البَدرُ التَّمَامُ فِی الصَّلٰوةِ عَلٰی صَاحِبِ الدُّنُوِّ وَ المَقَامِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
مؤلف: ڈاکٹر محمد طاہرالقادریرسول اکرم(صلّی علیہ وآلہ وسلّم)
البَدرُ التَّمَامُ فِی الصَّلٰوةِ عَلٰی صَاحِبِ الدُّنُوِّ وَ المَقَامِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
تالیف : شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
تحقیق و تدوین : فیض اﷲ بغدادی (منھاجین)
معاون تحقیق : اجمل علی مجددی (منھاجین)
نظرِثانی : ضیاء اﷲ نیر
زیر اِہتمام : فرید ملت (رح) ریسرچ اِنسٹیٹیوٹ
www.research.com.pk
مطبع : منہاجُ القرآن پرنٹرز، لاہور
اِشاعتِ اوّل : نومبر ۲۰۰۴ء
تعداد : ۱۱۰۰
قیمت : ۱۴۰ روپے
قیمت اِمپورٹڈ پیپر : ۲۳۰ روپے
ماخذ:منہاجُ بکس
پیش لفظ
الحمد ﷲ رب العالمين و الصلاة و السلام علی سيد المرسلين أما بعد!
اس امر میں کوئی شک نہیں کہ اﷲ تبارک و تعالیٰ نے ہم پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت اور اتباع کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعزیر و توقیر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قلبی محبت اور امت پر واجب حقوق کی کما حقہ ادائیگی فرض قرار دی ہے۔ اﷲ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کو ازرہِ تعلیم ارشاد فرمایا :
( إنَّا أَرْسَلْنَاکَ شَاهِدًا وَ مُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرًا لِتُؤْمِنُوْا بِاﷲِ وَ رَسُوْلِه وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُ وَ تُسَبِّحُوْهُ بُکْرَةً وَّ أَصِيْلًا )
القرآن، الفتح، ۴۸ : ۸، ۹
’’بے شک ہم نے آپ کو مشاہدہ کرنے والا اور خوشخبری سنانے والا اور (عذاب سے) ڈرانے والا بنا کر بھیجا تاکہ تم (لوگ) اﷲ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور اس کی مدد کرو اور اس کو بزرگ سمجھو اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو۔‘‘
مندرجہ بالا آیت ہم سے یہ تقاضا کر رہی ہے کہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم و توقیر لازمی طور پر بجا لائیں یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ اﷲ تبارک و تعالیٰ نے لوگوں کو اپنی توحید اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت پر ایمان لانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعزیرو توقیر کو اپنی تسبیح پر مقدم کیا ہے اس سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے پایاں عظمت و اہمیت کا اندازہ بآسانی لگایا جاسکتا ہے۔
اسی طرح اﷲ تعالیٰ کا یہ قول :
( فَالََّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِه وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَاتَّبَعُوْا النُّوْرَ الَّذِيْ أُنْزِلَ مَعَهُ اُوْلٰئِکَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ )
’’پس جو لوگ اس (برگزیدہ رسول) پر ایمان لائیں گے اور ان کی تعظیم و توقیر کریں گے اور ان (کے دین) کی مدد و نصرت کریں گے اور اس نور (قرآن) کی پیروی کریں گے جو ان کے ساتھ اتارا گیا ہے وہی لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں۔‘‘
الأعراف، ۷ : ۱۵۷
درج بالا آیت بھی ہمیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہم پر واجب حقوق کی ادائیگی کی تعلیم دیتی ہے۔
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے ہم پر جن حقوق کی بجا آوری لازم آتی ہے۔ ان میں ایک حق حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت کے ساتھ درود و سلام کا بھیجنا ہے جیسا کہ اﷲ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے :
( إِنَّ اﷲَ وَ مَلَائِکَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِيِّ يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا )
القرآن، احزاب، ۳۳ : ۵۶
’’بے شک اﷲ اور اس کے فرشتے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم درود بھیجتے ہیں اے ایمان والو تم بھی ان پر (کثرت کے ساتھ) درود اور خوب سلام بھیجا کرو۔ ‘‘
پس درود و سلام وہ افضل ترین اور منفرد عبادت ہے اور یہ وہ افضل ترین عمل ہے جس میں اﷲ تبارک و تعالیٰ اور اس کے فرشتے بھی بندوں کے ساتھ شریک ہوتے ہیں اور اس عمل کے ذریعے بندے کو اﷲ کا قرب نصیب ہوتا ہے اور اس کے ذریعے گناہوں کی بخشش، درجات کی بلندی اور قیامت کے روز حسرت و ملال سے امان نصیب ہوتا ہے۔
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجنے والے کے لئے درود و سلام کی فضیلت و اہمیت جاننے کے لئے یہی کافی ہے کہ اس کے عوض اﷲ اور اس کے فرشتے اس شخص پر درود و سلام بھیجتے ہیں اور خود حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی اس پر درود و سلام بھیجتے ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری مدظلہ العالی کے نمایاں علمی و تصنیفی کارناموں میں ایک یہ بھی ہے کہ آپ نے مختلف دینی موضوعات پر سلسلہ وار اربعینات تالیف کی ہیں اس سلسلہ میں چند ایک اربعینات پہلے ہی شائع ہو کر قارئین تک پہنچ چکی ہیں اسی سلسلہ کی ایک تازہ کڑی’’ألبَدْرُ التَّمَامُ فِی الصَّلٰوةِ عَلٰی صَاحِبِ الدُنُوِّ و المَقَامِ صلی الله عليه وآله وسلم‘‘ ہے جو کم و بیش ۲۷۵ مستند احادیث کا مجموعہ ہے اور یہ اپنی نوعیت کی ایک منفرد کتاب ہے جس میں ڈاکٹر صاحب نے درود و سلام کے موضوع سے متعلق احکام، فضائل، صیغ، ترغیب و ترھیب اور وہ مقامات جہاں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجنا مسنون اور مستحب ہے پر مشتمل متعدد احادیث جمع فرمائی ہیں۔
اس کتاب سے استفادہ قارئین کی معلومات میں اضافہ کے ساتھ ان کے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی سے تعلق حبی و عشقی کو مزید جلا بخشنے کا باعث بنے گا۔
فصل : ۱
أمر اﷲ تعالٰی المؤمنين بالصلاة والسلام علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم
(اﷲ تبارک وتعالیٰ کا مومنوں کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجنے کا حکم)
( إِنَّ اﷲَ وَمَلَائِکَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَي النَّبِيِّ يَأَ يُهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمَا .)
القرآن، ا لأحزاب، ۳۳ : ۵۶
(بے شک اﷲ تعالیٰ اور اس کے فرشتے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں اے ایمان والو! تم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خوب کثرت سے درود و سلام بھیجا کرو)
۱ (۱) عن عبدالرحمٰن بن أبي ليلي قال لقيني کعب بن عجرة فقال ألا أهدي لک هدية إن النبي صلي اﷲ عليه وسلم خرج علينا فقلنا يارسول اﷲ قد علمنا کيف نسلم عليک فکيف نصلي عليک قال : قولوا : أللهم صل علي محمد وعلي آل محمد کماصليت علي إبراهيم وآلِ إبراهيم إنک حميد مجيد أللهم بارک علي محمد وعلي آل محمد کما بارکت علي إبراهيم و علي آل إبراهيم إنک حميد مجيد.
۱. بخاري، الصحيح، ۵ : ۲۳۳۸، کتاب الدعوات، باب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۵۹۹۲
۲. ابو عوانه، المسند، ۱ : ۵۲۶، رقم : ۱۹۶۷
’’حضرت عبدالرحمٰن بن ابولیلی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھے حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ملے اور فرمایا کہ کیا میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم عرض گزار ہوئے :۔ یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کی خدمت میں سلام بھیجنا تو ہمیں معلوم ہے لیکن ہم آپ پر درود کیسے بھیجا کریں؟ فرمایا کہ یوں کہاکرو : اے اﷲ! درود بھیج حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پراور آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جیسے تونے درود بھیجا حضرت ابراہیم علیہ السلام پر بیشک تو بہت تعریف والا اور بزرگی والا ہے۔ اے اللہ! برکت دے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اور آلِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جیسے تونے برکت دی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی آل کو بیشک تو تعریف والا اور بزرگی والاہے۔‘‘
۲ (۲) عن أبي سعيد نالخدري قال : قلنا يارسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم هذا السلام عليک فکيف نصلي عليک قال قولوا أللهم صل علي محمد عبدک ورسولک کماصليت علي إبراهيم وبارک علي محمد وعلي آل محمد کما بارکت علي إبراهيم و علي آل إبراهيم.
۱. بخاري، الصحيح، ۵ : ۲۳۳۹، کتاب الدعوات، باب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۵۹۹۷
۲. ابن ماجه، السنن، ۱ : ۲۹۲، کتاب إقامة الصلاة، باب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۹۰۳
۳. احمدبن حنبل، المسند، ۳ : ۴۷، رقم : ۱۱۴۵۱
۴. ابن ابي شيبه، المصنف، ۲ : ۲۴۶، رقم : ۸۶۳۳
۵. ابويعلي، المسند، ۲ : ۵۱۵، رقم : ۱۳۶۴
’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں عرض گزار ہوئے : یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ پر سلام بھیجنا تو ایسے ہے لیکن ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود کس طرح بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس طرح کہو : اے اﷲ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیج جو تیرے بندے اور رسول ہیں جیسے تونے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر درود بھیجا اور برکت نازل فرما حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر جیسے تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آلِ ابراہیم علیہ السلام کو برکت دی۔‘‘
۳ (۳) عن أبي مسعود الأنصاري قال : أتانا رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ونحن في مجلس سعد ابن عبادة فقال له بشير بن سعد أمرنا اﷲ أن نصلي عليک يا رسول اﷲ فکيف نصلي عليک قال فسکت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم حتي تمنينا أنه لم يسأله ثم قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : قولوا أللهم صل علي محمد وعلي آل محمد کماصليت علي إبراهيم وبارک علي محمد وعلي آل محمد کما بارکت علي إبراهيم وعلي آل إبراهيم في العالمين إنک حميد مجيد والسلام کماقد علمتم.
۱. ترمذي، الجامع الصحيح، ۵ : ۳۵۹، کتاب تفسير القرآن، باب ومن سورة الاحزاب، رقم : ۳۲۲۰
۲. قرطبي، الجامع لأحکام القرآن، ۱۴ : ۱۱۳
’’حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے (اس وقت) ہم سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی مجلس میں تھے۔ بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ پر درود شریف بھیجنے کا حکم دیا (ہمیں بتائیے) ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کس طرح درود شریف بھیجیں؟ وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ دیر خاموش رہے حتی کہ ہم نے خواہش کی کہ کاش انہوں نے یہ سوال نہ پوچھا ہوتا، پھر رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس طرح کہو ’’اے اللہ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر اس طرح رحمت بھیج جس طرح تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر رحمت نازل فرمائی بے شک تو تعریف والا اور بزرگ وبرتر ہے۔ اے اﷲ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد پر برکت اسی طرح نازل فرما جس طرح تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد کو دونوں جہانوں میں برکت دی بے شک تو تعریف والا اور بزرگ و برتر ہے۔‘‘
۴ (۴) عن کعب بن عجرة أنه قال لما نزلت هذه الآية (يا أيهاالذين آمنوا صلوا عليه وسلموا تسليما) جاء رجل إلي النبي صلي الله عليه وآله وسلم فقال يارسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم هذا السلام عليک فکيف الصلاة؟ فقال : قولوا ’’أللهم صل علي محمد و علي آل محمد کماصليت علي إبراهيم إنک حميد مجيد أللهم بارک علي محمد وعلي آل محمد کما بارکت علي إبراهيم وعلي آل إبراهيم إنک حميد مجيد.‘‘
۱. ابوعوانه، المسند، ۱ : ۵۲۷، رقم : ۱۹۷۰
۲. يوسف بن موسي، معتصر المختصر، ۱ : ۵۴
۳. ابن عبدالبر، التمهيد، ۱۶ : ۱۸۵
۴. طبري، جامع البيان في تفسير القرآن، ۲۱ : ۱۱۷
۵. ابو نعيم، حلية الأوليا، ۴ : ۳۵۶
۶. ابو نعيم، حلية الأوليا، ۷ : ۱۰۸
’’حضرت کعب بن عجرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ’’اے مومنو! حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجو اور خوب سلام بھیجو‘‘ تو اس وقت ایک آدمی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اﷲ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام تو اس طرح بھیجا جاتا ہے درود کس طرح بھیجا جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس طرح کہو : ’’اے اﷲ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر اس طرح درود بھیج جس طرح تونے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل پر درود نازل فرمایا بے شک تو تعریف والا اور بزرگی والا ہے۔ اے اﷲ! حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد پر برکت نازل فرما جس طرح تونے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی اولاد کو برکت عطا فرمائی بے شک تو تعریف والا اور بزرگ و برتر ہے۔‘‘
۵ (۵) عن أنس بن مالک أن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال : من ذکرت عنده فليصل عَلَيَّ ومن صلي عَلَيَ مرة صلي اﷲ عليه عشرا.
۱. نسائي، السنن الکبريٰ، ۶ : ۲۱، رقم : ۹۸۸۹
۲. ابو يعليٰ، المسند، ۷ : ۷۵، رقم : ۴۰۰۲
۳. طيالسي، المسند، ۱ : ۲۸۳، رقم : ۶۱۲۲
۴. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱۰ : ۱۶۳
۵. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۳، رقم : ۲۵۵۹
۶. نسائي، عمل اليوم والليلة، ۱ : ۱۶۵، باب ثواب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۶۱
۷. ابونعيم، حلية الاولياء، ۴ : ۳۴۷
۸. ذهبي، سيراعلام النبلاء، ۷ : ۳۸۳
۹. ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، ۳ : ۵۱۲
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص کے سامنے بھی میرا ذکر ہو اسے مجھ پر درود بھیجنا چاہیے اور جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ درود (بصورت رحمت) بھیجتا ہے۔‘‘
۶ (۶) عن أبي إسحاق عن يروي قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من ذکرت عنده فليصل عَلَيَّ ومن صلي صلاة واحدة صلي اﷲ عليه عشرًا.
۱. ابو يعلي، المعجم، ۱ : ۲۰۳، رقم : ۲۴۰
۲. طبراني، المعجم الاوسط، ۵ : ۱۶۲، رقم : ۴۹۴۸
۳. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۳، رقم : ۲۵۶۰
۴. مناوي، فيض القدير، ۶ : ۱۲۹
’’حضرت ابو اسحاق حضرت یروی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس شخص کے پاس میرا ذکر ہو تو اسے چاہیے کہ وہ مجھ پر درود بھیجے اور جومجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ درود (بصورت رحمت) بھیجتا ہے۔‘‘
۷ (۷) عن الحسن بن علي رضي الله عنه أن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال : حيثما کنتم فصلوا عَلَيَّ فإن صلاتکم تبلغني.
۱. طبراني، المعجم الاوسط، ۱ : ۱۱۷، رقم : ۳۶۵
۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱۰ : ۱۶۲
۳. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۶۲، رقم : ۲۵۷۱
۴. مناوي، فيض القدير، ۳ : ۴۰۰
’’حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم جہاں کہیں بھی ہو مجھ پر درود بھیجا کرو بیشک تمہارا درود مجھے پہنچ جاتاہے۔‘‘
۸ (۸) عن أنس رضي الله عنه قال : قال عليه الصلاة والسلام : أکثروا الصلاة عَلَيَّ فإن صلاتکم عَلَيَّ مغفرة لذنوبکم واطلبوا لي الدرجة والوسيلة، فإن وسيلتي عند ربي شفاعتي.
منادي، فيض القدير، ۲ : ۸۸
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھ پر درود کی کثرت کرو بے شک تمہارا مجھ پر درود بھیجنا تمہارے گناہوں کی مغفرت ہے اور مجھ پر (درود بھیجنے کے علاوہ) اللہ تعالیٰ سے میرے لئے بلند درجہ اور وسیلہ کی دعا بھی مانگا کرو بے شک اللہ کے ہاں میرا وسیلہ (تمہارے حق میں شفاعت ہے۔ )‘‘
۹ (۹) عن أنس قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من ذکرني فليصل عَلَيَّ ومن صلي عَلَيَّ واحدة صليت عليه عشراً.
۱. ابو يعلي، المسند، ۶ : ۳۵۴، رقم : ۳۶۸۱
۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱ : ۱۳۷، باب کتابة الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم لمن ذکره اوذکر عنده
۳. مقدسي، الاحاديث المختارة، ۴ : ۳۹۵، رقم : ۱۵۶۷
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص بھی میرا ذکر کرتا ہے اسے چاہیے کہ وہ مجھ پر درود بھیجے اور جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے میں اس پر دس مرتبہ درود بھیجتا ہوں۔‘‘
۱۰ (۱۰) عن أنس رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : أکثر وا الصلاة عَلَيَّ فإنه من صلي عَلَيَّ صَليَ اﷲ عليه وسلّم عشراً.
قيسراني، تذکرة الحفاظ، ۴ : ۱۳۴۱
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھ پر کثرت کے ساتھ درود بھیجا کرو بے شک جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ درود (بصورت رحمت) بھیجتا ہے اور دس مرتبہ سلام بھیجتا ہے۔‘‘
فصل : ۲
کيفية الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم
(حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کی کیفیت)
۱۱ (۱) عن أبي حميد الساعدي رضي الله عنه أنهم قالوا : يا رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم کيف نُصلي عليک؟ فقال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قولوا : أللهم صلِّ علي محمد و أزواجه و ذريته، کما صليت علي آل إبراهيم و بارک علي محمد و أزواجه و ذريته کما بارکت علي آل إبراهيم، إنک حميدٌ مجيدٌ.
۱. بخاري، الصحيح، ۳ : ۱۲۳۲، کتاب الأنبياء، باب يزفون النسلان في المشي، رقم : ۳۱۸۹
۲. مسلم، الصحيح، ۱ : ۳۰۶، کتاب الصلاة، باب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم بعد التشهد، رقم : ۴۰۶
۳. ابن ماجه، السنن، ۱ : ۲۹۳، کتاب إقامة الصلاة، باب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۹۰۵
۴. مالک، الموطا، ۱ : ۱۶۵، باب ما جاء في الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۳۹۵
۵. نسائي، السنن الکبري، ۱ : ۳۸۴، رقم : ۱۲۱۷
۶. ابو عوانه، المسند، ۱ : ۵۴۶، رقم : ۲۰۳۹
۷. قرطبي، الجامع لاحکام القرآن، ۱ : ۳۸۲
’’حضرت ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین نے عرض کیا یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود کیسے بھیجیں؟ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یوں کہو : ’’اے میرے اﷲ تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج اور اولاد پر درود بھیج جس طرح تونے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آل پر درود بھیجا اور اے اﷲ تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات اور اولاد کو برکت عطا فرما جس طرح تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آل کو برکت عطا فرمائی بے شک تو بہت زیادہ تعریف کیا ہوا اور بزرگی والا ہے۔‘‘
۱۲ (۲) عن کعب بن عجْرة رضي الله عنه قال : قلنا يارسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم هذا السلام عليک قد علمنا فکيف الصلاة؟ قال صلي الله عليه وآله وسلم : قولوا : أللهم صلِّ علي محمد و علي آل محمد، کما صليت علي إبراهيم و آل إبراهيم، إنک حميد مجيدٌ و بارک علي محمد و علي آل محمد، کما بارکت علي إبراهيم و آل إبراهيم، إنک حميدٌ مجيدٌ قال : و قال ابن أبي ليلي ونحن نقول : وعلينا معهم.
۱. ترمذي، الجامع الصحيح، ۲ : ۳۵۲، کتاب الصلاة، باب ما جاء في صفة الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۴۸۳
۲. نسائي، السنن، ۳ : ۴۷، کتاب السهو، باب نوع آخر، رقم : ۱۲۸۷
۳. نسائي، السنن الکبري، ۱ : ۳۸۲، رقم : ۱۲۱۰
۴. حميدي، المسند، ۲ : ۳۱۰، رقم : ۷۱۱
۵. طبراني، المعجم الکبير، ۱۹ : ۱۳۱، رقم : ۲۸۷
۶. يوسف بن موسي، معتصر المختصر، ۱ : ۵۴
’’حضرت کعب بن عجرۃ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجنا تو جان لیا ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود کیسے بھیجیں؟ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا یوں کہو : ’’اے میرے اﷲ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر درود بھیج جیسا کہ تونے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی آل پر درود بھیجا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کو برکت عطاء فرما جس طرح تونے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آل کو برکت عطا فرمائی بے شک تو بہت زیادہ تعریف کیا ہوا اور بزرگی والا ہے۔ راوی فرماتے ہیں کہ ابن ابو لیلی یہ درود پڑھنے کے بعد یہ فرمایا کرتے تھے کہ ان کے ساتھ ہم پر بھی رحمت نازل فرما۔‘‘
۱۳ (۳) عن عبداﷲ بن مسعود رضي الله عنه قال : إذا صَلَّيْتُمْ علي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم فأحسنوا الصلاة عليه فإنکُم لا تدرون لعل ذلک يُعرض عليه قال فقالوا له : فَعلِّمنا قال : قولوا : أللهم أجعل صلاتک و رحمتک و برکاتک علي سيد المرسلين، و إمام الخير، و قائد الخير و رسول الرحمة. أللهم أبعثه مقامًا محمودًا، يَغْبطه به الأولون و الآخرون أللهم صلّ علي محمد و علي آل محمد، کما صليت علي إبراهيم و علي آل إبراهيم، إنک حميدٌ مجيد. أللهم بارک علي محمد و علي آل محمد، کما بارکت علي إبراهيم و علي آل إبراهيم، إنک حميدٌ مجيدٌ.
۱. ابن ماجه، السنن، ۱ : ۲۹۳، کتاب اقامة الصلاة و السنة فيها، باب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۹۰۶
۲. طبراني، المعجم الکبير، ۹ : ۱۱۵، رقم : ۸۵۹۴
۳. شاشي، المسند، ۲ : ۸۹، رقم : ۸۵۹۴
۴. بيهقي، شعب الإيمان، ۲ : ۲۰۸، رقم : ۱۵۵۰
۵. کناني، مصباح الزجاجة، ۱ : ۱۱۱، رقم : ۳۳۲
۶. منذري، الترغيب و الترهيب، ۲ : ۵۰۳، رقم : ۲۴۹۲
’’حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جب تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجو تو بڑے احسن انداز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجو کیونکہ تم نہیں جانتے کہ یہ درود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیش کیا جاتا ہے صحابہ نے عرض کیا آپ ہمیں سکھائیں کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود کیسے بھیجیں؟ انہوں نے فرمایا کہو : ’’اے میرے اﷲ تو اپنا درود اور رحمت اور برکتیں رسولوں کے سردار اہل تقوی کے امام اور خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بندے اور رسول جو کہ بھلائی اور خیر کے امام اور قائد ہیں اور رسول رحمت ہیں کے لئے خاص فرما اے میرے اﷲ ان کو اس مقام محمود پر پہنچا جس کی خواہش اولین اور آخرین کرتے ہیں اے میرے اﷲ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر درود بھیج جس طرح کہ تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی آل پر درود بھیجا بے شک تو تعریف کیا ہوا اور بزرگی والا ہے اے میرے اﷲ تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کو برکت عطاء فرما جس طرح تونے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی آل کو برکت عطاء فرمائی بے شک تو بہت زیادہ تعریف کیا ہوا اوربزرگی والا ہے۔‘‘
۱۴ (۴) عن عقبة بن عمرو قال : قُوْلُوْا : أللهم صل علي محمدٍ النبي الأمي و علي آل محمدٍ.
ابو داؤد، السنن، ۱ : ۲۵۸، کتاب الصلاة، باب الصلاة علي النبي بعد التشهد، رقم : ۹۸۱
’’حضرت عقبہ بن عمرو سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے یوں کہا کرو : ’’اے میرے اﷲ تو درود بھیج حضرت محمد نبی امی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر۔‘‘
۱۵ (۵) عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم من سره أن يکتال بالمکيال الأوفي إذا صلي علينا أهل البيت فليقل : أللهم صل علي محمد النبي و أزواجه العالمين أمهات المؤمنين و ذريته وأهل بيته کما صليت علي آل إبراهيم إنَّک حميدٌ مجيدٌ.
ابو داؤد، السنن،
۱ : ۲۵۸، کتاب الصلاة، باب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم بعد التشهد، رقم : ۹۸۲
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس کوپسند ہو کہ اس کا نامہ اعمال اجرو ثواب کے پورے پیمانے سے ناپا جائے تو (اسے چاہئے کہ) ہم اہل بیت پر درود بھیجے اور یوں کہے : ’’اے اﷲ تو حضرت محمد نبی امی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات، امہات المومنین اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذریت پر درود بھیج جیسا کہ تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر درود بھیجا بے شک تو بہت زیادہ تعریف کیا ہوا اور بزرگی والا ہے۔‘‘
۱۶ (۶) عن زيد بن خارجة الأنصاري قال : أنا سألت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم کيف نصلي عليک؟ فقال : صلوا علي واجتهدوا في الدعاء و قولوا : أللهم صل علي محمد و علي آل محمد.
۱. نسائي، السنن، ۳ : ۴۸، رقم : ۱۲۹۲
۲. نسائي، السنن الکبريٰ، ۱ : ۳۸۳، رقم : ۹۸۸۱
۳. نسائي، السنن الکبريٰ، ۶ : ۱۹
۴. نسائي، عمل اليوم والليلة، ۱ : ۱۶۲، رقم : ۵۳
۵. عسقلاني، فتح الباري، ۱۱ : ۱۵۴
۶. مناوي، فيض القدير، ۴ : ۲۰۴
’’حضرت زید بن خارجہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود کیسے بھیجیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھ پر درود بھیجا کرو اور خوب گڑگڑا کر دعا کیا کرو اور یوں کہا کرو : ’’اے اﷲ تو حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر درود بھیج۔‘‘
۱۷ (۷) عن عقبة بن عمرو رضي الله عنه قال : أقبل رَجلٌ حتي جلس بين يدي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ونحن عنده فقال : يا رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم أمّا السلام عليک فقد عرفناه، فکيف نُصلي عليک إذا نحن صلينا في صلاتنا؟ قال : فَصمت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم حتي أحببنا أنَّ الرجل، لم يسأله ثم قال صلي الله عليه وآله وسلم : إذا صليتم عليَّ فقولوا : أللهم صلِّ علي محمد النبي الأميّ و علي آل محمد، کما صليت علي إبراهيم و علي آل إبراهيم، و بارک علي محمد النبي الأمي و علي آل محمد، کما بارکت علي إبراهيم و علي آل إبراهيم، إنک حميدٌ مجيدٌ هذا إسناد حسن متصل.
۱. دار قطني، السنن، ۱ : ۳۵۴، رقم : ۲، باب ذکر وجوب الصلاة
۲. ابن حبان، الصحيح، ۵ : ۲۸۹، رقم : ۱۹۵۹
۳. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، ۱ : ۴۰۱، رقم : ۹۸۸
۴. ابن ابي شيبه، المصنف، ۲ : ۲۴۷، رقم : ۸۶۳۵
۵. طبراني، المعجم الکبير، ۱۷ : ۲۵۱، رقم : ۶۹۸
۶. بيهقي، السنن الکبري، ۲ : ۱۴۶، رقم : ۲۶۷۲
’’حضرت عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا پھر اس نے سوال کیا یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام کا بھیجنا تو ہم نے جان لیا لیکن جب ہم حالتِ نماز میں ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود کیسے بھیجیں؟ راوی فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے جس سے ہم نے چاہا کہ کاش سوال کرنے والے آدمی نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال نہ کیا ہوتا پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم مجھ پر درود بھیجو تو یوں کہو : ’’اے میرے اﷲ حضرت محمد نبی اُمی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر درود بھیج جس طرح تونے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی آل پر درود بھیجا اور اے اللہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نبی امی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کو برکت عطا فرما جس طرح تونے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی آل کو برکت عطاء فرمائی بے شک تو بہت زیادہ تعریف کیا ہوا اور بزرگی والا ہے۔‘‘
۱۸ (۸) عن ابن مسعود رضي الله عنه أنه کان يقول : أللهم إجعل صلواتک و برکاتک و رحمتک علي سيد المرسلين و إمام المتقين و خاتم النبيين، محمد عبدک و رسولک إمام الخير و قائد الخير و رسوله الرحمة أللهم إبعثه يوم القيامة مقامًا محمودًا يغْبِطهُ الأولون و الآخرون، أللهم صلّ علي محمد و آل محمد، کما صليت علي إبراهيم و علي آل إبراهيم أللهم بارک علي محمد و علي اٰل محمد کما بارکت علي اٰل إبراهيم إنک حميدٌ مجيدٌ.
۱. عبدالرزاق، المصنف، ۲ : ۲۱۳، رقم : ۳۱۰۹
۲. طبراني، المعجم الکبير، ۹ : ۱۱۵، رقم : ۸۵۹۵
۳. عسقلاني، المطالب العالية، ۳ : ۲۲۴، رقم : ۳۳۲۴ برواية ابن عمر رضي الله عنه
’’حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے : ’’اے میرے اﷲ تو اپنے درودوں برکتوں اور رحمتوں کو رسولوں کے سردار، متقین کے امام، خاتم النبیین، محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو کہ تیرے بندے اور رسول ہیں اور خیر کے امام اور قائد ہیں اور رسول رحمت ہیں کے لئے خاص فرما۔ اے اﷲ ان کو اس مقام محمود پر پہنچا جس کی خواہش پہلے اور بعد میں آنے والے لوگ کرتے ہیں۔ اے میرے اﷲ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر درود بھیج جس طرح کہ تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی آل پر درود بھیجا اے میرے اﷲ تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کو برکت عطا فرما۔ جس طرح تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی آل کو برکت عطا فرمائی بے شک تو بہت زیادہ تعریف کیا ہوا اور بزرگی والا ہے۔‘‘
۱۹ (۹) عن بريدة رضي الله عنه قال : قلنا يا رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قد علمنا کيف نسلم عليک فکيف نصلي عليک؟ قال صلي الله عليه وآله وسلم : قولوا أللهم إجعل صلواتک و برکاتک علي آل محمد، کما جعلتها علي آل إبراهيم إنک حميدٌ مجيدٌ.
هيثمي، مجمع الزوائد، ۱۰ : ۱۶۳
’’حضرت بریدۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے عرض کیا یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجنا تو ہم جان گئے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود کیسے بھیجیں تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ کہو : ’’اے میرے اﷲ تو اپنے درودوں اور برکتوں کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے خاص کر دے جیسا کہ تو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آل کے لئے خاص کیا تھا بے شک تو بہت زیادہ تعریف کیا ہوا اور بزرگی والا ہے۔‘‘
۲۰ (۱۰) عن زيد بن وهب رضي الله عنه قال لي ابن مسعود رضي الله عنه : لا تدع إذا کان يوم الجمعة أن تصلي علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم ألف مرة، تقول : أللهم صلِّ علي محمد.
۱. ابو نعيم، حلية الأولياء، ۸ : ۲۳۷
۲. سيوطي، الدر المنثور، ۵ : ۴۱۲
’’حضرت زید بن وھب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تو جمعہ کے روز حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک ہزار مرتبہ درود بھیجنے کا عمل مت ترک کر اور درود اس طرح بھیج : ’’اے میرے اﷲ درود بھیج حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر۔‘‘
فصل : ۳
من صلي علي واحدة صلي اﷲ عليه عشرا
(جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اﷲتعالیٰ اس پر دس مرتبہ درود (بصورت رحمت) درود بھیجتا ہے)
۲۱ (۱) عن أبي هريرة رضي الله عنه أنَّ رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال : من صلي عَلَيَّ واحِدَةً صلي اﷲ عليه عشرًا.
۱. مسلم، الصحيح، ۱ : ۳۰۶، کتاب الصلاة، باب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم بعد التشهد، رقم : ۴۰۸
۲. ابو داؤد، السنن، ۲ : ۸۸، باب في الأستغفار، رقم : ۱۵۳۰
۳. احمد بن حنبل، المسند، ۳ : ۶۶، رقم : ۸۶۳۷
۴. نسائي، السنن الکبري، ۱ : ۳۸۴، رقم : ۱۲۱۹
۵. دارمي، السنن، ۲ : ۴۰۸، رقم : ۲۷۷۲، باب فضل الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم
۶. ابن حبان، الصحيح، ۳ : ۱۸۷، رقم : ۹۰۶
۷. بخاري، الادب المفرد، ۱ : ۲۲۴، رقم : ۶۴۵
۸. ابو عوانه، المسند، ۱ : ۵۴۶، رقم : ۲۰۴۰
۹. بيهقي، شعب الإيمان، ۲ : ۲۰۹، رقم : ۱۵۵۳
۱۰. مقدسي، الأحاديث المختارة، ۱ : ۳۹۷، رقم : ۱۵۶۹
۱۱. ابونعيم، المسند المستخرج، ۲ : ۳۱، رقم : ۹۰۶
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اﷲ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ درود (بصورت رحمت) بھیجتا ہے۔‘‘
۲۲ (۲) عن شعبة عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم من صلي علي صلاة صلي اﷲ بها عشرا فليکثر علي عبدٌ من الصلاة أو ليقل.
بيهقي، شعب الايمان، ۲ : ۲۱۱، رقم : ۱۵۵۷
’’حضرت شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص مجھ پر ایک بار درود بھیجتا ہے اﷲ تبارک و تعالیٰ اس پر دس مرتبہ درود (بصورت رحمت) بھیجتا ہے۔ اب بندہ چاہے تو مجھ پر کثرت سے درود بھیجے اور چاہے تو کم درود بھیجے۔‘‘
۲۳ (۳) عن أبي طلحة رضي الله عنه أنَّ رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم جاء يومًا و البشرُ يُري في وجهه، فقلنا : إنا لنري البشر في وجهک فقال صلي الله عليه وآله وسلم : إنه أتاني مَلَکٌ فقال : يا محمد، إنَّ ربک يقول : أما يُرضيک ألَّا يُصلِّي عليک أحدٌ من أُمِّتک، إلَّا صليت عليه عشرًا، ولا يُسلّم عليک إلّا سلمتُ عليه عشرًا‘‘.
۱. احمد بن حنبل، المسند، ۴ : ۶۱۱، رقم : ۱۵۹۲۶
۲. نسائي، السنن الکبري، ۱ : ۳۸۰، رقم : ۱۲۰۵
۳. دارمي، السنن، ۲ : ۴۰۸، باب فضل الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۲۷۷۳
۴. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، ۲ : ۴۵۶، رقم : ۳۵۷۵
’’حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن تشریف لائے اور خوشی کے آثار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ اقدس پر نمایاں تھے، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ اقدس پر ایسی خوشی کے آثار دیکھ رہے ہیں (جو ہم نے پہلے کبھی نہیں دیکھے) تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں! ابھی میرے پاس جبرئیل امین تشریف لائے تھے اور انہوں نے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے شک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رب فرماتا ہے کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات سے راضی نہیں ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں سے جو کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجتا ہے تو میں اس کے بدلہ میں اس پر دس مرتبہ درود اور دس مرتبہ سلام (بصورتِ رحمت) بھیجتا ہوں۔‘‘
۲۴ (۴) عن أبي طلحة رضي الله عنه قال دخلت علي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم و أسارير وجهه تبرق فقلت يا رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ما رأيتک أطيب نفسًا و لا أظهر بشرا من يومک هذا قال و مالي لا تطيب نفسي و يظهر بشري و إنما فارقني جبرئيل عليه السلام الساعة فقال يا محمد من صلي عليک من امتک صلاة کتب اﷲ له بها عشر حسنات و محي عنه عشر سيئات و رفعه بها عشر درجات و قال له الملک مثل ما قال لک قلت يا جبرئيل و ماذاک الملک؟ قال : إن اﷲ عزوجل وکل بک ملکا من لدن خلقک إلي أن يبعثک لا يصلي عليک أحد من أمتک إلا قال و أنت صلي اﷲ عليک.
۱. طبراني، المعجم الکبير، ۵ : ۱۰۰، رقم : ۴۷۲۰
۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱۰ : ۱۶۱
۳. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۵، رقم، ۲۵۶۷
’’حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا درانحالیکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ اقدس کے خدوخال خوشی کے باعث چمک رہے تھے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے اس سے پہلے آپ کو اس طرح خوشگوار اور پُرمسرت انداز میں کبھی نہیں دیکھا، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں اتنا زیادہ خوش کیوں نہ ہوں؟ حالانکہ ابھی تھوڑی دیر پہلے جبرئیل علیہ السلام مجھ سے رخصت ہوئے اور کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں سے جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اس کے لئے اس کے بدلہ میں دس نیکیاں لکھ دیتا ہے اور اس کے نامہ اعمال سے دس گناہ مٹا دیتا ہے اور اس کے دس درجات بلند کردیتاہے اور فرشتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے والے پر اسی طرح درود بھیجتا ہے جس طرح وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے (حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں) میں نے پوچھا اے جبرئیل اس فرشتے کا کیا معاملہ ہے؟ جبرئیل علیہ السلام نے عرض کی کہ اﷲ عزوجل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تخلیق کے وقت سے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت تک ایک فرشتے کی یہ ڈیوٹی لگائی ہوئی ہے کہ آپ علیہ الصلاۃ و السلام کی امت میں سے جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجے وہ اس کے جواب میں یہ کہے کہ (اے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے والے) اﷲ تجھ پر درود (بصورتِ رحمت) بھیجے۔‘‘
۲۵ (۵) عن ابن ربيعة قال : سمعت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يخطب يقول من صلي عَلَيَّ صلاة لم تزل الملائکة تصلي عليه ما صلي عَلَيَّ فليقل عبد من ذلک أو ليکثر.
۱. احمد بن حنبل، المسند، ۳ : ۴۴۵، ۴۴۶
۲. ابو يعلي، المسند، ۱۳ : ۱۵۴، رقم : ۷۱۹۶
۳. بيهقي، شعب الايمان، ۲ : ۲۱۱، رقم : ۱۵۵۷
۴. ابن مبارک، الزهد، ۱ : ۳۶۴
۵. منذري، الترغيب و الترهيب، ۲ : ۳۲۷، رقم : ۲۵۷۶
’’حضرت ابن ربیعۃ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دورانِ خطاب یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے تو فرشتے اس پر اس وقت تک درود بھیجتے رہتے ہیں جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا رہتا ہے تو (اب امتی کے اختیار میں ہے) چاہے تو وہ مجھ پر کم درود بھیجے یا زیادہ۔‘‘
۲۶ (۶) عن عبداﷲ بن عمرو رضي الله عنه يقول : من صلي علي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم صلاةً صلي اﷲ عليه وسلم و ملائکته سبعين صلاةً فليقل عبد من ذلک أو ليکثر.
۱. احمد بن حنبل، المسند، ۲ : ۱۷۲، رقم : ۶۶۰۵
۲. منذري، لترغيب والترهيب، ۲ : ۳۵۲، رقم : ۲۵۶۶
’’حضرت عبداﷲ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اﷲ اور اس کے فرشتے اس پر ستر مرتبہ درود وسلام بھیجتے ہیں پس اب بندہ کو اختیار ہے چاہے تو وہ اس سے کم یا زیادہ درود بھیجے۔‘‘
۲۷ (۷) عن عبدالرحمٰن بن عوف أن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم خرج عليهم يومًا و في وجهه البشر فقال إن جبريل جاء ني فقال ألا أبشرک يا محمد بما أعطاک اﷲ من أمتک و ما أعطي أمتک منک من صلي عليک منهم صلاة صلي اﷲ عليه و من سلم عليک سلم اﷲ عليه.
مقدسي، الاحاديث المختارة، ۳ : ۱۲۹، رقم : ۹۳۲
’’حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن تشریف لائے اور خوشی کے آثار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ اقدس پر نمایاں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے تھے بے شک جبرئیل علیہ السلام نے میرے پاس آ کر مجھے کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسی چیز کے بارے میں خوشخبری نہ سناؤں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو آپکی امت کی طرف سے اور آپکی امت کو آپ کی طرف سے عطا کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اﷲتعالیٰ اس پر درود (بصورت رحمت) بھیجتا ہے اور جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجتا ہے اللہ اس پر سلام بھیجتا ہے۔‘‘
۲۸ (۸) عن ابن عمر رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم من صلي عَلَيَّ صلاةً صلي اﷲ عليه عشرًا.
۱. ابن ابي شيبة، المصنف، ۲ : ۲۵۳، رقم : ۸۷۰۲
۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱ : ۱۶۳
’’حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اﷲ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ درود (بصورت رحمت) بھیجتا ہے۔‘‘
۲۹ (۹) عن أنس بن مالک قال : قال أبو طلحة رضي الله عنه : إِنَّ رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم خرج عليهم يومًا يَعْرفُون البشر في وجهه، فقالوا : إنّا لنعرف في وجهک البشر قال صلي الله عليه وآله وسلم : ’’أجل، أتاني آت من ربي فأخبرني أنه لن يصلي عليَّ أحدٌ من أمتي، إلَّا ردَّها اﷲ عليه عشر أمثالها‘‘.
بيهقي، شعب الايمان، ۲ : ۱۲۱، رقم : ۱۵۶۱
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک روز صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ اقدس پر خوشی کے آثار نمایاں دیکھے صحابہ کرام رضوان اﷲ علیھم نے عرض کیا یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک پر خوشی کے آثار نمایاں دیکھ رہے ہیں (اس کی کیا وجہ ہے؟) تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں! ابھی تھوڑی دیر پہلے جبرئیل علیہ السلام میرے پاس حاضر ہوئے اور مجھے یہ خبر دی کہ میری امت میں سے جب بھی کوئی مجھ پر درود بھیجتا ہے تو اﷲ تبارک و تعالیٰ اس پر اس درود کے بدلہ میں دس گنا درود (بصورت رحمت) بھیجتا ہے۔‘‘
۳۰ (۱۰) عن ابن ربيعة رضي الله عنه قال : قال : رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم من صلي عَلَيَّ صلاةً صلي اﷲ عليه عشرًا فأکثروا أو أقلوا.
ابونعيم، حلية الأوليا، ۱ : ۱۸
’’حضرت ابن ربیعہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اﷲ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ درود (بصورتِ رحمت) بھیجتا ہے (پس اب تمہیں اختیار ہے) کہ مجھ پر کثرت سے درود بھیجو یا کم۔‘‘
فصل : ۴
المجلس الذي لم يصل فيه علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يکون يوم القيامة حسرة علي أهله
(جس مجلس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود نہ بھیجا گیا وہ قیامت کے دن ان اہل مجلس پر حسرت بن کر نازل ہو گی)
۳۱ (۱) عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال : ما جلس قوم مجلسًا لم يذکروا اﷲ فيه و لم يصلوا علي نبيهم صلي الله عليه وآله وسلم إلّا کان مجلسهم عليهم ترة فإن شاء عذبهم وإن شاء غفرلهم قال أبو عيسي هذا حديث حسن صحيح.
۱. ترمذي، الجامع الصحيح، ۵ : ۴۶۱، کتاب الدعوات، باب في القوم يجلسون ولايذکرون اﷲ، رقم : ۳۳۸۰
۲. احمد بن حنبل، المسند، ۳ : ۲۶۳، رقم : ۹۹۰۷
۳. بيهقي، السنن الکبري، ۳ : ۲۱۰، رقم : ۵۵۶۳
۴. ابن مبارک، کتاب الزهد، ۱ : ۳۴۲، رقم : ۹۶۲
۵. منذري، الترغيب و الترهيب، ۲ : ۲۶۲، رقم : ۲۳۳۰
۶. عجلوني، کشف الخفاء، ۲ : ۳۹۹، رقم : ۲۷۳۳
۷. اندلسي، تحفة المحتاج، ۱ : ۴۹۸، رقم : ۶۱۰
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہر وہ مجلس جس میں لوگ جمع ہوں اور اس میں نہ تو اللہ کا ذکر کریں اور نہ ہی اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجیں تو وہ مجلس قیامت کے دن ان کے لیے وبال ہو گی اور پھر اگر اللہ چاہے تو ان کو عذاب دے اور چاہے تو ان کو معاف فرما دے ابو عیسیٰ فرماتے ہیں یہ حدیث صحیح حسن ہے۔‘‘
۳۲ (۲) عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : ما اجتمع قوم في مجلسٍ فتفرقوا من غير ذکر اﷲ والصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم إلا کان عليهم حسرة يوم القيامة‘‘.
۱. ابن حبان، الصحيح، ۲ : ۳۵۱، رقم : ۵۹۰
۲. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، ۱ : ۶۶۸، رقم : ۱۸۱۰
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب چند لوگ کسی مجلس میں جمع ہوتے ہیں پھر اس مجلس سے بغیر اللہ کا ذکر کیے اور بغیر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجے ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں تو ان کی یہ مجلس قیامت کے روز ان کے لئے حسرت کاباعث ہو گی۔‘‘
۳۳ (۳) عن أبي أمامة قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : ما من قوم جلسوا مجلساً ثم قاموا منه ولم يذکروا اﷲ ولم يصلوا علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم إلا کان ذلک المجلس عليهم ترة.
۱. طبراني، المعجم الکبير، ۸ : ۱۸۱، رقم : ۷۷۵۱
۲. طبراني، مسند الشاميين، ۲ : ۴۶، رقم : ۹۹۵
۳. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱۰ : ۸۰
۴. مناوي، فيض القدير، ۵ : ۴۳۹
۵. حنبلي، جامع العلوم والحکم، ۱ : ۱۳۵
’’حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی بھی گروہ ایسا نہیں جو کسی مجلس میں بیٹھے پھر اس مجلس میں نہ تو اللہ کا ذکر کرئے اور نہ ہی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجے مگر یہ کہ ان کی یہ مجلس قیامت کے روز ان پر حسرت بن کر نازل ہو گی۔‘‘
۳۴ (۴) عن أبي سعيد رضي الله عنه قال : ’’ما جلس قوم مجلسا لم يصلوا فيه علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم إلا کان عليهم حسرة و إن دخلوا الجنة‘‘.
۱. ابن جعد، المسند، ۱ : ۱۲۰، رقم : ۷۳۹
۲. حنبلي، جامع العلوم والحکم، ۱ : ۱۳۵
۳. ابن کثير، تفسير القرآن، ۳ : ۵۱۳
’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب بھی لوگ کسی (مجلس) میں بیٹھتے ہیں پھر اس مجلس سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھے بغیر اٹھ جاتے ہیں۔ تو قیامت کے روز یہ مجلس ان کے لئے حسرت کا باعث ہو گی اگرچہ وہ جنت میں ہی داخل ہو جائیں۔‘‘
۳۵ (۵) عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال : ما قعد قوم مقعدًا لا يذکرون اﷲ عزوجل فيه ويصلون علي النبي إلاّ کان عليهم حسرة يوم القيامة وإن دخلوا الجنة للثواب.
۱. احمد بن حنبل، المسند، ۲ : ۴۶۳، رقم : ۹۹۶۶
۲. ابن حبان، الصحيح، ۲ : ۳۵۲، رقم : ۵۸۱، ۵۹۲
۳. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱۰ : ۷۹، باب ذکر الله تعالي في احوال کلها والصلوٰة والسلام علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم
۴. هيثمي، موارد الظمأن، ۱ : ۵۷۷، رقم : ۲۳۲۲
۵. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۲۷۳، رقم : ۲۳۳۱
۶. شيباني، کتاب الزهد لابن ابي عاصم، ۱ : ۲۷
۷. صنعاني، سبل السلام، ۴ : ۲۱۴
’’حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ہر وہ مجلس جس میں لوگ بیٹھے ہوں اس حال میں کہ نہ تو اللہ عزوجل کا ذکر کیا او رنہ ہی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر درود بھیجا تو قیامت کے روز ان کی یہ مجلس ان کے لئے حسرت کا باعث بنے گی، اگرچہ وہ بوجہ ثواب جنت میں ہی کیوں نہ چلے جائیں۔‘‘
۳۶ (۶) عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : ماإجتمع قوم في مجلسٍ فتفرقوا ولم يذکروا اﷲ عزوجل ويصلوا علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم إلا کان مجلسهم ترة عليهم يوم القيامة.
۱. احمد بن حنبل، المسند، ۲ : ۴۴۶، رقم : ۹۷۶۳
۲. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، ۱ : ۶۶۸، رقم : ۱۸۱۰
۳. مناوي، فيض القدير، ۵ : ۴۱۰
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب بھی لوگ کسی مجلس میں جمع ہوتے ہیں (اس حال میں کہ) اللہ تعا لیٰ کا ذکر کیے بغیر اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر درود بھیجے بغیر ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں، تو ان کی یہ مجلس قیامت کے روز ان کیلئے حسرت کا باعث ہو گی۔‘‘
۳۷ (۷) عن جابر رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : ما اجتمع قوم ثم تفرَّقُوا من غير ذکر اﷲ عزوجل و صلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم إلا قاموا عن أنتن من جيفة.
