حُسْنُ الْمَآب فِي ذِکْرِ أَبِي تُرَاب کرم اﷲ وجه الکريم
مؤلف: ڈاکٹر محمد طاہرالقادریامیر المومنین(علیہ السلام)
یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے
حسن المآب فی ذکر ابی تراب کرم اللہ وجہہ
(سیدنا علی کرم اﷲ وجھہ الکریم کا ذکرِ جمیل)
تصنیف : شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
معاونِ ترجمہ و تخریج: حافظ ظہیر اَحمد الاسنادی
زیر اِہتمام : فرید ملت (رح) ریسرچ اِنسٹیٹیوٹ
www.research.com.pk
مطبع : منہاجُ القرآن پرنٹرز، لاہور
اِشاعتِ اَوّل: اگست ۲۰۱۱ء
مَوْلَاي صَلِّ وَ سَلِّمْ دَآئِمًا اَبَدًا
عَلٰي حَبِيْبِکَ خَيْرِ الْخَلْقِ کُلِّهِم
اٰيَاتُ حَقٍّ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثَةٌ
قَدِيْمَةٌ صِفَةُ الْمَوْصُوْفِ بِالْقِدَم
(صَلَّي اﷲُ تَعَالٰي عَلَيْهِ وَ عَلٰي آلِه وَ اَصْحَابِه وَ بَارِکْ وَسَلِّمْ)
حرف آغاز
مولائے کائنات ابو تراب سیدنا علی کرّم اﷲ وجہہ الکریم کی ذاتِ اقدس کسی تعارف کی محتاج نہیں بلکہ خود تعارف آپ کا محتاج ہے۔ علی وہ جو دریائے معرفت کا شناور، کتابِ حق کا مفسر ، علمِ الٰہی کا امین، نفسِ رسول، زوجِ بتول، ابو الحسن اور ابو الحسین، نبی کا راز دان، وصی رسول، باب مدینۃ العلم، غازی بدر و حنین، فاتح خیبر، امام الاولیاء و الصلحاء، امام الثقلین، قائد المتقین اور امیر المؤمنین و المسلمین ہے، علی مولود کعبہ، شہید مسجد اور آیہ رحمت اور سایہ برکت و رافت ہے۔
بارگاہِ رسالت میں حاصل مقام مرتبہ ہی سیدنا علی علیہ السلام کی اِیمانی فضیلت اور ذاتِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے غیر معمولی وابستگی کی دلیل ہے۔ آپ وہ عظیم الصفات شخصیت ہیں کہ آپ کی ذات میں شرفِ صحابیت کے ساتھ ساتھ شرفِ اَہلِ بیت بھی جمع کر دیا گیا۔ حضرت علی علیہ السلام کی پرورش و تربیت چونکہ خود معلّم انسانیت اور مربی کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ آپ قبول اسلام سے قبل بھی زمانہ جاہلیت کی آلائشوں، آلودگیوں اور بت پرستی کی نجاستوں سے دور رہے۔ آپ ان شخصیات میں سے ہیں کہ جنہوں نے قبول حق میں ایک لمحہ بھی تامّل نہ کیا اور صرف آٹھ یا دس سال کی عمر میں سب سے پہلے قبولِ اسلام اور آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں نماز ادا کرنے کی سعادت حاصل کی۔
اُم المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب سیدہ کائنات حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اﷲ علیہا تھیں اور مردوں میں سے محبوب تر ان کے شوہر حضرت علی علیہ السلام تھے۔‘‘ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا ہی بیان فرماتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’میں تمام اولادِ آدم کا سردار ہوں اور علی تمام عرب کا سردار ہے۔‘‘
مولائے کائنات تاجدار اقلیم ولایت سیدنا علی کرم اللہ وجھہ الکریم کی زندگی کا ایک گوشہ آپ کی تمام فضیلتوں پر حاوی ہے کہ آپ کو زوجِ بتول ہونے کا شرف حاصل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکمِ الٰہی سے آپ کا نکاح سیدہ کائنات فاطمہ سلام اﷲ علیہا سے کیا جس میں چالیس ہزار فرشتوں نے بطور گواہ شمولیت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ کائنات سے فرمایا: ’’کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ میں نے تمہارا نکاح اپنی امت میں سب سے پہلے اسلام لانے والے، سب سے زیادہ علم والے اور سب سے زیادہ بردبار شخص سے کیا ہے؟‘‘
باری تعالیٰ ہمیں ان عظیم منابع علم و ولایت سے اکتسابِ فیض کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے تصدق سے ہمارے ایمان کی بھی حفاظت فرمائے۔ (آمین بجاہِ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )
یکے از سگانِ اہلِ بیت
(حافظ ظہیر اَحمد الاِسنادی)
رِیسرچ اسکالر، فریدِ ملت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ
الآیات القرآنیہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
۱.( إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا )
(الأحزاب، ۳۳: ۳۳)
’’بس اللہ یہی چاہتا ہے کہ اے (رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے) اہلِ بیت! تم سے ہر قسم کے گناہ کا میل (اور شک و نقص کی گرد تک) دُور کر دے اور تمہیں (کامل) طہارت سے نواز کر بالکل پاک صاف کر دے o ‘‘
۲.( قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى ) .
(الشوری، ۴۲: ۲۳)
’’فرما دیجئے: میں اِس (تبلیغ رسالت) پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا مگر (میری) قرابت (اور اﷲ کی قربت) سے محبت (چاہتا ہوں)۔‘‘
۳.( وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا )
(الإنسان، ۷۶: ۸)
’’اور (اپنا) کھانا اﷲ کی محبت میں (خود اس کی طلب و حاجت ہونے کے باوُجود اِیثاراً) محتاج کو اور یتیم کو اور قیدی کو کھلا دیتے ہیں o ‘‘
۴.( الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُم بِالَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلاَنِيَةً فَلَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَ )
(البقرة، ۲: ۲۷۴)
’’جو لوگ (اﷲ کی راہ میں) شب و روز اپنے مال پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتے ہیں تو ان کے لئے ان کے رب کے پاس ان کا اجر ہے اور (روزِ قیامت) ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ رنجیدہ ہوں گے ‘‘
۵.( وَالَّذِينَ آمَنُواْ وَهَاجَرُواْ وَجَاهَدُواْ فِي سَبِيلِ اللّهِ وَالَّذِينَ آوَواْ وَّنَصَرُواْ أُولَـئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَّهُم مَّغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ )
(الأنفال، ۸: ۷۴)
’’اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے (راہِ خدا میں گھر بار اور وطن قربان کر دینے والوں کو) جگہ دی اور (ان کی) مدد کی، وہی لوگ حقیقت میں سچے مسلمان ہیں، ان ہی کے لئے بخشش اور عزت کی روزی ہے o ‘‘
الاحادیث النبویۃ
۱. عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رضی الله عنه يَقُوْلُ: أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ عَلِيٌّ.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ ، وَقَالَ الْحَاکِمُ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.
أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب رضی الله عنه، ۵ / ۶۴۲، الرقم: ۳۷۳۵، والنسائي في السنن الکبری، ۵ / ۴۳، الرقم: ۸۱۳۷، وأحمد بن حنبل في المسند، ۴ / ۳۶۷، وابن أبي شيبة في المصنف، ۶ / ۳۷۱، الرقم: ۳۲۱۰۶، والحاکم في المستدرک، ۳ / ۱۴۷، الرقم: ۴۶۶۳.
’’حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ فرماتے: سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔‘‘
اس حدیث کو امام ترمذی، نسائی، احمد اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔ اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ حاکم نے بھی فرمایا: اس کی سند صحیح ہے۔
وفي رواية: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ: بُعِثَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم يَوْمَ الإِثْنَيْنِ وَصَلّٰي عَلِيٌّ يَوْمَ الثُّ.لَاثَاءِ.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْحَاکِمُ، وَقَالَ: صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.
أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب رضی الله عنه، ۵ / ۶۴۰، الرقم: ۳۷۲۸، والحاکم في المستدرک، ۳ / ۱۲۱، الرقم: ۴۵۸۷، والمناوي في فيض القدير، ۴ / ۳۵۵.
’’ایک روایت میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پیر کے دن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت ہوئی اور منگل کے دن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نماز پڑھی۔‘‘
اس حدیث کو امام ترمذی اور حاکم نے روایت کیا اور فرمایا: اس کی سند صحیح ہے۔
۲. عَنْ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها قَالَتْ: خَرَجَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم غَدَاة وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ، مِنْ شَعْرٍ أَسْوَدَ. فَجَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رضي اﷲ عنهما فَأَدْخَلَهُ، ثُمَّ جَاءَ الْحُسَيْنُ رضی الله عنه فَدَخَلَ مَعَه، ثُمَّ جَاءَ تْ فَاطِمَةُ رضي اﷲ عنها فَأَدْخَلَهَا، ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ رضی الله عنه فَأَدْخَلَه، ثُمَّ قَالَ: ﴿إِنَّمَا يُرِيْدُ اﷲُ لِيُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِرَکُمْ تَطْهِيْرًا﴾.
رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَحْمَدُ.
أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب فضائل الصحابة، باب فضائل أهل بيت النبي صلی الله عليه وآله وسلم ، ۴ / ۱۸۸۳، الرقم: ۲۴۲۴، وابن أبي شيبة في المصنف، ۶ / ۳۷۰، الرقم: ۳۶۱۰۲، وأحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، ۲ / ۶۷۲، الرقم: ۱۱۴۹، وابن راهويه في المسند، ۳ / ۶۷۸، الرقم: ۱۲۷۱، والحاکم في المستدرک، ۳ / ۱۵۹، الرقم: ۴۷۰۷، والبيهقي في السنن الکبری، ۲ / ۱۴۹.
’’حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کے وقت اس حال میں باہر تشریف لائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چادر اوڑھ رکھی تھی جس پر سیاہ اُون سے کجاووں کے نقش بنے ہوئے تھے۔ حضرت حسن بن علی رضی اﷲ عنہما آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُنہیں اُس چادر میں داخل فرما لیا، پھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ آئے اور ان کے ساتھ چادر میں داخل ہو گئے، پھر سیدہ فاطمہ رضی اﷲ عنہا آئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بھی چادر میں داخل فرما لیا، پھر حضرت علی کرم اﷲ وجہہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بھی چادر میں داخل فرما لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت مبارکہ پڑھی: ’’اے اہلِ بیت! اﷲ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے (ہر طرح کی) آلودگی دُور کر دے اور تمہیں خوب پاک و صاف کر دے۔‘‘
اس حدیث کو امام مسلم، ابن ابی شیبہ اور احمد نے روایت کیا ہے۔
۳. عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ رَبِيْبِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هٰذِهِ الْآيَةُ عَلَي النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم : ﴿إِنَّمَا يُرِيْدُ اﷲُ لِيُذْهِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِرَکُمْ تَطْهِيْرًا﴾ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، فَدَعَا فَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا رضی الله عنهم فَجَلَّلَهُمْ بِکِسَائٍ، وَعَلِيٌّ رضی الله عنه خَلْفَ ظَهرِه فَجَلَّلَه بِکِسَائٍ، ثُمَّ قَالَ: اَللّٰهُمَّ، هٰؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي، فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِرْهُمْ تَطْهِيْرًا.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْحَاکِمُ نَحْوَهُ، وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلٰي شَرْطِ الْبُخَارِيِّ.
أخرجه الترمذي في السنن، کتاب التفسير، باب ومن سورة الأحزاب، ۵ / ۳۵۱، الرقم: ۳۲۰۵، وأيضًا في کتاب المناقب، باب مناقب أهل بيت النبي صلی الله عليه وآله وسلم ، ۵ / ۶۶۳، الرقم: ۳۷۸۷، والحاکم في المستدرک، ۳ / ۱۵۸، الرقم: ۴۷۰۵.
’’پروردئہ نبی حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حضرت اُمّ سلمہ رضی اﷲ عنہا کے گھر میں یہ آیت مبارکہ اے اہلِ بیت! اﷲ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے (ہر طرح کی) آلودگی دُور کر دے اور تم کو خوب پاک و صاف کر دے‘‘ نازل ہوئی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسینث کو بلایا اور ایک چادر میں ڈھانپ لیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُنہیں بھی کملی میں ڈھانپ لیا، پھر فرمایا: اِلٰہی! یہ میرے اہل بیت ہیں، ان سے ہر آلودگی کو دور کردے اور انہیں خوب پاک و صاف فرما دے۔‘‘
اس حدیث کو امام ترمذی اور حاکم نے اسی کی مثل روایت کیا ہے۔ اور حاکم نے فرمایا: یہ حدیث امام بخاری کی شرائط پر صحیح ہے۔
۴.عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هٰذِهِ الآيَةُ: ﴿قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى﴾ قَالُوْا: يَا رَسُوْلَ اﷲِ، مَنْ قَرَابَتُکَ هٰؤُلَائِ الَّذِيْنَ وَجَبَتْ عَلَيْنَا مَوَدَّتُهُمْ؟ قَالَ: عَلِيٌّ وَفَاطِمَةُ وَابْنَاهُمَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ.
أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، ۳ / ۴۷، الرقم: ۲۶۴۱، وأيضًا، ۱۱ / ۴۴۴، الرقم: ۱۲۲۵۹، وأحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، ۲ / ۶۶۹، الرقم: ۱۱۴۱، والهيثمي في مجمع الزوائد، ۹ / ۱۶۸.
’’حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی: ’’اے محبوب! فرما دیجیے کہ میں تم سے صرف اپنی قرابت کے ساتھ محبت کا سوال کرتا ہوں۔‘‘ تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! آپ کی قرابت والے یہ کون لوگ ہیں جن کی محبت ہم پر واجب کی گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی، فاطمہ، اور ان کے دونوں بیٹے (حسن اور حسین)۔‘‘
اس حدیث کو امام طبرانی اور اَحمد نے روایت کیا ہے۔
۵.عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رضی الله عنه قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ لَهُ وَ قَدْ خَلَّفَهُ فِي بَعْضِ مَغَازِيْهِ. فَقَالَ لَه عَلِيٌّ: يَا رَسُوْلَ اﷲِ، خَلَّفْتَنِي مَعَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ؟ فَقَالَ لَه رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : أَمَا تَرْضٰي أَنْ تَکُوْنَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُّوْسٰي إِلَّا أَنَّهُ لَا نُبُوَّةَ بَعْدِي. وَسَمِعْتُهُ يَقُوْلُ يَوْمَ خَيْبَرَ: لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اﷲَ وَرَسُوْلَه وَيُحِبُّهُ اﷲُ وَرَسُوْلُه قَالَ: فَتَطَاوَلْنَا لَهَا فَقَالَ: ادْعُوْا لِي عَلِيًّا فَأُتِيَ بِه أَرْمَدَ فَبَصَقَ فِي عَيْنِهِ وَدَفَعَ الرَّايَةَ إِلَيْهِ. فَفَتَحَ اﷲُ عَلَيْهِ. وَلَمَّا نَزَلَتْ هٰذِهِ الْآيَةُ: ﴿ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُوْ اَبْنَآءَنَا وَاَبْنَآءَ کُمْ ﴾ [آل عمران، ۳ : ۶۱]، دَعَا رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم عَلِيًّا وَفَاطِمَةَ وَحَسَنًا وَحُسَيْنًا فَقَالَ: اَللّٰهُمَّ، هٰؤُلَآءِ أًهْلِي. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ.
أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل علي بن أبي طالب رضی الله عنه، ۴ / ۱۸۷۱، الرقم: ۲۴۰۴، والترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب رضی الله عنه، ۵ / ۶۳۸، الرقم: ۳۷۲۴.
’’حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بعض غزوات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیچھے (مدینہ منورہ میں) چھوڑ دیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے مجھے عورتوں اور بچوں میں پیچھے چھوڑ دیا ہے؟ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ تم میرے لیے ایسے ہو جیسے موسیٰ علیہ السلام کے لیے ہارون علیہ السلام تھے، البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو گا۔ اور غزوہ خیبر کے دن میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سنا کہ کل میں اس شخص کو جھنڈا دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں، سو ہم سب اس سعادت کے حصول کے انتظار میں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی کو میرے پاس لاؤ، حضرت علی رضی اللہ عنہ کو لایا گیا، اس وقت وہ آشوب چشم میں مبتلا تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں لعاب دہن ڈالا اور انہیں جھنڈا عطا کیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر خیبر فتح کر دیا اور جب یہ آیت نازل ہوئی: ’’آپ فرما دیجیے آؤ ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو بلاؤ۔‘‘ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا اور کہا: اے اللہ! یہ میرا کنبہ ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام مسلم اور ترمذی نے روایت کیا ہے۔
۶. عَنْ جَابِرٍ رضی الله عنه أَنَّ عَلِيًّا رضی الله عنه حَمَلَ الْبَابَ يَوْمَ خَيْبَرَ حَتّٰی صَعِدَ الْمُسْلِمُوْنَ فَفَتَحُوْهَا. وَأَنَّهُ جُرِّبَ فَلَمْ يَحْمِلْهُ إِلاَّ أَرْبَعُوْنَ رَجُلاً.
رَوَاهُ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَالْخَطِيْبُ وَالْبَيْهَقِيُّ وَابْنُ عَسَاکِرَ. وَقَالَ الْعَسْقَ.لَانِيُّ: قُلْتُ: لَهُ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيْثِ أَبِي رَافِعٍ رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي مُسْنَدِه لٰکِنْ لَمْ يَقُلْ أَرْبَعُوْنَ رَجُلًا. وَقَالَ الْهِنْدِيُّ: حَسَنٌ.
أخرجه ابن أبي أبي شيبة في المصنف، فضائل علي بن أبي طالب رضی الله عنه، ۶ / ۳۷۴، الرقم: ۳۲۱۳۹، والخطيب البغدادي في تاريخ بغداد، ۱۱ / ۳۲۴، الرقم: ۶۱۴۲، والبيهقي في دلائل النبوة، ۴ / ۲۱۲، والعسقلاني في لسان الميزان، ۴ / ۱۹۶، الرقم: ۵۲۱، وأيضًَا في فتح الباري، ۷ / ۴۷۸، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، ۴۲ / ۱۱۱، والطبري في تاريخ الأمم والملوک، ۲ / ۱۳۷، وابن هشام في السيرة النبوية، ۴ / ۳۰۶، والهندي في کنز العمال، ۱۳ / ۶۰، الرقم: ۳۶۴۳۱، والسيوطي في تاريخ الخلفاء / ۱۶۷.
’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ خیبر کے روز حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قلعہ خیبر کا دروازہ (اُکھاڑ کر) اٹھا لیا یہاں تک کہ مسلمان قلعہ پر چڑھ گئے اور اسے فتح کر لیا اور یہ تجربہ شدہ بات ہے کہ اس دروازے کو چالیس آدمی مل کر اُٹھاتے تھے۔‘‘
اس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ، خطیب بغدادی، بیہقی اور ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔ امام عسقلانی نے فرمایا: میں کہتا ہوں کہ اس حدیث کی مثال حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے جسے امام احمد نے اپنی مسند میں روایت کیا ہے لیکن اس میں چالیس آدمیوں کا ذکر نہیں کیا۔ امام متقی ہندی نے اسے حسن کہا ہے۔
۷.عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رضی الله عنه، قَالَ: خَلَّفَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فِي غَزْوَةِ تَبُوْکَ. فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اﷲِ، أَتُخَلِّفُنِي فِي النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ؟ فَقَالَ: أَمَا تَرْضٰي أَنْ تَکُوْنَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰي؟ إِلَّا أَنَّه لَا نَبِيَّ بَعْدِي. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ.
أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب المغازي، باب غزوة تبوک وهي غزوة العسرة، ۴ / ۱۶۰۲، الرقم: ۴۱۵۴، ومسلم في الصحيح، کتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل عثمان بن عفان رضی الله عنه، ۴ / ۱۸۷۱، ۱۸۷۰، الرقم: ۲۴۰۴، والترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب رضی الله عنه، ۵ / ۶۳۸، الرقم: ۳۷۲۴، وأحمد بن حنبل في المسند، ۱ / ۱۸۵، الرقم: ۱۶۰۸، وابن حبان في الصحيح، ۱۵ / ۳۷۰، الرقم: ۶۹۲۷.
’’حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ تبوک کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ میں (اپنا نائب بنا کر)چھوڑا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اﷲ! کیاآپ مجھے عورتوں اور بچوں میں پیچھے چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ میرے ساتھ تمہاری وہی نسبت ہو جو حضرت ہارون علیہ السلام کی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے تھی البتہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔‘‘
یہ حدیث متفق علیہ ہے اور مذکورہ الفاظ مسلم کے ہیں۔
۸.عَنْ زِرٍّ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رضی الله عنه: وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ وَبَرَأَ النَّسْمَةَ، إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ صلی الله عليه وآله وسلم إِلَيَّ أَنْ لَا يُحِبَّنِي إِلاَّ مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضَنِي إِلَّا مُنَافِقٌ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ.
أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب الإيمان، باب الدليل علي أن حب الأنصار وعلي من الإيمان وعلاماته، ۱ / ۸۶، الرقم: ۷۸، وابن حبان في الصحيح، ۱۵ / ۳۶۷، الرقم: ۶۹۲۴، والنسائي في السنن الکبری، ۵ / ۴۷، الرقم: ۸۱۵۳، وابن أبي شيبة في المصنف، ۶ / ۳۶۵، الرقم: ۳۲۰۶۴، وأبو يعلی في المسند، ۱ / ۲۵۰، الرقم: ۲۹۱، والبزار في المسند، ۲ / ۱۸۲، الرقم: ۵۶۰، وابن أبي عاصم في السنة، ۲ / ۵۹۸، الرقم: ۱۳۲۵.
’’حضرت زِر (بن حبیش) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس نے دانے کو پھاڑا (اور اس سے اناج اور نباتات اگائے) اور جس نے جانداروں کو پیدا کیا! حضور نبی امی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مجھ سے عہد ہے کہ مجھ سے صرف مومن ہی محبت کرے گا اور صرف منافق ہی مجھ سے بغض رکھے گا۔‘‘ اس حدیث کو امام مسلم، نسائی اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔۔
۹. عَنْ عَلِيٍّ رضی الله عنه قَالَ: لَقَدْ عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ صلی الله عليه وآله وسلم أَنَّهُ لَا يُحِبُّکَ إِلاَّ مُؤْمِنٌ وَلَا يُبْغِضُکَ إِلاَّ مُنَافِقٌ.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.
أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب رضی الله عنه، ۵ / ۶۴۳، الرقم: ۳۷۳۶.
’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے بیان کیا: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے عہد فرمایا: (اے علی!) مومن ہی تجھ سے محبت کرے گا اور منافق ہی تجھ سے بغض رکھے گا۔‘‘
اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا اور فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَبُوْ يَعْلٰی وَالطَّبَرَانِيُّ. وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ.
أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب رضی الله عنه، ۵ / ۶۳۵، الرقم: ۳۷۱۷، وأبو یعلی في المسند، ۱۲ / ۳۶۲، الرقم: ۶۹۳۱، والطبراني في المعجم الکبير، ۲۳ / ۳۷۵، الرقم: ۸۸۶.
’’حضرت اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ کوئی منافق علی (رضی اللہ عنہ) سے محبت نہیں کر سکتا اور کوئی مومن اس سے بغض نہیں رکھ سکتا۔‘‘
اسے امام ترمذی، ابویعلی اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
۱۱. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه قَالَ: إِنَّا کُنَّا لَنَعْرِفُ الْمُنَافِقِيْنَ نَحْنُ مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ بِبُغْضِهِمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رضی الله عنه.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَأَبُوْ نُعَيْمٍ.
أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب رضی الله عنه، ۵ / ۶۳۵، الرقم: ۳۷۱۷، وأحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، ۲ / ۵۷۹، الرقم: ۹۷۹، وأبو نعيم في حلية الأولياء، ۶ / ۲۹۵، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، ۴۲ / ۲۸۵. ۲۸۶.
’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم انصار لوگ، منافقین کو ان کے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بغض کی وجہ سے پہچانتے تھے۔‘‘
اس حدیث کو امام ترمذی، احمد اور ابو نعیم نے روایت کیا ہے۔
۱۲. عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الطُّفَيْلِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي سَرِيْحَةَ . أَوْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، (شَکَّ شُعْبَةُ). . عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم ، قَالَ: مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ، وَقَدْ رَوَي شُعْبَةُ هٰذَا الْحَدِيْثَ عَنْ مَيْمُوْنٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ اﷲِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ عَنِ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم
أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب رضی الله عنه، ۵ / ۶۳۳، الرقم: ۳۷۱۳، والطبراني في المعجم الکبير، ۵ / ۱۹۵، ۲۰۴، الرقم:۵۰۷۱، ۵۰۹۶.
وَقَدْ رُوِيَ هٰذَا الْحَدِيْثُ عَنْ حُبْشِيّ بْنِ جُنَادَةَ في الْکُتُبِ الْآتِيَةِ:
أخرجه الحاکم في المستدرک، ۳ / ۱۳۴، الرقم: ۴۶۵۲، والطبراني في المعجم الکبير، ۱۲ / ۷۸، الرقم: ۱۲۵۹۳، وابن أبي عاصم في السنة / ۶۰۲، الرقم: ۱۳۵۹، والخطيب البغدادي في تاريخ بغداد، ۱۲ / ۳۴۳، وابن کثير في البداية والنهاية، ۵ / ۴۵۱، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، ۴۵ / ۷۷، ۱۴۴، والهيثمي في مجمع الزوائد، ۹ / ۱۰۸.
وَقَد رُوِيَ هٰذَا الْحَدِيْثُ أيضًا عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ رضی الله عنه في الْکُتُبِ الْآتِيَةِ.
أخرجه ابن أبي عاصم في السنة / ۶۰۲، الرقم: ۱۳۵۵، وابن أبي شيبة في المصنف، ۶ / ۳۶۶، الرقم: ۳۲۰۷۲.
