ضریح و مرقد امیر المومنین علی ابن ابی طالب(علیھماالسلام)
مؤلف: ڈاکٹر صلاح مہدی الفرطوسیامیر المومنین(علیہ السلام)
یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے
نام کتاب :
ضریح و مرقد امیر المومنین علی ابن ابی طالب(علیھماالسلام)
مولف :
ڈاکٹر صلاح مہدی الفرطوسی
مترجم :
محمد تقی
مقدمہ
۱۹۹۹ ء کے موسم گرما کی بات ہے میں دارالحکومت عثمانیہ استنبول میں واقع ''توپ کاپی سرائے'' عجائب گھر کی سیر کیلئے نکلا۔اور یہ اسلامی عجائب گھروں میں سب سے زیادہ مشہور اور زیادہ دیکھا جانے والا عجائب گھر ہے۔ اس کی شہرت کی وجہ اس کے بڑے بڑے کمرے ہیں جس میں مقدس امانات محفوظ ہیں۔اس میں تقریباً چھ سو(۶۰۰) امانتیں بطور تاریخی نمونے ہیں۔
جن میں سے بعض نبی کریمصلىاللهعليهوآلهوسلم ،اور بعض امیرالمومنین علی مرتضیٰ ـاور ان کی زوجہ طاہر ہ زہرا اور ان کے بیٹے حسنـ وحسینـسے متعلق نوادرات ہیں۔جبکہ ان میں سے بعض چیزیںبعض انبیاء اور بعض اصحاب کی طرف منسوب ہیںجن کے بارے میں کچھ کاقرآن میں بھی ذکر ہے۔کہا جاتا ہے کہ جب سلطان سلیم نے اسے فتح کیا تھا تو ان دنوں میں بنی عثمان کے بادشاہوں کی تاج پوشی اور آخر میں تکفین و تشیع جنازہ یہیں ہو ئی تھی۔
اب تک ان نوادرات کے یہاں جمع ہونے کے بارے میں تاریخ معلوم نہیں ہے سوائے اس کے کہ ان میں سے کچھ سلطان سلیم نے حجاز، مصر،فلسطین اور دوسری جگہوں سے جمع کئے تھے۔روزانہ تقریباً ۲۰ہزار زائرین پوری دنیا سے اس کمرے کی زیارت کرتے ہیں ان میں سے اکثریت مسلمانوں کی ہے اور اس میں رکھے ہوئے نوادرات زیادہ تر یہاں آنے والے لوگ دیکھ سکتے ہیںسوائے بعض مقدس نوادرا ت کے جو ضائع ہونے کے خوف سے نہیں دکھائے جاتے۔
امام علی کے مرقد کے بارے میں پیدا ہونے والے شکوک و شبہات پرانے اور جدید محققین کے درمیان زیر بحث ہیں اور روضہ کی عمارت کی تاریخ اور ان کے اندر محفوظ تحفے اور نوادرات ہیں۔جب میں نے استنبول کے عجائب گھر کو دیکھا تو میں بہت حیران ہوا کہ ہم امام کی روضہ کے آثار کو اس کے مادی اور معنوی حوالے سے کما حقہ اہمیت کیوں نہیں دیتے۔
جب میں نے وہاں استنبول میں ان عجائبات کو دیکھا تو ایک پیرو کارِامام ہونے کے ناطے میں بہت پریشان ہوااور کئی مواقع پر میں نے شہر نجف اشرف میں ایک اسلامی آثار قدیمہ جوکہ روضہ سے ملحق ہو جس میں تمام نوادرات کو رکھا جائے کے بارے میں بیان کیا۔ ایک ایسا مرکز ہو جو پورے اسلام کی نمائندگی کرے جس کی نشر و اشاعت کے لئے امام نے جہاد کیا۔
اور اس کے ساتھ اس مرکز کے حوالے سے کیسٹ اور سی ڈی وغیرہ تیار کی جائے تاکہ اس مرکز کے حوالے سے معلومات دنیا کے کونے کونے میں زائرین اور پڑھنے والوں تک پہنچ جائیں۔
اچانک استاد محترم ڈاکٹر احمد آقندوز سربراہ اسلامی یونیورسٹی روٹریم ( ROTRAM )نے مجھے صوفیاء کی ایک کتاب عطا کی جو بعض اسکالرز کی مشترکہ تالیف تھی۔اس کی طباعت مجھے اتنی خوبصورت لگی کہ اس جیسی اب تک میں نے کوئی اسلامی کتاب کو نہیں دیکھی تھی۔یہ دیکھ کر میں نہایت غمزدہ ہوا کہ ہم ابھی تک اس طرح کی طباعت امام کے روضہ اور نوادرات کی جوبلند اہمیت کی حامل ہیں، نہیں کر سکے لیکن اس حوالے سے اپنے استاد مو صوف کے ساتھ روضہ مقدس کے بارے میں ایک سیمینار کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔ الحمد للہ بات طے ہوئی اور بروز ہفتہ ۲۴ستمبر ۲۰۰۵ ء میں یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں یہ سیمینار منعقد ہو ا۔جس کی نظامت استاد محمد سعید طریحی نے کی جبکہ استاد ڈاکٹر آقندوز نے سابق الذکر آثار قدیم کی بعض محفوظ مقدس امانتوں کے حوالے سے گفتگو کی۔مگر میں نے اپنی گفتگو کا موضوع شہر نجف اشرف'روضہ مقدس کی عمارت کی تاریخ اور وہاں موجود بعض مقدس نوادرات کو قرار دیایہ سیمینار جہاں تک میری معلومات ہے اکیڈمک سیمینار میںروضہ مقدس کے حوالے سے پہلا سیمینار تھااور میرے ذہن میں اس حوالیسے ایک بات ہے جسے میں اپنے قارئین کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔
جہاں تک عراق کے حوالے سے گفتگو ہے قارئین کرام!یہ بات ایک ایسی ثقافت کے بارے میں ہے جس کی ابتدا تاریخ کی ابتدا سے ہے اور اس کی کوئی انتہاء نہیں ہے اور اس سرزمین کی تمام تاریخ کو بیان کرنا مشکل ہے جس کی گواہی عالمی آثار قدیمہ کے کتبے اب بھی دے رہے ہیں۔
یہ علوم و معرفت،شعر و ادب،فن و فلسفہ کا گہوارہ ہے۔اگر آپ کبھی اس ملک کی سیر کرنا چاہیںاور جس راستے سے جائیں اور جہاں جائیں تو آپ کو اس کی ثقافت کے ایسے پہلو نظر آئیں گے جو ابھی دنیا کے سامنے نہیں آئے ہیں ۔
یہ نور کا ٹھکانہ ہے اور ابو الانبیاء حضرت ابراہیمـکا وطن ہے۔ سفینہ نوحـکے رکنے کی جگہ ہے۔ آدم و نوح و صالح و ہود٪کے علاوہ بہت سارے انبیاء کے جائے آرام ہے اسی سرزمین سے انسانیت نے آج سے چار ہزار پانچ سو سال قبل لکھنا سیکھا۔ اسی زمین میں پہلی سلطنت قائم ہو ئی اور اسی میں انسانی حقوق کا پہلا قانون پاس ہوا۔ ان سب باتوں سے بڑھ کے ہمیشہ رہنے والے رمز انسانیت، آزادی علم کا پرچار کرنے والے، سلطنت حق کے بنیاد گزار' امیر البیان اور اسلام کے بہادر امام علی مرتضیٰـبھی اس سرزمین پر محو خواب ہیں۔
ہماری یونیورسٹی کو یہ اعزاز حاصل ہو رہا ہے کہ یورپی لوگوں کے سامنے ہم ایک ایسا گوہر آبدار پیش کر رہے ہیں جس کے برابر دنیا میں کوئی موتی نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اس کے درمیان امام المتقین کا جسد ہے اور اس کے خزائن مو تیوں سے پُر ہیںان میں سے بعض کی کوئی قیمت تعین نہیں کر سکتابلکہ شاید ان میں سے بعض انتہائی اعلیٰ قیمت کے حامل ہیں اگر یہ لوگوں کے دیکھنے کی جگہ میں رکھے جائیں تو اس کے لئے دنیا کے بڑے میوزیم جیسی جگہ درکار ہے۔
مگر شہر نجف جسے اللہ تعالیٰ نے امیر المومنینـکی روضہ مقدس کا شرف بخشا ہے اس کی حدود کو جاننا آپ کے لئے قدرے مشکل ہے کیونکہ یہ مشرق کی طرف پھیل گیا ہے یہاں تک کہ کوفہ بھی اس میں داخل ہو چکا ہے جو کہ اس سے دس کلو میٹر دور تھا اسی طرح یہ بطرف جنوب بھی پھیل چکا ہے اور مقام ابی صخیر بھی اس میں شامل ہو گیا ہے جو کہ آٹھ کلو میٹر دور تھااور بجانب شمال کربلا کی طرف کی نصف مسافت بھی اس میں شامل ہو گئی ہے اور مغرب کی جانب یہ قدیم بحر کے وسط تک یہ پھیل گیا ہے اب مجموعی طور اس کی کل مسافت جامعہ کوفہ کے مرکز دراسات کے اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۰۶ ء میں سو مربع کلو میٹر تک پہنچ چکی ہے۔جبکہ اس کی آبادی تقریباً ایک لاکھ ہے اور آج کل یہ ایک اہم تجارتی مرکز بن چکا ہے۔ جہاں تک یہاں آنے والے زائرین کا تعلق ہے وہ کربلا مقدسہ کے زائرین سے زیادہ ہے بلکہ دینی سیاحت کے حوالے سے یہ شہر پوری دنیا میں اہم ترین شہروں میں شامل ہے ۔
شہر نجف اشرف آج کل عراق کے زراعتی میدان میں سب سے زیادہ چاول پیدا کرنے والی جگہ ہے۔اس پر مستزاد یہ کہ اس میں مختلف کارخانے فنی اور میکانیکی دونوں حوالوں سے ترقی اور وسعت میں رواں دواں ہیںاور یہ اسلامی ممالک میں سب سے اہم عباء بنانے کا مرکز ہے۔
یہ وسیع شہر آج کل جس کے اطراف بہت زیادہ پھیل چکے ہیں۔۱۹۳۰ ء میں اسکا قطر دوہزار(۲۰۰۰) تھا۔مگر اس کا رقبہ دس مربع کلو میٹر سے زیادہ نہیں تھا چار دیواری کے اندر داخل تھا۔ جو کہ چالیس(۴۰) ہجری میں پہلی بار تمام اطراف میں چار دیواری اٹھوائی گئی تھی۔بعد ازاں جوں جوں آبادی بڑھتی گئی اور جگہ کم پڑگئی تو دیوار سے باہر جنوب کی طرف محلے بننا شروع ہوئے جنہیں ملک غازی کی وجہ سے غازیہ کہا جاتا تھا۔اس کے بعد آخری دیوار نظام الدولہ محمد حسین خان وزیر فتح علی نے ۱۲۲۶ ء میں بنوائی تھی۔بعد ازاں یہ دیواریں سیاسی، اقتصادی اور موسمی تغیرات و مدو جزر اور وہ واقعات جو تیسری صدی کے نصف آخر بمطابق نویں (۹)صدی عیسوی میں واقع ہونے کی وجہ سے گرنا شروع ہوئیں جو کہ اب تاریخی آثار میں شامل ہوتی ہیں۔اس وقت شہر کا قطر پانچ سو میٹر سے زیادہ نہیں تھا جبکہ وہاں رہنے والوں کی تعداد پانچ ہزار تھی یہ اس زمانے کی بات ہے جب آل بویہ کی حکومت نے ضریع مقدس کو ۳۷۱ھ/۹۸۱ء میں دوبارہ تعمیر کروایا تھا۔پھر ہم نے دیکھا جوں جوں نظام مملکت بڑھتا گیا شہر ترقی کرتا گیا یہاں تک کہ مشہور سیاح ابن بطوطہ حج بیت اللہ سے واپسی پر یہاں پہنچا تو اس شہر کی کثرتِ بازار'سڑکوں کی نظامت' یہاں کے باسیوں کی تکریم اور تجارت کے رواج نے اس کی آنکھوں کو خیرہ کر ڈالا۔ پھر واقعات کے مدو جزر نے ایک مرتبہ پھر اس تمام شہر کو خراباں کر ڈالا۔قحط اور خشک سالی کی وجہ سے فقر و فاقہ یہاں عام ہوا جس کی وجہ سے حکمرانوں نے اس شہر کو چھوڑ دیا اور کثرت سے عرب ڈاکووں نے یہاں لوٹ مار شروع کر دی۔ جب مشہور پرتگالی سیاح ( TAKSEERA ) ۱۰۱۳ھ/۱۶۰۴ ء میں یہاں پہنچا تو اس نے شہر کے وجود کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا۔ یہاں کے باسی معاشی مشکلات جو کہ اپنی حد سے تجاوز کر گئی تھی اور لوگ ایک دانہ جو اور کھجور کے چھلکے کے لئے ترس رہے تھے اس وقت یہاں رہنے والوں کی تعداد صرف پانچ سو گھرانوں پر مشتمل تھی ۔ یہ لوگ روضہ مقدس کے خدمت گزار یا باہر سے آئے ہوئے طلباء تھے جن کے لئے اور کوئی پناہ گاہ یا ٹھکانہ نہیں تھا۔
اپنے تمام شرف و فضیلت کے باوجود زمانے کے نشیب و فراز نے اس شہر کے وجود کو ہلا کر رکھ دیا، اس کے باسیوں کو خوف زدہ کر دیا، ظلم کے ہاتھوں نے انہیں پوری دنیا میں پرا گندہ کر کے رکھ دیا اور ان کے ساتھ وہ سلوک کر دیا کہ انہیں دوبارہ اٹھنا ممکن نہیں تھا شہر مٹ چکا ہوتا اگر صاحب روضہ کی نظر رحمت شامل حال نہ ہوتی۔ جب سے روضہ مقدس وجود میں آئی ہے اس وقت سے اب تک عراقی، عربی، اسلامی، عالمی واقعات پر اس شہر نے اثر ڈالا ہے اور بڑے بڑے مسلم ممالک پر فضیلت رکھتا ہے کیونکہ اس نے مختلف علوم میں بڑے بڑے علماء پیدا کئے ہیں اس پر مستزاد یہ کہ بیسویں(۲۰) صدی سے تو زندگی کے تمام میدانوں دینی، علمی، وطنی، سیاسی، اقتصادی اور اجتماعی میں عالم اسلام کی توجہ کا مرکز بنا۔
جہاں تک اس شہر کی جوانی اور بلندی کی بات ہے تو یہ باب مدینة العلم امام امیر المومنین علی بن ابی طالب کی ضریح مقدس اور جسد طاہر کے وجود مبارک اور مسلمانوں کے دلوں میں قدرو منزلت یہاں انہیں چوتھے مقام پر مقدّس شمار کرتے ہیں۔ مرقد مقدس اور اس تعمیر و ترمیم میں آج کل کافی کاوشیں ہوچکی ہیں۔ اس حوالے سے کتابیں وغیرہ بھی شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں سے بعض میں بطور مثال آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ اگر چہ اس حوالے سے بے شمار چیزیں سیّد جعفر بحر العلوم کی کتاب ''تحفة ا لمعا لم در شرح خطبة ا لمعا لم'' جس سے بہت سارے لوگوں نے استفادہ کیا ہے، شیخ جعفر محبوبہ کی کتاب نجف کا ماضی اور حال ڈاکٹر سعاد ماہر محمد کی کتاب ''مشہد امام علی اور اس میں موجود تحفے و تبرکات ''،محمد علی جعفر التّمیمی کی کتاب ''مشہدالامام '' جعفر خلیلی کی کتاب ''موسوعة عتبات المقدسہ میں نجف کا حصہ موسوعة نجف اشرف ''،جعفر الدّجیلی اور خاص طور سے اس موسوعہ سے میں نے زیادہ استفادہ حاصل کیا ہے اور جس میں مجھے ضریح کے حوالے سے معلومات اور جو کتابیں ضریح کے حوالے سے لکھی گئی تھیں اور میری رسائی براہِ راست ان کتابوں تک نہیں تھی۔ باقاعدہ حوالہ جات کے ساتھ درج تھی اور ان کے حصول میں آسانی پیدا ہوئی۔
کتاب ''تاریخ نجف اشرف ''شیخ محمد حسین حرز الدین ''نجف اشرف علم و تہذیب کا شہر'' شیخ محمد کاظم طریحی''نجف اشرف میں حیات فکریہ ''۔ڈاکٹر محمد باقر البھادلی۔
''نجف کی پہلے دور عباسی تک کی تاریخ ''محمد جواد فخر الدین ''نجف اشرف کی مفصل تاریخ''ڈاکٹر حسن حکیم یہاں آخر میں نے سیّد عبد المطلب الخرسان کی کتاب ''مساجد و معالم در روضہ حیدریہ مطہرة'' دیکھی جس سے ضریح مقدّس کی موجودہ عمارت کے بارے میں زیادہ معلومات حاصل کی۔ جس طرح اس سے قبل مذکوراور غیر مذکورہ کتابوں سے استفادہ حاصل کیا تھا۔
دراصل جس چیز نے مجھے ایک اسلامی میوزیم (جس میں ضریح مقدس کی تبرکات رکھی جائے) کی طرف توجہ مبذول کرا ئی یہ تھی تاکہ امام کی اصل قبر اور ضریح مقدس کی عمارت سے متعلق جو مختلف روایات ہیں اس کا صحیح سے مطالعہ کیا جائے اور کافی بحث و جستجو کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا کہ اس موضوع کو دوبارہ پرکھا جائے۔ لیکن اس کیلئے تمام زمانی' مکانی واقعات و حوادث کو سامنے رکھتے ہوئے خطا اور ابہام کو رفع کیا جائے۔ اور میں نے دیکھا کہ تمام اشیاء کو موضوع کے اعتبار سے علیحدہ کرکے پڑھا جائے تاکہ غلطیاں اور ملاوٹ نکل جائے جو کہ بہت سارے پرانی روایات اور محدثین کی کتابوں میں موجود ہیں۔ اس حوالے سے میں ان غلطیوں سے بریٔ الذمہ ہوں جن میں وہ لوگ واقع ہوئے اور مرقد شریف کے مقام کے حوالے سے بعض مورّخین خاص طور سے مسلمان مورّخین کو جو شبہ ہوا تھا وہ بھی واضح ہوجائے بعد ازاں ضریح مقدّس کی عمارت خود بخود واضح ہوجائے گی۔
اس شہر کی ابتداء اور ناموں کے بارے میں ممکنات
شہر نجف اشرف کے بارے میں تمام ممکنات یہ بتاتی ہے کہ پچھلی صدی کے تین دہائیوں تک اس کا کوئی وجود نہیں تھا۔ بس یہاں بے آب و گیاہ اور خشک صحرا کے سوا کچھ نہ تھا نہ اس کے آس پاس کوئی چشمہ تھا اور نہ ہی کوئی تالاب جو سیلاب کے گزرنے کے بعد بنتا ہے یہاں کی گرمی چہروں اور جسموں کو جلانے والی بادسموم ہوتی تھی جبکہ سردی میں سرد صحرائی راتیں سختی کے ساتھ آپڑتی تھیں۔ یہاں کے صحراء میں کوئی گھاس پھوس تک نہیں تھا جسے انسان یا جانور کھا سکیں۔ سوائے چند گھاس شیح، قیسوم، خزامی، گل لالہ، پھول وغیرہ سردی کے آخر اور بہار کے شروع کے دو مہینے میں ہوتے تھے جو کہ اس ٹیلے کے آس پاس رہنے والے قبیلوں کے اونٹ اور دوسرے جانور چرتے تھے۔ شاید اس کی سرخی مائل مٹی کی وجہ سے یہاں موسمِ بہار میں خزامی خوشبودار پھول اور گل لالہ کھلتے ہوں اور گل لالہ جو کہ نعمان بن منذر کی طرف منسوب ہے کیونکہ وہ یہ وہاں سے توڑنے سے منع کرتا تھا اس لئے کہ عرب دور جاہلیت میں باکرہ و دوشیزہ کے رخسار کو کہتے تھے۔
پس یہ شہر کافی سالوں سے جولائی میں بلند درجہ حرارت کا عادی ہوچکا تھا مگر بارش یہاں اتنی کم ہوتی تھی کہ جس کی وجہ سے کوئی گھاس پھوس، زراعت یا پودوں کو فائدہ نہ پہنچتا تھا اور یہاں سمندر تو شروع سے ہی کھارا ہے۔ مگر یہاں کی زمین کے بارے میں ایک مصنف ناجی وداعہ نے اپنی کتاب شہر نجف کا طبعی جغرافیہ جس کا کچھ حصہ موسوعة النجف الا شرف میں شائع ہوا ہے میں یوں لکھتا ہے کہ یہاں کی سطح زمین سخت ریت اور کنکر سے ڈھکی ہوئی ہے۔ اس کے بعد جوں جوں اندر دیکھا جائے تو پتھریلی ریت اور چونا نظر آتا ہے اور یہ نجف کے وسط میں مشہور ہے کہ یہ زمین بڑی سختی اور مشکل سے ایک یا دو میٹر کھودی جاسکتی تھی ۔
یہ بھی مشہور ہے کہ اس کے وسط میں کنویں کا پانی بیس میٹر سے زیادہ کھودنے کے بعد نکلتا تھا جو کھانے پینے کے لئے استعمال نہیں ہوتا تھا البتہ ضرورت کے وقت موت سے بچنے کے کام آتا تھا۔
لیکن اس شہر کے اطراف کے علاقوں کو دیکھنے کے بعد آپ حیران ہوجائیں گے کہ وہ جنت کے باغات جیسے تھے۔ پس وہاں کچھ گھر' قلعے اور عمارتیں تھیں مثلاً عسکری قلعہ جو کہ مملکت حیریہ کی حدود پر دشمن کو روکنے کے لئے بنایا گیا تھا قبیلہ منذرہ کے بادشاہ نے یہاں فصیلی گھر بنائے ہوئے تھے اور ان کے خلفاء اور والیان وہاں سیرو تفریح اور شکار کی غرض سے جایا کرتے تھے اور جب سے مسیحی وہاں پھیلنا شروع ہوئے تو وہاں مقامات اور دکانیں بھی پھیل گئیں۔
عرب چونکہ صحرا میں رہتے تھے اس لئے وہ صحرائی زندگی سے مانوس تھے اور سر سبز و شاداب جگہ اور کھیتوں سے واقف نہیں تھے یہاں تک کہ وہ نہ ہی ساحلِ سمندر کی ہوا اور اس کی نمی سے آشنا تھے اور کھٹمل ، کیڑے مکوڑے، مچھر کی وجہ سے ہونے والے اس عذاب سے واقف نہیں تھے جو سردی اور گرمی کے راتوں اور دنوں میں کاٹتے اور بھنبھنا کر تنگ کرتے تھے اس لئے عرب لوگ آج بھی بہار اور خزاں میں اپنے صحرائوں کی طرف بغرض آرام اور آب وہوا تبدیلی کے لئے جانے میں عجلت کرتے ہیں بلکہ آج کل تو صحرائوں میں ایسی ورزش اور کھیل متعارف ہوئے ہیں جس میں دنیا کے تمام براعظموں سے لوگ شرکت کرنے آتے ہیں۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نجف ہی ہے جس نے اس ٹیلے کو باقی تمام ڈھلوانوں سے ممتاز بنا یا ہے جو موسم معتدل ہونے کی وجہ سے بہت خوبصورت ہوتا ہے اس کے علاوہ دریائے فرات بھی اس کی دوسری جانب بہتا ہے اور یہاں موسم معتدل ہونے کی وجہ سے قبیلہ اہل منذر کے بادشاہ بعض خلفائے بنی عباس، کچھ صاحبانِ ثروت اور والیوں نے یہاں مکانات تعمیر کرائے۔
یہاں موسم معتدل ہونے کے ساتھ صاف ہوا'اور خوبصورت منظرتھا اور یہ چھوٹا ٹیلہ سمندر کی سطح سے تقریباً پچاس میٹربلندتھا۔ اس کے علاوہ یہاں آنے کی اور وجوہات آرام، مرغابی ، سرخاب ، تیتر اور دوسرے پرندوں کا شکار تھی۔راقم نے اپنے آنکھوں سے دیکھا ہے کہ پچھلی صدی کی پچاس کے دہائی میں یہاں بالکل شہر کے قریب پرندوں کے جھنڈہوتے تھے جو کہ اسلحہ کی کثرت اور گاڑیوں کے شوروغل کی وجہ سے اب نظر نہیں آتے اور خاص طور سے جب تیل کی وجہ سے لوگوں کے پاس پیسوں کی ریل پیل ہوئی تو لوگ اپنے دفاع کیلئے اسلحہ تو رکھتے ہیں مگر شکار جیسی رحمت سے محروم ہوگئے یہاں تک ساٹھ کی دہائی میں بڑی مشکل سے کچھ تیتر ، سرخاب اور مرغابی کے کچھ جھنڈ آس پاس کے صحرا میں نظر آتے تھے۔ حالانکہ اس سے قبل وہاں ہرن کے ریوڑ گھوم پھر رہے ہوتے تھے۔ ایک دن میں اپنے ماموں کے ساتھ تھا وہ شکار کے بے حد شوقین تھے غالباً یہ پچاس کی دہائی تھی تقریباًپچاس کلومیٹر کے فاصلے پر میں ہرنوں کے ریوڑ اور پرندوں کے جھنڈ دیکھ کر حیران ہوا۔ جو کثرت کی وجہ سے گننا مشکل تھے اور بلا مبالغہ میں اگر غلیل سے بھی مارتا تو کم از کم پانچ پرندوں کا شکار آرام سے ہوجاتا۔ لیکن آج یہ سب کچھ ہم سے کھو گیا بلکہ اب ان پرندوں میں کوئی نظر بھی نہیں آتا سوائے ان پرندوں اور کبوتروں کے جو روضہ مقدس کے اوپر اپنے لئے جائے پناہ بنائے ہوئے ہیں۔
یہاں کا صحرا پچھلے سالوں میں موسمِ خزاں بہار اور موسمِ سرما کے اواخر میں پرندوں اور دوسرے جانوروں سے پُر ہوتا تھا بلکہ کبھی کبھار یہ پرندے دریائے فرات کے کنارے آجاتے تھے اور اسی فضا میں اڑتے رہتے تھے اور گروہ در گروہ یہاں اُترتے تو رنگ برنگ پرندوں سے دل خوش اور آنکھیں خیرہ ہوجاتی تھیں۔
عراق کے حجاج قافلوں کے صورت میں اسی ٹیلے سے گزرتے تھے اوریہیں بعض اوقات ٹھہرتے بھی تھے اور پھر مقامات مقدسہ کی جانب جاتے تھے خانہ کعبہ، اور بیت المقدس کو جائے پناہ قرار دیتے تھے۔
یہ صحرا موسم بہار، خزاں اور موسم سرما کے اواخر میں مختلف صحرائی پرندوں اور حیوانات سے پُر ہوتا تھا کبھی کبھار تو یہ پانی اور خوراک کی تلاش میں دریائے فرات کے کنارے پہنچ جاتے تھے جو یہاں کی فضا میں اڑتے نظر آتے تھے اور جھنڈ کے جھنڈ باہر سے آئے ہوئے پرندے یہاں کی زمین پر اترتے تھے تو مختلف خوبصورت رنگوں سے اچھا منظر بن جاتا تھا۔
نجف سے مراد صرف وہ ٹیلہ نہیں ہے جہاں روضہ مقدس موجود ہے بلکہ پوری پہاڑی اور ندی جو کہ بحر نجف سے موسوم ہے التہذیب اور القاموس اللسان، التاج جیسی لغت کی کتابوں میں نجف کے معنی کوفہ کے باہر کی وہ جگہ ہے جو سیلاب کے پانی کو مکانات اور قبروں تک پہنچنے سے روکتی تھی اور پہاڑی کا عرض زیادہ سے زیادہ دس کلومیٹر جبکہ لمبائی سو کلو میٹر سے زیادہ نہیں تھی اور بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ نجف کا نام اس لئے غالب آیا ہے کیونکہ یہ یہاں کی زمین کوفہ کی جانب جانے والے پانی کو روکتی تھی گویا یہ ڈیم کی مانند تھی اور لغت میں جف دراصل اسی کو کہا جاتا ہے زبیدی نے اپنی کتاب ''التاج'' میں لکھا ہے'' اسی کے قریب امیر المومنین علی ابن ابی طالبـکا مرقد مقدس ہے ''اور یہاں جزپراسم غالب آیا ہے جہاں روضہ مقدس کی وجہ سے شہر بن گیا۔ بعد ازاں یہاں کی مٹی مسلمانوں کی مقدسات میں شامل ہوگئی۔
ڈاکٹر حسن حکیم نے اپنی کتاب اور ڈاکٹر موسیٰ العطیة نے اپنی کتاب نجف کی زمین میں نجف کبریٰ کی جغرافیائی حدود کی نشانی ہے پس ڈاکٹر حسن حکیم نے اس کے حدود میں تیس نشانیوں کا ذکر کیا ہے۔
ڈاکٹر عطیہ نے اکسٹھ نشانیوں کا ذکر کیا ہے کہ نجف کی پہاڑی وہ جز ہے جسے کربلا بھی کہا جاتا ہے اور اس کی قدامت کے حوالے سے ڈاکٹر حسن حکیم نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے کہ بعض نصوص قبل مسیح کے عہد کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
جیسے بادشاہ بخت نصر ۵۵۰ ق م نے اپنے لئے باغ اور قلعہ بنایا تھا بعد ازاں عرب کے قبائل آہستہ آہستہ وہاں جمع ہونا شروع ہوئے۔ مگر ڈاکٹر عطیہ نے سابق الذ کر کتاب میں لکھا ہے کہ یہاں دریائے فرات نے ایک سے زیادہ مرتبہ اپنی جگہ تبدیل کی ہے اور اس کی سب سے پہلی گزرگاہ آج سے تین لاکھ سال قبل بحر نجف تھا۔
بحر النجف
یہاں بحر سے مراد سمندر نہیں ہے بلکہ وہ نچلی سطح کی جگہیں ہیں جہاں دریائے فرات اور دوسری نہروں سے پانی آکر جمع ہوجاتا ہے اس حوالے سے شیخ محمود ساعدی نے الموسوعة میں بحر النجف کے موضوع پر تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ چھوٹا سمندر اس وقت خشک ہو گیا تھا جب عبدالغنی نے ۱۳۰۵ھ بمطابق ۱۸۸۸ ء کو دریائے فرات کے ان تمام جگہوں کو بند کیا تھا جہاں سے پانی نکلتا تھا اور بعد ازاں یہ بند بادشاہ عبدالحمید سے منسوب ہونے کی وجہ سے الحمیدیہ کے نام سے مشہور ہوا۔ اور پھر وہاں سے کشتیوں کے بہت سارے ٹکڑے بھی دریافت ہوئے تھے جو زمانہ قدیم میں وہاں ڈوب چکے تھے۔
یہ چھوٹا سمندر پانی کی مقدار کے حوالے سے کافی مدوجزر سے گزرا ہے یعنی کبھی پانی کم ہو کر خشک ہوگیا تو کبھی پانی اتنا بڑھ گیا کہ اس پہاڑی کے کناروں پر اپنے آثار چھوڑ جاتا اور جب پانی کم ہو کر ختم ہوجاتا تو بڑے بڑے لمبے ڈھلوان بن جاتے تھے جن کی لمبائی پانچ سے پچاس میٹر تک ہوتی تھی جسے الطارات کے پہاڑ کہا جاتا ہے۔
اس حوالے سے ڈاکٹر حسن حکیم نے بھی اپنی سابق الذکر کتاب میں لکھا ہے کہ نجف کی یہ جگہ السیداور ابی جدعان کی پہاڑی کے نام سے مشہور تھی اور۱۳۳۶ھبمطابق ۱۹۱۸ ء کو انگریزوں نے اس پہاڑی کو استعمال کیا جب شہر نجف پر ان کا قبضہ تھا اور ان کا قبضہ بعد میں ابی جدعان کی پہاڑی تک پھیل گیا تھا۔
ڈاکٹر حسن حکیم نے ارضیات کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ چھوٹا سمندر دوسرے چھوٹے بڑے تالاب سے ملکر پھیل چکا تھا۔ یہاں تک کہ مدینہ ابی صخیرمشخاب اور مدینہ شنافیہ تک پہنچا تھا۔ جسے شیخ ساعدی نے ذکر کیا ہے پھر یہ خلیج تک پہنچ چکا تھا اور ان وادیوں سے مل چکا تھا جو واسط سے بصرہ تک پھیلا ہوا ہے ہم یہ بھی دیکھیں گے کہ عمران بن شاہین نے ان وادیوں پر کیسے قبضہ کیا، وہ اور اس کے خاندان نے سات دہائیوں سے زیادہ کیسے حکومت کی؟
مسعودی نے اپنی کتاب ''مروج الذھب ''میں اور ڈاکٹر مصطفی نے ''موسوعہ عتبات مقدسہ ''میں اس حوالے سے لکھا ہے کہ دریائے فرات نے سینکڑوں مرتبہ حیرہ نامی جگہ کو ختم کیا ہے اور اس میں نہر کی نشانی آج تک موجود ہے جو کہ اسی سمندر یعنی نجف کے سمندر میں گرتی تھی اور اس زمانے میں یہاں تک چین اور ہندوستان کی کشتیاں آتی تھیں اور اس کو عبدالواسع بن عمرو بن بقیلة الغسانی نے حضرت ابو بکر کے دور میں جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ کو اس حوالے سے کیا یاد ہے تو انہوں نے کہا کہ مجھے یہ یاد ہے کہ یہ ان قلعوں کے پیچھے چین کی کشتیاں آکر رکتی تھیں۔ لیکن جب اس جگہ سے پانی ہٹ گیایہ پھر کا فی عرصہ تک لوگوں کے لئے راستہ بن گیا جس کے نشانات تاحال موجود ہیں۔
اس کے بعد انہوں نے کہا کہ ہم یہ تصدیق کرسکتے ہیں کہ وہاں حقیقت میں سمندر نہیں تھا بلکہ ہم یہی سمجھتے ہیں کہ دریائے فرات کا پانی ابھر کر آتا تھا اور وہاں کی وادیوں اور جو خندق سابور ذوالا کتاف نے ۳۱۰۔ ۳۸۰ م میں کھودی تھی میں گرتی تھی تو یہ وادیاں اور خندق مل کر ایک سمندر نما بن چکا تھا اور ڈاکٹر مصطفی کے مطابق یہ سمندر جا کر خلیج تک مل جاتا تھا اور بیسویں صدی سے قبل خلیج واقعاً آکر نجف تک مل جاتا تھا۔
اور یہاں پر ناجی وداعہ نے بھی اسی بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے لکھا ہے کہ دریائے فرات کے جنوب مشرق میں جو نچلی جگہ تھی جسے القرنة اور دوسری نچلی جگہ جو اس سے زیادہ دور نہیں تھی المدلک کے نام سے مشہور تھی اور ان دونوں جگہوں کے درمیان ایک اور جگہ تھی جسے الفتحہ کہا جاتا تھا اور دریائے فرات کی وجہ سے ان تینوں جگہوں کو کافی فائدہ ملا ہے اور حیرہ اور نجف بھی انہی سے متصل تھی اسی وجہ سے اسے بحر نجف کہا گیا۔ اس کے فوراً بعد جعفر خلیلی نے ڈاکٹر مصطفی کے مضمون کے ذیل میں کہا کہ اسی کو ایک یورپین سیاح ( MR. BARLOW )نے بھی۱۳۰۹ھ بمطابق۱۸۸۹ ء دیکھا تھا وہ کہتا ہے کہ اسے نہر ہندیہ کہا جاتا تھا جو دریائے فرات کے دائیں جانب بہتی تھی اور فرات اس کے آدھے حصے کو شامل کرتا تھا پھر مغرب کی جانب کربلا کو چھو جاتا تھا اور بابل کے ٹیلوں کو مشرق کی جانب چھوڑتا تھا۔ پھر اس طرح شہر نجف تک پہنچتا تھا اور وہاں گرتا تھا جسے بحر نجف کہا جاتا تھا جس کی لمبائی ۶۰ میل اور چوڑائی ۳۰ میل تھی۔ اس کے بعد( MR. BARLOW )کتاب ''وادی فرات اور ہندی ڈیم کا منصوبہ'' سے نقل کر کے لکھتا ہے کہ یہ ڈیم ۱۳۰۵ھ بمطابق۱۸۸۷ ء میں بنا تھا جب سے اس سمندر میں پانی آنا بند ہوگیا تو پھر کشتیاں کوفہ کی جانب جانا شروع ہوئیں اسی لئے اسے مبدا کوفہ کہا جاتا تھا۔
خلیلی نے بھی کہا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے ڈیم بننے کے بعد یہ جگہ قابل کاشت بن گئی اور طرح طرح کے پھل فروٹ کھجور وغیرہ لگے ہوتے تھے کہ اچانک بند ٹوٹ گیا تو تمام کھیتیاں ، باغات تباہ و برباد ہوگئیں اور ایک مرتبہ پھر سمندر بن گیا اور تقریباً چالیس سال قبل بحر نجف آخری مرتبہ خشک ہوا تھا کیونکہ ڈیم کو جدید انجینئرنگ کی مدد سے جدید طریقے سے تعمیر کیا گیا تھا۔
یہ پہاڑی کا ٹیلہ دوسرے ٹیلوں سے اس لئے بھی نمایاں تھا کہ اس کے احاطے میں سمندر' خشک آبادی' صحراء اور بڑے بڑے کھجور کے باغات تھے جو شہر بصرہ تک پھیلے ہوئے تھے اور اس کا ریگستان جزیرة العرب تک پھیلا ہوا تھا یہ موسم بہار میں سیرو تفریح، شکار کیلئے مناسب تھا حج کے موقع پر یہ لوگوں کیلئے آرام گاہ بن جاتی تھی اور یہاں کی پاک و صاف آب و ہوا کی وجہ سے لوگ وبائی امراض سے بھاگ کر یہاں آتے تھے اس حوالے سے ایک واقعہ ابن عساکر نے تاریخ دمشق میں ذکر کیا ہے کہ ایک دفعہ قاضی شریح وبائی امراض سے بھاگ کر یہاں آئے تھے تو جب وہ یہاں نماز پڑھنے لگے تو ان کے سامنے ایک لومڑی آکر کھیلنے لگی یہاں تک کہ ان کی نماز سے توجہ ہٹ گئی۔ ڈاکٹر مصطفی نے اس حوالے سے اشعار عرب کا بھی ذکر کیا ہے کہ یہ جگہ تفریح گاہ تھی دریائے فرات میں جب پانی بڑھ کر طغیانی آجاتی تھی تو لوگ یہاں آکر پناہ لیتے تھے۔
جب دریائے فرات اور دجلہ وسط عراق کے جنوب کی وادیوں سے ٹھاٹھیں مارتا گزرتا تھا تو مختلف چھوٹے چھوٹے سمندربنتے تھے جیسا کہ شہر عمارہ، ناصریہ، بصرة کے قریب الاھوار تھا اور یہ چھوٹے چھوٹے سمندر وہاں کے لوگوں کا بڑا ذریعہ معاش تھے کیونکہ یہاں طرح طرح کی مچھلیاں اور پرندے پائے جاتے تھے۔
مرقد مقدس کی جگہ کی نشانیاں
نجف میں جو پہاڑی تھی وہ اتنی کشادہ نہیں تھی بلکہ بعض جگہوں پر کچھ چھوٹی چھوٹی چوٹیاں بھی تھیں عربوں کی یہ عادت تھی کہ صحرامیں جو بھی بلند ڈھلوان ہوتی تھی ان کے مختلف نام رکھنا ان کی جغرافیائی ثقافت میں شامل تھا اگرچہ ان تمام ٹیلوں کے نام محفوظ نہیںہوسکے۔ یہاں تک کہ روضہ مقدس کے اردگرد جو ٹیلے تھے ان کے نام بھی ہم تک نہیں پہنچے جب روضہ علی کا یہاں تعیّن ہوا تو یہ ٹیلہ مرکز توجہ بنا اور اس کے طبیعی خواص بھی بیان ہوئے پتہ چلا کہ یہاں سیاہی مائل کنکریاں مختلف شکلوں میں پائی جاتی ہیں جو کہ مقدس پتھروں میں شمار ہوتی ہیں جسے دُرِ نجف کہا جاتا ہے اس کے عناصر ڈاکٹر موسیٰ العطیہ نے اپنی کتاب ارضِ نجف میں یوں بیان کئے ہیں کہ جب ان پر سورج کی شعاعیں پڑتیں تو چمک اٹھتا جیسے کہ اس میں آگ بھڑک رہی ہو۔ خاص طور پر جب ان پر بارش پڑ تی تو اسے انڈے کا ایندھن کہا جاتا ہے۔
لیکن جب مرقد روضہ بن گیا تو اس کے آس پاس لوگ رہنے لگے جوں جوںلوگ وہاں پھیلتے گئے تو اس ٹیلہ پر بھی لوگوں نے رہائش بنانا شروع کی۔ پھر وہاں لوگوں نے اپنی شخصیات اور قبائل کے نام ان ٹیلوںپر رکھنے لگے۔ پس ان میں کسی کا نام ''جبل شرف شاہ ''جو روضہ کے جنوب کی جانب محلہ العمارہ میں واقع ہے اور یہ سید عز الدین ابی محمد شرف شاہ کی طرف منسوب ہے آپ مرقد مقدس کے مجاور اور اعلیٰ پائے کے محدث تھے اور۵۷۳ھبمطابق۱۱۷۷ ء میں حدیث بیان کرتے تھے ان کی اسی ٹیلے پر رہائش تھی لہٰذا انہی کے نام سے وہ ٹیلہ منسوب ہوا ۔
دوسرا ٹیلہ ''جبل نور ''کے نام سے مشہور ہے یہ روضہ مقدس کے جنوب مشرق میں محلہ البراق میں واقع ہے اور اس کے ایک طرف شیخ طریحی کی مسجد اور ان کا مقبرہ ہے جو ان کے گھر میں ہی واقع ہے۔
تیسرا ٹیلہ ''جبل الدّیک ''ہے یہ روضہ مقدس کے شمال میں محلہ المشراق میں واقع ہے شیخ محمد حسین حرز الدین کے مطابق یہ ایک نجفی آدمی کی طرف منسوب ہے ۔
ان ٹیلوں کے حوالے سے مزید تفصیلات نجف کا ماضی اور حال' تاریخ نجف' نجف اشرف علم و ثقافت کا شہر اور دوسری کتابوں میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔
پہاڑی کے آثار
چونکہ یہ پہاڑی جنوب میں حیرہ نامی جگہ کی طرف مشرق میں کوفہ کی طرف اور شمال میں کربلا کی طرف پھیلی ہوئی تھی لہٰذا بادشاہوں نے یہاںمحل اور قلعے بنائے۔ بعد ازاں ان کے آثار مختلف صدیوں تک باقی رہے لیکن آج کل کے جدید تحقیقی دور میں ان کی زیادہ اہمیت نہیں کیونکہ اب تو نشانیاں بہت ہو گئی ہیں اور قوم اس کی تاریخ کے کچھ حصوں کو کھو چکی ہے لہٰذا ہم اسے باریک بینی کے ساتھ بیان نہیں کرسکتے۔ کیونکہ میرے خیال میں اس کا زیادہ حصہ اس شہر کے سائبان میں شامل ہوگیا ہے جو شہر کوفہ سے متصل ہے اور شہر حیرہ سے ملنے والا ہے بہرحال تاریخ اسلام اور خاص طور سے تاریخ عراق میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔
وہ جگہیں جہاں محلوں ' قلعوں، دکانوں ، گھروں کا ذکر کیا ہے یہ ہیںمحمد سعید الطریحی نے کوفہ اور اس کے مضافات میں نصرانیوں کے گھر اور مقامات، شیخ محمد حسین حرزا الدین نے اپنی کتاب نجف اشرف کی تاریخ ڈاکٹر حسن الحکیم کی کتاب نجف اشرف کی مفصل تاریخ میں ان کا ذکر کیا ہے یہ تمام روضہ کے دائرے میں داخل نہیں ہوتے اور نہ روضہ کے قریب ہیں اور نہ پرانے شہر کے دائرے میں داخل ہوتے ہیں جو شروع کے دور میں روضہ سے ملحق تھا اور اس کی لمبائی تین کلو میٹر سے زیاہ نہیں تھی اور زیادہ سے زیادہ شہر حیرہ اور کوفہ کے قریب تھے اور امام کے شہر اور روضہ کے دائرے میں داخل نہیں ہوتے تھے۔
مثلاً قصرِخورنق حیرہ میں واقع تھا اور قصرِعُذیب اورصنبر کوامرئو القیس بن النعمان نے فرات کے قریب سیرو تفریح کی غرض سے بنایا تھا۔ سفید محل جو کہ قصرِ ابیض اور قصرِ فرس الحیرہ کے محلوں میں سے تھا۔ اسی طرح قصر زوراء کا محل جسے نعمان بن منذر نے بنایا تھا اورقصرعدسیین کا محل جو کہ بنی عماد بن عبدالمسیح بن قیس الکلبی کا تھا یہ تمام کوفہ میں الحیرہ کی جانب واقع تھے بہرحال جب شہر حیرہ۔ کوفہ، نجف پھیلنا شروع ہوئے تو آپس میں ملنے کی وجہ سے وہ تمام آثار مٹ کر ختم ہوچکے ہیں ۔نجف تو آج کل کربلاء کے نزدیک تک پھیل چکا ہے۔
چرچ، خانقاہیں اور دکانیں
شہر حیرہ اور اس کے عیسائی پھیلے تو وہاں چرچ اور خانقاہیں بھی پائے جانے لگے جن میں بعض کے نام تاریخ کی کتابوں میں موجود ہیں۔
اس حوالے سے استاد محمد سعید الطریحی نے۱۹۸۱ ء میں ایک کتاب بیروت میں اسی موضوع پر چھپوائی ہے جس کا نام ''کوفہ میں نصرانیوں کے گھراور خانقاہیں'' ہے جس میں انہوں نے حیرہ کی تاریخ اس کی تاسیس اور فتح ہونے کے بارے میں تفصیل سے بیان کیا ہے اور کوفہ کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ شہر سریانیہ کے ٹکڑوں پر بنا ہے جسے عاقولا کہاجاتا تھا جیسا کہ میں اپنی کتاب ''وما ادراک ماعلی''یعنی تمہیں کیا معلوم کہ علی کیا ہے ؟ میں ذکر کیا تھا کہ میرے خیال کے مطابق کوفہ دراصل لکوثی یا کوثی سے معرب ہے اور یہ ایک شہر تھا کہا جاتا ہے کہ حضرت ابراہیمـ کی ولادت اسی شہر میں ہوئی تھی خاص طور سے یاقوت نے اپنی معجم میں اس کا ذکر کیا ہے کہ یہ بابل کی سرزمین میں واقع ہے جو کوفہ سے زیادہ دور نہیں ہے اور اگر ان کی ولادت یہاں ہونا صحیح ہو اور اس کی نسبت بھی صحیح ہو تو ممکن ہے کہ اس کا نام اس کے قرب و جوار پر بھی غالب آیا ہو اور اس کی نسبت بھی صحیح ہو تو پھراس کا ''ثائ''، ''فائ'' میں تبدیل ہوچکا ہو ایسا عربی زبان میں اکثر ہوتا رہتا ہے اور آخر میں اسکا ''الف '' ،''ھائ'' میں تبدیل ہوا ہو اور اسی طریقے سے ان کے مسلمان ہونے میں بھی یہی دلیل ہے کیونکہ ان کے گھر اس گھر کے قریب تھے جہاں رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم کے دادا کی پیدائش ہوئی تھی ا ور یہ بھی ہم نے اپنی سابقہ کتاب میں یاقوت کے معجم سے ذکر کیا ہے کہ ایک دفعہ امیر المومنین سے قریش کے اصلیت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ ہم کوثی سے مخلوط لوگ ہیں۔
مگر جہاں تک اس نسبت کا تعلق ہے العاقول یا عاقولا کی طرف ہونا یا اس کا اسم کوبا سے بمعنی العاقول سے تحریف شدہ ہے یہ خیال میں نہ آنے والی بات ہے لیکن کبھی یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ کوثی میں ٹھہرے تو اس کا مطلب اس کے نزدیک ہونا ہے لیکن ان کی منزل وہ نہیں ہوتی مگر یہ اس پر غالب آگیا۔ جیسا کہ اسم نجف اس ٹیلہ پر غالب آیا جو امام سے مشرف ہوا حالانکہ وہ اس کا ایک جزء تھا۔
اگر کوئی مذکورہ کتب ڈاکٹر مصطفی جواد کا مقالہ اور اس سے متعلق کتابوں کا ملاحظہ کرے تو پتہ چلے گا کہ وہ محل، خانقاہیں اور گھر جو نصرانیوں کے ہیں یہ تمام روضہ مقدس کے دائرہ میں واقع نہیں اور نہ ہی اس کے قریب ہیں بلکہ یہ سب حیرہ یا کوفہ یا ان دونوں کے گرد و نواح میں واقع ہیں ہاں ان میں زیادہ حیرہ ہی میں واقع ہیں اور زمانے کے دست و برد کی وجہ سے تاریخ عراق اور آثار کے ساتھ ان کے نشان بھی مٹ چکے ہیں۔
مثلاً أکیراح جو چھوٹے چھوٹے قبے تھے یا راہبوں کے مکانات کوفہ کے درمیان یا حیرہ میں واقع تھے اور خانقاہ حریق بھی حیرہ میں تھی اور اسی طرح سے خانقاہ اسکون نجف کی جانب اوپر کی طرف روضہ مقدس کے نزدیک واقع تھی اور خانقاہ حنّہ جو کہ حیرہ کے پرانی خانقاہوں میں شمار ہوتی تھی خانقاہ ابن مزعوق شاشتی کے مطابق حیرہ کے وسط میں واقع تھی جبکہ یاقوت کہتا ہے کہ وہ اس سے باہر واقع تھی۔ خانقاہ مارت مریم یہ یاقوت کے مطابق آل منذر کے اولادوں کی پرانی خانقاہوں میں شمار ہوتی تھی جو حیرہ کے اطراف میں خورنق اور سدیر نامی جگہوں کے درمیان واقع تھی اور حنّة الکبیر کی خانقاہ جو کہ حیرہ اور کوفہ کے درمیان واقع تھی اسی طرح خانقائے ہند صغریٰ، خانقائے ہند کبریٰ، خانقائے اللج، خانقائے حنظلہ وغیرہ تمام حیرہ یا اس کے اطراف میں واقع تھیں۔ ان تمام خانقاہوں کو ڈاکٹر مصطفی جواد اور محمد سعید الطریحی نے بیان کیا ہے ان کے بعد ڈاکٹر حسن الحکیم نے وہاں کل ۳۲ خانقاہوں کا ذکر کیا ہے۔
یہاں یہ بھی بیان کرنا مناسب ہے کہ ظہر کوفہ سے مراد وہ علاقہ جس کی حدود کا تعین کرنا قدرے مشکل ہے اس حوالے سے یاقوت نے اپنی معجم میں کہا ہے کہ منذر بن نعمان کے گھر میں حیرہ، نجف، خورنق ، سدیر ، غریاں اور تفریحی مقامات اور خانقاہیں سب شامل ہیں اور قبر امیرالمومنینـ بھی بعض کے نزدیک اسی میں شامل ہوتی ہے اور ان میں بعض جگہیں تو بہت سارے صحابہ اور تابعین (جو کوفہ میں رہتے تھے )کا مدفن بن چکی تھیںجو اس سے باہر حنانہ نامی جگہ کی جانب ہے لیکن آج کل وہاں صرف کمیل ابن زیاد نخعی کی قبر کے علاوہ کسی صحابی اور تابعی کی قبر موجود نہیں ہے۔
اسکے بعد ڈاکٹر مصطفی نے وہاں کچھ دکانوں کا ذکر بھی کیا ہے لیکن ان میں سے کوئی روضہ مقدس کے دائرے میں شامل نہیں۔جیسا کہ عون کی دکان، دومتہ کی دکان، جابر کی دکان، خانہ شھلاء یہ تمام حیرہ میں واقع ہیں اور وہ بعض جگہ کھیل تماشوں کے لئے بھی میدان تھے اور ہم نے دیکھا کہ اس میدان میں ابونواس ، حماد عجرد والبہ بن الحباب وغیرہ بصرہ اور کوفہ کے مزاح نگاروں میں شامل ہوتے تھے۔
یہ تمام ہم نے یہاں اس لئے ذکر کیا ہے کہ امام نے جب اپنے لئے مرقد اختیار کیا تو بڑے غورو فکر کے ساتھ اختیار کیا تاکہ ہرقسم کے شورو غل دور رہے۔
نجف کے مختلف نام
تاریخ میںاس جگہ کے مختلف نام ہیں شیخ محمد حسین حرز الدین نے اپنی کتاب ''تاریخ نجف اشرف'' میں پورا ایک باب مختص کیا ہے جہاں انہوں نے تقریباً اٹھائیس ناموں کا ذکر کیا ہے اس کے بعد ڈاکٹر محمد ہادی الامینی نے انسائیکلو پیڈیا میں اپنے مقالہ میںنجف کے لغت ، حدیث اور تاریخ میں دس ناموں کا ذکر کیا ہے اور یہ وہی ہے جسے محمدحرزالدین نے اس سے قبل بیان کیا تھا ۔ بانقیا، الجودی، الربوة، الطور، ظہر الکوفہ، الغری یا الغریان، اللسان، المشہد، النجف اور وادی السّلام ہیں۔ ان میں سے نجف، المشہد، الغری کے سوا باقی ناموں کا اس شہر کے ساتھ کوئی تعلق نہیں پس ان میں سے بعض اس کے نزدیک واقع ہے۔ جیسے بانقیا، جو کہ کوفہ کے مضافات میں واقع ہے یا اس کے احاطے میں واقع ہے۔ جیسے اللسان جو کہ کوفہ کے بیرونی حصہ میں واقع ہے پس نجف اور وادی السّلام جو کہ ایک بڑے ٹیلے کو کہا جاتا ہے بعد ازاں یہ نام نجف کی قبروں کے لئے مختص ہوا جو مشہور بھی ہے الجودی جو کہ یاقوت نے اپنی معجم میں ذکر کیا ہے کہ یہ ایک بلند پہاڑ ہے اور یہ دجلہ کے مشرق کی جانب جزیرة ابن عمر میں واقع ہے اور یہیں پر حضرت نوحـکی کشتی آکر ٹھہری تھی اور پھر مرقد مقدس کے موضع کے ساتھ بہت ساری کہانیاں اور روایات بھی وابستہ ہیں جن میں سے بعض تو دشمنوں نے اسے چھپانے کی غرض سے گڑھی تھیں اور بعض آپ کے چاہنے والے شیعوں نے موضع دفن کی توثیق کیلئے بیان کی ہیں بہرحال اگر اس میں ان کی برکت اس شہر کیلئے شامل نہ ہوتی تو یہ شہر کبھی منظر عام و خاص نہ ہوتا۔
مرقد امام کے لئے اس ٹیلے کو منتخب کرنے کی وجہ
جتنی بحث و تحقیق امیر المومنینـکی قبر کے بارے میں ہوئی ہے آج تک کسی قبر کے بارے میں نہیں ہوئی نہ مسلمانوں میں سے کسی قبر کے بارے میں ہوئی ہے اور نہ اہل بیت میں سے کسی کی قبر کے حوالے سے اتنی تحقیق ہوئی ہے اس کی وجہ وہ شکوک و شبہات ہیں جو اصحاب حدیث کے علماء اور ان کے دشمنوں کی مدد کرنے والوں کی کتابوں میں قبر مبارک کے موضع کے حوالے سے وارد ہوئی ہیں۔ اس کے باوجود یہاں تک کہ علماء اہل بیت کی بحثوںمیں اس موضوع کے حوالے سے گفتگو شروع سے ہی ہوتی چلی آرہی ہے پس میں نے دیکھا کہ یہ بحثیں کسی ایسی حقیقت کی توثیق کے لئے نہیں ہیں جسے کسی دلیل کی ضرورت ہو۔ بلکہ صرف بحث کے آخر میں آپ کی سیرت کے حوالے سے اس کوشش میں اپنا حصہ ڈالنے اور جو شبہات بعض کتابوں میں آیا ہے۔ ان کو رفع کرنے اور اس کے ساتھ بعض پرانے علماء کی ان شبہات کو مٹانا مقصود ہے جو علمی بحث کے ذریعے حقیقت کی جانب لوٹایا جاسکتا ہے اگرچہ موثر جذبات سے دور کیوں نہ ہو جو بعض اوقات حقیقت سے دور ہوتا ہے جس میں شاید مجھے ان دو سالوں کی محنت کو دوبارہ تکرار کرنا پڑا جس میں بہت سارے شکوک و شبہات جذبات کی بنیاد پر ماننا جو کہ حقیقت کو ظاہر کرنے کی بجائے چھپا رہا تھا اور میرا خیال ہے کہ میری کتاب جو امام کے حوالے سے ہے جس میں میرے تدبر و تامل کرنے سے ان کی سیرت کی حقیقت میرے لئے سورج سے زیادہ روشن ہوئی۔ اس حوالے سے میں نے کوئی نیا مصدر استعمال نہیں کیا جو مجھ سے پہلے لوگوں نے استعمال نہ کیا ہو پس میں نے جو طریقہ اختیار کیا ہے وہ یہ کہ میں نے تنقیدی انداز سے اپنی تحقیق کو جاری رکھا اور قدیم مورخین اور محدثین کی روایات کو آپس میں ملا کر دیکھا اور اسی طرح تمام واقعات کی چھان بین بھی آپس میں جوڑ کر کی تاکہ صحیح حقیقت ظاہر ہوجائے۔
میرے خیال میںجو بھی اس حوالے سے جاننا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ اس جگہ کی جغرافیائی، تاریخی، سیاسی افق سے آگاہی حاصل ہو اور ساتھ ساتھ سیرت امام خاص طور سے جو عراق میں انہوں نے گزاری اس کے لئے ان کے دشمنوں کے موقف سے آگاہی ضروری ہے۔ اس کے علاوہ اس کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے آپ کو گروہی اختلافات سے پاک کرے جس میں بہت سارے قدیم محدثین متاثر ہوئے ہیں پس میں بھی ان بدشکل چہروں میں شامل ہوا یہاں تک کہ بڑی مشکل سے ان مشابہ چہروں کی پہچان حاصل ہوئی۔
پس امام نجف میں جو کوفہ سے دو فرسخ سے زیادہ دور نہیں تھا بغرض آرام ، ریاضت اور عبادت تشریف لے جاتے تھے۔ جب آپ تنگی، تھکاوٹ اور امت کی اصلاح میں مایوسی کا احساس کرتے تھے۔ دراصل آپ چاہتے تھے کہ اس جہاں میں عدل کی حکمرانی ہو اوردینی اخوت اور خلق خداوند ی کی سرداری ہو۔ لیکن لوگوں نے سرکشی کی، آپ کی مخالفت کی۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ یہاں مساوات کا قانون نافذ ہورہا ہے جس کے بارے میں آپ نے بیعت کے روز اول ہی اعلان کیا تھاتو جن لوگوں کے مفادات پر اس سے چوٹ پڑتی تھی انہوں نے آپ کے ساتھ خاموش اور اعلانیہ جنگ کی اور آپ کے ساتھ آمرانہ سلوک کیا جس کی نادان اور جاہل قوم نے اتباع کی اور آپ کی قدر نہیں کی۔ تو آپ کے آخری ایام میں جب آپ ہر طرح سے مایوس ہوئے تو آپ نے دن رات اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ وہ اس جاہل امت سے نجات دلائے اور اپنے بھائی حضرت محمد مصطفیصلىاللهعليهوآلهوسلم سے ملا دے۔
شیخ محمد حسین حرز الدین نے اپنی کتاب تاریخ نجف میں اور ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں امام کے نجف کی طرف جانے کے حوالے سے بہت ساری روایات بیان کی ہیں جو کوئی بیسویں(۲۰) صدی کے نصف ثانی میں اس علاقے کے بارے میں تھوڑا غور کرے تو شاید وہ سمجھ سکے کہ امیر المومنین یا دوسرے لوگ اس بلند ٹیلے کی طرف بغرض آرام کیوں جاتے تھے کیونکہ یہ علاقہ صاف ستھرا اورپر سکون ہے خاص طور سے موسم بہار کے دِنوں اور موسم گرما کی چاندنی راتوں میں۔
یہاں پر یہ کہنا قدرے مشکل ہے کہ امام کس وقت وہاں آرام فرمانے کیلئے تشریف لے جاتے تھے۔ لیکن گمانِ غالب ہے کہ زیادہ تر چاندنی راتوں میں اور بہار کے دنوں میں جاتے تھے اور اس میںکوئی شک نہیں کہ بہت دفعہ آپ اپنے ہمراہ اس خلوت میں کچھ اپنے خواص کو ساتھ لے کر جاتے تھے اس حوالے سے شیعہ مصادر میں بہت تذکرے ملتے ہیں۔ایک خبر یہ ہے کہ ایک یمن کے رہنے والا شخص اپنے والد کے جنازہ کو ان کی وصیت کے مطابق وہاں دفن کرنے کیلئے لایا تھا کیونکہ اس کو معلوم تھا کہ وہاں ایک مقدس آدمی دفن ہونے والا ہے تاکہ وہ اس کی شفاعت میں شامل ہوجائے۔ تو امام نے اس سے پوچھا کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ آدمی کون ہے؟اس نے کہا نہیں۔ توآپنے فرمایا: خدا کی قسم وہ آدمی میں ہی ہوں۔
اس خبر کو شیخ محمد حسین بن الحاج عبود کوفی نے اپنی کتاب نزہة الغری میں اور علامہ مجلسی نے ارشاد القلوب میں ذکر کیا ہے۔
گمان کیا جاتا ہے ایک اجاڑ زمین دریائے سابور کے درمیان نجف اور حیرہ کی طرف امام نے ۴۰ ہزار درہم میں خریدی تھی۔ تو آپ سے خریدنے کی وجہ پوچھی گئی کہ آپ اس اجاڑ زمین کو جو کہ رہائش اور زراعت کے قابل بھی نہیں ہے کیوں خرید رہے ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ میں نے رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو فرماتے سنا ہے کہ کوفان کوفان جس کا اول آخر سے ملے گا اس کے بیچ میں سے ستر ہزار لوگ محشور ہوںگے پھر بغیر حساب و کتاب کے جنت میں داخل ہونگے تو میں نے خواہش کی کہ یہ سب میری ملکیت میں محشور ہوں۔
یہ خبر کتاب ''فرحة الغری ''میں آئی ہے یہاں سید ابن طاوئو س بیان فرماتے ہیں کہ یہ زمین العمارة جو کوفہ سے باہر ہے اور آپ اپنی ہی زمین میں دفن ہوئے ہیں اس حوالے سے ابن عساکر نے اپنی کتاب میں امام جعفر صادقـسے روایت نقل کی ہے کہ امیر المومنین علیـ نجف کی جانب تشریف لاتے اور فرماتے تھے کہ وادی السّلام مومنین کی ارواح کا مجمع ہے اور یہ مومن کے آرام کے لئے کتنی اچھی جگہ ہے اور آپ فرمایا کرتے تھے :اے میرے پروردگار!میری قبر اسی جگہ قرار دے۔
یہاں مناسب ہے کہ ابن عساکر کی اس روایت کا ذکر کروں جسے امام جعفر صادقـنے اس آیت کریمہ کے تفسیر میں فرمایا ہے۔
( وَجَعَلْنَا ابْن مَرْیَمَ وَامَّهُ آیَةً وَآوَیْنا هُمَا الیَ رَبْوَةٍ ذات قَرَارٍ وَمَعِیْنٍ )
یہاںرَبْوَةٍ سے مراد نجف ہے ۔ قَرَارٍسے مراد مسجد جبکہمَعِیْنٍ سے مراد فرات ہے۔
یہاں بھی گمان غالب ہے کہ امامـ نے اپنے وقت آخر کا احساس ہونے پر اپنے لئے اس جگہ کا انتخاب کیا تھا جو ایک بلند اور وسیع ٹیلہ تھا اور یہ وہ جگہ تھی جو تمام ان مواضع سے دور تھی جہاں سے لوگ کوفہ، حیرہ یا دوسرے جگہوں کی جانب بغرض سکونت یا تجارت گزرتے تھے اور چھوٹے سمندر کے کنارے سے زیادہ دور بھی نہیں تھی اور کوفہ اور حیرہ کے راستوں سے قریب نہیں تھی اور نہ ہی اس کے آس پاس کی جگہوں یا گائوں یا وہ کھیت جو دریائے فرات کے آس پاس تھے کے راستوں سے نزدیک تھی۔
یہ روز روشن کی طرف واضح تھا اگر یہ جگہ ہر کسی کو معلوم ہوتی تو کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ کے جسد مبارک کی بے حرمتی کرے اس لئے کہ کوفہ اور اس کے اطراف میں خوارج کی اکثریت رہائش پذیر تھی اور بنو امیہ تو آپ کے شہید ہونے کے انتظار میں بیٹھے تھے اور اس زمانے میں کوفہ کے اندر ان کے بہت سارے جاسوس بھی تھے ان کے آباء و اجداد بدر واحد اور جمل و صفین میں آپ نے تہ تیغ کئے تھے تو ان کا انتقامی رویہ یقینی امر تھا۔ اگرچہ آپکے جسد خاکی کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو اس لئے آپ نے اپنی جائے دفن کیلئے ایسی جگہ کو چنا جو کوفہ سے زیادہ دور بھی نہ ہو اور مناسب بھی ہو اور آپ دشمنوں کی نظروں سے پوشیدہ بھی رہیں اور بعد ازاں روایات کے اندر جو شکوک وشبہات تھے اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ آپـ کے ماننے والوں نے خوف سے چھپایا تو آپـکے دشمنوں نے روایات گھڑیں امامـ کا یہ پہلا امتحان نہیں تھا بلکہ ایسا ہی ایک اور امتحان آپـکے ساتھ انتخاب قبر زہرا کے وقت بھی ہوا تھا کہ آپـنے ان کی قبر کو بھی مخفی رکھا جو کہ میرے خیال کے مطابق آپـنے انہیں اپنی مادر گرامی حضرت فاطمہ بنت اسد رضوان اﷲ علیہا کے جوار میں دفن کیا تھا آپ کے فرزند امام حسن ابن علیـکی قبر بھی جنت البقیع میں ہے اس حدیث کے دوران جناب فاطمہ زہراکی قبر کے بارے میں میرا ذہن کھل گیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے جناب سیدہکی قبر کے بعد رسول اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی وفات کے تین دہایاں گزرنے کے بعد دوسری مرتبہ حضرت علی کی قبر کو مخفی رکھا۔ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے اس ٹیلہ کوجہاں آپکی قبر ہے مسلمانوں کے لئے چوتھا مقام مقدس قرار دیا۔
علمائے شیعہ کی روایات میں آپ ـکا مرقد شریف
امام علی کی مرقد اور روضہ مقدس کے حوالے سے شیعوں کے ہاں بہت ساری روایات ملتی ہیں۔ جن میں بعض حقیقت کے قریب ہیں تو بعض حقیقت سے نہ صرف دور ہیں بلکہ حقیقت کے ساتھ کوئی واسطہ ہی نہیں ہے اور بعض میں ایسی حقیقت ہے جن کے اوپر شک و شبہ کی گنجائش نہیں کچھ ایسی روایات بھی ہیں جنہیں علمی بحث کے ذریعے اخذ نہیں کرسکتے اس لئے کہ انہیں صرف جذباتی محبت اور غیبی روحانیت کے چوکھٹے میں وضع کیا گیا ہے اور ایسا ہونا اس دنیا کے اندر مقدس جگہوں کیلئے کوئی تعجب کی بات نہیں۔ کیونکہ یہاں لوگ مختلف کہانیاں گھڑتے ہیں اور اس میں غلو سے کام لیتے ہیں اور اسی طرح ایسی بھی کہانیاں وجود میں آتی ہیںجو حقیقت سے کوسوں دور ہیں۔ اس حوالے سے ہمارے پاس مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ ، بیت المقدس وغیرہ سے متعلق قصص و کہانیاں بہترین مثال ہیں جو کہ وہاں بہت سارے انبیائ٪ کا مسکن قرار دینا یا وہاں سے گزرنا یا ان کے وہاں مدفن کی طرف اشارہ کرتی ہے اور ہم نے اس حوالے سے مسجد بصرہ اور مسجد کوفہ سے متعلق بھی بہت ساری کہانیاں پڑھیں تو ہم حیران ہوئے کہ یہ دونوں بھی تاریخ کی بڑی مسجدوں میں شمار ہوتی ہیں۔
یہاں پر ڈاکٹر حسن حکیم نے اپنی کتاب تاریخ نجف میں وادی السّلام اور نجف کے مراقد مقدسہ کو خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا ہے جس میں انہوں نے پہلے باب میں حضرت آدمـاور حضرت نوحـ کی قبروں اور ان دونوں قبروں کے درمیان امام علیـکے دفن کے بارے میں روایات کو بیان کیا ہے اور اس ضمن میں حضرت ہودـاور حضرت صالحـکی قبروں کو وادی السّلام میں بیان کیا ہے جبکہ اسی کتاب کے دوسرے باب میں اہل بیت ٪کی بعض ذریت کی قبروں اور بعض صحابہ کرام کے امام کی روضہ مقدس کے احاطے میں دفن ہونے کا ذکر کیا ہے اور اسی میں بعض آئمہ٪کے مقامات جنہوں نے نجف کی زیارت کی ہے جیسے مقام امام زین العابدینـاور امام جعفر صادقـاور اسی مقام پر امام مہدیـکا تذکرہ کیا ہے۔
اور آخر میں انہوں نے کچھ ایسی روایات کا ذکر کیا ہے جو سر مبارک امام حسینـکے اپنے بابا علی مرتضیٰـکے سر کے قریب دفن ہونے کو بیان کرتی ہیں۔اس حوالے سے کچھ روایات سر امام حسینـ کربلا یا شام یا عسقلان یا مصر یا دوسرے علاقوں میں دفن ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہیں ان تمام کے باوجود شیعہ روایات کہتی ہیں کہ سر مبارک بالآخر آپـکے جسم مبارک سے ملحق ہوا تھا ڈاکٹر صاحب سرِامامـ نجف میں دفن ہونے کی روایات کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔
تاریخ کے کچھ محدثین کی ملاوٹ کے باوجود جس سے میں اپنے آپ کو بری کرتا ہوں آخرکار حقیقت سامنے آہی گئی جسے ایک باغی گروہ نے چھپانے کی حتی المقدور کوشش کی تھی جس کیلئے انہوں نے مختلف طریقے استعمال کئے بالآخر ننگ و عار اور نقصان انہی کو ہوا۔ عالم انسانیت کمام کا نور اور فکر دنیا کے کونے کونے تک پہنچ گیا جبکہ آپ کے مخالفوں کی قبروں کو تاریخ نے کوڑ ے دان میں ڈال کے رکھ دیا اور آپ کی روضہ مقدس کا مینارہ بلند ہے اور آپ کے چاہنے والے اسے بلند سے بلندتر کرتے جارہے ہیں۔
امام کے مرقد شریف کے موضع کے بارے میں جو قابل بھروسہ کتاب کہ جس کے بارے میں بالکل یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں تو سید ابن طائوس کی کتاب ''فرحتہ الغری'' ہے اگرچہ اسکے بارے میں اشارہ ہوچکا ہے مولف محترم نے اس میں زیادہ تر ان روایات کو بیان کیا ہے جو علماءے اہل بیت اور دوسروں کی کتابوں سے لئے گئے ہیں۔ بعد میں آنے والے علماء نے ان پر پورا پورا اعتماد کیا ہے یہ کتاب دو مرتبہ نجف اشرف میں چھپ چکی ہے۔
یہاں میں یہ یاد دلانا چاہتا ہوں جس کی طرف میں نے اشارہ کیا تھا کہ بہت ساری تاریخی روایات بعض اوقات بغیر کسی تحقیق کے ساتھ نقل کی جاتی ہیں بعض دفعہ ہوتا ہے کہ راوی یا مولف اپنے من پسند معیارات کے مطابق اچھی یا بری نیت کے ساتھ روایات کو کہیں گھٹا کر تو کہیں بڑھا کر بیان کرتے ہیں۔ بعد ازاں دن گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ روایات اپنی اصلی صورت سے کوسوں فاصلہ پر ہوتی ہیں اس بناء پر یہ تعجب کی بات نہیں ہے کہ بہت سارے مصادر میں ایک روایت ہمیں ایک شکل میں ملتی ہے تو وہی روایت دوسرے مصادر میں دوسری صورت میں نظر آتی ہے اس میں بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ روایت کی پوری نص متغیر ہوتی ہے اور کہیں زیادہ ہوتی ہے تو کہیں کم اور کبھی کبھار روایت کے معنی تبدیل ہورہے ہوتے ہیں اور مولف کو اس چیز کا شعور بھی نہیں ہوتا۔ اسی طرح کی تبدیلی جب آگے بڑھتی ہے تو ایک وقت ایسا آتا ہے کہ روایت کا اصل سے کوئی تعلق ہی نہیں رہتا۔ لیکن بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک روایت مختلف راویوں کے مختلف انداز سے نقل کرنے کی وجہ سے کئی روایتیں بن جاتی ہیں اس طرح بہت ساری تاریخ کی کتابوں کا ہونا عام سی بات ہے۔
کبھی کبھار ایک راوی ایک روایت لکھتے وقت تعصب کا شکار ہوجاتا ہے اور اسے درایت کا کوئی علم نہیںہوتا اور سب سے آخری راوی اپنی شخصیت کو قرار دیتا ہے لیکن تھوڑی تبدیلی کے ساتھ۔
اس موضوع کو چھیڑنے کا مقصد یہ ہے کہ ہر سمجھدار آدمی کے لئے یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ ایسا ہی خاص طور سے ان روایات کے ساتھ بھی ہوا ہے جو مرقد امامـکے حوالے سے تاریخ کی کتابوں میں ہمیں ملتی ہیں ان میں کوئی تخصیص نہیں چاہے مورخ علماءے اہل بیت٪ میں سے ہوں یا اصحاب حدیث میں سے ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں ان لوگوںکا نام لیا ہے۔
اس حوالے سے صفوی اور عثمانی حکومتوں کی گروہی سیاسی چپقلش بھی شامل ہے کہ ان میں ایک دور ایسا بھی آیا تھا کہ کبھی کبھار ایک بھائی اپنے دوسرے بھائی کے پاس موجود چیزوں کی طرف صرف دیکھنا بھی گوارہ نہیں کرتا تھا اس طرح میرا نہیں گمان ہے کہ ابن کثیر نے اپنی کتاب البدایہ والنہایة میں غیر مسلم گروہوں پر اعتراض کیا ہو جتنا انہوں نے شیعوں پر اعتراض کیا ہے پس شیعہ ان کے نزدیک جاہل ، جھوٹا، گمراہ اور غلطی کرنے والا فرقہ ہے اور ان کی روایت ضعیف، متروک، موضوع، ساقط، بغیر اہمیت کی حامل روایت ہیں اس طرح کے عمل میں اور دوسروں نے بھی اسلام اور مسلمانوں پر مہربانی دکھانے کے لئے اپنے بال سفید کئے ہیں۔ جس کا نتیجہ اسلامی تاریخ کے واقعات میں تبدیلی، حقیقت سے دوری اور ان کے ضیاع کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
مرقد امیرالمومنینـکا پوشیدہ ہونا وجہ جو بھی ہو لیکن دسیوں سوالات اٹھتے ہیں جن کے صحیح جوابات دینے کیلئے جد وجہد اور کوشش کی ضرورت ہے۔ یہ کوشش کبھی کبھار جا کر ایک حکایت پر ختم ہوجاتی ہے۔
مثلاً اگر کوئی خبر اہل بیت یا ان کے قریب ترین اصحاب میں پھیل جائے کہ امامـ ظہر کوفہ میں دفن ہوئے ہیں پس یہ خبر فوراً اخبار میں تبدیل ہو جاتی ہے پس ظہرکوفہ ایک وسیع منطقے پر محیط ہے اورہر خبر یہ کہتی ہے کہ امام ایک صالح ٹیلہ میں دفن ہوئے ہیں اور ان ٹیلوں میں ثویہ کوفہ بھی ہے اور بعد ازاں لفظ ظہرحذف ہوا اور صرف لفظ کوفہ باقی رہ گیا پھر اس کے بعد نقل ہونے والی اخبار میں یہ کہ ''دفن فی الکوفہ''یعنی آپ کوفہ میں دفن ہوئے بعد میں آنے والے لوگوں کا ذہن اسی جگہ کو ماننے کو ترجیح دے گا۔
پس امام کا دفن قصر امارہ کے پاس یا اس کے اندر یا اس کے قریب یا جامع مسجد کے قریب یا آل جعدہ کے نزدیک کسی حجرے وغیرہ میں ہونا واقع ہوتا ہے اب ممکن ہے اس میں بہت ساری روایات بن جائیں اور مورخین چاہے تو ان کو اصلی صورت کی طرف موڑدیں اور اگر چاہیں تو اس طرف موڑ دیں جدھر انہیں اچھا لگے اور ان روایات میں سے جسے یہ مشکل سمجھے وہاں وہ '' قیل ''کہتا ہے یعنی کہا گیا اس کے علاوہ باقی جسے اس کا دل چاہے مسلمات قرار دے۔
اور اگر پوشیدہ والی روایت میں یہ اشارہ موجود ہو کہ جسد اقدس کو مدینہ کی طرف لے جایا گیا ہو تاکہ وہاںاپنی والدہ گرامی، چچا اور زوجہ محترمہ حضرت بتول کے قرب و جوار میں دفن ہوتو یہ بعید نہیں ہے کہ اس روایت سے بھی حکایت نہ لپٹی ہو۔ مثلاً نعش مدینہ تک نہیں پہنچی ہو اگر پہنچی ہو تو یہ خبر بھی چغل خوروں سے محفوظ نہ رہی ہو۔
اس کے معنی یہ ہیں کہ قافلے کے ساتھ نعش مبارک تھی صحرا میں وہ اونٹ کھو گیا جس پر نعش رکھی ہوئی تھی اور وہ قافلہ قبیلہ طی سے گزرا تھا تو یہ بھی بعید نہیں ہے کہ یہ خبر بھی حکایت سے محفوظ رہی ہو مثلاً کہ وہ وہاں ایک گروہ پہنچا۔ ان کے ساتھ ایک اونٹ پر نعش تھی اور وہاں دفن ہوئی تو کسی نے منع بھی نہیں کیا۔ در حالانکہ وہ انکے خاندان والوں کو جانتے بھی نہیں تھے اس طرح سے بہت ساری روایات واضح اور پوشیدہ تاریخ کے اندر موجود ہیں جسے دشمن اپنے مقاصد کیلئے استعمال کرتے ہیں تو چاہنے والے غلو کے ساتھ حقیقت کو تبدیل کرکے رکھ دیتے ہیں لیکن جو حقیقت شناس تھے انہوں نے اپنے کانوں کو کھول کر حقیقت کو سننے کی فرصت دی یا جو روایات ان کے سامنے ہیں ان کو کھنگالا جو واقع سے قریب یا بعید ہیں اور سیاسی گروہی پردوں کو چھوڑ دیا۔ جاہل اور بے وقوف دشمنی میں یا دوسرے کے بغض میں باطل چیز کو ہی اٹھانے پر مصر رہتے ہیں۔
ان میں سے ایک روایت سید ابن طاوئوس نے قبر امیر المومنینـکے حوالے سے اپنی کتاب الفرحتہ میں نقل کی ہے جسے محمد بن عبدالعزیز بن عامر الدھان نے محمد بن حسن الجعفری کی سند سے روایت کیا ہے کہ اس نے کہا:میں نے اسے اپنے والد کی کتاب میں دیکھا جسے میری والدہ نے اپنی والدہ سے نقل کرتے ہوئے یوں مجھ سے بیان کیا کہ امام علیـنے اپنے فرزند حسنـسے چار قبریں چار مختلف جگہوں میں کھودنے کا حکم دیا مسجد میں ، رحبتہ میں ، غری میں اور جعدة بن ھبیرة کے مکان میں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپـکے دشمنوں کو قبر کے بارے میں معلوم نہ ہو۔
میرے حساب سے یہ روایت حقیقت سے زیادہ مطابق نہیں ہے کیونکہ جس نے اس کتاب الفرحتہ کی تحقیق کی ہے اس کے نزدیک اس میں راوی واضح نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے ان راویوں کی وضاحت نہیںکی ہے لیکن جب میں نے تفریشی کی کتاب نقد الرجال میں محمد بن حسن بن عبداللہ الجعفری کی وضاحت دیکھی تو انہوں نے اس روایت کو فساد قرار دیا ہے اور اس کے مصدر نہ ہونے کی وجہ سے اسے ملعون قرار دیا ہے۔ میرا خیال ہے اس طرح کی اور بھی بہت ساری روایات ہیں جن کی وجہ سے خطیب بغدادی وغیرہ بھی شک میں مبتلا ہوچکے ہیں کہ قبر امام کا موضع واضح نہیں ہے۔ پس اس طرح کی روایات میں ابہام، خواہش اور نقل کا زیادہ دخل ہے۔
اس موضوع پر ایک اور روایت طبری نے بھی اپنی تاریخ میں نقل کی ہے جو مرقد شریف کو مسجد الجماعة کے نزدیک قصر امارہ میں بتاتی ہے اب یہاں پر شاید سید ابن طاوئوس والی روایت کے راوی نے جب دیکھا کہ یہ خبر مخلوط ہے تو انہوں نے ایک مناسب روایت کو دیکھا جو ان تمام کو رفع کرے اس لئے نقل کی ہے۔
جن روایات کومیں نے دیکھا ہے جنہیں شیخ کاظم الحلفی نے بیان کیا ہے کہ ایک دفعہ امام نے اپنے چند مخلص ساتھیوں کو اپنے مشہد شریف کے بارے میں دکھایا جو زمین کے نیچے ایک سرداب میں تھی اور یہ جگہ تین حصوں میں منقسم تھی جہاں ایک جگہ نماز پڑھنے کے لئے مختص تھی جبکہ دوسرے حصے میں اپنے خاص شاگردوں کو درس دیتے تھے اور تیسرے حصے میں اپنے لئے قبر بنائی ہوئی تھی۔
لیکن اس روایت پر شیخ کاظم بھروسہ نہیں کرتے بلکہ یوں اشارہ کرتے ہیں کہ شاید یہ امام کی اپنی اولاد کے لئے وصیت ہو اور اس روایت کا کوئی مصدر ہے اور نہ کوئی خبر موثق تائید کرتی ہے تو کسی صورت میں اس پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔
اور شیخ یہ بھی کہتے ہیں کہ جب امام شہید ہوئے تو اہل بیت ان کو اٹھا کر مشہد معلوم پر پہنچے تو امام حسن نے نماز پڑھائی جبکہ آپ کے اہل بیت ،حبیب ابن مظاہر، حبہ بن جوین، اَصبخ بن نباتہ، کمیل بن زیاد، رشید الھجری، حجر بن عدی الکندی ، عمر بن الحمق الخزاعی، جویریہ بن مسھر العبدی وغیرہ نے اقتداء کی۔ لیکن اسے صعصتہ بن صوعان نہیں مانتے جبکہ شیخ صاحب اس پر بھروسہ نہیں کرتے اور اسے ارسال المسلمات قرار دیتے ہیں۔ بہرحال یہ روایت ایک ایسی خبر ہے جس کیلئے روایت معتبر تائید کرتی ہیںجن پر اعتماد کیا جاسکتا ہے۔
سید ابن طاوئو س نے اپنی کتاب الفرحة میں جہاں علمی اور معتبر روایتوں کو بیان کیا ہے وہاں کچھ پوشیدہ روایتوں کوبھی نقل کیا ہے جو بہرحال غوروتحقیق طلب ہیں انہی میں ایک روایت یوں ہے:
ایک دفعہ حضور اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم نے حضر ت علیـسے فرمایا کہ اے علی!اللہ تبارک تعالیٰ نے ہم اہل بیت کی مودت کو زمین اور آسمانوں کے سامنے پیش کیا تو سب سے پہلے ساتویں آسمان نے جواب دیا تو خداوند عالم نے اسے عرش و کرسی سے سجایا پھر چوتھی آسمان کو بیت معمور سے مشرف کیا پھر دنیا کے آسمان کو ستاروں سے مزین کیا۔ پھر حجاز کی سر زمین کو بیت الحرام سے مشرف کیا پھر شام کی سرزمین کو بیت المقدس سے نوازا پھر طیبہ (مکہ )کی سر زمین کو میری قبر سے مشرف کیا پھر کوفان کی سر زمین کو یا علی! تیری قبر سے مشرف کیا۔
حضرت علی نے سوال کیا:یا رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم کیا میری قبر کوفان عراق میں ہوگی؟
آپصلىاللهعليهوآلهوسلم نے جواب دیا:ہاں اے علی!تجھے غریین اورذکوات بیض کے درمیان قتل کیا جائے گا اور تجھے اس امت کا شقی عبدالرحمٰن ابن ملجم قتل کرے گا۔
پس قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے نبی مبعوث فرمایاکہ اس کا عقاب ناقہ صالح کے قاتل سے زیادہ ہوگا۔
آپ نے علی ابن طحال کی روایت ملاحظہ کی جو قابل تدبر و تامل ہے اسی طرح بہت سی اور بھی روایتیں ہیں۔ اس طرح کی ایک روایت اصول کافی میں بھی ہے کہ جب امیر المومنینـ زخمی ہوئے تو آپ نے امام حسنـاور امام حسینـسے فرمایا کہ تم دونوں مجھے غسل و کفن اور حنوط دینا اور پھر میرے جنازے کی پائینتی والا حصہ تم اٹھانا اور سر کی جانب والا چھوڑ دینا۔
شیخ یعقوب کلینی جو کہ بزرگ علماءے شیعہ میں شمار ہوتے ہیں آپ نے تیسری چوتھی صدی ہجری کو بغداد میں وفات پائی۔ آپ نے اپنی سند سے ایک روایت ابا عبداللہ الحسینـ سے نقل کی ہے کہ آپ نے فرمایا کہ جب امیر المومنینـکو زخمی کیا گیا تو انہوں نے ہم سے فرمایا جب تم مجھے غسل دے چکے اور گھر سے لے چلو تو اگر تم لوگ میرے جنازے کو سر کی جانب کو اٹھاو تو پیر کی جانب چھوڑ کر رکھو اور اگر تم لوگ پیر کی جانب سے اٹھائو تو سر کی طرف کو چھوڑ دو۔ یہاں تک کہ تم دونوں ایک جگہ پہنچو گے کہ جہاں ایک تیار قبر تمہیں ملے گی جہاں اینٹیں بھی ملیں گی پھر تم دونوں مجھے قبر میں اتارنے کے بعد وہاں پڑی ہوئی اینٹوں سے قبر کو بند کرنے کے بعد سر کی جانب سے ایک اینٹ کھلی رکھنا تمہیں آوازیں سنائی دیں گی پھر اس اینٹ والی جگہ کو بند کر دینا اور سرکی جانب سے ایک اینٹ اور اٹھانا تو قبر میں کوئی چیز نہیں ہو گی اور ہا تف غیبی کی آواز آئے گی کہ امیر الومنین ایک عبد صالح تھے۔ خداوند عالم نے انہیں اپنے نبیصلىاللهعليهوآلهوسلم سے آج ملا یا ہے اور وہ انبیاء کے اوصیاء کے ساتھ ایسا ہی کرتا ہے اگر کوئی نبی مشرق میں فوت ہوجائے اور اس کا وصی مغرب میں تو اللہ تبارک و تعالیٰ اس وصی کو اپنے نبی سے ضرور ملا دے گا۔
کتاب الفرحتہ میں اس طرح کی دو روایتیں اور بھی ہیں کہ جس میں امام حسنـو امام حسینـنے امیر المومنین کے تابوت کو سر کی جانب سے اٹھایا اور دوسرے حصہ کو چھوڑ رکھا اور تیار قبر ملی۔ اس کے بعد آپـکا جسد مبارک غائب ہوا پتہ نہیں چلا کہ آسمان لے اڑا یا زمین نے چھپالیا۔
اور اسی طرح کی ایک اور روایت شیخ مفید سے بھی ہے کہ جب امیر المومنینـکی وفات کا وقت آیا تو آپ نے امام حسنـاور امام حسینـسے فرمایا:تم دونوںتابوت کو آگے کی طرف سے پکڑنا پھر مجھے اٹھا کر غریین کی جانب بڑھنا تو وہاں تمہیں ایک سفید پتھر ملے گا تو تم وہاں کھدائی شروع کرو تو وہاں تمہیں ایک تختی ملے گی جس پر لکھاہوا ہو گا کہ یہ حضرت نوحـنے علی بن ابی طالبـکے لئے سنبھال کے رکھا تھا پھر حسینـفرماتے ہیں کہ ہم نے انہیں وہاں دفن کیا اور ہم امیرالمومنینـکیلئے اللہ تعالیٰ کے اس اکرام پر خوش ہو کر چلے آئے۔
علامہ مجلسی نے بھی بحار الانوار میں اسی طرح کی ایک روایت محمد بن حنفیہ سے نقل کی ہے جو سابقہ روایات کی طرح ہی ہے کہ امام حسنـنے نماز جنازہ پڑھائی اور ان کے پیچھے ایک گروہ نے اقتداء کی اور آپ نے اپنے والد گرامی کے حکم کے مطابق سات تکبیریں پڑھائیں۔ پھر ہم نے تابوت کو اٹھایا اور جیسا کہ امیرالمومنینـنے کہا تھا جنازہ کو ایک جگہ لے گئے اور جب ہم نے وہاں سے مٹی اٹھانا شروع کیا تو وہاں پہلے سے تیارشدہ ایک قبر تھی، لحد بنی ہوئی تھی اور ایک تختی بھی تھی جس پر لکھا ہوا تھا کہ ''یہ ان کے دادا پیغمبر نوحـنے عبد صالح طاہر مطہر کیلئے رکھا ہوا ہے ''تو جب ہم نے امام کی میت کو قبر میں اتارنا چاہا تو ہاتف غیبی نے صدا دی کہ ''انہیں تم لوگ پاک مٹی پر رکھ دو'' یہ سن کر وہاں لوگوں کے اوپر دہشت طاری ہوئی اور حیران رہ گئے اور امیر المومنینـ طلوع فجر سے قبل دفن ہوگئے۔
اوریہاں سید ابن طاوئوس نے اپنی سند سے ایک روایت امام باقرـسے نقل کی ہے کہ امیر المومنینـپیغمبر نوح ـکی قبر میں دفن کئے گئے۔
ایک روایت یہ بھی ہے کہ حسنین کریمین نعش امام لے کر جارہے تھے ایک نقاب لگائے شخص نے استقبال کیا اور ان سے نعش اٹھانے کی خواہش کی۔ لیکن جب نقاب اٹھا کر دیکھا تو خود امامـہی تھے۔ ظاہراً یہ روایت شک سے خالی نہیں ہے بہت ساروں نے اسے رد بھی کیا ہے۔
مذکورہ روایات میں سے زیادہ تر پر غیبی مہر ہے ان کے علاوہ کچھ روایتوں میں ایسا نہیں ہے جیسا کہ سید ابن طاوئوس کی کتاب الفرحة میں جو روایت اپنی سند سے امام باقرـسے مروی ہے کہ جس میں یہ ذکر ہے کہ امام غریین میں طلوع فجر سے پہلے دفن ہوئے آپـکی قبر میں امام حسنـ، امام حسینـ، محمد، اولاد علی اور عبداللہ بن جعفر اتر ے تھے اور یہی روایت کتاب شیخ مفید کی کتاب ارشاد میں بھی ہے۔
اسی طرح ایک اور روایت کلینی نے الکافی میں بعض اصحاب سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں ہم نے اباعبداللہ الصادقـسے سنا کہ جب امیرالمومنینـکی روح قبض ہوئی تو امام حسنـ، امام حسینـ اور دو آدمی جسد مبارک اٹھا کر چلے کوفہ ان کے دائیں جانب تھا اور جبانہ سے ہوتے ہوئے غری پہنچے تو وہاں دفن کیا اور قبر کو برابر کرکے چلے گئے۔
اس کے علاوہ بھی بہت ساری روایات ہیں جنہیں سید ابن طاوئوس نے جمع کیا اور ان کے مصادر کو بھی بیان کیا ہے اس کے بعد دوسرے شیعہ مصادر شیخ محمد مہدی نجف نے مذکورہ مصادر شیعہ سے نکالا ہے جوان کے زمانے سے قبل یا ہمعصر ہے اور اس میں بہت ساری ایسی روایتیں بھی ہیں جن کا حوالہ مختلف لوگوںنے مختلف کُتب میں دیا ہے۔
آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ یہ تمام روایات علماءے اہل بیت کی ہیں اس کے علاوہ جو آنے والی ہیں یہ تمام متفق علیہ ہیں کہ امیرالمومنین اپنے مشہور مرقد نجف اشرف میں ہی مدفون ہیں۔ اسی طرح آپ عنقریب یہ بھی ملاحظہ فرمائیں گے کہ وہ تمام روایات جو اہل بیت سے وارد ہوئی ہیں یہ تصدیق کرتی ہیں کہ آپـاسی مشہور جگہ میں ہی مدفون ہیں جس کے بارے اہل بیت اور ان کے ماننے والوں میں کوئی شک نہیں۔ اور ان کی کتابوں میں کوئی ایسی روایت نہیں آئی ہے جو اس موضوع کے بارے میں شک کرے کہ اس کے قریب یا بعید ہیں۔ اس طرح جنہوں نے آپ کے مزار کی زیارت کی اسی موضع میں ہی کی ہے۔
لیکن ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں نہ صرف اس کی توثیق نہیں کی ہے بلکہ اس کے علاوہ تمام دوسری روایات جو دوسری جگہ کی نشاندہی کرتی ہیں باطل قرار دی ہیں۔ وہ کہتے ہیں یہ عقل کے خلاف ہے کہ جو اختلاف اصحاب حدیث کے درمیان ہے کہ آپ کا جسد خاکی مدینہ منورہ لے جایا گیا یا رحبة الجامع میں دفن کیا گیایا قصر الا مارہ کے پاس وغیرہ تمام روایات باطل ہیں۔ ان کے پیچھے کوئی حقیقت نہیں ہے ان کی قبر کے بارے میں ان کی اولاد سے زیادہ کون بہتر جان سکتا ہے اس لئے اولاد ہی اپنے آبائو اجداد کی قبروں کے بارے میں دوسروں سے زیادہ جانتے ہیں اور یہ تو وہ قبر ہے جس کی زیارت ان کے بیٹوں نے کی جن میں سے امام جعفربن محمد اور دوسرے بزرگ لوگ تھے اور انہوں نے شرح نہج البلاغہ میں ایک اور روایت بھی نقل کی ہے کہ ابو الفرج نے مقاتل الطالبین میں سند کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ جب امام حسنـ سے پوچھا گیا کہ امیر المومنینـکو آپ لوگوں نے کہاں دفن کیا تو امام حسنـنے فرمایا کہ رات کی تاریکی میں ہم ان کی میت کو ان کے گھر سے اٹھا کر نکلے اور مسجد الاشعث سے ہوتے ہوئے ظہر کوفہ میں غری کی جانب پہنچے۔ اور یہ روایت سند کے ساتھ مقاتل الطالبین میں موجود ہے مگر شیخ طوسی جنہوں نے بغداد سے نجف اشرف کی طرف بعض حوادث کی وجہ سے ہجرت کی اور وہاں ایک بڑا دینی مدرسہ قائم کیا جس کا نام انہوں نے جامعة علمیة النجف رکھا انہوں نے اپنی کتاب تہذیب الا حکام میں قبر امام کے حوالے سے بھی کچھ روایات لکھی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ زیارت قبر کی فضیلت بھی بیان کی ہے یہ ساری باتیں تصدیق و توثیق کرتی ہیں کہ امامـغری نجف میں ہی مدفون ہیں۔
اجمالی طور پر یہ روایت سابقہ روایتوں سے جدا نہیں ہے تو میں تہذیب الا حکام سے ایک روایت بیان کردیتا ہوں کہ ابی مطر نے امیر المومنینـہی کی سند سے بیان کیا ہے کہ امیرالمومنینـ نے فرمایا کہ جب میں مرجائوں تو مجھے اس جانب میرے دونوں بزرگوں حضرت ہود اور حضرت صالح کی قبر میں دفن کردینا۔
اور اسی صفحہ پر دوسری روایت بھی ابی مطر ہی سے ہے کہ میں نے جب امام حسنـسے امیر المومنینـکے دفن سے متعلق پوچھا گیا تو آپـنے جواب دیا کہ ہم نے انہیں ان کی وصیت کے مطابق رات کی تاریکی میں لے جا کر مسجد اشعث میں حضرت ہودـکی قبر میں دفن کیا۔
اور اسی صفحہ میں ایک روایت اور بھی ہے کہ ابی بصیر نے جب ابا عبداللہـسے امیر المومنینـ کے دفن کے بارے میں پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ انہیں اپنے دادا حضرت نوحـ کے ساتھ قبر میں دفن کیا گیا۔ تو ابی بصیر نے دوبارہ پوچھا کہ نوحـ کی قبر کہاں ہے؟ لوگ تو کہتے ہیں کہ وہ مسجد میں ہے تو آپـ نے فرمایا: نہیں وہ ظہرکوفہ میں ہے۔
ایک اور روایت اسی صفحہ میں ہے کہ ابو حمزہ ثمالی نے ابو جعفرسے امیر المومنین کی وصیت کو نقل کیا ہے کہ مجھے ظہر کوفہ کی طرف لے کر چلنا تو جہاں تمہارے قدم رک جائیں مجھے وہیں پر دفن کردینا اور یہی طورِ سینا ہے۔
کتاب الفرحة میں ایک روایت ہے کہ امام صادق نے فرمایا کہ کوفان کی جانب ایک قبر ہے جہاں کوئی بھی پریشان حال دو یا چار رکعت نماز پڑھے تو اللہ تعالیٰ اس کی مراد پوری کرے گا۔ راوی نے پوچھا کہ کیا وہ حسین ابن علیـ کی قبر ہے امام ـ نے فرمایا نہیں۔ تو راوی نے دوبارہ پوچھا کہ کیا وہ امیر المومنین کی قبر ہے تو امام نے اثبات میں جواب دیا۔
اسی طرح کی بہت ساری روایات جعفر بن محمد ابن قولویہ نے اپنی کتاب کامل الزیا رات اور شیخ مفید نے کتاب ارشاد میں موثق اور مصدق طریقے سے بیان کی ہیں مگر قطب الدین راوندی نے اپنی کتاب الخرائج والجرائح میں لکھا ہے کہ امیر المومنینـ کی قبر پوشیدہ رہی جس کی بعد میں امام جعفر صادقـ نے نشاندہی فرمائی۔
شیخ طوسی ان لوگوں میں سے نہیں جو اپنے جذبات میں عقل سے خالی گفتگو کرتے ہیں بلکہ آپ مسلمانوں کے پانچویں صدی ہجری کے بزرگ علماء میں شامل ہوتے ہیں اگر آپ کو وہاں دفن امیر المومنینـ کے بارے میں توثیق و تصدیق نہ ہوتی تو آپ قطعاً اتنی مشکلات کے ساتھ وہاں نہ رہتے اور مجھے اس میں کوئی شک و شبہ بھی نہیں ہے کہ انہوںنے اپنے سے ماقبل تمام روایات اہل بیت کی تحقیق نہ کی ہو۔ اس کے لئے میرے پاس واضح دلیل بھی موجود ہے کہ روایات اصحاب حدیث جتنی بھی ہیں جو قبر امامـ کے موضع کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرتی ہیں یہ تمام مہمل اور اہمیت سے خالی ہیں۔ اگر میں انہیں ذکر کروں تو یہ ہرگز کسی حقیقت کی توثیق کرنا نہیں ہے جو سورج سے زیادہ واضح ہے بلکہ ان باطل دعوئوں کا اس لئے ذکر کررہا ہوں کہ بعض مفادپرست لوگوں نے کس طرح ان احادیث کو گھڑا ہے۔
بعض اصحاب حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ا مام چونکہ بنی امیہ کے مخالف تھے اور اس بات میں کوئی شک ہی نہیں ہے کہ آپـ کی وفات کے بعد وہ آپـ کی قبر کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرتے اور دوسری طرف آپـ کے دشمن خوارج بھی تھے۔ لہٰذا آپـ کی قبر پوشیدہ رکھی گئی اور یہی دلیل پیش کی جاتی ہے قبر مبارک پھر آہستہ آہستہ چھپ ہی گئی اور کسی کو پتہ نہیں چلا۔
لیکن دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ قبر اہل بیت اور ان اصحاب سے کیسے چھپ سکتی تھی جنہوں نے آپ کی جنازے کی تشیع کی اور بالآخر دفن کیا اور یہی لوگ جب اس قبر کی زیارت کرنا چاہتے تھے تو ایک ٹیلے کی طرف جاتے تھے جو کوفہ سے زیادہ فاصلہ پر نہیں تھا اور غریین کے درمیان تھا اور بحر نجف اور اس ٹیلے کے درمیان چند سو میٹر سے زیادہ فاصلہ نہیں تھا ۔ یہ وہ مشہور و معروف ٹیلہ تھا کہ جہاں سورج کی شعاعیں پڑنے سے وہاں کے چمکدار چھوٹے چھوٹے پتھر چمکتے تھے۔
مگر قبر مقدس کے موضع کے بارے میں اصحاب حدیث کی کتابوں میں اختلاف کے ساتھ جو روایتیں ہیں۔ جن کا ذکر ابن ابی الحدید نے کیا ہے ہم نے بھی صرف تفریق کے لئے بیان کی ہیں اور یہ ایک فطری عمل ہے کہ ان روایتوں کے مصادر جن حالات سے گزرے۔ جنہیں ہم نے نقل کرتے وقت اشارہ کیا اس پر مستزاد یہ کہ اہل بیت اور ان کے ماننے والے جو موضع قبر کو جانتے تھے وہ ان کے دشمنوں کے سامنے اس کے بارے میں زیادہ گفتگو نہیں کرتے تھے۔ اس خوف سے کہ یہ راز کہیں فاش نہ ہوجائے یا یہ خبر بادشاہِ وقت تک نہ پہنچ جائے اور وہ لوگ قبر مقدس کی بے حرمتی کریں۔
اس حوالے سے یہ بھی یاد رہے بہت سارے اصحاب حدیث اگرچہ بادشاہ وقت کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی امانت اور سچائی کی معرفت رکھتے تھے یہ لوگ اہل بیت اور ان کے شیعوں کی روایات کو لیتے ہی نہیں تھے اور نہ ہی انہیں مانتے تھے خاص طور یہ رویہ متاخرین میں زیادہ تھا۔ جن کے موقف کے بارے میں ہم نے اشارہ کیا۔
اب عام محدثین جو اکادمیہ سے تعلق رکھتے ہیں ایک ایسے چنگل میں پھنس جاتے ہیں کہ وہ بسا اوقات غیرشعوری طور سے اپنے تئیں روایت کی تصیح کے چکر میں اصل روایت میں ہی تحریف کر ڈالتے ہیں اس طرح سیرت امیر المومنینـ کے ساتھ زیادہ ہوا اور یہی صورت حال ان کے موضع قبر مبارک سے متعلق بھی ہوئی ہم عنقریب ان کا ذکر کریں گے اپنی کم مائیگی کے باوجودان شکوک و شبہات کورفع کرنے کی کوشش کی ہے جنہیں ہم سے پہلے لوگوں نے پیدا کر کھا تھا۔
