدبیر سوچی اور وہ یہ کہ وہ بنی قریظہ کے یہودیوںکے پاس گیا ،جن سے زمانہ جاہلیت میں ان کی دوستی تھی ان سے کھا اے بنی قریظہ !تم جانتے ہوکہ مجھے تمھارے ساتھ محبت ہے۔

انھوں نے کھا آپ سچ کہتے ہیں :ہم آپ پراس بارے میں ہر گز کوئی الزام نہیں لگاتے ۔

نعیم بن مسعود نے کھا :قبیلہ قریش اور عظفان تمھاری طرح نہیں ہیں ، یہ تمھارا اپنا شہر ہے، تمھارا مال اولاد اور عورتیں یہاں پر ہیں اور تم ہر گز یہ نہیں کر سکتے کہ یہاں سے کو چ کر جا ؤ۔

قریش اور قبیلہ عظفان محمد اور ان کے اصحاب کے ساتھ جنگ کرنے کے لے آئے ہوئے ہیں اور تم نے ان کی حمایت کی ہے جبکہ ان کا شہر کہیں او رہے اور ان کے مال او رعورتیں بھی دوسری جگہ پر ہیں ، اگر انہیں موقع ملے تو لوٹ مار اور غارت گری کر کے اپنے ساتھ لے جائیں گے، اگر کوئی مشکل پیش آجا ئے تو اپنے شہر کو لوٹ جائیں گے، لیکن تم کو اور محمدکو تو اسی شہر میں رہنا ہے او ریقیناتم اکیلے ان سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ،تم اس وقت تک اسلحہ نہ اٹھاؤجب تک قریش سے کوئی معاہدہ نہ کر لو او رو ہ اس طرح کہ وہ چندسرداروں اور بزرگوں کو تمھارے پاس گروی رکھ دیں تاکہ وہ جنگ میں کو تاھی نہ کریں۔

بنی قریظہ کے یہودیوں نے اس نظریہ کوبہت سراھا۔

پہر نعیم مخفی طور پر قریش کے پاس گیا اور ابو سفیان اور قریش کے چندسرداروں سے کھا کہ تم اپنے ساتھ میری دوستی کی کیفیت سے اچھی طرح آگاہ ہو، ایک بات میرے کانوںتک پہنچی ہے، جسے تم تک پہنچا نا میں اپنا فریضہ سمجھتا ہوں تا کہ خیر خواھی کا حق اداکر سکوں لیکن میری خواہش یہ ہے کہ یہ بات کسی او رکو معلو م نہ ہونے پائے ۔

انھوں نے کھا کہ تم بالکل مطمئن رہو ۔

نعیم کہنے لگے : تمہیں معلوم ہو نا چاہئیے کہ یہودی محمد کے بارے میںتمھارے طرز عمل سے اپنی برائت کا فیصلہ کر چکے ہیں ،یہودیوں نے محمد کے پاس قاصد بھیجا ہے او رکھلوایا ہے کہ ہم اپنے کئے پر پشیمان ہیں اور کیا یہ کافی ہو گا کہ ہم قبیلہ قریش او رغطفان کے چندسردار آپکے لئے یرغمال بنالیں اور ان کو بندہے ہاتھوں آپ کے سپرد کردیں تاکہ آپ ان کی گردن اڑادیں، اس کے بعد ہم آپ کے ساتھ مل کر ان کی بیخ کنی کریں گے ؟محمد نے بھی ان کی پیش کش کوقبول کرلیا ہے، اس بنا ء پر اگر یہودی تمھارے پاس کسی کو بھیجیں او رگروی رکھنے کا مطالبہ کریں تو ایک آدمی بھی ان کے سپرد نہ کر نا کیونکہ خطرہ یقینی ہے ۔

پہر وہ اپنے قبیلہ غطفان کے پاس آئے اور کھا :تم میرے اصل اور نسب کو اچھی طرح جانتے ہو۔ میں تمھاراعاشق او رفریفتہ ہوں او رمیں سوچ بھی نہیں سکتا کہ تمہیں میرے خلوص نیت میںتھوڑا سابھی شک اور شبہ ہو ۔

انھوںنے کھا :تم سچ کہتے ہو ،یقینا ایسا ھی ہے ۔

نعیم نے کھا : میںتم سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں لیکن ایسا ہو کہ گو یا تم نے مجھ سے بات نہیں سنی ۔

انھوں نے کھا :مطمئن رہویقینا ایسا ھی ہو گا ،وہ بات کیا ہے ؟

نعیم نے وھی بات جو قریش سے کھی تھی یہودیوں کے پشیمان ہونے او ریر غمال بنانے کے ارادے کے بارے میں حرف بحرف ان سے بھی کہہ دیا او رانہیں اس کام کے انجام سے ڈرایا ۔

اتفاق سے وہ ( ماہ شوال سن ۵ ہجری کے ) جمعہ او رہفتہ کی درمیانی رات تھی ۔ ابو سفیان او رغطفان کے سرداروں نے ایک گروہ بنی قریظہ کے یہودیوںکے پاس بھیجا او رکھا : ہمارے جانور یہاں تلف ہو رہے ہیں اور یہاں ہمارے لئے ٹھہر نے کی کو ئی جگہ نہیں ۔ کل صبح ہمیں حملہ شروع کرنا چاہئیے تاکہ کام کو کسی نتیجے تک پہنچائیں ۔

یہودیوں نے جواب میں کھا :کل ہفتہ کا دن ہے او رہم اس دن کسی کام کو ہاتھ نہیں لگاتے ،علاوہ ازیں ہمیں اس بات کا خوف ہے کہ اگر جنگ نے تم پر دباؤ ڈالا تو تم اپنے شہروں کی طرف پلٹ جاؤ گے او رہمیں یہاں تنھاچھوڑدوگے ۔ ہمارے تعاون او رساتھ دینے کی شرط یہ ہے کہ ایک گروہ گروی کے طور پر ہمارے حوالے کردو، جب یہ خبر قبیلہ قریش او رغطفان تک پہنچی تو انھوں نے کھا :خداکی قسم نعیم بن مسعود سچ کہتا تھا،دال میں کالا ضرو رہے ۔

لہٰذا انھوںنے اپنے قاصد یہودیوں کے پاس بھیجے اور کھا : بخدا ہم تو ایک آدمی بھی تمھارے سپرد نہیں کریں گے او راگر جنگ میں شریک ہو تو ٹھیک ہے شروع کرو ۔

بنی قریظہ جب اس سے با خبر ہوئے تو انھوں نے کھا :واقعا نعیم بن مسعود نے حق بات کھی تھی !یہ جنگ نہیں کرنا چاہتے بلکہ کوئی چکر چلا رہے ہیں ، یہ چا ہتے ہیں کہ لوٹ مار کر کے اپنے شہروں کو لوٹ جائیں او رہمیں محمد کے مقابلہ میں اکیلا چھوڑجا ئیں پہر انہوں نے پیغام بھیجا کہ اصل بات وھی ہے جو ہم کہہ چکے ہیں ،بخدا جب تک کچھ افرادگروی کے طور پر ہمارے سپرد نہیں کروگے ،ہم بھی جنگ نہیں کریں گے ،قریش اورغطفان نے بھی اپنی بات پراصرار کیا، لہٰذا ان کے درمیان بھی اختلاف پڑ گیا ۔ اور یہ وھی موقع تھا کہ رات کو اس قدر زبردست سرد طوفانی ہوا چلی کہ ان کے خیمے اکھڑگئے اور دیگیں چو لہوں سے زمین پر آپڑیں ۔

یہ سب عوامل مل ملاکر اس بات کا سبب بن گئے کہ دشمن کو سر پر پاؤں رکھ کر بھا گنا پڑا اور فرار کو قرار پر ترجیح دینی پڑی ۔ یہاں تک کہ میدان میں انکا ایک آدمی بھی نہ رھا۔

حذیفہ کا واقعہ

بہت سی تواریخ میں آیا ہے ،کہ حذیفہ یمانی کہتے ہیں کہ ہم جنگ خندق میں بھوک او رتھکن ،وحشت اوراضطراب اس قدر دو چار تھے کہ خدا ھی بہتر جانتا ہے ،ایک رات (لشکر احزاب میں اختلاف پڑ جانے کے بعد )پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:کیا تم میں سے کوئی ایسا شخص ہے جو چھپ چھپا کر دشمن کی لشکر گاہ میں جائے اور ان کے حالات معلوم کر لائے تا کہ وہ جیت میں میرا رفیق اور ساتھی ہو۔

حذیفہ کہتے ہیں : خدا کی قسم کوئی شخض بھی شدت وحشت ، تھکن اور بھوک کے مارے اپنی جگہ سے نہ اٹھا ۔

جس وقت آنحضرتنے یہ حالت دیکھی تو مجھے آوازدی، میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو فرمایاجاؤ اور میرے پاس ان لوگوں کی خبر لے آؤ ۔ لیکن وھاںکوئی اور کام انجام نہ دینا یہاں تک کہ میرے پاس آجاؤ ۔

میںایسی حالت میں وھاںپہنچا جب کہ سخت آندھی چل رھی تھی اور طوفان برپا تھا اور خدا کا یہ لشکر انہیں تہس نہس کررھا تھا ۔ خیمے تیز آندھی کے سبب ہوا میںاڑ رہے تھے ۔ آگ بیابان میں پھیل چکی تھی۔ کھانے کے برتن الٹ پلٹ گئے تھے اچانک میںنے ابو سفیان کا سایہ محسوس کیاکہ وہ اس تاریکی میں بلند آواز سے کہہ رھا تھا: اے قریش ! تم میں سے ہر ایک اپنے پھلو میں بیٹہے ہوئے کو اچھی طرح سے پہچان لے تا کہ یہاں کوئی بے گانہ نہ ہو ، میںنے پھل کر کے فوراًھی اپنے پاس بیٹھنے والے شخص سے پوچھا کہ تو کون ہے ؟ اس نے کھا ، فلاں ہوں ، میں نے کھابہت اچھا ۔

پہر ابو سفیان نے کھا:خدا کی قسم !یہ ٹھہرنے کی جگہ نہیں ہے، ہمارے اونٹ گھوڑے ضائع ہو چکے ہیں اور بنی قریظہ نے اپنا پیمان توڑ ڈالا ہے اور اس طوفان نے ہمارے لئے کچھ نہیں چھوڑا ۔

پہر وہ بڑی تیزی سے اپنے اونٹ کی طرف بڑھا اور سوار ہو نے کے لئے اسے زمین سے اٹھا یا، اور اس قدر جلدی میں تھا کہ اونٹ کے پاؤںمیں بندھی ہوئی رسی کھولنا بھول گیا ،لہٰذا اونٹ تین پاؤں پر کھڑا ہو گیا، میں نے سوچا ایک ھی تیرسے اسکا کام تمام کردوں،ابھی تیر چلہ کمان میں جوڑا ھی تھا کہ فوراًآنحضرت کا فرمان یادآگیا کہ جس میں آپ نے فرمایا تھا کچھ کاروائی کے بغیر واپس آجا نا،تمھارا کام صرف وھاں کے حالات ہمارے پاس لانا ہے، لہٰذا میں واپس پلٹ گیا اور جا کر تمام حا لات عرض کئے ۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بارگاہ ایزدی میں عرض کیا :

”خداوندا ! تو کتاب کو نازل کرنے والا او رسریع الحساب ہے ، توخود ھی احزاب کو نیست و نا بو دفرما !خدایا ! انہیں تباہ کردے اور ان کے پاؤں نہ جمنے دے “۔

جنگ احزاب قرآن کی روشنی میں

قرآن اس ماجرا تفصیل بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: ”اے وہ لوگ! جو ایمان لائے ہو، اپنے اوپر خدا کی عظیم نعمت کو یاد کرو،اس موقع پر جب کہ عظیم لشکر تمھاری طرف آئے “۔(۵۰)

”لیکن ہم نے ان پر آندھی اور طوفان بھیجے اور ایسے لشکر جنہیں تم نہیں دیکھتے رہے تھے اور اس ذریعہ سے ہم نے ان کی سرکوبی کی اور انہیں تتر بتر کردیا “۔(۵۱)

” نہ دکھنے والے لشکر “ سے مراد جو رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نصرت کے لئے آئے تھے ، وھی فرشتے تھے جن کا مومنین کی جنگ بدر میں مدد کرنا بھی صراحت کے ساتھ قرآن مجید میں آیا ہے لیکن جیسا (کہ سورہ انفال کی آیہ ۹ کے ذیل میں) ہم بیان کرچکے ہیں ہمارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے کہ یہ نظر نہ آنے والا فرشتوں کا خدائی لشکر باقاعدہ طور پر میدان میں داخل ہوا اور وہ جنگ میں بھی مصروف ہوا ہو بلکہ ایسے قرائن موجود ہیں جو واضح کرتے ہیں کہ وہ صرف مومنین کے حوصلے بلند کرنے اور ان کا دل بڑھانے کے لئے نازل ہوئے تھے ۔

بعد والی آیت جو جنگ احزاب کی بحرانی کیفیت ، دشمنوں کی عظیم طاقت اور بہت سے مسلمانوں کی شدید پریشانی کی تصویر کشی کرتے ہوئے یوں کہتی ہے !” اس وقت کو یاد کرو جب وہ تمھارے شہر کے اوپر اور نیچے سے داخل ہوگئے ،اور مدینہ کو اپنے محاصرہ میں لے لیا) اور اس وقت کو جب آنکہیں شدت وحشت سے پتہرا گئی تہیں اور جاںبلب ہوگئے تھے اور خدا کے بارے میں طرح طرح کی بدگمانیان کرتے تھے “۔(۵۲)

اس کیفیت سے مسلمانوں کی ایک جماعت کے لئے غلط قسم کے گمان پیدا ہوگئے تھے کیونکہ وہ ابھی تک ایمانی قوت کے لحاظ سے کمال کے مرحلہ تک نہیں پہنچ پائے تھے یہ وھی لوگ ہیں جن کے بارے میں بعد والی آیت میں کہتا ہے کہ وہ شدت سے متزلزل ہوئے ۔

شایدان میں سے کچھ لوگ گمان کرتے تھے کہ آخر کار ہم شکست کھا جائیں گے اور اس قوت و طاقت کے ساتھ دشمن کا لشکر کامیاب ہوجائے گا، اسلام کے ز ندگی کے آخر ی دن آپہنچے ہیں اور پیغمبر کا کا میابی کا وعدہ بھی پورا ہوتا دکھا ئی نہیں دیتا ۔

ٰٰالبتہ یہ افکار اور نظریات ایک عقیدہ کی صورت میں نہیں بلکہ ایک وسوسہ کی شکل میں بعض لوگوںکے دل کی گہرائیوں میں پیدا ہو گئے تھے بالکل ویسے ھی جیسے جنگ احد کے سلسلہ میں قرآن مجید ان کا ذکر کرتے ہو ئے کہتا ہے :”یعنی تم میں سے ایک گروہ جنگ کے ان بحرانی لمحات میںصرف اپنی جان کی فکر میں تھا اور دورجا ھلیت کے گمانوں کی مانند خدا کے بارے میں بدگمانی کررہے تھے “۔

یھی وہ منزل تھی کہ خدائی امتحان کا تنور سخت گرم ہوا جیسا کہ بعد والی آیت کہتی ہے کہ ”وھاں مومنین کو آزمایا گیا اور وہ سخت دھل گئے تھے۔(۵۳)

فطری امر ہے کہ جب انسان فکری طوفانوںمیںگہر جاتا ہے تو اس کا جسم بھی ان طوفانوں سے لا تعلق نہیں رہ سکتا ،بلکہ وہ بھی اضطراب اور تزلزل کے سمندر میں ڈوبنے لگتا ہے ،ہم نے اکثر دیکھا ہے کہ جب لوگ ذہنی طور پر پریشان ہوتے ہیں تو وہ جھاں بھی بیٹھتے ہیں اکثر بے چین رہتے ہیں ، ہاتھ ملتے کاپنتے رہتے ہیں اور اپنے اضطراب اور پریشانیوںکو اپنی حرکات سے ظاہر کرتے رہتے ہیں ۔

اس شدید پریشانی کے شواہد میں سے ایک یہ بھی تھا جسے مورخین نے بھی نقل کیا ہے کہ عرب کے پانچ مشہور جنگجو پھلوان جن کا سردار عمرو بن عبدود تھا ،جنگ کا لباس پہن کر اورمخصوص غرور اور تکبر کے ساتھ میدان میں آئے اور ”ھل من مبارز“( ہے کو ئی مقابلہ کرنے والا )کی آواز لگانے لگے ، خاص کر عمرو بن عبدود رجز پڑھ کر جنت اور آخرت کا مذاق اڑا رھا تھا ،وہ کہہ رھا تھا کہ ”کیا تم یہ نہیں کہتے ہوکہ تمھارے مقتول جنت میں جائیں گے ؟تو کیا تم میں سے کوئی بھی جنت کے دیدار کا شوقین نہیں ہے ؟لیکن اس کے ان نعروں کے برخلاف لشکر اسلام پر بُری طرح کی خاموشی طاری تھی اور کوئی بھی مقابلہ کی جر ائت نہیں رکھتا تھا سوائے علی بن ابی طالب علیہ السلام کے جو مقابلہ کے لئے کھڑے ہوئے اور مسلمانوں کو عظیم کامیابی سے ہم کنار کردیا ۔اس کی تفصیل نکات کی بحث میںآئےگی۔

جی ھاں جس طرح فولاد کو گرم بھٹی میں ڈالتے ہیں تا کہ وہ نکہر جائے اسی طرح اوائل کے مسلمان بھی جنگ احزاب جیسے معرکوں کی بھٹی میں سے گزریں تا کہ کندن بن کر نکلیںاو رحوادثات کے مقابل میں جراءت اور پا مردی کا مظاہرہ کر سکیں ۔

منا فقین او رضعیف الایمان جنگ احزاب میں

ہم کہہ چکے ہیں کہ امتحان کی بھٹی جنگ احزاب میں گرم ہوئی او رسب کے سب اس عظیم امتحان میں گہر گئے۔ واضح رہے کہ اس قسم کے بحرانی دور میں جولوگ عام حالات میں ظاہراًایک ھی صف میں قرارپاتے ہیں ،کئی صفوںمیںبٹ جاتے ہیں ،یہاں پربھی مسلمان مختلف گروہوںمیں بٹ گئے تھے، ایک جماعت سچے مومنین کی تھی ،ایک گروہ ہٹ دہرم اور سخت قسم کے منافقین کا تھا اور ایک گروہ اپنے گہر بار ،زندگی اور بھاگ کھڑے ہونے کی فکر میں تھا ،اور کچھ لوگوں کی یہ کوشش تھی کہ دوسرے لوگوں کو جھاد سے روکیں ۔ اور ایک گروہ اس کوشش میں مصروف تھا کہ منافقین کے ساتھ اپنے رشتہ کو محکم کریں ۔

خلاصہ یہ کہ ہر شخص نے اپنے باطنی اسراراس عجیب ”عرصہ محشر“اور ”یوم البروز“میں آشکار کردیئے۔

میں نے ایران، روم اور مصرکے محلوں کو دیکھا ہے

خندق کھودنے کے دوران میں جب ہر ایک مسلمان خندق کے ایک حصہ کے کھودنے میں مصروف تھا تو ایک مرتبہ پتہر کے ایک سخت اوربڑے ٹکڑے سے ان کا سامنا ہوا کہ جس پر کوئی ہتھوڑا کار گر ثابت نہیں ہورھا تھا ،حضرت رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو خبر دی گئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بنفس نفیس خندق میں تشریف لے گئے او راس پتہر کے پاس کھڑے ہو کراورہتھوڑا لے کر پہلی مرتبہ ھی اس کے دل پر ایسی مضبوط چوٹ لگائی کہ اس کا کچھ حصہ ریزہ ریزہ ہو گیا اور اس سے ایک چمک نکلی جس پر آپ نے فتح وکامرانی کی تکبیر بلند کی۔ آپ کے ساتھ دوسرے مسلمانوںنے بھی تکبیرکھی۔

آپ نے ایک اورسخت چوٹ لگائی تو اس کا کچھ حصہ او رٹوٹا اوراس سے بھی چمک نکلی۔اس پر بھی سرورکونین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تکبیرکھی اور مسلمانوں نے بھی آپ کے ساتھ تکبیرکھی آخر کاآپ نے تیسری چوٹھی لگائی جس سے بجلی کوند ی اورباقی ماندہ پتہر بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا ،حضوراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پہر تکبیر کھی او رمسلمانوںنے بھی ایسا ھی کیا، اس موقع پر جناب سلمان فارسی(رض) نے اس ماجرا کے بارے میں دریافت کیا تو سرکاررسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :”پہلی چمک میں میںنے ”حیرہ“کی سرزمین او رایران کے بادشاہوں کے قصر ومحلات دیکہے ہیں او رجبرئیل نے مجھے بشارت دی ہے کہ میری امت ان پر کامیابی حاصل کرے گی،دوسری چمک میں ”شام او رروم“کے سرخ رنگ کے محلات نمایاں ہوئے او رجبرئیل نے پہر بشارت دی کہ میری امت ان پرفتح یاب ہوگی، تیسری چمک میں مجھے ”صنعا و یمن “کے قصور ومحلات دکھائی دئیے اورجبرئیل نے نوید دی کہ میری امت ان پربھی کامیابی حاصل کرے گی، اے مسلمانو!تمہیں خوشخبری ہو!!

منافقین نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا او رکھا: کیسی عجیب و غریب باتیںکر رہے ہیں اور کیا ھی باطل اور بے بنیاد پروپیگنڈاہے ؟مدینہ سے حیرہ او رمدائن کسریٰ کو تو دیکھ کر تمہیں ان کے فتح ہونے کی خبردیتا ہے حالانکہ اس وقت تم چند عربوں کے چنگل میں گرفتا رہو (او رخو ددفاعی پوزیشن اختیار کئے ہوئے ہو )تم تو” بیت الحذر“(خوف کی جگہ ) تک نہیں جا سکتے ( کیا ھی خیال خام او رگمان باطل ہے ۔

الٰھی وحی نازل ہوئی او رکھا:

”یہ منا فق او ردل کے مریض کہتے ہیں کہ خدا او راس کے رسو ل نے سوائے دھوکہ و فریب کے ہمیں کوئی وعدہ نہیں دیا، (وہ پر و ردگارکی بے انتھا قدرت سے بے خبر ہیں “۔)(۵۴)

اس وقت اس قسم کی بشارت او رخوشخبری سوائے آگاہ او ربا خبر مومنین کی نظر کے علاوہ ( باقی لوگوں کے لئے )دھوکا او ر فریب سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتی تھی لیکن پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ملکوتی آنکہیں ان آتشیں چنگاریوں کے درمیان سے جو کدالوں او رہتھوڑوں کے خندق کھودنے کے لئے زمین پرلگنے سے نکلتی تہیں ، ایران روم او ریمن کے بادشاہوں کے قصرو محلات کے دروازوں کے کھلنے کو دیکھ سکتے تھے او رآئندہ کے اسرارو رموز سے پردے بھی اٹھاسکتے تھے۔

منافقانہ عذر

جنگ احزاب کے واقعہ کے سلسلے میں قرآن مجیدمنافقین او ردل کے بیمارلوگوں میں سے ایک خطرناک گروہ کے حالات تفصیل سے بیان کرتا ہے جو دوسروں کی نسبت زیادہ خبیث او رآلودہ گناہ ہیں ، چنانچہ کہتا ہے: ”او راس وقت کو بھی یا دکرو، جب ان میں سے ایک گروہ نے کھا: اے یثرب (مدینہ )کے رہنے والو!یہاں تمھارے رہنے کی جگہ نہیں ہے ،اپنے گہروںکی طرف لوٹ جاؤ“(۵۵)

خلاصہ یہ کہ دشمنوںکے اس انبوہ کے مقابلہ میں کچھ نہیں ہو سکتا، اپنے آپ کو معرکہ کار زار سے نکال کرلے جاؤ او راپنے آپ کو ہلاکت کے اور بیوی بچوں کو قید کے حوالے نہ کرو۔ اس طرح سے وہ چاہتے تھے کہ ایک طرف سے تو وہ انصار کے گروہ کو لشکر اسلام سے جدا کرلیں اوردوسری طرف ”انہیں منافقین کا ٹولہ جن کے گہر مدینہ میں تھے ،نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اجازت مانگ رہے تھے کہ وہ واپس چلے جا ئیں او راپنی اس واپسی کے لئے حیلے بھانے پیش کررہے تھے ، وہ یہ بھی کہتے تھے کہ ہمارے گہردل کے درودیوارٹھیک نہیں ہیں حالانکہ ایسا نہیں تھا ،اس طرح سے وہ میدان کو خالی چھوڑکر فرارکرنا چاہتے تھے“۔(۵۶)

منافقین اس قسم کا عذر پیش کرکے یہ چاہتے تھے کہ وہ میدان جنگ چھوڑکر اپنے گہروں میں جاکرپناہ لیں ۔

ایک روایت میں آیا ہے کہ قبیلہ ”بنی حارثہ “نے کسی شخص کو حضور رسالت پناہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں بھیجااو رکھا کہ ہمارے گہر غیر محفوظ ہیں اور انصار میں سے کسی کا گہر بھی ہمارے گہروں کی طرح نہیں اور ہمارے او رقبیلہ ”غطفان “کے درمیان کوئی رکا وٹ نہیں ہے جو مدینہ کی مشرقی جانب سے حملہ آور ہو رہے ہیں ، لہٰذا اجا زت دیجئے تا کہ ہم اپنے گہروں کو پلٹ جا ئیں او راپنے بیوی بچوں کا دفاع کریں تو سرکار رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے انہیں اجازت عطا فرمادی ۔

جب یہ بات انصار کے سردار ”معد بن معاذ “کے گوش گذارہوئی توانھوںنے پیغمبراسلام کی خدمت میں عرض کیا ”سرکا ر!انہیں اجازت نہ دیجئے ،بخدا آج تک جب بھی کوئی مشکل درپیش آئی تو ان لوگوں نے یھی بھانہ تراشا،یہ جھوٹ بولتے ہیں “۔(۵۷)

چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حکم دیا کہ واپس آجائیں ۔(۵۸)

قرآن میں خداوندعالم اس گروہ کے ایمان کی کمزوری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: ”وہ اسلام کے اظھار میں اس قدر ضعیف اور ناتواں ہیں کہ اگر دشمن مدینہ کے اطراف و جوانب سے اس شہر میں داخل ہوجائیں اور مدینہ کو فوجی کنٹرول میں لے کر انہیں پیش کش کریں کہ کفر و شرک کی طرف پلٹ جائیں توجلدی سے اس کو قبول کرلیں گے اور اس راہ کے انتخاب کرنے میں ذراسا بھی توقف نہیں کریں گے“۔(۵۹)

ظاہر ہے کہ جو لوگ اس قدرت ضعیف، کمزور اور غیر مستقل مزاج ہوں کہ نہ تو دشمن سے جنگ کرنے چند ایک روایات میں آیاہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ ”اس شہر کو یثرب نہ کھا کرو شاید اسکی وجہ یہ ہو کہ یثرب اصل میں ”ثرب“(بروزن حرب)کے مادہ سے ملامت کرنے کے معنی میں ہے اور آپ اس قسم کے نام کو اس بابرکت شہر کے لئے پسند نہیں فرماتے تھے۔

بہرحال منافقین نے اہل مدینہ کو ”یااہل یثرب“کے عنوان سے جو خطاب کیا ہے وہ بلاوجہ نہیں ہے او رشاید اس کی وجہ یہ تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اس نام سے نفرت ہے ،یا چاہتے تھے کہ اسلام او ر”مدینةالرسول“کے نام کو تسلیم نہ کرنے کااعلان کریں ۔یالوگوںکو زمانہ جاہلیت کی یادتازہ کرائیں ۔

کے لئے تیار ہوں اور نہ ھی راہ خدا میں شھادت قبول کرنے کے لئے، ایسے لوگ بہت جلد ہتھیار ڈال دیتے ہیں اور اپنی راہ فوراً بدل دیتے ہیں ۔

پہر قرآن اس منافق ٹولے کو عدالت کے کٹہرے میں لاکر کہتا ہے: ”انھوں نے پہلے سے خدا کے ساتھ عہد و پیمان باندھا ہوا تھا کہ دشمن کی طرف پشت نہیں کریں گے اور اپنے عہد و پیمان پر قائم رہتے ہوئے توحید، اسلام اور پیغمبر کے لئے دفاع میں کھڑے ہوں گے، کیا وہ جانتے نہیں کہ خدا سے کئے گئے عہد و پیمان کے بارے میں سوال کیا جائے گا“۔(۶۰)

جب خدا نے منافقین کی نیت کو فاش کردیا کہ ان کا مقصد گہروں کی حفاظت کرنا نہیں ، بلکہ میدان جنگ سے فرار کرنا ہے تو انہیں دود لیلوں کے ساتھ جواب دیتا ہے۔

پہلے تو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے فرماتا ہے: ”کہہ دیجئے کہ اگر موت یا قتل ہونے سے فرار کرتے ہو تو یہ فرار تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہونچائے گااور تم دنیاوی زندگی کے چند دن سے زیادہ فائدہ نہیں اٹھاپاؤ گے“۔(۶۱)

دوسرا یہ کہ کیا تم جانتے ہوکہ تمھارا سارا انجام خدا کے ہاتھ میں ہے اور تم اس کی قدرت و مشیت کے دائرہ اختیار سے ہرگز بھاگ نہیں سکتے۔

”اے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ! ان سے کہہ دیجئے : کون شخص خدا کے ارادہ کے مقابلہ میں تمھاری حفاظت کرسکتا ہے، اگر وہ تمھارے لئے مصیبت یا رحمت چاہتا ہے“۔(۶۲)

روکنے والا ٹولہ

اس کے بعد قرآن مجید منافقین کے اس گروہ کی طرف اشارہ کرتا ہے جو جنگ احزاب کے میدان سے خودکنارہ کش ہوا اور دوسروں کو بھی کنار کشی کی دعوت دیتا ہو فرماتا ہے: ” خدا تم میں سے اس گروہ کو جانتا ہے جو کوشش کرتے تھے کہ لوگوں کو جنگ سے منحرف کردیں ،اور اسی طرح سے ان لوگوں کو بھی جانتا ہے جو اپنے بھائیوں سے کہتے تھے کہ ہماری طرف آؤ“ اور اس خطرناک جنگ سے دستبردار ہوجاؤ ۔

وھی لوگ جواہل جنگ نہیں ہیں اور سوائے کم مقدار کے اور وہ بھی بطور جبر واکراہ یاد کھاوے کے؛ جنگ کے لئے نہیں جاتے۔(۶۳)

ہم ایک روایت میں پڑھتے ہیں کہ ایک صحابی رسول کسی ضرورت کے تحت میدان” احزاب “ سے شہر میں آیا ہوا تھا اس نے اپنے بھائی کو دیکھا کہ اس نے اپنے سامنے روٹی ، بھنا ہوا گوشت اور شراب رکہے ہوئے تھے ، تو صحابی نے کھا تم تو یہاں عیش وعشرت میں مشغول ہواور رسول خدا نیزوں اور تلواروں کے درمیان مصروف پیکار ہیں اس نے جواب میں کھا ، اے بے وقوف : تم بھی ہمارے ساتھ بیٹھ جاؤ اور مزے اڑاؤ اس نے کھا:اس خدا کی قسم جس کی محمد کھاتا ہے وہ اس میدان سے ہرگز پلٹ کر واپس نہیں آئے گا اور یہ عظیم لشکر جو جمع ہوچکا ہے اسے اور اس کے ساتھیوں کو زندہ نہیں چھوڑے گا ۔

یہ سن کر وہ صحابی کہنے لگے :تو بکتا ہے،خدا کی قسم میں ابھی رسول اللہ کے پاس جاکر تمھاری اس گفتگو سے باخبر کرتا ہوں، چنانچہ انھوں نے بارگاہ رسالت میں پہنچ کر تمام ماجرا بیان کیا ۔

وہ ہرگز ایمان نہیں لائے

قرآن فرماتاہے :” ان تمام رکاوٹوں کا باعث یہ ہے کہ وہ تمھاری بابت تمام چیزوں میں بخیل ہیں “۔(۶۴)

نہ صرف میدان جنگ میں جان قربان کرنے میں بلکہ وسائل جنگ مھیا کرنے کے لئے مالی امداد اور خندق کھودنے کے لئے جسمانی امداد حتی کہ فکری امداد مھیا کرنے میں بھی بخل سے کام لیتے ہیں ، ایسا بخل جو حرص کے ساتھ ہوتا ہے اور ایسا حرص جس میں روز بروز اضافہ ہوتا رہتا ہے ۔

ان کے بخل اور ہر قسم کے ایثارسے دریغ کرنے کے بیان کے بعد ان کے ان دوسرے اوصاف کو جو ہر عہد اور ہر دور کے تمام منافقین کے لئے تقریباً عمو میت کا درجہ رکھتے ہیں بیان کرتے ہوئے کہتا ہے :” جس وقت خوفناک اور بحرانی لمحات آتے ہیں تو وہ اس قدر بزدل اور ڈرپوک ہیں کہ آپ دیکہیں گے کہ وہ آپ کو دیکھ رہے ہیں حالانکہ ان کی آنکھوں میں ڈھیلے بے اختیار گردش کررہے ہیں ، اس شخص کی طرح جو جاں کنی میں مبتلا ہو “(۶۵)

چونکہ وہ صحیح ایمان کے مالک نہیں ہیں اور نہ ھی زندگی میں ان کا کوئی مستحکم سھارا ہے ، جس وقت کسی سخت حادثہ سے دوچار ہوتے ہیں تو وہ لوگ بالکل اپنا توازن کھوبیٹھتے ہیں جیسے ان کی روح قبض ھی ہوجائے گی۔

