یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے
بسمہ تعالی
نام کتاب:.............اہل بیت ،نجات کی کشتی (اہل سنت کی نظر میں)
مولف................محمد باقر مقدسی
کمپوزنگ وترتیب:.............محمدحسن جوہری
تصحیح و نظر ثانی:.............سید محمد رضوی
بسم اللہ الرّحمن الرّحیم
انتساب
اپنے شفیق اور مہربان والدین کے نام
حرف آغاز
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ذات باری تعالیٰ کا صدق دل سے سپاس گزار ہوں کہ جس نے عاصی کو اہل بیت کی شان میں قلم اٹھانے کی توفیق عطا فرمائی۔
صرف وہی ذات ہے جس نے بشر کی خلقت کے ساتھ، بشر ہی کی ہدایت کےلئے ایک معصوم ہستی کو ایک مکمل ضابطہ حیات پر مشتمل دستور العمل کے ساتھ خلق فرمایا تاکہ بشر کی مادی اور معنوی زندگی مفلوج ہونے نہ پائے،اور اس سلسلے کو کائنات کی خلقت سے لے کر قیامت تک باقی رکھا تاکہ بشر سعادت مادی ومعنوی اور تکامل و ترقی کی منازل طے کرکے معبود حقیقی کی معرفت اور شناخت حاصل کرسکے،وہ خالق یکتا،وہ رازق منان ہے کہ جس نے بشر کی فلاح و بہبود ی کےلئے ہر قسم کی نعمتوں کو خلق فرمایا،وہ ذات ایسی ذات ہے کہ جس نے اپنی رحمت کو( انّ رحمتی وسعت کلّ شیئ ) کی شکل میں پوری مخلوقات خواہ انسان ہوں یا غیر انسان،مسلمان ہوں یا غیر مسلمان سب کےلئے مہیا کر رکھا ہے اور ساتھ ہی ہدایت اور تکامل و ترقی کے راستوں کو بھی بخوبی روشن فرمایا( انّا هدیناه السبیل امّا شاکراً و امّا کفوراً ) ۔
نیز اسی ذات ہی نے ہدایت کو دو حصوں میں تقسیم کرکے ہدایت تکوینی کو ہر شے کی طبیعت میں ودیعہ فرمایا،جبکہ ہدایت تشریعی کی ذمہ داری کو بشر میں سے انبیاء و اوصیاء کے کندھوں پر رکھی۔یہ انسان کی عظمت اور فوقیت کی بہترین دلیل ہے۔اور اسی ہدایت تشریعی کا نتیجہ ہے جو آج بشر انفرادی و اجتماعی،ثقافتی،سیاسی، علمی اور اعتقادی امور میں دیگر حیوانات کی مانند نظرنہیں آتا،بلکہ انسان احساس کرتاہے کہ اس کی زندگی کے پورے لمحات کو مکمل اصول و ضوابط سے ہم آہنگ ہونے کی ضرورت ہے۔
لہٰذا ہر انسان فطرتاً اصول و ضوابط اور قانون کی ضرورت کو بخوبی محسوس کرتاہے اور اصول و ضوابط کے بغیر زندگی مفلوج ہونے کا اعتراف،ہر بشر کی فطرت اور انسانیت واضح الفاظ میں بیان کرتی ہیں۔تب ہی تو آج اس مادی عالم میں ہر انسان کسی نہ کسی نظام کے پابند رہنے کوضروری سمجھتا ہے۔اگرچہ تاریخ بشریت میں ایسے بہت سارے افراد کا بھی مشاہدہ کیا جاسکتا ہے جنہوں نے نظام اسلام کے مقابلے میں طرح طرح کے قوانین اور نظاموں کو ایجاد کرکے بزور بازو بشر پر مسلط کرنے کی کوشش کی ہے ۔ کبھی مارکسزم کی شکل میں،کبھی سوشلزم اور کبھی کمیونزم وغیرہ کی شکل میں اسلام کے مقابلے میں بشر کے ہاتھوں ایجاد کردہ نظاموں کو نافذ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو صرف انسانی خواہشات پر مشتمل ہے ، اسی لئے بہت ساری جانی و مالی قربانیوںاوربرسوں کوشش و تلاش کے باوجود ایسے نظاموں کو فروغ نہیں ملا ۔جبکہ نظام اسلام وہ واحد نظام ہے جس کے اصول و ضوابط میںنہ آج تک کوئی تبدیلی آئی ہے اور نہ ہی قیامت تک کوئی تبدیلی آئے گی،کیونکہ نظام اسلام میںدو ایسی خصوصیتیں پائی جاتی ہیں جو دوسرے نظاموں میں نہیں ہے:
۱)نظام اسلام کا بانی وہ ذات ہے جو بشر کے مفادات و مفاسد سے بخوبی آگاہ ہے اور یہ نظام انسان کی فطرت اور عقل کے عین مطابق ہے،جبکہ باقی نظریات صرف چند افراد کے خواہشات اور طبیعت کے مطابق ہیں۔
۲) نظام اسلام کے مبلّغین اور ترویج کرنے والے بھی ایسی ہستیاں ہیں جو مکمل طور پر اس نظام سے آگاہی رکھنے کے ساتھ ساتھ اس کے عامل بھی تھے جبکہ دوسرے نظاموں کے مبلّغین نہ صرف نظام کے خدوخال سے واقف نہیں تھے بلکہ اکثراپنے نظام کے قوانین توڑنے والے ہوتے تھے۔
لہٰذا ہزاروں نظریات و قوانین ایجاد کرنے کے باوجود آج تک کسی نظام کو نظام اسلام کی مانند استقرار اور دوا م حاصل نہیں ہوا۔اسی لئے بشر پر دوبڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں:
۱)اللہ کی معرفت اور شناخت،جس نے ہماری سعادت کےلئے ہماری خلقت کے ساتھ نظام کو بھی تیار فرمایا۔
۲)اس نظام کی تبلیغ و ترویج کرنے والی ہستیوں کی معرفت،جنہوں نے قسم قسم کی تکلیفیں اٹھا کر ہم تک اس نظام کو پہونچادیا،یعنی پیغمبر اکرم (ص)اور ان کے اہل بیت ۔جس طرح اللہ کی معرفت ہم پر فرض ہے اسی طرح اہل بیت کی معرفت اور شناخت بھی ہم پر فرض ہے،اگرچہ عاصی کی زبان ایسی ہستیوں کی توصیف و تعریف کرنے سے قاصر ہے،عاصی کس زبان سے ان کی تعریف کرسکتاہے جبکہ خود اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی شان میں کبھی:( انّک لعلیٰ خلق عظیم کبهیانما ولیکم الله و رسوله.... ) کبھی( وما ینطق عن الهویٰ.... ) کبھی( انما یرید الله لیذهب عنکم الرجس... ) میںاہل بیت کی عظمت بیان فرمایاہے،نیزجب خدا ان کی سچائی کا اعلان کرنا چاہتا ہے تو''کونوا مع الصادقین'' اور جب مادی دنیا سے الفت نہ ہونے کی گواہی دینا چاہتاہے تو( قل لا اسئلکم علیه اجراً الا المودة فی القربیٰ ) کی سند دے کر یہ واضح کرنا چاہتا ہے کہ ہمارے بھیجے ہوئے افراد ہی ہمارے اصول اور قوانین کے پابند ہیں۔
لہٰذا فرشتے اور ملائکہ بھی ان کی توصیف اور تعریف کرنے سے اظہار عجز و ناتوانی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لہٰذاایک ناقص انسان،انسان کامل کی تعریف و توصیف کیسے کرسکتا ہے اور کیسے معقول ہے کہ جس کا وجود ہر حوالے سے کامل ہو اس کی تعریف وہ انسان کرے جس کا وجود علم و آگاہی۔شرافت و عظمت کے حوالے سے ایک دم عاری ہو۔ان حضرات کے حقائق تک رسائی پیدا کرنا چاہے جن کی شان میں رحمۃ للعالمین کبھی'' مثل اهل بیتی کمثل سفینة نوح'' اور کبھی ''مصباح الہدیٰ'' اور کبھی''لو اجتمع الناس علیٰ حب علی ابن ابی طالب لما خلق الله النار ''سے تعبیر کرتے ہیں۔لہٰذا بشر کواہل بیت کی عظمت اور حقانیت کے متعلق غور اور ان کی ولایت و سرپرستی کوتہہ دل سے تسلیم کرنا چاہے۔
فضائل اہل بیت بیان کرنا ایک عادی اور عام انسان کی قدرت سے بالا تر ہے۔ لیکن محبت ایک ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے محبوب کی تعریف کرنے سے قاصر انسان کی بھی زبان کھل جاتی ہے،بقول شاعر:
رحمت نے تری یارب رتبہ یہ مجھے بخشا
پھولوں میں تُل رہے ہیں کانٹے مری زباں کے
اولاً:مداحان محمد(ص)و آل محمد کی صف میں شاید عاصی کا نام بھی درج ہو۔
ثانیاً: دور حاضر کے مختلف توہمات اور اعتراضات کے پیش نظر اہل بیت کی شان میں ایک کتاب قارئین محترم کی خدمت میں'' اہل بیت نجات کی کشتی (اہل سنّت کی نظرمیں)''کے عنوان سے پیش کرنااپنی شرعی ذمہ داری سمجھتا ہوں تاکہ مسلمانوں کے مابین یکجہتی اور اتحاد قائم ہو۔اگرچہ کما حقہ ان کے فضائل کو بیان کرنا عاصی کی گنجائش سے خارج ہے لیکن اس دور میں اسلامی افکار اور معارف اسلامی سے معاشرے کی آبیاری کرنا علماء اور ہر طالب علموں پر فرض ہے لھذا عاصی نے کسی غرض مادی ومقام ومنزلت دنیوی کے بغیر آنے والے عناوین کی وضاحت اہل بیت کی شان میں اھل سنت کی کتابوں سے آیات اور احادیث کی روشنی میں کی ہے تاکہ یہ اپنی ذمہ داری کی ادائیگی روز قیامت کی ہولناک سختیوں سے نجات اور دنیا وآخرت کی سعادت کا باعث بنے۔
رب العزت سے اہل بیت کے صدقے میںاس ناچیز خدمت کو قبول اور اس کو ہماری دنیا و آخرت کےلئے باعث سعادت قرار دینے کی دعا ہے۔ اللہ ہم سب کو اہل بیت کی سیرت پر چلنے کی توفیق دے،اہل بیت کی معرفت اور شناخت سے محروم نہ فرمائے اورہمیشہ ان سے متمسک رہنے کی توفیق عطا فرمائے
۔(آمین)
الاحقر
محمد باقر مقدسی ہلال آبادی
حوزہ علمیہ قم
پہلی فصل
اہل بیت کی عظمت قرآن کی روشنی میں
بہت ہی اختصار کے ساتھ اہل بیت کی شان میں کچھ آیات کریمہ کو اہل سنت کی معتبر تفاسیر سے نقل کرتاہوں،امید ہے کہ قارئین محترم مذکورہ آیات کے متعلق سنی مفسرین کی نظر اور کتب کی طرف مراجعہ کرکے آل محمد کی سیرت اور حقانیت کو پورے عالم میں پھیلانا اپنی ذمہ داری سمجھیںگے،تاکہ اس صدی کے لوگ زیادہ سے زیادہ ان کی حقانیت پر ایمان اور یقین پیدا کرسکیں۔
تفصیلی گفتگو نہ سہی،لیکن اپنی ذمہ داری ادا کرنے کی خاطر ایک اجمالی خاکہ اور تصور اہل بیت کے بارے میں آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں ۔
اہل بیت کے بارے میں اہل سنت کے مفسرین نے اپنی تفاسیر میں دو قسم کی آیات بیان کی ہیں:
۱)بعض آیات میں تمام اہل بیت کے فضائل و مناقب بیان ہوئے ہیں۔
۲)بعض آیات میں اہل بیت میں سے ہر ایک کی فضیلت کو الگ الگ بیان کیا گیا ہے۔لہٰذا ہم سب سے پہلے ان آیات کی طرف اشارہ کریں گے جن میں تمام اہل بیت و عترت کی فضیلت بیان ہوئی ہے:
۱)اہل بیت کی دوستی میں نیکیوں کا دس گنا ثواب
خدا نے فرمایا:( من جاء بالحسنة فله عشرامثالها ومن جاء بالسیئة فلا یجزی الّا مثلها وهم لا یظلمون ) (۱)
جو شخص خدا کے پاس ایک نیکی لے کر آیااسے اس کا دس گنا ثواب عطا ہوگا اور جو شخص بدی لے کر آئے گا تو اس کی سزا اس کو بس اتنی دی جائے گی اوران پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
تفسیر آیہ:
اگرچہ اس آیت کریمہ کی تفسیر کے متعلق شیعہ و سنی کی کتابوں میںکئی روایات کو ذکر کیا گیا ہے لیکن ان کے بارے میں مرحوم علامہ سیّدمحمّدحسین طبا طبائی (رح) مفسر قرآن اور عارف زمان نے فرمایا:
''هناک روایات کثیرة فی معنی قوله:من جاء بالحسنة.....رواها الفریقان واوردوها فی تفسیر الآیة غیر انها
____________________
( ۱ ) .انعام/۱٦ ۰
واردة فی تشخیص المصادیق من صلوة.........'' ( ۱ ) یعنی اس آیت کریمہ کی تفسیر کے بارے میں فریقین نے کئی روایات نقل کی ہیں لیکن ساری روایات آیت کے مصادیق کی تشخیص جو صوم و صلوۃ وغیرہ
ہیں کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
لیکن جناب فرمان علی نے اپنے ترجمہ قرآن میں ایک روایت نقل کی ہے جس کایہاں ذکر کرنا زیادہ مناسب ہے:
''حضرت علی (ع)نے فرمایا:الحسنة حبّنا اهل البیت و السیئة بغضنا من جاء بهااکبّ الله علی وجهه فی النار ( ۲ )
نیکی سے مراد ہم اہل بیت کی دوستی اور بدی سے ہم سے کی جانے والی دشمنی ہے،لہٰذا جو شخص ہم سے دشمنی رکھے گا خدا اسے منہ کے بل جہنم میں جھونک دے گا۔
مذکورہ روایت کی بنا پرآیت سے اہل بیت کی عظمت اور فضیلت واضح ہوجاتی ہے کہ ان کی محبت اور دوستی میں انجام دی ہوئی نیکیوں کا اجر و ثواب ان کی دوستی اور محبت کے بغیر انجام دی ہوئی نیکیوں کے اجر و ثواب سے کافی فرق رکھتا
____________________
( ۱ ) ۔المیزان ج ۷ ص۳ ۹ ۲
( ۲ ) ۔ترجمہ فرمان علی ( رح ) حاشیہ ۳ ص٦ ۰ ۵
ہے،اگرچہ نیکیوں کی نوعیت کمیت و کیفیت کے حوالے سے ایک ہی کیوں نہ ہواسی لئے کچھ مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ اہل بیت کی محبت و دوستی کے بغیر کوئی بھی نیکی خدا کے یہاں قابل قبول نہیں ہے لیکن اگر کسی کا عقیدہ یہ ہو کہ اہل بیت کی محبت و دوستی کے بغیر بھی خدا ہر نیکی کو قبول فرماتا ہے تواس کا ثواب یقیناکم ہے۔
۲)اہل بیت کے واسطے خدا،عذاب نازل نہیں کرتا
( وما کان اللّٰه لیعذّبهم وانت فیهم وما کان اللّٰه معذّبهم وهم یستغفرون ) ( ۱ )
خدا ان پر اس وقت تک عذاب (نازل)نہ کرے گا جب تک پیغمبر (ص)ان کے درمیان ہیں اورخدا ایسا بھی نہیں ہے کہ لوگ اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہے ہوں اور وہ ان پر عذاب نازل کرے۔
تفسیر آیہ:
علامہ ابن حجر مکّی نے صواعق محرقہ نامی کتاب کواہل تشیع اور امامیہ مذہب کے عقائد کوباطل قرار دینے اور ان کی رد میں لکھی ہے۔لیکن اس کے باوجود علامہ فرمان علی (رح) نے اس آیت کی تفسیر میں صواعق محرقہ سے ایک روایت نقل کرتے ہوئے لکھا ہے:
____________________
( ۱ ) ۔انفال/۳۳
ابن حجر مکّی نے اس آیت کو فضائل اہل بیت بیان کرنے والی آیات میں شمارہ کیا ہے،چنانچہ لکھا ہے کہ حضرت رسول خدا ؐنے اس مطلب کی طرف اس طرح اشارہ فرمایا ہے کہ جس طرح میں اہل زمین کی پناہ کا باعث ہوں اسی طرح میرے اہل بیت بھی ان کے امان اور عذاب الہٰی سے محفوظ رہنے کا ذریعہ ہیں( ۱ )
ایسے متعصب دانشوروں کے ہاتھوں اہل بیت کی حقانیت بیان کرنے والی روایت کا درج ہونا ایک معجزہ ہے۔چنانچہ اس مطلب کو استاد محترم حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ وحید خراسانی مد ظلہ العالی نے دوران درس حضرت امیر المومنین(ع)کی ولادت کی مناسبت سے ان کے فضائل کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے کہا کہ معجزہ اس کو کہا جاتا ہے جو ہمارے مذہب کی ردّ میں لکھی ہوئی کتاب میں ہی ہماری حقانیت ثابت کرنے والی روایات منقول ہوں۔( ۲ )
۳)اہل بیت درخت طوبیٰ کے مصداق ہیں
( الذین آمنوا وعملوالصٰلحٰت طوبی لهم و حسن مآب ) ( ۳ )
''جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور اچھے کام انجام دیئے ان کے واسطے
____________________
( ۱ ) ۔صواعق محرقہ نقل از ترجمہ قرآن،فرمان علی ( رح ) حاشیہ۳،ص۲۴۵
( ۲ ) ۔مسجد اعظم ،سال۱۳ ۸۰ ھ ش ( ۲ ۰۰ ۱ئ ) ۔
( ۳ ) ۔الرعد /۲ ۹ ۔
(بہشت میں)طوبی، خوشحالی اور اچھا انجام ہے۔''
تفسیر آیہ:
ثعالبی نے جو اہل سنت کے معروف ومشہور علماء میں شمار کئے جاتے ہیں اپنی سند کے ساتھ کلبی سے، کلبی نے ابی صالح سے وہ ابن عباس (رض)سے روایت کرتے ہیں:
طوبیٰ شجرة اصلها فی دار علی فی الجنة و فی دار کل مومن فیها غصن ( ۱ )
طوبی جنت میں ایک درخت کا نام ہے جس کی جڑیں جنت میں حضرت علی (ع)کے گھر میں ہیں اور اس کی شاخیں جنت میں ہر مومن کے گھروں میں پھیلی ہوئی ہیں۔
ابن خاتم نے ابن سیرین سے روایت کی ہے کہ طوبی ایک جنت کے درخت کا نام ہے جس کی جڑیں علی ابن ابی طالب (ع)کے گھر میں ہیں اور جنت میں کوئی ایسا گھر نہیں ہے جس میں اس درخت کی شاخوں میں سے ایک شاخ نہ ہو۔( ۲ ) نیز ابن ابی خاتم نے فرقد سنجی سے روایت کی ہے کہ خدا نے انجیل میں
____________________
( ۱ ) ۔المیزان ج ۱۱ ص۳٦ ۹ ،در منثورج ۴ص۳۱۳
( ۲ ) ۔در منثور ج ۴ص۳۲۱
حضرت عیسیٰ (ع)کے پاس وحی بھیجی کہ اے عیسیٰ (ع)میرے امور میں سعی کرو اور لغو نہ سمجھو اور میری بات سنو،میرا کہنا مانو،اے فرزندبتول میں نے تم کو بغیر باپ کے پیدا کیا اور تم کو اور تمہاری ماں کو سارے جہاں کےلئے اپنی قدرت کی نشانی بنائی ،تم میری عبادت کرو اور مجھ پر ہی بھروسہ رکھو اور میری کتاب کو مضبوطی سے تھام لو،اس وقت حضرت عیسیٰ (ع)نے عرض کیا :خدایا میں کون سی کتاب کو مضبوطی سے تھام لوں،حکم ہوا انجیل کو مضبوطی سے تھام لو،اورسر یانیہ والوں کے سامنے بیان کرو اور ان کو خبر دو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے،میں حیّ ہوں ،قیوم ہوں، بدیع ودائم ہوں،کبھی فنا نہیں ہوں گا،مجھ پراورمیرے حبیب پر جومیرے آخری رسو ل اور امّی ہیں، ایمان لاؤ اور اس کی تصدیق کرو اور اس نبی (ص)کی متابعت اور پیروی کرو جو اونٹ پر سوار ہوگا،بدن پر بال کے کپڑے،ہاتھ میں عصا اور سر پر تاج ہو گا اور اس کی آنکھیں بڑی بڑی ہونگی اور دونوں بھنویں ملی ہوئی ہونگی،صاحب کساء ہوگا،اس کی نسل اس مبارک خاتون سے پھیلے گی جس کا نام خدیجہ(س) ہوگا،اس خاتون کے واسطے خدا نے موتیوں کا محل بنوایا ہے جس میں سونے کا کام کیا ہوا ہے، اس میں نہ کوئی تکلیف ہوگی اور نہ رنج،ا(بہشت میں)طوبی، خوشحالی اور اچھا انجام ہے۔''
تفسیر آیہ:
ثعالبی نے جو اہل سنت کے معروف ومشہور علماء میں شمار کئے جاتے ہیں اپنی سند کے ساتھ کلبی سے، کلبی نے ابی صالح سے وہ ابن عباس (رض)سے روایت کرتے ہیں:
طوبیٰ شجرة اصلها فی دار علی فی الجنة و فی دار کل مومن فیها غصن ( ۱ )
طوبی جنت میں ایک درخت کا نام ہے جس کی جڑیں جنت میں حضرت علی (ع)کے گھر میں ہیں اور اس کی شاخیں جنت میں ہر مومن کے گھروں میں پھیلی ہوئی ہیں۔
ابن خاتم نے ابن سیرین سے روایت کی ہے کہ طوبی ایک جنت کے درخت کا نام ہے جس کی جڑیں علی ابن ابی طالب (ع)کے گھر میں ہیں اور جنت میں کوئی ایسا گھر نہیں ہے جس میں اس درخت کی شاخوں میں سے ایک شاخ نہ ہو۔( ۲ ) نیز ابن ابی خاتم نے فرقد سنجی سے روایت کی ہے کہ خدا نے انجیل میں
____________________
( ۱ ) ۔المیزان ج ۱۱ ص۳٦ ۹ ،در منثورج ۴ص۳۱۳
( ۲ ) ۔در منثور ج ۴ص۳۲۱
حضرت عیسیٰ (ع)کے پاس وحی بھیجی کہ اے عیسیٰ (ع)میرے امور میں سعی کرو اور لغو نہ سمجھو اور میری بات سنو،میرا کہنا مانو،اے فرزندبتول میں نے تم کو بغیر باپ کے پیدا کیا اور تم کو اور تمہاری ماں کو سارے جہاں کےلئے اپنی قدرت کی نشانی بنائی ،تم میری عبادت کرو اور مجھ پر ہی بھروسہ رکھو اور میری کتاب کو مضبوطی سے تھام لو،اس وقت حضرت عیسیٰ (ع)نے عرض کیا :خدایا میں کون سی کتاب کو مضبوطی سے تھام لوں،حکم ہوا انجیل کو مضبوطی سے تھام لو،اورسر یانیہ والوں کے سامنے بیان کرو اور ان کو خبر دو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے،میں حیّ ہوں ،قیوم ہوں، بدیع ودائم ہوں،کبھی فنا نہیں ہوں گا،مجھ پراورمیرے حبیب پر جومیرے آخری رسو ل اور امّی ہیں، ایمان لاؤ اور اس کی تصدیق کرو اور اس نبی (ص)کی متابعت اور پیروی کرو جو اونٹ پر سوار ہوگا،بدن پر بال کے کپڑے،ہاتھ میں عصا اور سر پر تاج ہو گا اور اس کی آنکھیں بڑی بڑی ہونگی اور دونوں بھنویں ملی ہوئی ہونگی،صاحب کساء ہوگا،اس کی نسل اس مبارک خاتون سے پھیلے گی جس کا نام خدیجہ(س) ہوگا،اس خاتون کے واسطے خدا نے موتیوں کا محل بنوایا ہے جس میں سونے کا کام کیا ہوا ہے، اس میں نہ کوئی تکلیف ہوگی اور نہ رنج،اس کی ایک بیٹی ہوگی جس کا نام فاطمہ (س)ہوگا اور اس کے دو بیٹے ہونگے(حسن و حسین (ع))جو شہید کردیئے جاینگے۔جو شخص اس نبی (ص)کے زمانے میں موجود ہو اوراس کی باتیں سنے اس کےلئے طوبیٰ ہے۔
حضرت عیسیٰ (ع)نے عرض کیا کہ طوبی ٰکیا ہے؟حکم ہوا :طوبیٰ بہشت کا ایک درخت ہے جس کو میں نے اپنی قدرت واسعہ سے بویا ہے اور میرے فرشتوں نے اسے قائم رکھا ہے، اس کی جڑیںرضوان میںہے اور اس کا پانی تسنیم ہے ۔( ۱ )
در منثور( ۲) میں تفسیر ثعالبی سے بہت ساری روایات کواس آیت کی تفسیر میں نقل کیا گیا ہے جن کا خلاصہ یہ ہے کہ طوبیٰ سے جنت کا ایک درخت مراد ہے جو خدا نے اہل بیت کےلئے بویا ہے جس کی برکت سے قیامت کے دن مومنین کی شفاعت ہوگی ور ان کے گناہوں کو معاف کیا جائے گا ،جس کی نگہداری کےلئے خدا نے اپنی مخلوقات میں سے امین ترین مخلوق کو جو فرشتے ہیں مقرر کیا ہے اور قیامت کے دن ہر مومن کےلئے اس درخت کی ضرورت ہوگی۔
۴) اہل بیت حقانیت ثابت کرنے کےلئے بہترین وسیلہہیں
چاہے نبی(ص) اور امام(ع) کی حقانیت کا اثبات ہو یا کسی اور مسئلہ کی حقانیت کا ثبوت اس کے لئے بہترین دلیل اہل بیت ہیں چنانچہ خدا نے حضر ت رسول اکرم (ص) کی حقانیت ثابت کرتے ہوئے فرمایا:
____________________
( ۱ ) ۔در منثور ج۴ ص۳۴۵
( ۲ ) ج۴ ص٦۴۵
( فَمَنْ حَآجَّكَ فِیهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءنَا وَأَبْنَاءكُمْ وَنِسَاءنَا وَنِسَاءكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَةَ اللّهِ عَلَى الْكَاذِبِینَ ) (۱)
پھرجب تمھارے پاس علم(قرآن)آیااس کے بعدبھی اگر تم سے کوئی نصرانی عیسی(ع)کے بارے میں لجاجت کرے تو کہو کہ ہم اپنے بیٹوں کو بلائں گے تم اپنے بیٹوۂبلاو ہم اپنی عورتوں کو بلائں گے تم اپنی عورتوں کو بلاو ہم اپنی جانوں کو بلائںگے تم اپنی جانوں کو بلاو پھر ہم سب مل کر(خدا کی بارگاہ میں )ھم دعا کرتے ہیں پھر جھوٹوں پر خدا کی لعنت ہو
تفسیر آیہ
آیہ کی شان نزول کے بارے میں فریقین کا اجماع ہے
کہ یہ آیہ پنجتن پاک(ع)کی شان میں نازل ہوئی ہے (ع)جیسا کی علامہ سیوطی نے اس آیہ کی شان نزول اس طرح بیان کیا ہے:جب عاقب اور سید اوردیگر نجران کے بزرگو ں پر مشتمل ایک وفد کو پیغمبر اکرم(ص)نے کئی دفعہ حضرت عیسی (ت) کے بارے میں سمجھایا لیکن ایک بھی نہیں سنا آخر کار رسول اکرم(ص) نے ان سے مباہلہ کرنے کاوعدہ فرمایاجس کے
____________________
(۱)آل عمران ۶۱
دوران آنحضرت (ص)انفسنا کی جگہ حضرت علی (ع)ابنائنا کی جگہ حسنین +اور نسائنا کی جگہ حضرت فاطمہ زہرا(س) کو لے کر میدان میں نکلے،اس وقت یہ آیت
شریفہ نازل ہوئی۔چنانچہ جابر سے یوں روایت کی گئی ہے:
فیهم نزلت، انفسنا و انفسکم رسول الله وعلی وابنائنا الحسن والحسین ونسائنا فاطمة ( ۱ ) آیت شریفہ اہل بیت کی شان میں نازل ہوئی ہے،انفسنا سے پیغمبر اکرم (ص) اور حضرت علی (ع)،ابنائنا سے امام حسن و حسین (ع) جبکہ نسائنا سے حضرت فاطمہ زہرا (س)مراد ہے۔
نیز آیت کی شان نزول کے متعلق تفسیر بیضاوی اور شواہد التنزیل میں کئی روایات نقل ہوئی ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے :
آیت شریفہ اہل بیت کی شان میں نازل ہوئی ہے جس میں کسی قسم کی تردید اور شک کی گنجائش نہیں ہے۔لہٰذا اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف چند
ا یک روایات کی طرف اشارہ کرتے ہیں،( ۲ )
نوٹ:آیت مباہلہ میں مذکورہ تفسیر کی بناء پر پنجتن پاک کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔پہلی آیت میں حضرت امیر(ع)کی فضیلت کو بیان کیا گیا
____________________
( ۱ ) ۔درمنثور ج ۲ ص۲۳۱،دار الفکربیروت
( ۲ ) مزید تفصیلات کےلئے تفسیر بیضاوی اور شواہد التنزیل ( مجلد ۱ص۱۲ ۰ ۔۱۲ ۹ ) کامطالعہ کریں
ہے،دوسری آیت میں حضرت رسول (ص)کی فضیلت اور عظمت بیان ہوئی ہے لہٰذا مذکورہ آیات تما م اہل بیت کی عظمت اور فضیلت بیان کرنے کےلئے دلیل نہیں بن سکتیں۔لیکن انشاء اللہ وہ روایات بھی بیان کریں گے جن میں تمام اہل بیت کی عظمت بیان ہوئی ہے اور مذکورہ آیات سے بھی تمام اہل بیت کی فضیلت کو کچھ روایات اور تفاسیرکی بناء پر ثابت کیا جاسکتا ہے ۔لہٰذا تفاسیر کی کتابوں کی طرف مراجعہ کریں۔
۵)اہل بیت تمام عالم سے افضل ہیں
( ان الله اصطفیٰ آدم و نوحاً وآل ابراهیم و آل عمران علیٰ العٰلمین ) ( ۱ )
''بے شک خدا نے آد م (ع)ونوح (ع)اور خاندان ابراہیم (ع)و خاندان عمران (ع)کو سارے جہاں سے منتخب کیا ہے۔''
تفسیر آیہ:
ابن عباس سے جلال الدین سیوطی نے درمنثور میں روایت کی ہے:
فی قوله و آل ابراهیم.....قال هم المومنون من آل ابراهیم و آل عمران و آل یٰس و آل محمد ( ۲ )
____________________
( ۱ ) ۔آل عمران/۳۱
( ۲ ) ۔در منثور،ج۲،ص۱ ۸۰
آیت سے ابراہیم(ع)، عمران ،یاسین اور حضرت محمد(ص) کے خاندان کے مومن مراد ہے۔
نیز روایت کی گئی ہے کہ مامون نے امام رضا (ع)سے پوچھا:
هل فضل الله العترة علیٰ سائر الناس فقال ابوالحسن انّ الله ابان فضل العترة علیٰ سائر الناس فی محکم کتابه فقال المأمون این ذالک فی کتاب الله؟فقال له الرضا علیه السلام :فی قوله ( انّ الله اصطفیٰ آدم و نوحاً و آل ابراهیم و آل عمران علیٰ العالمین ) ( ۱ )
کیاخدا نے تمام انسانوں پراہل بیت کو فضیلت دی ہے؟
امام (ع)نے فرمایا:ہاں خدا نے اپنی کتاب میں واضح طور پر اہل بیت کوتمام انسانوں سے افضل قرار دیا ہے۔
مامون نے عرض کیا:یا ابالحسن-!یہ بات خدا کی کتاب میں کہاں ہے؟
اس وقت امام علیہ السلام نے آیت انّ اللہ اصطفیٰ...کی تلاوت فرمائی۔
نوٹ:اگرچہ ہمارا مقصد اہل بیت کی فضیلت کو اہل سنت کی نظر میں بیان کرنا ہے لیکن مذکورہ روایت کو المیزان سے نقل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس
____________________
( ۱ ) ۔المیزان ج ۳ ص۱٦ ۸ ۔در منثور ج۲ص ۱ ۸ ۱۔
حدیث کے مضمون کی مانند بہت ساری روایات ہمارے برادران اہل سنت کی کتابوں میں موجود ہیں،( ۱ )
نیز امام محمد باقر (ع)سے روایت کی گئی ہے کہ:
انّه تلا هٰذه الآیة.......فقال نحن منهم و نحن بقیّة تلک العترة ( ۲ )
آپ- نے اس آیت کی تلاوت کے بعدفرمایا: ہم انہیں میں سے ہیں اور اہل بیت میں سے جو زندہ ہیں وہ ہم ہیں۔
تفسیر ثعالبی اور دیگر کتب تفاسیر میںاہل سنت کے بڑے مفسرین نے آل ابراہیم کی تفسیر کے بارے میں کئی روایات بیان کی ہیں جن سے بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ آل ابراہیم سے(جو تمام عالم سے افضل ہیں)اہل بیت رسول مراد ہیں۔لہٰذا مذکورہ تفسیر اور روایات کی رو سے کہہ سکتے ہیں کہ پورے عالم سے خدا نے اہل بیت رسول کو افضل قرار دیا ہے۔( ۳ )
٦)اہل بیت پریشانیوںسے نجات کا ذریعہ ہیں
____________________
( ۱ ) در منثور/ ج۲،شواہد التزیل ( ج ۱ص ۱۱ ۸) اور تفسیر ثعالبی وغیرہ کا مطالعہ فرمائیں۔
( ۲ ) ۔المیزان ج۳،ص۱٦ ۸ ۔در منثور ج۲ص۱ ۸ ۲۔
( ۳ ) در منثور اور شواہد التنزیل کا ضرور مطالعہ کریں
( الا بذکر الله تطمئنّ القلوب ) ( ۱ )
آگاہ ہو! خدا ہی کی یاد سے دلوں کو تسلی ملتی ہے
تفسیر آیہ:
خدا نے انسان کے بدن میں تین سو ساٹھ اعضاء ایک نظام کے ساتھ ودیعت فرمایا ہے۔لیکن ان اعضاء میں سے دل کو مرکزیت حاصل ہے۔لہٰذا سارے اعضاء و جوارح دل کے تابع ہیں اور شیطان بھی جب کسی مومن پر مسلط ہونا چاہتا ہے تو سب سے پہلے اس کے دل پر تسلط حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے جس کی طرف مولا امیر المومنین (ع)نے نہج البلاغہ کے کئی خطبوں میں اشارہ فرمایا ہے۔اور قرآن کریم میں خدا نے دل کو متعدد تعبیرات سے یاد فرمایا ہے کبھی صدر،کبھی قلب،کبھی قلوب.....جس سے اس کی اہمیت معلوم ہوجاتی ہے۔
ابن مردویہ نے حضرت علی (ع)سے روایت کی ہے:
انّ رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم لمّا نزلت هٰذه الآیة:الا بذکر الله.....قال ذالک من احبّ الله ورسوله واحب اهل بیتی صادقاً غیر کاذباً و احبّ المومنین شاهداً و غائباً الا بذکر الله یتحابون ( ۲ )
____________________
( ۱ ) سورئہ رعدآیہ ۲ ۸
( ۲ ) ۔،المیزان ج۱۱ ص۲٦ ۷ ۔در منثور ج۴،ص ۲۱۲۔
جب یہ آیت شریفہ نازل ہوئی تو پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا: اس سے مراد خدا اوراس کے رسول (ص)اور ان کے اہل بیت سے سچی دوستی رکھنے والے لوگ ہیں اور وہ لوگ، مومنین سے بھی ان کی موجودگی و عدم موجودگی میں محبت رکھتے ہیں،وہی لوگ ہیں جو خدا کی یاد میں ایک دوسرے سے دوستی کے خواہاں ہیں۔
تفسیر عیاشی میں ابن عباس (رض)سے روایت کی ہے:
انّه قال رسول الله الذین آمنوا و تطمئن قلوبهم یذکر الله الا بذکر الله تطمئن القلوب ثم قال اتدری یابن ام سلمة من هم؟قلت من هم یا رسول الله؟قال نحن اهل البیت و شیعتنا ( ۱ )
پیغمبر اکرم (ص)نے اس آیت کی تلاوت فرمائی پھر مجھ سے فرمایا :اے ام سلمہ کے فرزند کیا تم جانتے ہو کہ وہ کون ہیں،میں نے عرض کیا:یا رسول اللہ(ص)!وہ کون لوگ ہیں؟فرمایا:ہم اہل بیت اور ہمارے چاہنے والے ہیں۔
اس روایت اور تفسیر سے بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ دلوں کے اضطراب اور پریشانی سے نجات ملنے کا ذریعہ اہل بیت ہیں،کیونکہ اہل بیت کی سیرت اور حقیقت کو صحیح معنوں میں درک کرنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ وہ حضرات روحانی و نفسیاتی
____________________
( ۱ ) ۔المیزان ج۱۱ ص۳٦ ۷ کشاف ج۲ ص ۳۱۱۔
امراض اور اضطراب و پریشانی کو ختم کرنے والے طبیب ہیں یعنی روحانی امراض کے طبیب اہل بیت ہیں۔
۷)اہل بیت دنیا و آخرت میں سعادت کا ذریعہ ہیں
( وقولوا حطّة نغفرلکم خطٰیاکم و سنزید المحسنین ) ( ۱ )
''اور زبان سے حطہ(بخشش) کہتے رہو ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے اور ہم نیکی کرنے والوں کی نیکیاں بڑھا دیںگے۔''
تفسیر آیہ:
ابن ابی شیبہ نے علی ابن ابی طالب (ع)سے روایت کی ہے:
قال انّما مثلنا فی هٰذه الامة کسفینة نوح وکباب حطة فی بنی اسرائیل ( ۲ )
حضرت علی (ع)نے فرمایا:اس امت میں ہماری مثال نوح (ع)کی کشتی اور بنی اسرائیل میں باب حطہ کی ہے۔
یعنی امت مسلمہ کےلئے نجات اور سعادت کا ذریعہ دنیا و آخرت میں اہل بیت ہیں اور ان سے تمسک رکھنے سے دنیا میںوقار اور آخرت میں سعادت حاصل ہوگی ،کیونکہ خدا نے ان کوبشر کی سعادت اور نجات کےلئے خلق فرمایا ہے،لہٰذا
____________________
( ۱ ) ۔بقرۃ۵ ۸
( ۲ ) ۔در منثور ج ۱ ص۱ ۷ ۴
اگردنیا و آخرت میں سعادت ،اور ذلت و خواری سے نجات، نیکنام اور با بصیرت ہونے کے خواہاں ہیں تو ان کی سیرت پر چلنا چاہے۔
۸)اہل بیت سے رجوع کرنے کا حکم
( فاسئلوا اهل الذکر ان کنتم لا تعلمون ) ( ۱ )
''اگر تم خود نہیں جانتے ہو تو اہل الذکر (یعنی جاننے والوں)سے پوچھو۔''