مرقد امامـ اصحاب حدیث کی روایات میں
مرقد مقدس کے موضع کے بارے میں مذکورہ اصحاب حدیث کی کتابوں میں اس طرح تقسیم کی جاسکتی ہے کہ ایک قوم مصدر موضوع مرقد مبارک کے حوالے سے ایک روایت بیان کرتا ہے اور اس کے بعد اکثر کتابوں میں یہی روایت اختلاف کے ساتھ نقل ہوئی ہے جس کی وجہ وہی ہے جو ہم نے بیان کی۔ جیسا کہ ابن سعد اپنی طبقات میں قیس بن ربیع سے یوں بیان کرتا ہے کہ امام حسننے علی ابن ابی طالبکی نماز جنازہ پڑھائی جس کی انہوں نے چار تکبیریں پڑھیں اور انہیں نماز فجر کے وقت لوگوں کے جانے سے قبل مقام رحبہ میں مسجد الجماعة کے پاس ابواب کندہ کے سامنے دفن کیا اور انہوں نے مرقد سے متعلق کچھ بھی بیان نہیں کیا ہے۔ حالانکہ نجف میں اس وقت مرقد بنا ہوا تھا۔ لہٰذا اس کا یہ کہنا کہ تمام مورخین اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ امام کو انتہائی راز میں دفن کیا گیا تاکہ خوارج اور بنی امیہ کے ناروا سلوک سے جسد خاکی محفوظ رہے۔ آسانی کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔ اگر اسی مقام پر امام کو دفن کیا گیا ہے تو یہ بات راز میں کیسے رہ سکتی ہے اور یہ جسد خاکی کی کونسی حفاظت ہے پھر یہ بات کیسے چھپ سکتی ہے کیونکہ یہ جگہ تو کوفہ میں مشہور تھی اور روایت کے مطابق تدفین بھی تمام لوگوں کے سامنے ہوئی ہے کہ نماز فجر کے بعد لوگوں کے منتشر ہونے سے قبل آپ دفن ہوئے۔
پھریہ روایت اشتباہ کی وجہ سے مبہم بھی ہے کہ جائے مدفن مسجد الجماعةکے پاس ہے۔ پھر مقام رحبہ میں ابواب کندہ کے بعد آپ ملاحظہ کریں گے کہ یہ روایت کتب اصحاب حدیث میں کس تبدیلی اور اختلاف کے ساتھ نقل ہوئی ہے کہ اہل انصاف کے لئے یہ بات مشکل ہوتی ہے کہ حقیقت کو کیسے بیان کریں کیونکہ حقیقت ان کے سامنے کچھ متناقض روایات کی وجہ سے بالکل چھپ جاتی ہے اور بعض اوقات عقل کے لئے بھی بحث کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔
لیکن یہ جو راوی قیس بن ربیع ہے اس کو تو اکثر جرح و تعدیل کی کتابوں خاص طور سے شیخ محمد حسن مظفر نے کتاب افصاح میں مشکوک قرار دیا ہے اور ان کی روایت کو ضعیف اور متروک رواتیوں میں شمار کیا ہے اور ابو خاتم کے ہاں بھی یہ کوئی مضبوط شخص نہیں ہے جبکہ محمد بن عبید الطنافسی نے کہا ہے کہ یہ شخص ابو جعفر کی طرف سے جب مدائن کا قاضی متعین تھا تو یہ عورتوں کو ان کے پستانوں سے لٹکایا کرتا اور پھر ان پر پتھر برسایا کرتا تھا۔ تو ایسے ظالم اور سنگ دل آدمی کی روایت پر ہم کیسے مطمئن ہوسکتے ہیں اور یہ تمام باتیں کتاب الا فصاح پر تحقیق اور حاشیہ لکھنے والوں نے جرح و تعدیل کی کتابوں کے مصادر کے ذیل میں بیان کی ہیں جیسا کہ الکامل فی ضعفاء الرجال وغیرہ اور یہ عجیب بات ہے کہ ابن سعد نے اس شخص سے کیوں روایت کی جس کے بارے میں تمام علماء نے توثیق نہیں کی ہے اور اس سے زیادہ عجیب یہ ہے کہ اس کی بعد بہت سارے مورخین نے اس روایت کو اس طرح بیان کیا ہے جیسا کہ یہ روایات مسلمات میں سے ہے۔
سب سے عجیب بات یہ ہے کہ ابن سعد نے امام کی ذریت میں سے سینکڑوں لوگ اس وقت موجود تھے جو اپنے باپ دادا کی قبروں کے حوالے سے زیادہ معرفت رکھتے تھے اور ان میں ایسے بھی لوگ تھے جنہوں نے اس زمانے کو دیکھا بھی تھا اور اگرچہ کچھ حکومتی حصار میں بھی تھے جیسے امام علی بن موسیٰ رضاـ، محمد بن علیـ ، علی بن محمدـ وغیرہ تمام کو چھوڑ کر قیس بن ربیع سے روایت کی ہے۔
ایک اور مثال آپ تاریخ طبری میں ملاحظہ کریں گے جہاں انہوں نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے لیکن اس میں ابہام زیادہ ہے جیسا کہ وہ کہتا ہے کہ امامـ قصر الا مارہ میں مسجد الجماعة کے پاس دفن ہوئے اور یہ ان دو روایتوں میں سے ایک ہے جسے ابن قتیبہ نے اپنی کتاب الامامة والسیامة میں اضافہ کے ساتھ بیان کیا ہے کہ ان کی قبر خوارج کے نبش کرنے کے خوف سے چھپائی گئی۔ جسے ابن عبدربہ نے یوں اضافہ کے ساتھ بیان کیا ہے کہ آپ مقام رحبہ میں دفن ہوئے۔ مگر دوسری طرف جس میں علماءے اہل بیت بھی متفق ہیں جسے ہم عنقریب اپنے مقام پر بیان کریں گے۔
اور ابن سعد کی روایت ابن عبدالبر کے ہاں دو روایتیں بیان کی گئی ہیں جس میں پہلی یہ ہے کہ امامـ قصر الا مارہ میں دفن ہوئے جبکہ دوسری روایت کے مطابق کوفہ میں دفن ہوئے۔ پھر انہوں نے ایک تیسری روایت بھی بیان کی ہے جو علماءے اہل بیت کے ساتھ موافقت رکھتی ہے جسے ہم اپنے مقام پر بیان کریں گے۔ اس نے ایک روایت اور بیان کی ہے جسے امام محمد باقرـ کی طرف نسبت دی ہے لیکن اس کے سند میں کوئی علماءے اہل بیت میں کسی کا انہوں نے اپنی کتابوں میں تذکرہ نہیں کیا ہے جیسا کہ یوں ذکر ہوا ہے کہ ابو جعفرـسے روایت ہے کہ امام کی قبر کا مقام معلوم نہیں ہے۔
لیکن ابن العماد نے دو روایتوں کو مخلوط کیا ہے ایک روایت قبر کو چھپاتی ہے جبکہ دوسری روایت کے مطابق قصر الامارة میں دفن ہوئے اور ابن مسعودی بھی اس حوالے سے ابہام کا شکار ہوئے ہیں ہم نے شروع میں اس اختلاف کی طرف اشارہ کیا تھا۔ لہٰذا ابن مسعودی نے ان اختلافات کو یوں بیان کیا ہے کہ ان کے مقام قبر کے بارے میں اختلاف ہوا ہے بعض کے مطابق مسجد کوفہ میں دفن ہوئے، بعض دوسرے گروہ کے مطابق جنازہ مدینہ میں لے جایا گیا اور قبر فاطمہ زہرا کے پاس دفن کئے گئے اور بعض کا یہ بھی کہنا ہے کہ جنازہ کو ایک تابوت میں ڈال کر اونٹ پر رکھوا کر وادی طی کی جانب لے جایا گیا اور اسی طرح اور بہت ساری روایات بیان ہوئی ہیں اور ان مختلف اقوال کے پیچھے نہ کوئی سند ہے اور نہ ہی کوئی روایت ہے لیکن انہوں نے اپنی کتاب التنبیہ والاشراف میں ایک نئی چیز کا اضافہ کیا ہے جس میں ان روایات کو بیان نہیں کیا ہے بلکہ ایک ایسی روایت کو بیان کیا ہے جو صحیح مقام قبر کو بتاتی ہے وہ کہتے ہیں کہ ان کے مقام قبر کے بارے میں جھگڑا ہوا تو بعض نے کہا کہ مقام غری میں دفن ہوئے جو کوفہ سے کچھ فاصلے پر آج کل کی مشہور و معروف جگہ ہے اور بعض نے کہا کہ کوفہ کی مسجد میں دفن ہوئے تو بعض نے کہا قصر الامارة کے مقام رحبة میں دفن ہوئے اور ایک گروہ کے مطابق مدینہ منورہ لے جایا گیا اور جناب فاطمہ زہراکے ساتھ دفن ہوئے وغیرہ بہت ساری باتیں ہیں۔
مسعودی کی یہ عبارت زیادہ اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ مقام قبر کو اس طرح بیان کرتی ہے کہ آج کل مشہور و معروف جگہ جو کوفہ سے کچھ فاصلے پر واقع ہے انہوں نے اسے باقی تمام پر ترجیح دی ہے۔ اسی رائے کو ڈاکٹر حسن حکیم نے قبول کرتے ہوئے مسعودی ہی کی کتاب اثبات الوصیہ سے نقل کیا ہے کہ حضرت علیکو فہ کے کنارے مقام غری میں دفن ہوئے اور باقی باتوں کو وہ اپنی کتاب مروج الذہب میں بغیر وجہ بتائے رد کرتے ہیں۔
میرے خیال کے مطابق ان تمام سابقہ اور لاحقہ روایات کی صداقت کو نفی کرنے کیلئے صرف ایک دلیل ہی کافی ہے وہ یہ ہے کہ جامع مسجد کوفہ یا قصر امارة میں تدفین کے بعد پوشیدہ رہ جانا عقل و منطق اس بات کو قبول نہیں کرتی ہے کیونکہ کوفہ تو عراق میں شیعوں کا مرکز تھا اور قبر کو ان کے دشمنوں سے چھپایا جارہا ہے جگہ کوئی بھی ہو۔ لیکن بنی امیہ کے والیوںاور خوارج کی آنکھوں سے کوفہ کوئی چھپا ہوا علاقہ نہیں تھا۔ یہ بات ایک طرف جبکہ دوسری طرف اگر ہم اس اختلاف کو فرض کریں کہ مذکورہ مقامات میں کہیں بھی دفن ہوئے ہوں تو کس چیز نے وہاں روضہ بنانے سے منع کیا۔ مذہب اہل بیت کے ماننے والوں نے وہاں ایک عظیم قبہ کی تعمیر کی جہاں زید ابن علی مصلوب ہوئے تھے بلکہ ایک زمانے میں ہر اس مقام پر قبہ بنایا گیا جہاں حضرت علینے قیام کیا تھا یا وہاں سے گزرے تھے یا کسی امامـکو خواب میں وہاں اترتے دیکھا جو کہ آج مقام زیارت بنی ہوئی ہیں۔ انہیں کونسی بات اصرار کرتی ہے کہ امام یہاں دفن ہوئے اور ان کے پاس کونسی دینی یا عقائدی دلیل ہے جو ان کو ایسے مقام کی طرف مرقد مقدس کو نسبت دینے پر اشارہ کرتی ہے جس کے درمیان کوئی تعلق و رابطہ بھی نہیں ہے۔
آپ اس کے بعد یہ ملاحظہ فرمائیں گے کہ ابن سعد کی روایت آگے جا کر تغیر و تبدیل ہو کرکیسے مختلف روایات بن جاتی ہے جن کے اور اصلی روایت کے درمیان کوئی رابطہ و تعلق بھی نہیں ہے جیسا کہ خطیب بغدادی نے اپنی تاریخ میںیوں بیان کیا ہے کہ کہا جاتا ہے موضع قصر میں دفن ہوئے۔ جس کے لئے انہوں نے نہ سند اور نہ ہی کوئی اور روایت بیان کی ہے تو اس طرح کی روایت مبہم ہے اور حیرت میں ڈالنے والی ہے ان کے اس قول کے کیا معنی ہیں کہ موضع قصر کے پاس ہے۔ کیا یہاں پہلے قصر کوڈھایا گیا پھر یہاں دفن ہوئے یا اس سے مراد کوئی دوسری چیز ہے اسی طرح ابی الحسن زیادی کا قول کہ علیکوفہ میں قصر امارہ کے پاس جامع مسجد کے قریب رات کو دفن ہوئے۔
یہ روایت بھی پہلے کی طرح حیرت میںڈالتی ہے کہ کیا ان دونوں کے درمیان دفن ہوئے یااس سے مراد کوئی اور چیز ہے۔
اسی طرح ابن کثیر نے بھی کتاب البدایة والنہایة میں کہا ہے کہ حضرت علی جب شہید کر دیئے گئے تو ان کے بیٹے حسننے نماز پڑھائی اور نو تکبیریں پڑھیں پھر کوفہ میں دارالامارة میں دفن کیا گیا تاکہ خوارج میت کو قبر سے نہ نکالیں اور یہی مشہور ہے۔
یہ بھی ایک عجیب بات ہے کہ خوف صرف خوارج سے تھا اور بنی امیہ کے والیوں سے نہیں تھا جو تقریباً ایک صدی تک وہاں رہے اور یہ دیکھیں کہ ابن سعد کی چار تکبیریں یہاں آکر نو ہوگئیں اور عند القصر یعنی قصر کے پاس یہاں پہنچ کر ''دفن بدارالامارة'' (یعنی دارالامارة میں دفن ہوئے)۔
اس طرح اور بھی بہت ساری روایات جنہیں ہم بیان کریںگے۔ اس روایت اور اس جیسی اور بھی جتنی روایات ہیں انہیں ہم اخذ نہیں کرسکتے ہیں مرقد مقدس جو آج کل مشہور و معروف ہے اس کے بارے میں بات ملاحظہ کریں کہ اس مقام کو اس لئے شیعوں نے فرضی انتخاب کیا ہے کیونکہ وہ یہاں ان جیسا کوئی دفن ہو مناسب نہیں سمجھتے اور بھی اس طرح کے کمزور دلیلیں ہیں جنہیں ہم ذکر کرتے رہیں گے جن کے پیچھے کوئی موثق روایت وغیرہ کچھ نہیں ہے۔
شاید سب سے پرانی اور پہلی کتاب ابن اعثم کی ہے جنہوں نے یہ روایت لکھی ہے کہ اماممقام غری میں دفن ہوئے وہ کہتا ہے کہ رات کی تاریکی میں غری نامی مقام پر دفن ہوئے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہی ان کے ہاں مرجع ہے لیکن انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ایک قوم نے کہا کہ وہ اپنے گھر اور مسجد کوفہ کے درمیان دفن ہوئے۔ یہ بھی ابن سعد کی روایت جیسی ہے اور ابن اعثم نے بھی سابقہ روایات کے ابہام کو محسوس کیا اور ابن سعد کی روایت کو دہرا کر ایک قوم کی طرف نسبت دی اور کہا کہ امیر المومنینـاپنے گھر اور مسجد کوفہ کے درمیان میں دفن کئے گئے۔
اسکے بعد یعقوبی کی تاریخ کی باری آتی ہے انہوں نے کہا کہ انہیں کوفہ میں غری نامی مقام میں دفن کیا گیا اور انہوں نے اس کے ساتھ دوسری کوئی بھی روایت بیان نہیں کی اور نہ اپنی تئیں کچھ کہا۔
اس کے بعد ابو الفرج نے اپنی چار ایسی روایتوں کو بیان کیا جو اصحاب حدیث کی روایات سے زیادہ اختلاف نہیں رکھتی ہیں ہاں ان میں سے بعض علماءے اہل بیت کی راویتوں کے ساتھ مطابقت رکھتی ہیں جو کہ مندرجہ صورتوں میں مجمل ہوسکتی ہے۔
۱_ کتاب الصحیفہ میں ابی مخنفف الاسود، کندی اور الاجلنح سے روایت ہے کہ مقام رحبہ جو کہ ابواب کندہ کے بعد ہے وہاں نماز فجر کے وقت دفن ہوئے اور ابن ابی الحدید نے یہ اور اس جیسی روایتوں کے باطل ہونے کو شرح نہج البلاغہ میں بیان کیا ہے اور یہ بعید نہیں ہے کہ یہ ابن سعد ہی کی روایت کچھ تبدل و تغیر کے ساتھ ہو۔
۲_ ابو الفرج نے مذکورہ کتاب میں ایک اور روایت نقل کی ہے کہ راوی نے امام حسنـ سے پوچھا کہ آپ امیرالمومنینـکو کہاں دفن کرکے آئے ہیں؟ تو امام نے جواب دیا کہ ہم انہیں رات کو گھر سے لے کر نکلے اور مسجد اشعث سے ہوتے ہوئے کوفہ کے کنارے مقام غری کی پاس دفن کیا۔ اس روایت کو سید ابن طاوئوس نے کتاب الفرحتہ میں اور اس کے قریب ایک روایت ابن عبد ربہ نے اپنی کتاب العقدہ میں بیان کی ہے۔
۳_ اسی طرح ابو الفرج نے کتاب الصحیفة میں ایک اور روایت نقل کی ہے جو کہ ابی قرة کی طرف منسوب ہے لیکن اس میں تھوڑا سقط موجود ہے مجھے نہیں معلوم کہ مولف کی کوتاہی ہے یا یہ سقط روایت میں ہے یا محقق یا طباعت کی غلطی ہے روایت یوں ہے کہ ایک دفعہ میں رات کے وقت زید ابن علی کے ساتھ مقام الجبان کی طرف نکلا اور وہ خالی ہاتھ تھے ان کے ہاتھ میں کچھ نہیں تھا تو انہوں نے مجھ سے کہا اے ابا قرة کیا تمہیں بھوک لگ رہی ہے تو میں نے کہا:ہاں!پھر انہوں میرے واسطے مٹھی بھر پھل اپنے ہاتھ سے دیئے جو کہ ذائقہ دار تھے۔
پھر انہوں نے مجھ سے کہا:اے ابا قرة کیا تمہیں معلوم ہے کہ ہم اس وقت کہاں ہیں؟ ہم اس وقت جنت کے با غات میں ہیں ہم اس وقت امیرالمومنینـکی قبر کے پاس ہیں۔
یہاں پر میرا گمان غالب ہے کہ اگر ہم اصول المقاتل کی طرف رجوع کریں تو اس روایت کی عبارت یوں ہے کہ''قرب قبر المومنین'' یعنی امیر المومنین کی قبر کے قریب کیونکہ اگر لفظ ''عند'' ہو تو وہ یہاں پر نمازپڑھتے اور دعائیں کرتے۔ جبکہ صحیح روایت سید ابن طائوس نے کتاب الفرحة میں ابی قرة سے نقل کی ہے لیکن روایت کی سند میں فرق ہے کہ ہم امیرالمومنین کی قبر کے قریب ہیں، اے ابا قرة!ہم اس وقت جنت کے باغات میں سے ایک باغ میں ہیں۔
اب آپ ملاحظہ فرمائیں کہ دونوں روایتوں کے درمیان فرق بالکل واضح ہے اور مقصد صرف لفظ قرب اور عندکی وجہ سے تبدیل ہوا ہے اور یہ بھی ملاحظہ فرمائیں کہ ابو الفرج اور ابن طائوس کی روایت میں جو لفظ الجبَّان یا الجبَان آیا ہے نہیں معلوم کہ یہ کسی جگہ کا نام ہے یا قبرستان۔ اگر کسی جگہ کا نام ہے تو اسے میں نہیں قبول کرونگا اور اگر کسی قبرستان کا نام ہے تو یہ مشہور و معروف ہے کہ کوفہ کے اطراف بہت سارے مقبرے ہیں جن میں سے زیادہ مشہور مقبرہ تویتہ ہے جہاں حضرت علیـکے خاص صحابی کمیل بن زیاد اور مغیرہ بن شعبہ(یہ امام کے صحابی تونہیں ہیں)مدفون ہیں اگر یہی مراد ہے تو یہ جگہ امامـکی قبر سے زیادہ دور نہیں ہے۔
۴_ ابو الفرج نے کتاب مقاتل الطالبین میں ۲۹۵ھ میں مقتدر کے دور خلافت میں جب اہل بیت کا قتل عام ہورہا تھا تو ایک روایت نقل کی ہے کہ کوفہ میں طالبین کا ایک آدمی قتل ہوا لیکن اس کا نسب مجھے معلوم نہیں ، واقعہ یوں تھا کہ جامع مسجد کے وسط میں اس مقام پر جہاں امیرالمومنینـقضاوت فرماتے تھے ابو الحسن علی ابن ابراہیم علوی نے ایک مسجد بنائی تھی تو عباسی اور طالبی قبیلے کے درمیان جنگ چھڑی تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ عباسی اس مسجد کو مانتے تھے تو انہوں نے اسے ڈھادیا اور پھر قبر امیرالمومنین کی طرف بڑھے اور قبر کے دیواریں کھولنا شروع کیں اور قبر کو ختم کرنا چاہا تو اتنے میں طالبی گروہ نکل اٹھے اور عباسیوں کے ساتھ مقاومت کی پھر ان کے درمیان لڑائی جھگڑا ہوا جس کے نتیجے میں فریقین کا ایک ایک آدمی قتل ہوا۔
یہ روایت انتہائی اہمیت کی حامل ہے جس سے یہ مطلب نکلتا ہے کہ امام کی روضہ طالبین کے نزدیک اس وقت بھی مشہور ومعروف تھی جب ۲۹۵ھ میں عباسی خلیفہ مقتدر کی بیعت ہوئی۔
اب آپ ملاحظہ فرمائیں کہ ابو الفرج کا ان روایات میں کوئی موقف ہی نہیں ہے اور انہیں بغیر کسی رابطے اور اجتہاد کے چھوڑ دیا ہے اور جب وہ کوئی روایت بیان کرتا ہے تو وہ یہ نہیں سوچتا ہے کہ جسے انہوں نے خود اپنی کتاب الصحیفہ یا دوسرے کتابوں میں اس سے پہلے بیان کیا ہے خاص طور سے ان کی کتاب مقاتل الطالبین میں روضہ امام کے حوالے سے اشارہ گزرا ہے لیکن اس حوالے سے کوئی حدیث بیان کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ہے۔ حالانکہ اس وقت انہوں نے غیر مبہم بہت ساری روایات بیان کی ہیں لیکن ان میں آخری روایت جو ہم نے نقل کی ہے جس میں امامـکی قبر کے حوالے سے توثیق نہیں ہوتی لیکن ۲۹۵ھ سے قبل آپ کی قبر پر کسی عمارت کے وجود کا پتہ چلتا ہے جس پر علویین اعتبار کرتے ہیں تو یہ اعتبار دوسروں کی ز بان خود بخود بند کر دیتا ہے ۔
اب ہم ایسی روایات کا ذکر بھی کریں گے جو کہ علماءے حدیث کی ہیں جو یہ توثیق کرتی ہیں کہ اس مدت ۲۹۵ھ سے قبل قبر و روضہ موجود تھی۔
دوسرے متاخر مصادر میں خطیب بغدادی کی تاریخ بغداد ہے انہوں نے وہ تمام روایات جمع کی ہیں جس وجہ سے روضہ کے بارے میں شک واقع ہوا ہے لیکن اس کے بعد والے مصادر جیسے ابن عساکر وغیرہ نے ان روایات کو رد کیا ہے اور انہوں نے تو اپنی کتاب تاریخ دمشق میں امام کے حوالے سے ایک خاص باب قرار دیا ہے اس سے ظاہر یہ ہوتا ہے کہ خطیب نے بغیر کسی مناقشے کے تمام روایات پر اکتفا کیا ہے لیکن صحیح موضع روضہ کے بارے میں صرف ایک ہی روایت لی ہے جو کہ ابن ابی دنیا کی سند سے یوں ہے کہ ابوبکر بن عیاش نے کہا کہ میں نے اباحسین ، عاصم بن بھدلة اور اعمش وغیرہ سے کہا تم میں سے کیا کسی نے حضرت علیـپر نماز جنازہ پڑھی ہے یا انہیں دفن ہوتے دیکھا ہے؟ تو انہوں نے نفی میں جواب دیا، پھر انہوں نے محمد بن السائب کے والد سے پوچھا تو اس نے کہا کہ ایک رات میں نے حسن، حسین، محمدحنفیہ، عبداللہ بن جعفر اور بعض اہل بیت ٪کے ساتھ گیا پھر انہیں کوفہ کے اطراف میں دفن کیا تو میں نے پوچھا کہ ایسا انہوں نے کیوں کیا؟ تو انہوں نے جواب دیا خوارج وغیرہ کے خوف سے کہ کہیں وہ نبش قبر نہ کریں۔
یہ روایت ابن کثیر کی روایت کے ساتھ تقریباً ملتی جلتی ہے اور شیعوں کی روایات سے زیادہ مختلف بھی نہیں ہے جو انہوں نے امام کی قبر کے موضع کے بارے میں کلبی کی سند سے بیان کی ہیں کہ امام حسنـ، امام حسینـ، محمد حنفیہ، عبداللہ بن جعفر وغیرہ اور دوسرے اہل بیت نے انہیں کوفہ کے کنارے دفن کیا اور قبر کو خوارج وغیرہ کے خوف سے پوشیدہ رکھا۔
اس میںکوئی شک نہیں اس وقت جو موقف تھا وہ مشکوک روایات میں تھا لیکن مقبول اور مستحسن تھا۔
روضہ مقدس کے بارے میںجو امر مشکوک ہے جسے خاص طور سے خطیب بغدادی نے مناقشہ کیا ہے اور سید ہبة الدین شہرستانی کے ہاں ان کی دلیل باطل ہوتی ہے جسے انہوں نے باقاعدہ مالا یغفر فی شریعہ التاریخ کے عنوان میں شامل کیا ہے جو متعدد بار شائع ہوا ہے اور اس پر ان سے قبل لوگوں نے مناقشہ کیا ہے یہاں پر یہ اشارہ بھی مناسب ہے کہ اصحاب حدیث کے مصادر کی اکثریت تاریخ اسلام میں تعصب پر مبنی ہے اور ایک خاص گروہ کی نمائندگی کرتی ہے اور طوائف کے عقائد اور ان کے اخبار سے متعلق تمام امور کو مشکوک قرار دیتے اور ان کے کسی بھی مصدر پر اعتماد نہیں کرتے اور علماءے اہل بیت کی مصادر اور ان کے رجال کو مشکوک قراردیتے ہیں۔ بلکہ ان کتابوں میں اکثریت اہل تشیع پر تہمت لگاتی ہے اور عجیب بات تو یہ ہے کہ ان مصادر میں موجود روضہ امام کے بارے میں کوئی بھی حدیث بیان نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی اس کے قیام کے اسباب کے حوالے سے کچھ آیا ہے اگرچہ قبر مبارک کے دوسری جگہوں میں ہونے کے بارے میں ان کے پاس روایات موجود ہے۔
ہم کوشش کریں گے کہ جتنا ممکن ہو خطیب بغدادی کی روایات کو بیان کریں اور یہ تمام مصادر میں زیادہ شک پیدا کرنے والی ہیں اور موجودہ روضہ اور اس کی تعمیر کی تاریخ کے بارے میں موجود تمام احادیث کو وہ مہمل قرار دیتے ہیںاور ان کی پوری کوشش یہ ہے کہ لوگوں کو موضع روضہ کے بارے میں زیادہ سے زیادہ مشکوک کیا جائے۔ ان کی تمام روایات کا محور ایک طرف تو ابن سعد کی روایت ہے جبکہ دوسری طرف مسعودی کی روایات ہیں جنہیں ابن سعد نے ذکر نہیں کیا ہے اور مجھے یقین غالب ہے کہ ان کے موقف کے پیچھے جو حقیقی وجہ ہے وہ اس زمانے میں ایک حاسد سیاسی گروہ کا ابھرنا ہے اور ان کے وہ تمام منفی آثا رہیں جو مورخین کی کتابوں میں موجود ہیں۔
ان تمام روایات کو ان کے راویوں کے ساتھ فرداً فرداً ان سے قبل اور بعد اور ان کے موقف کو بیان کریں گے اور یہ چار اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔
۱۔ کوفہ میں دفن ہوئے۔
۲۔ مدینہ منورہ میں لے جایا گیا اور وہاں جنت البقیع میں دفن ہوئے۔
۳۔ ایک اونٹ پر رکھ کر لے جایاگیا اور اونٹ رستے میں کہیں کھوگیا۔
۴۔ جو روضہ موجود ہے جہاں امام کی قبر تو نہیں ہے بلکہ مغیرہ بن شعبہ کی قبر موجود ہے۔
پہلی بات یعنی کوفہ میں دفن ہونے کے حوالے سے تین روایات آئی ہیں۔
اول: تاریخ بغدادی میں آیا ہے کہ اسحاق بن عبداللہ بن ابی فروہ نے کہا کہ میں نے جعفر بن محمد بن علیـسے پوچھا کہ علیـکہاں دفن ہوئے ؟ تو انہوں نے جواب دیا وہ رات کی تاریکی میں کوفہ میں دفن ہوئے اور مجھ سے ان کا دفن چھپایا گیا۔
ابن غروہ اس روایت کو کسی طریقے سے بھی نہیں مانتے ہیں اس حوالے سے آپ شیخ محمد حسن المظفر کا نظریہ بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں اور ابن کثیر نے سند کے ساتھ کتاب البدایہ و النہایة میں یہی روایت نقل کی ہے تاہم کچھ اختلاف کے ساتھ کہ جعفر بن محمد الصادقـسے روایت ہے کہ رات کی تاریکی میں حضرت علیـکی نماز جنازہ ہوئی اور کوفہ میں دفن ہوئے اور ان کی قبر کو پوشیدہ رکھا گیا لیکن یہ قصر الامارہ کے نزدیک ہے۔
اب اگر آپ اس روایت کو ملاحظہ کریں تو اس میں یقین اور رد کا تناقص موجود ہے کیا یہ کھلم کھلا تضاد نہیں ہے کہ پہلے قبر کو پوشیدہ رکھنا پھر کہنا کہ قصر امارہ کے نزدیک ہے تو یہ پوشیدہ کہاں ہے؟
اس میںکوئی شک نہیں کہ یہ جملہ کہ ''قصر امارہ کے نزدیک ہے ''زائد ہے یا یہ کہ ابن کثیر کا اجتہاد ہے اسی طرح روایت کے پہلے حصے میں ایک لفظ کم گیا ہے مجھے نہیں معلوم یہ اس روایت میں ایسا ہے یا خطیب بغدادی یا ناسخ یا تحقیق نے عمداً ایسا کیا ہے جیسا کہ اصل روایت یوں ہے کہ ظہر کوفہ میں دفن ہوئے۔ اگر روایت خطیب نے امام صادقـسے لی ہے تو وہ کوفہ کی اس جگہ کیوں نہیں جانتے یا اگر انہوں نے ایسا ہی نقل کیا ہے جو اس کی کتاب میں چھپا ہے تو آپ پر یہ بات واضح ہونا چاہیے کہ یہ ابن سعد کی روایت کا حصہ ہے اور ذہبی نے اپنے دور میں بیان کیا تھا لیکن انہوں نے بھی تبدیلی کی ہے کہ جعفر بن محمدـنے اپنے باپ سے نقل کیا کہ حسنـ نے علیـکی نماز جنازہ پڑھائی اور کوفہ میں قصر امارہ کے نزدیک دفن کیا اور ان کی قبر کو چھپایا گیا۔ آپ ملاحظہ کریں کہ یہ عبارت ''عند قصر الامارة'' جو کہ ابن کثیر کے ہاں ''ولکنہ عند قصر الامارة'' کے الفاظ کے ساتھ آئی ہے۔
ہمیں یقین ہے کہ اس روایت میں تبدیلی ہوئی ہے جس کی وجہ سے موضع قبر بھی تبدیلی ہوئی ہے اس کے بعد ذھبی اور ابی بکر بن عیاش نے یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ اس قبر کو چھپائو تاکہ خوارج اسے کھول نہ دیں۔ پھر ابن عبدالبر نے تمام روایات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک روایت بنائی ہے کہ ابی جعفرـسے روایت ہے کہ علیـکی قبر کی جگہ معلوم نہیں ہے۔
دوم: خطیب نے اپنی تاریخ میں کہا ہے کہ ابو مسلم سے روایات ہے کہ علیـکو کوفہ میں دفن کیا گیا اور یہ نہیں معلوم کہ ان کی قبر کی جگہ کہاں ہے۔ یہ روایت امام الصادقـسے منسوب روایات میں شامل ہے جبکہ اس روایت کی صحت یوں ہے کہ علیـکو ظہر کوفہ میں دفن کیا گیا لیکن جو زائد الفاظ ہیں وہ بعد کی ایجاد ہے۔
سوم: خطیب نے کہا کہ کہا جاتا ہے انہیں یعنی علی کے تابوت کو حسن نے لے جا کر مقا ثویہ میں دفن کیا۔
چہارم: خطیب نے اپنی تاریخ میں ایک روایت یوں بیان کی ہے کہ علی ابن ابی طالبکی قبر کو پوشیدہ رکھا گیا۔
دراصل یہ پچھلی کسی روایت کا ٹکڑا ہے اور وہی روایت ہے جو ابن قتیبہ نے اپنی کتاب مصارف میں بیان کی ہے کہ واقدی سے یوں روایت ہے کہ انہیں رات کو دفن کیا گیا اور ان کی قبر کو پوشیدہ رکھا گیا۔
یہ تو فطری بات ہے کہ عام لوگوں نے اہل بیت سے اس بارے میں پوچھا جبکہ امام جعفر صادق سے تو خاص طور سے اپنے جد بزرگوار کی قبر کے بارے میں پوچھا گیا۔ لیکن یہ بھی ضروری نہیں کہ اس بارے میں انہوں نے سوائے اپنے خاص لوگوں کے جواب دیا ہو۔ امیر المومنین جب پوشیدہ دفن کئے گئے تو فطری امر ہے کہ امام جعفر صادق نے فرمایا کہ انہیں کوفہ میں دفن کیا گیااب یہاں پر لفظ کوفہ سے مراد کوفہ کا شہر نہیں ہے بلکہ ان کے اطراف ہے اور مقام الغری مشہور اطراف میں شمار ہوتا ہے اور امام صادق کبھی صرف کوفہ کہہ کر خاموش ہوتے تھے جبکہ کبھی جب پوچھنے والے کے اوپر اطمینان ہوتا تو تفصیل بیان فرماتے تھے ایسا انہوں نے بعض اصحاب کے ساتھ کیا ہے جسے ہم آئندہ سطور میں بیان کریںگے۔
یہ تو معلوم ہے کہ تمام ٹیلے جو کوفہ کے احاطے میں آتے ہیں امام کا مدفن بھی انہی ٹیلوں میں ہے لیکن مقام التویة جسے خطیب بغدادی نے اپنی روایت میں ذکر کیا ہے۔ یہ اس لئے کہ یہ ٹیلہ روضہ مقدس تک پھیلا ہوا تھا اور اس ٹیلے کے مغرب کی جانب ایک فرسخ فاصلے سے زیادہ نہیں ہے۔
روایات کا دوسرا گروہ جن میں مقام قبر معلوم ہے۔ اس حوالے سے خطیب بغدادی نے پانچ روایتوں کو بیان کیا ہے۔
۱_ انہوں نے اپنی کتاب تاریخ بغدادی میں احمد بن عیسیٰ العلوی سے یوں روایت کی ہے کہ حسن ابن علینے فرمایا کہ میں نے اپنے والد علی ابن ابی طالب کو مقام حجلہ میں دفن کیا یا یوں فرمایا کہ قبلہ آل بعدہ بن ھبیرہ کے کسی حجرہ میں دفن کیا۔
اس روایت کو ابن کثیر نے دوبارہ بیان کیا ہے لیکن انہوں نے حسن الحافظ بن عساکر سے روایت کیا ہے حالانکہ یہ گزر چکا ہے کہ خود ابن عساکر نے خطیب کی روایات کو نقل کیا ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ جو تعجب مجھے اس روایت سے ہوا ہے وہ آپ کے لئے بھی ہوا ہو گا کہ حضرت امام حسنـنے اپنے والد گرامی کو ایسی جگہ کیوں دفن کیا اور جعدة رضوان اللہ علیہ سے کیا خطرہ تھا اور پھر وہ امام کی ہمشیرہ جناب ام ہانی کا فرزند تھا لیکن امام حسنـنے ان سے بھی چھپایا۔ اس جگہ میں کونسا راز ہے اس سے زیادہ عجیب یہ ہے کہ ایسی روایات بغیر کسی تعلیق، انکار، روایت کی توہین یا راوی کی ذمہ داری کے نقل ہوتی ہیں اگرچہ یہ مرقد امیر المومنینـکی حفاظت سے متعلق ہیں۔
۲_ خطیب نے تاریخ بغدادی میں عبدالملک بن عمیر سے یوں روایت کی ہے کہ جب خالد بن عبداللہ نے یزید کے گھر کی بنیاد کھودی تو انہیں ایک سفید ریش بزرگ کی لاش ملی جیسا کہ کل ہی دفن ہوئے ہوں تو اس نے کہا:تم یہ پسند کرتے ہو کہ میں تمہیں قبر علی ابن ابی طالبـدکھا دوں؟ اور اسماعیل بن بہرام نے اس حدیث میں یوں اضافہ کیا کہ اے غلام!میرے لئے لکڑی اور آگ لے آئو تو ہشیم بن العریان نے کہا خدا امیر کی صلاح کرے کوئی بھی تم سے ایسا کرنا پسند نہیں کرے گا۔ پھر کہا:اے غلام !میرے پاس کپڑا ہے تو اس نے لپیٹ لیا اور حنوط کی اور اسی مقام پر رکھ دی۔ ابو زید بن الطریف نے کہا کہ یہ جگہ مسجد بیت اسکاف کے قبلے کی جانب باب العراقین ہے وہ کوئی وہاں نہیں رہ سکا اور ابن کثیر نے ایک روایت تو لیکن خطیب کی کتاب وغیرہ کی طرف نسبت نہیں دی ہے اب سابقہ روایت کو جھٹلانا یا راوی کو مقدوح کرنا آسان ہے کیونکہ تمام مصادر جو مرقد امام کی ترجمانی کرتی ہیں کے مطابق وہ لاش گنجی تھی۔ تو راوی کو ان کے سفید بال کہاں سے نظر آئے۔ یہ ایک طرف سے جبکہ دوسری طرف اگر یہ روایت صحیح بھی ہو یا کوفہ والے اس کی تائید کریں یا بنی امیہ کی حکومت کے خاتمہ کے بعد بیت اسکاف کا موضوع موجود تھا یا اہل کوفہ یا اہل بیت کے دوستداران وہاں جاتے ہوں۔ خاص طور سے جیسا کہ ہم نے دیکھا کہ ان مواضع میں جہاں امام ٹھہرے یا کسی نے امام کو وہاں دیکھا یا جہاں سے امام گزرے ہیں تو بصرہ میں تو ایسے بہت سارے مقامات موجود ہیں جو امام کی طرف منسوب ہیں جس کی لوگوں نے زیارت بھی کی ہے۔ ہم عنقریب انہیں بیان کریں گے۔
عبدالملک بن عمیر نے کہا ہے کہ انہیں اصحاب حدیث نے ضعیف قرار دیا ہے اور اس پر تہمت لگائی ہے اور جھوٹا، فراڈی قرار دیا ہے جیسے شیخ حسن المظفر نے کتاب افصاح میں بیان کیا ہے لیکن احمد بن حنبل، ابن معین، ابی حاتم، شعبہ، ابن حبان وغیرہ نے اور جرح و تعدیل کی کتابوں میں کتاب افصاح کے محققوں نے قابل اعتبار مانا ہے۔
۳_ خطیب نے ابی الحسن الزیاری سے روایت کی ہے کہ حضرت علی کو کوفہ میں رات کی تاریکی میں جامع مسجد کے پاس قصر امارہ کے میں دفن کیا گیا۔
اور ابن کثیر نے اس روایت کو اپنی کتاب البدایہ والنہایة میں اس شکل میں بیان کیا ہے کہ کہا جاتا ہے کہ واقدی نے کہا کہ حضرت علیـکو کوفہ کی جامع مسجد کے قبلہ میں دفن کیا اور مشہور تو دارالامارہ ہے اور کہا جاتا ہے جامع الکوفہ کی دیوار میں دفن ہوئے۔
یہ روایات ہو بہو ابن سعد کی روایت جیسی ہے جیسا کہ بیان ہوا۔
ان روایات میں سے کوئی بھی اگر درست ہوتی تو مذکورہ جگہ اہل بیت اور ان کے ماننے والے زیارت کیلئے ضرور جاتے اور ہم نے دیکھا کہ بہت سارے ایسے مقامات جہاں امامـ صرف ٹھہرے یا وہاں سے گزرے وہ مسلمانوں کے لئے قابل قدر و احترام ہے۔ ہم نے دیکھا کہ ایسے مقامات عراق اور عراق سے باہر خاص کر مشرق کی جانب بلخ وغیرہ تک بہت زیادہ ہیں اور وہاں پر مساجد اور مزارات بھی بنے ہوئے ہیں۔
یاقوت نے معجم البلدان میں سونایا گائوں کے حوالے سے کہا ہے کہ یہ گائوں بغداد میں ایک قدیم گائوں ہے اور پھر یہ مقام العمارہ میں شامل ہوا اور العتیقة کے نام سے مشہور ہواوہاں پر علی بن ابیطالب کا مزار تھا لیکن اب یہ ختم ہو چکا ہے یہ جامع براثا بغداد میں ایک سے زیادہ مرتبہ بنایا گیا اب بھی کچھ زائرین وہاں جاتے ہیں اور وہاں موجود کنواں سے پانی بطور تبرک پیتے ہیں کیونکہ یہ کنواں دست امام سے کھدا ہے اور بہت سارے زائرین اپنے بچوں کولا کر وہاں سے پانی پلاتے ہیں تاکہ بچے جلدی بولنا شروع کردیں اسی لئے اسے المنطقہ یعنی نطق سکھانے والی جگہ کہا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ امامـ خوارج کے ساتھ جنگ کے لئے نہروان گئے تھے تو اپسی پر یہاں ٹھہرے تھے۔
یاقوت کے معجم البلدان کے مطابق ناصر خسرو نے اپنے سفر نامہ میں تیرہ مزار امیرالمومنینـ کے نام سے بیان کئے ہیں اور سید جعفر بحر العلوم کے مطابق اور بھی بہت سارے مزارات بنائے گئے ہیں ان جگہوں پر جہاں کہیں کسی بے امامـکو اپنے خواب میں دیکھا وہاں مزار بنا دیا۔ اس حوالے سے مناسب ہے کہ اس ضمن میں حلب کی ایک منہدم عبادت گاہ کے حوالے سے بیان کریں جسے یاقوت نے اپنی معجم میں لکھا ہے کہ وہ عبادت گاہ ختم ہو گئی ہے لیکن بعد میں حلب کے لوگوں نے وہاں ایک مزار بنوایا ہے اس خیال سے کہ انہوں نے حضرت امام حسین اور حضرت علی کو وہاں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا تو ان کے ماننے والوں نے آپس میں مال جمع کر کے وہاں ایک خوبصورت عمارت تعمیر کی۔ جیسا کہ ہم نے کہا ہے جو آپ کی قبر کو پوشیدہ رکھنا چاہتا ہو وہ ایسی جگہوں میں دفن نہیں کرسکتا جو ہر خاص و عام کی زیر نظر ہو کیونکہ بنی امیہ کے پٹھو اور جاسوس اس زمانے میں بہت زیادہ تھے بلکہ بہت سارے ایسے لوگ بھی تھے اس حوالے سے خبر لانے والوں کو پیسہ دینے کے لئے تیار بیٹھے تھے۔
۴_ خطیب نے اپنی تاریخ بغدادی میں لکھا ہے کہ روایت کیا جاتا ہے کہ موضع قصر میں دفن ہوئے اور کہا جاتا ہے کہ مقام الرحبہ میں دفن ہوئے۔ یہ بھی وہی ہے دیکھیں کہ ان دونوں روایتوں کی سند بیان نہیں کی ہے اور دونوں ابن سعد کی روایت لگتی ہیں۔
۵_ خطیب نے بیان کیا کہ روایت مقام کناستہ میں کناسة سے مراد کوفہ کے کھجور خشک کرنے کی جگہ ہے البراقی کے مطابق یہ وہی جگہ ہے جہاں زید ابن علی کو سولی پر چڑھایا گیا اور یہ موضع قبر امام علیـکے مخالف ہے اور یہاں اس وجہ سے زید کو پھانسی ہوئی کیونکہ یہاں زیادہ لوگوں کی بھیڑ تھی اور کناستہ کوفہ سے شام کی جانب نکلنے والی جگہ بھی ہے اور امام علیـیہیں سے شام کی جانب جنگ صفین میں گئے تھے اس سے ظاہر ہوتا ہے راوی کے لئے قبر امام کے حوالے سے امام کے نام اور ان کے پوتے کے نام ایک ہونے کی وجہ سے اشتباہ ہوا ہے کیونکہ زید کے والد علی بن حسین ہیں اور وہاں زید کا ہی مزار ہے اور دوسری وجوہ کی بنا پر اس روایت کی کوئی قیمت نہیں ہے۔
روایات کے تیسرے گروہ جس میں امام کی نعش مبارک مدینہ منور کی طرف لے جایا گیا اس ضمن میں بغدادی نے تین روایات بیان کی ہے:
۱_ انہوں نے اپنی کتاب تاریخ بغدادی میں لکھا ہے کہ محمد بن حبیب نے کہا کہ سب سے پہلے جن کو ایک قبر سے دوسری قبر میں منتقل کیا گیا وہ امیر المومنین علی بن ابی طالب ہیں انہیں ان کے بیٹے امام حسن نے منتقل کیا تھا۔
اس روایت کو ذہبی نے بھی بیان کیا ہے اس ضمن میں انجینئر حاتم عمر طہٰ اور ڈاکٹر محمد نور بکری نے کتاب بقیع الغرقد میں جنع البقیع میں اہل بیت کی قبور کے حوالے سے لکھا ہے کہ سید نا علی جو چوتھے خلیفہ، رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم کے چچا کے بیٹے کو حسن نے لا کر مدینہ منورہ میں بقیع میں دفن کیا۔ جسے السمہودی نے زبیر بن بکار سے نقل کیا ہے۔
ان دونوں کی تائید و تصدیق کے لئے بہت سارے لوگ موجود ہیں جو بقیع کی قبور کی نشاندہی کرتے ہیں لیکن ہم عنقریب ان روایات کی رد میں دلیل پیش کریں گے۔ جو سمہودی کی ولادت سے صدیوں قبل کی ہے اور اس نے اپنے گمان پر روایت کیا ہے۔
۲_ خطیب نے لکھا ہے الحسن بن محمد النخعی نے کہا کہ ایک دن ایک آدمی شریک کے پاس آیا اور کہا علی بن ابیطالب کی قبر کہا ں ہے؟ تو اس نے منہ موڑ لیا یہاں تک کہ تین بار پوچھا تو چوتھی مرتبہ جواب دیا قسم خدا کی انہیں حسن ابن علی نے مدینہ منتقل کیا ہے یہ حدیث البخوی کا لفظ ہے وہ کہتا ہے کہ عبدالملک نے کہا:ایک دفعہ میں ابی نعیم کے پاس تھا ایک گروہ مقام حمیر سے گزرے۔ میں نے پوچھا:یہ لوگ کہاں جارہے ہیں؟ اس نے کہا:علی ابن ابی طالب کی قبر کی طرف جا رہے ہیں۔ اتنے میں ابو نعیم نے میری طرف متوجہ ہوکر کہا: یہ لوگ جھوٹ بول رہے ہیں انہیں حضرت علی کے بیٹے حسن نے مدینہ منتقل کیا ہے اور کہا جاتا ہے بقیع میں فاطمہ بنت رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم کے ساتھ دفن کئے گئے ہیں۔
اس حدیث میں شریک سے مراد عبداللہ الخفی ہے جمہور محدثین اور رجال جرح و تعدیل کے نزدیک یہ قابل اعتماد نہیں ہے یہ غلطی کرتا ہے یہاں تک کہ چار سو احادیث میں انہوں نے غلطی کی ہے اور یہ حدیث نہ صرف قوی نہیں بلکہ مضطرب ہے اور اسے یہ معلوم نہیں کہ حدیث کیسے بیان کی جاتی ہے اس کے علاوہ اور بہت سی صفات جو ان کی روایت کی تذلیل کرتی ہیں مزید تفصیلات کے لئے شیخ حسن المظفر کی کتاب الا فصاح ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
احمد بن صالح کی روایت کتاب التہذیب میں یوں آئی ہے کہ میں نے ابو نعیم سے زیادہ سچی حدیث کہنے والا نہیں دیکھا وہ غلط احادیث میں اوپر والے راوی چھپا کر اپنا نام لگاتا تھا۔
اب یہ میری سمجھ میں نہیں آتی کہ ایک ہی وقت میں سچا حدیث کہنے والا، سند روایت میں گڑ بڑ کرنے والا ہے اور بغدادی نے یوں حکایت کی ہے کہ ابو نعیم الفضل بن دکین سے یوں روایت کی ہے کہ حسن و حسین نے ان کی نعش اٹھائی ا ور مدینہ منتقل کی بقیع میں فاطمہ کی قبر کے پاس دفن کیا۔
اس حوالے سے شریک نے بغیر تفصیل سے یوں کہا ہے کہ ان(حضرت علی)کو حسن بن علی نے مدینہ میں منتقل کیا۔ یہ روایت ابن قتیبہ کی روایت کے نزدیک ہے جو انہوں نے اپنی الامامہ والسیاسیہ میں نقل کی ہے کہ کہا جاتا ہے حضرت علی کو صلح امام حسن کے بعد مدینہ میں منتقل کیا یا المسعودی کی ایک روایت بھی اس سے ملتی جلتی ہے کہ انہیں مدینہ لے جایا گیا اور فاطمہ زہراکی قبر کے پاس دفن کیا گیا۔
۳_ خطیب بغدادی نے اپنی کتاب تاریخ بغدادی میں لکھا ہے کہ حسن نے مجھ سے کہا کہ انہیں ایک صندوق میں رکھا اور کافور لگایا گیا پھر ایک اونٹ پر رکھا گیا تاکہ مدینہ لے جایا جا سکے جب وہ طی پہنچے تو رات کے وقت ان کے اونٹ گم ہوگئے بعد ازاں اہل طی نے اونٹ کو پکڑ لیا اور سوچا کہ اس صندوق میں بہت سارے اموال ہونگے لیکن جب انہوں نے صندوق میں دیکھا تو ڈر گئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ لوگ پھنس جائیں تو انہوں نے صندوق کو دفن کر دیا اور اونٹ کو ذبح کرکے کھا لیا۔
یہ روایت مسعودی کی سابقہ روایت سے کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے جو کہ یوں ہے کہ انہیں ایک تابوت میں ڈال کر اونٹ پر رکھا گیا اور راستے میں اونٹ گم ہو گیا اور جا کر وادی طی میں پہنچا۔
بغدادی کی روایت کو ابن کثیر اور ذہبی نے نقل کیا ہے خطیب کی روایت میں جو کہ راوی بنام حسن ہے وہ ذہبی کے نزدیک حسن بن شعیب الفروی ہے۔
نعش کی منتقلی کے بارے میں جو روایات ہیں ان کی نفی کے لئے ابن کثیر کی اپنی روایت کافی ہے جو انہوں نے امام کی قبر کے بارے میں بیان کی ہے۔
جس نے کہا کہ انہیں ایک سواری پر رکھ کر لے جایا گیا اور وہ سواری چلی گئی اور کسی کو یہ نہیں معلوم کہ کہاں گئی پس اس نے غلطی کی اور یہ بات تکلّفاً کہی۔ ایسی بات کو نہ عقل مانتی ہے اور نہ ہی شرح۔
پس جو چیز عقل و شرح پر دلالت کرتی ہے وہ زیادہ سے زیادہ یہ مدینہ کی طرف منتقلی والی روایات پر کرے گی۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر منتقلی ہوئی ہوتی تو ہمیں معلوم ہوتا کیونکہ اس حوالے سے بہت ساری روایات ہیں بلکہ ہم نے مدینہ میں موجود بچوں تک کے بارے میں تاریخ بھی دیکھی جو مزارات اہل بیت وغیرہ کی قبور پر بنے ہوئے ہیں۔ بلکہ ہم نے دسیوں روایات ان قبور کی زیارات اور ثواب کے متعلق دیکھی ہیں لیکن آئمہ اہل بیت میں کسی نے اس حوالے سے کچھ نہیں کہا ہے نہ ہی کوئی ایک بھی ایسی روایت ان سے ہے جس میں ہمیں اس بارے میں کوئی اشارہ ملے بلکہ تمام اہل بیت کا اس بات پر اجماع ہیں کہ قبر امام یہیں معروف و مشہور یعنی نجف اشرف میں ہی ہے جیسا کہ بعض اہل بیت کی قبور جنت البقیع میں معروف ہیں اور قیامت تک ان کی زیارت ہوتی رہے گی جہاں پر فاطمہ بنت اسد والدہ گرامی امام علی، حسن بن علی، علی بن حسین، محمد بن علی ، جعفر بن محمد اور جناب عابس بن عبدالمطلب کی قبریں ہیں اور یہ بھی مشہور ہے کہ قبر زہرا بتول بھی یہاں پر ہے۔
ان کی روایات اور ان کے قبل مسعودی کی روایت کی نفی کے لئے مزید یہ کافی ہے کیونکہ مسعودی نے خود غیر شعوری طور پر اپنی کتاب میں اس روایت کو رد کیا ہے۔ جب اس نے تاریخ وفات امام صادق بیان کی تولکھا ہے:
بقیع میں ان کی قبور پر ایک کتبہ لگا ہوا ہے جس پہ لکھا ہوا ہے :
''بسم اللّٰه الرحمن الرحیم الحمد ﷲ مبید الامم ومحی الرّمم''
''یہ فاطمہ بنت محمد رسول اللہ عالمین کی عورتوں کی سردار کی اور حسن بن علی ابن ابی طالب اور علی بن الحسین بن علی ابن ابی طالب اور محمد بن علی اور جعفر بن محمد٪کی قبریں ہیں۔''
یہ کوئی روایت نہیں ہے بلکہ یہ بات تو ہر کسی نے اپنی آنکھ سے دیکھا ہے اگر امام مدینہ میں منتقل ہوئے ہوتے یا بعض کے مطابق بقیع میں فاطمہکی قبر کے پاس دفن ہوئے ہوتے جیسا کہ بعض کا گماں ہے تو اس تختی پر ان کا نام بھی لکھا ہوا ہوتا۔
اب وہ روایات کہ جس کے مطابق اس قبر میں امامـدفن نہیںہوئے بلکہ مغیرہ بن شعبہ مدفون ہیں۔اس حوالے سے دو روایات ہیں:
بغدادی نے ایک روایت ابو نعیم احمد بن عبداللہ الحافظ سے بیان کی ہے اس نے کہا:میں ابو بکر الطلحی سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ ابا جعفر الحضرمی مطین علی بن ابی طالب کی قبر جو کہ کوفہ کے کنارے میں مزار بنے ہوئے ہیں ان میں ہونے سے انکار کرتے ہیں اور وہ کہتا ہے کہ اگر رافضیوں کو ان صاحب کی قبر کے بارے میں معلوم ہے تو وہ پتھر مارتے کیونکہ یہ مغیرہ بن شعبہ کی قبر ہے۔
مطین کہتا ہے کہ اگر یہ علی بن ابی طالب کی قبر ہوتی تو میں ہمیشہ کے لئے وہاں رہتا اور اپنا مسکن قرار دیتا۔
پہلی روایت کو ابن کثیر نے البدایة والنہایة میں جبکہ مطین کی روایت کو ذہبی نے بھی ذکر کیا ہے۔
ضروری ہے کہ مغیرہ کے وہاں دفن سے متعلق کوئی سبب ہو کیونکہ یہ مقابر ثیف جو ان کی خاندانی قبرستان ہے وہاں سے زیادہ فاصلہ پر ہے اس لئے اس کے اوپر بھی اعتراض ہونا چاہیے کیونکہ جب امام کی قبر کوفہ میں ہونے پر اعتراض ہوا ہے کہ وہ اپنے اہل و اقارب سے دور مقام کیسے دفن ہوسکتا ہے اور اس پر کیا دلیل ہوسکتی ہے۔
ابن ابی الحدید نے بغدادی کی اس روایت کو جھٹلایا ہے اور اس کی رد میں یوں کہا ہے میں الخطیب ابو بکر کے اس بیان کے بارے میں نے اہل کوفہ کچھ بزرگ و عاقل لوگوں سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ اس میں وہ مغالطہ کررہے ہیں مغیرہ اور زیاد کی قبریں تو کوفہ کی زمین مقام الثویة میں ہے اور ہم ان کے بارے میں اچھی طرح جانتے ہیں اور ہم یہی اپنے آبائو اجداد سے سنتے آئے ہیں اس کے بارے میں ابو تمام حماسة نے بھی اپنے اشعار میں ذکر کیا ہے۔
ابی الحدید نے مزید کہا کہ میں نے قطب الدین نقیب الطالبین ابا عبداللہ الحسین بن الاقسامی سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا:جس نے تمہیں کہا ہے اس نے سچ کہا ہے ہم اور اہل کوفہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ مقابر ثقیف مقام الثویة میں ہے اور یہ آج تک معروف و مشہور ہے اور اسی میں مغیرہ کی قبر ہے لیکن اتنی معروف نہیں ہے اور وہاں زمین زیر آب آکر دلدل ہو گئی تھی تو وہ جگہ مٹ گئی اور قبریں ایک دوسرے کے مخلوط ہوگئیں۔
پھر اس نے کہا:اگر تم مزید تحقیق کرنا چاہتے ہو کہ مغیرہ کی قبر مقابر ثقیف میں ہے تو ابی الفرض علی بن الحسین کی کتاب الاغمانی ضرور دیکھو کہ جس میں مغیرہ کے بارے میں تفصیلات موجود ہیں کہ وہ مقابر ثقیف میں ہی مدفون ہے اور تمہارے لئے ابی الفرج کی بات کافی ہے کیونکہ وہ بصیر ناقد اور طبیب و خبیر ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے مذکورہ کتاب میں مغیرہ کے بارے میں جب تفصیل سے پڑھا تو مجھے وہی باتیں ملیں جو نقیب نے کہا تھا کہ ابو الفرج نے کہا مصقلہ بن ہبیرہ الشیبانی اور مغیرہ کے درمیان جھگڑا ہوا تھا تو مغیرہ اس کے سامنے جھک گیا اور اپنی بات میں نرمی پیدا کی۔ اتنے میں مصقلہ کو اس کی کمزوری کا اندازہ ہوا تو وہ مغیرہ کو گالیاں دینے لگا تو جواباً مغیرہ بھی اسے گالیاں دینے لگا اور کہا تم تومجھے تمہارے نا فرمان بیٹے کی طرح لگتا ہے اور بعد میں مغیرہ نے اپنی اس بات پر اس زمانے کے قاضی شریح کے سامنے گواہی بھی پیش کردی۔ تو شریح نے اس پر حدّ جاری کی اور مصقلہ کو اس وطن می رہنے سے منع کیا جہاں مغیرہ رہتا ہو پھر مصقلہ کوفہ میں کبھی بھی نہیں آیا۔ یہاں تک کہ مغیرہ مرگیا۔ اس کے بعد جب مصقلہ کو فہ آیا تو وہ اپنے قبیلے سے ملاقات کی اور فوراً اس نے ان سے ثقیف کے قبرستان کے بارے میں پوچھا ،اور جب اسے دکھایا گیا تو کچھ لوگ جو اس کے ماننے والے تھے وہاں سے پتھر اور کنکریاں اٹھارہے تھے اس نے اُن سے پوچھا کہ یہ کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا ہمارا خیال ہے کہ آپ مغیرہ کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں تو اس نے کہا جو تمہارے ہاتھ میں ہے اسے پھینک دو کہہ کر خود جاکر مغیرہ کے قبر پر کھڑا ہو۔
یہ روایت ابی الفرج کی کتاب الاَغانی میں ہے۔
اس حوالے سے ایک اچھی روایت جو کہ ڈاکٹر محمد جواد الطریحی کے ذریعے سے معلوم ہوئی جسے انہوں نے شیخ محمد حرز الدّین سے سنا تھا اور ہم ان سے اتفاق بھی کرتے ہیںاور یہ حدیث شیخ مہدی الحجار متوفی ۱۳۵۸ھ/۱۹۳۹ ء کی حالات زندگی میں درج ہے۔
'' ان کے والد داود پرانے پتھروں کا کاروبار کرتے تھے اور کوفہ کے آثار مسجد سہیل اور مسجد الکوفہ کے قرب و جوار سے پتھر اٹھاتے تھے ۔ ایک دن داود نے ہم سے کہا کہ ایک دفعہ میں پتھر نکالنے کیلئے زمین کھود رہا تھا اور وہ جگہ بھی اتفاقاً الثّو یہ کی جانب کوفہ جانے کا پرانا راستہ تھا اور یہ جگہ حضرت عالم جلیل کمیل بن زیاد کی قبر سے تقریباً سو (۱۰۰)قدم کے فاصلے پر واقع تھا۔ وہاں سے مجھے ایک بڑا پتھر ملا جس پر خطّ کوفی میں کچھ لکھا ہوا تھا تو میں نے انتہائی احتیاط سے اسے نکالا اور نجف لے جاکر وہاں کے ایک عالم ربّانی الشیخ المُلّا علی الخلیلی کو دکھایا اور تمام واقعہ ان سے بیان کی اور انہوں نے اسے پڑھنے کے بعد مجھ سے کہا کہ مجھے تم اس جگہ لے کر چلو۔ میں نے انہیں اپنی سواری پر بٹھایا اور پتھر ان کے سامنے رکھ دیا اور جب ہم وہاں پہنچ گئے تو انہوں نے اس پتھر کو دوبارہ اسی جگہ پر رکھ دیا اور اسکے اوپر مٹی ڈال دی اور مجھ سے کہا کہ اسے دوبارہ مت کھولو یہ اہل کوفہ کی قبروں کی علامت ہے اور یہ مغیرہ بن شعبہ کی قبر کی نشانی ہے اور یہی اس پتھر پر لکھا ہوا ہے پھر اس کے بعد کہا اس پتھر کو یہاں دوبارہ رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے فائدے بعد میں تاریخ اور آثار بتائے گی۔''
اور نجف کے لوگوں کو ڈرنے کی بات نہیں ہے کہ ان کے اکثر گھر کوفہ کے پرانے پتھروں ہی سے بنائے گئے ہیں ۔ اس حوالے سے ڈاکٹر سعاد ماہر نے اپنی کتاب ''مشہد الامام علی ''میں خطیب بغدادی کے (۱۳۲)اقوال کا ذکر کیا ہے۔ اس طرح خطیب کے اقوال میں قبر علی کے تحریر میںتناقض اور تذبذب نظر آتا ہے کبھی تو وہ مشہور ومعروف قبر کو مغیرہ کی طرف نسبت دیتا ہے حالانکہ وہ خود یہ بھی کہتا ہے کہ مغیرہ تو کوفہ کے مقام الثّویّہ میںمدفون ہے اور کبھی کہتا ہے کہ وہ تو مدائن میں مرا تھا ۔ اس طرح ان متذبذب باتوں پر ہم بھروسہ اور اطمینان نہیں کرسکتے اور کہیں نقل بھی نہیں کرسکتے ۔ حالانکہ امام کے قبر پر ہمیشہ سے ان کی اولاد ، پوتے اور شیعیان کھڑے رہے ہیں بلکہ ظالم حکومتوں کے باوجود وہ وہاں رہتے تھے، اور ان کی زیارات کتابوں میں موجود اور مشہور ہیں۔
اور اندلسیوں کی روایات نے حضرت علی کے جائے مدفن کو مقام الغری بیان کیا ہے۔ بکری ، ابن عبد البرّ، قصر امارہ کے بعد میں رحبہ والی روایت کہتی ہے کہ نجف الحیرة یعنی ایک ایسی جو مقام الحیرة کا راستہ پڑتا ہے میں دفن ہوئے اور یہ روایت ابن عبد ربّہ کی کتاب العقدالفرید میں بھی آئی ہے جس نے محققین کو تشویش میں ڈال دیا ہے ۔اس لئے کہ وہ اس عبارت کو لحف الحیرة پڑھتے ہیں جبکہ یہ دراصل نجف الحیرة ہے۔ مگر ابن خلکان نے اپنی الوفیات میں عضد الدّولہ کے وفات کے ضمن میں کہا ہے کہ وہ آٹھ شوال بروز پیر ۳۲۲ھ بمطابق ۹۸۲ ء کو وفات پاگئے اور وہاں مَلِک کے گھر میں دفن ہوئے بعد ازاں انہیں وہاں سے نکال کر امیر المومنین علی بن ابی طالب کے روضہ میں دفن کیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ علی بن ابی طالب کی قبر کوفہ میں ہے ۔ اور وہاں پر پھر روضہ بنایا گیا اور کافی پیسہ اس پر خرچ کیا گیا اور یہ وہی جگہ جہاں اپنے آپ کو دفن کرنے کی وصیت کی تھی ۔دیگر لوگوں کے درمیان اس قبر کے حوالے سے اختلاف زیادہ ہے۔ یہاں تک کہ یہ بھی کہا گیا کہ یہ مغیرہ بن شعبہ ثقفی کی قبر ہے اور علی کی قبر کا کسی کو ابھی معلوم نہیں ہے اور اس حوالے سے صحیح یہ ہے کہ وہ کوفہ کے قصر امارة میں مدفون ہیں۔ واللہ اعلم۔
ابن خلکان کو یہاں وہم لاحق ہوا ہے یا قبر مبارک کو عضدولدولہ کے لئے ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔کیونکہ امام کی قبر تو پہلے سے ہی ظاہر اور مشہور تھی اور عضدالدولہ کی تعمیر کافی مدت بعد بنی ہوئی ہے لہٰذا اس کی کوشش یہاں بے کار ہے۔ اس لئے کہ ہم کیسے عضد الدولة کو پہلے قرار دے سکتے ہیں؟ کہ ایک مرتبہ امام کے روضہ کی تعمیر نومیں کافی مقدار میں مال خرچ ہونے کے بعد پھر عضد الدولہ یہ وصیت کرے اسے وہاں دفنایا جائے اور پھر کسی تصدیق و بھروسہ کے اس کی نسبت امام کی طرف کر دے۔ اوراہلسنّت کی روایات میں بھی یہ باتیں نہیں آئی ہیں ورنہ اس طرح کے معاملات میں وہ پہل کرتے۔ اور اس کے خاندان میں یہ فرد واحد نہیں ہے جو یہاں دفن ہو بلکہ اس کی اولاد یں بھی امام کے جوار میں مدفون ہیں۔ اوریہ بات بھی امکان سے خالی نہیں ہے کہ اس نے امامین کاظمین٪کے جوار میں دفن کرنے کی وصیت کی ہو جو کہ بغداد کے قریب ہے یا امام حسینـ،یا امامین عسکرین٪کے جوار کا ذکر کیا ہو جب یہ بات واضح ہوئی کہ اس نے جس جگہ کا انتخاب کیا ہے وہ امیر المومنین کی قبر نہیں ہے اور عضدالدّولة کی شخصیت کوئی اتنی بڑی تجربہ کار سیاست مدار اور عالم و ادیب بھی نہیں ہے جس کے اردگرد علمی شخصیات ان جان بن کر امیر المومنین کی قبر سے غفلت برتنے والے ہوں۔ اور یہ بھی یاد رکھیں کہ روضہ سے متعلق روایات ان حقائق سے بے خبر بھی نہیں تھیں۔
اور صفوی نے ابن خلکان کی اس بات کی تائید کی ہے جو انہوں نے اپنی کتاب الوافیہ میں کہی ہے کہ عضدالدّولة نے ہی امیر المومنینـکی قبر کا انکشاف کیا ہے لیکن انہوں نے ا س حوالے سے لوگوں کے اختلافات کے بارے میں نہیں بتایا تھا اور نہ ہی اس جگہ کے بارے میں کسی کو شک و شبہ تھا۔
اور جب ہم نے اس نص کو دلیل بنایا ہے کہ روضہ مقدس ۲۹۵ھ بمطابق ۹۰۸ ء میں بنا ہوا تھا اور مشہور تھا۔ اوراس کی تائید اس بات سے بھی ہوگی جسے ابن اثیر نے اپنی کتاب ''الکامل فی التاریخ'' میں ضریح کی شہرت کا ذکر اس سے پہلے کیا ہے۔ ان کے مطابق روضہ ۲۳۶ھ بمطابق ۸۵۹ ء میں بنا ہوا تھا۔ اور یہ کوئی قلیل مدت نہیںہے اور ابن خلکان کے مطابق عضدالدّولةکی تعمیر سے قبل یہ روضہ یہاں پر مشہور و معروف تھا۔ ابن اثیر کہتا ہے کہ ۲۳۸ھ بمطابق۸۶۲ ء میں منتصر باللہ بن متوکل مر چکا تھا وہ ایک سخی اور انصاف پسند انسان تھا ۔ لوگوں کو علی و حسین کی قبور کی زیارت کا حکم دیتا تھا اور علویوں کو اُس نے امان دی تھی جو اُس کے باپ کے زمانے میں خوف میں مبتلا تھے اور اس نے ان سے پابندی اٹھادی تھی۔ نہ صرف یہ بلکہ اس نے باغ فدک کو اولاد حسنین کو واپس دینے کا حکم بھی دیا تھا۔
اس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ جو قبرخلافت متوکل کے دور میں زیارت گاہ بنی ہوئی تھی وہ ابن سعد کی کتاب الطّبقات سے پہلے تھی۔
مشہور ہے کہ متوکل علی اور ان کی اولاد سے بغض و دشمنی زیادہ رکھتے تھے۔ اس لئے اس نے ان پر سخت پابندی لگائی ہوئی تھی اور تاریخ ابن اثیر کی مطابق انہوں نے سال ۲۳۶ھ بمطابق۸۵۹ ء میں امام حسین کی قبر کو مٹانے کا حکم دیا تھا اورروضہ کو گرانے کے بعد اس پر پانی کھلوایا تھا اور لوگوں کو اس کے قریب رہنے اور زیارت کرنے سے روک دیا تھا ۔ واضح ہے کہ زیارت کی ممانعت سے قبر امیر المومنین بھی مستثنیٰ نہیںتھی۔ شاید اُس نے اہل بیت کو ڈرانے کیلئے یہ طریقہ اپنایا تھا۔ یہ صورتحال محمد بن صالح کے انقلاب تک جاری رہی جنہوں نے مقام سویقہ میں قیام کیا تھا۔ یہ مقام مدینہ منورہ میں ہے جہاں امام حسین کی اولاد رہتی تھی ۔ یاقوت کی مطابق متوکّل نے ان کی طرف ابی ساج کی قیادت میں ایک فوجی دستہ بھیجا ۔جو محمد کو گرفتار کرکے متوکّل کے پاس سامراء لے کر آئے پھر انہیںشہید کیا گیا بعد ازاں جتنے بھی علویین مقام سویقہ میں رہتے تھے ان سب کو قتل کیا اور اس جگہ کو مکمل طور پر ختم کر دیا گیا۔
ڈاکٹر سعاد ماہر نے اپنی مشہور کتاب ''مشہد امام علی ''میں لکھا ہے کہ'' وہ مورخین جو امام کے نجف میں مدفون ہونے سے انکار کرتے ہیں اس حوالے سے ان کے پاس کوئی ٹھوس دلیل نہیں ہے۔ مشہور سیاح بن جبیر کہتا ہے کہ امام دراصل مسجد اموی دمشق میں دفن ہوئے۔ اسی طرح یا قوت کا کہنا ہے کہ علی عکاّ کے قریب مقامِ عین البقر میں دفن ہوئے، لیکن غرناطی اپنی کتاب ''تحفة الالباب و نخبة العجائب'' میں دعویٰ کرتا ہے کہ علی کی قبر مشرقی عرب میں نہیں بلکہ اس شہر سے چودہ میل کے فاصلے پر پرانے شہر کے مشرق میں واقع ہے۔''
مگر جو بات تک انہوں نے ابن جبر(المتوفی ۵۸۰ھ بمطابق ۱۱۸۴ ئ) کے حوالے سے کہی وہ بے معنی ہے کیونکہ اس کے بتائے ہوئے مقام پر اس کاواقع ہونا ممکن نہیں۔ اس لئے جعفر الخلیلی نے موسوعہ عتبات مقدسہ میں اس موضوع پر کہ نجف سفر اور نشاندہی ،میں اس پر سیر حاصل بحث کی ہے اور اس میں ابن جبیر کی باتوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ اسی بات کی طرف ڈاکٹر سعاد نے اشارہ کیا تھا ۔ ابن جبیر یوں کہتا ہے کہ ''کوفہ کی مغرب کی جانب ایک فرسخ پر مشہور و معروف مزار جو علی ابن ابی طالبـ سے منسوب ہے ۔کہا جاتا ہے کہ وہ اونٹنی آکر یہاں بیٹھ گئی تھی جس پر حضرت کی میت رکھی ہوئی تھی ۔ ان کی قبر یہی پر ہے اور ہمیں بتایا گیا کہ اس مزار میں ایک بڑی عمارت بھی ہے لیکن ہم تو نہیں دیکھ سکے کیونکہ کوفہ میں ہمار ا قیام مختصر تھا اور ہمیں وہاں صرف ایک ہی رات رکنا تھا۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خود خلیلی نے بھی اصل عبارت میں سے کچھ چیزیں حذف کی ہیں اسی اسکی عبارت میں یوں نقطے (.......)کی علامات ہے اس کامطلب ہے کہ عبارت جاری ہے اور دوسری جانب ڈاکٹر سعاد کو بھی اشتباہ ہوا ہے جس کی وجہ شاید ہم نہیں جان سکے کیونکہ انہوں نے ایک ایسی بات ابن جبیر سے منسوب کی جو اُس نے نہیں کہی ۔
لیکن جہاں تک انہوں نے یاقوت کے حوالے سے کہا ہے توانہوں نے بھی اس طرح نہیں کہاہے جیسا موصوف نے بیان کی ہے۔ بلکہ جو بات یاقوت نے اپنی معجم میں کہی ہے وہ یوں ہے کہ اس چشمہ پر ایک مزار ہے جو علی ابن ابی طالبـکی طرف منسوب ہے اس کے بارے میں عجیب و غریب کہانی ہے۔
اور مزار سے مراد قبر نہیں ہے اس حوالے سے ہم بغداد میں جامع براثا میں ان کے مزارات کے بارے میں بیان کیا ۔ اسی طرح کی ایک مثال غرناطی نے بھی بیان کی ہے جو امام کی مزار کے حوالے سے ہے بلکہ ناصر خسرو نے بصرہ میں جب سال ۴۴۳ھ بمطابق۱۰۵۱ ء میں آئے تو انہوں نے امیر المومنین کے نام سے تیرہ مزارات دیکھے۔ اور وہ اپنی کتاب سفر نامہ میں بیان کرتا ہے کہ انہوں نے ان تمام مزارات کی زیارت کی تھی ۔ اس حوالے سے مزید ہم بحث نہیں کرتے ہیں کیونکہ ان باتوں کے پیچھے اسباب کا ذکر ہم پہلے کر چکے ہیں۔
ہم یہاں پر یہ ذکر کرتے چلے کہ دوروسطیٰ کے (۱۲۳)مورّخوں میں سے ایک جماعت مثلاً ابی الفداء ، ابن شحنہ اور سبط ابن جوزی وغیرہ نے قبر شریف کے موضوع کے تحدید کے اختلاف کی طرف اشارہ کیا ہے لیکن آخر میں یہ تمام اس بات میں جمع و متفق ہوئے کہ قبر شریف نجف میں ہی ہے۔
اب ہم اصحاب حدیث کے ان راویوں کا ذکر کرتے ہیں جو اہل بیت اوران کے ماننے والوں کے ساتھ موافق نظر آتے ہیں جن میں سے بعض کا ہم پہلے ذکر کرچکے ہیں اور دوبارہ بیان کریں گے جسے یاقوت نے اپنی معجم میں لفظ نجف کے ذیل میں لکھا ہے۔ کہ اس موضع کے قریب یعنی نجف امیر المومنین علی ابن ابی طالب کی قبر ہے اور آگے جاکر اسی انسائیکلو پیڈیا میں لفظ الغریین کے ذیل میں لکھاہے کہ کوفہ کے کنارے علی ابن ابی طالب کی قبر کے قریب جھونپڑی کی طرح دو عمارتیں ہیں لیکن اب یہی موجود نہیں ہیں اور بنی اُمیّہ کے او اخر اور بنی عباس کے اوائلی دور میں یہ گر کر ختم ہوگئی ہیں۔
یاقوت نے اپنی انسائیکلو پیڈیا میں ثعلب سے نقل کیا ہے کہ ایک دفعہ معن بن زائدہ عزیین سے گزرا تو دیکھاکہ وہاں مذکورہ دو عمارتوں میں سے ایک گری ہوئی تھی ۔ اور اس کی بات میں یہ جو فرق امام سے منسوب مزار اور مقام عین بقرہ میں واقع مزار کے درمیان اور اسی طرح نجف میں واقع امام کی قبر اور مقام غریین میں واقع قبر کے درمیان واقع ہے۔ اور یہاں پر یا قوت کی یہ روایت زیادہ اہمیت کے حامل ہے کیونکہ اس کا راوی شیعہ نہیں تاکہ باعث شک و شبہ ہو۔
بلکہ یہ ایک ایسے آدمی سے روایت ہوئی جس کے بارے میں ابن خلکان نے اپنی کتاب وفیات میں کہاہے کہ یہ آدمی علی ابن ابی طالب سے زیادہ تعصب کرنے والا تھا اور اس نے خوارج کی کتابوںمیں سے تھوڑا پڑھا تھا جس کی وجہ اس کے ذہن میںایک نئی بات بیٹھ گئی۔ مگر ابن اثیر اس حوالے سے اسی جگہ کی صحت کی تصدیق کی ہے جہاں امام کی زیارت کی جاتی ہے انہوں نے اپنی کتاب ''الکامل فی التّاریخ ''میں یوں لکھا ہے۔
جب انہیں قتل کیا گیا تو جامع کے پاس دفن کئے گئے، اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قصر میں مدفون ہے ،اس کے علاوہ اور بھی جگہیں بتائی جاتی ہے۔ لیکن ان میں زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ ان کی قبر اسی مقام پرہے جہاں اس کی زیارت اور تبرّک کی جاتی ہے۔
ڈاکٹر حسن حکیم اپنی سابقہ کتاب میں اس کے مصادر کے حوالے سے بیان کیاہے کہ ''بعض مورخین نے قبر شریف کی سرزمین نجف میں ہونے کو زیادہ صحیح قرار دیا ہے۔ تلقشندی کے مطابق مشہور اور صحیح ہے کہ امام علی نجف میں ہی مدفون ہیں۔ اور مشہور مورّخ ابن وردی نے ابن اثیر کی رائے کو قبول کیا ہے ۔ اور اسی کی تائید کی ہے اور کہا ہے کہ زیادہ صحیح یہ ہے جسے ابن اثیر وغیرہ مانتے ہیں کہ امام نجف میں مدفون ہیں اور ابن طباطبا، ابن طقطقی وغیرہ کہتے ہیں کہ جہاں تک امیرالمومنین کے مدفن کی بات ہے تو وہ رات کی تاریکی میں مقام عزی میں دفن کئے گئے اور ان کی قبر کو چھوڑ دیا گیا یہاں تک کہ بعد میں مزار کی حیثیت سے ظاہر ہوا جوکہ آج تک مشہور ہے۔ اس حوالے سے جتنے بھی مصادر انہوں نے بیان کئے ہے اس کی توثیق صبح الاعشی، تاریخ ابن الوردی، ابن طقطقی کی الآداب وغیرہ کرتی ہیں اور متاخرین میں سے زبیدی نے کتاب التاج میں نجف کے حوالے سے یہ بات لکھی ہے اس موضع کے قریب امیر المومنین علی ابن ابی طالب کی قبر واقع ہے۔''
ابن ابی الحدید کی یہ بات گزر چکی ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا تھا کہ انہوںنے ان روایات کا ذکر کیا تھا اس حوالے سے ان کی اولاد کی بات پر اعتماد کر نا چاہیے۔ کیونکہ وہ بہتر جانتی ہے'' ہر لوگوں کی اولاد اپنے باپ دادا کی قبروں کے بارے میں دوسروں سے زیادہ جانتی ہے اور یہ قبر وہ ہے جس کی زیارت ان کے بیٹوں نے کی تھی جب وہ عراق پہنچے تھے ان میں جعفر بن محمد(امام جعفر صادقـ) وغیرہ جو اس خاندان کے بزرگ اور بڑے تھے اور ابن ابی الحدید نے اس روایت کو بھی کیان کیا ہے جسے ابو الفرج نے اپنی کتاب ''مقاتل الطالبین ''میں سند کے ساتھ امام حسین سے روایت کیا ہے۔
'' جب امام حسین سے پوچھا گیا آپ لوگوں نے امیر المومنین کو کہاں دفن کیا؟ تو آپ نے جواب دیا ہم انہیں رات کی تاریکی میں ان کے کوفہ میں واقع سے اٹھاکر لے گئے اور مسجد اشعث سے ہوتے ہوئے کوفہ کے کنارے غرّی کے جانب پہنچے۔''
دوبارہ ابی الفرج سے منسوب دوسری روایت جس کی سند حسن بن علی الخلّال کے ذریعے اس کے دادا سے ملتی ہے ۔ انہوں نے کہا ''میں نے حسین بن علی سے کہا آپ لوگوں نے امیر المومنین کو کہاں دفن کیا؟ تو انہوں نے جواب دیا ہم انہیں رات کی تاریکی میں ان کے گھر سے لے گئے اور اشعث بن قیس کے گھر سے گزرتے ہوئے کوفہ کے کنارے غرّی کی جانب نکلے۔'' پھر انہوں نے کہا کہ یہ روایت سچی ہے اور اسی کوماننا چاہیے اور ہم یہ بیان کرچکے ہیں کہ لوگوں کے بیٹے اپنے آباء واجداد کی قبروں کے بارے میں دوسروں سے زیادہ جانتے ہیں۔
اور یہ جو قبر مقام غرّی میں واقع ہے جس کی زمانہ قدیم و جدید سے اولادِ علی زیارت کرتے آرہے ہیں اور کہتے آئے ہیں کہ یہ ہمارے باپ کی قبر ہے اس بات پر شیعہ اور غیر شیعہ میں کوئی بھی شک و شبہ نہیں کرتے ہیں یہاں اولادِ علی سے مراد صرف حسن حسینکی نسل سے مراد نہیں ہے بلکہ دوسری اولاد بھی مراد ہے جنہوں نے صرف اسی قبر کی زیارت کی ہے۔
لیکن یہ کہتا چلوں کہ یہ عجیب بات ہے بعض مورّخین کچھ ایسی روایات پر بھروسہ کرتے ہیں جو قبر شریف کی صحیح موضع کو مشکوک بناتی ہیں جس کی نہ اولاد علی تائید و تصدیق کرتی ہے اور نہ اس پر اجماع شیعہ ہے اور علماءے سالفین اسی مزار کی ہی زیارت کرتے آئے ہیں ۔ شاید مشکوک روایات کو ردّ کرنے میں ابن جوزی کی روایت بھی ہے جسے انہوں نے اپنی کتاب ''اعتظم فی تاریخ الملوک والاھم'' میں ابی القائم محمد بن علی بن میمون الزّ سی کی تاریخ وفات کے ذیل میں بیان کیا ہے اور موصوف اُبّی کے نام سے مشہور تھا کیونکہ ان قرات اچھی تھی۔ اور اس زمانہ میں کوفہ میں اہلسنّت کا واحد محدث تھا جسے ابن ابی الحدید نے بھی شرح النّصج میں بیان کیا ہے اور ابن جوزی کے ساتھ اتفاق بھی کیا ہے لہٰذا جوزی کہتا ہے''محمد بن علی میمون بن محمد ابو القائم الزّسی کوفہ میں اُبّی کے نام سے مشہور تھا اس لیے کہ اس کی قرات اچھی تھی۔ اور موصوف شوال ۴۲۴ھ بمطابق ۱۰۳۳ ء کو پیدا ہوئے ہمیں ہمارے شیخ ابو بکر عبد الباقی نے بتایا کہ میں نے ابا القائم بن الزّسی سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ کوفہ میں اس وقت کوئی اہلسنّت محدّث موجود نہیں سوائے اُبّی کے جو کہ یہ کہتا تھا کوفہ میں (۱۱۳)صحابہ وفات پاچکے ہیں ۔ ان میں سے صرف علی کی قبر کا پتہ ہے:اور کہا کہ جعفر بن محمد ، محمد بن علی بن حسین ایک دن کوفہ آئے اور انہوں نے امیر المومنین کی قبر کی زیارت کی کیونکہ اس قبر کے علاوہ اور کسی کی قبر نہیں تھی۔ اور یہ بھی صرف زمین ہی تھی پھر محمد بن زید آیا اور اس قبر کا انکشاف کیا۔''
ابن جوزی نے ابی القائم الزّسی کی اس روایت کی توثیق کی ہے اور ان کے شیخ ابن ناصر ان کے حوالے سے یوں رقمطراز ہیں کہ میں نے ابی القائم جیسا ثقہ اور حفظ روایت میں کسی کو نہیں دیکھا اور ان کی حدیث اس حوالے سے مشہور تھی ۔ کوئی بھی اس میں مداخلت نہیں کرسکتا تھا اور وہ شب گزاروں سے تھا۔یہاں پر میں ایک پڑھتا ہوں جسے ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں خاص طور سے اس آیت کی تفسیریں بیان کی ہے۔
( وَجَعَلْنَاابْنَ مَرْیَمَ وَاُمَّهُاایَةً وَّ آوَیْنَا هُمَا ِ لٰی رَبْوَةِ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنِ )
یہ روایت بھی ان روایات کی مدد کرتی ہے جو مرقد شریف کے نجف میںہونے کی تائید کرتی ہے۔ اس کی سند محمدابن مسلم سے ملتی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ''میں امام جعفر صادق سے اللہ تعالیٰ کے اس قول سے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا، یہاں الرّبوة سے مراد نجف ہے اوراَلْقَرَار سے مراد مسجد ہے جبکہاَلْمَعِیْن سے فرات مراد ہے۔
اور بہت ساری روایات ہے جو یہ کہتی ہے کہ روضہ مقدس کی تحدید امام نے فرمائی تھی جس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں ۔ کیونکہ امام کو یہ معلوم تھا کہ بعد کیا ہونے والا ہے اور یہ بھی آپ کو معلوم تھا کہ آپ کے دشمن کے نفوس میں آپ کی کتنی دشمنیاں ہیں اور جسد طاہر کے ساتھ جو سلوک کرنے والے تھے اس لئے انہوں نے بالکل راز میں قبر کی تحدید کی۔ اس موضع کے بارے میں اہل بیت کے سواء کو ئی آگاہ نہیں تھا اور شاید انہوںنے اپنے خاص اصحاب کو بھی آگاہ کیا ہو۔ شاید اس روایت کی تائید ابن ابی الحدید کی وہ روایت کرے جسے انہوں نے ''شرح النّصج ''میں اپنے شیخ ابی القاسم البلخی سے قبر علی کی شان میں بیان کیا ہے۔ جب وہ قتل ہوا تو ان کے بیٹوں نے ان کی قبر کو چھپانے کا ارادہ کیا اس خوف سے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بنی اُمیّہ ان کی قبر کے ساتھ کوئی ناروا سلوک کریں اور اسی رات سے ہی لوگوں کو مختلف شک و شبہات میں ڈال دیا اور ایک اونٹ کے اوپر ایک تابوت رکھا گیا جس سے کافور کی خوشبو آرہی تھی اور رات کی تاریکی میں انہیں نکالا گیا اپنے ثقہ اصحاب کی ہمراہی میں تو لوگوں نے سوچا کہ شاید یہ لوگ انہیں مدینہ منوّرہ لے جاکر جناب فاطمہ کے پہلو میں دفن کرتے ہونگے۔ اور ایک خچر کے اوپر ایک جنازہ باندھ کر رکھ دیا گیا یہ بتانے کے لیے کہ اسے مقام حیرہ میں دفن کریں گے اور مختلف مقامات پر مختلف قبریں کھوی گئیں جیساکہ ایک قبر مسجد ، مقام رحبہ، قصرا مارة ، آل بعدہ بن ہبیرہ المضزوص کے گھروںمیں، عبد اللہ ابن یزید القسری میں مسجد کے بابِ ورّاقین کی جانب ، مقام کنّاتہ اور مقام ثویة میں مختلف قبور بنوائی۔ ا س طرح لوگوں کے سامنے اصل قبر پوشیدہ ہوگئی اور حقیقت دفن کے بارے میں صرف ان کی اولاد اور مخلص اصحاب کے سواء کسی کو معلوم ہی نہیں تھا۔ اور انہوں نے رات کی تاریکی میں اکیس رمضان المبارک کی رات کو لے جاکر نجف میں دفن کیا جو غرّی میں مشہور مقام ہے اور ان کی وصیت کے مطابق کیا گیا اور قبر کو لوگوں سے پوشیدہ رکھا گیا ۔ اور اسی صبح میں مختلف آراء پیدا ہونے لگیں اور قبر شریف کے بارے میں مختلف باتیں نکلنے اور پھیلنے لگیں۔ اس روایت سے میں جو بات بتانا چاہ رہا تھا کہ آپ کو اپنے وصیت کے مطابق غرّی کے مقام نجف میں دفن کیا گیا۔ اور یہ یقین اور واقع کے زیادہ ہے کہ امام کے آخری رسوم میں صرف حسین اور ان کے اہل بیت ہی نہیں تھے بلکہ آپ کے منتخب اصحاب کی پوری ایک جماعت تھی۔
اس بات کی تائید ہمیں علامہ مجلسی کی اس رائے سے بھی ملتی ہے کہ انہوں نے ایک ایسی روایت قدیم اور جدید کتابوںمیں دیکھی جو آپ کی شہادت کی کیفیت کے حوالے سے ہے وہ لکھتے ہیں!جب امیر المومنین کو لحد میں اتارا جارہا تھا تو صحصہ بن صوحان العبدی کھڑے ہوئے جو امام کے خاص اصحاب میں سے تھے اور حضور اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی حیات میں اسلام قبول کیا تھالیکن انہوں نے حضور اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کو دیکھا نہیں تھا اور معاویہ کی خلافت میں وفات پائے ۔ کہا جاتا ہے اور چند کلمات پر مشتمل ایک مرتبہ پڑھا جو ہم بیان کر دیتے ہیں اے ابا الحسن تجھے مبارک ہو آپ کی جائے ولادت پاکیزہ تھی اور آپ کا صبر مضبوط و قوی تھا۔ اور آپ نے عظیم جہاد انجام دیا اور آپ اپنے رائے میں کامیاب ہوئے ۔ آپ کی تجارت نفع آور ہوئی ، آپ اپنے خالق کی جانب چل بسے اور اس نے بھی آپ کو ملاقات کی بشارت اور اسکے ملائکہ آپ کے اردگرد اترے ہوئے ہیں۔ آپ نے جوار مصطفیصلىاللهعليهوآلهوسلم میں ثابت قدمی دکھائی۔ اللہ آپ کو آخرت میں ان کی قربت سے نوازے ۔ آپ نے اپنے بھائی مصطفیصلىاللهعليهوآلهوسلم کے درجہ کو پالیا اور ان کے دست واسعہ سے سیراب ہوجائے ۔ بس اللہ تعالیٰ سے میں دعا کرتا ہوں کہ وہ ہمارے اوپر یہ احسان کرے کہ ہم آپ کی اتباع کرتے رہیں اور آپ کی سیرت پر چلتے رہیں اور آپ کے دوستوں سے محبت اور دشمنوں سے دشمنی کرتے رہیں اور آپ کے ماننے والوںکے ساتھ محشور فرمادے پس آپ نے وہ کامیابی حاصل کی جو آج تک کسی کو حاصل نہیں ہوئی پھر وہ زارو قطار رونے لگا اور جو ان کے ساتھ تھے سب کو رُلایا پھر تمام لوگ حسن ،حسین ، محمد ، جعفر ، عباس، یحیٰ، عون اور عبد اللہ٪ کی طرف گئے اور انہیں ان کے بابا کے وصال پر تعزیت پیش کی۔ اس کے بعد تمام لوگ اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے اور اولاد امیر المومنین اور ان کے ماننے والے کوفہ کی جانب واپس آئے۔اور لوگوں کو اس چیز کا احساس بھی نہیں ہوالیکن جب صبح ہوئی سورج طلوع ہوا امیر المومنین کیسے ایک تابوت نکالا گیا اور کوفہ کے کنارے مصلّی پر لایا گیا پھر امام حسن آگے بڑھے اور نماز جنازہ پڑھائی اور ایک اونٹ پر رکھ کر لے جایا گیا۔
اب اگر یہ روایت صحیح ہو تو میرے خیال میں حقیقت واقع سے یہ زیادہ قریب ہے کیونکہ امام کی تشیح جنازہ میںشرکت کرنے والے اتنی قلیل تعداد میں بھی نہیں تھے۔
مجلسی کی یہ روایت تمام ان روایات سے میری نظر میں زیادہ قرین و قیاس اور صحیح لگتی ہے جو روضہ مقدس کو پوشیدہ رکھنے میں بیان ہوئی ہے ، جب یہ مختلف گڑھے مختلف جگہوں میںکھد وائے گئے۔ مثلاً ثویّة، کنّاسة، مسجد، رحبہ، بعدمیں ہبیرہ کا مکان وغیرہ اور اس کے تابوت تیار کیا جانا اور اسے اونٹ پر رکھنا اوراس سے کافور کی خوشبو پھیلنا اور امام علی کے خاص اصحاب کے ہمراہ مدینہ منوّرہ کی جانب روانہ ہونا تاکہ قبر فاطمہ کے جوار میں دفن کیا جائے اور اسی طرح کی دوسری خبر کہ خچر پر رکھ کر رحبہ میں دفن کرنے کے لئے لے جایا گیا۔ یہ تمام باتیں قابل غور ہیں اور یہ بناوٹی اور جھوٹی خبریں پھیلانے کا بہترین ذریعہ ہے اور یہ ایسی باتیں کبھی کبھار باعث خلط ملط اور اعتراض ہے۔اور متوفی بھی کی معمولی شخصیت نہیں ہے کہ لوگ اس حوالے سے شور شرابہ نہ کریںاور یہ ایسی بات ہے جس سے امامکاخاندان ڈرتا بھی نہیں تھا۔
پس ضروری ہے کوئی ایسی راہ ہو جو شبہ اور بناوٹ پر مبنی نہ ہو وہ یہ ہے کہ اہل بیت اور ان کے ماننے والے مرقد شریف کی جگہ کی جانب رات تاریکی میں جب تمام لوگ سوگئے چل پڑے اور امام علی کو دفن کیا پھر اپنے گھر واپس آئے۔پھر انہوں نے ایک تابوت برآمد کیا جس پر امام حسن اور اہل بیت اور کوفہ والوں نے نماز پڑھائی اور اسے وداع کرنے کے بعد تابوت کو ایک اونٹ پر رکھا گیا اور ان کے کچھ خاص لوگ اسے لے کر مدینہ کی جانب چل پڑے۔ اس طرح کی پہلو تو باعث شک و اشکال ہے اور نہ ہی خلط ملط ہے اور دوسری بات تابوت امام دولت سرا سے برآمد ہوا اور مسجد رکھا گیا اور ان کے بیٹے اور اصحاب نے نماز پڑھی اور تشبیع اور آخری رسومات میں اہل کوفہ نے بھی شرکت کی اس کے بعد لوگ پھر اپنے دوسرے کاموں میں مشغول ہوئے۔ تیسری بات ان کے قاتل سے قصاص لینا ہے۔ چوتھی بات امام حسن کی بیعت اور اس سے متعلق اہل کوفہ کی باتیں۔ پانچویں بات امیر معاویہ سے جنگ کی تیاری اس کے پے درپے واقعات رونما ہوئے ہیں اسی طرح مرقدِ امام علی کے بارے میں بھی قیل قال ابتداء سے شروع ہوا تھا۔
جتنی بھی باتیں گزرچکی یہ حقیقت کو آشکار کرنے میں زیادہ معاون ہوسکتی ہیں۔ اور مرقد شریف کے موضع کو مشکوک بنائے جانے کی جتنی چاہے روایات مل سکتی ہیںاس لیے امام کے دشمن نے دشمنی میں اور آپ کے دوست نے پوشیدہ رکھنے کی غرض سے بہت ساری روایتوں کو رواج دیا تھا اور انہیں پھیلانے کی کوشش کی، لیکن امام کی قدر اور مرقد شریف کی روشنی ان کی تمام کوششوں پر غالب آگئے۔ اور ان کی بری نیت کو خاک میں ملادیا۔ شروع سے لے کر آج تک جو بھی کوششیں اسے ختم کرنے کی غرض ہوئی ۔ ان تمام کے باوجود آپ کا روضہ بلند و نمایاں دنیا کے چوتھے مقدسات میں شامل ہے جس کی دنیا کے کونے کونے سے مسلمان زیارت کے لئے جوق در جوق آتے رہتے ہیں۔
اب ہم دوسری چیزوں کو آنے والے مباحث میں بیان کریں گے جو ان باقی رکاوٹوں کو اٹھائے گی جو بعض روایات کی وجہ سے مرقد شریف کی موضع کے بارے میں ہیں اور ان ادہام کو بھی ختم کرنے کی کوشش کریں گے جو بعض ذہنوں میں موجزن ہیں اور شک کرنے والوں کی دلیل کا بھی بھر پور جواب دیں گے۔
مرقد شریف
امامکے دشمن آپ کے شہید ہونے پر خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔ اگر انہیں اس عظیم سانحے میں انکے اپنے نقصان کا پتہ ہوتا تو وہ کبھی بھی ا س طریقے سے خوشی کا اظہار نہیں کرتے او ر صلح امام حسن کے بعد امیر معاویہ، آپ کے خلاف نازیبا اور توہیں الفاظ استعمال کرنے کی تحریک نہیں چلاتے اور طبری کے مطابق یہ عمل کوفہ میں سال ۴۱ ھ ربیع الاوّل یا جماد ی الاوّل میں شروع ہو چکا تھا ۔ او ر بعدازاں امام علی کے خلاف سب و شتم کا سلسلہ تمام مسلم ممالک کی مساجد کے منبروں سے شروع ہوا اور تمام مساجد کے آئمہ و خطبا ء آپ سے برائت کرنے لگے جس کو ہم نے اپنی کتاب''وَ مَا اَدْرَاکَ مَا عَلِی'' تفصیل سے بیان کیا ہے اور یہ سلسلہ نصف صدی سے بھی زیادہ جاری رہا۔ اور آپ کے جو بھی صحابی اس حوالے سے مزاحمت کرتے تھے تو ظالم حاکم نہ صرف انہیں قتل کرتے تھے بلکہ مثلی بھی کرتے تھے یعنی قتل کرنے کے بعد ان کے اعضاء کاٹتے تھے۔ اگر اس میں کافی اصحاب شہید ہوئے تاہم بعض کا یہاں پر ذکر کرتے ہیں کمیل بن زیاد النّخعی جسے حجاج نے قتل کیا۔ میثم تمّار ا سدی کو عبید اللہ ابن زیاد نے قتل کرنے کے بعد مثلی کر دیا ہانی ابن عروہ مرادی کو بھی ابن زیاد ہی نے قتل کرکے مثلی کردیا۔
حجر بن عدی اور ان کے اصحاب کو معاویہ بن ابی سفیان نے قتل کیا اس کے علاوہ سینکڑوں اصحاب مارے گئے لیکن اب حالت یہ ہے ان اصحاب کے قبور لوگوں کے مزار بن گئے لیکن ان کے دشمنوں کی قبور کا نام و نشان بھی موجود نہیں اور ان کا ذکر کرنا بھی ہر کوئی ننگ و عار محسوس کرتا ہے۔ لیکن امام علی کے شیعہ برے طریقے سے قتل ہوتے رہے اور ان پر کفر و گمراہی کے جھوٹے الزامات وغیرہ لگتے رہے جو آج تک جاری ہے۔
امام علی پر سب و شتم کا یہ سلسلہ بعد میں آکر عمر بن عبد العزیز کے دور میں بند ہوا ورنہ ان کا ارادہ تھا کہ یہ سلسلہ ہمیشہ جاری رہے۔ اور ایک طرف تو اس سلسلہ کو بڑھاتے رہے اور لوگوں کو اکساتے رہے لیکن دوسری طرف لوگوں میں اور مسلمانوں کے دلوں میں امام کی معرفت و منزلت موجزن ہوتا گیا۔ اور آپ کا جسد خاکی اس بیابان تقریباً ایک صدی اور نصف سے زیادہ مدفون میں رہے سوائے آپ کے اہل بیت اور خاصّان کے کسی کو علم نہیں تھا اور تقریباً اٹھاسی سال تو اہل بیت اور خاصّان کے ساتھ قلیل تعداد میں لوگ چھپ کر زیارت کے لئے جاتے تھے۔
اس دوران بنی امیہ نے مختلف طریقے سے قبر شریف کے بارے میں جاننے کی کوشش کی تاکہ جسد خاکی کی توہیں کریں اسی میں وہ اپنی نجات سمجھتے تھے اور کہا جاتا ہے کہ حجّاج بن یوسف نے کوفہ کے کنارے میں تین ہزار قبور کھول کر وہاں سے نعشیں نکلواکر مثلی کروایا شیخ جعفر محبوبہ نے اپنی کتاب نجف کے ماضی اور حال، منتخب التواریخ اور روضات الجنات کے حوالے سے لکھتے ہیں ۔ ان قبور کو اس طرح ختم کیا گیا یہاں تک کہ آثار تک باقی نہیں رہے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کا ارادہ خاک میں ملادیا اور اپنے ولی کی قبر کی ہر طریقے سے حفاظت کی۔۴۳سال تو قبر کی جگہ کی لوگوں کو پہچان ہوکر گزارا اور لوگ جوق در جوق وہاں جاتے رہے جس کی وضاحت ہم عنقریب کریں گے۔ لیکن ہمارے پاس کوئی ایک ایسا ماخذ اب تک موجود نہیں جو ہماری رہنمائی کرے کہ وہاں اس دوران کوئی اور بھی دفن ہوئے یا نہیں۔ ہاں بعد ازاں جب یہ زیادہ مشہور ہوا تو آنے والے زمانوں میں لوگ اپنے میتوں کو دفن کرتے رہے اور ساکنین نجف اس زمانے میں قبر شریف کے نزدیک نہیں رہتے تھے۔لیکن اتنا زیادہ دور بھی نہیں رہتے تھے جسے طبری اور بعض مورخین نے بیان کیا ہے۔ بعض اہل بیت شاید اس لیے بھی وہاں رہتے تھے ایک تو یہ مرکز کوفہ سے دور تھا دوسری بات وہاں آنے والے زائرین کی رہنمائی اور ان کی مہمانداری کرتے تھے لیکن یہ گمان غالب ہے کہ یہ سلسلہ عباسی انقلاب کامیاب ہونا تھا ۔ اور ۱۴۴ ھ بمطابق ۷۶۱ ء سے قبل خلیفہ منصور نے یہ حکم دیا تھا عبد اللہ بن حسن اور اہل بیت کومدینہ سے کوفہ لایا جائے اور ابن ھبیرہ کے قصر جو کوفہ کے مشرق میں واقع تھا میں قید کیا جائے یہ بات طبری نے اپنی تاریخ میں جبکہ ابن اثیر نے اپنی کتاب ''الکامل فی التاریخ''میں بیان کی ہے۔ لیکن طبری ایک روایت عبد اللہ بن راشد بن یزید سے نقل کی ہے کہ ''جب عبد اللہ ابن حسن اور اس کا خاندان قیدی بن کر نجف اشرف پہنچے تو انہوں نے اپنے خاندان سے کہا کہ کوئی ہے اس گاؤں میںجو ہمیں اس ظالم سے بچائے؟ اتنے میں ان کے بھائی حسن کے دو بیٹے تلوار اٹھاکر ان کے پاس آئے اور کہنے لگے یا ابن رسول اللہ ہم حاضر ہیں آپ جو چاہیں ہمیں حکم فرمائیں۔ تو انہوں نے فرمایا تم دونوں نے فیصلہ تو کرلیا ہے لیکن اب تم کچھ بھی نہیں کرسکتے اتنے میں وہ چلے گئے۔''