پہر مزید کہتا ہے: ” لیکن یھی لوگ جس وقت طوفان رک جاتاہے اور حالات معمول پر آجاتے ہیں تو تمھارے پاس یہ توقع لے کر آتے ہیں کہ گویا جنگ کے اصلی فاتح یھی ہیں اور قرض خواہوں کی طرح پکار پکار کر سخت اور درشت الفاظ کے ساتھ مال غنیمت سے اپنے حصہ کا مطالبہ کرتے ہیں اور اس میں سخت گیر، بخیل اور حریص ہیں “۔(۶۶)

آخر میں ان کی آخری صفت کی طرف جو درحقیقت میں ان کی تمام بد بختیوں کی جڑ اور بنیاد ہے ، اشارہ کرتے ہوئے فرماتاہے ” وہ ہر گز ایمان نہیں لائے۔اور اسی بناپر خدانے ان کے اعمال نیست ونابود کردئیے ہیں کیونکہ ان کے اعمال خدا کے لئے نہیں ہیں اور ان میں اخلاص نہیں پایا جاتا۔(۶۷)

”وہ اس قدر وحشت زدہ ہو چکے ہیں کہ احزاب اور دشمن کے لشکروں کے پر اگندہ ہوجانے کے بعد بھی یہ تصور کرتے ہیں کہ ابھی وہ نہیں گئے“۔(۶۸)

وحشتناک اور بھیانک تصور نے ان کی فکر پر سایہ کر رکھا ہے گویا کفر کی افواج پے درپے ان کی آنکھوں کے سامنے قطاردر قطار چلی جارھی ہیں ، ننگی تلواریں اور نیزے تانے ان پر حملہ کررھی ہیں ۔

یہ بزدل جھگڑالو ، ڈرپوک منافق اپنے سائے سے بھی ڈرتے ہیں ، جب کسی گھوڑے کے ہنہنانے یا کسی اونٹ کے بلبلانے کی آواز سنتے ہیں تو مارے خوف کے لرزنے لگتے ہیں کہ شاید احزاب کے لشکر واپس آرہے ہیں ۔

اس کے بعدکہتا ہے ” اگر احزاب دوبارہ پلٹ کر آجائے تو وہ اس بات پر تیار ہیں کہ بیابان کا رخ کرلیں اور بادیہ نشین بدووںکے درمیان منتشر ہو کر پنھاں ہو جائیں ھاں، ھاں وہ چلے جائیں اور وھاں جاکر رہیں ” اور ہمیشہ تمھاری خبروں کے جویا رہیں “۔(۶۹)

ہر مسافر سے تمھاری ہر ہر پل کی خبر کے جویا رہیں ایسا نہ ہوکہ کہیں احزاب ان کی جگہ قریب آجائیں اور ان کا سایہ ان کے گہر کی دیواروں پر آپڑے اور تم پر یہ احسان جتلائیں کہ وہ ہمشہ تمھاری حالت اور کیفیت کے بارے میں فکر مند تھے ۔

اور آخری جملہ میں کہتا ہے:

”بالفرض وہ فراربھی نہ کرتے اور تمھارے درمیان ھی رہتے ، پہر بھی سوائے تھوڑی سی جنگ کے وہ کچھ نہ کرپاتے“۔(۷۰)

نہ ان کے جانے سے تم پریشان ہونا اور نہ ھی ان کے موجود رہنے سے خوشی منانا، کیونکہ نہ تو ان کی قدر وقیمت ہے اور نہ ھی کوئی خاص حیثیت، بلکہ ان کا نہ ہونا ان کے ہونے سے بہتر ہے ۔

ان کی یھی تھوڑی سی جنگ بھی خدا کےلئے نہیں بلکہ لوگوں کی سرزنش اور ملامت کے خوف اور ظاہرداری یاریاکاری کےلئے ہے کیونکہ اگر خدا کے لئے ہوتی تو اس کی کوئی حدو انتھا نہ ہوتی اور جب تک جان میں جان ہوتی وہ اس میدان میں ڈٹے رہتے ۔

جنگ احزاب میں سچے مومنین کا کردار

اب تک مختلف گر وہوںاور ان کے جنگ احزاب میں کارناموں کے بارے میں گفتگو ہورھی تھی جن میں ضعیف الایمان مسلمان ، منافق، کفر ونفاق کے سرغنے اور جہد سے روکنے والے شامل ہیں ۔

قرآن مجید اس گفتگو کے آخر میں ” سچے مئومنین “ ان کے بلند حوصلوں ، پامردیوں ، جرائتوں اور اس عظیم جھاد میں ان کی دیگر خصوصیات کے بارے میں گفتگو کرتا ہے ۔

اس بحث کی تمھید کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات سے شروع کرتا ہے جو مسلمانوں کے پیشوا ، سرداراور اسوہ کامل تھے، خدا کہتا ہے: ” تمھارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زندگی اور (میدان احزاب میں ) ان کا کردار ایک اچھا نمونہ اوراسوہ ہے ، ان لوگوں کے لئے جورحمت خدا اور روز قیامت کی امید رکھتے ہیں اور خدا کو بہت زیادہ یاد کرتے ہیں ۔“(۷۱)

تمھارے لئے بہترین اسوہ اور نمونہ ،نہ صرف اس میدان میں بلکہ ساری زندگی پیغمبراسلام کی ذات والا صفات ہے آپ کے بلند حوصلے، صبرو استقامت ،پائمردی ،زیر کی ، دانائی ، خلوص ، خدا کی طرف تو جہ، حادثات پر کنڑول، مشکلات اور مصائب کے آگے سر تسلیم خم نہ کرنا ، غرضکہ ان میں سے ہر ایک چیز مسلمانوں کے لئے نمونہ کامل اور اسوہ حسنہ ہے ۔

وہ ایسا عظیم نا خدا ہے کہ جب اس کی کشتی سخت ترین طوفانوں میں گہر جاتی ہے تو ذرہ برابر بھی کمزوری،گھبراہٹ اور سراسیمگی کا مظاہرہ نہیں کرتا وہ کشتی کانا خدا بھی ہے اور اس کا قابل اطمینان لنگر اور چراغ ہدایت بھی وہ اس میں بیٹھنے والوں کے لئے آرام وسکون کا باعث بھی ہے اور ان کے لئے راحت جان بھی ۔

وہ دوسرے مئومنین کے ساتھ مل کر کدال ہاتھ میں لیتا ہے اور خندق کھودتا ہے،بلیچے کے ساتھ پتہر اکھاڑکرکے خندق سے باہر ڈال آتا ہے اپنے اصحاب کے حوصلے بڑھانے اور ٹھنڈے دل سے سوچنے کے لئے ان سے مزاح بھی کرتا ہے ان کے قلب و روح کو گرمانے کے حربی اور جوش وجذبہ دلانے والے اشعار پڑھ کر انہیں ترغیب بھی دلاتاہے، ذکر خدا کرنے پرمسلسل اصرار کرتا ہے اور انہیں درخشاں مستقبل اور عظیم فتوحات کی خوشخبری دیتاہے انہیں منافقوں کی سازشوں سے متنبہ کرتا ہے اور ان سے ہمیشہ خبردار رہنے کا حکم دیتا ہے ۔

صحیح حربی طریقوں اور بہترین فوجی چالوں کو انتخاب کرنے سے ایک لمحہ بھی غافل نہیں رہتا اس کے باوجود مختلف طریقوں سے دشمن کی صفوں میںشگاف ڈالنے سے بھی نہیں چوکتا ۔

جی ھاں: وہ مومنین کا بہترین مقتدا ہے اور ان کے لئے اسوہ حسنہ ہے اس میدان میں بھی اور دوسرے تمام میدانوں میں بھی۔

مومنین کے صفات

اس مقام پر مومنین کے ایک خاص گروہ کی طرف اشارہ ہے:

” جو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اقتداء میں سب سے زیادہ پیش قدمی کرتے تھے وہ خدا سے کئے ہوئے اپنے اس عہدو پیمان پرقائم تھے کہ وہ آخری سانس اور آخری قطرہ خون تک فداکاری اور قربانی کے لئے تیار ہیں فرمایا گیا ہے مومنین میں ایسے بھی ہیں جواس عہدوپیمان پر قائم ہیں جو انھوںنے خدا سے باندھا ہے ان میں سے کچھ نے تو میدان جھاد میں شربت شھادت نوش کرلیا ہے اوربعض انتظار میں ہیں ۔ور انھوں نے اپنے عہدوپیمان میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں کی “ ۔(۷۲)

اور نہ ھی ان کے قدموں میں لغزش پیدا ہوئی ہے۔

مفسرین کے درمیان اختلاف ہے کہ یہ آیت کن افراد کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔

اہل سنت کے مشہور عالم ، حاکم ابوالقاسم جسکانی سند کے ساتھ حضرت علی علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا :

آیہ ”رجال صدقوا ما عاھدوا اللّٰہ علیہ “ ہمارے بارے میں نازل ہوئی ہے اور بخدا میں ھی وہ شخص ہوں جو(شھادت کا) انتظار کررھاہوں(اور قبل از ایں ہم میں حمزہ سید الشہداء جیسے لوگ شھادت نوش کرچکے ہیں )اور میں نے ہرگز اپنی روش اور اپنے طریقہ کار میں تبدیلی نہیں کی اور اپنے کیئے ہوے عہدوپیمان پر قائم ہوں ۔

جنگ بنی قریظہ

مدینہ میں یہودیوں کے تین مشہور قبائل رہتے تھے : بنی قریظہ، بنی النضیر اور بنی قینقاع۔

تینوں گروہوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے معاہدہ کر رکھا تھا کہ آپ کے دشمنوں کا ساتھ نہیں دیں گے، ان کے لئے جاسوسی نہیں کریں گے، اور مسلمانوں کے ساتھ مل جل کر امن و آشتی کی زندگی گزاریں گے، لیکن قبیلہ بنی قینقاع نے ہجرت کے دوسرے سال اور قبیلہ بنی نضیر نے ہجرت کے چوتھے سال مختلف حیلوں بھانوں سے اپنا معاہدہ توڑ ڈالا، اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مقابلہ کے لئے تیار ہوگئے آخر کار ان کی مزاحمت اور مقابلہ کی سکت ختم ہوگئی اور وہ مدینہ سے باہر نکل گئے۔

بنی قینقاع” اذر عات“ شام کی طرف چلے گئے اور بنی نضیر کے کچھ لوگ تو خیبر کی طرف اور کچھ شام کی طرف چلے گئے ۔

اسی بناء پر ہجرت کے پانچویں سال جب کہ جنگ احزاب پیش آئی تو صرف قبیلہ بنی قریظہ مدینہ میں باقی رہ گیا تھا ، وہ بھی اس میدان میں اپنے معاہدہ کو توڑکر مشرکین عرب کے ساتھ مل گئے اور مسلمانوں کے مقابلہ میں تلواریں سونت لیں ۔

جب جنگ احزا ب ختم ہوگئی اور قریش، بنی غطفان اور دیگر قبائل عرب بھی رسوا کن شکست کے بعد مدینہ سے پلٹ گئے تو اسلامی روایات کے مطابق پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے گہر لوٹ آئے اور جنگی لباس اتارکر نھانے دھونے میں مشغول ہوگئے تو اس موقع پر جبرئیل حکم خدا سے آپ پر نازل ہوئے اور کھا : کیوں آپ نے ہتھیار اتار دیئے ہیں جبکہ فرشتے ابھی تک آمادہ پیکار ہیں آپ فوراً بنی قریظہ کی طرف جائیں اور ان کا کام تمام کردیں ۔

واقعاً بنی قریظہ کا حساب چکانے کے لئے اس سے بہتر کوئی اور موقع نہیں تھا مسلمان اپنی کامیابی پر خوش خرم تھے، بنی قریظہ شکست کی شدید وحشت میں گرفتار تھے اور قبائل عرب میں سے ان کے دوست اور حلیف تھکے ماندے اور بہت ھی پست حوصلوں کے ساتھ شکست خوردہ حالت میں اپنے اپنے شہروںاور علاقوں میں جاچکے تھے اور کوئی نہیں تھا جوان کی حمایت کرے ۔

بہرحال منادی نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف سے ندادی کہ نماز عصر پڑھنے سے پہلے بنی قریظہ کی طرف چل پڑو مسلمان بڑی تیزی کے ساتھ ھی بنی قریظہ کے محکم ومضبوط قلعوںکو مسلمانوں نے اپنے محاصرے میں لے لیا ۔

پچیس دن تک محاصرہ جاری رھا چنانچہ لکھتے ہیں کہ مسلمانوں نے بنی قریظہ کے قلعوں پر حملہ کرنے کے لئے اتنی جلدی کی کہ بعض مسلمان نماز عصر سے غافل ہوگئے کہ مجبوراً بعد میں قضا کی،خداوند عالم نے ان کے دلوں میں سخت رطب و دبدبہ طاری ہوگیا۔

تین تجاویز

”کعب بن اسد“ کا شمار یہودیوں کے سرداروں میں ہوتا تھا اس نے اپنی قوم سے کھا : مجھے یقین ہے کہ محمد ہمیں اس وقت تک نہیں چھوڑیں گے جب تک ہم جنگ نہ کریں لہٰذا میری تین تجاویز ہیں ، ان میں سے کسی ایک کو قبول کرلو ،پہلی تجویز تویہ ہے کہ اس شخص کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر اس پر ایمان لے آو اور اس کی پیروی اختیار کرلو کیونکہ تم پر ثابت ہوچکا ہے کہ وہ خدا کا پیغمبر ہے اوراس کی نشانیاں تمھاری کتابوں میں پائی جاتی ہیں تو اس صورت میں تمھارے مال ، جان، اولاد اور عورتیں محفوظ ہوجائیں گی۔

وہ کہنے لگے کہ ہم ہرگز حکم توریت سے دست بردار نہیں ہوں گے اور نہ ھی اس کا متبادل اختیار کریں گے ۔

اس نے کھا : اگر یہ تجویز قبول نہیں کرتے تو پہر آؤ اور اپنے بچوں اور عورتوں کو اپنے ہاتھوں سے قتل کرڈالو تاکہ ان کی طرف سے آسودہ خاطر ہوکر میدان جنگ میں کود پڑیں اور پہر دیکہیں کہ خدا کیا چاہتا ہے ؟ اگر ہم مارے گئے تو اہل وعیال کی جانب سے ہمیں کوئی پریشانی نہیں ہوگی اور اگر کامیاب ہوگئے تو پہر عورتیں بھی بہت بچے بھی بہت ۔!!

وہ کہنے لگے کہ ہم ان بے چاروں کو اپنے ھی ہاتھوں سے قتل کردیں ؟ان کے بعد ہمارے لئے زندگی کی قدرو قیمت کیارہ جائے گی ؟

کعب بن اسد نے کھا : اگر یہ بھی تم نے قبول نہیں کیا تو آج چونکہ ہفتہ کی رات ہے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور اس کے ساتھی یہ خیال کریں گے کہ ہم آج رات حملہ نہیں کریں گے انہیں اس غفلت میں ڈال کر ان پر حملہ کردیں شاید کامیابی حاصل ہوجائے ۔

وہ کہنے لگے کہ یہ کام بھی ہم نہیں کریں گے کیونکہ ہم کسی بھی صورت میںہفتہ کا احترام پامال نہیں کریں گے ۔

کعب کہنے لگا : پیدائش سے لے کر آج تک تمھارے اندر عقل نہیں آسکی ۔

اس کے بعد انھوں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے بات کی کہ” ابولبابہ“ کو ان کے پاس بھیجا جائے تاکہ وہ ان سے صلاح مشورہ کرلیں ۔

ابولبابہ کی خیانت

جس وقت ابولبابہ ان کے پاس آئے تو یہودیوں کی عورتیں اور بچے ان کے سامنے گریہ وزاری کرنے لگے اس بات کا ان کے دل پر بہت اثر ہوا اس وقت لوگوں نے کھا کہ آپ ہمیں مشورہ دیتے ہیں کہ ہم محمد کے آگے ہتھیار ڈال دیں ؟ ابولبابہ نے کھا ھاں اور ساتھ ھی اپنے گلے کی طرف اشارہ کیا یعنی تم سب کو قتل کردیں گے ۔!

ابولبابہ کہتے ہیں ، جیسے ھی میں وھاں سے چلا تو مجھے اپنی خیانت کا شدید احساس ہوا پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس نہ گیا بلکہ سیدھا مسجد کی طرف چلا اور اپنے آپ کو مسجد کے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا اور کھا اپنی جگہ سے اس وقت تک حرکت نہیں کروں گا جب تک خدا میری توبہ قبول نہ کرلے ۔

سات دن تک اس نے نہ کھانا کھایا نہ پانی پیا اور یونھی بے ہوش پڑا رھا یہاں تک کہ خدا نے اس کی توبہ قبول کر لی،جب یہ خبر بعض مومنین کے ذریعہ اس تک پہنچی شتو اس ننے قسم کھائی میں خود رہنے کو اس ستون سے نہیں کھولوں گا یہاں تک کہ پیغمبر آکر کھولیں۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آئے اور اس کو کھولا ابولبابہ نے کھا کہ اونی توبہ کو کامل ہونے کے لئے اپنا سارا مال راہ خدا میں دیتا ہوں۔اس وقت پیغمبر نے کھا:ایک سوم مال کافی ہے،”آخرکار خدانے اس کا یہ گناہ اس کی صداقت کی بنا ء پربخش دیا(۷۳)

لیکن آخر کار بنی قریظہ کے یہودیوں نے مجبور ہوکر غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دیئے۔

جناب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا سعد بن معاذ تمھارے بارے میں جو فیصلہ کردیں کیا وہ تمہیں قبول ہے ؟وہ راضی ہوگئے ۔

سعدبن معاذ نے کھا کہ اب وہ موقع آن پہنچا ہے کہ سعد کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کو نظر میں رکہے بغیر حکم خدا بیان کرے ۔

سعد نے جس وقت یہودیوں سے دوبارہ یھی اقرار لے لیا تو آنکہیں بند کرلیں اور جس طرف پیغمبر کھڑے ہوئے تھے ادہر رخ کرکے عرض کیا : آپ بھی میرا فیصلہ قبول کریں گے ؟ آنحضرت نے فرمایا ضرور: تو سعد نے کھا : میں کہتا ہوں کہ جو لوگ مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے پر آمادہ تھے (بنی قریظہ کے مرد ) انہیں قتل کردینا چاہئے ، ان کی عورتیں اور بچے قید اور ان کے اموال تقسیم کردیئے جائیں البتہ ان میں سے ایک گروہ اسلام قبول کرنے کے بعد قتل ہونے سے بچ گیا ۔

قرآن اس ماجرا کی طرف مختصر اور بلیغ اشارہ کرتا ہے اور اس ماجراکا تذکرہ خداکی ایک عظیم نعمت او رعنایت کے طور پر ہوا ہے ۔

پہلے فرمایا گیا ہے:”خدا نے اہل کتاب میں سے ایک گروہ کو جنہوںنے مشرکین عرب کی حمایت کی تھی ،ان کے محکم و مضبوط قلعوں سے نیچے کھینچا ۔(۷۴)

یہاں سے واضح ہو جا تا ہے کہ یہو دیوں نے اپنے قلعے مدینہ کے پاس بلند او راونچی جگہ پربنا رکہے تھے او ران کے بلند برجوں سے اپنا دفاع کرتے تھے ”انزل “(نیچے لے آیا ) کی تعبیر اسی معنی کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔

اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : ”خدا نے ان کے دلوں میں خوف او ررعب ڈال دیا “:

آخر کار ان کا مقابلہ یہاں تک پہنچ گیا کہ ”تم ان میں سے ایک گروہ کو قتل کررہے تھے او ردوسرے کو اسیر بنا رہے تھے ۔”او ران کی زمینیں گہر اور مال و متاع تمھارے اختیارمیں دے دیا “۔(۷۵)

یہ چند جملے جنگ بنی قریظہ کے عام نتائج کا خلاصہ ہیں ۔ ان خیانت کاروںمیں سے کچھ مسلمانوںکے ہاتھوںقتل ہو گئے،کچھ قید ہوگئے اوربہت زیادہ مال غنیمت جس میں ان کی زمینیں ،گہر ،مکا نات او رمال و متاع شامل تھا ،مسلمانوں کو ملا ۔

صلح حدیبیہ

چھٹی ہجری کے ماہ ذی قعدہ میں پیغمبر اکرم عمرہ کے قصد سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے ،مسلمانوں کو رسول اکرم کے خواب کی اطلاع مل چکی تھی کہ رسول اکرمنے اپنے تمام اصحاب کے ساتھ ”مسجد الحرام“میں وارد ہونے کو خواب میں دیکھا ہے ،او رتمام مسلمانوں کو اس سفرمیں شرکت کا شوق دلایا،اگر چہ ایک گروہ کنارہ کش ہو گیا ،مگر مہاجرین و انصار او ربادیہ نشین اعراب کی ایک کثیر جماعت آپ کے ساتھ مکہ کی طرف روانہ ہو گئی ۔

یہ جمعیت جو تقریباًایک ہزار چار سوافراد پر مشتمل تھی ،سب کے سب نے لباس احرام پہنا ہوا تھا ،او رتلوار کے علاوہ جو مسافروں کا اسلحہ شمار ہو تی تھی ،کوئی جنگی ہتھیار ساتھ نہ لیا تھا ۔

جب مسلمان ”ذی الحلیفہ“ مدینہ کے نزدیک پہونچے،اور بہت اونٹوں کو قربانی کے لئے لے لیا۔

پیغمبر (اور آپ (ع)کے اصحاب کا)طرز عمل بتآرہا تھا کہ عبادت کے علاوہ کوئی دوسرا قصد نہیں تھا۔جب پیغمبر مکہ کے نزدیکی مقام آپ کو اطلاع ملی کہ قریش نے یہ پختہ ارادہ کرلیا ہے کہ آپ کو مکہ میں داخل نہ ہونے دیں گے ،یہاں تک کہ پیغمبرمقام” حدیبیہ“میں پہنچ گئے ( حدیبیہ مکہ سے بیس کلو مٹر کے فاصلہ پر ایک بستی ہے ،جو ایک کنویں یا درخت کی مناسبت سے اس نام سے مو سوم تھی )حضرت نے فرمایا: کہ تم سب اسی جگہ پر رک جاؤ،لوگوں نے عرض کی کہ یہاں تو کوئی پانی نہیں ہے پیغمبر نے معجزانہ طور پر اس کنویںسے جو وھاںتھا ،اپنے اصحاب کے لئے پانی فراہم کیا ۔

اسی مقام پر قریش او رپیغمبر کے درمیان سفراء آتے جاتے رہے تاکہ کسی طرح سے مشکل حل ہو جائے ، آخرکا ر”عروہ ابن مسعودثقفی“جو ایک ہوشیا ر آدمی تھا ،قریش کی طرف سے پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہوا ،پیغمبر نے فرمایا میں جنگ کے ارادے سے نہیں آیا او رمیرا مقصد صرف خانہ خدا کی زیارت ہے ،ضمناًعروہ نے اس ملاقات میں پیغمبر کے وضو کرنے کا منظربھی دیکھا،کہ صحابہ آپ کے وضو کے پانی کا ایک قطرہ بھی زمین پرگرنے نہیں دیتے تھے ،جب وہ واپس لوٹا تو اس نے قریش سے کھا :میں قیصر وکسریٰ او رنجاشی کے دربارمیں گیا ہوں ۔میں نے کسی سربراہ مملکت کو اس کی قوم کے درمیان اتنا با عظمت نہیں دیکھا ،جتنا محمدکی عظمت کو ان کے اصحاب کے درمیان دیکھا ہے ۔ اگر تم یہ خیال کرتے ہو کہ محمدکو چھوڑ جائیںگے تویہ بہت بڑی غلطی ہو گی ،دیکھ لو تمھارا مقابلہ ایسے ایثار کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔یہ تمھارے لئے غور و فکر کا مقام ہے ۔

بیعت رضوان

اسی دوران پیغمبر نے عمر سے فرمایا: کہ وہ مکہ جائیں ، او ر اشراف قریش کو اس سفرکے مقصد سے آگاہ کریں ،عمر نے کھاقریش مجھ سے شدید دشمنی رکھتے ہیں ،لہٰذامجھے ان سے خطرہ ہے ، بہتر یہ ہے کہ عثمان کو اس کام کے لئے بھیجا جائے ،عثمان مکہ کی طرف آئے ،تھوڑی دیر نہ گذری تھی کہ مسلمانوں کے ورمیان یہ افواہ پھیل گئی کہ ان کو قتل کر دیاہے ۔ اس مو قع پرپیغمبرنے شدت عمل کا ارادہ کیا او رایک درخت کے نیچے جو وھاں پرموجودتھا ،اپنے اصحاب سے بیعت لی جو ”بیعت رضوان“ کے نام سے مشہو رہوئی ،او ران کے ساتھ عہد وپیمان کیا کہ آخری سانس تک ڈٹیں گے،لیکن تھوڑی دیر نہ گذری تھی کہ عثمان صحیح و سالم واپس لوٹ آئے او رانکے پیچہے پیچہے قریش نے”سھیل بن عمر“کو مصالحت کے لئے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں بھیجا ،لیکن تاکید کی کہ اس سال کسی طرح بھی آپکا مکہ میںورود ممکن نہیں ہے ۔

بہت زیادہ بحث و گفتگو کے بعد صلح کا عہد و پیمان ہوا،جس کی ایک شق یہ تھی کہ مسلمان اس سال عمرہ سے باز رہیں او ر آئندہ سال مکہ میں آئیں،اس شرط کے ساتھ کہ تین دن سے زیادہ مکہ میں نہ رہیں ،او رمسافرت کے عام ہتھیارکے علاوہ او رکوئی اسلحہ اپنے ساتھ نہ لائیں۔اورمتعددمواد جن کا دارومداران مسلمانوںکی جان و مال کی امنیت پر تھا،جو مدینہ سے مکہ میں واردہوں،او راسی طرح مسلمانوں اورمشرکین کے درمیان دس سال جنگ نہ کرنے او رمکہ میں رہنے والے مسلمانوںکے لئے مذھبی فرائض کی انجام دھی بھی شامل کی گئی تھی۔

یہ پیمان حقیقت میں ہر جہت سے ایک عدم تعرض کا عہد و پیمان تھا ،جس نے مسلمانوںاو رمشرکین کے درمیان مسلسل اوربار با رکی جنگوں کو وقتی طور پر ختم کردیا ۔

صلح نامہ کی تحریر

”صلح کے عہدو پیمان کا متن “اس طرح تھاکہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی علیہ السلام کوحکم دیا کہ لکھو:

”بسم اللہ الرحمن الرحیم“:سھیل بن عمرنے،جو مشرکین کانمائندہ تھا ،کھا :میںاس قسم کے جملہ سے آشنا نہیں ہو ں،لہٰذا”بسمک اللہم“ لکھو:پیغمبر نے فرمایا لکھو :”بسمک اللهم“

اس کے بعد فرمایا: لکھویہ وہ چیز ہے جس پر محمدرسو ل اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سھیل بن عمرو سے مصالحت کی ، سھیل نے کھا : ہم اگر آپ کو رسول اللہ سمجھتے تو آپ سے جنگ نہ کرتے ،صرف اپنا او راپنے والد کا نام لکھئے،پیغمبرنے فرمایا کو ئی حرج نہیں لکھو :”یہ وہ چیز ہے جس پرمحمد بن عبد اللہ نے سھیل بن عمرو سے صلح کی ،کہ دس سال تک دو نو ں طرف سے جنگ مترو ک رہے گی تاکہ لو گوں کو امن و امان کی صورت دوبارہ میسرآئے۔

علاوہ ازایں جو شخص قریش میں سے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر محمد کے پاس آئے (او رمسلمان ہو جائے )اسے واپس کردیں اورجو شخص ان افراد میں سے جو محمد کے پاس ہیں ،قریش کی طرف پلٹ جائے تو ان کو واپس لوٹانا ضروری نہیں ہے ۔

تمام لوگ آزاد ہیں جو چاہے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے عہد و پیمان میں داخل ہو او رجو چاہے قریش کے عہد و پیمان میں داخل ہو،طرفین اس بات کے پابندہیں کہ ایک دوسرے سے خیانت نہ کرےں،او رایک دوسرے کی جان و مال کو محترم شمار کریں ۔

اس کے علاوہ محمد اس سال واپس چلے جائیں او رمکہ میں داخل نہ ہوں،لیکن آئندہ سال ہم تین دن کے لئے مکہ سے باہر چلے جائیں گے او ران کے اصحاب آجائیں ،لیکن تین دن سے زیادہ نہ ٹھہریں ، (اور مراسم عمرہ کے انجام دے کر واپس چلے جائیں )اس شرط کے ساتھ کہ سواے مسافرکے ہتھیار یعنی تلوار کے،وہ بھی غلاف میں کو ئی ہتھیار ساتھ نہ لائیں ۔

اس پیمان پر مسلمانوں او رمشرکین کے ایک گروہ نے گواھی دی او راس عہد نامہ کے کاتب علی (ع)ابن ابی طالب علیہ السلام تھے ۔

مرحو م علامہ مجلسی نے بحار الانوارمیں کچھ او رامور بھی نقل کئے ہیں ،منجملہ ان کے یہ کہ :

”اسلام مکہ میں آشکارا ہوگا اورکسی کو کسی مذھب کے انتخاب کرنے پر مجبورنہیں کریں گے ،اورمسلمان کو اذیت و آزارنہیں پہنچائیںگے“۔

اس موقع پرپیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حکم دیا کہ قربانی کے وہ اونٹ جووہ اپنے ہمراہ لائے تھے ،اسی جگہ قربان کردیںاور اپنے سروں کو منڈوائیں اور احرام سے باہرنکل آئیں ،لیکن یہ بات کچھ مسلمانوں کو سخت ناگوار معلوم ہوئی ،کیونکہ عمرہ کے مناسک کی انجام دھی کے بغیر ان کی نظرمیں احرام سے باہر نکل آنا ممکن نہیں تھا ،لیکن پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ذاتی طور پرخودپیش قدمی کی او رقربانی کے اونٹوںکو نحر کیا او راحرام سے باہرنکل آئے اورمسلمانوںکو سمجھایاکہ یہ احرام اور قربانی کے قانون میں استثناء ہے جو خداکی طرف سے قراردیا گیا ہے ۔

مسلمانوں نے جب یہ دیکھا تو سر تسلیم خم کردیا ،او رپیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا حکم کامل طورسے مان لیا،اوروہیں سے مدینہ کی راہ لی،لیکن غم واندوہ کا ایک پھاڑ ان کے دلوںپر بوجھ ڈال رھا تھا ،کیونکہ ظاہر میں یہ سارے کا ساراسفرایک نا کامی اور شکست تھی ،لیکن اسی وقت سورہ فتح نازل ہوئی اورپیغمبرگرامی اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو فتح کی بشارت ملی ۔

صلح حدیبیه ک سیاسی ،اجتماعی اور مذهبی نتائج

ہجرت کے چھٹے سال (صلح حدیبیہ کے وقت )مسلمانوں کی حالت میں او ردو سال بعد کی حالت میںفرق نمایاں تھا ،جب وہ دس ہزار کے لشکر کے ساتھ فتح مکہ کے لئے چلے تاکہ مشرکین کو پیمان شکنی کا دندان شکن جواب دیا جائے،جنانچہ انھوںنے فوجوں کو معمولی سی جھڑپ کے بغیرھی مکہ کوفتح کرلیا ،اس وقت قریش اپنے اندر مقابلہ کرنے کی معمولی سی قدرت بھی نہیں رکھتے تھے ۔ایک اجمالی موازنہ اس بات کی نشاندھی کرتا ہے کہ ”صلح حدیبیہ“ کا عکس العمل کس قدر وسیع تھا ۔

خلاصہ کے طور پر مسلمانوں نے ا س صلح سے چند امتیاز او راہم کامیابیاںحاصل کیں ،جنکی تفصیل حسب ذیل ہے ۔

۱) عملی طور پر مکہ کہ فریب خوردہ لوگوں کو یہ بتا دیا کہ وہ جنگ و جدال کا ارادہ نہیں رکھتے ،او رمکہ کے مقدس شہر اور خانہ خداکے لئے بہت زیادہ احترام کے قائل ہیں ،یھی بات ایک کثیرجماعت کے دلوںکے لئے اسلام کی طرف کشش کا سبب بن گئی ۔

۲) قریش نے پہلی مرتبہ اسلام او رمسلمانوں کی رسموں کو تسلیم کیا ،یھی وہ چیز تھی جو جزیرةالعرب میں مسلمانوں کی حیثیت کو ثابت کرنے کی دلیل بنی ۔

۳) صلح حدیبیہ کے بعد مسلمان سکون واطمنان سے ہر جگہ آجا سکتے تھے او رانکا جان و مال محفوظ ہوگیا تھا ،او رعملی طورپرمشرکین کے ساتھ قریبی تعلق اورمیل جول پیدا ہوا،ایسے تعلقات جس کے نتیجہ میں مشرکین کو اسلام کی زیادہ سے زیادہ پہچان کے ساتھ ان کی توجہ اسلام کی طرف مائل ہو ئی ۔

۴) صلح حدیبیہ کے بعد اسلام کی نشر واشاعت کے لئے سارے جزیرةالعرب میں راستہ کھل گیا ،او رپیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صلح طلبی کی شرط نے مختلف اقوام کو،جو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات او راسلام کے متعلق غلط نظریہ رکھتے تھے ،تجدید نظر پر آمادہ کیا ،او رتبلیغاتی نقطہ نظرسے بہت سے وسیع امکانات ووسائل مسلمانوںکے ہاتھ آئے ۔

۵) صلح حدیبیہ نے خیبر کو فتح کرنے او ریہودیوں کے اس سرطانی غدہ کو نکال پھینکنے کے لئے،جوبالفعل اوربالقوہ اسلام او رمسلمانوں کے لئے ایک اہم خطرہ تھا ،راستہ ہموار کردیا۔

۶) اصولی طو رپر پیغمبرکی ایک ہزار چار سو افراد کی فوج سے ٹکرلینے سے قریش کی وحشت جن کے پاس کسی قسم کے اہم جنگی ہتھیاربھی نہیں تھے، او رشرائط صلح کو قبول کرلینا اسلام کے طرفداروں کے دلوں کی تقویت ،او رمخالفین کی شکست کے لئے ،جنہوں نے مسلمانوں کو ستایاتھا خود ایک اہم عامل تھا۔

۷) واقعہ حدیبیہ کے بعد پیغمبر نے بڑے بڑے ملکو ں،ایران وروم وحبشہ کے سربراہوں ،او ردنیا کے بڑے بڑے بادشاہوںکو متعددخطوط لکہے او رانہیں اسلام کی طرف دعوت دی او ریہ چیزاچھی طرح سے اس بات کی نشاندھی کرتی ہے کہ صلح حدیبیہ نے مسلمانوں میں کس قدر خود اعتمادی پیداکردی تھی،کہ نہ صرف جزیرہ عرب میں بلکہ اس زمانہ کی بڑی دنیا میں ان کی راہ کو کھول دیا۔

اب تک جو کچھ بیان کیا گیا ہے ،اس سے یہ بخوبی معلوم کیا جا سکتا ہے، کہ واقعاً صلح حدیبیہ مسلمانوں کے لئے ایک عظیم فتح او رکامیابی تھی ،اور تعجب کی بات نہیں ہے کہ قرآن مجیدا سے فتح مبین کے عنوان سے یاد کرتا ہے :

صلح حدیبیہ یا عظیم الشان فتح

جس و قت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حدیبیہ سے واپس لوٹے (او رسورہ فتح نازل ہوئی )تو ایک صحابی نے عرض کیا :”یہ کیا فتح ہے کہ ہمیں خانہ خدا کی زیارت سے بھی رو ک دیا ہے او رہماری قربانی میں بھی رکاوٹ ڈال دی“؟!

