معرفت ِ امام عصر عجل الله تعالیٰ فرجہ
مؤلف: مولانا ذيشان حيدر جوادیامام مہدی(عجّل اللّہ فرجہ الشریف)
یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین ( علیہ ما السلام ) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
معرفت ِ امام عصر عجل الله تعالیٰ فرجہ
مصنف: علامہ السید ذیشان حیدر جوادی قدس سرہ
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
معرفت ِ امام عصر عجل الله تعالیٰ فرجہ
ماہ شعبان المعظم میں ادارہ اسلام شناسی کی پہلی پیشکش
از قلم: علامہ السید ذیشان حیدر جوادی قدس سرہ
ناشر: ادارہ اسلام شناسی زینبیہ امام بارگاہ، ۱۳۲ ، حسینیہ مارگ، ممبئی نمبر ۳
نام کتاب : معرفت ِ امام عصر عجل الله تعالیٰ فرجہ الشریف
مصنف : علامہ السید ذیشان حیدر جوادی قدس سرہ
کمپوزر : غلام حیدر (میکسیما کمپوزنگ سینٹر اسلام آباد)
ناشر : ادارہ اسلام شناسی
زینبیہ امام بارگاہ، حسینیہ مارگ ممبئی نمبر ۳
سن اشاعت : شعبان المعظم، ۱۴۲۴ ہجری بمطابق ستمبر ۲۰۰۳ ءء
مقدمہ
اہل ممبئی کی خوش قسمتی ہے کہ عالم اسلام کی بلند پایہ شخصیت سرکار علامہ جوادی مدظلہ نے اپنی مصروف ترین زندگی میں سے کچھ وقت اس شہر کے لیے مخصوص کر دیا ہے اور ہمارے شہر کو اپنے مذہبی خدمات کے لیے مرکز کی حیثیت دے دی ہے۔ اس سلسلے میں ہم ان مراجع عظام کے بھی شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے ہمارے حال زار پر رحم کھا کر سرکار موصوف کو اپنا وکیل خاص بنا کر ہماری نگرانی اور سرپرستی کے لیے ہندوستان میں قیام پر مجبور کر دیا ہے اور اس طرح مذہبی خدمات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوگیا ہے جس کا بہترین نمونہ ”ادارہ اسلام شناسی“ ہے۔ جسے سرکار موصوف کی سرپرستی کا شرف حاصل ہے اور یہ ادارہ صحیح مذہبی معلومات اور قرآن و اہل بیت علیہم السلام کی واقعی تعلیمات کو عملی شکل دینے کے لیے مسلسل کوشش کر رہا ہے۔ ادارہ نے ایک ماہانہ نشریہ کا بھی انتظام کیا ہے جس کا نقش اول ”معرفت ِ امام عصر “ ہے جو دور حاضر میں ہماری سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ مومنین کرام سے گزارش ہے کہ ان نشریات سے مکمل طور پر فائدہ اٹھائیں اور اصحاب خیر سے التماس ہے کہ اس کار خیر کی اشاعت میں ہر طرح سے تعاون کریں۔
رب کریم سرکار موصوف کے سایہ کو برقرار رکھے اور ہمیں ان کی تعلیمات سے استفادہ کرنے کی توفیق کرامت فرمائے۔
ادارہ اسلام شناسی
زینبیہ امام بارگاہ، ۱۳۲ حسینیہ مارگ، ممبئی ۳
نقش زندگانی حضرت صاحب الامر عجل الله فرجہ الشریف
ماہِ شعبان ۲۵۵ ئھ کی پندرہویں تاریخ صبح جمعہ کی مسعود ترین ساعت تھی جب پیغمبر اسلام کے آخری وارث اور سلسلہ امامت کے بارہویں اور آخری امام کی ولادت باسعادت ہوئی۔ بعض علماء نے سال ولادت ۲۵۶ ئھ سنہ نور لکھا ہے لیکن معروف ترین روایت ۲۵۵ ء ھ ہی کی ہے۔
والد ماجد امام حسن عسکریں تھے جن کی عمر مبارک آپ کی ولادت کے وقت تقریباً ۲۳ سال تھی اور والدہ گرامی جناب نرجس خاتون تھیں جنہیں ملیکہ بھی کہا جاتا ہے۔
جناب نرجس خاتون دادھیال کے اعتبار سے قیصر روم کی پوتی تھیں اور نانیہال کے اعتبار سے جناب شمعون وصی حضرت عیسیٰں کی نواسی ہوتی تھیں۔ اس اعتبار سے امام زمانہں نانیہال اور دادھیال دونوں اعتبار سے بلند ترین عظمت کے مالک ہیں اور آپ کا خاندان ہر اعتبار سے عظیم ترین بلندیوں کا مالک ہے۔
جناب نرجس کے روم سے سامرہ پہنچنے کی تاریخ دو حصوں میں بیان کی جاتی ہے۔ ایک حصہ سامرہ سے متعلق ہے اور ایک حصہ روم سے متعلق ہے۔ پہلے حصہ کے راوی جناب بشر بن سلیمان انصاری ہیں جو جناب ابو ایوب انصاری کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور دوسرے حصہ کی راوی خود جناب نرجس ہیں جنہوں نے اپنی داستانِ زندگی خود بیان فرمائی ہے۔
پہلے حصہ کا خلاصہ یہ ہے کہ امام علی نقی ں کے خادم کافور نے بشر بن سلیمان تک یہ پیغام پہنچایا کہ تمہیں امام علی نقی ں نے یاد فرمایا ہے۔ بشر خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا کہ تم بردہ فروشی کا کام جانتے ہو۔ یہ ایک تھیلی ہے جس میں دو سو بیس اشرفی ہیں اسے لے کر میرے خط کے ساتھ جسر بغداد تک چلے جاؤ، وہاں ایک قافلہ بردہ فروشوں کا نظر آئے گا۔ اس قافلہ میں ایک خاتون بہ شکل کنیز ہوگی جس کی خریداری کی تمام لوگ کوشش کر رہے ہوں گے لیکن وہ کسی کی خریداری سے راضی نہ ہوگی اور نہ اپنے چہرہ سے نقاب اٹھائے گی۔ تم یہ منظر دیکھتے رہنا جب تمام لوگ قیمت بڑھا کر عاجز ہو جائیں اور مالک پریشان ہو اور کنیز یہ کہے کہ میرا خریدار عنقریب آنے والا ہے تو تم مالک کو یہ تھیلی دے دینا اور کنیز کو یہ خط دے دینا جو اسی کی زبان میں لکھا گیا ہے۔ معاملہ خود بخود طے ہو جائے گا۔ جناب بشر بن سلیمان نے ایسا ہی کیا اور حرف بحرف امام کی نصیحت پر عمل کیا۔ یہاں تک کہ معاملہ طے ہوگی اوار دو سو بیس اشرفی میں اس خاتون کو حاصل کر لیا اور امام کی خدمت میں لا کر پیش کر دیا۔
اس کے بعد جناب نرجس نے اپنی تاریخ زندگی یوں بیان کی ہے کہ میں ملیکہ قیصر روم کی پوتی ہوں۔ میری شادی میرے ایک رشتہ کے بھائی سے طے ہوئی تھی اور پورے اعزاز و احترام کے ساتھ محفل عقد منعقد ہوئی تھی۔ ہزاروں اعیانِ مملکت شریک بزم تھے لیکن جب پادریوں نے عقد پڑھنے کا ارادہ کیا تو تخت کا پایہ ٹوٹ گیا اور تخت الٹ گیا، بہت سے لوگ زخمی ہوگئے اور اسے رشتہ کی نحوست پر محمول کیا گیا۔ تھوڑے عرصہ کے بعد اس کے دوسرے بھائی سے رشتہ طے ہوا اور بعینہ یہی واقعہ پیش آیا جس کے بعد لوگ سخت حیران تھے کہ اس کے پس منظر میں کوئی بات ضرور ہے جو ہم لوگوں کی عقل میں نہیں آرہی ہے کہ رات کے وقت میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک مقام پر حضرت رسول خدا اور حضرت مسیحں جمع ہیں اور ایسا ہی دربار آراستہ ہے جیساکہ میرے عقد کے موقع پر اس سے پہلے ہوا تھا۔ حضرت مسیحں نے حضرت محمد مصطفی اور حضرت علی مرتضیٰں کا بے حد احترام کیا اور ان دونوں بزرگوں نے فرمایا کہ ہم آپ سے آپ کے وصی کی صاحبزادی ملیکہ کا رشتہ اپنے فرزند حسن عسکریں کے لیے طلب کر رہے ہیں۔ حضرت مسیحں نے بصد مسرت رشتہ کو منظور کر لیا اور میرا عقد ہوگیا۔ اس کے بعد میں نے اکثر خواب میں حضرت حسن عسکریں کو دیکھا اور ان سے مطالبہ کیا کہ آپ کی خدمت میں حاضری کا راستہ کیا ہوگا تو ایک دن انہوں نے فرمایا کہ تمہارے یہاں سے ایک فوج جنگ پر جا رہی ہے، تم اس میں شامل ہو جاؤ۔ عنقریب اس فوج کو شکست ہوگی اور اس کی عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے گا۔ تم ان قیدیوں میں شامل ہو جانا اور ان کے ساتھ بغداد تک آجانا، اس کے بعد میں تمہاری خریداری کا انتظام کر لوں گا۔ چنانچہ واقعہ ایسا ہی ہوا، اور امام علی نقی ں نے خریداری کا انتظام کر دیا اور جناب نرجس اس گھر تک پہنچ گئیں۔ جس کے بعد انہوں نے اس واقعہ کی ایک کڑی کا اور ذکر کیا کہ میں اپنے عالم انوار کے عقد کے بعد مسلسل اس خواب کی تعبیر کے لیے پریشان تھی اور نوبت شدید بیماری تک پہنچ گئی تھی تو ایک دن خواب میں جناب مریم اور جناب فاطمہ زہرا سلام الله علیہا کو دیکھا اور ان سے فریاد کی کہ آخر آپ کے فرزند تک پہنچنے کا راستہ کیا ہوگا جن کی خدمت کا شرف آپ کے پدر بزرگوار نے عنایت فرمایا ہے۔ تو آپ نے فرمایا کہ پہلے کلمہ اسلام زبان پر جاری کرو۔ اس کے بعد اس کا انتظام ہو جائے گا (اس لیے کہ مسیحی مذہب خاتون سے عقد تو ہو سکتا ہے لیکن رب العالمین نے جس مقصد کے لیے اس رشتہ کا انتخاب فرمایا ہے اس کی تکمیل دین اسلام کے بغیر ممکن نہیں ہے اس لیے کہ نورِ الٰہی کسی غیر موحد رحم میں نہیں رہ سکتا ہے) چنانچہ میں نے ان کی ہدایت کے مطابق کلمہ شہادتین زبان پر جاری کیا اور آج آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔ امام علی نقی ں نے فرمایا کہ جس نوجوان نے تم سے سامرہ پہنچنے کا وعہد کیا تھا اسے پہچان سکتی ہو؟ عرض کی: بے شک! آپ نے امام حسن عسکریں کو پیش کیا۔ جناب نرجس خاتون نے فوراً پہچان لیا اور آپ نے ان کو عقد کرکے اپنے فرزند کے حوالے کر دیا۔
(اس واقعہ میں عقد کی لفظ دلیل ہے کہ جناب نرجس کنیز نہیں تھیں، ورنہ اسلام میں کنیز کی حلیت کے لیے عقد کی ضرورت نہیں ہوتی ہے تنہا کنیزی ہی اس کے حلال ہونے کے لیے کافی ہوتی ہے جیساکہ ان متعدد آیات ِ قرآنی سے بھی ظاہر ہوتا ہے جن میں کنیزی کا تذکرہ ازواج کے مقابلہ میں کیا گیا ہے اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ کنیزی الگ ایک شے ہے اور زوجیت الگ ایک شے ہے، اور ایک مورد پر دونوں کا اجتماع ممکن نہیں ہے علاوہ اس کے کہ کنیز ایک شخص کی کنیز ہو اور دوسرے کی زوجہ ہو ورنہ ایک ہی جہت سے دونوں کا اجتماع ناممکن ہے)۔
اس کے بعد جناب حکیمہ بنت امام محمد تقی ں بیان کرتی ہیں کہ ایک دن امام حسن عسکری ں نے فرمایا کہ آج شب کو آپ میرے یہاں قیام کریں کہ پروردگار مجھے ایک فرزند عطا کرنے والا ہے۔ میں نے عرض کی کہ نرجس خاتون کے یہاں تو حمل کی کوئی علامت نہیں ہے۔۔۔۔۔ فرمایا کہ پروردگار اپنی حجت کو اسی طرح دنیا میں بھیجتا ہے، جناب مادر ِ حضرت موسیٰں کے یہاں بھی آثارِ حمل نہیں تھے اور بالآخر جناب موسیٰں دنیا میں آگئے اور فرعونیوں کو خبر بھی نہ ہو سکی۔ چنانچہ میں نے امام کی خواہش کے مطابق گھر میں قیام کیا اور تمام رات حالات کی نگرانی کرتی رہی۔ یہاں تک کہ میری نماز شب بھی تمام ہوگئی اور آثارِ حمل نمودار نہیں ہوئے۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے دیکھا کہ نرجس نے خواب سے بیدار ہوکر وضو کیا اور نمازِ شب ادا کی اور اس کے بعد دردِ زہ کا احساس کیا، میں نے دعائیں پڑھنا شروع کیں۔ امام عسکری ں نے آواز دی کہ سورہ انا انزلناہ پڑھئے۔ میں نے سورہ قدر کی تلاوت کی اور یہ محسوس کیا کہ جیسے رحم مادر میں فرزند بھی میرے ساتھ تلاوت کر رہا ہے۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے محسوس کیا کہ میرے اور نرجس کے درمیان ایک پردہ حائل ہوگیا اور میں سخت پریشان ہوگئی کہ اچانک امام عسکری ں نے آواز دی کہ آپ بالکل پریشان نہ ہوں۔ اب جو پردہ اٹھا تو میں نے دیکھا کہ ایک چاند سا بچہ رو بقبلہ سجدہ ریز ہے اور پھر آسمان کی طرف اشارہ کرکے کلمہ شہادت زبان پر جاری کر رہا ہے۔ یہاں تک کہ تمام ائمہ کی امامت کی شہادت دینے کے بعد یہ فقرات زبان پر جاری کیے : ”خدایا! میرے وعدہ کو پورا فرما، میرے امر کی تکمیل فرما، میرے انتقام کو ثابت فرما اور زمین کو میرے ذریعہ عدل و انصاف سے معمور کر ے۔“
دوسری روایت کی بنا پر ولادت کے موقع پر بہت سے پرندے بھی جمع ہوگئے اور سب آپ کے گرد پرواز کرنے لگے کہ گویا آپ پر قربان ہو رہے تھے۔ آپ کے داہنے شانہ پر ﴿جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلَُ اِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَهُوْقًا ﴾ کا نقش تھا اور زبانِ مبارک پر یہ آیت ِ کریمہ تھی: ﴿وَ نُرِیْدُ اَنْ نَّمُنَّ عَلَی الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً وَّ نَجْعَلَهُمُ الْوٰرِثِیْنَ ﴾۔
اس کے بعد امام عسکری ں کی ہدایت کے مطابق ایک پرندہ فرزند کو اٹھا کر جانب ِ آسمان لے گیا اور روزانہ ایک مرتبہ باپ کی خدمت میں پیش کرتا تھا اور عالم قدس میں آپ کی تربیت کا مکمل انتظام تھا۔ یہاں تک کہ چند روز کے بعد جناب حکیمہ نے دیکھا تو پہچان نہ سکیں۔ آپ نے فرمایا کہ پھوپھی جان! ہم اہل بیت کی نشو و نما عام انسانوں سے مختلف ہوتی ہے۔ صاحبانِ منصب ِ الٰہی کی نشو و نما ایک ماہ میں ایک سال کے برابر ہوتی ہے۔ چنانچہ جناب حکیمہ نے اس فرزند حسن عسکری ں سے تمام صحف سماویہ اور قرآن مجید کی تلاوت بھی سنی ہے۔
(واضح رہے کہ وقت ِ ولادت سورہ انا انزلناہ کی تلاوت کا شاید ایک راز یہ بھی تھا کہ اس سورہ میں ہر شب قدر میں ملائکہ آسمان کے امر الٰہی کے ساتھ نازل ہونے کا ذکر ہے اور یہ علامت ہے کہ ہر دور میں ایک صاحب الامرکا رہنا ضروری ہے اور آج دنیا میں آنے والا اپنے دور کا صاحب الامر ہے)۔
محمد بن عثمان عمروی راوی ہیں کہ صاحب الامر کی ولادت کے بعد امام عسکریں نے بطور عقیقہ متعدد جانور ذبح کرنے کا حکم دیا اور دس ہزار رطل روٹی اور اسی مقدار میں گوشت تقسیم کرنے کا حکم دیا اور میں نے اسی کے مطابق عمل کیا۔
(واضح رہے کہ عقیقہ میں ایک جانور کی قربانی بھی کافی ہوتی ہے اور صرف عقیقہ کے گوشت کی تقسیم بھی کافی ہوتی ہے لیکن امام عسکری ں نے متعدد جانور ذبح کرنے کا حکم دیا اور کافی مقدار میں گوشت اور روٹی کی تقسیم کا بھی حکم دیا، جس سے حضرت صاحب الامرں کی خصوصیت اور ان کے امتیاز کے علاوہ اس نکتہ کی بھی وضاحت ہوتی ہے کہ اس طرح آبادی کے ایک بڑے حصہ کو حضرت صاحب العصرں کی ولادت کی خبر ہو جائے گی اور اس کے بعد اگر لوگ ان کی زیارت نہ بھی کر سکیں تو ان کے وجود کا انکار نہ کر سکیں گے اور چند سال کے بعد جب میرا انتقال ہو جائے گا تو کوئی یہ نہ کہنے پائے گا کہ حسن عسکری لا ولد دنیا سے رخصت ہوئے ہیں۔ صاحب الامرں کی ولادت کی خبر کا عام ہونا ضروری تھا کہ اس سے پوری کائنات کا مستقبل وابستہ تھا اور اسی کے سہارے سارے صاحبانِ ایمان کو زندہ و سلامت رہنا تھا۔ ایسا نہ ہو کہ کل حکام جور اس کے وجود کا انکار کرکے مطمئن ہو جائیں اور صاحبانِ ایمان شک اور شبہ میں مبتلا ہو جائیں۔
یہ کام اگرچہ امام حسن عسکریں کے لیے انتہائی مشکل تھا کہ حکومت ِ وقت کی طرف سے آپ کے گھر کی سخت ترین نگرانی کی جا رہی تھی اور تمام تر کوشش یہی تھی کہ آخری حجت پروردگار دنیا مین نہ آنے پائے اور قدرت نے اس کے مقابلہ میں غیبت کا مکمل اہتمام بھی کر دیا تھا اور آپ نے بھی ولادت سے پہلے انتہائی راز داری سے کام لیا تھا لیکن اس کے باوجود جب صاحب الامر کو پرندہ (روح القدس) نے اپنی تحویل میں لے لیا اور ظالموں کے شر سے محفوظ ہوگئے تو آپ نے دوسرے فریضہ وک انتہائی اہم قرار دیا کہ قوم میں ان کی ولادت کا اعلان ہو جائے اور دنیا کو آخری وارث ِ پیغمبر کے نزول اجلال کا علم ہو جائے چاہے اس کے نتیجہ میں حکومت ِ وقت کی طرف سے کسی قدر بھی مشکلات اور مصائب کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے اور اس راہ میں کسی قدر آفات و شدائد کیوں نہ برداشت کرنا پڑیں۔
آپ کا اسم گرامی محمد اور کنیت ابو القاسم ہے اور یہ آپ کے امتیازات میں سے ہے کہ رسول اکرم نے آپ کو اپنے نام اور کنیت دونوں کا وارث قرار دیا ہے ورنہ دونوں کا اجتماع عام طور سے ممنوع ہے جس طرح کہ اکثر علماء نے دور ِ غیبت کبریٰ کو آپ کو اس نام گرامی ”محمد“ کے ساتھ یاد کرنے کی سخت ممانعت کی ہے اور بعض روایات میں اس نام سے یاد کرنے کو حرام تک قرار دیا گیا ہے۔
آپ کے معروف القاب و خطابات یہ ہیں جن کے ذریعہ یاد کرنے کی تاکید کی گئی ہے:
۱ ۔ بقیة اللّٰہ :۔ روایات میں وارد ہوا ہے کہ جب وقت ظہور آپ دیوار کعبہ سے ٹیک لگا کر کھڑے ہوں گے تو آلله کے گرد ۳۱۳ اصحاب کا جمع ہوگا، تو سب سے پہلے اس آیت کی تلاوت کریں گے ﴿بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ﴾ اگر تم لوگ صاحبانِ ایمان ہو تو تمہارے لیے خیر اور بھلائی بقیة الله میں ہے جسے پرورگار نے اس دن کے لیے بچا کر رکھا ہے۔
۲ ۔ حُجّت :۔ یہ لقب اگرچہ دیگر ائمہ معصومین کے ساتھ بھی استعمال ہوتا ہے اور انہیں بھی حجة الله کہا جاتا ہے لیکن عام طور سے حضرت حجت سے آپ ہی کی ذات گرامی مقصود ہوتی ہے اور شاید اس کا ایک راز یہ بھی ہو کہ آپ کے ذریعہ پروردگار مادی اور معنوی دونوں اعتبار سے اپنی حجت تمام کر دے گا اور شاید اسی لیے آپ کی انگشتری مبارک کا نقش بھیاَنَا حُجَّةَ اللّٰهِ ہے۔
۳ ۔ خلف یا خلف صالح :۔ یہ لقب بھی آپ کے بارے میں اکثر ائمہ طاہرین کی حدیثوں میں وارد ہوا ہے اور حقیقت امر یہ ہے کہ آپ تمام انبیاء و مرسلین کے جانشین اور ان کے کمالات کے وارث ہیں جیساکہ حدیث مفضل میں وارد ہوا ہے کہ وقت ِظہور دیوار کعبہ سے ٹیک لگا کر کھڑے ہوں گے اور فرمائیں گے کہ جو شخص بھی آدم، شیث، نوح، سام، ابراہیم، اسماعیل، موسیٰ، یوشع، شمعون، رسول اکرم اور ائمہ طاہرین کی زیارت کرنا چاہے وہ مجھے دیکھ لے کہ میں سب کے کمالات کا وارث اور سارے انبیاء و اولیاء کا خلف صالح ہوں۔
۴ ۔ شرید (دور افتادہ) :۔ اس لقب کا راز غالباً یہ ہے کہ زمانہ نے بے معرفتی کی بنیاد پر آپ کو سماج سے دور کر دیا ہے اور آپ نے مصلحت ِ الٰہی کی بنا پر اپنے کو معاشرہ سے دور رکھا ہے جیساکہ خود آپ نے فرمایا تھا کہ میرے والد بزرگوار نے وصیت فرمائی ہے کہ اپنے کو سماج سے دور رکھنا کہ ہر ولی خدا کے دشمن ہوتے ہیں اور رب العالمین تمہیں باقی رکھنا چاہتا ہے۔
۵ ۔ غریم (قرض دار یا قرض خواہ) :۔ اس لقب کا راز یہ بتایا جاتا ہے کہ آپ کا امت ِ اسلامیہ کے ذمہ قرض ہے اور آپ پر احکام اسلامیہ کا قرض ہے جسے ادا کرنے کے لیے آپ کو باقی رکھا گیا ہے اور جس کے لیے آپ اسی طرح بے چین رہتے ہیں جس طرح ایک قرض دار اپنے قرض کی ادائیگی کے لیے بے چین رہا کرتا ہے۔
روایات میں اس لقب کی ایک مصلحت یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ اس طرح مومنین اپنے حقوق کو مختلف افراد کے ذریعہ امام تک پہنچا دیا کرتے تھے اور کسی بھی شخص کو مال دیتے ہوئے اس لقب کا استعمال کیا کرتے تھے اور کہتے تھے: ہمارے قرض خواہ تک پہنچا دینا اور یہ بات سو فیصد صحیح بھی تھی کہ امت کے ذمہ امامت کے بے شمار حقوق ہیں جن کی ادائیگی کی ذمہ داری امت کے لیے ضروری ہے۔
۶ ۔ قائم :۔ اس لقب کا راز یہ ہے کہ اصلاح عالم کی خاطر آخری قیام اور انقلاب آپ ہی کے ذمہ رکھا گیا ہے جیساکہ ابو حمزہ نے امام باقرں کی روایت بھی نقل کیا ہے کہ میں نے حضرت سے دریافت کیا کہ جب آپ سب ہی حق کے ساتھ قیام کرنے والے ہیں تو صرف آخری حجت کو قائم کیوں کہا جاتا ہے؟ تو آپ نے فرمایا کہ شہادت امام حسینں کے بعد ملائکہ نے بارگاہِ احدیت میں عرض کی کہ تیرے پیارے نبی کا پیارا فرزند شہید ہوگیا اور ہم اس کی کمک بھی نہ کر سکے تو ارشاد احدیت ہوا کہ تمہیں آخری وارث ِ حسین کی کمک کے لیے باقی رکھا گیا ہے اور اس کے بعد جملہ انوار ائمہ کو ظاہر کیا گیا تو آخری نور مشغول نماز تھا۔ ارشاد قدرت ہوا کہ یہی قائم ایک دن قیام کرنے والا ہے اور اس کے ذریعہ دنیا کو عدل و انصاف سے معمور کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ امام کے القاب میں اس لقب کے بارے میں خصوصیت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے کہ جب آپ کے اس لقب کا تذکرہ کیا جائے تو انسان کو کھڑا ہو جانا چاہیے جیساکہ علامہ عبد الرضا بن محمد نے اپنی کتاب ”تاجیج نیران الاحزان فی وفاة سلطان خراسان“ میں نقل کیا ہے کہ جب دعبل خزاعی نے اپنے قصیدہ میں امام کا ذکر کیا تو امام رضاں سروپا کھڑے ہوگئے اور آپ نے اپنا ہاتھ اپنے سر مبارک پر رکھ لیا اور ظہور امام میں عجلت کی دعا فرمائی اور اس کے بعد یہ طریقہ شیعوں میں رائج ہوگیا۔