جبکہ ابن اثیر نے یہ روایت بغیر کسی نسبت کے نقل کیا ہے لیکن روایت کے اندر کچھ تبدیلی ہے جو محقق کی اپنی اجتہاد کی طرف نسبت دی گئی ہے یا یہ کاتب یا مولف کی غلطی ہوسکتی ہے اور روایت یوں ہے۔ جب یہ لوگ کوفہ پہنچے تو عبد اللہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کوئی ہے اس گاؤں میں جو ہمیں اس ظالم سے بچائے؟ تو کہتے ہیں کہ ان کے بھائی کے بیٹے حسن اور علی ان کے پاس تلوار اٹھاکر آئے اور کہا یا ابن رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم ہم حاضر ہیں ہمیں حکم کیجئے کہ آپ کیا چاہتے ہیں تو انہوں نے فرمایا تم دونوں نے اپنی ذمہ داری پوری کی اب تم کچھ نہیں کرسکتے اتنے میں وہ چلے گئے۔
اب آپ ملاحظہ فرمائیے کہ اس نے کہا جب یہ لوگ کوفہ پہنچے تو عبد اللہ نے اپنے ساتھیوں سے کہا کوئی ہے اس گاوں میں ؟جبکہ کوفہ کو گاوں نہیں کہا جاتا تھا ہاں شاید اس نے یہاں علیٰ سبیل غلبہ کیا ہو یا اصل عبارت یوں ہو۔ فلما قدمو لی نواحی الکوفہ جب وہ کوفہ کے مضافات میں پہنچے یا کوفہ کے مقام نجف میں اور ہر صورت میںان کی آمد نجف کی جانب ہی نظر آتی ہے جس سے مراد صرف مو ضع قبر نہیں ہے بلکہ پورا ٹیلہ جس کے احاطے میں امام علی کی قبر بھی شامل ہے اور بجائے بقعہ ''ٹیلہ ''کے روضہ کی موضع بیان کیا جاتا ہے یاا بن اثیر نے طبری سے لفظ نجف کی جگہ لفظ کو ہی نقل کیا ہو یا کاتب نے کتابت کرتے وقت کوئی تبدیلی کی ہو اس پرمستذاد یہ کہ محقق کو شبہ ہوا ہو تو اس نے حاشیہ میں بیان کیا ہے اور وہ صحیح ہو۔ اور طبری کے ہاں یہی صحیح ہو ۔ لیکن حسن وعلی کون تھے اور اس علاقے سے ان کی کیا نسبت تھی اور ان کا دعویٰ وہ وہاں رہتے تھے ان تمام نکات کے حوالے سے پھر بھی شک و شبہ باقی رہتا ہے۔
بہر حال یہ بات یقینی ہے کہ قبر شریف کی زیارت اور وہاں قیام کرنے کا رواج اہل بیت سے ہی ہوا تھا جب ان پر سختی کم ہوتی تھی تو ان کے ماننے والے وہاں زیارت اور قیام کی غرض سے آتے رہتے تھے اور جب حکومت کی طرف سے سختی میں دوبارہ شدّت ہوتی تھی زائرین کی تعداد میں کمی آتی تھی اور وہاں مجاورین چھپتے تھے تو گمان یہ ہے کہ اس طرح اُن کا وہاں کا قیام موسمی تھا یعنی مختلف مناسبات کی وجہ سے لوگ وہاں آتے تھے۔مثلاً حضور اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کی ولادت کے موقع پریوم غدیر اور خود امام کی ولادت شہادت کے ایام وہ مناسبات ہیں جو شیعوں کے ہاں اب بھی معروف و مشہور ہیں۔اور اس میں ماحول کا بھی عمل دخل تھا ہمارے خیال میں محمد بن زید الدّعی کے گھر کے نزدیک لوگوںکی رہائش تھی اس حوالے سے ہم عنقریب ذکر کریں گے لیکن میرے نزدیک قابل ترجیح بات یہ ہے کہ ہارون الرشید کے وہاں تعمیرات کرنے کے بعد ہی قبر شریف کے جوارمیں لوگ اپنے مردے زیادہ دفن کرنے لگے مگر ڈاکٹر شیخ محمد ہادی نے انسائیکلو پیڈیا میں جو اصحاب رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم نجف میں دفن ہیں تقریباً ایک سو پچاسی صحابی تک کا ذکر کیاہے اور ان کے حالات لکھے ہیں ۔لیکن ان میں کسی کی قبر امام علی کی قبر کے جوار میںنہیں ہے یہ انہوں نے صرف بیان کیا ہے تو اس حوالے سے یہ ہوسکتا ہے کہ یا تو یہ کوفہ یا اس کے مضافات کے قبرستان میں دفن ہیں یا بمقام ثویّہ جو خندق سابور اور حنانہ کے درمیان واقع ہے۔ شاید کمیل ابن زیاد النّخعی کے روضہ ان قبور کی طرف سے امام کی قبر سے نزدیک ہے اور کمیل کی قبریں اس وقت موجود ہے جو قبر امام سے چار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور یہ بات بھی ہمیں تاریخ میں ملتی ہے کہ ان اطراف میں خبّاب بن ارت بھی دفن ہیں۔ ا س حوالے سے شیخ محمد حسین حرز الدین فی کتاب تاریخ نجف اشرف میں حکم کی مستدرک الصّحیحین سے یوں نقل کرتے ہیں ۔ جب خبّاب کو تیر لگا تھا اور اسے مرنے کا احساس ہوا تو اس نے اپنے کو کوفہ کے کنارے دفن کرنے کی وصیت کی۔
ڈاکٹر شیخ محمد ہادی امیں نے اپنے مضمون بعنوان ''سب سے پہلے امام امیر المومنین کے دور میں کون دفن ہوئے ''کہ امام نے ان کی نماز جنازہ پڑھی ''پھر آپ ان کی قبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا اللہ خباب پر رحم کرے کیونکہ اس نے اپنی رغبت سے اسلام قبول کیا اور ہماری اطاعت میں ہجرت کی اور مجاہدانہ زندگی گزاردی اپنے جسم میں مختلف بلائیں جھیلی اللہ تعالیٰ کسی کے اچھے اعمال کے اجر ضائع نہ کرے ''۔اور ابن قتیبہ نے اپنی کتاب المعارف میں واقدی سے روایت کی ہے کہ ''خباب ۶۶سال کی عمر میں۳۸ ھ میں کوفہ میں وفات پائی اور یہ پہلا شخص ہے جسے علینے کوفہ میں دفن کیا اور اس کی نماز جنازہ پڑھاکر صفین کی جانب روانہ ہوئے۔''
اور اسی بات کو محمدصاحب المظفّر نے اپنی کتاب ''وادی السّلام ''اور تمیمی نے مشہد علی میں ذکر کیا ہے لیکن جو وہاں دفن ہوئے وہ دائرہ قبر امام علی سے باہر ہوئے تھے۔ کوفہ میں سب سے پہلے دفن ہونے والے اصحاب کو بیان کرنے والوںمیں ابو الغنائم بن الزّسی کا نام آتا ہے جو ۴۲۴ھ شوال کو پیدا ہوا وہ کہتا ہے کوفہ میں اہلسنّت والحدیث میں صرف اُبّی تھا جو یہ کہتا ہے کہ کوفہ میں کل (۳۱۳) اصحاب دفن ہوئے جن میں صرف قبر علی کا پتہ ہے ۔اس روایت کو ابن جوزی نے اپنی کتاب بیان کیا ہے۔
اس زمانے میں وہاں روضہ کے آس پاس زندگی گزارنا سیاسی، قبائلی، ناگزیر ماحول کے باعث اتنی آسان نہیں تھی جس کی طرف ہم اشارہ کر چکے ہیں لیکن وہاں روضہ مقدس کے احاطے میں پانی نہیں تھا یا اس کا حصول مشکل تھا ان تمام مشکلات کے باوجود وہ لوگ رہے۔ اور مرور ایام کے اس ٹیلے کو روضہ مقدس کی وجہ سے مختلف ناموں سے پکارنے لگے جو کہ یوں ہیں:جرف، نجف، مسنّاة، شغیر الھضة جو کہ ہزار میٹر کے فاصلے پر ہیں۔ اور بعد کے دِنوں میں یہ ہر خاص وعام کے لئے شہر بن گیا۔
اور ایک دن یہ مرقد مقدس مزار بن گیا اور لوگوں کا بڑا اجتماع بغیر کسی خوف و مناسبت کے یہاں جمع ہوتے ہیں اور پھر وہاں قبّے، صحن وغیرہ بن گئے تو مشہد کے نام سے پکارا جانے لگا پھر آہستہ آہستہ روضہ مقدس کے اطرف بازار بننے لگے۔اور وہاں رہنے والوں کو مشہدی کہا جانے لگا اور اسی طرح مقام غرییّن یا الغرّی ، الغریّان سے قریب سے ہونے کی وجہ سے غروری بھی کہنے لگے۔
شاید شیعان علی پر جو سب سے زیادہ سخت دور گزرا ہے زیاد بن اُمیّہ کا دور اگرچہ زیاد امام علی کے معروف اصحاب میں تھے اور اس کا بیٹا عبید اللہ بن زیادہ جسے یزید بن معاویہ کی جانب سے کوفہ کا والی بنایا تھا۔
تو یہ دور اہل بیت رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر کٹھن اور دشوار ترین دور گزرا جس میں امام حسین اور ان کاخاندان بھی شہید کردیا گیا۔ اور دوسرا جو مشکل ترین دور بنی اُمیّہ کے حاکم حجّاج بن یوسف ثقفی کا دور حکومت تھا۔
امام زین العابدین ـ کی زیارت
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ سانحہ کربلا کا واقعہ امام زین العابدین پر پہاڑ کی مانند ٹوٹ پڑا تھا جس کے برابری دنیا کی کوئی مصیبت نہیں کرسکتی ۔ اس حوالے سے ابن طاوس نے اپنی کتاب الفرحة میں روایت بیان کی ہے جس کے مطابق امام زین العابدین مدینہ سے باہر خیمہ لگا کر لوگوں سے الگ تھلگ اپنی عبادات و احزان میں مصروف رہتے تھے۔اور کبھی قریہ بلید کے نزدیک جو مدینہ سے زیادہ فاصلے پر نہیں ہے رہتے تھے۔ یا قوت اپنی معجم البلدان میں بیان کرتا کہ یہ قریہ مدینہ کے کنارے ایک وادی میںآل علی ابن ابی طالب کا قریہ کہلاتا تھا اور بعید نہیں ہے یہی شدید ؟ دراصل امام کو اپنے باپ دادا اور خاندان کی زیارت کرنے پر مائل کرنا تھا۔ جنہیں آپ سرزمین کربلا کی تپتی ہوئی ریت پر چھوڑ آئے تھے اور چاہتے تھے وہاں جاکر ان پر ماتم کرکے اپنی مصیبت کی حرارت کو بجھادے اور ان کے قبروں پر روئے۔
ابن طاوس نے امام زین العابدین کی اپنے جدّ امیر المومنین کی زیارت کے حوالے سے چند روایتیں بیان کی ہیں ان میں سے وہ جابر بن یزید الجعفی سے ابو جعفر امام محمد باقر کی روایت بیان کی ہے کہ''میرے والد بزرگوار علی بن حسین قبر امیر المومنین کی جانب بمقام مجاز سے گزرے اور یہ مقام کوفہ کے کنارہ واقع ہے پھر وہاں ٹھہر کر رونے لگے۔''پھر اب طاوس ''کتاب الفرقة ''میں سابقہ زیارت دوسرے طراق سے امام علی بن موسی رضا سے روایت کرتے ہیں ۔ مذکورہ روایت کے ضمن میں جعفی کا بیان ہے کہ امام محمد باقر نے فرمایا۔ علی بن حسین نے اپنے والد حسین بن علی کی شہادت کے بعداپنے جانور کے بال کا خیمہ بنوا رکھا تھا اور بادیہ میں قیام کرنے لگے تھے ۔ اور چند سال لوگوں اور ان کے رہن سہن سے دور رہے اور وہ مقام عراق کے راستے میں واقع تھا اور وہیں سے اپنے جدّ بزرگوار کی زیارت کے لئے جاتے تھے اور کسی کو اس بات کا علم نہیں ہوتا تھا ۔ محمد بن علی کا بیان ہے ایک دن امام زین العابدین امیر المومنین کی زیارت کی غرض سے عراق کی طرف نکلے تو میں بھی ان کے ساتھ ہوا اور ہمارے ساتھ اونٹ مالکوں کے علاوہ کوئی بھی تھا۔ جب وہ بلاد کوفہ میں نجف کے مقام پہنچے اور ایک جگہ بیٹھ کر زارو قطار رونے لگے یہاں ان کی ریش مبارک آنسووں سے تر ہوگئی پھر انہوں نے فرمایا اس روایت کی سند اگر امام محمد باقر سے صحیح ہے تو یہ بھی توثیق کرتی ہے امام زین العابدین نے روضہ مقدس کی زیارت اس سے قبل اپنے والد بزرگوار کی رفاقت میں بھی کی تھی۔ اور ابھی تک نجف اشرف میں ان مقامات سے ایک امام سجاد کی طرف منسوب ہے اس حوالے سے شیخ حرزالدین نے اپنی کتاب معارف الرجال میں بیان کیا ہے یہ مقام محلہ مسیل میں جو نجف کے مغرب کی جانب جرف سے پہلے واقع ہے ۔ انہوں نے کہا ایک دفعہ امام علی بن حسین اپنے جدّ بزرگوار امیر المومنین کی قبر کی زیارت کی غرض سے آکر اس مقام میں قیام کیا تھا اس لئے کہ اگر کوئی انہیں دیکھے تو شک و توہم ہوجائے ۔ امام اس راستے سے حج بیت اللہ کی نیت سے آئے ہیں پھر انہوں نے وہاں کنویں سے وضوء کیا یہ کنواں جو کہ قلیب کے نام سے مشہور ہے اس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے۱۰۰۰ میں شاہ عباس صفوی نے یہاں اور کنویں کھدوائے تھے اور مقام رحبہ میں بعض مومنین دفن ہیں جن میں ہمارے دادا الشیخ حسن الشیخ عیسٰی بن الشیخ حسن الفرطوسی النّجفی المعروف بہ فرطوسی کبیر بھی دفن ہیں جن کے بارے میں ان کے شاگرد شیخ محمد نے مذکورہ کتاب میں لکھا ہے ابن طاوس نے سابقہ مصدر میں ایک تیسری روایت بھی بیان کی ہے کہ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ امام زین العابدین اپنے جدّ بزرگوار امیر المومنین کے روضہ کی زیارت جناب ابو حمزہ تمالی کی رفاقت میں کی جس میں ابو حمزہ نے کہا میں ان کے ناقہ سے سائے میں چل رہا تھا اورامام مجھ سے باتیں کر رہے تھے اتنے میں ہم مقام الغرییّن پہنچے یہ ایک سفید ٹیلہ سے روشنی پھوٹتی ہے تو وہ اپنے ناقہ سے اترے اور دونوں جوتے اتاردیئے اور مجھ سے فرمانے لگے اے ابو حمزہ یہ میرے بزرگوار علی بن ابی طالب کی قبر ہے پھر انہوںنے اس کی زیارت کی ۔ کوئی ایسی روایت نہیں یہ مذکورہ روایات کی صحت کو مشکوک یہ بعید ہے۔ اور اس میںکو ئی شک نہیں ہے کہ قبر کے اوپرکوئی علامت یا پتھر کا شاخص تھا جو ان کی رہنمائی کرتی تھی جب زیارت کے جاتے تھے جس کے بارے بعد میں بیان ہوا۔
شیعوں کی ایک جماعت قبر امامـ کی زیارت کرتی ہے
دوسری صدی ہجری کی تیسری دھائی میں جب بنی امیہ کی حکومت کمزور ہونا شروع ہوئی تو شیعہ گروہ در گروہ قبر امیر المومنین کے لئے آنا شروع ہوئے ہمارا خیال خاصّانِ اہل بیت کو تو موضع قبر کے بارے میں معلوم تھا بلکہ ان زائرین کا ایک بڑا گروہ مدینہ منورہ میں امام محمد باقر اور امام جعفر صادق سے موضع قبر کے بارے میں استفسار کیا تو ائمہ نے انہیں بتایا اور سمجھایااس حوالے سے ''کتاب الفرحة'' میں بہت ساری روایتیں موجود ہیں کہ ایک سے زیادہ مرتبہ ان دونوں آئمہ سے اس بارے میں پوچھا ہے تو یہ بعید نہیں ہے انہوں نے ان لوگوں کو زیارت کی تاکید کی ہو ۔ لیکن آئمہنے ان کو بچ بچاکر جانے کی نصیحت فرمائی تاکہ بنی اُمیّہ کے جاسوس کی نظروں سے زیارت گاہ محفوظ رہے۔
کتاب الصّحیفہ میں ایک روایت آئی جس کے مطابق شیخ مفید نے۱۹مزار کا ذکر کیا ہے اور اسے ابن طاوس الفرحة میں بھی نقل کیا ہے منع بن حجّاج دھب القوی نے کہا میں ایک دن مدینہ منورہ میں اباعبد اللہ کے پاس چلا گیا اورکہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں میں امیر المومنین کی زیارت کے لئے آپ کے پاس آیا ہوں تو آپ نے فرمایا تو نے اچھا کام نہیں کیا اگر تم ہمارے شیعہ نہیں ہوتے تو ہم کبھی تمہاری طرف نہیں دیکھتے جن کی تو زیارت کیوں نہیں کرتے ان کی تو اللہ او ر اس کے رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم اور مومنین زیارت کرتے ہیں۔ بلکہ صفوان بن مہران جمّال کی روایت سے یہاں تک واضح ہوتی ہے کہ موضع قبر امام جعفر صادق اور عبد اللہ بن الحسن جب اپنے جدّ بزرگوار کی زیارت کیلئے تشریف لے جانے کے بعد مجہول بھی نہیں رہی یہ اس روایت کے آخر میں مذکور ہے اور یہ روایت مکمل عنقریب بیان کی جائے گی۔ ''یہ قبر جہاں لوگ آتے ہیں۔ ''
اور یہ روایت تاکید کرتی ہے لوگ مناسبت سے قبل بھی زیارت کو جاتے تھے تو یہ بدیہی بات زیارتوں کا سلسلہ تو سفّاح کے دور میں ہی تھا نہ کہ منصور کے دور میں شروع ہوا۔ اس سے ملتی جلتی ایک اور روایت بھی ابن طاوس ابی العوجاء الطّائی سے بیان کرتے ہیں کہ ایک انہوں نے امام جعفر صادق سے ایک قبر کے بارے میں پوچھا جو کوفہ کے کنارے واقع تھا اور کیا یہ امیر المومنین کی قبر ہے؟ تو آپ نے فرمایا ہاں واللہ شیخ اور یہ بات ابن عقیدہ کی کتاب فضائل امیر المومنین میں ہے میرے اندازے سے یہ خبر بھی ابی العباس سفّاح کے زمانے کی ہے ۔ روایت میں ابی العوجاء کا بیان ہے کہ امام جعفر صادق ایک دو غلاموں کے ساتھ مقام حیرہ کی جانب گزرے تو دوسرے روز صبح ابو العوجاء ان کا انتظار کررہے تھے۔ اتنے میں امام تشریف لائے تو انہوں نے امام کا استقبال کیا اور ٹھنڈا پانی کے ساتھ کھجور پیش کیا اور اس قبر سے متعلق پوچھا۔
سفّاح کے زمانے میںامام جعفر صادق ـکامرقدامیرالمومنین کی زیارت کرنا
ایک پرانی غیر شیعی روایت کے مطابق امام جعفر صادق ابی عباس سفّاح کے دور میں عراق آئے تاکہ اس سے ملاقات اور اپنے جدّ بزرگوار امیر المومنین کی زیارت بھی کرسکے لیکن روایت اس زیارت کے بارے میں تفصیل نہیں بتاتی ۔ مگر میں اب اہلسنّت کی کوئی ایسی روایت نہیں دیکھی جو امام جعفر صادق کی عراق آمد یا سفّاح کے دور میں اس سے ملاقات کے واقعے کی تصدیق کرتی ہو۔ لیکن اس کے دور میں امام کی زیارت کے لئے نہیں جانا غیر منطقی ہے اور مشکوک دعویٰ ہے خاص اس کا موقف ظاہراً اپنی خلافت سے الگ نہیں تھا اور نہ اپنے بھائی کی خلافت سے مختلف تھا اور اس اہل بیت کو اپنے بیعت کرنے کیلئے انقلاب کے دوران یا کامیابی کے مجبور نہیں کیا تھا یہ تو معلوم ہے۔بہت سارے مصادر کے مطابق سفاح کی سیاست علویوں کے ساتھ اس کے بھائی منصور سے مختلف تھی کیونکہ سفاح نے امویوں اور ان کے ماننے والوں سے انقلاب کے بہانے خوب انتقام لیا اور علویین کو اپنے قریب کیا اور اب اس کے اطراف شیعہ تھے۔ اور جو علماء اہل بیت کی روایتوں کی تصدیق کرتی ہے کہ امام جعفر صادق اپنے چچا زاد بھائی عبد اللہ بن الحسن کے ساتھ سفّاح سے ملاقات کی اسے ابن کثیر نے اپنی تاریخ الکامل میں جبکہ ابن جوزی نے ''المنتظم'' میں بیان کی ہے۔
عبد اللہ بن حسن ابی العباس سفّاح کے پاس آئے اور سفّاح کے نزدیک بنی ہاشم اور اہل بیت وغیرہ کی عزت تھی۔ اس ملاقات میں اس نے عبد اللہ بن حسن کو درہم اور بہت سارا مال دیا تاکہ مدینہ منورہ لے جا کر بنی ہاشم کے درمیان تقسیم کرے اور کتاب المنتظم میں یہ بات آئی ہے کہ جب انہوں نے یہ اموال لاکر تقسیم کیا تو بنی ہاشم نے سفّاح کا شکریہ ادا کیا تو عبد اللہ نے کہا یہ لوگ بیوقوف ہیں اس آدمی کا یہ لوگ شکریہ اداکررہے ہیں جو بعض دوسرے لوگوں سے لاکر انہیں دیا جب یہ خبر سفّاح تک پہنچ گئی تو اس نے عبد اللہ کے خاندان کو یہ بتادیا تو انہوں نے کہا تو اسے ادب سکھاو تو اس نے کہا جس نے سختی کی تو اس کے ساتھ نفرت ہوگی اور جو نرمی کرتا ہے تو اس کی محبت لوگوں کے دلوں میں ہوگی۔ اور عفو در گزر بہترین تقویٰ ہے اور تغافل اہل کرم کا عمل ہوتا ہے۔
یہ بعید نہیں ہے کہ امام جعفر صادق اس مجلس میں ہاشمیوں کے سردار تھے خاص طور سے علماءے اہل بیت کی بعض روایات امام عبد اللہ بن حسن کی رفاقت میں سفاح سے ملاقات کی خبر کی توثیق کرتی ہیں جسے ہم بیان کریں گے۔ عبد الحلیم جندی نے الصحیفہ میں اپنی کتاب امام صادق سے یو ں نقل کیا ہے کہ سفّاح نے عبد اللہ بن حسن سے ان کے دو بیٹے محمد اور ابراہیم کے بارے میں پوچھا لیکن ان دونوں کے چھپنے کا پتہ چلا تو انہیں طلب کرنے کے حوالے سے خاموش رہا لیکن وہ اس روایت کے مصادر بیان نہیں کرتا اور میں اس بات کو نہیں مانتا اس لئے کہ میرے پاس تاریخی مصادر ہیں جو محمد ذی النّفس ذکیّہ کے قیام کے بارے میں ہے اگر یہ بات صحیح ہے یہ مقام حیرة میں ہوسکتے ہیں کیونکہ ابا العباس کوفہ میں زیادہ عرصہ نہیں رہا اور ۱۳۲ ھ بمطابق ۷۵۰ ء کو وہ کوفہ چھوڑ کر حیرہ چلاگیا اور وہاں وہ اپنے چچا داود بن علی کو والی بنایا لیکن سفّاح وہاں بھی زیادہ عرصہ نہیں رہا۱۳۴ھ بمطابق۷۵۲ ء میں وہ انبار چلاگیا ۔ ابن قتیبہ ، طبری، ابن اثیر کے مطابق وہ اپنی آخری عمر تک انبار کو ہی دارالخلافہ بناکر رکھا یہاں تک کہ وہ ۱۳ذی الحجة ۱۳۶ھ کو وفات پاگئے۔ گمان غالب یہ ہے کہ امام جعفر صادق اس دوران کوفہ اور حیرہ کے درمیان کہیں تھے جب امام زیارت کے لئے تشریف لے گئے تھے۔
بعض روایات یہ بھی بتاتی ہے کہ امام کوفہ سے قبر مطہر امیر المومنین کی طرف ایک مرتبہ گئے تھے اور حیرہ سے دوسری مرتبہ گئے تھے اور امام صادق کی اقامت وہاں اتنی کم نہیں تھی تو میرا نہیں خیال ہے کہ امام نے یہ طویل مجلس شاہی کی لالچ میں گزارے ہوں ۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ امام عراق میں سفاح یاکسی اور سے کوئی مال متاع حاصل کرنے کی غرض سے گئے تھے۔ بلکہ امام کے اہداف و مقاصد کچھ اور تھے۔ ان میں ایک مقصد تو یہ تھا کہ اپنے اہل بیت سے ضررّ ہٹانے کے لئے گئے تھے جو انہیں عباسیوں کی خلافت او رفتح و کامرانی کی خوشی میں شرکت نہیںکرنے کی وجہ ہوا تھا ۔ اس کے علاوہ اہل بیت کے ماننے والے اور وہاں کے شیعوں سے تجدید عہد کیلئے گئے تھے ۔ علوم آل محمد کی نشرو اشاعت بھی آپ کے مقاصد میں شامل تھی جسے اموی حاکموں نے پس پشت ڈال دیا تھا۔اس کے علاوہ شاید یہ بھی آپ کے مقاصد میں شامل تھا کہ آپ جد بزرگوار کی زیارت کریں اور موضع قبر مطہر کی آپ دوستداروں اور مسلمانوں کیلئے نشاندہی کریںخاص طور پر جب بعض ایسے اخبار رائج ہونے جن کی وجہ سے مسلمانوں کیلئے موضع قبر مطہر باعث تشویش ہوا تھا۔
اس میں کوئی شک نہیں جامع مسجد کوفہ میں کئی دفعہ امامصادق کے درس و مناظر ہوئے تھے آپ کی فیوضات سے پوری قوم مستفید ہوئی اس طرح علوم اہل بیت کی نشرو اشاعت ہوئی یہاں ممکن ہے مسجد کوفہ میں آپ سے بہت ساری روایتیں اور ان کی تفسیر بیان ہوئی یہ تو ہر ایک کو معلوم ہے کہ خلافتِ عباسیہ کے ابتدائی ایام علماءے اہل بیت کے سامنے ان کی علوم کی نشرو اشاعت کے دریچے کھل گئے اور ان کی پریشانیاں ختم ہوئیں اور قبر مطہر امام علی اور شہید اکبر امام حسین کی قبر زیارت عام ہوئی تو اہل کوفہ اور اس کے آس پاس وغیرہ کے لوگ جوق در جوق زیارت آئمہ کے لئے آنے لگے ۔ بعض روایات سے یہ بھی ظاہر ہے امام صادقـحیرہ میں سفاح کی مہمانی کے دوران رات کو نکل کر قبر امیر المومنین کی زیارت کیلئے جاتے تھے اور وہیں نماز پڑھ کر فجر سے قبل حیرہ واپس آتے تھے۔ ابن طاوس نے اس حوالے سے کتاب الفر حة میں اسحاق بن دیر سے ایک روایت نقل کی ہے جو کہ ثقہ بھی ہے۔امام صادق فرماتے ہیں کہ ''جب میں حیرہ میں ابی العباس کے پاس تھا تو رات کو قبر امیر المومنین پر آتا تھا جو حیرہ کے کنارے غری النّعمان کی جانب واقع تھی اور نماز شب وہاں پڑھ کر فجر سے قبل نکلتا تھا۔'' اس زیارت کی شیخ حواسی نے اپنی کتاب ''تہذیب الاحکام ''میں توثیق کی ہے انہوں نے عبد اللہ بن سلیمان سے روایت کی ہے کہ ''ابی العباس کے زمانے میں جب ابو عبد اللہ امام صادق کوفہ میں پہنچے تو لباس سفر میں ہی کوفہ کے پل پر آکر ٹھہرے اور اپنے غلام سے فرمایا کہ مجھے پانی پلادو تو اس ملاح کے کوزے سے پانی بھر کر آپ کو پلایا ''اگر چہ طوسی کی یہ روایت نہ زیادہ قبر امیر المومنین کے بارے میں بیان کر رہی ہے اور نہ ہی آپ کی سفاح سے ملاقات کا ذکر کر رہی ہے لیکن آپ کا ایسا کرنا محال ہے۔ کیونکہ آپ اپنے چچا زاد بھائی عبد اللہ بن حسن کے ہمراہ زیارت کی تھی جیسا کہ ''کتاب الفرحة ''میں عبد اللہ بن زید سے یوں بیان ہے کہ''میں نے جعفر بن محمد اور عبد اللہ بن حسن کو غرّی میں قبر امیر المومنین کے پاس دیکھا تھا اتنے میں عبد اللہ نے اذان دی اور نماز قائم ہوئی اور جعفر بن محمد کے ساتھ نماز پڑھی اور میں نے جعفر کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ قبر امیر المومنین ہے۔''شاید یہ زیارت وہی ہو جسے ابن طاوس نے صفوان بن مروان الجمّال سے روایت کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میں اپنے اونٹ پر جعفر بن محمد بن علی نے امام صادقـکو بٹھا کر جب نجف پہنچے تو آپ نے فرمایا اے تھورا آہستہ چلا تاکہ حیرہ میں آتے اور جس جگہ کی طرف آپ نے اشارہ فر مایا جب ہم وہاں پہنچے تو آپ وہاں اُترے اور وضوء کیا پھر آپ اور عبد اللہ بن حسن آگے بڑھے اور ایک قبر کے پاس آپ دونوں نے نماز پرھی جب یہ دونوں نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے پوچھا میں آپ پر قربان ہوجاوں یہ کس کی قبر ہے؟تو آ پ نے فرمایا یہ علی بن ابی طالب کی قبر ہے جہاں لوگ آتے رہتے ہیں۔ اور کوئی دوسری زیارت ہو جو آپ نے اپنے چچا زاد بھائی کے ہمراہ ہی میں کی تھی۔
بہرحال اس میں کوئی شک نہیں کہ علوی قافلہ امام جعفر صادق اور عبد اللہ بن حسن کی ہمراہی میں کوفہ میں پہنچے کسی کو پتہ بھی نہ چلا ''میرے نزدیک یہ بھی بعید نہیں ہے کہ ان دونوں کی استقبال کو پورا کوفہ نکلا تھا۔'' اس حوالے سے ابن طاوس کی روایت سے زیادہ مضبوط و محکم کوئی نہیں ہے جسے انہوں نے محمد بن معروف الہلالی سے نقل کی ہے کہ ''جب حیرہ میں جعفر بن محمد امام صادق کے پاس گیا وہاں پر لوگوں کی کثرت دیکھ کر میری سمجھ میں آیا کہ یہ لوگ یہاں کیونکر جمع ہیں۔ جب چار دن گزرے اور لوگ چلنے لگے تو امام نے مجھے اپنے پاس بلاکر کہا کہ یہ قبر امیر المومنین ہے تو میں ان کے ساتھ قبر کی جانب گیا۔''اگر چہ اس روایت میں موضع قبر کی تعین نہیں ہوئی ہے اور یہ زیارت ان کی پہلی زیارت بھی نہیں ہے یہاں پر ابن طاوس اور ایک روایت حسین بن ابی العلاء الطائی جس نے اپنے باپ سے نقل کی ہے کہ امام صادق حیرہ کی جانب چل پڑے اور ان کے غلام بھی تھا اور وہ تو سواری پر تھے تو یہ خبر کوفہ میں پھیل گئی ۔ وہ کہتا ہے میں نے ان سے پوچھا یہ جو اس کنارے پر جو قبر ہے''کیا امیر المومنین کی قبر ہے؟ ''تو انہوں نے فرمایا واللہ اے شیخ تم سچ کہہ رہے ہو۔ میرے خیال میں شاید امام نے جان بوجھ کر ایسا کیا تھا تاکہ یہ زیارت کی خبر لوگوں کے درمیان پھیل جائے اس لئے کہ کسی بھی مہم کو پھیلانے کیلئے یہ پہلا قدم ہوتا ہے۔
ابن طاوس نے امام صادق کی دوسری مرتبہ قبر علی کی زیارت کو معلی بن خنس سے نقل کی ہے جو خود امام کے ساتھ حیرہ میں موجود تھا۔ ہم آکر غرییّن میں پہنچے تو انہوں نے مجھے تھوڑی دیر رکنے کیلئے کہا پھر ہم چل پڑے یہاں تک ہم موضع پر پہنچے تو انہوں نے مجھے اترنے کو کہا اورخود بھی اتر گئے اورمجھ سے کہا یہ قبر امیر المومنین ہے پھر ہم دونوں نے نماز پڑھی ۔ اس روایت کو ابن عقدہ کو فی نے بھی اپنی کتاب فضائل امیر المومنین میں بیان کی ہے۔ اور ابن طاوس نے بعد میں ان کی تمام روایتوں کو بیان کیا ہے۔
مجھے لگتا ہے اس زیارت میں امام صادق اور عبد اللہ بن حسن کے ساتھ یزید بن عمر بن طلحہ اور اسماعیل بن امام صادق بھی تھے۔ کیونکہ ابن طاوس نے اس حوالے سے یزید بن عمر سے بھی روایت بیان کی ہے وہ کہتاہے ''جب وہ مقام ثویہ جو حیرہ اور نجف کے درمیان مقام ذکوات بیض کے نزدیک واقع ہے، پہنچے اور اترے ان کے ساتھ اسماعیل بھی اترے اور میں بھی ان دونوں کے ساتھ اترا پھر ہم نے ساتھ نماز پڑھی۔ ''راوی نے یہ تاکید ساتھ بیان کیا ہے کہ امام صادق نے ہی قبر علی کو عہد عباس میں ظاہر کیا جو عہد اموی میں پوشیدہ ہوگئی تھی۔ اور ایک سے زیادہ روائتیں ان کی حیرہ میں قیام کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
طوسی نے ''تہذیب الاحکام ''میں مذکورہ روایت کو عبد اللہ بن طلحہ النّھدی سے نقل کیا ہے لیکن مجھے یہ نہیں معلوم یہ وہی زیارت ہے یا کوئی اور زیارت جس میں نہدی بھی امام اور ان کے فرزند کے ساتھ تھا وہ کہتا ہے ''ہم جب عبد اللہ امام صادق کے ہمراہ مقام غرّی میں پہنچے تو وہاں ایک جگہ پر آپ نے نماز پڑھی پھر اسماعیل سے کہا اٹھو اور اپنے حسین کے سر مبارک کے پاس نماز پڑھو اتنے میں میں نے پوچھا کیا اسے شام نہیں لے جایا گیا تو آپ نے فرمایا لیکن ہمارے مولانا نے لاکر یہاں دفن کیا تھا۔'' اور یہی روایت کتاب ''کامل الزّیارات ''میں موجود ہے کہ'' اٹھو اپنے جدّ بزرگوار حسین پر سلام پڑھو اتنے میںمیں نے کہا میں آپ پر قربان جاوں کیا حسین کربلا میں نہیں ہے تو آپ نے فرمایا ہاں جب ان کا سر مبارک شام لے جایا جارہا تھا تو ہمارے مولا نے لاکر امیر المومنین کے پاس دفن کیا تھا۔ ''
اور یہ روایت ''کتاب الفرحہ ''میں بھی وارد ہوئی ہے آپ ملاحظہ کریں کہ یہ روایت سابقہ کے دائرہ میں ہی ہے لیکن راوی نے اس میں تھوڑا اضافہ کیا ہے یا انہوں نے اپنے تصورات سے امام کی نمازوں کی تفسیر کی ہے۔ شاید اس نے یہاں موضع راس الحسین کا ارادہ کیا ہو۔ کیونکہ اہل بیت سے روایات کے مطابق جب امام علی بن حسینـکو شام سے کربلا سر شہداء کے ساتھ لایا جارہاتھا تو اس سر مبارک حسین کو جسد مطہر سے ملادیا تھا۔ اور کہا جاتا ہے ہاشمی سواری جب قبر امیر المومنین کے نزدیک پہنچے تو ٹھہر گئے اور سر مبارک حسین کو وہاں رکھ کر مصیبت بیان کی ۔ اور ابھی اسی مقام پر روضہ مقدس امیر المومنین میں مسجد الراس کے نام سے ایک مسجد موجود ہے اگرچہ بعض روایات کے مطابق سر حسین اپنے والد بزرگوار کے پاس دفن ہوئے شاید موضع سے مراد امام علی کی قبر کی سر کی جانب والی جگہ ہو جہاں بعد میں مسجد الراس کے نام سے ایک مسجد بنی ہواور اسے ہم آگے سطروں میں بیان کرینگے۔ یہاں ہم یہ بھی بتانا ضرور سمجھتے ہیں کہ موضع سر مبارک ابی عبد اللہ حسین کے بارے میں مختلف روایتیں ہیں ۔ جن میں سے ایک روایت کی مطابق امام علی بن حسین اپنی پھوپھی، شہزادی زینب اور باقی اسیران اہل بیت کے ہمراہ شام سے کربلا آرہے تھے تو آپ نے اپنے بابا کے سر مبارک کو بھی لاکر ان کے جسد مطہر سے ملاکر دفن کیے تھے۔ اور یہی مشہور ہے اور یہ بھی کہا جا تا ہے اسے لے جاکر مدینہ منورہ میں جنت البقیع میں قبر زہرا ء کے پاس دفن کیا گیا ایک قول یہ بھی ہے سر مبارک کو خود یزید کی الماری میں رکھا گیا اور اس کے مرنے کے بعد شام میں ہی سر مبارک کو دفن کیا گیا اور یہ بھی کہا جاتا ہے اہل عسقلان سے لاکر قاہرہ میں دفن کیا گیا ایک اور بات کہ مقام ''مرو ''میں دفن ہوا ، مقام رقّہ میں دفن ہوا۔ نجف اشرف میں دفن ہوا یہ تمام روایات کو ڈاکٹر حسن حکیم نے اپنی کتاب ''تاریخ نجف ''میں تفصیل سے بیان کیا ہے لیکن ان کی رائے میں نجف والی بات زیادہ قوی اور ثقہ ہے۔ واللہ اعلم!
کلینی نے ایک صفوان جمّال سے کافی میں نقل کیا ہے کہ امام صادق عامر بن عبد اللہ بن جزاعة اذری کو قبر امیر المومنین کے بارے میں یوں بتایا ''جب امیر المومنین شہید ہوئے تو امام حسن کو تشویش لاحق ہوئی پھر جنازے کو ظہر کوفہ نجف کے قریب لے کر آئے جو غرّی سے بائیں جانب جبکہ حیرہ کے دائیں جانب واقع ہے پھر زکوات بیض کے درمیان دفن کئے ۔ کچھ عرصے کے بعد میں وہاں گیا مجھے اس موضع کے بارے میں شک ہونے لگا تو میں آکر اس کے بارے میں بتایا۔ آپ نے مجھ سے تین مرتبہ فرمایا تم نے گریہ کی اللہ تم پر رحم کرے۔''
یہ روایت میں ابن طاوس کی ''کتاب الفرحة ''میں بھی موجود ہے اور اس میں لوگوں نے قبر علی کے متعلق ایک دوسرے سے پوچھتے رہے یہاںتک کہ امام صادق نے ان کو بتایا اور گمان غالب یہ ہے کہ ابن جزاعة ازری اکیلا قبر علی کی زیارت کے لئے نہیں گیا بلکہ بعض اصحاب بھی ہمراہ گئے اس طرح آہستہ آہستہ یہ سلسلہ بڑھتا گیا اور پھر کوفہ میں یہ مشہور ہوگیا اس روایت کو ابن عقدہ نے اپنی کتاب ''فضائل امیر المومنین ''میں بیان کیا ہے جسے شیخ طوسی اور ابن طاوس دونوں نے بعد میں نقل کیا ہے ''یونس بن طغیان سے روایت ہے کہ میں ابو عبد اللہ امام صادق کے پاس گیا جب وہ حیرہ میں تھے انہوں ایک حدیث بھی بیان کی جسے ہم نے روایت کی کہ ایک وہ ان کے ساتھ ایک مخصوص جگہ پہنچے تو فرمایا اے یونس تو اپنی سواری کے قریب آو میں نے حکم کی تعمیل کی پھر انہوں نے اپنا ہاتھ بلند کیا اور خفی آوازمیں دعا کرنے لگے جسے میں نہیں سمجھ رہا تھا پھر وہ نماز پڑھنے لگے جس میں انہوں نے چھوٹی سورتیں آواز کے ساتھ پڑھیں میں بھی ان کی اتباع کی پھر انہوں نے دعا کی تب مجھے معلوم ہوا اور میں نے سمجھا اس کے بعد فرمایا اے یونس کیاتمہیں معلوم ہے کہ یہ کونسی جگہ ہے ؟ میں نے کہا آپ پر قربان ہوجاوں میرے مولا واللہ میں نہیں جانتا لیکن میں اتنا جانتا ہوں کہ میں اس وقت ایک صحرا میں ہوں اتنے میں آپ نے فرمایا یہ قبر امیر المومنین ہے''۔یونس کی روایا ت اگرچہ تفریشی کی کتاب ''نقد الرجال ''کے مطابق ضعیف شمار ہوتی ہیں لیکن اس کی بات اس حوالے سے دوسروں کی روایات میں رخنہ ڈالتی ہے۔
ہم نے جس زیارت کی بات کی جس میں صرف امام صادق اور ان کے رفقاء نے ہی نہیں کی اور مختلف زیارتیں مختلف شیعیان علی نے کی ہے جسے کلینی نے امکانی میںبیان کیا ہے اور ابن طاوس نے الفرحة میں بھی ذکر کیا ہے عبد اللہ بن سنان سے روایت ہے کہ انہوں نے قبر علی کی زیارت عمر بن یزید کی ہمراہی میں جو موضع قبر سے واقف تھا کی ہے۔ اور حفص الکناسی کہتا ہے کہ ہم ایک دفعہ مقام غرّی میں گئے تو وہاں ایک قبر دیکھی تو عمر بن یزید نے ہم سے کہا کہ'' تم سب یہاں اتر جاو یہ قبر امیر المومنین ہے ہم نے ان سے پوچھا تمہیں کیسے اس بارے میں معلوم ہے؟ تو اس نے کہا میں اس سے قبل بھی ابا عبد اللہ امام صادق کے ساتھ ایک سے زیادہ مرتبہ یہاں آ چکا ہوں انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ یہ قبر علی ہے ''جو اشخاص اس میں روایت امام صادق کے ساتھ شامل ہیں ان کی توثیق تفریشی نے اپنی کتاب ''نقد الرجال'' میں کی ہے۔
قارئین کرام آپ نے ملاحظہ کیا جو روضہ مقدس سے واقف لوگوں کا دائرہ وسیع اور زیادہ تھا۔ اور یہ تمام شیعیان اہل بیت خاص طور سے کوفہ والے جانتے تھے لیکن چونکہ ظالم حکومت موضع قبر علی کی توثیق کرنا نہیں چاہتی تھی جس کے باعث شکوک و شبہات نے جڑ پکڑی۔
الشیخ محبوبہ نے ابن طاوس کی ''الفرحة ''اور مجلسی کی ''تحفة الزّائر ''سے ایک روایت نقل کی ہے ''امام جعفر صادق جب حیرہ پہنچے توآپ نجف کی طرف گئے اس وقت وہاں پر تین قبور محرابیں تھیں ان میں ایک امیر المومنین کی قبر دوسری موضع سر حسین جبکہ تیسری موضع منبرالقائم تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ روایت کی تفسیرمیں شیخ کی رائے صحیح جس کا انہوں نے حوالہ دیا ہے اور جب امام صادق کی زیارت کے وقت موضع قبرمیں کوئی محراب نہیں تھا اور امام نے ہر موضع پر یعنی موضع قبر علی ، موضع راس الحسین اور موضع منبر القائم پر نماز پڑھی ''اور یہ روایت ہے وہ کہتا ہے ''جب ابو عبد اللہ امامصادق مقام حیرہ میںتھے مجھ سے کہا تم لوگ اپنے خچر اور گدھوں پر زین کس دو اور سوار ہوجاو میں سوار ہوا یہاں تک کہ ہم مقام الجرف میں داخل ہوئے پھر امام وہاں اترے اور دو رکعت نماز پڑھی پھر تھوڑا آگے بڑھے دو رکعت نماز پڑھی پھر دوبارہ اور آگے بڑھے اور دو رکعت نماز پڑھی۔ اس کے بعد دوبارہ سوار ہوئے اور واپس آئے اتنے میں میں نے پوچھا کہ میں آپ پر فدا ہوجاوں یہ پہلی دو رکعتیں، پھر دوسری اور پھر تیسری دو رکعتیں کیا تھیں۔ تو آپ نے فرمایا پہلی دو رکعتیں موضع قبر امیر المومنین کی تھی۔ دوسری دو رکعتیں موضع راس الحسین پر جبکہ تیسری دو رکعتیں موضع منبر القائم پر تھیں۔''
ابن طاوس نے اس روایت کو مبارک الخبّار اور ابان بن لقلب سے الفرحة میں نقل کیاہے اور دوسری سند سے ابی الفرج السیّدی نے کہا ''میں عبد اللہ جعفر بن محمد کے ہمراہ تھا جب وہ حیرہ میں آئے تھے تو ایک رات انہوں نے خچر پر زین ڈالنے کو فرمایا پھر وہ سوار ہوئے میں بھی ان کے ہمراہ تھا ۔ یہاں تک کنارے پہنچے تو وہ اترے اور دو رکعت نماز پڑھی پھر آگے بڑھے دو رکعت نماز پڑھی پھر آگے بڑھے دو رکعت نماز پڑھی۔ میں نے پوچھا میں آپ پرقربان ہوجاؤں یا ابن رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم آپ نے تین مواضع میں نماز پڑھی؟ آپ نے فرمایاپہلا موضع قبر امیرالمومنین دوسرا موضع راس الحسین جبکہ تیسرا موضع منبر القائم ہیں۔''اس کے علاوہ بعض کتابوں میں زیادہ مبالغہ آرائی سے نظر آتی ہے جس کی کوئی ماخذ میں نہیں ملے اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ توثیق کے بجائے مزید مشکوک بناتی ہے بلکہ آنے والوں کے لئے اس بارے میں وہم و گمان میں اضافہ ہوتا ہے اگر چہ کثرت حب وولاء کی وجہ سے ہوسکتی ہے مرقد امام علی اور ان کے روضہ ایک سے زیادہ امور سے بیان ہوجائے گی۔
مرقد امامـکی علامت
سیّد ابن طاوس کی ''کتاب الفرحة ''میں ایک روایت نقل ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام جعفرصادق وغیرہ جب امام علی کی قبر کی زیارت کے لئے گئے تھے تو انہوں نے پتھر یا کوئی چیز قبر علی اور موضع راس الحسین پر رکھ دیا تھا تاکہ بعد میں آنے والوں کیلئے علامت رہے۔ پس ایک روایت ابن طاوس نے اپنے چچا سے اور انہوں نے ابن قولویہ کی سند سے نقل کی ہے۔ علی ابن اسباط اس علامت کو اٹھاتے ہوئے کہا کہ ابو عبداللہ امام صادق نے فرمایا کہ تم جب کبھی غرّی میں آ و تو وہاں دو قبریں دیکھو گے ان سے ایک چھوٹی اور دوسری بڑی ہوگی بڑی قبر امیر المومنین ہے جبکہ چھوٹی راس الحسین ہے۔ یہ روایت ابن قولویہ کی کتاب ''کامل الزیارات ''اور ابن عقدہ کی ''فضائل امیر المومنین'' میں آئی ہے شاید اس بات سے''وامّا الصّغیر فراس الحسین'' مگر چھوٹی راس الحسین سے مراد وہی موضع ہے جس کا ذکر گزر چکا لیکن یہ نہیں معلوم کہ یہ کب سے تھا۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مرقد امام میں ایک علامت رکھی ہوئی تھی جس کے ذریعے ہر کسی کو اس موضع کے بارے میں معلوم ہوتا تھا۔یہ صرف قبر امیر المومنین کے ساتھ خاص نہیں ہے بلکہ زمانہ قدیم و جدید ہر قبر کے ساتھ یہی ہوتا آرہا ہے دراصل یہ ایک غیر ارادی عمل ہوتا ہے یہاں تک نامعلوم میّتوں کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے تاکہ قبر کی مٹی بچ جائے اور قبر کے وجود کے بارے میں پتہ چل جائے۔اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ علامت امام کو دفن کرنے والوں نے ہی رکھی تھی۔
اس کی تائید سیّد ابن طاوس کی روایت سے بھی ملتی ہے جسے انہوں نے علی بن حسن نیشاپوری کی سند سے اپنی ''کتاب الفرحة ''میں بیان کی ہے۔ وہ کہتا ہے کہ میں نے امام جعفر بن محمد بن حسن بن حسن کو یہ فرماتے ہوئے سناہے انہوں نے اپنے والد سے سنا ہے کہ صفوان الجمال نے کہا ''جب وہ مکہ میں تھے اُن سے قبر امیر المومنین کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے ایک لمبی حدیث بیان کی اور آخر میں کہا جب میں اور جعفر بن محمد امام صادق قبر امیر المومنین پر پہنچے تو جعفر بن محمد اترے اور وہاں کھودنا شروع کیا پھر وہاں سے ایک لوہے کا سکہ نکالا پھر زمین کی سطح کو برابر کیا اور نماز کی تیاری کی اور چار رکعات نماز پڑھی اس کے بعد مجھ سے فرمایا اے صفوان اٹھو اور وہی کرو جو میں نے کیا اور جان لو کہ یہ قبر امیر المومنین ہے ''۔قارئین کرام اب آپ ملاحظہ کریں کہ قبر امام لوگوں کی طبیعت کے اوپر نہیں چھوڑی گئی ہے کہ وہ جو چاہے کر گزرے بلکہ باقاعدہ وہاں علامت رکھی گئی ہے تاکہ زیارت کے لئے آنے والوں کی رہنمائی ہوسکے۔ صفوان نے یہاں جو لوہے کا سکہ کی بات کی اس حوالے سے گمان غالب ہے کہ یہ حسین نے رکھی ہو یا کسی اور نے رکھی ہو جو دفن کے موقع پر ساتھ تھے یا امام زین العابدین نے رکھی ہو جب آپ اپنے فرزند امام باقر کے ساتھ جدبزرگوار کی زیارت کے لئے تشریف لائے تھے تاکہ یہ علامت رہے اپنے اہل بیت اور آپ کے ماننے والوں کے لئے جو بعد میں وہاں آئیں۔
امام جعفر صادق ـکی مرقد امیر المومنین ـکی زیارت،خلافت منصور میں
جب سفاح نے اپنے چچازاد علوی بھا ئیوں کے ساتھ محبت و عاطفت کا اظہار کیا کیونکہ اسے یقین تھاکہ وہ بیعت کریں گے اور اسے اہل بیت کے خون کے انتقام کے اعلان کے بارے میں بھی معلوم تھا اور اس کی بیعت پر اہل بیت میں کچھ راضی ہوں گے اسے یہ بھی معلوم تھا جیساکہ مقام ابواء میں جو مدینہ منورہ کے قریب واقع ہیں۔ جہاںبنی امیہ کے آخری عہد میں محمد ذوالنفس الزکیہ بن عبداللہ ابن الحسن کی بیعت کی گئی تھی۔ان کے بیعت کرنے والوں میں سے کچھ لوگ ابھی تک زندہ تھے جن کابھا ئی ابوجعفر منصور تھا ۔ابن کثیر کے مطابق موصوف نے اس بیعت میں شرکت کی تھی ۔
اور سفاح محمد اور اس کے بھا ئی رو پو شی سے متعلق بھی جانتے تھے اور سال۱۳۶ھ/ ۷۵۳ ء کو وفات پا گیا ۔اور اسی سال کے دوران ابو جعفر منصور نے اپنے طرف سے حج پر جانے کی اجازت مانگی اور اس میں اس کا بڑا مطلب تھا کہ محمد اور ابراہیم جو عبداللہ بن حسن بن حسن بن علی ابن ابی طالب کے فرزند تھے جنہوں نے اس کے پاس آنے سے انکا ر کیا تھا جب بنی ہاشم کے دوسر ے تمام لوگ اس سے ملنے کے لیے آئے تھے ۔یہ بات طبری نے اپنی تاریخ میں بیان کی ہے ۔اور سال۲۴۰ھ/۷۵۷ ء وہ دوبارہ حج کے لئے روانہ ہو ئے اس زمانے میں مدینہ کا گورنرزیاد بن عبداللہ الحارثی تھا ۔ اسے یہ فکر لاحق تھی کہ عبداللہ بن حسن بن حسن ابن علی ابن ابی طالب کے فرزند محمد اور ابراہیم نے اس وقت اس کے پاس آنے سے مخالف کی جب تمام بنی ہا شم نے اس کے بھائی ابی عباس کی زندگی میں حج کے ایام میں ملاقات کی تھی ۔
ابو منصور نے زیاد بن عبداللہ الحارثی سے ان دونوں یعنی محمداور ابراہیم کے متعلق پوچھا تو زیاد نے اسے کہا ان دونوں سے تمہارا کیا کام ہے ۔میں ان دونوں کو تمہارے پاس لاوں گا۔ اور اس دوران ۱۳۴ھ میں زیاد ابوجعفرکے ساتھ مکہ میں تھا۔ابو جعفر نے زیاد کو دوبارہ یاد دلایا تو انہوں محمد اور ابراہیم کو ان کے حوالے کر دیا ،اس مو قع پر طبری پلٹ کر دوبارہ اپنی تاریخ اس سے متعلق بیان کر تا ہے کہ منصور نے آل ابی طالب کو اس حج کے دوران کچھ بخشش دی تھی لیکن اس موقع پر فرزندان عبداللہ نہیں تھے ۔تو اس دن ان کے والد عبداللہ کے پاس گیا اور ان دونوں کے بارے میں پو چھا تو انہوں نے جواب دیا مجھے ان دونوں کے بارے کچھ معلوم نہیں ہے ۔
اتنے میں وہ ایک دم غصے میں آیا اور اسے قتل کرنے کا حکم دینے والا تھا لیکن زیاد ابن عبداللہ نے اپنی چادر ان پر ڈال کر انہیں بچایا اور کہا اے امیر المومنین یہ شخص مجھے دیجئے میں ان کے دونوں بیٹوں کو نکال دوں گا ۔ اس واقعے کو طبری نے بھی اپنی تاریخ میں ذکر کیا ہے ۔اس کے بعد منصور نے زیاد کو اس کے گھر والوں سمیت جیل بھجوا دیا ۔اور۱۴۴ھ میں ریاح بن عثمان مدینہ کا گورنر بنا جب موسم حج میں منصور حج پر جارہے تھے تو ریاح نے مقام ربدہ میں ان کا استقبال کیا اس وقت منصور نے ریا ح سے عبداللہ کے بندے اور خاندان جن میں محمد بن عبداللہ وغیر ہ شامل تھے ۔ابن عثمان بن عفان جو عبداللہ بن حسن کی ماں کی طرف سے بھا ئی تھا ان سب کو ریاح سے طوق زنجیر پہنا کر ربدہ لایا ۔طبری نے اپنی تاریخ میں۱۴۴ھ کے واقعات کو بیان کر تے ہوئے یہ لکھا ہے کہ امام صادق کو اپنے چچا زاد بھا ئی حسین بن زید بن علی ابن حسین کو ہتھکڑیا ں پہنا کر نکالنے کی خبر ملی تو آپ بارگاہ خداوندی میں کثرت سے ان کے حق میں دعا کر تے رہے ۔پھر اپنے غلام سے کہا ابھی ان کے پاس چلے جاو۔او ر جب انہیں لے جایا جائے تو مجھے خبر کر نا ۔اتنے میں قاصد آیا اور آپ کو بتا،یا کہ وہ لے گئے ہیں تو فورا جعفر ابن محمد امام صادق اپنی جگہ سے اٹھے اور پردے کے پیچھے کھڑے ہوئے جس کے پیچھے سے وہ دوسروں کو دیکھ رہے تھے لیکن انہیں کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا ۔جب جعفر کی نظر ان پر پڑھی تو اس کی آنکھیں نم ہو گئی اور داڑھی آنسوسے بھیگنے لگی پھر امام فرماتے ہیں وہ میرے پا س آکر کہنے لگااے اباعبداللہ قسم ہے خدا کی ان کے بعد اللہ کے لیے کسی کی حرمت باقی نہیں بچے گی ۔
اس میں کوئی شک نہیں یہ دن علویین اور عباسین کے درمیا ن ہمیشہ اور دائمی جدائی کا سبب تھا اس لیے منصور نے اس کے ساتھ ایک کھیل کھیلا کیو نکہ جب اِسی منصور نے عبداللہ ابن حسن کے مادرزاد بھائی پر ایک سو پچاس کو ڑے مارنے کا حکم دیا تھا اور ااس کے گردن میں پر طوق بھی تھا ۔اس نے لوگوں سے بچانے کی اپیل کی لیکن کسی نے بھی اس کی فریا د سننے کی جرات نہیں کی۔ اور عبداللہ بن حسن نے اس کے لیے پانی مانگا تھا تو ایک خراسانی نے آگے بڑھ کر اسے پانی پلایا تھا جب منصور کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے اس کو بھی باقی ہاشمیوں کی طرف دھکیل دیا ۔اور انہیں کو فہ بھیج دیا گیا تو وہ راستے میں انتقال کر گیا اور باقیوں کو کوفہ کے مشرق کی جانب واقع ابن ہبیرہ کی قصر میں قید کر نے کا حکم دیااور ان میں سب سے پہلے مرنے والوں میں عبداللہ بن حسن تھے جن کی نماز جنازہ ان کے بھائی حسن ابن حسن ابن حسن ابن علی پڑھائی ۔اس کے ساٹھ دن بعد منصور نے ان کے اوپر قصر کو گرا نے کا حکم دیا تو سارے شہید ہوئے ۔
اول رجب یا ماہ جمادی آخرہ سال ۱۴۵ھ/۷۶۲ ء میں مدینہ میں ذولنفس الزکیہ نے انتقام کا اعلان کیا جب مدینہ کے گورنر ابن ریاح کو ان کے خروج کا علم ہوا تو اس نے حسینیوں کا ایک شخص اور بعض قریشیوں کو جن میںسر فہرست امام جعفرالصادق تھے پکڑوادیا ۔اتنے میں مسلم بن عقبہ المری نے ان کو قتل کر نے کا مشورہ دیا تو حسین ابن علی ابن حسین نے اس پر اعتراض کرتے ہو ئے کہا قسم خداکی یہ تمہاری طرح نہیں ہے ۔ہم تو مطیع ہیں ۔یہ بات ابن اثیر نے اپنی کتاب ''الکامل فی التاریخ'' میں لکھا ہے ۔اس کے بعد جلد ہی ذولنفس الزکیہ نے مدینہ کے گورنر کو شکست دی اور جیل میں ڈال دیا پھر بیت المال پر قبضہ کیا اس نے تمام لو گو ں کو قید سے آزاد کروایا ۔اس کے بعد ذولنفس الزکیہ کے پیچھے سوائے چند شخصیات کے باقی تمام قید سے باہر آئے طبری ۔ابن اثیر ،اور ابن کثیر وغیرہ کے مطابق اتنے میں مالک بن انس نے منصور کی بیعت سے بطلان کا اعلان کر دیا کیو نکہ یہ بیعت لوگوں سے جبرا لی گئی تھی۔اور محمد اور منصور کے درمیان کچھ خط کتابت ہوئی جس میں منصور نے معافی مانگنے کے علاوہ اور بہت سارے وعدے کئے لیکن وہ وعدہ خلافی کرنے میں بڑا مشہور تھا اس لیے اس کی یہ بات رد کی گئی تھی۔
جسے طبری نے اپنی تاریخ میں بیان کیا ہے ۔میں تم سے اس امر میں زیادی بہتر جانتا ہوں اور وعدہ وفائی میںزیادہ وفادار ہوں کیو نکہ جو عہد و امان مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی ہے توتو مجھے کونسی امان دوگے !!!۔ابن ہبیرہ کا امان یا تمہا را چچا عبداللہ بن علی کا امان ابی مسلم کا امان ۔اور ذولنفس الزکیہ کا ثورہ کے ساتھ فرزندان امام صادق موسیٰ اور عبداللہ بھی مل گئے ۔اگر چہ امام اس ثورہ کی مقاصد پر یقین تھا ابو الفرج نے اپنی کتاب ''مقاتل الطالبین ''میں لکھا ہے کہ نسل رسول اللہ کی انقطاع کے خوف سے امام صادق نے اپنے چچازاد''ذولنفس الزکیہ ''سے ان کے اعلان ثورہ کے بعد کہا تم کیا یہ بات پسند کرو گے کہ تمہارا خاندان ہو ،تو انہوںنے کہا ایسا ہرگز نہیں امام نے فرمایا اگر تم مجھے اجازت دینا پسند کرو گے تمہیں میرا سب معلوم بھی ہے ۔ انہوں نے کہا میںنے آپ کو اجازت دی پھر امام کے وہاں سے گزرنے کے بعد محمد ان کے فرزندان موسیٰ اور عبداللہ کی طرف متوجہ ہو ااور ان سے کہا کہ تم دونوں اپنے بابا کے ساتھ جاسکتے ہو میں تمہیں اجازت دیتا ہوں ۔تو وہ دونوں چلے گئے ۔پھر امام صادق نے انہیں اپنی طرف آتے دیکھا تو فرمانے لگے کہ تم دونوں کو کیا ہو ا کہنے لگے اس نے ہمیں اجازت دی ہے کہ آپ کے ساتھ جائیں اتنے میں امام نے فرمایا تم دونوں واپس چلے جاو مجھے تم لو گوں کی ضرورت نہیں ہے ۔
پھر دونوں محمد کے پاس چلے گئے ۔اس کے باوجود کہ امام صادق کو یقین تھا ،ذولنفس الزکیہ کا انقلاب کامیاب نہیں ہو گا اسے احجار زیت کے پاس شہید کیا جائے گا لیکن محمد کے والد عبداللہ کو اس بات پر یقین نہیں تھا ۔اور سوچا تھا کہ امام ان کے ساتھ حسد کر کے ایسا فرماتے ہیں ۔
ابو الفرج نے اپنی کتاب مقاتل میں لکھتا ہے کہ واقعاوہ ۱۴۵ھ/۷۶۲ ء کو ماہ رمضان میں شہید کیا گیا اور اس کے بعد ماہ ذیقعدہ میںاس کے بھا ئی کو ماردیا گیا ۔کیونکہ امام صادق ذولنفس الزکیہ کے انقلاب کے بارے اچھی طرح جانتے تھے اور آپ نے انقلاب شروع ہونے پہلے سے کئی بار اعتراض کیا ۔جب مقام بوا میں اس کی بیعت ہو رہی تھی جس میں منصور بھی حاضر ہوا تھا اور اس کے بعد مسجد الحرام میں دوبارہ بیعت ہوئی ۔
ابو الفرج کے مطابق ابو سلمہ الخلال کے آنے پر ذولنفس الزکیہ کے چچا زاد بھا ئی عبداللہ بن حسن نے اعتر اض کرتے ہو ئے انہیں منع کیا تھا ،یہ دیکھتے ہوئے کہ یہ منصور کی جال میں پھنس رہے ہیں جس کے پیچھے لالچ و طمع او ر آخر میں قتل وموت کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ طبری نے اپنی تاریخ میں عبداللہ بن محمد بن علی ابن الحسین کی بیٹی سے ایک روایت نقل کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ میںنے اپنے چچا جعفر ابن محمد سے کہا تھا میں آپ قر بان ہو جاوں محمد بن عبداللہ کا یہ کا م کیسا ہے ؟ آپ نے فرمایااس کا یہ فتنہ ہے اسی میں اسے ایک رومی کے گھر کے نزدیک مارا جائیگا اور اس کا بھا ئی عراق میں مارا جائے گا اور ان کے گھوڑوں کو پانی میں پھینکا جائے گا ۔یہی روائت عیسیٰ ابن علویہ سے یوں روایت ہے ۔'' حمزہ بن عبداللہ بن علی نے جب محمد کے ساتھ خروج کیا اوراان کے چچا جعفر اسے برابر منع کر تے رہے۔ لیکن زمانے کے طاقت ور محمد کے ساتھ تھے اس نے کہا کہ جعفر کہتا ہے کہ محمد (ذوالنفس)جلد قتل کیا جائے گا تو اس نے کہا کہ جعفر ڈرتے ہیں ''لیکن ہمارامقصد یہاں پر امام جعفر الصادقـکی اپنے جد بزرگوارزیارت کو ثابت کر نا جو منصور کی عہد خلافت میں آپ کا قیام کو فہ یا حیرہ کے دوران کی تھی۔جسے شیعہ مصادر نے توکثرت اور توثیق کے ساتھ بیان کیا ہے ۔جس کے لئے آپ اسد حیدر کی کتاب امام صادق اور مذاہب اربعہ ملاحظہ کر سکتے ہیں البتہ اصحاب حدیث کی مصادر بھی کوئی کم نہیں ہے ان میں بعض یہ اشارہ کر تی ہے ۔کہ سال ۱۴۴ ھ /۷۶۱ ء کو امام ،منصور سے ملے تھے ۔جب اس نے عبداللہ بن حسن اور اس کے خاند ان کو مدینہ میں قید کر وانے کا حکم دیا تھا ۔ابن عبدالربہ نے اپنی کتاب العقید ة الفرید میں ابی الحسن المدائنی میں ایک روایت نقل کی ہے ۔جب حج پر جاتے ہوئے مدینہ سے گزرے تو اس نے اپنے دربان ربیع سے کہا میر ے سامنے جعفر بن محمد کو حاضر کرو میںاسے ضرور قتل کروں گالیکن ربیع نے اس میں ٹال مٹول کیا مگر اس پر زور دیا گیا اتنے میںان دونوں کے درمیان راز کھل گیا اور اس کے قریب گیا اور اس کے سامنے کھڑا ہو کر جعفر نے ہونٹو ں سے اشارہ کیا پھر اس کے قریب گیا اور اسے سلام کیا تو اس نے کہا تم تواللہ کے دشمن ہو لہٰذاتم پر کوئی سلامتی نہیں ہے ۔
تم نے میری حکومت میں فسادپیدا کیا ہو ا ہے ۔اللہ مجھے زندہ نہیں رکھے اگر میں تمہیں قتل نہیں کروںتو اتنے میں جعفر نے کہا اے امیر المومنین جناب سلیمان جس پر اور محمدصلىاللهعليهوآلهوسلم پر اللہ درود بھیجا تو اسے عطا کیا گیا اسے مقابلے میں اس نے بارگاہ رب العزت میں شکر بجا لایا۔ جناب ایوب پر مصیبتیں نازل ہوئی تو انہوں نے صبر کیا جناب یوسف پر ظلم کیا تو اس نے معاف کیا ۔اور آپ تو ان کے وارث ہو اور ان کی اتباع کر نے کے زیادہ حق دار ہیں ۔تو ابو جعفر نے عاجزی سے سر جھکا یاجعفر کھڑا تھا پھر سر اٹھایا اور کہا اے ابو عبدللہ آپ میرے پاس آئے ۔آپ رشتہ داری میں مجھ سے زیادہ قریب ہیں اور صلہ رحمی ہمارے درمیان زیادہ ہے اور آپ مجھے کم اذیت دینے والے ہیں ۔پھر اس نے دائیں ہاتھ سے مصافحہ کیا اور بائیں طرف سے معانقہ کیا اور اپنے ساتھ بٹھا یا اس سے بعض لوگ اس سے منحرف ہو ئے اور وہ باتیں کر نے لگے پھر کہا اے ربیع اباعبداللہ کے لئے خلعت اور انعام جلد لے آو ، ربیع نے کہا جب میرے اور اس کے درمیان پردہ کھل گیا تو میں نے جاکر ان کے قمیص پکڑ لی تو انہوں نے کہا اے ربیع تم ہمیں قید میں ہی دیکھو گے تو میںنے کہا نہیں آقا ایسی کوئی بات نہیں یہ میر ی ذمہ داری ہے اس کی نہیں تو آپ نے کہا یہ تو بہت آسان ہے پوچھ تمہا ری حاجت ہے۔میں نے کہا تین دن سے آپ کا دفاع کر رہا ہو ں اور آپ کی حفاظت کر رہاہو ں میں نے دیکھا کہ آپ ہو نٹوں سے اشارے کرتے ہو ئے داخل ہو ئے تھے پھر میں نے دیکھا آپ کے بارے میں بات واضح ہو گئی۔ میں تو ایک سلطان کابیٹا ہو ںمجھے اس کی ضرورت نہیں ہے ۔میں چاہتا ہوں کہ آپ کچھ علم مجھے تعلیم فرمائے ۔اتنے میں آپ نے فرمایا:اے اللہ میر ی حفاظت اپنی نہ سونے والی ذات سے فرما اور ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھ' تو نے مجھے اپنے رحمتوں سے محروم نہیں کیا لیکن میری طرف سے بہت کم شکر ادا ہو ا لیکن پھر بھی تونے مجھے اپنے رحمتوں سے محروم نہیں رکھا اور مجھ پر کتنی بلائیں نازل ہو ئی لیکن میں نے صبر نہیں کیا پھربھی تو نے میری آبروریزی نہیں کی ۔اے میرے اللہ تیر ے زریعے ہی میں اس کا مقابلہ کرونگا اور تجھ سے ہی میں اس کے شر سے پناہ مانگتا ہوں اور توہی ہر چیز پر قادر ہے اللہ محمد ہمارے سردار اور ان کی آل پر درود بھیج ۔اب آپ ملاحظہ کریں کہ امام جعفر الصادق نے منصور کے غصے کو کیسے قابو کیا یہ دلیل دیتے ہوئے کہ وہ اس کی خلافت کے معترف ہیں اور بیعت پر ملتزم ہے ۔اور اس کے خلاف خروج نہیںکریں گے اوراسے ارث سلیمان اور ایوب اور یوسف جذبہ دلاکر اس کے خوف ودبدبہ کو بٹھا یا ۔
تو اس کے پاس شیطان آیاجب اسے یہ پتہ چلا کہ امام اس کے خلاف کوئی تحریک چلانے والے ہیں اس بات کی طرف طبری نے اپنی تاریخ میں اشارہ کیا ہے ۔شاید اس ملاقات میں امام نے یہ بات اور تمام باتیں اس لیے کی ہوں کیو نکہ منصور نے ان کی زمین پر قبضہ کیا ہو تھا اور اس کے واپس مانگنے پر منصور امام کے قتل کاا رادہ رکھتا جسے طبری نے بھی اپنی تاریخ میں یو ں بیان کیا ہے ۔
مجھ پر جلدی مت کرو اس وقت میں تریسٹھ برس کا ہوچکا ہوں اور عمر کے اس حصے میں میرے والد بزرگواراور جد امیر المومنین علی ابن ابی طالب بھی وفات پا چکے ہیں۔اور میر ے نزدیک تو بر تر ہو گا اور اگر میں تمہا رے بعد زند ہ رہوں تو تمہا رے بعد جو آئے گا وہ معزز ہو گا اتنے میں اس کا دل نرم ہوا اور اسے معاف کیا ،اس میں کوئی شک نہیں کہ عباسیوں کو امام جعفر الصادق کی طرف سے اپنی حکومت کے لئے زیادہ خوف تھا باقی علویوں کی بہ نسبت کیو نکہ امام کی حیثیت اور تاثیر تمام مسلمانو ں میں خاص طور سے شیعیا ن علی ابن ابی طالب کے نفوس میں زیادہ تھی ۔جس کا اندازہ منصور کو تھا ۔اس دلیل کی بنا پر کہ ایک دن ابو جعفر منصور نے محمد ذوالنفس الزکیہ کو ایک خط لکھا اور وہ خط یہ ہے کہ ''تم لوگوں کے درمیان ان کے بعد بیٹے محمد بن علی جیسا کوئی نہیں جس کی دادی ام ولد ہے ۔اور وہ تمہا رے والد سے بہتر ہے اور ان کے بیٹے جعفر جیسا نہیں جو تم سے بہتر ہے ''اس حوالے سے ابن ربہ نے اپنی کتاب ''العقدالفرید ''میں لکھا ہے کہ اس کی تفصیل کوئی محبت و مودت میں نہیں تھی ۔بلکہ ان کے پیچھے ہونے کی خوف کی وجہ سے تھا جو اس کی حکو مت کے لیے ان کی طرف سے تھا۔اور یہ امام کی قتل کی ایک سازش تھی اور اس کو اکساناتھا اگر چہ بعد کے زمانے میں ہی کیوں نہ ہو ۔امام جعفر الصادق کو عراق طلب کیا اس حوالے سے میرے نزدیک صرف شیعہ روایات نہیں بلکہ دوسروں کی بھی ہیں کہ امام جو سال ۱۴۳ھ/۷۶۰ ء کے اواخر یا۱۴۴ ھ /۷۶۰ ء کے اوائل میں عراق طلب کیا گیا یعنی میر ے خیال میں عبداللہ بن حسن اور اس کے خاندان کو سزا دینے سے قبل کا زمانہ تھا ۔اس زیارت کی توثیق بحث کو جاری رکھنے کی زیادہ اہمیت کے حامل ہے۔جسے ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں بیا ن کیا ہے اور شیخ محمد حسین حرزلدین نے اپنی تاریخ نجف میں نقل کیا ہے۔کہ منصور نے خالد بن عبد اللہ القسری کے آقا رزام کو امام جعفر صادق کو مدینہ سے حیرہ لانے کے لیے بھیجاتھا ۔رزام کہتا ہے ۔جب انہیں لے آیا تو منصور حیرہ میں تھا اور جب ہم نجف پہنچے تو جعفراپنی سواری سے اترے او روضو کیا پھرقبلہ رو ہوکر دو رکعت نما ز پڑھی پھر اپنے دونوں ہاتھوں کو بلند کیا ،رزام کہتا کہ جب میں ان کے قریب ہوا تووہ کہہ رہے تھے اے میرے پروردگارمیں تجھ سے ہی فتح و کامیابی مانگتا ہوں اور محمد جو تیرے بندے اور رسول ہیں سے مدد مانگتا ہوں۔ اے میرے پروردگار اس کی پریشانی آسان فرما اور اس کی سختی میر ے واسطے آسان فرمااورمیری آرزو سے زیادہ مجھے نیکی عطا فرما اور میرے خوف سے بڑی بدی کومجھ سے دوررکھ ۔جب امام پہنچے تو منصور نے بڑے اچھے طریقے سے ان کااستقبال کیا اوراپنے پاس بٹھاکرخوش ہوئے' پھر عبداللہ بن حسن کے بیٹے محمداورابراہیم کے بارے میں پوچھااوران کے قیام کے خوف سے متعلق بتایا جوان دونوںگھرانوں/خاندانوں یعنی عباسی اورعلویوںکے درمیان ہونے والے متوقع جدائی کا تھا۔ توامام نے جواب دیا کہ واللہ میں ان دونوںکو منع کر چکاہوںتوانہوںنے نہیں مانا پھر میں نے ان کوچھوڑدیااوران کے بارے میں،میں نہیں جانتا اور میں تمہارے ساتھ ہوں اتنے میں منصور نے کہا آپ نے سچ فرمایا۔لیکن مجھے معلوم ہے کہ ان کے بارے میں جانتے ہیں اورجب تک مجھے ان کے بارے میںنہیںبتائیںگے میںآپ کوچھوڑنے والا نہیں ہوں تو آپ نے فرمایاکیاتم مجھے ایک آیت کی تلاوت کی اجازت دوگے ؟جس میں میرے آخری کام اور علم ہوگا۔اس نے کہا اللہ کے نام پرفرمایئے۔امام نے فرمایا:
( اَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَّ الشَّیْطَانِ الرَّجِیمْ )
( لَئِنْ ُخْرِجُوا لاَیَخْرُجُونَ مَعَهُمْ وَلَئِنْ قُوتِلُوا لاَ یَنْصُرُونَهُمْ وَلَئِنْ نَصَرُوهُمْ لَیُوَلُّنَّ الَْدْبَارَ ثُمَّ لاَ یُنْصَرُونَ ) (سورہ حشر آیت۱۲)
یہ سن کر ابوجعفرسجدے میںگر گیاپھر سراٹھاکرامام کی پیشانی چومنے لگے اور کہا مجھے صرف آپ چاہیے پھراس کے بعدکسی چیزکے بارے نہیںپوچھایہاںتک کہ ابراہیم اور محمدکے بارے میںبھی۔ ابن خلکان نے اپنی وفیات میں ایک روایت نقل کی ہے۔ جو امام کی منصور سے ملاقات'امام کے چچازادبھائیوںکوقتل سے پہلے ثابت کرتی ہے۔اور یہ روایت سابقہ سے ملتی جلتی ہے۔وہ کہتاہے کہا جاتاہے کہ منصور نے جعفر کو بلانے کیلئے محمدبن عبداللہ کے قتل سے پہلے بھیجا تھا جب وہ نجف پہنچے تو نماز کیلئے وضو کیاجیساکہ ہم نے پہلے اشارہ کیا۔ذی النفس الزکیہ کاانقلاب سال ۱۴۵ھ/۷۶۲ ء میں تھا اورابن خلکان کی خبرسے ظاہر ہوتاہے کہ منصورنے عبداللہ اور اس کے بھائیوںکو اس کے بعدقتل نہیںکیا۔یہاںپرمحمد حسین حرزالدین نے ایک مناظرے کابھی ذکر کیاہے جوامام جعفر صادق اور ابوحنیفہ کے درمیان منصورکے مجلس میں ہو تھا جس کا زمانہ تقریبا۱۴۳ھ /۷۶۰ ء کے آس پاس کاتھا۔ اورانہوںنے اس مناظرے کومناقب ابی حنیفہ سے نقل کیاہے .......اوروہ کہتا ہے کہ ''خوارزمی نے ابی حنیفہ النعمان سے روایت کی ہے وہ کہتاہے ایک دن منصورنے مجھے حیرہ بلایاتومیںچلاگیاجب میںان کے پاس پہنچاتو وہاںجعفر بن محمدکے دائیں جانب بیٹھے ہوئے تھے لیکن جب میں نے ان کو دیکھاتو جعفربن محمدالصادق کیلئے میرے اندرایک خوف وہیبت پیدا ہوالیکن ابو جعفر منصورکی طرف سے کچھ ایسانہیں ہو اتو منصورنے تعارف کراتے ہوئے کہا اے ابا عبداللہ یہ ابو حنیفہ ہے۔تو آپ نے فرمایا:جی ہاں!اس بعد میری طرف متوجہ ہوکر کہااے ابوحنیفہ! اب تم اپنے مسائل اباعبدللہ امام صادق کے سامنے پیش کر دومیں نے مسائل پیش کرنا شروع کیا اورآپ جواب دیتے گئے اور فرماتے رہے تم لوگ ایسا کہتے ہو اور ہم اس کے جواب میں یوں کہتے ہیں کچھ ہماری اتباع کرتے ہیں کبھی کچھ ہم ساروں کی مخالفت کرتے ہیں۔یہاں تک کہ میں نے آپ کے سامنے چالیس مسائل پیش کئے جن میںکوئی ایسا نہیں رہاجس کاآپ نے جواب نہ دیا ہو پھر ابوحنیفہ نے کہاکیاہم نے یہ روایت نہیں کی کہ لوگوں میںسب سے زیادہ علم کون رکھتا ہے ۔اگرچہ لوگوں میں اختلاف ہی کیوں نہ ہو ۔''
یہ توسابقہ روایت سے واضح ہوتاہے کہ منصورنے اس کے بعد عبداللہ بن حسن اور اسکی خاندان کو سزانہیں دی لیکن اس سے بھی انکار نہیں ہے وہ زیارت ان کے مدینہ کی جیل کے دوران نہ کی ہو۔ جب منصورنے امام کاشانداراستقبال کیاتھااوران کے ساتھ گفتگوکے دوران محمد اور ابراہیم فرزندان عبداللہ بن حسن کے قیام سے لاحق ہو نے والے خوف کے بارے میں بھی گفتگو کی ہو ۔اس قیام سے ان کو خاندانوں کے درمیان ہونے والے متوقع جدائی کاخوف تھا۔لیکن اس کے بعدجدائی واقع نہیں ہوئی اور حدیث میں تہدید تھا اور ہم نے یہ بھی دیکھاکہ جب یہ نجف پہنچے تو اترے اورنمازپڑھی اور رزام نے ان کی دعابھی بیان کی لیکن میرا نہیں خیال کہ انہوں نے قبر امام پر ایساکیا ہویہاں پر اس زیارت کے درمیان ربط پیدا کرسکتے تھے۔ جو صفوان جمال نے ایک سے زائد مرتبہ اپنے امام کی ہمراہی میں یاخوداکیلاقبر مبارک کی ہے۔ اور یہ بات ابن طاوس کی ''کتاب الفرحہ ''کے مطابق بہت ساری کتابوں میں نقل ہوئی ہے۔ لیکن ہمارا مقصد اس زیارت کو بیان کر نا ہے جوابومنصورکے زمانے میں ہوئی تھی۔جسے محمد المشہدی نے اپنی سند سے بیان کیا ہے۔اورگمان غالب ہے کہ یہ زیارت سال ۱۴۳ھ /۷۶۰ ء میں واقع ہوئی تھی اور یہ بات بھی عیاں ہوتی ہے امام کو منصور سے ملاقات پر مجبور کیا گیا کیونکہ اس سے قبل محمد اور اس کے بھائی نے خروج کیاتھا۔اس ضمن میں عبدالحلیم الجندی نے اپنی کتاب امام صادقـمیں ذکر کیا ہے کہ انہوں نے فرمایاکہ ابوجعفر منصورنے جب ابراہیم بن عبداللہ کو مقام ''باخمری ''میں قتل کیا تو ہم سب مدینے سے نکل کر کوفہ آئے ۔ اور یہاں ہم ........ٹھہرے اور قتل ہونے کاانتظارکرنے لگے۔پھردربان ربیع ہمارے پاس آئے اورکہاعلوی خاندان کہاں ہے؟اورہم میںسنجیدہ افراد ،دو،دوکرکے امیرالمومنین کے پاس جانے کاحکم دیا تو میںاورحسن بن زید چلے گئے۔جب ہم اس کے پاس پہنچے توپوچھاکیاتم وہی ہوجوغیب جانتاہے ؟میںنے کہا غیب کاعلم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے پھر پوچھاکیا تم وہی ہو جس کو یہ خراج دیا جائے گا ؟میں نے کہا خراج آپ کو دیا جائے گا۔اس نے کہاکیا تم جانتے ہو کہ میں نے تم لوگوں کو یہاں کیوںبلایا ؟ اس نے کہامیں نے ارادہ کیا ہے کہ تمہاری زمینوں کو ڈھادوں اور تمہا رے دلوں میں خوف پیداکروں اورتمہارے کھجور کے باغوں کو اکھاڑپھینکوںاورمیں تم لوگوں کوایساتنہا چھوڑوںکہ تمہارے پاس نہ تواہل حجازہوں اورنہ ہی اہل عراق کیونکہ تمہارے ساتھ فسادہے۔میں نے کہا اے امیرالمومنین نبی سلیمان کواللہ تعالیٰ نے سب کچھ عطاکیاتواس نے شکرادا کیا۔
اور ایوب پر بلائیں نازل ہوئی تو انہوں نے صبرکیا اوریوسف پر ظلم ہواتوانہوں نے معاف کیا اور آپ اسی ذریت سے ہیں۔اتنے میں وہ مسکرائے اور کہا جو میں کہتا ہوں تم بھی ایسا کہنا میں نے ایساہی کہا ۔زعیم قوم توتم جیساہوناچاہیے میں نے تمہیں معاف کیا اور تمہاری وجہ سے ان اہل بصرہ والوں کی خطائیںبخش دیتا ہوں۔ کہ بتاو تمہارا پسندیدہ شہر کونسا ہے؟ خداکی قسم!اب کے بعد میں تمہارے ساتھ صلہ رحمی کر تا ہوں پھر ہم نے کہا مدینہ جائیںگے۔
اور ہمیں مدینہ جانے کی اجازت دی اللہ اسے برکت دے یہاں اگر چہ جندی نے مصدرکو بیان نہیں کیا ہے لیکن اس کی یہ روایت دوسری مذکور ہ روایتوںکی تائید کرتی ہے۔جیساکہ میرا اسکے مصدر پر اعتراض کر نے کا یہ مطلب نہیں کہ یہ روایت اس نے اپنے خیال سے پیش کی ہو۔محمد فخرالدین نے اپنی کتاب ''عباسی آخری دورکی تاریخ نجف ''میںبیان کیاہے کہ امام صادق ابوجعفر منصورکے عہدمیںعراق گئے اورزیارت کی۔یہ بات ابن مشہدی کی آنیوالی ایک روایت کی تائید کرے گی۔
دورِمنصور عباسی میں مرقد مطہر کی اصلاح اور زیارت کی اجازت
یہ ظاہرہے کہ امام صادق کے قافلہ منصور کے حکم پر حیرہ پہنچنے سے قبل امام کا اپنے جدّ بزرگوار امیر المومنین کی قبر پر رزام کے ساتھ زیارت ، نماز اور دعا پڑھی تھی جیسا کہ گزر چکا۔ پھر حیرہ یا کوفہ میں قیام کے دوران یا مدینہ کی طرف واپس تشریف لاتے وقت آپ نے اپنے جدّ بزرگوار امیر المومنین کی قبر کی زیارت اپنے اونٹ کے مالک صفوان کے ساتھ کی تھی۔ ابن طاوس نے اپنی ''کتب الفرحة'' میں بیان کیا ہے اور اس روایت کا اشارہ بھی گزر چکا جو محمد بن المشہدی کی سند سے ہشام بن سالم سے تھی کہ صفوان جمال کہتا ہے۔ ''میں امام جعفر صادق کے ہمراہ کوفہ میں ابو جعفرمنصور کے پاس جارہا تھا تو راستے میں امام نے فرمایا: اے صفوان یہاں سواری ذرا روک دو کیونکہ یہ میرے جدّ بزرگوار امیر المومنین کا حرم ہے۔تو میں نے سواری روک دی پھر آپ اترے اور غسل کیا لباس تبدیل کیا اس موضع کا بہت احترام کیا اور مجھ سے فرمانے لگے تو بھی وہی کر جو میں کرتا ہوں پھر مقام زکوات کی جانب بڑھے اور فرمایا اب تم آہستہ آہستہ چلنا اور جھک جھک کرچلنا'اس طرح ہم احترام و وقار کے ساتھ چلے ہم تسبیح و تقدیس و تہلیل کرتے ہوئے زکوات تک پہنچ گئے اور آپ نے دائیں بائیں نگاہ ڈالی اور اپنی عصا سے خط کھینچ لیا پھر میں نے بھی ان کی مدد کی اس طرح قبر مبارک ایک لکیر کے درمیان آگئی اس کے بعد آپ زارو قطار رونے لگے اور چہرہ مبارک آنسو سے تر ہوا اور آیت رجعت کی تلاوت فرمائی اور فرمایا اے متّقی و فرمانبردار وصی تم پر سلام ہو۔ اے عظیم خبر تم پر میرا سلام ہو'اے سچے شہید میرا سلام آپ پر اے پاک و پاکیزہ وصی آپ پر میرا سلام ہو۔اے ربّ العالمین کے پیغمبر کے وصی میرا سلام ہو آپ پر ، اے اللہ کی بہترین مخلوق میرا سلام ہو آپ پرمیں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے مخصوص و مخلص دوست ہو' اے اللہ کے ولی اور اس کے علم و راز و وحی کے خزانے و موضع میرا سلام ہو آپ پر پھر اپنے آپ کو قبر پر گرادیا اور فرمانے لگے اے حجت خصام میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں' اے بابِ مقام میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوجائیں اے اللہ کے نور تمام میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوجائیں میں گواہی دیتا ہوں آپ نے اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اپنی ذمہ داری کو احسن طریقے سے پہنچادی ہے۔ اور جس کی آپ نے حفاظت کی اس پر عمل کیا اور جو امانت آپصلىاللهعليهوآلهوسلم کے تھی اس کی بھرپور حفاظت کی اور آپ نے حلال اللہ حلال اور حرام اللہ کو حرام قرار دیا احکام خداندی کو قائم کیا اور حدود اللہ سے کبھی تجاوز نہیں کیا' اللہ کی آپ نے خلوص کے ساتھ عبادت کی یہاں تک کہ آپ کو یقین حاصل ہوگیا' اللہ آپ اور آپ کے آنے والے آئمہ پر درود بھیج دے ۔ صفوان کہتا ہے پھر آپ اُٹھے اور سر کی جانب پر چند رکعتیں نماز پڑھی اور فرمایا اے صفوان جو امیر المومنین کی زیارت کرے اور نماز پڑھے تو اپنے اہل کی طرف مغفور و مشکور ہوکر واپس لوٹے گا میں نے پوچھا اے میرے آقا کیا میںیہ خبر کوفہ میں ہمارے اصحاب کو بیان کر سکتا ہوں؟ فرمایا ہاں کیوں نہیں بتاسکتے اور مجھے چند درہم عطا کیے اور میں نے قبر شریف کی اصلاح کی۔ ''یہ روایت آپ تفریشی کی کتاب ''نقد الرجال ''میں ملاحظہ کرسکتے ہیں تاکہ آپ کو واضح ہو اور اس روایت میں ان تمام لوگوں نے اعتماد کیا ہے جنہوں نے زمانہ منصور میں امام صادق کی اپنے جدّ بزرگوار کی زیارت کے بارے میں بتایا ہے۔
ہمارے بھروسہ میںاس لیے اضافہ ہے کہ سابقہ روایت جسے محمد ابن مشہدی اپنی کتاب المزار میں بیان کیا ہے اور ابن طاوس نے بھی اسی سے نقل کی ہے اور اسے دو سو چودہ زیارتیں محمد بن کالد الطیاسی نے روایت کی ہے جن کی توثیق صاحب نقد الرجال تفریشی نے کی ہے ۔ تو اس روایت میں کوئی شک نہیں ہے لیکن صرف یہ تردد ہے کہ یہ اصحاب امام کاظم میں تھا نہیں یا یہ کہ انہوں نے اورکسی امام سے پھر ان کے بعد سیف بن عمیرة سے روایت بھی کی ہے لیکن یہ سیف بن عمیرہ تو تفریشی کے مطابق اصحاب امام کاظم سے تھا۔
کیونکہ ان روایتوں میں صرف صفوان اکیلا نہیں تھا بلکہ سیف بن عمیرہ اور اصحاب کی ایک جماعت ان کے ساتھ تھی جیسا کہ سیف کہتا ہے ''میں صفوان بن مہران جمال اور ہمارے اصحاب کی ایک جماعت کے ساتھ غری گیا تھا جب ابا عبد اللہ امام صادق وہاں پہنچے تھے پھر امیر المومنین کی زیارت کی یہ روایت بھی کتاب المزار میں موجود ہے۔
اب ضروری نہیں ہے کہ قبر کو مضبوط بنایا گیا ہو یا کمزور یہ تو ان رقم پر منحصر ہے جو امام جعفر صادق نے صفوان کو اس کام کے لئے عطا کی تھی۔ کیونکہ صفوان اکیلا تو یہ کام انجام نہیں دے سکتا تھا تو ضروری تھا کوئی ان کی مدد کرے اور اسے پتھر اور دوسری چیزوں کی ضرورت بھی ہوئی ہوگی لیکن انہوں نے ایک چبوترہ نما ضرور بنایا تھا تاکہ مرور ایام سے قبر پر ریت جمع ہوکر دور نہ ہٹ جائے اسی لئے قبر شریف پر چاروں طرف سے گول یا مربع دیوار اٹھائی گئی تو بالآخر یہ ایک مسجد جیسی بن گئی تاکہ زیارت کے ساتھ نماز کا قیام ممکن ہوسکے۔ اس طرح عام طور سے غربی افریقہ کے مسلمان کیا کرتے ہیں کہ وہ بازاروں یا سڑکوں پر ایک جانب تھوڑی جگہ کے اوپر دیوار اٹھاکر مربع یا مستطیل کی شکل میں بناتے ہیں تاکہ وہاں سے گزرنے والوں کو یہ معلوم ہوسکے کہ نماز کی جگہ ہے اور اپنے پیروں سے ٹھوکریں نہ ماریں یا اس کے اوپر سے نہ چلیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں زیادہ گرمی ہوتی ہے یا لوگ مالی لحاظ سے تنگدست ہیں اور شاندار مساجد کی تعمیر نہیں کرسکتے ہیں۔
اس روایت سے ہم دو نکات اور نکال سکتے ہیں۔ پہلا نکتہ یہ ہے کہ چبوترا یا پتھر یا اور اس سے ملتی جلتی چیز روضہ مبارک پر امام صادق کی منصور سے ملاقات سے قبل موجود تھا نہ معلوم کہ کس نے رکھا تھا یا یہ چبوترا بنایا تھا لیکن گمان غالب یہی ہے کہ خود امام نے رکھا تھا اوراہل بیت میں سے کسی کو حکم دیا تھا جب یہ تمام سفاح کے زمانے میں زیارت قبر علی کے لئے گئے تھے اور وہ چبوترا میں بارش ہوا اور گرمی کی شدت کی وجہ سے زنگ آلود اور پھٹا ہوا ا تھا۔ امام صادق صفوان اس کی اصلاح کا حکم دیا تھا۔ بقول صفوان'امام نے مجھے چند درہم عطا کی تو میں نے اس قبر کی اصلاح کی اور اگر یہ روایت صحیح ہو اگرچہ اس میں شک کی گنجائش نہیں تو پہلا گواہ یا پہلی علامت واضح ہے جو قبر شریف کی تصویر بغیر کسی شک و شبہے کے پیش کر رہا ہے جو امام صادق نے خود یا ان کے حکم سے رکھا گیا تھا۔
دوسرا نکتہ :دوسری بات یہ ہے کہ امام صادق نے اپنے اہل بیت کے ماننے والوں کو اس قبر کی زیارت کرنے کی اجازت دی تھی جس کی وجہ سے موضع قبر عوام کی توجہ میں آگئی ۔ اور اس سے یہ توجیہ بھی ہوسکتی ہے آپ نے اپنے چچا زاد بھائی عبّاسیوں کے ظلم و جور جو علویوں پر ہورہا تھا اس میں تخفیف کرنے کی طرف توجہ دلائی اور عبا سی ان کے ساتھ بیٹھنے کیلئے تیار نہیں تھے ۔ کیونکہ یہ صاحب قبریعنی علی کے دور کو یاد کرتے ہیں اور عین ممکن تھا کہ وہ بنی عباس کے مقابلے میں اپنا لشکر تیار کرے اگر یہ وہ ظلم جاری رکھتے لہٰذا مام نے یہ رکوایا۔
اور یہ ضروری نہیں ہے کہ ہم قبر مقدس کے اوپر کوئی کمرہ یا گنبد کے وجود کی توقع تاریخ کے اس زمانے میں کریں کیونکہ اس زمانے میں مسلمانوں کے قبور پر کوئی چبوترے یا قبے وغیرہ کا رواج نہیں تھا اگر ایسا ہوتا تو اموی اور عباسی ظالم حاکموں کی قبور پر بڑے بڑے چبوترے ہونا چاہیے تھے۔ہاں ہم عبد اللہ بن عباس جو خلافت عباّسیہ کا بانی ہے کی قبر پر گنبد دیکھتے ہیں۔ لیکن پہلی قبر جس پر گنبد تھا وہ منتصر با للہ بن متوکل کی قبر تھی جس کی تاریخ ۲۳۸ھ بمطابق۸۶۲ ء ہے۔ جیسا کہ طبری اور اس کے بعد ابن اثیر وغیرہ نے لکھا ہے یہ بنی عباس کا پہلا خلیفہ ہے جس کی قبر معروف تھی کیونکہ ان کی ماں امّ ولد رومیّہ تھی اس نے اپنے بیٹے کی قبر کو ظاہر کروایا تھا۔
اس سے ملتی جلتی ایک روایت مسعودی نے بھی اپنی ''مروّج الذّھب ''میں بیان کیا ہے۔ وہ کہتا ہے ''یہ پہلا عباسی خلیفہ ہے جس کی قبر کو اس کی ماں جو حبشیہ تھی نے ڈھونڈ کر نکالی تھی جو سامراء میں تھی۔ '' ڈاکٹر سعاد ماہر نے اپنی کتاب ''مشہد امام علی'' لکھا ہے کہ اس کی ماں نے اس کی قبر میں روضہ بنوایا جو اس کے قصر سے دور تھا جہاں وہ رہتا تھا اور یہ ''صلیبیہ قبہ''سے مشہور ہے اور یہ روضہ شہر سامراء میں دریائے دجلہ کے مغربی کنارے میں واقع ہے اور ایک کمرے کے اوپر جو مربع شکل میں ہے جس کے اوپر قیمتی قبہ پر مشتمل ہے اور یہ قبہ ابھی تک موجود ہے۔
دراصل قابل ترجیح بات یہ ہے ابو جعفر منصور اور دوسرے خلفائے بنی عبا س نے علویوں اور ان کے شیعوں کو تنگ کر رکھا تھا تو چنانچہ یہ لوگ کھلم کھلا امام علی کی زیارت کیلئے نہیں جاتے تھے بلکہ چھپ چھپاکر بعض زائرین اہل بیت اور خلیفہ کے درمیان ہونے والے تعلقات کے نشیب و فراز کے مطابق جایا کرتے تھے خاص طور سے شروع کے عباسیوں کے عصر عہد کے نصف اوّل میںایسے تھا۔
ابو جعفر منصور کے حکم پر بنشِ مرقدمطہر
یہ بات مختلف کتب و دراسات میں موجود، اورمشہور ہے ۔کہ ایک دن ابو جعفر منصور نے مو ضع قبر مطہر کو کھودنے کا حکم دیاتاکہ یہ بات وضح ہوجائے کہ کیا یہاںواقعی امیر المومنین دفن ہیں ۔اس روایت پر بحث کر نے سے قبل ضروری ہے کہ اس کے بارے میں مکمل علم ہو ۔ابن طاوس اپنی ''کتاب الفرحہ ''میںکہتا ہے کہ ''احمدبن سہل نے کہامیںایک دن حسن بن یحییٰ کے پاس تھا اتنے میں اس کے پاس احمد بن عیسیٰ بن یحییٰ آیاجوان کے بھا ئی کا بیٹا تھا تو اس نے پوچھا، جسے میں سن رہاتھاکہ کیا تمہارے پاس قبرعلی کے بارے میں حدیث صفوان جمال کے علاوہ کوئی دوسری حدیث ہے ؟ تو اس نے کہا ہاں مجھے ہمارے مولا نے انہوں نے بنی عباس کے آقا کے حوالے سے بتایا اوروہ کہتا ہے کہ مجھے ابو منصور نے کہا اپنے ساتھ کدال اوربیلچہ اٹھاواور میر ے ساتھ چلو وہ کہتاہے میں اٹھا یا اور اس کے ساتھ رات کی تاریکی میں چل کر غری پہنچے تو وہاں پر ایک قبر تھی اس نے کہا یہاں کھودو۔میں نے کھودنا شروع کیایہاںتک کہ ایک لحد نکل آیا۔اتنے میں اس نے کہا۔آہستہ آہستہ کرو یہ قبر علی ابن ابی طالب ہے میں نے جاننے کے لیے ایساکیا تھا۔اس روایت میں غور کرنے سے یہ ترک کر دیا جاتا ہے۔اگر ہمیںاس کی تائید میں دوسری روایت نہ ملے تواس کوہم ترک کردیںگے کیونکہ اس سے شدید پریشانی لاحق ہوتی ہے۔اورزیادہ غور طلب ہے۔حدیث قبر صرف صفوان پر منحصرنہیںہے بلکہ اس کے ساتھ اور بھی لوگ آئمہ اہل بیت اورامام سجاد،امام باقر ،اور امام صادق کے ساتھ تھے ۔اس روایت کی طرق قابل غور ہے۔اس لیے اسے احمد بن محمدبن سہل کے آقانے بنی عباس کے آقاسے روایت کی ہے۔ اور عملی تحقیق میں اس قسم کی روایت کوقبول کرنامشکل ہے۔جب تک اس کی اطمینان بخش نہ ہوکیو نکہ روایت میں نہ پہلے آقا کانام صراحت سے ہے اورنہ ہی دوسرے آقا کا۔ابن طاوس کے اجتہادکوبھی قبول کرنامشکل ہے۔جس میںکہ منصور نے اس حوالے سے اہل بیت سے سناتھا،تواس نے حقیقت حال جاننے کارادہ کیاتواس کیلئے یہ واضح ہو گئی'' کیونکہ منصورامام کی شہادت اور ان کے قبرکے پوشیدہ رکھنے کے بارے میں سنناشک وشبہ سے خالی نہیںتھا۔کیونکہ اسے پتا تھا۔ علویوں اور عباسیوںنے امام کی تشیع جنازہ اور دفن میںشرکت کی ہے ۔جن میں سرفہرست عبیداللہ ابن عباس ہے۔اور آل جعفر کے شرکت کر نیوالوں میں عبیداللہ بن جعفر ہے جیساکہ بہت ساری روایات میںوارد ہے کہ کن لوگوں نے حسنین٭کے ساتھ ان کے والد گرامی کے تشیع جنازہ ،دفن اور ان کے لحد میں اتارنے اور نماز جنازہ میں شرکت کی تھی۔جیساکہ ہم نے ذکر کیا اس پر مستزاد یہ کہ امام کی سیرت اور ان کی شہادت کا قصہ، دفن اور موضع قبر ہاشمی خاندان کے درمیان مشہور ہے۔اور یہ ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ جس کی وجہ سے شک وپریشانی ہو'تاکہ منصوراس کی صحت کے بارے میںاطمنان اوروثوق حاصل کرے ۔اگر یہ روایت صحیح ہو تو میرے حساب سے امام جعفر صادق کی زیارت کے بعد واقع ہواہو ۔جو انہوں نے ابوعباس السفاح کے دور میں کی تھی۔یا اس واقعے کے بعدہو جب منصور نے امام کو ۱۴۳ھ /۷۶۰ ء میں کوفہ طلب کیا تھا۔اس واقعے کو ابن جوزی نے اپنی کتاب ''المنتظم'' میں اسی سال کا کہا ہے کہ میں نے بھی حج کا ارادہ کیا اور زاد راہ تیار کر لیا اورنکل گیا۔جب ہم کوفہ پہنچ گئے تو وہ نجف میں اترے اور چند دن قیام کیا اور شاید شیطان نے اس کو یہاں بہکا دیا ہو کہ وہ موضع قبرامیر المومنین کے بارے میں اطمینان حاصل کرلے تواس نے ایسا کیا ہو ۔اور یہ بعید نہیں ہے کہ موضع قبر کی معرفت حاصل ہونے کے بعدامام صادق کے حکم پر اس کی اصلاح ہوئی ۔اوراس کے بعدباقاعدہ علامت رکھی گئی ہو کیو نکہ یہ جگہ شدید ہو ا کی رخ کی جانب تھی گرد غبار اور ریت یہاں جمع ہوتا تھا اور پھر زیادہ بارش کی وجہ سے سیلاب آکر جمع ہونے کی وجہ سے وادی بن گئی ہوشایدیہی وجہ ہو بعد میں مرورایام کے ساتھ یہ تمام پتھر اور ریت جمع ہوکر ٹیلے کی شکل اختیار کر گیا ہو ۔
