فضائل حضرت فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیہا

اصلاح کتب

مؤلف: ڈاکٹر محمد طاھرالقادری
فاطمہ زھرا(سلام اللّہ علیھا)


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


فصل : ۱

آل فاطمة سلام الله علیها اهل البیت

سیدہ کائنات سلام اللہ علیھا کا گھرانہ اہل بیت ہے

۱ عن انس بن مالک رضی الله عنه ان رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم کا ن یمربباب فاطمه ستة اشهر اذا خرج الی صلاة الفجر ،یقول :الصلاة یا اهل البیت انما یرید الله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت ویطهرکم تطهیرا(۱)

"حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ چھ ماہ تک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ معمول رہا کہ جب نماز فجر کے لیے نکلتے اورحضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا کے دروازے کے پاس سے گزرتے توفرماتے :اے اہل بیت !نماز قائم کرو ۔(اورپھر یہ آیت مبارکہ پڑھتے )اے اہل بیت اللہ چاہتا ہے کہ تم سے ہر طرح کی آلودگی دور کردے اورتم کوخوب پاک وصاف کردے "۔

____________________

(۱)حوالاجات

۱۔ ترمذی ، الجامع الصحیح ،۵:۳۵۲، رقم :۳۲۰۶

۲۔احمد بن حنبل ، المسند ، ۳:۲۵۹، ۲۸۵

۳۔احمد بن حنبل ، فضائل الصحابہ ،۲:۷۶۱، رقم ۱۳۴۰،۱۳۴۱

۴۔ابن ابی شیبہ المصنف ، ۳۸۸۶،رقم ۳۲۲۷۲

۵۔ شیبائی الآحادوالمثانی ،۵:۳۶۰،رقم :۳۲۲۷۲

۶۔عبدبن حمید ،المسند :۳۲۷،رقم ۱۲۲۳

۷۔حاکم ، المستدرک ، ۱۷۲۳، رقم ۴۷۴۸

۸۔طبرانی المعجم الکبیت ،۳:۵۲رقم :۲۶۷۱

۹۔بخاری نے الکنی (ص :۲۵،رقم:۲۶۷۱)میں ابو الحمراء سے حدیث روایت کی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس عمل کی مدت نو ماہ بیان کی گئی ہے

۱۰۔عبدبن حمید نے المسند (ص:۱۷۳،رقم ۴۷۵)میں امام بخاری کی بیان کردہ روایت نقل کی ہے۔

۱۱۔ابن حیان نے طبقات المحدثین باصبہان (۴:۱۴۸)میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی اس روایت میں

آٹھ ماہ کا ذکر کیا گیا ہے

۱۲۔ابن اثیر ، اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ ، ۷:۲۱۸

۱۳۔ذہبی ، سیر اعلام النبلا ء ۲:۱۳۴

۱۴۔مزی ۔تہذیب الکمال ،۳۵، ۲۵۰،۲۵۱

۱۵۔ابن کثیر ، تفسیرالقرآن العظیم ۳:۴۸۳

۱۶۔سیوطی نے الدرالمنثور فی التفسیر بالماثور (۵:۶۱۳)میں حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔

۱۷۔سیوطی نے الدالمنثور فی التفسیر بالماثور (۶:۲۰۷)میں حضرت ابوالحمراء سے روایت کی ہے۔

۱۸۔شوکانی،فتح القدیر ،۴:۲۸۰

۲ عن ابی سعید الخدری رضی الله تعالی عنه فی قوله :انما یرید الله لیذهب عنکم الرجس اهل البیتقال :نزلت فی خمسة:فی رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم وعلی وفاطمة ،والحسن،والحسین رضی الله تعالی عنه(۲)

"حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ نے اللہ تعالی کے اس ارشاد مبارکہ ۔۔۔۔اے اہل بیت !اللہ تویہی چاہتا ہے کہ تم سے ہرطرح کی آلودگی دور کردے ۔۔۔۔کے بارے میں کہاہے کہ یہ آیت مبارکہ پانچ ہستیوں ۔۔۔۔حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علی ،فاطمہ ، حسن،حسین رضی اللہ تعالی عنہ ۔۔۔کے بارے میں نازل ہوئی ہے"

____________________

(۲)حوالاجات

۱۔طبرانی ، المجعم الاوسط،۳:۳۸۰، رقم :۳۴۵۶

۲۔طبرانی المعجم الصغیر،۱:۲۳۱،رقم :۳۷۵

۳۔ابن حیان ، طبقات المحدثین باصبہان ، ۳:۳۸۴

۴۔خطیب بغدادی تاریخ بغداد،۱۰:۲۷۸

۵۔طبری ،جامع البیان فی تفسیرالقرآن ۲۲:۶

فصل ۲:

آل فاطمة سلام الله علیها اهل کساء

سیدہ سلام اللہ علیھا کا گھرانہ ہی اہل کساء ہے

۳ عن صفیة شیبه ،قالت :عائشة رضی الله عنها :خرج النبی صلی الله علیه وآله وسلم غداة واعلیه مرط مرحل من شعر اسودفجاء الحسن بن علی رضی الله عنها فادخله ، ثم جاء الحسین رضی الله عنه فدخل معه ،ثم جاء ت فاطمة رضی الله عنها فادخلها ثم جاء علی رضی الله عنه فادخله ،ثم قال :انمایرید الله لیذهب عنکم الرجس اهل بیت ویطهرکم تطهیرا(۳)

"صفیہ بنت شیبہ روایت کرتی ہیں :حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح کے وقت باہر تشریف لائے درآں حالیکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک چادر اوڑھی ہوئی تھی جس پر سیاہ اون سے کجاووں کے نقش بنے ہوئے تھے پس حضرت حسن رضی اللہ تعالی عنہما آئے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اس چادر میں داخل کرلیا پھر حضرت حسین رضی اللہ عنہ آئے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ چادر میں داخل ہوگئے پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا آئیں توآپ نے انہیں اس چادرمیں داخل کرلیا،پھر حضرت علی کرم اللہ وجھہ آئے توآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں بھی چادرمیں لے لیا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت مبارکہ پڑھی :"اے اہل بیت!"اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے (ہرطرح کی )آلودگی دور کردے اورتم کو خو ب پاک وصاف کردے "

____________________

(۳) حوالاجات

۱۔مسلم، الصحیح ،۴:۱۸۸۳،رقم :۲۴۲۴

۲۔ابن ابی شیبہ،المصنف،۶:۳۷۰،رقم :۳۶۱۰۲

۳۔احمد بن حنبل ،فضائل الصحابہ ،۲:۶۷۲،رقم ۱۱۴۹

۴۔ابن راہویہ،المسند ،۳:۶۷۸،رقم۱۲۷۱

۵۔حاکم المستدرک ،۳:۱۵۹،رقم ۴۷۰۵

۶۔بیہقی ، السنن الکبری ،۲:۱۴۹

۷۔طبری جامع البیان فی تفسیرالقرآن ۲۲:۶،۷

۸۔بغوی معالم التنزیل ،۵۲۹۳

۹۔ابن کثیر ،تفسیر القرآن العظیم ،۳:۴۸۵

۱۰۔سیوطی الدر المنثور فی التفسیر بالماثور ۶:۶۰۵

( ۴ ) عن عمر ابن ابی سلمة ربیب النبی صلی الله علیه وآله وسلم قال:لما نزلت هذه الآیة علی النبی صلی الله علیه وآله وسلم (انما یرید الله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت ویطهرکم تطهیرا)فی بیت ام سلمة ،فدعافاطمةوحسنا وحسینارضی الله تعالی عنه فجللهم بکساء وعلی رضی الله تعالی عنه خلف ظهره فجلله بکساء ،ثم قال:اللهم! هولاء اهل بیتی ،فاذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهیرا

"پروردہ نبی حضرت عمربن ابی سلمہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا کے گھر میں یہ آیت مبارکہ ۔۔۔اے اہل بیت !اللہ تویہی چاہتا ہے کہ تم سے (ہرطرح کی) آلودگی دورکردے اورتم کو خوب پاک وصاف کردے ۔۔۔نازل ہوئی؛ توآپ نے حضرت فاطمہ حضرت حسن اورحضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو بلایااورایک کملی میں ڈھانپ لیا ،پھر فرمایا :الہیٰ !یہ میرے اہل بیت ہیں ان سے نجاست دور کراوران کو خوب پاک وصاف کردے"

____________________

۴۔حوالاجات

۱۔ترمذی ،الجامع الصحیح ۔۵:۳۵۱،۶۶۳،رقم :۳۲۰۵،۷۸۷

۲۔احمد بن حنبل ، المسند ،۶:۲۹۲

۳۔احمد بن حنبل فضائل الصحابہ ،۲:۵۸۷،رقم :۹۹۴

۴۔بیہقی نے ’السنن الکبری (۲:۱۵۰)میں یہ حدیث ذرا مختلف انداز کے ساتھ روایت کی گئی ہے۔

۵۔حاکم ، المستدرک ،۲:۴۵۱،رقم :۳۵۵۸

۶۔حاکم المستدرک ۳:۱۵۸،رقم :۴۷۰۵

۷۔طبرانی المعجم الکبیر ،۳:۵۴،رقم ۲۶۶۲

۸۔طبرانی ،المعجم الکبیر،۹:۲۵،رقم:۸۲۹۵

۹۔طبرانی ، المعجم الاوسط، ۴:۱۳۴،رقم :۳۷۹۹

۱۰۔بیقہی الاعتقاد:۳۲۷

۱۱۔خطیب بغدادی تاریخ بغداد۹:۱۲۶

۱۲۔خطیب بغدادی موضع اوہام الجمع ولتفریق،۲:۳۱۳

۱۳۔دولابی الذریۃ الطاہرہ :۱۰۷،۱۰۸،رقم :۲۰۱

۱۴۔ابن اثیرنے اسدالغابہ فی معرفة الصحابہ(۷:۲۱۸)میں یہ حدیث حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالی عنھاسے روایت کی ہے

۱۵۔عسقلانی ، فتح الباری۷:۱۳۸

۱۶۔عسقلانی الاصابہ فی تمییز الصحابہ ۳:۴۰۵

۱۷۔طبری ،جامع البیان فی تفسیر القرآن ۔۲۲:۷

۱۸۔سیوطی الددالمثور فی التفسیربالماثور ۶:۲۰۴

۱۹۔شوکانی فتح القدیر،۴:۲۷۹

فصل : ۳

فاطمه سلام الله علیها سیدة نساء العالمین

سیدہ سلام اللہ علیھا سب جہانوں کی سردار ہیں

۵ عن عائشة رضی الله عنها ان النبی صلی الله علیه وآله وسلم قال وهو فی مرضه الذی توفی فیه :یا فاطمة !الا ترضین ان تکونی سیدة نساء العالمین وسیدة نساء هذاالامة وسیدة نساء المومنین !

"حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے فاطمہ !کیاتونہیں چاہتی کہ توتمام جہانوں کی عورتوں ،میری اس امت کی تمام عورتوں اورمومنین کی تمام عورتوں کی سردار ہو!"

____________________

۵۔حوالاجات

۱۔حاکم نے ’المستدرک (۳:۱۷۰،رقم :۴۷۴۰)میں اسے صحیح قرار دیا ہے جبکہ ذہبی نے اس کی تائید کی ہے

۲۔نسائی ،السنن الکبری ،۴:۲۵۱،رقم ۷۰۷۸

۳۔نسائی السنن لکبری ۵:۱۴۶۔رقم ۸۵۱۷

۴۔ابن سعد،الطبقات الکبری ۲:۲۴۷،۲۴۸

۵۔ابن سعد،الطبقات الکبری ۸:۲۶،۲۷

۶۔ابن اثیر،اسدالغابہ فی معرفة الصحابہ ،۷:۲۱۸

۶ عن عائشه رضی الله عنها قالت: اقبلت فاطمة تمشی کان مشیتهامشی النبی صلی الله علیه وآله وسلم فقال النبی صلی الله علیه وآله وسلم مرحبابابنتیثم اجلسهاعن یمینه اوعن شماله ،ثم ادرالیهافبکت،فقلت لها:لم تبکین؟ثم اسراالیها حدیثافضعکت فقلت مارایت کالیوم فرحا اقرب من حزن، فسالتها عما قال ،فقالت :ماکنت لافثی سررسول صلی الله علیه وآله وسلمحتی قبض النبی صلی الله علیه وآله وسلم فقالت:اسرالی :اب جبریل کان یعارخنی القرآن کل سنة مرة،انه عارضی العام مرتین ،ولااراه الاحضراجلی ،انک اول اهل بیتی لحاقا بی فبکیت ،فقال :اما ترضین ان تکونی سیدة نساء اهل الجنة اونساء المومنین فضعلت لذلک

"حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھاآئیں اور ان کا چلنا ہوبہوحضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چلنے جیساتھا ۔پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی لخت جگر کو خوش آمدید کہااوراپنے دائیں بائیں جانب بٹھالیا۔پھر چپکے چپکے ان سے کوئی بات کہی تووہ رونے لگیں ،پس میں نے ان سے پوچھا کہ کیوں رورہیں ہیں ؟پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے کوئی بات چپکے چپکے کہی تووہ ہنس پڑیں پس میں نے کہا کہ آج کی طرح میں نے خوشی کوغم کے اتنے نزدیک کبھی نہیں دیکھامیں نے حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیھا سے پوچھا:آپ نے کیا فرمایا تھا؟انہوں نے جواب دیا کہ میں رسول کے راز کو کبھی فاش نہیں کرسکتی ۔جب حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہو گیا تومیں نے ان سے (اس بارے میں )پھر پوچھا توانہوں نے جواب دیا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے سرگوشی کی کہ جبرائیل ہر سال میرے ساتھ قرآن پاک کا دورہ کیا کرتے تھے لیکن اس سال دومرتبہ کیا ہے مجھے یقین ہے کہ میرا آخری وقت آپہنچا ہے اوربے شک میرے گھر والوں میں سے تم ہوجوسب سے پہلے مجھ سے آملو گی ۔اس بات نے مجھے رلایاپھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ تم تمام جنتی عورتوں کی سردارہویا تمام مسلمان عورتوں کی سردار ہو!پس اس بات پر ہنس پڑی

____________________

"۶۔حوالاجات

۱۔بخاری الصحیح ،۳:۱۳۲۶،۱۳۲۷،رقم۳۴۲۶،۳۴۲۷

۲۔مسلم ا لصحیح،۴،۱۹۰۴،رقم ۲۴۵۰

۳۔احمد بن حنبل ، المسند۶:۲۸۲

۷ عن مسروق :حدثتنی عائشة ام المومنین رضی الله عنها قالت قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم یا فاطمة ! الا ترضین ان تکونی سیدة نساء المومنین اوسیدة نساء هذه الامة!

۷ ۔ حضرت مسروق روایت کرتے ہیں کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا:اے فاطمہ !کیا تواس بات پر راضی ہے کہ مسلمان عورتوں کی سردار ہو یا میری اس امت کی سب عورتوں کی سردار ہو!

____________________

۷۔حوالاجات

۱۔بخاری الصحیح،۵:۲۳۱۷،رقم :۵۹۲۸

۲۔مسلم الصحیح،۴:۱۹۰۵،رقم :۲۴۵۰

۳۔نسائی ،فضائل الصحابہ :۷۷،رقم :۲۴۵۰

۴۔احمد بن حنبل فضائل الصحابہ ،۲:۷۶۲،رقم ۱۳۴۲

۵۔طیالسی ، المسند:۱۹۲، رقم :۱۲۷۳

۶۔ابن سعد،الطبقات الکبری ،۲:۲۴۷

۷۔دولابی ،الذریۃ الطاہرہ :۱۰۱،۱۰۲،رقم :۱۸۸

۸۔ابونعیم ، حلیة الاولیاء وطبقات الاصفیاء۲:۳۹،۴۰۔

۹۔ذہبی سیراعلام النبلا ء ۲:۱۳۰

۸ عن ابی هریرة رضی الله تعالی عنه ان رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم قال :ان ملکا من السماء لم یکن زارنی ،فاستاذن الله فی زیارتی ،فبشرنی اواخبرنی ان فاطمة سیدة نساء امتی

"حضر ت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:آسمان کے ایک فرشتے نے میری زیارت نہیں کی تھی پس اس نے اللہ تعالی سے میری زیارت کی اجازت لی اوراس نے مجھے خوشخبری سنائی (یا)مجھے خبر دی کہ فاطمہ میری امت کی سب عورتوں کی سردار ہیں "

____________________

۸۔ حوالاجات

۱۔ طبرانی ،المعجم الکبیر،۲۲:۴۰۳،رقم :۱۰۰۶

۲۔بخاری ، التاریخ الکبیر،۱:۲۳۲،رقم :۷۶۸

۳۔ہثیمی نے مجمع الزوئد (۹:۲۰۱)میں کہا کہ اسے طبرانی نے روایت کیا ہے اوراس کے رجال صحیح ہیں سوائے محمد مروان ذہلی کے اسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیاہے

۴۔ذہبی سیر اعلام النبلای ۲:۱۲۷

۵۔مزی ،تہذیب الکمال ،۲۶:۳۹۱

فصل : ۴

فاطمة سلام الله علیها سیدة نساء اهل الجنة وابنا ها سید اشباب اهل الجنة

سیدہ سلام اللہ علیھا جنتی عورتوں کی اورآپ کے شہزادے جنتی جوانوں کے سردار ہیں

۹ عن حذیفة رضی الله تعالی عنه قال :قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم :ان هذا ملک لم ینزل الارض قط قبل اللیلة استاذن ربه ان یسلم علی ویبشرنی بان فاطمة سیدة نساء اهل الجنة، وان الحسن والحسین سیدا شباب اهل الجنة

"حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:ایک فرشہ جو اس رات سے پہلے کبھی زمین پر نہ اترا تھا اس نے اپنے پروردگار سے اجازت مانگی کہ مجھے سلام کرنے حاضر ہو اورمجھے یہ خوشخبری دے :فاطمہ اہل جنت کی تمام عورتوں کی سرداراورحسن وحسین کے تمام جوانوں کے سردار ہیں"

____________________

حوالاجات

۱۔ترمذی،الجامع الصحیح ،۶۶۰۵،رقم ۳۷۸۱

۲۔نسائی ،السنن الکبریٰ۵:۸۰،۹۵رقم ۸۲۹۸،۸۳۶۵

۳۔نسائی فضائل الصحابہ :۵۸،۷۶،رقم ۱۹۳،۲۶۰

۴۔احمد بن حنبل ،المسند ،۵:۳۹۱

۵۔احمد بن حنبل ،فضائل الصحابہ :۲:۷۸۸،رقم :۱۴۰۶

۶۔ابن ابی شیبہ المصنف ،۶:۳۸۸،رقم ۳۲۲۷۱

۷۔حاکم المستدرک ۳:۱۶۴،رقم :۴۷۲۱،۴۷۲۲

۸۔طبرانی المعجم الکبیر،۲۲:۴۰۲رقم ۱۰۰۵

۹۔بہقہی الاعتقاد :۳۲۸

۱۰۔ابونعیم ،حلیةالاولیاء وطبقات الاصفیاء ۴:۱۹۰

۱۱۔محب طبری ذخائرالعقبی فی مناقب ذوی القربی :۲۲۴

۱۲۔ذہبی ،سیراعلام النبلاء ۳:۱۲۳،۲۵۲

۱۳۔عسقلائی فتح الباری ،۲:۲۲۵

۱۴۔سیوطی تدریب الراوی ۲:۲۲۵

۱۵۔سیوطی ،الخصائص الکبری ۲:۵۶،۴۶۴

۱۶۔امام بخاری نے الصحیح (۳:۱۳۶۰کتاب المناقب )میں قرابت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مناقب کا باب باندھے ہوئے سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہاکے حوالے سے کہا :وقال النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فاطمہ سیدہ نساء اھل الجنۃحضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:فاطمہ اہل جنت کی عورتوں کی سردار ہیں۔

