میزان الحکمت(جلد ہشتم)

مؤلف: حجت الاسلام آقائے المحمدی الری الشہری
متن احادیث


یہ کتاب برقی شکل میں نشرہوئی ہے اور شبکہ الامامین الحسنین (علیہما السلام) کے گروہ علمی کی نگرانی میں تنظیم ہوئی ہے


میزان الحکمت(جلد ہشتم)

مؤلف: محمد رے شہری


فصل۔ ۱

قبر

قرآن مجید

( ولا تقم علی قبره ) ۔ توبہ ۸۴

ترجمہ۔ اور (اے رسول!) تم اس (منافق) کی قبر پر مت کھڑے ہونا۔

حدیث شریف

۱۶۲۴۵ ۔ یقین جانو کہ قبر آخرت کی منازل میں پہلی منزل ہے۔ اگر انسان اس سے نجات پا گیا تو اس کے بعد تمام مراحل اس کے لئے آسان ہوں گے اور اگر نجات نہ پا سکا تو اس کے بعد کے مراحل اس سے کم نہیں ہوں گے۔

(حضرت رسول اکرم) مجار الانوار جلد ۶ ص ۲۴۲

۱۶۲۴۶ ۔ آخرت کے سب سے پہلے معمول قبریں ہیں جن میں امیر و غریب کی پہچان نہیں ہوتی۔

(حضرت رسول اکرم) مستدرک الوسائل جلد اول ص ۱۴۸

۱۶۲۴۷ ۔ ان قبروں کی طرف دیکھو جو گھروں کے دالانوں میں سطروں کی صورت میں ہیں، اپنے خطوں کے اعتبار سے ایک دوسرے کے نزدیک ہیں، زیارت کے لحاظ سے ایک دوسرے کے قریب ہیں، لیکن ملاقات کی حیثیت سے ایک دوسرے سے دور ہیں، آباد ہو جانے کے بعد برباد ہو چکی ہیں۔ لوگ مانوس ہو جانے کے بعد ایک دوسرے سے لاتعلق ہیں، اور بسنے کے بعد اٹھا دیئے گئے ہیں اور آباد رہنے کے بعد کوچ کر گئے ہیں۔

(امام محمد باقر علیہ السلام) مجارالانوار جلد ۷ ص ۱۲۱

۱۶۲۴۸ ۔ قبر جو بھی (نیا) دن آتا ہے تو اس دن وہ کہتی ہے: "میں غربت (پردیس) کا گھر ہوں، میں تنہائی کا گھر ہوں، میں مٹی کا گھر ہوں اور میں کیڑوں (مکوڑوں) کا گھر ہوں" جب کوئی مومن اس میں دفن کیا جاتا ہے تو اسے خوش آمدید کہتی ہےاور جب کوئی (فاسق و) فاجر اور کافر اس میں دفن کیا جاتا ہے توہ اسے خوش آمدید نہیں کہتی

(حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الترغیب والترہیب جلد ۴ ص ۳۳۷

۱۶۲۴۹ ۔ قبر ہر روز کہتی ہے: "میں غربت (پردیس) کا گھر ہوں، میں وحشت کا گھر ہوں، میں کیڑوں (مکوڑوں) کا گھر ہوں، میں جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہوں یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہوں۔"

(حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۶ ص ۲۶۷

۱۶۲۵۰ ۔ اے اہل عقل و خرد اور اے صاحبان فہم و ذکأ! ذرا اپنے آباؤ اجداد کی موت کو تو یاد کرو! اپنے آپ کو یوں سمجھو گویا تمہاری جانیں تمسے لے لی گئی ہیں، تمہارے جسموں سے کپڑے اتار لئے گئے ہیں اور تمہارے مال تقسیم کئے جا چکے ہیں۔ پس اے ناز و نخرے کرنے والے! اور اے ہیبت و دہشت کے مالک! اور اے حسن و جمال کے پیکر! اب پراگندہ حال منزل اور غبارآلود مقام کی طرف منتقل ہو چکے ہو، اپنے رخسار کے بل اپنی لحد میں سو رہے ہو جو ایسی جگہ ہے جہاں ملنے والے بہت کم آتے ہیں اور کام کرنے والے دل تنگ ہو جاتے ہیں۔ یہ کیفیت اس وقت تک جاری رہے گی جب قبریں شگافتہ ہو جائیں گی اور حشر و نشر کے لئے سب کو دوبارہ اٹھایا جائے گا۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۷ ص ۳۷۱

۱۶۲۵۱ ۔ میں نے جو بھی (بھیانک) منظر دیکھا ہے، قبر کا منظر اس سے کہیں زیادہ بھیانک ہے۔

(حضرت رسول اکرم) تنبیہ الخواطر ص ۲۳۸

۱۶۲۵۲ ۔ جب کسی دشمنِ خدا (کے جنازہ) کہ اٹھا کر اس کی قبر کی طرف لے جایا جاتا ہے تو وہ اپنے پیچھے آنے والوں کو آواز دے کر کہتا ہے: "بھائیو! جس کیفیت میں میں مبتلا رہا تم اس سے بچ کر رہنا۔ میں تم سے دنیا کی شکایت کرتا ہوں کہ اس نے مجھے فریب میں مبتلا رکھا۔ جب میں نے اس پر مکمل بھروسہ کر لیا تو اس مجھے پچھاڑ کر فنا کر دیا۔ میں خواہشاتِ نفسانی کے پیروکار دوستوں کی بھی تم سے شکایت کرتا ہوں جو مجھے خوش کرتے رہے، پھر جب میں ان کے ساتھ ان کا شریکِ کار ہو گیا تو وہ مجھ سے دور ہو گئے اور مجھے اکیلا چھوڑ دیا"

(حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تنبیہ الخواطر ص ۴۵۲

۱۶۲۵۳ ۔ قبروں کی ہمسائیگی اختیار کرو کہ عبرت حاصل کرو گے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عزا الحکم

۱۶۲۵۴ ۔ قبر قریب ترین رشتہ دار ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عزا الحکم

۱۶۲۵۵ ۔ فخر و سربلندی کو چھوڑو، تکبر و غرور کو مٹاؤ اور اپنی قبر کو یاد رکھو کیونکہ یہی (عالمِ آخرت کی طرف) تمہاری گزرگاہ ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۵۳

۱۶۲۵۶ ۔ حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام کے بارے میں ہے کہ آپ نے ایک قبر کے پاس رک کر فرمایا: "یہ ایسی چیز ہے جس کا آخر اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے اول کے بارے میں زہد اختیار کیا جائے اور جس کا اول اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے آخر سے ڈرا جائے۔"

بحارالانوار جلد ۷۳ ص ۱۰۳ ۔ جلد ۷۸ ص ۳۲۰

( ۲) قبر کا سوال

۱۶۲۵۷ ۔ پھر جب مشایعت کرنے والے اور مصیبت زدہ (عزیز و اقارب) پلٹ آئے تو اسے قبر کے گڑھے میں اٹھا کر بٹھا دیا گیا ، فرشتوں کے سوال و جواب کے واسطے سوال کی دہشتوں اور امتحان کی ٹھوکریں کھانے کے لئے۔

(حضرت علی علیہ السلام) شرح نہج البلاغہ جلد ۶ ص ۲۷۰ نہج البلاغہ خطبہ ۸۳ ۔

۱۶۲۵۸ ۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول( یثبت الله الذین امنوا بالقول الثابت فی الحیواة الدنیا و فی الاخرة ) ، یعنی جو لوگ پکی بات (کلمہ توحید) پر (صدق دل سے) ایمان لا چکے ان کو اللہ تعالیٰ دنیا کی زندگی میں (بھی) ثابت قدم رکھتا ہے اور آخرت میں بھی ثابت قدم رکھے گا۔" (ابراہیم/ ۲۷) کے متعلق ارشاد فرمایا کہ آخرت سے مراد ہے جب مردوں سے قبر میں سوال کیا جائے گا۔

( ۳) قبر میں کیا پوچھا جائے گا؟

۱۶۲۵۹ ۔ یوں سمجھو گویا تمہاری زندگی کے دن پورے ہو چکے ہیں، ملک الموت نے تمہاری روح قبض کر لی ہے اور تم (قبر کی) منزل میں تنہا پہنچ چکے ہو۔ اس میں پھر تمہاری روح کو پلٹا دیا گیا ہے اور وہاں اچانک دو فرشتے تمہارے پاس آ پہنچے ہیں۔ ایک کا نام منکر اور دوسرے کا نام نکیر ہے۔ وہ تم سے سوال کریں گے اور بڑی سختی کے ساتھ تمہارا امتحان لیں گے۔

پس یاد رکھو کہ سب سے پہلا سوال جو تم سے کیا جائے گا وہ تمہارے اس رب کے متعلق ہو گا جس کی تم عبادت کیا کرتے تھے، تمہارے رسول کے بارے میں ہو گا جو تمہاری طرف بھیجے گئے، دین کے بارے میں ہو گا جس کی تم پابندی اختیار کرتے تھے، کتاب کے بارے میں ہو گا جس کی تم تلاوت کیا کرتے تھے اور امام کے بارے میں ہو گا جس کی ولایت کو قبول کئے ہوئے تھے۔

پھر تمہاری عمر کے بارے میں سوال ہو گا کہ اسے کہاں ختم کیا، مال کے بارے میں سوال ہو گا کہ کہاں سے کمایا تھا اور کہاں خرچ کیا؟ لہٰذا ابھی سے اس کی تیاری کر لو اور اپنے بارے میں غور و فکر سے کام لے کر امتحان، سوال اور آزمائش سے پہلے جواب کو تیار کر لو

(امام زین العابدین علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۸ ص ۱۴۳ ۔ تحف العقول ص ۱۸۰

۱۶۲۶۰ ۔ جب مومن اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو ستر ہزار فرشتے قبر تک اس کی مشایعت کرتے ہیں، پھر جب اسے قبر میں دفن کر دیا جاتا ہے تو منکر و نکیر دو فرشتے اس کے پاس آ کر اسے اٹھا کر بٹھا دیتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں "تیرا رب کون ہے، تیرا دین کیا ہے اور تیرا نبی کون ہے؟"

وہ جواب میں کہتا ہے: "اللہ میرا رب ہے، محمد میرے پیغمبر ہیں اور اسلام میرا دین ہے!" اس پر وہ اس کی قبر کو اس کی نگاہوں کی حدود تک کشادہ کر دیتے ہیں، اس کے پاس کھانا لے آتے ہیں اور اسے فراخی اور آرام پہنچاتے ہیں

(امام جعفر صادق علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۶ ص ۲۲۲

۱۶۲۶۱ ۔ ہمارے علماء کا کہنا ہے کہ حضرت امام علی رضا علیہ السلام نے ابن الی حمزرہ کی موت کے بعد فرمایا! "اسے قبر میں اٹھا کر بٹھا دیا گیا اور اس سے آئمہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو اس نے سب ائمہ کے نام باری باری بتا دیئے۔ لیکن جب میرے نام پر پہنچا تو سوال کرنے پر اس نے خاموشی اختیار کر لی جس کی وجہ سے اس کے سر پر ایسی ضرب لگائی گئی کہ اس کی قبر آگ سے بھر گئی"

بحارالانوار جلد ۶ ص ۲۴۲

۱۶۲۶۲ ۔ یونس کہتے ہیں کہ میں حضرت امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھ سے پوچھا: "کیا علی بن الی حمزہ مر گیا؟" میں نے عرض کیا: "جی ہاں! "امام نے فرمایا: "وہ جہنم میں پہنچ چکا ہے!" (راوی کہتا ہے کہ یہ سن کر) میں ڈر گیا، امام نے فرمایا: "اس سے آئمہ کے بارے میں سوال کیا گیا اور جب اس نے میرے والد موسیٰ کاظم ک انام بھی بتا دیا، اس کے بعد اس سے ان کے بعد والے امام کے بارے پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں ہے! اس پر اسے کہا گیا کہ "کیا تم نہیں جانتے؟" پھر اس کی قبر میں ایسی ضرب لگائی گئی جس سے آگ کے شعلے بھڑک اٹھے۔

(بحارالانوار جلد ۶ ص ۲۴۲

۱۶۲۶۳ ۔ جب بندہ کو قبر میں دفن کر دیا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اس سے جدا ہو کر واپس جانے لگتے ہیں تو وہ پلٹتے وقت ان کے جوتوں کی آواز کو سنتا ہے۔ پھر اس کے پاس دو فرشتے آ جاتے ہیں جو اسے اٹھا کر بٹھا دیتے ہیں اور پوچھتے ہیں: "اس پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟"

اگر وہ مومن ہوتا ہے تو کہتا ہے: "میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کا بندہ اور اس کے رسول ہیں۔" اس پر اسے کہا جاتا ہے کہ جہنم میں مقرکردہ اپنے مقام کو دیکھو جسے اللہ تعالیٰ نے بہشت میں تبدیل کر دیا ہے" پیغمبرِ خدا فرماتے ہیں: "اس پر وہ دونوں مقاموں کو دیکھ لیتا ہے اور اگر وہ کافر یا منافق ہوتا ہے تو کہتا ہے: "مجھے معلوم نہیں۔ میں تو ان کے بارے میں وہی کچھ کہتا تھا جو دوسرے لوگ کہا کرتے تھے"

(حضرت رسول اکرم) الترغیب و الترہیب جلد ۴ ص ۳۶۲ اسے بخاری اور مسلم نے بھی روایت کیا ہے، اور الفاظ اسی کے ہیں۔

۱۶۲۶۴ ۔ ایک اور روایت میں ہے کہ اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اسے اٹھا کر بٹھا دیتے ہیں پھر اس سے پوچھتے ہیں: "تیرا رب کون ہے؟" وہ کہتا ہے: "میرا رب اللہ ہے" وہ کہتے ہیں: "تیرا دین کیا ہے؟" وہ کہتا ہے، "میرا دین اسلام ہے!" پھر وہ کہتے ہیں: "جو شخص تمہاری جانب اللہ کی طرف سے بھیجا گیا ہے، اس کے بارے میں کیا کہتے ہو؟" وہ کہتا ہے: "وہ اللہ کا رسول ہے!" اس پر وہ فرشتے سوال کرتے ہیں: "تمہیں کیونکر معلوم ہوا؟" وہ کہتا ہے میں نے اللہ کی کتاب پڑھی، اس پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی"

(حضرت رسول اکرم) الترغیب و الترہیب جلد ۴ ص ۳۶۵

۱۶۲۶۵ ۔ میت سے قبر میں پانچ چیزوں کے بارے پوچھا جائے گا: نماز، زکوٰة، حج، روزہ اور ہم اہلبت (ع) سے اس کی ولایت، جس پر قبر کے ایک گوشے میں موجود "ولایت" ان مذکورہ چاروں چیزوں سے کہے گی: "تم ہٹ جاؤ! میں اس کی ساری کمی کو پوری کر دوں گی"

(امام جعفر صادق علیہ السلام بحار الانوار جلد ۶ ص ۲۶۶

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو! بحارالانوار جلد ۶ ص ۲۴۱ حدیث ۶۰)

( ۴) قبر میں کن لوگوں سے سوال ہو گا؟

۱۶۲۶۶ ۔ ابوبکر حضرمی حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "قبر میں یا تو خالص الایمان لوگوں سے سوال کیا جائے گا یا پھر خالص الکفر لوگوں سے" میں نے عرض کیا: "دوسرے لوگوں کا کیا بنے گا؟" آپ نے فرمایا: "انہیں رہنے دیا جائے گا"

بحارالانوار جلد ۶ ص ۲۳۵ حدیث، ص ۳۶۰ حدیث ۹۹ ، ص ۲۶۲

۱۶۲۶۷ ۔ قبر میں صرف خالص الایمان یا صرف خالص الکفر لوگوں سے سوال کیا جائے گا۔

(امام جعفر صادق) بحارالانوار جلد ۶ ص ۲۶۰ حدیث ۱۰۰ ۔ حدیث ۹۸ ۔ حدیث ۹۷ فروع کافی جلد ۳ ص ۲۳۶

(قول مولف: ملاحظہ ہو: "گناہ ۱۱ باب "گناہوں کے کفارے" ( ۱))

( ۵) قبر میں فائدہ مند اعمال

۱۶۲۶۸ ۔ جب مومن کو قبر میں داخل کیا جاتا ہے تو نماز اس کے دائیں اور زکوٰة اس کے بائیں طرف آ جاتے ہیں، اس کی نیکی اس پر سایہ فگن ہو جاتی ہے ، اور صبر اس سے ہٹ کر ایک کونے میں چلا جاتا ہے۔ پھر جب دو فرشتے اس کے پاس سوال و جواب کے لئے آ جاتے ہیں تو صبر نماز، زکوٰة اور نیکی سے کہتا ہے: "اپنے ساتھی کا خیال رکھو اگر تم اس کے کام نہیں آ سکو گے تو میں حاضر ہو جاؤں گا!"

(امام جعفر صادق علیہ السلام بحار الانوار جلد ۷۱ ص ۷۳

۱۶۲۶۹ ۔ حضرت رسولِ خدا کا ایک قبر کے پاس سے گزر ہوا جس میں گزشتہ روز ایک مردہ کو دفن کیا گیا تھا اور اس کے ورثاء اس پر رو رہے تھے۔ اس پر آپ نے ان سے فرمایا: "تمہاری مختصر سی دو رکعت نماز، جسے تم حقیر سمجھتے ہو، اس قبر والے کے لئے تمہاری تمام دولت سے بہتر ہے۔"

تنبیہ الخواطر ص ۴۵۳

(قول مولف: ملاحظہ ہو: "دوست" باب ۲۲۱۹ " انسان کے تین دوست ہیں"

نیز: "عمل" ( ۳) باب ۲۹۶۱ " اعمال کا مجسم ہونا"

"عمل" ( ۱) باب ۲۹۳۸ " عمل ایسا ساتھی ہے جو انسان سے جدا نہیں ہوتا"

عنوان "وقف")

( ۶) قبر کا عذاب

۱۶۲۷۰ ۔ اے خدا کے بندو! جس کی بخشش نہیں ہو گی اس کے لئے موت کے بعد کے حالات موت سے شدید تر ہوں گے، (مثلاً) قبر ہے تو اس کی تنگی، گھٹن، تاریکی اور تنہائی سے ڈرو، اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں جس تنگی، گھٹن کا شکار زندگی سے قرآن میں اپنے دشمن کو پُرحذر کیا ہے وہ قبر کا عذاب ہی تو ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۷ ص ۳۸۸ شرح ابن ابی الحدید جلد ۶ ص ۶۹

۱۶۲۷۱ ۔ جب حضرت رسول خدا کی (ربیہ )بیٹی جناب رقیہ کا انتقال ہو گیا تو رسول پاک نے ان سے کہا: "ہمارے سلفِ صالح عثمان بن مظعون اور ان کے ساتھیوں سے جا ملو۔" راوی کا بیان ہے کہ اس وقت حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا قبر کے کنارے کھڑی رو رہی تھیں اور ان کے آنسو قبر پر گر رہے تھے۔ آنحضرت اپنا کپڑا ہلاتے ہوئے کھڑے ہو کر دعا مانگ رہے تھے، پھر فرمایا: "میں اس بچی کی کمزوری و ناتوانی کو جانتا ہوں اور اللہ سے میری دعا ہے کہ اسے قبر کے فشار سے محفوظ رکھے۔"

(امام محمد باقر و امام جعفر صادق علیہ السلام) فروغ کافی جلد ۳ ص ۲۴۱

۱۶۲۷۲ ۔ جن چیزوں کو تمہارے مرنے والوں نے دیکھا ہے اگر تم بھی دیکھ لیتے تو گھبرا جاتے، سراسیمہ و مضطرب ہو جاتے اور (حق کی) بات سنتے اور اس پر عمل کرتے۔ لیکن جو انہوں نے دیکھا ہے وہ ابھی تم سے پوشیدہ ہے اور قریب ہے کہ وہ پردہ اٹھا دیا جائے

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۲۰

ابن ابی الحدید کہتے ہیں: "حضرت کا یہ کلام اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ عذابِ قبر کے بارے میں بیان ہونے والے اقوال صحیح ہیں، اور ہمارے علماء کا بھی یہی نظریہ ہے اگرچہ اشاعرہ اور ان کے دوسرے مخالفین اس بات کا انکار کرکے ان پر اعتراض کرتے ہیں

شرح ابن ابی الحدید جلد اول ص ۳۹۸

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو عنوان "عذاب"

نیز: "خلق" باب "بداخلاقی" ( ۲)

فروعِ کافی جلد ۳ ص ۳۳۵ باب "قبر کا سوال"

قبر سے متعلق متفرق احادیث

۱۶۲۷۳ ۔ جب تمہاری نگاہ قبر پر پڑے تو کہو: "خداوندا! اسے جنت کے باغات میں سے ایک باغ قرار دے" اور جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا قرار نہ دے۔"

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحار الانوار جلد ۸۲ ص ۵۳

۱۶۲۷۴ ۔ جو شخص نماز میں رکوع مکمل طور پر بجا لاتا ہے اسے قبر کی وحشت کا کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔

(امام محمد باقر علیہ السلام) بحار الانوار جلد ۸۵ ص ۱۰۷

۱۶۲۷۵ ۔ جو شخص کسی مومن کی کوئی تکلیف دور کرے گا، اللہ تعالیٰ اس سے آخرت کی تکلیفیں رفع فرما دے گا اور وہ قبر سے ٹھنڈے کلیجے کے ساتھ باہر نکلے گا۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحار الانوار جلد ۷۴ ص ۳۸۶


فصل۔ ۲

قبلہ

( ۱) تحویلِ قبلہ

قرآنِ مجید:

( سیقول السفاء ……………………صراط مستقیم ) (بقرہ/ ۱۴۲ تا ۱۴۴)

ترجمہ۔ بعض احمق لوگ یہ کہہ بیٹھیں گے کہ مسلمان جس قبلہ (بیت المقدس) کی طرف (پہلے سجدہ کرتے تھے) اس سے (دوسرے قبلہ کی طرف) مڑ جانے کا کیا باعث بنا؟ (اے رسول!) تم ان کے جواب میں کہو کہ مشرق اور مغرب اللہ ہی کے ہیں، جسے چاہتا ہے سیدھے راستہ کی ہدایت فرماتا ہے،

حدیث شریف۔

۱۶۲۷۶ ۔ معاویہ بن عمار کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا کہ آنحضرت نے کعبہ کی طرف رخ کب کیا؟ آپ نے فرمایا: "جنگ بدر سے واپسی کے بعد"

بحارالانوار جلد ۱۹ ص ۱۹۹ ۔ تہذیب الاحکام جلد ۲ ۴۳

۱۶۲۷۷ ۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول"وان کانت لکبیرة الاعلی الذین ھدی اللہ" یعنی اگرچہ یہ بات، سوائے ان لوگوں جن کو اللہ نے ہدایت فرمائی ہے، سب پر شاق ضرور ہے، (بقرہ/ ۱۴۳) کے بارے میں فرمایا کہ اس زمانہ میں بیت المقدس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھنا بہت سے لوگوں پر شاق تھا، لیکن جن لوگوں کی اللہ نے ہدایت فرمائی (ان پر شاق نہیں تھا)، تو اللہ تعالیٰ اس سے ان لوگوں کو یہ باور کرانا چاہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ ایسی عبادت چاہتا ہے جس میں انسان کی ذاتی خواہشات شامل نہ ہوں اور آزمائش کرنا چاہتا تھا کہ نفسانی خواہشات کی مخالفت کرکے کون صحیح معنوں میں اس کی اطاعت کرتا ہے۔