قبۂ رشید کی حکایت
مرقد مطہر اسی حال میں باقی رہا جس طرح امام صادق نے چھوڑا تھا ۔ہو سکتا ہے اس ٹیلے میں پوشیدہ ہواہوکیونکہ لوگ حکومتی جاسوسوں سے چھپ کر زیارت کرتے تھے عباسیوں نے علویوںکیساتھ وہی سلسلہ جاری رکھا ہو اتھا۔کبھی انہیں قید کرتے تو کبھی قتل اور ظلم کا نشانہ بناتے۔ اس طرح علویوں پر یہ دوراموی خلافت کے دورسے کم نہ تھا ۔ادھر منصور امام صادق کو زہر دینے میں کامیاب ہوااور ایام ۱۴۸ھ /۷۵۶ ء میں شہید کیا گیا ،اور امامت ان کے بعد ان کے فرزندامام موسیٰ ابن جعفر میں منتقل ہوئی ۔اور منصورنے امام صادق کی وصیت تلاش کرنا شروع کر دی تاکہ یہ جان سکے کہ ان کے بعد امام کو ن ہے ؟ تو اس نے یہ پایا کہ انہوں نے پانچ لوگوں کیلئے وصیت کی ہیں'جن میں ایک خود منصور' مدینہ کاگورنر ابن سلیمان اور ان کے دوفرزند عبداللہ اور موسیٰ ،اور ان کی زوجہ حمیدہ تھی اور ان تمام کا قتل ایک طریقے سے ممکن نہ تھا۔یہ واقعہ عبدالحلیم جندی نے اپنی کتاب ''امام جعفر الصادق ''میںلکھا ہے۔ اور وہ فرزندامام کوقتل نہیں کر سکتا تھا کیونکہ وہ وصیت میں معین نہیں تھا اسی سے ملتی جلتی ایک روایت ابوفرج نے اپنی کتاب ''مقاتل الطالبین ''میں نقل کیا ہے۔جس میں امام نے یحییٰ ابن عبداللہ ابن حسن ور ام موسیٰ اور ام ولد کے نام کی وصیت کی ہے ۔یحییٰ ابن عبداللہ سے ایک روایت ہے وہ کہتا ہے کہ انہوں نے جعفر ابن محمدموسیٰ اور امہ ولد کیلئے وصیت کی ہے کہ منصور مر گیا تو اس کے بعد مہدی خلیفہ بن گیا۔جس کے حکم سے امام موسیٰ کاظم کوبغداد بلایا گیا اور قید میں ڈالا گیا ۔ طبری کے مطابق مہدی نے ایک دن خواب میں امام علی ابن ابی طالب کو دیکھا جو فرمارہے تھے ۔
''فهل عسیتمان تولیتم ان تفسدوفی الارض وتقطعوا ارحامکم''
تو وہ خوف کی حالت میں نیند سے اٹھااور راتوں رات امام کو جیل سے نکالنے کا حکم دیا۔ اور ان سے عہد لیا کہ وہ ان کے خلاف خروج نہیں کریں گے ۔اتنے میں امام نے فرمایا:خداکی قسم یہ میر ی شان کے خلاف ہے اور نہ ایسی بات میرے ذہن میں ہے ۔تو اس نے کہا آپ نے سچ کہااور آپ کو تین ہزار درہم دینے کا حکم دیا ،پھر انہیں مدینہ واپس جانے کا حکم دیا اور خلافت رشیدہ کے دور میں جب اس نے حج کا ارادہ کیااور مدینہ پہنچ کر روضہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کی زیارت کی اور اس کے ساتھ موسیٰ کاظم تھے تو خلیفہ نے زیارت میں یہ جملہ کہا اے اللہ کے رسول اور میرے ابن عم آپ پر سلام ہو تو موسیٰ نے زیارت میں یہ جملہ کہا اے میر ے بابا تجھ پر میرا سلام ہو ۔ اتنے میں رشید نے کہا اے ابو الحسن یہ باعث فخر ہے۔پھر اس نے ۱۶۹ھ میں امام کو طلب کیا اور لمبی مدت کیلئے قید کیا ۔طبری کے مطابق ماہ رجب یعنی ۱۸۳ھ/۷۹۹ ء کو آپ کی وفات ہو گئی ۔اس سے یہ ظاہر ہو تا ہے کہ طبری نے امام کی گرفتاری کی تاریخ کو بیان کر نے میں شک کیا یا تحقیق کر نے میں غلطی کی یا طباعت میں غلطی ہوئی کیونکہ اس سال رشید خلیفہ ہی نہیں تھا اور اس نے اس سال حج بھی انجام نہیں دیا تھا کیو نکہ اس وقت اس کا بھائی ہادی خلیفہ تھا مگر جس حج کا طبری نے ذکر کیا اور اس سال اس نے بنی ہاشم کے رشتہ داروں میں مال تقسیم کرنے کاحکم دیا تھاجس طرح اس نے اہل حرمیں میں بھی بہت سارا مال تقسیم کیا تھا۔ اور۱۷۱ھ بمطابق۷۸۷ ء کو عبدالصمد بن علی نے حج بجالایا۔اس کے دوسرے سال یعقوب بن ابو جعفر المنصور نے حج کیا لیکن طبری ۱۸۳ھ /۷۸۹ ء میں حج کیلیے گیا تو وہ زیادہ عرصہ وہاں نہیںٹھہر ا کیونکہ مکہ میں وبا ء پھیل گئی تھی ۔اس لیے گمان غالب ہے کہ اس کی ملاقات امام مو سیٰ بن جعفر کے ساتھ اس کے عمرہ کے دوران ۱۷۵ھ بمطابق ۷۹۱ ء کو ہو ئی تھی ۔ اور امام کو بلاکر ۱۷۹ھ بمطابق ۷۹۵ ء میں گرفتار کیا تھانہ کہ ۱۶۹ھ بمطابق ۷۸۵ ء جیسا کہ ا س نے ذکر کیا ہے اس کی توثیق ہمیں ابن خلقان کی اس حدیث سے بھی ہو تی ہے ۔جو اس نے امام مو سیٰ بن جعفر سے نقل کیا ہے ۔لیکن اس میں تاریخ اس نے ۱۷۹ھ بمطابق ۷۹۵ ء لکھا ہے ۔اور وہ کہتا ہے کہ مہدی بغداد آیا اور اسے گرفتار کیا ،اور اس نے علی ابن ابی طالب خواب میں دیکھا ۔وہ ہارون رشید کے دور تک مدینے میں تھے۔جب ہارون الرشید ماہ رمضان ۱۷۹ھ کو عمرے سے آیا تو اپنے ساتھ موسیٰ کو بغداد لایا اور انہیں وہاں قید کیا یہا ں تک کہ وہ قید میں ہی وفات پاگئے۔ اس میں کو ئی شک نہیں کہ اس نے ایسا اہل بیت٪ کے ماننے والوں کے خوف سے کیا اور خاص طور پر اس نے اپنے دونوںبیٹے امیں اور مامون کی خلافت کا عزم کر رکھا تھا اور امام کو گرفتار ہونے کے بعد رشید اپنے دونو ں مذکو رہ بیٹوں کے ساتھ۱۸۶ھ کو حج کیلئے گیا اور ان دونو ں کے لیے عہد لیا ۔ ابن قتیبہ کے مطابق اس نے اپنے دونو ں بیٹوں کیلئے الگ الگ وصیت لکھ کر خانہ کعبہ میں لٹکا ئی تھی ۔بہر حال امام موسی ابن جعفر نے بھی مو ضع قبر علی کی نشاندہی فرمائی تھی اور لوگوں کی رہنمائی کی تھی ۔یہاں ایک بات جو مجھے سمجھ آتی ہے کہ آپ کو اپنے جد بزرگوار علی ابن ابی طالب کی زیارت آپ کے والد گرامی امام صادق کی وفات کے بعد میسر نہیں ہوئی کیو نکہ آپ کو ہر طرف سے مشکلات اور مسائل نے گھیر رکھا تھااسی لیے نہ آپ کو مہدی کے زمانے میں گرفتاری کے دوران اور نہ گرفتاری سے رہائی کے بعداور نہ رشید کے زمانے میں میسر ہوئی۔ ابن طاوس اپنی کتاب ''الفرحہ ''میں ابو علی ابن حما سے نقل کرتا ہے کہ موسیٰ ابن جعفر ان اماموں میں شامل ہیںجنہوں نے مشہد علی کی رہنمائی کیا ہے ۔ اور اس موضع کی طرف اشارہ کی ہے جو آج تک ہے اور کہتا ہے کہ ایو ب ابن نوح کہتا ہے میں نے ایک دن ابوالحسن مو سی ابن جعفر کو لکھا کہ ہمارے اصحاب زیارت قبر علی ابن ابی طالب کے حوالے سے اختلاف کر تے ہیں۔ بعض رحبہ کہتے ہے اور بعض غری ۔تو انہوں نے جوا ب لکھا کہ تم غری میں زیارت کرو ۔ایوب امام کاظم اور امام رضا کے وکیل تھے ۔اور ان دونوں کے نزدیک امانتدار'باعتماد اور متقی شخص تھا۔ یہ بات تفریشی نے اپنی کتاب ''نقد الرجال ''میںلکھا ہے۔اور محمد جواد فخر الدین وغیرہ امام کی زیارت کی بات کوترجیح دیتا ہے۔لیکن ان کے پیچھے کوئی قابل اطمنان دلیل نہیں ہے۔بہر حال اہل بیت ـمسلسل انقلاب نے عباسی خاندان کی کر سی ہلا کر رکھ دی تھی۔اور انہیں بے چین کیا تھا اور عباسیوں کا ظلم و جوراور ان کے ظالم اور جابر حکمرانوں کا بے رحمانہ سلوک ان پر جاری تھا۔ ایک دن منصور سے کہا گیا کہ ظلم میں رشید کا حصہ اس سے پہلے والے حکمرانو ں کے مقابلے زیادہ ہے لیکن اس کے دور میں اہل بیت٪کے قتل و غارت گری اورگرفتاریاں زیادہ ہوئی ۔اس حوالے سے اگر آپ ابو الفرج کی کتاب ''مقاتل الطالبین ''پر ملاحظہ کریں تو عباسیوں کا اہل بیت٪پر ظلم وجورکے واقعات جگہ جگہ نظر آتے ہیں ۔اس میں کو ئی شک نہیں کہ رشید کا یہ کارنامہ کہ اس نے امام مو سی بن جعفر کو زہر دیا ۔یہ اس کا عظیم اوربرے عزائم رکھنے کا نتیجہ ہے لیکن اللہ نے اس کا اس کے خاندان سے شدید انتقام لیا'جب مامون نے اپنے بھائی امین کو قتل کیا' لیکن سیرت علی کی روشنی نہ بجھ سکی بلکہ لوگوںکے دلوں میں اورزیادہ بڑھ گئی اور بہت سے انقلابات ان کی سیرت سے وجود میں آئے اور بہت سارے قائدین نے ان کی سیرت کے سایے میں لوگوں کی قیادت کی اور دوسری منصور اور اس کے بعد کے زمانوں میں کوفہ میںظالم حکمرانوں نے قبر علی کے زائرین پر سختی کرنا شروع کی۔ اور اس لمبے عرصے میں زائرین کی تعداد بہت کم ہوئی جس کے نتیجے میں بعض شیعوں کے درمیان موضع قبر کے بارے اختلاف در آیا لیکن مختلف مناسبات میں پوچھنے والوں کیلئے امام موسی ابن جعفر نے صحیح موضع کی طرف رہنمائی فرمائی۔
ابن کثیر''البدایہ والنہایہ ''کے مطابق ۱۸۴ھبمطابق ۷۹۲ ء کو دیلم حسین بن یحییٰ بن عبداللہ بن حسن بن حسن بن علی ابن ابی طالب نے ظہور کیا ۔اس کی بڑی تعداد میں لوگوں نے اتباع کی۔جس سے رشید بے قرار وبے چین ہو ا ۔تو اس نے پچاس ہزار جنگجو وں پر مشتمل فوج فضل بن یحییٰ بر مکی کی قیادت میں تیار کی اور فضل نے اپنی حکمت و سیاست کے ذریعے یحییٰ اور رشید کے درمیان صلح کرا نے کی کوشش کی اور ساتھ میں علویوں اور عباسیوں کے درمیان صلح کی بھی کوشش کی اور احتمال ہے کہ اس کے بعد یہ صلح اتنی زیادہ نہیں چلی ۔تو رشید کو فہ آیا ۔یا حج سے واپسی کے بعد یہاں پہنچا تھا ۔ اس نے یہاں تھوڑی دیر یا کچھ عرصہ آرام کر نے کا ارادہ کیا۔ اس دوران اس نے علویوں اور ان کے ماننے والوں کے ساتھ تھوڑی ہمدردی کا اظہار کیا ۔
اور ایک دن وہ ہرن کے شکار کیلئے نکلا جو کوفہ اور اس کے اطر اف میں زیادہ پائے جا تے تھے ۔ اور جو کوئی بھی یہاں آتا تو ان کی شکار کیلئے جا تا ۔ان ہر نو ں کی کثرت کے بارے میں شیخ محمد حرزالدین نے تفصیل سے بیان کیا ہے کہ ایک دفعہ ۴۸۰ھ بمطابق ۱۰۸۷ ء میں سلطان ملک شاہ چار محرم کو کوفہ کے کنارے شکار کی غرض سے نکلا اور اس کا لشکر نے ہزاروں کی تعداد میں ہرنوں کا شکار کیا ۔اور ان کی کھو پڑیوں سے مکہ کے راستے میں واقع رحبہ کے مقام پر ایک بڑامینار بنانے کا حکم دیا۔جو آج تک ''ا رة القرون'' کے نام سے مو جو د ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس مینار میں چار ہزار کھوپڑیا ہیں اور نظام الملک جب کو فہ پہنچا تو اس نے مشہد علی اور اس مینار کو دیکھا اور وہ اسی ماخذ سے یہ بھی نقل کرتا ہے کہ میںارة القرون انہی شکاروںسے بنی ہے جو کو فہ کے کنارے میں واقع ہے۔ اور اس جیسا اور ایک مینار اس نے دریا کے پیچھے بنایا تھا ۔اور کہا جاتا ہے کہ اس نے خود دس (۱۰)ہزار ہرنو ں کا شکا ر کیا تھا اور دس ہزار دینا رصدقہ دیا ہے اور وہ یہ کہتا ہے کہ میں بلاوجہ ان جانوروں کی روح نکالنے سے ڈرتا ہوں۔اور ابھی تک پچھلے صدی کی پانچ دہایوںتک ہرن وہاں کثرت سے پائے جاتے تھے' جس کی طرف ہم اشارہ کر چکے ہیں اور درندوں کا قبر امام سے پناہ لینے کی حکایت جسے ہم ذکر کریں گے نے ہارون رشید کو حیران کر دیا اور اس جگہ کی راست کے بارے میں سوال کرنے پر مجبور کر دیا یوں تو اس طرح کی کرامات کی تعداد زیادہ تھی لیکن ان کی توثیق کرنا قدرے مشکل ہے کیو نکہ اس زمانے کے حکام اما م کے ساتھ بغض وعداوت کر تے تھے مگر وہ زیارت جو آگے آئے گی جس سے رشید کو پریشانی ہوئی تو اس نے اہل بیتکے ساتھ معذرت کی قابل قبول ہے چونکہ رشیدکو فہ میں تھا اور کوفہ عراق میں شیعوں کا مرکز تھا ۔او ر امام کا مر تبہ آپ کے دوستون اور دشمنوں کے ذہنون میں خاص طور پر رشید کی ذہن میں زیادہ تھا ۔وہ اگر چہ علویوں سے بچتا تھا اور ان کوختم کر نا چاہتا تھا لیکن اس کے دل میں امام کی عزت تھی جس کا وہ امام کو حقدار سمجھتا تھا ۔اس لیے اس نے قبر امام کی کئی مرتبہ زیارت کی اب یہاں دو باتیں قابل غور ہیں ۔ پہلی یہ کہ اس صلح کی تصدیق ہے جو رشید اور علویوں کے درمیان ہوئی تھی ۔دوسری یہ کہ اس نے اہل کوفہ کے لیے خاص طور سے امیر المومنینـکیلئے ہمدر دی کا اظہار کیا پھر اس زیارت کی اور قبر مقدس کا اصلاح کا حکم دیا ۔اگر چہ اصلاح سے مراد قبر پر جمی ہوئی مٹی کو جمع کر کے ایک ٹیلہ نما بنایا اوراس کے اوپر ایک بڑا چبوترا بنانے کا حکم دیا مگر جہاں تک اس گھڑے کی بات ہے اس کے بارے میں ابن الطہار لکھتے ہیں کہ کہ رشید قبہ کے اوپر رکھا تھا جو روضہ امیر المومنینـکی الماری میں چھٹی صدی کے نصف اول تک مو جود تھا ۔جس کا رشید کے ساتھ دور سے بھی واسطہ نہیں ہے اور یہ اس نے نہیں رکھا جیسا کہ بعد میں بیان ہو گا اور یہ ایک وہم ہے ۔جس کا سبب روایت میں نقطہ یا ابن الجمال کا ہو سکتا ہے لیکن روضہ کے الماری میںجو گھڑا موجو د ہے ۔وہ کو ئی دوسرا گھڑا ہے جس کے بارے میں ہم بیان کریں گے ۔بلکہ اس امر میں ابن طہال نے تجاوز کیا ہے اور کہا جاتا ہے ۔کہ رشید کا گھڑا الماری میں محفو ظ تھااورروضہ امام موسی کاظم کے الماریوں سے تبر کا ت منتقل کر تے وقت وہ گھڑا ٹوٹ گیا کیونکہ وہابیوںکے خوف سے یہ تمام تبرکا ت روضہ امام کاظم میں منتقل کیا گیا تھا ۔ یہ بعید نہیں کہ سبز گھڑاروضہ امام علیـکے الماری میں موجو د ہو جیسے روضہ کی تعمیر کے دوران شاہ صفی کی حکم سے رکھا گیا تھا ۔یا یہ بعد میں دوبارہ تعمیر کے دوران شاہ عباس صفوی اول کے حکم سے رکھا گیا ہو محمد حرزالدین نے اس حوالے سے ''معارف الرجال ''میں بیان کیا ہے کہ یہ قبہ سونا چڑھوانے سے پہلے نیلے رنگ کے کاشتکاری اور رنگ برنگ کے چھوٹے چھوٹے پتھروں کے ٹکڑوں کو جوڑکر مختلف اشکال اور قسم قسم کی صورتوں سے مزین کیا گیا تھا ۔اوراس کے اوپر ایک گھڑا رکھا ہو ا تھا جو بعد میں قبے کو سونا چڑانے کے بعد الماری میں رکھا گیا مگر وہ گھڑا جو رشید کی طرف منسوب ہے جس کا کوئی آثار نظر نہیں آتاہے جس کے کوئی آثار ۲۶۰ھ تک ہمیں نظر نہیں آئے ۔
خاص طور پر مرقد شریف پر قبہ سے پہلے چبو ترا تھا جیساکہ بیان ہو ا اور ہم یہاں یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ اس عمارت پر ایسا قبہ بنایا گیا تھا جس کے چاردروازے تھے اور اس کے اوپر ایک سبز قیمتی گھڑا مو جو د تھا ۔
بلکہ شیخ کاظم حلفی نے یہاں تک لکھا ہے ''روضہ کے جواہرات سے مر صہ قندیل رکھا ہوا تھااورہر کسی نظرکو آتا تھا اور مجھے نہیں معلوم یہ ساری چیزیں کہا ںسے آئی ۔ اگر یہ سب چیزیں صحیح ہو تو یہ گھڑ ا اور قندیل کے اوپر تین صدیوں کے آس پاس میں ابن الطہار جو کہ قبہ رشید کے حدیث کے راوی ہیں کے مطابق کوئی وجو د نہیں تھا ۔ قبہ رشید کے روایت کی بات میرے خیا ل میں زیادہ قابل غور ہے کیو نکہ اس کے اند ر بعض محدثین اور متاخرین نے حد سے زیادہ مبالغہ آرائی سے کا م لیا ہے۔ اور قبر امیرالمومنینـ کو اس چیز کی ضرورت نہیں تھی کیو نکہ اس زمانے میں قبر وں پر قبے بنانا مشہور نہیں تھا ۔اگر مشہور ہو تا تو بنی امیہ کے قبورپر اور بنی عباسیوں کے خلافاء صفاء ،منصور ،مہدی ،ہادی، رشید وغیرہ اور اہل بیتـ کے مدینہ منورہ میں یا ان کے علاوہ بڑے بڑے صحابیوں کے قبروں پر قبے کے بارے میں سنتے یا لکھتے، اور مسعودی جو چوتھی کے مورخ ہیں اور مدینہ منورہ میںآئمہ اطہار٪ کے قبور کے بارے میں سوائے ان کے اوپر ایک کتبہ ان پر ان کے اسماء گرامی کے علاوہ کچھ بیان نہیں کر تا ہے ۔جیسا کہ بیان ہوا ''کتاب فرحہ ''میں زیارت رشید کی اصل روایت ابن عائشہ سے عبداللہ بن حازم سے ہے ۔اور اس روایت کے سلسلے میں شیخ طوسی اور شیخ مفید ہے۔اور ان کا نام اس روایت میں ہو نا مزید توثیق کر تا ہے اور یہ روایت شیخ مفید کی کتاب الارشاد میں ہے۔عبداللہ بن حازم کہتا ہے۔ایک دفعہ ہم رشید کے ساتھ کوفہ سے شکارکرتے ہو ئے غریین اور ثویہ کے کنارے پہنچے اورہم نے وہاں بہت سارے ہرنوں کو دیکھا'تو ہم نے ان پرشکار ی باز اورکتوںکو چھوڑاتو انہوں نے ایک گھنٹہ شکار کرنے کی کو شش کی۔ پھر یہ ہرن ایک ٹیلے کی طرف بھاگ گئے تو بازاورکتے واپس آگئے۔یہ منظر دیکھ کر رشید حیران ہو ا'پھر یہ ہرن دوبارہ جب ٹیلے کے نیچے نکلے توبازوں اور کتوں نے دوبار ہ پیچھا کر نا شروع کیا۔ اور ہرنوں نے جب یہ دیکھا تو دوبارہ ٹیلے کے پیچھے چلے گئے۔تو کتے اور باز واپس آگئے۔اس طرح تین مرتبہ ہوا تو ہارون نے اپنے ساتھیوںسے کہا:اس جگہ کی طرف جاؤ جوبھی ملے میرے پاس لے کر آو'تو ہم اس کے پاس سے بنی اسد کے ایک بزرگ کو لے کر آئے۔ ہارون نے اس سے پوچھا ،یہ ٹیلہ کیا ہے۔ بزرگ نے جواب دیا: اگر تم مجھے امان دو گے تو میں بتا وںگا۔ہارون نے کہا تمہارے لیے اللہ کا عہد اور میثاق ہو۔ میں تمہیں کو ئی اذیت نہیں دوںگا اتنے میں اس بزرگ نے کہا کہ میرے والد نے اپنے باپ کے حوالے سے مجھے بتایا کہ وہ کہا کر تے تھے یہ ٹیلہ علی بن ابی طالب کی قبر ہے ۔اللہ نے اس کو رحم قرار دیا جو کوئی یہاں آتا ہے اما ن پاتا ہے ۔ اتنے میں ہارون اترا اور پانی طلب کر کے وضو کیا اور اس ٹیلے کے پاس نماز پڑھی ۔اور وہاں دیر تک روتا رہا پھر ہم نکل گئے اس روایت کو قطب الدین راوندی نے اپنی کتاب ''الخرائج والجرائح ''اور شیخ مفید نے اپنی کتاب ''الارشاد''میں بیان کیا ہیلیکن یہ دونوں محمد بن عائشہ سے عبداللہ بن حازم کی روایت کر نے پر مطمئن نہیں ہیں ۔اس کی وجہ یا تو اس روایت میں مذکور کرامت ہے۔یا رشید کی زیارت قبر امیر المومنین سے دوری ہے لیکن اس حوالے سے یاسرکی روایت پر اعتماد کرتے ہیں جو کہ رشیدکے ساتھ حج میں تھا یا سر کہتا ہے کہ جب ہم مکے آکر کو فہ میں ٹھہر ے تھے تو ایک رات رشید نے مجھ سے کہا اے یاسر عیسیٰ ابن جعفر سے کہو کہ وہ میرے پاس آئیں۔ اور ہم سب سوار ہو کر چل نکلے یہاں تک کہ ہم غریین پہنچے ۔
مگر عیسیٰ تو جلدی سو گیا ،لیکن رشید ایک ٹیلے کی طرف آیا اور نماز پڑھنا شروع کیا۔ جب اس نے دو رکعتیں پڑھی اور ٹیلے پر گر کر دعا اور گریہ زاری کر نا شروع کیا ،پھر یہ کہنے لگا اے میرے چچا زاد! واللہ میں آپ کی فضیلت کو جانتا ہوں اورمیں نے آپ سے مسا بقت کی ہے اور واللہ میں آپ کے پاس بیٹھا ہو ں اور آپ آپ ہیں لیکن آپ کی اولاد مجھے اذیت دیتے ہیں اور میرے خلاف خروج کرتے ہیں پھر وہ اٹھتا ہے اور نماز پڑ ھتا ہے اور وہی بات دوہر اتا ہے یہا ں تک کہ سحر کاوقت ہو تا ہے ۔تو مجھے کہتا ہے:اے یا سر! عیسیٰ کو اٹھا و جب میں نے اٹھا یا تو رشید نے اسے کہا اور اپنے چچا زاد بھا ئی کے قبر پر نماز پڑھو عیسیٰ نے کہا یہ میرے کو ن سے چچازاد ؟ تو ہارون نے کہا یہ قبر علی ابن ابی طالب کی ہے ۔یہ سن کراس نے وضو کیا اور نماز پڑھنا شروع کیا اور فجر تک دونو ں بھا ئی نماز پڑھتے رہے۔ پھر میں نے کہ اے امیرالمومنین صبح ہو گئی۔ پھر ہم سوار ہو گئے اور کو فہ واپس آگئے ۔یہ روایت شیخ مفید نے بھی اپنی ''کتاب الارشاد ''میں ذکر کیا ہے ۔پھر ابن طاوس نے اپنی کتاب الفرحہ میں ایک روایت بیا ن کیا ہے جسے صفی الدین نے بعض قدیم کتابوں سے یوں بیان کیا ہے کہ ۔عبیداللہ بن محمد بن عائشہ سے روایت کرتے ہوئے عبداللہ بن عازم بن حزیمہ کہتا ہے کہ ایک دن ہم رشید کے ساتھ شکار کی غرض سے غریین اور ثویہ کے کنارے چلے گئے پھرمذکورہ حدیث کی عبارت ہے اور اس قول کے بعد کہ ہم کوفہ واپس آگئے ،اس عبارت کا اضافہ کیا ہے پھر ہم مقام رحبہ کی جانب نکل گئے اور وہاں ٹھہرے ہوئے تھے ایک سال بعد رشید نے مجھ سے کہا اے یاسر تمہیں غریین کی رات یا د ہے ؟میں نے کہا ہا ں یا امیرالمومنین۔تو اس نے پو چھا کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ کس کی قبر ہے ؟ میں نے کہا نہیں تو اس کہا وہ تو امیر المومنین علی ابن ابی طالبـکی قبر تھی ۔میں نے کہا اے امیر المومنین یہ کو ن سا تضاد ہے کہ آپ ان کے قبر سے ساتھ یہ سلوک کر تے ہیں اور انکے اولادوں کو گرفتار کر کے قید کرتے ہیں !تو اس نے کہا تم پر ہلاکت ہو یہ تم کیا کہہ رہے ہو ؟
یہ لوگ مجھے اذیت دیتے ہیں اور میں ان کی مدد کر تا ہوں!تم دکھاو کہ ان میں سے کون جیل میں ہے ۔ہم نے بغداد اور رقہ کی جیلوں میں دیکھا تو پچاس آدمی تھے ۔ تو اس نے کہا ان میں سے ہر ایک کو ہزار ہزار درہم دے دو اور رہاکرو۔یا سر کہتا ہے کہ میں نے ایسا کیا تو مجھے احساس ہو اکہ اللہ کے نزدیک یہ میری سب سے بڑی نیکی ہے۔ابن عائشہ کہتا ہے کہ یاسر یہ حدیث جسے مجھے عبداللہ بن حازم نے بیان کی میرے نزدیک موثوق ہے۔اب ان تینوں روایتوں کے درمیا ن آپ کے سامنے ہے کہ پہلی روایت میں رشید شکار کیلیے نکلتا ہے اور وہاں ہرنوں کے ان ٹیلوں کے پاس پناہ لینے سے اس کو قبر مطہر کی پہچان ہوتی ہے جبکہ دوسری روایت میں وہ امیرالمومنینکی زیارت کی قصد سے ہی نکلا تھا۔ اور وہ موضع قبر اور صاحب قبرکے بارے میں جانتا ہے اور کو ئی اس کی رہنمائی بھی نہیں کرتا یہ بات زیادہ عقل کے قریب ہے اس لیے قبر مطہر تو دوسرے علویوں اور عباسیوںکے ہاں نا معلوم نہیں تھی اورجبکہ تیسری روایت میں وہ شکاراور زیادہ قبر مطہردونوںکی قصد سے نکلا تھا نہ صرف یہ کہ وہ موضع قبراور اس کی قدر کے بارے میں جانتا تھا اور ایک سال کے بعد قبر مطہر کی زیارت کی راز کو یا سر کو بتاتا ہے اور پھر یاسر کی ملامت اور علویوں کو قید سے رہا کروا تا ہے اور آپ نے ملاحظہ کی کہ ان تینوں روایتوں میں کہیں بھی اس کے قبر مطہر کی تعمیر کاذکر نہیں ہے ۔تیسری روایت کے مطابق وہ کو فہ دوبارہ واپس آتا ہے اور ایک سال کے بعد غریین میں آکر وہ یاسر کو صاحب قبر کا راز بتاتا ہے لیکن اس حوالے سے ''دمیری ''نے اپنی کتاب ''حیاةالکبریٰ ''میں ابن خلکان کی کتاب الوفیا ت سے فہد سے احادیث بیان کر تے ہوئے بیان کیا ہے۔ جس کے مطابق وہ شکار کیلئے نکلے تھے یہاں تک کہ شکاری جانور قبر اطہر کی طرف نہیں بڑھے ......!اس کے بعد یہ حدیث شروع ہو تی ہے کہ ''پھر اس نے وہاں کے ایک باشندہ کوبلایا اور اس سے اس نے دریافت کیا کہ یاامیرالمومنین اگرمیں آپ کو آپ کے ابن عم علی ابن ابی طالب کی قبر کی جانب رہنمائی کروں تو آپ کیادوگے ' رشید نے کہا ہم تمہا ری تعظیم کریں گے ۔ اتنے میں وہ آدمی کہتا ہے میں ایک دن اپنے باپ کے ساتھ یہاں سے گزراتو وہ اس قبر مطہر کی زیارت کر نے لگا اور مجھے بتایا کہ وہ امام جعفر صادقـ کے ساتھ یہاں آیا کرتے تھے اور جعفر اپنے والد بزرگوار محمد باقر کے ساتھ یہاں آیا کرتے تھے ۔اور علی ابن حسین اپنے پدر بزرگوار حسین کے ساتھ آکر زیارت کرتے تھے اور حسین اس قبر کے بارے میں ان سے زیادہ جاننے والے تھے یہ سن کر رشید نے اس موضع پر پتھر رکھنے کا حکم دیا اور یہ پہلی بنیا د تھی اس کے بعد سامانی اور بنی حمدان کے ایام میں اس پر مزید تعمیرات ہو ئی اور یہ سلسلہ دیلم کے دور میں او ربڑھ گیا ۔اور عضدالدولہ و ہی ہے جس نے قبر علی ابن ابی طالب کو ظاہر کیا اور اس پر مزار بنوایا اوروصیت کی کہ اسے یہاں دفنایا جائے۔ اورلوگوں کے در میان اس قبر کے بارے میں اختلاف ہے۔''دمیری ''کی یہ روایت دو روایتوں سے مخلوط ہے ،جس میں ایک کہ وفیات کے حوالے سے یہ بات کہ وہ شکار کیلئے نکلے پھر وہاں موضع قبر پر پتھر رکھنے کا حکم دیا۔ دوسری بات ابن خلکان کے مطابق کہ عضدالدولہ نے قبر امیرالمومنین کا انکشاف کیا ہے۔ اور پھر تعمیر کروائی اور وہا ں دفن ہو ئے اور اس میں لوگوں کے درمیان اختلاف ہے ۔اگر ہم اختلاف والی بات کو زیادہ اہمیت نہیں دے تو اس روایت سے زیادہ سے زیادہ یہ بات نکلتی ہے کہ رشید نے قبر مطہر پر کو ئی چیز رکھی تھی ہم یہ توقع نہیں کر تے کہ رشید نے وہاں چبو ترا یاموضع قبر کے احاطے میں اور بھی پتھر رکھا ہو یا کوئی تعمیر کی بنیا د رکھی ہو یہ کام تو اس کے کارندے یا کو فہ کے گور نر کے حکم سے ہو تا ہے ۔پھر رقہ یا دوسری جگہ کی جانب چلا گیا ۔مگر جہاں تک بات رشید کے قبے کی ہے تو اس کی حکایت پر مجھے اطمینا ن نہیں ہے۔''صاحب الفرحہ ''نے اس حوالے سے ایک روایت بیان کی ہے۔ ابن طحال کہتا ہے کہ رشید قبر مطہر پر سفید سے تعمیر ات کی تھی جو موجود روضہ سے ایک ہاتھ چاروں طرف سے چھو ٹا تھا اور جب ہم نے روضہ شریف کو کھولا تو اس کے اوپر مٹی ور حرنا تھا ۔پھر رشید نے اس کے اوپر سرخ مٹی سے قبہ بنانے کا حکم دیا اور اس کے اوپر سبز یمنی چادر ڈال دی ۔اور مولوی کی تحقیق کے مطابق یہی قبہ ہے جو آ ج روضہ کی الماری میں مو جو د ہے ۔یہ روایت اور دوسری تمام روایات جو رشید کی عمارت کے حوالے سے ہیں ان تمام میں تبدیلی آئی ہے ۔ ڈاکٹر محمد حسن نے بھی اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے کہ بعض مآخذ میں رشید کی تعمیر کے بارے میں یو ں بھی وارد ہو اہے کہ امیرالمومنین کی قبر پر قبہ ،صندوق اور سائباں بنایا ۔در اصل ماخذ تو صرف الفرحہ کی روایت ہی ہے ۔یہاں ڈاکٹر محمد حسن مو ضع قبر مطہر کی شہرت رشید کے زمانے میں دیکھ کر بہت غضبناک ہو کر کہتے ہیں ۔پھر ایک اور روایت ہے شاید ہارون رشید کے زمانے میں قبر مطہر کی کشف کرنے کے حوالے سے سب سے قوی روایت ہوگی جبکہ اس کی صورت سے لگتا ہے کہ یہ سب ضعیف روایت ہے۔مگر یہ جو بن طحال کے روایت کے اند ر مذکور ہے جس کے بارے میں سید تحسین مولوی نے مستد رکار علم الرجال کے حوالے سے کتاب الفرحہ کے حاشیے میں حالات زندگی بیان کی ہے لیکن اس میں مو صوف کو اشتباہ ہوا ہے ۔انہوں نے کہا ابن طحال جو کہ حسن بن حسین بن طحال مقدادی ہے جبکہ شیخ غازی اس کے بارے میں لکھتا ہے کہ وہ علی ابن طحال جو کہ مزار علی ابن ابی طالب کا ایک خادم تھا ۔
آپ نے ملاحظہ کیا ہے کہ اس کے اندر واضح فرق ہے ۔اور ڈاکٹر حسن حکیم نے بھی لکھا ہے کہ وہ مر قد شرف کا خادم تھا ۔پانچویں صدی تک روضہ مقدس کی خدمت گزاری حوالے سے کوئی اشارہ وغیرہ نہیں ملتا اور یہ بھی کہا جاتا ہے آل طحال کے خاندان کی طرف خدمت گزاری منسوب کیا جاتا ہے لیکن کو ئی قابل اعتماد سند نہیں ہے سواے محمد السماوی جس نے آل طحال کی خدمت گزاری پر اعتمادکیا ہے جس کی حالات زندگی ہم فخر الدین کی تحقیق میں دیکھا ہے وہ کہتا ہے آل طحال حرم شریف کے خداموں میں سے تھا لیکن کتاب الفرحہ کے حاشیہ شیخ مہدی نجف نے اس شخص کی حالات زندگی میں بیان کیا ہے کہ وہ حسن ابن محمد بن حسین بن علی بن طحال بغدادی ہے جو۵۸۴ھ بمطابق ۱۱۸۸ ء میں مر قد شریف کے خدام تھے۔ لیکن موصوف نے اس حوالے سے کو ئی ماخذ بیا ن نہیں کیا سوائے بعض معلومات اپنے والد اور داد اسے جمع کرنے کے۔
شیخ عبداللہ مامقانی نے اپنی کتاب ''تنقیح المقال ''میں حسن بن حسین بن الطحال مقدادی کے حالات زندگی کو یہ کہہ کر چھوڑدیا ہے کہ علماء رجال نے اسے بیان نہیں کیا ہے۔اس لیے یہ مہمل ہے' ان کا یہ احتمال قابل شک ہے کیو نکہ ان سے روایت ہو ئی ہے اور انہوں نے روایت بیان کی ہے۔ اگر ہم ابن طحال کی روایت پرنظر دوڑائیں تو ہمیں اس میں کو ئی سند اور ماخذ نظر نہیں آتا جو اس کی تائید کرے بلکہ مجھے ان کے اندر کو ئی تقویت نظر نہیں آتی بلکہ ایک دوسرے کی دفاع کرتی ہوئی نظر آتی ہے روضہ مقدس تیسری اور چھٹی صدی کے درمیان ایک سے زیادہ دفعہ بنایا گیا ہے ان عمارتوں میں زیادہ مشہور عضدالدولہ کی عمارت ہے جس میں ایک سفید قبہ تھا جس کو ہم یہا ں بیان کریں گے ۔ رشید کی عمارت کیسے مشہور ہوئی ۔ خود اس روایت کے اندر اضطراب ہے کہ ایک مرتبہ رشید دیوار بناتا ہے تو دوسری طرف قبہ بنانے کاحکم دیتا ہے اور قبر اور صاحب قبر کی احترام کے لیے اس کے اوپر ایک سبز یمنی چادر رکھتا ہے ۔اور قبہ سرخ مٹی سے تیار کراتا ہے بلکہ میر ے نزدیک تو شیخ مہدی کا نظریہ صحیح لگتاہے جس نے بجائے جرةکے (حبرہ) یعنی یمنی چادر کا ذکر کیا ہے ۔
اگر میں عمارت اور قبہ کی زینت کو نہیں مانتا توبالکل انکار بھی نہیں کر تا ۔سید جعفر بحر العلوم نے اپنی کتاب میں الفرحہ میں مو جود ان دونوں روایتوں کو ملاتے ہوئے بیان کیا ہے کہ ہارون رشید نے وہاں قبہ بنانے کا حکم دیا پھر لوگوں نے زیارت شروع کی اور اس کے ارد گرد اپنے مردوں کو دفن کرتے تھے اوریہ سلسلہ عضدوالدولہ کے زمانے تک تھا۔سید محسن امین صاحب ''اعیان الشیعہ ''کے مطابق ۱۷۰ھ بمطابق ۷۸۶ ء کو سب سے پہلے ہارون رشید نے روضہ مقدس کی تعمیرکروائی تھی ۔اور دیلمی نے ''ارشاد قلوب ''میںروایت بیان کیا ہے کہ جب ہارون رشید نے زیارت قبر امیر المومنین کیلئے گیا تو وہاں چادر دروازوں پر مشتمل ایک قبہ بنوانے کا حکم دیا ۔اس پر حسینی نے اضافہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ پھر لوگوں نے زیارت کرنا شروع کی اورقبہ اس کے ارد گرد اپنے مردوں کو دفن کرنا شروع کیا ۔دیلمی اپنی کتاب ''ارشاد القلوب'' میں بغیر سند کے ایک روایت بیان کرتے ہیں جس کے شروع سے آخر تک اخذ مشکل ہے وہ روایت کے شروع میں کہتا ہے کہ امیر المومنین کی جب روح قبض ہوئی غسل وکفن کے بعد مسجد کوفہ کی طرف چار تابوت نکالے گئے پھر نماز پڑھائی گئی 'پھر ایک تابوت ان کے گھر کی طرف لے جایا گیا باقی تین میں سے ایک بیت الحرام بھیجا گیا اور دوسرا مدینہ رسول بھیج دیا گیا جبکہ ایک تابوت بیت المقدس میں بھیج دیا گیا۔ یہ اصل میں آپ کو پوشیدہ رکھنے کے لیے ایسا کیا گیا تھا ۔
اسی طرح کی روایتوں پر ہم نے تبصرہ کیا ہے یہ صرف قیل وقال اور من گھڑت باتیں ہیں جو دفن کے حوالیسے دوسری معتبر روایات سے خاموش ہو تی ہے ۔سید حسن امین صاحب دائرة المعارف شیعہ نے لکھا ہے کہ رشید کے زمانے میں قبر شریف پر سائباں اور اس کے قبہ بنایا گیا تھا۔اس کے باوجود موصوف نے ماخذ کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی ہیں ۔اسی طرح ہم نے ارشاد دیلمی میں بھی دیکھا جس کے اندر طباعتی غلطیا ں بہت زیادہ تھی ۔اور بغیر سند کے یہ روایت لکھ دی ۔پھر اس چار دروازوں پر مشتمل عمارت بنانے کا حکم دیا اور یہ عضد الدولہ کے زمانے تک باقی رہا ۔
مامون' معتصم'واثق اور متوکل کی دور خلافت میں روضہ مقدس کے حالات
بہر حال اگر یہ گنبد مٹی کا ہو تو ہمیں نہیں لگتا ہے کہ مو سم کے نشیب وفراز میں جہاں کبھی درجہ حرارت (مثلاجولائی کے مہینے میں )کافی بڑھ جا تاہے میں اتنا لمبا عرصہ رہا ہو ۔اگر باقی رہا ہو تو ضرو ری ہے کہ اس کیلئے کو ئی بچاو ہو جس کا میرا خیا ل ہے کہ نہ ہو۔اور یہ بھی بعید نہیں ہے کہ اس قبے کی اصلاح اور وسعت بھی نہ ہو ئی ہو اس لیے کہ ابن الربہ اور ابن اثیر دونو ں کے مطابق مامون نے ماہ ربیع الاول ۲۱۳ھ میں یہ اعلان کیا تھا کہ امیر المومنین رسول اللہ کے بعد لوگوں میں سب سے افضل ہیں ۔اور یہ بھی بعید نہیںہے کہ اسی عہد میں روضہ مقدس کے قرب وجوار میں لوگ رہتے تھے ۔خاص طور سے جب امام علی موسیٰ رضا کی ولی عہدی کا اعلان کیا تھا قرب جوار میں رہنے کے حوالے سے اس میں نشیب و فراز ہو تا رہتا تھا کیو نکہ موسم میں جب سختی ہو تی تھی خاص گرمی کے مہینوں میں تو میرا نہیں خیال ہے کہ لوگو ں نے وہا ں دائمی مسکن بنایا ہو ۔ لیکن اب یہ مجھے یقین ہے کہ خلافت مامون، معتصم اورواثق کے دور میں انہو ں نے علی اورآل علی کی تھو ڑی ہمدردی کی وجہ سے شیعہ کو فہ میں آرام کے ساتھ بغیر کسی سختی کے مر قد امیر المومنین کی تھوڑی اور بھی ترقی ہو ئی تھی کیو نکہ متوکل اپنے سے پہلے خلفاء ،مامون ،معتصم اورواثق سے ان کی علی اور آل علی کے محبت کر نے وجہ سے بغض رکھتے تھے۔ مجھے لگتا ہے خلافت واثق میں ۲۳۲ھ بمطابق ۸۴۷ ئ۔
زائرین قبر مطہر نے ایک بڑی کشادگی دیکھی ہے کیو نکہ وہ زیارت کیلئے بغیر کسی تنگی کے آرام سے جاتے تھے ۔ اگرچہ اس حوالے سے کوئی روایت تائید نہیں کرتی ہے کیونکہ اس سے عباسی حکومت اور خلافت کا ستارہ غروب ہونا شروع ہوا تھا ۔اس لیے ان کے ہاں تر کوں نے گھسنا شروع کیا تھا آہستہ آہستہ ان کے حکو متی معاملات میں تنگی لا نا شروع ہوا تھا۔ اس حوالے سے ہم نے اپنی ''نصوص و محاضرات ''نامی کتاب میں گفتگو کی ہے۔ اورگمان غالب ہے کہ جب لوگوں نے رہنا شروع کیا تو بعض علوی وہاں دفن بھی تھے ۔ان کے علاوہ کو فہ کے اور بھی شیعوں نے اپنے مردوں کو اس وقت دفن کر نا شروع کیا جب ان میں اعتقاد ہو اکہ قبر مطہر کے جوار میں دفن ہونا باعث ثواب ہے۔ لیکن شیعوں کیلئے یہ کشادگی زیادہ عرصہ نہ رہی ،جب زمام خلافت متوکل کے ہاتھ میں آئی جوبغض امیر المومنین میں مشہور تھا۔ تو اس نے شیعوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا ۔اور بات یہاں تک آگئی ۲۳۶ھ بمطابق ۸۵۰ ء میں اس نے قبر ابی عبداللہ الحسین کو ڈھانے کا حکم دیا اور وہاں زراعت اور پھر پانی چڑانے کا حکم دیا اور لوگوں کو وہاں آنے سے روک دیا ،یہ بات طبری ،ابن اثیر اور مسعودی وغیرہ اپنی اپنی کتابوں میں جابجا لکھا ہے ۔
''آل ابی طالب متوکل کے زمانے میں سختی اور مشکلات میں تھے ۔انہیں قبر حسین کی زیارت سے روک دیا گیا تھا اور اسی طرح کو فہ کی سر زمین غرا جہاں مزار علی ابن ابی طالب ہے۔ یہاں ان کے شیعوں کو جانے سے روک دیا گیا تھا ۔یہ واقعہ ۲۳۶ھ کا ہے ۔یہ روایت انتہائی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ غرامیں روضہ اور مزار کے بارے میں بتاتی ہے۔اور یہ مزار حامل آل ابی طالب کے نزدیک قابل اہتمام ہے ۔اور یہ قبر امیر المومنین کے ماننے والوں کے لیے مرکز ہے ۔وجود روضہ کے بارے میں شیخ محمد حرزالدین نے ابن تغری بردی سے روایت کی ہے جس میں متوکل کے امیر المومنین کے ساتھ بغض ظاہر ہو تا ہے ۔اس کی ایک امّ الفضل گویہّ (ناچنے' گانے والی عورت )کے ساتھ خلافت سے پہلے ناجائز تعلقات تھے ۔ایک دفعہ اس کو طلب کیا تو اس سے نہیں ملی ۔اور چند روز بعدوہ حاضر ہو گئی تو اس کے چہرے پر رونق تھی ۔متوکل نے اس سے پو چھا تو کہا ں گئی تھی ؟ تو اس نے جواب دیا حج میں تو اس نے کہا تمہاری ہلاکت ہو یہ حج کے ایام نہیں ہیں ۔اس نے کہا حج سے مراد حج بیت اللہ نہیں بلکہ میں مزار علی کی زیارت کرنے گئی تھی اس نے کہا اتنے میں متوکل نے کہا شیعوں نے تو اللہ کے فرض کئے ہوئے حج کو مزار علی کے لیے قرار دیا ہے۔اس کے بعد اس نے مزار کی طرف لوگوں کو جانے سے روک دیا''لیکن اس قسم کی ایک روایت ''مقاتل الطالبین ''میں ہے ۔جس میں متوکل کی ایک کنیز کے ماہ شعبان میں مرقد حسین پر جانے کا ذکر ہے ۔ بہر حال تغری بردی کے روایت اگر صحیح ہے تو کم ازکم یہ مزار علی کی وجود کے بارے میں توبتاتی ہے۔جو تیسری ہجری کے اوائل میں ایک بڑے قبے پر مشتمل تھا مگرمتوکل کا علی اور ان کے شیعوں کے ساتھ بغض زیادہ شدید تھا ،اور آل ابی طالب پرخلفائے بنی عباس میں سے سب سے زیادہ متوکل نے ظلم کیا ۔یہا ں تک کہا جاتا ہے کہ ابن اثیر کے مطابق متوکل کا بیٹا منتصرباللہ امام کے ساتھ شدید بغض رکھنے کی وجہ سے ان کے ماننے والوں کے قتل کو حلال قرار دیتا تھا ۔ ابن اثیر مزید آگے لکھتا ہے ۔وہ علی ابن ابیطالبـ اور اس کے خاندان کے ساتھ شدید بغض رکھتا تھا کوئی اس کے پاس علی اور اس کے خاندا ن کے ساتھ محبت کا اظہار کرتا تو اس کے جان ومال کی خیر نہیں تھی ۔ اور اس کی ہمنشینی ایک خنثیٰ کے ساتھ تھی جو اپنے لباس کے نیچے پیٹ پر تکیہ باندھ کر رقص کر تاتھا ۔ جب وہ گانے والے گاتے تھے تو یہ گنجا پیٹو خلیفہ مسلمین پر جھکتا تھا اورحضرت حضرت علیـکی شان میں گستاخیاں کیا کرتا تھا (نعوذباللہ )متو کل پیتا اور بہکتا رہتا تھا ۔
ایک دن اس مو قع پر منتصر بھی موجود تھا اور اس منظر کو دیکھ کر اس پر خوف طاری ہوا تو متوکل نے پوچھا یہ تمہاری کیا حالت ہوئی ہے ۔تو منتصر نے کہا اے امیر المومنین یہ جو کتا جس کے بارے میں کہہ رہا تھا اورلوگ اس پر ہنس رہے ہیں۔وہ تمہا راچچا زاد بھائی ہے ۔جس پر تمہیں فخر ہے ۔جس کا گوشت خود تو کھاو لیکن کتے کو مت کھلاو یہ سن کر متوکل نے گویوں کی طرف متوجہ ہو کر ایک شعر کہا ہے ۔اس جوان کو اپنے چچازاد بھائی کیلئے غیرت جاگ اٹھی اور اس کے بڑے مجلسوں میں علی کیساتھ بغض رکھنے والے جمع ہوتے تھے ۔ابن اثیر کے مطابق جن میں سر فہرست علی ابن الجہم عمرابن فر ح ،ابی السمطہ ،جو مروان ابن ابی حبصہ ،عبداللہ بن محمد الہاشمی تھے ۔یہ لوگ متوکل کو علویوںسے ڈراتے رہتے تھے ۔اور ان کے ساتھ برے سلوک کرنے کا مشہورہ دیتے رہتے تھے ۔اور اس گروپ میں اس کا وزیر عبداللہ بن یحییٰ بن خاقان جو کہ اہل بیت او ر ان کے ماننے والوں کے ساتھ یہ ناروا سلوک یہاں پر ختم نہیں ہو تا ۔بلکہ اس سے پہلے کئی خلفاء بھی کوئی کم نہ تھے انہوں نے جب قبر حسین کو گرانے کا مکروہ منصوبہ بنایا تو بغداد والوں نے دیواروں پر اس کے خلاف گالی گلوچ لکھنا شروع کیا ۔اور دوسری طرف شعراء نے اس کی ہجو گوئی کر نا شروع کیا ۔جن میں سر فہرست دعبل ،خزاعی،اور اس کے مکروہ ترین کارناموں میں یہ بھی تھا کہ اس نے امام ہادی بن الجواد کو مدینہ سے بغداد اور وہا ں سے سر زمین رے لانے کا حکم دیا یعقوبی اور مسعودی کے مطابق اس نے بالآخر امام کو شہید کر دیا ۔اور اہل بیت کے ساتھ اس کا رویہ صرف یہاں ختم نہیں ہوتا ہے بلکہ یہ اس انقلاب کو بھی کچلنے کی کوشش کرتاہے ۔جو کہ محمد بن صالح بن موسیٰ بن عبداللہ بن حسن ابن حسین بن علی ابن ابی طالب جس نے مقام سویقہ جو مدینہ میں واقع ہے جہا ں آل علی ابن ابی طالب رہتے تھے۔ متوکل ابو ساج کی قیادت میں فوج کا دستہ بھیجا جنہوں نے ان کو شکست دی بعد ازاں انہیں قتل کیا اور ان کے خاندان کو گرفتا ر کیا پھر سویقہ کو ملیامٹ کر دیا ۔
یاقوت نے اپنی کتاب ''معجم البلدان''میں ایک جگہ لکھا ہے کہ یحییٰ بن عمر بن زید بن علی ابن حسین ابن علی ابن ابی طالب نے ۳۳۵ھ کو متوکل کے خلاف جب قیام کیا تھا توا سے بھی گرفتار کر کے قید کیا گیا تھا ۔پھر ۳۳۶ھ میں ابن اثیر کے مطابق اس نے روضہ اباعبداللہ الحسین کو گرانے کا حکم دیا تھا۔ ابن خلکا ن نے اپنی کتاب ''وفیات'' میں قبر حسین گرانے کے ساتھ قبر امیر المومنین اور ان کے دو بیٹوں کے مزارات کے ساتھ برا سلوک کر نے کا ذکر کیا ہے۔ موصوف آگے جاکر ایک حکایت نقل کر تا ہے کہ ایک بزرگ مذہب اہل امامت کی پیروی کر تا تھا ۔ جب متوکل کو پتہ چلا تو وہ اور اس کے ساتھیوں کوطلب کیا او ران سے پوچھا کہ رسول اللہ کے بعد بہترین بہادر شخص کون ہے؟ تو انہوں نے کہا'' علی بن ابی طالب ''اور یہ سن کر اس کے خادم نے یہ خبر متوکل کو دی ہے پھر وہ دوبارہ ان کے پاس آیا اور ان سے کہا خلیفہ کہتا ہے کہ یہ تو میر ا مذہب ہے ۔اگر یہ روایت صحیح ہے تویہ واقعہ اس کی ماں ااور بیٹا منتصر جو اپنے باپ کے اعتقاد کا مخالف تھا اور اپنے زمانے میں عباسیوں میں علی کو سب سے زیادہ چاہنے والا تھا کے واقعے کے بعد ہے ۔
اور شاید متوکل اباعبداللہ الحسین کی روضہ کو ۲۳۶ھ میں گرانے کے حکم کے بعد اسی سال اپنے موقوف سے ہٹ گیا ۔اس حوالے سے صاحب کتاب المنتظم نے یو ں لکھا ہے کہ محمد منتصر نے اپنی دادی شجاع کیساتھ ۲۳۶ھ کو حج کیا متوکل اپنی ماں کو نجف لے گیا ۔وہاں اس نے لوگوں میں بہت مال بانٹا اور یہ علویوں کے ساتھ زیادہ محبت اور انصاف کر نے والی خاتون تھیں ۲۴۷ھ بمطابق ۸۶۱ ء کو اس کا بیٹا منتصر باللہ تخت پر بیٹھا۔ اس کا دور اہل بیت اور ان کے ماننے والوں کیلئے کشادگی کا دور تھا ۔ابن اثیر اپنی کتاب ''الکامل'' میں لکھتا ہے کہ وہ سخی کریم اور انصاف پسند شخص تھا ۔اور اس نے لوگوں کو قبر علیوحسین کی زیارت کا حکم دیا اور علویوں کو امان دی جوکہ باپ کے دور میں ڈرے ہوئے تھے ۔اس نے ان کو آزاد کیا اور باغ فدک کو حسن وحسین'ابنا علی ابن ابی طالب کے بیٹوں کو واپس دینے کا حکم دیا۔ڈاکٹر حدن حکیم آمالی شیخ طوسی سے ۲۴۷ھ کے واقعات نقل کرتے ہوئے عبداللہ بن دانیہ الطوری کے قول ذکر کیا ہے وہ کہتا ہے جب میں ۲۴۷ھ کو حج سے واپس آیا تو عراق جا کر امیر لمومنین علی ابن ابی طالب کی زیارت سلطان سے چھپ کر کی۔اس کی تائید مسعودی کا یہ بیان کہ متوکل نے قبر حسین کو گرانے کا حکم دیا اور علویوں اور ان کے شیعوں کے ساتھ جو کچھ کیا ۔پھر منتصر کی طرف منتقل ہو ا ۔اس ضمن میں وہ کہتا ہے: آل ابی طالب منتصر کی خلافت سے پہلے خوف ودہشت میں مبتلاء تھے ۔ انہیں اور ان کے ماننے والوں کو زیارت قبر علی وحسین سے روک دیا ۔اور یہ سلسلہ جاری تھا ۔تو منتصر خلیفہ بنا اس نے لو گوں کو امان دی اور آل ابی طالب کی طرف دست محبت بڑھادیا اور ان کے بارے میں کچھ کہنا چھوڑدیا اور قبر علی و حسین سے روکنا چھوڑ دیا اور نہیں روکا ۔اور باغ فدک کو حسنین کے بیٹیوں کو واپس کر نے کا حکم دیا اور آ ل ابی طالب سے پابندیاں ہٹادیںیا اور ان کے ماننے والوںسے تکلیف اٹھا دی۔بہر حال منتصر کی زندگی زیادہ لمبی نہیں رہی خلافت سنبھالنے کے چھے مہینے بعد۲۴۷ھ بمطابق ۸۶۲ ء کو اس دنیا کو خیر باد کہہ دیا۔مسعودی نے مذکورہ واقعات کو بیان کیا ہے جسے ابن اثیر نے اہمیت دی ہے ۔اس سے ثابت ہو تا ہے کہ مزار علی ۲۳۶ھ سے پہلے نہ صرف موجود تھا بلکہ معروف بھی تھا۔ اور اسی جگہ میں تھا جہاں علی ابن ابی طالب اور ا ن کے ماننے والے اس کی زیارت بھی کیا کر تے تھے اور روایت ابن تغزی بردی کے مطابق یہی مطلب نکلتا ہے۔مگر جہاں تک دفن کی روایتوں کا تعلق ہے اس میں کسی نے یہ نہیں کہا ہے کہ اس مو ضع کے علاوہ کسی نے زیارت کی ہو اور میرے یہاں یہ بعید نہیں کہ متوکل کی ماں شجاع اپنے پوتے منتصر کے ساتھ حج سے واپسی پر مر قد علی کی اس موضع میں زیارت کی تھی ۔ اور المنتظم میںیہ ۲۳۶ھ بمطابق ۸۵۰ ء کے واقعات کے ضمن میں یہ بھی وارد ہوا ہے ''محمد منتصر اپنی دادی شجاع کے ساتھ حج پر گیا تھا اور واپسی پر نجف میں اسی موضع میں زیارت کی اور یہ واقعہ بھی درج ہے کہ اس خاتون نے علویوںکے لیے مال تقسیم کیا اور رسول اللہ کی روئت کا اثر تھا کیونکہ یہ ابھی ابھی حج بیت اللہ اور روضہ رسول کی زیارت سے واپس آرہی تھی اور یہ بھی بیان ہواہے کہ ایک زیادہ بخشنے والی خاتون تھیں او ر ۲۴۷ھ کو بالآخر اس نے وفات پائی اور اس کے پو توں میں سے منتصرنے نماز پڑھائی ۔اور میرے یقین میں اضافہ ہو تا ہے یہ خاتون جب نجف پہنچی تو اس نے مرقد امیر المومنین کی زیارت کی جو حجاج کے راستے سے زیادہ فاصلے پر نہ تھا جہاں سے یہ گزرتے تھے اور حج کے مو سم میں امیر المومنین کے نزدیک تمام علویین جمع ہوتے تھے ۔اور یہ بھی واضح ہے کہ جب ۳۳۶ھ متوکل نے ابا عبد اللہ الحسین کی روضہ کو گرانے کا حکم دیا تھا تو روضہ امیرالمومنین بھی بچا ہو ۔مجلسی نے ''بحار'' میں ایک روایت نقل کی ہے کہ محمد ابن علی ابن رحیم الشیبانی کہتا ہے کہ ایک رات میں اپنے والد علی ابن رحیم اور چچا حسین ابن رحیم کے ساتھ ۳۶۰ھ میں غری کی طرف قبر مولا نا امیرالمومنین کی زیارت کے ارادے سے نکلے اور ہمارے ساتھ ایک جماعت بھی تھی ۔جب ہم وہاں پہنچے تو قبر امیرلمومنین کے ارد گرد سوائے کالے پتھروں کے کچھ بھی نہ تھا چاردیواری بھی نہ تھی ۔
صندوقِ داؤد عباسی
یہ ظاہر ہو تا ہے کہ جو صندوق داود عباسی نے امام کی قبر اطہر پر رکھا تھا ۔اس حکایت میں بہت سارے لکھا ریوں کو وہم ہو ا ہے ۔ جو مزید تامل کی ضرورت ہے کہ یہ داود جو عباسی خاندان کا ایک فرد تھا اور۲۸۳ھ بمطابق ۸۸۶ ء کو کوفہ میں رہتا تھا ۔اور داؤد بن علی عباسی جو کہ سفاح اور منصور کا چچا تھا ۔جو کہ ۱۳۳ھ کو وفات پا یا کے درمیان اشتباہ ہوا۔ اس وہم میں محدثین میں سب سے پہلے سید جعفر بحر العلوم مبتلاء ہو ئے ۔انہوں نے اپنی کتاب ''تحفةالعالم'' میں نبش قبر شریف کی ایک حکایت کو نقل کرتے ہوئے۔صندوق رکھنے والا شخص سفاح اور منصور کے چچا داود کو قرار دیا ہے اور جب مو صوف کو قبر کے بارے میں حقیقت کا پتہ چلا تو اس نے مصعب بن جابر کو وہاں ایک صندوق رکھنے کا حکم دیا ۔اور اس اشتبا ہ میں وارد ہو نے کی دوسر ی شخصیت جعفر محبوبہ ہے جو اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ جب دائود بن علی متوفی ۱۳۳ھ بمطابق ۷۵۱ ء نے قبر شریف پر لوگوں کا جوق درجوق آنا اور وہاںجمع ہو نے کا منظر دیکھا۔ تو اس نے حقیقت حال جاننے کا ارادہ کیا ۔یہ سوچ کر موضع قبرجو کہ اس کے خیال میں قبر علی ابن ابی طالب تھی اپنے غلام کو وہاں کھود نے کا حکم دیا۔جب اس پر حقیقت حال واضح ہو گئی تو اس نے قبر کو دوبارہ بند کیا اور اس کے اوپر ایک صندوق بنایا۔ یہ بات شیخ جعفر محبوبہ نے کتاب الفرحہ سے اصل خبر کو نقل نہیں کیا لگتا ہے کہ اس نے پوری خبر پڑھی ہی نہیں ۔اس کے بعد ڈاکٹر سعاد ماہرمحمد نے اس واقعے کو شیخ محبوبہ پر اعتماد کر تے ہوئے داود ابن علی کی طرف نسبت دی ہے ۔مجھے نہیں لگتا کہ اس نے بھی ''کتاب الفرحہ ''میں دیکھا ہو بلکہ شیخ موصوف پر اکتفا ء کیا ہے وہ کہتے ہے ۔
'' یہ فطری بات ہے کہ لوگوں کو اس جگہ کے بارے میں معلوم ہو جا نے کے بعد ایک علامت رکھی گئی ہو ۔اور کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلی علامت وہی صندوق ہے جسے داود ابن علی العباسی نے ۱۳۳ھ میں بمطابق ۷۵۱ ء میں رکھا تھا عنایت الدین کی روایت ہے کہ جب داود بن علی العباسی نے قبر شریف پر لوگوں کے اجتماع کو دیکھا تو حقیقت حال جاننے کا ارادہ کیا ''یہ کتاب الفرحہ میں مو جود اصل روایت کو نہ دیکھنے کی وجہ سے وہم میں مبتلا ہو ا کیو نکہ اصل روایت میں داود بن علی العباسی کے بجائے صرف داود ہے ۔
او ریہ شخص بنی عباس میں سے تھا ۔حکایت صندوق کا واقعہ موسوعہ نجف اشرف میں آیا ہے۔ لیکن مقا لہ نگار کا نام درج نہیں ہے ۔صرف حکایت صندوق کے عنوان کے ذیل میں درج ہے مرقد شریف دوسری مرتبہ داود ابن علی متوفی ۱۳۳ھبمطابق ۷۵۱ ء کے ہاتھوں ظاہر ہوا مزے کی بات یہ ہے کہ مقالہ نگار نے عباسیوں کا علویوں پر پہلا ظلم پھر شیعوں کو ان کے امام کی زیارت پر اصرار کر نے کے واقعات پر بحث کی ہے ۔ اور قبر مطہر داود بن علی عباسی کے زمانے تک سوائے ایک ٹیلے کے کچھ نہیں تھی تو اس محبت اور تعظیم کی وجہ سے ظاہر کیا اور جب اس کر امت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسے دشمنوں کے دست وبرد سے بچایا تو ہم نے یہ ارادہ کیا کہ اسے اصل مصدر وسند اور تاریخی حقائق کے ساتھ نقل کریں تاکہ باغی گروہوں کے اقوال کے مغالطے کو ردّ کر سکیں۔پھر ابن طاوس کی الفرحہ میں موجود صندوق سے متعلق روایت میں محمد جعفر تمیمی بھی ہے جو اپنی کتاب ''مشہد الامام ''میں دوسری مرتبہ مرقد مقدس کا داود بن علی عباسی کے ہاتھوں ظہور اور عباسیوں کا علویوں کے ساتھ موقف بیان کرنے کے بعد لکھا ہے ۔یہی حالت داود بن علی عباسی کے زمانے تک باقی رہی اور انہوں نے قبر مطہر کو ظاہر کیا اور اس پر ایک صندوق بنایا ۔ اور اسی کرامات و تعظیم کی بدولت ہی اللہ تعالیٰ نے مرقد مقدس کو دشمن کے شر سے محفو ظ رکھا تو ہم اسے اصل مصدر وسند اور تاریخی حقائق کے ساتھ بیان کر نے کی کو شش کی تاکہ اہل مغالطہ کی باتوں کا توڑ ہو ۔اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مو لوعہ کی اس مقالہ میںمقالہ نگار کا نام مذکور نہیں ہے ۔اس کا سبب کاتب خود ہے اس کی وجہ ان دونوں نصوص میں مطابقت ہے۔پھر روایت نقل کی ہے اور اس میں توجہ نہیں کی ہے کہ یہ داود بن علی نہیں ہے بلکہ یہ کوئی دوسرا شخص ہے کیو نکہ اس کے واقعات ۳۷۲ھ بمطابق ۸۸۶ ء کے آس پاس موجود ہیں ۔
اس کے بعد متوہمیں میں حسین شاکری بھی شامل ہیں اس نے صندوق کی نسبت داود بن علی عباسی کی طرف دی ہے جس کی وجہ وہی پرانا اعتماد ہے جو روایت کو اچھے طریقے سے پڑھا نہیں ہے۔ اس کے بعد شیخ حرزالدین بھی اپنی کتاب ''تاریخ النجف'' میں اس وہم میں مبتلاء ہوا ہے ۔اگر چہ ان کی یہ کتاب دقیق معلومات اور قبر امام سے متعلق نصوص کثرةسے بھر ی ہو ئی ہے لیکن آخر میں انہوں نے بھی روایت صندوق کواول سے آخر تک بیان تو کیا ہے لیکن اس میں دقت کے ساتھ توجہ نہیں کی اور داود سے مراد داود بن علی عباسی کو سمجھا ہے ۔اور اس متوہمیں کے گروہ میں ڈاکٹر حسن حکیم کا نام بھی آتا ہے انہوں نے شیخ محبوبہ پر اعتماد کر تے ہوئے یوں لکھا ہے ''اگر ہم اس روایت کی صحت کو مانے تو قبرمقدس کا ظہور پہلا عباسی خلیفہ ابو العباس سفاح کے دور میں ہوا ۔جو کہ عباسی اور علوی کے درمیان اچھے تعلقات کا دور ہے کیو نکہ عباسیوں کو اس حوالے سے علویوں کی اشد ضرورت تھی ۔اس مو قعے سے فائدہ لیتے ہوئے امام سفاح اور منصور کے دور میں بھی اپنے خاص اصحاب صفوان الجمال وغیرہ کے ساتھ قبر شریف پر جایا کرتے تھے۔'' شیخ علی اشرقی نے تو اس روایت کے زمانے کو ابو العباس سفاح کے بجا ئے ابو جعفر منصور کا دور لکھا ہے ۔ وہ کہتا ہے ''کہا جاتا ہے پہلی مرتبہ قبر کا ظہور منصور عباسی کے دور میں ہو تھا جب وہ ہاشمیہ میں تھا۔اس وقت داود بن علی بن عبداللہ بن عباس نے آکر قبر شریف پر ایک لکڑی کا صندوق رکھا تھا ۔''
اب یہ تو معلوم ہو اکہ داود بن علی منصور کی ہاشمیہ منتقل ہونے سے پانچ سال پہلے ۱۳۳ھ بمطابق ۷۵۱ ء میں ہی وفات پا چکا تھا اور یہ نہیں معلوم کہ شیخ علی الشرقی نے یہ عجیب روایت کہاں سے لائی ہے۔ڈاکٹر حسن جو کہ ایک مشہور مورخ ہے ۔ اس کے نزدیک روایت صندوق ضعیف ہونے کی وجہ سے اس نے قبول کر نے میں احتیاط برتی ہے ۔لیکن اس مو قع پر دوسروں سے ہٹ کر ایک عجیب بات کہتا ہے کہ'' امام جعفر صادق ''نے سفاح اور منصور کے دور میں ہی قبر شریف کے اوپر مٹی جمع کرکے ایک رتیلی ٹیلہ بنا یا تھا ۔ جس کے بارے میں بعد میں رشید نے پو چھا تھا اب یہاں ریتلی ٹیلہ کا وجود حکایت صندوق کو کمزور کرتاہے ۔کیو نکہ اگریہ حکایت صحیح ہو تو رشید ٹیلہ کے بارے میں کیوں پوچھتا اب مجھے نہیں معلوم کہ موصوف کوکس نے بتایا کہ امام نے قبر شریف پر یہ ٹیلہ بنایا اور یہ ممکن نہیں ہے کہ اس صحراء میںیہ ٹیلہ آب وہوا سے بچابھی ہو۔ اس بارے میں ہم نے تفصیل سے اصلاح قبر مطہر جو امام جعفر صادق کے حکم سے ہوئی تھی۔ بیان کی ہے۔ اس مو قع پر ڈاکٹر حسن کا رشید کے ا ستفسار قبر اختیار کر نا عجیب بات ہے ۔کہا ں وہ صندوق جو داود بن علی نے رکھا تھا وہ بھی قبر پر نہیں رہا جو بعد میں نجف کے کسی اطراف سے ملا اور یہ معلوم ہے کہ داود بن علی کو سفاح نے قبرکا گورنر بنایالیکن اس کی حکومت یہاں زیادہ نہیں چلی تو فوراً وہ ۱۳۲ھ میں لوگوں کے ساتھ حج پہ چلا گیا پھر وہاں مکہ ومدینہ کا گورنر مقرر ہو الیکن یہاںبھی وہ زیادہ دیر نہیں چل سکا بلاآخر آٹھ مہینے بعد مر گیا اس حوالے سے سید جعفر بحرالعلوم لکھتا ہے ۔ابن قتیبہ نے بھی لکھا کہ سفاح کو فے میں زیادہ مدت نہیں رہا تو وہ حیرہ چلا گیا۔ اور وہاں سے ۱۳۴ھ میں انبا رچلا گیا اور وہاں پر ماہ ذوالحجہ ۱۳۶ھ میں وفات پا یا ۔ان تمام با توں کے باوجودتاریخ نجف الاشرف موجود ہے ۔اس کتاب کی اہمیت کم نہیںہو تی کیونکہ اس موصوف نے نجف اور خاص طور سے روضہ مقدس کے با رے میں کافی معلومات جمع کی ہیں ۔شیخ محمدبن الحاج عبود کوفی اپنی کتاب ''نزہتہ الغری ''میں لکھتا ہے ''کہا جاتا ہے کہ اس نے قبر مطہر پہ ایک صندوق بنایا اور اس کے اوپر ایک قبہ بنایا موصوف رشید کی عمارت کے بارے میں بحث کرتے وقت صندوق کی بات کو بیان نہیں کیا جس کے اوپر قبہ تھا ''بلکہ صرف سابقہ روایت کو بیان کیا ہے اس کے بعد اسی روایت کو ایک نویں صدی کے عالم بغیر کسی اضافے کے اپنی کتاب ''عمدة الطالب ''میں لکھا ہے ،پھر ڈاکٹر حسن فوراً کہتا ہے ''ابو جعفر طوسی نے اس قبے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا حدثنی ابو الحسن بن الحجاج نے کہا ہم نے یہ صندوق یہاں پر اس دیوار کے بننے سے پہلے دیکھا ہے جسے حسن ابن زید نے بنایا ہے۔'' اب آپ ملاحظہ کریں کہ اس روا یت میں قبے کا کو ئی ذکر نہیں ہے مگر یہ صندوق جوداود کے صندوق کے ساتھ ہوا ہے جس کا ہم ذکر کریں گے اور ڈاکٹر حسن نے اس کاحوالہ دیا ہے ۔شیخ طوسی قبر امام کے تعیین کے بارے اہمیت دینے والوں میں شامل ہے انہوں نے اس بارے میں اپنی کتاب تہذیب الاحکام میں بہت ساری روایات نقل کی ہیں جن میں سے اکثر کا ہم نے اشارہ کیا ۔در اصل ان کا نجف اشرف میں منتقل ہونا ہی عملی طور پر قبر مطہر کے موضع کے بارے میں مشکوک روایت کی عملی طور پر تردید کرنا ہے۔ وہ کربلابھی جاسکتا تھا جو آب وہو ا کی وجہ سے نجف سے زیادہ بہتر تھا ۔اور تہذیب الاحکام میں جو روایت صندوق مذکو ر ہے جو رشید اور اس قبے کے ساتھ کو ئی تعلق نہیں رکھتی ہے۔ بلکہ یہ روایت داود کے صندوق کے ساتھ مضبوط ہے یہاں اور ایک عجیب بات کا ذکر کروں کہ سید تحسین آل شبیب موسیٰ جو فرحتہ الغراکے محقق ہیں اس مو قع پر وہم میں مبتلا ء ہو ا انہوں نے تمہید کے شروع میں لکھا ہے۔ بنی عباس کے حکو مت آنے کے بعد وہ چھپا راز کھل گیا اور محفوظ خزانے کی جگہ معلوم ہوئی .......اور اس حالت میں لوگ جوق درجوق قبرشریف کی زیارت کے لیے جاتے تھے اتنے میں کچھ عباسی اور علوی بھی آتے تو داود بن علی عباسی نے احترام و تعظیم کی وجہ سے قبر مطہر پر ایک صندوق رکھنے کا حکم دیا ۔اور یہ صندوق کافی عرصہ تک وہاں رہا ۔اب مجھے نہیں معلوم کہ موصوف کو یہ وہم کیوں ہو احالانکہ اس نے اس کتاب کی تحقیق کی اور اس میں موجود نصوص میں غور فکر کیا ۔
محمد جواد فخرالدین بھی اس گروہ میں شامل ہے اس کی گراں قدر تصنیف ''تاریخ نجف عباسی کے آخری دور تک ''میں لکھتا ہے ''تمام مصادر کو جمع کرنے کے بعد یہ معلوم ہواکہ قبر امیرالمومنین پر سب سے پہلے نشان علی بن داود عباسی نے رکھا ''اب معلوم نہیں کہ اس کی تمام مصادر سے کیا مراد ہے۔ کیونکہ مجھے پرانے مصادر میں ایسی چیز نظر نہیں آتی پھر وہ شیخ طوسی کی صندوق والی روایت کا ذکر کر تے ہیں اور اس روایت کے شروع میں نہیںدیکھتا بلکہ صندوق کی تاریخ کو ۱۳۲ھ کا بتاتا ہے۔اور اس سے داود بن علی عباسی کی حقیقت قبر مطہر کے بارے میں معرفت گردانتا ہے ۔جس کی وجہ داود کا علویوں اور ان کے ماننے والوںکے ساتھ محبت اور تعاون کو کہا ہے ،اور ان تمام اوہام کی کوئی بنیا د نہیں ہے۔ اسی طرح روضہ کے بارے میں شیخ محبوبہ کے بعد بہت سارے لوگوں کو وہم ہو ا ۔کہ نہ اس صندوق کے رکھنے کے بارے میں سفاح اور منصور کا چچا داود بن علی نے حکم دیا تھا ۔اور نہ ہی نبش قبر کے بارے میں کوئی حکم دیا تھا ۔ جو تیسری صدی تک کو فہ میں رہتا تھا ۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت میں بنی عباس کا ہاتھ ہے اور اصل روایت شیخ طوسی کی ''تہذیب الاحکام ''میں یوں آئی ہے۔ ''ابوالحسن محمد ابن التمامالکوفی کہتا ہے کہ ہمیں ابوالحسن علی ابن الحسن الحجاج نے کہا ایک دن ہم اپنے چچا عبداللہ محمد ابن عمران بن الحجاج کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں اہل کوفہ کے بزرگوں کی ایک جماعت آئی ان میں عباس ابن احمد العباسی بھی تھے اور جب یہ سارے ہمارے چچاکے ہاں پہنچے تو انہوں نے سلام کیا کیو نکہ میرے چچا ماہ ذی الحجہ ۲۷۳ھ کو ابو عبداللہ الحسین ابن علی کے ثقیفہ کے سقوط کے وقت پہنچاتھا اور یہ لوگ بیٹھ کر باتیں کررہے تھے ۔اتنے میں اسماعیل ابن عدی عباسی بھی آیا اور اس جماعت نے جوں ہی اس کو دیکھا تو انہوں اپنی گفتگو بدلی تو اسماعیل وہاں بیٹھا رہا اور ان سے کہااے ہمارے بزرگوں اللہ آپ لوگوں کو عزت دے شاید میرے یہاں آنے کی وجہ سے آپ لو گو ں کی گفتگو تو نہیں کٹ گئی ؟ اتنے میں ان کے بزر گ ابوالحسن علی ابن یحییٰ السلمانی جو سب سے آگے بیٹھا ہو اتھا ؛نے کہا نہیں یا اباعبداللہ!اللہ آپ کو عزت دے ہم اس وجہ سے چپ نہیں ہوئے ۔اتنے میں اس نے کہا ؛اے میرے بزرگو!یہ جان لو اللہ کو حاضر ناظر رکھ کر میں آپ لو گوں کو بتاوں کہ جس مذہب کا میں اعتقاد رکھتا ہوں یہ ہے کہ ہر کوئی ولایت امیرالمومنین علی ابن ابیطالب اور دوسرے آئمہ میں سے ہر ایک پر اعتقاد رکھتا ہے اور ان کی اتبا ع کر تا ہے اور ان سے برات کر تا ہے جن سے انہوں نے برات کیا ہے ۔
یہ سن کر ہمارے بزرگ خوش ہوئے اور ایک دوسرے کے درمیان سوال وجواب کے بعد اسماعیل نے ان سے کہا کہ ایک دن جمعہ کی روز نماز کے بعد جامع مسجد سے ہم اپنے چچاداود کے ساتھ آرہے تھے ،تو راستے میں انہوں نے ہم سے کہا تم لوگ جہاں کہیں بھی ہو سورج غروب ہونے سے پہلے میرے پاس آجاو اور تم میںسے کوئی پیچھے ہٹنا نہیں چاہیے، پھر وقت مقررہ پر اس کے پاس پہنچے تو وہ بیٹھے ہوئے ہمارا انتظار کر رہے تھے ۔پھر اس کہا کہ تم لوگ فلاں فلاں سے کہہ کر آواز دو اتنے میں دو آدمی اپنے سوار ی کے ساتھ آگئے پھر ہمارے چچاکی طرف متوجہ ہو کر کہا تم لوگ سارے جمع ہو جاو اور ابھی اس جمل (جو ایک کالاغلام کا نام تھا )اگر یہ غلام دریا ئے دجلہ کے بند پر تو وہ اپنے قوت سے دریا روکے گا اور تم سب اس قبر پہ جانا جہاں لوگ جمع ہونگے اور کہہ رہے ہو ں گے کہ یہ قبر علی ہے اور تم اس کو کھولنا اور اس کے اندر کچھ ہے وہ میرے پاس لے آو ۔پھر ہم اس موضع پر چلے گئے اور ہم نے کہا تو کھودنے والوں نے کھودنا شروع کیا ۔
اور اندر یہ کہہ رہے تھے ''لاحول ولا قوة الا باللہ العلیّ العظیم ''اور ہم ایک کنارے پر بیٹھے دیکھ رہے تھے ۔اتنے میں انہوں نے پانچ ہاتھ کھود ا تو زمین کی سخت مٹی شروع ہوئی تو کھودنے والوں نے کہا ہم سخت جگہ پہنچے ہیں تو ان کے سامان نے بھی کام کرنا چھو ڑدیا تھا پھر انہوں نے اس حبشی کو اتارا اور اس نے کدال اٹھا کر مارنا شروع کر دیا ۔تو قبر کے اندر سے ہم نے شدید آوازیں سنیں ۔پھر اس دوسری مر تبہ مارا تو یہ آواز اور شدید ہو گئی پھر اس تیسری مر تبہ مارا تو اور شدید ہو گئی پھر غلام نے خود ڈر کے مارے چیخنا شروع کیا پھر ہم نے ان سے کہا جو ا س کے ساتھ تھے اس سے پو چھو کہ کیا ہو ا اسے؟ تو اس نے ان سے بھی کچھ نہیں کہا بس چیختا رہا پھر ہم نے کہا اسے باندھ کر باہر نکا لوجب وہ نکلا تو ہم نے دیکھا اس کے انگلی سے لیکر گٹھنے تک خون لگا ہو اتھا اور وہ مسلسل چیخ رہا تھا ،ہم سے باتیں نہیں کر رہا تھا اور صحیح طریقے سے جواب بھی نہیں دے پا رہا تھا پھر ہم اسے سواری پر بٹھا کر جلدی واپس آگئے اور غلام کے دائیں طرف اس کی بازو میں مسلسل خون بہہ رہا تھا ۔جب ہم اپنے چچا کے پاس پہنچے تو اس نے کہا کہ تمہارے ساتھ کیا ہو ا؟ہم نے کہا جو آپ دیکھ رہیں ہے پھر ہم نے ساری صورتحال اسے بتادی اس کے بعد قبلے کی طرف رخ کیا اور اپنے اس عمل پر توبہ کی اور اپنے مذہب سے رجوع کیا اور ''تولّا''و ''تبرّا'' کیا اور اس کے بعد راتوں رات علی ابن مشعب بن جابر کے پاس آئے اور اس کو قبر پر ایک صندوق بنانے کا حکم دیا ۔اور کسی کو نہیں بتایا ۔اور قبر کو دوبارہ بھر دیا اور اس کے اوپر صندوق رکھ دیا اور کالا غلام اس وقت مر گیا ،ابو الحسن بن الحجاج نے کہا اس صندوق کہ یہ خوبصورت حدیث ہم نے دیکھی ،اور یہ صندوق حسن بن زید کے قبر پر دیوار بنانے سے پہلے ہے ۔
اور یہ دیوار حسن نے نہیں بنائی یہ وہم ہے بلکہ اس کے بھائی محمد نے بنائی ہے ۔اس کی تفصیل ہم عمارت کے بیان میں ذکر کریں گے ۔ابن طاوس نے خبر نقل کی ہے ۔کہ یہ طوسی سے نقل ہونے والی آخری روایت ہے ۔یہاں اس نے صرف ایک طوسی پر اکتفاء نہیں کیا ہے بلکہ اسے مختلف طریقوں سے توثیق کی ہے۔لہٰذاوہ کہتا ہے میں کہتا ہو ں کہ اسے ابوعبداللہ محمد ابن علی ابن عبدالرحمان الشجری نے سابقہ اسنا دکے ساتھ ذکر کیا ہے وہ کہتا ہے کہ مجھے احمد ابن عبداللہ الجوالقی نے کہا ہمیں علی ابن الحسن بن الحجا ج نے اس روایت کو بیان کیا ہے اور ا س نے کہا ''فقیہ صفی الدین بن محمد کہتا ہے میں نے یہ حدیث سید مفید کے داماد ابو العلی محمد بن حمزہ جعفر ی کے خط میں سید کے وفات کے بعدان کے درس میں دیکھی تھی دوسری روایت میں نے ابوالعلی کے خط میں دیکھی جیساکہ صفی الدین نے بیان کیا اور یہ میں نے ابن داود کے مزار میں ایک عتیق پر لکھے نسخے میں دیکھا تھا جس میں وہی لکھا تھا جسے میں نے پیش کیا ۔اور یہ میری تمام کتابو ں اور روایتوں میںسے پہلی کتاب ہے ۔جس میں عبداللہ بن عبد الرحمٰن بن سمیع اعزّہ اللہ کیلئے سہو تدلیس نہیں ہو اتھا اور یہ محمد بن داود القمی نے ماہ ربیع الثانی ۳۶۰ھ میں لکھا ہے......'' اور یہ روایت طوسی کے مطابق ہے ۔اور اس روایت کو علامہ مجلسی نے بھی بحار میں حرف بحرف نقل کیا ہے اور وہی سابقہ طریقوں کو بیان کیا ہے جسے طوسی نے بیان کیا ہے جس میں وہی شیخ مفید کے داماد ابو یعلی محمد بن حمزہ جعفر کا ذکر ہے اور انہوں نے ا سے مزار ابن داود القمی نامی ایک کتاب میں ایک ثقہ نسخہ دیکھا ہے جس کی تاریخ ۳۶۰ھ بمطابق ۹۷۱ ء ہے۔
شیخ محمد بن الحاج عبود الکوفی نے بھی اس روایت کو تھو ڑی تبدیلی کے ساتھ اپنی کتاب میں نقل کیا ہے ،جن کے مطابق نبش قبر اورصندوق کی حکایت عباسیہ کے ایک شخص سے ہے ،مگر سید محسن امیں نے اپنی کتاب اعیان الشیعہ میں صندوق کی حکایت کو روضہ کی عمارت جسے ہارون رشید نے بنوایا تھا کے ضمن میں بیان کیا ہے اور اس حکایت کو داود عباسی سے منسوب کیا ہے اور حاشیے میںلکھا ہے کہ ''بعض معاصرین نے کہا ہے یہ داود وہی داود بن عیسیٰ بن موسٰی بن محمد بن عیسیٰ بن علی ابن عبداللہ بن عباس ہے لیکن اسماعیل بن عیسیٰ کہتا ہے کہ میرا چچا نے کہا اس صورت میں داود ابن عیسیٰ اسماعیل کا بھائی نہ چچا، سوائے اگر اسماعیل بن عیسیٰ اور اس کا باپ دونوں کا نام عیسیٰ ہو وغیرہ ۔''
روایت صندوق کے بارے میں ہم نے اہم معلومات جمع کیں اور مرقد مطہر کے تاریخی واقعات کو تسلسل کے ساتھ جو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط تھے بیان کیا ہے ۔امام جعفر الصادق کے دست مبارک سے ہی قبر شریف مشہور ہو ااور انہوں نے ہی بعد میں اصلاح فرمائی، پھر اس ایک ٹیلہ نما کی شکل اختیار کی۔ خلفاء بنی عباس کے علویوںاور ان کے شیعوں کے ساتھ ہو نے والے سلوک کی وجہ سے ،پھر رشید نے اس کی اصلاح کی ۔پھر مامون ،معتصم اور واثق کے دور میں شیعوں کو قدرے آزادی ملی تو زئراین کی تعداد میں اضافہ ہو اتو ان کی ضرورت کی وجہ سے وہا ںدیوار اور بعض تعمیراتی کام ہو ابعدازاں قبر مطہر کی تعظیم اور احترام کی وجہ سے لفظ مشہد سے مراد ضریح امام علیـاستعمال ہو نے لگا پھر آہستہ آ ہستہ مشہد کے بدلے مدینہ علی یعنی شہر علی کے نام سے پکارا جانے لگا ۔عنقریب ہم ایک اور روایت بیان کریں گے جس کے مطابق مامون ،معتصم اور واثق زائرین کو روکتے نہیں تھے۔ ابن خلکان نے لکھا ہے کہ متوکل ان لوگوں سے اسی لیے نفرت کرتا تھا کیو نکہ یہ امیرالمومنین سے محبت کرتے تھے ان کے زائرین کو تنگ نہیں کرتے تھے ۔یہاں تک ۲۳۶ھ کو متوکل نے زائرین پر پابندی لگادی ۔
اور یہا ں تک بیا ن کر تی ہے کہ اس نے روضہ علی اور روضہ حسین کو گرانے کا حکم دیا اس کے بعد روضہ ایک مر تبہ پھر عام قبر وںمیں تبدیل ہوا جس کے ارد گرد چند سیاہ پتھروں کے کچھ بھی نہ تھا جس کے ذریعے قبر کو سہارا دیا ہو اہو ۔بعد میں یہ پتھر نجف کے اطراف میں پھیل گئے اس کے بعد روضہ مقدس مختلف مراحل سے گزر تا رہا اور متوکل کے مرنے کے بعد یعنی ۲۶۰ھ کے بعد کے حوالے سے علامہ مجلسی ایک اہم روایت بیان کرتے ہیں ۔
محمد بن علی بن رحیم الشتاتی یا الشیبانی نے قبر امام کی زیارت کی تو اس کی حالت دیکھی ۔یہ روایت قبر پر دیوار یا عمارت کے وجود والی روایت کی توثیق کیلئے اہمیت کی حامل ہے کیو نکہ وہا ں پر چند پتھر وں کے سوا کچھ نہیں تھا ۔تو دیوار اور عمارت کہاں سے آئی اور اس وقت داود عباسی بھی پہنچتا ہے ۔جو نبش قبر کر تا ہے اور اگر وہاںروضہ قبہ یا دیوار ہو تو اس نے نبش کیسے کی ہو گی؟ پھر داود کی صندو ق کا دور آتا ہے جسے اس نے ۲۷۳ھ بمطابق ۸۸۶ ء میں قبر پر رکھا تھا اور اس صندوق کا سالوں باقی رہنا اور اس کے بعد محمد بن زید الداعی کا روضہ امام کو بنوانا ۔اس کے بارے میں ہم بیان کر یں گے ۔ اور بعید نہیں ہے کہ وضع صندوق پھر محمد بن زید کے ہاتھو ں نئی تعمیر ات اور زائرین کیلئے کشادگی اس کے بعد ہم دیکھتے ہیں وہ آہستہ آہستہ قبر مطہر کے آس پاس لوگ رہنے لگے لیکن گرمیوں میں موسم کی سختی اور پانی کی قلت کی وجہ سے یہ سلسلہ جا ری نہیں رہتا تھا خاص طور پر ایک بار پھر زائرین پر پابندی لگ جاتی ہے۔ یہاں تک کہ ۲۶جمادی الاول ۳۷۱ھ کو عضدالدولہ البو یہی مرقد مطہر کی زیارت کیلئے آتے ہیں ۔اس کے بعد ہمیں وہاں رہنے والوں کی ایک لمبی فہرست نظر آتی ہے ۔جسے روضہ کی عمارت کے باب میں تفصیل سے بیان کریں گے ۔
محمد بن زید الدّاعی اور ضریح کی تعمیر
منتصر کی خلافت چھ مہینے سے زیادہ نہیںچلی ۔جس میں علوی کو بعض وقت مشکل گزارنا پڑا ۔اور ۲۴۸ھ بمطابق ۸۶۲ ء کو جب وہ مر گیا تو عباسی خلافت کا زوال شروع ہوا اور جب مسند خلافت پر متعین بیٹھا تو ترکو ں سے جان چھڑانے کیلئے سامراء سے بغدادمنتقل ہو ا لیکن وہ بھی جلدی معزول ہو ا اور اس کی جگہ معتزبااللہ آیا ۔پھر انہوں نے بغداد کو محاصرے میں لے لیا اور متعین کو قتل کیا اور نئے خلیفہ نے بعض تر کوں کو بھی قتل کر کے اپنی جان بچائی ۔لیکن باقی ترکوں نے اس پر دھاوا بول دیا اور اسے معزول ہو نے پر مجبور کر دیا پھر اسے جیل بھیج دیا اور اسی سال قتل کیا ۔اور اس کی جگہ نیا خلیفہ اس کا نام بھی معتز باللہ تھا آیا لیکن اس کی حکو مت بھی زیادہ مدت نہیں چلی اور وہ باالآ خر ماہ رجب ۲۵۵ھ بمطابق ۸۶۹ ء کو قتل ہو ا۔پھر نیا خلیفہ آیا جس کا نام مہدی تھا۔اس نے ترکوں سے بچنے کی کو شش کی اور وہ کسی حد تک ان کی قیادت کرنے میں کامیا ب رہا ۔لیکن بالآخر وہ بھی نا کام ہو ا۔اور اس کی داستان ۲۵۴ھ بمطابق ۸۷۰ ء کو ختم ہوئی۔اس کے بعد مسند خلافت پر احمد بن متوکل جو معتمد کے لقب سے مشہور تھا بیٹھا اور اس کی خلافت ۲۷۹ھ بمطابق ۸۹۲ ء تک رہی ۔اس دوران علویین کی طرف سے بہت سارے لوگوں نے قیام کیا شاید اس کثرتِ انقلاب کے اسباب یہ ہو کہ علوی مختلف جگہوں میں خلافت عباسیہ کا سورج غروب ہوتا ہو ادیکھناچاہتے تھے ۔جو دن بدن کمزور ہو رہی تھی ۔یا یہ سبب ہو کہ متوکل نے امت پر جو مصائب ڈھا ئے تھے جس کی وجہ سے امت اسے نہیں بخشتی تھی ۔اور یہی سلسلہ اس کے بعد بھی بنی عباس کے خلفاء کے ساتھ جاری رہا ۔
اس دوران ان تمام انقلابات اور خون خرابہ ہو نے کی وجہ سے زائرین امیرالمومنین اور امام حسین کی تعداد میں مکمل کمی واقع ہوئی اور مہدی کے دور میں حبشیوں نے بصر ہ میںقیام کیا اور مکمل طور پر قتل وغارت گری پھیلا دی ۔اہل ترک ان کے قیام کو نہ روک سکے ۔اور ان کے قائد یعقوب بن لیث الصفار نے یہ سلسلہ فارسجستان وکر مان تک بڑھا یا اور بغداد پہنچنے والاتھا اتنے میں معتمد کا بھائی جس کا لقب موفق تھا نے اس کے خلاف فوج تیا ر کرلی اور اسے روکنے میں کامیاب ہو ا۔لیکن صرف اس پر اکتفا ء نہیں کیا بلکہ خلیفہ نے فوج کا دوسرا دستہ اپنے بھا ئی احمد کے بیٹے معتضد کے ساتھ بھیجا جو بلا کا ذہین تھا اور بلا خر حبشی انقلاب کا چراغ گل کر نے میں کامیاب ہوئے ۔
اور ۲۷۰ھ بمطابق ۸۸۳ ء کو ان کے قائد کو قتل کیا اور اپنے چچا کی وفات کے بعد یہ ۲۷۹ھ بمطابق ۸۹۲ ء کو خلیفہ بنا اس دور میں عباسیوں نے تھوڑاسکھ کا سانس لیا لیکن یہ سلسلہ زیادہ عرصہ نہیں چلا جب معتضد ۲۹۹ھ بمطابق ۹۱۲ ء کو مر گیا ۔اس کے بعد اس کے بھا ئی معتدر کو خلافت ملی ۔اگر ہم اس پورے دور پر نظر ڈالیں تومعتضد کا دورعلویو ںکیلئے کچھ سکھ وچین کا نظر آتا ہے ۔جس کی وجہ یہ ہے کہ معضد نے خلافت سنبھالنے سے پہلے امام علی ابن ابی طالب کو خواب میں دیکھا تھا ۔انہوں نے اسے خلافت کی بشارت دی تھی ۔اور اپنے آل کے ساتھ ایذارسانی سے باز رہنے کا تقاضا کیا تھا ۔تو اس نے سمعًا وطاعةً قبول کیا تھا ۔اس واقعے کو مسعودی،طبری ،اور ابن اثیرنے تفصیل کے ساتھ اپنی اپنی کتابوں میں بیان کیا ہے۔ روایت یہ ہے :
میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نہروان کی طرف اپنی افواج کے ساتھ بڑھ رہا تھا ،تو میںنے دیکھا راستے میں ایک ٹیلے پر ایک آدمی کھڑا نماز پڑھ رہا ہے ۔اور میری طرف دیکھتا بھی نہیں ہے تو مجھے اس پر تعجب ہو ا لیکن جب وہ نماز سے فارغ ہو ا ،تو مجھے اپنی طرف بلایا، اور میں اس کے پاس گیا، تو مجھ سے کہا تم مجھے جانتے ہو ؟ میں نے کہا نہیں انہوں نے کہا میںعلی ابن ابی طالب ہو ں ۔اس چھڑی کو اٹھا و اور زمین پر زور سے مارو ،تو میں نے اٹھا یا اور زور سے مارنا شروع کیا اتنے میں مجھ سے کہنے لگے کہ اس پر تمہا رے بیٹوں کی حکو مت ہو گی لہٰذامیری اولاد کے لیے ان سے خیر کی وصیت کرو'' لیکن مجھے لگتا ہے کہ خواب والی بات میں تجاوز ہوئی کیونکہ معتضد خلفابنی عباس کے مضبوط اور مقتد ر خلفاء میں سے تھے ۔اور انہوں نے اپنے چچا کے عہد میں عسکری تربیت حاصل کی تھی اس کے ساتھ ایک طویل عرصہ سیاسی مشق بھی کی تھی۔ اور حکو مت کے مختلف عہدوں پر کام کر نے کی وجہ سے اسے زمانہ سابق کے احوال کا اچھی طرح معلوم تھا ۔
میرے گمان کے مطابق اس کے ان سابقہ معلومات سے اس کو اندازہ ہو اتھا کہ علوی انقلابات کی بیخ کنی ایک مشکل اور محال امر ہے ۔اور ان سے وہ بچ بھی نہیں سکتا تھا اس وجہ سے اس نے ان کے ساتھ نرم گوشہ اختیا ر کیا تاکہ خلافت عباسیہ اپنی دوسری مشکلات کے ساتھ نمٹ سکے۔لیکن اس کے باوجوداس کے دور میں کثیر تعداد میںآل علی شہید ہوئے اور مسعودی کے مطابق محمد بن زید بھی اسی کے دور میں ۲۸۷ھ کو شہید ہوئے اور جب معتضد نے اپنے اس بہادر کی موت کی خبر سنی تو دکھ کا اظہار کیا۔ جس کی ابن اثیر نے تائید کی ہے لیکن ابو الفرج نے اپنی کتاب مقاتل الطالبین میں لکھا ہے کہ محمد بن زید ماہ رمضان ۲۸۹ھ میں وفات پایا اور اسی سال معتضد بھی فوت ہوا اور بات ظاہر ہو تی ہے کہ محمد بن زید بن محمد بن اسماعیل بن الحسن بن علی بن ابی طالب نے اپنے چچازاد بھائی حسن بن زید کے بعد طبرستان اور اس کے اطراف پر حکومت کی تھی اور ہمیشہ اس کی رعیت بغداد،کوفہ ، مکہ ،اور مدینہ میں اپنے چچازادبرادران آل علی ہی رہے تھے ۔لہٰذاوہ ان کی خفیہ طریقے سے محمد بن الوردالعطار جو بغدادمیں اس کے مددگاروں میں شامل تھا کے ذریعے مددکرتا رہتا تھا ۔اور طبرستان سے ایک دفعہ محمد بن زید نے ۲۸۲ھ میں ابن الوردکے لیے ۳۰ ہزار دیئے تھے ۔تاکہ وہ اس رقم کو آل علیکے درمیان تقسیم کرے لیکن طبری اس رقم کو ۳۲ہزار دینا کہتا ہے ۔اس طرح محمد سالانہ اسی مقدارمیں رقم ابن الورد کے لیے بھیجا کر تا تھا ۔اور وہ آل علی کے درمیان تقسیم کرتا تھا اور اس سال معتضد کو اس صورت حال سے آگاہ کیا گیا ۔پھر معتضد نے اس صورت حال کو جاننے کے لیے اپنے پولیس کے رئیس کو اپنا خواب بتایا لیکن وہ پھر بھول گیا ۔اور جب ابن الورد تک اموال پہنچنے کا علم ہو ا تو اس نے ابن الورد کو گرفتا ر اور معتضد کو خبر دی تو فورامعتضد کو وہ خواب یاد آیا ۔پھر اس نے ابن الورد کو آزاد کرنے کا حکم دیا اور مال واپس کروایا تاکہ تقسیم کریں لیکن اس بار اسے خفیہ طریقے نہیں بلکہ کھلم کھلا تقسیم کرنے کی اجازت دی گئی نہ صرف یہ بلکہ محمد بن زید کو طبر ستان میں لکھ بھیجا تاکہ یہ مال کسی سے چھپا کر نہیں بلکہ کھلم کھلا بھیجنے کا کہا ۔اورایک قدم اور آگے بڑھ کر معتضدنے اپنی پولیس کو اس مہم میں مدد کر نے کا حکم بھی دیا اور اس طرح وہ آل ابیطالب کے ساتھ قربت اختیار کرنے میں کامیاب ہو ا ،یہ واقعہ طبری ،مسعودی ،ابن اثیر، اور ذہبی، نے اپنی اپنی تاریخ کتابوں میں لکھا ہے ۔
اس سے یہ معلوم ہو تا ہے کہ روضہ مقدس تیسری صدی ہجری کے نصف میں بنا ہے۔ کیونکہ اسی صدی کے ساتویں دہائی کے اوائل میں قبرمطہر کے اطراف میں سوائے سیاہ پتھر وں کے کچھ بھی نہ تھا نہ وہاں دیوار تھی اور نہ ہی کو ئی عمارت وغیرہ ۔مجلسی نے محمد بن علی بن رحیم الشیبانی کی روایت کو موسوی کی تحقیق کر دہ الفرحہ سے نقل کیا ہے ۔
اور یہ شیبانی جس نے ۲۶۰ھ کے درمیان قبر کی زیارت کی تھی ۔ان کے مطابق قبرمیں سوائے چندسیاہ پتھر وں کے دیوار وغیرہ نہیں بنی تھی ۔لیکن سب سے پہلے محمد بن زید کی عمارت کے حوالے سے ابواسحاق الصابی نے اپنی کتاب ''المتزع ''میں ذکر کیا ہے جس کو ڈاکٹر محمد حسن نے نقل کیا ہے کہ ''محمد بن زید وہ پہلا شخص ہے جس نے سب سے پہلے قبر علی ابن ابی طالب اور قبر حسین ابن علی غری اور حائر میں تعمیرات کیں اور اس تعمیر میں انہوں نے ۲۰ ہزار دینار خرچ کیا''میرے خیال میں اس حوالے سے الصابی کی عبارت زیادہ دقیق ہے گرچہ قبر ایک سے زیادہ مر تبہ تعمیر ہوئی لیکن گمان غالب یہ ہے کہ سب سے پہلے وہاں مزار محمدبن زید الداعی نے بنوایا تھا۔شاید عمارت مرقد مقدس کے بارے میں اہلسنّت کے بھی قدیم اشارات ملتے ہیں۔ جیساکہ ابن جوزی نے اپنے شیخ ابوبکرالباقی سے نقل کیا ہے اور انہوں نے الغنائم بن الزسی جو ماہ .....۴۲۴ھ میں پیدا ہوئے ۔وہ کہتا ہے ''کو فہ اہلسنّت وحدیث میں سے سوائے ابی کے کوئی نہیں تھا اور وہ کہتا تھاکو فہ میں۳۱۳ ،اصحاب دفن ہیں ۔ان میں صرف قبر علی ظاہر ونمایاں ہے۔ اور آگے وہ کہتا ہے کیو نکہ جعفر بن محمد بن علی بن حسین یہاں آتے تھے اور قبر امیر المومنین کی زیارت کر تے تھے اور وہاں صرف یہی قبر تھی۔
پھر ایک دن محمد بن زید الداعی آیا ہے اوراس پر تعمیر کروائی ہے اور کوئی شک نہیں کہ یہاں صرف یہی قبر موجود تھی ۔اور ہم بیا ن کر چکے کہ محمد سے پہلے قبر کی اصلاحات وغیرہ کیسے ہوئی۔ اس عمارت کے بارے میں ابن طاوس نے اپنی کتاب الفر حہ میں ذکر کیا ہے لیکن ان روایت میں یہ عمارت زید کے بھائی حسن کی طرف منسوب ہے ۔در اصل یہ ابن طاوس کو وہم ہو اہے ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے محمد بن حمزہ جعفر ی شیخ مفید کے داماد کی روایت پر اکتفا ء کیا ہے جسے ہم بیان کر چکے ۔ شیخ محمد حسین حرزالدین نے تا ریخ نجف اشرف میں تاریخ طبرستان سے نقل کیا ہے ۔ ۲۸۳ھ کے حدود میں محمد بن زید المعروف الداعی الصغیر جو ملک طبرستا ن تھا ،نے امیرالمومنین کی قبر پر ایک عمارت بنوائی تھی جو ایک قبہ دیوار اور ستر کمروں پر مشتمل ایک قلعہ تھا۔ اور یہ کمرے اس لیے بنوائے گئے تھے تاکہ زائرین اور مجاورین وہاںٹھہر سکے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ محمد خود تو طبرستان سے نہیں آیا تھا لیکن اس نے معتضد کے موقف سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جس طرح وہ اموال تقسیم کیلیے بھیجتا تھا اسی طرح کچھ اموال روضہ کی تعمیر کے واسطے بھی بھیج کر روضہ کو بنوایا ۔اس بات کی تائید ہمیں ڈاکٹر حسن حکیم کی کتاب تاریخ نجف اشرف سے بھی ہوتی ہے وہ لکھتا ہے سید الداعی علوی نے طبرستان سے کچھ اموال نجف اشرف ،کربلا ،اور مدینہ منورہ میںبھیجنے کا حکم دیا تاکہ مقامات مقدسات کی تعمیر ات ہو سکے ۔''
اس واقعے میں محمد جواد بن فخر الدین دو باتوں کو ترجیح دیتا ہے ۔
۱۔ محمد بن زید کا قبر مقدس کی زیارت کرنا اور اس کی صورت حال کا علم ہونا ۔
۲۔ اس قبرشریف پر دیوار بنوانا ۔
''پھر ان کے بھا ئی نے اس پرقلعہ نما عمارت کی تعمیر کر وائی جو ستر کمروں پر مشتمل تھا ۔اور یہ دونوں ترجیحیں قابل حجت ہیں ۔پھر شیخ محمد عبود الکوفی الغروی نے بھی سید نوراللہ شوستری کی کتاب مجالس المومنین کے حوالے سے لکھا ہے کہ محمد بن زیدنے ۲۸۰ھ میں قبر امیر المومنین بنوایا تھا ۔ لیکن میرے حسا ب سے یہ تاریخ صحیح نہیں ہے ۔کیو نکہ معتضد کو محمد ابن زید کی طرف سے مال آنے کی اطلاع ۲۸۲ھ میں ہوئی ہیتواس سے پہلے روضہ کی تعمیر کیسے ممکن ہوئی اور اس وقت جو مال آتا تھا وہ بھی خفیہ طور پر آتا تھا ۔تو گمان غالب یہ ہے کہ تعمیر کا حکم ۲۸۲ھ بمطابق ۸۹۵ ء کے بعد ہی ہوا ہے ۔ لیکن زیادہ مرجوح یہ ہے کہ ۲۸۲ھ میں یہ کام کیسے ممکن ہو ا تھا ۔اور ضروری ہے کہ محمد بن زید نے وہا ں لوگوں کیلئے مستقل رہنے کابندوبست کیا تھالیکن یہ زیادہ عرصہ نہیں باقی رہاکیونکہ ان کے ۲۸۹ھ بمطابق ۹۰۰ ء میں شہید ہونے کے بعد عمارت کو اس بیابان میں سخت موسمی تغیرات کی وجہ سے نقصان ہواتھا۔ اس عمارت کی تاریخ داود کی صندوق کی حکایت والی ۳۳۳ھ بمطابق ۹۴۵ ء میں ملتی ہے کیونکہ علی ابن الحجاج کی روایت ہے کہ انہوںنے یہاں داود کی صندوق اور زید الداعی کی عمارت دونوں دیکھا تھا۔ اگرچہ علی ابن حسن الحجاج کی اس روایت میں عمارت کو زید کی نسبت دینے میںغلطی کی ہے'' کیو نکہ وہ کہتا ہے''ہم نے صندوق کو زید کی یہاں دیوار بنوانے سے قبل دیکھا ہے ۔''
