غدیر اہل سنت کی نگاہ میں

اصلاح کتب

مؤلف: ڈاکٹرمحمدحسینی قزوینی
امامت


کتاب: غدیر اہل سنت کی نگاہ میں

مترجم: سیدعامرعلی رضا

مصحح:حجۃ السلام والمسلمین محمد اشرف ملک

ذرائع: امام حسین علیہ السلام(ع)فاؤنڈیشن

https://www ۔ youtube ۔ com/c/ImamHussainFoundation

http://www ۔ youtube ۔ com/user/almujtaba

http://www ۔ aparat ۔ com/imam_hossein


(بسم الله الرحمٰن الرحیم )

انتساب

میری یہ ناچیز کوشش

اپنے مولا و آقا

حضرت سید الشہداء امام حسین علیہ السلام

سرکار با وفا حضرت ابو الفضل العباس علیہ السلام

اور

سید الساجدین حضرت علی ابن الحسین علیھما السلام کے نام!

کہ ماہ مبارک شعبان میں ان تینوں ہستیوں کی ولادت کے ذریعے خدا نے ہم پر احسان کیا۔


مقدمہ مترجم

کتاب کا تعارف:

کتاب“غدیراز نگاہ اہلسنت” حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹرمحمدحسینی قزوینی صاحب کی علمی کوشش کا نتیجہ ہے جس میں مقصد غدیر کو دلیل کے ذریعے استدلال کے ساتھ پیش کیاگیا ہے۔

اس کتاب کی چار فصلیں ہیں ۔

پہلی فصل میں منصب امامت کو آیات و روایات کے ذریعے ثابت کیا گیا ہے کہ یہ منصب خدا کی طرف سے ہے نہ کہ لوگوں کی طرف سے،دوسری فصل خطبہ غدیر کے بارے میں ہے اور اس میں واقعہ غدیر سے پہلے اور بعد میں رونما ہونے والے واقعات کو بیان کیا گیا ہے۔

تیسری فصل میں ان آیات اور روایات کو جمع کیا گیا ہےجو ولایت پر دلالت کرتی ہیں اور انکی بررسی کی گئی ہے۔

جبکہ چوتھی فصل غدیر اور ولایت امام علی علیہ السلام پر جو اشکالات ہوئے ہیں ان کے جوابات پر مشتمل ہے۔

مؤلف کا تعارف:

استاد دکترسیدمحمد حسینی قزوینی کا تعلق ایران کے شہرقزوین سے ہے۔ آپ کے والد گرامی کا نام سید سلیمان ہے۔آپ کی ولادت ۱۳۳۱ میں قزوین میں ہوئی ۔ابتدائی تعلیم اپنے شہر میں حاصل کی۔

حوزوی دروس

آپ نے میٹرک مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ ۱۳۴۵ میں حوزہ علمیہ ابراہیمیہ ،میں بھی داخلہ لے لیا۔اورد و سال میں مقدمات مکمل کر لی۔اور اعلی سطح کی تعلیم ۱۳۴۵ میں حوزہ علمیہ قم تشریف لے گئے ۔ اور ۱۳۴۵ میں سطوح کو پاس کیا اور پھر دروس خارج کے حصول کے لیے آپ آیۃ اللہ العظمی سید گلپایگانی کے محضر میں شرفیاب ہوئے اور ساتھ ساتھ آپ نےآیت اللہ العظمیٰ اراکی ، آیۃ اللہ العظمی وحید خراسانی، آیۃ اللہ العظمی شبیری زنجانی، آیۃ اللہ العظمی سبحانی،سے ایک مدت تک ان کے علمی صلاحیتوں سے بھر پور استفادہ کیا۔ ۔ اور ۱۳۶۸ میں حوزہ علمیہ کے بعض مراجع نے آپ کو اجازہ اجتہاد یا۔

اسی طرح مرکز مدیریت سے سطح چھار (ڈاکٹریٹ) کی ڈگری حاصل کی۔اسی طرح الحرہ اسلامک یونیورسٹی ہالینڈ سےعلم حدیث میں ڈاکٹریٹ کیا۔

تدریس

آپ نے حاشیعہ ملا عبداللہ،معالم الاصول،لمعتین۔

اور حوزہ کی سطوح عالی میں ۱دورہ رسائل و مکاسب ، ۵ دورے کفایۃ الاصول کےپڑھائے۔

آپ نے ۲۰ سال علم رجال و درایۃ کی تدریس کی، اور سال ۱۳۸۵ ق ، میں فقہ (فقہ مقارن) کے درس خارج کا سلسلہ شروع کیا۔اور اسی طرح مختلف مراکز میں جیسے مرکز جہانی علوم اسلامی، مجمع جہانی اھل البیت (ع) ،مرکزتخصصی قضاء،مرکز تخصصی مذاہب، اور مرکزےخصصی کلام اور اسی طرح بعض یونیورسٹیوں میں شیعہ شناسی کے کورس کروائے۔

ضرورت ترجمہ

یہ بات مسلم ہے کہ خدا ہی انسان کا خالق اور عالمین کا حقیقی رب ہے،تب ہی اس نے انسان کی دوسری ضروریات کی طرح ہدایت کا انتظام بھی فرمایااور ہر زمانہ میں انبیاء بھیجے ،یہانتک کہ ہمارے نبی مکرم اسلام (ص) کو آخری نبی بنا کر بھیجااور آپ نے نے اسلام کی تبلیغ کی ۔آپ کے آخری حج کی واپسی پر آپ نے خدا کے حکم سے غدیر خم میں امامت و ولایت امام علی علیہ السلام کا اعلان فرمایا۔ انہی باتوں کی تفصیل یہ کتاب مشتمل ہے جس میں عمدہ انداز،بہترین استدلال،مستحکم بیان کے ساتھ امام علی علیہ السلام کی امامت کو ثابت کیا ہےاور بہت سے اعتراضات اور شبہات کے جوابات بھی دیے۔اس لیے بندہ حقیر نے اس کتاب کو اردو قالب میں ڈھالنے کی ذمہ داری اٹھائی،کیونکہ اب تک ان کی اس کتاب کا اردو میں ترجمہ نہیں ہوا ہے۔ اس لیے اردو زبان قارئین کے لیے اس کی اشد ضرورت محسوس کرتے ہوئے قدم بڑھایا ۔تاکہ اردو زبان تک اس کتاب کے علمی مطالب پہونچا سکوں۔

ولکم منا خالص الثناء والدعاء

سیدعامرعلیرضا


مقدمہ

بعض عوامل ایسے ہیں کہ اگر ان سے بے توجہی اور غفلت برتی جائے تو بہت زیادہ انحرافات کا باعث بنتے ہیں جبکہ دوسری طرف ان واقعات کی شناخت اوران کو صحیح انداز میں پیش کرنے کے لیے دقت اور دقیق تاریخی جدوجہد کی ضرورت ہے تاکہ یہ ایک فطری طریقہ اور تسلسل کے اعتبار سے قابل قبول ہو۔

تاریخ اسلام میں بہت سے اہم اور قابل توجہ حادثات رونماہوئےکہ ان میں سے بعض بہت بڑی اجتماعی تحریکوں کا سر چشمہ قرار پائے اور یہ واقعات من و عن درج ہوئے۔ ان میں سے ایک حجۃ الوداع میں پیش آنے والا واقعہ، غدیر خم ہے یعنی پیغمبر ﷺ کا آخری حج ۔

مجموعہ حاضر میں اس واقعہ کو از نگاہ تاریخ اوراہل سنت کی روایات سے تفصیل کے ساتھ بیان کیاگیا ہے ۔ پیغمبراکرم ﷺ اللہ تعالی کا حکم ہوا(جی ہاں صرف اور صرف اللہ کےحکم سے ہی،نہ کہ کسی اور کے حکم سے) کہ علی ابن ابی طالب ؑکا اپنے بعدلوگوں کی ہدایت اور دین کی بقاءکےلیے بعنوان ''امام " اور''جانشین" تعارف کرائیں۔ جب پیغمبراکرم ﷺ کے ذریعے سے یہ حکم بجا لایا گیا تو خداوند متعال نےفرشتہ وحی کے ذریعے سے اپنی رضایت اوردین کےمکمل ہونے کی اس طرح اطلاع دی کہ:

(رَضِيتُ لَكُمُ الْاسْلَامَ دِينٔا )

(مائده :۳)

اس کے بعد سب خدا کی طرف سے منصوب جانشین کی بیعت کرنےکے پابند ہوئے۔یہاں تک کہ خواتین نے بھی پانی کے اس برتن میں جس کے دوسری طرف میں حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ تھا ، اپنے ہاتھوں کو ڈبو کر بیعت کی ۔ اس گرم اور جلا دینے والےصحرامیں یہ کام، بڑی دقت کے ساتھ انجام پزیر ہوا۔سب نے پیغمبراکرمﷺاورحضرت علی علیہ السلام کو مبارک باد پیش کی اورشعراءنے اشعار پڑھے، سب نے پیغمبراکرم ﷺ کو ایک مہم وظیفہ کے بطور احسن انجام دینے پر بہت مسرور اور خوش دیکھا ۔ غدیر خم کے اس بہت بڑے واقعہ سے سے اگرغفلت اور بے توجہی کی جائے تو یہ غفلت تمام اسلامی گروہوں اور فرقوں کےدرمیان اختلاف کا سبب بن سکتا ہے ۔ اسی لیے ہمارا نظر میں اگر اس واقعہ کی صحیح اور تعصب سے ہٹ کرتحقیق کی جائے تو نہ صرف حقیقت دریافت ہو سکتی ہے بلکہ تمام اختلافات کی جڑ بھی ختم ہو سکتی ہے۔اسی حقیقت کی صحیح توضیح اور تشریح مکتب اہلبیت کی بنیاد ہے،ا وریہی گرانقدر اور گراں قیمت چیز ہے جو قرآن کی نظیر اور مثل پہچانی گئ ہے۔

( انّی تارک فیکم الثقلین کتابَ اللَه وَعِترَتی )

(سنن ترمذی:۵/۳۲۸۳۸۷۶؛مسند احمد:۳/۱۴)

اگر قرآن باقی رہنے والاہے تو مثل بھی باقی رہے گی ۔

(انَّا نحَنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لحَافِظُون )

(حجر:۹)

اسی لئے جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ نے نشر معارف اسلام ناب محمدی کو پورے جہان تک پھیلانے کے لیے، اس سنگین وظیفہ کو اپنی گردن پر لیا اور خود کو اپنی توان کے مطابق ،اس وظیفہ کے انجام کا ذمہ دار ٹھہرایا ۔ جامعۃ المصطفیٰ ہر سال سالانہ اجلاس بعنوان "غدیر اہلسنت کی نگاہ میں " برقرار کرتا ہے۔ اس اجلاس میں اس عظیم واقعہ کو اہلسنت کی معتبر کتابوں سے جانچ پڑتال کیا جاتا ہے ۔

کتاب حاضر، مرکز آموزش زبان و معارف اسلامی کی سعی و کوشش کا نتیجہ ہے کہ جسے حضرت حجۃ الاسلام و المسلمین ڈاکٹرحسینی قزوینی کی فرمایشات کو جمع کرکے ایک کتابی شکل میں تیار کیا گیا ہے ۔امید ہے کہ یہ کام امت اسلامی کے اتحاد کی بنیادقرار پائے ۔

جامعۃ المصطفیٰ العالمیہ (مرکز آموزش زبان و معارف اسلامی۔مدرسہ المھدی)


پہلی فصل

امام کا تعین خدا کرتا ہے یا لوگ

جیسا کہ ہم جانتے ہیں شیعہ اور اہلسنت، امام کے وجود کو ضروری جانتے ہیں حتی کہ ابن تیمیہ وہابیت کے بانی نے اعتراف کیا ہے

ولاة آمرالناس مِن آعظمِ واجبات الدِین بَل لاقیامَ للدین اِلابها

(السیاسةالشرقیة ۱۶۵،)

امامت اور خلافت لوگوں پربزرگترین واجبات میں سے ہے اور معاشرہ میں امام کے وجود کے بغیر دین متحقق نہیں ہوتا۔

شیعہ اور سنی فکر میں بنیادی فرق ہے اس طرح کہ:

آیا لوگ اپنے لیے امام اور رہبر منتخب کر سکتے ہیں یا یہ کہ یہ فقط خدا کے ہاتھ میں ہے؟

یا لوگ ایک گروہ اور مجلس و شوریٰ تشکیل دیں جو امام کا انتخاب کرے ؟

یا یہ کہ انسان کی عقل اور کوشش اس سے عاجز ہے کہ اس بارے میں کوئی قدم اٹھائے؟

شیعہ قرآن کی رو سے اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ امامت ضروریات دین میں سے ہے اور جس طرح پیغمبراکرم ﷺ کا انتخاب خدا کی طرف سے ہے اسی طرح امام کا منصوب ہونا بھی فقط خدا کی طرف سےہی ہے۔

اللہ تعالی، قرآن میں حضرت ابراہیم کی رسالت کے انتخاب کے بارے میں فرماتا ہے

(وکلاْجعلنانبیاّ )

(مریم:۴۹)

ہم نے سب (ابراہیم اور ان کی اولاد)کو نبی قرار دیا۔ ایک اور جگہ پرفرمایا

(انّی جاعلک للناس اماما )

(بقره:۱۲۴)

اے ابراہیم میں نے تمہیں لوگوں کے لیے امام بنایا ۔

خدا نے حضرت ابراہیم کی امامت کو لوگوں کے سپرد نہیں کیا اور نہ ہی حضرت ابراہیم کو حکم دیا کہ وہ لوگوں سےاپنی امامت کی درخواست کریں ،حضرت موسی نے بھی اپنے بھائی کی امامت و وصایت کی تمنا کی ،مگر لوگوں کو یہ نہیں کہا کہ میں نے ہارون کو اپنا وصی بنایا اور نہ ہی لوگوں سے اس بارے میں رائے لی بلکہ خدا وند سے درخواست کی

(واجعل لی وزیرامن اهلی،هارون أخی )

(سوره طه: ۲۹ و ۳۰)

اے خدا میرے بھائی ھارون کو میرا وزیر اور جانشین بنا

پھر خدا وند عالم نے فرمایا

(قال قد اوتیت سولک یا موسی )

(سوره طه / آیه ۳۶)

اے موسی میں نے تیری دعا قبول کر لی ۔

پیشوایان بنی اسرائیل کے بارے میں بھی اسی طرح کی تعبیر قرآن میں ہے

(وَجَعلناهم آئمة یهدونَ بِآمرنا )

(انبیا:۷۳ )

ہم نے انکو امام بنایا تا کہ لوگوں کو ہماری طرف ہدایت کریں۔ پس آیات قرآن کی بنا پرصرف خداہی امام بنا سکتا ہے نہ کہ بشر۔

از لحاظ سنت، اہلسنت کی تمام تاریخی کتابوں(تاریخ طبری ،الکامل فی التاریخ سےلےکر تاریخ ابن خلدون اورابن کثیردانشوی،البدایہ والنھایہ،سیرہ ابن ھشام والمغازی)میں لکھاہےکہ جب پیغمبراکرم ﷺنےعرب کے قبائل سے اپنی رسالت کا اظہارکیا توقبیلہ بنی عامر اور قبیلہ ہودہ کی طرح بعض قبائل والوں نے کہا کہ ہم اس شرط پر آپ کی بیعت کریں گےکہ آپکےبعدخلیفہ اور جانشین ہم میں سے ہو گا تو رسول اکرم نے فرمایا:

الآمر الی الله یضعه حیث یشاء

(سیرة النبویّه ؛ ابن هشام:۲/۳۳؛ سیرة الحلبیة : ۲/۳ ؛سیرة الحلبیة : ۲/۳ ؛الغدیر : ۵/۳۷۶)

میرے جانشین کا اختیار خدا کے پاس ہے وہ جسے چاہے انتخاب کرے،

اسی طرح غدیر کے روز خدا نے فرمایا ؛

(یا ایها الرسول بلغ ما اَنزل الیک من ربّک )

(مائده:۶۷ )

اس آیت شریفہ میں نہ فقط جانشینی امام علی علیہ السلام کا حکم ہے بلکہ جانشینی کے علاوہ امامت کے خدا کی طرف سے ہونے کا بھی اعلان ہے۔سال دہم ہجری میں اسلام سراسرجزیرۃالعرب میں پھیل چکا تھا عرب کے سب قبائل دین اسلام اختیار کر چکے تھے اور پیغمبراکرم ﷺ کی رسالت کا اقرار کرتے تھے ۔ آنحضرت نے بعثت کے ۲۳ سالوں میں اسلام پھیلانے میں کوتاہی نہیں برتی اور جانتے تھے کہ رحلت کا وقت نزدیک ہے اس لیے پے درپے سعی و کوشش کرتے رہتے تا کہ جتنا ممکن ہو اسلام کے قوانین اور آداب مسلمانوں کو یاد کرائیں۔

اسی سال پیغمبر ﷺ نے سفر حج کا ارادہ کیا اس لیے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ قبایل عرب میں اعلان کریں کہ پیغمبراکرم ﷺ اس سال حج کے لیے مکہ کا ارادہ رکھتے ہیں اس خبرکےپھیلتے ہی اطراف عربستان سے لوگ بڑے شوق سے مدینہ کیطرف آنے لگے تاکہ پیغمبراکرم ﷺ کے ساتھ اعمال حج بجالائیں ۔

بالآخر پیغمبراکرم ﷺنے آخر ذیقعدسال دہم ہجری مکہ کے قصدسے روانہ ہوئے اور قربانی کے لئے اپنے ساتھ سو اونٹ لائے

( امتناع الاسماع : ۵۱۰ - سیره الحلبی :۳/۳۰۹ )

بہت سے لوگ پیغمبراکرم ﷺ کے ساتھ تھے لیکن بعض مسلمان بیماری کی وجہ سے پیغمبراکرم ﷺ کے ساتھ نہ جا سکے ۔

(سیره الحلبی :۳/۳۰۸)

موّرخین نے پیغمبراکرم ﷺ کے ساتھ جانیوالوں کی تعداد چالیس ہزار سے ایک لاکھ چوبیس ہزار تک ذکر کی ہے۔

(سیره زینی دحلان :۲/۱۴۳؛ سیره الحلبی :۳/۳۰۸؛ امتناع الاسماع :۵۱۲ منقول از کتاب الغدیر:۱/۳۰)

یہ تعداد فقط ان لوگوں کی ہے جوپیغمبراکرم ﷺکےساتھ مدینہ سےآئےتھے اور دوسرے علاقوں سے آنیوالے جس طرح یمن کے لوگ جو حضرت علی علیہ السلام کے ساتھ مکہ آئے۔

(مترجم: اہلسنت کے بعض بزرگان نے کہا ہے :کہ حضرت علی علیہ السلام پیامبر اکرم(ص)کے ساتھ حجۃ الوداع میں اصلا تھے ہی نہیں۔جبکہ صحاح ستّہ میں تاکید ہوئی ہے کہ حضرت علی علیہ السلام ایّام حج سے پہلے کچھ مسلمانوں کے ساتھ یمن سے مکّہ کی طرف آئے اور پیامبر اکرم سے ملاقات کی۔یہ کتابیں درج ذیل ہیں ۔دیکہیں:

(صحیح بخاری:۲/۱۷۱ ؛صحیح مسلم:۴/۴۰ ؛سنن ابن ماجه:۲/۱۰۲۴؛سنن ابن داوود:۲/۱۵۸؛سنن ترمذی:۲/۲۱۶؛سیره ابن هشام:۳/۵۷؛سیره حلبیه:۲/۳۸۶و )

اورپیغمبراکرم ﷺ کے ساتھ حج کے اعمال انجام دیئے انکی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی ۔

اسی طرح حجۃ الوداع کا پیغمبراکرم ﷺ کے باقی سفروں کے ساتھ مقایسہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی بھی سفر میں حجۃ الوداع والی خصوصیات نہیں ہیں ۔پیغمبراکرمﷺ نے کسی بھی سفر میں عمومی اعلان نہیں کیا اور نہ ہی اپنے ہمراہ آنے کا فرمایا اور نہ ہی حجۃ الوداع کے علاوہ کسی اور سفر میں پیغمبراکرم ﷺ کی سب بیویاں آپ کے ساتھ تہیں ۔انہی وجوہات کی بنا پر معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبراکرم ﷺ شروع سے ہی اپنے جانشین کے اعلان کاارادہ رکھتے تھے۔

پیغمبراکرمﷺ اس سفر کو اپنا آخری سفر حج جانتے تھے اور مختلف مقامات پر مسلمانوں کے درمیان جا کر خطبے دیئے ۔ ان خطبوں میں وصیت کے طور پر کچھ سفارشات بیان فرمائیں تاکہ انکی رحلت کے بعد لوگ گمراہ نہ ہوں۔

اس سفر میں ان پانچ جگہوں پر خطبہ دیا:

۱ ۔آٹھ ذی الحجہ(یوم الترویہ) مکہ میں

(سیره حلبیه:۳/۳۶۹: طبقات ابن سعد : ۲/۱۸۷؛ سنن بیهقی: ۵/۹۵؛ الدر المنثور:۱/۳۹۱؛ البدایه والنهایه: ۴/۱۰۴)

۲ ۔نو ذی الحجہ کو عرفات میں

(سیره نبوی ابن هشام:۴/۲۴۸؛ الکامل فی التاریخ؛۲/۳۰۲؛تاریخ طبری:۲/۲۰۵؛سیره حلبیه :۳/۳۷۲؛صحیح ترمذی:۵/۶۶۲)

۳ ۔دس ذی الحجہ(روز عید قربان)منی میں

(سیره حلبیه ۳/۳۷۶؛ تاریخ طبری:۲/۲۰۶؛سنن کبری:۵/۱۴۰؛تاریخ یعقوبی:۲/۲۰۹؛طبقات ابن سعد:۲/۱۸۳)

۴ ۔گیارہ ذی الحجہ منی میں

(سیره حلبیه:۳/۲۷۲؛ البدایه والنهایه: ۵/۲۲۲؛ سنن کبری: ۵/۲۱۰)

۵ ۔اٹھارہ ذی الحجہ غدیر خم میں

اگرچہ تاریخی کتابوں میں اس سفرمیں مسلمانوں کے مکہ پہنچنے سے پہلے کی جزئیات کو بیان نہیں کیا گیا البتہ مکہ میں رسول اکرم کے بہت سارے خطبےجو کہ واقعہ غدیر کا پیش خیمہ ہیں،بہت واضح ہیں۔

چھارم ذی الحجہ کو پیغمبراکرم ﷺ کاخطبہ اور صحابہ کی مخالفت

صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے

(مترجم:اس نکتہ کی طرف توجّہ کرانا ضروری ہے کہ اہلسنت قرآن کے بعد ان دو کتابیں کہ معتبر ترین سمجھتے ہیں اور اعتقاد رکہتے ہیں کہاگر کوِئی صحیح بخاری اور مسلم کی روایت پراعتراض کرے تو وہ زندیق اور ملحد ہے۔)

کہ پیغمبراکرم ﷺ نے چار ذہی الحجہ کو مراسم حج کے انجام سے پہلے اپنے اصحاب کو فرمایا: کہ جن کے پاس ھدی(قربانی کے جانور اونٹ بھیڑ بکری وغیرہ) نہیں ہے وہ اپنے احرام کو احرام عمرہ تمتع قرار دیں اور طواف اور سعی کریں اور تقصیر کریں اور احرام سے باہر آئیں پھر دوبارہ حج تمتع کے لیے احرام باندہیں ۔ یہ بات بعض صحابہ پر گراں گزری ،انہوں نے سوال کیا اگر ہم احرام سے باہر آئیں تو کیا چیز ہم پر حلال ہو گی؟تو آپ نے فرمایا ہر چیز جو احرام کی وجہ سے تم پر حرام تھی حلال ہو جائے گی۔

(صحیح بخاری : ۲/۱۵۲/۱۴۸۹)

صحیح مسلم میں ہے کہ عائشہ کہتی ہے:پیغمبراکرمﷺ چوتھی یا پانچویں ذی الحجہ کو میرے کمرے میں داخل ہوئے اور ان کے چہرے پر غضب کے اثرات واضح تھے

(فقلت من آغضبک یا رسول الله ،آدخله الله النار)

(صحیح مسلم : ۴/۳۴)

کس نے آپ کو غضبناک کیا خدا اسکو واصل آتش جہنم کرے

مسند احمد میں ذکرہےپیغمبرﷺنے عائشہ کےجواب میں فرمایا:پریشان کیسے نہ ہوں؟ کیونکہ اصحاب کو دستور دیتا ہوں اور وہ میرے دستور کی اطاعت نہیں کرتے۔

(قال ومالی لا اغضب واناامر بالامر فلا اتبع؛مسند احمد :۴/۲۸۶)

قرآن کی صراحت کے باوجود یہ مخالفت:

(وَ مَا ءَاتَئكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَ مَا نهَئكُمْ عَنْهُ فَانتَهُو )

(حشر:۷)

جو کچھ رسول تمہیں دے دے لے لو اور جس چیز سے منع کردے اس سے رک جاؤ

جو پیغمبرﷺ حکم دیں اسکی اطاعت کرنا اور جس سے روکیں اس کو ترک کرنا سب پر واجب ہے اسی طرح

(إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ لَعَنهَمُ اللَّهُ فىِ الدُّنْيَا وَ الاَخِرَةِ وَ أَعَدَّ لهَمْ عَذَابٔا مُّهِينٔا )

(احزاب :۵۷)

یقینا جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ستاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں خدا کی لعنت ہے اور خدا نے ان کے لئے رسوا کن عذاب مہیا کر رکھا ہے۔

صحاح ستہ اہلسنت سے سنن ابن ماجہ میں جابر بن عبداللہ انصاری سے روایت ہے جب پیغمبر ﷺ نے فرمایا کہ احرام سے باہر آئیں تو صحابہ نے اعتراض کیا اور کہا یا رسول اللہ کیا ہم احرام سے باہر آئیں اور پھر اپنی بیویوں سے ہم بستر بھی ہوں ؟ و ۔ ۔ ۔

(سنن ابن ماجه :۲/۹۹۲؛)

اس کے علاوہ اہلسنت کی تاریخی اور تفسیری مصادر میں دو سو مصدر ہیں جیسے

رک مسند احمد :۳/۳۱۷؛ صحیح ابن حیان :۹/۲۳۲؛ تفسیر کبیر: ۵/۱۸۱ ؛تفسیر ثعالبی: ۱/۴۱۶)

یہ روایت شیعہ کتابوں میں واضح بیان ہوئی ہے مثال کے طور پر امام صادق علیہ السلام سے بھی یہی روایت جو کہ سنن ابن ماجہ اور مسند احمد میں ہے اس سے تھوڑے اضافے کے ساتھ نقل ہوئی ہے

(ان رجلا قام فقال یا رسول الله نخرج حجاجا و روسا تقط؟

ایک صحابی اٹھا اور کہا رسول خدا جب ہمارے سروں سے پانی ٹپک رہا ہو تو ہم اس حالت میں عرفات جائیں ؟

اس اعتراض کے بعد پیغمبر ﷺ نے اس فرمایا :

(انک لن تو من بهذا آبدا )

(کافی :۴/۲۴۹)

تو اس حکم پر ہرگز ایمان نہیں لائے گا

یہاں پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ احرام سے باہر آنے میں صحابہ کی پیغمبر ﷺ سے مخالفت کی کیا وجہ تھی؟

صحیح بخاری میں ہے کہ عرب اور بالخصوص قریش کا یہ عقیدہ تھا کہ اگر کوئی ایام حج میں عمرہ سے باہر آئے اور حج کے لیے دوبارہ احرام باندھے تو وہ فاجر ہے۔

انکی نظر میں احرام سے باہر آنا کرہ زمین پر بد ترین فسق ہے اسی لیے جب پیغمبر ﷺ نے فرمایا کہ احرام سے باہر آو تو عرب جس کے بہت معتقد تھے اس سے دستبردار ہونا ان کے لیے بہت سخت تھا۔

(صحیح بخاری:۲/۱۵۲/۱۵۸۹؛صحیح مسلم:۱۱/۱۷)

ایک اور روایت ابن عباس سے ہے:

والله ما آمر رسول الله فی ذی الحجة الا لیقطع بذلک آمر اهل شرک

(سنن ابن ابی داوود :۱/۴۴۲/۱۹۸۷ ؛فتح الباری :۳/۳۳۷؛ معجم کبیر :۱۱/۱۷)

پیغمبر ﷺ نے اس لیے احرام سے باہر آنے کا حکم دیا کیونکہ وہ مشرکین کی رسوم ختم کرنا چاہتے تھے ۔

اسی طرح ابن حجر نے شرح صحیح بخاری

(مترجم: اہلسنت میں دو ابن حجر ہیں۔ایک ابن حجر عسقلانی جنکی رجال ،ففہ اور حدیث میں بہت سی کتابیں ہیں انکی وفات ۸۵۲ہجری ہے ۔دوسرے ابن حجرہیثمی ،جو ابن حجر مکّی کے نام سے مشہور ہیں انکی وفات ۹۷۴ہجری میں ہے اور(الصواعق المحرقة) انکی کتاب ہے۔بعض اوقات بعض مؤلفین ابن حجر عسقلانی اور ابن حجر مکی میں اشتباہ کرجاتے ہیں)

اورعینی نے عمدۃ القاری میں بھی اس روایت کو نقل کیا ہے اور اس حکم سے پیغمبراکرم ﷺ کا مقصد مشرکین کے اعتقاد کو ختم کرنا تھا ۔

(فتح الباری :۳/۳۳۷؛عمدة القاری:۹/۱۹۹)

یہ حکم خلیفہ اول کے زمانے اور خلیفہ دوم کی خلافت کے آدھے زمانے تک جاری تھا مگر خلیفہ دوم نے حکم دیا کہ پیغمبراکرم ﷺ کے اس حکم کو ترک کر دو اور کہا:

متعتان محللتان فی زمن رسول الله و آنا آحرمهما وآعاقب علیهما

پیغمبراکرمﷺ کے زمانے میں دو متعہ حلال تھے اور میں (عمر)ان دونوں کو حرام کرتا ہوں جو بھی ان کو انجام دے اس کو سزا دوں گا۔

اسی حدیث کو ابن قدّامہ مقدسی نے کتاب المغنی جو کہ حنبلی مذہب اہلسنت پرمفصل فقہی کتاب ہے ، میں نقل کیا ہے اور یہ کتاب وہابیوں کی مورد تایید ہے اور اس کو صحیح شمار کرتے ہیں۔

(مغنی :۷/۱۳۶)

مذہب حنفی کے مشہور فقیہ سرخسی نے بھی کتاب المبسوط

(المبسوط :۴/۲۷؛صحیح مسلم اور بخاری)

(میں بھی ہے کہ خلیفہ دوّم نے حکم دیا کہ کسی کو حق نہیں کہ وہ احرام سے خارج ہو ،اس نے کہا: مجھے اچھا نہیں لگتا کہ کوئی حج پرآئے اور اپنی بیوی سے ہم بستر ہو اور غسل کرے حالانکہ راستے کا غبار اس کے چہرہ پر نہ ہو اور وہ صحراے عرفات میں حاضرہو)

میں اسی طرح لکھا ہے۔صحیح ترمذی میں ہے کسی نے عبد اللہ بن عمر سے پوچھاکیا متعۃ الحج ٹھیک ہے اور ہم احرام سے باہر آکر دوبارہ حج کے لیےاحرام باندہیں؟ تو اس نے کہا ہاں احرام سے باہر آنا ضروری ہے اس نے پھر پوچھا لیکن آپ کے باپ نے عمرہ کو حج کے ساتھ متصل کرنے کا حکم دیا ہے تو عبد اللہ ابن عمرنے جواب دیا :مگر پیغمبرﷺنےاحرام سے باہرآنےکاحکم دیا ہے۔ کیا پیغمبراکرم ﷺ کے حکم کی اطاعت صحیح ہےیا میرےباپ کی اطاعت؟

(رجلا من اهل شام و هو یساًل عبد الله بن عمر عن التمتع بالعمره الی الحج ،فقال عبد الله بن عمر: هی حلال فقال الشامی اًن اباک قد نهی عنها

فقال عبد الله بن عمر:اًرایت ان کان ابی نهی عنها و صنعها رسول الله ﷺ اًمر ابی یتبع اًم اًمر رسول الله ﷺ رکسنن ترمذی :۲/۱۵۹)

قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ جب صحابہ نے پیغمبراکرم ﷺ کےزمانے میں ان کی مخالفت کی تو بعد از رحلت پیغمبراکرم ﷺ جانشینی حضرت علی علیہ السلام کےحکم کی مخالفت بعید از قیاس نہیں ہے۔

کیا سب اصحاب عادل تھے؟

اس بحث کے ضمن میں اہلسنت کے عقیدہ کے مطابق صحابہ کی عدالت کے بارے میں اشارہ کیا جا سکتا ہے۔جس عقیدہ کی قرآن وسنت اور تاریخ میں کوئی واقعیت نہیں، قرآن سب اصحاب کی عدالت کو قبول نہیں کرتا اور سنت بھی تمام اصحاب کی عدالت پر اشکال کرتی ہے،واقعیت تاریخ بھی سب اصحاب کی عدالت کو بیان نہیں کرتی۔

کتاب تقریب الراوی میں سیوطی کے بقول پیغمبراکرم ﷺکی رحلت کے وقت ایک لاکھ سولہ ہزار اصحاب تھے مگر شیعہ کے نزدیک یہ سب فقط پیغمبراکرم ﷺ کی صحبت اور آپ کی زیارت سے عادل نہیں ہو جائیں گے، ان میں سے بھی دوسرے لوگوں کی طرح بعض عادل ہوں گے اور بعض فاسق ۔

آیت شریفہ

(إِن جَاءَكمُ‏ فَاسِقُ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُو )

(حجرات :۷)

یہ آیت ولید بن عقبہ صحابی کے بارے میں ہے اور واضح کرتی ہے کہ سب اصحاب کو عادل جاننا ایک افسانہ سے زیادہ کچھ نہیں ۔ اہلسنت کی سب تفاسیر اس شخص سے مراد ولید

(الدر المنثور:۶/۸۸و۸۹؛جامع البیان :۲۶/۱۶۰و۱۶۱؛اسباب النزول :۲۶۱؛ تفسیرثعلبی :۹/۷۷ ؛ تفسیر قرطبی :۱۴/۱۰۵)

کے ہونے پر اتفاق کرتی ہیں ۔ ابن عبدالبر نے واضح کہا ہے کہ اس فاسق سے مراد ولید ہے

(الاستیعاب :۴/۱۵۵)

وہی ولید جو خلیفہ سوّم کے زمانے میں کوفہ کا والی تھا، جس نے شراب پی کر مسجد میں صبح کی چار رکعت پڑھائیں ،جب لوگوں نے اعتراض کیا تو کہا:آج میں بہت خوش ہوں اگر چاہوں تو چھ رکعت پڑھا دوں۔

( استیعاب :۴/۱۵۵۲؛امتاع الاسماع :۱۳/۲۱۷)

اسی طرح سورہ جمعہ کی آ یت ۱۱ :

(وَ إِذَا رَأَوْاْ تجِارَةٔ أَوْ لهَؤا انفَضُّواْ إِلَيهْا وَ تَرَكُوكَ قَائمٔا )

پیغمبر ﷺ مسجد مدینہ میں نماز جمعہ میں مشغول تھے کہ اچانک تاجروں کی آوازیں سنائی دیں جو کہ اپنی اشیا بیچنے میں مشغول تھے۔بارہ لوگوں کے علاوہ سب صحابہ پیغمبر ﷺ کو چھوڑ کر مسجد سے چلےگئے حالانکہ پیغمبر ﷺ نماز جمعہ کا خطبہ دے رہے تھےجبکہ سب جانتے ہیں کہ خطبہ نمازجمعہ، نماز کا حصہ ہے۔آیا ایسے اصحاب عادل تھے؟

(احیح بخاری :۱/۲۲۵؛ صحیح مسلم :۳/۱۰)

صحابی پیغمبر ابا قدّامہ بن مظعون نے شراب پی تو اس کو خلیفہ دوّم کے پاس لےگئے،خلیفہ نے اس پر شراب کی حد جاری کی ،یہ ان اصحاب میں سے تھے جو جنگ بدر میں شریک تھے ۔

بعنوان نمونہ:عبدالرحمن بن عمر صحابی پیغمبر ﷺ اور خلیفہ دوم کے بیٹے کو دو بار شراب کی حد جاری ہوئی۔

(سنن الکبری؛ بیهقی:۸/۳۱۲؛المصنف؛عبدالرزاق:۹/۲۳۳؛تاریخ بغداد :۳/۷۵)

عقبہ بن حارث اصحاب بدر سے تھا جس پر خلیفہ دوم نے حد جاری کی

(سنن الکبری؛ بیهقی:۸/۳۱۲؛المصنف؛عبدالرزاق:۹/۲۳۳؛تاریخ بغداد :۳/۷۵)

ابو محجن ثقفی نے سات بار شراب پی اور اس پر حد جاری ہوئی،

(البدایه والنهایه :۷/۵۷؛تاریخ طبری:۳/۳۹۷ الکامل فی التاریخ:۲/۱۲۴)

ولیدبن عقبہ نے شراب پی کر صبح کی چار رکعتیں پڑھا دیں اور اس پر حد جاری ہوئی ،

(استیعاب :۴/۱۵۵۲ ؛ امتاع الاسماع :۱۳/۲۱۷)

حتی پیغمبراکرم ﷺ کے زمانے میں چند اصحاب آپ کے حکم سے سنگسار ہوئے یا ہاتھ کاٹے گئے۔

شیعہ کے نزدیک نہ ہی سب اصحاب فاسق ہیں اور نہ ہی سب عادل صحابہ میں سے کچھ عادل ،عالم ، فاضل اور با وفا تھے۔

انہوں نےپیغمبر ﷺ کی رکاب میں جنگیں لڑیں اور شہید ہوئے اور بعض پیغمبرﷺ کی وصیت کے مطابق امیرالمومنین علیہ السلام کی رکاب میں بھی تھے اسی طرح مرحوم شیخ طوسی نے اپنی رجال میں سات سو( ۷۰۰) سے زیادہ اصحاب کے نام لکھے ہیں اور ان کی عدالت پر یقین رکھتے تھے ۔

بیعت رضوان اور عدالت صحابہ

اہلسنت بیعت رضوان والے واقعہ سے استناد کرتے ہوئے سب اصحاب رسول کی عدالت کے قائل ہیں یہ وضاحت کرتے ہوئے کہ صلح حدیبیہ کے وقت کچھ مسلمانوں نے ایک درخت کے نیچے پیغمبراکرم کی بیعت کی اور اس کے بعد یہ بیعت رضوان کے نام سے مشہور ہوئی،جس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔

(إِنَّ الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ الله )

(فتح:۱۰)

(لَّقَدْ رَضىِ‏ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تحَتَ الشَّجَرَةِ )

(فتح:۱۸)

بیشک جو لوگ آپ کی بیعت کرتے ہیں وہدرحقیقت اللہ کی بیعت کرتے ہیں،یقینا خدا صاحبان ایمان سے اس وقت راضی ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے آپ کی بیعت کر رہے تھے۔

اہلسنت کا عقیدہ ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ ایک شخص سے خدا راضی ہو اور بپھر وہ منحرف ہو جائے۔ اس بیعت میں ابوبکر،عمر،عثمان،خالد بن ولید اور جیسے دوسرے لوگ شامل تھے، جبکہ شیعہ اس استدلال کے جواب میں کہتے ہیں اولا:یہ آیت فرما رہی ہے

(لقددرضی اللّٰه عن المومنین )

خدا مومنین سے راضی ہو گیا

اس بنا پر رضایت خداوند ایمان کے ساتھ مقیّد ہےاگر قید، منتفی ہو جائے تو مقید بھی منتفی ہو جائے گا

ثانیا: اس آیت میں رضایت کو اذ ظرفیۃ کے ساتھ مقیّد کیا ہے۔یعنی آیت یہ بیان کر رہی ہے کہ جس وقت انہوں نے پیغمبراکرم ﷺ کی بیعت کی اس وقت خدا ان سے راضی ہو گیا۔اس لیے کہ بیعت سے پہلے یا بعد میں بھی خدا ان سے راضی ہو مشروط ہے کہ یہ لوگ اس سعادت کومحفوظ رکہیں۔

اہلسنت کے بہت بڑے علما ابن کثیر،طبری ا ورسیوطی کہتے ہیں بلعم بن باعورا کا مقام معنوی اس قدر بلند تھا کہ خدا نے اسے اسم اعظم عطا کیا تھا قرآن بھی اس بارے میں فرماتا ہے:

(وَ اتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ الَّذِى ءَاتَيْنَاهُ ءَايَاتِنَا فَانسَلَخَ مِنْهَا )

(اعراف:۱۷۵)

اور انہیں اس شخص کی خبر سنایے جس کو ہم نے اپنی آیتیں عطا کیں اور پھر وہ ان سے بالکل الگ ہو گیا

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بیعت رضوان میں شامل لوگوں سے بلعم بن عورا کا مقام زیادہ تھا کیونکہ اس کے پاس اسم اعظم تھا ۔مگر

(فَأَتْبَعَهُ الشَّيْطَنُ فَكاَنَ مِنَ الْغَاوِين )

(اعراف:۱۷۵)

اورشیطان نے اس کا پیچھا پکڑ لیا تو وہ گمراہ ہو گیا

نتیجہ یہ ہوا کہ اگر خدا وند کسی سے راضی ہو اور اس وقت اظہار رضایت کرے تو یہ رضایت اس وقت تک

مفید ہے جب تک وہ اس سعادت کو ضایع نہ کرے کیونکہ بہت سے لوگ عالی مرتبہ تھے پھر بعد میں گمراہ ہو گئے۔

مثلا عبداللہ بن ابی صرع،صحابی پیغمبر ﷺ اور پہلا کاتب وحی بھی تھا لیکن کچھ عرصے بعد مرتد ہو گیا اورپیغمبر ﷺ کا مزاق اڑانے لگا یہاں تک کہ پیغمبر ﷺ نے فتح مکہ پر فرمایا :کچھ لوگ اگر پردہ کعبہ کوبھی تھامے ہوئے ہوں تو ان کی گردن کاٹ دو اور عبداللہ بن عمر انہی میں سے ایک تھا۔

حتیٰ کہ خدا نے پیغمبراکرم ﷺ جو سب سے افضل ہیں کو فرمایا:

(َ لَئنِ‏ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُک )

(زمر:۶۵)

اگر تم شرک اختیار کرو گے تو تمہارے تمام اعمال برباد کردیےجائیں

وہ آیات اورجو صحابہ کے بارے میں نازل ہوئیں ان کو شیعہ بھی قبول کرتے ہیں مگر کتنے اصحاب نے اس مقام کو محفوظ رکھا اور اپنی عدالت پر باقی رہے اس میں غوروفکر کی ضرورت ہے۔

اسی طرح صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ''حدیث حوض" کے نام سے ایک حدیث جو پیغمبراکرم ﷺ سے نقل ہوئی ،

یَرِدُعلیَّ یَوم القیامة رهط مِن اصحابی فآقول یا رب اصحابی،فیقول انّک لا علم لک بما احدثوا بعدک، انهم ارتدّوا علی ادبارِهم اقهقری ،

(صحیح بخاری:۷/۲۰۸؛شواهد التنزیل:۱/۲۸۴)

قیامت کےدن میرے کچھ اصحاب کو آتش جہنم کی طرف لے جائیں گے ۔میں سوال کروں گا کہ ان کو کہاں لے جا رہے ہیں کہیں گے جہنم کی طرف میں پوچھوں گا کہ انہوں نے کیا کیا ہے تو کہیں گے: یہ آپ کے بعد مرتد ہو گئے تھےاورجاہلیت کی طرف پلٹ گئے تھے ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ بخاری نے کہا:کہ ان میں سے بہت کم تعداد(جتنی کہ ایک ریوڑ سے بھیڑیں جدا ہوتی ہیں)نجات پائے گی۔

عائشہ کہتی ہے:

لما قبضَ رسول اللّٰه ارتدَّ العربَ قاطبة

رحلت پیغمبراکرم ﷺ کے بعد تمام عرب مرتد ہو گئے ۔

(البدایه والنهایه :۶/۳۳۶؛تاریخ مدینه دمشق:۳۰/۳۱۶)

وہابی شیعوں پر اعتراض کرتے ہیں کہ تم کہتے ہو کہ پیامبرکے بعد چھار لوگوں کے علاوہ باقی سارے مرتد ہوگئےتھے ،یعنی پیغمبر کی تئیس سالہ زحمت کا نتیجہ فقط چھارہ لوگ تھے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ کہتے ہیں چھار لوگ،ام الموًمنین عائشہ کہتی ہے: سب مسلمان مرتدہوگئےتھے۔البتہ شیعہ کے نزدیک ارتداد سے مراد ایمان سے ارتداد نہیں بلکہ پیامبر کے دستورات کی مخالفت ہے۔)

خلیفہ دوّم کے زمانے میں جب کوئی صحابی اس دنیا سے رحلت کرتا جب تک حذیفہ اس کی تایید نہ کرتا کہ یہ منافقین میں سے نہیں ہے اس وقت تک خلیفہ اسکی نماز جنازہ نہ پڑھاتا،کیونکہ شیعہ اور سنی حذیفہ کا رازدارِ پیغمبراکرم ﷺ ہونے کو مانتے ہیں اور یہ کہ پیغمبراکرم ﷺ نے حذیفہ کو منافقین کے نام بتائے تھے۔

(قال ابن کثیر ان عمر ابن الخطابرضی الله عنه:کان اذا مات ممن یری انه منهم نظراِلی حذیفه و ان صلی علیه و الاترکه ؛تفسیر ابن کثیر:۲/۳۹۹)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صدر اسلام میں کوئی بھی سب اصحاب کے عادل ہونے پر یقین نہیں رکھتا تھا۔اور یہاں تک کہ بعض صحابہ فاسق اور منافق تھے۔

حدیث ثقلین کی جانچ پڑتال

حجۃالوداع کے اکثرخطبوں میں بیان ہونے والی احادیث میں سے ایک حدیث، حدیث ثقلین ہے ، اھل سنت اور شیعہ کی کتابوں میں تقریبأ ایک سو( ۱۰۰) روایات اسی مضمون کے بیان ہوئی ہےاور اسی وجہ سے متواترہے اسکے باوجود حدیث ثقلین پر دوسری روایات جو أئمہ علیھم السلام کےبارے میں سب سے زیادہ اشکال ہوئے ہیں خصوصأ آیت

(بلِّغ ما انزِل اِلیک )

(مائده ۱۸)

میں شبھہ وارد ہوا ہے حدیث غدیر کے بارے میں سولہ ۱۶ شبھات اور اشکال وارد ہوئے ہیں اور آیۃ کمال کے بارے میں بھی صرف تئیس ۲۳ ،اشکال وارد ہوئے ہیں

مگر حدیث ثقلین پرتقریبأ ایک سو اڑتالیس ۱۴۸ ، اشکال وارد ہوئے ہیں

اسی لیے مرحوم آیۃ ۔۔۔العظمیٰ بروجردی بہت اصرار کرتے تھےکہ جب بھی ولایت کے بارے بحث ہو تو حدیث غدیر یا حدیثِ منزلت یا اِنذار۔۔۔ کی بجائے بحث کو حدیث ثقلین سے شروع کریں

صحیح مسلم میں بھی حدیث ثقلین ہے لیکن افسوس کےساتھ اس میں قرآن کےبارےتووضاحت کی گئی ہے لیکن اھل بیت علیھم السلام کےبارےمیں کوئی وضاحت نہیں کی گئی فقط بیان کیا گیا:

و أهل بيتي ، أذكِّرَكُمُ الله في أهل بيتي ، أذكِّرَكُمُ الله في أهل بيتي ، أذكِّرَكُمُ الله في أهل بيتي

(صحیح مسلم:۷/۱۲۳)

ابن حجر ھیثمی نےکتاب الصواعق المحرقہ میں لکھا ہے

(ابن حجر ہیثمی، مفتی مکہ مکرمہ،وفات ۹۷۴ ہے اس اپنی کتاب شیعہ عقائد کے ردّ میں لکھیں کتاب کے مقدمہ میں کہتا ہے :میں دیکھا شیعہ مذہب اطراف مکہ میں پھیل رہا ہے تو اس لئے ان کے مقابلے میں یہ کتاب لکھی )

کہ پیغمبراکرم ﷺ نے بہت سےمقامات پر حدیث ثقلین بیان فرمائی ہے۔ جنگ حنین کے بعد طائف سے واپسی پر، روز ِعرفہ میں،غدیر کے دن،مسجدالنبی میں جب آپ ﷺ مریض تھے اور زندگی کے آخری لحظات میں بھی بیان فرمائی:

انّ لحدیث التسک بهما طُرُقا کثیرا وردت مِن نیف و عشرین صحابیا

(صواعق المحرقه:۱۲۴)

پھر لکھتا ہے حدیث ثقلین کو بیس ۲۰ سے زیادہ اصحاب نے نقل کیا ہے،بہت سارے بزرگان اہل سنّت کا یہ بھی عقیدہ ہے کہ حدیث ثقلین میں صحیح عبارت یہ ہے ،

(کتاب الله و عترتی )

(ناصر الدین البانی جو علماً معاصر وہابی ہے جس کو بخاری دران کے ساتھ تعبیر کیا جاتا ہےاور سعودی عرب کے مفتی اعظم بن باز اسے امام حدیث گردانتے تھے،وہ حدیث کتاب اللہ و عترتی کو صحیح شمار کرتے تھے۔

(صحیح لجامع الصغیر :۲/۲۱۷؛مجمع الزوائد:۱/۱۷۰؛صواعق المحرقه:۱۲۲بعض روایات میں انّی تارک فیکم خلیفتین کِتاب الله و عترتیبہی آیا ہے مسند احمد :۵/۱۸۹؛مجمع الزوائد:۱/۱۷۰)

یہ حدیث درج ذیل دلائل کی بنا پر بہت اہمیّت کی حامل ہے ۔

۱- حدیث ثقلین میں قرآن و عترت ایک دوسرے کے مقابل اور برابر ہیں جس طرح قرآن تا روز ِ قیامت باقی ہے اسی طرح عترت بھی باقی ہے اگر ایک دن قرآن ہو اور عترت نہ ہو تو اس کا لازمہ یہ ہے کہ پیغمبراکرم ﷺ کا فرمان جھوٹا ہے(نعوذباللہ) کیونکہ پیغمبراکرم ﷺ نے فرمایا

(لن یفترقا)

یہ عقیدہ فقط شیعوں کی تائید کرتا ہے جن کا عقیدہ ہے کہ امام زمان علیہ السلام قید ِ حیات میں ہیں اور آئمہ طاھرین(علیہم السلام) میں سے ہیں جس طرح قرآن میں خطا اور اشتباہ نہیں اسی طرح عترت علیہم السلام بھی معصوم عن الخطا ہیں۔

پیغمبراکرمﷺ نے امّت پر اپنی عترت کےساتھ تمسک واجب کیا ہے کیونکہ جس طرح قرآن کی پیروی گمراھی سے بچاتی ہے اسی طرح اطاعت ِ اہلبیت (عترت) بھی گمراہی سے بچاتی ہے پیغمبراکرم ﷺکےاس حکم سے پتہ چلتا ہے کہ آئمہ (علیہم السلام) بھی قرآن کی طرح معصوم ہیں کیونکہ اگر معصوم نہ ہوں توغلط دستور دیتے جو امّت کی گمراھی کا سبب بنتا اور اس طرح یہ پیغمبراکرم ﷺ کے بیان کے مخالف ہوجاتا کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا "اگر اہلبیت(ع) سے تمسک رکھو گے تو گمراہ نہیں ہو گے ۔ شیعہ اس پر یقین رکھتے ہیں کہ پیغمبراکرم ﷺ نے عترت کوقرآن کیساتھ قرار دیا ہے جس طرح عترت قرآن کے بغیر موجب گمراہی ہے اسی طرح قرآن بھی عترت کے علاوہ موجب ضلالت ہےجو بھی ان دونوں سے تمسک رکھے گا اس نے صحیح راستہ پا لیا اور ہر قسم کے انحرافات اور گمراھی سے نجات پا گیا لیکن افسوس کیساتھ علما اہل سنّت اپنی تقاریر میں صحیح مسلم میں یہ جملہ کتاب اللہ و عترتی اور اہل سنت کی پانچ سو( ۵۰۰) کتابوں میں ذکر ہونے کے باوجود کتاب اللہ وسنّتی کہتے ہیں اورکتاب اللہ و عترتی کانام نہیں لیتے حالانکہ یہ جملہ (کتاب اللہ وسنتی)اہلسنت کی کسی بھی معتبر مصادر میں نہیں ہے یہ فقط موطا مالک

(مالک بن انس نے منصور دوانقی کےحکم سے اپنی کتاب موطا لکھی،منصور نے اس شرط کے ساتھ مالک کو اس کتاب کے لکھنے کی اجازت دی کہ اس میں کہیں بھی حضرت علی علیہ السلام کا نام یا ان سے کوئی روایت ذکر نہ ہو ۔)

مرفوع اور مرسل ذکر ہوئی ہے

(حدیث مرفوع وہ حدیث ہے جس میں راویوں کی سند کا سلسلہ حزف ہو اور معلوم نہ ہو کہ یہ حدیث کس سے مروی ہے۔)

اور روایت مرفوع اہلسنت کے نزدیک معتبر نہیں ہے اسکے باوجود یہی بیان کرتے ہیں

یہاں پر ایک سوال ہوتا ہے کہ نبی مکرم اسلام ﷺ کی اہل بیت سے مراد کون ہیں ؟

اس سوال کے جواب میں یہ کہنا ضروری ہے کہ شیعہ اور اہل سنت کے درمیان اہل بیت کے مصداق کے بارے میں اختلاف ہے۔

شیعہ اورکچھ علما بزرگ اہل سنت کےنزدیک اہل بیت سے مرادفقط ، امام علی، جناب فاطمہ زہرا، امام حسن، امام حسین علیہم السلام ہیں مگر بہت سارے اہل سنت یا تو تمام بنی ھاشم کو اہل بیت کا حصہ یاحد اقلّ زوجات پیغمبراکرم ﷺ کو اہل بیت کا حصہ سمجھتے ہیں اس موضوع کی تحقیق سے پہلے سورہ احزاب کی وہ آیات جو اہل بیت کے متعلق ہیں انکی تحقیق کرتے ہیں اس سورہ میں آیت اٹھائیس ( ۲۸) سے ( ۳۳) تک زوجات پیغمبراکرم ﷺ کے بارے میں ہے

" (يَأَيهُّا النَّبىِ‏ قُل لّأِزْوَاجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَوةَ الدُّنْيَا وَ زِينَتَهَا فَتَعَالَينْ‏ أُمَتِّعْكُنَّ وَ أُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحٔا جَمِيلٔا (۲۸)

وَ إِن كُنتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ وَ الدَّارَ الاَخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَتِ مِنكُنَّ أَجْرٔا عَظِيمٔا(۲۹)

يَانِسَاءَ النَّبىِ‏ مَن يَأْتِ مِنكُنَّ بِفَحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ يُضَعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَينْ‏ وَ كاَنَ ذَالِكَ عَلىَ اللَّهِ يَسِيرٔا(۳۰)

وَ مَن يَقْنُتْ مِنكُنَّ لِلَّهِ وَ رَسُولِهِ وَ تَعْمَلْ صَلِحٔا نُّؤْتِهَا أَجْرَهَا مَرَّتَينْ‏ وَ أَعْتَدْنَا لهَ رِزْقٔا كَرِيمٔا(۳۱)

يَنِسَاءَ النَّبىِ‏ لَسْتنُ‏ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتنُ‏ فَلَا تخضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِى فىِ قَلْبِهِ مَرَضٌ وَ قُلْنَ قَوْلٔا مَّعْرُوفٔا(۳۲)

وَ قَرْنَ فىِ بُيُوتِكُنَّ وَ لَا تَبرَّجْنَ تَبرَّجَ الْجَهِلِيَّةِ الْأُولىَ‏ وَ أَقِمْنَ الصَّلَوةَ وَ ءَاتِينَ الزَّكَوةَ وَ أَطِعْنَ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ(۳۳) إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكمُ‏ تَطْهِيرٔ )

انہی آیات سےمعلوم ہوجاتاہے کہ پیغمبراکرم ﷺ کی بیویاں اہلبیت میں شامل نہیں ہیں کیونکہ اٹھائیس ۲۳ آیت سےلیکر تئیس تک سب ضمیریں جو زوجات کے بارے میں آئیں وہ جمع مونث ہیں لیکن جب اہل بیت کا ذکرہوا توجمع مذکرکی ضمیراستعمال ہوئی ہےجسکی وجہ سےپتاچلتاہے کہ زوجاتِ پیغمبراکرم ﷺ اہل بیت میں شامل نہیں ہیں اسی طرح زوجات پیغمبراکرم ﷺ آٹھ( ۸) یا نَو ( ۹) گھروں میں رہتی تہیں ۔ اسی لیےجب بھی قرآن میں انکے بارے میں ذکر ہوا کلمہ (بُیُوت)(بَیت)گھرکی جمع استعمال ہوا ہےلیکن جب بھی اہل بیت کا ذکرہوامفرد(بیت)استعمال ہواہے اسلیے اگر خداوند کی اہل بیت علیہم السلام سےمراد زوجات ِپیغمبراکرم ﷺبھی ہوتی تو کلمہ اہل البیوت جمع ذکرہوتا جس طرح گذشتہ آیات میں

( وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ )

آیا ہے۔ صحیح مسلم میں عائشہ سے منقول ہے کہ جب آیت تطہیر نازل ہوئی تو پیغمبراکرم ﷺ (ص)نے حضرت علی، حضرت فاطمہ ، حسن ، حسین(علیھم السلام) کو عبا کے نیچے جمع کیا اور فرمایا

(اللهم هؤلاء أهل بيتي (إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرٔا )

(صحیح مسلم:۷/۱۳۰)

دوسری روایت امّ سلمہ سے منقول ہےکہ جب آیت تطہیر نازل ہوئی تو نبی مکرّم (ص) نے ان چار انوار کو عبا کے نیچے جمع کیا تو میں نے عرض کیا

( يا رسول الله ، ما أنا من أهل البيت ؟ قال لا،و أنت مِن أزواج النّبی

(سنن ترمذی:۵/۳۱)

اے اللہ کےرسول (ص) کیا میں بھی اہل بیت میں شامل ہوں ؟ تو آپ(ص) نے فرمایا نہیں تم بہت نیک ہو زوجات ِ پیغمبراکرم ﷺ میں سے ہو ۔ حتیٰ ایک روایت میں امّ سلمہ کہتی ہیں

فرفعت الکسا٫ لأدکل معهم ،وقال : إنك علی خير

(مسند احمد:۶/۳۰۴؛معجم کبیر:۹/۲۶)

"میں عبا کو پکڑ کرحضرت زہرا، حضرت علی، امام حسن، امام حسین علیھم السلام، کیساتھ چادر میں جانا چاہتی تھی مگررسول اکرم ﷺنےفرمایا"تم اچھی ہولیکن اہل بیت کاحصہ نہیں ہو اورچادرمیں آنے کا حق نہیں رکھتی ،اسکےعلاوہ حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ میں نے پیغمبراکرم ﷺسے پوچھا کیا میں اہل بیت میں شامل ہوں؟ تو حضرت نے فرمایا "نہیں" یہ روایت اکثر زوجات پیغمبراکرم ﷺسے نقل ہوئی ہے

(نظم درر السمطین:۱۳۳)

اگر تاریخ اسلام، تفاسیرکتُب روائی کیطرف مراجعہ کریں تو ہمیں پتہ چل جائے گا کہ زوجات پیغمبراکرم ﷺ میں سے کسی نے بھی اہل بیت میں شامل ہونے کا دعوٰی نہیں کیا اگر ہم انکو اہل بیت میں شامل کرنے کے درپے ہیں۔

اسکے علاوہ آیت تطہیر میں فرمایا گیا ہے کہ " خداوند نے ارادہ کیا ہے کہ رجس و پلیدی کو آپ سے دور رکھے۔

اس لیےیہ آیت عصمت اہل بیت پردلالت کرتی ہے اورپنجتن علیھم السلام کے علاوہ کسی نے بھی عصمت کا دعوٰی نہیں کیا یہاں تک کہ اہل سنت میں سے کسی نے بھی پیغمبراکرم ﷺ کی بیویاں یا دیگر بنی ہاشم کے بارے میں عصمت کا دعوٰی نہیں کیا۔

کتاب تفسیر طبری میں اس آیت کے ذیل میں تقریبأ اکیس ( ۲۱) روایات لائی گئی ہیں جن میں سے انیس روایات میں اہل بیت کو پانچ نور پاک میں منحصر کیا گیا ہے البتہ اس کتاب میں دو روایتیں ضعیف ہیں جن کے راوی مشہور کذّاب ،وضّاع اور زندیق تھے ، ان سے نقل کیا گیا ہے کہ زوجات پیغمبراکرم ﷺ بھی اہل بیت میں شامل ہیں ۔

(جامع البیان:۲۲/۹-۱۳)

تفسیر الدرالمنثور میں چوبیس روایات لائی گئی ہیں جن میں بائیس روایات میں اہل بیت پنج تن کو کہا گیا ہے اور دو روایتوں میں زوجات پیغمبراکرم ﷺ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

(الدرالمنثور:۵/۱۹۸-۱۹۹)

اسی طرح تفسیرابن کثیر میں دس( ۱۰) میں سے نو( ۹) روایات میں اہل بیت فقط ،امیرالمومنین ، صدّیقہ طاہرہ ، امام حسن ، اور اما م حسین علیھم السلام کو کہا گیا ہے ۔

(تفسیر ابن کثیر:۳/۴۹۱-۴۹۴)

سوال{ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ لوگوں نے پیغمبراکرم ﷺ کے آخری سفر میں کیوں مخالفت کی اور اس سے پہلے کسی نے بھی مخالفت کیوں نہیں کی ؟

جواب { اسکے جواب میں یہ کہنا ضروری ہے کہ قرآن کریم نے پیغمبر ﷺ کے اردگرد کے لوگوں کو چار دستوں میں تقسیم کیا ہے ۔

(مدثر:۳۱ )

۱ ۔ کفار:یہ افراد مشخص تھے اور سب ان کے بارے میں جانتے تھے۔

۲ ۔ اہل کتاب:یہودی اور مسیحی: یہ بھی مشخص تھے جن کے بارے میں سب جانتے تھے۔

۳ ۔ مومنین: یہ گروہ بھی مشخص تھا۔

۴ ۔ والذین فی قلوبھم مرض: اب سوال یہ ہوتا ہے کہ یہ یہ لوگ کون تھے؟

بعض فی قلوبھم مرض سے مراد منافقین ثابت کرنے کی کوشش کرتےہیں

فخررازی نے اس نظریہ کے بارے میں کہا کہ یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی اس وقت کوئی بھی منافق نہیں تھا کیونکہ منافق وہ ہیں جو ڈر کی وجہ سے اپنے اندرونی حقائق کا اظہار نہیں کرتے ۔

اور اسوقت مکہ میں مسلمانوں کے لیے اقتدار اور حکومت نہیں تھی اس لیے خوف کی کوئی دلیل نہیں ۔پس فی قلوبھم مرض ،،سے مراد وہ لوگ ہیں جو ظاہرا پیغمبراکرم ﷺ پر ایمان لائے مگر باطنا شکاکین میں سے تھے۔لیکن منافق کون تھے؟

(تفسیر کبیر:۲/۱۳۲)

بطور مثال جنگ احد میں پیغمبرﷺ کچھ لوگوں کو پہاڑ پر معین کیا اور ان کو فرمایا: جنگ کے اختتام تک ادھر ہی رہنا۔لیکن جب انہوں نے لوگوں کو مال غنیمت جمع کرتے ہوئے دیکھا تو پیغمبراکرم ﷺ کی نافرمانی کرتے ہوئے پہاڑ سے نیچے اتر آئے،

خالد بن ولید کی کمانڈ میں دشمن نے وہاں حملہ کیا اور مسلانوں کو محاصرہ میں لے لیا اسی لیے مسلمانوں کو شکست ہوئی اور بہترین وفادار اسلام مثل حضرت حمزہ سید الشہدا شہید ہوئے۔