ظاہر ہے کہ اس کا مقصد صرف عظمت ِ امام کا اظہار نہیں ہے ورنہ یہ طریقہ کار ہر امام کے ذکر کے ساتھ ہونا چاہیے تھا بلکہ بزرگوں کے ذکر کے ساتھ بطریق اولیٰ ہونا چاہیے تھا لیکن صرف امام عصرں کے ذکر کے ساتھ یہ طریقہ کار علامت ہے کہ اس طرح امت اسلامیہ کو تربیت دی جا رہی تھی کہ جب امام کے قیام کا ذکر آئے تو فوراً کھڑے ہو جائیں تاکہ اس کے بعد جب واقعاً قیام کی منزل سامنے آجائے اور یہ خبر نشر ہو کہ انہوں نے مکہ سے قیام فرما لیا ہے تو فوراً نصرت کے لیے کھڑے ہو جائیں اور سر پر ہاتھ رکھ کر سر تسلیم خم کر دیں کہ اب اس سر کو بھی آپ کی راہ میں قربان کرنے کے لیے حاضر ہیں۔ (منتہی الآمال)
۷ ۔ مہدی :۔ اس لقب کا ذکر روایات ِ مرسل اعظم میں بھی بکثرت پایا جاتا ہے اور اسی لیے تمام عالم اسلام میں آپ کو عام طور سے اسی لقب کے ذریعہ پہچانا جاتا ہے اور اس کے بارے میں روایت میں وارد ہوا ہے کہ جو مہدی کے قیام اور خروج کا انکار کر دے اس نے پیغمبر اسلام پر نازل ہونے والے تمام احکام کا انکار کر دیا ہے۔ پیغمبر کے تمام احکام اور تعلیمات کا دار و مدار قیام مہدی پر ہے اور اس سے انحراف کے معنی سارے احکام و تعلیمات سے انحراف کے ہیں۔
۸ ۔ منتظر :۔ یہ آپ کی واضح ترین صفت ہے کہ تمام صاحبان ایمان کو مسلسل آپ کا انتظار ہے اور روایات معصومین میں برابر اس انتظار کی تاکید کی گئی ہے اور اسے افضل اعمال قرار دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ انتظار کے افضل اعمال ہونے کے معنی ہی یہ ہیں کہ انتظار ایک عمل ہے، بے عملی اور کاہلی نہیں ہے اور زمانہ کو اس کے حالات پر چھوڑ کر بغیر کسی اصلاحی عمل اور حرکت کے صرف ظہور امام کی آس لگا کر بیٹھنا ایک طرح کی کاہلی اور سستی ہے انتظار نہیں ہے۔ انتظار کے لیے مقدمات کا فراہم کرنا اور حالات کا سازگار بنانا ایک بنیادی شرط ہے۔ کسی مجلس میں ذاکر کا انتظار کرنے والا فرش عزا بچھا دیتا ہے اور کسی مسجد میں امام جماعت کا انتظار کرنے والا صفیں درست کر لیتا ہے، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان امام حقیقی کے قیام کا انتظار کرے اور نہ صفیں منظم کرے نہ دیدہ و دل فراش راہ کرے۔ دنیا میں ہر اصلاحی عمل اور تحریک انتظار امام کی اعلیٰ ترین فرد ہے جس سے بہتر انتظار کا کوئی طریقہ نہیں ہو سکتا ہے۔
یہ بھی واضح رہے کہ انتظار میں دو خوبیاں پائی جاتی ہیں۔ ایک یہ ہے کہ انتظار اعتبار کی دلیل ہے کہ انسان کو جس کا اعتبار ہوتا ہے اسی کا انتظار بھی کرتا ہے اور جب اعتبار ختم ہو جاتا ہے تو انتظار بھی ختم کر دیتا ہے۔ انتظار امام کی تاکید بقائے اعتبار ظہور امام کا بہترین ذریعہ ہے۔ اور دوسری بات یہ بھی ہے کہ انتظار کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ انسان موجودہ حالات سے راضی نہیں ہے اور ایک بہترین مستقبل کا انتظار کر رہا ہے گویا اس تعلیم کے ذریعہ اس نکتہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ انسنا کو مال، دولت، خزانہ اور اقتدار کچھ بھی بھی کیوں نہ حاصل ہو جائے، اسے اپنے دور کے نظام کو آخری سمجھ کر مطمئن نہ ہو جانا چاہیے بلکہ دین و مذہب اور احکام و تعلیمات ِ الٰہیہ کے لیے سکون و اطمینان کا دور ہوگا۔ انسان کا اپنا سکون و اطمینان کوئی قیمت نہیں رکھتا ہے اگر دین الٰہی کو سکون و اطمینان حاصل نہ ہو سکے۔
۹ ۔ ماء معین (چشمہ جاری) :۔ اس لقب میں قرآن مجید کی اس آیت ِ کریمہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ”اگر پروردگار پانی کو زمین میں جذب کر دے تو چشمہ جاری کو کون منظر عامپر لا سکتا ہے؟“‘ یعنی دنیا مین جس قدر آب جاری نظر آرہا ہے سب رحمت ِا لٰہی کا کرشمہ ہے۔ اسی طرح جب رحمت ِ الٰہی کا تقاضا ہوگا تو چشمہ جاری علوم و کمالات ِ آل محمد بھی منظر عام پر آجائے گا اور تمام دنیا اس کے فیوض و برکات سے استفادہ کرے گی اور یہ زمین دل کو اسی طرح زندہ کر دے گا جس طرح آب رحمت عام مردہ زمینوں کو زندہ بنا دیا کرتا ہے۔
۱۰ ۔ غائب :۔ یہ امام کی واضح ترین صفت ہے اور اس کی طرف ائمہ طاہرین نے لفظی اشارات کے علاوہ عملی اشارات بھی فرمائے ہیں۔ مثال کے طور پر آخری دور کے ائمہ معصومین اکثر حالات میں قوم سے ملاقات نہیں فرمایا کرتے تھے تاکہ لوگ غیبت کے عادی ہو جائیں اور غیبت کی بنیاد پر وجود امام کا انکار نہ کرنے پائیں۔ خود امام عصر کی زندگی کا ابتدائی دور بھی اسی عالم میں گزرا ہے کہ جناب حکیمہ جنہوں نے ولادت کے موقع پر سارے فرائض انجام دیے ہیں انہیں بھی ہفتہ عشرہ یا بعض اوقات چالیس دن کے بعد ہی زیارت نصیب ہوتی تھی اور یہی حال دیگر اصحاب اور اہل خاندان کا تھا کہ اکثر افراد نے ولادت کے بعد صرف اس وقت دیکھا جب آپ پدر بزرگوار کی نماز جنازہ کے لیے تشریف لائے اور جعفر کو ہٹا کر نماز جنازہ ادا فرمائی۔ اس کے بعد پھر آپ نے اپنی غیبت کے دو حصے رکھے:
غیبت ِ صغریٰ جس کا سلسلہ تقریباً ۷۰ سال تک جاری رہا اور اس میں مختلف سفراء کے ذریعہ خط و کتابت اور سوال و جواب کا سلسلہ جاری رہا تاکہ لوگ غیبت پر ایمان کے عادی ہو جائیں اور یہ اعتقاد راسخ ہو جائے کہ غیبت کے ذریعہ فیوض و برکات کا سلسلہ موقوف نہیں ہوتا بلکہ ہدایت و ارشاد کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
۷۰ سال کی اس تربیت کے بعد غیبت ِ کبریٰ کا سلسلہ شروع ہوگیا اور ایک اعلان عام ہوگیا کہ اس کے بعد سوالات کے جوابات براہِ راست نہیں ملیں گے بلکہ ہمارے محفوظ تعلیمات کے ذریعہ حاصل کرنا ہوں گے اور ان تعلیمات سے استنباط و استخراج کا کام وہ علماءِ اعلام انجام دیں گے جو اپنے نفس کو ہوا و ہوس سے بچانے والے، اپنے دین کو خطرات سے محفوظ رکھنے والے، اپنے مولا کے احکام کی اطاعت کرنے والے اور اپنے خواہشات کی مخالفت کرنے والے ہوں گے۔ یہی حجت امام ہوں گے اور انہیں کے ذریعہ امت کی ہدایت کا کام انجام دیا جائے گا۔ یہ احکام کو کتاب و سنت سے بھی حاصل کریں گے اور ملاقات امام کے ذریعہ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ لیکن چونکہ وقت ظہور تک ملاقات کرنے والوں کی فہرست نہیں بتائی جا سکتی ہے اور فہرست میں بھی ہر شخص کے اپنے ہی اوپر منطبق کر لینے کا خطرہ ہے لہٰذا یہ اعلان عام کر دیا گیا کہ اگر کوئی شخص غیبت ِ کبریٰ میں مشاہدہ اور ملاقات کا دعویٰ کرے اور امام کی طرف سے کوئی ایسی خبر لے کر آئے جو عام تعلیمات کتاب و سنت سے ہم آہنگ نہ ہو تو خبردار اس کی تصدیق نہ کرنا اور اسے افترا پرداز سمجھ کر اس کی بات رد کر دینا ورنہ نئی شریعت سازی کا سلسلہ شروع ہو جائے گا اور اصلی دین تباہ و برباد ہو کر رہ جائے گا۔
یہ روک تھام اور پابندی بھی دور غیبت میں فرض ہدایت کے انجام دینے کا ایک راستہ ہے کہ اس طرح گمراہی کو اس کے پیدا ہونے سے پہلے ختم کر دیا جائے اور مذہب میں کوئی نیا کاروبار نہ قائم ہو سکے۔
واضح رہے کہ غیبت امام کے بارے میں دو طرح کے تصورات پائے جاتے ہیں:
( ۱) غیبت شخص۔
( ۲) غیبت ِ شخصیت۔
غیبت شخص کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ خود انسان نگاہوں سے غائب رہے اور ایسے مقام پر محفوظ اور مستور ہو جائے کہ کوئی نگاہ اسے دیکھ نہ سکے جو عام طور سے غیبت کا مفہوم سمجھا جاتا ہے اور اسی اعتبار سے کسی انسان کو غائب کہا جاتا ہے۔
اور غیبت ِ شخصیت کے معنی یہ ہیں کہ انسان نگاہوں کے سامنے موجود رہے لیکن اس کی شخصیت نگاہوں سے غائب رہے جس طرح کہ جناب موسیٰں اور فرعون کے قصہ میں واضح طور پر یہ بات نظر آتی ہے کہ جناب موسیٰ فرعون کے قصر میں اور اس کی آغوش میں رہے لیکن وہ آخر دم تک ان کی شخصیت کا اندازہ نہ کر سکا اور برابر یہی کہتا رہا کہ کہیں یہ وہی بچہ تو نہیں ہے جس کے بارے میں منجمین نے خبر دی ہے کہ وہ میری سلطنت کے لیے ایک عظیم خطرہ بن کر ابھرنے والا ہے۔
روایات اور واقعات پر دقت ِ نظر سے کام لیا جائے تو امام زمانہ کی غیبت کا یہی مفہوم منظر عام پر آتا ہے اور اسی غیبت کی بنیاد پر ان سارے واقعات کی توجیہہ کی جا سکتی ہے جن میں ملاقات ِ امام کا ذکر پایا جاتا ہے لیکن آپ کی شخصیت کا اندازہ نگاہوں سے غائب ہو جانے کے بعد ہوا اور بر وقت یہ احساس بھی نہ پیدا ہو سکا اور اسی مفہوم کی بنیاد پر ان روایات کی توجیہہ بھی کی جا سکتی ہے جن میں یہ مضمون پایا جاتا ہے کہ آپ کے ظہور کے وقت بہت سے افراد اس بات کے دعویدار ہوں گے کہ ہم نے آپ کو مختلف مقامات پر دیکھا ہے اور مناسک ِ حج کے موقع پر آپ کی زیارت کا باقاعدہ شرف حاصل کیا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اس وقت اس امر کا اندازہ نہیں تھا کہ آپ امام زمانہ ہیں اور آج باقاعدہ ظہور کے بعد اس حقیقت کا اعلان ہوگیا ہے۔
غیبت کا پہلا مفہوم بھی بعض اعتبارات سے صحیح ہے اور عام طور سے لوگ آپ کے جمال مبارک کی زیارت سے محروم ہیں لیکن مکمل طور پر غیبت کے باوجود ملاقاتوں کا سلسلہ دوسرے ہی مفہوم کی تائید کرتا ہے۔ بہرحال غیبت، امام عصر عجل الله تعالیٰ فرجہ الشریف کے ان خصوصیات میں ہے جن کے اعتبار سے آپ کو مظہر اوصاف ِ الٰہیہ کہا جا سکتا ہے کہ گویا آپ کو پروردگار نے دیگر صفات جمال و کمال کی طرح اپنی غیبت کا مظہربھی قرار دیا ہے یہ اور بات ہے کہ غیبت الٰہیہ میں کسی طرح کے مشاہدہ کا امکان نہیں ہے اور غیبت امام میں بہرحال مشاہدہ کا امکان بلکہ یقین پایا جاتا ہے اور اس اعتبار سے غیبت ِ امام کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ غیبت ِ اسلام کے تمام غیب کے درمیان سب سے آسان ترین غیبت ہے جس پر انسان بآسانی ایمان پیدا کر سکتا ہے۔
جب مرد مسلمان اس غیبت ِ الٰہیہ پر ایمان لا چکا ہے جس میں نہ ماضی میں مشاہدہ تھا اور نہ مستقبل میں مشاہدہ کا امکان ہے اور اس غیبت رسول پر ایمان لا چکا ہے جس میں ماضی میں مشاہدہ تھا لیکن مستقبل میں اس دنیا میں عام اسلامی عقائد کی بنیاد پر مشاہدہ کا امکان نہیں ہے اور اس آخرت پر ایمان رکھتا ہے جس کا ماضی میں کوئی مشاہدہ نہیں تھا اور صرف مستقبل میں مشاہدہ کا یقین ہے اور وہی اس دنیا کی آخری انتہا ہے، تو اس غیبت ِ امام پر ایمان لانے میں کیا تکلف ہے جس میں ماضی اور مستقبل دونوں طرف مشاہدہ پایا جاتا ہے اور صرف دور حاضر غیبت کا دور کہا جاتا ہے اور اس کے علاوہ مستقل غیب کا کوئی سوال نہیں ہے۔
امام کی غیبت ہی سے ظہور کا اندازہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ آپ کے ظہور کا مفہوم بھی کسی گمنام مقام یا جزیرہ سے منتقل ہوکر کسی خاص مقام پر نمایاں ہو جانا نہیں ہے بلکہ نگاہوں سے اس پردہ کا اٹھ جانا ہے جو آج امت اور امام کے درمیان حائل ہے، یا شخصیت کے اس ابہام کا ختم ہو جانا ہے جو مصلحت ِ الٰہی کی بنیاد پر قائم ہے اور جس کی بنا پر شخصیت کا باقاعدہ تعارف نہیں ہو رہا ہے اگرچہ امکان ہے کہ وہ ہمارے مشاہدہ میں برابر یا کبھی کبھی آرہا ہو اور شاید اسی نکتہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مالک کائنات نے حدیث قدسی میں ارشاد فرمایا ہے کہ:
”ہمارے کسی بندہ کو حقیر نہ سمجھ لینا کہیں وہ ہمارا کوئی ولی نہ ہو۔“
ہم اپنے ماحول کی کمزوریوں کی بنا پر شخصیت کو لباس اور ظاہری آرائش و زیبائش سے پہچانتے ہیں اور اولیاء خدا کا انداز اس سے بالکل مختلف ہوا کرتا ہے لہٰذا اس کا امکان بہرحال رہتا ہے کہ ہم کسی انسان کو معمولی سمجھ کر اسے حقارت کی نگاہ سے دیکھیں اور بعد میں وہ ولی خدا ثابت ہو، اور ہم کو ولی خدا کی توہین کا جواب دہ ہونا پڑے جس کے بارے میں روایت میں وارد ہوا ہے کہ جس نے میرے ولی کی توہین کی اس نے مجھے دعوت جنگ دے دی اور میرے مقابلہ پر کھڑا ہوگیا۔ میں اپنے ولی کی عزت کو اپنی عزت اور اس کی توہین کو اپنی توہین تصور کرتا ہوں، صاحبان ایمان کی عزت، عزت ِ الٰہیہ سے وابستہ ہے اور ان کی توہین بھی توہین پروردگار کے مترادف ہے۔
واضح رہے کہ امام عصرں کے بارے میں تین طرح کے موضوعات زیر بحث آتے ہیں:
( ۱) غیبت۔
( ۲) ظہور۔
( ۳) انتظار۔
دو کا تعلق ان کی ذات ِ مبارک سے ہے اور ایک کا تعلق ہمارے فرائض سے ہے۔ غیبت، ظہور اور انتظار کے مفاہیم کا تذکرہ کرنے کے بعد اب ان سے متعلق تین موضوعات باقی رہ جاتے ہیں جن کی وضاحت بہرحال ضروری ہے۔
غیبت کے سلسلہ میں فرائض دور غیبت، انتظار کے سلسلہ میں علامات ظہور، اور ظہور کے بارے میں خصوصیات طرز حکومت اور اس امر کی وضاحت کہ امام زمانہ ظہور کے بعد کیا امور انجام دیں گے اور کس طرح ظلم و جور سے بھری ہوئی دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے۔
فرائض دور ِ غیبت
علامہ شیخ عباس قمی علیہ الرحمہ نے دور ِ غیبت ِامام میں آٹھ طرح کے فرائض کا تذکرہ کیا ہے جو احساس غیبت امام اور امام کی حقیقت کے واضح کرنے کے بہترین وسائل ہیں اور جن کے بغیر نہ ایمان بالغیب مکمل ہو سکتا ہے اور نہ انسان کو منتظرین امام زمانہ میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ ان آٹھ فرائض کی مختصر تفصیل یہ ہے:
۱ ۔ محزون و رنجیدہ رہنا: ۔
حقیقت امر یہ ہے کہ انسان کو غیبت ِ امام کی حقیقت اور اس سے پیدا ہونے والے نقصانات کا اندازہ ہو جائے تو اس کی زندگی سے مسرت و ابتہاج ناپید ہو جائے۔
زمانہ کے بدترین حالات، اہل زمانہ کے بے پناہ ظلم و ستم، نظام اسلامی کی بربادی، تعلیمات الٰہیہ کا استہزاء اور اس طرح کے بے شمار معاملات ہیں جن سے غیبت ِ امام کے نقصانات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے اور ان کا احساس ہی انسان کے آنسو بہانے کے لیے کافی ہے۔ پھر اگر یہ بات صحیح ہے کہ امام انسان کی زندگی کی محبوب ترین شخصیت کا نام ہے، تو کیسے ممکن ہے کہ محبوب نگاہوں سے اوجھل رہے اور عاشق کے دل میں اضطراب اور بے قراری نہ پیدا ہو اور وہ اپنے محبوب کی طرف سے اس طرح غافل ہو جائے کہ مخصوص تاریخوں اور مواقع کے علاوہ اس کے وجود اور اس کی غیبت کا احساس بھی نہ پیدا کرے۔
دعائے ندبہ میں انہیں تمام حالات کا تفصیلی تذکرہ موجود ہے اور اسی لیے اس دعا کو دعائے ندبہ کہا جاتا ہے کہ انسان اس کے مضامین کی طرف متوجہ ہو جائے اور غیبت ِ امام کی مصیبت کا صحیح اندازہ کر لے تو گریہ اور ندبہ کے بغیر نہیں رہ سکتا ہے اور شاید اسی لیے اس دعا کی تاکید ایام عید میں کی گئی ہے یعنی روز عید فطر، روز عید قربان، روز عید غدیر اور روز جمعہ جسے اسلامی احکام کے اعتبار سے عید سے تعبیر کیا گیا ہے کہ عید کا دن انسان کے لیے انتہائی مسرت کا دن ہوتا ہے اور اس دن ایک محب اور عاشق کا فرض ہے کہ اپنے محبوب حقیقی کے فراق کا احساس پیدا کرے اور اس کی فرقت پر آنسو بہائے تاکہ اسے فراق کی صحیح کیفیت کا اندازہ ہو سکے جیساکہ امام محمد باقرں نے فرمایا ہے کہ :
”جب کوئی عید کا دن آتا ہے تو ہم آل محمد کا غم تازہ ہو جاتا ہے کہ ہم اپنا حق اغیار کے ہاتھوں پامال ہوتے دیکھتے ہیں اور مصلحت ِ الٰہیہ کی بنیاد پر کوئی آواز بھی بلند نہیں کر سکتے۔“
ائمہ معصومین میں مولائے کائنات کے دور سے امام عسکریں تک ہر امام نے غیبت کے نقصانات اور مصائب کا تذکرہ کرکے اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ اس کائنات میں خیر صرف اس وقت نمایاں ہوگا جب ہمارا قائم قیام کرے گا اور اس سے پہلے اس دنیا سے کسی واقعی خیر کی امید نہیں کی جا سکتی ہے تاکہ انسان مومن بدترین حالات سے بھی مایوس نہ ہو جائے اور پھر انہیں حالات سے راضی اور مطمئن بھی نہ ہو جائے کہ یہ اس کے نقص ایمان کا سب سے بڑا ذریعہ ہوگا۔
اس مقام پر سدیر صیرفی کی اس روایت کا نقل کرنا نامناسب نہ ہوگا کہ میں (سدیر) اور مفضل بن عمر اور ابو بصیر اور ابان بن تغلب امام صادقں کی خدمت میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آپ خاک پر بیٹھے ہوئے بے تحاشہ گریہ فرما رہے ہیں اور فرماتے جاتے ہیں کہ میرے سردار! تیری غیبت نے میری مصیبت کو عظیم کر دیا ہے، میری نیند کو ختم کر دیا ہے اور میری آنکھوں سے سیلاب ِ اشک جاری کر دیا ہے۔ میں نے حیرت زدہ ہوکر عرض کی کہ ”فرزند رسول! خدا آپ کو ہر بلا سے محفوظ رکھے، یہ گریہ کا کون سا انداز ہے اور خدا نخواستہ کون سی تازہ مصیبت آپ پر نازل ہوگئی ہے؟“ تو فرمایا کہ:
”میں نے کتاب ِ جفر کا مطالعہ کیا ہے جس میں قیامت تک کے حالات کا ذکر موجود ہے تو اس میں آخری وارث پیغمبر کی غیبت اور طول غیبت کے ساتھ اس دور میں پیدا ہونے والے بدترین شکوک و شبہات اور ایمان و عقیدہ کے تزلزل کے حالات اور پھر شیعوں کے مبتلائے شک و ریب ہونے اور تغافل اعمال کا مطالعہ کیا ہے اور اس امر نے مجھے اس طرح بے قرار ہوکر رونے پر مجبور کر دیا ہے کہ اس غیبت میں صاحبانِ ایمان کا کیا حشر ہوگا اور ان کا ایمان کس طرح محفوظ رہ سکے گا۔“
عزیزانِ گرامی! اگر ہمارے حالات اور ہماری بد اعمالیاں سیکڑوں سال پہلے امام صادقں کو بے قرار ہوکر رونے پر مجبور کر سکتی ہیں تو کیا ہمارا یہ فرض نہیں ہے کہ ہم اس دور ِ غیبت میں ان حالات اور آفات کا اندازہ کرکے کم از کم روز ِ جمعہ خلوص دل کے ساتھ دعائے ندبہ کی تلاوت کرکے اپنے حالات پر خود آنسو بہائیں کہ شاید اسی طرح ہمارے دل میں عشق امام زمانہ کا جذبہ پیدا ہو جائے وار ہم کسی آن ان کی یاد سے غافل نہ ہونے پائیں جس طرح کہ انہوں نے خود اپنے بارے میں فرمایا ہے کہ ہم کسی وقت بھی اپنے چاہنے والوں کی یاد سے غافل نہیں ہوتے ہیں اور نہ ان کی نگرانی کو نظر انداز کرتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ان کا اعتماد ہمارے اوپر رہے اور ان کی حفاظت و رعایت کی ذمہ داری بھی ہمارے ہی حوالے کی گئی ہے۔
۲ ۔ انتظار ِ حکومت و سکونِ آل محمد :۔
اس انتظار کو دور ِ غیبت میں افضل اعمال قرار دیا گیا ہے اور اس میں اس امر کا واضح اشارہ پایا جاتا ہے کہ اس دنیا میں ایک دن آل محمد کا اقتدار ضرور قائم ہونے والا ہے اور مومنین کرام کی ذمہ داری ہے کہ اس دن کا انتظار کریں اور اس کے لیے زمین ہموار کرنے اور فضا کو سازگار بنانے کی کوشش کرتے رہیں۔
اب یہ دور کب آئے گا اور اس کا وقت کیا ہے؟ یہ ایک راز ِ الٰہی ہے جس کو تمام مخلوقات سے مخفی رکھا گیا ہے بلکہ روایات میں یہاں تک وارد ہوا ہے کہ امیر المومنینں کے زخمی ہونے کے بعد آپ کے صحابی عمرو بن الحمق نے آپ کی عیادت کرتے ہوئے عرض کی کہ مولا! ان مصائب کی انتہاء کیا ہے؟ تو فرمایا کہ ۷۰ ء ھ تک۔ عرض کی کہ کیا اس کے بعد راحت و آرام ہے؟ آپ نے کوئی جواب نہیں دیا اور غش کھا گئے۔
اس کے بعد جب غش سے افاقہ ہوا تو دوبارہ سوال کیا۔ فرمایا: بے شک ہر بلا کے بعد سہولت اور آسانی ہے لیکن اس کا اختیار پروردگار کے ہاتھ میں ہے۔
اس کے بعد ابو حمزہ ثمالی نے امام باقرں سے اس روایت کے بارے میں دریافت کیا کہ ۷۰ ء ھ تو گزر چکا ہے لیکن بلاؤں کا سلسلہ جاری ہے؟ تو فرمایا کہ شہادت ِ امام حسینں کے بعد جب غضب پروردگار شدید ہو تو اس نے سہولت و سکون کے دور کو آگے بڑھا دیا۔
پھر اس کے بعد ابو حمزہ نے یہی سوال امام صادقں سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ بے شک غضب ِ الٰہی نے اس مدت کو دوگنا کر دیا تھا، اس کے بعد جب لوگوں نے اس راز کو فاش کر دیا تو پروردگار نے اس دور کو مطلق راز بنا دیا اور اب کسی کو اس امر کا علم نہیں ہو سکتا ہے، اور ہر شخص کا فرض ہے کہ اس دور کا انتظار کرے کہ انتظار ظہور کرنے والا مر بھی جائے گا تو وہ قائم آل محمد کے اصحاب میں شمار کیا جائے گا۔