(امام حسن عسکری علیہ السلام) تفسیر نورالثقلین جلد اول ص ۱۳۶

۱۶۲۷۸ ۔ ابوالعالیہ کہتے ہیں کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت المقدس کی طرف نگاہ کی اور جبرائیل سے فرمایا: "میں اس بات کو دوست رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھے یہودیوں کے قبلہ سے پھیر کر کسی اور طرف میرا رخ کر دے" جبرائیل نے کہا: "میں بھی آپ ہی کی طرح اس کا ایک بندہ ہوں۔ یہ بات میرے بس سے باہر ہے میں تو صرف حکم کا پابند ہوں۔ لہٰذا آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے اور اسی سے ہی درخواست کیجئے۔" پس حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ آسمان کی طرف دیکھا کرتے تھے، اس امید پر کہ جبرائیل اللہ کی طرف سے اس بارے میں کیا حکم لاتے ہیں۔ لہٰذا تو اللہ تعالیٰ نے اس پر یہ آیت نازل فرمائی:( قدنری تقلب وجهک فی السماء… )

تفسیر درمنثور جلد اول ص ۱۴۲

۱۶۲۷۹ ۔ علی بنابراہیم اپنی اسناد کے ساتھ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ امام علیہ السلام نے فرمایا: "بیت المقدس سے خانہ کعبہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے کا حکم اس وقت نازل ہوا جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں تیرہ سال تک اور وہاں سے ہجرت کرنے کے بعد مدینہ میں سات ماہ تک بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے تھے۔"

امام نے فرمایا: "پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کا رخ کعبہ کی طرف پھیر دیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ یہودی آنحضرت کو یہ طعنہ دیا کرتے تھے کہ آپ ہمارے پیروکار ہیں کیونکہ آپ ہمارے قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے ہیں۔

"اس بات کا آپ کو بہت دکھ ہوتاتھا۔ چنانچہ ایک رات آنحضرت گھر سے باہر نکلے اور آفاقِ سماوی کی طرف نگاہیں اٹھا لیں، اس بات کے انتظار میں کہ اس بارے میں کوئی حکم آ جائے۔ چنانچہ جب دن ہوا اور ظہر کی نماز کا وقت آیا تو آپ اس وقت بنی سالم کی مسجد میں نماز پڑھا رہے تھے۔ ابھی ظہر کی دو ہی رکعتیں پڑھی تھیں کہ جبرائیل امین نے آپ کے دونوں شانوں کو پکڑ کر خانہ کعبہ کی طرف آپ کا رخ کر دیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: "قدنریٰ تقلبک فی السماء فلنو لینک قبلة ترمنہا فول و جھک شطرالمجسد الحرام" یعنی "اے رسول! قبلہ بدلنے کے واسطے بیشک تمہارا بار بار آسمان کی طرف رخ کرنا ہم دیکھ رہے ہیں۔ ہم ضرور تم کو ایسے قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جس سے تم خوش ہو جاؤ گے۔ لہٰذا تم (نماز ہی میں) مسجدالحرام (کعبہ)ا کی طرف رخ کر لو۔ (بقرہ/ ۱۴۴) چنانچہ آپ نے نمازِ ظہر کی دو رکعتیں بیت المقدس کی طرف اور دو رکعتیں خانہ کعبہ کی طرف رخ کرکے پڑھیں۔ اس پر یہودی اور احمق لوگ کہنے لگے کہ انہیں اس قبلہ کی طرف سے رخ پھیر لنیے کا حکم کس نے دیا جس کی طرف وہ پہلے رخ کیا کرتے تھے؟"

تفسیر مجمع البیان جلد اول ص ۲۲۳

قولِ مولف: علامہ طباطبائی مرحوم فرماتے ہیں کہ جو روایات شیعہ او رسنی مکاتبِ فکر کی طرف سے اس داستان میں بیان ہوئی ہیں اور ان کی روایات کی جامع کتب میں موجود ہیں، بہت زیادہ اور مضامین کے لحاظ سے ایک دوسرے سے بہت زیادہ قریب ہیں۔ البتہ اس بات میں اختلاف ہے کہ یہ واقعہ کب رونما ہوا! ان میں سے اکثر و بیشتر یہ بتاتی ہیں کہ تحویلِ قبلہ کا یہ واقعہ ماہِ رجب ۲ ھ میں ہوا، یعنی ہجرت کے سترہ ماہ بعد، اور یہی روایات سب سے زیادہ صحیح بھی ہیں۔

تفسیرالمیزان جلد اول ص ۳۳۱

قبلہ کے بارے میں علمی بحث

قبلہ کی شرعی حیثیت اور اس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنے کا وجوبنماز جو کہ دنیا بھر کے عامة المسلمین کی عبادت ہے۔ اور اسی طرح جانوروں کا رو بقبلہ کرکے ذبح کرنا اور دوسرے کام جو حتماً قبلہ رخ ہو کر انجام دینا چاہئیں (یا جیسے قبلہ رخ ہو کر سونا یا بیٹھنا یا وضو کرنا جو کہ مستحب ہے اور جیسے بیت الخلاء میں روبقبلہ یا پشت بہ قبلہ بیٹھنا حرام ہے۔ از مترجم) ، اسی طرح کے دیگر احکام جن کا قبلہ کے ساتھ تعلق ہوتا ہے اور عام مسلمانوں کو ان کی ضرورت ہوتی ہے، اس بات کا باعث بنیں کہ مسلمانوں کو قبلہ کی جستجو کی ضرورت ہوئی تاکہ وہ اس کی سمت کو سمجھیں اور اس کے مطابق عمل کریں۔ (تاکہ نماز یا جانوروں کو ذبح کرنا اور اسی طرح کے دوسرے کام قبلہ کی طرف منہ کرکے انجام دیئے جائیں اور بیت الخلاء میں اس کی طرف رخ کرکے یا پشت کرکے نہ بیٹھیں۔ از مترجم)

ابتدائے امر میں چونکہ مکہ سے دور لوگوں کے لئے قبلہ کی قطعی پہچان ناممکن تھی لہٰذا گمان اور ایک طرح کی تخمین پر ہی اکتفا کیا گیا، لیکن رفتہ رفتہ اس عمومی ضرورت نے ریاضی دان علماء کو اس بات پر آمادہ کیا کہ اس گمان و تخمین کو قدرے تحقیق اور عینی تشخیص سے نزدیک کر دیں، لہٰذا وہ اس کام کے لئے ان جدولوں سے استفادہ کرنے لگے جو جنتریوں اور تقویموں میں بنے ہوئے تھے تاکہ اس طرح ہر شہر کا طول و عرض متعین کر سکیں۔ (کسی شہر کے عرض سے مراد وہ فاصلہ ہوتا ہے جو وہ شہر خط استوا سے رکھتا ہے اور طول سے مراد وہ فاصلہ ہوتا ہے جو شہر کے درمیان مشرق سے مغرب کی طرف ہوتا ہے، اسی بنا پر زمین کا آباد اور آخری مغربی نقطہ "جزائر خالدات" کو گردانا جاتا تھا۔ البتہ اس بات کا ہماری بحث سے تعلق نہیں ہے کہ گزشتہ صدیو ں میں، امریکہ کی دریافت اور زمین کے گول ہونے کی تحقیق سے پہلے ریاضی دان بحر اوقیاس کے ساحل پر واقع مغربی یورپ میں "جزائر خالدات" ہی کو کرہ زمین کا آخری نقطہ سمجھتے تھے۔

یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ یہ جزائر ان آخری صدیو ں میں پانی میں غرق ہو چکے ہیں اور اس وقت ان کا نام و نشان تک موجود نہیں ہے۔ (دور حاضر میں زمین کے مشرقی نیم کرہ میں واقع گرینوچ (لندن) کی رصدگاہ سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ از مترجم)

جب وہ اپنے شہر کے عرض البلد کو خط استوا سے معلوم کر لیتے تو پھر وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھ سکتے تھے۔ اس شہر کے جنوبی نقطہ سے کھڑے ہو کر چند درجہ مغرب کی طرف مڑ جائیں۔ (ہر شہر کے جنوبی نقطہ سے مراد یہ ہے کہ اگر اس نقطہ سے ایک فرضی خط شمال کی طرف تصور کریں تو وہاں تک پہنچنے کے لئے سورج کو "نصف النہار" کا فاصلہ طے کرنا پڑے جس کو اصطلاح میں دوپہر کا وقت کہتے ہیں۔ اسی طرح چند درجہ سے مراد جنوب اور مغرب کے درمیان نوے درجہ کا فاصلہ ہے۔ پھر مغرب کی طرف مڑنے کا طریقہ "مثلثات" کے تحت معین کرتے تھے۔ از مترجم)

پھر یہی طریقہ تمام اسلامی شہروں اور ان کے افق کے لئے "دائرہ ہندیہ" کے ذریعہ رائج کر دیا گیا۔ (اس کی صورت یہ تھی کہ اوائلِ خزاں میں جو موسم کے دو اعتدالی نقطے ہوتے ہیں، ہر افق میں سیدھی اور صاف زمین پر ایک دائرہ بنا لیتے تھے اور اس کے عین وسط میں کوئی سیدھی سی چیز مثلاً لکڑی وغیرہ گاڑ دیتے تھے جسے "شاخص‘ کہا جاتا ہے۔ صبح کے وقت جب سورج طلوع کرتا ہے، اس شاخص کا سایہ دائرہ سے باہر نکلا ہوا ہوتا تھا اور جوں جوں سورج اوپر آتا تھا سایہ گھٹتے گھٹتے دائرہ کے وسط میں پہن جاتا۔ اسی طرح زوال کے بعد جوں جوں سایہ مشرق کی طرف بڑھتا جاتا اور دائرہ سے باہر نکل جاتا تو مغرب و مشرق میں سایہ کے اوپر نشان لگا دیتے، مشرق سے مغرب تک کی لکیر دونوں سمتوں کو متعین کر دیتی، دائرہ بھی دو نیم دائروں میں تقسیم ہو جاتا۔ اسی طرح اس خطِ مستقیم پر ایک اور عمومی خط کھینچتے جس کا ایک سرا جنوبی نقطے کو اور دوسرا سرا شمالی نقطے کو ظاہر کرتا، اسی عمودی خط کو اس افق کا نصف النہار کہتے تھے اور اس دائرہ کو "دائرہ ہندیہ"کے نام سے موسوم کرتے تھے۔ معلوم ہے کہ ان چاروں نقطوں کے درمیان کا فاصلہ نوے درجے کا ہوتا تھا۔ فرض کریں کہ اگر اس دائرہ کا کوئی شہر خط استوا سے تیس درجے کے فاصلہ پر ہو اور اس شہر کے باشندے نماز کے موقع پر نوے درجہ سے تیس درجے جنوب سے مغرب کی طرف رخ کرکے نماز پڑھیں گے تو وہ ٹھیک قبلہ رخ کھڑے ہوں گے۔ مترجم)

اس کے بعد کام کی سرعت اور سہولت کے لئے "قطب نما" کا استعمال ہونے

لگا، کیونکہ یہ آلہ اپنی سوئی کے ذریعہ شمال کی سمت کو ظاہر کرتا ہے، خواہ آپ کسی بھی افق میں ہوں۔ اسی طرح شمال سے جنوب کی سمت خودبخود ظاہر ہو جاتی، اور دائرہ ہندیہ کا کام بھی جلد ہی انجام پا جاتا۔ اگر کسی شخص کو اپنے شہر کے خطِ استوا سے مڑنے کی مقدار کا علم ہوتا تو اس کے لئے قبلہ کی سمت معلوم کرنا آسان ہو جاتا۔

لیکن ریاضی دان علماء کی یہ کوشش اگرچہ ایک شایانِ شان خدمت تھی خدا انہیں جزائے خیر دےلیکن دونوں صورتوں دائرہ ہندیہ اور قطب نما کے لحاظ سے نامکمل تھی جس سے لوگوں میں کافی اشتباہ و غلط فہمی پیدا ہو جاتی تھی۔

پہلا طریقہ اس لئے نامکمل تھا کہ اس دورِ آخر کے ریاضی دان اس طرف متوجہ ہوئے کہ قدیم ریاضی دانوں نے کسی شہر کے طول (طول بلد) کی تشخیص میں غلطی کی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ قبلہ کی طرف کی تو مقدار انہوں نے مقرر کی تھی وہ بھی غلط تھی اور اس غلطی کے نتیجہ میں قبلہ کی تشخیص بھی غلط ہو گئی۔ اس طرح سارے کا سارا معاملہ خراب ہو گیا۔

اس کی وضاحت یوں کی جا سکتی ہے کہ مثلاً تہران خط استوا سے عرض البلد اور چاروں موسموں میں اس کی سورج کے مساوی سمت معلوم کرنے کے لئے ان کا طریقہ یہ تھا کہ وہ پہلے قطبِ شمالی سے خط استوا کو متعین کرتے اور پھر اسے کئی درجوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔ پھر کسی شہر کا خطِ استوا سے فاصلہ انہی درجوں سے متعین کرتے تھے۔ مثلاً کہتے تھے کہ تہران کا فاصلہ جزائر خالدات سے ۸۶ درجے، بیس منٹ کا ہے، اور خطِ استوا سے اس کا عرض البلد ۳۵ درجے، ۳۵ منٹ ہے۔ اگرچہ یہ طریقہ تحقیق اور واقعیت کے زیادہ نزدیک تھا لیکن شہروں کے طول بلد کی تشخیص کا صحیح اور تحقیقی طریقہ نہی تھا کیونکہ، جیسا کہ ابھی بیان ہو چکا ہے، دو ایسے نقطں کی زمین سے درمیانی مسافت کو معین کیا جاتا تھا جو آسمانی حوادث میں مشترک تھے۔ (اگر سورج گہن ہوتا تو دونوں جگہوں پر ایک ہی وقت میں ہوتا، اور اگر کوئی دوسرا آسمانی واقعہ ہوتا تو دونوں نقطوں میں ایک ہی زمانہ میں رونما ہوتا) اسے سورج کی "حسی حرکت"، یا باالفاظ دیگر گھڑی کے ذریعہ ضبط کر لیتے اور کہتے کہ مثلاً فلاں شہر کا طول البلد فلاں درجہ، فلاں منٹ پر ہے۔ چونکہ زمانہ قدیم میں رسل و رسائل مثلا ٹیلی فون، تار یا دوسری قسم کے ذرائع موجود نہیں تھے لہٰذا وہ صرف اندازوں سے کام لیتے تھے اور ان کا یہ اندازہ ٹھیک طریقہ پر نہیں تھا۔ لیکن جب ذرائع رسل و رسائل عام ہو گئے، ہوائی جہازوں اور سفر کے دوسرے ذرائع کے عام ہو جانے سے فاصلے سمٹ کر رہ گئے تو یہ مشکل بھی مکمل طور پر ختم ہو گی۔ انہی ایام میں شیخ فاضل اور ریاضی کے مشہور استاد مرحوم سردار کابلی نے اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے کمر ہمت باندھی اور جدید اصولوں کے مطابق قبلہ کی سمت کو دریافت کر لیا، انہوں نے اس موضوع پر ایک کتاب بنام "تحفة الاجلہ فی معرفة القبلہ" لکھ کر عوام تک پہنچائی۔

یہ ایک مختصر سی کتاب ہے جس میں ریاضی کے قواعد کے مطابق قبلہ کی جہت دریافت کرنے کے طریقے بیان کئے گئے ہیں اور ہر شہر کے قبلہ کی تعیین کے لئے جدول بنائے گئے ہیں۔

منجملہ دیگر امور کے، جو انہو ں نے دریافت کئے ہیںاور خدا انہیں جزائے خیر دےپیغمبر خدا کی وہ کرامت و واضح معجزہ بھی تھا، جو انہوں نے مدینہ کی مسجد کے محراب میں کھڑے ہو کر قبلہ کی صحیح سمت رخ کرکے نماز ادا فرمائی۔ سردار کابلی نے اپنے ریاضی قواعد کے ذریعہ اس کو صحیح ثابت کر دیا ہے۔

اس کی وضاحت کے لئے عرض ہے کہ متقدمین کے حساب کے مطابق مدینہ منورہ کا عرض بلد، خط استوا سے ۲۵ درجے پر اور طول بلد ۷۵ درجے، اور ۲۰ منٹ پر قرار پاتا تھا۔ اس حساب کے تحت مدینہ میں مسجد نبوی کی محراب قبلہ کی طرف نہیں بنتی تھی، (چونکہ یہ ممکن نہیں تھا کہ حضرت رسول خدا رو بقبلہ کرنے اور مسجد کے بنانے میں اشتباہ کریں) لہٰذا ریاضی دان اس بارے میں مسلسل بحث کرتے آ رہے تھے اور بعض اوقات تو وہ ایسی وجوہات کو بھی بیان کرتے جو حقیقت الامر سے مطابقت نہیں رکھتی تھیں۔

لیکن مرحوم سردار کابلی نے اس بات کو واضح کرکے بتا دیا کہ مذکورہ دانشوروں کے حساب ٹھیک نہیں تھے کیونکہ مدینہ منورہ کا خطِ استوا سے عرض بلد ۲۴ درجہ، ۵۷ منٹ پر اور مشرقی نیم کرہ کے نقطہ سے اس کا طول بلد ۳۹ درجہ، ۵۹ منٹ پر واقع ہے، اس حساب کی رو سے مسجدِ نبوی کی محراب ٹھیک قبلہ رخ واقع ہوتی ہے۔

ئٍُبس اب یہ بات واضح ہو گئی کہ صدیوں پہلے جب اس قسم کے حساب و کتاب نہیں تھے۔ لہٰذا آنحضرت جب نماز کی حالت میں تھے اور اسی حالت ہی میں کعبہ کی طرف مڑے تو اگر ایک فرضی خط کعبہ کی طرف کھینچا جائے تو وہ ٹھیک کعبہ تک ہی جا پہنچے گا۔ اور یہ چیز بذاتِ خود ایک معجزہ ہے۔ "( صدق الله و رسوله ) (اللہ بھی سچا اور اس کا رسول بھی سچا ہے)

سردار کابلی مرحوم کے بعد فاضل انجینئر بریگیڈیئر جنرل عبدالرزاق بغائری رحمة اللہ علیہ نے روئے زمین کے بہت سے نقاط کے لئے قبلہ کو دریافت کیا، اس بارے میں قبلہ کی پہچان کے لئے ایک کتاب بھی تحریر کی اور اس میں ایسے جدول بنائے جن میں روئے زمین کے ڈیڑھ ہزار مقامات کے قبلہ کی سمت متعین کی۔ اس کتاب کی تدوین سے بحمداللہ تشخیص قبلہ کی نعمت کمال تک پہنچ گئی۔ (اور تہران کا عرض بلد ۳۵ درجہ، اکتالیس منٹ، ۳۸ سیکنڈ اور طول بلد ۵۱ درجہ، ۲۸ منٹ، ۵۸ سیکنڈ تحریر کیا (از مترجم)

یہ تو تھی "دائرہ ہندیہ" کے نقص کی وجہ۔ اب آتے ہی دوسری قسم یعنی "قطب نما" کے ذریعہ قبلہ کی تشخیص، تو اس کے نقص کی وجہ یہ تھی کہ کرہ ارض کے دو مقناطیسی قطب زمین کے دو جغرافیائی قطبوں سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ اس لئے چونکہ مقناطیسی قطبِ شمالی، مثلاً یہ کہ زمانہ کے گزرنے کے ساتھ تبدیل ہونے کے علاوہ اس کے اور زمین کے جغرافیائی قطب شمالی کے درمیان ایک ہزار میل ( ۱۳۷۵ کلومیٹر) کا فاصلہ ہے،

اسی لئے قطب نما کی سوئی کبھی بھی زمین کے جغرافیائی قطبِ جنوبی پر نہیں ٹھہرتی: نہ ہی اس کی صحیح سمت کا تعین نہیں کرتی ہے، (کیونکہ سوئی کا دوسرا سرا صحیح معنو ں میں قطب شمالی واضح نہیں کرتا) بلکہ بعض اوقات تو فرق اس حد تک جا پہنچاتا ہے جس سے چشم پوشی ناممکن ہو جاتی ہے۔

اسی بنا پر فاضل انجینئر اور عالقیدر ریاضی دان جناب بریگیڈیئر جنرل حسین علی رزم آرا نے انہی آخری سالوں ( ۱۳۳۲ ہجری شمسی) میں اس مشکل کو بھی حل کر دیا اور مقناطیسی و جغرافیائی قطبوں کے درمیان فرق کو ختم کرکے روئے زمین کے ایک ہزار مقامات کے لئے قبلہ کی سمت کو متعین کر دیا۔ (کام کی آسانی کے لئے ایک قبلہ نما ایجاد کیا جس سے بڑی آسانی کے ساتھ ہر شخص قبلہ کی سمت کو معلوم کر سکتا ہے اور اس میں یقین کے زیادہ نزدیک تخمین سے کام لیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر عطا فرمائے۔

(المیزان جلد اول ص ۳۳۵ تا ۳۳۷)

قبلہ کے بارے میں معاشرتی بحث

دانشمند افرا دجو معاشرہ کی شناخت کے ماہر اور اس فن کے استاد ہیں اگر معاشرہ کے آثار و خواص کے بارے میں غور و فکر سے کام لیں تو ان پر یہ بات اچھی طرح واضح ہو جائے گی کہ اصولی طور پر معاشرہ کا وجود میں آنا اور انسانی طبیعتوں کے اختلاف کی وجہ سے معاشرہ کا مختلف قسمو ں میں تقسیم ہونا، صرف اور صرف ایک عامل کی وجہ سے ہے، جس کا نام "ادراک" ہے جسے خدا نے انسان کی طبیعت میں الہام کے طور پر ودیعت فرمایا ہے، ادراک اس معنی کے اعتبار سے کہ ان کی ضروریات، جو اتفاق سے ساری کی ساری انسانوں کی بقا اور ان کی کمال تک رسائی کے لئے موثر ہیں، ایک دو نہیں ہیں کہ ان ایک دو ضروریات کو وہ خد ہی پورا کر لیں، بلکہ ان ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ایک معاشرہ تشکیل دینے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ اس معاشرہ کے پابند رہ کر اس کی آغوش تربیت میں پروان چڑھ کے اور اس کی امداد کے ساتھ اپنے تمام افعال و حرکات و سکنات میں کامیاب ہوں، یا باالفاظ دیگر کسی نتیجہ تک پہنچ سکیں، کیونکہ تالی ہمیشہ ایک ہاتھ سے تو نہیں بجتی۔