یہ صحابہ کی پیغمبراکرم ﷺ کے فرمان کی واضح مخالفتوں میں سے ایک ہے۔

صلح حدیبیہ میں بھی یہی مخالفت تھی بعض مسلمانوں نے پیغمبراکرم ﷺ کی مخالفت کی اور پیغمبر ﷺ کا دل دکھانے کا سبب بنے۔ اسی طرح جنگ خیبر، جنگ خندق، جنگ احزاب میں بھی بعض اصحاب نے آپ کی مخالفت کی ۔ پیغمبر ﷺ نے ابوبکر کو حملہ کا حکم دیا تو اس نے کہا میں ڈرتا ہوں عمر کو کہا تو اس نے بھی یہی کہا دوسروں کوحکم دیا تو انہوں نے بھی یہی جواب دیا۔

امیر المومنین علیہ السلام کے علاوہ کسی نے بھی پیغمبراکرم ﷺ کی اطاعت نہیں کی تاکہ دشمن کے سامنے ثابت قدم راہ سکیں۔ جنگ حنین میں مسلمان دس ہزار( ۱۰۰۰۰ ) سے بھی زیادہ تھے پیغمبراکرم کو کفار میں چھوڑ کر فرار ہو گئے ،صرف بارہ لوگ باقی راہ گئے جو حضرت علی علیہ السلام کی سر براہی میں تھے۔

حدیث قرطاس میں پیغمبر ﷺ نے فرمایا:

ائتوني بقلم و كتف حتی أكتب لكم كتابا، لن تضلوا بعدی،فقال عمر بن الخطاب : إن الرجل قد غلبه الوجع

(صحیح بخاری: ۱/۳۷و۴/۳۱؛صحیح مسلم:۵/۷۵و۷۶)

قلم اور دوات لے آؤ تا کہ تمہارے لیے پروانہ نجات لکھ دوں تاکہ میرے بعد گمراہ نہ ہوں۔عمرا بن خطاب نے کہا پیغمبراکرم ﷺ پر بیماری کا غلبہ ہے اس لیے ہزیان کہ رہے ہیں۔ جبکہ قرآن میں ہے:

(وَ مَا ءَاتَئكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ )

(حشر:۷ )

مسلمانوں نےکس طرح پیغمبر ﷺ کے حکم کا جواب دیا۔آنحضرت کے گھر میں اس طرح شور شرابہ شروع کیا کہ رحمۃ اللعالمین نے ان کواپنے گھرسے نکال دیا اور فرمایا:

قوموا عنّی،،

(مسند احمد:۱/۳۲۴)

میرےگھر سے نکل جاؤ۔ یہ اصحاب کی پیغمبر اکرم ﷺ سے مخالفت کے وہ نمونے ہیں جو حجۃ الوداع سے پہلے رونما ہوئے۔


دوسری فصل

خطبہ غدیر پر ایک نظر

حجۃ الوداع کے موقع پر غدیر خم میں حضرت کا خطبہ اہم ترین خطبوں میں سے ہے ۔اس خطبہ کے متعلق بحث کرنے سے پہلے چند نکات کا ذکر کرنا ضروری ہے ۔

اہلسنت کے تمام مصادر میں پیغمبراکرم ﷺ کے غدیر کے دن کے خطاب کو خطبہ غدیر سے یاد کیا گیا ہے۔خطبہ اور حدیث میں فرق یہ ہے کہ ایک چھوٹا جملہ جو چند کلمات پر مشتمل ہےاس کو حدیث کہتے ہیں جبکہ ایک طولانی گفتگوجو منبر یا بلند مقام پر جاکر کی جائےاور جس کا آغاز حمدو ثنا الہی سے ہو اس کوخطبہ کہتے ہیں۔

لیکن افسوس یہ ہے کہ اس کے باوجود اہل سنت کی کتابوں میں خطبہ غدیر مکمل نقل نہیں ہوا ۔ اس میں سے فقط ایک یا دو سطر کو لکھا ہے اور اس سے بھی زیادہ افسوس یہ ہے کہ صحیح بخاری جو کہ اہلسنت کی بنیادی ترین کتاب ہے جسے وہ قرآن کے بعد صحیح ترین جانتے ہیں ، با وجود اس کے کہ اس واقعہ کا پیغمبراکرم ﷺ کا شاندار اہتمام ، ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کو جمع کرنا اور ایک لاکھ بیس ہزار اصحاب کی روایت کے باوجود، صحیح بخاری میں واقعہ غدیر کا ذکر نہی ہے

جبکہ اسی شخص نے تاریخ صغیر میں اس واقعہ کو ذکر کیا ہے۔صحیح مسلم میں بھی اس کو کاٹ کاٹ کر دو سطر سے بھی کم ذ کر کیا ہے۔

حدیث غدیر کے محجور ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بنی امیہ حکومت سنبھالتے ہی نورولایت خصوصا واقعہ غدیر کو خاموش کرنے کے درپے تھے جیسا کہ اہلسنت کی بعض روایات کے مطابق اموی حکومت کے دوران حدیث غدیر نقل کرنا۔ نا قابل بخشش گناہ اور بہت بڑا جرم تھا ۔یہاں تک کہ واقعہ غدیر میں جو پیغمبراکرم ﷺ کے اصحاب موجود تھے وہ بھی اس واقعہ کو بیان کرنے کی جرأت نہیں کرتے تھے ۔یہان پر ا س تلخ حقیقت کے دو نمونوں کی طرف اشارہ کریں گے۔

عطیہ اقفی کہتا ہے: کہ میں نے زید بن ارقم کو کہا کہ ہمارے داماد کا کہنا ہے کہ آپ واقعہ غدیر میں موجود تھے ،ہمیں بھی بتائیں کہ پیغمبراکرم ﷺ نے غدیر خم میں کیا فرمایا؟ زید نے کہا:

أنّکم مَعشَرَ أهل العراق فیکم ما فیکم، فَقُلتُ له لَیسَ علَیکَ منّی بأس

(مسند احمد:۴/۳۶۸)

تم عراقی عجیب انسان ہو!

تمہارے سامنے ہر بات نہیں کی جاسکتی

تو میں نے کہا: میری طرف سےآپ مطمٔن رہیں میں حکومتی کارندہ نہیں ہوں۔

دوسرا نمونہ یہ ہےکہ راوی کہتاہے اہلسنت کےمشہورفقیہ شھاب الدین زھری کوحدیث غدیرنقل کرتے ہوئے دیکھا بہت ڈرتے ہوئے ان کے پاس پہنچا اور کہا :

لاتحدّث بهذا بالشام و أنتَ تَسمَعُ مَل٫ أذنَیکَ سبُّ علِی،

(اسد الغابة :۱/۳۰۸)

شام میں یہ حدیث لوگوں کےسامنے بیان نہ کروحالانکہ آپ نے خود لوگوں کو علی علیہ السلام پر سب وشتم کرتے سنا ہے۔

بہت سے ایسےنمونے ہیں جن میں سے دو کا ذکرہواہے جن سےمعلوم ہوتاہےکہ صحابہ اور تابعین،حدیث غدیرکو بیان کرنےسے کس طرح ڈرتےتھے۔یہ وحشت فقط خاندان امیہ ،بالخصوص معاویہ کی طرف سے تھی جنہوں نے نور ولایت کو خاموش کرنے اور لوگوں کو امیر المومنین علیہ السلام کی ولایت سے منحرف کرنے کی پوری کوشش کی۔

صرف کتاب معجم طبرانی ایسی ہے کہ جس میں واقعہ غدیر کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے، سیرہ حلبی نے بھی اس خطبہ کو اس سے نقل کیا ہے جو کہ ایک صفحہ سے بھی کم ہے،جبکہ مرحوم طبرسی نے احتجاج میں اسی خطبہ کو چالیس صفحہ سے بھی زیادہ نقل کیا ہے

اس خطبہ کے مختلف پہلوؤںسے معلوم ہوتا ہے کہ کہ پیغمبرﷺ کو کس حد تک امر ولایت اور اپنے بعد جانشینی کے مسألہ پر تشویش تھی۔ پیامبراکرمﷺ جانتےتھے کہ ان کی شریعت خاتم شریعت ہے اور ان کے بعد کوئی نبی نہیں۔دوسرا دین اسلام ، دین جاودانی ہے جو قیا مت تک زمین پر پائدار ہے، اس شریعت کے استحکام اور عدم تغییر و انحراف کے لیے کسی ایسے شخص کا تعارف ضروری ہے جو اس شریعت کی حفاظت کرے اس لیے غدیر خم کے دن آپ ﷺ نے واضح اور شفاف خطبہ غرا ارشاد فرمایا ۔

اہلسنت کی معتبر کتابوں میں حدیث غدیر

صحیح مسلم میں نقل ہے کہ زید بن ارقم سےحدیث غدیر کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے بڑھاپے کا عذر پیش کیا اور کہا کہ بہت عرصہ پہلے سنا تھا جو کہ ابھی ذہن میں نہی ہے۔ راوی کہتا ہے جب میں نے بہت زیادہ اصرار کیا تو کہا: پیغمبراکرم ﷺ نے مکہ اور مدینہ کی راہ میں غدیر خم کے مقام پر ہمارے درمیان کھڑے ہو کر خطبہ پڑھنا شروع کیا۔پیغمبراکرمﷺنےحمدوثناالھی کی اور مسلمانوں کو وعظ و نصیحت فرمائی۔

قَال أما بَعد ایهاالنَاس فَاِنَّما أنا بَشَر یُوشَکَ أن یأتِی رسُولُ رَبّی و أنا تارِک فیکُم الثَقَلَین اوّلهما کِتابَ الله، فیه الهدی و النّور، فَخُذُوا بِکِتابِ الله وَاستَمسَکُوا به فَحَثَّ علی کِتاب الله و رَغِبَ فیه ثُمَّ قال وَ أهلِ بیتی أذکِرُکُم الله فی أهلِ بَیتی ، أذکِرُکُم الله فی أهلِ بَیتی ، أذکِرُکُم الله فی أهلِ بَیتی

(صحیح مسلم:۷/۱۲۳)

اے لوگو؛بیشک میں ایک بشر ہوں اور قریب ہے کہ میرے پروردگار کا بھیجا ہوا نمائندہ آئے اور میں اسکی دعوت قبول کروں میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ،ایک کتاب اللہ ہے جس میں ہدایت اور نور ہے کتاب خدا کو لے لو اور اسے تھامے رکھو اور پھر پیغمبر ﷺ اسلام نے کتاب خدا پر عمل کرنے کی تاکید فرمائی اور اسکی جانب رغبت دلائی، اس کے بعد یوں فرمایا :

اور دوسرے میرے اہلبیت ہیں اپنے اہلبیت کے سلسلے میں ،تمہیں خدا کی یاد دلاتا ہوں ،

اپنے اہلبیت کے سلسلے میں ،تمہیں خدا کی یاد دلاتا ہوں ،

اپنے اہلبیت کے سلسلے میں ،تمہیں خدا کی یاد دلاتا ہوں ۔

البتہ بعض جگہوں پر یہ عبارت آئی ہے:

أنی تارِک فیکُم الثَقَلَین کِتابَ الله و عِترَتِی، أهلِ بیتی ،أن تمسکتم بهِما لَن تَضِلُّوا بَعدی و أنَّهما لَن یَفتَرِقا حتی یَرِدا علیَّ الحوض فانظُرُوا کَیفَ تُخَلِّفُونِی فیهما

(سنن ترمذی:۵/۳۲۹؛المعجم الکبیر:۳/۱۸۰)

میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں جب تک تم ان سے متمسک رہو گے ہرگز گمرااہ نہ ہونگے،یہ ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہونگے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے آ ملیں۔لہذا یہ دیکھنا کہ تم میرے بعد انکے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کرتے ہو۔

یہاں پر یہ سوال ہوتا ہے کہ حدیث ثقلین جو اتنی وسیع حدیث ،جو کہ اہلسنت کی روایات کی مختلف کتابوں میں اور متعددطریقوں اور اسناد کے ساتھ بیان ہوئی ہے مسلم نے اسے اپنی صحیحین میں دو لائنوں میں کیوں بیان کیا؟

البتہ کتاب معجم کبیر میں اسی خطبہ سے تقریبا ایک صفحہ ہے وہ کہتے ہیں جب پیغمبر ﷺ خم غدیر میں وارد ہوئے تو جھاڑیوں کوصاف کرنے کا حکم دیا پھر نماز قائم کی نماز کے بعد ایک خطبہ دیا جس کا لب لباب یہ ہے سب سے پہلے فرمایا: کہ انکی زندگی کے آخری ایام ہیں اور یہ آخری خطبہ پیغمبراکرم ﷺ تھا جس طرح ہر کوئی زندگی کےآخری ایام میں وصیت کرتا ہے اور اساسی مسائل کو بیان کرتا ہے پھر فرمایا: یہ کوئی عام پیغام نہی بلکہ میں خدا کی طرف سے اس پیغام کو پہونچانے پر مأمور ہوا ہوں اور اس کو پہنچانے سے درگذر نہیں کر سکتا ،میرے اس پیغام کو آگے پہنچانے میں آپ بھی ذمہ دارہیں۔

پھر فرمایا : میرے بارےمیں آپ کی کیا رائے ہے؟ سب نے شہادت دی کہ آ پ پیغمبراکرم ﷺ ہیں اور رسالت کو بطور احسن انجام دیا۔پھراس واقعہ کی اہمیت بیان کرنے سے پہلے بعض اصول دین کو بیان کیا تاکہ ولایت کو ان مسائل کا ہم رتبہ قرار دیں۔اس کے بعد فرمایا:

ألیسَ تشهدُون أن لا اِله اِللّه؟ وأنّ مُحمدا عَبدُهُ و رَسُولُه وَنَّ جَنّتَهُ حَق و نارَه حق و انّ الموت حق و أنّ البعثَ بَعدَ الموتِ حق؟ قالُوا بَلی، نَشهَدُ بِذلک

کیا خدا کی وحدانیت کی گواہی دیتے ہو؟ کیا میری رسالت کی گواہی دیتے ہو؟ کیا معاد، موت اور بعث بعداز مرگ کی حقانیت کی گواہی دیتے ہو؟ تو لوگوں نے کہا :ہاں ہم سب گواہی دیتے ہیں ۔

پھر اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور فرمایا خدایا گواہ رہنا پھر فورا فرمایا: ۔

ایها الناس ان الله مولای و انا مولی المؤمنین و انا أولی بهم من انفسهم، فمن کنت مولاه فهذا مولاه یعنی علیا

(المعجم الکبیر:۳/۱۸۰)

اے لوگو خدا میرا اور سب مومنین کا مولی ہے اور میں تم پر تم سے زیادہ ولایت رکھتا ہوں جس جس کا میں مولا ہوں علی علیہ السلام اس کے مولا ہیں ۔

اس خطبہ میں سب سے پہلے پیغمبراکرم ﷺ نے لوگوں پر اپنی ولایت کو واضح کیا پھر لوگوں سے اصول دین کی شہادت لی۔

پھر فرمایا :

من کنت مولاه فعلی مولاه

اس لیے ولایت علی علیہ السلام نماز، روزہ،حج ،زکوۃ،خمس کےہم پلہ نہیں بلکہ ولایت علی علیہ السلام اصول دین کے ہم پلہ ہے۔پیغمبراکرمﷺ اس کے بعد فرماتے ہیں:

اللّهمّ وال مَن والاه و عاد من عاداه؛

یہ بھی بہت ظریف جملہ ہے جس میں بیان فرماتے ہیں کہ ولایت اور عداوت علی، ولایت اور عداوت خدا ہے۔یہ واضح ہے کہ اگر ایک حاکم حکومتی مسائل میں جتنا بھی توانا ہو ،اگر لوگ اس کو نہ چاہتے ہوں تو وہ ہرگز کامیاب نہیں ہو سکتا۔

پیغمبراکرمﷺ اس عبارت سے لوگوں کے دلوں میں علی علیہ السلام کی محبت کا بیج بو رہے ہیں اور ان لوگوں کے لیے اعلان کر رہے ہیں کہ مبادا کوئی ایک دن علی علیہ السلام کی مخالفت کا پرچم بلند کرے اور انکی عداوت میں اٹھ کھڑا ہو، اس لئے کہ علی علیہ السلام کی عداوت ،عداوت خدا اور انکی مخالفت،مخالفت خدا ہے۔

اس لیے یہ کہنا مناسب ہو گا کہ پیغمبر اکرم ﷺ نے غدیر کے دن ایک حد مقرر کی جس کو عبور کرنا ،حق کے ساتھ دشمنی کے برابر ہے۔جو علی علیہ السلام کی اطاعت کرتے ہیں وہ پیغمبر کی دعا اور خدا کی محبت کے حق دار ہیں۔

لیکن رحلت پیغمبراکرم ﷺ کے بعد علی پر کیا بیتی؟بہت سی روایات میں پیغمبراکرم ﷺ نے فرمایا:

ضغائنُ فِی صُدُورِ قَوم لا یَبدُونَ لَک ألّا مِن بَعدی

(شرح نهج البلاغه؛ابن ابی حدید:۴/۱۰۸؛میزان الاعتدال:۴/۴۸۰)

میں لوگوں کے دلوں میں وہ کینہ دیکھ رہا ہوں جو میرے بعد ظاہر ہونے والا ہے

امیر المؤمنین علیہ السلام خودفرماتے ہیں:

انّ من عهد النبّی الامامی الیّ بِأنّ الامة ستعذر بِک بعدی،

(شرح نهج البلاغه؛ابن ابی حدید:۴/۱۰۷ )

پیغمبراکرمﷺ نے مجھے فرمایا:یا علی میرے بعد امت آپ سے خیانت کرے گی۔

ان بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبرﷺ کےلیے یہ سب واضح تھا لیکن اتمام حجت اور یہ کہ گمراہان اپنے انحرافی اعمال کے لیے توجیہ نہ رکہیں فرمایا:

یا ایها الناس انی فرطکم و انکم واردون الی الحوض و انی سائلکم حین تردون علی عن الثقلین، فانظروا کیف تخلفونی فيهما، فانه قد نبانی اللطیف الخبیر انهما لن ینقضیا حتی یردا علی الحوض

( المعجم الکبیر:۳/۱۸۰؛ سیره الحلبیه: ۳/۳۳۶)

اے لوگو؛ میں تمہارے درمیان سے چلا جاؤں گا اور جب قیامت کے دن حوض کوثر پر تم سے ملوں گاتو قرآن و عترت کے بارے میں پوچھوں گا کہ کس طرح ان دونوں سے پیش آئے۔خدا وند عالم نے مجھ سے فرمایا:یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملیں گے۔

خطبہ غدیر اس طرح بے نقص اور اسکے مطالب اس طرح واضح ہیں کہ حضرت زہرا سقیفہ بنی ساعدہ کے بعد مسجد تشریف لائیں اور انصار و مہاجرین سے فرمایا:

أنسیتم قول رسول اللّه صلی الله علیه و آله وسلم یوم غدیرخم: من کنت مولاه فعلیّ مولاه هل ترک أبی یوم غدیرخم لأحد عذرا؟

(النزاع و التخاصم:۹۸)

کیا پیغمبراکرمﷺکےغدیرخم کےفرمان کوبھول گئےہوجوآپ نےفرمایا:

جسکامیں مولا ہوں اسکےعلی علیہ السلام مولا ہیں۔کیا میرےوالدنےکسی کےلیےکوئی عذرباقی چھوڑا ہے۔

پیغمبراکرمﷺنےجو فرمایا کیا اس سے بہتر اتمام حجت ہوسکتی تھی؟

لیکن افسوس کیساتھ ہم طول تاریخ میں دیکھتے ہیں کہ غدیرکےمخالفوں نےاپنی تمام تر،کوششوں سے خطبہ غدیرکی توجیہ یا اس کو منحرف کرنےکےلیےبےبنیاد شبہات کےدامن کاسہارا لیا۔

مثال کےطورپرفخررازی جو اہلسنت کےمشہوراوراہلسنت میں جنکا کوئی ہم پلہ نہیں،جب حدیث غدیرپرپہنچے تو کہا:

ولم یکن علی مع النّبی فی ذلک الوقت فأنّه کان بالیمن

( نهایة العقول)

حجۃ الوداع میں پیغمبراکرمﷺکےساتھ علی علیہ السلام نہیں تھےبلکہ آپ یمن میں تھے۔

حالانکہ حضرت علی کا حجۃ الوداع میں ہوناصحیح بخاری۔مسلم، سنن ابن ماجہ، سنن ابن داؤد،اورصحیح ترمذی میں صراحت کےساتھ بیان ہوا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے جو میدانِ منی میں قربانیاں کیں ان میں سے کچھ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام یمن سے لائے تھے۔

(صحیح بخاری:۲/۱۴۹؛صحیح مسلم:۴/۴۰؛سنن ابن ماجه:۲/۱۰۲۴؛سنن ابنی داوود:۲/۱۵۸؛سنن ترمذی:۲/۲۱۶)

بہت سے اہلسنت کےعلمانےبھی فخررازی کےاس قول پر اعتراض کیا ،جیسا کہ ابن حجرمکی نے اپنی کتاب صواعق المحرقہ جو شیعہ عقائد کےردّ میں لکھی ہے اس میں کہا:

ولا التفات لمن قدح في صحته ولالمن رده بأن عليأ كان باليمن لثبوت رجوعه منها وإدراكه الحج مع النبي

(الصواعق المحرقة:۲۵)

وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ حدیث غدیر صحیح نہیں،اور جو کہتے ہیں کہ علی علیہ السلام یمن میں تھے،بے بنیاد ہے کیونکہ علی علیہ السلام کا یمن سے واپس آنا ثابت ہے۔

اسی طرح حنفی مذہب کے ایک بڑےعالم ملا علی قاری نے بھی اسی طرح کہا ہے :

وأبعدَ من ردّه بِأنّ علیا کَان با لیَمَن

(المرقاة فی کشف المشکاة:۵/۵۶۸؛شرح مواهب:۷/۱۳؛شرح مواقف:۸/۳۶۱)

بے بنیاد ترین بات یہ کہنا ہے کہ علی علیہ السلام حجۃ الوداع میں نہ تھے بلکہ یمن میں تھے۔

بعض نے کہا ہے اگرچہ حضرت علی علیہ السلام مکہ میں تھےلیکن حدیث غدیرصحیح نہیں اور یہ ضعیف ہے۔ اس شبہ کے جواب میں اہلسنت کے ایک بہت بڑے فقیہ کے اس قول پر اکتفا کریں گے۔

اِن لَم یَکُن معلوما، فَما فی الدّین مَعلوم

(هدایة العقول:۲/۳۰؛الغدیر:۱/۳۱۴)

اگر حدیث غدیرصحیح نہیں تو اسلام میں کوئی حدیث بھی صحیح نہیں۔

جنہوں نے بھی حدیث متواتر کے بارے میں لکھا ،اگر وہ اسکی مثال میں دو روایت لکھنا چاہیں تو یقینا ایک حدیث غدیر ہو گی۔اہلسنت کے بہت سےعلماء،حدیث غدیر کو متواترمانتے ہیں۔علم رجال میں اہلسنت مضمون حدیث غدیر،بمنزلہ نصّ قرآن ہونے کا اعتقاد رکھتے ہیں۔یعنی اگر کسی نے حدیث متواتر میں شک کیا تو گویا اس نے قرآن کی آیات میں شک کیا۔

بعض لوگوں نے خطبہ غدیر کے بارے میں ایک شبہ یہ بھی کیا ہے کہ امام علیہ السلام کے سفریمن میں ان کےساتھ آنے والوں نے حضرت کی شکایت کی ۔تو پیغمبراکرم ﷺ کا خطبہ غدیر حضرت علی علیہ السلام کی دلجوئی کےلئے تھا۔

ماجرا کچھ اس طرح ہے کہ امیر المؤمنین علیہ السلام حجۃ الوداع سے پہلے زکواۃ کی جمع آوری کے لیے یمن تشریف لے گئے تو یمن سے واپسی پر بعض اصحاب نے بیت المال میں سے اپنے شخصی استفادہ کے لیئے زکواۃ لی، جب امام کو معلوم ہوا تو آپ ناراض ہوئے اور ان پرسختی کی ،ان سے لباس اتروا لیے اور اونٹوں سے اتروا دیا اور فرمایا:تم لوگ بیت المال سےاستفادہ کا حق نہیں رکھتے۔ یہ سختی صحابہ پر گراں گذری اس لیے پیغمبراکرم ﷺ کے پاس آکرآپ علیہ السلام کی شکایت کی ۔

بعض اہلسنت کہتے ہیں کہ جب پیغمبر ﷺ نے دیکھا کہ لوگ علی علیہ السلام سے رنجیدہ ہیں اور اپنے سینوں میں کینہ اوربغض رکھتے ہیں تومسلمانوں کو غدیرمیں جمع کیا اور

فرمایا:اےلوگو!

علی علیہ السلام سے ناراض نہ ہوں وہ بہت نیک ہیں اگر سختی کرتے ہیں تودینی مسائل کی خاطر۔اس شبہ کی اصل،ابن کثیر کی یہ عبارت ہے جس میں کہتا ہے:

والمقصود أن عليا لما كثر فيه القيل والقال من ذلك الجيش بسبب منعه إياهم استعمال إبل الصدقه واسترجاعه منهم الحلل لما رجع رسول الله صلي الله عليه و سلم من حجته وتفرغ من مناسكه ورجع إلي المدينه فمر بغديرخم قام في الناس خطيبا فبرأ ساحه علي ورفع من قدره ونبه علي فضله ليزيل ما وقر في نفوس كثير من الناس

حدیث غدیر سے پیغمبر ﷺ کا مقصد یہ تھا کہ جب آپ ﷺ نے دیکھا کہ حضرت علی علیہ السلام کی سختی اور لوگوں کے تن سے لباس اتارنے اور ان سے اونٹ واپس لینے کے بارے میں بہت سی باتیں ہو رہی ہیں تو لوگوں کو غدیر خم میں جمع کیا اور حضرت کی فضیلت بیان کی ،تا کہ لوگوں کے دلوں سے بغض علی علیہ السلام نکل جائے۔

امیرالمؤمنین علیہ السلام کےسفرِیمن کی حقیقت

امیر المؤمنین علیہ السلام کے سفر یمن کے بارے میں بہت سے مطالب ذکر ہوئے ہیں ۔آپ حیات پیغمبراکرم ﷺ میں تین بار یمن تشریف لے گئے ایک بار پیغمبر ﷺ کے حکم سے سرزمین قبیلہ ہمدان کو فتح کرنے کے لیے گئے ۔ آپ سے پہلے خالد بن ولید لشکر اسلام لے کر گیا اور چھے مہینہ لوگوں کو اسلام کی دعوت دی لیکن کسی نے اسلام قبول نہ کیا ۔مگر جب حضرت علی وہاں تشریف لے گئے ،تو ابتدائی دنوں میں ہی لوگوں نے اسلام قبول کر لیا اور جوق در جوق دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔

جب امیر المؤمنین علیہ السلام نے قبیلہ ہمدان کے مسلمان ہونے کی خبر لکھ کر بھیجی تو پیغمبراکرم ﷺ نے تین بار قبیلہ ہمدان کے لیے دعا کی ۔اس وقت سے لے کر اب تک قبیلہ ہمدان (یمن) کے لوگ حضرت علی علیہ السلام کے شیعہ اور آپ کے چاہنے والے ہیں۔

اس سفر میں چار اصحاب نے ایک بریدہ نامی شخص کو آمادہ کیا کہ وہ پیغمبراکرم ﷺ کا پاس حضرت علی علیہ السلام کی بدگوئی کرے تا کہ حضرت علی علیہ السلام ،پیغمبراکرمﷺ کی نظر میں گر جائیں۔

بریدہ کہتا ہے کہ جب میں پیغمبراکرم ﷺ ک خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی بات کی تو پیغمبراکرم ﷺ ناراض ہوئے اور فرمایا:

ماذا تريدون من علي؟ إنّ عليّأ منّي وأنا منه وهو ولي كلّ مؤمن بعدي.

علی علیہ السلام سےکیاچاہتےہو؟علی مجھ سےہے اور میں علی سےہوں وہ میرےبعدتمام مؤمنین کا ولی ہے۔

حاکم نیشاپوری کہتاہے کہ یہ حدیث صحیح ہےلیکن مسلم اوربخاری اس حدیث کو نہیں لائے؛ملاحظہ ہوں)

(مسند احمد:۴/۴۳۸؛/ المستدرک علی الصحیحین:۳/۱۱۰)

حضرت علی علیہ السلام کا یمن کی طرف دوسرا سفر قبیلہ مدہج میں جنگ شروع ہو نے کی وجہ سے تھا جس میں بہت سارے لوگ مارے گئے تھے۔حضرت علی علیہ السلام کے اس علاقے میں جانے سے بہت سارے لوگ مسلمان ہو گئے اور سارا مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ آیا ۔امیر المومنین علیہ السلام کے اس سفر میں کسی قسم کی کوئی شکایت تاریخ میں نہیں۔

امیر المومنین علیہ السلام کا تیسرا سفر یمن جو کہ ہمارا مورد بحث ہے حضرت علی علیہ السلام زکوۃ کی جمع آوری اور قضاوت کے لیے یمن ،اور نجران تشریف لے گئے۔حضرت ابھی نجران میں ہی تھے کہ رسول اکرم نے نامہ تحریر فرمایا کہ وہ عازم حج ہیں اور آپ کو بھی حج کے لیے آنے کا فرمایا ۔امیر المومنین علیہ السلام بہت سارے اصحاب کے ساتھ مکہ کی طرف چل پڑے اور مکہ پہنچنے سے پہلے سنا کہ پیغمبراکرم ﷺمدینہ سے مکہ آ رہے ہیں ۔یہ سنتے ہی امیر المومنین علیہ السلام نے ایک شخص کو بیت المال کی حفاظت کے لیے مقرر کیا اور خود پیغمبراکرم ﷺ کی طرف گئے تاکہ مکہ سے پہلے آپ سے ملاقات کریں ۔پیغمبراکرمﷺ سے ملاقات کے بعد آنحضرت نے آپ سے فرمایا :آپ اپنے اصحاب کے پاس تشریف لے جائیں۔جب امیر المومنین علیہ السلام واپس تشریف لے گئے اور دیکھا کہ بیت المال کو غلط استعمال کیا جا رہا ہے تو آپ ان سے سختی سے پیش آئےاور ان کو ملامت کیا ۔

حضرت علی علیہ السلام کے مکہ پہنچنے کے بعد آپ کے ساتھ آنے والوں نے پیغمبراکرم ﷺ کی خدمت میں جا کر آپ کی سختی شکایت کی۔اس شکایت کے بعد پیغمبراکرم ﷺ نے خطبہ دیا جس کو اہلسنت کے تقریبا بیس معتبر مصادر نے ذکر کیا ،مؤرخین نے اس خطبہ کی نسبت بے اعتنائی کی ۔

(مسند احمد :۳/۸۶؛سیره النبویه؛ابن هشام:۴/۱۰۲۲؛البدایه والنهایه:۵/۲۲۸)

ابن اثیر جزری کہتا ہے:

فشکاه الجیش الی رسول الله(صلی الله علیه و آله) فقام النبی(صلی الله علیه و اله) خطیبا فقال: ایها الناس!لا تشکو علیّا...