۱. طيالسي، المسند، ۱ : ۲۴۲، رقم : ۱۷۵۶
۲. بيهقي، شعب الايمان، ۲ : ۲۱۴، رقم : ۱۵۷۰
’’حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب بھی کچھ لوگ کسی مجلس میں جمع ہوئے اور (اس مجلس میں) اﷲ تبارک و تعالیٰ کا ذکر کئے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجے بغیر منتشر ہوگئے تو گویا وہ (ایسے ہیں جو) مردار کی بدبو سے کھڑے ہوئے۔‘‘
فصل : ۵
من ذکرت عنده فلم يصل عَلَيَّ فقد شقي
(بدبخت ہے وہ شخص جس کے سامنے میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے)
۳۸ (۱) عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : رغم أنفُ رجلٍ ذُکِرْتُ عنده، فلم يُصلِّ عَلَيَّ ورغم أنف رجل دخل عليه رمضان ثم انسلخ قبل أن يُغْفر لَه وَ رَغِمَ أنفُ رجل أدرک عنده أبواه الکبَر فلم يُدْخِلَاه الجنة.
۱. ترمذي، الجامع الصحيح، ۵ : ۵۵۰، کتاب الدعوات، باب قول رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم رغم أنف رجل، رقم : ۳۵۴۵
۲. ابن حبان، الصحيح، ۳ : ۱۸۹، رقم : ۹۰۸
۳. احمد بن حنبل، المسند، ۲ : ۲۵۴، رقم : ۷۴۴۴
’’حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے میرا نام لیا گیا اور اس نے مجھ پر درود نہ بھیجا۔ اور ناک خاک آلود ہو اس آدمی کی جس کو رمضان کا مہینہ میسر آیا اور اس کی مغفرت سے قبل وہ مہینہ گزر گیا اور اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو جس نے اپنے والدین کو بڑھاپے میں پایا لیکن وہ اس کو جنت میں داخل نہ کرا سکے (کیونکہ اس نے ان کے ساتھ حسن سلوک نہیں کیا جس کی وجہ سے وہ جہنم میں داخل ہوا)۔‘‘
۳۹ (۲) عن أبي هريرة رضي الله عنه : أن النبي صلي الله عليه وآله وسلم صعد المنبر فقال : آمين آمين آمين قيل : يا رسول اﷲ إنک حين صعدت المنبر قلت آمين آمين آمين قال : إن جبرئيل أتاني فقال من أدرک شهر رمضان و لم يغفر له فدخل النار فأبعده اﷲ قل : آمين فقلت : آمين و من أدرک أبويه أو أحدهما عند الکبر فلم يبرهما فمات فدخل النار فأبعده اﷲ قل آمين فقلت : آمين و من ذکرت عنده فلم يصل عليک فمات فدخل النار فأبعده اﷲ قل : آمين فقلت : آمين.
۱. ابن حبان، الصحيح، ۳ : ۱۸۸، رقم : ۹۰۷
۲. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، ۱ : ۵۴۹
۳. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، ۴ : ۱۷۰، رقم : ۷۲۵۶
۴. هيثمي، موارد الظمان، ۱ : ۵۹۳، رقم : ۲۳۸۷
۵. بخاري، الأدب المفرد، ۱ : ۲۲۵ باب من ذکر عنده النبي صلي الله عليه وآله وسلم فلم يصل عليه، رقم : ۶۴۶
۶. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱ : ۱۶۶
۷. عسقلاني، المطالب العالية، ۳ : ۲۳۳
۸. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱ : ۱۶۴، ۱۶۵
۹. منذري، الترغيب و الترهيب، ۲ : ۳۳۱، رقم : ۲۵۹۵
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا آمین آمین آمین عرض کیا گیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر چڑھے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آمین آمین آمین، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بے شک جبرئیل امین میرے پاس حاضر ہوئے اور کہا کہ جو شخص رمضان کا مہینہ پائے اور اس کی بخشش نہ ہو اور وہ دوزخ میں داخل ہو جائے تو اﷲ تعالیٰ اسے اپنی رحمت سے دور کرے (حضرت جبرئیل نے مجھ سے کہا) ’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آمین کہئے‘‘ پس میں نے آمین کہا اور جس نے اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کو بڑھاپے میں پایا اور ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش نہ آیا اور جہنم کی آگ میں داخل ہوگیا اﷲ تعالیٰ اسے اپنی رحمت سے دور کرے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہیں آمین پس میں نے آمین کہا اور وہ شخص جس کے سامنے میرا ذکر کیا گیا اور اس نے مجھ پر درود نہ بھیجا اور وہ جہنم کی آگ میں داخل ہوگیا پس اﷲ تعالیٰ اسے اپنی رحمت سے دور کرے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہیں آمین تو میں نے کہا آمین۔‘‘
۴۰ (۳) عن جابر بن عبداﷲ رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من أدرک رمضان ولم يصمه فقد شقي ومن أدرک والديه أو أحدهما فلم يبره فقد شقي ومن ذکرت عنده فلم يصل عَلَيَّ فقد شقي.
۱. طبراني، المعجم الاوسط، ۴ : ۱۶۲، رقم : ۳۸۷۱
۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۳ : ۱۳۹، ۱۴۰، باب فيمن ادرک شهر رمضان فلم يصمه
۳. مناوي، فيض القدير، ۶ : ۱۲۹، رقم : ۸۶۷۸
’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بدبخت ہے وہ شخص جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اس کے روزے نہ رکھے اور بدبخت ہے وہ شخص جس نے اپنے والدین کو یا ان میں سے کسی ایک کو پایا اور ان کے ساتھ نیکی نہ کی اور بدبخت ہے وہ شخص جس کے سامنے میراذکر ہوا اور اس نے مجھ پر درود نہ بھیجا۔‘‘
۴۱ (۴) عن محمد بن عليقال : قال سول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من الجفاء ان أذکر عند رجل فلا يصلي عَلَيَّ.
۱. عبدالرزاق، المصنف، ۲ : ۲۱۷، رقم : ۳۱۲۱
۲. عسقلاني، فتح الباري، ۱۱ : ۱۶۸
’’حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ بے وفائی ہے کہ کسی کے پاس میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔‘‘
فصل : ۶
کل دعاءٍ محجوب حتي يصلي علي محمدٍ صلي الله عليه وآله وسلم
(ہر دعا اس وقت تک حجاب میں رہتی ہے جب تک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود نہ بھیجا جائے)
۴۲ (۱) عن عمربن الخطاب رضي الله عنه قال : إن الدعاء موقوف بين السماء و الأرض لا يصعد منه شييء حتي تصلي علي نبيک صلي الله عليه وآله وسلم
۱. ترمذي، الجامع الصحيح، ۲ : ۳۵۶، کتاب الصلوٰة، باب ماجاء في فضل الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۴۸۶
۲. منذري، الترغيب و الترهيب، ۲ : ۳۳۰، رقم : ۲۵۹
۳. عسقلاني، فتح الباري، ۱۱ : ۱۶۴
۴. مزي، تهذيب الکمال، ۳۴، ۲۰۱، رقم : ۷۵۷۷
’’حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دعاء آسمان اور زمین کے درمیان معلق رہتی ہے اور اس میں سے کوئی بھی چیز اوپر نہیں جاتی جب تک تو اپنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود نہیں بھیجے۔‘‘
۴۳ (۲) عن عبداﷲ قال کنت أصلي والنبي صلي الله عليه وآله وسلم وأبو بکر و عمر معه فلما جلست بدأت بالثناء علي اﷲ ثم الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم ثم دعوت لنفسي فقال النبي صلي الله عليه وآله وسلم سل تعطه سل تعطه.
ترمذي، الجامع الصحيح، ۲ : ۴۸۸، کتاب الصلاة، باب ما ذکر في الثناء علي اﷲ والصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم قبل الدعاء، رقم : ۵۹۳
’’حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کر رہا تھا اور حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنھم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ شریک نماز تھے پس جب میں تشھد میں بیٹھا تو سب سے پہلے میں نے اﷲ تعالیٰ کی ثناء بیان کی پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا پھر میں نے اپنے لئے دعا کی تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو کچھ مانگو گے تمہیں عطا کیا جائے گا جو کچھ مانگو گے تمہیں عطا کیا جائے گا۔‘‘
۴۴ (۳) عن جابر رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم لا تجعلوني کقدح الراکب إن الراکب إذا علق معاليقه أخذ قدحه فملأه من الماء فإن کان له حاجة في الوضؤ تَوَضَّأَ وإن کان له حاجة في الشرب شرب وَ إلَّا أهراق ما فيه : اجْعَلُوْنِي فِي أَوَّل الدُّعَاءِ وَ وسط الدعاءِ وَ آخِرِالدعاء.
۱. عبد بن حميد، المسند، ۱ : ۳۴۰، رقم : ۱۱۳۲
۲. قضاعي، مسند الشهاب، ۲ : ۸۹، رقم : ۹۴۴
۳. بيهقي، شعب الايمان، ۲ : ۲۱۷، رقم : ۱۵۷۹
۴. ديلمي، مسند الفردوس، ۵ : ۱۵۸، رقم : ۷۴۵۱
۵. خلال، السنة، ۱ : ۲۲۵، رقم : ۲۲۶
’’حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے قدح الراکب (مسافر کے پیالہ) کی طرح نہ بناؤ بے شک مسافر جب اپنی چیزوں کو اپنی سواری کے ساتھ لٹکاتا ہے تو اپنا پیالہ لے کر اس کو پانی سے بھر لیتا ہے پھر اگر (سفر کے دوران) اس کو وضو کی حاجت ہوتی ہے تو وہ (اس پیالے کے پانی سے) وضو کرتا ہے اور اگر اسے پیاس محسوس ہو تو اس سے پانی پیتا ہے وگرنہ اس کو بہا دیتا ہے۔ فرمایا مجھے دعا کے شروع میں وسط میں اور آخر میں وسیلہ بناؤ۔‘‘
۴۵ (۴) عن علي ابن ابي طالب رضي الله عنه قال : کل دعاءٍ محجوبٌ عن اﷲ حتي يصلي علي محمدٍ و علي آل محمد.
۱. بيهقي، شعب الايمان، ۲ : ۲۱۶، رقم : ۱۵۷۵، ۱۵۷۶
۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱۰ : ۱۶۰، باب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم في الدعاء وغيره
۳. منذري، الترغيب و الترهيب، ۲ : ۳۳۰، رقم : ۲۵۸۹
۴. مناوي، فيض القدير، ۵ : ۵۴۳
’’حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اﷲتعالیٰ ہر دعا اس وقت تک حجاب میں رکھتا ہے جب تک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر درود نہ بھیجا جائے۔‘‘
۴۶ (۵) عن علي رضي الله عنه قال : کل دعاء محجوب حتي يصلي علي محمد صلي الله عليه وآله وسلم
ديلمي، مسند الفردوس، ۳ : ۲۵۵، رقم : ۴۷۵۴
’’حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ہر دعا اس وقت تک حجاب میں رہتی ہے جب تک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پر درود نہ بھیجا جائے۔‘‘
۴۷ (۶) عن ابن عمر رضي الله عنه بلفظ ان الدعاء موقوف بين السماء و الارض و لا يصعد منه شيء حتي يصلي علي محمدٍ
مناوي، فيض القدير، ۳ : ۵۴۳
’’حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ میں روایت ہے کہ بے شک دعا آسمان اور زمین کے درمیان معلق رہتی ہے اور اس میں سے کوئی بھی چیز آسمان کی طرف نہیں بلند ہوتی جب تک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود نہیں بھیجا جاتا۔‘‘
۴۸ (۷) عن أمير المؤمنين علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ما من دعاء إلَّا و بينه و بين اﷲ عزوجل حجاب حتي يصلي علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، فإذا فعل ذلک انخرق ذلک الحجاب و دخل الدعاء، و إذا لم يفعل ذلک رجع الدعاء.
ديلمي، مسندالفردوس، ۴ : ۴۷، رقم : ۶۱۴۸
’’امیر المؤمنین حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی دعا ایسی نہیں جس کے اور اﷲ کے درمیان حجاب نہ ہو یہاں تک کہ دعا کرنے والا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درودبھیجے اورجب وہ درود بھیجتا ہے تو جو پردہ حائل تھا وہ پھٹ جاتا ہے اور دعاء (حریم قدس میں) داخل ہو جاتی ہے اور اگر دعا کرنے والا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود نہ بھیجے تو وہ دعا واپس لوٹ آتی ہے۔‘‘
۴۹ (۸) عن علي عن البني صلي الله عليه وآله وسلم أنه قال : الدعاء محجوب حتي يختم بالصلاة عَلَيَ.
۱. طبراني، المعجم الاوسط، ۱ : ۴۰۸، رقم : ۷۲۵
۲. بيهقي، شعب الايمان، ۲ : ۲۱۶، رقم : ۱۵۷۶
’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا دعا اس وقت تک پردہ میں رہتی ہے جب تک اس کا اختتام مجھ پر درود کے ساتھ نہ کیا جائے۔‘‘
۵۰ (۹) عن علی رضي الله عنه قال : الدعاء محجوب عن السماء حتي يتبع بالصلاة علي محمدٍ و آله.
عسقلاني، لسان الميزان، ۴ : ۵۳، رقم : ۱۵۰
’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ دعا آسمان سے اس وقت تک پردہ میں رہتی ہے جب تک اس کے بعد حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر درود نہ بھیجا جائے۔‘‘
۵۱ (۱۰) عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال : کل دعاءٍ محجوب عن السماء حتي يصلي علي محمد صلي الله عليه وآله وسلم وعلي آل محمد صلي الله عليه وآله وسلم
بيهقي، شعب الايمان، ۲ : ۲۱۶، رقم : ۱۵۷۵
’’حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہر دعا اس وقت تک آسمان کے نیچے حجاب میں رہتی ہے جب تک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر درود نہ بھیجا جائے۔‘‘
۵۲ (۱۱) عن علي رضي الله عنه مرفوعًا : ما من دعاءٍ إلَّا بينه و بين السماء حجاب حتي يصلي علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، فإذا فعل ذٰلک انخرق الحجاب ودخل الدعاء، و إذا لم يفعل ذلک رجع الدعاء.
ديلمي، مسند الفردوس، ۴ : ۴۷، رقم : ۶۱۴۸
’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت ہے کہ کوئی دعا ایسی نہیں کہ جس کے اور آسمان کے درمیان حجاب نہ ہو یہاں تک کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا جائے پس جب ایسا کیا جاتا ہے تو وہ پردہ چاک ہو جاتا ہے اور دعا اس میں داخل ہو جاتی ہے اور جب ایسا نہیں کیا جاتا تو وہ واپس لوٹ آتی ہے۔‘‘
۵۳ (۱۲) قال أمير المؤمنين علي رضي الله عنه إذا دعا الرجل و لم يذکر النبي صلي الله عليه وآله وسلم رفرف الدعاء فوق رأسه، و إذا ذکر النبي صلي الله عليه وآله وسلم رفع الدعاء.
۱. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱۰ : ۱۱۲
۲. مقدسي، الأحاديث المختاره، ۹ : ۸۲
۳. سخاوي، القول البديع : ۲۲۲
’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب کوئی آدمی دعا مانگتا ہے اور اس دعا میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر نہیں کرتا تو وہ دعا اس کے سر پر منڈلاتی رہتی ہے اور جب وہ اس دعا میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تذکرہ کرتا ہے تو وہ دعا آسمانوں کی طرف بلند ہو جاتی ہے۔‘‘
۵۴ (۱۳) عن عبداﷲ بن بسر رضي الله عنه يقول : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : الدعاء کله محجوب حتي يکون أوله ثناء علي اﷲ و صلاة علي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ثُم يدعو يستجاب لدعائه.
۱. قيصراني، تذکرة الحفاظ، ۳ : ۱۰۲۶
۲. ذهبي، سيراعلام النبلاء، ۱۷ : ۱۱۴
’’حضرت عبد اﷲ بن بسر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ دعا ساری کی ساری پردہ میں رہتی ہے یہاں تک کہ اس کے شروع میں اﷲ عزوجل کی ثناء اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود نہ بھیجا گیا ہو اور جب یہ چیزیں دعا کے شروع میں ہوں تو وہ مقبول ہوتی ہے۔‘‘
۵۵ (۱۴) عن ابن مسعود رضي الله عنه قال : إذا أراد أحدکم أن يسأل فليبدا بالمدحة و الثناء علي اﷲ بما هو أهله، ثم ليصل علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم ثم ليسأل بعد فإنه أجدر أن ينجح
۱. طبراني، المعجم الکبير، ۹ : ۱۵۵، رقم : ۸۷۸۰
۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱۰ : ۱۵۵، باب فيما يستفتح به الدعاء من حسن الثناء علي اﷲ سبحانه و الصلاة علي النبي محمد صلي الله عليه وآله وسلم
۳. معمر بن راشد، الجامع، ۱۰ : ۴۴۱
’’حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب تم میں سے کوئی اﷲ تعالیٰ سے کوئی چیز مانگنا چاہے تو سب سے پہلے وہ اﷲ تعالیٰ کی ایسی مدح و ثناء سے ابتدا کرے جس کا وہ اہل ہے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجے پھر اﷲ تعالیٰ سے اپنی حاجت مانگے تو یہ دعا زیادہ اہل ہے کہ کامیاب ہو۔‘‘
۵۶ (۱۵) عن فضالة بن عبيد رضي الله عنه قال : بينما رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قاعد إذا دخل رجل فصلي فقال : اللهم اغفرلي و ارحمني، فقال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم أيها المصلي إذا صليت فقعدت فاحمد اﷲ بما هو أهله و صَلِّ عَلَيَّ ثم أدعه.
۱. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱۰ : ۱۵۶، باب فيما يستفتح به الدعاء من حسن الثناء علي اﷲ سبحانه و الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم
’’حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے کہ اچانک ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور نماز پڑھی پھر دعا کی اے اﷲ مجھے معاف فرما دے اور مجھ پر رحم فرما۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے نماز ادا کرنے والے جب تم اپنی نماز ادا کر چکو تو بیٹھ کر اﷲ تعالیٰ کی ایسی تعریف کرو جس کا وہ اہل ہے اور مجھ پر درود بھیجا کرو پھر دعا کرو۔‘‘
۵۷ (۱۶) عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أنه قال : الدعاء يحجب دون السماء حتٰي يصلي علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم فإذا جاء ت الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم رفع الدعاء.
قرطبي، الجامع لأحکام القرآن، ۱۴ : ۲۳۵
’’حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ دعا اس وقت تک آسمان کے نیچے حجاب میں رہتی ہے جب تک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود نہ بھیجا جائے پس جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا جاتا ہے تو وہ دعا بلند ہوجاتی ہے۔‘‘
فصل : ۷
إنَّ اﷲ يحط عمن يصلي علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم عشر خطيئات و يرفعه عشردرجات
(اﷲ تبارک و تعالیٰ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے والے کے دس گناہ معاف فرماتا ہے اور دس درجات بلند کرتا ہے)
۵۸ (۱) عن أنس بن مالک رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم من صليّ عَلَيَّ صلاةً واحدةً صلي اﷲ عليه عشر صلوات و حُطَّتْ عنه عشر خطيئات و رفعت له عشر درجات.
۱. نسائي، السنن، ۳ : ۵۰، کتاب السهو، باب الفضل في الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۱۲۹۷
۲. نسائي، السنن الکبري، ۱ : ۳۸۵، رقم : ۱۲۲۰
۳. احمد بن حنبل، المسند، ۳ : ۲۶۱
۴. ابن حبان، الصحيح، ۳ : ۱۸۵، رقم : ۹۰۱
۵. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، ۱ : ۷۳۵، رقم : ۲۰۱۸
۶. ابن ابي شيبة، المصنف، ۲ : ۲۵۳، رقم : ۸۷۰۳
۷. مقدسي، الأحاديث المختارة، ۴ : ۳۹۵، رقم : ۱۵۶۶
۸. بيهقي، شعب الايمان، ۲ : ۲۱۰، ر قم : ۱۵۵۴
۹. هيثمي، موارد الظمأن، ۱ : ۵۹۴، رقم : ۲۳۹۰
۱۰. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۳، رقم : ۲۵۵۹
۱۱. ابو الفرج، صفوة الصفوة، ۱ : ۲۳۲
۱۲. نسائي، عمل اليوم والليلة، ۱ : ۱۶۵، رقم : ۶۲
۱۳. مبارکفوري، تحفة الأحوذي، ۲ : ۴۷۹
۱۴. عجلوني، کشف الخفاء، ۲ : ۳۳۷، رقم : ۲۵۱۷
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو مجھ پر ایک مرتبہ درودبھیجتا ہے اﷲ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ درود (بصورتِ رحمت) بھیجتا ہے اور اس کے دس گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں اور اس کے لئے دس درجات بلند کر دیئے جاتے ہیں۔‘‘
۵۹ (۲) عن عبد الرحمٰن بن عوف رضي الله عنه قال : خرج رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم فتوجه نحو صدقته فدخل فاستقبل القبلة فخر ساجدًا فأطال السجود حتي ظننت أن اﷲ عزوجل قبض نفسه فيها فدنوت منه فجلست فرفع رأسه فقال : من هذا؟ قلت : عبد الرحمن قال ما شأنک قلت يا رسول اﷲ سجدت سجدةً خشيت أن يکون اﷲ عزوجل قد قبض نفسک فيها فقال : إن جبرئيل عليه السلام أتاني فبشَّرني فقال إن اﷲ عزوجل يقول : من صلي عليک صليت عليه و من سلم عليک سلمت عليه فسجدت ﷲل شکرًا.
۱. احمد بن حنبل، المسند، ۱ : ۱۹۱، رقم : ۱۶۶۴
۲. بيهقي، السنن الکبري، ۲ : ۳۷۰، رقم : ۳۷۵۲
۳. عبد بن حميد، المسند، ۱ : ۸۲، رقم : ۱۵۷
۴. هيثمي، مجمع الزوائد، ۲ : ۲۸۷، باب سجود الشکر
۵. مبارکفوري، تحفة الأحوذي، ۲ : ۴۹۷
۶. مقدسي، الأحاديث المختارة، ۳ : ۱۲۷، رقم : ۱۲۶
۷. زرعي، حاشية ابن قيم، ۷ : ۳۲۷
۸. مروزي، تعظيم قدر النبي صلي الله عليه وآله وسلم، ۱ : ۲۴۹، رقم : ۲۳۶، ۳ : ۱۲۷، رقم : ۹۲۸
’’حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی نماز پڑھنے والی جگہ کی طرف متوجہ ہوئے اور اس میں داخل ہوئے اور قبلہ رخ سجدہ میں چلے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کو اتنا طول دیا کہ مجھے گمان گزرا کہ اﷲ عزوجل نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح مبارک اسی حالت میں قبض کر لی ہے پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب ہو کر بیٹھ گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر انور اٹھایا اور فرمایا یہ کون ہے؟ میں نے عرض کیا عبدالرحمٰن فرمایا کیا بات ہے میں نے عرض کیا یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اتنا لمبا سجدہ کیا کہ مجھے خطرہ لاحق ہو گیا کہ شاید اﷲ رب العزت نے آپ کی روح مقدسہ قبض کرلی ہے پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ابھی ابھی جبرئیل علیہ السلام میرے پاس تشریف لائے تھے اور انہوں نے مجھے یہ خوش خبری دی کہ اﷲ عزوجل فرماتا ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے میں اس پر درود (بصورت رحمت) بھیجتا ہوں اور جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجتا ہے میں بھی اس پر سلام بھیجتا ہوں پس اﷲ تعالیٰ کے اس انعام پر شکر بجا لانے کے لئے میں نے اتنا لمبا سجدہ کیا۔‘‘
۶۰ (۳) عن عبدالرحمٰن بن عوف رضي الله عنه قال : کان لا يُفارق رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم منا خمسة أو أربعة من أصحاب النبي صلي الله عليه وآله وسلم لما ينوبُهُ من حوائجه بالليل والنهار قال : فَجئتُ وقد خرج، فأتبعتهُ فدخل حائطًا من حيطان الأسواف، فصلي، فسجد فأطال السجود رجاء قبض اﷲ رُوحَهُ قال : فرفع صلي الله عليه وآله وسلم رأسه ودعاني فقال صلي الله عليه وآله وسلم : مالک؟ فقلت : يا رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ! أطلت السجود قلت : قبض اﷲ روح رسوله أبدا قال صلي الله عليه وآله وسلم : سجدت شکرًا لربي فيما آتاني في أمتي من صلي عليَّ صلاة من أمتيکتب له عشر حسنات و محي عنه عشر سيًات.
۱. ابو يعلي، المسند، ۲ : ۱۷۳، رقم : ۸۶۹
۲. بزار، المسند، ۳ : ۲۲۰، رقم : ۱۰۰۶
۳. هيثمي، مجمع الزوائد، ۲ : ۲۸۳، باب صلاة الشکر
۴. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱۰ : ۱۶۱
۵. منذري، الترغيب و الترهيب، ۲ : ۳۲۴، رقم : ۲۵۶۲
’’حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے پانچ یا چار صحابہ رضی اللہ عنھم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ضروریات کی تکمیل کے لئے دن رات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سائے کی طرح رہتے تھے راوی بیان کرتے ہیں کہ میں حاضر تھا اور دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھوڑی دیر پہلے گھر سے نکل چکے ہیں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے چل پڑا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسواف کے باغوں میں سے ایک باغ میں داخل ہوئے نماز ادا کی اور ایک طویل سجدہ کیا۔ (یہ صورتحال دیکھ کر) مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ اﷲ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح مقدسہ کو قبض کر لیا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر انور سجدے سے اٹھایا تو (میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نظر آیا) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلاکر پوچھا کہ تجھے کیا ہوا؟ میں نے عرض کی یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اتنا طویل سجدہ کیا کہ میں یہ سمجھا شاید اﷲ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح ہمیشہ کے لئے قبض کرلی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یہ وہ سجدہ ہے جو میں نے اللہ تعالیٰ کی اس عطا کے شکرانے کے طور پر اداء کیا ہے جو اس نے میری امت کے بارے میں مجھے ارزانی فرمائی کہ جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور دس گناہ مٹا دیے جاتے ہیں۔‘‘
۶۱ (۴) عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم من صلَّي عَلَيَّ مرة واحدة کتب اﷲ له بها عشر حسنات.
۱. ابن حبان، الصحيح، ۳ : ۱۹۵، ر قم : ۹۱۳
۲. ابو يعلي، المسند، ۱۱ : ۴۰۴، رقم : ۶۵۲۷
۳. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱۰ : ۱۶۰
۴. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۳، رقم : ۲۵۲۸
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دیتا ہے۔‘‘
۶۲ (۵) عن عمر بن الخطاب صقال : خرج رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يَتبرَّزُ، فلم أجد أحدًا يتبعُهُ ففزع عمر رضي الله عنه فأتاه بمطهرة يعني إداوة، فوجد النبي صلي الله عليه وآله وسلم ساجدًا في مشربة فتنحي عنه من خلفه حتي رفع النبي صلي الله عليه وآله وسلم رأسه : فقال : أحسنت يا عمر حين وجدتني ساجدًا فتنحيت عني إنَّ جبريل عليه السلام أتاني فقال : من صلي عليک من أمتک واحدة صلي اﷲ عليه عشرًا و رفعه بها عشر درجات.
۱. طبراني، المعجم الأوسط، ۶ : ۳۵۴، رقم : ۶۰۲
۲. طبراني، المعجم الصغير، ۲ : ۱۹۴، رقم : ۱۰۱۶
۳. بخاري، الأدب المفرد، ۱ : ۲۲۳
۴. هيثمي، مجمع الزوائد، ۲ : ۲۸۸، ۲۸۷، ۱۰ : ۱۶۱
۵. مقدسي، الأحاديث المختارة، ۱ : ۱۸۷
۶. حسيني، البيان والتعريف، ۱ : ۳۵، رقم : ۶۶
۷. ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، ۳ : ۵۱۲
’’حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (قضاء حاجت کے لئے) نکلے تومیں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے کوئی نہ پایا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ خوفزدہ ہوگئے اور لوٹا لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے چل پڑے پس آپ رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گھاس والی زمین پر سجدہ کی حالت میں پایا پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ پیچھے ہٹ کر کچھ فاصلہ پر بیٹھ گئے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر انور اٹھایا اور فرمایا کہ عمر تو نے جب میں سجدے میں تھا پیچھے ہٹ کر بہت اچھا کیا بے شک جبرئیل امین میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ (یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اﷲ تعالیٰ اس پر اس درود کے بدلے میں دس مرتبہ درود (بصورت رحمت) بھیجتاہے اور دس درجات بلند فرما دیتا ہے۔‘‘
۶۳ (۶) عن أبي بردة بن نيار قال : قال رسول اﷲْ صلي الله عليه وآله وسلم ما صلي عَلَيَّ عبد من أمتي صلاة صادقا بها في قلب نفسه إلا صلي اﷲ عليه وسلم بها عشر حسنات ورفع له بها عشر درجات ومحي عنه بها عشر سيئات.
طبراني، المعجم الکبير، ۲۲ : ۱۹۵، رقم : ۵۱۳
’’حضرت ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کا جو بندہ بھی صدق دل کے ساتھ ایک مرتبہ مجھ پر درود بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس پر دس مرتبہ رحمت اور سلامتی نازل فرماتا ہے اور اس کے دس درجات بلند فرماتا ہے اور دس گناہ مٹاتا ہے۔‘‘
۶۴ (۷) عن عبداﷲ بن عمر رضي الله عنه أنه قال من صلي علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم کتبت له عشر حسنات وحط عنه عشر سيئات و رفع له عشر درجات.
ابن ابي شيبة، المصنف، ۲ : ۲۵۳، رقم : ۸۶۹۸، باب ثواب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم
’’حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور اس کے دس گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں اور اس کے دس درجات بلند کر دیئے جاتے ہیں۔‘‘
۶۵ (۸) عن عمير الأنصاري رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من صلي عليّ من أمتي صلاة مخلصًا من قلبه صلي اﷲ عليه بها عشر صلوات، و رفعه بها عشر درجات، و کتب له بها عشر حسنات و محي عنه عشر سيئات.
۱. نسائي، السنن الکبريٰ، ۶ : ۲۱، رقم : ۹۸۹۲
۲. طبراني، المعجم الکبير، ۲۲ : ۱۹۵، ۱۹۶، رقم : ۵۱۳
۳. نسائي، عمل اليوم و الليلة، ۱ : ۱۶۶، رقم : ۶۵
۴. عسقلاني، فتح الباري، ۱۱ : ۱۶۷
۵. مزي، تهذيب الکمال، ۱۱ : ۲۷
۶. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۴، رقم : ۲۵۶۴
’’حضرت عمیر انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں سے جو بھی خلوص دل سے مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کے بدلہ میں دس مرتبہ اس پر درود (بصورتِ رحمت) بھیجتا ہے اور اس کے دس درجات بلند فرما دیتا ہے اور دس نیکیاں اس کے حق میں لکھ دیتا ہے اور اس کے دس گناہ معاف کر دیتا ہے۔‘‘
۶۶ (۹) عن أبي جعفر رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم من صلي عَلَيَّ بلغتني صلاته وصليت عليه و کتب له سوي ذلک عشر حسنات.
۱. طبراني، المعجم الاوسط، ۲ : ۱۷۸، رقم : ۱۴۶۲
۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱۰ : ۱۶۲، برواية انس بن مالک
۳. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۶، رقم : ۲۵۷۲، برواية انس بن مالک
’’حضرت ابو جعفر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کادرود مجھ تک پہنچ جاتا ہے اور اس کے بدلہ میں میں اس شخص پر درود بھیجتا ہوں اور اس کے علاوہ اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں۔‘‘
۶۷ (۱۰) عن أبي طلحة قال : دخلت علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يومًا فوجدته مسرورًا فقلت يارسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ما أدري متي رأيتک أحسن بشرا وأطيب نفسًا من اليوم قال و ما يمنعني وجبريل خرج من عندي الساعة فبشرني أن لکل عبدٍ صلي عَلَيَّ صلاة يکتب له بها عشر حسنات ويمحي عنه عشر سيئات ويرفع له عشر درجات و تعرض علي کما قالها ويرد عليه بمثل ما دعا.
عبدالرزاق، المصنف، ۲ : ۲۱۴، رقم : ۳۱۱۳
’’حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک دن میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت خوش پایا پس میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے نہیں معلوم کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس دن سے پہلے اتنا خوش دیکھا ہو جتنا کہ آج (اس کی کیاوجہ ہے؟) تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ آج مجھے خوش ہونے سے کون سی چیز روک سکتی ہے حالانکہ جبرئیل علیہ السلام ابھی ابھی میرے پاس سے گئے ہیں اور انہوں نے مجھے خوش خبری دی ہے کہ ہر اس بندہ مومن کے لئے جو مجھ پر درود بھیجتا ہے دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اوراس کی دس خطائیں معاف کردی جاتی ہیں اور دس درجات بلند کر دے جاتے ہیں اور اس کادرود اسی طرح مجھے پیش کیا جاتا ہے جس طرح کہ وہ مجھ پر بھیجتا ہے اور جس طرح وہ دعا کرتا ہے اس کو اس کا جواب دیا جاتا ہے۔‘‘
۶۸ (۱۱) عن عمير الأ نصاري رضي الله عنه قال : قال لي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من صلي عَلَيَّ صادقا من نفسه صلي اﷲ عليه عشر صلوات و رفعه عشر درجات وله بها عشرحسنات.
۱. ابو الحسين، معجم الصحابة، ۳ : ۲۳۳، رقم، ۷۴۳
’’حضرت عمیر انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ارشاد فرمایا کہ جو شخص صدق دل سے مجھ پر درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ درود (بصورتِ رحمت) بھیجتا ہے اور اس کے دس درجات بلند فرما دیتا ہے اور اس شخص کو اس درود کے بدلے میں دس نیکیاں عطا کی جاتی ہیں۔‘‘
فصل : ۸
قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : لا صلاة لمن لم يصل عليَّ فيها
(رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص نماز میں مجھ پر درود نہ بھیجے اس کی نماز کامل نہیں ہوتی)
۶۹ (۱) عن فضالة بن عبيد رضي الله عنه يقول : سمع النبي صلي الله عليه وآله وسلم رجلا يدعو في صلاته فلم يصل علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم. فقال النبي صلي الله عليه وآله وسلم عجل هذا، ثم دعاه فقال له أو لغيره : إذا صلي أحدکم فليبدأ بتمجيد اﷲ ثم ليصل علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم. ثم ليدعو بعد بما شاء. قال ابو عيسي هذا حديث حسن صحيح
۱. ترمذي، الجامع الصحيح، ۵ : ۵۱۷، کتاب الدعوات، باب : ۶۵، رقم : ۳۴۷۷
۲. احمد بن حنبل، المسند، ۶ : ۱۸، رقم : ۲۳۹۸۲
۳. ابن حبان، الصحيح، ۵ : ۲۹۰، رقم : ۱۹۶۰
۴. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، ۱ : ۴۰۱، رقم : ۹۸۹
۵. طبراني، المعجم الکبير، ۱۸ : ۳۰۷، رقم : ۷۹۱
۶. هيثمي، مجمع الزوائد. ۱۰ : ۱۵۵
۷. هيثمي، موارد الظمان، ۱ : ۱۳۶، رقم : ۵۱۰
۸. عسقلاني، تلخيص الحبير، ۱ : ۲۶۳، رقم : ۴۰۴
۹. عسقلاني، الدراية في تخريج احاديث الهداية، ۱ : ۱۵۷، رقم : ۱۸۹
۱۰. ابن کثير، تفسيرالقرآن العظيم، ۳ : ۵۰۹
’’حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو دورانِ نماز اس طرح دعا مانگتے ہوئے سنا کہ اس نے اپنی دعا میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود نہ بھیجا اس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص نے عجلت سے کام لیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اپنے پاس بلایا اور اس کو یا اس کے علاوہ کسی اور کو (ازرہِ تلقین) فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اسے چاہیے کہ وہ سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بزرگی بیان کرے پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجے پھر اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے، تو اس کی دعا قبول ہو گی۔‘‘
۷۰ (۲) عن سهل بن سعد الساعدي : أن النبي صلي الله عليه وآله وسلم کان يقول : لاصلاة لمن لا وضوء له ولا وضوء لمن لم يذکر اﷲ عليه ولا صلاة لمن لم يصل علي نبي اﷲ في صلاته.
۱. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، ۱ : ۴۰۲، رقم : ۹۹۲
۲. بيهقي، السنن الکبري، ۲ : ۳۷۹، رقم : ۳۷۸۱
۳. ديلمي، مسند الفردوس، ۵ : ۱۹۶، رقم : ۷۹۳۸
’’حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جس کا وضو نہ ہو اور اس شخص کا وضو نہیں ہوتا جو اس میں اللہ تعالیٰ کا نام نہ لے اور اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو اس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود نہ بھیجے۔‘‘
۷۱ (۳) عن سهل بن سعد الساعدي أن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال : لا صلاة لمن لم يصل علي نبيه صلي الله عليه وآله وسلم
۱. دار قطني، السنن، ۱ : ۳۵۵، باب ذکر وجوب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم رقم : ۵
۲. ابن عبدالبر، التمهيد، ۱۶ : ۱۹۵
۳. عسقلاني، الدراية في تخريج أحاديث الهداية، ۱ : ۱۵۸
۴. عسقلاني، تلخيص الحبير، ۱ : ۲۶۲، رقم : ۴۰۴
۵. أنصاري، خلاصة البدر المنير، ۱ : ۲۶۵، رقم : ۹۲۱
۶. شوکاني، نيل الأوطار، ۲ : ۳۲۲
’’حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو مجھ پر درور نہیں بھیجتا۔‘‘
۷۲ (۴) عن بريدة رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يا أبا بريدة! إذا جلست في صلاتک فلا تترکن التشهد والصلاة علي فإنها زکاة الصلاة وسلم علي جميع أنبياء اﷲ ورسله وسلم علي عباد اﷲ الصالحين.
۱. دارقطني، السنن، ۱ : ۳۵۵، رقم : ۳، باب ذکر وجوب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم
۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۲ : ۱۳۲
۳. ديلمي، مسند الفردوس، ۵ : ۳۹۲، رقم : ۸۵۲۷
۴. مناوي، فيض القدير، ۱ : ۳۲۷
’’حضرت ابو بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابو بریدہ! جب تم اپنی نماز میں بیٹھو تو تشھد اور مجھ پر درود بھیجنا کبھی ترک نہ کرو وہ نماز کی زکاۃ ہے اور اللہ کے تمام انبیاء اور رسولوں پر اور اس کے نیک بندوں پر سلام بھیجا کرو۔‘‘
۷۳ (۵) عن سهل بن سعد الساعدي : أن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال : لا صلاة لمن لا وضوء له ولا وضوء لمن لم يذکر اسم اﷲ عليه ولا صلاة لمن لا يصلي علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم ولا صلاة لمن لا يحب الأنصار.
۱. طبراني، المعجم الکبير، ۶ : ۱۲۱، رقم : ۵۶۹۸
۲. روياني، المسند، ۲ : ۲۸۲، رقم : ۱۰۹۸
۳. مناوي، فيض القدير، ۶ : ۴۳۰
۴. زيلعي، نصب الراية، ۱ : ۴۲۶
’’حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جس کا وضو نہ ہو اور اس شخص کا وضو نہیں ہوتا جو اس میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا نام نہ لے اور اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو اس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود نہ بھیجے اور اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو انصار سے محبت نہ کرے۔‘‘
۷۴ (۶) عن فضالة بن عبيد رضي الله عنه قال : بينا رسول ا ﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قاعد إذ دخل رجل فصلي ثم قال : اللهم اغفرلي وارحمني فقال له رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم. عجلت أيها المصلي، إذا صليت فقعدت فاحمداﷲ بما هوأهله، ثم صل عَلَيَّ ثم ادعه، ثم صلي آخر فحمداﷲ وصلي علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم فقال له رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم. سل تعطه وفي رواية. قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم عجل هذا المصلي ثم علمهم رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ثم سمع رجلا يصلي فحمداﷲ وحده و صلي علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم. فقال : ادع اﷲ تجب وسل تعطه.
۱. طبراني، المعجم الکبير، ۱۸ : ۳۰۷، ۳۰۹، رقم : ۷۹۲
۲. طبراني، المعجم الکبير، ۱۸ : ۳۰۸، رقم : ۷۹۴
’’حضرت فضالۃ بن عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک دن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی مسجد میں داخل ہوا اور نماز کے بعد اس نے دعا کی اے اللہ مجھے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا : اے نمازی تو نے جلدی کی ہے جب تم نماز پڑھ لو تو بیٹھ کر اللہ کی حمد بیان کرو جو اس کی شان کے لائق ہے۔ پھر مجھ پر درود بھیجو پھر اللہ سے دعا مانگو اسی طرح اس کے بعدایک اور آدمی نے نماز پڑھی (نماز پڑھنے کے بعد) اس نے اللہ کی حمد بیان کی اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا اے نمازی اللہ سے مانگو تمہیں دیا جائے گا اور ایک روایت میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس نمازی نے عجلت کی پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کو آداب دعا سکھائے پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اور آدمی کو نماز پڑھتے ہوئے سنا جس نے اللہ کی حمد بیان کی اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا اللہ سے دعا مانگو تمہاری دعا قبول ہوگی اور اللہ کے سوالی بن جاؤ عطا کئے جاؤ گے۔‘‘
۷۵ (۷) عن ابن عمر قال : کان رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يعلمنا التشهد التحيات الطيبات الزاکيات ﷲ السلام عليک أيها النبي ورحمة اﷲ وبرکاته السلام علينا وعلي عباد اﷲ الصالحين. أشهد أن لا إله إلا اﷲ وحده لا شريک له وأن محمداً عبده و رسوله ثم يصلي علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم
۱. دارقطني، السنن، ۱ : ۳۵۱، رقم : ۷، باب صفة الجلوس للتشهد
۲. بيهقي، السنن الکبريٰ، ۲ : ۳۷۷، رقم : ۳۷۷۴
’’حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں تشھد اس طرح سکھاتے تھے کہ’’تمام جہانوں کی بادشاہتیں اور پاکیزگیاں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں اے نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں نازل ہوں، اور ہم پر اور نیک بندوں پر سلامتی ہو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سواء کوئی معبود نہیں، اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجے۔‘‘
۷۶ (۸) عن أبي مسعود الأنصاري رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم من صلي صلاة لم يصل فيها عَلَيَّ و لا علي أهل بيتي لم تقبل منه.
دار قطني، السنن، ۱ : ۳۵۵، باب ذکر وجوب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۶
’’حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے نماز پڑھی اور اس میں مجھ پر اور میرے اہل بیت پر درود نہ بھیجا تو اس کی نماز قبول نہ ہو گی۔‘‘
۷۷ (۹) عن أبي مسعود الأنصاري قال : لو صليت صلاة لا أصلي فيها علي آل محمد صلي الله عليه وآله وسلم ما رأيت أن صلاتي تتم.
دارقطني، السنن، ۱ : ۳۵۵، باب ذکر وجوب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۶
’’حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اگر میں نے کوئی ایسی نماز پڑھی جس میں میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر درود نہ بھیجا تو میں اس نماز کو کامل نہیں سمجھتا۔‘‘
۷۸ (۱۰) عن أبي مسعود قال : ما صليت صلاة لا أصلي فيها علي محمد إلّا ظننت أن صلاتي لم تتم.
دار قطني، السنن، ۱ : ۳۳۶، رقم : ۸
’’حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں جو بھی نماز پڑھوں اگر اس میں میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود نہ بھیجوں تو میں اس کو ناقص گمان کرتا ہوں۔‘‘
۷۹ (۱۱) عن أبي مسعود قال : ما أري أن صلاة لي تمت حتي أصلي فيها علي محمد و آل محمد.
۱. ائبن عبدالبر، التمهيد، ۱۶ : ۱۹۵
’’حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں اپنی نماز کو اس وقت تک کامل نہیں سمجھتا جب تک میں اس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر درود نہ بھیجوں۔‘‘
فصل : ۹
قول النبي صلي الله عليه وآله وسلم : تبلغني صلاتکم و سلامکم حيث کنتم
(فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : تم جہاں کہیں بھی ہو تمہارا درود و سلام مجھے پہنچ جاتا ہے)
۸۰ (۱) عن أبي هريرة قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم لاتجعلوا بيوتکم قبوراً ولاتجعلواقبري عيدا وصلوا عَلَيَّ فإن صلاتکم تبلغني حيث کنتم.
۱. ابو داؤد، السنن، ۲ : ۲۱۸، کتاب المناسک، باب زيارة القبور، رقم : ۲۰۴۲
۲. احمد بن حنبل، المسند، ۲ : ۳۶۷، رقم : ۸۷۹۰
۳. طبراني، المعجم الأوسط، ۸ : ۸۱ - ۸۲، رقم : ۸۰۳۰
۴. بيهقي، شعب الايمان، ۳ : ۴۹۱، رقم : ۴۱۶۲
۵. ابن کثير، تفسيرالقرآن العظيم، ۳ : ۵۱۶
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے گھروں کو قبریں نہ بناؤ اور نہ ہی میری قبر کو عیدگاہ (کہ جس طرح عید سال میں دو مرتبہ آتی ہے اس طرح تم سال میں صرف ایک یا دو دفعہ میری قبر کی زیارت کرو بلکہ میری قبر کی جہاں تک ممکن ہو کثرت سے زیارت کیا کرو) اور مجھ پر درود بھیجا کرو پس تم جہاں کہیں بھی ہوتے ہو تمہارا درود مجھے پہنچ جاتا ہے۔‘‘
۸۱ (۲) عن علي بن حسين بن علي رضي الله عنه أنه رأي رجلاً يجيء إلي فرجة کانت عند قبر النبي صلي الله عليه وآله وسلم فيدخل فيها فيدعو فدعاه فقال ألا أحدثک بحديث سمعته من أبي عن جدي عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال : لا تتخذوا قبري عيدا ولا بيوتکم قبورا وصلوا عليَّ فإن صلاتکم تبلغني حيث ما کنتم.
۱. ابن ابي شيبه، المصنف، ۲ : ۱۵۰، رقم : ۷۵۴۲
’’حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو دیکھا جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور کے قریب ایک بڑے سوراخ کی طرف آتا اور اس میں داخل ہو کر دعا مانگتا۔ پس آپ رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے پاس بلا کر فرمایا کیا میں تمہیں وہ حدیث نہ سناؤں جو میں نے اپنے والد سے سنی، انہوں نے اسے اپنے باپ سے انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (سن کر) اس کو روایت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میری قبر کو عیدگاہ نہ بناؤ اور نہ ہی اپنے گھروں کو قبریں اور مجھ پر درود بھیجو بے شک تمہارا درود مجھے پہنچ جاتا ہے۔‘‘
۸۲ (۳) عن سهيل عن الحسن بن الحسن بن علي قال رأي قومًا عند القبر فنهاهم وقال إن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال : لا تتخذوا قبري عيداً ولا تتخذوا بيوتکم قبورا وصلُّوا عليَّ حيث ما کنتم فإن صلاتکم تبلغني.
۱. عبدالرزاق، المصنف، ۳ : ۵۷۷، رقم : ۶۷۲۶
۲. ابن ابي شيبة، المصنف، ۲ : ۱۵۲، رقم : ۷۵۴۱
۳. ابن أبي شيبة، المصنف، ۲ : ۱۵۰، رقم : ۷۵۴۳
۴. ابن أبي شيبة، المسنف، ۳ : ۳۰، رقم : ۱۱۸۱۸
۵. أبو طيب، عون المعبود، ۶ : ۲۴
۶. قزويني، التدوين في أخبار قزوين، ۴ : ۹۴
’’حضرت سہیل رضی اللہ عنہ حضرت حسن بن حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے بعض لوگوں کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبرِ انور کے پاس دیکھا تو انہیں منع کیا اور کہا کہ بے شک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میری قبر کو عیدگاہ نہ بناؤ (کہ سال میں صرف دو دفعہ اس کی زیارت کرو بلکہ کثرت سے اس کی زیارت کیا کرو) اور نہ اپنے گھروں کو قبریں بناؤ (کہ ان میں نماز ہی نہ پڑھو) اور تم جہاں کہیں بھی ہو مجھ پر درود بھیجا کرو بے شک تمہارا درود مجھے پہنچ جاتا ہے۔‘‘
۸۳ (۴) عن علي بن حسين أنه رأي رجلا يجيئ إلي فرجة کانت عند قبر النبي صلي الله عليه وآله وسلم فيدخل فيها فيدعو فنهاه فقال ألا أحدثکم حديثا سمعته من أبي عن جدي عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال : لا تتخذوا قبري عيدا ولا بيوتکم قبورا فإن تسليمکم يبلغني أينما کنتم
۱. أبو يعلي، المسند، ۱ : ۳۶۱، رقم : ۴۶۹
۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۴ : ۳
۳. مقدسي، الأحاديث المختارة، ۲ : ۴۹، رقم : ۴۲۸
۴. أبو طيب، عون المعبود، ۶ : ۲۴
۵. عسقلاني، لسان الميزان، ۲ : ۱۰۶
’’حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک آدمی کو دیکھا جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر کے قریب ایک بڑے سوراخ کی طرف آتا اور اس میں داخل ہو کر دعا مانگتا تو آپ رضی اللہ عنہ نے اسے منع فرمایا اور فرمایا کہ کیا میں تمہیں وہ حدیث نہ سناؤں جو میں نے اپنے باپ سے سنی، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کیا اور انہوں نے اس کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے (سن کر) روایت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمارہے تھے : میری قبر کو عیدگاہ نہ بناؤ اور نہ اپنے گھروں کو قبریں بناؤ اور بے شک تم جہاں کہیں بھی ہو تمہارا سلام مجھے پہنچ جاتا ہے۔‘‘
۸۴ (۵) عن أنس بن مالک رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم من صلي عَلَيَّ بلغتني صلاته وصليت عليه وکتبت له سوي ذلک عشر حسنات.
