مجموعہ تقاریر(حصہ دوم)

اصلاح کتب

مؤلف: مولانا جان علی شاہ کاظمی
امام حسین(علیہ السلام)


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


مجموعہ تقاریر حصہ دوم

مصنف: مولانا جان علی شاہ کاظمی


مجلس ۱

امام زمانہ

بسم الله الرحمن ا لرحیم

( بقیة الله خیر لکم ان کنتم مومنین ) ۔(سورہ ہود آیت ۸۶)

اللہ سبحانہ وتعالیٰ قر آن کریم میں فرما رہا ہے( بقیة الله خیر لکم ) بقیة اللہ کا وجود تمہارے لئے خیر ہے بہتر ہے( ان کنتم مومنین ) اگر تم مومن ہو تو بقیة اللہ کاوجود تمہارے لئے خیر ہے اب اس لفظ بقیة اللہ کا ترجمہ کیاہے بقیة اللہ یعنی وہ ہستی وہ عظیم الشان حجت خدا جسے خدا نے آج تک باقی رکھاہے ، یہ وہ آیت ہے جس میں پروردگار عالم نے حضرت امام زمانہ (عج) کے مشہور اور معروف اس نام کا تذکرہ کیا ہے کہ ہم زیارت میں بھی کہتے ہیںالسلام علیک یا بقیة الله بقیة اللہ بارہویں سرکار بارہویں امام کے مشہور صفات اور مشہور ناموں میں سے ایک نام ہے فر مایا ان کا وجود تمہارے لئے خیر و برکت کا سبب ہے ۔

خداوند عالم نے ہمیں امام عطا کیا ہے اور ہمارے امام آج بھی زندہ ہیں آج بھی ہماری نصرت اور مدد فرماتے ہیں آ ج بھی ان کے معجزات ایسے ہیں کہ کوئی انکار نہیں کرسکتا آج بھی وہ اپنے شیعوں کے مدد گار ہیں چہ جا ئیکہ غیب کے پردہ میں ہیں ۔

مگرآپ نے نہیں دیکھا کہ صدام بھی شیعوں کا دشمن تھا صدام نے دس لاکھ شیعوں کو بے گناہ قتل کیا تیس سال میں اس خبیث نے اس وقت کے یزید نے عرا ق میں دس لاکھ شیعوں کا قتل عام کیا اور امریکا بھی شیعوں کا دشمن ہے صدام بھی ہمارا دشمن ہے مگر سبحان اللہ یہ بارہویں امام کا معجزہ نہیں تو اور کیاچو تھے امام کی دعا ہے کہ پروردگار تو ظالم کو ظالم سے لڑا تا کہ مظلوم محفوظ ہو جائیں خدا نے لطف و کرم کیا امام زمانہ کا معجزہ ہے کہ خدا نے امام زمانہ کے لطف و کرم سے آج مو منین محفوظ ہیں یا امریکی مررہے ہیں یا صدامی مررہے ہیں۔

ہر زمانے میں امام لطف و کر م فر ماتے ہیں خود امام فر ماتے ہیں اے شیعو! اگر ہماری غیبی مدد تمہارے حال میں شامل نہ ہو تی تو دنیا تمہیں مٹا چکی ہوتی اس قدر بڑی بڑی طاقتوں نے اس عزاداری کو ختم کرنا چا ہا بنی امیہ کے بادشاہوں نے اس قدر پیسہ خرچ کئے کہ عزاداری مٹ جائے مگر ہر دن یہ عزاداری اور بڑھتی چلی جارہی ہے دنیا کے ہرکو نے کونے سے حسین،حسین کی صدا بلند ہوتی چلی جارہی ہے یہ اس لئے ہے کہ ہم بے سہارا نہیں ہیں ہمارے وارث امام زمانہ موجود ہیں مگر کیوں کہ ہمارے امام غیبت میں ہیں ہماری کچھ ذمہ داریاں ہیں ہر مسلمان کی ذمہ داریاں ہیں مگر خصوصاً جو خود کو مومن و شیعہ کہلا تے ہیں۔

غیبت میں ہماری ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں کیوں کہ ہمارے امام غیبت کے پر دے میں ہیں خصوصا ہم اپنے بچوں کو بارہویں سر کار کی معرفت کا نور دیں معرفت اگر نہیں ہو گی تو محبت بھی نہیں ہے اگر معرفت نہیں ہے تو یہ مشہور حدیث شیعہ سنی کتابوں میں موجود ہے کہ ”من مات و لم یعرف امام زمانه اگر کو ئی مرجا ئے اور اسے بارہویں امام اپنے زمانے کے امام کی معرفت نہ ہوفقد مات میتة جاهلیه تو وہ جہالت کی موت مر گیا وہ کفر کی موت مرگیا یعنی معرفت امام حاصل کرنا واجب ہے یہ ہر مو من پر واجب ہے ہر مسلمان پر واجب ہے کہ اس وقت حجت خدا کون ہے اس وقت نمائندہ خدا کون ہے۔

کچھ لوگ جو امام کے بارے میں اعتراضات کرتے ہیں ہمیں ان کے جوابات معلوم ہونے چا ہیئے تا کہ کوئی انسان کسی مومن کو گمراہ نہ کرسکے اس کے عقیدہ کو بگاڑ نہ سکے لوگ کہتے ہیں کہ آپ کے امام کی اتنی لمبی عمر کیسے ہے؟ اس کا جواب، آپ حدیث سے دے سکتے ہیں قرآن سے دے سکتے ہیں عقل کی روشنی میں دے سکتے ہیں یہ کوئی مشکل سوال نہیں ہے البتہ سوال کا جواب ہر مومن کو آنا چاہئے ایک ہزاار سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا آپ کے امام ابھی تک زندہ ہیں یہ کیسے ممکن ہے تو پہلی بات تو یہ ہے کہ خدا وند عالم نے قر آن مجید میں فر مایا ہے ہم سب مسلمانوں کا عقیدہ ہے( ان الله علیٰ کل شئی قدیر ) کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے خدا کے لئے یہ کام مشکل نہیں ہے کہ کسی کو ایک سو سال کی زندگی دے یا دو ہزا ر سال کی زندگی دے خدا کے لئے یہ کام مشکل نہیں ہے۔

اب قرآن سے کچھ مثالیں ہیں کہ قر آن میں فر مایا ہے کہ حضرت نوح (ع) کی عمر قرآن میں نو سو سال سے زیادہ بتلائی ہے پروردگار نے انھیں نو سو سال سے زیادہ عمر دی ہے قر آن میں آ یا ہے کہ حضرت خضر اور امام زمان آج تک زندہ ہیں بعض مفسرین نے حضرت خضر کے بارے میں کہا ہے بعض نے کہا کے نبی ہیں بعض نے کہا کے نبی نہیں ہیں تیسری دلیل ہے کہ حضرت عیسی (ع) کے لئے قرآن کا صریح فیصلہ ہے کہ وہ ابھی تک زندہ ہیں انہیں پھانسی نہیں دی گئی ہے اللہ نے انہیں بچالیا ہے اور وہ ابھی تک زندہ ہیں اور حدیث کہرہی ہے کہ جیسے ہم امام زمانہ کا انتظار کررہے ہیں ویسے حضرت عیسی بھی امام زمانہ کا انتظار کررہے ہیں۔

توجب حضرت عیسی(ع) اتنی لمبی زندگی پاسکتے ہیں حضرت خضر کو اتنی لمبی عمر مل سکتی ہے تو اس میں اعتراض کی کوئی بات نہیں ہے حضرت نوح نو سو سال زندہ رہ سکتے ہیں چلئے یہ تو اللہ کے انبیاء ہیں مگر ہم جتنے مسلمان ہیں ہم جب قرآن پڑھتے ہیں کہتے ہیں( اعوذ بالله من الشیطان اللعین الرجیم ) پروردگار میں تجھ سے پناہ مانگتاہوں کہ شیطان کے شر سے مجھے بچا یعنی سارے مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ وہ شیطان جو سب سے پہلے گمراہ کرنے والاحضرت آدم سے بھی جو پہلے تھا وہ کمبخت شیطان ابھی تک زندہ ہے اگر مرگیا ہوتا تو ہم اعوذ باللہ کیوں پڑھتے وہ شیطان جو حضرت آدم (ع) سے بھی پہلے تھا وہ کمبخت شیطان اب تک موجود ہے توکیسے تعجب کی بات ہے کہ شیطان کی عمر پر یقین ہو اور امام کی عمر پر شک ہو جب شیطان جو گمراہ کرنے والا ہے اتنی بڑی عمر پاسکتا ہے مگر امام جو ہادی ہیں وہ اتنی لمبی عمر کیوں نہیں پاسکتے ہیں ؟۔

یہ جو اشکالات اعتراضات ہو تے ہیں ان کے جوابات ہر مومن کو آ ناچاہئیے ہمارے یہاں امام کی معرفت ہو ناچا ہئے معرفت کیسے حدیثو ں اور قرآن میں ہے کہ یہ جو نعمتیں آپ کو مل رہی ہیں یہ آپ کے بارہویں امام کے صدقے میں مل رہیں ہیں کیوں کے امام حجت خدا ہے ۔ مو لا علی کا خطبہ ہے کہ فر ما یا اے انسانو! سنو یہ زمین حجت خدا کے بغیر باقی نہیں رہ سکتی ہے قانون خدا ایسا ہے کہ حجت خدا اس کائنات میں روح کی مانند ہے جیسے ہمارا یہ بدن تب تک باقی ہے تب تک زندہ ہے تب تک ہم بولتے ہیں جب تک کہ روح موجود ہے اگر روح نکل جائے تو وہیں بدن گر جاتا ہے بول نہیں سکتے دیکھ نہیں سکتے مو لا علی (ع) فر ما تے ہیں کائنات کی روح حجت خدا ہے یہ پو ری کائنات میں یہ در یا جو چل رہے ہیں ہوا ئیں چل رہی ہیں بچے پیدا ہو رہے ہیں زندگی ہے حرکت ہے جو کچھ نظام چل رہا ہے کیسے چل رہا ہے کیوں کہ اس کائنات میں رو ح موجود ہے اور ا مام زمانہ کائنات کی روح حجت خدا ہیں اللہ کی طرف سے حجت، اللہ کی طرف سے نمائندہ اگر یہ حجت خدا اس کائنات سے چلی جا ئے تو یہ کائنات میں جو ہر چیز ہے وہ رک جا تی ہے یعنی مو لا علی فر ما تے ہیں لوگوں یہ کائنات کبھی حجت خدا سے خالی نہیں ر ہ سکتی زمین کبھی امام کے وجود سے خالی نہیں ر ہ سکتی ۔

لہذا جو بھی ہمیں نعمت مل رہی ہے وہ امام زمانہ کے صدقے میں مل رہی ہے جب معرفت ہو گی تو خود بخود امام سے محبت ہو گی ہم مشکل میں تھے امام نے ہماری مشکل کو حل کردیا جب معرفت ہو گی تو خود بخود محبت پیدا ہو گی اور امام سے محبت کتنی کرنی ہے( قل لااسئلکم علیه اجراً الا المودة فی القربیٰ ) (سورہ شوری آیت ۲۳) محبت نہیں کرنی ہے مود ت کرنی ہے مودت کسے کہتے ہیں جہاں ساری محبتیں قربان ہو جائیں اسے مودت کہتے ہیں امام سے محبت والدین سے زیادہ کر نی ہے امام سے محبت اپنی جان سے بھی زیادہ کرنی ہے امام سے محبت اولا د سے بھی زیادہ کرنی ہے جب محبت ہو گی تو ملاقات کا عشق پیدا ہوگا کہ جس مولا کے صدقے میں مجھے ساری نعمتیں مل رہی ہیں کم سے کم اس مولا کی ایک مرتبہ زیارت تو ہو جائے ۔

اور یہی زیارت کا عشق انسان کو گناہوں سے بچا لیتا ہے کیوں کہ امام زمانہ فر ما تے ہیں اے شیعو! میں تم سے دو ر نہیں ہوں بلکہ تمہارے گناہوں نے تمہیں مجھ سے دو ر کردیا ہے مو لا ہمارے ساتھ ہو تے ہیں مگر ہم کیوں نہیں دیکھ پاتے ہیں اس لئے کہ یہ ہمارے گناہ پردہ بن جاتے ہیں جب معرفت ہوگی تومحبت بھی ہو گی جب محبت ہو گی تو عشق ملاقات پیدا ہوگا جب عشق ملاقات پیدا ہو گا تو انسان چاہے گا کہ گناہوں سے دورہو جا ئے خود کو پاک کرتا چلا جائے ،امام کی ملا قات کب ہوگی جب ا پ امام زمانہ کے اخلاق کی شبیہ بن جائیں کہ امام کو کون سی چیز پسند ہے وہی چیز ہم انجام دیں امام کو نماز تہجد پسند ہے تو ہم بھی شبیہ بنیں اور ہم بھی نماز تہجد کے عادی بنیں امام کو فقیروں مسکینوں یتیموں کی مدد کرنا بہت زیادہ پسند ہے تو ہم بھی یتیموں اور مسکینوں کی مدد کریں تبلیغ اسلام یہ امام کا مقصد و ہدف ہے کہ پوری کائنات میں اسلام کا پرچم لہرائے تو اگر ہم چا ہتے ہیں کہ امام کے اخلاق کی شبیہ بنیں تو ہم بھی کوشش کریں تو ہم بھی اپنے ان توا نائیوں طاقتو ں و علم کے ذریعے سے پو ری دنیا میں اسلام کا پرچم لہرائیں خصوصاًغیبت امام میں تبلیغ کرنا ہر مو من پر لازم ہے امام زمانہ کی یہ تمام ذمہ داریوں میں سے اہم ذمہ داری ہے کیوں کہ جس قدر جہالت بڑھے گی اس قدر امام زمانہ (عج) کا ظہور دور تر ہو تا چلا جائے گا جتنا علم بڑھے گا ،جتنا تقوا بڑھے گا اتنا امام کا ظہورنزدیک ہوتاچلا جائے گا تو عاشقان امام زمانہ کے لئے لازمی ہے کہ جہالت کومٹائیں غفلت کو مٹا ئیں گمراہی کو مٹا ئیں جتنی بھی جہالت بڑھے گی اتنا نقصان ہو گااسی جہالت کی وجہ سے انبیاء شہید کئے گئے گمراہی کی وجہ سے کربلا کا واقعہ نمودار ہوا کیوں کہ لوگ گمراہ تھے علم نہ تھا تزکیہ نفس نہ تھا تو جس قدر علم بڑھے گا اس قدر امام کے ظہورمیں تعجیل ہو گی ۔

انسان کے لئے سب سے بڑی مشکل جہالت ہے انبیاء کے لئے بھی تبلیغ میں جو مشکلات تھی وہ اسی گمراہی اور جہالت کی وجہ سے تھی آج مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ تبلیغ کریں اس کے علاوہ کوئی چارہ نجات نہیں ہے اگر تبلیغ دین نہ ہو تو دنیا بھی بر باد ہو جائے گی اور آخرت بھی برباد ہو جائے گی آج امریکا یہودیوں کا نوکر اور غلام بن چکاہے کیسے پو ری دنیا میں مسلمانوں کو بر باد کر رہا ہے پہلے وہ صرف ہمارے حکمرانوں کو خریدتے تھے یا مروادیتے تھے لیکن اب تو وہ باقائدہ ملکوں پر قبضہ کر نا شروع کردیا جس طرح سے افغانستان پر قبضہ کیا یہ سب یہودیوں کی پلاننگ ہے کہ انہوں نے ایک عظیم اسرائیل کا نقشہ تیار کیا ہے عراق پر حملہ کیا اور اس کے بعد اسرائیل کا وزیر اعظم کہ اس کے بارے میں کئی اخباروں میں بھی لکھا کہ وہ عراق کا دورہ کر کے چلا گیا بلکہ اس سے بھی بدتر بری خبر کہ یہودی کربلا اور نجف میں گھربھی خرید رہے ہیں اور زمینیں بھی خرید رہے ہیں وہاں کے علماء نے آیة اللہ سیستانی نے اوردیگر علماؤں نے فتویٰ بھی دیا کہ اپنے گھروں کو ا نہیں مت بچیں مگر لوگ تیس سال سے صدام کے زندان میں تھے ۔

کو ئی بیمار بھی تھے کسی کو آ پرشن کرنا ہے مجبور ہیں اور وہاں پر یہودی پراپرٹی خرید رہے ہیں اسرائیل ایسے ہی بنا تھا پہلے یہودیوں نے آ کر مکا نات خریدے تھے انہوں نے فلسطین پر قبضہ کر کے ایک لاکھ کے مکان کو انھوں نے پانچ لاکھ کا خریدا وہ فلسطینی بیچارے کہنے لگے کہ چا ر لاکھ کا فائدہ ہوگیا تو فلسطینی لوگ دھڑادھڑ مکان بیچنے لگے یہاں تک کہ اتنے مکان خرید لئے کہ انہوں نے اسرائیل ہو نے کا اعلان کردیا اب نہیں معلوم یہ خبیث اسرائیل، کیوں کہ امریکا وہاں موجود ہے کربلا اور نجف میں جو گھر خرید رہے ہیں ان کا کیا نقشہ ہے کہا پلاننگ کیاہے کہا سا زش ہے یہ یہودی اب تو ملکوں پر قبضہ کر رہے ہیں پو ری دنیا کے اقتصادیات کا کنٹرول اُن دنوں یھودیوں کے ہاتھ میں ہے وہ پوری کوشش کررہے ہیں کہ مسلمانوں کی اقتصادیات ان کے ہاتھوں میں آجائے جو یہاں آگئے تھے اور اٹم بم بنا لیا تھا اب وہ یہاں پاکستان میں نہ آسکیں اور اسے اتنا ذلیل کر دو کہ جو یو رپ امریکا میں جو مسلمان ہیں جو چا ہتے ہیں اپنے ملک میں خدمت کریں انہیں دکھا دیں کہ دیکھو ان کا حشر کیا ہوا تمہارا بھی وہی ہوگا اقتصادیات پر ان کا قبضہ ہے اب تو ان کی نظر پاکستان پر ہے ایران پر ہے شام پر ہے انہیں اپنے ہاتھ میں لینا چا ہتے ہیں یہ سا ری پلاننگ ان یہودیوں کی ہے اب ہم کیا کریں کیا ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھے رہیں تو ہماری آنے والی نسلیں غلام ہو جائیں گی نہ ہم ان حکمرانوں کو بدل سکتے ہیں نہ ہم ٹکنالوجی میں مقابلہ کرسکتے ہیں نہ ہم میڈیا پر ان کا مقابلہ کر سکتے ہیں راستے کھلے ہو ئے ہیں یہودیوں نے امریکا میں کئی سالوں سے پلاننگ کی اور امریکا پر کنٹرول کردلیا جسے چاہیں اُسے صدر بنا لیں بزنس ان کے ہاتھ میں ہے یونیورسٹی ان کے قبضے میں ہے انہوں نے بہت لمبی محنت کی ہے ۔

لیکن اب ہم کیا کریں ہمارے یہاں ایک ہی راستہ ہے کہ ہم تبلیغ اسلام کریں اگر ہم تبلیغ اسلام کے ذریعے سے انہیں عیسائیوں کو مسلمان بنا ناشروع کردیں تو یقینا ایک دن ایساآ سکتا ہے یہی لوگ وہاں پر مجارٹی میں ہو جا ئیں گے اکثریت میں ہو جا ئیں گے یہودیوں کا وہاں پر زور ٹوٹ جا ئے گا مگر ہم وہ زحمت ہی نہیں کرتے ہیں تبلیغ اسلام کریں ہم تو کہتے ہیں کہ ہم تقلید ہی نہیں کرتے تو تبلیغ کیسے کریں اگر ایک ایک مسلمان فقط ایک عیسائی کو مسلمان بنادیں تو کئی سالوں میں یہ لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں ہو جا ئیں گے تو وہاں خود بخود انقلاب آ ئے گا اور عیسائیوں کو مسلمان بنا نا کوئی مشکل کا م نہیں، آپ کے دس رو پے اور دس منٹ خرچ ہو ں گے اور آپ کے دس منٹ اور دس رو پے خرچ ہو نے کے بعد آپ ایک مذہب اسلام کا پیغام ایک کروڑ سے زیادہ عیسائیوں کے گھروں تک پہنچا سکتے ہیں اب تو ہم انٹرنیٹ پر اگر چلے جا ئیں تو وہاں سے اپنی کتابوں کے ذریعے سے ا نہیں تبلیغ کریں آپ ایک مضمون لیکر اُسے بھیج دیں تو آپ ایک اسلام تشیع عزاداری کا پیغام مو لا علی کے فضا ئل کو ایک کروڑ سے زیادہ لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں مگر ہم وہ بھی وقت نہیں دے پاتے جب کہ یہودی جن کے ہا تھ میں ہر چیز ہے پھربھی وہ انٹر نیٹ پر اسرائیل کی سائڈ ہے امریکا کی سائڈ ہے جب کہ پو ری دنیا ان کے ہاتھ میں ہے وہ پھربھی اپنا کام انجام دے رہے ہیں محنت کر رہے ہیں مگر ہم مسلمان دیکھ رہے ہیں ہر جگہ ہم غلامی میں ہیں مارے مارے پھر رہے ہیں اگر ہم تبلیغ بھی کر یں تو یقین جا نئے اگر ہم تبلیغ عیسائیوں کوکریں تو عیسائیوں کو مسلمان بنا نا بہت آ سان کام ہے کیوں کہ یہاں رو حانیت نہیں ہے وہ رو حانیت کے بھوکے اور پیاسے ہیں لنڈن میں ایک عیسا ئی اس کے یہاں بہت فیملی مشکلات تھے وہ بہت پریشان تھا وہ کہتا ہے کہ میں جتنے پریسٹ کے یہاں گیا تا کہ وہ میری مشکل کو حل کردیں مگر کوئی حل نہیں کر سکا وہ عیسائی ڈاوید تھا ایک دن اس کی ملاقات ایک مسلمان شیعہ سے ہو گئی اس نے انھیں اپنے مشکلا ت بتا یا اور کہا کہ ان کا کو ئی حل نہیں ہے تو اس مسلمان شیعہ نے اسے کہا کہ اس کا تو بہت آسان حل ہے یہ سن کر تو اس نے دوسرا مسئلہ پو چھا تو اس شخص نے کہا اس کا اسلام میں یہ حل ہے وہ مسلمان شخص جیسے گاڑی سے اترا تو وہ عیسا ئی گاڑی سے اتر کر اس کے یہاں آ یا کہنے لگا میں مسلمان ہونا چا ہتا ہوں وہ شیعہ مسلمان شخص حیران ہوگیا کہ اتنا جلدی کو ئی عیسائی مسلمان ہوسکتا ہے اس عیسا ئی نے کہا اب میں بالکل مطمئن ہو گیا ہوں کہ ان پروبلم کا حل عیسائیت میں کو ئی حل ہی نہیں اب میں مسلمان ہونا چا ہتا ہوں آ پ بتا ئے میں کیا کروں وہ اُسے امام بارگاہ میں لے گئے اور اسے سکرٹی کے حوالہ کردیا ا ورکھا کہ اسے کچھ کتابیں دے دو یہ مسلمان ہونا چا ہتا ہے ہم مسلمان تھوڑی کوشش کریں گے تو چند سالوں میں کئی عیسائیوں کو مسلمان بنا سکتے ہیں ان یہودیوں نے ایک دن میں آمریکا پر قبضہ نہیں کیا ہے ایک دن وہ بھی فحاش اگر آ پ امریکا کی تاریخ کو دیکھیں گے تو اکثر جگہ پر لکھا ہو تا تھا No Jues no dog کہ عیسائی یہودیوں سے اتنی نفرت کرتے تھے کہ کتا بھی نہیں آ ئے ا ور کوئی یہودی بھی نہ آئے مگر یہودیوں نے نیٹ ورک پر کام کیا اور پوری چیزوں پر کنٹرول کردیا۔

اگر ہم مسلمان چا ہتے ہیں کہ ہماری آ نے والی نسلیں غلام نہ بنے تو ہمیں کیا کر نا ہے ہمیں تبلیغ اسلام کر نا ہے تبلیغ اسلام کے لئے کئی راستے ہیں ایک شوشل پروبلم ان عیسائیوں کے پاس بہت زیادہ ہے اور دوسرا کیا کہ رو حا نی طور پر مسیحی ختم ہو چکے ہیں ۲۰۰۲شعبان میں نئی بحث چلی ہو ئی تھی کہ ان کے پریسٹ پادری اگر وہ غلیظ ترین گناہ میں مبتلا ہوں ہم جنس پرستی یہ وہ فعل جو کتا بھی نہیں کرتا حیوان بھی نہیں کرتا اس میں مبتلا ہیںانہوں یہ بحث کی کہ اگر کو ئی ہم جنس پرست پادری بننا چا ہے تو بن سکتاہے یا نہیں؟ آ خر اُن کے چرچ نے فیصلہ دے دیا کہ یہ کو ئی حرج نہیں ہے جنہوں نے قانوناً چھٹی دی ہے کہ ہم جنس پرست اُن کا مو لوی بن سکتا ہے تو اس مذہب میں رو حانیت کہاں ہو گی وہ بدترین گناہ کہ جو حیوانوں میں نہیں کُتے میں خنزیر میں نہیں خنزیر بھی نر نر کے ساتھ بدفعلی نہیں کر تا تو وہ ہم جنس باز کو اپنا مو لوی بنا تے ہیں وہاں کے لوگ بالکل پیاسے بھوکے رو حانیت کی تلاش میں ہیں یقین جا نئے اگر ہم انہیں فقط تھوڑی سی رو حانی غذا دے دیں تو وہ مسلمان بن جا ئیں گے اور رو حانی غذا ؤں کی ہمارے پاس کو ئی کمی نہیں ہے اس قدر اہل بیت کی دعائیں ہیں اس قدراذکا ر ہیں ایک ذرا سا دعاؤں کا مزہ انہیں مل جا ئے تو وہ اسلام کی طرف آ جا ئیں گے دو سرا خود یہ با ئبل ہے آ پ اس سے عیسا ئیوں سے مناظرہ کریں اسلام اور کرشنٹی میں سب سے بڑا فر ق کیا ہے وہ یہ ہے کہ ہم تو حید پرست ہیں ( وحدہ لاشریک لہ) خدا ایک ہے اس کا کو ئی شریک نہیں ان کے یہاں ہولی ٹرنٹی ہے ان کے یہاں تین خدا ہیں کبھی وہ حضرت عیسی کو خدا کہتے ہیں یا کبھی خدا کا بیٹا کہتے ہیں توریت چپڑ کا نمبرایک آیت ایک سو دس یہ لوگ بہت تیزی سے کام کر رہے ہیں اب یہ جو آیت پرانی بائبل میں تھا کنگزجینز اس میں خدا کے بارے میں تھا۔ There is non like God بالکل اسی آیت کا ترجمہ ہے ( لیس کمثلہ شئی ) خدا جیسا کو ئی بھی نہیں ہو سکتا کوئی شئی اس کے مثل نہیں ہوسکتی اور ایک سو دس چپٹر اور آ یت کا نمبر دس اس میں معلوم ہوگا کہ وہ پہلے کیسے لکھا تھا There is non like god اور اب انھوں نے بدل کے کیسے لکھا that no oneas powerful is the lord overs god اور وہ لوگ آہستہ آہستہ تبدلیاں لا رہے ہیں ہم اس آیت کے ذریعے سے آ رام سے ثابت کرسکتے ہیں کہ اے عیسائیو! اگر آپ کہتے ہو کہ تین خدا ،حضرت عیسیٰ خدا کا بیٹا ہے یہ تمہاری کتاب ہے کہ کہہ رہی ہے There is non like god کوئی اللہ جیسا نہیں ہے اور یہی قرآن ہے اور یہی تو حید ہے کہ ”( لیس کمثله شئی ) ۔

امام زمانے سے ہر مومن کا رابطہ مضبوط ہوناچاہئے ہمارے امام آ ج بھی مو جود ہیں جو بھی مشکل ہو جو بھی پریشانی ہو اپنے مو لا کی خدمت میں پیش کریں آج بھی اسی زمانے میں مو لا مدد کر رہے ہیں اور کتنے مریضوں کو شفا دے رہے ہیں ۔

ایران کا ایک شہرجس کا نام بافت ہے وہاں کا واقعہ ہے اور یہ واقعہ چودہ یا سولہ ہجری کا واقعہ ہے وہاں ایک بچہ ایک بیماری میں مبتلا ہو گیا تھا کہ اس کے سننے کی طاقت بھی چلی گئی اور بو لنے کی طاقت بھی چلی گئی وہ بچہ جب اپنے دوستوں کے ساتھ کھیلتا تھا تو اس کے دوست اس کا مزاق اڑاتے تھے تو اس وجہ سے اس نے بچوں سے کھیلنا یا کسی سے ملنا جلنا چھوڑدیا بچے کی یہ حالت دیکھ کر والدہ کا دل دُکھتا تھا کہتی ہے میرا بچہ روتا رہتا ہے اگر وہ بچہ کچھ بولنا چاہتا تھا تو بول نہیں سکتا تھا تو ہمیشہ روتا رہتا تھا اس کی ماں نے اپنے بچے کے لئے دعا کی نذریں کی تو کسی نے اسے کہا کہ تم مسجد جمکران چلے جاو و ہاں بہت معجزات ہو تے ہیں امام زمانہ کی مسجد ہے اور وہاں کے خاص اعمال ہیں انشاء اللہ تیرے بیٹے کو شفا مل جا ئے گی یہ مو منہ مسجد جمکران میں ا ئی ا ور وہاں پر اعمال کئے اس نے دورکعت نماز پڑھی اور سو گئی تو خواب میں حضرت امام زمانہ (عج) کو دیکھتی ہے اُس نے خواب میں دیکھا کہ امام آ گے آ گے آ رہے ہیں اور امام کے پیچھے سادات ہیں تو اس خاتون نے ان سا دات سے سوال کیا کہ یہ کون ہیں تو انھوں نے کہا یہ امام زمانہ ہیں اس نے کہا کہ میری مشکل ہے میں اسی غرض سے یہاں آ ئی ہو ں تا کہ امام زمانہ میری مشکل کو حل کردیں تو وہ خاتون دوڑ تی ہو ئی امام کے نزدیک گئی اور کہا کہ میرا بچہ بول نہیں سکتا سن نہیں سکتا مجھ سے یہ دیکھا نہیں جا رہا ہے آپ لطف کریں تو امام فر ما تے ہیں میری دو رکعت نماز پڑھو تو اس نے کہا، امام یہ نماز ابھی پڑھی ہے امام نے فر ما یا دو بارہ پڑھو، دیکھیں کہ امام کتنا مو منین کو نماز کی طرف را غب کرتے ہیں امام فر ما تے ہیں دو بارہ نماز پڑھو تمہاری مشکل ختم ہو جا ئے گی اگر کوئی بھی انسان مشکل میں گرفتار ہو جائے تو وہ یہ دو رکعت نماز پڑھے گا تو یقیناً امام زمانہ آ پ کی مشکل کو حل کردیں گے اس نماز کا طریقہ یہ ہے کہ نیت کریں کہ دو کعت نماز امام زمانہ پڑھتا ہوں سنت قربة الا اللہ اور سورہ الحمد پڑھیں جب ”( ایاک نعبد و ایاک نستعین ) “ پر پہنچیں تو اس جملہ کو سو مرتبہ دہرا ئیں سو مر تبہ پڑھ کر سورہ کے آ گے کے جملے کو پڑھیں اور سورہ کو مکمل کریں الحمد کے بعد سورہ توحید پڑھیں اور اس کے بعد جب رکوع میں جا ئیں تو سات مرتبہسبحان ربی العظیم وبحمده اورپھرسجدہ میں جا ئیں تو سات مرتبہ کہیںسبحان ربی الاعلیٰ و بحمده پھر جب دوسری رکعت میں آ ئیں اسی طرح سے انجام دیں یعنی جب ”ایاک نعبد و ایاک نستعین “ پر پہنچیں تو اس جملہ کو سو مر تبہ تکرار کریں اور جب رکوع میں جا ئیں تو”سبحان ربی العظیم وبحمده “ کو سات مرتبہ پڑھیں اور پھر سجدہ میں جا ئیں تو سات مرتبہ کہیں ”سبحان ربی الاعلیٰ وبحمده جیسے ہی نماز ختم ہو جا ئے سجدہ میں چلے جا ئیں اور ایک تسبیح درودکی پڑھیں ،سجدہ سے سر اٹھا کر تسبیح حضرت فاطمة الزھرا پڑھیں اور اُس کے بعد دعا کریں تو انشاء اللہ امام زمانہ عالم غیب سے آپ کی مدد فر ما ئیں گے ۔

اس مو منہ نے یہ عمل کیا اور جب واپس گئی دیکھا کہ ابھی تک اس کا بچہ نہیں بول رہا ہے یہ بیچاری پھر رو نے لگی ابھی تو میں نے امام کی زیارت کی میں نے امام کو بھی دیکھا امام نے کہا کہ بچہ کو شفا ملے گی مگر کیا بات ہے ابھی وہ کچن میں سوچ رہی تھی اور کام بھی کر رہی تھی اچانک اس کے بچے کی آ واز آ ئی اماں میں با با سے ملناچاہتا ہوں اس خاتون نے شکر ادا کیا کہ مو لا نے ہماری مدد کی دیکھا کہ بچہ بول بھی رہا ہے اور سن بھی رہا ہے ۔

ان معجزات کو جمع کر نے کی ضرورت ہے ان معجزات سے بھی ہم بڑی تبلیغ کرسکتے ہیں امام ر ضا (ع) کے روضہ پر اور امام حسین (ع) کے رو ضے پر کتنے ہزاروں معجزے ہو تے ہیں ہم ان معجزات کو تو کتابوں میں لکھ دیتے ہیں مگر ان کی ویڈیو بنا نا چا ہئے تا کہ ہم دنیا کو بتا ئیں تا کہ میڈیا کو بتا ئیں تو ہزاروں لوگ مذہب اہل بیت کو قبول کر یں گے مجالس امام حسین (ع) میں بھی معجزات ہو تے ہیں ایران میں مجالس میں ان مریضوں کے لئے خاص جگہ بناتے ہیں مریض آ تے ہیں اور مو منین مل کر ان کے لئے دعا ء کرتے ہیں اور ان ہی مجالس میں کتنے لا علاج مریض شفا پا تے ہیں ہزاروں معجزات ہو رہے ہیں مگر یہ ہماری غفلت ہے کہ ہم انھیں جمع نہیں کر رہے ہیں آ ج کل ہمارے دروس میں خلوص ختم ہو گیا ہے ا ور پڑھنے والے کی پوری کوشش یہ ہو تی ہے کہ میں ایسی بات کروں تا کہ مجمع خوش ہو جا ئے جو انسان چاہتا ہے کہ اس کے د روس میں مجمع ہو جا ئے تو اس کے بارے میں مو لا علی نے فر ما یا رسول خدا (ص) نے فر ما یا: ”الریاء شرک کله “ ریاء کاری شرک ہے اس زمانے میں مبلغ ایک جملہ امر بالمعروف کا نہیں کر تا فقط وہ چیزیں کہتا ہے تا کہ مجمع خوش ہو جا ئے جب کہ کس قدر گمراہی پھیل رہی ہے حضرت امام جعفر صادق (ع) سے سوال کیا گیا یہ بہت نورا نی حدیث ہے کہ مو لا اگر ایک مومن کے جان کا خطرہ ہے مال کا خطرہ ہے میں اسے بچانے کے لئے جاوں یا دوسرا مومن کہ وہ جس کے دین اور ایمان کا خطرہ ہے تو میں کدھر جا وں ؟ امام نے فر ما یا اس کے پاس پہلے جاو جس کے دین ا ور ایمان کو خطرہ ہو ہرانسان کو کو ئی نہ کو ئی دن مر نا ہے مگر ا گر کو ئی بے دین ہو کر مر گیا تو اس کی ابدی زندگی چلی گئی امام کہتے ہیں جان کو اہمیت نہ دو دین ایمان کو زیادہ اہمیت دو سا ری طاقتیں ہمارے نوجوانوں کو گمراہ کر رہی ہیں اے مو من اے نو جوان اگر تمہارے اندر غیرت ختم ہو گئی تو تمہارے اندر ایمان بھی ختم ہو جا ئے گا مو لا علی کا جملہ ہے فر ما تے ہیں غیرت یکطرفہ نہیں ہو تی غیرت دو طرفہ ہو تی ہے فقط وہ غیرت مند نہیں جو کہتا ہے کہ میری بہن کو کو ئی نہ دیکھے میری ماں کو کو ئی نہ دیکھے میں سب کی بہن ما وں کو دیکھوں، مو لا فر ما تے ہیں وہ بے غیر ت ہے، غیرت مند وہ ہے جس کے پاس دو طرفہ کی غیرت ہو وہ بھی نہیں دیکھتا اور وہ بھی نہیں چا ہتا کہ کو ئی میری ماں بہن کو دیکھے امام حسین کا مقصد وہ تھا جو تمام انبیاء کرام کا تھا ”( هو الذی بعث فی الا میین رسولاً منهم یتلو علیهم آ یاته ویزکیهم و یعلمهم الکتاب و الحکمة و ان کا نوا من قبل لفی ضلال المبین ) (سورہ جمعہ آیت ۲) یعنی انسانوں کے نفسوں کوپاک کرنا گمراہی سے نجات دلاناہے شیطان کی قید سے آ زاد کرانا ہے اللہ کی طرف لیکر آ نایہ مقصد حسین ہے