(الکامل فی التاریخ:۲/۳۰۱)

لشکروالوں نےپیغمبرﷺسےعلی علیہ السلام کی شکایت کی۔پیغمبرﷺ کھڑےہوئےاورخطبہ دیا اورفرمایا:علی علیہ السلام کی شکایت نہ کریں کیونکہ وہ دینی مسائل میں سخت ہیں۔

خطبہ غدیر کے بعد کے واقعات

جب پیغمبراکرم ﷺ نے حضرت علیہ السلام کی خلافت کا اعلان کیا ،اس کے بعد تین دن سرزمین غدیر خم میں رہے ۔اس دوران سب لوگوں نے علی علیہ السلام کی بیعت کی ۔پیغمبر ﷺ نے اپنے عمامہ

(جسکا نام سحاب تھا)

علی علیہ السلام کےسرپررکھا،یہاں تک کہ ایک طشت کو پانی سےبھرکراپنی بیویوں کو حکم دیا کہ اس کے ذریعے علی علیہ السلام کی بیعت کریں۔

مراسم کے اختتام پر حارث بن نعمان نامی شخص پیغمبراکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہا:یا رسول اللہ ؛آپ نے کہا نماز پڑہو ہم نے پڑھی، آپ نے فرمایا زکوۃ ادا کرو ہم نے ادا کی،آپ نے کہا رمضان کے روزے رکھو ہم نے رکھے،آپ نے کہا حج پہ جاؤ ہم گئے۔

ثم لم ترض بذلک حتی رفعت بضبع ابن عمّک ففضلته علینا، وقلت: من کنت مولاه فعلی مولاه، فهذا شی‌ء منک أم من الله فقال رسول الله: والذی لا إله إلّا هو أنّ هذا من الله. فولی جابر یرید راحلته وهو یقول: ( اللهم إن کان ما یقول محمد حقأ فأمطر علینا حجارة من السماء أو ائتنا بعذاب ألیم ). فما وصل إلیها حتی رماه الله بحجر فسقط علی هامته وخرج من دبره وقتله، وأنزل الله تعالی: (سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ لِّلْکَافِرینَ لَیْسَ لَهُ دَافِعٌ )

(سیره الحلبیه:۳/۳۳۷؛تفسیر الثعلبی:۱۰/۳۵؛تفسیر القرطبی:۱۸/۲۷۹)

اس پر بھی راضی نہیں ہوئے یہاں تک کہ اپنے بھتیجے کا بازو بلند کر کے ہم پر برتری دی اور کہا : جس کا مولا ہوں اس کا علی علیہ السلام مولا ہے،،اے پیغمبر ﷺ اپنی طرف سے علی علیہ السلام کو برتری دی ہے یا یہ خدا کی جانب سے تھی؟پیامبر ﷺ نے فرمایا : مجھے اس خدا کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں یہ خدا کی جانب سے حکم تھا۔یہ سننے کے بعد حارث اپنی سواری کی طرف بڑھا اور کہا : خدایا اگر پیغمبر ٹھیک کہہ رہے ہیں تو مجھ پر آسمان سے پتھر برسا کے مجھے ہلاک کردے ۔حارث ابھی سواری تک نہیں پہنچا تھا کہ آسمان سے اس کے سر پر پتھر گرا اور اس کے مقعد سے باہر آ گیا اور وہ ہلاک ہو گیا ۔

قرآن کریم کی نظرمیں غدیر

غدیر کے بارے میں بہت سی آیات ہیں ان آیات میں سے آیہ غدیر کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے

(يَأَيهُّا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّک )

(مائده:۶۷)

اے پیغمبر ﷺ آپ اس حکم کو پہنچادیں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔

اگر اہلسنت کی تاریخی،روایی اور تفسیری کتابوں کی طرف مراجعہ کیا جائے تو دیکہیں گے کہ بہت سارے بزرگان اہلسنت نے صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ یہ آیت غدیر کے دن امیرالمومنین علیہ السلام کی امامت کے انتخاب کے لیے نازل ہوئی۔جیسا کہ جلال الدین سیوطی (جس کے بارے میں کہا گیا سیوطی کی موت سے علوم پیغمبر ﷺ بھی زمین میں دفن ہو گئے) نے کہا: یہ آیت غدیر خم کے دن امام علی علیہ السلام کو خلیفہ منتخب کرنے کے لیے نازل ہوئی۔

(الدر المنثور:۳/۶۳۶)

بزرگان اہلسنت میں سےفخررازی نے اپنی تفسیر میں جو روایات خلافت امیرالمومنین علیہ السلام سے مربوط ہیں ان کو مفہوم میں تبدیل کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔مگرجب اس آیت پر پہنچا تو کہا: یہ آیت ۱۸ ذی الحجہ کو امام علی علیہ السلام کے انتخاب خلافت کے لیے نازل ہوئی۔

(تفسیر کبیر:۱۲/۵۰)

واحدی نیشاپوری،

(اسباب النزول:۱۱۵)

شوکانی،

(فتح الغدیر:۲/۶۰)

ابی الفتح شھرستانی،

(ملل انحل:۲/۱۶۳ )

اور بہت سارے اہلسنت مفسرین نے واضح کہا ہے کہ یہ آیت شریفہ غدیرخم کےدن امیرالمومنین علیہ السلام کے انتخاب خلافت کےلیے نازل ہوئی۔

اسی طرح اس آیت کے بارے میں نقل ہوا ہے:

نزلت علی رسول الله صلی الله علیه و آله و سلم یوم الثامن عشر من شهر ذی الحجة عقیب حجة الوداع فی غدیر خم قبل تنصیب الإمام علی علما للناس لیکون خلیفته من بعده و ذلک یوم الخمیس ، و قد نزل بها جبرائیل(علیه السلام)بعد مضی خمس ساعات من النهار فقال : یا محمد إن الله یقرئک السلام و یقول لک: (یا أیها الرسول‌یا أیها الرسول بلغ ما أنزل إلیک من ربک ، و إن لم تفعل فما بلغت رسالته و الله یعصمک من الناس )

(الدر المنثور:۲/۲۹۸؛شواهد التنزیل:۱/۲۴۶؛الملل و النحل:۱/۱۶۳؛تفسیر الکبیر:۱۲/۵۰)

پیامبر ﷺ نےجب حضرت علی علیہ السلام کو اپنے بعد امام اور خلیفہ مقرر کیا تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔وہ جمعرات کا دن تھا اور دن کے پانچ گھنٹے گزرے تھے کہ جبرئیل پیغمبر ﷺ پر نازل ہوا اور کہا: خدا وند سلام کے بعد فرما رہا ہے کہ جو اپنے رب کی طرف سے آپ پر نازل ہوا اس کو پہنچا دو۔

اس آیت شریفہ کے بارے میں سوال ہے کہ خدا نے اپنے پیغمبراکرم ﷺ کو فرمایا:

(يَأَيهُّا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَ إِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَ اللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاس )

اس آیت کی بنا پر یہ کہنا درست ہے کہ پیغمبر ﷺ کسی سے ڈرتے تھے؟

کیا معصوم کے کسی چیز سے ڈرنے کو قبول کیا جا سکتا ہے؟

اس کے جواب میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ جب پیغمبراکرم ﷺ نے اپنے مکی دور میں ۱۳سال قریش کے ظلم و ستم کے مقابلے میں کوئی ردّ عمل نہیں دکھایا تو کیا اس وقت معصوم نہیں تھے؟

جب پیغمبراکرم ﷺ نےقتل کے ڈر سے غار میں پناہ لی اور وہاں سے اپنی ہجرت کا آغاز کیا ،کیا معصوم نہ تھے؟

کیا جب حضرت موسی نےقوم بنی اسرائیل کے ڈر سے فرار کیا تو معصوم نہ تھے؟

ان سوالوں سے معلوم ہوتا ہے کہ خوف اور عصمت کا ایک دوسرے سے کوئی ربط نہیں۔ائمہ اور انبیا معصوم ہیں یعنی خطا اور غلطی نہیں کرتے اور نہ ہی اپنے سب کام معجزہ سے کرتے ہیں۔قرآن زبان پیغمبر ﷺ میں فرما رہا ہے:

(قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكمُ‏ يُوحَى إِلى )

(کغف:۱۱۰ )

آپ کہ دیجیے کہ میں تمہارے ہی جیساایک بشر ہوں مگر میری طرف وحی آتی ہے۔

خدا نے کیوں فرمایا

(وَ اللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاس

پیغمبر ﷺ امرخلافت علی علیہ السلام میں کس چیز سے ڈرتے تھے؟ابن عباس نقل کرتے ہیں:

لمّا أمر رسول الله بِابلاغِ أمرالامامة ،قال انّ قومی قریبوا عهد بالجهالة،و فیهم تنافس و فخر وما منهم رجل الّا وقد وتره ولیهم و انّی أخاف فأنزل الله: (يَأَيهُّا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَ إِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَ اللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاس )

(شواهد التنزیل:۱/۲۵۵)

(جب پیغمبر ﷺ کو امر ولایت کے ابلاغ کا حکم ہوا ،آنحضرت ﷺ نے فرمایا :

میرے قبیلہ میں ابھی تک جا ھلیت کے آثار ختم نہیں ہوئے اور یہ شہرت اور مقام کے طلبگار ہیں ۔اسی طرح ان سب قبیلوں کے لوگ مختلف جنگوں میں حضرت علی علیہ السلام کے ہاتھوں قتل ہوئے ،اور یہ حضرت علی علیہ السلام سے بغض و کینہ رکھتے ہیں ،اس لیے ڈر رہا ہوں۔تو اس وقت یہ آیت نازل ہوئی)

اسی طرح سیوطی نے لکھا:

ان رسول الله قال: ان الله بعثنى برسالة فضقت بها ذرعا وعرفت ان الناس مکذبى فَوَعدنِی لأبلّغنّ أو لَیُعذّبنی

(الدر المنثور:۲/۲۹۸)

پیامبر ﷺ نے فرمایا: جب مجھے ولایت کے ابلاغ کا حکم ہوا ،جانتا تھا کہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے ۔خدا نے بھی حکم دیا، یا خدا کے حکم کو انجام دو نہیں تو تمہیں عذاب ہو گا۔

وہ لوگ جو ایک عام سے عبادی اور فقہ ی حکم میں پیغمبر کے مقابلے میں کھڑے ہو گئے کہ عائشہ نے پیغمبر ﷺ سے کہا:

فقلت من آغضبک یا رسول الله،آدخله الله النار،

توکیا توقع نہیں کی جا سکتی کہ اس قدر اہم حکم میں پیغمبرﷺ کے مقابل کھڑے ہوں؟

صحیفہ ملعونہ کا واقعہ

شیعہ کتابوں میں صحیفہ ملعونہ کے بارے میں ایک بحث پائی جاتی ہے یہ صحیفہ ، بارہ یا اٹھارہ اصحاب کا عہد نامہ ہے جو واقعہ غدیر کے بعد لکھا گیا ہے ۔ان لوگوں نے آپس میں عہد کیا کہ علی کو خلیفہ پیغمبر ﷺ نہ بننے دیا جائے۔ انہوں نے ایک عہد نامہ لکھ کر عثمان کو دیا تا کہ وہ اسے مکہ میں مخفی کر دے۔عمر کی خلافت کے آخر میں یہ عہدنامہ فاش ہوا اور یہ اہلسنت کی کتابوں میں بھی درج ہے۔

(سنن نسائی: ۲/۸۸؛مستدرک:۲/۲۲۶؛معجم الاوسط:۷/۲۱۷؛بحار الانوار:۱۰/۲۹۷)

البتہ ممکن ہے کہ بعض لوگوں کے ذہن میں یہ سوال ہو کہ پیغمبراکرم ﷺ نے علم غیب سے استفادہ کیوں نہیں کیا اور اپنے ان اصحاب کے باطن کے بارے میں دوسروں کو بتاتے تاکہ بعد میں انحراف کا باعث نہ ہو؟

اس سوال کا جواب قرآن کی آیات میں ہے۔خدا وند منافقین کے بارے میں فرماتا ہے:اے پیغمبر ﷺ؛ اطراف مدینہ کچھ منافقین ہیں کہ

(لاتَعلَمهم نَحنُ نَعلَمهم )

(توبه:۱۰۱)

تم ان کو نہیں جانتےمگر ہم جانتے ہیں۔

خدا نے مصلحت کی بنا پر پیغمبراکرم ﷺ کو ان کے بارے میں نہیں بتایا۔

اسی طرح جنگ تبوک سے واپسی پر بارہ صحابیوں نے پیغمبراکرم ﷺ کو پہاڑ سےنیچے گرانے اور آپ کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔حذیفہ کہتا ہے:میں نے ان کو دیکھا اور پہچانتا ہوں۔عمار بن یاسر نے بھی کہا میں نے انکو دیکھا اور پہچانتا ہوں۔حذیفہ نے پیغمبراکرم ﷺ سے اجازت طلب کی تاکہ ان کو رسوا کرے۔مگر پیغمبراکرم ﷺ نے اجازت نہیں دی اور فرمایا:میں نہیں چاہتا کہ یہ شایع ہو کہ محمدﷺ تلوار سے اپنے اصحاب کو قتل کر رہے ہیں۔

(رک المحلی:۱۱/۲۲۴)

واقعہ غدیر کے متعلق آیات میں سے ایک اور آیت

(الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ أَتمْمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتىِ وَ رَضِيتُ لَكُمُ الْاسْلَامَ دِينٔا )

(مائده۳ )

ہے اس آیت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ جب پیغمبر ﷺعلی علیہ السلام کی خلافت کا اعلان کیا تو یہ آیت نازل ہوئی۔

(الاتقان:۱/۳۱؛تاریخ یعقوبی:۲/۳۵؛تاریخ بغداد:۸/۲۹۰؛الدر المنثور:۲/۲۵۹؛تاریخ ابن عساکر:۲/۷۵؛تذکره الخواص:۲۳۰؛تفسیر ابن کثیر: ۲/۱۴؛شواهد التنزیل: ۱/۱۵۷؛)

البتہ اس آیت کے نزول کے دن کے بارے میں اور بھی اقوال ہیں جن میں سے بعض کی طرف اختصار سے اشارہ کریں گے۔بعض اہلسنت کہتے ہیں کہ الیوم سے مراد روز بعثت یا روز فتح مکہ ہے ۔بعض کہتے ہیں اس سے مراد قرأت سورہ برأت ہے مگر اہلسنت کی اس کے بارے میں اہم ترین مستند صحیح بخاری کی عبارت ہےجو خلیفہ دوّم کا قول ہے:

عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه أن رجلا من اليهود قال له: يا أمير المؤمنين آية في كتابكم تقرؤونها، لو علينا معشر اليهود نزلت لاتخذنا ذلك اليوم عيد ا قال أي آية؟ قال : (اليوم أكملت لكم دينكم وأتممت عليكم نعمتي ورضيت لكم الإسلام دينا ). قال عمر: قد عرفنا ذلك اليوم والمكان الذي نزلت فيه على النبي صلى الله عليه وسلم، وهو قائم بعرفة، يوم جمعة

(صحیح بخاری: ۱/۱۶)

ایک یہودی خلیفہ دوم کےپاس آیا اور کہا:یا امیرالمومنین تمہاری کتاب میں ایک آیت ہےجسکوآپ پڑھتے ہیں اگر وہ ہم پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید کا دن قرار دیتے۔خلیفہ نے کہا : کونسی آیت؟یہودی نے آیت اکمال کو پڑھا وخلیفہ نے کہا: مجھے پتہ ہے کہ یہ کس جگہ نبی ﷺ پر نازل ہوئی۔یہ آیت جمعہ کے دن عرفات میں نازل ہوئی ہے۔

لیکن یہ حدیث صحیح نہیں ہو سکتی کیونکہ عرفہ کے دن اگر جمعہ ہوتا تو پیغمبر ﷺ حتما نماز جمعہ پڑھاتے مگر کسی بھی روایت میں نہیں کہ پیغمبر ﷺ نے عرفہ کے دن نماز جمعہ پڑھائی۔اس سے واضح ہو گیا کہ یہ ضعیف اور مرسل روایت ہے۔

اس کے علاوہ اہلسنت کی بہت سی کتابوں میں ہے کہ عرفہ پیر کو تھا ۔

(تفسیر ابن کثیر:۲/۱۴؛الدر المنثور:۲/۲۵۸؛المعجم الکبیر:۱۲/۱۸۳)

اور یہ خلیفہ دوم کے قول کے برعکس ہے جو آیہ الیوم کے روز جمعہ کے نزول کے معتقد ہیں۔صحیح مسلم نے بھی اہلسنت کے مشہور فقیہ سفیان ثوری کے قول کو نقل کیا ہے جو کہتے ہیں:

و أشُکَ کانَ یَوم الجمعة أم لا

(صحیح مسلم:۸/۲۳۸)

مجھے شک ہے کہ یہ آیت جمعہ کے دن نازل ہوئی ہو۔

اسی طرح عمر ابن لخطاب نے کہا: یہ آیت عرفہ کے دن نازل ہوئی اور دین کامل ہوا۔اس آیت کے بعد احکام الھی سے کوئی بھی حکم نہیں آیا۔حالانکہ خود اس سے نقل ہوا ہے کہ آیت ربا ،عرفہ کے بعد نازل ہوئی اور آیت کلالہ بھی آیت شریفہ

(الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ )

کے بعد نازل ہوئی۔

(مسند احمد:۱/۳۶)

البتہ آیہ اکمال کے بارے میں ایک سوال مطرح ہوتا ہے کہ

(يَأَيهُّا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ )

سورہ مائدہ کی ۶۷ نمبر آ یت ہے اور

(الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ )

اس سورہ کی تیسری آیت ہے ۔

کیسے پہلے دین مکمل ہوا اور بعد میں ابلاغ ہوا؟

اس سوال کا جواب واضح ہے کیونکہ آیات کی ترتیب نزول کے مطابق نہیں ہے بہت سی آیات مکہ میں نازل ہوئیں لیکن ان کو مدنی سوروں میں لکھا گیا ہے اور اس کے برعکس ۔

قرآن کےعلاوہ دوسرے ادیان کی آسمانی کتابوں میں بھی واقعہ غدیر کی بشارت دی گئی ۔جیسے روایت میں ہے کہ پیغمبراکرم ﷺ کی رحلت کے بعد کچھ یہودی حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں آئے اور کہا ہم نےسابقہ کتابوں میں پڑھا ہے کہ پیغمبرآخرالزمان کے وصی کا نام علی ہے ۔اہلسنت کی کتابوں میں جیسے ینابیع المودۃ اور فرائدالسمطین میں پانچ اور رایات بھی اس موضوع پر ہیں ۔

علما اہلسنت اور حدیث ، غدیر

حدیث غدیر کی دلیل کے بارے میں شبہات میں سے بنیادی شبہ یہ ہے کہ مولا بروزن مفعل اور اولی اور افعل کے معنی کے لیے نہیں ہے۔ اگر پیغمبراکرم ﷺ فرماتے

'' مَن کُنتُ أولی به، فَعَلیّ أولی به ، یا '' مَن کُنتُ وَلِیّه، فَعَلیّ وَ لِیّه ،،

تو قبول کر لیتے کیونکہ '' اولی بہ" ولایت امر اور امامت کے معنی میں ہے۔ لیکن پیغمبراکرم ﷺ نے فرمایا:

مَن کنتُ مولاه فعلی مولاه

مولا کے بہت سارے معنی ہیں اور ان میں سے ایک محبت اور نصرت ہے ۔

اس لیے پیغمبراکرم ﷺ کا مقصد ہے کہ جو بھی مجھ سے محبت کرتا ہے وہ علی علیہ السلام سے بھی محبت کرے۔، جو بھی میرا مددگار ہے وہ علی علیہ السلام کی بھی مدد کرے۔

شیعہ اس کے جواب میں کہتے ہیں :

۱ ۔ ہم وہ روایات جن میں

'' مَن کنتُ مولاه فعلی مولاه،،

آیا ہے ان سے صرف نظر کرتے ہوئے اہلسنت کی کتابوں سے ایک اور عبارت نقل کرتے ہیں۔اہلسنت کی کتابوں میں ہے کہ پیغمبراکرم ﷺ نے فرمایا:

أَلَسْتُ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ من أَنْفُسِهِمْ قالوا بَلَى قال فَهَذَا وَلِيُّ من أنا مَوْلَاهُ

(سنن ابن ماجه:۱/۴۳؛سیرهالنبویه؛ابن کظیر:۴/۴۱۷؛البدایه والنهایه:۵/۲۲۹؛تاریخ بغداد:۴/۲۳۶؛تفسیر طبری:۳/۴۲۸)

کیا میں تم سے زیادہ تم پر ولایت نہیں رکھتا ؟ کہا : ہاں تو فرمایا: یہ (علی علیہ السلام ) ہر اس کا ولی ہے جس کا میں مولا ہوں ۔

اسی طرح فرمایا:

مَن کنتُ مولاه فهذاعلی ولیه

(اسد الغابه:۱/۳۰۸)

جس جس کا میں مولا ہوں،علی اس کا ولی ہے ۔

زید بن ارقم نے پیا مبر اکرم سے روایت کی ہے:

مَن کنتُ ولیه فهذاعلی ولیه

( خصائص:۹۳؛فضائل الصحابه:۱۴)

جس جس کا میں ولی ہوں،علی اس کا ولی ہے ۔

اسی طرح روایت میں ہے:

مَن کُنتُ أولی به من نفسه،فَعلیّ ولیّه

(مجمع الزوائد:۹/۱۶۴)

جو بھی مجھے جان سے زیادہ اولی رکھتا ہے علی اس کا ولی ہے۔

۲- ایک بزرگ اہلسنت نے کہا: کسی بھی لغت کی کتاب میں یہ دعوی نہیں کیا گیا کہ کلمہ مولا کا معنی اولی ہے

حالانکہ عربی ادب کے بنیادگذار ،جیسے کعبی، زجّاج، ابو عبیدہ، اخفش،اور مبرقع کہتے ہیں کہ مولی کے معانی میں سے ایک اولی ہے۔

(ر ک تفسیر اکبیر:۲۹/۲۲۷)

اسطرح ایک اور قرینہ سے بھی مشخص ہو جاتا ہے کہ مولا ،اولی بنفس کے معنی میں ہے پیغمبراکرم ﷺ کا وہ جملہ جس کے ذریعے لوگوں سے اعتراف لیا

الَستُ أولی بکم من أنفُسکم؟

کیا میں تم سے زیادہ تم پر ولایت نہیں رکھتا؟

اس سےمعلوم ہو جاتا ہے کہ کلمہ مولا کا مورد نظر معنی بھی اولی ہے۔

ایک اور دلیل وہ اشعار ہیں جو غدیر خم کے بعد کہے گئے۔حسان بن ثابت ایک مشہور شاعر ہیں جنہوں نے یہ اشعار پڑھے

ینادیهم یوم الغدیر نبیهم بخم و اکرم بالنبی منادیا

تا

فقال له: قم یا علی فاننی رضیتک من بعدی اماما و هادیا

(نظم در السمطین:۱۱۳)

پیغمبر نے فرمایا:یا علی اٹھو میرے بعد لوگوں کے امام اور ہادی آپ ہیں۔

اگر مولا بمعنی امام نہ ہوتا توحسان بن ثابت کو کیسےمعلوم ہوا کہ پیغمبراکرم ﷺ نےحضرت علی علیہ السلام کو امت کے لیے ھادی اور امام قرار دیا؟

ایک اور دلیل کہ پیغمبر ﷺ اسلام نے خطبہ غدیر میں لوگوں سے وحدانیت خداوند، اپنی رسالت اور معاد کی شہادت لی۔اگر مولی بمعنی امام اور رہبر نہ ہوتا ،جو کہ دین اسلام کے ارکان میں سے ہے تو آنحضرت کا توحید،نبوت، اور معاد کا ذکر کرنا مناسب نہ تھا۔

اس کے علاوہ جب نبی مکرم اسلام نے حضرت علی کو خلافت کے لیے منصوب کیا تو فرمایا:

اللّه اکبر علی اکمال الدّین و اتمام النّعمة و رضی الرّبّ برسالتی و بالولایة لعلیّ (ع)من بعدی

(شواهد التنزیل:۱/۲۰۲؛مسند احمد:۶/۴۸۹؛صحیح ترمذی:۵/۵۹۰؛سنن کبری:۵/۴۵ )

اللہ بہت بڑا ہے کہ جس نے دین کو کامل کیا اور نعمات کو تمام کیا اور میری رسالت اور میرے بعد علی کی ولایت پر راضی ہوا۔

اہل سنت کے ساٹھ مصادر میں نقل ہوا ہے کہ خلیفہ اول اور دوم غدیر کے دن،سب سے پہلے حضرت علی علیہ السلام کو مبارک باد دی:

هنياء يا بن أبي طَالِبٍ أَصْبَحْتَ وَأَمْسَيْتَ مولى كل مُؤْمِنٍ وَمُؤْمِنَةٍ.

(مسند احمد:۴/۲۸۱؛شواهد التنزیل:۱/۲۰۱و۲۰۲؛تفسیر کبیر:۱۲/۴۹؛الغدیر:۱/۲۷۲)

اے ابو طالب علیہ السلام کے بیٹے مبارک ہو کہ آپ میرے اور ہر مؤمن مرد و عورت کے مولا بنے ہو۔

ذہبی نے ابو حامد کے شرح حال میں کہا ہے:

ذكر أبو حامد الغزالي في كتاب سر العالمين وكشف ما في الدارين ألفاظا تشبه هذا. فقال قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم لعلي يوم غدير خم: من كنت مولاه فعلي مولاه. فقال عمر بن الخطاب: بخ بخ يا أبا الحسن أصبحت مولاي ومولى كل مؤمن ومؤمنة. قال: وهذا تسليم ورضى وتحكيم، ثم بعد هذا غلب الهوى حبا للرياسة وعقد البنود وخفقان الرايات وازدحام الخيول في فتح الأمصار وأمر الخلافة ونهيها، فحملهم على الخلاف (فنبذوه وراء ظهورهم واشتروا به ثمنا قليلا فبئس ما يشترون )

(سیره اعلام النبلا ً ۱۹/۳۲۸؛تذکرة الخواص:۶۲ )

ابو حامد غزالی نے کتاب سرّ العالمین میں حدیث ''جس کا میں مولا ہوں اس کا علی مولا ہے،،کے بارے میں کہا: عمر نے حضرت علی علیہ السلام سے کہا: بخ بخ آپ آج سے میرے اور ہر مومن اور مومنہ کے مولا ہیں ،عمر نے در حقیقت اس عبارت سے ولایت علی علیہ السلام کو تسلیم کیا اور اس کی رضایت دی۔مگر اس واقعہ کے بعد اس پر خواہشات نفسانی کا غلبہ ہو گیا،اور ریاست طلبی، اور مقام خلافت کے حصول ،اور حکومت کے لیے امر خلافت میں حضرت علی علیہ السلام کی مخالفت کی اور فرمان پیغمبر کی اعتنا نہیں کی ،پیامبر کے فرمان کے مقابلے میں ایک معمولی سی حکومت کو ترجیح دی۔کتنا برا معاملہ کیا،،


تیسری فصل

مسئلہ ولایت کے متعلق آیات اور روایات

اس باب میں کلی طور پر دو مطلب کی طرف اشارہ کیا ہے پہلے حصے میں مسئلہ ولایت کے متعلق بعض آیات اور روایات کی طرف اشارہ کریں گے اور دوسرے حصے میں ولایت علی علیہ السلام پر عقلی دلائل پیش کریں گے۔

پہلے حصے میں یہ آیات اور روایات شامل ہیں

۱۔ آیت مباہلہ

۲۔آیت تطہیر

۳۔۷۳ فرقہ والی حدیث

۴۔حدیث ثقلین

۵۔حدیث سفینہ نوح

۶۔حدیث خلفائے اثنی عشرہ

۷۔حدیث منزلت

۸۔حدیث یوم الدار

۹۔حدیث مدینہ العلم

آیت مباہلہ

ہم قرآن میں پڑھتے ہیں کہ جب پیغمبرﷺ نجران کےنصرانیوں کےپاس گئے جومباہلہ کےلئےآئےتھے تو آپ نے فرمایا:

(فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَ أَبْنَاءَكمُ‏ وَ نِسَاءَنَا وَ نِسَاءَكُمْ وَ أَنفُسَنَا وَ أَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتهل )

(العمران:۶۱)

اہل سنت کے سب بزرگان نے اعتراف کیاہے کہ انفسنا اور انفسکم سے مراد علی ابن ابی طالب ؑ ہیں ۔

(صحیح مسلم:۷/۱۲۰)

اس دن سب یہ دیکھنے کےلیے آئے کہ پیغمبراکرم ﷺ مباہلہ کے لیے کن کو ساتھ لے جاتے ہیں ۔

وہابیت کا بنیادگزار کہتا ہے کہ پیغمبراکرم ﷺ کی بیویوں میں سے عائشہ ،حفصہ اور ام سلمہ کے ہونے کے باوجودپیغمبراکرمﷺ فقط حضرت زھرا علیہا السلام کو اپنے ساتھ لے گئے اور اصحاب میں سے ابوبکر ، عمر،عثمان کے ہونے کے باوجود حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ تھاما اورمباہلہ کےلیے لے گئے اور فرزندان میں سے حسن اور حسین علیہمالسلام کے علاوہ کسی کو نہیں لے گئے ۔

یہاں پیغمبراکرم ﷺ نے اپنی نبوت اور رسالت کےلیے حضرت علی علیہ السلام کے وجود مقدس سے استفادہ کیا

وہ محبوب ہستی جو پیغمبر کی نبوت کے اثبات کے لیے شائستہ ہے وہی آنحضرت ﷺ کی رسالت و خلافت کے استمرار کے لیے شائستہ تر ہے۔

آیت تطہیر

عصمت امیر المومنین علیہ السلام پر بہترین دلیل آیت شریفہ تطہیر ہے:

(إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَ يُطَهِّرَكمُ‏ تَطْهِيرٔا )

(احزاب:۳۳)

صحیح مسلم اور بخاری میں ہے کہ جب آیت تطہیر نازل ہوئی تو پیغمبراکرم ﷺ نےحضرت علی ، زھرا ، حسن اور حسین علیہم السلام پر چادر اوڑھ کر آیت تطہیر کی تلاوت فرمائی اور فرمایا یہ میرے اہل بیت ہیں ۔

(صحیح مسلم:۷/۱۳۰)

خدا کا اہلبیت کو گناہ سے دور رکھنے کا ارادہ قطعا تشریعی نہیں ہو سکتا کیونکہ خدا کا ارادہ تشریعی سب مسلمانوں کی طہارت اور ہدایت ہے اس لیے یہ ارادہ تکوینی ہے اور ارادہ تکوینی خداوند ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اسی طرح پیغمبراکرم ﷺ کی ایک اور حدیث جو عصمت علی علیہ السلام پر دلالت کرتی ہے آپ نے فرمایا:

عَلِيٌّ مَعَ الْحَقِّ وَ ا لْحَقُّ مَعَ عَلِيٍّ "

علی حق کے ساتھ ہے اور حق علی کے ساتھ ہے

یا

عَلِیٌّ مَعَ القُرآنِ وَ القُرآنُ مَعَ عَلِیٍّ،

(مجمع الزوائد:۷/۲۳۵؛مسند ابو یعلی:۲/۳۱۸؛تاریخ بغداد:۴/۳۲۲؛تاریخ مدینه دمشق:۴۲/۴۴۹)

علی قرآن کے ساتھ ہے اور قرآن علی کے ساتھ ہے

من اقتدى في دينه بعلي بن أبي طالب(عليه السلام)فقد اهتدى، لقول النبی: اللهم أدر الحق مع علي حيث دار

(تفسیر کبیر:۱/۲۰۵؛المحصول:۶/۱۳۴)

جس نے بھی علی علیہ السلام کے دین کی اقتدا (پیروی) کی اس نے ہدایت پا لی۔کیونکہ پیغمبراکرم ﷺ نے فرمایا:خدایا ہمیشہ حق کو علی علیہ السلام کے گرد قرار دے

ام سلمہ سے روایت ہے کہ پیغمبراکرم ﷺ نے فرمایا :

عَلِیٌّ مَعَ القُرآنِ وَ القُرآنُ مَعَ عَلِیٍّ، لَن یَفتَرِقا حَتّى یَرِدا عَلَیَّ الحَوضَ

(المستدرک:۳/۱۲۴؛)

اہلسنت کے نزدیک یہ قائدہ ہے کہ اگر حاکم نیشاپوری یا ذہبی کوئی روایت نقل کرتاہے تو وہ صحیح ہے ایسے ہے جیسےصحیح بخاری اورمسلم میں وارد ہوئی ہے)۔

علی قرآن کے ساتھ ہے اور قرآن علی ساتھ ہے قرآن علی سے جدا نہ ہوگا یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے ملیں گے

البتہ یہ سوال ہو سکتا ہے کہ یہ روایت

" عَلِيٌّ مَعَ الْحَقِّ وَ ا لْحَقُّ مَعَ عَلِيٍّ "

عمار کے بارے میں بھی وارد ہوئی ہے

اس سوال کے جواب میں یہ واقعہ نقل کرنا مناسب ہو گا

علامہ امینی کے زندگی نامہ میں ہے کہ آپ نے بغداد میں ڈاکٹر اعظمی بغداد یونیورسٹی کے نائب پرنسپل سے ملاقات کی۔علامہ امینی نے حضرت علی علیہ السلام کے متعلق تمام اشعار کو جمع کیا اور ڈاکٹر اعظمی نے بھی اس بارے شعر لکھے تھے اس لیے علامہ امینی ان کے پاس گئے۔