اس ادراک کے بعد اسے دوسرے ادراکات، یا دوسرے لفظوں میں انہیں کچھ ذہنی صورتوں کا الہام ہوا کہ وہ ادراکات اور ذہنی صورتیں مادی امور و ضروریات کے پورا کرنے کے لئے ایک معیار و کسوٹی قرار پائیں۔ حقیقت میں وہ ادراکات و معیارات انسانی طبیعت اور اس کے افعال و ضروریات کے درمیان رابطہ کا ایک ذریعہ بن گئے، مثلاً اس بات کا ادراک کہ کونسی چیز اچھی ہے، کونسی چیز بری ہے، کونسا کام کرنا چاہئے، کونسا نہیں کرنا چاہئے، کس کام کا کرنا اس کے نہ کرنے سے بہتر ہے؟ نیز اس چیز کا ادراک کہ انسان اجتماع و معاشرہ کے مرتب و منظم کرنے کے لئے سربراہ و عوام، ملک، ملکیت، خصوصی امور، مشترک و مخصوص معاملات اور قوموں کے دیگر آداب و رسوم (جو اقوام، علاقہ و زمانہ کے تبدیل ہونے سے بدلتے رہتے ہیں) کو معتبر سمجھے اور ان کا احترام کرے۔ یہ تمام معانی و قواعد ایسے امور ہیں کہ اگر انسانی طبیعتوں نے انہیں بنایا ہے تو یہ بھی قدرت کی طرف سے انسان کو ایک الہام تھا اللہ تعالیٰ نے جس کے ذریعہ انسانی طبیعت کو لطیف بنایا تاکہ دوسرے ہر کام سے پہلے جس چیز پر انسان کا ایمان و عقیدہ ہے اور وہ اسے خارج میں وجود میں لانا چاہتا ہے تو اسے تصور میں لا کر ذہنی نقشوں کو جامہ عمل پہنائے، یا اگر مناسب نہ سمجھے تو اسے ترک کر دے۔ اس طرح وہ اپنے لا ئحہ عمل کو پایہ تکمیل تک پہنچائے گا۔

(جب یہ بات واضح ہو گئی تو اب ہم کہتے ہیں کہ) کسی عبادت میں خداوند سبحان کی طرف توجہ اور رخ کرنا، (البتہ یہ بات پیش نظر رکھتے ہوئے کہ خداوندِ متعال مکان، سمت اور دوسرے تمام مادی امور سے منزہ و مبرا ہے، حتیٰ کہ اس بات سے بھی پاک و پاکیزہ ہے کہ کسی مادی حس کا اس سے کوئی تعلق ہے) اگر ہم چاہتے ہیں کہ قلب و ضمیر کی چار دیواری سے نکل کر افعال میں سے کسی فعل کی صورت اختیار کر لیں جبکہ فعل کا تعلق ہوتا ہی مادیات سے ہے تو مجبوراً یہی کہنا پڑے گا کہ یہ توجہ اور رخ کرنا بصورتِ تمثیل یا تمثل ہو گا۔

آسان و سادہ لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ ایک طرف تو ہم یہ چاہتے ہیں کہ عبادت کے ذریعہ ہم خدا کی طرف توجہ کریں اور دوسری طرف یہ بھی ہے کہ خدا کسی ایک طرف، جہت یا سمت میں موجود نہیں (بلکہ ہر طرف اور ہر جہت و سمت میں ہے) تو ضروری ہو جاتا ہے کہ ہماری عبادت تمثیل و تجسم کی صورت میں ہو، وہ یوں کہ پہلے مرحلہ میں ہماری قلبی توجہات، ان اختلافات کے باوجود، جو ان کی خصوصیات (مثلاً خضوع و خشوع اور خوف و رجا اور عش و جذبہ) میں پائے جاتے ہیں، پیشِ نظر ہوں، دوسرے مرحلہ میں انہی خصوصیات کو ان کی مناسب شکل و صورت میں اپنے افعال میں منعکس کریں، مثلاً اپنے قلبی خضوع و خشوع اور اپنی ذات کی حقارت و ذلت کے اظہار کے لئے اس کی بارگاہِ اقٹدس میں سجدہ ریز ہو جائیں اور اس بیرونی عمل کے ذریعہ اپنے اندرون کی کیفیت کا اظہار کریں۔ یا اگر چاہیں کہ اپنا اندونی احترام اور اس کی بارگاہ میں اپنی تعظیم کا اظہار کریں تو رکوع میں چلے جائیں، نیز اگر چاہتے ہیں کہ اپنی جان کا نذرانہ اس کے حضور پیش کریں تو اس کے گھر )(خانہ کعبہ) کے اطراف میں طواف کریں، اگر چاہیں کہ اس کی بزرگی کو بیان کریں تو سیدھے کھڑے ہو کر قیام کو بجا لائیں، اگر چاہیں کہ اس کی بارگاہ میں حاضر ہونے کے لئے خود کو پاک و پاکیزہ کریں تو غسل و وضو کریں اور اس طرح کی دوسری تمثیلات ہیں۔

اس بات میں بھی ذرہ برابر شک نہیں کہ بندہ کی عبادت کی روح، اس کی وہی اندرونی و قلبی بندگی اور قلبی کیفیت ہے جو وہ اپنے معبود کے لئے ظاہر کرتا ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو اس کی عبادت "بے روح" ہو گی بلکہو عبادت ہی شمار نہیں ہو گی۔ لیکن اس کے باوجود یہ قلبی توجہ کسی نہ کسی صورت میں مجسم ہونی چاہئے۔ غرض عبادت کو اپنے کمال، ثبات اور استقرار میں متحقق ہونے کے لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ کسی قالب میں ڈھالی جائے۔

جو کچھ اوپر بیان ہوا ہے اس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہے۔ اب یہ دیکھتے ہیں کہ مشرکین اپنی عبادت میں کیا کرتے تھے اور اسلام نے کیا کیا ہے؟ بس وثینوں، ستارہ پرستوں اور تمام دوسرے جسم پرستوں کا معبود یا تو کوئی انسان ہوتا یا کوئی اور جسم رکھنے والی چیز ہوتی، وہ اپنے لئے ضروری سمجھتے کہ عبادت کی حالت میں ان کا معبود ان کے نزدیک اور سامنے ہو، لہٰذا وہ اس کے سامنے کھڑے ہو کر اس کی عبادت کیا کرتے تھے۔

لیکن انبیاء کا دین، خصوصاً دینِ اسلام کہ فی الحال ہم اسی کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں، (اور اس کے بارے میں گفتگو درحقیقت دوسرے ادیان کے بارے میں گفتگو بھی ہے کیونکہ اسلام نے تمام انبیاء کی تصدیق کی ہے) جس طرح کہ ہم پہلے عرض کر چکے ہیں کہ دین اسلام نے عبادت کی روح انسان کی اندرونی کیفیت اور قلبی توجہ کو قرار دیا ہے، اس کے علاوہ ان حالات کو مثالی صورت دینے کے لئے بھی ایک نقشہ پیش کیا ہے، وہ یہ کہ اس نے کعبہ کو قبلہ قرار دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ تمام لوگ نماز کی حالت میں قبلہ رو کھڑے ہوں، کسی مسلمان کو خواہ وہ روئے زمین کے کسی خطہ پر ہی کیوں نہ ہو، اس کے ترک کرنے کے اجازت نہیں ہے، اسی طرح بعض حالات (مثلاً بیت الخلا میں) اس کی طرف منہ کرکے یا پشت کرکے بیٹھنے سے منع کیا ہے، اس کے علاوہ دوسرے کئی ایسے حالات ہیں جن میں قبلہ رو ہونا بہتر ہے۔

پس اس طرح سے اسلام نے دلوں کو اللہ کی طرف متوجہ کرکے طرہ پر ضبط کیا کہ جلوت و خلوت میں، قیام و قعود میں، خواب و بیداری میں، عبادت و مراسم میں، حتیٰ کہ پست ترین اور ناپسندیدہ ترین حالات میں بھی انسان اپنے پروردگار کو فراموش نہ کرے۔ یہ تو تھا انفرادی صورت میں"قبلہ" کو شرعی حیثیت دینے کا فائدہ۔

اب آتے ہیں اس کے اجتماعی فوائد کی طرف پس غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس کے فوائد تو انفرادی فائدہ سے بھی زیادہ عجیب، اس کے آثار زیادہ روشن اور زیادہ دلنشین ہیں، اسی لئے کہ تمام لوگوں کو ان کے زمان و مکان کے اختلاف کے باوجود ایک نقطہ کی طرف متوجہ کیا اور ایک مرکزی نقطہ پر اکٹھا کرکے ان کے درمیان فکری وحدت پیدا کر دی، ان کے معاشرتی رشتوں کو یکجا کر دیا اور ان کے دلوں کو آپس میں جوڑ دیا۔ یہ ایک ایسی لطیف ترین روح ہے جو بشریت کے ڈھانچے میں پھونک دی گئی ہے، ایک ایسی روح جو اپنی لطافت کی وجہ سے افراد کے تمام مادی و معنوی امور میں نفوذ کر سکتی ہے جس سے ایک ترقی پذیر معاشرہ، زیادہ سے زیادہ ہم آہنگ ہونے والا اتحاد اور طاقت ور ترین اجتماعی صورت وجود میں آ جاتی ہے۔ یہ ایک احسان ہے جو خداوندِ متعال نے اسلامی امہ کے لئے مخصوص کر دیا ہے۔ اسی کے ذریعہ اس نے دینی وحدت اور اجتماعی شوکت کو محفوظ رکھا ہے، جبکہ اس سے پہلے کئی قسم کے احزاب، گروہ، ٹولے اور جماعتیں تھیں جن کے رسوم و رواج جداگانہ اور طریقہ ہائے کار مختلف تھے، حتیٰ کہ دو انسان بھی ایسے نہیں تھے جو کسی ایک نظریہ پر متفق ہوں۔ یہ اللہ کا اسلامی امہ پر بہت بڑا احسان ہے جس کے لئے ہم کمال عاجزی کے ساتھ اس کے سپاس گزار ہیں۔

قبلہ کی تاریخی بحث

یہ بات متواتر اور قطعی ہے کہ خانہ کعبہ کے بانی حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے اور اس کے بعد اطرافِ کعبہ میں رہنے والے ان کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام اور قبائل عین میں سے ایک قوم بنا "جرہم" تھی۔ خانہ کعبہ کی عمارت تقریباً مربع کی صورت میں بنائی گئی جس کا ہر کونہ چاروں سمتوں (شمال، جنوب، مشرق اور مغرب) میں سے ہر ایک سمت کی طرف تھا، اس کی طرز تعمیر کچھ اس طرح کی تھی کہ ہوا جس طرف کی ہو، جس قدر بھی شدید ہو، اسے نقصان نہ پہنچا سکے، بلکہ اس تک پہنچنے کے ساتھ اس کا زور ٹوٹ جائے۔

حضرت ابراہیم کی بناکردہ یہ عمارت اپنی اسی حالت پر برقرار رہی یہاں تک کہ "عمالقہ" نے اسے ازسر نو تعمیر کیا اور پھر دوسری مرتبہ بنو جرہم نے (یا پہلے جرہم نے اور بعد میں عمالقہ نے) اسے بنایا۔

جب امورِ کعبہ کی زمام پیغمبرِ اکرم کے جد امجد جناب قصیٰ بن کلاب کے ہاتھوں تک پہنچی (ہجرت سے دو سو سال قبل) تو قضیٰ نے اسے گرا کر از سر نو تعمیر کیا اور اسے پہلے سے زیادہ مستحکم کیا، "دوم" (کھجور کے درخت سے ملتا جلتا درخت) کی شاخوں اور کھجور کی شاخوں سے اس پر چھت ڈالی، کعبہ مکرمہ کے ساتھ ہی ایک اور عمارت بنام "دارالندوہ" تعمیر کی جو درحقیقت ان کی حکومت اور اپنے ساتھیوں سے صلاح و مشورے کا مرکز تھی۔ پھر کعبہ کی اطراف کو قریش کے مختلف قبائل کے درمیان تقسیم کر دیا کہ ہر قبیلہ نے اس کے اطراف میں "مطاف" (مقام طواف) کے کنارے اپنے اپنے مکان بنا لئے جن کے گھروں کے دروازے مطاف کی طرف کھلتے تھے۔

بعض روایات کے مطابق بعثتِ نبوی سے پانچ سال پہلے ایک زبردست سیلاب آیا جس کی وجہ سے خانہ کعبہ منہدم ہو گیا اور قریش کے قبائل نے اس کی تعمیر کا کام اپنے ذمہ لیا۔ اس کی تعمیر کا کام ایک رومی باشندہ بنام "یاقوم" نے سرانجام دیا اور مصر کے ایک "بڑھئی" نے اس میں اس کا ہاتھ بٹایا۔ جب تعمیر اس مرحلہ پر پہنچی جہاں "حجراسود" کو نصب کرنا تھا تو ان کے قبائل کے درمیان جھگڑا کھڑا ہو گیا کہ یہ شرف کون سا قبیلہ حاصل کرے! آخرکار سب کا متفقہ فیصلہ ہوا کہ اسے (حضرت) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہی نصب کریں جبکہ اس وقت آپ کی عمر مبارک ۳۵ سال کی تھی، اور ان لوگوں کو آپ کی عقلمندی و محکم سوچ کا پختہ یقین ہو چکا تھا۔

چنانچہ آنحضرت نے حکم دیا کہ ایک چادر بچھائی جائے، اس پر حجر اسود کو رکھ دیا جائے اور قبائل کو حکم دیا کہ اس چادر کے چاروں کونوں کو پکڑ کر اٹھائیں اور حجر اسود کو اپنی جگہ یعنی کعبہ کے مشرقی رکن تک لے جائیں۔ جب حجر اسود کو اسی جگہ تک لے جایا گیا تو آپ ہی نے اسے اٹھا کر وہیں پر نصب فرما دیا۔

چونکہ خانہ کعبہ کی تعمیر کے اخراجات کافی سنگین تھے جس کی وجہ سے ان لوگوں کی ہمتیں جواب دے گئیں، لہٰذا اس کی بلندی کو اسی جگہ تک ہی رہنے دیا جو اس وقت ہے اور سابقہ عمارت کے حصہ سے حجر اسماعیل کی طرف سے ایک حصہ تعمیر ہونے سے رہ گیا جو حجر اسماعیل ہی کا حصہ بن گیا کیونکہ اسے سابقہ عمارت سے چھوٹا بنایا گیا تھا۔

یہ عمارت اسی طرح اپنے حال پر باقی رہی یہاں تک کہ یزید بن معاویہ کے دور میں عبداللہ بن زبیر حجاز پر مسلط ہوا۔ یزید نے اس کی سرکوبی کے لئے حصین (بن نمبر) ملعون کی کمان میں ایک لشکر بھیجا۔ فریقین کے درمیان زوروں کی جنگ ہوئی جس کے نتیجہ میں یزید کے لشکر نے منجنیقوں کے ذریعہ شہرِ مکہ پر پتھر برسانے شروع کر دیئے۔ اس طرح خانہ کعبہ کی تباہی ہوئی اور منجنیقوں کے ذریعہ شہر پر برسائی جانے والی آگ نے کعبہ کے پردے اور لکڑیوں کو جلا ڈلا۔

جب یزید کی ہلاکت کے بعد جنگ ختم ہو گئی تو ابنِ زبیر نے کعبہ کو ازسر نو تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے حکم کے مطابق یمن سے اعلیٰ قسم کا گچ (جپسم) منگئوایا گیا، اسے گچ سے تعمیر کیا گیا، حجر اسماعیل کو بھی خانہ کعبہ کا جزو بنا دیا گیا اور کعبہ کا دروازہ جو پہلے بلندی پر نصب تھا، اسے سطح زمین پر نصب کیا گیا۔ پھر پرانے دروازے کے بالمقابل ایک اور دروازہ رکھا گیا تاکہ لوگ ایک دروازے سے اندر آئیں اور دوسرے سے باہر نکل جائیں۔ کعبہ کی بلندی ستائیس ہاتھ (تقریبًا ساڑھے تیرہ میٹر) رکھی گئی اور جب کعبہ کی تعمیر سے فراغت ملی تو اسے مشک و عنبر کے ساتھ اندر و باہر سے معطر کر دیا گیا اس پر ریشم کا غلاف چڑھایا گیا اور ۱۷ رجب ۶۴ ھ میں اسے اس کام سے فراغت ہوئی۔

جب عبدالملک بن مروان تخت خلافت پر بیٹھا تو اس نے اپنے لشکر کے سردار حجاج بن یوسف کو حکم دیا کہ عبداللہ بن زبیر کی سرکوبی کے لئے مکہ جائے۔ چنانچہ حجاج نے اس شکست دی اور قتل کر دیا، پھر وہ خود بیت اللہ کے اندر گیا اور عبداللہ بن زبیر نے خانہ کعبہ کی جس قسم کی تعمیر کی تھی، اس نے اس سے عبدالملک کو اطلاع دی، عبدالملک نے حکم دیا کہ عبداللہ بن زبیر کی تعمیر کو ختم کرکے کعبہ کو اس کی پہلی صورت میں تعمیر کیا جائے۔ اس کے حکم کے مطابق حجاج کعبہ کی شمالی دیوار سے چھ ہاتھ اور ایک بالشت کے برابر گرا کر قریش کی رکھی ہوئی بنیاد تک جا پہنچا اور اپنی تعمیر کو اسی بنیاد پر استوار کیا، اس کے مشرقی دروازہ کو جسے ابن زبیر نے سطحِ زمین پر نصب کیا تھا، اوپر لے جا کر اس کی پہلی جگہ (سطحِ زمین سے تقریباً ڈیڑھ یا دو میٹر اوپر) نصب کیا، اس کے مقابل میں ابن زبیر کا رکھا ہوا مغربی دروازہ بھی اس نے بند کر دیا۔ اس کے بعد عمارت سے بچ جانے والے پتھروں سے کعبہ کی زمین کو فرش کر دیا۔

کعبہ کی یہی کیفیت سلطان سلیمان عثمانی (ترکی) کی حکومت تک باقی رہی۔ جب ۹۶۰ ھ میں سلطان عثمانی برسرِ اقتدار آیا تو اس نے کعبہ کی چھت کو تبدیل کر دیا اور جب سلطان احمد عثمانی ۱۱۲۱ ھ برسراقتدار آیا تو اس نے کعبہ کی مرمت کی۔

پھر چونکہ ۱۰۳۹ ھ میں ایک بہت بڑے سیلاب نے اس کی شمالی و مشرقی و مغربی دیواروں کو کافی نقصان پہنچایا تھا اس لئے سلطان مراد چہارم، ایک عثمانی بادشاہ، کے حکم کے مطابق اس کی مرمت کی گئی۔ اس کے بعد سے ۱۳۷۵ ھ (مطابق ۱۳۳۵ شمسی) تک اس میں کسی اور قسم کی تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔

خانہِ کعبہ کی شکل و صورت

خانہ کعبہ تقریباً مربع شکل کا ایک مکان ہے جو نیلے رنگ کے ٹھوس پتھروں سے بنایا گیا ہے اس کی بلندی سولہ میٹر ہے جبکہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں اس سے کہیں کم بلندی تھی فتحِ مکہ کی روایات سے جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اس وقت حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی کو اپنے کندھوں پر سوار کرکے اس میں موجود بتوں کو تڑوایا جو چھت کے ساتھ تھے، اور یہ ہمارے اس مدعا کو ثابت کرتی ہے۔

اس کا شمالی حصہ جہاں پر میزابِ رحمت اور حجرِ اسماعیل ہے، اسی طرح اس کے مقابل میں اس کا جنوبی حصہ دس میٹر اور دس سینٹی میٹر لمبے ہیں، جبکہ مشرقی حصے کی لمبا ئی جس میں کعبہ کا دروازہ بھی دو میٹر کی بلندی پر نصب ہے اور اس کے مقابل کے مغربی حصے کی لمبائی بارہ میٹر ہے۔ حجرِ اسود مطاف سے ڈیڑھ میٹر کی بلندی پر اس کے جنوبی حصے کی ابتدا میں نصب ہے۔ حجر اسود ایک ٹھوس، بھاری اور بیضوی شکل کا غیرتراشیدہ سرخی مائل سیاہ رنگ کا پتھر ہے۔ اس میں رنگ کے داغ اور زرد رنگ کی رگیں دکھائی دیتی ہیں، جو خودبخود جوش کھانے کی وجہ سے دراڑیں بن چکی ہیں

خانہ کعبہ کے چاروں کونے قدیم الایام سے چار ارکان کے نام سے موسوم چلے آ رہے ہیں، شمالی رکن کو "رکن عراقی" کہتے ہیں مغربی رکن کو "رکنِ شامی" کہتے ہیں، جنوبی رکن کو "رکنِ یمانی" اور رکنِ شرقی کو کہ جس میں حجر اسود نصب ہے، "رکنِ اسود" کہتے ہیں۔ خانہ کعبہ کے دروازے سے لے کر حجر اسود تک کی درمیانی منزل کو "ملتزم" کہتے ہیں کیونکہ کعبہ کا زائر اور طواف کرنے والا دعا و استغاثہ کرتے وقت اسی حصے سے متوسل ہوتا ہے۔

شمالی حصے کی دیوار پر پرنالہ کو "میزابِ رحمت" (یا رحمت کا پرنالہ) کہتے ہیں۔ سب سے پہلے حجاج بن یوسف نے اسے ایجاد کیا اور بعد میں عثمانی بادشاہ سلطان سفیان ترکی نے اسے ۹۵۴ میں وہاں سے ہٹا کر چاندی کا پرنالہ لگایا۔ پھر عثمانی بادشاہ سلطان احمد نے ۱۰۲۱ ھ میں اس کی جگہ چاندی کا میناکاری شدہ پرنالہ لگایا۔ اس پر گہرے نیلے رنگ کی میناکاری کی گئی تھی اور اس کے فاصلوں میں سونا لگایا گیا تھا۔ ۱۲۷۳ ھ کے آخر میں سلطان عبدالمجید عثمانی (ترکی) نے اسے یکسر سونے میں تبدیل کر دیا، آج تک وہی پرنالہ اپنی جگہ پر موجود ہے۔

اسی پرنالے کے مقابل میں قوس نما ایک دیوار ہے جسے "حطیم" کہتے ہیں۔ حطیم نیم دائرہ میں ہے یہ اس عمارت کا حصہ ہے جس کے دونوں اطراف اس کے شمالی (شرقی و جنوبی () اور مغربی کونے پر جا کر ختم ہو جاتے ہیں۔ البتہ یہ ودونوں اطراف مذکورہ زاویہ سے متصل نہیں ہیں، بلکہ وہاں تک پہنچنے سے پہلے ہی ختم ہو جاتے ہیں۔ اس کے دونوں اطراف سے دو راہرو ہیں جن کی لمبائی دو میٹر اور تیس سینٹی میٹر ہے۔ اس قوسی دیوار کی بلندی ایک میٹر اور چوڑائی ڈیڑھ میٹر ہے۔ اس کے اندر نقش و نگار سے مزین پتھر لگے ہوئے ہیں۔ اس قوس نما دیوار کا درمیانی فاصلہ اندر سے لے کر کعبہ کی دیوار کے درمیان تک ۸ میٹر اور ۴۴ سینٹی میٹر ہے۔

حطیم اور اس قوس نما دیوار کی درمیانی فضا کو "حجر اسماعیل" کہتے ہیں جس کا تقریباً تین میٹر کا حصہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بنائے ہوئے کعبہ میں شامل تھا لیکن بعد میں اسے اس سے باہر نکال دیا گیا۔ اسی لئے اسلام میں واجب ہے کہ خانہ کعبہ کا طواف کرتے وقت حجر اسماعیل کو بھی اسی میں شامل کیا جائے تاکہ حضرت ابراہیم کے زمانہ کا پورا کعبہ طواف میں شامل ہو جائے۔

اس فضا کا بقیہ حصہ حضرت اسماعیل اور حضرت ہاجرہ کی گوسفندوں کا باڑہ ہوتا تھا۔ بعض حضرات کے بقول یہی جگہ حضرت اسماعیل اور حضرت ہاجرہ کا مدفن ہے۔

یہ تھا خانہ کعبہ کا ہندسہ کے لحاظ سے ایک تفصیلی جائزہ۔ وہ تبدیلیاں جو اس میں رونما ہوتی رہیں اور وہاں پر انجام پانے والی رسومات، جو اسلام سے پہلے رائج تھیں، چونکہ ہمارے موضوع سے ان کا تعلق نہیں ہے، لہٰذا انہیں بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔

غلافِ کعبہ

ہم سورہ بقرہ میں حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل کے بارے میں آیات کی تفسیر میں ان روایات کو بیان کر چکے ہیں جو سرزمینِ مکہ میں ان کے تشریف لانے کے بعد کے حالات کو بیان کرتی ہیں، ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ خانہ کعبہ کی تعمیر کے مکمل ہو جانے کے بعد حضرت ہاجرہ نے اس کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا دیا تھا۔

لیکن وہ غلاف جو کعبہ کے تمام اطراف پر چڑھایا جاتا تھا، اس بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ اس کا آغاز شاہانِ یمن میں سے ایک شخص بنام ابوبکر اسعد نے کیا۔ اس نے خانہ کعبہ کو چاندی کی تاروں سے بنے ہوئے غلاف کے ساتھ ڈھانپا۔ وہ ایک ایسا پردہ تھا جس کے حواشی کو نقرئی تاروں سے بنایا گیا تھا۔ مذکورہ بادشاہ کے بعد اس کے جانشینوں نے اسی سلسلے کو جاری رکھا۔ اس کے بعد لوگ آتے رہے اور مختلف انداز کے مطابق اس پر غلاف چڑھاتے رہے اور وہ یوں کہ غلاف کے اوپر غلاف چڑھایا جاتا رہا۔ یعنی جب ایک غلاف کہنہ ہو جاتا تو اس کے اوپر ایک نیا غلاف چڑھا دیتے یہاں تک قصیٰ بن کلاب کا زمانہ آ گیا۔ انہوں نے غلافِ کعبہ کے لئے عربوں کے ذمہ لگا دیا کہ باہمی چندہ کرکے اس پر سالانہ نیا غلاف چڑھایا جائے۔ (اور ہر قبیلہ کے ذمہ ایک حصہ مقرر کر دیا)۔ یہی سلسلہ ان کی اولاد میں چلتا رہا جن میں سے ابو ربیعہ بن مغیرہ ایک سال یہ غلاف چڑھاتے اور دوسرے سال قریش کے دیگر قبائل۔

حضرت رسول خدا کے زمانہ میں آنجناب نے خانہ کعبہ پر یمانی چادر کا غلاف چڑھایا اور یہ سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ ایک عباسی خلیفہ مہدی بیت اللہ کی زیارت کے لئے آیا تو بیت اللہ کے خدام نے کعبہ کی چھت پر کپڑوں کے انبار کی شکایت کی اور کہا کہ پہلے ہی اس پر کپڑوں کا کافی بوجھ ہے، اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اس بات کا اندیشہ ہے کہ کہیں یہ چھت ہی زمین بوس نہ ہو جائے۔ مہدی عباسی نے حکم دیا کہ تمام غلافوں کو اتار لیا جائے اور ہر سال اس پر صرف ایک غلاف چڑھایا جائے۔ یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔

البتہ کعبہ کے اندر بھی ایک غلاف ہے، اور سب سے پہلے جس نے اندر غلاف چڑھایا وہ حضرت عباس بن عبدالمطلب کی والدہ تھیں جنہوں نے اپنے بیٹے عباس کے لئے نذر مانی تھی اور اس کے پورا ہونے پر غلاف چڑھایا۔

خانہ کعبہ کی قدرو منزلت

خانہ کعبہ مختلف اقوام و امم میں احترام و عظمت کے لحاظ سے خاص اہمیت کا حامل رہا ہے، مثلاً اہلِ ہند اس کا اس لئے احترام و تعظیم کرتے تھے کہ وہ اس بات کے معتقد تھے کہ "سلیفا" جو ان کے عقیدہ کے مطابق اقانیم ثلاثہ میں سے ایک "اقنوم" ہے کی روح حجر اسود میں حلول کر چکی ہے اور حلول اس وقت ہوا جب "سلیفا" اپنی بیوی کے ہمراہ حجاز کی زیارت کی غرض سے حجرِ اسود کی زیارت کو آیا۔

اسی طرح فارسیوں میں "صابئن" اور کلدانی بھی اس کی تعظیم کرتے تھے ان کا عقیدہ تھا کہ "کعبہ" ان سات گھروں میں سے ایک ہے جن کا تقدس مسلم ہے۔ ان سات گھروں میں کی تفصیل یہ ہے:

۱ ۔ "خانہ کعبہ" ۲ ۔ "مارس" جو اصفہان کے پہاڑ کی ایک چوٹی پر واقع ہے۔

۳ ۔ "مندوسان" جو بلادِ ہند میں واقع ہے۔

۴ ۔ "نوبہار" جو بلخ میں ہے۔

۵ ۔ "بیت غمدان" جو یمن کے شہر صلفأ میں ہے۔

۶ ۔ "کاؤسان" جو صوبہ خراسان کے شہر، فرغانہ میں ہے۔

۷ ۔ وہ گھر جو چین کے ایک بلندترین شہر میں ہے۔

نیز یہ بھی کہا جاتا ہے کہ "کلدانیوں" کا یہ عقیدہ تھا کہ خانہ کعبہ ستارہ زخل کا گھر ہے کیونکہ یہ ایک تاریخی گھر ہے اور اس کی عمر کافی طولانی ہے۔

قدیم فارس کے لوگ بھی اس کا احترام کرتے تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ "ھرمُز" کی روح اس میں حلول کر چکی ہے اور بعض اوقات وہ خانہ کعبہ کی زیارت بھی کیا کرتے تھے۔

یہودی بھی اس کی تعظیم کرتے تھے اور وہاں جا کر دینِ ابراہیمی کے مطابق عبادت کیا کرتے تھے۔

خانہ کعبہ کے اندر کچھ تصویریں اور بتوں کے مجسمے بھی تھے جن میں حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی تصویروں کے مجسمے بھی شامل تھے۔ جن کے ہاتھوں میں "ازلام" کی چھڑیاں تھیں۔ انہی مجسموں میں "مریم عذرا" اور "عیسیٰ مسیح" کے مجسمے بھی تھے۔ یہ بات اس امر کی شاہد ہے کہ کعبہ کا احترام یہودی بھی کرتے تھے اور نصرانی بھی۔

عرب بھی اس کی مکمل تعظیم کرتے تھے اور اسے خداوند کا گھر سمجھتے تھے، اس کی زیارت کے لئے چاروں طرف سے سمٹ کر آتے تھے اور اسے ابراہیم علیہ السلام کا بنایا ہوا گھر جانتے تھے۔ اسی طرح حج کا مسئلہ بھی عربوں کے دین کا ایک جزو تھا جو وراثت کے طور پر ان کی نسلوں میں چلا آ رہا تھا۔

خانہ کعبہ کی تولیت

ابتدا ہی سے خانہ کعبہ کی تولیت حضرت اسماعیل علیہ السلام کے پاس تھی۔ ان کے بعد ان کی اولاد کے پاس آ گئی۔ یہ سلسلہ چلتا رہا، یہاں تک کہ "بنوجرھم" نے حضرت اسماعیل کے خاندان پر حملہ کرکے ان پر غلبہ حاصل کر لیا اور کعبہ کی تولیت بھی ان سے چھین کر اپنے ساتھ مخصوص کر لی۔ بنی جرہم کے بعد یہ تولیت "عمالقہ" کے قبضہ میں آ گئی۔ عمالقہ، بنی کرکر میں سے ایک قبیلہ تھا جو بنی جرہم کے ساتھ برسرِ پیکار رہتا تھا۔

عمالقہ ہر سال سردی اور گرمی میں اپنی منزلیں بدلتے رہتے تھے۔ ان کا خانہ بدوشی کا یہ سفر مکہ کے نشیبی علاقوں میں جاری رہتا جبکہ بنی جرہم کے لوگوں کی خانہ بدوشی کا سرمائی اور گرمائی سلسلہ مکہ کے بالائی علاقوں میں ہوتا۔

حوادثاتِ زمانہ کے تحت بنی جرہم کو ایک بار پھر عمالقہ پر غلبہ پانے کا موقع ملا تو خانہ کعبہ کی تولیت بھی ان کے قبضہ سے واپس لے لی اور تقریباً تین سو سال تک وہ اس کے متولی رہے، انہوں نے حضرت ابراہیم کے بنا کردہ گھر میں کچھ ترمیمات و اضافے کئے اور اس کی دیواروں کو بلند کیا،

جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل بڑھی، پھلی پھولی اور ان میں قدرت و شوکت پیدا ہوئی تو مکہ کی سرزمین ان کے لئے تنگ ہوتی نظر آئی، مجبوراً انہیں یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ بنی جرہم کو مکہ سے باہر نکال دیا جائے۔ بالآخر جنگ و جدال کے ذریعہ انہیں وہاں سے بھگا دیا گیا۔

ان دنوں حضرت اسماعیل کی اولاد کا سردار اور بزرگ "عمرو بن لحی" تھا۔ اس نے مکہ پر قبضہ کرکے خانہ خانہ کی تولیت خود سنبھال لی یہ وہی عمرو بن لحی تھا جس نے خانہ کعبہ کی چھت پر بت رکھ دیئے تھے اور لوگوں کو ان کی پرستش کی دعوت دی تھی، سب سے پہلا بت جو کعبہ کی چھت سے متصل ہوا اس کا نام "ہُبل" تھا۔ جسے وہ شام سے اپنے ساتھ مکہ لایا اور خانہ کعبہ کی چھت پر آ کر رکھ دیا تھا اس کے بعد رفتہ رفتہ دوسرے بت لانے لگا یہاں تک کہ ایک بہت بڑی تعداد میں بت جمع ہو گئے، بت پرستی کا رواج عربوں میں پھیل گیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بتایا ہوا "دین حنیف" اور "توحیدپرستی" کی بساط لپیٹ دی گئی۔

اسی مناسبت سے بنی جرہم کا ایک شاعر بنام "شحنہ بن حلف" عمرو بن لحی کو مخاطب کرکے کہتا ہے

یا عمرو انک قد احدثت الهة- شتی بمکة حول البیت انصابا

وکان البیت رب واحد ابدا- فقد جعلت له فی الناس او بابا

لتعرفن بان الله فی مهل- سیصطفی دونکم للبیت حجابا

یعنی۔ اے عمرو! یہ تو ہی تھا جس نے مختلف خدا گھڑ کر بیت اللہ کے اطراف میں نصب کر دیئے۔ خانہ کعبہ کا تو صرف ایک ہی ابدی رب ہے، مگر یہ تو تھا کہ لوگوں کو شرک و مختلف خداؤں (ارباب) کی طرف دعوت دی۔ تمہیں بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ خداوندِ تعالیٰ مستقبل قریب میں تمہیں ہٹا کر اپنے گھر کے لئے دوسروں کو حاجب و نگہبان مقرر فرمائے گا۔

خانہ خدا کی تولیت "حلیل خزاعی" کے زمانہ تک اسی طرح بنی خزاعہ میں باقی رہی، اور حلیل نے اپنے بعد یہ تولیت اپنی بیٹی کو جو قصیٰ بن کلاب کی زوجہ تھیں، خانہ کعبہ کے کھولنے اور بند کرنے یا بااصطلاح "کلید برداری" کا اختیار بنی خزاعہ میں سے ایک شخص "ابوغبئان" خزاعی کو دے دیا۔ لیکن ابو غبئان نے ایک اونٹ اور ایک پیالہ شراب کے بدلہ یہ منصب قصی بن کلاب کے ہاتھوں بیچ دیا، ابو غبئان کا یہ اقدام عربوں میں ایک ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر گیا کہ جب بھی کوئی احمقانہ اور نقصان دہ معاملہ طے پاتا تو وہ کہتے "اخسر من صفتة ابی غبئان" یعنی یہ معاملہ تو ابی غبئان کے معاملہ سے بھی زیادہ نقصان دہ ہے۔

انجام کار کعبہ کی تولیت اور سرپرستی مکمل طور پر قریش میں منتقل ہو گئی، اور قصیٰ بن کلاب نے خانہ کعبہ کی از سر نو تعمیر کی جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ یہ صورت حال اسی طرح باقی رہی یہاں تک کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ کو فتح کیا اور خانہ کعبہ کے اندر جا کر حکم دیا کہ کعبہ میں موجود تمام تصویروں اور بتوں کو مٹا دیا جائے چنانچہ بتوں کو توڑ دیا گیا اور تصویریں مٹا دی گئیں، مقامِ ابراہیم کو جس پر آنجناب کے دونوں قدموں کے نشان ہیں اور اس وقت تک کعبہ کے نزدیک ایک طرف میں تھا، اٹھا کر اس کی اسی جگہ پر مدفون کر دیا جہاں پر اب ہے اور آج اس پر ایک قبہ سا بنا ہوا ہے جس کے چار ستون ہیں اور ان ستونوں پر چھت بنی ہوئی ہے۔ طواف کرنے کے بعد خانہ خدا کے زائر اس کے ساتھ نمازِ طواف پڑھتے ہیں۔

کعبہ اور اس سے متعلق دیگر چیزوں کے بارے میں روایات بہت زیادہ ہیں لیکن ہم نے صرف اسی پر اکتفا کیا ہے، وہ بھی صرف اسی لئے کہ قارئین کو حج اور کعبہ سے متعلق آیات پڑھنے کے وقت اس کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔

اس گھر کی جسے خدا نے بابرکت اور ہدایتِ خلق کا موجب قرار دیا ہے ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اسلام کے کسی بھی فرقہ نے اس کی شان اور عظمت کے بارے میں آج تک اختلاف نہیں کیا۔


فصل۔ ۳

تقبل (بوسہ)

( ۱) بوسہ لینا

۱۶۲۸۰ ۔ اولاد کا بوسہ لینا رحمت ہے، بیوی کا بوسہ لینا شہوت ہے، والدین کا بوسہ لینا عبادت ہے اور (دینی) بھائیوں کا، بوسہ دین داری ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۱۰۴ ص ۹۳

۱۶۲۸۱ ۔ منہ کے بوسے لینا صحیح نہیں ہیں سوائے بیوی کے یا چھوٹی اولاد کے۔

امام جعفر صادق علیہ السلام) کافی جلد ۲ ص ۱۸۶ ۔ بحارالانوار جلد ۷۶ ص ۴۱

۱۶۲۸۳ ۔ جب تم میں سے کوئی شخص اپنی کسی محرم خاتون مثلاً، بہن، پھوپھی یا خالہ کو بوسہ دے اور وہ اس وقت حیض کی حالت میں ہو تو اسے چاہئے کہ اس کی پیشانی، آنکھوں اور سر کے درمیان بوسہ دے۔ اس کے رخسار اور منہ پر بوسہ دینے سے اجتناب کرے۔

(حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بحار الانوار جلد ۷۶ ص ۴۲

۔۔۔جابر (بن عبداللہ انصاری) کہتے ہیں کہ میں حضرت رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ پر سلام کیا تو آپ نے میرا ہاتھ پکڑ کر بھینچا اور فرمایا: "انسان کا اپنے بھائی کے ہاتھ کو بھینچنا بھی بوسہ ہوتا ہے"

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۶ ص ۲۳

۱۶۲۸۳ ۔ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جابر انصاری نے کہا: "رسول خدا نے "مکاعمہ" اور "مکامعہ" سے منع فرمایا ہے۔

اور "مکاعمہ" مرد کا مرد کے بوسے لینا ہے، اور "مکامعہ" مرد کا مرد کے ساتھ بغیر ضرورت کے ایک ہی چادر میں سونا ہے۔

بحارالانوار جلد ۷۶ ص ۲۱

( ۲ مومن کا بوسہ

۱۶۲۸۴ ۔ یقیناً تمہیں ایک نور عطا کیا گیا ہے جس کے ذریعہ تم دنیا میں پہچانے جاتے ہو حتیٰ کہ اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے (مومن) بھائی کی ملاقات کرے تو اسے چاہئے کہ وہ اس کی پریشانی پر نور کی جگہ کا بوسہ لے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۸ ص ۵۶۶ بحارالانوار جلد ۷۶ ص ۳۷

۱۶۲۸۵ ۔ نہ تو کسی شخص کے سر کو بوسہ دیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ہاتھوں کو سوائے رسول اللہ کے سر اور ہاتھوں، یا پھر جس شخص کے ذریعہ رسول خدا کو بوسہ دینا مقصود ہو۔ (یعنی اس کی مراد یہ ہو کہ اس طرح گویا میں رسول خدا کے ہاتھوں یا سر کو چوم رہا ہوں)

(امام جعفر صادق علیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ص ۵۶۵ ، بحارالانوار جلد ۷۶ ص ۳۷

۱۶۲۸۷ ۔ ۹; عبداللہبن عمر ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم ان (حضرت رسول خدا) کے قریب پہنچے اور آپ کے ہاتھوں کے بوسے لئے۔

سنن ترمذی حدیث ۵۲۲۳ ۔


فصل۔ ۴

قتل

(۱) قتلِ انسان

قرآن مجید:

( من اجل ذالک…………………………جمیعاً ) (مائدہ/ ۳۲)

ترجمہ۔ اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر واجب کر دیا تھا کہ جو شخص کسی کو نہ تو جان کے بدلہ اور نہ ہی زمین میں فساد پھیلانے کی سزا میں (بلکہ ناحق) قتل کر ڈالے گا تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کر ڈالا اور جس نے ایک آدمی کو زندہ کر دیا تو گویا اس نے سب لوگوں کو جلا لیا۔

( ولا تفتلوا النفس……………………………………سلطان ) (بنی اسرائیل ۳۳)

ترجمہ۔ اور جس جان کا مارنا اللہنے حرام کیا ہے اسے قتل نہ کرنا، مگر جائز طور پر اور جو شخص ناحق مارا جائے تو ہم نے اس کے وارث کو (قاتل پر قصاص کا) کا اختیار دیا ہے

(قولِ مولف مزید آیات کے لئے ملاحظہ ہو سورہ نساءء/ ۲۹ ۔ ۹۲ ۔ ۹۳

مائدہ/ ۲۸ ۔ ۳۲ ۔ انعام/ ۱۳۹ ۔ ۱۴۰ ۔ ۱۵۱ ۔ بنی اسرائیل/ ۳۱ ۔ ۳۳ الکھف/ ۷۴ فرقان/ ۶۸ ۔ تکویر/ ۹

حدیث شریف

۱۶۲۸۸ ۔ سب سے بڑا سرکش اور نافرمان وہ انسان ہے جو ایسے شخص کو قتل کرے جس نے اسے قتل نہیں کیا یا ایسے شخص کو مارے جس نے اسے نہیں مارا۔

(حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) امالی صدوق ص ۱۲۶

۱۶۱۸۹ ۔ ۹; اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا نافرمان اور اس کے آگے سرکشی کرنے والا شخص وہ ہے جو ایسے شخص کو قتل کرے جس نے اسے قتل نہیں کیا اور ایسے شخص کو مارے جس نے اسے نہیں مارا۔

امام جعفر صادق علیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۱۹ ص ۶

۱۶۲۹۰ ۔ بندہ اس وقت تک دین کی دی ہوئی آزاد فضاؤں میں رہتا ہے جب تک کسی ناحق خون میں اپنے ہاتھ رنگین نہیں کرتا۔

(حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کنز العمال حدیث ۳۹۹۰۷

(امام جعفر صادق علیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۱۹ ص ۵ اور اس کتاب میں

"بندہ" کی بجائے "مومن" کا لفظ ہے۔ فروع کافی جلد ۷ ص ۲۷۲

۱۶۲۹۱ ۔ بندہ کا دل ہمیشہ اس وقت تک ترغیب اور خوف کو قبول کرتا رہتا ہے جب تک کہ وہ کسی کا ناحق خون نہیں بہاتا۔ پھر جب وہ کسی کا ناحق بہاتا ہے تو اس کا دل الٹا ہو جاتا ہے اور گناہ کی وجہ سے اس کی رنگت ایسی سیاہ ہو جاتی ہے جیسے کالی تارکول ہوتی ہے، اس کے بعد وہ نہ تو نیکی کو نیکی جانتا ہے اور نہ ہی برائی کو برائی۔

(حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کنزل العمال حدیث ۳۹۹۵۱

۱۶۲۹۲ ۔ قیامت کے دن سب سے پہلے جس مقدمہ کا فیصلہ ہو گا وہ خون کا مقدمہ ہو گا۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۳۹۸۸۷ ، الترغیب و الترہیب جلد، ۳ ص ۲۹۲ ۔ اسے بخاری، مسلم، ترمذی اور ابن ماجہ نے بھی روایت کیا ہے۔

۱۶۳۹۳ ۔ ۹; اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب سے پہلے جس چیز کا فیصلہ فرمائے گا وہ خون کا فیصلہ ہو گا۔ چنانچہ فرزندان آدم (ہابیل و قابیل) کو اللہ کے سامنے پیش کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ پھر ان لوگوں کو پیش کیا جائے گا جو ان کے زمانہ سے قریب تر ہوں گے۔ اس سلسلہ میں کوئی شخص باقی نہیں بچے گا۔ پھر اس کے بعد دوسرے لوگ پیش ہوں گے، ہر مقتول اپنے قاتل کے ہمراہ ہو گا، اس کا چہرہ خون سے رنگین ہو گا اور بارگاہِ رب العزت میں عرض کرے گا: "خداوندا! اس نے مجھے قتل کیا: "اس پر اللہ تعالیٰ قاتل سے کہے گا "کیا تو نے اسے قتل کیا تھا؟" اس وقت وہ کوئی بات نہیں چھپا سکے گا۔

(حضرت رسول اکرم) وسائل الشیعہ جلد ۱۹ ص ۴

۱۶۲۹۴ ۔ ۹; اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ بن عمران کی طرف وحی فرمائی: "اے موسیٰ! بنی اسرائیل سے کہہ دو کہ اے بنی اسرائیل! کسی شخص کو ناحق قتل نہ کرو کیونکہ تم میں سے جو شخص کسی کو دنیا میں قتل کرے گا اسے اس کے بدلہ میں ایک لاکھ مرتبہ اسی طرح قتل کیا جائے گا جس طرح اس نے قتل کیا ہو گا۔"

(حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۱۹ ص ۶

۱۶۳۹۵ ۔ خون بہانے کے معاملہ میں تمہیں تمہارے دونوں ہاتھوں کا کھلا ہونا مغرور نہ کر دے اس لئے کہ قاتل کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ایسا قاتل بھی ہے جس میں اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔ لوگوں نے عرض کیا: "یارسولاللہ! وہ کونسا ایسا قاتل ہے جسے موت نہیں آئے گی؟" فرمایا: "جہنم"!

(حضرت رسول اکرم) وسائل الشیعہ جلد ۱۹ ص ۴

۱۶۲۹۶ ۔ ۹; اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام دنیا کا یکبارگی خاتمہ کر دینا ناحق خون بہائے جانے سے زیادہ آسان ہے۔

(حضرت رسول اکرم) الترغیب و الترہیب جلد ۳ ص ۲۹۳ اسے بیہقی نے بھی روایت کیا ہے۔

۱۶۲۹۷ ۔ (قیامت کے دن) مقتول اپنے قاتل کا ہاتھ پکڑے ہوئے آئے گا اور رب العزت کے حضور اس حالت میں پیش ہو گا کہ اس کی رگوں سے خون بہہ رہا ہو گا۔ وہ بارگاہ رب العزت میں فریاد کرے گا کہ "اے پرورگار! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا تھا؟" اللہ تعالیٰ اس سے سوال کرے گا: "تونے اسے کیوں قتل کیا تھا؟" وہ جواب دے گا: "میں نے اسے فلاں شخص کو عزت دینے کے لئے قتل کیا تھا! اسے جواب ملے گا: "عزت تو اللہ ہی کے لئے ہے!"

(حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الترغیب و الترہیب جلد ۳ ص ۲۹۶

۱۶۲۹۸ ۔ جو شخص بھی ناحق یا برحق قتل کیا جاتا ہے وہ قیامت کے دن ایسی حالت میں محشور ہو گا کہ اپنے قاتل کو اپنے دائیں ہاتھ سے پکڑے ہوئے ہو گا اور بائیں ہاتھ میں اس کا اپنا سر ہو گا، اس کی رگوں سے خون جاری ہو گا اور وہ کہے گا: "پروردگارا! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا تھا؟" اگر تو اس نے اسے اطاعت خداوندی کے لئے قتل کیا ہو گا تو اسے ثواب ملے گا اور مقتول کو جہنم میں بھیج دیاجائے گا، اگر کسی انسان کو راضی کرنے کے لئے کیا تھا تو مقتول سے کہا جائے گا کہ تو بھی اسے ویسے ہی قتل کر جس طرح اس نے تجھے قتل کیا تھا۔ پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق عمل فرمائے گا۔

(حضرت امام محمد باقر علیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۱۹ ص ۵ ۔ فرغ کافی جلد ۷ ص ۲۷۲

۱۶۲۹۹ ۔ ایک شخص دوسرے شخص کا ہاتھ تھامے بارگاہ رب العزت میں پیش ہو گا اور عرض کرے گا: "پروردگارا! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا تھا؟" قاتل جواب دے گا: پروردگارا! اسے میں نے تیری عزت کی خاطر قتل کیا تھا!" اللہ تعالیٰ فرمائے گا: "بے شک عزت میرے ہی لئے ہے!" پھر ایک اور شخص ایک دوسرے آدمی کا ہاتھ پکڑے ہوئے آئے گا اور کہے گا: "پروردگارا! اس نے مجھے قتل کیا ہے!" اللہ تعالیٰ قاتل سے پوچھے گا: "تونے اسے کیوں قتل کیا؟" قاتل جواب دے گا: "اس لئے کہ فلاں شخص کوعزت ملے!" اللہ تعالیٰ فرمائے گا: "عزت (میرے سوال) کسی اور کے لئے نہیں ہے!" اس کے بعدوہ گناہوں میں جکڑ دیا جائے گا۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۳۹۹۰۹

۱۶۳۰۰ ۔ ۹; اللہ تعالیٰ نے انسان کے قتل کے قتل کو اس لئے حرام قرار دیا ہے کہ اگر اس کا قتل حلال ہوتا تو مخلوق میں فساد پیدا ہو جاتا، دنیا تباہ ہو جاتی اور سارا نظام بگڑ جاتا۔

(امام رضا علیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۱۹ ص ۶

۱۶۳۰۱ ۔ حمران کہتے ہیں کہ میں نے امام محمد باقر علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں سوال کیا کہ اس کے کیا معنی ہیں: "من اجل ذالکتاقتل الناس جمیعاً" (مائدہ/ ۳۲)

"اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جو صرف ایک انسان کو قتل کرے گا وہ گویا ساری انسانیت کا قاتل قرار پاتا ہے؟"

امام علیہ السلام نے فرمایا: "اسے جہنم کے ایسے مقام میں رکھا جائے گا جہاں جہنمیوں کے عذاب کی آخری حد ہو گی۔ گویا اگر وہ ساری انسانیت ہی کو قتل کر ڈالے گا تو بھی اسی جگہ ہی اسے عذاب ملے گا۔" میں نے عرض کیا: "اگر ایک اور انسان کو قتل کر ڈالے تو پھر؟" آپ نے فرمایا: "اسے اس کادوگنا عذاب ملے گا"

فروع کافی جلد ۷ ص ۲۷۱

(قولِ مولف: تفسیرالمیزان میں ہے کہ حمران نے جو یہ پوچھا کہ اگر کسی اور شخص کو قتل کر ڈالے، اس اشکال کی طرف اشارہ ہے جو اس سے پہلے بیان ہو چکا ہے کہ آیت مجیدہ ایک انسان کے قتل کی سزا، کئی انسانوں کے قتل کی سزا کے برابر قرار دے رہی ہے اس پر امام علیہ السلام نے فرمایا: "اس کا عذاب دوگنا ہو گا"

ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص یہاں یہ اشکال کرے کہ امام علیہ السلام نے اس برابری سے دستکشی اختیار کر لی ہے، آیت نے جس کا حکم دیا ہے، یعنی آیت تو کہہ رہی ہے کہ"ایک شخص کا قتل کرنا تمام لوگوں کے قتل کے برابر ہے" لیکن روایت کہہ رہی ہے کہ برابر نہیں ہے! لیکن حقیقت میں یہ اشکال وارد نہیں ہو سکتا کیونکہ "منزلت کی برابری" یعنی ایک شخص کا قتل بمنزلت تمام لوگوں کے قتل کے ہےاس کا تعلق عذاب کی کیفیت سے ہے نہ کہ مقدار کی کیفیت سے۔ لہٰذا واضح ترین الفاظ میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ ایک شخص کا قاتل اور تمام لوگوں کا قاتل ہر دو جہنم کے ایک ہی مقام میں ہوں گے، لیکن ایک شخص سے زائد کے قاتل کا عذاب دوگنا ہو گا۔ اسی لئے روایات میں آیا ہے کہ اگر کوئی آدمی تمام لوگوں کو بھی قتل کر ڈالے تو بھی اسی جگہ عذاب میں ہو گا۔

ہماری اس گفتگو کی شاہد وہ روایت ہے جسے عباسی نے اسی آیت کی تفسیر کے سلسلہ میں حمران کے ذریعہ سے امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کیا ہے، امام علیہ السلام فرماتے ہیں: "جہنم میں ایک مقام ایسا ہے جہاں اہلِ جہنم کے عذاب کی شدت اپنی آخری حدوں تک ہوتی ہے اور قاتل کو اسی میں ڈالا جائے گا" حمران کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: "اگر وہ دو آدمیوں کو قتل کر ڈالے تو پھر کیا ہو گا؟" امام نے فرمایا "کیا تم یہ نہیں جانتے ہو کہ جہنم میں ایک ایسی جگہ بھی ہے جس کا عذاب اس قدر شدید ہے کہ اس سے بڑھ کر کسی اور جگہ کا عذاب اس سے شدید تر نہیں ہے" پھر فرمایا: "اسی جگہ پر اس قاتل کا عذاب اس کے قتل کے حساب سے دوگنا ہوتا جائے گا" پس امام علیہ السلام کا "نفی" اور "اثبات" میں جمع کرنا اس توجہ کے علاوہ اور کچھ نہیں جو ہم نے روایات کی طرف دلائی ہے اور وہ یہ کہ برابری اور مساوات عذاب کی مقدار میں نہیں بلکہ اس کی کیفیت میں ہے جس کی طرف لفظ "منزلت" اشارہ کر رہا ہے۔ البتہ اختلاف خود عذاب اور اس کی اذیتوں کے بارے میں ہے جن سے قاتل کو دوچار ہونا پڑے گا۔

ہماری گفتگو کا ایک اور شاہد فی الجملہ وہ روایت ہے جو خدان بن سدیر نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کی ہے۔ امام نے اس آیت "( من قتل نفسافکا نما قتل الناس جمعیاً ) " کے ضمن میں ارشاد فرمایا: "جہنم میں ایک گہری وادی ہے کہ اگر کوئی شخص تمام لوگوں کو قتل کر ڈالے تو اسے اسی وادی میں جھونکا جائے گا اور اگر کوئی ایک شخص کو مار ڈالے تو بھی اسے وہیں ڈالا جائے گا"

علامہ طباطبائی فرماتے ہیں: اس روایت میں آیت شریفہ بعینہ ذکر نہیں کی گئی بلکہ اس کے معنی کو ذکر کیا گیا ہے،

تفسیر المیزان جلد ۵ ص ۳۲۲

( ۲) مومن کا قتل

قرآن مجید،

( ومن یقتل موٴمنا متعمدا………………………………عذابا عظیما ) (نسأ/ ۹۳)

ترجمہ۔ اور جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کر ڈالے اس کی سزا دوزخ ہے اور وہ اس میں ہمیشہ رہے گا، اس پر اس نے اپنا غضب ڈھایا، اس پر لعنت کی اور اس کے لئے بڑا سخت عذاب تیار کر رکھا ہے۔

حدیث شریف

۱۶۳۰۲ ۔ حجة الوداع کے موقع پر پیغمبرِ اکرم کے خطبہ سے اقتباس: "لوگو! تمہارا خون اور تمہارا مال بھی اسی طرح محترم ہے جس طرح آج کے دن (عرفہ) کی، اس مہینہ (ذیحجہ) کی اور اس شہر )(مکہ) کی حرمت ہے، یہ حرمت (قیامت کے دن تک) برقرار رہے گی جس دن تم اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہو گے اور وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں سوال کرے گا۔"

وسائل الشیعہ جلد ۱۹ ص ۳

۱۶۳۰۳ ۔ ایک ایسے مقتول کے بارے میں ارشاد فرمایا جس کے قاتل کا پتہ نہیں چل رہا تھا: "ایک مسلمان قتل ہو جائے اور اس کے قاتل کا پتہ نہ چل سکے (تعجب کی بات ہے؟) ، مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر تمام اہلِ آسمان و زمین مل کر بھی کسی ایک مومن کو قتل کر دیں یا اس کے قتل پر راضی ہوں تو اللہ تعالیٰ ان سب کو جہنم میں داخل کرے گا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، جو شخص کسی کو کوڑا مارتا ہے تو اسے کل (قیامت کے دن) جہنم کی آگ میں اس جیسا کوڑا مارا جائے گا۔

(حضرت رسول اکرم) امالی طوسی  ص ۱۲۶

۱۶۳۰۴ ۔ اے لوگو! میرے ہوتے ہوئے کوئی شخص قتل ہو جائے اور اس کے قاتل کا پتہ نہ چلے (کیا یہ تعجب کی بات نہیں ہے؟)، اگر تمام (اہلِ) آسمان و زمین کسی ایک مسلمان کے قتل پر جمع ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ ان سب کو بغیر تعداد و حساب سزا دے گا۔

(حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کنزالعمال حدیث ۳۹۹۵۲

۱۶۳۰۵ ۔ جو شخص کسی مومن کے قتل کے لئے کسی کلمہ کی ایک جزو کے ذریعہ بھی کسی کی امداد کرے گا تو وہ اللہ تعالیٰ کے حضور اس حالت میں پیش ہو گا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان (پیشانی پر) یہ لکھا ہوا ہو گا "الل کی رحمت سے مایوس"

(حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کنزالعمال حدیث ۳۹۸۹۵

۱۶۳۰۶ ۔ ایک شخص بہشت کے دروازے پر پہنچ کر بہشت کو دیکھنے سے اس لئے ہٹا دیا جائے گا کہ اس نے ایک مسلمان کا پچھنے کے ذریعہ ناحق خون نکالا ہو گا۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۳۹۹۲۱

۱۶۳۰۷ ۔ جان بوجھ کر مومن کو قتل کرنے والے کو توبہ کی توفیق حاصل نہیں ہوتی۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۱۹ ص ۵

۱۶۳۰۸ ۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک مومن کے بارے میں پوچھا گیا جو دوسرے مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو کیا اس کی توبہ قبول ہو گی۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: "اگر اس نے اسے مومن ہونے کی وجہ سے قتل کیا ہے تو اس کے لئے توبہ نہیں ہے اور اگر غصے یا کسی اور دنیوی سبب کی بنا پر قتل کیا ہے تو اس کی توبہ یہ ہے کہ اس سے اس کا بدلہ لیا جائے۔

وسائل الشیعہ جلد ۱۹ ص ۱۹

۱۶۳۰۹ ۔ ۹; اللہ تعالیٰ کے نزدیک ساری دنیا کا فنا ہو جانا اس بات سے زیادہ آسان ہے کہ کسی ایک مسلمان کو قتل کر دیا جائے۔

(حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الترغیب و الترہیب جلد ۳ ص ۲۹۳

اسے مسلم، نسائی اور ترمذی نے بھی روایت کیا ہے،

۱۶۳۱۰ ۔ ۹; اللہ کے نزدیک ایک مومن کے قتل ہونے کی عظمت ساری دنیا کے فنا ہو جانے سے زیادہ ہے۔

(حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الترغیب و الترہیب جلد ۳ ص ۲۹۴ ۔ کنزالعمال حدیث ۳۹۸۸۰ ۔ اسے نسائی اور () نے بھی روایت کیا ہے،

۱۶۳۱۱ ۔ جو شخص کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہ قاتل کے نام لکھ دے گا اور مقتول ان گناہوں سے بری الذمہ ہو جائے گا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں (ہابیل کی زبانی) فرماتا ہے: "( انی اریدان تبوء بائمی واثمک فتکون من اصحاب النار ) " (یعنی ہابیل نے قابیل سے کہا) میں تو ضرور یہ چاہتا ہوں کہ میرے گناہ اور تیرے گناہ دونوں تیرے سر جائیں، تو جہنمی بن جائے۔ (مائدہ/ ۲۹)

(امام محمد باقر علیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۱۹ ص ۷

(۳) قتل کے جائز ہونے کی وجوہات

قرآن مجید

( من قتل نفسا بغیر نفس…………………………قتل الناس جمیعاً ) ۔ (مائدہ/ ۳۲)

ترجمہ۔ جو شخص کسی کو نہ نہ تو جان کے بدلہ میں اور نہ ہی زمین میں فساد پھیلانے کی سزا میں (بلکہ ناحق) قتل کر ڈالے گا تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کر ڈالا۔

حدیث شریف

۱۶۳۱۲ ۔ کسی ایسے مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں ہے جو گواہی دیتا ہو کہ اللہ معبودِ حقیقی کے سوا کوئی اور عبادت کے لائق نہیں اور میں (محمد مصطفی) اللہ کا رسول ہوں، مگر تین وجوہات میں سے کسی ایک کے تحت:

۱ ۔ جس شخص نے شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کیا، تو اسے سنگسار کیا جائے گا۔

۲ ۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول کے خلاف لڑنے کے لئے خروج کیا، تو اسے یا قتل کر دیا جائے گا یا سولی پر لٹکایا جائے گا یا پھر ملک بدر کر دیا جائے گا۔

۳ ۔ جس نے کسی کو (بے گناہ) قتل کیا، تو اسے قتل کیا جائے گا۔

(حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کنزالعمال حدیث ۳۶۷ ۔ سنن ابوداؤد حدیث ۴۳۵۳

۱۶۳۱۳ ۔ اس ذات کی قسم جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں، جو شخص بھی لا الہ الا اللہ اور میرے رسول ہونے کی شہادت دیتا ہے اس کا قتل جائز نہیں ہے سوائے تین وجوہات کے: ۱ ۔ جماعت کا تارک ہو۔ ۲ ۔ شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کرے۔ ۳ ۔ کسی کو ناحق قتل کرے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۳۸۰ ۔ سنن ابوداؤد حدیث ۴۳۵۲

۱۶۳۱۴ ۔ کسی کا خون بہانا جائز نہیں سوائے تین صورتوں کے: ۱ ۔ جس نے کسی کو قتل کیا ہو۔ ۲ ۔ جس نے شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کیا ہو اور ۳ ۔ جو ایمان سے مرتد ہو گیا ہو۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۳۸۱ ، ۳۸۲ ، ۳۸۴ ، ۳۸۵

۱۶۳۱۵ ۔ جو شخص اپنے دین سے مرتد ہو جائے اسے قتل کر دو۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۳۸۶ ، ۳۸۷ ، ۳۹۱ ، ۳۹۲ ، ۳۹۳ ، ۳۹۴

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو "باغی" باب "باغی قیدیوں کا قتل جائز ہے" باب "ان لوگوں کا قتل جائز ہے جنہیں امام المسلمین کی دشمنی پر مامور کیا جائے"

نیز: "خوارج" باب اگر ساری دنیا کے لوگ اسی طرح قتل کا اعتراف کریں تو بھی سب کو قتل کر دوں"

"ارتداد" باب "جو اپنا دین (اسلام) بدل دے اسے قتل کر دو"

"گالی دینا" باب ۳۱ ۱۷ " انبیاء اور اوصیاء کو گالی دینا"

"جادو" باب ۱۷۶۹" مسلمانوں میں جادو کرنے والے کو قتل کیا جائے گا")

( ۴) قاتل و مقتول دونوں جہنمی

۱۶۳۱۶ ۔ حضرت زید بن علی اپنے آباء کرام علیہم السلام سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا:

"جب دو مسلمان سنت کے طریقہ سے ہٹ کر ایک دوسرے کے سامنے تلواریں لے آئیں تو قاتل و مقتول دونوں جہنمی ہیں"

کسی نے عرض کیا: "یارسول اللہ! یہ تو قاتل ہو گا (جو جہنم میں جائے گا لیکن) مقتول کس لئے؟

آپ نے فرمایا: اس لئے کہ اس نے بھی تو اسے قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔"

وسائل الشیعہ جلد ۱۱ ص ۱۱۳

۱۶۳۱۷ ۔ جب دو مسلمان آپس میں اس حالت میں ملاقات کریں کہ ایک دوسرے کے خلاف ہتھیار اٹھائے ہوئے ہوں تو دونوں جہنم کے کنارے پہنچ جاتے ہیں، پھر جب ان میں سے ایک دوسرے کو قتل کرتا ہے تو دونوں مل کر جہنم میں جا پہنچتے ہیں،

(حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کنزالعمال حدیث ۳۹۸۹۹

۱۶۳۱۸ ۔ جب دو مسلمان اپنی تلواریں لے کر ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ جاتے ہیں تو قاتل و مقتول دونوں جہنمی ہوتے ہیں۔

(حضرت رسول اکرم ) کنزالعمال حدیث ۳۹۹۰۴

( ۵) کسی کو بگاڑ کر قتل نہ کرو

۱۶۳۱۹ ۔ یقیناً خدا محسن ہے اور احسان ہی کو پسند فرماتا ہے۔ لہٰذا جب تم کسی کو قتل کرو تو اسے اچھے انداز میں قتل کرو، اگر کسی جانور کو ذبح کرو تو اسے بھی اچھے انداز سے ذبح کرو۔

(حضرت رسول اکرم) کنز العمال حدیث ۱۳۳۸۲

۱۶۳۲۰ ۔ جب کسی بات کا فیصلہ کرو تو عدل و انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو، کسی کو قتل کرو تو اچھے انداز میں قتل کرو کیونکہ اللہ محسن ہے اور محسنین (نیکوکاروں) کو دوست رکھتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کنز العمال حدیث ۱۳۳۸۱

۱۶۳۲۱ ۔ ۹; اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر نیکی اور اچھائی فرض کر دی ہے۔ لہٰذا جب کسی کو قتل کرو تو اچھے انداز میں قتل کرو، کسی چیز کو ذبح کرو تو اچھی طرح ذبح کرو، تمہارے ہتھیار کی دھار تیز ہو، نیز اپنے ذبیحہ کو ذبح کرتے وقت تکلیف نہیں دینی چاہئے۔

(حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اترغیب و الترہیب جلد ۲ ص ۱۵۶ اسے مسلم، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے بھی روایت کیا ہے۔

۱۶۳۲۲ ۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ حضرت رسول خدا ایک شخص کے پاس سے گزر رہے تھے تو دیکھا کہ وہ اپنا پاؤں بکری کے سینے پر رکھے ہوئے چھری کی دھار کو تیار کر رہا تھا اور وہ اسے دیکھ رہی تھی۔

یہ حالت دیکھ کر آپ نے اس سے کہا: کیا یہ کام اس سے پہلے نہیں ہو سکتا تھا؟ کیا تو چاہتا ہے کہ اسے دو طرح کی موت سے مارے؟"

الترغیب و الترغیب جلد ۲ ص ۱۵۶ اسے طبرانی نے اپنی کتاب "الکبیر" اور "الاوسط" میں اور حاکم نے بھی روایت کیا ہے۔ مگر اس نے کہا کہ حدیث کے آخری الفاظ یہ ہیں،

"کیا تو چاہتا ہے کہ اسے کئی موتوں سے مارے، اسے زمین پر لٹانے سے پہلے چھری کی دھار کو تیز کیوں نہیں کر لیا؟"

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو "الترغیب و االترہیب" جلد دوم ۱۵۶ باب "جانور کے مسئلہ کرنے اور جانور کو نہ کھانے کی غرض سے قتل کرنے سے ڈرانے کا بیان"

نیز: "احسان" (نیکی) باب "نیکی کیا ہے؟"

: "عمل" ( ۱) باب ۲۹۵۵ " عمل کی پختگی)

( ۶) خودکشی کرنے والا

قرآنِ مجید

( ولاتقتلوا انفسکم ان الله کان لکم رحیما ) ۔ (نساء/ ۲۹)

ترجمہ۔ اور اپنی جانوں کو قتل نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ یقیناً تمہارے حال پر مہربان ہے۔

حدیث شریف

۱۶۳۲۳ ۔ جو شخص اپنا گلا گھونٹتا ہے وہ جہنم میں بھی اپنا گلا گھونٹے گا، اور جو اپنے آپ کو نیزہ مارتا ہے وہ بھی جہنمی ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۳۹۹۶۱

۱۶۳۲۴ ۔ جو شخص دنیا میں کسی چیز سے خودکشی کرتا ہے قیامت کے دن اسی چیز کے ساتھ اسے عذاب ملے گا۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۳۹۹۶۵

۱۶۳۲۵ ۔ جو شخص جان بوجھ کر خودکشی کرے گا وہ ہمیشہ جہنم میں رہے گا۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۱۹ ص ۱۳

۱۶۳۲۶ ۔ تم سے پہلے ایک شخص تھا جو زخموں سے چور ہو گیا تو اس نے گھبرا کر چھڑی پکڑی اور اس سے اپنا ہاتھ کاٹ ڈالا جس کی وجہ سے خون تھمنے میں نہ آیا اور آخرکار وہ مر گیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "میرے بندے نے اپنے بارے میں مجھ سے پہل کی ہے۔ لہٰذا میں نے اس پر جہنم حرام قرار دے دیا ہے۔"

(حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الترغیب و الترہیب جلد ۳ ص ۳۰۱

کنز العمال جلد حدیث ۳۹۹۶۰

۱۶۳۲۷ ۔ یقیناً مومن کو آزمائش سے آزمایا جا سکتا ہے۔ وہ ہر موت مر سکتا ہے لیکن خودکشی ہرگز نہیں کر سکتا۔

(امام محمد باقر علیہ السلام) فروع کافی جلد ۳ ص ۱۱۲

۱۶۳۲۸ ۔ روایت میں ہے کہ ابوسعید خدری فرماتے ہیں کہ ہم غزوات (جنگوں) میں نو، نو اور دس، دس کے ٹولے بن کر جایا کرتے تھے، اور اپنے درمیان کام کو تقسیم کر لیا کرتے تھے۔ ہم میں سے کچھ لوگ بیٹھ رہتے اور کچھ لوگ اپنے ساتھیوں کے لئے کام کرتے تھے، پانی پلاتے تھے، کھانا تیار کرتے تھے اور کچھ لوگ پیغمبر کی خدمت میں رہتے۔ ایک مرتبہ اتفاق سے ہمارے ساتھیوں میں ایک شخص ایسا بھی تھا جو اکیلاتین لوگوں کا کام کر رہا تھا یعنی کپڑے بھی سی رہا تھا، پانی بھی پلا رہا تھا اور کھانا بھی پکا رہا تھا۔