لیکن میں اس حوالے سے اس بات کو ترجیح دیتاہوں کہ زید کی عمارت بننے سے قبل روضہ مقدس کے آس پاس لوگ رہنا شروع ہوا تھا ۔محمد زید کو معتضد کے کھلم کھلااموال تقسیم کے حکم دینے کے بعد ہی راہ کھلی تھی ۔شاید ان کا زید کو فضیلت دینے کی وجہ ہو کہ کیونکہ اس نے اس مشکل اور سخت حالات میں مجاورین روضہ کی مالی مدد کی ۔میرے خیال میں وہاںشہر کی ابتداء اسی وقت سے ہو تی ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس شہر کی ترقی کا راز در اصل خلافت عباسیہ ہے جیسا کہ حبشی قرا مطیوں اور ان کے بعد ترکوںکا خلافت پر دھاوا،پھرقرمطیوں کا کو فہ کو مر کز بنانا جس کی وجہ سے قبر کے آس پاس لوگوں کو رہنے کا موقع ملا ۔پھر وہ جنگیں جو مقتدر کے دور میں قرامطہ نے نہ روضہ کو نقصان پہنچایا اور نہ ہی اس کے مجاورین کو ایذارسانی کی ۔اور اس عرصہ میں کچھ دینی علمی شخصیات ابھر کر سامنے آئیں جس میں محدث محمدالشیبانی ،حسین بن احمد،المعروف جو اسماعیلیوں کے یہاں المستور سے مشہور ہے مگر تیسری صدی کے آخر ی دھائی میں وہاں مسلسل زیارتوں کا سلسلہ شروع ہو تا ہے ۔جیسا کہ محمدحسین حرزالدین نے بیان کیا ہے۔
عمارت حمدانیہ
حمدانی نے تاریخ اسلام کی تیسری صدی کے اواخر سے چوتھی صدی کے نصف ثانی تک بڑے بڑے واقعات وحادثات کا مشاہدہ کیا ہے لیکن اس خاندان کازوال اس وقت شروع ہو تا ہے جب اس کی مشہورشخصیت امیر سیف الدولہ حمدانی ۳۵۶ھ /۹۶۷ ء وفات پاتا ہے۔مگر اس خاندان کی آبیاری کرنے والی شخصیت موصوف کے والد ابو ہیجا ء عبداللہ بن حمدان بن حمدون الثعلبی ہے۔جس کو موصل وغیرہ کی ایک سے زیادہ مرتبہ گورنری نصیب ہوئی تھی اس کے وفات کے بعد ان کے برادران پھر بیٹے حسن اور اس کا بھا ئی موصل وغیرہ کے گورنر بنے بلکہ حمدانیوں کی حکومت ان کے بیٹے سیف الدولہ کے زمانے میں بلاد شام وغیرہ تک پھیل چکی تھی ۔ابن اثیر ،ابن کثیروغیرہ نے اپنی اپنی کتابوں میں تفصیل کے ساتھ لکھا ہے ۔اس زمانے میں خلافت عباسیہ کے واقعات میں اس خاندان کابڑا کردار رہا ہے ۔خاص طور سے امارت عربیہ میں اس کے فرزندوں نے رومی حملوں کو روک کر انہیں شکست فاش کر کے فتح وکامرانی حاصل کی تھی۔ اور عباسی حکو مت میں جتنے اس خاندان کے بادشاہوں نے جو علما ء ،ادباء ،شعراء دیکھے ہیں کسی اور خاندان نے نہیں دیکھے ۔مگر جس مو ضوع میں ہم گفتگو کر رہے ہیں وہ ہے مرقد مقدس کی عمارت جس کی تعمیر میں خاندان کے بانی ابو ہیجا ء نے کثیر مال خرچ کیا ہے جس کا ذکر ابن حوقل، اصطخری ،اور ادریس وغیرہ نے کئی مرتبہ کیاہے بلکہ ایک مستشرق ( K.LASTRANJ ) نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے او رکہا ہے یہ ۲۹۲ھ/۹۰۵ ء میں مو صل کا امیر تھا اور اس سے پہلے وہ یہاں امیر رہ چکا تھا اور بالآخر ۳۰۱ ھ بمطابق ۹۱۴ ء کو معزول ہو ا اس کے بعد ان کے فرزندحسن اور برادر ان ایک سے زیادہ مرتبہ اس علاقے کے گورنر رہے ۔جیساکہ ابن اثیر نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے ۔
اس کے بعد ابن اثیر مزید ان سالوں کے واقعات پر گفتگو کرتے ہو ئے لکھتا ہے کہ یہ خاندان محبت اہل بیت کی وجہ سے مشہور تھا جس کا ابن کثیر نے بھی اعتراف کیا ہے ۔بلکہ اس کے بارے میں لکھا ہے کسی اور نے بھی لکھا ہے ۔ سید محسن امیں نے اپنی کتاب اعیان الشیعہ میں بیان کیا ہے کہ بعض معاصرین نے صاحب خریدہ العجائب کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ کوفہ کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اس میں ایک عظیم قبہ ہے کہا جاتا ہے کہ یہ قبر علی ہے اور یہ قبہ ابو عباس عبداللہ بن حمدان نے دولت بنی عباس میں بنایا ہے ۔سید عباس موسوی العاملی مکی نے اپنی کتاب نزہتہ الجلیس میں لکھا ہے ۔قبر آدم، نوح ،اور علی پر ایک بڑا قبہ بنایا ہوا تھا اور سب سے پہلے اس قبے کو عبداللہ بن حمدان نے دولت عباسیہ میں بنایا تھا پھر اس کے بعد وہی سیف الدولہ جس کا لقب ابوالہیجا ہے کا باپ ہے ۔جو ۲۹۳ھ بمطابق ۹۰۶ ء میں مو صل کے امیر تھے ۔اس بنا پر عبداللہ بن حمدان کی عمارت عضدالدولہ کی عمارت سے پہلے بنی ہے کیونکہ ابن حمدان ۳۱۸ھ بمطابق ۹۲۹ ء سے پہلے فوت ہو چکا تھا ۔لیکن کو ئی بھی اس عمارت کی تاریخ معین کر نے میں متفق نظر نہیںآتے۔
اور مجھے گمان غالب یہ ہے کہ اس حوالے سے یہ کام ۳۱۱ھ/۹۲۳ ء میں سر انجام ہواتھا اس لیے ابو الہیجا ء اسی سال ۳۱۱ھ کو خلیفہ کی نیا بت میں حج کے لیے روانہ ہو گیا تو ضروری ہے کہ اس نے کو فہ میں اس دوران قیام کیا ہو جیسے عراقیوں کی عادت تھی پھر انہوں نے قبر امیر لمومنین کی زیارت کی اوروہاں عمارت کی تعمیر کا حکم دینے کے بعد حج کیلئے روانہ ہوئے اور ان کی سیرت میں یہ بات بھی مو جودہے کہ جب وہ حج سے واپس آرہا تھا تو راستے میں ابوطاہر قرمطی ان کے قافلے پر حملہ آور ہوئے اور ان کی بڑی قتل وغارت گری ہوئی اور عبداللہ نے اپنے قافلے کی دفاع میں کافی کوشش کی لیکن بالآخر قرمطی نے ان کو شکست دی اور قافلہ کے اموال اور سواری کے جانوروں کو لوٹ لیا ۔اور عبداللہ ان کے ہاتھوں پھنس گئے ۔اور ابوطاہر نے تقریباً ایک ہزار آدمی پانچ سو عورتیں گرفتار کیں کہ اسی سال محرم الحرام میں واقع ہوا۔ابن اثیر کے مطابق ۳۱۲ھ میں قرمطی کو فے میں داخل ہوا۔ اور عبداللہ سمیت تمام اسیروں کو رہا کیا اس میں کوئی شک نہیں کہ رہائی کے بعد عبداللہ آرام کرنے کے لیے فورابغداد واپس آگیا ۔اس کی ذمہ داری کا یہ حال تھا کہ خلافت عباسی میں ترکوں کی مداخلت کی وجہ سے فتنہ پھوٹ رہا تھا ۔ لیکن ابو الہیجا ء اس زمانے کے نمایاں عسکری اور سیاسی شخصیات میں تھے۔ اور ۳۱۷ھ کو عباسی خلیفہ قاہر کو ترکوں پر فتح حاصل ہوئی کیو نکہ اسے قتل کرکے اس کے بھا ئی مقتدر کو دوبارہ اپنی جگہ میں واپس لانا چاہتے تھے ۔ابن اثیر نے یہ لکھا ہے کہ عبداللہ نے قاہر کا دفاع کر تے ہوئے اسے موت سے بچایا اور اس جنگ میں اپنا بازو اور سر کٹوایا ۔اور اثیر اورابن کثیر نے اپنی اپنی کتابوں میں ابوالہیجا پر بہت روایتیں لکھی ہیں ۔لیکن دونوں نے اس کی تعمیر روضہ میں مشارکت کا ذکر ہی نہیں کیا۔ لیکن ابن حوقل جو پانچویں صدی ہجری کے ایک سیاح ہے نے اس کی مشارکت تعمیر روضہ کے بارے میں بیان کیا ہے ۔
اس پر اعتماد کرتے ( K.LASTRANJ )سے ابو الہیجا کی طرف منسوب کیا ہے اور انہوں نے مشہد امیر المومنین کی حدیث کو لمبا ہو نے کی وجہ سے ٹکر اٹکرا کر کے لکھا ہے ۔اور اس کی نسبت کسی کتاب کی طرف نہیں دی ہے ۔وہ بیان کر تا ہے کہ قبر امیر المومنین پر ایک عظیم قبہ بنا ہوا تھا جس کے تمام اطراف میں مختلف دروازے تھے ۔ان دروازوں اعلی قسم کے پردے لگے ہوئے تھے اور اندر چٹائیاں بچھی ہوئی تھی ۔اور اصطخری کہتا ہے کہ قبر علی کوفے کے قریب ہے۔ اور اس کی جگہ کے بارے میں اختلاف ہے کہا جاتا ہے کہ یہ جامع مسجد کو فہ کے دروازے کے کونے میں ہے کیو نکہ بنی امیہ کے خوف سے پو شیدہ رکھی گئی تھی۔اس جگہ میں میں نے چارہ بیچنے والے کی دوکان دیکھی ہے اور بعض یہ گمان کر تے ہیں ،کہ کو فہ سے دو فرسخ کے فاصلے پر ہے جہا ں آج بھی قبر ستان کے آثار ہییں۔اس ضمن میں ابن حوقل کہتا ہے امیر المومنین کوفہ میں ہیں اور ا س کے مو ضع کے بارے میں اختلاف ہے بعض کہتے ہیں کوفہ کے کسی کو نے میں ہے کیو نکہ بنی امیہ سے چھپایا گیا تھا ۔اور اس جگہ آج کل چارہ کی دوکانیں موجود ہیںاور ان کی اکثر اولاد کا خیال ہے کہ ان کی قبر کو فہ سے دو فرسخ پر واقع ہے۔اور اس میں کو ئی شک نہیں کہ ان کی اولاد کا گمان دوسروںکی گمانوں پر فوقیت رکھتے ہیں۔ڈاکٹر محمد حسن حکیم اپنی کتاب مفصل تاریخ نجف اشرف میں لکھتے ہیں ، مرقد علوی شریف پرچوتھی صدی ہجری کے دوران وسیع عمرانی ترقی ہوئی جس کی ابتداء ابو الہیجا عبداللہ بن حمدان متوفی ۳۱۷ھ بمطابق ۹۲۹ ء نے محمد بن زید الداعی کے بنائے ہوئے عمارت کو بڑھاتے ہوئے کیا ۔اور وہ مرقد شریف پراس نے مظبوط قلعہ ساتھ ایک لمبا قبہ بھی بنایا جس کے تمام اطراف میں دروازے تھے ۔اس حولے سے ڈاکٹر سعاد ماہر نے بھی اہم اضافوں ذکر کیا ہے ۔لیکن ا ن سے پہلے شیخ محمد حسین حر زالدین نے ماسینوں کی کتاب خططة الکوفہ پر اعتماد کر تے ہوئے لکھا ہے کہ امیر حمدانی جو کہ اوپر گزرا ،نے محمد بن زید کے ہاتھو ں بنی ہوئی عمارت کی تو سیع کی ۔پھر شیخ موصوف مشہد امیر المومنین کے بارے میں ابن حو قل کی حدیث کو نقل کیا ہے۔ اس پر ڈاکٹر سعا د ماہر کی بیان کا اضافہ بھی کیا ابو الہیجا عبداللہ بن حمدا ن نے جب اس جگہ کو دیکھا تو اس پر ایک مضبو ط دیوار بنایا اور قبر مطہر کے اوپر ایک بلند و بالا قبہ بنا یا جس کے چاروں اطراف میں دروازے تھے ۔اور اس پر اعلیٰ قسم کے پردے لگے ہویئے تھے ۔اور اس کے فرش پر قیمتی ثمانی چٹائیاں بچھی ہوئی تھی۔اور یہاں پر امیرالمومنین کی اکثر اولاد دفن ہیں ۔اور اس بڑی دیوار سے باہر جو جگہ ہے اور اس قبے سے باہر سادات آل ابی طالب دفن ہیں ۔اور اس بڑی دیوار سے باہر جو جگہ ہے وہ بھی آل ابی طالب کیلئے وقف کی گئی تھی ۔لگتا ہے کہ شیخ محمد حسین حرزالدین کو اس عمارت کے زمان کی تعین کرنے میں بڑا اشتباہ ہو ا ہے ۔جو کہ ۳۱۷ھ بمطابق ۹۲۹ ء اس زمانے میں ابو الہیجا ء بغداد میں قتل ہو اتھا ۔اور خلافت کے معاملا ت ڈانواڈول تھے ۔مجھے لگتا ہے کہ اس نے یہاں پر صحیح تاریخ بیان کر نے میں بھی اشتباہ کیا ہے ۔کیو نکہ ابو الہیجا ء ۳۳۱ھ کو حج پہ گیا تھانہ کہ ۳۱۷ھ کو اور میر ے نزدیک جو یقین کے قریب ہے ۔ کہ اس نے ۳۱۱ھ میں ہی کو فہ میں قیام کے دوران اس نے روضہ کی زیارت بھی کی تھی مگر ۳۱۴ھ بمطابق ۹۲۴ ء کو حج سے واپسی پر گرفتا ری سے رہا ئی کے بعد تعمیر قبر کا حکم دینا بعید ہے کیونکہ وہ خود ذہنی ،و جسمانی طور پر استراحت کے طالب تھے۔ تو اس نے روضہ کی تعمیر وتر میم کے بارے میں کیسے سوچاہو گا ۔اور اس میں کو ئی شک نہیں کہ اس کے بعد وہ اپنے خاند انی امور میں مصروف نہ ہو ا ہو ۔کیو نکہ جن مصادر کا میں نے ملاحظہ کیا جس میں اس کے کوفہ جانا نجف ،جانا اور پھر عباسی خلافت وکے اضطرابات وغیرہ میں مصروف رہنا اس صورت حال میں میر انہیں خیا ل ہے کہ اس تعمیر یا اصلاح روضہ کے لیے سوچابھی ہو بلکہ ان ایام میں روضہ کی زیارت بھی کی ہو ۔اس لیے کہ وہ عسکر ی اور سیاسی حوالے سے اہم شخصیات میں سے تھے ۔اس عمارت کے بارے میں شریف ادریسی نے بھی اپنی کتا ب نزہتہ المشتاق فی اختراق الآ فاق میں لکھا ہے ۔شہر کو فہ جو دریا فرات کے کنارے واقع ہے اور کوفہ سے چھ میل کے فاصلے پر ایک عظیم اور بلند بالا قبہ ہے ۔جس میں چاروں اطراف بند دیوار ،ودروازے ہیں اور یہ ہر طرح کے اعلیٰ معیار کے پر دوں سے سجایا ہو ا ہے ۔اور اس کے فرش پر ساسانی چٹائیا ں بچھی ہو ئی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ یہ قبر علی ہے۔اور اس قبہ کے ارد گرد مدفن آل ابی طالب ہے اوراس قبے کو ابو الہیجاء عبداللہ بن حمدان نے دولت عباسیہ کے دوران بنایا ہے۔ اور وہ اس سے قبل حکو مت بنی امیہ میں خفیہ طورپر تھا ۔عمارت حمدانیہ کے حوالے سے ہمیں ایک قدیم مطبوع سے کچھ اشارات ملتے ہیں۔اگر چہ روضہ مکمل طور پر چوتھی صدی نصف اول تک نہیں ملتا ۔ لہٰذا مسعودی المتوفی ۳۶۴ھ قبر امیر المومنین کے حوالے سے ذکر کر تا ہے بعض کہتے ہیں کہ اسے غری میں کوفہ سے کچھ میل دور فاصلے پر آج کی مشہور جگہ میں دفن کیا گیا ہے ۔ لیکن اس نے یہاں ہم سے زیادہ نہیں کہا میرا خیا ل ہے کہ اس کا یہ قول کہ کوفہ سے چند میل کے فاصلے پر آج کے مشہور جگہ سے عمارت حمدانیہ مراد لیا ہو ۔یہا ں یہ بات بھی واضح ہو تی ہے کہ قبر مطہر کے قرب وجوار میں باقیوں کا دفن ہونا تیسری صدی سے شروع ہو اتھا ۔یہ وہاں کے قصبہ جات اور روضہ کے احاطے کے شہر کے حدود میں نہیں رہا اور نہ شیعوں کو کوفہ میں رہنے والے علویوں تک محدود رکھا، بلکہ وہا ں علما ء وغیرہ اکثر شہروں سے لاکر یہاں دفن کر تے تھے ۔اور جب چوتھی صدی شروع ہوئی تو شہر دور دور اطراف جیسے بصرہ اور بغداد تک پھیل گیا تھا ۔اور وہاں ابوالفضل عباس شیرازی جو ابوالفرج محمد بن عباس معزالدولہ کا کاتب تھا کی میت بصرہ سے نجف ۳۴۲ھ /۹۵۳ ء میں لاکر یہاں دفن کیا گیا اسی طرح بقول ابن اثیر علی بن حسن بن فضال الکو فی ثعلب کے مشہور شاگردوں میں سے تھا ، کی میت کو بھی بغداد سے نجف ۳۴۸ھ بمطابق۹۵۹ ء میں دفنا یا گیا اور ۳۶۲ھ بمطابق ۹۷۳ ء میں ابوالفضل عباس بن حسن شیرازی کے وزیر کو زہر دے کر قتل کر دیا تو وہ مزار علی ابن ابی طالب میں دفن کیا گیا ۔محمد حسین حرزالدین کے بقول جوار امام میں یہ دفن کا سلسلہ جا ری رہا اور عراق کے دور دور علاقوں تک پھیل گیا یہا ں وادی السلام امام کے جوار میں جاری رہنا ان کے شیعوںکی زمانہ قدیم سے آرزو رہی ہے اور رہے گی ۔
عمارت عمر بن یحییٰ العلوی
اس عمارت کے بارے میں مجھے زیادہ اور دقیق معلومات نہیں ملی تاہم گمان غالب ہے کہ صرف روضہ مقدس کی توسیع اور اصلاح ہے جو چوتھی صدی ہجری کی چوتھی دہائی میں ابو علی عمر ابن یحییٰ کے ہاتھوں انجام پائی ۔کیو نکہ روضہ مقدس کا قبہ خراب ہو تھا ،یا ،گر گیا تھا جسے دوبارہ بنایا گیا ۔اس بارے میں تمام معلومات میں در اصل میں ''مستدرک الوسائل ''سے استفادہ کیا ہے اور اس کی تاریخ میں ایک سے زیادہ محقق کو اشتباہ ہوا ہے ۔بعض کے مطابق اس کا قیام ۲۵۰ھ میں ہو تھا یعنی محمد بن زید الداعی کی عمارت سے قبل ۔ان میں سے ڈاکٹر سعاد ماہر نے اپنی کتاب ''مشہد الامام علی ''میں اسی مذکورہ نسبت کو قبول کیا ہے ۔وہ کہتے ہیں روضہ مقدس کی تیسری تعمیر عمر بن یحییٰ نے کو فہ میں کی ہے ۔اور یہی نوری نے مستدرک الوسائل میں بیان کیا ہے ۔اور انہوں نے اپنے جد بزرگوار امیرالمومنین کے مرقد مطہر کو اپنے خالص مال سے تعمیر کیا تھا اور یحییٰ امام موسیٰ بن جعفر کے اصحاب میں سے تھے جو ۲۵۰ھ /۸۶۴ ء میں عباسی خلیفہ مستعین کے دور میں قتل ہوئے اور بعد میں اس کوخلیفہ پاس لا یا گیا ۔اس کے بعد ڈاکٹر حسن حکیم بھی اشتباہ کا شکار ہو اہے۔ لہٰذا انہوں نے بھی مذکورہ تاریخ کو محمد بن زید کی عمارت سے قبل قرار دیا ہے لہٰذا وہ اپنی کتاب ''مفصل تاریخ نجف اشرف ''میں لکھتا ہے ''لیکن بعد میں اس کامتوکل کے عہد میں لوگوں کے قبر علی کی زیارت کی آزادی ملی جس طرح اسی دور میں اسے گروائی گئی تھی۔ پھر امیر الحاج عمر ابن یحییٰ بن حسین نے اپنے جد بزرگوار امیر المومنین کی روضہ کی تعمیر اور قبے کو اپنے خالص مال سے بنوایا اور اس قبے کا رنگ سفید تھا اور اس کے بعد سید محمد بن زید الداعی نے تعمیر کی...... '' اس بارے میں انہوں نے سید محسن امین کا حوالہ دیا ہے لیکن انہوں نے بھی مستدرک الوسائل پر ہی اعتماد کیا ہے ۔اور اس اشتباہ پر اگر غور کیا جائے ۔تو دو صورتوں سے خالی نہیں ہے ۔
۱۔ ڈکٹر حسن حکیم کیلئے سید محسن امیں کا بیان واضح نہیں ہو ا ہے ۔ اس میں ہو سکتا ہے خود سید موصوف کو بھی اشتباہ ہو ا ہو ۔
۲۔ یہ ہو سکتا ہے شاید انہوں نے سید محسن امیں کے بعد دوبارہ نظریہ تبدیل کر کے عضدالدولہ کی عمارت اور قصید ہ ابن الحجاج کے بارے میں بیان کیا ہو۔
اسے بھی صاحب اعیان سے ذکر کیا ہے:''روضہ مقدس کی تعمیر کر نے والوں میں عمر ابن یحییٰ بن حسین بن احمد بن عمر جو کہ ۲۵۰ھ /۸۶۴ ء میں قتل ہو ا ۔عمر ابن یحییٰ بن حسین بن حسین ذی الدمعہ بن زید ابن علی ابن حسین ابن علی ابن ابی طالب بھی ہے ۔مستدرک الوسائل میں ہے کہ انہوں نے اپنے جد بزرگوار امیر المومنین کا قبہ اپنے خالص مال سے بنوایا تھا اور انہوں نے حجر اسود کو بھی دوبارہ واپس لایا تھا جسے قرامطہ نے۳۲۳ھ/۹۳۵ ء میں مال غنیمت سمجھ کر لوٹ لیا تھا ۔پھر وہ ابن زید اور عضدالدولہ اور قصیدہ ابن الحجاج کی حدیث کی طرف متوجہ ہو تا ہے۔
یہاں اشتباہ ہو نے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ تاریخ میںدو عمر ابن یحییٰ گزرے ہیں جن کے درمیان نو دہا ئیوں کا فاصلہ ہے ۔پھر اس غلطی میں ایک اضافہ کیا نص میں مو جو د اس عبارت کو بیان کر تے ہوئے ابن یحییٰ ابن حسین ۲۵۰ھ /۸۶۴ ء میں قتل ہو ا کیو نکہ اس تاریخ میںجو شہید ہو ا ہے وہ یحییٰ ابن حسین ابن حسین جو ذی الدمعہ کے لقب سے مشہور تھا ۔نہ کہ عمر....... ۔
ذی الدمعہ کی شہادت ایک عظیم سانحہ ہے جس کے بارے میں بڑے بڑے شعراء نے مرثیے کہے ہیں جس میں سر فہرست ابن رومی ہے جس میں انہوں نے اس کی بہادری اور کوفہ میں مستعین کے زمانے میں قیام کا ذکر کیا ہے لیکن ،اصلاح مرقد مطہر کے ساتھ ان کا کو ئی تعلق نہیں ہے ۔مگر دوسری شخصیات یعنی عمر ابن یحییٰ جس کی تعمیرمیر ے حساب سے تقریبا چوتھی صدی ہجری کے چوتھی دہائی میں ہو ئی تھی ۔یعنی محمد ابن زید الداعی کی عمارت سے نصف صدی یا اس سے زائد مدت بعد میں ہوئی تھی اور ڈاکٹر حسن اور ڈاکٹر سعاد ماہر کے بقول ابو الہیجاء کی عمارت کے بعد میں ہو ئی تھی ۔لیکن شیخ محمد حسین حرز الدین نے اپنی کتاب تاریخ نجف اشرف میں اس تعمیر کی تاریخ ۳۳۸ھ مقر ر کی ہے اور یہی راجح ہے ۔اورلکھا ہے کہ سید ابو علی عمر ابن یحییٰ کو اللہ تعالیٰ نے دو فضیلتوں سے نوازا ہے ایک یہ ہے کہ انہوں نے اپنے جد بزرگوار امیرالمومنین کے قبے کو بنوایا ۔اور دوسرایہ ہے کہ انہوں نے حجر اسود کو اس کی اپنی جگہ دوبارہ رکھوایا ۔اس لیے انہوں نے خلیفہ مطع الدین اللہ اور قرامطہ کے درمیان ثالثی کردار انجام دیا یہا ں تک کہ وہ قرامطہ حجر اسود واپس کر نے پر راضی ہوگئے ۔اوربیت الحرام واپس لے جانے سے پہلے لاکر جامع مسجد کوفہ کے ساتویں ستون میں رکھ دیا ۔اس بارے میںخود امیر المومنین سے روایت بھی ہے جس سے اس واقعے کی تصدیق ہوتی ہے کہ آپ نے فرمایا ،ایک دن کوفہ میں ضرور حجر اسود لایا جائے گا ۔اور اشارہ کر کے فرمایا اس ساتویں ستون میںڈالا جائیگا۔''
کتاب شہداء الفضیلہ میں ایک روایت آئی ہے جو ابن اثیر کی روایت کی ہوئی ہے کہ مکہ میں دوبارہ ۳۳۹ھ کو حجر اسود واپس لے جانے کے بارے میں ہے وہ کہتاہے''بحکم نے انہیں پچاس ہزار دینار اس حجر اسود کو واپس دینے کے عوض دیا لیکن انہوں نے نہیں مانا ،لیکن آج ماہ ذی القعدہ میں بغیر کسی کے معاوضے واپس لایا ہے اور جامع مسجد کوفہ میں لٹکا یا تاکہ لوگ دیکھ سکیں ۔پھر اسے مکہ لایا گیا اسے انہوں نے رکن بیت سے ۳۱۹ھ میں اٹھا کر لے گئے تھے۔'' اس حوالے سے قابل قبول یا اس سے قریب تاریخ کی تائید سید جعفر بحرالعلوم نے اپنی کتاب ''تحفةالعالم ''میں کی ہے ۔''سید ابو علی عمر اللہ نے جس کے ہاتھوں حجر اسود کو واپس لایا اور سید موصوف امیر حجاج تھا اور انہوں نے ۳۳۹ھ میں حجر اسود کو اپنی جگہ واپس لایا اور قرامطہ کے پاس یہ بائیس سال رہا اور اسی سید موصوف نے اپنے جد بزرگوار امیر المومنین کا قبہ اپنے خالص مال سے بنوایا تھا ۔اور یہ حسینکی ذریت سے ہے ۔
اور ان کا لقب ذی الدمعہ ہے اور ان کا پورا شجرہ یہ ہے ،ابو علی عمر ابن یحییٰ جو کوفے میں رہتا تھا ابن الحسین النقیب الظاہرابن ابی عانقہ احمد جو شاعر ومحدث تھا اور بن ابو علی عمرابن ابوالحسین یحییٰ جو اصحاب امام موسیٰ کاظم میں سے تھا اور ۲۵۰ھ میں قتل ہو نے کے بعد اس کاسر مستعین کے قصر میں لے جایا گیا ۔''
تعمیرات ِعضد الدولہ بو یہی
عراق نے جو تعمیراتی کام عضد الدولہ بویہی کے دور میںدیکھا ہے اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھا خاص طور سے تیسری صدی کے نصف میں زوال خلافت عباسیہ کے وقت اگرچہ اس کی حکومت پانچ سال سے زیادہ عرصہ نہیں رہی پھرتاتاریوں کے ہاتھوں ۶۰۶ھ /۱۲۵۸ ء میں ان کی حکومت ختم ہوئی۔ اس حوالے سے ہم نے اپنی کتاب نصوص فی ادب العربی میں کچھ کچھ تذکرہ کیاہے۔
اب ہم آپ کو ابن اثیر کی کتاب الکامل سے نقل کرتے ہیں ۔ تاکہ آپ کو عضد الدّولہ کے عظیم کاموں، عدالت ، فہم و فراست، صحت اور معاشرہ کے لئے اقدامات ، خاص طور سے پانی کا اہتمام جس پر پوری اقتصادیات منحصر ہے کا انداز ہو۔ اور آپ یہ جان کر بھی حیران ہوںگے کہ پانی کے حصول کیلئے اس نے کیا کیا زحمتیں اُٹھائی جس کے لئے انہوں نے کنویں کھد وایا اور دریا سے پانی کے نلکے لگوائے اور جو پہلے خراب حالت میں تھی انہیں دوبارہ ٹھیک کروایا اور جس کی وجہ سے ذراعت و پیداوار اچھی ہوئی جس کی ملک اشد ضرورت تھی کیونکہ پچھلے سالوں میں ملک عراق جن خراب حالات سے گزرا تھا اب اس کی وجہ سے بہتری کی طرف آنے لگا۔
ان کی یہ تمام خدمات ایک طرف جبکہ دوسری طرف انہوں نے علم و علماء کو ترغیب دی اور دین و مذہب کے جھگڑے کو ختم کروایا اور ملک کے اندر امن و آشتی لایا اس طرح عراق کافی عرصے کے بعد ثقافتی طور پر دوبارہ کھڑا ہوا۔ میں اس میں مبالغہ نہیں کرتا کہ یہ ایک بہترین مثال ہے جوکہ بلا د اسلامیہ کے حکمرانوں میں اتنے عرصے حکومت کرنے کے باوجود بہت کم ہے کیونکہ وہ اپنے بُرے عزائم و فتنے کے ساتھ ہمیشہ اپنے آنے والے اپنے وارثین کو حکومت تحویل کرنے کی فکر میں ہوتے تھے جس کی وجہ سے رعیت پر پوری توجہ نہیں دیتے تھے۔اور اپنی کرسی بچانے کی خاطر کچھ مظالم آل بویہ کی طرف منسوب کرتے ہیں تو دوسری جانب بعض حرص و لالچ کی وجہ سے انہیں اچھے لباس میں ڈال کر پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
ابن اثیر کہتا ہے'' عضد الدّولہ نے بغداد کی تعمیر۳۶۹ھ /۹۸۰ ء میں شروع کی۔ جو مسلسل فتنوں کی وجہ سے خراب ہوتا جارہا تھا لہٰذا س نے وہاں مساجد، بازاروں کی تعمیر کی، اور آئمہ مساجد، موذنین، علماء ، قرّاء ، غرباء ، ضعفاء جو مساجد میں رہتے تھے مال کی فراوانی سے نوازا۔ اور پچھلے بادشاہوں کے دورجو میں عمارتیںخراب حالت میں تھی اُن کی تعمیر کروائی جو نہریں بند ہوگئی تھی انہیں دوبارہ کھدوایا اس طرح لوگوں کے کندھے سے کدال و بیلچہ چھڑوایا اور عراق سے مکہ معظمہ تک کے راستے صحیح طریقے سے بنوایا اور مکہ معظمہ میں رہنے والے اہل شرف و ضعفاء اور مکہ کے آس پاس رہنے والوں کے درمیان ارتباط قائم کیا۔ اسی طرح مزار علی و حسین بھی بنوایا۔ اور لوگوں کو سکھ و چین کا سانس ملا اور فقہاء ، محدثین، متکلمین، مفسرین، اُدباء ، شعراء ، علماءے نسب شجرہ نسب جاننے والے، اطباء ، ریاضی دانوں ، اور مہندسیوں ( انجینئر وں ) کے لئے وظیفے مقرر کیے۔ اور اپنے وزیر نصر بن ہارون جو نصرانی تھا کو خرید و فروختگی کے لئے دکانیں بنانے کی اجازت دی اور فقراء میں مال تقسیم کروای، ابن اثیر نے یہ بھی کہا ہے۔ اُس کی عمر وفات کے وقت ۴۷سال تھی ۔ اور وہ عاقل ، فاضل ، اچھا سیاست دان، صابر، با ہمت ، اہل فضیلت کے لئے اچھی سوچ رکھنے والا سخی، دست دراز، موقع محل سمجھ کر خرچ کرنے والا، انجام کار میں نظر رکھنے والا، عد ل و انصاف کرنے والا، اہل علم کو پسند کرنے والا انسان تھا، اس طرح وہ علماء کا منظور نظر بنا تو انہوں نے اس کے نام پر عظیم کتابیں تالیف کی ''۔ان میں سے ابو علی فارسی ہے جس نے اس کے نام پر کتاب تالیف کی اسی طرح ابو اسحاق نے اس کی حکومت کے حوالے سے کتاب لکھی ، وہ ہر سال کے شروع میں بہت زیادہ مال نکال کر تمام بلاد میں جو اس کی حکومت کے اندر تھی، صدقہ کرتا تھا۔ اُن کی بعض خدمات کی طرف محمد جواد فخر الدین نے اشارہ کیا ہے۔ انہی میں سے وہ بیمارستان بھی ہے جسے اُس نے بغداد میں بنوایا تھا۔
'' اس بناء پر ہم دیکھتے ہیں عضد الدّولہ البویہی صرف نجف اور کربلا کی طرف توجہ نہیں تھی جس کی وجہ بعض اس کی مذہب کو قرار دیتے ہیں۔ اپنی حکومت کے اس پانچ سال میں اس نے اپنی تمام کوششیں اس بلاد کی دوبارہ احیاء کے لئے صرف کی جسے خراب اور بگاڑ دیا گیا تھا۔'' اُس نے قبر مقدس پر تعمیر کروانے کے ساتھ اس کے ارد گرد رہنے والے بنی تحتیہ او فو قیّہ کے لئے بھی تعمیر و ترقی جاری رکھی اگرچہ عمارت کے شروع کی تاریخ کچھ ہے۔ جس طرح اُس حوالے سے معلومات بھی کم ہے شاید اُس نے اس کی اور مَر قدابی عبد اللہ ِ الحسین کی تعمیر کا حکم ۳۶۹ھ /۹۸۰ ء میں کیا تھا۔ جیسا کہ ابن اثیر میں کہا۔''عضد الدّولہ نے ۳۶۹ھ /۹۸۰ ء میں تعمیرات شروع کی اور اسی طرح مزار علی وحسین بھی بنوائے'' لگتا ہے مرقد امیر المومنین اور مرقدابی عبد اللہ ِالحسین ۳۷۱ھ کے نصف ثانی میں مکمل ہوا تھا۔ اور اُسی سال جماد ی الا وّل میں مرقد امیر امو منین کی زیارت کے لئے آنے والوں کو روضہ مقدس کی عمارت کے بارے میں معلوم ہوا۔ اور انہوں نے یہ بھی دیکھا کہ بنی تحتیہ روضہ کی خدمت کر رہی تھی اس طرح وہاں قُرب و جوار میں لوگ رہنے لگے۔ اور مرور ایام کیساتھ یہ ایک آبادی پر مشتمل شہر بن گیا ۔ اس حوالے سے ابن طاوس کی روایت ہے ہمیں یحیٰ ابن علیاں نے جو مزار امیر المومنین علی بن ابی طالب کا خازن تھا، کہا کہ اس نے اپنے باپ دادا شیخ ابی عبد اللہ محمف بن السری جو ابن البرسی سے مشہور ہے اور روضہ کے قریب میں رہتا تھاسے ایک کتاب ملی اس کتاب میں وہ لکھتا ہے۔ کہ عضدالدّولہ نے مزار علی اور مزار حسین کی زیارت ماہ جما دی الاوّل ۳۷۱ھ میں کی سب سے پہلے وہ حائر آتے ہیں اور امام حسین کی زیارت کی اُس کے بعد کوفے میں داخل ہوا۔ اور مزار علی ابن ابیطالب کی زیارت کی اور وہاں پر موجود صندوق میں کچھ درہم ڈالے بعد میں علویوں کے جب درمیان تقسیم کیا۔ تو ہر ایک حصے میں ۲۱،۲۱ درہم آیا، اور وہاں علویوں کی تعداد ۱۷۰۰تھی، اور وہاں کے مجاورین کیلئے ۵۰۰۰درہم ، زائرین کے لئے ۵۰۰۰درہم اور وہاں نوحہ کناں کے لئے ۱۰۰۰۰درہم اور قرآن پڑھنے والے فقہاء ، منتظمین جن میں سے خازن نائبین، ابو الحسن علوی، ابو القاسم بن عابد اور ابو بکر سیّار کے ہاتھوں کافی مال دیا ''۔اس سے مجھے لگتا ہے کہ اس نے جوار حرم کو ایک شہر میں تبدیل کرنے کا مصمم عزم کر رکھا تھا۔ یہ اُس وقت پتہ چلا جب اس نے اپنے آپ کو وہاں دفن کرنے کی وصیت کی، یہ روایت زیادہ اہم ہے۔ کیونکہ اس کے مطابق کہ وہاں رہائش اس کی تعمیر سے پہلے بھی موجود تھی۔ اور جب وہ یہاں آیا تو بہت سارے علویین، مجاورین، نوحہ کناں، قرآن پڑھنے والے، فقہاء کے علاوہ مرقد مقدس کے خازن ،اور ان کے نائبین بھی تھے نوحہ کناں اور قرآن شریف پڑھنے والوں کا وجود یہ بتاتا ہے کہ جوار امام میں دفن ہونے کا عمل اس کی تعمیر سے غیر محدود مدّت پہلے سے مشہور تھا۔ سید ابن طاووس نے ابن طحّال سے نقل کیا ہے ''کہ عضد الدّولہ نے وہاں عمارت بنوائی اور بہت سارے اموال بھیجا اور ان امور کے مکمل ہونے کی تاریخ روضہ میں بالائے سر کی جانب زمین سے ایک قامت اوپر دیوار پر لکھا ہوا ہے اور اس سے یہی ثابت ہوتا ہے ''لیکن مجھے وہاں پر کوئی تاریخ نظر نہیں آئی البتہ میں سیّد محسن امین کی اعیان الشّیعہ میں اقوال کو دیکھا جو دیگر اقوال کی نفی کرتا ہے جو کہتے ہیں کہ ''۳۳۸ھ/۹۴۹ ء یا ۳۷۶ھ /۹۸۶ ء ہے کیونکہ پہلی تاریخ عضد الدّولہ کی حکومت سے ولادت کے قبل ہوتی ہے جبکہ دوسری تاریخ ان کی وفات کے بعد واقع ہوتی ہے تو وہ لکھتا ہے ظاہر ہے کہ عمارت کی تاریخ ۳۶۹ھ ہی ہے۔''
پھر سید محسن امین نے دیلمی کی روایت نقل کی ہے جس میں اس نے رشید کی عمارت کے بارے میں گفتگو کی ہے جو کہ ایک قبّہ اور چار دروازوں پر مشتمل تھا ۔ اس کے گمان کے اسی وقت عضد الدّولہ وہاں پہنچا تھا اور وہ لکھتا ہے عضد الدّولہ جب وہاں آیا ''اور وہاں تقریباً ایک سال قیام کیا اور اس کے ساتھ اس کی فوج بھی تھی اور وہیں اطراف سے ہنر مند اور استادوں کو بلایا اور مذکورہ عمارت کو گروایا اور کثیر مال خرچ کرکے ایک شاندار عمارت تعمیر کی اور یہ عمارت آج کے عمارت سے پہلے تھی۔''
یہ بات واضح ہے کہ دیلمی کو یہاں عمارت عضد الدّولہ اور رشید کی عمارت کے درمیان اشتباہ ہوا ہے اور مبالغہ کیا ہے کہ عضد الدّولہ اپنی فوج کے ساتھ وہاں تقریباً سال عمارت مکمل ہونے تک قیا م کیا۔ اگر ہم عضد الدّولہ کی حالات زندگی کا طائرانہ جائزہ لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ بغداد میں چند مہینے نہیں ٹھہر سکتا تھا کیونکہ اس کی جنگی مصروفیات بلاد فارس و عراق وغیرہ میں زیادہ تھی تو اس نجف میں اتنا لمبا قیام کیسے کر سکتا ہے اور اس بات کو سیّد جعفر بحر العلوم بھی نہیں مانتے ہیں اور ان کے ساتھ محمد جواد فخر الدین نے بھی اپنی کتاب میں اس روایت کو رد کیا ہے۔ ''لگتا ہے دیلمی نے اس بات میں زیادہ مبالغہ سے کام لیا ہے کیونکہ یہ تصور سے خالی ہے کہ عضد الدّولہ عمارت کو مکمل ہونے تک وہاںمکمل ایک سال ٹھہرا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے لئے بہت سارے اہم حکومتی و انتظامی و سیاسی ذمہ داریاں تھی'' اور سید محسن امین نے یہاں اس عمارت سے متعلق صاحب عمدة الطالب کے قول کو بھی بیان کیا ہے ''کہ عضد الدّولہ نے وہاں اوقاف معین کیا تھا اور اس کی یہ عمارت ۷۸۲ھ /۱۳۵۲ ء تک باقی نہیں رہی اور دیوار جس پر لکڑی کی کاشہ کاری کی تھی وہ سب ختم ہوا تھا اور اس کے بعد میں جلایا گیا اس کی جگہ نئی عمارت بنی جو آج ہے لہٰذا عضد الدّولہ کی عمارت زیادہ عرصہ نہیں رہی اور آلبویہ کی قبور مشہور ہیں جو نہیں جلی تھیں''۔ اور اس عمارت کے جلنے کی بات کو سیّد محسن امین کتاب الاماقی سے صحیح مانا ہے کیونکہ ''عبد الرحمن العتایقی الحلّی جو نجف اشرف کے مجاور تھے اور اس کی کتاب کا روضہ علوی کی الماری میں ایک نسخہ تھاجسے اس نے ماہ محرّم ۷۵۵ھ /۱۳۵۴ ء میں مکمل کی تھی۔ وہ کہتا ہے اسی سال روضہ مقدس کو آگ لگی تھی۔ پھر ۶۷۰ھ /۱۲۸۲ ء سے بہتر طریقے سے اور شاندار انداز میں تعمیر ہوئی اور موصوف اس جلنے کے حوالے سے دیلمی سے زیادہ جانتے ہیں کیونکہ اس نے خود اسے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اور دیلمی اس سے متاخر ہے کیونکہ اس کی وفات ۸۴۱ھ /۱۴۳۷ ء میں ہوئی تھی ۔ یہ ہم نے پہلے کہا تھا کہ دیلمی کی تمام روایات جو قبر مطہر اور عمارت روضہ سے متعلق ہیں نجس نہیں ہے اطمینان ہے کیونکہ اس کے بارے میں مشہور ہے وہ بھولتا زیادہ تھا۔
جہاں تک عضد الدّولہ کے عظیم کارنامے کی بات ہے جو انہوں نے روضہ مقدس کی خدمت میں انجام دی ان میں پانی کا انتظام جس کے لئے انہوں نے فہم و فراست کی اپنے زمانے میں انتہا کردی۔ کیونکہ یہ مشہور ہے کہ نجف اشرف ایک پہاڑی تھی جو موجودہ کوفہ میں دریائے فرات کی سطح سے زیادہ بلندی پر واقع تھی۔ پانی اس بلندی پر پہنچانے کے لئے بہت سے لوگوں نے کوشش کی لیکن عضد الدّولہ کی کوشش کامیاب ہوئی ۔ لیکن زمانے کی نشیب و فراز کی وجہ سے دوبارہ یہ سلسلہ جلد ختم ہوا تو نجف میں پانی کا مسئلہ پھر ہوا اور یہ مسئلہ اس وقت حل ہوا جب الحاج محمد بو شہری جس کا لقب معین التّجار تھا نے ۱۹۲۷ ء میں پانی پھینکنے کا پمپ خریدا اور اسی سال ہر گھر میں پانی کوتقسیم کیا گیا اور محمد کاظم طریحی کے مطابق ۱۹۴۳ ء میں پانی و بجلی کے منصوبے کی بنیاد رکھی گئی۔
سیّد جعفربحر العلوم مزید آگے اس حوالے سے لکھتے ہیں ، دولت عثمانیہ نے جب یہ محسوس کیا کہ نجف کے لئے کوئی نہر نکال کر پانی لے جانا مشکل ہے تو یہ جنگ عظیم اوّل سے پہلے یہ طے کیا کہ پمپ کے ذریعے ہی اس مسئلے کو حل کیا جائے اور اسی سال ایک جرمن کمپنی سے پائپ خریدنے کا معاہدہ طے ہوا تھا جو کہ کوفہ اور نجف کے درمیانی راستے میں بچھانا تھا لیکن جنگ کی وجہ سے یہ منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا اور پائپ وہیں پڑے رہے یہاں تک کہ بعد میں یہ اندر ریت جمع ہونے کی وجہ سے خراب ہوگئے۔
شیخ محمد حسین نے اعیان الشیعہ سے اس حوالے سے ایک واقعہ نقل کیا ہے جس سے عضد الدّولہ کے انجینئروں کی ابتکاری کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ انہوں نے ایک ٹنل بنایا تھا جو قناتِ آل بویہ سے مشہور تھا۔ جو انہوں نے دریائے فرات سے کھودا تھا پھر زمین کو چیرتا ہوا نجف تک پہنچا پھر نجف کو نیچے سے چیراگیا اور پانی شہر کے غرب میں نچلی طرف گرایا جہاں بحر نجف تھا تو وہاں ایک چشمہ وجود میں آیا اوریہ پانی جاکر اس چشمے سے مل گیا جس کی وجہ سے یہ پانی میٹھا نہیں ہوا اور پانی اسی چشمے سے جاری رہا جو پانی کے علاوہ باقی ضروریات کے لئے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اور دو نالیاں کھودی گئیں ایک اوپر اور دوسری نیچے جن میں ایک پانی کے لئے تھی جبکہ دوسری ہوا کے آنے جانے کے لئے اور راستے میں جگہ جگہ سوراخ رکھے گئے تھے تاکہ ان نالیوں کی صفائی ستھرائی کے ساتھ خراب ہونے کی صورت میں اس کو ٹھیک کیا جائے جس کے آثار اب بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ حر ز الدین نے اپنے جدّ کی کتاب النّوادر سے کنویں اور نالیوں کے بارے میں تفصیل سے بیان کیا ہے کہ ان کے راستے اور کھودنے کے طریقے اور اندر سے ڈھانپے۔ گہرائی وغیرہ شامل ہیں، مثلاً شہر کے حدود میں ایک کنواں کی گہرائی چالیس ہاتھ یعنی تیس میٹر سے زیادہ تھی۔اس زمانے میں بے سرو سامانی کی حالت میں اور اس سخت زمین کو اتنی مقدار تک کھودنا محنت کی اعلیٰ مثال ہے۔ اور اس میں مبالغہ نہیں کر رہا ہوں کہ یہ کھودنے والے دن میں آدھے میٹر سے زیادہ نہیں کھود سکتا تھا اس کی وجہ کنویں کی تنگی تھی جس کے اندر دو یا تین آدمی سے کام نہیں کرسکتے تھے۔ اور زمین کی سختی اپنی جگہ لیکن ان تمام مشکلات کے باوجود ان کی فہم و فراست اور ان کے انجینئروں کی بدولت ۳۶۹ھ/۹۸۰ ء میں اس منصوبے کو مکمل کرنے میں کامیاب ہوا۔ ( K.LASTRANJ )نے یہاں پر مستوفی سے اپنی کتاب میں نقل کی ہے ''عضد الدّولہ البویھی نے ۳۶۶ھ/۹۷۷ ء میں روضہ مقدس کی تعمیر کی جو مستوفی کے زمانے تک قائم و دائم تھا اور وہ موضع اس وقت ایک چھوٹا شہر تھا جو ۲۵۰۰قدم پر محیط تھا اور ابن اثیر کی تاریخ میں آیا ہے کہ عضد الدّولہ ان کی وصیت کی مطابق اسی شہر میں دفن کیا گیا۔ اور ان کے بعد ان کیدونوں بیٹے شرف الدّولہ اوربھاء الدّولہ بھی یہاں دفن ہوئے اور ان کے آثار بعد میں آنے والے بہت ساروں نے دیکھا۔
ابن کثیر نے اپنی کتاب البدایة میں لکھا ہے ''عضد الدّولہ ماہ شوال ۳۷۳ھ /۹۸۲ ء میں انتقال ہوا اور اس کا جنازہ لاکر مزار علی میں دفن کیا گیا جہاں رافضی اور شیعہ ہیں اور اس کی قبر پر لکھا ہوا تھا:یہ عضد الدّولہ تاجِ شجاع رکن الدّولہ کی قبر ہے اور یہ اس متّقی امام کی مجاورت سے زیادہ محبت کرتا تھا( یَوْمَ تَا تِیْ کُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَفْسِهَا )
اور سیّد محسن امین اپنی کتاب اعیان الشّیعہ میں لکھتے ہیں ''عضد الدّولہ نے اپنے لئے نجف میں مزار مقدس کے جوار میں مغرب کی جانب ایک عظیم قبّہ بنوایا تھا اور خود کو ہاں دفن کرنے کی وصیت کی تھی اور بعد میں اس کی وصیت پر عمل ہوا اور سلطان سلیمان عثمانی جب ۹۴۰ھ /۱۵۳۳ ء عراق میں داخل ہوا تو اسے گرادیا اور اسے بکتاشی گروہ کے لئے تکیہ قرار دیا اوریہ ا س وقت تک باقی رہااس کا دروازہ صحن شریف کے مغرب کی طرف کھلتا ہے اور بعض کا گمان ہے یہ کام سلطان سلیم نے انجام دیا تھا لیکن صحیح یہ ہے کہ اس کا بیٹا سلیمان نے کیا تھا سلیم کی طرف منسوب اس کی شہرت کی وجہ سے ہوا تھا۔''
یہ اشتباہ ہے کیونکہ ان کا مدفن حرم امیر المومنین کے مشرق کی طرف رواق کے آخر میں ہے۔ اس حوالے سے شیخ محمد حسین حر ز الدین نے ایسے اہم معلومات فراہم کی ہے جس میں عضد الدّولہ کی قبر ، روضہ کی دہلیز اور سردابوں کے بارے میں ہیں جو قابل دیدہے۔اور مرزا ہادی خراسانی جو حرم امیر المومنین سے متعلق بعض آثار کے بارے میں سراغ لگانے والوں میں شامل ہے وہ عضد الدّولہ کے قبر کے بارے میں کہتے ہیں جسے شیخ محمد حسین حرز الدین نے بھی روایت کی ہے ''کہ عضد الدّولہ البویھی کی قبر حرم امیر المومنین کے مشرق کی طرف کے رواق کے سرداب میں ہے۔ جو ایوان طلاء کا مدخل ہے اور اس سرداب کا دروازہ صحن میں چراغ کے نیچے ہے اور مرزا اسی مدخل سے ہاتھ میں روشنی لے کر اپنے بعض ساتھیوں کے ساتھ داخل ہوتا ہے اور اس جگہ پہنچ جاتا ہے جہاں عضد الدّولہ کی قبر ہے اور اس کی قبر پر ایک نفیس پتھر کی لوح پر لکھا ہواہے ''یہ سلطان عضد الدّولہ بن رکن الدّولہ بن سلطان البویھی کی قبر ہے جس نے اپنے آپ کو امیر المومنین کے قدموں میں دفن کرنے کا حکم دیا تھا تاکہ ان کی مرقد میں عضد الدّولہ کے سر اور شانے کے اوپر آئے'' اور آل بویہ کے باقی مشہور شخصیات جیسے بھاء الدّولہ صحن میں باب التکیّة کے پاس دفن ہیں۔''
اور یہ بھی ذکر ہوا ہے ''عضد الدّولہ نے یہ وصیت بھی کی تھی کہ اس کی گردن میں چاندی کے زنجیر باندھ کر قبر امیر المومنینکے نیچے سے داخل کیا جائے اور اس کے منہ پر ایک رقعہ رکھا جائے جس پر یہ آیت لکھی ہو:( وَ کَلْبُهُمْ بَاسِط ذَرَا عَیْهِ بِا لْوَصِیْدِ ) اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ عضد الدّولہ کی قبر مرقد امیر المومنین کے دوسرے دروازے کے آخری دہلیز کے نیچے ہے۔ پھر دور عثمانی میں ان آثار میں کافی تبدیلیاں ہوئی ہیں لہٰذا ان میں سے زیادہ تر کانہ کوئی آثار ہیں اور نہ کسی نے اسے دیکھا ہے۔''اس بناء پر آل بویہ کے قبرستان جسے سیّد محسن امین نے بیان کیا عضد الدّولہ کی حکم سے نہیں بنا تھا بلکہ شاید ان کے کوئی بیٹے صمصام الدّولہ کے حکم سے بنا تھا۔
اب یہ اہم نہیں ہے کہ عضد الدّولہ نے کتنی بار روضہ مقدس کی زیارت کی اور نہ اس کی وجہ سے زیارت امیر المومنین لوگوں کے لئے عام ہوئی اس حوالے سے ممکن ہے کوئی شعر کہا ہو اور جو وہاں گئے ہیں بہت ساری چیزیں دیکھی ہو اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ مرقد مقدس پر جو قبّہ بنا یا گیا اس کا رنگ سفید ہے اس کے بارے میں میرا گمان غالب ہے کہ اس کی وجہ وہ سفید پتھر ہیں جو وہاں موجود نجف کے بعض گرے ہوئے چٹانوں کی طرف اشارہ کرتی ہے اور اس کی رنگ کی شہرت شاید اس شعر کی وجہ سے بھی ہو جو ابن حجّاج نے کہا تھا۔
ترجمہ شعر:
اے نجف میں صاحب قبہ بیضاء جو
تیری قبر کی زیارت اور شفاء مانگتا ہے تو مل جاتی ہے
بتایا جاتا ہے یہ شعر عضد الدّولہ کے سامنے کہا گیا تھا جب وہ شریف مرتضیٰ اور ابن حجاج کے ہمراہ تھے شریف مر تضیٰ نے ابن حجاج کی ہجو گوئی کی اور ایک رات امیر المومنین ابن حجاج کے خواب میں آئے اور اسے بتا یا کہ مرتضیٰ تمہارے پاس آکر معذرت کرے گا اور اسی رات مرتضیٰ نے بھی خواب میں امیر المومنینکو دیکھا جو انہیں ابن حجّاج کے ساتھ کرنے والے سلوک پر ملامت فر مارہے تھے۔اور جب وہ بیدار ہوا تو فوراً ابن الحجاج کے پاس جاکر اس سے معذرت کرلی اور دوسرے دن عضد الدّولہ کے سامنے یہ شعر کہہ دی ۔ لیکن اس واقعے کے ساتھ مرتضیٰ شریف کی عمر مناسبت نہیں رکھتی جو ۳۵۵ھ میں پیدا ہوا تھا۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ابن حجّاج نے یہ شعر عضد الدّولہ کے علاوہ کسی اور کے پاس کہا تھا۔ اور یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ ابو اسحاق الصّابی جسے عضد الدّولہ نے جیل میں ڈالا تھا پھر ھ میں اسے رہا کیا گیا تھا ابن اثیر کے مطابق انہوںنے ایک قصیدہ عضد الدّولہ کی مدح سرائی اور ان کی تعمیر روضہ کے مناسبت میں انہیں بھیجا تھا۔ اور مرور ایام کے ساتھ بعد میں اس عمارت میں اصلاحات ہوتی رہی اور قبر علی پر جانے کا خوف آہستہ آہستہ ختم ہوا۔ ابن اثیر نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ابو محمد بن سہلان جو ۴۰۶ھ/۱۰۱۵ ء کو عراق کا والی بنا اور ایک دن وہ شدید بیمار پڑا تو اس نے نذر کی اگر وہ اس بیماری سے شفایاب ہوجائے تو مزار علی امیر المومنین کے چار دیوار بنوائے گا اور جب اس کی نذر قبول ہوئی اورصحت یاب ہوئے تو اس نے روضہ کے ارد گرد دیوار اٹھانے کا حکم دیا۔
مسجد و رواقِ عمران بن شاہین
عضد الدّولہ کی عمار ت کی طرح باقی رہنے ایک اور عمارت ہے جس کے آثار ابھی تک باقی ہے اور اس کو عمران بن شاہین کی طرف منسوب کیا جاتاہے اور اس کا عضد الدّولہ کی عمارت کے ساتھ تعلق ہونے میں مختلف اخبار کی وجہ سے شدید اختلاف ہے۔ اس حوالے سے سیّد ابن طاووس نے اپنی کتاب الفرحة میں ایک حکایت نقل کی ہے۔ شیخ حسن بن حسین بن طحال المقدادی کہتا ہے کہ ایک دن عمران نے عضد الدّولہ کی نافرمانی کی جس کی وجہ سے اسے طلب کیا گیا تو وہ بھاگ گیا اور امام علی کے روضہ میں چھپ گیا ایک دن اس نے امیر المومنین کو خواب میں دیکھا اور امام نے اسے عضد ولہ اسی رات کے صبح آنے کے بارے میں بتایا اور اسے یہ بھی فرمایا کہ اس کا نام یہاں کوئی بھی نہیں جانتا ہے جو ''فنا خسرو ''ہے۔ اور امام نے اس کی رہنمائی کی کہ عضد الدّولہ کس جگہ سے حرم میں داخل ہوگا۔ اور حرم کے ایک کونے میں اس کے لئے جگہ معیّن کی تاکہ وہ وہاں کھڑے ہوکر عضد الدّولہ کی راز و نیاز سنے اور وہ یہ دعا کرے گا کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کی تعاقب میںاس کی مدد کرے اب وہ عضد الدّولہ کے قریب ہوکر یہ پوچھے کہ تمہارا مطلوب شخص اگر دکھادے تو اسکے بدلے کیا دوگے اور عمران سے امام نے فرمایا کہ عضد الدّولہ اس موقع پر عمران کی معافی مانگی جائے تو وہ اسے معاف کرے گا۔ بہر حال عمران نے امام کے حکم کے مطابق ان تمام کام کو انجام دیا اور بالآخر عضد الدّولہ نے اس کو بخش دی اور اسے یہ بھی بتادیا کہ اسے عضد الدّولہ کے نام پر یہاں کھڑا رکھوایا جسے کوئی جانتا نہیں ہے وہ یہی صاحب روضہ ہیں۔ پھر عمران نے اپنا پورا خواب اسے سنایا خلعت وزارت اس کے سامنے اتاردی صاحب الرّوایة کہتا ہے کہ دراصل عمران نے یہ نذر کی تھی کہ اسے جب بھی عضد الدّولہ کی طرف سے بخشش ہوگی تو وہ امیر المومنین کی زیارت پا برہنہ کریگا۔
شیخ حسن الطحّال جو اس خبر کے راوی ہے کہتا ہے ''جب رات چھاگئی تو میرے دادا نے مولا امیر المومنین کو عالم خواب میں دیکھا جو ان کو یہ فر ما رہے تھے ولی کہ عمران بن شاہین کو دروازہ کھول کر ان کے سامنے بیٹھ جاو اور جب صبح ہوگئی اور عمران بن شاہین آگئے تو شیخ نے کہا بسم اللہ مولانا، عمران نے کہا میں کون ہوں؟ شیخ نے کہا عمران بن شاہین ، عمران نے کہا میں ابن شاہین نہیں ہوں ۔ شیخ نے کہا میں نے رات کو امیر المومنین کو عالم خواب میں دیکھا تھا تو انہوں نے مجھے عمران بن شاہین کو دروازہ کھولنے اور ان کے بیٹھنے کو کہا تھا یہ سن کر وہ حیران ہوا اور روضہ مقدس پر اپنے آپ کو گرا کر عتبہ کا بوسہ دینے لگا اوراپنے اس ضامن کو ساٹھ دینار دیا جو ان کے ساتھ مچھلی پکڑا کرتا تھا کیونکہ ان کا مچھلی کا کاروبار تھا جس میں ان کے پاس بہت سارے ملازمین تھے جو ان کے ساتھ مچھلی پکڑا کرتے تھے۔''
اس موقع پر سیّد ابن طاووس کہتا ہے ''غرّی ( نجف)حائر(کربلا)میں مزار مقدس کی تعمیر عمران نے کروائی اور میرے حساب سے ابن طحّال کی بعض روایات کی وجہ سے زیادہ اشتباہ ہوا ہے جس کے اندر ادب و احترام، دینی جذبات کی وجہ سے کثرة مبالغہ ہے۔ جن پر اکثر طورپر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ ابن طحّال کی روایت اور عمران ابن شاہین کے درمیان تعلق پر بحث کرنے سے قبل ضروری ہے عمران کی روضہ حیدریة اور روضہ حسینیة کے ارد گرد برآمدے کی تعمیر پر گفتگو کی جائے۔
اس موقع پر یہ بتایا جاتا ہے کہ مشہور سیاح ابن بطوطہ جب یہاں پہنچا تھا تو وہ روضہ مقدس کے گنبد کے دروازوںکے بارے میں لکھتا ہے ''اس گنبد کے لئے ایک دروازہ اور ہے جو چاندی سے بنا ہوا ہے جہاں سے مسجد میں داخل ہوتا ہے جس کے چار دروازے ہیں جو چاندی سے بنے ہوئے ہیں'' یہاں سیّد محسن امین اپنی کتاب اعیان الشّیعہ میں حاشیہ دیا ہے ''یہ عمران بن شاہین نے عضد الدّولہ کی تعمیرات کے بعد بنایا تھا ''لہٰذا یہ عمران کے لئے ثابت ہونا مشکل ہے کیونکہ وہ ۳۶۹ھ/۹۸۰ ء میں فوت ہوا تھا اس بات کے خود سیّد محسن امین اور ان سے قبل ابن اثیر اور ابن کثیر بھی قائل ہیں جبکہ عضد الدّولہ کی عمارت ھ کے نصف میںبنی ہے تویہ تاریخی حقیقت ہے۔
مگر محمد الکوفی الغروری نے عمران بن شاہین کے رواق کی روایت کے بارے میں تشریح کرتے ہوئے لکھتاہے اہل نجف کے ہاں یہ مشہور ہے کہ باب طوسی کی جانب جو مسجد ہے وہ مسجد عمران ہے اور یہ خیال کرتے ہیں کہ ا س مسجد کے رواق عمران بن شاہین نے ہی بنوایا تھا جبکہ ایسا ہونا بعید ہے اور ممکن نہیں ہے کیونکہ رواق کا مطلب لغت اور عرف میں کسی گھر کے ارد گرد دیوار چننے کو کہا جاتا ہے اسی لئے لیکن بعض یہ گمان کرتے ہیں کیونکہ کہ انہوں نے اس مسجد کا بعض حصہ صحن شریف میں داخل کرایاتھا لیکن اب اس کو رواق تو نہیں کہا جاسکتا ۔ اب یہ مسجد ہے ہاں!ہوسکتا ہے شاید اسے بعد میں عمران بن شاہین کے خاندان نے بنوایا ہو اور مرور ایام کے ساتھ یہ مسجد عمران کے نام سے مشہور ہوا ہو واللہ اعلم اور یہی گمان غالب ہے جو عنقریب واضح ہوجائے گا پھر اس کے بعدمحمد جواد فخر الدین آتا ہے اور مسجد عمران یا رواق کے پا س کافی دیر تک کھڑے رہنے کے بعد مسجد اور رواق کے درمیان ربط پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
بالآخر نہ صرف وہ اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ اس کے درمیان ربط ہے بلکہ عمران اور عضدالدّولہ کی ملاقات بھی اسی مقام ہوا تھا لیکن شیخ محمد رضا الشّیبی اس رابطے اور ملاقات کو نہیں مانتے کیونکہ عضد الدّولہ نے ۳۷۱ھ بمطابق ۹۸۱ ء میں صرف ایک ہی مرتبہ نجف کی زیارت کی تھی جبکہ عمران کی وفات ۳۶۹ھ /۹۸۰ ء کو ہوچکی تھی۔ لیکن فخر الدین شیبی کی اس بات کو نہیں مانتے کیونکہ عمران کے معز الدّولہ اور ان کے بیٹے عزّالدّولہ کے درمیان تعلق ٹھیک نہیں تھے نہ کہ عضد الدّولہ کے ساتھ بلکہ احتمال قوی یہ ہے کہ عمران کی آخری عمر تک ان کے درمیان اچھے تعلقات تھے اس لئے ابن طاووس کا قول قابل ترجیح ہے لیکن شیخ محمد رضا شیبی کی کتاب ''النّجف'' جو مجلہ آفاق نجفیّہ کے پہلے شمارے میں شائع ہوا ہے کہ ان دونوں کے درمیان صلح اس وقت عمل میں آئی جب عضد الدّولہ نجف کی زیارت کے لئے آیا تھا اور وہ ایک سے زیادہ مرتبہ یہاں زیارت کے لئے آیا تھا۔
''مشہد علی میں تعمیرات کرنے والوں میں آل بویہ کے عہد میں امیر عمران بن شاہین ملک بطیحة کا نام بھی آتا ہے جنہوں نے رواق اور مسجد بنوائی تھی جو آج تک مزار کے مشرق کی جانب ان کے نام سے مشہور ہے۔ ''اس نص میںکوئی ایسی بات نہیں ہے جو فخر الدین نے شیخ شیبی کی طرف منسوب کی تھی۔ پھر فخر الدین صاحب ''نزہة الغری''کی رائے کو شیخ جعفر محبوبہ کی کتاب سے نقل کیا ہے کہ یہ معلوم نہیں کہ یہ مسجد عمران ہے بلکہ مشہور یہ ہے کہ عمران نے حرم کے رواق بنوایا تھا۔ پھر اس کے بعدیہ حرم سے آہستہ آہستہ جدا ہوا اور بعید نہیں کہ بعد میں یہاں مسجد کے آثار مرتب ہوئے ، مگر موجودہ آثار اور قرآنی آیت کی نشانیاں ہیں ان کے بارے میں احتمال ہے کہ یہ عمران کی عمارت کی نشانی نہیں ہے موصوف اپنی کتاب میں لکھتا ہے ''بل نقطع بعدم بقاء عمارة عمران''بلکہ ہمیں یقین ہے کہ یہ عمران کی عمارت نہیں ۔ آخر میں فخر الدین ''کتاب الصحیفة ''سے یہ قول نقل کرتا ہے۔اس بناء پر ممکن ہے عمران نے جو رواق بنایاتھا اس پر بعد میں مسجد کے آثار مرتب ہوئے۔''اس حوالے سے انہوںنے حسینی صاحب کتاب لو لو ة الصّدف، کا قول بھی بیان کرتا ہے کہ عمران ابن شاہین نے رواق اور مسجد بنوایا تھا اور متقدمین اور متاخرین بھی اسی بات پر قائل ہیں کہ یہ مسجد عمران ابن شاہین کے نام سے مشہور ہے یہی ہے ۔ جو رواق حرم علوی کے شمال کی جانب ہے اور موجودہ رواق سے چند قدم کے فاصلے پر صحن شریف کے اندر ہے اور باب طوسی کے نزدیک اس کے دو دروازے ہیں اور ایک دروازہ صحن میں ہے اور اب بعض علماء کے دفن ہونے کی وجہ سے وہ آثار مٹ چکے ہیں۔
شیخ محمد حسین حر ز الدین نے اپنی کتاب ''تاریخ نجف اشرف ''میں عمران بن شاہین کے نجف میں دفن ہونے کے حوالے سے اہم معلومات پیش کی ہے جسے انہوں نے اپنے دادا کی کتاب ''مراقد المعارف ''سے نقل کی ہے کہ بطیحہ میں عمران بن شاہین الخفاجی امیر بطیحہ ۳۶۹ھ بمطابق۹۷۹ ء کو فوت ہوا اور انہیں نجف میں منتقل کیا گیا اور صحن شریف کے قریب محلہ مشراق میں اپنے گھر جو باب طوسی سے سو ہاتھ کے فاصلے پر واقع ہے میں دفن کیا گیا ۔ عمران کے بارے میں جو کتاب المختصر میں آیا ہے کہ وہ واسط کا رہنے والا تھا اور وہاں سے جرم کرکے بطیحہ کی طرف بھاگا تھااور وہاں کے جھاڑیوں اور گنجان درختوں کے بیچ میں رہنے لگا اور مچھلی اور آبی جانور کا شکار کرنے لگا۔تو اِس کے پاس اور بھی شکاری اور لٹیرے آتے تھے جس کی وجہ سے اُس نے تقویت حاصل کی اور ۳۳۸ھ بمطابق ۹۴۹ ء کو معز الدولہ کے دور میں بطیحہ کا والی بنا ۔ اور معز الدولہ کی فوج اور اس کے درمیان بہت ساری لڑائیاں ہوئی جس سے اُس کو کامیابی ملی۔ ایک دن معز الدولہ مزید فوج بھیجنے پر مجبور ہوا تاکہ اُس کا محاصرہ کیا جائے۔ لیکن وہ ایسا نہیں کرسکااور جب معز الدولہ مرگیا تو فوج کی ذمہ داری بختیار کے ہاتھوں میں آگئی۔ اور اُس نے بھی عمران کو زیر کرنے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہیں ہوا۔ پھر جب ۳۶۹ھ بمطابق۹۷۹ ء کو جب عمران مرگیا تو اُس کا بیٹا حسن بن عمران رئیس بنا۔ پھر محمد حسین ابن طاووس کا قول نقل کرتا ہے اور اس کے ساتھ ابن مسکویہ کی کتاب سے بھی لکھتا ہے کہ عمران کی رواقِ حرم بنانے کی وجہ یہ ہے کہ اُس نے سلطان عضد الدّولہ پر خروج کیا تھا جس پر اُس کو کامیابی ملی اور وہ بطائع کی مملکت کا گورنر بنا اور عمران نے یہ نذر کی تھی کہ اگر سلطان اُسے معاف کریں تو وہ رواقِ حرم کی تعمیر کرے گا جسے محمد حسین یوں نقل کرتا ہے۔ ''جب سلطان عضد الدّولہ البویہی مرقد امیرالمومنین کی زیارت کے لئے آیا تو عمران نے اُن سے ملاقات کی ، اس طرح سلطان نے اُسے معاف کیا۔ اِس طرح اُس کی منّت پوری ہوئی تو اُس نے نجف اور کربلا کے حرموں میں رواق بنوایا۔''
جیسا کہ ذکر ہوچکا ہے کہ بطائح کی سطح نچلی تھی جس کی وجہ سے دریائے فرات اور دجلہ کا پانی عراق کے بیچ اور جنوب میں جمع ہوتا تھا اور آہستہ آہستہ یہ سلسلہ پھیلتا گیا اور چوتھی صدی میں یہ واسط سے بصرہ تک پہنچا۔ اور بعد میں یہ جگہ جھاڑیوں اور آبی گھاس پھوس سے بھر گئی اور ابھی تک یہ علاقے الاجھوار کے نام سے مشہور ہے۔ جہاں پر حکومت کے جبر سے بھاگے ہوئے لوگ آکر پناہ لیتے تھے اور یہ تعجب کی بات نہیں ہے کہ عمران وغیرہ بھی یہاں نہ آئے ہو۔اور جو اس جگہ سے واقف ہے وہ اِس میں فوجی نظام کو چلانے کی صلاحیت رکھتا۔ اگر ہم عمران بن شاہین اور مسجد جو اس کے نام سے مشہور ہے یا رواق جو اس کی طرف منسوب ہے کے درمیان تعلق و ارتباط کے بارے میںدیکھتے ہیں تو ان اخبار و روایت کے درمیان جو بعد و فاصلہ دیکھ کر حیران ہوجاتے ہیں جیسا کہ گزر چکا۔ پس ابن اثیر اور ابن کثیر کی روایت عمران اور عضد الدّولہ کی ملاقات کے بارے میں ہیں دوسری روایتوں کے ساتھ ملتی نہیں ہے جن کے مطابق عمران اور مسجد یا رواق کے درمیان دور سے بھی تعلق نظر نہیں آتے ہیں ۔ اس لئے میرا گمان غالب ہے کہ مسجد اور رواق اس کے مرنے کے بعدبنی ہے اور بعد میں اس کی شہرت کی وجہ سے اس سے منسوب ہوا ہے اور ابن اثیر نے اپنی کتاب ''الکامل فی التاریخ ''میں لکھا ہے کہ عمران اور اس کی طاقت کا ظہور ۳۳۸ھ /۹۴۹ ء میں ہوا تھا جس کے مقابلے کے لئے معزّ الدولہ نے اپنے وزیر ابی جعفر الصمیری کی قیادت میں دستہ بھیجا تھا اور اسے کامیابی ملنے والی تھی لیکن اس سال عماد الدّولہ کی موت کی وجہ سے معزالدولہ مجبور ہوگئے صمیری کو شیراز میں امور حکومت سنبھالنے کیلئے بھیجا جائے اور اگلے سال ۳۳۹ھ/۹۵۰ ء کو معز ّالدّولہ نے روز بھان کی قیادت میں عمران کے خاتمے کیلئے ایک اور دستہ بھیجا لیکن وہ بھی ناکامی سے دوچار ہوا پھر معزّالدّولہ نے روز بھان کیلئے مزید کمک بھیجی لیکن اس دفعہ اسے زیادہ ہزیمت اٹھانا پڑی اور عمران نے اسے گرفتار کیا تو باقی فوج اپنی جان بچاتے ہوئے تیرا کی کرتے ہوئے بھاگ گئے اور بالآخر معزّ الدولہ عمران کے ساتھ مصالحت پر مجبور ہوئے اس طرح گرفتار فوجیوں کو رہا کردیا۔
پھر ابن اثیر مزید آگے لکھتا ہے کہ ان کے درمیان یہ مصالحت زیادہ عرصہ نہیں چلی۔۳۴۴ھ بمطابق۹۵۵ ء میں جب معز الدولہ بیمار ہوا تو یہ مشہور ہوا کہ وہ مرچکا ہے اس دوران معزالدّولہ کے نام بھیجے گئے کچھ اموال چند تاجروں کے مال کے ساتھ بطا ئح میں لوٹ لیا گیااور تمام اموال عمران کے ہاتھ لگ گیا اور جب اسے معزّ الدّولہ کی زندہ ہونے کی خبر ہوئی تو انہوں نے اگرچہ تما م اموال اس کی طرف بھیج دیا گیا لیکن اس واقعے کی وجہ سے ان کے درمیان صلح ختم ہوگیا اور حالات پہلے سے کشید ہ ہوگئے۔
اس کے بعد ابن اثیر بالکل خاموش ہوتا ہے اور عمران کے بارے میں کچھ نہیں کہتا پھر وہ اچانک ہمیں کہتا ہے کہ عمران ۳۶۹ھ /۹۷۹ ء کو بطیحہ میں طبعی موت مرگیا اور بطائح کی حکومت ان کے بیٹے حسن بن عمران میں منتقل ہوئی۔ تو عضد الدّولہ کو ایک مرتبہ پھر بطیحہ پر قبضہ کرنے کی سوجھی لہٰذا اس نے اپنے وزیر مطہر بن عبد اللہ کی قیادت میں ایک دستہ تیار کیا اور مال و سلاح کے ساتھ روانہ کردیا اور اس کے ساتھ محمد بن عمر العلوی بھی تھا۔ لیکن اس دفعہ بھی عضد الدّولہ کی فوج کو بری طرح ناکامی ہوئی اور اس کے وزیر کے مرنے کے بعد عضد الدّولہ نے فوج کی حفاظت کے لئے کسی اور کو بھیجااور حسن ابن عمران اور عضد الدّولہ کے درمیان مصالحت ہوئی اور حسن نے ان کے گرفتار شدہ لوگوں کو مال ادا کرنے کے شرط پر رہا کردیا۔
ابن اثیر نے یہ بھی لکھا ہے کہ صمصام الدّولہ بن عضد الدّولہ کی حکومت کے ایام میں ابوالفرج بن عمران بن شاہین نے اپنے بھائی حسن کو بغض و حسد اور لوگوں کی اس کے ساتھ محبت کی وجہ سے برے طریقے سے قتل کر دیا۔اس طرح انہوں نے اپنے فوجی سربراہان اور والد کے زمانے کے ان فوجی سربراہان سے چھٹکارا حاصل کیا جن سے انہیں امن کی امید نہیں تھی۔ ان میں سے ایک ابومظفر ہے جسے ابو الفرج نے قتل کردیا اور اس کے بعد ابو المعالی بن حسن بن عمران کو ذمہ داریدی، اس طرح اس نے حکومت کا دائرہ اپنے تک محدود کیا اور عمران کے پوتوں کا صرف برائے نام مداخلت تھی۔ لیکن صرف اس پر انہوں نے اکتفاء نہیں کیا بلکہ ایک قدم اور آگے بڑھا اور ایک چال چلی کہ صمصام الدّولہ کی طرف سے جعلی خط بنوایا جو ابو المعالی کے معزول کرنے کے بارے میں تھا پھر اسے اپنی ماں کے ساتھ واسط نکال دیا اس طرح بالآخر عمران بن شاہین کا خاندن ختم ہوا۔
اس طرح ظاہر ہوتا ہے کہ عضد الدّولہ اور عمران بن شاہین کے درمیان کوئی ملاقات نہیں ہوئی تھی اور عمران اپنی امارت میں اتنا کمزور بھی نہیں تھا کہ عضد الدّولہ کے سامنے جھک جائے اور وہ اپنے بیٹے حسن کو حکومت منتقلی کے وقت بھی مضبوط تھا، بلکہ حسن عضد الدّولہ کو دھمکیاں دیتے رہتے تھے اور وہ چھوٹے چھوٹے معاملات میں بھی مصالحت کرنے پر مجبور ہوتے تھے۔
اگر یہ تمام روایات جسے ابن اثیر اور ان کے بعد ابن کثیر نے بیان کیا صحیح ہوتو ممکن ہے ہم ایک نتیجہ پر پہنچے جو شاید حقیقت سے زیادہ قریب ہو اور شہبات قدیم مصنفین اور محدّثین کے درمیان ابن شاہین کی رواق یا مسجد کے بارے میں پیداہوئی ہے ختم ہو سکے۔ کیونکہ عمران سے منسوب مسجد اور ان کی قبر ابھی تک موجود ہیں۔ ان دونوں کی حقیقت سے ان کی شہرت کی وجہ سے انکار نہیں کیا جاسکتاہے لیکن یہ بھی شرط نہیں ہے کہ جو بھی عمارت اس کے نام پرہے اسی نے بنایا ہو اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ مسجد یا رواق جسے ان کا بیٹا حسن ابن عمران بن شاہین نے عضد الدّولہ سے صلح کے بعد بنوایا تھا اور اس نے یہ اپنے باپ کے نام پر رکھ دیا تھا۔ بعد میں ان کی شہرت کی وجہ سے اسی نام سے مشہور ہوا اس حوالے سے ابن طحّال کی روایت کی صحت کے بارے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے کہ حسن ابن عمران بن شاہین نے منّت مانی تھی اور پورا ہونے پر بنوائی تھی نہ کہ ان کے والد نے لیکن بعد میں باپ کی شہرت کی وجہ سے عمارت ان سے منسوب ہوئی لیکن اس روایت کے علاوہ دیگر لگتا ہے صحت سے بعید ہے۔
اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عضد الدّولہ اور حسن بن عمران کے درمیان صلح روضہ مقدس میں قرار پایا ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حسن بن عمران نے عضد الدّولہ کے تمام اصحاب کے سامنے اطاعت و محبت کا اقرار کیا ہو اور یہ مناسبت دونوں طرفین کے لئے باعث اعتماد ہو جس کی وجہ سے علاقے میں امن و امان کی صورت بہتر ہوئی ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حسن بن عمران نے امام کے لئے نذر مانی ہو اور اس کے پورا ہونے پر وہاں عمارت بنوائی ہو اور کوفہ سے نجف پابرہنہ پیادہ سر برہنہ آیا ہو اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ یہ تمام بعد میں ان کے باپ کی شہرت کی وجہ سے ان سے منسوب ہوا ہو یا حسن نے خود اپنے باپ کا نام رکھ دیا ہو یا تاکہ یاداشت رہے۔
اس موقع پر ڈاکٹر سعاد ماہرلکھتی ہے کہ آثار الشّیعہ امامیہ میں یہ بات آئی ہے کہ وہ مسجد جو حرم مقدس کے رواق سے متصل تھی پھر شاہ عباس صفوی نے صحن میں شامل کیا ہے۔اور شیخ محمد حسین حرز الدین نے شیخ میرزا ہادی خراسانی متوفی ۱۳۵۳ھ /۱۹۳۴ ء سے روایت کی ہے جس کو ہم نے بیان کیا کہ جو آثار قبور رواق حرم شریف کے دائیں طرف داخل ہونے کے بعد بائیں جانب ایوان الاذہب کے پہلے دروازہ میں موجود ہے کے بارے میں یوں لکھتا ہے ''وہاں ایک قبر میں سے ایک سفید پتھروں سے بنے ہوئے مختلف شکل و صورت والے ٹکڑے ملے ہیں جن پر مختلف فنی نقوش بنے ہوئے تھے جو کافی قیمتی ہیں جب اسے بغداد لے جایا گیا لیکن اس کی حالت معلوم نہیں ہوسکی، کہا جاتا ہے کہ ان میں سے جو مسجد رواق کے دیواروں کے اوپر ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ عمران بن شاہین سے منسوب ہے۔''عنقریب ہم مسجد عمران سے متعلق مزید باتیں کریں گے اور ساتھ یہ بھی بتائیں گے کہ ان کے بعد کیسے اس میں وسعت و ترمیم ہوئی۔
عضد الدّولہ کے جانے کے بعد نجف کی حالت
ہمارا مقصدعضد الدّولہ کی عمارت پر جو اصلاحات ان کے بعد ہوئی ہیں پر رکنا نہیں ہے اور نہ ہی اس پر اکتفا کرنا ہے کہ یہ مقدس شہر ترقی و تنزّلی کے جن مراحل سے گزرا کبھی وہاں کی آبادی زیادہ ہوئی اور کبھی کم۔ لیکن ہم یہاں دو اہم نکات ضرور بتا دیتے ہیں جن میں سے پہلا نکتہ شیخ طوسی کا نجف کی جانب ہجرت کرنا اور وہاں علمی و ثقافتی انقلاب برپا کرنا جبکہ دوسرا نکتہ مشہور سیاح ابن بطوطہ کا دنیا کا سفر کرتے کرتے ۷۲۶ھ/۱۳۲۵ ء کو وہاں پہنچنا اور وہاں کے شہر روضہ کی صورت حال کا جائزہ لینا۔
لیکن ان دونوں نکات پر بات کرنے سے قبل میں چاہتا ہوں ان باتوں کی طرف اشارہ کروں جنہیں میں نے اس سے قبل بغیر مناسبت ذکر کیا تھا۔ کہ مختلف قبائل و فرقوں کی سیاسی کشمکش کی وجہ سے جو آثار باقی ہے جس میں صرف مسلمان نہیں تھے بلکہ غیر مسلم بھی تھے جیسا کہ ہم پڑھ کر آئے ہیں کہ عیسائی فرقے کیتھولک پروٹسٹنٹ اور آرتھوڈکس وغیرہ کے درمیان بھی اختلاف کچھ کم نہیں تھے۔ مثلاً کیتھولک اور پرو ٹسٹنٹ آپس میں شادی نہیں کرسکتے تھے سوائے یہ کہ ایک دوسرے کے مذہب کو قبول کرنے کے ۔ اس طرح عراق میں طوائفی سیاست مختلف مراحل میں سخت طریقے سے شہادت امیر المومنین کے حوالہ سے طول تاریخ میں نشیب و فراز کے ساتھ جاری رہی اور قتل و غارت کی آگ اس طرح پھیل گئی جسے حکومتیں بھی بجھا نہ سکیں۔ لیکن ایک وقت ایسا بھی تاریخ میں گزرا ہے کہ ۴۴۲ھ بمطابق ۱۰۵۱ ء کو بغداد میں اہل تشیع اور اہل تسنن کے درمیان قربت کی فضاء قائم ہوئی کہ ایک دوسرے کے دینی مناسبت میں شریک ہونے لگے یہاں تک کہ بغداد کی مساجد کے میناروں سے حیّ علیٰ خیر العمل کی صدائیں بلند ہونے لگی اور کرخ میں صحابہ کرام کے فضائل بیان ہونے لگے۔ اور مختلف مناسبات میں نجف و کربلا میں زیارت کیلئے ساتھ جانے لگے اور یہ محبت و بھائی چارگی و قربت کا ایک خوبصورت منظر تھا جو تاریخ میں اس سے قبل کبھی نہیں ہوا جسے ابن اثیر وغیرہ اور تاریخ عراق کے دیگر مورخین نے جا بجا بیان کئے ہیں۔
شیخ طوسی کی نجف کی جانب ہجرت
لیکن یہ خوبصورت جشن کا سماں اتنا زیادہ عرصہ نہیں چلا جب ۴۴۷ھ /۱۰۵۵ ء میں طغرل بک امیر سلجوقی عراق میں داخل ہوا تو اچانک طوائفی فتنے کی آگ پھیلانا شروع ہوگئی اور خاص طور سے امیر موصوف نے بغداد میں شیعوں کا قتل عام کیا اور وزیر بہا ء الدّولہ البویہی نے سابور بن اردشیر کی لائبریری کو جلانے کا حکم دیا اور یہ لائبریری اس زمانے کی سب سے عظیم اور اہم لائبریری تھی۔ اور یا قوت نے اپنے ''معجم البلدان ''میں کرخ کی جانب حدود کے اندر ایک محلہ کے بارے میں بحث کرتے وقت اس لائبریری کے اندر قیمتی کتب کا تذکرہ بھی کیاہے کہ ''اس لائبریری کے اندر موجود کتابیں تھی وہ ابو نصر سابور اردشیر وزیر بہا ء الدّولہ نے وقف کی تھی ایسی اچھی کتابیں پوری دنیا میں نہیں تھیں۔ اور یہ تمام کتابیں معتبر آئمہ کے ہاتھوں لکھی ہوئی اصولی کتابیں تھی اور یہ تمام اس وقت کرخ میں جلائی گئی جب آل سلجوق کا پہلا بادشاہ طغرل بک ۴۴۷ھ کو بغداد میں وارد ہوا۔ ''اور اس طرف ابن خلکان نے بھی اپنی ''الوفیات ''میں اشارہ کیا ہے کہ...... اس کے لئے بغداد میں دار علم تھا جس طرف ابو العلا المصری نے اپنے ایک قصیدہ میں اشارہ کیا ہے ۔
۴۴۸ھ /۱۰۵۶ ء میں شیعہ فقیہ شیخ طوسی ابوجعفر بن حسن بن حسین اپنے گھر بار لٹنے ، درس کرسی چھننے اور کتابیں اور باقی اثاثہ جات جلائے جانے کے بعد بغداد کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے، ان واقعات کو ابن اثیر ، ابن جوزی وغیرہ نے تفصیل سے بیان کیا ہے اور جلد ہی شیخ نے ایک سال بعد یعنی ۴۴۹ھ /۱۰۵۷ ء میں ہی بغداد کو خیر باد کہہ دیا اور نجف اشرف کی طرف روانہ ہوئے اور وہیں پرمستقل سکونت اختیار کی۔
اگرچہ شیخ طوسی کے وہاں جانے سے پہلے بھی علمی سلسلہ موجود تھا جس کی طرف محمد جواد فخر الدین، شیخ محمد حسین حرز الدین نے اپنی اپنی تاریخ کی کتابوں میں اشارہ کیا ہے کہ بعض علمی شخصیات وہاں رہتی تھیں یا زیارت کی غرض سے یا وہاں موجود شخصیات سے کسب فیض کے لئے گئے ہوئے تھے اور ڈاکٹر حسن حکیم نے بھی ان باتوں کا ذکر اپنی کتاب مفصّل تاریخ نجف اشرف میں کیا ہے۔
لیکن ان تمام کے باوجود شیخ الطائفہ کی ہجرت وہاں کے علمی و ثقافتی تحریک میں پہلا دور شمار کیا جاتا ہے بلکہ ان کی وجہ سے یہ شہر مرور ایّام کے ساتھ طلّب علوم دینی اور علماء کے توجہ کا مرکز بنا اور جب تک کربلا و حلہ میں بعض علماء و طلاب نہ گئے نجف اشرف شیعہ دینی مرجعیت کا مرکز تھا لیکن بعد میں کچھ اسباب کی بنا پر بعض علماء اور ان کے ساتھ اکثر طلاب نجف چھوڑ کر کربلا و حلہ کی طرف چلے گئے اور وہاں بھی حوزہ علمیہ کی بنیاد ڈالی۔
یہ شہر اس زمانے میں عراق کی اقتصادیات کی بہتری میں معاون بن رہاتھا اسی طرح امن وامان کی صورتحال کی بنا پر آس پاس کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مثلاً ترکی، ایران، وغیرہ سے سیاسی تعلقات پیدا ہوئے لیکن شیخ الطائفہ کے وہاں جانے کے بعد جو علمی ، ثقافتی روشنیاں پیدا ہوئی تھیں وہ مستقل نہ رہ سکیں اور ایک مرتبہ پھر یہ شہر تہہ و بالا ہو کر رہ گیا اور شدید قحط کی وجہ سے یہاں سے لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے۔ لیکن کچھ ہی عرصہ بعد یہ شہر دوبارہ زائرین کا مرجع بن گیا، شیخ محمد حسین حرزالدین کے مطابق یہاں دسیوں شخصیات، خلفاء ، وزراء ، فوج کے قائدین یہاں زیارت کیلئے آئے اور یہاں دفن ہوئے اور شیخ الطائفہ کے یہاں داخل ہونے کے بعد بے شمار مدارس اور لائبریریاں بنیں جن کی کڑی آل بویہ کی تعمیرات تک ملتی ہیں۔
ابن بطوطہ کی زیارتِ نجف اشرف
روضہ مقدس کے ارد گرد خاص طور پر پانی وافر مقدار میں نہ ہونے کے باوجود اس مشکل اور سخت ماحول میں یہاں عضد الدّولہ کی تعمیرات سے قبل یا اسی دوران آل علی کے سترہ سو افراد فقہاء ، قاری، اور نوحہ خواں وغیرہ کے علاوہ بھی کافی تعداد میں لوگ رہتے تھے اور یہ تعداد محمد بن السرّی المعروف ابن البرسی کے حساب کے مطابق ہے اورعضد الدّولہ جب بھی یہاں زیارات کیلئے آتے تھے ان میں اموال تقسیم کیا کرتے تھے اور ان میں سے اکثر اس کی تعمیرات میں شریک بھی نہیں ہوئے اگرچہ وہ اس سے پہلے وہاںموجود تھے۔
لہٰذا مجھے جو ظن غالب ہے کہ علویوں کے لئے مشکلات خاص طور سے محمد بن یزید کی عمارت سے قبل اور بعد میں تھی اس کا انداز اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ابن بطوطہ ۷۲۶ھ بمطابق۱۳۲۵ ء کو یہاں پہنچا تو اس وقت اس شہر میں کافی ترقی ہوئی تھی اور انہوں نے اپنے اس مشہور سفرنامہ میں اس شہر کا پور ا جائزہ لیا ہے جو موسوعہ نجف اشرف میں نشر ہوا ہے جس میں اس سفر سے متعلق اکثر محدثین کی کتابوں میں بھی ذکر ہوا ہے اس سے لگتا ہے کہ ابن بطوطہ اپنے حج کی ادائیگی سال ۷۲۶ھ /۱۳۲۵ ء کے بعد ہی عراق کی زیارت کے لئے آئے تھے کیونکہ ہر کوئی حج کے لئے جاتا تھا وہ ضرور نجف سے ہی گزرتا تھا اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اسی وجہ سے ہی نجف پہنچا تھا ۔ لیکن جب وہ یہاں سے نکلا تو اس شہر کے حوالے سے اچھے تاثرات لے کر نکلا تھا اور کثرت بازار کے باوجود یہاں کی صفائی ستھرائی، نظم و ضبط نے اسے حیران کر رکھا تھا تو دوسری جانب یہاں کا نظام حکومت ایسا تھا جس میں لوگ آزادی کے ساتھ خوشحال زندگی گزارتے تھے۔
ابن بطوطہ لکھتاہے :''یہاں بڑے بڑے امراء اور بڑے بڑے نامور پہلوان گزرے ہیں اور صبح و شام شہر کے دروازے پر طبل بجاتے تھے جو شہر کے حاکم کی اجازت سے ہوتا تھا اور یہاں اس کے علاوہ اور کوئی والی نہیں تھا، نہ حکومت کا اشتیاق رکھنے والے تھے۔ اس شہر میں کسی کو نقصان پہنچانے والے نہ رہتے تھے بلکہ یہاں رہنے والے سخی تھے اور اپنے زائرین سے اچھا سلوک کیا کرتے تھے اور تین دن انہیں دو وقت کا کھانا کھلاتے تھے جس میں گوشت ، روٹی اور کھجور ہوتے تھے اور ان لوگوں کا پیشہ تجارت تھا اور وہاں روضہ مقدس سے ملحق ایک عظیم مدرسہ تھا جس میں شیعہ طلاب اور صوفی زوّار رہتے تھے اور روضہ مقدس سے گنبد تک جانے کے راستے آسان تھے مگر خاص روضہ مقدس پر جانے کے لئے باب گنبد پر رکنا پڑتا تھا کیونکہ وہاں حجاب اور پردے لگے ہوئے تھے اور مرقد مطہر پر جانے کیلئے زائروں کو اجازت لینا پڑتی تھی اور انہیں عتبہ چومنے کیلئے کہا جاتا تھا اور یہ عتبہ چاندی سے بناہوا تھا اور اسی طرح چوکھٹ کے دونوں بازوں بھی چاندی سے بنے ہوئے تھے اور اس کے اندر سونے چاندی کے چھوٹے بڑے فانوس لگے ہوئے تھے اور گنبد کے بالکل وسط میں ایک چوکور اوپر سے لکڑی سے ڈھکا ہوا چبوترا تھا جس کے اوپر سونے کے تار سے لکھے ہوئے چند صحیفے تھے جو چاندی کے میخوں سے مضبوط کیے ہوئے تھے ، اور اس چبوترے کی لمبائی ایک قامت سے زیادہ نہیں تھی اور اس کے اوپر تین قبریں تھیں اور وہ لوگ گمان کرتے تھے کہ ان میں ایک قبر حضرت آدمـاور دوسری حضرت نوحـ جبکہ تیسری قبر علی ابن ابی طالبـاور ان قبروں کے درمیان سونے چاندی کے سلفچے بنے ہوئے ہیں جس کے اندر آب گل مشک اور انواع و اقسام کے خوشبوئیں ہیں زائر اس میں ہاتھ ڈالتے ہیں پھر اپنے چہرہ پر تبرکاً ملتا ہیں۔''
وہ یہ بھی کہتا ہے:''اس گنبد کے لئے ایک دروازہ اور ہے یہ بھی چاندی سے بنا ہوا ہے جس پر رنگ برنگ ریشم کے پردے لگے ہوئے ہیں ۔ اس دروازے سے اندر کی جانب مسجد ہے جس کے اندر اچھے قالین بچھے ہوئے ہیں اور دیواریں اور چھت پر ریشمی پردے لگے ہوئے ہیں اور اس کے چار دروازے ہیں اور یہ چاندی سے بنے ہیں جس پر ریشمی پردے ہیں۔''
یہ بعید نہیں ہے کہ ابن بطوطہ جس مسجد کا ذکر کر رہے ہیں وہ مسجد بالائے سر ہو شاید یہ اس زمانے میں موجودہ مسجد کی طرح اتنی بڑی نہ ہو گی لیکن اس سے مسجد عمران مراد نہیں ہوسکتی کیونکہ جب بھی عمران سے منسوب عمارت کی طرف اشارہ ہوا ہے اس کے ساتھ رواق کا بھی ذکر ہوا ہے اور شاید یہ مسجد پرانی ہو جیسا کہ شیخ جعفر اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ اس کی دیوار سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مسجد حرم علوی کے ساتھ بنی ہے۔
سیّد جعفر بحرالعلوم نے اپنے کتاب میں اس ضمن میں لکھا ہے کہ سیّدہ رضیہ بنت سلطان حسین الصّفوی نے خلف ظہر میں واقع مسجد کی تعمیر کے لئے بیس ہزار تو مان دیئے تھے اور قول مرجوح یہ ہے کہ اس سے مراد مسجد بالائے سر ہی ہے اور اس حوالے سے خاص طور سے علماءے اہل بیت کی روایات تواتر سے ہیں۔ جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ موضع بالائے سر قدیم ہے۔ واللہ اعلم
لگتا ہے روضہ حیدریہ کی تجوری بھی بہت پرانی ہے۔ اس حوالے سے ابن بطوطہ کہتا ہے: ''روضہ کی تجوری بہت بڑی ہے جس کے اندر بے شمار امانات رکھے ہوئے ہیں ان میں تمام یا زیادہ تر امانات وہ نذورات ہیں جو روضہ مقدس کے زائرین وقف کیا کرتے ہیں اور حرم مطہر کے خدام ان نذور کی حفاظت میںکو تاہی نہیں کرتے تھے اور کوشش کرتے تھے ان خزانوں کی حد المقدور حفاظت ہو۔ ''
وہ کہتا ہے:بلاد عراق وغیرہ کے لوگ اس زمانے میں جب وہ بیمار ہوجاتے تھے تو روضہ مقدس کے نام اموال نذر کرتے تھے اوروہ شفا پاتے تھے اور ان میں سے بعض اپنا سر نذر کرتے تھے تو یہ منّت و نذرپورا ہونے پر سونے یا چاندی سے سر کا مجسمہ بناکر حرم میں لاکر رکھتے تھے اسی طرح ہاتھ پیر یا دوسرے اعضاء وغیرہ بھی۔
مزید آگے لکھتا ہے کہ'' اور یہ شہر والے تمام رافضی(شیعہ)تھے اور اس قبر علی کی وجہ سے روضہ مقدس کے بارے میں ان کے لئے بہت ساری کرامات ثابت ہوئی تھیں۔ اس سے ملحق مدارس اور دوسرے کمرے کی عمارت شاندار انداز میں بنائی گئی اوراس کے برابر میں مدارس اور چھوٹی چھوٹی گلیاں خوبصورت انداز سے بنی ہوئی تھی اور ان کی دیواروں پر خوبصورت نقش و نگار بنے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے دیواریں چمک رہی تھیں۔''
اس کے باوجود کہ موصوف نے روضہ سے متعلق مختلف شکوک و شبہات منسوب کرنے کوشش کی ہے لیکن پھر بھی اس کی کرامات سے متعلق طویل گفتگو کی ہے اور لکھا ہے کہ دور دراز علاقوں سے یہاں شفاء طلب کرنے کے لئے آتے تھے۔ خاص طور سے ستائیس رجب کو۔
موصوف اس بارے میں مزید یوں لکھتے ہیں:''اس روضہ پر بلاد عراق، خراسان، فارس، روم سے تیس تیس ،چالیس چالیس کے گروہ میں لوگ آتے ہیں۔ جب عشاء کا وقت ہو جاتا تھا تووہ ان تمام مریضوںکوروضہ مقدس کے پاس لٹا دیتے ہیں اور پھر ان کے صحت یاب کے انتظار میں نماز و ذکر تلاوت قرآن شریف میں مشغول ہوتے تھے جب آدھی رات یا اس سے زیادہ گزر جاتی تھی تو تمام مریض صحت یاب ہوکر یہ کہتے ہوئے اُٹھتے''لَا اِ لٰهَ اِلاَّ اﷲُ مُحَمَّد رَّسُوْلُ الله عَلِیْ وَلِیُّ اللّٰه''
پھر لکھتے ہیں:''یہ بات ان کے ہاں مشہور ہے جسے میں نے خود اہل ثقاة سے سُنا ہے لیکن میں اس رات کو حاضر نہیں ہو سکالیکن میں نے تین آدمیوں کو مدرسہ کے مہمان خانہ میں دیکھا ان میں ایک کا تعلق روم سے تھا دوسرا اصفہان سے تھا جبکہ تیسرا خراسان سے، وہاں بیٹھ کر گفتگو کر رہے تھے ، جب میں نے ان سے پوچھا کہ وہ کیا گفتگو کر رہے ہیں تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ وہ آج شب بیداری تو نہیں کر سکے لہٰذا اب وہ آئندہ سال کے لئے لائحہ عمل بنا رہے ہیں۔''
شیخ محمد حسین حرز الدین نے عہد ایلخانی کے اقتصادی و تجارتی خوشحالی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ عہد ایلخانی ۶۵۶ھ /۱۲۵۸ ء سے ۷۳۶ھ /۱۳۳۵ ء پر محیط تھااور اس وقت شہر کا رقبہ ۷۴۰ھ بمطابق ۱۳۳۹ ء میں مستوفی القزوینی کے مطابق دو ہزار پانچ قدم تھا ۔ لیکن اس کی آمدنی چھہتر ہزار دینار تک پہنچ چکی تھی جیسا کہ انہوں نے اپنی کتاب ''نزعة القلوب ''اور ''تاریخ آل الجلائر'' سے نقل کیا ہے۔
عضد الدّولہ کے روضہ مقدس کی تعمیر نو کے بعد نجف اشرف کے اندر نئے انداز سے تبدیلیاں شروع ہوچکی تھیں،کیونکہ وہاں صاحب شان لوگ جیسے علماء ، بادشاہان، امراء اور وزرا وغیرہ زیارت کے لئے آتے تھے اور اہم اصلاحات وغیرہ انجام دیتے تھے اور بعض تو وہاں رہنے والے علماء اور خدمت گزارانِ روضہ کو وظیفے بھی دیتے تھے اور صاحب شان و عزت افراد وہاں دفن کے لئے لائے جاتے تھے تو ان کے ساتھ ہبات و بخشش کے طور پر مال دیا جاتا تھا یا پھر کوئی عمل خیر انجام دیا جاتا تھا اور متوفی کی شان کے حساب سے دفن کے لوازمات بھی زیادہ ہوتے تھے۔ یہ تمام امور شہر کی اقتصادی اور سماجی حوالے سے ترقی اور خوشحالی میں شامل ہیں۔
عضد الدّولہ کی تعمیرات کے بعد سے دیگر افراد کی وہاں تدفین شروع ہوئی۔ اس سلسلے میں شہر کے حالات میں کیسی تبدیلی آئی ، ہم سمجھتے ہیں ان کا تاریخی ادوار کے ساتھ ذکرکریں اور ان تمام باتوں کو شیخ محمد حسین حرزالدّین نے اپنی کتاب ''تاریخ نجف اشرف ''میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔
.......مشہد امام میں اوائل جمادی الا خر ۳۷۹ھ /۹۸۹ ء کو شرف الدّولہ بن عضد الدّولہ دفن ہوا۔
.......پھر ۴۰۰ھ / ۱۰۰۹ ء کو سلطان الدّولہ البویہی کے وزیر ابو محمد ابن سہلان نے روضہ امیر المومنین اور روضہ امام حسین کے ارد گرد دیوار بنوانے کا حکم دیا۔ اسی سال عید غدیر کے موقع پر شیخ مفید کے استاد ابو عباس احمد بن علی النجاشی الاسدی یہاں آئے۔
.......۴۰۳ھ /۱۰۱۲ ء کو بہا ء الدّولہ بن عضد الدّولہ نے شہر ارجان میں وفات پائی بعد میں ان کا جنازہ نجف منتقل کیا گیا۔
.......۴۱۳ھ /۱۰۳۹ ء کو عضد الدّولہ کا پوتا جلا ل الدّولہ یہاں اپنی اولاد اور وزیروں کے ہمراہ آیا۔ابن جوزی نے اپنی کتاب المنتظم میں بیان کیا ہے کہ جب وہ کوفہ سے گزرا تو اپنی سواری سے اترااور پا برہنہ پیادہ روضہ مقدس کی زیارت کی۔
.......۴۴۸ھ / ۱۰۵۶ ء کو شیخ طوسی نے یہاں ہجرت کی اور ۴۶۰ھ /۱۰۶۷ ء یہیں پر وفات پائی اور دفن ہوئے۔
.......۴۴۶ھ /۱۰۷۱ ء امیر النّاقد شاعر ابن سنان الخفا جی کو زہر دے کر قتل کر دیا گیا اور موصوف روضہ امیرالمومنین کے لئے ہر سال سونے کا ایک فانوس بھیجا کرتا تھا اس طرح روضہ کے خزانے میں چالیس فانوس جمع ہوئے۔