۳ ۔ امام کے وجود ِ مبارک کی حفاظت کے لیے بارگاہِ احدیت میں دست بدعا رہنا:۔
ظاہر ہے کہ دعا ہر اس مسئلہ کا علاج ہے جو انسان کے امکان سے باہر ہو اور جب دور ِ غیبت میں امام کی حفاظت کسی اعتبار سے بھی ہمارے اختیار میں نہیں ہے اور ہم خود انہیں کے رحم و کرم سے زندہ ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے وجود ِ مبارک کی حفاظت کے لیے بارگاہِ احدیت میں مسلسل دعائیں کرتے رہیں اور کسی وقت بھی اس فرض سے غافل نہ ہوں: ﴿اَللّٰھُمَّ کُنْ لِّوَلِیِّکَ الْحُجَّةِ بْنِ الْحَسَنِ﴾ جسے عام طور سے اثنائے نماز قنوت یا بعد نماز وظیفہ کے طور پر پڑھا جاتا ہے۔ امامں کے وجود کی حفاظت، ان کے ظہور کی سہولت اور ان کی عادلانہ حکومت کے بارے میں جامع ترین دعا ہے، جس سے صاحبانِ ایمان کو کسی وقت غافل نہیں ہونا چاہیے۔
۴ ۔ امام کی سلامتی کے لیے صدقہ نکالنا :۔
صدقہ درحقیقت خواہش سلامتی کا عملی اظہار ہے کہ انسان جس کی سلامتی کی واقعاً تمنا رکھتا ہے اس کے حق میں صرف لفظی طور پر دعا نہیں کرتا ہے بلکہ عملی طور پر بھی دفع بلا کا انتظام کرتا ہے اور یہ انتظام صدقہ سے بہتر کوئی شے نہیں ہے۔ دعا ان لوگوں کے لیے بہترین شے ہے جو صدقہ دینے کی بھی استطاعت نہیں رکھتے ہیں لیکن جن کے پاس یہ استطاعت پائی جاتی ہے وہ اگر صرف دعا پر اکتفا کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف لفظی کاروبار کرنا چاہتے ہیں اور امام کی سلامتی کے لیے چند پیسے بھی خرچ نہیں کرنا چاہتے ہیں جب کہ جو کچھ مالک کائنات سے لیا ہے وہ سب انہیں کے صدقہ میں لیا ہے اور جو کچھ آئندہ لینا ہے وہ بھی انہیں کے طفیل میں اور انہیں کے وسیلہ سے حاصل کرنا ہے۔
۵ ۔ امام عصر کی طرف سے حج کرنا یا دوسروں کو حج نیابت کے لیے بھیجنا :۔
جو دور قدیم سے شیعوں کے درمیان مرسوم ہے کہ لوگ اپنے امام زمانہں کی طرف سے نیابةً اعمال انجام دیا کرتے تھے اور امام عصرں ان کے ان اعمال کی قدر دانی بھی فرمایا کرتے تھے جیساکہ ابو محمد دعلجی کے حالات میں نقل کیا گیا ہے کہ انہیں کسی شخص نے امام عصرں کی طرف سے نیابةً حج کے لیے پیسہ دیے تو انہوں نے اپنے فاسق و فاجر اور شرابی فرزند کو حج نیابت ِ امام کے لیے اپنے ساتھ لے لیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میدانِ عرفات میں ایک انتہائی نوجوان شخص کو دیکھا جو یہ فرما رہے ہیں کہ تمہیں اس بات سے حیا نہیں آتی ہے کہ لوگ تمہیں حج نیابت کے لیے رقم دیتے ہیں تو تم فاسق و فاجر افراد کو یہ رقم دے دیتے ہو۔ قریب ہے کہ تمہاری آنکھ ضائع ہو جائے کہ تم نے انتہائی اندھے پن کا ثبوت دیا ہے۔ چنانچہ راوی کہتا ہے کہ حج سے واپسی کے چالیس روز کے بعد ان کی وہ آنکھ ضائع ہوگئی جس کی طرف اس مرد نوجوان نے اشارہ کیا تھا۔
۶ ۔ امام عصر کا اسم گرامی آنے پر قیام کرنا :۔
بالخصوص اگر آپ کا ذکر لفظ قائم سے کیا جائے کہ اس میں حضرت کے قیام کا اشارہ پایا جاتا ہے اور آپ کے قیام کے تصور کے ساتھ کھڑا ہو جانا محبت ،عقیدت اور غلامی کا بہترین مقتضی ہے جس سے کسی وقت بھی غفلت نہیں کی جا سکتی ہے۔
۷ ۔ دور غیبت میں حفاظت دین و ایمان کے لیے دعا کرتے رہنا :۔
امام صادقں نے زرارہ سے فرمایا تھا کہ ہمارے قائم کی غیبت میں اس قدر شبہات پیدا کیے جائیں گے کہ اچھے خاصے لوگ مشکوک ہو جائیں گے لہٰذا اس دور میں ہر شخص کا فرض ہے کہ سلامتی ایمان کی دعا کرتا رہے اور یاد امام میں مصروف رہے اور عبد الله بن سنان کی امام صادقں سے روایت کی بنا پر کم سے کم ﴿یٰا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبیْ عَلٰی دِیْنِکَ﴾ کا ورد کرتا رہے کہ سلامتی دین و ایمان کے لیے یہ بہترین اور مختصر ترین دعا ہے۔
۸ ۔ امام زمانہ سے مصائب و بلیات کے موقع پر استغاثہ کرنا :۔
کہ یہ بھی اعتقاد کے استحکام اور روابط و تعلقات کے دوام کے لیے بہترین طریقہ ہے اور پروردگار عالم نے ائمہ طاہرین کو یہ طاقت اور صلاحیت دی ہے کہ وہ فریاد کرنے والوں کی فریاد رسی کر سکتے ہیں جیساکہ ابو طاہر بن بلال نے امام صادقں سے نقل کیا ہے کہ پروردگار جب اہل زمین تک کوئی برکت نازل کرنا چاہتا ہے تو پیغمبر اکرم سے امام آخر تک سب کو وسیلہ قرار دیتا ہے اور ان کی بارگاہوں سے گزرنے کے بعد برکت بندوں تک پہنچتی ہے اور جب کسی عمل کو منزل قبولیت تک پہنچانا چاہتا ہے تو امام زمانہں سے رسول اکرم تک ہر ایک کے وسیلہ سے گزار کر اپنی بارگاہِ جلالت پناہ تک پہنچاتا ہے اور پھر قبولیت کا شرف عنایت کرتا ہے بلکہ خود امام عصرں نے بھی شیخ مفید کے خط میں تحریر فرمایا تھا کہ تمہارے حالات ہماری نگاہوں سے پوشیدہ نہیں ہیں اور ہم تمہارے مصائب کی مکمل اطلاع رکھتے ہیں اور برابر تمہارے حالات کی نگرانی کرتے رہتے ہیں۔
علامہ مجلسی نے تحفة الزائر میں نقل کیا ہے کہ صاحبانِ حاجت کو چاہیے کہ اپنی حاجت کو کسی کاغذ پر لکھ کر ائمہ طاہرین کی قبور مبارکہ پر پیش کر دیں یا کسی خاک میں رکھ کر دریا یا نہر وغیرہ کے حوالہ کر دیں کہ امام زمانہں اس حاجت کو پورا فرما دیں گے۔ اس عریضہ کی ترسیل میں آپ کے چاروں نواب خاص میں سے کسی کو بھی مخاطب بنایا جا سکتا ہے۔ انشاء الله وہ اسی طرح امام کی بارگاہ میں پیش کریں گے جس طرح اپنی زندگی میں اس فرض کو انجام دیا کرتے تھے اور امامں اسی طرح مقصد کو پورا کریں گے جس طرح اس دور میں کیا کرتے تھے۔
مَنْ اَنْکَرَ خُرُوْجَ الْمَھْدِیْ
اسلامی روایات کے مطالعہ سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ سرکار دو عالم نے اپنی زندگی میں قیامت تک پیش آنے والے بیشتر واقعات کی وضاحت کر دی تھی اور پروردگار کی طرف سے ترتیب پانے والے نظامِ ہدایت کی صراحت فرما دی تھی۔
آیت اولی الامر کی وضاہت کرتے ہوئے ان تمام افراد کے ناموں کا بھی تذکرہ کر دیا تھا جنہیں پروردگار کی طرف سے منصب ِ ہدایت تفویض ہوا تھا اور جن کے ذمہ صبح قیامت تک ہدایت عالم کی ذمہ داری تھی۔
اس سلسلہ میں ایک عنوان ”مہدی“ بھی نمایاں طور پر نظر آتا ہے جس کی بار بار تکرار کی گئی ہے اور جس کے ذریعہ امت کو سمجھایا گیا ہے کہ کائنات کے لیے ایک مہدی کا وجود لازمی ہے، اور دنیا اس وقت فنا نہیں ہو سکتی ہے جب تک کہ مہدی منظر عام پر آکر ہدایت ِ عالم اور اصلاحِ امت کا فرض انجام نہ دے دے۔
لفظ ”مہدی“ کی تعبیر میں یہ نکتہ بھی پوشیدہ تھا کہ وہ ایسا ہادی ہوگا جو اپنی رہنمائی میں کسی کی ہدایت کا محتاج نہ ہوگا بلکہ اسے پروردگار ِ عالم کی طرف سے ہدایت حاصل ہوگی اور وہ دنیا کی ہدایت کا فرض انجام دے گا۔
یہ بات امت ِ اسلامیہ میں اس قدر واضح تھی کہ ہر دور کے مسلمان کو ایک مہدی کی تلاش تھی اور بسا اوقات تو ایسا بھی ہوا ہے کہ لوگ خود ہی مہدی بن گئے یا سلاطین زمانہ نے اپنی اولاد کے نام مہدی رکھ دیے تاکہ امت کے درمیان جانے پہچانے لق سے فائدہ اٹھایا جا سکے، اور انہیں یہ سمجھایا جا سکے کہ جس کی آمد کی خبر سرکار دو عالم نے دی تھی وہ مہدی میرے گھر میں پیدا ہو چکا ہے۔
بالکل ”مہدی“ ہی کی طرح کا ایک عنوان ”قائم“ بھی تھا جس کا تذکرہ بار بار روایات میں وارد ہوا ہے اور اس کثرت سے وارد ہوا ہے کہ سلسلہ امامت کے درمیانی دور ہی سے امت کو ایک ”قائم“ کی تلاش شروع ہوگئی تھی اور جب بھی وہ حالات پیدا ہوگئے یا مظالم اس منزل پر آگئے جس منزل پر امت کے خیال میں ”قائم“ کا قیام ضروری تھا ایک ”قائم“ کی تلاش میں شدت پیدا ہوگئی اور لوگ بے چینی سے اس مصلحِ امت کا انتظار کرنے لگے جس کے قیام سے عالمِ انسانیت کی اصلاح ہو جائے گی اور دنیا کے حالات یکسر تبدیل ہو جائیں گے۔
بلکہ اکثر و بیشتر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ لوگ ائمہ معصومین کی بارگاہ میں حاضر ہوکر برجستہ یہ سوال کرتے تھے کہ کیا سرکار ہی ”قائم آل محمد“ ہیں؟ یا اپنے جس فرزند کی امامت کا اعلان کر رہے ہیں اور اس کی طرف قوم کو متوجہ کر رہے ہیں۔ یہی ”قائم آل محمد“ ہے۔ یعنی امت کے ذہن میں ”قائم“ کا تصور اور ”قائم“ کے ساتھ بساطِ ظلم و جور کے فنا ہو جانے اور عدل و انصاف کے قائم ہونے کا تصور اس قدر راسخ تھا کہ جہاں حالات سے پریشانی پیدا ہوئی اور عدل و انصاف کی ضرورت محسوس ہوئی وہیں ایک ”قائم“ کی جستجو کا خیال صفحہ ذہن پر ابھر آیا اور چونکہ مرسل اعظم نے مصلح امت کا تصور اپنی ہی نسل اور اپنے ہی خاندان کے بارے میں دیا تھا اس لیے لوگ اسی خاندان میں تلاش کرنے لگتے اور اس کی ہر فرد سے اصلاح کی آخری امید وابستہ کرکے اسے ”قائم“ کے لقب سے یاد کرنے لگتے۔
ائمہ معصومین نے بھی یہ اہتمام برقرار رکھا کہ ایک طرف یہ وضاحت کرتے رہے کہ ہم ”قائم“ نہیں ہیں یا ابھی آل محمد کے قیام کا وقت نہیں آیا ہے۔ ”قائم“ اس کے بعد آنے والا ہے اور دوسری طرف جہاں بھی لفظ ”قائم“ زبان پر آیا وہیں سر و قد کھڑے ہوگئے اور گویا کہ ایک طرح کا فرض تعظیم بجا لائے جس کا ظاہری تصور یہی تھا کہ ”قائم“ ایسی باعظمت شخصیت کا نام ہے جس کے تذکرہ پر اس کے آباء و اجداد بھی کھڑے ہو جاتے ہیں اور تعظیم و تکریم کا انداز اختیار کر لیتے ہیں جس طرح کہ عظمت ِ زہرا سلام الله علیہا کے اظہار کے لیے مرسل اعظم قیام فرماتے تھے لیکن حقیقی اعتبار سے اس کا ایک دقیق تر نکتہ یہ بھی تھا کہ ائمہ معصومین اس طرزِ عمل کے ذریعہ قوم کے ذہن میں یہ تصور راسخ کرنا چاہتے تھے کہ ”قائم“ کا کام تنہا قیام کرنا نہیں ہے کہ وہ اپنے قیام و جہاد کے ذریعہ سارے عالم کی اصلاح کر دے اور امت خاموش تماشائی بنی رہے جس طرح کہ قوم موسیٰ نے جناب موسیٰں سے کہا تھا کہ آپ اور ہارون جا کر اصلاح کا فرض انجام دیں، ہم یہاں بیٹھ کر آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ ائمہ معصومین کو بنی اسرائیل کا یہ قعود اور ان کی بے حسی اس قدر ناگوار تھی کہ آپ اپنی قوم کو اس کے بالکل برعکس انداز میں تربیت دے رہے تھے کہ وہاں نبی خدا قیام کے لیے آمادہ تھا اور قوم بیٹھی ہوئی تھی اور یہاں قیام کی شان یہ ہے کہ ابھی صرف اس کے نام ”قائم“ کا ذکر آیا ہے اور ہم اٹھ کر کھڑے ہو جاتے ہیں تاکہ تمہارے ذہن میں یہ تصور راسخ رہے کہ جب وہ ظاہر بظاہر تمہارے سامنے آجائے اور قیام کے لیے آمادہ ہو جائے تو خبردار تم خاموش نہ بیٹھے رہ جانا اور تمہاری حیثیت ایک تماشائی کی نہ ہو جائے۔ بلکہ تمہارے فرض ہے کہ جیسے ہی وہ قیام کا ارادہ کرے تم بھی اس کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ اور اصلاح عالم کی مہم میں اس کے ساتھ شریک ہو جاؤ ورنہ صرف کسی کے نام آجانے پر اس کے بزرگوں کا کھڑا ہو جانا کوئی دقیق توجیہہ نہیں رکھتا ہے۔ صدیقہ طاہرہ سلام الله علیہا کے لیے پیغمبر اسلام کا قیام ان کی تشریف آوری پر ہوتا تھا ان کے نام پر نہیں۔ اور ائمہ معصومین کا یہ قیام بھی باقی القاب و خطابات سے وابستہ نہیں تھا بلکہ صرف لفظ ”قائم“ سے وابستہ تھا جس کا کھلا ہوا مطلب یہ تھا کہ ان کے نام پر قیام مطلوب ہے اور اس شخصیت کے ساتھ شریک قیام و جہاد ہونا اسلامی فرائض میں سے ایک اہم فریضہ ہے۔
علماءِ اعلام کی تعلیم اور ان کا طریقہ کار آج بھی یہی ہے کہ جب وارث ِپیغمبر کا ذکر اس لقب کے ساتھ ہوتا ہے تو کھڑے ہو جاتے ہیں اور حضرت کی خدمت میں زبان حال سے عرض کرتے ہیں کہ ہم حضور کے ساتھ قیام کے لیے تیار ہیں۔ بس آپ کے ظہور و قیام کی دیر ہے اس کے بعد ہم آپ کی خدمت میں رہیں گے اور اصلاح عالم کی مہم میں آپ کی ہر امکانی مدد کریں گے۔
”مہدی“ اور ”قائم“ یہ دونوں الفاظ دو مختلف لیکن باہم مربوط حقائق کی نشان دہی کرتے ہیں۔ لفظ ”مہدی“ اس حقیقت کی وضاحت کرتا ہے کہ دنیا کی اصلاح کسی خود ساختہ یا زمانہ ساز ہادی کے ذریعہ نہیں ہو سکتی ہے، اس کے لیے وہ شخص درکار ہے جس کی ہدایت کا انتظام قدرت کی طرف سے کیا گیا ہو، اور اسے پروردگار نے مہدی بنا کر ہدایت کا ذمہ دار بنایا ہو، اور ”قائم“ اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اصلاح عام کا کام گھر بیٹھے انجام نہیں پا سکتا ہے اس کے لیے قیام کرنا ہوگا، زحمتیں برداشت کرنا ہوں گی، مصائب اور طوفانوں کا مقابلہ کرنا ہوگا اور ظلم و جور کے عالم گیر ہنگامہ سے ٹکرانا ہوگا۔
قابل غور نکتہ یہ ہے کہ ائمہ معصومین نے ہر دور میں طوفانوں کا مقابلہ کیا ہے، ہر دور میں مصائب برداشت کیے ہیں اور بنی امیہ و بنی عباس کے فراعنہ و جبابرہ سے ٹکر لی ہے لیکن اس کے باوجود انہیں قائم کے لقب سے یاد نہیں کیا گیا۔
حضرت امام حسینں کا قیام کربلا میں، امام سجادں کا قیام یزید اور یزیدیت کے مقابلہ میں، امام باقرں و امام صادقں کا قیام بنی امیہ و بنی عباس کے مظالم کے سامنے، امام کاظمں و امام رضاں کا قیام ہارون و مامون کے ظلم و جور کے سامنے، امام جوادں و امام نقی ں اور امام عسکریں کا قیام سلاطین وقت کے مقابلہ میں کوئی مخفی بات نہیں ہے۔ ان میں سے اکثر قیام مسلح نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود نہ یہ تصور ہو سکتا ہے کہ ائمہ کرام نے اپنے کو حکومتوں کے سپرد کر دیا تھا اور نہ یہ سوچا جا سکتا ہے کہ وہ حالات سے بالکل الگ تھلگ رہے اور امت کی بربادی کا منظر دیکھتے رہے۔ انہوں نے اپنے اپنے ظاہری امکان بھر ہر موقع پر قیام کیا ہے اور حکومت کو اس کے ظلم و جور پر متنبہ کیا ہے بلکہ عوام کو بھی حکومتوں کے مظالم سے آگاہ کیا ہے۔ صفوان جمال سے یہاں تک فرما دیا تھا کہ ان حکام کو جانور کرایہ پر دینا بھی ان کی زندگی کی تمنا کے برابر ہے اور ظالم کی زندگی کی تمنا اس کے ظلم میں شرکت کے مرادف ہے جو کسی طرح بھی جائز نہیں ہے۔ لیکن ان تمام مجاہدات کے باوجود ان معصومین کو لفظ قائم سے نہیں یاد کیا گیا اور یہ حضرات خود فرماتے رہے کہ ”قائم“ اس کے بعد آنے والا ہے۔ اس کا مطلب یہہے کہ آخری ”قائم“ کے ذمہ جو کام رکھا گیا ہے وہ ان سب سے زیادہ اہم اور سنگین ہے اور اس کا انقلاب آخری اور دائمی ہوگا۔ اس کا فریضہ ظالم سے مقابلہ کرنا اور اسے فنا کرن دینا نہیں ہے بلکہ اس کا فریضہ ظلم و جور کا استیصال کرنا ہے۔ اس کے دور میں صرف کسی ایک ظالم حکومت کا سامنا نہیں کرنا ہوگا بلکہ اسلام و کفر کی تمام انحرافی قوتوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ وہ منحرف مسلمانوں کے ساتھ یہودیوں، عیسائیوں، کافروں، مشرکوں اور بے دینوں سے بیک وقت مقابلہ کرے گا اور ظاہر ہے کہ اتنے بڑے مقابلے کے لیے اسی طرح کی توانائی کی ضرورت ہوگی اور اتنے بڑے جہاد کے لیے ایسا ہی حوصلہ درکار ہوگا۔
مثالی انداز سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح اسلام کی غربت کے دور میں امام حسینں نے تن تنہا اپنے مختصر ساتھیوں کے ساتھ پوری قوت ِ ظلم و جور کے مقابلہ میں قیام کیا تھا اسی طرح یہ وارث ِ حسین ساری دنیا کے ظلم و جور کے مقابلہ میں اپنے چند مخصوص اصحاب کے ساتھ قیام کرے گا اور اس قیام کی عظمت وہی افراد پہنچائیں گے جو قیامِ کربلا کی اہمیت سے آشنا ہیں، اور اس قائم کی ہمت و جرأت کی قدر وہی افراد کریں گے جو اصلاح و انقلاب و جہاد و قیام کے مفہوم سے آشنائی رکھتے ہیں۔ قدرت نے اس آخری حجت کو ایک عظیم کربلا کا ذمہ دار بنایا ہے تو مناسبت برقرار رکھنے کے لیے اور جہاد کی عظمت کا اعلان کرنے کے لیے اس کے آخری فرائض کی ذمہ داری حضرت امام حسینں ہی کے سپرد فرمائی ہے۔ جیساکہ روایات میں وارد ہوا ہے کہ آغازِ رجعت میں سب سے پہلے امام حسینں ہی کا ظہور ہوگا اور آپ ہی امام عصر کی تجہیز و تکفین کا فرض انجام دیں گے تاکہ معصوم کے امور تجہیز و تکفین معصوم ہی انجام دے اور دنیا پر واضح ہو جائے کہ یہ آخری کربلا ہے جس کا فاتح آخری وارث ِ حسین بن علی ہے۔
اسی لیے آپ یہ بھی دیکھیں گے کہ امام عصرں کا تعارف و روایات میں فرزند حسین ہی کے نام سے کرایا گیا ہے اور امام حسینں کے بعد ائمہ معصومین کو فرزندان حسین سے تعبیر کیا گیا ہے جس میں اس کے آخری فرزند حسین کو امام زمانہ کہا گیا ہے۔
بہرحال ایک ”مہدی“ اور ایک ”قائم“ کا وجود اصلاح دنیا کی ضرورت، اعتبار پیغمبر کی صداقت اور قدرت کے نظامِ ہدایت کی تکمیل کے لیے بے حد ضروری ہے۔ اب اگر مہدی کا انکار کر دیا جائے گا تو گویا سارا نظامِ ہدایت ناقص اور سارا کلام پیغمبر غیر صادق ہو جائے گا اور یہ بات مزاجِ اسلام کے خلاف ہے۔ اس لیے روایت میں یہ صراحت کی گئی ہے کہ جس نے خروج مہدی کا انکار کر دیا گویا اس نے پیغمبر پر نازل ہونے والے تمام قانون کا انکار کر دیا جس طرح کہ پہلی منزل پر یہی اعلانِ غدیر خم میں ہوا تھا اور اب آخری منزل پر ظہورِ امام عصر کے بارے میں ہو رہا ہے۔ اول بآخر نسبتے دارد۔ تاریخ آل محمد برابر مربوط اور مسلسل ہے، یہاں اولنا محمد و آخرنا محمد وکلنا محمد، ایک حقیقت ہے۔
علامات ِ ظہور
امام عصرں کے ظہور کے بارے میں روایات میں جن علامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان کی دو قسمیں ہیں:
( ۱) حتمی اور ( ۲) غیر حتمی۔
بعض علامتیں حتمی ہیں جن کا وقوع بہرحال ضروری ہے اور ان کے بغیر ظہور کا امکان نہیں ہے۔ اور بعض غیر حتمی ہیں جن کے بعد ظہور ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی ہو سکتا ہے۔ یعنی اس امر کا واضح امکان موجود ہے کہ ان علامات کا ظہور نہ ہو اور حضرت کا ظہور ہو جائے اور اس امر کا بھی امکان ہے کہ ان سب کا ظہور ہو جائے اور اس کے بعد بھی حضرت کے ظہور میں تاخیر ہو۔
ذیل میں دونوں قسم کی علامتوں کا ایک خاکہ نقل کیا جا رہا ہے لیکن اس سے پہلے اس امر کی طرف اشارہ ضروری ہے کہ ان روایات کا صدور آج سے سیکڑوں سال پہلے ہوا ہے اور ان کے مخاطب اس دور کے افراد تھے اور ان کے متعلقات کا تعلق سیکڑوں سال بعد کے واقعات سے تھا جن کا سابقہ اس دور کے افراد سے ہوگا اور اس بنا پر یہ طے کرنا تقریباً ناممکن ہے کہ روایات میں استعمال ہونے والے الفاظ سے مراد کیا ہے اور یہ الفاظ اپنے لغوی معانی میں استعمال ہوئے ہیں یا ان میں کسی استعارہ اور کنایہ سے کام لیا گیا ہے۔
اگر روایات کا تعلق احکام سے ہوتا تو یہ کہا جا سکتا تھا کہ احکام کے بیان میں ابہام و اجمال بلاغت کے خلاف اور مقصد کے منافی ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ روایات کا تعلق احکام سے نہیں بلکہ واقع ہونے والے حادثات سے ہے اور ان کی تشریح کی کوئی ذمہ داری بیانکرنے والے پرنہیں ہے بلکہ شاید مصلحت اجمال اور ابہام ہی کی متقاضی ہو کہ ہر دور کا انسان اپنے ذہن کے اعتبار سے معانی طے کرے اور اس معنی کے واقع ہوتے ہی ظہور امام کے استقبال کے لیے تیار ہو جائے ورنہ اگر واضح طور پر علامات کا ذکر کر دیا گیا اور انسان نے سمجھ لیا کہ ابھی علامات کا ظہور نہیں ہوا ہے تو ظہور امام کی طرف سے مطمئن ہو کر مزید بدعملی میں مبتلا ہو جائے گا۔