وَقَدْ رُوِيَ هٰذَا الْحَدِيْثُ عَنْ ايُوْبٍ الْأَنْصَارِيِّ رضي الله عنه فِي الْکُتْبِ الآتِيَةِ:
أخرجه ابن أبي عاصم في السنة / ۶۰۲، الرقم: ۱۳۵۴، والطبراني في المعجم الکبير، ۴ / ۱۷۳، الرقم: ۴۰۵۲، والطبراني في المعجم الأوسط، ۱ / ۲۲۹، الرقم: ۳۴۸.
وَقَدْ رُوِيَ هٰذَا الْحَدِيْثُ عَنْ بُرَيْدَةَ فِي الْکُتْبِ الْآتِيَةِ:
أخرجه عبد الرزاق في المصنف، ۱۱ / ۲۲۵، الرقم: ۲۰۳۸۸، والطبراني في المعجم الصغير، ۱ / ۷۱، وابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، ۴۵ / ۱۴۳، وابن أبي عاصم في السنة / ۶۰۱، الرقم: ۱۳۵۳، وابن کثير في البداية والنهاية، ۵ / ۴۵۷.
وَقَدْ رُوِيَ هٰذَا الْحَدِيْثُ عَنْ مَالِکِ بْنِ حُوَيْرَثٍ فِي الْکُتْبِ الْآتِيَةِ:
أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، ۱۹ / ۲۵۲، الرقم: ۶۴۶، وابن عساکر في تاريخ دمشق الکبير، ۴۵ / ۱۷۷، والهيثمي في مجمع الزوائد، ۹ / ۱۰۶.
’’حضرت شعبہ رضی اللہ عنہ، سلمہ بن کہیل سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابوطفیل سے سنا کہ ابو سریحہ ۔ ۔ ۔ یا زید بن ارقم رضی اﷲ عنہما۔ ۔ ۔ سے مروی ہے (شعبہ کو راوی کے متعلق شک ہے) کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کا میں مولا ہوں، اُس کا علی مولا ہے۔‘‘
اس حدیث کو امام ترمذی نے روایت کیا اور فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور شعبہ نے اس حدیث کو میمون ابو عبد اللہ سے، اُنہوں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے اور اُنہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
۱۳. عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، في رواية طويلة: إِنَّ عَلِيًّا مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ وَهُوَ وَلِيُّ کُلِّ مُؤْمِنٍ بَعْدِي.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ التِّرْمِذِي: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ، وَقَالَ الْحَاکِمُ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلٰی شَرْطِ مُسْلِمٍ.
أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب رضی الله عنه، ۵ / ۶۳۲، الرقم: ۳۷۱۲، والنسائي في السنن الکبری، ۵ / ۱۳۲، الرقم: ۸۴۷۴، وأحمد بن حنبل في المسند، ۱ / ۳۳۰، الرقم: ۳۰۶۲، وابن حبان في الصحيح، ۱۵ / ۳۷۳، الرقم: ۶۹۲۹، وابن أبي شيبة في المصنف، ۶ / ۳۷۲. ۳۷۳، الرقم: ۳۲۱۲۱، وأبو يعلی في المسند، ۱ / ۲۹۳، الرقم: ۳۵۵، والحاکم في المستدرک، ۳ / ۱۱۹، الرقم: ۴۵۷۹، والطبراني في المعجم الکبير، ۱۸ / ۱۲۸، الرقم: ۲۶۵.
’’حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ ایک طویل روایت میں بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:بے شک علی مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور میرے بعد وہ ہر مسلمان کا ولی ہے۔‘‘
اس حدیث کو امام ترمذی، نسائی، احمد اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔ اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ اور امام حاکم نے فرمایا: یہ حدیث امام مسلم کی شرائط پر صحیح ہے۔
۱۴. عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رضی الله عنه، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعِليٌّ مَوْلَاهُ، وَسَمِعْتُهُ يَقُوْلُ: أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزَلَةِ هَارُوْنَ مِنْ مُوْسٰی، إِلاَّ أَنَّه لَا نَبِيَّ بَعْدِي، وَسَمِعْتُهُ يَقُوْلُ: لَأُعْطِيَنَّ الرَّأيَةَ الْيَوْمَ رَجُلًا يُحِبُّ اﷲَ وَرَسُوْلَه.
رَوَاهُ ابْنُ مَاجَه وَالنَّسَائِيُّ فِي الْخَصَائِصِ.
أخرجه ابن ماجه في السنن، المقدمة، باب في فضائل أصحاب رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم ، ۱ / ۴۵، الرقم: ۱۲۱، والنسائي في خصائص أمير المؤمنين علي بن أبي طالب رضی الله عنه / ۳۲. ۳۳، الرقم: ۹۱.
’’حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس کا میں ولی ہوں اُس کا علی ولی ہے اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (حضرت علی رضی اللہ عنہ سے) یہ فرماتے ہوئے سنا: تم میرے لیے اسی طرح ہو جیسے ہارون علیہ السلام، موسیٰ علیہ السلام کے لیے تھے، مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں، اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (غزوہ خبیر کے موقع پر) یہ بھی فرماتے ہوئے سنا:میں آج اس شخص کو جھنڈا عطا کروں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے۔‘‘
اس حدیث کو امام ابن ماجہ اور امام نسائی نے خصائص علی بن ابی طالب میں روایت کیا ہے۔
۱۵.عَنْ بُرَيْدَةَ رضی الله عنه، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ عَلِيٍّ الْيَمَنَ فَرَأَيْتُ مِنْهُ جَفْوَة، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم ذَکَرْتُ عَلِيًّا، فَتَنَقَّصْتُه، فَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَتَغَيَرُ، فَقَالَ: يَا بُرَيْدَةُ، أَلَسْتُ أَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِيْنَ مِْن أَنْفُسِهِمْ؟ قُلْتُ: بَلٰی، يَا رَسُوْلَ اﷲِ، قَالَ: مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَقَالَ الْحَاکِمُ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ.
أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، ۵ / ۳۴۷، الرقم: ۲۲۹۹۵، والنسائي في السنن الکبری، ۵ / ۱۳۰، الرقم: ۸۴۶۵، وابن أبي شيبة في المصنف، ۱۲ / ۸۴، الرقم: ۱۲۱۸۱، والحاکم في المستدرک، ۳ / ۱۱۰، الرقم: ۴۵۷۸.
’’حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن کے غزوہ میں شرکت کی جس میں مجھے آپ سے کچھ شکوہ ہوا۔ جب میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں واپس آیا تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے ان کی تنقیص کی تو میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے بریدہ! کیا میں مومنین کی جانوں سے قریب تر نہیں ہوں؟ تو میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، یا رسول اﷲ! اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کا میں مولا ہوں اُس کا علی مولا ہے۔‘‘
اس حدیث کو امام احمد، نسائی اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔ اور امام حاکم نے فرمایا: یہ حدیث صحیح ہے۔
۱۶. عَنْ عَمَرٍو ذِي مُرٍّ وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رضي اﷲ عنهما قَالَا: خَطَبَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَوْمَ غَدِيْرِ خُمٍّ، فَقَالَ: مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ، اَللّٰهُمَّ، وَالِ مَنْ وَالَاهُ وَعَادِ مَنْ عَادَاهُ، وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَهُ وَأَعِنْ مَنْ أَعَانَهُ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَالنَّسَائِيُّ فِي الْخَصَائِصِ.
أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، ۵ / ۱۹۲، الرقم: ۵۰۵۹، والنسائي في خصائص أمير المؤمنين علي بن أبي طالب رضی الله عنه / ۱۰۰. ۱۰۱، الرقم: ۹۶، وابن کثير في البداية والنهاية، ۴ / ۱۷۰، والهيثمي في مجمع الزوائد، ۹ / ۱۰۴، ۱۰۶.
’’عمرو ذی مر اور زید بن ارقم رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غدیر خم کے مقام پر خطاب فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس کا میں مولا ہوں اُس کا علی مولا ہے، اے اللہ! جو اِسے دوست رکھے تو اُسے دوست رکھ اور جو اس سے عداوت رکھے تو بھی اُس سے عداوت رکھ، اور جو اِس کی نصرت کرے اُس کی تو نصرت فرما اور جو اِس کی اِعانت کرے تو اُس کی اِعانت فرما۔‘‘
اس حدیث کوامام طبرانی اور نسائی نے خصائص میں روایت کیا ہے۔
۱۷.عَنْ أَبِي حَازِمٍ أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلٰی سَهلِ بْنِ سَعْدٍ رضی الله عنه فَقَالَ: هٰذَا فُ. لَانٌ لِأَمِيْرِ الْمَدِيْنَةِ يَدْعُوْ عَلِيًّا رضی الله عنه عِنْدَ الْمِنْبَرِ قَالَ: فَيَقُوْلُ مَاذَا؟ قَالَ: يَقُوْلُ لَه: أَبُوْ تُرَابٍ. فَضَحِکَ. قَالَ: وَاﷲِ، مَا سَمَّاهُ إِلَّا النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم وَمَا کَانَ لَهُ اسْمٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْهُ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب القرشي الهاشمي رضی الله عنه، ۳ / ۱۳۵۸، الرقم: ۳۵۰۰، وأيضًا في کتاب الأدب، باب التکني بأبي تراب وإن کانت له کنية أخري، ۵ / ۲۲۹۱، الرقم: ۵۸۵۱، ومسلم في الصحيح، کتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل علی بن أبي طالب رضی الله عنه، ۴ / ۱۸۷۴، الرقم: ۲۴۰۹.
’’حضرت ابوحازم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے شکایت کی کہ فلاں شخص امیر مدینہ حضرت علی کو منبر پر بیٹھ کر برا بھلا کہتا ہے۔ انہوں نے دریافت کیا: آخر وہ کہتا کیا ہے؟ اس نے کہا کہ وہ انہیں ابو تراب کہتا ہے۔ آپ یہ سن کر ہنس پڑے اور فرمایا: خدا کی قسم! ان کا یہ نام تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رکھا ہے اور خود انہیں کوئی نام اس نام سے زیادہ محبوب نہیں۔‘‘
یہ حدیث متفق علیہ ہے۔
۱۸. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضی الله عنه، عَنْ رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم ، قَالَ: إِنَّ اﷲَ أَمَرَنِي أَنْ أُزَوِّجَ فَاطِمَةَ مِنْ عَلِيٍّ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ. وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ: وَرِجَالُه ثِقَاتٌ.
أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، ۱۰ / ۱۵۶، رقم: ۱۰۳۰۵، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، ۴۲ / ۱۲۹، والهيثمي في مجمع الزوائد، ۹ / ۲۰۴، والمناوي في فيض القدير، ۲ / ۲۱۵.
’’حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیاہے کہ میں فاطمہ کا نکاح علی سے کر دوں۔‘‘
اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔ اور امام ہیثمی نے فرمایا: اس کے رجال ثقات ہیں۔
وفي رواية: قَالَ أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ (عبد اﷲ بن أحمد بن محمد بن حنبل): وَجَدْتُ فِي کِتَابِ أَبِي (أحمد بن محمد بن حنبل) بِخَطِّ يَدِه، فِي هٰذَا الْحَدِيْثِ، قَالَ: أَوَ مَا تَرْضَيْنَ أَنْ زَوَّجْتُکِ أَقْدَمَ أُمَّتِي سِلْمَا، وَأَکْثَرَهُمْ عِلْمًا، وَأَعْظَمَهُمْ حِلْمًا؟
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ وَالطَّبَرَانِيُّ. وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ: وَرِجَالُه ثِقَاتٌ.
أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، ۵ / ۲۶، الرقم: ۲۰۳۲۲، وعبد الرزاق في المصنف، ۵ / ۴۹۰، الرقم: ۹۷۸۳، والطبراني في المعجم الکبير، ۲۰ / ۲۲۹، الرقم: ۵۳۸، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، ۴۲ / ۱۲۶، والهيثمي في مجمع الزوائد، ۹ / ۱۰۱.
’’ایک روایت میں حضرت ابو عبد الرحمن (عبد اﷲ بن احمد بن محمد بن حنبل) بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد (امام احمد بن محمد بن حنبل) کی کتاب میں ان کے ہاتھ کی لکھی تحریر میں یہ (الفاظ) پائے: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ سلام اﷲ علیہا سے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ میں نے تمہارا نکاح اپنی امت میں سب سے پہلے اسلام لانے والے ، سب سے زیادہ علم والے اور سب سے زیادہ بردبار شخص سے کیا ہے۔‘‘
اس حدیث کو امام احمد، عبد الرزاق اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ اور امام ہیثمی نے فرمایا: اس کے رجال ثقات ہیں۔
۱۹. عَنْ جَابِرٍ رضی الله عنه، قَالَ: دَعَا رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم عَلِيًّا يَوْمَ الطَّائِفِ فَانْتَجَاه، فَقَالَ النَّاسُ: لَقَدْ طَالَ نَجْوَاهُ مَعَ ابْنِ عَمِّه، فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَا انْتَجَيْتُه وَلٰکِنَّ اﷲَ انْتَجَاهُ.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ أَبِي عَاصِمٍ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ.
أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب رضی الله عنه، ۵ / ۶۳۹، الرقم: ۳۷۲۶، وابن أبي عاصم في السنة، ۲ / ۵۹۸، الرقم: ۱۳۲۱، والطبراني في المعجم الکبير، ۲ / ۱۸۶، الرقم: ۱۷۵۶.