تفسیر آیہ:
اخرج الثعلبی عن جابر بن عبدا لله قال:قال علی ابن ابی طالب علیه السلام: نحن اهل الذکر ( ۲ )
علامہ ثعالبی نے جابر بن عبد اللہ(ع)سے روایت کی ہے کہ جابر نے کہا :حضرت علی (ع)نے فرمایا :اہل الذکر سے ہم اہل بیت مراد ہیں۔
نیز جابر جعفی(ع)سے روایت کی ہے کہ آپ نے کہا:جب آیت ذکر نازل ہوئی تو حضرت علی (ع)نے فرمایا: اس سے ہم اہل بیت مراد ہیں۔( ۳ )
عن الحرث قال سألت علیاً عن هٰذه الآیة فاسئلوا اهل الذکر قال والله انا نحن اهل الذکر نحن اهل العلم و نحن معدن التاویل
____________________
( ۱ ) ۔نحل/۴۳
( ۲ ) ینابیع المودۃ،ج ۱ص۱۱ ۹ ط:الطبعۃٰ الثانیۃمکتبۃ العرفان بیروت صیدا
( ۳ ) ۔ینابیع المودۃص ۱۲ ۰
والتنزیل و قد سمعت رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم یقول انا مدینة العلم و علی بابها فمن اراد العلم فلیاته من بابه ( ۱ )
حرث (ع)سے روایت کی ہے:اس نے کہا: میں نے حضرت علی (ع)سے آیت ذکر کے بارے میں پوچھا تو آپ- نے فرمایا:خدا کی قسم اہل الذکر اور اہل العلم سے ہم اہل بیت مراد ہیں ہم ہی تنزیل اور تاویل کا سر چشمہ ہیں اور بے شک میں نے پیغمبر اسلام (ص)سے سنا ہے کہ آنحضرت (ص)نے فرمایا:میں علم کا شہر اور علی (ع)اس کا دروازہ ہے،پس جو علم کاخواہاں ہے اسے چاہے کہ وہ علم کے دروازے سے داخل ہو۔
اگر کوئی تعصب کی عینک اتار کر اس حدیث کے بارے میں غور کرے تو معلوم ہوگا کہ علم اور معرفت کی دو قسمیں ہیں:
(۱)حقیقی علم و معرفت،
(۲)اعتباری علم و معرفت۔
حقیقی علم و معرفت اس کو کہا جاتا ہے جو پیغمبر اسلام (ص)اور علی (ع)سے لیا گیاہو لہٰذا دنیا میں بہت سارے انسان اس طرح گذرے ہیں اور موجود ہیںجوکہ کسی موضوع سے متعلق برسوں تحقیق کرنے کے باوجودان کی عاقبت منفی
____________________
( ۱ ) ۔شواہد التنزیل ج۱ ص ۳۳۴حدیث۴۵ ۹
نظر آتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے علم و تحقیق کا سر چشمہ پیغمبر اسلام (ص) اورحضرت علی (ع)کو قرار نہیں دیا ہے۔
نیز معاویہ بن عمار ذہبی نے امام باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت کے بعد فرمایا:اہل الذکر سے ہم اہل بیت مراد ہیں( ۱ )
عجیب بات یہ ہے کہ ہم مسلمان ہونے کا دعوےٰ تو کرتے ہیں لیکن ایسی انسان ساز روایات کا مطالعہ نہیں کرتے، اگر ہم روایات نبوی(ص) کا مطالعہ کرتے تو آج روز مرّہ زندگی کے مسائل اور دنیا و آخرت سے متعلق مسائل کےلئے جاہلوں کی طرف رجوع نہ کرتے،بلکہ خدا نے جن سے سوال کرنے کا حکم دیا ہے ان سے سوال کرتے اور ان سے راہ حل حاصل کرتے۔آیت ذکر سے اہل بیت کا کائنات کے ہر مسئلہ سے باخبر ہونا معلوم ہوجاتا ہے،اور ہر مسئلے کا حل ان سے لینا،ان کی طرف رجوع کرنا ہماری شرعی ذمہ داری ہونے کا پتہ چلتا ہے۔
جن لوگوں نے ان سے رجوع کیا ہے اور ان سے ہر مشکل کا حل چاہا ہے آج فریقین کی کتابوں میںان کی تفصیل درج ہے اور اس کا نتیجہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔
____________________
( ۱ ) ۔فصول المہمہ نقل از ترجمہ فرمان علی ص۳ ۷ ۴
سعید بن جبیر نے پیغمبر اکرم (ص)سے روایت کی ہے کہ پیغمبر اکرم (ص)ؐنے فرمایا:
انّ الرجل یصلی ویصوم و یحج و یعتمر و انّه لمنافق قیل یا رسول الله ! لماذا دخل علیه النفاق؟قال:یطعن علیٰ امامه وامامة من قال الله فی کتابه فاسئلوا اهل الذکر ان کنتم لا تعلمون ( ۱ )
بے شک وہ شخص جو نماز پڑھتا ہے،روزہ رکھتاہے،حج و عمرہ بھی بجالاتا ہے لیکن وہ منافق ہے۔پوچھا گیا :یا رسول اللہ(ص)! ایسے شخص پر نفاق کیسے داخل ہوا؟ آپنے فرمایا:وہ اپنے امام کو طعنہ دیتا ہے اس وجہ سے اس میں نفاق داخل ہے جبکہ اس کا امام وہ ہستی ہے جس کا تذکرہ خدا نے اپنی کتاب میں( فاسئلوا اهل الذکر ان کنتم لا تعلمون ) سے کیا ہے۔
اس آیت کی تفسیر میں اہل سنت کی کتابوں میں بہت ساری روایات نبوی(ص)شان نزول اور توضیح آیت کے حوالے سے نقل ہوئی ہیں جن سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اہل الذکر سے مراد اہل بیت ہیں،اس کا مصداق امام وقت ہونے میں کسی قسم کی تردید اور شک و شبہہ کی گنجائش نہیں ہے۔( ۲ )
____________________
( ۱ ) در منثور ج۵ ص۱۲۳
( ۲ ) در منثور ج۵،ص۱۲۴۔
لہٰذا ہر مسلمان کو چاہے کہ وہ اپنی آخرت سنوارنے کی کوشش کرے اور اہل بیت سے متمسک ہو کر دنیا و آخرت دونوں کی سعادتوں سے فیض حاصل کرے۔
۹)اہل بیت ، ہدایت کا چراغ
( وانّی لغفّار لمن تاب و آمن و عمل صالحاً ثمّ اهتدیٰ ) ( ۱ )
''اور میں بہت زیادہ بخشنے والا ہوں اس شخص کےلئے جو توبہ کرے اور ایمان لے آئے اور نیک عمل کرے اور پھر راہ ہدایت پر ثابت قدم رہے۔''
تفسیر آیہ:
جمال الدین محمد بن یوسف الزرندی الحنفی نے آیت شریفہ کی تفسیر میں ایک روایت نقل کی ہے:
ثم اهتدیٰ ای ولایة اهل بیته ۔ یا دوسری روایت:ثم اہتدیٰ ولایتنا اہل البیتیا تیسری روایت:ثم اہتدیٰ حب آل محمدیعنی ثم اہتدیٰ سے ہم اہل بیت کی ولایت سے بہرہ مند ہونا مقصود ہے،یعنی ہدایت پانے والے وہی ہونگے جو ہماری ولایت اور سرپرستی کو مانے گا اور اہل سنت کے کئی مفسرین اور علماء نے ثم اہتدیٰ کی تفسیر میں بہت ساری روایات نقل کی ہیں۔( ۲ ) جن کا
____________________
( ۱ ) ۔طہ/ ۸ ۲
( ۲ ) المیزان ج ۱٦ص ۲۱۱ودرمنثور ج٦،ص ۳۲۱
خلاصہ یہ ہے کہ ولایت اہل بیت اور ان کی سرپرستی کے بغیر ہدایت پانے کا دعویٰ سراسر غلط ہے،کیونکہ خدا کی جانب سے جوحضرات ہدایت ہی کےلئے منصوب ہوئے ہیں ان کی رہنمائی اور نمائندگی کے بغیر ہدایت پانے کا تصور ہی صحیح نہیں ہے،چاہے ہدایت تشریعی ہو یا ہدایت تکوینی۔اگرچہ ہدایت تکوینی کو ہر بشر کی فطرت میں خدا نے ودیعت فرمایا ہے لیکن صرف ہدایت تکوینی بشر کےلئے کافی نہیں ہے اور آیت کریمہ میں ہدایت سے مراد یقیناً ہدایت تشریعی ہے،کیونکہ خدا نے توبہ کرنے والے اور ایمان لے آنے والے اور عمل صالح بجا لانے والے لوگوں کا تذکرہ کرنے کے بعد''ثم اھتدی''فرمایاہے۔اس سے بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ ہدایت تشریعی کی آبیاری کےلئے ولایت اہل بیت ضروری ہے وہ اہل بیت جن کو خدا نے ہی ہر قسم کی ناپاکی اور برائی سے پاک وپاکیزہ کرکے خلق فرمایا ہے۔
لہٰذا ولایت اہل بیت کے بغیر نماز، منافق کی نماز کہلائے گی،روزہ منافق کا روزہ شمار ہوگا اور حج و عمرہ بھی منافق کا حج و عمرہ شمار ہوگا جس کا اثر وضعی شائد ہو لیکن اجر و ثواب یقیناً نہیں۔ مذکورہ آیت سے واضح ہوا کہ اعمال صالحہ کی قبولیت اور ثواب ملنے کی شرط ولایت اہل بیت ہے، اور ان کی سر پرستی کے بغیرروحانی تکامل و ترقی کا تصور کرناغلط ہے ،کیونکہ روحانی اور معنوی تکامل و ترقی اس وقت ہوسکتی ہے جب مسلمان خدا کی طرف سے منصوب شدہ ہستیوں کی سیرت پر چلے۔
۱۰)اہل بیت ،پاکیزہ ترین ہستیاں ہیں
( انّما یرید الله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت ویطهرکم تطهیراً ) ( ۱ )
''خدا یہ چاہتا ہے کہ اے اہل بیت رسول !تم سے ہر برائی کو دور رکھے اور اس طرح پاک و پاکیزہ رکھے جو پاک وپاکیزہ رکھنے کا حق ہے۔''
تفسیر آیہ:
ابن ابی شیبہ، احمد، ابن جریر، ابن المنذر ،ابن ابی حاتم طبرانی ،حاکم اور بیہقی وغیرہ نے اپنی کتابوں میں واثلہ ابن الاسقع سے روایت کی ہے،انہوں نے کہا:
جاء رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم الیٰ فاطمة (ع) ومعه حسن (ع)و حسین (ع) و علی (ع) حتیٰ دخل فادنیٰ علیاً و فاطمة فاجلسهما بین یدیه و اجلس حسناً وحسیناً کل واحد منهما علیٰ فخذه ثم لفّ علیهم ثوبه وانا مستندیرهم ثم تلا هٰذه الآیة : ( انما یرید الله..... ) ( ۲ )
پیغمبراسلام (ص) حسنین(ع)اور حضرت علی (ع)کے ہمراہ حضرت فاطمہ زہرا(س)
____________________
( ۱ ) ۔الاحزاب /۳۳
( ۲ ) ۔در منثورج٦،ص٦ ۰ ۵
کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آنحضرت (ص)نے گھر میں داخل ہونے کے بعد حضرت زہرا (س)اور حضرت علی (ع)کو بلا کراپنے قریب بٹھایا اور حسن(ع)و حسین- میں سے ہر ایک کو اپنے زانوئے مبارک پر بٹھایا پھر سب پر ایک چادر اوڑھائی اس کے بعد اس آیت کی تلاوت فرمائی۔
دور حاضرعلم و معرفت کے حوالے سے ترقی و پیشرفت کا دور ہے،لہٰذا پڑھے لکھے لوگوں کو چاہے کہ اہل سنت اور اہل تشیع کے مفسرین کی کتابوں کا بغور مطالعہ کریں ، کیونکہ اہل بیت کی معرفت،ان سے دوستی رکھنا ہر بشر کی ذمہ داری ہے۔لہٰذا اہل سنت کی تفسیروں میں اس آیت کریمہ کی شان نزول کو اس طرح بیان کیا گیا ہے :
پیغمبر اسلام (ص) ام سلمہ کے گھر تشریف فرما تھے کہ اتنے میں پیغمبر اکرم (ص) نے پنجتن پاک پر ایک بڑی چادر اوڑھا دی،پھر آ پ ؐنے اس آیت کی تلاوت فرمائی، ام سلمہ اؑم المومنین کی حیثیت سے ان کے ساتھ چادر میں جانے کی درخوا ست کرنے لگیں توپیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا تو نیکی پر ہو لیکن ان کے ساتھ نہیں ہوسکتی۔
پھر آنحضرت (ص)نے فرمایا:اے خدا ! یہ میرے اہل بیت ہیں ۔
آنحضرت (ص) اس آیت کے نازل ہونے کے بعد چالیس دن تک نماز کے اوقات میں اہل بیت سے سفارش کرتے رہے کہ اے اہل بیت نماز کا وقت ہے،نماز کی حفاظت کرو۔( ۱ )
نیز ابن جریر ،حاکم اور ابن مردویہ نے سعد (ع)سے روایت کی ہے:
قال نزل علیٰ رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم الوحی فادخل علیاً و فاطمة و ابنیهما تحت ثوبه قال اللهم هٰؤلآء اهلی و اهل بیتی ( ۲ )
سعد (ع)نے کہا:جب حضرت پیغمبر اکرم (ص) پر وحی(یعنی آیت کریمہ)نازل ہوئی تو آپنے حضرت علی (ع)، فاطمہ (س)اور ان کے بیٹوں (حسن- و حسین-) کو کسائ(چادر)کے اندر داخل کیا،پھر خدا سے دعا کی :پروردگارا!یہ میرے گھر والے ہیں،یہ میرے اہل بیت ہیں،ان کو ہر برائی سے دور رکھ۔اس حدیث کے آخر سے ایک جملے کو حذف کیا گیا ہے۔لہٰذا ہم نے ترجمہ کرکے اس حذف شدہ جملے کی طرف اشارہ کیا ہے۔
نیز ابن جریر،ابن ابی حاتم اور طبرانی، ابوسعید الخدری (ع)سے روایت کرتے ہیں:
قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم:نزلت هٰذه الآیة فی خمسة فیّ،وفی علی و فی فاطمة و حسن وحسین انما
____________________
( ۱ ) شواہد التنزیل ج۲ص۲ ۰ حدیث٦۵۵
( ۲ ) ۔در منثور ج٦،ص٦ ۰ ۵
یرید الله لیذهب .........( ۱ )
پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا کہ یہ آیت شریفہ پانچ ہستیوں کی شان میں نازل ہوئی ہے،ان میں،میں علی (ع)،فاطمہ (س) ، حسن (ع)اور حسین(ع)شامل ہیں۔
اسی طرح ابن مردویہ اور قطبیب نے ابی سعید الخدری (ع)سے روایت کی ہے:
قال :کان یوم ام سلمة ام المومنین لقی الله علیها فنزل جبرئیل علیه السلام علیٰ رسول الله هٰذه الآیة:انما یرید الله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت ویطهرکم تطهیراً،قال فدعا رسول الله بحسن وحسین و فاطمة و علی فضّمهم الیه و نشر علیهم الثوب و الحجاب علیٰ ام سلمة مضروب ثم قال اللهم هٰؤلآء اهل بیتی اللهم اذهب عنهم الرجس و طهرهم تطهیراً قالت ام سلمة فانا معهم یا نبی الله؟ قال: انت علیٰ مکانک و انک علیٰ خیرٍ ( ۲ )
ابی سعید الخدری (ع)نے کہا کہ ایک دن حضرت رسول اسلام (ص)
____________________
( ۱ ) ۔در منثور ج٦،ص٦ ۰ ۴۔
( ۲ ) ۔در منثور ج٦،ص٦ ۰ ۴۔
حضرت ام ّالمومنین ام سلمہ کے گھر تشریف فرما تھے اتنے میں( انما یرید الله ) کی آیت لے کر جبرئیل امین (ع)نازل ہوئے،پیغمبر اکرم (ص)نے حسن- وحسین(ع)اور فاطمہ (س)و علی (ع)کو اپنے پاس بلالیا اور ان کے اوپر ایک چادر اوڑھادی اور حضرت ام سلمہ اور ان کے درمیان ایک محکم پردہ نصب کیا پھر آنحضرت (ص)نے فرمایا:اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں،ان سے ہر برائی کو دور رکھ اور انہیں اس طرح پاک و پاکیزہ قرار دے جو پاک و پاکیزہ قرار دینے کا حق ہے۔یہ سن کر جناب ام سلمہ نے درخواست کی : اے خدا کے نبی! کیا میں ان کے ساتھ ہوجاؤں؟آنحضرت (ص)نے فرمایا :تم بہترین خاتون ہو لیکن ان کے ساتھ نہیں ہوسکتی۔
تحلیل
اگرچہ محققین و مفسرین نے آیت تطہیر کے بارے میں مفصل کتابیں لکھی ہیں جن میں آیت تطہیر سے متعلق مفصل گفتگو اور اس آیت پر ہونے والے اعتراضات کا جواب بھی بہتر طریقے سے دیا گیا ہے۔لیکن اہل سنت کے مفسرین نے آیت تطہیر کی شان نزول اور اس کے مصداق کو اہل بیت قرار دیا ہے۔اور اہل سنت کی کتابوں میں اس طرح کی روایات بہت زیادہ نظر آتی ہیں کہ زوجات پیغمبر (ص)میںسے ام سلمہ نے پیغمبر (ص)سے اہل بیت کے ساتھ ہونے کی کوشش کی لیکن پیغمبر (ص)نے اہل بیت کے مصداق معین کرتے ہوئے ان سے فرمایا کہ تم نیک خاتون ہو لیکن ان کے ساتھ نہیں ہوسکتی۔جس سے بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ اہل بیت اور اہل بیت رسول میں بڑا فرق ہے۔اہل بیت (ع)خدا کی طرف سے لوگوں پر حجت ہیں جبکہ اہل بیت رسول میں سے جو اہل بیت (ع)کے مصداق نہیں ہے وہ حجت خدا نہیں ہے۔لہٰذا امت مسلمہ کے درمیان یکجہتی، قرآن و سنت کی بالا دستی اور اسلام کی حفاظت کی خاطر فریقین کی کتابوں کا مطالعہ کرنا ضروری ہے۔
نیز ترمذی نے اپنی گراں بہا کتاب اور ابن جریر،ابن المنذر اور حاکم ، ابن مردویہ اور بیہقی وغیرہ نے اپنی کتابوں میں ام المومنین ام سلمہ سے روایت کی ہے:
قالت نزلت هٰذه الآیة :انما یرید الله...وفی البیت سبعة:جبرئیل و میکائیل علیهما السلام و علی (ع) و فاطمة (ع) و حسن (ع) و حسین (ع) وانا علیٰ باب البیت قلت یا رسو ل الله الست من اهل البیت قال انک علیٰ خیر انک من ازواج النبی صلی الله علیه وآله وسلم ( ۱ )
ام سلمہ نے کہا کہ'' انمایرید اللہ'' کی آیت میرے گھر میں اس وقت نازل ہوئی جس وقت گھر میں سات افراد موجود تھے:جبرائیل (ع)،میکائیل(ع)
____________________
( ۱ ) ۔در منثور ج٦،ص ٦ ۰ ۴وسنن ترمذی،ج۲ص۱۱۳۔
علی (ع)فاطمہ (س) ،حسین(ع)، حسین(ع)اوررسول گرامی اسلام (ص) تشریف فرما تھے۔جبکہ میں گھر کے دروازے پر تھی،میں نے پیغمبر اکرم (ص)سے پوچھا یا رسول اللہ(ص)! کیا میں اہل بیت میں سے نہیں ہوں؟ آپنے فرمایا : تم پیغمبر اکرم (ص)کی ازواج میں سے ایک بہترین خاتون ہو۔
اہم نکات:
آیت تطہیر سے اہل بیت کی عصمت کے ساتھ ہر قسم کی پلیدی اور ناپاکی سے دور ہونے کا پتہ چلتا ہے۔
نیز اہل بیت کائنات میں خدا کی طرف سے امین ترین ہستیاں ہونے کا علم ہوتا ہے۔
اگر ہم اہل سنت کی قدیم ترین تفاسیر اورکتب احادیث کا مطالعہ کریں اور ان میں منقول روایات کے بارے میں غور کریں تو بہت سارے نکات اہل بیت کے بارے میں واضح ہوجاتے ہیں۔
اہل بیت کا معنی،ٰ لغت کے حوالے سے وسیع اور عام ہے،جس میں ہر وہ فرد داخل ہے جو پیغمبر اکرم (ص) کے ساتھ ان کے عیال کی حیثیت سے زندگی گذارتا تھا۔لیکن قرآن مجیدجو آیات اہل بیت کی فضیلت اور عظمت بیان کرتی ہیں ان میں یقیناً سارے
اہل بیت داخل نہیں ہیں بلکہ قرآن مجیدکی ان آیات کے مصداق صرف اہل بیت اطہار ہیں کیونکہ پیغمبر اسلام (ص)نے کئی مقامات پران آیات کے مصادیق کو بیان فرمایا ہے۔یعنی آیت مباہلہ( ۱ )
،آیت تطہیر( ۲ ) ،آیت مودّت( ۳ ) ،آیت اہل الذکر( ۴ ) ، وغیرہ کے نزول کے وقت ان کے مصادیق اہل بیت کو معین فرما کر کہا:اے اللہ!ہر نبی کے اہل بیت ہوا کرتے ہیں،لیکن میرے اہل بیت یہی ہستیاں ہیں ان کو ہر قسم کی پلیدی اور شر سے بچائے رکھ۔کبھی اہل بیت کو معین کرکے ان پر چادر ڈال دیتے تھے جس کا فلسفہ یہ تھا کہ دنیا والے اہل بیت (ع)میںازواج رسول (ص) اور دیگر ذرّیت کو شامل کرکے آیت تطہیر اور آیت مباہلہ جیسی آیات ان پر تطبیق نہ کرسکیں۔
لہٰذااگر ہم سیرت طیبہ رسول (ص) کا بغور مطالعہ کریں تو معلوم ہوجائے گا کہ پیغمبر اکرم (ص) نے ہمارے زمانے میں پیش آنے والے شبہات اور توہمات کا کس اچھے انداز میں جواب دیا ہے۔غور کیجئے!اہل بیت کو کساء کے نیچے داخل کرنے کا مطلب کیا تھا؟یہ جواب تھا اس شبہہ کا جو آج پیش آرہاہے یعنی ازواج رسول (ص)کے بھی اہل بیت میں داخل ہونے کے اس توہم کا عملی جواب تھا۔سادہ لفظوں میں کہا جائے کہ رسول اسلام (ص)یہ بتانا چاہتے
____________________
( ۱ ) آل عمران آیت٦۱
( ۲ ) الأحزاب آیت۳۳
( ۳ ) الشوری آیت۲۳
( ۴ ) النحل آیت۴
تھے کہ دنیا والو! خدا نے جن افراد سے ''رجس ''کو دور رکھنے کا وعدہ فرمایا ہے وہ مخصوص افراد ہیں،اس خام خیالی میں نہ رہو کہ جو بھی اہل بیت رسول (ص) کہلائے وہ اس آیت کے مصادیق ہیں،ایسا ہرگز نہیں۔
اگر سنن ترمذی، در منثور ، شواہد التنزیل و صواعق محرقہ جیسی کتابوں کا مطالعہ کریں تو بہت سارے شبہات کا جواب بآسانی مل سکتا ہے۔اور اہل بیت ؑ(کہ جن کی عظمت کو خدا نے( من جاء بالحسنة ) ،آیت مباہلہ،یا( فتلقیٰ آدم من ربّه کلمات ) یا( کونوا مع الصادقین ) یا( مع الشهدائ ) یا( اطیعوا ) کی شکل میں ذکر کیا ہے)کی کمیت اور تعدادبخوبی واضح ہوجاتی ہے۔ حضرت عائشہ اورحضرت ام سلمہ ام المومنین ،ابی سعید الخدری (ع)سے،وہ انس ابن مالک اور برابن عاذب اور جابر بن عبد اللہ(ع)وغیرہ سے روایت نقل کرتے ہیں:
''انس بن مالک نے کہا:جس وقت آیت تطہیر نازل ہوئی تو پیغمبر اکرم (ص) چھ ماہ تک نماز صبح کے وقت حضرت زہرا(س) کے گھر تشریف لاتے رہے اور آیت تطہیر کی تلاوت فرماتے رہے،اورساتھ ہی فرماتے تھے:اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں۔اے میرے اہل بیت ! نماز کا وقت ہوچکا ہے نماز کی حفاظت کرو۔( ۱ )
____________________
( ۱ ) ۔در منثورج ۷ ص۲۱۴،شواہد التنزیل ج ۲ ص۱۲حدیث٦۳ ۸
ان روایات سے بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ حقیقی اسلام کے محافظ اہل بیت ہی ہیں،چونکہ پیغمبر اکرم (ص)کا چھ ماہ تک مسلسل حضرت زہراء (س) کے گھر پر تشریف لے جانا اس بات کی دلیل ہے کہ حقیقی محافظ وہی ہستیاں ہیں۔
نیز جابر (ع)سے یہ روایت کی گئی ہے:پیغمبر اکرم (ص)نے حضرت علی (ع)
ئ حضرت فاطمہ زہرا(س) اور امام حسن (ع)و حسین- کو اپنے قریب بلا کر ان پر ایک بڑی چادر ڈال دی،پھر فرمایا:
اللهم هٰؤلآء اهل بیتی ۔
خدایا !یہ میرے اہل بیت ہیں ان کو ہر برائی سے دور رکھ اور ان کو اچھی طرح پاک و پاکیزہ قرار دے۔( ۱ )
پنجتن پاک کو الگ کرکے ایک چادر میں داخل کرنے کا فلسفہ اور حقیقت یہ ہے کہ آنے والے لوگ یہ توہم نہ کریں کہ اہل بیت میں دوسرے لوگ بھی شامل ہیں۔
نیز حضرت عائشہ سے روایت ہے:
قالت عائشه:خرج رسول الله غداةً و علیه مرط رحل من شعر اسود فجاء الحسن بن علی فادخله ثم جاء الحسین فدخل
____________________
( ۱ ) ۔شواہد التنزیل ج ۲ ص۱٦حدیث٦۴ ۷
معه ثم جائت فاطمة فادخلها ثم جاء علی فادخله ثم قال:انما یرید الله لیذهب عنکم الرجس......'' ( ۱ )
حضرت عائشہ نے کہا:ایک دن پیغمبر اکرم (ص) اپنے دوش پر ایک اون سے بنی ہوئی کالی چادررکھ کرگھرسے نکلے اور حسن- اور حسین- اور حضرت فاطمہ= اور حضرت علی (ع)کو اپنے پاس بلایا جب وہ حضرات آپکے قریب آگئے تو انہیں ایک چادر کے اندر داخل کردیا اور پھر فرمایا:انما یرید الله لیذهب عنکم الرجس....
اس روایت میں بھی اہل بیت کو ایک چادر میں داخل کرنے کی بات ہوئی ہے۔
پس بخوبی نتیجہ لیا جاسکتا ہے کہ اہل بیت کو الگ کرکے رسول اسلام (ص) یہ بتلا گئے کہ دنیا والو ان کی طہارت اور پاکیزگی پر شک نہ کرنا،کیونکہ یہ اہل بیت رسول ہیں اور ان سے ہر پلیدی کو دور رکھا گیا ہے،اور ان کی تعداد میں بھی کسی کو شک کرنے یا کسی غیر کو داخل کرکے تعدادبڑھانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
شیعہ امامیہ کا عقیدہ یہ ہے کہ اہل بیت میں پورے چودہ معصومین شامل ہیں،اس کی دلیل وہ روایات ہیں جن کو خود اہل سنت کے علماء نے رسول
____________________
( ۱ ) ۔شواہد التنزیل ج۲ ص ۳۳حدیث ٦ ۷ ٦
اسلام (ص)سے نقل کیا ہے اور ان کو ہم انشاء اللہ بعد میں سنت کی بحث میں بیان کرینگے۔
پیغمبر اکرم (ص)کا اہل بیت کو ایک جگہ جمع کرکے ان پر چادر ڈالنے اور خدا سے دعا مانگنے کا مقصد و فلسفہ یہی تھا کہ لوگ کتاب و سنت کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھاتے ہیں۔
۱۱)اہل بیت پر درود بھیجنے کا حکم
( ان الله وملائکته یصلون علیٰ النبی یا ایها الذین آمنوا صلّوا علیه وسلّموا تسلیماً ) ( ۱ )
''بے شک خدا اور اس کے فرشتے پیغمبر اکرم (ص) پر درود بھیجتے ہیں،اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود بھیجتے رہو اور برابر سلام کرتے رہو۔''
تفسیر آیہ:
اس آیت میں یہ اطلاع دی جارہی ہے کہ خدا اور اس کے فرشتے اہل بیت پر درود بھیجتے ہیں،اور یہ حکم دیا جارہا ہے کہ مومنین بھی ان پر درود بھیجےں۔
لہٰذا آج نماز پنجگانہ اور پیغمبر اسلام (ص)کا اسم مبارک لیتے وقت ان پر درود بھیجنا ہر مسلمان پر واجب ہے،لیکن درود کی کیفیت میں بھی شیعہ امامیہ اور
____________________
( ۱ ) ۔الاحزاب/۵٦
اہل سنت کے درمیان اختلاف ہے۔اگر ہم روایات نبوی(ص)کا مطالعہ کریں تو اس اختلاف کو بآسانی حل کرسکتے ہیں۔
ابن مردویہ اور سعید ابن منصور،عبدابن حمید،ابن ابی حاتم اور کعب ابن عجزہ وغیرہ سے مروی ہے:
قال لما نزلت:انّ الله و ملٰئکته یصلون علیٰ النبی...قلنا یا رسول الله! قد علمنا السلام علیک فکیف الصلوٰة علیک؟قال قولوا اللهم صل علیٰ محمد و آل محمد ۔( ۲ )
کعب ابن عجزہ نے کہا:جب آیت:ان اللہ ...نازل ہوئی تو ہم نے پیغمبر اکرم (ص)سے پوچھا:یا رسول اللہ(ص)!ہمیں معلوم ہے کہ آپ پر سلام ہو،لیکن کیسے آپپر درود بھیجا جائے؟آنحضرت (ص)نے فرمایا: تم لوگ مجھ پر درود اس طرح بھیجو:
اللہم صلّ علیٰ محمد(ص)وآل محمد(ص)۔
اس حدیث کی رو سے دو نکات قابل غور ہیں:
۱۔امت محمدی،آنحضرت (ص) پر کیسے درود بھیجے،جس کا حکم خدا نے قرآن میں دیا ہے؟کیا اللہم صلّ وسلم کہنا کافی ہے؟یا اللہم صل علیٰ
____________________
( ۲ ) ۔در منثور ج٦،ص۴۴٦
محمد و آل محمد کہنا ضروری ہے؟
۲۔چنانچہ بہت ساری روایات میں پیغمبر اکرم (ص)نے ناقص درود بھیجنے سے منع فرمایاہے، سارے مسلمان نماز میں درود اس طرح بھیجتے ہیں:
اللهم صل علیٰ محمد وآل محمد ۔
نیز ابن ابی شیبہ،احمد،بخاری نسائی ،ابن ماجہ و غیرہ نے اسناد کے ساتھ
اس آیت کی تفسیر اور توضیح کے حوالے سے پیغمبر اکرم (ص)سے روایت نقل کی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے:
پیغمبر اکرم (ص)سے اصحاب نے پوچھا :
یا رسول اللہ(ص)! خدا نے ہمیں آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے لیکن ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں؟
آپ نے فرمایا:
قولوا اللهم صلّ علیٰ محمد و علیٰ آل محمد،
کہو: اے اللہ! محمد(ص) و آل محمد پر درود بھیج۔( ۱ )
پس ان روایات کی رو سے واضح ہوجاتا ہے کہ اللہم صلّ و سلم۔ درود کامل نہیں ہے اور کئی روایات میں نامکمل اور ناقص درود سے پیغمبر اکرم (ص)
____________________
( ۱ ) ۔در منثور ج ٦ ص٦۴ ۹ ،بخاری ج ۷ ص۳۱۱،سنن نسائی ج۲ص۲ ۰ ۱شواہد التنزیل ج ۲۔ص۳ ۰ ۱
نے منع فرمایا ہے۔( ۱ )
اہم نکات:
آیت شریفہ میں صریحاً خدا نے مومنین کو اہل بیت پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے،روایات نبوی(ص)میںدرود بھیجنے کی کیفیت کو رسول اسلام (ص)نے واضح الفاظ میں بیان فرمایا ہے۔لہٰذا درود کی کیفیت میں مسلمانوں کے درمیان اختلاف کا سبب،کتاب و سنت سے دوری ہے۔در حالیکہ روایات میں درود بھیجنے کا طریقہ اور کیفیت و اضح طور پر بیان کیا گیا ہے۔
۱۲)اہل بیت پر خدا کا سلام ہے
( سلام علیٰ آل یاسین ) ۔( ۲ )
(ہر طرف سے )آل یاسین پر سلام( ہی سلام) ہے۔
تفسیر آیہ:
گذشتہ آیت میں درود و سلام دونوں کا حکم ہوا ہے اور اس آیت میں آل یاسین ؑکو سلام کرنے کا حکم دیا گیا ہے،لیکن اگر ہم درود اور سلام کی حقیقت اور فلسفے کے بارے میں غور و فکر کریں تو معلوم ہوگا کہ اہل بیت کی عظمت اورمنزلت خدا
____________________
( ۱ ) ۔شواہد التنزیل ج ۲۔ص۲۱۱
( ۲ ) ۔صافات/۱۳ ۰
کی نظر میں بہت زیادہ ہے جس کو لحظہ بہ لحظہ زبان پر جاری کرنا خدا کو زیادہ پسند ہے۔لہٰذا چاہے کسی اجتماعی کام کو انجام دےنا چاہیں یا کسی انفرادی کام کو، اس کام کو ان حضرات پر درودسلام بھیجتے ہوئے شروع کرنا چاہے،اسی میں برکت ہے اور اسی میں ہی کامیابی ہے۔
ابن ابی حاتم و طبرانی و ابن مردویہ نے ابن عباس (رض)سے روایت نقل کی ہے:
فی قوله سلام علیٰ آل یاسین قال نحن آل محمد آل یاسین ۔( ۱ )
پیغمبر اکرم (ص)سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا:آل یاسین سے مراد ہم آل محمد ہیں۔
فخر رازی ،فضل اور کلینی و غیرہ نے آل یاسین سے آل محمد مراد لیا ہے۔اس کی وجہ بھی یہ لکھا ہے کہ مسلمانوں کا اجماع ہے کہ یاسین پیغمبر اکرم (ص)کے القاب میں سے ایک ہے۔اور آل کے معنیٰ بھی لغت عرب میں سب جانتے ہیں لہٰذا سلام علیٰ آل یاسین سے اہل بیت کی فضیلت و اضح ہوجاتی ہے۔
____________________
( ۱ ) ۔در منثور ج ٦۔ ص۲۳۱ ینابیع المودۃج۱ص٦
۱۳)اہل بیت کی قسم
( والسماء ذات البروج ) ( ۱ )
برجوں والے آسمان کی قسم۔
تفسیر آیہ:
اس آیت کی تفسیر میں ہاشم بن سلمان نے اپنی کتاب'' الحجۃ علی ما فی ینابیع المودۃ ''میں اصبغ بن نباتہ سے روایت کی ہے:
قال سمعت ابن عباس یقول قال رسول الله:انا السماء واما البروج فالائمة من اهل بیتی و عترتی اولهم علی (ع) وآخرهم المهدی و هم اثنا عشر( ۲ )
اصبغ بن نباتہ(ع)نے کہا کہ میں نے ابن عباس (رض)سے سنا کہ آپ نے کہا ـ: پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا:آسمان سے مراد میں ہوں اور اس کے بروج سے مراد میرے اہل بیت وعترت ہیں۔جس کا آغاز علی (ع)سے ہوتا ہے اور انتہاء مہدی برحق (عج) پراور وہ بارہ ہیں۔
____________________
( ۱ ) ۔بروج/۱۔
( ۲ ) ۔،الحجۃ علی ما فی ینابیع المودۃ ص۴۳ ۰
توضیح:
۱۔اس آیت سے معلوم ہوتا ہے والسماء ذات البروج سے حضرت پیغمبر اکرم (ص) اور ائمہ اثنا عشر مراد ہیں۔
۲۔پیغمبر اکرم (ص)کے جانشین بارہ ہیں۔
۳۔آخر ی امام کا لقب مہدی (عج)ہے۔ابتدائی امام کا نام علی (ع)ہے۔لیکن کسی روایت اور آیت میں پیغمبر اکرم (ص)کی رحلت کے بعدجنہوں نے اپنے آپ کو خلیفہ مسلمین اور جانشینپیغمبر (ص) ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ ان کا کوئی نام و نشان تک موجود نہیں ہے۔
۱۴)اہل بیت سے محبت،رسالت کا صلہ ہے
( قل لا اسئلکم علیه اجراً الا المودة فی القربیٰ ) ۔( ۱ )
ٍٍ ''اے رسول! تم کہہ دو کہ میں (اس تبلیغ رسالت کا) اپنے قرابت داروں(اہل بیت )کی محبت کے سواء تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا۔''
تفسیر آیہ:
جناب ابن عباس (رض)سے روایت کی گئی ہے:
لمّا نزلت ''قل لا اسئلکم.....''قالوا یا رسول الله من هٰؤلآء الذین وجبت علینا مودتهم؟قال علی،فاطمة و ابنائهما وانّ
____________________
( ۱ ) ۔شوریٰ/۲۳
الله تعالیٰ جعل اجری علیکم المودة فی اهل بیتی وانّی اسئلکم غداً عنهم ۔( ۱ )
جب یہ آیت نازل ہوئی تو لوگوں نے پیغمبر اکرم (ص) سے سوال کیا یا رسول اللہ! وہ لوگ کون ہیں جن کی محبت ہم پر واجب ہوگئی ہے؟ آپنے فرمایا: وہ حضرات علی (ع)،فاطمہ (س)اور حسن- و حسین (ع)ہیں اور خدا نے میری رسالت کا صلہ تم پر میرے اہل بیت کی محبت قرار دیا ہے۔لہٰذا کل قیامت کے دن ان کی محبت کے بارے میں تم سے سوال کروں گا۔
زمخشری نے تفسیر کشاف میں یوں روایت کی ہے:
روی انّ الانصار قالوا فعلنا و فعلنا کانّهم افتخروا فقال عباس او ابن عباس:لنا الفضل علیکم فبلغ ذالک رسول الله فاتاهم فی مجالسهم فقال یا معشر الانصار الم تکونوا اذلةً فاعزکم الله بنا قالوا بلیٰ .........۔( ۲ )
اختصار کو مد نظر رکھتے ہوئے عربی میں پوری روایت کو نقل کرنے سے اجتناب کیا گیا ہے لہٰذا درج بالا کتابوں کی طرف رجوع کریں۔یہاں پر پوری روایت کا ترجمہ پیش کر رہے ہیں:
____________________
( ۱ ) ۔ینابیع المودۃ ج ۱،ص۱ ۹ ۴،کشاف ج ۴ ص۲۲ ۰
( ۲ ) ۔کشاف ج ۴ ص۲۲ ۰ ،،صحیح مسلم ج ۳ص ۲۱۱و صحیح بخاری ج۴ص۱۳۱