۱. طبراني، المعجم الاوسط، ۲ : ۱۷۸، رقم : ۱۶۴۲
۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱۰ : ۱۶۲
۳. منذري، الترغيب و الترهيب، ۲ : ۳۲۶، رقم : ۲۵۷۲
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کا درود مجھے پہنچ جاتا ہے اور میں بھی اس پر درود بھیجتا ہوں اور اس کے علاوہ اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں۔‘‘
۸۵ (۶) عن ابن عباس رضي الله عنه قال : ليس أحد من أمة محمد صلي الله عليه وآله وسلم صلي عليه صلاة إلا وهي تبلغه يقول الملک فلان يصلي عليک کذاوکذا صلاة.
بيهقي، شعب الايمان، ۲ : ۲۱۸، باب تعظيم النبي صلي الله عليه وآله وسلم وإجلا له و تو قيره، رقم : ۱۵۸۴
’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں سے جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے تو اس کا درود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچ جاتا ہے اور فرشتہ کہتا ہے۔ فلاں بندہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر اس طرح درود بھیجتا ہے۔،،
۸۶ (۷) عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : زينوا مجالسکم بالصلاة عَلَيَّ فإن صلاتکم تعرض عَليَّ أو تبلغني.
عجلوني، کشف الخفاء، ۱ : ۵۳۶، رقم : ۱۴۴۳
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنی مجالس کو مجھ پر درود بھیجنے کے ذریعے سجایا کرو بے شک تمہارا پیش کیا گیا درود مجھے پہنچ جاتا ہے۔‘‘
۸۷ (۸) عن علي مرفوعاً قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم سَلِّمُوا عَلَيَّ فإن تسليمکم يبلغني أينما کنتم.
عجلوني، کشف الخفاء، ۲ : ۳۲، رقم : ۱۶۰۲
’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھ پر سلام بھیجا کرو بے شک تم جہاں کہیں بھی ہو تمہارا سلام مجھے پہنچ جاتا ہے۔‘‘
فصل : ۱۰
من صلي علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم في يوم مائة مرة قضي اﷲ له مائة حاجة
(جو شخص روزانہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سو مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی سو حاجات پوری فرماتا ہے)
۸۸ (۱) عن أنس بن مالک خادم النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال : قال النبي صلي الله عليه وآله وسلم إن أقربکم مني يوم القيامة في کل موطن أکثرکم عَلَيَّ صلاة في الدنياء من صلي عَلَيَّ في يوم الجمعة وليلة الجمعة مائة مرة قضي اﷲ له مائة حاجة سبعين من حوائج الآخرة وثلاثين من حوائج الدنيا ثم يوکل اﷲ بذلک ملکاً يدخله في قبري کما تدخل عليکم الهدايا يخبرني من صلي عَلَيَّ باسمه و نسبه إلي عشيرته فأثبته عندي في صحيفة بيضاء.
۱. بيهقي، شعب الايمان، ۳ : ۱۱۱، رقم : ۳۰۳۵
۲. هندي، کنزالعمال، ۱ : ۵۰۶، رقم : ۲۲۳۷، باب الصلاة عليه صلي الله عليه وآله وسلم
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ جو حضور علیہ الصلاۃ والسلام کے خدمت گار تھے بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے روز تمام دنیا میں سے تم میںسب سے زیادہ میرے قریب وہ شخص ہوگا جو دنیا میں تم میں سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجنے والا ہوگا پس جو شخص جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات مجھ پر سو مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تبارک و تعالیٰ اس کی سو حاجتیں پوری فرماتا ہے ان میں سے ستر (۷۰) آخرت کی حاجتوں میں سے اور تیس (۳۰) دنیا کی حاجتوں میں سے ہیں پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ مقرر فرما دیتا ہے جو اس درود کو میری قبر میں اس طرح مجھ پر پیش کرتا ہے جس طرح تمہیں تحائف پیش کیے جاتے ہیں اور وہ مجھے اس آدمی کا نام اور اس کا نسب بمعہ قبیلہ بتاتا ہے، پھر میں اس کے نام و نسب کو اپنے پاس سفید کاغذ میں محفوظ کرلیتا ہوں۔‘‘
۸۹ (۲) عن جابر رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲِ صلي الله عليه وآله وسلم : من صلي عَلَيَّ في يوم مائة مرة قضي اﷲ له مائة حاجة، سبعين منها لآخرته وثلاثين منها لدنياه.
هندي، کنزالعمال، ۱ : ۵۰۵، رقم : ۲۲۳۲، باب الصلاة عليه صلي الله عليه وآله وسلم
’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص ایک دن میں مجھ پر سو (۱۰۰) مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی سو (۱۰۰) حاجتیں پوری فرماتا ہے ان میں سے ستر (۷۰) حاجتوں کا تعلق اس کی آخرت سے ہے اور تیس (۳۰) کا اس کی دنیا سے۔‘‘
۹۰ (۳) عن أنس رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من صلي عَلَيَّ في يوم الجمعة و ليلة الجمعة مائة من الصلاة قضي اﷲ له مائة حاجة سبعين من حوائج الآخرة و ثلاثين من حوائج الدنيا، وکل اﷲ بذلک ملکًا يدخله قبري کما تدخل عليکم الهدايا إن علمي بعد موتي کعلمي في الحياة.
هندي، کنزالعمال، ۱ : ۵۰۷، رقم : ۲۲۴۲، باب الصلاة عليه صلي الله عليه وآله وسلم
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص جمعہ کے دن اور رات مجھ پر سو (۱۰۰) مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی سو (۱۰۰) حاجتیں پوری فرماتا ہے۔ ان میں سے ستر (۷۰) آخرت کی حاجتوں میں سے اور تیس (۳۰) دنیا کی حاجتوں میں سے ہیں اور پھر ایک فرشتہ کو اس کام کے لئے مقرر فرما دیتا ہے کہ وہ اس درود کو میری قبر میں پیش کرے جس طرح تمہیں تحائف پیش کیے جاتے ہیں بے شک موت کے بعد میرا علم ویسا ہی ہے جیسے زندگی میں میرا علم تھا۔‘‘
۹۱ (۴) عن جعفربن محمد قال : من صلي علي محمد و علي أهل بيته مائة مرة قضي اﷲ له مائة حاجة.
مزي، تهذيب الکمال، ۵ : ۸۴
’’حضرت جعفر بن محمد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو شخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت پر سو (۱۰۰) مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی سو (۱۰۰) حاجتیں پوری فرما دیتا ہے۔‘‘
۹۲ (۵) عن أبي درداء قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم إذا سألتم اﷲ حاجة فابدؤا بالصلاة عَلَيَّ فإن اﷲ أکرم من أن يسأل حاجتين فيقضي إحدهما ويرد الأخري.
عجلوني، کشف الخفاء، ۲ : ۳۹، رقم : ۱۶۲۰
’’حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم اللہ تعالیٰ سے کسی حاجت کا سوال کرو تو مجھ پر درود بھیج کر اس دعا کی ابتداء کرو بے شک اللہ تعالیٰ اس بات سے (بے نیاز) ہے کہ اس سے دو حاجتوں کا سوال کیا جائے اور وہ ان میں سے ایک کو پورا کر دے اور دوسری کو رد کر دے۔‘‘
فصل : ۱۱
الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم نور علي الصراط
(حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا پل صراط پر نور ہوجائے گا)
۹۳ (۱) عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : الصلاة عَلَيَّ نور علي الصراط ومن صلي عَلَيَّ يوم الجمعة ثمانين مرة غفرله ذنوب ثمانين عامًا.
۱. ديلمي، مسند الفردوس، ۲ : ۴۰۸، رقم : ۳۸۱۴
۲. ذهبي، ميزان الاعتدال في نقد الرجال، ۳ : ۱۰۹، رقم : ۳۴۹۵
۳. مناوي، فيض القدير، ۴ : ۲۴۹
۴. عسقلاني، لسان الميزان، ۲ : ۴۸۱، رقم : ۱۹۳۸
۵. عجلوني، کشف الخفاء، ۱ : ۱۹۰
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھ پر بھیجا ہوا درود پل صراط پر نور بن جائے گا اور جو شخص مجھ پر جمعہ کے دن اسی (۸۰) مرتبہ درود بھیجتاہے اس کے اسی (۸۰) سال کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔‘‘
۹۴ (۲) عن عجلان رضي الله عنه قال : قال علي : من صلي علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يوم الجمعة مائة مرة جاء يوم القيامة وعلي وجهه من النور نور يقول الناس أي شيئٍ کان يعمل هذا.
بيهقي، شعب الإيمان، ۳ : ۱۱۲، رقم : ۳۰۳۶
’’حضرت عجلان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جو شخص جمعہ کے دن مجھ پر سو (۱۰۰) مرتبہ درود بھیجتا ہے وہ قیامت کے دن اس طرح آئے گا کہ اس کے چہرے پر بہت زیادہ نور ہوگا اور اس کے چہرے کے نور کو دیکھ کر لوگ(حیرت سے) کہیں گے کہ یہ شخص دنیا میں کونسا ایسا عمل کرتا تھا (جس کی بدولت آج اس کو یہ نور میسر آیا ہے)۔‘‘
۹۵ (۳) عن ابن عمر رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم زينوا مجالسکم بالصلوات عَلَيَّ فإن صلواتکم عَلَيَّ نور لکم يوم القيامة.
ديلمي، مسند الفردوس، ۲ : ۲۹۱، رقم : ۳۳۳۰
’’حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنی مجالس کو مجھ پر درود کے ذریعے سجایا کرو بے شک تمہارا مجھ پر درود بھیجنا قیامت کے دن تمہارے لئے نور کا باعث ہوگا۔‘‘
۹۶ (۴) عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال : قال النبي صلي الله عليه وآله وسلم : من صلي عَلَيَّ يوم الجمعة مائة مرة جاء يوم القيامة ومعه نور لو قسم ذلک النور بين الخلق لوسعهم.
۱. ابو نعيم، حليةالاولياء، ۸ : ۴۷
۲. هندي، کنزالعمال، ۱ : ۵۰۷، رقم : ۲۲۴۰، باب الصلاة عليه صلي الله عليه وآله وسلم
’’حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص جمعہ کے دن مجھ پر سو (۱۰۰) مرتبہ درود بھیجتا ہے وہ قیامت کے دن ایک ایسے نور کے ساتھ آئے گا کہ وہ نور اگر تمام مخلوق میں تقسیم کر دیا جائے تو وہ ان کے لئے کفایت کر جائے گا۔‘‘
فصل : ۱۲
قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : أحسنوا الصلاة عَلَيَّ
(حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’مجھ پر نہایت خوبصورت انداز سے درود بھیجا کرو‘‘)
۹۷ (۱) عن عبداﷲ بن مسعود رضي الله عنه قال : إذا صليتم علي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم فأحسنوا الصلاة عليه فإنکم لاتدرون لعل ذلک يعرض عليه قال : فقالوا له : فعلمنا قال : قولوأ : أللهم اجعل صلاتک ورحمتک وبرکاتک علي سيدالمرسلين وإمام المتقين وخاتم النبيين محمد عبدک ورسولک إمام الخير وقائدالخير ورسول الرحمة، أللهم أبعثه مقاماً محمودا يغبطه به الأولون والآخرون أللهم صل علي محمد وعلي آل محمد کماصليت علي إبراهيم وعلي آل ابراهيم إنک حميد مجيد أللهم بارک علي محمد وعلي آل محمد کما بارکت علي إبراهيم وعلي آل إبراهيم إنک حميد مجيد.
۱. ابن ماجة، السنن، ۱ : ۲۹۳، کتاب اقامة الصلاة، باب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۹۰۶
۲. ابو يعلي، المسند، ۹ : ۱۷۵، رقم : ۵۲۶۷
۳. شاشي، المسند، ۲ : ۷۹، رقم : ۶۱۱
۴. بيهقي، شعب الايمان، ۲ : ۲۰۸، رقم، ۱۵۵۰
۵. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۹، رقم : ۲۵۸۸
۶. کناني، مصباح الزجاجة، ۱ : ۱۱۱، باب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۳۳۲
۷. ابو نعيم، حليةالاولياء، ۴ : ۲۷۱
۸. قرطبي، الجامع لأحکام القرآن، ۱۴ : ۲۳۴
۹. ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، ۱۴ : ۲۳۴
’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب تم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجو تو نہایت خوبصورت انداز سے بھیجا کرو کیونکہ (شاید) تم نہیں جانتے کہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پیش کیا جاتا ہے آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنھم نے عرض کیا یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں درود سکھائیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس طرح کہو : اے اللہ تو اپنے درود، رحمت اور برکات کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے خاص فرما جو کہ تمام رسولوں کے سردار اور تمام متقین کے امام اور انبیاء کے خاتم اور تیرے بندے اور رسول ہیں جو کہ بھلائی کے امام اور قائد ہیں اور رسول رحمت ہیں اے اللہ ان کو اس مقام محمود پر پہنچا دے جس کی خواہش پہلے اور بعد میں آنے والے لوگ کرتے چلے آئے ہیں۔ اے اللہ تو درود بھیج حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر جیسا کہ تو نے درود بھیجا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی آل پر بے شک تو تعریف کیا ہوا اور بزرگی والا ہے۔ اے اللہ تو برکت عطاء فرما حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کو جیسا کہ تو نے برکت عطا فرمائی حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی آل کو بے شک تو بہت زیادہ تعریف کیا ہوا اور بزرگی والا ہے۔‘‘
۹۸ (۲) عن مجاهد قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم إنکم تعرضون عَلَيَّ بأسمائکم و سيمائکم فأحسنوا الصلاة عَلَيَّ.
عبدالرزاق، المصنف، ۲ : ۲۱۴، رقم : ۳۱۱۱
’’حضرت مجاہد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم اپنے ناموں اور علامتوں کے ساتھ میرے سامنے پیش کیے جاتے ہو اس لئے مجھ پر نہایت خوبصورت انداز سے درود بھیجا کرو۔‘‘
۹۹ (۳) عن ابن مسعود رضي الله عنه قال : إذا صليتم فأحسنوا الصلاة علي نبيکم.
عبدالرزاق، المصنف، ۲ : ۲۱۴، رقم : ۳۱۱۲
’’حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جب تم نماز پڑھ چکو تو نہایت خوبصورت انداز سے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا کرو۔‘‘
۱۰۰ (۴) عن عقبة بن عامرقال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم إذا صليتم عَلَيَّ فأحسنوا الصلاة فإنکم لا تدرون لعل ذلک يعرض عَلَيَّ.
هندي، کنزالعمال، ۱ : ۴۹۷، رقم : ۲۱۹۳، باب الصلاة عليه صلي الله عليه وآله وسلم
’’حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تم مجھ پر درود بھیجو تو نہایت خوبصورت انداز سے بھیجو کیونکہ شاید تم نہیں جانتے کہ تمہارا درود مجھے پیش کیا جاتا ہے۔‘‘
فصل : ۱۳
قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من صلي عَلَيَّ عند قبري سمعته و من صلي عَلَيَّ نائياً أبلغته
(فرمان رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : جو میری قبر کے نزدیک مجھ پر درود بھیجتا ہے میں اس کو سنتا ہوں اور جو دور سے مجھ پر درود بھیجتا ہے وہ مجھے پہنچا دیا جاتا ہے)
۱۰۱ (۱) عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال النبي صلي الله عليه وآله وسلم من صلي عَلَيَّ عند قبري سمعته ومن صلي عَلَيَّ نائياً أبلغته.
۱. بيهقي، شعب الايمان، ۲ : ۲۱۸، رقم : ۱۵۸۳
۲. هندي، کنزالعمال، ۱ : ۴۹۲، رقم : ۲۱۶۵، باب الصلاة عليه صلي الله عليه وآله وسلم
۳. مناوي، فيض القدير، ۶ : ۱۷۰
۴. شمس الحق، عون المعبود، ۶ : ۲۲
۵. ذهبي، ميزان الاعتدال، ۶ : ۳۲۸
۶. عسقلاني، فتح الباري، ۶ : ۴۸۸
۷. سيوطي، شرح السيوطي، ۴ : ۱۱۰
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو میری قبر کے نزدیک مجھ پر درود پڑھتا ہے میں خود اس کو سنتا ہوں اور جو دور سے مجھ پر درود بھیجتا ہے وہ (بھی) مجھے پہنچا دیا جاتا ہے۔‘‘
۱۰۲ (۲) عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم من صلي عَلَيَّ عند قبري سمعته ومن صلي عَلَيَّ نائيًا وکل بها ملک يبلغني وکفي أمر دنياه وآخرته وکنت له شهيدًا أو شفيعًا.
۱. هندي، کنزالعمال، ۱ : ۴۹۸، رقم : ۲۱۹۷، باب الصلاة عليه صلي الله عليه وآله وسلم
۲. خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، ۳ : ۲۹۲
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو میری قبر کے نزدیک مجھ پر درود بھیجتا ہے میں خود اس کو سنتا ہوں اور جو دور سے مجھ پر درود بھیجتا ہے تو اس کے لیے ایک فرشتہ مقرر ہے جو مجھے وہ درود پہنچاتا ہے اور یہ درود اس درود بھیجنے والے کی دنیا وآخرت کے معاملات کے لئے کفیل ہوجاتا ہے اور (قیامت کے روز) میں اس کا گواہ اور شفاعت کرنیوالا ہوں گا۔‘‘
۱۰۳ (۳) عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم من صلي عَلَيَّ عند قبري سمعته، ومن صلي عَلَيَّ من بعيد علمته.
هندي، کنزالعمال، ۱ : ۴۹۸، رقم : ۲۱۹۸، باب الصلاة عليه صلي الله عليه وآله وسلم
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاکہ جو میری قبر کے نزدیک مجھ پر درود بھیجتا ہے میں خود اس کو سنتا ہوں اور جو دور سے مجھ پر درود بھیجتا ہے میں اس کو بھی جان لیتا ہوں۔‘‘
فصل : ۱۴
الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم أعظم أجراً من عشرين غزوة في سبيل اﷲ
(حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا اجر و ثواب میں اللہ کی راہ میں لڑے جانے والے بیس غزوات سے بھی زیادہ ہے)
۱۰۴ (۱) عن عبداﷲ بن الجرار قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : حجوا الفرائض فإنها أعظم أجرًا من عشرين غزوة في سبيل اﷲ عزوجل فإن الصلاة عَلَيَّ تعدل ذا کله.
۱. ديلمي، مسند الفردوس، ۲ : ۱۳۰، رقم : ۲۶۶۲
۲. هندي، کنزالعمال، ۱ : ۵۰۵، رقم : ۲۲۳۱، باب الصلاة عليه صلي الله عليه وآله وسلم
’’حضرت عبداللہ بن جرار رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا فرائض حج ادا کرو بے شک اس کا اجر اللہ کی راہ میں لڑے جانے والے بیس غزوات سے بھی زیادہ ہے اور مجھ پر درود بھیجنے کا ثواب ان سب کے برابر ہے۔‘‘
۱۰۵ (۲) عن علي رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من حج حجة الإسلام، وغزا بعد هاغزاة، کتبت غزاته بأربعمائة حجة قال : فانکسرت قلوب قومٍ لا يقدرون علٰي الجهاد ولا الحج قال : فأوحٰي اﷲ تعالٰي إليهِ : ما صلي عليک أحداً إلاّ کتبت صلاتک بأربعمائة غزاة، کل غزاة بأربعمائة حجة.
۱. سخاوي، القول البديع : ۱۲۶
۲. فيروز آبادي، الصلات والبشر : ۱۱۴
’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص فریضہ حج ادا کرتا ہے اور اس کے بعد کسی غزوۃ میں بھی شریک ہوتا ہے تو اس کے غزوہ میں شریک ہونے کا ثواب چار سو حج کے برابر لکھا جاتا ہے تو یہ خوشخبری سن کر ان لوگوں کا دل ٹوٹ گیا جو نہ تو جہاد اور نہ حج کرنے پر قدرت رکھتے تھے پس اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف وحی فرمائی کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اس کا ثواب چار سو غزوات کے ثواب کے برابر لکھ دیتا ہوں اور ہر غزوۃ چار سو حج کے برابر ہے۔‘‘
فصل : ۱۵
الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم صدقة لمن لم يکن له مال
(حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا اس شخض کا صدقہ ہے جس کے پاس مال نہ ہو)
۱۰۶ (۱) عن أبي سعيد رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم أيما رجل لم يکن عنده صدقة فليقل في دعائه : ’’اللهم صل علي محمد عبدک و رسولک وصل علي المؤمنين والمؤمنات و المسلمين والمسلمات‘‘ فإنها له زکاة. هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه.
۱. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، ۴ : ۱۴۴، رقم : ۷۱۷۵
۲. ابن حبان، الصحيح، ۳ : ۱۸۵، رقم : ۹۰۳
۳. بخاري، الادب المفرد، ۱ : ۲۲۳، رقم : ۶۴۰
۴. هيثمي، موارد الظمان، ۱ : ۵۹۳، رقم : ۲۳۸۵
۵. ديلمي، مسند الفردوس، ۱ : ۳۴۹، رقم : ۱۳۹۵
۶. بيهقي، شعب الايمان، ۲ : ۸۶، رقم : ۱۲۳۱
۷. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۸، رقم : ۲۵۸۱
’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس کے پاس صدقہ کے لیے کچھ نہ ہو تو وہ اپنی دعا میں یوں کہے : ’’اے اللہ تو اپنے رسول اور بندے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیج اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں، مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں پر رحمتیں نازل فرما‘‘ یہی اس کا صدقہ ہو جائے گا اس حدیث کی اسناد صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کی تخریج نہیں کی۔‘‘
۱۰۷ (۲) عن أنس بلفظ صلوا عليّ فإن الصلوة عليّ کفارة لکم وزکاة فمن صلي علي صلاة صلي اﷲ عليه عشرا.
سخاوي، القول البديع : ۱۰۳
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ان الفاظ کے ساتھ روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : مجھ پر درود بھیجو بے شک تمہارا مجھ پر درود بھیجنا تمہارے لئے (گناہوں کا) کفارہ ہے اور زکوٰۃ ہے جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اﷲ اس پر دس مرتبہ درود (بصورت رحمت) بھیجتا ہے۔‘‘
فصل : ۱۶
من سره أن يلقي اﷲ في حالة الرضاء فليکثر الصلاة عَلَيَّ
(جسے یہ پسند ہو کہ وہ حالت رضاء میں اللہ سے ملاقات کرے تو وہ مجھ پر کثرت سے درود بھیجے)
۱۰۸ (۱) عن عائشه رضي اﷲ عنها مرفوعًا قالت : قال رسول اﷲ من سره أن يلقي اﷲ وهو عنه راضٍ فليکثر الصلاة عَلَيَّ.
۱. ذهبي، ميزان الاعتدال في نقد الرجال، ۵ : ۲۳۵
۲. عسقلاني، لسان الميزان، ۴ : ۳۰۳، رقم : ۷۵۲
۳. جرجاني، تاريخ جرجان، ۱ : ۴۰۴، رقم : ۶۸۸
’’حضرت عائشہ رضی اﷲ عنھا سے مرفوعًا روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جسے یہ پسند ہو کہ وہ حالت رضاء میں اللہ سے ملاقات کرے تو وہ مجھ پر کثرت کے ساتھ درود بھیجے۔‘‘
۱۰۹ (۲) عن عبداﷲ بن مسعود رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم إن أولٰي الناس بي أکثرهم عَلَيَّ صلاة.
خطيب بغدادي، الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع، ۲ : ۱۰۳، رقم : ۱۳۰۴
’’حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے روز لوگوں میں سب سے زیادہ میرے قریب وہ شخص ہو گا جو مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجنے والا ہو گا۔‘‘
فصل : ۱۷
تستغفر الملائکة لمن صلی علی النبي صلی الله عليه وآله وسلم في کتاب مادام إسمه صلي الله عليه وآله وسلم في ذلک الکتاب
( فرشتے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کسی کتاب میں درود بھیجنے والے کے لئے اس وقت تک استغفار کرتے رہتے ہیں جب تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام اس کتاب میں موجود ہے )
۱۱۰ (۱) عن أبي هريرة قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم من صلي عَلَيَّ في کتاب لم تزل الملائکة تستغفر له مادام إسمي في ذلک الکتاب.
۱. طبراني، المعجم الاوسط، ۲ : ۲۳۲، رقم : ۱۸۳۵
۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱ : ۱۳۶
۳. منذري، الترغيب والترهيب، ۱ : ۶۲، رقم : ۱۵۷
۴. ذهبي، ميزان الاعتدال في نقد الرجال ۲ : ۳۲، رقم : ۱۲۰۷
۵. عسقلاني، لسان الميزان، ۲ : ۲۶، رقم : ۹۳
۶. قزويني، التدوين في اخبار قزوين، ۴ : ۱۰۷
۷. عجلوني، کشف الخفاء ۲ : ۳۳۸، رقم : ۲۵۱۸
۸. سيوطي، تدريب الراوي، ۲ : ۷۴، ۷۵
۹. سمعاني، ادب الاملاؤ الاستملاء، ۱ : ۶۴
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص مجھ پر کسی کتاب میں درود بھیجتا ہے تو فرشتے اس کے لئے اس وقت تک بخشش کی دعا کرتے رہتے ہیں جب تک میرا نام اس کتاب میں موجود رہتا ہے۔‘‘
۱۱۱ (۲) قال أبو عبداﷲ بن مندة سمعت حمزة بن محمد الحافظ يقول : کنت أکتب الحديث فلا أکتب وسلم بعد صلي اﷲ عليه فرأيت النبي صلي الله عليه وآله وسلم في المنام فقال لي : أما تختم الصلاة عَلَيَّ في کتابک.
۱. ذهبي، سيراعلام النبلاء، ۱۶ : ۱۸۰
۲. قيسراني، تذکره الحفاظ، ۳ : ۹۳۴
’’حضرت ابو عبداللہ بن مندہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے حمزہ بن محمد حافظ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لکھا کرتا تھا پس میں ’’صلی اللہ علیہ‘‘ کے بعد ’’وسلم‘‘ نہیں لکھتا تھا تو میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا تو اپنی کتاب میں مجھ پر مکمل درود کیوں نہیں لکھتا۔‘‘
۱۱۲ (۳) عن محمد بن أبي سليمان الوراق قال : رأيت أبي في النوم فقلت : ما فعل اﷲ بک؟ قال : غفرلي، فقلت : بماذا؟ قال : بکتابتي الصلاة عَلٰي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم في کل حديث.
خطيب بغدادي، الجامع لاخلاق الراوي و آداب السامع، ۱ : ۲۷۲، رقم : ۵۶۷
’’حضرت محمد بن ابی سلیمان الوراق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے والد کو خواب میں دیکھا تو میں نے کہا (اے میرے باپ) اللہ نے آپ کے ساتھ کیا سلوک کیاہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اللہ نے مجھے معاف فرما دیا ہے۔ میں نے کہا یہ بخشش اللہ نے کس عمل کی وجہ فرمائی؟ تو انہوں نے کہا کہ ہر حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نامِ نامی کے ساتھ درود لکھنے کی وجہ سے۔‘‘
۱۱۳ (۴) عن ابن عباس رضی الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من صلي عَلَيَّ في کتاب لم تزل الصلاة جارية له مادام اسمي في ذلک الکتاب.
ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، ۳ : ۵۱۷
’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص مجھ پر کسی کتاب میں درود بھیجتا ہے تو اس کے لئے اس وقت تک برکتیں جاری رہیں گی جب تک میرا نام اس کتاب میں موجود رہے گا۔‘‘
۱۱۴ (۵) عن سفيان بن عيينة قال : کان لي أخ مؤاخ في الحديث فمات فرأيته في النوم فقلت : ما فعل اﷲ بک؟ قال غفرلي قلت بماذا؟ قال : کنت أکتب الحديث فإذا جاء ذکر النبي صلي الله عليه وآله وسلم کتبت صلي اﷲ عليه أبتغي بذٰلک الثواب فغفراﷲ لي بذالک.
خطيب بغدادي، الجامع لاخلاق الراوي وآداب السامع، ۱ : ۲۷۱، رقم : ۵۶۵
’’حضرت سفیان بن عیینہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک شخص حدیث میں میرا بھائی بنا ہوا تھا وہ وفات پاگیا تو ایک دفعہ میں نے اسے خواب میں دیکھا اور پوچھا اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا ہے؟ تو اس نے کہا اللہ نے مجھے معاف فرما دیا ہے میں نے کہا کیسے؟ تو اس نے کہا کہ میں احادیث لکھا کرتا تھا جب بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام آتا تو میں (اس کے ساتھ) ’’صلی اللہ علیہ‘‘ اللہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجے کے کلمات لکھتا تھا۔ اور ایسا میں ثواب کی خاطر کرتا سو اللہ نے مجھے اس وجہ سے بخش دیا ہے۔‘‘
۱۱۵ (۶) عن أبي سليمان الحراني قال : قال لي رجل من جواري يقال له الفضل وکان کثير الصوم و الصلاة کنت أکتب الحديث ولا أصلي علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم إذ رأيته في المنام فقال لي إذا کتبت أو ذکرت لم لا تصلي عَلَيَّ؟ ثم رأيته صلي الله عليه وآله وسلم مرة من الزمان فقال لي قد بلغني صلاتک عَلَيَّ فإذا صليت عَلَيَّ أو ذکرت فقل صلي اﷲ تعالٰي عليه وسلم.
(۲) خطيب بغدادي، الجامع لاخلاق الراوي وآداب السامع، ۱ : ۲۷۲، رقم : ۵۶۹
’’حضرت ابو سلیمان الحرانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے ہمسایوں میں سے ایک شخص جس کو ابو الفضل کہا جاتا تھا اور وہ بہت زیادہ نماز و روزے کا پابند تھا اس نے مجھے بتایا کہ میں احادیث لکھا کرتا تھا لیکن میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود نہیں بھیجا کرتا تھا پھر اچانک ایک دفعہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ جب تو نے میرا نام لکھا یا یاد کیا تو تو نے مجھ پر درود کیوں نہیں بھیجا؟ پھر میں نے ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے تمہارا درود پہنچ گیا ہے۔ پس جب بھی تو مجھ پر درود بھیجے یا میرا ذکر کرے تو’’صلی اللہ علیہ وسلم‘‘ کہا کر۔‘‘
۱۱۶ (۷) عن أنس بن مالک قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : إذا کان يوم القيامة جاء أصحاب الحديث بأيديهم المحابر فيأمر اﷲ عزوجل جبريل أن يأتيهم فيسألهم من هم؟ فيأتيهم فيسألهم فيقولون نحن أصحاب الحديث فيقول اﷲ تعالي أدخلوا الجنة طال ما کنتم تصلون علي النبي.
۱. ديلمي، مسند الفردوس، ۱ : ۲۵۴، رقم : ۹۸۳
۲. خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، ۳ : ۴۱۰، رقم : ۱۵۴۲
۳. سمعاني، أدب الإ ملاء و الإ ستملاء، ۱ : ۵۳
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو حدیث لکھنے والے لوگ آئیں گے درآنحالیکہ ان کے ہاتھوں میں دواتیں ہوں گی پس اللہ عزوجل حضرت جبرئیل کوحکم دے گا کہ وہ ان کے پاس جا کر ان سے پوچھے کہ وہ کون ہیں پس جبرئیل علیہ السلام ان کے پاس جاکران سے پوچھیں گے (کہ تم کون ہو؟) تو وہ کہیں گے ہم کاتبین حدیث ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ جنت میں اتنے عرصے کے لئے داخل ہوجاؤ جتنا عرصہ تم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتے رہے ہو۔‘‘
۱۱۷ (۸) عن عمر بن الخطاب رضی الله عنه أنه قال الدعاء يحجب دون السماء حتي يصلي عَلٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم فإذا جاء ت الصلاة عَلٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم رفع الدعاء وقال النبي صلي الله عليه وآله وسلم من صلي عَلَيَّ في کتاب لم تزل الملائکة يصلون عليه مادام اسمي في ذلک الکتاب.
قرطبي، الجامع لأحکام القرآن، ۱۴ : ۲۳۵
’’حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دعا اس وقت تک آسمان کے نیچے حجاب میں رہتی ہے جب تک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود نہیں بھیجا جاتا ہے پس جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا جاتا ہے تو دعا آسمان کی طرف بلند ہوجاتی ہے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی کتاب میں مجھ پر درود لکھتا ہے تو ملائکہ اس کے لئے اس وقت تک دعا کرتے رہتے ہیں جب تک میرا نام اس کتاب میں موجود رہتا ہے۔‘‘
۱۱۸ (۹) عن أبي بکر الصديق قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من کتب عني علما و کتب معه صلاة علي لم يزل في أجر ماقرئ ذلک الکتاب.
خطيب بغدادي، الجامع لأخلاق الراوي و آداب السامع، ۱ : ۲۷۰، رقم : ۵۶۴
’’حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص نے میرے متعلق کوئی علم کی بات لکھی اور اس علم میں جہاں میرا نام آیا اس کے ساتھ مجھ پر درود بھی لکھا تو اس وقت تک اس شخص کو اجر ملتا رہے گا جب تک وہ کتاب پڑھی جاتی رہے گی۔‘‘
فصل : ۱۸
الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم سَبَبٌ لِغفران الذنوب
( حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا گناہوں کی بخشش کا سبب بنتا ہے )
۱۱۹ (۱) عن أبي بن کعب رضي الله عنه قال : کا ن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم إذا ذهب ثلثا الليل قام فقال يا أيهاالناس اذکرو اﷲ جاء ت الراجفة تتبعها الرادفة، جاء الموت بما فيه جاء الموت بما فيه قال أبي : قلت يارسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم إني أکثر الصلاة عليک فکم أجعل لک من صلاتي فقال ما شئت قال قلت الربع قال ماشئت فإن زدت فهو خيرلک قلت النصف قال ماشئت فإن زدت فهو خير لک قال قلت فالثلثين قال ماشئت فإن زدت فهو خيرلک قلت أجعل لک صلاتي کلها قال إذا تکفي همک ويغفرلک ذنبک.
۱. ترمذي، الجامع الصحيح، ۴ : ۶۳۶، کتاب صفة القيامة والرقائق والورع، باب نمبر ۲۳، رقم : ۲۴۵۷
۲. احمد بن حنبل، المسند، ۵ : ۱۳۶، رقم : ۲۱۲۸۰
۳. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، ۲ : ۴۵۷، رقم : ۳۵۷۸
۴. مقدسي، الاحاديث المختارة، ۳ : ۳۸۹، رقم : ۱۱۸۵
۵. بيهقي، شعب الايمان، ۲ : ۱۸۷، رقم : ۱۴۹۹
۶. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۷، رقم : ۲۵۷۷
۷. ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، ۳ : ۵۱۱
’’حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رات کا دو تہائی حصہ گزر جاتا تو گھر سے باہر تشریف لے آتے اور فرماتے اے لوگو! اللہ کا ذکر کرو اللہ کا ذکر کرو ہلا دینے والی (قیامت) آگئی۔ اس کے بعد پیچھے آنے والی (آگئی) موت اپنی سختی کے ساتھ آگئی موت اپنی سختی کے ساتھ آگئی۔ میرے والد نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کثرت سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہوں۔ پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتنا درود بھیجوں؟ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جتنا تو بھیجنا چاہتا ہے میرے والد فرماتے ہیں میں نے عرض کیا (یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کیا میں اپنی دعا کا چوتھائی حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دعاء بھیجنے کے لئے خاص کر دوں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تو چاہے (تو ایسا کرسکتا ہے) لیکن اگر تو اس میں اضافہ کرلے تو یہ تیرے لئے بہتر ہے میں نے عرض کیا اگرمیں اپنی دعا کا آدھا حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے خاص کر دوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تو چاہے لیکن اگر تو اس میں اضافہ کر دے تو یہ تیرے لئے بہتر ہے میں نے عرض کیا اگر میں اپنی دعا کا تین چوتھائی حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے خاص کر دوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تو چاہے لیکن اگر تو زیادہ کردے تو یہ تیرے لئے بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا (یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اگر میں ساری دعا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے خاص کردوں تو؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر تو یہ درود تیرے تمام غموں کا مداوا ہو جائے گا اور تیرے تمام گناہ معاف کردیے جائیں گے۔
۱۲۰ (۲) عن أبي کاهل قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : إعلمن يا أباکاهل أنه من صلي عَلَيَّ کل يوم ثلاث مرات و کل ليلة ثلاث مرات حبًا لي و شوقًا کان حقًا عَلٰي اﷲ أن يغفرله ذنوبه تلک الليلة وذلک اليوم.
۱. طبراني، المعجم الکبير، ۱۸ : ۳۶۲، رقم : ۹۲۸
۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۴ : ۲۱۸،
۳. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۸، رقم : ۲۵۸۰
۴. منذري، الترغيب والترهيب، ۴ : ۱۳۲، رقم : ۵۱۱۵
۵. عسقلاني، الاصابة في تمييز الصحابة، ۷ : ۳۴۰، رقم : ۱۰۴۴۱
’’حضرت ابو کاھل رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے ابو کاھل جان لو جو شخص بھی تین دفعہ دن کو اور تین دفعہ رات کو مجھ پر شوق اور محبت کے ساتھ درود بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس بندے کے اس رات اور دن کے گناہوں کو بخشنا اپنے اوپر واجب کرلیتا ہے۔‘‘
۱۲۱ (۳) عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسو عزوجل اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم الصلاة عَلَيَّ نور عَلٰي الصراط ومن صلي عَلَيَّ يوم الجمعة ثمانين مرة غفرله ذنوب ثمانين عَامًا.
۱. ديلمي، مسند الفردوس، ۲ : ۴۰۸، رقم : ۳۸۱۴
۲. مناوي، فيض القدير، ۴ : ۲۴۹
۳. عسقلاني، لسان الميزان، ۲ : ۴۸۱، رقم : ۱۹۳۸
۴. ذهبي، ميزان الاعتدال في نقد الرجال، ۳ : ۱۰۹، رقم : ۳۴۹۵
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھ پر درود بھیجنا پل صراط پر نور کا کام دے گا پس جوشخص جمعہ کے دن مجھ پر اسی (۸۰) مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے اسی (۸۰) سال کے گناہ بخش دیتا ہے۔‘‘
۱۲۲ (۴) عن أنس بن مالک رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال : مامن عبدين متحابين في اﷲ يستقبل أحدهما صاحبه فيصافحه ويصليان عَلٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم إلا و لم يفترقا حتٰي تغفر ذنوبهما ما تقدم منهما وما تأخر.
۱. ابو يعليٰ، المسند، ۵ : ۳۳۴، رقم : ۲۹۶۰
۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱۰ : ۲۷۵
۳. بيهقي، شعب الايمان، ۶ : ۴۷۱، ر قم : ۸۹۴۴
۴. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۹، رقم : ۲۵۸۶
۵. بخاري، التاريخ الکبير، ۳ : ۲۵۲، رقم : ۸۷۱
۶. عسقلاني، لسان الميزان، ۲ : ۴۲۹، رقم : ۱۷۶۵
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کوئی دو آدمی ایسے نہیں جو آپس میں محبت رکھتے ہوں ان میں سے ایک دوسرے کا استقبال کرتا ہے اور اس سے مصافحہ کرتا ہے پھر وہ دونوں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں مگر یہ کہ وہ اس وقت تک جدا نہیں ہوتے جب تک ان دونوں کے اگلے پچھلے گناہ معاف نہ کردیے جائیں۔‘‘
۱۲۳ (۵) عن عائشة قالت : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : ما من عبد يصلي عَلَيَّ صلاة إلا عرج بها ملک حتي يجيء وجه الرحمن عزوجل فيقول اﷲ عزوجل إذهبوا بها إلي قبر عبدي تستغفر لقائلها و تقربه عينه.
(۱) ديلمي، مسند الفردوس، ۴ : ۱۰، رقم : ۶۰۲۶
’’حضرت عائشة رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص بھی مجھ پر درود بھیجتا ہے ایک فرشتہ اس درود کو لے کر اللہل کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اس فرشتے کو فرماتے ہیں کہ اس درود کو میرے بندے (حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی قبر انورمیں لے جاؤ تاکہ یہ درود اس کو کہنے والے کے لئے مغفرت طلبکرے اور اس سے اس کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچے۔‘‘
۱۲۴ (۶) عن أبي ذر قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من صلي عَلَيَّ يوم الجمعة مائتي صلاة غفرله ذنب مائتي عام.
هندي، کنزالعمال، ۱ : ۵۰۷، رقم : ۲۲۴۱
’’حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص بھی جمعہ کے دن مجھ پر دو سو (۲۰۰) مرتبہ درود بھیجتا ہے اس کے دو سو (۲۰۰) سال کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔‘‘
۱۲۵ (۷) عن الحسن بن عَلَي رضي الله عنه قال : قال النبي صلي الله عليه وآله وسلم : أکثر وا الصلاة عَلَيَّ فإن صلاتکم عَلَيَّ مغفرة لذنوبکم واطلبوا لي الدرجة والوسيلة فإن وسيلتي عند ربي شفاعة لکم.
۱. هندي، کنزالعمال، ۱ : ۴۸۹، رقم : ۲۱۴۳، باب الصلاة عليه صلي الله عليه وآله وسلم
۲. مناوي، فيض القدير، ۲ : ۸۸
’’حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھ پر درود کثرت سے بھیجا کرو بے شک تمہار مجھ پر درود بھیجنا تمہارے گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہے اور میرے لئے اللہ سے درجہ اور وسیلہ طلب کرو بے شک میرے رب کے ہاں میرا وسیلہ تمہارے لئے شفاعت ہے۔‘‘
۱۲۶ (۸) عن جابر بن عبداﷲ قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ما من مسلم يقف عشية عرفة بالموقف فيستقبل القبلة بوجهه ثم يقول لا إله إلا اﷲ وحده لا شريک له له الملک وله الحمد و هو علي کل شيئ قدير مائة مرة ثم يقرء قل هو اﷲ احد مائة مرة ثم يقول : أللهم صل علي محمد و آل محمد کما صليت علي ابراهيم و آل ابراهيم انک حميد مجيد و علينا معهم مائة مرة إلا قال اﷲ تعالي يا ملائکتي ما جزاء عبدي هذا سبحني و هللني وکبرني و عظمني و عرفني و أثني علي و صلي علي نبيي اشهدوا ملائکتي أني قد غفرت له و شفعته في نفسه ولو سألني عبدي هذا لشفعته في أهل الموقف کلهم.
۱. بيهقي، شعب الايمان، ۳ : ۴۶۳، رقم : ۴۰۷۴
۲. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۱۳۳، رقم : ۱۸۰۴
’’حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو بھی مسلمان وقوف عرفہ کی رات قبلہ رخ کھڑا ہوکر سو (۱۰۰) مرتبہ یوں کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور تمام تعریفیں اسی کے لئے ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے پھر سو (۱۰۰) مرتبہ سورہ اخلاص پڑھتا ہے پھر سو (۱۰۰) مرتبہ یوں کہتا ہے اللہ تو درود بھیج حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر جیسا کہ تو نے درود بھیجا حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی آل پر بے شک تو بہت زیادہ تعریف کیا ہوا اور بہت زیادہ بزرگی والا ہے اور ان کے ساتھ ہم پر بھی درود بھیج جب وہ اس طرح کہتا ہے تو (اﷲ پوچھتا ہے) اے میرے فرشتوں میرے اس بندے کی جزاء کیا ہونی چاہیے؟ اس نے میری تسبیح و تحلیل اور تکبیر و تعظیم اور تعریف و ثناء بیان کی اور میرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا اے میرے فرشتوں گواہ رہو میں نے اس بندے کو بخش دیا ہے اور اس کی شفاعت فرما دی ہے اور اگر میرا یہ بندہ مجھ سے شفاعت طلب کرے تو میں تمام اہل موقف کے ساتھ اس کی شفاعت کردوں۔
۱۲۷ (۹) عن أبي بکر الصديق قال : الصلاة عَلٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم أمحق للخطايا من الماء للنار، والسلام عَلٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم أفضل من عتق الرقاب، وحب رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم أفضل من مهج الأنفس أوقال : من ضرب السيف في سبيل اﷲ عزوجل.
۱. هندي، کنزالعمال، ۲ : ۳۶۷، رقم : ۳۹۸۲، باب الصلاةعليه صلي الله عليه وآله وسلم.
۲. خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، ۷ : ۱۶۱
’’حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا پانی کے آگ کو بجھانے سے بھی زیادہ گناہوں کو مٹانے والا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجنا یہ غلاموں کو آزاد کرنے سے بڑھ کر فضیلت والا کام ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت یہ جانوں کی روحوں سے بڑھ کر فضیلت والی ہے یا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے بھی بڑھ کر فضیلت والی ہے۔‘‘
۱۲۸ (۱۰) عن يعقوب بن زيد بن طلحة التيمي رضی الله عنه : قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : أتاني آت من ربي فقال : مامن عبد يصلي عليک صلاة إلا صلي اﷲ عليه بها عشرًا فقام إليه رجلٌ فقال : يارسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ألا أجعل نصف دعائي لک؟ قال صلي الله عليه وآله وسلم : إن شئت قال : ألا أجعل ثلثي دعائي لک؟ قال صلي الله عليه وآله وسلم : إن شئت قال : ألا أجعل دعائي لک کله؟ قال صلي الله عليه وآله وسلم : إذن يکفيک اﷲ هم الدنيا وهم الأخرة.
ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، ۳ : ۵۱۱
’’حضرت یعقوب بن زید بن طلحۃ التیمی رضی اللہ عنہ روایت فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے رب کی طرف سے کوئی آنے والا آیا اور کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو بندہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بدلہ میں اس پر دس مرتبہ درود (بصورت رحمت) بھیجتا ہے یہ سن کر ایک آدمی کھڑا ہوگیا اور کہنے لگا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا میں اپنی دعا کا آدھا حصہ آپ علیہ السلام پر درود بھیجنے کے لئے خاص نہ کرلوں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تیری مرضی، آدمی نے پھر عرض کیا میں اپنی دعا کا دو تہائی حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے خاص نہ کر دوں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تمہاری مرضی آدمی نے پھر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا میں اپنی تمام دعا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے خاص نہ کردوں تو اس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پھر تو یہ درود تمہارے دنیا و آخرت کے غموں کے علاج کے لئے کافی ہو گا۔‘‘
فصل : ۱۹
الملائکة يصلون علي المصلي علي محمد صلي الله عليه وآله وسلم
( حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے والے پر فرشتے درود بھیجتے ہیں )
۱۲۹ (۱) عن أبي طلحة رضي الله عنه أن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم جاء ذات يوم و البشر يري في وجهه فقال : أنه جاء ني جبريل عليه السلام فقال : أما يرضيک يامحمد أن لا يصلي عليک أحد من أمتک إلا صليت عليه عشراً، ولا يسلم عليک أحد من أمتک إلا سلمت عليه عشرا؟ (۱)
۱. نسائي، السنن، ۳ : ۵۰، کتاب السهو، باب الفضل في الصلاة عَلٰيَّ النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۱۲۹۴
۲. نسائي، السنن الکبريٰ ۶ : ۲۱، رقم : ۹۸۸۸
۳. دارمي، السنن، ۲ : ۴۰۸، باب فضل الصلاة عليٰ النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۲۷۷۳
۴. نسائي، عمل اليوم والليلة، ۱ : ۱۶۵، رقم : ۶۰
۵. ابن مبارک، الزهد، ۱ : ۳۶۴، رقم : ۱۰۲۷
’’حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور پر خوشی کے آثار نمایاں تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایامیرے پاس جبرئیل آئے اور کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات پر خوش نہیں ہوں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں سے جو کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے میں اس پر دس مرتبہ درود (بصورت دعا) بھیجتا ہوں اور جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک مرتبہ سلام بھیجتا ہے میں اس پر دس مرتبہ سلام بھیجتا ہوں۔‘‘
۱۳۰ (۲) عن ربيعة رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال : ما من مسلم يصلي عَلَيَّ إلا صلت عليه الملائکة ماصلي عَلَيَّ فليقل العبد من ذلک أوليکثر.