’’حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ طائف کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے سرگوشی کی، لوگ کہنے لگے آج آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا زاد بھائی کے ساتھ کافی دیر تک سرگوشی کی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نے نہیں کی، بلکہ خود اﷲ نے اس سے سرگوشی کی ہے۔‘‘
اس حدیث کو امام ترمذی، ابن ابی عاصم اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
۲۰. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم لِعَلِيٍّ: يَا عَلِيُّ، لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يُجْنَبُ فِي هٰذَا الْمَسْجِدِ غَيْرِي وَغَيْرُکَ. قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ: قُلْتُ لِضَرَارِ بْنِ صُرَدَ: مَا مَعْنٰی هٰذَا الْحَدِيْثِ؟ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يَسْتَطْرِقُهُ جُنُباً غَيْرِي وَغَيْرُکَ.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْبَزَّارُ وَأَبُوْ يَعْلٰی، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ.
أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب رضی الله عنه، ۵ / ۶۳۹، الرقم: ۳۷۲۷، والبزار في المسند، ۴ / ۳۶، الرقم: ۱۱۹۷، وأبو يعلی في المسند، ۲ / ۳۱۱، الرقم: ۱۰۴۲، والبيهقي في السنن الکبری، ۷ / ۶۵، الرقم: ۱۳۱۸۱.
’’حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے علی! میرے اور تمہارے علاوہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ حالت جنابت میں اس مسجد میں رہے۔ امام علی بن منذر کہتے ہیں کہ میں نے ضرار بن صرد سے اس کا معنی پوچھا تو انہوں نے فرمایا: اس سے مراد مسجد کو بطور راستہ استعمال کرناہے۔‘‘
اس حدیث کو امام ترمذی، بزار اور ابویعلی نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
۲۱. عَنْ أُمِّ عَطِيَةَ قَالَتْ: بَعَثَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم جَيْشًا فِيْهِمْ عَلِيٌّ قَالَتْ: فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يَقُوْلُ: اَللّٰهُمَّ، لَا تُمِتْنِي حَتّٰی تُرِيَنِي عَلِيًّا.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ.
أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب رضی الله عنه، ۵ / ۶۴۳، الرقم: ۳۷۳۷، وأحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، ۲ / ۶۰۹، الرقم: ۱۰۳۹، والطبراني في المعجم الکبير، ۲۵ / ۶۸، الرقم: ۱۶۸، وأيضًا في المعجم الأوسط، ۳ / ۴۸، الرقم: ۲۴۳۲.
’’حضرت امِ عطیہ رضی اﷲ عنہا فرماتی ہیں کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اس میں حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی تھے، میں نے حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہاتھ اٹھا کر دعاکررہے تھے: یااﷲ! مجھے اس وقت تک موت نہ دینا جب تک تو مجھے علی کو(خیرو عافیت سے) نہ دکھا دے۔‘‘
اس حدیث کو امام ترمذی، احمد اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
۲۲. عَنْ حُبْشِيِّ بْنِ جُنَادَةَ رضی الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : عَلِيٌّ مِنِّي وَأَنَا مِنْ عَلِيٍّ، وَلَا يُؤَدِّي عَنِّي إِلَّا أَنَا أَوْ عَلِيٌّ.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه وَأَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ.
أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب رضی الله عنه، ۵ / ۶۳۶، الرقم: ۳۷۱۹، وابن ماجه في السنن، المقدمة، باب فضل علي بن أبي طالب رضی الله عنه، ۱ / ۴۴، الرقم: ۱۱۹، وأحمد بن حنبل في المسند، ۴ / ۱۶۵، الرقم: ۱۷۵۴۵. ۱۷۵۴۶، وأيضًا في فضائل الصحابة، ۲ / ۵۹۹، الرقم: ۱۰۲۳، والنسائي في خصائص علي رضی الله عنه / ۹۱، الرقم: ۷۴، وأيضًا في فضائل الصحابة / ۱۵، الرقم: ۴۴، وابن أبي شيبة في المصنف، ۶ / ۳۶۶، الرقم: ۳۲۰۷۱، وأيضًا في المسند، ۲ / ۳۴۲، الرقم: ۸۴۴.
’’حضرت حبشی بن جنادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی رضی اللہ عنہ مجھ سے اور میں علی رضی اللہ عنہ سے ہوں اور میری طرف سے (عہد و پیمان میں) میرے اور علی رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی دوسرا (ذمہ داری) ادا نہیں کر سکتا۔‘‘
اس حدیث کو امام ترمذی، ابن ماجہ، احمد اور نسائی نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
۲۳. عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضي اﷲ عنهما، قَالَ: آخٰی رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم بَيْنَ أَصْحَابِه فَجَاءَ عَلِيٌّ تَدْمَعُ عَيْنَاهُ، فَقَالَ: يَا رَسُوْلَ اﷲِ، آخَيْتَ بَيْنَ أَصْحَابِکَ وَلَمْ تُؤَاخِ بَيْنِي وَبَيْنَ أَحَدٍ. فَقَالَ لَه رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : أَنْتَ أَخِي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْحَاکِمُ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدَيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ.
أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب رضی الله عنه، ۵ / ۶۳۶، الرقم: ۳۷۲۰، والحاکم في المستدرک، ۳ / ۱۵، الرقم: ۴۲۸۸، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، ۴۲، الرقم: ۵۱، والنووي في تهذيب الأسماء، ۱ / ۳۱۸.
’’حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار و مہاجرین کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ روتے ہوئے حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اﷲ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام میں بھائی چارہ قائم فرمایا لیکن مجھے کسی کا بھائی نہیں بنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: (اے علی!) تم دنیا و آخرت میں میرے بھائی ہو۔‘‘
اسے امام ترمذی اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
۲۴. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ عَمَرِو بْنِ هِنْدٍ الْجَمَلِيِّ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رضی الله عنه: کُنْتُ إِذَا سَأَلْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم أَعْطَانِي، وَإِذَا سَکَتُّ ابْتَدَأَنِي.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلٰی شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ.
أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب رضی الله عنه، ۵ / ۶۳۷، ۶۴۰، الرقم: ۳۷۲۲، ۳۷۲۹، والنسائي في السنن الکبری، ۵ / ۱۴۲، الرقم: ۸۵۰۴، وابن أبي شيبة في المصنف، ۶ / ۳۶۶، الرقم: ۳۲۰۷۰، والحاکم في المستدرک، ۳ / ۱۳۵، الرقم: ۴۶۳۰، والمقدسي في الأحاديث المختارة، ۲ / ۲۳۵، الرقم: ۶۱۴.
’’حضرت عبد اﷲ بن عمرو بن ہند جملی بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کوئی چیز مانگتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے عطا فرماتے اور اگر خاموش رہتا تو بھی مجھ سے ہی ابتداء فرماتے۔‘‘
اس حدیث کو امام ترمذی، نسائی اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔ اور امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ امام حاکم نے فرمایا: یہ حدیث بخاری و مسلم کی شرائط پر صحیح ہے۔
۲۵. عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه، قَالَ: کَانَ عِنْدَ النَّبِيِّ صلی الله عليه وآله وسلم طَيْرٌ فَقَالَ: اَللّٰهُمَّ، ائْتِنِي بِأَحَبِّ خَلْقِکَ إِلَيْکَ يَأْکُلُ مَعِيَ هٰذَا الطَّيْرَ، فَجَاءَ عَلِيٌّ رضی الله عنه فَأَکَلَ مَعَه.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَالْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلٰی شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ.
أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب رضی الله عنه، ۵ / ۶۳۶، الرقم: ۳۷۲۱، والنسائي في السنن الکبری، ۵ / ۱۰۷، الرقم: ۸۳۹۸، والحاکم في المستدرک، ۳ / ۱۴۱، الرقم: ۴۶۵۰، والطبراني في المعجم الأوسط، ۹ / ۱۴۶، الرقم: ۹۳۷۲، والبزار في المسند، ۹ / ۲۸۷، الرقم: ۳۸۴۱، وابن حيان في طبقات المحدثين بأصبهان، ۳ / ۴۵۴.
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک پرندے کا گوشت تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کی: یااﷲ! اپنی مخلوق میں سے محبوب ترین شخص میرے پاس بھیج تاکہ وہ میرے ساتھ اس پرندے کا گوشت کھائے۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ وہ گوشت تناول کیا۔‘‘
اس حدیث کو امام ترمذی، نسائی، حاکم اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا: یہ حدیث بخاری و مسلم کی شرائط پر صحیح ہے۔
۲۶. عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرِ التَّمِيْمِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ عَمَّتِي عَلٰی عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها فَسَءَلْتُ: أَيُّ النَّاسِ کَانَ أَحَبَّ إِلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم؟ قَالَتْ: فَاطِمَةُ، فَقِيْلَ: مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَتْ: زَوْجُهَا، إِنْ کَانَ مَا عَلِمْتُ صَوَّامًا قَوَّامًا.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.
أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب فضل فاطمة بنت محمد صلی الله عليه وآله وسلم ، ۵ / ۷۰۱، الرقم: ۳۸۷۴، والحاکم في المستدرک، ۳ / ۱۷۱، الرقم: ۴۷۴۴، والطبراني في المعجم الکبير، ۲۲ / ۴۰۳، الرقم: ۱۰۰۸، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، ۴۲ / ۲۶۳، والمزي في تهذيب الکمال، ۴ / ۵۱۲، الرقم: ۹۰۶، وقال: حسن غريب.
’’حضرت جمیع بن عمیر تمیمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اپنی خالہ کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے ان سے پوچھا: لوگوں میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب سے زیادہ محبوب کون تھا؟ آپ نے فرمایا: حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا۔ پھر کہا گیا: اور مردوں میں سے (کون سب سے زیادہ محبوب تھا)؟ آپ نے فرمایا: ان کے شوہر اگرچہ مجھے ان کا زیادہ روزے رکھنا اور زیادہ قیام کرنا معلوم نہیں۔‘‘
اس حدیث کو امام ترمذی، حاکم اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ امام حاکم نے فرمایا: اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
۲۷. عَنْ بُرَيْدَةَ رضی الله عنه قَالَ: کَانَ أَحَبَّ النِّسَائِ إِلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فَاطِمَةُ وَمِنَ الرِّجَالِ عَلِيٌّ.
رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَالْحَاکِمُ، وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ غَرِيْبٌ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.
أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب فضل فاطمة بنت محمد صلی الله عليه وآله وسلم ، ۵ / ۶۹۸، الرقم: ۳۸۶۸، والنسائي في السنن الکبری، ۵ / ۱۴۰، الرقم: ۸۴۹۸، وأيضًا في خصائص علي رضی الله عنه / ۱۲۸، الرقم: ۱۱۳، والحاکم في المستدرک، ۳ / ۱۶۸، الرقم: ۴۷۳۵، والطبراني في المعجم الأوسط، ۷ / ۱۹۹، الرقم: ۷۲۶۲.
’’حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عورتوں میں سب سے زیادہ محبوب اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ سلام اﷲ علیہا تھیں اور مردوں میں سے سب سے زیادہ محبوب حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے۔‘‘
اس حدیث کو امام ترمذی، نسائی اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ امام حاکم نے فرمایا: اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
۲۸.عَنْ عَلِيٍّ رضی الله عنه، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : أَنَا دَارُ الْحِکْمَةِ وَعَليٌّ بَابُهَا. رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَأَحْمَدُ وَأَبُوْ نُعَيْمٍ.
أخرجه الترمذي في السنن، کتاب المناقب، باب مناقب علي بن أبي طالب رضی الله عنه، ۵ / ۶۳۷، الرقم: ۳۷۲۳، وأحمد بن حنبل في فضائل الصحابة، ۲ / ۶۳۴، الرقم: ۱۰۸۱، وأبو نعيم في حلية الأولياء، ۱ / ۶۴، والخطيب البغدادي في تاريخ بغداد، ۱۱ / ۲۰۳.
’’حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔‘‘
اس حدیث کو امام ترمذی، احمد ابو نعیم نے روایت کیا ہے۔
۲۹. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : أَنَا مَدِيْنَةُ الْعِلْمِ وَعَلِيٌّ بَابُهَا، فَمَنْ أَرَادَ الْمَدِيْنَةَ فَلْيَأتِ الْبَابَ.
رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.
أخرجه الحاکم في المستدرک، کتاب معرفة الصحابة، ذکر إسلام أمير المؤمنين علي رضی الله عنه، ۳ / ۱۳۷، الرقم: ۴۶۳۷، والديلمي في مسند الفردوس، ۱ / ۴۴، الرقم: ۱۰۶.
’’حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔ لہذا جو اس شہر میں داخل ہونا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اس دروازے سے آئے۔‘‘
اس حدیث کوامام حاکم نے روایت کیا اور فرمایا: یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔
وفي رواية: عَنْ عَلِيٍّ رضی الله عنه قَالَ: وَاﷲِ، مَا نَزَلَتْ آيَة إِلَّا وَقَدْ عَلِمْتُ فِيْمَا نَزَلَتْ وَأَيْنَ نَزَلَتْ وَعَلٰی مَنْ نَزَلَتْ، إِنَّ رَبِّي وَهَبَ لِي قَلْبًا عَقُوْلًا وَلِسَانًا طَلْقًا. رَوَاهُ أَبُوْ نُعَيْمٍ وَابْنُ سَعْدٍ.
