دروس تمھیدیہ فی الفقہ الاستدلالی (كتاب النکاح)

اصلاح کتب

مؤلف: آیت اللہ شیخ باقر الایروانی
فقہ استدلالی


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں اس کی فنی طورپرتصحیح اور تنظیم ہوئی ہے


کتاب:دروس تمهيدية في الفقه الاستدلالي

(كتاب نكاح )

مصنف: آیت اللہ شیخ باقر ایروانی

مترجم:غلام مہدی آخوندذادہ

تصحیح: سید محمد سعید موسوی


بسم اللہ لرحمن الرحیم

انتساب!

میری یہ ناچیز کوشش

اپنے مولا و آقا

حضرت سید الشہداء امام حس ین

سرکار با وفا حضرت ابو الفضل العباس

و

سید الساجدین حضرت علی ابن الحسین علیہم السلام

کے نام!

کہ ماہ مبارک شعبان میں ان تینوں ہستیوں کی ولادت کے ذریعے خدا نے ہم پر احسان کیا۔


اہداء

میں اگر آج یہ قابل ہوا ہوں کہ قرآن کریم کے کچھ الفاظ اور معصومین علیہم السلام کے فرامین کو اپنی حد تک کچھ سمجھ سکتا ہوں تو یہ سب میرے والد گرامی کے دین مبین اسلام سے لگاؤ اور آئمہ معصومین علیہم السلام سے عشق و محبت کی وجہ سے ہے میں اپنی اس ن اچیز زحمت کو ا ن کے روح کے لئے اہداء کرتا ہوں ۔


مقدمہ

کتاب کا تعارف:

کتاب“دروس تمهیدیة فی الفقه الاستدلالی ” آیت اللہ شیخ باقر ایروانی کی علمی کوشش کا نتیجہ ہے جس میں احکام کو دلیل کے ذریعے استدلال کے ساتھ پیش کرنے کی ایک نئی روش اپنائی گئی ہے۔ عصر حاضر میں یہ کتاب فقہی کتابوں میں ایک نیا طریقہ ہے جو اس شعبے کے طلبہ کے لئے استنباط اور احکام کے استخراج کے طریقہ کو سکھانے اور اپنے دعویٰ کے لئے استدلال پیش کرنا سکھانے میں ممد و معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ کتاب ، قدیم درسی کتب کی جگہ لینے میں کسی حد تک کامیاب ہو چکی ہے اور بعض علمی مراکز میں درسی نصاب کے طور پر پڑھایا جاتا ہے ۔

مؤلف کا تعارف:

شیخ محمد باقر ایروانی بن شیخ محمد تقی ایروانی جن کا تعلق نجف اشرف کے ایک مشہور علمی خاندان سے ہے۔ آپ کے جد امجد اس زمانے میں نجف کے مشہور مجتہدوں میں سے ایک تھے ۔آپ کی ولادت ۱۹۴۹ ؁ میں نجف اشرف میں ہوئی آپ کے جد بزرگوار فاضل ایروانی کے نام سے مشہور تھے۔ فاضل ایروانی، صاحب جواہر اور شیخ مرتضی انصاری کے شاگرد تھے۔

حوزوی دروس

آپ نے مقدمات اور اعلی سطح کی تعلیم حوزہ علمیہ نجف کے بڑے اساتذہ سے حاصل کی۔ فقہی دروس خارج کے حصول کے لیے آپ آیۃ اللہ العظمی سید ابوالقاسم الخوئی کے محضر میں شرفیاب ہوئے اور ساتھ ساتھ آپ نے شہید سید محمد باقر صدر کے ساتھ ایک مدت تک ان کے علمی صلاحیتوں سے بھر پور استفادہ کیا۔ اسی طرح اصول فقہ کے دروس خارج کے حصول کے لیے آیۃ اللہ سیستانی کی شاگردی اختیار کی۔ اسی طرح فقہی ابحاث کے لیے آیۃ اللہ سید محمد سعید الحکیم کے آگے زانوئے تلمذ خم کیا۔ نجف اشرف میں ہی آپ نے اعلی سطحی کورس کی کتابوں ؛ رسائل، مکاسب اور کفایہ کی تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ آپ سب سے زیادہ شہید محمد باقر صدر اور سید ابو القاسم خوئی سے متاثر تھے۔

ہجرت اور تدریس

ایران عراق جنگ کے آخری سالوں میں آپ نے نجف سے قم کی طرف ہجرت فرمائی اور ہجرت کے فورا بعد تدریس کا سلسلہ شروع کیا یہاں آپ نے اعلی سطح کی کتابوں کی تدریس کا سلسلہ شروع کیا جو پانچ سال تک جاری رہا۔ اسکے بعد دروس خارج کا سلسلہ شروع کیا جس میں اصول فقہ اور فقہ کے موضوع پر درس خارج دیا کرتے تھے۔ اصول فقہ میں آپ نے دس سال پر محیط ایک لانگ کورس مکمل کیا۔اسی طرح فقہ میں بعض ابواب؛ جیسے قضا، اجارہ، خمس ، صلاۃ وغیرہ کا درس خارج مکمل کیا ۔ اور آپ بینک کے احکام اور روزہ کے موضوعات پر بھی درس خارج دے رہے تھے جو ادھورے رہ گئے۔

نجف کی طرف واپسی

قم میں ایک مدت طلاب علوم دینی کو اپنی علمی توانائیوں سے سیراب کرنے کے بعد ضرورت کا احساس کرتے ہوئے آپ نجف کی طرف واپس تشریف لے گئے۔اس وقت آپ نجف اشرف میں علوم آل محمد (صلی الله علیه و آله وسلم ) کے پ یاسوں کے پیاس بجھانے میں مصروف ہیں۔حرم حضرت امیر المومنین سے ملحقہ مدرسہ میں آپ ہر روز درس خارج دیا کرتے ہیں۔

تالیفات

آپ کی تالیفات بہت زیادہ ہیں ان میں سے اکثر اس وقت حوزہ علمیہ میں کورس کی عنوان سے پڑھی جاتی ہیں۔زیر ترجمہ کتاب بھی انہی علمی شہکاروں میں سے ایک ہے۔آپ کے بعض کتابیں درج ذیل ہیں:

الحلقة الثانیة فی اسلوب ها الثان ی

دروس تمهیدیة فی الفقه الاستدلالی (زیر ترجمہ کتاب ا س کی تیسری جلد کے کتاب نکاح کا ترجمہ ہے )

دروس تمهیدیة فی القواعد الرجالیة

دروس تمهیدیة فی القواعد الفقیة

دروس تمهیدیة فی تفسیر آیات الاحکام

ضرورت ترجمہ

شیخ باقر ایروانی ایک عظیم علمی شخصیت ہیں آپ کی کتابوں کا حوزہ علمیہ قم اور نجف کے مدرسوں میں کورس کے طور پر تدریس کرنا آپ کی علمی توانی کا منہ بولتا ثبوت ہے ان کتابوں میں سے فقہ الاستدلالی اس وقت کتاب مستطاب شرح لمعہ کی جگہ پڑھی جاتی ہے اس لیے حقیر نے اس ضرورت کا احساس کیا کہ اس کا اردو میں ترجمہ کیا جائے تاکہ پاک و ہند سمیت دنیا کے ۱.۵ ارب انسان کے لیے قابل استفادہ ہو سکے۔ اس کے علاوہ اردو زبان سے تعلق رکھنے والے طلاب بھی بسااوقت اس کتاب کےسمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ دوسری طرف اب تک ان کی اس کتاب کا اردو میں ترجمہ نہیں ہوا ہے۔ اس لیے اردو زبان قارئین کے لیے اس کی اشد ضرورت محسوس کرتے ہوئے قدم بڑھایا ۔

کتاب کے مشتملات:

راقم نے کتاب نکاح کا ترجمہ پیش کرنے کی سعی کی ہے۔ اس کتاب میں “نکاح کی تعریف، اقسام اور احکام”، “دائمی نکاح کے احکام”، “ولایت والدین کے احکام”، “نگاہ کرنے کے احکام”، “محرم عورتوں کے احکام”، “دامادی کے احکام” اور “دودھ پلائی کے احکام بیان کئے گئے ہیں۔

اسی طرح نکاح کی عدت، پانچویں عورت سے دائمی نکاح کی حرمت ،احرام کی حالت میں نکاح کا حکم، لعان کی تعریف اور حکم اور متعہ کے احکام کو بیان کیا گیا ہے۔ ان احکام کوثابت کرنے کے لئے زیادہ ترمعصومین ؑ سے مروی روایات سے استناد کیا گیا ہے۔ البتہ کہیں کہیں اصولی قواعد جیسے “اصالہ برائت”، “ استصحاب” اور “قاعدہ فراغ” وغیرہ سے بھی مدد لی گئی ہے۔

ولکم منا خالص الثناء والدعاء

غلام مہدی آخونزادہ


کتاب نکاح

نکاح اور اس کے بعض احکام:

عورت سے جنسی لذت لینا دو طریقوں سے جائز ہے:

الف) نکاح یا ازدواج،

ب) کنیزی ۔

نکاح کی تعریف:

نکاح ایسا عقد ہے جس کے ذریعے زوجیت کا بندھن وجود میں آتی ہے۔

نکاح کی اقسام:

نکاح کی دو قسمیں ہیں:

الف) نکاح دائمی،

ب) نکاح متعہ۔

نکاح دائمی:

نکاح دائمی میں عورت ایجاب کرے گی، یعنی:یہ صیغہ پڑھے گی: “زوجتک نفسی علی کذا.”“ میں نے فلاں(پہلے سے طے شدہ) مہر پر خود کو تیری زوجیت میں قرار دیا۔”اس کے بعد مرد قبول کرے گا ،یعنی:یہ صیغہ پڑھے گا: “قبلت الزواج علی کذا.” “میں نے فلاں مہر پرتمھارے ساتھ ازدواج کو قبول کیا۔”

نکاح متعہ:

نکاح متعہ میں عورت ، مرد سے کہے گی: “متّعتک نفسی علی کذا، لمدّة کذا.”“ میں نے فلاں مہر پر خود کو فلاں مدت تک تیری زوجیت میں قرار دیا۔” اس کے بعد مرد کہے گا: “قبلت التّمتع علی کذا، لمدّة کذا .” “میں نے فلاں مہر پر اتنی مدت تک ازدواج کو قبول کیا۔”

ایجاب و قبول کو زبان سے بولنا ضروری ہے۔

اسی طرح ایجاب میں لفظ “ زواج” یا “نکاح” کا ہونا بھی ضروری ہے۔

لفظ “ تمتع ” کے ساتھ اگر نکاح دائمی پڑھا جائے تو اس نکاح کے واقع ہونے یا نہ ہونے میں اختلاف ہے۔

مشہور فتویٰ یہ ہے کہ عقد کا عربی زبان میں صیغہ ماضی کے ساتھ جاری کرنا شرط ہے۔

ایجاب کا قبول سے پہلے ہونا ضروری نہیں؛ بلکہ اگر مرد ،ایجاب کرے اور عورت ، قبول کرلے ،تب بھی جائز ہے۔ اگرچہ احتیاط ایک ایسا حکم ہے جس کے بارے میں لاپروائی اور بے توجہی کرنا مناسب نہیں۔

مرد اور عورت کے لئے ضروری نہیں کہ وہ خود عقد کا صیغہ پڑھیں؛ بلکہ اس کام کے لئے وہ دونوں ،کسی کو وکیل بنا سکتے ہیں۔

ایک ہی شخص کے، مرد اور عورت دونوں کی طرف سے وکیل بننے میں کوئی حرج نہیں ہے؛ بلکہ مرد ،عورت کی طرف سے وکیل بن سکتا ہے اس صورت میں وہ ایجاب کو وکالتاً اور قبول کو اصالتاً جاری کرے گا۔ اسی طرح عورت بھی مرد کی جانب سے وکیل بن سکتی ہے اس صورت میں وہ ایجاب کو اصالتا ً اور قبول کو وکالتاً جاری کرے گی۔

اگرمرد اور عورت ، خود عقد جاری نہ کریں ؛ بلکہ کسی اور کو وکیل بنائیں تو جب تک وکیل کی جانب سے عقد کے پڑھے جانے کا اطمینان نہ ہوجائیں ، ان کے لئے ایک دوسرے سے جنسی لذت اٹھانا، خواہ دیکھنے کی لذت ہی کیوں نہ ہو، جائز نہیں ہے۔

ہمارے (علمائے امامیہ) کے نزدیک نکاح صحیح ہونے کے لئے ، گواہ کا رکھنا شرط نہیں ہے۔

کنواری لڑکی کے ساتھ نکاح صحیح ہونے کے لئے اس کی اپنی رضایت کے ساتھ ساتھ اس کے ولی (باپ یا دادا) کی رضایت بھی ضروری ہے؛ لیکن اگر کنواری نہ ہو تو اس کی اپنی رضایت کافی ہے۔

دلائل:

۱ ۔جنسی لذت کے ، نکاح اور کنیزی کے باعث ، جائز ہونے کی دلیل: یہ فقہ کے واضح مسائل میں سے ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان اس حکم پر دلالت کرتی ہے:

( وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ إِلَّا عَلىَ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانهُُمْ فَإِنهَُّمْ غَيرُْ مَلُومِين ) “اور جو لوگ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، مگر اپنی بیوییوں اور لونڈیوں سے پس ان پر کوئی ملامت نہیں ہے۔”(۱)

اس بات کی دلیل کہ نکاح سے مراد جماع نہیں ؛بلکہ مذکورہ عقد ہے: یہ فقہاء کا مشہور فتویٰ ہے(۲) ۔قرآن مجید بھی اسی بات کی گواہی دیتا ہے کہ قرآن مجید میں لفظ “نکاح” وطی کے لئے استعمال نہیں ہوا ہے۔

نکاح کے دائم اور منقطع میں تقسیم ہونے کی دلیل: یہ بات مذہب (امامیہ)؛ بلکہ دین کے مسلمہ احکام میں سے ہے۔ نکاح منقطع کے مشروع ہونے کی دلیل بعد میں بیان کی جائے گی۔

۲ ۔ مذکورہ صیغوں کے ذریعے نکاح (دائمی و منقطع)کے واقع ہونے کی دلیل: اس بات پر فقہاء متفق ہیں ؛ بلکہ جس صحیح صیغے سے عقد واقع ہوتا ہے اس کا قدر متیقن یہی صیغہ ہے۔

۳ ۔ صرف زوجین کی باہمی رضایت کافی نہ ہونے ؛بلکہ ایجاب اور قبول کو الفاظ کے ساتھ بیان کرنا شرط ہونے کی دلیل: کتاب “حدائق” میں اس بات پر علمائے اہل سنت اور علمائے امامیہ کے متفق ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

اس حکم پر مندرجہ ذیل طریقوں سے استدلال کیا جاتا ہے:

الف) اگر لفظا ً ایجاب و قبول شرط نہ ہو ؛بلکہ فقط باہمی رضایت پر اکتفا کیا جائے تو نکاح اور زنا کے درمیان کوئی فرق نہیں رہے گا۔

جبکہ اس دلیل پر واضح اشکال ہے کہ لفظا ً ایجاب و قبول سے قطع نظربھی ان دونوں کے درمیان فرق ثابت ہے ۔ وہ یہ کہ نکاح میں زوجیت کی شرط موجود ہے ؛ جبکہ زنا میں ایسا نہیں ہے۔

ب) بعض روایات کے ذریعے بھی اس حکم پر استدلال کیا جاتا ہے جو نکاح منقطع کا طریقہ سکھانے کے لئے بیان ہوئی ہیں۔ انہی میں سے ایک روایت ابان بن تغلب نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کی ہے۔ ابان نے امام ؑ سے پوچھا: جب میں عورت سے ساتھ خلوت کروں تو کیا کہوں ؟ امامؑ نے فرمایا: تم اس طرح کہوکہ:

أَتَزَوَّجُكِ مُتْعَةً عَلَى كِتَابِ اللَّهِ وَ سُنَّةِ نَبِيِّهِ لَا وَارِثَةً وَ لَا مَوْرُوثَةً كَذَا وَ كَذَا يَوْماً، وَ إِنْ شِئْتَ كَذَا وَ كَذَا سَنَةً بِكَذَا وَ كَذَا دِرْهَماً، وَ تُسَمِّي مِنَ الْأَجْرِ مَا تَرَاضَيْتُمَا عَلَيْهِ قَلِيلًا كَانَ أَوْ كَثِيراً؛ فَإِذَا قَالَتْ: نَعَمْ، فَقَدْ رَضِيَتْ وَ هِيَ امْرَأَتُكَ وَ أَنْتَ أَوْلَى النَّاسِ بِهَا .”“م یں خدا کی کتاب اور اس کے رسول ؐ کی سنت کے مطابق تیرے ساتھ اتنے دنوں کے لئے متعہ کرتاہوں نہ تو میرا وارث ہوگی اور نہ میں تیرا وارث ہوں گا۔ اگر تو چاہے تو (کہے) اتنے سالوں کے لئے اور اتنے درہم میں، اور جس (مال) پر تم دونوں راضی ہوں ، خواہ کم ہو یا زیادہ، وہی اجرت (مہر) ہے۔پس جب عورت راضی ہو کر “ہاں” کردے تووہ تیری بیوی ہے اور تو اس پر سب سے زیادہ حقدار ہے۔”(۴)

اگرچہ یہ روایت نکاح متعہ کا طریقہ سکھانے کے لئے بیان ہوئی ہے؛ لیکن اس بات کا احتمال نہیں ہے کہ حکم کے ثبوت میں متعہ دخیل ہو( یعنی یہ حکم صرف متعہ کے لئے نہیں ہے؛ بلکہ عام ہے)۔

اس کی دلالت واضح ہے ؛ کیونکہ اس سے یہ ظاہرہوتا ہے کہ “ابان” کے ذہن میں یہ ایک طے شدہ امر ہے کہ نکاح میں صیغہ پڑھنا شرط ہے اور صیغے کی بعض خصوصیات کو جاننے کے لئے اس نے سوال کیا ہے۔

علاوہ از ایں فرمان ِامام ؑ کے آخری جملے“پس جب عورت راضی ہو کر “ہاں” کردے تووہ تیری بیوی ہے”کا مفہوم اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مرد کے “أَتَزَوَّجُكِ مُتْعَةً ...”کہنے کے بعد جب تک عورت “نَعَمْ ”نہ کہے اس وق ت تک زوجیت واقع نہیں ہوتی۔

نکاح میں صیغہ کا پڑھنا شرط ہونے کی یہ دونوں دلیلیں تھیں۔

ہماری نظر میں شاید اس طرح استدلال کرنا زیادہ مناسب ہے کہ تمام اہل شریعت خواہ بچہ ہو یا بوڑھا، مرد ہو یا عورت، عالم ہو یا جاہل، کے ارتکاز ذہنی کے مطابق ،نکاح واقع ہونے کے لئے صیغہ پڑھنا ضروری ہے اور اس ارتکاز ذہنی کا سرچشمہ سوائے اس کے نہیں کہ یہ حکم معصوم ؑ سے صادر ہوا ہے اور دست بدست ان تک پہنچا ہے۔

۴ ۔ لفظ “زواج” اور “نکاح” کے ذریعے نکاح واقع ہونے کی دلیل: اس حکم پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔

لفظ “زواج” کے ذریعے نکاح واقع ہونے پر ابان بن تغلب کی گزشتہ روایت سمیت بعض روایا ت نیز قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیت بھی دلالت کر تی ہے:

( ...فَلَمَّا قَضىَ‏ زَيْدٌ مِّنهَْا وَطَرًا زَوَّجْنَكَهَا ...) “...جب زید نے اس (خاتون) سے اپنی حاجت پوری کر لی تو ہم نے اس خاتون کا نکاح آپ سے کر دیا...”(۵)

اور لفظ “نکاح” کے ذریعے نکاح واقع ہونے پر قرآن مجید کی استعمال کردہ تعبیریں دلالت کر رہی ہیں جن میں سے ایک مندرجہ ذیل آیت مجیدہ ہے:

( وَ لَا تَنكِحُواْ مَا نَكَحَ ءَابَاؤُكُم مِّنَ النِّسَاءِ ...) “اور ان عورتوں سے نکاح مت کرو جن سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہوں...”(۶)

۵ ۔ لفظ “تمتع” کے ذریعے نکاح دائمی کے واقع ہونے میں اختلاف ہے؛ کیونکہ شریعت میں ایسی کوئی روایت ذکر نہیں ہوئی ہے جس میں عقد دائمی کو لفظ “تمتع” سے تعبیر کیا گیا ہو تاکہ اس لفظ کے ذریعے عقد دائمی کے قصد انشاء کے صحیح ہونے کا حکم صادر کیا جاسکے۔ نیز یہ بھی واضح ہے کہ ہر قسم کے لفظ کا سہارا لینا بھی صحیح نہیں ہے ؛ بلکہ شریعت یا عرف میں جو الفاظ رائج اور متداول ہیں انہی پر اکتفا کرنا ضروری ہے۔

اس قول کے مقابلے میں بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ لفظ “تمتع” کے ذریعے عقد دائمی واقع ہوسکتا ہے۔ اس قول کی دلیل وہ روایات ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اگر عقد میں مدت ذکر نہ ہو تو وہ دائمی میں بدل جائے گا۔ مثلا عبد اللہ بن بکیر کی روایت موثقہ ہے کہ:

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

إِنْ سُمِّيَ الْأَجَلُ فَهُوَ مُتْعَةٌ، وَ إِنْ لَمْ يُسَمَّ الْأَجَلُ فَهُوَ نِكَاحٌ بَاتٌّ. ”“اگر عقد م یں مدت کا ذکر کیا جائے تو متعہ ہوگا اور اگر مدت کا ذکر نہ کیا جائے تو وہ عقد دائمی ہوگا۔”(۷)

اس کی دلالت واضح ہے۔

۶ ۔ صیغۂ عقد کا عربی زبان میں ہونا ضروری ہونے کی دلیل: اس حکم پر مندرجہ ذیل طریقوں سے استدلال کیا جاتا ہے:

الف)۔ اگر عربی زبان میں نہ پڑھا جائے تو اس پر عقد کا اطلاق نہیں ہوتا۔

ب)۔ صحیح عقد کی قدر متیقن عربی زبان میں عقد کا جاری کرنا ہے اور عربی زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان میں بھی عقد کا واقع ہونا محتاج دلیل ہے درحالیکہ دلیل موجود نہیں ہے۔ پس جب عربی زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان میں عقد پڑھا جائے تو اصل کا تقاضا یہ ہے کہ اس پر عقد کے آثار مرتب نہیں ہوں گے۔

جیسا کہ ملاحظہ فرمایا کہ یہ دونوں دلیلیں قابل اشکال ہیں:

پہلی دلیل پر اشکال تو واضح ہے( کیونکہ ہر زبان میں پڑھے جانے والے عقد پر عقد کا اطلاق ہوسکتا ہے)۔

دوسری دلیل کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب میاں بیوی عربی میں نکاح نہ پڑھ سکیں تو اس بات کا احتمال نہیں دیا جاتا کہ شارع مقدس انہیں شادی سے منع کرے گا۔

اس کے علاوہ قرآن مجید کی آیت( وَ أَنكِحُواْ الْأَيَامَى‏ مِنكمُ ...) “اور تم مںق سے جولوگ بے نکاح ہوں...”(۸) سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مقام پر کسی اضافی قید کے بغیر صرف نکاح کے عنوان کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ چونکہ عربی کے علاوہ کسی دوسری زبان میں پڑھے جانے والے عقد پر بھی نکاح کا عنوان صادق آتا ہے ؛لہذا یہ عقد مشروع ہوگا اور شارع بھی اسی پر راضی ہوگا۔

مذکورہ دو اقوال کے علاوہ اس حکم کے بارے میں ایک اور نظریہ ہے کہ اگر زوجین عربی میں عقد پڑھنے کے لئے کسی کو وکیل بنا سکتے ہوں تو ان کے لئے غیر عربی میں عقد پڑھنا جائز نہیں ہے؛ لیکن اگر کسی کو وکیل نہیں بنا سکتے تو ان کے لئے غیر عربی میں عقد پڑھنا جائز ہے۔ مصنف کی نظر میں یہ قول ، بعید ہے ؛ کیونکہ اس قول کی تائید کرنے والی کوئی دلیل نہیں ہے۔

ہاں ! وکیل بنانا ممکن نہ ہونے کی صورت میں احتیاط کرنا مناسب ہے ؛ بلکہ احتیاط کرنا لازمی ہے۔

۷ ۔ عقد کا صیغہ ماضی میں ہونا ضروری ہونے کی دلیل: اس حکم پر مندرجہ ذیل طریقوں سے استدلال کیا جاتا ہے:

الف)۔ عقد صحیح کی قدر متیقن اس کا صیغہ ماضی میں پڑھا جانا ہے۔ ماضی کے علاوہ دوسرے صیغے مشکوک ہیں ؛ لہذا “اصالہ عدم ترتب اثر ” کے مطابق ان صیغوں پر نکاح کے آثار مرتب نہیں ہوں گے۔

ب)۔دوسرے صیغوں کے مقابلے میں ، ماضی ، انشاء میں صریح ہوتا ہے۔

ج)۔ ماضی کے علاوہ کسی اور صیغے میں عقد کو جائز قرار دینا،صیغوں کے منتشر ہونے اور کسی معین حد پرموقوف نہ ہونےکا سبب بنتا ہے۔

مذکورہ دلیلوں کے جوابات:

تیسری دلیل کا جواب : صیغوں کے منتشر ہونے اور کسی حد پر موقوف نہ ہونے سے کوئی محال پیش نہیں آتا۔

پہلی اور دوسری دلیل کا جواب : جس طرح پہلے کہا گیا ہے کہ قرآن مجید کی آیت کے مطابق اس مقام پر کسی اضافی قید کے بغیر ہر اس چیز کا مطالبہ کیا گیا ہے جس پر نکاح کا عنوان صادق آئے۔ چونکہ صیغہ ماضی کے بغیر بھی انشاء پر نکاح کا عنوان صادق آتا ہے ؛ لہذا یہ عقد مشروع ہوگا۔

اس کے علاوہ نکاح متعہ کے بارے میں ذکر ہونے والی روایت “أَتَزَوَّجُكِ ...”(۱۰) سے بھ ی معلوم ہوتا ہے کہ صیغے کا ماضی میں ہونا ضروری نہیں۔

۸ ۔ ایجاب کا مقدم کرنا ضروری نہ ہونے کی دلیل: اگر ایجاب کومقدم نہ کیا جائے تب بھی اس پر نکاح کا عنوان صادق آتا ہے اور قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ مطلوبہ چیز فقط عنوان نکاح ہے نہ کہ اس سے زیادہ ۔

بلکہ متعہ کے بارے میں موجود روایات ، جن میں سے بعض کی طرف اشارہ ہوچکا ہے، سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ایجاب کا مقدم کرنا ضروری نہیں ہے ۔ انہی باتوں کے ضمن میں یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ مرد کا ایجاب کرنا اور عورت کا قبول کرنا جائز ہے؛ لیکن احتیاط کی رعایت کرتے ہوئے ایجاب کا پہلے ہونا اور عورت کی طرف سے ہونا ایک لازمی امر ہے۔

۹ ۔ نکاح میں وکالت کے کافی ہونے کی دلیل: پہلی بات تو یہ ہے کہ جیسا کہ وکالت کی بحث میں بیان ہوا وکالت مشروع ہونے کی دلیلیں مطلق ہیں ؛ لہذا اس اطلاق میں نکاح کی وکالت بھی شامل ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ نکاح میں وکالت کے صحیح ہونے پر بعض روایات موجود ہیں۔ مثلا داؤد بن سرحان نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک روایت صحیحہ نقل کی ہے:

فِي رَجُلٍ يُرِيدُ أَنْ يُزَوِّجَ أُخْتَهُ... فَإِنْ قَالَتْ: زَوِّجْنِي فُلَاناً، زَوَّجَهَا مِمَّنْ تَرْضَى .”“ا یسے شخص کے بارے میں جو اپنی بہن کی شادی کرانا چاہتا ہے... اگر وہ لڑکی کہے : فلاں کے ساتھ میری شادی کرا دو تو وہ شخص اس کے پسندیدہ لڑکے کے ساتھ اس کی شادی کرا دے گا۔”(۱۱)

اس بنا پر عورت کا وکیل ، مرد کے وکیل سے کہے: “زوّجت موکلتی فلانة موکلک فلانا علی مهر کذا ”۔“م یں نے اپنی موکلہ کو، فلاں(طے شدہ ) مہر پر ،تمہارے موکل کی زوجہ بنایا۔”پھر مرد کا وکیل کہے: “قبلت الزواج عن موکلی علی المهر المذکور ”۔“م یں نے، فلاں مہر پر، اپنے موکل کی طرف سے اس ازدواج کو قبول کیا۔” تو کافی ہے۔

اگر صرف عورت نے کسی کو وکیل بنایا ہے تو وہ مرد سے کہے: “زوجتک موکلتی علی مهر کذا ”۔“م یں نے اپنی موکلہ کو، فلاں مہر پر ،تمہاری زوجہ بنایا۔”پھر مرد کہے: “قبلت الزواج علی المهر المذکور ”۔“م یں نے، فلاں مہر پر ،اس ازدواج کو قبول کیا۔”تو کافی ہے۔

اور اگر صرف مرد نے کسی کو وکیل بنایا ہے تو عورت ، مرد کے وکیل سے کہے: “زوجت نفسی موکلک علی مهر کذا ”۔ “م یں نے، فلاں مہر پر، خود کو تمہارے موکل کی زوجہ قرار دیا۔”پھر مرد کا وکیل کہے: “قبلت الزواج عن موکلی علی المهر المذکور ”۔“م یں نے، فلاں مہر پر ، اپنے موکل کی طرف سے اس ازدواج کو قبول کیا۔” تو کافی ہے۔

۱۰ ۔ مرد اور عورت دونوں کی طرف سے ایک ہی شخص کا وکیل بننا جائز ہونے کی دلیل: وکالت کو مشروع قرار دینے والی دلیلوں کے اطلاق میں نکاح کی وکالت بھی شامل ہونے کے بعد اس کے جواز میں کوئی مانع نہیں ہے۔

ایک مسئلہ باقی رہتا ہے وہ یہ کہ موجب ( ایجاب کرنے والا) اور قابل ( قبول کرنے والا) کے درمیان مغایرت شرط ہے اس شرط کو پورا کرنے کے لئے اعتباری اور فرضی طور پر ہی مغایرت ہو تو کافی ہے۔

یہاں سے مرد اور عورت کا دونوں طرف سے وکیل بننے کا جواز بھی واضح ہوجاتا ہے۔ اگرچہ حقیقی طور پر مغایرت پائی جانے والی صورت پر ہی انحصار کرتے ہوئے احتیاط کرنا ایسا حکم ہے جس کی رعایت کرنی چاہئے۔

۱۱ ۔اجرائے عقد کے یقینی ہونے سے پہلے مرد اور عورت پر لذت اٹھانا جائز نہ ہونے کی دلیل: اس حکم کا ماخذ “استصحاب عدم تحقق عقد” ہے ( کہ عقد کے واقع نہ ہونے کا یقین تھا ۔ اب اس کے واقع ہونے یا نہ ہونے میں شک ہوا تو استصحاب جاری کیا جائے گا)۔

۱۲ ۔ نکاح میں گواہ رکھنا شرط نہ ہونے کی دلیل: اس حکم کو ثابت کرنے کے لئے گواہ رکھنا شرط ہونے کی دلیل کا نہ ہونا ہی کافی ہے۔ جب گواہ کے شرط ہونے کی کوئی دلیل نہ ہو تو نکاح صحیح قرار دینے والی دلیلوں کے اطلاق سے تمسک کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ گواہ ضروری نہ ہونے کی دلیل بھی موجود ہے اور یہ حکم ہمارے مذہب (امامیہ) کی پہچان بن چکا ہے۔

ایک حدیث کے مطابق حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام نے قاضی ابو یوسف سے فرمایا:

إِنَّ اللَّهَ أَمَرَ فِي كِتَابِهِ بِالطَّلَاقِ، وَأَكَّدَ فِيهِ بِشَاهِدَيْنِ وَ لَمْ يَرْضَ بِهِمَا إِلَّا عَدْلَيْنِ وَ أَمَرَ فِي كِتَابِهِ بِالتَّزْوِيجِ فَأَهْمَلَهُ بِلَا شُهُودٍ، فَأَثْبَتُّمْ شَاهِدَيْنِ فِيمَا أَهْمَلَ وَ أَبْطَلْتُمُ الشَّاهِدَيْنِ فِيمَا أَكَّدَ .”“بتحق یق اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں طلاق کا حکم دیتے ہوئے اس میں دو گواہوں پر تاکید فرمائی اور ان گواہوں کو قبول نہ کیا جب تک وہ عادل نہ ہوں۔ نیز اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ازدواج کا حکم دیتے ہوئے اس کو مہمل چھوڑ دیا؛ لیکن تم لوگوں مہمل رکھی گئی چیز میں دو گواہ ثابت کئے اور تاکید شدہ چیز میں گواہوں کو ختم کردیا۔”(۱۲)

۱۳ ۔ کنواری کا نکاح اس کی رضایت کے ساتھ ساتھ ولی کی رضایت پر بھی موقوف ہونے اورغیر کنواری کے نکاح میں اس کی اپنی رضایت کے کافی ہونے کی دلیل: ان احکام کی دلیل بعد میں کی جانے والی بحث میں بیان ہوگی۔


باپ ، دادا کی ولایت ۱ ور سرپرستی

بچوں اور بچیوں کی شادی کرنے میں نیز دیوانگی کی حالت میں بلوغ کو پہنچے والے دیوانے پر بھی باپ دادا کو سرپرستی حاصل ہے؛ بلکہ کہا گیا ہے کہ ہر حال میں باپ دادا کو دیوانے پر سرپرستی حاصل ہوتی ہے خواہ وہ بالغ ہونے کے بعد دیوانہ ہو جائے۔