مجلس ۲

بسم الله الرحمن الرحیم

فقد قال الله تبارک و تعالیٰ فی کتابه المجید بسم الله الرحمن الرحیم

( بقیة الله خیرلکم ان کنتم مو منین ) “ (سورہ ہود آیت ۸۶)

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہورہا ہے کہ بقیة اللہ یعنی امام زمانہ (عج) اس بزرگ و عظیم الشان ہستی کو خداوند عالم نے آج تک باقی رکھا ہے ان کا وجود تمہارے لئے خیر ہے تمہارے لئے بہترہے مگر شرط یہ ہے کہ اگر تم مو من بن جاومو من کے لئے وجود فرزند زہرا سے خیر ہی خیر ملتا ہے ہمارے امام غیبت میں ہیں غیبت کبریٰ کا زمانہ ہے اس میں ہماری اور آپ کی ذمہ داریاں ہیں پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ معرفت امام زمانہ نوجوانوں کے دلوں میں پیدا کریں اپنے بچوں کو سکھائیں انہیں تعلیم دیں کہ معرفت امام زمانہ کیا ہے جو بھی خدا ہمیں نعمت دیتا ہے ان کے صدقے میں دے رہا ہے اور اس قر آن کی بہت ساری آیات با ر بار بتلا رہی ہیں کہ جو بھی نعمت مل رہی ہے وہ بارہویں امام حجت خدا کے صدقے میں مل رہی ہے کا فر کو بھی ا گر مل رہی ہے تو ان کے صدقے میں مل رہی ہے مو من کو بھی اگر مل رہی ہے ان کے صدقے میں مل رہی ہے اور اگر جو شبہات ہیں سوالا ت ہیں ان کے بے شما ر جوابات ہیں کبھی کبھی یہ سورج بادلوں کے پیچھے چھپ جا تا ہے مگر یہ نہیں کہ اس کا فیض منقطع ہو گیا ہے یہ معمولی سورج اس کی شعائیں وہ بادلوں پا ر کرتے ہو ئے ہم تک پہنچ جا تی ہے بادلوں سے گذرے تے ہو ئے زمین پر دریاوں پر پہاڑوں پر پہنچ جا تی ہے یہ تو معمولی نور ہے مگر قرآن کہہ رہا ہے ”( الله نور سموات والارض ) اللہ کا نور وہ نور کون ہے حجت خدا امام خدا کا نور ہے زمین پر بھی اور آسمان پر بھی لہذا نور امام کا مقابلہ سورج کا نور نہیں کرسکتا ہے لہذا اگر غیبت کے پردے میں بھی چلے جا ئیں تب بھی امام کے وجود سے مسلسل فیض جاری ہے لوگ کہتے ہیں کہ امام تو غیبت میں ہیں امام کے وجود سے تب فائدہ ملے گا جب امام آپ کے سامنے ہو ں آپ جا کر امام سے مدد لیں آپ جا کر امام سے مسئلہ پوچھیں آپ کے امام تو غیبت میں ہیں تو اس کا کیا فائدہ اس سوال کا جواب کہ امام ہیں غیبت میں غیبت میں رہکر امام ہمیں کیسے فائدہ دیتے ہیں کیسے ہدایت دیتے ہیں ہم سب مسلمان ہیں ہم سب مسلمانوں کا قرآن پر ایمان ہے ہم سب کو ایک ایک لفظ قرآن پر ایمان ہے کہ قرآن نے خود کہا ہے میری تلاوت سے پہلے ضرور کہا کرو ”( اعوذبالله من الشیطان العین الرجیم ) “ پھرقرآن کی تلاوت کرو تا کہ تم شیطان کے شر سے بچ جاو یہ شیطان منحوس جو آج تک زندہ ہے کہا ہم سے کسی نے شیطان کو دیکھا ہے کسی نے نہیں دیکھا ہے ،مگر اس کے وجود سے کسی مسلمان کو انکار نہیں ہے یہ خبیث نظر تو نہیںآ تا مگر ضرور ہے تو وہ گمراہ کیسے کرتا ہے کہا شیطان نے ابھی تک کسی کا ہاتھ پکڑا کہ چلو سنیما چلیں نہیں ایسا نہیں ہے شیطان کہتا ہے کہ چلو جوا کھیلنے چلیں نہیں کیا شیطان ہا تھ پکڑکر کہتا ہے کہ چلو نشے کر نے چلیں پھر شیطان کیسے گمراہ کر تا ہے تو قر آن مجید میں بتلا یا ” یوسوس فی صدور الناس من الجنة و الناس “ لوگو! یہ شیطان وسوسہ کرتا ہے یہ کو ئی ہاتھ پکڑ کر شراب خانہ میں نہیں لے جا تا ہے بر ائی کی طرف نہیں لے جا تا کہا گناہ کا خیال لا تا ہے اگر ہم پاکستان میں ہو ں تب بھی وہ وسوسہ کرتا ہے اگر ہم مکہ میں ہوں تب بھی وہ وسوسہ کرتا ہے اگر ہم مدینہ چلے جا ئیں تو وہاں پر بھی وہ ہمیں گمراہ کرتا ہے ہم جہاں جہاں بھی چلے جا ئیں تو یہ شیطان اتنا خبیث ہے کہ وہ وہاں بھی ہمیں نہیں چھوڑ تا اور وسوسہ کرتا ہے یہ شیطان کون ہے دشمن خدا ہے شیطان کون ہے جسے اللہ نے نکال دیا جب دشمن خدا کے پاس جب گمراہ کرنے والے شیطان کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ غیب میں رہکر پوری دنیا کو گمراہ کررہا ہے تو بتا ئیے جو نور خد ابھی ہو حجت خدا بھی ہو اور امام بھی ہو اور بقیة اللہ بھی ہو تو کیا خدا کے نمائندے میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ غیب میں رہکر انسانوں کو ہدا یت دے۔

معرفت امام دلوں میں پیدا کر نا چاہئے لوگوں کے سوالا ت کے جوابات آنے چا ہئے تا کہ لوگوں کو گمراہی سے بچا ئیں امام زمانہ (عج) ، رسول خدا (ص) فر ما تے ہیں آ خری زمانے میں جو میرے بارہویں بیٹے کا صحیح سے انتظار کرے گا انتظار تو ہم سب کر رہے ہیں اہل تسنن بھی کر رہے ہیں انتظار تو سبھی کر رہے ہیں مگر رسول خدا فر ما رہے ہیں جو میرے بیٹے کا صحیح سے انتظار کرے گا اس کا مقام جنگ بدر اور جنگ احد میں شہیدہو نے والے میرے صحابیوں کے برابر ہے ۔ رسول نے فر ما یا کے تم بھی ان جیسے ہو سکتے ہو کے جو جنگ احدمیں شہیدہو گئے تم بھی ان جیسے ہو سکتے ہو جو جنگ بدر میں شہید ہو گئے مگر شر ط یہ ہے کہ آ خری زمانے میں سر کار کا صحیح انتظا ر کرو ،اب دیکھئے کہ صحیح انتظار کیا ہے ایک انتظار جھوٹا ہو تا ہے اور ایک سچا انتظار ہو تا ہے مثال کوئی کہے کہ آج میرے پاس ایک عظیم ترین بلند مرتبہ والا شخص میرے پاس مہمان بن کر ا نے والا ہے اور جب ہم نے آپ کے گھر کو دیکھا تو دیکھا کہ ایک طرف کچرا پڑا ہوا ہے دو سری طرف مٹی پڑی ہو ئی ہے اور کو ئی انتظام نہیں ہے ہم کہیں گے کہ وہ کہہ رہا ہے کہ کائنات کا عظیم شخص ہما رے یہاں آ نے والا ہے سب سے محبوترین شخص جس پر جان فدا وہ آنے والا ہے اور انھوں نے کچرا سا منے رکھ دیا ہے تو ہم انہیں کہیں گے کہ آ پ یہ جھوٹا انتظار کررہے ہیں اگر کائنات کا سب سے محبوترین شخص آ نے والا ہے تو آ پ کو اس کے کمرے کو کتنا نورانی بنا نا تھا کتنی خوشبو کی چھنکار سے اسے معطر کر نا تھا تا کہ دیکھنے والے بھی کہیں کہ یہ سچا انتظار ہے تو ہم سب کہتے ہیں العجل مو لا جلدی ا ئیے ہم خود اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ ہم سچا انتظار کر رہے ہیں یا جھوٹا انتظار کر رہے ہیں اور دیکھئے امام کی نظر وہ ہمارے گھروں پر نہیں ہے کہ کہیں اُس کا کتنا بڑا بنگلا ہے کہ فلاں کا کتنا چھوٹا فلیٹ ہے کہ فلان جھونپڑی میں رہتا ہے نہیں کبھی بھی امام یا نبی گھروں کو نہیں دیکھتے کہ فلان کا گھر بڑا ہے یا چھوٹا ہے قرآن نے بتلا دیا کہ امام کس چیز کو دیکھتے ہیں فر ما یا( ان اکر مکم عند ا لله اتقاکم ) (سورہ حجرات آیت ۱۳) خدا نبی و امام کیا دیکھتے ہیں وہ ہمارے دلوں کودیکھتے ہیں کہ اس کے دل میں کتنا تقوا کا نور ہے جو انسان کہہ ر ہا ہے کہ مو لا آئیے آ ئیے و ہ اپنے دل کو دیکھے کہ کیا وہ اس نے اپنے دل کو صاف کیا ہے یا نہیں صرف زبان سے کہہ رہا ہے مو لا آ جائیے مگر دل کو اس نے صاف نہیں کیا ہے دل میں گناہ ہے دل میں یہ سب گناہوں کی نجاست ہے حقوق خدا ادا نہیں کر رہا ہے پھر بھی کہہ ر ہا ہے العجل العجل تو یہ تو جھوٹا انتظار ہے۔

دوسری حدیث میں ہے کہ اللہ کے رسول نے فر ما یا : مر نے کے بعد انسان کا اعمال نامہ بند ہو جا تا ہے مگر تین اعمال کریں تو آ پ کا اعمال نامہ بند نہیں ہو گا ایک تو ا گر آپ نے مسجد بنا ئی ہے امام بارگاہ بنا ئی ہے جب تک اس مسجد میں نماز ی نماز پڑ ھ رہے ہیں تو آ پ کو قبر میں بھی اُس کا ثواب ملتا رہے گا تو اعمال نامہ بند نہیں ہو گا دوسری چیز یہ ہے کہ اگر اچھی کتاب لکھو گے اسے چھپوادو تو وہ اجر تمہا رے لئے جاری رہے گا۔

ہمارے پاس کتابوں کی بے انتھا کمی ہے اور تبلیغ کے لئے بہترین ذریعے کتا ب ہیں چند سال لنڈن میں یہ باتیں ہورہی تھیں کہ ہماری محبت کے بغیر الحمد للہ کتنے لوگ ہیں کہ وہ خود شیعہ ہو گئے ہیں یہ لوگ تیجانی کی کتاب سے جس کا نام Then i was guided او دوسری Nights of peshwer یہ وہ کتابیں جن سے مسلمان شیعہ ہو جا ئے یا نیا مسلمان مسلمان ہو جائے ان کی تعداد بیس سے زیادہ نہیں ہے ہم دنیا میں تیس کروڑ شیعہ ہیں اور انگلش میں ہمارے پاس وہ کتابیں جن کو کو ئی پڑھ کر کنورٹ ہو جا ئے اور مذہب اہل بیت کو قبول کر لے اُس کی تعداد بیس سے زیادہ نہیں ہے یہ کتابیں بیس ہزار میں بھی چھپ سکتی ہیں اس میں جو رکاوٹ ہے وہ یہ ہے کہ ہمارے پاس کم لوگ ہیں جو تر جمہ جانتے ہیں اگر اس نکتہ کی طرف لوگ متوجہ ہو جا ئیں خصوصاً انگلش میں ان کا تر جمہ کروا نا چا ئیے کیوں کہ آ ج دنیا میں جو انٹرنشنل زبان چل رہی ہے وہ انگلش ہے اللہ کے رسول فر ما تے ہیں کہ کتاب چھپواکے مرو جب تک کتاب پڑھنے والے پڑھیں گے تمہیں قبر میں ثواب ملتا رہے گا اور عذا ب کم ہوتا رہے گا نعمتیں بڑھتی رہیں گی جتنا بھی کا غذ ضعف ہو مگر کتاب کی کم سے کم ایک کتاب کی سو سال تک عمر ہے اور تیسری چیز جو اللہ کے رسول نے فر ما یا اولاد صالح اگر بچہ صالح ہے اگر آ پ نے بچے کو نمازی بنا یا جب تک وہ نماز تہجد پڑھے گا قبر میں ا پ کو ثواب ملے گا بچے کو آپ نے عشق حسین سکھا یا اگر وہ کربلا کی زیارت کے لئے جا ئے گا تو قبر میں آپ کوثوا ب ملے گا امام ز مانہ (عج) کے بارے میں رسول خدا (ص) نے فر ما یا ہے اگر کوئی چو تھی چیز کر کے مرے تو اُس کا اعمال نامہ کبھی بند نہیں ہو گا وہ کیا ہے ؟ وہ ہے ”رابطو ا“ گر کو ئی انسان اپنے امام زمانہ سے رابطہ قائم کرے ، ہم سب امام زما نہ کے عاشق ہیں مگر رابطہ بہت کم لوگوں کا امام کے ساتھ ہے اگر کو ئی اپنے زمانے کے امام سے رابطہ قائم کر لے اُن کا کبھی اعمال نامہ بند نہیں ہو تا بلکہ قبر میں بھی اُن کا اعمال نامہ کھلا ہوا ہے کیوں کہ امام یہاں موجود ہیں اور اُن کا زندگی میں امام سے رابطہ تھا لہذا مسلسل قبر میں انھیں ثواب ملے گا ۔

اگر امام سے رابطہ ہو گیا تو ہر چیز آپ کے قدموں میں آ جا ئے گی جس کا رابطہ امام سے ہو گیا وہ دنیا کا بھی بادشاہ آخرت میں بھی اُس کے لئے نجات ہے را بطہ کے لئے اولین شرط یہ ہے کہ امام کے اخلاق کی کچھ صفات ہم اپنے اندر پیدا کریں اگر اخلاق امام کو جانناہے تو کو ئی مشکل کام نہیں ہے کیوں کہ رسول خدا نے فر ما یا ”اولنا محمد اوسطنا محمد آخرنا محمد ہمارا پہلا بھی محمد ہمارا در میانی بھی محمد ہمارا آ خری بھی محمد ہم بارہ کے بارہ محمد ہیں لہذا جو اخلاق مو لا علی کا ہے وہی اخلا ق امام حسن کا ہے جو اخلا ق امام حسن کا ہے و ہی اخلاق امام حسین کا ہے جو اخلاق ہمارے اہل بیت ٪کا ہے وہی اخلاق ہم اپنے اندر پیدا کر لیا تو یقیناً امام سے رابطے میں دیر نہیں ہو گی ہمارے اہل بیت ٪کا اخلاق کس قدر اعلی تھا کس قدر عظیم تھا کہ دشمن بھی ان کے اندر نقص تلاش نہ کرسکا اہل بیت ٪کس قدرحلیم تھے ہم چھوٹی چھوٹی باتوں پر غصہ میں آ جا تے ہیں ایک شام کا رہنے والا آ یا اور امام حسن (ع) کو گالیاں دینا شروع ہو گیا تو وہ الفاظ اصحاب کے لئے نا قابل برداشت تھا انہوں نے کہا مو لا ہم اس کا جواب دیں گے تو مولا نے کہا نہیں نہیں! جس قدر اُس کو بر ابھلا کہنا تھا امام سنتے رہے آخر وہ تھک گیا جب وہ تھک گیا تو امام نے آگے بڑھ کر مسکرا کر فر ما یا تم مسافر لگتے ہو اگر تمہیں گھر کی ضرورت ہے تو میں گھر دینے کے لئے تیار ہوں اگر بیمار لگتے ہو تو میں تیرے لئے طبیب لا نے کے لئے تیار ہوں اگر مقروض ہو تو میں تیرا قرض ادا کر نے کے لئے تیار ہو ں یعنی اس نے بداخلاقی کی حد کر دی اور امام معصوم نے کر م کی حد کردی اس قدر امام اس کے دل میں پیوست ہو گئے کہ روتے روتے امام کے قدموں پر گر گیا کہنے لگا مو لا جب تک میں نے آپ سے ملاقات نہیں کی تھی جو آپ کے خلاف میں نے پروپکنڈے سنے تھے جب میں شام میں تھا اورجب میں نے آ پ کو نہیں دیکھا تھا تو دنیا میں سب سے زیادہ مجھے آ پ سے نفر ت تھی دنیا میں سب سے زیادہ آ پ سے دشمنی تھی مگر جب میں نے ابھی آپ کو دیکھا تو اس وقت کائنات میں سب سے زیادہ آپ سے محبت ہو گئی ہے اہل بیت کا اخلاق کیا ہے اگر وہ اخلاق ہمارے اندر آ جا ئے تبھی امام زمانہ سے رابطہ ہو گا را بطے کے لئے ایک کام ضرور کیا کریں کم سے کم مہینے میں ایک مرتبہ امام زمانہ کو اپنے گھر دعوت دیاکرو جب کہ جو بھی ہمیں نعمتیں مل رہی ہیں وہ سب امام کے صدقے میں مل رہی ہیں ہمیں چاہئے کہ امام کو کم سے کم ایک مر تبہ اپنے گھر میں بلا ئیں اور خود امام نے فر ما یا ہم آ ئیں گے ہم کہیں گے امام کیسے آ ئیں گے امام نے فر ما یا: اے مومنوں جمعہ کے دن نماز فجر کے بعد دعائے ندبہ کا انتظام کیاکرو تو یقیناً ہم تمہارے گھر میں آ ئیں گے مشہد میں حرم امام رضا (ع) میں جمعہ کے دن پچاس سا ٹھ ھزار کا مجمع ہو تا ہے اور وہاں دعائے ندبہ ہو تی ہے اور وہاں پر انہوں نے ایک خاص گھر امام زمانہ کا بنا یا ہے اُس کا نام انہوں نے مھدیہ رکھا ہے وہاں پر بھی جمعہ کے دن دس بیس ہزار کا مجمع ہو تا ہے اور وہاں سب کو ناشتہ بھی دیا جا تا ہے بلکہ وہاں لو گوں کے گھروں میں بھی دعائے ندبہ ہو تی ہے امام زمانہ سے رابطہ کر نے کے لئے کم سے کم یہ دعائے ندبہ کا انتظام کیا جا ئے اس سے رزق میں بھی ترقی ہو گی ا ور جو بھی بیماری ہو گی وہ ختم ہو جا ئے گی ۔

نجف اشرف میں ایک شخص رہا کر تا تھا ان کی والدہ ہر روز اپنے گھر میں چھوٹی سی مجلس کا انتظام کر تی تھی نجف میں ایک زمانہ ایسا آیا کہ وہاں وبا آئی ا ور جب وبا ا ئی تو کو ئی گھر نہ بچا کسی نہ کسی گھر میں ایک دو لوگ مر چکے تھے مگر اُن کا واحد گھرتھا کہ ان کے گھر کا کو ئی فرد نہ مر ا تو وہ لوگ سونچنے بیٹھ گئے کہ ہم کیوں نہیں مرے انہیں فقط یہ بات سمجھنے میں آ ئی کہ ہر دن امام حسین کی مجلس منعقد ہو نے کی وجہ سے یہ ہوا ہے۔

اگر ہم چاہتے ہیں تا کہ امام زمانہ سے رابطہ منعقد ہو تو آپ اسلام کے لئے تبلیغ کریں اگر آپ نے کسی غیر مسلمان کو مسلمان بنا یا تو یقین جا نئے کہ امام کی زیارت نصیب ہو گی ۔

لکھنے والا کہتاہے ۹۵ میں جب امریکا میں نیانیا انٹرنیٹ آ یا تھا اُس زمانے میں اُن کا مشغلہ یہ ہو گیا تھا کہ وہ عیسائیوں سے مناظرہ کرے تو بہت بڑے بڑے پادریوں نے ان سے کتابیں مانگیں تو یہ اُن کا تبلیغ کا سلسلہ تھا تو اُسی دوران اُس شخص نے خواب دیکھا اور اُسی خواب میں انہوں نے وہ منظر دیکھا جو مباھلہ کا منظر تھا تو انہوں نے پرکٹکل دیکھا کہ اس سے کتنا ثواب ہو تا ہے اور کیسے اہل بیت را ضی ہو تے ہیں اور اپنی زیارت کراتے ہیں دیکھا کہ مباہلہ کے میدان میں پنجتن پاک کی زیارت اس طر ح سے نصیب ہو ئی اگر آپ تبلیغ اسلام کریں گے خصوصاً عیسائیوں کو مسلمان بنا نے کا کام شروع کریں گے تو امام زمانہ سے را بطہ میں دیر نہیں ہو گی فوراً آپ کا رابطہ ہو جا ئے گا یہودی پوری دنیا پر قابض ہو چکے ہیں اس کی کو ئی سا زش مسلمانوں کے پاس نہیں ہے یہ پرسیڈنٹ یا وزیر ہیں یہ سب ان کے پٹھو ہو چکے ہیں۔

اقتصادیات پر ان کا کنٹرول ہے میڈیا پر اُن کا کنٹرول ہے آج یہودی چا ہتے ہیں تا کہ سارے مسلمانوں کو اپنے کنٹرول میں لے لیں عراق کے بعد پاکستان کا نمبر ہے تو لہذا صرف و صرف ہمارے پاس ایک طریقہ ہے کہ ہم عیسائیوں کو مسلمان بنا ئیں تو ایک دن ان کی مجارٹی آ گے آ سکتی ہے کہ ان یہودیوں کا کنٹرول وہاں سے ختم ہو جا ئے یہ با ت بھی تجربے کی بنیاد پر ہے جیسے انگلنڈ میں کئی مسلمان کوشش کر رہے ہیں کہ برٹش گورمنٹ جیسے دوسروں اسکولوں کو برانچ دیتی ہے وہ مسلمان اسکولوں کوبھی برانچ دیں مگر نہیں یہ برانچ نہیں مل رہی تھی مگر جب اُن کا گانے والا مسلمان ہو گیا تو اس نے اسکول کھولا کیوں کہ وہ ان کا گورا تھا وہ جا کر کیس لڑا جب اُ س کو اسکول بنا نے کی برانچ مل گئی تود وسرے مسلمانوں کے لئے بھی دروازے کھل گیا اگر ہم انہیں مسلمان بنائیں اگران کے بڑے بڑے پروفسرز کو ان کے اہم لوگوں کو مسلمان بنائیں تو یہودیوں کا زور ٹوٹ سکتا ہے اس کے علاوہ کو ئی چارہ نہیں ہے کیوں کہ ہمارے حکمران بھی ان کے پٹھو ہیں ہمارے ملک میں سائنسدانوں کو ذلیل کر دیا حالا نکہ سائنسدان کہتے ہیں کہ ہم ملک کی خدمت کر نا چا ہتے ہیں اب کون پاکستانی ا ئے گا کیوں کہ ایک دروازہ ان کا بند کر دیا گیا ہے انہیں کہا گیا کہ اگر پاکستان جاو گے تو تمہیں ذلیل کر دیا جا ئے گا احمد جن کا انتقال ہو گیا ہے انہوں نے بہت تبلیغ کی مگران کی کتابیں پندرہ سولہ ہیں اس نے اپنی زندگی میں پچاس ہزار سے زیادہ عیسائیوں کو مسلمان بنا یا تھا اس کی کتابیںآ پ پڑھ لیں تو ایک عیسائی کو مسلمان بنا سکتے ہیں عیسا ئیوں کے پاس اصلا کچھ بھی نہیں ہے توریت سے وہ کئی مناظروں میں شکست کھا چکے ہیں اور وہ رو حانی طور پر بالکل تباہ ہو چکے ہیں ان کے یہاں تین خدا کا تصور ہے ایک God دوسر ا jeses یعنی حضرت عیسیٰ تیسرا Holy gost یعنی روح القدس جب کہ ہمارے یہاں توحید ہے ان کا عیقدہ خود ان کی کتاب سے ثابت ہو سکتا ہے کہ یہ قاتل ہیں ہو لی ٹرنی کا عقیدہ وہ بالکل غلط ہے حضرت عیسی خدا نہیں ہیں نہ خدا کے بیٹے ہیں آ یت There is non like god کہ کو ئی خدا جیسا نہیں ہے یہ بالکل اسی آ یت کا تر جمہ ہے ”لیس کمثلہ شئی“ کو ئی اللہ جیسا نہیں ہے چپڑ ۲۵آ یت نمبر۱۳ اس آ یت میں یہ حضرت عیسیٰ کو خدا کہہ رہا ہے look my servent jeses

خدا کہہ رہا ہے اے میرے نوکر عیسی سن اب جو نوکر ہے وہ خدا کیسے ہے خود ان کی توریت میں یہ جملہ مو جود ہے اس انجیل کی آ یت چپڑ۱۲ آیت کا نمبر ۱۸ look my servent jeses ا پ خود عیسائیوں سے سوال کر سکتے ہیں کہ عیسی کیسے خدا ہیں انہیں ہم کہہ سکتے ہیں کہ دیکھو خدا خود عیسیٰ سے کہہ رہا ہے اے عیسی تم میرے نوکر ہو اُس کے بعد دو سری آ یت وہ بے انتھا اہم ہے صرف یہ آ یت اگر آ پ یا د کر لیں تو اُ ن کے عقیدہ کو بگاڑ سکتے ہیں چپٹر مارسورن آ یت کا نمبر ۲۹ ہے jeses replied" The most important camandment is this her o Israil the lord over god is one only non کہ حضرت عیسی نے عیسائیوں کو جواب دیا اے عیسائیوں ہمارا خدا ایک ہے( تین نہیں ہیں) اور یہی ایک ہمارا خدا ہے ہمارا ماسٹر ہے اس کا جواب یہ عیسائی نہیں دے دسکتے ہیں ہم انھی کی کتاب سے ثابت کرسکتے ہیں کہ یہ ھو لی ٹرنٹی کا عقیدہ غلط ہے یہ تو ریت و انجیل کے خلاف ہے ۔

جب بھی مشکل کا وقت ا ئے تو امام زمانہ کی زیارت پڑہا کریں امام زمانہ آ ج بھی ہماری مدد کر رہے ہیں مریضوں کو شفا دے رہے ہیں جب ایران میں عملیات کربلا ۵ میں حملہ کیا گیا تو وہاں ایک مو من تھا بسیجی (یعنی رضا کا ر) تھااس کا نام جاوید تھا وہ زخمی ہو گیا تھا اُ س کے کان کے پردے پھٹ گئے تھے تو اسے ہاسپٹل میں داخل کیا گیا تو وہ وہاں نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں گیا تو اُس نے وہاں دیکھا کہ مسجد کو سجا یا گیا ہے تو اس نے لوگوں سے سوال کیا کہ ا ج مسجد کیوں سجا ئی گئی ہے تو لوگوں نے کہا کہ آج پندرہ شعبان ہے امام زمانہ کی ولا دت کا دن ہے تو وہ مریض بھی تھا تو عشق امام اس کے دل میں پیدا ہوگیا آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور ڈاکٹر کے پاس ا یا اور کہنے لگا کہ آپ نے مجھے ظاہراً لاعلاج کر دیا ہے مگر آ ج پندرہ شعبان ہے میں مسجد جمکران جا نا چاہتا ہوں اور وہاں جاکر التجا کروں گا کہ مولا مجھے صحت عطا کریں کم ایمان والا ڈاکٹر تو اُس نے قلم سے لکھ کر کہا کہ یہ کیسی باتیں کر رہے ہو تم پڑھے لکھے آدمی ہو اگر ایسے ہی شفا ملتی تو پھر یہ ہاسپٹل بند ہو جا تے تو اُس کو اس جملہ سے زیادہ تکلیف ہو ئی کہ یہ تو خود کو شیعہ کہہ رہا ہے مگر اس نے امام زمانہ کی توہین کی ہے یعنی کہ امام زما نے کے پاس طاقت نہیں ہے کہ امام زمانہ ایک مریض کو شفا دے سکیں مگر اُس نے ڈاکٹر سے کہا کہ بہر حال مجھے جا نا ہے تو وہ مسجد جمکرآن آ گیا اور مسجد جمکران میں دو رکعت نماز ادا کی اور رو رو کر دعا کی کہ اے مولا مجھے اپنے کانوں کی فکر نہیں ہے مو لا اگر میں آپ پر ستر مرتبہ بھی قربان ہو جا وں اور پھر زندہ کیا جاوں تو بھی میں پیچھے نہیں ہٹنے والا ہوں میں پھر بھی آ پ کے قدموں پر قربان ہو جاوں گا مگر میں صرف اس ڈاکٹر کو بتا نا چا ہتا ہوں کہ ہمارے امام آج بھی مو منین کی مددکرتے ہیں رو رو کر وہیں اس کی آنکھ لگ گئی تو اُس نے خواب میں دیکھا کہ اچانک شور ہوا ہے کہ امام زما نہ آ رہے ہیں اس نے خواب میں مولا کی زیارت کی اوربہت ہی لذت حاصل کی اور واقعاً اگر کو ئی خواب میں کسی معصو م کو دیکھے تو وہ پورا دن انسان کا نورانی گذرے گا اور اسی طرح ہوا کہ اُس کا وہ پورا دن اچھاگذرا لیکن اس کے کان بالکل ٹھیک نہیں ہو ئے تھے اب جیسے ہی وہ ہاسپٹل میں داخل ہوا تو اچانک کسی نرس نے دروازہ بند کیا تو اُس نے دروازے کی آ واز سنی تو نرس سے کہا کہ جلدی سے ڈاکٹر کو بلاو کہ میرے کان ٹھیک ہو رہے ہیں تو لوگوں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہے آ خر ڈاکٹر آ گئے اس کو معاینہ کے لئے لے گئے جب اس کے کانوں کے پردوں کو دیکھا کہ الحمد للہ وہ بالکل صحیح سن بھی ر ہا تھا اور اسی طرح سے اس کی ساری مشکل کو امام زمانہ نے حل کردی۔

اگر آج بھی اگر ہم امام زمانہ سے رابطہ کریں تو ہماری مشکلیں حل ہو سکتی ہیں مریضوں کو شفا مل سکتی ہے ہمارے امام موجود ہیں امام کی طرف سے کو ئی دیر نہیں ہے ہمارے اندر جو خامیان ہیں ہمارے اندر طہارت کی کمی ہے ہمارے گناہ زیادہ ہو گئے ہیں امام نے خود فر ما یا: اے شیعو! ہم تم سے دور نہیں ہیں تمہارے گناہوں نے تم کو ہم سے دور کردیا ۔


مجلس ۳

فقد قال الله تبارک وتعالیٰ فی کتابه المجید بسم الله الرحمن الرحیم

( بقیة الله خیرلکم ان کنتم مومنین ) “(سورہ ہود آیت ۸۶)

اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس آیہ کریمہ میں ارشاد فر ماتا ہے بقیة اللہ جس ہستی کو میں نے آج تک باقی رکھا ہے اگر تم مو من ہو تو بقیة اللہ کا وجود تمہارے لئے خیر ہی خیر ہے مو منین کے لئے وجود امام با برکت ہے اور خیر و سعادت کا سبب ہے معرفت امام حاصل کرنا ہر مو من کے لئے لازم ہے یہاں تک کہ یہ حدیث جو شیعہ سنی کتابوں میں ہے کہ فر ما یا ”من ما ت و لم یعرف امام زمانہ مات میتة جاھلیہ“ اگر کوئی مرجا ئے ا ور زمانہ کے امام کی معرفت حاصل نہ کرے تو اُس کی موت جہالت کی موت ہے ، یہاں جہالت سے مراد وہی کفر ہے جو اسلام سے پہلے جہالت تھی، یعنی جس نے اپنے زمانہ کے امام کی معرفت حاصل نہ کی تو وہ ابو جہل کی طرح مر گیا یہ خود حدیث بتلارہی ہے کہ ہر زمانے میں امام ہونگے تو معرفت حاصل کریں گے ،کوئی زمانہ امام کے وجود سے خالی نہیں ہے۔

دوسری عقلی دلیل یہ ہے کہ قر آن نے کہا ،میری تلاوت سے پہلے ”( اعوذبالله من الشیطان الرجیم ) “ یعنی شیطان جو گمراہ کرنے والا ہے اسے ابھی تک مو ت نہیں آ ئی ہے شیطان کے بارے میں سارے مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ یہ کمبخت ابھی تک زندہ ہے عقلی دلیل یہ ہے کہ اگر گمراہ کرنے والا موجود ہے ا گر اللہ کے راستے سے ہٹانے والا مو جود ہے تو عدل الہی کا تقاضا ہے کہ ہادی بھی موجود ہو ۔

خدا عادل ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ شیطان موجود ہو اللہ کے راستے سے ہٹانے والا مو جود ہو مگر اللہ کے راستے پر بلا نے والا موجود نہ ہو لہذا امام آج بھی موجود ہیں ہماری کو تاہیاں ہیں کہ ہم امام سے دور ہو تے چلے جارہے ہیں سورہ آ ل عمران کی آخری آیت میں اللہ فر ماتا ہے ”( یا ایها الذین اٰ منوا اصبروا وصابروا ورابطوا واتقوالله لعلکم تفلحون ) “ (سورہ آل عمران آیت ۲۰۰) یہاں خدا تین حکم دے رہا ہے اے مومنو! ذکر کرو پھر کہہ رہا ہے صبر کرو پہلے بھی کہا کہ صبر کرو پھر بھی کہہ رہا ہے صبر کرو یقیناً ان دونوں صبروں میں کو ئی فر ق ہے ۔

حضرت محمد باقر (ع) سے سوال کیا گیا کہ مولا یہ آیت ہمیں سمجھ میں نہیں آ رہی ہے کہ خدا دو مرتبہ کہہ رہا ہے کہ صبر کرو اے مو منو! صبر کرو اور صبر کرو ”ورابطو“ اور ان سے را بطہ کرو دو مرتبہ صبر کا لفظ استعمال کیا تو امام نے تفصیل فر ما ئی یہ جو پہلی مرتبہ صبر کا حکم ہے اُس سے مراد یہ ہے کہ پروردگار کی جو جو چیز آپ پر واجب کی ہے اسے اداکریں چاہے وہ نفس پر گران گذرے مگر صبر کریں کیوں کہ نفس کو عبادت پسند نہیں مثال نماز فجر پڑھنی ہے مگر کب اٹھنا ہے نفس کے مطابق کہ وہ کہے گا کہ یہ نیند کا وقت ہے پوری رات جاگے ہو ئے ہو بستر پر سو جا و مگر اٹھ کر نماز پڑھی تو یہ نفس پر گران گذرتا ہے مگر صبر کرو یہ امام کا حق ہے ادا کرو یتیمون کا حق ادا کرو اسی طرح سے اگر جہاد کا حکم آ جا ئے تو جہاد سخت ہے مگر اُس پر صبر کرو حج واجب ہو گیا ہے گرمی کا موسم ہے یا سر دی کا موسم ہے مگر صبر کرو یہ صبر ہے ، او ردو سرا جوصبر ہے دوسری مرتبہ جو صبر کا لفظ آ یا یہ اُس کے لئے ہے کہ دشمن اسلام جب تم پر حملہ کریں ء دشمنان اہل بیت ٪جب تمہیں تکلیفیں دیں تا کہ تم اہل بیت کا دامن چھوڑدو وہاں پر دامن اہل بیت ٪ مت چھوڑنا قرآن کے دامن کو مت چھوڑ نا بلکہ صبر کرنا ۔