۱۷۔امام بخاری نے سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہاکے مناقب کے حوالے سے یہی عنوان الصحیح (۳:۱۳۷۴) میں دوبارہ باندھا

۱۰ عن علی ابن ابی طالب ان النبی صلی الله علیه وآله وسلم قال لفاطمه سلام الله علیها :الا ترضین ان تکونی سیدة نساء اهل الجنة ،وابناک سیدا شباب اهل الجنة(۱۰)

"حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا:کیا تمہیں اس بات پر خوشی نہیں کی اہل جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہو اورتیرے دونوں بیٹے تمام جوانوں کے"۔

____________________

۱۰۔حوالاجات

۱۔ہیثمی ،مجمع الزوائد۹:۲۰۱

۲۔بزار المسند ۳:۱۰۲،رقم ۸۸۵

۱۱ عن ابن عباس رضی الله عنه قال :خط رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم فی الارض اربعة خطوطقال :تدرون ماهذا؟فقالو ا:الله ورسوله اعلم فقال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم فضل نساء اهل الجنة :خدیجه بنت خویلد ،وفاطمه بنت محمد ،آسیه بنت مزاحم امراة فرعون ،ومریم ابنه عمران رضی الله عنهن اجمعین(۱۱)

"حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمین پر چار لکیریں کھینچی،اورفرمایا :تم جانتے ہو یہ کیا ہے؟صحابہ کرام نے عرض کیا:اللہ اوراس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بہتر جانتے ہیں ،پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:اہل جنت کی تمام عورتوں میں سے افضل ترین چار ہیں خدیجہ بنت خویلد ،فاطمہ بنت محمد فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم اورمریم بنت عمران رضی اللہ عنھن اجمعین "

____________________

(۱۱)حوالاجات

۱۔احمد بن حنبل المسند ۱:۲۹۳۔۳۱۶

۲۔نسائی ،السنن الکبری ،۵:۹۳،۹۴رقم :۸۳۵۵،۸۳۶۴

۳۔نسائی فضائل الصحابہ :۷۴،۷۶،رقم :۲۵۰۔۲۵۹

۴۔ابن حبان ، الصحیح ،۱۵:۴۷۰،رقم :۷۰۱۰

۵۔حاکم المستدرک ،۲:۵۳۹،رقم :۳۸۳۶

۶۔حاکم المستدرک ۳:۷۴،۵،۲رقم ۴۷۵۴،۴۸۵۲

۷۔احمد بن حنبل فضائل الصحابہ ۲:۷۶۰،۷۶۱،رقم :۱۳۳۹

۸۔ابو یعلیٰ المسند ۵:۱۱۰رقم ۲۷۲۲

۹۔شیبائی الآحادو المثالی ۵:۳۶۴،رقم ۲۹۶۲

۱۰۔عبد بن حمید،المسند۱:۲۰۵،رقم ۲۹۲۶

۱۱،طبرانی المعجم الکبیر،۳۳۶۱۱،رقم،۱۱۹۲۸

۱۲،طبرانی المعجم الکبیر ۲۲:۴۰۷،رقم ؛۱۰۱۹

۱۳۔طبرانی المعجم الکبیر،۲۳:۷،رقم :۱،۲

۱۴۔بیہقی الاعتقاد :۳۲۹

۱۵۔ابن عبدالبر،الاستعیاب فی معرفة الاصحاب ،۴:۱۸۲۱،۱۸۲۲

۱۶۔نووی ،تہذیب الاسماء واللغات ۲:۶۰۸

۱۷۔ذہبی نے سیراعلام النبلاء(۱۲۴۲)میں اسے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھا سے مرفوع حدیث قرار دیا ہے۔

۱۸۔ہیثمی نے مجمع الزائد (۹:۲۲۳)میں کہا ہے کہ اسے احمد ابو یعلی اورطبرانی نے روایت کیا ہے اوران کی بیان کردہ روایت کے رجال صحیح ہیں ۔

۱۹۔عسقلانی فتح الباری ۶:۴۴۷

۲۰۔عسقلائی الاصبابہ فر تمییزالصحابہ ۸:۵۵

۲۱۔حسینی البیان والتعریف ۱:۱۲۳،رقم :۳۱۶

۲۲۔مناوی فیض القدیر ۲:۵۳

۲۳۔قرطبی الجامع الاحکام القرآن ۴:۸۳

۲۴۔ابن کثیر،تفسیرالقرآن العظیم ،۴:۳۹۴

۱۲ عن صالح :قالت عائشه لفاطمه بنت رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم الابشرک سمعت رسول صلی الله علیه وآله وسلم یقول :سیدات اهل الجنته اربع:مریم بنت عمران وفاطمة بنت رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم وخدیجه بنت خویلد وآسیه امرة فرعون(۱۲)

"حضرت صالح رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا :کیا میں تمہیں خوشخبری نہ سناوں !وہ یہ کہ میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:اہل جنت کی عورتوں کی سردار صرف چار خواتین ہیں مریم بنت عمران ،فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدیجہ بنت خویلد اورفرعون کی بیوی آسیہ"

____________________

۱۲۔حوالاجات

احمد بن حنبل فضائل الصحابہ ۲:۷۶۰،رقم :۱۳۳۶

فصل ۵

حرم الله فاطمةسلام الله علیها وذریتها علی النار

اللہ نے فاطمہ اورآل فاطمہ پر جہنم کی آگ حرام کردی

۱۳ عن ابن عباس رضی الله عنها قال :قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم لفاطمة رضی الله عنها ان الله غیر معذبک ولا ولاک(۱۳)

"حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا سے فرمایا:اللہ تعالی تمہیں اورتمہاری اولاد کو آگ کا عذاب نہیں دے گا"

____________________

حوالاجات

۱۔طبرانی المعجم الکبیر،۱۱:۱۲۰،رقم :۱۱۶۸۵

۲۔ہیثمی نے مجمع الزوائد (۹:۲۰۲)میں کہا ہے کہ اسے طبرانی نے روایت کیا ہے اوراس کے رجال ثقہ ہیں

۳۔سخاوی استجلاب ارتقاء الغرف بحب اقرباء الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وذوی الشرف:۱۱۷

۱۴ عن عبدالله بن مسعود رضی الله عنهما قال :قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم :ان فاطمه حصنت فرجها فحرمها الله وذریتها وعلی النار

"حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:بیشک فاطمہ نے اپنی عصمت وپاکدامنی کی ایسی حفاظت کی ہے کہ اللہ تعالی نے اسے اوراس کی اولاد کو آگ سے محفوظ فرمادیاہے:

____________________

۱۴ ۔حوالاجات

۱ ۔طبرانی المعجم الکبیر، ۲۲،۴۰۷:۱۰۱۸

۲ ۔بزار المسند، ۲۲۳۵ ،رقم ۴۷۲۶

۳ ۔حاکم المستدرک ۳:۱۶۵ ،رقم : ۴۷۲۶

۴ ۔ابونعیم حلیة الاولیاء وطبقات الاصفیاء ۴:۱۸۸

۵ ۔سخاوی استجلاب ارتقاء الغرف بحب اقرباء الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وزوی الشرف: ۱۱۵،۱۱۶

۱۵ عن جابر بن عبدالله رضی الله عنهما قال :قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم انما اسمیت بنتی فاطمه لان الله عن وجل فطمها وفطم معبیها عن النار

"حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :میری بیٹی کا نام فاطمہ اس لئے رکھا گیا ہے کہ اللہ تعالی نے اسے اوراس سے محبت رکھنے والوں کو دوزخ سے الگ تھلگ کردیا ہے"

____________________

۱۵۔حوالاجات

۱۔دیلمی الفردوس بما ثور الخطاب ،۱:۳۴۶،رقم :۱۳۸۵

۲۔ہندی نے کنزالعمال(۱۲:۱۰۹،رقم ۳۴۲۲۷)میں کہا ہے کہ اسے دیلمی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیاہے۔

۳۔سخاوی نے استجلاب ارتقاء الغرف بحب اقرباء الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وزوی الشرف (ص:۹۶)میں کہا ہے کہ اسے دیلمی نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے۔

فصل : ۶

ام فاطمة سلام الله علیها افضل النساء

سیدہ سلام اللہ علیھا کی والدہ افضل النساء ہیں

عن عبدالله بن جعفر قال :سمعت علی بن ابی طالب یقول سمعت رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم یقول :خیرنسائها خدیجه بنت خویلد وخیر نسائها مریم بنت عمران

"حضرت عبداللہ بن جعفرروایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا (اپنے زمانہ کی عورتوں میں )سب سے افضل خدیجہ بنت خویلد ہیں اوراپنے زمانہ کی عورتوں میں )سب سے افضل مریم بنت عمران ہیں "

____________________

۱۶۔ حوالاجات

۱۔ترمذی الجامع الصحیح ۵:۷۰۲،رقم :۳۸۷۷

۲۔احمد بن حنبل المسند ۱:۱۱۶،۱۳۲

۳۔ابویعلی المسند ،۱:۴۵۵

۴۔احمد بن حنبل فضائل الصحابہ ۲:۸۵۲،رقم ۱۵۸۰

۵۔ابن عبدالبر،الاستیعاب فی مرفة الاصحاب ،۴:۱۸۲۳

۶۔ذہبی سیراعلام النبلاء ۲:۱۱۳

۷۔عسقلانی فتح الباری ۶:۴۴۷

۸۔عسقلانی فتح الباری ۷:۱۰۷

۹۔عسقلانی الا صابہ تمییز الصحابہ ۷:۶۰۲

۱۷ عن عبدالله بن جعفر سمعت علیا بالکوفة یقول سمعت رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم یقول :خیرنسائها مریم بنت عمران وخیرنسائهاخدیجه بنت خویلد

قال ابوکریب :اشارکیع الی السماء والارض

"حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو کوفہ ،میں یہ فرماتے ہوئے سنامریم بنت عمران اورخدیجہ بنت خویلد زمین وآسمان میں سب عورتوں سے بہتر ہیں ۔

"راوی ابوکریب کہتے ہیں کہ وکیع نے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے زمین وآسمان کی طرف اشارہ کیا"

____________________

۱۷۔ حوالاجات

۱۔مسلم الصحیح ،۴:۱۸۸۶،رقم ۲۴۳۰

۲۔بخاری الصحیح ۳:۱۲۶۵،۱۳۸۸،رقم ۳۲۴۹،۳۶۰۴

۳۔نسائی السنن الکبری ۵:۹۳،رقم ۸۳۵۴

۴۔احمد بن حنبل المسند ۱:۸۴،۱۴۳

۵۔عبدالرزاق، المصنف،۷:۴۹۲،رقم ۱۴۰۰۶

۶۔ابن ابی شیبہ المصنف،۶:۳۹۰،رقم ۳۲۲۸۹

۷۔بزارالمسند ،۱:۳۹۹،رقم ۴۶۸

۸۔ابویعلیٰ المسند۱:۳۹۹رقم ۵۲۲

۹۔نسائی فضائل الصحابہ ۷۴،رقم ۲۴۹

۱۰۔احمدبن حنبل فضائل الصحابہ ۲:۸۴۷،۸۵۶،رقم :۱۵۶۳،۱۵۷۹،۱۵۸۳

۱۱۔شیبانی الآحادوالمثالی ۵:۳۸۰،رقم ۲۹۸۵

۱۲۔حاکم المستدرک ۲:۵۳۹،رقم ۳۸۳۷

۱۳۔حاکم المستدرک ،۳:۲۰۳،۶۵۷رقم ۴۸۴۷۶،۶۴۱۹

۱۴۔بیہقی السنن الکبری ،۶:۳۶۷

۱۵۔طبرانی المعجم الکبیر:۲۳،۱۸ رقم :۴

۱۶۔محاملی الامالی :۱۸۸رقم ۱۶۴

۱۷۔دولابی الذریۃ الطاہرہ :۳۷،رقم ۲۸

۱۸۔ابن عبدالبر،الاستیعاب فی معرفة الاصحاب ۴:۱۸۲۴

۱۹۔ابن جوزی صفة الصفوہ ۲:۳


فصل : ۷

قول الرسول صلی الله علیه وآله وسلم فداک ابی وامی یا فاطمة

فرمان رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فاطمہ میرے ماں باپ تجھ پر قربان

۱۸ عن ابی عمر رضی الله عنهما ان النبی صلی الله علیه وآله وسلم کان اذا سافر کان آخر الناس عهدا به فاطمة واذا قدم من سفر کان اول الناس به عهدا فاطمة رضی الله عنهما فقال لها رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم فداک ابی وامی

"حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر کا ارادہ فرماتے ہیں تواپنے اہل وعیال میں سے سب کے بعد جس سے گفتگو کرکے سفر پر روانہ ہوتے ہوتے وہ سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا ہوتیں اورسفر سے واپسی پر سب سے پہلے جس کے پاس تشریف لاتے وہ بھی حضر ت فاطمہ سلام اللہ علیھا ہی ہوتیں اور یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا سے فرماتے :فاطمہ!میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں "

____________________

حوالاجات

۱۔حاکم المستدرک ۳:۱۷۰،رقم۴۷۴۰

۲۔ابن حبان الصحیح ،۲:۴۷۰،۴۷۱،رقم ۶۹۶

۱۹ عن عمر بن الخطاب رضی الله عنه عن النبی صلی الله علیه وآله وسلم قال لفاطمة:فداک ابی وامی

"حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی مروی ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا سے فرماتے تھے :فاطمہ میرے ماں باپ تجھ پرقربان ہوں "

____________________

حوالات

شو کانی نے درالسحابہ فی مناقب القرابة والصحابہ (ص:۲۷۹)میں کہا ہے کہ اسے حاکم نے المستدرک میں روایت کیا ہے

فصل : ۸

سیدہ سلام اللہ علیھا ۔۔۔لخت جگر مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

قال عمر بن الخطاب رضی الله عنه فاطمة سلام الله علیها احب الناس بعد ابیها"

عن عمررضی الله عنه انه دخل فاطمة بنت رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم فقال یا فاطمة والله مارایت احد احب الی رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم منک والله ماکان احد من الناس بعد ابیک صلی الله علیه وآله وسلم احب الی منک

۱۰۱ عن عمرو بن دینار قال :قالت عائشه رضی الله عنه :مارایت احد اقط اصدق من فاطمة غیر ابیها

۱۰۰ عن عائشة رضی الله عنها قالت :مارایت افضل من فاطمة رضی الله عنها غیرابیها

قالت ام المومنین عائشة رضی الله عنها فاطمة سلام الله علیها افضل الناس بعد ابیها"

۹۹ عن علی رضی الله عنه عن النبی صلی الله علیه وآله وسلم قال :انا وعلی وفاطمة وحسن وحسین مجتمون ومن احبنایوم القیامة ناکل ونشرب حتی یفرق بین الحباد

۹۸ عن علی رضی الله عنه قال :قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم لفاطمة :انی وایاک وهذین وهذا الراقد فی مکان واحد یوم القیامة

۹۸ ان فاطمة سلام الله علیها وزوجها وابناهاومن احبهم مجتمون مع النبی صلی الله علیه وآله وسلم فی مکان واحدیوم القیامة

۹۷ عن ابی موسی الاشعری قال :قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم :انا وعلی وفاچمة والحسن والحسی یوم القیامة فی قبة تحت العرش

۹۶: عن عمر بن الخطاب رضی الله عنه،قال :قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم :ان فاطمة وعلیاوالحسن والحسین فی حظیرةالقدس فی قبة بیضاء سقفها عرش الرحمن

مسکنها یوم القیامة فی قبة بیضاء سقفها عرش الرحمن

۹۵ عن ابی یزیدالمدنی قال :قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم اول شخص یدخل الجنة :فاطمة بنت محمد ومثلها فی هذه الامة مثل مریم فی نبی اسرائیل

۹۴ عن ابی هریرة رضی الله عنه قال رسول الله رضی الله عنه اول شخص یدخل الجنة فاطمة

۹۳ عن علی رضی الله عنه قال :اخبرنی رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم ان اول من یدخل الجنة انا وفاطمة والحسن والحسین قلت:یا رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم فمحبونا؟قال :من ورائکم

اول من دخل الجنة مع النبی صلی الله علیه وآله وسلم فاطمة سلام الله علیها وزوجها وابناها

۹۲ عن ابن عباس رضی الله عنه قال :قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم انامیزان العلم علی کفتاه والحسن والحسین خیوطه وفاطمة علاقته والآیمة من بعدی عمرده یوزن به اعمالالمعبین لنا والمبغصین لنا

فاطمة سلام الله علیها علاقة لمیزان الآخرة

۹۱ عن بریدة رضی الله عنه قال معاذ بن جبل رضی الله عنه یا رسول الله صلی الله

علیه وآله وسلم وانت علی العضباء ؟قال :انا علی البراق یخصنی الله به منبین الانبیاء وفاطمة ابنتی عکی العضباء

۹۰ عن ابی هریرة رضی الله عنه قال :قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم تبعث الانبیاء یوم القیامة علی الدواب لیوافوا بالمومنین من قومهم المعشر ،ویبعث صالح علی فاقته وابعث علی البراق خطوها عنداقصی طرفها وتبعثفاطمة امامی

۸۹ عن علی بن ابی طالب رضی الله عنه قال :قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم اذا کان یام القیامة حملت علی البراق وحملت فاطمة علی فاقة العضباء

تحمل فاطمة سلام الله علیها علی ناقة النبی صلی الله علیه وآله وسلم یوم القیامة

۸۸ عن علی رضی عنه الله،قال رسول الله صلی الله علیه اله وسلم :تحشرابنتی فاطمه یوم القیام وعلیهاحلةالکرامة قدعجنت بماء الحیوان،فتنظرالیهااخلائق،فیترجبون

منها،ثم تکسی حلة من حلل الجنه(تشتمل)علی الف حلةمکتوب(علیها)بخط اخضر:ادخلوابنت محمدصلی الله علیه واله وسلم الجنةعلی احسن صورةواکمل هیبةواتم کرامةواوفرحظفتزف الی الجنةکالعروس حولها سبعونالف جاریة(۸۸)

۸۷ عن ابی ایوب الانصاری رضی الله عنه :اذا کان یوم القیامة نادی مناد من بطنان العرش :یا اهل الجمع!نکسوا روسکم وغضو ابصارکم حتی تمر فاطمة بنت محمد صلی الله علیه وآله وسلم علی صراط،فتمرومعها سبعون الف جاریة من العور العین کالبرق اللامع

منظر مرورفاطمة سلام الله علیها علی الصراط مع سبعین الف جاریة من الحور من العور العین

۸۶ عن ابی هریرة رضی الله عنه مرفوعااذا کان یوم القیامة نادی مناد من بطنان العرش :یا اهل الجمع!نکسواروسکم وغضوا ابصارکم حتی تجوز فاطمة الی الجنة

۸۴ عن علی رضی الله عنه قال :قال النبی صلی الله علیه وآله وسلم اذا کان یوم القیامة قیل :یا اهل الجمع غضو ابصارکم لتمر فاطمة بنت رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم فتمر وعلیها ریطتان خضر اوان

قال ابو مسلم :قال لی قلابة وکان معناعبدالحمید انه قال :حمراوان

۸۳ عن علی رضی الله عنه قال :سمعت النبی صلی الله علیه وآله وسلم یقول :اذا کان یوم القیامة نادی مناد من وراء العجاب :یا اهل الجمع! غضو ابصارکم عن فاطمة بنت محمد صلی الله علیه وآله وسلم حتی تمر