بالغ اور باکرہ لڑکی پر باپ دادا کو سرپرستی حاصل ہونے میں اختلاف ہے؛ جبکہ غیر کنواری کے اپنے امور میں خود مختار ہونے میں کسی کو اختلاف نہیں۔

دلائل:

۱ ۔ باپ اور دادا کو سرپرستی حاصل ہونے کی دلیل: اس حکم سے ابن ابی عقیل کے سوا کسی فقیہ کو اختلاف نہیں ہے۔ ابن ابی عقیل کی نسبت کہا جاتا ہے کہ وہ داداکو سرپرستی حاصل ہونے کے قائل نہیں ہیں۔(۱۳) اس حکم پر بہت ساری روایات دلالت کر رہی ہیں ۔ مثلا حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی محمد ابن مسلم کی روایت صحیحہ ہے:

فِي الصَّبِيِّ يَتَزَوَّجُ الصَّبِيَّةَ يَتَوَارَثَانِ؟ فَقَالَ: إِذَا كَانَ أَبَوَاهُمَا اللَّذَانِ زَوَّجَاهُمَا، فَنَعَمِْ، قُلْتُ: فَهَلْ يَجُوزُ طَلَاقُ الْأَبِ؟ قَالَ: لَا .”“ا یک بچے کے بارے میں سوال کیا گیا کہ اگر وہ کسی بچی سے شادی کرے تو کیاوہ ایک دوسرے کا وارث بن سکتے ہیں؟فرمایا: ہاں ! بشرطیکہ ان کے باپ دادا نے ان کی شادی کرائی ہو۔ میں نے عرض کیا: تو کیا باپ، طلاق بھی دے سکتا ہے؟ فرمایا: نہیں۔”(۱۴)

مذکورہ روایت کی مانند دوسری بعض روایات میں صرف باپ کا تذکرہ ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابن ابی عقیل نے ان روایات کے پیش نظر دادا کی سرپرستی کی مخالفت کی ہے۔

لیکن یہ مسئلہ اس طرح ختم ہوسکتا ہے کہ اولا: دادا بھی “اب”کا مصداق ہے ۔ ثانیا: بعض روایات میں کہا گیا ہے کہ جب سرپرستی کے لحاظ سے باپ اور دادا میں ٹکراؤ ہو تو دادا کو مقدم کیا جائے گا۔ مثلا حضرت امام محمد باقر یا امام جعفر صادق علیہماالسلام میں سے کسی ایک سے محمد ابن مسلم کی نقل کردہ روایت ہے:

إِذَا زَوَّجَ الرَّجُلُ ابْنَةَ ابْنِهِ فَهُوَ جَائِزٌ عَلَى ابْنِهِ، وَلِابْنِهِ أَيْضاً أَنْ يُزَوِّجَهَا. فَقُلْتُ: فَإِنْ هَوِيَ أَبُوهَا رَجُلًا وَ جَدُّهَا رَجُلًا، فَقَالَ: الْجَدُّ أَوْلَى بِنِكَاحِهَا .”“اگر کوئ ی شخص اپنی پوتی کی شادی کرائے تو یہ حکم اس کے بیٹے پر بھی نافذ ہوگا نیز اس کے بیٹے کے لئے بھی اس لڑکی کی شادی کرانا جائز ہے۔میں نے عرض کیا: اگر اس کا باپ کسی آدمی کے ساتھ اس کی شادی کرانا چاہے جبک دادا کسی اور کے ساتھ ، تو امام ؑ نے فرمایا: شادی کرانے میں اس کا دادا زیادہ سزاوار ہے۔”(۱۵)

۲ ۔ولایت کا حق (جد ّامی )نانا کو حاصل نہ ہونے ؛ بلکہ صرف (جدّ ابوی)دادا سے مختص ہونے کی دلیل: جو دلیلیں اس حق کو دادا کے لئے ثابت کرتی ہیں وہ نانا کے لئے بھی ثابت کرنے سے قاصر ہیں اس کے علاوہ محمد ابن مسلم کی گزشتہ روایت صحیحہ سے ظاہرا یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ حق صرف (جد ابوی) دادا کے ساتھ مختص ہے۔

۳ ۔ باپ اور دادا کو دیوانے کی سرپرستی کا حق ملنےحاصل ہونے کی دلیل: ابو خالد القماط نے ایک روایت صحیحہ نقل کی ہے:

قُلْتُ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام: الرَّجُلُ الْأَحْمَقُ الذَّاهِبُ الْعَقْلِ، يَجُوزُ طَلَاقُ وَلِيِّهِ عَلَيْهِ؟ قَالَ: وَ لِمَ لَا يُطَلِّقُ هُوَ؟ قُلْتُ: لَا يُؤْمَنُ إِنْ طَلَّقَ هُوَ أَنْ يَقُولَ غَداً: لَمْ أُطَلِّقْ، أَوْ لَا يُحْسِنُ أَنْ يُطَلِّقَ، قَالَ: مَا أَرَى وَلِيَّهُ إِلَّا بِمَنْزِلَةِ السُّلْطَان .”“م یں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا:جو شخص بیوقوف ہو اور جس کی عقل زائل ہو چکی ہو ، کیا اس کے ولی کی طلاق اس پر نافذ ہے؟ فرمایا: وہ خود کیوں طلاق نہیں دیتا؟ میں نے عرض کیا: کچھ بھروسہ نہیں ۔ اگر وہ طلاق دے گا تو کل کہے گا: میں نے طلاق نہیں دی ہے یا وہ ٹھیک طرح سے طلاق نہیں دے سکتا۔ امام ؑ نے فرمایا: میں اس کے ولی کو نہیں سمجھتا سوائے بمنزلہ ٔحاکم ۔”(۱۶)

اس کے علاوہ بھی روایات موجود ہیں۔

ولی سے جو معنی مراد لیا جاتا ہے اس کی قدر متیقن باپ اور دادا ہے۔ جب طلاق کے معاملے میں اس ولی کے لئے حاکم کا مرتبہ ثابت ہوجائے تو نکاح میں بطریق اولیٰ یہ منزلت ثابت ہوجائے گی۔

اس حکم کو ثابت کرنے کے لئے ،مذکورہ روایت صحیحہ سے قطع نظر ، بالغ ہونے سے پہلے اس کے لئے ثابت ولایت کا استصحاب بھی کیا جا سکتا ہے۔

۴ ۔ بعض فقہاء کے مطابق ہر حال میں (اگرچہ بالغ ہونے کے بعد ہی دیوانہ ہو جائے )ولایت ثابت ہونے کی دلیل: اس حکم کو ثابت کرنے کے لئے گزشتہ روایت صحیحہ کے اطلاق اور اسی مضمون کی حامل بعض دوسری روایات سے استدلال کیا جا سکتا ہے۔

۵ ۔ کنواری لڑکی کی شادی کے معاملے میں باپ اور دادا کو ولایت حاصل ہونے کی دلیل: اس مسئلے میں فقہاء اختلاف رائے رکھتے ہیں۔ اس سلسلے میں تین اقوال ہیں:

۱ ۔ باپ اور دادا کو مکمل اختیار حاصل ہے۔

۲ ۔ لڑکی کو مکمل اختیار حاصل ہے۔

۳ ۔ لڑکی اور اولیاء کو مشترک اختیار حاصل ہے۔

اس اختلاف کا اصلی سرچشمہ روایات کا مختلف ہونا ہے ؛ کیونکہ روایات کےمندرجہ ذیل مختلف مجموعے ہیں:

الف) وہ روایت جو فقط باپ کو مکمل اختیار حاصل ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ ان کی تعداد چھ ۶ یا اس سے زیادہ ہیں جن میں صحیحہ اور دوسری روایتیں بھی موجود ہیں۔ مثلا حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی حلبی کی روایت صحیحہ :

سَأَلْتُهُ عَنِ الْبِكْرِ إِذَا بَلَغَتْ مَبْلَغَ النِّسَاءِ، أَ لَهَا مَعَ أَبِيهَا أَمْرٌ؟ فَقَالَ: لَيْسَ لَهَا مَعَ أَبِيهَا أَمْرٌ مَا لَمْ تُثَيَّبْ .”“م یں نے امام ؑ سے کنواری لڑکی کے بارے میں سوال کیا : اگر وہ عورت کی حد تک پہنچ جائے تو کیا اس کے لئے اپنے باپ کے ساتھ اختیار حاصل ہے؟ فرمایا: جب تک وہ شادی شدہ نہ ہو جائے اسے باپ کے ساتھ کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔”(۱۷)

ب) وہ روایات جو باپ کو مکمل اختیار حاصل ہونے پر نہیں ؛ بلکہ صرف اس کی اجازت کے شرط ہونے پر دلالت کرتی ہیں ۔ ان کی تعداد بھی چھ ۶ یا اس سے کچھ زیادہ ہیں اور ان میں بھی صحیحہ اور دوسری روایتیں موجود ہیں۔مثلا حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ابن ابی یعفور کی روایت صحیحہ:

لَا تُنْكَحُ ذَوَاتُ الْآبَاءِ مِنَ الْأَبْكَارِ إِلَّا بِإِذْنِ آبَائِهِنَّ .”“جن کنوار ی لڑکیوں کے باپ (زندہ) ہوں ان کے باپ کی اجازت کے بغیر ان سے شادی نہ کرو۔”(۱۸)

ج) وہ روایات باپ کو مکمل اختیار حاصل نہ ہونے اور کنواری کی اجازت کے شرط ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ ان کی تعداد دو ۲ ہیں۔ جن میں سے ایک حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کردہ منصور بن حازم کی روایت صحیحہ ہے:

تُسْتَأْمَرُ الْبِكْرُ وَ غَيْرُهَا وَ لَا تُنْكَحُ إِلَّا بِأَمْرِهَا .”“کنوار ی اور غیر کنواری لڑکیوں سے اجازت لی جائے گی اور ان کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں کیا جائے گا۔”(۱۹)

اور دوسری روایت صفوان کی صحیحہ ہے:

اسْتَشَارَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مُوسَى بْنَ جَعْفَرٍ علیه السلام فِي تَزْوِيجِ ابْنَتِهِ لِابْنِ أَخِيهِ، فَقَالَ: افْعَلْ وَ يَكُونُ ذَلِكَ بِرِضَاهَا، فَإِنَّ لَهَا فِي نَفْسِهَا نَصِيباً. قَالَ:وَاسْتَشَارَ خَالِدُ بْنُ دَاوُدَ مُوسَى بْنَ جَعْفَرٍ علیه السلام فِي تَزْوِيجِ ابْنَتِهِ عَلِيَّ بْنَ جَعْفَرٍ، فَقَالَ: افْعَلْ وَ يَكُونُ ذَلِكَ بِرِضَاهَا فَإِنَّ لَهَا فِي نَفْسِهَا حَظّاً .”“عبد الرحمن نے اپنے بھت یجے کے ساتھ اپنی بیٹی کی شادی کے سلسلے میں حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام سے مشورہ لیا تو امام ؑ نے فرمایا: لڑکی کی اجازت سےشادی کرادو ؛ کیونکہ لڑکی کے نفس پر اس کا بھی حق ہے۔ صفوان کہتا ہے کہ خالد بن داؤد نے بھی علی ابن جعفر کے ساتھ اپنی بیٹی کی شادی کے سلسلے میں حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام سے مشورہ مانگا تو آپ ؑ نے فرمایا: لڑکی کی اجازت سے شادی کرا دو؛ کیونکہ لڑکی کے نفس پر اس کا حق ہے۔”(۲۰)

د) وہ روایات جو کنواری لڑکی کو مکمل اختیار حاصل ہونے پر دلالت کرتی ہیں۔ اس حکم پر صرف سعدان بن مسلم کی روایت دلالت کر رہی ہے جو مندرجہ ذیل ہے:

قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام:‏ لَا بَأْسَ بِتَزْوِيجِ الْبِكْرِ إِذَا رَضِيَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ أَبِيهَا .”“اگر کنوار ی لڑکی خود راضی ہوجائے تو اس کے باپ کی اجازت کے بغیر اس کی شادی میں کوئی حرج نہیں ہے۔”(۲۱)

اس روایت کو شمار سے ہی حذف کرنا ضروری ہے کیونکہ باپ کو مکمل اختیار حاصل ہونے یا لڑکی کی رضایت کے ساتھ باپ کی اجازت کے شرط ہونے پر دلالت کرنے والی روایات کی تعداد بارہ ۱۲ ؛ بلکہ اس سے زیادہ ہیں اور ان کی کثرت کے باعث “سنت قطعیہ” کا عنوان وجود میں آتا ہے ۔ اگر ان کی مخالف روایت کو اخذ کیا جائے تو سنت قطعیہ کی مخالفت لازم آتی ہے۔

اس کے علاوہ یہ روایت بذات خود ایک ضعیف روایت ہے؛ کیونکہ سعدان کا موثق ہونا ثابت نہیں ہے بشرطیکہ اس قاعدے کو مان لیا جائے کہ “ کامل الزیارات” اور “ تفسیر قمی” میں مذکور تمام راوی موثق ہیں۔(۲۲)

اس بنا پر ہماری بحث صرف ابتدائی تین مجموعۂ روایات تک محدود ہوجائے گی۔

ابتدائی تین مجموعے کسی حد تک باپ کی اجازت کے شرط ہونے کی جہت سے مشترک ہیں اور اسی جہت سے ان کے درمیان کوئی ٹکراؤ نہیں ہے؛بلکہ ایک اضافی شرط کے لحاظ سے باہم متعارض ہیں جو لڑکی کی اجازت کا شرط ہونا ہے۔ پس اس تعارض کی وجہ سے اضافی شرط کے لحاظ سے روایتیں ساقط ہو جائیں گی اور اصل سے رجوع کرنا ضروری ہوجائے گا۔ نتیجتاً باپ اور بیٹی دونوں کی موافقت شرط ہوجائے گی۔

باپ کی اجازت ضروری ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اس کی اجازت ضروری ہونے کے لحاظ سے روایات کے درمیان کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔

اور بیٹی کی اجازت اس لئے شرط ہوگی کہ اگر اس کی اجازت کے بغیر نکاح ہو جائے تو ہم شک کرتے ہیں کہ اس نکاح پر اثرات مرتب ہوں گے یا نہیں ؟ تو اصل کا تقاضا یہ ہے کہ آثار مرتب نہیں ہوں گے۔

۶ ۔ لڑکی کے دادا کی اجازت کے شرط ہونے کی دلیل: چونکہ دادا درحقیقت باپ ہی ہوتا ہے ؛ لہذا جو دلیلیں باپ کی اجازت کے شرط ہونے پر دلالت کرتی ہیں ان میں دادا میں شامل ہے۔

۷ ۔ غیر کنواری کے خود مختار ہونے کی دلیل: اس حکم پر روایات اور فقہاء کے فتاویٰ متفق ہیں۔ کنواری کے بارے میں کی جانے والی بحث کے ذیل میں بعض احادیث کی طرف اشارہ ہو چکا ہے۔


نگاہ ڈالنے کے احکام

مرد کے لئے کسی اجنبی عورت کے بدن کی طرف دیکھنا جائز نہیں ہے خواہ بغیر شہوت کے ہی کیوں نہ ہو۔ فقہاء کی ایک جماعت نے حرمت کے حکم سے چہرہ اور کلائیوں تک دونوں ہاتھوں کواستثناء کیا ہے۔

عورت کے لئے کسی اجنبی مرد کے بدن کو دیکھنا جائز ہونے میں اختلاف ہے۔

مرد اور عورت میں سے ہر ایک کے لئے اپنے مماثل ( ہم جنس) کے بدن کی طرف دیکھنا جائز ہےسوائے شرمگاہوں کے۔

اجنبی عورت کی طرف دیکھنا حرام ہونے کے حکم سے کسی ضرورت کے وقت دیکھنے کو استثناء کیا گیا ہے۔ مثلا عورت کو پانی میں غرق ہونے سے یا آگ میں جل جانے سے بچانے کے لئے۔ ان حالتوں میں اس کی طرف دیکھنا جائز ہے ؛ بلکہ اس کو چھونا بھی جائز ہے۔

نیز یائسہ عورت اور نابالغ لڑکی پر نگاہ ڈالنا بھی حرمت کے حکم سے استثناء کیا گیا ہے۔

عورت پر نابالغ لڑکے سے پردہ کرنا واجب نہیں ۔ اگرچہ اس سے بھی پردہ کرنا بہتر ہے۔

جو شخص کسی عورت سے شادی کا ارادہ رکھتا ہے اس کے لئے اس عورت کے چہرے، ہاتھوں، بالوں اور حسن و جمال کے مقامات کو دیکھنا جائز ہے۔

جو عورت شادی کا ارادہ رکھتی ہے اس کے لئے بھی ایک قول کی بنا پر اس مرد کی طرف دیکھنا جائز ہے۔

غیر مسلم عورتوں پر نگاہ ڈالنا جائز ہے نیز ہر ان تمام عورتوں پر نگاہ ڈالنا جائز ہے جو کہنے کے باوجود پردہ نہیں کرتیں۔ بشرطیکہ شہوت کے ساتھ نہ دیکھے۔

دلائل:

۱ ۔ کلی طور پر اجنبی عورت کے بدن پر نگاہ ڈالنا، خواہ بغیر شہوت کے ہی کیوں نہ ہو، حرام ہونے کی دلیل:یہ فقہ کے واضح مسائل میں سے ہے۔اس حکم کو قرآن مجید کی آیت( وَلْيَضْرِبْنَ بخِمُرِهِنَّ عَلىَ‏ جُيُوبهِنَّ ...) “...اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں...”(۲۳) سے اخذ کیا جا سکتا ہے۔ نیز جن روایات میں بدن کو ظاہر کرنے کی حرمت سے چہرہ اور ہاتھوں کا استثناء کیا گیا ہے اسی طرح مختلف موارد میں بیان ہونے والی روایات سے بھی اس حکم کو سمجھا جا سکتا ہے۔

بلکہ اس کو آیت کے اس حصے( ...وَ لَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ ...) “...اور اپنی زیبائش کو ظاہر نہ ہونے دیں سوائے اپنے شوہروں کے ...”(۲۴) سے بھی سمجھا جا سکتا ہے؛ کیونکہ غیروں کے حضور بدن کو ظاہر کرنے کی حرمت کا لازمہ اس کی طرف دیکھنا حرام ہونا ہے۔اسی طرح زینت کو ظاہر نہ کرنے سے مراداگر مواضع زینت ہوں تو اس کا حکم واضح ہے؛ لیکن اگر اس سے مراد بذات خود زینت ہو تو اس کو ظاہر کرنے کی حرمت کا لازمہ یہی ہوگا کہ اس کے مواضع کو ظاہر کرنا بطریق اولیٰ حرام ہے۔

البتہ اس آیت( قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّواْمِنْ أَبْصَارِهِم ...) “آپ مومنوں سے کہدیجئے:کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں”(۲۵) سے استدلال کرنے میں اشکال ہے؛ کیونکہ “غضّ بصر” کے معنی دیکھنے کو ہی ترک کرنا نہیں؛ بلکہ کسی چیز میں دلچسپی نہ لینا اور اس سے بے توجہی برتنا ہے۔(۲۶)

اس کے علاوہ آیت کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ “غضّ بصر” سے مرادفقط شرمگاہوں کی نسبت سے نظروں کو قابو میں رکھنا ہے۔

۲ ۔ فقہاء کی ایک جماعت نے چہرہ اور کلائیوں تک دونوں ہاتھوں کو حرمت کے حکم سےاستثناء کیا ہے ۔ اس کی کئی وجوہات ہیں جو ہم ذیل میں ذکر کریں گے:

الف) فضیل کی روایت صحیحہ سے تمسک کرنا:

سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام عَنِ الذِّرَاعَيْنِ مِنَ الْمَرْأَةِ هُمَا مِنَ الزِّينَةِ الَّتِي قَالَ اللَّهُ :( وَ لايُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَ ) ؟قَالَ: نَعَمْ، وَ مَا دُونَ الْخِمَارِ مِنَ الزِّينَةِ،وَمَا دُونَ السِّوَارَيْنِ .” “میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے عورت کے (کہنیوں تک )ہاتھوں کے بارے میں سوال کیا : کیا یہ خدا کے اس فرمان میں “اور اپنی زیبائش کو ظاہر نہ ہونے دیں سوائے اپنے شوہروں کے” شامل ہیں؟ فرمایا: ہاں !جو جگہے دوپٹہ اور چوڑیوں کے نیچے ہوں وہ زینت میں شمار ہوتی ہیں۔ ”(۲۷)

چونکہ چہرہ دوپٹے کے نیچے نہیں ہوتا اور ہتھیلی بھی چوڑی سے اوپر ہوتی ہے ؛ لہذا یہ روایت ان دونوں کا ظٖاہر کرنا جائز ہونے پر دلالت کرتی ہے۔

البتہ اس روایت سے استدلال کرنا ایک اور مقدمے کی طرف محتاج ہے کہ جب ان چیزوں کو ظاہر کرنا جائز ہے تو اس کا لازمہ یہ ہے کہ اجنبی کا اس پر نگاہ ڈالنا بھی جائز ہے؛ جبکہ بعض اوقات یہ لازمہ ختم ہوجاتا ہے ؛اسی باعث مرد کے لئے اپنے بدن کو نہ چھپانا جائز ہوتا ہے اور چونکہ عورت کے لئے مرد کے بدن پر نگاہ ڈالنا جائز ہے لہذا یہاں پر یہ لازمہ موجود نہیں ۔

ب) زرارہ کی روایت سے تمسک کرنا:

زرارہ نقل کرتے ہیں :

فِي قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَ ( ...إِلَّا ما ظَهَرَ مِنْها ...) قَالَ: الزِّينَةُ الظَّاهِرَةُ، الْكُحْلُ وَ الْخَاتَمُ .” “حضرت امام جعفر صادق عل یہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے فرمان “مگر جو ان مں. سے کھلا رہتا ہو” کے بارے میں فرمایا: یہ ظاہری زینت ، سرمہ اور انگوٹھی ہے۔”(۲۸)

یہ روایت چہرہ اور ہتھیلیوں کے ظاہر کرنے کے جواز پر واضح دلالت کر رہی ہے۔

مگر اس روایت پر بھی وہی اشکال ہوتا ہے جو فضیل کی گزشتہ روایت پر ہوا تھا۔ علاوہ از ایں اس کی سند میں قاسم بن عروہ کا نام بھی ہے جس کا موثق ہونا ثابت نہیں ہے۔

ج) اللہ تعالیٰ کے مندرجہ ذیل فرمان سے تمسک کرنا:

( ...وَلْيَضْرِبْنَ بخِمُرِهِنَّ عَلىَ‏ جُيُوبهِنَّ ...) “...اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں...”(۲۹)

آیت میں چھپانے کے وجوب کو “جُيُوب ”( س ینے ) کے ساتھ مختص کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ چہرے کو چھپانا واجب نہیں ہے ورنہ سینہ کہنے کے بجائے چہرہ کہنا ہی بہتر تھا؛ کیونکہ عام طور پر اوڑھنیاں چہرے کو نہیں چھپاتیں۔

اس کے علاوہ جب تک گزشتہ روایت میں مذکور لازمے کو ساتھ نہ ملایا جائے اس وقت تک آیت کی دلالت بھی مکمل نہیں ہوتی۔

حرمت نگاہ کے حکم سے چہرہ اور ہتھیلیوں کو استثناء کرنے کے یہی تین اسباب موجود ہیں۔

مذکورہ بیانات سے واضح ہوا کہ اگر یہ لازمہ تام نہ ہو تو اس حکم میں جدائی ڈالنا ضروری ہوجائے گا کہ عورت کے لئے چہرہ اور ہاتھوں کو ظاہر کرنا جائز اوراس پر نگاہ ڈالنا اجنبی پر حرام ہے۔

۳ ۔ عورت کے مرد پر نگاہ ڈالنے کا حکم: اس مقام پر اجماع کا دعویٰ کیا گیا ہے کہ مرد اور عورت کے نگاہ ڈالنے میں کوئی فرق نہیں(۳۰) ؛ یعنی عورت کے جن مقامات پر نگاہ ڈالنا مرد کے لئے جائز ہے ، عورت کے لئے بھی مرد کے انہی مقامات پر نگاہ ڈالنا جائز ہے اور عورت کے جن مقامات پر مرد کے لئے نگاہ ڈالنا جائز نہیں ہے، عورت کے لئے بھی مرد کے ان مقامات پر نگاہ ڈالنا جائز نہیں ہے۔

لیکن اس دعویٰ پر اشکال ہے ؛ کیونکہ یہاں ایسا اجماع ثابت نہیں ہے جو معصوم ؑ کی رائے کو منکشف کرے؛ بلکہ اہل شریعت کی قطعی سیرت، جو معصوم ؑ کے زمانے سے متصل ہے، اجماع کے خلاف قائم ہوئی ہے۔ مثلا جب مرد باہر نکلتے ہیں تو ان کے سر اور گردن کھلی ہوتی ہے اور عورتیں بھی گلیوں اور بازاروں میں ان کے ساتھ گھل مل کر رہتی ہیں۔ پس اگر مردوں کے ان مقامات پر ، جو گھر سے نکلتے وقت عموما ظاہر ہوتے ہیں، نگاہ ڈالنا عورت پر حرام ہوتا تو اس کا لازمہ تین حالتوں سےخالی نہیں : ۱ ۔یا تو مرد پر ان مقامات کو چھپانا واجب ہے ، ۲ ۔یا عورتوں کے ساتھ گھل مل کر بیٹھنا حرام ہے ، ۳ ۔ یا گھل مل کر بیٹھنا اور باتیں کرنا جائز ہے ؛ لیکن دیکھنا جائز نہیں۔ درحالیکہ تینوں مفروضوں کا احتمال نہیں دیا جا سکتا۔

لہذا اسی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عورتوں کے لئے مردوں کے ان مقامات پر ، جو عموما ظاہر ہوتے ہیں، نگاہ ڈالنا جائز ہے۔

گزشتہ دلیلوں کے علاوہ بعض اوقات اس طرح بھی جواز پر استدلال کیا جاتا ہے کہ ہمارے پاس کوئی ایسی روایت موجود نہیں ہے جس میں اصحاب نے عورتوں کے مرد وں پر نگاہ ڈالنے کا حکم پوچھا ہو۔ پس سوال نہ کرنے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ یہاں پر تین مفروضے ہیں:

الف) اصحاب کے نزدیک حرام ہونے کا حکم واضح تھا؛

ب)انہیں حکم میں شک تھا؛

ج)ان کے نزدیک جائز ہونے کا حکم واضح تھا۔

ان تینوں میں سے ابتدائی دو مفروضے صحیح نہیں ہیں ۔

مفروضہ(الف)کے درست نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ مرد پر عورت کو دیکھنا حرام ہونے سے یہ احتمال نہیں دیا جاسکتا کہ جب یہ حرام ہو تو عورت پر بھی مرد کو دیکھنا واضح طور پر حرام ہے۔

مفروضہ (ب) کے صحیح نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اگر اصحاب کو حکم میں شک تھا تو مناسب یہ تھا کہ اصحاب اپنے شک کو دور کرنے کے لئے سوال کرتے ۔

پس مفروضہ (ج) ہی صحیح ہے کہ اصحاب کے نزدیک جائز ہونے کا حکم واضح تھا اسی لئے سوال نہیں کیا۔

جواز کے مقابلے میں بعض اوقات حرام پر مندرجہ ذیل طریقوں سے استدلال کیاجاتا ہے:

الف)آیت مجیدہ:

( وَ قُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَرِهِن ) “ اور مومنات سے بھی کہدیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیکی رکھے”(۳۱)

ب) احمد بن ابی عبداللہ برقی کی روایت:

اسْتَأْذَنَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ عَلَى النَّبِيِّ (ص)وَ عِنْدَهُ عَائِشَةُ وَ حَفْصَةُ، فَقَالَ لَهُمَا: قُومَا، فَادْخُلَا الْبَيْتَ، فَقَالَتَا: إِنَّهُ أَعْمَى، فَقَالَ: إِنْ لَمْ يَرَكُمَا فَإِنَّكُمَا تَرَيَانِهِ .”“ابن ام مکتوم نے رسول اللہ ؐ سے حاض ر خدمت ہونے کی اجازت چاہی جبکہ آپ ؐ کے پاس عائشہ اور حفصہ موجود تھیں۔ رسول اللہ ؐ نے ان دونوں سے کہا: اٹھو اور گھر میں داخل ہو جاؤ۔ انہوں نے کہا: یہ تو اندھا ہے۔ فرمایا: اگر وہ تم دونوں کو نہ دیکھے تو تم اس کو دیکھ سکتی ہو۔”(۳۲)

ج)پیغمبر اکرم ؐ سے مکارم الاخلاق میں طبرسی کی نقل کردہ حدیث:

أَنَّ فَاطِمَةَعلیها السلام قَالَتْ لَهُ فِي حَدِيثٍ: خَيْرٌ لِلنِّسَاءِ أَنْ لَا يَرَيْنَ الرِّجَالَ وَ لَا يَرَاهُنَّ الرِّجَالُ، فَقَالَ (ص): فَاطِمَةُ مِنِّي .”“فاطمہ زہرا ؑ نے جب فرما یا: بہترین عورت وہ ہے جو مردوں کو نہ دیکھے اور کوئی مرد اسے نہ دیکھے تو پیغمبر اکرم ؐ نے فرمایا: بے شک فاطمہ ؑ مجھ سے ہے۔”(۳۳)

د)ام سلمہ سے طبرسی ہی کی نقل کردہ حدیث:

عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ‏: كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ (ص) وَ عِنْدَهُ مَيْمُونَةُ، فَأَقْبَلَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَ ذَلِكَ بَعْدَ أَنْ أُمِرَ بِالْحِجَابِ، فَقَالَ: احْتَجِبَا، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ(ص) أَ لَيْسَ أَعْمَى لَا يُبْصِرُنَا؟ قَالَ: أَ فَعَمْيَاوَانِ أَنْتُمَا، أَ لَسْتُمَا تُبْصِرَانِهِ .”“ام سلمہ فرمات ی ہیں: میں اور میمونہ ، رسول اللہ کے پاس موجود تھیں اس وقت ابن ام مکتوم حاضر ہوا۔ اس وقت پردے کا حکم آچکا تھا۔ رسول اللہ ؐ نے فرمایا: پردہ کرو۔ ہم نے کہا: یا رسول اللہ ؐ! کیا وہ اندھا نہیں ہے جو ہمیں نہیں دیکھ سکتا؟ فرمایا: کیا تم دونوں بھی اندھی ہو ؟ کیا تم اسے نہیں دیکھ سکتی ہو؟”(۳۴)

جبکہ آپ ان دلیلوں کو ملاحظہ کر رہے ہیں:

پہلی دلیل ( آیت) کے بارے میں پہلے کہا گیا ہے کہ “غضّ بصر” کے معنی دیکھنے کو ہی ترک کرنا نہیں؛ بلکہ کسی چیز میں دلچسپی نہ لینا اور اس سے بے توجہی برتنا ہے۔(۳۵)

دوسری دلیل ،اگرچہ دلالت کے لحاظ سے حرام ہونے کو ثابت ہی کیوں نہ کرے،سند کے لحاظ سے ضعیف ہے ؛ کیونکہ برقی اور پیغمبر اکرم ؐ کے درمیان زمانے کے لحاظ سے زیادہ فاصلہ ہے ؛ لہذا یہ حدیث مرسل ہے۔

تیسری اور چوتھی دلیل بھی مرسل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہیں اگرچہ ان کی دلالت تام ہی کیوں نہ ہو۔

۴ ۔ مماثل کی شرمگاہ کے علاوہ باقی بدن کو دیکھنا جائز ہونے کی دلیل: یہ حکم مسلمات میں سے ہے۔ اس کے علاوہ سیرت مسلمین کا تقاضا بھی ہے نیز ان روایات کے ذریعے بھی ثابت ہو جاتا ہے جو“باب حمام” میں مذکور ہیں اور حمام میں تہبند کے بغیر داخل ہونے سے منع کرتی ہیں۔(۳۶)

بلکہ اس حکم کو ثابت کرنے کے لئے کسی دلیل کی ضرورت ہی نہیں؛ کیونکہ یہ“اصل ” کا تقاضا ہے اور شرمگاہ کی طرف دیکھنا دلیل شرعی کے ذریعے اصل سےخارج ہوا ہے۔جیسا کہ بعض روایات شرمگاہ کو دیکھنا حرام ہونے پر دلالت کرتی ہیں جن میں سے ایک حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی حریز کی روایت صحیحہ ہے:

لَا يَنْظُرُ الرَّجُلُ إِلَى عَوْرَةِ أَخِيهِ .”“کوئ ی مرد اپنے بھائی کی شرمگاہ کو نہ دیکھے۔”(۳۷)

۵ ۔مجبوری کی حالت میں شرمگاہ کو دیکھنا حرام نہ ہونے کی دلیل: مجبوری کی حالت میں یہ فعل “تزاحم” کے باب میں شامل ہوجاتا ہے جہاں زیادہ اہمیت والے فعل کو مقدم کیا جاتا ہے اور کم اہمیت والے فعل سے چشم پوشی کی جاتی ہے۔

یہاں سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ جواز کا حکم ہر قسم کی “حالت تزاحم” کے لئے عام ہے جس کی رعایت کرنا شارع کے نزدیک دیکھنے اور چھونے کی حرمت کی رعایت کرنے سے زیادہ اہم ہے۔

۶ ۔ یائسہ عورت کو دیکھنا جائز ہونے کی دلیل:یہ حکم قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیت سے ثابت ہے:

( وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ الَّاتىِ لَا يَرْجُونَ نِكاَحًا فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ جُنَاحٌ أَن يَضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ غَيرَْ مُتَبرَِّجَتِ بِزِينَةٍ وَ أَن يَسْتَعْفِفْنَ خَيرٌْ لَّهُن ...) “ اور جو عورتیں (ضعیف العمری کی وجہ سے) خانہ نشین ہو گئی ہوں اور نکاح کی توقع نہ رکھتی ہوں ان کے لےر اپنے (حجاب کے) کپڑے اتار دینے مںَ کوئی حرج نہیںش ہے بشرطکہک زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں تاہم عفت کا پاس رکھنا ان کے حق مںک بہتر ہے...”(۳۸)

۷ ۔ نابالغ لڑکی کو دیکھنا جائز ہونے کی دلیل: جو ادلہ دیکھنے کی حرمت کو ثابت کرتی ہیں وہ اس مورد کواپنےدائرے میں شامل کرنے سے قاصر ہے؛ کیونکہ حرمت نظر کا حکم اگرفقہ کے مسلمات میں سے ہے تو اس میں قدر متیقن بالغ عورتوں کو دیکھنا ہے اوراگر زینت کو ظاہر کرنا حرام قرار دینے والی آیت ( آیت ابداء الزینۃ) سے اخذ کیا گیا ہے تو وہ بھی بالغوں کے ساتھ مختص ہے۔ نیز اگر ان روایات سے اخذ کیا گیا ہے جو چہرے اور ہتھیلیوں کے علاوہ باقی بدن کو دیکھنا حرام قرار دیتی ہیں تو وہ روایات بھی بالغوں کے ساتھ مختص ہیں۔

لیکن اگر ان روایتوں سے حکم کو اخذ کیا جائے جن میں نظر کو شیطان کے تیروں میں سے ایک تیر یا آنکھوں کا زنا(۳۹) کہا گیا ہے تو یہ روایات اس حکم پر دلالت کرنے سے قاصر ہیں جیسا کہ واضح ہے۔

۸ ۔نابالغ کے سامنے خود کو ظاہر کرنے والی عورت کا حکم: قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیت کے مفہوم سے ثابت ہوتا ہے کہ عورت پر نابالغ کے سامنے خود کو ظاہر کرنا حرام ہے:

( وَ لَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ... أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُواْ عَلىَ‏ عَوْرَاتِ النِّسَاءِ. ..) “ اور اپنی زیبائش (کی جگہوں) کو ظاہر نہ کریں سوائے اپنے شوہروں کے... اور ان بچوں کے جو عورتوں کے پردوں کی باتوں سے واقف نہ ہوں...”(۴۰)

لیکن حضرت امام رضا علیہ السلام سے مروی بزنطی کی روایت صحیحہ سے اس کا جواز ثابت ہوتا ہے:

يُؤْخَذُ الْغُلَامُ بِالصَّلَاةِ وَ هُوَ ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ. وَ لَا تُغَطِّي الْمَرْأَةُ شَعْرَهَا مِنْهُ حَتَّى يَحْتَلِمَ. ”“جب بچہ سات سال کا ہوجائے تو نماز کے بارے م یں اس کا مؤاخذہ کیا جائے گا اور جب تک وہ محتلم نہ ہوجائے، کوئی عورت اس سے اپنے بالوں کو نہیں چھپائے گی۔”(۴۱)

آیت کا مفہوم ، مطلق ہے ؛ لہذا اس روایت کے ذریعے اس اطلاق کو مقید کرنا چاہئے۔

۹ ۔ شادی کا ارادہ رکھتے ہوئے عورت کو دیکھنا جائز ہونے کی دلیل: بعض روایتوں کی وجہ سے یہ حکم کسی حد تک متفق علیہ ہے۔ مثلا حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ہشام بن سالم ، حماد بن عثمان اور حفص بن البختری نے روایت کی ہے:

لَا بَأْسَ بِأَنْ يَنْظُرَ إِلَى وَجْهِهَا وَ مَعَاصِمِهَا إِذَا أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا .”“اگر کوئ ی شخص کسی عورت سے شادی کا ارادہ رکھتا ہے تو اس کے چہرے اور کلائیوں کو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔”(۴۲)

نیز غیاث بن ابراہیم نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے انہوں نے اپنے پدر بزرگوار سے اور انہوں نے حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام سے روایت کی ہے:

فِي رَجُلٍ يَنْظُرُ إِلَى مَحَاسِنِ امْرَأَةٍ يُرِيدُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا. قَالَ: لَا بَأْسَ، إِنَّمَا هُوَ مُسْتَامٌ فَإِنْ يُقْضَ‏ أَمْرٌ يَكُون .”“ا یک شخص شادی کے ارادے سے کسی عورت کی خوبصورتی پر نگاہ ڈالتا ہے اس بارے میں امام ؑ نے فرمایا: کوئی حرج نہیں۔وہ شادی کی قابل ہے اگر وہ چاہے تو شادی کر سکتی ہے۔”(۴۳)

کچھ فقہاء نے بعض روایات سے تمسک کرتے ہوئے شرمگاہ کے علاوہ پورے بدن کو دیکھنا جائز قرار دیا ہے۔(۴۴) ان روایات میں سے ایک محمد بن مسلم کی روایت صحیحہ ہے:

سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرعلیه السلام عَنِ الرَّجُلِ يُرِيدُ أَنْ يَتَزَوَّجَ الْمَرْأَةَ،أَيَنْظُرُ إِلَيْهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، إِنَّمَا يَشْتَرِيهَا بِأَغْلَى الثَّمَنِ .”“م یں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے سوال کیا: جو شخص کسی عورت کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہے کیا وہ اس عورت کو دیکھ سکتا ہے؟ فرمایا: جی ہاں! کہ وہ اس کو مہنگے داموں خرید رہا ہے۔”(۴۵)

اس حکم سے شرمگاہ کو اس لئے استثناء کیا گیا ہے کہ اس کو دیکھنا تمام فقہاء کے نزدیک مسلماً حرام ہے۔

۱۰ ۔ اس عورت کا حکم جو کسی مرد کو شادی کے ارادے سے دیکھتی ہے: شیخ اعظم انصاری ؒ کے نزدیک اس عورت کے لئے شادی کے ارادے سے مرد کو دیکھنا جائز ہے؛اس لئے کہ جب اس سے شادی کرنے والے مرد کے لئے ، مہنگے داموں خریدنے کے باعث ، اس کو دیکھنا جائز ہو گیا تو اس عورت کے لئے بھی اس مرد کو دیکھنا بطریق اولیٰ جائز ہوگا؛ کیونکہ وہ بھی قیمتی جنس دے رہی ہے۔ خصوصا اس بات کے پیش نظر کہ مرد طلاق کے ذریعے عورت سے جان چھڑا سکتا ہے لیکن عورت اس طرح بھی جان نہیں چھڑا سکتی۔(۴۶)

لیکن شیخ اعظم ؒ کی بات قابل اشکال ہے ؛ کیونکہ اگر عورت ،قیمتی جنس دے رہی ہے تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ اسے جنس کی قیمت یعنی مہر کا علم ہونا چاہئے نہ کہ شوہر کا علم ؛ کیونکہ بضع ( عزت) کی قیمت شوہر نہیں ہے۔

۱۱ ۔ غیر مسلم عورت کو دیکھنا جائز ہونے کی دلیل: اس حکم کا ماخذ ، سکونی کی موثق روایت ہے جو حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے:

قَالَ رَسُولُ اللَّهِ(ص):‏ لَا حُرْمَةَ لِنِسَاءِ أَهْلِ الذِّمَّةِ أَنْ يُنْظَرَ إِلَى شُعُورِهِنَّ وَ أَيْدِيهِنَّ .” “رسول اللہ ؐ نے فرما یا: ذمی عورتوں کے بالوں اور ہاتھوں کی طرف دیکھنا حرام نہیں ہے۔ ”(۴۷)

اس حکم کے ثبوت میں ذمی عورتوں کو کوئی دخل نہیں ہے ؛ بلکہ تمام غیر مسلم عورتوں کو دیکھنا جائز ہے۔ذمی عورتوں کے ساتھ نکاح جائز ہونے کی وجہ سے کوئی یہ توہم کرسکتا ہے کہ ان کو دیکھنا بھی حرام ہے ؛ لہذا اس توہم کو دور کرنے کے لئے یہاں پر ان کو خاص کر کے ذکر کیا گیا ہے کہ نکاح جائز ہونا ایک طرح سے ذمی عورتوں کا احترام شمار ہوتا ہے اور دیکھنے کا جواز ، نکاح کے علاوہ ایک دوسرا حکم ہے۔

اس روایت سے قطع نظر یہ حکم عباد بن صہیب کی روایت صحیحہ کے اطلاق سے بھی ثابت کیا جا سکتا ہے:

سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام يَقُولُ:‏ لَا بَأْسَ بِالنَّظَرِ إِلَى رُءُوسِ أَهْلِ تِهَامَةَ، وَ الْأَعْرَابِ، وَ أَهْلِ السَّوَادِ، وَ الْعُلُوجِ، لِأَنَّهُمْ إِذَا نُهُوا لَا يَنْتَهُون .”“م یں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کویہ کہتے ہوئے سنا کہ “اہل تہامہ” ، “اعراب” ، “اہل سواد” اور “ اہل علوج” عورتوں کے بالوں کو دیکھنے میں کوئی حرج نہیں ہے؛ کیونکہ اگر انہیں روکا جائے تو یہ باز نہیں آتیں۔”(۴۸)

اس روایت سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ منع کرنے کے باوجود باز نہ آنے والی تمام عورتوں کو دیکھنا جائز ہے۔

لذت کے ساتھ نہ دیکھنا شرط ہونے کی دلیل: یہ حکم فقہ کے مسلمہ احکام میں سے ہے۔ اگر یہ مسلمہ احکام میں سے نہ ہوتا تو اطلاق کے تقاضا کے مطابق مطلَقاً دیکھنا جائز ہے خواہ لذت کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو۔


وہ عورتیں جن کے ساتھ نکاح کرنا حرام ہے

کچھ عورتوں کے ساتھ عقد کرنا مرد پر حرام ہے۔

حرام ہونے کے دو اسباب ہیں:

الف) نسب ب) سبب

حرام ہونے کی دو صورتیں ہیں:

الف) حرمت ابدی ب) حرمت عارضی

دلائل :

۱ ۔ نسب کی وجہ سے سات قسم کی عورتیں مرد پر حرام ہو جاتی ہیں:

۱ ۔ ماں اوریہ سلسلہ جتنا اوپر جائے۔مثلا نانی دادی اور ان کی مائیں۔

۲ ۔ بیٹی اور یہ سلسلہ جتنا نیچے جائے۔مثلا نواسی اور اس کی بیٹی وغیرہ۔

۳ ۔ بہن ( سگی ہو یا ماں باپ میں سے کسی ایک کی طرف سے سوتیلی ہو)

۴ ۔ پھوپھی اور یہ سلسلہ جتنا اوپرجائے۔

۵ ۔ خالہ اور سلسلہ جتنا اوپرجائے۔

۶ ۔ بھتیجی اور یہ سلسلہ جتنا نیچے جائے۔

۷ ۔ بھانجی اور یہ سلسلہ جتنا نیچے جائے۔

مذکورہ عورتوں کے حرام ہونے پر قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیت دلالت کر رہی ہے:

( حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ ...) “تم پر حرام کر دی گئی ہںب تمہاری مائں ، تمہاری بایت ں، تمہاری بہنںا، تمہاری پھوپھیاں، تمہاری خالائںن، تمہاری بھتالَاں، تمہاری بھانجاَں...”(۴۹)

اس حکم میں نواسی صرف اس لئے شامل ہے کہ اس پر بیٹی کا عنوان صادق آتا ہے ؛ لہذا آیت میں مذکور بیٹی کے اطلاق میں وہ شامل ہوگئی ہے۔ یہی حال باقی رشتوں کا بھی ہے جن میں سلسلہ اوپر یا نیچے چلا جائے تو ان کا حکم بھی آیت کے اطلاق سے تمسک کا نتیجہ ہے۔

واضح رہے کہ حرمت کا حکم مرد اور عورت دونوں کی طرف سے ہے ؛ لہذا جو عورتیں مردوں پر حرام ہیں اسی طرح عورتوں پر بھی مذکورہ قسم کے مرد حرام ہیں۔مثلا باپ ، اگر چہ اس کا سلسلہ اوپر جائے، بیٹی پر حرام ہے اور بیٹا ، اگر چہ اس کا سلسلہ نیچے جائے، ماں پر حرام ہے ۔ اسی طرح باقی رشتے بھی ہیں۔

مذکورہ سات افراد کا نسب کی وجہ سے حرام ہونا صرف نسب شرعی سے مختص نہیں ہے؛ بلکہ یہ حکم اس نسب پر بھی جاری ہوتا ہے جو زنا سے وجود میں آتا ہے۔ پس زانیہ کا ولد الزنا اسی زانیہ ، اس کی ماں اور بہن پر حرام ہےاسی طرح زانی کی ماں اور بہن پر بھی حرام ہے۔ کیونکہ آیت مجیدہ میں جن سات اقسام کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس سے مراد ان کا عناوین لغوی ہے اور شریعت نے اس مقام پر کوئی جدید اصطلاح استعمال نہیں کی ہے۔ پس جو لڑکی کسی مرد کے نطفے سے پیدا ہو جائے وہ اسی کی بیٹی ہے خواہ نکاح شرعی سے پیدا ہوجائے یا بغیر نکاح کے۔ اسی طرح جو عورت کسی لڑکے کو جنم دے اس لڑکے کی ماں وہی عورت ہے خواہ نکاح شرعی ہوا ہو یا نہ ہوا ہو۔ پس شریعت کا اس میں کوئی دخل نہیں ہے سوائے اس کے کہ شریعت کی رو سے یہ افراد وارث نہیں ہوں گے۔اس کے علاوہ باقی احکام ان پر جاری ہوں گے۔ یہ سارے احکام آیت مجیدہ کے اطلاق سے تمسک کا نتیجہ ہے کیونکہ آیت میں ان رشتوں کو نکاح شرعی کے ساتھ مقید نہیں کیا گیا ہے۔

نیز اسی اطلاق سے تمسک کرتے ہوئے ،نکاح شرعی کے ذریعے پیدا ہونے والے افراد کے نسب میں بھی کوئی فرق نہیں ہے کہ وہ عقد کے ذریعے پیدا ہوئے ہوں یا وطی شبہہ کے ذریعے۔

۲ ۔ سبب : سبب سے مراد غیر نسب ہے جس کے ذریعے حرمت کا حکم جاری کیا جاتا ہے۔ سبب کی اقسام مندرجہ ذیل ہیں:

۱ ۔ دامادی اور اس سے مربوط چیزیں،

۲ ۔ رضاع ( دودھ پلانا)،

۳ ۔ اعتداد ( عورت کا کسی کی عدت میں ہونا)،

۴ ۔تعداد کا پورا ہونا ( چار دائمی بیویوں کی موجودگی)،

۵ ۔ کافر ہونا،

۶ ۔ احرام کی حالت میں ہونا،

۷ ۔ لعان کرنا۔

ان اسباب کے بارے میں ترتیب کے ساتھ بحث کی جائے گی۔

۳ ۔ حرام کے دو قسموں میں تقسیم ہونے کی دلیل: یہ ایک واضح حکم ہے۔ پس جو ابدی حرام ہیں وہ سات نسبی رشتے ہیں اور جو عارضی حرام ہیں وہ سالی، غیر مدخولہ بیوی کی بیٹی، تین بار طلاق دی گئی بیوی اور بیوی کی بھتیجی یا بھانجی وغیرہ ہیں۔


دامادی

دامادی اور اس سے مربوط رشتوں کے بعض احکام مندرجہ ذیل ہیں:

۱ ۔ عقد کے ہوتے ہی ، خواہ عقد منقطع ہی کیوں نہ ہو، باپ اور بیٹے پر ایک دوسرے کی بیوی حرام ہوجاتی ہے ۔اگر چہ باپ کا سلسلہ جتنا اوپر چلاجائے اور بیٹے کا جتنا نیچے چلا جائے۔ نیز باپ اور بیٹے کے نسبی اور رضاعی ہونے میں بھی کوئی فرق نہیں ہے۔

۲ ۔ عقد کے ہوتے ہی شوہر پر بیوی کی ماں اور اس سے اوپر کا پورا سلسلہ حرام ہوجاتا ہے۔ نیز بیوی کی بیٹی اور اس سے نیچے کا سلسلہ بھی حرام ہوجاتا ہے بشرطیکہ وہ بیوی کے ساتھ مجامعت کرے، خواہ وہ بیٹی اس کی گود کی پلی ہو یا نہ ہو۔ ہاں اگر بیوی کے ساتھ مجامعت نہ کرے تو جب تک وہ اس کے عقد میں ہے اس کی بیٹی حرام ہوگی۔

۳ ۔کسی شخص پر اس کی سالی بذات خود حرام نہیں ہے لیکن بیوی کے ساتھ اس سے نکاح کرنا حرام ہے۔

۴ ۔ بیوی کی اجازت کے بغیر اس کی بھتیجی یا بھانجی کے ساتھ نکاح کرنا حرام ہے۔ لیکن اگر پہلے کسی عورت کی بھتیجی یا بھانجی سے نکاح کرے پھر اسی عورت سے (جو بیوی کی خالہ یا پھوپھی شمار ہوتی ہے) نکاح کرے تو بیوی کی اجازت ضروری نہیں ہے۔

۵ ۔ جواپنی خالہ سے زنا کرے اس پر خالہ کی بیٹی کے ساتھ نکاح کرنا حرام ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہی حکم پھوپھی کے لئے بھی ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ حکم صرف خالہ یا پھوپھی سے مختص نہیں ؛ بلکہ ہر اس عورت کا یہی حکم ہے جس کی بیٹی سے زنا کیا جائے۔

۶ ۔اگر کوئی بالغ انسان کسی لڑکے کے ساتھ لواط کرے اور دخول متحقق ہوجائے تو اس پر مفعول کی بیٹی ، بہن اور ماں ہمیشہ کے لئے حرام ہوجاتی ہےبشرطیکہ ان سے نکاح کرنے سے پہلے لواط کرے ؛ لیکن اگر پہلے نکاح کیا ہو پھر لواط کرے تو یہ حکم نہیں لگے گا۔

۷ ۔ جو کسی شوہر دار عورت سے نکاح کرے جبکہ اسےشوہر دار ہونے کا علم ہو تو وہ عورت ہمیشہ کے لئے اس پر حرام ہوجاتی ہے۔ اگر اسے شوہر دار ہونے کا علم نہ ہو تو صرف اس کے ساتھ مجامعت کرنے کی صورت میں ہمیشہ کے لئے حرام ہوگی۔

۸ ۔ مشہور کے مطابق اگر کوئی کسی شوہر دار عورت سے زنا کرے تو وہ ہمیشہ کے لئے اس پر حرام ہوجائے گی۔

دلائل:

۱ ۔ باپ اور بیٹے پر ایک دوسرے کی بیوی کے حرام ہونے کی دلیل: یہ ان احکام میں سے ہے جن میں کسی کو اختلاف نہیں ہے ۔ نیز یہ ضروریات فقہ ؛ بلکہ ضروریات دین میں سے ہے۔ اس حکم پر قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیات دلالت کر رہی ہیں:

( وَ لَا تَنكِحُواْ مَا نَكَحَ ءَابَاؤُكُم مِّنَ النِّسَاءِ ...) “اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نے نکاح کیا ہو ان سے نکاح مت کرنا...”(۵۰)

( ...حَلَائلُ أَبْنَائكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ ...) “اور تمہارے صلبی بیٹوں کی عورتیں”(۵۱)

حضرت امام محمد باقر علیہ السلام یا جعفر صادق علیہ السلام سے مروی محمد بن مسلم کی روایت ہے:

لَوْ لَمْ تَحْرُمْ عَلَى النَّاسِ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ (ص) لِقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَ :( ...وَ ما كانَ لَكُمْ أَنْ تُؤْذُوا رَسُولَ اللَّهِ وَ لا أَنْ تَنْكِحُوا أَزْواجَهُ مِنْ بَعْدِهِ أَبَدا. ..) حَرُمْنَ عَلَى الْحَسَنِ وَ الْحُسَيْنِ بِقَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَ جَلَ: ( وَلَا تَنكِحُواْ مَا نَكَحَ ءَابَاؤُكُم مِّنَ النِّسَاءِ ...) وَ لَا يَصْلُحُ لِلرَّجُلِ أَنْ يَنْكِحَ امْرَأَةَ جَدِّهِ .”“اگر فرمان پروردگار:“تمہں یہ حق نہیںر کہ اللہ کے رسول کو اذیت دو اور ان کی ازواج سے ان کے بعد کبھی بھی نکاح نہ کرو”(۵۲) کی وجہ سے لوگوں پر رسول اکرم ؐ کی ازواج حرام نہ ہوتیں تو حسنین علیہما السلام پر اس آیت : “اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نے نکاح کیا ہو ان سے نکاح مت کرنا...”(۵۳) کی وجہ سے حرام ہو جاتیں۔ اور کوئی شخص اپنے جدّ (دادا یا نانا) کی زوجہ سے نکاح نہیں کر سکتا۔”(۵۴)

حرام کے حکم کے لئےمجامعت کے بغیر عقد کرنا ہی، خواہ منقطع ہی کیوں نہ ہو، کافی ہونے کی دلیل: گزشتہ دلیلوں کے اطلاق سے یہ حکم ثابت ہوتا ہے۔

باپ کے حکم میں اس سے اوپر والا سلسلہ اور بیٹے کے حکم میں اس سے نیچے والا سلسلہ شامل ہونے کی دلیل:یہ حکم بھی گزشتہ دلیلوں کے اطلاق کے ساتھ ساتھ محمد بن مسلم کی روایت صحیحہ سے ثابت ہوتا ہے جو جدّ کے بارے میں گزر چکی ہے۔

رضاعی باپ بیٹے کے اس حکم میں شامل ہونے کی دلیل: اس حکم پر رسول اکرم ؐ کا مندرجہ ذیل فرمان دلالت کر رہا ہے:

يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ .”“جو افراد نسب کی وجہ سے حرام ہوجاتے ہیں رضاع سے بھی حرام ہوجاتے ہیں۔”(۵۵)

۲ ۔ ساس کے مطلَقا ً حرام ہونے اور بیوی کی بیٹی کے دخول کی شرط پر حرام ہونے کی دلیل: قرآن مجید کی مندرجہ ذیل آیت کی وجہ سے یہ حکم ان احکام میں سے ہے جن میں کوئی اشکال نہیں:

( حُرِّمَتْ...وَأُمَّهَاتُ نِسَائكُمْ وَ رَبَائبُكُمُ اللَّاتىِ فىِ حُجُورِكُم مِّن نِّسَائكُمُ اللَّاتىِ دَخَلْتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمْ تَكُونُواْ دَخَلْتُم بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ ) “تم پر تمہاری مائیں...اور ساسیں حرام کر دی گئی ہیں اور جن عورتوں سے تم مباشرت کر چکے ہوان کی لڑکیاں جنہیں تم پرورش کرتے (ہو وہ بھی تم پر حرام ہیں) ہاں اگر ان کے ساتھ تم نے مباشرت نہ کی ہو تو (ان کی لڑکیوں کے ساتھ نکاح کر لینے میں) تم پر کچھ گناہ نہیں”(۵۶)

آیت مجیدہ کے جملۂ( ...وَأُمَّهَاتُ نِسَائكُمْ ...) کے اطلاق کا تقاضا ، ساس کا حرام ہونا ہے خواہ مجامعت نہ بھی کرے؛ لیکن ربیبہ کے حرام ہونے میں اس بات کی شرط لگائی گئی ہے کہ اس کی ماں کے ساتھ مجامعت کی جائے۔

اور( ...مِّن نِّسَائكُمُ اللَّاتىِ ...) کا( ...وَأُمَّهَاتُ نِسَائكُمْ ...) کی قید بننا بعید ہے ؛اس لئے کہ اولا: دونوں کے درمیان زیادہ فاصلہ آیا ہے ، ثانیا: قید بنانے کی صورت میں کلمہ “نساء” کا تکرا ر ہونا لازمی تھا( جو نہیں ہوا ہے) اور ثالثا: کلمہ “من” کو دو معانی میں استعمال کرنا لازم آتا ہے ؛ کیونکہ “من ” کا تعلق اگر “ربائب ” سے ہو تو یہ “من نشویہ” ہوگا اور “نساء” سے متعلق ہو تو یہ “من بیانیہ” ہوگا۔ یہ مفروضہ اگرچہ ممکن ہی کیوں نہ ہو؛ لیکن ظاہرِ قرآن کے مخالف ہے۔

۳ ۔ حرام کے حکم میں ساس اور اس سے اوپر کا سلسلہ شامل ہونے کی دلیل: یہ حکم دلیلوں کے اطلاق سے ثابت ہوتا ہے۔

ربیبہ اور اس سے نیچے کے سلسلے پر یہ حکم جاری ہونے کی دلیل:اس حکم کو آیت مجیدہ سے اخذ کرنے پر اشکال کیا جاتا ہے؛ لیکن روایات کا اطلاق اس کے ثبوت کے لئے کافی ہے ؛ کیونکہ روایات میں کلمہ “بنت” مطلق ذکر ہوا ہے۔ مثلا غیاث ابن ابراہیم کی موثق روایت ہے جو انہوں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے انہوں نے اپنے پدر بزرگوار سے نقل فرمائی ہے کہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا:

إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ حَرُمَتْ عَلَيْهِ ابْنَتُهَا إِذَا دَخَلَ بِالْأُمِّ فَإِذَا لَمْ يَدْخُلْ بِالْأُمِّ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَتَزَوَّجَ بِالابْنَةِ.وَإِذَا تَزَوَّجَ بِالابْنَةِ فَدَخَلَ بِهَا أَوْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْهِ الْأُمُّ.وَ قَالَ: الرَّبَائِبُ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ، كُنَّ فِي الْحَجْرِ أَوْ لَمْ يَكُنَّ .”“اگر کوئ ی کسی عورت کے ساتھ ازدواج کرے تو اس کے ساتھ مباشرت کرنے سے اس پر عورت کی بیٹی حرام ہو جائے گی۔ پس اگر عورت کے ساتھ مباشرت نہیں کی ہے تو اس کی بیٹی کے ساتھ ازدواج کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ جب وہ بیٹی کے ساتھ ازدواج کرے تو اس کی ماں اس پر حرام ہوجائے گی خواہ اس کی بیٹی کے ساتھ مباشرت کرے یا نہ۔ پھر امام ؑ نے فرمایا: ربائب تم پر حرام ہیں خواہ وہ تمہاری بیویوں کے ساتھ ہوں یا نہ۔”(۵۷)

اس کے علاوہ بھی بعض روایات اسی حکم پر دلالت کرتی ہیں ۔ نیز یہ مسئلہ ایک متفق علیہ مسئلہ ہے۔(۵۸)

۴ ۔ اگر کسی عورت کے ساتھ نکاح کیا جائے تو، خواہ دخول نہ کرے ،اس کی بیٹی کے ساتھ عقدکرنا جائز نہ ہونے کی دلیل: اولاً:اگر اس (بیٹی ) کے ساتھ نکاح کیا جائے تو اس کی ماں پر( ...وَأُمَّهَاتُ نِسَائكُمْ ...) کا عنوان صادق آتا ہے ۔ آیت کے اطلاق کا تقاضا یہ ہے کہ یہ عنوان جہاں جہاں صادق آئے ، حرام ہونے کا سبب بنتا ہے۔ پس ماں اور بیٹی کے ساتھ اس طریقے سے عقد کرے کہ دونوں کے ساتھ عقد کرنا شرعا صحیح اور جائز ہو یہ ممکن نہیں ہے۔

ثانیا ً:لڑکی کے ساتھ عقدکرنے سے اس کی ماں کے ساتھ کئے جانے والے صحیح عقد کو باطل قرار دینا محتاج دلیل ہے۔جبکہ کوئی دلیل موجود نہیں ہے؛ لہذا لڑکی کے ساتھ عقد کا باطل ہونا معین ہوجائے گا۔

۵ ۔ بیوی کی موجودگی میں اس کی بہن کے ساتھ عقد کرنا حرام ہونے کی دلیل: قرآن مجید کی صریح دلالت کی وجہ سے مسلمانوں کے درمیان اس حکم میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔( ...وَ أَن تَجْمَعُواْ بَينْ‏َ الْأُخْتَين ...) (۵۹) اس کے علاوہ اس مسئلے کے بارے میں بہت ساری روایات بھی موجود ہیں۔(۶۰)

۶ ۔ بیوی کی اجازت کے بغیر اس کی بھتیجی یا بھانجی کے ساتھ عقد کرنا جائز نہ ہونے نیز پہلے کسی عورت کی بھتیجی یا بھانجی سے نکاح کرےاور بعد میں اسی عورت سے شادی کرنا چاہے تو بیوی کی اجازت ضروری نہ ہونے کی دلیل: اس حکم پربعض روایات دلالت کررہی ہیں جن میں سے ایک محمد بن مسلم کی مندرجہ ذیل موثق روایت ہے:

لَا تُزَوَّجُ ابْنَةُ الْأَخِ وَ لَا ابْنَةُ الْأُخْتِ عَلَى الْعَمَّةِ وَ لَا عَلَى الْخَالَةِ إِلَّا بِإِذْنِهِمَا. وَ تُزَوَّجُ الْعَمَّةُ وَ الْخَالَةُ عَلَى ابْنَةِ الْأَخِ وَ ابْنَةِ الْأُخْتِ بِغَيْرِ إِذْنِهِمَا ”“جب کس ی لڑکی کی پھوپھی یا خالہ سے عقد کیا جائے تو ان کی اجازت کے بغیر اس لڑکی کے ساتھ نکاح نہیں کیا جا سکتا۔ (لیکن) اگر اسی لڑکی سے نکاح کیا جائے تو اس کی اجازت کے بغیر اس کی خالہ یا پھوپھی سے نکاح کیا جا سکتا ہے۔”(۶۱)

اگر یوں کہا جائے کہ علی بن جعفر نے اپنی کتاب میں اپنے برادر بزرگوار حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام سے یہ روایت نقل کی ہے:

سَأَلْتُهُ عَنِ امْرَأَةٍ تُزَوَّجُ عَلَى عَمَّتِهَا وَ خَالَتِهَا، قَالَ: لَا بَأْس .”“م یں نے امام ؑ سے سوال کیا: کیا کسی عورت سے نکاح کیا جاسکتا ہے جبکہ اس کی خالہ یا پھوپھی سے ساتھ نکاح کر چکا ہو؟ فرمایا: کوئی حرج نہیں۔ ”(۶۲)

اس روایت کا اطلاق اس بات پر دلالت کررہا ہے کہ بیوی کی اجازت کے بغیر اس کی خالہ یا پھوپھی سے نکاح کرنا جائز ہے۔

اور اس روایت کے مقابلے میں ابو عبیدہ کی ایک روایت صحیحہ ہے:

سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام يَقُولُ:‏ لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا وَ لَا عَلَى خَالَتِهَا وَ لَا عَلَى أُخْتِهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ .” “م یں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جب کسی عورت کی پھوپھی ، خالہ یا رضاعی بہن تمہارے نکاح میں ہو تو اس عورت کے ساتھ شادہ نہ کرو۔”(۶۳)

یہ روایت مطلَقاً جائز نہ ہونے پر دلالت کر رہی ہے ۔ پس ان دونوں کو باہم کیسے جمع کیا جائے گا؟

اس کے جواب میں ہم کہیں گے: محمد بن مسلم کی گزشتہ موثقہ کے قرینے سے دونوں کے درمیان جمع عرفی ممکن ہے ؛ لہذا پہلی روایت کو اجازت لینے کی صورت پر محمول کریں گے اور دوسری روایت کو بغیر اجازت کی صورت پر ۔ اس طرح ان دونوں کے درمیان تعارض ختم ہوجائے گا۔

۷ ۔ خالہ سے زنا کرنا اس کی بیٹی کے حرام ہونے کا سبب بننے کی دلیل: یہ مشہور فتویٰ ہے جس پر محمد بن مسلم کی روایت صحیحہ دلالت کر رہی ہے:

سَأَلَ رَجُلٌ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام وَ أَنَا جَالِسٌ عَنْ رَجُلٍ نَالَ مِنْ خَالَتِهِ فِي شَبَابِهِ ثُمَّ ارْتَدَعَ، يَتَزَوَّجُ ابْنَتَهَا؟ قَالَ: لَا. قُلْتُ: إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ أَفْضَى إِلَيْهَا إِنَّمَا كَانَ شَيْ‏ءٌ دُونَ شَيْ‏ءٍ، فَقَالَ: لَا يُصَدَّقُ وَ لَا كَرَامَةَ .”“ایک شخص نے میری موجودگی میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے اپنی جوانی میں اپنی خالہ کے ساتھ زنا کیا تھا پھر توبہ کی تھی، کیا وہ خالہ کی بیٹی سے شادی کر سکتا ہے؟ امام ؑ نے فرمایا: نہیں! میں نے عرض کیا: اس نے دخول نہیں کیا ہے ؛ بلکہ اس سے کمتر یعنی بوسہ وغیرہ دیا ہے ۔ امامؑ نے فرمایا: زانی کی بات کی تصدیق نہیں کی جائے گی اور اس کی کوئی عزت نہیں ہے۔ ”(۶۴)

اس روایت پر متن اور سند دونوں کے لحاظ سے اشکال کرتے ہوئے اس سے حکم اخذ کرنے میں اشکال کیا جاتا ہے۔