اس ملاقات میں علامہ امینی نے ڈاکٹراعظمی سےحضرت علی علیہ السلام کےبارےمیں تالیفات کےبارے پوچھا تو ڈاکٹراعظمی نے کہا میں نے تین روایات پرتحقیق کی اور یہ تحقیق میری عمر بھر کا سرمایا ہے ان میں سے ایک روایت ہے۔

اس نےاس بارےبہت ساری توضیح دی، اس کے متن، سند اور دلالت کے بارے میں بتایا

علامہ امینی نے ان سے پوچھا ؛ کیا یہ تصور کرتے ہو کے یہ روایت فقط حضرت علی علیہ السلام کے بارے وارد ہوئی ہے ۔ ڈاکٹر اعظمی نے کہا ،ہاں ۔ علامہ امینی نے فرمایا ؛یہی حدیث عمار کے بارے بھی ہے

" عَمار مَعَ الْحَقِّ وَ الْحَقُّ مَعَ عَمار

اور اس کی سند اہل سنت کی کتابوں میں بھی ہے؛ اعظمی صاحب نے تعجب سے کہا ، آقای امینی آپ نے میری زندگی کا تیسرا حصہ تباہ کر دیا ،مجھے یقین تھا کہ یہ روایت فقط حضرت علی علیہ السلام کی شان میں ہے ۔

علامہ امینی نے فرمایا؛ ٹھیک ہے یہ روایت عمار کے بارے میں بھی ہے مگر ان دونوں میں بہت زیادہ فرق ہے ،عمار کے بارے میں ہے"

عَمار مَعَ الْحَقِّ وَ الْحَقُّ مَعَ عَمار تدور عمار مع الحق

عمار حق کے ساتھ ہے اور حق عمار کے ساتھ ہے عمار ہمیشہ حق کے گرد گھومتا ہے

لیکن حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں ہے

عَلِيٌّ مَعَ الْحَقِّ وَ الْحَقُّ مَعَ عَلِيٍّ، یدور الحق مع علی

علی حق کے ساتھ ہے اور حق علی کے ساتھ ہے اور حق ہمیشہ علی کے گرد گھومتا ہے ڈاکٹر اعظمی نے یہ سنتے ہی کہا کہ اس کلام کے احترام میں کھڑا ہونا اور بیٹھنا چاہیے ،اور وہ اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ اٹھے اور پھر بیٹھے۔

حدیث ۷۳ فرقے

ولایت امام علی علیہ السلام کے بارے میں احادیث میں سے ایک ؛ امت کا ۷۳ فرقوں میں تقسیم ہونے والی حدیث ہے ۔ شیعہ اور اہلسنت کی معتبر کتابوں میں پیغمبراکرم ﷺ سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا

تفترقت اليهود على إحدى وسبعين فرقة،و النصارى على اثنتين وسبعين فرقة، وتفترق امتی على ثلاث وسبعين فرقة كلها في النار إلا واحدة، قيل: من هي يا رسول الله؟ قال ما أنا عليه وأصحابي

امت یہود اکہتر ( ۷۱) فرقے ،نصاریٰ بہتر ( ۷۲) فرقے اورمیری امت تہتر( ۷۳) فرقوں میں تقسیم ہوگی۔ ان میں سے ایک کے علاوہ سب اہل آتش جہنم ہوں گے جب پوچھا گیا کہ نجات پانے والا فرقہ کون سا ہوگا تو آپ نے فرمایا : وہ گروہ جس میں، میں اور میرے اصحاب ہیں ۔

یہ روایت شیعہ

(وسائل الشیعه:۲۷/۴۹/۳۳۱۸۰؛بحار الانوار:۲۸/۱۳/۲۰)

کے علاوہ اہلسنت

(صحیح ترمذی:۴/۱۳۴؛سنن ابن ماجه:۲/۱۳۲۱/۳۹۹۱/ناصر الدین البانی نے بہی کہا ہے کہ یہ روایت صحیح ہےر ک سنن ابن ماجہ :۲/۳۶۴؛و سلسلة الاحادیث الصحیحة:۱/۳۵۴)

کی معتبر کتابوں میں بھی ذکر ہوئی ہے البتہ اس حدیث کے بارے میں اہم سوال یہ ہے کہ فرقہ ناجیہ کون سا ہے ؟ مسلمانون میں جو فرقے ہیں مثلا حنبلی ، شافعی ،مالکی ،اسماعیلی اور شیعہ ، ان میں کون سا فرقہ ناجیہ ہے ؟

تمام فرقے ناجیہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں

(المواقف ایجی :۳/۷۱۴)

اور وہ اسی روایت سے استدلال کرتے ہیں جب حضرت سے پوچھا گیا کہ ناجیہ کون سا ہے ؟ تو آپ نے فرمایا ؛

جس میں، میں اور میرے اصحاب ہیں

اور شیعہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ علی اور ان کے اصحاب جس فرقے میں نہ ہوں گے وہ قطعا نجات یافتہ نہیں ہے

ابن حزم اندلسی کہتا ہے کہ "

ولعنة الله علی کل اجماع خرج عنه علی ابن ابی طالب علیهما السلام و من حضره مِن الصحابة

(المحلی:۹/۳۴۵)

ایسے اجماع پہ لعنت ہے جس میں علی اور اس کے دوست نہ ہوں

وہ خصوصیات جو مکتب اہل بیت کے علاوہ کسی مذہب میں نہیں شیعہ ان خصوصیات کی بنا پر اعتقاد رکھتے ہیں کہ فقط اس مذہب کے پیروکار ہی اہل نجات ہیں ۔

اس کی پہلی دلیل،حدیث ثقلین

پیغمبراکرمﷺ ؐ نے فرمایا

: إِنِّی تَارِکٌ فِیکُمُ الثَّقَلَیْنِ کِتَابَ اللَّهِ وَ عِتْرَتِی؛ أَهْلَ بَیْتِی ، نْ تَمَسَّکْتُمْ بِهِمَا لَنْ تَضِلوا بعدی

(سنن ترمذی:۵/۳۲۸/۳۸۷۶؛مسند احمد:۳/۱۴)

''میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں کتاب خدا اور میرے اہلبیت،اگر کسی نے ان دونوں سے تمسک رکھا تو گمراہ نہیں ہوگا،،

اہلسنت کی روایی ، فقہی ، کلامی اور تفسیری کتابوں کی طرف مراجعہ کرنے سے آرام سے پتہ چل سکتا ہے کہ وہ اصلا اہلبیت کے سراغ میں نہیں گئے۔صحیح بخاری جو کہ اہلسنت کی صحاح ستہ میں سے ہے اس میں حضرت علی علیہ السلام سے انتیس ۲۹ جبکہ ابوھریرہ جوکہ فقط ڈیڑھ سال پیغمبراکرم ﷺکے ساتھ رہا ، ایک سو اسی ۱۸۰ روایات ذکر کی گئی ہیں ۔

ابو ھریرہ کہتا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام بچپن سے لے کر تمام سفر اورجنگوں میں پیغمبراکرم ﷺ کے ساتھ تھےاور آنحضرت کی رحلت تک آپ کے ساتھ تھے اگر علی علیہ السلام پیغمبراکرم ﷺ سے ہرروز ایک روایت بھی لیتے تو حضرت علی علیہ السلام کے پاس بارہ ہزار حدیث ہونی چاہیے ۔

لیکن اگر اہلسنت کی روایی کتابوں میں دیکہیں تو حضرت علی علیہ السلام سے پانچ سو سے زیادہ روایات نہیں ہے

اس کے علاوہ امام حسن و امام حسین علیہما السلام سے ایک حدیث بھی صحیح بخاری میں نہیں

شاید بعض لوگ کہیں کہ امام حسن اور امام حسین علیہما السلام چھوٹے تھے اس حد تک نہیں تھے کہ ان سے حدیث نقل کی جاتی ، لیکن عبداللہ بن زبیر جس کا امام حسن علیہ السلام کی عمر میں صرف چھ ماہ کا فرق ہے اس سے بہت ساری روایات نقل ہیں ۔

حضرت صدیقہ طاھرہ علیہا السلام سے پوری صحیح بخاری میں صرف ایک روایت ہے لیکن عایشہ سے دو سو اسی ۲۸۰ روایات ذکر ہیں۔

اگرچہ بخاری امام ھادی اور امام حسن عسکری علیہ السلام کے ہم عصر ہونے کےباوجود ایک روایت بھی ان دو بزرگوار سے نقل نہیں کی۔یہاں تک کہ ابوحنیفہ اور مالک ، امام صادق علیہ السلام کے شاگرد ہونے کے باوجود امام باقر اور امام صادق علیہما السلام سے ایک رویت بھی نقل نہیں ہوئی ۔ اس بنا پر نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حدیث ثقلین اور کتاب اور اہلبیت سے تمسک فقط شیعوں پر منطبق ہوتا ہے

اسی طرح اہل سنت کی کتابوں میں معتبر اسناد کے ساتھ بہت سی روایات ہیں کہ پیغمبراکرم ﷺ نے فرمایا:

يا علي أنت و شيعتک هم الفائزون،،

(مناقب؛خوارزمی: ۱۱۱/۱۲۰)

یا علی آپ اور آپ کے شیعہ ہی اہل نجات ہیں ۔

ایک اور روایت میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا :

" والذي نفسي بيده إن هذا وشيعته هم الفائزون

(تاریخ مدینه دمشق: ۴۲/۳۷۱؛تفسیر طبری:۳۰/۳۳۵/۲۹۲۰۸؛روح المعانی:۳۰/۲۰۷؛الدر المنثور:۶/۳۷۹)

اس خدا کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے یہ علی اور ان کے شیعہ اہل نجات ہیں

اس حدیث سے پتہ یہ چلتا ہے کہ فرقہ ناجیہ کا نمونہ شیعہ میں ہے کیونکہ پیغمبراکرم ﷺ نے بشارت (خوشخبری) دی ہے کہ علی علیہ السلام اور اس کے شیعہ اہل نجات ہیں ۔

حدیث سفینہ نوح

پیغمبراکرمﷺ نے فرمایا : "

مَثَلُ أهلِ بَيتي فيكُم كمَثَلِ سَفينَةِ نُوحٍ ، من رکبها نجي وَمَن تَخَلّفَ عَنها هَلَكَ

(المستدرک:۲/۳۴۳؛مجمع الزوائد:۹/۱۶۸؛المعجم الکبیر:۳/۴۵؛الدر المنثور:۳/۳۳۴)

میرے اہلبیت کی مثال کشتی نوح جیسی ہے جو بھی اس پر سوار ہوا اس نے نجات پائی اور جس نے منہ موڑا (اس سے روگردانی کی ) وہ غرق ہوا ۔

حاکم نیشاپوری نے ایک بہت ہی خوبصورت روایت نقل کی ہے کہتا ہے کہ حدیث صحیح ہے اور اس صحیح ہونے میں کوئی شبہ نہیں کہ پیغمبراکرمﷺ نے فرمایا :

النجوم امان لأهل الارض من الغرق، و اهل بيتى امان لامتى من الاختلاف، فاذا خالفتها قبيلة من العرب اختلفوا فصاروا حزب ابليس.

(المستدرک:۳/۱۴۹؛صواعق المحرقه:۹۱/۱۴۰؛خصائص الکبری:۲۶۶)

آسمان کے ستارے لوگوں کو غرق ہونے سے نجات کا باعث بنتے ہیں اسی طرح میرے اہل بیت بھی امت کی ہدایت اورنجات کا باعث بنتے ہیں وہ قبیلہ یا گروہ جو میرے اہلبیت سے مخالفت کرے گا وہ شیطانی گروہ ہے

ان سب دلائل سے اہم دلیل صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا کی ذات ہے جوشیعیت کی حقانیت کےلیے بہترین سندہے ۔اہل سنت کی کتابوں میں روایت ہے

من مات ولم يعرف إمام زمانه مات ميتة جاهلية

(صحیح مسلم:۶/۲۲؛مسند احمد:۴/۹۶؛سنن الکبری:۸/۱۵۶ و )

یہ روایت اہلسنت اور شیعہ کی کتابوں میں مختلف طریقوں سے وارد ہوئی ہےمثلا شیعہ کتب میں

من مات ولم یعرف امام زمانه مات میتة الجاهلیة)

جوبھی امام کے بغیر مرجائے وہ جاہلیت کی موت مرا ۔ اسی طرح کہا گیا ہے کہ حضرت صدیقہ طاھرہ نے اپنی رحلت تک ابوبکر کی بیعت نہیں کی ۔صحیح مسلم اور بخاری میں ہے

توفی فاطمه و هی عن ابی بکر غضبان و لم تکلمه حتی ماتت ،،

(صحیح بخاری:۵/۸۲؛صحیح مسلم:۵/۱۵۴)

اسی طرح یہ بھی نقل ہےکہ ابوبکر اورعمرحضرت فاطمہ علیہا السلام سے ان کی رضایت لینے کے لیے ان کےگھرآئےتو آپ نےان دونوں سے پوچھا ،خدا کی قسم کیا تم نے میرے باپ سے نہیں سنا کہ فرمایا:فاطمہ علیہا السلام میرا حصہ ہے جس نے اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی ؟

انہوں نے کہا، ہاں ۔

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا نے فرمایا : خدا اور ملائکہ کو گواہ بنا کے کہتی ہوں کہ تم نے مجھے اذیت دی اور میں تم پر راضی نہیں ہوں ۔

(الامامه والسیسه:۱/۲۰)

صحیح مسلم اور بخاری میں وارد ہوا کہ حضرت زھرا نے وصیت کی کہ ان کو رات کے وقت دفن کیا جائے اور ابوبکر اور دوسروں کو میرے جنازے میں شریک نہ ہونے دیا جائے۔

(صحیح بخاری:۵/۸۲؛صحیح مسلم:۵/۱۵۴)

اس حدیث پر غور کریں تو کیا قبول کیا جا سکتا ہے کہ حضرت فاطمہ زھرا علیہا السلام امام کے بغیر اس دنیا سے رحلت کی؟ یا کہا جا سکتا ہے کہ حضرت فاطمہ زھرا علیہا السلام، ،ابوبکرکو اپنا امام نہیں مانتی تہیں اس لیے اس کی بیعت نہیں کی؟

اس حدیث

من مات ولم يعرف إمام زمانه مات ميتة جاهلية

کی طرف توجہ کریں توسوال یہ ہوتا ہے کہ اہلسنت کا اس زمانے کا امام کون ہے؟اگر یہ کہیں کہ ہر ملک کا لیڈر امام زمان ہے اور اس کی بیعت کرنی ضروری ہے ،تو کہا جائے گا کہ صحیح مسلم میں ہے کہ ہر زمانے میں ایک سے زیادہ امام کا وجود نہیں۔

اذا بویعَ خلیفتین، الخلیفة الاولی،فاقتلو ا الأخر منهما

(صحیح مسلم؛۶/۲۳؛مجمع الزوائد:۵/۱۹۸)

اگر ایک ہی زمانے میں دو امام کی بیعت کی جائے توواقعی پہلا امام واقعی ہے اور دوسرے امام مار دیا جائے۔

حدیث

(من مات بلا امام مات میتة جاهلیة)

کے بارے میں نقل ہے کہ عبد اللہ بن عمر جس نے امیر الموًمنین کی بیعت نہیں کی تھی فقط وہاں جس نے مدینہ پر حملہ کرنےکےلیے یزید کی حمایت کی؛ ایک رات اسے یاد آیا کہ پیامبر اکرم نے فرمایا:

من مات بلا امام مات میتة جاهلیة

تو فورا تاریخ کے ظالم ترین شخص حجاج بن یوسف کے پاس گیا اور کہا:مجھے یہ حدیث یاد آئی ہے اس لیے آپ کے ہاتھوں بہ عنوان تام الاختیار نمایندہ عبد الملک کی بیعت کروں تاکہ اگر رات کو مر جاوًں تو اس حدیث کا مصداق نہ بنوں ،حجاج جو کہ بستر پر لیتا ہوا تہا اپنے پاوًں کو اٹہایا اور کہا:میرے ہاتھ مصروف ہیں میرے پاوًں سے بیعت کر لو۔

ر ک شرح نهج البلاغه؛ابن ابی الحدید:۱۳/۲۴۲)

حدیث خلفائے اثنی عشر

ولایت امام علی علیہ السلام کے اثبات کےلیے ایک روایت حدیث خلفائے اثنی عشر ہے صحیح مسلم ،صحیح بخاری،سنن ابن ماجہ ،صحیح ترمذی و نسائی میں ہے کہ پیغمبراکرم ﷺ ص نے فرمایا :

لَا يَزَالُ الْإِسْلَامُ عَزِيزٔا إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةٔ

(صحیح مسلم:۶/۳؛سنن ابی داوود:۲/۳۰۹/۴۲۸۰)

میرے بارہ خلیفہ ہیں اور دین کی سرفرازی ان سے ہے

اب سوال یہ ہے کہ پیغمبراکرم ﷺ کے بارہ خلیفہ سے کون مراد ہیں بعض اہل سنت اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ خلفائے راشدین چار ہیں پانچویں امام حسن چھٹا معاویہ اور ساتواں یزید ہے یہاں پر یہ سوال ہوتا ہے کہ یزید جیسا شخص جس نے امام حسین علیہ السلام اور سات سو افراد کو واقعہ حرہ میں قتل کیا شراب پیتا ہے دوسرے ہزاروں گناہ کرتا ہے کیسے خلیفہ پیغمبراکرم ﷺ ہو سکتا ہے ؟

اہل سنت اگر خلفائے بنی امیہ کو شمار کریں تو چوبیس ۲۴ ہیں بنی عباس کو شامل کریں تو ان کی تعداد پنتالیس ۴۵ ہے

خلاصہ یہ ہے کہ جتنی بھی کوشش کریں بارہ لوگ نہیں ڈھونڈ سکتے ۔بالآخر کہتے ہیں ہم حدیث کے معنی کو نہیں سمجھ

(رک فتح الباری:۱۳/۱۸۲؛شرح مسلم؛النوری:۱۲/۲۰۱)

مگرفقط شیعہ ہی بارہ امام کے قائل ہیں جن میں پہلےامیرالمومنین علیہ السلام اورآخری بقیہ اللہ الاعظم حضرت مہدی عج ہیں

حدیث منزلت

صحیح مسلم اورصحیح بخاری میں ہے کہ پیغمبراکرم ﷺ نے امام علی علیہ السلام کو فرمایا :

أمَا تَرضَي‌ أن‌ تَكُونَ مِنِّي‌ بِمَنزِلَةِ هَارُونَ مِن‌ مُوسَي‌ إلا أنَّهُ لانَبيَّ بَعْدِي‌

(صحیح بخاری:۴/۲۰۸ و۵/۱۲۹؛صحیح مسلم:۷/۱۲۰)

کیاتم نہیں چاہتے کہ میرے لیے ایک وصی ہو جیسے موسیٰ کے لیے ہارون ،مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں

حدیث منزلت کے صحیح ہونے میں کوئی شک نہیں لیکن اس حدیث کے معنی کو سمجھنے کے لیے تحقیق کی ضرورت ہے

قرآن میں خلافت اور جانشینی کا واقعہ جو تفصیل سے بیان ہوا ہے وہ حضرت ہارون کی خلافت ہے ۔ پیغمبراکرم ﷺنے اس حدیث میں جو نسبت ہارون کو موسیٰ کے ساتھ تھی اس کو امیر المومنین علیہ السلام کے لیے اپنی نسبت کو ثابت کیا ہے ۔

حضرت ہارون کی پہلی منزلت نبوت ہے لیکن پیغمبراکرم ﷺ نے اس کو علی علیہ السلام سے استثنیٰ کیا ہے اور فرمایا ہے میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔دوسری منزلت وزارت ہے کیونکہ حضرت موسیٰ نے خدا سے تقاضا کیا کہ:

(و اجْعَل لىّ‏ وَزِيرٔا مِّنْ أَهْلی هَارُونَ أَخِی )

(طه:۲۹)

میرے اہل میں سے میرا وزیر قرار دےدے،ہارون کو جو میرا بھائی ہے۔

(وَ لَقَدْ ءَاتَيْنَا مُوسىَ الْكِتَابَ وَ جَعَلْنَا مَعَهُ أَخَاهُ هَرُونَ وَزِيرٔا )

(فرقان:۳۵ )

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی اور ان کے ساتھ ان کے بھائی کو ان کا وزیر بنا دیا ۔

تیسری منزلت خلافت ہے خدا نے فرمایا :

(وَ قَالَ مُوسىَ‏ لِأَخِيهِ هَرُونَ اخْلُفْنىِ فىِ قَوْمِی )

(اعراف :۱۴۲)

حضرت موسیٰ نے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ تم قوم میں میری نیابت کرو

چوتھی منزلت رسول اکرم کے ساتھ ہے۔حضرت موسی علیہ السلام نے فرمایا:

(وَ اجْعَل لىّ‏ وَزِيرٔا مِّنْ أَهْلی هَارُونَ أَخِى اشْدُدْ بِهِ أَزْرِی )

(طه:۳۲)

اور میرے اہل میں سے میرا وزیرقراردےدےہارون کو جو میرابھائی بھی ہے اس سےمیری پشت کو مضبوط کر دے۔اسی لیے حدیث منزلت کے ذریعے وزارت، خلافت اور جانشینی ثابت ہوجاتی ہے۔

حدیث یوم الدار

آیت شریفہ:

وَ أَنذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِين،

اور پیغمبر ﷺ آپ اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈرایئے،، کے نزول کے بعد نبی اکرم ص نے قریش میں سے چالیس لوگوں کو جمع کیا اور ان کے لیے تین بنیادی بیان کیے ۔آنحضرت نے قریش کے سرداروں کو فرمایا : بت پرستی چھوڑ دو ،میں خدا کی طرف سے پیغمبراکرم ﷺ مبعوث ہوا ہوں اور اسی طرح فرمایا : "

اول من یوازرنی على هذا الامر، على ان یکون اخی ووصیی وخلیفتی "

جو بھی اس راہ میں میری نصرت کرے گا وہ میرا بھائی ،وصی اور جانشین ہو گا

تین بار جمع کیا گیا اور تین بارحضرت علی کے علاوہ کسی نے بھی پیغمبراکرم ﷺ کو مثبت جواب نہ دیا ، اس لیے پیغمبراکرم ﷺ نے اپنا دست مبارک امام علی علیہ السلام کے کندھے پر رکھ کر فرمایا : "

هذااخی ووصیی وخلیفتی من بعدی

(مجمع الزوائد:۸/۳۰۲؛کنزالاعمال:۱۳/۱۲۸؛المستدرک:۳/۱۳۲)

علی میرا بھائی ،میرے بعد میرا وصی اور جانشین ہے

اس بنیاد پر یہ کہنا درست ہو گا کہ پیغمبراکرم ﷺ نے سال سوم ہجرت میں ہی امام علی علیہ السلام کو اپنا خلیفہ اور جانشین کے طور پر تعارف کرایا ۔

حدیث مدینہ العلم

ابن عباس سے نقل ہے کہ پیغمبراکرم ﷺ نے فرمایا :

أنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ وَ عَلِيٌّ بَابُهَا فَمَنْ أرَادَ الْعِلْمَ فَلْيَأْتِه من بَابه

میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے جو بھی علم کا ارادہ رکھتا ہے وہ دروازہ سے وارد ہو

یہ روایت حضرت امیر المومنین کے علاوہ کسی صحابی کے بارے میں نہیں ہے ،اسی طرح یہ روایت مختلف طریقوں اور بہت سی اسناد کے ساتھ اہلسنت کی کتابوں میں ذکر ہوئی ہے

(المعجم الکبیر:۱۱/۵۵؛تاریخ بغداد:۳/۱۸۱؛المستدرک:۳/۱۲۶و۱۲۷؛کنزالاعمال:۱۳/۱۴۹)

اور بھی بہت سی روایات ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ علی علیہ السلام سب اصحاب سے افضل اور اعلی ہیں

ابن عباس کہتا ہے :

لقد أعطی علی تسعة أعشار العلم وأیم اللّه لقد شارکهم فی العشر العاشر

(اسد الغبة:۴/۲۲؛الاستیعاب:۳/۱۱۰۴؛تفسیر الثعالبی:۱/۵۲)

" نوے ۹۰ فیصد علوم علی علیہ السلام کے پاس ہیں اور دس ۱۰ فیصد باقی لوگوں کے پاس ،خدا کی قسم اس دس ۱۰ فیصد میں بھی علی علیہ السلام شریک ہیں ۔ اسی طرح ابن عباس کہتا ہے :

ما عِلمی و علم أصحاب مُحمد ﷺ فِی علم علیاِلّا کقطرة فی سبعة أبحر

(ینابیع المودة:۱/۲۱۵؛مناقب اًل ابی طالب:۱/۳۱۰)

میرا اور تمام صحابہ پیغمبراکرم ﷺ کا علم، علی علیہ السلام کے علم کے مقابلے میں ایسے ہے جیسے سات سمندر کے مقابلے میں ایک قطرہ ۔ عایشہ کہتی ہے :

" علي أعلم الناس بالسنة

(تاریخ کبیر؛بخاری:۲/۲۵۵؛تاریخ مدینه دمشق:۴۲/۴۰۵ )

"اسی طرح علی ابن ابی طالب ؑکے علاوہ کسی نے بھی

" سلونی قبل ان تفقدونی "

(المستدرک:۳/۱۲۲ ؛تاریخ مدینه دمشق:۴۲/۴۰۰ )

( مجھ سے پوچھو قبل اس کے کہ میں آپ لوگوں سے چلا جاوں ) کا دعویٰ نہیں کیا ۔

عمر نے کئی بار کہا :

لولاعلي لهلك عمر، وكان عمر يتعوذ بالله من معضلة ليس فیها ابوالحسن، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ معضلة لم یکن فیها علی ابن ابی طالب

(مناقب خوارزمی :۹۷/۹۸؛انساب الاشراف:۹۹/۲۹ )

" اگر علی نہ ہوتے تو میں ہلاک ہوجاتا ۔ اور وہ ہر مشکل سے اللہ کی پناہ طلب کرتا کہ جد وقت علی نہ ہوں۔ خدایا میں تجھ سے ہر اس مصیبت سے پناہ مانگتا ہوں جس میں میرے ساتھ علی ابن ابی طالب نہ ہوں۔

اہل سنت کے بہت بڑے عالم نووی کہتا ہے : ہمارے لیے یہ ثابت ہے کہ تمام صحابہ اپنی علمی مشکل میں علی سے رجوع کرتے تھے لیکن ایک بھی ایسا مقام نہیں کہ جس میں علی نے دوسرے صحابہ کی طرف رجوع کیا ہو ۔

(تهذیب الاًسماء واللغات:۳۱۷)

البتہ کبھی یہ سوال پیش آتا ہے کہ حدیث

أنا مدنية العلم و علي بابها.

دوسرے لوگوں کے بارے میں بھی وارد ہوئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ

أنا مدنية العلم و علي بابها و أبو بكر جدرانها و عمر سقفها و معاویة حلقتها

(ر ک کشف الخطفاء:۱/۲۰۴)

میں علم کا شہر ہوں علی اس کا دروازہ ہے اور ابوبکر اس کی دیوار اور عمر چھت اور معاویہ حلقہ ہے۔

مگر اہل سنت کے ایک عالم ابن جوزی کہتا ہے کہ یہ روایت جعلی ہے

(الفتاوی الحدیثیه :۱۹۷)

وضاحت ۔وفات پیغمبراکرم ﷺ کے بعد بڑے پیمانے پر جعلی احادیث بنا کر آنحضرت کی طرف نسبت دی گئی۔

بعض نے ہر روایت جو امیر المومنین علیہ السلام یا اہلبیت کی شان میں تھی اسی طرح کی خلفائ کی نسبت سے روایات بنائیں ۔مثلا روایت

" :سَدِّ الأَبوابِ إلّا بابَ عَلِی

پیغمبراکرم ﷺ نے علی علیہ السلام کے دروازے کے علاوہ جتنے بھی گھروں کے دروازے مسجد کھلتے تھے ان کو بند کردیا ،اس کے مقابلے میں حدیث بنائی

" :سَدِّ الأَبوابِ إلّا خوخة أبی بکر

(صحیح بخاری:۴/۲۵۴؛مسنداحمد:۱/۲۷۰)

حالانکہ شیعہ اور سنی سب جانتے ہیں کہ ابوبکر کا مدینہ میں گھر ہی نہیں تھا اور اس کا گھر مدینہ سے باہر تھا ،یہاں تک کہ جب پیغمبراکرم ﷺ کی رحلت ہوئی ابوبکر مدینہ میں نہیں تھا ،عمر نے لوگوں کو روکے رکھا تاکہ ابوبکر مدینہ پہنچ جائے ۔

ایک اور روایت میں پیغمبراکرم ﷺ نے فرمایا :

انّ الحسن والحسین سیدی شباب اهل الجنة

حسن اور حسین جوانان جنت کے سردار ہیں ۔

اس کے مقابلے میں جعلی حدیث بنائی گئی کہ پیغمبراکرم ﷺ نے فرمایا :

" ابوبكر و عمر، سيدا شيوخ اهل الجنة

(سنن ترمذی:۵/۲۷۲/۳۷۴۵؛مجمع الزوائد:۹/۵۳)

ابوبکر اور عمر جنت کے بوڑھوں کے سردار ہیں۔حالانکہ شیعہ اور سنی روایات میں ہے کہ جو بھی دنیا سے جائےگا جوان ہو کربہشت میں وارد ہوگا ۔

اثبات عقلی، ولایت امام علی علیہ السلام

قرآن کریم فرما رہا ہے:

(أَ فَمَن يهَدِى إِلىَ الْحَقّ‏ أَحَقُّ أَن يُتَّبَعَ أَمَّن لَّا يهَدِّى إِلَّا أَن يهُدَی )

(یونس:۳۵)

جو حق کی ہدایت کرتا ہے وہ قابل اتباع ہے یا جو حق کی ہدایت کرنے کے قابل نہیں ہے مگر یہ کہ خود اس کی ہدایت کی جائے۔

(قُلْ هَلْ يَسْتَوِى الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُون )

(زمر:۹)

کیا وہ لوگ جو جانتے ہیں ان کے برابر ہو جائیں گے جو نہیں جانتے۔

(هَلْ تَسْتَوِى الظُّلُمَاتُ وَ النُّور )

(رعد:۱۶)

کیا نور اور ظلمت برابر ہو سکتے ہیں۔

اس بنا پر قرآن میں افضل کو فاضل پر،اعلم کو عالم اور اھدی کو ھادی پر برتری اور مقدم کرنا واضح ہے۔

اہلسنت کی کتابوں میں بھی اس کے بارے میں بہت سی روایات موجودہیں۔ابن عباس پیغمبراکرم ﷺ سے نقل کرتے ہیں:

مَن ولیّ مِنالمسلمین شیٔ مِن امورِ المسلمین وهو یَعلم أنّ فی المسلمین مَن هُو خَیر لِلمسلمینَ مِنه، فَقَد خان الله ورسوله وخان جماعة المسلمین

(تاریخ مدینه دمشق:۵۳/۲۵۶؛کنزالاعمال:۱۶/۸۸)

(اگر کوئی شخص خلیفہ مسلمین ہو اور کوئی دوسرا اس سے زیادہ کتاب وسنت کے بارے میں آگاہی رکھتا ہو تو اس نے خدا اور رسول اور سب مسلمانوں سے خیانت کی)

اسی لیے افضل کے باوجود فاضل کی طرف جانا اور اعلم کی موجودگی میں عالم کی طرف جانا خدا اور سب مسلمانوں سے خیانت کے مترادف ہے۔

اسی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ فرض کریں اگر کوئی بھی آیت یا روایت امیر المؤمنین علیہ السلام کی خلافت پر نہ ہو؛لیکن اسی حدیث کی بنیاد پر جوبیان ہو چکی ،اگر امام علی علیہ السلام کا دوسرے اصحاب سے مقایسہ کریں تو امام علی علیہ السلام کی سب پر برتری معلوم ہو جاتی ہے۔اور ضروری ہے کہ برتر شخص کو ہی خلیفہ تسلیم کیا جائے۔

اسی طرح اگر خلیفہ انتخاب کرنا چاہیں اور اس میں امتیاز ،افضلیت اور صلاحیت ہو تو پہلا امتیاز اعلمیت ہےکیونکہ دین کی حفاظت حاکم اسلامی کے وظایف میں سے ہے ۔