یہ سوال ضرور رہ جاتا ہے کہ پھر اس قسم کے علامات کے بیان کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟۔۔۔ لیکن اس کا بالکل واضہ سا جواب یہ ہے کہ معصومین نے جب بھی ان آنے والے واقعات کا اشارہ دیا اور فرمایا کہ ایک دور آنے والا ہے جب دنیا ظلم و جور سے بھر جائے گی لیکن یہ دنیا کا اختتام نہ ہوگا بلکہ اس کے بعد ایک قائم آل محمد کا ظہور ہوگا جو عالمی حالات کی اصلاح کرے گا اور ظلم و جور سے بھری ہوئی دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا، تو قوم کے ذہن میں دو متضاد تصورات پیدا ہوئے۔ ایک طرف ظلم و ستم کا حال سن کر مایوسی اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہوئی اور دوسری طرف ظہورِ امام کی خوش خبری سن کر سکون و اطمینان کا امکان پیدا ہوا تو فطری طور پر یہ سوال ناگزیر ہوگیا کہ ایسے بدترین حالات تو ہم آج بھی دیکھ رہے ہیں۔ بنی امیہ اور بنی عباس کے مظالم تو آج بھی نگاہ کے سامنے ہیں اور ابھی دنیا ظلم و جور سے مملو نہیں ہوئی ہے تو جب ظلم و جور سے بھر جائے گی تو اس وقت دنیا کا کیا عالم ہوگا اور اس کے بعد اس اضطراب کا سکون اور اس بے چینی کا اطمینان کب میسر ہوگا اس کے حالات علامات کا معلوم ہونا ضروری ہے تاکہ مظلوم و ستم رسیدہ اور بے کس و بے نوا کو اس حسِین مستقبل کے تصور سے کچھ تو اطمینان حاصل ہو اور ائمہ معصومین کی بھی ذمہ داری تھی کہ علامات کو ایسے کنایہ کے پیرایہ میں بیان کریں کہ ہر دور کا مظلوم سکون و اطمینان کو قریب تر سمجھ سکے اور اس کے لیے اطمینان کا راستہ نکل سکے ورنہ بے شمار صاحبانِ ایمان مایوسی کا شکار ہو جائیں گے اور رحمت ِ خدا سے مایوسی خود بھی ایک طرح کا کفر اور ضلال مبین ہے۔
اس مختصر سی تمہید کے بعد اصل مقصد کا تذکرہ کیا جا رہا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ علماءِ اعلام نے سات قسم کی علامات کو حتمی قرار دیا ہے:
۱ ۔ خروج دجّال
جس کا تذکرہ تمام عالم اسلام کی کتب احادیث میں پایا جاتا ہے اور اس کی طرح طرح کی صفات کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے کہ گدھے پر سوار ہوگا۔ ایک آنکھ سے کانا ہوگا، دوسری آنکھ پیشانی پر ہوگی، انتہائی درجہ کا جادوگر ہوگا اور لوگوں کو بہترین نعمتوں کی ترغیب دے گا۔ اس کے لشکر میں ہر طرح کے ناچ گانے کا ساز و سامان ہوگا۔ وہ مختلف علاقوں کا دورہ کرکے لشکر جمع کرے گا اور لوگوں کو گمراہ کرے گا، یہاں تک کہ حضرت کا ظہور ہوگا اور آپ براہِ راست یا آپ کی رکاب میں حضرت عیسیٰ بن مریم اسے فنا کر دیں گے۔
ان روایات سے تو بظاہر یہی معلو م ہوتا ہے کہ یہ کسی انسان کا تذکرہ ہے لیکن چونکہ دجّال خود ایک صفت ہے اور اس کے معنی مکار اور فریب کار کے ہیں اس لیے بہت سے علماء نے اس کے کنائی معنی مراد لیے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اس سے مراد وہ مکار اور فریب کار حکومتیں ہیں جن کے ساز و سامان دجّال والے ہیں اور جنہوں نے ساری دنیا کو مسحور کر رکھا ہے اور ان کی نظر سرمایہ داری یا مزدوری پر ہے کہ ایک آنکھ سے دیکھتے ہیں اور ایک آنکھ کو بند کر لیا ہے اور دیکھنے والی آنکھ کو اپنی پیشانی پر اتنا نمایاں کر لیا ہے کہ ہر شخص صرف اس کی چمک دمک دیکھ رہا ہے اور ان کی سواری کے لیے بے شمار انسان موجود ہیں جنہیں قرآن حکیم کی زبان میں گدھا ہی کہا گیا ہے کہ گویا ایک پورا ”خر صفت“ سماج ہے جس کی پشت پر سوار ہو کر اپنے دجل و فریب کی ترویج کر رہے ہیں۔ واللّٰہ اعلم بالصواب۔
۲ ۔ نداءِ آسمانی
اس سلسلہ میں روایات میں مختلف آسمانی آوازوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ ایک سلسلہ اصوات ماہِ رجب میں ہے جس میں پہلی آواز ہوگی: ”ألا لعنة اللّٰہ علی الظالمین“ دوسری آواز ہوگی ”ازفة الآزفة“ اور تیسری آواز قرص آفتاب سے بلند ہوگی کہ امیر المومنین دوبارہ دنیا میں انتقام کے لیے آرہے ہیں۔
دوسرا سلسلہ ماہِ مبارک رمضان میں ہوگا جہاں ۲۳ رمضان کو ظہور کی خوش خبری کا اعلان کیا جائے گا۔
اور تیسرا سلسلہ وقت ظہور قائم ہوگا جب قرص آفتاب سے حضرت کے مکہ مکرمہ سے ظہور کا اعلان ہوگا اور پورے شجرہ نسب کے ساتھ اعلان ہوگا اور اس اعلان کو شرق و غرب عالم میں سنا جائے گا جس کے بعد صاحبانِ ایمان آپ کی بیعت اور نصرت کے لیے دوڑ پڑیں گے، اور آپ کے مقابلہ میں دوسری شیطانی آواز بھی بلند ہوگی جو مثل جنگ احد بہت سے مسلمانوں کو گمراہ کر دے گی۔
۳ ۔ خروج سفیانی
اس شخص کا نام عثمان بن عنبہ ہوگا اور یہ یزید بن معاویہ کی اولاد میں سے ہوگا۔ پہلے دمشق، حمص، فلسطین، اردن اور قنسرین پر حکومت قائم کرے گا اس کے بعد مختلف اطراف میں لشکر روانہ کرے گا جس کا ایک حصہ بغداد کی طرف جائے گا اور نجف و کربلا میں صاحبانِ ایمان کا قتل عام کرے گا۔ دوسرا حصہ مدینہ کی طرف جائے گا اور وہاں قتل عام کرے گا اور پھر مکہ کا رخ کرے گا لیکن مکہ تک رسائی نہ حاصل کر سکے گا۔ تیسرا حصہ بطرف شام روانہ ہوگا اور راستہ میں لشکر امام عصر سے مقابلہ ہوگا اور اس حصہ کا ایک ایک شخص فنا کر دیا جائے گا۔ مکہ کی طرف جانے والا لشکر تین لاکھ افراد پر مشتمل ہوگا اور ایک صحرا میں دھنس جائے گا، صرف دو افراد باقی رہیں گے۔ ایک مکہ کی طرف جا کر امام عصرں کی فتح کی بشارت دے گا اور دوسرا شام کی طرف جا کر سفیانی کو لشکر کی ہلاکت کی اطلاع دے گا۔ اس کے بعد سفیانی خود کوفہ کا رخ کرے گا اور پھر حضرت کا لشکر تعاقب کرے گا اور وہ فرار کر جائے گا یہاں تک کہ بیت المقدس میں حضرت کے لشکر ہاتھوں واصل جہنم کر دیا جائے گا۔
اس روایت میں بھی اگرچہ نام اور نسب کا ذکر موجود ہے لیکن یہ دونوں باتیں عرف عام میں کنایہ کے طور پر بھی استعمال ہوتی ہیں جس طرح کہ حضرت عائشہ نے قتل عثمان کی ترغیب دیتے وقت عثمان کا نام نہیں لیا تھا بلکہ نعثل کہہ کر یاد کیا تھا کہ مشابہت کی بنا پر دوسرا نام بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہی حال شجرہ نسب کا بھی ہے کہ اس طرح کا قاتل و ظالم انسان یزید بن معاویہ کے علاوہ کسی شخص کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا ہے جس طرح کہ خود یزید کے باپ نے زیاد کو اتحاد کردار کی بنا پر اپنے شجرہ پر شامل کر لیا تھا۔
بہرحال ایسے انسان یا ایسی طاقت کا ظہور ضروری ہے کہ خدا جانے کب انکشاف ہو جائے کہ موجودہ طاقت وہی طاقت ہے جسے سفیانی سے تعبیر کیا گیا ہے اور ظہور امام اور جہادِ امام کا قت آگیا ہے، لہٰذا مومنین کرام کو ہر وقت اس جہاد کے لیے تیار رہنا چاہیے اور کسی وقت بھی اپنے فرض سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔
۴ ۔ قتل نفس زکیہ
یعنی اولاد رسول اکرم میں ایک محترم اور پاکیزہ نفس انسان کو خانہ کعبہ کے پاس رکن و مقام کے درمیان قتل کر دیا جائے گا اور اس کے بعد حضرت کا ظہور ہوگا۔ ظاہر ہے کہ جب روایت میں کسی تفصیل کا ذکر نہیں ہے تو کوئی بھی محترم کسی وقت بھی قتل ہو سکتا ہے اور اس کے بعد امام عصرں کا ظہور ہو سکتا ہے جب کہ حکومت وقت ہمہ وقت اولاد رسول کے قتل و خون کے درپے رہتی ہے۔
۵ ۔ خروج سید حسنی
دیلم اور قزوین کی طرف سے ایک سید حسنی جن کا شجرہ نسب امام حسن مجتبیٰں تک پہنچتا ہے خروج فرمائیں گے اور وہ نصرت امام کے حق میں آواز بلند کریں گے جس پر طالقان کی ایک عظیم سپاہ آپ کے گرد جمع ہو جائے گی اور آپ کوفہ کا رخ کریں گے اور راستہ میں ظالموں کا قلع قمع کرتے جائیں گے اور اس وقت یہ خبر نشر ہوگی کہ امام عصرں نے ظہور فرمایا ہے اور کوفہ تشریف لے آئے ہیں۔ سید حسنی ان کی خدمت میں حاضر ہوکر ان سے دلائن امامت کا مطالبہ کریں گے تاکہ تمام لوگوں پر ان کی امامت کا اثبات ہو جائے اور اس کے بعد حضرت کی بیعت کریں گے لیکن ان کے ساتھیوں میں چار ہزار افراد معجزات کو جادو کا نام دے کر نہروان کے خوارج کی طرح بیعت سے انکار کر دیں گے اور بالآخر سب کے سب تہہ تیغ کر دیے جائیں گے۔
۶ ۔ وسط ِ ماہِ رمضان میں سورج گرہن اور آخر ماہِ رمضان میں چاند گرہن کا واقع ہونا جو عام طور سے نہیں ہوتا ہے اور نہ قابل وقوع تصور کیا جاتا ہے۔
۷ ۔ آسمان میں ایک پنجہ کا ظاہر ہونا یا چشمہ خورشید کے قریب سے ایک صورت کا ظاہر ہونا جو اس بات کی علامت ہے کہ آنے والا منظر عام پر آرہا ہے اور قدرت کا منشاء ہے کہ ساری دنیا اس حقیقت سے باخبر ہو جائے اور کسی طرح کا ابہام نہ رہ جائے۔ اب اگر کسی انسان کو دن کا سورج بھی نظر نہ آئے تو ایسے بوم صفت اور شپرّہ چشم انسان کا کوئی علاج نہیں ہے۔
چشمہ آفتاب سے شکل و صورت کا ظہور غالباً اس امر کی طرف بھی اشارہ ہے کہ امامت کا اقتدار زمین سے آسمان تک پھیلا ہوا ہے اور جس طرح پہلے امام نے آفتاب کو پلٹا کر اپنی امامت اور بندگی کا ثبوت پیش کیا تھا اسی طرح آخری امام بھی آفتاب ہی کے ذریعہ اپنے اقتدار کا اظہار کرے گا اور اپنے دلائل کو روز ِ روشن کی طرح واضح کرے گا۔
آفتاب کے وسیلہ قرار دینے میں یہ اشارہ بھی پایا جاتا ہے کہ زمین کا سارا نظام آفتاب کی گردش کا تابع ہے اور آفتاب کی گردش اشارہ امام کی تابع ہے تو جو شخص بھی گردش آفتاب کو منقلب کر سکتا ہے اور ڈوبے ہوئے آفتاب کو مغرب سے نکال سکتا ہے وہ نظام عالم کو کیونکر منقلب نہیں کر سکتا ہے؟ اور ڈوبے ہوئے اسلام و ایمان کو مغرب سے کیوں نہیں نمایاں کر سکتا ہے؟ ”ان ھذا الا اختلاق“۔
غیر حتمی علامات
غیر حتمی علامات کی فہرست بہت طویل ہے اور بعض حضرات نے سیکڑوں سے گزار کر ان علامات کو ہزاروں کی حدوں تک پہنچا دیا ہے اور حقیقت امر یہ ہے کہ ان میں اکثر باتیں علامات نہیں ہیں، بلکہ دنیا کے ظلم و جور سے بھر جانے کی تفصیلات ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ان علامات میں ہر برائی کا تذکرہ موجود ہے جو دنیا کے ظلم و جور اور فسادات سے مملو ہو جانے کا خاصہ ہے۔ علامات کے طور پر حسب ذیل امور کا تذکرہ کیا جاتا ہے:
۱ ۔ مسجد کوفہ کی دیوار کا منہدم ہو جانا۔
۲ ۔ شط ِ فرات سے کوفہ کی گلیوں میں نہر کا جاری ہو جانا۔
۳ ۔ شہر کوفہ کا تباہی کے بعد دوبارہ آباد ہونا۔
۴ ۔ دریائے نجف میں پانی کا جاری ہو جانا۔
۵ ۔ فرات سے نجف کی طرف نہر کا جاری ہو جانا۔
۶ ۔ ستارہ جدی کے قریب دمدار ستارہ کا ظاہر ہونا۔
۷ ۔ دنیا میں شدید قسم کے قحط کا پیدا ہونا۔
۸ ۔ اکثر شہروں اور ملکوں میں زلزلہ اور طاعون کا پیدا ہونا۔
۹ ۔ مسلسل قتل و خون کا ہونا۔
۱۰ ۔ قرآن مجید کا زیورات سے آراستہ کرنا، مساجد میں سونے کا کام ہونا اور میناروں کا بلند ترین ہونا۔
۱۱ ۔ مسجد براثا کا تباہ ہو جانا۔
۱۲ ۔ مشرق زمین میں ایک ایسی آگ کا ظاہر ہونا جس کا سلسلہ تین روز یا سات روز تک جاری رہے۔
۱۳ ۔ سارے آسمان پر سرخی کا پھیل جانا۔
۱۴ ۔ کوفہ میں ہر طرف سے قتل و غارت کا برپا ہونا۔
۱۵ ۔ ایک جماعت کا بندر اور سور کی شکل میں مسخ ہو جانا۔
۱۶ ۔ خراسان سے سیاہ پرچم کا برآمد ہونا۔
۱۷ ۔ ماہِ جمادی الثانی اور رجب میں شدید قسم کی بارش کا ہونا۔
۱۸ ۔ عربوں کا مطلق العنان اور آوارہ ہو جانا۔
۱۹ ۔ سلاطینِ عجم کا بے آبرو اور بے وقار ہو جانا۔
۲۰ ۔ مشرق سے ایک ایسے ستارہ کا برآمد ہونا جس کی روشنی چاند جیسی ہو اور شکل بھی دونوں طرف سے کج ہو۔
۲۱ ۔ تمام عالم میں ظلم و ستم اور فسق و فجور کا عام ہو جانا جس کے بارے میں مولائے کائناتں نے اپنے خطبہ میں فرمایا تھا کہ ”جب لوگ نماز کو مردہ بنا دیں گے، امانتوں کو ضائع کر دیں گے، جھوٹ کو جائز بنا لیں گے، سود کھائیں گے، رشوت لیں گے، عمارتوں کو انتہائی مستحکم بنائیں گے، اقرباء سے قطع تعلق کر لیں گے، خواہشات کا اتباع کریں گے، خون کو سستا بنا لیں گے، تحمل کو دلیل کمزوری اور ظلم کو باعث فخر سمجھ لیں گے، امراء فاجر ہوں گے، وزراء ظالم ہوں گے، عرفاء خائن ہوں گے اور قرّاء فاسق ہوں گے، جھوٹی گواہیوں کا زور ہوگا۔ فجور کو اعلانیہ انجام دیا جائے گا، قرآن مجید کو زیورات سے آراستہ کیا جائے گا، مسجدوں میں سنہرا کام ہوگا، مینارے طویل ترین ہوں گے، اشرار کا احترام ہوگا، صفوں میں اژدہام ہوگا اور خواہشات میں اختلاف ہوگا، عہد توڑے جائیں گے، عورتوں کو طمع دنیا میں شریک تجارت بنایا جائے گا، فساق کی آواز بلند ہوگی اور اسے سنا جائے گا، رذیل ترین آدمی سردار قوم ہوگا، فاجر سے اس کے شر کے خوف سے ڈرا جائے گا، جھوٹے کی تصدیق کی جائے گی، خائن کو امین بنایا جائے گا، ناچ گانے کا کاروبار عام ہوگا اور امت کا آخری آدمی پہلے آدمی پر لعنت کرے گا، عورتیں گھوڑوں پر سواری کریں گی، مرد عورتوں سے مشابہ اور عورتیں مردوں سے مشابہ ہو جائیں گی، لوگ زبردستی گواہی پیش کریں گے اور بغیر حق کو سمجھے ہوئے گواہی دیں گے، علم دین غیر دین کے لیے حاصل کیا جائے گا، عمل دنیا کو آخرت پر ترجیح دی جائے گی، دل بھیڑیوں جیسے اور لباس بکریوں جیسے ہوں گے، دل مردار سے زیادہ بدبودار اور ایلوا سے زیادہ تلخ ہوں گے۔ اس وقت بہترین مقام بیت المقدس ہوگا جس کے بارے میں لوگ تمنا کریں گے کہ کاش ہماری منزل وہاں ہوتی۔
اس کے علاوہ اور بھی علامات کا ذکر کیا گیا ہے جن سے اس دور کی عکاسی ہوتی ہے جب ظلم و جور اور فسق و فجور کا دور دورہ ہوگا اور عدل و انصاف اور دین و ایمان دم توڑ دیں گے۔
خصائص و امتیازات امام عصر
ان خصوصیات میں بعض کا تعلق آپ کی ذات ِ مبارک سے ہے اور بعض کا تعلق آپ کے اضافی اوصاف و کمالات سے ہے اور بعض میں آپ کے اندازِ حکومت اور دورِ اقتدار کی امتیازی حیثیت کا اعلان کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر ان خصوصیات کی تعداد کا مختصر خاکہ علامہ شیخ عباس قمی نے ۴۶ امور سے مرتب کیا ہے:
۱ ۔ آپ کا نور ِ اقدس بھی انوار ِ قدسیہ کے درمیان ایک مخصوص حیثیت کا حامل ہے جیساکہ احادیث معراج سے ظاہر ہوتا ہے۔
۲ ۔ شرافت ِنسب، آپ کو جملہ ائمہ طاہرین سے انتساب کے علاوہ قیصر روم اور جناب شمعون وصی حضرت عیسیٰں سے بھی انتساب حاصل ہے۔
۳ ۔ روزِ ولادت روح القدس آپ کو آسمانوں کی طرف لے گیا اور وہاں فضائے قدس میں آپ کی تربیت ہوتی رہی۔
۴ ۔ آپ کے لیے ایک مخصوص مکان بیت الحمد نام کا ہے جہاں کا چراغ روزِ ولادت سے روشن ہے اور روزِ ظہور تک روشن رہے گا۔
۵ ۔ آپ کو رسول اکرم کا اسم گرامی اور کنیت دونوں کا شرف حاصل ہوا ہے، یعنی ”ابو القاسم محمد“۔
۶ ۔ دور ِ غیبت میں آپ کو نام محمد سے یاد کرنا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
۷ ۔ آپ کی ذات ِ گرامی پر وصایت کا عہدہ ختم ہوگیا اور آپ خاتم الاوصیاء ہیں۔
۸ ۔ آپ کو روز اول ہی سے غیبت کا شرف حاصل ہوا ہے اور آپ ملائکہ مقربین کی تحویل میں رہے ہیں۔
۹ ۔ آپ کو کفار و مشرکین و منافقین کے ساتھ معاشرت نہیں اختیار کرنا پڑی۔
۱۰ ۔ آپ کو کسی بھی حاکم ظالم کی رعایا میں نہیں رہنا پڑا۔
۱۱ ۔ آپ کی پشت مبارک پر رسول اکرم کی مہر نبوت کی طرح نشانِ امامت ثبت ہے۔
۱۲ ۔ آپ کا ذکر کتب سماویہ میں القاب و خطابات کے ذریعہ ہوا ہے اور نام نہیں لیا گیا ہے۔
۱۳ ۔ آپ کے ظہور کے لیے بے شمار علامتیں بیان کی گئی ہیں۔
۱۴ ۔ آپ کے ظہور کا اعلان ندائے آسمانی کے ذریعہ ہوگا۔
۱۵ ۔ آپ کے دور ِ حکومت میں سن و سال کا انداز عام حالات سے مختلف ہوگا اور گویا حرکت فلک سست پڑ جائے گی۔
۱۶ ۔ آپ مصحف امیر المومنین کو لے کر ظہور فرمائیں گے۔
۱۷ ۔ آپ کے سر پر مسلسل ابر سفید کا سایہ ہوگا۔
۱۸ ۔ آپ کے لشکر میں ملائکہ اور جنات بھی شامل ہوں گے۔
۱۹ ۔ آپ کی صحت پر طول زمانہ کا کوئی اثر نہ ہوگا۔
۲۰ ۔ آپ کے دور میں حیوانات اور انسانوں کے درمیان وحشت و نفرت کا دور ختم ہو جائے گا۔
۲۱ ۔ آپ کی رکاب میں بہت سے مر جانے والے بھی زندہ ہوکر شامل ہوں گے۔
۲۲ ۔ آپ کے سامنے زمین سارے خزانے الگ دے گی۔
۲۳ ۔ آپ کے دور میں پیداوار اور سبزہ زار اس قدر ہوگا کہ گویا زمین دوسری زمین ہو جائے گی۔
۲۴ ۔ آپ کی برکت سے لوگوں ی عقلوں کو کمال حاصل ہو جائے گا۔
۲۵ ۔ آپ کے اصحاب کے پاس غیر معمولی قوت ِ سماعت و بصارت ہوگی کہ چار فرسخ سے حضرت کی آواز سن لیں گے۔
۲۶ ۔ آپ کے اصحاب و انصار کی عمریں بھی طولانی ہوں گی۔
۲۷ ۔ آپ کے انصار کے اجسام بھی مرض اور بیماری سے بری ہوں گے۔
۲۸ ۔ آپ کے اعوان و انصار میں ہر شخص کو ۴۰ افراد کے برابر قوت عطا کی جائے گی۔
۲۹ ۔ آپ کے نور ِ اقدس کے طفیل میں لوگ نور شمس و قمر سے بے نیاز ہو جائیں گے۔
۳۰ ۔ آپ کے دست ِ مبارک میں رسول اکرم کا پرچم ہوگا۔
۳۱ ۔ آپ کے جسم اقدس پر رسول اکرم کی زرہ بالکل درست ہوگی۔
۳۲ ۔ آپ کے لیے ایک خاص بادل ہوگا جو آپ کو مختلف مقامات پر لے جایا کرے گا۔
۳۳ ۔ آپ کے دور میں تقیہ کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور شوکت کاذبین و ظالمین کا خاتمہ ہو جائے گا۔
۳۴ ۔ آپ کی حکومت مشرق و مغرب عالم پر ہوگی۔
۳۵ ۔ آپ کے دور میں زمین عدل و انصاف سے بھر جائے گی۔
۳۶ ۔ آپ کے فیصلے علم امامت کے مطابق ہوں گے اور صرف ظاہری شواہد پر اکتفا نہ کی جائے گی۔
۳۷ ۔ آپ ان مخصوص احکام کو رائج کریں گے جو اس دور تک رائج نہ ہو سکے ہوں گے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی بیس سال کا نوجوان احکام دین سے بے خبر ہوگا تو اسے تہہ تیغ کر دیں گے اور زندہ رہنے کا حق نہ دیں گے کہ بلوغ کے بعد بھی پانچ سال کی مہلت دی جا چکی ہے۔
۳۸ ۔ آپ علوم کے ان ۲۵ حروف کا اظہار کریں گے جن کا اب تک اظہار نہیں ہو سکا ہے اور انبیاء کرام اور اولیاء عظام نے ۲۷ حروف میں سے صرف دو کا اظہار کیا ہے۔
۳۹ ۔ آپ کے اصحاب و انصار کے لیے آسمان سے تلواریں نازل ہوں گی۔
۴۰ ۔ آپ کے اصحاب و انصار کی جانور تک اطاعت کریں گے۔
۴۱ ۔ آپ کوفہ میں حضرت موسیٰں کے پتھر سے پانی اور دودھ کی دو نہریں جاری فرمائیں گے۔
۴۲ ۔ آپ کی مدد کے لیے آسمان سے حضرت عیسیٰں نازل ہوں گے اور آپ کے پیچھے نماز ادا کریں گے۔
۴۳ ۔ آپ اس دجال ملعون کو قتل کریں گے جس سے ہر نبی نے اپنی امت کو ہوشیار رہنے کی تلقین کی ہے۔
۴۴ ۔ آپ کے علاوہ امیر المومنینں کے بعد کسی کے جنازہ پر سات تکبیروں کا جواز نہ ہوگا۔
۴۵ ۔ آپ کی تسبیح ۱۸ تاریخ سے آخر ماہ تک ہے، یعنی تقریباً ۱۲ دن۔ جب کہ باقی معصومین کی تسبیح بس ایک روز ہے یا دو روز۔
۴۶ ۔ آپ کی حکومت کا سلسلہ قیامت سے متصل ہوگا کہ آپ خود حکومت کریں گے یا ائمہ طاہرین رجعت فرمائیں گے یا آپ کی اولاد کی حکومت ہوگی لیکن مجموعی طور پر یہ سلسلہ قیامت سے متصل ہو جائے گا جیساکہ امام صادقں فرمایا کرتے تھے:
لکل اناس دولة یرقبونها
و دولتنا فی آخر الدهر لیظهر
آپ کے ذاتی دور ِ حکومت کے بارے میں علماءِ اعلام کے اقوال میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے اور سات سال سے ۱۹ یا ۴۹ سال تک کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے بعد آپ کی شہادت واقع ہوگی اور امام حسینں آپ کی تجہیز و تکفین کے امور انجام دیں گے اور ائمہ طاہرین کی ظاہری حکومت کا سلسلہ شروع ہوگا جو دور ظہور امام عصر میں دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے اور ان کی نگرانی میں اولیاء صالحین اور اولاد امام عصر حکومت کرے گی اور یہ سلسلہ قیامت تک مستمر رہے گا۔ لیکن آپ کے دور حکومت میں سال سے مراد کیا ہے اور سات سال یا ۱۹ سال کس مقدار زمانہ کی طرف اشارہ ہے اور رجعت کی صورت کیا ہوگی؟ تمام ائمہ کرام تشریف لائیں گے یا بعض کا ظہور ہوگا؟۔۔۔۔۔ اور رجعت میں گزشتہ ترتیب کا لحاظ ہوگا یا کسی اور ترتیب سے تشریف لائیں گے؟ اور حکومت بھی گزشتہ ترتیب امامت کے مطابق ہوگی یا کوئی اور طریقہ کار ہوگا؟ پھر اولیاء صالحین سے مراد یہی ائمہ طاہرین یا ان کے مخصوص اصحاب مراد ہیں یا امام عصرں کی اولاد کے نیک کردار افراد مراد ہیں؟