متن کے لحاظ سے یہ اشکال کیا جاتا ہے کہ امام ؑ کا فاعل کی بات کو جھٹلانا ایک صغروی اشکال ہے جو مقام امامت کے ساتھ تناسب نہیں رکھتا اور یہ امام کے لائق نہیں ہے۔

سند کے لحاظ سے یہ اشکال ہے کہ اسی روایت کو شیخ کلینی ؒ نے اپنے سلسلہ سند کے ساتھ ابو ایوب سے اور انہوں نے محمد بن مسلم سے نقل کیا ہے: “سَأَلَ رَجُلٌ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام وَ أَنَا جَالِسٌ عَنْ رَجُلٍ ...”“م یری موجودگی میں ایک شخص نے امام ؑ سے پوچھا کہ ...”(۶۵) جبکہ شیخ طوسی ؒ نے اسی روایت کو اپنے سلسلہ سند کے ساتھ ابو ایوب سے نقل کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ “ان محمد بن مسلم هو الذی سال الامام علیه السلام عَنْ رَجُلٍ ...”“خود محمد بن مسلم نے امام ؑ سے پوچھا۔”(۶۶)

یہ دونوں اشکال بلا وجہ ہیں۔کیونکہ:

صغروی اشکال میں کچھ مصلحت ہوسکتی ہے جس کی امام ؑ کو اطلاع تھی۔

اور روایتوں کے درمیان اس طرح کا اختلاف اس کی صحت پر اثر انداز نہیں ہو سکتا۔

۸ ۔پھوپھی کے ساتھ زنا کرنے سے اس کی بیٹی کے ساتھ شادی کا حکم: پھوپھی کے حکم کو خالہ کے ساتھ الحاق کرنے کی کوئی دلیل نہیں ہے سوائے اس کے کہ یہ کہاجائے کہ پھوپھی اور خالہ میں کوئی فرق نہیں ہے یا یہ کہ خالہ کی بیٹی حرام ہوجاتی ہے تو پھوپھی کی بیٹی بطریق اولیٰ حرام ہوجائے گی۔ یہ دونوں باتیں قابل اشکال ہیں۔

بنابرایں پھوپھی کے حکم کو خالہ کے ساتھ الحاق کرنے کا فتویٰ نہیں دیا جا سکتااور فتویٰ سے تنزل کرکے احتیاط کا حکم لگانا ضروری ہے کیونکہ دونوں فرق نہ ہونے کا احتمال پایاجاتا ہے۔

۹ ۔زانی پر ہر اس عورت ، جس کے ساتھ زنا کیا ہو، کی بیٹی کے حرام ہونے کی دلیل: اس حکم پر روایات کا ایک مجموعہ دلالت کررہا ہے۔ جیسے محمد ابن مسلم کی روایت ہے جو حضرت امام محمد باقر علیہ السلام یا حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے:

أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يَفْجُرُ بِالْمَرْأَةِ أَ يَتَزَوَّجُ‏ بِابْنَتِهَا ؟ قَالَ: لا.”“ا یسے شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے کسی عورت کے ساتھ زنا کیا تھا، کیا وہ اس عورت کی بیٹی سے شادی کر سکتا ہے؟ فرمایا: نہیں!”(۶۷)

اس مجموعۂ روایات کے مقابلے میں ایک اور مجموعہ ہے جو اس کے برعکس حکم پر دلالت کرتا ہے۔ جیسے سعید بن یسار کی یہ روایت:

سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام عَنْ رَجُلٍ فَجَرَ بِامْرَأَةٍِ، يَتَزَوَّجُ ابْنَتَهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، يَا سَعِيدُ، إِنَّ الْحَرَامَ لَا يُفْسِدُ الْحَلَالَ .”“م یں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا؛ جو کسی عورت کے ساتھ زنا کرے کیا اس عورت کی بیٹی سے شادی کر سکتا ہ؟ فرمایا: ہاں! اے سعید ! بے شک کوئی حرام کسی حلا ل کو فاسد اورباطل نہیں کرتا۔”(۶۸)

دوسری روایت صراحت کے ساتھ جواز پر دلالت کر رہی ہے لہذا پہلی روایت کو کراہت پر محمول کرکے ان دونوں روایتوں کو باہم جمع کیا جا سکتا ہے۔

۱۰ ۔ لواط کرنے کی صورت میں فاعل پر مفعول کی بہن ، بیٹی اور ماں حرام ہو جاتی ہے۔ اس حکم کے بارے میں فقہاء میں کسی اختلاف کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔(۶۹) اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ابن ابی عمیر کی مرسلہ روایت بھی اس پر دلالت کر رہی ہے جو ہمارے بعض اصحاب سے نقل کی گئی ہے:

رَجُلٍ يَعْبَثُ بِالْغُلَامِ، قَالَ: إِذَا أَوْقَبَ حَرُمَتْ عَلَيْهِ ابْنَتُهُ وَ أُخْتُهُ .”“ا یک شخص نے کسی لڑکے سے لذت اٹھائی ہے۔ فرمایا: اگر وہ دخول کرے تو اس پر مفعول کی بیٹی اور بہن حرام ہوجائے گی۔”(۷۰)

یہ روایت مرسلہ ہے ؛ لیکن یہ اشکال بھی رفع ہوسکتا ہے بشرطیکہ ہم اس قاعدے کو مان لیں کہ ہر وہ روایت موثق ہے جو احمد بن ابی نصیر بزنطی یا ابن ابی عمیر یا صفوان بن یحیی (صفوان جمال) سے مروی ہو۔(۷۱)

بلکہ اس کے بجائے کسی دوسری روایت سے بھی اس حکم کو ثابت کیا جا سکتا ہے۔ وہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ابراہیم بن عمر کی موثق روایت ہے:

رَجُلٍ لَعِبَ بِغُلَامٍ هَلْ تَحِلُّ لَهُ أُمُّهُ، قَالَ: إِنْ كَانَ ثَقَبَ فَلا ”“کس ی شخص نے ایک لڑکے سے لذت اٹھائی ہے کیا اس پر اس لڑکے کی ماں (کےساتھ نکاح کرنا)حلا ل ہے؟ فرمایا: اگر دخول کیا ہے تو نہیں۔”(۷۲)

اگرچہ اس روایت میں صرف ماں کا ذکر ہوا ہے ؛ لیکن ماں ، بہن اور بیٹی میں کوئی فرق نہیں ہے ؛ لہذا اس حکم کو ماں کے علاوہ بہن اور بیٹی کے لئے بھی ثابت کیا جا سکتا ہے۔

اس بات کی تائید ان روایات سے بھی ہوتی ہے جن میں سے بعض میں صرف بہن کا ذکر ہے اور بعض میں صرف بیٹی کا ذکر ہے۔(۷۳) البتہ ان روایات کی سندوں کا ضعیف ہونا، تائید کی حد تک ان سے تمسک کرنے میں رکاوٹ نہیں بنتا۔

۱۱ ۔ فاعل کو بالغ اور مفعول کو نابالغ کے ساتھ مقید کرنے کی دلیل: یہ شرط موثقہ سے معلوم ہوتی ہے ؛ کیونکہ روایت میں فاعل کو “رجل” اور مفعول کو “غلام” کہا گیا ہے۔

اگر یہ دعویٰ کیا جائے کہ اس فاعل پر مرد ہونا صادق آتا ہے؛ اگرچہ اس کے بالغ ہونے کے بعد ہی کیوں نہ ہو۔ پس کہا جاتاہے کہ وہ مرد تھا اور اس نے کھیل کود میں دخول کیا ہے۔ اگرچہ یہ کام اس کے بالغ ہونے سے پہلے ہی اس سے سرزد ہوچکا ہو۔ اور دوسری بات یہ کہ حرام کا حکم صرف مورد غالب پر نہیں ہے ؛ بلکہ غیر غالب پر بھی حرمت کا حکم آسکتا ہے۔

یہ دعویٰ صحیح نہیں ہے کیونکہ پہلی صورت خلاف ظاہر ہے ؛ کہ کہنے والے کی بات کا ظاہر یہ ہے اس نے یہ فعل “رجل” ہونے کی حالت میں انجام دیا۔ جیسے ہمارا یہ کہنا: “ مسافر نے نماز قصر پڑھی۔”

اور دوسری بات اس لئے صحیح نہیں ہے کہ جہاں نص نہ ہو وہاں فقط احتمال کا پایا جانا برائت کی طرف رجوع کرنے سے مانع نہیں ہے۔

اگر یہ کہا جائے کہ یہ قید امام ؑ کے کلام میں ذکر نہیں ہوئی ہے تاکہ اس سے یہ نتیجہ لیا جائے کہ فاعل اور مفعول میں مذکورہ قیود ضروری ہیں۔

اس کا جواب یہ ہے کہ حکم کو عام کرنا بھی دلیل کا محتاج ہے اور جب کوئی دلیل نہ ہو تو اصل کا تقاضا عام نہ ہونا ہے۔

۱۲ ۔ حرام ہونے کے لئے عقد پر لواط کا مقدم ہونا ضروری ہونے کی دلیل: اگرچہ موثقہ ابراہیم بن عمر اس جہت سے مطلق ہے ؛ لیکن دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ عقد کے بعد عارض ہونے والے اسباب کے باعث اس کی گزشتہ حالت (حلال کی حالت) ختم نہیں ہوگی۔ جیسے محمد ابن مسلم کی روایت صحیحہ ہے جو حضرت امام محمد باقر علیہ السلام یا امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے:

سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يَفْجُرُ بِامْرَأَةٍ، أَ يَتَزَوَّجُ بِابْنَتِهَا؟ قَالَ: لَا، وَ لَكِنْ إِنْ كَانَتْ عِنْدَهُ امْرَأَةٌ ثُمَّ فَجَرَ بِأُمِّهَا أَوْ أُخْتِهَا، لَمْ تَحْرُمْ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ، إِنَّ الْحَرَامَ لَا يُفْسِدُ الْحَلَالَ .”“اس شخص کے بارے م یں پوچھا گیا جو کسی عورت کے ساتھ زنا کرتا ہے کیا وہ اس عورت کی بیٹی سے شادی کر سکتا ہے؟ فرمایا: نہیں! لیکن اگر وہ کسی عورت سے شادی کرے پھر اس کی ماں یا بہن کے ساتھ زنا کرے تو اس پر اپنی بیوی حرام نہیں ہوگی۔ کیونکہ کوئی حرام کسی حلال کو فاسد اور باطل نہیں کرتا۔”(۷۴)

اس روایت کا موضوع زنا ہے ؛ لیکن علت کے عموم کی وجہ سے یہ حکم لواط پر بھی جاری ہو سکتا ہے۔

۱۳ ۔شوہر دار عورت کے ساتھ شادی کرنےسے حرام ابدی ہونے کی دلیل: اس حکم پر بہت ساری روایات دلالت کررہی ہیں۔ جیسے ادیم بن حر نے روایت کی ہے:

قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام:‏ الَّتِي تَتَزَوَّجُ وَ لَهَا زَوْجٌ يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا ثُمَّ لَا يَتَعَاوَدَانِ أَبَداً .”“وہ عورت جو شوہر کے ہوتے ہوئے شاد ی کرے ، ان دونوں کے درمیان جدائی ڈالی جائے گی پھر وہ دونوں کبھی بھی ایک نہیں ہوسکیں گے۔”(۷۵)

اس روایت کے اطلاق کا تقاضا یہ ہے کہ اس مر د پر وہ عورت حرام ابدی ہوجائے گی خواہ حکم سے جاہل ہی کیوں نہ ہو اور دخول بھی نہ کرے۔

البتہ اس روایت کے مقابلے میں عبد الرحمن بن حجاج کی روایت صحیحہ کہتی ہے:

سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَ لَهَا زَوْجٌ وَ هُوَ لَا يَعْلَمُ، فَطَلَّقَهَا الْأَوَّلُ أَوْ مَاتَ عَنْهَا ثُمَّ عَلِمَ الْأَخِيرُ أَ يُرَاجِعُهَا؟ قَالَ: لَا حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا .”“م یں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جو لاعلمی میں کسی شوہر دارعورت سے شادی کرتا ہے۔ پس اگر سابق شوہر اس کو طلاق دے یا وہ مرجائے اور دوسرے کو اس کا علم ہوجائے تو کیا وہ رجوع کر سکتا ہے؟ فرمایا: جب تک اس کی عدت ختم نہ ہوجائے وہ رجوع نہیں کرسکتا۔”(۷۶)

یہ روایت جہالت اور لاعلمی کو بیان کر رہی ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے لاعلمی کی صورت میں حرام ابدی واقع نہیں ہوگا خواہ دخول کرے یا نہ کرے۔

بنا بر ایں اس روایت کے ذریعے گزشتہ روایت کو تخصیص دینا ضروری ہوجائے گا۔ نتیجتاً علم کی صورت میں حرام ابدی واقع ہوجائے گا اور لاعلمی کی صورت میں نہیں ہوگا ۔نیز دونوں صورتوں میں دخول کرنے یا نہ کرنے میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔

البتہ عبد الرحمن کی روایت صحیحہ کے مقابلے میں ایک دوسری صحیحہ بھی ہے جو زرارہ نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل کی ہے:

إِذَا نُعِيَ الرَّجُلُ إِلَى أَهْلِهِ أَوْ أَخْبَرُوهَا أَنَّهُ قَدْ طَلَّقَهَا، فَاعْتَدَّتْ، ثُمَّ تَزَوَّجَتْ، فَجَاءَ زَوْجُهَا الْأَوَّلُ، فَإِنَّ الْأَوَّلَ أَحَقُّ بِهَا مِنْ هَذَا الْأَخِيرِ، دَخَلَ بِهَا الْأَوَّلُ أَوْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا، وَ لَيْسَ لِلْآخَرِ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا أَبَداً، وَ لَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا .”“کس ی شخص کے گھر والوں کو اس کی موت کی خبر ملے یا یہ خبر ملے کہ شوہر نے اس کو طلاق دی ہے ، وہ عدت گزارنے کے بعد دوسری شادی کرلے۔ پھر اس کا سابق شوہر پلٹ آئے تو سابق شوہر بعد والے شوہر سے زیادہ حقدار ہے، خواہ سابق شوہر نے دخول کیا ہو یا نہ، اور دوسرے شوہر پر ہمیشہ کے لئے اس کے ساتھ شادی کرنا حرام ہو جائے گا اور اس عورت کو دخول کی وجہ سے مہر بھی مل جائے گا ۔ ”(۷۷)

یہ روایت دخول کرنے کی صورت میں بعد والے شوہر پر اس عورت کے حرام ابدی ہونے پر دلالت کرتی ہے۔

اگر دوسری صحیحہ کی طرح اس روایت میں بھی صرف لاعلمی کی جہت کو مد نظر رکھا جائے تو یہ روایت ، دوسری روایت سے اخص مطلق ہوجائے گی۔ پس یہ دخول نہ کرنے کی صورت کے ساتھ خاص ہو جائے گی نتیجتاً لاعلمی اور عدم دخول کی صورت میں حرام ابدی واقع نہیں ہوگا ؛ لیکن لاعلمی کے ساتھ دخول کرنے کی صورت میں حرام ابدی ہوجائے گا۔ علم کی صورت میں حرام ابدی ہونا موثقہ ادیم سے ثابت ہے۔ اس طرح ہم متن میں ذکر کردہ حکم کا نتیجہ لے سکتے ہیں۔

لیکن اگر لاعلمی کی جہت کے لحاظ سے تیسری روایت کو مطلق مان لیا جائے تو دوسری اور تیسری روایت کے درمیان عام و خاص من وجہ کی نسبت ہوگی۔ اور لاعلمی کے ساتھ دخول کرنے کی صورت میں دونوں روایتیں متعارض ہوں گی اور ساقط ہوجائیں گی ۔ دونوں کے ساقط ہونے کے بعد موثقہ ادیم کے اطلاق سے رجوع کرنا ضروری ہوجائے گا ؛ کیونکہ اس کے لئے مقید بننے والی روایت (دوسری روایت) معارض کی وجہ سے ساقط ہوگئی ہے ؛ لہذا اس طرح بھی ہم وہی نتیجہ لے سکیں گے۔

۱۴ ۔ شوہر دار عورت کے ساتھ زنا کرنے کی صورت میں حرام ابدی ہونے کی دلیل: یہ مشہور فتویٰ ہے(۷۸) ؛ بلکہ اس پر اجماع ہونے کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے۔ اس حکم کو ثابت کرنے کے لئے مندرجہ طریقوں سے استدلال کیا گیا ہے:

الف) اولویت قطعیہ کے دعویٰ سے تمسک کرنا:

جب شوہر دار عورت کے ساتھ شادی کرنے سے وہ اس مرد پر حرام ابدی ہو جاتی ہے تو اس کے ساتھ زنا کرنے سے بطریق اولیٰ حرام ابدی ہوجائے گی۔

اس استدلال پر یہ اشکال ہوتا ہے کہ شرعی احکام تعبدی ہیں اور ہمارے پاس ان کے ملاک کو معلوم کرنے کا کوئی راستہ نہیں ہے؛ لہذا یہ اولویت صحیح نہیں ہے۔

ب)فقہ رضوی کے مذکورات سے تمسک کرنا:

فقہ رضوی میں کہا گیا ہے کہ جو شخص کسی شوہر دار عورت سے زنا کرے خواہ وہ عورت پاکدامن ہو یا نہ ہو، پھر اس کا شوہر اسے طلاق دے دے یا وہ مرجائے اور زانی اس عورت کے ساتھ شادی کا ارادہ کرے تو وہ اس کے لئے کبھی بھی حلال نہیں ہوگی۔(۷۹)

اس پر یہ اشکال ہے کہ حضرت امام رضا علیہ السلام کی طرف اس کتاب “فقہ رضوی”کی نسبت ثابت نہیں ہوئی ہے تاکہ ہم اس پر اعتماد کریں۔

ج) بعض فقہاء کے نقل کردہ دعوائے اجماع سے تمسک کرنا:

اس بات پر یہ اشکال ہے کہ اجماع کا واقع ہونا ثابت نہیں ہے۔ بالفرض ثابت بھی ہوجائے تو یہ اجماع حجت نہیں ہے ؛ کیونکہ اس کے اجماع مدرکی ہونے کا احتمال ہے۔

جب حرام ابدی کی کوئی دلیل ثابت نہ ہو تو حلال ہونے کو ثابت کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے عموم سے تمسک کیا جا سکتا ہے:( ...وَ أُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَالِكُمْ ...) “...اور ان کے علاوہ باقی عورتیںد تم پر حلال ہںح...”(۸۰) لیکن مشہور کی مخالفت سے بچتے ہوئے احتیاط کی رعایت کرنا ایک لازمی امر ہے۔

یہ تمام احکام شوہر دار عورت کے ساتھ شادی کرنے یا اس کے ساتھ زنا کرنے کے احکام تھے ؛ لیکن عدت گزارتی عورت کے ساتھ شادی کرنے یا زنا کرنے کے احکام عدت کی بحث میں بیان کئے جائیں گے۔


دودھ پلائی کے احکام

اگر کوئی عورت ، کسی دوسری عورت کے بچے کو بیان کیے جانے والے شرائط کے ساتھ دودھ پلائے تو اس کے ساتھ نکاح کرنا حرام ہوجاتا ہے اس کے علاوہ مندرجہ ذیل آثار بھی اس پر مرتب ہوتے ہیں:

۱ ۔ دودھ پلانے والی عورت ، اس بچے کی ماں بن جاتی ہے اور دودھ کا مالک اس بچے کا باپ بن جاتا ہے۔ ان دونوں کے بھائی اس کے چچا اور مامو بن جاتے ہیں اور ان کی بہنیں اس کی خالہ اور پھوپھی ہوں گی۔ ان دونوں کی اولاد اس کے بہن بھائی بنے گی۔ نیز دودھ پلانے والی عورت اس بچے کی اولاد کے لئے دادی بنے گی اوردودھ کا مالک ان کا دادا بنے گا۔

رضاعی رشتوں کے محرم بننے کے لئے قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ حرام کا سبب بننے والے گزشتہ سات نسبی رشتوں میں سے کوئی بھی رشتہ رضاع کے ذریعے وجود میں آجائے تو حرام ہونے کا سبب بنے گا ورنہ نہیں۔ سوائے ایک استثناء کے ، کہ اگر ولادت کے ذریعے یہ رشتہ وجود میں آتا تو گزشت عناوین میں سے ایک کا لازمہ ہوتا مگر رضاع میں ایسا نہیں ہے۔ مثلا اگر کوئی عورت دوبھائیوں میں سے کسی ایک کو دودھ پلائے تو وہ دودھ پینے والے پر اس کی ماں ہونے کی وجہ سے حرام ہوجائے گی ؛ لیکن دوسرے بھائی پر حرام نہیں ہوگی۔ کیونکہ وہ دودھ پلائی کی وجہ سے اس کے بھائی کی ماں بن گئی ہے ۔ ماں بننے کا یہ عنوان نسبی رشتوں میں بیان کئے گئے عنوان کی طرح نہیں ہے کیونکہ نسب میں دو عنوانات کی وجہ سے ماں حرام ہوجاتی ہے : ا۔ نسبی ماں ہو ؛ ۲ ۔ باپ کی زوجہ ہو۔

۲ ۔ رضیع (دودھ پینے والے بچے) کے باپ پردایہ کی نسبی بیٹیاں حرام ہوجاتی ہیں نہ کہ رضاعی بیٹیاں۔

رضیع پر دودھ کے مالک کی نسبی اور رضاعی بیٹیاں حرام ہوجاتی ہیں۔ یہ دو مسئلے مذکورہ قاعدہ کلیہ سے مستثنیٰ قرار پائے ہیں۔

۳ ۔ رضیع ، صاحب لبن کی تمام اولاد پر حرام ہوگا خواہ ولادت کے لحاظ سے ہوں یا رضاعی ۔ نیز دایہ کی صرف ان اولاد پر حرام ہوگا جو ولادت کے لحاظ سے ہوں نہ کہ رضاعی۔

۴ ۔ رضیع کے باپ کی دوسری اولاد، جنہوں نے اس دایہ کا دودھ نہیں پیا ہے،کی شادی دایہ کی نسبی اولاد اور صاحب لبن کی مطلق اولاد کے ساتھ جائز ہونا فقہاء کے نزدیک اختلافی مسئلہ ہے۔

۵ ۔ رضاعت کی وجہ سے حرام ہونے میں فرق نہیں پڑتا کہ عقد پہلے دودھ پلایا جائے یا عقد کے بعد میں۔ پس اگر کسی کی بیوی بچی ہو اور اس کی بیٹی یا اس کی دوسری بیوی اس بچی کو دودھ پلائے تو وہ بچی اس پر حرام ہوجائے گی کیونکہ وہ اس کی رضاعی بیٹی بن گئی ہے۔ اسی طرح دوسری مثالیں بھی ہیں۔

دلائل:

۱ ۔ دودھ پلانا نکاح کے حرام ہونے کا سبب بننے کی دلیل: یہ حکم ضروریات دین میں سے ہے اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان اس پر دلالت کر رہا ہے:( حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ...أُمَّهَاتُكُمُ الَّتىِ أَرْضَعْنَكُمْ وَ أَخَوَاتُكُم مِّنَ الرَّضَاعَة... ) “تم پر حرام کر دی گئی ہیں تمہاری وہ مائںٹ جو تمہںں دودھ پلا چکی ہوں اور تمہاری دودھ شریک بہنںی...”(۸۱) اس کے علاوہ پیغمبر اکرم ؐ کی یہ حدیث بھی اسی حکم پر دلالت کر رہی ہے:

يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ .”“نسب ک ی وجہ سے حرام ہونے والی تمام چیزیں رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہوجاتی ہیں۔”(۸۲)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی یہ حدیث بھی اسی حکم پر دلالت کر رہی ہے:

يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الْقَرَابَةِ .”“قرابت ک ی وجہ سے حرام ہونے والی تمام چیزیں رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہوجاتی ہیں۔”(۸۳)

یہ دلیلیں قاعدہ کلیہ کے طور پر ذکر کی گئی ہیں ورنہ اس بارے میں اتنی حدیثیں ہیں جو شمار کی گنجائش سے باہر ہیں۔

۲ ۔ اس بات کی دلیل کہ دایہ، رضیع کی ماں بنتی ہے اور صاحب لبن اس کا باپ...: یہ حکم اس لحاظ سے لگایا جاتا ہے کہ اگرچہ آیت مجیدہ ماؤں اور بہنوں سے متعلق ہے ؛ لیکن روایات کے ذریعے آیت کے عموم کا استفادہ کرنے سے حرام ہونا صرف انہی دونوں کے ساتھ مختص ہونے کا تقاضا نہیں کرتی ، اگرچہ بعض اہل سنت کی طرف اس بات کی نسبت دی گئی ہے۔(۸۴)

۳ ۔ حرام ہونے کا حکم رضاعت کے ذریعے حاصل ہونے والے مذکورہ سات عناوین میں منحصر ہونے اور ان کے لوازم کے لئے ثابت نہ ہونے کی دلیل: یہ حکم پیغمبر اکرم ؐ کی گزشتہ روایت سے اخذ کیا گیا ہے: “يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ .”

اس حدیث میں ظاہرا صرف وہی عناوین پیش نظر ہیں جن کا حرام ہونا شریعت میں ثابت ہے اور وہ سات ہی ہیں ان کے لوازم اس میں شامل نہیں ہیں۔

بالفرض ہم اس حکم سے دستبراد ہو جائیں اور یہ بتایا جائے کہ یہ رضاعی بہن بھائیوں کو اپنے بہن بھائی جیسے قرار دینے والی دلیل کے اجمال کو قبول کرے اور یہ کہا جائے کہ یہ بھی اسی عموم میں شامل ہے تو یہاں پر اصل کی طرف رجوع کرنا ضروری ہے وہ اصل( اور قانون) جو قرآن کریم کی اس آیت کریمہ سے حاصل ہوتی ہے( ...وَ أُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَالِكُمْ ...) (۸۵) جس طرح مخصص منفصل کے اقل اور اکثر کے درمیان مردد ہونے کی صورت میں اس قانون اور اصل کا یہی تقاضا ہے ، اور دونوں صورتوں میں نتیجہ ایک ہی ہے۔

دلیل تنزیل سے منزلہ کے عمومیت کے استفادہ ہونے کے بارے محقق میر محمد باقر داماد صاحب کا جونظریہ ہے وہ واضح ہوتا ہے ، انہوں نے اسی بارے میں ایک کتاب بھی لکھی ہے اور اپنے اس قول کی نسبت مشہور کی طرف دی ہے ۔

اس بارے میں نظر یہ کے اختلاف کا اثر بہت زیادہ ہے ، یہاں پر مشہور کے قول کے مطابق دودھ پلائی سے جو محرم ہوتے ہیں ایک طرف سے اس کا دائرہ دودھ پینے والے اور اسکے بچے شامل ہیں اور دوسری طرف سے دودھ پلانے والی اور دودھ کا مالک او ان دونوں کی اولاد اور اولاد کی اولاد شامل ہیں ،اور ان کے علاوہ کسی اور کو شامل نہیں ہوتا ، کیونکہ وہ سات عناوین صرف انہیں میں منحصر ہے ،جب کہ اگر ہم اس نازل منزلہ کو عمومیت بخشیں تو یہ محرم ہونا خود دودھ پینے والے اور دودھ پلانے والی اور دودھ کے مالک کے اصول اور فروع کے علاوہ جو لوگ ان دونوں کے طبقہ میں ہوں ان کوبھی شامل ہوتا ہے ۔

یہاں پر صرف ایک استثناء ہے جو نمبر ۴ اور ۵ کے ذیل میں انشاء اللہ بیان ہو گا۔

۴ ۔ رضیع کے باپ پر دایہ کی بیٹیاں حرام ہونے کی دلیل: اگرچہ قاعدہ اس بات کا تقاضا نہیں کرتا کیونکہ اس کے ساتھ ان لڑکیوں کی نسبت صرف یہ ہے کہ وہ اس کے بیٹے کی بہنیں ہیں۔ اور باب نسب میں بیٹے کی بہن ہونا کوئی ایسا عنوان نہیں ہے جو محرمات میں سے ہو۔ باب نسب میں لڑکیاں دو عنوان سے حرام ہوجاتی ہیں : ۱ ۔ بیٹی ہوں، ۲ ۔ ربیبہ ہوں۔

مذکورہ حکم کی دلیل ایوب بن نوح کی روایت صحیحہ ہے:

كَتَبَ عَلِيُّ بْنُ شُعَيْبٍ إِلَى أَبِي الْحَسَنِ علیه السلام:‏ امْرَأَةٌ أَرْضَعَتْ بَعْضَ وُلْدِي، هَلْ يَجُوزُ لِي أَنْ أَتَزَوَّجَ بَعْضَ وُلْدِهَا؟ فَكَتَبَ علیه السلام:لَا يَجُوزُ ذَلِكَ لَكَ،لِأَنَّ وُلْدَهَا صَارَتْ بِمَنْزِلَةِ وُلْدِكَ .”“عل ی بن شعیب نے حضرت ابوالحسن علیہ السلام سے بذریعہ کتابت پوچھا: ایک عورت نے میری بعض اولاد کو دودھ پلایا ہے۔ کیا میں اس کی بعض اولاد کے ساتھ شادی کرسکتا ہوں؟ امام ؑ نے جواب میں لکھا: تیرے لئے یہ جائز نہیں ہے؛ کیونکہ اس کی اولاد تیری اولاد کی مانند ہو گئی ہے۔”(۸۶)

اس کے علاوہ بھی بعض روایات اس حکم پر دلالت کرتی ہیں۔

حرمت کے حکم کو صرف دایہ کی نسبی بیٹیوں کے ساتھ مختص کرنے اور رضاعی بیٹیوں کو شامل نہ کرنے کی وجہ ،روایت میں ذکر ہونے والا کلمہ “ولد” ہے ۔ اس کلمے کا ظاہر صرف نسبی اولاد ہیں۔نسبی اولاد کے علاوہ دوسری اولاد کے لحاظ سے اصالۂ حلیت سے تمسک کیا جائے گا جو( ...وَ أُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَالِكُمْ ...) سے اخذ کیا جاتا ہے:

۵ ۔ رضیع کے باپ پر صاحب لبن کی بیٹیاں حرام ہونے کی دلیل:اس حکم کو فقہاء اس طرح تعبیر کرتے ہیں: رضیع کا باپ ، صاحب لبن کی بیٹیوں سے نکاح نہیں کر سکتا ، خواہ نسبی ہوں یا رضاعی۔ اگرچہ گزشتہ وضاحت کی روشنی میں اس مقام پر بھی قاعدے کا تقاضا حرام نہ ہونا ہے۔ مذکورہ حکم پر علی بن مہزیار کی روایت صحیحہ دلالت کر رہی ہے:

سَأَلَ عِيسَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ عِيسَى أَبَا جَعْفَرٍ الثَّانِيَ علیه السلام: أَنَّ امْرَأَةً أَرْضَعَتْ لِي صَبِيّاً فَهَلْ يَحِلُّ لِي أَنْ أَتَزَوَّجَ ابْنَةَ زَوْجِهَا؟ فَقَالَ لِي: مَا أَجْوَدَ مَا سَأَلْتَ، مِنْ هَاهُنَا يُؤْتَى أَنْ يَقُولَ النَّاسُ: حَرُمَتْ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ،‏ مِنْ قِبَلِ لَبَنِ الْفَحْلِ، هَذَا هُوَ لَبَنُ الْفَحْلِ لَا غَيْرُهُ. فَقُلْتُ لَهُ:الْجَارِيَةُ لَيْسَتْ ابْنَةَ الْمَرْأَةِ الَّتِي أَرْضَعَتْ لِي، هِيَ ابْنَةُ غَيْرِهَا، فَقَالَ: لَوْ كُنَّ عَشْراً مُتَفَرِّقَاتٍ مَا حَلَّ لَكَ شَيْ‏ءٌ مِنْهُنَّ، وَ كُنَّ فِي مَوْضِعِ بَنَاتِكَ .”“ع یسیٰ بن جعفر بن عیسیٰ نے حضرت امام محمد تقی علیہ السلام سے پوچھا کہ ایک عورت نے مجھے بچپنے میں دودھ پلایا ہے کیا میں اس کے شوہر کی بیٹی سے شادی کر سکتا ہوں؟ امام ؑ نے فرمایا: تو نے بہت اچھا سوال کیا۔ اسی وجہ سے لوگ کہتے ہیں کہ فحل کے دودھ کی وجہ سے اس کی بیوی اس پر حرام ہوجاتی ہے۔ یہی فحل کا دودھ ہی تو ہے۔(۸۷) میں نے عرض کیا: وہ لڑکی تو مجھے دودھ پلانے والی عورت کی بیٹی نہیں ہے؛ بلکہ کسی اور کی ہے۔ فرمایا: اس طرح کی اور بھی دس ہی کیوں نہ ہو وہ تمہارے اوپر حلال نہیں ہوں گی؛ کیونکہ وہ وہ تمہاری بیٹیوں کی مانند ہیں۔”(۸۸)

یہاں پرصاحب لبن کی رضاعی بیٹیوں کا بھی حکم میں شامل ہونا اس فرض کی بنا پر ہے کہ فحل ایک ہی ہے؛ لہذا “يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ. ”کے اطلاق سے تمسک کرتے ہوئے رضاع، نسب کا قائم مقام بن جائے گا۔چونکہ عل ی ابن مہزیار کی صحیحہ کی وجہ سے نسبی بیٹیاں حرام ہوجاتی ہیں؛ لہذا مذکورہ اطلاق سے تمسک کرتے ہوئے رضاعی بیٹیاں بھی حرام ہوجائیں گی۔