اہلسنت کتابوں میں ہے:

الشرط الاول هو کونه عالما مجتهدا فی الاصول والفروع لیقوم بامور الدین

(شرح المواقف:۸/۳۴۹)

امام کی ایک اور شرط شجاعت ہے،اسلام کے دفاع کے لیے۔خلیفہ دوم نے کہا:

وَ اللهِ لَوْ لا سَيْفُ عَلِيٍّ لَما قامَ عَمُودُ الدّین

(شرح نهج البلاغه؛ابی حدید:۱۲/۸۶)

خدا کی قسم اگر علی کی تلوار نہ ہوتی تو اسلام سر بلند نہ ہوتا۔

اسی طرح جنگ خندق میں علی کے علاوہ کوئی بھی عمر ابن عبدود سے مقابلے کے لیے تیار نہیں ہوا اور جب حضرت علی نے اس کو شکست دی تو پیغمبر ﷺ نے فرمایا:

ضَرْبَةُ عَليٍّ في يَوْمِ الخَنْدَقِ اَفْضَلُ مِنْ عِبادَةِ الثَّقَلَيْنِ;

(المستدرک:۳/۳۴؛تاریخ بغداد:۱۳/۱۹تفسیر الکبیر:۶/۱۹۶)

حضرت علی کی جنگ خندق کی ایک ضرب جنّ و انس کی عبادت سے افضل ہے۔

جنگ خیبر میں پیغمبراکرم ﷺ نے فرمایا:میں کل پرچم اس کے ہاتھ میں دوں گا جو خدا اور اس کے پیغمبراکرم ﷺ کا چاہنے والا ہے اور خدا اور رسول بھی اسے چاہتے ہیں۔خلیفہ دوم کے بقول:تمام اصحاب یہ دیکھنے کےمنتظر تھے کہ یہ سعادت کسے نصیب ہوتی ہے۔

دوسرے دن نبی مکرم اسلام نے وہ پرچم علی علیہ السلام کے ہاتھ میں دیا۔

(صحیح بخاری:۴/۱۲؛صحیح مسلم:۵/۱۹۵)

اسی طرح جنگ احد میں اکثر اصحا ب فرارکر گئے لیکن امیر المومنین علیہ السلام پیغمبراکرم ﷺ کے پاس رہے اور آنحضرت کا دفاع کیا ۔اسی لیے ستر( ۷۰) سے بھی زیادہ زخم آپ کے بدن مبارک پر آئے۔

(تاریخ طبری:۲/۵۱۸؛المغازی:۱/۲۴۰)

جنگ حنین میں بھی حضرت علی علیہ السلام اورگیارہ افرادکےعلاوہ باقی سب لوگ چھوڑ کربھاگ گئے۔

حضرت علی علیہ السلام کی زہد اورسادگی بے مثال ہے حضرت اپنی خلافت کے زمانے میں بھی سادہ لباس زیب تن کرتے تھے اور ایک خط میں عثمان بن حنیف کو لکھا:

أَلاَ وَإِنَّ لِکُلِّ مَأمُومٍ إِمَامأ، يَقْتَدِي بِهِ، وَيَسْتَضِيءُ بِنُورِ عِلْمِهِ. أَلاَ وَإِنَّ إِمَامَکُمْ قَدِ اکْتَفَي مِنْ دُنْيَاهُ بِطِمْرَيْهِ، وَمِنْ طُعْمِهِ بِقُرْصَيْن

(نهج البلاغه:خطبه ۴۵)

"یاد رکھو! کہ ہر مأموم کا ایک امام ہوتا ہے جسکی وہ اقتدا کرتا ہے اور اسی کے نور علم سے کسب ضیا کرتا ہے اور تمہارے امام نے تو اس دنیا میں صرف دوبوسیدہ کپڑوں اور دو روٹیوں پر گزارہ کیا۔،،

اس مسألہ میں امیر المومنین علیہ السلام نے اپنے آپ کو دنیا سے آلودہ نہیں کیا جس پر اتفاق نظر ہے،وہ ہی تھے جنہوں نے فرمایا:

یا دنیا الیك عنی غری غیری انی قد طلقتك ثلاثأ لا رجعة فیک أبدا

(شرح نهج البلاغه:ابن ابی حدید:۱۸/۲۲۶)

اے دنیا میرے غیر کو دھوکہ دے بیشک میں نے تجھے تین طلاقیں دی ہیں جن کے بعد رجوع نہیں۔

آخر میں یہ کہنا ضروری ہے: کہ ہر وہ امتیاز جوعلما اہلسنت نے خلیفہ کے انتخاب کے لیے معین کیا ،وہ معیار فقط امیر المومنین علیہ السلام میں پایا جاتا ہے۔اگر کوئی آیت یا روایت اس بارے میں نہ ہو ،اور فقط عقل و وجدان پر اکتفا کریں تو امیر المومنین علیہ السلام کے علاوہ کسی کو بھی لائق خلافت نہیں پائیں گے۔

اوپر ذکر کیے گئے مطالب کی طرف توجہ کی جائے تو ہر پڑھنے والے کے ذہن میں ایک اساسی سوال آئے گا کہ علمائے اہلسنت ان حقایق کا اعتراف کیوں نہیں کرتے جو ان کی کتابوں میں ہیں؟

اس کے جواب میں کہا جا سکتا ہے کہ سب علما اہلسنت نے حقانیت تشیع کا انکار نہیں کیا بلکہ جیسا کے تاریخ سے معلوم ہوتا ہے بعض کو جیسے ہی حق کی شناخت ہوئی فورا قبول کیا یہان تک کہ سب امکانات اور سہولیات سے صرف نظر کیا۔

آقا شیخ محمد انطاکی ،الأزہر یونیورسٹی مصر کے فارغ التحصیل اور دمشق کے قاضی القضاۃ( چیف جسٹس) جب سے روشناس ہوئےتو گزشتہ تمام عقائد کو چھوڑ کر شیعہ ہو گئے اور

(لماذا اخترتُ الشیعه؟

میں نے شیعیت کیوں اختیار کی؟ کے نام سے ایک کتاب لکھی۔شیعہ ہونے کے بعد ان کو قاضی القضاۃ کے منصب سے ہٹا دیا گیا،انکی تنخواہ بند کر دی گئی اور ان سے سرکاری رہایش واپس لے لی گئی۔ یہاں تک کہ وہ روٹی تک کے محتاج ہو گئے لیکن پھر بھی استقامت کی ،اور شیعہ ہی رہے۔جب حضرت آیت اللہ العظمی بروجردی کو پتہ چلا تو وہ آقا شیخ محمد انطاکی کے لیے ہر مہینہ وظیفہ بھیجتے۔

اسی طرح ڈاکٹر عصام العماد ،شاگرد بن باز اور امام محمد بن سعود ریاض یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہیں اس نے اثبات کفر شیعہ کتاب لکھی۔اور جب مذہب شیعہ سے آشنا ہوئے تو وہابیت سے کنارہ کشی کی اور شیعہ ہو گیا۔انہوں نے ایک کتاب

(المنهج الجدید والصحیح فی الحوار مع الوهابیین،)

کے نام سے لکھی ۔

مراکش کے مشہور رائٹر ادریس الحسینی نے کہا: میں مراکش میں ایک شیعہ عالم کی محفل میں بیٹھا ہواتھا تو انہوں نے معاویہ اور یزید کے بارے میں برا بھلا کہا تو میں نے اپنے آپ سے کہا کہ ایک مدلل اور دندان شکن مقالہ(مضمون) لکھ کر مراکش کے اخبارات میں چھپوا کر اس خطیب کو چپ کراو؎ٔں گا۔اسکے بعد تاریخ طبری،تاریخ ابن اثیر، تاریخ ابن خلدون و۔۔۔۔۔میں تحقیق کی جتنی زیادہ تحقیق کرتا گیا اتنا شیعہ کی حقانیت کے قریب اور اپنے عقائد سے دور ہوتا گیا۔یہی شخص جو معاویہ اور یزید کے دفاع میں کتاب لکھنا چاہتا تھا۔ایک کتاب لکھی جس کا نام

( لَقَد شَیَّعَنی الحسین)

ہے۔

"موسوعة الحیاة المستبصرین،،

نامی ایک کتاب جو چودہ جلدوں پرمشتمل ہےاس میں اس طرح کے سینکڑوں نمونہ موجود ہیں۔

اسی طرح تاریخ میں بہت سے ایسے بھی ہیں جنکو مذہب شیعہ پر اعتقاد کیوجہ سے بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔جیسے صحاح ستہ میں سے ایک کے مصنف نسائی فضیلت علی علیہ السلام پر ایک کتاب لکھ کر منطقہ شامات میں شایع کرنا چاہتا تھا ۔اس نے منبر پر علی علیہ السلام کی فضیلت پر ایک روایت پڑھی تو اسے کہا گیا کہ فضیلت معاویہ پر کیوں نہیں پڑہتے ہو؟تو اس نے کہا کیا معاویہ کی بھی فضیلت ہے ؟ معاویہ کی فضیلت یہ ہے کہ پیغمبر ﷺ نے فرمایا :

'' لا أ شبعَ الله بَطَنه ،،''

خدا معاویہ کے شکم کو سیر نہ کرے۔،، اس پر اس مشہور شخصیت کو منبر سے اتار کر اتنا مارا کہ کہ وہ زخموں کی تاب نہ لا تے ہوئے مر گیا۔

جب اہلسنت کے بزرگ عالم ابن سقاف ،منبر پر نقل کیا کہ پیغمبر ﷺ نے فرمایا:خدایا اپنی محبوب ترین اور بہترین خلقت کو بھیج تاکہ وہ میرے ساتھ اس غذا میں شریک ہو۔اسی وقت حضرت علی علیہ السلام تشریف لائے۔ تو اس کو منبر سے اتارا اور کہا جو حدیث علی علیہ السلام کے بارے میں کہی ہےاس کی وجہ سے منبر نجس ہو گیا ہے۔

(البدایه والنهایه:۱۱/۱۴۷)

طبری کے شرح حال، میں ہے کہ اس کو اپنے ہی گھر میں زندانی کیا گیا اور مارا پیٹا تا کہ معاویہ کے بارے میں کوئی روایت پڑھے۔مگر اس نے کہا :میرا وجدان اجازت نہیں دیتا کہ میں معاویہ کے بارے میں جعلی روایت بناؤں۔میں ایسی زندگی کو تحمل کرنے پر راضی ہوں لیکن ایسا نہیں کروں گا ۔

کینیڈا یونیورسٹی کے ایک اعلی عیسائی پروفیسر تھے وہ یونیورسٹی میں اسلام شناسی پر لیکچر دیتے ، اپنے موضوع پر مسلط ہونے کی وجہ سے ان کے لیکچرز کو بہت پسند کیا گیا۔ پھر وہ وہابی ہو گیا ۔اس کو امام محمد بن سعود یونیورسٹی کی تدریس کی دعوت کی گئی تو اس نے قبول کر لیا ۔

اس کو کہا : کہ شیعہ مشرک اور بدعتی ہیں ۔اور اس سے شیعہ عقائد کے ردّ پر کتاب لکھنے کی درخواست کی گئی جو اس نے قبول کر لی اور ان ے کہا کہ ان کی کچھ کتابیں دیں۔ یونیورسٹی نے شیعہ کتابوں کیساتھ کچھ اہلسنت کی بھی کتابیں دیں ۔مگر تحقیق کے بعد اس کو معلوم ہوا کہ مذہب شیعہ ہی حق پر ہے ۔ اسی لیا اس نے سٹوڈنٹس کو خطاب میں کہا :

مجھ سے مذہب شیعہ کے عقائد کے رد پر کتاب لکھنے کو کہا گیا۔ لیکن مطالعہ کے بعد مجھے معلوم ہوا کہ اسلامی مذاہب میں سے شیعہ ہی حق پر ہیں۔آخر کار سعودی حکومت نے اس کو زندان میں ڈال دیا ۔پھر کینیڈین ایمبیسی نے اسے آزاد کرواکرکینیڈا بھیج دیا۔ وہ شام میں تھے اور بہت سے بزرگان اور علمی شخصیات سے ملاقات کی اور اب لندن میں رہتے ہیں اور مذہب شیعہ کی حقانیت پر کتاب لکھ رہے ہیں۔


چوتھی فصل

سوالات اور ان کے جوابات

سوال:

پیغمبر کا چار ذی الحجہ کو خطبہ دینے کا کیا مقصد تھا؟

(چار ذی الحجة کےخطبہ سےمراد وہ خطبہ ہے جس میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اصحاب کو حج بیت اللہ کو عمرہ میں تبدیل کرنے کا حکم دیا۔)

جوابات

(ان سوالات میں جو جوابات دیے ہیں وہ جامعة المصطفی العالمیہ کے طلاب کی فکری تراوشات کا نتیجہ ہیںجس میں تکراری موارد کو حزف کر کے پیش کیا گیا ہے)

احکام حج نازل ہونے سے پہلے ،اعراب دو صورتوں میں حج بجا لاتے تھےپہلی صورت کا نام حج قران ہے یہ ان کے لیے جو اپنی سرزمین (وطن) سے قربانی اپنے ساتھ لاتے تھے۔اور دوسری صورت کانام حج افراد ہے یہ ان کے لیے مخصوص تھی جو اپنے ہمراہ قربانی نہیں لاتے تھے۔حج افراد میں حاجی میقات سے احرام پہنتے اور آخر حج تک لباس احرام نہیں اتارتے ۔

سورہ بقرہ

(وَ أَتِمُّواْ الحْجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلَّهِ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْىِ وَ لَا تحَلِقُواْ رُءُوسَكُمْ حَتىَ‏ يَبْلُغَ الْهَدْىُ محَلَّهُ فَمَن كاَنَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِّن رَّأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ فَإِذَا أَمِنتُمْ فَمَن تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلىَ الحْجّ‏ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْىِ فَمَن لَّمْ يجَدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فىِ الحْجّ‏ وَ سَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ تِلْكَ عَشَرَةٌ كاَمِلَةٌ ذَالِكَ لِمَن لَّمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِى الْمَسْجِدِ الحْرَامِ وَ اتَّقُواْ اللَّهَ وَ اعْلَمُواْ أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَاب )

کی ۱۹۶ نمبر آیت کے نزول کے بعد پیغمبراکرم ﷺ نے حج افراد ان لوگوں کے لیے مخصوص کر دی جو مکہ سے ۹۶ کیلو میٹر سے کم فاصلہ سے مناسک حج کے انجام کے لیے اس شہر میں آتے تھے۔باقی مسلمان من جملہ وہ جو دور سے آتے ہیں اور اپنے ساتھ قربانی نہیں لاتے ان کا وظیفہ عمرہ تمتع کو حج تمتع سے جدا انجام دینا ہے ۔ اس صورت میں مسلمان میقات میں محرم ہوتے اور عمرہ کے انجام دینے کے بعد احرام سے خارج ہوتے ۔اس کے بعد حج تمتع کے لیے دوبارہ مکہ میں محرم ہوتے۔

پیغمبراکرمﷺ کا چار ذی الحجہ کے خطبہ اور حج تمتع کو حج افراد سے جدا کرنے کے اہم مقاصد اور اہداف یہ تھے

۱ ۔ زمانہ جاہلیت میں اعراب احرام سے خارج ہونے کو گناہ کبیرہ سمجھتے تھے

(صحیح بخاری:۲/۱۵۲؛صحیح مسلم:۴/۵۶)

پیغمبراکرمﷺ ان خرافات کا مقابلہ اوران اعتقادات کو جو اسلامی دستورات کے مخالف تھے ختم کرنے کے لیے حج تمتع کو عمرہ سے جدا کیا۔

۲ ۔ بعض موارد میں اسلامی احکام بتدریج نازل ہوئے ۔ مثلا شراب کے بارے میں پہلے سورہ بقرہ کی آیہ ۲۱۹ میں بیان ہوا شراب کے نقصانات فوائد سے زیادہ ہیں ۔(اس کا گناہ اس کے فائدہ سے زیادہ ہے) پھر دوسرے مرحلے میں سورہ نسا آیہ ۴۳ میں فرمایا:انسان نشہ اور مستی کی حالت میں نماز نہ پڑھے۔ آخر کار تیسرے مرحلے میں سورہ مائدہ آیہ ۹۰ میں کلی طور پر شراب حرام قرار دی۔

حج کے احکام بھی اسی طرح نازل ہوئے ۔سب سے پہلے حج کا کلی حکم بیان ہوا ،پھر کچھ عرصہ بعد حجۃ الوداع میں حج افراد کو حج تمتع سے جدا ہونے کے ساتھ حج کے احکام مکمل ہوئے۔

۳ ۔ پیغمبراکرم ﷺ اس طرح اپنے اصحاب کی پہچان کر رہے تھے کہ کون پیغمبراکرم ﷺ کے حکم کے مطیع نہیں ہیں اورکون احکام پیغمبراکرم ﷺ کی جو کہ احکام الھی ہیں ان کی مخالفت کرتے ہیں۔

۴ ۔ پیغمبراکرم ﷺ اسکے ذریعے امام علی علیہ السلام کی جانشینی کے لیے راہ ہموار کرنا چاہتے تھے۔ کیونکہ جب پیغمبراکرم ﷺ نے دیکھا کہ ایک سادہ فقہی مسألہ کی تبدیلی پراصحاب اسطرح مخالفت کر رہے ہیں ۔تو امام علی علیہ السلام کی جانشینی کے وقت بھی مخالفت کریں گے۔ اس لیے پیغمبراکرم ﷺ ساتویں ذی الحجہ کو بعض ا صحاب کے بےجا اعتراض پرناراض ہوئے۔

اسی وجہ سے غدیر کے دن ولایت علی علیہ السلام کے مسألہ میں کوئی بھی اعتراض کی جرأت نہ کر سکا۔سوائے حارث بن نعمان کے جو عذاب الہی میں گرفتار ہو گیا۔

اسکے علاوہ خدا نے بھی سورہ بقرہ کی ۱۹۶ نمبر آیت کے آخر میں اعلان فرمایا کہ جو بھی احکام الہی کی مخالفت کرے گا وہ سخت سزا کا مستحق ہو گا۔

(حج تمتع ان لوگوں کے لیے ہے جن کے اہل مسجد الحرام کے حاضرشمارنہیں ہوتے اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ کا عذاب بہت سخت ہے) ۔

۵ ۔ کتاب سیرہ حلبیہ میں ہے: رسول اکرم نے حجۃ الوداع کےسفرمیں مکہ مکرمہ میں وارد ہونے کے بعد اور کوہ مروہ کےساتھ مراسم سعی کے انجام کے بعد فرمایا: جو اپنے ساتھ قربانی نہیں لائے وہ احرام چھوڑ دیں اور ترویہ کےدن،حج تمتع کےلیے محرم ہوں۔لیکن صحابہ نے قبول نہ کیا یہان تک کہ بعض نے نا مناسب الفاظ میں اعتراض کی۔جب پیغمبرﷺ نے یہ سنا تو کوہ صفا کے پاس خطبہ دیا اور فرمایا:'' اے لوگو؛میں تم سب میں سے زیادہ خداسے آگاہ اور با تقوا ہوں اگر میں یہ جانتا ہوتا کہ کیا پیش آئے گا تو میں بھی اپنے ساتھ قربانی نہ لاتا اور احرام چھوڑ دیتا،،

(سیره الحلبیه: ۳/۳۱۸)

۶ ۔ لوگوں کے لیے احکام دین آسان کرنا پیغمبراکرم ﷺ کے اہداف میں سے ہے اور ان میں سے ایک اعمال حج ہیں

۷ ۔ احکام الہی کا اجرا کرنا سب پر واجب ہےرسول اکرم نے فرمایا :

لو لا انّی سِقتُ الهُدیٰ لَفعَلتُ مثلَ امر تُکُم به ففعلوا ا اَهلّوا ففسخ الحج الی العمرة

(سیره الحلبیه: ۳/۳۱۸)

اگر میں بھی اپنے ساتھ قربانی کا جانور نہ لاتا تو جس طرح تمہیں حج کو عمرہ میں تبدیل کرنے کا حکم دیا ہے خود بھی اسی طرح کرتا ۔

۸ ۔ احکام اسلام من جملہ حج تمتع،کے احکام تا ابد تبدیل نہیں ہوں گے۔اور پہلے کی طرح رہیں گے۔کیوں کہ روایات میں ہے کہ خطبہ کے دوران کسی نے پیغمبراکرم ﷺسےسوال کیا ۔کیا یہ حکم اس سال کے لیے ہے یا تا ابد باقی ہے؟

تو پیغمبراکرم ﷺنے تین مرتبہ فرمایا: یہ تا ابد ہے۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ جنہوں نے رحلت پیغمبرﷺکے بعداس حکم کو تبدیل کیا انہوں نے آنحضرت کے دستور کی واضح مخالفت کی ہے۔

سوال:

بعض اصحاب کی پیغمبر ﷺ سے مخالفت کی کیا وجہ تھی؟

جوابات:

۱ ۔ جیسا کہ ذکر ہوا اعراب حج کو دو صورتوں میں انجام دیتے تھے اور احرام حج چھوڑنے کو گناہ کبیرہ سمجھتے تھے ۔نو مسلمان جاہلیت کے عقاید سے انس کی وجہ سے آسانی سے ان کو نہیں چھوڑتے تھے اسی لیے جب پیغمبراکرم ﷺ نے ان غلط رسوم سے منع کیا تو پیغمبراکرم ﷺ کی مخالفت کی۔ قرآن نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔

(حجرات:۱۴۱۵)

۲ ۔ بعض اصحاب کی مخالفت کی وجہ وہ کینہ تھا جو گذشتہ زمانے سے پیغمبرﷺکےساتھ رکھتے تھے کیونکہ صدر اسلام کی جنگوں میں ان کےبہت سے رشتہ دار خود پیغمبرﷺکےہاتھوں یا ان کے حکم سے قتل ہوئے اس لیے ہر موقع پر پیغمبر ﷺ کی مخالفت کرتے اور ان کو اذیت دیتے تھے ۔

۳ ۔ بعض اصحاب کا احتمال تھا کہ پیغمبر ﷺ بہت جلد اپنا جانشین مقرر کرنے والے ہیں اس لیے انہوں نے پیغمبر ﷺ کی مخالفت کا ارادہ کر لیا تاکہ لوگوں کے دلوں سے پیغمبر ﷺ کا احترام ختم ہو جائے ۔وہ اپنے اس عمل سے لوگوں کو یہ بتانا چاہتے تھے کہ بے چوں چراں پیغمبر ﷺ کی اطاعت نہ کی جائے۔

۴ ۔ وہ لوگ جوپہلے پیغمبر ﷺ کا اس قدر احترام کرتے تھے کہ ان کے وضو کا پانی اور ان کے بال مبارک کو بطور تبرّک لے جاتے۔لیکن جب ایک اہم مسالہ پیش آیا تو پیغمبر ﷺ کی اطاعت سے منہ موڑ لیا۔ اس کی بنیادی وجہ ، ان کی اخلاقی اور ایمانی کمزوری تھی ۔با الفاظ دیگر کہا جا سکتا ہے کہ:

(الف) انہوں نے ابھی تک حق کو دل و جان سے قبول نہیں کیا تھا۔

(ب) پیغمبر خدا کو رہبر آسمانی اور انسان کامل نہیں مانتے تھے

(ج) یہ نہیں جانتے تھے کہ پیغمبر کی مخالفت ہی خدا کی مخالفت ہے۔

۵ ۔ اس لیے جہاں پر پیغمبرﷺ کی اطاعت ضروری تھی تو اپنی عقل کے مطابق چلتے اوراجتہاد کرتے۔حجۃ الوداع کےعلاوہ پیغمبرﷺ کی مخالفت کا واضح نمونہ سقیفہ میں دیکھا جاسکتاہے۔کیونکہ جو لوگ سقیفہ میں تھےکہتےتھےکہ ابوبکربزرگ ہےاورعلی جوان ہے بزرگ بہترہےکہ لوگوں پرحکومت کرے۔جب کہ جانشینی علی علیہ السلام کےلیے پیغمبر ﷺ کا صریح حکم تھا۔

(تاریخ طبری: ۳/۲۱۸؛الکامل فی التاریخ:۲/۱۳؛الامامه والسیاسه:۱/۲۱)

۶ ۔ مکہ کےلوگوں کی درآمد حجاج کےساتھ تجارت پرموقوف تھی ۔وہ ڈرتےتھےکہ یہ نیا حکم حج و عمرہ ایک وقت میں انجام ہو گا۔ اس صورت میں وہ حج و عمرہ کے زمانے میں تجارت سے محروم ہو جاتے ،اور یہ ان کے لیےبہت بڑا اقتصادی نقصان تھا۔

سوال:

کیا قرآن و سنت کی رو سے سب اصحاب کی عدالت ثابت کی جا سکتی ہے؟

جوابات:( الف)۔

قرآن کی رو سے: قرآن کریم میں بہت ساری آیات عدالت صحابہ کو رد کرتی ہیں ۔

1(وَمَا محُمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَ فَإِيْن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلىَ أَعْقَابِكُمْ )

(العمران:۱۴۴ )

اور محمد تو صرف اللہ کے رسول ہیں جن سے پہلے بہت سارے رسول گذر چکے ہیں اگر وہ مر جائیں یا قتل ہو جائیں تو آپ الٹے پاؤں پلٹ جاؤ گے

2۔ (أَ لَمْ تَرَ إِلىَ الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ ءَامَنُواْ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَ مَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَن يَتَحَاكَمُواْ إِلىَ الطَّغُوتِ وَ قَدْ أُمِرُواْ أَن يَكْفُرُواْ بِهِ وَ يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُضِلَّهُمْ ضَلَالَا بَعِيدٔ )

(نساء:۶۰)

کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کا خیال یہ ہے کہ آپ پر اور آپ سے پہلےنازل ہونے والی چیزوں پر ایمان لے آئے ہیں اور پھر یہ چاہتے ہیں کہ سرکش لوگوں کے پاس فیصلہ کرائیں جبکہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ طاغوت کا انکار کریں اور شیطان تو یہی چاہتا ہے کہ انہیں گمراہی میں دور تک لے جائے

3 (فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتىَ‏ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُ )

(نساء:۶۵)

پس آپ کے پروردگار کی قسم کہ یہ ہرگز صاحب ایمان نہ بن سکیں گے جب تک آپکو اپنے اختلافات میں حکَم نہ بنائیں

4 ۔ (إِنَّ الَّذِينَ اشْترَوُاْ الْكُفْرَ بِالْايمَانِ لَن يَضُرُّواْ اللَّهَ شَيْا وَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِي )

(ال عمران:۱۷۷)

جن لوگوں نے ایمان کے بدلے کفر خرید لیا ہے وہ خدا کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے اور انکے لیا درد ناک عذاب ہے

5 ۔ (مَن كَفَرَ بِاللَّهِ مِن بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَ قَلْبُهُ مُطْمَئنِ‏ بِالْايمَانِ وَ لَاكِن مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرٔا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللَّهِ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيم )

(نحل:۱۰۶)

جو شخص بھی ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرے۔۔۔۔۔۔علاوہ اس کے کہ جو کفر پر مجبور کر دیا جائے اور اس کا دل ایمان کی طرف سے مطمٔن ہو۔۔۔۔اور کفر کے لیے سینہ کشادہ رکھتا ہو اس کے اوپر خدا کا غضب ہے اور اس کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔

6۔ (وَ مِمَّنْ حَوْلَكمُ مِّنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ وَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مَرَدُواْ عَلىَ النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ نحَنُ نَعْلَمُهُمْ سَنُعَذِّبهُم مَّرَّتَينْ‏ ثمُ‏ يُرَدُّونَ إِلىَ‏ عَذَابٍ عَظِيم )

(توبه:۱۰۱)

اور تمہارے گرد دیہاتیوں میں بھی منافقین ہیں اور اہل مدینہ میں تو وہ بھی ہیں جو نفاق میں ماہر اور سرکش ہیں تم انکو نہیں جانتےہو لیکن ہم خوب جانتے ہیں عنقریب ہم ان پر دوہرا عذاب کریں گے اس کے بعد یہ عذاب عظیم کی طرف پلٹا دیے جائیں گے

۷ ۔سورہ بقرہ کی آیات ۸،۹،۱۰،۱۳،۱۴،۱۵ ،

۸ ۔سورہ منافقون کی آیات ۱،۲،۶،۹

۹ ۔ مسجدضرارکےمتعلق آیت کہ جو بعض صحابہ کے توسط سے بنائی گئی اور پیغمبرﷺ نے اسے صفہ ہستی سے مٹا دیا۔

(توبه:۱۰۷)

(ب) سنت کی نظر میں:

تاریخی کتابوں میں بہت سی روایات ہیں جو بعض صحابہ کے عادل نہ ہونے پر دلالت کرتی ہیں ان میں سے

( ۱) صلح حدابیہ میں قریش کے ساتھ صلح میں بعض اصحاب نے پیغمبراکرم ﷺ کی مخالفت کی۔

(صحیح بخاری:۳/۱۸۲؛ صحیح مسلم:۵/۱۷۵)

( ۲) جب رسول خدا سے سوال ہوا کہ منافقین کو قتل کیوں نہیں کرتے؟ آنحضرت نے جواب دیا: تا کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ محمد ﷺ اپنے اصحاب کو قتل کرتے ہیں ۔

(صحیح بخاری :۴/۱۶۰؛ صحیح مسلم:۸/۱۹)

( ۳) بعض صحابہ کی مخالفت قلم کاغذ نہ لانے میں پیغمبراکرم ﷺ کی وصیت لکھنے کے لیے ۔

(صحیح بخاری :۵/۱۳۸؛ صحیح مسلم:۱/۳۲۵)

( ۴) خود صحابہ کی ایک دوسرے سے مخالفت جیسے خلیفہ سوم کا اصحاب کے ذریعے قتل کا واقعہ یا معاویہ اور حضرت علی علیہ السلام کے درمیان جنگ۔

( ۵) بہت سے اصحاب کو خلیفہ دوم یا امام علی علیہ السلام کے توسط سے حد کا جاری ہونا۔

(سیوطی نے اصحاب میں سے ۱۱۶ کے نام لکھیں ہے جن پر حد جاری ہوئی۔)

( ۶) تاریخی کتابوں میں ہے پیغمبراکرم ﷺ کے ایک معروف صحابی ثعلبہ انصاری، پیغمبراکرم ﷺ کی دعا سے بہت ساری بھیڑوں کا مالک بنا مگر کچھ عرصے بعد منکر زکواۃ ہو گیا اور قران نے اسے واضح کافر قرار دیا۔

(ر ک تفسیر ثعالبی:۳/۱۹۸)

( ۷) صحابہ پیغمبراکرم ﷺ کا ایک نمونہ معاویہ بن سفیان ہے جس کا بہت سارے لوگوں حتیٰ صحابہ پیغمبر ﷺ کے قتل میں ہاتھ ہے ۔

( ۸) صحابی رسول مالک بن نویرہ کا ایک اور صحابی خالد بن ولید کے توسط سے قتل ہوا اور خالد کا مالک کی ہمسر پر تجاوز۔

(شرح نهج البلاغه؛ ابن ابی الحدید:۱/۱۷۹)

مجموعی طور پر قرآنی آیات اور روایات سے نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ سارے اصحاب عادل نہیں تھے بلکہ بعض عادل اور بعض غیرعادل تھے۔

سوال:

کیا امام علی علیہ السلام نے خلفا کی بیعت کی؟

جواب:

بیعت امیر المؤمنین علیہ السلام کے حوالے سے اہلسنت کے نزدیک چھے مہینے تک ابوبکر کی بیعت نہیں کی۔وہ کہتے ہیں کہ جب تک حضرت صدیقہ طاہرہ قید حیات تہیں امیر المومنین علیہ السلام نے ابوبکر کی بیعت نہیں کی ۔ لیکن رحلت صدیقہ طاہرہ کے بعد بھی حضرت علی علیہ السلام نے بیعت نہیں کی۔

صحیح مسلم میں ہے جب امیر المومنین علیہ السلام چھ مہینے کے بعد بیعت نہیں کی تھی ۔ ایک دن ابوبکرسے کہا کہ میرے گھر آؤ البتہ اس شرط کیساتھ کہ عمر کو ساتھ نہ لانا۔حضرت نے فرمایا:

کراهیة مَحضَرِ عُمر

(صحیح مسلم:۵/۱۵۴؛ صحیح بخاری :۵/۸۳)

"عمر کو دیکھنا پسند نہیں کرتا،،

اسی طرح علی علیہ السلام نے ابوبکر سے فرمایا:

ولكنّك استبددت علينا بالأمر حتّى فاضت عينا أبى بكر

(صحیح مسلم ۵ /:۱۵۴)

تو نے خلافت میں ہمارے حق میں ظلم کیا ۔ ۔ ۔یہاں تک کہ ابوبکر کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔

بیعت کا معنی بیعت کرنے والے اور جس کی بیعت کی جائے ،ان کے درمیان اطاعت اور پیروی کا عہدکرنا ہے۔مگر تینوں خلفا کی طول خلافت میں علی ابن طالب علیہ السلام ان تینوں خلیفوں میں سے کسی کی اطاعت نہیں کی اور انکے مقام اور خلافت کو قبول نہیں کیا ۔ البتہ بہت سارے موقعوں پر خلفا نے حضرت سے مشورت کی۔لیکن یہ کام بیعت میں شمار نہیں ہوتا کیونکہ یہودیوں کو بھی مشورہ دیتے تھے ۔اس لیے خلفا کے ساتھ حضرت کا انکی حکومت اور جنگوں میں شرکت نہ کرنے سےمشخص ہو جاتا ہے کہ حضرت کی بیعت اجباری اور ظاہری تھی۔

شیعہ کے بزرگ عالم شیخ مفید فرماتے ہیں:

والذی علیه محققوا لشیعة أنه لم یبایع علی ساعة قط

(فصول المختاره :۵۶)

"شیعہ محققین کے مطابق ،علی ابن ابی طالب ؑ نے لحظہ بھر بھی خلفا کی بیعت نہیں کی،،

اہلسنت کی بعض کتابوں میں ہے : پیغمبر ﷺ کی رحلت کے تیسرے دن امام علی علیہ السلام کو کھینچ کر مسجد لایا گیا۔بہت سے لوگ حضرت کے گرد جمع تھےاور علی کے ہاتھ کھول کر ابوبکرکے ہاتھ پر رکھنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔

فمسح أبو بکر يده علي يد علي و علي مضمومة. –

(اثبات اوصیه:۱۴۶)

"ابوبکر نے اپنا ہاتھ ،علی کے ہاتھ پر رکھا جبکہ حضرت کے ہاتھ بند تھے،،۔

واضح ہے کہ اس بیعت کی کوئی اہمیت نہیں اور قابل قبول نہیں کیونکہ دنیا میں کوئی بھی کسی کے بند ہاتھوں پر بیعت نہیں کر سکتا۔

سوال:

کن قرائن اورشواہدسےامامت امیرالمومنین علیہ السلام کلمہ مولٰی اورواقعی غدیرسے ثابت کی جاسکتی ہے؟

جواب:

حدیث غدیر میں کلمہ (مولیٰ) سے مراد ،اولی بالتصرف ہونا بہت سے دلائل اور شواہد سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔ان دلایل کو چند اقسام میں تقسیم کر سکتے ہیں۔

۱- دلائل اور شواہد قرآنی اور تفاسیر مفسرین

۲- دلائل اور شواہد،مکانی،زمانی،حالی

۳- خود خطبہ غدیر کے متعلق دلائل اور شواہد

۴- روایات سے قرائن اور شواہد

۵- عرب شاعروں کے اشعار سے قرائن اور شواہد

دلائل قرآنی اور تفاسیر مفسرین

واضح طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اس حدیث میں کلمہ مولا بلکہ بہت سے موارد میں اس کا ایک ہی معنی ہے اور وہ اولویت و شائستگی اور بالفاظ دیگر سرپرستی ہے قرآن نے بھی بہت سی آیات میں لفظ مولا کو سرپرست اور "اولیٰ،، استعمال کیا ہے۔قرآن میں کلمہ مولا ،اٹھارہ آیات میں آیا ہے۔جن میں سے دس موردخدا کے بارے میں ہیں ۔یہ واضح ہے کہ مولویّت خداوند بمعنی اولویت اور سرپرستی خدا ہے۔

بعض آیات کی جانچ سے پتہ چل سکتا ہے کہ کلمہ مولیٰ حدیث غدیر میں اولویت کے معنی میں ہے۔ ان آیات کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔

۱ ۔ (يَأَيهُّا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّک )

(مائده:۶۷)

اہلسنت کے بہت سارے علما یقین رکھتے ہیں کہ آیت تبلیغ غدیر کے دن نازل ہوئی۔اس آیت میں جس مسئلہ کے ابلاغ پر پیغمبراکرم ﷺ مأمور ہوئے نماز،روزہ جیسے احکام نہیں کیونکہ یہ احکام اس آیت سے پہلے نازل ہو چکے تھے اور پیغمبر ﷺ بھی انکے بیان سے خوفزدہ نہیں تھے اس لیے یہ اہم پیغام احادیث اہلسنت کے مطابق یہ مسئلہ خلافت اور جانشینی پیغمبراکرم ﷺ تھاجس کے ابلاغ پر آنحضرت مأمور ہوئے تھے۔

۲- اسی طرح اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبراکرم ﷺ جس کے بیان پر مأمور ہوئے تھےابھی تک عمومی طور پر بیان نہیں ہوا تھا۔دوسری طرف جانشینی اور امت اسلام کی سرپرستی کا مسئلہ باقی تھا کیونکہ دین کے سارے احکام پہلے بتائے جا چکے تھے۔

۳ ۔ آیت اکمال دین

(الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ أَتمْمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتىِ وَ رَضِيتُ لَكُمُ الْاسْلَامَ دِينٔا )

(مائده: ۳)

اہلسنت کی کتابوں کی بہت سی احادیث کے مطابق یہ آیت واقعہ غدیر کے بعد نازل ہوئی۔یعنی جب حضرت علی علیہ السلام خلافت کے لیے منسوب ہوئے تھے۔

(الاتقان:۱/۳۱؛تاریخ یعقوبی:۲/۳۵؛تاریخ بغداد:۸/۲۹۰؛الدرالمنثور:۲/۲۵۹؛تاریخ ابن عساکر:۲/۷۵؛تذکرة الخواس:۲۳۰؛تفسیر ابن کثیر:۲/۱۴؛شواهد التنزیل:۱/۱۵۷؛الاتقان:۱/۳۱)

۴ ۔ (أَطِيعُواْ اللَّهَ وَ أَطِيعُواْ الرَّسُولَ وَ أُوْلىِ الْأَمْرِ مِنكم ‏)

(نساء:۵۹)

اس آیت میں خدااور پیغمبراکرم ﷺ کی اطاعت کے مساوی اولی الامر کی اطاعت قرار پائی ہے۔ اس آیت کے ذریعے پیغمبراکرم ﷺ اور اولی الامر کی اطاعت اور عصمت کو بغیر کسی شرط وقید کے ثابت کیا جا سکتا ہے۔

۵ ۔ (سَأَلَ سَائلُ بِعَذَابٍ وَاقِع )

(معارج:۱)

اہلسنت کی بہت سی بہت سی تفسیر کے مطابق ،یہ آیت واقعہ غدیر خم میں حارث بن نعمان نامی صحابی کی مخالفت کے بعد نازل ہوئی۔

(ر ک سیره الحلبیه:۳/۳۳۷؛تفسیر الثعلبی:۱۰/۳۵؛تفسیر القرطبی:۱۸/۲۷۹)

۶ ۔ آیت

(الْيَوْمَ يَئسَ الَّذِينَ كَفَرُواْ مِن دِينِكُمْ )

(مائده:۳)

غدیر کے دن نازل ہوئی۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہےکہ علی کا پیغمبراکرم ﷺ کا خلیفہ او جانشین مقرر ہونے سے دشمن اسلام کو نقصان پہنچانے سے نا امید ہو گیا ۔

۷ ۔ سب شیعہ اور سنی مفسرین نے اعترف کیا ہے کہ آیت مباہلہ میں خدا نے علی علیہ السلام کو نفس پیغمبر ﷺ کہا ہے اور کسی نے بھی اس پر اعتراض نہیں کیا ۔ یقینا ہونا دوستی سے بالا تر ہے۔ اگر مولا کا معنی اس عبارت

من کنت مولاه فهذا علی مولاه

میں دوستی ہو تو اتنا اہم نہیں تھا کہ حارث بن نعمان اعتراض کرتا حالانکہ واقعہ مباہلہ میں بھی کسی نے اعتراض نہیں کیا۔

دلیل از صدر و ذیل حدیث

۱ ۔پیغمبراکرمﷺ نے اس جملہ

'' من کنت مولاه فهذا علی مولاه،،

سے پہلےیہ سوال کیا ،

ألستُ أولی بِکم مِن أنفسکم؟،

(سنن ابن ماجه:۱/۴۳؛سیره النبویه؛ ابن کثیر:۴/۴۱۷؛البدایه والنهایه:۵/۲۲۹؛تاریخ بغداد:۴/۲۳۶؛تفسیر طبری:۳/۴۲۸)

،اس جملے کے لانے کا مقصد یہ تھا کہ جو حق پیغمبراکرم ﷺ کا ہے علی علیہ السلام کے لیے بھی وہی ثابت ہے۔

۲ ۔ عموما اگر ایک کلمہ کے بہت سارے معنی ہوں تو بولنے والا اپنے مورد نظر معنی کے لیے قرینہ لاتا ہے۔ پیغمبراکرم ﷺ نے بھی کلمہ مولی کا صحیح معنی سمجھانے کے لیے جو قرینہ استعمال کیا ہے وہ یہ ہے کہ فرمایا

'' الست اولی بکم،،

اس کے فورا بعد فرمایا :

من کنت مولاه فهذا علی مولاه

پہلے جملہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبراکرم ﷺ کا مورد نظر معنی یہی سرپرست ہے۔

۳ ۔ پیغمبراکرم ﷺ نے خطبہ غدیر میں فرمایا:میں بہت جلد آپکے درمیان سے چلا جاؤں گا۔ اس کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبراکرم ﷺ اپنے بعد کے لیے وصیت کر رہے ہیں اور پیغمبراکرم ﷺ کے بعد اہم مسئلہ ولایت اور جانشینی آنحضرت تھی دوستی کے مسائل نہیں۔

۴ ۔ پیغمبراکرم ﷺ نے اس جملہ

" من کنت مولاه،،

کے فورا بعد فرمایا:

"الله اکبر علی اکمال الدین و اتمام النعمة،،

(شواهد التنزیل:۱/۲۰۲؛مسند احمد:۶/۴۸۹؛صحیح ترمذی:۵/۵۹۰؛سنن کبری:۵/۴۵)

جبکہ جانتے ہیں کہ علی کی دوستی سے دین مکمل نہیں ہوتا بلکہ ولایت علی علیہ السلام سے دین مکمل ہوتا ہے ۔

۵ ۔ پیغمبر ﷺ نے اپنی گفتگو کے آغاز میں لوگوں سے تین اہم اسلامی اصولوں کا اقرارلیا اور فرمایا: کیا آپ گواہی نہیں دیتے کہ خدا کے علاوہ کوئی خدا نہیں ، محمّد اللہ کے بندہ اور رسول ہیں اور بہشت اور دوزخ کا وجود ہے؟پیغمبراکرمﷺ کا اقرار لینے کا مقصد لوگوں کو تیار کرنا تھاتاکہ جو مقام علی علیہ السلام کے لیے ثابت کریں گے اس کو پہلے والے اصولوں کی طرح قبول کریں۔اسی طرح اس سے پتہ چلتا ہے کہ پیغمبراکرم ﷺ کی کلام علی علیہ السلام کی دوستی کو بیان کرنے کے لیے نہیں تھی ۔کیونکہ اس مطلب کا اصول دین کے ساتھ کوئی ربط نہیں۔

۶ ۔پیامبر ﷺ حدیث ثقلین میں اہلبیت کو قرآن کے مساوی قراردیا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت کا مقصد حضرت علی علیہ السلام کے بلند مرتبہ اور آپ کے بعد دین اسلام کی پاسداری کو بیان کرنا تھا۔

۷ ۔ پیغمبراکرم ﷺ نے غدیر میں حاضرین کو حکم دیا کہ ان کا یہ حکم غائبین تک پہنچائیں۔ اس سے اس واقعہ کی اہمیت اور آیندہ مسلمانوں میں اس کا نمایاں کردار ظاہر اور واضح ہے۔

قرائن اور شواہد مکانی،زمانی اور حالی

۱ ۔ خطبہ غدیر میں اگر پیغمبراکرم ﷺ کا مقصد علی علیہ السلام کی دوستی ہوتا اس گرم اور سوزان بیابان غدیر میں اس مسئلہ کو بیان کرنا ضروری نہیں تھا کیونکہ قرآن کریم نے واضح طور پر اس آیت

(إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَة )

(حجرات:۱۰)

میں اس موضوع کی طرف اشارہ کیا ہےاس مسئلہ سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبراکرم ﷺ کا کوئی اہم مقصد تھا۔

۲ ۔ تاریخ میں ہے ہجرت کےپہلےسال پیغمبراکرم ﷺ نےمسلمانوں کےدرمیان عقداخوت پڑھا اور انکو ایک دوسرےکابھائی بنایا۔اسکےبعد اپنا علی علیہ السلام کےساتھ عقد اخوت پڑھا۔اس سے پیغمبراکرم ﷺنے کافی حد تک حضرت علی علیہ السلام کی اہمیت اور مقام سب کو بتایا۔ اس لیے ضروری نہ تھا کہ عربستان کےصحرا میں مسلمانوں کو جمع کر کے علی علیہ السلام کیساتھ اپنی دوستی یاد دلائیں ۔اس سے واضح ہے کہ پیغمبراکرم ﷺ کوئی اور مطلب بتانا چاہتے تھے۔

۳ ۔ امیر المومنین علیہ السلام کے منصوب ہونے کے بعد بیعت کے مراسم انجام پائے۔اور حضرت کو دی جانے والی مبارکبادی سے معلوم ہوتا ہے حضرت علی علیہ السلام رہبر اور جانشین پیغمبراکرم ﷺ کے طور پر منصوب ہوئے۔

۴- اسی طرح خلیفہ دوم کا امام علی علیہ السلام کی بیعت کے وقت کلمہ (اصبحت) استعمال کرنا۔

۵ ۔ واقعہ غدیر کے بعد لوگ حضرت علی علیہ السلام کو سلام کرتے ہوئے لفظ مولا استعمال کرتے تھے اور اس کی علت غدیر خم میں ابلاغ ولایت امیر المومنین علیہ السلام گردانتے۔اس سے اچھی طرح غدیر آشکار ہوتی ہے

(الغدیر:۱۵۶ مقدمه)

۶ ۔ مقام غدیر کی طرف توجہ کریں تو یہ مسلمانوں کی ایک دوسر سے جدا ہونے کی جگہ تھی ۔اور ولایت امام علی علیہ السلام کے ابلاغ کے لیے مناسب جگہ تھی۔ کیونکہ یہ جگہ غدیرکے پروگرام کو مسلمانوں کے لیے یاد دہانی کا باعث بنتی۔اس کے علاوہ جب حجاج تین دن دیر سے اپنے گھروں کو پہنچتے ، تو لوگ ان سے تاخیر کی وجہ پوچھتے ۔یہ سب چیزیں اخبار غدیر کے منتشر اور لوگوں کے ذہنوں میں باقی رہنے کا سبب بنے۔

دلائل روائی:

۱- پیغمبر ﷺ جب بھی کسی ایسےشخص سے ملتے جس کا رویہ حضرت علی علیہ السلام کےساتھ صحیح نہیں یا پیغمبرﷺسےآپ کی جاہلانہ شکایت کرتےتو انکو فرماتے:

ماذا تريدون من علي؟ إنّ عليّأ منّي وأنا منه وهو ولي كلّ مؤمن بعدي.

(سنن ترمذی:۵/۲۹۷؛سنن الکبری:۵/۴۵)

(علی سے کیا چاہتے ہو، وہ مجھ سےہےاورمیں اس سے ہوں،اورمیرےبعد علی سب مومنین کا ولی و سرپرست ہیں)۔

اگرچہ لغت میں ولی کے بہت سارے معنی ہیں لیکن اس حدیث میں رہبر اور سرپرست کے علاوہ کوئی معنی نہیں۔

۲ ۔ ایک اور روایت میں ہے:

إن تولوا عليا تجدوه هاديا مهديا يسلك بكم الطريق المستقيم

(شواهد التنزیل:۱/۸۴)

(اگر علی کی پیروی کریں،اگرچہ تم ایسا نہیں کرو گے، تو دیکھو گے وہ ہدایت شدہ ہادی ہے اورتمہیں صراط مستقیم کی طرف لے جائے گا)

اس روایت میں واضح طور پر امام علی کے وظیفہ ہدایتگری اور پیشوائی کی طرف اشارہ ہوا ہے۔

۴ ۔ جب پیغمبر ﷺ نے امام علی کو فرمایا:اے علی آپ کل ایمان، کل کفر کے مقابلے میں ہیں،

(شرح نهج البلاغه؛ابن ابی الحدید: ۱۳/۲۶۱؛شواهد التنزیل:۲/۱۴؛ینابیع لمودة:۲۸۱ و ۲۸۴)

کسی نے بھی امام علی علیہ السلام کو مبارک نہیں دی،جبکہ ایمان دوستی سے بالا تر ہے ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خطبہ غدیر میں ولی سے مرادسرپرست اور اولی بالتصرف ہے۔

صحابہ اور پیروان کا استدلال

۱ ۔ حضرت زہرا علیہالسلام نے فرمایا:پیغمبراکرمﷺ نے غدیر کے دن فرمایا: جس کا میں مولا ہوں علی اس کے مولا ہیں۔

(اسد الغابه:۴/۹۷)

۲ ۔ جناب عمار یاسر کہتے ہیں : پیغمبراکرم ﷺ نے فرمایا:

مَنْ كُنْتُ مَوْلاهُ، فَهذا عَلِىٌّ مَوْلاهُ. أَللّهُمَّ والِ مَنْ والاهُ، وَ عادِ مَنْ عاداهُ..

(مسند احمد:۴/۲۸۱)

۲ ۔ اصبغ بن نباتہ نے ابو ہریرہ سے کہا : کیا حدیث غدیر کو بھول گئے ہو؟ابو ہریرہ نے جواب دیا: نہیں میں خود پیغمبراکرم ﷺ سے سنا کہ پیغمبراکرم ﷺ نے فرمایا: جس کا میں مولا ہوں علی علیہ السلام اس کے مولا ہیں۔

(تزکرة الخواص:۴۸؛الغدیر:۱/۲۰۳)

۴ ۔ عمر بن عبد العزیز-خلفای بنی امیہ سے-نے کہا: پیغمبراکرم ﷺ نے فرمایا: جس کا میں مولا ہوں علی علیہ السلام اس کے مولا ہیں۔

(تاریخ مدینه دمشق:۴۵/۳۴۴؛الغدیر:۱/۲۱۰)

۵ ۔ عمرو بن عاص نے کہا: پیغمبراکرم ﷺ نے فرمایا: جس کا میں مولا ہوں علی علیہ السلام اس کے مولا ہیں۔

(تذکرة الخواص:۸۴؛کشف الغمة:۱/۲۵۸)

اسی طرح

۶ ۔حدیث غدیر سے امام حسن علیہ السلام کا استدلال۔

(الغدیر: ۱/۱۹۷)

۷ ۔ حدیث غدیر سے زن دارمی کا استدلال۔

( الغدیر: ۱/۲۰۸)

۸ ۔ حدیث غدیر سےخلیفہ عباسی مأمون کا استدلال۔

(الغدیر: ۱/۲۱۱)

عرب شعرا کے اشعار سے قرائن و شواہد

عمرو بن عاص نے پڑھا ہے:

وقال فمن كنت مولى له فهذا له اليوم نعم الوليا

لسید الحمیری نے کہا:

من کنت مولاه فهذا له

مولی فلم یرضوا و لم یقنعوا

امام علی علیہ السلام نے غدیر خم کے بارے میں معاویہ کو لکھا؟

و أوجَبَ لِی ولایَتَهُ عَلَیکُم رَسُولُ اللهِ یَومَ غَدیرِ خُمٍّ

(مناقب اًل ابی طالب:۲/۱۹؛ الغدیر: ۱/۳۴۰)

سوال:

حدیث (لا تفترق امّتی) (من مات بلا امام) (حدیث بارہ امام)کی رو سے- امامت امام علی علیہ السلام عقلی اور نقلی دلایل کیساتھ بیان کریں؟

جوابات:

(الف) دلایل نقلی:

۱ ۔ پیغمبراکرم ﷺ نے فرمایا: میرے بعد مسلمان تہتر ( ۷۳) فرقوں میں تقسیم ہونگے۔ ان میں سے ایکہی فرقہ نجات پائے گا اور باقی بہتر( ۷۲) فرقے جہنم می جائیں گے۔

(صحیح ترمذی:۴/۱۳۴/۲۷۷۸؛سنن ابن ماجه:۲/۱۳۲۱/۳۹۹۱)

اس حدیث کے بارے میں اہم ترین بحث نجات پانے والے فرقے کی شناخت ہے۔ اگر دوسری احادیث پیغمبر ﷺ کی طرف مراجعہ کریں تو دیکہیں گے کہ حضرت نے حدیث ثقلین میں ، اہل بیت اور ان کےپیروکاروں کو اہل نجات کہا ہے۔ جیسے کہ فرمایا: اگر اہل بیت اور قرآن سے تمسک کریں گے تو گمراہ نہیں ہو گے۔اسی طرح فرمایا:

(یا علی أنت و شيعتك في الجنة)

(مناقب؛خوارزمی:۱۱۱/۱۲۰)

یا علی؛ آپ اور آپ کے شیعہ بہشتی ہیں

ایک اور روایت میں:

مَثَلُ اهل بیتی مَثَل سفینة نوح، من رکبها نجی و من تخلّف عنها غَرِق،

(فضائل الصحابه:۲/۲۵۸؛معجم الکبیر:۳/۴۴)

میرے اہل بیت کی مثال کشتی نوح جیسی ہےجو بھی اس پر سوار ہوا نجات پائے گا اور جس نے روگردانی کی غرق ہو گا)

اہلبیت اور انکے پیروان اہل نجات ہیں۔پیغمبراکرمﷺ نے اس حدیث میں اہل بیت کو کشتی نوح کیساتھ تشبیہ دی اور فرمایا:جو بھی اہلبیت سے تمسک نہ کرے وہ جہنم میں جاے گا ۔

پیغمبراکرمﷺ نے فرمایا:

مثل أهل بیتی کمثل النجوم فی السماء یهدون الناس ،

(المستدرک:۳/۱۴۹؛ فضائل الصحابه :۳/۶۷۱)

میرےاہلبیت کی مثال آسمان کے ستاروں جیسی ہے کہ لوگوں کی ہداہت کرتے ہیں۔

۲ ۔ پیغمبراکرم ﷺ نے فرمایا:

لاتزال هذه الائمة مستقيمأ امرها... حتى يمضى منهم اثنا عشر خليفه كلهم من قريش..

(منتخب کنز الاعمال:۵/۳۲۱؛الکامل فی التاریخ:۶/۲۴۹؛صواعق المحرقه:۲۸)

احمد بن حنبل اور حاکم نیشاپوری نے روایت کی ہے: مسروق نامی شخص نے کہا: ایک رات عبد اللہ بن مسعود کے پاس بیٹھا ہوا تھااور ان سے قرآن پڑھ رھا تھا۔ایک شخص نے سوال کیا: اے عبد اللہ، کیا رسول خدا سے پوچھا تھا کہ اس امت کے کتنے خلیفہ ہونگے؟

عبداللہ نےکہا: جب سے عراق آیا ہوں آپ سے پہلے اس طرح کا سوال کسی نے نہیں کیا۔پھر کہا: ہم نے یہ سوال کیا تھا اور آنحضرت نے فرمایا: وہ ( ۱۲) بارہ لوگ ہیں نقبای بنی اسرائیل کی طرح۔

(مسند احمد:۱/۳۹۸)

حضرت علی علیہ السلام نے ایک دفعہ، اس روایت میں قریش کے مقصود کو بیان کیا :

سب امام قریش میں سے ہیں اور ان میں سے بنی ہاشم سےاہل بیت پیغمبر ﷺ کو قرار دیا۔ ان کے علاوہ کسی کے لیے ولایت روا نہیں اور نہ ہی ان کے علاوہ کوئی شائستہ ولایت ہے۔

اور یہ بھی فرمایا:

اللهم بلى ولا تخلو الارض من حجة قائم لله بحجته إما ظاهر معلوم، وإما خائف مغمور، لئلا تبطل حجج الله وبیناته

(کنز العمال:۱۰/۲۶۳؛ینابیع المودة:۱/۸۹)

اگر ہم اس جہا ن کے مذاہب کی تحقیق کریں ،تو کوئی بھی ایسا مذہب نہیں کہ جس پر فرمان پیغمبر ﷺ منطبق ہو سوائے مذہب شیعہ اثنا عشریہ کےجن کے بارہ رہبر و امام ہیں ان میں سے پہلے حضرت علی علیہ السلام اور آخری حضرت مہدی عج ہیں۔

۳ ۔ پیغمبراکرم ﷺ اسلامﷺ نے فرمایا :یا علی آپ بمزلہ کعبہ ہیں لوگ آپ کی طرف آئیں گے نہ آپ لوگوں کی طرف۔

(اسد الغابة:۴/۳۱)

۴ ۔ پیغمبراکرم ﷺ اسلامﷺ نے فرمایا :

لَا يَزَالُ الْإِسْلَامُ عَزِيزٔا إِلَى اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةٔ

(صحیح مسلم:۶/۳؛سنن ابی داود:۲/۳۰۹/۴۲۸۰)

یہ حدیث فقط شیعہ اثنا عشریہ کے عقائد کےمطابق ہے کہ جن کے پیغمبراکرم ﷺ کے بعد بارہ( ۱۲) امام ہیں۔

۵ ۔ پیغمبراکرم ﷺ اسلامﷺ نے فرمایا :

عَلِيٌّ مَعَ الْحَقِّ وَ الْحَقُّ مَعَ عَلِيٍّ ویدور حیث دار

(مجمع الزوائد:۷/۲۳۵؛مسند یعلی:۲/۳۱۸؛تاریخ بغداد:۴/۳۲۲)

۶ ۔ کتب اہلسنت کے مطابق،پیغمبراکرمﷺ نے فرمایا :میرے بعد سب سے پہلے فاطمہ بہشت میں جائے گی۔

(صحیح مسلم:۷/۱۴۲؛طبقات الکبری:۲/۲۴۷)

حالانکہ حضرت زہرا علیہا السلام فرقہ امامیہ میں سے ہیں۔

دوسری طرف رحلت پیغمبراکرم ﷺ کے بعد حضرت زہرا نے خلیفہ اول کی بیعت نہیں کی ۔اگر خلیفہ اول با حق اور شائستہ جانشینی پیغمبراکرم ﷺ ہیں تو حضرت زہرا علیہا السلام مرگ جاہلیت سے اس دنیا سے گئیں- اور جو بھی جاہلیت کی موت مرے یا تو وہ مشرک ہے یا کافر اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے جبکہ حضرت زہرا علیہا السلام (سیدہ نسا العالمین ہیں) ۔

(صحیح بخاری:۴/۱۴۳؛سنن ترمذی:۵/۳۶۸؛۳۹۸۵)

اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ خلیفہ اول ،خلیفہ حق نہیں تھے اور جانشینی پیغمبر ﷺ کے لائق نہیں تھے۔

۷ ۔ اہلسنت کی کتابوں میں ہے:

الحسن والحسين سيدا شباب أهل الجنة

(سنن ترمذی:۵/۳۲۱/۳۸۵۶؛سنن ابن ماجه:۱/۴۴/۱۱۸؛فضائل الصحابه:۲۰)

بیشک حسن وحسین جوانان جنت کے سردار ہیں

امام حسن اور امام حسین علیہما السلام ا مامیہ فرقہ میں سے تھے اس لیے امامیہ حق پر ہیں اور بہشت میں داخل ہو ں گے۔

۸ ۔ پیغمبراکرم ﷺ اسلامﷺ نے فرمایا :

فاطمة بضعة منی من اذاها فقد اذانی و من اذانی فقد اذی الله

(صحیح بخاری:۴/۲۱۰؛صحیح مسلم:۷/۱۴۱؛سنن ترمذی:۵/۳۶۰)

فاطمہ میرا ٹکڑاہےجس نےاسے تکلیف پہنچائی گویا اس نےمجھے تکلیف پہنچائی اورجس نےمجھے تکلیف پہنچائی اس نے گویا خدا کو تکلیف پہنچائی ۔

دوسری طرف فقط شیعہ کا شمار ان کے پیروکاروں میں آتا ہے۔

۹ ۔ پیغمبراکرم ﷺ نے فرمایا :

یا علی لا يحبك إلا مؤمن ، ولا يبغضك إلا منافق

(شرح الاخبار:۱/۱۵۲سنن ترمذی:۵/۳۰۶؛سنن نسائی:۸/۱۱۶)

یا علی آپ کو دوست نہیں رکہیں گے مگر مومن اور کوئی آپ سے بغض نہیں رکھے گا مگرمنافق،

پس جوبھی حضرت علی علیہ السلام کادشمن ہوگابہشت میں داخل نہیں ہوگا اور اہل نجات نہیں ہوگا

۱۰ ۔ پیغمبراکرم ﷺ نے حضرت علی ،زہرا،حسن وحسین علیہم السلام کو فرمایا:

أنا حرب لمن حاربكم ، وسلم لمن سالمكم.

(ذخائرالعقبی:۲۵؛مسند احمد:۲/۴۴۲؛مجمع الزوائد:۹/۱۶۹)

جو بھی آپ سے جنگ کرےگا میں اس سے جنگ کروں گا ،اور جو آ پ سےصلح کرےگا میں اس سے صلح کروں گا۔

۱۱ ۔ امام جوینی عبد اللہ بن عباس سے روایت کرتے ہیں پیغمبراکرم ﷺ نے اپنے بعد اوصیاکا نام لیا جن میں پہلے حضرت علی علیہ السلام اور آخری حضرت مہدی علیہ السلام ہیں۔

(ینابیع المودة:۳/۲۸۱)

اسی طرح ایک اور روایت میں جوینی نے کہا: میں نے پیغمبر ﷺ سے سنا انہوں نے فرمایا: میں اور علی اور حسن و حسین علیہم السلام اور نولوگ حسین علیہ السلام کی نسل سےپاکیزہ اور معصوم ہیں

۱۲ ۔ خدا نے قرآن کریم میں فرمایا:

(وَ إِن مِّنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِير )

(فاطر:۲۴)

اور کوئی قوم ایسی نہیں جس میں ڈرانے والا نہ ہو۔

ہم برادران اہلسنت سے پوچھتے ہیں کہ اس زمانے میں رسول خدا کا خلیفہ اور امام کون ہے؟

(ب) عقلی دلایل

۱ ۔

اگر ایک شخص علم و تقوا اور دوسری صفات سے دوسروں پر برتری رکھتا ہو تو عقل و نقل کا تقاضا ہے کہ وہی لوگوں کا سرپرست ہو اہلسنت کے اقوال کے مطابق حضرت علی علیہ السلام امت کے ہر فرد سے افضل ہیں ان میں سے

(الف) اعلمیت

پیغمبراکرمﷺ نے فرمایا:

أعلم أمتي من بعدي علي بن أبي طالب ، أنَا مَدِينَةُ الْعِلْمِ وَ عَلِيٌّ بَابُهَا

(مناقب خوارزمی:۸۲)

میرے بعد علی ابن ابی طالب ؑامت کے عالم ترین فرد ہیں میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ۔

آنحضرت نے حضرت فاطمہ سے فرمایا:

ألا ترضين أن زوجتك أقدم أمتي سلمأ وأكثرهم علمأ وأعظمهم حلمأ.