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:”تو نے بہت بری بات کھی ہے ،بلکہ یہ تو ہماری عظیم ترین فتح ہے کہ مشرکین اس بات پر راضی ہوگئے ہیں کہ تمہیں خشونت آمیز طریقہ سے ٹکر لئے بغیر اپنی سرزمین سے دور کریں، اور تمھارے سامنے صلح کی پیش کش کریں اوران تمام تکالیف او ررنج وغم کے باو جود جو تمھاری طرف سے انھوں نے اٹھائے ہیں ،ترک تعرض کے لئے تمھاری طرف مائل ہوئے ہیں ۔

اس کے بعد پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے وہ تکالیف جو انھوں نے بدر واحزاب میں جھیلی تہیں انہیں یاد دلائیں، تو مسلمانوں نے تصدیق کی کہ یہ سب سے بڑی فتح تھی او رانھوں نے لا علمی کی بناء پر یہ فیصلہ کیا تھا ۔

”زہری “جو ایک مشہور تابعی ہے، کہتا ہے:کوئی بھی فتح صلح حدیبیہ سے زیادہ عظیم نہیں تھی ،کیونکہ مشرکین نے مسلمانوں کے ساتھ ارتباط اور تعلق پیدا کیا او راسلام ان کے دلوں میں جاں گزیں ہوا ،او رتین ھی سال کے عرصہ میں ایک عظیم گروہ اسلام لے آیا او رمسلمانوں میں ان کی وجہ سے اضافہ ہوا“۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا سچا خواب

جیسا کہ ہم نے شروع میں عرض کیا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مدینہ میں ایک خواب دیکھا کہ آپ اپنے صحابہ کے ساتھ عمرہ کے لئے مناسک ادا کرنے کے لئے مکہ میں داخل ہورہے ہیں اور اس خواب کو صحابہ کے سامنے بیان کردیا ، وہ سب کے سب شاد و خوش حال ہوئے لیکن چونکہ ایک جماعت یہ خیال کرتی تھی کہ اس خواب کی تعبیر اسی سال پوری ہوگی، تو جس وقت قریش نے مکہ میں ان کے دخیل ہونے کا راستہ حدیبیہ میں ان کے آگے بند کردیا تو وہ شک و تردید میں مبتلا ہوگئے، کہ کیا پیغمبر کا خواب غلط بھی ہوسکتا ہے، کیا اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ ہم خانہ خدا کی زیارت سے مشرف ہوں؟ پس اس وعدہ کا کیا ہوا؟ اور وہ رحمانی خواب کھاں چلا گیا؟

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس سوال کے جواب میں فرمایا:کیا میں نے تمہیں یہ کھا تھا کہ یہ خواب اسی سال پورا ہوگا؟ اسی بارے میں مدینہ کی طرف بازگشت کی راہ میں وحی الٰھی نازل ہوئی اور تاکید کی کہ یہ خواب سچا تھا او رایسا مسئلہ حتمی و قطعی اور انجام پانے والا ہے۔

ارشاد خدا وندعالم ہوتا ہے:”خد نے اپنے پیغمبر کو جو کچھ دکھلایا تھا وہ سچ اور حق تھا“۔(۷۶)

اس کے بعد مزید کہتا ہے: ”انشاء اللہ تم سب کے سب قطعی طور پر انتھائی امن وامان کے ساتھ اس حالت میں کہ تم اپنے سروں کو منڈوائے ہوئے ہوں گے، یا اپنے ناخنوں کو کٹوائے ہوئے ہوں گے مسجد الحرام میں داخل ہوں گے اور کسی شخص سے تمہیں کوئی خوف ووحشت نہ ہوگی“۔(۷۷)

مومنین کے دلوں پرنزول سکینہ

یہاںگذشتہ میں جو کچھ بیا ن ہوا ہے،وہ اتنی عظیم نعمتیں تہیں جو خدا نے فتح مبین و (صلح حدیبیہ) کے سائے میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو عطا فرمائی تہیں لیکن یہاں پراس عظیم نعمت کے بارے میں بحث کی جارھی ہے جو اس نے تمام مئومنین کو مرحمت فرمائی ہے ، فرماتاہے : وھی تو ہے ، جس نے مومنین کے دلوں میں سکون واطمینان نازل کیا، تاکہ ان کے ایمان میںمزید ایمان کا اضافہ کر“

اور سکون واطمینان ان کے دلوں پر نازل کیوں نہ ہو” در آنحالیکہ آسمانوں اور زمین کے لشکر خدا کےلئے ہیں اور وہ دا ناو حکیم ہے “(۷۸)

یہ سکینہ کیا تھا ؟

ضروری ہے کہ ہم پہر”صلح حدیبیہ“ کی داستان کی طرف لوٹیں اور اپنے آپ کو” صلح حدیبیہ “ کی فضا میں اور اس فضاء میں جو صلح کے بعد پیدا ہوئی ، تصور کریں تاکہ آیت کے مفہوم کی گہرائی سے آشنا ہوسکیں ۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ایک خواب دیکھا تھا (ایک رؤیائے الٰھی ورحمانی) کہ آپ اپنے اصحاب کے ساتھ مسجد الحرام میں داخل ہورہے ہیں اور اس کے بعد خانہ خدا کی زیارت کے عزم کے ساتھ چل پڑے زیادہ تر صحابہ یھی خیال کرتے تھے کہ اس خواب اورر ویائے صالحہ کی تعبیر اسی سفر میں واقع ہوگی، حالانکہ مقدر میں ایک دوسری چیز تھی یہ ایک بات۔

دوسری طرف مسلمانوں نے احرام باندھا ہوا تھا، لیکن ان کی توقع کے بر خلاف خانہ خدا کی زیارت کی سعادت تک نصیب نہ ہوئی اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حکم دے دیا کہ مقام حدیبیہ میں ھی قربانی کے اونٹوں کو نحرکہ دیں ،کیونکہ ان کے آداب وسنن کا بھی اور اسلامی احکام ودستور کا بھی یھی تقاضا تھا کہ جب تک مناسک عمرہ کو انجام نہ دے لیں احرام سے باہر نہ نکلیں ۔

تیسری طرف حدیبیہ کے صلح نامہ میں کچھ ایسے امور تھے جن کے مطالب کو قبول کرنا بہت ھی دشوار تھا،منجملہ ان کے یہ کہ اگر قریش میں سے کوئی شخص مسلمان ہوجائے اور مدینہ میں پناہ لے لے تو مسلمان اسے اس کے گہروالوں کے سپرد کردیں گے،لیکن اس کے برعکس لازم نہیں تھا ۔

چوتھی طرف صلح نامہ کی تحریر کے موقع پر قریش اس بات پر تیار نہ ہوئے کہ لفظ ” رسول اللہ” محمد“ کے نام کے ساتھ لکھا جائے، اور قریش کے نمائندہ ” سھیل “ نے اصرار کرکے اسے حذف کرایا ، یہاں تک کہ ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ کے لکھنے کی بھی موافقت نہ کی ،اور وہ یھی اصرار کرتا رھا کہ اس کے بجائے ”بسمک اللہم“لکھاجائے ، جو اہل مکہ کی عادت اور طریقہ کے مطابق تھاواضح رہے، کہ ان امور میں سے ہر ایک علیحدہ علیحدہ ایک ناگوار امرتھا۔

چہ جائیکہ وہ سب کے سب مجموعی طور سے وھاں جاتے رہے، اسی لئے ضعیف الایمان ،لوگوں کے دل ڈگمگا گئے ،یہاںتک کہ جب سورہ فتح نازل ہوئی تو بعض نے تعجب کے ساتھ پوچھا :کونسی فتح ؟

یھی وہ موقع ہے جب نصرت الٰھی کو مسلمانوں کے شامل حال ہونا چاہئے تھا اور سکون واطمینان ان کے دلوں میں داخل ہوتا تھا نہ یہ کہ کوئی فتور اورکمزوری ان میں پیداہوتی تھی۔

بلکہ” لیزدادوا ایمانا مع ایمانهم“ ۔ کے مصداق کی قوت ایمانی میں اضافہ ہونا چاہئے تھا اوپر والی آیت ایسے حالات میں نازل ہوئی ۔

ممکن ہے اس سکون میں اعتقادی پھلو ہو اور وہ اعتقاد میں ڈگمگا نے سے بچائے ، یا اس میں عملی پھلو ہواس طرح سے کہ وہ انسان کو ثبات قدم ، مقاومت اور صبر و شکیبائی بخشے ۔

پیچھے رہ جانے والوں کی عذر تراشی

گذشتہ صفحات میں ہم بیان کرچکے ہیں کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایک ہزار چار سو مسلمانوں کے ساتھ مدینہ سے عمرہ کے ارادہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔

پیغمبر کی طرف سے بادیہ نشین قبائل میں اعلان ہوا کہ وہ بھی سب کے سب کے ساتھ چلیں لیکن ضعیف الایمان لوگوں کے ایک گروہ نے اس حکم سے رو گردانی کرلی،اور ان کا تجزیہ تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ مسلمان اس سفر سے صحیح وسالم بچ کر نکل آئیں ، حالانکہ کفار قریش پہلے ھی ہیجان واشتعال میں تھے ، اور انھوں نے احدواحزاب کی جنگیں مدینہ کے قریب مسلمانوں پر تھوپ دی تہیں اب جبکہ یہ چھوٹا ساگروہ بغیر ہتھیاروں کے اپنے پاؤں سے چل کر مکہ کی طرف جآرہا ہے ، گویا بھڑوں کے چھتہ کے پاس خود ھی پہنچ رھا ہے ، تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ اپنے گہروں کی طرف واپس لوٹ آئیں گے ؟

لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ مسلمان کا میابی کے ساتھ اور قابل ملا حظہ امتیازات کے ہمراہ جو انھوں نے صلح حدیبیہ کے عہد وپیمان سے حاصل کئے تھے ، صحیح وسالم مدینہ کی طرف پلٹ آئے ہیں اور کسی کے نکسیر تک بھی نہیں چھوٹی ، تو انہوں نے اپنی عظیم غلطی کا احساس کیا اور پیغمبر کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ کسی طرح کی عذر خواھی کرکے اپنے فعل کی توجیہ کریں ، اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے استغفار کا تقاضا کریں ۔

لیکن وحی نازل ہوئی اور ان کے اعمال سے پردہ اٹھادیا اور انہیں رسوا کیا ۔

اس طرح سے منافقین اور مشرکین کی سرنوشت کا ذکر کر نے کے بعد، یہاں پیچہے رہ جانے والے ضعیف الایمان لوگوں کی کیفیت کا بیان ہورھا ہے تاکہ اس بحث کی کڑیاں مکمل ہوجائیں ۔

فرماتاہے ” عنقریب بادیہ نشین اعراب میں سے پیچہے رہ جانے والے عذر تراشی کرتے ہوئے کہیں گے: ہمارے مال ومتاع اور وھاںپر بچوں کی حفاظت نے ہمیں اپنی طرف مائل کرلیاتھا، اور ہم اس پرُبرکت سفر میں آپ کی خدمت میں نہ رہ سکے، رسالتماب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہمارے عذر کو قبول کرتے ہوئے ہمارے لئے طلب بخشش کیجئے ،وہ اپنی زبان سے ایسی چیز کہہ رہے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہے “۔(۷۹)

وہ تو اپنی توبہ تک میں بھی مخلص، نہیں ہیں ۔

لیکن ان سے کہہ دیجئے : ”خدا کے مقابلہ میں اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہے تو کس کی مجال ہے کہ وہ تمھارا دفاع کرسکے، اور اگر وہ تمہیں کچھ نفع پہنچانا چاہے تو کس میں طاقت ہے، کہ اسے روک سکے “۔(۸۰)

خدا کے لئے یہ بات کسی طرح بھی مشکل نہیں ہے ، کہ تمہیں تمھارے امن وامان کے گہروں میں ، بیوی بچوں اور مال ومنال کے پاس ،انواع واقسام کی بلاؤں اور مصائب میں گرفتار کردے ،اور اس کےلئے یہ بھی کوئی مشکل کام نہیں ہے کہ دشمنوں کے مرکز میں اور مخالفین کے گڑھ میں تمہیں ہر قسم کے گزندسے محفوظ رکہے، یہ تمھاری قدرت خدا کے بارے میںجھالت اور بے خبری ہے جو تمھاری نظر میں اس قسم کے انکار کو جگہ دیتی ہے ۔

ھاں، خدا ان تمام اعمال سے جنہیں تم انجام دیتے ہو باخبر اور آگاہ ہے “(۸۱)

بلکہ وہ تو تمھارے سینوں کے اندر کے اسرار اور تمھاری نیتوں سے بھی اچھی طرح باخبر ہے ، وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ عذر اور بھانے واقعیت اور حقیقت نہیں رکھتے اور جو اصل حقیقت اور واقعیت ہے وہ تمھاری شک و ترید، خوف وخطر اور ضعف ایمان ہے ، اور یہ عذر تراشیاں خدا سے مخفی نہیں رہتیں، اور یہ ہرگز تمھاری سزا کو نہیں روکیں گی ۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن کے لب ولہجہ سے بھی اور تواریخ سے بھی یھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ وحی الٰھی پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مدینہ کی طرف بازگشت کے دوران نازل ہوئی، یعنی اس سے پہلے کہ پیچہے رہ جانے والے آئیں اورعذر تراشی کریں ، ان کے کام سے پردہ اٹھادیا گیا اور انہیں رسوا کردیا۔

قرآن اس کے بعد مزید وضاحت کے لئے مکمل طور پر پردے ہٹاکر مزید کہتا ہے :”بلکہ تم نے تو یہ

گمان کرلیا تھا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور مومنین ہرگز اپنے گہروالوں کی طرف پلٹ کرنہیں آئیں گے“ ۔(۸۲)

ھاں ، اس تاریخی سفر میں تمھارے شریک نہ ہونے کا سبب ، اموال اور بیوی بچوں کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ اس کا اصلی عامل وہ سوء ظن تھا جو تم خدا کے بارے میں رکھتے تھے، اور اپنے غلط اندازوں کی وجہ سے یہ سوچتے تھے کہ یہ سفر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ختم ہونے کا سفر ہے اور کیونکہ شیطانی وسوسہ تمھارے دلوں میں زینت پاچکے تھے ،اور یہ تم نے برا گمان کیا“۔(۸۳) کیونکہ تم یہ سوچ رہے تھے کہ خدا نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اس سفر میں بھیج کر انہیں دشمن کے چنگل میں دےدیا ہے ، اور ان کی حمایت نہیں کرے گا ،” اور انجام کار تم ہلاک ہوگئے “۔(۸۴) اس سے بدتر ہلاکت اور کیا ہوگی کہ تم اس تاریخی سفر میں شرکت ، بیعت رضوان، اور دوسرے افتخارات واعزازات سے محروم رہ گئے، اور اس کے پیچہے عظیم رسوائی تھی اور آئندہ کے لئے آخرت کادردناک عذاب ہے ، ھاں تمھارے دل مردہ تھے اس لئے تم اس قسم کی صورت حال میں گرفتار ہوئے۔

اگر حدیبیہ میں جنگ ہوجاتی

قرآن اسی طرح سے ” حدیبیہ“ کے عظیم ماجرے کے کچھ دوسرے پھلووں کو بیان کرتے ہوئے، اور اس سلسلہ میں دو اہم نکتوں کی طرف اشارہ کررھا ہے۔

پہلا یہ کہ یہ خیال نہ کرو کہ سرزمین ” حدیبیہ “ میں تمھارے اور مشرکین مکہ کے درمیان جنگ چھڑجاتی تو مشرکین جنگ میں بازی لے جاتے، ایسا نہیں ہے، اکثر کفار تمھارے ساتھ وھاں جنگ کرتے تو بہت جلدی پیٹھ پھیر کر بھاگ جاتے، اور پہر کوئی ولی ویاورنہ پاتے “۔(۸۵)

اور یہ بات صرف تم تک ھی منحصر نہیں ہے ، ” یہ تو ایک سنت الٰھی ہے ،جو پہلے بھی یھی تھی اور تم سنت الٰھی میں ہرگز تغیرو تبدیلی نہ پاؤ گے۔(۸۶)

وہ اہم نکتہ جو قرآن خاص طور پر بیان کررھاہے، یہ ہے کہ کہیں قریش بیٹھ کر یہ نہ کہنے لگیں ، کہ افسوس ہم نے جنگ کیوں نہ کی اوراس چھوٹے سے گروہ کی سرکوبی کیوں نہ کی، افسوس کہ شکارہمارے گہر میں آیا، اور اس سے ہم نے غفلت برتی ، افسوس ، افسوس ۔

ہرگز ایسا نہیں ہے اگر چہ مسلمان ان کی نسبت تھوڑے تھے، اور وطن اور امن کی جگہ سے بھی دور تھے، اسلحہ بھی ان کے پاس کافی مقدار میں نہیں تھا، لیکن اس کے باوجود اگر جنگ چھڑجاتی تو پہر بھی قوت ایمانی اور نصرت الٰھی کی برکت سے کامیابی انہیں ھی حاصل ہوتی، کیا جنگ ”بدر “ اور” احزاب “ میں ان کی تعداد بہت کم اور دشمن کا سازو سامان اور لشکر زیادہ نہ تھا؟ ان دونوں مواقع پر دشمن کو کیسے شکست ہوگئی ۔

بہرحال اس حقیقت کا بیان مومنین کے دل کی تقویت اور دشمن کے دل کی کمزوری اور منافقین کے ” اگر “ اور ” مگر “ کے ختم ہونے کا سبب بن گئی اور اس نے اس بات کی نشاندھی کردی کہ ظاہری طور پر حالات کے برابر نہ ہونے کے باوجود اگر جنگ چھڑجائے تو کامیابی مخلص مومنین ھی کو نصیب ہوتی ہے ۔

دوسرا نکتہ جو قرآن میں بیان ہوا ہے یہ ہے کہ فرماتاہے ”وھی تو ہے جس نے کفار کے ہاتھ کو مکہ میں تم سے باز رکھا اور تمھارے ہاتھ کو ان سے،یہ اس وقت ہوا جبکہ تمہیں ان پر کامیابی حاصل ہوگئی تھی، اور خدا وہ سب کچھ جو تم انجام دے رہے ہو دیکھ رھاہے “۔(۸۷)

مفسرین کی ایک جماعت نے اس آیت کےلئے ایک ” شان نزول“ بیان کی ہے اور وہ یہ ہے کہ: مشرکین مکہ نے ”حدیبیہ “کے واقعہ میں چالیس افراد کو مسلمانوں پرضرب لگانے کےلئے مخفی طور پر حملہ کے لئے تیار کیا، لیکن ان کی یہ سازش مسلمانوں کی ہوشیاری سے نقش برآب ہوگئی اور مسلمان ان سب کو گرفتار کرکے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں لے آئے ، اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے انہیں رھا کردیا ۔ بعض نے یہ بھی کھا ہے کہ جس وقت پیغمبر درخت کے سائے میں بیٹہے ہوئے تھے تاکہ قریش کے نمائندہ کے ساتھ صلح کے معاہدہ کو ترتیب دیں ، اور علی علیہ السلام لکھنے میں مصروف تھے، تو جوانان مکہ میں سے ۳۰ افراد اسلحہ کے ساتھ آپ پر حملہ آور ہوئے،اور معجزا نہ طورپر ان کی یہ سازش بے کار ہوگئی اور وہ سب کے سب گرفتار ہوگئے اور حضرت نے انہیں آزاد کردیا ۔

عمرة القضاء

”عمرة القضاء“وھی عمرہ ہے جو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حدیبیہ سے ایک سال بعد یعنی ہجرت کے ساتویں سال کے ماہ ذی القعدہ میں اسے( ٹھیک ایک سال بعد جب مشرکین نے آپ کو مسجد الحرام میں داخل ہونے سے روکا تھا) اپنے اصحاب کے ساتھ انجام دیا اوراس کا یہ نام اس وجہ سے ہے ، چونکہ یہ حقیقت میں گزشتہ سال کی قضاء شمار ہوتا تھا۔ اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ : قرار داد حدیبیہ کی شقوں میں سے ایک شق کے مطابق پروگرام یہ تھا کہ مسلمان آئندہ سال مراسم عمرہ اور خانہ خدا کی زیارت کو آزادانہ طور پر انجام دیں، لیکن تین دن سے زیادہ مکہ میں توقف نہ کریں اور اس مدت میں قریش کے سردار اور مشرکین کے جانے پہچانے افراد شہرسے باہر چلے جائیں گے تاکہ ایک تو احتمالی ٹکراؤ سے بچ جائیں اور کنبہ پروری اور تعصب کی وجہ سے جو لوگ مسلمانوں کی عبادت توحیدی کے منظر کو دیکھنے کا یارا اور قدرت نہیں رکھتے، وہ بھی اسے نہ دیکہیں )

بعض تواریخ میں آیا ہے کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے صحابہ کے ساتھ احرام باندھا اور قربانی کے اونٹ لے کر چل پڑے اور ” ظہران“کے قریب پہنچ گئے اس موقع پر پیغمبر نے اپنے ایک صحابی کو جس کا نام “ محمد بن مسلمہ“ تھا، عمدہ سواری کے گھوڑوں اور اسلحہ کے ساتھ اپنے آگے بھیج دیا، جب مشرکین نے اس پر وگرام کو دیکھا تو وہ سخت خوف زدہ ہوئے اور انھوں نے یہ گمان کرلیا کہ حضرت ان سے جنگ کرنا اور اپنی دس سالہ صلح کی قرار داد کو توڑنا چاہتے ہیں ، لوگوں نے یہ خبر اہل مکہ تک پہنچادی لیکن جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مکہ کے قریب پہنچے تو آپ نے حکم دیا کہ تمام تیر اور نیزے اور دوسرے سارے ہتھاراس سرزمین میں جس کا نام ”یاجج“ ہے منتقل کردیں، اور آپ خود اور آپ کے صحابہ صرف نیام میں رکھی ہوئی تلواروں کے ساتھ مکہ میں دارد ہوئے ۔ اہل مکہ نے جب یہ عمل دیکھا تو بہت خوش ہوئے کہ وعدہ پورا ہوگیا، (گویا پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا یہ اقدام مشرکین کے لئے ایک تنبیہ تھا،کہ اگر وہ نقض عہد کرنا چاہیں اور مسلمانوں کے خلاف سازش کریں،تو ان کے مقابلہ کی قدرت رکھتے ہیں )

رؤ سائے مکہ، مکہ سے باہر چلے گئے، تاکہ ان مناظر کو جوان کےلئے دل خراش تھے نہ دیکہیں لیکن باقی اہل مکہ مرد ، عورتیں اور بچے سب ھی راستوں میں ، چھتوں کے اوپر ، اور خانہ خدا کے اطراف میں جمع ہوگئے تھے ، تاکہ مسلمانوں اور ان کے مراسم عمرہ کو دیکہیں ۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خاص رُعب اور دبدبہ کے ساتھ مکہ میں وارد ہوئے اور قربانی کے بہت سے اونٹ آپ کے ساتھ تھے، اورآپ نے انتھائی محبت اور ادب کے ساتھ مکہ والوں سے سلوک کیا،اور یہ حکم دیا کہ مسلمان طواف کرتے وقت تیزی کے ساتھ چلیں ، اور احرام کو ذراسا جسم سے ہٹالیں تاکہ ان کے قوی اور طاقتور اور موٹے تازے شانے آشکار ہوں ، اور یہ منظر مکہ کے لوگوں کی روح اور فکر میں ، مسلمانوں کی قدرت وطاقت کی زندہ دلیل کے طور پر اثراندز ہو ۔

مجموعی طور سے ” عمرة القضاء“ عبادت بھی تھا اور قدرت کی نمائش بھی ،یہ کہنا چاہئے کہ ” فتح مکہ “ جو بعد والے سال میں حاصل ہوئی ، اس کا بیج انہیں دنوں میں بویا گیا ، اوراسلام کے مقابلہ میں اہل مکہ کے سرتسلیم خم کرنے کے سلسلے میں مکمل طور پر زمین ہموار کردی ۔ یہ وضع وکیفیت قریش کے سرداروں کے لئے اس قدر ناگوار تھی کہ تین دن گزرنے کے بعد کسی کو پیغمبر کی خدمت میں بھیجا کہ قرادداد کے مطابق جتنا جلدی ہو سکے مکہ کو چھوڑدیجئے ۔ قابل توجہ بات یہ ہے ، کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مکہ کی عورتوں میں سے ایک بیوہ عورت کو،جو قریش کے بعض سرداروں کی رشتہ دار تھی، اپنی زوجیت میں لے لیا، تاکہ عربوں کی رسم کے مطابق ،اپنے تعلق اور رشتے کو ان سے مستحکم کرکے ان کی عداوت اور مخالفت میں کمی کریں ۔

جس وقت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مکہ سے باہر نکل جانے کی تجویز سنی تو آپ نے فرمایا : میں اس ازدواج کے مراسم کے لئے کھانا کھلانا چاہتا ہوں اور تمھاری بھی دعوت کرنا چاہتاہوں ،یہ دعوت رسمی طور پررد کردی گئی ۔

فتح خیبر

جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حدیبیہ سے واپس لوٹے تو تمام ماہ ذی الحجہ اور ہجرت کے ساتویں سال کے محرم کا کچھ حصہ مدینہ میں توقف کیا، اس کے بعد اپنے اصحاب میں سے ان ایک ہزار چار سوافراد کو جنہوں نے حدیبیہ میں شرکت کی تھی ساتھ لے کر خیبر کی طرف روانہ ہوئے ،(جو اسلام کے برخلاف تحریکوں کا مرکز تھا، اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کسی مناسب فرصت کے لئے گن گن کردن گزار رہے تھے کہ اس مرکز فساد کو ختم کریں۔

روایات کے مطابق جس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ”حدیبیہ“ سے پلٹ رہے تھے توحکم خدا سے آپ نے حدیبیہ میں شرکت کرنے والے مسلمانوں کو ” فتح خیبر“ کی بشارت دی ، اور تصریح فرمائی کہ اس جنگ میں صرف وھی شرکت کریں گے ، اور جنگ میں حاصل شدہ مال غنیمت بھی انہیں کے ساتھ مخصوص ہوگا تخلف کرنے والوں کو ان غنائم میں سے کچھ نہ ملے گا ۔

لیکن جو نھی ان ڈر پوک دنیا پرستوں نے قرائن سے یہ سمجھ لیا کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس جنگ میں جو انہیں درپیش ہے یقینی طور پر کامیاب ہوں گے اور سپاہ اسلام کو بہت سامال غنیمت ہاتھ آئے گا، تو وقت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میدان خیبر میں شرکت کی اجازت چاھی اور شاید اس عذر کو بھی ساتھ لیا کہ ہم گزشتہ غلطی کی تلافی کرنے ، اپنی ذمہ داری کے بوجھ کو ھلکا کرنے ، گناہ سے توبہ کرنے اور اسلام وقرآن کی مخلصانہ خدمت کرنے کے لئے یہ چاہتے ہیں کہ ہم میدان جھاد میں آپ کے ساتھ شرکت کریں ، وہ اس بات سے غافل تھے کہ وحی الٰھی پہلے ھی نازل ہوچکی تہیں اور ان کے راز کو فاش کرچکی تہیں ، جیسا کہ قرآن میں بیان ہوا ہے ۔

” جس وقت تم کچھ غنیمت حاصل کرنے کے لئے چلو گے تو اس وقت پیچہے رہ جانے والے کہیں گے : ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے کی اجازت دیں اور اس جھاد میں شرکت کرنے کا شرف بخشیں “۔(۸۸)

بہرحال قرآن اس منفعت اور فرصت طلب گروہ کے جواب میں کہتا ہے :”وہ یہ چاہتے ہیں کہ خدا کے کلام کو بدل دیں “۔(۸۹)

اس کے بعد مزید کہتا ہے :”ان سے کہہ و : تم ہرگز ہمارے پیچہے نہ آنا“ تمہیں اس میدان میں شرکت کرنے کا حق نہیں ہے ،یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جو میں اپنی طرف سے کہہ رھاہوں ” یہ تو وہ بات ہے جو خدا نے پہلے سے ھی کہہ دی ہے “ ۔(۹۰) اور ہمیں تمھارے مستقبل (کے بارے میں ) باخبر کردیا ہے ۔

خدا نے حکم دیا ہے کہ ” غنائم خیبر“،”اہل حدیبیہ “ کے لئے مخصوص ہیں اور اس چیز میں کوئی بھی ان کے ساتھ شرکت نہ کرے ، لیکن یہ بے شرم اور پرا دعا پیچہے رہ جانے والے پہر بھی میدان سے نہیں ہٹتے اور تمہیں حسد کے ساتھ متہم کرتے ، اور عنقریب وہ یہ کہیں گے : کہ معاملہ اس طرح نہیں ہے بلکہ تم ہم سے حسد کررہے ہو ۔(۹۱)

اور اس طرح وہ ضمنی طور پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تکذیب بھی کرتے تھے یھی لوگ”جنگ خیبر“میں انہیں شرکت سے منع کرنے کی اصل حسد کو شمار کرتے ہیں ۔

دعائے پیامبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم

”غطفان“کے قبیلہ نے شروع میں تو خیبر کے یہودیوں کی حمایت کرنے کا ارادہ کیا تھا، لیکن بعد میں ڈرگئے اور اس سے رک گئے ۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جس وقت”خیبر“ کے قلعوں کے نزدیک پہنچے تو آپ نے اپنے صحابہ کو رکنے کا حکم دیا، اس کے بعد آسمان کی طرف سربلند کیا اور یہ دعا پڑھی:

”خداوندا ! اے آسمانوں کے پروردگار اور جن پر انھوں نے سایہ ڈالا ہے، اور اے زمینوں کے پروردگار اور جن چیزوں کو انھوں نے اٹھارکھا ہے میں تجھ سے اس آبادی اور اس کے اہل میں جو خیر ہے اس کا طلب گارہوں، اور تجھ سے اس کے شراور اس میں رہنے والوں کے شر اور جو کچھ اس میں ہے اس شرسے پناہ مانگتاہوں“ ۔اس کے بعد فرمایا:” بسم اللہ “آگے بڑھو: اور اس طرح سے رات کے وقت ”خیبر“ کے پاس جاپہنچے‘ اور صبح کے وقت جب ا”ھل خیبر“ اس ماجرا سے باخبر ہوئے تو خود کو لشکر اسلام کے محاصرہ میں دیکھا، اس کے بعد پیغمبر نے یکے بعد دیگرے ان قلعوں کو فتح کیا،یہاں تک کہ آخری قلعہ تک ، جو سب سے زیادہ مضبوط اور طاقتور تھا، اور مشہور یہودی کمانڈر”مرحب“ اس میں رہتا تھا، پہنچ گئے ۔

انہیں دنوں میں ایک سخت قسم کا دردسر، جو کبھی کبھی پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو عارض ہوا کرتا تھا، آپ کو عارض ہوگیا ، اس طرح سے کہ ایک دو دن آپ اپنے خیمہ سے باہر نہ آسکے تو اس موقع پر (مشہور اسلامی تواریخ کے مطابق ) حضرت ابوبکر، نے علم سنبھالا اور مسلمانوں کو ساتھ لے کر یہودیوں کے لشکر پر حملہ آور ہوئے ، لیکن کوئی نتیجہ حاصل کیے بغیر واپس پلٹ آئے دوسری دفعہ ” حضرت عمر“ نے علم اٹھایا، اور مسلمان پہلے دن کی نسبت زیادہ شدت سے لڑے،لیکن بغیر کسی نتیجہ کے واپس پلٹ آئے ۔

فاتح خیبر علی علیہ السلام

یہ خبر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تک پہنچی تو آپ نے فرمایا:”خدا کی قسم کل یہ علم ایسے مرد کو دوں گا جو خدا اور اس کے رسول کو دوست رکھتا ہے، اور خدا اور پیغمبر اس کو دوست رکھتے ہیں ،اور وہ اس سے قلعہ کو طاقت کے زورسے فتح کرے گا “۔ ہرطرف سے گردنیں اٹھنے لیگیں کہ اس سے مرادکون شخص ہے؟ کچھ لوگوں کا اندازہ تھا کہ پیغمبر کی مراد علی علیہ السلام ہیں لیکن علی علیہ السلام ابھی وھاں موجود نہیں تھے،کیونکہ شدید آشوب چشم انہیں لشکر میں حاضر ہونے سے مانع تھا، لیکن صبح کے وقت علی علیہ السلام اونٹ پر سوار ہوکر وارد ہوئے، اور پیغمبر اکرم کے خیمہ کے پاس اترے درحالیکہ آپ کی آنکہیں شدت کے ساتھ درد کررھی تہیں ۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا :میرے نزدیک آؤ،آپ قریب گئے توآنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے دہن مبارک کا لعاب علی علیہ السلام کی آنکھوں پر ملا اور اس معجزہ کی برکت سے آپ کی آنکہیں بالکل ٹھیک ہوگئیں اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علم ان کے ہاتھ میں دیا۔