اور پھر فر ما یا ”ورابطو “ کہ رابطہ قائم کرو امام تفصیل فر ما تے ہیں یہ جو رابطے کا حکم ہے کہ رابطے قائم کرو یہ کن سے رابطے قائم کرنا ہے ؟ یہ اپنے زمانے کے امام سے رابطے میں رہو رسول خدا فر ما رہے ہیں کہ امام سے رابطے قائم کرو ، امام سے را بطے قائم کرنا کو ئی مشکل کام نہیں ہے جیسے ہم شوق رکھتے ہیں کہ فر زند زہرا کی زیارت کریں ادھر خود امام بھی بعض مو منین سے ملنے کا شوق رکھتے ہیں ہمارے اندر صلاحیت پیدا ہو جائے تو امام کی زیارت میں دیر نہیں ہے خود امام چاہتے ہیں کہ بعض مومنین سے ملاقات کریں کیوں کہ ان کے ا ندرصلاحیت ہے سر کار امام جعفر صادق (ع) فر ما تے ہیں کہ مجھے قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبض قدرت میں میری جان ہے ، امام قسم اٹھا کر کہہ رہے ہیں تا کہ کو ئی شک نہ کرے اور بہت اہمیت بتلا نے کے لئے بھی کبھی کبھی قسم کھائی جاتی ہے اس کائنات میں کچھ ایسے مومنین ہیں جن کی نظر میں دنیا کی ساری دولتیں جن کی نظر میں دنیا کے سارے سو نے جواہرا ت پوری دنیا کے خزانوں کی قیمت اُن مو منین کی نظر میں مچھر کے پر کے برابر بھی قیمتی نہیں ہیں امام قسم کھا کر کہہ رہے ہیں میں اُن کی زیارت کا شوق رکھتا ہوں امام کہتے ہیں کہ میں شوق رکھتا ہوں کہ اُن مو منین کے ساتھ گفتگو کروں اصحاب نے سوال کیا ہو گاکہ مو لا اُن کے صفات کیا ہیں کہ وہ خاموشی میں رہتے ہیں اور یہ خاموشی ذکر خدا ہے ذکر اھل بیت ہے یہ خا موشی اما م سے رابطہ ہے اور اُن کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ نماز کو قائم رکھتے ہیں اُن کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ حالت فقر میں اور امیری میں بھی وہ مو منین کی مدد کرتے ہیں یہ گناہ ہے جو رکاوٹ ہے کہ ہم اپنے مولا کو نہیں دیکھ پا تے ہیں اور دوسری رکاوٹ کیا ہے وہ حب دنیا پیسہ کی محبت ہے کہ جو انسان کو امام سے دور کرتی ہے اگر ہمارے اندر حب دنیا ہے تو یہ رکاوٹ ہے کہ ہم امام سے دور ہوتے چلے جا ئیں گے اور دوسرا گناہ ہے جو رکاوٹ ہے جب امام زمانہ تشریف لیکر آ ئیں گے تو انسان کی عقل اتنی بلند ہو جا ئے گی کہ انسان کی نظر میں سونا اور خاک برابر ہو گا۔

روایت میں ہے کہ ایک خاتون پو رے سونے میں ڈوبی ہو ئی کوفہ سے لیکر دوسرے شہر جا ئے گی تو کو ئی اسے نہیں لوٹے گا کو ئی اسے اذیت نہیں دے گا اور ایک آدمی کئی کیلو سونے لیکر چلا ئے گا کہ کو ئی مستحق ہے کو ئی زکات لینے والا ہے کو ئی آ کر یہ نہیں کہے گا کہ میں مستحق ہو ں مگر آج کو ئی مستحق بھی نہ ہو مگر آ کر کہے گا کہ میں مستحق ہو ں مجھے دے دو آ یت اللہ نراقی نے خوب جملہ کہا : کہ کیا میں اُس شئی کا عاشق بنو جس کے بارے میں مجھے یقین ہے کہ میں اُس سے جدا ہو نے والا ہوں اور وہ مجھ سے بے وفائی کرنے والا ہے؟ انسان جو دولت سے محبت کر تا ہے اس لئے کہ اُس کی عقل ناقص ہے جب امام آ ئیں گے تو انسان کی عقل ترقی کرے گی کیا ہو گا کہ دولت کی محبت انسان کے اندر سے بالکل ختم ہو جا ئے گی اور اُس کی جگہ پر خدا کی محبت کا نور آ جا ئے گا کیوں کہ خدا کی محبت قبر میں بھی ساتھ رہے گی اور اسی طرح سے ا ہل بیت کی بھی محبت قبر و قیامت میں بھی ساتھ رہے گی۔

رسول خدا (ص) نے پیسہ کی حقیقت کو بتلا نے کے لئے اصحاب کو دریا کے کنارے جمع کیا اور رسول خدا نے اپنا ہاتھ دریا میں ڈالا اور پھر نکا لا اور فر ما یا میرے صحابیو! یہ بتاو یہ جومیرے ہاتھ پر چند قطرے پانی کے لگے ہیں کیا ان قطرات کا مقابلہ دریا سے کیا جا سکتا ہے کہا دریا کا مقابلہ ان چند قطرات سے کیا جاسکتا ہے سب نے کہا یہ کیسے ہو سکتا ہے یہ تو چند قطرے ہیں یہ تو اتنا بڑا در یا ہے بس اتنا سننا تھا تو یہیں پر اللہ کے رسول نے فر ما یا: اے میرے صحابیو! اے مسلمانو! کبھی دنیا کی لا لچ میں مبتلا نہ ہونا دنیا کی پوری زندگی یہ پانی کے چند قطرات کے برابر ہے اور آخرت کی زندگی وہ بہتے ہو ئے پانی کی طرح ہے اور یہی جملہ قر آن میں بھی ہے ”( بل تؤثرون الحیاة الدنیا و الاخرة خیر وابقیٰ ) “(سورہ الاعلی ۱۶/۱۷) اے یہ دنیا کی زندگی چند قطرہ کے برابرہے کچھ بھی نہیں ہے خواب ہے مگر آ خرت کی زندگی ابدی زندگی ہے ۔

امام زمانہ کے ساتھ رابطہ رکھنے کے لئے دعائے عہد کو اگر کو ئی چالیس دن مسلسل پڑھے اگر غذا حرام نہیں ہے اگر کوئی گناہ رکاوٹ نہیں ہے تو انشاء اللہ خواب میں امام کی زیارت ہو جا ئے گی دعائے عہد کے کیا معنی ہیں؟ اس کے معنی یہ ہیں کہ آپ امام زمانہ کے ہاتھ پر بیعت کر رہے ہیں اور دوسرا یہ کہ روزانہ امام کا صدقہ نکا لیں امام کے صدقہ سے بہت برکتیں ہو تیں ہیں بہت فوائد ہو تے ہیں اور اس صدقہ سے غریب بچیوں کی شادیان بھی کرواسکتے ہیں اُس رقم سے غریب بچے پڑھ بھی سکتے ہیں سرحد میں ایک گاوں کے لوگ وہاں صدقہ دیتے ہیں ایک دفعہ وہاں پر تیس ھزار لوگوں نے حملہ کیا واقعاً وہاں امام زمانہ کے صدقے سے وہ تیس ھزار لوگو ں کا لشکر شکست کھا گیا اور الحمد للہ مو منین محفوط ہو گئے ان کی عزت محفوط ہو گئی ان کی جان محفوط ہو گئی یہ سب امام زمانہ کا صدقہ ہے ہر کھانے سے پہلے صدقہ دیا کریں را بطے کے لئے صدقہ ضرور دیا کریں اور تیسرا یہ کہ غیر مسلمانوں کو مسلمان ضرور بنایا کریں (جنگ اخبار) میں ہے کہ انگلنڈ کی اخبار سے رپورٹ ہے کہ انگلنڈ میں کئی ہزار لوگوں نے مذہب اہل بیت کو قبول کیا ہے اور شیعوں کے انگلش اسکولوں میں بچوں کو احمدیت کی کتابیں پڑھا یا کریں تا کہ وہ عیسائیوں کو مسلمان بنا سکیں اور اسی با ئبل سے انہیں ہم شکست دے سکتے ہیں آج تک کو ئی بھی عیسائی مسلمان سے جیت نہیں سکاہے کیوں کہ اسلام دین حق ہے اسلام دین فطرت ہے اگر کو ئی عیسا ئی کو مسلمان بنا نا ہے تو سب سے پہلی بحث تو حید کے با رے میں کرنی ہے کیوں کہ اُن کے یہاں تین خدا ہیں اُن سے کہا جا ئے کہ حضرت عیسی کو کیوں خد ا کہتے ہو تو وہ کہتے ہیں کہ تو ریت اور انجیل میں ہے کہ حضرت عیسی خدا کے بیٹے ہیں Only begoten son توریت میں ہے کہ خدا نے کہا کہ تم میرے بیٹے ہو یہ بیٹے کا لفظ با ئبل میں ہر ایک کے لئے استعمال ہو اہے کہ ہم اُن کو دو منٹ میں شکست دے سکتے ہیں کہ آپ کا یہ نظریہ غلط ہے آیة ۱۱۰ چیپڑ نمبر ۴ آ یت نمبر ۲۲ اس آ یت میں ہے کہ son کا لفظ فقط حضرت عیسی کے لئے نہیں آ یا بہت سے لوگوں کے لئے آ یا ہے کہ خدا نے کہا کہ تو میرا بیٹا ہے کیونکہ یہ کتاب تحریف شدہ کتاب ہے یہ اصل کتاب تو نہیں ہے اس وجہ سے اس میں اتنی بہت سی غلطیاں ہیں thus said juha israil if my son even my first born son اس آ یت میں ہے کہ اسرائیل میرا بیٹا ہے مگر یہ میرا پہلا بیٹاہے اگر آ پ کہہ رہے ہیں کہ بیٹے کا لفط حضرت عیسی کے لئے آ یا ہے تو یہ بیٹے کا لفظ اسرائیل کے لئے بھی آیا ہے بلکہ خدا نے کہا کہ یہ میرا پہلا بیٹا ہے پھر آپ اسے کیوں خدا کا بیٹا نہیں مانتے ہو دوسری آ یت palms یعنی زبور chapter۲

verse۷ ((jahoha has said on to me ) حضرت داوود پر وحی نازل ہو ئی حضرت داوود نے فر ما یا: کہ خد انے مجھے کہا Thow are my son تو میرا بیٹا ہے اور پھر یہ بھی لکھا ہے begoten son تو میرا اپنا یا ہوا بیٹاہے جو لفط حضرت عیسی کے لئے استعمال ہو ئے ہیں وہی یہاں پر بھی آ ئے حضرت داوود کو بھی خد ا نے کہا تو میرا بیٹا ہے ہما رے یہاں تو ایسی کو ئی بات نہیں ہے کیوں کہ یہ تحریف شد ہ کتاب ہے اور خدا نے اسرائیل کو بھی کہا کہ تو میرا بیٹا ہے اور ممکن ہے کہ عیسائی یہاں پر بھی ایک سوال کریں گے کہ وہاں پر ہے کہ Onlybegoten son صرف تم میرے بیگوٹن سن ہو یہ Only کا لفظ بائیبل میں غلط استعمال ہوا ہے۔

اس بائبل میں پچاس ہزار غلطیاں ہیں ایک کتاب چھپی ہے کہ اس میں ہے کہ Fifty thousand earar in bible اور اس سے کوئی عیسائی انکار نہیں کرسکتا ہے ھبریو chapter ۱۱ آیت نمبر ۱۷ حضرت ابراہیم کے بارے میں ہے Ibraham who had reseved gods promes about secrifise his one and noly son Ishaq حضرت ابراہیم نے وعدہ نبھا یا اور وحی آئی کہ اپنے بیٹے کو قربان کریں Only son کا لفط استعمال ہوا جب کہ حضرت ابراہیم کا دوسرابیٹا اسماعیل بھی موجود ہے یہ اُن کی غلطی ہے کہ یہاں لکھا ہوا ہے صرف ایک بیٹا اسحاق جب کہ حضرت ابراہیم ایک بیٹا نہیں ہے بلکہ حضرت اسماعیل بھی ہے لہذا ان کو مسلمان بنا نا کو ئی مشکل کام نہیں ہے ۔

دوسرا یہ لوگ خود مسلمان ہو رہے ہیں یہ کیوں معنویت کی وجہ سے کیوں کہ وہ روحانیت کے طور پر مر رہے ہیں وہ لوگ روحانیت کے لئے تڑپ رہے ہیں کیوں کہ ان کے پریسٹ انتہا ئی غلیظ حرکتوں میں مبتلا ہیں اُن کو سب سے پہلے رو حانیت کا طریقے دکھا نا ہے کیوں کہ اُن کے یہاں ٹنشن بہت زیادہ ہیں اگر ہم ان کو تھوڑا سا ذکر بتا دیں تھوڑی سی عبادت بتا دیں یہ فوراً مسلمان ہو جا ئیں گے اور اسلام میں رو حانیت کی کو ئی کمی نہیں ہے ہمارے سہاں رو حانی اتنی عبادتیں ہیں جب بھی یہ نیو مسلم حضرت امام رضا کی زیارت کو آتے ہیں وہ لوگ خود کہتے ہیں کہ ہم نے زندگی میں ا تنی رو حا نی لذت کا مزا نہیں چکھا تھا یہ نیومسلم کہتے ہیں کہ ہمیں دو گھنٹوں میں ہمارا جی بھرتا ہی نہیں ہے کم ازکم تین چار گھنٹے ہم زیارت کریں اور اُن کے یہاں شوشل پروبلم بہت زیادہ ہیں طلاقیں اس قدر زیادہ ہیں کہ اُس کی انتہا نہیں ہے اور عیسائیوں کے یہاں اس کا کو ئی سالوشن نہیں ہے الحمد للہ اسلام کے پاس بہترین نسخے ہیں اگر ہم کسی کو رو حانیت کی طرف لا ناچا ہیں تو پہلے ہمارے اندر تھوڑی بہت رو حانیت ہو نی چاہئے۔

ہم پہلے دیکھیں کہ ہمارا فرشتہ سے رابطہ ہو تا ہے یا نہیں اگر ہمار ا فر شتہ سے ر ابطہ نہیں ہو تا تو امام سے کیسے را بطہ ہو گا تو یقینا ہما رے اندر گناہوں کی غلاظت ہے (( الاحد) یہ اللہ کا نا م ہے اس میں بھی اثر ہے با وضو ہو کر تنہا ئی میں یہ ذکر کر نا ہے کہ تا کے دیکھیں کہ ہماری رو حا نیت کتنی ہے ” الاحد “ کو پانچ مرتبہ پڑھیں اس کا ذکر خلوت میں اکیلے میں کرنا ہے مگر شرط یہ ہے کہ ساتوں اعضا پاک ہوں اگر ساتوں اعضا پاک نہ ہوں پھر آپ چا ہتے ہیں کہ ہمیں نورانی فرشتہ نظر ا ئے تو یہ ممکن نہیں ہے کیوں کہ اللہ نے فرما یا ”( لا یمسه الا المطهرون ) “(سورہ واقعہ آیت ۷۹) یہ جو روحانی مقامات ہیں انہیں نجس آنکھیں نہیں دیکھ سکتی ہے اور زبان سے غیبت بھی نہ کریںآ ج کل معاشرہ کو غیبت نے تباہ اور بر با د کر دیا ہے اس زمانے میں غیبت کو کوئی گناہ ہی نہیں سمجھتا ہے یہ بہت بڑا خطرنا ک گناہ ہے یہ انسان کو گرا دیتا ہے اللہ کے پیارے رسول محمد مصطفی (ص) فر ما تے ہیں ”الغیبة اشد من الزنا “ یہ شیعہ سنی سب نے لکھا ہے اس حدیث میں کو ئی شک نہیں ہے اللہ کے رسول فر ما تے ہیں کہ غیبت زنا سے بدتر ہے ۔

مگر لوگ مسجد میں بیٹھ کر غیبت کر تے ہیں قر آن پڑھتے رہتے ہیں مگر بیچ میں غیبت کر تے ہیں غیبت سے خطرنا ک کو ئی گناہ ہی نہیں ہے اس زمانے میں غیبت وبا کی طرح پھیل گیا ہے آ یة اللہ صدر الدین شیرازی کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ دو لوگ آ پس میں بیٹھے غیبت کر رہے تھے لیکن دونوں کے منھ سے جہنم کی آگ نکل رہی ہے اس سے بڑھ کر علامہ طبا طبا ئی تفسیر المیزان جو انہوں نے لکھی وہ اپنے ایک شاگر دکے پاس ا ئے جیسے وہ داخل ہو ئے اور کہا کہ یہاں چند گھنٹے پہلے گناہ ہواتھا اور اُس کی نجاست کی بو میں سونگ رہا ہوں تو لوگوں نے کہا قبلہ آپ صحیح فر ما رہے ہیں چند گھنٹے پہلے کسی نے کسی کی غیبت کی تھی علامہ طبا طبائی اُس شاگرد سے کہتے ہیں بیٹے اگر چاہتے ہو روحانی مقامات تجھے مل جا ئیں تو فوراً اس گھر کو بدل دو جس گھر میں تم رہ رہے ہو اس میں رہکر تجھے رو حا نی مقامات حاصل نہیں ہونگے اُ س نے کہا یہ آپ کیسی بات کہہ رہے ہیں ہم عادی ہو چکے ہیں تو انہوں نے فر ما یا: کیا جس گھر میں زنا ہو تو کیا کو ئی وہاں رو حانی مقامات حاصل کر سکتا ہے او ر اللہ کے رسول کہہ رہے ہیں کہ غیبت زنا سے بھی بدتر ہے اگر غیبت زنا سے بڑا گناہ ہے تو وہاں پر اُس گھر میں کیا بر کات ا ئیں گی کیا فرشتے آئیں گے جہاں صبح و شام غیبت ہو رہی ہے اس زمانے میں لوگ بعض گناہوں کو اصلاً گناہ ہی نہیں سمجھتے ہیں اگر آپ کے سامنے کو ئی شراب پئے تو کیاآپ اجازت دیں گے توکیسے ممکن ہے کو ئی ا پ کے سامنے بیٹھے غیبت کر رہا ہے ا ور آ پ کچھ بھی نہیں کہہ رہے ہیں آپ بیٹھے سنتے ہیں مگر روکنے کی ہمت نہیں ہے کتابوں میں لکھا ہے علامہ طبا طبا ئی امام خمینی کے ساتھ تیس سال رہے ہیں شاگردوں نے کہا مگر کسی کو جراء ت نہیں ہو تی تھی کہ ان کے سا منے کسی کی بھی غیبت کریں وہ فوراً جلال میں آکر روکتے خبر دار مسلمان کی غیبت نہ کرو اس زمانے میں غیبت بڑھتی چلی جارہی ہے اس لئے رو حانیت ختم ہو تی چلی جا رہی ہے ساتوں اعضاء بدن پاک ہو نا چاہئے پھر آپ اپنا کمرہ بند کرلیں اور قبلہ رخ ہو کر تسبیح لیکر شروع ہو جا ئیں الاحد اس ذکر کو پانچ ہزار مر تبہ پڑھیں تو کیا ہوگا ایک مرتبہ پروردگار آ پ کو فر شتہ کی زیارت کر ا ئے گا اگر فر شتہ کودیکھ لیا تو یقیناً آ پ کے اندر معنویت ہے رو حانیت ہے دل ابھی مردہ نہیں ہے تو اب ا پ کے لئے آگے بڑھنا مشکل نہیں ہے اگر آ پ فر شتہ سے سامناکر سکتے ہیں تو ایک نہ ایک دن اپنے امام زمان سے بھی رابطہ کرسکتے ہیں۔

یہ انگریز رو حانیت کے بھوکے ہیں ۸۵ میں انگلنڈ میں ایک انگریز مسلمان ہو ا تو اسے مدرسہ میں ڈال دیا ہمارے مدرسوں میں جو پہلی کتاب پڑھاتے ہیں وہ عربی گرامر کی ہے ضرب ، ضربا ضربو ا کہ اس نے ما را فلا ں نے ما ر ا اُس نے کہا یہ کیا پڑھا رہے ہو کہ ا س نے ما را فلاں نے مار ا اُس نے کہا میں تو رو حا نیت حا صل کر نے ا یا ہوں اگر آپ روحانی اعمال سے آشنا ہو ں گے تو یقیناً اُس کی مدد کر سکتے ہیں ایک شخص افریقا میں مبلغ ہیں کہتے ہیں جب میں افریقا گیا وہاں ایک گاوں یوگانڈا کے نازم سے وہاں پر کئی سال سے بار ش نہیں بر سی تھی وہاں تبلیغ کر نے گیا تو وہاں کے لوگوں نے کہا ہم بھوک سے مر رہے ہیں اور آ پ تبلیغ کر رہے ہیں پہلے ہمارے پیٹ کا تو سو چئے تو وہاں کے لوگوں نے کہا اگر آ پ با رش بر سائیں گے تو ہم سب کے سب مسلمان ہو جا ئیں گے انہوں نے کہا اگر ا پ کا مذہب سچا ہے تو آپ دعاء کریں اور با رش برسے تو جو بھی آپ کا مذہب ہے ہم قبول کر لیں گے اُس شخص نے کہا یہ میرے لئے امتحان تھا میں نے کہا پروردگا ر اگر یہ لوگ مسلمان ہو جا ئیں تو بارش برسا فقط تیرے لئے تیرے خاطر اُس نے کہا میں نے سب کو جمع کیا اور صحیفہ سجادیہ میں سے دعا نکالی اور ان سے وعدہ لیا کہ وعدہ پکا کہ مسلمان ہو جا و گے انہوں نے کہا ہاں شیعہ مسلمان ہو جا ئیں گے اُس نے کہا میں ا گے بڑھ کر بڑے خلوص کے ساتھ گڑ گڑا کر دعا مانگی تو دعا کے دوران بارش آگئی ا ور پورا کا پورا گاوں مسلمان ہوگیا ۔

ہما رے یہاں فقط ایک چیز کی کمی ہے وہ میڈیا ہے کہ ہمارا اپنا چینل نہیں ہے کچھ لوگ اپنی کوشش کر رہے ہیں مگر ابھی تک نہیں ہے اگر ہمارا ایک شیعہ چینل ہو تو ہم ہزاروں نہیں لاکھوں کو شیعہ بنا سکتے ہیں کیسے ؟ مشہد امام رضا -کے روضے پر ہر سال ہر مہینہ کتنے ایسے لاعلاج مریض شفا پاتے ہیں جن کا دنیا میں کو ئی علاج ہی نہیں ہو تا ہے مگر وہ وہیں تک محدود ہے صرف ریڈیو پر اعلان ہو جا تا ہے یانقارہ بجا دیتے ہیں کہ معجزہ ہو گیا ہے یہ معجزات جو ہیں ان کی ویڈیو فلم ہو نا چا ہئے ہما ر ا اپنا چینل ہو نا چا ہئے تا کہ ہم پوری دنیا کو دکھا ئیں کہ ہمارے امام وہ ہیں جو آج بھی وہ معجزہ کر رہے ہیں جو حضرت عیسی کیاکرتے تھے کر بلا میں بھی یہی ہے کو ئی دن خالی نہیں جہاں کنسر کے مریض شفا پا تے نہ ہوں یہ معجزے کتابوں میں تو آ جا تے ہیں مگر آج جو ٹکنولوجی ہے آج جو ڈش چینل میڈیا ہے اُ س پرآ نا چاہئے تو ہزار ہا انسانوں کی ا نکھیں کھلیں گی ایک عیسائی بچہ تھا جو بول نہیں سکتا تھا اُس کی والدہ اُس کو امام رضا کے روضے پر لیکر آ گئی اور اُس نے خواب میں ا ما م رضا (ع) کو دیکھا اور وہ بچہ آدھی را ت کو اٹھا اور بات کر نے لگا اُس کی والدہ حیران ہو گئی کیا ہوا اُس نے بتلا یا کہ میں نے ایک نورانی شخص دیکھا ہے تو انہوں نے کہا کہ بات کرو میں نے کہا کہ بات نہیں کر سکتا ہوں انہوں نے کہا کہ میں نے تجھے شفادی ہے ہمارے یہاں کتنے معجزے ہو تے ہیں مگر ہمارے یہاں میڈیا نہیں ہے کہ ہم بتلا سکیں کہ ہمارے اھل بیت ٪ آ ج بھی معجز نما ہیں ہما رے یہاں ایک حسینی چینل ہو نا چا ہیے۔


مجلس ۴

قال الله تبارک و تعالیٰ فی کتابه المجید بسم الله الرحمن الرحیم

( بقیة الله خیر لکم ان کنتم مومنین ) “(سورہ ہود آیت ۸۶)

اللہ سبحانہ و تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فر ما رہا ہے ”( بقیة الله خیر لکم ان کنتم مومنین ) “ بقیة اللہ کا وجود تمہارے لئے خیر ہے اگر تم مو منین میں شامل ہو اسی طرح سے آل عمران آخری آیت میں پروردگار کا حکم مل رہا ہے ”( یا ایها الذین آمنوا اصبروا و صابروا ورابطوا ) “ اس آ یت میں خدا فر ما رہا ہے را بطہ قائم کریں را بطہ میں رہیں معصوم امام سے رابطہ میں رہیں یہاں مراد امام زما نہ ہیں اپنے زمانے کے امام سے رابطہ میں رہو معرفت امام بھی ہر مسلمان پر واجب ہے کہ زمانے کے امام کی معرفت حاصل کریں یہ حکم ہے صیغہ امر ہے کہ ”رابطو “ انسان اپنے امام کے ساتھ را بطہ میں رہے معرفت بھی حاصل کرنا ضروری ہے اور رابطہ میں رہنا بھی ضروری ہے۔

بعض لوگ جو شیعوں کے خلاف بہت بڑا پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ شیعہ جو ہیں وہ حضرت علی (ع) کو نبی سے بھی بڑھا دیتے ہیں یا یوں کہتے ہیں کہ شیعہ امامت کو نبوت سے بڑھا دیتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ شیعہ حضرت علی (ع) سر کار مآب حضرت محمد مصطفیٰ (ص) کے مقام سے نہیں بڑھا تے ہیں قطعاً یہ شیعوں کا عقیدہ نہیں ہے کیوں اس لئے مو لا علی خود فر ما تے ہیں کہ میں رسول کے غلا موں میں سے ایک غلا م ہوں مجھے پیامبر کی غلا می پر فخر ہے تو یہ ہمارا عقیدہ ہے البتہ مسئلہ امامت جوہے وہ خود قرآن میں اس کی بحث ہو ئی ہے کہ امامت کا در جہ نبوت اور رسالت کے درجوں سے بلندہے مگر ہمارے نبی جو ہیں وہ سید المرسلین ہیں یہاں سید انہیں معنوں میں کہ امام المرسلیں ہیں جتنے بھی رسول ہیں اُن کے سردار اور امام ہیں امامت کا مقام رسالت اور نبوت کے مقام سے بلند ہے اور اُس کے لئے قرآنی آ یات ہیں کہ حضرت ابراہیم نبی رسول نے جب امتحان میں کامیاب ہو گئے تو خدا نے فر ما یا ”انی جاعلک للناس اماما“ اے ابراہیم ہم نے تمہیں امامت عطا کی یعنی امامت کا در جہ سب در جوں سے بلند ہے اب مو لا علی کیوں کہ امام ہیں اور امامت کا در جہ سر کار رسالت مآب کے سواء تمام انبیاء سے بلند ہے اور اُس کے لئے دلیل کیا ہے دلیل میں آ یت مباہلہ ہے کہ مباہلہ میں پروردگار نے فر ما یا ”( فقل تعالوا ندعوا ابنائنا وابنائکم --- ) “(سورہ آل عمران آیت ۶۱) اے میرے محبوب ان عیسائیوں سے کہدو کہ تم اپنے بیٹوں کو لا و ہم اپنے بیٹوں کو لا ئیں گے تم اپنے خواتین کو لا و ہم اپنی خواتیں کو لا ئیں گے ”انفسنا انفسکم“ تم اپنے نفسوں کو لا و ہم اپنے نفسوں کو لا ئیں گے تمام مفسرین نے لکھا کہ مباہلہ کے دن سر کار رسالت مآب علی کو اپنا نفس بنا کر لئے آ ئے اس سے کسی مفسر کو انکا ر نہیں کہ انفسنا کی جگہ پر علی کو اللہ کے رسول اپنا نفس بنا کر لا ئے تو سا رے مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ہمارے نبی سیدالمرسلین ہیں ،ہمارے نبی کا چہرہ تمام نبیوں کے چہروں سے افضل ہے ہمارے نبی کی آ نکھیں تمام نبیوں کی ا نکھوں سے افضل ہے ہمارے نبی کی زبان تمام نبیوں کی زبانوں سے افضل ہے ہمارے نبی کے ہاتھ تمام نبیوں کے ہاتھوں سے افضل ہے تو اسی طرح سے ہمارے نبی تمام نبیوں کے نفسوں سے افضل ہیں ۔

لہذا ہر مسلمان پر معرفت امام حاصل کر ناواجب ہے یہ حدیث قدسی روایات میں ہے حضرت ابراہیم (ع) کو جب پروردگا ر نے خلق کیا حضرت ابراہیم نے دیکھا کہ عرش کے چاروں طرف چودہ انوار ہیں حضرت ابراہیم نے سوال کیا ما لک یہ کون ہیں پروردگار نے کہا یہ محمد مصطفیٰ (ص) یہ علی المرتضیٰ (ع) ہے یہ فاطمة الزہرا (س) ہیں یہاں تک آخر میں فر ما یا یہ امام مہدی (عج) ہیں یعنی انبیاء نے بھی اہل بیت کی معرفت حاصل کی ہے اُس کے بعد ابرا ہیم نے دیکھا کہ یہ چودہ انوار کے چاروں طرف چھوٹے چھوٹے ہیں اس قدر زیادہ ہیں کہ انہیں کو ئی گن ہی نہیں سکتا ہے ابراہیم نے سوال کیا مالک یہ چودہ ان کے بارے میں آ پ نے تو بتلا دیا یہ کون ہیں مگر ان کے چاروں طرف یہ دوسرے انوار جو گھوم رہے ہیں یہ کون ہیں یہ چودہ معصومین کے شیعہ ہیں شیعوں کا مقام کس قدر بلند ہے اگر ہم واقعاً حقیقی شیعہ بن جائیں توہمارا وجود نوارانی ہو جا تا ہے تو ہم چودہ معصومین کے گرد گھومتے رہیں گے فرما یا یہ شیعہ ہیں حضرت ابرا ہیم نے فر مایا: میرے مالک ان کی پہچان کیا ہے ہم کیسے پہچانیں کہ شیعہ کون ہے ؟ پروردگار نے فر ما یا: اے ابراہیم ان کی ایک نشانی یہ ہے کہ یہ جو میرے اہل بیت کے شیعہ ہیں یہ دن اور رات میں اکاون ۶۱رکعات نماز پڑھتے ہیں اُن کی یہ پہلی نشانی ہے آج ہم خود کو شیعہ تو کہلاتے ہیں مگر سترہ رکعات نماز پڑھنا بھی ہمارے لئے بعض وقت مشکل ہوجا تا ہے اگر عاشق اہل بیت بناہے توپہلی نشانی جوحضرت ابراہیم کو سنائی گئی وہ ہے کہ وہ اکاون رکعات نماز شیعہ پڑھتے ہیں اکاون رکعات کس طرح ہیں جب آپ دو رکعت نماز فجر پڑھتے ہیں تو اس کے ساتھ دو رکعت نماز مستحب پڑھیں جب ظہر کی نماز واجب پڑھتے ہیں تو اُس کے ساتھ دو دو رکعت کرکے نماز مستحب پڑھیں جب عصر کی نماز پڑھتے ہیں تو اُس کے ساتھ دو دورکعت کرکے مستحب نماز پڑھیں اسی طرح سے مغرب وعشا کی نماز بھی دو دوکعت کرکے نماز مستحب پڑھیں اور نماز تہجد جو گیارہ کعت ہے جو فجر سے پہلی پڑھی جا تی ہے خدا نے فر ما یا: اے ابر اہیم شیعوں کی نشانی یہ ہے کہ یہ اکاون رکعت نماز پڑھتے ہیں پروردگار دوسری نشانی کیا ہے فر ما یا یہ نماز میں بسم اللہ الرحمن الر حیم بلند آ واز سے پڑھتے ہیں ابراہیم نے فرمایا پروردگارشیعوں کی تیسری نشانی، فر ما یا یہ رکوع سے پہلے دعائے قنوت پڑھتے ہیں الحمد للہ ہم سب اس پر عمل کرتے ہیں فر ما یا پروردگار اس کے علاوہ شیعوں کی نشانی خدا کی آواز آئی نماز ختم کرنے کے بعد شیعہ سجدہ شکر ادا کرتے ہیں جو حسین نے کربلا میں کیا یہ شکر کا سجدہ بھی بڑی نعمت ہے ،جب حضرت ابراہیم نے یہ صفات سنی تو کہا مجھے بھی ان چہاردہ معصومین کے شیعوں میں شامل کر دے ۔

حضرت ابر اہیم خلیل اللہ کہہ رہے ہیں پروردگار جو اکاون رکعات نماز پڑھتے ہیں وہ شیعہ جو سجدہ شکر ادا کرتے ہیں وہ شیعہ جو نماز تہجد پڑھتے ہیں پروردگار مجھے بھی شیعوں میں داخل کردے ۔ اگر کو ئی اس حدیث کو انکا ر کر ے تو آ یت قرآن مو جود ہے جب حضرت ابراہیم نے دعاء کی کہ مجھے محمد و آل محمد کے شیعوں میں شامل کر دے تو سورہ صافات کی ۸۳ آ یت نازل ہو ئی ”( و اِنَّ من شیعتهِ لَاِبرٰهِیمََِ ) “ (سورہ صافات آیت ۸۳) اے ابراہیم ہم نے تجھے بھی شیعوں میں شامل کردیا۔

اے انسان غافل اگر تم لوگ شیعوں کو کافر کہتے ہو پہلے تو قرآن کو پڑھ لو کہ کون کون شیعوں میں شامل ہیں ،حضرت ابراہیم بھی شیعوں میں شامل ہیں جب بھی مشکل پڑے اپنے مولا کو بلا ئے مو لا ہرگز ہم سے دور نہیں ہیں چند سال پہلے کا واقعہ ہے کہ ایران میں ایک مو منہ خون کے کنسرکے مرض میں مبتلا ہو گئی ڈاکٹروں نے اُسے تقریباً لاعلاج کردیا اُس کی موقت قریب تھی اُس نے اپنے شوہر سے کہا کہ حج کا موقع قریب ہے مجھے حج پر لے چلو مجھے رو ضہ رسول پر لئے چلو مجھے جنت البقیع لے چلو شاید مجھے وہاں شفا مل جا ئے اُس نے دوسرا تقاضا شوہر سے کیا کہ مجھے تین راتیں خانہ خدا پر عبادت کرنے کے لئے دو اُس کے شوہر نے کہا ٹھیک ہے تو وہ خاتون وہاں تین را تیں جاگ جاگ کر یہ مو منہ رو رہی ہے پروردگار مجھے امام زمانہ کے صدقہ میں شفا دے وہ پروردگار سے امام زمانہ کے صدقہ دعاء مانگ رہی ہے اور کہہ رہی ہے اے پروردگار اگر تو مجھے شفا دینا چاہتا ہے تو پہلے مجھے بتا یا جا ئے کہ تجھے شفا مل رہی ہے تا کہ مجھے یقین ہوجا ئے کہ میری دعاء قبول ہو گئی ہے تیسری رات اس مو منہ نے طواف کیا طواف کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا چا ہتی تھی حجر اسماعیل کے قریب تھی تو اسے اچانک ایک نورانی شخصیت نظر آئی انہوں نے اسے کہا کہ کیا تم نماز پڑھناچا ہتی ہو تو اس مومنہ نے کہا جی کہا ٹھیک ہے میں راستہ بنا دیتا ہوں انہوں نے اپنا ہاتھ حجر اسماعیل پررکھا حج کا زمانہ تھا لاکھوں کا مجمع تھا مگر ایسی خلوت ہو گئی کہ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ گو یا میرے سواء کوئی اُس مقام پر نہ تھا مگر یہ مومنہ ابھی تک متوجہ نہیں ہو ئی ہیں یہ کون سی شخصیت ہے وہ مو منہ نماز میں مشغول تھی اور جب میں نے نماز کو ختم کیا میں نے دیکھا کہ وہی نورانی شخصیت وہاں کھڑی ہے انہوں نے مجھ سے کہا دوسری نماز بھی پڑھنا چاہتی ہو؟ تو میں نے اُن سے کہا اے بزرگ میں بیمار ہوں میں زیادہ نماز بھی نہیں پڑھ سکتی ہوں فقط دعاوں میں مشغول رہتی ہوں تو انہوں نے کہا تجھے پروردگار نے شفا عطا کی ہے تیری بیماری ختم ہو گئی ہے جا اور زم زم کا پانی پی لے اُس خاتون نے کہا میں ایک مرتبہ زمزم کے پانی کی طرف بڑھی توجو پلٹ کر دیکھا وہ نورانی شخصیت نظر نہیں آئی اور جیسے پانی پیا اور اُس کے بعد میں کچھ خود کو بہتر محسوس کر رہی تھی تو پھر تہران واپس آ کر معاینہ بھی کیا توخود ڈاکٹر بھی حیران تھے کہ الحمدللہ کہ کنسر کا کو ئی بھی اثر باقی نہیں رہا ۔

آج بھی ہمارے امام زندہ ہیں آج بھی ہمارے امام مدد کر رہے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ ہم خلوص کے ساتھ امام کو پکاریں اور وہ شرائط جو پروردگار نے حضرت ابراہیم کو بتلا ئے وہ شرا ئط ہمارے اندر ہو نا چا ئیں کہ ہمیں اکاون رکعات نماز پڑھنی چاہئے افسوس کی بات ہے کہ دوسرے فر قہ ہم سے نماز میں آ گے میں اور ہم پیچھے رہ گئے ہیں یہ عوام کا قصور نہیں ہے بعض ایسے فاسق اور فاجر لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو کہتے ہیں ک نماز کی ضرورت ہی نہیں ہے ایسے لوگ ہیں جو قرآن کی صریحاً مخالفت کر تے ہیں قرآن میں اتنی مرتبہ آ یا ہے کہ ” اقیموا الصلاة “ یہ شیطان ہے جو انسان کو نماز سے روکتا ہے آج بھی شیطان کے نمائندے ہیں جو اپنے درسوں میں آ کر نماز سے روک رہے ہیں ۔

معصوم نے فر ما یا کہ ہمارے شیعہ وہ ہیں جو کبھی نماز تہجد کو ترک نہیں کرتے ہیں اگر ہمارے شیعہ چا ہتے ہیں کہ امام زمانہ سے رابطہ قائم کریں تو نماز تہجد کو کبھی ترک نہ کریں۔