غض اهل الجمع ابصار ها عند مرور فاطمة الزهراء سلام الله علیها یوم القیامة اکراما لها

۷۲ عن ام سلمی رضی الله عنها قالت:اشتک فاطمة شکواها التی قبضت فیه فکنت امرضها فاصبعت یوما کامثل مارایتها فی شکواها تلک قالت:وخرج علی لبعض حاجته فقالت :یا امه !اسکبی لی غسلا،فسکبت لها غسلا فاغتسلت کاحسن نارایتا تختسل ، ثم قالت :یا امه اعطینی ثیابی الجدد فاعطیتها فلبستها ثم قالت : یا امه قدمی لی فراشی وسط البیت ففعلت واضطجعت واستقبلت القبلة وجعلت یدهاتحت خدها ثم قالت:یا امه !انی مقبوضة الآن وقدتطهرت فلا یکشفنی اهد فقبضت مکانها قالت فجاء علی فاخبرته

انهاعلمت بوفاتها

۸۱ "عن ابن عباس رضی الله عنه قال :لما نزلت اذا جاء نصرالله والفتح )دعا رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم فاطمة ،فقال :قد نعیت الی نفسی فبکت ، فقال لا تبکی فانک اول اهلی لا حق بی فضعکت فرآها بعض ازواج النبی صلی الله علیه وآله وسلم فقلن :یا فاطمة رایناک بکیت ثم ضعکت قالت انه اخبرنی انه قد نعیت الیه نفسه فبکیت فقال لی :لا تبکی فانک اهلی لا حق بی فضعکت

۷۹ عن عائشه رضی الله عنهاعن فاطمة سلام الله علیها :ان النبی صلی الله علیه وآله وسلم قال لها :انت اول اهلی لعوقا بی فضعکت لذالک

۷۸ عن عائشه رضی الله عنهاقالت :دعا النبی صلی الله علیه وآله وسلم فاطمة ابنته فی شکواه التی قبض فیها فسارها بشئی فبکت ثم دعاها فسارها فضعکت قالت :فسالتها عن ذلک فقالت :سارنی النبی صلی الله علیه وآله وسلم فاخبرنی انه یقض فی وجعه الذی توفی فیه فبکیت ثم سارنی فاخبرنی انی اول اجل بیته اتبعه فضعکت

انها اول اهل النبی صلی الله علیه وآله وسلم لحوقابه بعدوفاته

۷۷ عن ابن عباس رضی الله عنه ان رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم قال :کل سبب ونسب منقطع یوم القیامة الاسببی ونسبی

۷۶ عن عبدالله بن الزبیر رضی الله تعالی عنه قال :قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم کل نسب وصهر منقطع یوم القیامة الانسبی وصهری

۷۵ عن عمر بن الخطاب رضی الله عنه انی سمعت رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم یقول :کل نسب وسبب ینقطع یوم القیامة الا ماکان من سببی ونسبی

ینقطع کل نسب وسبب یوم القیامة الانسب فاطمة سلام الله علیها وسببها

۷۴ عن جابر رضی الله عن قال :قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم لکل بنی ام عصبة ینتمون الیهم الا ابنی فاطمة ،فانا ولیهما وعصبتهما

۷۳ عن عمررضی الله عنه قال سمعت رسول الله صلی الله محمدعلیه وآله وسلم یقول:کل بنی انثی فان عصبتهملا بیهم ماخلاولد فاطمة فانی انا عصبتهم وانا ابوهم

۷۲ عن فاطمة الزهراء سلام الله علیها قالت:قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم کل بنی ام ینتمون الی عصبة الا ولد فاطمة ،فانا ولیهم وانا عصبتم

ذریة فاطمة سلام الله علیها ذریة النبی صلی الله علیه وآله وسلم

۷۱ عن فاطمة بنت رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم انها اتت بالحسن والحسین الی رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم فی شکواه الذی توفی فیه فقالت :یا رسول الله صلی الله علیک وسلم !هذان ابناک فورثهما شیاء فقال :اما الحسن فله هیبتی وسوددی واما حسین فله جراتی وجودی

اناالمسور بن مخرمة قال :قال رسول الله صلی الله صلی الله علیه وآله وسلم :ان فاطمة بضعة منی وانی اکره ان یسوئها والله لا تجتمع بنت رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم وبنت عدوالله عند رجل واحد

۲۹ ان المسوربن مخرمة حدثه ،انه سمع رسول صلی الله علیه وآله وسلم علی المنبر ،وهو یقول :ان بنی طالب فلا آذن لهم ،ثم لاآذن لهم ثم لا آذن لهم وقال صلی الله علیه وآله وسلم فانماابنتی بضعة منی یرینبی مارابها ویوذینی ما آذاها

لم یوذن لعلی بزواج ثان فی حیاة فاطمة الزهراء سلام الله علیها

۲۸ عن بریدة رضی الله عنه قال :فلما کان النبلاء قال :یا علی لا تحدث شیئا حتی تلقانی ، فدعاالنبی صلی الله علیه وآله وسلم بما فتوضا منه ثم افرغه علی علی فقال :الکهم بارک فیهما وبارک علیهما وبارک لهما فی شبلهما وفی روایة عنه :وبارک لهما فی نسلهما

۲۷ عن انس بن مالک رضی الله عنه قال :دعارسول الله صلی الله علیه وآله وسلم لفاطمة اللهمانی اعیذها بک وذریتها من الشیطان الرجیم

ذعا ء النبی صلی الله علیه وآله وسلم لفاطمة سلام الله علیها وذریتها

۶۶۵۸۶۶ ععبعن علی رضی الله تعالی عنه قال :قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم اتانی ملک فقال :یا معمد ان الله تعالی یقراعلیک السلام ، ویقول لک :انی قد ذوجت فاطمة ابنتک من علی بن ابی طالب فی الملاالاعلی فزوجها فی الارض

۶۵ عن انس رضی الله عنه قال :بینما رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم فی المسجد اذقال صلی الله علیه وآله وسلم لعلی:هذاجبریل یخبرنی ان الله زوجک فاطمة واشهد علی تزویجک اربعین الف ملک واوحی الی شجرة طوبی ان انثری علهم الدروالیاقوت فنثرت علیهم الدروالیاقوت فابتدرت الیه الحورالعین یلتقطن من اطباق الدروالیاقوت فهم یتهادونه بینهم الی یوم القیامة

حفل زفاف فاطمةسلام الله علیها فی الملاالاعلی ومشارکة اربعین الف ملک فیه

۶۴ قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم یا انس اتدری ما جاء نی به جبرایل من صاحب العرش؟ قال :ان الله امرنی ان ازوج فاطمة من علی

۶۳ عن عبدالله بن مسعودرضی الله عنهما عن رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم قال :ان الله امرنی ان ازوج فاطمة من علی

امر الله النبی صلی الله علیه وآله وسلم بترویج فاطمة سلام الله علیها من علی بن ابی طالب رضی الله عنه

۶۲ عن عبدالله قال :قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم ان فاطمة حصنت فرجها وان الله وعجل عن ادخلها یا حصان فرجها وذرتیها الجنة

۶۱ عن عبدالله قال :قال رسول الله صلی الله وعلیه وآله وسلم ان فاطمه احصت فرجها فحرم الله ذریتها علی النار

شهادة النبی صلی الله علیه وآله وسلم لعفة فاطمة سلام الله علیها وعرضها

۶۰ عن ابن عباس رضی الله عنهما رفعه :انا شجرةٰ وفاطمة حملها وعلی لقاحها،والحسن والحسین ثمرتها والمحبون اهل البیت ورقها من الجنتة حقا حقا

۵۹ عن المسورقال :قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم فاطمةشجنة منی یسطنی مابسطها ویقبضنی ماقبضها

فاطمة سلام الله علیها شجنة من النبی صلی الله علیه وآله وسلم

۵۸ عن عائشة رضی الله عنها قالت :بینما انا مع رسول صلی الله علیه وآله وسلم فی بیت یلاعبنی والاعبه اذدخلت علینا فاطمة فاخذ رسول الله صلی الله محمد وآله وسلم بیدها فاقعدها خلفه ونا جاها بشئی لا ادری ماهو فنظرت الی فاطمة تبکی ثم اقبل الی رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم فحدثنی ولا عبنی ثم اقبل علیها فلا عبها ونا جاها بشئی فنظرت الی فاطمةقاذا هی تضحک فقام رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم فخرج فقلت لفاطمة ما الذی ناجاک به رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم ؟قالت :لیس کلامااسرالی رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم اخبرک به قلت :اذکرک الله والرحم قالت :اخبرنی :انه مقبوض قد حضراجله فبکیت لفراق رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم ثم اقبل الی فنا جانی :انی اول من لحق به من اهل بیته فضحکت للقاء رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم

۵۷ عن عائشة رضی الله عنها قالت :دعاالنبی صلی الله علیه وآله وسلم فاطمة ابنته فی شکواه الذی قبض فیها فسارهابشئی فبکت ثم دعاها فسارها فضحکت قالت :فسالتها عن ذلک فقالت :سارنی النبی صلی الله علیه وآله وسلم فاخبرنی انه یقبض فی وجعه الذی توفی فیه فبکیت ثم سارنی فاخبرنی انی اول اهل بیة اتبعه فضعکت

۵۶ عن عائشة رضی الله عنها قالت اجتمع نساء النبی صلی الله علیه وآله وسلم فلم یغادرمنهن امراة فجاء ت فاطمة تمشی کان مشیتها مشیة رسول الله صلی الله علیه وآله سلم فقال :مرحبابابنتی فاجلسها عن عمینه اوعن شماله ثم انه اسرالیهاحدیثا فبکت فاطمة ثم انه سارها فضحکت ایضا فقلت لها :ما یبکیک ؟فقالت :ماکنت لاقشی ار رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم فقلت :ما رایت کالیوم فرحااقرب من حزن فقلت لها حین بکت اخصک رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم بحدیثه دوننا ثم تبکن ؟ولالتها عما قال فقالت :ما کنت لا فشی سر رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم حتی ازاقبض سالتها فقالت انه کان حدثنی ان جبرائیل کان یعارضه بالقرآن کل عام مره وانه عارضه به فیء العام مرتین ولا ارانی الاقد حضراجلی وانک اعل اهلی لحوقابی ونعم السلف انا لک فبکیت لذلک ثم انه سارنی فقال الا ترضین ان تکون سیده نساء المومنین اوسیدةنساء هذه الا مة فضحکت

اسراالنبی صلی الله علیه وآله وسلم الی فاطمة الزهراء سلام الله علیها

۵۵ عن معاویة بن حدیج عن الحسن بن علی رضی الله عنهما انه قال له :یا معاویةبن حدیج !ایاک وبخضنا فان رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم قال:لا یبغضنا ولا یحسدنا احدالا ذید عب العوض یوم القیامة بساط من نار

رجلا صف بین الرکن والمقام فصلی وصام ثم لقی الله وهو مبغض لا اهل بیت محمد دخل النار

۵۴ عن ابن عباس رضی الله عنه قال :قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم لوان

۵۳ عن ابی سعید الخدری رضی الله عنه قال :قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم والذی نفسی بیده!لایبغضنا اهل البیت احد الا ادخله الله النار

۵۲ عن جابر بن عبدالله انصاری رضی الله عنهما قال :خطنبا رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم وهو یقول :ایهاالناس !من ابغضنا اهل البیت حشره الله یوم القیامة یهودیایارسول الله صلی الله علیک وسلم !وان صام وصلی ؟قال:ان صام وصلی

۵۱ عن زرقال:قال علی رضی الله عنه لایحبنا منافق ولاینغضنا مومن

۵۰ عن ابی سعید الخدری رضی الله عنه قال :قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم من ابغضنا اهل البیت فهو منافق

من ابعض اهل بیت فاطمة سلام الله علیها فقددخل النار ولعن الله عجل عن علیه

۴۹ عن ابی هریرة رضی الله عنه قال :نظر النبی صلی الله علیه وآله وسلم الی علی وفاطمة والحسن والحسین فقال انا حرب لمن حاربکم وسلم لمن سالمکم

۴۸ عن زیدبن ارقم رضی الله تعالی عنه ان النبی صلی الله علیه وآله وسلم قال لفاطمة والحسن والحسین :انا حرب لمن حرابکم وسلم لمن سالمکم

۴۷ عن زید بن ارقم رضی الله تعالی عنه ان رسول صلی الله علیه وآله وسلم قال لعلی وفاطمةوالحسن والحسین رضی الله تعالی عنه اناحرب لمن حاربتم وسلم لمن سالمتم

عدالفاطمه سلام الله علیها عدوللنبی صلی الله علیه وآله وسلم

۴۶ عن ابی حنطلة رضی الله تعالی عنه قال :فقال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم انما فاطمة بعضةمنی فمن اذاهافقد آذانی

۴۵ عن عبدالله بن الزبیر رضی الله تعالی عنه قال:قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم انمافاطمة بعضة منی یوذینی ماآذاها ونیصبنی ماانصبها

۴۵ عن عبدالله بن الزبیر رضی الله قال :قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم :انمافاطمة بضعة منی یوذینی ماآذاها وینصبنی ماانصبها(۴۵)

۴۴ عن المسور بن مخرمةقال:قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم انما فاطمةبضعة منی ،یوذینی ماآذاها

من آذی فا طمةسلام الله علیها فقد آذی النبی صلی الله وآله وسلم

ان الله یغضب لغضب فاطمة ویرضی لرضا ها

۲۳ عن علی رضی الله عنه قال :قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم لفاطمة :ان الله یغضب لغضب ویر ضٰی لرضاک(۴۳)

من اغضب فاطمه بن مخرمة:ان رسول صلی الله علیه وآله وسلم قال :فاطمة بعضة منی فمن اغضبها اغضبنی(۴۲)

انما فاطمة بضعة منی یسرنی مایسرها

وانا اعلم ان فاطمةرضی الله عنها لو کانت حیة لسرها مافعلت بابنها ،قالو ا!فما معنی غمزک بطنه وقولک ماقلت ؟قال :انه لیس احد من بنی هاشم الا وله شفاعة فرجوت ان اکون فی شفاعةهذا(۴۱)

۴۱ عن سعید بن ابان القرشی قال :دخل عبدالله بن حسن بن حسن بن علی بن ابی طالب علیٰ عمر بن عبدالعزیز وهو حدث السن وله وفرة فرفع مجلسه واقبل علیه وقضی حوائجه ،ثم اخذ عکنة فخمزها حتی اوجعه،وقال :اذکرها عندک للشفاعة فلما خرج لامه قومه وقالو ا:فعلت هذا بخلام حدث !فقال :ان الثقة حدثنی حتی کانی اسمعه من فی رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم :

۴۰ عن المسور بن مخرمة رضی الله تعالی عنه قال :قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم انما فاطمه شجنة منی یبسطنی ما یبسطهاو یقبضها

رضاء فاطمه سلام الله علیها رضاء النبی صلی الله علیه وآله وسلم

۳۹ عن مسروق :حدثتنی عائشه ام المومنین رضی الله عنها قالت :انا کنا ازواج النبی صلی الله علیه وآله وسلم عنده جمیعا لم تخادر منا واحدة فاقبلت فاطمة علیها سلا، تمشی ولا والله ما تخفی مشیتها من مشیة رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم

۳۸ عن عائشه رضی الله عنها قالت اجتمع نساء النبی صلی الله علیه وآله وسلم فلم یغادرمنهن امراة فجاء ت فاطمه تمشیکان مشیتها رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم فقال :مرحبا یا بنتی فاجلسها عن یمینه او عن شماله(۳۸)

۳۷ عن انس بن مالک رضی الله عنه قال :لم یکن احداشبه برسول الله صلی الله علیه وآله وسلم من الحسن بن علی ،وفاطمه صلوات الله علیهم اجمعین

۳۶ عن عائشه ام المومنین رضی الله عنه قالت :مارایت احدامن الناس کان اشبه بالنبی کلاما ولا حدیثا ولا جلسلة من فاطمة(۳۶)

۳۵ عن عائشة ام المومنین رضی الله عنها قالت :مارایت احدا اشبه سمتا ولاوهدیا برسول صلی الله علیه وآله وسلم فی قیامها وقعودها من فاطمة بنت رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم(۳۵)

ماکان احد اشبه بالنبی صلی الله علیه وآله وسلم من فاطمة سلام الله علیها فی عاداتها

۳۴ عن ابن ابی نجیع عن ابیه،قال :اخبرنی من سمع علیا علی منبر الکوفة یقول :دخل علینا رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم فجلس عبد رووسنا فدعا بانا ء فیه فاتی به فدعا فیه بالبر کة ثم رشه علینا فقلت : یا رسول الله انا احب الیک ام هی ؟قال هی احب الی منک وانت اعزعلی منها

۳۳ عن ابی اهریره رضی الله عنه قال :علی بن ابی طالب رضی الله عنه یارسول الله صلی الله علیک وسلم !ایما احب علیک :انا ام فاطمة ؟قال :فاطمه احب الی منک وانت اعز علی منها(۳۳)

۳۲ عن ابی سلمة بن عبدالرحمن ، قال :اخبرنی اسامة بن زید ،قال کنت جالسا اذجاء علی والعباس رضی الله عنهما یستاذنان فقالا :یا اسامة استازن لا علی رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم فقلت :یا رسول الله !علی والعباس یستاذنان فقال :اتدری ماجاء بها ؟قلت لا فقال النبی صلی الله علیه وآوله وسلم لکنی ادری ائذن لهما فدخلا ، فقالا :یا رسول الله !جئناک نسالک ای اهلک احب الیک ؟قال :فاطمة بنت محمد(۳۲)

۳۱ عن ابن بریدة عن ابیه ،قال :کان احب النساء الی رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم فاطمة ومن الرجال علی(۳۱)

"عن جمیع بن عمیر التیمی قال :دخلت مع عمتی علی عائشة فسلت ای الناس کان احب الی رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم ؟ قالت :فاطمه فقیل :من الرجا ل ؟قالت :زوجها ، ان کان ماعلمت صواما قواما(۳۰) """ فکفج

فاطمه سلام الله علیها احب الناس الی النبی صلی الله علیه وآله وسلم

۲۹ عن ابن عباس قال :کان رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم اذا قدم من سفر قبل ابنته فاطمه(۲۹)

۲۸ عن ابن عمر رضی الله عنهما :ان النبی صلی الله علیه وآله وسلم کان اذا سافر کان آخر الناس عهد ا به فاطمة واذا قدم من سفر کام اول الناس به به عهدا فاطمه رضی الله عنها فقال لها رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم :فداک ابی وامتی(۲۸)

۲۷ عن ثوبان مولی رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم قال :کان رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم اذامسافر کان آخر عهده یا نسان من اهله فاطمةواول من یدخل علیها اذا قدم فاطمه(۲۷)

۲۵ عن عائشة ام المومنین رضی الله عنها قالت:کانت فاطمة اذادخلت علیه صلی الله علیه وآله وسلم قام الیها فقبلها ورحب بها واخذ بیدها فاجلسها فی مجلسه وکانت هی اذا دخل علیها رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم قامت الیه مستقبلة وقبلت یده(۲۵)

۲۴ عن ام المومنین عائشة رضی الله عنها انها قالت :کانت فاطمة اذا دخلت علیه صلی الله علیه وآله وسلم رحب بها قام الیها فاخز بیدها فقبلها اجلسها فی مجلسه(۲۴)

کان النبی صلی الله علیه وآله وسلم یقوم لفاطمة سلام الله علیها ویرحب بها ویقبل یدها ویجلسها فی مکانه عندقدومها الیه حبا لها