''زمخشری نے کہا:روایت کی گئی ہے کہ ایک دن انصار اپنے ایک بڑے جلسے میں اپنے افعال پر فخر و مباہات کررہے تھے، کہہ رہے تھے کہ ہم نے یہ کام کیا وہ کام کیا۔جب ان کی باتیں ناز کی حد سے بھی گزر گئیں تو جناب ابن عباس(ع)سے رہا نہ گیا اور بے ساختہ بول اٹھے کہ تم لوگوں کو فضیلت حاصل ہوگی مگر ہم لوگوں پر تمہیں ترجیح حاصل نہیں ہے اس مناظرے کی خبر پیغمبر اکرم (ص)تک پہنچی تو آنحضرت (ص)خود اس مجمع میں تشریف لائے اور فرمایا:اے گروہ انصار!کیا تم ذلیل نہ تھے کہ خدا نے ہمارے بدولت تمہیں عزت بخشی ؟سب نے کہا:بے شک یا رسول اللہ!ایسا ہی ہے۔ پھر آپنے فرمایا:کیا تم لوگ گمراہ نہ تھے کہ خدا نے میری وجہ سے تمہاری ہدایت کی؟ عرض کیا:یقینا ایسا ہی ہے۔ پھر فرمایا:کیا تم لوگ میرے مقابلے میں جواب نہیں دیتے؟ وہ بولے کیا؟بآنحضرت (ص)نے فرمایا:کیا تم یہ نہیں کہتے کہ تمہاری قوم نے تم کو نکال باہر کیا،تو ہم نے پناہ دی،اسی طرح گفتگو جاری رہی یہاں تک کہ وہ لوگ گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے اور عاجزی سے عرض کرنے لگے: ہمارے مال اور جو کچھ ہمارے پاس ہیں وہ سب خدا اور اس کے رسول کا ہے۔یہی باتیں ہورہی تھیں کہ یہ آیت نازل ہوئی۔
اس کے بعد آپنے فرمایا:جو شخص آل محمد کی دوستی میں مرجائے وہ شہید مرا ہے،جو آل محمد کی دوستی کے ساتھ مرے وہ مغفورہے،جو آل محمد کی دوستی پر مرے گویا وہ توبہ کر کے مراہے۔اس انسان کو ملک الموت اور منکر و نکیر بہشت کی خوشخبری دیتے ہیں جو آل محمد کی دوستی پر مرے وہ بہشت میں اس طرح جائے گا جیسے د لہن دلہاکے گھر جاتی ہے۔جو آل محمد کی دوستی پر مرے اس کی قبر کو خدا رحمت کے فرشتوں کےلئے زیارت گاہ بنادیتا ہے جو آل محمد کی دوستی پر مرے وہ سنت اور جماعت کے طریقہ پر مرا ۔اورجو آل محمد کی دشمنی پر مرے قیامت کے دن اس کی پیشانی پر لکھا ہوا ہوگا کہ یہ خداکی رحمت سے مایوس ہے۔جو آل محمد کی دشمنی پر مرے وہ بہشت کی بو بھی نہیں سونگ سکتا ،پھر اس وقت کسی نے پوچھا:یا رسول اللہ(ص)! جن کی محبت کو خدا نے واجب کیا ہے وہ کون ہیں:آنحضرت (ص)نے فرمایا:علی (ع)،فاطمہ (س)اور ان کے دو فرزند حسن- و حسین- ہیں۔پھر فرمایا: جو شخص میرے اہل بیت پر ظلم و ستم کرے اور مجھے اور میرے اہل بیت کو اذیت پہنچائے اس پر بہشت حرام ہے۔
فرمان علی نے اپنے ترجمہ قرآن میں اس حدیث کو نقل کیا ہے،رجوع کیجئے۔اس حدیث کا آدھا حصہ مسلم،بخاری اور در منثور میںبھی نقل ہوا ہے جبکہ زمخشری نے( ۱ ) پوری حدیث کو نقل کیا ہے۔لیکن مأخذ کی نئی اشاعتوں میں تحریف اور تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات کا امکان پایا جاتا ہے کہ آیندہ یہ حدیث کشاف میں بھی نظر نہ آئے۔کیونکہ اس حدیث کا بغور جائزہ لینے سے بہت
____________________
( ۱ ) کشّاف ج۴ص۲۲ ۰
سارے شبہات و اعتراضات کا جواب بآسانی مل سکتا ہے۔لہٰذا ایسی اہم روایت
کو معاشرے تک پہنچانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
۱۵)اہل بیت سے محبت ،نیکیوں میں اضافے کا سبب ہے
( ومن یقترف حسنة نزدله فیها حسناً ) ( ۱ )
اور جو شخص نیکی حاصل کرے گاہم اس کےلئے اس کی خوبی میں اضافہ کرےں گے۔
تفسیر:
ابن خاتم نے ابن عباس (رض)سے روایت کی ہے
ومن یقترف حسنة قال المودة لآل محمد ( ۲ )
اس آیت شریفہ کے بارے میں پیغمبر اکرم (ص)سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اس سے اہل بیت رسول کی محبت مراد ہے۔
زمخشری نے بھی لکھا ہے:
ان السوی انها المودة فی آل رسولالله ( ۳ )
''اس آیت کریمہ سے آل رسول (ص)کی دوستی مراد ہے۔''
____________________
( ۱ ) شوریٰ/۲۲۔
( ۲ ) ۔در منثورج ۷ ص۲۴ ۸
( ۳ ) ۔کشاف ج ۴ ص۲۲۱
اہم نکات:
اگر محققین اور علماء و دانشور سنی سنائی باتوں پر عمل کرنے کے بجائے تاریخ،اخبار و حدیث اور تفسیر کی کتابوں کا مطالعہ کریں تو کسی بھی مسلمان کو اہل بیت کی فضیلت اور عظمت سے انکار کرنے کی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ایسی اہم روایات اور تاریخی مطالب وافر مقدار میں فریقین کے علماء و محققین نے اپنی کتابوںمیں اہل بیت کی شان میں بیان کئے ہیں۔لہٰذا اگر دور حاضر میں ہم بھی اندھی تقلید کے بجائے تحقیق اور غور کریں تو بہت سارے شبہات اور اعتراضات کا حل مل جاتا ہے۔
اپنے مأخذ اور بنیادی کتابوں کا مطالعہ کئے بغیر ایک دوسرے پر بے جا الزامات لگا کرمسلمانوں کے اتحاد کو پامال کرنا اسلام اور قرآن وسنت کے خلاف ہونے کے علاوہ سیرت اہل بیت کے منافی بھی ہے۔آج مسلمانوں کے مابین پیداہونے والے بہت سارے اختلافات کا سبب بھی کتابوں اورروایات پر غور نہ کرنا بتایا جاتا ہے۔ورنہ مسلمانوں کے درمیان جتنی آج اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے شائد کسی اور زمانے میں پیش نہ آئی ہو۔
کیونکہ آج پوری دنیا قرآن و سنت کی پامالی کےلئے ہر قسم کے حربے آزما رہی ہے،اور استعماری طاقتیں مسلمانوں کے خلاف پوری قوت کے ساتھ نبرد آزما ہیں۔جبکہ سارے مسلمان قرآن وسنت کے قائل ہوتے ہوئے بھی آپس میں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے نظر آتے ہیں۔یہ ہماری بدقسمتی کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔
۱٦)اہل بیت سے متمسک رہنے کا حکم
( واعتصموا بحبل الله جمیعاً ولا تفرقوا ) ( ۱ )
''اور اللہ تبارک تعالیٰ کی رسی کو سب کے سب مضبوطی سے تھام لو۔''
تفسیر:
سعید بن جبیر نے ابن عباس (رض)سے روایت کی ہے :
قال کنّا عند النبی اذا جاء اعرابی فقال یا رسول الله سمعتک تقول واعتصموا بحبل الله الذی نعتصم به فضرب النبی یده فی ید علی وقال تمسکوا بهٰذا هو حبل الله المتین ( ۲ )
ابن عباس (رض)نے کہا کہ ہم پیغمبر اسلام (ص)کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے اتنے میں ایک ا عرابی آیا اور پیغمبر اکرم (ص)سے پوچھا یا رسول اللہ(ص) میں نے آپسے سنا ہے:واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً۔لہٰذا اللہ کی رسی سے کیا مراد ہے؟ تاکہ اسے تھام لوں۔اس وقت رسول اسلام (ص)
____________________
( ۱ ) ۔آل عمران ۱ ۰ ۳۔
( ۲ ) ۔شواہد التنزیل ج۱ ص ۱۳۱،حدیث۱ ۸۰
نے اپنے دست مبارک کو حضرت علی (ع)کے دست مبارک پر رکھتے ہوئے فرمایا:اللہ کی رسی سے مراد،یہ ہے اسے تھام لو۔یہی اللہ کی واضح اور روشن رسی ہے۔
اس روایت کی بناء پر صرف حضر ت علی (ع)کے حبل اللہ ہونے کا پتہ چلتا ہے،جبکہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ پورے چودہ معصومین جو اہل بیت ہیں،حبل اللہ ہیں جن سے متمسک رہنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے
تمام چودہ معصومین کے حبل اللہ ہونے کی خبر حضرت امام جعفر صادق(ع)نے دی ہے:
فی قوله:واعتصموا بحبل الله جمیعاً قال نحن حبل الله ( ۱ )
آپ (ع)سے واعتصموا بحبل اللہ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ (ع)نے فرمایا اللہ کی رسی سے ہم اہل بیت مراد ہیں۔
امام شافعی کا یہ مشہور کلام بھی اس آیت کی تفسیر ہے،جس سے اہل بیت واعتصموا بحبل اللہ کے مصداق ہونے کے ساتھ ساتھ ان سے متمسک رہنے کی اہمیت بھی واضح ہوجاتی ہے:
____________________
( ۱ ) ۔شواہد التنزیل ج۱ ص ۱۳۱،حدیث۱ ۸۰
ولما رأیت الناس قد ذهب بهم مذاهب فی البحر الغی والجهل رکبت علیٰ اسم الله فی سفن النجاة.وهم اهل بیت المصطفیٰ قائم الرسل و تمسکت حبل الله و هو و لاء هم کما قد امرنا بالتمسک بالحبل( ۱ )
اہم نکات:
۱۔ان روایات کی رو سے ثابت ہوجاتا ہے کہ اہل بیت حبل اللہ(اللہ کی رسی) ہیں۔
۲۔اہل بیت سے متمسک رہنے کا حکم اللہ نے دیا ہے۔
۳۔اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ان سے دوستی اور محبت کے بغیر انسان کے اعمال بے سود ہیں۔
۴۔ان سے دشمنی اور بغض رکھنا اس آیت کریمہ کے منافی ہونے کے علاوہ قرآن و سنت پر اعتقاد کے ساتھ متضاد بھی ہے۔
۵۔ایک طرف سے اسلام کے اصول و فروع کے پابند ہونے کا دعویٰ کرنا دوسری طرف سے اہل بیت کو دیگر اصحاب کرام کے مانند تصور کرنا حقیقت میں نا انصافی ہے۔کیونکہ اہل بیت سے متمسک رہنے اور ان سے دوستی و محبت کرنے کا حکم خدا کی جانب سے ہے اور ان کی محبت کے ساتھ انجام دیئے جانے
____________________
( ۱ ) ۔المغربی،احمد بن بطریق،فتح الملک العلی،ص ۷۰ ط؛مکتبہ امیر المومنین اصفہان
والے اعمال کا اجر و ثواب بھی دو برابر دیا جاتا ہے،یہ سب اس بات کی دلیل ہے کہ جس طرح پیغمبر اکرم (ص)کی اطاعت لازم ہے اسی طرح اہل بیت کی اطاعت بھی لازم و واجب ہے۔لہٰذا اہل بیت کو ہر مسئلے کا مرجع قرار دینا انسانیت اور فطرت کا تقاضا ہے۔
۱۷)اہل بیت ،صراط مستقیم ہیں
( اهدنا الصراط المستقیم ) ( ۱ )
''پالنے والے ہمیں راہ راست کی ہدایت کر''۔
تفسیر:
قرآن کریم میں کئی تعبیرات اور الفاظ راستے کے معنیٰ میں استعمال کئے گئے ہیں، سبیل اللہ، سبل،صراط،طریق،صراط مستقیم یہ سارے الفاظ صریحاً راستے کے معنیٰ بیان کرتے ہیں۔ اگرچہ راستے کے معنیٰ میں ان کے علاوہ اور بھی الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔نیز اللہ کی طرف سے جتنے انبیاء اور اوصیاء گذرے ہیں ان کے مبعوث ہونے کا فلسفہ بھی راستے کی نشاندہی بتایا جاتا ہے،جس سے راستے کی اہمیت اور ضرورت کا بخوبی علم ہوجاتا ہے۔لیکن ہم مسلمانوں کےلئے
____________________
( ۱ ) ۔حمد/ ۵۔
خداوند عالم نے چوبیس گھنٹوں میں ،پانچ وقت زبان پر''( اهدنا الصراط المستقیم ) ''کا جملہ جاری کرنے کو واجب قرار دیا ہے۔جس سے بھی راستے کی اہمیت واضح ہوجاتی ہے۔اگر ہم( اهدنا الصراط المستقیم ) کے بارے میں غور و فکر کریں تو اس کا مصداق بھی بخوبی واضح ہوجاتا ہے،اور اس راہ پر گامزن رہنے کی خاطر اللہ نے اپنے بندوں سے دعا کی درخواست کی ہے۔
برید اور ابن عباس (رض)نے روایت کی ہے کہ
فی قول الله اهدنا الصراط المستقیم،قال صراط محمد و آله ( ۱ )
یعنی صراط مستقیم سے حضرت محمد(ص) اور ان کے اہل بیت مراد ہیں۔
امام محمد باقر(ع)سے روایت ہے کہ امام (ع)سے صراط مستقیم کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ (ع)نے فرمایا:
نحن الطریق الواضح و الصراط المستقیم الی الله ( ۲ )
یعنی ہم اہل بیت ہی اللہ کی طرف جانے کا واضح و روشن راستہ اور راہ مستقیم ہیں۔
جابر بن عبد اللہ انصار ی (ع)پیغمبر اکرم (ص)سے روایت کرتے ہیں کہ آپنے فرمایا:اللہ نے حضرت علی (ع)اور حضرت فاطمہ (س)اور ان
____________________
( ۱ ) ۔الحاکم الحسکانی عبیداللہ بن احمد؛شواہدالتنزیل ج۱ص ۷ ۴
( ۲ ) ۔الحاکم الحسکانی عبیداللہ بن احمد؛شواہدالتنزیل ج۱ص ۷ ۴
کے دو فرزندوں کو اپنی مخلوقات کی ہدایت کےلئے خلق کیا ہے اور ان سے دوستی و محبت رکھنے کو لازم قرار دیا ہے۔وہ میری امت میں علم کا دروازہ بھی ہیں ،ان کے ذریعے سے میری امت کی ہدایت اور میری امت راہ مستقیم پر گامزن ہوسکتی ہے۔
توضیح:
تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ اللہ کی طرف سے مبعوث ہونے والے انبیاء میں حضرت محمد بن عبد اللہ(ص) آخری نبی ہیں جن کے بعد سلسلہ نبوّت و وحی منقطع ہوا اور کئی آیات میں اللہ نے اشارہ فرمایا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص)کی نبوت جن و انس کے لئے ہے۔کسی خاص قبیلہ اور طبقے کے ساتھ مخصوص نہیں ہے اور آپؐ کی سیرت طیبہ پر چلنے کو ہر مسلمان راہ سعادت وہدایت سمجھتا ہے اور پیغمبر اکرم (ص)کی ذمہ داری بھی یہی تھی کہ لوگوں کو ضلالت و گمراہی سے نجات دلائے اورراہ مستقیم اور راہ ہدایت کی نشاندہی فرمائیں۔کیونکہ بشر کےلئے پیغمبر اسلام (ص)مکی سیرت مشعل راہ ہدایت ہے اور آنحضرت (ص)نے واضح الفاظ میں فرمایا ہے کہ میں تمہاری نجات کا ذریعہ ہوں لیکن میں بھی تمہاری مانند انسان ہوں،موت اور حیات بر حق ہے۔لہٰذا میرے بعد راہ مستقیم کے مصداق میرے اہل بیت و عترت ہیں، وہ قیامت تک اسلام کی حفاظت اور تمہاری نجات کا ذریعہ ہیں۔ان سے متمسک رہو۔اگر بشر پیغمبر اسلام (ص)سے منقول روایات کا صحیح معنوں میں مطالعہ کرے تو بخوبی بہت سارے شبہات کا واضح جواب مل سکتا ہے۔
شیخ عبد اللہ الحنفی اپنی کتاب ارجح المطالب میں صراط مستقیم کی تعبیر میں اہل سنت کی سند اور طریق سے کئی روایات نقل کرتے ہیں، ان سے معلوم ہوجاتا ہے کہ صراط مستقیم سے اہل بیت مراد ہیں۔ اور اہل تشیع کی سند کے ساتھ صراط مستقیم کی تعبیر کے بارے میں تقریباً چوبیس روایات منقول ہیں جن سے بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ اہل بیت صراط مستقیم کے مصداق ہیں،جن سے متمسک رہنا ضروری ہے۔( ۱ )
بعض محققین نے صراط مستقیم کے موضوع پر مستقل کتابیں لکھی ہیں جن کو بیان کرنے کی اس مختصر کتاب میں وسعت نہیں ہے۔
۱۸)اہل بیت ،خدا کی جانب سے بشر پر گواہ ہیں
( وکذالک جعلناکم امة وسطاً لتکونوا شهداء علیٰ الناس ) ( ۲ )
اور اس طرح ہم نے تمہیں درمیانی امت قرار دیا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو۔
____________________
(۱) تفصیلی مطالعہ کیلئے دیکھیں:علامہ طباطبائی : تفسیر المیزان ج۱تفسیرسورئہ حمد
(۲)۔بقرہ ۱۴۳۔
تفسیر:
ابان بن ابی عیاش نے سلیم بن قیس (ع)سے وہ حضرت علی (ع)سے روایت کرتے ہیں:
قال انّ الله ایّانا عنی بقوله تعالیٰ تکونوا شهداء علیٰ الناس فرسول الله شاهد علینا و نحن شهداء علیٰ الناس و حجته فی ارضه و نحن الذین قال الله جل اسمه فیهم ( ۱ )
حضرت علی (ع)نے فرمایا:
بتحقیق خدا نے اپنے اس قول سے تکونوا.....ہم اہل بیت ارادہ کیا ہے،لہٰذا رسول اکرم (ص) خدا کی جانب سے ہم پر گواہ ہیں اور ہم تمام انسانوں پر گواہ ہیں اور پیغمبراکرم (ص)روئے زمین پر خدا کی طرف سے حجت ہیں اور ہم وہ ہستیاں ہیں جن کے بارے میں خدا نے فرمایا( وکذالک جعلناکم امة وسطاً..... )
علامہ فرمان علی اعلیٰ اللہ مقامہ نے اس آیت کی تفسیر میں در منثور اوراہل سنت کی دیگر کتابوں سے کئی احادیث کا ترجمہ ذکر کیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ امۃ وسطاً اور شہداء علیٰ الناس سے مراد اہل بیت ہیں( ۲ ) ۔
____________________
(۱)شواہد التنزیل ج ۱ ص۹۲۔
(۲)ترجمہ قرآن فرمان علی ص۲۸
اہم نکات:
۱۔صراط مستقیم (سیدھا راستہ) اہل بیت ہیں۔
۲۔حبل اللہ، (خدا کی رسی)اہل بیت ہیں۔
۳۔تمام انسانوںپر اہل بیت ،خدا کی طرف سے گواہ ہیں،یعنی روز قیامت جنت اور جہنم میں داخل ہونے کا فیصلہ اہل بیت کی گواہی کے مطابق ہوگا۔
۴۔روز مرہ زندگی کے تمام مسائل چاہے اعتقادی ہوں یا اخلاقی،فقہی ہوں یا سماجی،سیاسی ہوں یا علمی ان سب کاسر چشمہ اہل بیت کو قرار دینا شرعی ذمہ داری ہے ان کی سیرت ان کے قول و فعل خدا کی طرف سے حجت ہیں
۱۹)اہل بیت مصداق شجر طیبہ ہیں
( الم تر کیف ضرب الله مثلاً کلمة طیبةً کشجرةٍ طیبةٍ اصلها ثابت و فرعها فی السماء تؤتی اکلها کل حین باذن ربها ) ( ۱ )
(اے رسول (ص))کیاتم نے نہیں دیکھا کہ خدا نے اچھی بات(جیسے کلمہ توحید)کی کیسی اچھی مثال بیان کی ہے کہ (اچھی بات)گویا ایک پاکیزہ درخت کی مانند ہے کہ اس کی جڑمضبوط گڑی ہوئی ہے اور اس کی ٹہنیاں آسمان
____________________
( ۱ ) ۔ابراہیم /۲۵۔
میں پہنچی ہوئی ہیں خدا کے حکم سے ہمہ وقت پھلا پھولا رہتا ہے۔
تفسیر:
عبد الرحمن بن عوف کا غلام مینا ،اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں:
سمعت عبدالرحمن بن عوف یقول خذوا منی حدیثاً قبل ان تشاب الاحادیث باالاباطیل، سمعت رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم یقول انا الشجرة و فاطمة فرعها و علی لقاحها وحسن و حسین ثمرها وشیعتنا ورقهاو اصل الشجرة فی جنة عدن و سائر ذالک فی سائر الجنة( ۱ )
مینانے کہا کہ عبد الرحمن بن عوف سے میں نے سنا کہ انہوں نے کہا (لوگو) باطل احادیث رائج اور مخلوط ہونے سے پہلے مجھ سے ایک حدیث سنو کہ پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا:
'' میں درخت ہوں اور فاطمہ زہرا (س)اس کی شاخ اور علی (ع)اس کا شگوفہ ہے جبکہ حسن (ع)و حسین- اس درخت کے میوے ہیں اور ہمارے چاہنے والے اس کے پتے ہیں، اس کی جڑ جنات عدن میں ہے جبکہ اس کی شاخیں پوری جنت میں پھیلی ہوئی ہیں''۔
____________________
( ۱ ) ۔شواہد التنزیل ج ۱ ص۳۱۲حدیث۴۳ ۰ ۔
سلام خثعمی سے روایت کی گئی ہے جس کا ترجمہ اس آیت کی تفسیر میں بیان کرنا زیادہ مناسب ہے:( ۲ )
سلام خثعمی نے کہا کہ میں امام محمد باقر (ع)کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ (ع)سے آیت شریفہ( اصلها ثابت و فرعها فی السماء ) کے متعلق سوال کیا کہ اس سے کیا مراد ہے؟
آپ (ع)نے فرمایا: اے سلام! شجر طیبہ سے پیغمبر اکرم (ص)،فرعہا سے حضرت علی (ع)میوے سے حضرات حسنین +،اور شاخ سے حضرت زہرا(س) مراد ہے۔جبکہ اس کی شاخ سے نکلنے والی ٹہنیوںسے ہم اہل بیت کے چاہنے والے افراد مراد ہیں۔جب ہمارے چاہنے والوں میں سے کوئی وفات پاتا ہے تو اس درخت سے ایک پتہ خشک ہو کر زمین پر گرجاتا ہے لیکن جب ہمارے دوستوں میں سے کسی کے ہاں کوئی بچہ پیدا ہوجاتا ہے تو اس کی جگہ ایک اور پتہ نکل جاتا ہے۔
سلام نے کہا :یا بن رسول اللہ! اگر ایسا ہے تو تؤتی اکلہا سے کیا مراد ہے؟
آپ (ع)نے فرمایا:اس سے مراد ہم ہیں۔ہم اپنے ماننے والوں کو ہر حج و
____________________
( ۲ ) شواہد التنزیل ج ۱ /ص۳۱۱ حدیث۴۲ ۸
عمرہ کے موسم میں حلال و حرام کے مسائل سے آگاہ کرتے ہیں۔
نوٹ:
اگر آیت کریمہ کے ظاہری معنیٰ اور روایت کاموازنہ کریں تو یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ خدا نے پیغمبر (ص)کو شجر طیبہ سے تعبیر کرکے ان کی فضیلت کو بیان فرمایا جبکہ ا پؐ کے اہل بیت کی عظمت کو فرعہا اور تؤتی اکلہا کے الفاظ میں بیان کیا جس سے اہل بیت کی خلقت اورفضیلت کا ہدف بھی معلوم ہوجاتا ہے یعنی خدا نے اہل بیت کو اپنے نظام کی حفاظت اور لوگوں کو ہر قسم کی برائی اور گمراہی سے نجات دلانے کی خاطر خلق فرمایا ہے۔
لہٰذا اگر مسلمان دور حاضر کے مفاسد اور مغربی تہذیب و تمدن کے برے اثرات سے بچنا چاہیں تو بہترین راہ اہل بیت کی سیرت پر عمل ہے جس میں ہر مسئلہ کا حل موجودہے اور ہر قسم کی ضلالت و گمراہی سے نجات کا ذریعہ بھی ہے۔کیونکہ خدا نے انکی ہدف خلقت ہماری تربیت اور اسلام کی نشر واشاعت بتایا ہے۔ اگر ہم اہل بیت کی سیرت سے قطع نظر دنیوی مسائل کے بارے میں غور کریں تو سوائے گمراہی اور ضلالت کے کچھ نظر نہیں آتا۔
لہٰذا اگر اتحاد ویکجہتی ،نظام اسلام کی حفاظت، قرآن و سنت کی بالادستی، مسلمانوں کی عظمت اور شرافت کے خواہاں ہیں تو سیرت اہل بیت پر عمل کریں۔( ۱ )
۲۰)اہل بیت انبیاء کی نجات کا وسیلہ ہیں
( فتلقیٰ آدم من ربّه کلمات فتاب علیه انّه هو التّواب الرحیم ) ( ۲ )
''پھر آدم (ع)نے اپنے پروردگار سے(عذر خواہی کے)کچھ کلمات(اور
الفاظ)سیکھے پس خدا نے(ان الفاظ کی برکت سے) آدم (ع)کی توبہ قبول کرلی،بے شک خدا بڑا معاف کرنے والا مہربان ہے''۔
تفسیرآیت:
سعید بن جبیر نے عبد اللہ بن عباس (رض)سے روایت کی ہے:
قال سئل النبی عن الکلمات التی تلقیٰ آدم من ربه فتاب علیه قال سأله بحق محمد و علی و فاطمة و الحسن و الحسین
____________________
( ۱ ) قارئین محترم،صواعق محرقہ،تفسیر بیضاوی،تفسیر در منثور،شواہد التنزیل جیسی کتابوں کا مطالعہ کریں ان میں منقول روایات کو جو اہل بیت کی شان میں ہیں نشر کریں،تاکہ نجات بشر کا ذریعہ بن سکیں۔
( ۲ ) ۔بقرہ /۳ ۷ ۔
الا تبت علیّ فتاب علیه ( ۱ ) ۔
عبد اللہ ابن عباس (رض)نے کہا کہ پیغمبر اکرم (ص)سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا تو آنحضرت (ص)نے فرمایا:اس آیت میں کلمات سے ہم اہل بیت مراد ہیں کہ حضرت آدم(ع)نے خدا سے حضرت محمد(ص)،حضرت علی (ع)اور حضرت فاطمہ (س)و حضرات حسنین(ع)کے صدقے میں توبہ کی تو خدا نے صرف ان کے صدقے میں توبہ آدم (ع)قبول کرلی نیزابن عباس (رض)سے روایت کی گئی ہے:
عن النبی(ص) لما امر الله آدم بالخروج من الجنة رفع طرفه نحو السماء فرأی خمسة اشباح عن یمین العرش فقال الهٰی خلقت خلقاً من قبلی فاوحی الله الیه اما تنظر الیٰ هٰذه الاشباح قال بلیٰ قال هٰولاء الصفوة من نوری شققت اسمائهم من اسمیفانا الله محمود وهٰذا محمد(ص) وانا العالی وهٰذا علی وانا الفاطر و هٰذه فاطمة وانا المحسن وهٰذا الحسن ولی اسماء الحسنیٰ و هٰذا الحسین فقال آدم فبحقهم اغفرلی فاوحی الله الیه قد غفرت وهی الکلمات التی قال الله فتلقیٰ آدم من ربه کلمات فتاب علیه ( ۱ )
____________________
( ۱ ) ۔منا قب : ابن مغازلی ص٦۳حدیث ۸۹ و ینابیع المودۃج ۱ص ۹ ۵۔
( ۲ ) ۔،ینابیع المودۃ ص ۹۷ ۔
ابن عباس (رض)نے پیغمبر اکرم (ص)سے روایت کی ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا :جب خدا نے حضرت آد م(ع)کو جنت سے نکلنے کا حکم دیا تو حضرت آدم (ع)نے آسمان کی طرف دیکھا اور عرش کے قریب دائیں جانب پانچ ہستیوں کا جلوہ دکھائی دیا تو خدا سے پوچھا پالنے والے! کیا مجھ سے پہلے کسی کو خلق فرمایا تھا؟ خدا کی طرف سے وحی ہوئی اے آدم (ع)! کیا تمہیں ان پانچ ہستیوں کا شبح نظر آرہا ہے؟آدم (ع)نے عرض کیا،جی ہاں۔خدا نے فرمایا:یہ پانچ ہستیاں میری منتخب شدہ ہستیاں ہیں جن کو میں نے اپنے نور سے خلق کیا ہے ۔ان کے اسماء میرے اسماء سے لئے گئے ہیں یعنی میں محمود ہوں یہ محمد(ص)ہیں۔میں عالی ہوں یہ علی (ع)ہیں۔میں فاطر ہوں یہ فاطمہ= ہیں۔میںمحسن ہوں یہ حسن (ع)ہیں اور میرے اسماء حسنیٰ ہیں یہ حسین (ع)ہیں۔اتنے میں آدم (ع)اٹھ کھڑے ہوئے اور
ان کے صدقے میں خدا سے معذرت خواہی کی تو خدا کی طرف سے وحی ہوئی کہ اے آدم(ع)! میں نے تیری معذرت خواہی کو قبول کیا،کیونکہ آیت''فتلقیٰ آدم....''میں کلمات سے مراد یہی ہستیاں ہیں''۔
اہم نکات:
۱۔آیت سے اس بات کا علم ہوتا ہے کہ حضرت آدم(ع)خدا کی طرف سے سب سے پہلا بشر اور نبی ہونے کے باوجود معمولی سی ترک اولیٰ پر اہل بیت کے وسیلے کے بغیر نجات نہیںمل سکی۔جس سے عام انسانوں کے حالات کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے۔یعنی جب خدا کا بھیجا ہوا نبی اہل بیت کی وساطت کے بغیر نجات نہیں پاسکتا تو دوسرے انسانوں کےلئے اہل بیت کے بغیر کیسے نجات مل سکتی ہے۔حضرت آدم(ع)کو اہل بیت کا خاکہ اور اشباح عالم ذر میں دکھادیا تھا جس سے ایک حقیقت سامنے آجاتی ہے۔ یعنی اہل بیت کا خاکہ اس مادی دنیا میں خلق کرنے سے پہلے خدا نے انبیاء کو دکھایا تھا اور فرمایا تھا کہ یہی ہستیاں کائنات کی تمام مخلوقات سے افضل ہیں اور انہی کے وسیلے سے نجات مل سکتی ہے۔
۲۱)اہل بیت ،صادقین کے مصداق ہیں
( یا ایها الذین آمنوا اتقوا الله وکونوا مع الصادقین ) ( ۱ )
''اے ایمان والو خدا سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔''
تفسیرآیت:
اس آیت میں خدا نے فرمایا جو مومن ہے اسے چاہے کہ:
الف:تقویٰ اختیار کرے۔
ب: صادقین کے ساتھ ہوجائے۔
____________________
( ۱ ) سورئہ توبہ آیہ ۱۱ ۹
تقویٰ کی حقیقت بیان کرنے کی اس کتاب میں گنجائش نہیں ہے۔ ہم یہاں صرف صادقین کی وضاحت کریں گے:
فرمان علی اعلیٰ اللہ مقامہ( ۱ ) نے آیت کی تفسیر فرماتے ہوئے لکھا ہے کہ ابن مرویہ نے ابن عباس (رض)سے اور ابن عساکر نے امام محمد باقر (ع)سے روایت
کی ہے کہ اس آیت میں صادقین سے حضرت علی ابن ابی طالب(ع)مراد ہیں( ۲ )
لیکن استاد محترم ، علامہ آقائے علی ربانی گلپائگانی نے اپنے لیکچر میں صادقین کے بارے میں فرمایا:صادقین سے متعلق مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ۔لیکن حاکم حسکانی عبد اللہ بن عمرسے روایت کرتے ہیں کہ صادقین سے اہل بیت مراد ہیں۔( ۳ )
بعض دوسرے مفسرین اس طرح تفسیر کرتے ہیں:
الصادقون هم الائمة الصدیقون بطاعتهم ( ۴ )
صادقین سے ائمہ اطہار (ع) مراد ہیں۔کہ جنہوں نے خدا کی سچی اطاعت کی ہے۔
____________________
( ۱ ) ترجمہ قرآن حاشیہ ۲
( ۲ ) ۔در منثور ج ۳ ص۳ ۹۰ ۔
( ۳ ) ۔شواہد التنزیل ج ۱ ص۲٦۲،حدیث۳۵ ۷ ۔
( ۴ ) ۔ینابیع المودۃج۱ص۱۱۵۔
پس آیت مذکورہ سے اہل بیت کی ایک خاص خصوصیت ثابت ہوتی ہے جس کا دوسرے انسانوں میں پایا جانا مشکل ہے کیونکہ''مختص الشیء لا یوجد فی غیره'' ( ۱ ) وہ حقیقت اور سچائی کے ساتھ خدا کی اطاعت کرنے والے ہیں۔ اس آیت کے حوالے سے مزید وضاحت کےلئے ڈاکٹر تیجانی حفظہ اللہ کی لکھی ہوئی معروف کتاب( ۲ ) اور دیگر تفاسیر کی طرف رجوع کریں۔ الغدیر اور جو کتابیں عقائد کے موضوع پر لکھی گئی ،ان میں اس آیت سے اہل بیت کی عصمت کو ثابت کیا گیا ہے۔حتیٰ فخر رازی نے بھی اس طرح کا احتمال دیا ہے۔
۲۲)اہل بیت کی سرپرستی کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کا حکم
( یا ایها الذین آمنوا ادخلوا فی السلم کافة ولا تتّبعوا خطوات الشیطان انّه لکم عدو مبین ) ( ۳ )
''اے ایمان والو! تم سب کے سب ایک بار اسلام میں پوری طرح داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدم بقدم نہ چلو وہ تمہارا یقیناً ظاہر بہ ظاہر دشمن ہے۔''
____________________
( ۱ ) جو بات کسی شے کےلئے مخصوص ہے وہ کسی اور میں نہیں پائی جاتی ہے۔
( ۲ ) ''پھر میں ہدایت پاگیا''
( ۳ ) بقرہ /۲ ۰۸ ۔
تفسیرآیت:
ابن مغازلی صاحب مناقب روایت نقل کرتے ہیں:
عن علی فی قوله تعالیٰ ادخلوا فی السلم کافة قال ولایتنا اهل البیت ( ۱ )
حضرت علی (ع)سے ''ادخلوا فی السلم کافۃ ''کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ (ع)نے فرمایا: اس سے ہم اہل بیت کی ولایت مراد ہے یعنی سب کے سب ہماری ولایت اور سرپرستی کو پوری طرح مان لےں۔
نیز امام محمد باقر (ع)سے شیخ سلیمان قندوزی ینابیع المودۃ میں روایت کی ہے:
عن ابی جعفر الباقر فی قوله تعالیٰ یا ایها الذین آمنوا ادخلوا فی السلم کافة یعنی ولایة علی علیه السلام والاوصیاء بعده ( ۲ )
امام محمد باقر(ع)سے آیت کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ- نے فرمایا:( ادخلوا فی السلم کافة ) سے حضرت علی (ع)اور ان کے بعد انکے جانشینوں کی ولایت مراد ہے۔
____________________
( ۱ ) ۔منا قب ابن مغازلی۔ ص۱ ۰ ۴
( ۲ ) ۔ینایبع المودۃ ص۲۵ ۰ ،
اگر ہم گذشتہ روایات کی بنا پر'' فی السلم کافۃ ''سے اہل بیت کی ولایت اور سرپرستی کا ارادہ کریںتو دوسرے جملے سے بہت ہی عجیب و غریب نکتہ سمجھ میں آتا ہے یعنی خدا نے اہل بیت کی سرپرستی اور ولایت کو قبول کرنے کے حکم ساتھ دوسرے لوگوں کی سرپرستی اور ولایت کو خطوات الشیطان سے تعبیر کرکے فرمایا اہل بیت کے سوا دوسروں کی ولایت اور سر پرستی کو قبول نہ کرو کیونکہ ان کی ولایت اور سرپرستی کو قبول کرنا قدم بہ قدم شیطان کے اتباع اور پیروی کے مترادف ہے۔
اگرچہ شیعہ امامیہ کا عقیدہ یہ ہے کہ بالذات ولایت اور سرپرستی کا حق خدا کے سواء کسی بشر کو نہیں ہے لیکن خدا نے جن کو سرپرستی اور ولایت کا حق عطا کیا ہے وہ اہل بیت ہیں۔ ان کے مقابلے میں دوسروںکی ولایت کو قبول کرنا خدا کی نظر میں خطوات شیطان کا اتباع ہے۔
۲۳)اہل بیت انصاف کا دروازہ ہیں
( وممن خلقنا امة یهدون وبه یعدلون ) ( ۱ )
اور ہماری مخلوقات میں سے کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ جو(دین) حق کی ہدایت کرتے اور حق کے ساتھ انصاف بھی کرتے ہیں۔ ____________________
( ۱ ) ۔اعراف/۱ ۱ ۸ ۔
تفسیر:
اس آیت میں خدا نے خبر دی کہ میری مخلوقات میں سے کچھ لوگ انصاف اور حق کی ہدایت کے لئے خلق کی گئی ہیں،وہ کون ہیں ان کو معین کرنا ضروری ہے۔ فرمان علی اعلیٰ اللہ مقامہنے لکھا ہے کہ حضرت علی (ع)سے روایت کی گئی ہے کہ عنقریب اس امت کے تہتر فرقے ہوںگے ان میں سے بہتر فرقے جہنمی ہیں صرف ایک فرقہ جنتی ہے اور ان کے بارے میں خدا نے فرمایا ـ:میں اور میرے ماننے والے شیعہ اس آیت کے مصداق ہیں۔( ۱ )
شواہد التنزیل کے مصنف نے ابن عباس (رض)سے روایت کی ہے:
فی قوله عز و جل وممن خلقنا امة.....قال یعنی من امة محمد وعلی ابن ابی طالب علیهما السلام یهدون بالحق یعنی یدعون بعدک یا محمد الیٰ الحق وبه یعدلون فی الخلافة بعدک ( ۲ )
یعنی اس آیت سے پیغمبر اکرم (ص)اور حضرت علی (ع)کے پیروکار مراد ہے جو پیغمبر (ص)کے بعد حق کی طرف لوگوں کو دعوت دیتے ہیں اور پیغمبر (ص)کے
بعد خلافت کے سلسلے میں حق کے ساتھ وابستہ رہتے ہیں۔جو لوگوں کی ہدایت اور حق کی طرف انصاف کے ساتھ دعوت دیتے ہیں۔
____________________
( ۱ ) ترجمہ قرآن حاشیہ ۲
( ۲ ) ۔شواہد التنزیل ج ۱ ص۲ ۰ ۴حدیث ۲٦٦
جناب محمد رضا امین زادہ نے اپنی کتاب فضائل اہل بیت کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ اس آیت کے متعلق اہل سنت سے دو حدیثیں جبکہ اہل تشیع سے بارہ حدیثیں نقل ہوئی ہیں۔جن سے بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ آیت کریمہ اہل بیت کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ فخر رازی نے اس آیت کی تفسیر میں اس حدیث کو نقل کیا ہے:
انّ من امتی قوماً علیٰ الحق حتیٰ یتنزل عیسیٰ بن مریم ( ۱ )
پیغمبر (ص)نے فرمایا:اس آیت میں میری امت میں سے ایک گروہ مراد ہے جو برحق ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نازل ہونے تک حق کی دعوت دیتے رہیں گے۔
تحلیل:
اگر ہم با شعورانسان کی حیثیت سے تعصب اوراندھی تقلید اور دیگر عوامل سے قطع نظر شرعی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے چودہ معصومین کی سیرت کو صحیح معنوں میں درک کریں تو بہت سارے مسائل کا حل مل سکتا ہے اور اس آیت کا مصداق جو برحق ہونے کے علاوہ دین حق کی ہدایت اور انصاف کا مصداق ہے،متعین کرسکتے ہیں۔
____________________
( ۱ ) فضائل اہل بیت ص۲ ۸
( ۲ ) تفسیر کبیر ج ۱۵ ص ۷ ۲۔
اگر عدل وانصاف اورہدایت و سعادت کے خواہاں ہوںاور ظلم وستم ، جہالت و گمراہی اور شیطانی اوصاف کے حامل لوگوں کے تسلط سے نجات کے طالب ہوں تو اہل بیت کی سیرت پر چلنا چاہے اور ان کے نورانی کلمات سے استفادہ کرنا چاہے کیوں کہ کسی تعصب اور مادی ہدف کے بغیر صرف ذمہ داری سمجھ کر ہدایت کرنے والی ہستیاں اہل بیت ہیں۔
ان کی سیرت سے ہٹ کر جو بھی نظام اور سیرت ہیں ان میں دوام اور اور استحکام نظرنہیںآتا اس کے علاوہ ان میں دنیا و آخرت کی تباہی، ظلم و ستم اور ضلالت و گمراہی کے رواج، جہالت اور ناانصافی اور جابر حکمرانوں کے تسلط کے سوا کچھ بھی نہیں ہے چنانچہ آج صاحبان عقل دنیا میں ایسے وقائع اور حالات کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ سیاست اور کامیابی کے نام سے بے گناہ افراد کو اپنا غلام بنا کریا قتل و غارت کے ذریعے ہم دہشت گردی سے نجات دینے کےلئے پیدا کئے گئے ہیں جبکہ ان نظریات کو صحیح معنوں میں درک کرنے سے دہشت گردوں کی تقویت اور ناانصافی کے فروغ کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا لہٰذا پڑھے لکھے حضرات سے گزارش ہے کہ وہ بالغ نظری سے اہل بیت کی سیرت کا مطالعہ کریں۔
اگر ہم کسی شعبے میں کامیاب،باوقار،با عزت اور باشرف ہونا چا ہیں تو اس کی بہترین راہ اہل بیت کی سیرت ہے جس میں ہماری دنیا و آخرت دونوں کی سعادت کے علاوہ ثبات اور دوام بھی نظر آتا ہے۔
اب تک اہل بیت کی عظمت کے بارے میں اہل سنت کی تفاسیر اور معتبر کتابوں سے کچھ آیات کونقل کرنے کا شرف حاصل ہوا ۔لیکن اگر ہم اہل سنت کی کتابوں کا بغور مطالعہ کریں تواہل بیت کی شان اور ان کی عظمت بیان کرنے والی مزید آیات مل سکتی ہیں ۔
قارئین محترم سے گزارش ہے ہمارے برادران اہل سنت کی ان کتابوں کا مطالعہ کریں جن میں اہل بیت کی فضیلت اور عظمت بیان کرنے والی آیات و روایات بہت زیادہ ہیں۔
دوسری فصل
اہل بیت کی عظمت سنت کی روشنی میں
۱)اہل بیت کا وجود نور الہٰی ہے
قرآن کریم میں خدا نے اپنی ذات گرامی کو نور سے تعبیر کیاہے جیسے( الله نور السموٰات والارض ) یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ پورے آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔
نیز حضرت پیغمبر اسلام (ص) کے وجود مبارک کو اور خود قرآن کریم کو بھی نور سے یاد کیاگیا ہے، اسی طرح احادیث نبوی(ص)میں علم اور نمازتہجد اور احادیث متواترہ میں اہل بیت کے وجود بابرکت کو نور سے تعبیر کیا گیاہے۔
ابن مسعود (ع)نے کہا:
قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم :اعلم ان الله خلقنی و علیاً من نور عظیم قبل خلق الخلق بالفی عام اذ لا تسبیح و لا تقدیس ( ۱ )
____________________
( ۱ ) ۔قندوزی،ینابیع المودۃ،ج۱ص ۷۰
''پیغمبر اکرم (ص)نے مجھ سے فرمایا:(اے ابن مسعود (ع)) جان لو! خدا نے کائنات کو خلق کرنے سے دو ہزار سال پہلے مجھے اور علی (ع)کو ایک عظیم نور سے خلق فرمایا تھا جبکہ اس وقت خدا کی تقدیس اور تسبیح کےلئے کوئی مخلوق نہ تھا۔
اس روایت سے دو نکتے واضح ہوجاتے ہیں:
۱۔کائنات کی خلقت سے پہلے پیغمبر (ص)اور حضرت علی (ع)کی خلقت ہوئی تھی اگرچہ اس کا تصور کرنا اس صدی کے افراد کی ذہنیت سے دور ہے کیونکہ اس صدی کے انسان کا ذہن مادی اشیاء سے زیادہ مانوس ہے۔ لہٰذاماورائے مادہ و مادیات کا تصور اور خاکہ اس کے ذہن میں ڈالنا اتنی علمی ترقی اور عقل و شعور کے باوجود بہت مشکل ہے ۔لیکن اگر انسان کا عقیدہ اور ایمان مضبوط ہو تو یہ سمجھنا آسان ہے کہ کائنات کی خلقت سے پہلے پیغمبر اکرم (ص)اور حضرت علی (ع)کے نور کو خلق کرنا خدا کے لئے مشکل کام نہیںتھا۔کیا اللہ تعالیٰ اس پر قادر نہ تھا؟کیا اس طرح کا خلق کرنا ممکن نہیں ہے کیا کائنات کی خلقت حضرت پیغمبر (ص) اور حضرت علی (ع)کی خلقت کےلئے علت تامہ ہے؟ لہٰذا یہ کہنا کہ پیغمبر اکرم (ص)اور حضرت علی (ع)کی خلقت کےلئے مکان و زمان یا اس رائج مادی سسٹم کی ضرورت ہے۔اس طرح تصور کرناحقیقت میں کائنات کے حقائق سے بے خبر ہونے کے مترادف ہے۔
۲۔اس حدیث سے پیغمبر اکرم (ص)اور حضرت علی (ع)کے وجود مبارک کے نور ہونے کا پتہ چلتا ہے جس کی حقیقت یہ ہے کہ ان کے وجود میں کسی بشر کے لئے کوئی ضرر یا نقصان قابل تصور نہیں ہے۔ کیونکہ خدا کی ذات نور ہے قرآن نور ہے،علم وعبادات نور ہیں،اہل بیت کا وجود بھی نور ہے، اور یہ چیزیں انسان کے تکامل و ترقی کا ذریعہ ہیں۔تکامل و ترقی کےلئے رکاوٹ کا تصور محال ہے۔
نیز جناب عبد الرضی بن عبد السلام نے نزہۃ المجالس میں جناب جابر بن عبد اللہ (ع)سے روایت کی ہے:
عن النبی صلی الله علیه وآله وسلم ان الله خلقنی و خلق علی (ع) نورین بین یدی العرش نسبح الله و نقدسه قبل ان یخلق آدم بالفی عام فلما خلق الله آدم اسکننا فی صلبه ثم خلقنا من صلب طیب و بطن طاهر حتیٰ اسکننا فی صلب ابراهیم(ع)ثم نقلنا من صلب ابراهیم الیٰ صلب طیب و بطن طاهر حتیٰ اسکننا فی صلب عبد المطلب ثم افترق النور فی عبد المطلب فصار ثلثاه فی عبد الله و ثلثه فی ابی طالب (ع) ثم اجتمع النور منی و من علی (ع) فی فاطمة (ع) فالحسن و ال حسین (ع) نوران من نور ربّ العالمین ( ۱ )
____________________
( ۱ ) ۔نزہۃ المجالس ج ۲ص۲۳ ۰ ۔
جناب جابر (ع)نے پیغمبر اکرم (ص)سے روایت کی ہے کہ آپنے فرمایا: بتحقیق خدا نے مجھے اور علی (ع)کو حضرت آدم (ع)کی خلقت سے دوہزار سال پہلے دو نور کی شکل میں عرش کے سامنے خلق کیا اور ہم خدا کی تسبیح و تقدیس کرتے تھے ۔جب خدا نے حضرت آدم (ع)کو خلق فرمایا تو ہمارے نورکو ان کے صلب مبارک میں قرار دے دیا پھر ان کے صلب سے پاک و پاکیزہ اصلاب کے ذریعہ منتقل کرکے حضرت ابراہیم(ع)کے صلب میں ٹھہرایا،پھر ان کے صلب اور پشت سے نکال کر جناب عبد المطّلب- کے صلب میں منتقل کیا پھر جناب عبد المطلب (ع)کے صلب سے یہ نور اس طرح تقسیم ہواکہ دو حصے حضرت عبد اللہ بن عبد المطّلب- کے صلب میں قرار دیا گیاجبکہ ایک حصہ جناب ابو طالب بن عبد المطلب +کے صلب میں قرار دیاگیا،پھر اس نور کے دونوں حصے فاطمہ (س)کے وجود مبارک میں جمع ہوئے لہٰذا حسن- و حسین- اللہ تعالیٰ کے دو نور ہیں۔
اس روایت پر غور کیا جانا چاہے کیونکہ گذشتہ روایت میں حضرت پیغمبر اکرم (ص)اور حضرت علی (ع)کے نور کا کائنات کی خلقت سے پہلے موجود ہونے کو بتایا گیا ۔ اس روایت میں حضرت آدم(ع)کی خلقت سے پہلے حضرت پیغمبر (ص) اور حضرت علی (ع)کا نورخلق ہونے کی خبر دی۔
نیز جناب سلمان فارسی (ع)نے فرمایا:
قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم: یا سلمان!فهل علمت من نقبائی و من الانثیٰ عشر الذین اختارهم الله للامامة بعدی فقلت الله و رسوله اعلم قال یا سلمان خلقنی الله من صفوةٍ نوره و دعانی فا طعت و خلق من نوری علیاً فدعاه واطاعه وخلق من نوری و نور علی فاطمه فدعاها فاطاعته و خلق منی و من علی و فاطمة الحسن و الحسین فدعاهما فاطاعاه فسمانا بالخمسة الاسماء من اسمائه الله المحمود و انا محمد والله اعلٰی وهٰذا علی و الله فاطر وهٰذه فاطمة والله ذوالاحسان وهٰذا الحسن والله المحسن وهٰذا الحسین ثم خلق منا ومن صلب الحسین تسعة ائمة فدعاهم فاطاعوه قبل ان یخلق الله سماء مبنیة وارضا مدحیة او هواء او ماء او ملکاً او بشراً وکنّا بعلمه نوراً نسبحه و نقدسه و نطیع ( ۱ )
پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا:اے سلمان (ع)! کیا تو جانتے ہو کہ میرے جانشین کون ہیں؟ اور وہ بارہ افراد جنہیں خدا نے میرے بعد امامت کےلئے چن لیا ہے کون ہیں؟سلمان (ع)نے کہا:اللہ اور اس کا رسول (ص) بہترجانتے ہیں۔ اس وقت رسول خدا ؐنے فرمایا: اے سلمان (ع)جان لو!خدا نے مجھے اپنے
____________________
( ۱ ) ۔بحار الانوارج ۱۵ ص ۹ ۔
خالص نور سے خلق فرمایا اور مجھے اپنی اطاعت کی دعوت دی تو میں نے اطاعت کی پھر میرے نور سے علی (ع)کو خلق کیا اور ان کو بھی اپنی طرف دعوت دی انہوں نے بھی اطاعت کی اور میرے اور علی (ع)کے نور سے فاطمہ زہرا(س) کو خلق کیا ان کو بھی اطاعت کی دعوت دی انہوں نے لبیک کہا پھر میرے،علی (ع)اور فاطمہ (س)کے نور سے حسن و حسین (ع) کو خلق فرمایا ان کو بھی اپنی طرف دعوت دی انہوں نے قبول کیا پھر خدا نے ہمیں اپنے پانچ اسماء حسنیٰ سے موسوم فرمایا پس خدا محمود ہے میں محمد،خدا اعلیٰ ہے اور یہ علی (ع)،خدا فاطر ہے اور یہ فاطمہ (س) ،خدا صاحب احسان ہے اور یہ حسن (ع)،خدا محسن ہے اور یہ حسین-۔اس کے بعد خدا نے میرے حسین(ع)کے صلب سے نو ہستیوں کو امام اور پیشوا بناکر خلق فرمایا ان کو بھی اپنی طرف دعوت دی تو سب نے خدا کی اطاعت کی،اس وقت آسمان،زمین،ہوا،پانی،فرشتے اور بشر میں سے کوئی چیز خلق نہیں ہوئی تھی صرف ہمارا نور تھا جو خدا کی تسبیح و تقدیس اور اطاعت کر رہا تھا۔
فضل نے کہا:
قال الصادق علیه السلام:ان الله تبارک وتعالیٰ خلق اربعة عشر نوراً قبل خلق الخلق باربعة عشر الف عام فهی ارواحنا فقیل له یابن رسول الله ومن الاربعة عشر قال محمد(ص)و علی (ع) و فاطمه والحسن والحسین والائمة من ولد الحسین آخرهم القائم الذی یقوم بعد غیبة فیقتل الدجال و یطهر الارض من کل جور و ظلم ......( ۱ )
امام جعفر صادق (ع)فرماتے ہیں:بتحقیق خدا نے کائنات کو خلق کرنے سے چودہ ہزار سال پہلے چودہ نور کو خلق فرمایا،اوروہ ہم اہل بیت کی ارواح تھیں آپ (ع)سے پوچھا گیا یابن رسول خدا! وہ چودہ ہستیاں کون ہیں؟آپ- نے فرمایا:وہ حضرت محمد(ص)،حضرت علی (ع)،حضرت فاطمہ (س) ،حضرت حسن-حضرت حسین- اور امام حسین(ع)کی نسل سے نوامام ہیںجن میں سے آخری امام قائم عج ہوگا جو غیبت کے بعد ظہور کرے گااور دجال کو قتل کرکے زمین کو ہر قسم کے ظلم و جور سے پاک کردے گا۔
تحلیل:
مذکورہ روایتوں سے معلوم ہوجاتاہے کہ اہل بیت شیعہ امامیہ کے
عقید ے کے مطابق چودہ ہیں جوچودہ معصومین کے نام سے مشہور ہیں ان کی خلقت حضرت آدم (ع)کی خلقت سے پہلے نور کی شکل میں عالم ذر اور عالم نفس میں ہوئی تھی۔
____________________
( ۱ ) ۔بحار الانوار ج ۱۵،ص۲۳۔
جب حضرت آدم (ع)کی خلقت ہوئی تو خدا نے ان کے نور کو پاک و پاکیزہ صلبوں سے منتقل کرکے حضرت عبد اللہ(ع)اورحضرت ابو طالب-کے صلب تک پہنچا دیا پھراس مادی دنیامیں بشر کی شکل میں وجود کا لباس پہنایا۔
نیز امام سجاد (ع)نے فرمایا:
حدثنا عمّی حسن قال سمعت جدی رسول الله یقول خلقت من نور الله عز وجل و خلق اهل بیتی من نوری و خلق محبهم من نورهم و سائر الناس فی النار ( ۱ )
میں نے اپنے تایاامام حسن مجتبیٰ (ع)سے سنا کہ آپ-نے فرمایا:میرے نانا رسول خدا ؐنے فرمایا: میرا وجود خدا کے نور سے خلق ہوا اور میرے اہل بیت کو میرے نور سے خلق کیا گیا اور ان کے دوستوں کو اہل بیت کے نور سے خلق کیا گیا ۔ اوران کے ساتھ بغض رکھنے والوں کو منہ کے بل جہنم میں دھکیل دیا جائے گا۔
اہم نکات:
اگر اس صدی کا بشر اہل بیت کی عظمت اور فضیلت کے بارے میں صرف اہل سنت کے منابع کا مطالعہ کرے توحقیقت واضح ہونے کے علاوہ بہت
____________________
( ۱ ) ۔ینابیع المودۃ ج ۱ص۱ ۰ ۔
ساری مشکلات کا حل بھی مل سکتا ہے۔اور اہل بیت کی عظمت بیان کرنے والی احادیث کو کسی اضافہ اور مبالغہ گوئی کے بغیر پیش کیا جائے تو اہل بیت کی خلقت اور دیگر انسانوں کی خلقت میں بڑا فرق نظر آئے گا۔ اگر ہم ان کی خلقت کا حضرت آدم (ع)کی خلقت یا کائنات کی خلقت سے پہلے ہونے کی خبر کسی ایسے معاشرے میں بیان کریں جہاں سالوں سال سے مادی نظام رائج ہو تو ہمارا مذاق اڑایا جائے گا ۔کیونکہ ان کی ذہنیت مادہ اور مادیات سے مانوس ہوچکی ہے۔لہٰذا ان کا نظام ہر غیر مادی شیء کی نفی کرتا ہے ۔اسی لئے ایسے افراد کے ذہن میں ایسے حقائق کا بٹھانا بہت مشکل کام ہے۔لیکن اگر کوئی شخص اسلامی فلسفہ سے آگاہ ہو تو بخوبی اس مطلب کو درک کرسکتا ہے۔کیونکہ اسلامی فلسفہ تین قسم کے عالم میں وجود کو ثابت کرتا ہے:
۱۔عالم ذہن
۲۔عالم خارج
۳۔عالم نفس الامر
ہم وجودذہنی اور وجود خارجی کی خصوصیات سے مانوس ہیں لیکن وجود نفس الامری کی خصوصیات سے بے خبر ہیں۔اس لئے جب چودہ معصومین کے وجود مبارک کا نور ہونے یا حضرت آدم (ع)اور کائنات کی خلقت سے پہلے عالم ذر اور عالم نفس الامرمیں موجود ہونے کی خبر دی جاتی ہے تو اس کا درک کرنا مشکل ہوتا ہے۔
کسی مذہب یاعقیدے پر تنقیدکرنے سے پہلے ان کی دلیل اور اس عقیدہ کی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے،پھر اشکال بھی کرے اور جواب بھی سنے۔
۲)اہل بیت کے نورکاانبیاء نے مشاہدہ کیاہے
اہل بیت اور چودہ معصومین یقیناً اس عالم مادی میں انبیاء الہٰی کی خلقت کے بعد آئے ہیںلیکن بہت ساری روایات اور احادیث سے واضح ہوجاتا ہے کہ خدا نے اہل بیت کا نور حضرت آدم (ع)کو عالم ذر میں دکھایا اورحضرت ابراہیم(ع)کے بارے میں فرماتے ہیں کہ انہوں نے نمرود کے ظلم و ستم کے وقت پنجتن پاک کے نور مبارک کامشاہدہ فرمایا اور خدا سے ان کاواسطہ دے کر دعا کی تو خدا نے یا نار کونی برداً وسلاماً علیٰ ابراہیم کہہ کر نجات دی ۔ اسی طرح حضرت یحییٰ (ع)اور حضرت نوح (ع)وغیرہ کے حالات متعدد روایات میں تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔جن سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر نبی (ع)نے مشکل وقت میںچودہ معصومین کا واسطہ دے کر خدا سے کامیابی کی درخواست کی ہے اور خدا نے ان کی درخواست قبول فرمایا۔ان تمام واقعات سے معلوم ہوجاتا ہے اہل بیت کے نور مبارک کاتمام انبیاء الہٰی نے مشاہدہ فرمایا جن کے صدقے میں وہ کامیاب ہوئے ۔جب حضرت آدم-کو ترک اولیٰ کے نتیجہ میں خدا نے سزا دی حضرت آدم-نے پنجتن پاک کا واسطہ دے کر معافی مانگی تو خدا نے ان کو معاف کردیا( ۱ )
نیز مفضل بن عمر بن عبد اللہ نے پیغمبر اکرم (ص)سے روایت کی ہے:
انه قال:لما خلق ابراهیم علیه السلام و کشف الله عن بصره فنظر الیٰ جانب العرش نوراً فقال الهیٰ و سیدی ما هٰذا النور؟ قال یا ابراهیم هٰذا نور محمد صفوتی قال الهٰی و سیدی و ارایٰ نوراً الیٰ جانبه قال یا ابراهیم هٰذا نور علی ناصر دینی قال الهٰی و سیدی واریٰ نوراً ثالثاً یلی النورین قال یا ابراهیم هٰذا نور فاطمة تلی اباها و بعلها فطمت بها محبها من النار قال الهیٰ و سیدی واریٰ نورین یلیان ثلاثة انواراً قال یا ابراهیم هٰذا الحسن و الحسین یلیان نور ابیهما وامهما و جدهما قال الهیٰ و سیدی و اریٰ تسعة انواراً قد احلقوا بالخمسة انواراً قال یا ابراهیم هٰؤلآء الائمة من ولد هم قال الهٰی و سیدی وبماذا یعرفون؟قال یا ابراهیم اولهم علی بن الحسین و محمد بن علی و جعفر ابن محمد وموسیٰ ابن جعفر و علی ابن موسیٰ و محمد بن علی
____________________
( ۱ ) ۔مناقب ص٦۳ ،ینابیع المودۃج۱ص ۹ ۵۔
وعلی بن محمد والحسن بن علی والمهدی بن الحسن صاحب الزمان قال الهٰی وسیدی واریٰ انواراً لا یحصی عددها الا انت قال یا ابراهیم هٰؤلآء شیعتهم و محبیهم قال یا ابراهیم یصلون احدی و خمسین والتختم فی الیمین و الجهر ببسم الله الرحمن الرحیم والقنوت قبل الرکوع والسجود و سجدة الشکر قال ابراهیم: الهٰی اجعلنی من شیعتهم ومحبیهم فانزل الله فی القرآن وان من شیعته لابراهیم اذجاء ربه بقلب سلیم ( ۱ )
مفضل ابن عمر نے کہا : پیغمبر (ص)نے فرمایا جب خدا نے حضرت ابراہیم (ع)کو خلق فرمایا اور ان کی آنکھوں سے پردے ہٹادیئے تو حضرت ابراہیم- کی نظر عرش کے کنارے ایک نور پر پڑی عرض کیا :پروردگارا!یہ نور کیا ہے؟نداء آئی: اے ابراہیم-! یہ محمد(ص) کا نور ہے جو میرا برگزیدہ بندہ ہے حضرت ابراہیم(ع) نے کہا:خدایا! اس نور کے ساتھ جو نور نظر آرہا ہے وہ کس کا ہے؟جواب ملا اے ابراہیم! وہ نور، علی مرتضیٰ کا ہے جو میرے دین کا مددگار ہے۔حضرت ابراہیم نے کہا:اے میرے آقا و مولا ان دونوں کے پیچھے تیسرا نور کس کا ہے؟ جواب ملا اے ابراہیم (ع)! یہ حضرت فاطمہ (س)کا نورہے جو اپنے پدر بزرگوار اور شوہر کے کنارے
____________________
( ۱ ) ۔ ابن عساکر:الاربعین ص۳ ۸ ۔
نظر آرہا ہے۔جس کے صدقے میں ان کے دوستداروںکو جہنم کی آگ سے نجات ملے گی۔حضرت ابراہیم (ع)نے کہا اے میرے مولا و آقا !ان نوروں کے پیچھے دو نور نظر آرہے ہیں وہ کون ہیں؟جواب ملا اے ابرہیم! وہ حسن و حسین (ع) ہیںجو انکے جد بزرگوار،مادر گرامی اور پدر بزرگوار کے پیچھے نظر آرہے ہیں۔پھر حضرت ابراہیم نے کہا اے میرے مولا و آقا ان پانچ نوروں کے ساتھ مزید نو نور نظر آرہے ہیں جو حلقے کی شکل میں ہیں،وہ کون ہیں؟خدا نے فرمایا:یہ ان کی اولاد ہیں جو ان کے بعد لوگوں کے امام اور پیشویٰ ہونگے۔حضرت ابراہیم نے سوال کیا اے میرے مولا و آقا ان کو کیسے اور کس نام سے یاد کروں ؟خدا نے فرمایا: اے ابراہیم! ان میں سے پہلا علی بن ال حسین (ع)ہے ان کے بعد محمدبن علی (ع) پھر جعفر ابن محمد پھر موسی بن جعفر اور پھر علی بن موسی پھر محمدبن علی اور پھر علی بن محمد پھر حسن بن علی ا ور آخری کا نام مہدی صاحب الزمان(عجّل اللہ تعالی فرجہ) ہوگا۔
اس کے بعد حضرت ابراہیم (ع)نے کہا:اے خدا ان کے علاوہ بہت سارے نور کا مشاہدہ کر رہا ہوں ،جن کی تعداد سوائے تیری ذات کے کوئی اور نہیں جانتا،یہ کس کے نور ہیں؟۔خدا نے فرمایا: یہ ان ہستیوں کے ماننے والوں اور دوستوں کا نور ہے ۔حضرت ابراہیم (ع)نے خدا سے دعا کی پروردگارا! مجھے بھی ان کے ماننے والے دوستوں میں سے قرار دے۔اسی لئے قرآن مجید میں ارشاد الہٰی
ہے:
وان من شیعته لابراهیم اذ جاء ربه بقلب سلیم ۔
تحلیل:
اس حدیث کواہل سنت کی معتبر کتاب سے نقل کرنے کا ہدف یہ ہے کہ اس حدیث سے پیغمبر اکرم (ص)کے بارہ جانشین اور اہل بیت کا مصداق چودہ معصومین کے ہونے کا علم ہوجاتا ہے جو شیعہ امامیہ کے عقیدہ کے مطابق ہے۔نیز انبیاء کا ان کے نور کو مشاہدہ کرنے کی خبرکے ساتھ ان کے اسماء بھی اس روایت میں موجود ہیں اور ان کے ماننے والوں کے برحق ہونے کی دلیل بھی کیونکہ حضرت ابراہیم (ع)خدا کے نبی ہونے کے باوجود خدا سے درخواست کرتے ہیں کہ خدایا مجھے بھی ان کے ماننے والوں میں سے قرار دے۔لہٰذا خدا نے قرآن پاک میں ان کے حق میں فرمایا کہ ابراہیم- ان کے سچے ماننے والوں میں سے ہے۔لہٰذا جب حضرت ابراہیم (ع)سے خدا نے امتحان لیا اور خواب میں دکھایا کہ حضرت اسماعیل (ع)کو اپنے ہاتھوں سے ذبح کررہے ہیں آپ- اسماعیل (ع)کو قربان گاہ کی طرف لے گئے ،ہاتھ پیر باندھ دیئے اور ذبح کرنے لگے تو خدا کی جانب سے وحی نازل ہوئی اے ابراہیم(ع)!قد صدقت الرؤیا ان کے بدلے میں دنبے کو ذبح کردے۔اس وقت حضرت ابراہیم (ع)نے اسماعیل(ع)کو چھوڑ دیا گوسفند کو ذبح کیا لیکن بہت زیادہ رونے لگے جبرئیل حضرت ابراہیم(ع)کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھنے لگے اے ابراہیم (ع)کیوں رو رہے ہو؟جبکہ خدا نے حضرت اسماعیل(ع)کو ذبح ہونے سے بچالیاہے حضرت ابراہیم (ع)نے فرمایا اے جبرائیل (ع)! میں اس لئے رورہا ہوںکہ اگر میرے ہاتھوں خدا کے حکم سے میرا بیٹا ذبح ہوتا تو روز قیامت انبیاء کے درمیاں فخر سے سر بلند ہوتا،لیکن میں اس سے محروم رہا ۔اس وقت جبرائیل (ع)نے حضرت ابراہیم (ع)سے پوچھا اے ابراہیم(ع)آپ کی نظر میں آپ افضل ہیں یا حضرت محمد(ص)؟حضرت ابراہیم (ع)نے فرمایا:حضرت محمد(ص)افضل ہیں۔پھر جبرئیل (ع)نے پوچھا اے ابراہیم(ع)آپ کی ذریہ افضل ہیں یا حضرت محمد(ص) کی؟فرمایا:حضرت محمد(ص)کی ذریہ۔ان کی ذریہ پر میری اولاد قربان ہو ۔ جبرئیل (ع)نے کہا آپ کی نظر میں اسماعیل افضل ہے یا حضرت حسین-؟آپ نے فرمایا:حضرت امام حسین-افضل ہیں۔ جبرئیل (ع)کہنے لگے اے ابراہیم(ع)یہی حسین- ؑہے جو کربلا کی سرزمین پربے دردی کے ساتھ ذبح کیاجائے گا تو اپنے فرزند اسماعیل-کی قربانی نہ ہونے پر گریہ کرنے کی جگہ حسین ابن علی (ع)کی قربانی پر گریہ کرو۔یہ سن کر حضرت ابراہیم (ع)بے اختیار رونے لگے( ۱ ) اس طرح کی روایات اس بات کی دلیل ہے کہ اہل بیت ؑکی عظمت اور فضیلت کے تمام انبیاء
____________________
( ۱ ) اشتہاردی محمد:داستان و دوستان ،ج۲ص۲ ۸ ۔
قائل تھے ۔اہل سنت کی کتابوں سے منقول مذکورہ روایت سے معلوم ہوا کہ اہل بیت کے نور کا مشاہدہ سارے انبیاء الہیٰ نے کیا ہے۔سارے انبیائ ان کے وسیلہ سے امتحان الہٰی میں کامیاب ہوئے۔
نیز حضرت یحیی (ع)کے بارے میں لکھا ہے کہ خدا نے حضرت یحیی(ع)کو نبوت کے منصب پر مبعوث فرمایا پھر انہیں پنجتن پاک کا نام سنایا ۔حضرت یحییٰ(ع)غور سے سنتے رہے، جب حسین (ع)کا نام لیا گیا تو بے اختیار آنسو بہنے لگے۔خدا سے پوچھا:پالنے والے! جب آپ نے حسین- کا نام لیا تو مجھ پر غم کی حالت طاری ہوگئی اس کی وجہ کیا ہے؟خدا نے فرمایا:اے یحییٰ! یہ حسین (ع)ہے جوکربلاکی سرزمین پربے دردی سے ذبح کیاجائے گا اس لئے ان کا نام سنتے ہی ہر مومن کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتا ہے۔یہ روایت بھی اہل بیت کی عظمت کی بہترین دلیل ہے۔
۳) اہل بیت سے محبت کا نتیجہ
آیات و روایات اور احادیث نبوی میں محبت اہل بیت کی اہمیت بہت ہی واضح الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔چنانکہ روایت ہے کہ ولدزنا اور منافق کے سوا کوئی بھی اہل بیت سے بغض اور دشمنی نہیں رکھتا ،خدا نے ان کی محبت کو لازم قرار دیا ۔اور ان کے وجود مبارک کو ہی تخلیق کائنات کا ہدف اور انسان کی ترقی و تکامل کا ذریعہ قرار دیا ہے۔اسی لئے ایک حدیث میں فرمایا کہ ایک لحظہ کےلئے
بھی محبت اہل بیت سے کائنات خالی نہیں ہوسکتی۔اگر ایک لحظہ کےلئے بھی کائنات محبت اہل بیت سے خالی ہو تو پوری کائنات نابود ہوجائے گی۔لہٰذا کلام مجید میں فرمایا:''لکل قوم ھادٍ''اس جملے کی تفسیر میں کئی احادیث اور روایات وارد ہوئی ہیں کہ ''ھاد ''سے محبت اہل بیت مراد ہے۔لہٰذا محبت اہل بیت کے نتائج اور ثمرات کی طرف بھی اشارہ کرنا مناسب ہوگا۔
جناب ابن عباس (رض)سے روایت ہے:
''قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم: لا تزول قدماً عبد یوم القیامة حتیٰ یسأل عن اربعٍ عن عمره فیما افناه وعن جسده فیما ابلاه وعن ماله فیما انفقه و من این کسبه و عن حب اهل البیت'' ۔( ۱ )
ابن عباس (رض)نے کہا : پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا کوئی بھی انسان قیامت کے دن اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتا جب تک چار چیزوں کے بارے میں پوچھا نہ جائے:
۱۔اپنی زندگی کو دنیا میں کس چیز میں سرگرم رکھا؟
۲۔ بدن اور جسم کو کیسے بڑھاپے کی حالت تک پہنچا دیا؟
____________________
( ۱ ) ۔ینابیع المودۃ ج۲۔ص ۹ ٦،
۳۔دولت اور ثروت کو کیسے جمع کیااورکہا ںخرچ کیا؟
۴۔اہل بیت سے دوستی و محبت کی یا نہیں؟
تحلیل:
اس حدیث سے اہل بیت کی محبت کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے یعنی روز قیامت خدا سب سے پہلے اہل بیت سے دوستی اور محبت کے بارے میں سوال کریگا۔اگر اہل بیت سے دوستی اور محبت کے متعلق مثبت جواب ملا تو دوسرے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔اگر محبت اہل بیت کے بارے میں مثبت جواب نہ ملا تو باقی سارے اعمال بھی خدا کی نظر میں قابل قبول نہیں ہے۔
۴) اہل بیت سے محبت،مومن کی علامت ہے
انسان عقیدہ کے حوالے سے تین دستوں میں تقسیم ہوتا ہے:
۱۔کافر۔
۲۔منافق۔
۳۔مومن۔
مومن کی علامتیں قرآن مجید اور احادیث میں کئی چیزیں بیان ہوئی ہیں ان کو تفصیل سے بیان کرنا اس کتاب کی گنجائش سے باہر ہے لہٰذا صرف چند ایک روایات کو بیان کرنے پر اکتفاء کریں گے:
عن سلمان قال:قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم: لا یومن احد حتی یحب اهل بیتی لحبیفقال عمر ابن الخطاب وما علامة حب اهل بیتک؟،قال هٰذا وضرب بیده علیٰ علی (ع)، ( ۱ )
سلمان فارسی (ع)نے کہا:پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا:جب تک میرے اہل بیت سے میری محبت کے واسطے محبت اور دوستی نہ کرے وہ شخص مومن نہیں کہلاسکتا۔اس وقت عمر ابن الخطاب نے پوچھا:آپ کے اہل بیت کی
محبت کی علامت کیا ہے؟ آنحضرت (ص)نے دست مبارک کو امیر المومنین (ع)پر رکھتے ہوئے فرمایا :یہ میرے اہل بیت کی محبت کی علامت ہے۔
تحلیل:
اگر ہم اس حدیث کے مضمون کو صحیح معنوں میں سمجھ لیں تو بہت سارے مطالب واضح ہوجاتے ہیں:
۱۔ آنحضرت (ص)نے اس حدیث کو کسی مجمع میں بیان فرمایا کہ جس میں حضرت علی (ع)، حضرت عمر اور حضرت سلمان جیسے بزرگ صحابہ بیٹھے ہوئے تھے۔
۲۔حضرت عمر کامحبت اہل بیت کی علامت کے بارے میں پوچھنے کا
____________________
( ۱ ) ۔ینابیع المودۃ ص۳ ۷ ۲۔
مقصد یہ تھا کہ شاید کہیں پیغمبر اکرم (ص) حضرت علی (ع)کو اہل بیت کے دائرے سے نکال کر کسی اور کو محبت اہل بیت کی علامت قرار دے۔لیکن پیغمبر اکرم (ص) ان کے اہداف اور مقاصد سے بخوبی آگاہ تھے۔لہٰذا فرمایا:
هٰذا و ضرب بیده علیٰ علیّ علیه السلام
اگرچہ'' ھٰذا'' کا لفظ اشارہ کےلئے کافی تھا لیکن پیغمبر اکرم (ص)نے'' ھٰذا'' کہہ کر اپنے دست مبارک کو علی (ع)پر رکھااس کا فلسفہ یہ تھا کہ کہیں کوئی یہ خیال نہ کرے کہ ھٰذا سے کوئی اور مراد ہو، تب ہی توپیغمبر اکرم (ص)نے ''ھٰذا'' کہتے ہوئے حضرت علی (ع)کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر اس قسم کے شک و شبہہ کی گنجائش ختم کردی۔
۵)اہل بیت ،صراط سے عبور کا ذریعہ ہیں
مسلمانوں کے عقائد میں سے ایک صراط( ۱ ) ہے جس کی خصوصیات اور حالات آیات اور احادیث نبویؐ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ صراط ایک پُل ہے جس سے قیامت کے دن ہر جنتی کا گزرنا یقینی ہے جس کی تعریف روایات نبوی(ص) اور احادیث ائمہ میں اس طرح کی گئی ہے کہ وہ آگ سے زیادہ
____________________
( ۱ ) صراط کی حقیقت اور اوصاف سے آگاہی کیلئے مطالعہ کریں: آیت اللہ سیّد محمدحسین تہرانی :معاد شناسی
گرم،تلوار سے زیادہ تیز،بال سے زیادہ باریک ہے۔
لہٰذا جو شخص ایسے مشکل راستہ سے بہ آسانی عبور کرنا چاہتاہے تو اسے چاہے کہ دنیا میں اہل بیت کے ساتھ دوستی اور محبت رکھے۔
چنانچہ اس مطلب کو حسن بصری نے ابن مسعود (ع)سے روایت کی ہے:ابن مسعود (ع)نے کہا:۔
''قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم: اذا کان یوم القیامة یقعد علی (ع) علی الفردوس وهو جبل قریب علیٰ الجنة و فوقه علی العرش رب العالمین ومن سفحه یتفجر انهار الجنة ویتفرق فی الجنان و علی (ع)جالس علیٰ کرسیٍّ من نورٍ یجری بین یدیه النسیم لا یجوز احد الصراط الا و معه سند بولایة علی و ولایة اهل بیته فید خل محبیه الجنة و مبغضیه النار'' ( ۱ )
پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا:روز قیامت حضرت علی (ع)فردوس پر تشریف فرما ہونگے جوجنت کے قریب ایک بلند پہاڑ کا نام ہے جس کے اوپر پروردگار عالم کا عرش ہے اور اس پہاڑ کے دامن سے جنت کی نہریں باغوں کی
____________________
( ۱ ) ۔ینابیع المودۃ ج ۱۔ص ۸ ٦۔
طرف جاری ہیں اور حضرت علی (ع)نور سے بنی ہوئی ایک کرسی پر بیٹھے ہوئے ہونگے ان کے سامنے تسنیم کا چشمہ جاری ہوگا اور کوئی بھی شخص صراط سے عبور نہیں کر سکتا ہے جب تک ولایت علی (ع)اور ولایت اہل بیت کی سند اس کے ساتھ نہ ہو اور جو ان کے دوستوں میں سے ہونگے انہیں جنت اور جو ان کے دشمنوں میں سے ہونگے انہیں جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
تحلیل:
اس حدیث کی مانند بہت ساری روایات شواہد التنزیل( ۱ ) اور فرائد السمطین میں موجود ہیں جن سے بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ اہل بیت کی ولایت اور سرپرستی کو قبول کئے بغیر صراط سے گذرنے کا دعویٰ غلط اور اشتباہ ہے۔کیونکہ صراط سے عبور کا وسیلہ صرف اعمال صالح کا انجام دینا نہیں ہے بلکہ اس کا ذریعہ ولایت اہل بیت کو قبول کرنا ہے۔یعنی چاہے دنیوی مشکل ہو یا اخروی،اس کے حل کا ذریعہ ولایت اہل بیت ہے۔