امام حسین (ع) کے آخری وصیتوں میں سے ایک وصیت ہے کہ مو لا حسین نے فرما یا ” بہن زینب مجھے نماز تہجد میں یاد کرنا “ اور نماز تہجد پڑھنے کے بعد کربلا کی طرف رخ کر کے کہیں ”السلام علیک یا ابا عبدالله “ امام زین العابدین (ع) فر ما تے ہیں کہ اس وصیت پر سید زادیوں نے ایسا عمل کیا، امام فر ما تے ہیں جس رات خیمہ جل رہے تھے جو رات قیامت کی رات تھی اُس رات بھی ہماری کسی بی بی کی نماز تہجد قضا نہ ہوئی امام زین العابدین فرماتے ہیں انہوں نے بڑے بے رحمی سے ہمیں قیدی کیا کبھی پتھروں کی بارش برستی تھی کبھی پانی ملتا تھا کبھی نہیں کبھی دھوپ میں کھڑا کر دیتے تھے کبھی تازیانہ مارتے تھے یہ پورا راستہ بہت سخت تھا راستے میں کتنے بچے شہید ہو گئے مگر امام فر ما تے ہیں پورے راستے میں ہماری کسی بی بی کی نماز تہجد قضا نہ ہوئی امام زین العابدین فر ماتے ہیں بس ایک مرتبہ شام کے زندان میں آدھی رات کا وقت تھا میں نے دیکھا میری پھوپھی زینب اٹھیں میری پھوپھی نے جا کر وضو کیا مگر میں نے دیکھا میری پھوپھی بیٹھ کر نماز تہجد پڑھ رہی ہیں میں نے کہا پھوپھی اما ں آپ کی طبیعت کو ٹھیک ہے میں نے آ پ کو کبھی بیٹھ کر نماز تہجد پڑھتے ہو ئے نہیں دیکھا پھوپھی کی آواز آئی سجاد بیٹے زندان میں کھا نا اتنا کم آ تا ہے کہ ہم بچوں میں تقسیم کر دیتے ہیں اب مجھ میں طاقت نہ رہی کہ کھڑے ہو کر نماز تہجد ادا کروں۔

مو من ہو کر اور نماز تہجد قضا ہو جا ئے نماز تہجد یہ خاص نشانی ہے اس کو کبھی ترک نہ کیا کریں نماز تہجد پڑھنے والے کی سکرات بہت آسانی سے ہو تی ہے نماز تہجد پڑھنے والے کے لئے قیامت کے دن شفاعت اہل بیت ہے نماز تہجد پڑھنے والا جب قیامت کے دن ا ئے گا اُس کے چہرے سے اتنا نور نکلے گا خصوصاً وہ نماز تہجد پڑھنے والا جو نماز تہجد کے ساتھ حسین مظلومیت پہ آ نسوں بہائے اگر نماز تہجد کی عادت ڈالیں گے تو امام زمانہ سے رابطہ ہو جا ئے گا رابطہ کے لئے دوسری اہم چیز تبلیغ اسلام ہے امربالمعروف بھی وہی تبلیغ ہے اگر ہم تبلیغ کریں گے تو ہماری آنے والی نسلیں بچ سکیں گی ورنہ یہودی خبیث پورا اسلامی ممالک کو غلام بنا نا چا ہتے ہیں سیاستدانوں کو ذلیل کیا جارہا ہے اس لئے صرف اور صرف مسلمانوں کے لئے ایک ہی راستہ ہے کہ مسلمان منظم طریقے سے مل کر عیسائیوں کومسلمان بنا ئیں تا کہ ان کی عیسائیوں کی اکثریت ہو جا ئے تا کہ یہودیوں کا زور ٹوٹ جا ئے اس وقت عیسائی بھی یہودیوں کے غلام ہیں کچھ بول نہیں سکتے ہیں ساری اقتصادیات یہودیوں کے ہاتھ میں ہے اسلحہ کی فکٹریاں یہودیوں کی ہے جسے صدر بنا ئیں یہودیوں کے ہاتھ میں ہے اگر ہم ان عیسائیوں کو بیدار کر یں کہ تم خود یہودیوں کے غلام ہو تو یورپ امریکا میں انقلاب آسکتا ہے اور یہودیت ختم ہو سکتی ہے ۔

سال میں آ رام سے پانچ دس عیسائی مسلمان بن جاسکتے ہیں، آپ انٹرنیٹ کے ذریعے سے پانچ چھ گروپ کو میسج بھیج سکتے ہیں اور وہ لوگ روحانیت کے لئے مر رہے ہیں بھوکے ہیں ،حتیٰ کہ یہ ہندوستان کے لوگوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں تا کہ انہیں وہاں سے کچھ روحانیت مل جائے عیسائیت مرچکی ہے ،یہ بھی یہودیوں کی پلاننگ ہے اس وقت یورپ امریکا میں تبلیغ اسلام کا بہترین موقع ہے ایک روحانی طریقے سے اور ایک خود بائبل کے طریقے سے اور خود فلسفی اندازمیں بہترین طریقے سے انہیں مسلمان بناسکتے ہیں ۔

ہمارے یہاں توحید ہے اور اُن کے یہاں ہونیٹرنٹی کا مسئلہ ہے کہ وہ حضرت عیسی کو خدا ما نتے ہیں اسی کتاب سے پانچ منٹ میں ہم اُن کا عقیدہ باطل کرسکتے ہیں ۔ اگر حضرت عیسی خدا تھے تو یہ آ یتیں کیا کہہ رہی ہیں بائبل ۵ چپٹر آیت نمبر ۱۶ حضرت عیسی کے بارے میں ہے And Hazrat Jesus with you himself in to the wilderness and prayed to his god اس آ یت میں صاف لکھا ہے کہ حضرت عیسی نے اپنے خدا کی عبادت کی ہم کہیں گے اگر خود خداتھے تو پھر عبادت کس کی کیا کرتے تھے۔ ہم ان کو بہت جلد مسلمان بنا سکتے ہیں کیوں کہ وہ لوگ خود اپنی کتاب نہیں پڑھتے ہیں یہ اُن کے پریسٹ اُن کو گمراہ کرتے ہیں اور دوسری آ یت متی کی انجیل چپٹر ۲۶ آیت ۳۹ And going little way forword he is jesus coverd his facepray and said "My father if it is possible late me stufe passe away from me

حضرت عیسی سجدہ بھی کررہے ہیں اور سجدہ میں یہ دعاء کی کہ پروردگارا ممکن ہے کہ یہ میری مشکل مجھ سے دو رکردے یہ کیسا خدا ہے کہ خود مشکل بھی دور نہیں کرسکتا یہ جملہ بتلا رہے ہیں کہ حضرت عیسی خدا نہیں ہیں بندہ ہے خدا کانبی ہے ایسی بہت زیادہ آیتیں ہیں جن سے ہم ان کو مسلمان بنا سکتے ہیں مگر سب سے بڑا مسئلہ رو حانیت کا ہے یہ لوگ اس وقت رو حانیت اور معنویت کے شدید بھوکھے ہیں اور یہ معنویت اور روحانیت پہلے ہم پیدا کریں گے تبھی کسی غیر مسلمان کو مسلمان بنا سکتے ہیں لوگ بہت سارے مسلمان ہیں مگر ہم معنویت طور پر صفر ہیں کلمہ بھی پڑھتے ہیں مو من بھی کہلاتے ہیں مگرہمارا معنوی اور روحانی اسٹیج صفر کے برابر ہے کبھی صفر سے بھی کم ہے جب مو من کا روحانی اور معنوی اسٹیج بلند ہو گا تو امام سے رابطہ ہوگاکبھی انسان کی غفلت کی وجہ سے انسان کادل مرجاتا ہے نکاح کی لذت کھانے کی لذت یہ فانی لذتیں ہیں یہ لذتیں پانچ منٹ اور دس منٹ میں ختم ہو جاتی ہیں انہیں لذتوں کی وجہ سے بعض لوگ گناہوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں اسی کے بارے میں مو لا علی کا بڑا حسین جملہ ہے مو لا فر ماتے ہیں اے نادان انسان لذت کی وجہ سے تو اندھا ہو گیا گناہ میں گرگیا مگر مو لا فر ما تے ہیں گناہ کی لذت ختم ہوجاتی ہے مگر اُس کی نجاست اور اُس کا عذاب ہمیشہ کے لئے رہ جاتا ہے مگر یہ کہ انسان توبہ کرے گناہوں کی وجہ سے انسان کا قلب دل روح بالکل مردہ ہو جاتی ہے اگر ہمیں ان کو دوبارہ زندہ کرنا ہے تو اُس کے بارے میں علماء نے فر ما یا اگر آپ نماز تہجد کے وقت اٹھتے ہیں اور اگر آپ کو دعاء اور نماز میں لذت نہیں مل رہی ہے یہ انبیاء کی لذت امام زین العابدین (ع) فر ماتے ہیں خدا نے جو لذت نماز میں رکھی ہے جو لذت نماز تہجد میں رکھی ہے وہ کائنات کہ کسی چیز میں نہیں رکھی ہے مگر اللہ نے اُس لذت کو گنہگاروں کے لئے حرام قرار دیا ہے اور اس کا علاج کیا ہے اور اس کا علاج یہ ہے آپ نماز فجر کی آذان سے بیس منٹ پہلے اٹھ جائیں اور قبلہ رخ ہوکر بیٹھ جائیں اور ” یا حی یا قیوم “ حی خدا کا نام ہے یعنی حیات دینے والا پروردگار میں نے گناہ کر کے اپنے دل کو ما ردیا ہے تو حی ہے تو میرے اس مردہ دل کو زندہ کردے اُس کے بعد ” یا من لا الہ الاانت“ پروردگار تو میرا رب ہے تو ہی میرا خدا ہے اگر تو نے مجھے زندہ نہ کیا تو کون میرے اس مردہ دل کو زندہ کرے گا علماء کہتے ہیں یہ وہ ذکر ہے جو جلد سے جلد دعاء قبول ہوجا ئے گی یعنی تین چار دن میں آپ کو نتیجہ مل جا ئے گا اس کے بعد انسان معنوی لذتیں حاصل کرتا ہے اگر انسان معنوی لذتیں حاصل نہ کرے تو اُس کا درجہ حیوانیت کے برابرہے کہ حیوان کو دعاء سے لذت نہیں ملتی ہے ہم انسان ہیں مگر گناہوں کی وجہ سے اتنا گر جا تے ہیں کہ وہ لذت ہمارے اندر سے ختم ہو جاتی ہے رو حانی طور پر ہم مریض ہو جاتے ہیں اور دوسرے مصائب امام حسین، یہ رو حانی بیماریوں کا علاج ہے۔

مو لا علی نے ریا کاری کو شرک کہا ہے فر ما یا: اگر تو نے اللہ کی عبادت میں بندوں کو شریک کیا تو اس کے بارے میں نبی کی حدیث بھی ہے اور مو لا علی کا فر ما ن بھی ہے ”الریاء هو شرک کله “ اور شرک سے بڑا کو ئی گناہ نہیں ہے۔


مجلس ۵

قال الله تبارک وتعالیٰ فی کتابه المجید و فر قانه الحمید بسم الله الرحمن الرحیم

( بقیة الله خیرلکم ان کنتم مومنین ) “ (سورہ ہود آیت ۸۶)

قرآن کریم میں خداوند عالم کا ارشاد ہو رہاہے ”( بقیة الله خیرلکم ان کنتم مومنین ) “ امام کا وجود تمہارے لئے خیر ہے اگر تم مومن ہو۔

خصوصاً غیبت کبریٰ میں مو منین کے لئے کچھ ذمہ داریاں ہیں ان میں سے ایک معرفت امام حاصل کرنا ہے ہر مومن مسلمان پر فر ض ہے ” من مات ولم یعرف امام زمانہ مات میتة جاھلیة “ اگر کسی کو مو ت آ جائے اور زمانے کے امام کی معرفت حاصل نہ کرے تو اس کی موت جہالت کی موت ہے اس کی موت کفر کی موت ہے معرفت امام حاصل کرنا تمام مسلمانوں پر فر ض ہے یہ سورہ آل عمران میں ہے کہ فرمایا: ”رابطوا“ یعنی امام زمانہ سے رابطہ برقرار کرنا بھی شرائط میں سے ہے ۔ احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ غیبت کبریٰ میں مومنین اپنے مرکز کو مضبوط کریں کیونکہ دشمن اسلام مرکز پر حملہ کرتا ہے۔ کیونکہ شیاطین ہمیشہ مومنین میں انتشار چا ہتے ہیں تاکید ہے کہ غیبت کبریٰ میں مو منین اپنے مر کز پر متحد رہیں۔

تمام شیعوں کا مرکزان کے مراجع ہیں ہمارے مجتہدین ہیں جن کے بارے میں امام زمانہ نے فرما یا میں غیبت کبریٰ میں جا رہاہوں اے شیعو! مگر ہم تمہیں بے وارث چھوڑ کر نہیں جارہے ہیں تم پر لازم ہے تم پر واجب ہے اس عالم کی تقلید کرنا جوزمانے میں سب سے بڑا اعلم ہو اور سب سے زیادہ متقی ہو ۔

لہذا آج کل اسلام کہ خلاف اور شیعت کے خلاف یھودیوں کی طرف سے بڑی بھیانک سازشیں ہو رہی ہیں یہ یھودیوں ہی کی پلاننگ ہے کہ عراق پر بھی قبضہ ہو اور دیگر اسلامی ممالک پر بھی امریکا خبیث کا قبضہ ہو اور اسی سلسلہ میں شیعوں کے خلاف مشغول ہیں ، مگر یہودیوں نے شیعوں کے خلاف سازشیں تیار کی ہیں ہم سونچیں گے کہ پاکستان کے شیعوں کا تو اسرائیل سے کو ئی ڈائریکٹ کوئی مسئلہ بھی نہیں ہے وہ ہمارے خلاف سازش کیوں تیارکریں گے اور اس کا جواب یہ ہے کہ آج جو آپ فلسطینیوں کے دلوں میں جذبہ شہادت دیکھ رہے ہیں کہ اب فلسطیینیوں کے دلوں سے موت کا خوف ختم ہو گیاہے یہ لوگ ہر روز جام شہادت نوش کر رہے ہیں دو سال سے قربانیوں پر قربانیاں دے رہے ہیں یہ جو جذبہ شہادت فلسطینیوں میں جو آج دیکھ رہے ہیں یہ لبنان کے شیعوں کا صدقہ ہے یہ پہلے بھی اسرائیل تھا لیکن ان دو سالوں میں اسرائیل کا ملین کا نقصان ہوا ہے ان کے لوگ بھاگ رہے ہیں ان کی تجارت تباہ ہو رہی ہے یہ سب جذبہ شہادت ہے جو فلسطینیوں کے پاس ہے اور انہوں نے یہ جذبہ شہادت لبنان کے حزب اللہ شیعوں سے سیکھا ہے اور حزب اللہ کے شیعوں نے بھی فکر ان تک پہنچائی یہ جو اس صدی میں امام خمینی کی فکر تھی کہ جو قوم مرنا سیکھ لے اسے دنیا کی کوئی طاقت ما رنہیں سکتی سب سے بڑا نمرود سب سے بڑا فر عون ان کی سب سے بڑی دہمکی یہی ہو تی ہے کہ میں تمہیں ما ردوں گا تو اس حملہ کے بارے میں امام خمینی (رہ) فرماتے ہیں : جو قوم مرنا سیکھ لے اسے دنیا کی کوئی طاقت مارہی نہیں سکتی ہے موت ایک لمحہ کے لئے ہے ، مگر یاد رکھئے جو قوم موت سے ڈرتی ہے وہ ہزار ہزار بار ذلیل بھی ہو تی ہے اور ہزار ہزار بار مرتی بھی ہے اصل یہ فکر دینے والے ہمارے امام حسین (ع) ہیں امام حسین (ع) نے کر بلا میں بھی درس سکھا یا ہے ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہترہے یہ یہودیوں کو جو عربہا ڈالرز کا نقصان ہوا ہے یہ اصل میں اس کے پیچھے شیعوں کی فکر ہے لبنان کے شیعوں کی فکر ہے لہذا یہودیوں نے سوچا کہ ہم اس کا انتقام شیعوں سے لیں لہذا امریکیوں اور یہودیوں نے مل کر شیعیت کے خلاف تین خطرناک سازشیں تیار کی ہیں اُن میں سے ایک سازش یہ ہے کہ شیعوں کے اندر وہابی عقائد کو داخل کردیا جا ئے تا کہ شیعوں کے ا ندر ایک فرقہ بن جا ئے لہذ ا انہوں نے ایسے مو لویوں کو خرید بھی لیا ہے اور انہوں نے کتابیں بھی لکھ دی ہیں اور وہ لوگ امام زمانہ کی دعا کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ دعاء پڑھنا بدعت ہے یہ کیوں بدعت ہے اس دعاء کو مراجع پڑھتے ہیں علماء مجتہدین پڑھتے ہیں کیوں کہ اس دعاء میں آپ لوگ کہتے ہیں یا محمد یا علی پھر کہتے ہیں ادرکنی ادرکنی ہماری مدد کریہ مدد تو ڈائرکٹ خدا سے مانگی جاتی ہے اسی طریقے سے وہ یاعلی کے بھی منکر ہو رہے ہیں اور یا رسول خدا کے بھی منکر ہو رہے ہیں یہ جو ہم یا علی مدد کہتے ہیں ہم اپنی طرف سے نہیں کہتے ہیں ہم یہ یاعلی مدد قرآن کی آیتوں سے ثابت ہے یا علی مدد احادیث پیامبر سے ثابت ہے یا علی مدد نادعلی سے ثابت ہے یا علی مدد تو ریت و انجیل سے ثابت ہے قرآن میں کئی آیتیں ہیں جن میں پروردگار نے فرما یا اگر کوئی اللہ کے نبی سے مدد مانگ رہا ہے یا اللہ کے ولی سے مدد مانگ رہاہے گویا وہ خدا سے مدد مانگ رہا ہے سورہ حدید میں آیت ہے ”( وانزلنا الحدید فیه باس شدید و منافع للناس ) “(سورہ حدید آیت ۲۵) خدا فر ما رہا ہے ہم نے لوہہ کو آسمان سے نازل کیا ہے جس میں لوگوں کے لئے نفع بھی ہے اور شدید لڑائی بھی ہے آج جو عیسائی ہمارے دشمن ہیں یہودی جو ہمارے دشمن ہیں وہ اعتراض کریں گے یہ قرآن کی آیت غلط ہے لوہہ کبھی آ سمان سے نازل ہوتے ہو ئے دیکھا ہے ہم کہیں گے نہیں دیکھا ہے تو یہ تمہارے قرآن کی آیت غلط ہے قرآن میں ہے کہ ہم نے لوہہ کو آسمان سے نازل کیا لوہہ تو زمین سے نکلتا ہے اگر اس اعتراض کا جواب نہیں دیا تو کیا ہوگا یہ قرآن کی عزت و عظمت کا مسئلہ ہے اگر قرآن کی ایک آیت غلط نکلے گی تو کہیں گے کہ قرآن سارا غلط ہے، اب اس کا جواب کیا دیا گیا شیعہ مفسر ہو یا سنی مفسر ہو اسلام کی عظمت کو بچا نا ہے لہذا ہر مفسر نے شیعہ مفسر نے سنی مفسر نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ ایک لوہہ ایسا ہے جو زمین سے نہیں نکلاہے بلکہ آسمان سے نازل ہوا ، یہ کون سا لوہہ ہے یہ کب نازل ہوا ہے تو مفسرین نے لکھا جنگ احد میں جب مو لا علی (ع) پیامبر اسلام کی حفاظت کر رہے تھے مو لا کی تلوار ٹوٹ گئی تو غیب سے آ واز آئی ”لا فتیٰ الا علی لا سیف الا ذوالفقار “ یہ وہ لوہہ ہے جو زمین سے نہیں آسمان سے آیا اللہ سبحانہ و تعالیٰ اس آیت میں پہلے ذوالفقار اور اُس کے بعد صاحب ذوالفقار کا ذکر کیا تا کہ کسی کو شک و شبہہ نہ رہے فرما یا ”( ولیعلم الله من ینصره ورسله بالغیب ) “ (سورہ حدید آیت ۲۵) اللہ کو علم ہے کہ کون اللہ کا مدد گار ہے اور اللہ کے رسولوں کا مدد گار ہے ایک رسول نہیں کہا بلکہ یہ جمع کا صیغہ ہے ”رسلہُ“ یہ صاحب ذوالفقار تو اکیلا ہے مگر ہزاروں رسولوں کا مددگار ہے ظاہراً مولا علی ہمارے نبی کے زمانے میں ہیں مگر قرآن یہ کہہ رہا ہے کہ علی ایک رسول کے مدد گار نہیں علی ہزاروں رسولوں کے مددگارہیں دوسرے زمانے میں مولا علی موجود نہ تھے؟ اب اس سوال کا جواب کہاں سے ملے تو آگے کے الفاظ ہیں ”بالغیب“ علی غیب میں رہکر رسولوں کا مددگار ہے۔

یہ قرآن کی آیت ہے قرآن سے یاعلی مدد ثابت ہے تو اگر مو لا علی غیب میں رہکر رسولوں کی مدد کر سکتے ہیں تو ہم گنہگاروں کی مدد کیوں نہیں کرسکتے ہیں تو ریت اور انجیل میں کتنی مرتبہ مولا علی کا ذکر آیا ہے اُس میں آ یا ہے کہ مو لا علی نے کس کس کی مدد کی ہے کتنے انبیاء کی مدد کی ہے متھیو۲۷چپٹر آ یت ما نمبر ۴۹

(( It about three o"clock jeuses cried out with loud shourt ) ایلی ایلی لماشبکتنی “ انجیل میں لکھا ہوا ہے کہ تین بجے کا وقت تھا جب حضرت عیسیٰ کو پھانسی کے تختہ پر لے گئے تو ایک مرتبہ حضرت عیسیٰ نے بلند آ واز سے فریادکی ” ایلی ایلی لما شبکتنی “ اے ایلی میری مدد کے لئے آ و یہی جملہ ہم جب عیسائی ممالک میں جاتے ہیں جب اُن سے کہتے ہیں اے عیسائیو! تم تو یہ کہتے ہوحضرت عیسیٰ خدا ہیں اگر حضرت عیسیٰ خدا ہیں تو مولا علی سے مدد کیوں مانگ رہے ہیں ۔

اب آپ کو معلوم ہوا کہ یاعلی توریت سے ثابت ہے انجیل سے ثابت ہے زبور سے ثابت ہے قرآن سے ثابت ہے یہ یہودیوں کی سازش ہے کہ شیعوں کے ا ندر ایک اور فرقہ پیدا کردیں ان کے ٹکڑے ٹکڑے کردو کیونکہ انہوں نے فلسطینیوں کو شہادت کا جذبہ دیا ہے انہوں نے موت کا ڈران کے دلوں سے نکالاہے ان خبیثوں نے تین حملہ شیعت پر کئے ہیں تا کہ شیعت کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں ایک مسئلہ یہ ہے کہ یہ لوگ اس سازش میں کیسے کامیاب ہو گئے کیسے ایسے لوگ ہمارے اندرداخل ہوگئے یقیناً کہیں نہ کہیں ہماری سرحدیں کمزور ہیں دشمن اُس وقت کامیاب ہوتا ہے جب سرحد کمزور ہو ۔

اگر ہماری سرحدیں مضبوط ہوں تو دشمن کبھی بھی ہم پر حملہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا ہے ہمیں اپنی سرحدوں کو مضبوط کرنا ہے ہماری سرحدیں کہاں کمزور ہیں کہ دشمن تین حملوں میں کامیاب ہوچکا ہے کہ ہم مولا کے عاشق تو ہیں مولا کے ماننے والے تو ہیں ایک غلطی جو ہم با ر بار کر رہے ہیں کہ ہم معصوم امام کے فرمان پر عمل نہیں کر رہے ہیں یہاں ہماری سرحدیں کمزور ہیں ہم خود کو عاشق کہلواتے ہیں محب اور شیعہ کہلواتے ہیں مگر اپنے ائمہ معصومین کے فرامین پربعض مقامات پر عمل نہیں کرتے ہیں وہیں سر حدیں کمزور ہیں ہماری سب سے بڑی کتاب اصول کافی ہے امام صادق (ع) فر ما تے ہیں: اے شیعو! ہر عالم سے دین مت لینا ہمارے یہاں کیا معیار ہے ہمارے یہاں کو ئی معیار ہی نہیں ہے اگر کو ئی کسی مدرسہ کا پڑھالکھا ہی نہیں ہے کو ئی سٹی فکرٹ بھی نہیں ہے اگر اچھا مقرر خطیب ہے تو ہم اُس کو ممبر پر بڑے احترام سے بٹھاتے ہیں اور دس بیس ہزار دیتے ہیں یہ دین کا مسئلہ ہے مثال اگر کوئی ڈاکٹر ہو اور ام بی بی اس فیل ہو تو آپ اُس کے پاس علاج کے لئے نہیں جا ئیں گے وہاں لوگوں کے جان کا خطرہ ہے اگر ممبر پر کو ئی فاسق آ گیا تو انسان کے ایمان کا خطرہ ہے مگر اس پر کوئی معیار ہی نہیں رکھا گیا ہے اگر کوئی اچھا خطیب ہے تو ہم اُسے کہیں گے کہ یہ بڑا اچھا مو لوی ہے اُسے ہم ممبر پر بٹھالیتے ہیں یا مثال زیادہ آیتیں پڑھتا ہے تو ہم کہیں گے کہ یہ زیادہ آ یتیں پڑھتا ہے بہت اچھا مو لو ی ہے تو ہم اُسے ممبر پر بٹھالیتے ہیں یعنی ہمارے یہاں کو ئی معیار نہیں ہے اس کے بارے میں ہمارے امام کیا فر ماتے ہیں امام جعفر صادق(ع ) فر ما تے ہیں ہر عالم کو ممبر پر مت بٹھا نا تو سوال کیا گیا مو لا کسے بٹھا ئیں اُس عالم کو ممبر پر بٹھاؤ جس پر یقین ہو کہ اُس کے دل میں پیسے کی محبت تو نہیں ہے اُس کے بعد امام فر ماتے ہیں اے شیعو! اگر تم ایسے عالم کو ممبر پر بٹھا دیا جو پیسہ کا پجا ری ہو جس کے دل میں پیسے کی محبت ہے تو وہ تمہیں دین نہیں دے گا بلکہ وہ تمہیں بے دین بنا دے گا ہمارے یہاں ۸۰ فیصد ایسے عالم ہیں جنھیں کہا جا ئے کہ مولانا صاحب ہمارے یہاں مجلس پڑھیں گے تو وہ جواب میں کہتے ہیں کہ پندرہ ہزار دو گے تو میں مجلس پڑھوں گا مجلس حسین (ع) کو انہوں نے تجارت بنا دیا آج یہ ممبر کا تقدس پامال ہو رہا ہے بجا ئے رضا ئے خدا کے یہ تجارت کا بڑا ذریعہ بن چکا ہے امام فر ماتے ہیں اگر ایسے کو ممبر پر بٹھا یا جو پیسہ کہہ ر ہا ہے جس کے دل میں پیسے کی محبت ہے اے شیعو! وہ تمہیں دین نہیں دے گا بلکہ وہ تمہیں بے دین بنا ئے گا جو حسین (ع) کا سودا کرسکتا ہے کیا وہ قوم کا سودا نہیں کر ے گا ۔

شیطان کا پورا کام یہ ہو تا ہے کہ لو گوں کو نماز سے ہٹا دے اور یہی شیطان کا نمائندہ بھی ممبر حسین پر بیٹھ کر لو گوں کو نماز سے ہٹا رہا ہے یہ لوگ دلیل بھی دیتے ہیں کہ حضرت حُر نے کو ن سی نماز پڑھی تھی وہ جنت میں چلے گئے تم لوگ بھی نماز نہیں پڑھو فقط علی علی کرو تو جنت میں چلے جا و گے ایک تو وہ حضرت حُر شہید پر تہمت لگا تے ہیں اور دوسرا قرآن کی ساری آیتوں کو پامال کرنا یعنی قرآن کہہ رہا ہے ”( اقیموا الصلاة ولا تکونوا من المشرکین ) “ خدا کہہ ر ہا ہے کہ اے میرے بندہ اگر تو نے نماز کو ترک کر دیا تو اگر پوری دنیاتجھے مو من کہے میں خدا تجھے مشرک کہوں گا یعنی اُس عالم نے اُس آ یت پر اپنی جوتی رکھدی ایک تو ظاہری جوتی رکھنا ہے اور دوسرا اپنے عمل سے قرآن کی آیتوں کو پامال کرنا ہے یہ دنیا کے کسی ملک میں شیعوں پر یہ ظلم نہیں یہ فقط ہی فقط ہندوستان اور پاکستان میں ہے اگر ایران میں کو ئی ذاکر مو لوی کہہ دے کہ نماز کی کوئی ضرورت نہیں یعنی اُس نے قرآن کی ساری آیتوں کا انکار کر دیا تو دوسرے دن مرجع اور مجتہد کا فتویٰ آ ئے گا کہ یہ مرتد ہو گیا ہے اس پر اس کی بیوی بھی حرام ہے ہمارے یہاں تو اُس ذاکر کی مجلس میں نعرے بھی لگتے ہیں اور اُسے دس ہزار رو پیہ بھی دیئے جاتے ہیں یہ فقط قرآ ن کی تو ہین نہیں ہے ۔

مگر اللہ کے رسول فر ماتے ہیں ”لیس من اُمتی من استخف بالصلاة “ جو نماز کو اہمیت نہ دے وہ میری اُمت میں سے نہیں ہے اور یہ تا جر خون حسین کہہ رہا ہے کہ نماز کی کوئی ضرورت نہیں ہے پھر یہاں رسول خدا (ص) سچے ہیں یا یہ تا جرخون حسین، مو لاعلی فرماتے ہیں ”لا ینال شفاعتنامن استخف بالصلاة “ اے شیعو! ا گر تم نے نماز کوچھوڑدیا تو میری ولایت کا نور تیرے دلوں میں باقی نہیں رہے گا قبر میں جدا ہو جائے گا، قیامت میں جدا ہو جائے گا امام جعفر صادق (ع) وصیت میں فر ماتے ہیں ”لاینال شفاعتنا من استخف بالصلاة “ اُس مسلمان اُ س شیعہ کو ہماری شفاعت نہیں ملے گی جس نے نماز کو اہمیت نہ دی اور یہ تا جر خون حسین (ع) کہہ رہا ہے کہ نماز کی کوئی ضرورت نہیں ہے یہیں ہماری سرحدیں کمزور ہیں ۔

اے بدبخت اے تاجر خو ن حسین کہاں لکھاہوا ہے کہ حضرت حُر بے نماز ی تھے جب نماز کا وقت آیا تو مو لا حسین (ع) نے حُر سے کہا کہ تم امامت کراو تو حُر نے سر جھکا کر کہا کہ زہرا کے لا ل آپ کے ہو تے ہو ئے مجھے کیا مجال یہی تو بات خد اکو پسند آئی امام حسین نے امامت کروائی جہاں امام حسین کے قد م تھے وہاں حُر کا سر تھا ایسے دروس میں جا نا جہاں کہہ رہے ہیں کہ نماز کی کوئی ضرورت نہیں وہاں قرآن کی تو ہین ہو رہی ہے قرآن میں سورہ مائدہ میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ فر ماتا ہے ”( من قتل نفساً----- فکانما قتل الناس جمیعا ) “ (سورہ مائدہ آیت ۳۲) یعنی اگر کسی نے ایک انسان کو قتل کیا تو گویا اُس نے سارے انسانوں کو قتل کر ڈالا ہے امام نے فر ما یا اس کا ظاہری یہی معنی ہے مگر اس کی تفسیر اگر آپ کی غلطی سے اگر ایک بندہ گمراہ ہو گیا یہ نہ سمجھنا کہ آپ نے فقط ایک بندہ کو گمراہ کیا بلکہ آپ نے اللہ کے سارے بندوں کو گمرہ ا کردیا ۔

یہ جب ہم حسین پر گر یہ کرتے ہیں یہ عزاداری اس لئے ہے کہ قیامت کے دن شفاعت اہل بیت مل جا ئے مگر یہ مقصد حسین نہیں ہے یہ ہم اپنی نجات کے لئے کرتے ہیں قبر کے نور کے لئے کرتے ہیں مو لا حسین کا مقصد کیا ہے کر بلا میں حسین نے ایک ایک قدم پر اپنا مقصد بتلا یا ہے امام حسین (ع) کے دو طر ح کے قاتل ہیں ایک تو مولا حسین (ع) کے جسم کے قاتل ہیں جس میں شمر ، حرملا بھی ہیں ابن سعد یزید بھی ہیں اور پو ری فوج یزید ہے یہ سب جسم کے قاتل ہیں اور دوسرے بھی مو لا حسین کے قاتل ہیں وہ مو لا حسین کے مقصد کے قاتل ہیں اور مقصد حسین کے قاتل آج بھی مو جود ہیں مولا حسین نے اپنے عمل سے بتلا یا کہ علی اکبر تیری جوانی رہے یا نہ رہے مگر مقصد زندہ رہے علی اصغر تیری مسکراہٹ رہے یا نہ رہے مگر میرا مقصد زندہ رہے امام حسین نے اپنے مقصد سے بتلا یا عباس تیرے بازو رہیں یا نہ رہیں مگر میرا مقصد زندہ رہے قاسم تو میرے حسن کی نشانی ہے مگر تیری لاش سالم رہے یا نہ رہے مگر میرا مقصد زندہ رہے امام حسین نے اپنے مقصد کے لئے عظیم قربابیاں دیں ہیں نہ فقط یہ قر با نیاں دیں ہیں نہیں اس سے عظیم قربا نیاں دیں ہیں امام حسین نے اپنے عمل سے بتلا یا ،کیا فر ما یا بہن زینب تیری چادر رہے یا نہ رہے مگر میرا مقصد زندہ رہے مو لا حسین کا مقصد کتنا عظیم ہے اور مو لا حسین کی قربانیاں کتنی عظیم ہیں زینب نے اپنے عمل سے بتلا یا بھیا اسیر بنوں گی کر بلا سے کو فہ، کو فہ سے شام جا وں گی ، مگر تیرا مقصد زندہ ر کھو ں گی سکینہ نے اپنے عمل سے بتلا یا با با میں طما چے کھاوں گی مگر تیرے مقصد کو کامیاب بناوں گی مقصد حسین کیا تھا پانچ برس کے باقر سے سوال کیجئے مو لا آ پ کے داد ا کا مقصد کیا تھا ہر امام نے مقصد حسین ہر زیارت میں مقصد حسین بتلا یا گیا ہے زیارت عاشورہ میں بھی زیارت وارثہ میں بھی ہر معصوم نے بتلا یا ” اشہد انک قد اقمت الصلا ة و آتیت الزکاة و امرت بالمعروف و نہیت عن المنکر“ حضرت سجاد فر ما تے ہیں مقصد حسین یہ تھا کہ نماز قائم رہے زکا ت قائم رہے امر بالمعروف زندہ رہے نھی عن المنکر زندہ رہے ۔

امام فر ما تے ہیں اگر کوئی عالم امر بالمعروف نہ کرے اگر وہ ما حول کو دیکھ رہا ہے کہ کتنا گندا ہو گیا ہے بے حیا ئی دیکھ ر ہا ہے گندگی دیکھ رہا ہے مگر پھر بھی امر بالمعروف نہ کرے تو امام فر ما تے ہیں اُس پر خدا کی لعنت کرتا ہے جس قوم کے نو جوان بے غیرت ہو جائیں تو وہ قوم ہمیشہ غلام رہتی ہے امریکا چاہتا ہے کہ نو جوانوں سے غیرت ختم کردیں حیا ختم کرو تو جیسے ہم نے ا سانی سے عراق پر قبضہ کرلیا ویسے ہی ہم پاکستان پر قبضہ کرلیں گے یہ سب یہودیوں کی پلاننگ ہے ایک عالم دین سے کسی نے کہا مو لا نا صاحب آ پ حجاب پر کچھ پرھئے تو اُس نے جواب میں کہا اگر میں حجاب کے بارے میں پڑھوں گا تو لوگ مجھ سے حجاب کرنے لگیں گے یہ لوگ جو پانچ منٹ کے لئے ا مربالمعروف کر نے کے لئے تیار نہیں ہیں یہ لوگ خون حسین کے تا جر ہیں یہ لوگ قوم کو بے عملی تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں یہ لوگ مقصد حسین کی مخالفت کر رہے ہیں یہ لوگ نائب امام مراجع کی مخالفت کر رہے ہیں اے مو منو! ہم اُسے ممبر پر بٹھا تے ہیں جس کی آ واز اچھی ہو اُس کے مصائب اچھے ہوں اب اگر شمر زندہ ہو جا ئے پھر کیا ہم شمر کو ممبر پر بٹھائیں گے شمر بدبخت سے تو بڑھ کر کو ئی مصائب نہیں پڑھ سکتا ہے کیونکہ اُسی نے ظلم کیا ہے شمر امام حسین (ع) کے جسم کا قاتل مگر جو مقصد حسین کا قاتل ہے وہ شمر سے بھی بدتر ہے ۔