جب اس شخص کا ذکر آنحضرت سے کیا گیا تو آنجناب نے فرمایا: "یہ شخص تو جہنمی ہے!" چنانچہ جب جنگ شروع ہوئی اور دشمن سے ہمارا آمنا سامنا ہوا تو وہ شخص بھی زخمی ہو گیا اور اس نے تیر اٹھایا اور اپنے آپ کو اس سے ختم کر لیا۔

یہ دیکھ کر پیغمبر نے فرمایا: "میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا رسول اور اس کا بندہ ہوں"

بحار الانوار جلد ۱۸ ص ۱۱۱

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو ! وسائل الشیعہ جلد ۱۹ ص ۱۳ باب اور خودکشی حرام ہے" مستدرک الوسائل جلد ۳ ص ۳۵۳ باب ۵ ۔ صحیح مسلم جلد اول ص ۱۰۳ باب ۷

( ۷) اسقاطِ حمل

۱۶۳۲۹ ۔ اسحاق بن عمار کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے پوچھا: "ایک عورت کو حمل کا خوف ہوتا ہے، لہٰذا وہ دوا پی کر اسے گرا دیتی ہے۔ اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں،

آپ نے فرمایا: "نہیں! یہ تو نطفہ ہوتا ہے" پھر فرمایا: "سب سے پہلے نطفہ ہی خلق ہوتا ہے"

وسائل الشیعہ جلد ۱۹ ص ۱۵

( ۸) صبر کے ساتھ قتل کرنا

۱۶۳۳۰ ۔ ابوغرہ حجمی کو جنگ بدر میں قیدی بنا لیا گیا۔ اس نے حضور اکرم کی خدمت میں عرض کیا؟ "اے محمد! میں ایک عیالدار شخص ہوں۔ آپ مجھ پر احسان کریں!" آنحضرت نے اس پر احسان کرکے اس شرط پر اسے چھوڑ دیا کہ دوبارہ جنگ کرنے نہیں آئے گا۔

پس وہ مکہ چلا گیا اور وہاں جا کر کہنے لگا: "میں نے تو محمد کے ساتھ مذاق کیا تھا اور انہوں نے مجھے چھوڑ دیا۔"

پھر وہ جنگ احد میں بھی لڑنے کے لئے آن پہنچا۔ اسے دیکھ کر آنحضرت نے بددعا کی کہ بچ کر نہ جائے۔ چنانچہ وہ اسی جنگ میں قیدی بنا لیا گیا، جب آنحضرت کے سامنے پیش ہوا تو وہی سابقہ بات کی: "میں عیالدار ہوں لہٰذا آپ مجھ پر احسان فرمائیں!" آپ نے فرمایا میں تم پر احسان کروں گا اور تو مکہ جا کر قریش کی محفلوں میں کہتا پھرے گا کہ میں نے محمد کے ساتھ مذاق کیا تھا! مومن ایک بل سے دو بار نہیں ڈسا جاتا" پھر آپ نے اسے اپنے ہاتھ سے ہی قتل کر دیا۔

مستدرک الوسائل جلد ۲ ص ۲۶۷

۱۶۳۳۱ ۔ حضرت علی علیہ السلام جب شامیوں میں سے کسی کو جنگ میں قیدی بناتے تو اسے چھوڑ دیتے لیکن اگر کسی نے آپ کے ساتھیوں میں سے کسی کوقتل کیا ہوتا تو اسے اس کے بدلہ میں قتل کر دیتے۔ اسی طرح جسے چھوڑ دیتے تھے اگر وہ دوبارہ آتا تو اسے نہ چھوڑتے اور قتل کر دیتے

مستدرک الوسائل جلد ۲ ص ۲۵۱

۱۶۳۳۲ ۔ یزید بن بلال کہتے ہیں کہ میں جنگ صفین میں مولا علی علیہ السلام کے ساتھ تھا، جب کبھی آپ کے پا س کوئی جنگی قیدی لایا جاتا تو اس سے فرماتے: "میں صبر کرتا ہوں اور تجھے قتل نہیں کروں گا کیونکہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں" البتہ اس کے ہتھیار لے لیتے اور اس سے اس بات کا حلف لیتے کہ دوبارہ لڑنے کے لئے نہیں آئے گا، نیز اسے چار درہم بھی دیتے۔

کنزالعمال حدیث ۳۱۷۰۳

۱۶۳۳۳ ۔ حضرت رسول خدا نے صبر کی وجہ سے سوائے ایک شخص "عقبہ بن ابی معیط" کے کسی اور کو قتل نہیں کیا، اور ابی بن ابی خلف کو نیزہ مارا جس سے وہ بعد میں ہلاک ہو گیا،

(امام جعفر صادق علیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۱۱ ص ۱۱۳

۱۶۳۳۴ ۔ ۹; عبداللہ بن مطیع اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فتح مکہ کے دن فرماتے ہوئے سنا: "صبر کے باعث آج کے بعد قیامت تک کوئی قریشی کسی کو قتل نہیں کرے گا۔"

صحیح مسلم جلد ۳ ص ۱۴۰۹

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو "جواہرالکلام" جلد ۲۱ ص ۱۳۲

"صبر سے قتل کرنا" کے معنی۔

نیز: سنن ابوداؤد جلد ۳ ص ۶۰ باب "قیدی کو قتل کرنے میں صبر سے کام لینا")


فصل۔ ۵

( ۱) قدر

قرآن مجید:

( انا کل شیٴ خلقناه بقدر، ) (قمر/ ۴۹)

ترجمہ۔ بے شک ہم نے ہر چیز اندازہ سے پیدا کی ہے۔

( وما تحمل من انثیٰ ولا تضع الابعلمه وما یعمر من معمر ولاینقص من عمره الا فی کتٰب ) (فاطر/ ۱۱)

ترجمہ۔ اور بغیر اس کے علم کے نہ کوئی عورت حاملہ ہوتی ہے اور نہ بچہ جنتی ہے، نہ کسی شخص کی عمر زیادہ ہوتی ہے، نہ کسی کی عمر میں کمی کی جاتی ہے، مگر یہسب کچھ کتاب (لوحِ محفوظ) میں (یقیناً موجود) ہے

حدیث شریف

۱۶۳۳۵ ۔ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام اپنے نافرمان ساتھیوں کی مذمت کرتے ہوئے فرماتے ہیں "میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتا ہوں ہر اس امر پر جس کا اس نے فیصلہ کیا، ہر اس کام پر جو اس کی تقدیر نے طے کیا اوراپنی اس آزمائش پر جو تمہارے ہاتھوں اس نے کی ہے۔

نہج البلاغہ خطبہ ۱۸۰

۱۶۳۳۶ ۔ ۹; اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتے ہوئے فرمایا: اور وہ بغیر فکر و تامل کے ہر چیز کا اندازہ کرنے والا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ ۲۱۳

۱۶۳۳۷ ۔ ۹; اللہ تعالیٰ کی عظمت و بزرگی بیان کرتے ہوئے فرمایا: "میں اُس ذات کی طرف ہمہ تن متوجہ ہو کر اس کی ایسی حمد و ثنا کرتا وہں جیسی حمد اس نے اپنی مخلوقات سے چاہی ہے۔ ا س نے ہر شے کا اندازہ، ہر اندازہ کی ایک مدت اور ہر مدت کے لئے ایک نوشتہ قرار دیا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۸۳

۱۶۳۳۸ ۔ ۹; اللہ کی توصیف بیان کرتے ہوئے فرمایا: "ایجادِ خلق اور تدبرِ عالم نے اسے خستہ و درماندہ نہیں کیا، نہ ہی (حسب منشاء) اشیاء کے پیدا کرنے سے اسے عجز دامن گیر ہوا ہے اور نہ اسے اپنے فیصلوں یا اندازوں میں شبہ لاحق ہوا ہے، بلکہ اس کے فیصلے مضبوط، علم محکم اور احکام قطعی ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۶۵

۱۶۳۳۹ ۔ عجز و درماندگی اور زیرکی اور دانائی تک سب چیزیں (خدائی) اندازہ کے مطابق ہیں اور اس کی تقدیر کی پابند ہیں۔

(حضرت رسول اکرم) کنز العمال حدیث ۴۹۸

۱۶۳۴۰ ۔ تقدیر، خدائی نظامِ توحید ہے۔ لہٰذا جو شخص اللہ کو یکتا مانتا اور اس کی تقدیر پر ایمان رکھتا ہے وہ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام چکا ہے،

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۴۸۸)

۱۶۳۴۱ ۔ تقدیر کو نہ تو طاقت ہی سے ٹالا جاتا ہے، نہ غلبہ سے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۶۳۴۲ ۔ تقدیر تمہیں وہ کچھ دکھاتی ہے جو تمہارے دل نے سوچا بھی نہیں ہوتا۔

(امام علی نقی علیہ السلام) بحار الانوار جلد ۷۸ ص ۳۶۹

۱۶۳۴۳ ۔ اگر تیرے لئے میرے سمیت جبرائیل، میکائیل تمام حاملینِ عرش بھی دعا کریں تو تیری شادی اور ازدواج اسی عورت سے ہو گا جو تیرے لئے لکھی جا چکی ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنز العمال حدیث ۵۰۱

۱۶۳۴۴ ۔ تقدیر، راز ہائے الٰہی میں سے ایک راز ہے، الٰہی پردوں میں سے ایک پردہ ہے، حجاب الٰہی میں اٹھا رکھی گئی ہے اور مخلوقِ خدا سے لپیٹ کر اوجھل کر دی گئی ہے

(حضرت علی علیہ السلام) التوحید ص ۳۸۳

۱۶۳۴۵ ۔ ۹; اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا اندازہ کرتا ہے، جب اندازہ کرتا ہے تو اسے پورا کرتا ہے اور جب پورا کرتا ہے تو اسے کر گزرتا ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۵ ص ۱۲۱

۱۶۳۴۶ ۔ بندوں کے لئے اللہ کی اقسامِ تقدیر کے ساتھ عالم کا وزن قائم ہوا اور یہ دنیا اپنے رہنے والوں کے ساتھ مکمل ہوئی۔

(حضرت علی علیہ السلام غررالحکم

۱۶۳۴۸ ۔ جو کچھ تمہارے لئے مقدر ہو چکا ہے اس کے ملنے میں کبھی تاخیر نہیں ہو گی۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ حکمت ۳۷۹

۱۶۳۴۹ ۔ جسے تقدیر پر یقین ہوتا ہے وہ اپنے اوپر نازل ہونے والی مصیبتوں سے نہیں گھبراتا۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۶۳۵۰ ۔ ۹; اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر ایمان رنج و غم کو دور کر دیتی ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۴۸۱

(۲) قدر ایک تاریک راستہ ہے

۱۶۳۵۱ ۔ ایک شخص حضرت علی علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا: "یا امیرالمومنین! مجھے قدر کے بارے میں کچھ بتائیے!" آپ نے فرمایا: "قدر ایک تاریکہ راستہ ہے، اس پر چلنے کی کوشش نہ کرو!"

اس نے پھر کہا: "یاامیرالمومنین! مجھے قدر کے بارے کچھ بتائیے!" آپ نے فرمایا: "یہ ایک گہرا سمندر ہے۔ اس میں اترنے کی کوشش نہ کرو!"

اس نے پھر کہا:" یا امیرالمومنین! "مجھے قدر کے بارے میں کچھ بتائیے!" آپ فرمایا: "قدر اللہ تعالیٰ کا ایک راز ہے، اسے افشا کرنے کی کوشش نہ کرو۔"

کنزالعمال حدیث ۱۵۶۱

۱۶۳۵۲ ۔ ایک شخص نے امیرالمومنین علیہ السلام سے عرض کیا: "یاامیرالمومنین! ہمیں قدر کے بارے میں مطلع فرمائیں!" گہرا سمندر ہے اس میں نہ اترو!" اس نے پھر کہا؟ "یا امیرالمومنین! ہمیں قدر کے بارے میں کچھ بتائیے!" فرمایا: "یہ ایک راستہ الٰہی ہے اسے ٹٹولنے کا تکلف نہ کرو!" اس نے اصرار کیا: "یاامیرالمومنین! "ہمیں قدر کے بارے میں ضرور بتلائیے" آپ نے فرمایا: "میں انکار کر چکا ہوں تو خواہ مخواہ کیوں پوچھتے ہو! یاد رکھو کہ قدر دو امروں کے درمیان ایک امر ہے جو نہ تو جبر ہے اور نہ ہی تفویض"

کنزالعمال حدیث ۱۵۶۷

۱۶۳۵۳ ۔ جو شخص تقدیر کے بارے میں جتنی زبان کھولے گا اس سے قیامت کے دن اسی قدر سوال کیا جائے گا اور جو خاموش رہے گا اس سے کچھ نہیں پوچھا جائے گا۔

(حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کنزالعمال حدیث ۵۳۹

( ۳) تقدیرو تدبیر

۱۶۳۵۴ ۔ تقدیر مقررکردہ اندازوں پر غالب آتی ہے، یہاں تک کہ چارہ سازی ہی تباہی و آفت بن جاتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ حکمت ۴۵۹ ۔ بحارالانوار جلد ۵ ص ۱۲۶

۱۶۳۵۵ ۔ تمام امور تقدیر کے سامنے بے بس ہیں یہاں تک کہ چارہ سازی ہی تباہی و آفت بن جاتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۸ ص ۶۳

۱۶۳۵۶ ۔ سب معاملے تقدیر کے آگے سرنگوں ہیں یہاں تک کہ کبھی تدبیر کے نتیجہ میں موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) شرح نہج البلاغہ جلد ۱۸ ص ۱۲۰ ۔ نہج البلاغہ حکمت ۱۶

۱۶۳۵۷ ۔ سب معاملے تقدیر کے تابع ہیں نہ کہ تدبیر کے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۶۳۵۸ ۔ جب تقدیر کے سامنے سب تدبیریں ناکام ہو جاتی ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۶۳۵۹ ۔ جب تقدیر نازل ہو جاتی ہے تو احتیاط اور دوراندیشی ناکام ہو جاتی ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۶۳۶۰ ۔ تقدیر ایک اٹل چیز ہے، لہٰذا اس سے خوف بیکار ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۶۳۶۱ ۔ تقدیر دوراندیشی پر غالب آ جاتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو: عنوان "دوراندیشی"

نیز: "قضا" ( ۱) بابا "ارادہ اور قضا"

( ۴) تقدیراور عمل

۱۶۳۶۲ ۔ ایک شخص نے حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: "اللہ کرے میں آپ کے قربان جاؤں! کیا انسان کو تقدیر کے مطابق مصیبتیں پہنچتی ہیں یا عمل کی وجہ سے؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: "تقدیر و عمل کا آپس میں روح و جسم جیسا رشتہ ہے جسم کے بغیر روح کا احساس نہیں ہوتا اور روح بغیر جسم کے غیرمتحرک صورت میں ہوتی ہے۔ جب دونوں ملتے ہیں تو ان میں قوت و صلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح عمل و تقدیر کا باہمی رشتہ ہے۔ اگر تقدیر عمل پر واقع نہ ہو تو خالق کی مخلوق سے پہچان باقی نہ رہے اور تقدیر ایک غیرمحسوس سی چیز رہے۔ اسی طرح اگر عمل تقدیر کے مطابق نہ ہو تو کبھی وجود میں نہ آ سکے اور مکمل نہ ہو پائے، بلکہ دونوں مل کر ہی قوت اختیار کرتے ہیں۔ اور اللہ اپنے نیک بندوں کی مدد فرماتا ہے۔

التوحید ص ۳۶۷ ۔ بحار الانوار جلد ۵ ص ۱۱۲

( ۵) کن چیزوں کا شمار تقدیر میں ہوتا ہے؟

۱۶۳۶۳ ۔ دوا و علاج کا تعلق تقدیر سے ہے۔ پس جسے اللہ چاہتا ہے اور جس چیز کے ساتھ چاہتا ہے وہ اسے فائدہ پہنچاتی ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۸۱۸۲

۱۶۳۶۴ ۔ کسی شخص نے حضرت رسول خدا سے دریافت کیا: "آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم بیماری کا علاج کرتے ہیں، یا افسوں (تعویذ) کرتے ہیں یا کوئی اور کام کرتے ہیں جس سے بیماری دور ہو جائے۔ کیا یہ چیزیں اللہ کی تقدیر کو بدل سکتی ہیں؟" آنحضرت نے فرمایا: "بلکہ یہ چیزیں تو خود تقدیر میں شامل ہیں!"

کنزالعمال حدیث ۶۳۳

۱۶۳۶۵ ۔ کسی شخص نے آنحضرت سے سوال کیا: "یارسول اللہ! افسوں کے ذریعہ شفا طلب کی جاتی ہے۔ کیا یہ چیز بھی اللہ کی تقدیر کو بدل سکتی ہے؟" آپ نے فرمایا: "یقیناً یہ بھی تقدیر میں شامل ہے۔"

بحارالانوار جلد ۵ ص ۸۷

۱۶۳۶۶ ۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے افسوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا یہ تقدیر کو ٹال سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا: "اس کا شمار بھی تقدیر میں ہوتا ہے!"

بحار الانوار جلد ۵ ص ۹۸

۱۶۳۶۷ ۔ ابن بناتہ کہتے ہیں کہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام ایک دیوار سے پاس سے گزر رہے تھے جو دوسری دیوار پر گرا چاہتی تھی۔ آپ وہاں سے ہٹ کر دوسری طرف ہو گئے۔

اس پر کسی نے کہا: امیرالمومنین! آپ اللہ کی قضا سے بھاگ رہے ہیں؟" آپ نے فرمایا: "میں اللہ کی قضا سے بھاگ کر اس کی قدر کی طرف جا رہا ہوں!"

بحارالانوار جلد ۴۱ ص ۲ جلد ۵ ۹۷

۱۶۳۶۸ ۔ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام ایک دیوار کے ساتھ بیٹھے لوگوں کے درمیان فیصلے کر رہے تھے اور دیوار گرا چاہتی تھی۔ کسی نے کہا: "آپ اس دیوار کے ساتھ نہ بیٹھیں کہ یہ گرنے والی ہے۔" حضرت نے فرمایا: "انسان کی حفاظت اس کی اجل کرتی ہے!" چنانچہ جب آپ وہاں سے اٹھ کھڑے ہوئے تو دیوار زمین پر آ گری، امیرالمومنین علیہ السلام اسی قسم کا کام کیا کرتے تھے، اور اسی کا نام "یقین" ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۴۱ ص ۶

(قولِ مولف: دونوں حدیثوں کو باہم جمع کرنے کے باے میں آپ خود ہی غور کریں)

۱۶۳۶۹ ۔ جب حضرت امیرالمومنین علیہ السلام جنگ صفین سے واپس تشریف لے آئے تو ایک شخص نے آ کر آپ سے کہا: "یاامیرالمومنین! آپ مجھے بتایئے کہ یہ جو جنگ ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان واقع ہوئی ہے کیا یہ اللہ کی قضا و قدر کے تحت تھی؟"

آپ نے ارشاد فرمایا: "تم جس قلعہ پر چڑھتے ہو یا جس وادی میں اترتے ہو اس میں بھی اللہ کی قضا اور قدر ہوتی ہے"

۱۶۳۷۰ ۔ عکرمہ کہتے ہیں کہ جب حضرت علی علیہ السلام جنگ صفین سے واپس آئے تو آپ کے اصحاب میں سے ایک بزرگ آدمی نے کھڑے ہو کر عرض کیا: "امیرالمومنین! ارشاد فرمائیے کہ کیا ہمارا شام کی طرف جانا اللہ کی قضا و قدر کے تحت تھا؟"

آپ نے ارشاد فرمایا: "مجھے اس ذات کی قسم جس نے دانے کو خلق فرمایا (یا شگافتہ کیا) اور حیات کو پیدا کیا، ہم جس وادی سے بھی گزرے اور جس بلندی پر بھی چڑھے وہ سب اللہ کی قضا اور قدر کے تحت ہی تھا"

اس پر اس شخص نے کہا:" پھر تو میں اپنے تمام دکھوں کا اجر اللہ ہی کے پاس سمجھتا ہوں" یہ سن کر حضرت نے ارشاد فرمایا: بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس سفر میں تمہارے اجر کو عظیم کر دیا ہے۔ تم جب بھی کسی بلندی پر چڑھے یا کسی وادی میں اترے اور جہاں جہاں پر بھی تمہیں کوئی مجبوری یا اضطرار کی حالت پیش آئی اللہ سب کا اجر عظیم عطا فرمائے گا۔

اس شخص نے کہا: "یاامیرالمومنین! یہ کیسے ہو سکتا ہے جبکہ ہمیں اس طرف قضا اور قدر ہی تو لے گئی؟"

امام علیہ السلام نے فرمایا: "خداد تم پر رحم کرے! شاید تم نے قضا و قدر کو حتمی و لازمی سمجھ لیا ہے (کہ جس کے انجام دینے پر ہم مجبور ہیں!) اگر ایسا ہوتا تو پھر نہ ثواب کا کوئی سوال پیدا ہوتا اور نہ عذاب کا، نہ وعدے کے کچھ معنی رہتے اور نہ وعید کے، نہ ہی اللہ کی طرف سے کسی گناہگار کے لئے ملامت ہوتی اور نہ کسی نیکوکار کے لئے تعریف ہوتی، نہ ہی کسی نیکی کرنے والے کو اس کی نیکی کا ثواب ملتا اور نہ کسی گناہگار کو اس کی سزا ملتی۔ یہ نظریہ تو ان لوگوں کا ہے جو بتوں کے پجاری، شیطان کا لشکر اور رحمان کے دشمن ہیں، وہ اس امت کے قدری اور مجوسی ہیں۔

بلکہ اللہ نے تو بندوں کو خودمختار بنا کر مامور کیا ہے اور (عذاب سے) ڈراتے ہوئے نہی کی ہے۔ اس کی نافرمانی اس لئے نہیں ہوتی کہ وہ () گیا ہے، نہ اس کی اطاعت اس لئے کی جاتی ہے کہ اس نے مجبور کر رکھا ہے، نہ اس وجہ سے کی جاتی ہے کہ وہ ہر چیز کا مالک ہے کہ اسے کسی نے کچھ دیا ہے اور نہ ہی اس نے آسمانوں و زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان مجھے دکھائی دے رہا ہے، ان سب کو بیکار پیدا کیا ہے یہ تو ان لوگوں کا خیال ہے جنہوں نے کفر اختیار کیا پس افسوس ہے ان پر جنہوں نے کفر اختیار کیا، آتش جہنم کے عذاب سے۔"

پھر اس شخص نے پوچھا: "وہ کونسی قضا و قدر تھی جس کی وجہ سے ہمیں جانا پڑا؟" آپ نے فرمایا: "قضا کے معنی حکمِ باری کے ہیں جیسا کہ اس کا ارشاد ہے، وقضی ربک الاتعبدوا الاریاہ" یعنی تمہارے پروردگار نے تو حکم دے دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی پرستش نہ کرو۔" (یعنی یہاں ہر "قضیٰ" بمعنی "امراء کے لئے)۔

کنز العمال حدیث ۱۵۶۰

۱۶۳۷۱ ۔ (اللہ کی طرف سے) اطاعت کا حکم، معصیت سے نہی، اچھے کاموں کی بجاآوری، برے کاموں سے رکنے کی قدرت، اس کے تقرب کے لئے اس کی امداد، اس کی نافرمانی پر اس کا مدد نہ کرنا، وعدہ و وعید، ترغیب و ترہیب، غرض یہ سب کچھ ہمارے افعال میں اللہ کی قضا اور ہمارے اعمال میں خدا کی قدر ہے