.......۴۷۹ھ /۱۰۸۶ ء کو ملک شاہ سلجوقی نے مرقد مطہر کی زیارت کی یہ وہی شخص ہے جو ہرنوں کا شکار کیا کرتا تھا اور پھر ہرنوں کے سروں سے مینار بنوایا کرتا پھر وہ صدقہ نکالا کرتا تھا ابن جوزی نے کتاب المنتظم میں لکھا ہے کہ ''اس نے اپنی زیارت کے دوران یہاں دریائے فرات سے نجف تک نہر نکالنے کا حکم دیا تھا ''اور انہوں نے نجف میں ایک دعوت کا انعقاد کیا تھااور روضہ کے خدمت گزاروں کے درمیان تین سو دینار تقسیم کئے تھے۔
.......یہ بات بھی ظاہر ہے کہ نجف اقتصادی بحران کی دشواریوں سے بھی گزرا ہے جس کے باعث ۵۰۱ھ /۱۱۰۷ ء کو اکثر لوگ یہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے کیونکہ روٹی کی قیمت بھی لوگوںکے قوت خریدسے تجاوز کر گئی تھی۔
.......ماہ رمضان ۵۳۲ھ /۱۱۳۷ ء کو بغداد میں خلیفہ مسترشد کے وزیر انتقال ہوا تو اس کاجنازہ نجف اشرف لاکر دفن کیا گیا۔
.......۵۴۰ھ/۱۱۴۵ ء کو شیخ الطائفہ طوسی کے پوتے نے وفات پائی جو نامور علماء میں شمار ہوتے تھے ، جس کی سمعانی نے تعریف کی ہے جبکہ عماد الطبری نے لکھا ہے کہ اگر انبیاء کے علاوہ کسی پر درود جائز ہوتا تو میں اس پر درود پڑھتا۔
.......۶۷۸ھ /۱۱۸۲ ء کو امام زاہد صوفی شیخ ابو العباس احمد الرّفاعی نے مرقد امیرالمومنین کی زیارت کی اور جب انہوں نے دور سے گنبد کو دیکھا تو اپنے جوتے اتار دیئے اور اس مناسبت سے چند اشعار کہے جو آج تک روضہ شریف پر نقش ہے۔
.......۵۷۹ھ /۱۱۸۳ ء کو کوفہ میں مشہور سیاح ابن جبیر آیا تھا لیکن وہ کہتا ہے کہ مشہد امام سے ایک فرسخ کے فاصلے پر تھا اور لیکن سفر میں جلدی جانے کی وجہ سے وہ روضہ کی زیارت نہیں کرسکا۔
.......۶۰۲ھ / ۱۲۰۵ ء کو امیر مجیر الدّین طا شکین مستنجدی فوت ہوا اور اس کی وصیت کے مطابق اس کے جنازہ کو لاکر نجف میں دفن کیا گیا۔
.......۶۰۶ھ /۱۲۰۹ ء کو خلیفہ ناصر الدّین اللہ احمد بن المستضی نے بنی عباس کے سب سے زیادہ عر صہ حکومت کرنے والا ہیبت ناک خلیفہ حسن بن مستنجدالعبّاسی کے حکم پر روضہ مقدس کی زیارت کی اور شیعہ ہوا تھا اور اس نے مشہد امام موسیٰ بن جعفرـکو مکان امن قرار دیا تھا، اوران کی فضائل امیر المومنین کے بارے میں ایک کتاب بھی ہے۔
.......۶۳۳ھ / ۱۲۳۵ ء کو خلیفہ مستنصر با اللہ عبّاسی نے نجف میں فقراء آل علی کے درمیان دو ہزار دینار تقسیم کرنے کا حکم دیا روضہ مقدس کی ترمیم اور اس کے حجروں کی اصلاح بھی کروائی۔ کتاب الفرحہ میں آیا ہے کہ اس نے ضریح مقدس کیلئے بہت سا کام کروایا۔ سید جعفر بحرالعلوم کے مطابق مستنصر وہی ہے جس نے روضہ مقدس کے جلنے کے بعد دوبارہ تعمیر کروائی تھی۔ لیکن یہ صرف ان کا اشتباہ ہے کیونکہ جلنے کا واقعہ مستنصر کی وفات کے دسیوں سال بعد پیش آیا تھا۔
.......۶۴۱ھ /۱۲۴۳ ء کو خلیفہ مستعصم اپنی والدہ کے ہمراہ حج بیت اللہ جاتے وقت نجف کی طرف سے ہوتے ہوئے مرقد امیر المومنین کی زیارت کی اور یہاں بہت سارا مال کی تقسیم کیا۔
.......۶۶۱ھ /۱۲۶۲ ء میں علا ء الدّین بغداد پر حاکم بنا اور شیعہ ہوا۔ کہا جاتا ہے اس کی شیعہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے بھائی شمس الدین جو کہ صاحب دیوان بھی تھے اور ان کے بیٹے ہارون کے ہمراہ مشہد مقدس میں زیارت کیلئے آئے اور زیارت کے دوران ان کے درمیان مذہب کے بارے میں بات چھڑی تو ہارون نے کہا میرا مذہب اس مصحف میں سے جو نکلے گا وہی ہے اور قبر کے اوپر صندوق پر رکھے ہوئے مصحف کو کھولا گیا تو اس میں ایک پیپر رکھا ہوا تھا اس پر یہ لکھا ہوا تھا:
''قَالَ یٰهٰرُوْنُ مَا مَنَعَکَ اِذْ رَاَیْتَهُمْ ضَلُّوْآ اَلَّا تَتَّبِعَنِ اَفَعَصَیْتَ اَمْرِیْ.(فَتَشَیَّعُوا)''
اور ۶۶۶ھ /۱۲۲۷ ء کو علا ء الدّین نے مشہد علی کے پاس وہاں رہنے والوں کیلئے مکانات بنانے کا حکم دیا ''اور حرم کیلئے اموال کثیرہ وقف کیا اور رہنے والے محتاجوں کے کثیر تعداد میں انفاق کیا ''اور مکانات کی جگہ بکتاشی تکیہ اور مسجد بالائے سر کی جانب ہے۔
.......۶۷۲ھ/۱۲۷۳ ء کو علاء الدّین الجوینی نے دریائے فرات قدیم جو کہ کوفہ کی جانب مسیب کے قریب ہے سے ایک نہر کھودنے کا حکم دیا جس پر اس نے ایک لاکھ سونے کے دینا ر خرچ کئے اور اس نہر کا نام نہر التّاجیّة رکھا گیا بعد میں یہ نہر سید تاج الدّین سے منسوب ہوئی جسے جوینی نے اس کام پر ما مور کیا تھا اس نہر کی تکمیل کے بعد کوفہ سے کافی تعداد میں لوگ نجف کی طرف منتقل ہوئے جہاں سال ہا سال ٹیلوں پر ٹیلے تھے کوئی آنے والا نہیں تھا اب وہاں پانی ہونے کی وجہ سے ہر طرف اصلاح ہونے لگی کثیر تعداد میں گاوں محلے بننے لگے اور اس نہر سے مزید شاخیں نکالی گئیں۔
.......۶۷۶ھ /۱۲۷۷ ء کو عطاء الملک کے حکم سے بھی نجف میں پانی پہنچانے کے لئے کوفہ سے زمینی ٹنل کھودی گئی جس کی گہرائی پچیس میٹر سے زیادہ تھی جیسا کہ محمد حسین حرز الدّین نے بیان کیا کہ نجف کوفہ سے پچیس میٹر بلند تھا۔
.......۶۶۲ھ /۱۲۶۳ ء کو بغداد کے حاکم کا نالی جلائر ی نے دریائے فرات سے نجف اشرف کی جانب نہر کھودنے کا حکم دیا جس کا نام انہوں نے نہر شہب رکھا اور اسی سال ایلخانی بادشاہ کے ایک امیر جلا ل الدّین بھی یہاں آئے تھے۔
اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ یہ شہر اقتصادی حوالے سے اس زمانے میں عراق کے مشہور شہروں میں شمار ہوتا تھا۔ محمد حسین نے کتاب ''روضة الصّفاء ''اور الحوادث الجامعہ دونوں سے نقل کیا ہے کہ اس شہر میں بسنے والے تمام شیعہ تھے اور یہ لوگ اپنے کرم و سخاوت کی وجہ سے مشہور تھے۔
.......ماہ ربیع الا خر کے تیر ویں تاریخ بروز جمعرات بوقت صبح ۶۷۶ھ /۱۲۷۷ ء کو شیخ فقیہ ابوالقاسم جعفر بن الحسن المعرف محقق حلّی فوت ہوئے پھر انہیں مشہد امیر المومنین لا کر دفن کیا گیا۔ ان کی مشہور کتابوں میں سے ایک ''شرائع الاسلام ''ہے جوکہ آج تک فقہ جعفریہ کی فقہ کی بنیاد ی کتابوں میں شامل ہے۔
.......۶۸۶ھ /۱۲۸۷ ء کو رضی استر آبادی کی وفات ہوئی ان کی مشہور کتاب شرح الکافیة فی النّحوہے جسے انہوں نے ۶۸۳ھ /۱۲۸۴ ء کو حرم مقدس کے جوار میں رہ کر مکمل کی تھی۔
.......۷۰۹ھ /۱۳۰۹ ء کو سلطان محمد بن ارغون بن بغابن ہلاکو بن تولی بن چنگیز خان منگولی جو خداندہ کے نام سے مشہور تھا۔عبد اللہ کے مسلک تشیّع اختیار کی وجہ محسن الامین نے علامہ مجلسی کی کتاب ''شرح الفقیہ ''سے نقل کی ہے کہ مذکورہ بادشاہ نے ایک ہی دن میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی تھیں۔ لیکن بعد میں اسے پشیمانی ہوئی اور رجوع کا ارادہ کیا تو اسے کہا گیا کہ اس کیلئے حلالہ کروانا پڑے گا۔ وہ اسی پریشانی میں تھا اتنے میں اس کے ایک وزیر نے کہا حلّہ میں ایک عالم ہے جو اس طلاق کو باطل قرار دیتا ہے۔ یہ سننا تھا ان کے پاس بیٹھے ہوئے علماء نے کہا کہ اس کا مذہب باطل ہے اور اس کے اس نظریہ کاکوئی عقلی ثبوت نہیں ہے اورنہ ہی اس کے اصحاب کے مذہب صحیح ہے۔ لیکن بادشاہ نے اس عالم کو حاضر کرنے کا حکم دیا ، جب اسے لایا گیا اور ان کے درمیان طلاق کے مسئلہ پر کافی و بحث و مباحثہ ہوا با لآخر ان علماء نے اس کی فضیلت کا اعتراف کیا اور بادشاہ کی طلاق کو باطل قرار دیا کیونکہ اس نے بغیر گواہوں کے طلاق دی تھی۔
یہ عالم دین فقہ جعفریہ کے بزرگ عالم علامہ حلیتھے اس مناظرہ میں ان کی جیت اور مدلل انداز گفتگو سے بادشاہ بہت متاثر ہوا اس کے بعد بادشاہ نے علّامہ حلّی سے فقہ جعفریہ کے بارے میں جاننا چاہا تو علامہ حلی نے بہترین انداز میں فقہ جعفریہ کے بارے میں بادشاہ کو آگاہ کیا علامہ حلی کے بیان کردہ دلائل کو غور سے سننے کے بعد بادشاہ نے مذہب تشیّع اختیار کر لیا۔
.......ہفتہ کی رات ماہ محرم الحرام کی ۲۱ویں تاریخ ۷۲۶ھ /۱۳۲۵ ء کو شیخ جمال الدّین الحسن بن سدیدالدّین المعروف علامہ حلّی نے وفات پائی اور بعد ان کے جنازے کو نجف منتقل کیا گیا حرم شریف کے رواق میں دائیںجانب مینار کے پاس ۱۳۷۳ھ /۱۹۵۳ ء کو دفن کیا گیا۔جس حجرے میں علامہ دفن ہوئے اس طرف ''الطارمة ''ہال کی جانب ایک دوسرا دروازہ کھولا گیا تاکہ ان کی قبر تک عام و خاص سب لوگ آجا سکیں اور اس پر چاندی کی کھڑکی بنی ہوئی ہے۔
.......اسی سال مشہور سیاح ابن بطوطہ بھی نجف پہنچا تھا جس کے بارے میں تفصیلات گزر چکی۔
.......۷۳۴ھ/ ۱۳۳۳ ء کو ابو سعید بہادر نے امیر منگولی مبارز الدّین محمد بن امیر مظفر کے ساتھ نجف کی زیارت کی۔
.......۷۴۵ھ / ۱۳۴۴ ء کو ملک سواکن نقیب عز الدّین زید اصغر بن ابی نمی حسینی حلّہ میں فوت ہوا اور نجف لاکر دفن کیا گیا۔
عمارتِ مرقد، جلنے کے بعد
عضد الدّولہ کی عمارت تقریباً چار صدیوں تک باقی رہی لیکن ۷۵۵ھ/ ۱۳۵۴ ء کو روضہ کی عمارت کو آگ لگنے کی وجہ سے بہت بڑا نقصان ہوا۔ جیساکہ سیّد محسن الامین نے اپنی اعیان الشیعہ میں عبد الرحمن العتائقی کی کتاب ''الاماقی فی شرح الا یلاقی ''سے نقل کی ہے اور یہ شخص اس زمانے میں حرم شریف میں مجاور تھا اور اس آگ کو دیکھنے والے عینی شاہدین میں سے تھا اور اس کی کتاب مخطوطہ شکل میں ابھی روضہ کے خزانے میں موجود ہے۔
سید محسن امین ذکر کرتے ہیں کہ عتایقی کہتے ہیں کہ ۷۶۰ھ / ۱۳۵۷ ء میں مرقد مطہر سابقہ حالت سے بہتر طریقے میں موجود تھا لیکن وہ کیفیت تجدید کا ذکر نہیں کرتا ہے۔ نہ یہ ذکر کرتا ہے کہ کس نے عمارت کی اصلاح کی۔
شیخ جعفر محبوبہ نے اپنی کتاب میں اس بات کو ترجیح دی ہے کہ اسے ایلخانیوں نے بنوائی تھی جیسا کہ وہ لکھتے ہیں: ''ایلخانیوں کی حکومت کے زمانے میں نجف میں جو مساجد و مدارس و مکانات کی تعمیرات ہوئی تھی اس دوران انہوںنے روضہ علوی کی تعمیر بھی کی تھی کیونکہ شیخ کے پاس نجف و کربلا کے حوالے سے بہترین آثار موجود ہیں تو ہمارا بھی اعتقاد ہے کہ یہ عمارت انہوںنے ہی بنوائی تھی۔''
لیکن محمد حسین کتابداری نجفی نسب شناش کہتا ہے:''اس عمارت کی اصلاح بہت سارے بادشاہوں نے کی ہے اور میں خود یہاں عضد الدّولہ کی تعمیرات کے آثار دیکھے ہیں۔ ''
اس بات کی مزید توسیع ڈاکٹر سعاد ماہر نے بہت سارے علمی و عملی تحلیلات کے ساتھ اپنی کتاب ''مشہد امام علی ''شیخ جعفر محبوبہ کی متابعت میں بیان کی ہے اور موصوفہ نے تاریخ ابن اثیر کی بات کو ترجیح دی ہے کہ سلطان غازان ایلخانی نے مشہد مقدس میں دار السّیادہ کے نام سے خاص طور سے سادات کے لئے ایک عمارت بنوائی تھی۔
اور اس میں صوفیوں کے لئے ایک خانقاہ بھی بنوائی تھی اس کے بعد حرم کے مغرب کی جانب کچھ عمارت بنوائی تھی مثلاً مسجد بالائے سر جس کے محراب سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ساتویں صدی ہجری میں بنا ہے اور اس مسجد کی عمارت جو مشہد سے ملحق ہے اسے دیکھ کر شیخ جعفر کہتا ہے یہ ایلخانیوں کا عمل ہے۔ لیکن اس بات پر شیخ محمد حسین حرز الدّین اعتراض کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ قابل اطمینان نہیں ہے اس لئے کہ ڈاکٹر سعاد جس بات کو مانتی ہے وہ اور ۷۶۰ھ / ۱۳۵۸ ء والی عمارت کے درمیان تقریباً ایک صدی کا فاصلہ ہے۔
ڈاکٹر حسن حکیم اس عمارت کو اویس بن الجلائری سے منسوب کرتا ہے کیونکہ ڈاکٹر علی الوردی کے مطابق جلائری نے ہی اس عمارت کی تجدید کی تھی اور سنگ مرمر بچھایا تھا۔لیکن اور ایک مصنف محمد النّوینی کہتے ہیں کہ میں اس بات کو نہیں مانتا لیکن یہ بات حقیقت سے زیادہ قریب ہے کیونکہ ابو اُویس شیخ حسن جلائری خود حرم میں مدفون ہے اور اس کابیٹا امیر قاسم بن سلطان حسن نویان الجلائری ۷۶۹ھ/۱۳۶۷ ء کو فوت ہوا تھا اور اپنے والد کے پہلو میں دفن ہوئے تھے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حقیقت سے قریب تر یہ ہے کہ مذکورہ عمارت ان کے والد شیخ حسن الجلائیری نے تعمیر کی ہے جو ۷۵۷ھ بمطابق۱۳۵۶ ء کو بغداد میں فوت ہوا بعد میں نجف اشرف میں لاکر صحن شریف کے شمال کی جانب ایلخانیوں کے خاص قبرستان میں دفن کیا گیا اور شیخ حسن نے عراق پر سترہ سال حکومت کی تھی اور ان کا دا رالخلافہ بغداد تھا۔ انہوںنے بغداد اور نجف میں بڑی نفیس اور خوبصورت عمارتیں بنوئی تھی، ان باتوں سے یہ بعید نہیں ہے کہ روضہ مبارک کی تعمیر بھی انہوں نے نہ کی ہو ان سے پہلے شیخ جعفر بحرالعلوم نے بھی اسی سے ملتی جلتی بات کہی ہے ''شیخ حسن نو نیان المعروف شیخ حسن بزرگ ایلخانی جنہوں نے عراق پر ۱۷سال حکومت کی پھر بغداد میں ۷۵۷ھ / ۱۳۶۷ ء کو وفات پائی اور نجف لاکر دفن کیا گیا اور انہوں نے نجف میں عظیم المرتبت عمارتیں بنوائی تھیں۔
جب مولا المشعُشی نے ۷۵۷ھ / ۱۴۵۳ ء کو دو مرتبہ حملہ کیا تو یہ عمارت بھی ان کی دست برد سے نہ بچ سکی ۔ شیخ محمد حسین لکھتے ہیں کہ انہوں نے مشہد علوی اور مشہد حسینی دونوں کو لوٹ لیا تھا اور مرقد غروی کے گنبد کو چھ مہینے تک کچن بناکر رکھا وہ اس حرم کے احترام کا اس بناء پر قائل نہ تھا کہ وہ حضرت علی کی شہادت کا منکر تھا اور وہ حضرت علیـ کی ذات اقدس کے بارے میں حد سے زیادہ غلو کرتا تھا اور یہاں تک کہتا تھا ۔ نعوذباللہ! ''حضرت علی رب ہیں اور رب مرتا نہیں ہے۔''
روضہ مبارک کے خزانے کے اندر نفیس قسم کے تلواریں وغیرہ ہیں جو بعض صحابہ ، خلفاء ، سلاطین سے منسوب ہیں۔ ڈاکٹر حسن حکیم کے مطابق ''یہ کارنامہ المشعشی کا ہے کہ انہوں نے صحابہ و سلاطین کی تلواروں کو نجف میں جمع کیا اس طرح کہ ان میں سے جو بھی خلیفہ یا سلطان مرجاتا تھا تو اس کی تلوار اس خزانہ میں جمع کرتاتھا۔''
امیر تیمور لنگ نے بھی تعمیر روضہ مبارک میں شرکت کی تھی کہ اس نے ۸۰۳ھ / ۱۴۰۰ ء کو نجف اور کربلا کی زیارت کی تھی۔ شیخ محمد حسین کے مطابق انہوں نے نجف و کربلا میں تقریباً بیس دن قیام کیا اس دوران انہوں نے ان کی تعمیرات میں بھی حصہ لیا۔
شیخ محمد کاظم طریحی نے مستشرق انگریز ( MR.BROWN )کی کتاب ''تاریخ ایران ''پر اعتماد کرتے ہوئے ذکر کیا ہے کہ ۹۴۱ھ / ۱۵۳۴ ء کے اواخر میں سلطان سلیمان نے عراق کو قانونی اعتبار سے ایرانیوں سے واپس لیا تھا اور پھر اصلاحی کام انجام دیا نجف ، کربلا کی زیارت کی اور صفویوں سے زیادہ اصلاحات کی اور ان کی معیّت میں ایک بڑی جماعت تھی جس کے بارے میں شیخ نے بیان کیا ہے: اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض روایت کے مطابق ایک شخص ایک بڑی جماعت میں سے اس وقت نکلتا ہے جب اس کی نظر دور سے حرم مطہر کے گنبد پر پڑتی ہے تو اپنے گھوڑے سے اتر کر پیدل چلنے لگتا ہے۔ جب سلطان ناس کی وجہ دریافت کی تو اس نے جواب دیا کہ وہ خلیفہ رابع کی عزت و تکریم کی خاطر ایسا کرتا ہے یہ سن کر سلطان تھوڑا سا متردّد ہوا تو اس نے قرآن کریم سے استخارہ نکالا تو یہ آیت نکلی (فَاخْلَعْ نَعْلَیْکَ اِنَّکَ بِا لْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوی )دیکھ کر وہ بڑا حیران ہوا اور اپنے گھوڑے سے اترا اور پیدل چلنے لگا۔
ان میں سے اکثر روایات کو ڈاکٹر علی الوردی نے( STEPHEN HEMSLEY LONGRIGG ) کی کتاب ''جدید عراق کی چار صدیاں'' کے تبصرے میں نقل کیا ہے کہ جب سلیمان کی نظر گنبد مبارک پر پڑی تو وہ امام کی شان میں اشعار کہتے ہوئے اور ان کی مدح کرتے ہوئے چلنے لگا'اسکے اعضاء کانپ رہے تھے لیکن وہ نجف کی جانب چل رہا تھا۔ روضہ مقدس کی تعمیر کے بعد بے شمار سلاطین، ملوک، روسائے جمہور، وزرا، امراء ، والیان، علماء ، اصحاب ذی شان و عزّت، سیاسی ، فکری، ثقافتی بڑے بڑے لوگ، مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد اسی مٹی میں صحن شریف میں یا آس پاس کے گھروں یا اسی محلّہ میں دفن ہیں اور امام کی سیرت، فقاہت کے حوالے سے بے شمارقصائد، اشعار، آپ کی مدح میں اور آپ کی مصیبت میں مراثی لکھے گئے ہیں۔
حرم مطہر کی اصلاحات مختلف سلاطین نے مختلف ادوار میں کی ہیں اور خاص طور سے اس بے آب و گیاہ جگہ یعنی نجف میں پانی پہنچانے کے لئے بے شمار سعی و کوشش کی گئی اور بے انتہا مال و دولت خرچ کیا گیا۔ اس حوالے سے مختلف مصنفین اور محققین نے سیر حاصل بحث و گفتگو کی ہے۔ اس کے اطراف میں مختلف مساجد، مدارس اور طلّاب کی رہائش کی جگہیں مختلف صدیوں میں بنتی رہیں جو تاحال جاری ہیں اور اس علمی شہر سے اب تک ہزاروں علماء ، مفکرین ، ادباء ،فقہاء ، اہل قلم، شعراء فارغ التّحصیل ہوئے ہیں اس پر مستزاد یہ کہ یہاں آنے والے بلاد اسلامیہ کے شرق وغرب سے صرف شیعہ ہی نہیں ہوتے بلکہ غیر شیعہ بھی ہوتے ہیں۔ جب میں نے مرقدمطہر کے بارے میں تحقیق شروع کی تو اس کے بارے میں ایسی احادیث سامنے آئیں کہ جس پر بحث و تحقیق نہ ہونے کی وجہ سے میں خود اشتباہ کا شکار ہو رہا تھا۔
اس تحقیق نے مجھے جس ہدف کی طرف زیادہ متوجہ کیا وہ یہ تھا کہ وہ تمام تبرکات و نذورات جو روضہ کے اندر موجود ہیں انہیں ایک ایسی جگہ میں رکھا جائے جہاںلوگ ان کی زیارت کر سکیںاور ان سے استفادہ کرنا چاہیں تو ان سے استفادہ کر سکیں۔خود امام کی سیرت کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کیا جائے۔
لیکن افسوس کہ اس حوالے سے کبھی توجہ نہیں دی گئی ۔
اے کاش !اب بھی کوئی توجہ کرے اور اس عظیم ورثہ کی حفاظت و نمائش کا اہتمام کرے تاکہ دنیا کو پتہ چلے کہ ہم کیسے عظیم ورثہ کے مالک ہیں اور وہ ہماری سرزمین کے بارے میں جانیں وہ سرزمین جو انبیاء کے نزول کی جگہ ہے جو امن و آشتی کی جگہ ہے۔
تعمیراتِ صفوی
روضہ مقدس کی موجودہ عمارت کے ڈانڈے گیارہویں صدی ہجری کے پانچویں چھٹی دہائی کے درمیان ملتے ہیں۔ اگر چہ تاریخ کے مرور مراحل کے ساتھ اسی میں تبدیلی آتی رہی لیکن اس میں اختلاف واقع ہوا کہ سب سے پہلے مذکورہ تعمیر کس نے کی۔ اس بارے میں سیّد محسن الامین نے اپنی کتاب اعیان الشیعہ میں لکھا ہے کہ اہل نجف کے درمیان یہ بات مشہور ہے کہ یہ تعمیر سب سے پہلے شاہ عباس صفوی اوّل نے کروائی تھی۔ جس کی انجینئرنگ اس زمانے کے مشہور معمار شیخ بہائی نے کی تھی اور انہوں نے گنبد کے سفید رنگ کو سبز رنگ میں تبدیل کیا تھا۔
سیّد محسن الامین کے یہ بات قبول کرنے میں کچھ مناسبت نہیں ہے کیونکہ کتاب ''نزھة اھل الحرمین ''کے مولف نے ''البحر المحیط''سے نقل کیا ہے کہ اس کی ابتداء تو ۱۰۴۸ھ /۱۶۳۷ ء کو شاہ عباس صفوی کے حکم سے ہوا تھا لیکن یہ عمل جاری رہا اور مکمل ہونے سے قبل شاہ صفوی ۱۰۵۳ھ /۱۶۴۲ ء کو انتقال کرگئے تو پھر بعد ان کے بیٹے شاہ عباس ثانی نے اسے مکمل کیا اور بعد میںشاہ عباس کی طرف منسوب ہوا ہے۔
اس پورے واقعے کا خلاصہ سیّد محسن الامین یوں فرماتے ہیں کہ روضہ مقدس کی شاہ عباس اوّل کے زمانے میں تعمیر شروع ہوئی اور ان کی وفات کے بعد جاکر یہ مکمل ہوا۔ اس کے بعد مرور ایام کے ساتھ جو خرابی ہوئی تھی دوبارہ تعمیر ان کے پوتے شاہ صفی کے زمانے میں ہوئی مثلاً انہوں نے صحن کو وسیع کیا۔
شاہ عباس اوّل نے اس زمانے میں روضہ کی جو اصلاح کی تھی وہ آج اس کی اصل صورت باقی نہیں ہے بلکہ اس میں تبدیلیاں آ چکی ہیں۔
شیخ محمد الکوفی الغروی نے کتاب نزھة الغریٰ میں بیان کیا ہے کہ شاہ عباس اوّل نے بغداد پر ۱۰۳۳ھ / ۱۶۲۳ ء کو قبضہ کیا تھا پھر نجف میں زیارت امیرالمومنینـکیلئے گیااور زیارت کے بعد شاہ اسماعیل کی بنوائی ہوئی نہر کی تعمیر شروع کی اور اسے مسجد کوفہ تک پہنچایا کیونکہ اس کا عزم تھا کہ کاریز اور کنویں کھدوا کر کسی نہ کسی صورت روضہ مبارک میں پانی پہنچا دے لہٰذا دوسرے سال نجف کی دوبارہ زیارت کے لئے گیاتوبغداد واپس جاتے ہوئے پانچ سوآدمیوں کو وہاں چھوڑ گیا اور انہیں روضہ مبارک و صحن شریف کی تعمیر کرنے کا حکم دیا۔اور خود جانب روانہ ہوگیا۔
اس حوالے سے شیخ محمد حسین حرز الدّین قدرے زیادہ وضاحت کے ساتھ شاہ عباس اوّل کی اصلاحات کو بیان کیا ہے وہ ''تاریخ عالم آراء ''پر اعتماد کرتے ہوئے بیان کرتا ہے کہ شاہ عباس اوّل نے نجف اشرف کی ۱۰۳۳ھ / ۱۶۲۳ ء کو دو مرتبہ زیارت کی پہلی مرتبہ اس نے وہاں دس دن قیام کیا اس دوران انہوںنے اپنے جدّ اعلیٰ شاہ طہماسب کی کھدوائی ہوئی نہر طہمازیہ کی صفائی کروائی کیونکہ یہ نہر نہایت اہم تھی اس لئے کہ اس کے ذریعے نجف تک پانی پہنچتا تھا جہاں سے لوگ پانی حاصل کرتے تھے اور اضافی پانی یہاں سے گزر کر بحر نجف میں جاگرتا تھا۔
جب انہوں نے دوسری مرتبہ نجف کی زیارت کی تو اس دوران انہوںنے گنبد علویہ کی تعمیر نو اور حرم کی توسیع کروائی۔ اس تعمیر میں تین سال لگے۔ اس میں رواق عمران کا تھوڑا حصہ گراکر صحن میں شامل کیا گیاتاکہ عمارت کا زاویہ مربع اور اس کی انجینئرنگ خوبصورت ہو جائے۔
اس کے بعد محمد حسین حرز الدین کتاب ''المنتظم الناصری ''سے بھی اسی بات کو یوں نقل کرتے ہیں کہ شاہ عباس اوّل نے نجف کی زیارت کی اور روضہ مبارک کی تزین و آرائش کروائی۔
یہاں پر شیخ جعفر محبوبہ نے اپنی کتاب ''نجف کی ماضی اور حال ''میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ۱۰۴۲ھ /۱۶۳۳ ء کو شاہ صفی کے حکم پر سرزمین نجف پر فرات کا پانی پہنچایا گیا تھا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جو مذکورہ تین سال حرم کی تعمیر میں لگے وہ تعمیر دراصل شاہ صفی نے کی تھی۔ کتاب نزہة الغریٰ میں کچھ مطالب کے بیان میں اشتباہ ہوا ہے۔اس ایک وجہ شاید یہ ہے اس زمانے میں نجف ایک مرتبہ پھر ترکوں کے ہاتھوں میں آیا تھا۔ ۱۰۳۴ھ / ۱۶۲۴ ء میں پورے شہر کا محاصرہ کیا تھا۔ ۱۰۳۵ھ / ۱۶۲۵ ء کو سلطنت عثمانی کے والی مراد باشاہ یہاں آئے تو اس وقت حکومتی صورت حال کچھ ٹھیک نہیں تھی اس لئے کہ عثمانی اور صفوی فوجوں کے درمیان لڑائی چل رہی تھی۔
۱۰۴۲ھ / ۱۶۳۲ ء کو شاہ عباس اوّل کے پوتے شاہ صفی نے نجف کی زیارت کی اور اپنے وزیر میرزا تقی خان کو گنبد مر تضویہ کی تعمیر نو اور حرم کی توسیع کا حکم دیا تو وزیر نے نجف اشرف میں تمام کار مندان و با ہنر فراد کو جمع کیا اور دلجمعی کے ساتھ حرم کی تعمیرمیں مشغول ہوا۔ اس مقصد کیلئے نجف کے جنوب مغرب کی طرف سے سفید پتھر لائے گئے تاکہ خوبصورتی میں مزید اضافہ ہو۔ اس طرح انہوں نے وہاں مجاورین ، زائرین، فقراء کیلئے دارا لشّفاء ، باورچی خانہ، زائرین کی خاطر مہمان خانے ،صحن شریف کے اندر وضو کرنے کے لئے پانی کا حوض ، زائرین کے قیام کے لئے ایوان وغیرہ بنوائے یہ تمام کام تین سال کی مدت میں مکمل ہوا۔
ڈاکٹر حسن نے اپنی کتاب میں شاہ صفی کو شاہ عباس کا بیٹا لکھا ہے جبکہ صحیح یہ ہے کہ وہ ان کا پوتا تھا۔ اس بات کی طرف شیخ محمد السماوی نے بھی اشارہ کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:''پھر شاہ صفی صفوی جو ان کے پوتے تھے نے عمارت علویہ کو بڑے خوبصورت و شاندار انداز سے بنوایا۔ ''
سیّد جعفر بحر العلوم کے مطابق شاہ صفی نے عتبات مقدسہ کی زیارت ۱۰۴۱ھ / ۱۶۳۱ ء کو کی تھی مگر تجدید قبہ مرتضویہ اور توسیع حرم کا عمل ۱۰۴۲ھ میں انجام دیا تھا اور اسی بات کو روضہ کی عمارت کی تاریخ لکھنے والے تمام حضرات نے بیان کیا ہے جن میں سرفہرست سیّد محسن الامین ہیں۔
شیخ محمد الکوفی الغروی اور شیخ محمد حسین حرز الدّین کے درمیان دونوں حرم امام کی تعمیر نو میں توافق نہیں پایا جاتا۔ اسی طرح تنظیف نہر کی نسبت شاہ عباس اوّل کی طرف ہونے میں بھی اتفاق نہیں ہے۔ لیکن اس بات پر دونوں متفق ہیںکہ شاہ عباس اوّل نے اپنے زمانے میں عمارت کی اصلاح کی تھی اور نجف تک پانی پہنچا یا تھا۔ لیکن دوسری طرف شاہ صفی نے اپنے دور میں نہ صرف حرم کی تعمیر نو کی بلکہ حلہ کے قریب سے کوفہ تک نہر کھدوائی ور وہاں سے خورنق پھر خورنق سے زیر زمین نالیاں نجف تک بنوالیں اور شہر میں ایک حوض بنوایا تاکہ پانی وہاں جمع ہو پھر وہاں سے شہر میں سپلائی کیا۔ اس کے بعد وہاں سے ڈول کے ذریعے اوپر شہر کی گلیوں اور صحن شریف میں پہنچا۔
یہ عمارت تمام قدیم و جدید عمارتوں سے منفرد و ممتاز ہے کیونکہ علمی حوالے سے پوری دنیا میں اس طرح کی اچھی انجینئرنگ سے بنائی ہوئی عمارت موجود نہیں ہے۔
اس حوالے سے شیخ جعفر محبوبہ نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اس حوالے سے تمام اساتذہ فن متفق ہیں کہ موسم گرما ہو یا سرما روضہ مقدس میں وقت زوال اور طلوع و غروب کا وقت معلوم ہو جاتا ہے کیونکہ باب کبیر ایسی جگہ بنایا گیا ہے جہاں سے سال کے اکثر ایام میں سورج طلوع ہوتے ہی اس کی روشنی روضہ مقدس میں داخل ہوتی ہے اور پھر وہاں سے شہر کے مشرقی دروازہ اور بازار میں ہر طرف پھیل جاتی ہے اس منظر کو میں خود دیکھ چکا ہوں۔
اس دروازے کی خاص انجینئرنگ کو میں نے آج تک کسی اور عمارت میں نہیں دیکھا ۔ کیونکہ اس کے اندر بائیں جانب سورج کی کرنیں پڑنے سے قوس و قزح بن جاتی ہے جس کی وجہ سے اندر وقت زوال کی تعیین ہو جاتی ہے یہ اس وقت ہوتا ہے جب سورج قوس کے درمیان میں پہنچتا ہے۔اس کی تفصیل سیّد عبد المطلب خراسانی نے اپنی کتاب ''مساجد و معالم فی الروضة الحیدریة ''میں لکھا ہے:
۱۰۴۷ھ / ۱۶۱۷ ء کو عراق پر عثمانیوں کا قبضہ ایک مرتبہ دوبارہ ہوجاتا ہے جب زمام قیادت سلطان مراد چہارم کے ہاتھوں آئی تو وہ ایک بڑی فوج لے کر عراقی سرزمین میں داخل ہوا تھا۔
اس حوالے سے شیخ محمد کاظم طریحی نے اپنی کتاب میں یوں لکھا ہے:''بعض ترک مخطوطات میں یہ آیا ہے کہ سلطان مراد خود بروز پیر ۱۸رمضان المبارک ۱۰۴۹ھ / ۱۶۳۹ ء کو بغداد زیارت امام علیـ و امام حسینـکے لئے گئے تھے ۔
لیکن اس معلومات کا موصوف نے کوئی حوالہ بیان نہیں کیا ہے۔
تعمیراتِ نادر شاہ
اگر نجف کو ہم سابقہ صدی کے نصف اواخر میں دیکھیں تو یہ شہر اس قدر وسیع وبا رونق نہیں تھا جہاں آج سورج کی روشنی حرم مطہر کے میناروں پر پڑکر دیکھنے والوں کی آنکھیں خیرہ کرد یتی ہے اور یہ صورت فضاء کے اندر ایک نہایت ہی خوبصورت منظر پیش کرتا ہے کہ تعریف کرنے والے عاجز ہوجاتے ہیںلیکن اس کے ضمیر و وجدان میں یہ منظر اور مضبوط ہوجاتا ہے حرم مطہر کے گنبد اپنے دونوں میناروں کے ساتھ، صحن اپنی دیواروں کے ساتھ اور خزانے قیمتی تحائف کے ساتھ پوری دنیا میں نمایاں ہیں۔ اس حقیقت کا اندازہ اس وقت بھی ہوا جب مشہور جرمنی سیاح( NABOOR )۷۶۵ھ /۱۱۷۹ ء کو نجف اشرف پہنچا تھا۔ تو وہ یوں لکھتا ہے کہ ''اس کی چھت پر کثیر رقم خرچ کی گئی ہے جس سے اس کی تزئین و آرائش دوبالا ہو گئی ہے اور اس کے اوپر سونے کے رنگ چڑھا ئے ہوئے ہیں، جس کی رونق و خوبصورتی کی مثال پوری دنیا میں نہیں ہے ۔''
موسوعہ نجف اشرف میں بھی آیا ہے کہ اس کے بارے میںایک انگریز سیاح LOFST جب نجف میں ۱۲۶۹ھ / ۱۸۵۳ ء میں پہنچا تھا تو جب اس کی نظر دور سے گنبد مبارک پر پڑی تو اس نے اپنے احساسات کا اظہار یوں کیا:''یہ بڑا گنبد جو سونے سے ڈھکا ہوا ہے جس کو دور سے دیکھنے والے کی آنکھیں خیرہ کرتی ہیں جب اس پر سورج کی شعاعیں پڑتی ہیں تو اس وسیع صحراء میں یہ ایک سونے کا ٹیلہ جیسا لگتا ہے ۔''
اس بے آب و گیاہ ٹیلے کی دہشت اس وقت ختم ہوجاتی ہے جب یہ معلوم ہو کہ وہاں اسلام کی رمز عظیم امام علی دفن ہیں اور لاکھوں ، کروڑوں لوگوں کی یہ خواہش و اصرار ہوتی ہے کہ اس کی قربت حاصل کرے اس کی زیارت کرے اورعذاب برزخ سے ان کی شفاعت سے نجات حاصل کرے اور دنیا و آخرت میں ان سے کامیابی و کامرانی کی امید لگاتے ہیں۔اگر ان کی روضہ مقدس کی تعمیر کے حوالے سے ۱۳۲ھ/ ۷۵۰ ء میں جائزہ لیں تو کوشش کرتے ہیں کہ ہم جلد ہی اس خوبصورت اور پر کشش منظر تک پہنچ جائیں۔
ہم اس تاریخ سے گزرتے ہیں کہ ترک اور ایرانیوں کے درمیان اس زمانے تک چپقلش چل رہی تھی جس کی وجہ سے شہر نجف کے ارد گرد دیوار بنائی گئی جیسا کہ محمد حسین اپنی کتاب میں یوں لکھتے ہیںکہ ''اس کے پیچھے ایک بڑی خندق کھودی گئی اور خشکی کے طرف چونے کے پتھر سے دیوار چنی گئی'' لیکن موصوف نے اس دیوار کی نسبت کسی کی طرف نہیں دی ہے۔ عراق میں فارس اور عثمانی جھگڑوں و چپقلش کی وجہ سے اور دوسری طرف مذہب تشیع کی غلبہ کی وجہ سے روضہ مقدس کی زیارت و تعمیر نو زیادہ ہوئی جس کی وجہ سے اس شہر کی اہمیت اور بڑھ گئی۔
شیخ محمد حسین نے اپنی کتاب میں ''تاریخ الجزیرة والعراق والنّھرین ''سے نقل کیا ہے کہ والی عثمانیہ خاصکی باشاہ جس کی حکومت۱۰۷۰ھ / ۱۶۵۹ ء میں ختم ہوئی تھی نے مرقد میر المومنین پر ایک مینارہ کا اور اضافہ کیا تھا لیکن اس وقت اس کے کوئی آثار باقی نہیں ہیں اس کے چند برس بعد بنی عثمان کے بعض والیان جب نجف پہنچے تو انہوں نے شاہی نہر کی صفائی کروائی اس کے علاوہ اور بھی نہریں کھدوائیں تاکہ شہر میں پانی کا سلسلہ برقرار رہے اور ۱۱۲۶ھ / ۱۷۱۳ ء کو والی بصرہ حسن باشاہ نے روضہ مقدس کی تعمیر نو کی اور اسے خود انہوں نے مرقد مطہر میں رکھوا دی اور اس کے اوپر مناسب کپڑے ڈھانپ دئیے۔
شیخ محمد حسین یہ بھی لکھتے ہیں کہ انہوں نے گنبد کی بھی تعمیر نو کی تھی ''انہوںنے وہاں خوبصورت بلند و بالا چھت بنوائی تھی ، یہ واقعہ ۱۱۲۹ھ/۱۷۱۶ ء کا ہے، موصوف مزید آگے لکھتے ہیں کہ ''دوسال بعدحرم کے اندر لکھے ہوئے کتبات رکھے گئے اوریہ حرم کے اندر سب سے پرانی تاریخ ہے جو آج تک ہے۔''
جب نادر شاہ اِفشاری ایران سے اپنی فوج کے ساتھ ہندوستان فتح کرنے کیلئے نکلا تو دہلی کے مقام پر ۱۷۳۸ ء کو ان کے اور ہندوستانی فوج کے درمیان معرکہ آرائی ہوئی جس کی وجہ سے ہندوستانی فوج کو بری طرح شکست ہوئی اور ہندوستانی بادشاہ شاہ محمد گرفتار ہوا لیکن نادر شاہ نے انہیں معاف کیا اور اس کی حکومت اس کو واپس دے دی اس کے عوض میں شاہ محمد نے اپنے اسلاف کے خزانے نادرشاہ کو پیش کئے جن میں عرش طاووس اور مشہور الماس جو آج کل حکومت برطانیہ کے پاس ہے اس کے علاوہ بے شمار و قیمتی اشیاء شامل ہیں۔ ڈاکٹر علی الوردی لکھتے ہیں کہ نادر شاہ نے ۱۱۵۳ھ /۱۷۴۰ ء کو ان میں سے چند تحائف و ہدیے مرقد ابو حنیفہ اور دوسرے آئمہ کے مراقد کے بھیجے ۔'' اور جو تحائف مرقد علوی کے لئے مخصوص کئے تھے وہ بہت بڑے ہیں جو آج تک وہاں موجود ہیں اور احتمال قوی ہے کہ یہ وہی چیزیں ہیں جو انہوں نے ہندوستان سے لی تھی ''پھر انہوں نے بہت سارے اور بھی اموال بھیجے تاکہ مرقد مطہر کے گنبد ، مینار وں اور ایوان کے اوپر سونا چڑھا دیا جائے اور یہ کام ۱۱۰۰ھ / ۱۷۴۲ ء کو شروع ہوا۔
ڈاکٹر الوردی نے یہ بھی لکھا ہے کہ نادر شاہ نے عثمانی بادشاہ کو ۱۱۵۶ھ /۱۷۴۳ ء میں یہ پیغام بھیجا جس میں انہوںنے رسمی طور پر مذہب جعفری قبول کرنے کا تقاضا کیا لیکن باشاہ کے علماوں نے اس کا یوں جواب دیا ''شیعہ دین اسلام سے خارج ہے لہٰذا ان کو قتل کرنا اور قید کرنا شرعاً جائز ہے ''اور یہ جواب نادرشاہ تک پہنچا تو اس نے دولت عثمانیہ پر حملہ کرنے کی ٹھان لی، اور عراق کی جانب اس کی فوج بڑھی اور شہر مندلی سے داخل ہوئی پھر کرکوک' اردبیل کو ختم کرتے ہوئے ماہ ستمبر کے اواخر تک موصل کے قریب پہنچ گئی اور اسے بیالیس دن تک محاصرے میں رکھا اور آخر کار اس کے حاکم کے ساتھ صلح کرنے پر مجبور ہوئے اس کے بعد نادرشاہ وہاں سے بغداد کی طرف رخ کیا اور کاظمیہ میں اترے وہاں امام موسیٰ کاظمـاور امام محمد تقیـکے مرقد کی زیارت کی پھر دریا پار کرکے مرقد ابو حنیفہ کی زیارت کی اس کے بعد وہ اوروالی بغداد احمد بادشاہ کے درمیان خط وکتابت جاری رہی یہاں تک کہ اس نے آخر کار اقرار کیا کہ ''مذہب شیعہ صحیح ہے اور یہ تصدیق کی کہ یہ مذہب جعفر الصادقـ ہے پھر نجف میں جاکر امام علی ابن ابی طالب کی زیارت کی اور وہاں گنبد دیکھا تو اسے سونے سے تعمیر کرنے کا حکم دیا ''اس کے لئے ڈاکٹر علی الوردی کی کتاب ''لمحات'' کو ملاحظہ کیجئے۔
سیّد جعفر بحر العلوم کہتے ہیں کہ حرم شریف میں سونے کا کام ۱۱۵۴ھ /۱۷۴۲ ء کو شروع ہوا اور ۱۱۵۶ھ / ۱۷۴۳ ء کو مکمل ہوا۔
نادر شاہ نے صرف یہ کام سر انجام نہیں دیا بلکہ روضہ مقدس کیلئے اعلیٰ قسم کے تحفے تحائف اور ہدیے بھی وقف کئے جیسا کہ سیّد محسن الامین نے اپنی کتاب اعیان الشیعہ میں بیان کیا ہے کہ انہوںنے مشہد شریف کے لئے جواہر و تحفے اور بہت ساری چیزیں وقف کیں۔ یہ عطیات انہوں نے ۱۱۵۶ھ / ۱۷۴۳ ء یا ۱۱۵۴ھ / ۱۷۴۱ ء کو دیئے تھے اور اپنا نام باب شرقی کے اندر طاقچہ میں اس طرح لکھا:
''المتوکّل علی الملک القادر السّلطان ناد ر''
سیّد جعفر بحر العلوم کے مطابق انہوں نے ''یہ ایوان شرقی پر جو رواق شرقی سے متصل ہے سونے کے حروف سے لکھا اور وہ عبارت یوں ہے:
''الحمد ﷲ تعالیٰ قد تشرّف بتذهیب هذه القبّة المنوّرة و الرّوضة المطهّرة الخاقان الاعظم سلطان السّلاطین الافخم ابوالمظفر المویّد بتائید الملک القاهر السّلطان نادرا دمَا للهُ ملکه و سلْطَنَتهُ ''
اس کی تاریخ ۱۱۴۶ھ لکھی ہوئی ہے۔
اسی طرح محمد حسین حرز الدین نے بھی مختلف کتابوں کے حوالے سے مثلاً اپنے جد بزرگوار محمد حرز الدین کے حوالے سے لکھا ہے۔
سیّد جعفر بحر العلوم نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ شاہ کی زوجہ گوہر شاہ بیگم نے صحن مقدس کی دیواروں کی کاشہ کاری کے لئے ایک لاکھ ایرانی تومان عطا کئے تھے اور سیّدہ رضیہ بنت سلطان حسین الصّفوی نے مسجد بالائے سرکی تعمیر کے واسطے بیس ہزار تومان عطا کئے۔
محمد حسین نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے کہ سلطان نادر شاہ کی زوجہ ملکہ گوہر شاہ بیگم نے مرقد مقدس کی دیوار کی ترمیم کے واسطے ایک لاکھ نادری (سکہ)خرچ کیا اور صحن میں نئی قاشانی ٹائلیں لگانے کیلئے بے شمار رقوم عطا کیں اور یہ کام ۱۱۵۶ھ/۱۷۴۳ ء کو شرع ہوا اور ۱۱۶۰ھ/ ۱۷۴۷ ء کو مکمل ہوا۔ اسی طرح انہوں نے قیمتی پتھر سے بنی ہوئی ٹنکی اور پانی گرم کرنے کیلئے سونے کے برتن روضہ اقدس کو ہدیہ کیے۔ ''۱۱۵۶ھ / ۱۷۴۳ ء کو حرم کے اندر گنبد پر کتابت کا کام بھی تمام ہوا'' یہ تمام کتابت سفید لاجورد سے خوبصورت لکھائی میں ہے اور اس کے کنارے اوپر سے مزین ہیں اوریہ تمام کام سلطان نادر شاہ کے آثار میں سے ہیں کیونکہ مذکورہ کام کاتب ''مہر علی ''کے ہاتھوں ۱۱۵۶ھ / ۱۷۴۳ ء کو مکمل ہوا ہے۔
ڈاکٹر علی الوردی نے اپنے والد کے ڈائری اور اپنے جد بزرگوار کی کتاب ''النوادر ''سے نقل کی ہے کہ سلطان نادر شاہ نے ۱۱۵۷ھ / ۱۷۴۴ ء کو بھی حرم مقدس کی زیارت کی تھی لیکن شاہ عباس اوّل کے بنائے مکانات جو حرم کے سامنے واقع ہے سے داخل نہیں ہوئے اور یہ جگہ کچھ عرصے بعد میں بازار بن گئی اب یہ نجف کے اہم اور بڑے بازاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ بلکہ نادر شاہ ایک چھوٹی سی تنگ گلی جو باب قبلہ کی طرف تھی سے داخل ہوئے اور صاحب حرم کے سامنے اپنے آپ کو گراکر انکساری کے ساتھ چلنے لگا۔ اس نیت سے انہوں نے اپنے گلے سے ایک سونے کی زنجیر باندھی اور ایک غیر معروف شخص سے حرم کی طرف ہنکوایا، یہ سونے کی زنجیر آج تک حرم کے باب شرقی کے ایوان میں لٹکائی ہوئی ہے۔ جس گلی سے نادر شاہ گزرا تھا جو بعد میں ''عکد الزّنجبیل''کے نام سے مشہور ہوئی۔
محمد عبود الکوفی نے اپنی کتاب ''نزھة الغری ''میں بیان کیا ہے کہ ''نادرشاہ الافشاری عراق کی طرف براستہ جانقین گیا اور موصل فتح کرنے کے بعد بغداد کی طرف ۱۱۵۶ھ / ۱۷۴۳ ء کو رخ کیا پھر دوسرے دن نجف اشرف میں براستہ حلہ داخل ہوگیااور وہاں پر مذاہب اسلامیہ کے علماء کیلئے ایک مجلس منعقد کی جس میں مذہب جعفری کو مذاہب اربعہ کا پانچواں مذہب مقرر کیا۔ پھر ایک اقرار نامہ لکھا جو آج بھی روضہ حیدریہ میں محفوظ ہے۔ پھر گنبد اور ایوان پر سونا چڑھانے کا حکم دیا اس کے علاوہ ان کی زوجہ گوہر شاہ بیگم نے ایک لاکھ تومان نادری صحن کی کاشہ کاری اور تزئین کے واسطے اور بہت سارے مختلف انواع و اقسام کے خوبصورت خوشبودار پتھر اور سونے کے پتھر عطا کئے ۔''
ڈاکٹر الوردی نے بیان کیاکہ موصل میں پہنچ کر وہاں کے حاکم کے ساتھ صلح کی۔ انہوں نے اپنی کتاب ''لمحات ''میں بھی کہاہے کہ'' نادر شاہ جس مقام پر آکر ٹھہرا وہ نجف تھا وہاں پر انہوںنے ایک کانفرنس منعقد کی جس میں سنّی اور شیعہ کو متفق کرنے کیلئے اپنے اپنے علماوں کو مدعو کیا تو انہوں نے کربلاء سے سیّد نصر اللہ حائری کو بلایا اور عثمانی بادشاہ سے ایک سنی بھیجنے کا تقاضا کیا جو عراقی سنّیوں کی نمائندگی کرے تو انہوں شیخ احمد السویدی کو بھیجا اور کانفرنس میں شیعوں کی نمائندگی شیخ علی اکبر نے کی جو ایران میں ملّا باشی کا متولّی تھا۔ اور یہ کانفرنس ۲۲/۱۰/۱۱۵۶ھ بمطابق ۱۱/۱۱/۱۷۴۳ ء کو منعقد ہوئی اس میں مختلف قراردادیں منظور ہوئیں بعد میں شیخ عبد اللہ السّویدی کی ایک کتاب بنام''الحج القطعیّة لاتفاق الفرق الاسلامیّة ' 'چھاپی جس میں اس کانفرنس کی تفصیل شائع ہوئی ہے۔ ''
عبودالکوفی کے بیان سے ظاہر ہوتاہے کہ گنبد اور ایوان پر ۱۱۵۵ھ / ۱۷۴۳ ء کو سونا چڑھایا گیا تھا، کیونکہ اس کی تاریخ میں یہ کہا گیا ہے:''آنستُ مِن جَانبِ الطُّور ناراً'' جس کا عدد یہی بنتا ہے لیکن دونوں میناروں پر ۱۱۵۶ھ / ۱۷۴۳ ء میں سونے کا کام ہوا تھا کیونکہ اس کی تاریخ یوں بنتی ہے۔ ''اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر، اللہ اکبر ''جس کا عدد یہی بنتا ہے ۔ لیکن ڈاکٹر حسن حکیم کے مطابق نادر شاہ سے قبل دولت عثمانی نے گنبد روضہ پر سونے کا کام کروایاتھا اس لئے کہ ان کے ایک گورنر خاصکی محمد نے بغداد پر ۱۰۶۷ھ سے ۱۰۷۰ھ تک حکومت کی اس دوران انہوں نے نجف میں گنبد روضہ پر سونا چڑھانے کے کام کیلئے کافی مقدار میں سونا بھیجا تھا اور مینار بھی بنوایا تھا لیکن اس وقت ان کے کوئی اثار موجود نہیںہے۔
مقدمہ
اس میں کوئی شک نہیں حرم مقدس کی موجودہ عمارت کے اندر فنی اعتبار سے خوبصورتی کا اعلیٰ معیار موجود ہے شاید یہ اپنی خوبصورتی میں پوری دنیا میں بے نظیر و بے مثال ہے اور فن انسانی کا ایک معجزہ ہے اور اسلامی فنون تاریخی اہمیت کے اوج کمال پر ہے جو اپنے اندر محفوظ خزانوں کی وجہ سے نسل انسانی باعث فخر ہے اور اس کی تربت کی عظمت کی وجہ یہ ہے کہ یہاں ناشرِ عدل و امن وصی رسول اللہصلىاللهعليهوآلهوسلم حضرت علیـہیں اگرچہ راقم نے اس بارے میں ایک کتاب منظر عام پر لانے کے لئے حتی المقدر کوشش کی جو اس کے اندر صاحب روضہ کے موجود تبرکات پر مشتمل ہے اس میں کامیابی کا میں کبھی بھی دعویٰ نہیں کروں گا جسکی ایک وجہ تو یہ ہے کہ راقم کی ناسازی طبیعت کی وجہ سے اس حوالے سے کثیر و وافر مطالعہ نہیں کرسکا دوسری وجہ یہ کام ایک فرد واحد کی استطاعت سے خارج ہے کیونکہ اس کیلئے مختلف متخصّص( SPECIALIST ) افراد پر مشتمل ایک جماعت درکار ہے لیکن راقم محبان امام و عاشقان فنون کے سامنے اپنی مطالعات و مشاہدات کو پیش کرنے کی کوشش کرے گا۔ اور میرا خیال ہے یہ مزید تحقیقات کیلئے مرقد مطہر کے حوالے سے مزید تحقیق کرنے والوں کیلئے خشت اوّل ثابت ہوگی۔مجھے قوی امید ہے کہ اگر زندگی کے لمحات نے اجازت دی تو میں روضہ مبارک کے جوار میں رہ کر اپنے اس منصوبے کو اور زیادہ دقیق انداز سے پیش کروں گا۔
عصر جدید میں موجودہ عمارت کے بارے میں کچھ محققین نے بحث و تحقیقات پیش کی ہیں۔ یہاں پرمیں مثال کے طور پر چند افراد کا ذکر کرنا مناسب سمجھوں گا، ان میں ڈاکٹر سعاد ماہر ہے جنہوں نے مشہد امام علیـاور اس کے اندر موجود تبرکات کے حوالے سے ایک کتاب لکھی ہے جو دارالمعارف مصر سے ۱۳۸۹ھ / ۱۹۶۹ ء میں شائع ہوئی ہے ان کے بعد تحقیق کرنے والوں نے اس کتاب سے استفادہ ضرور کیا ہے۔
اس کے ساتھ کچھ اضافات و ملا حظات پر مشتمل ایک کتاب بنام ''تاریخ نجف اشرف'' شیخ محمد حسین حرز الدین نے لکھی ہے جس کے اندر انہوں نے اکثر موارد میں اپنے والد اور جدّ بزرگوار کے مشاہدات پر مشتمل کتاب ''معارف الرجال ''سے بھی استفادہ کیا ہے جس کی وجہ سے روضہ کے بارے میں اہم معلومات دوسری کتابوں کی نسبت آسانی سے مجھے فراہم ہوئی، مذکورہ محققین کی حیثیت اپنی جگہ لیکن شیخ جعفر محبوبہ کی کتاب ''نجف کے ماضی و حال ''بھی اپنی جگہ انتہائی اہم معلومات پر مشتمل ہے اس کے بعد آنے والے محققین نے اس سے استفادہ کیے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے۔
راقم نے اس کے علاوہ شیخ علی شرقی کی کتاب اور عصر عباسی کے آخری دور تک کی تاریخ تالیف محمد جواد فخر الدین سے بھی استفادہ کیا ہے میں اپنے محترم دوست ڈاکٹر حسن عیسیٰ حکیم کی کتاب ''تاریخ نجف اشرف ''کا ذکر کیے بغیر نہیں رہ سکتا جس نے مجھے کثیر معلومات فراہم کی میرے خیال میں یہ آخری کتاب ہے جس کے اندر موجودہ عمارت سے متعلق وافر معلومات موجود ہیں ۔ اس پر مستزاد یہ کہ موصوف نے نجف کے ادبی ، ثقافتی، آثار قدیمہ کے تاریخ پر زیر حاصل بحث کی ہے جس پر دوسرے مورّخین نے اتنی زیادہ توجہ نہیں دی۔
سیّد عبد المطلب موسوی خراسانی کی کتاب ''روضہ مطہرہ حیدریہ مساجد و معالم ''کا بھی یہاں ذکر کرنا ضروری ہے جس کا راقم نے ایک سے زیادہ موارد پر اشارہ بھی کیا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ جب ۲۰۰۵ ء میں راقم نے موصوف کو خط لکھا تو آپ کا محبت بھرا نامہ بتاریخ ۲۶-۱۲-۲۰۰۵کو موصول ہوا جو اب بھی میرے پاس محفوظ ہے اور اس خط نے مجھے مزید معلومات حاصل کرنے میں اضافہ کیا۔
چونکہ روضہ کی عمارت اور اطراف میں کچھ نہ کچھ تعمیر ہوتی رہتی ہے جس کی وجہ سے پچھلی چاردہائیوں میں تبدیلیاں بہت زیادہ ہوئی ہیں۔ بلکہ پچھلی صدی کے نوے کی دہائی میں اس حوالے سے جو معلومات شائع ہوئی ہے اگر یہ اس کے بعض اطراف میں نظر ثانی کی ضرورت ہے۔جب راقم ۱۱-۱۱-۲۰۰۸کو مرقد امام کی زیارت سے مشرف ہوا تو وہاں جدید توسیع و زائرین کی تعداد دیکھ کر حیران ہوا اس وجہ سے بھی میری معلومات میں بہت اضافہ ہوا ان میں کچھ معلومات میرے لئے جدید تھی جبکہ کچھ معلومات میری سابقہ کتاب کی تصحیح کے لئے اہم ثابت ہوئی۔
اگرچہ یہ چند سطور قدیم عمارت پر مرکوز ہے تاہم یہ ضروری ہے کہ موجودہ عمارت کی طرف بھی اشارہ کیاجائے خاص طور سے قدیم عمارت میں مسجد بالائے سر حسینیة، جامع مسجد عمران تمام مرافق وغیرہ شامل ہیں اس لئے کہ آج ان تمام اشیاء کا ذکر کرنا بھی محال ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ خاص طور سے زیارت کے موسم میں مرقد مقدس پر عراق اور خارج عراق سے کروڑوں کی تعداد میں زائرین موجود آتے ہیں ، مگر حرم کے خارجی توسیعات جس کے اندر صحن کے خارجی دیوار کے احاطے میں موجود تمام علاقے شامل ہیں۔ اب تو حرم کی حدود کے مغربی جانب تمام عمارات وغیرہ گراکر مرقد مطہر کے ساتھ شامل کیا جارہا ہے صحن خارجی کے سامنے اچھی خاصی بڑی جگہ بن رہی ہے اور جب سے یہ شہر ۱۲۱۲ ء کیلئے اسلامی ثقافتی مرکز نامزد ہوا ہے جس کی وجہ سے مزید تعمیرات و ترقی ہورہی ہے بڑے بڑے ہوٹل بن رہی ہیں ۔ہوسکتا ہے آئندہ آنے والے حرم کے انسائیکلوپیڈیا میں یہ تمام چیزیں شائع ہو کیونکہ ان تمام اشیاء کا احاطہ کرنا فرد واحد کیلئے ممکن نہیں ہے جب تک عتبہ مقدسہ کی طرف سے خاص تعاون شامل نہ ہو اس حوالے سے خاص طور سے آثار قدیمہ کے بارے میں مشورہ و رہنمائی ضروری ہوتی ہے اب تو تمام تبرکاتِ روضہ کی باقاعدہ رجسٹریشن ہوتی ہے اور انہیں مختلف مخصوص الماریوں میں رکھا گیا ہے جن کا ذکر آئندہ صفحات میں کیا جائے گا۔
صحن کی اندرونی اور بیرونی دیواریں
صحن کا اندرونی حصہ اس کے حدود کے سڑک سے آدھا میٹر نیچے تھا بلکہ روضہ کی سطح موجودہ سڑک سے کافی نیچے تھی لیکن بعد میں ہونے والی اصلاحات و توسیع کی وجہ سے روضہ کی سطح موجودہ صورت میں آیا ہے۔ ڈاکٹر سعاد ماہر کے مطابق مشہد شریف کے حدود میں صحن میں داخل ہونے کے رواق ، ایوان جو صحن کے اوپر ہیں دو مختلف عمارتوں پر مشتمل تھے اگر چہ یہ دونوں عمارتیں وقت اور طرز تعمیر میں ہم عصر لگتی ہیں اور موصوفہ اس بات کو ترجیح دیتی ہے کہ حدود کے اندر جو پرانی عمارت ہے وہ شاہ عباس اوّل نے مکمل کی تھی لیکن دوسری عمارت جو نسبتاً پہلی سے جدید ہے اس کو شاہ صفی نے بنوایا تھا(اس میں کوئی بات نہیں ہے کہ عباس ثانی نے اپنے والد کے وفات کے بعد اس کو مکمل کیا ہے کیونکہ انہوں نے اسی طرز و ترتیب سے بنوایا تھا)۔
روضہ کی بیرونی حدود قدیم شہر کے وسط تک پہنچتی ہے اور یہ دیوار اندرونی و بیرونی صورت میں مربع شکل کا ہے لیکن سابقہ ما خذ میں جو قیاس مذکور ہے وہ اتنا دقیق نہیں ہے جبکہ ہم نے عتبہ علوی کے انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ سے جو صحیح معلومات حاصل کی ہیں وہ یہ ہے بیرونی جانب سے اندرونی شمالی و جنوبی دونوں زاویہ کی طول ۷۷میٹر اور ۷۵سنٹی میٹر ہے اور باہر سے شمالی زاویہ کی لمبائی ۱۱۸میٹر ہے جبکہ باہر سے ۱۱۹میٹر ہے اور بیرونی غربی زاویہ سے ۱۲۰میٹر اور ۵۰سینٹی میٹر ہے جبکہ اندر سے ۸۴میٹر اور ۵۰سینٹی میٹر ہے اس دیوار کا بیرونی حصہ پر محرابی کے شکل بنے ہوئے ہیں جن کے درمیان فاصلہ دو میٹر سے زیادہ نہیں ہے اور اس کے اوپر مضبوط پٹی بنی ہوئی ہے اور ان محرابوں کی گہرائی ۲۰سینٹی میٹر ہے ان پٹیوں پر نیلے قاشانی سے خط مربع میں لفظ اللہ لکھا ہوا ہے اور محرابوں کے درمیان لمبائی میں سیمنٹ سے گٹّھیاں بنی ہوئی ہیں اس کے اوپر چوڑائی میں بھی گٹھیاں بنی ہوئی ہیں اس پر لفظ اللہ لکھا ہوا ہے اور اسی بیرونی حصے میں پانی پینے کے لئے خوبصورت مقامات بنائے گئے ہیں۔
اس دیوار کے تین اطراف سے بہت سارے مکانات عضد الدّولہ کے زمانے ہی سے ملے ہوئے ہیں اور غربی سمت میں زیادہ اہم تکیة البکتاشیّة اور مسجد راس ہے لیکن شمال کی طرف جامع مسجد عمران ہے (اور شمال مشرق میں ایک عمارت حسینیة کے نام سے ہے یہ خانقاہ کے مشابہ ہے جبکہ مشرق کی طرف مسجد خضرہ ہے)مذکورہ حسینیہ کو پچھلی صدی کے دوران بعض علماء تدریس کیلئے استعمال کرتے تھے اور جب روضہ مطہر کے مرافق کی تعمیرنو و توسیع ہوئی تو یہ محفوظ رہے جسے ہم اپنے مقام پر بیان کریں گے۔
صحن شریف کی دیوار کے اندرونی حصے میں آیاتِ قرآنی فن اسلامی کی بلندیوں کی نمائندگی کررہی ہیں جو آنکھوں کو خیرہ کرتی ہیں کیونکہ یہ سونے سے مزین ہیں اور قاشانی خط میں مختلف رنگوں سے لکھی ہوئی ہیں اور محرابی شکلوں میں بھی ماہر خطاطوں سے قرآنی آیات لکھوائی گئی ہیں جس کے اندر انتہائی دقت اور خوبصورتی کا مظاہرہ کیا ہے اسی طرح ان تمام محرابی اشکال کے لمبائی اور چوڑائی دونوں طرف آیات قرآنی سے پورا صحن مزین کیا ہوا ہے۔
شیخ جعفر محبوبہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ قدیم زمانے میں بالائی منزل کے کمروں میں علماءے دین اور طلباء رہتے تھے اسی لئے آج تک وہ کمرے مختلف علماء کے نام سے منسوب ہیں جیسا حجرہ اردبیلی یہ قبلہ کی جانب پہلا حجرہ ہے' مگر پہلی منزل کے حجرے مختلف مقاصد کیلئے استعمال ہوتے تھے اور ان حجروں اور سردابوں میں مختلف بزرگ علماء و شخصیات دفن ہیںاور ان کی تصویریں آج تک بعض حجروں کی دیواروں میں سجائی ہوئی ہیں اور اب جو نئی تبدیلیاں ہو رہی ہیں اس میںخاص طور سے یہ خیال رکھا گیا ہے کہ قدیم طرز تعمیر کو محفوظ رکھا جائے ۔ بہت سارے مصادر ماخذ میں صحن کے دونوں طبقوں کے ایوانوں کی تعداد میں قدرے اختلاف ہے۔ دیوار کی لمبائی ۱۲سینٹی میٹر اور ۵۰سینٹی میٹر ہے۔ ڈاکٹر سعاد کی مطابق صحن شریف لمبائی میں دو طبقوں پر مشتمل ہے ان میں طبقہ اولیٰ میں ایوان جن کے اوپر گنبد بنے ہوئے ہیں اور دائیں بائیں دونوں اطراف میں کل (۱۳)ایوان ہیں۔
موصوفہ کہتی ہیں کہ یہ(۱۳) ایوان دونوں طبقوں کے دونوں اطراف میں ہیں اس کے علاوہ ایوان سیّد جنوبی اور ایوان جامع مسجد عمران بھی ہیں مگر دو طبقوں کے مشرقی جانب ایوان اور ایوان باب السّا عة ہیں۔ جبکہ مغربی جانب حالیہ پہلی منزل میں آٹھ ایوان ہیں اس طرح کل ایوانوں کی تعداد ننانوے ہیں ، یہ تعداد عتبہ علویہّ کے انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے رپورٹ کے مطابق ہے اگرچہ بعض اس سے اختلاف کرتے ہیں اور بعض اس کو صحیح مانتے ہیں۔جبکہ ڈاکٹر حسن حکیم اس بارے میں کہتے ہیں کہ ایوانوں کی تعداد شمالی اور جنوبی دونوں زاویوں میں دونوں منزلوں میں (۱۳)ہے اس کے علاوہ اس کے ساتھ ایوان باب طوسی ہے اور موصوف مزید یہ بھی لکھتے ہیں کہ'' صحن شریف کی پہلی منزل کے مشرقی زاویہ میں ۱۴ایوان ہیں اور اتنی تعداد میں دوسری منزل میں بھی ہے اور اس کے ساتھ باب مسلم ابن عقیل اور مسجد خضراء جانے کا دروازہ ہے اس کے علاوہ ایوان کبیر جو ایوان ذہبی کے بالمقابل ہے جس کے گھڑی ہے۔
جبکہ مغربی زاویہ میں پہلی منزل میں آٹھ ایوان ہیں اور اتنے ہی دوسری منزل میں بھی ہیں جن میں سے چار ساباط شمال کی جانب اور چار اس کے بائیں طرف ہیں اس کے ساتھ باب الفرج اور ساباط کے نیچے بڑے چھے ایوان ہیں۔
سیّد عبد المطلب الخرسانی اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ''صحن مطہر حیدری کے پہلی منزل میں حجرے ہیں اور ہر حجرے کے سامنے برآمدے ہیں اور ان حجروں میں جانے کیلئے پیچھے سے سیڑھیاں بنی ہوئی ہیں''اور یہ کہا جاتا ہے کہ پچھلے زمانوں میں ان حجروں میں طلبہ رہا کرتے تھے اور انہیں ۱۹۷۷ ء میں انتفا کے بعدخالی کیاگیا لیکن جب میں جنوری ۲۰۰۸ ء میں روضہ امیر المومنین کی زیارت کیلئے گیا تو میں نے ان میں سے بعض حجروں میں جاکر دیکھا تو معلوم ہوا کہ اب یہ حجرے دوبارہ ترمیم کے ساتھ بنائے گئے ہیں اور حرم شریف کے ادارہ ''شعبہ ثقافتی و فکری''کیلئے مختص کیا گیا ہے اور دیوار کے باہر سے تمام اطراف میں دروازے بنائے گئے ہیں سوائے مشرقی طرف اس کیلئے دو دروازے نکالے گئے ہیں۔
خارجی دروازے
باب کبیر
یہ مشرقی جانب بازار بزرگ کے سامنے واقع ہے اس کو باب السّاقہ بھی کہا جاتا ہے اور اس کا ایک نام بابِ امام علی بن موسیٰ الرّضاـبھی ہے یہ خوبصورت لاثانی قاشانی تختیوں سے بنا ہوا ہے جو چوتھی صدی ہجری کا فن اسلامی کا شاہکار ہے۔ جیسا کہ ڈاکٹر سعاد فرماتی ہے کہ اس کی اندرونی لمبائی ۶ m/۴۰cm ہے اور چوڑائی ۳ m/۴۰cm جبکہ بلندی ۵ m/۱۰cm ہے لیکن اس کی پرانی طرز تعمیر ختم کی گئی ہے جس سے ہم نے اپنا ایک اہم تاریخی و ثیقہ گنوا دیا ہے اس پر موصوفہ مزید آگے اس پر لکھے ہوئے قرآنی آیات ، اشعار، خطاطوں کے نام یا اس تعمیر میں شرکت کرنے والوں کے نام مختلف رنگوں کے ساتھ ہے کے بارے میں بھی کہتی ہے۔
مگر اس کی سب سے پرانی تاریخ جو موصوفہ کے مطابق ۱۱۹۸ھ /۱۷۸۳ ء بنتی ہے، محمد رضا کی لکھی ہوئی قرآنی آیات کی عبارت میں شامل ہے اوراس دروازے کے اوپر کی جانب دو قوسین جس کے اطراف میں خوبصورت پٹیاں بنی ہوئی ہیں اور ان پٹیوں پر قرآنی آیات سونے کے حروف سے لکھے ہوئے ہیں۔ اور اس کے بائیں طرف ایک دوسری منزل پر جانے کیلئے ایک چھوٹا دروازہ ہے۔ اور اس کے اندر جاتے ہی بالکل سامنے تین قوسین بنی ہے جن کے اردگرد خوبصورت پٹیاں فن قاشانی میں انتہائی مہارت و دقیق انداز سے بنی ہے۔ جبکہ اس کے بیرونی جانب صحن کے محرابی اشکال کی طرح مختلف اشکال اور طرز تعمیرسے بنی ہوئی ہے۔
باب مسلم بن عقیل
یہ صحن شریف کے جدید دروازوں میں شامل ہوتا ہے جو کہ باب کبیر کے دائیں جانب صحن کے اندر واقع ہے اس کی وجہ تسمیّہ یوں ہے کیونکہ یہ اس طرف واقع ہے جہاں کوفہ میں مسلم بن عقیل کے روضہ کی طرف جانے کا راستہ ہے۔ اس حوالے سے شیخ جعفر محبوبہ کا بیان ہے کہ اس دروازے سے نکلنے کے بعد سیدھا محلّہ خیّاطین (القیساریة)پہنچتا ہے اور یہ قیساریہ عہد صفوی میں مہمانوں کی رہنے کی جگہ تھی ، کیونکہ وہاں سے بہت سارے پرانے کتبے ملے ہیں اور اس زمانے میں اسے شیلان کہا جاتا تھا۔ لیکن یہ گر کر ختم ہوا تو ملّا یوسف نے شیخ صاحب جواہر سے ۱۲۵۲ھ /۱۸۳۶ ء میں خرید کر صحن کے لئے اس طرف ایک دروازہ نکال دیا جہاں زمانہ قدیم میں پانی پلانے کی جگہ تھی جسے سقہ خانہ کہا جاتا تھا ۔ لیکن روضہ مقدس کے احاطے کی سڑک توسیع کی خاطر محلہ قیساریہ کو گرایا گیا تو اس کے ساتھ اسے بھی ختم کیا گیا اور اس دروازے کے بالکل سامنے یہ اور ایوان ذہبی کے درمیان ایک کنواں تھا جہاں پر بارش کا پانی جمع ہوتا تھا جس سے لوگ استفادہ کرتے تھے۔ اور سیّد عبد المطلب خرسانی کے مطابق اسی پانی سے ایوان مطہر اور صحن شریف کو دھو یا بھی جاتا تھا ۔
شیخ محمد حسین اس ضمن میں اپنی سابق الذکر کتاب میں یوں لکھتے ہیں:'' یہ قیساریہ ایک مصروف جگہ تھی جہاں کپڑے اور عباء سینے والے درزیوں کا رش لگا رہتا تھا، اور ۱۳۶۸ھ / ۱۹۴۸ ء میںصحن شریف سے ملحق سڑک کی توسیع کی خاطر قیساریہ کے بہت سارے حصے شامل کیے گئے لیکن ۱۳۷۱ھ / ۱۹۵۱ ء میں ضیاء شکارہ جونجف کے نائب تھے کی کوشش سے یہ دروازہ مزید بڑا کیا گیا اور بیرونی جانب سامنے سے سونا چڑھا یا گیا''اور اس دروازے کا سائز یوں ہے لمبائی ۹ cm/۸m چوڑائی ۷۰ cm/۳m جبکہ بلندی ۳۵ cm/۴m ہے۔
باب القبلہ
یہ بیرونی حدود کے جنوب کی جانب واقع ہے اور یہ قبلے کی طرف ہونے کی وجہ سے اسی نام سے معروف ہے۔ اوریہ چھوٹا اور نیچا تھا تاہم کئی بار اس کی تعمیر ہوئی اور ایک مرتبہ ۱۲۹۱ھ بمطابق ۱۸۷۴ ء میں عہد عثمانی کے ایک والی شبلی بادشاہ کی بیٹی فاطمہ خاتون کے حکم سے ہوئی اور موصوفہ نے صحن میں پینے کے پانی کا ایک حوض بھی بنوایا تھا اور شاید یہ وہی حوض ہو جسے مشہور انگریز سیاح LOFTS نے دیکھا تھا اور وہ اس بارے میں یوں کہتا ہے ''روضہ مطہر کے سامنے ایک حوض کمالِ خوبصور تی کے ساتھ بنا ہوا ہے جس کے اندر سورج کی شعاعیں پڑنے سے گنبد کی چمک کا عکس نظر آتا ہے۔''اور اس سیاح کے سفر نامہ کو موسوعہ نجف اشرف میں شائع کیا گیا ہے ۔ ان کے مطابق صحن کے دوسرے حوضوں کی طرح اس حوض کو بھی ڈھایا گیا اور یہ دروازہ چھوٹا ہونے کے باوجود دوسرے بڑے دروازوں کی طرح دوبارہ تعمیر کیا گیا اور اس کے باہر سامنے کی جانب کو بلاط قاشانی سے مزین کیا گیا اور اشعار لکھے گئے لیکن اس کی تعمیر نو کی نسبت خود والی شبلی سے منسوب کی گئی ہے نہ کہ اس کی بیٹی کی طرف اور شیخ محمد حسین حرزالدین کابیان ہے کہ اس دروازے کی تعمیر کی سب سے پرانی تاریخ ایک شاعر شیخ محسن الخضری کے ایک شعر میں آئی ہے ''شبلی نے باب اسد کو بنایا'' جوکہ ۱۲۷۶ھ /۱۸۵۹ ء کی طرف اشارہ کرتا ہے پھر موصوف اپنے جدّ بزرگوار محمد حرز الدّین کی کتاب سے نقل کر تا ہے کہ شبلی کی تعمیر۱۲۹۱ھ /۱۸۷۴ ء میں ہوئی تھی اور اس کے رواق کے ایک حجرے میںبعض علماءے عظام جیسا کہ شیخ انصاری وغیرہ دفن ہیں۔ اس کا سائز یوں ہے، لمبائی ۸ m/۷۰cm چوڑائی ۳ m/۹۷cm جبکہ بلندی ۵میٹر ہے۔
با ب الطّوسی
یہ شمال کی جانب حدود میں واقع ہے اس کی وجہ تسمیّہ یوں ہے کیونکہ اس کے سامنے بالکل آخر میں شیخ طوسی کی قبر اور ان کی مسجد واقع ہے اور یہ باہر سے قاشانی طرز تزئین سے مزین کیا ہوا ہے اور اس کے اور اس کے اوپر سونے کے حرو ف سے اشعار لکھے ہوئے ہیں ، اور اوپر کی طرف فریم بنے ہوئے ہیں جس میں قرآنی آیات لکھی ہوئی ہے اور دروازہ کے اوپر کاتب کا نام سونے کے حروف سے لکھا ہوا ہے جس پر یہ لکھا ہوا ہے ۔ ''اسے الرّاجی ناجی نے لکھا ہے'' اور اس کی تائید شیخ محمد حسین نے کی ہے وہ اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ شیخ ناجی بن شیخ محمد بن شیخ علی قفطان ہیں۔ اور یہ وہی شخص ہے جس کے بارے میں ان کے دادا محمد حرز الدّین نے اپنی کتاب المعارف بیان کی ہے کہ یہ ۱۲۷۸ھ بمطابق ۱۸۶۱ ء کے قریب فوت ہوئے اور انہوںنے صحن شریف کی چوڑائی میں لکھے کتبات میں شرکت کی ہے اور یہ نفیس ترین خطوط میں شامل ہے۔ اس کے رواق کے حجروں میں بعض علماءے عظام دفن ہیں اس کے بائیں جانب مجدد شیرازی کا مقبرہ ہے جبکہ دوسری جانب سیّد علی بحر العلوم دفن ہیں اور اس کے دائیں جانب بعض دوسرے علما ء دفن ہیں ۔
شیخ محمد حسین کے مطابق ۱۳۶۹ھ / ۱۹۴۹ ء میں اس دروازے کی توسیع ہوئی اور مسجد عمران بن شاہین میں سے تھوڑا سا حصہ شامل کیا گیا اور اس کا حجم یوں ہے طول ۱۹میٹر،عرض ۳ m/۷۵cm جبکہ بلندی ۵ m/۳۰cm ہے۔ باب طوسی کے اندر فن تعمیر کے تمام زاویوں کو مدنظر رکھا گیا ہے اور اس کی تعمیر نو کے وقت اس کی شمال کی جانب کچھ واقع کچھ مکانات ڈھائے گئے اور صحن کے حدود کے شمال مغرب میں ایک سائبان بنایاگیا تاکہ زائرین وہاں بیٹھ کر آرام کر سکے اور خاص طور سے گرمی کی شدت اور بارش سے بچنے کے لئے یہ انتہائی مفید ثابت ہوتا ہے اور بعض محافل و مجالس کے انعقاد کیلئے بھی اسی کو استعمال کیا جاتا ہے۔
باب الفرج
یہ صحن کے دوسرے دروازوں کی نسبت بیرونی طرف میں چھوٹا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک حجرہ تھا اور بعد میں یہاں دروازہ نکالاگیا اس کا اندرونی حجم میں طول ۸ m/۴۰cm عرض ۳ m/۴۰cm جبکہ بلندی ۵ m/۱۰cm ہے یہ حساب عتبہ علویہ کے انجینئرنگ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ہے۔ یہ اس نام سے اس لئے مشہور ہے کیونکہ یہ مقام امام مہدی کے روبرو ہے اور یہ سلطان عبد العزیز عثمانی کے عہد ۱۲۷۹ھ/۱۸۶۲ ء میں نکالا گیا اور اسی لئے اسے باب سلطانی بھی کہا جاتا ہے۔
شیخ محمد حسین اس کی وجہ تسمیہ یوں بیان کرتا ہے کہ سلطان عبد العزیز نے ایران کے سلطان ناصرالدین قاچاری کی عراق کے مقامات مقدسہ کے زیارات کے دوران ۱۲۷۸ھ بمطابق ۱۸۷۰ ء میں سے نکالا تھا۔ اس کے بعد یہاں بازار باب الفرج یا بازار کو چک یا بازار عمارہ کھلنا شروع ہوا۔ بازار عمارہ کی وجہ تسمیہ محلہ عمارہ ہے جسے پرانے زمانے میں رباط الجوینی سے نسبت کی وجہ سے محلہ رباط کہا جاتا تھا۔ اور ۱۹۹۱ ء میں جنگ خلیج کی وجہ سے یہ بازار اور پورا علاقہ بحر نجف کے ٹیلے تک ڈھے گیا لیکن اب یہ تمام علاقے صحن شریف میں شامل کیے جارہے ہیں اور صحن کے مغرب کی جانب باہر حدود میں زائرین امیرالمومنینـکیلئے خاص طور سے مہمان خانہ بنا یا گیا ہے یہاں یہ ذکر کرنا مناسب ہے کہ ترمیم کے دوران بعض آثار نکلے ہیں جن میں ایک قبر بھی نکلی ہے جو انتہائی قیمتی پتھر سے بنی ہوئی ہے۔
حدودِ صحن سے قریب عمارتیں
صحن شریف کے حدود کے قریب چند عمارتیں واقع تھیں ۔ان میں سے بعض ۲۰ویں صدی میں صحن کے احاطے کی سڑک کی توسیع کی وجہ ڈھائے گئے اور بعض کے کچھ حصے ڈھائے گئے جبکہ دوسرے ویسے ہی موجود ہیں۔ لیکن بعض کی نشانیاں روضہ مقدس کی مسلسل اصلاحات کی وجہ سے تبدیل ہوئی ہیں اور جو عمارتیں تھیں وہ یہ ہیں:
مسجد عمران
اس کی تاریخ کی بات گزر چکی یہ صحن شریف کی سب سے پرانی مسجد ہے بلکہ یہ نجف اشرف کی سب سے پرانی مسجدہے۔ اور اس کے ایوان علماء میں ۱۳۳۴ھ /۱۹۱۶ ء میں سیّد محمد کاظم یزدی دفن ہوئے یہ ۲۰ ویں صدی کے ایک بزرگ شیعہ عالم تھے۔ اس مسجد میں بعض علماءے کرام نماز جماعت بھی پڑھاتے تھے۔ سیّد عبد المطلب الخرسانی نے اپنی متاب میں بیان کیا ہے:'' ہمیں معلوم ہے کہ مرجع دینی آیة اللہ العظمیٰ سیّد محسن طباطبائی یہاںموسم سرما میں نماز مغربین کی جماعت پڑھا کرتے تھے اور جب مسجد راس کی تعمیر ہورہی تھی تو یہاں اپنا درس بھی دیا کرتے تھے۔ ''
اس مسجد کے شمال مغرب کا ایک بڑا حصہ صحن شریف کے ساتھ ملا ہوا ہے اس کا ایک دروازہ رواق باب طوسی کے مغرب کی جانب کھلتا ہے جبکہ دوسرا دروازہ ایوان شمال کی طرف ہے اور جب سے عتبہ علویہ کے مرافق کو ڈھا کر وہاں اب نئی تعمیر نظر آتی ہے اور یہ پچھلے دس دہائیوں تک پانی کی ٹنکی کے لئے استعمال کیا گیا ۔ اس حوالے سے علاء حیدر المرعبی نے اپنے مقالے میں جو مجلہ الولایہ میں چھپا ہے لکھا ہے مسجد کی بنیاد میں پانی جانے کی وجہ سے نقصان ہو رہا تھا اس لئے اس کے پرانے ستون کی بنیادوں پر سیمنٹ کے مضبوط کنکریٹ لگائی گئی تاکہ مسجد کی بنیاد مضبوط ہو اور اس کے علاوہ مسجد کی بنیاد کے دوسرے اطراف میں کنکریٹ کی ڈی پی سی لگاکر مضبوط کیا گیا۔
اور یہ اصلاحات تا حال جاری ہے علاء حیدر المرعبی کے مطابق کہ انہوں نے عتبہ علویّہ کے شعبہ تعمیرات کے ڈائر یکٹر انجینئر مظفر محبوبہ سے نقل کرتے ہیں اس مسجد کو اپنی اصلی حالت میں محفوظ رکھا گیا ہے۔ جسے راقم نے خود ۲۵-۱۲-۲۰۰۸کو جاکر دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ اس کی وجہ سے بڑی اصلاحات ہوئی ہیں اور میں نے وہاں سے سمجھا کہ مسجد کے اندر سے سیمنٹ کے پلاسٹر کرکے پرانے شکل اسی طرح رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے اور صحن شریف کے اور بیرونی حجروں کے درمیان جو دیواریں تھی انہیں گرایا گیا ہے اس طرح اندرونی وسعت بھی ہوئی اور ایوانوں کی بیرونی شکل بھی پرانی حالت میں باقی رہے لیکن جس طرف لکڑی کاکام ہورہا تھا وہ اپنی حالت میں باقی رہے گا یا اس کے اوپر ساگوان کی لکڑی کا ہلکا سا غلاف چڑھایا جائے گا اس طرح قدیم نقوش بھی باقی رہے گا۔
مسجد الخضرة
یہ روضہ کی ان قدیم مساجد میں شامل ہیں جس کی تاریخ تعمیر بھی معلوم نہیں ہے یہ صحن شریف کی شمال مشرق کی ابتداء میں باب مسلم ابن عقیل کے قریب واقع ہے اور یہیں سے اس طرف ایک دروازہ بھی کھلتا ہے جبکہ دوسرا دروازہ صحن شریف کے ایوان ثانی کے مشرق کی جانب ہے ۔ ڈاکٹر سعاد ماہر کے مطابق یہ ''مسجد مستطیل شکل میں ہے اور اس کا طول عرض سے دُگنا ہے اس کے درمیان میں ایک بڑا صحن ہے جس کے تین اطراف رواق پر مشتمل ہے لیکن قبلہ کی جانب والا رواق دو ایوان پر مشتمل ہے اس مسجد کی مشرق کی سمت کی دیوار کی لمبائی ساڑھے دو میٹر ہیں۔ رواق قبلہ اور صحن مسجد کے درمیان تین خوبصورت کاشانی طرز کی تین گنبد ہیں اور ایک کاشانی ٹائل پر مسجد کی تاریخ تجدید لکھی ہوئی ہے۔''
محمد الکوفی نے اپنی کتاب ''نز ہة الغری ''میں یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ ترکھان علی بن مظفر نے اسے ایک نذر کی استجابت کی وجہ سے بنائی تھی کیونکہ اس کا کوئی مال گُم ہوا تھا لہٰذا اس نے یہ نذر کی تھی کہ ''اگر میرا یہ مال مجھے مل جائے تو میں اپنے مال میں سے یہ مجلس بناوں گا ''اب یہاں روایت میں لفظ مجلس آیا ہے اور اس سے مسجد مراد نہیں ہے لیکن ہوسکتا ہے یہاں لفظ مجلس مسجد ہی سے تحریف شدہ ہے کیونکہ روایت میں لفظ مجلس سے سیاق سباق سے کوئی معنی نہیں بنتا ہے لیکن پھر بھی ہم مراد تک نہیںپہنچتے کیونکہ اس سے تعین مکان نہیں ہوتا یعنی مسجد الخضرة کی طرف کوئی اشارہ نہیں ملتا ہے اسی طرح روایت کا دوسرا حصہ بھی مبہم ہے کہ ''اس نے امیر المومنینـکو خواب میں دیکھا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر باب وراع البرانی تک لے گئے اور اس مجلس کی طرف اشارہ کیا اتنے میں امام نے فرمایا:'' یُوفُونَ بِالنّذر'' تو میں نے فوراً کہا:'' حُبّا و کَرامةً یا امیرالمومنین'' ۔پھر وہ داخل ہوا اور کام کرنا شروع کیا۔
لیکن سیّد عبد المطلب الخرسان نے حسین شاکری کی کتاب ''کشکول ''سے نقل کی ہے کہ یہ مسجد عمران بن شاہین کی بہن ''خضراء ''نے بنوائی تھی ۔مگر سیّد عبد المطلب اس بات کو بعید گردانتے ہیں کیونکہ شاکری نے اس معلومات کا ماخذ بیان نہیں کیا ہے کیونکہ اس مسجد کا نام خضرہ ہے اور لفظ خضراء اس صدی کے لوگوں کیلئے جدید ہے۔بہر حال شاکری کی یہ رائے خوبصورت ہے اگر ہمیں خواہر عمران کی حالات زندگی معلوم ہوجائے یا کوئی ماخذ اس بات کی تائید کرے کیونکہ میرے خیال میں دراصل خضراء ہی نام تھا پھر الف ممددہ ہا ء میں تبدیل ہوا ہے ایسا عام طور پر عامةالناس تسہیل کی خاطر کرتے ہیں جعفر محبوبہ کے مطابق یہ اسم خضرہ ہے اسی وجہ سے مسجد کا نام خضرہ ہوا ہے یہ ان کا اجتہاد ہے لیکن اس کی تائید ہمیں کہیں سے نہیں ملتی ہے۔
شیخ محمد حرزالدین نے اپنی کتاب میں شیخ جعفر الشوشتری متوفی ۱۳۰۳ھ/۱۸۸۵ ء کی حالات زندگی میں مسجد کی وجہ تسمیہ کو بیان کیا ہے کہ ''ملالی کے زمانے میں ایک ہندی درویش نے اس مسجد سے متصل صحن میں سبزہ لگایا تھا بعد میں اسی مناسبت سے یہ مسجد الخضرہ سے مشہور ہوا۔ ''اس کی تائید سیّد عبد المطلب الخرسان کی بات سے ہوتی ہے جسے انہوںنے اپنی کتاب میں بیان کی ہے ''یہ مسجد دسویں صدی میں موجود تھی کیونکہ اس زمانے میں خاندان ملّالی کے جدّ اعلیٰ ملّا عبد اللہ صاحب ''حاشیة المنطق''شاہ عباس صفوی الاوّل متوفی ۱۰۳۷ھ / ۱۶۲۸ ء کی جانب سے حرم علوی کے خازن تھے۔''
لیکن خضرہ کے معنی یہاں واضح نہیں ہوا شاید یہ وجہ بھی ہوکہ مذکورہ درویش نے خاص طور سے اس مسجد کیلئے سبز رنگ کا کاشانی غلاف بنایا تھا اور اس مسجد کی ۱۳۵۲ھ / ۱۹۳۴ ء میں وزارت اوقاف نے تعمیر نو کی پھر یونین کونسل نے صحن سے ملحق سڑک کی تعمیر کی خاطر اس کا تیسرا حصہ ڈھایا اور ترمیم کے بعد سڑک کی جانب ایک دروازہ نکالا ۱۳۸۴ھ / ۱۹۶۴ ء میں مرجع دینی آیة اللہ العظمیٰ سیّد ابوالقاسم الخوئی کے حکم سے مسجد الخضرہ اور اس کے اطراف کی دوبارہ وسعت کے ساتھ شاندار انداز میں تعمیر نو ہوئی۔ یہ عمارت نجف کی مساجد میں سب سے بڑی عمارت شمار ہوتی تھی جس پر اس زمانے میں پچّیس ہزار دینار عراقی خرچ ہوا تھا اور حدودِ صحن کے مشرقی جانب ایک دروازہ نکالاگیا اور سیّد الخوئی خود یہاں درس دیتے تھے ۔ سیّد عبد المطلب الخراسان کے مطابق سیّد الخوئی اپنی ناسازی طبیعت کی وجہ سے اپنے داماد سیّد نصر اللہ المستنبط کو یہاں درس و تدریس اور اقامت جماعت کیلئے نائب قرار دیا تھا لیکن ان کے انتقال کے بعد یہ نیابت سیّد علی حسینی السیستانی کو تفویض کی جو چند سال جاری رہی پھر وزارت اوقاف نے ترمیم و تعمیر نو کے بہانے بند کروادی لیکن بروز پیر ۲۵-۰۵-۲۰۰۶کو سیّد السیستانی کے حکم سے دوبارہ کھولا گیا۔ سیّد الخوئی کا مقبرہ بھی اسی مسجد میں صحن شریف کی طرف ایک ایوان میں موجود ہے۔
مدرسة الغروریة ''حسینیة آل زینی''
یہ حدود سے ملحق عمارت ہے اور مشہور ہے کہ اسے نجف کے ایک سرمایہ دار سیّد ہاشم زینی نے بنوایا تھا۔ اور اس کے دائیں جانب شمالی حدود میں باب طوسی واقع ہے اسی میں یا اس کے قریب باب طوسی میں مجدّد شیرازی کے مقبرہ اور درس کی جگہ بھی ہے۔ اس حسینیہ کے اندر جانے کے لئے شمالِ مشرق کے زاویئے ایوان سوم میں ایک ہی دروازہ واقع ہے۔ سیّد عبد المطلب الخرسان کے مطابق اس عمارت کی پہلی منزل میں دو بڑے مستطیل شکل متوازی کمرے ہیں جن کے درمیان مربع شکل کھلا دالان موجود ہے اور اس تالان کے مغربی جانب وضو خانہ ہے ۔ جبکہ اس کی دوسری منزل میں پہلی منزل کے دو حجروں کے اوپر دو کمرے ہیں ۔ اور ان دونوں کمروں کے سطح میں دونوں منزلوں کے درمیان مستطیل الشّکل میں ایک ایوان ہے ''کتا ب الصّحیفہ ''میں یہ بھی موجود ہے کہ یہاں آب باراں اور وضو کیلئے پانی کے واسطے ایک بڑا کنواں موجود تھا۔اکتوبر ۲۰۰۵ ء کو اس حسینیہ کی عمارت کو تعمیر نو کی خاطر ڈھایا گیا اور صحن کے شمالی حدود میں مشرق کی جانب ایک نیا دروازہ نکالاگیا، اس کی تعمیر نئے طرز میں بڑے آب و تاب سے جاری ہے اس میں ان دیواروں کو بھی ڈھایا گیا جو صحن کے حجروں اور اس عمارت کے درمیان تھیں اس کے ساتھ اسماعیلی بادشاہوں کی قبروں کو بھی گرایا گیا لیکن ان قبور کے نشانات اور بیرونی شکلوں کو محفوظ رکھا گیا۔
کتب خانہ ِروضہ حیدریہ
یہ حدود صحن کے شمال مغرب میں واقع ہے یعنی مسجد عمران کے مغرب کی جانب اس کا ایک دروازہ بیرونی حدود سے ہے جبکہ دوسرا دروازہ صحن سے نکالاگیا ہے اس لائبریری کے اندر لاکھوں کی تعداد میں مطبوعہ اور مخطوطہ کتب موجود ہیں اس کے اندر خاص گوشہ ہے جہاں پر ہر زمانہ میں سیرت امیر المومنینـاور نہج البلاغہ اور اس کی شروح کی کتابیں ہیں اور اسی میں شعبہ تحقیق و نشرو اشاعت بھی ہے یہاں پر اہل مطالعہ اور محققین کیلئے بہت سارے کمپیوٹر اور ہزاروں سی ڈیز اور کھلے ریڈنگ رومز ہیں۔ بے شمار لوگوں نے اپنی پوری پوری لائبریریاں اٹھاکر اس عظیم کتب خانہ کیلئے وقف کی ہیں یہاں یہ کتابیں ان کے نام کے ساتھ محفوظ ہے وہ تمام کتب مخطوطہ بھی یہاں منتقل کی گئی ہیں جو اس سے قبل صحن سے ملحق ایک بڑے کمرے میں رکھی ہوئی تھیں۔ یہ کتب خانہ آج کل عراق کے بڑے کتب خانوں میں شمار ہوتا ہے۔
دارا لشفاء
شیخ محمدحسین حرز الدین کے مطابق یہ عمارت شاہ صفی کے حکم سے اس وقت بنایا گیا جب انہوں نے ۱۰۴۲ھ / ۱۶۳۲ ء میں نجف کی زیارت کی تھی اور یہ صحن شریف کے حدود کے جنوب مشرق میں واقع ہے بعد ازاں اسے گرایا گیا اور اس جگہ ایک مدرسہ بنایاگیا پھر حرم شریف سے ملحق سڑک کی توسیع کی وجہ سے اسے گرایا گیا۔
مسجد راس
سیّد عبد المطلب نے اپنی کتاب ''مساجد و معالم ''میں بیان کیا ہے کہ یہ مسجد عمارت صحن حیدری کے مغربی زاویئے سے ملی ہوئی ہے اور قدیم مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ اس حوالے سے شیخ جعفر محبوبہ لکھتے ہیں کہ اس کے دیواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حرم علوی کے ساتھ بنی تھی اور بُراقی نے اس کی نسبت شاہ عباس اوّل ۱۰۳۸ھ /۱۶۲۹ ء کی طرف دی ہے۔
اسی مسجد میں مشہور مرجع آیت اللہ نائینی نماز جماعت پڑھا تے تھے ان کے بعد سیّد جمال الدین ہاشمی امام جماعت مقرر ہوئے۔ آیت اللہ محسن الحکیم طبا طبائی یہاں اپنے طلباء کو درس دیتے تھے۔ اس مسجد کا مذکورہ نام رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ کیونکہ امام کے بالائے سر کی طرف واقع ہے یا یہ کہ سرِ مبارک امام حسینـیہیں پر دفن ہے جیسا کہ اس بارے میں امام صادقـسے روایت بھی ہے۔
ڈاکٹر سعاد ماہر کے مطابق اس مسجد کی تعمیر ایلخانیوں کے زمانے میں ہوئی تھی جیسا کہ اس کے قدیم محراب سے ظاہر ہے پھر شاہ عباس اوّل کے زمانے میں اس کی تعمیر نو ہوئی بعد ازاں سلطان نادرشاہ کے زمانے میں اس کی دوبارہ تعمیر ہوئی جب انہوںنے روضہ کے گنبد اور دونوں میناروں پر سونا چڑھانے کا حکم دیا تھا۔ جس کی تعمیراتی اخراجات کل بیس ہزار نادری ہوا تھا جسے نادرشاہ کی زوجہ رضیہ سلطان بیگم نے ادا کی تھی پھر دوبارہ سلطان عبد الحمید کے زمانے میں اس میں ترمیم ہوئی سنگ مرمر کا منبر بنایا گیا اور تاریخ ترمیم لکھا گیا جو کہ یہ ہے ۱۳۰۶ھ بمطابق۱۸۸۸ء ۔ لیکن شیخ محمد حسین حرز الدین کے مطابق یہ مسجد غازان بن ہلاکو متوفی ۷۳۰ھ بمطابق ۱۳۳۰ ء نے بنوائی تھی اس بات کی تائید ابن بطوطہ کے بیان سے بھی ہوتی ہے جب وہ ۷۲۶ھ/۱۳۲۷ ء میں نجف آیاتھا وہ لکھتے ہیں:
''روضہ کیلئے ایک دروازہ اور ہے جس کا چوکھٹ چاندی کا ہے جو ایک مسجدکی طرف کھلتا ہے جس کے چار دروازے ہیں جن کے چوکھٹ بھی چاندی کے بنے ہوئے ہیں۔''
بعض یہ اندازہ لگاتے ہیں کہ مذکورہ مسجد عمران سے منسوب ہے لیکن یہ قبول کرنا مشکل ہے کیونکہ روایت میں اس نسبت میں لفظ رواق آیا ہے اور اس سے مراد احاطہ ہے نہ مسجد۔
شیخ محمد اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ سیّد داود الرّفیعی نے مرزا ہادی کیلئے اپنے آباء سے ایک روایت بیان کی تھی کہ مذکورہ مسجد دراصل ایک چھوٹا مربع شکل کا ایوان ہے جو قبلے کی جانب دیوار میں محراب اور ساباط کے درمیان ہے یہاں ایک قبر بھی ہے اس کے لئے ایک فولاد کی قیمتی کھڑکی ہے اور اس کیلئے ایک چھوٹا دروازہ بھی ہے جس پر تالا لگا ہوا ہے ''روایات کے مطابق یہ قبر سر مبارک حسین ابن علی ابن ابی طالب کی جگہ ہے اس ایوان میں سبز رنگ کے پردے لگے ہوئے ہیں اس کے ایک جانب ایک چوکور پتھر جس پر خط کوفی میں کچھ لکھا ہوا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے یہ جو ''مسجد رأس ''کے نام سے مشہور ہے اسے غازان بن ہلاکو خان نے پورے ایک سال میں تعمیر کروایا تھا اس دوران وہ نجف اور ثویّہ میں واقع مسجد الحنانہ کے درمیان خیمہ لگاکر بیٹھا رہا۔
شیخ محمد یہ بھی لکھتے ہیں کہ اس قبر کی زیارت کے لئے ہند سے اسماعیلی آتے تھے بعد میں زائرین کی کثرت کی وجہ سے وزارت اوقاف عثمانیہ نے مقام تکیہ البکتا شیہ کی طرف سے ایک دروازہ نکالا اور پہلا والا دروازہ بند کردیاپھر بعد میں آنے والوں نے اس دروازے کو بھی بند کروادیا اس طرح یہ مسجد عراق میں عربی حکومت کی تشکیل تک کافی سالوں تک بند رہی۔
موصوف فرماتے ہیں ''اس دور میں یہ قبور دوبارہ دریافت ہوئی اور ۹۳۲ھ / ۱۳۵۱ ء میں ان کی دوبارہ تعمیر ہوئی اس مسجد میں پہلی بار اس سال۲۳ذی الحجہ کو داخلہ ہوا ہم نے جب اس قبر کی علامت کو دیکھا تو یہاں قبلے کی جانب دیوار پر ایک پتھر کے سوا کچھ نہیں تھا جس کی لمبائی ایک ہاتھ سے لمبا جبکہ اس کا عرض ایک ہاتھ تھا اور اس پر گولائی میں قرآن کریم کی یہ آیت لکھی ہوئی تھی:( اٰمَنَ الرَّسُولُ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْهِ مِنْ رَبِّه ) اور اس کے درمیان تقریباً ایک سطر خط کوفی میں لکھا ہوا تھا۔ مسجد کا رقبہ ساباط سے دو ہاتھ بلند ہے اور یہ اصلی سطح زمین ہے آج کل صحن شریف کے ٹائلیں اس سے چار ہاتھ بلند ہے ۔ سیّد عبد المطلب الخرسان کے مطابق ''پتھر جس پر کوفی میں لکھا ہوا ہے اور ایک دوسرا پتھر جو محرابی شکل میں مسجد کے محراب میں نصب ہے شیخ حرز الدین کہتے ہیں ان دونوں پتھروں کے آثار بہت اہم ہیں ۱۹۶۵ ء میں آثار قدیمہ کاایک وفد جدید کیمرے کے ساتھ بعض تاریخی آثار کی تصویر لینے کیلئے آئے تھے تو انہوں نے مجھ سے ان دونوں پتھروں کے بارے میں پوچھا تو میں نے انہیں دکھایا، میرے پوچھنے پر انہوں نے بتایا کہ آثار قدیمہ کے ادارے نے ۱۹۳۷ ء میں ان دونوں پتھروں کی تصویر لی تھی کیونکہ یہ مشہور پتھر چینی لوہے کے ہیں اور یہ منفرد قسم کے ہیں جو کہ رنگدار ہیں چینی لوہا عام طور سے سیّاہ ہوتا ہے اور جب مسجد کو گرایا گیا تو یہ پتھر الماری میں رکھ دیاگیا تاکہ زنگ لگنے سے محفوظ رہے۔''
شیخ جعفر محبوبہ سے منقول ہے کہ مسجد راس علّامہ سیّد بحر العلوم کے زمانے میں دوبارہ تعمیر کی گئی اور وہ اپنے بعض خاص افراد سے فرماتے تھے کیونکہ یہ سر مبارک امام حسین کی جگہ ہے اس لئے یہاں مسجد بنائی گئی ہے۔ اور اس مسجد کے لئے حدود صحن کے باہر مغرب کی جانب سے ایک دروازہ نکالا گیا جب راقم نے اپنی زیارت کے دوران اس کی نئی عمارت کو دیکھا جو ابھی تک مکمل نہیں ہوئی ہے میں نے دیکھا کہ وہاں آثار قدیمہ کی انتہائی نگہداشت کے ساتھ تعمیر و ترمیم جاری ہے ۔ مذکورہ مسجد سے ملحق ساباط جو مغربی رواق کے جانب واقع ہے اس کی بھی تعمیر جاری ہے۔
تکیہ بکتا شیہ
یہاں تکیہ سے مراد وہ جگہ ہے جہاں عام طور پر لوگ عبادت کیلئے اپنے آپ کو جدا کرتے ہیں اور یہ نام عہد عثمانی سے شروع ہوا ہے ڈاکٹر سعاد ماہر کے مطابق بکتاشیہ دراصل ایک ترک صوفی فرقہ ہے جو سیّد محمد بن ابراہیم آتا ہے جو حاجی بکتاش کے نام سے مشہور تھا یہ شیخ حمد ایسوی کا ماننے والاایک ترک ولی تھا ان کا سال وفات ۷۳۸ھ / ۱۳۳۸ ء ہے ۔ یہ تکیہ حدود صحن کے شمال مغرب میں واقع ہے ۔ سیّد عبد المطلب نے اپنی کتاب ''مساجد و معالم ''میں لکھا ہے ''یہ پرانی عمارت مسجد بالائے سر کے شمال صحن شریف کے مغربی زاویئے سے ملی ہوئی ہے اس کے تین دروازے ہیں ان میں سے ایک ساباط کے نیچے ایوان میں واقع ہے دوسرا دروازہ شمالی ساباط کے دوسرے ایوان میں ہے جبکہ تیسرا دروازہ صحن حیدری سے ملحق سڑک مغرب میں واقع ہے۔''