امام محمد باقر (ع) فر ما تے ہیں : اے شیعو! ہر زمانے میں دو طرح کے علماء رہے ہیں ایک علماء حق اور دوسرے علمائے باطل علمائے حق کو علمائے خیر کہتے ہیں علمائے باطل کو گندے علماء کہتے ہیں امام نے فر ما یا ہر زمانے میں علمائے حق بھی ہوں گے اور علمائے باطل بھی ہوں گے اُس کے بعد امام فر ما تے ہیں اے شیعو! علمائے باطل سے بچو امام نے فر ما یا علمائے باطل یزید کے لشکر سے بھی بدتر اور برے ہیں کیوں امام فر ما تے ہیں یزید کے لشکر نے ہمارا مال لوٹاتھا یہ لوگ تمہار ا ایمان لوٹ رہے ہیں ۔

اختتام


مجلس ۶

فقد قال الله تبارک وتعالیٰ فی کتابه المجید بسم الله الرحمن الرحیم

( بقیة الله خیر لکم ان کنتم مومنین ) “ (سورہ ہود آیت ۸۶)

اس آ یہ کریمہ میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا ارشاد ہو رہا ہے اگر تم مو منین میں شما ر ہو تو بقیة اللہ کا وجود تمہار ہے لئے خیر ہے بقیة اللہ کے لفظ ہی سے اس کی تفسیر یعنی وہ وجود مبارک جسے پروردگار نے ابھی تک باقی رکھا ہے ، امام زمانہ کی معرفت حاصل کر نا ہم سب پر واجب ہے اور اسی طرح سے امام سے رابطہ میں رہنا دعائے عہد کے ذریعے سے دعائے آل یاسین کے ذریعے سے یا کم سے کم ایک چھوٹی سی دعاء کو ہر روز پڑھا کریں تا کہ ہر روز آپ امام زما نہ سے رابطہ میں رہیں ”اللهم کن لولیک الحجة بن الحسن صلواتک علیه و علیٰ آبائه فی هذه الساعة و فی کل ساعة ولیاً و حافظاً و قائداً و ناصراً و دلیلا و عینا حتیٰ تسکنهُ ارضک طوعاً و تمتعه فیها طویلا “ اس غیبت کبریٰ میں ہماری ذمہ داریاں ہیں اُن میں سے ایک یہ ہے کہ جہالت ختم کی جا ئے جب تک جہالت رہے گی تو اُس وقت تک امام کا ظہورنہیں ہو گا اپنے دین کے ذریعے سے گمراہی کو ختم کریں ۔

یہ زمانہ مسلمین کے لئے بدترین دو ر ہے کیونکہ یہودی چاہتے ہیں کہ پورے ممالک پر قبضہ کریں جس طرح سے پہلے انگلنڈنے روس پر قبضہ کیا تھا اب امریکا بھی یہی چا ہتا ہے کہ سارے اسلامی ممالک پر کنٹرول کر لے اس کے لئے ایک ہی راستہ ہے کہ ہم عیسائیوں کو مسلمان بنا ئیں تو خود بخود وہاں پر مسلمانوں کی لابی بن جا ئے گی تو یہودیوں کی غلامی سے مسلمان بچ سکتے ہیں اس کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ہے یہ ہمارا فر ض ہے کہ ہم تبلیغ اسلام کریں امام تبھی آ ئیں گے جب شعور بڑھے گا علم بڑھے، آ خری خط جو امام کا ہے اُس میں مو لا فر ما تے ہیں اے شیعو! اگر چا ہتے ہو میرا ظہو رجلد ہو جا ئے تو دو کام کرو ایک امام فر ما تے ہیں اطاعت خدا میں مضبوط اور قوی ہو جاو اور آ پس میں متحد ہو جا و۔

یہ دو باتیں بہت اہم ہیں ایک اطاعت پروردگار اور دوسرا اتحاد بین المسلمین شیعوں کی صفات کے بارے میں حضرت ابراہیم بھی کہہ رہے ہیں کہ اے پروردگا ر مجھے بھی شیعوں میں شما ر کر دے اور قرآن کی آیت ”( و ان من شیعته لابراهیم ) “(سورہ صافات آیت ۸۳) تو ہم وہ صفات پیدا کرلیں اور آپس میں متحد ہو جا ئیں آ ج دشمن چاہتا ہے کہ شیعوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیں یہود ی ہمارے خلاف سازشیں کررہے ہیں کیونکہ اُن کو عربوں ڈالرز کا نقصان ہوا ہے جب سے فلسطینیوں کے دلوں سے موت کا ڈر ختم ہو گیا ہے اور جذبہ شہادت ان کے دلوں میں بڑھ گیا ہے اور وہ لوگ شہادت کا جام نوش کر رہے ہیں لہذا وہ شیعوں سے انتقام لینا چاہتے ہیں یہ شہادت کا جذبہ لبنان کے شیعوں نے انہیں سکھا یا ہے اس لحاظ سے انہوں نے تین حملہ شیعیت پر کردئیے یہودیوں نے بے دین مو لو یوں کو خرید کر کے شیعہ مذہب کے اندر وہابیت کے عقائد کو ڈال دیا جائے اور اُن کے عقیدہ کو بر باد کیا جا ئے یہ لوگ با قاعدہ کتاب لکھ رہے ہیں اور تبلیغ کر رہے ہیں اور توسل سے بھی انکا ر کر رہے ہیں کہ توسل کی ضرورت نہیں ہے اور اہل بیت کے ذریعے سے دعاء کیوں مانگتے ہو، کہتے ہیں جو چا ہتے ہو وہ خدا سے مانگو جبکہ اگر کو ئی توسل کا منکر ہے وہ شیعہ ہی نہیں ہے توسل ہمارا ایمان ہے ہم جو بھی ما نگتے ہیں وہ محمد و آل محمد کے صدقے میں مانگتے ہیں جب دعاء مانگتے ہیں تو اُن کا واسطہ دیتے ہیں مگر یہ لوگ کہتے ہیں کہ توسل کی ضرورت نہیں ہے ڈائریکٹ خدا سے دعاء مانگو توسل کا خود خدا نے حکم دیا ہے اور خود قر آن مجید کی آیتوں سے توسل ثابت ہے اُن میں سے ایک مشہور آ یت پروردگار نے فر ما یا ”( یا ایها الذین آمنوااتقوا الله و ابتغوا الیه الوسیلة ) “(سورہ مائدہ آیت ۳۵) بچہ بچہ بھی اس آیت کو جانتا ہے خدا خود فر ما رہا ہے کہ مجھ تک پہنچنے کے لئے وسیلہ تلاش کرو اور سیرت پیامبر سے توسل ظاہر ہے اللہ کے رسول نے جو ہمیں دعائیں سکھائی ہیں روایت میں ہے اور یہ روایت بہت مشہور ہے شیعہ سنی کی کتابوں میں بھی موجود ہے کہ جب بھی کو ئی فقیر آ تا تھاکو ئی مریض آ تا تھا کہتا تھا کہ اللہ کے رسو ل میرے لئے دعاء کیجئے تو رسول خدا کیا فر ما تے تھے دعاء کے لئے ہا تھ بلند کر تے تھے فر ماتے تھےاللهم ارحم علیٰ فلان بحق علی پروردگار اس پر رحم کردے علی کے صدقے ، اس کی مصیبت کو دور کر دے علی کے صدقے، تا ریخ میں یہ بھی الفاظ ملتے ہیں کہ جو لوگ مو لا علی کو نہیں مانتے تھے وہ کہنے لگے کہ جو بھی آتا ہے دعاء میں علی کا نام آتا ہے کبھی تو دعاء میں ہمارا نام آنا چا ہئے جو دوسرے زیادہ عقلمند تھے اُس نے کہا گھبرانے کی کو ئی بات نہیں ہے جب علی بیمار ہوں گے تو ہم ہی کام آئیں گے اتفاق سے علی بیمار ہو گئے اور علی پیامبر کے پاس دعاء کے لئے آ ئے اور اتفاق یہ ہوا کہ اُن دونوں کے سواء دربار میں کو ئی تیسرا تھا بھی نہیں اب مو لا علی دعاء کے لئے آ ئے ہیں مو لا علی نے فر ما یا اللہ کے رسول میں مریض ہو گیا ہو ں میرے لئے دعاء کریں یہ دونوں آنکھوں سے اشارہ کر رہے ہیں کہ دعاء میں یا تیرا نام یا میرا نام، کیوں تیسرا ہے ہی نہیں، علی خود بیمار ہو کر آ ئے ہیں اب اللہ کے رسول نے دعاء کے لئے ہا تھ بلند کئے اور فر ما یا ”اللهم ارحم علیٰ علی بحق علی “ پروردگار علی پر رحم کر علی کے صدیقے میں، اب یہ جو دلوں کا بغض تھا وہ زبان پر آ گیا کہنے لگے اللہ کے رسول یہ کہاں کا انصاف ہے کہ دوسرا بیمار ہو گیا تو دعاء میں علی کا نام آج علی خود بیمار ہو گئے ہیں تب بھی دعاء میں علی کا نام، بس یہ سننا تھا رسالت مآب کے چہرے پر غضب کے آثار نما یاں ہو گئے فر ما یا تم علی کی بات کر تے ہو میں جب اپنے لئے دعاء مانگتا ہوں تب بھی علی کے واسطہ سے دعاء مانگتا ہوں۔

کو ئی مسلمان توسل سے انکار نہیں کر سکتا ہے توسل قر آن سے ثابت ہے سیرت رسول سے ثابت ہے یہ گہری سازش ہے کہ شیعوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دو اور اُن کے مرکز کو ختم کردو یہ اسرائیلی یہودیوں کی سا زش ہے اور دوسری بڑی سازش کہ کچھ اجنٹوں کو خریدا گیا ہے جتنے جھو ٹھے مذہب جوبنا ئے گئے ہیں وہ کسی بیچارہ جاہل نے نہیں بنا ئے ہیں یہ ملا وں نے ہی بنا ئے ہیں یہ سب جھو ٹھے مذہبوں کو دین فروش ملاوں نے ہی بنا ئے ہیں وہ لوگ کہتے ہیں کہ اذا ن میں علی ولی اللہ کہنا بدعت ہے اور وہ لوگ خود کو شیعہ کہلواتے ہیں ہزاروں سا لوں سے ہمارے مراجع اتنے بڑے عالم اتنے بڑے مجتہد نے کیا یہ سب غلط تھے اور آپ آج پیدا ہو گئے ہیں اور آپ انہیں اپنی تحقیق پیش کر رہے ہیں اور ایسے ایسے مجتہد اور مراجع نے ا ذان و اقامت میں علی ولی اللہ پڑھا ہے جنہیں بارہویں امام نے اپنی زیارت بھی کرائی ہے صرف زیارت نہیں بلکہ اپنا بھا ئی کر کے پکارا جسے امام اپنا بھا ئی کہیں تو اس کا مقام کتنا بلند ہو گا کیا وہ سب غلط ہیں اور آ پ پیدا ہو گئے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ علی ولی اللہ اذا ن میں کہنا بدعت ہے ۔

مقدس اردبیلی جیسے علماء جنھوں نے اذان و اقامت میں علی ولی اللہ پڑھی ہے یہ وہ عالم دین تھے جب یہ عالم دین آ دھی رات کو مو لا علی کے حرم میں آتے تھے تو در وازہ خود بخود کھل جاتا تھا اور اندر تشریف لے چلے جا تے تھے ا ور ضریح سے آ واز آ تی تھے ” وعلیک السلام “ اتنے بڑے بڑے علماء یہ سب غلط ہیں نہیں یہ سب سا زش ہے یہ چاہتے ہیں کہ شیعوں میں فر قہ پیدا ہو جائے اس پارٹی کو امریکا نے بنایا ہے مگر انہوں نے ایک اور پارٹی بنا دی اور وہ کہتے ہیں کہ جو تشہد میں علی ولی اللہ نہیں پڑھتا ہے اُس کی نماز باطل ہے اور یہ دو پارٹی جھگڑے کے لئے بنا ئی گئی ہے وہ لوگ کہتے ہیں فقط باطل ہی نہیں ہے بلکہ ایک مشہور عالم نے ہزاروں کے مجمع میں کہنے لگا کہ تشہد میں کو ئی علی ولی اللہ نہیں پڑھتا ہے صرف اُس کی نماز باطل نہیں ہے بلکہ وہ حرام زادہ ہے، یہ پو ری پلاننگ ہے کہ شیعہ کو شیعہ سے لڑا یا جا ئے تو مجمع کے لوگ اٹھے اور وہاں جھگڑا ہو نے والا تھا تو وہاں پر ایک سمجھدار آدمی تھا اُس نے کہا اگر ہم اٹھیں گے جھگڑا کریں گے تو وہ اپنے مقصد میں کا میاب ہوجا ئے گا اُس نے سب سے کہا یہ اجنٹ ہے یہ آ یا ہے کہ شیعہ کو شیعہ سے لڑائے تم سب لوگ صبر کر و اُس نے سب کو بٹھا یا اور خود آ گے بڑھا اور کہا مولا نا صاحب آپ نے جو فر ما یا جو تشہد میں علی ولی اللہ نہیں پڑھے اُس کی نماز باطل ہے اور وہ حرام زادہ ہے تو میں نے آ پ کے والد گرامی کے پیچھے نماز پڑھی تھی وہ بھی تشہد میں علی ولی اللہ نہیں پڑھتے تھے پہلے آپ یہ بتا ئیں کہ آپ کو ن ہیں۔

یہ لوگ دشمن اسلام ہیں یہ لوگ چا ہتے ہیں کہ شیعہ کو شیعہ سے لڑا ئیں انہیں علی ولی اللہ سے پیا ر نہیں ہے بلکہ علی ولی اللہ ہر شیعہ کا ایمان ہے جو علی ولی اللہ کا منکر ہے وہ شیعہ ہی نہیں علی ولی اللہ ہماری جان ہے علی ولی اللہ ہمار ا عقیدہ ہے علی و لی اللہ پر ہماری اولا د قربا ن علی ولی اللہ کے بغیر کو ئی شیعہ ہو ہی نہیں سکتا ہے شیعہ سنی میں فرق علی ولی اللہ کا ہی تو فر ق ہے جوشیعہ بن ہی نہیں سکتا ہے کہ اُس کو علی ولی اللہ پر ایمان نہ ہو مگر بات یہ ہے یہ جو ٹولہ جو بنا ہے یہ نعرہ حق کا لگا رہا ہے مگر ان کی نیتیں کچھ اور ہیں سمجھدا ر انسان سمجھ جا تا ہے کہ نعرہ لگا نے والا کو ن ہے جنگ صفین میں دشمن علی ہا رنے لگا مالک اشتر اُس کے خیمہ کے نزدیک پہنچ گئے موت سامنے آ ئی اب اُس نے سا زش کی اور کہا قر آن نیزوں پر اٹھا لو کہو ”لا حکم الا للہ“کہ حکم اللہ کا چلے گا نہ علی کا حکم چلے گا اور نہ معاویہ کا چلے گا مو لا علی کی فوج میں جو جا ہل لوگ تھے جن کے پاس علی کی معرفت کم تھی وہ رک گئے اور کہا مالک بن اشتر ہم نہیں لڑیں گے کیونکہ وہ حق کی بات کر رہے وہ نعرہ بالکل سچا لگا رہے ہیں کہ علی کا حکم بھی نہ چلے علی کے دشمن کا حکم بھی نہ چلے ہم آپس میں کیوں لڑیں اور وہ لوگ مولا کے پاس ا ئے اور کہا مو لا ہم نہیں لڑیں گے وہ بالکل سچا نعرہ لگا رہے ہیں کہہ رہے ہیں کہ اللہ کا حکم چلے آپ کا حکم بھی نہیں چلے گا آ پ کے دشمن کا حکم بھی نہیں چلے گا حکم اللہ کا چلے گا تو مو لا علی نے فرمایا صحیح ہے حکم اللہ کا چلے گا اے نادانوں یہ نعرہ حق کا ہے مگر ان کی نیت باطل ہے حکم خدا کا چلے گا مگر خدا کا حکم چلا نے کے لئے یا نبی آ ئے گا یا امام آ ئیں گے خدا خود تو نہیں آ ئے گا اسی نعرے کی وجہ سے وہ لوگ خارجی بن گئے خوارج یہیں سے بنے انہوں نے مو لا علی کے خلاف بھی بات کر نا شروع کر دی اور آج بھی یہ علی ولی اللہ کا نعرہ حق کا ہے مگر اس میں کو ئی شک وہ شبہہ نہیں ہم سب کا ایمان علی ولی اللہ کا ہے مگر یہ جو نعرہ اس طرح سے لگا رہے ہیں تا کہ شیعہ شیعہ سے لڑے اور شیعوں میں دو تین فر قے بن جا ئیں۔

کو ئی شیعہ علی ولی اللہ کا منکر نہیں ہوسکتا ہے مگر یہ لوگ جو جس انداز سے یہ بات کر تے ہیں کہ جو علی ولی اللہ تشہد میں نہ پڑھے اُس کی نماز باطل ہے وہ حرام زادہ ہے اس سے اُن کی نیت معلوم ہو تی ہے مو لا علی نام علی ولی اللہ یہ شیعوں میں اتحاد کی نشانی ہے مگر ایک ٹولہ اس نعرہ کو ایسے لگا رہا ہے کہ شیعوں میں اختلا ف ہو جا ئے لہذ ا یہی ثابت ہے کہ اُن کی نیت باطل ہے وہ لوگ مراجع کے فتویٰ دیئے ہیں جو اس دنیا سے چلے گئے ہیں کہتے ہیں کہ ان مراجع نے کہا ہے کہ ہم تشہد میں علی ولی اللہ پڑھ سکتے ہیں جب ہم نے مجتہد ین سے سوال کیا کہ نماز باطل ہے انہوں نے کہا باطل نہیں ہے وہ لوگ کہتے ہیں جنہوں نے یہ فتویٰ دیا ہے وہ مجتہدیں مرحوم ہو چکے ہیں بالکل صحیح ہے کہ نماز باطل نہیں مگر مسئلہ کیا ہے مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس وقت مردہ مجتہدیں کی تقلید نہیں کر سکتے ہیں شیعہ سنی میں فر ق یہی ہے کہ ہم مردہ کی تقلید نہیں کرسکتے ہیں مگر سنی لوگ جو ہزار سال پہلے اُن کے مجتہد تھے اُن کی اب تک تقلید کر تے ہیں مثال ابو حنیفہ ،مالکی یا شافعی ہمارے یہا ں مردہ مجتہد کی تقلید کر نا حرام ہے ہم اس لئے زندہ مجتہد کی تقلید کر تے ہیں کیوں کہ زندہ مجتہد کو آج کے حالات کا علم ہے جو بیچارہ مرگیا ہے اُس کو آج کے حالا ت کا کیا پتہ ہے۔

مگرا س وقت جو سب زندہ مجتہد ین ہیں اُن سے سوال کیا گیا کہ قبلہ پاکستان میں ایک ٹولہ ہے وہ لوگ ثواب کی نیت میں نہیں پڑھتے ہیں اگر وہ ثواب کی نیت میں پڑھتے تو کسی کو حرام زادہ تو نہیں کہتے کسی کو وہ نہیں کہیں گے کہ آپ کی نماز باطل ہے پاکستان میں یہ ایک گروہ بناہے وہ لوگ شدت کے ساتھ تقریریں بھی کر تے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو تشہد میں علی ولی اللہ نہیں پرھتا ہے اُس کی نماز باطل ہے اور وہ حرام زادہ ہے تو اس وقت جتنے زندہ مجتہد ین ہیں اُن سب نے کہا وہ جواب د یا ہے جو مولا علی کاجواب دیا ہے کہ اُن کا نعرہ تو حق ہے مگر اُن کی نیتیں باطل ہے۔

شیعیت کو جو ٹکڑے ٹکڑے کر نا چا ہتے ہیں اُن کی سازش سے ہو شیار رہئے اگر ہم ہو شیار نہ رہیں تو نہیں معلوم دشمن ہمارے کتنے ٹکڑے کر ڈالے گا اور ہمارے مرکز کو کمزور کر نے کے لئے دشمن یہ سب سازشیں کر رہا ہے۔

تیسری سازش تیسرا حملہ یہودیوں نے جو شیعیت پر کیا ہے وہ نصیریت کا حملہ ہے امریکا خبیث نے جب سے ایران میں انقلاب آیا ہے عرب ممالک میں لاکھوں کتابیں عربی میں چھپوائیں ہیں اور مفت میں تقسیم کی ہیں اور اُن کے ایجنٹ پاکستان میں بھی یہی کر رہے ہیں مفت میں کتا بیں تقسیم کر رہے ہیں اُس کتاب میں کہا ہے کہ شیعہ علی کو اللہ کہتے ہیں تا کہ عرب شیعہ بنے ہی نہ ، دنیا کا کو ئی شیعہ علی کو اللہ نہیں کہتا ہے اذان و اقامت کے وقت کسی بھی شیعہ مسجد میں چلے جا ئیں تو آ پ کو یقین ہو جا ئے گا کہ کو ئی شیعہ علی کو اللہ نہیں کہتا بلکہ ہر شیعہ مسجد سے آ واز آ تی ہے علی ولی اللہ یہ ہماری صداقت کے لئے بہت بڑی دلیل ہے دینا کے کسی بھی شیعہ مسجد میں چلے جا ئیں اذان کے وقت یہی آ واز آئے گی علی ولی اللہ یعنی علی اللہ کا علی ولی ہے کوئی شیعہ علی کو اللہ نہیں کہتا ہے امریکا کی طرف سے جو ٹولہ بنا یا گیا ہے کہ شیعہ علی کو اللہ کہتے ہیں اُن کا بھی اس طرح سے برین واش کیا جائے ایک تو باہر ہیں جو شیعوں کو مارتے ہیں مگر باہر کے دشمنوں سے اندر کے دشمن زیادہ خطر ناک ہیں امریکا والے باہر والوں کو ثبوت دیتے ہیں کہ واقعاً شیعہ کافر ہیں تاجر حسین مو لوی کہتے ہیں کہ قرآن میں سورہ حشرہے اس میں ایک آ یت ہے جس میں اللہ کا نام مو من ہے تو یہ صحیح ہے مگر حضرت علی (ع) امیر المومنین ہیں نعوذباللہ وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے بھی امیر ہیں اس سے بڑا کفر کیا ہے نیچے جو چلے چمچہ بیٹھے ہو ئے تھے انہوں نے کہا نعرے حیدری یعنی سارے شیعوں کا یہی عقیدہ ہے کہ علی اللہ کا بھی امیر ہے یہ تو نصیریوں سے دو ہا تھ ا گے بڑھ گئے ہیں نصیری علی کو اللہ کہتا ہے جس نے علی کو اللہ کہا مو لا علی نے اُس پر لعنت کی مو لا نے اُسے کافر کہا مو لا نے اُسے مشرک کہا ہمارے ہر امام کا فتویٰ ہے کہ نصیری مشرک ہیں وہ نجس ہیں اُس کے ہاتھ کا کھا نا پینا حرام ہے اگر کسی نے علی کو اللہ کہا کیا اُس نے مولا علی کی شان کو بڑھا یا نہیں اُس نے مولا علی کی توہین کی، اگر کوئی کہتا ہے علی اللہ ہے اس کے بارے میں قرآن میں سورہ توحید میں ہے( بسم الله الرحمن الرحیم قل هو الله احد ، الله الصمد ،لم یلد و لم یولد ، و لم یکن له کفواً احد ) اس سورہ کا ترجمہ یہ ہے کہ اللہ احد ہے اُس کا کوئی والد نہیں اور اللہ کا کوئی بیٹا نہیں اگر کسی نے کہا علی اللہ ہے یعنی اُس نے حضرت ابو طالب کی بھی توہین کی، کہ ابوطالب علی کے والد نہیں اور امام حسن اور حسین کی بھی تو ہین کی کہ حسن و حسین بھی علی کے فرزند نہیں، ایسی بات تو خارجیوں نے بھی نہیں کی کہ حسنین علی کے فرزند نہیں ہیں یہ ایک خطرناک سازش ہے تا کہ باہر والوں کو معلوم ہو جائے کہ شیعہ کافر ہیں شیعہ کا مقرر کہہ ر ہا ہے اللہ مو من ہے اور علی امیر المومنین ہیں اگر یہ کہے اور اس سے یہ مطلب نکالے کہ علی معاذ اللہ اللہ کے بھی امیر ہیں تو اُس کے کافر ہو نے میں کیا شک ہے ہم تین حملوں کے درمیان میں پھنسے ہو ئے ہیں ایک وہابیت کا حملہ اخباریت کا حملہ اور یہ نصریت کا حملہ نصیری نجس ہیں اُن کے ہاتھ کا کھا نا پینا بھی نجس ہے یہ صرف ہمارے اُس تبلیغ کو رو کنے کی سازش ہے کیونکہ ایران کے انقلاب کے بعد دنیا میں ہزاروں لوگ شیعہ نہیں ہو ئے بلکہ لاکھوں لوگوں نے مذہب اہل بیت کو قبول کیا افریقا کے بعض ممالک میں ایک شیعہ بھی نہیں تھا مگر اس وقت ایک لاکھ سے بھی زیادہ شیعہ ہیں افریقا کے ایک علاقہ جس کو مڈاگاسکر کہتے ہیں وہاں پر پانچ سال کی تبلیغ کے بعد پندرہ ہزار لوگوں نے مذہب اہل بیت کو قبول کیا اس وجہ سے یہودی امریکی خوف زدہ ہیں وہ کہتے ہیں ہمارے اندر کچھ خبیثوں کو بھیج دے اور وہ ایسی باتیں کریں جو خلاف عقل بھی ہو اور خلاف قرآن بھی ہو تا کہ شیعیت کی تبلیغ رک جا ئے لہذا بے انتھا ضرورت ہے کہ ہمارے مو منین ان سازشوں سے باخبر رہیں ہمارے اہل بیت نے مناظرہ کئے امام رضا (ع) نے ایک عیسائی مو لوی سے مناظرہ کیا امام نے عیسائی مو لوی سے کہا تم حضرت عیسی کو کیا مانتے ہو خدا مانتے ہو یا نبی اُس نے کہا میں عیسی کو خدا مانتا ہوں امام تھوڑی دیر خاموش ہو گئے پھر فرما یا بعض لوگوں کا خیال ہے حضرت عیسی عبادت میں سُست تھے عیسائی پادری غصہ میں آ گیا کہا کون کہتا ہے یہ تہمت ہے یہ جھوٹ ہے حضرت عیسیٰ وہ تھے جو پوری پوری رات عبادت میں بسر کرتے تھے بس یہ سننا تھا تو امام نے مُسکرا کر فر مایا اگر خود خدا تھے تو عبادت کس کی کیا کرتے تھے ۔

جیسے عیسائی نادان ہیں اسی طرح سے نصیری بھی نادان ہیں مو لا علی کا سر سجدہ میں ہے شہادت سجدہ میں ہو ئی ہے اگر مو لا علی خدا تھے تو سجدہ کس کو کیا کر تے تھے قطعا نصیریت کی مذہب اہل میں گنجا یش نہیں ہے ہو شیار رہئے مگر یہ تین حملہ ہم پر کامیاب ہو گیا کیوں کا میاب ہو گئے یہی تاجر خون حسین ہم نے ممبر کی حفاظت نہیں کی آج یہی لوگ نصیریت کی تبلیغ کر رہے ہیں یا اخباریت کی تبلیغ کر رہے ہیں وہی لوگ ہیں مجلس حسین کا سودا کر نے والے ہیں آج یہ قوم کا سودا کر رہے ہیں جب تک ممبر کا تقدس بحال نہیں ہو گا ہماری سرحدیں کمزور ہیں دشمن آسانی سے ہمارے اندر کئی فرقہ بنا سکتا ہے لہذا متحد ہو جا ئیے یہ معصوم کا فر ما ن ہے اصول کا فی میں امام نے فر ما یا ” اے شیعو! ہر عالم کو ممبر پر مت بٹھا نا جسے بھی بٹھا و پہلے یقین کر لو کہ اُس کے دل میں پیسہ کی محبت ہے جو پیسہ کا پجاری ہے وہ کبھی تمہیں دین نہیں دے گا یہ قاضی شریح کو ن تھا یہ مو لا حسین کا ماننے والا تھا مگر مو لا نے اُسے کہا تھا تیرے دل میں پیسے کی محبت ہے یہ محبت تمہیں لوٹ کر جہنم میں لے جائے گی اُس نے مولا کی نصیحت پر عمل نہیں کیا جب یزید کے لوگ آ ئے اور اُس سے کہا لکھ کر دو حسین واجب القتل ہیں دشمن حسین نہیں تھا پہلے محب حسین تھا مگر حسین سے محبت کم تھی پیسہ سے زیادہ محبت تھی تو اُس نے یہ سن کر ایک پتھر جو اُس کے سامنے تھا اٹھا کر زور سے اپنے سر پر مارا اور چلایا اے بے شرموں کیا کہہ رہے ہو میں لکھ کر دوں کہ زہرا کا لا ل واجب القتل ہے اُس نے اُس پتھر کو اتنا زور سے ما را کہ اُس کے سر سے خون بہنے لگا تو یزیدیوں نے کہا یہ لکھ کر نہیں دے گا ابھی حسین شہید نہیں ہو ئے یہ پہلے سے خون نکال رہا ہے ایک نے کہا نہیں نہیں لکھ دو اُس کو حسین سے محبت تھی مگر اُسے حسین سے زیادہ مال سے محبت تھی ،انہوں نے اُس کے سامنے سو نے کی تھیلیاں رکھ دی اُس نے کہا قاضی جو ش میں آ نے کی کوئی بات نہیں ہے اگر تو نے نہیں لکھ کر دیا تو کیا حسین بچ جا ئیں گے اس شہر میں کتنے اور قاضی ہیں تو اپنا خود نقصان کرو گے تجھے اتنا سونا اتنے جواہرا ت تجھے زندگی میں مل ہی نہیں سکتے ہیں اگر فتویٰ دے دیا تو مال تیرا ورنہ کسی اور قاضی کو مل جا ئے گا یہ سننا تھا تو شیطان نے اُسے بہکا یا اور کہا کہ اگر میں نے نہیں لکھ کر دیا تو کیا ہوا حسین تو ما رے جا ئیں گے اپنا نقصان کیوں کروں ۔

جس عالم کے دل میں پیسے کی محبت ہے تو وہ قاضی شریح بن کر وقت کے یزید کا ایجنٹ بن سکتا ہے جو بھی عالم اگر پیسہ کا پجاری ہے وہ کبھی بھی وقت کے یزید کے ہاتھ پر بیعت کر کے پوری قوم کو بیچ سکتا ہے اسی لئے معصوم نے فر ما یا: اے شیعو!ہر عالم سے دین مت لینا ہر ایک کو ممبر پر مت بٹھا نا پہلے یہ یقین کر لو کہ اس کے دل میں پیسہ کی محبت تو نہیں ہے اگر پیسہ کا پجاری ہے تو یہ تمیں بے دین بنادے گا ۔

ایک بہت بڑے عالم دین اُن سے کہا گیا مو لا نا قبلہ آ ج اکیس رمضان ہے مو لا علی کا سر سجدہ میں زخمی ہو اہے تھوڑی سی نصیحت نماز پر کردیں تو جب اُس عالم نے ممبر کے نیچے سے یہ آ واز سنی تو پہلے وہ بڑے زور سے ہنسا ہنس کر بڑی حقارت سے کہا نماز اور کہا مت چھیڑو مجھے اگر مجھے چھیڑو گے تو میں نماز کے خلاف آیتوں کا انبار لگا دوں گا ۔

یہ ذا کر مو لوی کس قدر گستاخ ہو گئے ہیں اس قدر اُن کی ہمت ہو گئی ہے کیوں کہ کو ئی روکنے اور ٹوکنے والا نہیں ہے جو منھ میں آتا ہے وہ بولتے ہیں نماز کی توہین کرتے ہیں قرآن کہہ ر ہا ہے( اقیموا الصلاة و لا تکونوا من المشرکین ) وہ کہہ رہا ہے کہ میں نماز کے خلاف آ یتوں کا انبار بنا دوں گا اگر ہم چپ رہیں تو دین کی صورت مسخ ہو جا ئے گی انحراف ہو جا ئے گا کرا چی میں ایک ذکری فرقہ ہے جب وہابیوں نے اُن پر حملہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ہم اصل میں شیعہ ہیں ذکر ی فر قہ جب حجا ج بن یوسف کے زمانے میں اُن پر حملہ ہوا تھا تو انہوں نے بسنی اور مکران میں آ کر انہوں نے پناہ لیا تھا اُسی زمانے میں حملہ کی وجہ سے اور وہاں زیادہ پانی نہ ہو نے کی وجہ سے بہت سارے حجاج کے لوگ مر گئے تھے یہ لوگ پہلے مو منین میں شمار تھے مگر ان کے در میان میں انحراف ہوا یہ لوگ جا ہل ہو نے کی وجہ سے ایسے ہی ذاکرین مو لویوں کی باتوں میں آ گئے کہ انہوں نے کہا کہ نماز کی کو ئی ضرورت نہیں آپ پوری رات بیٹھ کر ذکر کریں اور اب یہ ذکری لوگ فقط ذکر کر تے ہیں اور امام زمانہ کو پکارتے ہیں اُن کے سارے اشعار فارسی زبان میں ہیں ان لوگوں کی اذان بھی علی ولی کے ساتھ ہے مگر جب ان کے محلوں میں جا ئیں تو لکھا ہوا ہو تا ہے کہ نماز یوں پر لعنت یہ لوگ دس لاکھ لوگ ہیں مگر یہ لوگ جاہل ذاکروں کی وجہ سے پوری کی پوری قوم گمراہ ہو گئی ہے۔

آیلنڈ کا ایک شہر جس کا نام نیوجرسی وہاں عاشور کے دن جلوس نکلا جلوس نکالنے والے لوگ سب کے سب انڈین تھے جنہیں دوسو سال پہلے انگلنڈ انہیں وہاں لے گیا تھا جلوس میں بعض لوگ کہہ رہے ہیں حسین اور بعض یزید کہہ رہے ہیں اور اُن سب کے ہا تھوں میں شراب کی بوتلیں ہیں جب جلوس ختم ہوا تو اُن کے بڑوں سے سوال کیا گیا تم لوگ کو ن ہو تمہارا کون سا مذہب ہے انہوں نے کہا ہمیں نہیں معلوم ہمارا مذہب کون سا ہے وہ کہتے ہیں ہمارے بڑے لوگ دس محرم کو جلوس نکالتے ہیں اس لئے ہم بھی نکالتے ہیں اُس نے کہا ایک حسین شہزادہ تھا اور دوسرا یزید شہزدادہ تھا اُن دونوں کی آپس میں جنگ تھی ۔ وہ بدبخت شیعہ ہیں مگر انہیں نہیں معلوم کہ وہ کون ہیں ایسے جاہل ذاکرین وہاں پیدا ہو گئے اور پوری قوم کو انہوں نے اصلی صراط مستقیم سے ہٹا دیا یزیدی فعل کر رہے ہیں تو اُن لو گوں کے لئے ایران سے عالم منگایا گیا تو اب الحمد للہ ایک مدرسہ ہے اور بہت سا رے لوگ دوبارہ شیعہ ہو رہے ہیں ۔

اگر ہم ان نئے نئے ذاکرین جو بدعتیں پیدا کر رہے ہیں اگر ہم انہیں چھوڑدیں تو پوری قوم منحرف ہو جا ئے گی ہم پر لازم ہے اگر کو ئی ایسی بدعتیں پیدا کر ے اور شیعہ کو شیعہ سے لڑا ئے تو ہم پر واجب ہے کہ ہم اُن کو جواب دیں ۔

امام جعفر صادق (ع) فر ماتے ہیں جو نماز کو چھوڑدے اُسے ہماری شفاعت نصیب نہیں ہو گئی امام نے فر ما یا جو جان بوجھ کر نماز نہ پڑھے وہ کافر ہے تو وہ شخص جو امام کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اُس نے کہا اگر کو ئی شراب پئے کافر ہے تو امام نے فر مایا بہت بڑا گناہ ہے مگر کافر نہیں ہے مو لا اگر کوئی زنا کرے کافر ہے امام نے فر مایا نہیں کا فر نہیں ہے بہت بڑا گناہ ہے اُس نے کہا اگر میں یہ کہیں سناوں گا تو لوگ شک کریں گے مہر بانی کر کے دلیل بھی دے دیں امام نے فر مایا سن : اگر کوئی زنا کے گناہ میں مبتلا ہو کیونکہ شیطان اُسے زنا کی لذت دکھا کر اندھا کر دیتا ہے اور وہ جا کر گناہ میں گر تا ہے مگر اے مو من یہ بتا اگر کوئی نماز نہیں پڑھتا تو کیا نماز نہ پڑھنے میں کو ئی لذت ہے؟ کہا: نہیں مو لا، امام نے فر ما یا : جو نماز نہیں پڑھتا ہے اس لئے نہیں پڑھتا کیونکہ وہ نماز کو حقیر سمجھتا ہے اور جس نے نماز کوحقیر سمجھا اُس نے نماز کو حقیر نہیں سمجھا بلکہ نماز کے حکم دینے والے خدا ، نبی ، علی کو حقیر سمجھاجس نے خدا ، نبی ، علی کو حقیر سمجھا وہ کافر ہے ۔