علی علیہ السلام لشکر اسلام کو ساتھ لے کر خیبر کے سب سے بڑے قلعہ کی طرف بڑہے تو یہودیوں میں سے ایک شخص نے قلعہ کے اوپر سے پوچھا کہ آپ کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” میں علی بن ابی طالب“ ہوں، اس یہودی نے پکار کر کھا : اے یہودیو! اب تمھاری شکست کا وقت آن پہنچا ہے ، اس وقت اس قلعہ کا کمانڈر مرحب یہودی ، علی علیہ السلام سے مقابلہ کے لئے نکلا، اور کچھ دیر نہ گزری تھی کہ ایک ھی کاری ضرب سے زمین پر گرپڑا ۔

مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان شدید جنگ شروع ہوگئی، علی علیہ السلام قلعہ کے دروازے کے قریب آئے ، اور ایک قوی اورپُر قدرت حرکت کے ساتھ دروازے کو اکھاڑا اور ایک طرف پھینک دیا، اور اس زور سے قلعہ کھل گیا اور مسلمان اس میں داخل ہوگئے اور اسے فتح کرلیا ،یہودیوں نے اطاعت قبول کرلی، اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے درخواست کی کہ اس اطاعت کے عوض ان کی جان بخشی کی جائے، پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کی درخواست کو قبول کرلیا، منقول غنائم اسلامی لشکر کے ہاتھ آئے اور وھاں کی زمینیں اور باغات آپ نے یہودیوں کو اس شرط کے ساتھ سپرد کردئیے کہ اس کی آمدنی کا آدھا حصہ وہ مسلمانوں کو دیا کریں گے ۔

آخرکار پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے تواریخ کی نقل کے مطابق غنائم خیبرصرف اہل حدیبیہ پر تقسیم کئے، یہاں تک کہ ان لوگوں کے لئے بھی جو حدیبیہ میں موجود تھے اور کسی وجہ سے جنگ خیبر میں شریک نہ ہوسکے ان کے لئے بھی ایک حصہ قراردیا ، البتہ ایسا آدمی صرف ایک ھی تھا، اور وہ ” جابربن عبداللہ(رض)تھا ۔

فتح مکہ

فتح مکہ نے؛ تاریخ اسلام میں ایک نئی فصل کا اضافہ کیاہے اور تقریباً بیس سال کے بعد دشمن کی مقاومتوں کو ہمیشہ کے لئے ختم کردیا، حقیقت میں فتح مکہ سے جزیرة العرب سے شرک و بت پر ستی کی بساط لپیٹ دی گئی ،اور اسلام دنیاکے دوسرے ممالک کی طرف حرکت کے لئے آمادہ ہوا۔

اس واقعہ کا خلاصہ یہ ہے کہ عہد وپیمان اور صلح کے بعد کفار نے عہد شکنی کی اور اس صلح نامہ کونظر انداز کردیا، اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعض حلیفوں کے ساتھ زیادتی کی، آپ کے حلیفوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے شکایت کی تورسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے حلیفوںکی مددکرنے کا ارادہ کرلیا،اور دوسری طرف مکہ میں بت پرستی شرک اور نفاق کا جو مرکز قائم تھا اس کے ختم ہونے کے تمام حالات فراہم ہوگئے تھے اور یہ ایک ایسا کام تھا جسے ہر حالت میں انجام دینا ضروری تھا،اس لئے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حکم سے مکہ کی طرف جانے کے لئے آمادہ ہوگئے ،فتح مکہ تین مراحل میںانجام پائی ۔

پہلا مرحلہ مقدماتی تھا، یعنی ضروری قوااور توانائیوں کو فراہم کرنا، زمانہ کے موافق حالات کا انتخاب اور دشمن کی جسمانی و روحانی قوت و توانائی کی مقدار وکیفیت کی حیثیت کے بارے میں کافی اطلاعات حاصل کرنا تھا۔

دوسرا مرحلہ، فتح کے مرحلہ کوبہت ھی ماہرانہ اور ضائعات و تلفات یعنی نقصان کے بغیر انجام دینا تھا۔ اور آخری مرحلہ، جو اصلی مرحلہ تھا، وہ اس کے آثار و نتائج کا مرحلہ تھا۔

یہ مرحلہ انتھائی دقت، باریک بینی اور لطافت کے ساتھ انجام پایا ، خصوصاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مکہ و مدینہ کی شاہراہ کو اس طرح سے سے قرق کرلیا تھا کہ اس عظیم آمادگی کی خبر کسی طرح سے بھی اہل مکہ کو نہ پہنچ سکی۔ اس لئے انہوں نے کسی قسم کی تیار ی نہ کی ،وہ مکمل طور پر غفلت میں پڑے رہے اور اسی وجہ سے اس مقد س سرزمین میںاس عظیم حملہ اور بہت بڑی فتح میں تقریباً کوئی خون نہیں بھا۔

یہاں تک کہ وہ خط بھی،جو ایک ضعیف الایمان مسلمان ”حاطب بن ابی بلتعہ“نے قریش کو لکھا تھا اور قبیلہ ”مزینہ“ کی ایک عورت ”کفود“یا ”سارہ“نامی کے ہاتھ مکہ کی طرف روانہ کیا تھا،اعجاز آمیز طریقہ سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے آشکار ہوگیا، علی علیہ االسلام کچھ دوسرے لوگوں کے ساتھ بڑی تیزی سے اس کے پیچہے روانہ ہوئے، انہوںنے اس عورت کو مکہ و مدینہ کی ایک درمیانی منزل میںجالیا اور اس سے وہ خط لے کر،خود اسے بھی مدینہ واپس لے آئے۔

مکہ کی طرف روانگی

بہر حال پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مدینہ میں اپنا ایک قائم مقام مقرر کر کے ہجرت کے آٹھویں سال ماہ رمضان کی دس تاریخ کو مکہ کی طرف چل پڑے ، اور دس دن کے بعد مکہ پہنچ گئے ۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے راستے کے وسط میں اپنے چچا عباس کو دیکھا کہ وہ مکہ سے ہجرت کرکے آپ کی طرف آرہے ہیں ۔ حضرت نے ان سے فرمایا کہ اپنا سامان مدینہ بھیج دیجئے اور خود ہمارے ساتھ چلیں، اور آپ آخری مھاجر ہیں ۔

آخر کار مسلمان مکہ کی طرف پہنچ گئے اور شہر کے باہر،اطراف کے بیابانوں میں اس مقام پر جسے ”مرالظہران“کھا جاتا تھا اور جو مکہ سے چند کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ پر نہ تھا،پڑاؤ ڈال دیا۔ اور رات کے وقت کھانا پکانے کے لئے (یا شاید اپنی وسیع پیمانہ پر موجودگی کو ثابت کرنے کے لئے) وھاں آگ روشن کردی، اہل مکہ کا ایک گروہ اس منظر کو دیکھ کر حیرت میں ڈوب گیا۔

ابھی تک پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور لشکر اسلام کے اس طرف آنے کی خبریں قریش سے پنھاں تہیں ۔ اس رات اہل مکہ کا سرغنہ ابو سفیان اور مشرکین کے بعض دوسرے سرغنہ خبریںمعلوم کرنے کے لئے مکہ سے باہر نکلے،اس موقع پر پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچا عباس نے سوچا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم قہرآلود طریقہ پر مکہ میںوارد ہوئے تو قریش میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچے گا، انہوں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اجازت لئے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سواری پر سوار ہوکر کھا میں جاتاہوں ،شاید کوئی مل جائے تو اس سے کہوں کہ اہل مکہ کو اس ماجرے سے آگاہ کردے تا کہ وہ آکر امان حاصل کرلیں۔

عباس(رض) وھاںروانہ ہوکر بہت قریب پہنچ گئے۔ اتفاقاً اس موقع پر انہوں نے ”ابو سفیان“کی آواز سنی جواپنے ایک دوست ”بدیل“ سے کہہ رھا تھا کہ ہم نے کبھی بھی اس سے زیادہ آگ نہیں دیکھی، ”بدیل“ نے کھا میرا خیال ہے کہ یہ آگ قبیلہ”خزاعہ“نے جلائی ہوئی ہے، ابوسفیان نے کھا قبیلہ خزاعہ اس سے کہیں زیادہ ذلیل وخوار ہیں کہ وہ اتنی آگ روشن کریں،اس موقع پر عباس نے ابوسفیان کو پکارا، ابوسفیان نے بھی عباس کو پہچان لیا اور کھا سچ سچ بتاؤ کیا بات ہے؟

عباس(رض) نے جواب دیا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں جو دس ہزار مجاہدین اسلام کے ساتھ تمھاری طرف آرہے ہیں ، ابو سفیان سخت پریشان ہوا اور کھا آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ۔

عباس(رض) نے کھا:میرے ساتھ آؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے امان لے لو ورنہ قتل کردیے جاؤگے۔

اس طرح سے عباس نے”ابوسفیان“کو اپنے ہمراہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سواری پر ھی سوار کرلیا اور تیزی کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں پلٹ آئے ۔ وہ جس گروہ اور جس آگ کے قریب سے گزرتے وہ یھی کہتے کہ یہ تو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچا ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سواری پر سوار ہیں ،کوئی غیر آدمی ہے، یہاںتک کہ وہ اس مقام پر آئے، جھاں عمر ابن خطاب تھے ،جب عمر بن خطاب کی نگاہ ابو سفیان پر پڑی تو کھا خدا کا شکر ہے کہ اس نے مجھے تجھ ( ابوسفیان) پر مسلط کیا ہے، اب تیرے لئے کوئی امان نہیں ہے اور فوراً ھی پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میںآکرآپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ابوسفیان کی گردن اڑانے کی اجازت مانگی ۔

لیکن اتنے میں عباس(رض) بھی پہنچ گئے اور کھا: کہ اے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں نے اسے پنا ہ دے دی ہے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: میں بھی سر دست اسے امان دیتا ہوں، کل آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اسے میرے پاس لے آئیں اگلے دن جب عباس(رض) اسے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس سے فرمایا:”اے ابوسفیان! وائے ہو تجھ پر، کیا وہ وقت ابھی نہیں آیا کہ تو خدائے یگانہ پر ایمان لے آئے“۔

اس نے عرض کیا: ھاں! ےا رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ،میں گواھی دیتاہوں کہ خدا یگانہ ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے،اگر بتوں سے کچھ ہو سکتا تو میں یہ دن نہ دیکھتا۔

آنحضرت نے فرمایا:”کیا وہ موقع نہیں آیا کہ تو جان لے کہ میں اللہ کا رسو ل ہوں“۔

اس نے عرض کی:میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو ںابھی اس بارے میں میرے دل میں کچھ شک و شبہ موجود ہے لیکن آخر کار ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں میں سے دو آدمی مسلمان ہوگئے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عباس(رض) سے فرمایا:

”ابوسفیان کو اس درہ میں جو مکہ کی گزرگاہ ہے، لے جاؤ تاکہ خدا کا لشکر وھاں سے گزرے اور یہ دیکھ لے“۔

عباس(رض) نے عرض کیا:”ابوسفیان ایک جاہ طلب آدمی ہے،اسکو کوئی امتیازی حیثیت دے دیجئے“پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:”جو شخص ابوسفیان کے گہر میں داخل ہوجائے وہ امان میں ہے،جوشخص مسجد الحرام میں پناہ لے لے وہ امان میں ہے،جو شخص اپنے گہر کے اندر ہے اور دروازہ بند کرلے وہ بھی امان میں ہے“۔

بہر حال جب ابوسفیان نے اس لشکر عظیم کو دیکھا تو اسے یقین ہوگیا کہ مقابلہ کرنے کی کوئی راہ باقی نہیں رھی او راس نے عباس کی طرف رخ کرکے کھا:آپ کے بھتیجے کی سلطنت بہت بڑی ہوگئی ہے،عباس(رض) نے کھا: وائے ہو تجھ پر یہ سلطنت نہیں نبوت ہے۔

اس کے بعدعباس نے اس سے کھا کہ اب تو تیزی کے ساتھ مکہ والوں کے پاس جاکر انہیں لشکر اسلام کا مقابلہ کرنے سے ڈرا۔

ابوسفیان؛ لوگوں کو تسلیم ہونے کی دعوت کرتاہے

ابوسفیان نے مسجدالحرام میں جاکر پکار کر کھا:

”اے جمعیت قریش! محمد ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ تمھاری طرف آیا ہے،تم میں اس کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے، اس کے بعد اس نے کھا: جو شخص میرے گہر میں داخل ہوجائے وہ امان میںہے،جو شخص مسجد الحرام میں چلا جائے وہ بھی امان میں ہے اور جو شخص اپنے گہر میں رہتے ہوئے گہر کا دروازہ بندکرے وہ بھی امان میں ہے“۔

اس کے بعد اس نے چیخ کر کھا: اے جمعیت قریش! اسلام قبول کرلو تا کہ سالم رہو اور بچ جاؤ، اس کی بیوی”ہندہ“نے اس کی داڑھی پکڑلی اور چیخ کر کھا:اس بڈہے احمق کو قتل کردو۔

ابوسفیان نے کھا: میری داڑھی چھوڑدے۔ خدا کی قسم اگر تو اسلام نہ لائی تو تو بھی قتل ہو جائے گی،جاکر گہر میں بیٹھ جا۔

علی علیہ السلام کے قدم دوش رسول پر

اس کے بعد پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم لشکر اسلام کے ساتھ روانہ ہوئے اور ”ذوی طوی“کے مقام تک پہنچ گئے،وھی بلند مقام جھاں سے مکہ کے مکانات صاف نظرآتے ہیں ،پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو وہ دن یاد آگیا جب آپ مجبور ہوکر مخفی طور پر مکہ سے باہر نکلے تھے، لیکن آج دیکھ رہے ہیں کہ اس عظمت کے ساتھ داخل ہورہے ہیں ،تو آپ نے اپنی پیشانی مبارک اونٹ کے کجاوے کے اوپر رکھ دی او رسجدہ شکر بجا لائے،اس کے بعد پیغمبر اکرم ”حجون“ میں (مکہ کے بلند مقامات میں سے وہ جگہ جھاں خدیجہ(ع) کی قبر ہے) اترے، غسل کر کے اسلحہ اور لباس جنگ پہن کر اپنی سوار ی پر سوار ہوئے،سورہ فتح کی قرائت کرتے ہوئے مسجدالحرام میں داخل ہوئے اور آواز تکبیر بلند کی، لشکر اسلام نے بھی نعرہ تکبیر بلندکیا تو اس سے سارے دشت و کوہ گونج اٹہے۔ اس کے بعد آپ اپنے اونٹ سے نیچے اترے اور بتوں کو توڑنے کے لئے خانہ کعبہ کے قریب آئے، آپ یکے بعد دیگرے بتوں کو سرنگوںکرتے جاتے تھے اور فرماتے جاتھے:

( جاء الحق و زهق الباطل ان الباطل کان زهوقاً )

”حق آگیا اور باطل ہٹ گیا،اور باطل ہے ھی ہٹنے والا“۔

کچھ بڑے بڑے بت کعبہ کے اوپر نصب تھے، جن تک پیغمبر کا ہاتھ نہیں پہنچتاتھا،آپ نے امیرالمومنین علی علیہ السلام کو حکم دیا وہ میرے دوش پر پاؤں رکھ کر اوپر چڑھ جائیں اور بتوں کو زمین پر گرا کر توڑڈالیں، علی علیہ السلام نے آپ کے حکم کی اطاعت کی۔

اس کے بعد آپ نے خانہ کعبہ کی کلید لے کر دروازہ کھولا اور انبیاء کی ان تصویروں کو جو خانہ کعبہ کے اندر درودیوار پر بنی ہوئی تہیں ، محو کردیا۔ اس سریع اور شاندا رکامیابی کے بعد پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خانہ کعبہ کے دروازے کے حلقہ میں ہاتھ ڈالا اور وھاں پر موجود اہل مکہ کی طرف رخ کرکے فرمایا:

”اب بتلاؤ تم کیا کہتے ہو؟ اور تمھارا کیا خیال ہے کہ میںتمھارے بارے میں کیا حکم دوں گا؟ انہوں نے عرض کیا: ہم آپ سے نیکی اور بھلائی کے سواراور کوئی توقع نہیں رکھتے!آپ ہمارے بزرگواربھائی اور ہمارے بزرگوار بھائی کے فرزند ہیں ،آج آپ بر سر اقتدار آگئے ہیں ، ہیں بخش دیجئے ،پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آنکھوں میں آنسو ڈبڈبانے لگے اورمکہ کے لوگ بھی بلند آواز کے ساتھ رونے لگے۔

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ”میں تمھارے بارے میں وھی بات کہتا ہوں جو میرے بھائی یوسف علیہ السلام نے کی تھی کہ آج تمھارے اوپر کسی قسم کی کوئی سرزنش اور ملامت نہیں ہے، خدا تمہےں بخش دے گا،وہ الرحم الراحمین ہے“۔(۹۲)

اور اس طرح سے آپ نے ان سب کو معاف کردیا اور فرمایا: ”تم سب آزاد ہو،جھاں چاہو جاسکتے ہو“۔

آج کا دن روز رحمت ہے

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ حکم دیاتھا کہ آپ کے لشکری کسی سے نہ الجہیں اور بالکل کوئی خون نہ بھایا جائے۔ ایک روایت کے مطابق صرف چھ افراد کو مستثنیٰ کیا گیا جو بہت ھی بد زبان اور خطرناک لوگ تھے۔

یہاں تک کہ جب آپ نے یہ سنا کہ لشکر اسلام کے علمدار”سعد بن عبادہ نے انتقام کا نعرہ بلند کیا ہے اور وہ یہ کہہ رھا ہے کہ:” آج انتقام کا دن ہے“ تو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی علیہ السلام سے فرمایا، ”جلدی سے جاکر اس سے علم لے کر یہ نعرہ لگاؤ کہ:

” آج عفو وبخشش اور رحمت کا دن ہے“۔!

اور اس طرح مکہ کسی خونریزی کے بغیر فتح ہوگیا،عفوورحمت اسلام کی اس کشش نے،جس کی انہیں بالکل توقع نہیں تھی،دلوں پر ایسا اثر کیا کہ لوگ گروہ در گروہ آکر مسلمان ہوگئے،اس عظیم فتح کی صدا تمام جزائر عربستان میں جاپہنچی،اسلام کی شہرت ہر جگہ پھیل گئی اور مسلمانوں اور اسلام کی ہر جہت سے دھاک بیٹھ گئی ۔

جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خانہ کعبہ کے دروازے کے سامنے کھڑے ہوئے تھے تو آپ نے فرمایا:

”خداکے سوا اور کوئی معبود نہیں ہے،وہ یکتا اور یگانہ ہے،اس نے آخر کار اپنے وعدہ کو پورا کردیا، اور اپنے بندہ کی مددکی،اور اس نے خود اکیلے ھی تمام گروہوں کو شکست دےدی، ان لوگوں کا ہر مال ،ہر امتیاز ،اورہر وہ خون جس کاتعلق ماضی اور زمانہ جاہلیت سے ہے،سب کے سب میرے ان دونوں قدموں کے نیچے ہیں “۔

(یعنی زمانہ جاہلیت میں ہوئے خون خرابہ کو بھول جاو ،غارت شدہ اموال کی بات نہ کرو اور زمانہ جاہلیت کے تمام امتیازات کو ختم کر ڈالو، خلاصہ گذشتہ فائلوں کو بند کر دیا جائے ۔)

یہ ایک بہت ھی اہم اور عجیب قسم کی پیش نھاد تھی جس میں عمومی معافی کے فرمان سے حجاز کے لوگوں کو ان کے تاریک اور پُر ماجرا ماضی سے کاٹ کر رکھ دیا اور انہیں اسلام کے سائے میں ایک نئی زندگی بخشی جو ماضی سے مربوط کشمکشوں اور جنجالوں سے مکمل طور پر خالی تھی۔

اس کام نے اسلام کی پیش رفت کے سلسلہ میں بہت زیادہ مد دکی اور یہ ہمارے آج اور آنے والے کل کے لئے ایک دستو رالعمل ہے۔

عورتوں کی بیعت کے شرائط

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کوہ صفا پر قیام فرمایا،او رمردوں سے بیعت لی،بعدہ مکہ کی عورتیں جو ایمان لے آئی تہیں بیعت کرنے کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئیں تووحی الٰھی نازل ہوئی اور ان کی بیعت کی تفصیل بیان کی ۔

روئے سخن پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف کرتے ہوئے فرماتا ہے :

”اے پیغمبر !جب مومن عورتیں تیرے پاس آئیں او ران شرائط پر تجھ سے بیعت کرلیں کہ وہ کسی چیز کو خداکا شریک قرار نہیں دیں گی، چوری نہیں کریں گی ،زنا سے آلودہ نہیں ہوںگی،اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گی،اپنے ہاتھوں اورپاؤں کے آگے کوئی افتراء اور بہتان نہیں باندہیں گی اور کسی شائستہ حکم میں تیری نافرمانی نہیں کریں گی تو تم ان سے بیعت لے لو اوران کے لئے بخشش طلب کرو،بیشک خدا بخشنے ،والا اورمہربان ہے۔ “(۹۳)

اس کے بعد پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے بیعت لی۔

بیعت کی کیفیت کے بارے میں بعض مورخین نے لکھا ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے پانی کاایک برتن لانے کا حکم دیا او راپنا ہاتھ پانی کے اس برتن میں رکھ دیا،عورتیں اپنے ہاتھ برتن کے دوسری طرف رکھ دیتی تہیں ،جب کہ بعض نے کھا ہے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم لباس کے اوپر سے بیعت لیتے تھے ۔


ابو سفیان کی بیوی ہندہ کی بیعت کا ماجرا

فتح مکہ کے واقعہ میں جن عورتوں نے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوکر بیعت کی ان میں سے ایک ابو سفیان کی بیوی”ہندہ“تھی، یعنی وہ عورت جس کی طرف سے تاریخ اسلام بہت سے دردناک واقعات محفوظ رکہے ہوئے ہے،ا ن میں سے ایک میدان احد میں حمزہ سید الشہداء (ع) کی شھادت کا واقعہ ہے کہ جس کی کیفیت بہت ھی غم انگیز ہے ۔

اگرچہ آخرکاروہ مجبور ہوگئی کہ اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے گھٹنے ٹیک دے او رظاہراً مسلمان ہو جائے لیکن اسکی بیعت کا ماجرا بتاتا ہے کہ وہ حقیقت میں اپنے سابقہ عقائد کی اسی طرح وفادار تھی، لہٰذا اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ہے کہ بنی امیہ کا خاندان اور ہندہ کی اولادنے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد اس قسم کے جرائم کا ارتکاب کیا کہ جن کی سابقہ زمانہ میں کوئی نظیر نہیں ملتی ۔

بہر حال مفسرین نے اس طرح لکھا ہے کہ ہند ہ نے اپنے چہرے پر نقاب ڈالا ہوا تھا وہ پیغمبر کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوئی جب آپ کوہ صفا پر تشریف فرما تھے اور عورتوںکی ایک جماعت ہندہ کے ساتھ تھی، جب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے یہ فرمایاکہ میں تم عورتوںسے اس بات پر بیعت لتیا ہوں کہ تم کسی چیز کو خدا کا شریک قرار نہیں دو گی، تو ہندہ نے اعتراض کیا او رکھا:”آپ ہم سے ایسا عہد لے رہے ہیں جو آپ نے مردوں سے نہیں لیا ، (کیونکہ اس دن مردوں سے صرف ایمان اورجھاد پربیعت لی گئی تھی ۔)

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کی بات کی پرواہ کئے بغیر اپنی گفتگو کو جاری فرمایا:”کہ تم چوری بھی نہیں کرو گی،“ہند ہ نے کھا: ابو سفیان کنجوس اوربخیل آدمی ہے میں نے اس کے مال میں سے کچھ چیزیںلی ہیں ، میں نہیں جانتی کہ وہ انہیں مجھ پر حلال کرے گا یا نہیں !ابو سفیان موجود تھا ،اس نے کھا: جو کچھ تو نے گذشتہ زمانہ میں میرے مال میںسے لے لیا ہے وہ سب میں نے حلال کیا ،(لیکن آئندہ کے لئے پابندی کرنا ۔)

اس موقع پر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہنسے اور ہندہ کو پہچان کر فرمایا:”کیا تو ہندہ ہے“؟ اس نے کھا :جی ھاں ،یا رسول اللہ !پچھلے امور کو بخش دیجئے خدا آپ کو بخشے “۔!!

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی گفتگو کو جاری رکھا:”او رتم زنا سے آلودہ نہیں ہوگی،“ہندہ نے تعجب کرتے ہوئے کھا:”کیا آزاد عورت اس قسم کا عمل بھی انجام دیتی ہے؟“حاضرین میںسے بعض لوگ جو زمانہ جاہلیت میں اس کی حالت سے واقف تھے اس کی اس بات پر ہنس پڑے کیونکہ ہندہ کا سابقہ زمانہ کسی سے مخفی نہیں تھا۔

پہر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا:

”اور تم اپنی اولاد کو قتل نہیں کروگی “۔

ہند نے کھا:”ہم نے تو انہیں بچپن میں پالا پوسا تھا،مگر جب وہ بڑے ہوئے تو آپ نے انہیں قتل کردیا، اب آپ او روہ خود بہتر جانتے ہیں “۔( اس کی مراد اس کا بیٹا ”حنظلہ“تھا جو بدر کے دن علی علیہ السلام کے ہاتھوں ماراگیا تھا۔)

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کی اس بات پر تبسم فرمایا، او رجب آپ اس بات پر پہنچے او رفرمایا:

”تم بہتان او رتہمت کو روا نہیں رکھوگی “۔

تو ہندہ نے کھا:”بہتان قبیح ہے او رآپ ہمیں صلاح و درستی ،نیکی او رمکارم اخلاق کے سوا او رکسی چیز کی دعوت نہیں دیتے“۔

جب آپ نے یہ فرمایا:

”تم تمام اچہے کاموں میں میرے حکم کی اطاعت کروگی “۔تو ہندہ نے کھا:”ہم یہاں اس لئے نہیں بیٹہے ہیں کہ ہمارے دل میں آپ کی نافرمانی کاارادہ ہو“۔

(حالانکہ مسلمہ طور پر معاملہ اس طرح نہیں تھا، لیکن تعلیمات اسلامی کے مطابق پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس بات کے پابند تھے کہ ان کے بیانات کو قبول کرلیں۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خطوط دنیا کے بادشاہوںکے نام تاریخ اسلام سے معلوم ہوتا ہے کہ جب سرزمین حجاز میںاسلام کافی نفوذ کرچکا تو پیغمبراکرم نے اس زمانے کے بڑے بڑے حکمرانوں کے نام کئی خطوط روانہ کیے ۔ ان میں بعض خطوط میں کا سھارا لیا گیا ہے ،جس میں آسما نی ادیان کی قدر مشترک کا تذکرہ ہے۔


مقوقس(۹۴) کے نام خط

مقوقس مصر کا حاکم تھا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دنیا کے بڑے بڑے بادشاہوں او رحکام کو خطوط لکہے او رانہیں اسلام کی طرف دعوت دی،حاطب بن ابی بلتعہ کو حاکم مصر مقوقس کی طرف یہ خط دے کرروانہ کیا۔

بسم اللّٰه الرحمن الرحیم

من: محمد بن عبداللّٰه

الی: المقوقس عظیم القبط

سلام علی من اتبع الهدیٰ ،اما بعد:”فانی ادعوک بدعایةالاسلام

اسلم تسلم،یوتک اللّٰه اجرک مرتین، فان تولیت فانما علیکم اثم

القبط،یا اهل الکتٰب تعالواالیٰ کلمة سواء بیننا و بینکم” ان لا نعبد الا اللّٰه ولا نشرک به شیئاً ولا تتخذ بعضنا بعضاً ارباباً من دون اللّٰه ،فان تولوا فقولوا اشهدوا بانا مسلمون“

اللہ کے نام سے جو بخشنے والا بڑا مہربان ہے ۔

از ۔۔۔محمد بن عبد اللہ

بطرف۔۔۔قبطیوں کے مقوقس بزرگ ۔ حق کے پیروکاروں پر سلام ہو۔

میں تجہے اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ اسلام لے آؤ تاکہ سالم رہو ۔ خدا تجہے دوگنا اجر دے گا ۔ (ایک خود تمھارے ایمان لانے پر اوردوسراان لوگوں کی وجہ سے جو تمھاری پیروی کرکے ایمان لائیں گے ) او راگر تو نے قانون اسلام سے روگردانی کی تو قبطیوں کے گناہ تیرے ذمہ ہوں گے ۔۔اے اہل کتاب! ہم تمہیں ایک مشترک بنیادکی طرف دعوت دیتے ہیں او روہ یہ کہ ہم خدائے یگانہ کے سوا کسی کی پرستش نہ کریں اور کسی کو اس کا شریک قرار نہ دیں حق سے روگردانی نہ کریں تو ان سے کہو کہ گواہ رہو ہم تم مسلمان ہیں “۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا سفیر مصر کی طرف روانہ ہوا، اسے اطلاع ملی کہ حاکم مصر اسکندریہ میں ہے لہٰذا وہ اس وقت کے ذرائع آمد ورفت کے ذریعے اسکندریہ پہنچا او رمقوقس کے محل میں گیا، حضرت کا خط اسے دیا ، مقوقس نے خط کھول کر پڑھا کچھ دیر تک سوچتا رھا، پہر کہنے لگا:”اگر واقعاً محمدخدا کا بھیجا ہوا ہے تو اس کے مخالفین اسے اس کی پیدائش کی جگہ سے باہر نکالنے میں کیوں کامیاب ہوئے او روہ مجبور ہوا کہ مدینہ میں سکونت اختیار کرے؟ ان پر نفرین او ربد دعا کیوں نہیں کی تاکہ وہ نابود ہو جاتے؟“

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے قاصد نے جواباً کھا:

”حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے رسول تھے اور آپ بھی ان کی حقانیت کی گواھی دیتے ہیں ، بنی اسرائیل نے جب ان کے قتل کی سازش کی توآپ نے ان پر نفرین اور بد دعا کیوں نہیں کی تاکہ خدا انہیں ہلاک کردیتا؟

یہ منطق سن کر مقو قس تحسین کرنے لگا اور کہنے لگا :

”احسنت انت حکیم من عند حکیم “

”آفرین ہے ،تم سمجھ دار ہو اور ایک صاحب حکمت کی طرف سے آئے ہو “

حاطب نے پہر گفتگو شروع کی اور کھا :

”آپ سے پہلے ایک شخص (یعنی فرعون )اس ملک پر حکومت کرتا تھا ،وہ مدتوں لوگوں میں اپنی خدائی کا سودا بیچتا رھا ،بآلاخر اللہ نے اسے نابود کر دیا تاکہ اس کی زندگی آپ کے لئے باعث عبرت ہو لیکن آپ کوشش کریں کہ آپ کی زندگی دوسروں کے لئے نمونہ بن جائے“۔

”پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہمیں ایک پاکیزہ دین کی طرف دعوت دی ہے ، قریش نے ان سے بہت سخت جنگ کی او ران کے مقابل صف آراء ہوئے، یہودی بھی کینہ پروری سے ان کے مقابلے میں آکھڑے ہوئے او راسلام سے زیادہ نزدیک عیسائی ہیں ۔ “

مجھے اپنی جان کی قسم جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت کی بشارت دی تھی اس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت محمد کے مبشر تھے ، ہم آپ لوگوں نے تو ریت کے ماننے والوں کو انجیل کی دعوت دی تھی ،جوقوم پیغمبرحق کی دعوت کو سنے اسے چاہئے کہ اس کی پیروی کرے ،میں نے محمد کی دعوت آپ کی سرزمین تک پہنچادی ہے، مناسب یھی ہے کہ آپ او رمصری قوم یہ دعوت قبول کر لے“۔

حاطب کچھ عرصہ اسکندریہ ھی میں ٹھہرا تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خط کا جواب حاصل کرے ،چند روز گزر گئے، ایک دن مقوقس نے حاطب کو اپنے محل میں بلایا او رخواہش کی کہ اسے اسلام کے بارے میں کچھ مزید بتایا جائے۔

حاطب نے کھا:

”محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہمیں خدانے یکتا ئی پرستش کی دعوت دیتے ہیں او رحکم دیتے ہیں کہ لوگ روزوشب میں پانچ مرتبہ اپنے پروردگار سے قریبی رابطہ پیدا کریں او رنماز پڑہیں ،پیمان پورے کریں ،خون او رمردار کھانے سے اجتناب کریں“۔

علاوہ ازیں حاطب نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زندگی کی بعض خصوصیات بھی بیان کیں۔

مقوقس کہنے لگا:

”یہ تو بڑی اچھی نشانیاں ہیں ۔ میرا خیال تھا کہ خاتم النبیین سرزمین شام سے ظہور کریں گے جو انبیاء علیہم السلام کی سرزمین ہے،اب مجھ پر واضح ہوا کہ وہ سر زمین حجاز سے مبعوث ہوئے ہیں “۔

اس کے بعد اس نے اپنے کاتب کو حکم دیا کہ وہ عربی زبان میں اس مضمون کا خط تحریر کرے:

بخدمت : محمد بن عبد اللہ ۔

منجانب: قبطیوں کے بزرگ مقوقس ۔

”آپ پر سلام ہو،میںنے آپ کاخط پڑھا ،آپ کے مقصد سے باخبر ہوااو رآپ کی دعوت کی حقیقت کو سمجھ لیا،میں یہ تو جانتا تھا کہ ایک پیغمبر ظہور کرے گا لیکن میرا خیال تھا کہ وہ خطہ شام سے مبعوث ہوگا، میں آ پ کے قاصد کا احترام کرتا ہوں“۔