۲۳ عن عائشه ام المومنین رضی الله عنها قالت :کان رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم اذارآها قد اقبلت رجب بها ثم قام الیها فقبلها ، ثم اخذ بیدها فجاء بها حتی یجلسها فی مکانه وکانت اذارات النبی صلی الله علیه وآله وسلمرحبت به ثم قامت الیه فقبلته صلی الله علیه وآله وسلم "

۲۲ عن علی رضی الله تعالی عنه انه کان عند رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم فقال :ای شی خیر المراة ؟فکستوا، فلما رجعت قلت لفاطمة :ای شئی خیر لنساء ؟قالت :الایراهن الرجالفذکرت ذلک لنبی صلی الله علیه وآله وسلم فقال : انما فاطمة بضعة منی

۲۱ عن محمد بن علی قال :قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم :انما فاطمة بضعة منی فمن اغضبها اغضبنی

۲۰ عن المسور بن مخرمة ان رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم قال :فاطمة بضعة منی فمن اعضبها اغضبی

فاطمة سلام الله علیها بعضة من رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم

"حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:فاطمہ میری جان کا حصہ ہے پس جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا"

____________________

۲۰۔حوالاجات

۱۔بخاری الصحیح ۳:۱۳۶۱،رقم :۳۵۱۰

۲۔بخاری الصحیح ،۳:۱۳۷۴،رقم :۳۵۵۶

۳۔مسلم الصحیح ۴:۱۹۰۳رقم :۲۴۴۹

۴۔ابن ابی شیبہ نے المصنف (۲:۳۸۸رقم ۳۲۲۶۹) میں یہ حدیث حضرت علی سے روایت ہے۔

۵۔ابوعوانہ المسند ۳:۷۰رقم ۴۲۳۳

۶۔شیبانی الآحادوالمثانی ۵:۳۶۱،رقم ۲۹۵۴

۷۔ طبرانی المعجم الکبیر ۲۲:۴۰۴رقم:۱۰۱۳

۸۔حاکم المستدرک ۳:۱۷۲،رقم : ۴۷۴۷

۹۔بیقہی السنن الکبری ۱۰:۲۰۱

۱۰۔دیلمی الفردوس بما ثور الخطاب ۳:۱۴۵،رقم ؛۴۳۸۹

۱۱۔ابن جوزی صفة الصفوہ ۲:۷

۱۲۔محب طبری ذخائرالعقبی فی مناقب ذوی القربی ۸۰

۱۳۔ابن بشکوال غوامض الاسماء المبہمہ ۱:۳۴۱

۱۴۔عسقللانی ، الاصابہ تمییز الصحابہ ۸:۵۶

۱۵۔حسینی ،البیان والتعریف ۱:۲۷۰

۱۶۔مناوی فیض القدیر،۴:۴۲۱

۱۷۔ عجلونی کشف الخفاء ومزیل الالباس ۲:۱۱۲،رقم :۱۸۳۱

مندرجہ بالا حوالہ جات کے علاوہ ائمہ ومحدثین نے درج ذیل مقامات پر بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کافرمان مبارک نقل کیا ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنھا کو بضعۃ منی فرما کر اپنی جان حصہ قرار دیا ہے:

۱۸۔بخاری الصحیح ۳:۱۳۶۴رقم ۳۵۲۳

۱۹۔بخاری الصحیح ۵:۲۰۰۳رقم۴۹۳۲

۲۰۔ترمذی الجامع الصحیح ۵:۶۹۸رقم :۳۸۶۷

۱۲۔ابوداود السنن ۲:۲۲۶رقم ۲۰۷۱

۲۲۔ابن ماجہ السنن ۱:۶۴۳،۶۴۴رقم ۱۹۹۸،۱۹۹۹

۲۳۔نسائی السنن الکبری ۵:۱۴۸، رقم ۵۸۲۰۔۵۸۲۲

۲۴۔نسائی فضائل الصحابہ ۷۸،رقم :۲۶۵

۲۵۔احمد بن حنبل المسند ۴:۵، ۳۲۳،۳۲۶،۳۲۸

۲۶۔احمد بن حنبل فضائل الصحابہ ۲:۷۵۵،۷۵۶،۷۵۸،۷۵۹۰،رقم ۱۳۲۴،۱۳۲۷،۱۳۳۴،۱۳۳۵

۲۷۔ابن حبان الصحیح ۱۵:۴۰۵،۴۰۶،۴۰۷،۵۳۵، رقم :۶۹۵۵،۷۰۶۰

۲۸۔عبدالرزاق المصنف ۷:۳۰۲۳۰۱،رقم ۴۲۳۱،۴۲۳۴

۲۹۔ابوعوانہ المسند ۳:۷۱، رقم ۴۲۳۱، ۴۲۳۴

۳۰۔بزارالمسند ،۲:۱۶۰رقم :۵۲۶

۳۱۔بزار المسند ۲:۱۶۰رقم :۲۱۹۳

۳۲۔ابویعلی المسند ۱۳:۱۳۴رقم ۷۱۸۱

۳۳۔شیبانی الآحاد والمثالی ۵:۳۶۱،۳۶۲، رقم :۲۹۵۴،۲۹۵۷

۳۴۔طبرانی المعجم الکبیر،۲۰:۱۸،۱۹رقم :۱۸،۲۱

۳۵۔طبرانی المعجم الکبیر ۲۲:۴۰۵رقم ۱۰۱۰

۳۶۔حکیم ترمذی نوادرالاصول فی احادیث الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۳:۱۸۲،۱۸۴

۳۷۔حکیم المستدرک ۳:۱۷۳، رقم ۴۷۵۱

۳۸۔بیہقی السنن الکبری ۷:۳۰۷،۳۰۸

۳۹۔بیہقی السنن الکبری،۱۰:۲۸۸

۴۰۔مقدسی الاحادیث المختار ۹:۳۰۵رقم :۲۷۴

۴۱۔دیلمی الفردوس بما ثور الخطاب ۱:۲۳۲رقم :۸۸۷

۴۲۔دیلمی الفردوس بما ثور الخطاب ۳:۱۴۵، رقم :۴۳۸۹

۴۳۔ہیثمی مجمع الزوائد ۴:۲۵۵

۴۴۔ہیثمی مجمع الزوائد ۹:۲۰۳

۴۵۔ہیثمی زوائد الحارث ۲۹۱۰، رقم :۹۹۱

۴۶۔دولابی الذریۃ الطاہرہ :۴۷۔۴۸رقم :۵۵، ۵۲

۴۷۔ابن سعد الطبقات الکبری ۸:۲۴۲

۴۸۔ابونعیم حلیة الاولیاء وطبقات الاصفیاء ۲:۴۰، ۴۱، ۱۷۵

۴۹۔ابو نعیم حلیة الاولیاء وطبقات الاصفیاء ۳:۲۰۶

۵۰۔ابو نعیم حلیة الاولیاء وطبقات الاصفیاء ۷:۳۲۵

۵۱۔ابن کثیر تفسیر القرآ ن العظیم ۳:۲۵۷

۵۲۔ابن قانع معجم الصحابہ ۳:۱۱۰، رقم ۱۰۷۶

۵۳۔ نووی شرح صحیح مسلم ۱۶:۲

۵۴۔قیسر انی تذکرة الحفاظ۲:۷۳۵

۵۵۔۔قیسر انی تذکرة الحفاظ۴:۱۲۶۵

۵۶۔مناوی فیض القدیر۳:۱۵

۵۷۔ذہبی سیراعلام النبلاء ۲:۱۱۹،۱۳۳

۵۸۔ذہبی سیراعلام النبلاء۳:۳۹۳

۵۹۔ ذہبی سیراعلام النبلاء ۵:۹۰

۶۰۔ذہبی سیراعلام النبلاء۱۹:۴۸۸

۲۱۔ذہبی معجم المحدثین :۹

۶۲۔مزی تہذیب الکمال ۲:۵۹۹

۶۳۔مزی تہذیب الکمال۳۵:۲۵۰

۶۴۔ دارقطنی سوالات حمزہ :۸۰، رقم ۴۰۹

۶۵۔ابن جوزی تذکرة الخواص:۲۷۹

۶۶۔سخاوی استجلاب ارتقاء الغرف بحب اقرباء الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وذوی الشرف :۹۷

"محمد بن علی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:بے شک فاطمہ میری جان کا حصہ ہے پس جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا "

____________________

حوالاجات:

۱۔ابن ابی شیبہ المصنف ۶:۳۸۸رقم ۳۲۲۶۹

۲۔احمد بن حنبل فضائل الصحابہ ۲:۷۵۵، ۷۵۶رقم ۱۳۲۶

۳۔ محب طبری ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربی :۸۰،۸۱

"سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ بارگاہ نبوی میں حاضر تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا :عورت کے لیے کونسی چیز بہتر ہے ؟اس پر صحابہ کرام خاموش رہے جب میں گھر لوٹا تو میں نے سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا سے پوچھا :بتاو عورت کے لیے کونسی شئے بہتر ہے ؟سیدہ فاطمہ نے جواب دیا :عورت کے لیے سب سے بہتر یہ ہے کہ اسے غیر مرد نہ دیکھے میں اس چیز کا تذکرہ حضور نبی اکرم سے کیا توآپ نے فرمایا :بے شک فاطمہ میری جان کا حصہ ہے"

____________________

حوالاجات

۱۔بزار المسند ۲:۱۶۰رقم :۵۲۶

۲۔ہیثمی مجمع الزوئد ۴:۲۵۵

۳۔ ۔ہیثمی مجمع الزوئد،۹:۲۰۲

۴۔ ابونعیم حلیة الاولیاء وطبقات الاصفیا ء ۲:۴۰، ۴۱، ۱۷۵

۵۔ دارقطنیی سوالات حمزہ:۲۸۰، رقم :۴۰۹


فصل : ۹

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آمد فاطمہ پر محبتا کھڑے ہوجاتے ہاتھ چومتے اوراپنی نشست پر بیٹھا لیتے

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں :حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آتے ہو تے دیکھتے تو خوش آمدید کہتے پھر ان کی خاطر کھڑے ہو جاتے انہیں بوسہ دیتے ان کا ہاتھ پکڑ کر لاتے اورانہیں اپنی نشست پر بیٹھا لیتے ۔اورجب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی طرف تشریف لاتے ہوئے دیکھتیں توخوش آمدید کہتیں پھر کھڑی ہو جاتیں اورآپ کو بوسہ دیتیں ۔"

____________________

۲۳۔حوالاجات

۱۔ نسائی السنن الکبریٰ ۵:۳۹۱، ۳۹۲رقم ۹۲۳۶،۹۲۳۷

۲۔ابن حبان الصحیح ۱۵:۴۰۳رقم :۶۹۵۳

۳۔شیبانی الآحادوالمثانی ، ۵:۳۶۷،رقم :۲۹۶۷

۴۔ طبرانی المعجم الاوسط ۴:۲۴۲، رقم :۲۰۸۹

۵۔ حاک المستدرک ۴:۳۰۳رقم ۷۷۱۵

۶۔ بخاری الادب المفرد:۳۲۶، رقم ۹۴۷

دولابی الذریۃ الطاہرہ:۱۰۰رقم ۱۸۴

"ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ جب سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ سلام اللہ علیھا کو خوش آمدید کہتے کھڑت ہوکر ان کا استقبال کرتے ان کا ہاتھ پکڑ کر اسے بوسہ دیتے اورانہیں اپنی نشست پر بٹھا لیتے "

____________________

۲۴۔ حوالاجات

۱۔ حاکم المستدرک ۳:۱۶۷، رقم :۴۷۳۲

۲۔نسائی فضائل الصحابہ :۷۸، رقم :۲۶۴

۳۔ ابن راہویہ المسند ۱:۸رقم :۶

۴۔بیہقی السنن الکبری ۷:۱۰۱

۵۔ بیہقی شعب الایمان ۶:۴۶۷، رقم :۸۰۶۷

۶۔ مقری تقبیل الید :۹۱

۷۔ عسقلانی نے فتح الباری (۱۱:۵۰) میں کہا ہے کہ یہ حدیث ابو داود اورترمذی نے بیان کی ہے اوراسے حسن کہا ہے،جبکہ ابن حبان اورحاکم نے اسے صحیح کہا ہے

"ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا جب حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتیں توحضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوکر ان کا استقبال فرماتے ،ا نہیں بوسہ دتیے خوش آمدید کہتے اوران کا ہاتھ پکڑ کر اپنی نشست پر بٹھا لیتے ۔اورجب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے استقبال کے لیے کھڑی ہوجاتیں اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست اقدس کو بوسہ دیتیں "۔

____________________

۲۵۔ حوالاجات

۱۔ حاکم مستدرک ۳:۱۷۴، رقم :۴۷۵۳

۲۔ محب طبری ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربی :۸۵

۳۔ہیثمی موارد الظمآن :۵۹۴رقم ۲۲۲۳

۴۔ عسقلانی فتح الباری ۱۱:۵۰

۵۔ شوکانی درالسجانہ فرمناقب القرابة والصحابہ :۲۷۹

حاکم نے اس روایت کو شرط شیخین پر صحیح قرارد یاہے

فصل ۱۰

سیدہ کائنات سلام اللہ علیہا

سفر مصطفی کی ابتداء اورانتہا بیت فاطمہ سلام اللہ علیھا سے ہوتی

"حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ نے فرمایا :حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفرکا ارادہ فرماتے تواپنے اہل وعیال میں سے سب کے بعد جس سے گفتگو فرما کر سفرپرروانہ ہوتے وہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا ہوتیں ،اورسفر سے واپسی پر سب سے پہلے جس کے پاس تشریف لاتے وہ بھی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا ہوتیں "

____________________

حوالاجات

۱۔ابوداود ، السنن ، ۴:۸۷، رقم ۴۲۱۳

۲۔احمد بن حنبل المسند ، ۵:۲۷۵

۳۔بیہقی ، السنن الکبریٰ ۱:۲۶

۴بغدادی ، ترکہ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم :۵۷

"حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر کا ارادہ فرماتے تواپنے اہل وعیال میں سے سب بعد گفتگو فرماکر روانہ ہوتے وہ حضرت فاطمہ ہوتیں اورسفر سے واپس پر سب سے پہلے جس کے پاس تشریف لے لاتے وہ بھی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا ہی ہوتیں اوریہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ فاطمہ سے فرماتے کہ میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں ۔

____________________

حوالاجات

۱۔حاکم المستدرک ،۳:۱۶۹، ۱۷۰،رقم :۴۷۳۹،۴۷۴۰

۲۔حاکم المستدرک ، ۱:۶۶۴، رقم :۱۷۰۸

۳۔حاکم نے المستدرک (۳:۱۶۹، رقم :۱۷۹۷)میں اسے حضرت ابو ثعلبہ خشنی سے بھی ذرا مختلف الفاظ کے ساتھ روایت کرتے ہیں

۴۔ابن حبان الصحیح ،۴۷۰۲، ۴۷۱، رقم :۶۹۶

۵۔ہیثمی موارد الظمآن :۶۳۱رقم :۲۵۴۰

۶۔بن عساکر نے بھی تاریخ دمشق الکبیر (۴۳:۱۴۱) میں حضرت ابو ثعلبی سے مروی حدیث بیان کی ہے۔

"حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سفر سے واپس تشریف لاتے تواپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کو بوسہ دیتے "۔

____________________

حوالاجات

۱۔ طبرانی المعجم الاوسط،۴:۲۴۸رقم :۴۱۰۵

۲۔ ابو یعلی المسند ، ۴:۳۵۲، رقم :۲۴۶۶

۳۔ہثیمی نے مجمع الزوائد (۸:۴۲) میں کہا ہے کہ طبرابی نے اسے الاوسط میں روایت کیا ہے اوراس کے رجال ثقہ ہیں

۴۔ ابن اثیر اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ ، ۷:۲۱۹

۵۔سیوطی الجامع الصغیر فی احادیث البشیر النذیر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۱۸۹،رقم ۳۰۳

۶۔مناوی فیض القدیر ۵:۱۵۵

فصل : ۱۲

سیدہ سلام اللہ علیھا۔۔۔روئے زمین پر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کا مرکزخاص

"حضرت جمیع بن عمیر تیمی رضی اللہ عنھا سے روایت کرتے ہیں کہ میں ا پنی پھوپھی کے ہمراہ حضرت عائشہ کی خدمت میں حاضر ہوا اورپوچھا کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کون زیادہ محبوب تھا؟ام المومنین رضی اللہ عنھا نے فرمایا فاطمہ سلام اللہ علیھا :عرض کیا مردوں میں سے کون زیادہ محبوب ہے فرمایا ان کے شوہر جہاں تک میں جانتی ہوں وہ بہت زیادہ روزہ رکھنے والے اورراتوں کو عبادت کے لیے بہت قیام کرنے والے تھے "

____________________

حوالاجات

۱۔ ترمذی الجامع الصحیح ، ۵:۷۰۱، رقم :۳۸۷۴

۲، طبرانی المعجم الکبیر ۲۲:۴۰۳، ۴۰۴، رقم ۱۰۰۸،۱۰۰۹

۳۔حاکم المستدرک ۳:۱۷۱رقم :۴۷۴۴

۴۔ ابن اثیر، اسد الغابہ فی معرفتہ الصحابہ ، ۷:۲۱۹

۵۔ذہبی سیر اعلام النبلاء ۲:۱۲۵

۶۔مزی تہذیب الکمال ، ۴:۵۱۲

۷۔شوکانی درالسحابہ فی مناقب القرابة والصحابہ :۲۷۳

۸۔محب طبری ذخائرالعقبی فی مناقب ذوی القربہ :۷۷

"حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عورتوں میں سب سے زیادہ محبت حضر ت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیھا سے تھی اورمردوں میں سے حضرت علی مرتضٰی سب سے زیادہ محبو ب تھے"

____________________

حوالاجات

۱۔ترمذی الجامع الصحیح ۵:۶۹۸رقم :۳۸۶۸

۲۔نسائی نے السنن الکبری (۵:۱۴۰رقم :۸۴۹۸) میں ذرامختلف الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے۔

۳۔طبرانی المعجم الاوسط، ۷:۱۹۹، رقم :۴۷۳۵

۴۔ذہبی سیر اعلام النبلاء ۲:۱۳۱

شوکانی درالسحابہ فی مناقب القرابہ والصحابہ :۲۷۴

"حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن رضی اللہ عنھما روایت کرتے ہیں کہ حضرت اسامہ بن زید نے مجھے بتایا :میں بیٹھا ہوا تھا کہ حضرت علی اورحضرت عباس رضی اللہ عنھما تشریف لائے انہوں نے کہا:اسامہ !ہمارے لئے حضور نبی اکرم سے اندر آنے کی اجازت مانگو ۔میں نے عرض کیا یا رسول اللہ !حضرت علی اورحضرت عباس رضی اللہ عنھما حاضری کی اجازت مانگتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :جانتے ہو وہ کیوں آئے ہیں ؟میں نے عرض کیانہیں ۔فرمایا:میں جانتا ہوں ،انہیں آنے دو چنانچہ دونوں حضرات اندر داخل ہوئے اورانہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !ہم یہ بات جاننے کے لیے حاضر ہوئے ہیں کہ اہل بیت میں سے آپ کو ن زیادہ محبوب ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم ! نے فرمایا :فاطمہ بنت محمد"

____________________

حوالاجات

۱۔ترمذی ، الجامع الصحیح ، ۵:۶۷۸، رقم ۳۸۱۹

۲۔بزار،المسند۷:۷۱رقم:۲۶۲۰

۳۔طیالسی المسند :۸۸،رقم ۶۳۳

۴۔طبرانی المعجم الکبیر ۲۲:۴۰۳،رقم :۱۰۰۷

۵۔حاکم المستدرک ۲:۴۵۲،رقم ۳۵۲۶

۶۔مقدسی الاحادیث المختار ہ۴:۱۶۲۱۶۰، رقم :۱۳۷۹۔۱۳۸۰

۷۔ابن کثیرتفسیر القرآن العظیم ۳:۴۸۹،۴۹۰

۸۔محب طبری ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربی :۷۸یہ حدیث حسن ہے

"حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ حجرت علی نے بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں )عرض کیا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم !آپ کو میرے اورفاطمہ میں سے کون زیادہ عزیز ہے فاطمہ مجھے تم سے زیادہ پیاری ہے اورتم میرے نزدیک اس سے زیادہ عزیز ہو

____________________

حوالاجات

۱۔طبرانی المعجم الاوسط ۷:۳۴۳رقم :۷۲۷۵

۲۔ہثیمی نے مجمع الزوئد (۹:۱۷۳)میں کہا ہے کہ اسے طبرانی نے الاوسط میں روایت کیا ہے اوراس کی سند میں سلمی بن عقبہ کو میں نہیں جانتا جبکہ بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

۳۔ہثیمی نے مجمع الزوائد (۹:۲۰۲)میں کہا ہے کہ اسے طبرانی نے الاوسط میں روایت کیا ہے۔

۴۔حسینی نے البیان والتعریف (۲:۱۱۸رقم ۱۲۳۸ٌمیں کہا ہے کہ اسے طبرانی بے الاوسط میں روایت کیا ہے اورہثیمی نے کہا ہے کہ اس کے رجال صحیح ہیں

۵۔مناوی نے فیض القدیر(۴:۴۲۲)میں کہا ہے کہ ہثیمی نے اس کے رجال کو صحیح قراردیاہے۔

"ابن ابی نجیح نے اپنے والد سے روایت کی کہ مجھے اس شخص نے بتایا جس نے منبر کوفہ پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہو ئے سنا :رسول اللہ صلی اللہ علی وآلہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے اورہمارے سرہانے بیٹھ کر پانی منگوایا ۔آپ نے اس میں برکت کی دعا کی اورہم پر چھینٹے مارے میں نے عرض کیا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کو مجھ سے زیادہ محبت ہے یا فاطمہ سے ؟فاطمہ مجھے تم سے زیادہ پیاری ہے اورتم مجھے اس سے زیادہ عزیر ہو"

____________________

حوالاجات

۱۔احمد بن حنبل فضائل الصحابہ ۶:۶۴۱، ۶۳۶رقم :۱۰۷۶

۲۔نسائی نے السنن الکبری (۵:۱۵۰، رقم :۸۵۳۱) میں یہ حدیث مبارکہ کہ مختصر اً بیان کی ہے۔

۳۔حمیدی المسند ،۱:۲۲، رقم :۳۸

۴۔شیبائی نے الآحاد ولمثانی (۵:۳۶۰رق، :۲۹۵۱)میں اسے مختصر اً روایت کیا ہے

۵۔ابن جوزی تذکرة الخواص :۲۷۵،۲۷۶

۶۔ ابن اثیر نے اسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ (۷:۲۱۹) میں مختصر ذکر کیا ہیس

فصل: ۱۳

عادات واطوار میں کوئی بھی سیدہ سلام اللہ علیھا سے بڑھ کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شبیہ نہ تھا

"ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ روایت کرتی ہیں :میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا سے بڑھ کر کسی کو عادات واطوار سیرت وکردار اورنشت وبرخاست میں آپ سے مشابہت رکھنے والا کوئی نہیں دیکھا۔"

____________________

حوالاجات

۱۔ترمذی الجامع الصحیح ۵:۷۰۰، رقم ۳۸۷۲

۲۔ابوداود السنن ۴:۳۵۵،رقم ۵۲۱۷

۳۔نسائی فضائل الصحابہ ۷۷،۷۸رقم :۲۶۴

۴۔حاکم المستدرک ۴:۳۰۳رقم :۷۷۱۵

۵۔ بیہقی السنن الکبری ۵:۹۶

۶۔ابن سعد نے الطبقات ا لکبری (۲:۲۴۸)میں ذرا مختلف الفاظ کے ساتھ حضرت ام سلمی سے روایت کی ہے

۷۔جوزی صفۃ الصفوہ ۲:۶،۷

۸۔محب طبری ذخائر العقبیٰ فی مناقب ذوی القربی :۸۴،۸۵

"ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں میں نے انداز گفتگو میں سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنھا سے بڑھ کر کسی اورکو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہت رکھنے والا نہیں دیکھا"

____________________

حوالاجات

۱۔بخاری الادب المفرد ۳۲۶،۳۳۷، رقم :۹۴۷،۹۹۷۱

۲۔نسائی السنن الکبری ۵:۳۹۱رقم :۹۲۳۶

۳۔ابن حبان الصحیح ۱۵:۴۰۳، رقم ۲۹۹۵۳

۴۔حاکم المستدرک ۳:۱۷۴۱۶۷، رقم ۴۷۳۳۲، ۴۷۵۳

۵۔طبرانی المعجم الاوسط ۴:۲۴۲، رقم :۴۰۸۰۹

۶۔ بہیقی السنن الکبیری ،۷:۱۰۱

۷۔ ابن راہوایہ المسند ۱:۸رقم :۶

۸۔ابن عبد البر الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب ۴:۱۸۹۶

۹۔ذہبی سیر اعلام النبلاء ۲:۱۲۷

"حضرت انس بن مالک سے مروی ہے کہ کوئی بھی شخص حضرت حسن بن علی اورحسن بن علی اورحضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہ سے بڑھ کر حضور سے مشابہت رکھنے والاکوئی نہیں تھا"

____________________

حوالاجات

۱۔ احمد بن حنبل المسند ۳:۱۶۴

"ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام ازواج جمع تھیں اورکوئی بھی غیر حاضر نہیں تھی۔اتنے میں حضرت فاطمہ رضی تعالی عنھا آئیں جن کی چال ہو بہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مشابہ تھی ۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :مرحبا (خوش آمدید)میری بیٹی !پھر انہیں اپنی دائیں بائیں جانب بٹھا لیا"

____________________

حوالاجات

۱۔ مسلم الصحیح ۴:۱۹۰۵،۱۹۰۶، رقم :۲۴۵۰

۲۔بخاری الصحیح ۵:۲۳۱۷، رقم ۵۹۲۸

۳۔ ابن ماجہ السنن ۱:۵۱۸رقم :۱۶۲۰

۴۔ نسائی السنن الکبری ۴:۲۵۱رقم :۷۰۷۸

۵۔ نسائی السنن الکبری۵:۹۶،۱۴۶، رقم ۸۳۶۸،۸۵۱۶،۸۵۱۷

۶۔ نسائی فضائل الصحابہ ۷۷، رقم :۲۶۳

۷۔نسائی ،کتاب الوفاة :۲۰رقم ۲

۸۔احمد بن حنبل فضائل الصحابہ ۲:۷۶۲،۷۶۳، رقم :۱۳۴۳

۹۔شیبانی الآحادوالمثالی ۵:۳۶۸، رقم ۲۹۶۸

۱۰۔ ابن راہویہ ،المسند ،۱:۶،۷ رقم :۵

۱۱۔طبرانی نے المعجم الکبیر (۲۲:۴۱۶، رقم :۱۰۳۰)میں حضرت ابو طفیل سے روادیت کی ہے

۱۲۔طبرانی المعجم الکبیر ۲۲:۴۱۹رقم ۱۳۰۳

۱۳۔ابن جوزی صفۃ الصفوہ ۲:۶۔۷

۱۴۔ابن جوزی تذکرةالخواص :۲۷۸

۱۵۔ابن اثیر اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ ۷:۲۱۸

۱۶۔ذہبی سیر اعلام النبلاء ۲:۱۳۰

"حضرت مسروق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا :ہم حضورنبی اکرم کی ازواج مطہرات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جمع تھیں اورکوئی ایک بھی ہم سے غیر حاضر نہ تھی اتنے میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا وہاں آگئیں پس اللہ کی قسم ان کا چلنا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چلنے

سے ذرہ بھر مختلف نہ تھا"

____________________

حوالات

۱۔بخاری الصحیح ،۵:۲۳۱۷، رقم ۵۹۲۷

۲۔نسائی فضائل الصحابہ :۷۷، رقم ۲۶۳

۴۔احمد بن حنبل فضائل الصحابہ ۲:۷۶۲،رقم :۱۳۴۲

۵، طیالسی المسند :۱۹۶، رقم :۱۳۷۳

۶۔ ابن سعد الطبقات الکبری ۲:۲۴۷

۷۔ دولابی الذریۃ الطاہرہ :۱۰۱، ۱۰۲رقم ۱۸۸

۸۔ابونعیم حلیۃالاولیاء وطبقات الاصفیاء ۲:۳۹،۴۰

۹۔ذہبی سیر اعلام النبلاء ۲:۱۳۰


فصل : ۱۴

سیدہ سلام اللہ علیھا کی رضا۔۔۔مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رضا

"حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :بے شک فاطمہ میری شاخ ثمر بار ہے جس چیز سے اسے خوشی ہوتی ہے اس چیز سے مجھے خوشی ہوتی ہے اورجس چیز سے اسے تکلیف پہنچتی ہے اس چیز سے مجھے تکلیف پہنچتی ہے"۔

____________________

۴۰۔حوالاجات

حاکم المستدرک ۳:۱۶۸، رقم :۴۷۳۴

۲۔احمد بن حنبل المسند ،۴:۳۳۲

۳۔احمد بن حنبل فضائل الصحابہ ۲:۷۶۵رقم :۱۳۴۷

۴۔شیبانی الآحادوالمثانی ۵:۳۶۲، رقم ۳۰

۵۔طبرانی المعجم الکبیر ۲۰:۲۵رقم :۳۰

۶۔ہیثمی مجمع الزاوئد ۹:۲۰۳

۷۔ابونعیم حلیتہ الاولیاء وطبقات الصفیاء ۳:۲۰۶

۸۔ذہبی سیراعلام النبلاء ۲:۱۳۲

۹۔ عسقلانی فتح الباری ۹:۳۲۹

۱۰۔ابن کثیر تفسیر القرآن العظیم ۳:۲۵۷

"سعید بن ابان قریشی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن حسن بن حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ جو کہ ابھی نو عمر تھے اپنے ایک کام کے سلسلے میں حضرت عمر بن عبدالعزیز سے ملنے آئے پس ان کے آنے پر حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے اپنی مجلس برخاست کردی اوران کااستقبال کیا اوران کی ضرورت پوری کی۔پھر ان کے پیٹ کے بل کو اس قدر دبایاکہ انہیں درد محسوس ہوئی اورفرمایا یہ بات قیامت کے دن شفاعت کے وقت یاد رکھنا جب وہ سید چلے گئے تولوگوں نے انہیں ملامت کی اورکہا :آپ نے ایک نوعمر لڑکے کی اتنی آو بھگت کی ؟اس پر آپ نے فرمایا :میں نے ایک ثقہ روای سے حدیث مبارکہ اس طرح سنی ہے کہ گویا میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سن رہا ہوں( کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمارہے ہیں ؟)

بے شک !فاطمہ میرے جسم کاٹکڑا ہے جو اسے خوش کرتا ہے وہ مجھے خوش کرتا ہے"

پھر حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا)میں جانتا ہوں کہ اگر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا حیات ہوتیں تووہ اس عمل سے ضرورخوش ہوتیں تووہ اس عمل سے ضرور خوش ہوتیں جو میں نے ان کے بیٹے کے ساتھ کیا ہے لوگوں نے پوچھا :آپ کا ان کے پیٹ میں کچوکے لگانے کا کیا مطلب ہے اورجو کچھ آپ نے فرمایا اس سے کیا مراد ہے ؟حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے فرمایا :بنی ہاشم میں ایک شخص بھی ایسا نہیں جسے شفاعت کرنے کا اختیار نہ دیا گیاہوپس میں نے چاہا کہ میں اس لڑکے کی شفاعت کا حق دار بنوں "

____________________

۴۱۔حوالاجات

(۴۱)سخاوی ،استجلاب ارتقاء الغرف اقرباء الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وذوی الشرف :۹۲،۹۷

سخاوی نے اسی کتاب کے صفحہ ۱۵۰پر اسی طرح کاایک واقعہ ہے خودعبداللہ بن حسن سے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں میں ایک کام کے سلسلے میں عمر بن عبدالعزیز کے پاس گیاتوانہوں نے مجھے کہا: جب آپ کوکوئی حاجت پیش آئے توکوئی آدمی بھیج دیا کریں یا خط لکھ بھیجیں ،مجھے اللہ تعالی سے حیاء آتی ہے کہ یوں آپ کو اپنے دروازے پر دیکھوں

فصل : ۱۵

"حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :فاطمہ میرے جسم کاٹکڑاہے پس جس نے اسے ناراض کیااس نے مجھے ناراض کیا"

____________________

حوالاجات

۱۔ بخاری الصحیح ۳:۱۳۶۱، رقم :۳۵۱۰

۲۔بخاری الصحیح، ۳:۱۳۷۴، رقم :۳۵۵۶

۳۔مسلم الصحیح ،۱۹۰۳۴، رقم :۲۴۴۹

۴۔ابن ابی شیبہ نے المصنف (۶:۳۸۸رقم ۳۲۲۶۹)میں یہ حدیث حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔

۵۔ابوعوانہ المسند ۳:۷۰رقم ۴۴۳۳

۶۔شیبانی ، الآحادوالمثانی ۵:۳۶۱، رقم :۲۹۵۴

۷۔طبرانی المعجم الکبیر۲۲:۴۰۴، رقم :۱۰۱۲

۸۔حاکم المستدرک ،۳:۱۷۲،رقم :۴۷۴۷

۹۔ دیلمی الفردوس بنا ثور الخطاب ۳:۱۴۵، رقم ؛۴۳۸۹

۱۰۔ابن جوزی صفۃ الصفوہ ۲:۷

۱۱۔ابن بشکوال غوامض الاسماء المبمہ ۱:۳۴۱

۱۲۔عسقلانی الاصانہ فی تمییز الصحابہ ،۸:۵۶

۱۳۔حسینی ، البیان والتعریف ۱:۲۷۰

۱۴۔مناوی ، فیض القدیر ۴:۴۲۱

۱۵۔عجلونی کشف الخفاء ومزیل الالباس ۲:۱۱۲، رقم :۱۸۳۱

فصل : ۱۶

سیدہ سلام اللہ علیھا کی رضا اللہ کی رضا ۔۔۔اگر سیدہ سلام اللہ علیھا خفاتواللہ خفا

"حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ سے فرمایا:بیشک اللہ تعالی تیری ناراضگی پر ناراض اورتیری رضا پر راضی ہوتا ہے"

____________________

حوالاجات

۱۔حاکم ،المستدرک ۳:۱۶۷،رقم ۴۷۳۰

۲۔ابو یعلی المعجم ۱۹۰رقم :۲۲۰

۳۔شیبائی الآحادوالآمثالی ۵:۳۶۳، رقم ۲۹۵۹

۴۔طبرانی المعجم الکبیر۲۲:۴۰۱رقم ۱۸۲

۵۔طبرانی المعجم الکبیر۲۲:۴۰۱، رقم ۱۰۰۱

۶۔دولابی الذریۃ الطاہرہ :۱۲۰،رقم ۲۳۵

۷۔قزوینی التدوین فی اخبارقزوین ،۳:۱۱

۸۔ہثیمی نے مجمع الزوائد(۹:۲۰۳)میں کہاہے کہ اسے طبرانی نے حسن اسناد کے ساتھ روایت کیا ہے

۹۔ابن جوزی ،تذکرہ الخواص :۲۷۹

۱۰۔ابن اثیراسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ ۷:۲۱۹

۱۱۔عسقلانی تہذیب التہذیب۔۱۲:۴۶۸

۱۲۔عسقلانی،الاصابہ فی تمییز الصحابہ ،۸:۵۶،۵۷

۱۳۔مفحب طبری ذخائرالعقبی فی مناقب ذوی القربی ۸۲

فصل ۱۷

سیدہ سلام اللہ علیھا کی تکلیف ۔۔۔۔مصطفی کی تکلیف

"حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:فاطمہ تومیرے جسم کا ٹکڑا ہے اسے تکلیف دینے والی چیزمجھے تکلیف دیتی ہے"

____________________

حوالاجات

۱۔مسلم الصحیح ۴:۱۹۰۳،رقم ۲۴۴۹

۲۔نسائی السنن الکبیری ۵:۹۷،رقم ۸۳۷۰

۳۔بہیقی السنن الکبری ۱۰:۲۰۱

۴۔شیبانی الآحادو المثانی ۵:۳۶۱رقم :۲۹۵۵

۵۔طبرانی المعجم الکبیر۲۲:۴۰۴رقم ۱۰۱۰

۶۔ابونعیم حلیۃ الاولیاء وطبقات الاصفیاء ۲:۴۰

۷۔اندلسی تحفۃ المحتاج ۲:۵۸۵، رقم :رقم ۱۷۹۵

۸۔عسقلانی الاصابہ فی تمییزالصحابہ ۸:۵۲

۹۔ابن جوزی تذکرہ الخواص :۲۷۹

"حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :فاطمہ میرا جگر گوشہ ہے اسے تکلیف دینے والی چیز مجھے تکلیف دیتی ہے اوراسے مشقت میں ڈالنے والا مجھے مشقت میں ڈالتا ہے"

____________________

حوالاجات

۱۔ترمذی نے یہ حسن صحیح الجامع الصحیح (۶۹۸۵، رقم ۳۸۶۹)میں روایت کی ہے

۲۔احمد بن حنبل المسند ۴:۵

۳۔احمد بن حنبل فضائل الصحابہ ۲:۷۸۶، رقم ۲۷۴

۴۔حاکم المستدرک ۳:۱۷۳، رقم ۴۷۵۱

۵۔مقدسی الاحادیث المختارہ ۹:۴۱۴، ۳۱۵، رقم :۲۷۴

۶۔عسقلانی فتح الباری ۹:۳۲۹

۷۔شوکانی درالسحابہ فی مناقب القرابة والصحابہ :۲۷۴

۴۵ ۔ "حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:فاطمہ میراجگرگوشہ ہے،اسے تکلیف دینے والی چیزمجھے تکلیف دیتی ہے اوراسے مشقت میں ڈالنے والا مجھے مشقت میں ڈالتا ہے"

____________________

حوالاجات

۱۔ترمذی نے یہ حسن صحیح حدیث الجامع الصحیح (۵:۶۹۸، رقم ۳۸۶۹)میں روایت کی ہے۔

۲۔احمد بن حنبل المسند ۴:۵

۳۔احمد بن حنبل ، فضائل الصحابہ ۲:۷۸۶، رقم :۱۳۲۷

۴۔حاکم المستدرک ۳:۱۷۳، رقم :۴۷۵۱

۵۔مقدسی الاحادیث المختارہ ۹:۳۱۴،۳۱۵رقم ۲۷۴

۶۔عسقلانی فتح الباری ۹:۳۲۹

۷۔شوکانی درالسحابہ فی مناقب القرابة والصحابہ :۲۷۴

"حضرت ابوحنظلہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:فاطمہ تومیرا جگر گوشہ ہے جس نے اسے ستایا اس نے مجھے ستایا۔"فاطمہ تومیراجگرگوشہ ہے،جس نے اسے ستایااس نے مجھے ستایا"

____________________

حوالاجات

احمد بن حنبل فضائل الصحابہ ۲:۷۵۵، رقم ۱۳۲۴

۲۔احمد بن حنبل نے فضائل الصحابہ (۲:۷۵۶، رقم ۱۳۲۷)میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہا سے بھی ہے