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۵ ص ۹۶

( ۶) فرقہ قدریہ

۱۶۳۷۲ ۔ "قدریہ" اس امت کے مجوسی ہیں۔

(حضرت رسول اکرم) کنزل العمال حدیث ۵۶۶

۱۶۳۷۳ ۔ قدریہ پر ستر انبیاء کی زبانی لعنت کی گئی ہے۔

(حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کنزالعمال حدیث ۵۶۳

۱۶۳۷۴ ۔ قدریہ کے ساتھ نہ تو نشست و برخاست رکھو اور نہ ہی ان سے کوئی لین دین کرو۔

(حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کنزالعمال حدیث ۵۶۴

۱۶۳۷۵ ۔ میری امت میں دو فرقہ ایسے ہیں جن کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں، ایک "مرحبہ" اور دوسرے "قدریہ"۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۵۵۸ ۔ بحارالانوار جلد ۵ ص ۷

۱۶۳۷۶ ۔ کوئی رات کسی رات سے اور کوئی دن کسی دن سے اسقدر مشابہ نہیں جتنا مرحبہ، یہودیوں سے اور قدریہ نصرانیوں سے مشابہ ہیں۔

(امام محمد باقر علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۵ ص ۲۰ ة

(قولِ مولف: مرحبہ اور قدریہ کے بارے میں احادیث بہت زیادہ ہیں۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو: کنزالعمال جلد اول ص ۱۱۸ ۔ ص ۱۴۰ ، اور بحارالانوار جلد ۵ باب اول ص ۱۶)

( ۷) قدریہ کون لوگ ہیں؟

۱۶۳۷۷ ۔ قدریہ وہ لوگ ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ تمام خیر و شر یعنی اچھائی و برائی ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہے۔ ایسے لوگوں کے لےء میری شفاعت میں کوئی حصہ نہیں، نہ میرا ان سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی ان کا مجھ سے کوئی تعلق ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۶۵۱

۱۶۳۷۸ ۔ میری امت کے دو گروہ ایسے ہیں جن کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ ایک مرحبہ اور دوسرے قدریہ۔

کسی نے پوچھا: "یارسول اللہ! مرحبہ کون لوگ ہیں؟" فرمایا: "جو کہتے ہیں کہ ایمان کافی ہے، عمل کی ضرورت نہیں" پھر پوچھا: "قدریہ کون ہوتے ہیں؟" فرمایا: "جو کہتے ہیں کہ برائی ہمارے مقدر میں نہیں ہے۔"

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۶۴۲

۱۶۳۷۹ ۔ ہائے قدریہ بیچارے! وہ چاہتے تو یہ تھے کہ اللہ کو عادل ثابت کریں، لیکن انہوں نے تو اللہ کو اس کی قدرت و سلطنت ہی سے نکال دیا۔

(امام موسیٰ کاظم علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۵ ص ۵۴

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو: "ایمان" باب "مرحبہ")

( ۸) لیلة القدر

قرآنِ مجید

( انا انزلناه فی لیلة القدر ) ۔ (القدر/ ۱)

ترجمہ۔ یقیناً ہم نے قرآنِ مجید کو شب قدر میں اتارا۔

( انا انزلناه فی لیلة مبارکة ) ۔ (دخان/ ۳)

ترجمہ۔ یقیناً ہم نے قرآنِ مجید کو بابرکت رات میں نازل فرمایا۔

حدیث شریف

۱۶۳۸۰ ۔ حمران سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کے اس قول "انا انزلناہ فی لیلة مبارکة کے بارے میں سوال کیا کہ یہ کونسی رات ہے؟" آپ نے فرمایا: "یہ وہی لیلة القدر ہی میں نازل ہوا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "فیہا یفرق کل امر حکیم" یعنی اس رات میں تمام دنیا کے لئے حکمت و مصلحت کے (سال بھر کے) کام فیصل کئے جاتے ہیں، (دخان/ ۴)

امام علیہ السلام نے فرمایا: "لیلة القدر میں آنے والے سال تک کے تمام امور یعنی اچھائی اور برائی طاعت و معصیت، پیدا ہونے والے بچے، موت و رزق و روزی وغیرہ، غرض سب کچھ مقدر کر دیئے جاتے اور لکھ دیئے جاتے ہیں۔ پھر جو چیزیں اس سال کی قضا و قدر میں آ جاتی ہیں وہ حتمی ہوتی ہیں اور اسی میں اللہ کی مشیت ہوتی ہے۔"

راوی نے پوچھا: "( لیلة القدر خیر من الف شهر ) " یعنی شب قدر ہزار مہینے سے افضل ہے، اس سے کیا مراد ہے؟"

امام نے فرمایا: "اس سے مراد ہر عمل صالح ہے، خواہ نماز ہو یازکوٰة یا نیکی کا کوئی دوسرا کام۔ جو اس رات انجام دیا جائے وہ ان ہزار مہینوں میں انجام دیئے جانے سے افضل ہے جن میں لیلة القدر نہ ہو، اگر اللہ تعالیٰ ان اعمال کا ثواب مومنین کے لئے دوگناہ نہ کرے تو وہ خود وہاں تک نہیں پہنچ سکتے، لیکن اللہ ان کی نیکیوں کو دوگنا کر دیتا ہے۔"

وسائل الشیعہ جلد ۷ ص ۲۵۶

۱۶۳۸۱ ۔ جب ماہِ رمضان المبارک کا آخری عشرہ پہنچ جاتا تو حضرت رسول خدا اپنی کمر کس لیتے، عورتوں سے دوری اختیار کر لیتے، راتوں کو جاگا کرتے اور عبادت کے لئے گوشہ نشین ہو جاتے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۷ ص ۲۵۷

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو وسائل الشیعہ جلد ۷ ص ۲۵۶

باب ۳۱ ، ص ۲۵۸ ، باب ۳۲)


فصل۔ ۶

اقتدار و قدرت

۱۶۳۸۲ ۔ اقتدار و قدرت قابلِ حفاظت چیزوں کے لئے حمیت کو بھلا دیتے ہیں،

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۶۳۸۳ ۔ اقتدار چوکنے شخص پر بھی غلبہ پا لیتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۶۳۸۴ ۔ اقتدار اچھی اور بری خصلتیں ظاہر کر دیتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۶۳۸۵ ۔ کمزور اور زیرِ قبضہ لوگوں پر تسلط قائم کرنا مذموم قدرت میں شامل ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۶۳۸۶ ۔ قدرت کی آفت احسان کو روک دینا ہے،

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۶۳۸۷ ۔ جب قدرت گھٹ جاتی ہے تو حیلے بہانے زیادہ ہونے لگتے ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۶۳۸۸ ۔ جب مقدرت زیادہ ہو جاتی ہے تو خواہش کم ہو جاتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ حکمت ۲۴۵ ۔ غررالحکم، اور اس میں مقدرت کی جبائے قدرت کا لفظ ہے۔

۱۶۳۸۹ ۔ جب دشمن پر قابو پاؤ تو اس قابو پانے کا شکرانہ اس کو معاف کر دینا قرار دو۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ حکمت

۱۶۳۹۰ ۔ قدرت رکھنے کے باوجود معاف کر دو اور غصے کے وقت بردباری اختیار کرو۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ مکتوب ۶۹


فصل۔ ۷

( ۱) قذف (زنا کی تہمت)

قرآن مجید:

( ان الذین جاء و بالافک عصبة منکم ) (النور/ ۱۱ ، ۲۶)

ترجمہ۔ یقینا جن لوگوں نے جھوٹی تہمت لگائی وہ تم ہی میں سے ایک گروہ ہیں

والذین یرمون المحصنٰت، ثم لم یاتوا باربعة شهداء فاجلدوهم ثمانین جلدة…

ترجمہ۔ جو لوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں پھر چار گواہ پیش نہ کریں تو انہیں اسی کوڑے مارو(نور/ ۵ تا ۱۳)

حدیث شریف

۱۶۳۹۱ ۔ اللہ تعالیٰ نے پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت کو اس لئے حرام قرار دیا کہ تہمت کی وجہ نسبوں میں خرابی پیدا ہوتی ہے، اولاد کی نفی ہوتی ہے، میراث کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے، اولاد کی تربیت ترک کر دی جاتی ہے اور اس کے علاوہ کئی ایسی برائیاں اور اسباب و علل ہیں کہ جو نظامِ خلق کے بگاڑ تک لے جاتی ہیں۔

(حضرت امام رضا علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۹ ص ۱۱۱

۱۶۳۹۲ ۔ گناہانِ کبیرہ میں سے ہیں، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرنااور بے خبر پاکدامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانا۔

(حضرت علی علیہ السلام) مستدرک الوسائل جلد ۳ ص ۲۳۰

۱۶۳۹۰ ۔ روایت میں ہے کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے ایک ساتھی سے دریافت کیا کہ "تمہارے مخالفت نے کیا کیا؟" اس نے کہا "وہ تو بدکار عورت کا بیٹا ہے!" یہ سن کر امام نے اس کی طرف غصہ کی نظر سے دیکھا۔ اس پر اس شخص نے کہا: "میں آپ کے قربان جاؤں! وہ مجوسی ہے جس نے اپنی بہن کے ساتھ نکاح کیا ہوا ہے!"

امام نے فرمایا: "کیا ان کے دین میں نکاح نہیں ہے؟" (مستدرک الوسائل، ج ۳ ، ص ۲۳)

۱۶۳۹۴ ۔ حضرت علی علیہ السلام کا دستور تھا کہ جب کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو "اے بویسیا!" کہتا تھا تو آپ اس پر زنا کی تہمت لگانے والے کی حد جاری کرتے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۸۸ ص ۴۳۳

۱۶۳۹۵ ۔ جو ہر بالغ مرد یا عورت کسی چھوٹے یا بڑے، مرد یا عورت، مسلم یا کافر، آزاد یا غلام پر تہمت لگائے تو اس پر تہمت کی حد جاری کی جائے گی اور نابالغ پر ادب کی حد۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۴۴۰

۱۶۳۹۶ ۔ عمارساباطی نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے کسی "زانیہ کے بیٹے! کے بارے میں پوچھا "کہ اس کی کیا سزا ہے؟" آپ نے فرمایا: "اگر اس کی ماں زندہ موجود اور اپنے حق کا مطالبہ کرتی ہے تو ایسے شخص کو اسی کوڑے مارے جائیں گے، اگر وہ موجود نہیں ہے تو اس کا انتظار کیا جائے گا تاکہ آئے اور اپنے حق کا مطالبہ کرے۔ اگر وہ مر چکی ہے اور اس کے بارے میں نیکی کے سوا اور کوئی بات مشہور نہیں ہے، تو پھر بھی اس شخص کو تہمت کی سزا دی جائے گی، یعنی اسی کوڑے مارے جائیں گے۔

وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۴۴۰

۱۶۳۹۷ ۔ حریز کہتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ ایک عورت کو کسی نے غصب کیا اور اس کے لڑکے کو کسی نے "زانیہ کا بیٹا! کہا تو اس کی کیا سزا ہو گی’"

امام علیہ السلام نے فرمایا: "میری رائے میں اسے اسی کوڑے مارے جائیں گے اور وہ اللہ سے اس گناہ کی توبہ بھی کرے"

وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۴۴۲

۱۶۳۹۸ ۔ پاکدامن عورت پر زنا کی تہمت ایک سال کی عبادت کو ضائع کر دیتی ہے۔

(حضرت رسول اکرم) مستدرک الوسائل جلد ۳ ص ۲۳۰

۱۶۳۹۹ ۔ جب کوئی شخص کسی دوسرے کو "اے یہودی" کہے تو اسے بیس کوڑے مارو۔ "اے محتنث! (دیوث)" کہے تو بھی، بیس کوڑے مارو۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۳۳۶۲

۱۶۳۴۰۰ ۔ محمد بن مسلم نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا جو اپنی عورت کو زنا کی تہمت سے مہتمم کرتا ہے کہ اس کی کیا سزا ہے۔

امام نے فرمایا: "اسے کوڑے مارے جائیں گے! راوی کہتا ہے کہ میں نے پوچھا: اگر وہ اسے معاف کر دے تو؟" امام نے فرمایا: "نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ اور نہ ہی یہ شرافت ہے!"

من لا یحضرہ الفقیہ جلد ۴ ص ۴ و

۱۶۳۴۰۱ ۔ جب کسی بدکار عورت سے پوچھا جائے کہ "تیرے ساتھ کس نے بدکاری کی ہے اور وہ جواب میں کہے کہ "فلاں شخص نے تو اس پر دو حدیں جاری ہوں گی، ایک حد اس کی بدکاری کی اور دوسری ایک مسلمان پر تہمت لگانے کی۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) ، وسائل الشیعہ، ج ۱۸ ، ص ۴۳۲

۱۶۳۴۰۲ ۔ زنا کی تہمت لگانے والے کو اسی کوڑے مارے جائیں گے اور اس کی گواہی ہرگز قبول نہیں کی جائے گی، مگر یہ کہ اس جرم سے توبہ کرے یا اپنی بات کو خود ہی جھٹلائے۔ (اس کی تردید کر دے)

(امام جعفر صادق علیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۴۳۳

۱۶۳۴۰۳ ۔ جمیل بن حداح کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک ایسے شخص بارے میں سوال کیا جس نے چند لوگوں پر مجموعی طور پر تہمت لگائی ہو اس کی کیا سزا ہے؟ امام نے فرمایا: "اگر وہ سب مل کر اس کے خلاف شکایت کریں تو اس پر ایک حد جاری کی جائے گی اور اگر متفرق ہو کر آئیں تو ان میں سے ہر ایک کی وجہ سے علیحدہ حد جاری کی جائے گی۔

وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۴۴۴

۱۶۳۴۰۴ ۔ عبداللہ بن سنان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایسے اشخاص کے بارے میں سوال کیا جو ایک دوسرے پر تہمت لگاتے ہیں تو ان کی کیا سزا ہے؟

امام نے فرمایا: "ان پر حد تو جاری نہیں ہو گی لیکن تعزیر لگائی جائے گی۔

وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۴۵۱

۱۶۳۴۰۵ ۔ جب کوئی شخص کسی کو "تو خبیث ہے(یا تو محتنث ہے) یا تو خنزیر ہے" کہے تو اس پر حد جاری نہیں کی جائے گی، لیکن اسے وعظ و نصیحت کرکے سمجھایا یا بجھایا جائے گا، اور کچھ سزا بھی ملے گی۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۲۵۲

۱۶۳۴۰۶ ۔ ایک شخص نے دوسرے شخص کو "پاگل کا بچہ!" کہہ کر پکارا تو اس نے اسے کہا: "پاگل کا بچہ ہے تو!" اس پر حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے یہ فیصلہ کیا کہ پہلے شخص کو کہ اسے بیس کوڑے مارا جائے، ساتھ ہی یہ بھی فرمایا "تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اس کے بعد تمہیں بھی بیس کوڑے مارے جائیں گے"

جب اس نے پہلے شخص کو بیس کوڑے مار لئے تو دوسرے شخص کو کوڑا دے کر فرمایا کہ اسے بھی بیس کوڑے مارو۔" چنانچہ دونوں کو اپنے اپنے کہے کی سزا مل گئی۔

وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۴۵۲ ۔

۱۶۳۴۰۷ ۔ کسی کی ہجو کرنے کی سزا کے طور پر امیرالمومنین علیہ السلام نے تعزی جاری فرمائی۔

(امام محمد باقر علیہ السلام وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۴۵۳


فصل۔ ۸

(۱) قرآنِ مجید

قرآن مجید

( ولقد اٰتینک سبعا من المثانی والقراٰن العظیم ) ۔ (مجر/ ۸۷)

ترجمہ۔ اور (اے رسول!) ہم نے تمہیں سبع مثانی اور قرآنِ عظیم عطا فرمایا ہے۔

ولقد لیسرنا القرآن لا ذکر فھل من مدکر (قمر/ ۱۷ ۔ ۲۲ ۔ ۳۲ ۔ ۴۰ ۔)

ترجمہ۔ اور ہم نے تو قرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے واسطے آسان کر دیا۔ پس کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے!

حدیث شریف

۱۶۴۰۸ ۔ حضرت علی علیہ السلام سے روایت ہے کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک خطبہ میں ارشاد فرمایا: "دنیوی زندگی میں کسی کے لئے بہتری نہیں سوائے اس شخص کے جو سنتا اور یاد رکھتا ہے، یا ایسے عالم کے لئے جو حق بات کہتا ہے۔ اے لوگو! تم اس وقت آرام اور سکون کے زمانے میں ہو، تمہاری رفتار بہت تیز ہے، تم دیکھ رہے ہو کہ رات و دن ہر نئی چیز کو بوسیدہ کر رہے ہیں، ہر دور کو نزدیک لا رہے ہیں اور ہر اس چیز کو لا رہے ہیں جس کا وعدہ کیا گیا ہے، لہٰذا تم دور کے سفر کے لئے اپنی تمام تر کوششوں کو سمیٹ لو۔"

اس پر حضرت مقداد نے عرض کیا: "اے اللہ کے نبی! آرام و سکون سے کیا مراد ہے؟" فرمایا: "بلائیں ہیں جو ختم ہونے والی ہیں، لہٰذ جب تم پر امور مشتبہ ہو جائیں، جیسے تاریک رات کے حصے ہوتے ہیں تو تم پر لازم ہو جاتا ہے کہ قرآن کے دامن سے تمسک اختیار کرو، کیونکہ قرآن ایک ایسا شفیع ہے جس کی شفاعت قبول کی جائے گی، ایسا حریف ہے جس کی تصدیق کی جا چکی ہے۔ جو اسے اپنا پیشوا قرار دے گا اسے وہ بہشت کی طرف لے جائے گا اور جو اسے پسِ پشت ڈال دے گا اسے وہ جہنم تک پہنچائے گا۔ یہ بہترین راستہ کا راہنما ہے اور یہ قول فیصل ہے، کوئی ٹھٹھا مذاق نہیں۔ اس کا ظاہر بھی ہے اور باطن بھی ، اس کا ظاہر حکم ہے اور باطن گہرا علم ہے۔ یہ ایک ایسا سمندر ہے جس کے عجائبات ان گنت ہیں۔ اور جسے جاننے والے کبھی سیر نہیں ہوتے۔ یہ اللہ کی مضبوط رسی اور صراط مستقیم ہےاس میں ہدایت کے چراغ، حکمت کے مینار ہیں اور حجت کی ایک دلیل ہے۔ (کنزالعمال، حدیث ۴۰۲۷)

۱۶۴۰۹ ۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے آباؤ اجداد سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا: "لوگو! تم اس وقت آرام و سکون کے گھر میں ہو، سفر کی سواری پر ہو اور تمہیں جلدی سے چلایا جا رہا ہے۔ تم نے دیکھ لیا ہے کہ رات دن سورج اور چاند ہر نئی چیز کو بوسیدہ کر رہے ہیں، ہر دور کو نزدیک لا رہے ہیں اور ہر اس چیز کو لا رہے ہیں جس کا وعدہ کیا جا چکا ہے۔ لہٰذا دور کے سفر کے لئے اپنی تیاری مکمل کر لو۔"

اس موقعہ پر حضرت مقداد کھڑے ہوئے اور عرض کی: "یارسول اللہ! آرام و سکون کے گھر سے کیا مراد ہے؟" آنحضرت نے ارشاد فرمایا: "مراد دن کے حصول اور منقطع ہونے کا گھر! لہٰذا جب فتنے رات کے تاریک حصوں کی طرح مشتبہ ہو جائیں تو تمہیں قرآن سے تمسک کرنا ضروری ہو جائے گا کیونکہ قرآن ایک ایسا شفیع ہے جس کی شفاعت قابل قبول ہے اور یہ ایسا حریف ہے جس کی تصدیق کی گئی ہے۔ جو شخص قرآن کو اپنا پیشوا بنائے گا اسے وہ بہشت میں لے جائے گا اور جو اسے پسِ پشت ڈال دے گا اسے وہ جہنم تک پہنچائے گا۔ وہ ایسا راہنما ہے جو بہترین راستہ کی راہنمائی کرتا ہے، ایسی کتاب ہے جس میں تفصیل، بیان اور تحصیل ہے، ایسی فضلیت ہے جس میں ٹھٹھا مذاق نہیں۔ اس کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن۔ اس کا ظاہر حکم ہے اور باطن علم ہے۔ اس کا ظاہر خوبصورت اور باطن نہایت گہرا ہے۔ اس کے ستارے ہیں اور ستاروں کے اوپر ستارے ہیں۔ اس کے عجائبات لاتعداد ہیں، اور اس کے غرائب بوسیدہ ہونے والے نہیں۔ اس میں ہدایت کے چراغ اور حکمت کے مینار ہیں۔ جو جتنی صفت کی معرفت حاصل کرنا چاہے اس کے لئے معرفت کی راہنمائی کرتا ہے۔ اسے چاہئے کہ وہ اس صفت پر اپنی نظریں دوڑائیں اور وہاں تک اپنی نگاہیں پہنچائے۔ اس طرح ہلاک ہونے والا ہلاکت سے بچ جائے گا اور دلدل میں پھنس جانے سے بچ جائے گا۔ کیونکہ اس میں غور و فکر کرنے سے صاحبان، بصیرت کے دلوں کو زندگی ملتی ہے، جس طرح تاریکیوں میں چلنے والے کو نور سے روشنی حاصل ہوتی ہے۔ لہٰذا تمہارے لئے ضروری ہے کہ اس کے ذریعہ سے اچھے انداز میں نجات حاصل کرو اور دوسری کسی چیز کا انتظار نہ کرو۔"

۱۶۴۱۰ ۔ حارث اعور کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: "یا امیر المومنین! جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں تو آپ سے ایسی باتیں سنتے ہیں جن سے ہمیں دینی رہنمائی ملتی ہے اور جب آپ کے پاس سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں تو لوگوں سے مختلف قسم کی باتیں سنتے ہیں جن سے دل زخمی ہو جاتا ہے۔ معلوم نہیں ایسا کیوں ہوتا ہے؟"

امام علیہ السلام نے فرمایا: "کیا روہ بھی ایسا ہی کرتے ہیں؟" راوی نے عرض کیا: "جی ہاں!"