پہر خط میں ان ہدیوں اور تحفوں کی طرف اشارہ کیا جواس نے آپ کی خدمت میں بھیجے ،خط اس نے ان الفاظ پر تمام کیا۔

”آپ پر سلام ہو“

تاریخ میں ہے کہ مقوقس نے کوئی گیارہ قسم کے ہدیے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے بھیجے ، تاریخ اسلام میں ان کی تفصیلات موجود ہیں ،ان میں سے ایک طبیب تھا تاکہ وہ بیما ر ہونے والے مسلمانوں کا علاج کرے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دیگر ہدیئے قبول فرمایائے لیکن طبیب کو قبول نہ کیا او رفرمایا:”ہم ایسے لوگ ہیں کہ جب تک بھوک نہ لگے کھانا نہیں کھاتے او رسیر ہونے سے پہلے کھانے سے ہاتھ روک لیتے ہیں ، یھی چیز ہماری صحت و سلامتی کے لئے کافی ہے، شاید صحت کے اس عظیم اصول کے علاوہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس طبیب کی وھاں موجودگی کو درست نہ سمجھتے ہوں کیونکہ وہ ایک متعصب عیسائی تھا لہٰذا آپ نہیں چاہتے تھے کہ اپنی او رمسلمانوں کی جان کا معاملہ اس کے سپرد کردیں۔

مقوقس نے جو سفیر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا احترام کیا،آپ کے لئے ہدیے بھیجے او رخط میں نام محمد اپنے نام سے مقدم رکھا یہ سب اس بات کی حکایت کرتے ہیں کہ اس نے آپ کی دعوت کو باطن میں قبول کرلیا تھا یا کم از کم اسلام کی طر ف مائل ہوگیا تھا لیکن اس بناء پرکہ اس کی حیثیت او روقعت کو نقصان نہ پہنچے ظاہری طو رپراس نے اسلام کی طرف اپنی رغبت کا اظھار نہ کیا ۔

قیصر روم کے نام خط

بسم اللّٰه الرحمن الرحیم

من: محمد بن عبداللّٰه

الی: هرقل عظیم الرّوم

سلام علی من اتبع الهدیٰ

اما بعد:فانی ادعوک بدعایةالاسلام

اسلم تسلم،یوتک اللّٰه اجرک مرتین، فان تولیت فانما علیکم اثم القبط،یا اهل الکتٰب تعالواالیٰ کلمة سواء بیننا و بینکم” ان لا نعبد الا اللّٰه ولا نشرک به شیئاً ولا تتخذ بعضنا بعضاً ارباباً من دون اللّٰه ،فان تولوا فقولوا اشهدوا بانا مسلمون“

اللہ کے نام سے جو بخشنے والا بڑا مہربان ہے۔

منجانب: محمدبن عبد اللہ ۔

بطرف: ہرقل بادشاہ روم۔

”اس پر سلام ہے جو ہدایت کی پیروی کرے۔میں تجہے اسلام کی دعوت دیتا ہوں۔ اسلام لے آؤ تاکہ سالم رہو ۔ خدا تجہے دوگنا اجر دے گا ۔ (ایک خود تمھارے ایمان لانے پر اوردوسراان لوگوں کی وجہ سے جو تمھاری پیروی کرکے ایمان لائیں گے ) او راگر تو نے قانون اسلام سے روگردانی کی تو اریسوں کا گناہ بھی تیری گردن پر ہوگا۔اے اہل کتاب! ہم تمہیں ایک مشترک بنیادکی طرف دعوت دیتے ہیں او روہ یہ کہ ہم خدائے یگانہ کے سوا کسی کی پرستش نہ کریں اور کسی کو اس کا شریک قرار نہ دیں حق سے روگردانی نہ کریں تو ان سے کہو کہ گواہ رہو ہم تم مسلمان ہیں “۔

قیصر کے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا پیغام پہنچانے کے لئے ”دحیہ کلبی“ مامور ہوا سفیرپیغمبر عازم روم ہوا۔

قیصرکے دارالحکومت قسطنطنیہ پہنچنے سے پہلے اسے معلوم ہوا کہ قیصربیت المقدس کی زیارت کے ارادے سے قسطنطنیہ چھوڑ چکا ہے، لہٰذا اس نے بصریٰ کے گور نر حادث بن ابی شمر سے رابطہ پیداکیا اور اسے اپنامقصد سفر بتایا ظاہراً پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بھی اجازت دے رکھی تھی کہ دحیہ وہ خط حاکم بصریٰ کو دیدے تاکہ وہ اسے قیصرتک پہنچادے سفیر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے گورنر سے رابطہ کیا تو اس نے عدی بن حاتم کو بلایا اور اسے حکم دیا کہ وہ دحیہ کے ساتھ بیت المقدس کی طرف جائے اور خط قیصر تک پہنچا دے مقام حمص میں سفیر کی قیصر سے ملاقات ہوئی لیکن ملاقات سے قبل شاھی دربار کے کارکنوں نے کھا:

”تمہیں قیصر کے سامنے سجدہ کرنا پڑے گا ورنہ وہ تمھاری پرواہ نہیں کرے گا “

دحیہ ایک سمجھدار آدمی تھا کہنے لگا :

”میں ان غیر مناسب بدعتوں کوختم کرنے کے لئے اتنا سفر کر کے آیا ہوں ۔ میں اس مراسلے کے بھیجنے والے کی طرف سے آیا ہوں تا کہ قیصر کو یہ پیغام دوں کہ بشر پرستی کو ختم ہونا چاہئے او رخدا ئے واحد کے سواکسی کی عبادت نہیں ہونی چاہئیے ، اس عقیدے کے باوجود کیسے ممکن ہے کہ میںغیر خدا کے لئے سجدہ کروں“۔

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے قاصد کی قوی منطق سے وہ بہت حیران ہوئے ،درباریوں میں سے ایک نے کھا:

”تمہیں چاہئے کہ خط بادشاہ کی مخصوص میز پر رکھ کر چلے جاؤ، اس میز پر رکہے ہوئے خط کو قیصر کے علاوہ کوئی نہیں اٹھا سکتا“۔

دحیہ نے اس کا شکریہ اداکیا ،خط میز پر رکھا اورخودواپس چلا گیا،قیصر نے خط کھولا ،خط نے جو”بسم اللہ“ سے شروع ہوتا تھا اسے متوجہ کیا اور کہنے لگا۔

”حضرت سلیمان علیہ السلام کے خط کے سوا آج تک میں نے ایسا خط نہیں دیکھا “

اس نے اپنے مترجم کو بلایا تا کہ وہ خط پڑہے او راس کا ترجمہ کرے ،بادشاہ روم کو خیال ہوا کہ ہو سکتا ہے خط لکھنے والا وھی نبی ہو جس کاوعدہ انجیل او رتوریت میں کیا گیا ہے، وہ اس جستجو میں لگ گیا کہ آپ کی زندگی کی خصوصیات معلوم کرے، اس نے حکم دیا کہ شام کے پورے علاقے میں چھان بین کی جائے،شاید محمد کے رشتہ داروںمیں سے کوئی شخص مل جائے جو ان کے حالات سے واقف ہو ،اتفاق سے ابوسفیان او رقریش کا ایک گروہ تجارت کے لئے شام آیا ہوا تھا، شام اس وقت سلطنت روم کامشرقی حصہ تھا، قیصر کے آدمیوں نے ان سے رابطہ قائم کیا او رانہیں بیت المقدس لے گئے،قیصر نے ان سے سوال کیا :

کیا تم میں سے کوئی محمد کا نزدیکی رشتہ دار ہے ؟

ابو سفیان نے کھا :

میںاور محمد ایک ھی خاندان سے ہیں او رہم چوتھی پشت میں ایک درسرے سے مل جاتے ہیں ۔

پہرقیصر نے اس سے کچھ سوالات کئے۔ دونوں میں یوں گفتگو ہوئی“

قیصر: اس کے بزرگوں میںسے کوئی حکمران ہوا ہے؟

ابوسفیان: نہیں ۔

قیصر: کیا نبوت کے دعویٰ سے پہلے وہ جھوٹ بولنے سے اجتناب کرتا تھا؟

ابوسفیان: ھاں محمد راست گو او رسچا انسان ہے۔

قیصر: کونسا طبقہ اس کا مخالف ہے اور کونسا موافق؟

ابوسفیان: اشراف اس کے مخالف ہیں ، عام او رمتوسط درجے کے لوگ اسے چاہتے ہیں ۔

قیصر: اس کے پیروکاروں میں سے کوئی اس کے دین سے پہرا بھی ہے؟

ابوسفیان: نہیں ۔

قیصر: کیا اس کے پیروکار روز بروز بڑھ رہے ہیں ؟

ابوسفیان:ھاں ۔

اس کے بعد قیصر نے ابوسفیان او راس کے ساتھیوں سے کھا:

”اگر یہ باتیں سچی ہیں تو پہر یقینا وہ پیغمبر موعود ہیں ، مجھے معلوم تھا کہ ایسے پیغمبر کا ظہور ہوگا لیکن مجھے یہ پتہ نہ تھا کہ وہ قریش میں سے ہوگا، میں تیار ہوں کہ اس کے لئے خضوع کروں او راحترام کے طور پر اس کے پاؤں دھووں ،میں پیش گوئی کرتا ہوں کہ اس کا دین او رحکومت سرزمین روم پر غالب آئے گی“۔

پہر قیصر نے دحیہ کو بلایا او راس سے احترام سے پیش آیا، پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خط کا جواب لکھا او رآپ کے لئے دحیہ کے ذریعے ہدیہ بھیجااورآپ کے نام اپنے خط میں آپ سے اپنی عقیدت او رتعلق کا اظھار کیا۔

یہ بات جاذب نظر ہے کہ جس وقت پیغمبرا کرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا قاصد آنحضرت کا خط لے کر قیصر روم کے پاس پہونچا تو اس نے خصوصیت کے ساتھ آپ کے قاصد کے سامنے اظھار ایمان کیا یہاں تک کہ وہ رومیوں کو اس دین توحید و اسلام کی دعوت دینا چاہتا تھا، اس نے سوچا کہ پہلے ان کی آزمائش کی جائے، جب اس کی فوج نے محسوس کیا کہ وہ عیسائیت کو ترک کردینا چاہتا ہے تو اس نے اس کے قصر کا محاصرہ کرلیا، قیصر نے ان سے فوراً کھا کہ میں تو تمہیں آزمانا چاہتا تھا اپنی جگہ واپس چلے جاؤ۔

جنگ ذات السلاسل

ہجرت کے آٹھویں سال پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو خبر ملی کہ بارہ ہزار سوار سرزمین ”یابس“میں جمع ہیں ، اور انہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ یہ عہد کیا ہے کہ جب تک پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم او رعلی علیہ السلام کو قتل نہ کرلیں او رمسلمانوں کی جماعت کو منتشر نہ کردیں آرام سے نہیں بیٹہیں گے ۔ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے اصحاب کی ایک بہت بڑی جماعت کو بعض صحابہ کی سرکردگی میں ان کی جانب روانہ کیا لیکن وہ کافی گفتگو کے بعد بغیر کسی نتیجہ کے واپس آئے۔

آخر کار پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی علیہ السلام کو مہاجرین وانصار کے ایک گروہ کثیر کے ساتھ ان سے جنگ کرنے کے لئے بھیجا، وہ بڑی تیزی کے ساتھ دشمن کے علاقہ کی طرف روانہ ہوئے او ررات بہر میں سارا سفر طے کر کے صبح دم دشمن کو اپنے محاصرہ میںلے لیا، پہلے تو ان کے سامنے اسلام کو پیش کیا، جب انہوں نے قبول نہ کیا تو ابھی فضا تاریک ھی تھی کہ ان پر حملہ کردیا اور انہیں درہم برہم کر کے رکھ دیا،ان میں سے کچھ لوگوں کو قتل کیا ، ان کی عورتوں اور بچوں کو اسیر کرلیا او ربکثرت مال غنیمت کے طور پر حاصل کیا۔

سورہ ”والعادیات“نازل ہوئی حالانکہ ابھی سربازان اسلام مدینہ کی طرف لو ٹ کر نہیں آئے تھے ،پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس دن نماز صبح کے لئے آئے تو اس سورہ کی نماز میں تلاوت کی،نمازکے بعد صحابہ نے عرض کیا، یہ تو ایسا سورہ ہے جسے ہم نے آج تک سنا نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: ھاں! علی علیہ السلام دشمنوں پر فتح یاب ہوئے ہیں اور جبرئیل نے گزشتہ رات یہ سورہ لاکر مجھے بشارت دی ہے۔ کچھ دن کے بعد علی علیہ السلام غنائم او رقیدیوں کے ساتھ مدینہ میں وارد ہوئے۔(۹۵)

جنگ حنین(۹۶)

اس جنگ کی ابتداء یوں ہوئی کہ جب ”ہوازن“ جو بہت بڑا قبیلہ تھا اسے فتح مکہ کی خبر ہوئی تو اس کے سردار مالک بن عوف نے افراد قبیلہ کو جمع کیا او ران سے کھا کہ ممکن ہے فتح مکہ کے بعد محمد ان سے جنگ کے لئے اٹھ کھڑے ہو، کہنے لگے کہ مصلحت اس میں ہے کہ اس سے قبل کہ وہ ہم سے جنگ کرے ہمیں قدم آگے بڑھا نا چاہئے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو یہ اطلاع پہونچی تو آپ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ وہ سر زمین ہوازن کی طرف چلنے کو تیار ہو جائیں ۔

۱ ہجری رمضان المبارک کے آخری دن تھے یا شوال کا مھینہ تھا کہ قبیلہ ہوازن کے افراد سردار ”مالک بن عوف “کے پاس جمع ہوئے اور اپنا مال ، اولاد او رعورتیں بھی اپنے ساتھ لے آئے تاکہ مسلمانوں سے جنگ کرتے دقت کسی کے دماغ میں بھاگنے کا خیال نہ آئے،اسی طرح سے وہ سرزمین ”اوطاس“ میں وارد ہوئے۔

پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے لشکر کا بڑا علم باندھ کر علی علیہ السلام کے ہاتھ میں دیا او روہ تمام افراد جو فتح مکہ کے موقع پر اسلامی فوج کے کسی دستے کے کمانڈر تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حکم سے اسی پرچم کے نیچے حنین کے میدان کی طرف روانہ ہوئے ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اطلاع ملی کہ ”صفوان بن امیہ“ کے پاس ایک بڑی مقدار میں زرہیں ہیں آپ نے کسی کو اس کے پاس بھیجا اور اس سے سو زرہیں عاریتاً طلب کی، صفوان نے پوچھا واقعاً عاریتاً یا غصب کے طور پر ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: عاریتاً ہیں اور ہم ان کے ضامن ہیں کہ صحیح و سالم واپس کریں گے ۔

صفوان نے زرہیں عاریتاً پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کودےدیں اورخود بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ چلا ۔

فوج میں کچھ ایسے افراد تھے جنہوں نے فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا تھا، ان کے علاوہ دس ہزار وہ مجاہدینِ اسلام تھے جو پیغمبر اکرم کے ساتھ فتح مکہ کے لئے آئے تھے ، یہ تعداد مجموعاً بارہ ہزار بنتی ہے، یہ سب میدان جنگ کی طرف چل پڑے ۔

دشمن کے لشکر کا مورچہ

”مالک بن عوف“ ایک مرد جری او رہمت و حوصلے والا انسان تھا، اس نے اپنے قبیلے کو حکم دیا کہ اپنی تلواروں کے نیام توڑ ڈالیں او رپھاڑ کی غاروں میں ، دروں کے اطراف میں او ردرختوں کے درمیان لشکر اسلام کے راستے میں کمین گاہیں بنائیں اور جب اول صبح کی تاریکی میں مسلمان وھاں پہنچیں تو اچانک اور ایک ھی بار ان پر حملہ کردیں اور اسے فنا کردیں ۔

اس نے مزید کھا :محمد کا ابھی تک جنگجو لوگوں سے سامنا نہیں ہوا کہ وہ شکست کا مزہ چکھتا ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے اصحاب کے ہمراہ نماز صبح پڑھ چکے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حکم دیا کہ سر زمین حنین کی طرف چل پڑیں ،اس موقع پر اچانک لشکر” ہوازن“ نے ہر طرف سے مسلمانوں پرتیروں کی بوچھار کر دی، وہ دستہ جو مقدمہ لشکر میں تھا (اور جس میں مکہ کے نئے نئے مسلمان بھی تھے ) بھاگ کھڑا ہوا، اس کے سبب باقی ماندہ لشکر بھی پریشان ہوکر بھاگ کھڑا ہوا ۔

خداوندمتعال نے اس موقع پر دشمن کے ساتھ انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دیا او روقتی طور پر ان کی نصرت سے ہاتھ اٹھالیا کیونکہ مسلمان اپنی کثرت تعداد پر مغرور تھے، لہٰذا ان میں شکست کے آثار آشکار ہوئے، لیکن حضرت علی علیہ السلام جو لشکر اسلام کے علمبردار تھے وہ مٹھی بہر افراد سمیت دشمن کے مقابلے میں ڈٹے رہے او راسی طرح جنگ جاری رکہے رہے ۔

اس وقت پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم قلب لشکر میں تھے، رسول اللہ کے چچا عباس(رض) بنی ھاشم کے چند افراد کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گرد حلقہ باندہے ہوئے تھے، یہ کل افراد نو سے زیادہ نہ تھے دسویں ام ایمن کے فرزند ایمن تھے، مقدمہ لشکر کے سپاھی فرار کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس سے گزرے تو آنحضرت نے عباس(رض) کو جن کی آواز بلند او رزور دار تھی کو حکم دیا کہ اس ٹیلے پر جو قریب ہے چڑھ جائیں او رمسلمانوں کو پکاریں :

”یا معشر المہاجرین والانصار ! یا اصحاب سورةالبقرة !یا اہل بیعت الشجرة! الٰی این تفرون ھٰذا رسول اللہ ۔ “

اے مہاجرین وانصار ! اے سورہ بقرہ کے ساتھیو!

اے درخت کے نیچے بیعت کرنے والو! کھاں بھاگے جارہے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تو یہاں ہیں ۔ مسلمانوں نے جب عباس(رض) کی آواز سنی تو پلٹ آئے اور کہنے لگے:لبیک لبیک !

خصوصاً لوٹ آنے والوںمیں انصار نے پیش قدمی کی او رفوج دشمن پر ہر طرف سے سخت حملہ کیا اور نصرتِ الٰھی سے پیش قدمی جاری رکھی یہاں تک کہ قبیلہ ہوازن وحشت زدہ ہوکر ہر طرف بکہر گیا، مسلمان ان کا تعاقب کررہے تھے، لشکر دشمن میں سے تقریباً ایک سو افراد مارے گئے ،ان کے اموال غنیمت کے طور پر مسلمانوںکے ہاتھ لگے او رکچھ ان میں سے قیدی بنا لئے گئے ۔

لکھا ہے کہ اس تاریخی واقعہ کے آخر میں قبیلہ ہوازن کے نمائندے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے او راسلام قبول کرلیا،پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے بہت محبت و الفت فرمائی، یہاںتک کہ ان کے سر براہ مالک بن عوف نے بھی اسلام قبو کر لیا، آپ نے اس کا مال او رقیدی اسے واپس کردئیے او راس کے قبیلہ کے مسلمانوں کی سرداری بھی اس کے سپرد کردی ۔

درحققت ابتداء میں مسلمانوں کی شکست کا اہم عامل غرور و تکبر جو کثرت فوج کی وجہ سے ان میں پیدا ہوگیا تھا، اسکے علاوہ دو ہزا رنئے مسلمانوں کا وجود تھا جن میں سے بعض فطری طور پر منافق تھے ، کچھ ان میں مال غنیمت کے حصول کے لئے شامل ہوگئے تھے او ربعض بغیر کسی مقصد کے ان میں شامل ہوگئے تھے۔

نھائی کامیابی کا سبب حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ، حضرت علی علیہ السلام اور بعض اصحاب کا قیام تھا، اور پہلے والوںکا عہد و پیمان اور خدا پر ایمان اور اس کی مدد پر خاص توجہ باعث بنی کہ مسلمانوں کو اس جنگ میں کامیابی ملی۔

بھاگنے والے کون تھے ؟

اس بات پر تقریباً اتفاق ہے کہ میدان حنین میں سے اکثریت ابتداء میں بھاگ گئی تھی، جو باقی رہ گئے تھے ان کی تعداد ایک روایت کے مطابق دس تھی او ربعض نے تو ان کی تعداد چار بیان کی ہے بعض نے زیادہ سے زیادہ سو افراد لکہے ہیں ۔

بعض مشہور روایات کے مطابق چونکہ پہلے خلفاء بھی بھاگ جانے والوں میں سے تھے لہٰذا بعض اہل سنت مفسرین نے کوشش کی ہے کہ اس فرار کو ایک فطری چیز کے طور پر پیش کیا جائے ۔ المنار کے مولف لکھتے ہیں : ”جب دشمن کی طرف سے مسلمانوں پر تیروں کی سخت بوچھارہوئی توجو لوگ مکہ سے مسلمانوں کے ساتھ مل گئے تھے، اورجن میں منافقین اورضعیف الایمان بھی تھے اور جو مال غنیمت کے لئے آگئے تھے وہ بھاگ کھڑے ہوئے اور انہوں نے میدان میں پشت دکھائی تو باقی لشکر بھی فطری طور پر مضطرب او رپریشان ہوگیا وہ بھی معمول کے مطابق نہ کہ خوف و ہراس سے ،بھاگ کھڑے ہوئے اوریہ ایک فطری بات ہے کہ اگر ایک گروہ فرار ہو جائے تو باقی بھی بے سوچے سمجھے متزلزل ہو جاتے ہیں ، لہٰذا ان کا فرار ہونا پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مدد ترک کرنے او رانہیں دشمن کے ہاتھ میں چھوڑ جانے کے طور پر نہیں تھا کہ وہ خداکے غضب کے مستحق ہوں، ہم اس بات کی تشریح نہیں کرتے او راس کا فیصلہ پڑھنے والوں پر چھوڑتے ہیں “۔

جنگ تبوک

”تبوک“(۹۷) کا مقام ان تمام مقامات سے دور تھا جھاں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی جنگوں میں پیش قدمی کی ۔ ”تبوک“اصل میںایک محکم اور بلند قلعہ کا نام تھا ۔ جو حجاز او رشام کی سرحد پر واقع تھا ۔ اسی وجہ سے اس علاقے کو سر زمین تبوک کہتے تھے ۔

جزیرہ نمائے عرب میں اسلام کے تیز رفتار نفوذ کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شہرت اطراف کے تمام ممالک میں گونجنے لگی باوجود یہ کہ وہ اس وقت حجازکی اہمیت کے قائل نہیں تھے لیکن طلوع اسلام اور لشکر اسلام کی طاقت کہ جس نے حجاز کو ایک پرچم تلے جمع کرلیا، نے انہیں اپنے مستقبل کے بارے میں تشویش میں ڈال دیا ۔

مشرقی روم کی سرحد حجاز سے ملتی تھی اس حکومت کو خیال ہوا کہ کہیں اسلام کی تیز رفتار ترقی کی وہ پہلی قربانی نہ بن جائے لہٰذا اس نے چالیس ہزار کی زبردست مسلح فوج جو اس وقت کی روم جیسی طاقتور حکومت کے شایان شان تھی‘ اکھٹی کی اور اسے حجاز کی سرحد پر لاکھڑا کیا یہ خبر مسافروں کے ذریعے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے کانوں تک پہنچی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے روم اور دیگر ہمسایوں کودرس عبرت دینے کے لئے توقف کئے بغیر تیاری کا حکم صادر فرمایاآپ کے منادیوںنے مدینہ اور دوسرے علاقوں تک آپ کا پیغام پہنچایا تھوڑے ھی عرصہ میں تیس ہزار افراد رومیوں سے جنگ کرنے کے لئے تیار ہوگئے ان میں دس ہزار سوار اور بیس ہزار پیادہ تھے ۔

موسم بہت گرم تھا، غلے کے گودام خالی تھے اس سال کی فصل ابھی اٹھائی نہیں گئی تھی ان حالات میں سفر کرنا مسلمانوں کے لئے بہت ھی مشکل تھا لیکن چونکہ خدا اور رسول کافرمان تھا لہٰذا ہر حالت میں سفر کرنا تھا اور مدینہ اور تبوک کے درمیان پرُ خطر طویل صحرا کو عبور کرنا تھا ۔

لشکر ی مشکلات

اس لشکر کو چونکہ اقتصادی طور پر بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اس کا راستہ بھی طولانی تھا راستے میں جلانے والی زہریلی ہوائیں چلتی تہیں سنگریزے اڑتے تھے اور جھکڑچلتے تھے سواریاں بھی کافی نہ تہیں اس لئے یہ ”جیش العسرة“ (یعنی سختیوں والا لشکر ) کے نام سے مشہور ہوا ۔

تاریخ اسلام نشاندھی کرتی ہے کہ مسلمان کبھی بھی جنگ تبوک کے موقع کی طرح مشکل صورت حال، دباؤ اور زحمت میں مبتلا نہیں ہوئے تھے کیونکہ ایک تو سفر سخت گرمی کے عالم میں تھا دوسرا خشک سالی نے لوگوں کو تنگ اور ملول کررکھا تھا اور تیسرا اس وقت درختوں سے پھل اتارنے کے دن تھے اور اسی پر لوگوں کی سال بہر کی آمدنی کا انحصار تھا۔

ان تمام چیزوں کے علاوہ مدینہ اور تبوک کے درمیان بہت زیادہ فاصلہ تھا اور مشرقی روم کی سلطنت کا انہیں سامنا تھا جو اس وقت کی سپر پاور تھی۔

مزید برآں سواریاں اور رسد مسلمانوں کے پاس اتنا کم تھا کہ بعض اوقات دوافراد مجبور ہوتے تھے کہ ایک ھی سواری پرباری باری سفر کریں بعض پیدل چلنے والوں کے پاس جوتاتک نہیں تھا اور وہ مجبور تھے کہ وہ بیابان کی جلانے والی ریت پرپا برہنہ چلیں آب وغذا کی کمی کا یہ عالم تھا کہ بغض اوقات خرمہ کا ایک دانہ چند آدمی یکے بعد دیگرے منہ میں رکھ کر چوستے تھے یہاں تک کہ اس کی صرف گٹھلی رہ جاتی پانی کا ایک گھونٹ کبھی چند آدمیوں کو مل کر پینا پڑتا ۔

یہ واقعہ نوہجری یعنی فتح مکہ سے تقریبا ایک سال بعد رونماہوا ۔مقابلہ چونکہ اس وقت کی ایک عالمی سوپر طاقت سے تھا نہ کہ عرب کے کسی چھوٹے بڑے گروہ سے لہٰذا بعض مسلمان اس جنگ میں شرکت سے خوف زدہ تھے اس صورت حال میں منافقین کے زہریلے پر وپیگنڈے اور وسوسوں کے لئے ماحول بالکل ساز گار تھا اور وہ بھی مومنین کے دلوں اور جذبات کوکمزور کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کررہے تھے ۔

پھل اتارنے اور فصل کاٹنے کا موسم تھا جن لوگوں کی زندگی تھوڑی سی کھیتی باڑی اور کچھ جانور پالنے پر بسر ہوتی تھی یہ ان کی قسمت کے اہم دن شمار ہوتے تھے کیونکہ ان کی سال بہر کی گزر بسر انہیں چیزوں سے وابستہ تھےں۔

جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں مسافت کی دوری اور موسم کی گرمی بھی روکنے والے عوامل کی مزید مدد کرتی تھی اس موقع پر آسمانی وحی لوگوں کی مدد کے لئے آپہنچی اور قرآنی آیات یکے بعد دیگر ے نازل ہوئیں اور ان منفی عوامل کے سامنے آکھڑی ہوئیں۔

تشویق ، سرزنش، اور دہمکی کی زبان

قرآن جس قدر ہوسکتی ہے اتنی سختی اور شدت سے جھاد کی دعوت دتیاہے ۔ کبھی تشویق کی زبان سے کبھی سرزنش کے لہجے میں اورکبھی دہمکی کی زبان میں ان سے بات کرتا ہے،اور انہیں آمادہ کرنے کے لئے ہر ممکن راستہ اختیار کرتا ہے۔ پہلے کہتا ہے:” کہ خدا کی راہ میں ،میدان جھاد کی طرف حرکت کرو تو تم سستی کا مظاہرہ کرتے ہو اور بوجھل پن دکھاتے ہو “۔(۹۸)

اس کے بعد ملامت آمیز لہجے میں قرآن کہتا ہے : ”آخرت کی وسیع اور دائمی زندگی کی بجائے اس دنیاوی پست اور ناپائیدار زندگی پر راضی ہوگئے ہو حالانکہ دنیاوی زندگی کے فوائد اور مال ومتاع آخرت کی زندگی کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے اور بہت ھی کم ہیں “۔(۹۹)

ایک عقلمند انسان ایسے گھاٹے کے سودے پر کیسے تیار ہوسکتا ہے اور کیونکہ وہ ایک نھایت گراں بھامتاع اور سرمایہ چھوڑکر ایک ناچیز اور بے وقعت متاع کی طرف جاسکتاہے ۔

اس کے بعد ملامت کے بجائے ایک حقیقی تہدید کا اندازاختیار کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے :” اگر تم میدان جنگ کی طرف حرکت نہیں کرو گے تو خدا دردناک عذاب کے ذریعے تمہیں سزادے گا“۔(۱۰۰)

”اور اگر تم گمان کرتے ہو کہ تمھارے کنارہ کش ہونے اور میدان جھاد سے پشت پھیرنے سے اسلام کی پیش رفت رک جائے گی اور آئینہ الٰھی کی چمک ماند پڑجائے گی تو تم سخت اشتباہ میں ہو ،کیونکہ خدا تمھارے بجائے ایسے صاحبان ایمان کو لے آئے گا جو عزم مصمم رکھتے ہوں گے اور فرمان خدا کے مطیع ہوں گے“۔(۱۰۱)

وہ لوگ کہ جو ہر لحاظ سے تم سے مختلف ہیں نہ صرف ان کی شخصیت بلکہ انکا ایمان، ارادہ،دلیری اور فرماں برداری بھی تم سے مختلف ہے لہٰذا ” اس طرح تم خدا اور اس کے پاکیزہ دین کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے“ ۔(۱۰۲)

تنہاوہ جنگ جس میں حضرت علی نے شرکت نہ کی

اس لشکر کو چونکہ اقتصادی طور پر بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اس کا راستہ بھی طولانی تھا راستے میں جلانے والی زہریلی ہوائیں چلتی تہیں سنگریزے اڑتے تھے اور جھکّڑچلتے تھے سواریاں بھی کافی نہ تہیں اس لئے یہ” جیش العسرة“ (یعنی سختیوں والا لشکر )کے نام سے مشہور ہوا اس نے تمام سختیوں کو جھیلا اور ماہ شعبان کی ابتداء میں ہجرت کے نویں سال سرزمین ”تبوک“ میں پہنچا جب کہ رسول اللہ حضرت علی کو اپنی جگہ پر مدینہ میں چھوڑآئے تھے یہ واحد غزوہ ہے جس میں حضرت علی علیہ السلام شریک نہیں ہوئے ۔

رسول اللہ کایہ اقدام بہت ھی مناسب اور ضروری تھا کیونکہ بہت احتمال تھا کہ بعض پیچہے رہنے والے مشرکین یامنا فقین جو حیلوں بھانوں سے میدان تبوک میں شریک نہ ہوئے تھے، رسول اللہ اور ان کی فوج کی طویل غیبت سے فائدہ اٹھائیں اور مدینہ پر حملہ کردیں، عورتوں اور بچوں کو قتل کردیں اور مدینہ کو تاراج کردیں لیکن حضرت علی کا مدینہ میں رہ جانا ان کی سازشوں کے مقابلے میں ایک طاقتور رکاوٹ تھی ۔

بہرحال جب رسول اللہ تبوک میں پہنچے تو وھاں آپ کو رومی فوج کا کوئی نام ونشان نظر نہ آیا عظیم سپاہ اسلام چونکہ کئی جنگوں میں اپنی عجیب وغریب جراءت وشجاعت کا مظاہرہ کرچکی تھی، جب ان کے آنے کی کچھ خبر رومیوں کے کانوں تک پہنچی تو انھوں نے اسی کو بہتر سمجھا کہ اپنے ملک کے اندرچلے جائیں اور اس طرح سے ظاہر کریں کہ مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے لشکر روم کی سرحدوں پر جمع ہونے کی خبر ایک بے بنیاد افواہ سے زیادہ کچھ نہ تھی کیونکہ وہ ایک ایسی خطرناک جنگ شروع کرنے سے ڈرتے تھے جس کا جواز بھی ان کے پاس کوئی نہ تھا لیکن لشکر اسلام کے اس طرح سے تیز رفتاری سے میدان تبوک میں پہنچنے نے دشمنانِ اسلام کو کئی درس سکھائے، مثلاً:

۱ ۔یہ بات ثابت ہوگئی کہ مجاہدین اسلام کا جذبہ جھاد اس قدر قوی ہے کہ وہ اس زمانے کی نھایت طاقت ور فوج سے بھی نہیں ڈرتے۔

۲ ۔ بہت سے قبائل اور اطراف تبوک کے امراء پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں آئے اور آپ سے تعرض اور جنگ نہ کرنے کے عہدوپیمان پر دستخط کیے اس طرح مسلمان ان کی طرف سے آسودہ خاطر ہوگئے ۔

۳ ۔ اسلام کی لہریں سلطنت روم کی سرحدوں کے اندر تک چلی گئیں اور اس وقت کے ایک اہم واقعہ کے طور پر اس کی آواز ہر جگہ گونجی اور رومیوں کے اسلام کی طرف متوجہ ہونے کے لئے راستہ ہموار ہوگیا ۔