٦) اہل بیت سے محبت ،اعمال کی قبولیت کی شرط۔
بہت سی روایات نبوی(ص)سے واضح ہوجاتا ہے کہ اہل بیت کی محبت کے بغیر کوئی بھی عمل خدا کی نظر میں قابل قبول نہیں ہے۔
____________________
( ۱ ) ج ۲ ص ۱ ۰۷ حدیث ۷۸۸
چنانچہ اس مطلب کو جابر بن عبد اللہ (ع)نے پیغمبر اکرم (ص)سے یوں نقل کیا ہے:
'' خطبنا رسول الله فقال:من ابغضنا اهل البیت حشره الله یوم القیامة یهودیاً وان صام و صلیٰ ( ۱ )
پیغمبر اکرم (ص)نے ہم سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:اگر کوئی شخص ہم اہل بیت سے بغض اور عداوت رکھے تو روز قیامت خدا اس کو یہودی بنا کر محشور کرے گا اگرچہ اس نے نماز پڑھی ہو اور روزہ رکھا ہو۔
نیز حافظ نور الدین علی بن ابی بکر،کتاب مجمع الزوائد میں روایت کرتے ہیں:
''قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم: .... وان صام و صلی و زعم انه مسلم ،( ۲ )
اگر کوئی ہم اہل بیت سے بغض اور دشمنی رکھے تو اس کے اعمال قابل قبول نہیں،اگرچہ وہ روزہ رکھے ،نماز پڑھے اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھے۔
تیسری روایت میں فرمایا:
''ان رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم،قال:والذی
____________________
( ۱ ) ۔میزان الاعتدال ج ۱ ص۲٦ ۹ ۔
( ۲ ) ۔مجمع الزوائد ج ۹ ص۱۱ ۸ ۔
نفسی بیده لا ینفع عبد عمله الا بمعرفته حقنا ( ۱ )
پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا:اللہ کی قسم،کسی بھی انسان کا عمل خیراسے کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتا جب تک ہم اہل بیت کے حقوق کی رعایت اور شناخت نہ کرے۔
تحلیل اور اہم نکات:
مذکورہ احادیث میں ،جو اہل سنت کی معتبر کتابوں سے نقل کی گئیں،واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ نماز، روزہ اور دیگر اعمال کی قبولیت کی جو شرط رکھی گئی ہے وہ اہل بیت کی محبت اور ان کی ولایت و معرفت ہے۔یعنی اگرہم اہل بیت کی محبت، معرفت، ولایت اور ان کے حقوق کی رعایت کئے بغیر دیگر اصول و فروع کے پابند بھی ہوں تو ان روایات و احادیث کی روشنی میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان اعمال کا کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ ہوگا۔
اگر کوئی شخص کہدے کہ فقہی کتابوں میں اعمال صالحہ کی قبولیت کے شرائط میں سے محبت و ولایت اہل بیت کے ہونے کو شیعہ و سنی فقہاء میں سے کسی ایک مجتہد یا مفتی نے بھی ذکر نہیں کیا ہے۔لہٰذا س قسم کی روایات کو کسی اور معنیٰ پر محمول کرنا ہوگا۔
____________________
( ۱ ) ۔،مجمع الزوائد ج ۹ ،ص۱ ۷ ۲
اس کا جواب یوں دیا جاسکتا ہے کہ ولایت ومحبت اہل بیت کا مسئلہ،مسائل فقہی میں سے نہیںتاکہ علماء اس کو فقہی مسائل میں بیان کریں ۔بلکہ بنیادی عقیدتی مسائل میں سے ہے۔جیسا کہ اگر کوئی شخص خدا اور رسول (ص)یا معاد اور دیگر اصولوں کے معتقد ہوئے بغیر نماز پڑھے یا روزہ رکھے تو اس کی نماز کیا نماز کہلائے گی؟اس کا روزہ کیا قابل قبول ہوگا؟
خدا کی مخلوقات میں سے عابد ترین مخلوق فرشتے ہیں۔جب فرشتوں نے اپنے اعمال کی قبولیت کے بارے میں پیغمبر اکرم (ص)سے سوال کیا تو پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا: اس وقت تمہارے اعمال خدا کی نظر میں قابل قبول ہیں جب تم ولایت علی ابن ابی طالب (ع)کے قائل ہوں۔
۷) اہل بیت سے محبت کے بغیر جنت ملنامحال ہے
اگرچہ بہت سارے انسان ملحد ہیں جو جنت اور جہنم کے قائل نہیں بلکہ اسی دنیوی زندگی کو آخری زندگی سمجھتے ہیں۔جبکہ تمام الہٰی ادیان کے پیروکار بہشت و جہنم کے معتقد ہیں اور جنت و جہنم کو برحق سمجھتے ہیں۔عقلی اورلفظی دلیلوںکے ذریعے ملحدین کو قائل کرانے کی کوشش بھی کرتے ہیں ،کچھ ایسے افراد بھی ہیں جو جنتی بننے کےلئے صرف صوم و صلاۃ اور دیگر فروع دین کے پابند ہونے کو کافی سمجھتے ہیں جبکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہے بلکہ فروع دین کے مسائل کا انجام دینا اس وقت کارساز اور مفید ہے جب ہم پہلے بنیادی مسائل کو ٹھیک کریں۔اور اصول دین کا صحیح طریقہ سے معتقد ہوں ۔
لہٰذا اگر کوئی شخص توحید ،نبوت اور معاد کے معتقد ہوئے بغیر مسائل فرعی کو انجام دے تو یقیناً وہ جنت کا حقدار نہیں بن سکتا۔اسی طرح اگرتوحید ،نبوت اور معاد کا معتقد ہو،لیکن محبت اہل بیت دل میں نہ ہو پھر بھی وہ جنتی نہیں ہوسکتا ۔ کیونکہ خدا نے محبت اہل بیت کو توحید نبوت اور معاد کے بعد بنیادی شرط قرار دیا ہے۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صرف محبت اہل بیت دلوں میں رکھیں باقی دستورات الہٰی کو انجام نہ دیں۔ بلکہ محبت اہل بیت دلوں میں ہونے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ان کی سیرت پر چلیں۔ان کی سیرت پر عمل کرنے کا مطلب دستورات الہٰی کو انجام دینا ہے۔اسی لئے اہل بیت کی محبت کے بغیر جنت کا ملنا نا ممکن ہے۔
چنانچہ اس مطلب کو نافع بن عمر نے یوں نقل کیا ہے:
''قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم:من اراد التوکل علیٰ الله فلیحب اهل بیتی و من اراد ان ینجوامن عذاب القبر فلیحب اهل بیتی ومن اراد الحکمة فلیحب اهل بیتی ومن اراد دخول الجنة بغیر حساب فلیحب اهل بیتی'' ۔( ۱ )
____________________
( ۱ ) ۔مقتل الخوارزمی ص۵ ۹ ۔
پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا:اگر کوئی خدا پر بھروسہ،عذاب قبر سے نجات،حکمت اور بغیر حساب کے جنت میں جانے کا خواہاں ہو تو اسے چاہے کہ میرے اہل بیت سے محبت و دوستی رکھیں-
نیز جابر بن عبد اللہ(ع)نے پیغمبر اکرم (ص)سے روایت کی ہے:
''قال توسلوا بمحبتنا الی الله تعالی- واستشفعوا بنا فانّ بنا تکرمون و بنا تحبون و بنا ترزقون و محبونا وامثالنا غدا فهم فی الجن -( ۱ )
پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا:(لوگو!) خدا سے ہم اہل بیت کی محبت اور دوستی کے ذریعہ متوسل ہوجاؤ-اور ہماری محبت کے وسیلہ سے شفاعت مانگو کیونکہ ہم اہل بیت کے صدقے میں تمہارا اکرام ہوتا ہے اور تمہیں روزی دی جارہی ہے اور ہم سے محبت کرنے والے روز قیامت جنت میں داخل ہونگے-
نیز شیخ سعود السجستانی نے اپنی کتاب میں ابن زیاد مطرف سے روایت کی ہے:
''قال سمعت النبی(ص) یقول:من احبّ ان یحیی حیاتی و یموت مماتی و یدخل الجن- التی وعدنی ربی بها وهی جن- الخلد
فلیتول علی بن ابی طالب و ذریته من بعده''-(۲)
____________________
( ۱ ) -ینابیع المود-ج-۲ ص۶۸
( ۲ ) -کنز العمال ج ۱۱ ص۶۱۱-
ابن زیاد مطرف نے کہا:کہ میں نے پیغمبر خدا (ع)سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا:جو شخص ہماری مانند جینا اور مرنا چاہتا ہے اور اس جنت خلد میں جانے کا خواہشمند ہو جس کامیرے پروردگار نے وعدہ دیا ہے تو اسے چاہے کہ حضرت علی (ع)اور ان کی ذریت کی ولایت و سرپرستی کو مان لے-
اسی طرح اور روایت میں پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا:
''من سرّه ان یحیی حیاتی و یموت مماتی و یسکن جن- عدن التی غرسها ربی فلیتول علیاً بعدی'' -( ۱ )
جناب ابوذر (ع)نے کہا کہ پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا:اگر کوئی شخص میری طرح جینا اور مرنا چاہتا ہے اور جنات عدن کہ جس کو خدا تبارک وتعالی- نے تیار رکھا ہے،میں رہنا چاہتا ہے تو اسے چاہے کہ وہ میرے بعد حضرت علی –کی ولایت کو قبول کرلے-
توضیح:
ان احادیث سے بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ جنت عدن یا جنت خلد میں داخل ہونے کی شرط محبت اہل بیت ہے،ان کی سرپرستی اور ولایت کو قبول کرنا ہے-
مندرجہ بالا روایات کا خلاصہ :
____________________
( ۱ ) -ترجمہ امام علی (ع)ج ۲ ص۹۸-
۱-محبت اہل بیت کے بغیر مرنا اور جینا محبت کے ساتھ جینے اور مرنے کے ساتھ فرق کرتا ہے-
۲-محبت اور سرپرستی اہل بیت کے بغیر جنت میں داخل ہونے کا تصور صحیح نہیں ہے-
۳-محبت اور ولایت اہل بیت کے بغیرخدا پر توکل کا دعوی- کرنا یا حکمت اور شفاعت کا دعویدار ہونا اشتباہ ہے-
۴-شفاعت ،اہل بیت کی محبت کے بغیر نا ممکن ہے،نیز اہل بیت کی محبت اور سرپرستی کے بغیر گناہوں کی معافی کا خیال کرنا فضول ہے-
۵-اہل بیت کی محبت کے نتیجے میں پیغمبروں کی شفاعت حاصل ہوگی اگرچہ قرآن کریم کے مسلّم مسائل میں سے ایک مسئلہ شفاعت ہے مگر اس بارے میںمسلمانوں کے درمیان اختلاف نظرا (ع)تا ہے (ع)لیکن اگر ہم احادیث نبوی کا صحیح مطالعہ کریں تو معلوم ہوجاتا ہے کہ پیغمبر اکرم (ص)کی شفاعت روز قیامت ان لوگوں کےلئے ہے جنہوں نے دنیا میں اہل بیت سے محبت اور دوستی رکھی ہو-چنانچہ علامہ بغدادی اس طرح نقل کرتے ہیں:
''قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم: شفاعتی لامتی من احب اهل بیتی و هم شیعتی'' -( ۱ )
____________________
( ۱ ) تاریخ بغدادی ج ۳ ص۱۴۶
پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا: میری شفاعت میری امت میں سے صرف ان کو نصیب ہوگی جو میرے اہل بیت سے محبت رکھے-کیونکہ وہی میرے سچے پیروکار ہیں-
نیز پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا:
''عاهدنی ربی ان لا یقبل ایمان عبد الا بمحبته لاهل بیتی'' -( ۲ )
آنحضرت (ص) نے فرمایا:میرے پروردگار نے مجھ سے عہد کیا ہے کہ کسی بھی بندے کا ایمان اور عقیدہ اہل بیت کی محبت اور دوستی کے بغیر قبول نہیں ہوگ-
تحلیل:
اگرچہ محبت اہل بیت کے بغیر پیغمبر اکرم (ص)کی شفاعت نصیب نہ ہونے کے حوالہ سے احقاق الحق اور کنز العمال جیسی کتابوںمیں بہت زیادہ احادیث ہیں لیکن اختصار کو مد نظر رکھتے ہوئے صرف مذکورہ حدیث پر اکتفاء کر یں گے- آج کل کچھ ایسے دانشمند اور علماء نظر آتے ہیں جو اپنے حریف اور مقابل کو ناکام بنانے اور اسے غلط فہمی میں ڈالنے کی خاطر فوراً حدیث کی سند پر حملہ کردیتے
____________________
( ۲ ) المناقب ا لمرتضویہ ص۹۹
ہیں کہ یہ حدیث آپ کے موضوع پر دلیل نہیں بن سکتی (ع)
کیونکہ سند ضعیف ہے لیکن کسی مسئلہ پر کسی حدیث کو دلیل کے طور پر قبول کرنے کے لئے صرف سند کا صحیح ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ بہت ساری احادیث سند کے حوالہ سے ضعیف ہے لیکن حدیث کی عبارت یا دوسرے قرینوںسے معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ حدیث ،صحیح ہے اگرچہ سند ضعیف ہی کیوں نہ ہو-کیونکہ ایسی حدیث کی عبارت سے پتہ چلتا ہے کہ غیر معصوم سے ایسی فصاحت و بلاغت پر مشتمل کلام کا صادر ہونا ناممکن ہے-
ہم نے بہت ساری روایات کو اپنے مدعی- کی دلیل کے طور پر ذکر کیا ہے-اگرچہ سند ضعیف ہے لیکن اس کے الفاظ ہی حدیث نبوی ہونے کی شہادت دیتے ہیں-کیونکہ معصوم کے کلام اور دوسرے لوگوں کے کلام میں فصاحت و بلاغت کے علاوہ بنیادی فرق یہ ہے کہ معصوم کے کلام کا سرچشمہ قرآن مجید ہونے کی وجہ سے فطرت اور عقل سے ہمآہنگ ہوا کرتا ہے جبکہ دوسرے انسانوں کا کلام یا قرآن کا مخالف ہوگا یا اگر قرآن کے موافق ہے تو فصاحت و بلاغت کے لحاظ سے اس میں نقص ہوگ-لہ-ذا غیر معصوم کے کلام میں بہت سارے اشتباہات کا مشاہدہ ہوتا ہے جبکہ معصوم کے کلام میں نہ صرف اشتباہ نظر نہیں آتا بلکہ زمانے کی ترقی اور تکامل کے ساتھ ساتھ ان کی حقانیت زیادہ سے زیادہ اجاگر ہوجاتی ہے-
لہ-ذا اگر کوئی اہل سنت کی کتابوں سے فضائل اہل بیت اور ان کی حقانیت پر کوئی روایت اورحدیث بیان کرے تو اس کو ضعیف السند قرار دینا کافی نہیں ہے-بلکہ روایات اور احادیث سے استدلال اس وقت غلط ہے جب وہ حدیث ضعیف- السند ہواور اس کے معصوم سے صادر ہونے پر کوئی قرینہ نہ ہومتواترہ نہ ہو مضمون حدیث کا شر چشمہ قرآن اور عقل نہ ہو لیکن اگر ان قرینوں میں سے کوئی ایک قرینہ بھی کسی حدیث کے ساتھ ہوتو اسے ضعیف السند قرار دے کر ردکرناجہالت اورنافہمی کی علامت ہے (ع)فرقین کے علم رجال کی کتابوں کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ کہاں حدیث سے استدلال غلط ہے کہاں استدلال صحیح ہے پس اگر کوئی اندھی تقلید اورجاہلانہ تعصب سے ہٹ کر پیغمبر اکرم (ص)کے ان ارشادات پر اور خدا کی طرف سے محبت اہل بیت کو اجر رسالت قرار دئیے جانے پر غور کرے تو نتیجہ یہ ملتاہے کہ پیغمبر اکرم (ص) دشمن اہل بیت کی شفاعت نہیںفرمائیں گے، کیونکہ شفاعت پیغمبر اکرم (ص)نصیب ہونے میں خدا نے اہل بیت کی محبت کو شرط قرار دی ہے اور شرط کے بغیرمشروط کا پانا عقل کے خلاف ہے-لہ-ذااہل بیت کی محبت کے بغیر کوئی عمل اورکام خدا کی نظر میں قابل قبول نہیں اگرچہ ایمان کے دعوی- کے ساتھ زبان پر شہادتین کا اقرار بھی کرے (ع)
۸) اہل بیت اہل زمین کے محافظ ہیں
امامیہ مذہب کا عقیدہ یہ ہے کہ کائنات کا حدوث وبقاء ہی اہل بیت کے صدقے میں ہے ،جیساکہ ہمارے برادران اہل سنت کی کتابوں میں بھی کچھ اس طرح کی حدیثیں نظر آتی ہیں کہ اہل بیت اہل زمین کے محافظ ہیں یعنی جس طرح آسمانی مخلوقات چاہے نوری ہو یاخاکی جاندار ہو یابے جان ،خدا نے ان کی حفاظت کے لئے ستاروں کو خلق فرمایا ہے اسی طرح اہل زمین کی حفاظت کی خاطر اہل بیت کو خلق فرمایا ہے چنانچہ اس مطلب کو پیغمبر اکرم (ص)نے یوں بیان فرمایاہے :
''النجوم امان لاهل السماء فاذا ذهبت النجوم ذهبت السماء واهل بیتی امان لاهل الارض فاذا ذهبت اهل بیتی ذهبت الارض -''( ۱ )
ستارے آسمانی مخلوقات کی نجات اور حفاظت کاذریعہ ہیں لہ-ذا اگر ستارے
ختم ہوجائے تو آسمانی مخلوقات نابود ہوںگی اورمیرے اہل بیت انسانوں اوراہل زمین کی نجات اور امان کا ذریعہ ہیںلہذا اگر زمین میرے اہل بیت سے خالی ہوجائے تواہل زمین نابود ہونگے (ع)
نیز حموینی نے اپنی سند کے ساتھ اعمش سے وہ امام جعفر صادق(ع)سے اور آپ- اپنے آباء واجداد میں سے حضرت علی بن حسین(ع)سے روایت کرتے ہے:
____________________
( ۱ ) -ینابع المود-ج۱،ص،۱۹،-
''قال :نحن ائم- المسلمین وحجج اللّه علی العالمین وساد- المؤمنین قاد- الغر المحجلین وموال المسلمین ونحن امان لاهل الارض کماان النّجوم امان لاهل السماء ونحن الذین بناء تمسک السماء ان تقع علی الارض الاباذن الله وبناینزل الغیث وتنزل الرحم- ، وتخرج برکات الارض ولولاماعلی الارض منّا لانساخت باهلها ثم قال ولم تخل الارض منذ خلق اللّه آدم علیه السلام من حج- اللّه فیها ظاهر ومشهود او غائب مستور ولاتخلوا الی ان تقوم الساع- من حج- فیها ولولا ذالک لم یعبداللّه '' -( ۱ )
حضرت امام سجاد (ع)نے فرمایا: ہم (اہل بیت ) مسلمانوں کے پیشوا اور کائنات پر خدا کی طرف سے حجت ،مومنین کے مولی- وآقا اورمسلمانوں کے سردار ہیں اور جس طرح ستارے آسمانی مخلوقات کے محافظ ہیں اس طرح ہم اہل زمین کے محافظ ہیں ہماری وجہ سے خدا نے آسمان کو زمین پر گر کرتباہی مچانے سے روک رکھا ہے اور ہمارے صدقے میں بارشیں اور رحمتیں نازل ہوتی ہیں اور زمین کی برکتیں نکالی جاتی ہے- اگر کرہ ارض ایک لحظہ کے لئے اہل بیت سے خالی ہوجائے تو
____________________
( ۱ ) -ینابیع المود-، ج۱،ص۲۰،
زمین اہل زمین سمیت نابود ہوجائے گی (ع)اسی لئے خدا نے جب سے آدم(ع)کو خلق کیا ہے زمین کوحجت خدا سے خالی نہیں رکھا (ع)چاہے حجت خدا کھلم کھلا لوگوں کے درمیان موجود ہوںیالوگوں کی نظروں سے پوشیدہ اور مخفی ہوںاوریہ سلسلہ تاروز قیامت جاری رہے گا (ع)اگر ایسا نہ ہوتا تو کبھی خدا کی عبادت اور پرشتش نہ ہوتی (ع)
اہم نکات:
مذکورہ حدیث سے ستاروں اور کہکشانوں کی خلقت اور اہل بیت کی خلقت کا فلسفہ سمجھ میں آتا ہے ، یعنی ستاروں کو خدا نے آسمانی مخلوقات کےلئے امان بنا کرخلق کیاہے جبکہ اہل بیت کو بشر اوراہل زمین کےلئے امان بنا کر خلق کیاہے لہ-ذا ستاروں سے آسمانی مخلوقات کی حفاظت ہوتی ہے اور اہل بیت کے اہل زمین کی حفاظت ہوتی ہے-
خلاصہ کلام یہ کہ اگر بشر ایسی انسان سازاحادیث کا غور سے مطالعہ کرے تو کئی مطالب واضح ہوجاتے ہیں ، کائنات کے تمام مسائل میں اہل بیت کی نمایندگی اور رہنمائی ضروری ہے اوران کی ہدایت کے بغیر انحراف اور مفاسد کے علاوہ کچھ نہیں ہے(ع)چاہے اعتقادی مسائل ہوں یافقہی ، سیاسی ہوںیاسماجی ، اخلاقی ہوںیافلسفی ہرمسئلہ کا سرچشمہ اہل بیت کوقرار نہ دینے کی صورت میں ہماری ہدایت اور تکامل ناممکن ہے(ع)کیونکہ اہل بیت کے وجود کافلسفہ ہماری قیادت اور ہدایت ہے انکی سیرت کو ہمیشہ کے لئے نمونہ عمل قرار نہ دینے کی صورت میں پشیمانی اورندامت سے دوچار ہوگ-
نیز پیغمبر اکرم (ص)سے روایت کی ہے ،آنحضرت (ص)نے فرمایا: آسمانی مخلوقات کے محافظ ستارے ہیں جبکہ اہل بیت ،اہل زمین کےلئے امان کا ذریعہ ہیں:
''النجوم امان لاهل السماء واهل بیتی(ع)امان لاهل الارض'' ( ۱ )
تب ہی تو قرآن مجید میں خدا نے اہل بیت کو وسیلہ نجات اور ان کے اقوال وافعال کو نمونہ عمل قرار دیا ہے لہذا ان کے بغیرروز قیامت نجات ملنے کا تصور کرنا یادنیا میںکامیاب انسان ہونے کا سوچ فضول ہے (ع)
پیغمبر اکرم (ص)نے صاف لفظوں میں فرمایا: میری رسالت کاصلہ صرف میری اہل بیت کی محبت ہے میری شفاعت صرف میرے اہل بیت سے دوستی اور محبت رکھنے کی صورت میں نصیب ہوگی جس سے واضح ہو جاتاہے حقیقی مسلمان وہ ہے جواہل بیت کو اپنے کاموں میں اسوہ اور نمونہ قرار دے(ع)لہذا ابوذر (ع)نے پیغمبر اکرم (ص)سے روایت کی ہے کہ جس طرح نوح (ع)کی امت کے لئے نوح (ع)کی کشتی نجات کاذریعہ تھا ، اسی طرح امت محمدی- کی نجات کاذریعہ اہل بیت ہیں-
____________________
( ۱ ) -فرائدالسمطین ، ج۲،ص،۲۵۲حدیث۵۲۱-
فرمایا:ان مثل اهل بیتی فیکم مثل سفین- نوح من رکبها نجا ومن تخلف عنها هلک (ع) ( ۱ )
میرے اہل بیت ،حضرت نوح(ع)کی کشتی کی مانند ہے جو اس پر سوار ہوا وہ نجات پاگیا جس نے اس سے منہ پھیرا وہ ہلاک ہوگی-
اہم نکات:
اس حدیث سے بخوبی درک کرسکتے ہیں کہ حضرت نوح (ع)کی امت کو جب نوح(ع)نے ہزار بار سمجھایا مگر ایمان نہ لائے تو آخر خدا سے دعا کی پالنے والے یہ امت قابل ہدایت نہیں ہے میں کیا کروں؟ خدا کی طرف سے حکم ہوا کشتی بناو(ع)کشتی تیار کی ،جو اس پر سوار ہوا وہ زندہ رہا (ع)جس نے اس سے منہ پھیرا وہ ہلاک اور نابود ہوگی- اس طر ح اگر ہم اہل بیت کو مانیں اور ان کی معرفت اور شناخت حاصل کرلیں تو قیامت کے دن ہم بھی نجات پاسکتے ہیں لیکن اگر ان سے منہ پھیرا
تو یقینا نابود ی ہی ہمارا مقدر ہوگا (ع)
جیساکہ پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا:
'' یاعلی سعد من اطاعک وشقی من عصاک وربح من تولاک وخسر من عاداک فاز من رکبها نجی--ومن تخلف عنها
____________________
( ۱ ) - ینا بیع المود-ج۱،ص۲۶ ،
غرق مثلک کمثل النجوم کلما غاب النجوم طلع نجم الی یوم القیام - (ع)''( ۱ )
پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا:(یاعلی (ع)!) تیری اطاعت کرنے والا سعادتمند اورنافرمانی کرنے والا بد بخت ہے(ع)جس نے تیری سرپرستی اور ولایت کو قبول کیا اس نے نفع پایا ،جس نے تجھ سے دشمنی کی اس نے نقصان اٹھای-جو تجھ سے متمسک رہا وہ کامیاب ہے اورجس نے تیری مخالفت کی وہ ہلاک ہو- اے علی (ع)تو اور تیرے جانشین حضرت نوح(ع)کی کشتی کی مانند ہیں جواس پر سوار ہوا وہ نجات پاگیا جس نے منہ پھیرا وہ غرق ہوگی- اے علی (ع)! تو ستاروں کی مانندہے کہ روز قیامت تک ایک ستارہ غروب کرجائے تو دوسرا طلوع کرتا رہے گ-
نیز ابو ہریرہ نے پیغمبراکرم (ص)سے روایت کی ہے :
قال رسول الله : اناا للّه المحمود وهذا محمد وانا العالی وهذا علی واناالفاطروهذه فاطم- واناالاحسان وهذا الحسن وانا المحسن وهذا الحسین آلیت بعزتی انّه لایأتیی احد بمثقال حب- من خردل من بغض احدهم الا ادخله ناری ولاابالی یاآدم ه-ولآء صفوتی بهم انجّیهم وبهم اُهْلِکُهم فاذا کان لک اليّ حاج- فبه-و
____________________
( ۱ ) -ینابیع المود- ج۱،ص ۱۳۰-
ئل-اء توسل فقال النبی(ص) نحن سفین- النج- من تعلق بها نجاومن عاد عنها هلک فمن کان له الی الله حاج- فلیسال عن اهل بیت ( ۱ )
حضرت پیغمبراکرم (ص)نے فرمایاکہ اللہ تبارک وتعالی نے حضرت آدم-کو ان پانچ نوروں کا نام بتایا کہ جن کاحضرت آدم (ع)نے مشاہدہ کیا تھا اے آدم (ع)ان پانچ کانام میرے نام سے مشتق ہے یعنی میں محمود ہوں یہ محمد(ص) ہے میں عالی ہوںیہ علی (ع)ہے میں فاطر ہوں یہ فاطمہ (س) ہے میں احسان ہوں یہ حسن (ع)-ہے میں محسن ہوں یہ حسین(ع)ہے پھر فرمایا اپنی ذات کی قسم ایک ذرہ بھی جس کے دل میں ان کی دشمنی اور کینہ ہو اسے جہنم میں ڈال دوں گا اور مجھے ایسا کرنے پر کوئی پروا نہ ہوگی (ع)اے آدم (ع)! یہ میرے برگزیدہ بندے ہیں ان کے صدقے میں لوگ نجات پائےںگے (یعنی ان سے محبت اور دوستی کرنے کے نتیجے
میں نجات ملے گی اور ان سے دشمنی اوربغض رکھنے کانتیجہ ہلاکت اور نابودی ہوگا) جب تجھے مجھ سے کوئی حاجت ہو توان کے وسیلہ سے مانگو پھر پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا: ہم نجات کی کشتی ہیں جو اس سے منسلک رہا وہ نجات پاگیااور جو اس سے جدا رہا وہ نابود اور ہلاک ہو- لہذا جس کو خدا سے کوئی حاجت ہو توہم اہل بیت کے وسیلہ سے مانگیں-
____________________
( ۱ ) -فرائدالسمطین ، ج۲،ص،۲۵۲حدیث۵۲۱-
تحلیل :
مذکورہ حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے اہل بیت کو وسیلہ بنا کر خدا سے مانگنے کو بدعت قرار دینا غلط ہے کیونکہ خدا نے ہی اہل بیت کواپنے اور بندوںکے درمیان وسیلہ قرار دیاہے، اہل بیت کے وسیلہ کے بغیر حاجت روائی نہیں ہوسکتی- لہذا اہل بیت کے وسیلہ سے خدا سے طلب حاجت کرنا نہ صرف بدعت نہیں ہے بلکہ اہل بیت کو وسیلہ قرار دینا خدا اور اس کے رسول کے حکم کی اطاعت ہے اوراہل بیت کو وسیلہ قرار دینا حاجت روائی کی شرط ہے (ع)
علامہ قندوزی نے روایت کی ہے :
قال علی (ع): قال رسول اللّه: من احب ان یرکب سفین- النج- ویتمسک بالعرو- الوثقی ویعتصم بحبل اللّه المتین فیوال علیاً ویعاد عدوه ولیأتم بالائم- الهد- من ولده فانّهم خلفائی واوصیائی وحجج الله علی خلقه من بعدی وسادات امتی وقواد الاتقیاء الی- الجن- حزبهم حزبی وحزب الله وحزب اعدائهم حزب الشیطان (ع)( ۱ )
____________________
( ۱ ) -ینابیع المود- ، ص۴۴۵
حضرت علی (ع)فرماتے ہیں کہ پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا:جونجات کی کشتی پر سوار ہونا اور اللہ تبارک وتعالی کی مضبوط رسی سے متمسک رہنا چاہتا ہے تو اسے چاہیئے کہ علی بن ابی طالب (ع)سے محبت اور دوستی رکھے اور ان کے دشمنوں سے دشمنی رکھے اور ان کی نسل سے آنے والے اماموں کی پیروی کرے (ع)کیونکہ وہ میرے بعد حجت خدااور خلیفہ الہی اور میرے وصی وجانشین ہیںاور یہی لوگ میری امت کے سردار اور بہشت کی طرف دعوت دینے والے پیشوا ہیں ان کی جماعت میری جماعت ہے، میری جماعت، اللہ کی جماعت ہے اور ان کے دشمنوںکی جماعت شیطان کی جماعت ہے (ع)
تحلیل :
اس حدیث سے درج ذیل مطالب واضح ہوجاتے ہیں :
اہل بیت ، پیغمبراکرم (ص)کے جانشین ہیں(ع)اہل بیت ، خلیفہ الہی ہیں- اہل بیت سے تمسک، خدا اور رسول (ص)سے تمسک ہے- جو اہل بیت سے بغض رکھے وہ شیطان کی جماعت کا رکن ہے-
۹)اہل بیت کی محبت، دین کی بنیادہے
احادیث نبوی میں دین اسلام کو شجرہ طیبہ، نور، پہاڑ، خزانہ اور کبھی دریااور سمندر وغیرہ سے تشبیہ دی گئی ہے (ع)اگر ہم مسلمان ہونے کی حیثیت سے ان الفاظ او تشبیہات کا معنی صحیح طور پر سمجھ لیںتو مسلمانوںکے بہت سارے اختلافی مسائل چاہے اعتقادی ہویافقہی یااخلاقی ،کاحل بخوبی واضح ہوجاتا ہے کیونکہ اسلام اور قرآن وسنت کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہم حقیقی مسلمان بن جائےں اورہمارے درمیان یک جہتی اور اتفاق ہواگرچہ صوم اور صلو- یادیگر فقہی مسائل میں اختلاف ہی کیوں نہ ہوں (ع)کیونکہ اسلام اور دین صرف مسائل فقہی کے مجموعہ کانام نہیں بلکہ اسلام ایک ایسا ضابطہ ئحیات ہے جو مادی اور معنوی تمام دستورات پر مشتمل ہونے کے ساتھ عقل اور فطرت کے عین مطابق ہے لہذا اگر ہم احادیث نبوی(ص)کو صحیح معنوں میں سمجھ لیں تو کوئی ایسا مسئلہ نہیں کہ جس کا حل اسلام میں نہ ہو (ع)ہاں کچھ مسائل اس طرح کے ہیں کہ جن کو قبول نہ کرنے کی صورت میں باقی سب کچھ ضائع ہوجاتا ہے اورخدا کی نظر میں قابل قبول نہیں رہتا ان بنیادی مسائل میں سے ایک محبت اہل بیت ہے،کیونکہ محبت اہل بیت کے بغیر کوئی بھی عمل اور عقیدہ خدا کی نظر میں قابل قبول نہیں (ع)چنانچہ اس مطلب کو علامہ ابن حجرمکی نے یوں نقل کیا ہے :
قال سمعت رسول اللّه یقول لکل شیءٍ اساس واساس الدین حبنّا اهل البیت - ( ۱)
جناب جابر (ع)نے کہا کہ : میں نے پیغمبر اکرم (ص)کو یہ فرماتے
____________________
( ۱ ) -مناقب المرتضویہ ص۳۱۴-
ہوئے سنا کہ:ہر چیز کی ایک بنیاد اور جڑ ہوا کرتی ہے اور اسلام کی جڑ اور بنیاد ہم اہل بیت کی محبت ہے (ع)
نیز صاحب کنز العمال نے امام علی (ع)سے روایت کی ہے:
قال :قال رسول (ص) اللّه: یاعلی ان الاسلام عریان لباسه التقوی وریاسته الهدی وزینته الحیا وعماده الورع وملاکه العمل الصالح، اساس الاسلام حبی وحب اهل بیتی -(ع)( ۱ )
'' پیغمبر اکرم (ص)نے (مجھ سے )فرمایا:اے علی (ع)اسلام عریان ہے اور اس کا لباس تقوی اور اس کی ریاست ہدایت، اس کی زینت حیا،اس کا ستون پرہیزگاری ، اس کامعیار و ملاک عمل صالح اور اس کی جڑ اور بنیاد ہم اہل بیت کی محبت ہے (ع)
تحلیل:
لسان المیزان اورکنزل العمال جیسی اہل سنت کی معتبر کتابوں میں ایسی بہت ساری روایات ہیں کہ جن سے یہ بات مسلم اور واضح ہوجاتی ہے کہ
دین اسلام کی جڑ اور بنیاد اہل بیت کی محبت ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل بیت کی محبت کے بغیر کوئی بھی عمل خدا کی نظر میں قابل قبول نہیں ہے (ع)
____________________
( ۱ ) -کنزالعمال ، ج۱۲،ص۱۵-
۱۰) اہل بیت اورپیغمبر اسلام (ص)کے درمیان کیا جدائی ممکن ہے ؟
بہت ہی جسارت کے ساتھ کہنا پڑتاہے کہ مسلمانوں میں سے بعض کے عمل میں تضاد روی نظر آتی ہے- یعنی ایک طرف وہ قرآن وسنت اور پیغمبر اکرم (ص) کے پیروکار ہونے کا دعوی کرتے ہیں جبکہ دوسری طرف علی (ع)اور اہل بیت رسول سے دشمنی اوربغض رکھتے ہیں (ع)تعجب یہ ہے کہ ان کی نظر میں اہل بیت پیغمبر اور علی (ع)کی دشمنی اور بغض کے ساتھ پیغمبراکرم (ص)سے محبت اور دوستی ہوسکتی ہے اوراہل بیت سے محبت کئے بغیر قرآن وسنت کا قائل ہوتو مسلمان رہ سکتے ہیں جب کہ اگر ہم سنت نبوی اور قرآن کریم کی آیات کا صحیح مطالعہ کریں تو یہ بات بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ اہل بیت کے ساتھ بغض اور دشمنی رکھنا قرآن و سنت نبوی کی کھلی مخالفت ہے نہ متابعت کیونکہ قرآن نے واشگاف الفاظ میں بتادیا ہے کہ اہل بیت کی محبت رسالت کاصلہ ہے اور احادیث نبوی کے رو سے یہ ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اہل بیت وسیلہ نجات ہیں ، اہل بیت مخلوقات الہی کے محافظ ہیں اور روز قیامت انہی کی شفاعت سے خدا مسلمانوں کو نجات دیں گے- حدیث ثقلین،حدیث سفینہ اور دوسری بیسیوں روایات سے جنہیں فریقین کے بزرگ محدثین نے نقل کی ہیں یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ علی (ع)اور دیگر اہل بیت کی محبت کے بغیر پیغمبر اکرم (ص)سے محبت اور دوستی کا دعوی کرنا فضول اورغلط ہے (ع)عمار یاسر نے روایت کی ہے :
انّ النبی (ص) قال :اوصی من آمن بی وصدّقنی من جمیع الناس بولای- علی بن ابی طالب من تولاه فقد تولانی ومن تولانی فقد تولی الله ومن احبه فقد احبنی ومن احبنی فقد احب اللّه ومن ابغضه فقد ابغضنی ومن ابغضنی فقد ابغض الله ( ۱ ) -
بے شک پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا: مجھ پر ایمان لانے والے اور میری رسالت کی تصدیق کرنے والے تمام لوگوں کو علی بن ابی طالب(ع)کی ولایت کی وصیت کرتا ہوں، جوان کی ولایت کو مانے بتحقیق اس نے میری ولایت کو مانا اور جس نے میری ولایت کو مانا اس نے خدا کی ولایت کو مان- اورجس نے علی (ع)سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی، جس نے مجھ سے محبت کی اس نے خدا سے محبت کی ہے جوعلی (ع)سے بغض رکھے اس نے مجھ سے دشمنی کی ہے،اور جو مجھ سے بغض رکھے اس نے خدا سے دشمنی کی ہے (ع)