اختتام


مجلس ۷

فقد قا ل الله تبارک وتعالیٰ فی کتابه المجید و فر قانه الحمید و قوله الحق بسم الله الرحمن الرحیم

( بقیة الله خیر لکم ان کنتم مومنین ) “(سورہ ہود آیت ۸۶)

ہر شخص پر واجب ہے کہ اپنے زمانے کی امام کی معرفت حاصل کرے ۔ ہمیں جو بھی مل رہا ہے رزق مل رہا ہے اولاد مل رہی ہے عزت مل رہی ہے دولت مل رہی ہے یہ سب امام زمانہ کے صدقے میں مل رہی ہے امام حجت خدا ہیں اُن کی معرفت اور روحانیت برقرار کرنا ہے اور جسمانی رابطہ کے لئے بھی کوشش کر نی چا ہئے کہ مو لا کی زیارت ہو جائے ،مگر امام سے ہمیشہ رو حانی رابطہ میں رہیں ہم پر لازم ہے کہ وہ کام کریں جو امام کو پسند ہو جیسے تبلیغ اسلام جو امام کو پسند ہے کیونکہ یہی وہ طریقے ہیں کہ ہم امام سے رابطہ بر قرار کر سکیں آج کل تو یہودی مسلمان ممالک کو غلام بنا نے کے چکر میں ہیں ہمارے پاس ایک ہی طریقہ ہے کہ ہم انٹرنیٹ کے ذریعے سے عیسائیوں کو مسلمان بنا نا شروع کریں ہم احمد دیدت کی کتابوں کے ذریعے سے عیسائیوں کو مسلمان بنا سکتے ہیں ہم عیسائیوں کو مسلمان بناکر یورپ امریکا میں ایک لابی بنا سکتے ہیں جو اس یہودیوں کی شیطنت کو روکے اور دوسرا غیبت امام زمانہ میں جو مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ جہالت کو ختم کیا جا ئے اگر جہا لت اور گمراہی پھیلتی گئی نو دشمن سازشوں میں کامیاب ہو جائے گا ، دشمن اصل میں جہالت سے فائدہ اٹھاتا ہے جہالت اور گمراہی کو ختم کرنا ہر مو من کی ذمہ داری ہے یہودیوں نے شیعیت کے خلاف تین بڑی سازش شروع کر دی ہیں ایک وہابیت کا حملہ ہم پرشروع کر دیا ہے کچھ بے دین مولویوں کو خریدا ہے جو کہتے ہیں یا علی مدد کہنا بھی بدعت ہے جب کہ یا علی مدد کہنا حدیث ،قرآن ، توریت و انجیل سے ثابت ہے اور دوسرا حملہ اخباریت کا حملہ ہے اخباریت کا مذہب اگر ہمارے درمیان آجاتا تو اس وقت شیعیت ختم ہو چکی ہو تی یہ چا رسو سال پرا نا مذہب ہے جسے انگریزوں نے بنا یا تھا آج یہ یہودی دو بارہ اسے زندہ کرنا چا ہتے ہیں اخباری لوگ کہتے ہیں کہ ہم قرآنی دلیل کو نہیں مانتے ہیں اگر شیعہ قرآنی دلیل کو نہ مانیں تو مولا علی کی خلافت اور امامت کو کہاں سے ثابت کریں گے دو ہی نقطہ ہیں جس سے سنی مسلمان شیعہ بنتا ہے ایک مو لا علی کے خلافت کا مسئلہ ہے اور دوسرا مسئلہ بی بی فاطمة الزہرا کے فدک کا حق کا ہے ان دو نوں کو ہم قرآن سے ثابت کرتے ہیں اگر ہم قرآن کی دلیل کو نہ مانیں تو کوئی چیز ہم ثابت نہیں کرسکتے ہیں یہ وہی آیتیں جو قرآن میں ہیں ”( یا ایها الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک و ان لم تفعل فما بلغت رسالته ) “ (سورہ مائدہ آیت ۶۷) اے میرے محبوب آ ج اعلان کردو جو ہم نے آ پ پر حکم نازل کیا اگر آپ نے اس کولوگوں تک نہیں پہنچایا تو آپ نے رسالت کا کوئی کام ہی انجام نہیں دیا ہے یہ مشہور واقعہ اہل سنت کی تین سو کتابوں میں موجود ہے کہ اس کے بعد اللہ کے رسول ممبر پر آئے خدا کی حمد و ثنا کر نے کے بعد فر مایا :مسلمانو!کیا تم مجھے اپنا آقا مانتے ہو کیا تم مجھے مو لا مانتے ہو؟ ہم کہیں گے اگر ہم رسول کو نہیں مانتے تو ”لا الہ الا اللہ“ کیوں کہتے ،اگر ہم رسول کو مو لا نہیں مانتے ” محمد رسول اللہ “ کیوں کہتے، اگر ہم رسول کو مولا نہیں مانتے تو نماز کیوں پڑھتے، اگر مو لا نہیں مانتے تو حج میں کیوں آ تے ،مگر رسول خدا سوال کر رہے ہیں تو بے کار نہیں پوچھ رہے ہیں ظاہرا اگر ناسمجھ آ دمی وہ کہے گا کہ یہ عجیب سوال ہے کہ کیا تم مجھے مو لا مانتے ہو؟ ہم مانتے ہیں تو حج پر آتے ہیں،نہیں نہیں رسول خدا ایک اور اہم مسئلہ کی طرف متوجہ کررہے ہیں کہ دیکھو ماننے کے دو طریقے ہیں خدا کو فرشتے بھی مانتے ہیں اور خدا کو شیطان بھی مانتا ہے شیطان نے خدا کی خدائی کا انکار نہیں کیا ہے شیطان کہتا ہے ”( فبعزتک لاغوینهم اجمعین ) “ (سورہ ص آیت ۸۲) خدا کو مانتا ہے قیامت کو مانتا ہے فرشتے بھی خدا کو مانتے ہیں شیطان بھی خدا کو مانتا ہے ماننے کے دو طریقے ہیں فرشتے کیسے مانتے ہیں؟ فرشتے کہتے ہیں :ہم تجھے مانیں گے ہم تجھے مانتے ہیں اور جس جس کو تومنوائے گا اُس کو بھی ہم مانیں گے یہ فرشتوں کے ماننے کا طریقہ ہے ،شیطان ملعون کے ماننے کا کیا طریقہ ہے ؟وہ کہتا ہے کہ پروردگار تجھے ما نوں گا لیکن اگر تو آدم کو منوائے گا تو میں اُسے نہیں مانوں گا تو اللہ کے رسول کا سوال بھی یہی ہے کہ مجھے مانتے ہو تو کیسے مانتے ہو فرشتوں کی طرح مانتے ہو یا شیطان کی طرح مانتے ہو؟ اگر فرشتوں کی مانند مانتے ہو تو اے مسلمانو! سنو تو یہی اصل ایمان ہے کہ مجھے بھی مانو گے اور جسے میں منواوں گا اُسے بھی مانو گے اس کے بعد اللہ کے رسول نے اقرار لیا مجھے مانتے ہو تو سب نے کہا مانتے ہیں تو اب اللہ کے رسول نے ”من کنت مو لاه فهذا علی مولاه “ جس جس کا میں مو لا ہوں اُس اس کے علی مولا ہیں اب جو نبی کو فرشتوں کی طرح ما نتے ہیں وہ نبی کو بھی مو لا مانتے ہیں اور علی کو بھی مو لا مانتے ہیں ،مگر جو فرشتوں کی طرح نہیں مانتے ہیں وہ کہتے ہیں نبی کو مانیں گی مگر علی کو نہیں مانیں گے۔

یہیں سے فرقہ بنا انہوں نے ایمان کا اظہار اس طرح سے کیا جیسے شیطان خدا کو مانتا ہے لیکن اگر خدا نے کسی کو منوایا اُسے نہیں مانتا ہے ہم مو من ہیں ہمیں فر شتوں کی طرح ما ننا ہے ہم کہیں گے اللہ کے رسول ہم آ پ کو مانتے ہیں اور جسے آپ منوا ئیں گے اُسے بھی ہم مانیں گے مو لا علی کو کہا ہے یہ مو لا ہیں مولا علی نے فر مایا میرے بعد میرا بیٹا حسن تم لوگوں کا مولا ہے ہم امام حسن کو بھی ما نتے ہیں امام حسن نے فرمایا میرے بعدحسین تمہارا امام ہے ہم مولا حسین کو بھی مانتے ہیں( یا ایها الرسول بلغ ----- ) یہ آ یت ناسخ ہے قیامت تک ہے یعنی جب امام علی کی شہادت ہو گئی تو یہ آیت مو لا علی سے کہے گی آپ وارث پیامبر ہیں اگر آ پ نے جا نے سے پہلے مو لا مقرر نہیں کیا تو گو یا دین کا کوئی کام ہی انجام نہیں دیا ہے اسی لئے مولا حسین زخموں میں چو ر چور ہیں مگر سجاد کے خیمہ میں آ تے ہیں تا کہ اہل حرم کو بتلائیں کہ سید سجاد میرے بعد تمہارے مولا ہیں ہم حسین کو بھی مو لا مانتے ہیں اور حسین نے جس کو منوا یا امام زین العابدین کو بھی مانتے ہیں ہم آ خر میں بارہویں امام تک پہنچے اب یہاں ایک فرقہ بن گیا کیوں اس لئے امام غیبت میں جارہے ہیں اب جب امام غیبت میں جا ئیں گے تو یہ آ یت کہے گی ”( یا ایها الرسول ) “ اے وارث رسول اُمت کو کس کے حوالہ کر کے جارہے ہیں اگر آپ نے جانے سے پہلے اعلان نہیں کیا کہ امت کا سر براہ کون ہے امت کارہبر کو ن ہے اُمت کس کے حوالے ہے احکام خدا نافذ کرنے والا کون ہے تو گویا آپ نے دین کا کوئی کام انجام نہیں دیا لہذا امام نے غیبت میں جانے سے پہلے کہا؛ اے شیعو! میں تمہیں بے وارث چھو ڑ کر نہیں جا رہا ہوں ،بلکہ تم پر واجب ہے اُس مجتہد اُس عالم کی اطاعت کرنا جو دنیا میں سب سے بڑا متقی ہو اور سب سے بڑا عالم ہو اب یہاں ایک فرقہ بن گیا کہتا ہے ہے ہم بارہویں امام کو مانیں گی مگر جس کو امام نے منوا یا ہے مجتہد کو نہیں مانیں گے یہ اخباری لوگ ہیں ان کا وہی شیطان کا عقیدہ ہے کہ خدا کو مانتا ہوں مگر جسے خدا منوا ئے گا آدم کو نہیں مانوں گا ہم بارہویں امام کو مانیں گے مگر جسے بارہویں امام منوا ئیں گے اُسے نہیں مانیں گے ہم خود ہی مجتہدہیں ۔

اخباریت کا مقصد کیا ہے ؟ اُن کا مقصد یہ ہے کہ شیعیت کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں یہ امیریکی خبیث اس مذہب کو ہمارے اندر ایجاد کرنا چا ہتے ہیں مگر وہ لوگ نعرہ کیا لگا تے ہیں جو ہر شیعہ کا نعرہ ہے جو ہر شیعہ کے دل کی دہڑکن کا نعرہ ہے ہر شیعہ کا ایمان ہے یہ لوگ نعرہ تو علی ولی اللہ کا لگا تے ہیں وہ ہمارا ایمان ہے وہ ہمارا عقیدہ ہے مگر اس کے پیچھے اُن کے مقاصد کیا ہیں یہ لوگ علی ولی کی روایت کہاں سے لاتے ہیں علی ولی اللہ کی روایت اُس کتاب سے لاتے ہیں جس کو ہمارے تمام مجتہدین تمام عالم دین نے اس کتاب کو رد کیا ہے یہ کتاب امام علی رضا (ع) کی نہیں ہے یہ دشمن نے لکھی ہے یہ منافق نے لکھی ہے اگر اس کتاب کو ہم مان لیں تو ہمارا مذہب ختم ہو جا ئے گا تو ایک شیعہ کو کافر کرنے میں کو ئی دیر ہی نہیں ہے اس کتاب میں لکھا ہوا ہے کہ سورہ ” قل اعوذ بر ب الفلق“ اور سورہ ”قل اعوذ برب الناس“ قرآن کی سورہ نہیں ہے امام کی تو ہین کی گئی ہے اہل بیت کی توہین کی گئی ہے اہل بیت کے علم کی توہین کی گئی ہے اس کی کسی حدیث کو ہم نہیں مانتے ہیں کس حدیث کو ہم مانتے ہیں ہم اُس حدیث کو مانتے ہیں جو قرآن کے مطابق ہو حدیثوں کے بارے میں اللہ کے رسول نے بھی بتلا یا امام نے بھی بتلا یا میرے بعد جوبھی حدیثیں بنا نے والے ہزاروں لوگ ہوں گے اے شیعو! ہر حدیث کو نہ ماننا نہج البلا غہ میں مو لا علی نے معیا ر بتلا یا فر ما یا حدیث بیان کر نے والے چا ر قسم کے لوگ ہیں ایک منافق ہیں اور منافق کی حدیث کو نہ ماننا منافق نے اس لئے بتلا ئی تا کہ فساد ہو اسلام بدنام ہو شیعیت بدنام ہو۔

مو لا علی نہج البلا غہ میں فر مارہے ہیں: ایک حدیث بیان کرنے والا مو من ہے مو لا فر ما تے ہیں :اُس سے بھی حدیث نہ لینا اس لئے کہ اُس مو من کا حافظہ ضعیف ہے وہ آدھی حدیث بھو ل گیا ہے اور اُسے آ دھی یاد ہے جو کام کی چیز ہے وہ بھول گیا ہے وہ چیز یا دہے جس میں فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہے فرمایا: ایسے مومن سے بھی حدیث نہیں لینا جس کا حافظہ کم ہو جس شخص کا حافطہ بھی صحیح ہے حدیث بھی صحیح بتلا تا ہے مگر اُسے یہ نہیں معلوم کہ یہ حدیث ناسخ ہے یا منسوخ کیونکہ حدیثوں کی قسمیں ہیں امام ایک حکم وقتی دیتے ہیں علی ابن یقطین وزیر تھا اُس کی جان خطرہ میں پڑ گئی تو امام نے اُسے فر ما یا : تم اہل سنت کی مانند وضو کرو اُسی لحظہ ایک مو من آیا اور اُس نے امام کی اس بات کو سن لیا مگر اُسے یہ نہیں معلوم کہ یہ اس کی جان بچانے کے لئے ہے بعد میں امام نے اُسے فرمایا : اب وہ وضو کر نا چھوڑدو جو قرآن نے کہا ہے اُس طرح سے وضو کرو اُس دو سرے مو من نے جو اس حدیث کو سنا تھا اور اُس نے بعد والی نہیں سنی اُس نے اپنے گاوں میں آ کر کہہ دیا کہ وضو تو وہی طریقہ جو اہل سنت کا ہے صحیح ہے امام نے فر ما یا : ایسے صحابی سے بھی حدیث نہیں لینا جسے ناسخ اورمنسوخ کا پتہ نہ ہو کہ یہ حدیث ناسخ ہے یا منسوخ یعنی اسے مو لا نے کنسل کر دیا ہے یا آ خری حکم ہے مو لا علی نے چار اصول بتلا ئے : حدیث اُس سے لینا جو مومن بھی ہو حافطہ بھی صحیح ہو ناسخ اور منسوخ کے بارے میں جانتا ہو اور جس کے بارے میں ہر ایک بندہ نہیں جانتا ہے اس کے لئے علم رجال پڑھنا پڑتا ہے علم رجال یعنی جتنے راوی ہمارے اماموں کے زمانے میں گذرے ہیں اُن کو چیک کر نا پڑتا ہے کہ یہ مو من تھا ،منافق تھا ،دنیا پرست تھا یا خدا پرست تھا امام کے ساتھ ایک سال رہا تھا یا دس سال رہا تھا امام نے اُس کی تا یید کی تھی یا نہیں کی تھی ان سب تحقیق کر نے کے بعد ہم حدیث کو مانتے ہیں یہ جو مسئلہ اٹھا یا جارہا ہے پہلے انہوں نے جس کتاب سے حدیث بیان کی وہ کتاب ہی ہماری نہیں ہے یہ ہمارے دشمنوں کی ہے پھر وہ جو چند حدیثیں بحار الانوار سے نقل کرتے ہیں وہ بھی بالکل غلط اور ضعیف اور جھوٹی حدیث ہے کیونکہ بحار الانوار کو جو علامہ مجلسی نے لکھا ہے وہ سو جلدوں سے بھی زیادہ ہے علامہ مجلسی نے گاوں گاوں جا کر ان حدیثوں کو نقل کیا ہے اور انہوں نے اپنی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ میں نے یہ تحقیق نہیں کی ہے کہ ان میں سے کتنی حدیثیں جھوٹی ہیں کتنی ضعیف ہیں اور کتنی غلط ہیں یہ آ نے والے علماء کا کام ہے اہم یہ ہے کہ علم رجا ل کے ساتھ انسان کو حدیثوں کا بھی علم ہو نا چا ہئے سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ حدیث کی سند کو دیکھا جاتا ہے کہ حدیث کس نے سنائی ہے مثال احمد نے مسلم سے سنی مسلم نے یوسف سے سنی یو سف نے حسن سے سنی اور حسن نے اُس سے سنی جو منافق تھا اگر بیچ میں ایک بھی منافق آگیا تو وہ حدیث قابل قبول نہیں ہے بعض پمفلٹ میں اور کتابوں میں لکھا گیا ہے کہ علم حدیث نقل کی گئی ہے کہ تشہد فلا ن طریقے سے پڑھا جا تا تھا امام رضا(ع) اس طرح سے پڑھا کرتے تھے اور اس کتاب کو ہمارے دشمنوں نے لکھا ہے جس میں اہل بیت کی تو ہین کی گئی ہے کہا گیا ہے کہ ”اشهد انک نعم الرب و ان محمدا نعم الرسول و ان علیا نعم المولا “ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو میرا اتنا اچھا رب ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول خدا (ص) میرے اچھے رسول ہیں اور گواہی دیتا ہوں مولا علی میرے اچھے امام ہیں ہمارا تشہد کیا ہے ”اشهد ان لا اله الاالله وحده لا شریک له واشهد ان محمد اًعبده و رسوله “ انہوں نے ایک نیا تشہد ایک غلط کتاب جو ہمارے دشمنوں نے لکھی ہے وہاں سے لیکر آ گئے ہیں اور اب ہم دونوں تشہدوں کو دیکھتے ہیں کہ کون سا تشہد قرآن کے مطابق ہے انہوں نے کہا ”اشهد انک نعم الرب “ اگر کوئی انسان یا رب یا رب کہتا رہے مسلمان نہیں ہو سکتا ہے کیوں اس لئے کافر بھی اور مشرک بھی عیسائی بھی رب کو مانتے ہیں یہود بھی مانتے ہیں مسلمان بننے کا پہلے جو مسئلہ ہے وہ یہ ہے کہ جب انسان کہے ”اشهد ان لا اله الا لله “ اس کے بغیر کو ئی مسلمان ہو ہی نہیں سکتا ہے ”اشهد ان لا اله الا الله “ کہنا لازم و ملزوم ہے اس میں وہ جملہ ہی غائب ہے ،اس جملہ میں ”اشهد ان لا اله الا الله “ ہی نہیں ہے یہ خود بتلا رہا ہے کہ یہ روایت جھوٹی ہے ”لا اله الا الله “ اگر کسی جملہ میں غائب ہے تو اس میں کوئی شک ہی نہیں ہے کہ یہ جھوٹی حدیث ہے ضعیف حدیث ہےلا اله الا الله کے بغیر کوئی مسلمان ہی نہیں ہے انہوں نےلا اله الا الله ہی کو غائب کردیا اور رب کا نام ڈال دیا اور رب جو ہے یہ صفتی نام ہے گواہی جب بھی دی جا تی ہے تو وہ ذاتی نام سے دی جاتی ہے اگر ہم کورٹ میں گواہی دیں گے تو ہم اپنے اصلی نام سے گواہی دیں گے تو اللہ کی گواہی جب بھی دیتے ہیں تو اللہ کے ذاتی نام سے دیتے ہیں اور اللہ کا ذاتی نام اللہ ہے رب نہیں ہے ،رب یعنی پالنے والا رب کا لفظ سورہ یوسف میں مصر کے بادشاہ کے لئے بھی جو کا فر تھا اُس کے لئے بھی استعمال ہوا ہے تو گواہی جب بھی دی جاتی ہے تو وہ ذاتی نام سے دی جاتی ہے ان دو نکتوں سے معلوم ہوا کہ یہ روایت جھوٹی ہے ،اور پھر کہا ”ان محمداً نعم الرسول “ ہم کیا کہتے ہیں کہ ”و اشهد ان محمداً عبده و رسوله “ پہلے عبد کہتے ہیں پھر رسول کہتے ہیں اس کے بارے میں کبھی ہم نے غور کیا کہ پہلے عبد کیوں کہتے ہیں پھر رسول کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں آپ عبد ہیں پھر رسول ہیں سوال یہ ہے کہ پہلے عبد کا لفظ کیوں ا یا اور پھر رسول کا لفظ کیوں آیا ؟ اس لئے کہ عبدیت کا مقام رسالت کے مقام سے بلند ہے رسول تو بہت زیادہ ہیں مگر عبدیت کا مقام ہر ایک کو نہیں ملا اس کی دلیل کیا ہے ؟ سورہ نبی اسرائیل میں اللہ نے فر ما یا ”( سبحان الذی اسری بعبده لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد الاقصیٰ ) “سورہ اسراء آیت ۱) یعنی جب ہم نے عبدکہا تو ہم نے اعلان کیا کہ ہم معراج رسول کے بھی قائل ہیں اس سے معلوم ہوا کہ عبدیت کا مقام رسالت کے مقام سے بلند ہے انہوں نے عبدیت کو بھی غائب کر دیا جبکہ یہ سب سے بلند مقام ہے کہ معراج نہ حضرت عیسی کو نصیب ہوئی اورنہ موسی کو نصیب ہوئی ہمارے نبی کو معراج نصیب ہوئی، کیوں ؟ اس لئے کہ ہمارے نبی مقام عبدیت پر تھے اگر ہم عبدیت کی گواہی نہ دیں تو ہم نے رسول خدا (ص) کے مقام کو کم کردیا گرا دیا۔ جتنے بھی نئے مذہب بنے ہیں مثال بہائی مذہب انہوں نے آ یتوں کا غلط ترجمہ کر کے اور غلط تفسیر اور کچھ ضعیف حدیثوں کے ذریعے سے انہوں نے مذہب بنا یا ہے یہ لوگکہتے ہیں کہ تشہد میں علی ولی اللہ پڑھنا اس لئے بھی ضروری ہے کہ قرآن کی آیت ہے کہ مو من وہ ہے جو تین گواہیاں دے اگر آپ نے مو لا علی کی ولایت کی گواہی نہیں دی تو آپ مو من بھی نہیں ہیں ہم آپ کو تین گواہیاں دیں گے پہلی گواہی یہ ہے ”اشهد ان لا اله الا الله “ یہ اللہ کی خدائی کی گواہی ہے ہم نے گواہی دی کہ اے میرے مالک تیرے سواء کوئی بھی رب نہیں ہے اگر ہم نے خدا کی گواہی دی مگر ہم فقط خدا کو نہیں مانتے ہیں عیسائی بھی خدا کو مانتے ہیں مگر اُن کے یہاں ھولی ٹرنٹی ہے اُن کے یہاں شرک ہے ہم دوسری گواہی دیں کہ ہم خدا کو عیسائیوں اور یہودیوں کی طرح نہیں مانتے ہیں بلکہ ”وحده لا شریک له “ یہ دوسری گواہی ہے پروردگار ہم تجھے ایسے مانتے ہیں کہ تیرا کوئی شریک نہیں ہے تیسری گواہی ”وا شهد ان محمد اً عبده و رسوله “ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے عبد ہیں چو تھی گواہی یہ ہے ”ورسولہ“ اور آ پ اللہ کے رسول ہیں جب ہم نے کہا ”وا شهد ان محمد اً “ تو اسی پاک رسول نے کہا ”اولنا محمد ،آخرنا محمد ،اوسطنا محمد ، کلنا محمد “ ہمارا پہلا بھی محمد ہے ہمارادرمیانہ بھی محمد ہے ہمارا آخری بھی محمد ہے ہم سب کے سب محمد ہیں جب ایک محمد کی گواہی دے دی تو اسی نے بارہ کی گواہیاں دے دی ہیں ۔

انہوں نے ایسا نعرہ لگا یا ہے جو ہر شیعہ کے دل کا نعرہ ہے ہر شیعہ کا ایمان ”علی ولی الله “ ہے مگر یہ لوگ اس نعرہ کو اس طرح سے استعمال کر رہے ہیں جیسے دشمن علی نے ”لا حکم الا الله “ کا نعرہ لگا یا تھا کہ حکم اللہ کا چلے گا نہ علی کا اور نہ میرا جس کے نتیجہ میں خارجی گمراہ ہو گئے کہ یہ لوگ تو بات صحیح کہہ رہے ہیں کہ علی کا حکم بھی نہ چلے اور نہ دشمن علی کا حکم چلے مو لا نے اُن سے فر ما یا تم لوگ دھو کا کھا رہے ہو یہ تمہیں دھوکا دے رہے ہیں نعرہ تو اس کا حق ہے مگر اس کی نیت باطل ہے کیونکہ حکم خدا چلا نے کے لئے یا نبی آ ئے گا یا امام آ ئے گا ان کا اصل مقصد کیا ہے وہ یہ ہے کہ فقہ امام رضا کا حوالہ دیں جس سے شیعوں کو کا فر کہنے میں کوئی دیر ہی نہیں ہو گی اسے منظر عام پر لا یا جا رہا ہے یہ اندرونی دشمن باہر کے دشمن سے زیادہ خطرناک ہیں اگر کل کورٹ میں کوئی مسئلہ ہو گیا تو وہ ہمیں کہیں گے کہ یہ آپ کی کتاب ہے اور عوام کو بھی بیوقوف بنا یا جا رہا ہے کہ فقہ امام رضا میں یہ لکھا ہوا ہے یہ عوام کو تونہیں معلوم کہ یہ کتاب کیا ہے با ہر کا دشمن ہمیں کافر کہنے میں اُس کے لئے مشکلات نہ ہو گی یہ اندر کے دشمن ہیں جو ظاہر علی ولی اللہ کہہ رہے ہیں ،مگر یہودیوں کے ایجنٹ ہیں اور دوسرا مقصد کیا ہے وہ یہ ہے کہ مقصد ٹوٹ جائے شیعوں کے یہاں مفت میں مفتی نہیں بنتے ہیں دوسروں کے یہاں چار سال پڑھ لیتے ہیں مفتی بن جاتے ہیں ،ہمارے مجتہد کیسے بنتے ہیں جب ہمارے علماء سات سبجیکٹ میں پی اچ ڈی کرلیں پھر وہ مجتہد بنتا ہے ہمارے یہاں یہ ہے کہ پہلے قرآن کے علم میں مجتہد بنے دو سرا علم حدیث میں پی اچ ڈی کرنا ہے تیسرا علم رجال میں پی اچ ڈی کرے چوتھا فقہ میں پی اچ ڈی کرے اسی طرح سے اصول میں پی اچ ڈی کرلے منطق میں پی اچ ڈی کر لے عربی میں پی اچ ڈی کر لے تقریبا سات دروس میں پی اچ ڈی کرنے کے بعدہمارے یہاں ایک شخص مجتہد بنتا ہے اُسے تیس چالیس سال لگ جاتے ہیں اب مجتہد بن گیا مگر اب بھی فتویٰ نہیں دے سکتا ہے دشمن جانتا ہے کہ یہ مذہب جو آ ج تک جو مقابلہ کر رہا ہے کیونکہ اُس کی بنیاد مضبوط ہے ایک شخص نے چالیس سال علم حاصل کر نے کے بعد اور سات دروس میں پی اچ ڈی کر نے کے بعد مگر اب بھی فتویٰ نہیں دے سکتا ہے اب بھی رسالہ نہیں لکھ سکتا ہے وہ شخص مجتہد بن گیا فتویٰ نہیں دے سکتا ہے اُسے کسی کی تقلید کرنا واجب نہیں ہے وہ خود ہی مسئلہ سمجھ لے گا مگر فتویٰ نہیں دے سکتا ہے کسی کی تقلید نہیں کر سکتا ہے تقلید تب ہو گئی جب تیس چالیس پچاس سال علما ء گواہی دیں کہ ہم نے دس سال بارہ سال اس کے دروس کو سنا ہے واقعاً یہ اعلم بھی ہے ،متقی بھی ہے امام نے فقط عالم کی شر ط نہیں بتا ئی متقی بھی ہو۔

دشمن اس مضبوط نظام کو توڑنا چاہتا ہے کہ شیعہ اسی لئے مضبوط ہیں اور اسی لئے ایران میں انقلاب کا میاب ہوا اسی لئے انگریز نے پوری دنیا کو غلام بنا دیا مگر ایران کے شیعوں کو غلام نہ بنا سکا کیونکہ اُس زمانے کے مجتہد حسن شیرازی نے فتویٰ دیا اور یہ فتویٰ انگریز کے منھ پر طماچہ تھا انگریز کو وہاں سے شکست ملی جب کہ پوری دینا پر انگریز قبضہ کر چکا تھاآج بھی امریکا دیکھ رہا ہے کہ شیعیت کی مضبوطی وہ یہ ان کے مجتہدین ہیں ان کا مرکز ایک ہے اس مرکز کو توڑدو، لہذ ا وہ اپنے ایجنٹوں کے ذریعے سے نعرہ لگوارہا ہے جوہر شیعہ کا نعرہ ہے مگر مقصد کیا ہے مقصد یہ ہے کہ چار حدیثیں دیکھ لیں اور فتویٰ دے دیا کہ تشہد میں علی ولی اللہ پڑھ لو پنجاب میں ایک اور فرقہ بن گیا ہے اُن کا مقصد یہ ہے کہ کئی فر قہ بن جا ئیں اور انہوں نے بھی کچھ احادیث کو نکا لا ہے وہ کہتے ہیں اگر تشہد میں علی ولی اللہ پڑھ سکتے ہیں تو پھر امام زمانہ نے کیا قصور کیا ہے تو انہوں نے اذان میں امام زمانہ کی گواہی دینا شروع کر دی ہے یہ اُسی سازش کے تحت ہے ۔ یہ خبیث ٹولہ ظا ہرا تو مو لا علی کا نام لگا رہا ہے مگر ان کا مقصد یہ ہے کہ شیعوں کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جا ئیں اور ان چند سالوں میں ایک اور فرقہ بھی پیدا ہو گیا ہے اور انہوں نے اذان میں امام زمانہ کی گواہی دینا شروع کر دی ہے اور دوسرا فرقہ بن جا ئے گا وہ کہے گا کہ ہم کا ظمی ہیں تو امام مو سیٰ کا ظم کا نام بھی نماز میں ہو نا چاہئے اور پھر رضوی کہیں گے کہ ہم رضوی ہیں تو امام رضا (ع) کا نام بھی نماز میں ہو نا چا ہئے مقصد دشمن کا یہ ہے کہ چار پانچ حدیثیں دیکھ کر بغیر علم رجا ل کے بغیر علم حدیث کے بغیراجتہاد کے ان کو مفتی بنا دو تو چند سالوں میں شیعوں کے اندر بھی ہزار فرقہ بن جا ئیں گے ۔

یہ خطرناک سازش ہے اسے معمولی سازش مت سمجھئے علی ولی اللہ ہمارا ایمان ہے علی ولی اللہ کے بغیر کو ئی شیعہ ہی نہیں ہے مگر یہ خبیث اس طر ح سے مو لا علی کا نعرہ لگا کر مو لا علی کے ہی دین کو ختم کر نا چا ہتے ہیں مو لا علی کے ہی مذہب کے ٹکڑے کر نا چا ہتے ہیں مثال ایک شخص ہے اُس کا بچہ بیمار ہو گیا وہ شخص بچے کو ڈاکٹر کے یہاں لے گیا تو ڈاکٹر نے کہا کہ اس کا آ پریشن ہو گا تمہارے بچہ کے دل کی کچھ رگیں وہ بلاک ہو گئی ہیں تو اُس نے کہا کیا ہے تو ڈاکٹر نے اُسے نقشہ دکھا یا کہ یہ جو دل ہے یہ جو سیدھے ہاتھ کے طرف کی رگ اُس میں بلاکج ہے تو میں آپریشن کروں گا تو اُس شخص نے کہا کتنے پیسہ لگیں گے تو ڈاکٹر نے کہا دو لا کھ روپیہ لگیں گے وہ انپڑہ اور جاہل تھا تو اُس نے کہا میں دو لاکھ رو پیہ کیوں دوں تو اُس نے ڈاکٹر سے پو چھا کس طرح سے ٹھیک کریں گے تو ڈاکٹر نے کہا یہ والی رگ ہے اس کو اس طر ح سے صاف کروں گا تو اُس نے اپنے سے کہا یہ کام میں خود کیوں نہ کروں دو لا کھ روپیہ میں کیوں دوں پہلے تو ایسا کو ئی بیوقوف نہیں ہو گا اگر کو ئی ایسی بیوقوفی کرے اور اپنے بیٹے کا سینہ چاک کرے کہے کہ میں خود اس کی آٹریز کا آ پریشن کروں تو کیا اُس کا بیٹا بچے گا ہر گز نہیں وہ مر جا ئے گا تو اگر مر جا ئے تو پوری دینا لعنت کر ے گی کہ تو اپنے بیٹے کا قاتل ہے تو وہ لو گوں کو جواب دے گا کہ جو کام ڈاکٹر کر رہا تھا وہ میں نے خود ہی کر ڈالا تو لوگ اُسے کہیں گے اے بیوقوف ڈاکٹر دس بیس سال پڑھا ہے اگر وہ یہی آپریشن کرے تو وہ دو لاکھ کا مستحق ہے اگر تو جاہل آ کر آپریشن کرے تو اپنے بیٹے کا قاتل ہے بالکل اسی طرح سے جو مجتہد تیس سال علم حاصل کرے اگر وہ فتویٰ دے تو وہ ثواب کا مستحق ہے اگر کو ئی جا ہل جو دس بیس حدیثیں پڑھ کر فتویٰ دے تو وہ دین کا قاتل ہے ایسے لوگوں سے انسان کو ہوشیار رہنا چائیے اور وہ کون لوگ ہیں جو خون حسین کے تاجر ہیں اگر ہم جب تک ممبر کے تقدس کو بحال نہ کریں گے ایسے فتنہ اٹھتے رہیں گے تو پھر کو ئی اور فتنہ اٹھا ئیں گے اس کا صرف حل یہ ہے کہ امام جعفر صادق (ع) نے فر ما یا اے شیعو! ہر عالم سے دین مت لینا اُس عالم سے دین لینا جس کے بارے میں یقین ہو پرکھ لو کہ اس کے دل میں پیسہ کی محبت ہے یا نہیں؟ جس کے دل میں پیسہ کی محبت ہے وہ تمہیں دین نہیں دے گا بلکہ وہ تمہیں بے دین بنا ئے گا۔

آ ج ممبر حسین پر اہل بیت کی تو ہین ہو رہی ہے کو ئی معیار نہیں ہے وہ بدبخت لوگ طوائفوں کے کوٹھو ں پر جا کر مجلسیں پڑھتے ہیں اور وہی لوگ آکر ممبر حسین پر مجلس حسین پڑھتے ہیں اہل بیت کا صاف طاہر مذہب آج ہم ممبر پر کس قدر ظلم کر رہے ہیں ممبر پر اہل بیت کی تو ہین ہو رہی ہے اور وہ بڑے بڑے ذاکر خود کو علامہ کہلاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ چا ہتے ہیں کہ حضرت عباس (ع) کے بال کیسے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ فلاں ہندوستانی ایکٹر کے بال دیکھ لیجئے اس سے بڑی تو ہین کیا ہوگی یہ سب ممبر پر کہا جا رہا ہے اے شیعو! کب تک چپ رہو گے یہ آ پ کے دین کو گھٹیا بنا دیں گے یہ آ پ کو آپس میں لڑائیں گے یہ تفرقہ کر یں گے کیونکہ اُن کا مقصد فقط پیسہ ہے ہمارے ذاکر ایک بات امربالمعروف کی نہیں کر تے ہیں۔