۱. ابن ماجه، السنن، ۱ : ۲۹۴کتاب اقا مةالصلاة والسنة فيها، باب الاعتدال في السجود، رقم : ۹۰۷
۲. احمد بن حنبل، المسند، ۳ : ۴۴۶
۳. ابو يعلي، المسند، ۱۳ : ۱۵۴، رقم : ۷۱۹۶
۴. طبراني، المعجم الاوسط، ۲ : ۱۸۲، رقم : ۱۶۵۴
۵. ابو نعيم، حلية الأولياء وطبقات الأصفياء، ۱ : ۱۸۰
۶. کناني، مصباح الزجاجه، ۱ : ۱۱۲، رقم : ۳۳۳
۷. مناوي، فيض القدير، ۵ : ۴۹۰
۸. مقدسي، الاحاديث المختاره، ۸ : ۱۹۰، رقم : ۲۱۸
’’حضرت ربیعۃ رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو بندہ بھی مجھ پر درود بھیجتا ہے تو فرشتے اس پر اسی طرح درود (بصورتِ دعا) بھیجتے ہیں جس طرح اس نے مجھ پر درود بھیجا پس اب بندہ کو اختیار ہے کہ وہ مجھ پر اس سے کم درود بھیجے یا زیادہ۔‘‘
۱۳۱ (۳) عن عامر بن ربيعة رضي الله عنه أنه سمع رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يقول : ما من عبدٍ صلي عَلَيَّ صلاة إلا صلت عليه الملائکة ماصلي عَلَيَّ، فليقل عبدٌ من ذلک أوليکثر.
۱. ابو يعلي، المسند، ۱۳ : ۱۵۴، رقم : ۷۱۹۶
۲. عبد بن حميد، المسند، ۳ : ۱۳۰، رقم : ۳۱۷
۳. بيهقي، شعب الايمان، ۲ : ۲۱۱، رقم : ۱۵۵۷
۴. ا بن مبارک، کتاب الزهد، ۱ : ۳۶۴، رقم : ۱۰۲۶
۵. ابو نعيم، حلية الاولياء، ۱ : ۱۸۰
۶. کناني، مصباح الزجاجه، ۱ : ۱۱۲، رقم : ۳۳۳
’’حضرت عامر بن ربیعۃ رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو بندہ بھی مجھ پر درود بھیجتا ہے فرشتے اس پر اسی طرح درود بھیجتے ہیں جس طرح اس نے مجھ پر درود بھیجا پس اب اس بندے کو اختیار ہے چاہے تو وہ اس سے کم مجھ پر درود بھیجے یا اس سے زیادہ۔‘‘
۱۳۲ (۴) عن عبدالرحمٰن بن عوف رضي الله عنه قال : خرجت مع رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم إلي البقيع فسجد سجدة طويلة، فسألته فقال : جاء ني جبريل عليه السلام، وقال : إنه لا يصلي عليک أحد إلا ويصلي عليه سبعون ألف ملک.
۱. ابن ابي شيبه، المصنف، ۲ : ۵۱۷
۲. ابو يعليٰ، المسند، ۲ : ۱۵۸، رقم : ۸۴۷
۳. بيهقي، شعب الايمان، ۲ : ۲۱۰، رقم : ۱۵۵۵
۴. اسماعيل قاضي، فضل الصلاةعلي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۱۰
’’حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جنت البقیع کی طرف آیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں ایک طویل سجدہ کیا پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جبرئیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور فرمایا جو کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے ستر ہزار فرشتے اس پر درود (بصورت دعا) بھیجتے ہیں۔‘‘
۱۳۳ (۵) عن عبداﷲ بن عمرو بن العاص رضی الله عنه قال : من صلي عَلٰي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم صلاة صلي اﷲ عليه وسلم وملائکته بها سبعين صلاة فليقل عبدٌ من ذلک أو ليکثر.
۱. احمد بن حنبل، المسند، ۲ : ۱۷۲، رقم : ۶۶۰۵
۲. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۵، رقم : ۲۵۶۶
۳. مناوي، فيض القدير، ۶ : ۱۶۹
’’حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جوشخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس کے بدلہ میں اس پر ستر مرتبہ درود (بصورت دعا) اور سلامتی بھیجتے ہیں۔ اب بندہ کو اختیار ہے چاہے تو وہ اس سے کم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجے یا اس سے زیادہ۔‘‘
۱۳۴ (۶) عن أبي طلحة رضي الله عنه قال دخلت علٰي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم وأساريروجهه تبرق فقلت يارسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم مارأيتک أطيب نفسا ولا أظهر بشرا منک في يومک هذا فقال ومالي لا تطيب نفسي ولا يظهر بشري وإنما فارقني جبريل الساعة فقال يا محمد من صلي عليک من أمتک صلاة کتب اﷲ له بها عشر حسناتٍ ومحاعنه عشر سيئات ورفعه بها عشر درجات وقال له الملک مثل : ما قال لک؟ قلت : يا جبريل، وما ذاک الملک؟ قال : إن اﷲ وکل بک ملکا من لدن خلقک إلي أن يبعثک لا يصلي عليک أحد من أمتک إلا قال : وأنت صلي اﷲ عليک.
۱. طبراني، المعجم الکبير، ۵ : ۱۰۰، رقم : ۴۷۲۰
۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱۰ : ۱۶۱
۳. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۵، رقم : ۲۵۶۷
’’حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا درآنحالیکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کے خدوخال خوشی سے چمک رہے تھے میں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آج کے دن سے بڑھ کر کبھی اتنا زیادہ خوش نہیں پایا (اس کی کیا وجہ ہے؟) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جبرئیل ابھی میرے پاس سے روانہ ہوا ہے اور مجھے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں سے جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے بدلے اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دیتا ہے اور دس گناہ معاف کر دیتا ہے اور دس درجات بلند کردیتا ہے اور فرشتے اس کے لئے ایسا ہی کہتے ہیں جیسے وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے کہتا ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں : میں نے کہا اے جبرئیل اس فرشتے کا کیا معاملہ ہے؟ تو اس نے کہا بے شک اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش سے لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت تک ایک فرشتہ کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مقرر کیا ہوا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں سے جو بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے تو وہ کہتا ہے (اے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے والے) اللہ تجھ پر بھی درود (بصورت رحمت) بھیجے۔‘‘
۱۳۵ (۷) عن أنس رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : أکثروا الصلاة عَلَي يوم الجمعة فإنه أتاني جبريل آنفاً عن ربهل فقال : ماعلي الارض من مسلمٍ يصلي عليک مرة واحدة إلا صليت أنا وملائکتي عليه عشرا.
۱. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۶، رقم : ۲۵۶۸
۲. عجلوني، کشف الخفاء، ۱ : ۱۹۰، رقم : ۵۰۱
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو ابھی میرے پاس جبرئیل علیہ السلام اپنے رب کی طرف سے حاضرہوئے اور کہا کہ اس زمین پر جو مسلمان بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پرایک مرتبہ درود بھیجتا ہے میں اور میرے فرشتے اس پر دس مرتبہ درود (بصورتِ رحمت و دعا) بھجتے ہیں۔‘‘
۱۳۶ (۸) عن ربيعة قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من صلي عَلَيَّ لم تزل الملائکه تصلي عليه مادام يصلي عَلَيَّ فليقل من ذلک العبد أو ليکثر.
ابن ابي شيبه، المصنف، ۲ : ۲۵۳، رقم : ۸۶۹۶، باب ثُواب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم
’’حضرت ربیعۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص مجھ پر درود بھیجتا ہے فرشتے اس وقت تک اس پر درود بھیجتے رہتے ہیں جب تک وہ مجھ پر درود بھیجتا رہتا ہے پس اب بندے کو اختیار ہے چاہے تو وہ اس سے کم مجھ پر درود بھیجے یا اس سے زیادہ۔‘‘
۱۳۷ (۹) عن أنس بن مالک قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : إذا قال العبد أللهم صل علي محمد خلق اﷲ عزوجل من تلک الکلمة ملکاله جناحان جناح بالمشرق و جناح بالمغرب و رجلاه في تخوم الأرضين ورأسه تحت العرش فيقول : صل علي عبدي کما صلي علي نبيي فهو يصلي عليه إلي يوم القيامة.
ديلمي، مسند الفردوس، ۱ : ۲۸۶، ۲۸۷، رقم :
۱۱۲۴’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب کوئی شخص ’’اللہم صل علی محمد‘‘ (اے اللہ تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیج) کہتا ہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ ان کلمات سے ایک فرشتہ پیدا فرماتا ہے جس کے دو پر ہیں ایک پر مشرق میں اور دوسرا مغرب میں اور اس کی دونوں ٹانگیں (ساتوں) زمینوں کی آخری حدود تک ہیں اور اس کا سر اللہ عزوجل کے عرش کے نیچے ہے پس اللہ تعالیٰ اس فرشتے کو فرماتا ہے کہ قیامت تک اس شخص پر اسی طرح درود بھیج جس طرح اس نے میرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا پس وہ فرشتہ اس بندے پر قیامت کے روز تک درود (بصورتِ دعا) بھیجتا رہے گا۔‘‘
۱۳۸ (۱۰) عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أنه قال : الدعاء يحجب دون السماء حتي يصلي عليٰ النبي صلي الله عليه وآله وسلم فإذا جاء ت الصلاة عَلٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم رفع الدعا وقال النبي صلي الله عليه وآله وسلم من صلي عَلَيَّ في کتاب لم تزل الملائکة يصلون عليه مادام اسمي في ذلک الکتاب.
قرطبي، الجامع لأحکام القرآن، ۱۴ :
۲۳۵’’حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ دعاء آسمان کے نیچے حجاب میں رہتی ہے جب تک کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود نہ بھیجاجائے پس جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا جاتا ہے تو دعا (آسمان کی طرف) بلند ہو جاتی ہے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی کتاب میں مجھ پر درود لکھتا ہے تو فرشتے اس پر اس وقت تک درود (بصورت دعا) بھیجتے رہتے ہیں جب تک میرا نام اس کتاب میں موجود رہتا ہے۔‘‘
فصل : ۲۰
من نسي الصلاة عَلَيَّ خطئي طريق الجنة
( جو مجھ پر درود بھیجنا بھول گیا وہ جنت کا راستہ بھول گیا )
۱۳۹ (۱) عن جعفر، عن أبيه رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من ذکرت عنده فنسي الصلاة عَلَيَّ خطئي طر يق الجنة يوم القيامة.
۱. ابن ابي شيبه، المصنف، ۶ : ۳۲۶، رقم : ۳۱۷۹۳
۲. بيهقي، شعب الايمان، ۲ : ۲۱۵، رقم : ۱۵۷۳
۳. ابو نعيم، حلية الاولياء، ۶ : ۲۶۷
۴. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۳۲، رقم : ۲۵۹۹
۵. کناني، مصباح الزجاجه، ۱ : ۱۱۲، رقم : ۳۳۴
۶. ذهبي، سيراعلام النبلاء، ۶ : ۱۳۷
۷. ذهبي، ميزان الاعتدال في نقد الرجال، ۶ : ۲۵۹۹
’’حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود بھیجنا بھول جائے تو قیامت کے روز وہ جنت کا راستہ بھول جائے گا۔‘‘
۱۴۰ (۲) عن حسين بن علي قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من ذکرت عنده فخطيء الصلاة عَلَيَّ خطيء طريق الجنة.
۱. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۱۲۸، رقم : ۲۸۸۷
۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱۰ : ۱۶۴
۳. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۳۱، رقم : ۲۵۹۷
’’حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کے سامنے میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود بھیجنا بھول جائے تو قیامت کے روز وہ جنت کا راستہ بھول جائے گا۔‘‘
۱۴۱ (۳) عن محمد بن علي رضي الله عنه يقول : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم من ذکرت عنده فلم يصل عَلَيَّ خطيء طريق الجنة.
بيهقي، شعب الايمان، ۲ : ۲۱۵، رقم : ۱۵۷۳
’’حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس کے سامنے میرا ذکرکیا گیا اور اس نے مجھ پر درود نہ بھیجا وہ جنت کا راستہ بھول گیا۔‘‘
۱۴۲ (۴) عن أبي أمامة قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم من ذکرت عنده فلم يصل عَلَيَّ تخطي به عن الجنة إِلي النار يوم القيامة.
ديلمي، مسند الفردوس، ۳ : ۶۳۴، رقم : ۵۹۸۵
’’حضرت ابو امامہص سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس کے سامنے میراذکر کیا گیا اوراس نے مجھ پر درود نہ بھیجا تو وہ اس کی وجہ سے قیامت کے روز جنت کی بجائے دوزخ کی طرف چل پڑے گا۔‘‘
۱۴۳ (۵) عن حسين رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من ذکرت عنده فخطأه اﷲ الصلاة عَلَيَّ خطأه اﷲ طريق الجنة.
دولابي، الذرية الطاهرة، ۱ : ۸۸، رقم : ۱۵۵
’’حضرت حسین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور اللہ اس کو مجھ پر درود بھیجنا بھلا دے تو (قیامت کے روز) اللہ تعالیٰ اس کو جنت کا راستہ بھلا دے گا۔‘‘
۱۴۴ (۶) عن أنس بن مالک قال : قال النبي صلي الله عليه وآله وسلم ’’ من ذکرت بين يديه فلم يصل علي صلاة تامة فلا هو مني ولا أنا منه‘‘.
ديلمي، مسند الفردوس، ۳ : ۶۳۴، رقم : ۵۹۸۶
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر مکمل (اور اچھے طریقے سے) درود نہ بھیجے تو نہ وہ مجھ سے ہے اور نہ میں اس سے ہوں (یعنی میرا اس سے اور اس کا مجھ سے کوئی تعلق اور واسطہ نہیں)۔‘‘
فصل : ۲۱
إن صلاتکم معروضة عَلَيَّ
(بے شک تمہارا درود مجھے پیش کیا جاتا ہے)
۱۴۵ (۱) عن أوس بن أوس رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : إن من أفضل أيامکم يوم الجمعة، فيه خلق آدم، وفيه قبض و فيه النفخة، وفيه الصعقة فأکثروا عَلَيَّ من الصلاة فيه، فإن صلاتکم معروضة عَلَيَّ، قال قالوا : يارسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ! کيف تعرض صلاتنا عليک وقد أرمت؟ يقولون : بليت قال صلي الله عليه وآله وسلم إن اﷲ حرم عَلٰي الأرض أجساد الأنبياء.
۱. ابوداؤد، السنن ۱ : ۲۷۵، کتاب الصلاة، باب تفريع ابواب الجمعة و فضل يوم الجمعةو ليلة الجمعة، رقم : ۱۰۴۷
۲. ابواداؤد، السنن، ۲ : ۸۸، ابواب الوتر، باب في الاستغفار، رقم : ۱۵۳۱
۳. نسائي، السنن الکبريٰ، ۱ : ۵۱۹، باب الامر باکثار الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يوم الجمعة ۱۶۶۶
۴. ابن ماجه، السنن، ۱ : ۳۴۵، کتاب اقامة الصلاة، باب في فضل الجمعة، رقم : ۱۰۸۵
۵. دارمي، السنن، ۱ : ۴۴۵، کتاب الصلاة، باب في فضل الجمعة رقم : ۱۵۷۲
۶. ابن ابي شيبه، المصنف، ۲ : ۲۵۳، باب في ثواب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم رقم : ۸۶۹۷
۷. طبراني، المعجم الکبير، ۱ : ۲۱۶، رقم : ۵۸۹
۸. بيهقي، السنن الکبريٰ، ۳ : ۲۴۸، باب مايومربه في ليلة الجمعة و يومها من کثرة الصلاةعلي رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۵۷۸۹
۹. بيهقي، السنن الصغري، ۱ : ۳۷۲، باب في فضل الجمعة رقم : ۶۳۴
۱۰. هيثمي، موارد الظمان، ۱ : ۱۴۶، باب ما جاء في يوم الجمعة والصلاةعلي البني صلي الله عليه وآله وسلم رقم : ۵۵۰
۱۱. کناني، مصباح الزجاجه، ۱ : ۱۲۹، باب في فضل الجمعة رقم : ۳۸۸
’’حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بے شک تمہارے بہترین دنوں میں سے جمعہ کا دن سب سے بہتر ہے اس دن حضرت آدم علیہ السلام پیدا ہوئے اور اسی دن وفات پائی اور اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن سخت آواز ظاہر ہوگی پس اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو کیونکہ تمہارا درود مجھے پیش کیا جاتا ہے صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارا درود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیسے پیش کیا جائے گا؟ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاک میں مل چکے ہوں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بے شک اللہ عزوجل نے زمین پر انبیاء کرام کے جسموں کو کھانا حرام کردیا ہے۔‘‘
۱۴۶ (۲) عن أبي أمامة رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : أکثروا عَلَيَّ من الصلاة في کل يوم جمعة فان صلاة أمتي تعرض عَلَيَّ في کل يوم جمعة فمن کان أکثر هم عَلَيَّ صلاة کان أقربهم مني منزلة.
۱. بيهقي، السنن الکبري. ۳ : ۲۴۹، رقم : ۵۷۹۱
۲. بيهقي، شعب الايمان، ۳ : ۱۱۰، رقم : ۳۰۳۲
۳. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۸، رقم : ۲۵۸۳
’’حضرت ابو امامۃ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو بے شک میری امت کا درود ہر جمعہ کے روز مجھے پیش کیا جاتا ہے اور میری امت میں سے جو مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجنے والا ہوگا وہ (قیامت کے روز) مقام و منزلت کے اعتبار سے میرے سب سے زیادہ قریب ہو گا۔‘‘
۱۴۷ (۳) عن عبداﷲ رضی الله عنه عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال أن ﷲ ملائکة سياحين يبلغوني عن أمتي السلام قال : و قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم حياتي خير لکم تحدثون ونحدث لکم ووفاتي خير لکم تعرض عَلَيَّ أعمالکم فمارأيت من خير حمدت اﷲ عليه و ما رأيت من شر إستغفرت اﷲ لکم.
۱. بزار، المسند، ۵ : ۳۰۸، رقم : ۱۹۲۵
۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۲۴
۳. ديلمي، مسند الفردوس، ۱ : ۱۸۳، رقم : ۶۸۶
۴. ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، ۳ : ۵۱۶
’’حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک اللہ کے بعض فرشتے ایسے ہیں جو گشت کرتے رہتے ہیں اور مجھے میری امت کا سلام پہنچاتے ہیں راوی بیان کرتے ہیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میری زندگی تمہارے لیے خیر ہے کہ تم دین میں نئی نئی چیزوں کو پاتے ہو اور ہم تمہارے لئے نئی نئی چیزوں کو پیدا کرتے ہیں اور میری وفات بھی تمہارے لئے خیر ہے مجھے تمہارے اعمال پیش کئے جاتے ہیں پس جب میں تمہاری طرف سے کسی اچھے عمل کو دیکھتا ہوں تو اس پر اللہ کی حمد بیان کرتا ہوں اور جب کوئی بری چیز دیکھتا ہوں تو تمہارے لیے اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں۔‘‘
۱۴۸ (۴) عن ابن أبي مسعود الأنصاري رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال : أکثروا عَلَيََّّ الصلاة في يوم الجمعة فإنه ليس أحدٌ يصلي عَلَيََّّ يوم الجمعة، إلا عرضت عَلَيََّّ صلاته.
۱. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، ۲ : ۴۵۷، رقم : ۳۵۷۷
۲. بيهقي، شعب الايمان، ۳ : ۱۱۰، رقم : ۳۰۳۰
۳. شوکاني، نيل الاوطار، ۳ : ۳۰۵
’’حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جمعہ کے دن مجھ پر درود کی کثرت کیا کرو بے شک جوبھی مجھ پر جمعہ کے دن درود بھیجتا ہے اس کا درود مجھے پیش کیا جاتا ہے۔‘‘
۱۴۹ (۵) عن أبي جعفر رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من صلي عَلَيَّ بلغتني صلاته وصليت عليه وکتبت له سوي ذلک عشر حسنات.
طبراني، المعجم الاوسط، ۲ : ۱۷۸، رقم : ۱۶۴۲
’’حضرت ابو جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو مجھ پر درود بھیجتا ہے مجھے اس کا درود پہنچ جاتا ہے اور میں بھی اس پر درود بھیجتا ہوں اور اس کے علاوہ اس کے لئے دس نیکیاں بھی لکھ دی جاتی ہیں۔‘‘
۱۵۰ (۶) عن أبي طلحة رضي الله عنه قال : دخلت عَلٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يومًا فوجدته مسرورًا فقلت يارسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ماأدري متي رأيتک أحسن بشرًا وأطيب نفسًا من اليوم قال و ما يمنعني و جبريل خرج من عندي الساعة فبشرني أن لکل عبد صلي عَلَيَّ صلاة يکتب له بها عشر حسنات ويمحي عنه عشر سيئات ويرفع له عشر درجات و تعرض عَلَيَّ کما قالها ويرد عليه بمثل مادعا.
عبدالرزاق، المصنف، ۲ : ۲۱۴، رقم : ۳۱۱۳
’’حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک دن میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کی پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہت خوش پایا میں نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے آج سے بڑھ کر زیادہ خوش آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کبھی نہیں پایا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا آج مجھے اتنا خوش ہونے سے کون روک سکتا ہے؟ کہ ابھی ایک گھڑی پہلے جبرئیل میرے پاس سے گیا ہے اور اس نے مجھے خوش خبری دی کہ ہر اس بندے کے لئے جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور دس گناہ مٹا دیے جاتے ہیں اور دس درجے بلند کردیے جاتے ہیں اور جو وہ کہتا ہے مجھ پر پیش کیا جاتا ہے اور اس کی دعا کی مثل اس کو لوٹا دیا جاتاہے۔‘‘
۱۵۱ (۷) عن أبي سليمان الحراني رضي الله عنه قال : قال لي رجل من جواري يقال له الفضل وکان کثير الصوم والصلاة کنت أکتب الحديث ولا أصلي عَلٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم إذا رأيته في المنام فقال لي إذاکتبت أو ذکرت لم لا تصلي عَلَيَّ؟ ثم رأيته صلي الله عليه وآله وسلم مرة من الزمان فقال لي قد بلغني صلاتک عَلَيَّ فإذا صليت عَلَيَّ أو ذکرت فقل صلي اﷲ عليه وسلم.
خطيب بغدادي، الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع، ۱ : ۲۷۲، رقم : ۵۶۹
’’حضرت ابو سلیمان الحرانی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے ہمسایوں میں سے ایک آدمی جس کو فضل کے نام سے پکارا جاتا تھا اور وہ بہت زیادہ صوم و صلاۃ کا پابند تھا۔ اس نے مجھے کہا کہ میں احادیث لکھا کرتا تھا لیکن میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود نہیں بھیجا کرتا تھا پھر ایک دفعہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواب میں زیارت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ جب تو میرا نام لکھتا ہے یا مجھے یاد کرتا ہے تو تو مجھ پر درود کیوں نہیں بھیجتا؟ پھر میں نے ایک دفعہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے تمہارا درود پہنچ گیا ہے پس جب تو مجھ پر درود بھیجے یا میرا ذکر کرے تو یوں کہا کر ’’صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔‘‘
۱۵۲ (۸) عن أبي هريرة رضی الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم زينوا مجالسکم بالصلاة عَلَيَّ فإن صلاتکم تعرض عَلَيَّ أو تبلغني.
عجلوني، کشف الخفاء، ۱ : ۵۳۶، رقم : ۱۴۴۳
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اپنی مجالس کو میرے اوپر درود بھیجنے سے سجاؤ پس بے شک تمہارا درود مجھے پیش کیا جاتا ہے یا مجھے پہنچ جاتا ہے۔‘‘
فصل : ۲۲
الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم سبب للنجاة من عذاب الدنياوالآخرة
( حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا دنیا اور آخرت کے عذاب سے نجات کا ذریعہ ہے )
۱۵۳ (۱) عن أنس بن مالک رضی الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم من صلي عَلَيَّ صلاة واحدة صلي اﷲ عليه عشراً ومن صلي عَلَيَّ عشرا صلي اﷲ عليه مائة ومن صلي عَلَيَّ مائة کتب اﷲ بين عينيه براء ة من النفاق و براء ة من النار وأسکنه اﷲ يوم القيامة مع الشهداء.
۱. طبراني، المعجم الاوسط، ۷ : ۱۸۸، رقم : ۷۲۳۵
۲. طبراني، المعجم الصغير، ۲ : ۱۲۶، رقم : ۸۹۹
۳. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱۰ : ۱۶۳
۴. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۳، رقم : ۲۵۶۰
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ درود (بصورت رحمت) بھیجتا ہے اور جو مجھ پر دس مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ اس پر سو مرتبہ درود (بصورت دعا) بھیجتا ہے اور جو مجھ پر سو مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی آنکھوں کے درمیان نفاق اور جہنم کی آگ سے براءت لکھ دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کا ٹھکانہ شہداء کے ساتھ کرے گا۔‘‘
۱۵۴ (۲) عن عبداﷲ بن عمر قال : کنا جلوسا حول رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم إذ دخل أعرأبي جهوري بدوي يماني عَلٰي ناقة حمراء فأناخ بباب المسجد ثم قعد فلما قضي نحبه قالوا : يارسول اﷲ إن الناقة التي تحت الأعرابي سرقة قال : أثُمَّ بينة؟ قالوا نعم يارسول اﷲ قال يا علي خذ حق اﷲ من الأعرابي إن قامت عليه البينة وإن لم تقم فرده إلي قال فأطرق الأعرابي ساعة فقال له النبي صلي الله عليه وآله وسلم : قم يا أعرابي لأمر اﷲ وإلا فادل بحجتک فقالت الناقة من خلف الباب : والذي بعثک بالکرامة يارسول اﷲ إن هذا ما سرقني ولا ملکني أحد سواه فقال له النبي صلي الله عليه وآله وسلم ياأعرابي بالذي أنطقها بعذرک ماالذي قلت؟ قال : قلت : اللهم إنک لست برب استحدثناک ولا معک إله أعانک عَلٰي خلقنا ولا معک رب فنشک في ربوبيتک أنت ربنا کمانقول وفوق مايقول القائلون أسألک أن تصلي عَلٰي محمد وأن تبرئيني ببراء تي فقال له النبي صلي الله عليه وآله وسلم والذي بعثني بالکرامة يا أعرابي لقد رأيت الملائکة يبتدرون أفواه الأزقة يکتبون مقالتک فأکثر الصلاة عَلَيَّ.
حاکم، المستدرک علي الصحيحين، ۲ : ۶۷۶، رقم : ۴۲۳۶
’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ہم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک بلند آواز والا یمنی دیہاتی بدو اپنی سرخ اونٹنی کے ساتھ ادھر آیا اس نے اپنی اونٹنی مسجد کے دروازے کے سامنے بیٹھائی اور خود آ کر ہمارے ساتھ بیٹھ گیا پھر جب اس نے اپنا واویلا ختم کرلیا تو صحابہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ اونٹنی جو دیہاتی کے قبضہ میں ہے یہ چوری کی ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیا اس پر کوئی دلیل ہے؟ صحابہ نے عرض کیا ہاں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا کہ اگر اس اعرابی پر چوری کی گواہی مل جاتی ہے تو اس سے اللہ کا حق لو (یعنی اس پر چوری کی حد جاری کرو) اور اگر چوری کی شہادت نہیں ملتی تو اس کو میری طرف لوٹا دو۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ پھر اعرابی نے کچھ دیر کے لئے اپنا سر جھکایا پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے اعرابی اللہ کے حکم کی پیروی کرنے کے لئے کھڑے ہو جاؤ وگرنہ میں تمہاری حجت سے دلیل پکڑ وں گا پس اسی اثناء میں دروازے کے پیچھے سے اونٹنی بول پڑی اور کہنے لگی قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا نہ تو اس شخص نے مجھے چوری کیا ہے اور نہ ہی اس کے سوا میرا کوئی مالک ہے پس حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس نے اس اونٹنی کو تیرا عذر بیان کرنے کے لئے قوت گویائی بخشی اے اعرابی یہ بتا تو نے سر جھکا کر کیا کہا تھا۔ اعرابی نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں نے کہا اللہ تو ایسا خدا نہیں ہے جسے ہم نے پیدا کیاہو اور نہ ہی تیرے ساتھ کوئی اور الہ اور رب ہے کہ ہم تیری ربوبیت میں شک کریں تو ہمارا رب ہے جیسا کہ ہم کہتے ہیں اور کہنے والوں کے کہنے سے بھی بہت بلند ہے پس اے میرے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیج اور یہ کہ مجھے میرے الزام سے بری کر دے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس رب کی قسم جس نے مجھے عزت کے ساتھ مبعوث کیا اے اعرابی میں نے دیکھا کہ فرشتے تمہاری بات کو لکھنے میں جلدی کر رہے ہیں پس تو کثرت سے مجھ پر درود بھیجا کر۔‘‘
۱۵۵ (۳) عن أنس بن مالک عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال : يا أيها الناس إن أنجاکم يوم القيامة من أهوالها و مواطنها أکثرکم علي صلاة في دار الدنيا.
ديلمي، مسند الفردوس، ۵ : ۲۷۷، رقم : ۸۱۷۵
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگو تم میں سے قیامت کی ہولناکیوں اور اس کے مختلف مراحل میں سب سے زیادہ نجات پانے والا وہ شخص ہوگا جو دنیا میں تم میں سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجنے والا ہو گا۔‘‘
۱۵۶ (۴) عن عبدالرحمٰن بن سمرة قال : خرج رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم فقال : إني رأيت البارحة عجبا رأيت رجلا من أمتي قد احتوشته ملائکة فجاء ه وضوء ه فاستنقذه من ذلک و رأيت رجلا من أمتي قد احتوشته الشياطين فجاء ه ذکر اﷲ فخلصه منهم ورأيت رجلا من أمتي يلهث من العطش فجاء ه صيام رمضان فسقاه ورأيت رجلا من أمتي من بين يديه ظلمة و من خلفه ظلمة و عن يمينه ظلمة و عن شماله ظلمة و من فوقه ظلمة ومن تحته ظلمة فجاء ه حجه و عمرته فاستخرجاه من الظلمة و رأيت رجلا من أمتي جاء ه ملک الموت ليقبض روحه فجاء ته صلة الرحم فقالت إن هذا کان واصلا لرحمه فکلمهم و کلموه و صار معهم و رأيت رجلا من أمتي يتقي و هج النار عن وجهه فجاء ته زبانية العذاب فجاء ه أمره بالمعروف و نهيه عن المنکر فاستنقذه من ذلک و رأيت رجلا من أمتي هوي في النار فجاء ته دموعه التي بکي من خشية اﷲ فأخرجته من النار ورأيت رجلا من أمتي قد هوت صحيفته إلي شماله فجاء ه خوفه من اﷲ فأخذ صحيفته في يمينه و رأيت رجلا من أمتي قد خف ميزانه فجاء إقراضه فثقل ميزانه ورأيت رجلا من أمتي يرعد کما ترعد السعفة فجاء ه حسن ظنه باﷲ فسکن رعدته و رأيت رجلا من أمتي يزحف علي الصراط مرة و يجثو مرة و يتعلق مرة فجاء ته صلاته علي فأخذت بيده فأقامته علي الصراط حتي جاوز و رأيت رجلا من أمتي انتهي إلي أبواب الجنة فغلقت الأبواب دونه فجاء ته شهادة أن لا إله إلا اﷲ فأخذت بيده فأدخلته الجنة.
۱. هيثمي، مجمع الزوائد، ۷ : ۱۷۹، ۱۸۰
۲. ابن رجب حنبلي، التخويف من النار، ۱ : ۴۲
۳. واسطي، تاريخ واسط، ۱ : ۱۶۹، ۱۷۰
’’حضرت عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن گھر سے باہر تشریف لائے اور فرمایا کہ گذشتہ شب میں نے خواب میں عجیب چیز دیکھی میں کیا دیکھتا ہوں کہ فرشتوں نے میری امت کے ایک آدمی کو گھیرا ہوا ہے اس دوران اس شخص کا وضوء وہاں حاضر ہوتا ہے اور اس آدمی کو اس مشکل صورت حال سے نجات دلاتا ہے اور میں اپنی امت کا ایک آدمی دیکھتا ہوں کہ اس پر قبر کا عذاب مسلط کیا گیا ہے پس اس کی نماز آتی ہے اور اس کو اس عذاب سے نجات دلاتی ہے اور میں ایک آدمی دیکھتا ہوں کہ اس کو شیاطین نے گھیرا ہوا ہے پس اللہ کا ذکر (جو وہ کیا کرتا تھا) آتا ہے اور اس کو ان شیاطین سے نجات دلاتا ہے اور میں اپنی امت کا ایک آدمی دیکھتا ہوں کہ پیاس کے مارے اس کا برا حال ہے پس رمضان کے روزے آتے ہیں اور اس کو پانی پلاتے ہیں اور میں اپنی امت کا ایک آدمی دیکھتا ہوں جس کے آگے پیچھے، دائیں بائیں، اوپر نیچے تاریکی ہی تاریکی ہے پس اس کا حج اور عمرہ آتے ہیں اور اس کو تاریکی سے نکالتے ہیں اور میں اپنی امت کا ایک آدمی دیکھتا ہوں کہ ملک الموت (موت کا فرشتہ) اس کی روح قبض کرنے کے لئے اس کے پاس کھڑا ہے اس کا صلہ رحم آتا ہے اور کہتا ہے یہ شخص صلہ رحمی کرنے والا تھا پس وہ ان سے کلام کرتا ہے اور وہ اس سے کلام کرتے ہیں اور وہ ان کے ساتھ ہوجاتا ہے اور میں اپنی امت کا ایک آدمی دیکھتا ہوں جو اپنے چہرے سے آگ کا شعلہ دور کر رہا ہے پس اس کا صدقہ آجاتا ہے اور اس کے سر پر سایہ بن جاتا ہے اور اس کے چہرے کو آگ سے ڈھانپ لیتا ہے اور میں اپنی امت کا ایک آدمی دیکھتا ہوں اس کے پاس عذاب والے فرشتے آتے ہیں پس اس کے پاس اس کا امر بالمعروف و نہی عن المنکر آجاتا ہے اور اس کو عذاب سے نجات دلاتا ہے اور میں نے اپنی امت کا ایک آدمی دیکھا کہ وہ آگ میں گرا ہوا ہے پس اس کے وہ آنسو آجاتے ہیں جو اس نے اللہ کی خشیت میں بہائے اور اس کو آگ سے نکال دیتے ہیں اور میں نے اپنی امت کا ایک آدمی دیکھا اس کا نامہ اعمال اس کے بائیں ہاتھ میں تھا پس اس کا اللہ سے خوف اس کے پاس آجاتا ہے اور وہ اپنا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں پکڑ لیتا ہے اور میں نے اپنی امت کا ایک آدمی دیکھا کہ اس کے نیک اعمال والا پلڑا ہلکا ہے پس اس کا قرض دینا اس کے پاس آجاتا ہے تو اس کا پلڑا بھاری ہوجاتا ہے اور میں نے اپنی امت کا ایک آدمی دیکھا کہ وہ خوف کے مارے کانپ رہا ہوتا ہے جیسا کہ کھجور کی شاخ (حوا سے ہلتی ہے) پس اس کا اللہ کے ساتھ حسن ظن آتا ہے تو اس کی کپکپاہٹ ختم ہوجاتی ہے اور میں نے اپنی امت کا ایک آدمی دیکھا جو کبھی تو پل صراط پر آگے بڑھتا ہے کبھی رک جاتا ہے اور کبھی لٹک جاتا ہے پس اس کا وہ درود جو مجھ پر بھیجتا ہے آتا ہے اور اس کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے اور اس کو پل صراط پر سیدھا کھڑا رکھتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کو عبور کرلیتا ہے اور میں نے اپنی امت کا ایک آدمی دیکھا وہ جنت کے دروازے تک پہنچتا ہے پس جنت کے دروازے اس پر بند کر دیے جاتے ہیں اور وہ باہر کھڑا رہتا ہے پس اس کا کلمہ شہادت آتا ہے جو اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے جنت میں داخل کر دیتا ہے۔‘‘
فصل : ۲۳
فضل الصلاة عليٰ النبي صلي الله عليه وآله وسلم في يوم الجمعة
( جمعہ کے دن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کی فضیلت )
۱۵۷ (۱) عن أوس بن أوس رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم إن من أفضل أيامکم يوم الجمعة، فيه خلق آدم و فيه قبض، وفيه الصعقة، فأکثروا عَلَيَّّ من الصلاة فيه، فأن صلاتکم معروضة عَلَيَّ قالوا : يارسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، وکيف تعرض صلاتنا عليک وقد أرمت يعني بليت قال : إن اﷲل حرم عَلٰي الارض أن تأکل أجساد الأنبياء.
۱. ابواداؤد، السنن، ۲ : ۸۸، ابواب الوتر، باب في الاستغفار رقم : ۱۵۳۱
۲. ابو داؤد، السنن. ۱ : ۲۷۵، کتاب الصلاة، باب تفريع ابواب الجمعة و فضل يوم الجمعةو ليلة الجمعة، رقم : ۱۰۴۷
۳. نسائي، السنن الکبريٰ، ۱ : ۵۱۹، باب الامر باکثار الصلاةعلي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يوم الجمعة، رقم : ۱۶۶۶
۴. ابن ماجه، السنن، ۱ : ۳۴۵، کتاب اقامة الصلاة، باب في فضل الجمعة، رقم : ۱۰۸۵
۵. دارمي، السنن، ۱ : ۴۴۵، کتاب الصلاة، باب في فضل الجمعة، رقم : ۱۵۷۲
۶. ابن ابي شيبه، المصنف، ۲ : ۲۵۳، باب في ثواب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم رقم : ۸۶۹۷
۷. طبراني، المعجم الکبير، ۱ : ۲۱۶، رقم : ۵۸۹
۸. بيهقي، السنن الکبريٰ، ۳ : ۲۴۸، باب مايؤمربه في ليلة الجمعة و يومها من کثرة الصلاة عليٰ رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۵۷۸۹
۹. بيهقي، السنن الصغري، ۱ : ۳۷۲، باب في فضل الجمعة رقم : ۶۳۴
۱۰. هيثمي، موارد الظمان، ۱ : ۱۴۶، باب ما جاء في يوم الجمعة والصلاة علي البني صلي الله عليه وآله وسلم رقم : ۵۵۰
۱۱. کناني، مصباح الزجاجة، ۱ : ۱۲۹، باب في فضل الجمعة رقم : ۳۸۸
’’حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بیشک تمہارے بہترین دنوں میں سے جمعہ کا دن سب سے بہتر ہے اس دن حضرت آدم علیہ السلام پیدا ہوئے اور اسی دن وفات پائی اور اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن سخت آواز ظاہر ہو گی پس اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو کیونکہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارا درود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد کیسے آپ پر پیش کیا جائے گا؟ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاک میں مل چکے ہوں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بیشک اللہ عزوجل نے زمین پر انبیاء کرام کے جسموں کو کھانا حرام کر دیا ہے۔‘‘
۱۵۸ (۲) عن أبي الدرداء رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم أکثروا الصلاة عَلَيَّ يوم الجمعة فإنه يوم مشهود تشهده الملائکة وإن أحدا لن يصلي عَلَيَّ إلا عرضت عَلَيَّ صلاته حتي يخلو منها قال : قلت : وبعد الموت قال : و بعد الموت إن اﷲَ حرم عَلٰي الأرض أن تاکل أجْسَادَ الأَ نبِيائِ فنبي اﷲِ حيّ يرزق في قبره.
۱. ابن ماجه، السنن، ۱ : ۵۲۴، کتاب الجنائز، باب ذکر وفاته و دفنه صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۱۶۳۷
۲. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۸، رقم : ۲۵۸۲
۳. مناوي، فيض القدير، ۲ : ۸۷
۴. مزي، تهذيب الکمال، ۱۰ : ۲۳، رقم : ۲۰۹۰
۵. اندلسي، تحفة المحتاج، ۱ : ۵۲۶، رقم : ۶۶۳
۶. کناني، مصباح الزجاجه، ۲ : ۵۸، رقم : ۶۰۲
’’حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو کیونکہ اس دن ملائکہ حاضر ہوتے ہیں اور جو شخص مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کے درود سے فارغ ہونے سے پہلے ہی اس کا درود مجھے پیش کر دیا جاتا ہے راوی کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم موت کے بعد بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں موت کے بعد بھی بیشک اللہ تعالیٰ نے زمین پر حرام کر دیا ہے کہ وہ انبیاء کے اجسام کو کھائے پس اللہ کا نبی قبر میں بھی زندہ ہوتا ہے اور قبر میں بھی اسے رزق دیا جاتا ہے۔‘‘
۱۵۹ (۳) عن أبي مسعود الأنصاري رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال أکثروا عَلَيََّّ الصلاة في يوم الجمعة فإنه ليس أحدٌ يُصلي عَلَيََّّ يوم الجمعة، إلا عرضت عَلَيََّّ صلاته.
۱. حاکم، المستدرک عليَّ الصحيحين، ۲ : ۴۵۷، رقم : ۳۵۷۷
۲. بيهقي، شعب الايمان، ۳ : ۱۱۰، رقم : ۳۰۳۰
۳. شوکاني، نيل الاوطار، ۳ : ۳۰۵
’’حضرت ابو مسعودالانصاری رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جمعہ کے دن مجھ پر درود کی کثرت کیا کروپس جو بھی جمعہ کے دن مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کا درود مجھے پیش کیا جاتاہے۔‘‘
۱۶۰ (۴) عن ابن عباس قال سمعت نبيکم صلي الله عليه وآله وسلم يقول : أکثروا الصلاة عَلٰي نبيکم في الليلة الغراء واليوم الأزهر ليلة الجمعة و يوم الجمعة.
۱. بيهقي، شعب الايمان، ۳ : ۱۱۱، رقم : ۳۰۳۴
۲. ديلمي، الفردوس، ۱ : ۷۳، ر قم : ۲۱۵
۳. مناوي، فيض القدير، ۲ : ۸۷ برواية ابي سعيد
۴. شافعي، الام ۱ : ۲۰۸، برواية عبدالله بن اوفي
۵. عسقلاني، لسان الميزان، ۴ : ۴۵۶، رقم : ۱۴۱۰، برواية ابن عمر
’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ روشن رات اور روشن دن یعنی جمعہ کی رات اور جمعہ کے دن اپنے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجا کرو۔‘‘
۱۶۱ (۵) عن الحسن رضي الله عنه : قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم أکثروا الصلاة عَلَيََّّ يوم الجمعة فإنهَّا معروضَة عَلَيَّ.
ابن ابي شيبة، المصنف، ۲ : ۲۵۳، رقم : ۸۷۰۰
’’حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جمعہ کے دن مجھ پر درود کی کثرت کیا کرو بے شک وہ مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔‘‘
۱۶۲ (۶) عن علي إن ﷲ عزوجل ملائکة في الأرض خلقوا من النور لا يهبطون إلا ليلة الجمعة و يوم الجمعة بأيديهم أقلام من ذهب و داوة من فضة و قراطيس من نور لا يکتبون إلا الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم.
ديلمي، مسند الفردوس، ۱ : ۱۸۴، رقم : ۶۸۸
’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے زمین پر کچھ فرشتے ایسے ہیں جن کو نور سے پیدا کیا گیا اور وہ زمین پر صرف جمعہ کی رات اور جمعہ کے دن اترتے ہیں ان کے ہاتھوں میں سونے کے قلم اور چاندی کی دواتیں اور نور کے اوراق ہوتے ہیں اور وہ صرف حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود لکھتے ہیں۔‘‘
۱۶۳ (۷) عن أنس بن مالک قال : کنت واقفًا بين يدي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم فقال : من صلي عَلَيَّ يوم الجمعة ثمانين مرة غفراﷲ له ذنوب ثمانين عامًا فقيل کيف الصلاة عليک يا رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال تقول : اللهم صل علٰي محمد عبدک ونبيک ورسولک النبي الأمي وتعقد واحداً.
خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، ۱۳ : ۴۸۹، رقم : ۷۳۲۶
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑا تھا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے روز جو شخص مجھ پر اسی (۸۰) مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے اسی (۸۰) سال کے گناہ معاف فرما دیتا ہے آپ علیہ الصلاۃ والسلام سے عرض کیا گیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کیسے درود بھیجا جائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یوں کہو کہ اے اللہ درود بھیج محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے بندے، رسول اور نبی امی پر اور یہ (اسی مرتبہ درود کا بھیجنا) ایک ہی مجلس میں مکمل کرے۔‘‘
۱۶۴ (۸) عن جعفر بن محمد قال : إذا کان يوم الخميس عند العصر أهبط اﷲ ملائکة من السماء إلي الأرض معها صفائح من قصب بأيديها أقلام من ذهب تکتب الصلاة علي محمد صلي الله عليه وآله وسلم في ذلک اليوم و في تلک الليلة الي الغد الي غروب الشمس.
بيهقي، شعب الايمان، ۳ : ۱۱۲، رقم : ۳۰۳۷
’’حضرت جعفر بن محمد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ جمعرات کے دن عصر کا وقت ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان سے زمین کی طرف ایسے فرشتوں کو نازل فرماتا ہے جن کے پاس صفحات ہوتے ہیں اور ان کے ہاتھوں میں سونے کے قلم ہوتے ہیں اور یہ فرشتے اس دن اور رات اور اگلے دن غروب آفتاب تک حضور علیہ الصلاۃ والسلام پر درود لکھتے ہیں۔‘‘
۱۶۵ (۹) عن أنس رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من صلي عَلَيَّ في يوم ألف مرة لم يمت حتي يري مقعده من الجنة.
منذري، الترغيب و الترهيب، ۲ : ۳۲۸، رقم : ۲۵۷۹
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص ایک دن میں مجھ پر ہزا ر مرتبہ درود بھیجتا ہے اس وقت تک اسے موت نہیں آئے گی جب تک وہ جنت میں اپنا ٹھکانہ نہ دیکھ لے۔‘‘
۱۶۶ (۱۰) عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : الصلاة عَلَيَّ نورعَلٰي الصراط فمن صلي عَلَيَّ يوم الجمعة ثمانين مرة، غفرت له ذنوب ثمانين عاما.
۱. ديلمي، مسند الفردوس، ۲ : ۴۰۸، رقم : ۳۸۱۴
۲. مناوي، فيض القدير، ۴ : ۲۴۹
۳. ذهبي، ميزان الاعتدال في نقد الرجال، ۳ : ۱۰۹، رقم : ۳۴۹۵
۴. عسقلاني، لسان الميزان، ۲ : ۴۸۱، رقم : ۱۹۳۸
۵. عسقلاني، لسان الميزان، ۶ : ۲۳۰، رقم : ۸۲۲
۶. عجلوني، کشف الخفاء، ۱ : ۱۹۰
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ پر درود بھیجنا یہ پل صراط کا نور ہے جو شخص جمعہ کے دن مجھ پر اسّی (۸۰) مرتبہ درود بھیجتا ہے اس کے اسّی (۸۰) سال کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔‘‘
۱۶۷ (۱۱) عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : أکثروا الصلاة علي في الليلة الزهراء واليوم الْأزهر فإن صلاتکم تعرض علي.
۱. طبراني، المعجم الاوسط، ۱ : ۸۳، رقم : ۲۴۱
۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۲ : ۱۶۹، باب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يوم الجمعة
۳. عجلوني، کشف الخفاء، ۱ : ۱۸۹
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ پر روشن رات اور روشن دن یعنی جمعہ کی رات اور جمعہ کے دن درود بھیجا کرو بے شک تمہارا درود مجھے پیش کیا جاتاہے۔‘‘
۱۶۸ (۱۲) وعن عَلَيَّ بن أبي طالبٍ رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم من صلَّي عَلَيَّ يومَ الجمعة مائة مَرّة، جاء يوم القيامة و معه نورٌ لو قسم ذلک النورُ بين الخلق کُلِّهِمْ لَوَ سِعَهُمْ.
ابونعيم، حلية الاولياء، ۸ : ۴۷
’’حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص جمعہ کے دن مجھ پر سو (۱۰۰) مرتبہ درود بھیجتا ہے تو قیامت کے دن اس کے ساتھ ایک ایسا نور ہوگا کہ اگر اس نور کو تمام مخلوق میں تقسیم کر دیا جائے تو وہ ان سب کو کفایت کر جائے گا۔‘‘
فصل : ۲۴
فضل المُکثِرِين مِن الصَّلاة عَلٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم
( حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنے والوں کی فضیلت )
۱۶۹ (۱) عن عبداﷲ بن مسعود : أن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال أولي الناس بي يوم القيامة أکثرهم عَلَيَّ الصلاة.
۱. ترمذي، الجامع الصحيح، ۲ : ۳۵۴، ابواب الوتر، باب ماجاء في فضل الصلاةعلي النبي صلي الله عليه وآله وسلم رقم : ۴۸۴
۲. ابن حبان، الصحيح، ۳ : ۱۹۲، رقم : ۹۱۱
۳. ابو يعلي، المسند، ۸ : ۴۲۸، رقم : ۵۰۱۱
۴. بيهقي، شعب الايمان، ۲ : ۲۱۲، رقم : ۱۵۶۳
۵. هيثمي، موررد الظمان، ۱ : ۵۹۴. رقم : ۲۳۸۹
۶. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۷، رقم : ۵۲۷۵
۷. ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، ۳ : ۵۱۱
’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ میرے قریب وہ ہوگا جو (دنیا میں) مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجا کرتا تھا۔‘‘
۱۷۰ (۲) عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال : من سرّه أن يکتال له بالکميال الأوفي، إذا صلٰي علينا أهل البيت، فليقل : اللهم صل علٰي محمد النبي وأزواجه العالمين المؤمنين وذريته وأهل بيته کماصليت علٰي آل ابراهيم إنک حميد مجيد.