اہم نکات:
اس حدیث میں خدا ، پیغمبراکرم (ص)اور حضرت علی (ع)کی سرپرستی اور
____________________
( ۱ ) -کنز العمال ج۱۱ ص۴۰۱-
ولایت کو ایک جیسا قرار دیا ہے اگر کوئی علی (ع)کی ولایت کو قبول نہ کرے تواس نے ا للہ اور رسول (ص)کی ولایت کوبھی قبول نہیں کی ہے ،اور جو علی (ع)سے دوستی نہ رکھے اس نے خدا اور پیغمبر اکرم (ص)سے بھی دوستی نہیں کی ہے اگرچہ زبان سے خدا اور رسول (ص)کی محبت کے دعویدارہی کیوں نہ ہوں-اس مضمون کی احادیث اہل سنت کی کتابوں میں بہت زیادہ ہیں جیسا کہ ابن عباس (رض)سے روایت ہے :
خرج رسول الله(ص) قابضاعلی ید علی (ع) ذات یوم فقال الامن ابغض هذا فقد ابغض الله ورسوله ومن احب هذا فقد احب الله ورسوله -( ۱ )
ایک دن پیغمبراکرم (ص)حضرت علی (ع)کے دست مبارک کو تھام کر باہر نکلے اور فرمایا (اے لوگو) آگاہ ہو کہ جس نے علی (ع)کے ساتھ دشمنی کی بتحقیق اس نے خدا اور اس کے رسول (ص)سے دشمنی کی ہے اور جو علی (ع)کے ساتھ دوستی رکھے یقیناً اس نے خدا اور اس کے رسول (ص)سے محبت کی ہے- اسی طرح خطیب خوارزمی نے اپنی کتاب مناقب میں روایت کی ہے کہ پیغمبر اکرم (ص)نے علی (ع)سے خطاب کرکے فرمایا:
من احبک فقد احبنی وحبیک حبیب الله (ع)( ۲ )
____________________
( ۱ ) کنزالعمال، ج۱۳،ص۹۰۱
( ۲ ) مناقب ص ۲۱۳
جو تجھ سے محبت اور دوستی رکھے اس نے مجھ سے محبت کی ہے جو تمہارا دوست ہے وہ خدا کا دوست ہے (ع)
اہم نکات:
تاریخ بغدادی، ینابیع المود-، مجمع الزوائد، لسان المیزان، مناقب مرتضویہ، فرائدالسمطین جیسی اہل سنت کی معتبرکتابیں اہل بیت کی فضیلت اور مقام و منزلت بیان کرنے والی احادیث سے بھری ہوئی ہیں لیکن مضحکہ آمیز بات یہ ہے کہ ایک طرف سے قرآ ن مجید اور پیغمبر اکرم (ص)کے معتقد ہونے کا دعویدار ہیں جبکہ دوسری طرف اہل بیت بالخصوص حضرت علی (ع)کی محبت اور ولایت کا معتقد نہیں ہے(ع)کیا حضرت علی (ع)اور دیگراہل بیت سے محبت اور ان کے معتقد ہوئے بغیر خدا اور اس کے رسول (ص)سے محبت ہوسکتی ہے؟ جبکہ مذکورہ روایات اور احادیث میں صاف لفظوں میں فرمایا: خدا اوراس کے رسول (ص)کی ولایت کو ماننا اور ان سے محبت اور دوستی اس وقت ہوسکتی ہے جب حضرت علی (ع)اور اہل بیت سے محبت ودوستی رکھے اور ان کی ولایت کو مانے-
چنانچہ سعید ابن جبیر (ع)نے ابن عباس (رض)سے روایت کی ہے:
قال رسول الله (ص):یا علی لا یحبک الا طاهر الولاد- ولا یبغضک الا خبیث الولاد- وماا خبرنی ربی عز و جلّ الی- السماء وکلمنی ربی الا قال یا محمد تقراء علیاً منی السلام انّه امام اولیائی و نور اهل طاعتی و هنیأاً لک ه-ذه الکرام —
پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا: اے علی (ع)! تم سے سوائے حلال زادہ کے اور کوئی محبت نہیں کرتا اور سوائے حرام زادہ کے اور کوئی دشمنی نہیں رکھتا اور خدا نے مجھ سے معراج پر لے جاتے وقت کوئی گفتگو نہیں کی مگر فرمایا:اے محمد(ص)! میری طرف سے علی (ع)کو سلام کہنا کیونکہ وہ میرے دوستوںکا پیشوا ، اور میری اطاعت کرنے والوں کا نورہے اور یہ عزت و احترام اور اعزاز تجھے مبارک ہو-( ۱ )
عجیب بات ہے کہ اس حدیث میں علی (ع)سے محبت رکھنے والوں کو طیب الولاد- اور بغض رکھنے والوں کو خبیث الولاد-سے تعبیر کیا گیا ہے-جس کا نتیجہ یہ ہے کہ حلال زادہ کبھی بھی علی (ع)سے بغض نہیں رکھت-لہ-ذا علی (ع)سے دشمنی اور بغض کا سبب یہ بتایا جاسکتا ہے کہ اگر کسی کی ولادت ناپاک ہو تو وہ علی (ع)سے دشمنی اور بغض رکھتا ہے،جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے-
۱۱)اہل بیت ،پیغمبر (ص)کے مدد گارہیں
ابو نعیم الحافظ نے ابو ہریرہ ، ابو صالح ، ابن عباس اور حضرت امام جعفر صادق(ع)سے روایت کی ہے :
فی قوله تعالی-:: ( هو الذی ایدک بنصره و بالمومنین ) قال
____________________
( ۱ ) -ینابیع المود- ج۱ص۱۳۲-
نزلت فی علی و ان رسول الله قال رایت مکتوباً علی العرش لا ال-ه الا الله وحده لا شریک له محمد(ص)عبدی و رسولی ایدته و نصرته بعلی (ع) بن ابی طالب ( ۱ )
امام جعفر صادق (ع)نے فرمایا کہ: خدا کا یہ قول'' ایدک ....''حضرت علی (ع)کی شان میں نازل ہواہے اور پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا :''میں نے عرش پر یہ لکھا ہوا دیکھا کہ للہ کے سوا کوئی اور معبودنہیں اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے محمد(ص)میرا بندہ اور رسول ہے ، میں نے علی بن ابی طالب (ع)کے ذریعہ اس کی مدد کی (ع)''
نیز القاضی نے ابی الحمراء سے روایت کی ہے :
قال رسول الله(ص) لما اسری بی الی السماء اذا علی العرش مکتوب ٌ لااله الاّ اللّه محمد(ص) رسول اللّه ایدته ب علی (ع) (ع)( ۲ )
ابو الحمراء نے کہا کہ : پیغمبر (ص)نے فرمایا:جب مجھے معراج کے سفرپر لے جایا گیا تو عرش پر یہ جملہ لکھا دیکھا کہ خدا کے سوا کوئی لائق عبادت نہیں ، محمد(ص)اس کا رسول ہے اور میں نے علی ابن ابی طالب (ع)کے ذریعہ اس کی مدد کی (ع)
____________________
( ۱ ) -ینابیع المودہ ج ۱ص۹۳-
( ۲ ) -مجمع الزوائدج۹ص۱۲۱
تحلیل:
اگرچہ اہل سنت کی کتابوں میں حضرت علی (ع)کے پیغمبراکرم (ص)کے مددگار ہونے سے متعلق متعدداحادیث اور تاریخی کتابوں میں بہت سار ے واقعات موجود ہیں لیکن اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے صرف مذکورہ دو حدیثوں پر اکتفا کروں گاکیونکہ مذکورہ روایتوں میں پیغمبراکرم (ص)نے صریحاً فرمایا کہ حضرت علی (ع)کو خدا نے پیغمبر اکر م (ع)کی مدد اور نصرت کے لئے خلق فرمایاہے(ع)جب خدا نے حضرت علی (ع)کو خلق ہی اسلام اور پیغمبراکرم (ص)کی مدد اور نصرت کے لئے کیا ہو تو کیا پیغمبراکرم حضرت علی (ع)سے یاعلی (ع)مدد یااس طرح کے دوسرے الفاظ کہکر مدد مانگیں تو نعوذ باللہ کیا آپدین سے خارج ہوگئے؟ کیونکہ خدا نے خود فرمایا: ''ایدک بنصرہ وبالمومنین ''لیکن ہم یا علی (ع)مدد کہنے کو بدعت قراردیتے ہیں یہ نہ صرف بدعت نہیں ہے بلکہ ا (ع)ی- شریفہ کے عین مطابق ہے لہذا بدعت کافتوی- دینا حقیقت میں استنبا ط اور تفکر کی کمزوری اور سیرت اہل بیت سے نا آشنائی کا نتیجہ ہے- کئی احادیث میںحضرت پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: میں اور علی (ع)خدا کے نور سے خلق ہوئے ہیں- ہم ہدایت کے چراغ ہیں ، ہم لوگوں کو ضلالت اور گمراہی سے نجات دیتے ہیں ایسے مطالب اور احادیث سے برادران اہل سنت کی معتبر حدیث کی کتابیں پُر ہیں-جیسے در منثور(طبع قدیم) شواہدالتزیل،تفسیر بیضاوی ، صواعق المحرقہ، ینابیع المود- ، مناقب مر تضویہ یاکنزالعمال وغیرہ-
لہذا اگر ہم اہل بیت کی سیرت کو تمام امور میں نمونہ عمل قرار دے تو بہت سارے مسائل کا حل مل سکتاہے،
۱۲)اہل بیت امت میں سب سے زیادہ دانا ہیں
ہر معاشرے میں علم وعمل کے پابند افراد کو بڑے احترام کی نگاہ سے دیکھاجاتا ہے- چاہے مسلم ہو یاکافر ہر ایک کی نظر میں علم اور فہم رکھنے والے افراد قابل احترام ہے (ع)ان کامقام ومنزلت دوسروں کی بہ نسبت زیادہ ہے دین مقدس اسلام اور اسلامی معاشرے کے حوالے سے ایک اہم سوال یہ ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) کے ماننے والے مسلمانوں میں سب سے بڑا عالم اور جاننے والاکون تھا ؟جس کا جواب قرآن وسنت سے یوں ملتا ہے:
فاسئلوا اهل الذکر ان کنتم لاتعلمون
اہل سنت کے مفسرین میں سے بہت سارے مفسرین نے اہل الذکر سے اہل بیت مراد لیاہے(ع)جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم نہیں جانتے تو اہل بیت سے سوال کرووہ جانتے ہیں اس آیت سے اہل بیت کاعالم ہونا ثابت ہوتاہے کیونکہ خدا نے سوال کرنے کا حکم دیاہے (ع)اگر اہل بیت ہر مسئلہ سے آگاہ اور باخبر نہ ہوتے تو خدا کانہ جاننے والوں کو ان سے پوچھنے کا حکم دینا لغو ہوجاتا ہے جبکہ رب حکیم کا حکم لغو نہیں ہوسکت- نیز آی- میں خدا نے'' لاتعلمون'' کے متعلق کو ذکر نہیں فرمایا جس سے معلوم ہوجاتاہے کہ کوئی
بھی بات یا مشکل مسئلہ خواہ اعتقادی ہو یا فقہی، اقتصادی ہو یا اخلاقی ،نظری ہو یابدیہی ،عقلی ہویا فطری ،سماجی ہو یاسیاسی جنہیںتم نہیں جانتے اہل بیت سے پوچھو-کیونکہ پیغمبر اکرم (ص) کے بعد اہل بیت کا سب سے دانا ہونا آیت سے بخوبی واضح ہوجاتاہے(ع)نیز اہل بیت سے پوچھنے کا مطلب یہ ہے کہ ہرمسئلہ کا مرجع اہل بیت ہیں (ع)اسی طرح وہ احادیث جن میں پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا کہ اہل بیت میرے بعد امت کے پیشوا ہیں اورحجت الہی ہیں ، امت کے ہادی ہیں- ان تمام روایات سے بھی اہل بیت کا سب سے زیادہ عالم ہونا ثابت ہوجاتا ہے-نیز بعض احادیث میںہر ایک اہل بیت کی علمی برتری کو الگ لگ بھی بیان کیاگیاہے ،جیسے:
انّه قال: اعلم امتی من بعدی علی بن ابی طالب ( ۱ )
آنحضرت (ص)نے فرمایا: کہ میرے بعد میری امت میں دانا ترین ہستی علی بن ابی طالب- ہیں-
اس حدیث کی تائید کے لئے دانشمند حضرات حضرت علی (ع)کے ان نوارنی کلمات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں کہ جن میں پوری کائنات کے حقائق سے لوگوں کو باخبر کردیاہے نہج البلاغہ میں کئی ایسے خطبے ہیں کہ جن کو سمجھنا عام انسانوں کی بس سے
____________________
( ۱ ) -۱-ہندی متّقی:کنزالعمال:ج۶ص۱وج۱۱ص۶۱۴ح۳۲۹۷۷و
۲- ابن بطریق:فتح الملک العلی ص۷۰ط:مکتب- الامیرالمومنین اصفہان
باہر ہے(ع)آپ (ع)نے چودہ سو سال پہلے آج کل کے ترقی یافتہ دور کے ایجادات و انکشافات اور ٹکنالوجی کی پیش گوئی کی تھی-جس سے آپ (ع)کے علم کا اندازہ کیا جاسکتا ہے (ع)تبھی تو پیغمبر (ص)نے فرمایا:
'' علی بن ابی طالب خلیف- الله وخلیفتی وخلیل الله وخلیلی وحج- الله وحجّتی وباب الله وبابی وصفی الله وصفیی وحبیب الله وحبیبی وسیف الله وسیفی وهو اخی وصاحبی ووزیری وحبّه حبی وبغضه بغضی ووليّه وليّ وعدوّه عدوّی وزوجته ابنتی وولده ولدی وحزبه حزبی وقوله قولی وامره امری وهو سید الوصيّن وخیر امتی-'' (۱ )
آنحضرت (ص)نے فرمایا:علی (ع)خدا کا خلیفہ اور میراجانشین ہے علی (ع)خدا کا اور میرادوست ہے اور علی (ع)خدا اورمیری جانب سے حجت ہے علی (ع)خدا کا اورمیرا دروازہ ہے اور علی (ع)خدا کی اور میری برگزیدہ ہستی ہے علی (ع)خدا کا اور میرا دوستدار ہے علی (ع)خدا کی اور میری تلوار ہے ، علی (ع)میرا بھائی ، ساتھی اوروزیر ہے، اس سے دوستی مجھ سے دوستی ہے اس سے بغض اور دشمنی مجھ سے بغض اور دشمنی ہے، اس کا دوست میرا دوست اور اس کا دشمن میرا دشمن ہے ان کی شریک
____________________
( ۱ ) -۱-ہندی متّقی:کنزالعمال:ج۱۱ص۶۳۴حدیث۳۲۰۸۹
(۲)الحاکم الحسکانی:شواہد التنزیل:ص۴۸۹
حیات میری بیٹی ہے ان کا فرزند میرا فرزند ہے اس کی جماعت میری جماعت ہے اس کا قول میرا قول اور اس کا حکم میرا حکم ہے وہ تمام اوصیا کا پیشوا اور میری امت میں سب سے بہتر و افضل ہے (ع)
اسی طرح ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا:
لو یعلم الناس متی- سمی علی امیرالمؤمنین ماانکروا فضله سمّی بذالک وآدم بین الروح والجسد قال الله الست بربّکم قالوابلی فقال تعالی انا ربّکم ومحمد نبيّکم وعلی امیرکم (ع)( ۱ )
اگر لوگ علی (ع)کو امیر المؤمنین کا لقب ملنے کا زمانہ جانتے تو ہرگز اس کی فضیلت اوربرتری سے کوئی انکار نہ کرتا ( لوگو آگاہ رہو) علی (ع)کو امیرا لمؤمنین کا لقب اس وقت دیا گیا ہے جب حضرت آدم(ع)کی روح اور بدن باہم ترکیب نہ ہواتھا اس وقت خدا نے فرمایا : کیا میں تمہارا پرور دگار نہیں ہوں کہنے لگے آپ ہمارے پرور دگار ہے پھر خدا نے فرمایا: میں تمہاراپروردگار ہوں محمد تمہارا بنی ہے علی (ع)تمہارا امیرہے (ع)
اس حدیث کی مانند بہت ساری احادیث اہل سنت کی کتابوں میں موجودہیں جن کا مطالعہ کرنا دور حاضر کے حالات اور حوادث کے پیش نظر ضروری
____________________
( ۱ ) -مناقب المرتضویہ ، ص۱۰۲ (ع)
ہے کیونکہ آج وہ دور دوبارہ لوٹ کر آیا ہے جس میں احادیث نبوی(ص)کی نشرو اشاعت پر پابندی تھی ،صرف یہ فرق ہے کہ اس وقت حدیث کا بیان کرنا ممنوع تھا جبکہ اس دور میں کتابوں سے فضائل اہل بیت اور ان کے مناقب پر مشتمل روایات اور احادیث نبوی(ص)کو حذف کیا جاتا ہے (ع)نیز ابو ہریرہ نے روایت کی ہے :
قال: قیل یارسول الله متی وجبت لک النبو- قال النبی (ص) قبل ان یخلق الله آدم ونفخ الروح فیه وقال واذا اخذ ربک من بنی آدم من ظهور هم ذریتهم واشهدوا هم علی- انفسهم الست بربکم قالوا بلی فقال انا ربّکم الاعلی ومحمدنبيّکم وعلی امیرکم (ع)( ۱ )
ابو ہریرہ نے کہاکہ: پیغمبر اکرم (ص)سے پوچھا گیا کب آپ کو نبوت کا منصب ملا ہے ؟ آنحضرت (ص)نے فرمایا: مجھے نبوت کا منصب اس وقت ملا جب خدا نے حضرت آدم- کو خلق نہیں کیا تھا اور ان کے ڈھانچہ میں روح نہ پھونکی گئی تھی پھر جب خدا نے بنی آدم(ع)کا سلسلہ حضرت آدم (ع)کی پشت اور ان کے نسلوں سے برقرار کیا اور ان کو اپنے نفسوں پر گواہ بنایا تو اس وقت خدا نے فرمایا: کیا
____________________
( ۱ ) -۱-ینابیع المود-ج۲ص۲۴۸ح۵۳ط:دار الاسو-ایران۱۴۱۶ق و
(۲)ج۲ ص ۲۸۰ ح ۸۰۳
(۳)الحلی حسن بن سلیمان:المحتضر ص۱۰۶ط؛مکتب-الحیدری-النجف العراق ۱۳۷۰ق
میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں سب کہنے لگے آپ ہمارے پروردگار ہے پھر فرمایا: میں تمہارا عظیم پروردگار ہوں اور محمد تمہارا نبی ہے اور علی (ع)تمہارا امیر اور سردار ہے
نیز شیخ ابراہیم بن محمد صاحب فرائد السمطین اپنی سند کے ساتھ سعید بن جبیر (ع)سے وہ ابن عباس (رض)سے روایت کرتے ہیں :
قال رسول الله(ص) : لعلی بن ابی طالب ی علی (ع) انا مدین- الحکم- وانت بابها ولن توتی المدین- الا من قبل الباب وکذب من زعم انّه یحبنی ویبغضک لانّک منی وانا منک لحمک من لحمی ودمک من دمی وروحک من روحی وسریرتک من سریرتی وعلانیتک من علانیتی وانت امام امتی وخلیفتی علیها بعدی سعد من اطاعک وشقی من عصاک (ع)( ۱ )
ابن عباس (رض)نے کہاکہ پیغمبر (ص)نے فرمایا: اے علی (ع)میں حکمت کا شہر ہوں تو اس کا دروازہ ہے اور ہر گز حکمت کے شہر میں کوئی داخل نہیں ہوسکتا مگر اس کے دروازہ سے اوروہ شخص جھوٹا ہے جومجھ سے محبت کا گمان رکھے جبکہ تم سے بغض اور دشمنی رکھتا ہو کیونکہ میں تجھ سے ہوں اور تومجھ سے ہو تیر اگوشت میرا گوشت ہے تیرا خون میرا خون ہے تیری روح میری روح ہے تیرا ظاہر اور باطن میرا ظاہر اور باطن ہے تومیری امت کا پیشوی- ہو تو ان کے درمیان میرے بعد میرا جانشین
____________________
( ۱ ) -فرائد السمطین ،ج ۲ ص۲۴۳حدیث ۵۱۷
ہو جو تیری اطاعت کرے وہ سعادتمند اور جوتیری نافرمانی کرے وہ بدبخت ہے-
اہم نکات:
مذکورہ احادیث میںپیغمبر اکرم (ص)نے حضرت علی (ع)کی عظمت ا ور شخصیت کو اس طرح بیان فرمایاہے کہ اگر کوئی میری شخصیت اور عظمت کا معتقد ہے تو ا سے چاہے علی (ع)کی عظمت اور شخصیت کا بھی معتقد ہوکیونکہ میں اور علی (ع)اگرچہ ظاہری طورپر دو انسان ہیں لیکن حقیقت میں ہم دونوں کی خلقت ایک نور سے ہے
اوردونوں کے وجود کاہدف بھی امت کی نجات اور انہیں گمراہی سے بچانا ہے لہذا حقیقی مسلمان وہی ہے جو توحید اور نبوت ومعاد پر ایمان کے ساتھ ساتھ امامت علی (ع)کا بھی اقرار کرے (ع)لہ-ذا ہر مسلمان پر یہ فرض بنتا ہے کہ حضرت علی (ع)اور اہل بیت سے بغض اور دشمنی رکھ کر اپنی ابدی زندگی کو برباد نہ کرے(ع)کیونکہ علی (ع)اور اولاد علی (ع)نہ ہوتے تو آج قرآن وسنت اور اسلام کا نام و نشان بھی باقی نہ رہت-
ان احادیث سے بخوبی اندازہ لگا یاجاسکتا ہے کہ حضرت علی (ع)اور دیگر اہل بیت کی عظمت خدا کی نظر میں کیا ہے؟ ان کو اتنی عظمت ملنے کا فلسفہ کیا ہے؟ ان چیزوں کوسمجھنے کی ضرورت ہے
۱۳)اہل بیت کی عصمت
گذشتہ آیات و روایات سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہر کس وناکس اہل بیت کا مصداق نہیں بن سکتا ۔ بلکہ اہل بیت (ع) جو امت محمدی کےلئے وسیلہ نجات ہیں کے کچھ شرائط اور خصوصیات پیغمبر اکرم (ص)نے بیان فرمایا ہے کہ جس میں یہ خصوصیتیں ہوں وہ اہل بیت کا مصداق بنے گا اورجو اس ضابطہ اور معیار پر پورانہ اتر ے وہ اہل بیت کا مصداق نہیں بن سکتا ۔
جس میں طہارت، صداقت، علم ،ہدایت اور عصمت جیسی خصوصیتیں ہوں وہی اہل بیت کا فرد بن سکتا ہے چنانچہ بہت سی احادیث اس بات پر شاہد ہیں جن میں پیغمبر اکرم (ص)کے بعد پوری بشریت پر اہل بیت کی برتری اور فوقیت اور ان کے اوصاف و خصوصیات کو بیان فرمایا ہے۔
چنانچہ عامر بن وائلہ نے حضرت علی (ع)سے روایت کی ہے:
قال: قال رسول الله(ص) یاعلی انت وصّی حربک حربی وسلمک سلمی وانت الامام وابوالائمة الاحد عشر الذین هم المطهرون المعصومون ومنهم المهدی الذی یملاء الارض قسطاً وعدلاً فویل لمبغضهم یاعلی لوانّ رجلاً احبّک واولادک فی الله لحشره الله معک ومع اولادک وانتم معی فی الدرجات العلی وانت قسیم الجنّة والنار تدخل بحبک الجنّة وببغضک النار ۔( ۱ )
پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا : یاعلی (ع)تو میرا جانشین ہے جو تم سے جنگ کرے اس نے مجھ سے جنگ کی ہے جوتم سے صلح وصفا ئی سے پیش آئے اس نے مجھ سے صلح کی ہے (اے علی (ع))تو (لوگوں کے) امام اور ان گیارہ اماموںکے باپ ہو جو پاک وپاکیزہ اور معصوم ہیں ان گیارہ اماموں میں سے ایک مہدی ؑہوگا جو زمین کو عدل وقسط سے بھر دے گا پس غضب ہو تیرے اور ان اماموں کے ساتھ بغض رکھنے والوں پراے علی (ع)اگر کوئی تجھ سے اور تیری ذریت سے اللہ تبارک وتعالی کی خاطر دوستی رکھے توخدا اس کو روز قیامت تمہارے ساتھ محشور کرے گااور تو میرے ساتھ ہوگا، تو جنت اور جہنم کاقسیم ہے اپنے دوستوں کو جنت اور دشمنوں کوجہنم میںداخل کروگے۔
تحلیل :
اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ اہل بیت کے تمام افراد میں عصمت
____________________
( ۱ ) ۔ینابیع المودۃ ج ۱ص ۸ ۳۔
کا ہونا شرط ہے۔ چنانچہ فرمایا:''المطہرون ''، جس کا سرچشمہ آیت تطہیر ہے ، ''المعصومون ''جس کا سرچشمہ آیت صادقین ہے ۔ تومیرا جانشین ہے جس کا سرچشمہ آیت ولایت ہے ۔
پس اہل بیت کا ملاک اورمیزان یہ ہے کہ وہ معصوم ہو۔ جیساکہ بہت سارے علماء اور دانشمندوںنے آیات اور احادیث سے انبیائ اور ان کے جانشینوں کے معصوم ہونے کو ثابت کیاہے ۔جیساکہ علامہ فخررازی نے آیت ابتلا کے بارے میں فرمایا:
( انی جاعلک للناس اماما ) سے حضرت ابراہیم(ع)کی امامت کے علاوہ ان کا معصوم ہونا بھی ثابت ہوجاتاہے( ۱ ) نیز انہوں نے فرمایا:
آیت اولی الامر سے اولی الامر کی عصمت ثابت ہوجاتی ہے ۔اسی طرح کچھ اوراحادیث اور آیات سے بھی سنی علماء نے اولی الامر اور امام کی عصمت کو ثابت کیا ہے۔ لہذا آیات اور احادیث کی روسے اہل بیت کا مصداق بخوبی واضح اور روشن ہے جس میں اختلاف کرنا شاید مسلمانوں کی بدقسمتی کے علاوہ کچھ نہ ہو تب بھی تو آج دشمنوںنے ہماری اس بری سیرت کی بناء پر اتنی جرأت کے ساتھ تسلط جمایا ہے اگر مسلمانوں کو اپنے گھروں،شہروں اورممالک سے نکال باہر کردے اور
____________________
( ۱ ) ۔ مفاتیح الغیب ،ج۴،ص۴ ۰ ۔
روز مرہ زندگی کی ضروریات اور تعلیم وغیرہ سے محروم بھی کردے ،پھر بھی ان کے سامنے سر تسلیم خم کرتے نظر آتے ہیں جبکہ انکی پوری طاقت مسلمانوں کے سرمایے سے ہے۔
لہذا آج مسلمانوں کا آپس میں اختلاف کرکے ایک دوسرے سے دوری اختیار کرنا حقیقت میں قرآن وسنت اور نظام اسلام کی پامالی کے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔لہٰذامحققین کی لکھی ہوئی کتابوں کا مطالعہ کرنا اور استعمار کے اشارے پر چلنے والے ایجنٹوں کی مخالفت کرنا ہماری ذمہ داری ہے تاکہ ہمارے آپس میں اختلاف اور تفرقہ پیدا نہ ہو۔
پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا:
من سره ان یحی حیاتی ویموت مماتی ویسکن جنّة عدن التی غرسها ربی فیوال علیاً من بعدی ویوال ولیّه ویقتد باالائمة من بعدی فانّهم عترتّی خلقوا من طینتی ورزقوا فهماًو علماً وویل للمکذبین بفضلهم من امتی القاطعین فیهم صلتی لاانالهم الله شفاعتی ( ۱ )
''جو شخص میری طرح جینا اور میری طرح مرنا چاہے اور جنت عدن
____________________
( ۱ ) ینابیع المودۃص ۳۱۱
(جسے میرے پروردگار نے مؤمنین کے لئے تیارکیاہے) میں رہنا چاہتا ہے تو میرے بعدعلی (ع)اور اس کے جانشینوں کی سرپرستی کو قبول کرےں نیز میرے بعد ان پیشواؤں کی اقتداء کرےں ۔کیونکہ وہی میرے اہل بیت وعترت ہیں اور میری طینت سے خلق کیاگیا ہے اور یہ فہم ودرک اور علم کی نعمت سے نوازے گئے ہیں اورمیری امت میں سے جوان کے فضائل کے منکر ہو ان پرغضب ہو کیونکہ خدا نے میری رسالت کا صلہ ان سے دوستی اور محبت رکھنے کو قرار دیا ہے ۔ لہذا جوان کے فضائل اور منزلت کا منکر ہوگا اسے میری شفاعت نصیب نہیں ہوگی۔
تحلیل:
اس حدیث میں حضرت پیغمبر اکرم (ص)نے بشر کی ہدایت اور ہلاکت و گمراہی سے نجات کاذریعہ واضح الفاظ میں بیان فرمایا ہے یعنی بشر یا محب اہل بیت ہے یادشمن اہل بیت ۔ اگر دنیا میں عزت ،شرف اور ابدی زندگی میں آسائش و راحت کا خواہاں ہے تو اہل بیت سے محبت کرنی ہوگی اور ان کی سیرتکو اپنی روزمرہ زندگی کے لئے نمونہ ومعیار قرار دےنا ہوگا،کیونکہ زندگی کے اصول وضوابط کاملاک اور معیار اہل بیت ہے ان کی سیرت طیبہ سے ہٹ کر کوئی شخص جتنی بھی زحمت اور مشقت اٹھائے بے فائدہ اورفضول ہے ۔ پس اس حدیث سے بھی اہل بیت کی عظمت اور فضیلت کا اندازہ لگاسکتے ہیں یعنی حضور کی طرح جینا اور مرنا، جنت کا حصول حضور کی شفاعت اور عذاب جہنم سے نجات سب اہل بیت کی محبت اور اطاعت سے وابستہ ہے۔
۱۴)اہل بیت کی اطاعت فرض ہے ۔
خدا اوررسول (ص)کی اطاعت کے علاوہ اہل بیت رسول کی اطاعت بھی امت مسلمہ پر فرض ہے ۔
چنانچہ اس مطلب کو ابن عباس (رض)نے یوں روایت کی ہے :
قال رسول الله(ص) انّ الله افترض طاعتی وطاعة اهل بیتی علی الناس خاصّة وعلی الخلق کافة ۔( ۱ )
پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا: خدا نے میری اور میرے اہل بیت کی اطاعت کو ساری مخلوقات پر اور خاص طور پرانسانوں پر لازم قرار دیاہے ۔
علامہ قندوزی نے ابراہیم بن شبیہ الانصاری سے روایت کی ہے ـ :
قال جسلت عند اصبغ بن نباته قال الااقرائک مااملاه علی بن ابی طالب (ع) فاخرج صحیفة فیها مکتوب :بسم اللّه
____________________
( ۱ ) ۔ینا بیع المودۃ ج ۲ص ۷ ۵۔
الرّحمن الرّحیم ، هذا مااوصی به محمد(ص) اهل بیته وامته واوصی اهل بیته تقوی اللّه ولزوم طاعته واوصی امته بلزوم اهل بیتی واهل بیته یأخذون لحجزة نبیهم وانّ شیعتهم یأخذون لحجزهم یوم القیامة وانّهم لن یدخلوکم باب الضلالة ولن یخرجوکم من باب هدی ۔( ۱ )
ابراہیم بن شبیہ کہتا ہے : میں اصبغ بن نباتہ(ع)کے پاس بیٹھا ہواتھا مجھ سے کہنے لگا: کیا میں وہ حدیث نہ سناؤں جو حضرت علی (ع)نے مجھے لکھوادیا تھا ؟پھر اس نے ایک کاغذ نکالا جس پر یہ لکھا ہواتھا کہ خدا کے نام سے شروع کرتاہو ں جوبڑا مہربان ہے۔ یہ محمد(ص)کی وصیت ہے جواپنی امت اور اپنے اہل بیت سے کی ہے۔میں اہل بیت کو تقوی اور خدا کی اطاعت کرنے کی جبکہ امت کو اہل بیت کی اطاعت اور پیروی کرنے کی وصیت کرتا ہوں
کیونکہ قیامت کے دن اہل بیت کے دامن سے متمسک ہونگے اور ان کے پیروکار اہل بیت کے دامن تھامے ہونگے یاد رکھو کہ اہل بیت کبھی تمہیں ہدایت کی راہ سے نکال کر ضلالت و گمراہی کی طرف نہیں لے جائینگے۔
____________________
( ۱ ) ۔ینابیع المودۃ ،ص۲ ۷ ۳۔
تحلیل:
خدا اور رسول (ص)کی اطاعت کے فرض ہونے کو توسب جان لیتے ہیں لیکن اہل بیت کی اطاعت فرض ہے یانہیں اس میں امت مسلمہ کے درمیان اختلاف پایاجاتا ہے :
۱۔بعض کا خیال ہے کہ اہل بیت کی اطاعت لازم نہیں ہے کیونکہ اہل بیت اور دیگر انسانوں میںکوئی فرق نہیں ہے لہذا جس طرح باقی انسانوں کی اطاعت اور پیروی لازم نہیں ہے اسی طرح اہل بیت کی اطاعت بھی ضروری نہیں ہے لیکن یہ نظریہ کتاب وسنت کے مخالف ہے ،جیسا کہ گذشتہ آیات و روایات سے واضح ہوا۔
۲۔کچھ مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ اہل بیت دیگر انسانوں کے مانند نہیں بلکہ ان کی عظمت اور شخصیت کتاب وسنت میں واضح الفاظ میں بیان ہوا ہے لہذا ان کے فضائل سے انکار کرنے کی گنجائش نہیں ہے لیکن جس طرح خدا کی اطاعت اور رسول (ص)کی اطاعت مسلمانوں پر فرض ہے اس طرح اہل بیت کی اطاعت کرنا فرض نہیںایسا نظریہ بھی عقل قبول نہیں کرتی ،کیونکہ ایک طرف اہل بیت کے فضائل کو قبول کرے جبکہ دوسری طرف سے ان کی اطاعت کو واجب نہ ماننا حقیقت میں یہ سنت نبوی اور کتاب الہٰی کے پابند نہ ہونے اور مقام ومنزلت اہل بیت سے انکار کی علامت ہے ۔
۳۔ اہل بیت اوردیگر انسانوں کے درمیان زمین وآسمان کا فرق ہے جس طرح خدا اور رسول (ص) کی اطاعت امت مسلمہ پر فرض ہے اسی طرح اہل بیت کی اطاعت بھی فرض ہے ان کی اطاعت اور خدا اور رسول (ص)کی اطاعت میں کوئی فرق نہیں ہے۔کیونکہ اہل بیت کی اطاعت در حقیقت خدا و ر رسول کی اطاعت ہے،کیونکہ خدا و رسول نے ہی اہل بیت کی اطاعت کا حکم دیا اور ان کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دی۔ چنانچہ مذکورہ احادیث سے واضح طور پرمعلوم ہوا کہ پیغمبراکرم (ص)نے فرمایا :امت پر میرے اہل بیت کی اطاعت کرنافرض ہے ۔
۱۵)اہل بیت علم وعمل کے ترازوہیں
قرآن کی آیات کے علاوہ کئی احادیث سے واضح ہوجاتاہے کہ اہل بیت حق اور ناحق ، انصاف اور ناانصاف ، ایمان اور کفر ، جنت اور جہنم ، عدل و ظلم کا ملاک اور معیار قرار پانے کے ساتھ علم و حکمت اور عمل کا سرچشمہ بھی ہیں۔
سعید بن جبیر نے ابن عباس (رض)سے روایت کی ہے:
قال رسول (ص)اللّه نحن اهل بیت مفاتیح الرحمة وموضع الرسالة ومختلف الملائکة ومعدن العلم ( ۱ )
پیغمبراکرم (ص)نے فرمایا: ہم اہل بیت ، رحمت الہی کی چابی ،
____________________
( ۱ ) فرائد السمطین ج۲ص ۲۱۲۔
رسالت کی منزل، فرشتوں کے رفت وآمد کی جگہ اور علم کا سرچشمہ ہیں ۔
اہل تشیع کی کتابوں میں اس حدیث کے مضمون کی مانند احادیث اور دعائیں اور زیارات ائمہ معصومین بہت زیادہ ہے۔
نیز مجاہد، ابن عباس (رض)سے روایت کرتاہے :
قال رسول الله(ص) انا میزان العلم وعلی کفّتاه والحسن وال حسین (ع) خیوطه وفاطمة علاقته والائمة من امتی عموده یوزن فیه اعمال المحبین والمبغضین لنا( ۱ )
پیغمبراکرم (ص)نے فرمایا: میں علم کا ترازو اور علی (ع)ترازو کے دو نوں پلڑے ہیں، حسن- وحسین- اس ترازو کی زنجیروں کی مانند ہیںجبکہ فاطمہ زہراء (س) ترازو کادستہ ہیں اور میری امت میں سے جو پیشوا اور امام ہے وہ ترازوکے ستون کی مانند ہے جس کے ذریعے ہمارے دوستوں اور دشمنوں کے اعمال کو تولا جاتاہے۔
____________________
( ۱ ) ، مقتل الحسین ص ۱ ۰۷ ۔
تحلیل :
اس حدیث کی مانند اوربھی احادیث اہل سنت کی کتابوں سے منقول ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے کہ فرشتوں کے رفت وآمد کی جگہ اہل بیت ،رحمت الہی کاذریعہ اہل بیت رسالت اور امامت کے لائق اور مستحق اہل بیت ، علم وعمل کے میزان اورترازو اہل بیت ہیں۔ لہذا اہل بیت کو عمل اور علم کا سرچشمہ قراردے کر حقیقت میں یہ بتانا چاہتے ہیں کہ علم حقیقی وہ ہے جس کا سرچشمہ اہل بیت ہو عمل صحیح وہ ہے جس کا سرچشمہ اہل بیت ہو۔ لہذا اہل بیت کی سیرت سے ہٹ کر کسی بھی عمل کی کوئی قیمت نہیں ہے۔
نیز اہل بیت سے ہٹ کر کسی بھی علم کی کوئی قیمت نہیں ہے کیونکہ خدا نے علم وعمل کا ملاک اہل بیت کو قرار دیا ہے ۔
۱٦)اہل بیت سے دوری کے عوامل
اہل بیت سے دوری اور بغض رکھنے کے عوامل کو دو قسموں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے:
۱۔ بیرونی عوامل ۔
۲۔درونی عوامل ،
۱۔بیرونی عوامل:
سب سے پہلے ظاہری اور بیرونیعوامل کو بیان کریں گے تاکہ مسلمانوں کا دل اہل بیت کی محبت کے ذریعے منور ہوجائے۔
الف۔ جہالت
بسا اوقات اہل بیت سے دوستی اور محبت نہ کرنے والے افراد سے سوال کرے تو جواب ملتاہے کہ ہمیں ان کی معرفت اور شناخت نہ تھی لہذا ان سے محبت اور دوستی کرنے سے ہم محروم رہے ہیں۔ایسی جہالت کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں :
۱۔جاہل قاصر۔ ۲۔جاہل مقصر۔