یہ سارے امور ہیں جن کی تفصیل نہ واضح کی گئی ہے اور نہ کوئی شخص ان کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ کر سکتا ہے۔ روایات میں بھی بے حد اختلاف پایا جاتا ہے اور علماء ِ اعلام کا استنباط و استنتاج بھی بالکل مختلف ہے۔ بنابریں اتنا اجمالی ایمان ضروری اور کافی ہے کہ دورِ ظہور امام عصر میں ائمہ طاہرین کی رجعت ہوگی اور ان کی حکومت قائم ہوگی کہ رب العالمیند نے آخرت سے پہلے صاحبانِ ایمان سے اس دنیا میں اقتدار اور حکومت کا وعدہ کیا ہے اور مظلومین کو ظالمین سے بدلہ لینے کا موقع دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کا وجود اس لیے بھی ضروری ہے کہ امام عصرں کی شہادت کے بعد زمین حجت ِ خدا سے خالی نہ ہو جائے اور یہ سلسلہ صبح قیامت تک برقرار رہے، دین خدا تمام ادیان عالم پر غالب آئے اور صاحبانِ ایمان و کردار کی حکومت قائم ہو۔ خوف امن سے تبدیل ہو جائے اور ساری کائنات پر اس دین کا پرچم لہرائے جسے غدیر کے میدان میں پسندیدہ قرار دیا گیا ہے۔ عبادت ِ الٰہی کا دور دورہ ہو اور شرک کا سلسلہ ختم ہو جائے اور ہر صاحب ِ ایمان کی زبان پر ایک ہی فقرہ ہو، ”الحمد للّٰہ رب العالمین“ جیساکہ دعائے ندبہ میں نہایت وضاحت کے ساتھ اعلان کیا گیا ہے۔
نواب ِاربعہ
یہ وہ حضرات ہیں جنہیں غیبت ِ صغریٰ کے زمانہ میں نیابت کا کام سپرد کیا گیا ہے اور یہ درحقیقت سفارت کا کام انجام دیتے تھے، یعنی ان کا فریضہ مصادر شریعت کتاب و سنت سے احکام کا استنباط و استخراج کرکے قوم کے حوالے کرنا نہیں تھا بلکہ ان کا کام صرف یہ تھا کہ قوم کے مسائل کو امام زمانہ عجل الله تعالیٰ فرجہ الشریف تک پہنچائیں اور جو جواب حاصل ہو، اسے قوم کے حوالے کر دیں۔ یہ کام اگرچہ غیر معمولی علم و دانش اور قوت ِ استنباط و استخراج کا متقاضی نہیں ہے اور ایک عام صلاحیت کا انسان بھی اس کام کو انجام دے سکتا تھا لیکن اس کے باوجود امام عصرں نے غیبت ِ کبریٰ کی صورت حال کے پیش نظر اس کام کے لیے بھی اس دور کے انتہائی ذی علم اور صاحبانِ کردار کا انتخاب کیا تھا تاکہ قوم غیبت ِصغریٰ ہی سے اس نکتہ کی طرف متوجہ ہو جائے کہ نیابت امام کا کام کوئی عام انسان انجام نہیں دے سکتا ہے اور اس نکتہ کے سمجھنے میں آسانی ہو جائے کہ جب اپنی قوت علم و دانش کو استعمال نہیں کرنا ہے اور نعوذ بالله خیانت کریں تو اصلاح کرنے والا امام موجود ہے اور اس کا رابطہ قوم سے قائم ہے تو اس قسم کے بلند مرتبہ افراد کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ تو جب قوت اجتہاد و استنباط کے استعمال کا مرحلہ آئے گا اور اصلاح کرنے والے امام کے بظاہر جملہ روابط سفارت منقطع ہو جائیں گے تو اس دور کے نواب اور وکلاء کے علمی اور عملی مراتب کا کس قدر بلند ہونا ضروری ہوگا اور اس نکتہ کی طرف ائمہ طاہرین نے مختلف ادوار میں اپنے دور کے مروجین احکام کے صفات کے بیان کرنے میں واضح طور پر اشارہ کیا تھا۔
امام عصرں کے چار سفراء جن کو یکے بعد دیگرے سفارت کا منصب حاصل ہوا تھا۔ ان کی مختصر داستان زندگی یہ ہے:
۱ ۔ عثمان بن سعید عمروی
یہ امام علی نقی ں اور امام حسن عسکری ں کے اصحاب میں تھے اور ان کے وکیل خاص تھے۔ حالات کے تحت روغن فروشی کی دکان رکھ لی تھی تاکہ خریداروں کے بھیس میں آنے والوں سے حقوق امام حاصل کر سکیں اور ان کے سوالات کے جوابات امام سے حاصل کرکے ان کے حوالے کر سکیں اور اسی بنا پر انہیں سمّان بھی کہا جاتا ہے۔
احمد بن اسحاق قمی جو خود بھی ایک جلیل القدر عالم تھے ان کا بیان ہے کہ میں نے امام علی نقی ں سے عرض کیا کہ بعض اوقات آپ تک پہنچنا مشکل ہو جاتا ہے تو آپ کے احکام حاصل کرنے کا ذریعہ کیا ہوگا؟۔۔۔۔۔ تو آپ نے فرمایا کہ عثمان بن سعید کی طرف رجوع کرنا یہ جو کچھ کہیں وہ میرا قول ہے اور جو پیغام پہنچائیں وہ میرا پیغام ہے۔ اور آپ کے انتقال کے بعد میں نے یہی سوال امام حسن عسکریں سے کیا تو آپ نے بھی بعینہ یہی جواب دیا۔ بلکہ یمن سے آنے والی ایک جماعت کے بارے میں فرمایا کہ جاؤ ان سے جملہ رقم حاصل کر لو کہ تم میرے معتمد ہو اور جب لوگوں نے سوال کیا کہ آپ نے ان کے مرتبہ کو بہت بلند کر دیا ہے تو فرمایا کہ عثمان بن سعید میرے وکیل ہیں اور ان کا فرزند میرے فرزند کا وکیل ہوگا۔
امام حسن عسکری ں کی شہادت کے بعد امام عصرں نے بھی وکالت کا کام عثمان بن سعید ہی کے پاس رہنے دیا اور ائمہ طاہرین کی نیابت و وکالت کے طفیل میں ان سے اس قدر کرامات کا ظہور ہوتا تھا کہ لوگ دنگ رہ جاتے تھے۔ صاحبانِ مال سے ان کے مال کی مقدار اور اس میں حلال و حرام کا فرق بغیر دیکھے بیان کر دیتے تھے اور اکثر سوال سنے بغیر جواب بتا دیا کرتے تھے۔
واضح رہے کہ امام علی نقی ں اور امام حسن عسکریں کی طرف سے اس طرح کی سند کہ ”ان کا قول میرا قول ہے اور ان کا پیغام میرا پیغام ہے“ ایک ایسے مرتبہ کی نشان دہی کرتی ہے کہ جس کی بنا پر انہیں معصوم کا صحیح پیرو اور محفوظ عن الخطاء بھی شمار کیا جا سکتا ہے۔ کاش دنیا میں کسی بھی مدعی ایمان کو اس طرح کی سند زبان معصوم سے حاصل ہو جاتی ہے۔ جناب عثمان بن سعید کا دور سفارت پانچ سال تک جاری رہا۔
۲ ۔ محمد بن عثمان بن سعید عمروی
انہیں بھی امام عسکری ں ہی نے اپنے فرزند کا وکیل نامزد کر دیا تھا لیکن جب جناب عثمان بن سعید کا انتقال ہوا تو ان کے پاس امام زمانہ عجل الله تعالیٰ فرجہ الشریف کا تعزیت نامہ آیا جس کا مضمون یہ تھا: ”انا للّٰہ و انا الیہ راجعون! ہم امر الٰہی کے سامنے سراپا تسلیم ہیں اور اس کے فیصلہ پر راضی ہیں۔ تمہارے باپ نے نہایت ہی سعیدانہ زندگی گزاری ہے اور ایک قابل تعریف موت پائی ہے۔ خدا ان پر رحمت نازل کرے اور انہیں ان کے اولیاء اور آقاؤں سے ملحق کر دے۔ وہ امور ائمہ میں برابر قرب ِ الٰہید کے لیے کوشاں رہا کرتے تھے۔ خدا ان کے چہرہ کو شاداب کرے اور ان کی لغزشوں کو معاف کرے اور تمہارے ثواب میں اضافہ کرے اور تمہیں صبر جمیل عطا فرمائے۔ یہ مصیبت تمہارے لیے بھی مصیبت ہے اور میرے لیے بھی۔ اس فراق نے تمہیں بھی مضطرب بنا دیا ہے اور مجھے بھی۔ الله انہیں آخرت میں خوش رکھے۔ ان کی سعادت و نیک بختی کی سب سے بڑی علامت یہ ہے کہ الله نے انہیں تمہارا جیسا فرزند عطا کیا ہے جو ان کا جانشین اور قائم مقام ہے اور ان کے حق میں دعائے رحمت کرتا ہے۔ میں اس امر پر حمد ِخدا کرتا ہوں۔ پاکیزہ نفوس تم سے اور جو شرف خدا نے تمہیں دیا ہے اس سے خوش ہیں خدا تمہاری مدد کرے، تمہیں قوت عطا کرے اور توفیقات کرامت فرمائے۔ وہی تمہارا سرپرست، محافظ اور نگراں رہے گا۔“
علامہ مجلسی نے کتاب غیبت طوسی کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ جناب عثمان بن سعید کے انتقال کے بعد امام عصرں نے ان کے فرزند کے بارے میں یہ پیغام بھیجا کہ یہ فرزند اپنے باپ کے زمانہ ہی سے ہمارا معتمد تھا (خدا اس سے خوش رہے اور اسے خوش رکھے اور اس کے چہرہ کو روشن رکھے) اب ہمارے لیے یہ اپنے باپ کا نائب اور جانشین ہے۔ یہ ہمارے ہی حکم سے حکم دیتا ہے اور ہمارے ہی احکام پر عمل کرتا ہے، خدا اسے جملہ آفات سے محفوظ رکھے۔!
جناب محمدبن عثمان بن سعید کی دختر نیک اختر ام کلثوم کا بیان ہے کہ میرے پدر بزرگوار نے کئی جلد کتاب تالیف کی تھی جس میں امام حسن عسکریں اور اپنے پدر بزرگوار سے حاصل کیے ہوئے علوم اور احکام کو جمع کیا تھا اور اپنے انتقال کے وقت سارا سامان جناب حسین بن روح کے حوالے کر دیا تھا۔
جناب محمدبن عثمان بن سعید ہی کی یہ روایت ہے کہ امام زمانہں ہر سال حج میں تشریف لاتے ہیں اور لوگوں سے ملاقات بھی کرتے ہیں لیکن لوگ انہیں پہچان نہیں سکتے ہیں۔ بلکہ میری آخری ملاقات بھی حج ہی میں ہوئی ہے جب وہ خانہ خدا کے قریب اس دعا میں مصروف تھے کہ ”خدایا! میرے وعدہ کو پورا فرما۔“ اور پھر مستجار کے قریب پہنچ کر یہ دعا کرنے لگے: ”خدایا! مجھے دشمنوں سے انتقام لینے کا موقع عنایت فرما۔“
انہوں نے چالیس سال سفارت کے فرائض انجام دیے ہیں۔
۳ ۔ جناب حسین بن روح
یہ محمد بن عثمان کے مخصوص اصحاب میں تھے لیکن بظاہر ان کا مرتبہ جعفر بن احمد سے کمتر تھا اور لوگوں کا خیال یہ تھا کہ چوتھے نائب جعفر بن احمد ہی ہوں گے۔ چنانچہ جب محمد بن عثمان کا آخری وقت آیا تو جعفر بن احمد سرہانے بیٹھے اور حسین بن روح پائینتی۔ لیکن جیسے ہی محمد بن عثمان نے یہ پیغام امام سنایا کہ حضرت نے نیابت کے لیے حسین بن روح کے بارے میں نصیحت فرمائی ہے تو فوراً ہی جعفر بن احمد نے انہیں سرہانے بٹھا دیا اور خود پائینتی بیٹھ گئے کہ امام سے بہتر حالات اور مصالح کا جاننے والا کوئی نہیں ہے اور ہمارا فرض ہے کہ ان کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم رکھیں۔
بعض روایات میں اس کا ایک راز یہ بیان کیا گیا ہے کہ ان میں اسرارِ امامت کے چھپانے کی صلاحیت زیادہ تھی اور ان کا برتاؤ بغداد میں تمام مذاہب کے افراد کے ساتھ ایسا تھا کہ ہر شخص انہیں اپنا ہم خیال سمجھتا تھا اور اس بات پر فخر کرتا تھا کہ حسین بن روح ہماری جماعت سے تعلق رکھتے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس دور کی سفارت و نیابت کے لیے کمال علم و دانش سے زیادہ اہمیت رازداری اور قوت ِ برداشٹ کی تھی کہ ہزاروں مصائب کے بعد بھی امامت کا راز فاش نہ ہونے پائے اور انسان کسی بھی قیمت پر ان اسرار کا تحفظ کرے۔
حسین بن روح کے بارے میں امام عصرں کے الفاظ یہ تھے:
”ہم انہیں پہچانتے ہیں۔ الله انہیں تمام خیرات اور مرضات کی معرفت عطا کرے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق کرامت فرمائے۔ ہمیں ان کی کتاب ملی ہے اور ہمیں ان پر مکمل اعتماد ہے۔ وہ ہمارے نزدیک ایسا مقام اور ایسی منزلت رکھتے ہیں جو باعث ِ مسرت و اطمینان ہے۔ خدا ان کے بارے میں اپنے احسانات میں اضافہ کرے کہ وہ تمام نعمتوں کا مالک اور ہر چیز پر قادر ہے۔ ساری تعریف اس الله کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں ہے اور صلوات و رحمت اس کے رسول حضرت محمد پر اور ان کی آل طاہرین پر اور اس کا سلام ان تمام حضرات کے لیے۔“
ان کی سفارت کا سلسلہ اکیس سال تک جاری رہا۔
۴ ۔ ابو الحسن علی بن محمد سمری
انہیں جناب حسین بن روح نے حکم امام سے نامزد کیا تھا اور برابر وکالت و سفارت کے فرائض انجام دے رہے تھے اور لوگو کے اموال امام تک پہنچا رہے تھے یہاں تک کہ ان کا وقت ِ وفات قریب آیا تو لوگوں نے عرض کی کہ اب آپ کا نائب کون ہوگا؟ تو انہوں نے فرمایا کہ یہ میرے اختیار کا کام نہیں ہے، خدا اپنے مصالح کو بہتر جانتا ہے اور امام کی طرف سے اب یہ پیغام موصول ہواہے:
”بسم الله الرحمن الرحیم۔ علی بن محمد بن سمری! خدا تمہارے برادران ایمانی کو تمہارے بارے میں عظیم اجر عطا فرمائے کہ اب تمہارا وقت وفات قریب آگیا ہے۔ تمہاری زندگی میں صرف چھ دن باقی رہ گئے ہیں۔ اپنے جملہ امور کو جمع کر لو اور خبردار اپنی جگہ پر کسی کو وصی مت بنانا اس لیے کہ اب مکمل غیبت کا آغاز ہو رہا ہے۔ اب ظہور اذنِ خدا کے بعد ہی ہوگا اور یہ ایک طویل مدت اور قساوت ِ قلوب اور زمین کے ظلم و جور سے بھر جانے کے بعد ہوگا۔ عنقریب میرے شیعوں میں ایسے لوگ بھی پیدا ہوں گے جو میرے مشاہدہ کا دعویٰ کریں گے تو آگاہ ہو جاؤ کہ جو بھی ایسے مشاہدہ کا دعویٰ کرے سفیانی کے خروج اور ندائے آسمانی سے پہلے وہ جھوٹا اور افترا پرداز ہے۔ تمام طاقت اور قوت خدائے علی و عظیم کی توفیق سے وابستہ ہے۔“
جانشینی اور وصایت کی ممانعت کے ساتھ دعائے مشاہدہ کا ذکر اس بات کی واضح دلیل ہے کہ مشاہدہ سے مراد ملاقات نہیں ہے۔ بلکہ مشاہدہ سے مراد وہ سفارت ہے جس میں برابر ملاقات ہوتی رہتی ہے اور ادھر کے پیغامات اُدھر جاتے رہتے ہیں۔ امام نے اس قسم کے مشاہدہ کی تردید کر دی ہے اور ایسی نیابت کے دعوے دار کو کذاب اور مفتری قرار دے دیا ہے۔ کہ اگر یک طرفہ ملاقات کی بات ہو اور کوئی شخص اپنی ملاقات کا تذکرہ کرے یا امامں سے کسی موقع پر کوئی بات دریافت کرے یا کسی مسئلہ میں مدد حاصل کرے اور اس کی رہنمائی ہو جائے تو یہ تمام باتیں حدود مشاہدہ سے خارج ہیں۔ مشاہدہ کا دعوے دار درحقیقت اس امر کا ادعا کرتا ہے کہ آپ حضرات مسائل اور اموال میرے حوالے کریں۔ میں آئندہ ملاقات میں امام کے حوالے کر دوں گا اور ان سے جوابات حاصل کرلوں گا اور یہ دعویٰ درحقیقت نیابت خاص کا دعویٰ ہے جس کا تعلق غیبت ِ صغریٰ سے تھا اور غیبت ِ کبریٰ میں نیابت خاصہ کا کوئی سلسلہ نہیں ہے۔
اس تشریح کے بعد ملاقات ِ امام عصر کا مسئلہ بالکل واضح ہو جاتا ہے لیکن دو باتیں بہرحال قابل توجہ ہیں:
۱ ۔ انسان کو یہ یقین ہو کہ یہ امام عصر ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ شیطان امام کے نام پر دھوکہ دے دے اور انسان اسی دھوکہ میں دنیا سے گزر جائے۔
۲ ۔ ملاقات کو اپنی ذات تک محدود رکھے اور لوگوں سے بیان نہ کرے اس لیے کہ اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہوتا ہے اور سا طرح ہر شخص کو تردید کرنے کا حق ہو جاتا ہے اور یہ بعض اوقات تردید ملاقات یا تو توہین امام کا باعث بھی ہو سکتا ہے جس کی ذمہ داری ملاقات کے دعوے دار پر عائد ہوگی۔ تردید کرنے والے کو بہرحال حق رہے گا۔
ان کی سفارت صرف تین سال رہی اور اس کے بعد غیبت ِ کبریٰ کا آغاز ہوگیا۔
زمانہ غیبت ِ کبریٰ کے روابط
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ امام عصرں کی غیبت کی دو قسمیں ہیں۔ غیبت ِ صغریٰ جس کا سلسلہ ۲۶۰ ئھ سے شروع ہوکر ۳۲۹ ئھ ختم ہوگیا اور جس کے دوران مختلف نواب امام کی طرف سے قوم کے لیے رابطہ کا کام کرتے رہے۔ انہیں کے ذریعہ پیغامات اور سوالات جاتے تھے اور انہیں کے ذریعہ جوابات آیا کرتے تھے۔
جناب عثمان بن سعید، جناب محمد بن عثمان، جناب حسین بن روح اور جناب علی بن محمد سمری وہ معتمد اور مقدس افراد تھے جنہیں امام زمانہ عجل الله تعالیٰ فرجہ الشریف نے اپنی نیابت اور سفارت کا شرف عطا فرمایا تھا اور انہیں کے ذریعہ ہدایت اور رہبری کے امور انجام پا رہے تھے۔
اس کے بعد جب غیبت ِ کبریٰ کا دور شروع ہوا اور نیابت ِ خاص کا سلسلہ ختم ہوگیا تو نیابت ِ عام کا سلسلہ شروع ہوا اور اعلان عام ہوگیا کہ اس دور غیبت کبریٰ میں مخصوص صفات کے افراد مرجع مسلمین ہوں گے اور انہیں کے ذریعہ ہدایت امت کا کام انجام دیا جائے گا۔ امت اور اسلام کی حفاظت ان کے ذمہ ہوگی اور ان کی ہدایت و حفاظت ہماری ذمہ داری ہوگی۔
چنانچہ ظاہری نیابت و سفارت کا سلسلہ منقطع ہوگیا لیکن حفاظت و ہدایت کا سلسلہ جاری رہا اور بے شمار مواقع پیش آئے جب امام نے اپنے نائبین عام کی ہدایت و حفاظت کا فرض انجام دیا اور جہاں ان سے کوئی غلطی ہوگئی یا ان کا وجود خطرہ میں پڑ گیا اور اس کے ذریعہ اسلام کو خطرہ لاحق ہوگیا تو ان کی حفاظت کا فرض بھی انجام دیا۔۔۔۔۔ یہ اور بات ہے کہ موت برحق ہے اور کسی کو ہمیشہ نہیں رہنا ہے۔ اور بعض اوقات بعض افراد کا راہ حق میں قربان ہو جانا ہی اسلام کے لیے زیادہ مفید تھا تو اس وقت حفاظت و رعایت کا کوئی سوال نہیں پیدا ہوتا تھا۔۔۔۔۔ لیکن اس کے علاوہ عمومی حالات میں انہوں نے ہمیشہ نگرانی فرمائی ہے اور حفاظت و صیانت کا کام انجام دیتے رہے ہیں۔
غیبت ِ صغریٰ اور غیبت ِ کبریٰ کی نیابت کا بنیادی فرق یہی ہے کہ غیبت ِ صغریٰ میں نائبین کی شخصیت طے ہوئی تھی اور غیبت ِ کبریٰ میں ان کے صفات و کمالات کا تعیّن کیا گیا ہے اور شاید اس طریقہ کار میں بھی یہ مصلحت شامل تھی کہ روز اول ہی صفات کا تعیّن کر دیا جاتا تو ہر شخص اپنے آپ کو ان صفات کا حامل قرار دے لیتا اور دوچار اپنے مخلصین جمع کرکے نیابت کا دعویدار بن جاتا اس لیے آپ نے صفات کے بجائے شخصیات کا تعین فرمایا تاکہ لوگ ان افراد کو دیکھ کر ان کے حالات کا جائزہ لیں اور یہ اندازہ کر لیں کہ یہ کن صفات و کمالات کے حامل ہیں اور اس کے بعد یہ طے کریں کہ نیابت امام کے لیے کیسے افراد کی ضرورت ہوتی ہے اور کس قسم کے صاحبانِ علم و فضل اور ارباب ِ عزم و ہمت درکار ہوتے ہیں جنہیں امام اپنی نیابت کا کام سپرد کرتا ہے کہ اس کے بعد جب صفات کا تذکرہ کیا جائے گا تو ہر کس و ناکس کو ان صفات کا حامل تصور نہ کیا جائے گا بلکہ اس کے کردار کو ان نائبین کے کردار سے ملا کر دیکھا جائے گا اور پھر اندازہ لگایا جائے گا کہ یہ شخص نیابت ِ امام کا حق دار ہے یا نہیں۔
امام کے صیانت و حفاظت کے شواہد میں وہ خطوط بھی شامل ہیں جو دور غیبت کبریٰ میں امام کی طرف سے وارد ہوتے رہے ہیں، جن میں آپ نے قوم کی حفاظت اور ذمہ داران قوم کی ہدایت کا تذکرہ فرما کر امت اسلامیہ کو مطمئن کر دیا ہے کہ ہم پردہ غیب میں ہیں، دنیا سے رخصت نہیں ہوگئے ہیں۔ ہماری غیبت کا مفہوم تمہاری طرف سے غیبت ہے ہماری طرف سے غیبت نہیں ہے۔ ہم تمہاری نگاہوں سے غائب ہیں اور تم ہماری زیارت نہیں کر سکتے ہو لیکن تم ہماری نگاہ سے غائب نہیں ہو۔ ہم تمہیں برابر دیکھ رہے ہیں اور تمہارے حالات و کیفیات کی نگرانی کر رہے ہیں۔ ہم تمہارے حالات سے غافل ہو جائیں تو تمہارا وجود ہی خطرہ میں پڑ جائے اور امامت بھی خطرہ میں پڑ جائے کہ امام قوم کے حالات سے غافل نہیں ہو سکتا۔ دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی قوم کے حالات پر نگاہ رکھتا ہے اور روز ِ قیامت بھی ان کے اعمال کا شاہد و شہید ہوگا، ہم زندہ موجود ہیں، ہمارے اور تمہارے درمیان صرف نگاہوں کا پردہ ہے ورنہ ہم نہ کسی دوسرے ملک میں رہتے ہیں اور نہ کسی دوسرے عالم میں۔ تمہارے ہی درمیان ہیں، تمہارے آلام و مصائب میں شریک ہیں، تمہارے درد و رنج کو دیکھتے رہتے ہیں، موسم حج میں تمہارے ساتھ شریک مناسک رہتے ہیں، تمہارے آباء و اجداد کی زیارت میں تمہارے شانہ بشانہ پڑھتے ہیں بلکہ کبھی کبھی انہیں ہمارے وجود اور ہماری زیارت کا اندازہ نہیں ہوتا ہے اور جب ہم امام زمانہ کی زیارت کے موقع پر جواب سلام دیتے ہیں تو ان کے ذہن کو ایک جھٹکا سا محسوس ہوتا ہے لیکن اس کا واقعی احساس ہمارے چلے جانے کے بعد ہی ہوتا ہے۔
ہماری حفاظت و ہدایت میں کسی طرح کا نقص نہیں ہے اور ہم ہر آن تمہاری نگرانی کرتے رہتے ہیں جس کا بہترین ثبوت وہ خطوط ہیں جو ہم نے غیبت کبریٰ کے باوجود اپنے مخلص خادمین دین کو لکھے ہیں اور ان میں ان تمام حقائق کا تذکرہ بھی کر دیا ہے۔
ذیل میں ان دو خطوط کا ترجمہ درج کیا جاتا ہے جو امام زمانہ عجل الله تعالیٰ فرجہ الشریف نے علامہ شیخ مفید علیہ الرحمہ کے نام لکھے ہیں اور جن کے الفاظ سے شیخ کی عظمت اور امام کی محبت و حفاظت و رعایت و صیانت کا مکمل اندازہ ہوتا ہے۔
ایک خط میں ارشاد فرماتے ہیں:
”برادر سعید اور محبوب رشید شیخ مفید ابی عبد الله محمد بن محمد بن النعمان (خدا ان کے اعزاز کو باقی رکھے) کے لیے مرکز عہد الٰہی امام کی جانب سے۔