أخرجه أبو نعيم في حلية الأولياء، ۱ / ۶۸، وابن سعد في الطبقات الکبری، ۲ / ۳۳۸.
’’ایک روایت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں قرآن کی ہر آیت کے بارے میں جانتا ہوں کہ وہ کس کے بارے، کس جگہ اور کس پر نازل ہوئی۔ بے شک میرے رب نے مجھے بہت زیادہ سمجھ والا دل اور فصیح زبان عطا فرمائی ہے۔‘‘
اسے امام ابونعیم اور ابن سعد نے روایت کیا ہے۔
۳۰. عَنْ حَنَشٍ قَالَ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رضی الله عنه يُضَحِّي بِکَبْشَيْنِ فَقُلْتُ لَه: مَا هٰذَا؟ فَقَالَ: أَوْصَانِي رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم أَنْ أُضَحِّيَ عَنْهُ فَأَنَا أُضَحِّي عَنْهُ. وزاد أحمد: فَأَنَا أُضَحِّي عَنْهُ أَبَدًا.
رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَأَحْمَدُ وَأَبُوْ يَعْلٰي. وَقَالَ الْحَاکِمُ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.
أخرجه أبو داود في السنن، کتاب الضحايا، باب الأضحية عن الميت، ۳ / ۹۴، الرقم: ۲۷۹۰، وأحمد بن حنبل في المسند، ۱ / ۱۰۷، ۱۴۹. ۱۵۰، الرقم: ۸۴۳، ۱۲۷۸، ۱۲۸۵، وأبو يعلی في المسند، ۱ / ۳۵۵، الرقم: ۴۵۹، والحاکم في المستدرک، ۴ / ۲۵۵، الرقم: ۷۵۵۶، والبيهقي في السنن الکبری، ۹ / ۲۸۸، الرقم: ۱۸۹۷۰.
’’حضرت حنش رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دو مینڈھوں کی قربانی کرتے ہوئے دیکھا تو میں نے ان سے پوچھا یہ کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے وصیت فرمائی تھی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے بھی قربانی کیا کروں، لہذا میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے بھی قربانی کرتا ہوں۔‘‘ امام احمد نے ان الفاظ کا اضافہ کیا: لہذا میں ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف سے بھی قربانی کرتا ہوں۔‘‘
اس حدیث کو امام ابوداود، احمد اور ابو یعلی نے روایت کیا ہے۔ اور امام حاکم نے فرمایا: اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
۳۱. عَنْ عَبْدِ اﷲِ الْجَدَلِيِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی أُمِّ سَلَمَةَ رضي اﷲ عنها فَقَالَتْ لِي: أَ يُسَبُّ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فِيْکُمْ؟ قُلْتُ: مَعَاذَ اﷲِ، أَوْ سُبْحَانَ اﷲِ أَوْ کَلِمَة نَحْوَهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: مَنْ سَبَّ عَلِيًّا فَقَدْ سَبَّنِي.
رَوَاهُ النَّسَائِيُّ وَأَحْمَدُ وَالْحَاکِمُ، وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ، وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ: وَرِجَالُه رِجَالُ الصَّحِيْحِ.
أخرجه النسائي في السنن الکبری، ۵ / ۱۳۳، الرقم: ۸۴۷۶، وأحمد بن حنبل في المسند، ۶ / ۳۲۳، الرقم: ۲۶۷۹۱، وأيضًا في فضائل الصحابة، ۲ / ۵۹۴، الرقم: ۱۰۱۱، والحاکم في المستدرک، ۳ / ۱۳۰، الرقم: ۴۶۱۵، والهيثمي في مجمع الزوائد، ۹ / ۱۳۰، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، ۴۲ / ۲۶۶.
’’حضرت عبد اﷲ جدلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھے فرمایا: کیا تم لوگوں میں حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دی جاتی ہے؟ میں نے کہا: اﷲ کی پناہ یا اﷲ کی ذات پاک ہے یا اسی طرح کا کوئی اور کلمہ کہا تو انہوں نے فرمایا: میں نے حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوے سنا ہے کہ جو علی کو گالی دیتا ہے وہ مجھے گالی دیتا ہے۔‘‘
اس حدیث کو امام نسائی، احمد اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا: اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا: اس کے رجال صحیح حدیث کے رجال ہیں۔
۳۲. عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضی الله عنه قَالَ: اشْتَکٰی عَلِيًّا النَّاسُ. قَالَ: فَقَامَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فِيْنَا خَطِيْبًا، فَسَمِعْتُه يَقُوْلُ: أَيُهَا النَّاسُ، لَا تَشْکُوْا عَلِيًّا، فَوَاﷲِ، إِنَّه لَأَخْشَنُ فِي ذَاتِ اﷲِ، أَوْ فِي سَبِيْلِ اﷲِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُوْ نُعَيْمٍ وَالْحَاکِمُ، وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.
أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، ۳ / ۸۶، الرقم: ۱۱۸۳۵، وأيضًا في فضائل الصحابة، ۲ / ۶۷۹، الرقم: ۱۱۶۱، والحاکم في المستدرک، ۳ / ۱۴۴، الرقم: ۴۶۵۴، وأبو نعيم في حلية الأولياء، ۱ / ۶۸، وابن عبد البر في الاستيعاب، ۴ / ۱۸۵۷، الرقم: ۳۳۶۴.
’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لوگوں نے (حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں) حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کوئی شکایت کی۔ تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور خطبہ ارشاد فرمایا۔ سو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کویہ فرماتے ہوئے سنا: اے لوگو! علی کی شکایت نہ کرو، اللہ کی قسم وہ اللہ کی ذات میں یا اللہ کے راستہ میںبہت سخت ہے۔‘‘
اس حدیث کو امام احمد، ابو نعیم اور حاکم نے روایت کیا ہے۔ اور فرمایا: اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
۳۳. عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رضي اﷲ عنها قَالَتْ: أَنَّ النبي صلی الله عليه وآله وسلم کَانَ إِذَا غَضِبَ لَمْ يَجْتَرِيْ أَحَدٌ مِنَّا يُکَلِّمَه غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رضی الله عنه.
رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَأَبُوْ نُعَيْمٍ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.
أخرجه الحاکم في المستدرک، کتاب معرفة الصحابة ث، ذکر أسلام أمير المؤمنين علي رضی الله عنه، ۳ / ۱۴۱، الرقم: ۴۶۴۷، والطبراني في المعجم الأوسط، ۴ / ۳۱۸، الرقم: ۴۳۱۴، وأبو نعيم في حلية الأولياء، ۹ / ۲۲۷، والهيثمي في مجمع الزوائد، ۹ / ۱۱۶.
’’حضرت ام سلمہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ بے شک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب ناراضگی کے عالم میں ہوتے تو ہم میں سے کسی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہمکلام ہونے کی جرات نہ ہوتی تھی سوائے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے۔‘‘
اس حدیث کو امام حاکم، طبرانی اور ابو نعیم نے روایت کیا ہے۔ اور امام حاکم نے فرمایا: یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔
۳۴. عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ: نَظَرَ النَّبِيُّ صلی الله عليه وآله وسلم إِلَيَّ فَقَالَ: يَا عَلِيُّ، أَنْتَ سَيدٌ فِي الدُّنْيَا سَيدٌ فِي الْآخِرَةِ، حَبِيْبُکَ حَبِيْبِي، وَحَبِيْبِي، حَبِيْبُ اﷲِ، وَعَدُوُّکَ عَدُوِّي، وَعَدُوِّي، عَدُوُّ اﷲِ، وَالْوَيْلُ لِمَنْ أَبْغَضَکَ بَعْدِيَ.
رَوَاهُ الْحَاکِمُ، وَقَالَ: صَحِيْحٌ عَلٰی شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ. وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ: وَرِجَالُه ثِقَاتٌ.
۳۴: أخرجه الحاکم في المستدرک، کتاب معرفة الصحابة، ذکر إسلام أمير المؤمنين علي رضی الله عنه، ۳ / ۱۳۸، الرقم: ۴۶۴۰، والديلمي في مسند الفردوس، ۵ / ۳۲۵، الرقم: ۸۳۲۵، والهيثمي في مجمع الزوائد، ۹ / ۱۳۳.
’’حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری (یعنی علی کی) طرف دیکھ کر فرمایا: اے علی! تو دنیا و آخرت میں سردار ہے۔ تیرا محبوب میرا محبوب ہے اور میرا محبوب اللہ کا محبوب ہے۔ اور تیرا دشمن میرا دشمن ہے اور میرا دشمن اللہ کا دشمن ہے۔ اور اس کے لیے بربادی ہے جو میرے بعد تمہارے ساتھ بغض رکھے۔‘‘
اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا اور فرمایا: شیخین کی شرائط پر صحیح ہے۔ امام ہیثمی نے فرمایا: اس کے رجال ثقہ ہیں۔
۳۵. عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ رضي اﷲ عنهما قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ لِعَلِيٍّ: طُوْبٰی لِمَنْ أَحَبَّکَ وَصَدَّقَ فِيْکَ، وَوَيْلٌ لِمَنْ أَبْغَضَکَ وَکَذَّبَ فِيْکَ.
رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَأَبُوْ يَعْلٰی وَالطَّبَرَانِيُّ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.
أخرجه الحاکم في المستدرک، کتاب معرفة الصحابة، ذکر إسلام أمير المؤمنين علي رضی الله عنه، ۳ / ۱۴۵، الرقم: ۴۶۵۷، وأبو يعلی في المسند، ۳ / ۱۷۸. ۱۷۹، الرقم: ۱۶۰۲، والطبراني في المعجم الأوسط، ۲ / ۳۳۷، الرقم: ۲۱۵۷.
’’حضرت عمار بن یاسر رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لیے فرماتے ہوئے سنا: (اے علی!) مبارکباد ہو اسے جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور تیری تصدیق کرتا ہے۔ اور ہلاکت ہو اس کے لیے جو تجھ سے بغض رکھتاہے اور تجھے جھٹلاتا ہے۔‘‘
اس حدیث کو امام حاکم، ابویعلی اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ اور حاکم نے فرمایا: یہ حدیث صحیح الاسناد ہے۔
۳۶.عَنْ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: أَنَا سَيدُ وَلَدِ آدَمَ، وَعَلِيٌّ سَيدُ الْعَرَبِ. رَوَاهُ الْحَاکِمُ، وَقَالَ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.
أخرجه الحاکم في المستدرک، کتاب معرفة الصحابة ث، ۳ / ۱۳۳، الرقم: ۴۶۲۵، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، ۴۲ / ۳۰۵، والسخاوي في مقاصد الحسنة، ۱ / ۳۹۴، الرقم: ۵۷۸، وقال: صحيح.
’’حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں (تمام) اولاد آدم کا سردار ہوں اور علی (تمام) عرب کا سردار ہے۔‘‘
اس حدیث کو امام حاکم نے روایت کیا اور فرمایا: اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
وفي رواية: عَنْ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : اُدْعُوْا لِي سَيدَ الْعَرَبِ فَقُلْتُ: يَا رَسُوْلَ اﷲِ، أَلَسْتَ سَيدَ الْعَرَبِ؟ قَالَ: أَنَا سَيدُ وَلَدِ آدَمَ، وَعَلِيٌّ سَيدُ الْعَرَبِ.
رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَأَبُوْ نُعَيْمٍ.
أخرجه الحاکم في المستدرک، کتاب معرفة الصحابة ث، ۳ / ۱۳۴، الرقم: ۴۶۲۶، والطبراني (عن أنس رضی الله عنه) في المعجم الکبير، ۳ / ۸۸، الرقم: ۲۷۴۹، وأيضًا في المعجم الأوسط، ۲ / ۱۲۷، الرقم: ۱۴۶۸، وأبو نعيم في حلية الأولياء، ۱ / ۶۳.
’’ایک روایت میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس سردارِ عرب کو بلاؤ۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ عرب کے سردار نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں( تمام) اولاد آدم کا سردار ہوں اور علی (تمام) عرب کا سردار ہے۔‘‘
اس حدیث کو امام حاکم، طبرانی اور ابونعیم نے روایت کیا ہے۔
۳۷. عَنْ عَبْدِ اﷲِ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : اَلنَّظَرُ إِلٰی وَجْهِ عَلِيٍّ عِبَادَةٌ.
رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ. وَقاَلَ الْحَاکِمُ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ، وَشَوَاهِدُه عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رضی الله عنه صَحِيْحَةٌ.
وفي رواية عنه: قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : اَلنَّظَرُ إِلٰی عَلِيٍّ عِبَادَةٌ. رَوَاهُ ابْنُ عَسَاکِرَ.
وفي رواية: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه، وَأَيضًا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضی الله عنه عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : اَلنَّظَرُ إِلٰی وَجْهِ عَلِيٍّ عِبَادَةٌ. رَوَاهُ ابْنُ عَسَاکِرَ وَالدَّيْلَمِيُّ.