۱. ابوداؤد، السنن، ۱ : ۲۵۸، کتاب الصلاة، باب الصلاة عليٰ النبي صلي الله عليه وآله وسلم بعد التشهد، رقم : ۹۸۲
۲. بيهقي، السنن الکبريٰ، ۲ : ۱۵۱، رقم : ۲۶۸۲
۳. ديلمي، مسند الفردوس، ۳ : ۵۹۶، رقم : ۵۸۷۱
۴. عسقلاني، فتح الباري، ۱۱ : ۱۶۷
۵. مبارکفوري، تحفة الأحوذي، ۲ : ۴۹۵
۶. بخاري، التاريخ الکبير، ۳ : ۸۷
۷. مزي، تهذيب الکمال، ۱۹ : ۵۹
’’حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اس کا نامہ اعمال (اجروثواب کے) پیمانے سے پورا پورا ناپا جائے جب وہ ہم اہل بیت پر درود بھیجے تو اسے یوں کہنا چاہے اے اللہ تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیج اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات پر اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد اطہار اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اہل بیت پر جیسا کہ تونے درود بھیجا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی آل پر بے شک تو بہت زیادہ تعریف کیا ہوا اور بزرگی والا ہے۔‘‘
۱۷۱ (۳) عن حبان بن منقذ رضي الله عنه أن رجلاً قال يارسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم أجعل ثلث صلاتي عليک قال نعم إن شئت قال الثلثين قال نعم قال فصلاتي کلها قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم إذن يکفيک اﷲ ماأهمک من أمر دنياک وآخرتک.
۱. طبراني، المعجم الکبير، ۴ : ۳۵، رقم : ۳۵۷۴
۲. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۸، رقم : ۲۵۷۸
’’حضرت حبان بن منقذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا میں اپنی دعا کا تیسرا حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے خاص کر دوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں اگر تو چاہے (تو ایسا کرسکتا ہے) پھر اس نے عرض کیا دعا کا دو تہائی حصہ (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے خاص کر دوں) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں پھر اس نے عرض کیا ساری کی ساری دعا (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے خاص کر دوں) یہ سن کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر تواللہ تعالیٰ تیرے دنیا اور آخرت کے معاملات کے لئے کافی ہو گا۔‘‘
۱۷۲ (۴) عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال : إن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال : من صلي عَلَيََّّ صلاة کتب اﷲ له قيراطا والقيراط مثل أحد.
عبدالرزاق، المصنف، ۱ : ۵۱، رقم : ۱۵۳
’’حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے نامہ اعمال میں ایک قیراط کے برابر ثواب لکھ دیتا ہے اور قیراط احد پہاڑ کی مثل ہے۔‘‘
۱۷۳ (۵) عن أبي أمامة رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : أکثروا عَلَيَّ من الصلاة في کل يوم جمعة فإن صلاة أمتي تعرض عَلَيََّّ في کل يوم جمعة فمن کان أکثرهم عَلَيَّ صلَاة کان أقربهم مني منزلة.
۱. بيهقي، السنن الکبري، ۳ : ۲۴۹، رقم : ۵۷۹۰
۲. بيهقي، شعب الايمان، ۳ : ۱۱۰، رقم : ۳۰۳۲
۳. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۸، رقم : ۲۵۸۳
۴. ديلمي، مسند الفردوس، ۱ : ۸۱، رقم : ۲۵۰
’’حضرت ابو امامۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر جمعہ کے دن مجھ پر درود کی کثرت کیا کرو بیشک میری امت کا درود ہر جمعہ کو مجھ پر پیش کیا جاتا ہے پس ان میں سے جو سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجنے والا ہو گا وہ مقام و مرتبہ میں بھی ان سب سے زیادہ میرے قریب ہو گا۔‘‘
۱۷۴ (۶) عن أنس بن مالک رضي الله عنه خادم النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال : قال النبي صلي الله عليه وآله وسلم : إن أقربکم مني يوم القيامة في کل موطن أکثرکم عَلَيَّ صلاة في الدنيا، من صلي علي في يو م الجمعة وليلة الجمعة مائة مرة قضي اﷲ له مائة حاجة، سبعين من حوائج الآخرة، وثلاثين من حوائج الدنيا، ثم يوکل اﷲ بذلک ملکا يد خله في قبري کما يد خل عليکم الهدايا، يخبرني من صلي عَلَيَّ باسمه ونسبه إلٰي عشيرته فأثبته عندي في صحيفة بيضاء.
بيهقي، شعب الايمان، ۳، ۱۱۱، رقم : ۳۰۳۵
’’حضرت انس بن مالک خادم النبی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بے شک قیامت کے روز ہر مقام پر تم میں سے سب سے زیادہ میرے قریب وہ شخص ہو گا جو دنیا میں تم میں سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجنے والا ہو گا پس جو شخص جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات مجھ پر سو (۱۰۰) مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی سو حاجتیں پوری فرما دیتا ہے ستر حاجتیں آخرت کی حاجتوں سے اور تیس دنیا کی حاجتوں سے متعلق ہیں پھر اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک فرشتے کو مقرر فرما دیتا ہے جو اسے اس طرح میری قبر انور میں پیش کرتا ہے جس طرح تمہیں تحائف پیش کیے جاتے ہیں وہ فرشتہ مجھے اس شخص کا نام اور اس کے خاندا ن کا سلسلہ نسب بتاتا ہے پس میں یہ ساری معلومات اپنے پاس ایک سفید صحیفہ میں محفوظ کرلیتا ہوں۔‘‘
۱۷۵ (۷) عن أنس رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من صلي عَلَيََّّ في يوم ألف مرة لم يمت حتي يري مقعده من الجنة.
منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۸، رقم : ۲۵۷۹
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مجھ پر ایک دن میں ہزار مرتبہ درود بھیجتا ہے اسے اس وقت تک موت نہیں آئی گی جب تک وہ جنت میں اپنا ٹھکانہ نہ دیکھ لے۔‘‘
۱۷۶ (۸) عن عبداﷲ بن مسعود رضی الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم إن أولي الناس بي أکثرهم عَلَيَّ صلاة.
خطيب بغدادي، الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع، ۲ : ۱۰۳، رقم : ۱۳۰۴
’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے روز لوگوں میں سب سے زیادہ میرے قریب وہ شخص ہوگا جو مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجنے والا ہو گا۔‘‘
۱۷۷ (۹) عن أبي بکر الصديق موقوفاً قال : الصلاة عَلَيَّ النبي صلي الله عليه وآله وسلم امحق للخطايا من الماء للنار والسلام عليٰ النبي صلي الله عليه وآله وسلم أفضل من عتق الرقاب وحب رسول اﷲ أفضل من مهج الأنفس : أو قال : ضربِ السيف في سبيل اﷲ.
۱. هندي، کنزالعمال، ۲ : ۳۶۷، رقم : ۳۹۸۲، باب الصلاة عليه صلي الله عليه وآله وسلم
۲. خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، ۷ : ۱۶۱
’’حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے موقوفًا روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا پانی کے آگ کو بجھانے سے بھی زیادہ گناہوں کو مٹانے والا ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجنا غلاموں کوآزاد کرنے سے زیادہ بہتر ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت جانوں کی روحوں سے زیادہ افضل ہے یا اس طرح کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اللہ کی راہ میں جہاد سے زیادہ افضل ہے۔‘‘
فصل : ۲۵
تسليم الحجرو الشجر والجبل علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم
( پتھروں، درختوں اور پہاڑوں کا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجنا )
۱۷۸ (۱) عن جابر بن سمرة : قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : إني لأعرف حجرًا بمکة کان يسلم عَلَيَّ قبل أن أبعث إني لأعرفه الآن.
۱. مسلم، الصحيح، ۴ : ۱۷۸۲، کتاب الفضائل، باب فضل نسب النبي صلي الله عليه وآله وسلم و تسليم الحجر عليه صلي الله عليه وآله وسلم قبل النبوة، رقم : ۲۲۷۷
۲. احمد بن حنبل، المسند، ۵ : ۹۵
۳. دارمي، السنن، ۱ : ۲۴، رقم : ۲۰، باب ماکرم اﷲبه نبيه صلي الله عليه وآله وسلم
۴. ابن حبان، الصحيح، ۱۴ : ۴۰۲، رقم : ۶۴۸۲، باب المعجزات
۵. ابن ابي شيبه، المصنف، ۶ : ۳۱۳، رقم : ۳۱۷۰۵
۶. طبراني، المعجم الاوسط، ۲ : ۲۹۱، رقم : ۲۰۱۲
۷. طبراني، المعجم الکبير، ۲ : ۲۲۰، رقم : ۱۹۰۷
۸. طبراني، المعجم الصغير، ۱ : ۱۱۵، رقم : ۱۶۷
۹. ابونعيم، دلائل النبوة، ۱ : ۴۹، رقم : ۲۷
۱۰. أبو الفرج، صفوة الصفوة، ۱ : ۷۶
۱۱. أ صبهاني، العظمة، ۵ : ۱۷۱۰. ۱۷۱۱
۱۲. مبارکفوري، تحفة الأحوذي، ۱۰ : ۶۹
’’حضرت جابر بن سمرۃ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں مکہ کے اس پتھر کو جانتا ہوں جو میری بعثت سے پہلے مجھ پر سلام بھیجا کرتا تھا یقیناً میں اسے اب بھی پہچانتا ہوں۔‘‘
۱۷۹ (۲) عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه : قال کنت مع النبي صلي الله عليه وآله وسلم بمکة فخرجنا في بعض نواحيها فما استقبله جبل ولا شجر إلا و هو يقول ’’ السلام عليک يا رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ‘‘.
۱. ترمذي، الجامع الصحيح، ۵ : ۵۹۳، کتاب المناقب، باب في آيات اثبات نبوة النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۳۶۲۶
۲. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، ۲ : ۶۷۷، رقم : ۴۲۳۸
۳. دارمي، السنن، ۱ : ۲۵، رقم : ۲۱
۴. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۱۵۰، رقم : ۱۸۸۰
۵. مقدسي، الاحاديث المختار، ۲ : ۱۳۴، رقم : ۵۰۲
۶. مزي، تهذيب الکمال : ۱۴ : ۱۷۵، رقم : ۳۱۰۳
۷. أصبهاني، العظمة، ۵ : ۱۷۱۰
۸. جرجاني، تاريخ جرجان، ۱ : ۳۲۹
’’حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں مکہ میں تھا ہم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مکہ سے باہر تشریف لے گئے پس راستے میں آنے والا ہر درخت اور پہاڑ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پکار کر کہتا کہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلامتی ہو۔‘‘
۱۸۰ (۳) عن يعلٰي بن مرة الثقفي : هي شجرة إستأذنت ربها أن تسلم علي رسول اﷲ فأذن لها.
۱. احمد بن حنبل، المسند، ۴ : ۱۷۳
۲. عبد بن حميد، المسند، ۱ : ۱۵۴، رقم : ۴۰۵
۳. هيثمي، مجمع الزوائد، ۹ : ۶
’’حضرت یعلی بن مرۃ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ اس درخت نے اللہ تعالیٰ سے اجازت طلب کی تھی کہ وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام عرض کرے پس اسے اجازت مل گئی۔‘‘
۱۸۱ (۴) عن برة بنت أبي تجراة قالت : إن رسول اﷲ حين أراد اﷲ کرامته وابتداء ه بالنبوة کان إذا خرج لحاجته أبعد حتي لايري بيتًا ويفضي إلي الشعاب وبطون الأودية فلا يمر بحجرٍ ولا بشجرة إلا قالت ’’السلام عليک يارسول اﷲ‘‘ فکان يلتفت عن يمينه وشماله وخلفه فلا يري احداً.
۱. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، ۴ : ۷۹، رقم : ۶۹۴۲
۲. طبري، تاريخ الطبري، ۱ : ۵۲۹
۳. زهري، الطبقات الکبري، ۱ : ۱۵۷، ۸ : ۲۴۶
۴. أبو الفرج، صفوة الصفوة، ۱ : ۷۶
۵. فاکهي، أخبار مکة، ۵ : ۹۶، رقم : ۲۹۰۲
’’حضرت برۃ بنت ابو تجراۃ رضی اﷲ عنہا روایت کرتی ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بزرگی اور نبوت عطا کرنے کا ابتداء ً ارادہ فرمایا تو آپ قضائے حاجت کے لئے آبادی سے دور چلے جاتے گھاٹیاں اور کھلی وادیاں شروع ہو جاتیں تو آپ جس پتھر اور درخت کے پاس سے گزرتے وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام عرض کرتا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دائیں بائیں اور پیچھے دیکھتے مگر کوئی انسان نظر نہ آتا۔‘‘
فصل : ۲۶
الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم بعد إجابة المؤذن
( مؤذن کی اذان کے بعد جواباً حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا )
۱۸۲ (۱) عن عبداﷲ بن عمرو رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : إذا سمعتم المؤذن فقولوا مثل ما يقول ثم صلوا علي فإنه ليس من أحد يصلي علي واحدة إلا صلي اﷲ عليه بها عشرا، ثم سلوا اﷲ لي الوسيلة فإنها منزلة في الجنة، لا تنبغي إلا لعبد من عباداﷲل وأرجو أن أکون أنا هو فمن سألها لي حلت له شفاعتي.
۱. مسلم، الصحيح، ۱ : ۲۸۸، کتاب الصلاة، باب استحباب القول مثل قول المؤذنِلمن سمعه ثم يصلي علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم ثم يسأل اﷲ له صلي الله عليه وآله وسلم الوسيلة، رقم : ۳۸۴
۲. نسائي، السنن، ۲ : ۲۵، کتاب الأذان، باب الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم بعدالاذان، رقم : ۶۷۷
۳. ابن خزيمه، الصيح، ۱ : ۲۱۸، باب فضل الصلاة علي البني صلي الله عليه وآله وسلم بعد افطر سماع الاذن، رقم : ۴۱۸
۴. عبد بن حميد، المسند، ۱ : ۱۳۹، رقم : ۳۵۴
۵. ابو عوانه، المسند، ۱ : ۲۸۱، رقم : ۹۸۳
۶. ابو نعيم، المسند المستخرج، ۲ : ۷، رقم : ۸۴۲
۷. نسائي، عمل اليوم والليلة، ۱ : ۱۵۸، رقم : ۴۵، باب الترغيب في الصلاة علي البني صلي الله عليه وآله وسلم و مسالة الوسيلة له صلي الله عليه وآله وسلم بين الاذان و الأقامة
۸. طبراني، مسند الشاميين، ۱ : ۱۵۳، رقم : ۲۴۶
’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم مؤذن کو آذان دیتے ہوئے سنو تو اسی طرح کہو جس طرح وہ کہتا ہے پھر مجھ پر درود بھیجو پس جو بھی شخص مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے پھر اللہ تعالیٰ سے وسیلہ طلب کرو بے شک وسیلہ جنت میں ایک منزل ہے جو کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک کوملے گی اور مجھے امید ہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں گا پس جس نے اس وسیلہ کو میرے لئے طلب کیا اس کے لئے میری شفاعت واجب ہو جائے گی۔‘‘
۱۸۳ (۲) عن جابر رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم من قال حين ينادي المنادي أللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة النافعة صلِّ علي محمد وارض عني رضاء لا تسخط بعده إستجاب اﷲ له دعوته.
۱. احمد بن حنبل، المسند.۳ : ۳۳۷، رقم : ۱۴۶۵۹
۲. طبراني، المعجم الاوسط، ۱ : ۶۹، رقم : ۱۹۴
۳. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱ : ۳۳۲
۴. منذري، الترغيب والترهيب، ۱ : ۱۱۶، رقم : ۳۹۶
۵. عجلوني، کشف الخفاء، ۱ : ۴۸۴
۶. صنعاني، سبل السلام، ۱ : ۱۳۱
’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے اذان سنتے وقت یہ کہا اے میرے اللہ اے اس دعوت کامل اور نفع دینے والی نماز کے رب تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیج اور میرے ساتھ اس طرح راضی ہوجا کہ اس کے بعد تو (مجھ سے) ناراض نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس بندے کی دعا قبول فرما لیتا ہے۔‘‘
۱۸۴ (۳) عن عبداﷲ بن ضمرة السلولي قال : سمعت أبا الدرداء يقول : کان رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم إذا سمع النداء قال : أللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة صلِّ علي محمد عبدک و رسولک واجعلنا في شفاعته يوم القيامة، قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم من قال هذه عندالنداء جعله اﷲ في شفاعتي يوم القيامة.
طبراني، المعجم الاوسط، ۴ : ۷۹، رقم : ۳۶۶۲
’’حضرت عبداللہ بن ضمرۃ سلولی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اذان کی آواز سنتے تو یہ فرماتے اے میرے اللہ اے اس دعوت کامل اور کھڑی ہونے والی نماز کے رب تو اپنے بندے اور رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیج اور قیامت کے روز ہمیں ان کی شفاعت عطا فرما حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے اذان سننے کے وقت اس طرح کہا تو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اس کو میری شفاعت عطا کرے گا۔‘‘
۱۸۵ (۳) عن أبي الدرداء رضی الله عنه أن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم کان يقول إذا سمِعَ المُوذِن : ’’اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة صل علي محمد وأعطه سؤله يوم القيامة وکان يسمعها من حوله ويجب أن يقولوا مثل ذلک إذا سمعوا المؤذن قال : ومن قال ذلک إذا سمع المؤذن وجبت له شفاعة محمد صلي الله عليه وآله وسلم يوم القيامة.
۱. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱ : ۳۳۳
۲. منذري، الترغيب والترهيب، ۱ : ۱۱۶، رقم : ۳۹۸
’’حضرت ابو دردا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اذان سنتے تو یہ ارشاد فرمایا کرتے تھے اے میرے اللہ اے اس دعوت کامل اور کھڑی ہونے والی نماز کے رب تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیج اور قیامت کے روز انہیں ان کا اجر عطاء فرما اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ کلمات اونچی آواز میں کہتے تاکہ اپنے آس پاس بیٹھے ہوئے صحابہ کو سنا سکیں اور ان پر بھی واجب ہو کہ جب مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنیں تو اسی طرح کہیں جس طرح وہ کہتا ہے پھر راوی کہتے ہیں کہ جب کسی نے مؤذن کی اذان سن کر اس طرح کہا تو قیامت کے روز اس پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت واجب ہو جائے گی۔‘‘
۱۸۶ (۵) عن أنس بن مالک قال : إذا أذن المؤذن فقال الرجل اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة أعط محمداً سؤله يوم القيامةإلا نالته شفاعة محمد صلي الله عليه وآله وسلم يوم القيامة.
۱. قيسراني، تذکره الحفاظ، ۱ : ۳۶۹، رقم : ۳۶۳
۲. ذهبي، سير اعلام النبلاء، ۱۰ : ۱۱۳، برواية يروي بن مالک
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب کسی آدمی نے مؤذن کی اذان سن کر یہ کہا : اے میرے اللہ اے اس دعوت کامل اور کھڑی ہونے والی نماز کے رب تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قیامت کے روز ان کا اجر عطا فرما تو قیامت کے روز وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت کا حقدار ٹھہرے گا۔‘‘
فصل : ۲۷
الملک موکل بقبر النبي صلي الله عليه وآله وسلم يبلغه صلي الله عليه وآله وسلم باسم المصلي عليه صلي الله عليه وآله وسلم و أسم أبيه
( حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر انور پر مقرر فرشتہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھنے والے کا نام اور اس کے والد کا نام پہنچاتا ہے)
۱۸۷ (۱) عن عمار بن ياسر رضی الله عنه يقول : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : إن اﷲ وکل بقبري ملکا أعطاه أسماع الخلائق، فلا يصلي عَلَيَّ أحد إلي يوم القيامة، إلابلغني باسمه واسم أبيه هذا فلان بن فلان قد صلي عليک.
۱. بزار، المسند، ۴ : ۲۵۵، رقم : ۱۴۲۵
۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱۰ : ۱۶۲
۳. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۶، رقم : ۲۵۷۴
۴. اصبهاني، العظمة، ۲ : ۷۶۳
’’حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے میری قبر میں ایک فرشتہ مقرر کیا ہوا ہے جس کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمام مخلوقات کی آوازوں کو سننے (اور سمجھنے) کی قوت عطاء فرمائی ہے پس قیامت کے دن تک جو بھی مجھ پر درود پڑھے گا وہ فرشتہ اس درود پڑھنے والے کا نام اور اس کے والد کا نام مجھے پہنچائے گا اور کہے گا یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فلاں بن فلاں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا ہے۔‘‘
۱۸۸ (۲) عن يزيد الرقاشي قال : إن ملکا موکل بمن صلي علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم أن يبلغ عنه النبي صلي الله عليه وآله وسلم أن فلانا من أمتک صلي عليک.
۱. ابن ابي شيبه، المصنف، ۲ : ۲۵۳، رقم : ۸۶۹۹
۲. ا بن ابي شيبه، المصنف، ۶ : ۳۲۶، رقم : ۳۱۷۹۲
۳. سخاوي، القول البديع، ۲۳۵
’’حضرت یزید الرقاشی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ بے شک ایک فرشتہ کو اس بات کے لئے مقرر کیا جاتا ہے کہ جس کسی نے بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچائے اور یہ کہے کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں سے فلاں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا ہے۔‘‘
۱۸۹ (۳) عن عمار بن ياسر رضی الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم إن ﷲ ملکا أعطاه أسماع الخلائق کلها وهو قائم علي قبري إذا مت فليس أحد من أمتي يصلي عَلَيَّ صلاة إلا اسماه بإسمه واسم أبيه قال : يا محمد صلي عليک فلان فيصلي الرب علي ذلک الرجل بکل واحدةعشرا.
۱. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱۰ : ۱۶۲
۲. منذري، الترغيب اولترهيب، ۲ : ۳۲۶، رقم : ۲۵۸۴
۳. مناوي، فيض القدير، ۲ : ۴۸۳
۴. اصبهاني، العظمة، ۲ : ۷۶۳
۵. مبارکفوري، تحفة الأحوذي، ۲ : ۴۹۷
’’حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کا ایک فرشتہ ہے جس کو اس نے تمام مخلوقات کی آوازں کو سننے (اور سمجھنے) کی قوت عطاء فرمائی ہے اور جب سے میں اس دنیا سے رخصت ہوا ہوں وہ میری قبر پر کھڑا ہے پس جب کوئی بھی میری امت میں سے مجھ پر درود بھیجتا ہے وہ اس کا اور اس کے باپ کا نام لیتا ہے اور کہتا ہے اے محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فلاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے پھر اللہ تعالیٰ ہر درود کے بدلہ اس پر دس مرتبہ درود (بصورتِ رحمت) بھیجتا۔‘‘
۱۹۰ (۴) و رواه أبو علي الحسين بن نصير الطوسي في أحکامه و البزار في مسنده بلفظ أن اﷲ وکل بقبري ملکا أعطاه اﷲ أسماع الخلائق فلا يصلي عَلَيَّ أحد إلي يوم القيامة إلا أبلغني بإسمه واسم أبيه هذا فلان بن فلان قد صلي عليک.
۱. بزار، المسند، ۴ : ۲۵۵، رقم : ۱۴۲۵
۲. منذري الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۶، رقم : ۲۵۷۴
۳. سيوطي، شرح السيوطي، ۴ : ۱۱۰
’’اسی حدیث کو ابو علی حسین بن نصیر الطوسی نے اپنی کتاب الاحکام اور بزار نے اپنی مسند میں ان الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ نے میری قبر میں ایک فرشہ کو مقرر کیا ہے جس کو تمام مخلوقات کی آوازوں کو سننے کی قوت عطاء کی ہے پس قیامت تک جو کوئی بھی مجھ پر درود بھیجے گا وہ مجھے اس کا اور اس کے باپ کا نام پہنچا دے گا اور مجھے کہے گا یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فلاں بن فلاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے۔‘‘
۱۹۱ (۵) عن أبي أمامة قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من صلي عَلَيَّ صلي اﷲ عليه وسلم عشرًا بها، ملک موکل بها حتي يبلغنيها.
۱. طبراني، المعجم الکبير، ۸ : ۱۳۴، رقم : ۸۶۱۱
۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱۰ : ۱۶۲
۳. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۶، رقم : ۲۵۶۹
’’حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص مجھ پر درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ درود (بصورت رحمت) بھیجتا ہے اور سلامتی نازل فرماتا ہے اور ایک فرشتہ (اس کام کے لئے) مقرر ہے کہ وہ درود مجھے پہنچائے۔‘‘
فصل : ۲۸
من صلي عَلَيَّ حقت عليه شفاعتي يوم القيامة
( جس نے مجھ پر درود بھیجا قیامت کے روز میری شفاعت اس کے لئے واجب ہو جائے گی)
۱۹۲ (۱) عن رويفع بن ثابت الأنصاري رضي الله عنه أن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال : من صلي علي محمد، وقال أللهم أنزله المقعد المقرب عندک يوم القيامة، وجبت له شفاعتي.
۱. احمد بن حنبل، المسند، ۴ : ۱۰۸، حديث رويفع بن ثابت انصاري
۲. بزار المسند، ۶ : ۲۹۹، رقم : ۲۳۱۵
۳. طبراني، المعجم الاوسط، ۳ : ۳۲۱، رقم : ۳۲۸۵
۴. طبراني، المعجم الکبير، ۵ : ۲۵، رقم : ۴۴۸۰
۵. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱۰ : ۱۶۳
۶. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۹، رقم : ۲۵۸۷
۷. ابن ابو عاصم، السنة ۲ : ۳۲۹، رقم : ۲۵۸۷
۸. ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، ۳ : ۵۱۴
۹. اسماعيل قاضي، فضل الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم ۱ : ۵۲
’’حضرت رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ اے میرے اللہ! حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قیامت کے روز اپنے نزدیک مقام قرب پر فائز فرما اس کے لئے میری شفاعت واجب ہو جاتی ہے۔‘‘
۱۹۳ (۲) عن أبي الدرداء قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من صلي عَلَيَّ حين يصبح عشراً وحين يمسي عشرا أدرکته شفاعتي يوم القيامة.
۱. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱۰ : ۱۲۰
۲. منذري، الترغيب والترهيب، ۱ : ۲۶۱، رقم : ۹۸۷
۳. مناوي، فيض القدير، ۶ : ۱۶۹
’’حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو شخص مجھ پر صبح و شام دس دس مرتبہ درود بھیجتا ہے قیامت کے روز اس کو میری شفاعت میسر ہوگی۔‘‘
۱۹۴ (۳) عن عبداﷲ بن عمرو رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم من صلي عَلَي أو سأل لي الوسيلة حقت عليه شفاعتي يوم القيامة.
۱. اسماعيل قاضي، فضل الصلاة علي النبي، ۱ : ۵۱
۲. ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، ۳ : ۵۱۴
’’حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو مجھ پر درود بھیجتا ہے یا میرے لئے (اللہ سے) وسیلہ مانگتا ہے قیامت کے دن اس کے لئے میری شفاعت واجب ہو جاتی ہے۔‘‘
۱۹۵ (۴) عن أبي هريرة قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم من صل عَلَيَّ عند قبري وکل بهما ملک يبلغني وکفي بهما أمر دنياه وآخرته وکنت له کلاهما أوشفيعاً.
بيهقي، شعب الايمان، ۲ : ۲۱۸ : رقم : ۱۵۸۳
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میری قبر کے نزدیک مجھ پر درود بھیجتا ہے تو ان دونوں کے ساتھ ایک فرشتہ کو مقرر کیا جاتا ہے جو مجھے اس کا درود پہنچاتا ہے اور یہ درود اس کے دنیا و آخرت کے معاملات کو کفایت کر جاتا ہے پس میں اس کے لئے (قیامت کے دن) گواہ اور شفیع ہوں گا۔‘‘
۱۹۶ (۵) عن أبي هريرة رضي الله عنه رفعه من قال : اللهم صل علي محمد وعلي آل محمد کما صليت علي أبراهيم وعلي آل إبراهيم وبارک علي محمد وعلي آل محمد کما بارکت علي إبراهيم وعلي آل ابراهيم و ترحم علي محمد وعلي آل محمد کماترحمت علي إبراهيم وعلي آل إبراهيم شهدت له يوم القيامة بالشهادة وشفعت له.
۱. بخاري، الأدب المفرد، ۱ : ۲۲۳، رقم : ۶۴۱
۲. بيهقي، شعب الأيمان، ۲ : ۲۲۳، ۲۲۲، رقم : ۱۵۸۸
۳. عسقلاني، تلخيص الحبير، ۱ : ۲۷۴، رقم : ۴۲۸
۴. عسقلاني، فتح الباري، ۱۱ : ۱۵۹
۵. حاکم، معرفة علوم الحديث، ۱ : ۳۳
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت ہے کہ جو شخص یہ کہتا ہے اے میرے اللہ تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر درود بھیج جس طرح کہ تونے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کی آل پر درود بھیجا اور تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کی آل کو برکت عطاء فرما جس طرح تونے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کی آل کو برکت عطا فرمائی اور تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر رحم فرما جس طرح تونے ابراہیم علیہ السلام اور آپ کی آل پر رحم فرمایا تو قیامت کے روز میں اس کی گواہی دوں گا اور اس کی شفاعت کروں گا۔‘‘
فصل : ۲۹
الملائکة يبلغونه صلي الله عليه وآله وسلم عن أمته صلي الله عليه وآله وسلم السلام
( فرشتے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کا سلام پہنچاتے ہیں)
۱۹۷ (۱) عن عبد اﷲ عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال : إن ﷲ في الأرض ملائکة سياحين يبلغوني من أمتي السلام.
۱. احمدبن حنبل، المسند، ۱ :. ۴۴۱، رقم : ۴۲۱۰
۲. احمدبن حنبل، المسند، ۱ : ۴۵۲، رقم : ۴۳۲۰
۳. نسائي، السنن الکبري، ۱ : ۳۸۰. رقم : ۱۲۰۵
۴. نسائي، السنن الکبري، ۶ : ۲۲، رقم : ۹۸۹۴
۵. دارمي، السنن، ۲ : ۴۰۹، کتاب الرقان، باب فضل الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۲۷۷۴
۶. ابن حبان، الصحيح، ۳ : ۱۹۵، رقم : ۹۱۴
۷. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، ۲ : ۴۵۶، رقم : ۳۵۷۶
۸. عبدالرزاق، المصنف، ۲ : ۲۱۵، رقم : ۳۱۱۶
۹. ابن ابي شيبة، المصنف، ۲ : ۲۵۳، رقم : ۸۷۰۵
۱۰. ابو يعلي، المسند، ۹ : ۱۳۷، رقم : ۵۲۱۳
۱۱. بزار، المسند، ۵، ۳۰۷، رقم : ۱۹۲۴
۱۲. طبراني، المعجم الکبير، ۱۰ : ۲۱۹، رقم : ۱۰۵۲۸
۱۳. هيثمي، موارد الظمان، ۱ : ۵۹۴، رقم : ۲۳۹۲
۱۴. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۶، رقم : ۲۵۷۰
’’حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ اس زمین پر اللہ تعالیٰ کے بعض گشت کرنے والے فرشتے ہیں جو مجھے میری امت کا سلام پہنچاتے ہیں۔‘‘
۱۹۸ (۲) عن يزيد الرقاشي أن ملکا موکل بمن صلي علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم أن يبلغ عنه النبي صلي الله عليه وآله وسلم أن فلانا من أمتک صلي عليک.
۱. ابن ابي شيبه، المصنف، ۲ : ۲۵۳، رقم : ۸۶۹۹
۲. ابن ابي شيبه، المصنف، ۶ : ۳۲۶، رقم : ۳۱۷۹۲
’’حضرت یزید الرقاشی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک ایک فرشتہ کو ہر اس بندے کا وکیل بنایا جاتا ہے جو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے کہ وہ اس بندے کی طرف سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ درود پہنچائے (اور کہتا ہے کہ) یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے فلاں بندہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا ہے۔‘‘
۱۹۹ (۳) عن أبي أمامة رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من صلي عَلَيَّ صلي اﷲ عليه عشرابها ملک موکل بها حتي يبلغنيها.
۱. طبراني، المعجم الکبير، ۸ : ۱۳۴، رقم. : ۸۶۱۱
۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱۰ : ۱۶۲
۳. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۶، رقم : ۲۵۶۹
’’حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ اس پر دس مرتبہ درود (بصورت رحمت) بھیجتا ہے اور ایک فرشتے کے ذمہ یہ کام لگا دیا گیا ہے کہ وہ اس درود کو مجھے پہنچائے۔‘‘
۲۰۰ (۴) عن أنس رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال : إن ﷲ سيارة من الملائکة يطلبون حلق الذکر فإذا أتوا عليهم حفوا بهم ثم بعثوا رائدهم إلٰي السماء إلي رب العزة تبارک تعالي فيقولون ربنا أتينا علٰي عباد من عبادک يعظمون آلاء ک ويتلون کتابک ويصلون علٰي نبيک محمد صلي الله عليه وآله وسلم ويسألونک لأخرتهم ودنياهم فيقول اﷲ تبارک وتعالي غشوهم رحمتي فيقولون يارب إن فيهم فلانا الخطاء إنما أعتنقهم إعتناقا فيقول تبارک وتعالٰي غشوهم رحمتيفهم الجلساء لا يشقي بهم جليسهم.
۱. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱۰ : ۷۷
۲. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۲۶۰، رقم : ۲۳۲۲
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ فرشتوں کا ایک گروہ زمین میں گھومتا رہتا ہے اور وہ ذکر کے حلقوں کی تلاش میں رہتا ہے اور جب ان کو ایسا حلقہ ذکر ملتا ہے تو اس کو وہ اپنے پروں سے ڈھانپ لیتے ہیں (اور اس میں شامل ہو جاتے ہیں) پھر ان کا گروہ آسمان کی طرف اللہ رب العزت کی بارگاہ میں آتا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم تیرے ان بندوں کی مجلس سے اٹھ کر آرہے ہیں جو تیری نعمتوں کی تعظیم کررہے تھے اور تیری کتاب قرآن پاک کی تلاوت کررہے تھے اور تیرے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیج رہے تھے اور وہ تجھ سے اپنی آخرت اور دنیا دونوں کی بہتری کا سوال کررہے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’ان کو میری رحمت سے ڈھانپ دو۔‘‘ فرشتے کہتے ہیں اے رب ان میں فلاں شخص بڑا گناہگار تھا (اور وہ ان کے ساتھ ایسے ہی مل گیا تھا) اللہ تبارک تعالیٰ فرماتا ہے انہیں میری رحمت سے ڈھانپ دو پس وہ ایسے ہم نشیں ہیں کہ ان کے ساتھ بیٹھنے والا بدبخت نہیں ہو سکتا۔‘‘
فصل : ۳۰
إنّ صلاتکم عَلَيَّ زکاة لکُم
( بے شک تمہارا مجھ پر درود بھیجنا تمہاری زکوٰۃ ہے )
۲۰۱ (۱) عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : صلوا علي، فإن صلاة عليَّ زکاة لکم، و أسألوا اﷲ لِي الوسيلة قالوا وما الوسيلة يارسول اﷲ : قال صلي الله عليه وآله وسلم أعلٰي درجة في الجنة، و لا ينالها إلَّا رجلٌ واحد، و أرجو أن أکون أنا هو.
۱. ابن ابي شيبه، المصنف، ۶ : ۳۲۵، رقم : ۳۱۷۸۴
۲. ابو يعلي، المسند، ۱۱ : ۲۹۸، رقم : ۶۴۱۴
۳. ابن راهويه، المسند، ۱ : ۳۱۵، رقم : ۲۹۷
۴. حارث، المسند، ۲ : ۹۶۲، رقم : ۱۰۶۲
۵. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱ : ۳۳۲
۶. ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، ۳ : ۵۱۴
’’حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھ پر درود بھیجا کرو بے شک تمہارا مجھ پر درود بھیجنا یہ تمہاری زکوٰۃ ہے اور اﷲ تعالیٰ سے میرے لئے وسیلہ طلب کرو پس صحابہ کرام رضوان اﷲ علیہم اجمعین نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا کہ یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ وسیلہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک وسیلہ جنت میں ایک اعلی درجے کا نام ہے اور اس کو صرف ایک آدمی حاصل کر پائے گا اور میں امید کرتا ہوں کہ وہ آدمی میں ہی ہوں گا۔‘‘
۲۰۲ (۲) عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم صلوا عَلَيَّ، فإن الصلاة عَلَيًّ زکاة لکم.
۱. ابن ابي شيبة، المصنف، ۲ : ۲۵۳، رقم : ۸۷۰۴
۲. مناوي، فيض القدير، ۴ : ۲۰۴
۳. حارث، بغية الباحث، ۲ : ۹۶۲، رقم : ۱۰۶۲
’’حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھ پر درود بھیجا کرو بے شک تمہارا مجھ پر درودبھیجنا تمہارے لیے زکوٰۃ ہے۔‘‘
۲۰۳ (۳) عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه عن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال : أيما رَجُل مُسْلِم لم يکُنْ عنده صَدَقَة فليقُلْ في دعائه : اللهُمَّ صلّ علي محمد عبدک و رسولِکَ و صل علي المؤمنين و المؤمناتِ و المسْلمين و المُسْلمات فإنَّها زَکاة.
۱. ابن حبان، الصحيح، ۳ : ۱۴۸، باب الأدعية، رقم : ۹۰۳
۲. هيثمي، موارد الظمان، ۱ : ۵۹۳، رقم : ۲۳۸۵
۳. بخاري، الادب المفرد، ۱ : ۲۲۳، رقم : ۶۴۰
۴. بيهقي، شعب الايمان، ۲ : ۸۶، رقم : ۱۲۳۱
۵. ديلمي، مسند الفردوس، ۱ : ۳۴۹، رقم : ۱۳۹۵
۶. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۸، رقم : ۲۵۸۱
’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس کسی مسلمان کے پاس صدقہ نہ ہو تو وہ اپنی دعا میں یہ کہے اے میرے اﷲ تو اپنے بندے اور رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیج اور مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں اور مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں پر درود بھیج پس اس کا یہ درود اس کی زکوٰۃ ہوگی۔‘‘
۲۰۴ (۴) عن أبي هريرة قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : أکثروا الصلاة عَلَيَّ فإنها زکاة لکم.
هيثمي، مجمع الزوائد، ۲ : ۱۴۴
’’حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھ پر کثرت سے درود بھیجو بے شک یہ درود تمہاری زکوٰۃ ہے۔‘‘
فصل : ۳۱
الصلاة و السلام علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم عند دخول المسجد و خروجه
(مسجد میں داخل اور اس سے خارج ہوتے وقت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجنا)
۲۰۵ (۱) عن أبي حميد السَّاعدي رضي الله عنه قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : إذا دخل أحدکم المسجد فليسلم علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم ثم ليقل : أللهم افتح لي أبواب رحمتک و إذا خرج فليقل : اللهم إني أسألک من فضلک.
۱. ابو داؤد، السنن، ۱ : ۱۲۶، کتاب الصلاة، باب فيما يقوله الرجل عند دخول المسجد، رقم : ۴۶۵
۲. ابن ماجه، السنن، ۱ : ۲۵۴، کتاب المساجد و الجماعات، باب الدعا عند دخول المسجد، رقم : ۷۷۲
۳. دارمي، السنن، ۱ : ۳۷۷، رقم : ۱۳۹۴
۴. ابن حبان، الصحيح، ۵ : ۳۹۷، رقم : ۲۰۴۸
۵. بيهقي، السنن الکبري، ۲ : ۴۴۱، رقم : ۴۱۱۵
۶. ابو عوانه، المسند، ۱ : ۳۴۵، رقم : ۱۲۳۴
۷. هيثمي، موارد الظمان، ۱ : ۱۰۱، رقم : ۳۲۱
۸. مبارکفوري، تحفة الاحوذي، ۲ : ۲۱۵
’’حضرت ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجے پھر کہے اے اللہ میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے اور جب مسجد سے باہر نکلے تو کہے اے اﷲ میں تجھ سے تیرا فضل مانگتا ہوں۔‘‘
۲۰۶ (۲) عن فاطمة بنت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قالت : کان رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم إذا دخل المسجد يقول : بسم اﷲ و السلام علي رسول اﷲ اللهم اغفرلي ذنوبي و افتح لي أبواب رحمتک و اذا خرج قال : بسم اﷲ و السلام علي رسول اﷲ اللهم إغفرلي ذنوبي و افتح لي ابواب فضلک.
۱. ابن ماجه، السنن، ۱ : ۲۵۳، کتاب المساجد والجماعات، باب الدعا عند دخول المسجد، رقم : ۷۷۱
۲. ابن ابي شيبه، المصنف، ۱ : ۲۹۸، رقم : ۳۴۱۲
۳. ابو يعلي، المسند، ۱۲ : ۱۲۱، رقم : ۶۷۵۴
۴. ابن راهويه، المسند، ۱ : ۵، رقم : ۵
۵. مبارکفوري، تحفة الاحوذي، ۲ : ۲۱۵
۶. خضيري، الشمائل الشريفة، ۱ : ۱۳۷، رقم : ۲۰۱
’’حضرت فاطمہ بنت رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت ہے کہ جب بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں داخل ہوتے تو فرماتے اﷲ کے نام اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام کے ساتھ اے اﷲ میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے اور جب مسجد سے باہر تشریف لاتے تو فرماتے اﷲ کے نام کے ساتھ اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام کے ساتھ اے اﷲ میرے گناہوں کو معاف فرما اور میرے لئے اپنے فضل کے دروازے کھول دے۔‘‘
۲۰۷ (۳) عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم إذا دخل أحدکم المسجد فليسلم علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم وليقل أللهم افتح لي أبواب رحمتک و إذا خرج فليسلم علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم و ليقل أللهم اعصمني من الشيطان الرجيم.
۱. ابن ماجه، ۱ : ۲۵۴، السنن، کتاب المساجد والجماعات، باب الدعاء عند دخول المسجد، رقم : ۷۷۳
۲. کناني، مصباح الزجاجه، ۱ : ۹۷، رقم : ۲۹۳
۳. مبارکفوري، تحفة الاحوذي، ۲ : ۲۱۵
۴. قرطبي، الجامع لأحکام القرآن، ۱۲ : ۲۷۳
۵. ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، ۳ : ۲۹۵
’’حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو اسے چاہئے کہ وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجے اور یہ کہے اے اﷲ میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔ اور جب باہر نکلے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجے اور کہے اے میرے اﷲ مجھے شیطان مردود سے بچا۔‘‘
۲۰۸ (۴) عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال : إذا دخل أحدکم المسجد فليسلم علي النبي و ليقل أللهم افتح لي أبواب رحمتک و إذا خرج فليسلم علي النبي و ليقل أللهم باعدني من الشيطان.
۱. نسائي، السنن الکبري، ۶ : ۲۷، رقم : ۹۹۱۸
۲. ابن حبان، الصحيح، ۵ : ۳۹۶، رقم : ۲۰۷۴
۳. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، ۱ : ۳۲۵، رقم : ۷۴۷
۴. ابن خزيمه، الصحيح، ۱ : ۲۳۱، باب السلام علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۴۵۲
۵. ابن خزيمه، الصحيح، ۴ : ۲۱۰، باب السلام علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم
۶. هيثمي، موارد الظمان، ۱ : ۱۰۱، باب ما يقول اذا دخل المسجد، رقم : ۳۲۱
۷. کناني، مصباح الزجاجه، ۱ : ۹۷
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو مجھ پر سلام بھیجے اور یہ کہے اے میرے اللہ میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے اور جب مسجد سے خارج ہو تو مجھ پر سلام بھیجے اور یہ کہے اے اللہ مجھے شیطان مردود سے بچا۔‘‘
۲۰۹ (۵) عن فاطمة رضي اﷲ عنها بنت رسول اﷲ قالت : کان رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم إذا دخل المسجد صلي علي محمد ثم قال : اللهم اغفرلي ذنوبي، وافتح لي أبواب رحمتک و إذا خرج صلي علي محمد ثم قال : أللهم اغفرلي ذنوبي و افتح لي أبواب فضلک.
احمد بن حنبل، المسند، ۶ : ۲۸۲، رقم : ۲۶۴۵۹
’’حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو فرماتے اے اﷲ تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر درود بھیج پھر فرماتے اے اﷲ میرے گناہ معاف فرما اور میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے اور جب مسجد سے باہر تشریف لاتے تو فرماتے اے اﷲ تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیج پھر فرماتے اے اﷲ میرے گناہ بخش دے اور میرے لئے اپنے فضل کے دروازے کھول دے۔‘‘
فصل : ۳۲
من صلي علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم صلي اﷲ عليه ومن سلم عليه صلي الله عليه وآله وسلم سلم اﷲ عليه
(جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر درود بھیجتا ہے اور جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجتا ہے اللہ اس پر سلام بھیجتا ہے)
۲۱۰ (۱) عن عبدالرحمٰن بن عوف رضي اﷲ عنه قال : خرج رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم فاتبعته حتٰي دخل نخلا فسجد فأطال السجود حتٰي خفت أوخشيت أن يکون اﷲ قد توفاه أو قبضه قال فجئت أنظر فرفع رأسه فقال مالک يا عبدالرحمٰن قال فذکرت ذلک له فقال إن جبريل عليه السلام قال لي : ألا أبشرک أن اﷲل يقول لک من صلٰي عليک صليت عليه ومن سلم عليک سلمت عليه.
۱. احمد بن حنبل، المسند، ۱ : ۱۹۱، رقم : ۱۶۶۲
۲. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، ۱ : ۳۴۴، رقم : ۸۱۰
۳. بيهقي، السنن الکبريٰ، ۲ : ۳۷۰، رقم : ۳۷۵۲
۴. هيثمي، مجمع الزوائد، ۲ : ۲۸۷
۵. مقدسي، الاحاديث المختاره، ۳ : ۱۲۶، رقم : ۹۲۶
۶. منذري، الترغيب والترهيب، رقم : ۲۵۶۱
۷. مروزي، تعظيم قدر الصلاة، ۱ :. ۲۴۹، رقم : ۲۳۶
۸. صنعاني، سبل السلام، ۱ : ۲۱۱
’’حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لے گئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے پیچھے چل دیا یہاں تک کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھجوروں کے ایک باغ میں داخل ہو گئے پھر وہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لمبا سجدہ کیا اتنا لمبا کہ میں ڈر گیا کہ اللہ تعالیٰ نے کہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح قبض نہ کرلی ہو آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھنے کے لئے آگے بڑھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا سر انور اٹھایا اور فرمایا اے عبدالرحمٰن تیرا کیا معاملہ ہے؟ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سارا ماجرا بیان کر دیا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جبریل علیہ السلام نے مجھے کہا کیا میں آپ کو خوش خبری نہ دوں کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے میں اس پر درود (بصورت رحمت) بھیجتا ہوں اور جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجتا ہے میں اس پر سلامتی بھیجتا ہوں۔‘‘
۲۱۱ (۲) عن عبدالرحمٰن بن عوف، أن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال : إني لقيت جبرائيل عليه السلام فبشرني و قال : إن ربک يقول : من صلي عليک صليت عليه، و من سلم عليک سلمت عليه، فسجدت ﷲ عزَّوجلّ شکرًا.
۱. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، ۱ : ۷۳۵، رقم : ۲۰۱۹
۲. عبد بن حميد، المسند، ۱ : ۸۲، رقم : ۱۵۷
۳. بيهقي، السنن الکبري، ۲ : ۳۷۱، رقم : ۳۷۵۳
۴. هيثمي، مجمع الزوائد، ۲ : ۲۸۷، باب سجود الشکر
۵. منذري، الترغيب و الترهيب، ۲ : ۳۴۳، رقم : ۵۲۶۱
۶. مقدسي، الاحاديث المختارة، ۳ : ۱۲۶، رقم : ۹۲۶
۷. شافعي، الام، ۲ : ۲۴۰
۸. مروزي، تعظيم قدر الصلاة، ۱ : ۲۴۹، ۲۳۶
’’حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بے شک میں جبرئیل علیہ السلام سے ملا تو اس نے مجھے یہ خوشخبری دی کہ بے شک آپ کا رب فرماتا ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجتا ہے میں بھی اس پر درود و سلام بھیجتا ہوں پس اس بات پر میں اﷲ کے حضور سجدہ شکر بجا لایا۔‘‘
۲۱۲ (۳) عن ابن عمر و أبي هريرة رضي الله عنه قالا : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم صلُّوا عَلَيَّ صَلَّي اﷲُ عليکم.