۴ ۔ یہ راستہ طے کرنے اور زحمتوں کو برداشت کرنے سے آئندہ شام کا علاقہ فتح کرنے کے لئے راہ ہموار ہوگئی اور معلوم ہوگیا کہ آخرکار یہ راستہ طے کرنا ھی ہے ۔

یہ عظیم فوائد ایسے تھے کہ جن کے لئے لشکر کشی کی زحمت برداشت کی جاسکتی تھی ۔

بہرحال پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی سنت کے مطابق اپنی فوج سے مشورہ کیا کہ کیا پیش قدمی جاری رکھی جائے یاواپس پلٹ جایا جائے؟

اکثریت کی رائے یہ تھی، کہ پلٹ جانا بہتر ہے اور یھی اسلامی اصولوں کی روح سے زیادہ مناسبت رکھتا تھا خصوصاً جبکہ اس وقت طاقت فرسا سفر اور راستے کی مشقت وزحمت کے باعث اسلامی فوج کے سپاھی تھکے ہوئے تھے اور ان کی جسمانی قوت مزاحمت کمزور پڑچکی تھی، رسول اللہ نے اس رائے کو صحیح قرار دیا اور لشکر اسلام مدینہ کی طرف لوٹ آیا۔

ایک عظیم درس

”ابو حثیمہ “(۱۰۳) اصحاب پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں سے تھا ،منافقین میں سے نہ تھا لیکن سستی کی وجہ سے پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ میدان تبوک میںنہ گیا ۔

اس واقعہ کو دس دن گذر گئے ،ہوا گرم او رجلانے والی تھی،ایک دن اپنی بیویوں کے پاس آیا انھوں نے ایک سائبان تان رکھا تھا ، ٹھنڈا پانی مھیا کر رکھا تھا او ربہترین کھانا تیار کر رکھا تھا، وہ اچانک غم و فکر میں ڈوب گیا او راپنے پیشوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یاد اسے ستانے لگی ،اس نے کھا:رسول اللہ کہ جنھوںنے کبھی کوئی گناہ نہیں کیا او رخدا ان کے گذشتہ اور آئندہ کا ذمہ دار ہے ،بیابان کی جلا ڈالنے والی ہواؤں میں کندہے پر ہتھیار اٹھائے اس دشوار گذار سفر کی مشکلات اٹھارہے ہیں او رابو حثیمہ کو دیکھو کہ ٹھنڈے سائے میں تیار کھانے اور خوبصورت بیویوں کے پاس بیٹھا ہے ،کیا یہ انصاف ہے ؟

اس کے بعد اس نے اپنی بیویوں کی طرف رخ کیا او رکھا:

خدا کی قسم تم میں سے کسی کے ساتھ میں بات نہ کروں گا او رسائبان کے نیچے نہیں بیٹھوں گا جب تک پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے نہ جاملوں ۔

یہ بات کہہ کر اس نے زادراہ لیا ،اپنے اونٹ پر سوار ہوااور چل کھڑا ہوا ،اس کی بیویوںنے بہت چاھا کہ اس سے بات کریں لیکن اس نے ایک لفظ نہ کھا او راسی طرح چلتا رھا یہاں تک کہ تبوک کے قریب جا پہنچا ۔

مسلماان ایک دوسرے سے کہنے لگے :یہ کوئی سوار ہے جو سڑک سے گذررھا ہے، لیکن پیغمبر اکرم نے فرمایا:اے سوار تم ابو حثیمہ ہو تو بہتر ہے۔

جب وہ قریب پہنچا او رلوگوںنے اسے پہچان لیا تو کہنے لگے : جی ھاں ؛ ابو حثیمہ ہے ۔

اس نے اپنا اونٹ زمین پر بٹھایا او رپیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں سلام عرض کیا او راپنا ماجرابیان کیا ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسے خوش آمدید کھا اور اس کے حق میں دعا فرمائی ۔

اس طرح وہ ایک ایسا شخص تھا جس کا دل باطل کی طرف مائل ہوگیا تھا لیکن اس کی روحانی آمادگی کی بنا ء پر خدا نے اسے حق کی طرف متوجہ کیا اور ثبات قدم بھی عطا کیا ۔

جنگ تبوک میں شرکت نہ کرنے والے تین لوگ

مسلمانوں میں سے تین افراد کعب بن مالک ،مرارہ بن ربیع او ربلال بن امیہ نے جنگ تبوک میںشرکت نہ کی او رانھوںنے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہمراہ سفر نہ کیا وہ منافقین میں شامل نہیں ہو نا چاہتے تھے بلکہ ایسا انھوںنے سستی اور کاہلی کی بنا پر کیا تھا،تھوڑا ھی عرصہ گذرا تھا کہ وہ اپنے کئے پر نادم اور پشیمان ہوگئے۔

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میدان تبوک سے مدینہ لوٹے تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور معذرت کی لیکن رسول اللہ نے ان سے ایک لفظ تک نہ کھا اور مسلمانوں کو بھی حکم دیا کہ کوئی شخص ان سے بات چیت نہ کرے وہ ایک عجیب معاشرتی دباؤ کا شکار ہوگئے یہاں تک کہ ان کے چھوٹے بچے او رعورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس آئیں او راجازت چاھی کہ ان سے الگ ہو جائیں ،آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے انہیں علیحدگی کی اجازت تو نہ دی لیکن حکم دیا کہ ان کے قریب نہ جائیں،مدینہ کی فضااپنی وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی ،وہ مجبور ہوگئے کہ اتنی بڑی ذلت اوررسوائی سے نجات حاصل کرنے کے لئے شہر چھوڑدیں اوراطراف مدینہ کے پھاڑوں کی چوٹی پر جاکر پناہ لیں۔

جن باتوںنے ان کے جذبات پر شدید ضرب لگائی ان میں سے ایک یہ تھی کہ کعب بن مالک کہتا ہے :میںایک دن بازار مدینہ میں پریشانی کے عالم میں بیٹھا تھاکہ ایک شامی عیسائی مجھے تلاش کرتا ہوا آیا، جب اس نے مجھے پہچان لیا تو بادشاہ غسان کی طرف سے ایک خط میرے ہاتھ میںدیا ، اس میں لکھاتھا کہ اگر تیرے ساتھی نے تجہے دھتکاردیا ہے تو ہماری طرف چلے آؤ، میری حالت منقلب اور غیر ہوگئی ،اور میں نے کھا وائے ہو مجھ پر میرا معاملہ اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ دشمن میرے بارے میں لالچ کرنے لگے ہیں ، خلاصہ یہ کہ ان کے اعزا ء واقارب ان کے پاس کھانالے آتے مگر ان سے ایک لفظ بھی نہ کہتے ،کچھ مدت اسی صورت میں گزر گئی او روہ مسلسل انتظار میں تھے کہ اس کی توبہ قبول ہو اورکوئی آیت نازل ہو جو ان کی توبہ کی دلیل بنے ، مگر کوئی خبر نہ تھی ۔

اس دوران ان میں سے ایک کے ذہن میںیہ بات آئی او راس نے دوسروں سے کھا اب جبکہ لوگوں نے ہم سے قطع تعلق کر لیا ہے ،کیا ھی بہتر ہے کہ ہم بھی ایک دوسرے سے قطع تعلق کرلیں (یہ ٹھیک ہے کہ ہم گنہ گار ہیں لیکن مناسب ہے کہ دوسرے گنہ گار سے خوش او رراضی نہ ہوں)۔

انھوں نے ایسا ھی کیا یہاں تک کہ ایک لفظ بھی ایک دوسرے سے نہیں کہتے تھے اوران میںسے کوئی ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہتا تھا،اس طرح پچاس دن انھوںنے توبہ وزاری کی او رآخر کار ان کی توبہ قبول ہوگئی ۔(۱۰۴)

مسجد ضرار(۱۰۵)

کچھ منافقین رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس آئے او رعرض کیا، ہمیں اجازت دیجیئے کہ ہم قبیلہ ”بنی سالم“ کے درمیان”مسحد قبا“کے قریب ایک مسجد بنالیں تاکہ ناتواں بیمار اور بوڑہے جو کوئی کام نہیں کرسکتے اس میں نماز پڑھ لیا کریں۔ اسی طرح جن راتوں میں بارش ہوتی ہے ان میں جو لوگ آپ کی مسجد میں نہیں آسکتے اپنے اسلامی فریضہ کو اس میں انجام دے لیا کریں۔

یہ اس وقت کی بات ہے جب پیغمبر خد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جنگ تبوک کا عزم کرچکے تھے آنحضرت نے انہیں اجازت دےدی۔

انھوں نے مزید کھا: کیا یہ بھی ممکن ہے کہ آپ خود آکر اس میں نماز پڑہیں ؟نبی اکرم نے فرمایا: اس وقت تو میں سفر کا ارادہ کر چکا ہوں البتہ واپسی پر خدا نے چاھا تو اس مسجد میں آکر نماز پڑھوں گا۔

جب آپ جنگ تبوک سے لوٹے تو یہ لوگ آپ کے پاس آئے اور کہنے لگے ہماری درخواست ہے کہ آپ ہماری مسجد میں آکر اس میں نماز پڑھائیں اورخدا سے دعا کریں کہ ہمیں برکت دے ۔

یہ اس وقت کی بات ہے جب ابھی آنحضرت مدینہ کے دروازے میں داخل نہیں ہوئے تھے اس وقت وحی خدا کا حامل فرشتہ نازل ہوا اور خدا کی طرف سے پیغام لایا او ران کے کرتوت سے پردہ اٹھایا۔

ان لوگوںکے ظاہراًکام کو دیکھا جائے تو ہمیں شروع میں تو اس حکم پر حیرت ہوئی کہ کیا بیماروں اوربوڑھوں کی سہولت کے لئے اوراضطراری مواقع کے لئے مسجد بنانا برا کام ہے جبکہ یہ ایک دینی او رانسانی خدمت معلوم ہوتی ہے کیا ایسے کام کے بارے میں یہ حکم صادر ہوا ہے؟لیکن اگر ہم اس معاملہ کی حقیقت پر نظر کریں گے تو معلوم ہوگا کہ یہ حکم کس قدر بر محل اور جچاتلا تھا۔

اس کی وضاحت یہ ہے کہ” ابو عامر“نامی ایک شخص نے عیسائیت قبول کرلی تھی اور راھبوں کے مسلک سے منسلک ہوگیا تھا ۔ اس کا شمار عابدوں میں ہوتا تھا ، قبیلہ خزرج میں اس کا گہرا اثرورسوخ تھا ۔

رسول اللہ نے جب مدینہ کی طرف ہجرت کی او رمسلمان آپ کے گرد جمع ہوگئے تو ابو عامر جو خودبھی پیغمبر کے ظہور کی خبر دینے والوں میں سے تھا،اس نے دیکھا کہ اس کے ارد گرد سے لوگ چھٹ گئے ہیں اس پر وہ اسلام کے مقابلے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا ،وہ مدینہ سے نکلا اور کفار مکہ کے پاس پہنچا،اس نے ان سے پیغمبر اکرم کے خلاف جنگ کے لئے مدد چاھی اور قبائل عرب کو بھی تعاون کی دعوت دی ،وہ خود مسلمانوں کے خلاف جنگ احد کی منصوبہ بندی میںشریک رھا تھا،اور راہنمائی کرنے والوں میں سے تھا،اس نے حکم دیا کہ لشکر کی دو صفوں کے درمیان گڑہے کھوددے جائیں ۔اتفاقاً پیغمبر اسلامایک گڑہے میں گر پڑے ،آپ کی پیشانی پر زخم آئے اور دندان مبارک ٹوٹ گئے ۔

جنگ احد ختم ہوئی،مسلمانوں کو اس میدان میں آنے والی مشکلات کے باوجود اسلام کی آواز بلند تر ہوئی او رہر طرف صدا ئے اسلام گونجنے لگی، تو وہ مدینہ سے بھاگ گیا او ربادشاہ روم ہرقل کے پاس پہنچا تاکہ اس سے مددچاہے اور مسلمانوں کی سرکوبی کے لئے ایک لشکر مھیا کرے۔

اس نکتے کا بھی ذکر ضروری ہے کہ اس کی ان کارستانیوں کی وجہ سے پیغمبر اسلام نے اسے ”فاسق“کالقب دے رکہاتھا۔

بعض کہتے ہیں کہ موت نے اسے مھلت نہ دی کہ وہ اپنی آرزو ہرقل سے کہتا لیکن بعض دوسری کتب میں ہے کہ وہ ہرقل سے جاکر ملا اور اس کے وعدوں سے مطمئن اورخوش ہوا۔

بہر حال اس نے مرنے سے پہلے مدینہ کے منافقین کو ایک خط لکھا اور انہیں خوشخبری دی کہ روم کے ایک لشکر کے ساتھ وہ ان کی مدد کوآئے گا۔اس نے انہیں خصوصی تاکید کی کہ مدینہ میں وہ اس کے لئے ایک مرکز بنائیں تاکہ اس کی آئندہ کی کارگذاریوں کے لئے وہ کام دے سکے لیکن ایسا مرکز چونکہ مدینہ میں اسلام دشمنوں کی طرف سے اپنے نام پر قائم کرنا عملی طور پر ممکن نہ تھا۔ لہٰذا منافقین نے مناسب یہ سمجھا کہ مسجد کے نام پر بیماروں اور معذوروں کی مدد کی صورت میں اپنے پروگرام کو عملی شکل دیں۔

آخر کار مسجد تعمیر ہوگئی یہاں تک کہ مسلمانوں میں سے ”مجمع بن حارثہ“ (یا مجمع بَن جاریہ)نامی ایک قرآن فہم نوجوان کو مسجد کی امامت کے لئے بھی چن لیا گیا لیکن وحی الٰھی نے ان کے کام سے پردہ اٹھادیا۔

یہ جو پیغمبر اکرم نے جنگ تبوک کی طرف جانے سے قبل ان کے خلا ف سخت کاروائی کا حکم نہیں دیا اس کی وجہ شاید ایک تو ان کی حقیقت زیادہ واضح ہوجائے او ردوسرا یہ کہ تبوک کے سفر میں اس طرف سے کوئی او رذہنی پریشانی نہ ہو۔ بہر حال جو کچھ بھی تھا رسول اللہ نے نہ صرف یہ کہ مسجد میں نماز نہیں پڑھی بلکہ بعض مسلمانوں (مالک بن دخشم،معنی بن عدی اور عامر بن سکر یا عاصم بن عدی)کو حکم دیا کہ مسجدکو جلادیں او رپہر اس کی دیواروں کو مسمار کروادیا۔ او رآخر کار اسے کوڑاکرکٹ پھیکنے کی جگہ قرار دےدیا۔

مسجد قبا ء

یہ بات قابل توجہ ہے کہ خدا وند عالم اس حیات بخش حکم کی مزید تاکید کے لئے خداوند متعال فرماتا ہے کہ اس مسجد میں ہرگز قیام نہ کرو اور اس میں نمازنہ پڑھو۔(۱۰۶)

”بلکہ اس مسجدکے بجائے زیادہ مناسب یہ ہے کہ اس مسجد میں عبادت قائم کرو جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے“(۱۰۷)

نہ یہ کہ یہ مسجد جس کی بنیاد روز اول ھی سے کفر،نفاق،بے دینی اور تفرقہ پر رکھی گئی ہے۔

”مفسرین نے کھا ہے کہ جس مسجد کے بارے میں مندرجہ بالا جملے میں کھا گیا ہے کہ زیادہ مناسب یہ ہے کہ پیغمبر اس میں نماز پڑہیں اس سے مراد” مسجد قبا “ہے کہ جس کے قریب منافقین نے مسجد ضرار بنائی تھی“۔

اس کے بعد قرآن مزید کہتا ہے :”کہ علاوہ اس کے کہ اس مسجد کی بنیاد تقویٰ پر رکھی گئی ہے ،مردوں کا ایک گروہ اس میں مشغول عباد ت ہے جو پسند کرتا ہے کہ اپنے آپ کو پاک وپاکیزہ رکہے اور خدا پاکباز لوگوں کو دوست رکھتا ہے “۔(۱۰۸)

سب سے پہلی نماز جمعہ

پہلا جمعہ جو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے اصحاب کے ساتھ پڑھا وہ اس وقت پڑھا گیا جب آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی ۔ جب آپ مدینہ میں وارد ہوئے تو اس دن پیر کا دن بارہ ربیع الاول او رظہر کا وقت تھا۔ حضرت چار دن تک”قبا “میں رہے او رمسجد قبا کی بنیاد رکھی ، پہر جمعہ کے دن مدینہ کی طرف روانہ ہوئے(قبااور مدینہ کے درمیان فاصلہ بہت ھی کم ہے اور موجودہ وقت میںقبا مدینہ کا ایک داخلی محلہ ہے)

اور نماز جمعہ کے وقت آپ محلہ”بنی سالم“میں پہنچے وھاں نماز جمعہ ادا فرمائی اور یہ اسلام میں پہلا جمعہ تھا جو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اداکیا۔ جمعہ کی نماز میں آپ نے خطبہ بھی پڑھا۔ جو مدینہ میں آنحضرت کا پہلا خطبہ تھا۔

واقعہ غدیر

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زندگی کا آخری سال تھا”حجة الوداع “کے مراسم جس قدر باوقار و پرشکوہ ہو سکتے تھے اس قدر پیغمبر اکرم کی ہمراھی میں اختتام پذیر ہوئے۔ سب کے دل روحانیت سے سرشار تھے ابھی ان کی روح اس عظیم عبادت کی معنوی لذت کا ذائقہ محسوس کررھی تھی ۔ اصحاب پیغمبر جن کی تعداد بہت زیادہ تھی اس عظیم نعمت سے فیض یاب ہوئے او راس سعادت کے حاصل ہونے پر جامے میں پھولے نہیں سماتے تھے۔

نہ صرف مدینہ کے لوگ اس سفر میں پیغمبر کے ساتھ تھے بلکہ جزیرہ نمائے عرب کے دیگر مختلف حصوں کے مسلمان بھی یہ عظیم تاریخی اعزازوافتخار حاصل کرنے کے لئے آپ کے ہمراہ تھے۔

سرزمین حجاز کا سورج دروں اور پھاڑوںپر آگ برسآرہا تھا لیکن اس سفرکی بے نظیر روحانی مٹھاس تمام تکلیفوں کو آسان بنارھی تھی۔ زوال کا وقت نزدیک تھا۔ آہستہ آہستہ ”حجفہ “کی سرزمین او راس کے بعد خشک اور جلانے والے”غدیرخم“ کے بیابان نظر آنے لگے۔

در اصل یہاں پر ایک چوراھا ہے جو حجاز کے لوگوں کوایک دوسرے سے جدا کرتا ہے۔ شمالی راستہ مدینہ کی طرف دوسرا مشرقی راستہ عراق کی طرف،تیسرا مغربی ممالک او رمصر کی طرف اور چوتھا جنوبی راستہ سرزمین یمن کو جاتا ہے یھی وہ مقام ہے جھاں پر آخری مقصد او راس عظیم سفر کااہم ترین کام انجام پذیر ہوتا تھا تاکہ مسلمان پیغمبر کی اہم ذمہ داریوںمیںسے ان کا آخری حکم جان کر ایک دوسرے سے جداہوں ۔

جمعرات کا دن تھا اورہجرت کا دسواں سال۔ آٹھ دن عید قربان کو گزرے تھے کہ اچانک پیغمبر کی طرف سے ان کے ہمراھیوں کو ٹھہر جانے کا حکم دیا گیا۔ مسلمانوں نے بلندآواز سے ان لوگوں کو جو قافلے کے آگے چل رہے تھے واپس لوٹنے کے لئے پکارا اوراتنی دیر کے لئے ٹھہر گئے کہ پیچہے آنے والے لوگ بھی پہنچ جائیں۔ آفتاب خط نصف النھار سے گزر گیا تو پیغمبر کے موذن نے ”اللہ اکبر “کی صداکے ساتھ لوگوں کونماز ظہر پڑھنے کی دعوت دی ۔ مسلمان جلدی جلدی نماز پڑھنے کے لئے تیار ہوگئے ۔ لیکن فضاء اتنی گرم تھی کہ بعض لوگ مجبور تھے کہ وہ اپنی عبا کا کچھ حصہ پاؤں کے نیچے اور باقی سر کے اوپر لے لیں،ورنہ بیابان کی گرم ریت اور سورج کی شعاعیں ان کے سر اور پاؤں کو تکلیف دے رھی تہیں ۔

اس صحراء میں کوئی سائبان نظر نہ آتا تھا اور نہ ھی کوئی سبزہ یاگھاس صرف چند بے برگ وبار بیابانی درخت تھے جو گرمی کا سختی کے ساتھ مقابلہ کر رہے تھے کچھ لوگ انھی چند درختوں کا سھارا لئے ہوئے تھے اور انہوں نے ان برہنہ درختوں پر ایک کپڑاڈال رکھا تھا اور پیغمبر کے لئے ایک سائبان سا بنا رکھا تھا لیکن گرم ہوا اس سائبان کے نیچے سے گزرتی ہوئی سورج کی جلانے والی گرمی کو اس سائبان کے نیچے بھی پھیلا رھی تھی۔ بہر حال ظہر کی نماز پڑھ لی گئی۔

خطبہ غدیر

مسلمان ارادہ کررہے تھے کہ فوراً اپنے چھوٹے چھوٹے خیموں میں جاکر پناہ لیں جو انھوں نے اپنے ساتھ اٹھارکہے تھے لیکن رسول اللہ نے انہیں آگاہ کیا کہ وہ سب کے سب خداوندتعالیٰ کا ایک نیا پیغام سننے کے لئے تیار ہوں جسے ایک مفصل خطبے کے ساتھ بیان کیا جائے گا۔

جو لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے دور تھے وہ پیغمبر کا ملکوتی چہرہ اس عظیم اجتماع میں دور سے دیکھ نہیں پارہے تھے لہٰذا اونٹوں کے پالانوں کا منبر بنایا گیا۔پیغمبر اس کے اوپر تشریف لے گئے۔پہلے پروردگار عالم کی حمد وثنا بجالائے اور خدا پر بہروسہ کرتے ہوئے یوں خطاب فرمایا:میں عنقرب خداوندمتعال کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے تمھارے درمیان سے جآرہا ہوں ،میں بھی جوابدہ ہوںاورتم بھی جوابدہ ہو ،تم میرے بارے میں کیا گواھی دوگے لوگوں نے بلند آواز میں کھا :

”ہم گواھی دیں گے کہ آپ نے فریضہ رسالت انجام دیا اورخیر خواھی کی ذمہ داری کو انجام دیا اور ہماری ہدایت کی راہ میں سعی و کوشش کی،خدا آپکوجزا ئے خیر دے“۔

اس کے بعد آپ نے فرمایا کیا تم لوگ خدا کی وحدانیت،میری رسالت اور روز قیامت کی حقانیت اوراس دن مردوں کے قبروں سے مبعوث ہونے کی گواھی نہیں دیتے؟

سب نے کھا:کیوں نہیں ہم سب گواھی دیتے ہیں ۔

آپ نے فرمایا: خداوندگواہ رہنا۔

آپ نے مزید فرمایا:اے لوگو ! کیا تم میری آواز سن رہے ہو؟

انہوںنے کھا: جی ھاں۔

اس کے بعد سارے بیابان پر سکوت کا عالم طاری ہوگیا۔ سوائے ہوا کی سنسناہٹ کے کوئی چیز سنائی نہیں دیتی تھی ۔ پیغمبر نے فرمایا:دیکھو! میں تمھارے درمیان دوگرانمایہ اور گرانقدر چیزیں بطور یادگار چھوڑے جآرہا ہوں تم ان کے ساتھ کیا سلوک کروگے؟

حاضرین میں سے ایک شخص نے پکار کر کھا:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم وہ دو گرانمایہ چیزیں کونسی ہیں ؟

تو پیغمبراکرم نے فرمایا: پہلی چیز تو اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے جو ثقل اکبر ہے۔ اس کا ایک سرا تو پروردگار عالم کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سراتمھارے ہاتھ میں ہے،اس سے ہاتھ نہ ہٹانا ورنہ تم گمراہ ہو جاؤگے۔ دوسری گرانقدر یادگار میرے اہل بیت (ع) ہیں اور مجھے خدائے لطیف وخبیر نے خبردی ہے کہ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ بہشت میں مجھ سے آملیںگے۔

ان دونوں سے آگے بڑھنے (اور ان سے تجاوز کرنے) کی کوشش نہ کرنا اور نہ ھی ان سے پیچہے رہنا کہ اس صورت میں بھی تم ہلاک ہو جاؤگے۔

اچانک لوگوں نے دیکھا کہ ر سول اللہ اپنے ارد گرد نگاہیں دوڑارہے ہیں گویا کسی کو تلاش کر رہے ہیں جو نھی آپ کی نظر حضرت علی علیہ السلام پر پڑی فوراً ان کا ہاتھ پکڑلیا اور انہیں اتنا بلند کیا کہ دونوں کی بغلوں کے نیچے کی سفیدی نظر آنے لگی اور سب لوگوں نے انہیں دیکھ کر پہچان لیاکہ یہ تو اسلام کا وھی سپہ سالار ہے کہ جس نے کبھی شکست کا منہ نہیں دیکھا۔

اس موقع پر پیغمبر کی آواز زیادہ نمایاں اوربلند ہوگئی اور آپ نے ارشاد فرمایا:

”ایها الناس من اولی الناس بالمومنین من انفسهم “

یعنی اے لوگو! بتاؤ وہ کون ہے جو تمام لوگوں کی نسبت مومنین پر خود ان سے زیادہ اولیت رکھتا ہے ؟ اس پر سب حاضرین نے بہ یک آواز جواب دیا کہ خدا اور اس کا پیغمبر بہتر جانتے ہیں ۔

تو پیغمبر نے فرمایا: خداا میرا مولا اوررھبر ہے اور میں مومنین کا مولااوررھبر ہوں اور ان کے اوپر ان کی نسبت خود ان سے زیادہ حق رکھتا ہوں(اور میرا ارادہ ان کے ارادے سے مقدم ہے)۔

اس کے بعد فرمایا:

”فمن کنت مولاه فهذا علی مولاه“ ۔

”یعنی جس جس کا میں مولاہ ہوں علی (ع) بھی اس اس کے مولاہ اوررھبر ہے“۔

پیغمبر اکرم نے اس جملے کی تین مرتبہ تکرار کی او ربعض راویوں کے قول کے مطابق پیغمبر نے یہ جملہ چار مرتبہ دہرایا اور اس کے بعد آسمان کی طرف سر بلند کر کے بارگاہ خداوندی میں عرض کی:۔

”اللّٰہم وال من والاہ وعاد من عاداہ واحب من احبہ و ابغض من ابغضہ و انصرمن نصرہ واخذل من خذلہ، وادرالحق معہ حیث دار۔“

یعنی بار الٰھا! جو اس کو دوست رکہے تو اس کو دوست رکھ او رجو اس سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی رکھ۔ جو اس سے محبت کرے تو اس سے محبت کر اور جو اس سے بغض رکہے تو اس سے بغض رکھ۔ جو اس کی مدد کرے تو اس کی مددکر ۔ جو اس کی مدد سے کنارہ کشی کرے تو اسے اپنی مددسے محروم رکھ اور حق کو ادہرپھیردے جدہر وہ رخ کرے۔

اس کے بعد فرمایا:

” تمام حاضرین آگاہ ہوجائیں اس بات پر کہ یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کوان لوگوں تک پہنچائیں جو یہاں پر اور اس وقت موجود نہیں ہیں “۔

روز اکمال دین

پیغمبر کا خطبہ ختم ہوگیا پیغمبر پسینے میں شرابور تھے حضرت علی علیہ السلام بھی پسینے میں نھائے ہوئے تھے۔ دوسرے تمام حاضرین کے بھی سر سے پاؤں تک پسینہ بہہ رھا تھا۔

ابھی اس جمعیت کی صفیں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوئی تہیں کہ جبرئیل (ع) امین وحی لے کر نازل ہوئے اور تکمیل دین کی پیغمبر کو بایں الفاظ بشارت دی:

”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی “ ۔(۱۰۹)

”آج کے دن میں نے تمھارے لئے تمھارے دین اور آئین کو کامل کردیا اور اپنی نعمت کو تم پر تمام کردیا“۔

اتمام نعمت کا پیغام سن کر پیغمبر نے فرمایا:

”اللّٰه اکبر اللّٰه اکبر علی اکمال الدین واتمام النعمة ورضی الرب برسالتی والولایةلعلی من بعدی“ ۔

”ہر طرح کی بزرگی وبڑائی خداھی کے لئے ہے کہ جس نے اپنے دین کو کامل فرمایا اور اپنی نعمت کو ہم پر تمام کیا اور میری نبوت ورسالت اور میرے بعد کے لئے علی (ع) کی ولایت کے لئے خوش ہوا۔“

امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہما السلام کی ولایت کا پیغمبر کی زبان مبارک سے اعلان سن کر حاضرین میں مبارک باد کا شور برپا ہوا لوگ بڑھ چڑھ کر اس اعزازومنصب پر حضرت علی (ع) کو اپنی طرف سے مبارک باد پیش کررہے تھے ۔ معروف شخصیتوں میں سے حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کی طرف سے مبارک باد کے یہ الفاظ تاریخ کے اوراق میں محفوظ ہیں کہ انہوں نے کھا:

”بخٍ بخٍ لک یا بن ابی طالب اصبحت وامسیت مولائی و مولاکل مومن و مومنةٍ “

”مبارک ہو ! مبارک ہو! اے فرزند ابی طالب کہ آپ(ع) میرے اور تمام صاحبان ایمان مردوں اورعورتوں کے مولا اور رھبر ہوگئے“۔

اس وقت ابن عباس نے کھا :بخدا یہ عہد وپیمان سب کی گردنوں میں باقی رہے گا“۔(۱۱۰)

فدک

فدک اطراف مدینہ میں تقریباً ایک سو چالیس کلو میٹر کے فاصلہ پر خیبر کے نزدیک ایک آباد قصبہ تھا۔جب سات ہجری میں خیبر کے قلعے یکے بعد دیگر افواج اسلامی نے فتح کرلئے اور یہودیوں کی مرکزی قوت ٹوٹ گئی تو فدک کے رہنے والے یہودی صلح کے خیال سے بارگاہ پیغمبر میں سرتسلیم خم کرتے ہوئے آئے اور انہوں نے اپنی آدھی زمینیں اور باغات آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سپرد کردئیے اور آدہے اپنے پاس رکہے ۔ اس کے علاوہ انہوں نے پیغمبر اسلام کے حصہ زمینوں کی کاشتکاری بھی اپنے ذمہ لی۔ اپنی کاشتکاری کی زحمت کی اجرت وہ پیغمبر اسلام سے وصول کرتے تھے،(سورہ حشر آیت)کے پیش نظراس کی طرف توجہ کرتے ہوئے یہ زمینیں پیغمبر اسلام کی ملکیت خاص تہیں ۔ ان کی آمدنی کو آپ اپنے مصرف میں لاتے تھے یا ان مدات میں خرچ کرتے تھے جن کی طرف اس سورہ کی آیت نمبر ۷ میں اشارہ ہوا ہے ۔

لہٰذا پیغمبر نے یہ ساری زمینیں اپنی بیٹی حضرت فاطمة الزہرا سلام اللہ علیھا کوعنایت فرمادیں۔ یہ ایسی حقیقت ہے جسے بہت سے شیعہ اور اہل سنت مفسرین نے تصریح کے ساتھ تحریر کیا ہے۔منجملہ دیگر مفسرین کے تفسیر درالمنثور میں ابن عباس(رض) سے مروی ہے کہ جس وقت آیت (فات ذاالقربیٰ حقہ)(۱۱۱) نازل ہوئی تو پیغمبر نے جناب فاطمہ سلام اللہ علیھا کو فدک عنایت فرمایا:

کتا ب کنزالعمال جو مسند احمد کے حاشیہ پر لکھی گئی ہے،میں صلہ رحم کے عنوان کے ماتحت ابو سعید خدری سے منقول ہے کہ جس وقت مذکورہ بالاآیت نازل ہوئی تو پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فاطمہ سلام اللہ علیھا کو طلب کیا اور فرمایا:

” یا فاطمة لکِ فدک“

”اے فاطمہ(ع) فدک تیری ملکیت ہے“۔

حاکم نیشاپوری نے بھی اپنی تاریخ میں اس حقیقت کو تحریرکیا ہے۔

ابن ابی الحدید معتزلی نے بھی نہج البلاغہ کی شرح میں داستان فدک تفصیل کے ساتھ بیان کی ہے اور اسی طرح بہت سے دیگر مورخین نے بھی،لیکن وہ افراد جو اس اقتصادی قوت کو حضرت علی علیہ السلام کی زوجہ محترمہ کے قبضہ میں رہنے دینا اپنی سیاسی قوت کے لئے مضر سمجھتے تھے،انہوں نے مصصم ارادہ کیا کہ حضرت علی علیہ السلام کے یاور وانصار کو ہر لحاظ سے کمزور اور گوشہ نشیں کردیں۔ حدیث مجہول(نحن معاشر الانبیاء ولا نورث) کے بھانے انہوں نے اسے اپنے قبضہ میں لے لیا اور باوجود یکہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا قانونی طور پر اس پر متصرف تہیں اور کوئی شخص ”ذوالید“(جس کے قبضہ میں مال ہو)سے گواہ کا مطالبہ نہیں کرتا،جناب سیدہ سلام اللہ علیھا سے گواہ طلب کیے گئے ۔ بی بی نے گواہ پیش کیے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خود انہیں فدک عطا فرمایا ہے لیکن انہوں نے ان تمام چیزوں کی کوئی پرواہ نہیں کی۔بعد میں آنے والے خلفاء میں سے جو کوئی اہلبیت (ع) سے محبت کا اظھار کرتا تو وہ فدک انہیں لوٹا دیتا لیکن زیادہ دیر نہ گزرتی کہ دوسرا خلیفہ اسے چھین لیتا اور دوبارہ اس پر قبضہ کرلیتا ۔ خلفائے بنی امیہ اور خلفائے بنی عباس بآرہا یہ اقدام کرتے رہے ۔