۳۷: أخرجه الحاکم في المستدرک، کتاب معرفة الصحابة ث، ۳ / ۱۵۲، الرقم: ۴۶۸۲، والطبراني في المعجم الکبير، ۱۰ / ۷۶، الرقم: ۱۰۰۰۶، وأبو نعيم في حلية الأولياء، ۵ / ۵۸، والهيثمي في مجمع الزوائد، ۹ / ۱۱۹، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، ۴۲ / ۳۵۱، ۳۵۳، ۳۵۵، والديلمي (عن معاذ بن جبل رضی الله عنه) في مسند الفردوس، ۴ / ۲۹۴، الرقم: ۶۸۶۵.
’’حضرت عبد اﷲ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی کے چہرے کو تکنا عبادت ہے۔‘‘
اس حدیث کو امام حاکم اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا: اس حدیث کی سند صحیح ہے اور حضرت عبد اﷲ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی اس کے شواہد صحیح ہیں۔
ایک روایت میں حضرت عبد اﷲ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔‘‘
اس حدیث کو امام ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔
ایک روایت میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور یہی روایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی کے چہرے کو تکنا عبادت ہے۔‘‘
اس حدیث کو امام ابن عساکر اور دیلمی نے روایت کیا ہے۔
وفي رواية: عَنْ طَلِيْقِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: رَأَيْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ رضی الله عنه يُحِدُّ النَّظَرَ إِلٰی عَلِيٍّ رضی الله عنه فَقِيْلَ لَه، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: اَلنَّظَرُ إِلٰی عَلِيٍّ عِبَادَةٌ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ.
عَنْ ثَوْبَانَ رضی الله عنه، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ رضي اﷲ عنهما قَالَا: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : اَلنَّظَرُ إِلٰي عَلِيٍّ عِبَادَةٌ. رَوَاهُ ابْنُ عَسَاکِرَ.
أخرجه الطبراني في المعجم الکبير، ۱۸ / ۱۰۹، الرقم: ۲۰۷، والهيثمي في مجمع الزوائد، ۹ / ۱۰۹، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، ۴۲ / ۳۵۵.
’’ایک روایت میں حضرت طلیق بن محمد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ٹکٹکی لگائے دیکھ رہے تھے۔ کسی نے ان سے پوچھا (کہ آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟) انہوں نے فرمایا: میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: علی کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔۔
حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ اور حضرت جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہما دونوں نے بیان کیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔‘‘
اس حدیث کو امام ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔
وفي رواية: عَنْ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها قَالَتْ: رَأَيْتُ أَبَا بَکْرٍ يُکْثِرُ النَّظَرَ إِلٰی وَجْهِ عَلِيٍّ فَقُلْتُ لَه: يَا أَبَتِ، أَرَاکَ تُکْثِرُ النَّظَرَ إِلٰی وَجْهِ عَلِيٍّ فَقَالَ: يَا بُنَيَةُ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: اَلنَّظَرُ إِلٰی وَجْهِ عَلِيٍّ عِبَادَةٌ. رَوَاهُ ابْنُ عَسَاکِرَ.
وفي رواية: عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ الصِّدِّيْقَةِ ابْنَةِ الصِّدِّيْقِ، حَبِيْبَةِ حَبِيْبِ اﷲِ رضي اﷲ عنها قَالَتْ: قُلْتُ لِأَبِي: إِنِّي أَرَاکَ تُطِيْلُ النَّظَرَ إِلٰی عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ؟ فَقَالَ لِي: يَا بُنَيَةُ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: اَلنَّظَرُ فِي وَجْهِ عَلِيٍّ عِبَادَةٌ. رَوَاهُ ابْنُ عَسَاکِرَ.
وفي رواية: عَنْ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها قَالَتْ: أَنَّ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم قَالَ: اَلنَّظَرُ إِلٰی عَلِيٍّ عِبَادَةٌ. رَوَاهُ ابْنُ عَسَاکِرَ.
أخرجه ابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، ۴۲ / ۳۵۵، ۳۵۰، والزمخشري في مختصر کتاب الموافقة / ۱۴.
’’ایک روایت میں حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے اپنے والد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ کثرت سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے چہرے کی طرف دیکھا کرتے تھے۔ سو میں نے ان سے پوچھا: اے ابا جان! کیا وجہ ہے کہ آپ کثرت سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے چہرے کی طرف تکتے رہتے ہیں ؟ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میری بیٹی! میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا: علی کے چہرے کو تکنا عبادت ہے۔‘‘
اس حدیث کو امام ابن عساکر نے بیان کیا ہے۔
ایک روایت میں حضرت عروہ رضی اللہ عنہ، حضرت عائشہ صدیقہ بنت صدیق، حبیبہ، حبیب اﷲ رضی اﷲ عنہا سے روایت بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: میں نے اپنے والد (حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ) سے عرض کیا: بے شک میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھتے ہیں (اس کی کیا وجہ ہے)؟ تو انہوں نے فرمایا: اے میری بیٹی! میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: علی کے چہرے کی تکنا عبادت ہے۔‘‘
اس حدیث کو امام ابن عساکر نے بیان کیا ہے۔
ایک روایت میں حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ آپ نے بیان کیا: حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔‘‘
اس حدیث کو امام ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔
وفي رواية: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي اﷲ عنها يَقُوْلُ: رَجَعَ عُثْمَانُ إِلٰی عَلِيٍّ فَسَأَلَهُ الْمَصِيْرَ إِلَيْهِ فَصَارَ إِلَيْهِ فَجَعَلَ يُحِدُّ النَّظَرَ إِلَيْهِ. فَقَالَ لَه عَلِيٌّ: مَا لَکَ يَا عُثْمَانُ، مَا لَکَ تُحِدُّ النَّظَرَ إِلَيَّ؟ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: اَلنَّظَرُ إِلٰی عَلِيٍّ عِبَادَةٌ. رَوَاهُ ابْنُ عَسَاکِرَ.
أخرجه ابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، ۴۲ / ۳۵۰.
’’ایک روایت میں حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ، کی طرف آئے اور انہیں اپنے پاس آنے کے لیے کہا، سو (جب) حضرت علی رضی اللہ عنہ، ان کے پاس آئے تو وہ انہیں لگاتار (بغیر نظر ہٹائے) دیکھنے لگے۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے عثمان! کیا ہوا؟ کیا وجہ ہے کہ آپ مجھے اس طرح مسلسل نگاہ جمائے دیکھ رہے ہیں؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: علی کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔۔
وفي رواية: عَنْ أَبِي ذَرٍّ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : مَثَلُ عَلِيٍّ فِيْکُمْ أَوْ قَالَ فِي هٰذِةِ الأُمَّةِ کَمَثَلِ الْکَعْبَةِ الْمَسْتُوْرَةِ النَّظَرُ إِلَيْهَا عِبَادَةٌ، وَالْحَجُّ إِلَيْهَا فَرِيْضَةٌ. رَوَاهُ ابْنُ عَسَاکِرَ.
أخرجه ابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، ۴۲ / ۳۵۶.
’’ایک روایت میں حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی کی مثال تمہارے درمیان یا فرمایا: اس امت میں غلاف والے کعبہ کی سی ہے۔ اس کی طرف دیکھنا عبادت ہے اور اس کی طرف حج کرنا فرض ہے۔‘‘ اس حدیث کو امام ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔
وفي رواية: عَنْ عَائِشَةَ رضي اﷲ عنها قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : ذِکْرُ عَلِيٍّ عِبَادَةٌ. رَوَاهُ الدَّيْلَمِيُّ وَابْنُ عَسَاکِرَ.
أخرجه الديلمي في مسند الفردوس، ۲ / ۲۴۴، الرقم: ۱۳۵۱، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، ۴۲ / ۳۵۶.
’’ایک روایت میں حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: علی کا ذکر کرنا عبادت ہے۔‘‘
اس حدیث کو امام دیلمی اور ابن عساکر نے روایت کیا ہے۔
۳۸. عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رضي اﷲ عنها، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ: عَلِيٌّ مَعَ الْقُرْآنِ، وَالْقُرْآنُ مَعَ عَلِيٍّ لَنْ يَتَفَرَّقَا حَتّٰی يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ.
رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.
أخرجه الحاکم في المستدرک، کتاب معرفة الصحابة ث، ۳ / ۱۳۴، الرقم: ۴۶۲۸، والطبراني في المعجم الأوسط، ۵ / ۱۳۵، الرقم: ۴۸۸۰، وأيضًا في المعجم الصغير، ۲ / ۲۸، الرقم: ۷۲۰، والهيثمي في مجمع الزوائد، ۹ / ۱۳۴.
’’حضرت اُم سلمہ رضی اﷲ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ میں نے سنا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرماتے: علی اور قرآن کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔یہ دونوں ہرگز جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ میرے پاس حوضِ کوثر پر (اکھٹے) آئیں گے۔‘‘
اس حدیث کو امام حاکم اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا: اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
۳۹. عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اﷲِ رضي اﷲ عنهما، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَقُوْلُ لِعَلِيٍّ: يَا عَلِيُّ، اَلنَّاسُ مِنْ شَجَرٍ شَتّٰی، وَأَنَا وَأَنْتَ مِنْ شَجَرَةٍ وَاحِدَةٍ، ثُمَّ قَرَأَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : ﴿وَجَنّٰتٌ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّزَرْعٌ وَّنَخِيْلٌ صِنْوَانٌ وَّغَيْرُ صِنْوَانٍ يُسْقٰی بِمَآءٍ وَّاحِدٍ ﴾ (الرعد، ۱۳: ۴).
رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.
أخرجه الحاکم في المستدرک، کتاب معرفة الصحابة ث، ۲ / ۲۶۳، الرقم: ۲۹۴۹، والطبراني في المعجم الأوسط، ۴ / ۲۶۳، الرقم : ۴۱۵۰، والخطيب البغدادي في موضح أوهام الجمع والتفريق، ۱ / ۴۹، والديلمي في مسند الفردوس، ۴ / ۳۰۳، الرقم: ۶۸۸۸، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، ۴۲ / ۶۴، والهيثمي في مجمع الزوائد، ۹ / ۱۰۰.
’’حضرت جابر بن عبد اﷲ رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہوئے سنا: اے علی! لوگ جدا جدا نسب سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ میں اور تم ایک ہی نسب سے ہیں۔ پھر آپ نے (سورہ رعد کی اس آیہ مبارکہ کی) تلاوت فرمائی: ’’اور انگوروں کے باغات ہیں اور کھیتیاں ہیں اور کھجور کے درخت ہیں، جھنڈدار اور بغیر جھنڈ کے، ان (سب) کو ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے۔‘‘
اس حدیث کو امام حاکم اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا: اس حدیث کی سند صحیح ہے۔۔
۴۰. عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ عَنْ أَبِيْهِ، قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : أُوْحِيَ إِلَيَّ فِي عَلِيٍّ ثَلَاثٌ: أَنَّهُ سَيدُ الْمُسْلِمِيْنَ، وَإِمَامُ الْمُتَّقِيْنَ، وَقَائِدُ الْغُرِّ الْمُحَجَّلِيْنَ.
رَوَاهُ الْحَاکِمُ وَالطَّبَرَانِيُّ. وَقَالَ الْحَاکِمُ: هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِسْنَادِ.
أخرجه الحاکم في المستدرک، کتاب معرفة الصحابة ث، ۳ / ۱۴۸، الرقم: ۴۶۶۸، والطبراني في المعجم الصغير، ۲ / ۱۹۲، الرقم: ۱۰۱۲، وأبو نعيم في تاريخ أصبهان، ۲ / ۲۰۰، الرقم: ۱۴۵۴، والخطيب البغدادي في موضح أوهام الجمع والتفريق، ۱ / ۱۸۵، وابن عساکر في تاريخ مدينة دمشق، ۴ / ۳۰۳.
’’حضرت عبد اﷲ بن اسعد بن زُرارہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت بیان کرتے ہیں کہ اس نے بیان کیا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری طرف علی کے بارے میں تین باتوں کی وحی کی گئی: بے شک وہ (علی) مسلمانوں کا سردار ہے۔ اور متقین کا امام ہے اور (قیامت کے روز) نورانی چہرے والوں کا قائد ہے۔‘‘
اس حدیث کو امام حاکم اور طبرانی نے روایت کیا ہے۔ امام حاکم نے فرمایا: اس حدیث کی سند صحیح ہے۔
۴۱. عَنْ هُبَيْرَةَ خَطَبَنَا الَْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ رضی الله عنه فَقَالَ: لَقَدْ فَارَقَکُمْ رَجُلٌ بِالْأَمْسِ لَمْ يَسْبِقْهُ الْأَوَّلُوْنَ بِعِلْمٍ، وَلاَ يُدْرِکْهُ الآخِرُوْنَ، کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم يَبْعَثُه بَالرَّايَةِ، جِبْرِيْلُ عَنْ يَمِينِه، وَمِيْکَائِيْلُ عَنْ شِمَالِه، لَا يَنْصَرِفُ حَتّٰی يُفْتَحَ لَه.
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ. وَقَالَ الْهَيْثَمِيُّ: وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ کَثِيْرٍ وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ وَبَعْضُ طُرُقِ الْبَزَّارِ وَالطَّبَرَانِيِّ فِي الْکَبِيْرِ حِسَانٌ.
أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، ۱ / ۱۹۹، الرقم: ۱۷۱۹. ۱۷۲۰، وأيضًا في فضائل الصحابة، ۲ / ۶۰۰، الرقم: ۱۰۲۶، والنسائي في السنن الکبری، ۵ / ۱۱۲، الرقم: ۸۴۰۸، وابن حبان في الصحيح، ۱۵ / ۳۸۳، الرقم: ۶۹۳۶، وأيضًا في الثقات، ۲ / ۳۰۳. ۳۰۴، وابن أبي شيبة فيالمصنف، ۶ / ۳۶۹، ۳۷۱، الرقم: ۳۲۰۹۴، ۳۲۱۱۰، والحاکم في المستدرک، ۳ / ۱۸۸، الرقم: ۴۸۰۲، والطبراني في المعجم الکبير، ۳ / ۷۹. ۸۰، الرقم: ۲۷۱۹، ۲۷۲۴، وأيضًا في المعجم الأوسط، ۲ / ۳۳۶، الرقم: ۲۱۵۵، والهيثمي في مجمع الزوائد، ۹ / ۱۴۶.
’’حضرت ہبیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ امام حسن بن علی رضی اﷲ عنھما نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: گزشتہ کل تم سے وہ ہستی جدا ہو گئی ہے جن سے نہ تو گذشتہ لوگ علم میں سبقت لے سکے اور نہ ہی بعد میں آنے والے ان کے مرتبہ علمی کو پا سکیں گے، حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ا ن کو اپنا جھنڈا دے کر بھیجا کرتے تھے اور جبرائیل علیہ السلام آپ کی دائیں طرف اور میکائیل علیہ السلام آپ کی بائیں طرف ہوتے تھے اورآپ کو فتح عطا ہونے تک وہ آپ کے ساتھ رہتے تھے۔‘‘
اس حدیث کو احمد، نسائی، ابن حبان اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔ اور امام ہیثمی نے فرمایا: اس حدیث کو امام احمد نے بہت مختصراً بیان کیا اور امام احمد کی اسناد، اور بزار کے بعض طرق اور طبرانی کی الکبیر کی اسناد حسن ہیں۔
مصادر التخریج
۱- القرآن الحکيم.
۲- احمد بن حنبل، ابو عبد الله بن محمد (۱۶۴.۲۴۱ه / ۷۸۰.۸۵۵ء). المسند. بيروت، لبنان: المکتب الاسلامي، ۱۳۹۸ه / ۱۹۷۸ء.
۳- ابن اسحاق، اسماعيل الجهضمي القاضي المالکي (۱۹۹.۲۸۲ه). فضل الصلاة علي النبي صلي الله عليه وآله وسلم بيروت، لبنان: المکتب الاسلامي، ۱۳۹۷ه.
۴- بخاري، ابو عبد الله محمد بن إسماعيل بن إبراهيم بن مغيره (۱۹۴.۲۵۶ه / ۸۱۰.۸۷۰ء). الأدب المفرد. بيروت، لبنان: دار البشائر الاسلاميه، ۱۴۰۹ه / ۱۹۸۹ء.
۵- بخاري، ابو عبد الله محمد بن إسماعيل بن إبراهيم بن مغيره (۱۹۴.۲۵۶ه / ۸۱۰. ۸۷۰ء). التاريخ الکبير. بيروت، لبنان: دار الکتب العلميه.
۶- بخاري، ابو عبد الله محمد بن اسماعيل بن ابراهيم بن مغيره (۱۹۴.۲۵۶ه / ۸۱۰. ۸۷۰ء). الصحيح. بيروت، لبنان + دمشق، شام: دار القلم، ۱۴۰۱ه / ۱۹۸۱ء.
۷- بزار، ابو بکر احمد بن عمرو بن عبد الخالق بصري (۲۱۰.۲۹۲ه / ۸۲۵.۹۰۵ء). المسند بيروت، لبنان: ۱۴۰۹ه.
۸- بيهقي، ابو بکر احمد بن حسين بن علي بن عبد الله بن موسي (۳۸۴.۴۵۸ه / ۹۹۴.۱۰۶۶ء). دلائل النبوة. بيروت، لبنان: دار الکتب العلميه، ۱۴۰۵ه / ۱۹۸۵ء.
۹- بيهقي، ابو بکر احمد بن حسين بن علي بن عبد الله بن موسي (۳۸۴.۴۵۸ه / ۹۹۴.۱۰۶۶ء). السنن الصغري. مدينه منوره، سعودي عرب: مکتبة الدار، ۱۴۱۰ه / ۱۹۸۹ء.
۱۰- بيهقي، ابو بکر احمد بن حسين بن علي بن عبد الله بن موسي (۳۸۴.۴۵۸ه / ۹۹۴.۱۰۶۶ء). السنن الکبري. مکه مکرمه، سعودي عرب: مکتبه دار الباز، ۱۴۱۴ه / ۱۹۹۴ء.
۱۱- بيهقي، ابو بکر احمد بن حسين بن علي بن عبد الله بن موسي (۳۸۴.۴۵۸ه / ۹۹۴.۱۰۶۶ء). شعب الإيمان. بيروت، لبنان: دار الکتب العلميه، ۱۴۱۰ه / ۱۹۹۰ء.
۱۲- ترمذي، ابو عيسي محمد بن عيسي بن سوره بن موسي بن ضحاک سلمي (۲۱۰.۲۷۹ه / ۸۲۵.۸۹۲ء). السنن. بيروت، لبنان: دار الغرب الاسلامي، ۱۹۹۸ء.
۱۳- ابن جعد، ابو الحسن علي بن جعد بن عبيد هاشمي (۱۳۳.۲۳۰ه / ۷۵۰.۸۴۵ء). المسند. بيروت، لبنان: مؤسسه نادر، ۱۴۱۰ه / ۱۹۹۰ء.
۱۴ حارث، ابن ابي اسامه (۱۸۶.۲۸۲ه). بغية الباحث عن زوائد مسند الحارث. مدينه منوره، سعودي عرب: مرکز خدمة السنة والسيرة النبويه، ۱۴۱۳ه / ۱۹۹۲ء.
۱۵- حاکم، ابو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد (۳۲۱.۴۰۵ه / ۹۳۳.۱۰۱۴ء). المستدرک علي الصحيحين. مکه، سعودي عرب: دار الباز للنشر و التوزيع.
۱۶ - ابن ابي حاتم، عبدالرحمن بن محمد بن ادريس بن مهران الرازي التميمي، ابو محمد (۲۴۰. ۳۲۷ه). علل الحديث. بيروت، لبنان: دار المعرفة، ۱۴۰۵ه.
۱۷ - ابن حبان، ابو حاتم محمد بن حبان بن احمد بن حبان (۲۷۰.۳۵۴ه / ۸۸۴.۹۶۵ء). الصحيح. بيروت، لبنان: مؤسسة الرساله، ۱۴۱۴ه / ۱۹۹۳ء.
۱۸ - ابن حجر عسقلاني، احمد بن علي بن محمد بن محمد بن علي بن احمد کناني (۷۷۳.۸۵۲ه / ۱۳۷۲. ۱۴۴۹ء). الإصابة في تمييز الصحابة. بيروت، لبنان: دار الجيل، ۱۴۱۲ه / ۱۹۹۲ء.
۱۹- ابن حجر عسقلاني، احمد بن علي بن محمد بن محمد بن علي بن احمد کناني (۷۷۳.۸۵۲ه / ۱۳۷۲.۱۴۴۹ء). فتح الباري شرح صحيح البخاري. لاهور، پاکستان: دار نشر الکتب الاسلاميه، ۱۴۰۱ه / ۱۹۸۱ء.
۲۰- ابن حجر عسقلاني، احمد بن علي بن محمد بن محمد بن علي بن احمد کناني (۷۷۳. ۸۵۲ه / ۱۳۷۲.۱۴۴۹ء). لسان الميزان. بيروت، لبنان، مؤسسة الأعلمي المطبوعات، ۱۴۰۶ه / ۱۹۸۶ء.
۲۱- ابن حيان، ابو محمد عبدالله بن محمد بن جعفر بن محمد انصاري اصبهاني (۲۷۴. ۳۶۹ه). العظمة. رياض، سعودي عرب: دار العاصمة، ۱۴۰۸ه.
۲۲- ابن خزيمه، ابو بکر محمد بن اسحاق (۲۲۳.۳۱۱ه / ۸۳۸.۹۲۴ء). الصحيح. بيروت، لبنان: المکتب الاسلامي، ۱۳۹۰ه / ۱۹۷۰ء.
۲۳- خطيب بغدادي، ابوبکر احمد بن علي بن ثابت بن احمد بن مهدي بن ثابت (۳۹۲. ۴۶۳ه / ۱۰۰۲.۱۰۷۱ء). تاريخ بغداد. بيروت، لبنان: دار الکتب العلميه.
۲۴- خطيب بغدادي، ابوبکر احمد بن علي بن ثابت بن احمد بن مهدي بن ثابت (۳۹۲. ۴۶۳ه / ۱۰۰۲.۱۰۷۱ء). شرف أصحاب الحديث انقره، ترکي : دار إحياء السنة النبويه.
۲۵- دار قطني، ابو الحسن علي بن عمر بن احمد بن مهدي بن مسعود بن نعمان (۳۰۶. ۳۸۵ه / ۹۱۸.۹۹۵ء). السنن. بيروت، لبنان: دار المعرفه، ۱۳۸۶ه / ۱۹۶۶ء.
۲۶- دارمي، ابو محمد عبد الله بن عبد الرحمن (۱۸۱.۲۵۵ه / ۷۹۷.۸۶۹ء). السنن. بيروت، لبنان: دار الکتاب العربي، ۱۴۰۷ه.
۲۷- ابو داود، سليمان بن أشعث سبحستاني (۲۰۲.۲۷۵ه / ۸۱۷.۸۸۹ء). السنن. بيروت، لبنان: دار الفکر، ۱۴۱۴ه / ۱۹۹۴ء.
۲۸- ديلمي، ابو شجاع شيرويه بن شهردار بن شيرويه الهمذاني (۴۴۵.۵۰۹ه / ۱۰۵۳.۱۱۱۵ء). مسند الفردوس. بيروت، لبنان: دار الکتب العلميه، ۱۴۰۶ه / ۱۹۸۶ء.
۲۹- ذهبي، شمس الدين محمد بن احمد (۶۷۳.۷۴۸ه). ميزان الاعتدال في نقد الرجال. بيروت، لبنان، دارالکتب العلميه، ۱۹۹۵ء.
۳۰- ابن راهويه، ابو يعقوب إسحاق بن إبراهيم بن مخلد بن إبراهيم بن عبدالله (۱۶۱.۲۳۷ه / ۷۷۸.۸۵۱ء). المسند. مدينه منوره، سعودي عرب: مکتبة الايمان، ۱۴۱۲ه / ۱۹۹۱ء.
۳۱- روياني، ابو بکر محمد بن هارون الروياني (۳۰۷ه). المسند. قاهره، مصر: مؤسسه قرطبه، ۱۴۱۶ه.
۳۲- سبکي، تقي الدين ابو الحسن علي بن عبد الکافي بن علي بن تمام بن يوسف بن موسي بن تمام أنصاري (۶۸۳.۷۵۶ه / ۱۲۸۴.۱۳۵۵ء). شفاء السقام في زيارة خير الأنام. حيدر آباد، بهارت: دائره معارف نظاميه، ۱۳۱۵ه.
۳۳- سخاوي، ابو عبدالله محمد بن عبد الرحمن بن محمد بن ابي بکر بن عثمان بن محمد (۸۳۱.۹۰۲ه / ۱۴۲۸.۱۴۹۷ء). القول البديع في الصلاة علي الحبيب الشفيع. مدينه منوره، سعودي عرب: المکتبة العلميه، ۱۳۹۷ه / ۱۹۷۷ء.
۳۴- ابن السري، هناد الکوفي (۱۵۲.۲۴۳ه). الزهد. کويت: دار الخلفاء للکتاب، ۱۴۰۶ه.
۳۵- ابن سعد، ابو عبد الله محمد (۱۶۸.۲۳۰ه / ۷۸۴.۸۴۵ء). الطبقات الکبري. بيروت، لبنان: دار بيروت للطباعه و النشر، ۱۳۹۸ه / ۱۹۷۸ء.
۳۶- ابن السُنّي،احمد بن محمد الدينوري (۲۸۴.۳۶۴ه). عمل اليوم والليلة. بيروت، لبنان: دار ابن حزم، ۱۴۲۵ه / ۲۰۰۴ء.
۳۷- سيوطي، جلال الدين ابو الفضل عبد الرحمن بن ابي بکر بن محمد بن ابي بکر بن عثمان (۸۴۹.۹۱۱ه / ۱۴۴۵.۱۵۰۵ء). الدر المنثور في التّفسير بالمأثور. بيروت، لبنان: دار الفکر، ۱۹۹۳ء.
۳۸- شاشي، ابو سعيد هيثم بن کليب بن شريح (۳۳۵ه / ۹۴۶ء). المسند. مدينه منوره، سعودي عرب: مکتبة العلوم و الحکم، ۱۴۱۰ه.
۳۹- شوکاني، محمد بن علي بن محمد (م۱۲۵۵ه). نيل الأوطار شرح منتقي الأخبار. بيروت، لبنان: دار الجيل، ۱۹۷۳ء.