مناوي، فيض القدير، ۴ : ۲۰۴
’’حضرت ابن عمر اور حضرت ابوہریرۃ رضی اﷲ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھ پر درود بھیجا کرو اﷲ تبارک و تعالیٰ تم پر درود (بصورتِ رحمت) بھیجے گا۔‘‘
۲۱۳ (۴) عن عبداﷲ بن عمرو بن العاص رضي الله عنهم قال مَنْ صَلَّي علي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم صلاة صلي اﷲ عليه وسلم و ملائکته سبعين صلاة، فَلْيقلَّ عبد من ذلک أولِيُکْثر.
۱. احمد بن حنبل، المسند، ۲ : ۱۷۲، رقم : ۶۶۰۵
۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱۰ : ۱۶۰
۳. منذري، الترغيب و الترهيب، ۲ : ۳۲۵، رقم : ۲۵۶۶
۴. عجلوني، کشف الخفاء، ۲ : ۳۳۷، رقم : ۲۵۱۷
۵. ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، ۳ : ۵۱۲
’’حضرت عبداﷲ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنھم روایت کرتے ہیں کہ جو شخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اﷲ تبارک و تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس پر ستر مرتبہ درود بھیجتے ہیں پس اب بندہ کو اختیار ہے چاہے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کم درود بھیجے یا زیادہ۔‘‘
۲۱۴ (۵) عن عبدالرحمٰن بن عوف رضي الله عنه أن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم خرج عليهم يوما وفي وجهه البشر فقال : إن جبريل جاء ني فقال ألا أبشرک يا محمد صلي الله عليه وآله وسلم بما أعطاک اﷲ من أمتک و ما أعطا أمتک منک من صلي عليک منهم صلاة صلي اﷲ عليه و من سلم عليک سلم اﷲ عليه.
مقدسي، الاحاديث المختاره، ۳ : ۱۲۹، رقم : ۹۳۲
’’حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور پر خوشی کے آثار نمایاں تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بے شک جبرئیل امین نے میری خدمت میں حاضرہوئے اور کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا میں آپ علیہ الصلاۃ و السلام کو اس چیز کے بارے میں خوشخبری نہ سناؤں جو اﷲ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کی طرف سے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے عطاء کی ہے اور وہ یہ کہ ان میں سے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے اﷲ تعالیٰ اس پر درود بھیجتا ہے اور ان میں سے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجتا ہے اﷲ اس پر سلام بھیجتا ہے۔‘‘
۲۱۵ (۶) عن أبي طلحة : قال دخلت علٰي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم فرأيت من بشره وطلاقته شيئا لم أره علٰي مثل تلک الحال قط فقلت يارسول اﷲ ما رأيتک علٰي مثل هذه الحال قط فقال وما يمنعي يا أباطلحه وقد خرج من عندي جبريل عليه السلام أنفأ فأ تاني ببشارة من ربي قال إن اﷲ عزوجل بعثني إليک أبشرُک أنَّه ليس أحَد من أمتک يصلي عليک صلاة إلا صلي اﷲ و ملائکته عليه بها عشرًا.
۱. طبراني، المعجم الکبير، ۵ : ۱۰۰، رقم : ۴۷۱۹
’’حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضرا ہوا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور کو کھلا ہوا اور اس طرح مسکراتا ہوا پایا کہ اس سے پہلے اس طرح بھی نہیں دیکھا تھا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے پہلے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں نہیں دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اے ابو طلحہ بات یہ ہے کہ ابھی ابھی جبرئیل امین میرے پاس سے گئے ہیں اور وہ میرے رب کی طرف سے میرے لئے بشارت لے کر حاضر ہوئے تھے اور کہا کہ اﷲ تبارک و تعالیٰ نے مجھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجا ہے تاکہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خوشخبری سنا سکوں اور وہ یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں سے جو شخص بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اﷲ سبحانہ و تعالیٰ اور اس کے فرشتے اس پر دس مرتبہ درود (بصورتِ رحمت و دعا) بھیجتے ہیں۔‘‘
فصل : ۳۳
من ذکرت عنده فليصل علي
(جس شخص کے پاس میرا ذکر کیا جائے اسے (سن کر) چاہیے کہ مجھ پر درود بھیجے )
۲۱۶ (۱) عن أنس بن مالک أن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال : من ذکرت عنده فليصل عَلَيَّ ومن صلي عَلَيَّ مرة واحدة صلي اﷲ عليه عشرًا.
۱. نسائي، السنن الکبريٰ، ۶ : ۲۱، رقم : ۹۸۸۹
۲. ابويعلي، المسند، ۷ : ۷۵، رقم : ۴۰۰۲
۳. ابو یعلی، المعجم، ۱ : ۲۰۳، رقم : ۲۴۰
۴. طبرانی، المعجم الاوسط، ۵ : ۱۶۲، رقم : ۴۹۴۸
۵. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱ : ۱۳۷، باب کتابة الصلاةعلي النبي صلي الله عليه وآله وسلم لمن ذکره اوذکرعنده
۶. طيالسي، المسند، ۱ : ۲۸۳، رقم : ۲۱۲۲
۷. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۳، رقم : ۲۵۵۹
۸. مناوي، فيض القدير، ۶ : ۱۲۹
۹. نسائي، عمل اليوم الليلة، ۱ : ۱۶۵، رقم : ۶۱
۱۰. ابونعيم، حلية الاولياء، ۴ : ۳۴۷
۱۱. ذهبي، سيراعلام النبلاء، ۷ : ۳۸۳
۱۲. ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، ۳ : ۵۱۲
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پا س میرا ذکر ہو تو اسے چاہیے کہ وہ (ذکر سن کر) مجھ پر درود بھیجے اور جومجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ درود (بصورتِ رحمت) بھیجتا ہے۔‘‘
۲۱۷ (۲) عن جابر بن عبداﷲ قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من ذکرت عنده فلم يصل عَلَيَّ فقد شقي.
۱. طبراني، المعجم الاوسط، ۴ : ۱۶۲، رقم : ۳۸۷۱
۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۳ : ۱۳۹، باب فيمن ادرک شهر رمضان فلم يصمه
۳. مناوي، فيض القدير، ۶ : ۱۲۹، رقم : ۸۶۷۸
’’حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بدبخت ہے وہ شخص جس کے پاس میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔‘‘
۲۱۸ (۳) عن أنس قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من ذکرني فليصل عَلَيَّ ومن صلي عَلَيَّ واحدة صليت عليه عشرا.
۱. ابو يعلي، المسند، ۶ : ۳۵۴، رقم : ۳۶۸۱
۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱ : ۱۳۷، باب کتابة الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم لمن ذکره او ذکر عنده
۳. مقدسي، الاحاديث المختارة، ۴ : ۳۹۵، رقم : ۱۵۶۷
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص بھی میرا ذکر کرتا ہے اسے چاہے کہ وہ مجھ پر درود بھیجے اور جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے میں اس پر دس مرتبہ درود (بصورتِ رحمت) بھیجتا ہوں۔‘‘
۲۱۹ (۴) عن محمد بن علي قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من الجفاء أن أذکر عند رجل فلا يصلي عَلَيَّ.
عبدالرزاق، المصنف، ۲ : ۲۱۷، رقم : ۳۱۲۱
’’حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ جفا (بے وفائی) ہے کہ کسی شخص کے پاس میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔‘‘
۲۲۰ (۵) عن أنس بن مالک عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال : من ذکرت عنده فليصل عَلَيَّ وقال صلي الله عليه وآله وسلم أکثروا الصلاة عَلَيَّ في يوم الجمعة.
(۱) ابونصر، تهذيب مستمر الاوهام، ۱ : ۱۷۸
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کے پاس میرا ذکر ہو اسے چاہیے کہ وہ مجھ پر درود بھیجے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن مجھ پر درود کی کثرت اپنا معمول بنا لو۔‘‘
فصل : ۳۴
البخيل هوالذي إن ذکر عنده النبي صلي الله عليه وآله وسلم لم يصل عليه صلي الله عليه وآله وسلم
(بخیل ہے وہ شخص کہ جس کے سامنے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر ہو اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود نہ بھیجے)
۲۲۱ (۱) عن حسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : البخيل الذي من ذُکِرتُ عنده لم يُصلِّ عليَّ.
۱. ترمذي، الجامع الصحيح، ۵ : ۵۵۱، کتاب الدعوات، باب قول رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ’’رغم أنف رجل‘‘ رقم : ۳۵۴۶
۲. نسائي، السنن الکبري، ۶ : ۲۰، رقم : ۹۸۸۵
۳. ابو يعلي، المسند، ۱۲ : ۱۴۷، رقم : ۶۷۷۶
۴. بزار، المسند، ۴ : ۱۸۵
۵. طبراني، المعجم الکبير، ۳ : ۱۲۷، رقم : ۲۸۸۵
۶. بيهقي، شعب الايمان، ۲ : ۲۱۴، رقم : ۱۵۶۷
۷. منذري، الترغيب و الترهيب، ۲ : ۳۳۲، رقم : ۲۶۰۰
۸. شيباني، الآحاد و المثاني، ۱ : ۳۱۱، رقم : ۴۳۲
۹. ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، ۳ : ۵۱۳
’’حضرت حسین بن علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک وہ شخص بخیل ہے جس کے سامنے میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔‘‘
۲۲۲ (۲) عن أبي ذر رضي الله عنه أنَّ رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال : إنَّ أبخلَ الناس من ذُکِرتُ عنده، فلم يصلِّ عليَّ.
۱. حارث، المسند، ۲ : ۹۶۳، رقم : ۱۰۶۴
۲. مناوي، فيض القدير، ۲ : ۴۰۴
۳. ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، ۳ : ۵۱۳
’’حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بے شک لوگوں میں سب سے زیادہ بخیل وہ شخص ہے جس کے سامنے میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔‘‘
۲۲۳ (۳) عن الحسن رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم کفي به شُحًا أن أذکر عنده ثم لا يصلي عَلَيَّ.
۱. ابن ابي شيبه، المصنف، ۲ : ۲۵۳، رقم : ۸۷۰۱
۲. ابن قيم، جلاء الافهام، ۵۴۵
’’حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کسی کے کنجوس ہونے کے لئے اتنا کافی ہے کہ میرا ذکر اس کے سامنے کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔‘‘
۲۲۴ (۴) عن أبي ذر رضي الله عنه قال : خرجت ذات يوم فأتيت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال صلي الله عليه وآله وسلم : ألا أخبرکم بأبخل الناس؟ قالوا : بلي يا رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، قال : من ذکرت عنده فلم يصل عَلَيَّ.
۱. منذري، الترغيب و الترهيب، ۲ : ۳۳۲، رقم : ۲۶۰۱
۲. عجلوني، کشف الخفاء، ۱ : ۳۳۲، رقم : ۸۸۶
’’حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں ایک دن باہر نکلا اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تمہیں لوگوں میں سے سب سے زیادہ بخیل شخص کے بارے میں نہ بتاؤں صحابہ نے عرض کیا : کیوں نہیں یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سب سے زیادہ بخیل وہ شخص ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔‘‘
فصل : ۳۵
من صلي علٰي محمد صلي الله عليه وآله وسلم طهر قلبه من النفاق
(جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے اس کا دل نفاق سے پاک ہو جاتا ہے)
۲۲۵ (۱) عن أنس بن مالک رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم من صلي عَلَيَّ صلاة واحدة صلي اﷲ عليه عشراً ومن صلي عَلَيَّ عشرا صلي اﷲ عليه مائة ومن صلي عَلَيَّ مائة کتب اﷲ بين عينيه براء ة من النفاق و براء ة من النار وأسکنه اﷲ يوم القيامة مع الشهداء.
۱. طبراني، المعجم الاوسط، ۷ : ۱۸۸، رقم : ۷۲۳۵
۲. طبراني، المعجم الصغير، ۲ : ۱۲۶، رقم : ۸۹۹
۳. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱۰ : ۱۶۳
۴. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۳، رقم : ۲۵۶۰
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ درود (بصورتِ رحمت) بھیجتا ہے اورجو مجھ پر دس مرتبہ درود بھیجتاہے اللہ اس پر سو مرتبہ درود (بصورتِ دعا) بھیجتا ہے اور جو مجھ پرسو مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی آنکھوں کے درمیان نفاق اور جہنم کی آگ سے براء ت لکھ دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کا ٹھکانہ شہداء کے ساتھ کرے گا۔‘‘
۲۲۶ (۲) عن أبي المظفر محمد بن عبد اﷲ الخيام السمر قندي قال دخلت يومًا في مغارة لعب فضللت الطريق فإذا برجل رأيته فقلت ما إسمک قال أبو العباس و رأيت معه صاحبًا له فقلت ما إسمه فقال الياس بن سام فقلت هل رأيتما محمدًا صلي الله عليه وآله وسلم قالا نعم فقلت بعزة اﷲ أن تخبراني شيئًا حتي أروي عنکما قالا سمعنا رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يقول ما من مؤمن يقول صلي اﷲ علي محمدٍ الا طهر قلبه من النفاق و سمعاه يقول من قال صلي اﷲ علي محمد فقد فتح سبعين بابًا من الرحمة.
عسقلاني، لسان الميزان، ۵ : ۲۲۱، رقم : ۷۷۶
’’حضرت ابو مظفر محمد بن عبداﷲ خیام سمر قندی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن میں کھیل والے غار میں داخل ہوا اور اپنا راستہ بھول گیا اچانک میں نے ایک آدمی کو دیکھا میں نے اس سے اس کا نام پوچھا اس نے کہا میرا نام ابو عباس ہے اس کے ساتھ اس کا دوست بھی تھا میں نے اس کا بھی نام پوچھا تو اس نے کہا کہ اس کا نام الیاس بن سام ہے پھر میں نے ان سے پوچھا کیا تم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا ہوا ہے انہوں نے ہاں میں جواب دیا پھر میں نے کہا اﷲ کی عزت کا واسطہ مجھے کسی ایسی چیز کے بارے بتاؤ جو میں تم سے روایت کر سکوں تو ان دونوں نے کہا کہ ہم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو مومن بھی صلی اﷲ علی محمد کہتا ہے اس کا دل نفاق سے پاک ہو جاتا ہے اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو صلی اﷲ علی محمد کہتا ہے اﷲ تعالیٰ اس پر رحمت کے ستر دروازے کھول دیتا ہے۔‘‘
فصل : ۳۶
إن النبي صلي الله عليه وآله وسلم يرد السلام علي من سَلَّمَ عليه صلي الله عليه وآله وسلم
(حضور علیہ الصلاۃ والسلام اپنے اوپر ہدیہ سلام بھیجنے والے کو سلام کا جواب دیتے ہیں)
۲۲۷ (۱) عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال : مامن أحدٍ يسلم عَلَي إلا ردَّ اﷲ عَلَي روحي حتي أرد عليه السلام.
۱. ابو داؤد، السنن، ۲ : ۲۱۸، کتاب اللقطة، باب زيارة القبور، رقم : ۲۰۴۱
۲. احمد بن حنبل، المسند، ۲ : ۵۲۷، رقم : ۱۰۸۲۷
۳. بيهقي، السنن الکبريٰ، ۵ : ۲۴۵، رقم : ۱۰۰۵۰
۴. بيهقي، شعب الايمان، باب تعظيم النبي صلي الله عليه وآله وسلم واجلاله و توقيره، رقم : ۱۵۸۱
۵. هندي، کنزالعمال، ۱ : ۴۹۱، باب الصلاة عليه، رقم : ۲۱۶۱
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب کوئی شخص مجھ پر سلام بھیجتا ہے تو اللہ تبارک تعالیٰ مجھے میری روح لوٹا دیتا ہے پھر میں اس سلام بھیجنے والے کو سلام کا جواب دیتا ہوں۔‘‘
۲۲۸ (۲) عن أنس بن مالک رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من صلي عَلَيَّ بلغتني صلاته وصليت عليه وکتبت له سوي ذلک عشر حسنات.
۱. طبراني، المعجم الاوسط، ۲ : ۱۷۸، رقم : ۱۴۶۲
۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱۰ : ۱۶۲
۳. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۶، رقم : ۲۵۷۲
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کا درود مجھے پہنچ جاتا ہے اور جواباً میں بھی اس پر درود بھیجتا ہوں اور اس کے علاوہ اس کے نامہ اعمال میں دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں۔‘‘
۲۲۹ (۳) عن محمد بن عبدالرحمٰن أن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال : ما منکم من أحد يسلم علي إذا مت إلا جاء ني سلامه مع جبريل يقول يا محمد هذا فلان بن فلان يقرأ عليک السلام فأقول و عليه سلام اﷲ وبرکاته.
قرطبي، الجامع لأحکام القرآن، ۱۴ : ۲۳۷
’’حضرت محمد بن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میرے مرنے کے بعد جو بھی تم میں سے مجھ پر سلام بھیجتا ہے تو اس کا سلام جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ مجھے پہنچ جاتا ہے اور جبرئیل علیہ السلام مجھے کہتا ہے یا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فلاں بن فلاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجتا ہے پس میں کہتا ہوں کہ اس پر بھی اﷲ کی سلامتی اور برکات ہوں۔‘‘
۲۳۰ (۴) عن أبي هريرة قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : مامن مسلم سلم علي في شرق ولا غرب إلا أنا وملائکة ربي نرد عليه السلام. .
ابو نعيم، حلية الاولياء، ۶ : ۳۴۹
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا شرق و غرب میں جو بھی مسلمان مجھ پر سلام بھیجتا ہے میں اور میرے رب کے فرشتے اسے اس کے سلام کا جواب دیتے ہیں۔‘‘
۲۳۱ (۵) عن أبو قرصافة قال : سمعت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم من أوي إلي فراشه ثم قرأسورة تبارک ثم قال أللهم رب الحل والحرام ورب البلد الحرام ورب الرکن والمقام ورب المشعر الحرام وبحق کل آية أنزلتها في شهر رمضان بلغ روح محمد صلي الله عليه وآله وسلم مني تحية وسلاما أربع مرات وکل اﷲ به الملکين حتي يأتيا محمدا صلي الله عليه وآله وسلم فيقولا له ذلک فيقول صلي الله عليه وآله وسلم وعلي فلان بن فلان مني السلام و رحمة اﷲ و برکاته.
ابن حيان، طبقات المحدثين بأصفهان، ۳ : ۴۳۴، رقم : ۴۴۱
’’حضرت ابو قرصافہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جو شخص اپنے بستر میں داخل ہونے کے بعد سورہ تبارک پڑھتا ہے اور پھر یوں کہتا ہے : اے حلال و حرام کے رب! اے حرمت والے شہر کے رب! اے رکن اور مقام کے رب! اور مشعرالحرام کے رب! تو ہر اس آیت کے واسطے جس کو تو نے شہر رمضان میں نازل فرمایا، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح مقدسہ کو میری طرف سے سلام بھیج اور وہ اس طرح چار مرتبہ کہے تو اﷲ تعالیٰ دو فرشتوں کو مقرر کردیتا ہے کہ وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جائیں اور ان کو ایسا ہی کہیں تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ فلاں بن فلاں کو میری طرف سے سلام ہو اور اﷲ کی رحمت اور برکت عطا ہو۔‘‘
فصل : ۳۷
زينوا مجالسکم بالصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم
(تم اپنی مجالس کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے ذریعے سجایا کرو)
۲۳۲ (۱) عن ابن عمر رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم زينوا مجالسکم بالصلوات عَلَيَّ فإن صلواتکم عَلَيَّ نور لکم يوم القيامة.
ديلمي، مسند الفردوس، ۲ : ۲۹۱، رقم : ۳۳۳۰
’’حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم اپنی مجالس کو مجھ پر درود بھیج کر سجایا کرو بے شک تمہارا مجھ پر درود بھیجنا قیامت کے دن تمہارے لئے نور کا باعث ہوگا۔‘‘
۲۳۳ (۲) عن ابن عمر الخطاب رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم زينوا مجالسکم بالصلاة عَلَيَّ فإن صلا تکم عَلَيَّ نور لکم يوم القيامة.
مناوي، فيض القدير، ۴ : ۶۹
’’حضرت ابن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اپنی مجالس کو مجھ پر درود بھیج کر سجایا کرو پس بے شک تمہارا مجھ پر درود بھیجنا قیامت کے روز تمہارے لئے نور کا باعث ہوگا۔‘‘
۲۳۴ (۳) عن عائشه رضي اﷲ تعالي عنها زينوا مجالسکم بالصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم و بذکر عمر بن الخطاب.
۱. عجلوني، کشف الخفاء، ۱ : ۵۳۶، رقم : ۱۴۴۳
۲. عسقلاني، لسان الميزان، ۲ : ۲۹۴، رقم : ۱۲۲۱
۳. خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، ۷ : ۲۰۷، رقم : ۳۶۷۴
’’حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنھا بیان فرماتی ہیں کہ (اے لوگوں) تم اپنی مجالس کو حضور علیہ السلام پر درود بھیج کر اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ذکر کر کے سجایا کرو۔‘‘
۲۳۵ (۴) عن عائشه رضي اﷲ تعالي عنها مرفوعًا قالت : قال النبي صلي الله عليه وآله وسلم : زينوا مجالسکم بالصلاة عَلَيَّ، فان صلاتکم عَلَيَّ نور لکم يوم القيامة.
عجلوني، کشف الخفاء، ۱ :. ۵۳۶، رقم : ۱۴۴۳
’’حضرت عائشہ رضی اﷲ تعالیٰ عنھا سے مرفوعًا روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا (اے لوگو) تم اپنی محافل و مجالس کومجھ پر درود بھیج کر سجایا کرو بے شک تمہارا مجھ پر درود بھیجنا قیامت کے روز تمہارے لئے نور کا باعث ہو گا۔‘‘
۲۳۶ (۵) عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال : رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : زينوا مجالسکم بالصلاة عَلَيَّ فإن صلاتکم تعرض عَلَيَّ أو تبلغني.
عجلوني، کشف الخفاء، ۱ : ۵۳۶، رقم : ۱۴۴۳
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ (اے لوگو) مجھ پر درود بھیجنے کے ذریعے اپنی مجالس کو سجایا کرو بے شک تمہارا درود مجھے پیش کیا جاتا ہے یا مجھے پہنچ جاتا ہے۔‘‘
فصل : ۳۸
الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم تکفي الهموم
(حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا دافع رنج و بلاء ہے)
۲۳۷ (۱) عن أبي بن کعب رضي الله عنه قال : کا ن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم إذا ذهب ثلثا الليل قام فقال يا أيهاالناس أذکروا اﷲ جاء ت الراجفة تتبعها الرادفة، جاء الموت بما فيه جاء الموت بما فيه قال أبي : قلت يارسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم إني أکثر الصلاة عليک فکم أجعل لک من صلاتي فقال ما شئت قال قلت الربع قال ماشئت فإن زدت فهو خيرلک قلت النصف قال ماشئت فإن زدت فهو خير لک قال قلت فالثلثين قال ماشئت فإن زدت فهو خيرلک قلت أجعل لک صلاتي کلها قال إذا تکفي همک ويغفرلک ذنبک.
۱. ترمذي، الجامع الصحيح، ۴ : ۶۳۶، کتاب صفة القيامة والرقائق والورع، باب نمبر ۲۳، رقم : ۲۴۵۷
۲. احمد بن حنبل، المسند، ۵ : ۱۳۶، رقم : ۲۱۲۸۰
۳. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، ۲ : ۴۵۷، رقم : ۳۵۷۸
۴. مقدسي، الاحاديث المختارة، ۳ : ۳۸۹، رقم : ۱۱۸۵
۵. بيهقي، شعب الايمان، ۲ : ۱۸۷، رقم : ۱۴۹۹
۶. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۷، رقم : ۲۵۷۷
۷. ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، ۳ : ۵۱۱
’’حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب رات کا دو تہائی حصہ گزر جاتا تو گھر سے باہر تشریف لے آتے اور فرماتے اے لوگو! اللہ کا ذکر کرو اللہ کا ذکر کرو ہلا دینے والی(قیامت) آگئی۔ اس کے بعد پیچھے آنے والی (آ گئی) موت اپنی سختی کے ساتھ آگئی موت اپنی سختی کے ساتھ آ گئی۔ میرے والد نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کثرت سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پردرود بھیجتا ہوں۔ پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کتنا درود بھیجوں؟ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جتنا تو بھیجنا چاہتا ہے میرے والد فرماتے ہیں میں نے عرض کیا (یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کیا میں اپنی دعا کا چوتھائی حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دعاء بھیجنے کے لئے خاص کردوں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تو چاہے (تو ایسا کرسکتا ہے) لیکن اگر تو اس میں اضافہ کرلے تو یہ تیرے لئے بہتر ہے میں نے عرض کیا اگرمیں اپنی دعا کا آدھا حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے خاص کردوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تو چاہے لیکن اگر تو اس میں اضافہ کر دے تو یہ تیرے لئے بہتر ہے میں نے عرض کیا اگر میں اپنی دعا کا تین چوتھائی حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے خاص کردوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر تو چاہے لیکن اگر تو زیادہ کردے تو یہ تیرے لئے بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا (یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اگر میں ساری دعا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے خاص کردوں تو؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر تو یہ درود تیرے تمام غموں کا مداوا ہوجائے گا اور تیرے تمام گناہ معاف کردیے جائیں گے۔‘‘
۲۳۸ (۲) عن حبان بن منقذ رضي الله عنه أن رجلاً قال يارسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم أجعل ثلث صلاتي عليک قال نعم إن شئت قال الثلثين قال نعم قال فصلاتي کلها قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم إذن يکفيک اﷲ ماأهمک من أمر دنياک وآخرتک.
۱. طبراني، المعجم الکبير، ۴ : ۳۵، رقم : ۳۵۷۴
۲. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۸، رقم : ۲۵۷۸
’’حضرت حبان بن منقذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا میں اپنی دعا کا تیسرا حصہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے خاص کردوں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں اگر تو چاہے (تو ایسا کرسکتا ہے) پھر اس نے عرض کیا دعا کا دو تہائی حصہ (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے خاص کردوں) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہاں پھر اس نے عرض کیا ساری کی ساری دعا (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے خاص کر دوں) یہ سن کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر تو اللہ تعالیٰ تیرے دنیا اور آخرت کے معاملات کے لئے کافی ہو گا۔‘‘
۲۳۹ (۳) عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم من صلي عَلَيَّ عند قبري سمعته ومن صلي عَلَيَّ نائيا وکل بها ملک يبلغني وکفي أمر دنياه وآخرته وکنت له شهيدًا أو شفيعًا.
۱. هندي، کنزالعمال، ۱ : ۴۹۸، رقم : ۲۱۹۷، باب الصلاة عليه صلي الله عليه وآله وسلم
۲. خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، ۳ : ۲۹۲
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو میری قبر کے نزدیک مجھ پر درود بھیجتا ہے میں خود اس کو سنتا ہوں اور جو دور سے مجھ پر درود بھیجتا ہے تو اس کے لیے ایک فرشتہ مقرر ہے جو مجھے وہ درود پہنچاتا ہے اور یہ درود اس درود بھیجنے والے کی دنیا وآخرت کے معاملات کے لئے کفیل ہوجاتا ہے اور (قیامت کے روز) میں اس کا گواہ اور شفاعت کرنے والا ہوں گا۔‘‘
۲۴۰ (۴) عن أبي بکر نالصديق قال : الصلاة عَلٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم أمحق للخطايا من الماء للنار، والسلام عَلٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم أفضل من عتق الرقاب، وحب رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم أفضل من مهج الأنفس أوقال : من ضرب السيف في سبيل اﷲ عزوجل.
۱. هندي، کنزالعمال، ۲ : ۳۶۷، رقم : ۳۹۸۲، باب الصلاة عليه صلي الله عليه وآله وسلم
۲. خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، ۷ : ۱۶۱
’’حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا پانی کے آگ کو بجھانے سے بھی زیادہ گناہوں کو مٹانے والا ہے۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجنا یہ غلاموں کو آزاد کرنے سے بڑھ کر فضیلت والا کام ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت یہ جانوں کی روحوں سے بڑھ کر فضیلت والی ہے یا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے بھی بڑھ کر فضیلت والی ہے۔‘‘
فصل : ۳۹
صَلُّوا علٰي أنبياء اﷲ وَرُسُلِه
(اللہ کے انبیاء اور رسولوں پر درود بھیجو)
۲۴۱ (۱) عن ابن عباس رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : يا علي إذا فرغت من التشهد فاحمد اﷲ وأحسن الثناء علي اﷲ و صل عَلَيَّ وعلٰي سائر النبيين. . الخ.
۱. ترمذي، الجامع الصحيح، ۵ : ۵۶۳، کتاب الدعوات، باب في دعاء الحفظ، رقم : ۳۵۷۰
۲. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، ۱ : ۴۶۱، رقم : ۱۱۹۰
۳. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۲۳۵، رقم : ۲۲۲۶
۴. عسقلاني، فتح الباري، ۱۱ : ۱۶۹
۵. ذهبي، سيراعلام النبلاء، ۹ : ۲۱۸
’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے علی(رضی اللہ عنہ) جب تو تشھد سے فارغ ہو تو اﷲ تعالیٰ کی حمد بیان کر اور اﷲتعالیٰ کی خوب ثناء بیان کر پھر مجھ پر اور تمام انبیاء پر نہایت ہی خوبصورت انداز سے درود بھیج۔‘‘
۲۴۲ (۲) عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم : صلوا علي أنبياء اﷲ ورسله، فإن اﷲ بعثهم.
۱. عبدالرزاق، المصنف، ۲ : ۲۱۶، رقم : ۳۱۱۸
۲. بيهقي، شعيب الايمان، ۱ : ۱۴۹، رقم : ۱۳۱
۳. ديلمي، مسند الفردوس، ۲ : ۳۸۵، رقم : ۳۷۱۰
۴. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۶۹۵، رقم : ۶۷۵
۵. مناوي، فيض القدير، ۴ : ۲۰۴
۶. قزويني، التدوين في اخبار قزوين، ۳ : ۳۳۰
۷. عجلوني، کشف الخفائ. ۱ : ۹۶، رقم : ۲۵۰
۸. عسقلاني، المطالب العالية، ۳ : ۲۲۵، رقم : ۳۳۲۷
۹. خطيب بغدادي، تاريخ بغداد، ۸ : ۱۰۵
۱۰. ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، ۳ : ۵۱۷
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ کے نبیوں اور رسولوں پر درود بھیجا کرو بے شک اللہ تبارک وتعالیٰ نے انہیں بھی بعثت عطاء کی (جس طرح کہ مجھے عطاء کی، اللہ تعالیٰ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجے اور تمام انبیاء و رسل پر سلامتی ہو)۔‘‘
۲۴۳ (۳) عن أنس أن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال إذا سلمتم علي فسلموا علٰي المرسلين فإنما أنا رسول من المرسلين.
۱. قرطبي، الجامع لاحکام القران، ۱۵ : ۱۴۲
۲. طبري، تفسير الاحکام القرآن، ۲۳ : ۱۱۶
۳. ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، ۴ : ۲۶
۴. ابن حبان، طبقات المحدثين بأصبهان : ۲ : ۱۱
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب تم مجھ پر سلام بھیجو تو میرے ساتھ تمام رسولوں پر بھی سلام بھیجو بے شک میں ان رسولوں میں سے ایک ہوں۔‘‘
فصل : ۴۰
المواطن التي تستحب فيها الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم
(وہ مقامات جہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا مستحب ہے)
الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم بعد الأذان
(اذان کے بعد حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا)
۲۴۴ (۱) عن عبداﷲ بن عمرو رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : إذا سمعتم المؤذن فقولوا مثل ما يقول ثم صلوا علي فإنه ليس من أحد يصلي عليَّ واحدة إلا صلي اﷲ عليه بها عشرا، ثم سلوا اﷲ لي الوسيلة فإنها منزلة في الجنة، لا تنبغي إلا لعبد من عباداﷲ عزوجل وأرجو أن أکون أنا هو فمن سألها لي حلت له شفاعتي.
مسلم، الصحيح، ۱ : ۲۸۸، کتاب الصلاة، باب استحباب القول مثل قول المؤذنِلمن سمعه ثم يصلي علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم ثم يسأل اﷲ له الوسيلة، رقم : ۳۸۴
’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم مؤذن کو آذان دیتے ہوئے سنو تو اسی طرح کہو جس طرح وہ کہتا ہے پھر مجھ پر درود بھیجو پس جو بھی شخص مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ درود (بصورت رحمت) بھیجتاہے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے وسیلہ طلب کرو بے شک وسیلہ جنت میں ایک منزل ہے جوکہ اللہ کے بندوں میں سے صرف ایک کو ملے گی اور مجھے امیدہے کہ وہ بندہ میں ہی ہوں گا پس جس نے اس وسیلہ کو میرے لئے طلب کیا اس کے لئے میری شفاعت واجب ہوجائے گی۔‘‘
الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم عند قضاء الحاجات
(ضرورتوں کو پورا کرنے کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا)
۲۴۵ (۲) عن عبداﷲ بن أبي أوفي رضي الله عنه قال خرج علينا رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم فقال من کانت له إلي اﷲ حاجة أو إلي أحد من بني ادم فليتوضأ فليحسن وضوء ه وليصل رکعتين ثم ليثن علي اﷲ تعالٰي و يصل علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم ثم ليقل لا إله إلا اﷲ الحليم الکريم سبحان اﷲ رب العرش العظيم والحمدﷲ رب العالمين أسألک موجبات رحمتک وعزائم مغفرتک والغنيمة من کل بروالسلامة من کل ذنب وأن لا تدع لي ذنبا إلا غفرته ولا همَّا إلأ فرجته ولا حاجة هي لک فيها رضا إلا قضيتها يا أرحم الراحمين.
’’حضرت عبداﷲ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا : جس شخص کو اﷲ تبارک وتعالیٰ یا کسی بندے سے کوئی حاجت درکار ہو تو وہ اچھی طرح سے وضؤ کرے پھر دو رکعت نماز نفل ادا کر پھر اﷲتعالیٰ کی ثناء بیان کرے اور مجھ پر درود بھیجے پھر یہ کہے کہ اﷲ کے سواء کوئی معبود نہیں جو کہ حلم والا اور عزت والا ہے اس کی ذات (ہر عیب ونقص سے) پاک ہے اور وہ عرش عظیم کا رب ہے اور تمام تعریفیں ہوں اس کے لئے جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ اے اﷲ ! میں تجھ سے تیری رحمت کے موجبات اور تیری بخشش کے عزائم اور ہر نیکی کی غنیمت اور ہر گناہ سے سلامتی کا سوال کرتا ہوں اے اﷲ! میرے ہر گناہ کو معاف کردے اور میرے ہر غم کو دور کردے اور میری ہر اس حاجت کو جس میں تیری رضاء کارفرما ہے پورا کردے اے ارحم الراحمین۔‘‘
الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم عند العطاس
(چھینک کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا)
۲۴۶ (۳) عن نافع أن رجلاً عطس إلٰي حبنب بن عمرفقال : الحمد ﷲ والسلام عَلٰي رسول اﷲ، قال بن عمر : وأنا أقول الحمد ﷲ والسلام علي رسول اﷲ وليس هکذا علمنا رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم علمنا أن نقول : الحمد ﷲ علٰي کل حالٍ.
۱. ترمذي، الجامع الصحيح، ۵ : ۸۱، کتاب ا لأدب، باب ما يقول العاطس إذا عطس، رقم : ۲۷۳۸
۲. حاکم، المستدرک علي الصحيحين، ۴ : ۲۹۵، رقم : ۷۶۹۱
۳. حارث، المسند، ۲ : ۷۹۷، باب ماجاء في العطاس، رقم : ۸۰۷
۴. زرعي، حاشيه ابن قيم، ۱۳ : ۲۵۲
۵. مزي، تهذيب الکمال، ۶ : ۵۵۳
’’حضرت نافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس چھینکا اور کہا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور سلامتی ہو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ سن کر ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ چھینک کے وقت میں بھی اسی طرح کہتا ہوں کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور سلامتی ہو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایسے نہیں سکھایا بلکہ ہمیں سکھایا ہے کہ ہم ہر حال میں اللہ کی حمد بیان کریں۔‘‘
الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم في يوم الجمعة
(جمعہ کے دن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا)
۲۴۷ (۴) عن أوس بن أوس رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم إن من أفضل أيامکم يوم الجمعة، فيه خلق آدم و فيه قبض، وفيه الصعقة، فأکثروا عَلَيَّّ من الصلاة فيه، فأن صلاتکم معروضة عَلَيَّ قالوا : يارسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، وکيف تعرض صلاتنا عليک وقد أرمت يعني بليت قال : إن اﷲ عزوجل حرم عَلٰي الارض أن تأکل أجساد الأنبياء.
ابواداؤد، السنن، ابواب الوتر، ۲ : ۸۸، باب في الاستغفار رقم : ۱۵۳۱
’’حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بے شک تمہارے بہترین دنوں میں سے جمعہ کا دن سب سے بہتر ہے اس میں حضرت آدم علیہ السلام پیدا ہوئے اور اسی دن وفات پائی اور اسی دن صور پھونکا جائے گا اور اسی دن سخت آواز ظاہر ہوگی پس اس دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجا کرو کیونکہ تمہارا درود مجھے پیش کیا جاتا ہے صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارا درود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال کے بعد کیسے آپ کو پیش کیا جائے گا؟ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاک میں مل چکے ہوں گے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بے شک اللہ عزوجل نے زمین پر انبیاء کرام علیھم السلام کے جسموں کو کھانا حرام کر دیا ہے۔‘‘
الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم إذا قام الرجل من نوم الليل
(سو کر اٹھنے کے بعد حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا)
۲۴۸ (۵) عن عبداﷲ بن مسعود رضي الله عنه قال : يضحک اﷲ عزوجل إلي رجلين رجل لقي العدو و هو علي فرس من أمثل خيل أصحابه فإنهزموا وثبت فإن قتل إستشهد، وإن بقي فذلک الذي يضحک اﷲ إليه، ورجل قام في جوف الليل لا يعلم به أحد فتوضأ فأسبغ الوضوء ثم حمد اﷲ و مجده وصلي علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم واستفتح القرآن، فذلک الذي يضحک اﷲ إليه يقول : انظروا إلي عبدي قائماً لايراه أحد غيري.
۱. نسائي، السنن الکبريٰ، ۶ : ۲۱۷، رقم : ۱۰۷۰۳
۲. نسائي، عمل اليوم والليلة، ۱ : ۴۹۶، رقم : ۸۶۷
’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ دو آدمیوں پر اپنی رضا کا اظہار فرماتے ہیں، ایک وہ جو دشمن سے ملے درانحالیکہ وہ اپنے ساتھیوں کے گھوڑے پرسوار ہو وہ تمام پسپا ہوجائیںمگر وہ ثابت قدم رہے، اگر قتل ہوگیا تو شہید اگر زندہ رہا تو اللہ تعالیٰ اس پر اپنی رضا کا اظہار فرماتا ہے دوسرا وہ شخص جو نصف رات کو اٹھتا ہے حالانکہ اس کی کسی کو خبر نہیں ہوتی وہ اچھی طرح وضو کرتا ہے پھر اللہ تعالیٰ کی حمد اور بزرگی بیان کرتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے اور قرآن شریف سے فتح طلب کرتا ہے یہ وہ شخص ہے جس پر اللہ تعالیٰ اپنی رضا کا اظہار فرماتا ہے اور فرماتا ہے میرے بندے کو قیام کی حالت میں دیکھو کہ میرے سواء اسے کوئی نہیں دیکھ رہا۔‘‘
الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم عند ذکره
(حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا)
۲۴۹ (۶) عن أنس بن مالک قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من ذکرت عنده فليصل عَلَيَّ ومن صلي عَلَيَّ مرة واحدة صلي اﷲ عليه عشرًا.
نسائي، السنن الکبري، ۶ : ۲۱، رقم : ۹۸۸۹
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پا س میرا ذکر ہو تو اسے چاہیے کہ وہ مجھ پر درود بھیجے اور جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ درود (بصورت رحمت) بھیجتا ہے۔‘‘
الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم عند دخول المسجد و خروجه
(مسجد میں داخل ہوتے اور باہر نکلتے وقت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا)
۲۵۰ (۷) عن فاطمة رضي اﷲ عنها بنت رسول اﷲ قالت : کان رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم إذا دخل المسجد صلي علي محمد ثم قال : أللهم أغفرلي ذنوبي، وافتح لي أبواب رحمتک وإذا خرج صلي علي محمد ثم قال : أللهم أغفرلي ذنوبي وافتح لي أبواب فضلک.
احمد بن حنبل، المسند، ۶ : ۲۸۲، رقم : ۲۶۴۵۹
’’حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو فرماتے اے اﷲ تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل پر درود بھیج پھر فرماتے اے اﷲ میرے گناہ معاف فرما اور میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے اور جب مسجد سے باہر تشریف لاتے تو فرماتے اے اﷲ تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیج پھر فرماتے اے اﷲ میرے گناہ بخش دے اور میرے لئے اپنے فضل کے دروازے کھول دے۔‘‘
الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم علٰي الصفاء والمروة
(صفاء و مروہ کے درمیان سعی کرتے وقت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا)
۲۵۱ (۸) عن وهب بن الأجدع أنه سمع عمر يقول يبدأ بالصفاء ويستقبل البيت ثم يکبر سبع تکبيرات بين کل تکبيرتين حمد اﷲ والصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم ويساله لنفسه و علي المروة مثل ذٰلک.
۱. ابن أبي شيبه، المصنف، ۳ : ۳۱۱، رقم : ۱۴۵۰۱
۲. ابن أبي شيبه، المصنف، ۶ : ۸۲، رقم : ۲۹۶۳۸
’’حضرت وہب بن اجدع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا صفاء سے (سعی کی) ابتداء کرو اور پھر بیت اﷲ کی طرف منہ کرکے سات تکبیریں کہو ہر دو تکبیروں کے درمیان اﷲ کی حمد بیان کرو اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجو اور پھر اﷲ سے اپنے حق میں دعا کرو اور مروہ کے مقام پر بھی ایسا ہی کرو۔‘‘
الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم عقب الذنب إذا أراد ان يکفر عنه
(گناہ کے بعد اس کی بخشش کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا)
۲۵۲ (۹) عن أبي کاهل قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : يا أبا کاهل أنه من صلي عَلَيَّ کل يوم ثلاث مرات وکل ليلة ثلاث مرات حباً بي و شوقًا کان حقًا علي اﷲ أن يغفر له ذنوبه تلک الليلة وذلک اليوم.
۱. طبراني، المعجم الکبير، ۱۸ : ۳۶۲، رقم : ۹۲۸
۲. هيثمي، مجمع الزوائد، ۴ : ۲۱۹
۳. منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۸، رقم : ۲۵۸۰
۴. منذري، الترغيب والترهيب، ۴ : ۱۳۲، رقم : ۵۱۱۵
۵. عسقلاني، الاصابة في تمييز الصحابة، ۷ : ۳۴۰
’’حضرت ابوکاھل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابو کاہل جو شخص ہر دن اور رات مجھ پر محبت اور شوق کے ساتھ تین تین مرتبہ درود بھیجتا ہے تو یہ بات اللہ تعالیٰ پر واجب ہو جاتی ہے کہ اس شخص کے اس دن اور رات کے گناہ معاف فرما دے۔‘‘
الصلاة عليه صلي الله عليه وآله وسلم عند طنين الأذن
(کان کے بجنے کے وقت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا)
۲۵۳ (۱۰) عن أبي رافع عن أبيه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : إِذا طنت أذن أحدکم فليذکرني و ليصل عَلَيَّ وليقل ذکر اﷲ بخير من ذکرني.
۱. طبراني، المعجم الکبير، ۱ : ۳۲۱، رقم : ۹۵۸
۲. طبراني، المعجم الاوسط، ۹ : ۹۲، رقم : ۹۲۲۲
۳. طبراني، المعجم الصغير، ۲ : ۲۴۵، رقم : ۱۱۰۴
۴. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱۰ : ۱۳۸، باب مايقول إذا طنت اذنه
۵. ديلمي، الفردوس بماثور الخطاب، ۱ : ۳۳۲، رقم : ۱۳۲۱
’’حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب تم میں سے کسی کا کان بجے تو اسے مجھے یاد کرنا چاہیے اور مجھ پر درود بھیجنا چاہیے اور یہ کہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس کو خیر کے ساتھ یاد فرمائے جس نے مجھے (خیر کے ساتھ) یاد کیا۔‘‘
الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم بعد فراغ من الوضوء
(وضو سے فارغ ہونے کے بعد حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا)
۲۵۴ (۱۱) عن عبداﷲ بن مسعود رضي الله عنه قال : سمعت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يقول : إذا تطهر أحدکم فليذکر اسم اﷲ عليه فإنه يطهر جسده کله فإن لم يذکر أحدکم إسم اﷲ علٰي طهوره لم يطهر إلا مامر عليه الماء فإذا فرغ أحدکم من طهوره فليشهد أن لا إله إلّا اﷲ و أن محمد عبده و رسوله ثم ليصل عَلَيَّ فإذا قال ذٰلک حسنة له أبواب الرحمة.
۱. بيهقي، السنن الکبريٰ، ۱ : ۴۴، رقم : ۱۹۹
۲. صيداوي، معجم الشيوخ، ۱ : ۲۹۲، رقم : ۲۵۲
’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو (وضو کے دوران) اس کو اللہ تعالیٰ کے نام کا ذکر کرنا چاہیے بے شک (وضو کے دوران) اللہ تعالیٰ کا نام لینا اس کے تمام جسم کو پاک کر دے گا اور اگر تم میں سے کوئی وضو کے دوران اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتا تو اس کو سوائے ان اعضاء کے جن پر پانی پھرا ہے طہارت حاصل نہیں ہوتی اور جب تم میں سے کوئی طہارت سے فارغ ہو تو یہ گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں پھر مجھ پر درود بھیجے پس جب وہ یہ کلمات اچھی طرح کہے گا تو جنت کے دروازے اس پر کھول دیے جائیں گے۔‘‘
الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم عند زيارة قبره
(آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا)
۲۵۵ (۱۳) عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال النبي صلي الله عليه وآله وسلم من صلي عَلَيَّ عند قبري سمعته ومن صلي عَلَيَّ نائياً أبلغته.
بيهقي، شعب الايمان، ۲ : ۲۱۸، رقم : ۱۵۸۳
’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو میری قبر کے نزدیک مجھ پر درود بھیجتا ہے میں خود اس کو سنتا ہوں اور جو دور سے مجھ پر درود بھیجتا ہے وہ مجھے پہنچا دیا جاتا ہے۔‘‘
الصلاة عليه صلي الله عليه وآله وسلم في أثنا صلاة العيدفإنه يستحب أن يحمد اﷲ ويصلي علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم
(نماز عید کے دوران حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا مستحب ہے)
۲۵۶ (۱۴) عن علقمة أن ابن مسعود، وأبا موسي وخذيفة خرج إليهم الوليد بن عقبة قبل العيد فقال لهم : إن هذا العيد قد دنا فکيف التکبيرفيه؟ فقال عبداﷲ : تبدأ فتکبر تکبيرة تفتح بها الصلاة، وتحمد ربک وتصلي علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم ثم تدعوو تکبر وتفعل مثل ذلک، ثم تکبر وتفعل مثل ذلک، ثم تکبر و تفعل مثل ذٰلک، ثم تکبر و تفعل مثل ذٰلک ثم تقرأ و ترکع، ثم تقوم فتقرأ وتحمد ربک، وتصلي علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم ثم تدعو ثم تکبر وتفعل مثل ذلک ثم تکبر وتفعل مثل ذلک، ثم تکبر و تفعل مثل ذلک، ثم تکبر و تفعل مثل ذٰلک.
۱. بيهقي، السنن الکبري، ۳ : ۲۹۱، رقم : ۵۹۸۱
۲. ابن قدامة، المغني، ۲ : ۱۲۰
’’حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عید سے ایک دن قبل حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوموسیٰ الاشعری رضی اللہ عنہ اور حضرت خذیفہ یمانی رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ آئے اور ان سے کہا کہ عید قریب ہے پس اس کی تکبیر کیسے کہی جائے تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا شروع میں ایک تکبیر کہو جس کے ساتھ تم اپنی نماز شروع کرتے ہو اور اپنے رب کی حمد بیان کرو اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجو پھر تکبیر کہو اور پہلے والا عمل دہراؤ پھر قراء ت کرو اور تکبیر کہو اور رکوع کرو پھر کھڑے ہوجاؤ اور قراء ت کرو اور اپنے رب کی حمد بیان کرو اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجو پھر دعا کرو اور تکبیر کہو اور پھر پہلے والا عمل دہراؤ پھر تکبیر کہو اور پہلے والا عمل دہراؤ پھر تکبیر کہو اور پہلے والا عمل دہراؤ پھر رکوع کرو پس حضرت حذیفہ اور حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنھم نے کہا حضرت ابو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے سچ کہا ہے۔‘‘
الصلاة عليه صلي الله عليه وآله وسلم أول النهار وآخره
(صبح و شام حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا)
۲۵۷ (۱۵) عن أبي الدرداء رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من صلي عَلَيَّ حين يصبح عشرًا وحين يمسي عشرًا أدرکته شفاعتي يوم القيامة.