۶ ۔ صاحب لبن کی نسبی اور رضاعی بیٹیوں پر رضیع کے حرام ہونے کی دلیل: یہ لڑکیاں ، ماں اور باپ دونوں کی طرف سے یا صرف باپ کی طرف سے اس کی بہنیں ہیں۔ اورحرام ہونے والے عناوین میں سے ایک بہن کا عنوان ہے؛ لہذا رضاعی بہنیں بھی حرام ہوجائیں گی ۔

دایہ کی نسبی اولاد کے حرام ہونے کی دلیل: یہ اولاد ماں کی طرف سے اس کے بھائی شمار ہوتی ہیں لہذا حرام ہیں۔

دایہ کی رضاعی اولاد کے حرام نہ ہونے کی دلیل: جیسا کہ بعد میں بیان کیا جائے گا کہ حرام کا سبب بننے کے لئے فحل کا ایک ہونا شرط ہے اور اس مورد میں فحل ، ایک نہیں ہے۔

۷ ۔ رضیع کے باپ کی اولاد کی شادی صاحب لبن کی نسبی اور رضاعی اولاد کے ساتھ کرنے کا حکم: شیخ طوسی ؒ نے “نہایۃ” اور “خلاف” میں اس شادی کے جائز نہ ہونے کو اختیار کیا ہے، اس وضاحت کے ساتھ کہ علی ابن مہزیار کی گزشتہ صحیحہ میں مذکور علت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ صاحب لبن کی بیٹیاں رضیع کے باپ کی بیٹیوں کی مانند ہیں۔ نیز ایوب بن نوح کی صحیحہ میں مذکور علت ، یہ بیان کررہی ہے کہ دایہ کی بیٹیاں رضیع کے باپ کی بیٹیوں کی طرح ہیں۔ اس کا لازمہ یہ ہے کہ رضیع کے باپ کی اولاد ، صاحب لبن اور دایہ کی بیٹیوں کے بھائی شمار ہوتی ہیں؛ لہذا ان کے آپس میں شادی کرنا جائز نہیں ہے۔(۸۹)

اس بات پر اشکال ہےکیونکہ مذکورہ دونوں روایتوں میں تنزیل کو صرف رضیع کے باپ ہونے کے لحاظ سے ثابت کیا گیا ہے؛ لہذا اس کا لازمہ یہ نہیں ہے کہ رضیع کے باپ کی اولاد صاحب لبن اور دایہ کی بیٹیوں کے بہن بھائی ہوں۔ کیونکہ تعبدی احکام اپنے دائرے سے خارج نہیں ہوں گے ، خصوصا جب کوئی ملازمۂ شرعیہ بھی نہ ہو۔

بنا بر ایں( ...وَ أُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَالِكُمْ ...) (۹۰) کے عموم سے تمسک کرتے ہوئے جواز کا حکم دینا مناسب ہے۔

۸ ۔ حرام ہونے کے لئے رضاع کے عقد سے پہلے یا بعد میں ہونے میں کچھ فرق نہ ہونے کی دلیل: حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے محمد بن مسلم نے یہ روایت صحیحہ نقل کی ہے:

لَوْ أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ جَارِيَةً رَضِيعَةً فَأَرْضَعَتْهَا امْرَأَتُهُ فَسَدَ النِّكَاحُ .”“اگر کوئ ی شخص کسی دودھ پیتی ہوئی بچی سے شادی کرے پھر اس کی بیوی اس بچی کو دودھ پلائے تو نکاح باطل ہوجاتا ہے۔”(۹۱)

اس کے علاوہ دوسری روایات بھی اسی حکم پر دلالت کرتی ہیں۔

بلکہ اس مقام پر نص خاص کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہی اطلاق کافی ہے جو رضاع کو نسب کا درجہ دیتا ہے۔

دودھ پلائی سے محرم بننے کی شرائط:

جب تک درج ذیل شرائط نہ ہوں ، دودھ پلانا حرام ہونے کا سبب نہیں بنتا:

۱ ۔ دودھ کے لئے شرط ہے کہ وہ شرعی ولادت کا محصول ہو۔

۲ ۔ دودھ پستان سے پیا جائے ۔ اس کے علاوہ دوسرے طریقوں سے پینا کافی نہیں ہے جیسے دودھ کو دوہنے کے بعد پلایاجانا۔

۳ ۔ رضیع کی عمر دو سال سے زیادہ نہ ہو۔

۴ ۔ دودھ خالص ہو۔ اگراس میں کوئی چیز ملا دی جائے کہ اسے دودھ نہ کہا جائے تو کافی نہیں ہے۔

۵ ۔ پورا دودھ ایک ہی آدمی سے ہونا چاہئے۔ اگر عورت اپنے پہلے شوہر کےساتھ بچہ دار ہوجائے پھر کسی دوسرے سے شادی کرنے کی وجہ سے حاملہ ہوجائے اور بچہ دار ہونے سے پہلے ، ولادت قبلی کا دودھ کسی بچے کو دس بار پلائے پھر دوسرے شوہر کے ساتھ بچہ دار ہونے کے بعدپانچ بار مزید دودھ پلائے تویہ حرام ہونے کے لئے کافی نہیں ہے۔ پہلی اور بعد کی دودھ پلائی کے درمیان فاصلہ ڈالے بغیر پلائے یا فاصلہ ڈالے ، جیسا کہ بعد میں بیان ہوگا کہ محرم بننے کے لئے دودھ پلائی کے اوقات میں فاصلہ نہیں ڈالنا چاہئے۔

۶ ۔ دایہ ایک ہی ہونا چاہئے۔ پس اگر کسی مرد کی دو بیویاں ہوں اور وہ دونوں مشترکہ طور پر کسی بچے کو پندرہ بار دودھ پلائیں تو یہ محرم بننے کا سبب نہیں بنے گا۔

۷ ۔ دودھ پلانا گوشت کے بڑھنے اور ہڈی کے مضبوط ہونے کا سبب بن جائے۔

اس شرط کے پورا ہونے کو ثابت کرنے کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ ایک دن اور رات دودھ پلایا جائے یا دس بار مسلسل دودھ پلانا صادق آئے ۔ کہا گیا ہے کہ پندرہ بار مسلسل دودھ پلانا صادق آئے۔

۸ ۔ دودھ پلائی کی مقدار ( ۱۰ یا ۱۵ دن) اور وقت ( ایک دن اور رات)کی حدبندی میں یہ شرط ہے کہ درمیان میں کسی اور رضاع کا فاصلہ نہ ڈالے۔ اس کے برعکس کیفیت ( گوشت بڑھنے اور ہڈی مضبوط ہونے)کی حد بندی میں ایسی کوئی شرط نہیں ہے۔

لیکن کھانے پینے کا فاصلہ نہ ڈالنا ، کیفیت اور پندرہ بار والی مقدار میں شرط نہیں ہے ۔ اس کے برعکس وقت کی حدبندی میں یہ شرط ہے۔

دلائل:

۱ ۔دودھ کے لئے شرعی ولادت کے محصول ہونے کی شرط:اس شرط میں کسی کو اختلاف نہیں ہےاور عبد اللہ بن سنان کی اس روایت سے اس شرط کو کیا جا سکتا ہے:

سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام عَنْ لَبَنِ الْفَحْلِ، قَالَ: هُوَ مَا أَرْضَعَتِ امْرَأَتُكَ مِنْ لَبَنِكَ وَ لَبَنِ وَلَدِكَ، وَلَدَ امْرَأَةٍ أُخْرَى، فَهُوَ حَرَامٌ .”“م یں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے لبن فحل کے بارے میں سوال کیا تو آپ ؑ نے فرمایا: یہ وہ دودھ ہے جو تمہاری بیوی تمہارے اور تمہارے بچے کے دودھ سے کسی دوسری عورت کے بچے کو پلائے۔ پس وہ محرم (بنتا)ہے۔”(۹۲)

اس وضاحت کے ساتھ کہ دودھ کی نسبت فحل اور بچے کی طرف دینا وطی ، حمل اور ولادت کے شرط ہونے کی دلیل ہے۔ اور “امْرَأَتُكَ ” ک ی تعبیر ،زنا سے پیدا ہونا کافی نہ ہونے بلکہ عقد شرعی کے شرط ہونے پر دلالت کرتی ہے۔

اس کے علاوہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی یونس بن یعقوب کی صحیح روایت بھی کسی حد تک اسی حکم پر دلالت کرتی ہے:

سَأَلْتُهُ عَنِ امْرَأَةٍ دَرَّ لَبَنُهَا مِنْ غَيْرِوِلَادَةٍ، فَأَرْضَعَتْ جَارِيَةً وَ غُلَاماً مِنْ ذَلِكَ اللَّبَنِ، هَلْ يَحْرُمُ بِذَلِكَ اللَّبَنِ مَا يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ؟ قَالَ: لَا .”“م یں نے امام ؑ سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا جو بچہ دار ہوئے بغیر ہی کثیر دودھ کی مالک ہے، اگر وہ کسی بچے یا بچی کو دودھ پلائے تو کیا رضاع سے حرام ہونے والی چیزیں اس طرح بھی حرام ہوجاتی ہیں؟ فرمایا: نہیں!”(۹۳)

۲ ۔ پستان سے دودھ پیناشرط ہونے کی دلیل: تمام ادلہ میں ، “ارضاع” اور “رضاعۃ” جیسے عنوانات پر حکم لگایا ہے جو عرفا ً پستان کو منہ لگائے بغیر پینے پر صادق نہیں آتا۔ اسی لئے اگر کوئی گائے کادودھ دوہنے کے ذریعے پی لے تو “ارتَضَعَ” نہیں کہا جاتا جبکہ اگر گائے کے تھن سے پی لے تو “ارتَضَعَ” کہا جاتا ہے۔

اگر یہ مان لیا جائے کہ پستان کو منہ لگائے بغیر پینے پر بھی ارتضاع صادق آتا ہے تو کہا جا سکتا ہے کہ انصراف کی وجہ سے ، “ ارتضاع” سے مراد عرف میں متداول معنی میں استعمال ہوا ہے جبکہ باقی معانی کا حکم اس آیت کے عموم سے معلوم ہوتا ہے:( ...وَ أُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَالِكُمْ ...) (۹۴)

۳ ۔ بچے کے دو سالہ ہونے سے پہلے دودھ پینا ضروری ہونے کی دلیل: یہ اصحاب کے نزدیک معروف حکم ہے(۹۵) جس پر حلبی کی روایت صحیحہ دلالت کررہی ہے: “لَا رَضَاعَ بَعْدَ فِطَامٍ .”“فطام یعنی دودھ چھڑانے کے بعد کوئی رضاع نہیں۔”(۹۶) اس روایت کا ظاہر یہ ہے کہ اصل معیار دودھ چھڑانا ہے خواہ دودھ چھڑانے کی عمر(دو سال) کو نہ بھی پہنچے ۔لیکن حماد بن عثمان کی مندرجہ ذیل روایت کی وجہ سے اس معیار سے دستبردار ہونا پڑے گا:

سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام يَقُولُ: لَا رَضَاعَ بَعْدَ فِطَامٍ، قُلْتُ:وَ مَا الْفِطَامُ؟ قَالَ: الْحَوْلَيْنِ الَّذِي قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ .”“م یں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ فطام کے بعد کوئی رضاع نہیں ہے۔ عرض کیا: فطام کیا ہے؟ فرمایا: دوسال ۔ وہی جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔”(۹۷)

۴ ۔ دودھ کا خالص ہونا شرط ہونے کی دلیل: محرم بننا، دودھ پلائی کا عنوان صادق آنے پر موقوف ہے اور جب دودھ میں ایسی ملاوٹ ہو جس کی وجہ سے اسے دودھ نہ کہاجا ئے تو دودھ پلائی کا عنوان صادق نہیں آتا۔

۵ ۔ دودھ کا ایک ہی فحل سے ہونا ضروری ہونے کی دلیل: یہ مشہور فتویٰ ہے۔(۹۸) جسے عبد اللہ بن سنان کی گزشتہ روایت صحیحہ سے اخذ کیا جا سکتا ہے جس میں کہا گیا ہے: “هُوَ مَا أَرْضَعَتِ امْرَأَتُكَ مِنْ لَبَنِكَ ” ک یونکہ اگرفحل متعدد ہوں تو“لَبَنِكَ ” کا عنوان صادق نہ یں آتا۔

یہاں سے دایہ کا ایک ہونا ضروری ہونے کی شرط بھی واضح ہوجاتی ہے ؛ کیونکہ “امْرَأَتُكَ ” کا ظاہرآپ ک ی بیوی کی ذات ہے نہ کہ بیوی کی جنس۔

البتہ یہ دلیل زیاد بن سوقہ کی عنقریب بیان ہونے والی موثق روایت کے علاوہ ہے جس میں دونوں شرطوں کو صراحتا ً بیان کیا گیا ہے۔

۶ ۔ رضاع کی وہ مقدار جو محرم بننے کے لئے ضروری ہے اس میں اختلاف ہےاور اختلا ف کا سرچشمہ روایتوں کا مختلف ہونا ہے۔ لیکن اختلاف روایات کے باجود کیفیت کے بارے میں سب متفق ہیں ۔ نیز محرم بننے کے لئے رضاع ، کب گوشت کے بڑھنے اور ہڈیوں کے مضبوط ہونے کا باعث بنتا ہے اس میں بھی اتفاق پایا جاتا ہے۔

بلکہ ان روایتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ محرم بننے کے لئےمعیار کیفیت کی حدبندی ہی ہے اور مقدار اور وقت کی حدبندی ، کیفیت کو ثابت کرنے کے ذرائع ہیں۔ جیسا کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی علی بن رئاب کی روایت صحیحہ میں اس بات کو ہم واضح طور پر پاتے ہیں:

قُلْتُ: مَا يحرمُ مِنَ الرَّضَاعِ؟ قَالَ: مَا أَنْبَتَ اللَّحْمَ وَ شَدَّ الْعَظْمَ، قُلْتُ: فَيُحَرِّمُ عَشْرُ رَضَعَاتٍ؟ قَالَ: لَا؛ لِأَنَّهُ لَا تُنْبِتُ اللَّحْمَ وَ لَا تَشُدُّ الْعَظْمَ عَشْرُ رَضَعَاتٍ .”“م یں نے عرض کیا: کون سا رضاع حرام کنندہ ہے؟ فرمایا: وہ رضاع جو گوشت بڑھائے اور ہڈی کومضبوط کرے ۔ عرض کیا: پس دس مرتبہ دودھ پلانا حرام ہونے کا سبب بنے گا؟ فرمایا: نہیں ! کیونکہ دس مرتبہ دودھ پلانا گوشت بڑھنے اور ہڈیوں کے مضبوط ہونے کا سبب نہیں بنتا۔”(۹۹)

اس کے علاوہ دوسری روایات بھی موجود ہیں۔

روایات میں جو اختلاف پایا جاتا ہے وہ صرف مقدار کی حدبندی میں ہے۔ بعض روایات میں مسلسل دس مرتبہ دودھ پلانے پر اکتفا کیا گیا ہے جبکہ بعض روایتوں میں پندرہ بار دودھ پلانے کی شرط رکھی گئی ہے۔

پہلی قسم کی مثال، عمر بن یزید کی روایت صحیحہ ہے:

سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام عَنِ الْغُلَامِ يَرْضِعُ الرَّضْعَةَ وَ الثِّنْتَيْنِ، فَقَالَ: لَا يُحَرِّمُ، فَعَدَدْتُ عَلَيْهِ حَتَّى أَكْمَلْتُ عَشْرَ رَضَعَاتٍ، فَقَالَ: إِذَا كَانَتْ مُتَفَرِّقَةً فَلَا .”“م یں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک بچے کے بارے میں پوچھا کہ وہ ایک دو بار دودھ پیتا ہے۔ فرمایا: یہ حرام کا سبب نہیں بنے گا۔ پھر میں گننے لگا یہاں تک دس بار دودھ پلانے تک بیان کیا۔ فرمایا: اگر رضاع ، فاصلے کے ساتھ ہو تو بھی حرام کا سبب نہیں ہوگا۔”(۱۰۰)

دوسری قسم کی مثال، زیاد بن سوقہ کی موثق روایت ہے:

قُلْتُ لِأَبِي جَعْفَرٍ علیه السلام: هَلْ لِلرَّضَاعِ حَدٌّ يُؤْخَذُ بِهِ؟ فَقَالَ: لَا يُحَرِّمُ الرَّضَاعُ أَقَلَّ مِنْ يَوْمٍ وَ لَيْلَةٍ، أَوْ خَمْسَ عَشْرَةَ رَضْعَةً مُتَوَالِيَاتٍ مِنِ امْرَأَةٍ وَاحِدَةٍ، مِنْ لَبَنِ فَحْلٍ وَاحِدٍ لَمْ يَفْصِلْ بَيْنَهَا رَضْعَةُ امْرَأَةٍ غَيْرِهَا، فَلَوْ أَنَّ امْرَأَةً أَرْضَعَتْ غُلَاماً أَوْ جَارِيَةً عَشْرَ رَضَعَاتٍ مِنْ لَبَنِ فَحْلٍ وَاحِدٍ وَ أَرْضَعَتْهُمَا امْرَأَةٌ أُخْرَى مِنْ فَحْلٍ آخَرَ عَشْرَ رَضَعَاتٍ لَمْ يَحْرُمْ نِكَاحُهُمَا. ”“میں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے عرض کیا : کیا رضاع کے لئے کوئی حد ہے جسے اخذ کیا جاسکے؟ فرمایا: اگر رضاع ایک دن اور رات یامسلسل پندرہ بار پلانے سے کم ہو تو حرام ہونے کا سبب نہیں بنتا۔ (اور اس میں یہ بھی شرط ہے کہ ) ایک ہی دایہ کا دودھ ہو، دودھ کا مالک ایک ہو اور بیچ میں کوئی عورت اسے دودھ نہ پلائے۔ اگر کوئی عورت کسی بچے یا بچی کو ایک شوہر کی ملکیت سے دس مرتبہ دودھ پلائے پھر ان دونوں کو کوئی دوسری عورت کسی دوسرے شوہر کی ملکیت سے دس بار دودھ پلائے تو ان کا نکاح کرنا حرام نہیں ہوگا۔”(۱۰۱)

چونکہ دونوں روایتوں میں تعارض ہے اور کوئی مرجح بھی موجود نہیں ہے ؛ لہذا دونوں ساقط ہوجائیں گی اور ہر ایک کے مخصوص اثر کے لحاظ سے اصل کی طرف رجوع کرنا لازمی ہوجائے گا۔ پس جس بچے کو دس مرتبہ دودھ پلایا ہے اس کے عقد کے صحیح ہونے کے لحاظ سے “عدم ترتب اثر” کا استصحاب کیا جائے گا اور جواز نظر کے لحاظ سے برائت جاری ہوگی بشرطیکہ کوئی ایسا عموم نہ ہو جس سے تمسک کیا جا سکے۔

۷ ۔دودھ پلائی کی مقدار میں کسی دوسرے رضاع کا فاصلہ نہ ہونا ضروری ہونے کی دلیل: یہ حکم زیاد بن سوقہ کی موثق روایت اور عمر بن یزید کی روایت صحیحہ کی واضح دلالتوں کی وجہ سے لگایا جاتا ہے۔

وقت کی مدت میں کسی دوسرے رضاع کا فاصلہ نہ ہونے کی شرط اس لئے لگائی گئی ہے کہ عرفاً “ایک دن اور رات” کے عنوان سے مراد ، بغیر کسی فاصلے کے ایک دن اور رات ہے۔

کیفیت میں اس شرط کے ضروری نہ ہونے کی دلیل: چونکہ اس جہت سے نصوص مطلق ہیں ؛ لہذا دودھ پلانے کے ذریعے گوشت کا بڑھنا اور ہڈیوں کا مضبوط ہونا ہی لازمی ہے اور جب یہ وصف آجائے تو فاصلے کی کوئی اہمیت نہیں رہ جاتی۔

۸ ۔ پندرہ بار دودھ پلانے میں کھانے پینے کا فاصلہ نہ آنا ضروری نہ ہونے کی دلیل: زیاد بن سوقہ کی موثق روایت میں پندرہ بار دودھ پلانے میں جس فاصلے کا نہ ہونا ضروری قرار دیا گیا ہے وہ کسی دوسرے رضاع کا فاصلہ نہ ہونا ہے؛ لہذا پندرہ بار میں کھانے پینے کا فاصلہ آئے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس کے برعکس دس بار والی روایتوں میں صرف فاصلے کا ذکر ہے ؛ لہذا کھانے پینے کا فاصلہ بھی فاصلہ شمار ہوتا ہے۔

کیفیت میں کھانے پینے کا فاصلہ نہ ہونا ضروری نہ ہونے کی دلیل: کیفیت کی جہت سے روایات کو مطلق فرض کرتے ہوئے یہ شرط ہے کہ دودھ پلانے کے ذریعے گوشت بڑھے اور ہڈیاں مضبوط ہوں خواہ کسی بھی طرح سے کیوں نہ ہو۔

وقت کی مدت میں کھانے پینے کا فاصلہ نہ آنا ضروری ہونے کی دلیل: جب کھانے پینے کا فاصلہ آئے تو ایک دن اور رات کا عنوان صادق نہیں آتا۔

ہاں ! اگر تھوڑا پانی پی لے یا دوائی لے تو کوئی حرج نہیں ؛ کیونکہ ایک دن اور رات میں اس طرح پیش آنا رائج ہے اور عرفا ً دن اور رات صادق آنے میں کوئی مشکل بھی پیش نہیں آتی۔


عدّت کے احکام

عدت وہ مدت زمان ہے جس میں عورت ، شوہر سے جد اہونے یا شوہر کے مرنے کے بعد کسی اور مرد سے شادی نہیں کر سکتی۔

جو عورت کسی دوسرے کی عدت میں ہو اس کے ساتھ شادی کرنا جائز نہیں ہے۔

اگر مرد اور عورت میں سے ہر ایک کو یا کسی ایک کو اس بات کا علم ہو کہ عورت عدت گزار رہی ہے اور عدت کے زمانے میں شادی کرنا حرام ہے پھر بھی وہ شادی کرلیں تو دونوں ایک دوسرے پر حرام ابدی ہوجائیں گے خواہ دخول نہ بھی کرے۔ اگر دخول کرے تو اگرچہ وہ دونوں جاہل ہی کیوں نہ ہوں ایک دوسرے پر حرام ابدی ہو جائیں گے۔

دخول میں فرق نہیں پڑتا کہ قبل میں ہو یا دبر میں۔

دلائل:

۱ ۔ عدت گزارنے والی عورت کے شادی کرنا حرام ہونے کی دلیل: یہ حکم فقہ کے مسلمات میں سے ہے۔ قرآن مجید کی بعض آیات اس حکم پر دلالت کرتی ہیں۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

( وَإِذَاطَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْاْ بَيْنهَُم بِالمَْعْرُوفِ ...) “اورجب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے چکو اور ان کی عدت پوری ہو جائے تو انہیں اپنے (مجوزہ) شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو جب کہ وہ جائز طور پر ازدواج پر باہم راضی ہوں...”(۱۰۲)

اس آیت مجیدہ کا مفہوم ، مطلوبہ حکم پر دلالت کر رہا ہے۔

ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے:

( وَ الْمُطَلَّقَاتُ يَترََبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ ...) “اور طلاق یافتہ عورتیں تنق مرتبہ (ماہواری سے) پاک ہونے تک انتظار کریں...”(۱۰۳)

انتظار کرنا ضروری ہونے سے مراد،گزشتہ آیت مجیدہ کے قرینے سے ہی سہی، شادی کرنے سے اجتناب کرنا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد پاک بھی ہے:

( يَأَيهَُّا النَّبىِ‏ُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتهِِنَّ وَ أَحْصُواْ الْعِدَّة. ..) “اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کے لئے طلاق دے دیا کرو اور عدت کا شمار رکھو...”(۱۰۴)

جب تک عدت میں شادی کرنا حرام فرض نہ کیا جائے اس وقت تک احصائے عدت بے معنی ہوتا ہے۔

نیز ارشاد ہوتا ہے:

( وَ الَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَ يَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَترََبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشهُْرٍ وَ عَشْرًا فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكمُ‏ْ فِيمَا فَعَلْنَ فىِ أَنفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوف ...) “اور تم میںً سے جو وفات پا جائیںّ اوربیویاں چھوڑ جائیں تو وہ بیویاں چار ماہ دس دن اپنے آپ کو انتظار میںَ رکھںا، پھرجب ان کی عدت پوری ہو جائے تو دستور کے مطابق اپنے بارے میں جو فصلہ کریں اس کا تم پر کچھ گناہ نہیں ...”(۱۰۵)

اس آیت مجیدہ میں بھی عدت کے دوران شادی کرنا حرام فرض کئے بغیر انتظار کا وجوب ، اگرچہ سیاق کے قرینے سے ہی سہی، بے معنی ہوجاتا ہے۔

روایات میں سے عبد الرحمن بن حجاج کی عنقریب ذکر ہونے والی روایت اور دوسری روایتوں سے اس حکم کو اخذ کیا جا سکتا ہے۔

۲ ۔عدت میں یہ قید کہ کسی دوسرے شوہر سےعدت میں ہو: شرع مقدس میں عدت کا حکم تشریع ہونے کے بارے میں جو دلائل ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ شادی سے منع کرنا صاحب عدت کے احترام کے لئے ہے۔

اگر یہ حکم مشکوک ہوجائے تو زواج موقت کی ادلہ سے تمسک کیا جا سکتا ہے جو عدت کے دوران شادی کرنا جائز ہونے پر دلالت کرتی ہیں، البتہ اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے کہ دونوں عدتوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ جیسا کہ بعض روایات ہیں جن میں سے ایک محمد بن مسلم کی روایت صحیحہ ہے کہ انہوں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے متعہ کے بارے میں سوال کیا تو آپ ؑ نے فرمایا:

إِنْ أَرَادَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ أَمْراً جَدِيداً فَعَلَ، وَ لَيْسَ عَلَيْهَا الْعِدَّةُ مِنْهُ، وَ عَلَيْهَا مِنْ غَيْرِهِ خَمْسٌ وَ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً .”“اگر وہ کس ی امر جدید کا ارادہ رکھتا ہے تو انجام دے۔ عورت پر اسی مرد کی نسبت کوئی عدت نہیں ہے۔ اور کسی دوسرے کی نسبت ، عورت پر ضروری ہے کہ پینتالیس ۴۵ راتیں عدت گزارے۔ ”(۱۰۶)

۳ ۔ حرام ابدی ہونے کی دلیل: اس حکم کوثابت کرنے کے لئے روایات سے مدد لینا ضروری ہے۔ اس بارے میں روایتوں کے چار مجموعے ہیں:

الف) مطلَقا ً حرام ابدی ہونے پر دلالت کرنے والی روایتیں،

ب) مطلَقا ً حرام ابدی نہ ہونے پر دلالت کرنے والی روایتیں،

ج) حالت علم میں حرام ابدی ہونے اور لاعلمی کی صورت میں نہ ہونے پر دلالت کرنے والی روایتیں،

د) دخول کی صورت میں حرام ابدی ہونے اور عدم دخول کی صورت میں نہ ہونے پر دلالت کرنے والی روایتیں۔

پہلے مجموعے کی مثال، محمد بن مسلم کی روایت ہے:

سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام عَنِ الرَّجُلِ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ فِي عِدَّتِهَا، قَالَ: يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا وَ لَا تَحِلُّ لَهُ أَبَداً .”“م یں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جو عدت کے دوران کسی عورت کے ساتھ شادی کرتا ہے۔فرمایا: ان دونوں کے درمیان جدائی ڈالی جائے گی اور وہ عورت کبھی بھی اس کے لئے حلال نہ ہوگی۔ ”(۱۰۷)

اس روایت کی سند اشکال سے خالی نہیں ہے ؛ کیونکہ اس کے راویوں میں سے ایک عبد اللہ بن بحر ہے جس کی وثاقت ثابت نہیں ہے۔ مگر یہ کہ ہم اس قاعدے کے قائل ہوں کہ “تفسیر قمی” کے تمام راوی ثقہ ہیں۔(۱۰۸)

دوسرے مجموعے کی مثال، علی ابن جعفر کی روایت صحیحہ ہے جو انہوں نے حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام سے نقل کی ہے:

سَأَلْتُهُ عَنِ امْرَأَةٍ تَزَوَّجْتَ قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِيَ عِدَّتُهَا، قَالَ: يُفَرَّقُ بَيْنَهَا وَ بَيْنَهُ وَ يَكُونُ خَاطِباً مِنَ الْخُطَّابِ .”“م یں نے ایک ایسی عورت کے بارے میں سوال کیا جس نے عدت ختم ہونے سے پہلے شادی کر لی تھی۔ امام ؑ نے فرمایا: وہ دونوں جدا ہو جائیں گے اور عدت کے ختم ہونے کے بعد اس سے شادی کر سکے گا ”(۱۰۹)

قرب الاسناد میں اس روایت کی سند میں عبد اللہ بن حسن کا نام بھی ہے جو ایک مجہول الحال شخص ہے۔ مگر صاحب وسائل نے اس کو علی ابن جعفر کی اپنی کتاب سے نقل کیا ہے ۔ صاحب وسائل سے علی ابن جعفر تک کی سند صحیح ہے جیسا کہ ایک سے زائد بار کہا جا چکا ہے۔(۱۱۰)

تیسرے مجموعے کی مثال، اسحاق بن عمار کی موثق روایت ہے:

قُلْتُ لِأَبِي إِبْرَاهِيمَ علیه السلام: بَلَغَنَا عَنْ أَبِيكَ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا تَزَوَّجَ الْمَرْأَةَ فِي عِدَّتِهَا لَمْ تَحِلَّ لَهُ أَبَداً، فَقَالَ: هَذَا إِذَا كَانَ عَالِماً، فَإِذَا كَانَ جَاهِلًا فَارَقَهَا وَ تَعْتَدُّ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا نِكَاحاً جَدِيداً .”“م یں نے حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام سے عرض کیا: آپ ؑ کے پدر گرامی سے ہم تک یہ خبر پہنچی ہے کہ اگر کوئی مرد ایک ایسی عورت کے ساتھ شادی کرے جو عدت گزار رہی ہے تو اس پر وہ عورت کبھی حلا ل نہیں ہوگی۔ امام ؑ نے فرمایا: یہ حکم اس وقت ثابت ہوگا جب اسے عدت میں ہونے کا علم ہو؛ لیکن اگر وہ حکم شرعی سے لاعلم ہوتو ان دونوں کو الگ کیا جائے گا اور وہ عورت عدت گزارے گی پھرمرد دوبارہ نکاح کرکے اس کے ساتھ شادی کرے گا۔”(۱۱۱)

چوتھے مجموعے کی مثال، حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی حلبی کی روایت صحیحہ ہے:

سَأَلْتُهُ عَنِ الْمَرْأَةِ الْحُبْلَى يَمُوتُ زَوْجُهَا فَتَضَعُ،وَ تَزَوَّجُ قَبْلَ أَنْ تَمْضِيَ لَهَا أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَ عَشْراً، فَقَالَ: إِنْ كَانَ دَخَلَ بِهَا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا وَ لَمْ تَحِلَّ لَهُ أَبَداً وَ اعْتَدَّتْ بِمَا بَقِيَ عَلَيْهَا مِنَ الْأَوَّلِ، وَ اسْتَقْبَلَتْ عِدَّةً أُخْرَى مِنَ الْآخَرِ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ وَ إِنْ لَمْ يَكُنْ دَخَلَ بِهَا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا، وَ اعْتَدَّتْ بِمَا بَقِيَ عَلَيْهَا مِنَ الْأَوَّلِ وَ هُوَ خَاطِبٌ مِنَ الْخُطَّابِ .”“م یں نے ایسی حاملہ عورت کے بارے میں امام ؑ سے سوال کیا کہ اس کا شوہر مر جائے اور وہ چار مہینے دس دن گزرنے سے پہلے شادی کر لے۔ امام ؑ نے فرمایا: اگر دخول کیا ہے تو ان کے درمیان جدائی ڈالی جائے گی اور وہ عورت کبھی بھی اس پر حلال نہیں ہوگی ۔ وہ پہلی عدت کی باقیماندہ مقدار گزارے گی اور دوسرے شوہر کے لئے تین پاکیوں پر مشتمل ایک دوسری عدت گزارے گی ۔ اگر دخول واقع نہیں ہوا ہے تو ان میں جدائی ڈالی جائے گی اور باقیماندہ عدت گزارے گی۔ وہ شخص اس عورت کے ساتھ شادی کے طلب گاروں میں سے ایک ہوگا۔”(۱۱۲)

مناسب یہ ہے کہ ان تمام روایتوں کے مضامین کو اس حکم پر جمع کریں جس پر حلبی کی ایک دوسری روایت دلالت کر رہی ہے جو حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ہے:

إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ فِي عِدَّتِهَا وَ دَخَلَ بِهَا لَمْ تَحِلَّ لَهُ أَبَداً عَالِماً كَانَ أَوْ جَاهِلًا، وَ إِنْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا حَلَّتْ لِلْجَاهِلِ وَ لَمْ تَحِلَّ لِلْآخَرِ .”“اگر کوئ ی شخص کسی عدت گزارتی ہوئی عورت سے شادی کر ے اور دخول بھی کرے تو وہ عورت اس پر حرام ابدی ہوجائے گی خواہ وہ عالم ہو یا جاہل۔ لیکن اگر دخول نہ کرے تو جاہل پر حلال ہوگی جبکہ عالم پر حرام۔”(۱۱۳)

اس روایت کے مضمون کے مطابق گزشتہ چار مجموعوں کے اطلاق کو مقید کیا جائے گا۔

۴ ۔ حرام ابدی ہونے کے لئے مرد اور عورت میں سے کسی ایک کو علم ہونا کافی ہونے کی دلیل: اگر مرد کو علم ہو تو یہ حکم اسحاق بن عمار کی گزشتہ موثق روایت کے مطابق واضح ہے ؛ کیونکہ اس میں مرد کو علم ہونے کی صورت بیان ہوئی ہے۔