(معجم الکبیر:۲۰/۲۳۰؛مجمع الزوائد:۹/۱۱۴)

کیا تم چاہتی ہو کہ آپکی شادی ایسےشخص سے کراؤں جو میری امت کا پہلا مسلمان، سب سے زیادہ عالم اور سب سے زیادہ صابر ہے۔

عایشہ کہتی ہے کہ حضرت علی علیہ السلام سب سے زیادہ سےآگاہ تھے۔

(المناقب:۹۱/۸۴؛نظم الدرالسمطین:۱۳۳)

(ب) حضرت علی علیہ السلام سب سے زیادہ زاہد

پیغمبراکرمﷺ نے فرمایا:

یا علی انّ اللّٰه قَد زَیّنَکَ بِزینَة لَم یُزَین العِبادَ، بِزینة أحَب الیه منها، هی الزهد فی الدنیا

(شرح الاخبار:۱/۴۳۵؛شرح نهج البلاغه؛ابن ابی الحدید:۹/۱۶۶)

یا علی خدا نے محبوب ترین زینت جو کہ زھد ہے تجھے عطا کی۔

(ج) اسلام میں سبقت

حضرت علی علیہ السلام پہلےمسلمان ہیں جبکہ دوسرے بت پرست تھے۔

(د) فداکاری اور شجاعت

سب جنگوں میں اسلام کا پرچم علی کے ذریعے سے بلند ہوا اور امام علی علیہ السلام وہ ہیں جن کے بارے میں سب مفسرین عامہ اور خاصہ کا اتفاق ہے کہ یہ آیت ان کی شأن میں نازل ہوئی

(إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَ رَسُولُهُ وَ الَّذِينَ ءَامَنُواْ الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَوةَ وَ يُؤْتُونَ الزَّكَوةَ وَ هُمْ رَاكِعُون )

(مائده:۵۵)

ایمان والو پس تمہارا ولی اللہ ہے اور اسکا رسول اور وہ صاحبان ایمان جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکور میں زکواۃ دیتے ہیں۔

(ز) امام علی علیہ السلام اور تربیت الہی

حاکم نیشاپوری نےلکھاہے:نعمات خداوندمیں سےکچھ فقط حضرت علی علیہ السلام کےمقدر میں تہیں یہ کہ پیغمبرﷺنےحضرت علی علیہ السلام کو تربیت اور سرپرستی کےلیے چنا۔پیامبراکرمﷺمسجد الحرام میں نمازکےلیےجاتےتوحضرت خدیجہ اورحضرت علی علیہ السلام انکےپیچھےجاتے اور سب کے سامنے آپ ﷺ کے پیچھے نماز ادا کرتے۔جبکہ ان کے علاوہ کوئی بھی نماز گذار نہیں تھا۔

(المستدرک:۳/۱۸۳)

(ح) امام علی علیہ السلام سب سے پہلے مومن

پیغمبراکرمﷺ نے حضرت زھراعلیہا السلام کو حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: بیشک وہ پہلا شخص ہے جو مجھ پر ایمان لایا۔

(معجم الکبیر:۲۰/۲۳۰؛مجمع الزوائد:۹/۱۱۴)

ابن ابی الحدید نے بھی لکھا ہے: اس کے حق کےبارے میں کیا کہیں جس نے سب سے پہلے ہدایت کی طرف سبقت کی۔

(شرح نهج البلاغه؛ابن ابی الحدید:۳/۲۶۰)

ان دلیلوں کی طرف متوجہ ہوتےہوئےعقل تقاضاکرتاہےکہ امام علی علیہ السلام امام اورجانشین پیغمبرﷺہے

۲ ۔

حدیث منزلت سے اخذ کرتے ہیں کہ خلیفہ کیلئے (مستخلف عنہ) کے اوصاف اور شرائط ہونا ضروری ہے تھوڑی سی توجہ کرنے سے پتہ چل جاتا ہے کہ علی علیہ السلام پیغمبراکرم ﷺ کے ساتھ بہت زیادہ شباہت رکھتے تھے۔ کہ بعض کی طرف پہلے اشارہ ہو چکا ہے

لیکن اہلسنت عقلی او ر شرعی قانون کی طرف توجہ کیے بغیر قبح تقدیم مفضول بر فاضل،علی علیہ السلام کو خلیفہ پیغمبراکرم ﷺ نہیں جانتے ۔

۳ ۔

کتب اہلسنت میں نقل ہوا ہے کہ پیغمبراکرم ﷺ نے فرمایا: میرے بعد بارہ خلیفہ ہیں اور دین اسلام ان کے توسط سے ہمیشہ عزیز اور تا قیا مت برپا ہے۔

اہلسنت کے بزرگ دانشمند نے اس حدیث کے بارے میں کہا: حدیث خلفائے اثنا عشر فقط آئمہ اثنی عشر اہلبیت علیہم السلام پر منطبق ہے۔کیونک وہ اعلم ،با تقوا اور اپنے زمانے کے لوگوں سے برتر تھے۔اور اہل علم و تحقیق اس کو اچھی طرح جانتے ہیں حدیث ثقلین اور بہت سی احادیث اس معنی کی تأیید کرتی ہیں

لیکن ابن حجر عسقلانی نے کہا: خلفائے اثنا عشر سے مراد وہ ہیں جو رسول خدا کے بعد خلیفہ ہوئے ہیں اور اجماع اور لوگوں کی حمایت رکھتے ہیں اس نے کہا: پیغمبراکرم ﷺ کے بعد چودہ( ۱۴) لوگ ہیں مگر ان میں سے دو معاویہ بن یزید اور مروان بن حکم صلاحیت نہ رکھنے کی وجہ سے حذف ہو جائیں گے ۔اس بنا پر بارہ لوگ باقی بچیں گے جو حدیث پیغمبراکرم ﷺ کے مطابق ہے۔

ابن حجر نے کہا: اجماع اور لوگوں کی حمایت کی شرط اکثر خلفا میں ہو اگر ایک دو لوگ جیسے امام حسن علیہ السلام اور عبد اللہ ابن زبیر میں یہ شرط نہ ہو تو بھی مشکل نہیں۔

(فتح الباری:۱۳/۱۸۲-۱۸۳)

ابن حجر کی گفتگو پر اشکالات:

(الف) خلیفہ کی خلافت پر اجماع کی شرط ،عبد اللہ بن زبیر میں نہ ہونے کے علاوہ بعض دوسرے خلیفوں میں بھی نہیں تھی جیسے عثمان میں بھی نہیں تھی ۔ لیکن امام حسن علیہ السلام کے بارے میں ابن حجر کی بات اشتباہ ہے ۔کیوں کہ سب تاریخی کتابوں کے مطابق سب مسلمان آپ کی خلافت پر متفق تھے۔

(ب) ابن حجر عبد الملک کی خلافت کو صحیح مانتا ہے حالانکہ عبد الملک نے عبد اللہ ابن زبیر کو قتل کیا جو کہ ابن حجر کی نظر میں خلیفہ حق ہے ۔

(ج)ابن حجر یزید بن معاویہ کو خلیفہ مانتا ہے حالانکہ کسی بھی منصف انسان کو یزید کی نا اہلی میں شک نہیں ۔

(د)ابن حجر خلافت مروان کو کم مدت ہونے کی وجہ سے صحیح نہیں مانتا حالانکہ خلافت امام حسن علیہ السلام کو جنکی خلافت مروان کی طرح چھ مہینہ تھی صحیح جانتا ہے۔

(و)حدیث میں ہے خلفائے اثنا عشر تا روز قیامت دین کو چلائیں گے حالانکہ جن کو ابن حجر خلیفہ مانتا ہے وہ سب دنیا سے چلے گئے۔

(ز)اگر یزید کی خلافت کو صحیح مانیں تو پھر اس کے بیٹے معاویہ بن یزید کی خلافت کو بھی صحیح ماننا پڑے گا کیونکہ وہ اپنے باپ کی طرف سے خلافت پر پہنچا تھا لیکن ابن حجر معاویہ بن یزید کی خلافت کو صحیح نہیں مانتا ۔

۴-

علمائے اہلسنت امام کے لیے تین شرطوں کو ضروری سمجھتے ہیں علم ، عدالت، شجاعت ۔ دوسری طرف شیعہ اور اہلسنت روایات کی بنا پر کوئی بھی انسان علم ،عدالت، اور شجاعت میں امام علی علیہ السلام تک نہیں پہنچتا۔

۵-

عقل کی بنا پر وہ امام بن سکتا ہے جو معصوم ہو، تاکہ لوگ اس کی اطاعت کریں اور گناہ گار کی اطاعت پر یقین رکھنا اشتباہ ہے آئمہ کسی بھی گناہ کے مرتکب نہیں ہوئے۔اسکی طرف توجہ دیں تو واضح اور بدیہی ہے کہ عقل ایسے لوگوں کے ہوتے ہوئے دوسروں کے اتباع نہیں کرتی۔

۶-

لیلۃ المبیت کے واقعہ کیطرف توجہ کرتے ہوئے کہ حضرت علی علیہ السلام نے جانی خطرہ کے باوجود پیغمبراکرم ﷺ کی جگہ پر سونا قبو ل کیا ،اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت علی علیہ السلام نے پیغمبراکرم ﷺ کی کامل طاعت کی ہے۔عقل کی رو سے رہبری اور جانشینی کے لائق وہ ہے جو اپنے تمام وجود کے ساتھ رسول گرامی اسلام کا مطیع ہو۔

۷-

پیغمبراکرم ﷺ اپنی رسالت کے لیے بہت سی زحمات کےمتحمل ہوئےاور ۲۳ سال کے عرصہ میں اسلام کی واقعی تبلیغ کی ۔محال ہے کہ حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو فقط وحی کے مطابق گفتگو کرتے اور عمل کرتے تھے۔

(نجم:۳،۴ )

اس نئے دین کو راہنما اور سرپرست کے بغیر چھوڑ دیتے ۔یہ کام ایک عام انسان کے لیے بعید ہے چہ جائیکہ پیغمبراکرم ﷺ جو کہ اشرف المخلوقات ہیں۔

آخر دعوینا أن الحمد لله رب العالمین


کتابنامہ

۱ القرآن الکریم،کتاب الله تبارک وتعالی

۲ الاتقان فی علوم القرآن،جلال الدین سیوطی(م ۹۱۱ق)،تحقیق:سعید المندوب، دارالفکر،۱۴۱۶-۱۹۶۶م،اول

۳ احتجاج علی اهل اللجاج،احمد بن علی الطبرسی(م۶۲۰ق)تحقیق:السید محمد باقر خرسان،النجف الاشرف: دارانعمان للطباعة و النشر، ۱۳۸۶ق،اول

۴ الاخبارالموفقیات، الزبیر بن بکار القرشی،(م۲۵۶ق)، تحقیق:سامی مکی العانی،قم:منشورات الشریف الرضی،۱۴۱۶ ق ،اول

۵ الاستیعاب فی معرفة الاصحاب ،یوسف بن عبدللی القرطبسی المالکی(م۳۶۳ق)، تحقیق: علی محمد البجاوی،بیروت: دارالجبل،۱۴۱۲ق،اول

۶ اسد الغابة فی مرفة الصحابه ،علی بن ابی الکرم محمد الشیبانی(ابن الاثیر الجزری) (م۶۳۰ق)، تحقیق: علی محمد معوض و عادل احمد عبد الموجود، بیروت: دارالکتاب العربیه۴۱۵ق ،اول

۷ اقبال الاعمال ،علی ابن موسی بن جعفر بن طاووس (السید ابن طاووس) (م۶۶۴ق)،تحقیق:جواد القیومی الاصفهانی،قم: مکتب الاعلام الاسلامی، ۱۴۱۴،اول

۸ الامالی، محمد بن علی بن بابویه القمی( الشیخ الصدوق)(م۳۸۱ق)، تحقیق: مؤسسه البعثه، قم،۱۴۰۷ق،اول

۹ الامامة والسیاسة(المعروف بتاریخ الخلفا٫ )،عبد الله بن مسلم الدینوری(ابن قتیبه) (م ۲۷۶ق) ، تحقیق: علی شیری، قم : مکتبه الشریف الرضی، ۱۴۱۳ق،اول

۱۰ اِمتاع الاسما ،تقی الدین احمد بن علی المقریزی (م۸۴۵ق) ، تحقیق و تعلیق: محمد بن الحمید النمیسی، بیروت: دارالکتب العلمیة، ۱۴۲۰ق،اول

۱۱ انساب أشراف،احمد بن یحیٰ بن جابر البلاذری (م۲۷۹ق) تحقیق: الشیخ محمد باقر المحمودی،بیروت:مؤسسة الأعلمی،۱۳۹۴ق-۱۹۷۴ م، اول

۱۲ بحار الانوار الجامعة لدرر الاخبار الأئمة الاطهار، محمد باقر المجلسی (م۱۱۱۰ ق) ، بیروت: مؤسسة الوفا٫ ، ۱۴۰۳ق، دوم

۱۳ البدایة والنهایة، اسماعیل بن عمر الدمشقی (ابن کثیر) (م۷۷۴ق)

تحقیق:علی شیری،بیروت: دار اِحیا٫ التراث العربی،۱۴۰۸ق،اول

۱۴ تاریخ الاسلام ووفیات المشاهیر والاعلام، محمد بن احمد الذهبی (م۷۴۸ق)

تحقیق: عمر عبد السلام تدمری،بیروت: دارالکتاب العربی،۴۰۹ق،اول

۱۵ تاریخ بغداد أومدینةالسلام ، حمد بن علی الخطیب البغدادی (م۴۶۳ق) ، تاحقیق: مصطفیٰ عبدالقادر عطا، بیروت:دارالکتب العلمیة، ۱۴۱۷ق، اول

۱۶تاریخ دمشق، علی بن الحسن بن هبة الله (ابن عساکر الدمشقی) (م۵۷۱ق) ، تحقیق: علی شیری،بیروت: دارالفکر، ۱۴۱۵و،اول

۱۷تاریخ الطبری، محمد بن جریر الطبری (م۳۱۰ق) تاحقیق: نخبة من العلما٫ الأ جلا٫ بیروت: موسسة الأعلمی للمطبوعات،۱۴۰۳ق-۱۹۸۳م،چهارم

۱۸التاریخ الکبیر، محمد بن اسماعیل البخاری (م۲۵۶ق) ، ترکیه: المکتبة الاسلامیة،دیار بکر

۱۹تاریخ الیعقوبی، احمد بن ابی یعقوب (الیعقوبی) (م۲۸۴ق) ،بیروت: دار صادر

۲۰تفسیر الألوسی (م۱۲۷۰ق)

۲۱تفسیر ابن کثیر اسماعیل بن عمر الدمشقی (ابن کثیر) (م۷۷۴ق) ،

بیروت: دارالمعرفة، ۱۴۲ق -۱۹۹۲م

۲۲تفسیر الثعالبی ،عبد الرحمان بن محمد الثعالبی المالکی (م۸۷۵ق)،

تحقیق: الدکتور عبد الفتاح أبو سنة- الشیخ علی محمد معوض-والشیخ عادل احمد عبد الموجود ،

بیروت: دار أحیا التراث العربی، ۱۴۱۸ق،اول

۲۳تفسیر الثعلبی ، الثعلبی (م۴۲۷ق)،تحقیق: الامام ابی محمد بن عاشور، مراجعه و تدقیق الأ ستاذ نظیر الساعدی، بیروت: دار أحیا التراث العربی، ۱۴۲۲ق-۲۰۰۲م، اول

۲۴تفسیر الرازیعبسالرحمن بن أبی حاتم الرازی (الفخر الرازی) (م۶۰۶ق)، سوم

۲۵تفسیر القرطبی،محمد بن احمد القرطبی (م۶۷۱ق) ، تصحیح: احمد عبد العیلم البردونی، بیروت:

دار أحیا التراث العربی

۲۶جامع البیان ، ابن جریر الطبری (م۳۱۰ق)تحقیق: جمیل العطار،بیروت : دارالفکر،

۱۴۱۵ق-۱۹۹۵م

۲۷الجامع الصغیر، جلال الدین سیوطی (م۹۱۱ق)، بیروت : دارالفکر، ۱۴۰۱ -۱۹۸۱م،اول

۲۸ الخصال ، علی بن بابویه القمی،( الشیخ الصدوق) (م۳۸۱ق) تاصحیح و تعلیق: علی اکبر الغفاری ، قم ،منشورات جماعة المدعسین، ۱۴۰۳-۱۳۶۲ش

۲۹الدر المنثور فی تفسیر المأ ثور، عبد الرحمن بن ابی بکر السیوطی (م۹۱۱ق) ، بیروت: دارالمعرفة ،۱۴۱۴ق ، اول

۳۰ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربی ،احمد بن عبد الله الطبری (م۶۹۳ق)،

قاهره: مکتبة اقدسی ، ۱۳۵۶ق

۳۱السقیفة وفدک ،احمد بن عبد العزیز الجوهری، (م۳۲۳ق) ، تحقیق: الدکتور الشیخ محمد هادی الامینی، بیروت: شرکة الکتبی للطباعة و النشر ، ۱۴۱۳ق-۱۹۹۳م،دوم

۳۲سنن ابن ماجة ، محمد بن یزید القزوینی (ابن ماجة) (م۲۷۳ق)،تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقی،

بیروت : دارالفکر

۳۳سنن ابن ابی داوود ، ابن الأشعث السجستانی (م۲۷۵ق)، تحقیق و تعلیق : سعید محمد اللحم ، بیروت دارالفکر ،۱۴۱۰ق-۱۹۹۰م،اول

۳۴سنن الترمذی،محمد بن عیسی بن سوره الترمذی، (م۲۷۹ق)،تحقیق: عبد الوهاب عبد اللطیف، بیروت : دارالفکر، ۱۴۰۳ق-۱۹۸۳م،دوم

۳۵السنن الکری، احمد ن الحسین البیهقی (م۴۵۸ق)، تحقیق: محمد عبد القادر عطا٫ ، بیروت : دارالفکر

۳۶سنن النسائی ، احمد بن شعیب النسائی،(م۳۰۳ق)بیروت : دارالفکر، ۱۳۴۸ق،اول

۳۷سیر اعلام النبلا٫، محمد بن احمد الذهبی (م۷۴۸ق) ، تحقیق: شعیب الارنؤط ، بیروت : موسسة الرساله، ۱۴۱۴ ق ، دهم

۳۸السیرة الحلبیة ، علی بن برهان الدین الحلبی الشافعی (م۱۱ق)،بیروت: دارالمعرفة، ۱۴۰۰ق

۳۹السیرة النبویة، اسماعیل بن عمر البصروی الدمشقی (ابن کثیر) (م۷۴۷ق) ، تحقیق: مصطفی عبدالواحد ، بیروت: دارالمعرفة ،۱۳۹۶ش

۴۰ السیرة النبویة ، عبد الملک بن هشام الحمیری،( ابن هشام) (م۲۱۸ق) ، تحقیق: محمد محی الدین عبد الحمید، قاهره : مکتبة محمد علی صبیح و أولاده، ۱۳۸۳ق

۴۱ شرح الاخبار ، القاضی النعمان بن محمد التمیمی المغربی (م۳۶۳ق) ، تحقیق: السید محمد الحسینی الجلالی ، قم: موسسه النشر الاسلامی التابعة لجماعة المدرسین بقم المشرفة، ۱۴۱۴ق،دوم

۴۲ شرح مسلم ، النووی، (م۶۷۶ق)بیروت : دارالکتاب العربی ، ۱۴۰۷-۱۹۸۷م

۴۳ شرح المواقف، القاضی الجرجانی (م۴۸۲ق)شرح علی بن محمد الجرجانی ،مر: مطبعة السعادة ،۱۳۲۵-۱۹۰۷م، اول

۴۴ شرح نهج البلاغه، عبد الحمید بن محمد المعتزلی ( ابن ابی الحدید) (م۶۵۶ق)، تحقیق: محمد ابو فاهل ابراهیم، بیروت: داراحیا٫ التراث، ۱۳۸۷ق،دوم

۴۵ شواهد التنزیل، عبید الله بن احمد الحنفی النیسابوری،(الحاکم الحسکانی) (مقرن ۵)، تحقیق: الشیخ محمد باقر المحمودی تهران: موسسة الطبع والنشر لوزارة الثقافة والا رشاد الاسلامی، ۱۴۱۱ق-۱۹۹۰م،اول

۴۶ صحیح ابن حیان، علی بن بلبان الفارسی (ابن حیان) (م۳۵۴ق)، تحقیق: شعیب الارنؤط، ۱۴۱۴ق-۱۹۹۳م،دوم

۴۷ صحیح بخاری، محمد بن اسماعیل البخاری،(م۲۵۶ق)، بیروت: دارالفکر، ۱۴۰۱ق

۴۸ صحیح مسلم، مسلم بن حجاج القشیری النیسابوری (م۲۶۱ق بیروت: دارالفکر

۴۹ الصراط المستقیم، علی بن یونس العاملی (م۸۷۷ق) ،تحقیق: محمد باقر البهبودی، المکتبة المرتضویة،۳۸۴ق،اول

۵۰ الطبقات الکبری،محمد بن سعد منیع الزهری (م۲۳۰ق)،بیروت: دارصاد

۵۱ عمدة القاری، العینی (م۸۵۵ق)بیروت: دار احیا٫ التراث العربی

۵۲ الغدیر فی الکتاب و السنة والادب ،عبد الحسین بن احمد الامینی(م۳۹۰ق)،دارالکتام العربی،۱۳۹۷ق،چهارم

۵۳ فتح الباری شرح صحیح البخاری ، احمد بن علی العسقلانی(ابن حجر) (م۸۵۲ق) ، بیروت: دارالمعرفة، دوم

۵۴ فتح الغدیر،محمد بن علی بن محمد الشوکانی (م۲۵۵ق) ، بیروت: عالم الکتب

۵۵ الفصول المختار، محمد بن محمد بن النعمان الاکبری البغدادی(الشیخ المفید) (م۴۱۳ق) ، تحقیق: السید علی میر شریفی،بیروت: دارالمفید، ۱۴۱۴ق،دوم

۵۶ فضائل الصحابة، احمد بن محمد بن حنبل (م۲۴۱ق) ، تحقیق: وصی الله بن محمد عباس،

مکة: جامعه ام القری ، ۱۴۰۳ق،اول

۵۷ الکافی، محمد بن یعقوب الکلینی الرازی(م۳۲۹ق) ، تحقیق: علی اکبر الغفاری، تهران: دارالکتب الاسلامیة، ۱۳۶۳ش،پنجم

۵۸ الکامل فی التاریخ، علی بن محمد الشیبانی الموصلی (ابن الاثیر) (م۶۳۰ق)،

بیروت: دار صادر،۱۳۸۶ق

۵۹ الکشاف عن حقائق التنزیل و عیون الاقاویل، محمود بن عمر الزمخشری(م۵۳۸ق)، خلفا٫: شرکة مکتبة و مطبعةمصطفی البابی، ۱۳۸۵-۱۹۶۶م

۶۰ کشف الخلفا٫، اسماعیل بن محمد العجلونی (م۱۱۶۲ق) ،بیروت: دارالکتب العلمیة۱۴۰۸-۱۹۸۸م،سوم

۶۱ کشف الغمة فی معرفة الأئمة، علی بن عیسی الاربلی(م۶۸۷ق) ،بیروت:دارالأضوا٫، ۱۰۵ ق،دوم

۶۲ کنزالاعمال، المتقی الهندی، (م۹۷۵ق)،ضبط وتفسیر: الشیخ بکری حیانی/ تصحیح و فهرسة: الشیخ صفوة السقا٫ ، بیروت: موسسة الرسالة ،۱۴۰۹-۱۹۸۹م

۶۳ المبسوط، محمد بن الحسن الطوسی (م۴۶۰ق) ،تصحیح و تعلیق: السیدمحمد تقی الکشفی، تهران: المطبعة الحیدریة ، ۱۳۸۷ش

۶۴ مسار الشیعة محمد بن محمد بن النعمان الاکبری البغدادی(الشیخ المفید) (م۴۱۳ق) ، تحقیق: الشیخ مهدی نجف،بیروت:دارالمفید،۱۴۱۴ق،دوم

۶۵ مجمع الزوائد و منبع الفوائد،علی بن ابی بکر الهیثمی(م۸۰۷ق)،بیروت: دارالکتب العلمیة،۱۴۰۸ق

۶۶ المحصول محمد بن عمر الرازی، (فخر الرازی) ، ۰ م۶۰۶ق) ،تحقیق: دکتور طه جابر فیاض العلوانی،بیروت: موسسة الرسالة،۱۴۱۲ق،دوم

۶۷ المحلی، علی بن احمد بن سعید ابن حزم(م۴۵۶ق) ،بیروت: دارالفکر

۶۸ المستدرک علی الصحیحین،محمد بن عبد الله الحاکم النیسابوری(م۴۰۵ق)یوسف عبدالرحمن المرعشلی ، بیروت : دارالمعرفة

۶۹ المسند، احمد بن محمد الشیبانی(ابن حنبل) (م۲۴۱ق) ، بیروت: دار صادر

۷۰ مسند ابی یعلی، احمد بن علی بن المثنی التمیمی(ابو یعلی الموصلی) (م۳۰۷ق) ،تحقیق: حسین سلیم اسد ، بیروت: دارالمأمون

۷۱ المصنف،عبد الرزاق الصنعانی(م۲۱۱ق)، تحقیق: حبیب الرحمن الأعظمی

۷۲ المعجم الأوسط، سلیمان بن احمد الطبرانی(م۳۶۰ق)،تحقیق: قسم التحقیق بدارالحرمین،بیروت: دارالحرمین،۱۴۱۵ق-۱۹۹۵م

۷۳ المعجم الکبیر، سلیمان بن احمد اللخمی الطبرانی (۳۶۰ق)، تحقیق: حمسی عبد الحمید السلفی،بیروت: دار احیا٫ التراث العربی،۱۴۰۴ق،دوم

۷۴ المغنی، عبدالله بن قدامة(م۶۲۰ق) بیروت: دارالکتاب العربی

۷۵ الملل والنحل، محمد بن عبد الکریم الشهرستانی (م۵۴۸ق) ، تحقیق: محمد سید کیلانی، بیروت: دارالمعرفة

۷۶ المناقب، الموفق بن احمد الخوارزمی(م۵۶۷ق) تحقیق: الشیخ مالک المحمودی، قم: مؤسسة النشر الاسلامی، ۱۴۱۴ق،دوم

۷۷ مناقب آل ابی طالب،المناقب لابن شهر آشوب) ،محمد بن علی المازندرانی(ابن شهر أشوب) (م۵۸۸ق)،تصحیح وشرح و مقابلة: لجنة من اساتذة النجف الاشرف ، النجف الاشرف: الحیدریة،۱۳۷۶ق

۷۸ المواقف، الایجی(م۷۵۶ق) ،تحقیق: عبد الرحمن عمیرة،بیروت: دارالجبل،۱۴۱۷-۱۹۹۷م،اول

۷۹ میزان الاعتدال،محمد بن احمد بن عثمان الذهبی(م۷۴۸ق)، تحقیق: علی محمد البجاوی،بیروت: دارالمعرفة،۱۳۸۲-۱۹۶۳م،اول

۸۰ النزاع والتخاصم،احمد بن علی المقریزی (م۸۴۵ق) تحقیق: السید علی عاشور

۸۱ نظم درر السمطین،محمد بن یوسف الزرندی الحنفی(م۷۵۰ق) کتب خطی کتابخانه امیر المومنین،۱۳۷۷ق-۱۹۵۸م،اول

۸۲ نهج البلاغه، محمد بن الحسین الموسوی ( الشریف الرضی) (م۴۰۶ق) ، تصحیح و ترجمه: سید علی نقی فیض الاسلام ، تهران: جاویدان

۸۳ وسائل الشیعة،الشیخ محمد بن حسن الحر العاملی (م۱۱۰۴ق)،تحقیق: موسسة آل البیت لاحیا٫ التراث، قم:موسسة ال البیت، ۱۴۱۴ق،دوم

۸۴ ینابیع المودة لذی القربی، سلیمان بن ابراهیم القندوذی الحنفی (م۱۲۹۴ق) ،تحقیق: سید علی جمال آشرف الحسینی ، دارأسوة،اول


فہرست

انتساب ۳

مقدمہ مترجم ۴

کتاب کا تعارف: ۴

مؤلف کا تعارف: ۴

حوزوی دروس ۴

تدریس ۵

ضرورت ترجمہ ۵

مقدمہ ۷

پہلی فصل ۹

امام کا تعین خدا کرتا ہے یا لوگ ۹

۱ ۔آٹھ ذی الحجہ(یوم الترویہ) مکہ میں ۱۲

۲ ۔نو ذی الحجہ کو عرفات میں ۱۲

۳ ۔دس ذی الحجہ(روز عید قربان)منی میں ۱۲

۴ ۔گیارہ ذی الحجہ منی میں ۱۲

۵ ۔اٹھارہ ذی الحجہ غدیر خم میں ۱۲

چھارم ذی الحجہ کو پیغمبراکرم ﷺ کاخطبہ اور صحابہ کی مخالفت ۱۲

قرآن کی صراحت کے باوجود یہ مخالفت: ۱۳

بیعت رضوان اور عدالت صحابہ ۱۸

حدیث ثقلین کی جانچ پڑتال ۲۱

دوسری فصل ۲۸

خطبہ غدیر پر ایک نظر ۲۸

اہلسنت کی معتبر کتابوں میں حدیث غدیر ۲۹

امیرالمؤمنین علیہ السلام کےسفرِیمن کی حقیقت ۳۵

خطبہ غدیر کے بعد کے واقعات ۳۷

قرآن کریم کی نظرمیں غدیر ۳۷

صحیفہ ملعونہ کا واقعہ ۴۰

علما اہلسنت اور حدیث ، غدیر ۴۳

تیسری فصل ۴۷

مسئلہ ولایت کے متعلق آیات اور روایات ۴۷

آیت مباہلہ ۴۷

آیت تطہیر ۴۸

حدیث ۷۳ فرقے ۵۰

اس کی پہلی دلیل،حدیث ثقلین ۵۱

حدیث سفینہ نوح ۵۳

حدیث خلفائے اثنی عشر ۵۵

حدیث منزلت ۵۶

حدیث یوم الدار ۵۷

آیت شریفہ: ۵۷

حدیث مدینہ العلم ۵۷

اثبات عقلی، ولایت امام علی علیہ السلام ۶۰

چوتھی فصل ۶۶

سوالات اور ان کے جوابات ۶۶

سوال: ۶۶

پیغمبر کا چار ذی الحجہ کو خطبہ دینے کا کیا مقصد تھا؟ ۶۶

جوابات ۶۶

سوال: ۶۸

بعض اصحاب کی پیغمبر ﷺ سے مخالفت کی کیا وجہ تھی؟ ۶۸

جوابات: ۶۸

سوال: ۷۰

کیا قرآن و سنت کی رو سے سب اصحاب کی عدالت ثابت کی جا سکتی ہے؟ ۷۰

جوابات:( الف)۔ ۷۰

(ب) سنت کی نظر میں: ۷۱

سوال: ۷۲

کیا امام علی علیہ السلام نے خلفا کی بیعت کی؟ ۷۲

جواب: ۷۲

سوال: ۷۴

کن قرائن اورشواہدسےامامت امیرالمومنین علیہ السلام کلمہ مولٰی اورواقعی غدیرسے ثابت کی جاسکتی ہے؟ ۷۴

جواب: ۷۴

دلائل قرآنی اور تفاسیر مفسرین ۷۴

قرائن اور شواہد مکانی،زمانی اور حالی ۷۸

دلائل روائی: ۷۹

صحابہ اور پیروان کا استدلال ۷۹

سوال: ۸۱

حدیث (لا تفترق امّتی) (من مات بلا امام) (حدیث بارہ امام)کی رو سے- امامت امام علی علیہ السلام عقلی اور نقلی دلایل کیساتھ بیان کریں؟ ۸۱

جوابات: ۸۱

(الف) دلایل نقلی: ۸۱

(ب) عقلی دلایل ۸۵

(الف) اعلمیت ۸۵

(ب) حضرت علی علیہ السلام سب سے زیادہ زاہد ۸۶

(ج) اسلام میں سبقت ۸۶

(د) فداکاری اور شجاعت ۸۶

(ز) امام علی علیہ السلام اور تربیت الہی ۸۶

(ح) امام علی علیہ السلام سب سے پہلے مومن ۸۶

ابن حجر کی گفتگو پر اشکالات: ۸۸

کتابنامہ ۹۰

فہرست ۹۶

غدیر اہل سنت کی نگاہ میں

غدیر اہل سنت کی نگاہ میں

اصلاح کتب

مؤلف: ڈاکٹرمحمدحسینی قزوینی
قسم: امامت
صفحے: 11