۱. هيثمي، مجمع الزوائد، ۱۰ : ۱۲۰
۲. منذري، الترغيب والترهيب، ۱ : ۲۶۱، رقم : ۹۸۷
۳. مناوي، فيض القدير، ۶ : ۱۶۹
’’حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص صبح کے وقت مجھ پر دس مرتبہ درود بھیجتاہے اور شام کے وقت دس مرتبہ درود بھیجتا ہے تو قیامت کے روز میری شفاعت کا حق دار ٹھہرتا ہے۔‘‘
الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم في الدعاء
(دعا میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا)
۲۵۸ (۱۶) عن جابر رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم لا تجعلوني کقدح الراکب إن الراکب إذا علق معاليقه أخذ قدحه فملأه من الماء فإن کان له حاجة في الوضؤ تَوَضَّأ وإن کان له حاجة في الشرب شرب وَ إلَّا أهراق مافيه : اجْعَلُوْنِي فِي أَوَّل الدُّعَاءِ وَ وسط الدعاءِ وَ آخِرِ الدعاء.
عبد بن حميد، المسند، ۱ : ۳۴۰، رقم : ۱۱۳۲
’’حضرت جابر بن عبداﷲ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے قدح الراکب (مسافر کے پیالہ) کی طرح نہ بناؤ بیشک مسافر جب اپنی چیزوں کو اپنی سواری کے ساتھ لٹکاتا ہے تو اپنا پیالہ لے کر اس کو پانی سے بھر لیتا ہے پھر اگر (سفر کے دوران) اس کو وضو کی حاجت ہوتی ہے تو وہ (اس پیالے کے پانی سے) وضو کرتا ہے اور اگر اسے پیاس محسوس ہو تو اس سے پانی پیتا ہے وگرنہ اس کو بہا دیتا ہے۔ فرمایا مجھے دعا کے شروع میں وسط میں اور آخر میں وسیلہ بناؤ۔‘‘
الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم عندکتابة اسمه الشريف
(حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسم گرامی لکھتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا)
۲۵۹ (۱۷) عن خالد صاحب الخلقان قال : کان لي صديق يطلب الحديث فتوفي فرأيته في منامي عليه ثياب خضر يرفل فيها فقلت له أليس کنت يافلان صديقًا لي وطلبت معي الحديث؟ قال بلي قلت فبم نلت هذا؟ قال لم يکن يمر حديث فيه ذکرالنبي صلي الله عليه وآله وسلم إلاکتبت فيه صلي اﷲ عليه و آله وسلم فکافأني بهذا.
خطيب بغدادي، الجامع لأخلاق الراوي وآداب السامع، ۱ : ۲۷۱، رقم : ۵۶۶
’’حضرت خالد صاحب خلقان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرا ایک دوست تھا جو احادیث جمع کرتا تھا پھروہ وفات پاگیا تو میں نے اسے خواب میں دیکھا کہ اس نے سبز لباس زیب تن کیا ہوا ہے تو میں نے اسے کہا اے فلاں کیا تو میرا دوست نہیں تھا اور میرے ساتھ احادیث نہیں طلب کیا کرتا تھا؟ اس نے کہا ہاں پھر میں نے کہا تمہیں یہ رتبہ کیسے نصیب ہوا؟ تو اس نے کہا کہ حدیث لکھتے وقت ہر حدیث میں جہاں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام آتا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسم گرامی کے ساتھ (صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم) لکھتا پس اسی چیز نے مجھے یہ مقام عطاء کیا ہے۔‘‘
الصلاة عليه صلي الله عليه وآله وسلم عند النوم
(سونے سے قبل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجنا)
۲۶۰ (۱۸) عن أبي قرصافة قال سمعت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يقول : من آوي إلي فراشه ثم قرأ تبارک الذي بيده الملک ثم قال : اللهم رب الحل و الحرام، ورب البلد الحرام و رب الرکن والمقام ورب المشعر الحرام و بحق کل آية أنزلتها في شهر رمضان بلغ روح محمد صلي الله عليه وآله وسلم مني تحية و سلامًا أربع مرات وکل اﷲ تعالٰي به ملکين حتي يأتيا محمدًا صلي الله عليه وآله وسلم فيقولا له : ذٰلک فيقول صلي الله عليه وآله وسلم و علٰي فلان بن فلان مني.
ابن حيان، طبقات المحدثين بأصبهان، ۳ : ۴۳۴، رقم : ۴۴۱
’’حضرت ابوقرصافہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص سونے کے لئے اپنے بستر میں داخل ہوا اور پھر اس نے سورہ تبارک پڑھی پھر اس نے یہ دعا کی اے اللہ اے حلال و حرام کے رب، اے بلدالحرام اور رکن اور مشعرالحرام کے رب ہر اس آیت کے واسطے جو تونے رمضان کے مبارک مہینے میں نازل کی تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی روح مقدسہ کو میری طرف سے سلام پہنچا اور اس طرح چار مرتبہ کہے تو اللہ تبارک و تعالیٰ دو فرشتوں کو مقرر کردیتا ہے یہاں تک کہ وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس بندے کا سلام پہنچاتے ہیں تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ فلاں بن فلاں کو میری طرف سے بھی سلام ہو۔‘‘
الصلاة عليه صلي الله عليه وآله وسلم عند کل أمرٍ خير ذي بال
(ہر اچھے کام سے قبل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا)
۲۶۱ (۱۹) عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم أنه قال : کل أمر لم يبدأ فيه بحمد اﷲ والصلاة عَلَيَّ فهو أقطع أبتر ممحوق من کل برکة.
۱. ابويعلي، الارشاد، ۱ : ۴۴۹، رقم : ۱۱۹
۲. مناوي، فيض القدير، ۵ : ۱۴
۳. عجلوني، کشف الخفاء، ۲ : ۱۵۶، رقم : ۱۹۶۴
’’ہر وہ نیک اور اہم کام جس کو نہ تو اللہ تعالیٰ کی حمد کے ساتھ اور نہ ہی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے ساتھ شروع کیا جائے تو وہ ہر طرح کی برکت سے خالی ہو جاتا ہے۔‘‘
الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم في کل مجلس
(ہر مجلس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا)
۲۶۲ (۲۰). عن أبي هريرة صلي الله عليه وآله وسلم قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : زينوا مجالسکم بالصلاة عَلَيَّ فإن صلاتکم تعرض عَليَّ أو تبلغني.
عجلوني، کشف الخفاء، ۱ : ۵۳۶، رقم : ۱۴۴۳
’’حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنی مجالس کو مجھ پر درود بھیجنے کے ذریعے سجایا کرو بے شک تمہارا درود مجھے پیش کیا جاتا ہے یا مجھے پہنچ جاتا ہے۔‘‘
الصلاة عليه صلي الله عليه وآله وسلم عند المرور علي المساجد ورؤيتها
(مساجد کے پاس گزرنے اور ان کے دیکھنے کے وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا)
۲۶۳ (۲۱) عن علي بن حسين قال : قال علي بن أبي طالب رضي الله عنه : إذا مررتم بالمساجد فصلوا علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم.
ابن کثير، تفسير القرآن العظيم، ۳ : ۵۱۴
’’حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب تم مساجد کے پاس سے گزرو تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا کرو۔‘‘
فصل : ۴۱
بيان حصول الثمرات والبرکات بالصلاة والسلام علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم
(ان ثمرات و برکات کا بیان جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھنے سے حاصل ہوتے ہیں)
۱. إمتثال أمر اﷲ سبحانه وتعالي.
’’یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی فرما نبرداری اور تعمیل حکم ہے۔‘‘
۲. موافقته سبحانه في الصلاة عليه صلي الله عليه وآله وسلم، وإن اختلفت الصلاتان فصلاتنا عليه دعاء وسؤال، وصلاة اﷲ تعالي عليه ثناء وتشريف.
’’اس میں اللہ عزوجل کے ساتھ موافقت نصیب ہوتی ہے گو نوعیت میں ہمارا درود بھیجنا اور اللہ کا درود بھیجنا مختلف ہے کیونکہ ہمارا درود دعاء اورسوال ہے اور اللہ تعالیٰ کا درود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر رحمت و ثنا کی شکل میں عطاو نوال ہے۔‘‘
۳. موافقة ملائکة فيها.
’’درود خوانی میں فرشتوں کے ساتھ بھی موافقت نصیب ہوتی ہے۔‘‘
( إِنَّ اﷲَ وَمَلَائِکَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَي النَّبِيِّ يَأَ يُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمَا. )
القرآن، الأحزاب، ۳۳ : ۵۶
(بے شک اﷲ تعالیٰ اور اس کے فرشتے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں اے ایمان والو! تم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خوب کثرت سے درود و سلام بھیجا کرو)
۴. حصول عشرصلوات من اﷲ علي المصلي عليه صلي الله عليه وآله وسلم مرة.
’’ایک دفعہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے والے کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے دس رحمتیں نصیب ہوتی ہیں۔‘‘
۵. إنه يرفع له عشر درجات.
’’ایک دفعہ درود بھیجنے پر دس درجات بلند کیے جاتے ہیں۔‘‘
عن أنس بن مالک رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم من صلي عَلَيَّ صلاة واحدة صلي اﷲ عليه عشر صلوات و حُطَّتْ عنه عشر خطيئات و رفعت له عشر درجات.
نسائي، السنن، ۳ : ۵۰، کتاب السهو، باب الفضل في الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم ، رقم : ۱۲۹۷
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اﷲ تعالی اس پر دس مرتبہ درود بھیجتا ہے اور اس کے دس گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں اور اس کے لئے دس درجات بلند کر دیئے جاتے ہیں۔‘‘
۶. إنه يکتب له عشر حسنات.
’’ایک بار درود شریف پڑھنے سے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔‘‘
۷. إنه يمحي عنه عشر سيئات.
’’ایک دفعہ درود بھیجنا سے دس گناہوں (بدیوں) کو مٹا دیتا ہے۔‘‘
عن عبدالرحمٰن بن عوف رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم من صلي عليَّ صلاة من أمتيکتب له عشر حسنات و محي عنه عشر سيئات.
ابو يعلي، المسند، ۲ : ۱۷۳، رقم : ۸۶۹
’’حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اس کے لئے دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں اور دس گناہ مٹا دیے جاتے ہیں۔‘‘
۸. إنه يرجي إجابة دعائه إذا قدمها أمامه، فهي تصاعد الدعاء إلي عند رب العالمين، وکان موقوفا بين السماء والأرض قبلها.
’’درود شریف دعا سے پہلے پڑھا جائے تو اس دعاء کی قبولیت کی امید پیدا ہو جاتی ہے کیونکہ درود شریف دعاء کو رب العالمین تک لے جاتا ہے اور درود شریف کے بغیر دعا زمین و آسمان کے درمیان ہی روک لی جاتی ہے۔‘‘
عن أمير المؤمنين علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ما من دعاء إلَّا و بينه و بين اﷲ عزوجل حجاب حتي يصلي علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، فإذا فعل ذلک انخرق ذلک الحجاب و دخل الدعاء، و إذا لم يفعل ذلک رجع الدعاء.
ديلمي، مسندالفردوس، ۴ : ۴۷، رقم : ۶۱۴۸
’’امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی دعا ایسی نہیں جس کے اور اﷲ کے درمیان حجاب نہ ہو یہاں تک کہ دعا کرنے والا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجے اورجب وہ درود بھیجتا ہے تو یہ حجاب ہٹا دیا جاتا ہے اور دعاء (حریم قدس میں) داخل ہو جاتی ہے اور اگر وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود نہ بھیجے تو وہ دعاء (باریاب ہوئے بغیر) واپس لوٹ آتی ہے۔‘‘
۹. إنها سبب لشفاعته صلي الله عليه وآله وسلم إذا قرنها بسؤال الوسيلة له أوأفرده
’’درود بھیجنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت پانے کا سبب بنتا ہے۔ خواہ درود کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے سوال وسیلہ ہو یا نہ ہو۔‘‘
عن رويفع بن ثابت الأنصاري رضي الله عنه أن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال من صلي علي محمد، وقال اللهم أنزله المقعد المقرب عندک يوم القيامة، وجبت له شفاعتي.
احمد بن حنبل، المسند، ۴ : ۱۰۸، حديث رويفع بن ثابت انصاري
’’حضرت رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص حضور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ اے میرے اللہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قیامت کے روز اپنے نزدیک مقام قرب پر فائز فرما اس کے لئے میری شفاعت واجب ہوجاتی ہے۔‘‘
۱۰. إنها سبب لغفران الذنوب.
’’درود شریف بھیجناگناہوں کی مغفرت کا باعث بنتا ہے۔‘‘
۱۱. إنها سبب لکفاية اﷲ العبد ماأهمه.
’’درود شریف بندہ کے رنج و غم میں اللہ تعالیٰ کے کفایت کرنے کا سبب بنتا ہے یعنی درود شریف اﷲ تعالیٰ کے کفایت کرنے کے سبب بندے کے لئے دافعِ رنج وغم ہوجاتا ہے۔‘‘
عن أبي بن کعب رضي الله عنه قال : قلت لرسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ’’أجعل لک صلاتي کلها قال إذا تکفي همک ويغفرلک ذنبک‘‘.
ترمذي، الجامع الصحيح، ۴ : ۶۳۶، کتاب صفة القيامة والرقائق والورع، باب نمبر ۲۳، رقم : ۲۴۵۷
’’حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکر م صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اگر ساری دعا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے خاص کر دوں تو؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا پھر تو یہ درود تیرے تمام غموں کو کافی ہو جائے گا اور تیرے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔‘‘
۱۲. إنها سبب لقرب العبد منه صلي الله عليه وآله وسلم يوم القيامة.
’’درود بھیجنا روزِ محشر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قریب تر ہونے کا سبب بنتا ہے۔‘‘
عن أبي أمامة رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : أکثروا عَلَيَّ من الصلاة في کل يوم جمعة فان صلاة أمتي تعرض عَلَيَّ في کل يوم جمعة فمن کان أکثر هم عَلَيَّ صلاة کان أقربهم مني منزلة.
بيهقي، السنن الکبري. ۳ : ۲۴۹، رقم : ۵۷۹۱
’’حضرت ابو امامۃ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہر جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود بھیجنا اپنا معمول بنا لو بے شک میری امت کا درود ہر جمعہ کے روز مجھ پر پیش کیا جاتا ہے اور میری امت میں سے جو مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجنے والا ہو گا وہ (قیامت کے روز) مقام و منزلت کے اعتبار سے میرے سب سے زیادہ قریب ہو گا۔‘‘
۱۳. إنها تقوم مقام الصدقة لذي العسرة.
’’تنگ دست اور مفلس کے لیے درود بھیجنا صدقہ کے قائم مقام ہے۔‘‘
عن أبي سعيد رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم أيما رجل لم يکن عنده صدقة فليقل في دعائه : أللهم صل علي محمد عبدک و رسولک وصل علي المؤمنين والمؤمنات و المسلمين والمسلمات فإنها له زکاة. هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه.
حاکم، المستدرک علي الصحيحين، ۴ : ۱۴۴، رقم : ۷۱۷۵
’’حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جس کے پاس صدقہ دینے کے لیے کچھ نہ ہو تو وہ اپنی دعا میں یوں کہے اے اللہ تو اپنے رسول اور بندے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیج اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتون مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں پر رحمتیں نازل فرما یہی اس کا صدقہ ہو جائے گا اس حدیث کی اسناد صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کی تخریج نہیں کی۔‘‘
۱۴. إنها سبب لقضاء الحوائج.
’’درود شریف قضاء حاجات کا وسیلہ ہے۔‘‘
عن أنس بن مالک خادم النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال : قال النبي صلي الله عليه وآله وسلم إن أقربکم مني يوم القيامة في کل موطن أکثرکم عَلَيَّ صلاة في الدنياء من صلي عَلَيَّ في يوم الجمعة وليلة الجمعة مائة مرة قضي اﷲ له مائة حاجة سبعين من حوائج الآخرة وثلاثين من حوائج الدنيا.
بيهقي، شعب الايمان، ۳ : ۱۱۱، رقم : ۳۰۳۵
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خادمِ خاص تھے بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے روز تمام دنیا میں سے تم میں سب سے زیادہ میرے قریب وہ شخص ہوگا جو دنیا میں تم میں سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجنے والا ہوگا پس جو شخص جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات مجھ پر سو مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تبارک و تعالیٰ اس کی سو حاجتیں پوری فرماتا ہے ان میں سے ستر (۷۰) آخرت کی حاجتوں میں سے اور تیس (۳۰) دنیا کی حاجتوں میں سے ہیں۔‘‘
۱۵. إنها سبب لصلاة اﷲ علي المصلي وصلاة ملائکة عليه.
’’یہ (درود) درود خواں کے لئے اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فرشتوں کی دعائے رحمت کے حصول کا سبب بنتا ہے۔‘‘
عن عبداﷲ بن عمرو رضي الله عنه يقول : من صلي علي رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم صلاة صلي اﷲ عليه وسلم و ملائکته سبعين صلاة فليقل عبد من ذلک أو ليکثر.
احمد بن حنبل، المسند، ۲ : ۱۷۲، رقم : ۶۶۰۵
’’حضرت عبداﷲ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اﷲ اور اس کے فرشتے اس پر ستر مرتبہ درود وسلام بھیجتے ہیں پس اب بندہ کو اختیار ہے چاہے تو وہ اس سے کم یا زیادہ درود بھیجے۔‘‘
۱۶. إنها زکاة للمصلي وطهارة له.
’’یہ (درود) درود پڑھنے والے کے لیے زکوٰۃ اور طہارت ہے۔‘‘
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : صلوا عليَّ، فإن صلاة عليَّ زکاة لکم.
ابن ابي شيبه، المصنف، ۶ : ۳۲۵، رقم : ۳۱۷۸۴
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھ پر درود بھیجو بے شک تمہارا مجھ پر درود بھیجنا یہ تمہاری پاکیزگی (کا سبب) ہے۔‘‘
۱۷. إنها سبب لتبشير العبد بالجنة قبل موته.
’’بے شک درود بھیجنا موت سے پہلے بندہ کو جنت مل جانے کی خوشخبری کا سبب بنتاہے۔‘‘
عن أنس رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من صلي عَلَيََّّ في يوم ألف مرة لم يمت حتي يري مقعده من الجنة.
منذري، الترغيب والترهيب، ۲ : ۳۲۸، رقم : ۲۵۷۹
’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مجھ پر ایک دن میں ہزار مرتبہ درود بھیجتا ہے اسے اس وقت تک موت نہیں آئی گی جب تک وہ جنت میں اپنا ٹھکانہ نہ دیکھ لے۔‘‘
۱۸. إنها سبب للنجاة من أهوال يوم القيامة.
’’بے شک درود بھیجنا قیامت کی ہولناکیوں سے نجات کا سبب بنتا ہے۔‘‘
عن أنس بن مالک عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال : يا أيها الناس إن أنجاکم يوم القيامة من أهوالها و مواطنها أکثرکم علي صلاة في دار الدنيا.
ديلمي، مسند الفردوس، ۵ : ۲۷۷، رقم : ۸۱۷۵
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا لوگو تم میں سے قیامت کی ہولناکیوں اور اس کے مختلف مراحل میں سب سے زیادہ نجات پانے والا وہ شخص ہوگا جو دنیا میں تم میں سب سے زیادہ مجھ پر درود بھیجنے والا ہو گا۔‘‘
۱۹. إنها سبب لرد النبي صلي الله عليه وآله وسلم الصلاة والسلام علي المصلي والمسلم عليه.
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود درود و سلام بھیجنے والے کو اس کا جواب مرحمت فرماتے ہیں۔‘‘
عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال : مامن أحدٍ يسلم عَلَيَّ إلا ردَّ اﷲ عَلَيَّ روحي حتي أرد عليه السلام.
ابو داؤد، السنن، ۲ : ۲۱۸، کتاب المناسک، باب زيارة القبور، رقم : ۲۰۴۱
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی شخص مجھ پر سلام بھیجتا ہے تو اللہ تبارک تعالیٰ مجھے میری روح لوٹا دیتا ہے پھر میں اس سلام بھیجنے والے کو سلام کا جواب دیتا ہوں۔‘‘
۲۰. إنها سبب لتذکر العبد مانسيه.
’’بے شک درود بھولی ہوئی شئے یاد آجانے کا سبب بنتا ہے۔‘‘
عن أنس بن مالک : قال قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : إذا نسيتم شيئاً فصلوا عليّ تذکروه إن شاء اﷲ.
ابن قيم، جلاء الأفهام، ۲۲۳
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب تمہیں کوئی بات بھول جائے تو مجھ پر درود بھیجو ان شاء اﷲ وہ (بھولی ہوئی چیز) تمہیں یاد آ جائے گی۔‘‘
۲۱. إنها سبب لطيب المجلس، وأن لا يعود حسرة علي أهله يوم القيامة.
’’درود پاک کی برکت سے مجلس پاکیزہ ہوجاتی ہے اور قیامت کے دن وہ نشست اہل مجلس کے لیے حسرت کا باعث نہیں بنے گی۔‘‘
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : ما اجتمع قوم في مجلسٍ فتفرقوا من غير ذکر اﷲ والصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم إلا کان عليهم حسرة يوم القيامة‘‘.
ابن حبان، الصحيح، ۲ : ۳۵۱، رقم : ۵۹۰
’’حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب کچھ لوگ کسی مجلس میں جمع ہوتے ہیں پھر اس مجلس سے اللہ کا ذکر کیے بغیر اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجے بغیر ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں تو ان کی یہ مجلس قیامت کے روز ان کے لئے حسرت و ملال کا باعث ہو گی۔‘‘
۲۲. إنها تنفي عن العبد اسم البخل إذا صلي عليه عند ذکره صلي الله عليه وآله وسلم.
’’درود شریف بھیجنے کی برکت سے بخیلی کی عادت بندہ سے جاتی رہتی ہے۔‘‘
عن حسين بن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم البخيل الذي من ذُکِرتُ عنده، لم يُصلِّ عليَّ.
ترمذي، الجامع الصحيح، ۵ : ۵۵۱، کتاب الدعوات، باب قول رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم ’’رغم أنف رجل‘‘، رقم : ۳۵۴۶
’’حضرت حسین بن علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بے شک بخیل وہ ہے جس کے سامنے میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔‘‘
۲۳. نجاته من الدعاء عليه الأنف إذا ترکها عند ذکره صلي الله عليه وآله وسلم.
’’درود پڑھنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بد دعا (ناک خاک آلود ہو) سے بندہ محفوظ ہوجاتا ہے۔‘‘
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : رغم أنفُ رجلٍ ذکرت عنده، فلم يصل عَلَيَّ.
ترمذي، الجامع الصحيح، ۵ : ۵۵۰، کتاب الدعوت، باب قول رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم رغم أنف رجل، رقم : ۳۵۴۵
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس آدمی کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے میرا نام لیاجائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔‘‘
۲۴. إنها ترمي صاحبها علي طريق الجنة وتخطي بتارکها عن طريقها.
’’درود شریف درود بھیجنے والے کو جنت کے راستے پر گامزن کر دیتا ہے اور جو درود کو ترک کرتا ہے وہ جنت کی راہ سے دور ہوجاتا ہے۔‘‘
عن جعفر، عن أبيه رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من ذکرت عنده فنسي الصلاة عَلَيَّ خطئي طر يق الجنة يوم القيامة.
ابن ابي شيبه، المصنف، ۶ : ۳۲۶، رقم : ۳۱۷۹۳
’’حضرت جعفر رضی اللہ عنہ اپنے والدسے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود بھیجنا بھول جائے تو قیامت کے روز وہ جنت کا راستہ بھول جائے گا۔‘‘
۲۵. إنها تنجي من نتن المجلس الذي يذکر فيه اﷲ ورسوله ويحمد ويثني عليه فيه ويصلي علي رسوله صلي الله عليه وآله وسلم
’’درود بھیجنا مجلس کی سڑانڈ سے نجات دیتا ہے۔ کیونکہ اس مجلس میں ذکر الہٰی اور ذکر مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا جاتا ہے، اور باری تعالیٰ کی حمدوثناء اور محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا جاتا ہے۔‘‘
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : ما اجتمع قوم في مجلسٍ فتفرقوا من غير ذکر اﷲ والصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم إلا کان عليهم حسرة يوم القيامة‘‘.
ابن حبان، الصحيح، ۲ : ۳۵۱، رقم : ۵۹۰
’’حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جب چند لوگ کسی مجلس میں جمع ہوتے ہیں پھر اس مجلس سے وہ اللہ کا ذکر کیے بغیر اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجے بغیر ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے ہیں تو ان کی یہ مجلس قیامت کے روز ان کے لئے باعثِ حسرت و ملال ہو گی۔‘‘
۲۶. إنها سبب لتمام الأمر الذي ابتدي بحمد اﷲ والصلاة علي رسوله
’’جو کام اﷲ کی حمدوثنا اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود سے شروع ہو، درود اس کے مکمل ہونے کا سبب بن جاتا ہے۔‘‘
عن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم أنه قال : کل أمر لم يبدأ فيه بحمد اﷲ والصلاة عَلَيَّ فهو أقطع أبتر ممحوق من کل برکة.
ابويعلي، الارشاد، ۱ : ۴۴۹، رقم : ۱۱۹
’’ہر وہ نیک اور اہم کام جس کو نہ تو اللہ تعالیٰ کی حمد کے ساتھ اور نہ ہی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے ساتھ شروع کیا جائے تو وہ ہر طرح کی برکت سے خالی ہو جاتا ہے۔‘‘
۲۷. إنها سبب لوفور نور العبد علي الصراط.
’’پل صراط پر بندہ کے لیے افراطِ نور کا سبب درود شریف بنے گا۔‘‘
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : الصلاة عَلَيَّ نور علي الصراط ومن صلي عَلَيَّ يوم الجمعة ثمانين مرة غفرله ذنوب ثمانين عامًا.
ديلمي، مسند الفردوس، ۲ : ۴۰۸، رقم : ۳۸۱۴
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھ پر بھیجا ہوا درود پل صراط پر نور بن جائے گا اور جو شخص مجھ پر جمعہ کے دن اسی (۸۰) مرتبہ درود بھیجتا ہے اس کے اسی (۸۰) سال کے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔‘‘
۲۸. إنها سبب أنه يخرج بها العبد عن الجفاء.
’’بے شک حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے سے بندہ جفاء کی زد سے باہر نکل جاتا ہے۔‘‘
عن محمد بن عليقال : قال سول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من الجفاء ان أذکر عند رجل فلا يصلي عَلَيَّ.
عبدالرزاق، المصنف، ۲ : ۲۱۷، رقم : ۳۱۲۱
’’حضرت محمد بن علی رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ جفا (بے وفائی) ہے کہ کسی کے پاس میرا ذکر ہو اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔‘‘
۲۹. إنها سبب لنيل رحمة اﷲ له.
’’بے شک درود اللہ تعالیٰ کی رحمت تک رسائی حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ (کیونکہ صلوٰۃ بمعنی رحمت کے ہے اور صلوٰۃ قضائے رحمت اور موجبِ رحمت ہے)۔‘‘
عن أنس بن مالک أن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال : من ذکرت عنده فليصل عَلَيَّ ومن صلي عَلَيَّ مرة واحدة صلي اﷲ عليه عشرًا.
نسائي، السنن الکبري، ۶ : ۲۱، رقم : ۹۸۸۹
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے پاس میرا ذکر ہو تو اسے چاہیے کہ وہ مجھ پر درود بھیجے اور جو مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔‘‘
۳۰. إنها سبب يعرض اسم المصلي عليه صلي الله عليه وآله وسلم وذکره عنده.
’’درود پڑھنا اس امر کا سبب بنتا ہے کہ درود پڑھنے والے کے نام کا ذکر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں کیا جائے۔‘‘
عن عمار بن ياسر رضي الله عنه يقول : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : إن اﷲ وکل بقبري ملکا أعطاه أسماع الخلائق، فلا يصلي عَلَيَّ أحد إلي يوم القيامة، إلابلغني باسمه واسم أبيه هذا فلان بن فلان قد صلي عليک.
بزار، المسند، ۴ : ۲۵۵، رقم : ۱۴۲۵
’’حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ بے شک اللہ تبارک و تعالیٰ نے میری قبر میں ایک فرشتہ مقرر کیا ہوا ہے جس کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمام مخلوقات کی آوازوں کو سننے (اور سمجھنے) کی قوت واستعداد عطاء فرمائی ہے پس قیامت کے دن تک جو بھی مجھ پر درود پڑھے گا وہ فرشتہ اس درود پڑھنے والے کا نام اور اس کے والد کا نام مجھے پہنچائے گا اور کہے گا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فلاں بن فلاں نے آپ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا ہے۔‘‘
۳۱. إنها سبب لتثبت القدام علي الصراط
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھنے والے کو پل صراط پر سے گزرتے وقت ثابت قدمی نصیب ہو گی۔‘‘
عن عبدالرحمٰن بن عوف قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : رأيت رجلاً من أمتي يزحف علٰي الصراط مرة ويجثومرة ويتعلق مرة فجاء ته صلاته علي فأخذت بيده فأقامته علٰي الصراط حتي جاوز.
هيثمي، مجمع الزوائد، ۷ : ۱۸۰
’’حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنی امت کا ایک آدمی دیکھا جو کبھی تو پل صراط پر آگے بڑھتا ہے اور کبھی رک جاتا ہے اور کبھی لٹک جاتا ہے پس اس کا مجھ پر درود بھیجنا اس کے کام آتا ہے اور اس کی دستگیری کرتا ہے اور اس کو پل صراط پر سیدھا کھڑا کرلیتا ہے یہاں تک کہ وہ اس کو عبور کر لیتا ہے۔‘‘
۳۲. الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم زينة المجالس،
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھنا مجالس کی زینت کا سبب بنتا ہے۔‘‘
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال : رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : زينوا مجالسکم بالصلاة عَلَيَّ فإن صلاتکم تعرض عَلَيَّ أو تبلغني.
عجلوني، کشف الخفاء، ۱ : ۵۳۶، رقم : ۱۴۴۳
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ (اے لوگو) مجھ پر درود بھیجنے کے ذریعے اپنی مجالس کو سجایا کرو بے شک تمہارا درود مجھے پیش کیا جاتا ہے یا مجھے پہنچ جاتا ہے۔‘‘
۳۳. إنها سبب برأة المصلي من النفاق
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا درود بھیجنے والے کو نفاق سے پاک کر دیتا ہے۔‘‘
۳۴. أنها سبب برأة المصلي من النار
’’رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا درود بھیجنے والے کو جہنم کی آگ سے بچا لیتا ہے۔‘‘
۳۵. إنها سبب لإسکان المصلي مع الشهدأ يوم القيامة
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا درود بھیجنے والے کو روزِ قیامت شہداء کے ساتھ ٹھہرانے کا سبب بنتا ہے۔‘‘
عن أنس بن مالک رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم من صلي عَلَيَّ صلاة واحدة صلي اﷲ عليه عشراً ومن صلي عَلَيَّ عشرا صلي اﷲ عليه مائة ومن صلي عَلَيَّ مائة کتب اﷲ بين عينيه براء ة من النفاق و براء ة من النار وأسکنه اﷲ يوم القيامة مع الشهداء.
طبراني، المعجم الاوسط، ۷ : ۱۸۸، رقم : ۷۲۳۵
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو مجھ پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالی اس پر دس مرتبہ درود (بصورت رحمت) بھیجتا ہے اورجو مجھ پر دس مرتبہ درود بھیجتاہے اللہ اس پر سو مرتبہ درود (بصورت دعا) بھیجتا ہے اور جو مجھ پرسو مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالی اس کی آنکھوں کے درمیان نفاق اور جہنم کی آگ سے براء ت لکھ دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کا ٹھکانہ شہداء کے ساتھ کرے گا۔‘‘
۳۶. إنها سبب لصلاة الملائکة علٰي المصلي
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا درود بھیجنے والے پر فرشتوں کے درود بھیجنے کا سبب بنتا ہے۔‘‘
عن ربيعة رضي الله عنه عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قال : ما من مسلم يصلي عَلَيَّ إلا صلت عليه الملائکة ماصلي عَلَيَّ فليقل العبد من ذلک أوليکثر.
ابن ماجه، السنن، ۱ : ۲۹۴کتاب اقا مةالصلاة والسنة فيها، باب الاعتدال في السجود، رقم : ۹۰۷
’’حضرت ربیعۃ رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو بندہ بھی مجھ پر درود بھیجتا ہے تو فرشتے اس پر اسی طرح درود (بصورتِ دعا) بھیجتے ہیں جس طرح اس نے مجھ پر درود بھیجا پس اب بندہ کو اختیار ہے کہ وہ مجھ پر اس سے کم درود بھیجے یا زیادہ۔‘‘
۳۷. إنها سبب لتسليم اﷲ علٰي من سلم عليه صلي الله عليه وآله وسلم
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجنا سلام بھیجنے والے پر اﷲ تعالی کے سلام بھیجنے کا سبب بنتا ہے۔‘‘
عن عبدالرحمٰن بن عوف، أن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال : إني لقيت جبرئيل عليه السلام فبشرني و قال : إن ربک يقول : من صلي عليک صليت عليه، و من سلم عليک سلمت عليه، فسجدت ﷲ عزوجل شکرًا.
حاکم، المستدرک علي الصحيحين، ۱ : ۷۳۵، رقم : ۲۰۱۹
’’حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بے شک میں جبرئیل علیہ السلام سے ملا تو اس نے مجھے یہ خوشخبری دی کہ بے شک آپ کا رب فرماتا ہے کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو شخض آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجتا ہے میں بھی اس پر درود و سلام بھیجتا ہوں پس اس بات پر میں اﷲ عزوجل کے حضور سجدہ شکر بجا لایا۔‘‘
۳۸. إنها سبب أنه يخرج بها العبدعن الشقاء
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے سے بندہ بدبختی سے نکل جاتا ہے۔‘‘
عن جابر بن عبداﷲ رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : من أدرک رمضان ولم يصمه فقد شقي ومن أدرک والديه أو أحدهما فلم يبره فقد شقي ومن ذکرت عنده فلم يصل عَلَيَّ فقد شقي.
طبراني، المعجم الاوسط، ۴ : ۱۶۲، رقم : ۳۸۷۱
’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ بدبخت ہے وہ شخص جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور اس کے روزے نہ رکھے اور بدبخت ہے وہ شخص جس نے اپنے والدین کو یا ان میں سے کسی ایک کو پایا اور ان کے ساتھ نیکی نہ کی اور بدبخت ہے وہ شخص جس کے سامنے میرا ذکر ہوا اور اس نے مجھ پر درود نہ بھیجا۔‘‘
۳۹. أن النبي صلي الله عليه وآله وسلم يسمع صلاة المصلي
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بذاتِ خود درود بھیجنے والے کا درود سنتے ہیں۔‘‘
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال النبي صلي الله عليه وآله وسلم من صلي عَلَيَّ عند قبري سمعته ومن صلي عَلَيَّ نائياً أبلغته.
بيهقي، شعب الايمان، ۲ : ۲۱۸، رقم : ۱۵۸۳
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو میری قبر کے نزدیک مجھ پر درود پڑھتا ہے میں خود اس کو سنتا ہوں اور جو دور سے مجھ پر درود بھیجتا ہے وہ (بھی) مجھے پہنچا دیا جاتا ہے۔‘‘
۴۰. الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم تبلغه صلي الله عليه وآله وسلم
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بھیجا ہوا درود ازخود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچ جاتا ہے۔‘‘
عن أبي هريرة قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم لاتجعلوا بيوتکم قبوراً ولاتجعلواقبري عيدا وصلوا عَلَيَّ فإن صلاتکم تبلغني حيث کنتم.
ابو داؤد، السنن، ۲ : ۲۱۸، کتاب المناسک، باب زيارة القبور، رقم : ۲۰۴۲
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اپنے گھروں کو قبریں نہ بناؤ اور نہ ہی میری قبر کو عیدگاہ (کہ جس طرح عید سال میں دو مرتبہ آتی ہے اس طرح تم سال میں صرف ایک یا دو دفعہ میری قبر کی زیارت کرو بلکہ میری قبر کی جہاں تک ممکن ہو کثرت سے زیارت کیا کرو) اور مجھ پر درود بھیجا کرو پس تم جہاں کہیں بھی ہوتے ہو تمہارا درود مجھے پہنچ جاتا ہے۔‘‘
۴۱. السلام علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يبلغه صلي الله عليه وآله وسلم
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بھیجا ہوا سلام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پہنچ جاتا ہے۔‘‘
عن علي مرفوعاً قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم سَلِّمُوا عَلَيَّ فإن تسليمکم يبلغني أينما کنتم.
عجلوني، کشف الخفاء، ۲ : ۳۲، رقم : ۱۶۰۲
’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مجھ پر سلام بھیجا کرو بے شک تم جہاں کہیں بھی ہو تمہارا سلام مجھے پہنچ جاتا ہے۔‘‘
۴۲. صلاة المصلي علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم سبب لبشراه صلي الله عليه وآله وسلم
’’درود بھیجنے والے کا درود حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوشی کا باعث ہے۔‘‘
عن أبي طلحة رضي الله عنه أن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم جاء ذات يوم و البشر يري في وجهه فقال : أنه جاء ني جبريل عليه السلام فقال : أما يرضيک يامحمد أن لا يصلي عليک أحد من أمتک إلا صليت عليه عشراً، ولا يسلم عليک أحد من أمتک إلا سلمت عليه عشرا؟
نسائي، السنن، ۳ : ۵۰، کتاب السهو، باب الفضل في الصلاة عَلٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۱۲۹۴
’’حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ انور پر خوشی کے آثار نمایاں تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میرے پاس جبرئیل آئے اور کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بات پر خوش نہیں ہوں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں سے جو کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے میں اس پر دس مرتبہ درود (بصورت دعا) بھیجتا ہوں اورجو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک مرتبہ سلام بھیجتا ہے میں اس پر دس مرتبہ سلام بھیجتا ہوں۔‘‘
۴۳. إن اولٰي الناس بالنبي صلي الله عليه وآله وسلم أکثرهم عليه صلي الله عليه وآله وسلم صلاة
’’روزِ قیامت حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زیادہ قریب وہ شخص ہوگا جو دنیا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود کی کثرت کرتا ہو گا۔‘‘
عن عبداﷲ بن مسعود : أن رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال أولي الناس بي يوم القيامة أکثرهم عَلَيَّ الصلاة.
ترمذي، الجامع الصحيح، ۲ : ۳۵۴، ابواب الوتر، باب ماجاء في فضل الصلاةعلي النبي صلي الله عليه وآله وسلم، رقم : ۴۸۴
’’حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے دن لوگوں میں سب سے زیادہ میرے قریب وہ ہوگا جو (دنیا میں) مجھ پر سب سے زیادہ درود بھیجا کرتا تھا۔‘‘
۴۴. من صلٰي علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم في کتاب لم تزل الملائکة تصلي عليه مادام اسمه في ذلک الکتاب
’’جو شخص کسی کتاب میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے فرشتے اس وقت تک اس پر درود (بصورتِ دعا) بھیجتے رہتے ہیں جب تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کانام اس کتاب میں موجود رہتا ہے۔‘‘
عن أبي هريرة قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم من صلي عَلَيَّ في کتاب لم تزل الملائکة تستغفر له مادام إسمي في ذلک الکتاب.
طبراني، المعجم الاوسط، ۲ : ۲۳۲، رقم : ۱۸۳۵
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص مجھ پر کسی کتاب میں درود بھیجتا ہے تو فرشتے اس کے لئے اس وقت تک بخشش کی دعا کرتے رہتے ہیں جب تک میرا نام اس کتاب میں موجود رہتا ہے۔‘‘
۴۵. من صلٰي علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يوم الجمعة ثمانين مرة غفرت له خطيئة ثمانين سنة
’’جو شخص جمعہ کے دن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ۸۰ مرتبہ درود بھیجتا ہے اس کے ۸۰ سال کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔‘‘
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال قال رسوعزوجل اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم الصلاة عَلَيَّ نور عَلٰي الصراط ومن صلي عَلَيَّ يو م الجمعة ثمانين مرة غفرله ذنوب ثمانين عَامًا.
ديلمي، مسند الفردوس، ۲ : ۴۰۸، رقم : ۳۸۱۴
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھ پر درود بھیجنا پل صراط پر نور کا کام دے گا پس جو شخص جمعہ کے دن مجھ پر اسی (۸۰) مرتبہ درود بھیجتا ہے اللہ تبارک وتعالیٰ اس کے اسی (۸۰) سال کے گناہ بخش دیتا ہے۔‘‘
۴۶. يصلي سبعون ألف ملک علٰي من صلي علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم
’’جو شخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے ستر ہزار فرشتے اس پر درود (بصورتِ دعا) بھیجتے ہیں۔‘‘
عن عبدالرحمٰن بن عوف رضي الله عنه قال : خرجت مع رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم إلي البقيع فسجد سجدة طويلة، فسألته فقال : جاء ني جبريل عليه السلام، وقال : إنه لا يصلي عليک أحد إلا ويصلي عليه سبعون ألف ملک.
ابن ابي شيبه، المصنف، ۲ : ۵۱۷
’’حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جنت البقیع کی طرف آیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہاں ایک طویل سجدہ کیا پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جبرئیل علیہ السلام میرے پاس آئے اور فرمایا جو کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے ستر ہزار فرشتے اس پر درود(بصورت دعا) بھیجتے ہیں۔‘‘
۴۷. الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم تستغفرلقائله
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بھیجا ہوا درود، درود خواں کے لئے مغفرت طلب کرتا ہے۔‘‘
۴۸. الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم تقربهاعين المصلي
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بھیجے ہوئے درود سے درود خواں کی آنکھوں کوٹھنڈک نصیب ہوتی ہے۔‘‘
عن عائشة قالت : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : ما من عبد يصلي عَلَيَّ صلاة إلا عرج بها ملک حتي يجيء وجه الرحمنعزوجل فيقول اﷲعزوجل إذهبوا بها إلي قبر عبدي تستغفر لقائلها و تقربه عينه.
ديلمي، مسند الفردوس، ۴ : ۱۰، رقم : ۶۰۲۶
’’حضرت عائشۃ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص بھی مجھ پر درود بھیجتا ہے ایک فرشتہ اس درود کو لے کر اللہ عزوجل کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اس فرشتے کو فرماتے ہیں کہ اس درود کو میرے بندے (حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی قبر انور میں لے جاؤ تاکہ یہ درود اس کو کہنے والے کے لئے مغفرت طلب کرئے اور اس سے اس کی آنکھوں کو ٹھنڈک پہنچے۔‘‘
۴۹. الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم أمحق للخطايا من الماء للنار
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا پانی کے آگ کو مٹانے سے بڑھ کر گناہوں کا مٹانے والاہے۔‘‘
۵۰. السلام علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم أفضل من عتق الرقاب
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجنا غلاموں کو آزاد کرنے سے زیادہ افضل ہے۔‘‘
عن أبي بکر الصديق قال : الصلاة عَلٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم أمحق للخطايا من الماء للنار، والسلام عَلٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم أفضل من عتق الرقاب، وحب رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم أفضل من مهج الأنفس أوقال : من ضرب السيف في سبيل اﷲ عزوجل.
هندي، کنزالعمال، ۲ : ۳۶۷، رقم : ۳۹۸۲، باب الصلاةعليه صلي الله عليه وآله وسلم
’’حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا پانی کے آگ کو بجھانے سے بھی زیادہ گناہوں کو مٹانے والا ہے۔ اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سلام بھیجنا غلاموں کو آزاد کرنے سے بڑھ کر فضیلت والا کام ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت جانوں کی روحوں سے بڑھ کر فضیلت والی ہے یا فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے سے بھی بڑھ کر فضیلت والی ہے۔‘‘
۵۱. إنها سبب لإستيجاب الأمان من سخط اﷲ
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا اﷲ تعالیٰ کی ناراضگی سے محفوظ رہنے کا سبب بنتا ہے۔‘‘
عن علي رضي الله عنه أنه قال لولا أن أنس ذکر اﷲ عزوجل ما تقربت إلٰي اﷲ عزوجل إلّا بالصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم فإني سمعت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يقول : قال جبريل : يا محمد! إن اﷲ عزوجل يقول من صلي عليک عشر مرات إستوجب الأمان من سخطي.
سخاوي، القول البديع : ۱۲۲
’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اگر میں اﷲ عزوجل کا ذکر بھول جاتا تو میں اس کا قرب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے بغیر نہ پاسکتا، بے شک میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جبرئیل امین نے مجھے کہا اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر دس مرتبہ درود بھیجتا ہے وہ میری ناراضگی سے محفوظ رہتا ہے۔‘‘
۵۲. مکثر الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يکون تحت ظل عرش اﷲ يوم القيامة
’’روز قیامت (دنیا میں) حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنے والا اﷲ تعالیٰ کے عرش کے سائے تلے ہو گا۔‘‘
عن علي عن النبي صلي الله عليه وآله وسلم أنه صلي الله عليه وآله وسلم قال : ثلاثة تحت ظل عرش اﷲ يوم القيامة يوم لاظلّ إلا ظلّه قيل من هم يارسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم قال من فرج عن مکروب من أمتي وأحيا سنتي وأکثر الصلاة علي.
سخاوي، القول البديع : ۱۲۳
’’حضرت علی رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قیامت والے دن تین اشخاص اﷲتعالیٰ کے عرش کے سائے تلے ہوں گے کہ جس دن اﷲتعالیٰ کے عرش کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہیں ہوگا۔ عرض کیا گیا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ (تین اشخاص) کون ہیں؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ایک وہ شخص جس نے میری امت کے کسی مصیبت زدہ سے مصیبت کو دور کیا دوسرا وہ جس نے میری سنت کو زندہ کیا اور تیسرا وہ جس نے کثرت سے مجھ پر درود بھیجا۔‘‘
۵۳. أحب الأعمال إليٰ اﷲ الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم
’’اﷲ کے ہاں محبوب ترین عمل حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا ہے۔‘‘
عن علي بن أبي طالب رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : قلت لجبريل أي الأعمال أحب إلٰي اﷲ عزوجل قال الصلاة عليک يا محمد صلي الله عليه وآله وسلم وحب علي بن أبي طالب.
سخاوي، القول البديع، ۱۲۹
’’حضرت علی بن ابو طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں نے جبرئیل سے پوچھا اﷲ کے ہاں محبوب ترین عمل کون سے ہیں؟ تو جبرئیل نے کہا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرنا۔‘‘
۵۴. إنها سبب لنفي الفقر
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا فقر کو ختم کر دیتا ہے۔‘‘
عن سمرة السوائي والد جابر رضي الله عنه قال : قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم کثرة الذکر والصلاة علي تنفي الفقر.
سخاوي، القول البديع، ۱۲۹
’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے والد حضرت سمرہ سوائی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کثرت ذکر اور مجھ پر درود بھیجنا فقر کو ختم کر دیتا ہے۔‘‘
۵۵. ينضراﷲ قلب المصلي وينوره بالصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم
’’اﷲ تعالیٰ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے والے کے دل کو درود کے وسیلہ سے تر و تازہ اور منور کر دیتا ہے۔‘‘
عن خضر بن أبي العباس والياس بن بسام قالا سمعنا رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يقول : مامن مؤمن صلٰي علٰي محمد صلي الله عليه وآله وسلم إلا نضربه قلبه ونوره اﷲ عزوجل.
سخاوي، القول البديع : ۱۳۲
’’حضرت خضر بن ابو عباس اور الیاس بن بسام رضی اﷲ عنھما سے روایت ہے کہ ہم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جو مؤمن بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کے دل کو ترو تازہ اور منور کردیتا ہے۔‘‘
۵۶. من صلٰي علٰي ا لنبي صلي الله عليه وآله وسلم فتح اﷲ له سبعين بابا من الرحمة.
’’جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کے لئے رحمت کے ستر دروازے کھول دیتا ہے۔‘‘
عن خضر بن أنشا والياس بن بسام قالا : سمعناه صلي الله عليه وآله وسلم يقول علي المنبر : من قال صلي اﷲ علٰي محمد صلي الله عليه وآله وسلم فقد فتح علٰي نفسه سبيعن باباً من الرحمة.
سخاوي، القول البديع : ۱۳۳
’’حضرت خضر بن انشا اور الیاس بن بسام رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ ہم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص ’’صلی ا ﷲ علی محمد‘‘ (اللہ تعالیٰ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجے) کہتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کے لیے اپنی رحمت کے ستر دروازے کھول دیتا ہے۔‘‘
۵۷. الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم سبب لرؤيته في المنام
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خواب میں دیکھنے کا سبب ہے۔‘‘
عن خضر بن أنشا و الياس بن بسام يقولان : جاء رجل من الشام إلٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم فقال يارسول اﷲ : إن إبي شيخ کبير وهو يحب أن يراک فقال ائتني به فقال أنه ضرير البصر فقال قل له ليقل في سبع اسبوع يعني في سبع ليال صلي اﷲ علٰي محمد صلي الله عليه وآله وسلم فإنه يرأني في المنام حتيٰ يروي عني الحديث ففعل فرأه في المنام.