اگر عورت کو اس کا علم ہو تو ابن حجاج کی عنقریب ذکر ہونے والی روایت کے سیاق سے اس حکم کو اخذ کیا جا سکتا ہے۔ اس روایت کے اطلاق میں زوجہ بھی شامل ہے۔ اس عورت کے لئے رجوع کے ذریعے حلیت کا ثابت ہونا ہمارے مطلوب کو ثابت کرنے کے لئے کافی ہے۔

۵ ۔ اس بات کی دلیل کہ حرام ابدی کا سبب بننے والے علم سے مراد عدت اور حرمت دونوں کے بارے میں علم ہونا ہے۔گزشتہ روایات کے ظاہرسے مراد اگرچہ عدت کے بارے میں علم ہونا ہے ؛ لیکن عدت کے بارے میں علم ہونا عموما حرمت کے بارے میں علم ہونے کے ساتھ لازم و ملزوم ہے ؛ لہذا یہ ثابت ہوتا ہے کہ جو علم ، حرام ابدی کا سبب بنتا ہے وہ عدت اور حرمت دونوں کا ایک ساتھ علم ہونا ہے۔ اسی لئے حرام ابدی واقع ہونے کے لئے ان دونوں میں سے ایک کا علم ہونا کافی نہیں ہے۔

مندرجہ بالا طریقہ استدلال سے قطع نظر کرتے ہوئے ، اس حکم کو عبد الرحمن بن حجاج کی روایت صحیحہ سے واضح طور پر اخذ کیا جا سکتا ہے جو حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام سے مروی ہے:

سَأَلْتُهُ عَنِ الرَّجُلِ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ فِي عِدَّتِهَا بِجَهَالَةٍ أَ هِيَ مِمَّنْ لَا تَحِلُّ لَهُ أَبَداً؟ فَقَالَ: لَا، أَمَّا إِذَا كَانَ بِجَهَالَةٍ،فَلْيَتَزَوَّجْهَا بَعْدَ مَا تَنْقَضِي عِدَّتُهَا وَ قَدْ يُعْذَرُ النَّاسُ فِي الْجَهَالَةِ بِمَا هُوَ أَعْظَمُ مِنْ ذَلِكَ، فَقُلْتُ: بِأَيِّ الْجَهَالَتَيْنِ يُعْذَرُ بِجَهَالَتِهِ أَنَّ ذَلِكَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِ،أَمْ بِجَهَالَتِهِ أَنَّهَا فِي عِدَّةٍ؟ فَقَالَ: إِحْدَى الْجَهَالَتَيْنِ أَهْوَنُ مِنَ الْأُخْرَى، الْجَهَالَةُ بِأَنَّ اللَّهَ حَرَّمَ ذَلِكَ عَلَيْهِ، وَ ذَلِكَ بِأَنَّهُ لَا يَقْدِرُ عَلَى الِاحْتِيَاطِ مَعَهَا؛ فَقُلْتُ: وَ هُوَ فِي الْأُخْرَى مَعْذُورٌ؟ قَالَ: نَعَمْ إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا فَهُوَ مَعْذُورٌ فِي أَنْ يَتَزَوَّجَهَا؛ فَقُلْتُ: فَإِنْ كَانَ أَحَدُهُمَا مُتَعَمِّداً وَ الْآخَرُ بِجَهْلٍ، فَقَالَ: الَّذِي تَعَمَّدَ لَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَرْجِعَ إِلَى صَاحِبِهِ أَبَداً .”“م یں نے امام ؑ سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جو جہالت کی وجہ سے کسی عدت گزارتی عورت کے ساتھ شادی کرتا ہے، کیا وہ عورت اس مرد پر حرام ابدی ہوجائے گی؟ فرمایا: نہیں! لیکن اگر جہالت کی وجہ سے شادی کی ہے تو عدت ختم ہونے کے بعد شادی کرے ۔ لوگ جہالت کی وجہ سے اس سے بڑی چیزوں سے بھی معذور ہوتے ہیں۔ عرض کیا: ان دونوں میں سے کون سی جہالت معذور ہونے کا سبب بنتی ہے : حرمت سے جاہل ہونا یا عدت سے جاہل ہونا؟ فرمایا: ان دونوں جہالتوں میں سے ایک جہالت دوسری جہالت سے زیادہ آسان ہے ۔ اسے یہ علم نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ کام حرام قرار دیا ہے تو یہ ایسی بات ہے جس کے ساتھ وہ احتیاط نہیں کر سکتا۔عرض کیا: تو کیا وہ دوسری صورت میں معذور ہے؟ فرمایا: ہاں ! اگر عدت ختم ہو جائے تو وہ اس کے ساتھ شادی کرنے میں معذور ہے۔ عرض کیا: اگر مرد اور عورت میں سے ایک جان بوجھ کر انجام دے رہا ہو اور دوسرے کو علم نہ ہو تو؟ فرمایا: جو عمدا ً انجام دے رہا ہے اس کے لئے کبھی بھی رجوع کرنا حلال نہیں ہے۔”(۱۱۴)

۶ ۔ حرام ابدی کے لئے دبر میں دخول کرنا کافی ہونے کی دلیل: گزشتہ روایتوں کے اطلاق سے یہ حکم سمجھا جاتا ہے۔


چار سے زیادہ بیویوں کے احکام

چار سے زیادہ بیویوں کے ساتھ دائمی عقد کرنا جائز نہیں ہے۔

جس شخص کی چار بیویاں ہوں جن میں سے ایک کو طلاق رجعی دی جائے تو جب تک اس کی عدت پوری نہ ہوجائے وہ پانچویں سے شادی نہیں کر سکتا۔

جو شخص اپنی بیوی کو تین بار طلاق دے جبکہ طلاقوں کے درمیان رجوع کا فاصلہ ڈالے یا ایسی چیز کا جو رجوع کے حکم میں ہو؛ لیکن اس دوران کسی دوسرے مرد کے ساتھ شادی کا فاصلہ نہ ہو تو وہ عورت اس شخص پر حرام ہوجائے گی جب تک کوئی اور شخص اس عورت کے ساتھ شادی نہ کرے۔ اگر اس کے بعد بھی طلاق کا سلسلہ جاری رہے تو چھٹی طلاق کے ساتھ دوبارہ حرام ہوجائے گی۔ اور نویں طلاق کے بعد حرام ابدی ہوجائے گی جس کو باب طلاق میں بیان کیا جائے گا۔ ان شاء اللہ

دلائل:

۱ ۔ چار سے زیادہ بیویاں جائز نہ ہونے کی دلیل: اس حکم میں مسلمانوں کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔(۱۱۵) اور اسے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے سمجھا جا سکتا ہے:

( وَ إِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُواْ فىِ الْيَتَامَى‏ فَانكِحُواْ مَا طَابَ لَكُم مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنىَ‏ وَ ثُلَاثَ وَ رُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُواْ فَوَاحِدَةً ...) “اور اگر تم لوگ اس بات سے خائف ہو کہ یتیم (لڑکیو ں) کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو جو دوسری عورتیں تمہں پسند آئے ان میں سے دو دو، تن تنر یا چار چارسے نکاح کر لو، اگر تمہیں خوف ہو کہ ان میس عدل نہ کر سکوگے تو ایک ہی کافی ہے...”(۱۱۶)

اگرعدد ، مقام تحدید (حدبندی) میں نہ ہو تو اس کا مفہوم نہیں ہوتا ؛ لیکن اگر مقام تحدید میں ہو تو اس کا مفہوم ہوتا ہے ۔ آیت مجیدہ کا ظاہر یہ ہے کہ یہاں پر عدد ، مقام تحدید میں ہے۔

اس حکم پر دلالت کرنے والی روایات بھی بہت زیادہ ہیں۔ مثلا حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی زرارہ اور محمد بن مسلم کی صحیح روایت ہے:

إِذَا جَمَعَ الرَّجُلُ أَرْبَعاً وَ طَلَّقَ إِحْدَاهُنَّ فَلَا يَتَزَوَّجِ الْخَامِسَةَ حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّةُ الْمَرْأَةِ الَّتِي طَلَّقَ. وَ قَالَ: لَا يَجْمَعْ مَاءَهُ فِي خَمْس .”“اگر کس ی کی چار بیویاں ہوں اور وہ ان میں سے ایک کو طلاق دے دے تو جب تک اس کی عدت پوری نہ ہو جائے وہ پانچویں سے شادی نہیں کر سکتا۔ اور امامؑ نے فرمایا: وہ اپنے پانی کو پانچ میں جمع نہیں کر سکتا۔”(۱۱۷)

اس کے علاوہ بھی روایتیں موجود ہیں۔

چونکہ اس روایت میں امام ؑ نے فرمایا ہے : وہ اپنے پانی کو پانچ میں جمع نہیں کرسکتا ، لہذا اس کے ساتھ جماع کرنا جائز نہیں جبکہ شادی کرنا جائز ہے۔ یہ احتمال ، ضعیف ہے؛ کیونکہ امام ؑ کا مذکورہ جملہ شادی کرنے سے کنایہ ہے ۔ اگر اس کو نظر انداز کیا جائے تو مدعا کو ثابت کرنے کے لئے دوسری روایتیں کافی ہیں ۔

۲ ۔ اس حکم کے عقد دائمی کے ساتھ مختص ہونے کی دلیل: اس حکم سے کسی کو اختلاف نہیں ہے اور بہت ساری روایات اس پر دلالت کر رہی ہیں۔ جیسے زرارہ کی روایت صحیحہ ہے:

قُلْتُ: مَا يَحِلُّ مِنَ الْمُتْعَةِ؟ قَالَ: كَمْ شِئْتَ .”“م یں نے عرض کیا: متعہ کے ساتھ کتنی (بیویاں) حلال ہیں؟ فرمایا: جتنی تم چاہو۔”(۱۱۸)

اس روایت کا مُضمَر(۱۱۹) ہونا اس کے دلیل بننے میں رکاوٹ نہیں بنے گا؛ کیونکہ مُضمِر(راوی) ان بزرگ اصحاب میں سے ہیں جو امام ؑ کے علاوہ کسی اور سے روایت نہیں لیتے۔علاوہ از ایں اس روایت کے بجائے دوسری روایات سے بھی اس حکم کو اخذ کیا جا سکتا ہے۔

اگر کوئی یہ کہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی عمار کی موثق روایت متعہ کے بارے میں کہتی ہے : “هِيَ أَحَدُ الْأَرْبَعَة ”“ان چاروں م یں سے ایک یہ (متعہ والی عورت )ہے۔ ”(۱۲۰)

تو اس کا جواب یہ ہے کہ فقہاء میں سے کسی نے بھی اس روایت کے مضمون کی پیروی نہیں کی ہے اس لئے اس کی کوئی دوسری توجیہ کرنی پڑے گی۔ مخالفین کے انکار سے بچتے ہوئے اس روایت کو احتیاط پر محمول کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ حضرت امام رضا علیہ السلام سے مروی بزنطی کی روایت صحیحہ اسی بات پر واضح دلالت رکھتی ہے:

قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ علیه السلام:‏ اجْعَلُوهُنَّ مِنَ الْأَرْبَعِ، فَقَالَ لَهُ صَفْوَانُ بْنُ يَحْيَى: عَلَى الِاحْتِيَاطِ؟ قَالَ: نَعَمْ .”“حضرت امام محمد باقر عل یہ السلام نے فرمایا: تم ان (متعہ والی عورتوں) کو چار میں سے قرار دو۔ تو صفوان بن یحیی نے عرض کیا: احتیاط کی بنا پر ؟ فرمایا: ہاں!”(۱۲۱)

۳ ۔ طلاق رجعی دینے والے پر عدت پوری ہونے سے پہلے پانچویں عورت سے شادی کرنا جائز نہ ہونے کی دلیل: اس حکم سے کسی کو اختلاف نہیں ہے۔(۱۲۲) اور بعض روایات اس حکم پر دلالت کرتی ہیں جن میں سے دو ،زرارہ اور محمد بن مسلم کی گزشتہ صحیحہ روایتیں ہیں۔

طلاق کو رجعی کے ساتھ مقید کرنا ، مشہور فتویٰ ہے کیونکہ طلاق بائن میں مکمل طور پر رابطہ کٹ جاتا ہے۔(۱۲۳)

گزشتہ صحیحہ اور دوسری روایتوں کے اطلاق کو دیکھتے ہوئے حکم کو بھی مطلق رکھنا مناسب ہے ؛ مگر یہ کہ اس کے خلاف ، اجماع تعبدی ثابت ہوجائے ، پھر تو حکم مقید ہوجائے گا۔


کافر بیوی کا حکم

کسی مسلمان کے لئے ، غیر کتابی کافر عورت سے شادی کرنا جائز نہیں ہے۔ اہل کتاب عورت کے ساتھ شادی جائز ہونے میں اختلاف ہے۔

مسلمان عورت کے لئے غیر مسلم سے شادی کرنا جائز نہیں ہے خواہ اہل کتاب ہو یا غیر کتابی۔

کسی مسلمان کے لئے اپنی بیوی کی اجازت کے بغیر کتابی عورت سے شادی کرنا جائز نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اہل کتاب سے شادی کرنا جائز ہونے کی بنا پر بھی۔

دلائل:

۱ ۔ مسلمان کے لئے غیر کتابی کافر عورت کے ساتھ شادی کرنا جائز نہ ہونے کی دلیل: اس حکم پر اجماع کا دعویٰ کیا گیا ہے۔(۱۲۴) اور مندرجہ ذیل آیت کے ذریعے اس پر استدلال کیا جاتا ہے:

( وَ لَا تَنكِحُواْ الْمُشْرِكَاتِ حَتىَ‏ يُؤْمِنَّ وَ لَأَمَةٌ مُّؤْمِنَةٌ خَيرٌْ مِّن مُّشْرِكَةٍ وَ لَوْ أَعْجَبَتْكُمْ وَ لَا تُنكِحُواْ الْمُشْرِكِينَ حَتىَ‏ يُؤْمِنُواْ وَ لَعَبْدٌ مُّؤْمِنٌ خَيرٌْ مِّن مُّشْرِكٍ وَ لَوْ أَعْجَبَكُمْ أُوْلَئكَ يَدْعُونَ إِلىَ النَّار ...ِ) “اورتم مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں، کیونکہ مومنہ لونڈی مشرک عورت سے بہترہے اگرچہ وہ تمہیں بہت پسند ہو نیز (مومنہ عورتوں کو) مشرک مردوں کے عقد میں نہ دینا جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں، کیونکہ ایک مومن غلام مشرک مرد سے بہترہے خواہ وہ (مشرک) تمہیں پسند ہو، کیونکہ وہ جہنم کی طرف بلاتے ہیں”(۱۲۵)

لیکن جیسا کہ آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں کہ یہ حکم مطلَقا ً کافر عورتوں کے لئے نہیں ؛ بلکہ مشرک عورتوں سے مختص ہے ۔ مگر یہ کہ مندرجہ ذیل دوبیانات میں سے کسی ایک سے تمسک کیا جائے:

الف) آیت مجیدہ کا آخری حصہ “أُوْلَئكَ يَدْعُونَ إِلىَ النَّار ” صرف مشرک عورتوں سے مختص ہونے ک ی نفی کرتا ہے۔

ب) غایت “حَتىَ‏ يُؤْمِنَّ ” دلالت کر رہ ی ہے کہ غیر مؤمنہ کے ساتھ شادی کرنا مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے۔

دونوں بیانات ، قابل اشکال ہیں:

پہلے بیان پر یہ اشکال ہے کہ آیت مجیدہ کا آخری حصہ ، حکمت کو بیان کررہا ہے؛ لہذا عموم کو ثابت کرنے کے لئے اس سے تمسک نہیں کیا جا سکتا؛ بلکہ اگر اس کو علت کا بیان کنندہ فرض کر لیا جائے تب بھی اس سے تمسک کا کوئی فائدہ نہیں ہے ؛ کیونکہ ایسی صورت میں آیت کا آخری حصہ اس بات پر دلالت کرے گا کہ جب جہنم کی طرف دعوت نہ دی جائے تو شادی سے منع ہونا ثابت نہیں ہے۔ جیسا کہ میاں بیوی کے آپس میں نفرت ہو تو جہنم کی طرف دعوت نہیں دی جا سکے گی۔

دوسرے بیان پر یہ اشکال ہے کہ آیت مجیدہ میں یہ احتمال پایا جاتا ہے کہ ایمان سے مراد ، اسلام نہ ہو ؛ بلکہ کسی کو شریک ٹھہرائے بغیر اللہ تعالی کی وحدانیت پر ایمان رکھنا مقصود ہو ۔

بہتر یہ ہے کہ اس حکم پر اس آیت مجیدہ سے استدلال کیا جائے:( ...وَ لَا تُمْسِكُواْ بِعِصَمِ الْكَوَافِرِ ...) “اور کافر عورتوں کو اپنے نکاح میں روکے نہ رکھو۔”(۱۲۶)

“عِصَمِ”، “عِصَمة ” کی جمع ہے جو عقد کی طرح کا ایک رابطہ ہے اور “الْكَوَافِرِ ”، “كَافِرِة ” ک ی جمع ہے۔ اس سے مراد، کافر ہونے والی عورتوں کے ساتھ نکاح کے رابطے کو باقی رکھنے سے مؤمنین کو منع کرنا ہے؛ کیونکہ (کافر ہونے کی وجہ سے ) ان کا رابطہ اسلام سے ٹوٹ گیا ہے۔ جب نکاح کو باقی رکھنے کے لحاظ سے نہی ثابت ہوگئی تو نکاح کی ابتدا کرنے کے لحاظ سے بطریق اولیٰ ثابت ہوجائے گی۔

بنا بر ایں آیت مجیدہ کے اطلاق سے تمسک کرتے ہوئے مطلق حکم لگایا جائے گا ؛ مگر یہ کہ کہیں اس کے خلاف کوئی دلیل قائم ہوجائے ۔ اس وقت اسی مورد کے لحاظ سے اس اطلاق کو مقید کیا جائے گا۔

۲ ۔ اہل کتاب عورتوں کے ساتھ شادی کا حکم: ایک قول کے مطابق ،جو شاید مشہور بھی ہے، اہل کتاب عورتوں کے ساتھ کسی بھی قسم کا نکاح ،خواہ نکاح متعہ ہو یا دائمی ، جائز نہیں ہے یا فقط دائمی نکاح کرنا جائز نہیں ہے۔(۱۲۷)

لیکن معاویہ بن وہب وغیرہ نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک روایت صحیحہ نقل کی ہے:

الرَّجُلِ الْمُؤْمِنِ يَتَزَوَّجُ الْيَهُودِيَّةَ وَ النَّصْرَانِيَّةَ؟ فَقَالَ:إِذَا أَصَابَ الْمُسْلِمَةَ فَمَا يَصْنَعُ بِالْيَهُودِيَّةِ وَ النَّصْرَانِيَّةِ؟ فَقُلْتُ لَهُ: يَكُونُ لَهُ فِيهَا الْهَوَى، قَالَ: إِنْ فَعَلَ فَلْيَمْنَعْهَا مِنْ شُرْبِ الْخَمْرِ وَ أَكْلِ لَحْمِ الْخِنْزِيرِ ...”“ک یا مؤمن ، کسی یہودن اور عیسائی عورت سے شادی کر سکتا ہے؟ فرمایا: اگر اسے کوئی مسلمان عورت مل جائے تو وہ یہودن اور عیسائی عورت کا کیا کرے گا؟ عرض کیا: اس کو اس میں دلچسپی ہے۔ فرمایا: اگر وہ شادی کرلے تو وہ اسے شراب پینے اور سور کا گوشت کھانے سے منع کرے...”( ۱۲۸)

اس کے علاوہ بھی بعض روایات ہیں جن کی وجہ سے کہا جا سکتا ہے کہ مسلمان ، کسی اہل کتاب عورت کے ساتھ متعہ ؛ بلکہ دائمی نکاح کر سکتا ہے۔

البتہ مشہور فتویٰ کی مخالفت سے بچتے ہوئے احتیاط کی رعایت کرنا ایک لازمی امر ہے۔

۳ ۔ مسلمان عورت کا کسی کافر مردکے ساتھ شادی کرنا جائز نہ ہونے کی دلیل: اس حکم میں فقہاء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔(۱۲۹) اور مندرجہ ذیل آیت مجیدہ سے بھی اس حکم کو اخذ کیا جا سکتا ہے:

( يَأَيهُّا الَّذِينَ ءَامَنُواْ إِذَا جَاءَكُمُ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ فَامْتَحِنُوهُنَّ اللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانهِنَّ فَإِنْ عَلِمْتُمُوهُنَّ مُؤْمِنَاتٍ فَلَا تَرْجِعُوهُنَّ إِلىَ الْكُفَّارِ لَا هُنَّ حِلٌّ لهَّمْ وَ لَا هُمْ يحَلُّونَ لهَن ...) “اے ایمان والو! جب ہجرت کرنے والی مومنہ عورتیں تمہارے پا س آ جائیں تو تم ان کا امتحان لیا کرو، اللہ ان کے ایمان کو بہتر جانتا ہے پھر اگر تمہیں معلوم ہو جائے کہ وہ ایماندار ہیں تو انہیں کفار کی طرف واپس نہ بھیجو، نہ وہ ان (کفار) کے لیے حلال ہیں اور نہ وہ (کفار) ان کے لیے حلال ہیں...”

ایمان لانے کے بعد عورتوں کو دوبارہ کفار کی زوجیت میں رکھنے سے نہی کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ شروع سے ہی کفار کی زوجیت میں دینے سے نہی کی گئی ہے ؛ کیونکہ یہ نہی بطریق اولیٰ نہ ہو تو لازم و ملزوم ضرور ہے۔

علاوہ از ایں متعدد روایات سے بھی اس حکم کو اخذ کیا جا سکتا ہے۔ جیسے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی عبد اللہ بن سنان کی روایت صحیحہ ہے:

إِذَا أَسْلَمَتِ امْرَأَةٌ، وَ زَوْجُهَا عَلَى غَيْرِ الْإِسْلَامِ فُرِّقَ بَيْنَهُمَا ”“اگر عورت اسلام لے آئے اور اس کا شوہر غ یر مسلم ہو تو ان دونوں میں جدائی ڈال دی جائے گی۔”(۱۳۰)

اس کے علاوہ بھی بعض روایتیں موجود ہیں۔

۴ ۔ مسلمان عورت پر اہل کتاب سوکن لانا جائز نہ ہونے کی دلیل: اس حکم پر بہت سی روایات دلالت کرتی ہیں۔ جیسے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی محمد بن مسلم کی روایت صحیحہ ہے:

لَا تَتَزَوَّجِ الْيَهُودِيَّةَ وَ النَّصْرَانِيَّةَ عَلَى الْمُسْلِمَةِ .”“مسلمان ب یوی پر سوکن بنا کر یہودی اور عیسائی عورت سے شادی نہ کرو۔ ”(۱۳۱)

بلکہ بعض روایتوں میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی شادی کرنے والے شوہر پر زانی کی حد کا آٹھواں حصہ جاری کیا جائے۔ جیسا کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ہشام بن سالم نے صحیح روایت نقل کی ہے:

فی رَجُلٍ تَزَوَّجَ ذِمِّيَّةً عَلَى مُسْلِمَةٍ، قَالَ: يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا،وَ يُضْرَبُ ثُمُنَ حَدِّ الزَّانِي، اثْنَيْ عَشَرَ سَوْطاً وَ نِصْفاً، فَإِنْ رَضِيَتِ الْمُسْلِمَةُ ضُرِبَ ثُمُنَ الْحَدِّ وَ لَمْ يُفَرَّقْ بَيْنَهُمَا ...”“امام ؑ نے ا یک ایسے شخص کے بارے میں ، جس نے مسلمان بیوی پر سوکن بنا کر ایک ذمی عورت سے شادی کی تھی، فرمایا: ان دونوں میں جدائی ڈال دی جائے گی اور اس آدمی پر زانی کی حد کا آٹھواں حصہ جاری کیا جائے گا جو ساڑھے بارہ کوڑے بنتے ہیں۔ اگر مسلمان عورت راضی ہوجائے تو آدمی پر حد کا آٹھواں حصہ جاری ہوگا لیکن ان دونوں میں جدائی نہیں ڈالی جائے گی ۔ ”(۱۳۲)

یہ روایت واضح دلالت کر رہی ہے کہ عدم جواز ،کوئی حکم شرعی نہیں؛ بلکہ مسلمان عورت کا حق ہے جو عورت کے اجازت دینے سے یا بعد میں راضی ہونے سے رفع ہوجاتا ہے ۔


لعان اورحالت احرام میں شادی کرنےاحکام

احرام کی حالت میں ازدواج کا حکم

محرم کے لئے حالت احرام میں شادی کرنا جائز نہیں ہے خواہ عورت بھی محرم ہو یا نہ ہو۔ اگر حرمت کا علم ہوتے ہوئے بھی کوئی شخص ایسا کر لے تو وہ عورت اس پر حرام ابدی ہو جائے گی خواہ دخول کرے یا نہ۔

لعان کا حکم

جو شخص اپنی زوجہ پر زنا کی تہمت لگائے تو اس پر حد قذف جاری ہوگی ؛ مگر یہ کہ وہ عورت سے لعان کرے ۔ لعان کے ذریعے وہ اپنے آپ سے حد کو ساقط کرے گا؛ لیکن وہ عورت اس شخص پر حرام ابدی ہوجائے گی۔

دلائل:

۱ ۔ محرم کے لئے حالت احرام میں شادی کرنا جائز نہ ہونے کی دلیل: اس حکم سے کسی کو اختلاف نہیں ہے۔(۱۳۳) اور یونس بن یعقوب کی روایت صحیحہ اس پر دلالت کر رہی ہے:

سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام عَنِ الْمُحْرِمِ يَتَزَوَّجُ؟ قَالَ: لَا، وَ لَا يُزَوِّجُ الْمُحْرِمُ الْمُحِلَّ .”“م یں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا: کیا محرم ازدواج کر سکتا ہے؟ فرمایا: نہیں! اور وہ کسی محل(غیر محرم) کا نکاح بھی نہیں پڑھ سکتا۔”(۱۳۴)

اس کے علاوہ بھی بعض روایتیں اسی حکم پر دلالت کرتی ہیں۔

۲ ۔حرمت کا علم ہوتے ہوئے شادی کرنے کی صورت میں محرم پر اس عورت کے حرام ابدی ہونے کی دلیل: اس بارے میں روایات کے تین مختلف مجموعے ہیں:

الف) مطلَقا ً حرام ابدی ہونے پر دلالت کرنے والی روایتیں۔

ب) مطلَقا ً حرام ابدی نہ ہونے پر دلالت کرنے والی روایتیں۔

ج) حرمت کا علم ہوتو حرام ابدی ہونے اور علم نہ ہو تو نہ ہونے پر دلالت کرنے والی روایتیں۔

پہلے مجموعے کی مثال، حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی ادیم بن حر کی موثق روایت ہے:

إِنَّ الْمُحْرِمَ إِذَا تَزَوَّجَ وَ هُوَ مُحْرِمٌ فُرِّقَ بَيْنَهُمَا وَ لَا يَتَعَاوَدَانِ أَبَداً،وَ الَّذِي يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ وَ لَهَا زَوْجٌ يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا وَ لَا يَتَعَاوَدَانِ أَبَداً. ”“اگر محرم ، حالت احرام م یں ازدواج کرے تو ان دونوں کے درمیان جدائی ڈالی جائے گی اور دونوں ہرگز دوبارہ نہیں پلٹ سکیں گے۔ نیز وہ شخص جو کسی شوہر دار عورت کے ساتھ شادی کرے ان کے درمیان بھی جدائی ڈالی جائے گی اور دونوں ہرگز دوبارہ نہیں پلٹ سکیں گے۔”(۱۳۵)

دوسرے مجموعے کی مثال، حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی محمد بن قیس کی روایت صحیحہ ہے:

قَضَى أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ علیه السلام فِي رَجُلٍ مَلَكَ بُضْعَ امْرَأَةٍ وَ هُوَ مُحْرِمٌ قَبْلَ أَنْ يَحِلَّ؛ فَقَضَى أَنْ يُخَلِّيَ سَبِيلَهَا وَ لَمْ يَجْعَلْ نِكَاحَهُ شَيْئاً حَتَّى يَحِلَّ، فَإِذَا أَحَلَّ خَطَبَهَا إِنْ شَاءَ وَ إِنْ شَاءَ أَهْلُهَا زَوَّجُوهُ، وَ إِنْ شَاءُوا لَمْ يُزَوِّجُوهُ .”“ا یک شخص نے محل ہونے سے پہلے احرام کی حالت میں کسی عورت سے ازدواج کیا تھا اس کے بارے میں حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام نے فیصلہ سنایا کہ اس کو اسی طرح چھوڑ دو اور جب تک محل نہ ہوجائے اس کا نکاح کچھ نہیں ہے۔ جب محل ہوجائے اور وہ چاہے تو اس کے لئے خواستگاری کرنا حلال ہے، اگر وہ اپنی زوجہ کو چاہے تو شادی کرے اور وہ دونوں نہ چاہیں تو شادی نہ کریں۔ ”(۱۳۶)

تیسرے مجموعے کی مثال ، حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی زرارہ اور داؤد بن سرحان کی روایت صحیحہ ہے:

“...وَ الْمُحْرِمُ إِذَا تَزَوَّجَ وَ هُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ حَرَامٌ عَلَيْهِ لَمْ تَحِلَّ لَهُ أَبَداً .”“... اگر محرم کو حرمت کا علم ہو اور وہ شاد ی کر لے تو وہ عورت اس پر ہرگز حلال نہیں ہوگی۔”(۱۳۷)

تیسری روایت سے قطع نظر، پہلی اور دوسری کے درمیان تعارض ہے۔ لیکن جب تیسری روایت کو مدنظر رکھا جائے تو ان دونوں میں جمع عرفی ممکن ہے ؛ لہذا پہلی روایت کو حرمت کے بارے میں علم ہونے کے فرض پر محمول کیا جائے گا اور دوسری کو جہالت کے فرض پر۔ اس طرح ہم ، متن میں مذکور نتیجے پر پہنچ سکیں گے۔

لیکن دخول کرنے یا نہ کرنے میں کوئی فرق نہ ہونا ، نصوص کی وجہ سے ہے جو اس جہت سے مطلق ہیں۔

۳ ۔ اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگانے والے پر، لعان نہ کرنے کی صورت میں ،حد زنا جاری ہونے کی دلیل، ان شاء اللہ باب حدود میں بیان کی جائے گی۔

لعان کی وجہ سے حرام ابدی ثابت ہونے کی دلیل: اس حکم پر حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی حلبی کی روایت صحیحہ دلالت کر رہی ہے:

سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يَقْذِفُ امْرَأَتَهُ، قَالَ: يُلَاعِنُهَا ثُمَّ يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا، فَلَا تَحِلُّ لَهُ أَبَداً .”“ا یک ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگاتا ہے۔ فرمایا: وہ لعان کرے گا پھر ان دونوں کے درمیان جدائی ڈالی جائے گی اور دونوں ایک دوسرے پر کبھی حلال نہیں ہوں گے۔”(۱۳۸)


ازدواج موقت یا متعہ

ازدواج موقت کو اصطلاحا عقد تمتع کہا جاتا ہے اور یہ بلا اشکال مشروع اور جائز ہے۔

اس میں ایجاب و قبول کا لفظی ہونا شرط ہے۔ نیز مہر اور مدت کا معین ہونا بھی ضروری ہے۔ ورنہ یہ عقد باطل ہوگا۔

متعے کی مدت ختم ہونے یا باقی مدت کو معاف کرنے کے بعد ، عدت گزارنا بھی ضروری ہے جو دو حیض آنے تک ہے۔ اگر وہ عورت حیض دیکھنے کی عمر میں ہوتے ہوئے حیض نہیں دیکھتی تو ضروری ہے کہ پینتالیس ۴۵ دن عدت گزارے۔

یہ عدت ان عورتوں کے لئے تھی جو چھوٹی ، یائسہ اور غیر مدخول بہا نہ ہوں؛ لیکن اگر وہ بچی ہو یا یائسہ ہو یا ایسی عورت ہو جس کے ساتھ دخول نہیں کیا گیا تو ان کی کوئی عدت نہیں ہے۔

نیز یہ عدت اس صورت میں ہے جب عدت کے دوران شوہر کا انتقال نہ ہو جائے ؛ لیکن اگر دوران عدت ، شوہر کی موت واقع ہو جائے تو اس عورت پر ضروری ہے کہ چار مہینے دس دن عدت گزارے۔

ازدواج موقت کے ذریعے پیدا ہونے والا بچہ ، اسی شوہر سے متعلق ہوگا اور عقد دائمی میں بچے کو ملنے والے تمام حقوق اس بچے کو بھی ملیں گے۔

ازدواج موقت میں عورت، نفقے کا مستحق نہیں ہوگی ۔ اگر متعے کی مدت میں میاں بیوی میں سے کسی ایک کا انتقال ہو جائے تو یہ دونوں ایک دوسرے کے وارث بھی نہیں ہوں گے ؛ مگر یہ کہ وارث بننے کی شرط رکھی گئی ہو۔

نیز ازدواج موقت میں طلاق بھی نہیں ہے؛ بلکہ مدت کے تمام ہونے سے یا باقی مدت کو بخشنے کے ذریعے دونوں جدا ہوجائی گے۔

کسی مسلمان کے لئے اہل کتاب عورتوں کے علاوہ کسی کافر عورت سے متعہ کرنا جائز نہیں ہے۔