لیکن سیّد محسن الامین نے اپنی کتاب ''اعیان الشیعہ ''میں لکھا ہے کہ یہ دراصل عضد الدولہ کا مقبرہ تھا جیسا کہ اس سے پہلے بیان ہوچکا کہ ''عضد الدّولہ نے اپنے لئے نجف میں مشہد علی کے جوار میں مغرب کی جانب سے ایک بڑا گنبد بنوایا تھا اور پھر یہ وصیت کی تھی اسے یہیں پر دفنا یا جائے اور بعد ان کے وصیت کے مطابق انہیں یہیں پر دفن کیا گیا۔ بعد میں شہزادہ سلیمان عثمانی ۹۳۰ھ /۱۵۳۳ ء کو جب عراق میں داخل ہوا تو اسے گرا دیا گیا اور اسے بکتاشی فرقہ کے تکیہ یعنی عبادت خانہ قرار دیا گیاجو آج تک باقی ہے اس کا دروازہ صحن شریف کے مغرب میں واقع ہے بعض کا خیال ہے یہ کام شہزادہ سلیم نے انجام دیا تھا لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے بیٹے سلیمان نے یہ دروازہ نکالاتھا بعد میں سلیم سے ان کی شہرت کی وجہ سے منسوب ہوا۔''
یہ بات تھوڑی بہت غورو فکر کرنے سے غلط ثابت ہو جاتی ہے کیونکہ رواق میں عضد الدّولہ دفن ہے جسے ہم بعد میں بیان کریں گے جس کی طرف ڈاکٹر سعاد نے اشارہ نہیں کیا ہے۔
انہوںنے ا س بات کو ترجیح دی ہے کہ یہ تکیہ آٹھویں صدی ہجری میں حاجی بکتاش کی زندگی میں بنا تھا جہاں نجف اشرف میں وہ ایک مدت تک اعتکاف کرتے تھے اس جگہ کو عثمانیوں نے خاص عنایت بخشی ہے اس لئے کہ وہ نجف میں جب بھی آتے تھے یہیں پر ٹھہرتے تھے۔ یہ مقام دو حصوں پر مشتمل تھا ایک حصہ نماز و دروس کیلئے مختص تھی جو چار چوکور ایوانوں پر مشتمل تھی اور درمیان میں ایک چھوٹا صحن تھا جبکہ دوسرا حصہ رہائش کے لئے تھا یہ چوکور تھی اور دو منزلوں پر مشتمل تھی جہاں کمرے اور اس کے لوازمات مرافق وغیرہ تھے۔
اس حوالے سے شاید سیّد عبد المنعم الخرسان کا بیان زیادہ دقیق ہے وہ کہتے ہیں ''اس کے شمال میں ایک بڑا مستطیل کمرہ ہے جو ایک ہال جیسا ہے اس کے بالکل روبرو جنوب میں ایک مستطیل شکل کا کمرہ اور ہے ان دو کمروں کے درمیان ایک کھلا دالان ہے اس کے سطح کے برابر مغرب میں ملے ہوئے دو کمرے ہیں ان تمام کمروں کے چھت بلند ہے ''وہ مزید آگے لکھتے ہیں ''یہ کمرے روضہ حیدریہ مقدسہ کے اسٹور کے طور پر استعمال ہوتے تھے جہاں پر قالین ، فانوس اور پرانے چاندی کے دروازے رکھے ہوئے تھے۔ ۱۹۸۵ ء بمطابق ۱۴۰۵ھ میں ادارئہ اوقاف نے اسے گراکر اس جگہ مہمان خانہ بنوایا ''۔موصوف اپنی کتاب الصحیفہ میں بیان کرتے ہیں کہ مقام تکیہ کے جنوب کے ایک حصے میں دو کنویں بھی تھے جس کا قُطر شیخ محمد حرز الدین کے مطابق دو میٹر سے زیادہ تھا اس کے برابر میں آب باراں کے لئے ایک ٹینکی ہے جو صحن کے سطح پر واقع ہے اور کنویں سے اس میں پانی بھرا جاتا تھا تاکہ حرم کا فرش دھویا جائے لیکن اب اسے ضرورت نہ ہونے کی وجہ سے گرا دیا گیا ہے۔
شیخ محبوبہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ بعض کا گمان ہے کہ یہ مقام تکیہ روضہ مقدسہ کی کتابوں کا اسٹور ہے۔ اب مزید کثرت زوّار کی وجہ سے توسیع نو ہوئی ہے تو تکیہ کا ایک حصہ بھی اس میں داخل ہوا ہے لیکن باقی حصے مہمان خانہ بنیں ہیں۔
دارِضیافت
سیّد عبد المطلب الخرسان کے مطابق دارِ ضیافت دراصل تکیہ بکتاشیہ ہی تھا ۱۹۸۵ ء میں ادارہ اوقاف نے اس کو گراکر اس کی جگہ دارِ ضیافت بنایا۔ اور اس کی جدید توسیع میں تکیہ کا ایک بڑا حصہ شامل کیا گیا یہ ایک مربع شکل ہال کے ساتھ متصل باورچی خانہ اور اس کے لوازمات پر مشتمل ہے جبکہ اس کی دوسری منزل میں عتبہ علویّہ کے مہمانوں کے لئے ایک بڑا کمرہ ہے اور ایسا ہی دوسرا کمرہ امانتیں رکھنے کیلئے مختص ہے اس میں داخل ہونے کے دو راستے ہیں۔ ایک شمالی ساباط کی جانب متصل ایوان سے ہے جبکہ دوسرا مغربی صحن کے حدود سے ہے اور اس کے ہال میں بعض مناسبات میں پروگرام منعقد ہوتے رہتے ہیں۔ راقم نے بھی یہاں امیر المومنین کی زیارت کے دوران بروز بدھ کی شام ۱۷نومبر ۲۰۰۸ ء کو روضہ و مرقد امام علی بن ابی طالب کے حوالے سے ایک لیکچر دیا تھا۔ صحن کے مغربی جانب حدود سے باہر زائرین کے لئے ایک اور مہمان خانہ بھی بنایا گیا ہے جیسا کہ اشارہ کیا گیا۔
سَاباط
سیّد عبد المطلب الخرسان کے مطابق ساباط یا طاق ''صحن حیدری'' کا وہ مغربی حصہ ہے جس کے مشرقی جانب رواق ہے جبکہ اس کے مغربی سمت میں تکیہ بکتاشی اور مسجد بالائے سر ہے جو ایک ہی جیسا آٹھ قوسوں پر مشتمل ہے جس کے درمیان فاصلہ بھی برابر ہے اور ان قوسوں کے درمیان چھوٹے چھوٹے گنبد اسلامی طرز تعمیر سے بنے ہوئے ہیں۔ اس کے درمیان چار کونہ ایک کھلا دالان موجود ہے اور یہ دو حصوں میں تقسیم ہوتا ہے جن کے طول اور حجم بالکل برابر ہیں ایک حصہ شمال کی جانب ہے جبکہ دوسرا جنوب کی طرف ہے اور اس کے داخل ہونے کے دو راستے شمال و جنوب میں ہیں۔
اس کا مشرقی زاویہ مغربی رواق سے متصل ہے اور اسی طرف رواق کے تمام حجروں کی پانچ کھڑکیاں ساباط میں کھلتی ہیں۔ اور اس میں دو چھوٹے چھوٹے کمرے اور ہیں ان میں سے ایک راستہ شمالی طرف جبکہ دوسرا مدخل جنوبی جانب میں ہے۔مغربی زاویہ میں چھ کمرے ہیں ان میں سے اس کی شمال کی جانب تین کمرے جویہ اور تکیہ بکتاشی کے درمیان واقع ہیں۔ جبکہ تین جنوب کی طرف ہے ان میں دو یہ اور مسجد بالائے سر کے درمیان ہے ان میں ہر ایک کے مشرق و مغرب کی طرف دو بڑی کھڑکیاں ہیں اور مغربی زاویہ کے درمیان ایک ایوان ہے اس ایوان کے شمالی زاویہ میں دو متصل دروازے ہیں۔ ان میں ایک صحن شریف کے زینے کے لئے ہے دوسرا تکیہ بکتاشی کے لئے۔ جنوبی ایوان کے زاوئیے میں دو دروازے ہیں ان میں ایک مسجد بالائے سر کے لئے دوسرا ایک چھوٹا کمرہ کی طرف کھلتا ہے جہاں ایک مشہور لبنانی عالم سیّد سعید فضل اللہ دفن ہیں اور ساباط کے دونوں اطراف اوپری حصہ میں ایک منزل اور ہے جس میں تین کمرے ہیں جن کے درمیان گزرنے کا راستہ بھی ہے ۱۴۲۶ھ/۲۰۰۵ ء میں رواق کی توسیع میںیہ ساباط گرادیا گیالیکن اس صورت میں بھی اس کے نشانات اور قدیم مسجد کے نشانات محفوظ رہیں گے۔
حدودِ صحن کے سامنے باقی ایوانوں کی طرح دو ایوانیں ہیں جن کے اندر فن اسلامی کی عظیم شاہکار انتہائی خوبصورت انداز میں نمائندگی کر رہا ہے۔ جو سنہرے خطوط سے مزین ہے اور ماہر خطا طوں سے قرآنی آیات اس کے اطراف میں لکھی ہوئی ہیں ، ایسا اسلامی فنی شاہکار پوری دنیا میں موجود اسلامی عمارتوں میں آج کل نظر نہیں آتا اور یہ دو ایوان مندرجہ ذیل ہیں ۔ ایوان جنوبی، ایوان شمالی۔
ایوان جنوبی
اس کو ایوان بزرگ بھی کہا جاتا ہے اور یہاں مختلف علماء کے دفن ہونے کی وجہ سے یہ مشہور ہے لیکن اس کی بلندی اور عرض اس کے مقابل میں ایوان میزاب الذہب کی طرح ہے اور یہ علماء کے مقبرہ بن چکا ہے یہاں عالم شہید سیّد محمد سعید الحبوبی ۱۳۳۳ھ/۱۹۱۴ ء کو دفن ہوئے اور ایوان انہی کے نام سے مشہور ہے اس کے محراب کے اوپر کاشانی ٹائل پر یہ لکھا ہے۔
'' اسے بندئہ حضرت ملک اقدس امجد احمد نے ۱۱۹۸ھ /۱۷۸۳ ء کو تمام کیا ''اور ''یہ شخص احمد کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ ایک نواب ہے جس نے نجف اشرف آکر صحن میں کاشانی حجرہ بنوانے کے لئے بڑی تعداد میں اموال عطا کئے ''اس کی ٹائلوں پر اشعار لکھے ہوئے ہیں اور دیگر ایوان کی طرح اس کے اوپر فریم بنے ہوئے ہیں اور اس کے مشرقی و مغربی اطراف میں نیلے رنگ پر سفید رنگ میں آیات قرآنی مکتوب ہیں لیکن اس کے اگلی طرف عام لکڑی سے بنا ہوا ہے۔ سیّد عبد المطلب الخراسان کے مطابق اس کے قریب ایک کنواں تھا اور جیسا کہ گزر چکا کہ اس کے ایک طرف فاطمہ بنت شبلی نے ۱۲۹۱ھ / ۱۸۷۴ ء میں ایک تالاب بنوایا تھا۔
ایوان شمالی
یہ صحن شریف کے شمال میں واقع ہے بعض کا بیان ہے کہ یہ ایوان رواق عمران کا حصہ تھا ۔ ان میں شیخ علی الشرقی اپنی کتاب ''الاحلام ''میں لکھتے ہیں۔ ''یہ رواق عمران بن شاہین کا ایک حصہ ہے اس پر خط کاشانی میں یہ آیت مکتوب ہے( اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسَاجِدَ اﷲِ ) اور بعض علماء یہاں بیٹھنے اور گزرنے سے گریز کرتے تھے۔''اس گمان سے کہ یہ مسجد عمران کا حصہ ہے اس کیلئے یہی آیت پیش کرتے تھے۔
لیکن شیخ الشرقی کے مطابق اس کی دوسری تفسیر ممکن ہے کیونکہ قرآنی آیات ۱۲۵۱ھ میں لکھا گیا ہے اور خطاط نے سورہ توبہ سے پانچ آیات کا انتخاب کیا ہے شاید مسجد کی طرف جو اشارہ ہے وہ ایوان کے پیچھے جو مسجد ہے اس کی طرف ہے۔
محمد الکوفی نے اپنی کتاب ''نزہة الغری ''بیان کیا ہے کہ ''اہل نجف کے ہاں اس مسجد کے بارے میں مشہور ہے کہ باب طوسی میں جو مسجد ہے وہ مسجد عمران ہے اور ان کا گمان ہے کہ یہ رواقِ عمران بن شاہین ہے بعض دوسرے کا خیال ہے اس مسجد کا کچھ حصہ صحن شریف میں شامل ہوا ہے ۔''
یہ دوسرے ایوانوں کی طرح ایک منزلہ ہے ۔ اس کے اندرونی چھت پر تھر ما پول کا فریم بناہوا ہے اور دائیں بائیں اطراف میں نیلے رنگ کے اوپر سفید خط میں آیات قرآنی مکتوب ہیں اس کتابت کی تاریخ ۱۲۵۱ھ ہے اور خطاط کا نام محمد صالح ظبیبِ قزوینی قرآنی آیات کے نیچے ایک مستطیل خانے میں نیلے رنگ پر پیلے رنگ سے لکھا ہوا ہے اور اس کے اندرونی فریم میں لائنوں میں کاشانی پتھر لگے ہوئے ہیں ان دونوں لائنوں کے درمیان بدبع صناعت میں رسوم نباتیہ لگا ہوا ہے اب یہ اندر سے مسجد عمران سے ملحق ہوگا کیونکہ توسیع نو کے دوران ان کے درمیان والی دیوار گرادی گئی ہے۔
صحن شریف کے گنبد فنی بداعت میں قرون ماضی کی اسلامی تعمیرات کی نمائندگی کر رہے ہیں اور شاید ہی اس طرح مشہور اسلامی عمارتوں میں ہو کیونکہ یہ اپنے رسوم نباتیہ رنگین، بدیع خطوط، دقیق صناعت، کمالِ فن اور معیاری مواد کے استعمال کی وجہ سے تمام مسلم و غیرمسلم زائرین کی آنکھوں کو خیرہ کئے ہوئے ہے۔ یہاں یہ ذکر بھی زیادہ مناسب ہے کہ اس روضہ مقدسہ کے تمام رموز و اسرار کی معرفت محققین کے لئے بہت زیادہ مشکل ہے۔ اس لئے کہ مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ ایوان شمالی کی ترمیم کے دوران ایسی قبریں بھی دریافت ہوئی ہیں جو بعض بادشاہان ہند اور شیعوں کے بزرگ اشخاص کی ہیں اور قبروں کے اطراف باریک انداز میں دراز کرکے کاشانی سے مزین کیا گیا ہے۔
روضہ مبارک کی گھڑیال
یہ ناقوسی گھنٹی والی گھڑی ہے اس کے اوپر ایک طلائی مخروطی گنبد ہے یہ ایک مخصوص مینار کے بالکل اوپر ہے یہ مینار باب شرقی کے اوپر ہے اور ایوان طلاء کے رو برو ہے اسے باب السّاعہ بھی کہتے ہیں ۔
ڈاکٹر سعاد اپنی کتاب میں لکھتی ہے کہ ''حدودِ صحن کے سطح پر ایک مقام ہے اس کے اوپر سنگ مرمر کا ہشت پہلو گنبد ہے اور گھڑی دوسری منزل میں ہے۔''
اس کے خوبصورت بلند اور طلاء سے مرقع مینار کے گنبد پر خوبصورت فن کی نشانیاں موجود ہیں اس کے سامنے والے حصہ میں خوبصورت کاشانی کام ہوا ہے اور اس کے مرقد امام کی طرف کو تین حصوں میں تقسیم ہوا ہے ان میں سے ہر قسم کو فریم کی صورت میں مزید تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے ان میں اوپر والے حصے میں امام علیـ کی شان میں حدیث اور اسکے درمیان یہ آیت مکتوب ہے( یَدُ اﷲِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ ) جبکہ دوسرے حصوں میں اشعار کے ضمن میں بعض احادیث لکھی ہوئی ہیں۔
شاید یہ گھڑیال تمام روضہ ھائے اہل بیت میں سب سے قدیم اور بہترین ہے اس کی آواز قدیم شہر کے کنارے تک سنی جاتی تھی لیکن خرابی کی وجہ سے یہ گھڑیال بند پڑی تھی اب حال ہی میں کچھ ماہرین اس کو ٹھیک کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔
شیخ علی شرقی کے مطابق صحن شریف میں یہ پہلی گھڑی نہیں ہے بلکہ اس سے قبل اسی جگہ گھڑی موجود تھی۔
اس حوالے سے ڈاکٹر حسن اپنی کتاب میں لکھتے ہیں ''یہ موجودہ گھڑیال ۱۳۰۴ھ /۱۸۸۷ء میں نصب کیا گیا تھا۔ڈاکٹر حسن کے مطابق یہ ۱۳۰۵ھ /۱۸۸۸ء میں نصب ہوا۔ ''اسے شہزادہ ناصرد الدین قاچاری نے اپنے وزیر خزانہ کے ساتھ بھیج کر حرم کے لئے ہدیّہ کیا تھا۔
تمیمی نے اپنی کتاب ''مشہد امام ''میں لکھا ہے کہ اسے ۱۳۰۵ھ /۱۸۸۸ء میں نصب کی گئی تھی اسی بات کو ڈاکٹر سعاد مانتی ہے۔۱۳۲۳ھ / ۱۹۵۰ ء میں اس گھڑی کے سامنے والی سمت کی تزئین و آرائش ہوئی اس کے بعد گنبد کی طلائی پر شہر تبریز کے ایک تاجر نے تقریباً بیس ہزار دینار خرچ کیا تھا ۔
شیخ کاظم حلفی نے موسوعہ نجف اشرف میں لکھا ہے کہ ''۱۳۹۳ھ / ۱۹۷۳ ء میں مرجع دینی آیت اللہ محمود شاہرودی نے اس گھڑیال کے مینار کی طلائی کے لئے خاص رقوم مختص کرکے مکمل کیا۔''
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مخیرحضرات نے ان کے ذریعے گنبد کی تزئین کی ڈاکٹر حسن نے اپنی کتاب میں لکھاہے کہ ملکی اخبار میں یہ خبر آئی تھی کہ عراق کے صدر عبد الکریم قاسم نے ۱۹۶۲ ء میں صحن امام علیـکیلئے ایک بڑی گھڑی خریدنے کا حکم دیا تھا لیکن اس کا حکم نافذ العمل ہونے سے قبل اسے قتل کر دیا گیا۔
صحن شریف
صحن شریف روضہ مطہر تک جانے کے لئے زائرین کے لئے راستہ نہیں ہے اور نہ ہی یہ بیٹھ کر صرف تھکاوٹ دور کرنے کے لئے آرا م کرنے کی جگہ ہے بلکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں بعض حصوں میں نماز مغرب و عشاء کی جماعت کھڑی ہوتی ہے دوسرے حصوں میں نماز میّت اور نماز عیدین ہوتی ہے یہاں عام طور سے نمازی حضرات کسی عالم دین کی اقتداء میں نماز ادا کرتے ہیں ۔ لیکن نماز فجر و ظہر و عصر اندر روضہ مقدسہ کے پاس ہوتی ہے ان میں بعض جگہوں پر حو زئہ علمیہ کے اساتذہ درس و تدریس دیا کرتے ہیں جبکہ بعض دوسرے اساتذہ دوسرے ایوانوں میں پڑھا تے ہیں۔یہاں تک کہ پچھلے صدی کے ھ کی دہائی یہاں بعض جگہوں میں بعض خاندان بھی ٹھہرتے تھے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ صحن مرقد مطہر اور اس کی حدود کے سامنے والے کمرے اسی طرح تمام رواقِ مرقد جن کے سر داب ہیں۔یہ تمام سرداب قبروں سے بھرے پڑے ہیں۔
اگر تھوڑا سوچا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مرقد مطہر دراصل ہزاروں جسدوں کے اوپر کھڑا ہے جو پچھلے زمانوں میں دفن ہوئے بلکہ قدیم صحن کے کنویں میّتوں کی ہڈیوں سے بھرے ہوئے تھے یہ ا س وقت معلوم ہواجب شہزادہ عبد الحمید نے ۱۳۱۵ھ /۱۸۹۷ ء میں قدیم صحن کے فرش کو نکال کر جدید ٹائلیں لگانے کا حکم دیا تھا۔ لیکن کاظم عبود الفتلاوی نے صحن علوی میں مدفون جن مشہور اشخاص کا ذکر کیا ہے ان میں اکثر پچھلی صدی کے ہیں۔ ان کی تعداد کا اندازہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ صحن کی مساحت ڈاکٹر سعاد ماہر کے مطابق آ ٹھ ہزار مربع میٹر ہے اس کے مغربی حصے کے اوپر بلند چھت ڈھلا ہوا تھا جس کے درمیان بڑا ایک گول دائرہ بنا ہوا تھا ۔ اس کے ایک حصہ میں ایک دروازہ رواق کی طر ف کھلتا تھا لیکن ابھی اسے گراکر بند کیا گیا ہے ۔ ایک روایت کے مطابق صحن کی مساحت چار ہزار دو سو انیس مربع میٹر تھی اور اس کی سطح زمین اس موجودہ صورت سے زیادہ نچلی تھی اورقبور اور محرابوں سے بھری ہوئی تھی یہاں تک کہ ۱۲۰۶ھ بمطابق ۱۷۹۱ ء میں یہاں کھدائی ہوئی اور سرداب بنائے گئے اور پھر بہت ساری میّتوں کو وہاں سے منتقل کیا گیا اور دوبارہ یہ زمین ہموار کی گئی شہزاد عبد الحمید ثانی کے دور ۱۳۱۵ھ /۱۸۹۷ ء میں صحن شریف کی زمین کی دوبارہ اصلاح ہوئی اور ساتھ میں سردابوں کو دوبارہ پہلے کی طرح بنایا گیا اس حوالے سے شیخ محمد حسین نے اپنی کتاب میں اہم معلومات کا اضافہ کیا ہے کہ اس میں ۱۲۰۶ھ /۱۷۹۱ ء کو ٹائلیں لگی۔ ۱۳ ویں صدی ہجری کے اوائل میں عثمانی گورنر نے صحن کے محرابوں' گنبدیں اور چبوتروں کو اکھاڑنے کا حکم دیا اور ان کے اوپر سنگ مرمر چڑھانے کا حکم دیا لیکن سیّد مہدی بحر العلوم اپنے دوستوں سے مشورہ کرنے کے بعد اس حکم کو نہیں مانتے ہیں ان کے درمیان یہ اتفاق ہوا ہے کہ یہ تمام آثار بغیر اکھاڑے واضح انداز میں موجود ہیںبلکہ ان کے درمیان مضبوط ستونیں کھڑی کی گئی تھی پھر اس کے اوپر چھت رکھی گئی تھی تاکہ یہ چھت جدید صحن کے لئے سطح بنے اس فکر پر عمل بھی ہوااور ۱۲۰۶ھ /۱۷۹۱ ء میں اس نئی سطح زمین پر سفیدپتھر کے تختیاں چڑھائی گئی اس تعمیر کی تاریخ باب شرق کبیر کے ایک کونے میں کاشانی ٹائل کے اوپر دو قصیدوں میں لکھی ہوئی ہے ان میں ایک قصیدہ عربی میں جبکہ دوسرا فارسی زبان میں ہے۔
شہزادہ عبد الحمید ہی کے زمانے ۱۴ ویں صدی ہجری میں صحن کے سردابوں اور فرشوں کی دوبارہ ترمیم ہوئی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس دفعہ علماءے دین کی وہاں مدفون میّتوں کی بے حرمتی بھی ہوئی کیونکہ اس دفعہ پہلے کی طرح ان قبور کی حفاظت نہیں ہوئی۔ اس حوالے سے شیخ محمد حسین حرز الدین نے اپنے جدّ بزرگوار شیخ محمد حرز الدین کی کتاب سے نقل کیا ہے یہ کام ربیع الثانی ۱۳۱۶ھ بمطابق۱۸۹۸ ء میں شروع ہوا تو مزدوروں نے سردابوں کو توڑنے کے لئے صحن کی کھدائی کی تو وہاں مدفون میّتوں کی بہت زیادہ بے حرمتی ہوئی۔ وہ لکھتے ہیں کہ اس دوران شمال مشرق کی طرف بہت ساری قبریںدریافت ہوئیں ان سے متصل ایک سرداب بھی دریافت ہوا جو باب مسجد خضراء کی طرف تھا۔ کفشہ دان کے قریب صحن کے فرش میں دو اور قبریں نکل آئیں اس سے اندازہ ہوتا تھا یہ وادی غریٰ کی زمین ہے یہ دونوں قبریں نیلے رنگ کے کاشانی ٹائل جس پر مختلف جڑی بوٹوں کی تصویریں بنی ہوئی تھی لگا ہوا تھا انکے اردگرد پھر کاشانی طرز کے دیواریں بنی ہوئی تھی اس کے نیچے ایک سرداب تھا جو کافی بڑا تھا اس کا دروازہ سفید قیمتی پتھر سے بنا ہوا تھا اس سرداب میں جانے کی سیڑھیاں بھی اسی سفید پتھر سے بنی ہوئی تھیں۔ ان قبروں میں ایک کے پتھر میں یہ لکھا ہوا تھا کہ ''شاہ اعظم سلطان معزّ الدین عبد الواسع ۳جماد ی الا وّل ۷۹۱ھ بمطابق ۳۰اپریل ۱۳۸۹ ء کو فوت ہوا ''جبکہ دوسری قبر کے ایک پتھر پر یہ لکھا ہوا تھا ''۱۱محرم بروز بدھ ۸۳۱ھ بمطابق یکم نومبر۱۴۲۷ ئ'' لیکن صاحب قبر کا نام نہیں پڑھا جاتا ہے۔
ان قبروں کے برابر ایک قبر اور نکلی اس پر ایک پتھر پر یہ لکھا ہوا تھا ''یہ قبر مرحوم شاہزادہ سلطان با یزید کی ہے جو جمادی الآخر ۸۰۳ھ بمطابق جنوری ۱۴۰۱ ء کو فوت ہوا۔ ''ایک قبر پر یہ لکھا ہوا تھا :یہ بچہ شیخ اویس کی نسل سے ہے ۔ یہ تمام آثار بغداد کے عثمانی وزیراوقاف کے حکم سے ختم ہوا۔حالانکہ اگر ان کو تاریخی آثار کی اہمیت کا احساس ہوتا تو انہیں ترمیم کے دوران محفوظ کیا جاسکتا تھا جس طرح اس سے قبل ترمیمات کے دوران تھا ۔ محمد حسین نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ ۱۳۷۰ھ/۱۹۵۱ ء میں صحن کے جنوبی طرف اکثر ٹائلیں نئی لگائی گئیں اس کیلئے عراقی حکومت نے ۲۵۵۰۰دینار مختص کیا تھا جس میں جنوبی طرف کے ایوانوں میں سفید سنگ مرمر لگایاگیا ، ایوان طلاء کی صفائی ، اور اس کے سامنے لگی ہوئی بڑی طلائی تختی کی صفائی، دیواروں کی صفائی اور چمکائی وغیرہ شامل ہے اور یہ کام ۱۳۷۱ھ /۱۹۵۲ ء میں مکمل ہوا ہے۔ صحن شریف میں کچھ تالابیں' روشنی کے لئے چراغ اور کنویں تھے جو مرقد مطہر کو غسل دینے میں استعمال ہوتا تھا یہ تمام غیر ضروری سمجھ کر ڈھایا گیا۔ اس توسیع نو کے وقت قدیم فرشی ٹائلوں کو تبدیل کیا گیا ان کی جگہ اعلیٰ قسم کی یونانی ٹائلیں لگی ہیں جو گرمی کی شدّت حرارت کو جذب کرتی ہیں جیسا کہ مدینہ منورہ کے حرم مقدس میں استعمال ہوئی ہیں۔
رواقِ روضہ مطہر
روضہ اقدس کے چاروںاطراف میں رواق بنے ہوئے ہیں اس کی بیرونی دیوار صحن شریف سے بلند ہے سوائے مغربی جانب کے یہاں ساباط ہے اور یہ گزرنے کی جگہ ہے لیکن عنقریب یہ ساباط ان مغربی اطراف کی عمارتوں اور کمروں کے ملحق ہوجائے گا کیونکہ زائرین کی تعداد میں اضافے کی وجہ سے یہاں ترمیم و تغیر زیادہ ہوتا رہتا ہے ۔ اس حوالے سے شیخ جعفر محبوبہ اپنی کتاب ''ماضی النّجف و حاضر ھا ''میں بیان کرتے ہیں ان رواق کی بلندی بیرونی دیوار کی بلندی کی طرح ہے اور شمال کی جانب سے جنوب تک کی لمبائی ساڑھے اکتیس میٹر ہے لیکن شیخ محمد حسین دونوں جہتیں شمال و جنوب کے طول کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ دونوں جہتوں کا طول اکتیس میٹر ہے ۔
ڈاکٹر حسن حکیم اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ''چاروں رواقوں میں سے صرف ایک رواق کی لمبائی ساڑھے اکتیس میٹر ہے۔ ''
یہ وہ سائز ہے جس پر اطمینان کرنا مشکل ہے بہر حال شمالی و جنوبی اطراف کے رواق کے سائز ساباط ، مسجد بالائے سر کی وجہ سے کافی تبدیل ہوچکا ہے مگر اس کا عرض چھے میٹر ہے۔
ہم نے رواق اور اس کے کمروں کے بارے میں شیخ محمد حسین سے اہم معلومات کا استفادہ کیا میرے حساب سے یہ روضہ مطہر کے حوالے سے لکھی گئی تمام کتب سے منفرد کتاب ہے وہ لکھتے ہیں کہ بیرونی رواق کی دیوار جو صحن سے بلند ہے پر قدیم کاشانی ٹائلیں لگی ہیں یہ تمام صفوی زمانے کی ہیں اور ان میں بعض نادر شاہ افشاری کے دور کی ہیں جن پر متعدد نقوش ، متنوع خوبصورتی رنگوں کی کثرت ایسی ہے جس کے بارے میں فنی باتیں بیان کرنا مشکل ہے۔
صحن شریف کے شمالی جانب رواق کے بیرونی دیوار پر نیلے کاشانی ٹائلوں پر سفید خط سے سورئہ مدّثر اور سورئہ قدر لکھی ہوئی ہے اور ایوانوں کے اوپری منزل کی دیوار پر ایک کتبے پر خوبصورت خطِ ثلث میں مختلف آیات قرآنی مکتوب ہیں اور روضہ مطہر کے اوپر ایک حصے میں یہ آیات مکتوب ہیں:
( هَلْ اَتَی عَلَ الْاِنْسَانِ حِیْن مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَکُنْ شَیْئاً مَّذْکُوْراً* اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُطْفَةٍ اَمْشَاجٍ نَبْتَلِیْهِ فَجَعَلْنَا سَمِیْعاً بَصِیْراً* اِنَّا هَدَیْنَاهُ السَّبِیْلَ ِمَّا شَکِراً وَِّمَّا کَفُوْراً )
لیکن روضہ کے شمال کی جانب اور مغربی حدود کے شمالی حصے میں سورئہ فجر اوّل تا آخر لکھی ہوئی ہے اور نئی بات جو انہوں نے بیان کی کہ رواق کے چاروں طرف کمروں کے دو منزلیں ہیں جو صحن شریف کے پیچھے واقع ہے ان میں سے پہلی منزل کے کمروں کے دروازے رواق کے اندر ہیں ۔ یہ اور صحن کے درمیان ہے، یہ دروازے اسٹیل کے اور بڑے ہیں جن پر پیلے پیتل کے گول گول دائرے بنے ہوئے ہیں ۔ یہاں مختلف شیعہ علماء ، سلاطین، امراء ، اور صاحب عزت لوگ دفن ہیں اور قبروں کے کتبوں پر ان کا نام لکھے ہوئے ہیں۔ اس کے شمال کی جانب ایک مقبرہ، ''شاہات ''کے نام سے مشہور ہے۔
دوسری منزل کے کمرے بند تھے اس کے اندر جانے کا راستہ بھی معلوم نہیں تھا یہاں تک ۱۳۵۹ھ /۱۹۴۰ ء میں رواق و حرم کے اندر اصلاحات شروع ہوئی تو ان کمروں کے دروازے دریافت ہوئے تو اس پر کمیٹی بیٹھی پھر انہوں نے ان کمروں کی چھتوں کی بھی مرمت کی اور جہت شمال و جنوب میں چھوٹی چھوٹی کھڑکیاں نکالی گئیں ۔ اب کمرے حرم مطہر کے اسٹور کے طور پر استعمال ہوتے ہیں جہاں حرم کی اہم چیزیں رکھی ہوئی ہیں۔
اس دوران وہاں جنوبی رواق کی بنیاد میں پرانے بوسیدہ کچھ قبریں بھی نکلی تو اسے بند کیا گیا اس سال سے وہاں میّتوں کی تدفین بھی روک دی گئی اور اس کے بعد دوسری منزل کے جنوبی جانب ایک بڑا ہال بنایا جہاں پر کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ اس ہال میں روضہ مبارک کے نوادرات رکھے جائیں گے تاکہ ان معدنی و شیشے کے نوادرات محفوظ رہیں ان میں پرانے اسلحے کی کچھ تلواریں اور بندوقیں اور کچھ ساج کے لکڑی سے بنی ہوئی نوادرات شامل تھیں ۔ اب انشاء اللہ یہاں امیر المومنینـ میوزیم کے نام سے ایک اسلامی میوزیم بنے گا جس کے بارے میں راقم پچھلے کئی سال سے بتا رہا ہے۔
ایوانِ علماء
یہ ایوان باب طوسی کے سامنے والے رواق کے شمال کی طرف واقع ہے ۔ یہ اس نام سے اس لئے مشہور ہے کیونکہ یہاں زیادہ تر علماء دفن ہیں اور پرانے زمانے میں اسے مقامِ علماء کہا جاتا تھا صفوی تعمیر کے ضمن میں اس ایوان کو بھی دوبارہ بنایا گیا پھر شہزادہ نادر شاہ کے زمانے میں اس کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے دوبارہ ترمیم و اصلاحات ہوئیں جس کے آثار تا حال باقی ہیں اور اکثر دیواروں پر ٹائلیں چڑھائی گئی یہ روضہ مطہر کے سب سے پرانے ٹائلیں ہیں اور یہ اہم تاریخی و ثیقہ جات میں شمار ہوتا ہے اس کے اندرونی حصے میں ایک جانب تاریخ تعمیر لکھی ہوئی ہے اور ایک شاعر قوام الدین کا قصیدہ کمال الدین گلستان کے خط سے لکھا ہوا ہے اس قصیدے کا ہر بند پیلی پٹی پر لکھا ہے یہی شیخ محبوبہ اور ان کے بعد میں آنے والوں کا بیان ہے اور ان پٹیوں کو درمیان سے لکیریں لگاکر مِلایا ہوا ہے اس طرح یہ خوبصورت سیدھی زنجیر کی شکل بن گئی ہے اور یہی زنجیر دیوار کے اوپر سے نیچے تک کھینچی ہوئی ہے جس پر قرآنی آیات میں سورہ احزاب کی چند آیات سفید رنگ میں لکھی ہوئی ہیں جس کے درمیان نیلے رنگ پر پیلے رنگ کے نقش و نگار بنا ہوا ہے اور اس قصیدے میں آئمہ اطہار کے اسمائے گرامی اور اس قصیدے کی تاریخ ۱۱۶۰ھ /۱۷۴۷ ء بھی شامل ہے اور یہ کاشانی تختی میں دو بریکٹوں کے درمیان ہے اوپر سے ایک پٹی پر سورہ رحمن کی آیات نیلے رنگ پر پیلے رنگ سے لکھی ہوئی ہے اور ہر آیت جس میں ''الآلاء ''آتا ہے آسمانی رنگ سے پیلے رنگ میں لکھی ہوئی ہے اس کے اطراف اوپر سے دائیں بائیں آسمانی رنگ کے کاشانی فریم بنا ہوا ہے اور اس کے دونوں جانب مختلف نقش و نگار بنا ہوا ہے جس کے اوپر پھر آیات قرآنی سفید رنگ سے آسمانی رنگ میں انتہائی جمال و کمال انداز میں لکھی ہوئی ہیں لیکن اس ایوان کے اندرونی حصے میں باقی ایوانوں کی طرح آیات قرآنی سے اسلامی نقش و نگار مختلف الگ الگ رنگوںمیں بنے ہوئے ہیں۔ شیخ جعفر محبوبہ نے اپنی کتاب ''ماضی نجف وحاضر ھا ''میں بہت سارے علماء ، بادشاہان ، امراء جو وہاں دفن ہیں کے ناموں کا ذکر کیا ہے۔
ایوان میزاب الذہب
یہ ایوان جنوبی رواق کے جانب قبلہ کے سامنے صحن واقع ہے اس کی وجہ تسمیہ یوں ہے اس کے اوپر سطح مرقد مطہر پر طلائی میزاب بنا ہوا ہے جہاں بارش کے پانی کی نکاسی کیلئے ایک طلائی پرنالہ بنا ہوا ہے اسی لئے اس کا نام بھی میزاب الذہب ہے اور جب بارش ہوتی ہے تو یہاں سے گزرتے ہوئے پانی کوزائرین تبرکاً پیتے ہیں۔ یہ بھی باقی ایوانوں کی طرح دیواروں پر اعلیٰ قسم کے کاشانی ٹائل لگے ہوئے ہیں ۔
شیخ محمد حسین کے مطابق کمال الدین حسین گلستان نے ایوان کی بلندی کے درمیان عربی نونی قصیدہ پیلے رنگ کے ٹائل پر کتابت کیا ہے جو دائیں سمت سے دائرہ کی شکل میں شروع ہو کر بائیں طرف مستطیل شکل میں ختم ہوتا ہے اور موصوف نے دوسرے اشعار کے بارے میں یوں لکھا ہوا ہے ''پانچ اشعار بیضوی شکل میں ایوان کی نصف بلندی سے اوپر شروع ہوتی ہے اور یہ کاشانی ٹائل پر کتابت ہوئی ہے ''اس اشعار کی کتابت کی تاریخ ۱۱۶۰ھ / ۱۱۴۷ ء کے قریب ہے جو ایوان علماء پر کمال الدین کی کتابت کاہم عصر ہے مگر اوپری جانب پر فریم بنا ہوا ہے جس کی پٹی پر قرآنی آیت کتابت ہوئی ہے۔ اس کے دائیں اور بائیں اطراف ایوان علماء کی طرح اوپر سے نیچے تک ہندسی نشان کے فریم بنا ہوا ہے۔
اور یہ کہا جاتا ہے کہ یہاں ایک رواق کے نیچے ایک سرداب تھا جو مرقد مطہر کے خدام آل الملالی کے زیر استعمال تھا پھر شاہ عباس اوّل کے زمانے میں شیخ محمد بن شیخ علی آل کاشف الغطاء متوفی ۱۰۲۳ھ /۱۶۱۴ ء نے سیّد رضا رفیعی کو حرم کی خدمت کیلئے نائب بنایا تو یہ سرداب ان کے ہاتھ پھر ان کے خاندان کے ہاتھ آگیا یہاں پر شیخ نصار، شیخ راضی بن شیخ نصارسال ۱۲۳۰ھ/۱۸۱۵ ء کے قریب دفن ہوئے۔
ایوانِ طلاء
ڈاکٹر سعاد ماہر نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے کہ شرقی رواق کے سامنے ایک بڑا ہال ہے جس کا فرش صحن کے فرش سے ۲۰سینٹی میٹر بلند ہے اور اس کا طول ۴۲ میٹر جبکہ عرض ۷میٹر ۵۰سینٹی میٹر ہے اور یہ ہال باب شرقی کبیر کے سامنے واقع ہے۔اور اسی ہال میں ایوان طلائی موجود ہے کیونکہ اس کی دیواروں پر طلاء چڑھا یا ہوا ہے ۔ اس کے دونوں اطراف گوشہ اذان کے دو مینار کھڑے ہیں۔ ایوان کے دونوں اطراف میں بعض تزئین و آرائش کا کام ہوا ہے جس پر بہت ساری کتابت جن میں بعض فارسی زبان میں ہوئی ہے اور دونوں اطراف کے طلائی دروازے پر فارسی شاعر ''عرفی ''کے قصیدے کی کتابت ہوئی ہے ۔
ڈاکٹر حسن حکیم کے مطابق اس قصیدے کی کتابت کا اختتام کاتب محمد جعفر اصفہانی متوفی ۹۹۹ھ / ۱۵۹۱ ء کے نام سے ہے ۔ یہ قصیدہ مدح امام علی پر مشتمل ہے اس کے حروف سنہرے طلاء سے لکھے ہوئے ہیں اس کے علاوہ دو اشعار عربی میں ایوان کے دائیںجانب اور دو اشعار بائیں جانب لکھے ہوئے ہیں جبکہ بالائی جانب خط ثلث کی کتابت سے خوبصورت انداز میں گنبد اور گوشہ اذان کے میناروں پر طلاء چڑھانا اور سلطان نادر شاہ کے حکم سے ایوان کی تعمیر کی تاریخ لکھی ہوئی ہے۔
اس ایوان کے اندر بے شمار علماء ، صاحب ثروت افراد دفن ہیں جن میں سے بعض نام دیوار پر نقش ہے لیکن طلائی کے دوران یہ مٹ گئے۔ شیخ جعفر محبوبہ ایوان کے بارے میں بہت ساری سابقہ معلومات کا ذکر کیا ہے۔لیکن یہ خوبصورت منظر جو پوری دنیا میں مشہور ہے جنگ خلیج ۱۹۹۱ ء کے دوران نجف اشرف میں جہاں دوسرے بہت سے نقصانات ہوئے یہ بھی نہیں بچ سکا اس وجہ سے بعض آثار ضائع بھی ہوئے اگر چہ متا ثرہ حصوں پر دوبارہ طلاء چڑھایا گیا لیکن یہ اب پرانی طرز کتابت سے خالی رہ گیا۔ ڈاکٹر حسن حکیم نے اپنی کتاب میں اس میں دفن مختلف شخصیتوں کے نام ذکر کئے ہیں جن میں مشہور علامہ حلی متوفی ۷۲۶ھ /۱۳۲۶ ء شمالی مینارِ گوشہ اذان کی جانب واقع حجرہ ہیں یہاں میرزا علی نواب بن سیّد حسین الحسینی المرعشی متوفی ۱۰۸۱ھ / ۱۶۷۰ ء بھی دفن ہیں اور یہ شاہ عباس صفوی کے داماد تھے۔
اس حجرے کے لئے طلائی دروازہ لگا ہوا ہے رواق الحرم کے مشرقی جانب داخل ہوسکتا ہے اور جنوبی مینار گوشہ اذان کے نزدیک واقع حجرے میں علّامہ مقدس شیخ احمد اردبیلی متوفی ۹۹۲ھ / ۱۵۸۴ ء دفن ہیں ۔ یہاں بھی طلائی دروازہ نصب ہے لیکن یہ درواز بند ہے مقبرئہ علامہ موصوف سے متصل ایک بڑی الماری نصب ہے جس کے اندر بعض نفیس نوادرات محفوظ ہیں۔ اس موضع میں بعض اور علماء بھی دفن ہیں۔ ڈاکٹر حسن حکیم سابقہ کتاب میں مزید بیان کرتے ہیں کہ اس ایوان کی بلندی عبدالرزاق حسینی کی کتاب''موجز تاریخ بلدان عراق ''سے نقل کرتے ہوئے ۴۰ میٹر لکھا ہے یہ دراصل ان کا وہم ہے کیونکہ خود روضہ مطہر کے دونوں میناروں کی بلندی ۲۹میٹر ہے تو ایوان کی بلندی ۴۰میٹر کیسے ہوئی؟ لیکن انہوں نے یہاںایک اہم بات کا ذکر کیا ہے وہ یہ ہے کہ بعض مآ خذ کے مطابق شیخ بہائی محمد حسین متوفی ۱۰۳۱ھ / ۱۶۲۲ ء نے ایوان طلائی کے دونوں اطراف میں جوتے اتارنے کیلئے ''کفشہ دان ''بنایاتھا۔ ڈاکٹر موصوف نے حاشیے میں ان مآخذ کا ذکر کیا ہے ۔ اب حالیہ توسیع نو میں ان دونوں موضع کے ٹائلوں کو تبدیل کرکے نئے انتہائی کمال جمال کے ٹائلیں لگی ہیں ۔ اور یہ نقش و نگار آج کل کے نئے دور کے خوبصورتی فن کے مشکل ترین کام ہے۔ ہر مینار کے دو دروازے ہیں۔ پہلا دروازہ کفشہ دان کی طرف جانے کے لئے جبکہ دوسرا اوپر مینار پر چڑھنے کے لئے ہے۔ اس کے علاوہ ہر سطح میں بھی رواق علوی کے حجروں میں جانے کیلئے دروازے ہیں حرم کے سطح زمین کے اندر اور دیواروں میں اسی طرح رواق کے اندر باہر موجودہ جدید توسیع کے دوران کیمیائی مواد ڈالے گئے ہیں تاکہ زلزلے اور دیگر آفات سے محفوظ رہے۔
ابوابِ رواق
حرم شریف کے رواق کے احاطے میں مختلف دروازے ہیں جسے دیکھنے والے کی عقل اس کی کمالِ خوبصورتی اور نفیس خطوط کی سے مسحور ہوجاتی ہے اور یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے کیونکہ یہ زمانے کے اعلیٰ ماہر اہل فن، رسّام ، مصور، خطاطوں کے ہاتھوں وجود میں آئی ہے اس پر مستزاد یہ کہ ان پر بے تحاشہ اموال خرچ ہوئے ہیں ۔ چاہے اس میں قیمتی معدن ہوں یا اسے حدِکمال تک پہنچانے والے ہنر مندوں کی اُجرت ہو ان میں ہر دروازہ طرز جمال و حسن صناعت کا علیحدہ پیکرفن ہے جس کی کوئی نظیر و مثال نہیں ہے اور زائرین کی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسی طرح ان دروازوں کو تقسیم کیا گیاہے کہ مختلف مشہور مناسبات کے ایام میں آسانی سے حرم مطہر میں داخل ہوسکے کیونکہ ان ایام میں زائرین کی تعداد لاکھوں تک پہنچ جاتی ہے ان میں سے ایک دروازہ شمالی جانب باب طوسی کے مقابل میں ہے یہ چاندی سے بنا ہواہے جو راجہ عبدالقادر کمباچی نے دیا تھا اس پر چاندی کا کام عراق ہی میں مکمل ہوا تھا اس کی تاریخ تنصیب ۱۹۳۶ ء ہے اسی طرف زائرین کی تعداد دن بدن بڑھنے کی وجہ سے ایک دروازہ اور نکالاگیا ہے کیونکہ قدیم دروازہ اس بڑھتی ہوئی تعداد کا متحمل نہیں تھا ۔ جنوب کی طرف باب قبلہ کے مقابل میں ایک دروازہ ہے جسے مشہور زعیم عبد الواحد آل سکر کی والدہ حاجیہ طخہ نے بنوایا تھا اس پر کل خرچہ اس زمانے میں دو ہزار دو سو لیرہ ذہبی آیا تھا اس دروازے کے سامنے تبدیلی سے قبل کاشانی ٹائل پر دو قصیدے لکھے ہوئے تھے ان میں ایک فارسی میں جس کے بیس بند سنہرے حروف سے نیلے رنگ سے پیلے رنگ پر لکھا ہوا تھا اور ہر بارہ بریکٹ کے درمیان تھا جبکہ دوسرا قصیدہ عربی میں ۲۸بند پر مشتمل تھا جسے فارسی خط نستعلیق میں چھوٹے چھوٹے سفید حروف سے نیلے رنگ میں لکھا ہوا تھا اور یہ اوپر سے نیچے تک فارسی قصیدہ کے اطراف میں تھا اور یہ قوام الدین محمد الحسینی السیفی کے نظم سے لیا گیا تھا ان دونوں قصیدوں کے نیچے چھوٹے چھوٹے دو فریم میں سفید چھوٹے حروف میں یہ لکھا ہوا تھا ''اس کی تختی کی کتابت کی تجدید نو کا شرف خاک پائے زائرین مشہور کاتب یزدی نے حاصل کیا''اور ان دروازوں میں داخل ہونے سے قبل جوتے اتارنے کیلئے کفشہ دان موجود ہے لیکن شعبان ۱۳۶۹ھ بمطابق ۱۹۵۰ ء میں یہ تمام باب جنوبی سے گراکر نکا لاگیا اور اس کے بدلے میں شاہ محمد رضا پہلوی نے تزین حرم کی طرح مزین کروایا۔ جسے محمد حسین نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے اسے انہوں نے ایک دروازے کی طرف اشارہ کیاہے جو شہزادہ مراد بن شہزادہ سلیم متوفی ۱۰۰۳ھ /۱۵۹۵ ء کے نام سے ہے اور یہ اس وقت کھلاتھا جب موصوف مرقد مطہر امام کی زیارت کے لئے نجف اشرف آئے اور حر م مطہر میں اسی دروازے سے داخل ہوئے تھے اس کے بعد یہ بند ہوگیا پھر شہزادہ ناصر الدین قاچاری کیلئے ۱۲۸۷ھ /۱۸۷۰ ء میں کھولاگیا اس طرح کے معلومات شیخ محمد حسین نے اپنی کتاب معارف الرجال سے کافی جمع کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے خود یہ دروازہ تزئین و آرائش کی حالت میں دیکھا ہے جس کے دستے عاج سے بناہوا تھا اس کا منظر اس پر لگے ہوئے مہندی کی وجہ سے بہت خوبصورت تھا اور یہ مہندی زائرین لگایا کرتے تھے اب یہ سب اتار کر الماریوں میں رکھی ہوئی ہے اور اس دروازے کو لوہے میں تبدیل کیا گیا ہے لیکن یہ زائرین کے لئے نہیں کھولا جاتا۔ اس طرف ایک نیا دروازہ نکالا گیا ہے جو عورتوں کے لئے مخصوص ہے کیونکہ زائرین کی تعداد بڑھنے کی وجہ سے اندر جانے کے پرانے راستے زیادہ مناسب نہیں تھے ۔ شیخ محمد حسین حرز الدین نے بھی نصف ساباط میں ایک دروازہ ہونے کی طرف اشارہ کیاہے جو رواق کی طرف کھلتا تھا لیکن قدیم زمانے سے بند پڑا ہوا ہے اور اس کی جگہ پیلے پیتل کی کھڑکی بنی ہوئی ہے جس کے ایک کمرے میں حرم کے نفیس اشیاء رکھی ہوئی ہے ۔ اور طلائی ایوان میں تین طلائی دروازے بھی ہیں ان میں ایک بڑا دروازہ بابِ خارجی کے مقابل میں بالکل وسط میں ہے باقی دونوں شمالی اور جنوبی اطراف میں ہیں۔ لیکن جنوبی دروازہ بند رکھا جاتا ہے کیونکہ اس کے اندر ایک کمرے میں حرم کی نفیس اشیاء و مقدس پتھر وغیرہ رکھے ہوئے ہیں ہم روضہ مطہر کے نوادرات بیان کرتے وقت ان چیزوں کا بھی ذکر کریں گے۔
اس حجرے میں علامہ مقدس شیخ احمد ارد بیلی دفن ہیں لیکن جنوبی دروازہ سے اندر ایک حجرے میں علامہ الحلی دفن ہیں ۔ اور ۱۳۷۳ھ / ۱۹۵۴ ء میں کھولا گیا اور یہ رواقِ حرم میں جانے کے لئے ایک راستہ بنایا گیا ہے اور اس کا دروازہ بھی طلائی سے بنایاگیا ہے لیکن علامہ حلی کی قبر مرقد مطہر کی ایک کھڑکی کے سامنے ہے اور اس طرف حرم کی چھت پر جانے کے لئے ایک زینہ بھی لگا ہوا ہے لیکن ایوان کے وسط میں جو دروازہ ہے جسے حاجی محمد حسین خان اصفہانی صدر اعظم نے نقرہ سے بنوائے تھے جیسا کہ اسی پر لکھا ہوا بھی ہے۔ شیخ جعفر محبوبہ کے مطابق یہ ۱۲۱۹ھ / ۱۸۰۴ ء کے قریب نصب کیا گیا شیخ محمد حسین حرزالدین اس پر مستزاد یہ کہتے ہیں کہ ا س موضع میں متصل دروازے بنائے گئے تھے کیونکہ زائرین کا اژدھام زیادہ تھا اور اسے صدر اعظم مذکورہ نے بنوایا تھا اور انہوں نے ہی شہر نجف کی حدود کی دیوار بھی بنوائی تھی اور محلہ مشراق میں مدرسة الصدر بھی اسی نے بنوایا تھا۔ شیخ موصوف یہ بھی بیان کرتے ہیں یہ دونوں دروازے نقرے میں مشیرسلطنت نے ۱۲۸۷ھ /۱۸۷۰ ء میں تبدیلی کی تھی۔ ان باتوں کا اشارہ اس پر مکتوب شعر میں موجود ہے۔ پھر ۱۳۷۶ھ /۱۹۵۷ ء میں حاجی محمد تقی کریم اتفاق نے اسے طلاء میں تبدیل کرکے نصب کروایا ۔ اس زمانے میں اس کام پر پانچ لاکھ خرچ آیا تھا اس کی تیاری میں ساڑھے دس کلو گرام سونا جبکہ دو سو پچاس کلو گرام نقرہ استعمال ہوا تھااور اس کی بداعت و صناعت میں اصفہان کے ماہر ترین اہل فن ہنر نے تین سال کام کیا جس میں باقی کاموں کے ساتھ گل نباتی، مختلف نقوش کی تقسیم انتہائی جمال و کمال کے ساتھ کی ہے۔
ڈاکٹر سعاد ماہر اس کے فنی اہمیت کے بارے میں بیان کرتی ہے کہ یہ بیسویں صدی کے خوبصورت ترین فنی شاہکاروں میں شامل ہے اسی طرح ڈاکٹر حکیم وغیرہ نے بھی ان منفرد و بے مثال نوادرات کا ذکر کیا ہے۔ ان نوادرات کا نجف اشرف میں پہنچنے پر اس کی مناسبت جشن منایاگیا پھر اسے نصب کیا گیا ۔ اس حوالے سے شیخ جعفر محبوبہ اپنی کتاب میں بیان کرتے ہیں کہ نجف اشرف کھو لا گیا اور بروز جمعرات گیارہ شعبان المعظم ایک محفل منعقد کی گئی جس میں اہل علم اور اہل نجف کے عام لوگوں نے شرکت کی اس موقع پر شاعر عبدالمنعم الفرطوسی کا قصیدہ پڑھا گیا ۔ مذکورہ قصیدہ کو شاعر نے اپنے دیوان کے پہلے حصے میں بیان کیا ہے جو باب طلائی کے عنوان سے ہے اس کا راقم نے اپنی کتاب ''وَمَا اَدْرَاکَ مَا عَلَی ''کے پہلی جلد کے مقدمے میں زیادہ بہتر مناسبت کی وجہ سے بیان کیا ہے میرے خیال میں مذکورہ دروازہ تمام آئمہ معصومین٪کے روضہائے مقدسہ کے سب سے پہلے اور مہنگے ترین دروازہ ہے۔
گوشہ ٔاذان کے دو مینار
یہ دونوں مینار روضہ مبارک کے مشرق کی سمت میں ایوان طلاء کے دونوں اطراف شمال و جنوب میں واقع ہے اور ان میں ہر ایک مختلف زاوئیے والے ایک میٹر بلند مضبوط بنیاد پر کھڑے ہیں ۔
شیخ محمد حسین کا بیان ہے کہ ان میں سے ہر ایک مینار ۲۹میٹر بلند ہے اور ان کی رواق سے متصل بلندی ۱۷میٹر تک ہے۔میناروں کی بنیادوں پر ایک میٹر سے زیادہ بلندی پر سبز سنگ مرمر چڑھا ہوا ہے اور دونوں میناروں کا بُرج جتنا اوپر کی طرف دیکھا جائے بالکل باریک ہوتا جائے گا اور ۲۵میٹر کی بلندی پر دو عدد ایک میٹر چوڑی پٹیاں بنی ہوئی ہے جن پر سورئہ جمعہ کی کتابت کی ہوئی ہے ان دونوں پٹیوں سے اوپر کی جانب دو چھوٹے چھوٹے ستون پر کنگرہ یعنی گوشہِ اذان بنا ہوا ہے جس کی بلندی ۲۲۵سینٹی میٹر ہے۔ اور گوشہ کے اندرونی ستون کی بلندی جہاں سے موذن داخل ہوتا اور نکلتا ہے وہ تنگ ہے جس کا قطر ڈیڑھ میٹر ہے لیکن باہر سے کل گو شہ کی بلندی چھ میٹر ہے اور اس ستون کے بالکل اوپر بوٹے دار فانوس لگے ہوئے ہیں ۔
ڈاکٹر حسن حکیم ، ڈاکٹر سعاد ماہر وغیرہ کے مطابق ہر مینار میں چار ہزار طلائی تختے لگے ہوئے ہیں اس کے علاوہ روشنی داخل ہونے کے لئے سنگ مرمر کی چمکدار تختیاں لگی ہوئی ہے اور فانوس کے تاج کے اوپر لفظ ''اللہ ''بنا ہوا ہے۔
شیخ جعفر محبوبہ کے مطابق دونوں میناروں میں سنگ مرمر نقش شدہ تختیاں ڈھلی ہوئی ہے جس میں طلائی کی تاریخ بھی درج ہے اور جنوبی مینار کے ایک تختی پر''سعداً عظماً'' نقش ہے جو طلائی کے عام تاریخ ہے جبکہ شمالی مینار کے ایک جانب''حمداً علی تما مھا''اور دوسری ایک طرف میں ''قل مورخاً یامقیم'' نقش ہے۔
نادرشاہ کے طلاء چڑھانے کے بعد ان میناروں پر کچھ اصلاحات ہوئی جیسا کہ ۱۲۳۶ھ بمطابق۱۸۲۱ ء میں یہ کمزوراور پرانا ہوکر بعض طلائی تختیاں گرنا شروع ہوئی تو وزیر فتح علی شاہ اس کی اصلاح کا حکم دیا اور ۱۲۸۱ھ /۱۸۶۴ ء میں جنوبی مینار کمزور پڑگیا تو شہزادہ عبد العزیز عثمانی نے اسے بالکل گراکر دوبارہ بنیاد سے پہلے کی طرح بنوایا پھر جما دی الا وّل ۱۳۵۲ھ /۱۹۳۳ ء کو اسے دوبارہ رواق کے برابر گراکر تمام طلائی تختوں کو اکھاڑ کر ۱۳۵۳ھ /۱۹۳۴ ء میں دوبارہ تعمیر مکمل ہوئی۔۱۳۱۵ھ / ۱۸۹۷ ء میں شہزادہ عبد الحمید نے شمالی مینار کی ترمیم کی اسے انہوں نے تقریباً نصف تک گرادیا اور طلائی تختیوں کو اکھاڑ کر دوبارہ تعمیر کروائی اور یہ تعمیر ۱۳۲۶ھ / ۱۹۰۸ ء میں مکمل ہوئی اور اسی مینار کی ایک مرتبہ پھر ۱۳۶۷ھ / ۱۹۴۸ ء کو تعمیر ہوئی اس مرتبہ بھی منحنی حصے گرا کر سطح حرم تک لایا گیا اور طلائی تختیوں کو اکھاڑ کر دوبار ہ پہلے کی طرح مذکورہ سال کے ماہ رجب کے آخر میں یہ تعمیر مکمل ہوئی۔
حرم کے داخلی رواق اور دروازے
روضہ مطہرہ کے چاروں اطراف میں رواق کے ساتھ مغربی جانب ایک کمرہ ہے اس کے علاوہ مسجد بالائے سر اور تکیہ بکتاشی کا یک حصہ بھی اس میں شامل کیا ہے کیونکہ حرم مطہرکے زائرین کی تعداد دن بدن بڑھ رہی ہے۔ لیکن ان رواق کی سطح سے بلندی اور دیوار ڈھائی میٹر ہے اور اس کے فرش پر سفید سنگ مرمر بچھے ہوئے ہیں یہ تمام پتھر نجف اشرف کے اطراف ایک مقام سے لایا گیا ہے جو''مظلوم ''کے نام سے مشہور ہے اسے بعد میں چوتھی صدی ہجری کے اوائل میں سبزدی سنگ مرمر میں تبدیل کیا گیا ۔ ڈاکٹر حسن حکیم کے مطابق ۱۱۹۳ھ / ۱۷۷۸ء میں شاہ ناصر الدین قاچاری کا ایک شخص جس کا نام باشی تھا اس نے تین رواقوں کی تعمیر نو کی اور اس کی تاریخ ابجدی حساب کے مطابق درج کی۔
اس حوالے سے سیّد جعفر بحر العلوم نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے کہ ۱۲۸۴ھ /۱۸۶۷ ء میں ایک تاجر حمزہ تبریزی نے مشرقی جانب رواق کی شیشہ کاری میں تین ہزار تومان خرچ کئے تھے۔ لیکن شیخ محمد الکوفی کے مطابق یہ کام حمزہ تبریزی نے ۱۲۸۵ھ / ۱۸۶۸ ء میں انجام دیا تھا۔ لیکن باقی تین رواقوں کی شیشہ کاری اور تزئین و آرائش حاج ابو القاسم بو شہری اور ان کے بھائی حاج علی اکبر بو شہری نے ۱۳۰۷ھ / ۱۸۹۰ ء میں شروع کی اور ۱۳۰۹ھ / ۱۸۹۲ ء میں مکمل کی ۔ ڈاکٹر حسن کے مطابق نوے سال بعد دونوں دروازوں کے درمیان یہ شیشہ کاری اکھاڑ کر دوبارہ ۱۳۶۹ھ / ۱۹۵۰ ء میں جدید انداز میں انجام دیا گیا۔
ڈاکٹر سعاد ماہر کہتی ہے کہ ان ارواق کے اوپر چھوٹے بہت سارے گنبد بنے ہوئے تھے اور ان میں سے ہر گنبد ہشت پہلو مرکز پر بنا ہوا تھا اور ساتھ میں ہر ایک کے ساتھ کھڑکی بنی ہوئی ہے تاکہ اس سے روشنی داخل ہونے کے ساتھ ہر رواق سے تازہ ہوا آتی رہے۔
شیخ محمد حسین حرز الدین اپنی کتاب میں بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے تزئین و آرائش تبدیلی سے قبل دیکھی ہے جسے شاہ محمد رضا نے اتار کر دوبارہ تبدیل کروایا انہوں نے روضہ اور رواق پر دوبارہ شیشہ کای کی جو فن اسلامی کی پوری دنیا میں بے مثال خوبصورت نشانی و علامت ہے اور یہ حقیقت ہے کہ فن اسلامی کی بلندی کی تعریف سے قلم قاصر ہے بلکہ جو کوئی مسلمان جب زیارت کی غرض سے روضہ مبارک میں داخل ہوتا ہے تو وہاں دیواروں اور ہر زاویوں میں فن اسلامی کے کمال و جمال دیکھ کر عقل و نظر دنگ کر رہ جاتی ہے اور وہاں مدفون صاحب عظمت امام علی کو نہیں معلوم کہ وہاں کی مٹی نے کیسے برداشت کیا ہے جو کہ تمام تمجیدوجلال و عظمت کی علامت ہے تو مبارک ہو ان کے ماننے والوں کو کہ ان کے امام نے اسلام کی عظمت و عدل کو بلند کیا۔
اس کے علاوہ شیخ محمد حسین نے ۱۳۵۸ھ / ۱۹۳۹ ء ، ۱۳۷۱ھ / ۱۹۴۰ ء ۔ ۱۹۵۲ ء کے سالوں میں رواق کی اصلاحات کی طرف اشارہ کیاہے۔ ان اصلاحات میں شیشہ کاری کے نقصان ، بعض عمارتوں کی تبدیلی، جو ان رواقوں کے چھتوں پر تھا جسے عراقی وزارت اوقاف نے بنوایا تھا جو ابھی تک جاری ہے اور اس کی فن بے مثالی ہر زمانے میں باقی رہے گی۔ ہم رواق کے تمام جہتوں میںموجود کمروں کی طرف بھی اشارہ کریں گے۔
حرم کے داخلی دروازے
روضہ طاہرہ میں داخل ہونے کے لئے نصف مشرقی رواق کی جانب طلائی ایوان کے وسط میں واقع دروازے کے مقابلے میں دو چاندی کے دروازے ہیں ۔ جن میں سے جو روضہ کے دائیں جانب ہے اسے عثمانی شہزادہ عبد العزیز کے عہد میں لطف علی خان ایرانی نے اس کا خرچ برداشت کیا تھا ۔ اور اسے ۱۲۸۳ھ / ۱۸۷۰ ء میں اس وقت نصب کروایاتھا جب نجف اشرف میں زیارت امام سے مشرف ہوئے تھے اور ان کانام دروازے کے پیچھے لکھا ہوا ہے ۔ اسی میں رواقِ شمالی کی جانب بھی دو دروازے واقع ہیں اور جنوبی جانب ایک دروازہ بعد میں عورتوں کے لئے مخصوص بنوایا گیا ۔
شیخ محمد حسین کے مطابق روضہ مبارک کے چاروں اطراف سے زمانہ قدیم سے ہی اندر داخل ہونے کی جگہ تھی ان میں مغربی جانب والی جگہ بند کیا گیا اس میں دو چاندی کے دروازے نصب تھے ان دروازوں کے پیچھے ایک بڑی اسٹیل کی کھڑکی تھی جس کے اوپر پیلے پیتل چڑھا ہوا تھا ۱۳۶۶ھ / ۱۹۴۷ ء میں ان دونوں دروازوں کو شمالی جانب منتقل کیا گیا ۔ اس سے قبل یہاں پر ایک بڑا پیتل کا دروازہ تھا اور اس دروازے کو اکھاڑ کر اسکے ساتھ مغربی جانب کی پیتل کی کھڑکی بھی اکھاڑ کر دوسرے نوادرات کے ساتھ الماری میں رکھی گئی اور اس جگہ قبر مطہر پر پہلے سے لگی ہوئی پرانی ایک چاندی کی کھڑکی کو نصب کیا گیا ۔ شیخ محمد حسین کہتے ہیں کہ روضہ مبارک کے شمالی جانب بھی ایک اسٹیل کا دروازہ تھا جسے امین الدولہ کی بیٹی زوجہ علی نے ہدیہ کیا تھا اور یہ ۱۳۱۶ھ / ۱۸۹۸ ء میں نصب کیا گیا تھا۔
اور موصوف نے بھی اشارہ کیاہے کہ جنوبی جانب بھی ایک دروازہ تھا جسے بروز بدھ آٹھ ربیع الثانی ۱۳۱۸ھ /۱۹۰۰ ء کو ایک نیک آدمی حاج غلام علی مسقطی نے نصب کروایا تھا لیکن اسے بعد میں بند کیا گیا۔
اس وقت حرم میں جو مین گیٹ ہے وہ مشرقی رواق کے درمیان دو طلائی دروازوں پر مشتمل ہے اس سے قبل یہ چاندی کے تھے ۔ یہ دونوں دروازے خوبصورتی کے کمال کو چھو رہا تھا اور ان پر احادیث نبویصلىاللهعليهوآلهوسلم قرآنی آیات ، سید موسیٰ بحر العلوم کے دو قصیدے لکھے ہوئے ہیں اس کے علاوہ موصوف کا ایک قصیدہ ان دونوںدروازوں کے پیچ میں موجود مستون پر بھی آبگینہ سے لکھا ہوا ہے۔یہ ۱۳۷۳ھ / ۱۹۵۳ ء میں آٹھ شعبان کو نصب ہوا اس پر تمام اخراجات حاج مرزا مہدی مقدم' ان کے بھتیجے حاج کاظم آغا توکلیان اور حاج مرزا عبد اللہ مقدم نے برداشت کئے۔ لیکن جنوبی رواق کی طرف سے ایک جدید دروازہ عورتوں کے لئے نکالا گیا ہے تاکہ انہیں حرم میں داخل ہونے میں مشکلات نہ ہو۔
روضہ مبارک
روضہ مبارک کی تعمیرو اصلاحات مختلف ادوار سے گزرتی رہیں جس میں محمد ابن زید ۲۸۳ھ بمطابق ۸۹۶ ء کی تعمیر سے لے کر آج تک سینکڑوں شخصیات جن میں خلفاء ، سلاطین، ملوک، امراء ، وزراء ، اہل ثروت، شامل ہیں جن کا شمار ممکن نہیں ہے تاہم ان میں سے بعض اصلاحات (جو موجودہ صورت میں ہمارے سامنے ہے)کی طرف اشارہ قدرے مشکل نہیں ہے خاص طور سے قدیم کاشانی طرز و طریقے اور عہد صفوی کے خوبصورتی و جمال کے حوالے سے ہم بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اور میں یہاں پر روضے کے مطابق باقی باتوں کے علاوہ شیخ جعفر محبوبہ کی کتاب ''نجف کے ماضی و حال ''ڈاکٹر سعاد ماہرکی کتاب ''مشہد الامام علی ''اورشیخ محمد حسین حرز الدین کی کتاب ''تاریخ نجف اشرف ''سے بھی مدد لوں گا۔ کیونکہ ان میں تمام شخصیات کا ذکر تفصیلی انداز سے بیان ہواہے ۔ اس کے علاوہ ماخذ کا بھی ذکر ہے اس کے ساتھ ڈاکٹر حسن حکیم کی کتاب ''مفصّل تاریخ نجف ''اور بعد میں راقم مرقد مقدس کی زیارت سے مشرف ہوا تو مزید اہم معلومات حاصل ہوئیں میں نے مذکورہ کتابیں اُن کے تاریخ طباعت کے حساب سے ذکر کی ہیں اور یہاں پر یہ اشارہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ان میں شیخ جعفر محبوبہ کی کتاب دیگر کتب کیلئے بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے۔ کیونکہ اس میں روضہ مطہر کے حوالے سے بہت ساری تاریخی معلومات کا ذکر ہوا ہے لیکن اس کے باوجود اس کے بعد لکھنے والوں کی کوششیں بھی کم نہیں ہیں۔
روضہ مبار ک کا صحن تقریباً درمیان میں مغرب کی جانب واقع ہے اور یہ ایک چوکور شکل کی عمارت ہے جس کی لمبائی ۱۳میٹر۳۰ سینٹی میٹر مربع ہے۔ اور اس کی پیمائش ۱۷۶میٹر اور ۸۹سینٹی میٹر مربع ہے اور اس کی بلندی ساڑھے تین ہیں جس کے اوپر دو گنبد ہیں جوایک دوسرے کے اوپر ہیں ڈاکٹر سعاد ماہر کے مطابق بیرونی گنبد بیضوی شکل کا موٹا ہے۔ جس کی بلندی ۸۰ سینٹی میٹر ہے اور سطح صحن سے ۴۸میٹر اور۵۰ سینٹی میٹر ہیں اس کا قطر ۱۲میٹر اور۶۰ سینٹی میٹر ہیں اس کا احاطہ۵۰ میٹر ہے۔ لیکن داخلی قُبّہ جو کہ تقریباً گول دائرے کی شکل میں ہے اور اس کی بلندی ۶۰ سینٹی میٹر اورقطر ۱۲میٹر اور۵۰ سینٹی میٹر ہے۔ سطح حرم سے اس کی بلندی ۲۳میٹر اور۵۰ سینٹی میٹر ہے اور روضہ مبارک کی تزین و آرائش نفیس جڑی بوٹوں کی شکل اور انتہائی خوبصورت نباتی علامات سے کی گئی ہے اور قرآنی آیات، امامکی شان میں وارد احادیث آپ کی مدح میں کہی گئی خوبصورت اشعار اور آئمہ اہل بیت کے اسمائے گرامی کی کتابت سے روضہ مبارک کی تزئین و آرائش میں مزید اضافہ کیا گیا ہے اور فرش پر اعلیٰ قسم کے سنگ مرمر کی ٹائلیں لگی ہوئی ہیں اور دیواروں پر انتہائی مہارت سے شیشہ کاری کی ہوئی ہے یہ خوبصورت منظر دیکھنے والوں کی آنکھیں خیرہ کرتا ہے۔
روضہ مبارک کے اندرونی حصوں کی خوبصورتی حد کمال کو چھو رہی ہے۔ ڈاکٹر سعاد ماہر کے مطابق کہ ان دونوں گنبدوں میں ٹوٹل(۱۳۰۰۰) اینٹیں استعمال ہوئی ہیں۔ لیکن یہ تعداد گنبدوں کی مساحت اور لمبائی کے حساب سے کم ہے شاید صحیح تعداد اس سے بہت زیادہ ہے۔ ان دونوں گنبدوں کے تعلق کے حوالے سے ایک مصری انجینئر محمد مدبولی خضیر جسے عراقی حکومت نے حرم اور اس کے نوادرات کے بارے میں جاننے کے لئے مدعو کیا تھا ان کے ملاحظات یوں ہیں:
''ان دونوں گنبدوں کو لکڑی کے مختلف ٹکڑوں سے جوڑا گیاہے۔ اور اس کے بعد چونے کے ذریعے مضبوط کیا گیا ہے اور گنبد ایک گول دائرہ جس کی بلندی ۱۲ میٹر ہے کے اوپر کھڑا ہے اور اس دائرے کے اندر آئمہ اہل بیت٪کی تعداد کی مناسبت سے ۱۲کھڑکیاں نکالی گئی ہیں۔ جنہیں اوپر کی طرف محرابی شکل کی ہے اور اس دائرے کے بیچ میں چار محرابیں ہیں۔ لیکن مربع سے مرکزی دائرہ تک وسط میں تین گول دائرے بنے ہوئے ہیں جو رکن مربع میں واقع ہے اس طرح ہمیں نیچے سے اوپر تک واضح نظر آتا ہے ۔ اس طرح کا اسلوب ہمیں اسلامی عمارتوں میں دسویں ہجری کے سوا کہیں اور نظر نہیں آتا۔ کہاجاتا ہے کہ یہ طریقہ روضہ مبارک میں ہواداری کے حساب سے انتہائی جدید فن معماری میں شمار ہوتا ہے اور یہ آج کل جدید کشتیوں کے اندرونی حصوں میں ہواداری کی طریقوں سے مشابہت رکھتا ہے اور روضہ مبارک اور چھت کے درمیان محرابوں میں گزرنے کی جگہ بنی ہوئی ہے اور اس کے درمیان ہواداری میں ۱۵سینٹی میٹر قطر کا لوہے کی شیٹ لگی ہوئی ہے اور بلندی میں چھت سے۱۵ سینٹی میٹر ہے تاکہ بارش کا پانی اس میں نہ جاسکے اور دونوں گنبدوں کے درمیان مختلف مقامات پر کھلے ہوئے ہیں اور یہاں آب باراں کیلئے پر نالے وغیرہ بھی بنائے ہوئے ہیں۔لیکن مربع کی دیوار کی بلندی ڈاکٹر حسن کے مطابق ۱۷میٹر ہے۔گنبد کے اوپر طلائی تختیوں کی تعداد سات ہزار سات سو ستر تک پہنچتی ہے کہا جاتا ہے کہ اس تعداد میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔''
شیخ محمد حسین بیان کرتے ہیں کہ اوپر والا گنبد کا سرا نچلے گنبد کے سرے سے چار میٹر بلند ہے اور وہاں ایک لکڑی کا زینہ ہے جو بارہ میٹر لمبا ہے جو بالائی گنبد اوپر کھڑکی تک جاتا ہے اور اس کھڑکی کیلئے چھوٹے پیتل کا دروازہ لگا ہوا ہے۔ جس کا ظاہر طلا نما لگتا ہے اور اس گنبد کے بالکل اوپر ایک بہت بڑا طلائی انار بنا ہوا ہے جس کے اوپر ایک بہت بڑا طلائی پنچہ ہے جس پر یہ آیت لکھا ہوا ہے۔( یَدُ اﷲِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ ) اسے نادرشاہ نے روضہ مبارک پر طلاء چڑھوانے کے لکھوایا تھا اب یہ پنچہ ایک بڑے روشنیوں کے مجموعے میں تبدیل ہوگیا ہے جو انتہائی شعلہ دار ہے جس سے لفظ ''اللہ ''بنتا ہے۔
ڈاکٹر سعاد ماہر گنبد کے داخلی تزئین و آرائش کے حوالے سے بھی بیان کرتے ہیں کہ ایک بہت بڑا دائرہ جو گنبد کے گردن کے ارد گرد ہے اور اس کے اوپر چھوٹے چھوٹے گول دائروں کے ٹکڑے ہیں اور ٹکڑے چھ لائنوں میں ہے اور ہر لائن کی لمبائی ۲۵سینٹی میٹر ہے ۔ گنبد کی گردن شیشہ کاری سے انتہائی خوبصورت انداز میں سجائی گئی ہے جس کے اوپر کاشانی ٹائل خط کی صورت میں لگی ہے جس پر سورة النباء کی کتابت کی ہوئی ہے اور یہ خط ان بارہ کھڑکیوں تک جاتی ہے جو آئمہ اثنا عشر کے تعداد کی مناسبت سے ہے اور تمام محرابوں میں جیومیٹری کی مختلف اشکال کمال دقت اور بے مثال انداز میں بنی ہوئی ہیںاور اوپر سے قرآنی آیات کی لکھائی ہے لیکن گنبد کے ڈھانچہ پر بے مثال کاشانی ٹائلوں اور مختلف رنگوں کے بیل بوٹے بنے ہوئے ہیں۔
یہاںشیخ محمد حسین گنبد کے اندرونی حصے کی تعریف میں اشارہ کرتے ہیں کہ آیات کریمہ آبگینہ و بلور سے کتابت کی ہوئی ہے بلکہ ہر گنبد کے باطنی حصہ میں مختلف جڑی بوٹی کے نقشے معجزانہ انداز سے نقش کئے ہوئے ہیں اور خاص طور سے نیچے کی جانب ایک نقشے میں شیروں کے سر بنے ہوئے ہیں اس طرح ۲۴عدد شیر ہیں اور بالکل اوپر کی جانب ۱۲عدد فریم بنے ہوئے ہیں ان میں سے ہر ایک میں آئمہ اثنا عشر کے اسمائے گرامی کی کتابت کی ہوئی ہے گنبد کے گردن کے ارد گرد نیچے سے امام علی کی مدح میں ایک قصیدہ اس طرح لکھا ہوا ہے کہ ہر آدھے شعر سے ایک خط ایک پیلے رنگ کی پیٹی پر خوبصورت انداز میں بنی ہوئی ہے اور اس طرح دوسرے خطوط سے ملی ہوئی ہے اس طرح آیات مبارکہ اس خوبصورت اشعار کی زنجیر کے درمیان نظر آتی ہیں۔
گنبد کے پر فضاء کے اوپر خوبصورت ثریات سے روشن ہے اور ثریات وقتاً فوقتاً تبدیل ہوتی رہتی ہے اور ہر مہینے کے شروع میں ایک مرتبہ حرم کے خدّام ان فانوسوں کے ساتھ مرقد مطہر کے اندرونی حصوں کی صفائی کرتے ہیں اور اس دوران ان نذورات کو بھی نکالتے ہیں جو زائرین دوران زیارت پھینکتے ہیں۔ یہ نذورات ، نقد، یا معدن، بعض سبز کپڑوں کے ٹکڑے یا مرقد مطہر کے اوپر چڑھائی گئی چادروں وغیرہ پر مشتمل ہیں۔ لیکن ان کو نقود سے زیادہ قیمت پر تبرکاً خریدا جاتا ہے اور کپڑوں کے ٹکڑے اور چادریں زائرین میں تقسیم کرتے ہیں ۔ چودھویں صدی ہجری میں ایک سے زیادہ مرتبہ گنبد کی ترمیم ہوچکی ہے اور ماہ ذی الحجہ ۱۳۰۴ھ /اگست ۱۸۸۸ء میں بعض جگہ دراڑ پڑنے کی وجہ سے ترمیم ہوئی۔اس ترمیم کے بعد لوہے کی تختیاں چڑھائی گئیں پھر بعد میں انہیں طلائی تختیوں میں تبدیل کیا گیا اور یہ ترمیم اسی سال ربیع الاوّل کے آخر میں مکمل ہوئی ۔ اس میں شریک کار معمار حاجی محسن اور کار پینٹر حسین شمس رہے۔
دوبارہ بعض جگہ دراڑ پڑ جانے کی وجہ سے ترمیم کی ضرورت ہوئی کیونکہ اندر پانی جانے کی وجہ سے طلائی تختیاں نکلنا شروع ہو گئی تھیں اور یہ ترمیم ۱۳۴۷ھ /۱۹۲۸ ء کو شروع ہوئی اور اسی سال سابقہ معماروں کے ہاتھوں ماہ ربیع الثانی میں مکمل ہوئی اور شیخ محمد حسین کے مطابق یہ دو گنبدوں میں ۱۳۸۶ھ بمطابق۱۹۶۶ ء میں دوبارہ ترمیم ہوئی اور راقم بھی انکے ساتھ اتفاق کرتا ہے۔
شیخ محمد حسین ہی وہ شخص ہے جنہوں نے دونوں گنبدوں کے درمیان داخل ہوکر معلومات جمع کی ہیں اس بارے میں وہ یوں بیان کرتے ہیں:
'' بروز پیر۱۹ شعبان ۱۳۹۰ ھ بمطابق اکتوبر ۱۹۷۰ ء کو میں حرم کے چھت پر چڑھ کر آثار کو اپنے آنکھوں سے دیکھا اور گنبد کے درمیان سوراخ اور گزرگاہ میں داخل ہوا ۔ اور ایک کاغذ کے اوپر دائیں بائیں اور سامنے سمتوں کا اشارہ لکھا تاکہ مجھے نکلنے میں آسانی ہو کیونکہ اندر اس کی بناوٹ میں مختلف شاخیں بنی ہوئی تھی اور اس کے حجم کا اندازہ ایسا تھا کہ ایک آدمی جھک کر داخل ہوسکتا تھا اسی لئے محققین اس زحمت کو برداشت نہیں کرتے تھے اس عمل میں میرے ساتھ اُستاد معمار شیخ محمد علی جو کہ معمار حاج سعید نجفی کے نائب تھے ان کی مدد شامل رہی۔
موصوف نے ۱۸۹۰ھ / ۱۹۷۰ ء میں گنبد کے ایک اور جانب ترمیم کے بارے بتایا کہ
''وہ دوبارہ دوسرے دن بروز منگل مشرق کی جانب ایک چھوٹے طلائی دروازے سے چڑھا تھا۔ یہاں سے حرم کی چھت پرجانے کے لئے لکڑی کا زینہ لگا ہوا ہے اور وہاں سے اسی زینے سے گنبد کے اندر داخل ہوسکتے ہیں اس طرح بعد میں گنبد کی ترمیم کے دوران ماہرین پورے گنبد کو ایک ہی دفعہ میں گرانے کے بجائے پہلے آدھا میٹر توڑتے تھے پھر اس کو بناتے تھے ۔ اس کے بعد آگے توڑتے تھے ا س طرح اس طریقے سے پورے گنبد کاکام مکمل کرتے تھے اسکی وجہ یہی تھی کہ دونوں گنبدوں کی اصل شکل باقی رہنے کے ساتھ خوبصورت کاشانی ٹائل کو نقصان نہ پہنچے جو گنبد کے داخلی حصے کو مزین کیا ہوا ہے۔نچلے گنبد کے طلائی رباط کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے گرایاگیا تھا پھر دوبارہ جدید رباط لگایا جسے قرآنی آیات سے مزین کیا ہوا ہے۔''
۱۳۵۹ھ / ۱۹۴۰ ء سے قبل فرشِ روضہ مبارک پر سفید رنگ کے سنگ مرمر بچھے ہوئے تھے جو نجف اشرف کے جنوب سے بمقام ''مظلوم ''سے لایا گیا تھا لیکن اسی سال بوہری امام طاہر سیف الدین نے اعلیٰ قسم کی اٹلی کے سنگ مرمر میں تبدیل کیا جسے شیخ جعفر محبوبہ نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے۔ شیخ محمد حسین حرز الدین کے مطابق مذکورہ امام صاحب نے قبر مطہر میں ایک چاندی کی کھڑکی بھی نصب کروائی تھی جبکہ ڈاکٹر حسن حکیم بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے روضہ مبارک کیلئے انتہائی قیمتی سنگ مرمر ۱۹۳۷ ء کو ہدیہ کیا تھا۔
یوں تو روضہ مبارک ۱۲۰۴ ھ / ۱۷۹۰ ء میں ہی کاشانی طرز کے آرائش سے مزین کیا ہوا تھا اور روضہ مبارکہ چاروں اطراف میں دیواروں پر نیچے سے اوپر تک تزئین و آرائش کا مجسمہ بنا ہوا ہے اور اس کے اوپر مختلف فنی اشکال و جیومیٹریکل اشکال بنی ہوئی ہے۔ شیخ محمد حسین کے مطابق اس تزئین و آرائش کے اخراجات کس نے کی اس کا کوئی نام درج نہیں ہے سوائے یہ کہ اس تعمیر نو کی تاریخ ابجدی حساب میں جنوبی طرف بالائے سر کی جانب چار میٹر کی بلندی پر لکھا ہوا ہے۔
ایرانی شاہ محمد رضا پہلوی نے بارہ ہزار دینار روضہ مبارک کی شیشہ کاری کے لئے وقف کئے تھے اور ماہ شعبان ۱۲۶۹ھ /۱۹۵۰ ء میں قدیم شیشوں کو اکھاڑنا شروع کیا گیا اور گنبد کا گردن کے نیچے بارہ مثلث کی شکل ہے جس میں ہر شکل مثلث میں بارہ اماموں کے اسمائے گرامی کی کتابت بڑے خوبصورت انداز میں کی ہوئی ہے اور شیشہ کاری کا یہ عمل ۲۶جمادی الاوّل ۱۳۷۰ھ / ۱۹۵۱ ء تک جاری رہا اس فن کا نظریہ حسین کیانفر نے پیش کیا جبکہ اسے عملی جامہ حاجی سعید نجفی نے پہنایا۔ اس علامت کی تاریخ فارسی کے شعر میں موجود ہے جو روضہ مبارک کے دائیں جانب مشرقی دروازے کی دیوار پرلکھا ہواہے لیکن پرانے سابقہ مآ خذ میں دوسری تاریخیں ابجدی حساب کے عدد میں لکھی ہوئی ہیں جو بعض شعراء کی طرف اشارہ ہے جن میںشیخ عبد المنعم الفرطوسی بھی شامل ہے۔
بیرونی گنبد پر باہر سے کاشانی ٹا ئلیں لگی ہوئی تھی یہاں تک کہ نادر شاہ کے عہد ۱۱۵۶ھ بمطابق۱۷۴۳ ء تھا پھر انہوںنے ان تمام تختیوں کو طلائی مربع شکل میں جن کی لمبائی ۲۰سینٹی میٹر ہے ان ٹائلوں کی کل تعداد ۷۷۷۲ہے اس طلائی عمل میں بے تحاشہ اموال خرچ ہوا ہے اور دو سو(۲۰۰)کے قریب کارمندوں نے شرکت کی جن میں مختلف ممالک عربی، فارسی، ترکی، چینی
ماہرین تھے۔ ڈاکٹر سعاد ماہر کے مطابق اس پر تقریباً ۵۰ملین دینار خرچ ہوا جبکہ شیخ جعفر محبوبہ نے مختلف تواریخ سے نقل کیا ہے کہ اس کار خیر پر تقریباً ۰۰۰ ۵تومان خرچ ہوا پھر وہ اپنی کتاب کے حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ مذکورہ رقم صرف کام کی اجرت ہے جبکہ پیتل، طلاء ، جو نادرشاہ نے دی تھی وہ الگ ہے اور آگے وہ مزید بیان کرتے ہیں کہ ایک شاہی تومان سو تومان رائجہ کے برابر ہے ۔ عزّاوی کے مطابق ایک تومان دس ہزار دینار کے برابر ہے اور ہر دینار چھ درہم کے برابر ہے ، ایک جرمنی سیاح NABUR جب ۱۷۶۰ ء میں نجف اشرف پہنچا تو اس زمانے میں ایک چوکور پیتل کی تختی پر طلاء چڑھانے کی مزدوری ایک طلائی تومان سے زیادہ ہوتا تھا ۔ روضہ مبارک ، رواقوں، اور طلائی ایوان کی دیواروں پر خوبصورت اٹلی کے سنگ مرمر لگنے سے قبل ریشم کے پردے لگے ہوئے تھے ایک بادشاہ حرم مبارک میں زیارت کے لئے آئے تو انہوں نے سنگ مرمر کے ٹائل لگوائے۔
مرقد مطہر کی جالی
مرقد کی کھڑکی کے حوالے سے صحیح تاریخ معلوم نہیں کہ یہ سب سے پہلے کب نصب ہوئی؟ ہاں!تاریخ کی کتابوں میں یہ اشارہ ملتا ہے کہ ۱۰۷۳ھ/۱۶۶۳ ء سے قبل قبر مبارک پر کھڑکی تھی اور اسی سال ایک وبائی مرض میں مبتلا خاتون صاحب مرقد کی برکت سے شفا یاب ہوئی تھی اس حکایت کو علامہ مجلسی نے اپنی کتاب بحار الانوار میں بیان کیا ہے لیکن ڈاکٹر سعاد ماہر کے مطابق سب سے پہلی کھڑکی کی خوبصورتی اور فن اسلوب دسویں صدی ہجری عہد صفوی میں ملتا ہے اور مذکورہ کھڑکی ابھی تک روضہ مبارک کی اسٹورمیں محفوظ ہے۔ اس حوالے سے شیخ جعفر محبوبہ اپنی کتاب میں بیان کرتے ہیں کہ وہاں صندوق میں ایک لوہے کی فولادی کھڑکی رکھی ہوئی ہے کیونکہ اس کے بعد چاندی کی لگی تھی پھر اس کے کئی مرتبہ اصلاحات ہوئی اسی طرح ایک مرتبہ ۱۲۰۳ھ میں بھی اصلاحات ہوئی تھی۔ ''کتاب تحفة العالم ''میں نقل ہوا ہے کہ مذکورہ کھڑکی کی تعمیر سلطان محمد شاہ قاچاری نے اس طرح کی تھی کہ انہوں نے ایران میں ۱۲۱۱ھ بمطابق ۱۷۹۷ ء میں یہ کھڑکی بنواکر کر علامہ آقا محمد علی الہزار جریبی کے ہمراہ نجف اشرف میں بھجوائی تھی اور مذکورہ کتاب کے حاشیے میں یہ درج ہے کہ موصوف آقا نے ۱۲۶۲ھ /۱۸۴۶ ء میں وفات پائی اور ایوان العلماء میں دفن ہوئے لیکن ان کی حالات زندگی ایک اور کتاب ''تکملة امل الآمل ''میں بھی بیان ہوئی ہے اس کے مطابق قمشہ فارس میں ۱۲۳۵ھ کو وفات ہوئے اور شاہ سید علی اکبر کے مقبرے کے پاس دفن ہوئے ۔ ڈاکٹر حسن حکیم نے اپنی کتاب میں یہ اشارہ کیا ہے مرقد مطہر پر ۱۲۰۲ھ /۱۷۸۸ء میں نصب ہوئی تھی تاہم یہ بات انہوں نے ''العالم العربی'' نامی ایک اخبار میں ۶-۶-۱۹۴۲کو چھپے ہوئے ایک مضمون پر اعتماد کرتے ہوئے بیان کیا ہے ۔ جبکہ شاہ محمد خان قاچاری نے ۱۲۰۳ھ / ۱۷۸۹ ء کو اس کی تعمیر کی تھی لیکن الکوفی اپنی کتاب ''نزہة الغریٰ ''میں نقل کرتے ہیں کہ ۱۲۰۲ھ میں روضہ مبارک پر چاندی کی کھڑکی نصب تھی پھر ۱۲۰۳ھ میں اس کی تعمیر ہوئی اس کے بعد ۱۲۰۵ھ میں دوبارہ تعمیر ہوئی ۔ کہا جاتا ہے کہ سلطان محمد شاہ بن عباس شاہ کے وزیر عباس قلی خان نے ۱۲۶۲ھ /۱۸۴۶ ء میں روضہ مبارک کے لئے ایک نئی جالی ہدیہ کی تھی جس کے اطراف میں بالائی محرابوں پر قرآنی آیات، آئمہ کرام کے نام اور فارسی اشعار امام علی کی شان میں لکھے ہوئے تھے اور چاروں کونوں کے اوپر خالص طلائی گول گنبد بنی ہوئی تھی ۔ پھر مشیر سیّد محمد شیرازی نے بھی اسے چاندی میں تبدیل کیا اس کے دروازے پر اپنا نام اورتاریخ تعمیر بڑے سنہرے حروف میں لکھوادی۔ یہاں پر شیخ محمد حسین اپنی تاریخ میں یوں بیان کرتے ہیں کہ
''ہم نے اسی کھڑکی کو وہاں پر نصب ہوا دیکھا اور مذکورہ کتابت پڑھی اور اس کی بناوٹ لاثانی تھی جس پر قرآنی آیات اور احادیث نبویصلىاللهعليهوآلهوسلم کمال دقت کے ساتھ نقش کی ہوئی تھیں اور اس کے ساتھ ابن ابی الحدید معتزلی کے قصیدے چند اشعار اور ایک شاعر شیخ ابراہیم صادق عاملی متوفی ۱۲۸۸ھ بمطابق۱۸۷۱ ء کے چند اشعار کھڑکی کے سامنے اور بالائے سر کی جانب والے حصوں پر سنہرے حروف سے لکھے ہوئے تھے۔ ''
کہا جاتا ہے کہ یہ کھڑکی ۱۳۶۱ھ / اپریل ۱۹۴۲ ء میں اکھاڑکر صحن شریف کے جنوب مشرقی جانب ایک کمرے میں رکھی کی گئی اور پھر ۲۵سال بعد اسے حرم کے دوسرے نوادرات کے ساتھ مخصوص اسٹور میں منتقل کی گئی۔
موجودہ کھڑکی کی جالی
اگر چہ شیخ جعفر محبوبہ اور ڈاکٹر سعاد ماہر نے سابقہ کھڑکی کو اس کی خوبصورتی اور دقیق فن آرائش کی وجہ سے باقی کھڑکیوں پر فضیلت دی ہے لیکن اس کے باوجود موجودہ کھڑکی کی بڑائی اہل بیت کے مراقد کی تمام کھڑکیوں سے قیمتی، خوبصورتی، طرز بناوٹ کے لحاظ سے زیادہ ہے اور پوری دنیا میں تمام مشہور تحفوں سے بڑا ہے اور دیکھنے والا ان اہل فن و ماہرین کے احترام کئے بغیر نہیں رہ سکتے جنہوں نے ان منفرد و ممتاز تحفے کو وجود میں لایا جس کی خوبصورتی قلم بیان کرنے سے قاصر ہے ۔
اس نادر تحفے کو ہندوستان کے بوہری امام طاہر سیف الدین نے ہدیہ کی تھی اور اس کے بنانے اور طلائی کرنے میں ہندوستان کے مشہور ماہرین نے شرکت کی تھی اور اس کار خیر کو انہوںنے پانچ سال کی مدت میں مکمل کیا۔ اور کہا جاتا ہے کہ اس پورے عمل پر دس ملین گرام چاندی اور۵۵۵۲گرام سونا خرچ ہوا تھا اور اس زمانے کے لحاظ سے یہ اسّی ہزار دینار کے برابر ہوتا تھا اور یہ جالی دار کھڑ کی روضہ مقدس کے ۳۰سینٹی میٹر بلند نفیس اٹلی کے سنگ مرمر پر نصب کی گئی تھی اور اس کھڑکی کے لئے بالکل جنوب مشرق میں پرانے جالی دار دروازوں کی طرح ایک چاندی کا دروازہ ہے اور یہ صرف عظیم الشان علماء ، ملوک، سلاطین، کے لئے کھلتا ہے ، مرقد مطہر پر ایک صندوق بھی ہے جو اس دروازے سے تقریباً ایک میٹر کے فاصلے پر ہے اس کے مختلف تالے لگے ہوئے ہیں ۔ آج کل یہ ہر مہینے میں صرف ایک بار حرم کی کمیٹی کے ارکان کے سامنے کھلتا ہے اور ان کے ساتھ ایک قاضی بھی شامل ہوتے ہیں پھر وہاں موجود تمام نذورات کو نکالا جاتا ہے اور پلاسٹک کے تھیلوں میں ڈالا جاتا ہے اس کے بعد دوبارہ مضبوطی سے یہ دروازہ بند کیا جاتا ہے اس کے یہ تمام نذورات کی فہرست تیار کرکے ایک رجسٹر میں لکھا جاتا ہے قاضی سمیت کمیٹی کے تمام افراددستخط کرتے ہیں۔پھر ان تمام چیزوں کی کسی خاص مقام میں صفائی کی جاتی ہے اس دوران خدام کا گروہ روضہ مبارک کے اندر و باہر اور مرقد مطہر کے تمام اطراف کی صفائی کرتے ہیں اس مناسبت سے بعض مہمان وہاں پر نماز و زیارت سے مشرف ہوتے ہیں ۔ راقم کو اس اعزاز بڑی لمبی مدت بیٹھنے کا شرف حاصل ہوا تھا جب ۱۳ذی القعدہ ۱۴۲۹ھ / ۱۲-۱۱-۲۰۰۸کو بعض مہمان کے ہمراہ کمیٹی کے بعض افراد کے ساتھ روضہ مبارک کے اندر داخل ہونے کا شرف حاصل ہوا اور میں اسی کھڑکی سے وہاں موجود صندوق کی طرف داخل ہوا اور سر امیر المومنین کے پاس نماز ادا کرنے کی توفیق حاصل ہوئی اور میرے اندر اس مناسبت سے ایک روحانی اثر داخل ہوا جسے میری زبان و قلم بیان کرنے سے عاجز ہے۔
ڈاکٹر حسن حکیم اپنی کتاب میں بیان کرتے ہیں ۱۳رجب المرجب ۱۳۶۱ھ بمطابق ۲۷جون ۱۹۴۲ ء امیر المومنینـکی ولادت کی مناسبت کے موقع پر اس کھڑکی سے پردے ہٹائے گئے اور وہاں عظیم جشن کا اہتمام ہوا جس میں عراقی وزیر اعظم نوری سعیدی اور رکن پارلیمنٹ سید عبد المہدی المنتفکی نے بھی شرکت اور خطاب کیا اور بہت سارے قصیدے امام کی شان میں کہے گئے۔
روضہ مبارک سے متعلق تمام کتابوں میں محدثین نے شدید تعجب میں مبتلا ہو کر بڑی خوبصورت نعتیں کہیں اور یہ ہے بھی بجا کیونکہ یہ پوری دنیا کے خوبصورت فنی آثار میں شامل ہیں اور اس حوالے سے جو شیخ محمد حسین نے بیان کیا ہے میں ان پر اعتماد کروں گا کہ اس کے چاروں اطراف پٹیاں طلائی حروف سے یوں لکھی ہوئی ہیں:
پہلی پٹی
جو کہ سب سے نیچے ہے جس پر ہدیہ کرنے والا یعنی طاہر سیف الدین کا قصیدہ لکھا ہوا ہے اس کے بعد اس جگہ ابن ابی الحدید کے امیر المومنین کی مدح میں کہا ہوا قصیدہ لکھا یا ہے ۔ دراصل یہ کام ایران میں ہوا تھا کہ ایک چاندی کی پٹی پر آبگینہ آسمانی اور مختلف رنگوں میں لکھا گیا اور یہ لاکر متبرع امام طاہر سیف الدین کے قصیدے کے اوپر رکھا گیا اور یہ کام تمام فن کمالات سے پُر کیا ہوا ہے اور اس پٹی پر جگہ جگہ خوبصورت بیل بوٹوں کو مختلف رنگوں میں دکھایا گیا اور اس نقوش کے درمیان احادیث نبویصلىاللهعليهوآلهوسلم لکھ کر اسے اوج کمال تک پہنچایا گیاہے۔
دوسری پٹی
اس پر قرآنی سورتوں کی کتابت ہوئی ہے جو کہ سورة الدہر جنوب مغربی رکن سے شروع ہوتی ہے پھر اس کے بعد سورة الغاشیة، سورة الانشراح، سورة الکوثر، سورة الاخلاص، اور آیة الکرسی پر ختم ہوتی ہے۔
تیسری پٹی
یہ دوسری پٹی کے اوپر ہے اس پر امیر المومنین اور آئمہ معصومین کی شان میں احادیث کی کتابت ہوئی ہے جو جنوب مغربی رکن پر ختم ہوتی ہے اور آخر میں یہ عبارت درج ہے:
'' عبد اﷲ وعبد ولیّه ا میر المومنین الدّاعی لی حبّ آل محمّد الطّاهرین ابو محمد طاهر سیف الدّین من بلاد الهند سنة ١٣٦٠ه / ١٩٤١ ئ''
اور اس پٹی کے نیچے چاندی پر ایک زرکش ہے جو انگور کے درخت اور بیلوں اور بڑے واضح گچھوں کا خاکہ پیش کرتا ہے اور اس کے اوپر چھوٹے چھوٹے ستوں پر لمبائی میں ۲۸تاج جبکہ چوڑائی میں ۲۲تاج ہیں اور ہر تاج کے درمیان میں اسمائے حسنی سنہرے حروف سے لکھا ہوا ہے۔
چوتھی پٹی
اس پر سورة مبارکہ الرحمن کی کتابت ہوئی ہے اور بالائی جالیوں کے شرفوں کو بڑے بڑے طلائی گولوں سے مزین کیا ہوا ہے ان کی تعداد لمبائی عدد جبکہ چوڑائی میں ۲۲عدد گولے ہیں اور جالی مغرب کی طرف لمبائی میں پانچ چھوٹے چھوٹے پنجرے لگے ہوئے ہیں جبکہ چوڑائی میں چار چھوٹی جالیاں لگی ہوئی ہیں۔
صندوق مر قد مطہر
اس میں کوئی شک نہیں کہ مرقد مطہر پر درمیان میں گنبدیں ہیں شاید یہاں صندوق رکھنے کا رواج بہت پرانا ہے اس کا ذکر ابن بطوطہ نے ۷۲۷ھ / ۱۳۲۷ ء میں کیا ہے ''گنبد کے درمیان ایک چوکور بینچ ہے جوکہ لکڑی سے ڈھانپا ہوا ہے ۔ اس کے اوپر منقوش طلائی سلیٹ مضبوطی سے لگی ہوئی ہے پھر اسے چاندی کی میخوں سے اور زیادہ مضبوطی سے رکھی ہوئی ہے اور اس کے اوپر زیادہ لکڑی ہونے کی وجہ سے کوئی چیز زیادہ ظاہر نہیں ہوتی اور اس کی بلندی ایک قد سے کم ہے ''اور یہ بدیہی بات ہے کہ یہ مذکورہ بینچ اس تاریخ سے قبل مرقد مطہر پر نصب تھا اور یہ بھی واضح ہے کہ اس سے پہلے بھی ابن بطوطہ نے اس طرح کی بینچ مختلف عمارتوں میں دیکھی تھیں۔
اور یہ بھی واضح ہے کہ جس بنچ کوابن بطوطہ نے بیان کیا تھا وہ ۷۵۵ھ /۱۳۵۴ ء کو روضہ مبارک کو آگ لگنے کی وجہ سے تبدیل ہوا تھا اور پھر حسن الجلائری نے اسے بھی روضہ مبارک کے ساتھ دوبارہ تعمیر نوکی لیکن یہ نہیں معلوم کہ اگر اس صندوق کی تجدید ۷۵۵ھ /۱۳۵۴ ء کے درمیان ہوئی ہے کیونکہ جو صندوق ۷۵۷ھ/ ۱۴۵۳ ء میں مرقد مطہر پر تھا اسے مشعشع نے نجف اشرف میں داخل ہوتے وقت توڑا تھا توضروری ہے کہ اس کے یہاں سے نکلنے کے اور خطرہ ٹلنے کے بعد اس صندوق کی دوبارہ تعمیرنوہوئی ہو لیکن یہ نہیں معلوم کہ کس نے اس عمل کو انجام دیا اور اس دوران مرقد مطہر پر جالی نصب کرنے والا بھی معلوم نہیں ۔ اس حوالے سے پہلے صندوق ہدیہ کرنے والے کے بارے میں ہمیں ۱۹۱۴ ء میں پتہ چلتا ہے جیسا کہ ڈاکٹر علی الوردی نے اپنی کتاب''تاریخ کے عراق کے لمحات اجتماعیہ''میں محمد جواد المغنیہ کی کتاب ''تاریخ میں شیعوں کی حکومت ''سے نقل کیا ہے شاہ اسماعیل نے اس سال بغداد کو فتح کرنے کے بعد عتبات مقدسہ کی زیارت کا رخ کیا تو انہوں نے نجف ، کربلا، کاظمیہ، سامراء میں آئمہ اطہار کے روضہائے مبارک پر پرانے صندوقوں کو تبدیل کرواکے نئے صندوق رکھنے کا حکم دیا پھر ایک اور صندوق کی طرف ۱۱۲۶ھ / ۱۷۱۴ ء میں موجود ہونے کا اشارہ ملتا ہے جیسا کہ شیخ محمد حسین حرزالدین نے شیخ محمد جواد عواد کے حالات زندگی کے ذکر میں بیان کیا ہے کہ'' ان کا ایک مجموعہ مخطوطہ کتب کا ہے اور ان مجموعوں میں ان کا ایک قصیدہ بھی ہے جن میں انہوںنے وزیر حسن باشاہ کی مدح کی ہے جنہوں نے مرقد مطہر امیر المومنین پر ایک قیمتی صندوق ۱۱۲۶ھ / ۱۷۱۴ ء میں بنواکر رکھوایا تھا۔
لیکن اس میں انہوںنے کوئی قدیم صندوق کا ذکر نہیں کیا ہے اور نہ ہی کوئی جدید صندوق کا تو ہمارا خیال ہے جو بینچ ابن بطوطہ نے وہاں دیکھا ہے اس سے پہلے اور بعد میں مرقد مطہر پر مختلف صندوق رکھے گئے ہیں۔
جیسا کہ شیخ محمد حسین اپنی کتاب میں بیان کرتے ہیں کہ ۱۲۰۲ھ /۱۷۸۸ء میں محمد جعفر بن محمد صادق نامی ایک شخص نے روضہ مبارک پر ایک صندوق رکھا تھا جس پر یہ لکھا تھا کہ ''اس صندوق کو رکھنے کا شرف توفیق اللہ تعالیٰ اور اس کے ولی و اولیاء کیلئے نہایت ادب و خلوص کے ساتھ سگِ عتبہ علی امیر المومنین علی بن ابی طالب محمد جعفر بن محمد صادق ادام اللہ تا ئیدہ کو ۱۲۰۲ھ بمطابق ۱۷۸۸ء میں ہوا ہے اور آخر میں ان کے دستخط کے بعد عمل بندہ خاکسار محمد حسین نجار شیرازی ہے اور اسے محمد بن علاوء الدین محمد الحسینی سال ۱۱۹۸ھ / ۱۸۸۴ء نے کتابت کیا ہے۔ ''مذکورہ صندوق کو صندوقِ خاتَم کہا جاتا ہے اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کیونکہ اس کی نوعِ صناعت کو ''فن خاتمی ''کہا جاتا ہے اور اس عظیم فن کے حوالے سے ایران کے شہر اصفہان مشہور ہے۔ لیکن جوصندوق وہاں ہے وہ ایک نایاب لکڑی جو ہندوستان میں پائی جاتی ہے اس سے بنا ہوا ہے اور اس کے اوپر گوہر، عاج، ابنوس، صندل کے نقوش بنے ہوئے ہیں اور مختلف طرز میں عربی عبارت کندہ کی ہوئی ہے اس کے بالائی حصہ جنوبی جہت میں سورة الدھر کی کتابت سفید عاج سے کی ہوئی ہے پھر طلاء اور نقرہ کی پالش کی ہوئی ہے۔
اس کے علاوہ سورة القدر اور سورة الاعلیٰ کی کتابت بھی اسی طرح کی ہوئی ہے اور دو انگلیوں کے فاصلے پر یہ آیت لکھی ہوئی ہے۔( اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُونَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوْنَ اللهَ یَدُ اللهِ فَوْقَ اَیْدِیْهِمْ ) اور اس صندوق کی مشرقی سمت میں بالائی جانب سورة النّباء ،نیچے کی جانب سورة العادیات جبکہ جنوبی سمت میں سورة الملک اور بالائے سر کی جانب خطبہ حجة الوداع امام صادق کی روایت سے لکھا ہوا ہے اس کے بعد تسلسل کے ساتھ ان کے فرزندان معصومین کی شان میں احادیث نبویصلىاللهعليهوآلهوسلم لکھی ہوئی ہیں۔ اسکے علاوہ اسی جہت میں حضور اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم کا یہ قول بھی ہے کہ'' یَا عَلِیُ اَنْتَ اَخِیْ وَاَنَا اَخُوْکَ'' یہ صندوق علی مراد خان کے حکم سے بنا تھا۔