اگر اہل بیت کی معرفت اور شناخت حاصل کرسکنے کے باوجود اپنی کوتاہی اور سستی سے حاصل نہ کی ہوجس کے نتیجہ میں اہل بیت کی دوستی اور محبت سے محروم رہ گیا ہوتو ایسے افراد روز قیامت اپنی جہالت کو اہل بیت سے محبت نہ کرنے کے عذر کے طورپر پیش نہیں کرسکتے کیونکہ ایسا شخص جاہل مقصر ہے ۔ جاہل مقصر کا حکم شریعت اسلام میں واضح اور روشن ہے قیامت کے دن اس کو وہی سزا دی جائے گی جو اہل بیت سے جان بوجھ کر دشمنی اور بغض رکھنے والے افراد کے لئے مقرر کی گئی ہے ، کیونکہ بہت ساری احادیث میں پیغمبر اکرم (ص)نے صاف الفاظ میں فرمایا ہے : اہل بیت کی معرفت اور شناخت حاصل کرنا فرض ہے ۔
چنانچہ حضرت امام جعفر صادق (ع)سے روایت ہے :
قال: قال امیرالمؤمنین اعرفوا اللّه والرسول بالرسالة واولی الامر بالمعروف والعدل والاحسان ۔( ۱ )
حضرت علی (ع)نے فرمایاکہ: خدا اور ان کے رسول (ص) کی شناخت اور معرفت رسالت کے ذریعے کرو اور اولی الامر( جو اہل بیت ہے) کی معرفت اور شناخت عدل واحسان اور نیکیوں کے ذریعہ حاصل کرو ۔
آیات اور روایات کے علاوہ دلیل عقلی بھی اہل بیت کی معرفت اور شناخت کاہم پر فرض ہونے کی تائید کرتی ہے ۔ کیونکہ ایک طرف اہل بیت تمام مسائل کا مرجع ہوں دوسری طرف ہم ان کی شناخت حاصل نہ کرے تو( فاسئلوا اهل الذکر ) یا( کونوا مع الصادقین ) وغیرہ کا معنی نہیں رہتا۔ پس اس قسم کی جہالت میں مبتلاء افراد کو جاہل مقصر کہا جاتا ہے یعنی معرفت اور شناخت اہل بیت کا زمینہ اور ذرائع میسر ہونے کے باوجود حاصل نہ کرے۔
لیکن اگر معرفت اور شناخت اہل بیت حاصل کرنے سے قاصر ہو یعنی معرفت اور شناخت اہل بیت حاصل کرنے کے لئے کسی قسم کے امکانات میسرنہ ہو جس کے نتیجہ میں اہل بیت سے دور اور ان کے ساتھ دوستی اورمحبت کرنے سے محروم رہے ایسے افراد کی جہالت کو قیامت کے دن عذر کے طور پر قبول کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس صورت میں تکالیف الہی کا آنا معقول نہیں ہے ۔
____________________
( ۱ ) ۔بحارالانوار ، ج۲۵ص ۴۱،۔
ب۔غلط پروپگنڈے
اہل بیت سے دشمنی اور بغض رکھنے کے اسباب میںسے دوسرا سبب منفی تبلیغ ہے جسے قدیم الایام سے قرآن وسنت اور اسلام کے مخالفین نے کبھی بنی امیہ کی شکل میں اور کبھی بنی عباس کی شکل میں پیغمبراکرم (ص)کے رحلت پاتے ہی اہل بیت کے خلاف شروع کی جس کے نتیجہ میں بہت سارے افراداہل بیت کی دوستی اور محبت کرنے سے محروم رہے۔ یعنی پیغمبر اکرم (ص)کے وفات پاتے ہی مسلمانوں اور اہل بیت کے درمیان دوری اور جدائی شروع ہوگئی اگرچہ پیغمبراکرم (ص)کے دور میں کفار اور مشرکین نے مسلمانوں کو پیغمبراکرم (ص)اور قرآن واسلام سے دور رکھنے کی کوشش کی تھی لیکن پیغمبر اکرم (ص)نے ان کی تمام کوششوں کو ناکام بنایا مگرجب پیغمبراکرم (ص)دنیا سے چل بسے تو کفار اور مشرکین نے موقع کوغنیمت سمجھ کر مسلمانوں اور اصحاب میں سے ضعیف الایمان افراد کو ورغلانا اور پروگرام کے مطابق لاشعوری طور پراختلاف ڈالنا شروع کیا جس کے نتیجہ میں مسلمانوں نے نہ صرف اہل بیت سے محبت اور دوستی کرنا چھوڑ دیا بلکہ اہل بیت کو اپنا دشمن قراردینا شروع کیا جس کی دلیل آج فریقین کی کتابوں میں واضح الفاظ میں موجود ہے یعنی سوائے امام زمانؑ کے باقی سارے اہل بیت کے ساتھ امت مسلمہ نے برا سلوک کیا اہل بیت میں سے کوئی ایک بھی موت طبیعی سے دار دنیا سے نہیں گیا بلکہ ہرقسم کے مظالم ان پر ڈھائے گئے اور شہید کیا گیا ۔لہذا آج مسلمانوں میں سے کچھ لوگ اہل بیت کی شان میں نازل ہونے والی آیات اور احادیث نبوی(ص) کو بالائے طاق رکھ کر یہودیوں کے دئیے ہوئے نقشے کے مطابق لوگوں کو اہل بیت سے دور کرنے کو اپنا فریضہ سمجھتے ہیں ۔ اوراہل بیت کے فضائل بیان کرنے والے افراد کو قتل کرناشرعی ذمہ داری سمجھتے ہیں جو یقیناً کفارومشرکین اوریہودیوں کا نقشہ ہے ورنہ فریقین کے علماء اور محققین نے اہل بیت سے متعلق آیات اور روایات کی روشنی میں ان کے دامن تھامنے کو باعث سعادت قرار دیا ہے۔ لہذا سارے مسلمانوں پر لازم ہے کہ اہل بیت کا دامن تھام لیں تاکہ سعادت دنیا وآخرت سے محروم نہ رہے۔
ج ۔تربیت اور سوسائٹی
اہل بیت سے دوری کاتیسرا عامل تربیت اور سوسائٹی بتایا جاتاہے یعنی اگر کسی کی تربیت کسی ایسے گھرانہ یاسوسائٹی میں ہوئی ہوجو محب اہل بیت ہے تو اس شخص کا محب اہل بیت ہونا طبیعی ہے لیکن اگر کسی ایسے معاشرہ یاگھرانہ یا سوسائٹی میں تربیت ہو جو دشمن اہل بیت ہے ، یااہل بیت سے دور اور ان کے نور سے محروم ہے تو یقینا وہ انسان بھی اہل بیت سے دورہوگا اور بغض رکھے گا۔اس حوالے سے تربیت اور سوسائٹی کی اہمیت بہت زیادہ ہے جس کی طرف خدا اور اس کے انبیاء نے بھی تاکید کی ہے کہ تربیت کے لئے اچھے افراد کو منتخب کرنا ہمارا فرض بنتاہے ۔اسلام ، قرآن اور سنت کی روشنی میں اچھا انسان وہ ہے جو مسلمان حقیقی ہو اگر کسی معاشرہ ، قبیلہ اور گھرانہ میں اہل بیت کی محبت نظر نہ آئے تو اس کی وجہ جہالت اور منفی تبلیغ کے علاوہ غلط تربیت بھی ہے ، چاہے تربیت گاہ سکول ہو یاکالج ،یونیورسٹی ہو یا مدرسہ۔ اگر سوسائٹی محبت اہل بیت کا حامل ہو تو اس میں تربیت یافتہ انسان بھی محب اہل بیت ہوگا لیکن اگر ان مراکز میں تربیت دینے والا دشمن اہل بیت ہو تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ تربیت یافتہ تمام افراد اہل بیت کے ساتھ بغض اور دشمنی رکھیں گے۔
آج یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں کہ یہودی ہماری تربیت گاہوں پر اپنا تسلط جماکر ہمارے بچوں کو قرآن اور اسلام واہل بیت سے دور کررہے ہیں اور ان کے ذہنوں کو تبدیل کررہے ہیں تاکہ جب کوئی یہودی کسی مسلمان پر زیادتی اور تجاوز کرنا چاہے تو مسلمان مکمل بے غیرتی کے ساتھ اس کے آگے سرتسلیم خم کر کے خاموش رہے ۔
۲) اندرونی عوامل
اہل بیت کے دوری اور جدائی کے اسباب میں سے دوسرا سبب باطنی اور اندرونی ہے:
الف: منافقت
ب: حسد
ج:نسل میں خلل
د:تکبر
چنانچہ احادیث نبوی ،جواہل سنت کی کتابوں میں نقل کی گئی ہے، اور تاریخی وقائع وحوادث سے بخوبی واضح ہوجاتاہے کہ ذکر شدہ عناوین اہل بیت اور لوگوں کے درمیان جدائی اور دوری کے باطنی عوامل میںسے اہم ترین سبب شمار کیا جاتاہے ،جیساکہ پیغمبراکرم (ص)نے فرمایا:حسد کرنے والا،منافق ،تکبر کرنے والا اور جس کی نسل میں خلل ہو وہ ہم اہل بیت سے دشمنی اور عداوت رکھے گا۔( ۱ )
چنانچہ علامہ خوارزمی نے مقتل حسین- میں امام علی (ع)سے روایت کی ہے :
قال: قال رسول الله(ص): ...لایحبنا الا مؤمن ولایبغضنا الامنافق شقی ۔( ۲ )
پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا: ہم اہل بیت سے محبت سوائے مؤمن اور ہم سے دشمنی اور عداوت سوائے منافق کے کوئی نہیں کرتاہے۔
مذکورہ احادیث سے روشن ہوا کہ منافقت اور نفاق اہل بیت سے
____________________
( ۱ ) ۔ینابیع المودۃج ۲ص ۷۰ ،تاریخ دمشق ج ۳ص ۲۱۳۔
( ۲ ) ۔ مقتل الحسین ج۲ص ۱۱۲
عداوت و دشمنی رکھنے کے اسباب میں سے ایک سبب ہے جس سے انکار کرنے کی
کوئی گنجائش نہیں ۔نیز کئی احادیث میں پیغمبراکرم (ص)نے فرمایا ہم اہل بیت سے وہ لوگ بغض اور دشمنی رکھتے ہیں کہ جن کی نسل میں خلل ہو چنانچہ امام جعفر صادق (ع)سے روایت کی گئی ہے :
قال رسول الله (ص): من احبنا اهل البیت فلیحمد الله علی اولی النعم قیل ومااولی النعم؟ قال طیب الولادة ولایحبنا الا من طابت ولادته ۔( ۱ )
اگر کوئی ہم اہل بیت سے دوستی اور محبت کرے تو اللہ تبارک وتعالی کو اسکی نعمتوں میں سے بہترین نعمت پر حمد وثنا کرنا چاہیئے پوچھا گیا خدا کی بہترین نعمت کون سی ہے ؟ آنحضرت (ص)نے فرمایا: خدا کی بہترین نعمت حلال زادہ ہونا ہے اور ہم سے سواء حلال زادہ کے کوئی محبت نہیں کرتا۔
نیز سعد ابن جبیر نے ابن عباس (رض)سے روایت کی ہے :
قال :قال رسول الله(ص): یا علی لایحبک الا طاهر الولادة ولایبغضک الا خبیث الولادة ( ۲ )
____________________
( ۱ ) ۔ینابیع المودۃ ص ۲۴٦۔
( ۲ ) ۔ینا بیع المودۃ ،ج ۲ص ۷۰ ۔
پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا: اے علی (ع)تجھ سے سوائے حلال زادہ کے کوئی محبت اور دوستی نہیں کرتا ، اور تجھ سے سوائے حرام زادہ کے کوئی بغض اور دشمنی نہیں رکھتا۔
اگرچہ حدیث کی کتابوں میں اس سلسلے میں روایات بہت زیادہ ہیں اختصارکے پیش نظر مذکورہ روایتوں پر اکتفا کروںگا تفصیل کےلئے دور منثور ،شواہد التنزیل ، صواعق محرقہ ، ینابیع المودۃ وغیرہ کی طرف رجوع کیا جاسکتاہے اس طرح حسد اور تکبر بھی روحانی بیماریوں میں سے بہت ہی مذموم مرض ہے جو بھی شخص ایسے مرض میں مبتلا ہوجاتا ہے وہ راہ سعادت اور اہل بیت سے جدا اور ہمیشہ کے لئے نابودہوجاتاہے ۔
خلاصہ یہ ہے کہ اہل بیت سے بغض اور دشمنی رکھنے کے اسباب روایات نبوی کی رو سے درج ذیل ہیں :
۱۔بیرونی عوامل: ۱۔ جہالت ۲۔ منفی تبلیغ۔۳۔غلط تربیت ۔
۲۔اندرونی عوامل: ۱۔منافقت۔۲۔ حسد۔۳۔ نسل میں خلل۔۴۔تکبر
۱۷)اہل بیت کا مصداق
شیعہ اور سنّی کتابوں میں مناقب اور فضائل اہل بیت سے متعلق بہت ساری احادیث نبویؐ تواتر اجمالی کی حد سے بھی زیادہ ہے لیکن اس کا مصداق کون ہے جس میں شیعہ اور سنی کے درمیان اختلاف پایا جاتاہے اہل سنت کانظریہ ہے کہ اہل بیت رسول ،کہ جن کی شان میں آیات نازل ہوئی اور جن کے فضائل پیغمبراکرم (ص)نے واضح الفاظ میں بیان کئے،میں پنجتن پاک کے علاوہ ذریت رسول (ص) اور زوجات رسول (ص) بھی شامل ہیں ، جب کہ شیعہ امامیہ کی نظر میں اہل بیت ؑ کا مصداق چہادہ معصومین ہیں، زوجات اگرچہ فضیلت رکھتے ہیں لیکن اہل بیت کا مصداق نہیں ہیں جس پردلیل عقلی کے علاوہ آیات اور روایات سے استدلال کرتے ہیں ۔ لہذا کچھ ان روایات کی طرف بھی اشارہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں جن میں پیغمبراکرم (ص)نے اہل بیت کا مصداق معین کیاہے ۔
پیغمبراکرم (ص)فرماتے ہیں:
یاعلی انت الامام وابوا الائمة الاحدی عشرالذین هم المطهرون المعصومون ( ۱ )
اے علی (ع)تم ( اس امت ) کے پیشوا اور ان گیارہ پیشواؤں کے باپ ہو جو پاک وپاکیزہ اور معصوم ہیں ۔
اس روایت سے حضرت علی (ع)اور دیگر گیارہ ائمہ کی عصمت و طہار ت اورامامت واضح ہوجاتی ہے ،اور پیغمبر اکرم (ص)کے بعد خلیفہ بلا فصل ضرت علی (ع)ان کے بعد دیگر گیارہ ائمہ ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ پیغمبراکرم (ص)
____________________
. ( ۱ ) ۔ینا بیع المودۃ ج۱،ص ۸ ۳۔
کے حقیقی جانشین بارہ ہیں جو مذہب تشیع کے عقیدہ کے مطابق ہے ۔اسی طرح دوسری روایت میں پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا:
قال رسول الله(ص) یاعلی انت وصّی حربک حربی وسلمک سلمی وانت الامام وابوالائمة الاحد عشر الذین هم المطهرون المعصومون ۔( ۲ )
پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا : یاعلی (ع)تو میرا جانشین ہے جو تم سے جنگ کرے اس نے مجھ سے جنگ کی ہے جوتم سے صلح وصفائی سے پیش آئے اس نے مجھ سے صلح کی ہے (اے علی (ع))تو (لوگوں ) کے امام ہو اور گیارہ اماموںکے باپ ہوجو پاک وپاکیزہ اور معصوم ہیں۔
نیز ابن عباس (رض)سے روایت ہے :
قال سمعت رسول الله(ص) یقول :انا وعلی والحسن وال حسین (ع) وتسعة من ولد الحسین مطهرون معصومون ( ۲ )
ابن عباس (رض)نے کہا کہ آنحضرت (ص) نے فرمایا: میں اور علی (ع)اور حسن- وحسین- اور حسین-کے نو فرزند عصمت اور طہارت کے مالک ہیں ۔
اسی طرح عطا بن ثابت نے اپنے باپ سے روایت کی ہے :
____________________
( ۱ ) ۔ینا بیع المودۃ ،ج ۱،ص ۸ ۳۔
( ۲ ) ۔ینا بیع المودۃ ،ج ۱،ص ۸ ۵۔
انّ النبی (ص) وضع یده علی کتف ال حسین (ع) فقال انّه الامام ابن الامام تسعة من صلبه ائمة ابرار امناء معصومون والتاسع قائمهم ( ۲)
جناب سلمان (ع)سے نقل کیاگیاہے کہ پیغمبراکرم (ص)نے اپنا دست مبارک امام حسین- کے شانے پر رکھ کر فرمایا: بتحقیق یہ امام اور امام کا فرزند ہے اواس کی نسل سے نو فرزند امام ہونگے جو نیک ، امین اور معصوم ہیں اور ان میں سے نواں قائم ہوگا۔
اسی طرح زید بن ثابت سے روایت کی ہے پیغمبراکرم (ص)نے فرمایا:
وانّه یخرج من صلب ال حسین (ع) ائمة ابرار امناء معصومون قوامون بالقسط ۔
بے شک امام حسین- کی نسل سے کچھ نیک امانتدار (اور )معصوم امام(پیشوا) آئیں گے جو عدل اور انصاف کو معاشرے میںقائم کریں گے ۔
اہم نکات
مذکورہ روایات میں حضرت امام حسین (ع) کی نسل سے نو ہستیوںکے آنے کی خبردی جودرجہ ذیل صفات کے حامل ہیں:
____________________
( ۲ ) ۔اثبات الہداۃ ، ج۲ص۵۱٦حدیث ۴ ۹۰ ۔
۱۔وہ پاک وپاکیزہ ہیں۔ ۲۔ معصوم ہیں۔
۳۔امت مسلمہ کے پیشوا ہیں ۔ ۴۔نیکوکارہیں ۔
۵۔وہ افراد معاشرے میں عدل وانصاف کو رواج دیں گے ۔
٦۔امین ہیں۔
پہلی روایت میں پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا:اے علی (ع)تو اور تیری نسل سے آنے والی نو ہستیوں میں مذکورہ اوصاف ضروری ہے ۔
ایک اور روایت جسے پیغمبراکرم (ص)سے فضل بن عمر بن عبداللہ نے روایت کی ہے اور الحافظ ابو محمد بن ابی الخوارس نے( ۱ ) نقل کیاہے جس میں پیغمبراکرم (ص)نے اہل بیت سے مراد چو دہ معصومین کا ہونا صاف اور واضح الفاظ میں بیان فرمایاہے، اور سب کے اسماء گرامی بھی بیان کئے ہیں یعنی اہل بیت سے مرادحضرت پیغمبراکرم (ص)اور حضرت زہرا (س)حضرت علی (ع)، حضرت امام
حسن- وحضرت امام حسین (ع)، حضرت علی زین العابدین-، امام محمد باقر (ع)امام جعفر الصادق (ع)،امام موسی کاظم (ع)، امام علی بن موسی(ع)، امام محمدبن علی (ع)، امام علی بن محمد (ع)، امام حسن بن علی (ع)،امام المہدی (عج )ہیں، ان کے علاوہ زوجات، اہل بیت کے دائرہ سے خارج ہیں ۔ زوجات میں وہ شرائط نہیں جن کا حامل ہونا اہل
____________________
( ۱ ) کتاب الاربعین ،ص۳ ۸
بیت کےلئے ضروری ہے ۔کیونکہ مذکورہ روایات میں اہل بیت کے اوصاف کو اس طرح سے ذکر کیاکہ وہ اپنے زمانے کے لوگوں سے علم اور معرفت کے حوالے سے آگے ، عصمت اور طہارت کے مالک ، عدل وانصاف کا قائم کرنے والا،ہدایت یافتہ اور ہدایت کنندہ اور ان کا وجود نور الہی ہیں ۔ حضرت آدم (ع)کی خلقت سے پہلے ان کے نور کا مشاہدہ انبیاء نے کیاہو ، نیزآیہ تطہیر اور آیہ مباہلہ ،آیت مودۃ ،آیہ ولایت ، آیہ فاسئلوا، آیہ کونوا مع الصادقین وغیرہ کا شان نزول اور تفسیر سے بخوبی اہل بیت کا مصداق واضح ہوجاتاہے ۔ لہذا ایسے واضح اور روشن مسائل میں امت مسلمہ کے درمیان اختلاف ہونا حقیقت میں امت مسلمہ کی بدقسمتی اور ہمارے دشمنوں کی کامیابی کی علامت ہے ۔کیونکہ دشمن نظام اسلام کی پامالی اور نابودی کی خاطر مسلمانوں کے آپس میںاختلاف اوررخنہ پیدا کر رہا ہے جس کی وجہ سے مسلمان آج ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں جبکہ تمام اسلامی مکاتب فکرکا اجماع ہے کہ جو شہادتین کا اقرار کرے اور اصول وفروع کے احکام اور ضوابط کے پابند ہواس کا قتل کرنا اور اس کا خون بہاناجائز نہیں ہے ۔پس اگر آپس میں یک جہتی اور اتحاد اورکتاب وسنت کی بالادستی کے خواہان ہوں تو اپنی اپنی کتابوں کا مطالعہ کرے ،دشمن کے منفی تبلیغات اور غلط باتوں میں نہ آئے ،اس کےلئے اہل بیت نے جو سیرت چھوڑی ہے وہ ہمارے لئے بہترین نمونہ ہے
۱۸)اہل بیت کی شان میں گستاخی کی سزا
آیات اور احادیث نبوی کی روسے اہل بیت کی عظمت اوران کی شخصیت واضح ہوگئی اوران کے حقوق کی رعایت کرنا ان کی معرفت اور شناخت حاصل کرنا ہم پر فرض ہے لیکن بعض انسان کتنا بڑا ظالم ہے کہ نہ صرف اہل بیت کے حقوق کی رعایت نہیں کی بلکہ ان پرطرح طرح کے ظلم کرنے سے باز نہ رہے جو آج بھی تاریخ اسلام کے چہرے پر ایک سیاہ دھبہ کی طرح موجود ہیں ۔
خوارزمی نے مقتل الحسین (ع)میں روایت کی ہے :
قال رسول الله(ص) الویل لظالمی اهل بیتی عذابهم مع المنافقین فی الدرک الاسفل من النار لایفتر عنهم ساعة ویسقون من عذاب جهنّم فالویل لهم من عذاب الیم ۔( ۱ )
پیغمبراکرم (ص)نے فرمایا: میرے اہل بیت پر ظلم وستم کرنے والوں پر افسوس ہو ان کا عذاب منافقین کے ساتھ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوگا ایک لحظہ بھی ان کے عذاب اور عقاب میں تحفیف نہیں کی جائے گی اور ان کو جہنم میں ماء حمیم(بہت ہی گرم پانی)پلایا جائے گا ۔لہذا غضب اور ویل ایسے افراد پرہو کہ جن کوبہت ہی سخت عذاب دیا جائےگا ۔نیز کئی احادیث میں پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا:
____________________
( ۱ ) ۔، مقتل ال حسین (ع)،ج۲ص۱۲۳۔
مبغضه فی النّار ( ۱ )
یعنی اہل بیت سے دشمنی اور عداوت رکھنے والوں کو جہنم کی آگ سے سزا دی جائے گی ۔
کچھ احادیث کا خلاصہ جو اہل سنت کی کتابوں میں نقل کی گئی ہیں درج ذیل ہے :
۱۔اہل بیت سے دشمنی اور عداوت رکھنے والوں پر جنت حرام ہے ۔
۲۔ان سے بغض اور حسد رکھنے والے افراد کو جہنم میں ڈالا جائے گا۔
۳۔ ان پر ظلم کرنے والے اور ان کی شان میں گستاخی وجسارت کرنے والے افراد کا سب سے زیادہ سخت عذاب ہوگا ۔
۴۔اہل بیت سے بغض اور دشمنی رکھنے والے افراد کا کوئی نیک عمل خدا کی نظر میںقابل قبول نہیں ہے ۔
۵۔ اہل بیت سے دشمنی رکھنے والے افراد سعادت دنیا وآخرت سے محروم رہیں گے۔
٦۔ اہل بیت کے حقوق کی رعایت نہ کرنے والے سب سے بڑے ظالم ہیں۔
۷۔ ان سے دشمنی اور بغض رکھنے والے منافق ہے اور اسکی ولادت حرام
____________________
( ۱ ) ۔ینا بیع المودۃ ، ص ۸ ٦۔
پر ہوئی ہوگی( ۱ ) ۔
۱۹) اہل بیت کے و جود سے کائنات خالی نہیں ہوسکتی
اگرہم آیات و روایات پرغور کریں تو اللہ تبارک وتعالی کاسب سے پہلے حضرت آدم(ع)کو خلق کرنے کا فلسفہ سمجھ میں آتا ہے کہ مخلوقات کی ہدایت کے لئے سب سے پہلے ایک ہدایت یافتہ اور معصوم ہستی کو خلق فرمایا تاکہ آنے والے انسانوں کو ہدایت اور تعلیم وتربیت دے سکے۔اور اسلامی تعلیمات اور احادیث نبویؐ سے واضح ہوجاتاہے کہ جتنے بھی انبیاء خدا کی طرف سے مبعوث ہوئے ہیں وہ حقیقت میں ہمارے نبی حضرت محمد بن عبد اللہ(ص)کی بعثت اور نبوت کا پیش خیمہ تھا
لہٰذایہ کہہ سکتے ہیں کہ جتنے انبیائ گذرے ہیں حضرت محمد بن عبد اللہ(ص)کے آنے کےلئے زمینہ سازی کرتے رہے۔ کیونکہ خدا نے کائنات کی خلقت سے چار ہزار سال پہلے حضرت محمد بن عبد اللہ(ص)اور ان کے اہل بیت کے نور کو خلق فرمایا اور پورے انبیائ کو عالم ذر میں چودہ معصومین کا نور دکھایاگیا اور انبیاء نے امتحان اور سختی کے وقت اہل بیت کو کامیابی کاذریعہ قرار دیا اور بہت سارے انبیاء کو خدا نے انہیں کے صدقے میں کامیابی سے ہمکنار فرمایا۔
____________________
( ۱ ) ینابیع المودۃص۱۲۳
اورکائنات کی خلقت سے قیامت تک ایک لحظہ بھی اہل بیت میں سے کسی ہستی سے دنیاخالی نہیں ہوسکتی اگر ایک لحظہ بھی زمین اہل بیت سے خالی ہوجائے تو زمین وآسمان نابود ہوجائینگے۔
''ولاتخلوالارض منهم ولوخلت لانساخت باهلها '' ( ۱ )
زمین کبھی بھی اہل بیت کے کسی فردسے خالی نہیں ہوسکتی اوراگر ایک لحظہ کے لئے زمین خالی ہوجائے تو زمین اہل زمین سمیت نابودہوجائے گی۔نیزفرمایا:
ولولاماعلی الارض منّا لانساخت باهلها ( ۲ )
اگر ہم اہل بیت میں سے کوئی ایک روئے زمین پر نہ ہوتو زمین اہل زمین سمیت نابود ہوجائے گی۔
اور بہت ساری روایات میں فرمایا:قیامت تک حجت خدا سے دنیا خالی نہیں ہوسکتی ،دین اسلام تاقیامت کبھی امام اور پیشوا سے خالی نہیں ہوسکتا ۔یہ تمام احادیث ایک مطلب کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ کائنات کی خلقت سے لے کرقیامت تک اہل بیت کے وجود اوران کے نور سے کائنات محروم نہیں ہوسکتی
____________________
( ۱ ) ینابیع المودۃ ،ص۲ ۰ ۔
( ۲ ) ینابیع المودۃ ،ص۲۱۔
( ۳ ) نیز روایات اور احادیث کے علاوہ انسان کی فطرت اور عقل بھی اس مطلب کی تائید کرتی ہے یعنی خدا اور دین پر عقیدہ فطری اور عقلی ہے۔اس کا نگہبان ہونا اس کا لازمہ ہے۔اور دنیوی و اخروی زندگی کے فلاح وبہبود کی خاطر
نظام کی ضرورت بھی عقلی اور فطری ہے تب ہی تو پورے بشر نظام اور قوانین کی ضرورت کا اعتراف کرتے ہیںاور ہر بشر کی فطرت اور عقل اعتراف کرتی ہے کہ اس نظام کو معاشرے میں نافذ کرنے والے افراد دوسروں سے کامل ہرحوالے سے لائق ہو، وہ سوائے انبیاء اور اہل بیت کے کوئی نہیں ہوسکتا۔لہذا عقل کی نظر میں ہر زمانے میں قیامت تک کوئی نہ کوئی ہادی اور منجی بشریت کا ہونا ضروری ہے تاکہ عدل وانصاف قائم ہو، یہ وہی مطلب ہے جو خدا نے قرآن مجید میں لکل قوم ہاداور پیغمبراکرم (ص)نے''ولاتخلوالارض منهم ولوخلت لانساخت باهلها '' کی صورت میں بیان فرمایاہے ۔
۲۰ ) اہل بیت اورقرآن کے درمیان کیاجدائی ممکن ہے؟
جس طرح پیغمبراکرم (ص)اور اہل بیت کے درمیان جدائی اور افتراق کا تصور مسلمانوں کی جہالت اور کم فہمی ہے اسی طرح اہل بیت اور قرآن کے درمیان جدائی کا تصور بھی حماقت ہے، قرآن کو خدا کی کتاب کے طور پر قبول
____________________
( ۳ ) تفصیل کےلئے ینابیع المودۃ اور فرائد السمطین اورمناقب وغیرہ کی طرف رجوع کرےں۔
کرنا اور اہل بیت کی اطاعت و معرفت اور ان کے حقوق کی رعایت کرنے کو واجب نہ سمجھنا حقیقت میں تضاد گوئی ہے کیونکہ قرآن اور اہل بیت کو جدا سمجھنا سنت نبوی(ص) کے خلاف ہے ۔ لہذا جو قرآن کا معتقد ہو ا سے چاہیے کہ اہل بیت کا بھی معتقد ہو ۔یہ نہیں ہوسکتاہے کہ اہل بیت کو نہ مانےں قرآن کو مانے۔ کیونکہ اہل بیت حقیقت میں خدا کی طرف سے مفسر قرآن ہیں اہل بیت کے بغیر قرآن کا ادراک اور فہم کا دعوی کرنا جہالت کی علامت ہے اور قرآن کے ساتھ ناانصافی ہے ۔
حموینی ،شہربن آشوب سے روایت کرتا ہے :
قال کنت عند ام سلمة فباذنها دخل البیت ابوثابت مولیٰ علی فقالت یاابا ثابت این طارقلبک حین طارت القلوب مطائرها قال اتبعت علیاً قالت وقفت بالحق و الذی نفسی بیده لقد سمعتُ رسول الله(ص) یقول علی مع القرآن والقرآن مع علی ولن یفترقا حتی یردا علی الحوض ۔( ۱ )
شہر بن آشوب نے کہا : میں ام سلمہ کے پاس بیٹھا تھا اتنے میں ابو ثابت جو حضرت علی (ع)کا آزاد کردہ غلام تھا ام سلمہ کی اجازت سے گھرکے اندر داخل ہوا
____________________
( ۱ ) ۔ینابیع المودۃ ،ص ۹۰ ۔
پھرام سلمہ نے کہا :اے ابوثابت! جب لوگوں کے دل مختلف لوگوں کی طرف جھک گئے تھے تو تمہارے دل نے کس کی طرف رخ کیا؟ابو ثابت نے کہا میں علی (ع)کی
پیروی اور اطاعت کرتا رہا، اس وقت ام سلمہ نے کہا کہ تو نے حق کو پالیا ہے کیونکہ خدا کی قسم میں نے پیغمبر اکرم (ص)سے سنا ہے کہ آپنے فرمایا:علی (ع)قرآن کے ساتھ ہے اور قرآن علی (ع)کے ساتھ۔ یہ دونوں میرے پاس حوض کوثر پر پہونچنے تک ہرگزایک دوسرے سے جدا نہیں ہوسکتے ۔
اسی مضمون کی احادیث اہل سنت کی کتابوں میں پندرہ کے قریب اور اہل تشیع کی کتابوں میں گیارہ کے قریب ہے جن کاخلاصہ یہ ہے کہ اہل بیت اور قرآن کے درمیان افتراق اور جدائی کا قائل ہونا اور قرآن کو ماننا اور علی (ع)اور دیگر اہل بیت کی امامت اور افضلیت کا قائل نہ ہونا مسلمانوں کی بدقسمتی کی علامت اور تضاد گوئی ہے۔ ابن حجر مکّی نے صواعق المحرقہ( ۱ ) میں روایت کی ہے :وفی روایة انّه صلی الله علیه وآله وسلم قال فی مرض موته ایهاالنّاس یوشک ان اقبض قبضاً سریعاً فینطق بی وقد قدمت الیکم القول معذرة الیکم الّا ا نی متخلف فیکم کتاب ربّی عزّوجلّ وعترتی اهل بیتی ثمّ اخذ بید علی (ع) فرفعها هذا علی مع
____________________
( ۱ ) صفحہ نمبر ۷ ۵
القرآن والقرآن مع علی لایفترقان حتی یردا علی الحوض عنقریب قبض روح هوگا لهذا تم آگاه هوکه میں تمهارے درمیان اپنے پرودگار کی کتاب اور میرے اهل بیت (ع) کو چهوڑ کر جارهاهوں پهر آنحضرت (ص)نےفاسألوهما مااختلفتم فیها ۔( ۱ )
پیغمبراکرم (ص)نے اپنے آخری وقت میں فرمایا: اے لوگو !میرحضرت علی (ع)کے دست مبارک کو تھام کر بلند کیا اور فرمایا:
یہ علی (ع)ہے جو قرآن کے ساتھ اور قرآن علی (ع)کے ساتھ ہے یہ دونوں میرے قریب حوض (کوثر) پر پہونچنے تک کبھی بھی جدا نہیں ہوسکتے لہذا جس مسئلہ میںتمہارے درمیان اختلاف ہوجائے اسے کتاب وعترت سے پوچھو۔
اہم نکات:
مذکورہ احادیث میں پیغمبر اکرم (ص)نے فرمایا: مسلمانوں کے لئے ضروری ہے کہ اختلافات کو کتاب اور اہل بیت کے ذریعے حل کرےں۔
اہل بیت اور قرآن کے مابین جدائی ڈالنا اہل بیت کی شان میں جسارت ہے کیونکہ پیغمبراکرم (ص)نے حدیث ثقلین میں فرمایا :میری رحلت کے بعد سے لے کر قیامت تک تمہارا مرجع اور فصل الخطاب کتاب و اہل بیت
____________________
( ۱ ) ۔صواعق المحرقہ ، ص ۷ ۵، فضائل الخمسہ ، ج۲ ، ص۱۱۳۔
ہے اگر کتاب کو مانیں اہل بیت کو نہ مانیںیابالعکس یعنی اہل بیت کو مانیں او ر کتاب کو نہ مانیں تو ایسا شخص لاشعوری طور پر گمراہ ہوکر رہے گا۔ مذکورہ حدیث فریقین کے نزدیک صحیح اور حدیث ثقلین کے نام سے شیعہ اوراہل سنت کی کتابوں میں موجود ہے ۔( ۱ )
۲۱) اہل بیت سے اگر تمام انسان ، محبت کرتے تو جہنم خلق ہی نہ ہوتا
دلیل عقلی اور آیات اور احادیث کی روشنی میں سارے مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ جنت اور جہنم برحق ہے جو جنت اور جہنم کا منکر ہوگا وہ اسلام سے خارج ہے اور اس پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے اگر ہم اسلامی کتب مخصوصاً آیات و احادیث کا مطالعہ کریںتو جنت اور جہنم کی خلقت کا فلسفہ روشن ہوجاتاہے۔آیات و روایات کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ جہنم کے خلق کرنے کا فلسفہ گناہ گاروں کو ان کے گناہوں کی سزا دینا ہے اور دشمنی اہل بیت بھی در واقع خدا کی نافرمانی ہے اس لئے جہنم کی خلقت کے اہداف میں ایک ہدف دشمنان اہل بیت کو عذاب دینا ہے۔
چنانچہ حافظ سمعانی نے اپنی سند کے ساتھ جابر سے روایت کی ہے :
قال کان رسول الله(ص) بعرفات لوانّ امتی صاموا حتی
____________________
( ۱ ) ۔ صواعق المحرقہ ص۱۲۵ ۔
یکونوا کالحنایا وصلوا حتی کانوا کاالاوتار ثم ابغضوک لاکبّهم علی وجوهم فی النار ۔( ۱ )
جابر (ع)نے کہا:پیغمبراکرم (ص)عرفات میںبیٹھے ہوئے تھے آپنے فرمایا:اے علی (ع)اگر میری امت کی کمر روزہ زیادہ رکھنے کی وجہ سے خم ہوجائے اور زیادہ نماز پڑھنے کی وجہ سے نیزے کی مانند لاغر ہوجائے لیکن وہ تم سے بغض اور عداوت رکھے تو خدا ان کو روزقیامت منہ کے بل جہنم میں ڈال دے گا۔
اگرچہ پہلے بھی کچھ روایات اہل بیت کی محبت کے بغیر کسی بھی عبادت کے قبول نہ ہونے کے عنوان سے بیان ہوئی لیکن اس روایت کو یہاں ذکر کرنے کا مطلب یہ ہے کہ بغض علی (ع)اور عداوت اہل بیت کے ساتھ نجات اور سعادت اخروی کا تصور کرنا خام خیالی کے سواکچھ نہیں ۔
موفق بن احمد اپنی سند کے ساتھ طاؤوس سے وہ ابن عباس (رض)سے روایت کرتا ہے :
قال رسول الله لواجتمع النّاس علی حبّ علی بن ابی طالب (ع) لما خلق الله عزوجل الناّر ۔( ۲ )
____________________
( ۱ ) ۔الرسالۃ القوامیۃ فی مناقب الصحابۃ ج۲ص ۳ ۰ ۱ ۔
( ۲ ) ینابیع المودۃ ج ۲ص٦۱۔
پیغمبراکرم (ص)نے فرمایا: اگر تمام انسان علی بن ابی طالب (ع)سے محبت کرتے تو خدا جہنم کو خلق ہی نہ کرتا۔
حضرت عمر بن خطاب نے روایت کی ہے :
لواجتمع النّاس علی حبّ علی بن ابی طالب (ع) لما خلق الله عزوجل الناّر ۔( ۱ )
اگر تمام انسان علی بن ابی طالب (ع)سے محبت کرتے تو اللہ جہنم کو خلق ہی نہ کرتا
۲۲)اہل بیت کی شان میںصحابہ کرام کا نظریہ
بہت سارے غیرمسلم افراد بھی اہل بیت کی عظمت اور فضیلت کے قائل ہیں مکارم الاخلاق ، علم اور عمل کے حوالے سے ہر ایک اہل بیت کی فوقیت اور برتری کا اعتراف کرتے ہیں ۔ اگرچہ حکومت اورہوس اقتدار کے نتیجہ میں سرپرستی اورولی امر مسلمین کے منصب سے اہل بیت کو محروم کررکھا یعنی مسلم و غیر مسلم سب اہل بیت کی برتری اور فوقیت کے قائل ہیں لیکن سیاست اور حکومت کے نشے میں اہل بیت سے زیادہ خود کو حکومت کا حقدار سمجھتے تھے۔اگرچہ بہت سارے برجستہ اصحاب اہل بیت کرام کی برتری کو مانتے تھے اور ان کوہر مسئلہ کے حل کے لئے مرجع قرار دیتے تھے۔
____________________
( ۱ ) ۔ینابیع المودۃ ص۲۵۱،
ابو رافع نے کہا :
کنت قاعدا بعد ما بایع الناس ابابکر فسمعت ابا بکر یقول للعباس انشدک الله هل تعلم انّ رسول الله(ص) جمع بنی عبدالمطلب واولادهم وانت فیهم وجمعکم دون قریش فقال یابنی عبدالمطلب انّه لم یبعث الله نبیا الاجعل له من اهله اخاً ووزیراً ووصیاً وخلیفة فی اهله فمن منکم یبایعنی علی ان یکون اخی ووزیری ووصیّ وخلیفتی فی اهلی فلم یقم منکم احدفقال یا بنی عبدالمطلب کونوا فی الاسلام رؤساً ولا تکونوا اذ ناباً واللّه لیقومن قائمکم اولتکوننّ فی غیرکم ثمّ لنندمنّ فقام علی (ع) من بینکم یبایعه علی ماشرط له ودعاه الیه اتعلم هذا من رسول اللّه قال نعم ۔( ۱ )