بسم الله الرحمن الرحیم۔ اے میرے مخلص دوست اور اپنے یقین کی بنا پر مجھ سے خصوصیت رکھنے والے محب تم پر میرا سلام۔ ہم خدائے وحدہ لا شریک کی حمد کرتے ہیں اور رسول اکرم اور ن کی آل طاہرین پر صلوٰة و سلام کی التماس کرتے ہیں۔
خدا نصرت حق کے لیے آپ کی توفیقات کو برقرار رکھے اور ہماری طرف سے صداقت بیانی کے لیے آپ کو بہترین اجر عطا فرمائے۔ یاد رکھیے کہ ہمیں قدرت کی طرف سے اجازت ملی ہے کہ ہم آپ کو مراسلت کا شرف عطا کریں اور اپنے دوستوں کے نام پیغام آپ کے ذریعہ پہنچائیں۔ خدا ان سب کو اپنی اطاعت کی عزت عطا کرے، اور اپنی حفاظت و حراست میں رکھے۔ خدا بے دینوں کے مقابلہ میں آپ کی تائید کرے۔ آپ میرے بیان پر قائم رہے اور جس جس پر آپ کو اعتبار و اعتماد ہو اس تک یہ پیغام پہنچا دیں۔ ہم اس وقت ظالمین کے علاقہ سے دور ہیں اور الله کی مصلحت ہمارے اور ہمارے شیعوں کے حق میں یہی ہے کہ ایسے ہی دور دراز علاقہ میں رہیں جب تک دنیا کی حکومت فاسقین کے ہاتھ میں رہے۔ لیکن اس کے باوجود ہمیں تمہاری مکمل اطلاع رہتی ہے اور کوئی خبر پوشیدہ نہیں رہتی ہے۔ ہم اس ذلت سے بھی باخبر ہیں جس میں تم لوگ اس لیے مبتلا ہوگئے ہو کہ تم میں سے بہت سے لوگوں نے صالح بزرگوں کا طریقہ ترک کر دیا ہے اور عظمت ِ الٰہی کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے جیسے وہ اس عہد سے باخبر ہی نہ ہوں۔
ہم تمہاری نگرانی کے ترک کرنے والے اور تمہاری یاد کے بھلا دینے والے نہیں ہیں۔ ہم تمہیں یاد رکھتے تو تم پر بلائیں نازل ہو جاتیں اور دشمن تمہیں جلا کر خاکستر بنا دیتے۔ خدا سے ڈرو اور فتنوں سے بچانے میں ہماری مدد کرو۔ فتنے قریب آگئے ہیں اور ان میں ہلاکت کا شدید اندیشہ ہے۔ یہ فتنہ ہماری قربت کی علامت ہے۔ خدا اپنے نور کو بہرحال مکمل کرنے والا ہے چاہے مشرکین کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔
تقیہ کو حفاظت کا ذریعہ قرار دو اور اموی گروہ کی جاہلیت کی آگ سے محفوظ رہو۔ جو اس جاہلیت سے الگ رہے گا ہم اس کی نجات کے ذمہ دار ہیں۔ اس سال جمادی الاولیٰ کا مہینہ آجائے تو حوادث سے عبرت حاصل کرو اورخواب سے بیدار ہو جاؤ اور بعد میں آنے والے واقعات کے لیے ہوشیار ہو جاؤ۔
عنقریب آسمان اور زمین میں نمایاں نشانیاں ظاہر ہوں گی۔ سرزمین مشرق پر قلق و اضطراب ظاہر ہوگا۔ عراق پر ایسے گروہوں کا قبضہ ہوگا جو دین سے خارج ہوں گے اور ان کی بد اعمالیوں سے روزی تنگ ہو جائے گی۔ اس کے بعد طاغوت کی ہلاکت سے مصیبت دفع ہوگی اور صاحبانِ تقویٰ اور نیک کردار افراد خوش ہوں گے۔
حج کا ارادہ کرنے والوں کی مرادیں پوری ہوں گی اور ہم ایک مرتب اور منظم طریقہ سے ان کی آسانی کا سامان فراہم کریں گے۔ اب ہر شخص کا فرض ہے کہ ایسے اعمال انجام دے جو ہماری محبت سے قریب تر بنا دیں اور ایسے امور سے اجتناب کرے جو ہمیں ناپسند ہیں اور ہماری ناراضگی کا باعث ہیں۔ ہمارا ظہور اچانک ہوگا اس وقت توبہ کا کوئی امکان نہ رہے گا اور نہ ندامت سے کوئی فائدہ ہوگا۔ خدا تمہیں ہدایت کا الہام کرے اور اپنی توفیق خاص عنایت فرمائے۔“
یہ خط علامہ شیخ مفید علیہ الرحمہ کی وفات سے تین سال قبل صفر ۴۱۰ ئھ میں واصل ہوا تھا، اور دوسرا خط بھی تقریباً اسی طرح کے مضمون کا حامل ہے لیکن ان خطوط کے مضامین سے صاف اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی تازگی ہمہ وقت برقرار ہے اور اس کا ایک ایک جملہ ابدی حیثیت رکھتا ہے۔
صاحبانِ ایمان کو ان خطوط کے حسب ذیل نکات پر خصوصی توجہ دینا چاہیے اور ہر وقت توفیق خیر کی دعا کرتے رہنا چاہیے:
۱ ۔ راہِ حق میں جہاد کرنے والے اور دین اسلام کی خدمت کرنے والوں کو امام عصرں اپنے ”برادر رشید“ کا مرتبہ عنایت فرماتے ہیں۔
۲ ۔ امام اپنی قوم سے ہر وقت رابطہ رکھتے ہیں لیکن کوئی کام مرضی پروردگار کے بغیر انجام نہیں دیتے ہیں۔ حد یہ ہے کہ خط بھی اسی وقت لکھتے ہیں جب حکم خدا ہوتا ہے۔
۳ ۔ امام ظالموں کے علاقہ سے دور بھی رہتے ہیں اور صاحبانِ ایمان سے قریب بھی رہتے ہیں کہ اس طرح دونوں کی حفاظت بھی ہو رہی ہے اور کارِ دین بھی انجام پا رہا ہے۔
۴ ۔ قوم کی ساری پریشانیاں ان بے عمل اور بے دین افراد کی وجہ سے ہیں جنہوں نے سلف صالح کا طریقہ ترک کر دیا ہے اور عہد الٰہی کو نظر انداز کر دیا ہے۔
۵ ۔ امام کسی وقت بھی قوم کی نگرانی سے غافل نہیں ہیں اور اس کا زندہ ثبوت خود قوم کا وجود ہے ورنہ اب تک ظالموں نے سب کو فنا کر دیا ہوتا۔
۶ ۔ تقیہ ایک بہترین عمل ہے۔ اس کا نظر انداز کر دینا ہلاکت کو دعوت دینا ہے لیکن اسی کے ساتھ خدمت ِ اسلام کا عمل بھی جاری رہنا چاہیے۔
۷ ۔ عراق کے حکام کی بے دینی عوام کی روزی کی تنگی کا باعث ہوگی جس کا منظر آج بھی نگاہوں کے سامنے ہے کہ ظالموں کی وجہ سے عوام فاقوں کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔
۸ ۔ عراقی طاغوت کا خاتمہ ہوگا اور صاحبانِ ایمان و تقویٰ کی مسرت کا سامان فراہم ہوگا، انشاء الله۔
۹ ۔ حج کے مشکلات ختم ہوں گے اور سہولتوں کا دور آئے گا اور امام کی نگرانی میں نظامِ حج مرتب ہوگا، انشاء الله۔
۱۰ ۔ صاحبان ایمان کا فرض ہے کہ امام سے قریب تر بنانے والے اعمال اختیار کریں اور امام کی ناراضگی سے بچتے رہیں۔ بے عملی، بے دینی، توہین احکام اسلام، غلط بیانی، افترا پردازی، تفرقہ بازی، ضمیر فروشی، محسن کشی، فرائض کا استخفاف، محرمات کی دعوت جیسے اعمال وہ ہیں جن سے امام زمانہ عجل الله تعالیٰ فرجہ الشریف ناراض ہوتے ہیں اور جن کا محاسبہ ظہور کے بعد بہت سخت ہوگا۔ خدا ہم سب کو امامں سے قریب تر ہونے اور انہیں ارضی رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
زائرین قائم آل محمد
امام عصر عجل الله تعالیٰ فرجہ الشریف کے زائرین کی دو قسمیں ہیں:
۱ ۔ بعض افراد وہ ہیں جنہوں نے زمانہ غیبت ِصغریٰ میں آپ کی زیارت کی ہے۔
۲ ۔ بعض افراد وہ ہیں جنہوں نے غیبت ِ کبریٰ میں یہ شرف حاصل کیا ہے۔
غیبت ِ کبریٰ کے زائرین کا سلسلہ بحمد الله قائم ہے، لہٰذا ان کے اعداد و شمار کا مقرر کرنا ناممکن ہے اور جب تک ملاقاتوں اور زیارتوں کا یہ سلسلہ قائم رہے گا ان کے اعداد و شمار میں اضفاہ ہی ہوتا رہے گا جیساکہ محدث نوری علیہ الرحمہ نے اس قسم کے سو واقعات کا ذکر کیا ہے اور شیخ قمی علیہ الرحمہ نے ان میں سے تقریباً صرف ایک چوتھائی کا ذکر کیا ہے اور باقی علماء و مولفین نے اور دوسرے واقعات کا ذکر کیا ہے اور یہ سلسلہ برابر جاری ہے لہٰذا ان میں سے صرف ان واقعات کی طرف اشارہ کیا جائے گا جن میں ملاقات کے علاوہ عمومی افادیت کا پہلو بھی پایا جاتا ہے۔ غیبت ِ صغریٰ کے چند زائرین کی اجمالی فہرست یہ ہے:
۱ ۔ نائب اول عثمان بن سعید عمروی
۲ ۔ نائب دوم محمد بن عثمان بن سعید عمروی
۳ ۔ نائب سوم حسین بن روح نوبختی
۴ ۔ نائب چہارم علی بن محمد سمری
۵ ۔ سفیر عام حاجز، بلال اور عطار بغدادی (غایة المقصود)
۶ ۔ عاصمی کوفی
۷ ۔ محمد بن ابراہیم بن فہریار اہوازی
۸ ۔ محمد بن صالح ہمدانی
۹ ۔ بسامی و اسدی رازی
۱۰ ۔ قم بن علاء آذربائجانی
۱۱ ۔ محمد بن شاذان نیشاپوری
۱۲ ۔ احمد بن اسحاق قمی
۱۳ ۔ ابو الادیان (قبل آغازِ غیبت)
۱۴ ۔ ابو القاسم بن رئیس
۱۵ ۔ ابو عبد الله بن فروخ
۱۶ ۔ مسرور طباخ
۱۷ ۔ احمد و محمد بن الحسن
۱۸ ۔ اسحاق کاتب نوبختی
۱۹ ۔ صاحب الغرا
۲۰ ۔ صاحب الصرة المختومہ
۲۱ ۔ ابو القاسم بن ابی جلیس
۲۲ ۔ ابو عبد الله الکندی
۲۳ ۔ ابو عبد الله الجنیدی
۲۴ ۔ محمد بن کشمر و جعفر بن حمدان دینوری
۲۵ ۔ حسن بن ہراون و احمد بن ہراون اصفہانی
۲۶ ۔ زیدان قمی
۲۷ ۔ حسن بن نصر، محمد بن محمد، علی بن محمد بن اسحاق، حسن بن یعقوب ازدی
۲۸ ۔ قسم بن موسیٰ، ابن قسم بن موسیٰ، ابن محمد بن ہارون، علی بن محمد (کلینی)
۲۹ ۔ ابو جعفر الرقاء (قزوین)
۳۰ ۔ علی بن احمد (فارس)
۳۱ ۔ ابن الجمال (قدس)
۳۲ ۔ مجروح (مرو)
۳۳ ۔ صاحب الالف دینار (نیشاپور)
۳۴ ۔ محمد بن شعیب بن صالح (یمن)
۳۵ ۔ فضل بن زید، حسن بن فضل، جعفری، ابن الاعجمی (مصر)
۳۶ ۔ صاحب المولودین، صاحب المآل (نصیبین)
۳۷ ۔ ابو محمد بن الموجنا (اہواز)
۳۸ ۔ الحصینی
ان کے علاوہ نہ جانے کتنے خوش قسمت تھے جن کا تذکرہ کتابوں میں نہیں ہو سکا ہے، کسی دوسرے ذیل میں ہوگیا ہے جیسے کہ جناب حکیمہ کو جو امام زمانہ عجل الله تعالیٰ فرجہ الشریف کی سب سے پہلی زائرہ تھیں لیکن ان کا ذکر زائرین کے ذیل میں نہیں کیا گیا ہے بلکہ خدمات ولادت کے ذیل میں کیا گیا ہے، یا دیگر افراد کہ جن کے سامنے خود امام حسن عسکریں نے اپنے فرزند کو پیش کیا ہے اور انہوں نے حضرت کے جمال مبارک کی زیارت غیبت ِ صغریٰ کے آغاز سے پہلے کی ہے۔
میں نے ان کے اسماءِ گرامی کی طرف اس لیے اشارہ کر دیا ہے کہ اصل مقصد غیبت کے زائرین کی فہرست تیار کرنا نہیں ہے بلکہ ان افراد کی نشان دہی کرنا ہے جنہوں نے حضرت قائمں کی زیارت کی ہے اور جن کی شہادت کے بعد حضرت کے ووجد اور ان ولادت کا انکار کرنا ایک سفطہ اور مکابرہ کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
غیبت کبریٰ کے جن زائرین کی نشان دہی علامہ شیخ عباس قمی نے کی ہے
ان میں سے بعض کے اسماء گرامی یہ ہیں:
۱ ۔ اسماعیل ہرقلی: جن کا مرض لاعلاج ہوگیا تھا اور انہوں نے سید ابن طاؤس کے پاس حاضری اور اس کے بعد امام عصرں سے توسل کیا اور انہوں نے دست مبارک پھیر کر مرض کو بالکل ختم کر دیا جس کا نشان بھی باقی نہیں رہ گیا تھا اور پیروں میں ناسور کی جگہ پر باقاعدہ طبیعی جلد نظر آنے لگی تھی۔
۲ ۔ سید محمد جبل عالمی : جنہیں حکومت نے جبری فوج میں بھرتی کرنا چاہا تو لبنان سے بھاگ کھڑے ہوئے اور پانچ سال کی دربدری کے بعد نجف اشرف وارد ہوئے۔ حالات سے پریشان ہوکر بہت دعائیں کیں لیکن وسعت ِ رزق کا کوئی راستہ نہ نکلا تو بالآخر عریضہ ڈالنے کا پروگرام بنایا اور نجف سے باہر جا کر روزانہ صبح کو دریا میں عریضہ ڈالتے رہے۔ ۳۹ دن کے بعد راستہ میں ایک شخص سے ملاقات ہوئی جس کا لباس عراقی تھا اور لہجہ لبنانی۔ اس نے دریافت ِ حال کیا کہ ۳۹ دن سے کیوں عریضہ ڈال رہے ہو کیا امام تمہارے حال سے باخبر نہیں ہے؟ میں نے حیرت زدہ ہوکر مصافحہ کا ارادہ کیا۔ مصافحہ کرنے پر ہاتھ کی لطافت سے محسوس کیا کہ یہ امام عصر ہیں اس لیے کہ ان کے دست مبارک کے بارے میں ایسی ہی روایت سنی ہے۔ اب جو دست بوسی کا ارادہ کیا تو وہ غائب ہو چکے تھے (واضح رہے کہ اس واقعہ کا مقصد یہ نہیں ہے کہ عریضہ بیکار ثابت ہوا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ عریضہ ہی کے زیر اثر ملاقات کا شرف حاصل ہوا ہے۔
۳ ۔ سید عطوہ حسنی : صاحب کشف الغمہ نے ان کے فرزندوں سے روایت کی ہے کہ میرے باپ زیدی مذہب تھے اور ہم لوگوں سے امامیہ مذہب کی بنیاد پر بیزار رہا کرتے تھے۔ ایک دن انہوں نے شدت مرض کے عالم میں کہا کہ جب تک تمہارے صاحب مجھے شٰا نہ دیں گے میں ایمان نہ لاؤن گا۔ تھوڑی رات کے بعد بلند آواز سے پکار کر کہا کہ دوڑو اپنے صاحب سے ملاقات کرو۔ ہم لوگ دوڑ پڑے لیکن کوئی نظر نہ آیا۔ صرف باپ کا یہ بیان سنا کہ ایک بزرگ آکر دست ِ شفا پھیر کر درد کو زائل کر گئے ہیں اور پھر ان کا یہ اطمینان دیکھا کہ انہیں کسی قسم کی کوئی تکلیف نہیں تھی۔
۴ ۔ علامہ حلی نے منہاج الصلاح میں ابن طاؤس سے یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ سید رضی الدین محمد بن محمد بن محمد آوی کو حکومت نے گرفتار کر لیا تھا۔ انہوں نے عاجز آکر امام زمانہ عجل الله تعالیٰ فرجہ الشریف سے استغاثہ کیا تو حضرت نے دعائے عبرت پڑھنے کا حکم دیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اس دعا کا علم نہیں ہے۔ فرمایا: کتاب مصباح میں ہے۔ انہوں نے عرض کی کہ میں نے نہیں دیکھی ہے۔ فرمایا کہ ہے۔ اب جو بیدار ہو کر دیکھا تو کتاب میں ایک رقعہ رکھا ہوا تھا۔ اس دعا کی تلاوت کی تو حاکم کی زوجہ نے خواب میں دیکھا کہ امیر المومنین فرما رہے ہیں کہ اگر میرے فرزند کو رہا نہ کیا تو تیرے شوہر کو فنا کر دیا جائے گا۔ اس نے بیدار ہوکر شوہر سے بیان کیا تو اس نے فوراً رہا کر دیا۔
۵ ۔ میر اسحاق استر آبادی : علامہ مجلسی نے ان کا بیان یوں نقل کیا ہے کہ میں راہِ مکہ میں قافلہ سے الگ ہوکر سخت پریشان تھا تو امام عصرں سے استغاثہ کیا۔ حضرت تشریف لائے اور حرز یمانی پڑھنے کا حکم دیا۔ میں پیاسا تھا مجھے پانی پلایا اور پھر میری تلاوت کی اصلاح کی اور اپنے ساتھ سواری پر سوار کرکے قافلہ سے ۹ روز پہلے مکہ پہنچا دیا اور اہل خانہ نے مشہور کر دیا کہ میں صاحب کرامات ہوں اور طی الارض کے ذریعہ مکہ آیا ہوں۔
۶ ۔ سید ابن طاؤس نے ”فرج الہموم“ میں ابو جعفر محمد بن ہارون بن موسیٰ تلعکبری کے حوالے سے ابو الحسین بن ابو البغل کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ میرا ایک معاملہ ابو منصور بن ابو صامحان سے تھا اس میں کچھ اختلاف پیدا ہوگیا اور میں اس کے خوف سے روپوش ہوگیا۔ ایک دن امام موسیٰ کاظمں کے روضہ پر گیا اور ابو جعفر سے گزارش کی کہ آج حرم کے دروازے بند کر دینا میں حضرت سے تنہائی میں فریاد کرنا چاہتا ہوں۔ انہوں نے دروازے بند کر دیے اور میں نے نماز، دعا، زیارت اور مناجات شروع کی کہ اچانک ایک جوان کو دیکھا جس نے زیارت میں امام زمانہ کے علاوہ سب کو سلام کیا۔ میں حیرت زدہ ہوگیا کہ یہ کون سا مذہب ہے۔ کچھ پوچھنا ہی چاہتے تھے کہ فرمایا: دعائے فرج پڑھو، اور پھر دعائے فرج کی تعلیم دی۔ ”یا من اظھر الجمیل اور آخر میں یا محمد یا علی اکفیانی فانکما کافیان و انصرانی فانکما ناصران“۔ میں اس عمل میں مشغول ہوگیا اور عمل تمام کرنے کے بعد اس جوان کو تلاش کیا تو کوئی نظر نہ آیا۔ ابو جعفر سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ دروازے بند ہیں۔ یہ تمہارے امام زمانہں تھے جو تمہاری مشکل کشائی کے لیے آئے تھے۔
واضح رہے کہ دعائے فرج کے نام سے مختلف دعائیں کتابوں میں پائی جاتی ہیں جن میں سے ایک دعا یہ بھی ہے ورنہ ﴿یا عماد من لا عماد لہ﴾ کو بھی دعائے فرج ہی کہا جاتا ہے۔
۷ ۔ ابو راجح حمامی : علامہ مجلسی نے ان کا واقعہ اس طرح نقل کیا ہے کہ حلہ میں حمام کا کاروبار کرتے تھے۔ وہاں ایک حاکم مرجان صغیر تھا جو انتہائی درجہ کا ناصبی اور دشمن اہل بیت تھا۔ لوگوں نے اس کے پاس ابو راجح کی شکایت کر دی کہ صحابہ کو گالیاں دیتے ہیں۔ اس نے طلب کرکے ان کی مرمت کا حکم دے دیا۔ سرکاری کارندوں نے اس قدر مارا کہ سارا چہرہ لہولہان ہوگیا۔ سارے دانت ٹوٹ گئے اور ناک میں نکیل ڈال کر کھینچتے ہوئے حاکم کے سامنے حاضر کیا۔ اس نے قتل کا حکم دے دیا تو لوگوں نے کہا کہ یہ بوڑھا اپنی جان سے جا رہا ہے اب قتل کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اس نے دربار سے باہر پھینکوا دیا۔ رات کو ابو راجح نے امام عصرں سے فریاد کی۔ اس وقت جب تمام گھر والے زندگی کے لمحات شمار کر رہے تھے ایک مرتبہ دیکھا کہ گھر نور سے معمور ہوگیا ہے اور ایک بزرگ نے آکر پورے جسم پر ہاتھ پھیر کر مکمل صحت عطا فرما دی ہے یہاں تک کہ سارے دانت بھی واپس آگئے ہیں اور بیس سالہ جوان معلوم ہونے لگیں۔ صبح کو لوگوں میں یہ خبر مشہور ہوئی تو ابو راجح کو پھر حاکم کے سامنے پیش کیا گیا۔ اس ظالم نے اپنی آنکھوں سے اس کرامت کا مشاہدہ کر لیا لیکن راہِ راست پر نہ آیا۔
۸ ۔ علامہ مجلسی نے بحار میں اس واقعہ کو بھی نقل کیا ہے کہ انگریزوں نے بحرین میں اپنا ایک نمائندہ معیّن کر دیا تھا جو انتہائی درجہ کا دشمن اہل بیت تھا اور ہمیشہ محبانِ اہل بیت کو اذیت پہنچانے کی فکر میں رہا کرتا تھا۔ ایک دن اس کے وزیر نے دربار میں ایک انار پیش کیا جس پر خلفاء کے نام ثبت تھے اور حاکم سے کہا کہ یہ ہمارے مذہب کی حقانیت کی دلیل ہے لہٰذا اگر شیعہ اسے نہ تسلیم کریں تو انہیں قتل کر دیا جائے۔ ان کی عورتوں کو کنیز بنا لیا جائے اور ان کا مال بہ طور غنیمت لے لیا جائے۔ حاکم نے علماءِ شیعہ کو طلب کرکے انار دکھلایا۔ سب پریشان ہوگئے اور جواب کے لیے تین دن کی مہلت طلب کی۔ آپس میں اجتماع کرکے دس مقدسین کا انتخاب کیا اور پھر ان میں سے تین کا انتخاب کیا کہ امام عصرں سے استغاثہ کریں۔ پہلے دن استغاثہ کیا، کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ دوسرے دن دوسرے مقدس نے استغاثہ کیا، کوئی فائدہ نہ ہوا۔ تیسرے دن محمد بن عیسیٰ کی باری آئی۔ وہ مصروف استغاثہ تھے کہ ایک شخص کو دیکھا انہوں نے فرمایا کہ اپنی پریشانی بیان کرو، میں مشکل کو حل کر دوں گا۔ عرض کی کہ اگر آپ امام عصر ہیں تو بیان کے محتاج نہیں ہیں۔ آپ نے پریشانی کا ذکر کیا اور فرمایا کہ حاکم سے کہہ دو کہ وزیر نے اپنے گھر میں ایک سانچہ تیار کر رکھا ہے اور اس پر یہ نام کندہ کر دیے ہیں۔ کچے انار پر سانچہ چڑھا دیا تھا۔ جب انار بڑے ہوئے تو یہ نام ثبت ہوگئے اور وہ سانچہ وزیر کے گھر کے فلاں حجرہ میں رکھا ہے۔ آپ اسے طلب کریں اور وزیر کو نہ جانے دیں۔ حاکم نے ابن عیسیٰ کے بیان پر سانچہ کو طلب کیا اور جب حقیقت واضح ہوگئی تو پوچھا کہ تمہیں کیسے معلوم ہوگیا۔ فرمایا کہ میرے مولا نے بتایا ہے جو سلسلہ امامت کے بارہویں امام ہیں اور یہ بھی فرمایا ہے کہ انار کو توڑا جائے ان ناموں کی برکت سے اندر سے راکھ کے علاوہ کچھ نہ نکلے گا۔ چنانچہ حاکم نے اس کا بھی تجربہ کیا اور جب حق بالکل واضح ہوگیا تو اس نے مذہب ِ شیعہ کو قبول کرنے کا اعلان کر دیا اور محمد بن عیسیٰ کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔
۹ ۔ آقائی میرزا عبد الله اصفہانی نے کتاب ”ریاض العلماء“ میں نقل کیا ہے کہ ابو القاسم محمد بن ابو القاسم حاسمی جو ایک باخبر شیعہ تھے اور رفیع الدین ہسین جو ایک متعصب سنی تھے دونوں میں باقاعدہ دوستی تھی اور آپس میں نوک جھونک چلا کرتی تھی۔ ابو القاسم رفیع الدین کو ناصبی کہتے تھے اور وہ انہیں رافضی۔ ایک دن ہمدان کی مسجد عتیق میں بیٹھے یہ بحث کر رہے تھے کہ علی اور ابو بکر میں کون افضل ہے؟ تو ابو القاسم نے آیات و احادیث سے استدلال کیا۔ رفیع الدین نے قصہ غار اور شرف خسریت پیغمبر کا تذکرہ کیا۔ ابو القاسم نے استدلال کو طویل تر بنا دیا اور کہا کہ علی سے کسی کا کیا مقابلہ ہے۔ علی حامل لواءِ پیغمبر، دختر مرسل اعظم کے شوہر، ہجرت کی رات بستر رسول کی زینت، کعبہ میں بتوں کے توڑنے والے اور بیشتر انبیاء کے کمالات کے مظہر تھے۔ ان کے مقابلہ میں کسی کو کوئی شرف حاصل نہیں تھا۔ رفیع الدین نے عاجز آکر کہا کہ اب جو شخص بھی مسجد میں داخل ہوگا اس سے فیصلہ کرائیں گے اور اسی کی بات کو حرف آخر قرار دیں گے۔ ابو القاسم نے اسے منظور کر لیا۔ تھوڑی ہی دیر میں ایک جوان داخل ہوئے۔ رفیع الدین نے پورے شد و مد کے ساتھ اپنا مقدمہ پیش کیا۔ اس جوان نے دو شعر پڑھ دیے جس کا مضمون یہ تھا کہ ”لوگ مجھ سے علی کی افضلیت کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور میرا خیال یہ ہے کہ افضلیت کا بیان خود علی کی توہین ہے۔ کیا تلوار کے لیے یہ بات باعث ِ توہین نہیں ہے کہ اسے ڈنڈے سے زیادہ تیز کہا جائے۔ رفیع الدین یہ اشعار سن کر حیرت زدہ ہوگیا اور اپنے اقرار کے مطابق مذہب آل محمد قبول کرنے پر مجبور ہوگیا۔