۳۔احمد بن حنبل المسند ۴۔۵

۴۔حاکم المستدرک ۳:۱۷۳، رقم ۲۹۵۷

۵۔ شیبانی الآحادوالمثانی ۵:۳۶۲رقم :۲۹۵۷

۶۔طبرانی المعجم الکبیر۲۲:۴۰۵، رقم ۱۰۱۳

۷۔بیہقی السنن الکبریٰ ۱۰:۲۰۱

فصل : ۱۸

سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا کے گھرانے کا دشمن مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دشمن

"زیدبن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی حضرت فاطمہ ، حضرت حسن اورحسین رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا :میں اس لڑوں کا جس سے تم لڑوں گے اورجس سے تم صلح کروگے میں اس سے صلح کروں گا

____________________

حوالاجات

۱۔ترمذی الجامع الصحیح ۵:۶۹۹، رقم :۳۸۷۰

۲۔ابن ماجہ السنن ۱:۵۲،رقم :۱۴۵

۳۔حاکم المستدرک ۳:۱۶۱، رقم ۴۷۱۴

۴۔طبرانی المعجم الکبیر ۳:۰۴رقم ۲۶۱۹،۲۶۲۰

۵۔طبرانی المعجم الکبیر۵:۱۸۴رقم ۵۰۳۰،۵۰۳۱

۶۔طبرانی المعجم الاوسط،۵:۱۸۲رقم ۵۰۱۵

۷۔محب طبری ذخائرالعقبی فی مناقب زوی لاقربی ۲۶

۸۔ذہبی سیراعلام النبلاء ۲:۱۲۵

۹۔ذہبی سیراعلام النبلاء ۱۰:۴۳۲

۱۰۔مزی تہذیب الکمال ۱۳:۱۱۲

"حضرت زیدبن ارقم سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمہ حضرت حسن اورحضرت اما م حسین سے فرمایا:جو تم سے لڑے گامیں اس سے لڑوں گا اورجو تم سے صلح کرے گا میں اس سے صلح کروں گا"

____________________

حوالاجات

۱۔ ابن حبان الصحیح ۱۵:۴۳۴ رقم :۶۹۷۷

۲۔ طبرانی المعجم الاوسط ۳۱۷۹، رقم :۲۸۵۴

۳۔طبرانی المعجم الصغیر۲:۵۳رقم :۷۶۷

۴۔ہثیمی نے مجمع الزوائد (۹:۱۶۹)میں کہا ہے کہ اسے طبرانی نے الاوسط میں روایت کیا ہے۔

۵۔ ہثیمی مواردالظمآن :۵۵۵، رقم ۲۲۴۴

۶۔محاملی الامالی ۴۴۷رقم ۵۳۲

۷۔ابن اثیراسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ ۷:۲۲۰

"حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی حضرت فاطمہ۔حضرت حسن اورحضرت حسین رضی اللہ عنہ کی طرف نظر التفات کی اورارشاد فرمایا:جو تم سے لڑے گا میں اس سے لڑوں گاجو تم سے صلح کرے گا میں اس سے صلح کروں گا(یعنی جو تمہارا دشمن وہ میرا دشمن اورجو تمہارا دوست ہے وہ میرا دوست ہے"

____________________

حوالاجات

۱۔ احمد بن حنبل المسند ۲:۴۴۲

۲۔احمد بن حنبل فضائل الصحابہ ۲:۷۶۷رقم ۱۳۵۰

۳۔حاکم نے المستدرک (۳:۱۶۱رقم ۴۷۱۳)میں اس حدیث کو حسن قراردیا ہیجبکہ ذہبی نے اس بارے میں خاموشی اختیار کی ہے۔

۴۔طبرانی المعجم ۳:۴۰رقم :۲۶۲۱

۵۔خطیب بغدادی تاریخ بغداد۷:۱۳۷

۶۔ذہبی سیراعلام النبلاء۲:۱۲۲

۷۔ذہبی سیراعلام النبلاء ۳:۲۵۷،۲۵۸

۸۔ہیثمی نے مجمع الزاوئد (۹:۱۶۹)میں کہا ہے کہ اسے احمد اورطبرانی نے روایت کیا ہے اوراس کے راوی تلید بن سلیمان کے بارے میں اختلاف ہے جبکہ اس کے بقیہ رجال میں حدیث صحیح کے رجال ہیں

فصل : ۱۹

سیدہ سلام اللہ علیھا کے گھرانے کا دشمن منافق لعنتی اوردوزخی ہے

"حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :جس نے ہم اہل بیت سے بغض رکھا تووہ منافق ہے"

____________________

حوالاجات

۱۔احمد بن حنبل فضائل الصحابہ ۲:۶۶۱رقم ۱۱۲۶

۲۔محب الریاض النضرفی مناقب العشرہ ۱:۳۶۲

۳۔محب طبری ذخائرالعقبی فی مناقب ذوی القربی :۵۱

۴۔سیوطی الدرالمنشور فی التفسیر بالماثور ۷:۳۴۹

"حضرت ذربیان کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :منافق شخص کبھی بھی ہمارے ساتھ محبت نہیں کرتا اورمومن شخص کبھی بھی ہامرے ساتھ بغض نہیں رکھتا"

____________________

حوالاجات

۱۔ابن ابی شیبہ المصنف،۶:۳۷۲، رقم ۳۲۱۱۶

"حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں خطبہ ارشادفرمایا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمارہے تھے :"جس نے ہم اہل بیت کے ساتھ بغض رکھا روزے قیامت ا سکا حشر یہودیوں کے ساتھ ہو گامیں نے عرض کیا:یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم !اگرچہ وہ روزہ رکھے اورنماز بھی پڑھے؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاہاں:اگرچہ وہ روزہ رکھے اورنماز بھی پڑھے اس کے باوجود دشمن اہل بیت ہونے کی وجہ سے اللہ تعالی اس کی عبادات کو درفرما کر اسے یہودیوں کے ساتھ اٹھائے گا)

____________________

حوالاجات

۱۔طبرانی المعجم الاوسط ۴:۲۱۲، رقم ۴۰۰۲

۲۔ہثیمی ،مجمع الزائد۹:۱۷۲

۳۔جرجانی تاریخ جرجان :۳۶۹

"حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:خدا کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے!ہم اہل بیت سے بغض رکھنے والا کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں کہ جسے اللہ تعالی

جہنم میں نہ ڈالے۔

____________________

حوالاجات

۱۔حاکم المستدرک ۳:۱۶۲، رقم:۴۷۱۷

۲۔ ابن حبان الصحیح ۱۵:۴۳۵، رقم ۶۹۷۸

۳۔ذہبی سیراعلام النبوہ۲:۱۲۳

حاکم کے نزدیک یہ حدیث امام مسلم کی شرائط مطابق صحیح ہے

"حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:اگرکوئی شخص کعبة اللہ کے پاس رکن یمانی اورمقام ابراہیم کے درمیان کھڑا ہو کر نماز پڑھے اورروزہ بھی رکھے اورپھر وہ اس حال میں مرے کہ اہل بیت سے بغض رکھتا ہو تووہ شخص جہنم میں جائے گا"

____________________

حوالاجات

۱۔محب طبری ذخائرالعقبی فی مناقب ذوی القربی :۵۱

۲۔فسوی المعرفہ والتاریخ ۱:۵۰۵

"حضرت معاویہ بن حدیج نے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا :اے معاویہ بن حدیج ہمارے ساتھ بغض رکھنے سے بچے رہنا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان اقدس ہے:ہمارے ساتھ بغض وحسد رکھنے والا کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں کہ جیسے قیامت کے دن حوض کوثر سے آگ کے درے سے دھتکارا نہ جائے

____________________

حوالاجات

۱۔طبرانی المعجم الاوسط،۳:۳۹، رقم ۲۴۰۵

۲۔طبرانی المعجم الکبیر۳:۸۱، رقم :۲۷۲۶

فصل : ۲۰

سیدہ سلام اللہ علیھا رازدار مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

۴ " ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام ازواج جمع تھیں اورکوئی بھی غیر حاضرنہ تھی اتنے میں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا وہاں آگئیں جن کی چال بالکل رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چلنے کے مشابہ تھی آپ نے فرمایا :مرحبا (خوش آمدید)میری بیٹی پھر انہیں اپنی دائیں یا بائیں جانب بٹھا لیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے چپکے سے کوئی بات کہی توحضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا رونے لگیں پھر چپکے سے کوئی بات کہی توحضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا ہنسنے لگیں میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا سے کہا کس وجہ سے روئیں حضرت فاطمہ سلام اللہ عنھا نے کہا میں رسول اللہ کا راز افشاں نہیں کروں گی میں نے کہا :میں نے آج کی طرح کوئی خوشی غم سے اتنی قریب نہیں دیکھی ۔میں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمارے بغیر خوصیت کے ساتھ آپ سے کوئی بات کی ہے پھر بھی آپ رو رہی ہیں اورمیں نے فاطمہ رضی اللہ عنھا سے پوچھا :حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا فرمایا تھا ؟توانہوں نے کہا:میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا راز افشاں نہیں کروں گی حتی کہ جب رسول اللہ کا وصال مبارک ہوگیا تومیں نے پھر پوچھا ۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنھا نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلی باار یہ فرمایا تھا کہ جبرائیل مجھ سے ہر سال ایک بار قرآن مجید کا دور کیا ہے اورمجھے یقین ہے کہ اب میرا وصال کا وقت آگیا ہے اورمیرے بعدمیرے اہل میں سے سب سے پہلے تم مجھے ملو گی اورمیں تمہارے لئے بہترین پیش روہوں تب میں رونے لگی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرگوشی کی اورفرمایا:کیا تم اس بات پر خوش نہیں کہ تم تمام مومن عورتوں کی سردارہویا میری اس امت کی عورتوں کی سردارہو!تومیں اس وجہ ہنس پڑی"

____________________

حوالاجات

۱۔مسلم الصحیح ۴:۱۹۰۵،۱۹۰۶،رقم ۲۴۵۰

۲۔بحاری الصحیح،۷ا۳۳،رقم:۵۹۲۸

۳۔ابن ماجہ،السنن،ا:۸ا۵،رقم؛۱۶۲۰

۴۔نسائی السنن الکبری ۴:۲۵۱،رقم :۷۰۷۸

۵۔نسائی السنن الکبری ۵:۹۶،۱۴۶، رقم ۸۳۶۸،۸۵۱۶،۸۵۱۷#

۶۔نسائی فضائل الصحابہ ۷۷، رقم ۲۶۳

۷۔نسائی کتاب الوفاة ۲۰،رقم ۲

۸۔احمد بن حنبل فضائل الصحابہ ۲:۷۶۲،۷۶۳، رقم ۱۳۴۳

۹۔شیبائی الآحادوالمثالی ۵:۳۶۸، رقم ۲۹۶۸

۱۰۔ابن راہویہ المسند ۱:۶،۷رقم ۵

۱۱۔طبرانی نے المعجم الکبیر (۲۲:۴۱۹، رقم ۱۰۳۰)میں حضرت ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے

۱۲۔طبرانی ، المعجم الکبیر۲۲:۴۱۹رقم۱۳۰۳

۱۳۔ابن جوزی صفۃ الصفوہ ۲:۶،۷

۱۴۔ابن جوزی تذکرة الخواص :۲۷۸

۱۵۔ابن اثیراسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ ۷:۲۱۸

۱۶۔ذہبی سیراعلام النبلاء ۲:۱۳۰

"حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے مرض وصال میں اپنی صاحبزادی حضرت عائشہ کو بلایا اورپھران سے سرگوشی فرمائی تووہ رونے لگیں ۔پھر انہیں قریب بلاکرسرگوشی فرمائی تووہ ہنس پڑیں ۔حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں میں نے اس بارے میں سیدہ سے پوچھا توانہوں نے بتایا حضورنبی اکرم نے میرے کان میں فرمایاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کااسی مرض میں وصال ہوجائے گاپس میں رونے لگیں پھر آپ

صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمنے سرگوشی کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ میرے اہل بیت میں سب سے پہلے تم میرے بعدآوگی ۔اس پر میں ہنس پڑی"

____________________

حوالاجات

۱۔بخاری الصحیح ۳:۱۳۶۱رقم ۳۵۱۱

۲۔بخاری الصحیح۳:۱۳۲۷، رقم:۳۴۲۷

۳۔بخاری الصحیح۴:۱۶۱۲رقم:۴۱۷۰

۴۔مسلم الصحیح۴؛۱۹۰۴، رقم :۲۴۵۰

۵۔نسائی ، فضائل الصحابہ :۷۷، رقم:۲۹۶

۶۔ احمد بن حنبل المسند،۶:۷۷

۷۔احمد بن حنبل فضائل الصحابہ ۲:۷۵۴۔رقم ۱۳۲۲

۸۔ابن حبان الصحیح ۱۵:۴۰۴رقم :۶۹۵۴

۹۔ابویعلی المسند ۱۲:۱۲۲رقم :۶۷۵۵

۱۰۔طبرانی المعجم الکبیر۲۲:۴۲۰، رقم ۱۸۵

۱۱۔دولابی الذریۃ الطاہری :۱۰۰رقم ۱۸۵

۱۲۔ مزی تہذیب الکمال ۳۵:۲۵۳

۱۳۔اصبہای دلائل النبوہ :۹۸

۱۴۔ذہبی نے معجم المحدثین (ص:۱۳،۱۴)میں اسے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے متفق علیہ حدیث قرار دیا ہے

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں :میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ گھر میں تھی ہم آپس میں مزاح کررہے تھے ۔اتنے میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تشریف لائیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑااور اپنے پیچھے بٹھا لیااورکچھ سرگوشی فرمائی مجھے اس کا علم نہیں کہ کیا سرگوشی تھی ۔پھر میں نے سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا کی طرف دیکھا تووہ رورہی تھیں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے مجھے سے بات چیت کی ۔پھر ان کی طرف متوجہ ہوئے اوران سے مزاح فرمایااورسرگوشی کی میں نے دیکھا کہ فاچمہ ہنس رہی ہیں جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا سرگوشی فرمائی وہ بولیں جو بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے چپکے سے بتائی ہے میں آپ کو نہیں بتاوں گی میں نے کہا میںآ پ کو اللہ تعالی اورقرابت داری کا واسطہ دیتی ہوں وہ بولیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اپنی وفات کا بتایا کہ آپ کا وقت آپہنچا ہے پس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدائی پر رو پڑی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر میری طرف متوجہ ہوئے اورمجھے چپکے سے بتایا کہ اہل بیت میں سے سب سے پہلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملوں گی تومیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات کی آس میں ہنس پڑی

____________________

حوالاجات

۱۔طبرانی المعجم الکبیر ۲۲:۴۲۰، رقم :۱۰۳۵


فصل : ۲۱

سیدہ سلام اللہ علیھا ۔۔۔شجرہ رسالت کی شاخ ثمر بار

"حضرت مسوررضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :فاطمہ میری شاخ ثمر بار ہے اس کی خوشی مجھے خوش کرتی ہے اوراس کی پریشانی مجھے پریشان کردیتی ہے"

____________________

حوالاجات

۱۔ احمد بن حنبل المسند۴:۳۳۲

۲۔احمد بن حنبل فضائل الصحابہ ۲:۷۶۵، رقم ۱۳۴۷

۳۔ حاکم المستدرک ۳:۱۶۸، رقم ۴۷۳۴

۴۔ شیبانی الآحادوالمثانی ۵:۳۲۶، رقم ۲۹۵۶

۵۔طبرانی المعجم الکبیر ۲۰:۲۵، رقم ۳۰

۶۔طبرانی المعجم الکبیر۲۲:۴۰۵رقم :۱۰۱۴

۷۔ہثیمی نے مجمع الزوائد (۹:۲۰۳) میں کہا ہے کہ اے طبرانی نے روایت کیا ہے اورام بکر بنت مسور پر جرح کی گئی نبی کسی نے اسے ثقہ قرار دیا جبکہ اس کے بقیہ رجال کو ثقہ قراردیا گیاہے۔

۸۔ذہبی سیراعلام النبلاء ۲:۱۳۲

"حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے مرفوعاحدیث مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :میں درخت ہوں فاطمہ اس کی ٹہنی ہے علی اس کا شگوفہ اورحسن وحسین اس کا پھل ہیں اوراہل بیت سے محبت کرنے والے اس کے پتے ہیں یہ سب جنت میں ہوں گے یہ حق ہے حق ہے"

____________________

۶۰۔حوالاجات

۱۔ دیلمی الفردوس بماثور الخطاب ۱:۵۲،رقم :۱۳۵

۲۔سخاوی استجلاب ارتقاء الغرف بحب اقرباالرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذوی الشرف:۹۹

فصل : ۲۲

عصمت فاطمہ سلام اللہ علیھا کے گواہ ۔۔۔۔خود محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

"حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :بیشک فاطمہ نے اپنی عصمت اورپاکدامنی کی ایسی حفاظت کی ہے کہ اللہ تعالی نے اس کی اولاد پر آگ حرام کردی ہے "

____________________

حوالات

۱۔بزار المسند ۵:۲۲۳رقم :۱۸۲۹

۲۔حاکم المستدرک ۳:۱۶۵، رقم ۴۷۲۶

۳۔ ابو نعیم حلیۃ الاولیاء وطبقات الاصفیاء ۴:۱۸۸

۴۔ ذہبی نے اسے میزان الاعتدال فی نقد الرجال (۵:۲۶۱)میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عھنما سے مرفوع قرار دیا ہے۔

۵۔ مناوی فیض القدیر۲:۴۶۲

"حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:فاطمہ نے اپنی عصمت اورپاک دامنی کی ایسی حفاظت کی ہے کہ اللہ تعالی نے اس کی عصمت مطہرہ کے طفیل اسے اور اس کی اولاد کو داخل فرمادیا"

____________________

حوالاجات

طبرانی المعجم الکبیر ۳:۴۱، رقم :۲۶۲۵

۲۔ ہیثمی مجمع الزوائد ۹:۲۰۲

۳۔مناوی فیض القدیر۲:۴۶۳

فصل : ۲۳

حضرت علی سے سیدہ سلام اللہ علیھا کے نکاح کا حکم خودباری تعالی نے دیا

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنھما روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:اللہ تعالی نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں فاطمہ کا نکاح علی سے کردوں "

____________________

حوالاجات

۱۔ طبرانی المعجم الکبیر ۱۰:۱۵۲رقم ؛۱۰۳۰۵

۲۔ طبرانی المعجم الکبیر۲۲:۴۰۷، رقم ۱۰۲۰

۳۔ ہیثمی نے مجمع الزوائد (۹:۲۰۴)میں کہا ہے کہ اسے طبرانی نے روایت کیاہے اور اسکے رجال ثقہ ہیں

۴۔حلبی الکشف الحسثیث ۱:۱۷۴

۵۔ہندی کنزا العمال رقم :۳۲۸۹۱،۳۲۹۲۹

۶۔ ہندی کنزاالعمال ،۱۳:۶۸۱،۶۸۲، رقم ۳۷۷۵۳

۷۔ ابن جوزی نے تذکرة الخواص (ص:۲۷۶)میں حضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنھما سے روایت کیا ہے

نے البیان والتعریف(۱:۲۷۴رقم ۴۵۵) میں کہا ہے کہ اسے ابن عساکر اورخطیب بغدادی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کیا ہے۔

۹۔ مناوی فیض القدیر، ۲:۲۱۵

"حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:اے انس !کیا تم جانتے ہوکہ جبرایل میرے پاس صاحب عرش کا کیا پیغام لائے ہیں ؟ پھر فرمایا :اللہ تعالی نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں فاطہ کا نکاح علی سے کردوں

____________________

حوالاجات

۱۔حسینی نے "البیان "والتعریف (۲:۳۰۱رقم :۱۸۰۳) میں کہا ہے کہ اسے قزوینی خطیب بغدادی اورابن عساکر نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے

۲۔ محب طبری ذخائر العقبی فی مناقب ذوہ القربی :۷۱

فصل : ۲۴

سیدہ سلام اللہ علیھا کا ملاء اعلی میں نکاح اورچالیس ہزار ملائکہ کی شرکت

"حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :یہ جبرائیل ہے جو مجھے یہ بتا رہا ہے کہ اللہ تعالی نے فاطمہ سے تمہاری شادی کردی ہے اورتمہارے نکاح پر چالیس ہزارفرشتوں کو گواہ کے طور پر مجلس نکاح میں شریک کیا گیا اورشجرہائے طوبی سے فرمایا :ان پر موتی اوریاقوت نچھاور کرو۔پھر دلکش آنکھوں والی حوریں ان موتیوں اوریاقوتوں سے تھال بھرنے لگیں جنہیں تقریب نکاح میں شریک کرنے والے فرشتے قیامت تک ایک دوسرے کو بطور تحفہ دیں گے "

____________________

حوالاجات

۱۔محب طبری نے الریاض النضرہ فی مناقب العشرہ (۳:۱۴۶)میں کہا ہے کہ اسے ملا ء نے الیسرة میں روایت کیا ہے

۲۔ محب طبری ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربی :۷۲

"حضرت علی کرم اللہ وجھہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :میرے پاس ایک فرشتے نے آکرکہا:اے محمد اللہ تعالی نے آپ پر سلام بھیجا ہے اورفرمایا ہے :میں آپ کی بیٹی فاطمہ کا نکاح ملا اعلی میں علی بن ابی طالب سے کردیا ہے پس آپ زمین پر بھی فاطمہ کا نکاح علی سے کردیں "

____________________

حوالاجات

۱۔ محب طبری ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربی :۷۲

فصل : ۲۵

سیدہ سلام اللہ علیھا اورآپ کی نسل مبارک کے حق میں حضور کی دعاے برکت

"حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے لیے خصوصی دعا فرمائی باری تعالی میں اپنی اس بیٹی اوراس کی اولاد کو شیطان مردود کی پناہ میں دیتا ہوں

____________________

حوالاجات

۱۔ ابن حبان الصحیح ۱۵:۳۹۴، ۳۹۵، رقم ۶۹۴۴

۲۔ طبرانی المعجم الکبیر۲۲:۴۰۹، رقم ۱۰۲۱

۳۔ احمد بن حنبل نے فضائل الصحابہ (۲:۷۶۲، رقم ۱۳۴۲) میں یہ حدیث حضرت اسماء بنت عمیس سے ذرا مختلف الفاظ کے ساتھ روایت کی ہے

۴۔ہیثمی مواردالظمآن ۵۴۹۔۵۵۱رقم :۲۲۲۵

۵۔ابن جوزی نے تذکرة الخواص (ص:۲۷۷)میں مختصر روایت کیا ہے

۶۔محب طبری ذخائرالعقبی فی مناقب ذوی القربی :۶۷

"حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی اورسیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھماکی شادی کی رات علی سے فرمایا :مجھے ملے بغیر کوئی عمل نہ کرنا پھر آپ نے پانی منگوایا اس سے وضو کیا پھر حضرت علی پر پانی ڈال کر فرمایا :اے اللہ !ان دونوں کے حق برکت اوران دونوں پر برکت نازل فرما،ان دونوں کے لیے ان کی اولاد میں برکت عطافرما۔"

حضرت بریدہ رضی اللہ عنی سے ہی مروی ایک دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں ان دونوں کے لیے انکی نسل میں بھی برکت مقدر فرمادے"

____________________

حوالاجات

۱۔نسائی السنن الکبری ۶:۷۶، رقم :۱۰۰۸۸

۲۔نسائی عمل الیوم والیلہ :۲۵۳، رقم :۲۵۸

۳۔رویانی المسند ۔۱:۷۷، رقم :۳۵

۴۔طبرانی المعجم الکبیر۲:۲۰رقم، ۱۱۵۳

۵۔ابن اثیراسدالغابہ فی معرفۃ الصحابہ ۷:۲۱۷

۶۔ابن سعدالطبقات الکبری ۸:۲۱

۷۔ہیثمی نے مجمع الزوائد (۹:۲۰۹)میں کہا ہے کہ اسے بزار اورطبرانی روایت کیا ہے اوران کے رجال عبدالکریم بن سلیط کے رجال ہیں جنہیں ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے۔

۸۔عسقلانی نے الاصحابہ تمییز الصحابہ (۸:۵۶)میں کہا ہے کہ اسے دولابی نے سند جید کے ساتھ روایت کیا ہے

۹۔دولابی الذریۃ الطاہرہ :۶۵، رقم:۹۴

۱۰۔مزی نے تہذیب الکمال (۱۷:۷۶)میں یہ روایت ذرا مختلف الفاظ کے ساتھ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے نسائی نے الیوم والیلہ میں روایت کیا ہے

فصل : ۲۶

سیدہ سلام اللہ علیھا کی حیات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کودوسری شادی کی اجازت نہ تھی

"حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنائی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو منبر پر فرماتے سنا بنی ہشام بن مغیرہ نے اپنی بیٹی کا علی سے رشتہ کرنے کی مجھ سے اجازت مانگی ہے میں ان کو اجازت نہیں دیتا پھر میں ان کو اجازت نہیں دیتا،پھر میں ان کو اجازت نہیں دیتا۔اورحضور نے فرمایا میری بیٹی میرے جسم کا حصہ ہے اس کی پریشانی مجھے پریشان کرتی ہے اوراس کی تکلیف مجھے تکلیف دیتی ہے"

____________________

حوالاجات

۱۔ مسلم الصحیح ۴:۱۹۰۲، رقم ۲۴۴۹

۲۔ترمذی الجامع الصحیح ۵:۶۹۸، رقم ۲۰۷۱

۳۔ ابوداود السنن ۲:۲۲۶، رقم :۲۰۷۱

۴۔ابن ماجہ السنن ،۱:۲۴۳، رقم ۱۱۹۸

۵۔ نسائی السنن الکبری ،۵:۱۴۷، رقم :۸۵۱۸

۶۔ احمد بن حنبل المسند ۴:۳۲۸

۷۔احمد بن حنبل فضائل الصحابہ ۲:۷۵۲۶، رقم ۱۳۲۹

۸۔ ابو عوانہ المسند ۳:۶۹۔ ۷۰رقم :۴۲۳۱

۹۔ بیقی السنن الکبری ۷:۳۰۷

۱۰۔بہیقی السنن الکبری ۱۰:۲۸۸

۱۱۔حکیم ترمذی نوادرالاصول فی احادیث الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۳:۱۸۴

۱۲۔ابونعیم حلیۃ الاولیاء وطبقات الاصفیاء ۷:۳۲۵

۱۳۔ابن جوزی صفۃ الصفوہ ۲:۷

۱۴۔ محب طبری ذخائرالعقبی فی مناقب ذوی القربی :۸۰۷۹

۱۵۔ابن اثیر اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ ۷:۲۱۷

۱۶۔شوکانی درالسحابہ فی مناقب القرابة والصحابہ :۲۷۴

"حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:بے شک !فاطمہ میرے جگرکا ٹکڑاہے اوراس کی ناراضگی مجھے پسند نہیں خدا کی قسم کسی شخص کے پاس رسول اللہ اوردشمن خداکی بیٹیاں جمع نہیں ہوسکتیں "

____________________

حوالاجات

۱۔بخاری الصحیح ۳:۱۳۶۴، رقم ۳۵۲۳

۲۔ مسلم الصحیح ۴:۱۹۰۳، رقم ۲۴۴۸

۳۔ابن ماجہ السنن ۱:۶۴۴، رقم ۱۹۹۹

۴۔ احمد بن حنبل فضائل الصحابہ ۲:۷۵۹، رقم :۱۳۳۵

۵۔ابن حبان الصحیح ۱۵:۴۰۷م۵۳۵، رقم :۶۹۵۶،۷۰۶۰

۶۔طبرانی المعجم الکبیر ۲۰:۱۸،۱۹،رقم ۱۸،۱۹

۷۔ طبرانی المعجم الکبیر۲۲:۴۰۵، رقم ۱۰۱۳

۸۔طبرانی المعجم الصغیر۲:۷۳، رق، ۸۰۴

۹۔ہیثمی مجمع الزوائد ۹:۲۰۳

۱۰۔دولابی المعجم الکبیر۲۲:۴۲۳، رقم ۱۰۴۱

فصل : ۲۷

"سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیان کرتی ہیں کہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مرض وصال میں حسن اورحسین رضی اللہ عنہ کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اورعرض کیا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم !یہ دونوں آپ کے بیٹے ہیں انہیں کسی چیز کا وارث بنادیں آپ نے فرمایاحسن کے لیے میری ہیبت رعب اورسرداری ہے جبکہ حسین کے لیے میری جرات اورسخاوت ہے

____________________

حوالاجات

۱۔ طبرانی المعجم الکبیر ۲۲:۴۲۳، رقم ۱۰۴۱

۲۔ طبرانی نے المعجم الاوسط(۶:۲۲۲،۲۲۳، رقم ۶۲۴۵) میں اس حدیث کو حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے

۳۔شیبانی الآحادو المثانی ۳۷۰۵، رقم ۴۰۸

۴۔ شیبانی الآحادو المثانی ۵:۳۷۰، رقم ۲۹۷۱

۵۔ہیثمی نے مجمع الزوائد (۹:۱۸۵)میں کہا ہے کہ اسے طبرانی نے روایت کیا ہے جبکہ میں اس کے راویوں کو نہیں جانتا ۔

۶۔ عسقلانی الاصابہ فی تمییز الصحابہ ۷:۶۷۴

۷۔ عسقلانی تہذیب التہذیب ۲:۲۹۹

۸۔ مزی تہذیب الکمال ۶:۴۰۰

۹۔ ہندی کنزالعمال ۱۲:۱۱۷،رقم ۳۴۲۷۲

فصل : ۲۸

اولاد فاطمہ سلام اللہ علیھم ۔۔۔۔ذریت مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

"حضرت فاطمہ الزہراء سلام اللہ علیھا روایت کرتی ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :ہر ماں کی اولاد اپنے باپ کی طرف منسوب ہوتی ہے سوائے فاطمہ کی اولاد کے ۔پس میں ہی ان کا ولی ہوں اورمیں ہی ان کا نسب ہوں "

____________________

حوالاجات

۱۔طبرانی المعجم الکبیر،۳:۴۴، رقم ۲۶۳۲

۲۔طبرانی المعجم الکبیر۲۲:۴۲۳، رقم ۱۰۴۲

۳۔ابویعلی المسند ۱۲:۱۰۹رقم ۶۷۴۱

۴۔دیلمی الفردوس بما ثور الخطاب۳:۲۶۴، رقم ۴۷۸۷

۵۔خطیب بغدادی کی تاریخ بغداد (۱۱:۲۸۵)میں بیان کردہ روایت میں ولیھم کی بجائے ابوھم ان کا باپ کے الفاظ ہیں

۶۔ہیثمی مجمع الزوائد ،۴:۲۲۴

۷۔ہیثمی مجمع الزوائد ۹:۱۷۲،۱۷۳

۸۔مزی تہذیب الکمال ۱۹:۴۸۳

۹۔ ہندی کنزالعمال ۱۲:۱۱۶رقم ۳۴۲۶۶

۱۰۔سخاوی استجلاب ارتقاء الغرف بجب اقرباء الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وذوی الشرف ۱۲۹

۱۱۔صنعانی سبل السلام ۴:۹۹

۱۲۔مناوی فیض القدیر۵:۱۷

۱۳۔عجلونی کشف الخفاء ومزیل الالباس ۲:۱۵۷، رقم ۱۹۶۸

"حضرت عمر فرماتے ہیں کہ میں نے حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :ہر عورت کی اولاد کا نسب اپنے باپ کی طرف سے ہوتا ہے سوائے اولاد فاطمہ کے کہ میں ہی ان کا نسب ہوں اورمیں ہی ان کا باپ ہوں "

____________________

حوالاجات

۱۔طبرانی المعجم الکبیر ۳:۴۴، رقم ۲۶۳۱

۲۔احمد بن حنبل فضائل الصحابہ ۲:۶۲۶رقم :۱۰۷۰

۳۔ ہیثمی مجمع الزوائد۴:۲۲۴

۴۔ثمی مجمع الزوائد۶:۳۰۱

۵۔ سخاوی نے استجلاب ارتقاء الغرف بجب اقرباء الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وذوی الشرف (ص:۱۲۷)میں طبرانی کی بیان کردہ روایت نقل کی ہے اوراس کے رجال کو ثقہ قرار دیا ہے

۶۔حسینی البیان والتعریف ۲:۱۴۴، رقم ۱۳۱۴

۷۔شوکانی نیل الاوطارشرح منتقی الاخبار۶:۱۳۹

۸۔مناوی فیض القدیر۵:۱۷

" حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :ہر ماں کی اولاد کا عصبہ باپ ہوتا ہے جس کی طرف وہ منسوب ہوتی ہے سوائے فاطمہ کے بیٹوں کے کہ میں ہی ان کا ولی اورمیں ہی ان کا نسب ہوں "

____________________

حوالاجات

۱۔حاکم المستدرک ۱۷۹۳۔ رقم ۴۷۷۰

۲۔ سخاوی استجلاب ارتقاء الغرف بجب اقرباء الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم الشرف:۱۳۰

فصل : ۲۹

روز محشر نسب فاطمہ سلام اللہ علیھا کے سوا ہر نسب منقطع ہو جائے گا

"حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے:"میرے نسب اوررشتہ کے سواقیامت دن ہ رنسب اوررشتہ منقطع ہوجائے گا"

____________________

حوالاجات

۱۔ حاکم المستدرک ۳:۱۵۳، رقم ۴۶۸۴

۲۔احمد بن حنبل فضائل الصحابہ ۲:۶۲۵، ۶۲۶رقم :۱۰۲۹،۱۰۷۰

۳۔احمد بن حنبل نے فضائل الصحابہ (۲:۷۵۸، رقم ۱۳۳۳)میں یہ حدیث مسور بن مخرمہ سے بھی روایت کی ہے۔

۴۔بزار المسند ،۱:۳۹۷، رقم ۲۷۴

۵۔طبرانی المعجم الکبیر۳:۴۴،۴۵، رقم ۲۶۳۳،۲۶۳۴

۶۔طبرانی المعجم الاوسط،۳۷۶۵، رقم ۵۶۰۶

۷۔طبرانی المعجم الاوسط ۶:۳۵۷، رقم ۶۶۰۹

۸۔دیلمی الفردوا بما ثورالخطاب ۳:۲۵۵، رقم ۴۷۵۵

۹۔ہثیمی نے مجمع الزوائد (۹:۱۷۳)میں کہا ہے کہ اسے طبرانی نے الاوسط اورالکبیرمیں روایت کیا ہے اوراس کے رجال ثقہ ہیں

۱۱۔عبدالرزاق المصنف۶:۱۶۳،۱۶۴، رقم :۱۰۳۵۴

۱۲۔بہیقی السنن الکبری ۷:۶۳،۶۴، ۱۱۴

۱۳۔ابن سعدالطبقات الکبری ۸:۴۶۳

۱۴۔دولابی الذریۃ الطاہرہ ۱۱۵،۱۱۶

۱۵۔ابونعیم حلیۃ الاولیاء وطبقات الاوصفیاء ۷:۳۱۴

۱۶۔خطیب بغدادی تاریخ بغداد ۶:۱۸۲

۱۷۔سخاوی استجلاب ارتقاء الغرف بحب اقرباء الرسول وذوی الشرف ۱۲۶،۱۲۷،۱۲۹

۱۹۔حسینی البیان المعجم الاوسط۴:۲۵۷، رقم ۴۱۳۲

"حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنھما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاقیامت کے دن ہرنسب وتعلق منقطع ہو جائے گا سوائے میرے نسب اورتعلق کے

____________________

۷۶۔ حوالاجات

۱-طبرانی ،المعجم الاوسط ۴:۲۵۷، رقم ۴۱۳۲

۲۔ طبرانی نے المعجم الکبیر(۱۱:۲۴۳، رقم:۱۱۶۲۱)میں اس مفہوم کی روایت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے لی ہے۔

۳۔طبرانی نے المعجم الکبیر (۲۰:۲۷، رقم:۳۳)میں حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے

۴۔خلال نے السنہ (۲:۴۳۳،۶۵۵)میں مسور بن مخرمہ سے مروی حدیث کی اسناد کوحسن قرار دیا ہے۔

۵۔خطیب بغدادی نے تاریخ بغداد(۱۰:۲۷۱)میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے

۶۔ہثیمی ، مجمع الزوائد ۱۰:۱۷

۷۔عسقلانی تلخیص الحبیر ۳:۱۴۳، رقم ۱۴۷۷

"حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:میرے رشتہ اورنسب کے سوا قیامت کے دن ہر رشتہ نسب منقطع ہوجائے گا"۔

____________________

حوالاجات

۱۔طبرانی المعجم الکبیر ۱۱:۲۴۳رقم ۱۱۶۲۱

۲۔ہثیمی نے مجمع الزوائد (۹:۱۷۳)میں کہا ہے کہ اسے طبرانی نے روایت کیا ہے اوراس کے رجال ثقہ ہیں ۔

۳۔خطیب بغدادی تاریخ ۱۰:۲۷۱

۴۔سخاوی استجلاب ارتقاء الغرف بحب اقرباء الرسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وذوی الشرف۱۳۳

فصل : ۳۰

وصال مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد سب سے پہلے سیدہ سلام اللہ علیھا ہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملیں

"ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا کو اپنے مرض وصال میں بلایا پھر سرگوشی کے اندازمیں ان سے کوئی بات کہی تووہ رونے لگیں پھر نزدیک بلاکر سرگوشی کی تووہ ہنس پڑیں ۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اس بارے میں ا سے پوچھا تو انہوں نے بتایا :حضور نبی اکرم نے سرگوشی کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ اسی مرض میں میری وفات ہوجائے گی تووہ رونے لگیں پھرآپ نے سرگوشی کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ میں ان کے گھر والوں میں سب سے پہلی میں ہوں جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیچھے آ پ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جا ملوں گی تومیں ہنس پڑی"

____________________

حوالاجات

۱۔بخاری الصحیح ۳:۱۳۲۷،۱۳۶۱،رقم:۴۱۷۰

۲۔بخاری الصحیح۴:۱۶۱۲،رقم ۱۴۷۰

۳۔مسلم ،الصحیح۴:۱۹۰۴، رقم ۲۴۵۰

۴۔نسائی السنن الکبری ۵:۹۵، رقم ۸۳۶۶

۵۔۔نسائی فضائل الصحابہ :۷۷رقم :۲۶۲

۶۔احمد بن حنبل نے المسند (۶:۲۸۳)میں یہی حدیث جعفر بن عمرو بن امیہ سے بھی روایت کی ہے

۸۔احمد بن حنبل فضائل الصحابہ ۲:۷۵۴، رقم ۱۳۲۲

۹۔ابن حبان الصحیح ۱۵:۴۰۴،رقم ۶۹۵۴

۱۰۔ابن ابی شیبہ المصنف ۶:۳۸۸، رقم ۳۲۷۰

۱۱۔ابو یعلی المسند ۱۲:۱۲۲،رقم :۶۷۵۵

۱۲۔حکیم ترمذی نوادر الاصول فی احادیث الرسول ۳:۸۱۲

۱۳۔طبرانی ، المعجم الکبیر۲۲:۴۲۱، رقم ۱۰۳۷

۱۴۔ابن سعد الطبقات الکبری ۲:۲۴۷

۱۵۔ذہبی سیراعلام النبلاء ۲:۱۳۱

"حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا نے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا سے یہ روایت کی کہ حضور نبی اکرم نے انہیں فرمایا:میرے اہل بیت میں سے (میرے وصال کے بعد )تم سب سے پہلے مجھے ملوگی تومیں اس خوشی میں ہنس پڑی"