واقعہ فدک اور اس سے تعلق رکھنے والے مختلف النوع حوادث جو صدر اسلام میں اور بعد کے ادوار میں پیش آئے،زیادہ دردناک اورغم انگیز ہیں اور وہ تاریخ اسلام کا ایک عبرت انگیز حصہ بھی ہیں جو محققانہ طور پر مستقل مطالعہ کا متقاضی ہے تا کہ تاریخ اسلام کے مختلف حوادث نگاہوں کے سامنے آسکیں۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ اہل سنت کے نامور محدث مسلم بن حجاج نیشاپوری نے اپنی مشہور و معروف کتاب ”صحیح مسلم“ میں جناب فاطمہ (سلام اللہ علیھا) کا خلیفہ اول سے فدک کے مطالبہ کا واقعہ تفصیل سے بیان کیا ہے، اور جناب عائشہ کی زبانی نقل کیا ہے کہ جناب فاطمہ کو جب خلیفہ اول نے فدک نہیں دیا تو بی بی ان سے ناراض ہوگئی اور آخر عمر ان سے کوئی گفتگو نہیں کی۔(صحیح مسلم،کتاب جھاد ج ۳ ص ۱۳۸۰ حدیث ۵۲)

”نحن معاشر الانبیاء لا نورث“

اہل سنت کی مختلف کتابوں میں پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف منسوب ایک حدیث موجود ہے جو اس طرح کے مضمون پر مشتمل ہے:

”نحن معاشر الانبیاء لا نورث ما ترکناه صدقة“

”ہم پیغمبر لوگ اپنی میراث نہیں چھوڑتے جو ہم سے رہ جائے اسے راہ خدا میں صدقے کے طور پر خرچ کردیا جائے“۔

اور بعض کتابوں میں ”لا نورث“کا جملہ نہیں ہے بلکہ”ما ترکناه صدقة“ کی صورت میں نقل کیا گیا ہے ۔

اس روایت کی سند عام طور پر ابوبکر تک جا کر ختم ہوجاتی ہے جنھوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد مسلمانوں کی زمام امور اپنے قبضے میں لے لی تھی۔ اور جب حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا یا پیغمبر اکرم کی بعض بیویوں نے ان سے پیغمبر کی میراث کا مطالبہ کیا تو انھوں نے اس حدیث کا سھارا لےکر انہیں میراث سے محروم کردیا۔

اس حدیث کو مسلم نے اپنی صحیح (جلد ۳ کتاب الجھاد والسیر ۔ص۔ ۱۳۷۹) میں ،بخاری نے جزو ہشتم کتاب الفرائض کے صفحہ ۱۸۵ ۔پر اور اسی طرح بعض دیگر افراد نے اپنی اپنی کتابوں میں درج کیا ہے۔

یہ بات قابل توجہ ہے کہ مذکورہ کتابوں میں سے بخاری میں بی بی عائشہ سے ایک روایت نقل کی گئی ہے:فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا اور جناب عباس بن عبد المطلب (رسول کی وفات کے بعد )ابو بکر کے پاس آئے اور ان سے اپنی میراث کا مطالبہ کیا ۔ اس وقت انھوں نے اپنی فدک کی اراضی اور خیبر سے ملنے والی میراث کا مطالبہ کیا تو ابو بکر نے کھا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا۔”ہم میراث میں کوئی چیز نہیں چھوڑتے،جو کچھ ہم سے رہ جائے وہ صدقہ ہوتا ہے“۔

جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا نے جب یہ سنا تو نا راض ہو کر وھاں سے واپس آگئیں اور مرتے دم تک ان سے بات نہیں کی۔

البتہ یہ حدیث مختلف لحاظ سے تجزیہ و تحلیل کے قابل ہے لیکن اس تفسیر میں ہم چند ایک نکات بیان کریں گے:

۱ ۔یہ حدیث،قرآنی متن کے مخالف ہے اور اس اصول اور کلیہ قاعدہ کی رو سے نا قابل اعتبار ہے کہ جو بھی حدیث کتاب اللہ کے مطابق نہ ہو اس پر اعتبار نہیں کرنا چاہئیے اور ایسی حدیث کو پیغمبر اسلام یا دیگر معصومین علیہم السلام کا قول سمجھ کر قبول نہیں کیا جا سکتا۔

ہم قرآنی آیات میں پڑھتے ہیں کہ حضرت سلیمان(ع) جناب داؤد (ع) کے وارث بنے اورآیت کا ظاہر مطلق ہے کہ جس میں اموال بھی شامل ہیں ۔ جناب یحییٰ(ع) اور زکریا (ع) کے بارے میں ہے:

( یرثنی ویرث من اٰل یعقوب ) (۱۱۲)

”خداوندا! مجھے ایسا فرزند عطا فرما جو میرا اور آل یعقوب کا وارث بنے“۔

حضرت”زکریا(ع)“کے بارے میں تو بہت سے مفسرین نے مالی وراثت پر زور دیا ہے۔

اس کے علاوہ قرآن مجیدمیں”وراثت“کی آیات کا ظاہر بھی عمومی ہے کہ جو بلا استثناء سب کے لئے ہے۔

شاید یھی وجہ ہے کہ اہل سنت کے مشہور عالم علامہ قرطبی نے مجبور ہوکر اس حدیث کو غالب اور اکثر فعل کی حیثیت سے قبول کیا ہے نہ کہ عمومی کلیہ کے طور پر اور اس کے لئے یہ مثال دی ہے کہ عرب ایک جملہ کہتے ہیں :

”انا معشرالعرب اقری الناس للضیف“ ۔

ہم عرب لوگ دوسرے تمام افراد سے بڑھ کر مہمان نوازہیں (حالانکہ یہ کوئی عمومی حکم نہیں ہے)۔

لیکن ظاہر ہے کہ یہ بات اس حدیث کی اہمیت کی نفی کررھی ہے کیونکہ حضرت سلیمان(ع) اور یحییٰ(ع) کے بارے میں اس قسم کا عذر قبول کرلئے تو پہر دوسرے کے لئے بھی یہ قطعی نہیں رہ جاتی۔

۲ ۔مندرجہ بالا روایت ان کے خلاف ہے جن سے معلوم ہوتا ہو کہ ابو بکر نے جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا کو فدک واپس لوٹا نے کا پختہ ارادہ کر کیا تھا لیکن دوسرے لوگ اس میںحائل ہوگئے تھے چنانچہ سیرت حلبی میں ہے:

فاطمہ بنت رسول ،ابو بکر کے پاس اس وقت آئیں جب وہ منبر پر تھے ۔ انھوں نے کھا:

”اے ابو بکر! کیا یہ چیز قرآن میں ہے کہ تمھاری بیٹی تمھاری وراث بنے لیکن میں اپنے باپ کی میراث نہ لوں“؟

یہ سن کر ابو بکر رونے لگے اور ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے پہر وہ منبر سے نیچے اترے اور فدک کی واپسی کا پروانہ فاطمہ کو لکھ دیا۔ اسی اثناء میں عمر آگئے ۔ پوچھا یہ کیا ہے؟انھوں نے کھاکہ میں نے یہ تحریر لکھ دی ہے تا کہ فاطمہ کو ان کے باپ سے ملنے والی وراثت واپس لوٹا دوں!

عمر نے کھا: اگرآپ یہ کام کریں گے تو پہر دشمنوں کے ساتھ جنگی اخراجات کھاں سے پورے کریں گے؟

جبکہ عربوں نے آپ کے خلاف قیام کیا ہوا ہے ۔ یہ کھا اور تحریر لے کر اسے پارہ پارہ کردیا۔(۱۱۳)

یہ کیونکر ممکن ہے کہ پیغمبر اکرم نے تو صریحی طور پر ممانعت کی ہو اور ابو بکر اس کی مخالفت کی جراءت کریں؟اور پہر عمر نے جنگی اخراجات کا تو سھارا لیا لیکن پیغمبر اکرم کی حدیث پیش نہیں کی۔

مندرجہ بالا روایت پر اگر اچھی طرح غور کیا جائے تو معلوم ہوگاکہ یہاں پر پیغمبر اسلام کی طرف سے ممانعت کا سوال نہیں تھا۔ بلکہ سیاسی مسائل آڑے تھے اور ایسے موقع پر معتزلی عالم ابن ابی الحدید کی گفتگو یادآجاتی ہے۔ وہ کہتے ہیں :

میںنے اپنے استاد” علی بن فارقی“ سے پوچھا کہ کیا فاطمہ اپنے دعویٰ میں سچی تہیں ؟ تو انھوں نے کھا جی ھاں ! پہر میں نے پوچھا تو ابوبکر انہیں سچا اور بر حق بھی سمجھتے تھے ۔

اس موقع پر میرے استاد نے معنی خیز تبسم کے ساتھ نھایت ھی لطیف اور پیارا جواب دیا حالانکہ انکی مذاق کی عادت نہیں تھی،انھوں نے کھا:

اگر وہ آج انہیں صرف ان کے دعویٰ کی بناء پر ھی فدک دےدیتے تو پہر نہ تو ان کے لئے کسی عذر کی گنجائش باقی رہتی اور نہ ھی ان سے موافقت کا امکان“۔(۱۱۴)

۳ ۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ایک مشہور حدیث ہے جسے شیعہ اور سنی سب نے اپنی اپنی کتابوں میں درج کیا ہے،حدیث یہ ہے:”العلماء ورثة الانبیاء“ ۔ ”علماء انبیاء کے وارث ہوتے ہیں “۔

نیز یہ قول بھی آنحضرت ھی سے منقول ہے:”ان الانبیاء لم یورثوا دیناراً ولا درهماً“ ۔ ”انبیاء اپنی میراث میں نہ تودینار چھوڑتے ہیں اور نہ ھی درہم“۔

ان دونوں حدیثوں کو ملا کر پڑھنے سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا اصل مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو یہ بات باور کرائیں کہ انبیاء کے لئے سرمایہ افتخار ان کا علم ہے اور اہم ترین چیز جو وہ یادگارکے طور پر چھوڑ جاتے ہیں ان کا ہدایت و راہنمائی کا پروگرام ہے اور جو لوگ علم و دانش سے زیادہ بہرہ مند ہوں گے وھی انبیاء کے اصلی وارث ہوں گے۔ بجائے اس کے کہ ان کی مال پر نگاہ ہو اور اسے یادگار کے طور پر چھوڑجائیں ۔ اس کے بعد اس حدیث کے نقل بہ معنی کردیا گیا اور اس کی غلط تعبیریں کی گئیں اور شاید”ماترکناہ صدقة“ والے جملے کا بعض روایات میںاس پر اضافہ کردیا گیا۔

مباہلہ

خداوندعالم نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا ہے کہ ان واضح دلائل کے بعد بھی کوئی شخص تم سے حضرت عیسیٰ (ع) کے بارے میں گفتگو اور جھگڑا کرے تو اسے”مباہلہ“کی دعوت دو اور کہو کہ وہ اپنے بچوں،عورتوں اور نفسو ںکو لے آئے اور تم بھی اپنے بچوںکو عورتوں اور نفسں کو بلا لو پہر دعا کرو تاکہ خدا جھوٹوں کو رسوا کردے۔

بغیر کہے یہ بات واضح ہے جب کہ مباہلہ سے مراد یہ نہیں کہ طرفین جمع ہوں ،اور ایک دوسرے پر لعنت اور نفرین کریں اور پہر منتشر ہو جائیں کیونکہ یہ عمل تو نتیجہ خیز نہیں ہے۔

بلکہ مراد یہ ہے کہ دعا او رنفرین عملی طور پر اپنا اثر ظاہر کرے اور جو جھوٹا ہو فوراً عذاب میں گرفتار ہو جائے۔

آیات میں مباہلہ کا نتیجہ تو بیان نہیں کیا گیا لیکن چونکہ یہ طریقہ کار منطق و استدلال کے غیر موثر ہونے پر اختیار کیا گیا تھا اس لئے یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ مقصود صرف دعا نہ تھی بلکہ اس کا خاجی اثر پیش نظر تھا۔

مباہلہ کا مسئلہ عرب میں کبھی پیش نہیں آیا تھا،اور اس راستہ سے پیغمبر اکرم کو صدقت و ایمان کو اچھی سرح سمجھا جاسکتا تھا،کیسے ممکن ہے کہ جو شخص کامل ارتباط کے ساتھ خدا پر ایمان نہ رکھتا ہو وہ ایسے میدان کی طرف آئے اور مخالفین کو دعوت دی کہ آؤ! اکھٹے درگاہ خدا میں چلیں،اس سے درخواست کریں اور دعا کریسیں کہ وہ جھوٹے کو رسو اکردے اور پہر یہ بھی کہے کہ تم عنقریب اس کا نتیجہ خوددیکھ لو گے کہ خدا کس طرح جھوٹوں کو سزا دیتا ہے او رعذاب کرتا ہے۔

یہ مسلم ہے کہ ایسے میدان کا رخ کرنا بہت خطرناک معاملہ ہے کیونکہ اگر دعوت دینے والے کی دعا قبول نہ ہوئی اور مخالفین کو ملنے والی سزا کا اثر واضح نہ ہوا تو نتیجہ دعوت دینے والے کی رسوائی کے علاوہ کچھ نہ ہوگا۔

کیسے ممکن ہے کہ ایک عقلمند اورسمجھ دار انسان نتیجے کے متعلق اطمینان کئے بغیر اس مرحلے میں قدم رکہے ۔ اسی لئے تو کھا جاتا ہے کہ پیغمبراکرم کی طرف سے دعوت مباہلہ اپنے نتائج سے قطع نظر،آپ کی دعوت کی صداقت اور ایمان کی دلیل بھی ہے۔

اسلامی روایات میں ہے کہ”مباہلہ“کی دعوت دی گئی تو نجران کے عیسائیوں کے نمائندے پیغمبر اکرم کے پاس آئے اور آپ سے مھلت چاھی تا کہ اس بارے میں سوچ بچار کرلیں اور اس سلسلے میں اپنے بزرگوں سے مشورہ کرلیں۔ مشورہ کی یہ بات ان کی نفسیاتی حالت کی چغلی کھاتی ہے۔

بہر حال مشورے کا نتیجہ یہ نکلا کہ عیسائیوں کے ما بین یہ طے پایاکہ اگر محمد شور وغل،مجمع اور دادوفریادکے ساتھ”مباہلہ“کے لئے آئیں تو ڈرا نہ جائے اورمباہلہ کرلیا جائے کیونکہ اگر اس طرح آئیں تو پہر حقیقت کچھ بھی نہیں ،جب بھی شوروغل کا سھارا لیا جائے گا اور اگر وہ بہت محدود افراد کے ساتھ آئیں،بہت قریبی خواص اور چھوٹے بچوں کو لے کر وعدہ گاہ میں پہنچیں تو پہر جان لینا چاہئیے کہ وہ خدا کے پیغمبرہیں اور اس صورت میں اس سے ”مباہلہ“کرنے سے پرھیز کرنا چاہئیے کیونکہ اس صورت میں معاملہ خطرناک ہے!۔

طے شدہ پروگرام کے مطابق عیسائی میدان مباہلہ میں پہنچے تو اچانک دیکھا کہ پیغمبر اپنے بیٹے حسین(ع) کو گود میں لئے حسن(ع) کا ہاتھ پکڑے اور علی (ع) اور فاطمہ(ع) کو ہمراہ لئے آپہنچے ہیں اور انہیں فرمارہے ہیں کہ جب میں دعاکروں ،تم آمین کہنا۔

عیسائیوں نے یہ کیفیت دیکھی تو انتھائی پریشان ہوئے اور مباہلہ سے رک گئے اور صلح و مصالحت کے لئے تیار ہوگئے اور اہل ذمہ کی حیثیت سے رہنے پر آمادہ ہوگئے ۔

عظمت اہل بیت کی ایک زندہ سند

شیعہ اورسنی مفسرین اور محدثین نے تصریح کی ہے کہ آیہ مباہلہ اہل بیت رسول علیہم السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جن افراد کو اپنے ہمراہ وعدہ گاہ کی طرف لے گئے تھے وہ صرف ان کے بیٹے امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) ،ان کی بیٹی فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا اور حضرت علی (ع) تھے ۔ اس بناء پر آیت میں ”ابنائنا “سے مراد صرف امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) ہیں ۔”نسائنا“سے مراد جناب فاطمہ سلام اللہ علیھا ہیں اور”انفسنا“ سے مراد صرف حضرت علی (ع) ہیں ۔

اس سلسلے میں بہت سی احادیث نقل ہوئی ہیں ۔ اہل سنت کے بعض مفسرین نے جوبہت ھی تعداد میں ہیں ۔ اس سلسلے میں وارد ہونے والی احادیث کا انکار کرنے کی کوشش کی ہے۔ مثلاًمولفِ”المنار“نے اس آیت کے ذیل میں کھا ہے:

”یہ تمام روایات شیعہ طریقوں سے مروی ہیں ،ان کا مقصد معین ہے،انہوں نے ان احادیث کی نشرو اشاعت اور ترویج کی کوشش کی ہے۔ جس سے بہت سے علماء اہل سنت کو بھی اشتباہ ہوگیا ہے“!!۔

لیکن اہل سنت کی بنیادی کتابوں کی طرف رجوع کیا جائے تو وہ نشاندھی کرتی ہیں کہ ان میں سے بہت سے طریقوں کا شیعوں یا ان کی کتابوں سے ہرگز کوئی تعلق نہیں ہے اور اگر اہل سنت کے طریقوںسے مروی ان احادیث کا انکار کیا جائے تو ان کی باقی احادیث اورکتب بھی درجہ اعتبار سے گرجائیں گی۔

اس حقیقت کو زیادہ واضح کرنے کے لئے اہل سنت کے طریقوں سے کچھ روایات ہم یہاںپیش کریں گے۔

قاضی نوراللہ شوستری اپنی کتاب نفیس ”احقاق الحق“(۱۱۵) میں لکھتے ہیں :

”مفسرین اس مسئلے میں متفق ہیں کہ ”ابنائنا“سے اس آیت میں امام حسن(ع) او رامام حسین(ع) مراد ہیں ،”نسائنا“سے ”حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا“اور”انفسنا“میں حضرت علی علیہ السلام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے“۔

اس کے بعد کتاب مذکور کے حاشیے پر تقریباً ساٹھ بزرگان اہل سنت کی فہرست دی گئی ہے جنہوں نے تصریح کی ہے کہ آیت مباہلہ اہل بیت رسول علیہم السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے۔(۱۱۶)

”غایة المرام“ میں صحیح مسلم کے حوالے سے لکھا“:

”ایک روز معاویہ نے سعد بن ابی وقاص سے کھا:“

تم ابو تراب ( علی (ع)) کو سب وشتم کیوں نہیں کرتے۔وہ کہنے لگا۔

جب سے علی (ع) کے بارے میں پیغمبر کی کھی ہوئی تین باتیں مجھے یاد آتی ہیں ،میں نے اس کام سے صرف نظرکرلیا ہے۔ان میں سے ایک یہ تھی کہ جب آیت مباہلہ نازل ہوئی تو پیغمبر نے فاطمہ(ع)،حسن(ع)،حسین(ع)،اور علی (ع) کو دعوت دی۔اس کے بعد فرمایا”اللهم هٰولاء اهلی“ (یعنی خدایا! یہ میرے نزدیکی اور خواص ہیں )۔

تفسیر”کشاف“کے مولف اہل سنت کے بزرگوں میں سے ہیں ۔ وہ اس آیت کے ذیل میں کہتے ہیں ۔”یہ آیت اہل کساء کی فضیلت کو ثابت کرنے کے لئے قوی ترین دلیل ہے“۔

شیعہ مفسرین،محدثین اور مورخین بھی سب کے سب اس آیت کے ”اہل بیت “کی شان میں نازل ہونے پر متفق ہیں چنانچہ”نورالثقلین“ میں اس سلسلے میں بہت سی روایات نقل کی گئی ہیں ۔ ان میں سے ایک کتاب”عیون اخبار الرضا“ہے۔ اس میں ایک مجلس مناظرہ کا حال بیان کیا گیا ہے،جو مامون نے اپنے دربار میں منعقد کی تھی۔

اس میں ہے کہ امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام نے فرمایا:

”خدا نے اپنے پاک بندوں کو آیت مباہلہ میں مشخص کردیا ہے اور اپنے پیغمبر کو حکم دیا ہے:

( فمن حاجک فیه من بعد ما جاء ک من العلم فقل )

اس آیت کے نزول کے بعد پیغمبر ،علی (ع) ،فاطمہ(ع)،حسن(ع)،اور حسین(ع) کو اپنے ساتھ مباہلہ کے لئے لے گئے اور یہ ایسی خصوصیت اور اعزاز ہے کہ جس میں کوئی شخص اہل بیت علیہم السلام پر سبقت حاصل نہیں کرسکا اور یہ ایسی منزلت ہے جھاں تک کوئی شخص بھی نہیں پہنچ سکا اور یہ ایسا شرف ہے جسے ان سے پہلے کوئی حاصل نہیں کرسکا“۔

تفسیر”برھان“،”بحارالانوار“اور تفسیر”عیاشی“میں بھی اس مضمون کی بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں جو تمام اس امر کی حکایت کرتی ہیں کہ مندرجہ بالا آیت”اہل بیت“علیہم السلام کے حق میں نازل ہوئی ہے۔

زینب سے آنحضرت (ص) کی شادی(۱۱۷)

زمانہ بعثت سے پہلے اور اس کے بعد جب کہ حضرت خدیجة الکبریٰ(ع) نے پیغمبر اسلام سے شادی کی تو حضرت خدیجہ (ع) نے ”زید“ نامی ایک غلام خریدا،جسے بعد میں آنحضرت کو ھبہ کردیا۔

آپ نے اسے آزاد کردیا۔ چونکہ اس کے قبیلے نے اسے اپنے سے جدا کردیا تھا،لہٰذا رسول رحمت نے اسے اپنا بیٹا بنالیا تھا،جسے اصطلاح میں”تبنّی“ کہتے ہیں ۔

ظہور اسلام کے بعد زید مخلص مسلمان ہوگیا اور اسلام کے ہر اول دستے میں شامل ہوگئے اور اسلام میں ایک ممتاز مقام حاصل کرلیا۔ آخر میں جنگ موتہ میں ایک مرتبہ لشکر اسلام کے کمانڈر بھی مقرر ہوئے اور اسی جنگ میں شربت شھادت نوش کیا۔

جب سرکار رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے زید کا عقد کرنا چاھا تو اپنی پھوپھی زاد،بہن زینب بنت حجش “بنت امیہ بنت عبد المطلب سے اس کے لئے خواستگاری کی۔ زینب نے پہلے تو یہ خیال کیا کہ آنحضرت اپنے لئے اسے انتخاب کرناچاہتے ہیں ۔لہٰذا وہ خوش ہوگئی اور رضا مندی کا اظھار کردیا،لیکن بعدمیں جب اسے پتہ چلا کہ آپ کی یہ خواستگاری تو زید کے لئے تھی تو سخت پریشان ہوئیںاور انکار کردیا ۔ اس کے بھائی عبداللہ نے بھی اس چیز کی سخت مخالفت کی۔

یھی وہ مقام تھا جس کے بارے میں وحی الٰھی نازل ہوئی او رزینب اور عبداللہ جیسے افراد کو تنبیہ کی کہ جس وقت خدا اور اس کا رسول کسی کام کو ضروری سمجہیں تو وہ مخالقت نہیں کر سکتے۔

جب انھوں نے یہ بات سنی تو سر تسلیم خم کردیا ۔ (البتہ آگے چل کرمعلوم ہوگا کہ یہ شادی کوئی عام شادی نہیں تھی بلکہ یہ زمانہ جاہلیت کی ایک غلط رسم کو توڑنے کے لئے ایک تمھید تھی کیونکہ زمانہ جاہلیت میں کسی باوقار اور مشہور خاندان کی عورت کسی غلام کے ساتھ شادی کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتی تھی،چاہے وہ غلام کتنا ھی اعلی قدر وقیمت کا مالک کیوں نہ ہوتا۔

لیکن یہ شادی زیادہ دیرتک نہ نبھ سکی اور طرفین کے درمیان اخلاقی نا اتفاقیوں کی بدولت طلاق تک نوبت جا پہنچی ۔ اگر چہ پیغمبر اسلام کا اصرار تھا کہ یہ طلاق واقع نہ ہو لیکن ہوکر رھی۔

اس کے بعد پیغمبر اکرم نے شادی میں اس نا کامی کی تلافی کے طور پر زینب کو حکم خدا کے تحت اپنے حبالہ عقد میں لے لیا اور یہ بات یہیں پر ختم ہوگئی۔

لیکن دوسری باتیں لوگوں کے درمیان چل نکلیں جنہیں قرآن نے مربوط آیات کے ذریعے ختم کردیا۔ اس کے بعد زید اور اس کی بیوی زینب کی اس مشہور داستان کو بیان کیا گیا ہے جو پیغمبر اسلام کی زندگی کے حساس مسائل میں سے ایک ہے اور ازواج رسول کے مسئلہ سے مربوط ہے ۔

چنانچہ ارشاد ہوتاہے کہ:”اس وقت کو یاد کرو جب اس شخص کو جسے خدا نے نعمت دے رکھی تھی اور ہم نے ابھی ،اے رسول!اسے نعمت دی تھی او رتم کہتے تھے کہ اپنی بیوی کو روکے رکھو اور خدا سے ڈرو“۔(۱۱۸)

نعمت خدا سے مراد وھی ہدایت اور ایمان کی نعمت ہے جو زید بن حارثہ کو نصیب ہوئی تھی اور پیغمبر کی نعمت یہ تھی کہ آپ نے اسے آزاد کیا تھا اور اپنے بیٹے کی طرح اسے عزت بخشی تھی۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زید او رزینب کے درمیان کوئی جھگڑا ہوگیا تھا اور یہ جھگڑا اس قدرطول پکڑگیا کہ نوبت جدائی اور طلاق تک جاپہنچی ۔ اگرآیت میںلفظ”تقول“کی طرف توجہ کی جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ فعل مضارع ہے او راس بات پر دلالت کررھا ہے کہ آنحضرت بآرہا بلکہ ہمیشہ اسے نصیحت کرتے اور روکتے تھے۔

کیا زینب کا یہ نزاع زید کی سماجی حیثیت کی بناء پر تھا جو زینب کی معاشرتی حیثیت سے مختلف تھی؟کیونکہ زینب کا ایک مشہور ومعروف قبیلہ سے تعلق تھا اور زید آزاد شدہ تھا۔ یا زید کی اخلاقی سختیوں کی وجہ سے تھا؟یا ان میں سے کوئی بات بھی ،نہیں تھی بلکہ دونوں میں روحانی او راخلاقی موافقت اور ہماآہنگی نہیں تھی؟کیونکہ ممکن ہے دو افراد اچہے تو ہوں لیکن فکر ونظر اور سلیقہ کے لحاظ سے ان میں اختلاف ہوجس کی بناء پر اپنی ازدواجی زندگی کوآئندہ کے لئے جاری نہ رکھ سکتے ہوں؟

پیغمبر کی نظر میں تھا کہ اگر ان میاں بیوی کے درمیان صلح صفائی نہیں ہوپائی اور نوبت طلاق تک جاپہنچتی ہے تو وہ اپنی پھوپھی زادبہن زینب کی اس نا کامی کی تلافی اپنے ساتھ نکاح کی صورت میں کردیں گے،اس کے ساتھ آپ کو یہ خطرہ بھی لاحق تھا کہ لوگ دو وجوہ کی بناء پر آپ پر اعتراض کریں گے اور مخالفین ایک طوفان بدتمیزی کھڑا کردیں گے۔

اس سلسلے میں قرآن کہتا ہے :”تم اپنے دل میں ایک چیز کو چھپائے ہوئے تھے جسے خدا آشکار کرتا ہے اور تم لوگوں سے ڈرتے ہوحالانکہ تمھارا پروردگارزیادہ حق رکھتا ہے کہ اس سے ڈرو“۔(۱۱۹)

پہلی وجہ تویہ تھی کہ زید آنحضرت کا منہ بولا بیٹا تھا،اور زمانہ جاہلیت کی رسم کے مطابق منہ بولے بیٹے کے بھی وھی احکام ہوتے تھے جو حقیقی بیٹے کے ہوتے ہیں ۔ منجملہ ان کے یہ بھی تھا کہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے بھی شادی کرنا حرام سمجھاجاتا تھا ۔

دوسری یہ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کیونکراس بات پر تیار ہوسکتے ہیں کہ وہ اپنے ایک آزاد کردہ غلام کی

مطلقہ سے عقد کریں جبکہ آپ کی شادی بہت بلندوبالاہے ۔

بعض اسلامی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے یہ ارادہ حکم خداوندی سے کیا ہوا تھا اوربعد والے حصے میں بھی اس بات کا قرینہ موجود ہے۔

اس بناء پر یہ مسئلہ ایک تو اخلاتی اور انسانی مسئلہ تھا اور دوسرے یہ زمانہ جاہلیت کی غلط رسموں کو توڑنے کا ایک نھایت ھی موثر ذریعہ تھا (یعنی منہ بولے بیٹے کی مطلّقہ سے ازادکردہ غلام کی مطلّقہ سے عقد)۔

مسلم ہے کہ پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ان مسائل میں نہ تو لوگوں سے ڈرنا چاہئے تھا اور نہ ھی فضا کے مکدر ہونے اور زہریلے پروپیگنڈے سے خوف ووحشت کا شکارھی ہوجاتے ،خاص کرجب یہ احتمال ہوکہ ایک جنجال کھڑاہوجائے گااور آپ اور آپ کے مقدس مشن کی ترقی اور اسلام کی پیش رفت کےلئے رکاوٹ کھڑی ہوجائے گی اور یہ بات ضعیف الایمان افراد کو متزلزل کردے گی اور ان کے دل میں شک وشبھات پیدا ہوجائیں گے ۔

اس لئے قرآن میںاس سلسلہ کے آخرمیں فرمایا گیا ہے:

” جس وقت زید نے اپنی حاجت کو پورا کرلیا اور اپنی بیوی کو چھوڑدیا تو ہم اسے تمھاری زوجیت میں لے آئے تاکہ منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے مطلّقہ ہونے کے بعد مومنین کو ان سے شادی کرنے میں کوئی مشکل نہ ہو“۔(۱۲۰)

یہ کام ایسا تھا جسے ا نجام پاجانا چاہئے تھا

”اور خدا کافرمان انجام پاکر رہتا ہے“۔(۱۲۱)

قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن ہرقسم کے شک وشبہ کو دور کرنے کےلئے پوری صراحت کے ساتھ اس شادی کا اصل مقصد بیان کرتا ہے جو زمانہ جاہلیت کی ایک رسم توڑنے کے لئے تھی یعنی منہ بولے بیٹوں کی مطلقہ عورتوں سے شادی نہ کرنے کے سلسلے میں یہ خود ایک کلی مسئلہ کی طرف اشارہ ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مختلف عورتوں سے شادی کرنا کوئی عام سی بات نہیں تھی بلکہ اس میں کئی مقاصد کا ذکر کرنا مقصود تھا جو آپ کے مکتب کے مستقبل کے انجام سے تعلق رکھتا تھا ۔(۱۲۲)

ثعلبہ

”ثعلبہ بن حاطب انصاری“ ایک غریب آدمی تھا،روزانہ مسجد میں آیا کرتا تھا اس کا اصرار تھاکہ رسول اکرم دعا فرمائیں کہ خدا اس کو مالا مال کردے۔ حضور نے اس سے فرمایا:

”مال کی تھوڑی مقدار جس کا تو شکر ادا کر سکے مال کی کثرت سے بہتر ہے جس کا تو شکر ادا نہ کرسکے“۔

کیا یہ بہترنہیں ہے کہ تو خدا کے پیغمبرکی پیروی کرے اور سادہ زندگی بسر کرے ۔

لیکن ثعلبہ مطالبہ کرتا رھا او ر آخر کار اس نے پیغمبر اکرم سے عرض کیا کہ میں آپ کو اس خدا کی قسم دیتا ہوں جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ اگر خدا نے مجھے دولت عطا فرمائی تو میں اس کے تمام حقوق ادا کروں گا۔چنانچہ آپ نے اس کے لئے دعا فرمائی۔

ایک روایت کے مطابق زیادہ وقت نہیں گذرا تھا کہ اس کا ایک چچا زاد بھائی جو بہت مال دار تھا ، وفات پاگیا اور اسے بہت سی دولت ملی۔

ایک اور روایت میں ہے کہ اس نے ایک بھیڑ خریدی جس سے اتنی نسل بڑھی کہ جس کی دیکھ بھال مدینہ میں نہیں ہوسکتی تھی ۔ اس لئے انہیں مدینہ کے آس پاس کی آبادیوں میں لے گیا اور مادی زندگی میں اس قدر مصروف ہوگیا کہ نماز با جماعت تو کیا نماز جمعہ میں بھی نہ آتا تھا ایک مدت کے بعد رسول اکرم نے زکوٰةوصول کرنے والے عامل کو اس کے پاس زکوٰة لینے کے لئے بھیجا لیکن اس کم ظرف کنجوس نے نہ صرف خدائی حق کی ادائیگی میں پس وپیش کیا بلکہ شرع مقدس پر بھی اعتراض کیا اور کھا کہ یہ حکم جزیہ کی طرح ہے یعنی ہم اس لئے مسلمان ہوئے تھے کہ جزیہ دینے سے بچ جائیں۔ اب زکوٰة دینے کی شکل میں ہم میں اور غیر مسلموں میں کون سافرق باقی رہ جاتا ہے۔ حالانکہ اس نے نہ جزیہ کا مطلب سمجھا تھا اور نہ زکوٰة کا اور اگر اس نے سمجھا تھا تو دنیا پرستی جو اسے حقیقت کے بیان او راظھار حق کی اجازت نہیں دیتی تھی،غرض جب حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کی باتیں سنیں تو فرمایا:

”یا ویح ثعلبه ! یا ویح ثعلبه“ ۔

”وائے ہو ثعلبہ پر ہلاکت ہو ثعلبہ پر“۔(۱۲۳)

(منتخب از تفسیر نمونہ)


حواشی

(۱) سورہ علق آیت ۱۔

(۲) یقینی طورپر مفسرین کے بعض کلمات یا تاریخ کی کتابوں میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زندگی کی اس فصل کے بارے میں ایسے ناموزوںمطالب نظرآتے ہیں جو مسلمہ طور پر جعلی‘ وضعی ‘ گھڑی ہوئی روایات اور اسرائیلیات سے ہیں ‘ مثلاًیہ کہ پیغمبر نزول وحی کے پہلے واقعہ کے بعد بہت ھی ناراحت ہوئے اور ڈرگئے کہ کہیں یہ شیطانی القاآت نہ ہوں ‘ یا آپ نے کئی مرتبہ

(۳) اس سوال کو اکثر مفسرین نے سورہ توبہ آیت۱۰۰”السابقون الاولون“کے ضمن میں بیان کیا ہے۔

(۴) مستدرک علی صحیحین کتاب معرفت ص۲۲ ۔

(۵) استیعاب ،ج ۲ ص۴۵۷۔

(۶) الغدیر ج ،۳ص۲۳۷۔

(۷) الغدیر ج ،۳ص۲۳۷۔

(۸) الغدیرمیں یہ حدیث مستدرک حاکم ج۲ص۶ ۱۳ ،استیعاب ج۲ ص ۴۵۷ اور شرح ابن ابی الحدید ج ۳ ص ۲۵۸ سے نقل کی گئی ہے ۔

(۹) الغدیر ھی میں یہ حدیث طبرانی اور بیہقی سے نقل کی گئی ہے نیز بیہقی نے مجمع میں، حافظ گنجی نے کفایہ اکمال میں اور کنز العمال میں نقل کی ہے ۔

(۱۰) الغدیر میں یہ حدیث حلیتہ الاولیاء ج اص ۶۶ کے حوالے سے نقل کی گئی ہے ۔

(۱۱) یہ بات فخرالدین رازی نے اپنی تفسیر میںسورہ توبہ آیت ۱۰۰۔ کے ذیل میں ذکر کی ہے۔

(۱۲) یہ حدیث مختلف عبارات میں نقل ہوئی ہے اور جو کچھ ہم نے بیان کیا ہے اسے ابو جعفر اسکافی نے کتاب ”نہج العثمانیہ“ میں ،برھان الدین نے” نجبا الانبا“ میں ،ابن اثیر نے کامل میں اور بعض دیگر علماء نے نقل کیا ہے (مزید وضاحت کے لئے الغدیر،عربی کی جلد دوم ص۲۷۸ تا۲۸۶کی طرف رجوع کریں۔)

(۱۳) یہ تعبیر مشہور اور متعصب مفسر مولف المنارنے بھی سورہ توبہ آیت ۱۰۰۔کے ذیل میں ذکر ہے ۔

(۱۴) سورہ مریم آیت۱۲۔

(۱۵) سورہ مریم آیت ۳۰۔

(۱۶) الغدیر ج۲ ص ۲۴۰۔

(۱۷) سورہ شعراء آیت ۲۱۴ ۔

(۱۸) سورہ حجرات آیہ ۹۴ ۔

(۱۹) اس روایت کو بہت سے اھل سنت علماء نے نقل کیا ہے جن میں سے چند ایک کے نام یہ ہیں :

(۲۰) علامہ امینی نے اسے اپنی کتاب”الغدیر“ میں” شرح بخاری“ ،”المواھب اللدنیہ“ ،” الخصائص الکبریٰ“ ،” شرح بہجتہ المحافل“ ،”سیرہ حلبی“، ” سیرہ نبوی“ اور ” طلبتہ الطالب“ سے نقل کیا ہے۔

(۲۱) ذی المجار عرفات کے نزدیک مکہ سے تھوڑے سے فاصلہ پر ہے ۔

(۲۲) سورہ مسد آیت۱ تا ۲۔

(۲۳) سورہ مسدآیت۳۔

(۲۴) سورہ مسد آیت ۴ ۔

(۲۵) سورہ مسد آیت ۴۔

(۲۶) سیرت ابن ہشام جلداول ص۳۳۷ ، اور تفسیر فی ظلال القرآن جلد۶ ص ۱۷۳۔

(۲۷) تفسیر نمونہ ج ۸ ص ۱۴۴

(۲۸) مندرجہ بالاروایات تفسیر المنار اور مجمع البیان سے سورہ انعام آیت ۳۳کے ذیل میں بیان کردہ تفسیر سے لی گئی ہیں ۔

(۲۹) بہت سے مفسرین نے نقل کیا ہے کہ سورہ مائدہ آیات ۸۲تا۸۶ نجاشی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں ۔

(۳۰) رجوع کریں تفسیر نمونہ ج

(۳۱) سورہ نجم آیت۱۸۔

(۳۲) روایات معراج کے سلسلہ میں مزید اطلاع کے لئے بحارالانوار کی جلد ۱۸ از ص ۲۸۲ تاص ۱۰ ۴ رجوع فرمائیں۔

(۳۳) تفسیر نمونہ ج ۱۳ ص۹۷ تا ۹۹ ۔

(۳۴) مذکورہ کتاب کے فارسی ترجمے کا نام ہے “ محمد پیغمبری کہ از نوباید شناخت “ ص ۱۲۵ دیکھئے۔

(۳۵) بعض قدیم فلاسفہ کا نظریہ یہ تھا کہ آسمانوں میں ایسا ہونا ممکن نہیں ہے ۔اصطلاح میں وہ کہتے تھے کہ افلاک میں --”خرق “(پھٹنا)اور ”التیام“(ملنا)ممکن نہیں ۔

(۳۶) سورہ انفال آیت ۳۰ کے ذیل میں واقعہ ہجرت بیان ہوا ہے۔

(۳۷) الغدیر، جلد ۲ ص۴۵ پر ہے کہ غزالی نے احیاء العلوم ج۳ ص ۲۳۸ پر، صفوری نے نزہتہ المجالس ج۲ ،ص ۲۰۹ پر، ابن صباغ مالکی نے فصول المہمہ، میں سبط ابن جوزی نے تذکرہ الخواص ص ۲۱ پر ، امام احمد نے مسندج ا ص ۳۴۸ پر، تاریخ طبری جلد ۲ ص۹۹ پر، سیرة ابن ہشام ج ۲، ص ۲۹۱ پر، سیرة حلبی ج ۱ ص ۲۹ پر، تاریخی یعقوبی ج۲ ص ۲۹ پرلیلة المبیت کے واقعہ کو نقل کیا ہے۔

(۳۸) سورہ بقرہ آیت ۱۴۲۔

(۳۹) سورہ بقرہ آیت۱۴۲۔

(۴۰) سورہ بقرہ آیت ۱۴۳۔

(۴۱) واقعہ جنگ بدر سورہ انفال آیات ۵ تا ۱۸کے ذیل میں بیان ہوئی ہے ۔

(۴۲) پیغمبراور ان کے اصحاب ایسا کرنے کا حق رکھتے تھے کیونکہ مسلمان مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرکے آئے تو اھل مکہ نے ان کے بہت سے اموال پر قبضہ کرلیا تھا جس سے مسلمانوں کو سخت نقصان اٹھانا پڑا لہٰذا وہ حق رکھتے تھے کہ اس نقصان کی تلافی کریں ۔اس سے قطع نظر بھی اھل مکہ نے گذشتہ تیرہ برس میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور مسلمانوں سے جو سلوک روارکھا اس سے بات ثابت ہوچکی تھی وہ مسلمانوں کو ضرب لگانے اور نقصان پہنچانے کے لئے کوئی موقع ہاتھ سے نہیں گنوائیں گے یہاں تک کہ وہ خودپیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو قتل کرنے پر تل گئے تھے ایسا دشمن پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہجرت مدینہ کی وجہ سے بے کار نہیں بیٹھ سکتا تھا واضح تھا کہ وہ قاطع ترین ضرب لگانے کے لئے اپنی قوت مجتمع کرتا پس عقل ومنطق کا تقاضا تھا کہ پیش بندی کے طورپر ان کے تجارتی قافلے کو گھیر کر اس کے اتنے بڑے سرمائے کو ضبط کرلیا جاتا تاکہ اس پر ضرب پڑے اور اپنی فوجی اور اقتصادی بنیاد مضبوط کی جاتی ایسے اقدامات آج بھی اور گذشتہ ادوار میں بھی عام دنیا میں فوجی طریق کار کا حصہ رہے ہیں ،جولوگ ان پھلوؤں کو نظر اندازکرکے قافلے کی طرف پیغمبر کی پیش قدمی کو ایک طرح کی غارت گری کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں یاتو وہ حالات سے آگاہ نہیں اور اسلام کے تاریخی مسائل کی بنیادوں سے بے خبر ہیں اور یا ان کے کچھ مخصوص مقاصد ہیں جن کے تحت وہ واقعات وحقائق کو توڑمروڑکر پیش کرتے ہیں ۔

(۴۳) جنگ احد کا واقعہ سورہ آل عمران آیت ۱۲۰ کے ذیل میں بیان ہوا ہے۔

(۴۴) سورہ آل عمران آیت ۱۶۳۔

(۴۵) آل عمران آیت ۱۵۲۔

(۴۶) سورہ آل عمران آیت۱۵۹۔

(۴۷) واضح رہے کہ عفو ودر گزر کرنے کے لئے یہ ایک اہم اور بہت مناسب موقع تھا اور اگر آپ ایسانہ کرتے تو لوگوں کے بکہرجانے کےلئے فضا ہموار تھی وہ لوگ جو اتنی بری شکست کا سامناکر چکے تھے اور بہت سے مقتول ومجروح پیش گرچکے تھے (اگرچہ یہ سب کچھ ان کی اپنی غلطی سے ہواتا ہم ) ایسے لوگوں کو محبت ، دلجوئی اور تسلی کی ضرورت تھی تاکہ ان کے دل اور جسم کے زخم پر مرہم لگ سکے اور وہ ان سے جانبرہوکر آئندہ کے معرکوں کےلئے تیار ہوسکیں ۔

(۴۸) سورہ حشر آیت۵۔

(۴۹) یہ واقعہ سورہ حشرکی ابتدائی آیات میں بیان ہوا ہے ۔

(۵۰) سورہ احزاب آیت ۹۔

(۵۱) سورہ احزاب آیت ۹۔

(۵۲) سورہ احزاب آیت۱۰۔

(۵۳) سورہ احزاب آیت ۱۱۔

(۵۴) سورہ احزاب آیت ۱۲۔

(۵۵) سورہ احزاب آیت ۱۲۔

(۵۶) سورہ احزاب آیت ۱۳۔

(۵۷) سورہ احزاب۱۴۔

(۵۸) ”یثرب “مدینہ کا قدیمی نام ہے ،جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس شہر کی طرف ہجرت کرنے سے پہلے تک اس کا نام ”یثرب“رھا ۔ پہر آہستہ آہستہ اس کا نام ”مدینةالرسول“(پیغمبرکا شہر )پڑگیا جس کا مخفف”مدینہ “ہے۔ اس شہرکے کئی ایک نام او ربھی ہیں ۔ سید مرتضٰی نے ان دو ناموں ( مدینہ او ریثرب)کے علاوہ اس شہر کے گیارہ او رنام بھی ذکرکیے ہیں ،منجملہ ان کے ”طیبہ“”طابہ“”سکینہ“”محبوبہ“”مرحومہ “ اور”قاصمہ“ہیں ۔ (اوربعض لوگ اس شہر کی زمین کو ”یثرب“کا نام دیتے ہیں ۔)

(۵۹) سورہ احزاب آیت ۱۴۔

(۶۰) سورہ احزاب آیت ۱۵۔

(۶۱) سورہ احزاب آیت ۱۶۔

(۶۲) سورہ احزاب آیت ۱۷۔

(۶۳) سورہ احزاب آیت۱۸۔

(۶۴) سورہ احزاف آیت۱۹ ۔

(۶۵) سورہ احزاب ۱۹۔

(۶۶) سورہ احزاب ۱۹۔

(۶۷) سورہ احزاب آیت ۱۹۔

(۶۸) سورہ احزاب آیت ۲۰۔

(۶۹) سورہ احزاب آیت ۲۰۔

(۷۰) سورہ احزاب آیت۲۰۔

(۷۱) سورہ احزاب آیت ۲۱۔

(۷۲) سورہ احزاب آیت ۲۳۔

(۷۳) سورہ توبہ آیت ۱۰۲۔

(۷۴) سورہ احزاب آیت ۲۶۔

(۷۵) سورہ احزاب آیت ۲۶،۲۷۔

(۷۶) سورہ فتح آیت۲۷۔

(۷۷) سورہ فتح آیت۲۷۔

(۷۸) سورہ فتح آیت ۴۔

(۷۹) سورہ فتح آیت ۱۱۔

(۸۰) سورہ فتح آیت ۱۱۔

(۸۱) سورہ فتح آیت ۱۱۔

(۸۲) سورہ فتح آیت ۱۱۔

(۸۳) سورہ فتح آیت ۱۱ ۔

(۸۴) سورہ فتح آیت ۱۱۔

(۸۵) سورہ فتح آیت ۲۲۔

(۸۶) سورہ فتح آیت ۲۲۔

(۸۷) سورہ فتح آیت ۲۴۔

(۸۸) سورہ فتح آیت ۱۵۔

(۸۹) سورہ فتح آیت ۱۵۔

(۹۰) سورہ فتح آیت ۱۵۔

(۹۱) سورہ فتح آیت ۔

(۹۲) سورہ یوسف آیت ۔۹۲۔

(۹۳) سورہ ممتنحہ آیت ۱۲ ۔

(۹۴) ”مقوقس“(بہ ضم میم وبہ فتحہ ہردو ”قاف“)”ہرقل “بادشاہ روم کی طرف سے مصر کا والی تھا۔

(۹۵) بعض کا نظریہ یہ ہے کہ یہ واقعہ اس سورہ کے واضح مصادیق میں سے ایک ہے،یہ اس کا شان نزول نہیں ہے۔

(۹۶) ذیل آیات ۲۵ تا ۲۷ سورہ توبہ ۔

(۹۷) واقعہ جنگ تبوک سورہ توبہ آیت ۱۱۷ کے ذیل میں بیان ہوا ہے ۔

(۹۸) سورہ توبہ آیت ۳۸۔

(۹۹) سورہ توبہ آیت ۳۸۔

(۱۰۰) سورہ توبہ آیت ۳۹۔

(۱۰۱) سورہ توبہ آیت ۳۹۔

(۱۰۲) سور ہ توبہ آیت ۳۹۔

(۱۰۳) یہ شخص انہیں افراد میں سے تھا جن کے بارے میں کھا جاتا ہے کہ سورہ توبہ آیت۱۱۷ نازل ہوئی ۔

(۱۰۴) سورہ توبہ:آیت ۱۱۸۔ اس سلسلے میں نازل ہوئی ہے ۔

(۱۰۵) مسجد ضرار کے سلسلے میں سورہ توبہ ۔۱۰۷ تا۱۱۰ میں بیان ہوا ہے۔

اس کے فوراً بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حکم دیا کہ مذکورہ مسجد کو جلا دیا جائے او راسکے باقی حصے کو مسمارکردیا جائے او راس کی جگہ کوڑاکرکٹ ڈالاجایا کرے۔

(۱۰۶) سورہ توبہ آیت ۱۰۸۔

(۱۰۷) سورہ توبہ آیت ۱۰۸۔

(۱۰۸) سورہ توبہ آیت ۱۰۸۔

(۱۰۹) سورہ مائدہ آیت ۳۔

(۱۱۰) اس سلسلے میں مزید آگھی کے لئے کتاب الغدیر، علامہ امینی ،احقاق الحق ،قاضی نوراللہ شوشتری ،المراجعات شرف الدین اور دلائل الصدق محمدحسین مظفر پر رجوع کریں۔

(۱۱۱) سورہ روم آیت ۳۸۔

(۱۱۲) سورہ مریم آیت ۶.

(۱۱۳) سیرہ حلبی ج۳/ص۳۶۱۔

(۱۱۴) شرح نہج البلاغہ،ابن ابی الحدید جلد۔۱۶۔ص۔۲۸۴۔

(۱۱۵) جلد سوم طبع جدید صفحہ۴۶۔

(۱۱۶) ان کے نام او ران کی کتاب کی خصوصیات صفحہ ۔۴۶ ۔سے لیکر صفحہ۔۷۶۔ تک تفصیل سے بیان کی گئی ہے ان شخصیتوں میں سے یہ زیادہ مشہور ہیں ۔

۱۔مسلم بن حجاج نیشاپوری،مولف صحیح مسلم جو نامور شخصیت ہیں اور ان کی حدیث کی کتاب اھل سنت کی چھ قابل اعتماد صحاح میں سے ہے ملا حظہ ہو مسلم،ج۔۷۔ص۔۱۲۰طبع مصر زیر اہتمام محمد علی صبیح۔

۲۔احمد بن حنبل نے اپنی”مسند“میں لکھاہے ملاحظہ ہو ،ج۔۲۔ص۔۱۸۵۔طبع مصر۔

۳۔طبری نے اپنی مشہور تفسیر میں اسی آیت کے ضمن میں لکھا ہے۔ دیکھئے ۔ج۔۳۔ص۔۱۹۲۔طبع میمنیہ۔ مصر۔

۴۔حاکم نے اپنی”مستدرک“میںلکھا ہے،دیکھئے۔ج۔۳۔ص۔۱۵۔مطبوعہ حیدرآباد دکن۔

۵۔حافظ ابو نعیم اصفھانی،کتاب ”دلائل النبوة“۔ص۔۲۹۷۔مطبوعہ حیدرآباد دکن۔

۶۔واحدی نیشاپوری،کتاب”اسباب النزول“۔ص۔۷۴۔طبع ہند۔

۷۔فخر رازی، نے اپنی مشہور تفسیر کبیر میں لکھا ہے، دیکھئے۔ ج۔۸۔ ص۔۸۵۔ طبع بھیہ،مصر۔

۸۔ابن اثیر،”جامع الاصول“جلد۔۹۔ص۔۴۷۰۔طبع سنتہ المحمدیہ،مصر۔

۹۔ابن جوزی”تذکرة الخواص“ صفحہ۔۱۷۔طبع نجف۔

۱۰۔قاضی بیضاوی،نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے،ملاحظہ کریں۔ ج۔۲۔ ص۔۲۲۔ طبع مصطفی محمد،مصر۔

۱۱۔آلوسی نے تفسیر”روح المعانی“میں لکھا ہے۔ دیکھئے ۔ج۔ ۳۔ص۔۱۶۷۔طبع منیریہ۔ مصر۔

۱۲۔معروف مفسر طنطاوی نے اپنی تفسیر ”الجواہر“میں لکھا ہے۔۔ ج۔۲۔ ص۔ ۱۲۰۔ مطبوعہ مصطفی الیابی الحلبی،مصر۔

۱۳۔زمخشری نے تفسیر”کشاف“میں لکھا ہے،دیکھئے۔ج۔۱۔ص۔۱۹۳،مطبوعہ مصطفی محمد،مصر۔

۱۴۔حافظ احمد ابن حجر عسقلانی ،”الاصابة“۔ج۔۲۔ص۔۵۰۳،مطبوعہ مصطفی محمد، مصر۔

۱۵۔ابن صباغ،”فصول المہمة“۔ص۔۱۰۸۔مطبوعہ نجف۔

۱۶۔علامہ قرطبی،”الجامع الاحکام القرآن“۔ج۔۳۔ص۔۱۰۴۔مطبوعہ مصر ۱۹۳۶۔

(۱۱۷) اکثر مفسرین و مورخین اسلامی کے بقول سورہ احزاب کی آیات ۳۶تا۳۸/اس سلسلے میں نازل ہوئی ہیں ۔

(۱۱۸) سورہ احزاب آیت ۳۷۔

(۱۱۹) سورہ احزاب آیت۳۷۔

(۱۲۰) سورہ احزاب آیت ۳۷۔

(۱۲۱) سورہ احزاب آیت ۳۷۔

(۱۲۲) پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زینب کے ساتھ شادی کی داستان قرآن نے پوری صراحت کے ساتھ بیان کردی ہے اور یہ بھی واضح کردیا ہے کہ اس کا ہدف منہ بولے بیٹے کی مطلقہ سے شادی کے ذریعے دور جاھلیت کی ایک رسم کو توڑنا تھا، اس کے باوجود دشمنان اسلام نے اسے غلط رنگ دے کر ایک عشقیہ داستان میں تبدیل کردیا اس طرح سے انہوں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات والا صفات کو آلودہ کرنے کی ناپاک جسارت کی ہے اور اس بارے میں مشکوک اور جعلی احادیث کا سھارالیا ہے ان داستانوں میں ایک یہ بھی ہے کہ جس وقت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم زید کی احوال پرسی کے لئے اس کے گہرگئے اور جو نھی آپ نے دروازہ کھولا تو آپ کی نظر زینب کے حسن وجمال پر جا پڑی تو آپ نے فرمایا :

”سبحان اللہ خالق النور تبارک اللہ احسن الخالقین“

”منزہ ہے وہ خدا جو نور کا خالق ہے اور جاویدو بابرکت ہے وہ اللہ جو احسن الخالقین ہے“۔

ان لوگوں نے اس جملے کو زینب کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لگاؤ کی دلیل قراردیا ہے، حالانکہ ،عصمت ونبوت کے مسئلہ سے قطع نظر بھی اس قسم کے افسانوں کی تکذیب کے لئے واضح شواہد ہمارے پاس موجود ہیں :

پہلا یہ کہ حضرت زینب، رسول پاک کی پھوپھی زاد بہن تہیں اور خاندانی ماحول میں تقریباً آپ کے سامنے پلی بڑھی تہیں اور آپ ھی نے زید کے لئے ان کی خواستگاری کی تھی اگر زینب حد سے زیادہ حسین تہیں اور بالفرض اس کے حسن وجمال نے پیغمبر اکرم کی توجہ کو اپنی طرف جذب کرلیا تھا تونہ تو اس کا حسن وجمال ڈھکا چھپا تھا اور نہ ھی اس ماجرے سے پہلے ان کے ساتھ آنحضرت کا عقد کرنا کوئی مشکل امر تھا بلکہ اگر دیکھا جائے تو زینب کو زید کے ساتھ شادی کرنے سے دلچپی نہ تھی ، بلکہ اس بارے میں انہوں نے اپنی مخالفت کا اظھار صراحت کے ساتھ بھی کردیا تھا اور وہ اس بات کو کا ملاً ترجیح دیتی تہیں کہ زید کی بجائے رسول اللہ کی بیوی بنیں، کیونکہ جب آنحضرت زید کےلئے زینب سے رشتہ دینے آئے تو وہ نھایت خوش ہوگئیں، کیونکہ وہ یہ سمجھ رھی تہیں کہ آپ ان سے اپنے لئے خواستگاری کی غرض سے تشریف لائے ہیں ،لیکن بعد میں وحی الٰھی کے نزول اور خدا وپیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے زید کے ساتھ شادی کرنے پر راضی ہوگئیں۔ تو ان حالات کو سامنے رکھتے ہوئے توہم کی کونسی گنجائش باقی رہ جاتی ہے کہیں آپ زینب کے حالات سے بے خبر تھے؟ یا آپ ان سے شادی کی خواہش رکھتے ہوئے بھی اقدام نہیں کرسکتے تھے؟

دوسرا یہ کہ جب زیدنے اپنی بیوی زینب کو طلاق دینے کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف رجوع کیا تو آپ نے بار باراسے نصیحت کی اور اطلاق دینے کے لئے روکا اور یہ چیز بجائے خود ان افسانوں کی نفی کا ایک اورشاہدہے ۔

پہر یہ کہ خود قرآن صراحت کے ساتھ اس شادی کا مقصد بیان کرتا ہے تاکہ کسی قسم کی دوسری باتوں کی گنجائش باقی نہ رہے۔

چوتھا امر یہ ہے کہ قرآنی آیت میں خداو ندعا لم اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے فرماتاہے کہ زید کی مطلقہ بیوی کے ساتھ شادی کرنے میں کوئی خاص بات تھی جس کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم لوگوں سے ڈرتے تھے، جبکہ انہیں صرف خدا سے ھی ڈرنا چاہئے۔

خوف خدا کا مسئلہ واضح کرتا ہے کہ یہ شادی ایک فرض کی بجا آوری کے طور ر انجام پائی تھی کہ خدا کی ذات کے لئے شخصی معاملات کو ایک طرف رکھ دینا چاہئے تاکہ ایک خدائی مقدس ہدف پورا ہوجائے، اگرچہ اس سلسلے میں کو ردل دشمنوں کی زبان کے زخم اور منافقین کی افسانہ طرازی کا پیغمبر کی ذات پر الزام ھی کیوں نہ آتا ہو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حکم خدا کی اطاعت اور غلط رسم کو توڑنے کی پاداش میں یہ ایک بہت بڑی قیمت ادا کی ہے اور اب تک کررہے ہیں ۔

لیکن سچے رھبروں کی زندگی میں ایسے لمحات بھی آجاتے ہیں ، جن میں انہیں ایثار اور فداکاری کا ثبوت دینا پڑتاہے ، اور وہ اس قسم کے لوگوں کے اتھامات اور الزامات کا نشانہ بنتے رہتے ہیں تاکہ اس طرح سے وہ اپنے اصل مقصد تک پہنچ جائیں

البتہ اگر پیغمبر گرامی قدر نے زینب کو بالکل ھی نہ دیکھا ہوتا اور نہ ھی پہچانا ہوتا اور زینب نے بھی آپ کے ساتھ ازدواج کے بارے میں رغبت کا اظھار نہ کیا ہوتا اور زید بھی انہیں طلاق دینے پر تیار نہ ہوتے (نبوت وعصمت کے مسئلہ سے ہٹ کر)پہر تو اس قسم کی گفتگو اور توہمات کی گنجائش ہوتی،لیکن پیغمبر کی تو وہ دیکھی دکھائی تہیں لہٰذا ان تمام امکانات کی نفی کے ساتھ ان افسانوں کا جعلی اور من گھڑت ہونا واضح ہو جاتا ہے۔

علاوہ ازیں نبی اکرم کی زندگی کا کوئی لمحہ یہ نہیں بتاتا کہ آپکو زینب سے کوئی خاص لگاؤ او ررغبت ہو،بلکہ دوسری بیویوں کی نسبت ان سے کوئی رغبت رکھتے تھے اور ان افسانوں کی نفی پر یہ ایک اور دلیل ہے ۔

(۱۲۳) مفسرین کے درمیان مشہور ہے کہ سورہ توبہ کی آیت ۷۵تا ۷۸ اس واقعہ کو بیان کیا گیا ہے۔


فہرست

آغازوحی ۳

پ ہ لا مسلمان(۳) ۴

تحریف تاریخ ۵

دعوت ذوالعشیرة ۷

ایمان ابوطالب ۸

ایمان ابو طالب پر سات دلیل ۹

اشعار ابوطالب زندہ گواہ ۱۱

ابوطالب تین سال تک شعب میں ۱۴

ابوطالب کا سال وفات ”عام الحزن“ ۱۵

ابولھب کی دشمنی ۱۵

ابولھب پیغمبر کا پیچھا کرتارہا ۱۶

ابولھب کاعبرت ناک انجام ۱۹

ابوسفیا ن وابوجہل چھپ کر قرآن سنتے ہیں ۲۱

اسلام کے پہلے مہاجرین ۲۲

مشرکین ،مہاجرین کی تعقیب میں ۲۳

جعفربن ابی طالب مہاجرین کے بہترین خطیب ۲۴

فتح خیبرکی زیادہ خوشی ہے یا جعفرکے پلٹنے کی ۲۵

معراج رسول (ص) ۲۶

معراج کی کیفیت قرآن و حدیث کی نظر سے ۲۷

معراج کی تاریخ ۲۷


معراج جسمانی تھی یاروحانی ؟ ۳۰

معراج کا مقصد ۳۰

معراج اور سائنس ۳۱

ان سوالات کے پیش نظر چندچیزوں پر توجہ ۳۲

شب معراج پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے خداکی باتیں ۳۳

اہل دنیا و آخرت ۳۴

اہل بہشت کے صفات ۳۵

بہترین اور جاویدانی زندگی ۳۶

ہجرت پیامبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم(۳۶) ۳۸

ابوجہل کی رائے ۳۹

حضرت علی علیہ السلام نے اپنی جان کو بیچ ڈالی ۳۹

قبلہ کی تبدیلی ۴۱

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا خانہ کعبہ سے خاص لگاؤ ۴۱

تبدیلی قبلہ کا راز ۴۲

جنگ بدر(۴۱) ۴۴

۳۱۳ وفادار ساتھی ۴۵

قریش کا ایک ہزار کا لشکر ۴۶

مسلمانو! فرشتے تمھاری مدد کریں گے ۴۷

ستر قتل ستر اسیر ۴۸

مجاہدین کی تشویق ۴۹

جنگ کا خاتمہ اور اسیروں کا واقعہ ۵۰


آنحضرت کے چچا عباس کا اسلام قبول کرنا ۵۱

جنگ احد(۴۳) ۵۳

جنگ احد کا پیش خیمہ ۵۳

جناب عباس کی بر وقت اطلاع ۵۳

پیغمبر کا مسلمانوں سے مشورہ ۵۴

مسلمانوں کی دفاعی تیاریاں ۵۵

آغاز جنگ ۵۶

کون پکارا کہ محمد (ص) قتل ہوگئے ؟ ۵۸

جنگ کا خطرناک مرحلہ ۵۹

کھوکھلی باتیں ۶۰

حضرت علی علیہ السلام کے زخم ۶۱

ہم نے شکست کیوں کھائی ؟ ۶۱

عمومی معافی کا حکم ۶۲

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم شہداء سے مخاطب ۶۲

حنظلہ غسیل الملائلکہ ۶۳

قبیلہ بنی نضیر کی سازش ۶۳

جنگ احزاب ۶۵

کل ایمان کل کفر کے مقابلہ میں ۶۶

لشکر کی تعداد ۶۶

خندق کی کھدائی ۶۷

عمرو بن عبدود دسے حضرت علی (ع)کی تاریخی جنگ ۶۸


ضربت علی (ع) ثقلین کی عبادت پر بھاری ۶۹

نعیم بن مسعود کی داستان اور دشمن کے لشکر میں پھوٹ ۷۱

بنی قریظہ کے یہودیوں نے اس نظریہ کوبہت سراھا۔ ۷۱

حذیفہ کا واقعہ ۷۳

جنگ احزاب قرآن کی روشنی میں ۷۴

منا فقین او رضعیف الایمان جنگ احزاب میں ۷۶

میں نے ایران، روم اور مصرکے محلوں کو دیکھا ہے ۷۶

الٰھی وحی نازل ہوئی او رکھا: ۷۷

منافقانہ عذر ۷۸

روکنے والا ٹولہ ۸۰

وہ ہرگز ایمان نہیں لائے ۸۱

جنگ احزاب میں سچے مومنین کا کردار ۸۲

مومنین کے صفات ۸۳

جنگ بنی قریظہ ۸۴

تین تجاویز ۸۵

ابولبابہ کی خیانت ۸۶

صلح حدیبیہ ۸۸

بیعت رضوان ۸۹

صلح نامہ کی تحریر ۸۹

صلح حدیبیہ یا عظیم الشان فتح ۹۲

پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا سچا خواب ۹۳


مومنین کے دلوں پرنزول سکینہ ۹۴

یہ سکینہ کیا تھا ؟ ۹۴

پیچھے رہ جانے والوں کی عذر تراشی ۹۵

وہ تو اپنی توبہ تک میں بھی مخلص، نہیں ہیں ۔ ۹۶

اگر حدیبیہ میں جنگ ہوجاتی ۹۸

عمرة القضاء ۹۹

فتح خیبر ۱۰۱

دعائے پیامبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ۱۰۲

فاتح خیبر علی علیہ السلام ۱۰۳

فتح مکہ ۱۰۴

مکہ کی طرف روانگی ۱۰۵

علی علیہ السلام کے قدم دوش رسول پر ۱۰۸

آج کا دن روز رحمت ہے ۱۰۹

عورتوں کی بیعت کے شرائط ۱۱۰

ابو سفیان کی بیوی ہندہ کی بیعت کا ماجرا ۱۱۱

مقوقس(۹۴) کے نام خط ۱۱۳

قیصر روم کے نام خط ۱۱۶

بطرف: ہرقل بادشاہ روم۔ ۱۱۶

جنگ ذات السلاسل ۱۱۹

جنگ حنین(۹۶) ۱۲۰

دشمن کے لشکر کا مورچہ ۱۲۱


بھاگنے والے کون تھے ؟ ۱۲۲

جنگ تبوک ۱۲۳

لشکر ی مشکلات ۱۲۴

تشویق ، سرزنش، اور دہمکی کی زبان ۱۲۵

تنہاوہ جنگ جس میں حضرت علی نے شرکت نہ کی ۱۲۶

ایک عظیم درس ۱۲۷

جنگ تبوک میں شرکت نہ کرنے والے تین لوگ ۱۲۸

مسجد ضرار(۱۰۵) ۱۲۹

مسجد قبا ء ۱۳۱

سب سے پہلی نماز جمعہ ۱۳۲

واقعہ غدیر ۱۳۲

خطبہ غدیر ۱۳۳

روز اکمال دین ۱۳۶

فدک ۱۳۷

مباہلہ ۱۴۱

عظمت اہل بیت کی ایک زندہ سند ۱۴۲

زینب سے آنحضرت (ص) کی شادی(۱۱۷) ۱۴۴

ثعلبہ ۱۴۸

رسول اکرم (ص) کی سوانح حیات

رسول اکرم (ص) کی سوانح حیات

اصلاح کتب

مؤلف: آیت اللہ ناصر مکارم شیرازی
قسم: رسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
صفحے: 16