۱۰ ۔ آقائے سید محمد رضوی ہندی نے نجف اشرف کے دوسرے مجاور حرم شیخ باقر بن شیخ ہادی کی زبانی اس واقعہ کو نقل کیا ہے کہ نجف اشرف میں ایک شخص حمام میں کام کرتا تھا اور نہایت درجہ مومن اور متقی تھا، اپنے ضعیف باپ کی بے پناہ خدمت کرتا تھا، یہاں تک کہ اٹھانا بٹھانا کھلنا پلانا سب اس کے ذمہ تھا، صرف شب چہار شنبہ مسجد سہلہ زیارت امام زمانہ کے اشتیاق میں چلا جایا کرتا تھا۔ ایک شب چہار شنبہ اتفاق سے تاخیر ہوگئی اور تنہا جا رہا تھا کہ اچانک راستہ میں ایک عرب کو دیکھا اور یہ خیال پیدا ہوا کہ عنقریب میرے کپڑے تک اتروا لے گا۔ اس نے پوچھا کہ کہاں جا رہے ہو؟ میں نے کہا کہ مسجد سہلہ! اس نے کہا کہ تمہارے جیب میں کچھ ہے؟ میں نے کہا کہ کچھ نہیں ہے۔ کہا جو بھی ہے فوراً نکالو۔ میں نے پھر انکار کیا تو ڈانٹ کر کہا کہ فوراً نکالو۔ اب جو میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا تو یاد آیا کہ بچوں کے لیے کشمش خریدی تھی اور وہ رکھی رہ گئی ہے۔ میں نے کشمش پیش کر دی تو کہا کہ واپس جاؤ اور اپنے باپ کی خدمت کرو۔ مسجد سہلہ کی زیارت باپ کی خدمت سے زیادہ اہم نہیں ہے۔
حقیقت امر یہ ہے کہ مرد مومن کو یہ شرف باپ کی خدمت ہی سے حاصل ہوا ہے کہ اسے امام زمانہں کی زیارت نصیب ہوگئی اور جس مقصد کے لیے برابر آیا کرتا تھا وہ مقصد حاصل ہوگیا اور اسی لیے حضرت نے فرمایا کہ اب جا کر اب جا کر باپ کی خدمت کرو کہ اب دوسرا کوئی کام نہیں رہ گیا ہے ورنہ اگر مسجد سہلہ کی طرف جانا کوئی نامناسب کام ہوتا تو حضرت روز اول ہی منع فرما دیتے۔
بہرحال والدین کی خدمت انتہائی اہم کام ہے۔ یہاں تک روایت میں وارد ہوا ہے کہ اگر ماں باپ شرکت ِ جہاد سے روک دیں اور انہیں اس امر سے وحشت ہو تو ایک ساعت ان کی خدمت کرنا ایک سال راہِ خدا میں جہاد کرنے سے بہتر ہے۔ اور یہ بات امام صادقں نے رسول اکرم سے نقل کی ہے جس سے واقعی اسلام و ایمان کے صحیح مزاج کا اندازہ ہوتا ہے اور یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ دور غیبت کبریٰ میں بھی ایک جہاد کا امکان باقی ہے اور وہ ہے خدمت ِ والدین۔ رب کریم ہر مومن کو اس جہاد کی توفیق عطا فرمائے۔
خطوط و رسائل
علماءِ اعلام نے جہاں امام عصرں کی زیارت سے مشرف ہونے والے افراد کا تذکرہ کیا ہے وہاں ان خطوط اور رسائل کا بھی تذکرہ کیا ہے جو دور ِ غیبت میں امام عصرں کی طرف سے صادر ہوئے ہیں اور جنہیں توقیعات کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ان رسائل میں بہت سے مسائل، احکام، دعاؤں اور زیارتوں کا بھی تذکرہ ہے اور بہت سے خصوصی خطوط بھی ہیں جو مختلف اسباب اور مصالح کے تحت ارسال کیے گئے ہیں۔
شخصی خطوط میں جناب شیخ مفید علیہ الرحمہ کے نام تین خطوط اور پیغامات ہیں۔ ایک میں انہیں ”برادر سدید اور ولی رشید“ کے لقب سے یاد کیا گیا ہے اور دوسرے میں انہیں ”ناصر حق“ اور ”داعی الی کلمة الصدق“ فرمایا گیا ہے۔ پہلا خط صفر ۴۱۰ ئھ کا ہے اور دوسرا ۲۳ ذی الحجہ ۴۱۲ ئھ کا ہے۔ اس کے بعد ان کے انتقال پر حضرت نے کچھ اشعار بھی فرمائے ہیں جو شیخ مفید کی قبر پر کندہ ہیں۔
تیسرے خط کا خلاصہ یہ ہے کہ شیخ مفید سے ایک حاملہ عورت کے بارے میں پوچھا گیا کہ اس کا انتقال ہوگیا ہے تو اب بچہ کے بارے میں کیا کیا جائے؟ فرمایا کہ مع بچہ کے دفن کر دیا جائے۔ لوگ دفن کی تیاری کر رہے تھے کہ ایک سوار نے آکر خبر دی کہ بچہ کو نکال لیا جائے اور عورت کو دفن کر دیا جائے۔ بچہ کو نکال لیا گیا اور بعد میں شیخ کو خبر ہوئی تو انہوں نے طے کر لیا کہ اب کسی مسئلہ میں فتویٰ نہیں دیں گے کہ آج اس سوار نے مسئلہ کی اصلاح نہ کر دی ہوتی تو ایک بچہ کا خون ناحق اپنی گردن پر آجاتا۔ یہ طے کرکے گھر میں بیٹھے ہی تھے کہ حضرت کی طرف سے پیغام آیا کہ تم نے بالکل غلط فیصلہ کیا ہے ﴿علیک الفتاء و علینا التسدید﴾ (فتویٰ دینا تمہارا کام ہے اور اصلاح کرنا ہمارا کام ہے)۔
اس واقعہ سے امام زمانہ عجل الله تعالیٰ فرجہ الشریف کی امداد غیبی کے علاوہ اس حقیقت کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ امام کو اپنے چاہنے والوں سے کس قدر محبت ہے اور وہ انہیں کسی قیمت پر لاوارث نہیں چھوڑنا چاہتے ہیں بلکہ حضرت کا منشا بھی یہ ہے کہ ہر دور میں ان کے مسائل کے حل کرنے والے علماء رہیں، اور مسائل کو حل کرتے رہیں۔ اس کے بعد اگر کوئی ایسی غلطی ہوگئی جس کا تعلق حق العباد اور خون ناحق سے ہوگا تو ہم اس کی اصلاح کر دیں گے ورنہ حق الله کے معاملہ کی خطاؤں کا معاف کرنے والا خود پروردگار موجود ہے اور وہ ارحم الراحمین ہے۔ اگر ایک عام گنہگار بندے کی خطا کو معاف کر سکتا ہے تو اپنی راہ میں قربانی دینے والے اور زحمتیں برداشت کرنے والے اہل علم کی خطا کو کیوں معاف نہیں کرے گا۔
مسائل کے سلسلہ میں علامہ طبرسی نے اس خط کا ذکر کیا ہے جو جناب اسحاق بن یعقوب کے نام لکھا گیا تھا اور جس میں مختلف سوالات کے جوابات درج تھے۔ جن کا خلاصہ یہ تھا کہ اگر منکر کے بارے میں سوال کیا گیا ہے تو ہمارا منکر ہم میں سے نہیں ہے اور اگر جعفر جیسے لوگوں کے بارے میں پوچھا گیا ہے تو ان کی مثال پسر نوح اور برادرانِ یوسف جیسی ہے۔
(واضح رہے کہ بعض حضرات نے اس جملہ سے یہ استفادہ کیا ہے کہ پسر نوح اپنے باپ کے احکام کے اعتبار سے نالائق تھا اور ان کے راستہ پر نہیں چلا تھا لیکن برادرانِ یوسف نے جب بھائی سے خیانت کی تو انہوں نے آخر میں انہیں معاف کر دیا اور اس طرح ظالم افراد توّاب قرار پا گئے)۔
فقاع یعنی جَو کی شراب بہرحال شراب ہے اور حرام ہے۔۔۔۔۔ خمس کا فریضہ اس لیے رکھا گیا ہے کہ تمہارا مال حلال ہو جائے اور تمہیں نجات حاصل ہو جائے ورنہ قاعدہ کے اعتبار سے ساری کائنات امام کے لیے ہے اور ان کی مرضی کے بغیر کسی ذرہ کائنات میں بھی تصرف جائز نہیں ہے۔
ظہور کا وقت پروردگار کے علم میں ہے اور ہم اس کے حکم کے منتظر ہیں۔ اپنی طرف سے وقت معیّن کرنے والے جھوٹے ہیں اور ان کی تعیّن کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
مستقبل میں پیش آنے والے واقعات میں ہماری احادیث کے بافہم راوی جو روایات کو واقعات پر منطبق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ان کی طرف رجوع کرنا کہ وہ ہماری طرف سے تم پر حجت ہیں اور ہم الله کی طرف سے ان پر حجت ہیں اور ان کا رد کرنے والا درحقیقت ہمارے احکام کی تردید کرنے والا ہے۔
محمد بن عثمان میرے معتمد ہیں اور ان کا قول میرا قول، اور ان سے ملنے والا پیغام میرا پیغام ہے۔
محمد بن علی ہنر یار اہوازی کا دل انشاء الله صاف ہو جائے اور انہیں کوئی شبہ نہیں رہ جائے گا۔
گانے والی عورت کی اجرت حرام ہے (حرام عمل کی اجرت بہرحال حرام ہوتی ہے۔ بدبخت وہ لوگ ہیں جن کی جیب سے اس راہ میں پیسہ نکل جاتا ہے۔ گانے والی تو پیسہ لے کر ہی مجرم بنتی ہے، دینے والا تو دنیا اور آخرت دونوں کے اعتبار سے خسارہ میں ہے)۔
محمد بن شاذان ہمارے شیعوں میں ہیں۔
ابو الخطاب محمد بن اجدب ملعون ہے اور اس کے ماننے والے بھی ملعون ہیں۔ ہم اور ہمارے آباء و اجداد سب اس سے بری اور بیزار ہیں۔
ہمارا مال کھانے والے اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھر رہے ہیں۔ خمس نہ دینے والوں کی طرف سے جو مال ہمارے شیعوں کو ملے اس میں کا حق خمس ہم نے اپنے شیعوں کے لیے حلال کر دیا ہے۔
زمانہ غیبت میں میری مثال زیر ابر آفتاب کی ہے۔ میرا وجود اہل زمین کے لیے ویسے ہی وجہ امان ہے جس طرح آسمان والوں کے لیے ستاروں کا وجود ہوتا ہے۔
غیبت اور ظہور کے بارے میں سوالات بند کر دو اور رب العالمیند سے میرے ظہور کی دعا کرو۔ والسلام علی من اتبع الھدٰی۔
(اعلام الوریٰ، کشف الغمہ)
مسئلہ طول حیات
امام مہدی کے بارے میں جہاں اور بحثیں کی جاتی ہیں، ان میں سے ایک بحث طول عمر اور بقائے حیات کی بھی ہے اور درحقیقت یہ بحث ان شبہات کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہے جو مسئلہ مہدی کے گرد عالم اسلام میں اٹھائے گئے ہیں اور ان کا منشاء عالم انسانیت کو ایک ایسے مصلح کی طرف سے غافل بنا دینا ہے جس کا کام بساط ظلم و جور کو الٹ کر نظام عدل و انصاف کا قائم کر دینا ہے اور جو اس عظیم کام کے لیے صبح و شام حکم الٰہی کا انتظار کر رہا ہے۔ ورنہ اس طرح کا سیاسی مقصد کار فرما نہ ہوتا تو ایک مسلمان کے لیے طول عمر اور بقائے حیات جیسی بحث کا اٹھانا خلاف شانِ اسلام و ایمان اور خلاف اعتقاد قرآن و سنت ہے۔
مسلمان اس حقیقت پر بہرحال ایمان رکھتا ہے کہ موت و حیات کا اختیار پروردگار کے ہاتھوں میں ہے اور وہی انسانوں کی عمروں کو طویل یا مختصر بناتا ہے۔ اس کے نظامِ مصلحت میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جو شکم مادر ہی میں موت کے گھاٹ اتر جاتے ہیں اور ایسے افراد بھی ہیں جو بدترین حوادث میں بھی لقمہ اجل نہیں بنتے ہیں اور حیرت انگیز طور پر باقی رہ جاتے ہیں۔ اس نے انسان کو موت دینا چاہی تو سلیمان جیسا صاحب ِ اقتدار بھی اپنے لشکر کے سامنے دنیا سے رخصت ہوگیا اور باقی رکھنا چاہا تو موسیٰ قصر فرعون ہیں۔
ابراہیمں نارِ نمرود میں، یونسں بطن ماہی میں باقی رہ گئے۔ اس نے چاہا تو اصحاب ِ کہف کی نیند طویل ہوگئی اور اس کی مرضی ہوئی تو عزیر کو مردہ بنا کر پھر زندہ کر دیا۔ ایسے نظامِ ربوبیت پر ایمان رکھنے والا انسان اگر ایک حجت پروردگار اور مہدی دوراں ں کے بارے میں شبہات سے کام لے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یا تو وہ قدرت ِپروردگار پر ایمان نہیں رکھتا ہے اور اس کی نظر میں گزشتہ دور کے جملہ واقعات و حوادث صرف اساطیر الاولین کی حیثیت رکھتے ہیں یا اسے وجود مہدی سے کوئی خاص اختلاف ہے جس کی بنا پر اسے کسی نہ کسی شکل میں مشکوک بنا دینا چاہتا ہے۔
تاریخ میں جناب ذوالقرنین، جناب نوحں، جناب سام بن نوح، جناب قینان، جناب مہلائیل، عوج بن عناق، نفیل بن عبد الله، ربیع بن عمر، ارفخشد، درید بن زید، جناب سلمان، کعب بن جمجمہ، نصر بن رحمان، قیس بن ساعدہ، عمر بن ربیعہ، عمر بن دوسی، عمر بن طفیل جیسے افراد کی سیکڑوں بلکہ ہزاروں سال عمر کا تذکرہ موجو دہے اور اس کا کوئی انکار کرنے والا نہیں پیدا ہوا ہے۔
اسلامی نقطہ نگاہ سے جناب ادریس و خضر اور دجال و ابلیس لعین کا وجود بھی مسلمات میں شامل ہے جن کی عمریں ہزاروں سال سے متجاوز ہو چکی ہیں اور جناب عیسیٰں مستقل طور سے آسمان پر زندہ ہیں اور زمین پر اترنے کا انتظار کر رہے ہیں۔
ان حالات میں مسئلہ طول عمر پر بحث کرنا نہ عقائدی اعتبار سے صحیح ہے اور نہ تاریخی اور واقعاتی اعتبار سے صحیح ہے۔
اس کے علاوہ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ تاریخ کے بے شمار شواہد کی بنا پر اور مرسل اعظم کی سیکڑوں روایات کی بنا پر جن میں مہدی اور اس کے خصوصیات کا ذکر کیا گیا ہے کہ مہدیں میرا بارہواں جانشین، اولاد ِ فاطمہ میں، اولاد حسین میں اور میرے فرزند حسین کا نواں وارث ہوگا۔ اس مہدی کا وجود بہرحال ہو چکا ہے اور ان خصوصیات کا انسان عالم وجود میں آچکا ہے، اور رسول اکرم کی ناقابل تردید روایات کی بنا پر اس کا ظہور بھی بہرحال ہونے والا ہے اور عمر دنیا میں ایک دن بھی باقی رہ جائے گا تو رب کریم اور اس دن کو طول دے گا یہاں تک کہ مہدی ظہور کرے اور ظلم و جور سے بھری ہوئی دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے۔
ان دونوں مسلمات کے درمیان دو ہی احتمالات رہ جاتے ہیں۔ یا تو وہ مہدی انتقال کر جائے اور پھر وقت ِ ظہور مردہ سے زندہ ہوکر عالمی انقلاب برپا کرے یا زندہ اور موجود رہے اور طویل عمر کے ساتھ حالات کا جائزہ لیتا رہے اور اپنے آخری انقلاب کے لیے زمین ہموار کرتا رہے۔
پہلا احتمال مذہبی اعتبار سے بھی غلط ہے اور علمی اعتبار سے بھی۔ مذہبی اعتبار سے یہ بات تسلیم کر لی جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا حجت ِ خدا سے خالی ہوگئی ہے اور رسول اکرم واضح طور پر فرما چکے ہین کہ اگر دنیا حجت ِ خدا سے خالی ہو جائے تو اس کی بقا محال ہے اور زمین اہل زمین سمت دھنس جائے گی اور علمی اعتبار سے کسی شخص کا مر کر دوبارہ زندہ ہونا اور کسی تیاری اور آمادگی کے بغیر اتنا بڑا انقلاب برپا کر دینا ناقابل تصور عمل ہے اور اگر اس میں قدرت ِ خدا کو شامل کر لیا جائے تو موت و حیات کے تصورات کی ضرورت ہی نہیں ہے جو خدا کسی عظیم مقصد کے لیے ایک مردہ کو زندہ بنا کر اس سے یہ کام لے سکتا ہے تو وہ ہزار دو ہزار برس زندہ رکھ کر بھی یہ کام لے سکتا ہے۔ اس کی قدرت کے لیے کوئی شے امکان سے خارج نہیں ہے۔
بنا بریں اسلام کے تینوں تصورات کو جمع کرنے کے بعد کہ مہدی کو ولادت بہرحال ہو چکی ہے اور اس کا ظہور بہرحال ہونے والا ہے اور زمین حجت خدا سے بہرحال خالی نہیں ہو سکتی ہے ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ وہ مہدی زندہ رہے اور حالات کا مسلسل جائزہ لے کر اپنے عالمی انقلاب کی منصوبہ بندی میں مصروف رہے۔ وقت ضرورت اپنے نائبین کی امداد بھی کرتا رہے اور اپنے ظہور کی زمین بھی ہموار کرتا رہے اور وقت ِ ظہور کے لیے حکم الٰہی کا انتظار کرتا رہے اور جیسے ہی حکم پروردگار ہو جائے اپنا اصلاحی عمل شروع کر دے اور ظلم و جور سے بھری ہوئی دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے۔ انشاء الله۔
روایات و اعترافات
رسول اکرم نے فرمایا ہے کہ میری امت میں ایک مہدی بھی ہوگا۔ (ابو سعید الخدری، صحیح ترمذی، ص ۲۷۰)
رسول اکرم نے فرمایا ہے کہ الله میری عترت میں ایک شخص کو پیدا کرے گا جو دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ ]عبد الرحمن بن عوف[ (عقد الدرر)
رسول اکرم نے فرمایا کہ عمر دنیا میں ایک دن بھی باقی رہ جائے گا تو پروردگار اس دن کو طول دے گا یہاں تک کہ میرے اہل بیت میں میرا ایک ہم نام آجائے۔ ]عبد الله بن مسعود[ (ترمذی و سنن ابو داؤد)
اس امت کا مہدی عیسیٰ بن مریم کی امامت کرے گا۔ ]ابو سعید الخدری[(عقد الدرر)
مہدی برحق ہے، وہ بنی کنانہ، بنی ہاشم اور اولاد ِ فاطمہ سے ہوگا۔ ]قتادہ[ (عقد الدرر)
میں تمہیں مہدی کی بشارت دے رہا ہوں جو میری عترت اور قریش سے ہوگا۔ (صواعق محرقہ)
ہم سات اولاد عبد المطلب سردارانِ جنت ہیں۔۔۔۔۔ میں، علی، حمزہ، جعفر، حسن، حسین، مہدی۔ (سنن ابن ماجہ، معجم طبرانی، حافظ ابو نعیم اصفہانی۔ عقدد الدرر)
مہدی میری عترت میں اولاد ِ فاطمہ میں سے ہوگا۔ ]روایت ِ ام سلمہ[ (ابو داؤد)
الله دنیا کے آخری دن کو اس قدر طول دے گا کہ میری عترت اور میرے اہل بیت سے ایک شخص آجائے جو دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے۔ ]روایت ابو ہریرہ[ (ترمذی)
علی میری امت کے امام ہیں اور ان کی اولاد میں قائم منتظر ہوگا جو دنیا کو عدل و انصاف سے معمور کر دے گا۔ ]روایت ابن عباس[ (مناقب خوارزمی)
مہدی اولاد ِحسین سے ہوگا۔ ]روایت حذیفہ بن الیمان[ (حافظ ابو نعیم)
حسین ! تم سید بن سید اور برادر سید ہو۔ تم امام، ابن امام اور برادر امام ہو۔ تم حجت بن حجت، برادر حجت اور نو حجتوں کے باپ ہو جن کا نواں قائم ہوگا۔ ]سلمان[ (ینابیع المودة)
مہدی کا خروج بہرحال ضروری ہے اور یہ اس وقت ہوگا جب دنیا ظلم و جور سے بھر جائے گی۔ (الشیخ محی الدین در فتوحات مکیہ، الشیخ عبد الوہات شعرانی در الیواقیت و الجواہر)
امام مہدی سامرہ میں پیدا ہوئے ہیں جو بغداد سے ۲۰ فرسخ کے فاصلہ پر ہے۔ (محمد بن طلحہ شافعی در مطالب السئول)
امام حسن عسکری نے بادشاہِ وقت کے خوف سے اپنے فرزند کی ولادت کو مخفی رکھا۔ (علی بن محمد بن صباغ مالکی در الفصول المہمہ)
امام مہدی سامرہ میں پیدا ہوئے اور ان کی ولادت کو مخفی رکھا گیا ہے۔ وہ اپنے والد بزرگوار کی حیات ہی سے غائب ہیں۔ (علامہ جامی در شواہد النبوة)
امام مہدی ۱۵ شعبان ۲۵۵ ئھ میں پیدا ہوئے اور سامرہ میں لوگوں کی نظر سے غائب ہوگئے۔ (علامہ جمال الدین در روضة الاحباب)
امام مہدی ۱۵ شعبان ۲۵۵ ئھ میں پیدا ہوئے اور انہیں امام حسن عسکری نے اس خدا کے حوالہ کر دیا جس کی پناہ میں جناب موسیٰ تھے۔ (شیخ عبد الحق محدث دہلوی در مناقب الائمہ)
امام مہدی بطن نرجس سے ۱۵ شعبان ۲۵۵ ئھ میں پیدا ہوئے ہیں۔ (عبد الرحمن صوفی در مرأة الاسرار)
خلافت رسول حضرت علی کے واسطے سے امام مہدی تک پہنچی ہے اور وہ آخری امام ہیں۔ (علامہ شہاب الدین دولت آبادی در تفسیر بحر مواج)
امام مہدی بارہویں امام ہیں۔ (مُلّا علی قاری در شرح مشکوٰة)
امام مہدی اولاد ِ فاطمہ سے ہیں۔ وہ بقولے ۲۵۵ ئھ میں پیدا ہوکر ایک عرصہ کے بعد غائب ہوگئے۔ (علامہ جواد ساباطی در براہین ساباطیہ)
امام مہدی پیدا ہوکر غائب ہوگئے ہیں اور آخری دور میں ظہور کریں گے۔ (شیخ سعد الدین در مسجد اقصٰی)
آپ پیدا ہو کر قطب ہو گئے ہیں۔ (علی اکبر بن اسد الله در مکاشفات)
محمد بن الحسن کے بارے میں شیعوں کا خیال درست ہے۔ (شاہ ولی الله محدث دہلوی در رسالہ نوادر)
امام مہدی تکمیل صفات کے لیے غائب ہوگئے ہیں۔ (ملا ہسین میبذی در شرح دیوان)
امام مہدی ۲۵۶ ئھ میں پیدا ہو کر غائب ہوگئے ہیں۔ (تاریخ ذہبی)
امام مہدی پیدا ہو کر سرداب میں غائب ہوگئے ہیں۔ (ابن حجر مکی در صواعق محرقہ)
امام مہدی کی عمر امام حسن عسکری کے انتقال کے وقت پانچ برس کی تھی وہ غائب ہوکر پھر واپس نہیں آئے۔ (وفیات الاعیان)
آپ کا لقب القائم، المنتظر، الباقی ہے۔ (تذکرہ خواص الامة سبط بن جوزی)
آپ اسی طرح زندہ اور باقی ہیں جس طرح عیسیٰ، خضر اور الیاس وغیرہ ہیں۔ (ارجح المطالب)
امام مہدی قائم و منتظر ہیں۔ وہ آفتاب کی طرح ظاہر ہوکر دنیا کی تاریکی کفر کو زائل فرمائیں گے۔ (فاضل ابن روزبہان ابطال الباطل)
امام مہدی کے ظہور کے بعد حضرت عیسیٰں نازل ہوں گے۔ (جلال الدین سیوطی در منثور)
خصوصیات حکومت ِ امام عصر
۱ ۔ ابتداءِ ظہور میں آپ کا طریقہ کار وہی ہوگا جو ابتداء ِ بعثت میں رسول اکرم کا طریقہ کار تھا اس لیے کہ آپ کے دور تک اسلام اس قدر مسخ ہو چکا ہوگا کہ گویا از سر نو اسلام کی تبلیغ کرنا ہوگی اور جدید ترین نظام کے بارے میں شدید ترین مواخذہ نہیں ہو سکتا ہے۔ خود رسول اکرم نے فرمایا ہے کہ اسلام ابتداء میں بھی غریب تھا اور آخر میں بھی غریب ہو جائے گا، لہٰذا خوشحال ان افراد کے لیے جو غرباء ہوں۔
۲ ۔ آپ کے فیصلے جناب داؤد کی طرح ذاتی علم کی بنیاد پر ہوں گے اور آپ گواہ اور بتینہ کے محتاج نہ ہوں گے۔ آپ لوگوں کی شکل دیکھ کر ان کے جرائم کے اندازہ کر لیں گے اور اسی اعتبار سے ان کے ساتھ معاملہ کریں گے۔
۳ ۔ آپ کی سواری کے لیے ایک مخصوص ابر ہوگا، جس میں گرج، چمک اور بجلی وغیرہ سب کچھ ہوگی جوبات حضرت ذوالقرنین کو بھی حاصل نہ تھی۔ آپ اس ابر پر سوار ہوکر مختلف اطراف کا دورہ کریں گے اور دین اسلام کی تبلیغ کر کے اس کا نظام قائم کریں گے۔
۴ ۔ آپ کے وجود مبارک کی برکت سے زمین اپنے سارے ذخائر کو اُگل دے گی اور پیداوار میں اس قدر اضافہ ہوگا کہ جو شخص جس قدر مطالبہ کرے گا آواز آئے گی ”لے لوخزانہ قدرت میں کوئی کمی نہیں ہے۔“ پیداوار کا یہ عالم ہو گا کہ اگر کوئی عورت عراق سے شام تک پیدل سفر کرے تو اس کے علاوہ کسی خشک زمین پر نہ پڑیں گے۔