____________________

۷۹۔ حوالاجات

۱-ابن ابی شیبہ المصنف ،۷:۲۶۹، رقم :۳۵۹۸۰

۲۔ شیبائی الآحادو المثالی ۵:۳۵۷،۳۵۸، رقم ۲۹۴۲۔۲۹۴۵

عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال :قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لفاطمۃ رضی اللہ عنہ انت اول اھلی لعوقا بی

"حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا سے فرمایا:میرے گھروالوں میں سے سب سے پہلے تومجھ سے ملے گی"

____________________

حوالاجات

۱۔احمدبن حنبل فضائل الصحابہ ۲:۷۶۴،رقم ۱۳۴۵

۲۔ احمد بن حنبل نے العلل و معرفۃ الرجال (۲:۴۰۸، رقم :۲۸۲۸)میں جعفر بن عمر بن امیہ سے بھی روایت کی ہے

۳۔ابو نعیم ، حلیۃ الاولیاء وطبقات الاصفیاء ۲:۴۰

"حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ جب آیت ۔۔۔جب اللہ کی مدد اورفتح آپہنچے ۔۔۔نازل ہوئی توحضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت فاطمۃ رضی اللہ عنہ کو بلایا اورفرمایا:میری وفات کی خبر آگئی ہے وہ روپڑیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :مت رو بیشک تومیرے گھر والوں میں سب سے پہلے مجھ سے آملے گی تووہ ہنس پڑیں،اس بات کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعض بیویوں نے بھی دیکھا ،انہوں نے کہا:فاطمہ کیا ماجرا ہے ہم نے پہلے تجھے روتے اورپھرہنستے ہوئے نہیں دیکھا ؟وہ بولیں حضور نے مجھے بتایا :میری وفات کا وقت آپہنچا ہے اس پر میں رو پڑی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :مت رو رتومیرے خاندان میں سب سے پہلے مجھے ملنے والی ہے تومیں ہنس پڑی"

____________________

حوالاجات

۱۔ دارمی السنن ،۱:۵۱، رقم ۷۹

۲۔ابن کثیرتفسیرالقرآن العظیم ۴:۵۶۱


فصل : ۳۱

سیدہ سلام اللہ علیھا کا اپنے وصال سے باخبر ہونا

"حضرت ام سلمی رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہے جب سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیہا اپنی مرض موت میں مبتلا ہوئیں تومیں ان کی تیمارداری کرتی تھی۔مرض کے اس پورے عرصے کے دوران جہاں تک میں نے دیکھا ایک صبح ان کی حالت قدرے بہتر تھی حضرت علی رضی اللہ عنہا کسی کام سے باہر گئے سیدہ نے کہا :اماں !میرے غسل کرنے کے لیے پانی لائیں میں پانی لائی آپ نے جہاں تک میں نے دیکھا بہترین غسل کیا۔پھربولیں اماں جی! مجھے نیا لباس دیں ۔ میں نے ایسا ہی کیا۔آپ قبلہ رخ ہو کرلیٹ گئیں ہاتھ مبارک رخسار مبارک کے نیچے کرلیا۔پھر فرمایا:اماں جی! اماں جی اب میری وفات ہوگی ،میں پاک ہوچکی ہوں لہذا مجھے کوئی عریاں نہ کرے پس اسی جگہ آپ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوگئی ۔ام سلمی کہتی ہیں پھر حضرت علی تشریف لائے تومیں نے انہیں سیدہ کے وصال کی اطلاع دی ۔

فصل ۳۲ ۔

"روز قیامت سیدہ سلام اللہ علیھا کی آمد پر سب اہل محشر نگائیں جھکالیں گے

"حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا:قیامت کے پیچھے ایک ندا دینے والا پردے کے پیچھے سے آواز دے گا :اے اھل محشر!اپنی نگائیں جھکالو تاکہ فاطمہ بنت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گزر جائیں "

____________________

حوالاجات

۱۔حاکم المستدرک ۳:۱۶۶، رقم :۴۷۲۸

۲۔محب طبری ذخائرالعقبی فی مناقب ذوی القربی:۹۴

۳۔ابن اثیر اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ ۷:۲۲۰

۴۔عجلونی کشف الخفاء ومزیل الالباس ۱:۱۰۱، رقم ۲۶۳

"حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:جب قیامت کا دن ہوگا توکہا جائے گا:اے ال محشر !اپنی نگائیں جھکا لوتاکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی فاطمۃ الزہراء گزر جائیں ۔پس وہ دوسبز چادروں میں لپٹی ہوئی گزر جائیں گی ۔

"ابو مسلم نے کہا:مجھے قلابہ نے کہا اورہمارے ساتھ عبدالحمیدبھی تھے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا:(سیدہ سلام اللہ علیہا)دوسرخ چادروں میں لپٹی ہوئی گزر جائیں گی"

____________________

حوالاجات

۱۔حاکم المستدرک ۳:۱۷۵،رقم :۴۷۵۷

۲۔احمد بن حنبل فضائل الصحابہ ۲:۷۶۳، رقم ۱۳۴۴

۳۔طبرانی المعجم الکبیر،۱:۱۰۸، رقم ۱۸۰

۴۔طبرانی المعجم الکبیر۲۲:۴۰۰، رقم ۹۹۹

۵۔طبرانی المعجم الاوسط۳:۳۵، رقم ۲۳۷۶

۶۔ہثیمی مجمع الزوائد۹:۲۱۲

۸۵ ۔عن عائشہ رضی اللہ عنہا قالت :قال النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم :ینادی مناد یوم القیامۃ:غضو اابصارکم حتی تمر فاطمۃ بنت محمد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

"حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:روز قیامت ایک ندا دینے والا ند ادے گا :اپنی نگائیں جھکا لو تاکہ فاطمہ بنت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گزر جائیں ۔"

____________________

حوالاجات

۱۔خطیب بغدادی تاریخ بغداد۸:۱۴۲

۲۔محب طبری ذخائرالعقبی فی مناقب ذوی القربی ۹۴

"حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت ہے کہ روز قیامت عرش کی گہرائیوں سے ایک ندا دینے والا آواز دے گا:محشر والو!اپنے سروں کو جھکا لو اوراپنی نگائیں نیچی کرلو تاکہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا جنت کی طرف گزر جائیں ۔"

____________________

حوالاجات

۱۔عجلونی کشف الخفاء مزیل الالباس ۱:۱۰۱، رقم ۲۶۳

۲۔ہندی کنزالعمال ۱۲:۱۰۶رقم ۳۴۲۱۱

۳۔ہندی نے کنزالعمال (۱۲:۱۰۶، رقم ۳۴۲۱۰)میں کہا ہے کہ اسے ابوبکر نے الغیلانیات میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔

۴۔خطیب بغدادی نے تاریخ بغداد (۸:۱۴۱)میں الفاظ کے معمولی اختلاف کے ساتھ یہ حدیث حضرت سے روایت کی ہے۔

۵۔ہیثمی نے الصواعق المحرقہ (۲:۵۵۷)میں کہا ہے کہ اسے ابو بکر نے الغیلابیات میں روایت کیاہے

فصل : ۳۳

سیدہ سلام اللہ علیھا کا ستر ہزار حوروں کے جھرمٹ میں پل صراط سے گزرنے کا منظر

"حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے :روز قیامت عرش کی گہرائیوں سے ایک ندا دینے والا آواز دے گا:اے محشر والو!اپنے سروں کو جھکا لواوراپنی نگاہیں نیچی کرلو تاکہ فاطمہ بنت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پل صراط سے گزر جائیں ۔پس آپ گزر جائیں گی اورآپ کے ساتھ حورعین میں سے چمکتی بجلیوں کی طرح ستر ہزار خادمائیں ہوں گی"۔

____________________

حوالاجات

۱۔محب طبری نے ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربی (ص:۹۴)میں کہا ہے کہ اسے حافظ ابو دسعید نقاش نے فوائد العراقیین میں روایت کیا ہے۔

۲۔ہندی ،کنزالعمال ۱۲:۱۰۵،۱۰۶، رقم ۳۴۲۰۹،۳۴۲۱۰

۳۔ابن جوزی نے تذکرة الخواص (ص:۲۷۹)میں ذرامختلف الفاظ کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے۔

۴۔ہیثمی نے الصواعقالمحرقہ (۲:۵۵۷)میں کہا ہے کہ اسے ابو بکرنے الغیلانیات میں روایت کیا ہے۔

۵۔مناوی فیض القدیر ۱:۴۲۰،۴۲۹

"سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علی وآلہ وسلم نے فرمایا :میری بیٹی فاطمہ قیامت کے دن اس طرح اٹھے گی کہ اس پر عزت کا جوڑا ہوگا جسے آب حیات دھویا گیا ۔ساری مخلوق اسے دیکھ کر دنگ رہ جائے گی پھر اسے جنت کا لباس پہنایا جائے گا جس کا ہرحلہ ہزار حلوں پر مشتمل ہوگا۔ہر ایک پر سبز خط سے لکھا ہوگا :محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی کو احسن صورت اکمل ہیبت تمام تر کرامت اوروافر تر عزت کے ساتھ جنت میں

لے جاو۔پس آپکو دلہن کی طرح سجا کر ستر ہزارحوروں کے جھرمٹ میں جنت کی طرف لایا جائیگا"

____________________

حوالاجات

۱۔محب طبری ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربی ۹۵

فصل: ۳۴

روز قیامت سیدہ سلام اللہ علیھا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سواری پر بیٹھیں گی

"حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:قیامت کے دن مجھے براق پر اورفاطمہ کو میری سواری عضباء پربٹھایا جائے گا"

____________________

حوالاجات

۱۔ابن عساکر تاریخ دمشق الکبیر ۱۰:۳۵۳

____________________

حوالاجات

حاکم نے المستدرک (۳:۱۶۶رقم :۴۷۲۷)میں کہا ہے کہ یہ حدیث امام مسلم کی شرائط کے مطابق صحیح ہے

"حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے عرض کیا:یا رسول اللہ :کیا آپ روز قیامت اپنی اونٹنی عضباء ہر سوا رہو کرگزریں گے ؟آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:میں اس براق پر سوارہوں گے جو نبیوں میں خصوصی طورپر صرف مجھے عطا ہوگا۔مگر میری فاطمہ میری سواری عضباء پر ہوگی

____________________

حوالاجات

۱۔ابن عساکر تاریخ دمشق الکبیر ۱۰:۳۵۲۔۳۵۳

۲۔ہندی نے کنزاالعمال (۱۱:۴۹۹رقم ۳۲۳۴۰)میں کہا ہے کہ اسے ابو نعیم اورابن عساکر نے روایت کیا ہے


فصل : ۳۵

سیدہ سلام اللہ علیھا اخروی ترازو کا دستہ ہیں

"حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:میں علم کا ترازو ہوں علی اس کا پلڑاہے حسن اورحسین اس کی رسیاں ہیں فاطمہ اس کا دستہ ہے اورمیرے بعد ائمہ اس ترازوکی عمودی سلاخیں ہیں جس کے ذریعے ہمارے ساتھ محبت کرنے والوں اوربغض رکھنے والوں کے اعمال تولے جائیں گے"

____________________

حوالاجات

۱۔ دیلمی ،الفردوس ، بماثور الخطاب ۱:۴۴، رقم ۱۰۷

۲۔ عجلونی نے کشف الخفاء ومزیل الالباس (۱:۲۳۶)مین کہا ہے کہ دیلمی نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما سے مرفوع روایت بیان کی ہے

فصل : ۳۶

سیدہ سلام اللہ علیھا اوران کاگھرانہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سب سے پہلے جنت میں داخل ہوگا

"حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بتایا:میرے ساتھ سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے والوں میں میں فاطمہ حسن اورحسین ہونگے میں نے عرض کیا:یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم سے محبت کرنے والے کہاں ہونگے؟آپ نے فرمایا :تمہارے پیچھے ہوں گے"

____________________

حوالاجات

۱۔حاکم المستدرک ۳:۱۶۴، رقم ۴۷۲۳

۲۔ابن عساکر تاریخ دمشق الکبیر ۱۴:۱۷۳

۳۔ہندی کنزالعمال ۱۲:۹۸، رقم ۳۴۱۶۶

۴۔ہیثمی نے الصواعق المحرقہ(۲:۴۴۸)میں کہا ہے کہ اسے ابن سعد نے روایت کیا ہے۔

۵۔محب طبری ذخائر العقبی فی مناقب ذوی القربی ۱۲۴

"حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والی ہستی فاطمہ ہوگی"

____________________

حوالاجات

۱۔ذہبی نے میران الاعتدال فی نقد الرجال (۴:۳۵۱)میں کہا ہے کہ ابو صالح موذن نے مناقب فاطمہ میں روایت کیاہے

۲۔عسقلانی نے بھی المیزان (۴:۱۶)میں ایسا کہا ہے

"حضرت ابو یزید مدنی سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:جنت میں داخل ہونے والوں میں سب سے پہلے میری بیٹی فاطمہ ہو گی اورمیری اس امت میں وہ ایسی ہیں جیسے اسرائیل میں مریم ۔

____________________

حوالاجات

قزوینی التدوین اخبارقزوین ۱:۴۵۷

۲۔ہندی کنزالعمال ۱۲:۱۱۰، رقم ۳۴۲۳۴

فصل : ۳۷

روز قیامت سیدہ سلام اللہ علیھا کا مسکن عرش خداوندی کے نیچے سفید گنبد ہوگا

"حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :بیشک آخرت میں فاطمہ علی ،حسن اورحسین جنت الفردوس میں سفید گنبد میں مقیم ہوں گے جس کی چھت عرش خداوندی ہوگا"

____________________

حوالاجات

۱۔ ابن عساکر ، تاریخ دمشق الکبیر ۱۴:۶۱

۲۔ہندی کنزالعمال ۱۲:۹۸،رقم ۳۴۱۶۷

"حضرت ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :روز قیامت میں علی ، فاطمہ ،حسن اورحسین عرش کے نیچے گنبد میں قیام پذیر ہوں گے"

____________________

حوالاجات

۱۔ہیثمی مجمع الزوائد ۹:۱۷۴

۲۔زرقانی شرح الموطا،۴:۴۴۳

۳۔عسقلانی لسان المیزان ۲:۹۴

فصل: ۳۸

پنجتن پاک اوران کے تمام محب قیامت کے دن ایک ہی جگہ ہوں گے

"حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدہ فاطمہ سلام اللہ سے فرمایا:اے فاطمہ میں توایک یہ دونوں (حسن وحسین )اوریہ سونے والا حضرت علی کیونکہ اس وقت آپ سو کر اٹھے ہی ہوں گے

____________________

حوالاجات

۱۔احمد بن حنبل المسند ۱:۱۰۱

۲۔بزارالمسند ۳:۲۹،۳۰، رقم ۷۷۰

۳۔احمد بن حنبل فضائل الصحابہ ۲:۶۹۲رقم ۱۱۸۳

۴۔ہیثمی نے مجمع الزوائد (۹:۱۶۹،۱۷۰)میں کہا ہے احمد بن حنبل کی روایت کردہ حدیث کی سند میں قیس بن ربیع کے بارے میں اختلاف ہے جبکہ بقیہ تمام رجال ثقہ ہیں

۵۔شیبانی السنہ ۲:۵۹۸، رقم ۱۳۲۲

۶۔ابن اثیراسد الغابہ فر معرفۃ الصحابہ ۷:۲۲۰

"حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:میں علی ،فاطمہ ،حسن ،حسین اورہمارے محبین سب روز قیامت ایک ہی جگہ اکٹھے ہوں گے قیامت کے دن ہمارا کھانا پینا بھی اکٹھا ہو گا یہاں تک کہ لوگوں میں فیصلے کردیئے جائیں گے "

____________________

حوالاجات

۱۔ہیثمی نے مجمع الزوائد (۹:۱۷۴)میں کہا ہے کہ اسے طبرانی نے روایت کیا ہے اورمیں اس کے رایوں کو نہیں جانتا۔

۲۔طبرانی المعجم الکبیر ۳:۴۱، رقم ۲۶۲۳

فصل: ۳۹

فرمان حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا ۔۔۔بعد از مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم افضل ترین ہستی سیدہ زہرا سلام اللہ علیھا ہیں

"حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ میں نے فاطمہ رضی اللہ عنھا سے افضل ان کے بابا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ کسی شخص کو نہیں پایا۔

____________________

حوالاجات

۱۔طبرانی المعجم الاوسط ۱۳۷۳، رقم ۲۷۲۱

۲۔ہیثمی نے مجمع الزوائد (۹:۲۰۱) میں کہا ہے کہ اسے طبرانی اورابویعلی نے روایت کیا ہے اوراس کے رجال صحیح ہیں

۳۔شوکانی درالسحابہ فی مناقب القرابة والصحابہ ۲۷۷،رقم ۲۴

"عمر بن دنیا رحمة اللہ علیہ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا :فاطمہ رضی اللہ عنھا کے بابا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سوا میں نے فاطمہ رضی اللہ عنھا سے زیادہ سچا کائنات میں کوئی نہیں دیکھا"

____________________

حوالات

ابو نعیم حلیۃ الاولیاء وطبقات الاصفیاء ۲:۴۱،۴۲

فصل : ۴۰

"حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنھا کے ہاں گئے اورکہا: اے فاطمہ !خدا کی قسم !میں نے آپ کے سوا کسی شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک ترنہیں سوائے آپ کے بابا کے"۔

____________________

حوالاجات

۱۔حاکم المستدرک ۳:۱۶۸،رقم ۴۷۳۶

۲۔ابن ابی شیبہ المصنف ۷:۴۳۲، رقم :۳۷۰۴۵

۳۔شیبانی الآحادو المثانی ۵:۳۶۰، رقم ۲۹۵۲

۴۔احمد بن حنبل فضائل الصحابہ ۱:۳۶۴، رقم ۵۳۲

۵۔خطیب بغدادی تاریخ بغداد۴:۴۰۱


فہرست

فصل : ۱ ۳

فصل ۲: ۵

فصل : ۳ ۷

فصل : ۴ ۱۱

فصل ۵ ۱۵

فصل : ۶ ۱۶

فصل : ۷ ۲۰

فصل : ۸ ۲۰

فصل : ۹ ۳۴

فصل ۱۰ ۳۶

فصل : ۱۲ ۳۸

فصل: ۱۳ ۴۱

فصل : ۱۴ ۴۶

فصل : ۱۵ ۴۷

فصل : ۱۶ ۴۹

فصل ۱۷ ۵۰

فصل : ۱۸ ۵۲

فصل : ۱۹ ۵۴

فصل : ۲۰ ۵۷

فصل : ۲۱ ۶۱


فصل : ۲۲ ۶۲

فصل : ۲۳ ۶۳

فصل : ۲۴ ۶۴

فصل : ۲۵ ۶۵

فصل : ۲۶ ۶۶

فصل : ۲۷ ۶۹

فصل : ۲۸ ۶۹

فصل : ۲۹ ۷۱

فصل : ۳۰ ۷۴

فصل : ۳۱ ۷۷

فصل ۳۲ ۔ ۷۷

فصل : ۳۳ ۷۹

فصل: ۳۴ ۸۰

فصل : ۳۵ ۸۲

فصل : ۳۶ ۸۲

فصل : ۳۷ ۸۴

فصل: ۳۸ ۸۴

فصل: ۳۹ ۸۶

فصل : ۴۰ ۸۶