دلائل:

۱ ۔ ازدواج موقت کے مشروع ہونے کی دلیل: یہ مذہب امامیہ کی ضروریات مذہب اور علامت میں سے ہے؛ بلکہ تمام مسلمانوں کا متفق علیہ مسئلہ ہے اگر چہ بعد میں نسخ ہونے میں ان کے درمیان اختلاف ہے۔ اس حکم پر قرآن مجید کی یہ آیت دلالت کر رہی ہے:

( ...وَ أُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَالِكُمْ أَن تَبْتَغُواْ بِأَمْوَالِكُم محُّْصِنِينَ غَيرَْ مُسَافِحِينَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنهُْنَّ فََاتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَة ) “...اور ان کے علاوہ باقی عورتیں تم پر حلال ہں ان عورتوں کو تم مال خرچ کر کے اپنے عقد مںر لا سکتے ہو بشرطکہن (نکاح کامقصد) عفت قائم رکھنا ہو بے عفتی نہ ہو، پھر جن عورتوں سے تم نے متعہ کار ہے ان کا طے شدہ مہر بطور فرض ادا کرو۔”(۱۳۹)

اس بارے میں ہماری احادیث ، متواتر ہیں؛ بلکہ غیروں کی احادیث بھی اسی طرح ہی ہیں۔

ہماری احادیث میں سے ایک زراہ کی صحیح حدیث ہے:

جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَيْرٍاللَّيْثِيُّ إِلَى أَبِي جَعْفَرٍ علیه السلام فَقَالَ: مَا تَقُولُ فِي مُتْعَةِ النِّسَاءِ؟ فَقَالَ: أَحَلَّهَا اللَّهُ فِي كِتَابِهِ وَ عَلَى سُنَّةِ نَبِيِّهِ، فَهِيَ حَلَالٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَقَالَ: يَا ابَا جَعْفَرٍ، مِثْلُكَ يَقُولُ هَذَا وَ قَدْ حَرَّمَهَا عُمَرُ وَ نَهَى عَنْهَا! فَقَالَ: وَ إِنْ كَانَ فَعَلَ، فَقَالَ: فَإِنِّي أُعِيذُكَ بِاللَّهِ مِنْ ذَلِكَ أَنْ تُحِلَّ شَيْئاً حَرَّمَهُ عُمَرُ، فَقَالَ لَهُ: فَأَنْتَ عَلَى قَوْلِ صَاحِبِكَ، وَ أَنَا عَلَى قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ (ص) فَهَلُمَّ أُلَاعِنْكَ أَنَّ الْحَقَ‏ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ص)، وَ أَنَّ الْبَاطِلَ مَا قَالَ صَاحِبُك. ..”“عبد اللہ بن عم یر لیثی نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں آکر عرض کیا: عورتوں کے ساتھ متعہ کے بارے میں آپ ؑ کیا فرماتے ہیں؟ امام ؑ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اسے حلال قرار دیا ہے اور اس کے نبی کی سنت بھی ہے۔ پس روز قیامت تک متعہ کرنا حلال ہے۔ ابن عمیر نے کہا: اے ابو جعفر! آپ ؑ جیسے لوگ یہ کہتے ہیں جبکہ عمر نے اسے حرام قرار دیا اور اس سے نہی کی ہے! فرمایا: اگرچہ اس نے نہی کی ہے( کرنے دے) ۔ اس نے عرض کیا: میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ آپ ایسی چیز کو حلال قرار دے رہے ہیں جسے عمر نے حرام قرار دیا ہے۔ فرمایا: تو اپنے آقا کے قول پر ثابت رہو اور میں رسول اللہؐ کے قول پر ثابت رہوں گا۔ آؤ میں تجھ سے بیزاری کروں کہ حق وہی ہے جو رسول اللہ ؐ نے فرمایا ہے اور باطل وہی ہے جو تیرے آقا نے کہا ہے...”(۱۴۰)

غیروں کی احادیث میں سے ایک وہ روایت ہے جو بخاری اور مسلم نے جابر بن عبد اللہ اور سلمہ بن اکوع سے نقل کی ہے کہ ان دونوں نے کہا:

خرج علینا منادی رسول اللّه (ص) فقال: ان رسول اللّه (ص) قد اذن لکم ان تستمتعوا ، یعنی متعة النساء .”“رسول اللہ ؐ کی طرف سے ایک منادی نے ندا دی کہ بے شک رسول اللہ ؐ نے تم لوگوں کو استمتاع یعنی عورتوں کے ساتھ متعے کی اجازت دی ہے۔”(۱۴۱)

جب دونوں طرف سے سنت پر یہ اتفاق پایا جاتا ہے تو آیت مجیدہ کی دلالت میں اس دعویٰ کے ساتھ بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے کہ استمتاع ، عقد تمتع کے معنی میں نہیں ہے ؛ بلکہ عقد دائمی میں دخول واقع ہونے کے معنی میں ہے اور آیت مجیدہ اس حکم کو بیان کر رہی ہے کہ دخول کرنا پورے مہر کے مستحق ہونے کا سبب بنتا ہے۔(۱۴۲) کیونکہ اس حکم پر سنت کی دلالت اور تمام مسلمانوں کے اتفاق کے بعد اس طرح کا دعویٰ بے فائدہ ہے۔(۱۴۳)

ہاں ! متعہ کی مشروعیت کے نسخ ہونے کا دعویٰ یہاں پر فائدہ دیتا ہے ؛ کیونکہ جب پیغمبر اکرم ؐ سے نسخ کا حکم صادر ہونا یقینی نہیں ہے تو یہ مشکوک ہوجاتا ہے ۔ مشکوک ہونے کی صورت میں عدم نسخ کا استصحاب کیا جائے گا اور استصحاب تمام مسلمانوں کے نزدیک حجت ہے۔

پیغمبر اکرم ؐ کے زمانے کے بعد اس بارے میں نہی کا صادر ہونا ، اگرچہ مسلم(۱۴۴) ہی کیوں نہ ہو، بے فائدہ ہے۔ اس لئے کہ احکام کو نسخ کرنا صرف پیغمبر اکرم ؐ کا حق ہےا ور آپ ؐ کے زمانے سے مختص ہے؛ کیونکہ آپ ؐکی حلال کردہ چیزیں روز قیامت تک حلال اور آپ ؐکی حرام کردہ چیزیں روزقیامت تک حرام ہیں۔(۱۴۵)

اور جس شخص نے عمر کے اس فعل کی توجیہ کرتے ہوئے یہ کہا ہے کہ :“اجتہادی مسائل میں ایک مجتہد کا دوسرے مجتہد کی مخالفت کرنا بدعت نہیں ہے”۔(۱۴۶) اس نے اللہ تعالیٰ کے خلاف بولنے کی جرائت کی ہے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ ، اپنے نبی کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے:( وَ مَا يَنطِقُ عَنِ الهَْوَى إِنْ هُوَ إِلَّا وَحْىٌ يُوحَى ) “وہ خواہش سے نہیں بولتا۔یہ تو صرف وحی ہوتی ہے جو (اس پر) نازل کی جاتی ہے۔”(۱۴۷) ( ...قُلْ مَا يَكُونُ لىِ أَنْ أُبَدِّلَهُ مِن تِلْقَاءِ نَفْسىِ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَى إِلىّ ...) “...کہہ دیجئے ! مجھے یہ اختیا ر نہین کہ میں اپنی طرف سے اسے بدل دوں، میں تو اس وحی کا تابع ہوں جو میری طرف بھییج جاتی ہے...”(۱۴۸) ان فرامین کے مقابلے میں کہا جاتا ہے کہ پیغمبر بھی دوسرے افراد کی مانند ایک مجتہد ہیں بغیر کسی فرق کے۔( كَبرُتْ كَلِمَةً تخَرُجُ مِنْ أَفْوَاهِهِمْ إِن يَقُولُونَ إِلَّا كَذِبًا ) “یہ بڑی (جسارت کی) بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے، یہ تومحض جھوٹ بولتے ہیں ۔”(۱۴۹)

اگر متعہ کی مشروعیت کو رد کرتے ہوئے یہ کہا جائے کہ “ زنا کو اس لئے سفاح کہا جاتا ہے کہ اس میں نکاح کے احکام نہیں ہوتے جیسے نسب کا ثابت ہونا، عدت کا واجب ہونا اور فراش کا باقی رہنا ۔ جب متعہ میں بھی یہ معانی موجود نہ ہوں تو یہ بھی زنا کے معنی میں ہے۔ ”(۱۵۰)

اس کا جواب ہم اس طرح دیں گے کہ یہ دراصل اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر اشکال ہے کیونکہ ابتدائے شریعت میں تمام مسلمانوں کے نزدیک متفق طور پر متعہ کی مشروعیت ثابت ہے۔ اس کے علاوہ اشکال میں مذکور تین چیزیں عقد دائمی کی طرح متعہ میں بھی شرط ہیں۔

اگر یہ اشکال کیا جائے کہ عورت کا ہر وقت خود کو کسی مرد کے لئے پیش کرنا اس پاکدامنی کے منافی ہے جس کی شریعت میں تاکید کی گئی ہے اور یہ عمل ،سفاح سے مناسبت رکھتا ہے۔

بلکہ متعہ کا جواز اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے منافی ہے:( وَ الَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ إِلَّا عَلىَ أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانهُُمْ فَإِنهَُّمْ غَيرُْ مَلُومِين ) “اور جو لوگ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں؛مگر اپنی بیوَییوں اور لونڈیوں سے پس ان پر کوئی ملامت نہیںَ ہے۔”(۱۵۱) کیونکہ جس عورت کے ساتھ متعہ کیا جائے وہ نہ تو زوجہ ہے اور نہ لونڈی؛ لہذا اس کے ساتھ شادی کرنا ظلم وتجاوز اور حرام ہے۔

اس کے علاوہ خلیفہ دوم نے اپنی طرف سے حرام ہونے کا حکم صادر نہیں کیا ہے ؛ بلکہ وہ اس حکم کو بیان کرنے والا اور نافذ کرنے والا ہے۔ اگر اس نے نہی کی نسبت اپنی طرف دی ہے تو اسی بیان کنندہ اور نافذ کنندہ کے معنی میں ہے۔(۱۵۲)

اس کے جواب میں ہم کہیں گے کہ اگر ازدواج موقت کی لازمی شرائط کو ہم سمجھ لیں تو پاکدامنی اور ازدواج موقت کے درمیان کوئی منافات نہیں ہے ۔ اگر تنافی لازم آئے تو یقینا ًرسول اللہ ؐ کے زمانے میں اس کی ثابت مشروعیت پر دوبارہ اشکال پلٹ آئے گا۔

ازدواج کے افراد میں سے ایک حقیقی فرد ،متعہ ہے۔ فقط یہ کہ متعہ، ازدواج موقت ہے اور اس میں ازدواج دائمی کے تمام اوصاف پائے جاتے ہیں؛ سوائے بعض جہتوں کے۔ لہذا ہماری نظر میں آیت مجیدہ کے ساتھ اس کے منافی ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔

خلیفہ دوم کے دفاع میں کہی گئی آخری بات ، مدعی سست، گواہ چست کی طرح ہے اور یہ بات مکڑی کے جالے سے بھی کمزور ہے۔

۲ ۔ ایجاب اور قبول لفظی کے بغیر ازدواج موقت واقع نہ ہونے کی دلیل: چونکہ متعہ بھی ازدواج کے افراد میں سے ایک فرد ہے ؛ لہذا جو کچھ عقد دائم میں شرط ہے اس میں بھی شرط ہے۔

بلکہ کچھ ایسی روایات بھی ہیں جو ازدواج موقت میں ان چیزوں کے شرط ہونے پر خصوصی دلالت کرتی ہیں جن میں سے بعض کی طرف اشارہ کیا جا چکا ہے۔

ازدواج موقت کا صیغہ یہ ہے کہ پہلے عورت کہے: “متعتک او انکحتک او زوجتک نفسی بمهر کذا الی اجل کذا ” ۔ “میں نےفلاں (معین) مہر پر فلاں (معین) مدت تک اپنے آپ کو تمہاری زوجیت میں قرار دیا۔” پھر مرد کہے: “قبلتُ” “میں نے قبول کیا۔”

عربی زبان کا شرط ہونا، ایجاب کا پہلے ہونا اور ایجاب کا عورت کی طرف سے ہونا اس کے علاوہ وہ تمام شرائط جو نکاح دائمی میں بیان کی گئی ہیں ، ازدواج متعہ میں بھی شرط ہیں؛ کیونکہ دائم کی طرح یہ بھی ازدواج کا ایک حقیقی فرد ہے۔

۳ ۔ متعہ میں مہر اور مدت کی تعیین ضروری ہونے اور تعیین نہ کرنے کی صورت میں نکاح کے باطل ہونے کی دلیل: اس حکم پر بعض روایتیں دلالت کر رہی ہیں جن میں سے ایک حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی زرارہ کی روایت صحیحہ ہے:

لَا تَكُونُ مُتْعَةٌ إِلَّا بِأَمْرَيْنِ: أَجَلٍ مُسَمًّى وَ أَجْرٍ مُسَمًّى .”“متعہ نہ یں ہوتا مگر دو چیزوں کے ذریعے: ۱ ۔ معین مدت اور ۲ ۔ معین مہر۔”(۱۵۳)

۴ ۔ مدت تمام ہونے یا باقیماندہ مدت بخش دینے کے بعد عدت گزارنا واجب ہونے کی دلیل: عدت کے وجوب میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔ البتہ اس کی مدت میں اختلاف ہے؛ کیونکہ روایت کے مضامین میں اختلاف ہے۔

الف) بعض روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ حیض دیکھنے والی عورت کی عدت دو حیض ہے اور جو عورت حیض دیکھنے کی عمر میں ہو لیکن حیض نہیں دیکھتی ہو اس کی عدت پینتالیس ۴۵ دن ہے۔

ب) بعض روایات کہتی ہیں کہ حیض دیکھنے والی عورت کی عدت ایک حیض ہے اور حیض نہ دیکھنے والی کی عدت پینتالیس ۴۵ دن ہے۔

پہلےحکم پر دلالت کرنے والی روایتوں کی مثال، اسماعیل بن فضل ہاشمی کی روایت صحیحہ ہے:

سَأَلْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام عَنِ الْمُتْعَةِ، فَقَالَ: الْقَ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنَ جُرَيْجٍ فَسَلْهُ عَنْهَا فَإِنَّ عِنْدَهُ مِنْهَا عِلْماً، فَلَقِيتُهُ فَأَمْلَى عَلَيَّ شَيْئاً كَثِيراً فِي اسْتِحْلَالِهَا وَ كَانَ فِيمَا رَوَى لِي فِيهَا... فَإِذَا انْقَضَى الْأَجَلُ بَانَتْ مِنْهُ بِغَيْرِ طَلَاقٍ...وَ عِدَّتُهَا حَيْضَتَانِ، وَ إِنْ كَانَتْ لَا تَحِيضُ فَخَمْسَةٌ وَ أَرْبَعُونَ يَوْماً، قَالَ: فَأَتَيْتُ بِالْكِتَابِ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام، فَقَالَ: صَدَقَ وَ اُقِرُّ بِهِ.. .” “میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے متعہ کے بارے میں سوال کیا۔ آپ ؑ نے فرمایا: عبد الملک بن جریح سے ملو اور اس بارے میں اس سے سوال کرو ؛ کیونکہ اس بارے میں اسے علم ہے۔ پس میں نے اس سے ملاقات کی اس نے بہت ساری چیزیں املاء کیں جو متعہ کے حلال ہونے کے بارے میں تھیں۔ اس نے مجھ سے جو چیزیں بیان کیں ان میں یہ بھی تھا جب مدت تمام ہو جائے تو عورت ،بغیر طلاق کے ، مرد سے جدا ہوجائے گی... اور اس کی عدت دو حیض ہے۔ اگر وہ حیض نہ دیکھتی ہو تو اس کی عدت پینتالیس ۴۵ دن ہے۔ اسماعیل کہتے ہیں کہ میں وہ کتاب حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے پاس لے آیا۔ تو امام ؑ نے فرمایا: اس (عبد الملک ) نے سچ کہا ہے اور میں اس کا اقرار کرتا ہوں۔ ”(۱۵۴)

دوسرے حکم پر دلالت کرنے والی روایتوں کی مثال، حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے مروی زراہ کی روایت صحیحہ ہے:

عِدَّةُ الْمُتْعَةِ إِنْ كَانَتْ تَحِيضُ فَحَيْضَةٌ، وَ إِنْ كَانَتْ لَا تَحِيضُ فَشَهْرٌ وَ نِصْفٌ .”“اگر عورت ح یض دیکھتی ہو تواس کے متعے کی عدت ایک حیض ہے اور اگر حیض نہیں دیکھتی تو ایک مہینہ پندرہ دن ( ۴۵ دن) ہے۔”(۱۵۵)

پہلی روایت کو استحباب پر محمول کرتے ہوئے ان دونوں کے درمیان جمع عرفی کرنے میں مشکل پیدا ہوتی ہے ؛ کیونکہ یا تو امر ارشادی ، استحباب پر محمول کرنے کو قبول نہیں کرتا۔ یا قبول تو کرتا ہے ؛ لیکن اس کے لئے شرط یہ ہے کہ لسان روایت “امر ” والی ہو نہ کہ خبر دینے والی۔ جس طرح روایت میں ہے۔

جب جمع عرفی متعذر ہو تو تعارض پیدا ہوجائے گا؛ لہذا قرآن کی موافقت یا تقیے کی مخالفت جیسے مرجحات کی طرف رجوع کرنا لازمی ہوجائے گا۔ جب اس مقام پر کوئی مرجح بھی دسترس میں نہ ہو تو دونوں روایتوں کا ساقط ہونا یقینی ہوجائے گا اور اصل کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔ اصل کا تقاضا یہ ہے کہ عقد ثانی کے اثرات مرتب ہونے کے لئے اس سے پہلے دو حیض دیکھنا شرط ہے۔ پس عدم ترتیب اثر کا استصحاب کیا جائے گا۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ کے فرمان( ...وَ أُحِلَّ لَكُم مَّا وَرَاءَ ذَالِكُمْ ...) (۱۵۶) کی طرف رجوع کرنے کی گنجائش نہیں ہے کیونکہ آیت میں عام احوالی نہیں ؛ بلکہ عام افرادی مدنظر رکھا گیا ہے۔

۵ ۔ اس بات کی دلیل کہ مدت ختم ہونے یا باقیماندہ مدت بخش دینے کے بعدمکمل دو مرتبہ حیض دیکھنا شرط ہے اور وہ حیض کافی نہیں ہے جس کے دوران مدت تمام ہو جائے یا اسی کے دوران باقی مدت بخش دی جائے۔ ہاشمی کی روایت صحیحہ کو ترجیح دینے کی صورت میں یہ حکم واضح ہے ؛ کیونکہ اس روایت میں “و عدّتها حیضتان ” کی تعبیر موجود ہے اس کا ظاہر یہی ہے کہ دو حیض شرط ہے۔ اگر اس کو ترجیح نہ دی جائے ؛بلکہ ہم تساقط کے قائل ہوجائیں تو اس وقت بھی معاملہ واضح ہے۔

۶ ۔“صغیرہ”، “یائسہ” اور “غیر مدخول بہا” کے لئے عدت گزارنا ضروری نہ ہونے کی دلیل: اس حکم پر بعض روایات دلالت کر رہی ہیں جن میں سے ایک ،عبد الرحمن بن حجاج کی روایت ہے:

قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ علیه السلام:‏ ثَلَاثٌ يَتَزَوَّجْنَ عَلَى كُلِّ حَالٍ:الَّتِي لَمْ تَحِضْ وَ مِثْلُهَا لَا تَحِيضُ، قَالَ: قُلْتُ: وَ مَا حَدُّهَا؟ قَالَ: إِذَا أَتَى لَهَا أَقَلُّ مِنْ تِسْعِ سِنِينَ، وَ الَّتِي لَمْ يُدْخَلْ بِهَا وَ الَّتِي قَدْ يَئِسَتْ مِنَ الْمَحِيضِ وَ مِثْلُهَا لَا تَحِيض ...”“حضرت امام جعفر صادق عل یہ السلام نے فرمایا: تین قسم کی عورتیں ہر حال میں شادی کر یں گی: وہ لڑکی جس نے ابھی تک حیض نہیں دیکھا اور وہ جو حیض نہیں دیکھتی۔ راوی کہتا ہے : میں نے کہا:ان کی حد کیا ہے؟ فرمایا: اگر اس کی عمر نو ۹ سال سے کم ہو اور وہ عورت جس کے ساتھ دخول نہ کیا گیا ہو اور وہ عورت جو یائسہ ہو چکی ہو اور انہی کی طرح حیض نہ دیکھنے والی عورت بھی ہے...”(۱۵۷)

اگرچہ اس روایت کی سند میں سہل بن زیاد کا نام آتا ہے ؛ لیکن ان شاء اللہ معاملہ مشکل نہیں ہے۔

۷ ۔ وفات کی عدت ، چار مہینے دس دن ہونے کی دلیل: یہ مشہور فتویٰ ہے۔(۱۵۸) اور اس پر زرارہ کی روایت صحیحہ دلالت کر رہی ہے:

سَأَلْتُ أَبَا جَعْفَرٍ علیه السلام مَا عِدَّةُ الْمُتْعَةِ إِذَا مَاتَ عَنْهَا الَّذِي تَمَتَّعَ بِهَا؟ قَالَ: أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَ عَشْراً.ثُمَّ قَالَ: يَا زُرَارَةُ! كُلُّ النِّكَاحِ إِذَا مَاتَ الزَّوْجُ فَعَلَى الْمَرْأَةِ حُرَّةً كَانَتْ أَوْ أَمَةً وَ عَلَى أَيِّ وَجْهٍ كَانَ النِّكَاحُ مِنْهُ مُتْعَةً أَوْ تَزْوِيجاً أَوْ مِلْكَ يَمِينٍ؛ فَالْعِدَّةُ أَرْبَعَةُ أَشْهُرٍ وَ عَشْرا ...”“م یں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے سوال کیا: اگر متعہ کرنے والا مرجائے تو اس متعے کی عدت کیا ہے؟ فرمایا: چار مہینے دس دن۔ پھر فرمایا: اے زرارہ ! ہر نکاح میں اگر شوہر مر جائے تو عورت پر واجب ہے کہ چار مہینے دس دن عدت گزارے خواہ وہ آزاد ہو یا کنیز اور نکاح بھی متعہ ہو یا دائمی یا کنیزی۔”(۱۵۹)

اس کے علاوہ بھی روایتیں موجود ہیں جو اس حکم پر دلالت کر تی ہیں۔

بلکہ اس حکم کو ثابت کرنے کے لئےمندرجہ ذیل آیت کے عموم سے استفادہ کیا جا سکتا ہے:

( وَ الَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَ يَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَترََبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشهْرٍ وَ عَشْرًا ...) “ اور تم میں سے جو وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں تو وہ بیویاں چار ماہ دس دن اپنے آپ کو انتظار میں رکھیں،...”(۱۶۰)

اگر یہ کہا جائے کہ حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام سے مروی علی بن یقطین کی روایت اس طرح ہے:

عِدَّةُ الْمَرْأَةِ إِذَا تَمَتَّعَ بِهَا فَمَاتَ عَنْهَا خَمْسَةٌ وَ أَرْبَعُونَ يَوْما ”“کس ی عورت کے ساتھ متعہ کرنے والا مر جائے تو اس عورت کی عدت پینتالیس ۴۵ دن ہے۔”(۱۶۱)

اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک شخص کی وساطت سے حلبی کی نقل کردہ روایت اس طرح ہے:

سَأَلْتُهُ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مُتْعَةً ثُمَّ مَاتَ عَنْهَا مَا عِدَّتُهَا؟ قَالَ: خَمْسَةٌ وَ سِتُّونَ يَوْماً .”“م یں نے ان سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے ایک عورت کے ساتھ متعہ کیا اور وہ مر گیا تو اس عورت کی عدت کیا ہوگی؟ فرمایا: پینسٹھ ۶۵ دن۔”(۱۶۲)

یہ دونوں روایتیں اوپر بیان کردہ روایت کے منافی ہیں۔

تو ہم اس کے جواب میں کہیں گے : اولاً: یہ دونوں روایتیں ، زرارہ کی روایت صحیحہ سے معارض نہیں ہو سکتیں ؛ کیونکہ ان میں سے پہلی روایت کی سند ، احمد بن ہلال کی وجہ سےقابل اشکال ہے اور دوسری روایت مرسل ہے۔ ثانیا ً: اگر یہ دونوں تام ہوں تب بھی تعارض کی صورت میں زرارہ کی روایت کو ترجیح دی جائے گی ؛ کیونکہ وہ قرآن کے موافق ہے۔

۸ ۔ متعہ سے پیدا ہونے والا بچہ ، شوہر سے متعلق ہونے کی دلیل: یہ حکم فقہ کے واضحات میں سے ہے۔ اس پر بعض روایتیں دلالت کر رہی ہیں جن میں سے ایک محمد بن مسلم کی روایت صحیحہ ہے جو متعہ کے بارے میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کی گئی ہے ۔ محمد بن مسلم کہتے ہیں: میں نے عرض کیا:

أَ رَأَيْتَ إِنْ حَبِلَتْ‏، فَقَالَ: هُوَ وَلَدُهُ .”“اگر وہ عورت حاملہ ہوجائے تو آپ ؑ ک ی فرماتے ہیں؟ فرمایا: وہ اس کے شوہر کا بچہ ہے۔”(۱۶۳)

بلکہ اس مقام پر ہمیں کسی خاص روایت کی ضرورت نہیں ہے ؛ کیونکہ پیغمبر اکرم ؐ کا یہ فرمان ہے کہ :

الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَ لِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ .”“بچہ شوہر کا ہوگا اور زناکار کے لئے پتھر(سنگسار) ہے۔”(۱۶۴)

متعے سے پیدا ہونے والے بچے پر ، اولاد کے تمام احکام جاری ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جب شوہر کی اولاد شمار ہوجائے گا تو اس کا لازمہ اس پر اولاد کے تمام احکام کا جاری ہونا ہے؛ کیونکہ اولاد کے عنوان کے لئے ثابت تمام احکام کی دلیلوں کے اطلاق میں یہ بچہ بھی شامل ہوگا۔

۹ ۔ متعہ کرنے والی عورت کے مستحق نفقہ نہ ہونے کی دلیل: صاحب جواہر نے اس حکم پر اجماع کا دعویٰ کیا ہے۔(۱۶۵) اور شیخ بحرانی ؒنے ان ادلہ کے ذریعے اس پر استدلال کیا ہے جو کہتی ہیں کہ متعہ والی عورت کو نہ طلاق دی جاتی ہے اور نہ وہ وارث بنتی ہے ، وہ صرف ایک مزدور ہے۔ شیخ بحرانی فرماتے ہیں: “ یہ بات واضح ہے کہ اجیر کے لئے کوئی نفقہ نہیں ہے۔”(۱۶۶)

جبکہ شیخ بحرانی ؒ کے لئے مناسب یہ تھا کہ ہشام بن سالم کی روایت سے بھی استدلال کرتے۔ وہ روایت یوں ہے:

قلت لابی عبد اللّه علیه السلام: اتزوج المراة متعة مرة مبهمة، فقال: ذلک اشد علیک ترثها و ترثک ولا یجوز لک ان تطلقها الا علی طهر و شاهدین، قلت: اصلحک اللّه فکیف اتزوجها؟ قال: ایاما معدودة بشیء مسمی مقدار ما ترضیتم به، فاذا مضت ایامها کان طلاقها فی شرطها ولا نفقة ولا عدة لها علیک .”“میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا: کیا میں کسی عورت سے ایک بار مبہم متعہ کر سکتا ہوں؟ فرمایا: یہ تمہارے اوپر زیادہ سخت ہوگا وہ تم سے ارث پائے گی اور تم اس کو طلاق بھی نہیں دے سکتے جب تک وہ پاک نہ ہو اور دو گواہ بھی نہ ہوں۔ عرض کیا: اللہ آپ کا بھلا کرے ! پس میں کیسے اس کے ساتھ شادی کروں؟ فرمایا: چند معین دنوں کے لئے اور ایک مقدار مہر کے ساتھ جس پر تم دونوں راضی ہوں۔ پس جب یہ ایام گزر جائیں تو شرط کے تحت اس کی طلاق ہوجائے گی تم پر اس کا کوئی نفقہ بھی نہیں اور نہ اس کی عدت ہے۔”(۱۶۷)

اس روایت کی دلالت تو واضح ہے ؛مگر یہ کہ اس کی سند موسی بن سعدان اور عبد اللہ بن قاسم پر مشتمل ہے جن کی وثاقت ثابت نہیں ہے؛ لیکن شیخ بحرانی ؒ کے مبنا کے مطابق ایسے اشکالات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

متعہ والی عورت کا نفقہ واجب نہ ہونے کے کی یہی دو دلیلیں ہیں جبکہ دونوں کی حالت آپ دیکھ رہے ہیں۔

اس مسئلے پر یوں استدلال کرنا زیادہ مناسب ہے کہ یہ مسئلہ عموما پیش آنے والے مسائل میں سے ہے ؛ لہذا اس کا حکم اصحاب کے نزدیک واضح ہونا ضروری ہے۔ اگر نفقہ واجب ہوتا تو روایات اور اصحاب کے کلام میں اس کا ذکر ہوتا جبکہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے ؛ لہذا نفقہ واجب ہونے کا احتمال نہیں دیا جا سکتااور واجب نہ ہونا ہی مطلوب ہے۔

۱۰ ۔ازدواج موقت میں ، شرط کئے بغیر، ایک دوسرے کی وراثت نہ ملنے کی دلیل: یہ مشہور فتویٰ ہے۔(۱۶۸) اس سلسلے میں روایات کے تین مجموعے ہیں:

الف)وہ روایات جو بغیر کسی تفصیل کے وراثت نہ ملنے پر دلالت کرتی ہیں ۔

ب) وہ روایات جو شرط رکھنے کی وجہ سے وراثت ملنے پر دلالت کرتی ہیں۔

ج)وہ روایات جو وراثت ملنے پر دلالت کرتی ہیں بشرطیکہ نہ ملنے کی شرط نہ رکھی ہو۔

پہلے مجموعے کی مثال، حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے مروی زرارہ کی روایت صحیحہ ہے:

“...وَ لَا مِيرَاثَ بَيْنَهُمَا فِي الْمُتْعَةِ إِذَا مَاتَ وَاحِدٌ مِنْهُمَا فِي ذَلِكَ الْأَجَلِ .”“اگر متعہ ک ی مدت میں میاں بیوی میں سے کسی ایک کا انتقال ہو جائے تو ان کے درمیان کوئی میراث نہیں ہوگی۔”(۱۶۹)

دوسرے مجموعے کی مثال، حضرت امام رضا علیہ السلام سے مروی بزنطی کی روایت صحیحہ ہے:

تَزْوِيجُ الْمُتْعَةِ نِكَاحٌ بِمِيرَاثٍ وَ نِكَاحٌ بِغَيْرِ مِيرَاثٍ، إِنِ اشْتَرَطَتْ كَانَ وَ إِنْ لَمْ تَشْتَرِطْ لَمْ يَكُنْ .” “متعہ ک ی شادی میں ایک نکاح وراثت کے ساتھ ہے اور ایک نکاح بغیر وراثت کے۔ اگر وراثت کی شرط رکھی جائے تو ملے گی اور اگر شرط نہیں رکھی تو نہیں ملے گی۔”(۱۷۰)

تیسرے مجموعے کی مثال، محمد بن مسلم کی موثق روایت ہے:

سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ علیه السلام يَقُولُ‏ فِي الرَّجُلِ يَتَزَوَّجُ الْمَرْأَةَ مُتْعَةً: إِنَّهُمَا يَتَوَارَثَانِ إِذَا لَمْ يَشْتَرِطَا، وَ إِنَّمَا الشَّرْطُ بَعْدَ النِّكَاحِ .”“م یں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کو ایک ایسے شخص کے بارے میں جس نے متعہ کیا تھا، یہ کہتے ہوئے سنا کہ اگر انہوں نے شرط نہیں رکھی ہے تو وہ ایک دوسرے سے میراث پائیں گے اور شرط تو نکاح کے بعد ہوتی ہے۔”(۱۷۱)(۱۷۲)

بشرطیکہ شرط سے مراد وراثت نہ ملنے کی شرط ہو۔ لیکن شرط سے مراد مدت معین نہ کرنا ہو تو یہ روایت موضوع بحث سے مطابقت نہیں رکھتی ؛ لہذا تیسرے مجموعہ روایات کو اس فہرست سے خارج کرنا ضروری ہوگا۔

رہی بات تعارض کی تو صرف دوسرے اور تیسرے مجموعے کے درمیان تعارض ہوگا ؛ کیونکہ پہلا مجموعہ مطلق ہونے کی حیثیت سے کسی جانب جھکاؤ نہیں رکھتا اور بعد والے دونوں مجموعوں میں سے کسی ایک کے ذریعے اس کو مقید کیا جا سکتا ہے۔

بعد والے دونوں مجموعے، شرط رکھنے کی صورت میں وراثت ثابت ہونے پر متفق ہیں لیکن شرط نہ رکھنے کی صورت میں باہم متعارض ہیں۔ دوسرا مجموعہ وراثت نہ ملنے اور تیسرا مجموعہ وراثت ملنے پر دلالت کرتا ہے۔