۴۰- ابن ابي شيبه، ابو بکر عبد الله بن محمد بن إبراهيم بن عثمان کوفي (۱۵۹.۲۳۵ه / ۷۷۶.۸۴۹ء). المصنف. رياض، سعودي عرب: مکتبة الرشد، ۱۴۰۹ه.
۴۱- طبراني، ابو القاسم سليمان بن احمد بن ايوب بن مطير اللخمي (۲۶۰.۳۶۰ه / ۸۷۳.۹۷۰ء). کتاب الدعاء. بيروت، لبنان: دارالکتب العلمية ۱۴۲۱ه / ۲۰۰۱ء.
۴۲- طبراني، ابو القاسم سليمان بن احمد بن ايوب بن مطير اللخمي (۲۶۰.۳۶۰ه / ۸۷۳.۹۷۱ء). مسند الشاميين. بيروت، لبنان: مؤسسة الرساله، ۱۴۰۵ه / ۱۹۸۴ء.
۴۳- طبراني، ابو القاسم سليمان بن احمد بن ايوب بن مطير اللخمي (۲۶۰.۳۶۰ه / ۸۷۳.۹۷۰ء). المعجم الأوسط. قاهره، مصر: دار الحرمين، ۱۴۱۵ه.
۴۴- طبراني، ابو القاسم سليمان بن احمد بن ايوب بن مطير اللخمي (۲۶۰.۳۶۰ه / ۸۷۳.۹۷۰ء). المعجم الصغير. بيروت، لبنان: المکتب الاسلامي، ۱۴۰۵ه / ۱۹۸۵ء
۴۵- طبراني، ابو القاسم سليمان بن احمد بن ايوب بن مطير اللخمي (۲۶۰.۳۶۰ه / ۸۷۳.۹۷۱ء). المعجم الکبير. موصل، عراق: مطبعة الزهراء الحديثه.
۴۶- طبراني، ابو القاسم سليمان بن احمد بن ايوب بن مطير اللخمي (۲۶۰.۳۶۰ه / ۸۷۳.۹۷۱ء). المعجم الکبير. قاهره، مصر: مکتبه ابن تيميه.
۴۷- طيالسي، ابو داود سليمان بن داود جارود (۱۳۳.۲۰۴ه / ۷۵۱.۸۱۹ء). المسند. بيروت، لبنان: دار المعرفه.
۴۸- ابن ابي عاصم، ابو بکر بن عمرو بن ضحّاک بن مخلد شيباني (۲۰۶.۲۸۷ه / ۸۲۲.۹۰۰ء). الآحاد والمثاني. رياض، سعودي عرب: دار الرايه، ۱۴۱۱ه / ۱۹۹۱ء.
۴۹- ابن ابي عاصم، ابو بکر بن عمرو بن ضحّاکبن مخلد شيباني (۲۰۶.۲۸۷ه / ۸۲۲.۹۰۰ء). السنة. بيروت، لبنان: المکتب الاسلامي، ۱۴۰۰ه.
۵۰- عبد بن حميد، ابو محمد بن نصر الکسي (۲۴۹ه / ۸۶۳ء). المسند. قاهره، مصر: مکتبة السنه، ۱۴۰۸ه / ۱۹۸۸ء.
۵۱- عبد الرزاق، ابو بکر بن همام بن نافع صنعاني (۱۲۶.۲۱۱ه / ۷۴۴.۸۲۶ء). المصنف. بيروت، لبنان: المکتب الاسلامي، ۱۴۰۳ه.
۵۲- عجلوني، ابو الفداء اسماعيل بن محمد جراحي (۱۰۸۷.۱۱۶۲ه / ۱۶۷۶. ۱۷۴۹ء). کشف الخفاء ومزيل الإلباس عما اشتهر من الأحاديث علي ألسنة الناس. بيروت، لبنان: مؤسسة الرساله، ۱۴۰۵ه / ۱۹۸۵ء.
۵۳- ابن عدي، عبد الله بن عدي بن عبد الله بن محمد ابو احمد الجرجاني (۲۷۷. ۳۶۵ه). الکامل في ضعفاء الرجال. بيروت، لبنان: دار الفکر، ۱۴۰۹ه / ۱۹۸۸ء.
۵۴- ابن عساکر، ابو قاسم علي بن الحسن بن هبة الله بن عبد الله بن حسين دمشقي الشافعي (۴۹۹.۵۷۱ه / ۱۱۰۵.۱۱۷۶ء). تاريخ دمشق الکبير المعروف ب.: تاريخ ابن عساکر. بيروت، لبنان: دار الفکر، ۱۹۹۵ء.
۵۵- ابو عوانه، يعقوب بن اسحاق بن ابراهيم بن زيد نيشاپوري (۲۳۰.۳۱۶ه / ۸۴۵.۹۲۸ء). المسند. بيروت، لبنان: دار المعرفه، ۱۹۹۸ء.
۵۶- فسوي، ابو يوسف يعقوب بن سفيان (۲۷۷ه). المعرفة والتاريخ. بيروت، لبنان: دار الکتب العلميه، ۱۴۱۹ه / ۱۹۹۹ء.
۵۷- ابن قانع، عبد الباقي (۲۶۵.۳۵۱ه). معجم الصحابة. مدينه منوره، مکتبة الغرباء الاثرية، ۱۴۱۸ه.
۵۸- ابن قتيبه، عبد الله بن مسلم بن قتيبه ابو محمد الدينوري (۲۱۳.۲۷۶ه). تأويل مختلف الحديث. بيروت، لبنان: دار الجليل، ۱۳۹۳ه / ۱۹۷۲ء.
۵۹- قزويني، عبدالکريم بن محمد الرافعي. التدوين في أخبار قزوين. بيروت، لبنان: دار الکتب العلميه، ۱۹۸۷ء.
۶۰- ابن قيم، ابو عبداﷲ محمد بن ابي بکر ايوب الزرعي (۶۹۱.۷۵۱ه). جلاء الأفهام في فضل الصلاة علي محمد خير الأنام صلي الله عليه وآله وسلم کويت: دار العروبه، ۱۴۰۷ه / ۱۹۸۷ء.
۶۱- ابن کثير، ابو الفداء اسماعيل بن عمر بن کثير بن ضوء بن کثير بن زرع بصروي (۷۰۱.۷۷۴ه / ۱۳۰۱.۱۳۷۳ء). تفسير القرآن العظيم. بيروت، لبنان: دار الفکر، ۱۴۰۱ه.
۶۲ - کناني، احمد بن ابي بکر بن إسماعيل (۷۶۲.۸۴۰ه). مصباح الزجاجة في زوائد ابن ماجه. بيروت، لبنان، دارالعربية، ۱۴۰۳ه.
۶۲- ابن ماجه، ابو عبد اﷲ محمد بن يزيد قزويني (۲۰۹.۲۷۳ه / ۸۲۴.۸۸۷ء). السنن. بيروت، لبنان: دار الکتب العلميه، ۱۴۱۹ه / ۱۹۹۸ء.
۶۳- مالک، ابن انس بن مالکص بن ابي عامر بن عمرو بن حارث أصبحي (۹۳. ۱۷۹ه / ۷۱۲.۷۹۵ء). الموطأ. بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي، ۱۴۰۶ه / ۱۹۸۵ء.
۶۴- ابن مبارک، ابو عبد الرحمن عبد الله بن واضح مروزي (۱۱۸.۱۸۱ه / ۷۳۶.۷۹۸ء).کتاب الزهد. بيروت، لبنان: دار الکتب العلميه.
۶۵- مزي، ابو الحجاج يوسف بن زکي عبد الرحمن بن يوسف بن عبد الملک بن يوسف بن علي (۶۵۴.۷۴۲ه / ۱۲۵۶.۱۳۴۱ء). تهذيب الکمال. بيروت، لبنان: مؤسسة الرساله، ۱۴۰۰ه / ۱۹۸۰ء.
۶۶- مسلم، ابن الحجاج ابو الحسن القشيري النيسابوري (۲۰۶.۲۶۱ه / ۸۲۱. ۸۷۵ء). الصحيح. بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي.
۶۷- مقدسي، عبد الغني بن عبد الواحد بن علي المقدسي، أبو محمد (۵۴۱.۶۰۰ه). الأحاديث المختارة. مکه المکرمه، سعودي عرب: مکتبة النهضة الحديثيه، ۱۴۱۰ه / ۱۹۹۰ء.
۶۸- مقدسي، عبد الغني بن عبد الواحد بن علي، أبو محمد (۵۴۱.۶۰۰ه). الترغيب في الدعاء. بيروت، لبنان: دار ابن حزم، ۱۴۱۶ه / ۱۹۹۵ء.
۶۹- مقدسي، محمد بن عبد الواحد حنبلي (۶۴۳ه). فضائل الأعمال قاهره ، مصر.
۷۰- مناوي، عبدالرؤف بن تاج العارفين بن علي (۹۵۲.۱۰۳۱ه / ۱۵۴۵.۱۶۲۱ء). فيض القدير شرح الجامع الصغير. مصر: مکتبه تجاريه کبري، ۱۳۵۶ه.
۷۱- منذري، ابو محمد عبد العظيم بن عبد القوي بن عبد الله بن سلامه بن سعد (۵۸۱. ۶۵۶ه / ۱۱۸۵.۱۲۵۸ء). الترغيب والترهيب من الحديث الشريف. بيروت، لبنان: دارالکتب العلميه، ۱۴۱۷ه.
۷۲- نسائي، ابو عبد الرحمن احمد بن شعيب (۲۱۵.۳۰۳ه / ۸۳۰.۹۱۵ء). السنن. حلب، شام: مکتب المطبوعات، ۱۴۰۶ه / ۱۹۸۶ء.
۷۳- نسائي، احمد بن شعيب، ابو عبدالرحمن (۲۱۵.۳۰۳ه / ۸۳۰.۹۱۵ء). السنن الکبري. بيروت، لبنان: دار الکتب العلميه، ۱۴۱۱ه / ۱۹۹۱ء.
۷۴- ابو نعيم، احمد بن عبد اﷲ بن احمد بن إسحاق بن موسي بن مهران أصبهاني (۳۳۶. ۴۳۰ه / ۹۴۸.۱۰۳۸ء). حلية الأولياء وطبقات الأصفياء. بيروت، لبنان: دار الکتاب العربي، ۱۴۰۵ه / ۱۹۸۵ء.
۷۵- ابو نعيم، احمد بن عبد اﷲ بن احمد بن إسحاق بن موسي بن مهران أصبهاني (۳۳۶. ۴۳۰ه / ۹۴۸.۱۰۳۸ء). دلائل النبوة. حيدر آباد، بهارت: مجلس دائره معارف عثمانيه، ۱۳۶۹ه / ۱۹۵۰ء.
۷۶- نووي، ابو زکريا، يحيي بن شرف بن مري بن حسن بن حسين بن محمد بن جمعه بن حزام (۶۳۱.۶۷۷ه / ۱۲۳۳.۱۲۷۸ء). الأزکار من کلام سيد الأبرار. بيروت، لبنان: المکتبة العصريه، ۱۴۲۳ه / ۲۰۰۳ء.
۷۷- نووي، ابو زکريا، يحيي بن شرف بن مري بن حسن بن حسين بن محمد بن جمعه بن حزام (۶۳۱.۶۷۷ه / ۱۲۳۳.۱۲۷۸ء). رياض الصالحين من کلام سيد المرسلين صلي الله عليه وآله وسلم بيروت، لبنان: دار الخير، ۱۴۱۲ه / ۱۹۹۱ء.
۷۸- وادياشي، محمد بن علي بن احمد اندلسي (۷۲۳.۸۰۴ه). تحفة المحتاج إلي أدلة المنهاج. مکة المکرمه، سعودي عرب: دار حراء، ۱۴۰۶ه.
۷۹- ابن همام، محمد بن محمد بن علي بن راجي اﷲ بن سرايا بن داود (۶۷۷.۷۴۵ه). سلاح المؤمن في الدعاء. بيروت، لبنان: دار ابن کثير، ۱۴۱۴ه / ۱۹۹۳ء.
۸۰ - هيثمي، نور الدين ابو الحسن علي بن ابي بکر بن سليمان (۷۳۵.۸۰۷ه / ۱۳۳۵. ۱۴۰۵ء). مجمع الزوائد. قاهره، مصر: دار الريان للتراث + بيروت، لبنان: دار الکتاب العربي، ۱۴۰۷ه / ۱۹۸۷ء.
۸۲- ابو يعلي، احمد بن علي بن مثني بن يحيي بن عيسي بن هلال موصلي تميمي (۲۱۰.۳۰۷ه / ۸۲۵.۹۱۹ء). المسند. دمشق، شام: دار المأمون للتراث، ۱۴۰۴ه / ۱۹۸۴ء.
۸۳- ابو يعلي، احمد بن علي بن مثني بن يحيي بن عيسي بن هلال موصلي تميمي (۲۱۰. ۳۰۷ه / ۸۲۵.۹۱۹ء). المعجم. فيصل آباد، پاکستان: إدارة العلوم الأثريه، ۱۴۰۷ه.
فہرست
حرف آغاز ۵
الآیات القرآنیہ ۷
الاحادیث النبویۃ ۹
مصادر التخریج ۳۲