سخاوي، القول البديع : ۱۳۳
’’حضرت خضر بن انشا اور الیاس بن بسام رضی اﷲ عنھما سے روایت ہے کہ شام کا ایک آدمی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کرنے لگا یارسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بے شک میرا باپ بوڑھا ہے لیکن وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت کرنے کا مشتاق ہے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا کہ اپنے باپ کو میرے پاس لے آؤ آدمی نے عرض کیا یا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ نابینا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اس کو کہو کہ وہ سات راتیں ’’صلی ا ﷲ علی محمد‘‘ (اللہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجے) پڑھ کر سوئے بے شک (اس عمل کے بعد) وہ مجھے خواب میں دیکھ لے گا اور مجھ سے حدیث روایت کرے گا آدمی نے ایسا ہی کیا تو اس کو خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔‘‘
۵۸. الصلاة علٰي النبي تقي المصلي من الغيبة.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا درود بھیجنے والے کو غیبت سے بچاتا ہے۔‘‘
عن خضر ابن أنشا والياس بن بسام يقولان : سمعنا رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم يقول، إذا جلستم مجلسا فقولوا بسم اﷲ الرحمٰن الرحيم، وصلي اﷲ علٰي محمد يوکل اﷲ بکم ملکا يمنعکم من الغيبة حتي لا تغتابوا.
سخاوي، القول البديع : ۱۳۳
’’حضرت خضر بن انشا اور الیاس بن بسام رضی اﷲ عنھما سے روایت ہے کہ ہم نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب تم کسی مجلس میں بیٹھو تو بسم اﷲ الرحمن الرحیم اور صلی اﷲ علٰی محمد کہو تو اﷲ تعالیٰ تمہارے ساتھ ایک فرشتہ مقرر کر دے گا جو تمہیں غیبت کرنے سے باز رکھے گا۔‘‘
۵۹. الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم طهارة قلوب المؤمنين من الصداء.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا مومنین کے دلوں کو زنگ آلود ہونے سے بچاتا ہے۔‘‘
عن محمد بن قاسم رفعه، لکل شيئٍ طهارة وغسل وطهارة قلوب المؤمنين من الصداء الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم.
سخاوي، القول البديع : ۱۳۵
’’حضرت محمد بن قاسم سے مرفوعاً روایت ہے کہ ہر چیزکے لیے طہارت اور غسل ضروری ہے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا مؤمنین کے دلوں کو زنگ سے پاک کرتا ہے۔‘‘
۶۰. صلاة النبي صلي الله عليه وآله وسلم سبب لحب الناس للمصلي.
’’حضور ن بی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا درود بھیجنے والے کے لیے لوگوں کی محبت کا سبب بنتا ہے۔‘‘
عن خضر والياس قالا قال رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم : مامن مؤمن يقول صلي اﷲ علي محمد صلي الله عليه وآله وسلم الا أحبه الناس وإن کانوا أبغضوه.
سخاوي، القول البديع : ۱۳۳
’’حضرت خضر اور حضرت الیاس رضی اﷲ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کوئی مومن ایسا نہیں کہ وہ صلی اﷲ علٰی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہے مگر یہ کہ لوگ اس سے سب سے زیادہ محبت کرنے لگیں گے اگرچہ اس سے پہلے وہ اس سے نفرت ہی کیوں نہ کرتے ہوں۔‘‘
۶۱. الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم سبب لمصافحته المصلي يوم القيامة.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قیامت کے دن مصافحہ کرنے کا سبب ہے۔‘‘
عن عبدالرحمٰن بن عيسٰي قال قال النبي صلي الله عليه وآله وسلم من صلي علي في يوم خمسين مرة صافحته يوم القيامة.
سخاوي، القول البديع، ۱۳۶
’’حضرت عبدالرحمٰن بن عیسیٰ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جو روزانہ مجھ پر پچاس (۵۰) مرتبہ درود بھیجتا ہے قیامت کے روز میں اس سے مصافحہ کروں گا۔
۶۲. الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم سبب لتقبيله فم المصلي
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درود بھیجنے والے کے منہ کو بوسہ سے نوازنے کا سبب بنتا ہے۔‘‘
عن محمد بن سعيد بن مطرف الرجل الصالح قال کنت جعلت علٰي نفسي کل ليلة عند النوم إذا أويت إلٰي مضجعي عدداً معلوماً أصليه علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم فإذا أنا في بعض الليالي قد أکملت العدد فأخذتني عيناي وکنت ساکنًا في غرفة فإذا بالنبي صلي الله عليه وآله وسلم قد دخل عليّ من باب الغرفة فأضاء ت به نورًا ثم نهض نحوي وقال هات هذا الفم الذي يکثرالصلاة عليَّ أقبله.
نبهاني، سعادة الدارين، ۴۷۱
’’حضرت محمد بن سعید بن مطرف رضی اللہ عنہ جو کہ ایک نیک اور صالح انسان تھے فرماتے ہیں کہ ہر رات سونے سے پہلے میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے لئے ایک خاص عدد مقرر کیا ہوا تھا۔ پھر ایک رات میں نے درود کا عدد مکمل کیا ہی تھا کہ مجھے نیند آگئی درآنحالیکہ میں اپنے کمرے میں تھا میں نے خواب میں دیکھا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے کمرے کے دروازے سے اندر داخل ہو رہے ہیں پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسمِ اطہر سے میرا کمرہ منور ہو گیا پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری طرف بڑھے اور فرمایا اپنا منہ جو مجھ پر کثرت سے درود بھیجتا ہے آگے لاؤ تاکہ میں اس کو چوم سکوں۔‘‘
۶۳. المجلس الذي يصلي فيه علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم تتأرج منه الرائحة الطيبة إلي السماء.
’’وہ مجلس جس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا جاتا ہے اس سے ایک بہترین خوشبو آسمان کی طرف بلند ہوتی ہے۔‘‘
عن بعض العارفينث أنه قال مامن مجلس يصلي فيه علٰي محمد صلي الله عليه وآله وسلم إلا قامت منه رائحة طيبة حتي تبلغ عنان السماء فتقول الملائکة هذا مجلس صلي فيه علٰي محمد صلي الله عليه وآله وسلم.
نبهاني، سعادة الدارين : ۴۷۱
’’کسی عارف شخص سے روایت ہے کہ جس مجلس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا جاتا ہے اس سے ایک نہایت ہی پاکیزہ خوشبو پیدا ہوتی ہے جو آسمان کے کناروں تک پہنچ جاتی ہے (اس خوشبو کی وجہ سے) فرشتے کہتے ہیں یہ اس مجلس کی خوشبو ہے جس میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجا گیا۔‘‘
۶۴. کثرة الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يرضي الرحمن.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا اﷲ تعالیٰ کی رضا کا سبب بنتا ہے۔‘‘
۶۵. کثرة الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يطرد الشيطان.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا شیطان کو بھگاتا ہے۔‘‘
۶۶. کثرة الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يجلب السرور.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا خوشی لانے کا باعث بنتا ہے۔‘‘
۶۷. کثرة الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يقوي القلب والبدن.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا دل اور جسم کو مضبوط کرتا ہے۔‘‘
۶۸. کثرة الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم ينور القلب والوجه.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا دل اور چہرے کو منور کرتا ہے۔‘‘
۶۹. کثرة الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يجلب الرزق.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا کثرتِ رزق کا باعث بنتا ہے۔‘‘
۷۰. کثرة الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يکسب المهابة والحلاوة.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا اﷲ تعالیٰ سے خوف اور عبادت میں حلاوت کا باعث بنتا ہے۔‘‘
۷۱. کثرة الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يورث محبة النبي التي هي روح الاسلام.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنے سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت نصیب ہوتی ہے جو کہ روح اسلام ہے۔‘‘
۷۲. کثرة الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يورث المعرفة والانابة والقرب و حياة القلب و ذکر النبي صلي الله عليه وآله وسلم للعبد.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معرفت، انابت قربت اور دل کا باعث بنتا ہے۔‘‘
۷۳. کثرة الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم قوت القلب و روحه.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا دل اور جان کی غذا اور اس کی روح ہے۔‘‘
۷۴. کثرة الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يحدث الأنس.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا طبیعت میں انس و محبت کو پیدا کرتا ہے۔‘‘
۷۵. کثرة الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يزيل الوحشة.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا طبیعت اور مزاج سے وحشت کو ختم کر دیتا ہے۔‘‘
۷۶. کثرة الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يوجب تنزل السکينة.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا دلوں میں نزول سیکنۃ کا باعث بنتا ہے۔‘‘
۷۷. کثرة الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم غشيان الرحمة.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا رحمت کے سائبان کے چھا جانے کا باعث بنتا ہے۔‘‘
۷۸. کثرة الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم حفوف الملائکة بالمصلي.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنے سے فرشتے کا درود بھیجنے والے کو اپنے پروں کے ساتھ گھیر لیتے ہیں۔‘‘
۷۹. کثرة الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يشغل عن الکلام الضار.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا انسان کو نقصان دہ کلام سے بچاتا ہے۔‘‘
۸۰. کثرة الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يسعد المصلي.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا درود بھیجنے والے کی ابدی خیر و سعادت کا باعث بنتا ہے۔‘‘
۸۱. کثرة الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يسعد بها جليس المصلي.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنے کی وجہ سے درود بھیجنے والے کے ہم نشین اس کی مجلس سے خوش ہوتے ہیں۔‘‘
۸۲. الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم أيسر العبادات و أفضلها.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا آسان ترین اور افضل ترین عبادت ہے۔‘‘
۸۳. الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم غراس الجنة.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا جنت کی شادابی عطا کرتا ہے۔‘‘
۸۴. الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يؤمن العبد من نسيان النبي صلي الله عليه وآله وسلم.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنے سے انسان حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھولنے سے محفوظ ہو جاتا ہے۔‘‘
۸۵. الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يعم الاوقات والاحوال و ليس شيئ من الطاعات مثله.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا ایسی عبادت ہے جو تمام اوقات اور احوال میں بلاشرط جائز ہے اس کے وقت کی کوئی پابندی نہیں یہ عبادت ہر وقت ادا ہے اس میں قضا نہیں ہے جبکہ دوسری تمام عبادات ایسی نہیں۔‘‘
۸۶. الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم نور للعبد في دنياه و قبره و يوم حشره.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا بندے کے لئے دنیا، قبر اور یوم آخرت میں نور کا باعث بنتا ہے۔‘‘
۸۷. الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم رأس الولاية و طريقها.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا ولایت کی طرف جانے والا راستہ ہے۔‘‘
۸۸. الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يزيل خلة القلب و يفرق غمومه و همومه.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا دل کی مفلسی اور اس کے غموں کو دور کرتا ہے۔‘‘
۸۹. الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يزيل قسوة القلب.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا دل کی سختی کو دور کرتا ہے۔‘‘
۹۰. مجلس الصلاة والسلام مجالس الملائکة و رياض الجنة.
’’درود و سلام کی مجالس فرشتوں کی مجالس اور جنت کے باغات ہیں۔‘‘
۹۱. کل صلوٰة شرعت لإقامة الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم.
’’تمام نمازوں کو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درور بھیجنے کے ساتھ مشروع اور مشروط کر دیا گیا ہے۔‘‘
۹۲. أفضل کل أهل عمل أکثرهم فيه علي علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم صلاة.
’’تمام صاحبانِ اعمالِ صالحہ سے افضل وہ شخص ہے جو کثرت سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے۔‘‘
۹۳. إدامة الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم تنوب مناب کثير من الطاعات البدنية والمالية.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہمیشہ کثرت سے درود بھیجتے رہنا بہت ساری بدنی اور مالی طاعات کے قائم مقام ہے۔‘‘
۹۴. کثرة الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يعين علي طاعة اﷲ.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا اﷲ تعالیٰ کی اطاعت و بندگی میں معاون ثابت ہوتا ہے۔‘‘
۹۵. کثرة الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يسهل کل صعب.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا تمام امور میں حائل مشکلات کو رفع کر دیتا ہے۔‘‘
۹۶. کثرة الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم ييسر الأمور کلها.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا تمام امور کی انجام دہی کو آسان بنا دیتا ہے۔‘‘
۹۷. کثرة الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم يعطي المصلي رفعة لروحه.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنے والے کی روح اعلیٰ مقامات پر فائز کی جاتی ہے۔‘‘
۹۸. المصلون علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم أسبق العمال في مضمار الأخرة.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنے والے تمام اہل عمل سے آخرت میں سبقت لے جائیں گے۔‘‘
۹۹. الصلاة علٰي النبي صلي الله عليه وآله وسلم سد بين العبد و بين نار جهنم.
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود بھیجنا بندے اور جہنم کی آگ کے درمیان ڈھال بن جائے گا۔‘‘
۱۰۰. تتباهي کل بقاع الأرض بمن يصلي علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم.
’’زمین کے ٹکڑے بھی جن پر کوئی شخص حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتا ہے، اس شخص پر فخر کرتے ہیں۔‘‘
۱۰۱. کثرت الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم توصل المصلي إلي حضرة النبي صلي الله عليه وآله وسلم الروحية.
’’کثرتِ درود و سلام حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کچہری کی حاضری نصیب کرتا ہے۔‘‘
ماخذ و مراجع
۱۔ القرآن
۲۔ ابن ابی شیبہ، ابو بکر عبد اللہ بن محمد بن ابراہیم بن عثمان کوفی (۱۵۹۔ ۲۳۵ھ / ۷۷۶۔ ۸۴۹ء)۔ المصنف۔ ریاض، سعودی عرب: مکتبۃ الرشد، ۱۴۰۹ھ۔
۳۔ ابن ابی عاصم، ابوبکر بن عمرو بن ضحاک بن مخلد شیبانی (۲۰۶۔ ۲۸۷ھ / ۸۲۲۔ ۹۰۰ء) السنہ۔ بیروت، لبنان: المکتب الاسلامی، ۱۴۰۰ھ۔
۴۔ ابن ابی عاصم، ابوبکر بن عمرو بن ضحاک بن مخلد شیبانی (۲۰۶۔ ۲۸۷ھ / ۸۲۲۔ ۹۰۰ء) الزہد۔ قاہرہ، مصر: دارالریان للتراث، ۱۴۰۸ھ۔
۵۔ ابن اسحاق، اسماعیل بن اسحاق المالکی (۱۹۹۔ ۲۸۲ھ) فضل الصلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔ مدینہ منورہ، سعودی عرب: دارالمدینہ المنورہ، ۱۴۲۱ھ / ۲۰۰۰ء۔
۶۔ ابن جعد، ابو الحسن علی بن جعد بن عبید ہاشمی (۱۳۳۔ ۲۳۰ھ / ۷۵۰۔ ۸۴۵ء)۔ المسند۔ بیروت، لبنان: مؤسسہ نادر، ۱۴۱۰ھ / ۱۹۹۰ء۔
۷۔ ابن جوزی، ابو الفرج عبد الرحمن بن علی بن محمد بن علی بن عبید اللہ (۵۱۰۔ ۵۷۹ھ / ۱۱۱۶۔ ۱۲۰۱ء)۔ صفوۃ الصفوہ۔ بیروت، لبنان: دارالکتب العلمیہ، ۱۴۰۹ھ / ۱۹۸۹ء۔
۸۔ ابن حبان، ابو حاتم محمد بن حبان بن احمد بن حبان (۲۷۰۔ ۳۵۴ھ / ۸۸۴۔ ۹۶۵ء)۔ الصحیح۔ بیروت، لبنان: مؤسسۃ الرسالہ، ۱۴۱۴ھ / ۱۹۹۳ء۔
۹۔ ابن حبان، ابو محمد عبداللہ بن محمد بن جعفر بن حبان اصبہانی (۲۷۴۔ ۳۶۹ھ)۔ العظمہ۔ ریاض، سعودی عرب: دار العاصمہ، ۱۴۰۸ھ۔
۱۰۔ ابن حیان، ابو محمد عبداللہ بن محمد بن جعفر بن حیان اصبہانی (۲۷۴۔ ۳۶۹ھ)۔ طبقات المحدثین باصبھان۔ بیروت، لبنان: مؤسسۃ الرسا لۃ، ۱۴۱۲ ھ / ۱۹۹۲ء
۱۱۔ ابن خزیمہ، ابو بکر محمد بن اسحاق (۲۲۳۔ ۳۱۱ھ / ۸۳۸۔ ۹۲۴ء)۔ الصحیح۔ بیروت، لبنان: المکتب الاسلامی، ۱۳۹۰ھ / ۱۹۷۰ء۔
۱۲۔ ابن راہویہ، ابو یعقوب اسحاق بن ابراہیم بن مخلد بن ابراہیم بن عبداللہ (۱۶۱۔ ۲۳۷ھ / ۷۷۸۔ ۸۵۱ء)۔ المسند۔ مدینہ منورہ، سعودی عرب: مکتبۃ الایمان، ۱۴۱۲ھ / ۱۹۹۱ء۔
۱۳۔ ابن رجب حنبلی، ابو الفرج عبد الرحمن بن احمد (۷۳۶۔ ۷۹۵ھ)۔ جامع العلوم و الحکم فی شرح خمسین حدیثا من جوامع الکلم۔ بیروت، لبنان: دارالمعرفہ، ۱۴۰۸ھ۔
۱۴۔ ابن رجب حنبلی، ابو الفرج عبد الرحمن بن احمد (۷۳۶۔ ۷۹۵ھ)۔ التخویف من النار والتعریف بحال دارالبوار۔ دمشق، شام:مکتبۃدارالبیان، ۱۳۹۹ھ۔
۱۵۔ ابن عبدالبر، ابو عمر یوسف بن عبداﷲ بن محمد (۳۶۸۔ ۴۶۳ھ / ۹۷۹۔ ۱۰۷۱ء)۔ التمہید۔ مغرب (مراکش): وزارت عموم الاوقاف والشؤون الاسلامیہ، ۱۳۸۷ھ۔
۱۶۔ ابن سعد، ابو عبد اللہ محمد (۱۶۸۔ ۲۳۰ھ / ۷۸۴۔ ۸۴۵ء)۔ الطبقات الکبریٰ۔ بیروت، لبنان: دار بیروت للطباعہ و النشر، ۱۳۹۸ھ / ۱۹۷۸ء۔
۱۷۔ ابن قدامہ، ابو محمد عبداﷲ بن احمد المقدسی (۶۲۰ھ)۔ المغنی فی فقہ الامام احمد بن حنبل الشیبانی۔ بیروت، لبنان: دارالفکر، ۱۴۰۵ھ۔
۱۸۔ ابن قیسرانی، ابو الفضل محمد بن طاہر بن علی بن احمد مقدسی (۴۴۸۔ ۵۰۷ھ / ۱۰۵۶۔ ۱۱۱۳ء)۔ تذکرۃ الحفاظ۔ ریاض، سعودی عرب: دار الصمیعی، ۱۴۱۵ھ۔
۱۹۔ ابن قیم، ابو عبداﷲ محمد بن ابی بکر ایوب الزرعی (۶۹۱۔ ۱۷۵۱ھ)۔ جلاء الافہام۔ بیروت، لبنان: دارالکتب العلمیہ۔
۲۰۔ ابن کثیر، ابو الفداء اسماعیل بن عمر (۷۰۱۔ ۷۷۴ھ / ۱۳۰۱۔ ۱۳۷۳ء)۔ تفسیر القرآن العظیم۔ بیروت، لبنان: دار المعرفہ، ۱۴۰۰ھ / ۱۹۸۰ء۔
۲۱۔ ابن ماجہ، ابو عبد اﷲ محمد بن یزید قزوینی (۲۰۹۔ ۲۷۳ھ / ۸۲۴۔ ۸۸۷ء)۔ السنن۔ بیروت، لبنان: دار الکتب العلمیہ، ۱۴۱۹ھ / ۱۹۹۸ء۔
۲۲۔ ابن مبارک، ابو عبدالرحمن عبداللہ بن واضح مروزی (۱۱۸۔ ۱۸۱ھ / ۷۳۶۔ ۷۹۸ء)۔ کتاب الزہد۔ بیروت، لبنان: دار الکتب العلمیہ۔
۲۳۔ ابن قیم، محمد بن محمد ابوبکر ایوب الزرعی ابو عبداﷲ، (۶۹۱۔ ۷۵۱ھ)۔ حاشیۃ ابن القیم علیٰ سنن ابی داؤد۔ بیروت، لبنان: دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۱۵ھ / ۱۹۹۵ء۔
۲۴۔ ابوالحسین، عبدالباقی بن قائع (۲۶۵۔ ۳۵۱ھ)۔ معجم الصحابۃ۔ مدینہ منورہ، سعودی عرب: مکتبۃ الغرباء الاثریۃ، ۱۴۱۸ھ۔
۲۵۔ ابو داؤد، سلیمان بن اشعث سبحستانی (۲۰۲۔ ۲۷۵ھ / ۸۱۷۔ ۸۸۹ء)۔ السنن۔ بیروت، لبنان: دار الفکر، ۱۴۱۴ھ / ۱۹۹۴ء۔
۲۶۔ ابو علا مبارک پوری، محمد عبدالرحمن بن عبد الرحیم (۱۲۸۳۔ ۱۳۵۳ھ)۔ تحفۃ الاحوذی۔ بیروت، لبنان: دار الکتب العلمیہ۔
۲۷۔ ابو عوانہ، یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم بن زید نیشاپوری (۲۳۰۔ ۳۱۶ھ / ۸۴۵۔ ۹۲۸ء)۔ المسند۔ بیروت، لبنان: دار المعرفہ، ۱۹۹۸ء۔
۲۸۔ ابو نعیم، احمد بن عبد اﷲ بن احمد بن اسحاق بن موسیٰ بن مہران اصبہانی (۳۳۶۔ ۴۳۰ھ / ۹۴۸۔ ۱۰۳۸ء)۔ حلیۃ الاولیاء و طبقات الاصفیاء۔ بیروت، لبنان: دار الکتاب العربی، ۱۴۰۰ھ / ۱۹۸۰ء۔
۲۹۔ ابو نعیم، احمد بن عبد اﷲ بن احمد بن اسحاق بن موسیٰ بن مہران اصبہانی (۳۳۶۔ ۴۳۰ھ / ۹۴۸۔ ۱۰۳۸ء)۔ المسند المستخرج علی صحیح مسلم۔ بیروت، لبنان: دار الکتب العلمیہ، ۱۹۹۶ء۔
۳۰۔ ابویعلی، الخلیل بن عبد اﷲ بن احمد الخلیلی القزوینی (۳۶۷ھ / ۴۴۶ھ)۔ الارشاد۔ الریاض، السعودیۃ: مکتبۃ الرشد، ۱۴۰۹ھ / ۱۹۸۹ء۔
۳۱۔ ابو یعلی، احمد بن علی بن مثنی بن یحیی بن عیسیٰ بن ہلال موصلی تمیمی (۲۱۰۔ ۳۰۷ھ / ۸۲۵۔ ۹۱۹ء)۔ المسند۔ دمشق، شام: دار المامون للتراث، ۱۴۰۴ھ / ۱۹۸۴ء۔
۳۲۔ احمد بن حنبل، ابو عبد اللہ بن محمد (۱۶۴۔ ۲۴۱ھ / ۷۸۰۔ ۸۵۵ء)۔ المسند۔ بیروت، لبنان: المکتب الاسلامی، ۱۳۹۸ھ / ۱۹۷۸ء۔
۳۳۔ ازدی، معمر بن راشد (م ۱۵۱ھ)۔ الجامع۔ بیروت، لبنان: مکتبۃ الایمان، ۱۹۹۵ء۔
۳۴۔ اسماعیلی، ابوبکر احمد بن ابراھیم بن اسماعیل (۲۷۷۔ ۳۷۱ھ)۔ معجم الشیوخ / المعجم فی اسامی شیوخ ابی بکر الاسماعیلی۔ مدینہ منورہ، سعودی عرب:مکتبۃ العلوم والحکم، ۱۴۱۰ھ۔
۳۵۔ اندلسی، عمر بن علی بن احمد الوادیاشی (۷۲۳۔ ۸۰۴ھ)۔ تحفۃ المحتاج الی ادلۃ المحتاج۔ مکہ مکرمہ، سعودی عرب: دار حراء، ۱۴۰۶ھ۔
۳۶۔ بخاری، ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ (۱۹۴۔ ۲۵۶ھ / ۸۱۰۔ ۸۷۰ء)۔ الادب المفرد۔ بیروت، لبنان: دار البشائر الاسلامیہ، ۱۴۰۹ھ / ۱۹۸۹ء۔
۳۷۔ بخاری، ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بن ابراہیم بن مغیرہ (۱۹۴۔ ۲۵۶ھ / ۸۱۰۔ ۸۷۰ء)۔ الصحیح۔ بیروت، لبنان دمشق، شام: دار القلم، ۱۴۰۱ھ / ۱۹۸۱ء۔
۳۸۔ بزار، ابو بکر احمد بن عمرو بن عبد الخالق بصری (۲۱۰۔ ۲۹۲ھ / ۸۲۵۔ ۹۰۵ء)۔ المسند۔ بیروت، لبنان: ۱۴۰۹ھ۔
۳۹۔ بیہقی، ابو بکر احمد بن حسین بن علی بن عبد اللہ بن موسیٰ (۳۸۴۔ ۴۵۸ھ / ۹۹۴۔ ۱۰۶۶ء)۔ السنن الکبریٰ۔ مکہ مکرمہ، سعودی عرب: مکتبہ دار الباز، ۱۴۱۴ھ / ۱۹۹۴ء۔
۴۰۔ بیہقی ابو بکر احمد بن حسین بن علی بن عبد اللہ بن موسیٰ (۳۸۴۔ ۴۵۸ھ / ۹۹۴۔ ۱۰۶۶ء)۔ السنن الصغیر۔ بیروت، لبنان: دارالکتب العلمیہ، ۱۴۱۲ھ / ۱۹۹۲ء۔
۴۱۔ بیہقی، ابو بکر احمد بن حسین بن علی بن عبد اللہ بن موسیٰ (۳۸۴۔ ۴۵۸ھ / ۹۹۴۔ ۱۰۶۶ء)۔ شعب الایمان۔ بیروت، لبنان: دار الکتب العلمیہ، ۱۴۱۰ھ / ۱۹۹۰ء۔
۴۲۔ ترمذی، ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ بن سورہ بن موسی بن ضحاک سلمی (۲۱۰۔ ۲۷۹ھ / ۸۲۵۔ ۸۹۲ء)۔ الجامع الصحیح۔ بیروت، لبنان: دار الغرب الاسلامی، ۱۹۹۸ء۔
۴۳۔ جرجانی، ابو القاسم حمزۃ بن یوسف (۴۲۸ھ / ۳۴۵ھ)۔ تاریخ جرجان۔ بیروت، لبنان: عالم الکتب، ۱۴۰۱ھ / ۱۹۸۱ء
۴۴۔ حارث، الحارث بن ابی اسامت (۱۸۶ھ / ۲۵۲ھ)۔ المسند۔ مدینۃ منورۃ، السعودیۃ: مرکز خدمۃ السنۃ والسیرۃ النبویۃ، ۱۴۱۳ھ / ۱۹۹۲ء)
۴۵۔ حاکم، ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ بن محمد (۳۲۱۔ ۴۰۵ھ / ۹۳۳۔ ۱۰۱۴ء)۔ المستدرک علی الصحیحین۔ بیروت، لبنان: دار الکتب العلمیہ، ۱۴۱۱ھ / ۱۹۹۰ء۔
۴۶۔ حمیدی، ابو بکر عبداللہ بن زبیر (م۲۱۹ھ / ۸۳۴ء)۔ المسند۔ بیروت، لبنان: دار الکتب العلمیہ + قاہرہ، مصر: مکتبۃ المنتبی۔
۴۷۔ خطیب بغدادی، ابو بکر احمد بن علی بن ثابت بن احمد بن مہدی بن ثابت (۳۹۲۔ ۴۶۳ھ / ۱۰۰۲۔ ۱۰۷۱ء)۔ تاریخ بغداد۔ بیروت، لبنان: دار الکتب العلمیہ۔
۴۸۔ خطیب بغدادی، ابو بکر احمد بن علی بن ثابت بن احمد بن مہدی بن ثابت (۳۹۲۔ ۴۶۳ھ / ۱۰۰۲۔ ۱۰۷۱ء)۔ الجامع لاخلاق الروی و آداب السامع۔ الریاض، مکتبۃ المعارف، ۱۴۰۳ھ۔
۴۹۔ دارمی، ابو محمد عبد اللہ بن عبد الرحمن (۱۸۱۔ ۲۵۵ھ / ۷۹۷۔ ۸۶۹ء)۔ السنن۔ بیروت، لبنان: دار الکتاب العربی، ۱۴۰۷ھ۔
۵۰۔ دار قطنی، ابو الحسن علی بن عمر بن احمد بن مہدی بن مسعود بن نعمان (۳۰۶۔ ۳۸۵ھ / ۹۱۸۔ ۹۹۵ء)۔ السنن۔ بیروت، لبنان: دار المعرفہ، ۱۳۸۶ھ / ۱۹۶۶ء۔
۵۱۔ دولابی، ابو بشر محمد بن احمد بن حماد (۲۲۴۔ ۳۱۰ھ)۔ الذریۃ الطاہرۃ النبویۃ۔ کویت: الدار السلفیہ، ۱۴۰۷ھ۔
۵۲۔ دیلمی، ابو شجاع شیرویہ بن شہردار بن شیرویہ بن فناخسرو ہمذانی (۴۴۵۔ ۵۰۹ھ / ۱۰۵۳۔ ۱۱۱۵ء)۔ الفردوس بماثور الخطاب۔ بیروت، لبنان: دار الکتب العلمیہ، ۱۹۸۶ء۔
۵۳۔ ذہبی، شمس الدین محمد بن احمد (۶۷۳۔ ۷۴۸ھ)۔ میزان الاعتدال فی نقد الرجال۔ بیروت، لبنان: دارالکتب العلمیہ، ۱۹۹۵ء۔
۵۴۔ ذہبی، شمس الدین محمد بن احمد (۶۷۳۔ ۷۴۸ھ)۔ سیر اعلام النبلاء۔ بیروت، لبنان: مؤسسۃ الرسالہ، ۱۴۱۳ھ۔
۵۵۔ سخاوی، ابو عبداﷲ محمد بن عبد الرحمن بن محمد بن ابی بکر بن عثمان بن محمد (۸۳۱۔ ۹۰۲ھ / ۱۴۲۸۔ ۱۴۹۷ء)۔ القول البدیع فی الصلاۃ علی الحبیب الشفیع۔ مدینہ منورہ، سعودی عرب: المکتبۃ العلمیہ، ۱۳۹۷ھ / ۱۹۷۷ء
۵۶۔ سمعانی، ابو سعید عبدالکریم بن محمد بن منصور التمیمی (م: ۵۶۲ھ)۔ ادب الاملاء والاستملاء۔ بیروت، لبنان: دارالکتب العلمیہ، ۱۴۰۱ھ / ۱۹۸۱ء
۵۷۔ سیوطی، جلال الدین ابو الفضل عبد الرحمن بن ابی بکربن محمد بن ابی بکر بن عثمان (۸۴۹۔ ۹۱۱ھ / ۱۴۴۵۔ ۱۵۰۵ء)۔ الدر المنثور فی التفسیر بالماثور۔ بیروت، لبنان:دار المعرفہ۔
۵۸۔ سیوطی، جلال الدین ابو الفضل عبد الرحمن بن ابی بکر بن محمد بن ابی بکر بن عثمان (۸۴۹۔ ۹۱۱ھ / ۱۴۴۵۔ ۱۵۰۵ء)۔ تدریب الراوی۔
۵۹۔ سیوطی، جلال الدین ابو الفضل عبد الرحمن بن ابی بکر بن محمد بن ابی بکر بن عثمان (۸۴۹۔ ۹۱۱ھ / ۱۴۴۵۔ ۱۵۰۵ء)۔ شرح السیوطی علیٰ سنن النسائی، حلب، شام: مکتب المطبوعات الاسلامیہ، ۱۴۰۶ھ / ۱۹۸۶ء۔
۶۰۔ شاشی، ابو سعید ہیثم بن کلیب بن شریح (م ۳۳۵ھ / ۹۴۶ء)۔ المسند۔ مدینہ منورہ، سعودی عرب: مکتبۃ العلوم و الحکم، ۱۴۱۰ھ۔
۶۱۔ شمس الحق، محمد شمس الحق عظیم آبادی ابو طیب۔ عون المعبود شرح سنن ابی داؤد۔ بیروت، لبنان: دار الکتب العلمیہ، ۱۴۱۵ھ۔
۶۲۔ شافعی، محمد بن ادریس الشافعی ابو عبیداﷲ (۱۵۰ھ۔ ۲۰۴ھ)۔ الام، بیروت، لبنان: دارالمعرفۃ، ۱۳۹۳ھ۔
۶۳۔ شوکانی، محمد بن علی بن محمد (۱۱۷۳۔ ۱۲۵۰ھ / ۱۷۶۰۔ ۱۸۳۴ء)۔ نیل الاوطار شرح منتقی الاخبار۔ بیروت، لبنان: دار الفکر، ۱۴۰۲ھ / ۱۹۸۲ء۔
۶۴۔ شیبانی، ابوبکر احمد بن عمرو بن ضحاک بن مخلد (۲۰۶۔ ۲۸۷ھ / ۸۲۲۔ ۹۰۰ء)۔ الآحاد و المثانی۔ ریاض، سعودی عرب: دار الرایہ، ۱۴۱۱ھ / ۱۹۹۱ء۔
۶۵۔ صالحی، ابو عبد اللہ محمد بن یوسف بن علی بن یوسف شامی (م ۹۴۲ھ / ۱۵۳۶ء)۔ سبل الہدیٰ و الرشاد۔ بیروت، لبنان: دار الکتب العلمیہ، ۱۴۱۴ھ / ۱۹۹۳ء۔
۶۶۔ صنعانی، محمد بن اسماعیل امیر (۷۷۳۔ ۸۵۲ھ)۔ سبل السلام شرح بلوغ البرام۔ بیروت، لبنان: دار احیاء التراث العربی، ۱۳۷۹ھ۔
۶۷۔ صیداوی، محمد بن احمد بن جمیع، ابو حسین (۳۰۵۔ ۴۰۲)۔ معجم الشیوخ۔ بیروت، لبنان: مؤسسۃ الرسالہ، ۱۴۰۵ھ۔
۶۸۔ ضیاء مقدسی، محمد بن عبد الواحد حنبلی (م ۶۴۳ھ)۔ الاحادیث المختارہ۔ مکہ مکرمہ، سعودی عرب: مکتبۃ النہضۃ الحدیثیہ، ۱۴۱۰ھ / ۱۹۹۰ء۔
۶۹۔ طبرانی، سلیمان بن احمد (۲۶۰۔ ۳۶۰ھ / ۸۷۳۔ ۹۷۱ء)۔ مسند الشامیین۔ بیروت، لبنان: مؤسسۃ الرسالہ، ۱۴۰۵ھ / ۱۹۸۴ء۔
۷۰۔ طبرانی، سلیمان بن احمد (۲۶۰۔ ۳۶۰ھ / ۸۷۳۔ ۹۷۱ء)۔ المعجم الاوسط۔ ریاض، سعودی عرب: مکتبۃ المعارف، ۱۴۰۵ھ / ۱۹۸۵ء۔
۷۱۔ طبرانی، سلیمان بن احمد (۲۶۰۔ ۳۶۰ھ / ۸۷۳۔ ۹۷۱ء)۔ المعجم الصغیر۔ بیروت، لبنان: دار الکتب العلمیہ، ۱۴۰۳ھ / ۱۹۸۳ء۔
۷۲۔ طبرانی، سلیمان بن احمد (۲۶۰۔ ۳۶۰ھ / ۸۷۳۔ ۹۷۱ء)۔ المعجم الکبیر۔ موصل، عراق: مکتبۃ العلوم والحکم، ۱۴۰۴ھ / ۱۹۸۳ء۔
۷۳۔ طبری، ابو جعفر محمد بن جریر بن یزید (۲۲۴۔ ۳۱۰ھ / ۸۳۹۔ ۹۲۳ء)۔ جامع البیان فی تفسیر القرآن۔ بیروت، لبنان: دارالمعرفۃ، ۱۴۰۰ھ / ۱۹۸۰ء۔
۷۴۔ طیالسی، ابو داؤد سلیمان بن داؤد جارود (۱۳۳۔ ۲۰۴ھ / ۷۵۱۔ ۸۱۹ء)۔ المسند۔ بیروت، لبنان: دار المعرفہ۔
۷۵۔ عبد بن حمید، ابو محمد بن نصر اکسی (م ۲۴۹ھ / ۸۶۳ء)۔ المسند۔ قاہرہ، مصر: مکتبۃ السنہ، ۱۴۰۸ھ / ۱۹۸۸ء۔
۷۶۔ عبدالرزاق، ابوبکر بن ہمام بن نافع صنعانی (۱۲۶۔ ۲۱۱ھ / ۷۴۴۔ ۸۲۶ء)۔ المصنف۔ بیروت، لبنان: المکتب الاسلامی، ۱۴۰۳ھ۔
۷۷۔ عجلونی، ابو الفداء اسماعیل بن محمد بن عبد الہادی بن عبد الغنی جراحی (۱۰۸۷۔ ۱۱۶۲ھ / ۱۶۷۶۔ ۱۷۴۹ء)۔ کشف الخفا و مزیل الالباس۔ بیروت، لبنان: مؤسسۃ الرسالہ، ۱۴۰۵ھ۔
۷۸۔ عسقلانی، احمد بن علی بن محمد بن محمد بن علی بن احمد کنانی (۷۷۳۔ ۸۵۲ھ / ۱۳۷۲۔ ۱۴۴۹ء)۔ الاصابہ فی تمییز الصحابہ۔ بیروت، لبنان: دار الجیل، ۱۴۱۲ھ / ۱۹۹۲ء۔
۷۹۔ عسقلانی، احمد بن علی بن محمد بن محمد بن علی بن احمد کنانی (۷۷۳۔ ۸۵۲ھ / ۱۳۷۲۔ ۱۴۴۹ء)۔ المطالب العالیہ۔ بیروت، لبنان: دارالمعرفہ، ۱۴۰۷ھ / ۱۹۷۸ء۔
۸۰۔ عسقلانی، احمد بن علی بن محمد بن محمد بن علی بن احمد کنانی (۷۷۳۔ ۸۵۲ھ / ۱۳۷۲۔ ۱۴۴۹ء)۔ فتح الباری۔ لاہور، پاکستان: دار نشر الکتب الاسلامیہ، ۱۴۰۱ھ / ۱۹۸۱ء۔
۸۱۔ عسقلانی، احمد بن علی بن محمد بن محمد بن علی بن احمد کنانی (۷۷۳۔ ۸۵۲ھ / ۱۳۷۲۔ ۱۴۴۹ء)۔ لسان المیزان۔ بیروت، لبنان، مؤسسۃ الاعلمی المطبوعات، ۱۴۰۶ھ / ۱۹۸۶ء۔
۸۲۔ عسقلانی، احمد بن علی بن محمد بن محمد بن علی بن احمد کنانی (۷۷۳۔ ۸۵۲ھ / ۱۳۷۲۔ ۱۴۴۹ء)۔ تلخیص الحبیر۔ مدینہ منورہ، سعودی عرب: ۱۴۸۴ھ / ۱۹۶۴ء۔
۸۳۔ عسقلانی، احمد بن علی بن محمد بن محمد بن علی بن احمد کنانی (۷۷۳۔ ۸۵۲ھ / ۱۳۷۲۔ ۱۴۴۹ء)۔ الدرایۃ فی تخریج احادیث الھدایۃ، بیروت، لبنان۔
۸۴۔ عینی، بدر الدین ابو محمد محمود بن احمد بن موسیٰ بن احمد بن حسین بن یوسف بن محمود (۷۶۲۔ ۸۵۵ھ / ۱۳۶۱۔ ۱۴۵۱ء)۔ عمدۃ القاری۔ بیروت، لبنان: دار الفکر، ۱۳۹۹ھ / ۱۹۷۹ء۔
۸۵۔ فاکہی، ابو عبد اللہ محمد بن اسحاق بن عباس مکی (م ۲۷۲ھ / ۸۸۵ء)۔ اخبار مکہ فی قدیم الدہر و حدیثہ۔ بیروت، لبنان: دار خضر، ۱۴۱۴ھ۔
۸۶۔ فیروز آبادی، ابو طاہر محمد بن یعقوب بن محمد بن ابراہیم بن عمر بن ابی بکر بن احمد بن محمود (۷۲۹۔ ۸۱۷ھ / ۱۳۲۹۔ ۱۴۱۴ء)۔ الصلات والبشر فی الصلاۃ علی خیر البشر۔ لاہور پاکستان: مکتبہ اشاعت القرآن۔
۸۷۔ قاضی عیاض، ابوالفضل عیاض بن موسیٰ بن عیاض الیحصبی، (۴۷۶۔ ۵۴۴ ھ)۔ الشفاء۔ بیروت، لبنان: المکتبۃ العصریۃ، ۱۴۲۳ ھ / ۲۰۰۲ء
۸۸۔ قرطبی، ابو عبد اللہ محمد بن احمد بن محمد بن یحییٰ بن مفرج اُموی (۲۸۴۔ ۳۸۰ھ / ۸۹۷۔ ۹۹۰ء)۔ الجامع لاحکام القرآن۔ بیروت، لبنان: دار احیاء التراث العربی۔
۸۹۔ قزوینی، عبدالکریم بن محمد الرافعی۔ التدوین فی اخبار قزوین۔ بیروت، لبنان: دار الکتب العلمیہ، ۱۹۸۷ء۔
۹۰۔ قضاعی، ابو عبد اللہ محمد بن سلامہ بن جعفر بن علی بن حکمون بن ابراہیم بن محمد بن مسلم قضاعی (م ۴۵۴ھ / ۱۰۶۲ء)۔ مسند الشہاب۔ بیروت، لبنان: مؤسسۃ الرسالہ، ۱۴۰۷ھ / ۱۹۸۶ء۔
۹۱۔ کنانی، احمد بن ابی بکر بن اسماعیل (۷۶۲۔ ۸۴۰ ھ)۔ مصباح الزجاجۃ فی زوائدابن ماجہ، بیروت، لبنان: دارالعربیۃ، ۱۴۰۳ ھ۔
۹۲۔ مالک، ابن انس بن مالک رضی اللہ عنہ بن ابی عامر بن عمرو بن حارث اصبحی (۹۳۔ ۱۷۹ھ / ۷۱۲۔ ۷۹۵ء)۔ الموطا۔ بیروت، لبنان: دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۶ھ / ۱۹۸۵ء۔
۹۳۔ مروزی، ابو عبد اﷲ محمد بن نصر بن الحجاج (۲۰۲۔ ۲۹۴ھ)۔ تعظیم قدر الصلوۃ۔ مدینہ منورہ، سعودی عرب: مکتبۃ الدار، ۱۴۰۶ھ۔
۹۴۔ مزی، ابو الحجاج یوسف بن زکی عبد الرحمن بن یوسف بن عبد الملک بن یوسف بن علی (۶۵۴۔ ۷۴۲ھ / ۱۲۵۶۔ ۱۳۴۱ء)۔ تہذیب الکمال۔ بیروت، لبنان: مؤسسۃ الرسالہ، ۱۴۰۰ھ / ۱۹۸۰ء۔
۹۵۔ مسلم، ابن الحجاج قشیری (۲۰۶۔ ۲۶۱ھ / ۸۲۱۔ ۸۷۵ء)۔ الصحیح۔ بیروت، لبنان: دار احیاء التراث العربی۔
۹۶۔ معمر بن راشد، معمر بن راشد الازدی (م۱۵۱ ھ)۔ الجامع، بیروت، لبنان: مکتبۃ الایمان، ۱۹۹۵ء۔
۹۷۔ مناوی، عبدالرؤف بن تاج العارفین بن علی بن زین العابدین (۹۵۲۔ ۱۰۳۱ھ / ۱۵۴۵۔ ۱۶۲۱ء)۔ فیض القدیر شرح الجامع الصغیر۔ مصر: مکتبہ تجاریہ کبریٰ، ۱۳۵۶ھ۔
۹۸۔ منذری، ابو محمد عبد العظیم بن عبد القوی بن عبد اللہ بن سلامہ بن سعد (۵۸۱۔ ۶۵۶ھ / ۱۱۸۵۔ ۱۲۵۸ء)۔ الترغیب و الترہیب۔ بیروت، لبنان: دار الکتب العلمیہ، ۱۴۱۷ھ۔
۹۹۔ نسائی، احمد بن شعیب (۲۱۵۔ ۳۰۳ھ / ۸۳۰۔ ۹۱۵ء)۔ السنن۔ بیروت، لبنان: دار الکتب العلمیہ، ۱۴۱۶ھ / ۱۹۹۵ء۔
۱۰۰۔ نسائی، احمد بن شعیب (۲۱۵۔ ۳۰۳ھ / ۸۳۰۔ ۹۱۵ء)۔ السنن الکبریٰ۔ بیروت، لبنان: دار الکتب العلمیہ، ۱۴۱۱ھ / ۱۹۹۱ء۔
۱۰۱۔ نسائی، احمد بن شعیب (۲۱۵۔ ۳۰۳ھ / ۸۳۰۔ ۹۱۵ء)۔ عمل الیوم واللیلۃ، بیروت، لبنان: موسسۃ الرسالۃ، ۱۴۰۷ھ / ۱۹۸۷ء۔
۱۰۲۔ نبہانی، یوسف بن اسماعیل نبہانی، (۱۲۶۵۔ ۱۳۵۰ھ / ۱۸۴۹۔ ۱۹۳۲ء)۔ سعادۃ الدارین فی الصلاۃ علیٰ سید الکونین، بیروت، لبنان: دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۲۲ھ / ۲۰۰۲ء۔
۱۰۳۔ نبہانی، یوسف بن اسماعیل نبہانی، (۱۲۶۵۔ ۱۳۵۰ھ / ۱۸۴۹۔ ۱۹۳۲ء)۔ دلائل الخیرات، قاہرہ، مصر: دارالفضیلۃ، ۲۰۰۳ء۔
۱۰۴۔ واسطی، اسلم بن سھیل الرزاز الواسطی (متوفی ۲۹۲ھ)۔ تاریخ واسط، بیروت، لبنان: عالم الکتب، ۱۴۰۶ ھ۔
۱۰۵۔ ہیثمی، نور الدین ابو الحسن علی بن ابی بکر بن سلیمان (۷۳۵۔ ۸۰۷ھ / ۱۳۳۵۔ ۱۴۰۵ء)۔ مجمع الزوائد۔ قاہرہ، مصر: دار الریان للتراث + بیروت، لبنان: دار الکتاب العربی، ۱۴۰۷ھ / ۱۹۸۷ء۔
۱۰۶۔ ہیثمی، نور الدین ابو الحسن علی بن ابی بکر بن سلیمان (۷۳۵۔ ۸۰۷ھ / ۱۳۳۵۔ ۱۴۰۵ء)۔ موارد الظمآن اِلی زوائد ابن حبان۔ بیروت، لبنان: دار الکتب العلمیہ۔
۱۰۷۔ ہندی، حسام الدین، علاء الدین علی متقی (م ۹۷۵ھ)۔ کنز العمال۔ بیروت، لبنان: مؤسسۃ الرسالہ، ۱۳۹۹ / ۱۹۷۹۔
۱۰۸۔ یوسف بن موسیٰ، ابو المحاسن الحنفی۔ المعتصر من المختصر من مشکل الآثار۔ بیروت، لبنان: عالم الکتب۔
فہرست
پیش لفظ ۳
فصل : ۱ ۵
فصل : ۲ ۱۱
فصل : ۳ ۱۸
فصل : ۴ ۲۴
فصل : ۵ ۲۸
فصل : ۶ ۳۰
فصل : ۷ ۳۷
فصل : ۸ ۴۳
فصل : ۹ ۴۸
فصل : ۱۱ ۵۴
فصل : ۱۲ ۵۶
فصل : ۱۳ ۵۸
فصل : ۱۴ ۵۹
فصل : ۱۵ ۶۰
فصل : ۱۶ ۶۱
فصل : ۱۷ ۶۲
فصل : ۱۸ ۶۷
فصل : ۱۹ ۷۲
فصل : ۲۰ ۷۸
فصل : ۲۱ ۸۰
فصل : ۲۲ ۸۴
فصل : ۲۳ ۸۸
فصل : ۲۴ ۹۴
فصل : ۲۵ ۹۸
فصل : ۲۶ ۱۰۰
فصل : ۲۷ ۱۰۳
فصل : ۲۸ ۱۰۷
فصل : ۲۹ ۱۰۹
فصل : ۳۰ ۱۱۱
فصل : ۳۱ ۱۱۳
فصل : ۳۲ ۱۱۷
فصل : ۳۳ ۱۲۰
فصل : ۳۴ ۱۲۳
فصل : ۳۵ ۱۲۴
فصل : ۳۶ ۱۲۶
فصل : ۳۷ ۱۲۸
فصل : ۳۸ ۱۳۰
فصل : ۳۹ ۱۳۲
فصل : ۴۰ ۱۳۴
فصل : ۴۱ ۱۴۷
ماخذ و مراجع ۱۷۳