ابورافع نے کہا: لوگوں کے حضرت ابوبکر کی بیعت کرنے کے بعد، میں بیٹھاہواتھااتنے میں ابوبکر نے جناب عباس (رض)سے کہا کہ اے عباس! تمہیں تمہارے پروردگار کی قسم !کیاتم نہیں جانتے کہ جب پیغمبراکرم (ص)نے جناب پیغمبراکرم (ص)نے فرمایا:اے فرزندان عبدالمطلب! اللہ نے کسی بھی نبی کو
____________________
( ۱ ) ۔ابن عساکر:ترجمہ امام علی (ع):ج۱ ص ۸۹ ، ۹۰ ۔
مبعوث نہیں کیا ہے مگراس کے خاندان سے اس کی مددکے لئے کسی کو اس کا بھائی، وزیر اور جانشین قراردےا ، لہذا تم میں سے کون میری بیعت کرے گا تاکہ وہ میرا برادر، جانشین اورمیرا وزیر قرار پائے؟ اس وقت تم میں سے کسی نے جواب نہیں دیا پھر دوبارہ پیغمبراکرم (ص)نے فرمایا: اے فرزندان عبدالمطلب اسلام کی ترویج اور نشر واشاعت کے لئے سب سے آگے ہو نہ پیچھے ، کیونکہ خدا کی قسم اگرخلافت اور رہبری کے مقام پر تمہارے علاوہ کوئی اورقبضہ کر بیٹھے تو تمہیں پشیمانی کے علاوہ کچھ نہیں ملے گا اس وقت حضرت علی (ع)اٹھ کھڑے ہوئے اور آنحضرت (ص)کے روبرو ہو کرآپ کی بیعت کر کے ان کے وزیر اور جانشین اوربرادر بن گئے ابوبکر نے عباس سے پوچھا کیا اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہو؟ عباس نے کہا جی ہاں اس کی تصدیق کرتاہوں۔
نیزحضرت عائشہ سے روایت کی ہے :
قالت قلت لابی انّی اراک تطیل النظر الی وجه علی بن ابی طالب فقال لی یابنّیة سمعت رسول الله(ص) یقول النظر الی وجه علی عبادة ۔( ۱ )
میں نے اپنے باپ سے کہا : میں دیکھتاہوںکہ آپ حضرت علی (ع)کے چہرے کی
____________________
( ۱ ) ۔ غایۃ المرام، ص ٦۲٦۔
طرف بہت زیادہ نظر کرتے ہیں ( اس کی وجہ کیاہے ؟) کہنے لگے: میری بیٹی میں نے پیغمبراکرم (ص)کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ علی (ع)کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے ۔
اسی طرح علامہ محدّث ابن حنویہ الحنفی الموصلی اپنی کتاب بحرالمناقب( ۱ ) میں انس بن مالک سے اس روایت کو نقل کرتے ہیں کہ انس بن مالک نے کہا : حضرت ابوبکر کے دور خلافت میں ایک یہودی خلیفہ کی تلاش میں وارد مدینہ ہوا لوگ اس کو حضرت ابوبکر کے پاس لے گئے یہودی نے حضرت ابوبکر سے کہا:تو خلیفہ وقت اورجانشین رسول (ص)ہے؟حضرت ابوبکر نے کہا:جی ہاں میں خلیفہ وقت اور جانشین رسول (ص)ہوں، کیا تجھے نظر نہیں آتاکہ میں اس کے محراب اور مقام پر بیٹھا ہوا ہوں ؟ یہودی نے کہا: اگر ایسا ہے تو کچھ سوالات کا جواب آپ سے جاننا چاہتاہوں،حضرت ابو بکر نے کہا :جوکچھ سوالات ہے پوچھو یہودی نے کہا مجھے بتادے پھر اس نے پوچھا: وہ چیز کیاہے جسے خدا نہیں جانتا اور خدا کے پاس نہیں ہے اور خدا کے لئے نہیں ، ابوبکر نے کہا ایسے سوالات وہ لوگ کرتے ہیں جو زندیق ہے اس وقت عباس (رض)بھی وہاں موجود تھے انہوں نے حضرت ابو بکر سے کہا: اس یہودی کے ساتھ نرمی کرو ۔ ابوبکر نے کہا :کیاآپ نے اس کے
____________________
( ۱ ) ،ص ۷ ٦،
سوالات کو نہیں سنا ابن عباس (رض)نے کہا :اگر جواب دے سکتے ہو تو جواب دو ورنہ اس کو آزاد کردے تاکہ جہاں جانا چاہتا ہے جاسکے اس وقت جناب ابوبکر نے حکم دیا کہ اس کو دربار سے نکال دو یہودی یہ کہتا ہوا نکل گیا کہ خدا کی لعنت ان لوگوں پر ہوجو ایسے مقام پر قابض ہیں جس کے وہ لائق نہیں اور علم ودلیل کے بغیر انسانوں کی جان سے کھیلنا چاہتے ہیں کہ جسے خدا نے حرام قرار دیاہے پھر یہودی کہنے لگا اے لوگو! جب یہ شخص کسی ایک مسئلہ کا جواب نہ دے سکے تواسلام کہاں پیغمبراکرم (ص)کہاں ،ان کاجانشین کہاں ، ابن عباس (رض)کے کہنے پر اسے وہاں سے نکالااور کسی نے اس سے کہا بہتر یہ ہے کہ حضرت علی (ع)سے جا کر پوچھو جو علم نبوت اور وحی الہی کا گہوارہ ہے اس کو حضرت علی (ع)کے پاس پہونچا دیا گیااور حضرت علی (ع)کے اجازت لی لوگوں کی بھیڑبہت زیادہ تھی کچھ خوش ہورہے تھے کچھ رو رہے تھے اتنے میں حضرت ابوبکر نے کہا :اے ابوالحسن (ع)اس یہودی نے مجھے سے بے دینوںاور زندیقوں کا سوال کیاہے ۔امام نے فرمایا: اے یہودی تو کیا کہتاہے ؟ یہودی نے کہا کیامیں آپ سے پوچھ سکتا ہوں کہ آپ مہمان کے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں جو ان لوگوں نے میرے ساتھ کیا؟امام (ع)نے فرمایا:ان لوگوں نے تیرے ساتھ کیا سلوک کیا؟ کہاوہ لوگ مجھے قتل کرنا چاہتے تھے امام نے فرمایا :اس کو درگذر کرجو سوالات ہیں وہ پوچھیں۔ یہودی نے کہا :میرے سوال کا جواب سوائے جانشین رسول خدا ؐکے کوئی نہیں دے سکتا ،
امام (ع)نے اصرار فرمایا :جو کچھ ہے سوال کرویہودی نے کہا : آپ مجھے بتائے جو خدا کے لئے نہیں وہ کیا ہے؟ جو خدا کے پاس نہیں ہے وہ کیاہے؟ وہ چیز کیا ہے جسے خدا نہیں جانتا؟حضرت علی (ع)نے فرمایا: اے یہودی اس سوال کا جواب ایک شرط کے ساتھ میں بیان کروںگاوہ شرط یہ ہے کہ اگر میں جواب دو ں تولاالہ الا اللہ محمد...پڑھے اور مسلمان ہوجائے اس نے قبول کیا پھر امام (ع)نے فرمایا: جوخدا کے لئے نہیں ہے وہ ہمسر اور شریک حیات وفرزند ہے اور جو خدا کے پاس نہیں ہے وہ ظلم ہے لیکن جسے خدا نہیں جانتا وہ یہ کہ خدا کا کوئی شریک ہو،خدا خود قادر مطلق ہے کسی وزیر اور شریک سے بے نیاز ہے یہودی نے کہا:اے رسول خدا ؐکے جانشین آپ نے صحیح جواب فرمایا: اس وقت یہودی نے امام (ع)کے دست مبارک تھام کر شہادتین زبان پر جاری کیا اور کہا تو ہی خلیفہ برحق ہے ان کے حقیقی جانشین ان کے وارث علم وسیرت ہے تو اسلام کی آبیاری کے لئے لائق ترین ہستی ہے انس کہتاہے ؛لوگ خوشی میں فریاد کرنے لگے لیکن حضرت ابوبکر نے کہا علی (ع)تو ہرغم اور مشکل کوبرطرف کرنے والی ذات ہے پھر حضرت ابوبکروہاں سے نکلے اور منبر پر جاکر اقرار کیا اے لوگو میں علی (ع)ہوتے ہوئے تمہارے سرپرست اور جانشینی رسول کا لائق نہیں ہوں لہذا مجھے چھوڑ دو ۔( ۱ ) اس حدیث کو ہمارے برادران اہل سنت کے بہت سارے برجستہ علماء نے اپنی کتابوں
____________________
( ۱ ) ۔بحرالمناقب،ص ۷ ٦مخطوط ،
میں نقل کیا ہے جس سے بخوبی حضرت علی (ع)کی افضلیت کا پتہ چلتا ہے نیز آپ کے جانشین رسول ہونے کا مسئلہ بھی واضح ہوجاتا ہے۔سوید بن غفلہ سے روایت کی ہے:
قال رأی عمر رجلا یخاصم علیاً فقال له عمر انّی لاظنّک من المنافقین سمعت رسول الله(ص) یقول علی منی بمنزلةهارون من موسی الاّ انّه لانبی بعدی ۔( ۱ )
سوید بن غفلہ نے کہا کہ ایک دن حضرت عمر نے کسی شخص کو دیکھا جوحضرت علی (ع)سے بغض اور عداوت رکھتا تھا۔حضرت عمر نے اس سے کہا اے فلانی میرے خیال میں تومنافقین میں سے ہو۔ کیونکہ میں نے پیغمبر اکرم (ص)سے سنا ہے کہ آنحضرت (ص)نے فرمایا کہ جس طرح حضرت ہارون (ع)حضرت موسی (ع)کے برادر ، وزیر اور اس کا خلیفہ تھا اسی طرح علی (ع)میرا بھائی ، میرا وزیراور خلیفہ ہے مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے ۔
اس روایت سے روشن ہوجاتاہے کہ حضرت علی (ع)حضرت ہارون(ع)کی مانند ہے یعنی ہارون (ع)حضرت موسی- کا خلیفہ، وزیر، مددگار اور ان کے بھائی تھے اسی طرح حضرت علی (ع)پیغمبراکرم (ص)کے مدد گار ان کے جانشین اور وزیر ہے،صرف فرق یہ ہے حضرت ہارون- خود بھی نبی تھے لیکن حضرت علی (ع)نبی نہیں
____________________
( ۱ ) ۔ابن عساکر ،ترجمہ امام علی (ع)ج،۱ ص ۳۳ ۰ ۔
کیونکہ آنحضرت (ص)کے بعد کوئی نبی نہیں۔
نیز عبداللہ بن عباس (رض)سے روایت کی ہے :
قال سمعت عمربن الخطاب وعنده جماعة فتذاکروا السابقین الیٰ الالسلام فقال عمر امّا علی (ع) سمعت رسول الله (ص) یقول فیه ثلاث خصالٍ لوددت ان لی واحدة منهنّ احبّ الیّ ممّا طلعت علیه الشمس کنت انا وابو عبیده وابوبکر وجماعة من الصحابة اذا ضرب النبی (ص) بیده علی منکب علی (ع) فقال له ی علی (ع) انت اول المؤمنین ایماناً واول المسلمین اسلاماً وانت منی بمنزلة هارون من موسی ۔( ۱)
عبداللہ بن عباس (رض)نے کہا کہ میں نے حضرت عمر سے سناکہ (ایک دن ) ایک گروہ حضرت عمر کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ان لوگوں کے بارے میں گفتگو ہوئی کہ جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا ۔ اس وقت حضرت عمر نے کہا لیکن جہاں تک حضرت علی (ع)کا تعلق ہے ان کے بارے میں حضرت رسول اللہ نے فرمایا کہ: علی (ع)میں تین خصلتیں پائی جاتی ہیں اگر ان میںسے کوئی ایک مجھ میں پائی جاتی تو ہر اس چیز سے مجھے زیادہ پسند ہے کہ جس پر سورج طلوع
____________________
( ۱ ) ۔ابن عساکرترجمہ امام علی (ع)،ج۱،ص،۳۳۱۔
کرچکا ہے۔(پھرحضرت عمر نے کہا) میں ، ابوعبیداللہ ، ابوبکر اور اصحاب میں سے ایک جماعت پیغمبراکرم (ص)کے محضر میں بیٹھے تھے اتنے میں حضرت علی (ع)آئے ، آپنے دست مبارک کو حضرت علی (ع)کے کندے پر مارا اور فرمایا: اے علی (ع)تو سب سے پہلا مؤمن اور سب سے پہلا مسلمان ہو تو میرے لئے ہارون- کی مانند ہو یعنی جس طرح ہارون (ع)حضرت موسی- کے لئے مدد گار تھے اسی طرح تو میرے لئے مددگار میرا وزیر اورجانشین ہے ۔
نیز حضرت عمر سے راویت کی گئی ہے :
عن عمر وقد نازعه رجل فی مسألة فقال بینی وبینک هذا الجالس ( واشارالی علی بن ابی طالب (ع) ) فقال الرجّل هذا الابطن فنهض عمر من مجسله واخذ بتلببه حتی شاله من الارض ثم قال آتدری من حقرت مولای ومولی کل مسلم ۔( ۱)
(ایک دن ) حضرت عمر اورکسی شخص کے درمیان کسی مسئلہ پہ جھگڑا ہوا تو حضرت عمر نے کہا ہم فیصلہ اس شخص پر چھوڑ دیتے ہیں جو ہمارے سامنے بیٹھے ہوئے ہیں یہ کہہ کر حضرت علی بن ابی طالب- کی طرف اشارہ کیا اس وقت اس شخص نے کہا کیاہم اس پیٹ پھولے ہوئے شخص کافیصلہ قبول کریں ،حضرت عمر
____________________
( ۱ ) ۔فضائل خمسہ من صحاح الستہ ،ج۲ص ۲ ۸۸ ۔
نے اٹھ کر اس کا گریبان پکڑ کر اسے زمین سے بلند کرکے کہا کیاتم جانتے ہو کہ تم نے کس کی تحقیر کی ہے ؟ تو نے میرے اور ہر مسلمان کے سرپرست ومولیٰ کی تحقیر کی ہے ۔
ہمارے برادران اہل سنت کی کتابوں میں اصحاب کرام سے بہت سی روایتیں اہل بیت کی شان میں نقل ہوئی ہیں( ۱ )
ایک اعتراض اور اس کا جواب
اعتراض:اگرچہ ذکرشدہ مختصر روایات میںصرف حضرت علی (ع)کے متعلق صحابہ کرام کی گواہی اور اعتراف موجود ہے جبکہ شیعہ امامیہ کا عقیدہ یہ ہے کہ اہل بیت سے چودہ معصومین مراد ہے ان کے بارے میں مذکورہ روایات میں کوئی اشارہ نہیں ہے ۔
جواب : اس مختصر کتاب میں پورے اہل بیت کی شان میں جتنی
روایات اور آیات واردہوئی ہیں سب کو جمع کرکے بیان کرنا میراہدف نہیں ہے بلکہ اختصار کو مدنظر رکھتے ہوئے برادران اہل سنت کے معتبر منابع سے اہل بیت کی عظمت اور فضیلت ثابت کرنا مقصود ہے لہذا گذشتہ روایات میں اگرچہ صرف حضرت علی (ع)کانام مذکور ہے لیکن دوسری بہت ساری روایات میں پورے اہل
____________________
( ۱ ) دیکھیں: ابن عساکر: کتاب ترجمہ امام علی (ع)اور فضائل خمسہ من الصحاح الستہ ج۲وغیرہ
بیت کے مصداق اور اسامی گرامی موجود ہیں ان کی افضلیت کا صحابہ کرام اور تابعین بخوبی اعتراف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ینابیع المودۃ،شواہد التنزیل،مناقب حضرت علی (ع)کی طرف رجوع کرسکتے ہیں۔
۲۳)اہل بیت کی برتری عقل کی روسے
جب کسی معاشرے میں کوئی محقق یا مفکر کسی مطلب اور حقیقت کو تقریر اور خطابت کی صورت میں یاتألیف اور تصنیف کی شکل میں یادیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعہ پیش کرنا چاہتاہے تو اس کی کوشش اور توجہ دو نکتوں کی طرف مرکوز ہوتی ہے:
۱ ۔ مطلب مستدل اور اصول وضوابط کے مطابق ہو۔
۲۔فصاحت وبلاغت اور حسن وزیبائی کلام کے اصول وضوابط سے خارج نہ ہو، تاکہ سامعین اور قارئین کو زیادہ سے زیادہ متأثر اور مطمئن کرسکے لہذا جب ہم نے اہل بیت کی برتری اور افضلیت کو قرآن وسنت کی روشنی میں اہل سنت کے منابع سے ثابت کیا ہے تومناسب ہے کہ عقل کی رو سے بھی اہل بیت کی برتری کو ثابت کروں تاکہ ان کی امامت کے معتقد ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی حقانیت پراطمینان حاصل ہو اورشکوک و شبہات کا ازالہ ہو۔
قرآن وسنت کی طرح عقل وفطرت سے بھی بخوبی اہل بیت کی برتری اور افضلیت کی تائید ہوتی ہے اور ان کی سرپرستی کو قبول کرنے اوران کے حقوق کی رعایت کرنے کی ضرورت کا پتہ چلتا ہے، کیونکہ عقل کی نظر میں وہ انسان واجب الاطاعت اور افضل ہے جوسوائے رضایت الہی اور مشیّت معبود حقیقی کسی اورشے کے درپے نہ ہو ،چاہے ذاتی نفع ہو یا نہ ہو، ہرحرکات وسکنات اور قول وفعل میں خدا کی رضایت کا خواہان ہواور مکمل طور پر خدا کا فرمانبردار ہو اور اس کی پوری کوشش یہ ہو کہ معاشرے میں عدل وانصاف کی آبیاری ،ظلم وستم اورناانصافی کی نابودی ہو اور وہ ہر قسم کے عیب ونقص یعنی نافرمانی الہی اورگناہ سے پاک وپاکیزہ ہو، تو عقل درک کرتی ہے اور فیصلہ کرتی ہے کہ ایسے افراد کو روز مرّہ زندگی کے تمام امور میں اسوہ اورنمونہ عمل قرار دیاجانا چاہے تاکہ ان کی سیرت پر چل کر سعادت مادی ومعنوی سے ہمکنار ہوسکے۔
پس اگر کوئی اہل بیت کے کردار وگفتار پرصحیح معنوںمیں غور کرے تو ان کی حقانیت اورا ن کی برتری و افضلیت کا مسئلہ واضح ہوجاتاہے ۔یعنی اہل بیت صرف ہدایت اور رہنمائی بشر کےلئے خلق کیا گیا ہے۔ لہذا اہل بیت میں سے کسی ہستی کی سیر ت اور سوانح حیات میں کوئی ایسا مطلب نظرنہیں آتا جو عقل وفطرت کے منافی ہو چاہے اعتقادی پہلوہو یا عملی ، فقہی ہو یا سماجی ،اقتصادی ہو یاسیاسی، اخلاقی ہو یا فلسفی ،کلامی ہو یا منطقی ،تاریخی ہو یاطبی، تمام مسائل اور امورمیں اہل بیت ہر جانب سے پیشقدم نظر آتے ہیں اور ذرہ برابر غلطی اور گناہ نظر نہیں آتایہی ان کی حقانیت اور برتری کی واضح دلیل ہے
لہذا عقل اور فطرت بشر نہ صرف ان کی تائید کرتی ہے بلکہ ان کی سیرت پر نہ چلنے کی صورت میں اپنی ضلالت اور گمراہی کو بھی محسوس کرتی ہے کیونکہ اہل بیت روز مرّہ زندگی سے آگاہ ہیں ان کی سیرت میں کشف خلاف ہونے کا احتمال نہیں دیا جاسکتا ان کے سارے بیانات اور افعال سو فیصد یقینی اور واقع کے مطابق ہیں، اہل بیت میں سر فہرست حضرت پیغمبراکرم (ص)ہے ان کی سیرت طیبہ میں کوئی ایسا مطلب نظر نہیں آتا جو ہماری مادی اور معنوی زندگی کے لئے مفید نہ ہو عقل اور فطرت سے آنحضرت (ص) کے بارے میں سوال کرے تو عقل اور فطرت یہ محسوس کرتی ہے کہ ضرور بشر ایسی ہستی کو اپنے لئے نمونہ عمل قرار دے نیز دوسری ہستی حضرت فاطمہ ئ زہرا (س)ہے جن کے بارے میں دوست اور دشمن دونوں کا اعتراف ہے کہ زہرا(س) سیدۃنساء العالمین ہے حتی حضرت مریم(س) اورحضرت آسیہ(س) اورحضرت خدیجہ(س) ؑسے بھی افضل اور برتر ہے جن کی سیرت طیبہ عقل کی نظر میں ہمارے لئے بہترین نمونہ عمل ہے۔نیز تیسری ہستی حضرت امیر المؤمنین(ع)ہے جن کے بارے میں کچھ احادیث پہلے ذکر کیا گیاہے ان کی حیات اور سیرت طیبہ بھی عقل کی نظر میں بشر کے لئے بہترین اسوہ اور نمونہ عمل ہے ۔ اور چوتھی ہستی امام حسن(ع)ہے پانچویں ہستی امام حسین- جن کی سیرت اور عظیم قربانی اور ایثار وفداکاری کا صحیح معنوں میں مطالعہ کیا جائے تو عقل بخوبی ان کی افضلیت اور برتری کا حکم دیتی ہے ۔
نیز امام زین العابدین (ع)کے بارے میں روایت ہے :
وکان الامام زین العابدین عظیم التجاوزو العفو والصفح حتی انّه سبّه رجل فتغافل عنه فقال له ایاک اعنی فقال الامام واعرض عنک. ..( ۱ )
امام زین العابدین- بہت ہی زیادہ درگذر اور بخشش کے مالک تھے حتی ایک دن کسی نے آپ (ع)کو ناسزا اور نازیبا الفاظ کہاتو آپ- خاموشی سے گذرگئے تو اس نے کہا میں تجھ سے یہ باتیں کہہ رہا ہوں اس وقت امام (ع)نے اس آیت کی طرف اشارہ فرمایا:
خذا العفو وأمر بالمعروف واعرض عن الجاهلین
اسی طرح امام محمد باقر(ع)کی شان میں فرمایا:
هواظهر من مکفوفات کنوز المعارف وحقائق الاحکام والحکم واللطائف ومن ثمه قیل فیه هو باقرالعلوم وجامعه وشاعر علمه ورافعه بصفاء قلبه وزکاء نفسه وطهر نسبه وشرف خلقه وصرف عمر واوقاته بطاعة اللّه تعالی له من الاسرار فی مقامات العارفین ماتکل عنه السنّة الواصفین ۔( ۲ )
____________________
( ۱ ) ۔ینا بع المودۃ ص۳۵ ۹
( ۲ ) ۔ینا بیع المودۃ ص۳٦ ۰ ۔
امام محمد باقر (ع)، احکام الہی کے تمام حقائق اور ان کی حکمت وفلسفہ اوران کی خصوصیتوں اور پوشیدہ رموز سے مکمل آگاہی رکھتے تھے اسی لئے آپ-کو
.باقرالعلوم کے لقب سے پکارتے تھے آپ- نے اپنی پاک سیرت ، عمل ،پاکیزہ قلبی اور شرافت خاندانی کے نتیجہ میں علوم آل محمد کی نشر واشاعت فرمائی اورپوری عمر کو خدا کی اطاعت اور تبلیغ اسلام میں گذاری ان کا مقام ومنزلت اتنا بلند ہے کہ جس کو بیان کرنے سے زبان قاصر ہے ۔
اس حدیث کے مضمون کو عقل اور فطرت کے سامنے رکھ کر سوال کرے کیا ایسے افراد اور ہستیوں کی اطاعت اورسرپرستی ہمارے لئے ضروری نہیں ہے؟ کیا ان کا احترام ہم پر فرض نہیں ہے ؟ کیا ان کے حقو ق کی رعایت کرنا ہم پر واجب نہیں ہے ؟ یقیناً عقل حکم دے گی کہ ایسے لوگوں کی پیروی ضروری ہے ۔
نیز اہل بیت میںسے ایک امام موسی کاظم (ع)ہیں جن کے بارے میں ینابیع المودۃکے مصنف نے یوں روایت کی ہے :
منهم موسی کاظم هو وارثه علماً ومعرفة وکمالاً وفضلا سمی الکاظم لکثرة تجاوزه وحلمه وکان عند اهل العراق معروفابباب قضاالحوائج وکان اعبد اهل زمانه واعلمهم واسخاهم ۔( ۱ )
____________________
( ۱ ) ۔ینا بیع المودۃ ص۳٦۲۔
اہل بیت میں سے ایک امام کاظم (ع)ہیں جو علم ومعرفت اور کمال وفضیلت کے حوالے سے امام جعفرصادق(ع)کے وارث ہیں اورصبرو بردباری کے نتیجہ میں کاظم کے لقب سے موسوم ہوئے۔ اہل عراق کے درمیان باب الحوائج سے معروف تھے آپ- اپنے زمانے میں عابد ترین اور سب سے زیادہ عالم و سخی تھے۔
نیز ائمہ کی سیرت اور کمالات کی تشریح اور احادیث ینابیع المودۃ جیسی کتابوں میں موجود ہے تمام اہل بیت کے فضائل کی تشریح کرنا اس مختصر کتاب کی گنجائش سے خارج ہے ۔
مذکورہ احادیث سے درج ذیل مطالب واضح ہوجاتے ہیں :
۱۔عقل کی نظر میں سوائے چہادہ معصومین کے علاوہ باقی دوسری ذرّیت رسول اور زوجات اوردیگر انساب واحباب کی کردار اور سیرت میں کوئی ایسی چیز ہی نظر نہیں آتی کہ جن کی اطاعت اور سرپرستی کو ماننا ہم پر فرض ہو۔
۲۔چودہ معصومین میں سے کسی ایک ہستی کی سیرت میں عقل اور فطرت کے منافی کوئی مطلب نظر نہیں آتا ۔
۳۔عقل کی نظر میں صرف چودہ معصومین روز مرّہ زندگی کے امور میں مرجع و پیشوابننے کے لائق ہیں۔
جو بھی تعصب اوردیگر عوا مل اورانگیزے چھوڑ کر دیکھیں تو بخوبی اہل بیت کی حقانیت اور افضلیت وبرتری واضح ہوجاتی ہے جس سے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے ،اگرانسان اہل بیت کی سیرت کواپنی زندگی کے لئے نمونہ قرار دے تو کسی قسم کی پریشانی اور مشکل سے دوچار نہیں ہوسکتا ۔اگرچہ ہمیں سوفیصد ان کی سیرت کو نمونہ عمل قرار دینا اس تاریکی اور جہالت کے دور میں بہت مشکل ہے کیونکہ بنی امیہ اور بنی عباس کے دور ختم ہوتے ہی زمانے کے دیگرہرجابر حکمران پوری طاقت اور تسلط کے ساتھ ان کی سیرت کے منافی عوامل اور تہذیب وتمدن کورواج دیتا رہا ہے۔ جس کے نتیجہ میں مسلمانوں کی بدبختی یہ ہے کہ دنیا کے کسی نقطہ اور گوشے میں اہل بیت کی سیرت کے مطابق کوئی حکومت یا معاشرہ نظر نہیں آتا۔ لیکن ہر مسلمان کا فریضہ بنتا ہے جتنا ہوسکے اہل بیت کی سیرت کو اپنے لئے نمونہ عمل قرار دے ۔
اور آخر میں اہل بیت کے مصادیق کو کتاب وسنت اور عقل کی روشنی میں فہرست وار بیان کرتے ہیں تاکہ قارئین محترم اہل بیت کی صحیح شناخت حاصل کرکے ان کی سیرت سے بہرمند ہوسکیں:۔
۱۔حضرت پیغمبراکرم (ص)
۲۔ حضرت امام علی (ع)
۳۔حضرت زہراء (س)
۴۔حضرت امام حسن (ع)
۵۔حضرت امام حسین –
٦۔ حضرت امام زین العابدین (ع)
۷۔ حضرت امام محمد باقرعلی (ع)
۸۔ حضرت امام جعفرصادق (ع)
۹۔ حضرت امام موسی کاظم (ع)
۱۰۔ حضرت امام علی رضا (ع)
۱۱۔ حضرت اماممحمدتقی(ع)
۱۲۔ حضرت امام علی نقی(ع)
۱۳۔ حضرت امام حسن عسکری (ع)
۱۴۔ حضرت امام محمد المہدی (عج)
ان کے علاوہ باقی پیغمبر اکرم (ص)کے احباب وانساب چاہے فرزند ہویا زوجہ اگرچہ نسبت کے سبب قابل احترام ہیں لیکن ان مندرجہ بالا آیات اور روایات میں جو فضیلت اور عظمت ذکر کیا گیاہے ان کا مصداق نہیں ہوسکتے کیونکہ احادیث نبوی(ص) میںصاف الفاظ میں بیان ہواہے کہ اس فضیلت اور عظمت کے لائق صرف وہ ہستیاں ہیں جو عصمت کے مالک اور ہدایت یافتہ ہوںاگرچہ وجوب اطاعت کالازمہ عصمت نہیں ہے ۔
اللهّم تقبّل منّاانّک انت السمیع العلیم ۔
الاحقر
محمد باقر مقدسی
اسلامی جمہوریہ ایران قم ،۲۰رجب المرجب ۱۴۲۵ق ھ
فہرست منابع و مدارک
۱)قرآن کریم (ترجمہ) علامہ فرمان علی ط:شیخ غلام علی اینڈسنز (پرائیویت) لمیٹڈ، پبلیشرز ۔لاہو ر۔۔ ۔حیدرآباد۔۔کراچی۔۔جون ۱۹۸۳م
۲)المحد ث احمد بن حجرالھیتمی المکی(۸۹۹...۹۷۴ق)، صواعق محرقہ ط:المطعۃ المیمنۃ ۔مصر ۱۳۱۲ق ــ
۳)جلال الدین سیوطی؛در منثور ط؛مطبعۃ الفتح جدۃ۱۳٦۵ق
۴)ثعالبی ؛تفسیر ثعالبی ط؛دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۴۱۸ق
۵)ناصر بیضاوی :انوارالتنزیل ط:کتابخانہ حاج اسماعیل ھدایتی قم ۔ ٦)الحاکم الحسکانی ؛شواہد التنزیل تحقیق؛ شیخ محمد باقر محمودی ط؛مجمع احیاء الثقافۃ الاسلامیۃ ایران ط؛الطبعۃ الاولی ۱۴۱۱ق
۷)علامہ سید محمدحسین طباطبائی؛ المیزان فی تفسیر القرآن : ط:انتشارات جامعۃ المدرسین قم ایران ۱۴۰۲ق
۸)شیخ سلیمان بن ابراہیم القندوذی الحنفی ینابیع المودۃلذوی القربی :ط؛ دارالاسوۃ ایران ۱۴۱٦ق
۹)علی بن محمد بن احمد المالکی الشہیر بابن الصباغ ؛فصول المہمہ فی معرفۃ احوا ل الائمۃ ط؛مطبعۃ العدل النجف ۱۹۵۰م
۱۰) ابو الحسن علی بن محمد بن محمد الواسطی الجلابی الشافعی الشہیر بابن المغازلی مناقب علی بن ابی طالب- ؛ط؛ المکتبۃ الاسلامیۃ طہران ۱۴۰۳ق
۱۱)محمد بن عیسی ترمذی سنن ترمذی ط؛دارالفکر بیروت ۱۴۰۳ق
۱۲) الامام ابوالحسن مسلم بن الحجاج القشیری النیشاپوری ؛الجامع الصحیح ط؛دار الفکر بیروت
۱۳) محمد بن اسماعیل البخاری ؛صحیح البخاری ط؛ دارالفکر بیروت ۱۴۰۱ق
۱۴) سید مرتضی الحسینی فیروز آبادی : فضائل خمسہ من صحاح الستہ،ط:موسسۃ الاعلمی للمطبوعات بیروت لبنان ۱۴۰۲ق
۱۵) القاضی سیّدنوراللہ الحسینی المرعشی التستری احقاق الحق وازھاق الباطل ط: المکتبۃ الاسلامیۃ تھران
۱٦) الامام محمود بن عمر الزمخشری ؛ الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل وعیون الاقاویل فے وجوہ التاویل تحقیق؛مصطفی حسین احمد ط؛ دار الکتاب العلمیۃ بیروت ۱۴۰۷ق
۱۷)ذہبی؛میزان الاعتدال تحقیق ؛ ؛علی محمد البجاوی ط؛دار المعرفۃ بیروت ۱۳۸۲ق
۱۸)ی بن ابی بکر الہیثمیمجمع الزوائدومنبع الفوائدط؛دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱۴۰۸ق
۱۹)متقی الہندی ؛کنز العما ل تحقیق؛شیخ بکری حیانی ط؛ موسسۃ الرسالۃ بیروت
۲۰) حافظ ابوالقاسم علی بن حسین بن ہبۃ اللہ بن عبد اللہ الشافعی معروف بابن عسا کر ؛ تاریخ مدینۃ دمشق تحقیق:علی شیری ط؛ دار الفکر بیروت ۱۴۱۵ق
۲۱) ابراہیم بن محمد بن ا لمویدبن عبد اللہ بن علی بن محمد الجوینی الخراسانی فرائدالسمطین فی فضائل المرتضی والبتول والسبطین مجلدات ۲ تحقیق ؛ شیخ محمد باقر محمودی ط؛ موسسۃ المحمودی بیروت الطبعۃ الاولی ۱۳۹۸ق
۲۲)محب الدین احمد بن عبد اللہ طبری؛ذخائر العقبیٰ فی مناقب ذوی القربی ط؛ مکتبۃالقدسی القاہرۃ ۱۳٦۵ق
۲۳)ابوبکر ا حمد بن علی الخطیب البغدادی ؛تاریخ بغداد تحقیق؛ مصطفی عبدالقادر عطا ط؛دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱۴۱۷ق
۲۴) حافظ ابوالقاسم علی بن حسن بن ہبۃ اللہ بن عبداللہ الشافعی الشہیر بابن عساکر ترجمہ امام علی (ع)(تاریخ مدینۃ دمشق مجلد ۴۲)تحقیق ؛علی شیری ط؛ دار الفکر بیروت ۱۴۱۵ق
۲۵) الحافظ ابو عبد اللہ محمد بن یزید القزوینی معروف بہ ابن ماجہ ؛ سنن تحقیق؛ محمد فواد عبد الباقی ط؛ دار الفکر بیروت
۲٦)المحدث الاکبرمحمد بن حسن حرّ عاملی اثبات الھداۃبالنصوص والمعجزات:تحقیق: ابو طالب تجلیل ط:المطبعۃ العلمیۃ قم ایران ۱۳۹۹ق
۲۷)دمحمدی اشتہاردی داستان و دوستان،ط:مرکز انتشارات دفترتبلیغات اسلامی قم بھمن ۱۳٦۷ ھ ش
۲۸)علامہ محمدباقرمجلسی؛بحارالانوارلدرراخبارالائمۃالاطہار ۱۱۰مجلدات ط؛ موسسۃ ا لوفاء بیروت ۱۴۰۳ق
۲۹)محمدبن عمر بن الحسین الرازی الملقب بفخرالدین الرازی ؛التفسیرالکبیرالمسمی بمفاتیح الغیب ط؛دار احیاء التراث العربی بیروت الطبعۃالثالثۃ
تالیفات ِمؤلف:
۱حیات حضرت فاطمہ زہرا(س) (جلد اول)
۲حقوق والدین کا اسلامی تصوّر
۳فلسفہ نماز شب
۴اہل بیت نجات کی کشتی(اھل سنت کی نظر میں)
۵ حریم قرآن کا دفاع
مندرجہ بالا کتابیں چھپ کر منظر عام پر آچکی ہیں،مزید چند کتابیں زیر طبع ہیں انشاء اللہ جلد ہی منظر عام پر آئیں گی۔
آپ کے علمی مشوروں کا طلب گار
محمد باقر مقدسی
فہرست
انتساب ۴
حرف آغاز ۵
پہلی فصل ۱۰
اہل بیت کی عظمت قرآن کی روشنی میں ۱۰
۱)اہل بیت کی دوستی میں نیکیوں کا دس گنا ثواب ۱۱
تفسیر آیہ: ۱۱
۲)اہل بیت کے واسطے خدا،عذاب نازل نہیں کرتا ۱۳
تفسیر آیہ: ۱۳
۳)اہل بیت درخت طوبیٰ کے مصداق ہیں ۱۴
تفسیر آیہ: ۱۵
تفسیر آیہ: ۱۷
۴) اہل بیت حقانیت ثابت کرنے کےلئے بہترین وسیلہہیں ۱۹
تفسیر آیہ ۲۰
۵)اہل بیت تمام عالم سے افضل ہیں ۲۲
تفسیر آیہ: ۲۲
٦)اہل بیت پریشانیوںسے نجات کا ذریعہ ہیں ۲۴
تفسیر آیہ: ۲۵
۷)اہل بیت دنیا و آخرت میں سعادت کا ذریعہ ہیں ۲۷
تفسیر آیہ: ۲۷
۸)اہل بیت سے رجوع کرنے کا حکم ۲۸
تفسیر آیہ: ۲۸
۹)اہل بیت ، ہدایت کا چراغ ۳۲
تفسیر آیہ: ۳۲
۱۰)اہل بیت ،پاکیزہ ترین ہستیاں ہیں ۳۴
تفسیر آیہ: ۳۴
تحلیل ۳۹
اہم نکات: ۴۰
۱۱)اہل بیت پر درود بھیجنے کا حکم ۴۶
تفسیر آیہ: ۴۶
اہم نکات: ۴۹
۱۲)اہل بیت پر خدا کا سلام ہے ۴۹
تفسیر آیہ: ۴۹
۱۳)اہل بیت کی قسم ۵۱
تفسیر آیہ: ۵۱
توضیح: ۵۲
۱۴)اہل بیت سے محبت،رسالت کا صلہ ہے ۵۲
تفسیر آیہ: ۵۲
۱۵)اہل بیت سے محبت ،نیکیوں میں اضافے کا سبب ہے ۵۶
تفسیر: ۵۶
اہم نکات: ۵۷
۱٦)اہل بیت سے متمسک رہنے کا حکم ۵۸
تفسیر: ۵۸
اہم نکات: ۶۰
۱۷)اہل بیت ،صراط مستقیم ہیں ۶۱
تفسیر: ۶۱
توضیح: ۶۳
۱۸)اہل بیت ،خدا کی جانب سے بشر پر گواہ ہیں ۶۴
تفسیر: ۶۵
اہم نکات: ۶۶
۱۹)اہل بیت مصداق شجر طیبہ ہیں ۶۶
تفسیر: ۶۷
نوٹ: ۶۹
۲۰)اہل بیت انبیاء کی نجات کا وسیلہ ہیں ۷۰
تفسیرآیت: ۷۰
اہم نکات: ۷۳
۲۱)اہل بیت ،صادقین کے مصداق ہیں ۷۳
تفسیرآیت: ۷۳
۲۲)اہل بیت کی سرپرستی کے سامنے سرتسلیم خم کرنے کا حکم ۷۵
تفسیرآیت: ۷۶
۲۳)اہل بیت انصاف کا دروازہ ہیں ۷۷
تفسیر: ۷۸
تحلیل: ۷۹
دوسری فصل ۸۱
اہل بیت کی عظمت سنت کی روشنی میں ۸۱
۱)اہل بیت کا وجود نور الہٰی ہے ۸۱
تحلیل: ۸۷
اہم نکات: ۸۸
۲)اہل بیت کے نورکاانبیاء نے مشاہدہ کیاہے ۹۰
تحلیل: ۹۳
۳) اہل بیت سے محبت کا نتیجہ ۹۵
تحلیل: ۹۶
۴) اہل بیت سے محبت،مومن کی علامت ہے ۹۶
تحلیل: ۹۷
۵)اہل بیت ،صراط سے عبور کا ذریعہ ہیں ۹۸
تحلیل: ۱۰۰
٦) اہل بیت سے محبت ،اعمال کی قبولیت کی شرط۔ ۱۰۰
تحلیل اور اہم نکات: ۱۰۲
۷) اہل بیت سے محبت کے بغیر جنت ملنامحال ہے ۱۰۳
توضیح: ۱۰۶
تحلیل: ۱۰۸
۸) اہل بیت اہل زمین کے محافظ ہیں ۱۱۱
اہم نکات: ۱۱۳
اہم نکات: ۱۱۵
تحلیل : ۱۱۸
تحلیل : ۱۱۹
۹)اہل بیت کی محبت، دین کی بنیادہے ۱۲۰
تحلیل: ۱۲۱
۱۰) اہل بیت اورپیغمبر اسلام (ص)کے درمیان کیا جدائی ممکن ہے ؟ ۱۲۲
اہم نکات: ۱۲۳
اہم نکات: ۱۲۵
۱۱)اہل بیت ،پیغمبر (ص)کے مدد گارہیں ۱۲۶
تحلیل: ۱۲۸
۱۲)اہل بیت امت میں سب سے زیادہ دانا ہیں ۱۲۹
اہم نکات: ۱۳۵
۱۳)اہل بیت کی عصمت ۱۳۶
تحلیل : ۱۳۷
تحلیل: ۱۴۰
۱۴)اہل بیت کی اطاعت فرض ہے ۔ ۱۴۱
تحلیل: ۱۴۳
۱۵)اہل بیت علم وعمل کے ترازوہیں ۱۴۴
تحلیل : ۱۴۶
۱٦)اہل بیت سے دوری کے عوامل ۱۴۶
۱۔بیرونی عوامل: ۱۴۶
الف۔ جہالت ۱۴۷
ب۔غلط پروپگنڈے ۱۴۹
ج ۔تربیت اور سوسائٹی ۱۵۰
۲) اندرونی عوامل ۱۵۱
۱۷)اہل بیت کا مصداق ۱۵۴
اہم نکات ۱۵۶
۱۸)اہل بیت کی شان میں گستاخی کی سزا ۱۵۹
۱۹) اہل بیت کے و جود سے کائنات خالی نہیں ہوسکتی ۱۶۱
۲۰ ) اہل بیت اورقرآن کے درمیان کیاجدائی ممکن ہے؟ ۱۶۳
اہم نکات: ۱۶۶
۲۱) اہل بیت سے اگر تمام انسان ، محبت کرتے تو جہنم خلق ہی نہ ہوتا ۱۶۷
۲۲)اہل بیت کی شان میںصحابہ کرام کا نظریہ ۱۶۹
ایک اعتراض اور اس کا جواب ۱۷۸
۲۳)اہل بیت کی برتری عقل کی روسے ۱۷۹
فہرست منابع و مدارک ۱۸۷
تالیفات ِمؤلف: ۱۹۰