۵ ۔ دنیا میں امن و امان کا وہ دور دورہ ہوگا کہ انسانوں اور جانوروں کے درمیان بھی کوئی وحشت اور نفرت نہ رہ جائے گی۔ بچے سانپ بچھو سے کھیلیں گے اور بھیڑ اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پئیں گے یہاں تک کہ اگر کوئی عورت عراق سے شام تک سر پر سامان رکھ کر چلی جائے تو کوئی درندہ بھی اذیت نہ کرے گا اور نہ اسے کسی طرح کا خوف ہوگا۔
۶ ۔ آپ کے ظہور کی برکت سے مخصوص قسم کے خطرناک امراض کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اور صاحبانِ ایمان صحت و سلامتی کی زندگی گزاریں گے۔
۷ ۔ آپ پر مرور زمانہ اور تغیّرات دہر کا کوئی اثر نہ ہوگا اور سیکڑوں سال کے بعد بھی ۴۰ سال کے جوان کی شکل میں ظہور فرمائیں گے جیساکہ امام رضاں کی روایت میں وارد ہوا ہے کہ کسی شخص نے پوچھا کہ کیا آپ ہی قائم ہیں؟۔۔۔۔۔ تو فرمایا کہ نہیں، تم دیکھتے نہیں ہو کہ میں کس قدر ضعیف و نحیف ہوگیا ہوں اور قائم طویل ترین عمر کے باوجود ۴۰ سالہ جوان کی شکل میں ظہور کرے گا۔ وہ میری اولاد میں میرا چوتھا وارث ہوگا۔
۸ ۔ آپ کے پاس تمام انبیاء و اولیاء کی میراث ہوگی۔ لباس ابراہیم ، عصائے موسیٰ ، انگشتری سلیمان ، زرہ پیغمبر اسلام، عمماہ و نعلین و لباس رسول اکرم اور ذوالفقار حیدر کرار ۔ اور جب سید حسنی آپ سے دلالت ِ امامت کا مطالبہ کریں گے تو آپ ان تمام تبرکات کو پیش کر دیں گے۔
۹ ۔ آپ زیر آفتاب سفر کریں گے تو بھی جسم اقدس کا کوئی سایہ نہ ہوگا جس طرح کہ رسول اکرم کے جسم قدس کا سایہ نہیں تھا۔
۱۰ ۔ آپ کے نورِ مبارک سے زمین اس قدر روشن ہو جائے گی کہ آفتاب و ماہتاب کے بغیر بھی کاروبار ِ حیات چل سکے گا۔
۱۱ ۔ آپ کے سامنے تمام دنیا ہتھیلی پر ایک درہم کے مانند ہوگی اور آپ بغیر کسی حائل و حاجب کے تمام دنیا کے حالات کا مشاہدہ کریں گے۔
۱۲ ۔ آپ کے دور میں صاحبانِ ایمان کمال علم و عقل و ذہانت و ذکاوت کی منزل پر فائز ہوں گے اور آپ جس کے سر پر دست شفقت پھیر دیں گے اس کی عقل بالکل کامل و اکمل ہو جائے گی یہاں تک کہ آپ مختلف ملکوں میں بھیجے جانے والے نمائندوں کو ہدایت کریں گے کہ اگر کوئی مسئلہ سمجھ میں نہ آئے تو اپنی ہتھیلی کو دیکھ لینا تمام علوم اور مسائل نقش نظر آجائیں گے۔
۱۳ ۔ مساجد میں جدید قسم کے مینار، حجرات اور نقوش جو دور مرسل اعظم میں نہیں تھے انہیں محو کر دیا جائے گا اور مساجد کو ان کی اصلی اسلامی سادگی کی طرف واپس کر دیا جائے گا۔
۱۴ ۔ مسجد الحرام اور مسجد النبی کی از سر نو اصلاح و ترمیم ہوگی اور جس قدر بھی بے جا تعمیرات ہوئی ہیں ان کی اصلاح کر دی جائے گی اور مقام ابراہیم کو بھی اس کی اصلی منزل تک پلٹا دیا جائے گا۔
۱۵ ۔ آپ کا نور مبارک اس قدر نمایاں اور روشن ہوگا کہ ساری دنیا کے لوگ بآسانی آپ کی زیارت کر سکیں گے اور ہر شخص آپ کو اپنے سے قریب تر اور اپنے ہی علاقہ اور محلہ میں محسوس کرے گا۔
۱۶ ۔ آپ کا پرچم نصرت رسول اکرم کا پرچم ہوگا جس کا عمود عرش الٰہی کا بنا ہوا ہوگا اور وہ جس ظالم پر سایہ فگن ہو جائے گا اسے تباہ و برباد کر دے گا۔ آپ کی فوج کے افراد لوہے کی چادروں کی طرح سخت اور مستحکم ہوں گے اور ہر مومن کے پاس چالیس افراد کی طاقت ہوگی۔
۱۷ ۔ مومنین کی قبروں میں بھی ظہور کی خوشی کا داخلہ ہو جائے گا اور آپس میں ایک دوسرے کو مبارکباد دیں گے اور بعض قبروں سے اٹھ کر نصرت ِ امام کے لیے باہر آجائیں گے جیساکہ دعائے عہد میں وارد ہوا ہے کہ ”پروردگار! اگر مجھے ظہور سے پہلے موت بھی آجائے تو وقت ِ ظہور اس عالم میں قبر سے اٹھانا کہ کفن دوش پر ہو، برہنہ تلوار ہاتھ میں ہو، نیزہ چمک رہا ہو، اور زبان پر لبیک لبیک ہو۔
۱۸ ۔ آپ اپنے تمام چاہنے والوں کے قرضوں کو ادا فرما دیں گے اور انہیں خیرات و برکات سے مالا مال کر دیں گے۔ بشرطیکہ قرضہ کا تعلق حرام مصارف سے نہ ہو ورنہ اس کا مواخذہ بھی کریں گے۔
۱۹ ۔ آپ جملہ بدعتوں کا قلع قمع کر دیں گے اور عالم انسانیت کو شریعت پیغمبر اسلام کی طرف پلٹا کر لے آئیں گے یہاں تک کہ ہزاروں بدعقیدہ لوگ آپ کے واپس جانے کا مطالبہ کر دیں گے اور آپ سب کا خاتمہ کر دیں گے۔
۲۰ ۔ آپ کے جملہ روابط اور تعلقات صرف ان افراد سے ہوں گے جو واقعاً مومن مخلص ہوں گے اور کسی منافق اور ریاکار کا کوئی ٹھکانہ نہ ہوگا۔ دشمنانِ آل محمد بنی امیہ و بنی عباس، قاتلانِ حسین اور نواصب و خوارج سب کا خاتمہ کر دیں گے اور کسی ایسے آدمی کو زندہ نہ چھوڑیں گے جو گزشتہ افراد و اقوام کی بد اعمالیوں اور ان کے مظالم سے راضی ہوگا۔
اللّٰھم عجل فرجہ و سھل مخرجہ و اجعلنا من انصارہ و اعوانہ۔
امام عصر اور سلام، دعا، نماز، زیارت، استغاثہ، طریقہ زیارت و ملاقات
امیر المومنینں کا ارشاد ِ گرامی تھا کہ گویا میں یہ منظر دیکھ رہا ہوں کہ مہدی گھوڑے پر سوار وادی السلام سہلہ کی طرف روانہ ہے اور زبان پر یہ کلمات ہیں:لاَ اِلٰهَ اِلاَّ اللّٰهُ حَقًّا حَقًّا لَا اِلٰهَ اِلاَّ اللّٰهُ اِیْمَانًا وَ صِدْقًا لَا اِلٰهَ اِلاَّ اللّٰهُ تَعَبُّدًا وَ رِقًّا اَللّٰهُمَّ مُعِزَّ کُلَّ مُومِنٍ وَّحِیْدٌ وَّ مُذِلٌّ کُلَّ جَبَّارٍ عَنِیْد ۔۔۔۔۔ الخ۔ (بحار)
سلام
جابر نے امام محمد باقرں سے روایت کی ہے کہ جو بھی قائم کے دور تک رہ جائے اس کا فرض ہے کہ انہیں اس طرح سلام کرے:اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ یَا اَهْلَ الْبَیْتِ النُّبُوَّةِ وَ مَعْدِنَ الْعِلْمِ وَ موضع الرسالة ۔ (غیبت ِ طبرسی)
محمد بن مسلم راوی ہیں کہ امام باقرں نے اس طرح سلام کرنے کا حکم دیا ہے:اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا بَقِیَّةُ اللّٰهِ فِیْ اَرْضِه ۔ (کمال الدین)
عمران بن داہر راوی ہیں کہ امام صادقں سے دریافت کیا گیا کہ قائم کو امیر المومنین کہہ کر سلام کیا جا سکتا ہے؟۔۔۔۔۔ تو فرمایا: ہرگز نہیں۔ یہ لقب صرف حضرت علیں کے لیے ہے۔ قائم کو بقیة الله کہہ کر سلام کرو۔ (بحار)
دعا
امام مہدیں ہی سے وہ مشہور و معروف دعا نقل کی گئی ہے جو مفاتیح الجنان اور دیگر کتب ِ ادعیہ میں مذکور ہے:اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنَا تَوْفِیْقَ الطَّاعَةِ وَ بُعْدِ الْمَعْصِیَّةِ ۔ (مصباح کفعمی)
آپ کی ایک دعا یہ ہے :یا مالک الرقاب و هازم الاحزاب یا مفتح الابواب یا مسبب الاسباب سبب لنا سببًا لا نستطیع له طلبًا ۔۔۔۔۔۔ (منہج الدعوات)
آپ ہی کی یہ مشہور دعا بھی ہے:الٰهی بحق من ناجاک و بحق من دعاک ۔۔۔۔۔۔ (الادعیة المستجابات)
آپ ہی سے یہ دعا بھی نقل کی ہے:الٰهی عظم البلاء و برح الخفاء ۔ (جنة الماویٰ)
آپ کے دورِ غیبت کے لیے شیخ عمروی نے ابو علی بن ہمام کو یہ دعا تعلیم دی تھی:اللّٰهم عرفنی نفسک فانک ان لم تعرفنی نفسک لم اعرف نبیک ۔ (اکمال الدین)
نماز
امام عصرں ہی سے یہ نماز حاجت بھی نقل کی گئی ہے کہ شب جمعہ دو رکعت نماز ادا کرے اور ہر رکعت میں سورہ حمد پڑھتے ہوئے ﴿ایاک نعبد و ایاک نستعین ﴾ کو سو مرتبہ دہرائے اور رکوع و سجدہ کے تسبیحات کو سات سات مرتبہ ادا کرے۔ بعد نماز حاجت طلب کرے انشاء الله پوری ہوگی۔ (کنوز النجاح طبرسی)
استغاثہ
امام صادقں نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص راستہ بھول جائے اور پریشان حال ہو جائے تو اس طرح فریاد کرے: ﴿یا مولای یا صاحب الزمان انا مستغیث بک﴾ صاحب الزمان یقینا تمہاری امداد کریں گے اور تمہاری مدد کو آئیں گے۔
اس روایت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امامت کے لیے ساری کائنات کے حالات کا جاننا اور طاقت کے اعتبار سے ہر ایک کے کام آنا اور اس کی مشکل کشائی کرنا ایک بنیادی شرط ہے جس کے بغیر کوئی انسان امام کہے جانے کے قابل ہے۔
امام عصرں نے ایک قیدی کو دعائے عبرات کی تعلیم دی جس کے طفیل میں اسے رہائی مل گئی اور امیر المومنینں نے زوجہ حاکم کے خواب میں آکر حاکم کو تہدید کی کہ اگر اسے رہا نہ کرے گا تو اسے قتل کر دیا جائے گا: ﴿اللّٰھم انی أسئلک یا راحم العبرات و یا کاشف الکربات۔۔۔۔۔ یا رب انی مغلوب فانتصر۔۔۔۔۔﴾۔ (جنة الماویٰ)
نسخہ شفا
شیخ ابراہیم کنعمی نے البلد الامین میں نقل کیا ہے کہ امام مہدیں نے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر اس دعا کو نئے برتن میں خاکِ شفا سے لکھ کر مریض کو پلا دیں تو شفا حاصل ہو جائے گی:بسم اللّٰه الرحمٰن الرحیم بسم اللّٰه دواءٌ و الحمد للّٰه ولا الٰه الا اللّٰه کفاءٌ هو الشافی شفاء وهو الکافی کفاء اذهب الباس برب الناس شفاءٌ لا یغادره سقم و صلی اللّٰه علٰی محمد و اٰله النجباء ۔ (بحار)
زیارت
سید ابن طاوس نے جمال الاسبوع میں نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے روز یک شنبہ امام عصرں کو اس طرح زیارت امیر المومنین پڑھتے ہوئے دیکھا ہے:السلام علی الشجرة النبویة و الدرجة الهاشمیة المضیئة المثمرة ۔۔۔۔۔۔ (مکمل زیارت مفاتیح الجنان میں موجود ہے)۔
والسلام علٰی من اتبع الهدٰی ۔
حضرت امام عصر علیہ السلام کی بارگاہ میں استغاثہ
خداوند عالم نے اہل بیت طاہرین کو دعاؤں کی قبولیت کا سبب مشکلات مصائب اور پریشانیوں سے نجات کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ جب کوئی مشکل آن پڑے اس وقت اس استغاثہ کے ذریعہ امام زمانہ علیہ السلام کو سلام کریں اور مشکلات سے رہائی کے لیے امام سے مدد طلب کریں۔ یہ استغاثہ بہت ہی زیادہ مجرب ہے۔
اس کا طریقہ یہ ہے، دو رکعت نماز پڑھیں اور زیر آسمان قبلہ رخ ہوکر یہ استغاثہ کریں۔ بہتر ہے کہ پہلی رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سورہاِنَّا فَتَحْنَا اور دوسری رکعت میں سورہ الحمد کے بعد سورہاِذَا جَآءَ نَصَرُ اللّٰهِ کی تلاوت کریں۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَ عَجَّلَ فَرَّجَهُمْ سَلاَمُ اللّٰهِ الْکَامِلُ التَّامُّ الشُّامِلُ الْعَامُّ وَ صَلَوَاتُهُ الدَّآئِمَةُ وَ بَرَکَاتُهُ الْقَآئِمَةُ التَّآمَّةُ عَلٰی حُجَّةِ اللّٰهِ وَ وَلِیِّه فِیْ اَرْضِه وَ بِلَادِه وَ خَلِیْفَتِه عَلٰی خَلْقِه وَ عِبَادِه وَ سُلَالَةِ النُّبُوَّةِ وَ بَقِیَّةِ الْعِتْرَةَ وَ الصَّفْوَةِ صَاحِبِ الزَمَانِ وَ مُظْهِرِ الْاِیْمَانِ وَ مُلَقِّنِ اَحْکَامِ الْقُرْاٰنِ وَ مُطَهِّرِ الْاَرْضِ وَ نَاشِرِ الْعَدْلِ فِی الطُّوْلِ وَ الْعَرْضِ وَ الْحُجَّةِ الْقَآئِمِ الْمَهْدِیِّ الْاِمَامِ الْمُنْتَظَرِ الْمَرْضِیِّ وَ ابْنِ الْاَئِمَّةِ الطَّاهِرِیْنَ الْوَصِیِّ بْنِ الْاَوْصِیَآءِ الْمَرْضِیِّیْنَ الْهَادِیْ اَلْمَعْصَوْمِ ابْنِ الْاَئِمَّةِ الْهُدَاةِ الْمَعْصُوْمِیْنَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مُعِزَّ الْمُومِنِیِْنَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مُزِلَّ الْکَافِرِیْنَ الْمُتَکَبِّرِیْنَ الظَّالِمِیْنَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلَایَ یَا صَاحِبَ الزَّمَانِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا ابْنَ اَمِیْرَ الْمُومِنِیْنَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا بْنَ فَاطَمَةَ الزَّهْرَآءِ سَیِّدَةِ نِّسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَابْنَ الْاَئِمَّةِ الْحُجَجِ الْمَعْصُوْمِیْنَ وَ الْاِمَامِ عَلَی الْخَلْقِ اَجْمَعِیْنَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلَایَ سَلَامَ مُخْلَصٍ لَکَ فِی الْوَلَایَةِ اَشْهَدُ اَنَّکَ الْاِمَامُ الْمَهْدِیُّ قَوْلًا وَ فِعْلاً وَ اَنْتَ الَّذِیْ تَمْلَاُء الْاَرْضَ قِسْطًا وَّ عَدْلاً بَعْدَ مَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَ جَوْرًا فَعَجَّلَ اللّٰهُ فَرَجَکَ وَ سَهَّلَ مَخْرَجَکَ وَ قَرَّبَ زَمَانَکَ وَ کَثَّرَ اَنْصَارَکَ وَ اَعْوَانَکَ وَ اَنْجَزَ لَکَ مَا وَعَدَکَ فَهُوَ اَصْدَقُ الْقَآئِلِیْنَ وَ نُرِیْدُ اَنْ نَمُنَّ عَلَی الَّذِیْنَ اسْتَضْعَفُوْا فِی الْاَرْضِ وَ نَجْعَلَهُمْ اَئِمَّةً نَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِیْنَ یَا مَوْلَایَ یَا صَاحِبَ الزَّمَانِ یَابْنَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَاجَتِیْ کَذَا وَ کَذَا
(اس جگہ پر اپنی حاجتیں بیان کرے سب سے بہتر حاجت یہ ہے کہ خدا آپ کا ظہور جلد کرے اور آپ کے غلاموں میں شمار کرے، دنیا و آخرت کی سعادتیں عطا کرے
فَاشْفَعْ لِیْ فِیْ نَجَاحِهَا فَقَدْ تَوَجَّهْتُ اِلَیْکَ بِحَاجَتِیْ لِعِلْمِیْ اَنَّ لَکَ عِنْدَ اللّٰهِ شَفَاعَةً مَقْبُوْلَةً وَّ مَقَامًا مَحْمُوْداً فَبِحَقِّ مَنِ اخْتَصَّکُمْ بِاَمْرِه وَ ارْتَضَاکُمْ لِسِرِّه وَ بِالشَّانِ الَّذِیْ لَکُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَه سَلِ اللّٰهِ تَعَالٰی فِیْ نُجْحِ طَلَبَتِیْ وَ اِجَابَةِ دَعْوَتِیْ وَ کَشْفِ کُرْبَتِیْ
اس کے بعد جو چاہیں دعا مانگیں انشاء الله قبول ہوگی۔
زیارت حضرت امام زمانہ علیہ السلام روز جمعہ
اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ اللّٰهِ فِیْ اَرْضِه اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَیْنَ اللّٰهِ فِیْ خَلْقِه اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا نُوْرَ اللّٰهِ الَّذِیْ یَهْتَدِیْ بِهِ الْمُهْتَدُوْنَ وَ یُفَرَّجُ بِه عَنِ الْمُومِنِیْنَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّهَا الْمُهَذَّبُ الْخَائِفُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّهَا الْوَلِیُّ النَّاصِحُ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا سَفِیْنَةَ النَّجَاةِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا عَیْنَ الْحَیٰوةِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْکَ وَ عَلٰی اٰلِ بَیْتِکَ الطَّیِّبِیْنَ الطَّاهِرِیْنَ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ عَجَّلَ اللّٰهُ لَکَ مَا وَعَدَکَ مِنَ النَّصْرِ وَ ظُهُوْرِ الْاَمْرِ اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ یَا مَوْلَایَ اَنَا مَوْلَاکَ عَارِفٌ بِاُوْلٰیکَ وَ اُخْرٰیکَ اَتَقَرَّبُ اِلَی اللّٰهِ تَعَالٰی بِکَ وَ بِاٰلِ بَیْتِکَ وَ انْتَظِرُ ظُهُوْرَکَ وَ ظُهُوْرَ الْحَقِّ عَلٰی یَدَیْکَ وَ اَسْئَلُ اللّٰهَ اَنْ یُّصَلِّیَ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَّ اَنْ یَجْعَلَنِیْ مِنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ لَکَ وَ التَّابِعِیْنَ وَ النَّاصِرِیْنَ لَکَ عَلٰی اَعْدَآئِکَ وَ الْمُسْتَشْهِدِیْنَ بَیْنَ یَدَیْکَ فِیْ جُمْلَةِ اَوْلِیَآئِکَ یَا مَوْلَایَ یَا صَاحِبَ الزَّمَانِ صَلَوَاتُ اللّٰهِ عَلَیْکَ وَ عَلٰی اٰلِ بَیْتِکَ هٰذَا یَوْمُ الْجُمُعَةِ وَهُوَ یَوْمُکَ الْمُتَوَقَّعُ فِیْهِ ظُهُوْرُکَ وَ الْفَرَجُ فِیْهِ لِلْمُومِنِیْنَ عَلٰی یَدَیْکَ وَ قَتْلُ الْکٰفِرِیْنَ بِسَیْفِکَ وَ اَنَا یَا مَوْلَایَ فِیْهِ ضَیْفُکَ وَ جَارُکَ وَ اَنْتَ یَا مَوْلَایَ کَرِیْمٌ مِنْ اَوْلَادِ الْکِرَامِ وَ مَامُوْرٌ بِالضِّیَافَةِ وَ الْاِجَارَةِ فَاَضِفْنِیْ وَ اَجِرْنِیْ صَلَوَاتُ اللّٰهِ عَلَیْکَ وَ عَلٰی اَهْلِ بَیْتِکَ الطَّاهِرِیْنَ ۔ (یہ زیارت پڑھنے کے بعد جناب سید بن طاؤس علیہ الرحمہ مندرجہ ذیل شعر کے ذریعہ امام کی بارگاہ میں متوسل ہوتے تھے)
نَزِیْلُکَ حَیْثُ مَا اتَّجَهَتْ رِکَابِیْ
وَ ضَیْفُکَ حَیْثُ کُنْتُ مِنَ الْبِلَادِ
جہاں بھی میری سواری جائے آپ ہی کے پاس وارد ہوں گا، اور جس شہر میں بھی رہوں گا آپ ہی کا مہمان رہوں گا۔
حضرت مہدی علیہ السلام
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنٰا تَوْفیقَ الطّٰاعَةِ وَبُعْدَ الْمَعْصِیَةِ وَ صِدْقَ النِّیَّةِ وَعِرْفٰانَ الْحُرْمَةِ وَاَکْرِمْنٰا بِالْهُدٰی وَالْاِسْتِقٰامَةِ وَسَدِّدْ اَلْسِنَتَنٰا بِالصَّوَابِ وَ الْحِکْمَةِ وَامْلَاْ قُلُوْبَنٰا بِالْعِلْمِ وَالْمَعْرِفَةِ وَطَهِّرْ بُطُوْنَنٰا مِنَ الْحَراٰمِ وَالشُّبْهَةِ وَاکْفُفْ اَیْدِیَنٰا عَنِ الظُّلْمِ وَ السَرِقَةِ وَاغْضُضْ اَبْصٰارَنٰا عَنِ الْفُجُوْرِ وَ الْخِیٰانَةِ وَاسْدُدْ اَسْمٰاعَنٰا عَنِ الّلَغْوِ وَالْغِیْبَةِ وَتَفَضَّلْ عَلٰی عُلَمٰآئِنَا بِالزُّهْدِ وَالنَّصِیْحَةِ وَعَلَی الْمُتَعَلِّمینَ بِالْجُهْدِ وَالرَّغْبَةِ وَعَلَی الْمُسْتَمِعینَ بِالْاِتِّبٰاعِ وَالْمَوْعِظَةِ وَعَلٰی مَرْضَی الْمُسْلِمِیْنَ بِالشِّفٰآءِ وَالرّٰاحَةِ وَعَلٰی مَوْتٰاهُمْ بِالرَّاْفَةِ وَ الرَّحْمَةِ وَعَلٰی مَشٰایِخِنٰا بِالْوَقٰارِ وَالسَّکیْنَةِ وَعَلٰی الشَّبٰابِ بِالْأِنٰابَةِ وَالتَّوْبَةِ وَ عَلَی النِّسَآءِ بِالْحَیٰآءِ وَالْعِفَّةِ وَعَلَی الْاَغْنِیٰآءِ بِالتَّوٰاضُعِ وَالسِّعَةِ وَعَلیَ الْفُقَرٰآءِ بِالصَّبْرِ وَالْقَنٰاعَةِ وَعَلَی الْغُزٰاةِ بِالنَّصْرِ وَالْغَلَبَةِ وَعَلَی الْاُسَرٰآءِ بِالْخَلاَصِ وَالرّٰاحَةِ وَعَلَی الْاُمَرٰآءِ بِالْعَدْلِ وَالشَّفَقَةِ وَعَلَی الرَّعِیَّةِ بِالْاِنْصٰافِ وَحُسْنِ السِّیْرَةِ وَ بَارِکْ لِلْحُجّٰاجِ وَ الزُّوّٰارِ فِی الزّٰادِ وَ النَّفَقَةِ وَاقْضِ مٰآ اَوْجَبْتَ عَلَیْهِمْ مِنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ بِفَضْلِکَ وَ رَحْمَتِکَ یٰآ اَرْحَمَ الرّٰاحِمینَ
فہرست
مقدمہ ۵
نقش زندگانی حضرت صاحب الامر عجل الله فرجہ الشریف ۶
فرائض دور ِ غیبت ۱۶
۱ ۔ محزون و رنجیدہ رہنا: ۔ ۱۶
۲ ۔ انتظار ِ حکومت و سکونِ آل محمد :۔ ۱۷
۳ ۔ امام کے وجود ِ مبارک کی حفاظت کے لیے بارگاہِ احدیت میں دست بدعا رہنا:۔ ۱۸
۴ ۔ امام کی سلامتی کے لیے صدقہ نکالنا :۔ ۱۸
۵ ۔ امام عصر کی طرف سے حج کرنا یا دوسروں کو حج نیابت کے لیے بھیجنا :۔ ۱۹
۶ ۔ امام عصر کا اسم گرامی آنے پر قیام کرنا :۔ ۱۹
۷ ۔ دور غیبت میں حفاظت دین و ایمان کے لیے دعا کرتے رہنا :۔ ۱۹
۸ ۔ امام زمانہ سے مصائب و بلیات کے موقع پر استغاثہ کرنا :۔ ۲۰
مَنْ اَنْکَرَ خُرُوْجَ الْمَھْدِیْ ۲۱
علامات ِ ظہور ۲۵
۱ ۔ خروج دجّال ۲۶
۲ ۔ نداءِ آسمانی ۲۶
۳ ۔ خروج سفیانی ۲۷
۴ ۔ قتل نفس زکیہ ۲۸
۵ ۔ خروج سید حسنی ۲۸
غیر حتمی علامات ۲۹
خصائص و امتیازات امام عصر ۳۱
نواب ِاربعہ ۳۵
۱ ۔ عثمان بن سعید عمروی ۳۵
۲ ۔ محمد بن عثمان بن سعید عمروی ۳۶
۳ ۔ جناب حسین بن روح ۳۷
۴ ۔ ابو الحسن علی بن محمد سمری ۳۸
زمانہ غیبت ِ کبریٰ کے روابط ۴۰
زائرین قائم آل محمد ۴۳
خطوط و رسائل ۵۰
مسئلہ طول حیات ۵۲
روایات و اعترافات ۵۳
خصوصیات حکومت ِ امام عصر ۵۵
امام عصر اور سلام، دعا، نماز، زیارت، استغاثہ، طریقہ زیارت و ملاقات ۵۸
سلام ۵۸
دعا ۵۸
نماز ۵۹
استغاثہ ۵۹
نسخہ شفا ۶۰
زیارت ۶۰
حضرت امام عصر علیہ السلام کی بارگاہ میں استغاثہ ۶۱
زیارت حضرت امام زمانہ علیہ السلام روز جمعہ ۶۱
حضرت مہدی علیہ السلام ۶۲