جس مقدار میں دونوں متعارض ہیں اسی کی نسبت سے دونوں ساقط ہوجائیں گے اور پہلے مجموعے کی طرف رجوع کرنا لازمی ہوجائے گا؛ کیونکہ پہلامجموعہ عام فوقانی کی حیثیت رکھتا ہے۔ نتیجتاً شرط رکھنے کی صورت میں وراثت ثابت ہوجائے گی ؛ کیونکہ دونوں مجموعے اس پر متفق ہیں اور شرط نہ رکھنے کی صورت میں وراثت نہیں ملے گی جو پہلے مجموعے کے اطلاق سے تمسک کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔

اس طرح ہم اسی نتیجے پر پہنچتے ہیں جو مشہور فتویٰ کے مطابق ہے۔

۱۱ ۔ ازدواج موقت میں طلاق نہ ہونے ؛بلکہ مدت ختم ہوتے ہی میاں بیوی میں جدائی ہونے کی دلیل: یہ حکم ان احکام میں سے ہے جن سے کسی کو اختلاف نہیں ہے۔ اور دلیل نمبر ۴ میں مذکور ہاشمی کی روایت سمیت بعض دوسری روایتیں اسی حکم پر دلالت کرتی ہیں۔

اگر شوہر باقیماندہ مدت ، عورت کو بخش دے تو بھی صحیح ہے اور عورت اس سے جد اہو جائے گی۔ یہ حکم بھی انہی احکام میں سے ہے جن سے کسی کو اختلاف نہیں ہے۔ اس پر بعض روایت دلالت کر رہی ہیں جن میں سےا یک علی بن رئاب کی روایت صحیحہ ہے:

كَتَبْتُ إِلَيْهِ أَسْأَلُهُ عَنْ رَجُلٍ تَمَتَّعَ بِامْرَأَةٍ ثُمَّ وَهَبَ لَهَا أَيَّامَهَا قَبْلَ أَنْ يُفْضِيَ إِلَيْهَا أَوْ وَهَبَ لَهَا أَيَّامَهَا بَعْدَ مَا أَفْضَى إِلَيْهَا هَلْ لَهُ أَنْ يَرْجِعَ فِيمَا وَهَبَ لَهَا مِنْ ذَلِكَ؟ فَوَقَّعَ علیه السلام:لَا يَرْجِعُ .”“م یں نے کتابت کے ذریعے ان سے ایک ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے کسی عورت کے ساتھ متعہ کیا تھا پھر عورت کے علم میں لائے بغیر باقیماندہ مدت اسے بخش دی یا اس کو بتاکر بخش دی ۔ کیا وہ اس معاف کردہ مدت کے حوالے سے رجوع کرسکتا ہے؟ تو امام ؑ نے جواب میں لکھا: رجوع نہیں کر سکتا۔”(۱۷۳)

یہ روایت کہہ رہی ہے کہ مدت کو معاف کرنے کا جواز ایک طے شدہ مسئلہ ہے اور سوال صرف رجوع کے جواز کے بارے میں کیا گیا ہے۔

اس روایت کا مُضمَرہونا اس کے دلیل بننے میں رکاوٹ نہیں بنے گا؛ کیونکہ مُضمِر(راوی) ان بزرگ اصحاب میں سے ہیں جو امام ؑ کے علاوہ کسی اور سے روایت نہیں لیتے۔

۱۲ ۔اہل کتاب کے علاوہ دوسری کافر عورتوں سے ازدواج موقت جائز نہ ہونے کی دلیل: اس حکم کی وہی دلیل ہے جو عقد دائمی کی بحث میں گزر چکی ہے۔

____________________

۱ ۔معارج: ۲۹۔۳۰، ترجمہ : محسن علی نجفی

۲ ۔جواہر الکلام: ۲۹/۶

۳ ۔الحدائق الناضرۃ: ۲۳/ ۱۵۶

۴ ۔وسائل الشیعہ: ابواب المتعہ، باب ۱۸، حدیث ۱

۵ ۔ احزاب: ۳۷، ترجمہ : محسن علی نجفی

۶ ۔نساء: ۲۲، ترجمہ : محسن علی نجفی

۷ ۔وسائل الشیعہ: ابواب متعہ، باب ۲۰، حدیث۱

۸ ۔نور: ۳۲، ترجمہ : محسن علی نجفی

۹ - یہ علم اصول کا ایک قانون ہے

۱۰ ۔وسائل الشیعہ: ابواب المتعہ، باب ۱۸، حدیث ۱

۱۱ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب عقد نکاح، باب ۳، حدیث ۳

۱۲ ۔وسائل الشیعہ: ابواب مقدمات نکاح، باب ۴۳، حدیث ۵

۱۳ ۔جواہر الکلام: ۲۹/ ۱۷۱

۱۴ ۔وسائل الشیعہ: ابواب عقد نکاح، باب ۱۲، حدیث ۱

۱۵ ۔وسائل الشیعہ: ابواب عقد نکاح، باب ۱۱، حدیث۱

۱۶ ۔وسائل الشیعہ: ابواب مقدمات طلاق، باب ۳۵، حدیث ۱

۱۷ ۔وسائل الشیعہ: ابواب عقد نکاح، باب ۳، حدیث ۱۱

۱۸ ۔وسائل الشیعہ: ابواب عقد نکاح، باب ۶، حدیث ۵

۱۹ ۔وسائل الشیعہ: ابواب عقد نکاح، باب۹، حدیث۱

۲۰ ۔وسائل الشیعہ: ابواب عقد نکاح، باب۹، حدیث۲

۲۱ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب عقد نکاح، باب۹، حدیث۴

۲۲ ۔ ملاحظہ ہو: دروس تمہیدیہ فی القواعد الرجالیہ: ۱۷۱، ۱۷۵

۲۳ ۔نور: ۳۱

۲۴ ۔نور: ۳۱

۲۵ ۔نور:۳۰

۲۶ ۔ملاحظہ ہو: مجمع البحرین: ۴/ ۲۱۸، مفردات راغب: ۶۰۷

۲۷ ۔وسائل الشیعہ: ابواب مقدمات نکاح، باب ۱۰۹، حدیث۱

۲۸ ۔وسائل الشیعہ: ابواب عقد نکاح ، باب ۱۰۹، حدیث ۳

۲۹ ۔نور: ۳۱

۳۰ ۔ریاض المسائل: ۱۱/ ۵۳

۳۱ ۔ نور: ۳۱

۳۲ ۔وسائل الشیعہ: ابواب مقدمات نکاح، باب ۱۲۹، حدیث۱

۳۳ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب مقدمات نکاح، باب ۱۲۹، حدیث ۳

۳۴ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب مقدمات نکاح، باب ۱۲۹، حدیث ۴

۳۵ ۔ملاحظہ ہو: مجمع البحرین: ۴/ ۲۱۸، مفردات راغب: ۶۰۷

۳۶ ۔ملاحظہ ہو: وسائل الشیعہ: ابواب آداب الحمام، باب ۹

۳۷ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب آداب الحمام،باب ۳، حدیث۱

۳۸ ۔نور: ۶۰

۳۹ ۔وسائل الشیعہ: ابواب مقدمات نکاح، باب ۱۰۴

۴۰ ۔نور: ۳۰

۴۱ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب مقدمات نکاح، باب ۱۲۶، حدیث ۳

۴۲ ۔وسائل الشیعہ: ابواب مقدمات نکاح، باب ۳۶، حدیث۲

۴۳ ۔وسائل الشیعہ: ابواب مقدمات نکاح، باب ۳۶، حدیث۸

۴۴ ۔ملاحظہ ہو: سید یزدی، عروۃ الوثقیٰ ، کتاب نکاح، مسئلہ: ۲۶

۴۵ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب مقدمات نکاح، باب ۳۶، حدیث۱

۴۶ ۔شیخ اعظم انصاری ؒ ، کتاب نکاح: ۴۳

۴۷ ۔وسائل الشیعہ: ابواب مقدمات نکاح، باب ۱۱۲، حدیث ۱

۴۸ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب مقدمات نکاح، باب ۱۱۳، حدیث۱

۴۹ ۔نساء:۲۳

۵۰ ۔نساء: ۲۲

۵۱ ۔نساء: ۲۳

۵۲ ۔احزاب :۵۳

۵۳ ۔نساء: ۲۲

۵۴ ۔وسائل الشیعہ: ابواب مایحرم بالمصاہرۃ، باب۲، حدیث ۱

۵۵ ۔وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالرضاع، باب ۱، حدیث ۱

۵۶ ۔نساء: ۲۳

۵۷ ۔وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالمصاہرہ، باب ۱۸، حدیث ۴

۵۸ ۔جواہر الکلام: ۲۹/ ۳۴۹

۵۹ ۔نساء: ۲۳

۶۰ ۔ملاحظہ ہو: وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالمصاہرۃ، باب ۲۴ اور اس کے بعد والے ابواب

۶۱ ۔وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالمصاہرۃ، باب ۳۰، حدیث ۱

۶۲ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالمصاہرۃ، باب ۳۰، حدیث ۳

۶۳ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالمصاہرۃ، باب ۳۰، حدیث۸

۶۴ ۔وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالمصاہرۃ، باب ۱۰، حدیث۱

۶۵ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالمصاہرۃ، باب ۱۰، حدیث۱

۶۶ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالمصاہرۃ، باب ۱۰، حدیث۲

۶۷ ۔وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالمصاہرۃ، باب ۶ ، حدیث ۱

۶۸ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالمصاہرۃ، باب ۶ ، حدیث ۶

۶۹ ۔جواہر الکلام : ۲۹/ ۴۴۷

۷۰ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالمصاہرۃ، باب۱۵ ، حدیث۱۔ اس روایت میں ضمیر غائب “رجل” کی طرف نہیں ؛ بلکہ“غلام” کی طرف پلٹ رہی ہے۔اگرچہ فقہاء کے فتاویٰ کےقرینے سے ہی کیوں نہ معلوم ہو کہ مفعول پر فاعل کی رشتہ دار خواتین میں سے کوئی بھی حرام نہیں ہوگی۔ البتہ جواہر : ۲۹/ ۴۴۸ کی نقل کے مطابق شیخ نے بعض اصحاب سے نقل کیا ہے کہ مفعول پر بھی فاعل کی رشتہ دار خواتین حرام ہوں گی۔ لیکن اس قول کو بعید قرار دیا ہے کیونکہ جس کے بارے میں بات ہورہی ہے وہ “رجل” ہے۔ پھر کہتے ہیں : شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ضمیر کے فاعل اور مفعول دونوں کی طرف پلٹنے کا احتمال ہے۔

۷۱ ۔مزید وضاحت کے لئے ملاحظہ ہو: کتاب دروس تمہیدیہ فی القواعد الرجالیہ: ۱۸۴

۷۲ ۔وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالمصاہرۃ، باب ۱۵، حدیث ۷

۷۳ ۔ملاحظہ ہو: وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالمصاہرۃ، باب ۱۵

۷۴ ۔وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالمصاہرۃ، باب ۸، حدیث ۱

۷۵ ۔وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالمصاہرۃ، باب ۱۶، حدیث ۱

۷۶ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالمصاہرۃ، باب ۱۶، حدیث۳

۷۷ ۔وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالمصاہرۃ، باب ۱۶، حدیث۶

۷۸ ۔جواہر الکلام: ۲۹/ ۴۴۶

۷۹ ۔مستدرک الوسائل: ۱۴/ ۳۸۷ ، نمبر ۱۷۰۴۸

۸۰ ۔نساء : ۲۴

۸۱ ۔نساء: ۲۳

۸۲ ۔وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالرضاع، باب ۱، حدیث ۱، ۳، ۴...

۸۳ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالرضاع، باب ۱، حدیث۲

۸۴ ۔جواہر الکلام: ۲۹/ ۳۰۹

۸۵ ۔نساء: ۲۴

۸۶ ۔وسائل الشیعہ: ابواب مایحرم بالرضاع، باب ۱۶، حدیث ۱

۸۷ ۔یعنی: اسی وجہ سے لوگ نادانی میں یہ کہتے ہیں کہ فحل کا دودھ اس کی بیوی کو اس پر حرام قرار دیتا ہے؛ لیکن یہ صحیح نہیں ہے ؛ کیونکہ فحل کا دودھ اس بات کا سبب نہیں بنتا ؛ بلکہ رضیع کے باپ پر صاحب لبن کی بیٹی کے حرام ہونے کا سبب بنتا ہے۔ وافی : ۲۱/ ۲۴۷ پر مذکورہ عبارت کی یہی تشریح کی گئی ہے اور وسائل کے حاشئے میں حرعاملی ؒ نے کوئی دوسری تشریح کی ہے۔ لیکن اس روایت سے کیا جانے والا استدلال اسی جملے کے سمجھنے پر موقوف نہیں ہے ؛ لہذا کوئی مشکل پیش نہیں آتی۔

۸۸ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب مایحرم بالرضاع، باب۶ ، حدیث ۱۰

۸۹ ۔الحدائق الناضرۃ: ۲۳/ ۲۹۹

۹۰ ۔نساء: ۲۴

۹۱ ۔وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالرضاع، باب ۱۰، حدیث ۱

۹۲ ۔وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالرضاع، باب ۶، حدیث۴

۹۳ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالرضاع، باب۹، حدیث ۱

۹۴ ۔نساء: ۲۴

۹۵ ۔جواہر الکلام: ۲۹/ ۲۹۶

۹۶ ۔وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالرضاع، باب ۵، حدیث ۲

۹۷ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالرضاع، باب ۵، حدیث۵

۹۸ ۔جواہر الکلام: ۲۹/ ۳۰۱

۹۹ ۔وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالرضاع، باب ۲، حدیث۲

۱۰۰ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالرضاع، باب ۲، حدیث۵

۱۰۱ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالرضاع، باب ۲، حدیث۱

۱۰۲ ۔بقرہ: ۲۳۲

۱۰۳ ۔بقرہ: ۲۲۸

۱۰۴ ۔طلاق: ۱

۱۰۵ ۔بقرہ: ۲۳۴

۱۰۶ ۔وسائل الشیعہ: ابواب المتعہ، باب ۲۳، حدیث ۱

۱۰۷۔ وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالمصاہرۃ، باب ۱۷، حدیث ۲۲

۱۰۸ ۔اس قاعدے کی مزید وضاحت کے لئے ملاحظہ ہو: کتاب دروس تمہیدیہ فی القواعد الرجالیہ: ۱۷۱

۱۰۹ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب مایحرم بالمصاہرۃ، باب ۱۷، حدیث ۱۹

۱۱۰ ۔ملاحظہ ہو: اسی کتاب کی دوسری جلد: ص ۱۲۷

۱۱۱ ۔وسائل الشیعہ: ابواب مایحرم بالمصاہرۃ، باب ۱۷، حدیث ۱۰

۱۱۲ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب مایحرم بالمصاہرۃ، باب ۱۷، حدیث ۶

۱۱۳ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب مایحرم بالمصاہرۃ، باب ۱۷، حدیث ۳

۱۱۴ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب مایحرم بالمصاہرۃ، باب ۱۷، حدیث ۴

۱۱۵ ۔جواہر الکلام : ۳۰/ ۲

۱۱۶ ۔نساء: ۳

۱۱۷ ۔وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم باستیفاء العدد، باب ۲، حدیث ۱

۱۱۸ ۔وسائل الشیعہ: ابواب المتعہ، باب ۴، حدیث ۳

۱۱۹ ۔مضمر: وہ روایت جس میں معصوم کے نام کے بجائے ضمیر کا استعمال کیا گیا ہو۔

۱۲۰ ۔وسائل الشیعہ: ابواب متعہ، باب ۴، حدیث ۱۰

۱۲۱ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب متعہ، باب ۴، حدیث۹

۱۲۲ ۔جواہر الکلام: ۳۰ / ۹

۱۲۳ ۔ جواہر الکلام: ۳۰ / ۹

۱۲۴ ۔جواہر الکلام: ۳۰/ ۲۷

۱۲۵ ۔بقرہ: ۲۲۱

۱۲۶ ۔ممتحنہ: ۱۰

۱۲۷ ۔جواہر الکلام: ۳۰/ ۲۸

۱۲۸ ۔وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالکفر، باب ۲، حدیث ۱

۱۲۹ ۔ریاض المسائل: ۱۱/ ۲۸۲

۱۳۰ ۔وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالکفر، باب ۹، حدیث ۴

۱۳۱ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالکفر، باب۷، حدیث ۱

۱۳۲ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب ما یحرم بالکفر، باب۷، حدیث ۴

۱۳۳ ۔جواہر الکلام: ۲۹/ ۴۵۰

۱۳۴ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب مایحرم بالمصاہرۃ، باب ۳۱، حدیث ۲

۱۳۵ ۔وسائل الشیعہ: ابواب تروک الاحرام، باب ۱۵، حدیث۲

۱۳۶ ۔وسائل الشیعہ: ابواب تروک الاحرام، باب ۱۵، حدیث۳

۱۳۷ ۔وسائل الشیعہ:ابواب مایحرم بالمصاہرۃ، باب ۳۱، حدیث ۱

۱۳۸ ۔وسائل الشیعہ:ابواب مایحرم بالمصاہرۃ، باب ۳۲، حدیث ۱

۱۳۹ ۔ نساء: ۲۴

۱۴۰ ۔وسائل الشیعہ: ابواب المتعہ، باب ۱، حدیث ۴

۱۴۱ ۔صحیح مسلم، کتاب النکاح، باب نکاح المتعۃ، حدیث ۱۴۰۵؛ صحیح بخاری، کتاب النکاح، باب نہی رسول اللہ ؐ عن نکاح المتعۃ آخرا، حدیث ۵۱۱۷

۱۴۲ ۔احکام القرآن، لابی بکر الجصاص: ۲/ ۱۸۴؛ تفسیر القرطبی: ۵/ ۱۲۹؛ تفسیر الرازی: ۵/ ۵۱

۱۴۳ ۔جن لوگوں نے ابتدائے اسلام میں متعہ کے مباح ہونے پر مسلمانوں کے اتفاق ہونے کا ذکر کیا ہے ان میں سے ایک فخر رازی ہے ۔ تفسیر کبیر : ۵/ ۱۵

۱۴۴ ۔مسلم نے اپنی صحیح میں ابی نضرۃ سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا:“کنت عند جابر بن عبد اللّه فاتاه آت، فقال: ابن عباس، وابن زبیر اختلفا فی المتعتین، فقال جابر: فعلناهما مع رسول اللّه ، ثم نهانا عمر فلم نعد لهما ” میں جابر بن عبد اللہ کے پاس بیٹھا تھا ۔ اتنے میں ایک شخص نے آکر کہا:دونوں متعوں کے بارے میں ابن عباس اور ابن زبیرکے درمیان اختلاف ہوگیا ہے۔پس جابر نے کہا: ہم نے رسول اللہ کے ہمراہ ان دونوں کو انجام دیا تھا پھر عمر نے ہمیں منع کیا تو ہم نے دوبارہ انجام نہیں دیا۔(صحیح مسلم: باب نکاح متعہ، حدیث ۱۴۰۹)

رازی نے اپنی تفسیر میں عمران بن حصین سے روایت کی ہے : “نزلت آیة المتعة فی کتاب اللّه تعالی ولم تنزل بعدها آیة تنسخها وامرنا بها رسول اللّه و تمتعنا بها و مات ولم ینهنا عنه، ثم قال رجل برایه ما شاء ”قرآن مجید کی آیت متعہ نازل ہونے کے بعد پھر اس کو نسخ کرنے والی کوئی آیت نازل نہیں ہوئی۔ رسول اللہ ؐ نے ہمیں اس کا حکم دیا اور حکم نےانجام دیا۔اور ہمیں منع کئے بغیر رسول اللہ ؐ کا وصال ہوا ۔ پھر ایک آدمی نے جو کچھ چاہا اپنی مرضی سے کہا۔( تفسیر کبیر: ۵/ ۵۲)

اس کے بعد اسی صفحے پر ہی تفسیر طبری سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی ابن ابیطالب ؑ نے فرمایا: “لولا ان عمر نهی الناس عن المتعة ما زنی الا شقی ” اگر عمر لوگوں کو متعہ سے منع نہ کرتا تو کسی شقی کے علاوہ کوئی شخص زنا نہ کرتا۔

نیز اسی صفحے پر نقل کرتے ہیں کہ خلیفہ دوم نے اپنے خطبے میں کہا: “متعتان کانتا علی عهد رسول اللّه انا انهی عنهما و اعاقب علیهما ” دو متعے رسول اللہ کے زمانے میں تھے ، میں ان سے نہی کرتا ہوں اور ان کو انجام دینے والوں کو سزا دوں گا۔

یہی مضمون بیہقی نے بھی نقل کیا ہے۔ ( سنن بیہقی: ۷/ ۲۰۶)

احمد بن حنبل نے روایت کی ہے: “تمتعنا متعتین علی عهد رسول اللّه: الحج و النساء، فنهانا عنهما عمر فانتهینا ” ہم نے پیغمبر اکرم ؐ کے زمانے میں دو متعے انجام دئیے : حج تمتع اور عورتوں کے ساتھ متعہ۔ پھر عمر نے ہمیں منع کیا تو ہم نے اجتناب کیا۔( مسند احمد: ۳/ ۳۲۵)

احمد بن حنبل نے ہی روایت کی ہے کہ عبد اللہ بن عمر، متعہ کے جائز ہونے کا فتویٰ دیتا تھا تولوگوں نے اس سے کہا: “کیف تخالف اباک و قد نهی عن ذالک؟ فقال لهم: ویلکم الا تتقون... افرسول اللّه احق ان تتبعوا ام سنة عمر ؟!”تم کیسے اپنے باپ کی مخالفت کرتے ہو کہ اس نے متعہ کرنے سے نہی کی ہے؟ ابن عمر نے لوگوں سے کہا: وائے ہو تم پر ! کیا خدا سے نہیں ڈرتے... کیا پیغمبر اکرم ؐ پیروی کے لائق ہیں یا عمر؟! ( مسند احمد: ۲/ ۹۵)

۱۴۵ ۔یہی مضمون زرارہ کی روایت صحیحہ کا ہے جو شیخ کلینی ؒ نے نقل کی ہے۔ ( کافی: ۱/ ۵۸)

۱۴۶ ۔اس قول کو قوشجی نے خلیفہ دوم کا دفاع کرتے ہوئے بغیر کسی تبصرے کے نقل کیا ہے۔ شرح تجرید الاعتقاد: ۳۷۴

۱۴۷ ۔نجم: ۳۔۴

۱۴۸ ۔یونس: ۱۵

۱۴۹ ۔کہف: ۵

۱۵۰ ۔یہ قول جصاص کا ہے ۔ (احکام القرآن: ۲/ ۱۸۶

۱۵۱ ۔معارج: ۲۹۔ ۳۰

۱۵۲ ۔یہ قول سید محمد رشید رضا کا ہے۔ تفسیر المنار: ۵/ ۱۳

۱۵۳ ۔وسائل الشیعہ: ابواب المتعہ، باب ۱۷، حدیث ۱

۱۵۴ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب المتعہ، باب۴، حدیث۸

۱۵۵ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب المتعہ، باب۲۲، حدیث ۱

۱۵۶ ۔نساء: ۲۴

۱۵۷ ۔وسائل الشیعہ: ابواب العدد، باب ۲، حدیث ۴

۱۵۸ ۔جواہر الکلام: ۳۰/ ۲۰۰

۱۵۹ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب العدد، باب۵۲، حدیث ۲

۱۶۰ ۔بقرہ: ۲۳۴

۱۶۱ ۔وسائل الشیعہ: ابواب العدد، باب ۵۲، حدیث ۳

۱۶۲ ۔وسائل الشیعہ: ابواب العدد، باب ۵۲، حدیث ۴

۱۶۳ ۔وسائل الشیعہ: ابواب العدد، باب۳۳، حدیث ۱

۱۶۴ ۔ وسائل الشیعہ:ابواب نکاح العبید والاماء، باب ۵۸، حدیث ۴

۱۶۵ ۔جواہر الکلام: ۳۱/ ۳۰۳

۱۶۶۔ الحدائق الناضرۃ: ۲۵/ ۹۸

۱۶۷ ۔ تہذیب الاحکام: ۷/ ۲۶۷

۱۶۸ ۔ جواہر الکلام: ۳۰/ ۱۹۰

۱۶۹ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب المتعہ، باب۳۲، حدیث۱۰

۱۷۰ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب المتعہ، باب۳۲، حدیث۱

۱۷۱ ۔شاید یہ مراد ہو کہ شرائط کو عقد کے ضمن میں کلمہ “انکحت” کے بعد ذکر کرنا ضروری ہے۔

۱۷۲ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب المتعہ، باب۳۲، حدیث۲

۱۷۳ ۔ وسائل الشیعہ: ابواب المتعہ، باب۲۹، حدیث۱


مصادر و مآخذ

۱ ۔قرآن مجید

۲ ۔ البحرانی، الشیخ یوسف بن احمد (ت ۱۱۸۶ ھ) ، الحدائق الناضرۃ فی احکام العترۃ الطاہرۃ، تحقیق: الشیخ محمد تقی الایروانی، دارالکتب الاسلامیہ، النجف الاشرف، ۱۳۷۷ ھ۔

۲ ۔ البیہقی، احمد بن الحسین بن علی (ت ۴۵۸ ھ) ، السنن الکبریٰ ، تحقیق: محمد عبد القادر عطاء، دارالکتب العلمیۃ، بیروت، ط ۱ ، ۱۴۱۴ ھ۔

۳ ۔ الکشی، ابو عمر محمد بن عمر بن محمد بن عبد العزیز( ت نحو ۳۴۰ ھ)، اختیار معرفۃ الرجال، المعروف بہ رجال الکشی او معرفۃ الناقلین، تلخیص و تہذیب، الشیخ محمد بن الحسن الطوسی( ت ۶۴۰ ھ) تعلیق : حسن مصطفوی، ط دانشگاہ مشہد ۱۳۴۸ ش۔

۴ ۔ الکلینی، ابو جعفر محمد بن یعقوب بن اسحق رازی( ت ۳۲۹ ھ) الکافی، طبعۃ الآخوندی، النجف، ۱۳۷۵ ھ۔

۵ ۔ العاملی، الشیخ محمد بن الحسن بن علی، الشہیر بالحر العاملی (ت ۱۱۰۴ ھ) تفصیل وسائل الشیعۃ الی احکام الشریعۃ ، ط المکتبۃ الاسلامیہ ، طہران، ۱۳۴۷ ھ۔

۶ ۔ الحلی، الشیخ نجم الدین ، جعفر بن الحسن بن یحیی بن سعید الھذلی(ت ۶۷۶ ھ) شرائع الاسلام فی مسائل الحلال و الحرام، تحقیق: عبد الحسین البقال، ط ۱ ، الآداب، النجف الاشرف، ۱۳۷۹ ھ۔

۷ ۔ الصدوق، ابو جعفر ، محمد بن علی بن بابویہ القمی، المعروف بالشیخ الصدوق(ت ۳۸۱ ھ) من لایحضرہ الفقیہ، تحقیق: علی اکبر غفاری، قم ، مؤسسۃ النشر الاسلامی۔

۸ ۔الشہید الثانی، زین الدین بن علی بن احمد ، الجبعی العالمی( ت ۹۱۱ ھ) الروضۃ البہیۃ فی شرح اللمعۃ الدمشقیۃ، دار الھادی للمطبوعات، بیروت، قم، ۱۴۰۳ ھ۔

۹ ۔ رشید رضا، محمد رشید علی رضا (ت ۱۳۵۴ ھ) تفسیر القرآن الحکیم (تفسیر المنار) دارالمعرفۃ، بیروت، ط ۳ ۔

۱۰ ۔ القرطبی، محمد بن احمد الانصاری (ت ۶۷۱ ھ) الجامع الاحکام القرآن، دار احیاء التراث العربی، بیروت، ط ۲ ، ۱۳۷۲ ھ

۱۱ ۔ النیسابوری، مسلم بن الحجاج القشیری( ت ۲۶۱ ھ) صحیح مسلم، تحقیق: محمد فؤاد عبد الباقی، القاہرہ، دار الحدیث، ط ۱ ، ۱۴۱۲ ھ۔

۱۲ ۔ الایروانی، الشیخ باقر بن محمد تقی ، دروس تمہیدیۃ فی القواعد الرجالیۃ، انتشارات مدین، قم ، ط ۲ ، ۲۰۰۷ م۔

۱۳ ۔ الانصاری، الشیخ مرتضیٰ بن محمد امین (ت ۶۰۶ ھ) کتاب النکاح، لجنۃ احیاء تراث الشیخ الانصاری، قم، ۱۴۰۲ ھ۔

۱۴ ۔ ابن حنبل، احمد بن حنبل (ت ۲۴۱ ھ) مسند احمد بن حنبل، دار صادر، بیروت۔

۱۵ ۔ الطباطبائی، السید علی بن محمد علی بن ابی المعالی ( ۱۲۳۱ ھ) ریاض المسائل فی بیان احکام الشرع بالدلائل، ط مؤسسۃ النشر الاسلامی التابعۃ لجامعۃ المدرسین، قم، ط ۱ ، ۱۴۱۲ ھ۔

۱۶ ۔ الطریحی، الشیخ فخر الدین( ۱۰۸۵ ھ)، مجمع البحرین، دار مرتضوی، طہران، ط ۳ ، ۱۳۷۵ ھ۔

۱۷ ۔ الطوسی، الشیخ محمد بن الحسن ( ۴۶۰ ھ) تہذیب الاحکام فی شرح المقنعۃ، دار صعب و دار التعارف، بیروت، ۱۴۰۱ ھ

۱۸ ۔ الطباطبائی الحکیم، السید محسن، مستمسک العروۃ الوثقیٰ، دار احیاء التراث العربی، بیروت ۱۳۸۸ ھ۔

۱۹ ۔ الطباطبائی الیزدی، السید محمد کاظم (ت ۱۳۳۸ ھ)، العروۃ الوثقیٰ ، مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات، بیروت، ط ۱ ، ۱۴۱۰ ھ۔

۲۰ ۔ الطباطبائی الیزدی، السید محمد کاظم (ت ۱۳۳۸ ھ)، تکملۃ العروۃ الوثقیٰ (ملحقات العروۃ) مطبعۃ الحیدری، طہران، ۱۳۷۸ ھ

۲۱ ۔ النجفی، الشیخ محمد حسن (ت ۱۲۶۶) ، جواہر الکلام فی شرح شرائع الاسلام، دار احیاء التراث العربی، بیروت، ط ۷ ، ۱۹۸۱ م

۲۲ ۔ الجصاص، احمد بن علی الرازی( ۳۷۰ ھ)، احکام القرآن، تحقیق: عبد السلام محمد علی شاہین، دار الکتب العلمیۃ، بیروت، ط ۷ ، ۱۴۱۵ ھ۔

۲۳ ۔ العینی، بدر الدین( ت ۸۵۵ ھ) عمدۃ القاری فی شرح صحیح البخاری، بیروت ، دار احیاء التراث العربی۔

۲۴ ۔ الجزیری، عبد الرحمن، الفقہ علی المذاہب الاربعۃ، تحقیق: لجنۃ تحت اشراف وزارۃ الاوقاف بمصر، دار احیاء التراث العربی، بیروت، ۱۴۰۶ ھ۔


فہرست

انتساب! ۴

اہداء ۵

مقدمہ ۶

کتاب کا تعارف: ۶

مؤلف کا تعارف: ۶

حوزوی دروس ۶

ہجرت اور تدریس ۶

نجف کی طرف واپسی ۷

تالیفات ۷

ضرورت ترجمہ ۷

کتاب کے مشتملات: ۸

کتاب نکاح ۹

نکاح اور اس کے بعض احکام: ۹

نکاح کی اقسام: ۹

نکاح دائمی: ۹

نکاح متعہ: ۱۰

دلائل: ۱۰

مذکورہ دلیلوں کے جوابات: ۱۴

باپ ، دادا کی ولایت ۱ ور سرپرستی ۱۸

دلائل: ۱۸


نگاہ ڈالنے کے احکام ۲۳

دلائل: ۲۳

الف) فضیل کی روایت صحیحہ سے تمسک کرنا: ۲۴

ب) زرارہ کی روایت سے تمسک کرنا: ۲۵

ج) اللہ تعالیٰ کے مندرجہ ذیل فرمان سے تمسک کرنا: ۲۵

الف)آیت مجیدہ: ۲۷

ب) احمد بن ابی عبداللہ برقی کی روایت: ۲۷

ج)پیغمبر اکرم ؐ سے مکارم الاخلاق میں طبرسی کی نقل کردہ حدیث: ۲۷

د)ام سلمہ سے طبرسی ہی کی نقل کردہ حدیث: ۲۷

وہ عورتیں جن کے ساتھ نکاح کرنا حرام ہے ۳۲

دلائل : ۳۲

دامادی ۳۵

دلائل: ۳۵

الف) اولویت قطعیہ کے دعویٰ سے تمسک کرنا: ۴۴

ب)فقہ رضوی کے مذکورات سے تمسک کرنا: ۴۴

ج) بعض فقہاء کے نقل کردہ دعوائے اجماع سے تمسک کرنا: ۴۵

دودھ پلائی کے احکام ۴۶

دلائل: ۴۷

دودھ پلائی سے محرم بننے کی شرائط: ۵۰

دلائل: ۵۱

عدّت کے احکام ۵۶


دلائل: ۵۶

چار سے زیادہ بیویوں کے احکام ۶۲

دلائل: ۶۲

کافر بیوی کا حکم ۶۵

دلائل: ۶۵

لعان اورحالت احرام میں شادی کرنےاحکام ۶۹

احرام کی حالت میں ازدواج کا حکم ۶۹

لعان کا حکم ۶۹

دلائل: ۶۹

ازدواج موقت یا متعہ ۷۲

دلائل: ۷۲

مصادر و مآخذ ۹۴

دروس تمھیدیہ فی الفقہ الاستدلالی (كتاب النکاح)

دروس تمھیدیہ فی الفقہ الاستدلالی (كتاب النکاح)

اصلاح کتب

مؤلف: آیت اللہ شیخ باقر الایروانی
: غلام مہدی شگری
قسم: فقہ استدلالی
صفحے: 21