اے مو منین اگر ذاکر امر بالمعروف نہیں کرتے تو آ پ مو منین پر فرض ہے کہ امر بالمعروف کریں آپ انہیں کہیں کہ حسین کے ممبر پر آ نے کا حق ادا کریں ہم ہر زیارت میں پڑھتے ہیں ”اشھد انک قد اقمت الصلاة و آتیت الزکوٰة و امرت بالمعروف و نھیت عن المنکر“ مو لا حسین آ پ کی قربانی اسی لئے ہے کہ نماز قائم رہے زکات قائم رہے اور امربالمعروف قائم رہے ا گر ممبر پر آ نے والا صرف واہ واہ کر کے چلا جائے اور پانچ منٹ نماز کے بارے میں گفتگو نہیں اور پانچ منٹ تزکیہ نفس کے بارے میں گفتگو نہیں صرف وہ مجرم نہیں ہم بھی مجرم ہیں جو اُن کے دروس میںآ تے ہیں ۔ رسول خدا (ص) سے سوال کیا گیا کہ کن کی مجلس میں شرکت کریں کن کے دروس میں جا ئیں ؟رسول خدا ﷺنے فر ما یا کہ اُن کے مجلس اور دروس میں جاو جن کے دل میں پیسہ کی محبت نہ ہو ،اور اللہ کے رسول نے کیا فر ما یا، فر ما یا: اُن کی مجلسوں میں جا و جہاں جا نے سے تمہارے علم میں اضافہ ہو دوسرا جہاں جانے سے آداب اسلامی سکھا ئے جا ئیں تمہیں معلوم ہو کہ حلال کیا ہے حرام کیا ہے ہمارے لوگ بوڑھے ہو جاتے ہیں مگر اُن کو حرام حلال کا معلوم ہی نہیں ہوتا ہے غسل کا اُن کو معلوم نہیں ہو تا وضو کر نے کا طریقہ نہیں معلوم ہو تا ہے ممبر پر آداب اسلامی بتا ئے جا ئیں بیوی کے حقوق کیا ہیں شو ہر کے حقوق کیا ہیں ،رسول خدا نے تیسری شرط بتا ئی کہ اُن مجالس میں جا یا کرو جہاں تزکیہ نفس ہو جہاں تیرے نفوس کو پاک کیا جا ئے ۔ اے مو منین اگر آ پ ایسے دروس اور مجالس میں جا ئیں جہاں تزکیہ نفس نہیں ہو تا امر بالمعروف نہیں ہو تا تو درس دینے والے عالم کو کہئے کہ مو لانا صاحب آ پ نے ایک گھنٹہ تقریرکی آپ نے پانچ منٹ بھی مو لا حسین کے مقصد کو بیان نہیں کیا ۔

آج قوم تباہ ہو رہی ہے آ ج نو جوان پریشان ہیں ایک طرف ڈش کے ذریعے دوسرا کبل کے ذریعے سے اور تیسرا انٹرنٹ کے ذریعے سے نو جوان تباہ ہو رہے ہیں اور جب ممبر حسین پر آئے تو ادھر بھی آیت کے بجائے لطیفہ سنا ئے جا تے ہیں ۹ ربیع الاول کا دن تھا ایک ذاکر نے ممبر پر آ کر فلمی گانا سنا ئے ممبر ما تم کر نے کی جگہ ہے اس قدر ممبر کا تقدس پامال ہو رہا ہے قرآن کی آ یت ہے کہ یہودیوں پر عذاب آیا اور وہ عذاب کیوں آ یا ؟ وہ امر بالمعروف نہ کرنے کی وجہ سے یہودیوں پر عذاب آ یا اللہ نے اُن سے کہا کہ سنیجر کے دن مچھلیاں مت پکڑنا مگر وہ لوگ اُس دن مچھلیاں پکڑتے تھے اور دوسرا کس وجہ سے آیا اس لئے کہ خود نہیں پکڑتے تھے مگر انہیں منع نہیں کرتے تھے وہ دو نوں قسم کے لوگ عذاب الہی سے بچ نہ سکے کیونکہ وہ خود تو گناہ نہیں کرتے تھے مگر دوسروں کو روکتے نہیں تھے فقط وہ عذاب سے بچ گئے جو مچھلیاں بھی نہیں پکڑتے تھے اور پکڑنے والے کو امر بالمعروف کرتے تھے یعنی آپ بھی اُن کے جرم میں شریک ہیں اگر ایک ذاکر ہے وہ مقصد حسین بیان نہیں کر رہا ہے تو آپ اگر وہاں چپ رہے تو آ پ بھی اگر آپ ڈر کی وجہ سے کہ میری بے عزتی نہ ہو جا ئے ۔ مجلس حسین میں ریا کاری آ گئی ہے ریا کا ری شرک ہے یہ آ ج مو لا حسین کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے کہ یہ ذاکر امر بالمعروف نہیں کر تے ہیں رسول خدا (ص) کی پیاری حدیث فر ما یا : کہ جو لا الہ الا اللہ سچے دل سے کہے وہ عذاب الہی سے محفوظ ہے فقط ایک شرط ہے اصحاب کرا م نے فر ما یا اللہ کے رسول وہ کیا ہے رسول خدا نے فر ما یا وہ شرط یہ ہے کہ لا الہ الا اللہ کی تو ہین نہ کرے تو اصحاب نے فر ما یا کیا لا لہ الا اللہ کی تو ہین مسلمان کر ے گا رسول خدا نے فر ما یا : ہاں کچھ لوگ ہیں کہتے ہیں لا الہ الا اللہ مگر لا الہ الا اللہ کی تو ہین بھی کرتے ہیں تو اصحاب نے فر ما یا اللہ کے رسول ہمیں یہ حدیث سمجھ نے میں نہیں آ ر ہی ہے کہ کون مسلمان ہو گا کہ وہ لا الہ الا اللہ کی تو ہین کرے گا اللہ کے رسول نے فر ما یا اگر کو ئی لا الہ الا اللہ کر نے والا بیٹھا ہوا ہے اور اُس کے سامنے ایسا عمل ہو رہا ہے جو قرآن کے خلاف ہے جو شریعت کے خلاف ہے مثال یہی ذاکر جو آج کل کہتے ہیں کہ نماز کی کو ئی ضرورت ہی نہیں ہے علی علی کریں گے تو جنت میں چلے جا ئیں گے جب کہ قرآن کی آیت ہے ”( اقیموا الصلاة ولا تکو نوا من المشرکین ) “ جو نماز نہیں پڑھتا وہ مشرک ہے اللہ کے رسول فرماتے ہیں ”لیس من امتی من استخف بالصلاة “ وہ میرے امت سے خارج ہے اب اگر کسی ذاکر نے یہ پڑھ دیا قرآن کی تو ہین کی رسول خدا کے فر ما ن کی تو ہین کی سارے ائمہ معصومین کے فر ما ن کی تو ہین کی اگر آ پ نے اس کے دروس کو سنا مگر آ پ نے اٹھ کر احتجا ج نہیں کیا تو گو یا آپ نے بھی لاالہ الا اللہ کی تو ہین کی ۔

مثال اگر آ پ کسی کی شادی میں چلے گئے اور آپ نے امر بالمعروف نہ کیا تو آپ نے لا الہ الا اللہ کی تو ہین کی ہے فر ما یا لا الہ الا اللہ اُسے عذاب سے بچا ئے گا جو زندگی میں لا الہ الا اللہ کی تو ہین نہ کرے یعنی جہاں بھی گناہ دیکھے ہم پر واجب ہے کہ امر بالمعروف کریں ۔ حدیث قدسی میں اللہ نے فرما یا : اگر کوئی مو من ہے مگر بے دین ہے میں اُس سے بغض و دشمنی رکہتا ہوں تو اصحاب نے فر ما یا مو لا یہ کیا حدیث ہے ہماری سمجھ سے بالا ہے کہ مو من بھی ہو اور بے دین بھی ہو مو لا نے فر ما یا : ہاں یہ وہ مو من ہے جو بزدل ہے امر بالمعروف نہیں کرتا ہے وہ کہتے ہیں فلان شخص ناراض ہو جا ئے گا وہ لوگ اللہ کو ناراض کر تے ہیں مگر مو لا نا صاحب نا راض نہ ہوں میری خالہ نا راض نہ ہو ،میرا دوست نا راض نہ ہو فر ما یا یہ مو من بے دین ہے اُس سے خدا دشمنی رکھتا ہے کبھی خدا اُس کے دل میں اپنی محبت کا نور نہیں ڈالے گا جو گناہ دیکھ رہا ہے مگر امر بالمعروف نہیں کر رہا ہے جو مو من امر بالمعروف نہ کرے خدا نے اُسے بے دین کہا مگر عالم کے لئے اس سے بھی سخت حکم ہے امام جعفر صادق (ع) نے فر ما یا : اگر ایک عالم معاشرہ میں گناہ دیکھ رہا ہے اگر امر بالمعروف نہ کرے اُس پر خدا کی لعنت ہے۔

عراق کے سلسلہ میں بھی بہت سازش ہو رہی ہیں یہودی کربلا نجف میں گھر خرید رہے ہیں یہ لوگ دوسرا اسرا ئیل بنا نا چا ہتے ہیں ہم میں سے کو ئی مومن وہاں جا ئیں اور گھر خریدیں وہاں اپنے نام سے بھی گھر خرید سکتے ہیں وہاں کو ئی دوا خانہ ہی نہیں ہے وہاں کو ئی لائٹ بھی نہیں ہے پانی کا بندوبست نہیں ہے کر بلا نجف میں صدام نے بہت ظلم کیا تھا اس وقت بہت مو قعہ ہے وہاں کا اوقاف کا منسٹر بھی شیعہ ہے اُس سے بات بھی ہو چکی ہے اُس نے کہا جی جو مومن بھی آ نا چاہتا ہے ہم انہیں ٹرسٹ سے رجسٹرڈ کر اکر دے دیں گے اگر کوئی وہاں امام بارگاہ بنا نا چا ہتے ہیں تو بنا سکتے ہیں ہاسپٹل بنا نا چا ہتے ہیں تو بھی بنا سکتے ہیں وہاں کے مو منین بہت مجبور ہیں وہاں ڈاکٹر کی بھی بہت ضرورت ہے وہاں کی حالت بہت بری ہے صدام نے شیعوں کو بہت ما ر اہے بہت ظلم کیا ہے اس خبیث نے دس لاکھ شیعوں کا قتل عام کیا اس وقت سارے مو منین کو چا ہئے کہ وہاں کے لو گوں کی مدد کریں وہاں پر حوزوں کی حالت بہت ضعیف ہے وہاں مدرسوں میں کوئی پانی کا بندوبست نہیں ہے اور مدرسوں میں لائٹ کا بھی انتظام نہیں ہے وہاں بچہ لالٹین میں پڑھتے ہیں اسی نجف کے حوزہ سے ہی علم آل محمد پھیلا ہے اور اسے دوبارہ آباد کر نا چا ہئے۔

اختتام


مجلس ۸

فقد قال الله تبارک وتعالیٰ فی کتابه المجید بسم الله الرحمن الرحیم

( بقیة الله خیر لکم ان کنتم مومنین ) “ (سورہ ہود آیت ۸۶)

پر وردگار عالم نے اس آیہ کریمہ میں حضر ت امام زمانہ (عج)کے وجود کا ذکر فر ما یا ہے بقیة اللہ جسے اللہ نے آ ج تک باقی رکھا اُس امام کا وجود تمہارے لئے خیر ہے سب شیعہ سنی کتابوں میں لکھا ہے کہ اگر کسی نے اپنے زمانے کے امام کی معرفت حاصل نہیں کی تو ”ما ت میتة جاھلیة“ کہ وہ کافر ہو کر مر گیا سورہ آ ل عمرا ن کی آخری آ یت میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ فر ما تا ہے ”را بطو“ اپنے زمانے کے امام کے ساتھ رابطہ میں رہیں یہ،رابطہ جسمانی اور روحانی بھی ہے یعنی جسمانی را بطہ کی بھی کوشش کریں کہ امام کی زیارت کریں اور ہمیشہ رو حانی را بطہ میں رہیں اسی لئے ہر نماز میں امام زمانہ کے ظہور کے لئے بھی دعاء کیا کریں اگر آ پ چاہتے ہیں کہ امام آپ سے را ضی ہو ں اور آب امام کے ساتھ ر ابطہ میں ر ہیں تو اُس کے لئے کیا کریں تبلیغ اسلام کیا کریں امربالمعروف اور نھی عن المنکر کر نا ہر مسلمان پر واجب ہے اور اس زمانے میں تو زیادہ ہی کیا جا ئے۔

یہ امریکی اسرائیلی لوگ چاہتے ہیں کہ سارے اسلامی ممالک پر قبضہ کر لیں انہوں نے جو عظیم اسرائیل کا نقشہ بنایا تھا اس میں نجف اور کربلا کا نام بھی شامل کیا تھا یہ خبیث کربلا نجف تک تو پہنچ گئے ہیں اور اس عظیم اسرائیل کے نقشہ میں انہوں مکہ اور مدینہ کا نام بھی لکھاہے اس زمانے میں یہ بُش، بلیر یہ سب یہودیوں کے پٹھو ہیں میدیا پر ان کا قبضہ ہے وہ جسے چاہیں تو اُسے الیکشن میں جتاسکتے ہیں لہذا ہم ان خبیثوں کا کیسے مقابلہ کریں ؟ ہمارے پاس کیا ذرائع ہیں اگر ہم چپ بیٹھے رہیں آج جو عراق کا حشر ہوا ہے وہ کل ہمار اہو جا ئے گا۔

ہم کیسے ان کا مقابلہ کریں جب کہ ہمارے حکمران بھی ان کے پٹھو ہیں ہمارے پاس صرف ایک طریقہ ہے وہ کیا کہ ہم تبلیغ اسلام کریں اگر ایک ایک مسلمان ارادہ کرلے کہ ہم انٹرنیٹ پر بیٹھ کر ایک یا دو عیسائیوں کو مسلمان بنا ئیں گے ضروری نہیں کہ ہم سب مو لوی ہوں نہیں ،ایک عالم شخص بھی تبلیغ اسلام کرسکتا ہے مثال کے طور پر ایک شخص جس کا نام احمد دیدت تھا وہ میل میں تھا دکان پر کام کیا کر تا تھا جب اس میں یہ جذبہ اٹھا تواس نے چند کتابیں پڑھیں اس احمد دیدت نے اپنی زندگی میں کم سے کم پجاس ہزار عیسائیوں کو مسلمان بنایا تھا اگر ایک شخص کوشش کر کے پانچ ہزار عیسا ئیوں کو مسلمان بنا دے تو خود یہ ایک لابی بنے گی ان یہودیوں نے بھی ایک دن میں دنیا پر قبضہ نہیں کیا انہوں نے بھی بہت محنت کی ہے تو پھر ہماری آنے والی نسلیں غلام نہ کہلائیں ہم آ زاد زندگی گذاریں تو یہی طریقہ ہے کہ ہم تبلیغ اسلام کریں ہم اپنا ایک نیٹ ورک بنا کر اپنے پیغام کو کروڑوں لوگوں تک پہنچاسکتے ہیں اور ہم ان کو مناظرہ کے ذریعے سے مسلمان بھی بنا سکتے ہیں ایک سایڈ ہے جس کا نام Al-Islam.org شیعوں کی سائڈ ہے اس پر سو سے زیادہ کتابیں ہیں احمد دیدت کی سو لہ سترہ کتابیں ہیں ان کتابوں کو مطالعہ کر نے سے آپ عیسائیوں کو مسلمان بنا سکتے ہیں اسکولوں میں بچوں کو یہ کتابیں پڑھا یا جا ئے تا کہ وہ احمد دیدت کی کتابوں کے ذریعے سے عیسائیوں کو مسلمان بنا نا شروع کریں مسلمان بنا نابہت آسان ہے کیوں کہ ہمارے نبی کا ذکر ہر کتاب میں ہے ہمارے نبی کا ذکر تو ریت میں ہے انجیل میں ہے انجیل کا ایک حوالہ ہے Chapter John number۱۶ آیت سات سے لیکر بارہ ان آ یتوں میں حضرت عیسیٰ فر ما تے ہیں ایک نبی آ ئے گا جس کا نام فارقلیت ہوگا اور فر ما تے ہیں کہ میری نبوت فقط بنی ا سرائیل کے لئے ہے مگر اُس نبی کی نبوت عالمین کے لئے ہوگی اور اُس نبی کا نام فارقلیت ہے فارقلیت عبرانی زبان کا لفظ ہے اگر ہم ا س کا معنی عربی زبان میں کریں گے تو اس کا معنی احمد مصطفی (ص) ہے۔

ہمارے نبی کا ذکر ہندوں کی کتابوں میں ہے بوک نمبر ۳ اگنگ ۲۹ آیت ۱۱ اس آ یت میں لکھتے ہیں کہ آخری زمانے میں ایک نبی آئے گا اس کانام نرشلاش ہو گا یہ سنسکرت کا لفظ ہے اگر ہم اس لفظ کو ڈائرکٹ عربی میں ترجمہ کریں تو احمد مصطفی (ص) بنتا ہے ۔

بودہسٹ لوگوں کی کتاب میں بھی ہمارے نبی کا ذکر ہے The Gosphil of budha یہ کتاب انٹرنیٹ پر مو جود ہے پارٹ ۲ اور چپٹر کا نام مٹریا Iam not the first budha who come upon the earth not I shall be last and due to another budha will around the world a Holy come supremly in lighting

بودہا کہہ رہے ہیں کہ میں پہلا بودہا بھی نہیں میں پہلا بھی ہادی نہیں اور آ خری بھی ہادی نہیں مگر میرے بعد ایک ہادی آنے والا ہے جو بڑا عظیم ہے انہوں نے بہت لمبی چوڑی با تیں بتا ئیں اب اُن کے ایک صحابی تھے اناڈا انہوں نے کہا Anada said " How we shall we know him to peace one required ") انہوں نے کہا ہم اُن ہادی کو کیسے پہنچانیں گے اُس کا نام کیا ہے اور اب ان بودہس کو مسلمان بنانے کے لئے ایک بہترین آ یت ہے کہ بودھا نے جواب دیا We will be lone as matrea اُس کا نام میٹریا ہوگا میٹریا کا لفظ سنسکرت زبان کا ہے اگر ہم اس کو عربی میں ترجمہ کریں تو رحمت کے معنیٰ دیتا ہے اُوپر کا لفظ جو عالمین کا معنیٰ میں دیتا اگر ہم ان دونوں لفظوں کو آپس میں ملائیں تو رحمت للعالمین کا لفظ بنتا ہے۔

زرتشتی آ تش پرست لوگ جو ایران میں رہتے ہیں ان کی کتاب میں ہے The one prophet will come and his name will be aszatrika اُس نبی کا نام aszatrika ہو گا اور اُس نبی کی پہچان یہ ہے کہ اُس نبی کی ولادت کے بعد ایران کا آتش کدہ ختم ہو جائے گا اور کہتے ہیں کہ جب وہ نبی آ ئے گا تو وہ کعبة اللہ سے بتوں کو با ہر نکال دے گا اگر ہم اس aszatrika کو عربی میں ترجمہ کریں تو احمد مصطفیٰ بنتا ہے۔

اب اس زمانے میں دنیا کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں اسلام پڑھا نے والے شیعہ مذہب پڑھانے والے یہودی خبیث لوگ ہیں یہودیوں نے اسلام میں phd کیوں کی ہے کیا وہ ہمارے دوست ہیں نہیں؟ انہوں نے اسلام دشمنی میں سیکھتے ہیں پو رے پاکستان میں جن لوگوں نے اسلام پر phd کی ہے ان کی تعداد چا ر یا پانچ سے زیادہ نہیں ہے ہمارے لوگ وہاں جاکر phd کرلیں اور پھر یہاں آ کر پوسٹ ڈاکٹرٹ کر لے اور پوسٹ ڈاکٹر ٹ کی فیس بھی زیادہ نہیں ہے اگر کو ئی پوست ڈاکٹرٹ کر لے تو وہ ہر یونورسٹی میں جا کر پڑھا سکتا ہے یہ نہیں کہ بھوکا مر جا ئے گا ہمارے ایک دوست مولا نا امجد انہوں نے phd کی ہے تو تین یونیورسٹیوں نے انہیں اوفر دی ہے اور چالیس ہزار پاونڈ ان کی تنخواہ ہے ہمارے لوگ متوجہ نہیں ہیں دشمن ہمارے سبجیکٹ پر آ رہا ہے اور اسلام کے خلاف شیعیت کے خلاف تبلیغ کر رہا ہے شیعیت پر تین حملے ہو ئے ہیں ایک اسرائیل کی طرف سے دوسرا امریکیوں کی طرف سے اور تیسرا یہودیوں کی طرف سے ہو ئے ہیں ، کیونکہ شیعوں نے ہی فلسطینیوں کو جگایا ہے فلسطینیوں کی مدد کر نے والا ایران ہی ہے اور فلسطینی زخمیوں کا علاج تہران میں کیا جا تا ہے یہودیوں کا تیسرا حملہ یہ ہے کہ وہابیت کو شیعیت میں پھیلا یا جا ئے ہمیں ہوشیار رہنا چا ہئے کہ کبھی بھی وہابیت کو اپنے اندر داخل نہ ہو نے دیں کیونکہ ہم توسل کے مانے والے ہیں ہم یا علی مدد کے ما نے والے ہیں یہ لوگ چا ہتے ہیں کہ یہ رو ح اہل بیت محبت اہل بیت ہمارے دلوں سے ختم ہو جائے ۔

آ ئینہ وہا بیت آ یة اللہ جعفر سبحانی کی کتا ب ہر ایک کے گھر میں ہو نا چا ہئے اگر کو ئی ہمارے اندر وہابیت پھیلائے تو ہم اس کا جواب دے سکیں اور دوسرا حملہ اخباریت کا ہے یہ بہت خطرناک حملہ ہے اخباریت اگر ہمارے اندر آ جا ئے تو شیعت ختم ہو جا ئے گی اخباریت یہ وہ خبیث مذہب تھا جس کی وجہ سے چارسو سال پہلے انگریز شیعیت کو ختم کر نا چا ہتا تھا یہ مذہب عقیدہ کے بھی خلاف ہے قرآن کے بھی خلاف ہے اخباریت نہ قرآن کو مانتے ہیں نہ حدیث کو مانتے ہیں اور نہ مجتہدین کو مانتے ہیں ۔

آ ج کل امریکا نے آ یة اللہ بنا نے شروع کر دیئے ہیں انہوں نے کس طرح سے اخباریت کو شیعوں کے اندر ڈا ل دیا ہے ایک تو وجہ یہ ہے کہ انہوں نے دیکھا کہ شیعوں کے اندر جذباتی مسئلہ علی ولی اللہ ہے وہ لوگ ظاہراً علی ولی اللہ کی بات کرتے ہیں ،مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ اخباریت کوشیعوں کے اندر ڈال دیں تا کہ شیعوں کے ٹکڑے ہو جا ئیں اور وہ لوگ فقہ امام رضا سے حوالہ دیتے ہیں اور اس کتاب کو ہمارے دشمنوں نے لکھا ہے اور سارے مجتہدین نے پوری طاقت لگائی ہے کہ یہ کتاب ہمارے امام نے نہیں لکھی کیونکہ اس کتاب میں لکھا ہے کہ نعوذباللہ امام جاہل ہیں اس کتاب میں لکھا ہے کہ امام معصوم نہیں ہیں اس کتاب میں لکھا ہے کہ قر آن کی سور ہ قل اعوذبرب الناس اور الفلق یہ قرآ ن کی سورہ نہیں ہیں سازش یہ ہے کہ اگر یہ کتاب لوگوں میں عام ہو جائے اور اس کی تعریف عام ہو جا ئے اور اس کے حوالہ پیش کئے جا ئیں تو شیعوں کو اس کتاب پر ایمان ہے تو شیعوں کو کافر قرار دینے میں کو ئی دیر نہیں لگے گی کہ شیعہ اس کتاب پر ایمان رکھتے ہیں جس کتا ب میں ہے کہ قل اعوذبرب الناس قرآن کی سورہ نہیں ہے اگر کو ئی قرآن کی ایک سورہ کو بھی انکار کر ے وہ کافر ہے

عزیزان گرامی یہی سازش ہے یہ سادہ لوگوں کو دھو کہ د ے رہے ہیں (علی ولی اللہ) کا کو ئی منکر نہیں جو(علی ولی اللہ) کا منکر ہے وہ شیعہ ہی نہیں ، (علی ولی اللہ) ہمارا ایمان ہے (علی ولی اللہ) ہماری جا ن ہے (علی ولی اللہ) ہماری پہچا ن ہے (علی ولی اللہ) ہمارے اتحاد کی نشا نی ہے جہاں سے بھی صدا ئے (علی ولی اللہ) نکلتی ہے تو مومن خود بخود کھینچتا چلا جا تا ہے

لہذا ہو شیار رہئیے یہودیوں کے ایجنٹ ہیں نعرہ تو وہ لگا رہے ہیں جو ہم شیعوں کا د لی نعرہ ہے مگر کون سی کتاب کا حوا لہ ہمار ے لئے لا رہے ہیں جو ہمارے د شمنوں نے امام (ع) کی عصمت کے خلاف کتاب لکھی ہے جو امام (ع) کے علم کے خلا ف کتاب لکھی ہے جس نے یہ کہا ہے کہ شیعوں کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ دونوں سورہ (قل اعوذ برب الناس ، و فلق ) یہ قرآن کی سورہ ہی نہیں ہیں تا کہ شیعو ں کو کا فر قرار د ے سکے

عزیزان گرامی د وسرا جو حوالہ لاتے ہیں وہ بھی جس کی سند بھی صحیح نہیں جس کے بیچ میں، کسی روایت کے بیچ میں منا فق آجا ئے تو اس حدیث کو ہم نہیں ما ن سکتے مو لا علی(ع) نے منع کیا ہے ا ہل بیت (ع) نے منع کیا ہے

دو سری حدیث جو پیش کرتے ہیں آیہ اسریٰ کے سا منے جو حد یث لا تے ہیں ابو بصیر کی اس کی سند ٹھیک نہیں ہے کیوں کہ کسی سند کے اعتما د سے کوئی ایک راوی منا فق ہے ہم اسے نہیں ما ن سکتے سار ے مومن ہو نے چا ہیے اور وہ جو روایت لاتے ہیں وہی ابو بصیر کی دو روایتیں ہیں ایک جگہ تشہدمیں کہتے ہیں اس تشہد میں یہی تشہد جو ہمارا تشہد ہے کہ بھئی اس طرح ہم پڑھتے ہیںاشهد ان لاالٰه الا الله وحده لا شریک له و اشهد ان محمدا عبده و رسوله اسی ا بو بصیر کی روایت میں ایک روایت یہ ہے او ر دو سر ی وہ روایت لا تے ہیں جو فقہ امام رضا کتاب سے ہے وہ ہمار ی کتا ب نہیں ہے تو اگر ایک ہی راوی کی د و حدیثیں مل جا ئیں اور د ونوں میں تضا د ہوجا ئے دو نوں میں فرق ہوجا ئے تو ہمارا مجتہد کیا کرے گاہمارا مجتہد ان اصحاب کرام کی طرف رجوع کرے گا جو اس حدیث کے بارے میں متفق ہوں اب یہاں چودہ حدیثیں ہیں جن میں چودہ صحا بی اما موں کے متفق ہیں کہ تشہد وہی صحیح ہے جو ہمارا تشہد ہے

یہ علم حدیث کا اصول ہے کہ اگر ایک راوی ہے اس کی دوحدیثیں ہیں د ونوں میں فرق ہے ایک جگہ کہہ رہا ہے کہ دن ہے دوسری جگہ کہہ رہا ہے رات ہے وہی حدیث جو ہے ضعیف ہوگئی وہ قا بل اعتما د نہ رہی ایک ہی راوی کہہ رہا ہے کہ دن ہے وہی کہہ رہا ہے کہ رات ہے اس پر اعتما د کوئی مجتہد نہیں کرے گا تو ان ضعیف حدیثوں کو لارہے ہیں ، عزیزان گرامی تا کہ شیعوں میں فرقہ ہوجا ئے ہوشیار رہیئے اور بد بختی یہ ہے کہ جہاں لوگ بیچارے اَ ن پڑھ ہیں بیچارے سادہ ہیں گا وں میں کتنے گا وں میں جھگڑے ہیں چکوال کا ایک مومن آیا تھا کہنے لگا مولوی صاحب بہت ظلم ہوگیا ہے وہاں پر کچھ ایسے تا جر خون حسین (ع)، انھوں نے آکے شیعوں کو شیعوں سے لڑایاہے آج شیعہ شیعہ پر لعنت کر رہے ہیں آج شیعہ شیعہ پر تبرا کررہے ہیں مسئلہ یہی ظا ہر ہے کہ (علی ولی اللہ) کا نعرہ لگا تے ہیں مگر یہاں مقصد ہے کہ شیعوں میں ایک فرقہ بنا ئیں

عزیزان گرامی لہذا بہت ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ، اور تیسرا حملہ نصیریت کا ہوگا کہ شیعو ں کے اند ر نصیریت دا خل کر دو تا کہ شیعوں کی دنیا میں جوتبلیغ ہو رہی ہے وہ رک جا ئے یہ ایک تیسرا حملہ ، اور ایسے خبیث اور ایسے بے دین یہ دین فروش وہ خرید لیئے گئے وہ آکر منبر پر کہتے ہیں کہ اللہ جو ہے مومن ہے اور حضرت علی (ع) (نعوذ با للہ) امیر المومنین ہیں تو اللہ کا بھی امیر ہے اور جو چیلے چمچے بیٹھے ہیں انھوں نے نعرے حیدری لگا دیا کہ یہ سب شیعوں کا عقیدہ ہے تا کہ وہی ٹیپ جو ہے کل سنا یا جا ئے ٹی وی پر سنا یا جا ئے یہی ہورہا ہے تیجانی صاحب کا دوسال جو منا ظرہ ہوا جو شا م میں ایک کویتی تھا وہا بی اور دوسرا ایران کا ایک وہا بی تھا انھوں نے وہ ٹیپ چلا د یا ، عزیزان گرامی خبر دار ہوجا ئیے ، اگر کوئی ذا کر ایسی کوئی غلط بات کررہا ہے آپ اس سے احتجاج کریں ورنہ وہی ٹیپ کل مناظرہ میں ہمارے خلاف استعما ل ہو گی کہ دیکھو یہ شیعوں کا مولوی ہے یہ کہہ رہا ہے کہ علی (ع) جو ہے وہ اللہ کا بھی امیر ہے تو شیعہ کافرہیں یہ جو کافر کافر کے نعرے باہر ہمارے دشمن لگا رہے ہیں کہ شیعہ کافر ہیں مگر ان سے خطرناک یہ اند ر کا دشمن ہے یہ آستین کا سانپ جو ہے یہ ان باہر کے دشمنوں کو ثبوت فراہم کررہا ہے کہ دیکھو بھا ئی یہ شیعہ ہے کافر ہے کیو ں کہ تقریریں ایسی کررہا ہے کہ اللہ جو ہے وہ مومن اور علی امیر المومنین عزیزان گرامی یہ جونصیری ہیں ا ن پر ہر معصوم (ع) نے لعنت کی ہے یہ نصیری کے ہاتھ کا کھا نا پینا نجس ہے شا عروں سے بھی درخواست کہ وہ غلط شا عری نہ کریں نصیریوں کی تعریف نہ کریں نصیری نجس ہیں ان کے ہاتھ کا کھانا پینا نجس ہے ، ہر معصوم (ع) نے کہا کہ جو کافر بھی ہے مشرک بھی ہے جو علی کو ا للہ کہے با ہر کادشمن اتنا خطرنا ک نہیں جتنا اند ر کا دشمن خطرنا ک ہے ، اب سنیئے ، الحمد للہ خدا نے ان کے چہرے سے نقاب بھی اتاردی ہیں پہلے پتانہیں تھا یہ جو امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تو بوش خبیث ڈیٹروٹ( Detroit ) میں ڈیڑھ لاکھ شیعہ ہیں وہاں تقریر کرنے گیا وہ تقریر خود میں نے شارجہ میں ٹی وی پر دیکھی کہ بوش کے پیچھے ایک خبیث تاجر خون حسین (ع)، مقصد حسین(ع) کا قا تل ہمار امولوی کھڑا ہے بوش کے پیچھے وہ کافر جو اس وقت کا دجال ہے اور بوش تقریرکررہا ہے پھر وہ مولوی نظر آرہا ہے جیسے نوکر ہو باڈی گارڈ ہو محا فظ ہو شیعہ مولوی ، اور پھر کبھی عورتیں مرد تا لیاں بجارہے ہیں تو یہ گھبر ا رہا ہے کہ بھئی کیا کروں تا لیاں بجا وں یا نہ بجا وں ، اتنی شیعیت کی اس کم بخت نے بے عزتی کی اور اسی وقت ہمارے دوست ہیں وہاں ڈیٹروٹ( Detroit )میں ایک مولا نا ہیں ہشام وہ باہر مظاہرے کر رہے تھے مومنوں کے ساتھ وہ سچے مومنین تھے کہ بوش تقریر اند ر کررہا تھا اور وہ باہرمظا ہرے کررہے تھے اور یہ خبیث مولوی جو ہے اند ر بوش کا نوکر بنا ہوا ہے ہم نے پہلے بھی اس کے بارے میں شک تھا ، وہ پندرہ بیس سال پہلے امریکہ جوجا رہے تھے یہ دیکھنے کے لئے کہ یہ حرکتیں ایران کے خلاف ہیں امام خمینی  کے خلاف اب یہ کھل کے سامنے آئے اب یہ سازش کہاں سے چلی ہے اسی خبیث مولوی کا جو ہے ایک د فتر ہے ایک بہت بڑا ادارہ ہے نام اس کا اس نے امام بارگاہ رکھا ہے مگر وہی سی آئی اے کا مرکز بنا ہوا ہے یہ لنڈن میں اس کا بہت بڑا ادارہ ہے اور وہیں سے نصیریت کی بھی تبلیغ ہورہی ہے اور وہیں سے اخباریت کا حملہ بھی ہورہا ہے وہیں سے پیسہ آرہاہے اور وہیں سے امریکہ نے اپنا ایک آیة اللہ بناکر دو تین سال پہلے پا کستان میں بھیجا گیا ، آیة اللہ ایسے نہیں بنتے جب تک کہ ایران میں قم میں کسی مد رسہ میں حوزہ میں د رس خارج نہ دیں اب امریکہ نے بھی چھوٹے نقلی آیة اللہ بنانا شروع کردیئے وہی اسی مرکز سے وہ پاکستان آیا نہ اس کو فارسی آتی نہ اس کو اردو آتی تھی نہ اس کوسندھی پنجابی کچھ نہیں وہ پورا پاکستان گیا میں پاراچنار تھا تو پتا چلا کہ آیة ا للہ آیا ہے میں تو چلا گیا بعدمیں پتا چلا کہ اس کو کیا کرنا تھا اس نے کوئی تقریر نہیں کی کچھ کیا ہر شہر میں گیا اور جا کے نماز پڑھا ئی کہ میں آیة اللہ ہوں اور نمازمیں کہا تشہد میں(علی ولی الله ) کو پڑھا یا جہاں ایک جما عت ہورہی تھی اب وہاں لڑا ئی ہوگئی دو جماعتیں ہوگئی یہ امریکہ کا ہے پلان، اب ہم لنڈن گئے ہم نے کہا بھئی وہ آیة اللہ کہاں ہیں جو پور ے پاکستان میں جا کے اس نے فتنہ کیا ہے اور شیعہ کو شیعہ سے لڑا رہا ہے جہاں ایک جما عت ہوتی تھی (کہا بھئی یہ بڑا آیة اللہ ہے وہ پڑھا کے گیا ،بھئی خبر دار رہیئے آیة اللہ نقلی بھی بننا شروع ہوگئے ہیں پہلے ایران میں جو پڑھتا تھا درس خار ج پڑھتا تھا وہ آیة اللہ کہلاتاتھا اب یہ جناب ہم وہاں پہنچے وہا ں ہمارے دوست ہیں مولانا ہیں اسکوٹلینڈ ( Scotland ) میں پیش نماز ہیں میں نے کہا بھئی اس کا کیا چکر ہے کہا بھئی یہ یہاں بھی آیا تھا اس نے یہاں بھی یہ سلسلہ کرنا چاہا مگر ہم نے اسے پکڑ لیایہاں آکر کہنے لگا کہ ایران کے جتنے مجتہد ہیں یہ سب وہا بی ہیں یہ امریکی آیة اللہ کا پروپکنڈہ ، جتنے آیة اللہ ایران میں ہیں یہ سب وہا بی ہوگئے تو میں نے کہا قبلہ آپ کیسے کہہ رہے ہیں کہ وہا بی ہیں انھوں نے تووہابیت کے خلاف کتاب لکھی ہے آئین وہا بیت آیة اللہ جعفر سبحانی نے لکھی ہے یہ مجتہد ہیں مرجع ہیں آپ نے وہا بیت کے خلاف کوئی کتاب لکھی ہے کہا میں نے تو کوئی نہیں لکھی ہے تو آپ کیسے کہہ رہے ہیں کہ ایران کے سارے مجتہدین وہابی ہوگئے ہیں ،توکہا میں نے شاید غلط کہہ دیا وہ شاید کسی اورملک میں ہیں ،عزیزان گرامی یہ چکر ہورہا ہے وہاں سے امریکہ نے آیة اللہ بنانے شروع کرد یئے ہیں تا کہ شیعوں کے ٹکڑے ٹکڑے کرے