جیسا کہ شیخ محمد حسین نے ایک فارسی کتاب سے نقل کیا ہے لیکن علی مراد خان یہ کام مکمل ہونے سے قبل مر گیا پھر ان کے بیٹے جعفر خان نے یہ کام شروع کیا لیکن وہ بھی یہ کام مکمل نہیں کرسکا اور مرگیا تو ان کے بیٹے لطف علی خان بن جعفر خان نے یہ کام مکمل کیا۔ اور اس کی ابتداء ۱۱۹۸ھ /۱۷۸۴ ء میں ایک نجار کے ہاتھوں ہوا تھا جس کا نام اسی صندوق پر مذکورہ ہے جبکہ اس پر کتابت کرنے والے خطّاط کا نام بھی مذکور ہے اس کے بعد شیخ محمد حسین بیان کرتے ہیں کہ '' اس صندوق کو میں نے ۱۳۶۱ھ /۱۹۴۲ ء میں دیکھا تھا جب روضہ مبارک سے فولادی پرانی جالی اور چاندی کی جالی اکھاڑدی گئی تھی اور اس کی جگہ نئی جالی لگی اسے ہند کے بوہری امام نے وقف کیا تھا اس کام کو صندوق سے گردو غبار ہٹاتے ہوئے جاری رکھا۔ ''
شیخ جعفر محبوبہ نے بھی اپنی کتاب ''نجف کے ماضی اور حال ''اس حوالے سے گفتگو کی ہے کہ
''میں اس صندوق کو ۱۳۶۱ھ /۱۹۴۲ ء میں اس وقت دیکھ چکا تھا جب روضہ مبارک کی چاندی کی جالی کی تبدیلی ہورہی تھی۔ ''
لیکن انہوں نے سابقہ صندوق اور اس صندوق کے درمیان خلط کیا ہے اور یہ شاید یہ خلط مطلب ان کی کتاب سے موسوعہ النّجف میں نقل ہوا ہو۔ ڈاکٹر سعاد ماہر نے بھی اپنی کتاب ''مشہد امام علی '' میں بیان کیا ہے اس کے علاوہ روضہ مبارک سے متعلق تمام کتابوں میں یہ بحث آئی ہے۔
ڈاکٹر حسن حکیم نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے کہ استاذ علی خاقان نے اپنی کتاب ''شعراء الغری ''میں یوں بیان کیا ہے:
''میں نے اس خاتم(صندوق)کو چاندی کی جالی کی تبدیلی کے موقع پر دیکھا اس دوران میں قریب جاکر اسے چھو بھی چکا ہوں اگر میں یوں کہوںتو مبالغہ نہیں ہوگا۔ اس صندوق کا حجم لمبائی میں ۶فٹ ۳سینٹی میٹر، اور چوڑائی ۱۰فٹ۳ سینٹی میٹر ہے اور عرض ۳میٹر۳ سینٹی ہے۔ جبکہ اس کی بلندی ۱میٹر۸۳ سینٹی میٹر ہے ۔''
ڈاکٹر حسن وغیرہ بیان کرتے ہیں کہ اس صندوق کے اوپر ۱۳۶۱ھ / ۱۹۴۲ ء میں شیشے کے پلیٹ چڑھا کر اس کی خوبصورتی کو دوبالا کردیا گیا صندوق اور اس کی تاریخ کے بارے میں بہت سارے شعراء کے قصائد اور اشعار ہیں، اللہ نے مجھے یہ توفیق دی کہ میں مرقد میں جالی کے دروازے سے داخل ہوکر سر امام کے نزدیک نماز پڑھی ، اُس دوران میں نے وہاں ایک عجیب امتزاج پایا کہ اس جگہ کی قد سیت اور فنی خوبصورتی کو کسی بھی آنکھ نے اس کائنات میں نہیں دیکھا ہو گا۔ یہ واضح ہے کہ مرقد مطہر کا صندوق قدیم زمانے سے مرور ایام کے ساتھ مختلف غلاف اس کے اوپر چڑھتے گئے ان میں سے بعض روضہ مبارک کے اسٹور میں موجود ہیں۔ لیکن شیخ محمد حسین نے ایک ایسے قدیم غلاف کی طرف اشارہ کیا ہے۔ جس کی انہوں نے یوں تعبیر کی کہ اس کپڑے پر سونے اورچاندی کے تار سے موتیوں سے پرویا ہوا کپڑا تھا، جو کہ عہد بویہی کی طرف پلٹتا ہے اور وہ مزید آگے کہتا ہے کہ شیخ علی شرقی نے اس غلاف کو احمد شاہ قاچاری کی زیارت کے دوران عراق پر برطانیہ کے قبضے کے ایّام میں دیکھا تھا اور کہا جاتا تھا کہ یہ عضد الدّولہ البویہی کے تحائف میں سے تھا، جسے انہوں نے روضہ مبارک کیلئے وقف کیا تھا ڈاکٹر سُعاد ماہر کے مطابق یہ غلاف روضہ مبارک کے مہنگے ترین تحائف میں شامل ہے۔
شیخ محمد حسین نے قلقشندی کی کتاب ''صبح الاعشی ''سے نقل کیا ہے کہ سب سے پہلے حجر النبویصلىاللهعليهوآلهوسلم کو حسین بن ابی الہیجا نے غلاف ہدیہ کیا تھا اور موصوف آخری خلفاء فاطمین کے وزیر صالح بن زریک کے داماد تھے، اور یہ غلاف سفید دھاگے سے بُنا ہوا ہے۔ جس کے اوپر مکمل سورہ یٰسین کی کتابت ہوئی ہے۔
عباسی خلیفہ مستضی باللہ نے بنفشی ابوریشم کا ایک پردہ جس کے اوپر خوبصورت ڈیزائن بنے ہوئے تھے جس کے اندر مستضی باللہ کا نام لکھا ہوا ہے۔ روضہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم کے لئے بھیجا گیا۔ تو پرانا غلاف وہاں سے اُتار کر مشہد امیرالمومنین علی ابن ابی طالب کے لئے بھیجا گیا اور مستضی باللہ کا پردہ روضہ رسولصلىاللهعليهوآلهوسلم پر چڑایا گیا۔
روضہ مبارک کے تجوری کی حالت اور اس کی تا ریخ
شہر نجف اشرف کے بعض صالح افراد نے مختلف مناسبات میں روضہ مقدس کیلئے ایک اسٹور کی ضرورت کا شدت سے اظہار کیا تاکہ نوادرات و تبرکات کی حفاظت کی جائے۔ روضہ مبارک کے نوادرات کے ضائع ہونے کے مختلف اسباب ہیں مثلاً
مدحت پاشاہ کے زمانے میں ان میں سے بعض نوادرات یہ کہہ کر فروخت کئے گئے کہ ایران اور نجف اشرف کے درمیان ریلوے لائن بچھائی جائے گی تاکہ زائرین امام کے لئے سہولت حاصل ہو۔
اس ارث کی حفاظت کرنے والوں کی ایک رائے یہ تھی کہ بعض ہاتھوں کو اس کی اہمیت کا اندازہ نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہونے کا خطرہ رہا اور ضائع ہوتے رہے۔
ان تمام نوادرات کی جدید طریقوں سے حفاظت نہیں کی گئی شاید اسی لئے آج ان تبرکات و نوادرات کی تعداد بہت کم ہے کیونکہ مختلف کیڑے مکوڑے آفات، رطوبت، شدید خشکی کی وجہ سے کچھ خراب ہوئے جبکہ بعض دوسرے زنگ لگنے کی وجہ سے، گلنے سڑنے کی وجہ سے ضائع ہوئے پھر ان امانات کی طرف کچھ ایسے ہاتھ بھی بڑھے جنہوں نے اس امانت میں خیانت کی اور ان امانتوں کو دوسروں کے ہاتھ تحفتاً یا قیمتاً دے دیا ۔ اس کی بہترین مثال ہمارے پاس کتب خانہ امیر المومنین کی حالت ہے جس میں بعض محققین نے دنیا کی قیمتی کتب خانوں سے کتابیں لاکر جمع کی تھیں اور یہ کہا جاتا ہے کہ اس کتب خانہ کیلئے سب سے پہلے عضد الدّولہ نے کتابیں وقف کی تھیں اور سیّد ابن طاووس نے بھی۔ اب اس کتب خانہ کے ۱۹۷۰ ء میں اصلاح کے بعد ۷۵۲کتب مخطوط میں سے ۱۵۲کتابیں بچی ہیں۔ اسی طرح کتب خانہ کے بہت سارے نوادرات ضائع ہوئے۔
اس حوالے سے محمد ہادی امینی نے موسوعہ نجف اشرف میں (خزانہ حرم شریف میں موجود تحائف)کے موضوع پر ایک مقالہ لکھا تھا جو شائع ہوا۔ میں اس کی بعض عبارات کا یہاں ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں وہ لکھتے ہیں کہ ''بعض اہل نجف بیان کرتے ہیں کہ کتب خانہ علوی کے شلف میں ہزاروں کتابیں تھیں جن میں قرآن کریم کے نسخے اور کتب ادعیہ و اوراد وغیرہ شامل تھیں لیکن بعض ناپاک ہاتھوں نے ان نفیس کتابوں کو ضائع کیا۔ آج کل تقریباً ۴۰۰نسخوں کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور یہ بعد میں پتہ چلا کہ ان میں سے بعض نسخے بھی لوگوں کے گھروں میں چلے گئے تھے اور کچھ لوگوں کے پاس آج تک ان کے کتب خانوں میں موجود ہیں اور بہت سارے نسخے دوبارہ پرانے اوراق خریدنے والوں کے پاس سے نکل آئے جو انہیں کوڑیوں کے دام فروخت کئے گئے تھے اور نہیں معلوم کہ ان تک یہ کتابیں کہاں سے اور کیسے پہنچیں؟''
وہ مزید بیان کرتے ہیں کہ جو اس حوالے سے مزید جاننا چاہتا ہے وہ اس مقالہ کا ملاحظہ کرے۔ اس حوالے سے جہاں تک میری معلومات ہیں کہ وقف شدہ اشیاء کو شریعت کے بیان کردہ اسباب کے علاوہ فروخت کرنا جائز نہیں ہے لیکن نہیں معلوم اس کتب خانہ سے کتابیں پہلے عاریةً پھر انہیں بیچا جانا کیسے جائز ہوا؟
اس موقع پر علامہ امینی نے بھی بعض حکایات خزانہ امیر المومنین کے بعض تحائف کے بارے میں بیان کی ہیں جن میں سے بعض تحائف قصر عبدالالٰہ میں، تو بعض قصر نوری سعید پہنچے ہیں یہاں تک بعض تو مختلف مناسبات میں لوگوں کو بطور ہدیہ پیش کرتے ہیں جو کہ نہ شرعاً اور نہ ہی قانوناً جائز ہے شاید اس سے بھی زیادہ لوگوں کی نظروں سے غائب ہو۔
مرحوم جعفر الخلیلی موسوعہ عتبات مقدسہ کے نجف سے مخصوص حصے کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ ایک فانوس جو انتہائی قیمتی پتھروں سے سجایا ہوا ہے اور روضہ مبارک کے اندر ایک طلائی زنجیر کے ذریعے بالکل وسط میں لٹکایا ہوا ہے پچھلی صدی میں ایک چور کے ہتھے چڑھنے والا ہی تھا کہ خداوند عالم کی عنایت شامل حال نہ ہوتی تو خزانہ روضہ مبارک کا ایک اہم نوادر ضائع ہوجاتا۔ اس طرح کے قیمتی فانوس کم از کم میں نے بہت ہی کم دیکھے ہیں۔
ڈاکٹر حسن کہتے ہیں کہ ''خزانہ روضہ مبارک ابھی تک اسی لئے پوشیدہ ہے محققین کے لئے وہاں پہنچنا مشکل ہے کیونکہ ان میں سے بعض تو زیر زمین صندوقوں میں رکھے ہوئے ہیں اور بعض دوسرے ایسی الماریوں میں رکھے ہوئے ہیں جہاں پہنچنا مشکل ہے اس حوالے سے صرف اللہ جانتا ہے کہ وہ کس حالت میں ہیں؟
اور ہم باربار سنتے رہتے تھے کہ روضہ مبارک پر مامور خدام نے فلاں بادشاہ یا فلاں رئیس کو کوئی تلوار یا کوئی قیمتی مصحف ہدیہ کیا ہے لیکن ہمیں نہیں معلوم کہ موصوف کے لئے یہ تصرف کیسے جائز ہوا؟ اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہ اس تمام خزانے کو کسی ایک میوزیم میں نہ رکھنے کا نتیجہ ہے اور تمام وثیقہ جات وغیرہ کو رسمی طور پر تدوین نہ رکھنے کا لازمہ ہے کہ خدّام وغیرہ کو بھی ہر طرح کا تصرف حاصل ہے۔''
استاد محمد سعید الطریحی نے ۱۹۹۰ ء میں اس مضمون کو دوبارہ شائع کروایا تھا جس کو ایک مصری ماہر محمد الماحی نے اس وقت تیار کریاتھا جب وہ ۱۹۳۷ ء میں حکومت عراق کی دعوت پر عراق آئے تھے اور یہ یہاں کے میگزین کے پانچویں شمارے میں شائع ہوا تھا جو کہ ''عتبات مقدسہ کے تحائف کی صورتحال ''کے بارے میں تھا جس میں موصوف نے ان تحائف کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک اور کسی اچھے ادارے کا نہ ہونے کے بارے میں بیان کیا تھا۔ یہاں پر میں اپنا یہ فرض سمجھتا ہوں کہ ان خزانوں پر مامور افراد کی توجہ اس طرف مبذول کراوں کہ وہ ان خزانوں کی جتنا ممکن ہوسکے جلد از جلد حفاظت کرے اور یہاں میں موصوف کے کہے ہوئے ایک جملہ کا ذکر کروں جو انہوں نے اس خزانے کے ایک قالین کے بارے میں بتایا ہے جس کا سائز نو مربع میٹر ہے۔وہ کہتے ہیں کہ ''ان آثار کو اہمیت نہ دینے اور ان تحائف کے عظیم قیمتوں کے بارے میں اندازہ نہ کرنے کو دیکھ کر میں جس رنج و غم میں مبتلا ہوا جس کا میں اندازہ نہیں لگاسکتا ۔ اس کی مثال یہ ایک ہاتھ سے بُنا ہوا قالین ہے جو ریشم و اون سے بنا ہوا ہے جسے آج کل کے لوگ دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں اور وہاں پر ایسے پردے بھی ہیں جن کو موتیوں سے سجا یا ہوا ہے اور دوسرے وہاں پر موجود کپڑے وغیرہ بھی ہیں جن کی قیمت کا اندازہ بادشاہ اور کروڑ پتی افراد بھی نہیں لگاسکتے اور یہ چیزیں ایک ایسے کمرے میں پڑی ہوئی ہیں جہاں پر سورج کی روشنی بالکل بھی نہیں پڑتی، اس کمرے کے لئے صرف ایک چھوٹی سی کھڑکی ہے جہاں سے ہوا بھی داخل نہیں ہوتی اور یہ قیمتی کپڑے جمع کرکے ایک مرطوب جگہ میں رکھے ہوئے ہیں جو کیڑے مکوڑے لگنے کی وجہ سے ضائع ہورہے ہیں ۔ میں نے خود ہاتھ لگاکر دیکھا ان خوبصورت ریشمی قالینوں کی انتہائی خراب حالت تھی اور یہ دیکھ کر بہت افسوس ہوا کہ یہ بے بہا چیزیں یوں ضائع ہورہی ہیں۔ اس مضمون کو آج سے ۷۰ سال پہلے محمد الماحی نے عراقی حکومت کو پیش کیا تھا، اس مضمون پر صحیح طریقے سے عمل درآمد نہیں ہوا اور وہاں موجود چیزوں کو صحیح طریقے سے رجسٹرڈ نہیں کیا گیا اور عتبات مقدسہ کے نوادرات کی مزید رجسٹریشن نہیں ہوئی اور ان کی صحیح طریقے Classification نہیں ہوئی اور اس حوالے سے یہ ایک رنج اور تعجب کا مقام ہے۔ جسے میں نے پڑھا اور وہ لکھتے ہیں ''کہ حرم امیر المومنین ، حرم حسین اور حرم عباس کے جو کمیٹی بنی ہوئی ہے۔ ان میں سے مدیر اوقاف کربلا نے ان نوادرات کی رجسٹریشن کی ذمہ داری لی تھی، اور انہوں نے ۱۵-۶-۱۹۳۶کو کربلا اور نجف میں موجود عتبات مقدسہ سے مدیر کو لکھا تھا کہ ان میں سے ہر ایک کے نوادرات کی چار چار کاپیاں بنائی جائیں۔ جن پر ایک دینار خرچ ہوگا اور اس نے گزارش کی کہ مذکورہ رقوم خرچ کرنے کی اسے اجازت دی جائے اور اس تاریخ کو ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود ان نوادرات کی کاپیاں مدیر اوقاف کربلا کی طرف سے موصول نہیں ہوئی ہیں۔''
ان تحائف کی حالت زار کو بیان کرنے کے لئے میں آپ کے سامنے روضہ مقدس کے ایک تحفے کی صورت حال نئے انداز میں کروں گا جس سے باقی تحائف و نوادرات کی حالت زار کا اندازہ بخوبی ہوگا۔ وہ ایک گلدان یا عود سوز ہے، جو الماس ، زبرجد یاقوت اور موتیوں سے خوبصورت انداز میں سجا ہوا ہے۔ جسے نادرشاہ نے ہدیہ کیا تھا اور ان مقدس پتھروں کی قیمت کا اندازہ لگانا ممکن نہیں اور آپ یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ روضہ مبارک کے جالی نصب کرتے وقت کچھ تحائف کے حالت زار کا انکشاف ہوا۔
ان میں سے بعض کی قیمت کا تعین کوئی نہیں کرسکا ۔ اور یہ چیزیں اس وقت تک محفوظ نہیں رہتی جب تک انہیں شیشے کے صندوقوں میں اس طریقے سے نہ رکھا جائے کہ اُن پر ہوا لگتی رہے۔ میں یہاں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ یہ عجیب بات ہے کہ اس شہر کے اندر ایسے معتبر افراد بھی ہیں اس کے باوجود یہاں کی ثقافتی ورثے کی کما حقہ حفاظت نہیں ہوتی جیسا کہ آپ نے ملاحظہ کیا روضہ مبارک کے خزانے کی حفاظت کے لئے کوئی بھی عراقی ماہر آثار اسلامیہ نے زحمت نہیںکہ اگر ایک مصری محققہ ڈاکٹر سعاد ماہر محمد اپنی وسیع کوشش کو بروئے کار نہ لاتی تو خزانہ روضہ مبارک کے اکثر نوادرات کے بارے میں کسی کو بھی معلوم نہیں ہوتا بلکہ اگر موسوعہ نجف اشرف ان کے بارے میں معلومات جمع نہیں کرتا اور اُسے جعفر دجیلی شائع نہیں کرتا تو بہت سارے لوگوں کے لئے ڈاکٹر سعاد ماہر کی کتاب ''مشہد امام علی ''کے بارے میں بھی پتہ نہیں چلتا جسے دار المعارف مصر نے ۱۹۶۹ ء میں شائع کیا تھا اور اس کتاب کی دو جلدیں دوم و سوم مذکورہ موسوعہ میں شائع ہوئی ہیں اسی طرح اس میں بہت ساری بحوث و معلومات شہر نجف کی تاریخ، وہاں کے معروف افراد اور اس کے ساتھ روضہ مبارک کے بارے میں بہت ساری تعریف و ستائش ہے ۔ کیونکہ اس حصول کے لئے جو زحمتیں اُٹھائی ہیں، یقینا اس کار خیر کی جزاء اُسے ملے گی اور میرا خیال ہے کہ انہوں نے اپنی اس کتاب کے ذریعے دُنیا و آخرت میں ایک سے زیادہ مرتبہ عزت حاصل کی کیونکہ انہوںنے خزانہ روضہ مبارک اور اس کی تاریخ کے بارے میں کوئی معمولی چیزیں ہمیں نہیں دیں۔ اس کام کی حصول کے لئے اُس نے کافی صعوبتیں برداشت کیں کہ خود خزانے میں داخل ہوئیں اور نوادرات کو دیکھا علامہ امینی اس خاتون کے بارے میں لکھتے ہیں کہ''اس خاتون نے گودام میں موجود تحائف کو دیکھنے کیلئے کافی صعوبتیں برداشت کیں کیونکہ وہ صرف رات کو ہی ان نوادرات کو دیکھتی تھی اور ان کی تصویر کھینچواتی تھی اور یہ عمل رات دس بجے سے صبح چار بجے تک ہوتا تھا ''اور وہاں پر ایسے بھی تحائف ہیں جن کے بارے میں موصوفہ ہمیں اطلاع فراہم نہیں کرتی جن میں سے بعض کی قیمت کاکوئی تعین نہیں کرسکتا۔
اس بارے میں وہ کہتی ہے ''روضہ حیدریہ کے حرم کے جنوبی رواق میں موجود ایک الماری کے اندر ان نوادرات میں بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ جن کی تعداد ۲۰۲۰تحائف تھی ''موصوفہ نے ان میں سے بعض نوادرات کے بارے میںپڑھا جو خدّام کے پاس ایک رجسٹر میں محفوظ تھا کیونکہ یہ ہر ایک کے لئے نہیں کھولا جاتا جمہوری دور میں یہ صرف دو مرتبہ کھولا گیا تھا اور انہوں نے بعض نوادرات دوسرے گوداموں میں دیکھے۔
اس حوالے سے امینی نے اپنے سابقہ مضمون میں اشارہ کیا ہے کہ روضہ مبارک کے اندر کل چار گودام ہیں ان میں ایک جنوبی مینار میں ایک کمرے کے اندر زیر زمین ہے اور وہ کہتے ہیں کہ یہ گودام دور جدید میں صرف دو مرتبہ کھلا ہے پہلی مرتبہ سلطان ناصرالدین شاہ قاچاری کے لئے اس وقت کھو لا گیا جب وہ ۱۲۸۷ھ / ۱۸۷۰ ء حرم مقدس کی زیارت کے لئے آئے تھے ان کے ساتھ قیمتی پتھروں اور آثار کے ماہرین بھی تھے جبکہ گودام میں ان کے ساتھ عالم دین سید علی بحر العلوم اور مرقد مقدس کے خازن تھے اور انہیں دکھانے کے بعد فوراً دوبارہ بند کروایا گیا ۔ اس کے اندر صرف معدنی تحائف نہیں ہیں بلکہ بعض اہم مخطوطات اور قیمتی کتابیں بھی ہیں۔ ڈاکٹر علی الوردی اپنی کتاب میں بیان کرتے ہیں شاہ قاچاری نے جب روضہ مقدس کی زیارت کی تو انہوں نے وزیر مدحت باشا کو بھی ساتھ چلنے کو کہا تاکہ وہ اسے مرقد مقدس میں موجود خزانے کے بارے میں بتادے۔ مدحت باشا نے اسے وہاں موجود صحیفے، قدیم مخطوطے نکال کر دکھائے جو ان کی حفاظت نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہو رہے تھے اور یہ زیر زمین تھے۔'' مجھے نہیں لگتا کہ مخطوطات کو کسی دوسری جگہ منتقل بھی کیا گیا ہو بلکہ شاید ابھی تک وہیں پر پڑی ہوئی ہو کیونکہ الملکی کے زمانے میں اسے دوبارہ نہ کھولنے کا طے ہوا تھا ۔ اگر کھولا جائے تو صرف شاہی اجازت سے ممکن تھا اور دوسری مرتبہ یہ ۱۳۵۳ھ /۱۹۳۵ ء میں کربلاء کے گورنر صالح جبر کے لئے کھو لا گیا ان کے ساتھ چند نمائندہ علماء اور ماہرین اور خازن حرم تھے محمد ہادی امینی نے اپنے سابقہ مضمون میں یہ لکھا ہے کہ'' اس واقع کے بعد ان تمام نوادرات کو انتہائی احتیاط کے سے محفوظ انداز میں روضہ مبارک کے اندر منتقل کیا گیا ہے جہاں پر ایک لوہے کے بڑے صندوق میں پہلے کپاس رکھا گیا پھر اس کے اوپر ان نفیس نوادرات کی پہلے ایک فہرست تیار کی گئی پھر ان کو ترتیب کے ساتھ رکھا گیا بعد ازاں وہاں موجود تمام افراد نے اس فہرست پر دستخط کی اور اس صندوق کو بند کرکے ایک اندھیرے کمرہ میں رکھا گیا ''۔ان میں ایک ماہر جو اس کمیٹی میں شامل تھے کہتے ہیں کہ ''اس خزانے میں موجودقیمتی نوادرات کے ایک ٹکڑے کی قیمت اتنی زیادہ ہے کہ اس سے نجف اور کربلا ء کے درمیان ایسی خوبصورت شاہراہ کی تعمیر ہوسکتی ہے جس کے فٹ پاتھوں پر ٹائلیں اور دونوں اطراف میں درخت لگائے جائیں اور راستے میں ان درختوں کی آبیاری کے لئے جگہ جگہ فوارے بنائے جائیں''۔ یاد رہے اس سڑک کے دونوں اطراف میں ٹائلوں کی بات کی ہے کیونکہ اس زمانے میں سڑکیں آج کی طرح نہیں تھیں اور اس کی سڑک کی لمبائی ۸۰ KM ہے ۔ اس حوالے سے یوسف ہرمز نے ایک مقالہ ''نجف میں دودن ''کے عنوان سے لکھا ہے جسے استاد محمد سعید الطریحی نے ۱۹۹۰ ء کے فصلنامہ میں دوبارہ شائع کیا ہے۔ مذکورہ گودام کو آخری دفعہ ۱۹۸۸ ء میں کھو لا گیا جیسا کہ ڈاکٹر حسن حکیم نے اپنی سابق الذکر کتاب میں بیان کیا ہے کہ ''خزانہ حیدریہ بعض علماءے نجف اور روساء کے سامنے کھو لا گیا اور تمام موجود نوادرات کو ان کے فہرست سے مطابقت کی پھر دوبارہ اپنی جگہ رکھ دیئے گئے ''اور یہ بھی منقول ہے کہ نجف اور کربلاء کے خزانوں میں محفوظ طلاء و چاندی کا وزن سات ٹن ہے اور ان نفیس چیزوں میں زمرد سے بنا ہوا ایک چراغ ہے، خالص طلاء سے بنا ہوا فانوس ہے جو یا قوت سے مزین کیا ہوا ہے اس کے علاوہ موتی پرویا ہواایک قالین ہے۔ جب راقم نجف اشرف میں زیارت سے مشرف ہوا تو اپنے ایک دوست ڈاکٹر حمید رفیعی کو اس خزانے تک راقم کے ساتھ تعاون کرنے کی زحمت دی کیونکہ موصوف خدّام کے خاندان میں سے ہیں اور عراق پر اغیار کے قبضے کے بعد اور نجف میں جو واقعات رو نما ہوئے تھے موصوف بیان کر رہے تھے کہ اس وقت بھی روضہ مبارک میں کوئی چوری ڈکیٹی نہیں ہوئی کیونکہ اس دوران روضہ مبارک بالکل بند رہا۔ الحمدللہ!وہاں کوئی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی دوسرے خزانوں کو کوئی نقصان پہنچا۔
اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سب امیر المومنین کی برکت کی وجہ سے ہے اس کے ساتھ روضہ مبارک کے خداموں کی امانتداری بھی اس میں شامل ہے اگر ان کی امانتداری اور برکت امیر المومنین جس کی اکثر خدّام اعتراف کرتے ہیں شامل حال نہ ہوتی تو ان نفیس اشیاء میں سے کوئی چیز بھی باقی نہ رہتی اور ان خدّام محترمین کی نجابت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ عراق ایک ایسی پسادینے والی اقتصادی حالت سے گزرا لیکن پھر بھی ان میں سے کسی نے کوئی خیانت نہیں کی۔ لیکن اس کی وسعت کا اندازہ جو ہم نے وہاں دیکھا لگانا قدرے مشکل ہے اور وہاں آج کل کافی ترقی ہے اس کی وجہ ان دونوں شہروں نجف و کربلا ء میں مخفی حبّ و تقدیس ہے۔
مجھے میرے چچا زاد بھائی انجینئر صفاء الفرطوسی نے حال ہی میں روضہ مبارک کے نوادرات کی صفائی کے لئے جو کمیٹی بنی ہے ان میں سے نقل کرتے ہوئے کہا کہ روضہ کی توسیع نو کے دوران ایک جدید خزانہ کا انکشاف ہوا ہے جو آپ کے سامنے بعض ناگزیر حالات کو پیش کرتا ہے جسے دیکھ کر بہت رنج ہوتا ہے میں آپ کو یہاں اپنی اس عظیم سعادت کا ذکر نہیں کرنا چاہتا کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ امانات عتبہ علویہ مقدسہ پر مامور افراد ان خزانوں کی طرف متوجہ ہوئے ہیں لہٰذا انہوں نے اس کیلئے کچھ محققین (جو اپنے علم و تقویٰ کے لحاظ سے مشہور ہیں) پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جو ان خزانوں کو علمی طریقے سے ترتیب دے اور میری درینہ خواہش تھی کہ یہ کام آثار قدیمہ کے ماہرین جو اسلامی ورثہ سے واقفیت رکھتے ہیں اور بعض دیگر اہل فن کے ساتھ مل کر اس کارخیر کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔
۲۵-۱۱-۲۰۰۸کو راقم نے اس جدید خزانے کی زیارت کی جو حدودِ صحن کے شمال مغربی جانب واقع ہے وہاں پر میں نے دیکھا کہ ہاتھ اور مشین سے بُنے ہوئے قالینوں کی جدید طریقے سے حفاظت کی گئی ہے۔لیکن جو سب سے زیادہ قیمتی قالین ہے وہ خزانے کے اندر بند ہیں اور یہ تمام امانتیں عتبہ علویہ مقدسہ کے امانتدار کی موجودگی کے بغیر کھولنا ناممکن ہے۔
جس گودام کو ابن بطوطہ نے ۷۶۲ھ / ۱۳۲۶ ء میں دیکھا اسکے بارے میں وہ یوں لکھتا ہے کہ ''یہ ایک بڑا گودام تھا جس کے اندر اتنے زیادہ اموال تھے جنہیں سنبھالا نہیں جاتا تھا ''ہم اس کی تاریخ تو نہیں بتا سکتے البتہ لگتا ہے یہ شیخ طوسی کے نجف اشرف میں داخل ہونے سے پہلے کے زمانے کا ہے کیونکہ اس زمانے میں حرم کی خدمت کیلئے جو متولی تھے وہ سیّد ابن طاووس کے مطابق شیخ طوسی کے داماد ابا عبد اللہ بن شہریار متوفی ۵۰۱ھ / ۱۱۰۸ ء تھے اور یہ اپنے زمانے کی جلیل القدر اور پرہیز گار عالم دین تھے ۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ عضد الدّولہ البویہی کے زمانے سے قبل کا ہے لیکن اس خزانے کو ایک سے زیادہ مرتبہ نقصان پہنچا ایک دفعہ ۵۲۹ھ / ۱۱۳۵ ء کو اسے نقصان پہنچا تھا۔ اس حوالے سے شیخ محمد حسین حرز الدین نے اپنی کتاب میں ''مناقب آل ابی طالب ''سے نقل کیا ہے کہ عباسی خلیفہ مترشد باللہ نے کربلا میں حرم حسینی سے اور نجف سے اموال یہ کہہ کر اٹھالئے کہ قبر کو اموال کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور لے جاکر فوج پر خرچ کیا اور اس سے ایک سال بھی نہیں گزرا تھا کہ وہ خود قتل ہوا ''یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ جب بھی کوئی مراقد اہل بیت کے ساتھ برا سلوک کیا ہے اس کا انجام آخرت سے پہلے اسی دنیا میں ہی خراب ہوا ہے آپ کو تاریخ نے متوکل و مشعشع وغیرہ کے قتل ہونے کے بارے میں آگاہ کیا ہے۔
ان نوادرات کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے ۵۷۲ھ / ۱۱۷۶ ء میں نجف اشرف کے ایک علمی شخصیت شیخ علی بن حمرہ ابن محمد بن احمد بن شہر یار نے اس کی ذمہ داری قبول کی تھی اس حوالے سے شیخ محمد حسین بھی بیان کرتے ہیں کہ یہ شخص نجف اشرف میں حرم علوی کے مشہور خازن تھے جنہوں نے احسن طریقے سے مشہد امیر المومنین کے خزانے کے ادارے کو چلایا وہ مزید یہ بھی کہتے ہیںکہ اس خزانے میں چالیس قندیلیں تھی جن کے اوپر سنان الخفا جی متوفی ۴۶۶ھ / ۱۰۷۴ ء کا نام ہے۔
اور موصوف نے ابن کثیر کی کتاب ''البدایہ و النہایہ ''سے نقل کیا ہے کہ ماہ شعبان ۶۵۷ھ بمطابق۱۲۵۹ ء میں بد ر الدین لو لو کا انتقال ہوا جس نے ۵۰سال موصل پر حکومت کی تھی اور موصوف مشہد علوی کے لئے سالانہ طلائی قندیل بھیجا کرتا تھا جس کی قیمت ایک ہزار دینا ر ہوتی تھی۔ نہیں معلوم کہ روضہ مبارک کو ۷۵۵ھ میں آگ لگنے کے وجہ سے کیا کیا چیزیں جل گئیں لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ بہت ساری اونی کپڑے ، قالین وغیرہ اور اسی طرح اہم آثار خطیّہ جل کر راکھ بن گئے۔ ہاں!کچھ نفیس چیزیں اس آفات سے بچ بھی گئیں جیسا کہ اس زمانے میں پرانا کولر پانی ٹھنڈا کرنے کی مشین جو کہ عضد الدّولہ البویہی سے منسوب کیا جاتا ہے اور یہ آج تک محفوظ ہے اور روضہ مبارک کے مہنگے ترین تحائف میں شامل ہے محمد حسین ابن عنبہ الحسینی کی کتاب ''عمدة الطالب ''سے نقل کرتے ہیں کہ روضہ مبارک کے اندر ایک مصحف تھا جو کہ تین جلدوں پر مشتمل تھا اور امیر المومنین کے دست مبارک سے لکھا ہوا تھا۔وہ اس آگ کے ضمن میں آکر جل گیا وہ بیان کرتے ہیں کہ کہا جاتا ہے کہ یہ بات مذکورہ مصحف کے آخری جلد تھی جس میں یہ لکھا ہوا تھا کہ ''اس مصحف کو علی بن ابی طالب نے لکھا ہے ''اس حوالے سے محقق محمد بن القاسم الحسینی اور ان کے نانا جعفر محمد حسین بن حدید الاسدی بیان کرتے ہیں کہ ''یہ جو وہ آخری مصحف میں علی بن ابی طالب کا نام تھا اس میں لفظ علی کا ''یاء ''،''واو ''جیسا تھا جو کہ خود علی ابن ابی طالب خط کوفی میں لکھتے تھے راقم نے ایک مصحف بمقام ''مزار ''میں عبید اللہ بن علی کے مزار میں دیکھا تھا جو کہ ایک جلد میں تھا جس میں پورے قرآن مجید کی کتابت مکمل کرنے کے بعد لکھا ہوا تھا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم اس مصحف کو علی ابن ابی طالب نے لکھا ہے لیکن مصحف غروی (یعنی مذکورہ بالا )مصحف کے مطابق لفظ علی کا یاء واو سے مشابہت رکھتا تھا اس کے بعد مجھے پتہ چلا کہ عبید اللہ ابن علی کامزار کو آگ لگنے کی وجہ سے جل چکا ہے اس کے ساتھ وہ مصحف بھی جل چکا ہے ''۔اسی بات کی طرف اشارہ ان سے قبل سید جعفر بحر العلوم نے بھی اپنی کتاب میں کیا تھا ۔ اب ہم آپ کو شہر مزار کے رہنے میں سیاسی اتار چڑھاو کے حوالے سے یاقوت کی کتاب معجم البلدان سے نقل کرتے ہیں کہ مزار (ایک گاوں ہے یہاں پر ایک عظیم الشان عمارت ہے جس پر کثیر اموال خرچ کیا گیا ہے اور یہ عبد اللہ بن علی ابن ابی طالب کا مزار ہے اوریہاں رہنے والے سارے غالی شیعہ ہیں اور جانوروں کی طرح پست لوگ ہیں)اب یہاں موصوف کو مذکورہ قبر عبد اللہ سے منسوب کرنے میں اشتباہ ہوا ہے کیونکہ عبد اللہ امام حسین کے ساتھ کربلاء میں شہید ہوئے تھے جیسا کہ ابو الفرج نے اپنی کتاب ''مقاتل الطالبین'' میںلکھا ہے لیکن مذکورہ شخص ابولفرج کے مطابق امیر مختار اور مصعب بن زبیر کے درمیان ہونے والی جنگ میں شہید ہوا تھا اور یہ غیر معروف شخص ہے۔
شاید یہ بھی ہوسکتا ہے کہ روضہ مبارک میں موجود تحائف مثلاً تلواریں، قندیلیں، طلائی ، چاندی، پیتل کے اور معدن کے چیزیں اس لگنے والی آگ سے محفوظ رہی ہو بلکہ ہوسکتا ہے روضہ مبارک کے اس خزانے کو آگ ہی نہ چھوئی ہو کیونکہ ضروری ہے ان تمام اشیاء کوکسی محفوظ اور خاص کمرے میں رکھا گیا ہو۔
لیکن مذکورہ خزانہ اس وقت نہیں بچ سکا جب اسی سال ۸۵۷ھ / ۱۴۵۳ ء میں علی بن محمد بن فلاح جن کا لقب مشعشی تھا نے لوٹ مار شروع کی کہا جاتا ہے اسی سال یکم ذی قعدہ کو حج کے ایام میں میر علی کیوان کو حجاج کا امیر بنا کر بغداد سے روانہ کیا یہ لوگ جب نجف اشرف میں داخل ہوئے تو انہوں نے اپنے سامان وہاں اتاردیا اتنے میں مشعشی نے ان پر حملہ کردیا اور ان کی قتل و غارت گری کردی اور ان میں سے صرف وہ لوگ بچ گئے جنہوں نے حرم علوی میں پناہ لی تھی تو ان کو محاصرہ کرلیا اتنے میں وہ مشعشی کے سامنے جھکنے پر مجبور ہوگئے تو مشعشی نے ان سے وہاں پر موجود قندیلیں' تلواریں طلب کیں۔ اس وقت خزانے میں سات سو سال پرانی تلواریں تھیں کیونکہ صحابہ کرام کی تلواریں اور اسی طرح سلاطین کی تلواریں یہاں پر جمع ہوتی تھیں ۔ ہوتا یہ تھا کہ کوئی بھی بادشاہ یا خلیفہ عراق میںمرجاتا تھا تو اس کی تلوار اس خزانے کیلئے بھیجی جاتی تھی اسی طرح ایک سو پچاس تلواریں یہاں جمع ہوئی تھیں اور اسی طرح بارہ قندیلیں تھی جن میں چھ سونے کی اور چھ چاندی کی تھی۔
لیکن اس ظالم نے ماہ ذی الحجہ میں مشہد مقدس نجف و کربلاء میں دوبارہ حملہ کیا اور لوٹ مار کی ہوا یہ کہ وہ نجف میں داخل ہوئے اور روضہ مبارک کے دروازے کھول کر گھوڑے سمیت حرم مقدس میں داخل ہوئے اور صندوقِ روضہ کو توڑا اور جلانے کا حکم دیا اور باقی چیزیں مثلاً قندیلیں ، تلواریں وغیرہ اٹھایا اور لوگوں کو برے طریقے سے ان کے گھروں میں قتل عام کیا۔ لیکن ا س ظالم کو بعد میں اپنے کئے کی سزا مل گئی ہوا یہ کہ ۷۶۱ھ / ۱۴۵۶ ء یہ برے طریقہ سے قتل ہوا اور اس کا سر کاٹا گیا۔ ا س کی کھال اتار دی گئی اور اس کی لاش کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے بغداد بھیجا گیا شیخ محمد حسین کے مطابق بعد میں اس کے والد محمد بن فلاح نے وہ تمام قندیلیں اور دیگر چیزیں جو اس کے بیٹے نے لوٹ لیا تھا دوبارہ نجف اشرف میں روضہ علی کو بھیج دیا۔
جیسا کہ ہم بیان کر چکے کہ ڈاکٹر حسن حکیم نے بیان کی ہے کہ مشعشی کے نجف اشرف پر حملے سے قبل صحابہ کرام' سلاطین میں سے جو بھی انتقال کرتاتھا ان کی تلواریں روضہ مبارک علی بن ابی طالب میں بھیجا جاتا تھا اس حوالے سے اور مشعشی کے حملے کے بارے میں مزید معلومات جاننے کے لئے کتاب ''النجف الاشرف مدینة العلم و العمران ''کی طرف رجوع کریں ۹۱۴ھ بمطابق۱۵۰۸ ء میں شاہ اسماعیل صفوی عراق پر قبضے کے بعد جب مرقد امیر المومنین کی زیارت کے لئے گئے تو روضہ مبارک کے لئے بہت سارے نوادرات فاخرہ ہدیہ کئے۔ اس کے علاوہ دریائے فرات سے نہر کھودنے کا حکم دیا اور زیر زمین کاریز کے بنوا کر اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچا یا یہ نہر بعد میں شہزاد ہ سلیم کے عہد میں عثمانیوں نے جب نجف کا محاصرہ کیا اس وقت تک باقی تھا لیکن جو تحائف شاہ اسماعیل نے حرم علوی کے لئے پیش کی ان میں کوئی معروف نہیں ہے ۱۰۳۳ھ / ۱۶۲۴ ء کو شاہ عباس اوّل صفوی نے جب مرقد امیر المومنین کی زیارت کی شیخ محمد حسین کے مطابق موصوف نے روضہ مبارک کے لئے نفیس چیزیں پیش کی تھی۔ لیکن تاریخ ان نفیس اشیاء کی خصوصیت کی تفصیلات بیان نہیں کرتی ہاں مشہور فرسیسی سیاح Tarfirnih نے اپنے سفر نامے میں شاہ عباس کی پیش کی ہوئی چیزوں کی طرف اشارہ کیاہے ان میں ایک کمان بھی تھا جو کہ موسوعہ نجف اشرف میں بھی آیا ہے ۔ اس خزانے میں موجود نفیس تحائف کی معنوی و مادّی قیمتوں کا انداز جب شاہ عباس اوّل کو ہوا تو انہوں نے ملا عبد اللہ بن شہاب الدین حسین یزدی کو'' حرم مقدس کا متولّی قرار دیا لہٰذا انہیں حرم و بڑے خزانے جس کے اندر دفاع حرم و نجف اشرف کے لئے وقف شدہ اسلحے موجود تھے اور وہ خزانہ جس کے نفیس آثار قدیمہ میں رکھے ہوئے تھے کی چابیاں حوالے کی ''اور موصوف شاہ عباس صفوی کی وفات تک رہے اور شاہ جب انتقال کرگئے تو اسے حرم کے اندر ایک سرداب میں عضد الدّولہ جہاں دفن ہیں وہاں دفن کیا گیا ۔ شیخ محمد حسین نے بیان کیا ہے کہ نواب احمد خان متوفی۱۱۹۹ھ/۱۷۸۵ ء نے ۱۱۹۸ھ بمطابق ۱۷۸۴ ء مرقد کے گنبد اور صحن شریف کی ترمیم مکمل کی اور حرم مقدس کے لئے مقدس پتھروں جواہر سے سجی ہوئی قندیلیں پیش کیں۔
امینی روضہ مبارک کی کتب خانہ کی باقیات کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ ''ان کتب خانہ کی باقیات میں چند مخطوطات تھی جسے فاضل شیخ محمد سماوی نجفی نے صحن شریف کے ایک دوسرے حجرے میں بڑی محنت سے منتقل کی اور ان کے اوراق بکھرے پڑے تھے تو انہوں نے جمع کرکے انہیں ترتیب دیا اور ان کی خواہش تھی کہ کوئی ان مخطوطات کی جلد کا انتظام کرے جب ہم اس کتب خانہ میں گئے تو ہم نے ان باقیات کا مشاہدہ کیا ان میں اہم صحیفے جانوروں کے کھال پر لکھا ہوا تھا اور ان میں بعض آئمہ معصومین٪سے منسوب تھا کہ خود آئمہ٪نے ان کی کتابت کی تھی اور بعض پتلی لکڑی پر لکھا ہوا تھا تو کوئی بعض کاغذ پر لکھا ہوا تھا ان میں بعض مکتوبات امام امیر المومنینـ سے منسوب ہے اس میں تاریخ کتابت ۴۰ھ / ۶۶۰ ء لکھا ہوا تھا جسے ہم نے اپنے اس سفر ۱۳۵۲ھ / ۱۹۳۳ ء میں مشاہدہ کیا۔
اس مخطوطات والے حجرے میں راقم ۲۵-۱۱-۲۰۰۸کو داخل ہوا یہ حجرہ امانات عتبہ علویہ کے نزدیک ہے اب اس میں سے ان مخطوطات کو کسی اور جگہ منتقل کیا گیا ہے تاکہ اس حجرہ کی ترمیم کی جائے۔ ہم نے اپنے غم و اندوہ کو یہاں بیان کرنے کی کوشش کی اس امید کے ساتھ کہ عنقریب انشا ء اللہ ہم اسے ختم کریں گے۔
روضہ مبارک کی تجوری
پچھلے چند دہائیوں کے دوران راقم کو دنیا کے بعض اہم تجوریوں کو دیکھنے کا موقع ملا ان میں سے ہم یہاں بطور مثال چند تجوریوں کا ذکر کریں گے ۔ جن میں سے شاہ ایران کی تجوری جو ایرانی مرکزی بنک میں محفوظ ہے، اسکندریہ میں مصری خاندان کی سونے کی تجوری کا ایک حصہ ایک خاص میوزیم میں رکھا ہوا ہے اس کے علاوہ باقی مصر میں ایک اور میوزیم میں بھی ہے۔ تاج فرانسیسی کے سونے کی تجوری لوفر میوزیم پیرس میں واقع ہے اس کے علاوہ عثمانی تحائف حصے توپ کاپی سرائے میوزیم استنبول میں موجود ہے اس کے علاوہ بہت سارے سونے، تاجوں، فنی کتابت اور آثار قدیمہ کے چیزیں ہالینڈ کے بعض میوزیم وغیرہ میں ہے لیکن روضہ امیر المومنین کے تجوری کے بارے میں معلومات حاصل ہونے کے بعد میں بالکل یقین و اطمینان سے کہہ سکتا ہوں یہاں قیمتی ، نادر پتھر ، مہنگے فنی تحائف جن کی صیاغت ہوئی اور جو بنی ہوئی کندہ ہے بغیر کسی مبالغے کے یہ باقی تمام عالمی تجوریوں سے مادّی ، معنوی ، تاریخی حوالے سے کئی گنا زیادہ ہے بلکہ اس سے بھی دوگناہوسکتا ہے جب یہ روضہ امام علی ابن ابی طالب کے لئے ہدیّہ ہو ۔ یہ تجوریاں آج تک سینکڑوں سال سے روضہ مبارک کے اندر موجود ہے سوائے چند گنے چنے لوگوں کے علاوہ کسی کو بھی معلوم نہیں ہے اس لئے کہ اس حوالے سے کوئی لٹریچر دقیق انداز سے نہیں لکھا گیا ۔ ان تحائف میں سے اکثر کا معروف رجسٹروں میں اندراج تک نہیں ہوا ہے۔یہ صرف امیر المومنینـکی برکت سے ہی محفوظ ہیں ان کے پوشیدہ ہونے میں بھی اس صورت کے علاوہ کوئی نہیں ہے بلکہ اگر یہ ایسے ہی چھوڑ کر رکھا جائے تو ہوسکتا ہے ضائع ہو اس لئے مناسب ہے کہ ان کو زیرقلم لایا جائے اور انہیں رجسٹر میں درج کیا جائے تا کہ دنیا کو اس پڑی آفات کا معلوم ہو جو اس شہر نجف کے ساتھ ہوا تھا اور ابھی تک میرے اندر سے ضمیر اکساتی رہتی ہے کہ اسے ایک دن کسی مناسب جگہ میں رکھ کر اس مناسب دینی ، معنوی، مادی قیمت کو دیکھوں۔ اور ہوسکتا ہے امانت عتبہ علویہ کی کمیٹی روضہ مبارک کے احاطے کے تعمیر و ترمیم کے ساتھ جلد ہی اس کے لئے بھی کچھ بندوبست کرنے میں کامیاب ہوجائے ۔
اگرچہ روضہ مقدس علوی کے ایک بہت ساری تجوریاں ہیں ان میں سے ہم نے ایک کی طرف اشارہ کیا جوکہ جنوبی مینارئہ اذان کے ساتھ والے حجرے میں رکھی ہوئی ہے اس میں انتہائی نادر تحائف اور ہدیے شامل ہیں جسے نادر شاہ اور ان کی زوجہ اور بیٹے وغیرہ نے روضہ مقدس کے لئے وقف کئے تھے اس کے علاوہ ایک اور نسبتاً اس سے چھوٹی تجوری بھی روضہ کے اندر موجود ہے۔
اس کی قیمت بھی پہلے والی سے کم نہیں ہے جس کے اندر نفیس چیزیں ہے ان میں سے بعض روضہ مبارک کے محرابی جالی کے پیچھے سے نظر آتی ہے جو کہ صندوق خاتم کے اوپر رکھی ہوئی ہے اور بعض ایک شیشے کے پنجرے میں جالی کے اندر موجود ہے اور صندوقِ مرقد مقدس کے جنوبی سمت میں ایک بڑا نادر جواہرات سے مرصع کیا ہوا ہے اور ایک نسبتاً چھوٹا مغربی سمت بڑے خوبصورت و زیبائش کے ساتھ لٹکایا ہو اہے ۔ محرابی جالی کے دروازے کے دائیں جانب ایک لوہے کی تجوری کے اوپر ایک بڑا خوبصورت گل دان رکھا ہوا ہے۔یہ تمام تحائف راقم نے ۱۳ذی قعدہ ۱۴۲۹ھ / ۱۲ نومبر ۲۰۰۸ ء کو محرابی جالی کے اندر داخل ہوکر سر امام کے پاس نماز ادا کرتے وقت دیکھ چکا ہوں اور تصویر کشی کی کوشش کی تھی لیکن روشنی کا شعلہ زیادہ تیز ہونے کی وجہ سے کوئی مناسب تصویر نہیں بنی۔ شیخ محمد حسین نے اپنی کتاب میں بیان کیاہے کہ ''یہ تمام خالص سونے سے بنا ہوا ہے اور مقدس لعل جواہرات سے مرصع کی ہوئی ہے ان تحائف میں کچھ طلائی الماس و یاقوت سے سجی ہوئی قندیلیں ، زبر جد و الماس سے مرصّع کی تاجیں اور مختلف اقسام کے ہار، تمغے ، بڑے بڑے طلائی پھولیں، خط امام علی کے لکھے ہوئے صحیفے، موتیوں کا مجموعہ ، ایک ہیروں کا گُچھّہ جس کے اندر ۲۴شاخیں اور ہر شاخ میں ۹بڑے بڑے ہیرے، زمرد اور یا قوت ہیں۔ ''ڈاکٹر حسن حکیم نے بیان کیاہے کہ نادرشاہ نے یہ تاج ۱۱۵۶ھ / ۱۷۴۳ء جنگ ہندوستان سے قبل روضہ مقدس کے لئے ہدیہ کر کے سر مبارک کے اوپر معلق کیا تھایہ بھی راقم نے اپنی زیارت کے دوران دیکھا۔
اس کے علاوہ شیخ محمد حسین اور ڈاکٹر حسن حکیم دو اور تجوریوں کا ذکر کرتے ہیں ان میں سے ایک مرقد مقدس کے سر کی جانب والی رواق میں واقع ہے جس کے اندر ایک نادر قالین موجود ہے جبکہ دوسری تجوری صحن حیدری میں قبلے کی جانب واقع ہے واضح رہے کہ یہ تجوری خاص طور سے حرم کی کتب خانہ کے باقیات کے حوالے سے ہے۔ جیسا کہ اس کی ترتیب کے بارے میں اشارہ بھی ہوچکا کہ شیخ محمد سماوی نے ان کتابوں کو صحن کے کمروں میں منتقل کرنے میں بہت کوشش کی یا یہ کہ یہ بعض اہم صحیفے یہاں رکھے ہوئے تھے اور بعد میں یہ صحیفے اور مخطوطات کے لئے کتب خانہ حرم کے نیچے ایک محفوظ خاص جگہ بنائی گئی ہے۔ مخطوطات قدیمہ کا یہ حجرہ امانات عتبہ علویہ کے جوار میں جنوب مشرق کی جانب واقع ہے۔
شیخ محمد حسین نے ایک اور تجوری کا بھی ذکر کیا ہے جو ایک بند رواق کے کمرے میں ہے اس حوالے سے وہ یوں بیان کرتے ہیں ''روضہ شریفہ میں بہت سارے بڑے بڑے طلائی قندیلیں حرم کے چاروں کونوں میں مضبوط زنجیروں سے ستونوں ساتھ کے لٹکائے ہوئے ہیں اور یہ اتنے بڑے ہیں کہ انسان کے لئے ان کو اٹھانا طلائی وزن کی وجہ سے مشکل ہے اور اسے ہم لمبے عرصے سے دیکھ رہے ہیں۔۱۳۶۹ھ /۱۹۵۰ ء میں ان طلائی قندیلوں، باقی قیمتی چیزیں، شمع دانیں، چراغات، اور ان میں ایک بارہ سنگ کا خوبصورت سینگ جس کے درخت کی بہت ساری شاخیں ہیں اور حدّ درجہ وزنی بھی ہے ایک اور تجوری جو بند رواق کے کمروں میں ہے ان کمروں کے دیواروں پر شیشے کی نقش و نگاری کے اخراجات محمد رضا شاہ ایران نے برداشت کی اور موصوف ایک بیرونی تجوری اور دوسری تجوریوں کا بھی ذکر کرتے ہیں جہاں بہت سارے تحائف رکھی ہوئی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ'' ان ہدایا و تحائف میں ایک بڑا ایرانی قالین، اسلحے، طلائی قندیلیںجو داخل حرم میں معلق تھی۔'' یہ اشارہ گزر چکا کہ حرم کے قالین اس جدید تجوری میں منتقل ہوا جو حدود حرم کے شمال مغرب میں کتب خانہ کے نیچے بنائی گئی تھی موصوف اپنی کتاب میں بیان کرتے ہیں کہ ''دوسری منزل کے رواق کے کمرے بند ہیں ان میں داخل ہونے کے راستے بھی معلوم نہیں یہاں تک کہ ۱۳۵۹ھ / ۱۹۴۰ ء میں داخلہ ممکن ہوا اس لئے کہ جب رواق و حرم مبارک کے چھتوں میں اصلاحات شروع ہوئی تو ان کمروں کے دروازوں کا پتہ چلا اس کے بعد کمیٹی نے ان کمروں کے لئے چھٹے چھوٹے کھڑکیاں نکالی ہے تاکہ صحن کے دونوں شمالی و جنوبی اطراف میں ہوا کا آناجانا ہو ۔ آج کل اس کمرے میں حرم مطہر کے بعض آثار مثلاً تلواریں، پرانی صدیوں میں سلاطین ، مسلم امراء کی طرف وقف کئے قدیم بنوقیں رکھی ہوئی ہیں اس سے قبل یہ اسلحے صحن شریف کے جنوبی جانب ایک کمرے میں کتب مخطوطہ کے خزانے کے ساتھ رکھی ہوئی تھی۔ پھر ۱۳۷۱ھ / ۱۹۵۲ ء میں ان قدیم اسلحوں کو جنوبی رواق کے دوسری منزل میں منتقل کی گئی اور ہم خاص طور سے اچھی طرح دیکھ چکے ہیں کہ متولّیان حرم شریف و خدّام ان کو اٹھا اٹھاکر جنوبی رواق کے دائیں جانب سے چڑھتے تھے۔''
کہا جاتا ہے کہ ان میں سے بعض اسلحے تیروہوں صدی ہجری کے نصف میں ابن سعود کے عربوں کی غارت گری کی وجہ سے استعمال ہوا تھا ۔ اس وقت مرجع الدینی شیخ جعفر کاشف
الغطاء نے اسلحوں کو نکال کر مجاہدین کے لئے شہر سے باہر مشق کرنے کا حکم دیا تھا اس دوران شہر نجف کی آخری دیوار نہیں بنی تھی۔
اس موضوع کے بیان کے حوالے سے ۱۲۱۳ھ/۱۷۹۸ ء کے واقعات کا بھی ذکر کیا ہے۔ شیخ محمد حسین نے روضہ مقدس کے اندر ایک قدیم دروازوں والی تجوری کا بھی ذکر کیا ہے حال ہی میں ترامیم کے دوران مغربی رواق کی ایک اور نئی تجوری کا انکشاف ہوا ہے لیکن اس کے اندر موجودات کا ابھی تک اعلان نہیں ہوا ہے ۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت ساری چیزوں کا انکشاف ہوا ہے جو آج کل ترتیب و تصنیف کے مراحل میں ہے لیکن ان کی حالت آپ کو انکشاف سے پہلے کا حال بتاتی ہے۔ واضح رہے کہ بکتاشی تکیہ بھی آج کل بعض آثار قدیمہ رکھنے کے لئے استعمال ہورہا ہے سید عبد المطلب الخرسان کے مطابق مذکورہ مقام میں قالین، فانوسیں، قدیم نقرے کے دروازے رکھے ہوئے ہیں۔
شیخ علی الشرقی نے شاہ احمد قاچاری کے زیارت کے دوران مشاہدہ کئے ہوئے تحائف کے حوالے سے لکھاہے کہ ''میں نے ایک صندوق کے لئے ایک تاریخی چادر دیکھی اس پر طلائی و نقرائی دھاگے سے ہیرے اور موتیاں پروئی تھی کہا جاتا ہے یہ کپڑا آل بویہ کے زمانے کا ہے۔ روضہ کے اندر بعض طلائی قندیلیں ہیں، یہاں بہت سارے قدیم و جدید تحائف حرم کے لئے وقف شدہ ہیں اور بہت سارے نفیس نگینے، طلائی تلواریں، گھڑیاں، قیمتی پتھریں، چراغات، قرآن کریم کے مخطوط نسخے، اور میں نے وہاں ایک نفیس انتہائی خوبصورت لاثانی قالین کو دیکھا جو ابو ریشم اور اون سے بُنا ہوا تھا۔جس کی لمبائی تقریباً ۲میٹر جبکہ اس کا عرض ایک میٹر سے تھوڑا کم ہے۔ اور محرابی شکل میں مصلیٰ کے لئے رکھا ہوا ہے اور اس کے چاروں اطراف میں فریم میں آیت الکرسی کی کتابت بُنی ہوئی ہے اس کے بالائی جانب شیر کی تصویر بنی ہوئی ہے یہ علامت امیر المومنین سے منسوب کیا جاتا ہے جبکہ دونوں اطراف پر قرآن کریم کے گیارہ چھوٹی چھوٹی سوروں کی کتابت بُنی ہوئی ہے یہ علامت ہے جو آئمہ معصومین جو امیر المومنین کی ذریت میں ہیں۔
اس قالین پر سورہ توحید و سورہ حمد و تسبییحات اربعہ، تشہد ، تسلیم بھی لکھا ہوا ہے ، میں نے وہاں چار نفیس ابو ریشم سے بُنے ہوئے چار قالین دیکھے یہ صفوی خاندان کے بادشاہوں کی ازواج نے اپنے ہاتھوں سے بنائے ہیں اس لئے انہوں نے اپنے نام کے ساتھ کام کی تاریخ بھی لکھ دی ہے اس کے علاوہ اسماعیل البرنس صفوی کے ہاتھ کا لکھا ہوا قرآن کریم کا ایک نسخہ ہے جس پر ۹۹۱ھ مکتوب ہے اس کے غلاف پر آب طلاء اور قیمتی پتھروں سے نقش و نگار بنا ہوا ہے۔اسی طرح ایک اور نسخہ عاج سے بنی کرسی جو قیمتی پتھروں سے سجی ہوئی ہے رکھا ہوا ہے اور اس کو ایک کپڑے میں لپیٹا ہوا ہے جو ریشم اور سونے کے تاروں سے بُنا ہوا ہے اور انتہائی فن کمالات کے ساتھ یہ غلاف بنا ہوا ہے اس کے علاوہ قرآن کریم کا ایک نسخہ اور ہے جو ایک خوبصورت کرسی پر رکھا ہوا ہے اس نسخہ پر ایک فارسی تفسیر بھی ہے اس کی کتابت میں سونے سے محلول بہت سارا رنگ استعمال ہوا ہے اور یہ آثار قدیمہ کے بے مثال نمونہ ہے۔ ''یہ دیکھ کر میرا رنج و الم تھوڑا سا کم ہوا اب کیونکہ حرم کے کمیٹی بنی ہے جس کے اندر معتبر افراد شامل ہیں جو ان تحائف کی ترتیب کر رہے ہیں اس حوالے سے جب میںدسمبر ۲۰۰۸ ء کو وہاں کیا تھا تو میں چند کارڈ وغیرہ اس مقصد کے لئے بنا ہوا دیکھا اگرچہ یہ افراد شکریہ کے مستحق ہیں لیکن انہیں چاہیے اپنے ساتھ اس عمل میں زمانہ وسطی کے اسلامی آثار قدیمہ چند ماہرین کو بھی شامل کریں کیونکہ ایسے یہ کام پہلے سے کر رہے ہیں بہت سارے ایسے لوگ بھی ہیں جو ٹوٹے ہوئے ابریق وغیرہ اور پھٹے ہوئے قالینوں کی دوبارہ رفو وغیرہ کرسکتے ہیں لہٰذا اس عمل میں کمیٹی کو جلد اقدام کرنا چاہیے اور باقی تجوریوں کی حفاظت کے لئے بھی اقدام ضروری ہے ۔ مجھے معلوم ہے اور میں اس کا گواہ ہوں کہ یہ کام بہت بڑا ہے لیکن اسے صبر و تحمل کے ساتھ پائے تکمیل تک پہچانا چاہیے۔
میرا خیال ہے کہ یہ پہلا اقدام ہوگا جو یہ کمیٹی انتہائی مشقت کے ساتھ انجام دے رہے ہونگے اوراگر وہ اس میں کامیاب ہوتو ان کو جو فخر و ثنا و عظیم ثواب نصیب ہوگا اس سے پہلے پوری تاریخ میں روضہ مبارک میں کسی خدام کو نصیب نہیںہوئی ہوگی۔ ڈاکٹر سعاد ماہر نے بعض ایسے آثار قدیمہ کے ٹائل اور محرابوں کا ذکر کیا ہے اور بعض تربت حسینیہ بھی فنی مہارت سے بنی ہوئی پائی گئی جس کا موصوفہ تعریف کرتی ہے اور وہ اس حوالے سے شیعوں کے نماز پڑھنے کے طریقے سے واقف ہوئی کیونکہ شیعہ اہل بیت کے تقلید کرتے ہو ئے نماز ادا کرتے ہیں۔ لہٰذاموصوفہ (تربت کربلاء نجف)کی عنوان سے مزید تحقیق کی ہے پھر بعض تربتوں کو بیان کیا ہے جو فنی طریقے سے بنائی گئی ہے لیکن موصوفہ نے جو تحائف دیکھی ہے انہیں وہ چھے اقسام میں تقسیم کرتی ہیں۔
۱_ مخطوط صحیفے
موصوفہ اپنی کتاب الصحیفہ میں بیان کرتی ہیں کہ ''اس تجوری میں ۵۵۰ قیمتی صحیفے ہیں جن کی قدامت پہلی صدی ہجری سے لے کر چودہویں صدی ہجری تک ہے ان میں سے بعض مخطوطے جانوروں کی کھال پر جبکہ بعض دوسرے ہڈیوں پر مختلف اسلوب و طرز خط عربی میں کتابت ہوئی ہے ۔ پس بعض خط کوفی، نسخ، فارسی نستعلیق، ثلث، خط کوفی چوکور، خط ہمایونی، عثمانی، اور خط رقعہ میں کتابت ہوئی ہے ان تمام صفات کا مشاہدہ کرکے ایک محقق یہ اندازہ لگا سکتا ہے کہ ان صحیفوں کی کتابت نے تاریخ کے گزرنے کے ساتھ کیسے ترقی کی ہے جیسا کہ وہاں موجود بعض صحیفے خط کوفی میں کتابت ہوئی ہے انہیں امام علی،امام حسن ، امام زین العابدین سے منسوب کرتے ہیں انہیں دیکھ کر لاکھوں مسلمانوں کے دلوں میں قدرواحترام بڑھ جاتا ہے۔ لیکن شیخ محمد حسین کے مطابق اس تجوری کی کتابیں ستمبر ۱۹۷۰ ء میں علامہ محقق سیّد احمد حسینی کے ہاتھوں نجف اشرف کے نائب سیّد عبد الرّزاق الحبوبی اور قاضی شیخ حسن الشمیساوی کے زیر نگرانی گنی جاچکی تھی۔ ''تو وہاں کل تاریخی کتب کی تعداد ۷۵۲ تھی جن کتب مخطوطہ اور قدیم مطبوعہ کی تعداد ۷۰۰تھی۔ ''جب ڈاکٹر سعاد ماہر کی کتاب بیسویں صدی کے ۷۰کے دہائی کے اوائل میں منظر عام پر آئی تو موصوفہ ایک اور تجوری کے بارے میں بیان کرتی ہیں جس میں وہ صحیفے تھے جو اس تجوری کے ساتھ کوئی تعلق نہیں رکھتی تھی ۔ کیونکہ شیخ محمد حسین روضہ کے تجوریوں کے بارے میں بتاتے وقت ایک تجوری کے بارے میں بتاتے ہیں جو ''خزانہ کتب و قرّا ''سے مشہور تھا۔ جس کے اندر کچھ قدیم قیمتی صحیفے موجود تھے ڈاکٹر سعاد ماہر نے اسی کی طرف اشارہ کیا تھا اس لئے جس تجوری کی کتابوں کی گنتی ہوئی وہ اس مذکورہ تجوری کے علاوہ تھی۔
۲_معدنی تحائف
ڈاکٹر سعاد ماہر کے مطابق اس تجوری میں ۷۲۰تحائف کے نمونے موجود ہیں جن میں سے بعض طلائی ہاریں ، قیمتی جواہرات، زبر جد، یاقوت، الماس، ہیرے فیروزے سے مزین ہیں جبکہ ''بعض طلائی قندیلیں قیمتی پتھروں، آنگینہ سے نقش و نگا، کی ہوئی ہے اور عود سوز، آب گلاب کے برتن' شمعدانیں' کتبات' تاج' ہار' گلدانیں' ہاتھ دھونے کے طشت'کشکول (جس کے ذریعے شیعہ درویش بھیک مانگتے ہیں)، بڑے بڑے اسلحوں کا ایک مجموعہ، جھنڈے ، روضوں کے نمونے '' جن میں ۵۶عدد روضہ مبارک کے رجسٹروں کے مطابق ایوان طلاء کے تجوری میں ہیں۔ یہ تعداد ڈاکٹر سعاد ماہر کے مطابق ہے جسے اس نے دیکھایا پڑھا ہے لیکن حقیقی تعداد جو روضہ مبارک کے موجودہ تجوریوں میں ہے اس کا جاننا مشکل ہے۔جن کے کچھ نمونے کا ہم یہاں ذکر کرتے ہیں۔ ایک تلوارہے جس کا دستہ الماس کے پتھروں طلائی غلاف سے مزین ہے اور ا س کے لئے ایک ہُک بھی ہے اس کے دھات پر ''حسن رضا کی جانب سے علی بن ابی طالب کے لئے تحفہ ''لکھا ہوا ہے۔
٭ پانچ طلائی قندیلیں ہیں ان میں سے ہر ایک میں چھ طغرے ہیں جن میں آٹھ قیمتی پتھریں جڑے ہوئے ہیں اور اس کے بیچ میں ایک زبر جد کا پتھر ہے اور ہر طغرے کے ارد گرد زبر جد کے بڑے بڑے پھول ہیں اور ان پھولوں کے ارد گرد بارہ یاقوت کے پتھر جڑے ہیں۔ اس کے علاوہ ہر طغرے کے اوپر ہیرے سبز زبرجد کے بارہ پتھروں کے ساتھ ہیں اور اس کا بالائی حصہ اور نیچے والا حصہ نادر و نایاب جواہرات سے پُر ہیں جو عقل حیران کرتی ہے ان قندیلوں کو سلطان حسین نے ہدیہ کیا ہے۔
٭ ان کے علاوہ کچھ قندیلیں بھی ہیں جو پہلے کی طرح خوبصورت پتھروں سے سجاوٹ کی ہوئی ہے اور ان میں ہر قندیل کا وزن ۷۱۶۰گرام ہے اسے زینب بیگم شاہ طہماز صفوی نے ہدیہ کی ہیں۔
٭ طلائی عود سوز اس کو نادرشاہ نے ۱۱۵۶ھ /۱۷۴۳ ء میں ہدیہ کی تھی اور یہ ہشت پہلو شکل میں ہے اسکے اوپر کا ڈھکن گول جالی دار اور مختلف قیمتی پتھروں سے سجاوٹ کی ہوئی ہے لیکن کچھ چار کونہ شکل عوز سویں بھی ہیں ان میں ہر ایک خوبصورت پتھر کے فریم میں ہے اور اس فریم میں دس عدد چار زبرجد' ایک بڑا یاقوت'الماس کے چند پتھر ہیں جو فن تعمیر کے اہم علامت ہیں اور ان کا وزن۷۳۴۵ گرام ہے۔
٭ طلائی جھنڈے جو قیمتی بڑے چھوٹے پتھر اور آبگینہ نقوش سے مزین ہیں۔
٭ طلائی گلدان جوکہ مخروطی شکل کا ہے پتھر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں سے مزین اور آبگینہ نقوش سے بنی ہوئی ہے اسے حاج بن درگاہ نے ۱۱۸۲ھ /۱۷۶۸ء میں ہدیہ کی تھی۔
٭ طلائی ہار یہ سبز آبگینہ رنگوں سے مزین ہے جس میں تین عدد یاقوت کے پتھر ہیں اس کے پتھر کے درمیان میں شش زاویہ ایک بڑا دائرہ ہے اور اس دائرے کے اندر ہی ایک اور چھوٹا دائرہ ہے جسے آبگینہ آسمانی رنگ میں بندہ شاہ ولایت سلطان حسین ۱۱۱۲ھ/۱۷۰۰ ء لکھا ہوا ہے۔
٭ طلائی جھالر دار پٹی اس کے اندر ۴۰طلائی کی گانٹھیں بندھی ہوئی ہیں اور ہر گانٹھ میں زبر جد کے دو پھول اور اور ہر پھول میں آٹھ یا قوت اور زبر جد ہیں۔
٭ طلائی دل نُما۔ یہ بڑے کے الماس کے پتھر اور زبرجد یاقوت سے سجاوٹ کی ہوئی ہے۔
٭ نارو نایاب بیضوی شکل کا فیروزہ جس کے اوپر طلاء لگا ہوا ہے اس کی لمبائی ۵سے۶ سینٹی میٹر اور عرض ۴سینٹی میٹر ہے۔
٭ مختلف سائز کے نقرے برتن جس کا وزن ۷۶۹۶۰گرام ہے۔
٭ حرز بابند۔ اس کو نادر شاہ نے ہدیہ کیا تھا یہ بیضوی شکل کا ہے جس کے اندر ایک بڑا سفید دائرہ ہے اور ایک دائرہ جو بھورا چنا نیلے زبر جد، سرخ یاقوت وغیرہ پر مشتمل ہے ۔ ان ٹکڑوں کے بارے میں موصوفہ کہتی ہیں کہ یہ وہ اہم تحائف ہیں جوحرم کے اندر صندوقوں میں موجود ہیں جن میں اکثر کے بارے میں یہ معلوم نہیں کہ کس نے ان کو ہدیہ کیا تھا۔
اس کے بعد بیرونی تجوری میں موجود تحائف کو دو قسموں میں تقسیم کرتی ہیں ان میں سے پہلی قسم میں مندرجہ ذیل چیزیں ہیں
۱۔ پردے، روضہ حیدری کے خاص ایرانی قالین ، معلق قدیم و جدید کرسٹل کے قندیلیں جو قیمتی جواہرات سے مزین ہیں۔
۲۔ قدیم بندوقیں، خوبصورت نیام والی تلواریں، بڑے طلائی قندیلیں جو حرم کے اندر معلق ہیں اور یہ روضہ کو شیشہ کاری کرنے کے دوران اٹھائی ہیں اور یہ مختلف سائز ہیں۔
جبکہ دوسری قسم میں۳۶مختلف نمونے ہیں جن میں معدنی ٹکڑے'پردے'قالین' منسوجات' چار صحیفے:
۱۔ طلاء سے مزین قیمتی پتھروں سے مرصّع جسے اسماعیل حیدر الحسینی نے ۹۲۱ھ میں وقف کی ہے۔
۲۔ ایک اور صحیفہ امام حسن کے خط سے ہے جو کہ قدیم خط کوفی میں کھال پر لکھا ہوا ہے۔
۳۔ بڑے حروف سے لکھی ہوئی مکتوب جو امام امیر المومنین سے منسوب ہے۔
۴۔ قدیم خط کوفی میں مکتوب جس کے آخر میں لکھا ہوا ہے''اسے علی ابن ابی طالب نے لکھا ہے ''اس حوالے سے ماہرین خطاط جب نجف اشرف میں زیارت کیلئے گئے تو انہوںنے بتایا کہ یہ عہد خلفائے راشدین کے خط ہے اس لئے یہ خط امام علی کی ہے۔
یہاں پر ڈاکٹر حسن حکیم نے ایک نسخہ قرآن مجید کا ذکر کیا ہے کہ ''ایک عاج کی خوبصورت کرسی پر قیمتی پتھر سے رکھا ہوا ہے اور یہ ایک سونے کے تار سے بنے ریشم کے کپڑے میں لپٹا ہوا تھا جو خارق فنی و بارع صناعت میں تھا اور بیل بوٹوں آبگینہ سے نقش و نگار کیا ہو اایک غلاف میں یہ خوبصورت خط نسخ میں لکھا ہوا ہے لیکن اس میں کوئی تاریخ درج نہیں ہے۔''
شاید اس حوالے سے ڈاکٹر سعاد ماہر کے اطلاع میں نہ ہو کیونکہ سابقہ تمام نمونے کی قیمت برابر نہیں ہے کیونکہ بعض معدنیات میں سے ہے یا دیگراشیاء سے متعلق ہیں۔ ہم یہاں چند نمونے اس تجوری سے بیان کرتے ہیں۔
٭ ایک جوڑا مخمل کے پردے میں جس کے اطراف میں ہیرے اور رنگ برنگ کے موتیاں پروئی ہوئی ہے اور ہر پردے پر سبز رنگ کے اطلسی ریشم کے کپڑوں سے مور کی شکل کی بنی ہوئی ہے۔ یہ پردے انتہائی نادر و نایاب ہے جس کو دیکھ کر آنکھیں خیرہ ہوتی ہیں اور ڈیزائننگ اہم نشانیوں میں شامل ہے ان دونوں پردوں کو ہندوستان کے ایک حاکم شہاب الدین کی زوجہ سیّدہ گوہر نے ہدیہ کی ہے۔
٭ عدد نادرو نایاب جائے نماز ہیں ان میں ہر ایک کی سائز۱۸۱ X ۳۹۰ ہے جن کے رنگ پیلے ہیں اس کے چار خانوں والے تین حصے میںمحرابی شکل ہے جن کے اندر چاندی سے نقوش بنے ہوئے ہیں یہ کام ایران میں ہوا ہے۔
٭ ایک تاج ہے جس پر بارہ گلاب کے پھول بنے ہوئے ہیں اور ہر پھول میں چھ الماس کے پتھر اس طرح لگے ہوئے ہیں کہ اس کے اطراف میں زبر جد کے بڑے پتھر لگے ہوئے ہیں اس کے ایک طرف دو بڑے زبر جد کے پتھر ہے اور اس کا تاج سر عمامہ ہیرے کے پتھروں سے سجایا ہوا ہے اور اسے تاج النساء بیگم نے ۱۲۴۰ھ / ۱۸۲۵ ء میں ہدیہ کئے۔
٭ ایک جوڑا گوشوارہ یہ دو بڑے پتھر میں رکھا ہوا ہے اور ان کے اطراف میں چھوٹے چھوٹے قیمتی پتھر جڑے ہوئے ہیں ڈاکٹر حسن حکیم کے مطابق ان میں سے ہر ایک کا وزن۲۶ قیراط ہے ان کی قیمت ۷۰ء کی دہائی میں سونے کا ساٹھ ہزار پاونڈ تھا۔
٭ طلائی نگینے جو الماس سے مزین ہے اس پر تتلی کی شکل الماس و زبر جد سے بنی ہوئی ہے ۔
٭ ڈاکٹر سعاد ماہر نے بعض خوبصورت طلائی قندیلوں کا بیان کیا ہے کہ ''لیکن جو نفیس قندیلیں ہیں وہ طلاء سے بنے ہوئے ہیں جن کے اوپر آبگینہ سے نقوش بنی ہوئی ہے۔ ان نقوش میں ایک بیضوی شکل ہے جس کا حجم ۷۳سینٹی میٹر ہے اور دو اطراف کے بالائی اور زیریں قطر تقریباً ۲۰سینٹی میٹر ہے اور اس گیند کے اوپر سے نیچے کا درمیانی احاطہ ۴۱سینٹی میٹر ہے اور یہ اشکال بعض سے بعض متصل ہیں جوکہ بڑے قیمتی پتھر یاقوت، الماس، لعل، ہیرے ، زبر جد سے بنی ہوئی ہے اس کاایک حصے میں ایک قیمتی اشیاء سے نقش و نگار کی ہوئی ہے اسے ملک فارس کے علی مراد نے ۱۱۹۶ھ /۱۷۸۲ ء میں ہدیہ کی تھی وقف کنندہ کا نام فارسی زبان میں کلب علی مراد لکھا ہوا ہے۔
٭ ڈاکٹر حسن حکیم کے مطابق نادرشاہ نے پانچ قیمتی نگینے جڑے ہوئے قندیلیں مرقد امام علی کے ۱۱۵۳ھ / ۱۸۴۰ ء میں ہدیہ کی تھی۔
اور موصوف یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ ہندوستانی طرز کے خنجر جوکہ روضہ کی جالی سے معلق ہے قیمتی پتھروں سے مزین ہے اسے ہندوستان کے مغل بادشا اورنگزیب نے ہدیہ کی تھی۔ اس کے بارے میں مشہور سیاح NAIBOOR نے اپنے سفرنامے میں لکھا ہے کہ اس خنجر کی کوئی قیمت تعین نہیں کیا جا سکتا اور جب میں حرم میں داخل ہوا تو میں نے یہ روضہ مقدس کے جالی کے اندر اسے دیکھا جو مغربی جانب صندوق میں معلّق تھا اور موصوف نے یہ بھی کیا ہے کہ اس کے اندر تین الماس کے تاجیں ہیں اور ہر تاج کے وسط میں زبر جد ہے شاید یہ وہی تاج ہے جس کا ذکر ہو چکا ہے۔
٭ وہ یہ بیان کرتا ہے کہ عثمانی شہزادہ عبد الحمید نے روضہ مبارک کیلئے موئے مبارک نبی اکرمصلىاللهعليهوآلهوسلم ۱۳۰۳ھ /۱۸۸۶ء میں ہدیہ کیا تھا۔
٭ محمد ہادی امینی نے اپنے سابقہ مضمون میں کچھ اور نوادرات کا ذکر کیا ہے ان میں سے یہ ہے کہ طلائی انگھیٹی عود سوز جس میں سُرخ یاقوت کے چمکدار پتھریں ہیں اس میں الماس کے بڑے گڈّے ہیں اور اس پر نادر لکھا ہوا ہے۔
٭ یہ اشارہ گزر چکا ہے کہ بد ر الدین لو لو نے ۶۵۷ھ / ۱۲۵۹ ء میں چار قندیلیں ہدیہ کی ہے شیخ محمد حسین کے مطابق یہ وہی تجوری ہے لیکن میں نے ڈاکٹر سعاد ماہر کی کتاب میں نہیں دیکھا ہے۔
۳_دوسری قسم منسوجات
ڈاکٹر سعاد ماہر نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے کہ اس تجوری میں ۴۸۴نمونے ہیں ۔ اس میں شک نہیںکہ موصوفہ نے قدیم فہرست سے یہ تعداد حاصل کی ہے لیکن حقیقی تعداد اس سے زیادہ ہے ان میں بہت سارے سونے چاندی کے تاریں ہیں جن سے قیمتی پتھریں اور ہیرے جواہرات کی سجاوٹ کی ہوئی ہے ڈاکٹر موصوفہ نے ان میں سے بعض کی تفصیلات اور ان کی قیمتیں ،تاریخیں اور نابغہ ماہرین کے نام کے حوالے سے روشنی ڈالی ہے۔
۴_جائے نماز
اس تجوری میں ۳۲۵نادر جائے نماز ہیں ۔ ڈاکٹر سعاد ماہر نے اپنی کتاب میں یوں بیان کیا ہے کہ روضہ مبارک میںایک نادر جائے نماز کا مجموعہ ہیں جو پوری دنیا میں فنی و معنوی اعتبار سے بے مثال ہیں۔
اور وہ اس دوران بعض ہیروں کے بارے میں یوں بیان کرتی ہیں کہ ''یہ ذوطرفین ہیں اور ہر سمت پر مختلف رنگوں سے نقش و نگار ہے۔
جیسا کہ ہم بیان کرچکے کچھ قالین شاہ عباس صفوی نے ہدیہ کی تھی ان میں سے ایک کی قیمت پچھلی صدی کے ۷۰ کی دہائی میں ۴ملین ڈالر سے زیادہ تھی جس وقت ایک گرام سونے کی قیمت آدھے سے زیادہ ہے تو مذکورہ قالین کی قیمت کیا ہوگی؟ اس پر مستزاد یہ کہ بہت سارے ایسے نمونے ہیں جس کی مثال پوری دنیا میں نہیں ہے ڈاکٹر سعاد ماہر نے اپنی کتاب میں نو جائے نمازوں کا ذکر کیا ہے۔
یہ جائے نمازیں ریشم و حریر اور سونے کے تاروں سے بنی ہے اور ان تمام کی قیمت کا اندازہ لگانا قدرے مشکل ہے ان میں سے ایک جائے نماز کا جائز ۳۲۳ ۲۰ ہے اس کے بارے میں ڈاکٹر موصوفہ بیان کرتی ہیں یہ جائے نماز اپنی صناعت کے اعتبار سے کسی معجزے سے کم نہیں ہے اس کے دونوں اطراف میں خوبصورت نقش و نگار بنا ہوا ہے اور اس نقش و نگار میں اس بات کا لحاظ کیا گیا ہے کہ دونوں صورتوں کے رنگ مختلف ہیں۔ ''اور یہ حاج محمد رضا قمی نے ۱۲۶۴ھ /۱۸۳۸ء میں ہدیہ کی تھی یہ تاریخ فارسی میں لکھا ہوا ہے ۔ ڈاکٹر حسن حکیم نے اپنی کتاب میں بیان کی ہے کہ بعض صفوی امراء کی زواج نے چار ریشم کے جائے نماز اپنے ہاتھوں سے بناکر روضہ مقدس کو ہدیہ کی تھی اور ان پر ان کے دستخط اور بننے کی تاریخ درج ہے۔
۵_شیشے کے نمونے
تجوری کے اندر ۱۲۱نمونے شیشے کے مختلف اشکال میں ہے بعض نادر بلوری فانوس ہے تو بعض دوسرے قندیلیں کی شمع روشن ہوتا ہے شیشے کے گیندے کو اہل یورپ اہل مشرق کے انڈے کہتے ہیں ۔ ان میں سے بعض قیمتی پتھروں سے مرصّع ومزین ہیں ڈاکٹر سعاد ماہر کے مطابق مذکورہ بالا تعداد صحیح ہے لیکن آج کل حرم میں شیشے کے نمونوں کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔
۶_لکڑی کے تحائف
ڈاکٹر سعاد ماہر کے مطابق ان میں کل ۱۵۶میں سے اکثر ساج ہندی بدیع الصناعت اور نقش و نگار سے مزین ہیں لیکن اس وقت مذکورہ تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔
اگر ہم ان تجوریوں کا اضافہ کریں جن کی طرف محققین نے توجہ نہیں دی ہے اور نہ ہی روضہ کے کسی رجسٹر وغیرہ میں درج ہوئے ہیں وہ نقرئی دروازے جو منفرد انداز سے بنے ہوئے ہیں وغیرہ ان کی مادی و معنوی اہمیت کا انداز لگانا مشکل ہے ۔ یہ ایسے کنوزو خزانے ہیں جن کی معنوی قیمت مادی قیمت سے کئی گنا زیادہ ہے اس لئے کہ یہ امیر المومنین کے اسم سے مشرف ہے۔
لیکن مادی قیمت یہ تو تصور سے بالاتر ہے اس بات میں دو لوگ بھی اختلاف نہیں کرسکتے ہیں کہ ان تمام تحائف کو ایسے ہی چھوڑ کر رکھنا جہاں اس پر آشوب دور میں ان کی طرف غیر محفوظ دست دراز ہونے میں دیر نہیں لگتی کیونکہ جو لالچ و خوف ہم سنتے آرہے ہیں جس میں ان تمام نفیس تحائف کا محفوظ طریقے سے ہم تک پہنچنا تعجب ہے۔
اگر ان موتیوں کے ایک میوزیم بنانے کا وقت ابھی نہیں پہنچا ہے تو کم از کم انہیں روضہ مبارک کے اندر ایک مناسب مقام میں ترتیب و تنظیم کے ساتھ رجسٹر میں درج کرکے مختلف حصوں اور سمتوں میں تقسیم کرکے رکھا جائے تاکہ ہر خاص و عام کے نظروں کے سامنے رہے۔
میری نیک شگونیاں گزرے کل کی نسبت آج زیادہ ہیں کیونکہ مجھے یہاں جدید علوم کے مطابق حرص، زینت حزن و ملال نظر آتا ہے اور مجھے یہ یقین ہے کہ ایک دن ایک نئی صبح یہ نوید دے گی کہ ان ہیروں کی طرف دیکھ کر عتبہ علویہ مقدسہ کے لاکھوں زائرین کی نظریں جھوم اُٹھیں گی اللہ سے میری دعا ہے کہ وہ ہمیں مرنے سے قبل اس صبح سے نوازے۔
الحمد للہ ترجمہ تمام شد
یکم اکتوبر ۲۰۱۰،جمعتہ المبارک بوقت شب ۲۰:۱۲
محمد تقی
*****
مصادر
٭ الاحلام الشیخ علی الشرقی، جمع و تحقیق موسی الکرباسی.
مطبعة العمال المر کزیة بغداد ۱۹۹۱م
٭ الرشاد الشیخ المفید ((ت۴۱۳ ه))
مو سسة آل البیت لتحقیق التراث ط۲ بیروت ۱۹۹۳م
٭ رشاد القلوب، محمد بن الحسن الدیلمی ((۸۱ه))
موسسة الاعلمی، بیروت.
٭ ارض النجف د، موسی جعفر العطیه.
موسسة النبراس، النجف الاشرف ۲۰۰۶م
٭ الاستیعاب ابن عبد البر ((۴۶۳ه )) تحقیق علی محمد البجاوی.
دار الجیل، بیروت ۱۹۵۵م
٭ اسد الغابة، ابن الاثیر(ت۴۶۳ه)
دار الفکر، بیروت ۱۹۵۵م
٭ اسماء النجف فی الحدیث واللغة والتاریخ الشیخ محمد هادی الامینی.
بحث منشور فی الجزء الاول من موسوعة النجف الاشرف.
دار الاضواء ، بیروت ۱۹۹۳م
٭ اعیان الشیعة، السید محسن الامین.
دار المعارف للمطبوعات، طبع ۵،بیروت ۱۹۸۳م
٭ الاغانی، لابی الفرج الاصفهانی(ت ۳۵۶ه)
دار صادر، بیروت.
٭ الفصاح عن احوال رواة الصحاح، الشیخ محمد حسن المظفر (۱۳۸۵ه)
تحقیق موسسة آل البیت مطبعة ستارة، قم ۱۴۲۶ه
٭ الامالی، الشیخ الطوسی (ت۴۶۰)
دار الثقافة قم ۱۴۱۴م
٭ المام الصادق، عبد الحلیم الجندی.
دار المعارف، القاهرة ۱۹۸۶م
٭ المام الصادق والمذاهب الاربعة اسد حیدر.
دار الکاتب العربی، ط ۲،بیروت ۱۹۹۶م
٭ المامة والسیاسة، ابن قتیبة (ت۲۸۶ه )تحقیق طه محمد الزینی.
موسسة الحلبی وشرکاه، القاهرة ۱۹۶۷م
٭ الباب الذهبی، کراس نشرته دار النشر والتالیف فی النجف سنة ۱۹۵۴م
واعید نشره فی الجزء الثالث من موسوعة النجف الاشرف،
دار الاضواء بیروت ۱۹۹۳م
٭ البحار، المجلسی (ت۱۱۱۱ه)
موسسة الوفاء بیروت ۱۹۸۳م
٭ بحر النجف، الشیخ موسی الساعدی.
بحث منشور فی الجزء الاول من موسوعة النجف الاشرف،
دار الاضواء بیروت ۱۹۹۳م
٭ البدایة والنهایة، ابن کثیر(ت۷۷۳ه )
مکتبة المعارف، بیروت.
٭ بقیع الغرقد، المهندس حاتم عمر طه،
مکتبة الحلبی المدینة المنورة ۲۰۰۴م
٭ بلدان الخلافة الشرقیة، کی لسترنج، ترجمة بشیر فرنسیس وکور کیس عواد.
مطبعة الرابطة بغداد ۱۹۵۴م
٭ بیان اسباب اختفاء قبر المام علی بن ابی طالب.
بحث مستل من کتاب مشهد المام لمحمد جعفر التمیمی،
واعید نشرة فی الجزء الثانی من موسوعة النجف الاشرف،
دار الاضواء بیروت ۱۹۹۳م
٭ تاج العروس، الزبیدی (ت۱۲۰۵ه )
بیروت ۱۹۹۴م
٭ تاریخ السلام، عهد الخلفاء الراشدین، الذهبی (ت۷۴۸ه )
تحقیق الدکتور عمر عبد السلام تدمری،
دار الکاتب العربی بیروت ۱۹۹۷م
٭ تاریخ بغداد لخطیب البغدادی (ت۴۶۳ه)
دار الکتب العلمیة، بیروت.
٭ تاریخ الخلفاء السیوطی (ت۹۱۱ه)تحقیق محمد محی الدین عبد الحمید.
مطبعة السعادة القاهرة ۱۳۷۱ه
٭ تاریخ الطبری الطبری (ت۳۱۰ه)
طبعة دار الکتب العلمیة وطبعة موسسة الاعلمی، بیروت.
٭ تاریخ الکوفة السید احمد البراقی (ت۱۳۳۲ه)تحقیق ماجد احمد العطیة.
انتشارات المکتبة الحیدریة ۱۴۲۴ه
٭ تاریخ مدینة دمشق، ابن عساکر (ت۵۷۱ه)مجلد۶۷
تحقیق سکینة الشهابی مطبوعات مجمع دمشق ۲۰۰۶م
٭ تاریخ مدینة دمشق، ابن عساکر (ت۵۷۱ه)(ج۲۳۱)
نشر دار الفکر بیروت.
٭ تاریخ النجف الاشرف الشیخ محمد حسین حرز الدین.
مطبعة نکارش، قم ۱۴۲۷ه
٭ تاریخ النجف حتی نهایة العصر العباسی محمد جواد فخر الدین.
منشورات معهد المعلمین للدراسات العلیا، النجف الاشرف.
٭ تاریخ الیعقوبی، الیعقوبی (ت۲۹۲ه)تحقیق عبد الامیر مهنا.
موسسة الاعلمی للمطبوعات بیروت ۱۹۹۳م
٭ تحدید المعالم الجغرافیة العامة لحدود النجف الکبری د، موسی العطیة.
٭ تحفة العالم السید جعفر بحر العلوم.
ط۲، مکتبة الصادق طهران ۱۴۰۱م
٭ تذکرة الخواص سبط بن الجوزی (ت۵۶۰ه)
المطبعة العلمیة النجف ۱۳۶۹ه
٭ ترجمة المام علی بن ابی طالب من تاریخ دمشق ابن عساکر.
تحقیق الشیخ محمد باقر المحمودی.
مو سسة المحمودی للطباعة والنشر، ط۲، بیروت ۱۹۶۸م
٭ تکملة امل الآمل، السید حسن الصدر (ت۱۳۵۴)
تحقیق د، حسین علی محفوظ وآخرین.
دار المورخ العربی، بیروت ۲۰۰۸م
٭ تنقیح المقال فی علم الرجال، الشیخ عبد الله المامقانی (ت۱۳۵۱ه)
تحقیق الشیخ محیی الدین المامقانی.
نشر موسسة آل البیت مطبعة ستارة قم ۱۴۲۳ه
٭ تهذیب الاحکام، الشیخ الطوسی (ت۴۶۰ه)تحقیق الشیخ محمد جواد مغنیة.
دار الاضواء بیروت ۱۹۹۲م
٭ جامع عمران بن شاهین.
مقالة نشرها علاء حیدر المرعبی فی العدد ۲۳من مجلة الولایة الصادرة سنة ۲۰۰۸،
وهی من صدارات العتبة العلویة المقدسة فی النجف الاشرف.
٭ الجغرافیة الطبیعیة لمدینة النجف ناجی وداعة.
بحث ماخوذ من کتابه لمحات من تاریخ النجف،
واعید نشره فی الجز الاول من موسوعة النجف الاشرف،
دار الاضواء بیروت ۱۹۹۲م
٭ حیاة الحیوان الکبری، الدمیری (ت۶۸۲ه)
مطبعة مصطفی الحلبی القاهرة.
٭ الحیاة الفکریة فی النجف الاشرف د، محمد باقر البهادلی.
مطبعة ستارة بغداد ۲۰۰۴م
٭ الخرائج والجرائح قطب الدین الراوندی (ت۵۷۳ه)
موسسة المام المهدی قم المقدسة.
٭ دائرة المعارف الشیعیة، حسن الامین.
دار التعارف للمطبوعات بیروت ۱۹۹۸م
٭ الدیارات والامکنة النصرانیة فی الکوفة وضواحیها محمد سعید الطریحی.
مطبعة المتنبی بیروت ۱۹۸۱م
٭ الرحالة تکسیرا فی النجف ترجمة د، جعفر خیاط.
ضمن کتابه النجف فی المراجع الغربیة المنشور فی موسوعة العتبات المقدسة
قسم النجف الجزء الاول لجعفر الخلیلی.
موسسة الاعلمی بیروت ۱۹۸۷م
٭ رحلة ابن بطوطة ابن بطوطة.
بحث مستل من رحلته واعید نشره فی الجز الرابع من موسوعة النجف الاشرف.
دار الاضواء بیروت ۱۹۹۳م
٭ رحلة ابن جبیر ابن جبیر.
مقتطع من الرحلة، ونشر فی موسوعة العتبات المقدسة قسم النجف،
الجزء الاول لجعفر الخلیلی موسسة الاعلمی بیروت ۱۹۸۷م
٭ سفرنامة ناصر خسرو.
نشرت الترجمة العربیة فی القرص الخاص بمکتبة اهل البیت ۲۰۰۵م
٭ شذرات الذهب ابن العماد (ت۱۰۸۹ه)
دار الآفاق بیروت.
٭ شرح نهج البلاغة ابن ابی الحدید (ت۶۵۶ه)
موسسة الاعلمی بیروت ۱۹۹۵م.
٭ شعراء الغری علی الخاقانی.
المطبعة الحیدریة الجنف الاشرف ۱۹۵۶م
٭ صبح الاعشی فی صناعة النشا، القلقشندی (ت۸۲۱ه)
دار الفکر بیروت.
٭ صورة الارض، ابن حوقل (ت۳۸۰ه)
دار مکتبة الحیاة بیروت.
٭ الطبقات الکبری، ابن سعد (ت۲۳۰ه)
دار صادر بیروت.
٭ العقد الفرید ابن عبد ربه (ت۳۲۸ه) تحقیق احمد امین و آخرین.
دار الکاتب العربی للنشر بیروت.
٭ علی المرتضی حسین الشاکری.
موسسة الهادی قم ۱۴۱۵م
٭ فضائل امیر المومنین ابن عقدة.
نشرت الترجمة العربیة فی القرص الخاص بمکتبة اهل البیت ۲۰۰۵م.
٭ الفتوح ابن اعثم الکوفی (ت۱۳۱۴ه)
دار الکتب العلمیة بیروت.
٭ فرحة الغری فی تعیین قبر امیر المومنین علی بن ابی طالب فی النجف،
السید عبد الکریم بن طاووس،تحقیق الشیخ محمد مهدی نجف،
کتاب منشور فی الجزء الثانی من موسوعة النجف الاشرف،
دار الاضواء بیروت ۱۹۹۳م
٭ فرحة الغری، بتحقیق السید تحسین آل شبیب الموسوی.
مرکز الغدیر للدراسات السلامیة ۱۹۹۸م
٭ فوات الوفیات محمد بن شاکر الکتبی (ت۳۱۴ه) تحقیق حسان عباس.
دار صادر، بیروت ۱۹۷۳م
٭ الکافی، الکلینی (ت۳۲۹ه)،تحقیق علی غفاری.
دارالکتب السلامیة طهران ۱۳۸۸ه
٭ کامل الزیارات ابن قولویه (۳۶۸ه)
موسسة نشر الفقاهة ۱۴۱۷ه
٭ الکامل فی التاریخ ابن الاثیر (ت۶۳۰ه)
دار صادر بیروت ۱۹۶۵م
٭ کراس حوال النجف نشره مرکز دراسات الکوفة التابع لجامعتها ۲۰۰۶م
٭ لمحات اجتماعیة من تاریخ العراق الحدیث د، علی الوردی
دارو مکتبة المتنبی بغداد ۲۰۰۵م
٭ لمحة تاریخیة عن مشهد المام علی بن ابی طالب الشیخ کاظم الحلفی.
بحث منشور فی الجزء الثالث من موسوعة النجف الاشرف،
دار الاضواء بیروت ۱۹۹۳م
٭ ظهور القبر الشریف وما طرا علیه من العمارة والصلاح، الشیخ جعفر محبوبة،
بحث مستل من الجزء الاول من کتابه ماضی النجف وحاضرها،
اعید نشره فی الجز الثانی من موسوعة النجف الاشرف،
دار الاضواء بیروت ۱۹۹۳م
٭ ماضی النجف وحاضرها جعفر باقر محبوبة.
دار الاضواء الطبعة الثانیة بیروت ۱۹۸۶م
٭ مالا یغتفر فی شریعة التاریخ السید هبة الدین الشهر ستانی.
بحث اعید نشره فی الجز الثانی من موسوعة النجف الاشرف،
دار الاضواء بیروت ۱۹۹۳م.
ونشره ایضاً محمد سعید الطریحی تحت عنوان یمن الغری فی ان مرقد
امیر المومنین فی الغری، فی مجلة الموسم العدد الخاص عن النجف الاشرف.
٭ مروج الذهب، المسعودی تحقیق محمد محی الدین عبد الحمید.
المکتبة السلامیة بیروت.
٭ المزار الکبیر الشی محمد بن المشهدی.
تحقیق جواد القیومی الاصفهانی موسسة النشر السلامی قم ۱۴۱۹ه
٭ مساجد ومعالم فی الروضة الحیدریة المطهرة
السید عبد المطلب الموسوی الخراسان
صدار العتبة العلویة المقدسة النجف الاشرف.
٭ مستدرک الوسائل النوری،
موسسة آل البیت لحیاء التراث بیروت ۱۹۸۷م
٭ مشاهیر المدفونین فی الصحن العلوی الشریف، کاظم عبود الفتلاوی.
منشورات الاجتهاد قم ۲۰۰۶م
٭ مشهد المام محمد علی جعفر التمیمی.
المطبعة الحیدریة النجف ۱۹۵۵م
٭ مشهد المام علی فی النجف وما به من الهدایا والتحف د، سعاد ماهر محمد.
دار المعارف بمصر.
٭ مشهد المام علی د، سعاد ماهر.
کتاب اعید نشره فی الجزاین الثانی والثالث من موسوعة النجف الاشرف.
دار الاضواء بیروت ۱۹۹۳م
٭ المعارف ابن قتیبة (ت۲۸۶ه)
تحقیق ثروة عکاشة وزارة الثقافة والرشاد القومی،
نشرته بالاوفست مکتبة الحیدریة ۱۴۲۷ه
٭ معارف الرجال فی تراجم العلماء والادباء محمد حرز الدین،
مطبعة الآداب النجف الاشرف ۱۹۶۴م
٭ معجم البلدان یاقوت الحموی (ت۴۳۶ه)
دار صادر ط ۲ بیروت ۲۰۰۷م
٭ المفصل فی تاریخ النجف الاشرف د، حسن عیسی الحکیم.
المکتبة الحیدریة قم ۱۴۲۷م
٭ مقاتل الطالبین ابو الفرج الاصفهانی (ت۵۳۶ه)
تحقیق احمد صقر موسسة الاعلمی للمطبوعات ط ۲ بیروت ۱۹۹۸م
٭ المنتظم ابن الجوزی (ت۵۶۷ه)
دار صادر بیروت.
٭ المنتظم الناصری الناصری.
منشور فی القرص الخاص بمکتبة اهل البیت ۲۰۰۵م
٭ من دفن فی النجف من الصحابة الرسول الاکرم د، الشیخ محمد هادی الامینی
بحث منشور فی الجزء الاول من موسوعة النجف الاشرف،
دار الاضواء بیروت ۱۹۹۳م
٭ منع تدوین الحدیث السید علی الشهر ستانی.
دار الغدیر قم ۲۰۰۵م
٭ موسوعة العتبات المقدسة قسم النجف جمعها وعلق علیها جعفر الخلیلی.
موسسة الاعلمی ط۲ بیروت ۱۹۸۷م
٭ موسوعة النجف الاشرف، جمع بحوثها واصدرها جعفر الدجیلی.
دار الاضواء بیروت ۱۹۹۳م
٭ النجف الاشرف مدینة العلم والعمران الشیخ محمد کاظم الطریحی.
دار الهادی للطباعة والنشر بیروت ۲۰۰۳م
٭ النجف قدیما د، مصطفی جواد.
بحث منشور فی موسوعة العتبات المقدسة قسم النجف،جمعها وعلق علیها
جعفر الخلیلی،
موسسة الاعلمی ط۲ بیروت ۱۹۸۷ م
٭ النجف وطبقات شعرائها الشیخ محمد رضا الشبیبی.
بحث منشور فی العدد الاول من مجلة آفاق نجفیة ۲۰۰۶ م
٭ نزهة الغری فی تاریخ النجف الشیخ محمد عبود الکوفی.
کتاب اعید نشره فی الجزء الثانی من موسوعة النجف الاشرف،
دار الاضواء بیروت ۱۹۹۳م
٭ نزهة المشتاق فی اختراق الآفاق الدریسی
منشور فی القرص الخاص بمکتبة اهل البیت ۲۰۰۵ م.
٭ نصوص ومحاضرات فی الادب العربی، عداد.
د، صلاح مهدی الفرطوسی و د، قاسم عزیز الوزانی.
منشورات البنک السلامی للتنمیة سراییفو ۲۰۰۰م
٭ نهج البلاغة، المام علی تحقیق محمد عبده.
موسسة المعارف للطباعة والنشر بیروت ۱۹۹۶م
٭ هدایا العتبات المقدسة محمد مصطفی الماحی،
تقریر اعده لی الحکومة العراقیةالخیبر محمد مصطفی الماحی المصری،
ونشره محمد سعید الطریحی فی العدد الخامس من مجلته الموسم،
واعید نشره فی الجزء الثالث من موسوعة النجف الاشرف،
دار الاضواء بیروت ۱۹۹۳م
٭ وادی السلام محسن عبد الصاحب المظفر.
بحث منشور فی الجزء الاول من موسوعة النجف الاشرف،
دار الاضواء بیروت ۱۹۹۳م
٭ الوافی بالوفیات الصفدی (ت۷۶۴ه)تحقیق هلمونت ریتر.
طبعة انتشارات جهان مصورة بالاوفست طهران ۱۹۶۱م
٭ وفیات الاعیان، ابن خلکان (ت۶۸۱ج) تحقیق د، حسان عباس.
دار صادر ط۴ بیروت ۲۰۰۵م
٭ وما ادراک ما علی د، صلاح مهدی الفرطوسی.
دارالمورخ العربی بیروت ۲۰۰۸م
٭ الیتیمة الغرویة والتحفة النجفیة السید حسین البراقی (ت۱۳۳۲ه)
تحقیق کامل سلمان الجبوری نشر فی مسلسلاً فی مجلة آفاق نجفیة.
٭ یومان فی النجف یوسف هرمز.
مقالة اعید نشرها فی مجلة الموسم سنة ۱۹۹۰م
فہرست
مقدمہ ۴
اس شہر کی ابتداء اور ناموں کے بارے میں ممکنات ۹
بحر النجف ۱۲
مرقد مقدس کی جگہ کی نشانیاں ۱۴
پہاڑی کے آثار ۱۵
چرچ، خانقاہیں اور دکانیں ۱۶
نجف کے مختلف نام ۱۹
مرقد امام کے لئے اس ٹیلے کو منتخب کرنے کی وجہ ۱۹
علمائے شیعہ کی روایات میں آپ ـکا مرقد شریف ۲۳
مرقد امامـ اصحاب حدیث کی روایات میں ۳۴
مرقد شریف ۶۰
امام زین العابدین ـ کی زیارت ۶۴
شیعوں کی ایک جماعت قبر امامـ کی زیارت کرتی ہے ۶۵
سفّاح کے زمانے میںامام جعفر صادق ـکامرقدامیرالمومنین کی زیارت کرنا ۶۶
مرقد امامـکی علامت ۷۳
امام جعفر صادق ـکی مرقد امیر المومنین ـکی زیارت،خلافت منصور میں ۷۴
دورِمنصور عباسی میں مرقد مطہر کی اصلاح اور زیارت کی اجازت ۸۳
ابو جعفر منصور کے حکم پر بنشِ مرقدمطہر ۸۶
قبۂ رشید کی حکایت ۸۷
مامون' معتصم'واثق اور متوکل کی دور خلافت میں روضہ مقدس کے حالات ۹۷
صندوقِ داؤد عباسی ۱۰۱
محمد بن زید الدّاعی اور ضریح کی تعمیر ۱۰۹
عمارت حمدانیہ ۱۱۳
عمارت عمر بن یحییٰ العلوی ۱۱۷
تعمیرات ِعضد الدولہ بو یہی ۱۲۰
مسجد و رواقِ عمران بن شاہین ۱۲۷
عضد الدّولہ کے جانے کے بعد نجف کی حالت ۱۳۳
شیخ طوسی کی نجف کی جانب ہجرت ۱۳۴
ابن بطوطہ کی زیارتِ نجف اشرف ۱۳۵
عمارتِ مرقد، جلنے کے بعد ۱۴۳
تعمیراتِ صفوی ۱۴۶
تعمیراتِ نادر شاہ ۱۴۹
مقدمہ ۱۵۵
صحن کی اندرونی اور بیرونی دیواریں ۱۵۷
خارجی دروازے ۱۵۹
باب کبیر ۱۵۹
باب مسلم بن عقیل ۱۶۰
باب القبلہ ۱۶۰
با ب الطّوسی ۱۶۱
باب الفرج ۱۶۲
حدودِ صحن سے قریب عمارتیں ۱۶۳
مسجد عمران ۱۶۳
مسجد الخضرة ۱۶۴
مدرسة الغروریة ''حسینیة آل زینی'' ۱۶۶
کتب خانہ ِروضہ حیدریہ ۱۶۶
دارا لشفاء ۱۶۷
مسجد راس ۱۶۷
تکیہ بکتا شیہ ۱۶۹
دارِضیافت ۱۷۰
سَاباط ۱۷۱
ایوان جنوبی ۱۷۲
ایوان شمالی ۱۷۲
روضہ مبارک کی گھڑیال ۱۷۴
صحن شریف ۱۷۵
رواقِ روضہ مطہر ۱۷۷
ایوانِ علماء ۱۷۹
ایوان میزاب الذہب ۱۷۹
ایوانِ طلاء ۱۸۰
ابوابِ رواق ۱۸۲
گوشہ ٔاذان کے دو مینار ۱۸۴
حرم کے داخلی رواق اور دروازے ۱۸۶
حرم کے داخلی دروازے ۱۸۷
روضہ مبارک ۱۸۸
مرقد مطہر کی جالی ۱۹۳
موجودہ کھڑکی کی جالی ۱۹۴
پہلی پٹی ۱۹۶
دوسری پٹی ۱۹۶
تیسری پٹی ۱۹۶
چوتھی پٹی ۱۹۷
صندوق مر قد مطہر ۱۹۷
روضہ مبارک کے تجوری کی حالت اور اس کی تا ریخ ۲۰۰
روضہ مبارک کی تجوری ۲۱۰
۱_ مخطوط صحیفے ۲۱۵
۲_معدنی تحائف ۲۱۵
۳_دوسری قسم منسوجات ۲۱۹
۴_جائے نماز ۲۲۰
۵_شیشے کے نمونے ۲۲۰
۶_لکڑی کے تحائف ۲۲۱
مصادر ۲۲۲