عزیزان گرامی اور اس سے بھی نازک ترین مسئلہ ہے اند رکے دشمنوں سے خبر دار رہیئے سادہ لوگ بیچارے استعمال ہوجا تے ہیں جن کو پتا نہیں امریکہ وہاں سے پیسہ دے رہا ہے اس سے پہلے آ پ نے خبر سنی کہ راولپنڈی میں کچھ خود کش حملہ ہوا یہ پیسہ کے لوگ نہیں ہیں کہ پیسہ کی وجہ سے شیعوں کو مارڈالیں پھر آپ نے دیکھا کہ کوئٹہ میں کتنے ہمارے مومنین شہید ہوئے و ہ بھی خود کش حملہ تھا یہ کیسے خودکشی کرتے ہیں پیسہ والے نہیں ہیں ان کا برین واش ( wash ) کیا جا تا ہے ان کو بتا یا جاتا ہے کہ شیعہ کو مارنے کا اتنا ثوا ب ہے ایک بیچارے مومن نے بڑی قربا نی دی یہ خود جو ہے اسی کمیٹی میں چلا گیا سپاہ صحابہ میں چلاگیا کہ یہ کیسے لوگوں کا برین واش ( wash ) کرتے ہیں پتہ تو چلے و ہ خود کش حملے کررہے ہیں پیسہ سے نہیں شیعوں کو مارنا بڑ ا ثواب ہے

کہا اب میں جب وہاں گیا (اس مومن نے بتلایا) کہ انھوں نے ویڈیو دکھلا ئی اس ویڈیومیں ایک نصیری پرہے جو شیعہ نہیں ہے اسی ایجنٹ ہے وہی بوش کے دوست جو لوگ ہیں اسی مرکزسے ان کا تعلق ہے اسی آیة اللہ کی اس کو لینک ہے جو آمریکہ کا آیة اللہ ہے ایک انھوں نے نصیریوں کی ویڈیودکھا ئی کہ یہ حرکت کرتے ہیں سیون شریف کے میلے کے د رمیان بھی کچھ نصیری حرکت کرتے ہیں اور شہروں میں بھی وہ کیا کہ نعوذ باللہ نعوذ با للہ حضرت عائشہ کاپتلا بنا یا اور اس کے ساتھ و ہ توہین کی گئی جو نا قا بل بیان ہے اور یہ فیلم دکھا ئی گئی وہا ں سنی جوان بیٹھے ہوئے تھے اوراس نے آکر تقریر کی کہ سنیوں میں غیرت نہیں کہ یہ نبی کی زوجہ ہے اس کا یہ شیعہ پتلا بنا رہے ہیں

عزیزان گرامی حضرت عا ئشہ کا احترام مولا علی (ع) نے کیا ہے حتیٰ کہ جنگ جمل میں بھی مولا علی (ع) کے خلاف لڑیں پھربھی مولا (ع) نے احترا م کیا اور احترام کے ساتھ انھیں واپس بھیجا ہے اور جب وہ گھر پہنچی ہے تو حضرت عا ئشہ نے کہا کہ مولا علی (ع) نے میرا احترام نہیں کیا نامحرم مردوں کے ساتھ مجھے بھیج د یا تو ان سب نے اپنی پگڑیا ں اتاریں کہا ہم میں سے کوئی مرد نہیں ہم سب عورتیں ہیں ، اب آپ نے دیکھا کہ مولا علی (ع) نے بھی حضرت عائشہ کااحترام کیا یہ نہیں کہ ان کی توہین کی جا ئے یہ شیعیت نہیں ہے یہ مذہب تشیع نہیں ہے ہمارے معصومین (ع) نے سختی سے منع کیا ہے کہ تبرہ ا گر کوئی قا تل بی بی فاطمة الزہرا ء ہے آپ کے سامنے ثا بت ہے کہ وہ قاتل بی بی فاطمہ الزہرا (س)ہے دوسرے مسلمانوں کو پتا ہی نہیں ہے کہ یہ قاتل ہے اگر آپ نے اس کے سامنے اس پر لعنت کی تو ممکن ہے نعوذ با للہ وہ پلٹ کر مولا علی (ع) کو برا بھلا کہے تو مجرم آ پ ہیں یعنی کھلے عام جو تبرہ کیا جائے یہ شیعیت نہیں ہے یہ نصیریت نے سلسلہ شروع کیا ہے اور اس کے بعد شیعہ بھی انوالو( Involve ) ہوگئے قطعاً ہمارے اہل بیت (ع) کسی امام (ع) نے اجازت نہیں دی ہے کہ آپ کھلم کھلا روڈ پر تبرا کریں اگر آپ نے تبراکیا تو وہ مسلمان اسے صحابی سمجھتا ہے عا شق سمجھتا ہے آپ کو پتا ہے کہ وہ قا تل فا طمہ الزہرا (س) ہے اگر وہ سنے گا ممکن ہے کہ وہ ضد میں آکرمولاعلی(ع) کو برا بھلا کہے تو مجرم آپ ہیں

عزیزان گرامی اور کہا وہیں پر اس نے تقریر کی کہ سنیوں میں غیرت ہے دیکھو کہ یہ حضرت عا ئشہ کے ساتھ کیا توہین ہو رہی ہے وہیں پر اس نے خنجر نکا لا اور اپناہاتھ کاٹا کہ میں خون سے لکھتا ہوں کہ جب تک پانچ ، چھ شیعو ں کو قتل نہ کروں میرے پر زند گی حرام کہا جتنے نوجوان تھے یہ ٹوٹل اٹھے انھوں نے بھی خنجر سے اپنا ہاتھ کاٹااور خون سے ، اور قرآن پر قسم کہا ئی کہ ہم جب تک شیعوں کو قتل نہ کریں تب تک ہم آرام سے نہیں بیٹھیں گے

عزیزان گرامی آپ دیکھئے یہ باہر کے دشمن ہیں مگر ان سے اند ر کے دشمن خطرناک ہیں جو سپاہ صحا بہ کے بنانے والے ہیں وہ ہمارے اند ر موجود ہیں وہ نصیری ہیں وہ خود کو شیعہ ظاہر کرتے ہیں مگر ان کا شیعیت سے کوئی تعلق نہیں حقیقت میں و ہ بش کے شیعہ ہیں اس لئے میں نے کہا یہ بُش کے شیعہ ہیں کہ ان نصیریو ں نے ایک سائیڈ بنا ئی ہے تبرا سا ئیڈ انٹرنیٹ پر اور جتنے علماء ایران کی حما یت کرتے ہیں ان سب پر انھوں نے تبرا کیا ہے ، آج تک ہم تبرا ان پر کرتے تھے جو دشمن اہل بیت (ع) تھے مگر یہ تبرا ا س پر کررہے ہیں جو بُش کا دشمن ہے تووہ بش کے شیعہ کھلائیں گے، انھوں نے پوری سائیڈبنا ئی ہے ان کو پہچا نئے یہ ہماری صفوں میں اند ر ہیں دیکھئے اگر نصیری الگ امام بارگاہ بنا ئے ایک آدمی ادھر نہیں جائے گا، کیوں کہ نصیریت خلاف عقل ہے نصیری نجس ہے یہ شیعوں کے ساتھ مکس ہوجا تے ہیں پتا نہیں چلتا اور ظاہراً بہت ماتم کرتے ہیں بہت نعرے لگا تے ہیں بہت تبرا کرتے ہیں لیکن یہ شیعہ نہیں ہیں ان کی پہچان یہ ہے کہ یہ منکر نماز ہیں نماز کی مخا لفت کرتے ہیں ، اور قرآ ن کی آیت ہے ”( ا قیموا ا لصلاة ) “ اگر کوئی نماز نہیں پڑھتا ”( ولا تکونوا من المشرکین ) “ تو وہ مشرک ہے جو نماز کا منکر ہے وہ نجس ہے یہ نصیری کبھی نماز نہیں پڑھتے اور جو منکر نماز ہو وہ فقہ اہل بیت (ع) میں نجس ہے آغا خا نی سارے علماء مجتہدین کا فتویٰ ہے کہ یہ نجس ہیں کیوں کہ اس کا دادا جب ایجنٹ بنا انگریزکا اس نے نمازیں ختم کردیں جما عت خانے بنا دیئے مگر اسما عیلی مسلمان ہیں کیوں کہ وہ نمازی ہیں حالانکہ وہ بھی شش امامی ہیں یہ بھی شش امامی ہیں مگر آغا خانی کیوں کافر ہیں کیوں کہ نما ز کے منکر ہیں آ پ نے سنا امام کافرمان سنا کہ جو نماز کا منکر ہے وہ نماز کا منکر نہیں بلکہ نماز کے حکم دینے والے خدا ، نبی ، علی (ع) کا منکر ہے اور جو خدا ، نبی ، علی (ع) کا منکر ہے وہ نجس ہے یہ لوگ جو ہیں نماز کے منکر ہیں نماز کی مخا لفت کرتے ہیں بلکہ اس سے بھی خطرنا ک کبھی مسجد میں آجا تے ہیں شیعوں کو بد نام کرنے کے لیے ، ایک نے بتا یا کہ یہ نماز پڑھ رہا تھا ایک نصیری اور وہ رکوع میں کہہ رہا ہے علی علی علی،تا کہ دوسروں کوثبوت ہو کہ یہ شیعہ، علی (ع) سجدہ کرتے ہیں یہ دشمن ہیں ، امریکا کے ایجنٹ ہیں نماز پڑھنے آئے تو رکوع میں کہہ رہے ہیں علی علی علی ،اور سجدہ میں کہہ رہے ہیں علی علی علی ، تاکہ د شمن کو پتا چلے ، شیعیت بد نا م ہوجا ئے

عزیزان گرامی ان سے خبر دار رہنے کی ضرورت ہے ان کی پہچان یہ ہے ایک نماز کے منکر ہیں دوسرا جتنے بھی علما ء مقصد حسین (ع) بیان کرتے ہیں ، مقصد حسین (ع) کیا تھا ؟اشهدا نک قد ا قمت الصلاة و آتیت الزکوة و ا مرت بالمعروف و نهیت عن المنکر ہر زیارت میں لکھا ہوا ہے آپ سب کو مولاحسین (ع)کی زیارت نصیب ہو زیارت کے سامنے بھی آ پ یہی کہیں گے مولا آ پ کا مقصد یہ تھا نماز قا ئم ہوجا ئے ،زکوة قا ئم ہوجا ئے امر با لمعروف قا ئم ہو جا ئے نہی عن المنکرقائم ہو جائے یہ جو بھی علما ء مقصد حسین (ع) بیان کرتے ہیں امر با لمعروف کرتے ہیں ،کہتے ہیں یہ وہا بی ہیں تاکہ لوگ امر با لمعروف سنے ہی نہیں ، یہ وہا بی ہیں یہ عزاداری کا دشمن ہے جب کہ کوئی شیعہ عزاداری کا دشمن ہو نہیں سکتا کوئی شیعہ اگر حقیقی شیعہ ہے تو عزیزان گرامی کبھی وہا بی عقا ئد کو قبول نہیں کرسکتا ۔

دوسری ان کی پہچان یہ ہے کہ جتنے علما ء امر با لمعروف کرتے ہیں ان کے خلاف یہ پروپکنڈہ کرنے میں مشغول ہیں اور تیسری ان کی پہچا ن یہ ہے کہ ہمارے مراجع ہمارے علما ء پہ یہ تبرا کرتے ہیں آیة اللہ خا منہ ای سید ہیں عالم ہیں رہبر ہیں ان پر تبرا ، امام خمینی  مرحوم ان پر تبرا کرتے ہیں ، یہ صدا م کے ایجنٹ ہیں یہ امریکہ کے ایجنٹ ہیں ہمارے مراجع پر یہ تبرا کرتے ہیں عزیزان گرامی انھیں پہچا ننے کی ضرورت ہے یہ ہمارے اند ر گھسے ہوئے ہیں اور یہی سپاہ صحا بہ کے بنانے والے ہیں اور چوتھی پہچان یہ ہے کہ یہ فقہ امام صاد ق (ع) کے دشمن ہیں مثلاً کھارادرمیں کسی نے توضیح المسا ئل سے کسی نے فقہ امام صادق (ع) پڑھا نا شروع کیا اس کی مخا لفت کی یہ امامو ں کی مخا لفت تو نہیں کرتے لوگو ں سے ڈرتے ہیں مگر کس کی مخا لفت کرتے ہیں ان کی مخا لفت کرتے ہیں جو امام صادق (ع) کا فقہ بتا تے ہیں ،یہ اما م صا دق (ع) کے فقہ بتا نے والے کون ہیں مجتہد ین ہیں علماء ہیں یہ ان کی مخا لفت کرتے ہیں ان پہ لعنتیں کرتے ہیں عزیزان گرامی ان کو پہچا ننا بہت ضروری ہے کیو ں کہ یہ ورنہ آہستہ آہستہ ہمارے ساتھ رہیں گے اور اپنی تعدا د بڑھا تے چلے جا ئیں گے اگر ہم نے انہیں نکا ل کے پھینک د یا اگر انھوں نے الگ جا کے امام بارگاہ بنا یا تو کوئی ان کے امام بارگاہ میں نہیں جا ئے گا کہ یہ نصیری ہیں شیعہ نہیں ہیں

عزیزان گرامی اب دیکھئے ایک وہ خبیث آمریکا کا ایجنٹ جس نے کہا کہ میں آیة اللہ ہوں اخباریوں کا جس نے اخبار میں بیان دیا تھا کہ امریکا کو ایران پر حملہ کرنا چا ہیے بتا ئیے جو کہے کا فر کو جو عیسا ئیوں کو کہے کافروں کو کہے کہ اسلامی ملک پر حملہ کریں بتا ئیے کیا وہ مسلمان ہے کوئی اسے مسلمان کہہ سکتا ہے جو کافر ملک امریکا خبیث دجال کو کہہ رہا ہے اخباروں میں بیان آیا کہ ایران پر حملہ کرو یعنی جب اس نے یہ پیغام دیا خود اس نے ثا بت کردیا یا وہ منا فق ہے یا وہ مرتد ہے اب اس نے کئی کتابیں نکا لیں ہیں ، الحمد للہ کہیں لوگ اس سے مجلس تو نہیں پڑھا رہے ہیں مگر اس کے ساتھ عزیزان گرامی وہ کتابیں چھا پ رہا ہے مفت میں سو دو سو کی کتابیں د ے رہا ہے جو مذہب شیعہ کے خلاف ، مراجع کے خلاف ، ہمارے عقا ئد کے خلاف اور اس میں بعض لوگ ڈیما نڈ ہیں مثلاً ص۱۳ اس نے ایک انجمن کا نام لیا ہے انجمن ثواب المومنین ، ہمیں پتا ہے کہ اس انجمن میں اچھے لوگ بہت زیادہ ہیں ہمارے دوست بھی ہیں ما تمی بھی ہیں نوحہ خوان بھی ہیں مگر چند لوگ ہیں جو اس میں استعما ل ہورہے ہیں لہذا فوراً اس انجمن نے اعلا ن کیا ہے کہ ہمیں اس امریکی مولوی سے کوئی رابطہ نہیں ہے عزیزان گرامی کیونکہ یہی انجمن ثوا ب المومنین جس نے چند سال پہلے انہیں کو لوگوں نے استعمال کیا تھاچند لوگ آئے تھے اور خون پینے کی رسم شروع کی تھی، (آپ کویا د ہے کہ ہمیں کتنی مشکل دوتین سالوں سے ہوئی ہے) منبر سے یہی آواز بلند کی دوسرے علماوں نے آواز بلند کی ، تو یہ شیطانی رسم ختم ہوگئی، خون پینا نجس ہے یہ بدعت اگر ختم نہ ہوتی تو پھیلتی چلی جا تی

عزیزان گرامی ہمیں دھمکیاں دی گئیں کہ تم کو یہ کردیں گے حالانکہ چند لوگ ہیں ان کے اند ر خراب نہ کہ سب ایسے لوگ ہیں مگر انجمن کا وظیفہ ہے کہ اس مردود نے ان کا نام لیا ہے لہذا یہ اخبار میں بیان دیں کہ اس امریکی مولوی سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے

عزیزان گرا می یہ ہمارے اندر ایک فتنہ چا ہتے ہیں ہمیں پتا ہے بہت اچھے دوست بھی ہیں ما تمی بھی ہیں او ر اچھے نوحہ پڑھنے والے بھی اس انجمن میں ہیں مگر چند با اثر لوگ ان کے پاس امریکہ کا پیسہ ہے اور دوسری یہ ساز ش یہ ہرسال جو ہے اس انجمن کو بد نام کرتے ہیں چند لوگ یہ قا فلہ لے جاتے ہیں شام چہلم میں اور وہاں پر بھی کیاہوتا ہے وہا ں ہر بھی علی(ع) کو اللہ کہا جاتا ہے اور حضرت عا ئشہ کی توہین ہوتی ہے کھلے عام تبرا ہوتا ہے اور مقصد کیا ہے وہاں عربھا ڈالرز خرچ کرنے کے بعد، بی بی زینب (س)کے یہاں ہم لوگوں نے علماء نے سب نے ملکر ایک حوزہ بنایا ہے حوزہ علمیہ شام میں جہاں اہل بیت (ع) کے دشمنوں کا مرکزتھا یہاں آج بی بی زینب (ع) کی مزار ہے اس کے چاروں طرف آج حوز ہ علمیہ موجود ہے ہمارے مد رسے موجود ہیں علی ولی کی اذان بلند ہورہی ہے مگر یہ ٹولہ کیا چا ہتا ہے جیسے یہاں پر پتلے بنا بنا کر اور انھوں نے سپاہ صحابہ کو بنا یااور وہاں بھی حضرات اکثر سنی ہیں اکثر فلسطینی ہیں سنی ہیں شامی بھی سنی اکثر جتنے بھی زینبیہ کے اب یہ ہر سال جا تے ہیں اور وہاں مراجع پر بھی تبرا کرتے ہیں بی بی عائشہ کو گا لیاں دیتے ہیں اور کھلم کھلا دیگر لوگوں پر تبرا کرتے ہیں اور سنی سمجھتے ہیں لعنت عربی والا بھی سمجھتا ہے تو نتیجہ کیا ہوگا یہ تو چلے آئیں گے وہ حملہ کریں گے ہمارے مد رسوں پردیکھئے یہی ٹولہ جو ہے اس میں بھی انجمن ثواب المومنین کے کچھ لوگ انوالو( Involve ) ہیں

عزیزان گرامی انھیں چا ہیے کہ ان لوگوں کو نکال دیں جو یہودیوں کے ایجنٹ ہیں ورنہ یہ پوری انجمن بد نام ہوجائے گی اور اگر اس انجمن نے نہیں نکالا توپھر تمام شیعہ امام بارگاہ اپنے دروازوں کو اس انجمن کے لئے بند کردیں گے

لہذا فورا کل ہی انجمن ثواب المومنین جس میں اچھے لوگ بھی ہیں ان گندے غدار وں کو جو نصیری ہیں جو نجس ہیں جن کے ہاتھ کا کھانا پینا نجس ہے جنھیں نذر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں جو ہمار ے مجتہدین پر تبرا کرتے ہیں جو امریکی ایجنٹ ہیں جو شام تک جا کے ہمارے حوزوں کو بند کرانا چا ہتے ہیں جنھوں نے سپاہ صحابہ بنا ئی ہے اور عجب یہ ہے کہ آج تک سپا ہ صحابہ نے ان کے ایک آدمی کو بھی نہیں مارا ہے اور ایک آدمی بھی حکومت نے جیل میں نہیں ڈ ا لا جو کھلم کھلا توہین کررہے ہیں نبی کی زوجہ کے پتلے بنا رہے ہیں ان کو جیل میں ڈالے نا ، ساجدعلی نقوی صاحب کو جیل میں ڈالا ہوا ہے ، غلام رضا نقوی کو جیل میں ڈالا ہوا ہے ، جو کھلم کھلا اصحاب کی توہین کر رہے ہیں جنھوں نے تبرا روڈ بنا یا ہوا ہے کیونکہ یہی تو سی آئی اے ( C.I.A ) کے ایجنٹ ہیں یہی تو امریکہ کے پٹھوں ہیں لہذا کس کو مجا ل ہے کہ انہیں جیل میں ڈا لے۔

عزیزان گرامی لہذا لازم ہے تمام مومنین پرلازم ہے کہ امر با لمعروف کریں اور دیکھئے امر با لمعروف کا نتیجہ سامنے آیا ہے اور کتنے علما ء جو ہیں انھوں نے امر با لمعروف کرنا شروع کردیا اگر سو مرتبہ کسی عالم کو خط لکھ کر کہہ دیں گے کہ امر با لمعروف کریں اور سنیے ہر عالم کو یہ آیت لکھ کر دیں سورہ مائدہ کی آیت کا نمبر ( ۷۹ و ۷۸) خدا کہتا ہے کہ لعنت کی گئی ہے ان لوگوں پر جو کافر ہوگئے بنی اسرائیل میں سے ، عیسی نبی نے بھی لعنت کی ہے دا ود نبی نے بھی لعنت کی کیوں دونبیوں نے ان پر لعنت کی ان پر کیوں لعنت کی ہے ، کیو ں کہ وہ حد سے زیادہ بڑھنے والے تھے ، اس لئے کہ و ہ نہی عن المنکر نہیں کرتے تھے یہ قرآن کی آیت ان مولویوں کو دیجئے جو تاجر خون حسین (ع) بنتے ہیں اگر یہ امر بالمعروف کرتے تو اس طرح کے فتنے ہمارے درمیان پیدا نہیں ہوتے یہ قرآن ص۱۵ کہہ رہا ہے کہ اس پر لعنت ہے خدا کی جو نہی عن المنکر نہ کرے کیا ہم نہیں دیکھ رہے ہیں کہ کتنی ہماری خواتین بے پردہ ہیں یہ مولوی پردہ پر کیوں نہیں پڑھتے ، کیا نہیں دیکھ رہے ہیں کہ آج کتنے نوجوان جو ہیں نماز سے دور ہیں یہ نماز پر کیوں نہیں پڑھتے ، کیا نہیں دیکھ رہے ہیں کہ بے حیا ئی پھیل رہی ہے ڈ ش کے ذریعے سے اور ٹی وی کے ذریعے سے یہ امر با لمعروف کیوں نہیں کرتے عزیزان گرامی آپ یہ جہاد جاری رکھیں الحمد للہ بہت ساروں نے امر بالمعروف کرنا شروع کیا ہے اور اس کے سواء کوئی چارہ نہیں ہے اور منبر کے تقدس کو باحال کریں

امام جعفر صا د ق (ع) فرما تے ہیں منبر پر ہر ایک کو آنے مت د ویہ اصول کا فی کی حدیث ہے بار بار لوگوں کو سنا ئیے امام (ع) کہتے ہیں ہر ایک کو منبر پر آنے نہ دو ، کس کو آنے دیں ، فرما یا جسے بھی منبر پر آنے دو پہلے دیکھو اس کے دل میں پیسے کی محبت تو نہیں ہے جس کے دل میں پیسے کی محبت ہے وہ تمہیں دین نہیں دے گا بے دین بنا کر چلا جائے گا یہ خو ن حسین (ع) کی تجارت کا سلسلہ رکنا چا ہیے کہ میں دس لاکھ روپیہ لوں گا پھر مجلس پڑھوں گا یہ تاجر خون حسین (ع) صرف مجمع کو راضی کرتے ہیں مقصد حسین (ع) اس لیے بیان نہیں کرتے مقصد بیان کریں گے مجمع ٹوٹ جائے گا ہمارا ریٹ گرجائے گا لہذا میں نے عرض کیا جب تک کہ ان تاجروں کو منبر سے نہیں ہٹا ئیں گے او ر اس کی جگہ پر نیک متقی لوگ ، الحمد للہ آ پ کے پا س اس قسم کے ہزاروں علما ء ان میں موجود ہیں نجف میں موجود ہیں مشہد میں موجود ہیں علما ء کی کوئی کمی نہیں دس ، دس بیس سال انھوں نے علم حا صل کیا بہترین خطیب بہترین مصائب بھی پڑھنے والے ، اور سنیے ہم نے ایک پروگرا م بھی بنا یاہے کہ آپ اس عشرہ کے بعد اسی پالٹاک ( Paltalk ) پر پا لٹا ک کو ڈا ون لوڈ کرلیں اور وہاں پر گروپس ہیں گروپ میں انڈیا پاکستان میں چلے جایئے وہاں دوچار رومس ہیں شیعوں کے مثلاً آو مل کر حسین (ع) حسین (ع) کریں یہ مجلسیں جا ری ہیں اس وقت اور چودہ معصومین (ع) ڈاٹ کوم (. Com ) پر بھی جاری ہیں اور حسینیہ پر بھی جا ری ہے تو اس پا لٹاک پر اور تین چار روم ہیں مثلاً نجفی کا روم ہے اوراسی طرح سے گیٹ اوف نا لج کا ہے ہم انشاء اللہ قم جاکر وہاں سے ہر روز ایک عالم کی مجلس آپ کو سنا ئیں گے پا کستان کے جس شہر میں بھی ہوں آپ وہ مجا لس سن سکتے ہیں جو عالم دین آپ کو پسند آجا ئے آ پ وہیں دعوت دیں و ہ آ پ کی خد مت میں رمضان میں بھی محرم میں بھی سفر میں بھی آجا ئے گا اور یہ کبھی حسین (ع) کی مجلس کا سودا نہیں کرے گا

عزیزان گرامی یہ سوداگروں نے قوم کو تباہ کیا ہے پتا ہے ہر سا ل اربوں روپیہ کا بجٹ ہے یہ سب ذاکروں کے جیب میں جا تا ہے ایک ذاکر دس لاکھ لیتا ہے اب اندازہ کریں کتنے ذاکر ہیں پا کستان میں ، پانچ لاکھ دس لاکھ یہ ان کا ریٹ ہے ، عزیزا ن گرامی چار پانچ لاکھ روپیہ کا بجٹ صرف دس دن میں مولوی پر خرچ کرتے ہیں مگرکیا ملتا ہے صرف یہ واہ واہ کرکے چلے جا تے ہیں امر با لمعرو ف بھی نہیں کرتے قو م کی ترقی نہیں ا س وقت قوم کے پا س کوئی یونیورسٹی نہیں یہ کبھی نہیں آپ کو بتا ئیں گے کہ یونیورسٹی کا کام کریں کیوں کہ یہ تو جیب بھرنے والے ہیں یہ تاجر ہیں ہمارے پاس کوئی میڈیکل کالج نہیں ، آغا خانی ہم سے کم ہیں بہت کم ہیں ان کے پاس میڈیکل کا لج ہے ہمارے پاس نہیں کیوں ؟ کیونکہ منبر پر کوئی اصلاح کرنے والا نہیں ہے ہمارے پا س کوئی ٹیوی چینل نہیں ہے اہل سنت کے کتنے ٹی وی چینل ہیں بھئی کون کس کو بیدا رکرے یہ توصرف اپنی جیبیں بھرنے والے ہیں یہ تو تاجر خون حسین (ع) ہیں اور امام محمد باقر(ع) نے فرما یا ، عزیزان گرامی یہ جومقصد حسین (ع) کے قا تل ہیں یہ ایک جملہ امر با لمعروف کہنے کے لئے تیار نہیں ، ان کے لئے پا نچویں امام (ع) نے فرما یا کہ لوگو! علما ء باطل سے بچویہ یزید کے لشکر سے بد تر اور برے ہیں یزیدکے لشکر نے ہمارا مال لوٹا تھا یہ تمہارا ایمان لوٹیں گے عزیزان گرامی آ پ دیکھئے ہم نے کتنے شہید دیئے ہیں مگر قوم میں تفرقہ ہے قوم کمزور ہے کیوں کمزور ہے وجہ کیا ہے جب کہ روایات احا دیث سے نتیجہ ملتا ہے کہ جو قوم بھی شہید دیتی ہے وہ اتنا مضبوط ہوجاتی ہے کہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح اس کا کوئی مقا بلہ نہیں کرسکتا ہے ہماری تعدا د کروڑوں میں ہے ہم کمزور ہیں ہم فرقوں میں تقسیم ہوگئے مگر لبنا نی شیعوں کی تعدادلاکھوں میں ہے انھوں نے بھی شہید دیئے کتنے مضبوط ہوگئے (اللہ اکبر) آمریکا جیسے ظالم کو بھگادیا اسرائیل کوبھگادیا اور فرانس کوبھگا دیااور اس وقت جب آمریکا نے کہا حزب اللہی شیعوں کو د ہشت گرد قرا ر دے خود وہاں کی حکومت عیسائی ہے اس نے کہا خبردار آپ کو حق نہیں ہے کہ ہمارے داخلی معا ملات میں مداخلت کریں کیوں کہ حزب اللہ ہی شیعہ مضبوط ہیں و ہ موت سے نہیں ڈرتے ہم بھی شیعہ ہیں وہ بھی شیعہ ہیں ان کی تعدا د لاکھوں میں ہے ہم کروڑوں میں ہیں ہم کیوں نہیں مضبوط ؟ یہ امام محمد باقر (ع) کا جواب سنیے یہ بھی اصول کافی میں حدیث ہے امام (ع)فرما تے ہیں جس قوم میں منبر سے امر بالمعروف ہوگا وہ قوم مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی جا ئے گیاسی لئے لبنا نی مضبوط ہیں کیوں ؟ اس لئے کہ لبنان میں منبر پر جا نے والے متقی اور صالحین علماء ہیں ہمارے یہاں منبرپر فاسد اور فاجرلوگ ہیں

لہذا عزیزان گرامی جب تک ہم ان تاجر ان خون حسین (ع) کو ہٹا کر متقی انسان نہیں بٹھا ئیں گے ہماری قوم مضبوط نہیں ہوگی یہ بے انتہا اہم مسئلہ ہے مقصد حسین کے ایام گذر جاتے ہیں پانچ منٹ ذ اکر مقصد حسین نہیں بیان کرتا پوری طا قت لگا تاہے تا کہ لوگ وا ہ ،واہ ،واہ کریں میرا مجمع بڑھے تاکہ میرا ریٹ بڑھے اور اصلاً نہ کریں مگر یہ کہ آپ پہ پریشر ڈیولپ کریں ان کو مسلسل لکھتے رہیں گے تو یہ امر با لمعرو ف کی طرف آئیں گے

لہذا عزیزان گرامی لوگ آئیں پی ایچ ڈی کریں جو انگلش اچھی جا نتے ہیں کمپیوٹر اچھا جا نتے ہیں آئیں عالم دین بنیں ، ایک گمراہ انسان کو بھی آپ نے ہدا یت دی تو اللہ کے رسول کہتے ہیں کہ پوری کائنات کے خزانوں سے افضل ہے آئیے دین کا علم حاصل کریئے ہمارے یہاں علماء کی کمی ہے اور علماء ہوں پوری دنیا میں آج علماء کی مانگ ہے خصوصاً انگریزی جا ننے والے تو آپ اس طرح سے دنیا میں تبلیغ کرسکتے ہیں

آئیے خدا کی بارگا ہ میں دعا کریں ، پروردگار یہ جتنے لوگ مذہب اہل بیت (ع) کے خلاف سازشیں کررہے ہیں اگر قا بل ہدا یت ہیں انہیں ہدا یت دے کسی سے ہماری ذا تی دشمنی نہیں ، پروردگار اگر یہ قا بل ہدا یت نہیں انہیں جلد از جلد نیست اور نابود کردے ، قوم کو متحد فرما ، یہ اخباری فتنوں کو نابود کردے جو وہا بی فتنہ ہمارے خلاف ہے اسے نابود کردے ، نصیریت کا جو فتنہ ہے اسے نابود کردے

اللهم صل علیٰ محمد وآل محمد وعجل فرجهم ، اللهم صل علیٰ محمد وآل محمد وعجل فرجهم ، اللهم صل علیٰ محمد وآل محمد وعجل فرجهم ، اللهم صل علیٰ محمد وآل محمد وعجل فرجهم ، اللهم صل علیٰ محمد وآل محمد وعجل فرجهم ، اللهم صل علیٰ محمد وآل محمد وعجل فرجهم ، یا الله،یا الله،یا الله،یا الله،یا الله،یا الله،یا الله،یا الله،یا الله،یا الله،یا الله،یا الله،یا الله،یا الله،یا الله،یا الله، یا الله،یا الله،یا الله،یا الله،یا الله،یا الله،یا الله،یا الله،یا الله،یا الله،یا الله،یا الله،یا الله،یا الله،یا الله،یا الله،

اے میرے اللہ آج سکینہ کے یتیم ہونے کی رات ہے ، عزادارو! آ ج ماں کے پاس بیٹا موجود ہے بہن کے پاس بھا ئی موجود ہے سکینہ کے پاس بابا موجود ہے آج شہیدوں کی رات ہے کل یتیموں کی رات ہے (یقین جا نیئے اگر آ ج رات آپ نے پوری رات عزاداری مولا میں گذاری روروکے دعائیں مانگی آپ کی پوری زندگی کے گناہ معاف ہوجا ئیں گے ) آج بڑی اہم رات ہے بڑے بڑے گنہگار آج بخشے جاتے ہیں میرے اللہ اس رات کا ہم نے پورے سال انتظار کیا تھا او میرے اللہ اگر آج کی رات نہیں بخشا تو کب بخشے گااو میرے اللہ آج حسین کے صدقے میں سارے مجمع کوبخش دے

یا غفار ،یا غفار ،یا غفار ،یا غفار ،یا غفار ،یا غفار ،یا غفار ،یا غفار ،یا غفار ،یا غفار ،یا غفار ،یا غفار ،یا غفار ،یا غفار ،یا غفار ،یا غفار ،یا غفار ،یا غفار ،یا غفار ،یا غفار ،یا غفار ،یا غفار ،یا غفار ،یا غفار ،یا غفار ،یا غفار ،یا غفار ،

او میرے اللہ تجھے سکینہ کی یتیمی کا واسطہ اللہ ہم سب کو وہ ننھی سی قبر کی زیارت کرائے سکینہ آج بھی تنہا ہے وہ زندان شام عزادارو! روایت کے الفاظ ہیں جناب سکینہ کی عا دت تھی جب بھی نماز کا وقت آتا تھا جناب سکینہ دو مصلی بچھا یا کرتی تھیں ایک اپنے لئے ایک اپنے بابا کے لیے کربلا میں دس محرم کا دن آیا نماز عصر کا وقت آیا سکینہ نے دو مصلے بچھا ئے مگر بابا نہیں آئے ، سکینہ نے دعا کے لئے ہاتھ بلند کیئے ا و میرے اللہ میرے پردیسی بابا کی طرف خیر ہو میرے غریب بابا کی طرف خیر ہو ، عزادارو !جناب سکینہ نے کسی کے آنے کی آواز سنی مڑکر دیکھا کیا دیکھا شمر ہاتھ میں تازیانہ لیے کھڑا ہے (یاحسین ) مگر حسین کی بچی اب بھی نہیں سمجھی کہا شمرتونے کہیں میرا بابادیکھا یا نہیں، شمر نے کہا سکینہ باباکو دیکھنا چاہتی ہو، سکینہ نے کہا میں بابا کے انتظا رمیں ہوں شمر کے ہاتھ میں حسین کا کٹا ہوا سر تھا ،اللہ جانئے سکینہ نے کیسے برداشت کیا ہوگا ( دعا کیجئے کوئی بچی بابا کا کٹا ہوا سر نہ دیکھے ) عزادارو ! شمر نے وہ ظلم کیا جس کی مثال تاریخ میں نہیں ، شمر کے ہاتھ میں حسین (ع) کٹا ہوا سرتھا شمر نے حسین (ع) کے سر کو بچی کی طرف پھینک دیا (او شمر تمہارے ہاتھ کٹ جا تے ، او میرے مولا کے سر کو نہ پھینکتا) جیسے ظالم نے حسین (ع) کا سر پھینکا سکینہ بابا کے سر کی طرف دوڑی آجا میرے مظلوم بابا آجا میرے غریب الوطن بابا آجا میرے پردیسی بابا ، سکینہ نے بابا کا سر گود میں لیا ہا ئے بابا کی گرد ن دیکھ کرکہا ہوگا بابا یہ گردن کی رگیں کس نے کا ٹی ہیں بابا یہ پیشا نی پر زخم کیسا ہے ، (اب یہ روایت کے لفظ نہیں یہ میرا تصور ہے)جناب سکینہ نے گود میں لیکر ایک بین کیا ہوگا، با با میرے مظلوم بابا او میرے پردیسی بابا ، بابا چار برس تونے مجھے سینے پر سلایا بابا آجا اور میرے سینے پہ سوجا اور میرے تھکے ہوئے بابااو لاشے اٹھا اٹھا کر تھک گئے ہوگے اکبر کی لاش تونے اٹھا ئی ، عبا س کی لاش تونے اٹھا ئی علی اصغر کی لاش تونے اٹھا ئی ، او بچی بابا سے پیار کررہی ہوگی شمر آگے بڑھا بچی سے بابا کا سرچھینا اتنے زور سے طما نچے مارے سکینہ بیہوش ہوگئی

یا حسین ، یا حسین ، یا حسین ، یا حسین ، یا حسین ، یا حسین ، یا حسین ، یا حسین ، یا حسین ، یا حسین ، یاحسین

(تمام شد )


فہرست

مجلس ۱ ۴

امام زمانہ ۴

مجلس ۲ ۱۳

مجلس ۳ ۲۱

مجلس ۴ ۲۹

مجلس ۵ ۳۶

مجلس ۶ ۴۳

مجلس ۷ ۵۲

مجلس ۸ ۶۳

مجموعہ تقاریر(حصہ دوم)

مجموعہ تقاریر(حصہ دوم)

اصلاح کتب

مؤلف: مولانا جان علی شاہ کاظمی
قسم: امام حسین(علیہ السلام)
صفحے: 12