امام نے فرمایا: "میں نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ نے فرمایا: "میرے پاس جبرائیل آئے اور کہا کہ اے محمد! عنقریب آپ کی امت میں فتنہ کھڑا ہو گا۔" میں نے پوچھا: "پھر اس سے نکلنے کا کیا طریقہ ہے؟" انہوں نے کہا "کتاب اللہ ہے، جس میں تم سے پہلے اور تمہارے بعد کے لوگوں کی خبریں اور تمہارے درمیان کھڑے ہونے والے تنازعوں کا فیصلہ ہے"

تفسیر عباسی جلد اول ص ۳

۱۶۴۱۱ ۔ حضرت حسن بن علی فرماتے ہیں کہ "حضرت رسول خدا کو اللہ کی طرف سے بتایا گیا کہ عنقریب آپ کی امت فتنوں میں گھر جائے گی!" آنحضرت نے پوچھا کہ اس سے نکلنے کی کیا صورت ہو گی؟" جواب ملا کہ اللہ تعالیٰ کی وہ کتاب عزیز کہ: "لایا تیہ الباطل من بین یدیہ ولامن خلفہ تنزیل من حکیم حمیدہ" باطل نہ تو اس کے آگے ہی پھٹک سکتا ہے اور نہ ہی اس کے پیچھے اور حکمت والے ستودہ صفات اللہ کی طرف سے نازل کی گئی ہے (حم سجدہ/ ۴۲) لہٰذا جو شخص اس سے ہٹ کر کسی اور سے علم حاصل کرے گا تو اللہ اسے گمراہی میں چھوڑ دے گا

بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۲۷

۱۶۴۱۲ ۔ قرآن مجید کی تعریف میں فرماتے ہیں: "اللہ تعالیٰ نے اسے عالموں کی تشنگی کے لئے سیرابی، فقیہوں کے دلوں کے لئے بہار اور نیکوں کی رہگزر کے لئے شاہراہ قرار دیا ہے، یہ ایسی دوا ہے جس سے کوئی مرض نہیں رہتا، ایسا نور ہے جس میں تیرگی کا گزر نہیں ہوتا

(حضرت علی علیہ السلام) شرح ابن ابی الحدید جلد ۱۰ ص ۱۹۹ ۔ نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۸

۱۶۴۱۳ ۔ یاد رکھو! قرآن ایسا نصیحت کرنے والا ہے جو فریب نہیں دیتا، اور ایسا بیان کرنے والا ہے جو جھوٹ نہیں بولتا۔ جو بھی اس قرآن کا ہم نشین ہوا وہ ہدایت کو بڑھا کر اور گمراہی و ضلالت کو گھٹا کر اس سے الگ ہوا۔

(حضرت علی علیہ السلام) شرح ابن ابی الحدید جلد ۱۰ ص ۱۸ نہج البلاغہ خطبہ ۱۷۶

۱۶۴۱۴ ۔ بلاشبہ اللہ سبحانہ نے کسی کو ایسی نصیحت نہیں کی جو اس قرآن کے مانند ہو کیونکہ یہ اللہ کی مضبوط رسی اور امانتدار وسیلہ ہے۔ اس میں دل کی بہار اور علم کے سرچشمے ہیں اور اسی سے (آئینہ) قلب پر جلا ہوتی ہے

(حضرت علی علیہ السلام) شرح ابن ابی الحدید جلد ۱۰ ص ۳۱ نہج البلاغہ خطبہ ۱۷۶

۱۶۴۱۵ ۔ قرآن (نیکیوں کا) حکم دینے والا، برائیوں سے روکنے والا (بظاہر) خاموش اور (بباطن) گویا ہے اور یہ اللہ کی مخلوقات پر اسی کی حجت ہے جس پر عمل کرنے کا اس نے بندوں سے عہد لیا ہے اور ان کے نفسوں کو اس کا پابند بنایا ہے

۱۶۴۱۶ ۔ افضل ترین ذکر قرآن ہے۔ اس کے ذریعہ سینے کشادہ اور دل روشن ہوتے ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۶۴۱۷ ۔ اللہ ان کے سامنے، بغیر اس کے کہ اسے دیکھا ہو، قدرت کی (ان نشانیوں کی) وجہ سے جلوہ افروز ہے کہ جو اس نے اپنی کتاب میں دکھائی ہیں اور اپنی سطوت و شوکت کی (قہرمانیوں سے) نمایا ں ہیں

(حضرت علی علیہ السلام شرح ابن الحدید، جلد ۹ ص ۱۰۲ نہج البلاغہ خطبہ ۱۴۷

۱۶۴۱۸ ۔ اگر مشرق سے لے کر مغرب تک سب لوگ مر جائیں لیکن صرف ایک قرآن میرے پاس ہو تو مجھے کسی قسم کی وحشت محسوس نہیں وہ گی۔

(امام زین العابدین علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۴۶ ص ۱۰۷

۱۶۴۱۹ ۔ جو شخص قرآن مجید سے حق کو نہیں پہچانتا وہ کسی طرح فتنوں سے کنارہ کش نہیں ہو سکتا۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۲ ص ۲۴۲

۱۶۴۲۰ ۔ قرآن دو ہدایتوں میں افضل تر ہدایت ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۶۴۲۱ ۔ قرآن کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہنا، کہیں اس پر عمل کرکے تمہارے غیر تم سے سبقت نہ لے جائیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ وصیت نامہ ۴۷

۱۶۴۲۲ ۔ میرا کلام اللہ کے کلام کو منسوخ نہیں کرتا جبکہ اللہ کا کلام میرے کلام کو منسوخ کرتا ہے اور اللہ کا کلام اپنے کلام کو بھی منسوخ کرتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۹۶۱

۱۶۴۲۳ ۔ یہ اللہ کی کتاب ہے جس کے ذریعہ تمیں سجھائی دیتا ہے اور تمہاری زبان میں گویائی آتی ہے اور (حق کی آواز) سنتے ہو۔ اس کے بعض حصے بعض حصوں کی وضاحت کرتے اور بعض، بعض کی (صداقت کی) گواہی دیتے ہیں۔ یہ ذاتِ الٰہی کے متعلق الگ الگ نظریات نہیں پیش کرتا اور نہ اپنے ساتھی کو اس کی راہ سے ہٹا کر کسی اور راہ پر لگاتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۳۳

۱۶۴۲۴ ۔ قرآن کے بعض حصے بعض دوسرے حصوں کی تصدیق کرتے ہیں۔ لہٰذا اس کے بعض حصوں کے ذریعہ دوسرے بعض حصوں کی تکذیب نہ کرو۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۸۶۱

( ۲) قرآن، امام اور رحمت

قرآن مجید

( ومن………………………للمحسنین ) (احقاف ۱۲)

ترجمہ۔ اور اس سے قبل موسیٰ کی کتاب امام (پیشوا) اور رحمت تھی، اور یہ (قرآن) وہ کتاب ہے جو زبان میں اس کی تصدیق کرتی ہے تاکہ وہ ا سکے ذریعہ سے ظالموں کو ڈرائے اور نیکوکاروں کے لئے (سرتاپا) خوشخبری ہے۔

( افمن کان علی بینة……………………ورحمة ) (ہود ۱۷)

ترجمہ۔ تو کیا جو شخص اپنے پروردگار کی طرف سے دلیل روشن پر ہو اور اس کے پیچھے ہی پیچھے انہی کا ایک گواہ ہو اور ا س سے قبل موسیٰ کی کتاب پیشوا (امام) اور رحمت (اس کی تصدیق کرتی ہو)

حدیث شریف

۱۶۴۲۵ ۔ تم پر قرآن مجید سے تمسک لازم ہے۔ لہٰذا تم اسے اپنا امام (پیشوا) اور قائد بناؤ۔

(حضرت علی علیہ السلام) کنزالعمال حدیث ۴۰۲۹

۱۶۴۲۶ ۔ میرے بعد تم پر ایک ایسا دور آنے والا ہے جس میں حق بہت پوشیدہ اور باطل بہت نمایاں ہو گا۔ پس کتاب (یعنی قرآن) اور قرآن والے (اہلبیت) اس دور میں (بظاہر) لوگوں میں ہوں گے مگر ان سے الگ تھلک، ان کے ساتھ ہوں گے مگر بے تعلق، اس لئے کہ گمراہی ہدایت سے سازگار نہیں ہو سکتی اگرچہ وہ ایک جا ہوں۔ لوگوں نے تفرقہ پردازی پر تو اتفاق کر لیا ہے اور جماعت سے کٹ گئے ہیں، گویا وہ کتاب کے پیشوا ہیں، کتاب ان کی پیشوا نہیں۔ ان کے پاس تو صرف قرآن کا نام رہ گیا ہے اور صرف اس کے خطوط و نقوش کو پہچان سکتے ہیں

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۴۷

( ۳) قرآن زیبا ترین کلام ہے

قرآن مجید

( الله نزل احسن الحدیث……………………الی ذکر الله ) (زمر/ ۲۳)

ترجمہ۔ اللہ نے بہت ہی اچھا کلام (یعنی اس) کتاب کو نازل فرمایا جس کی آیتیں ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں۔ اور ایک بات کئی کئی بات دہرائی گئی ہے۔ اس کے سننے سے ان لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے یں جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں۔ پھر ان کے جسم نرم ہو جاتے ہیں اور ان کے دل اللہ کی یاد کی طرف باطمینان متوجہ ہو جاتے ہیں

حدیث شریف

۱۶۴۲۷ ۔ سب سے اچھا اور زیبا کلام کتاب خدا (قرآن مجید) ہے، سب سے بہتر ہدایت حضرت محمد مصطفی کی ہدایت ہے۔ اور بدترین اور بدعتی امور ہیں

۱۶۴۲۸ ۔ سب سے اچھا قصہ، بلیغ ترین نصیحت اور سودمند ترین یادداشت خداوندِ عز و جل کی کتاب ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) فروغ کافی جلد ۸ ص ۱۷۵

۱۶۴۲۹ ۔ صادق ترین بات، بلیغ ترین وعظ و نصیحت اور احسن ترین قصہ کتابِ الٰہی (قرآن مجید) ہے۔

(حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) من لا یحضرہ الفقیہ جلد ۴ ص ۲۸۷

۱۶۴۳۰ ۔ کتاب الٰہی کی تعلیم حاصل کرو کیونکہ یہ بہترین کلام اور بلیغ ترین نصیحت ہے۔ نیز اس میں غور و فکر کرو کیونکہ یہ دلوں کی بہار ہے، اس کے نور سے شفا حاصل کرو کیونکہ یہ دلوں کی بیماریوں کے لئے شفا ہے اور اس کی اچھے انداز میں تلاوت کرو کیونکہ یہ سب سے پیارا قصہ ہے

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۷ ص ۲۹۰

۱۶۴۳۱ ۔ صادق ترین بات، بلیغ ترین موعظہ اور بہترین قصہ کتابِ الٰہی ہے۔

(حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بحارالانوار جلد ۷۷ ص ۱۱۴

۱۶۴۳۲ ۔ قرآن کی دوسری تمام کلاموں پر فضلیت ایسی ہے جیسے اللہ کی فضلیت اس کی مخلوق پر۔

(حضرت رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۱۹

۱۶۴۳۳ ۔ قرآن کی تلاوت اچھے انداز میں کیا کرو کیونکہ یہ سودمند ترین داستان ہے اور اس سے شفا حاصل کرو کیونکہ یہ دلوں کے لئے شفا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

( ۵) قرآن ہر زمانہ میں نیا ہے

۱۶۴۳۴ ۔ کثرت سے دہرایا جانا اور (بار بار) کانوں میں پڑنا اسے (قرآن کو) پرانا نہیں کرتا۔

(حضرت علی علیہ السلام) شرح نہج البلاغہ جلد ۵ ص ۲۰۳ ۔ نہج البلاغہ خطبہ ۱۵۶

۱۶۴۳۵ ۔ حضرت امام علی رضا علیہ السلام اپنے والدِ گرامی سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے دریافت کیا: "آخر کیا وجہ ہے کہ قرآن مجید کی جس قدر نشر و اشاعت اور درس و تدریس کی جاتی ہے اسی قدر اس کی تروتازگی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے؟" آپ نے فرمایا: "اس لئے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسے کسی خاص زمانہ، کسی خاص قوم یا کسی خاص گروہ کے لئے نہیں بنایا بلکہ یہ سب زمانوں، سب قوموں اور سب لوگوں کے لئے ہے۔ لہٰذا یہ ہر زمانے میں جدید ہر قوم کے نزدیک ہمیشہ تروتازہ اور قیامت تک ایسے ہی رہے گا۔

بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۱۵ جلد ۱۷ ص ۲۱۳

۱۶۴۳۶ ۔ ایک دن حضرت امام رضا علیہ السلام نے قرآنِ مجید کا ذکر کرکے اس کی حجت کی عظمت اور آیات کا معجزہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

"قرآن اللہ تعالیٰ کی مضبوط رسی، اس کا ناقابلِ شکست دستہ، حق سے زیادہ مشابہ طریقہ، جنت تک لے جانے والا اور جہنم سے بچانے والا ہے، کسی زمانہ میں پرانا نہیں ہوتا، زبانوں پر (مسلسل استعمال سے) ناکارہ نہیں ہوتا، کیونکہ یہ کسی ایک زمانہ کو چھوڑ کر دوسرے زمانہ کے لئے نہیں بلکہ (ہر زماہ کے لئے اسے) دلیل و برہان اور ہر انسان کے لئے حجت بنایا گیا ہے، باطل نہ تو اس کے آگے سے آ سکتا ہے اور نہ ہی پیچھے سے یہ صاحبِ حکمت اور قابلِ ستائش اللہ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے،

بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۱۴

( ۶) قرآن، بڑی سے بڑی بیماری کے لئے شفا ہے

قرآن مجید

( ونزل من القراٰن…………………الاخسار ) (بنی اسرائیل/ ۸۲)

ترجمہ۔ اور ہم تو قرآن میں وہی چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لئے (سراسر) شفا اور رحمت ہے، (مگر) ظالموں کو تو گھاٹے کے سوا کچھ بڑھاتا ہی نہیں۔

( یٰا یهاالناس………………………رحمة للوٴمنین ) (یونس/ ۵۷)

ترجمہ۔ لوگو! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نصیحت (قرآن جیسی کتاب) آ چکی اور جو امراض دل میں ہیں ان کی دوا اور ایمانداروں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔

( قل هو للذین امنوا هدیٰ و شفاء ) ۔ (حٰم، سجدہ/ ۴۴)

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) کہہ دو کہ ایمانداروں کے لئے یہ (قرآن) ہدایت اور (ہر مرض کی) شفا ہے۔

حدیث شریف

۱۶۴۳۷ ۔ اس میں کفر و نفاق اور ہلاکت و گمراہی جیسے بڑے بڑے امراض کی شفا پائی جاتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) شرح نہج البلاغہ جلد ۰ ة ص ۱۹ نہج البلاغہ خطبہ ۱۷۶

۱۶۴۳۸ ۔ اس قرآن میں نور کے چراغ اور دلو کی شفا ہے، چلنے والے کو اسی کی روشنی میں ادھر ادھر چلنا چاہئے اور اپنی طرف سے بھی چال کو قابو میں رکھنا چاہئے کیونکہ قرآن سے بالمشافہ گفتگو کرنا، بابصیرت دلوں کی حیات ہے جیسے (رات کی) تاریکیوں میں چلنے کے لئے روشنی حاصل کرنے والے کے لئے روشنی ہوتی ہے۔

(امام حسن علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۸ ص ۱۱۲

۱۶۴۳۹ ۔ تمہیں کتاب الٰہی پر عمل کرنا چاہئے، اس لئے کہ وہ ایک مضبوط رسی، روشن و واضح نور اور نفع بخش شفا ہےجو اس کے مطابق کہے وہ سچا ہے اور جو اس پر عمل کرے وہ سبقت لے جانے والا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) شرح ابن ابی الحدید جلد ۹ ص ۲۰۳ ۔ نہج البلاغہ خطبہ ۱۵۶

۱۶۴۴۰ ۔ قرآن ہی دوا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنز العمال حدیث ۲۳۱۰

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو "دواء باب "دنیوی بیماریوں کا علاج")

( ۷) قرآن ہی تو نگری ہے

۱۶۴۴۱ ۔ قرآن ایسی تونگری ہے جس کے ہوتے ہوئے کسی چیز کی ضرورت نہیں رہتی اور نہ ہی اس کے ہوتے ہوئے کوئی محتاج رہتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۱۹

۱۶۴۴۲ ۔ قرآن ایسی تونگری ہے جس کے ہوتے ہوئے نہ کوئی محتاج ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے ہوتے ہوئے کسی اور چیز کی ضرورت ہوتی ہے۔

(حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کنز العمال حدیث ۲۳۰۷

۱۶۴۴۳ ۔ جو قرآن کی تلاوت کرتا ہے وہ غنی ہے اور اس کے بعد پھر اسے کسی قسم کی ضرورت نہیں رہتی۔ اور اگر تلاوت نہیں کرتا تووہ غنی نہیں ہے،

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۱۸۷

۱۶۴۴۴ ۔ جان لو کہ کسی کو قرآن (کی تعلیمات) کے بعد (کسی اور لائحہ عمل کی) احتیاج نہیں رہتی اور نہ کوئی قرآن سے (کچھ سیکھنے سے) پہلے اس سے بے نیاز ہو سکتا ہے۔ اس سے اپنی بیماریوں کی شفا چاہو اور اپنی مصیبتوں پر اس سے مدد مانگو۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۲۴ شرح ابن ابی الحدید جلد ۱۰ ص ۱۹ نہج البلاغہ خطبہ ۱۷۶

۱۶۴۴۵ ۔ جس کو قرآن مجید کچھ دے اور وہ پھر بھی یہ سمجھے کہ اس سے افضل تر چیز کسی اور کو عطا ہوئی ہے تو اس نے حقیر شے کو عظیم اور عظیم چیز کو حقیر جانا۔

(حضرت رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۱۳ ۔ ص ۱۸۹

(قول مولف: ملاحظہ ہو: "تونگری، باب ۳۱۱۲ " تونگری کیا ہے؟" اور اس کے بعد کے باب)

( ۸) قرآن میں اولین و آخرین کا علم ہے

۱۶۴۴۶ ۔ قرآن میں تم سے پہلے کی خبریں، تمہارے بعد کے واقعات اور تمہارے درمیانی حالات کے احکام موجود ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) شرح نہج البلاغہ جلد ۱۹ ص ۲۲۰ ۔ نہج البلاغہ حکمت ۳۱۳

۱۶۴۴۷ ۔ یا درکھو کہ اس (قرآن) میں آئندہ کے معلومات، گزشتہ واقعات، بیماریوں کا علاج اور تمہارے باہمی تعلقات کی شیرازہ بند ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) شرح ابن ابی الحدید جلد ۹ ص ۲۱۷ نہج البلاغہ خطبہ ۱۵۸

۱۶۴۴۸ ۔ جو اولین و آخرین کا علم حاصل کرنا چاہے اسے چاہئے کہ قرآن پڑھے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزل العمال حدیث ۲۴۵۴

۱۶۴۴۹ ۔ جو اولین و آخرین کا علم حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہئے کہ قرآن پڑھے اور اس کے معانی میں غور کرے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۴۵۴

۱۶۴۵۰ ۔ ایسا کوئی معاملہ نہیں ہے جس کے بارے میں دو آدمی اختلاف کریں اور اس کی اصل خداوند عز و جل کی کتاب (قرآن) میں نہ ہو، لیکن وہاں تک لوگوں کی عقلوں کی رسائی نہیں ہوسکتی۔

(امام جعفر صادق) کافی جلد اول ص ۶۰

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو: "امامت‘ ‘ باب "میرے پاس اولین و آخرین کا علم ہے")

( ۹) قرآن کی تعلیم حاصل کرنا

۱۶۴۵۱ ۔ مومن کو چاہئے کہ مرنے سے پہلے قرآن کی تعلیم حاصل کر لے یا اگر اسے موت آئے تو وہ قرآنی تعلیم حاصل کر رہا ہو،

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحار الانوار جلد ۹۲ ص ۱۸۹

۱۶۴۵۲ ۔ قرآن دعوتِ الٰہی کا دسترخوان ہے جتنا ہو سکے اس دسترخوان سے ریزہ چینی کر لو۔

(حضرت رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۲ ص ۱۹

۱۶۴۵۳ ۔ یقیناً یہ قرآن دعوتِ الٰہی کا دسترخوان ہے، مقدور بھر اس سے تعلیم حاصل کرو۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۳۵۶

۱۶۴۵۴ ۔ قرآن کا علم حاصل کرو کہ وہ بہترین کلام ہے، اس میں غور و فکر کرو کہ یہ دلوں کی بہار ہے، اور اس کے نور سے شفا حاصل کرو کہ سینوں ( کے اندر چھپی ہوئی بیماریوں کے لئے) شفا ہے۔ اس کی خوبی کے ساتھ تلاوت کرو کہ اس کے واقعات سب واقعات سے زیادہ فائدہ رساں ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۲ ص ۳۶ نہج البلاغہ خطبہ ۱۱۰

۱۶۴۵۵ ۔ اگر تم سعادت کی زندگی، شہادت کی موت، حسرت (قیامت) کے دن کی نجات، دھوپ کے دن کو سایہ اور گمراہی کے دن کے لئے ہدایت کے طلبگار ہو تو قرآن کا درس حاصل کرو کیونکہ یہ رحمان کا کلام ہے، شیطان سے بچاتا ہے اور میزانِ اعمال میں جھکاؤ کا موجب ہے۔

(حضرت رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۱۹

۱۶۴۵۶ ۔ اے معاذ! اگر تم چاہتے ہو کہ عین سعادت کی زندگی، شہادت کی موت، حشر کے دن نجات، خوف کے دن امن، تاریکی کے دن نور، دھوپ کے دن سایہ، پیاس کے دن سیرابی، میزان کے ہلکا ہونے کے دن سنگینی اور گمراہی کے دن ہدایت ملے تو، قرآن کا درس حاصل کرو کیونکہ یہ رحمان ذکر، شیطان سے بچاؤ کا ذریعہ اور میزانِ عمل میں جھکاؤ کا موجب ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۴۳۹

۱۶۴۵۷ ۔ تم میں بہتر وہ ہیں جو خود بھی قرآن کا علم حاصل کرتے ہو اور دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دیتے ہیں۔

(حضرت رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۱۸۶

۱۶۴۵۸ ۔ تم میں بہتر انسان وہ ہے جو خود بھی قرآن کی تعلیم حاصل کرے اور دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۳۵۱

۱۶۴۵۹ ۔ تم میں بہتر شخص وہ ہے جو خود قرآن پڑھتا ہے اور دوسروں کو بھی پڑھاتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۳۵۴

۱۶۴۶۰ ۔ جو شخص ہمارے دوستوں اور شیعوں میں اس حالت میں مرتا ہے کہ اسے قرآن اچھی طرح پڑھنا نہیں آتا، تو اسے قبر میں اس کی تعلیم دی جائے گی، تاکہ اس طرح اللہ تعالیٰ اس کے درجات کو بلند فرمائے کیونکہ بہشت کے درجات قرآنی آیات کی تعداد کے مطابق ہیں اور روہاں قرآن کے قاری سے کہا جائے گا کہ قرآن پڑھتا جا اور اوپر چڑھتا جا۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۱۸۸

۱۶۴۶۱ ۔ قرآن پڑھنے والے سے (قیامت کے دن) کہا جائے گا کہ قرآن پڑھتا جا اور (بہشت کے) درجات پر چڑھتا جا، اس کی ترتیل کے ساتھ اسی طرح تلاوت کر جس طرح دنیا میں کیا کرتا تھا اس لئے کہ تیری منزلت اس آخری آیت پر جا کر ختم ہو گی جسے پر تو قرآن کو ختم کرے گا۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۳۳۰

۱۶۴۶۲ ۔ جب قرآن پڑھنے والا بہشت میں داخل ہو گا تو اسے کہا جائے گا کہ قرآن پڑھتا جا اور اوپر چڑھاتا جا۔ پس وہ قرآن پڑھتا جائے گا اور ہر آیتک ے بارے میں ایک درجہ اوپر چڑھتا جائے گا، یہاں تک کہ وہ آخری آیت بھی پڑھ ڈالے گا جو اسے یاد تھی۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۳۳۱

۱۶۴۶۳ ۔ تمہارے لئے قرآن کا علم حاصل کرنا اور اس کی کثرت سے تلاوت ضروری ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۳۶۸

۱۶۴۶۴ ۔ کلیب کہتے ہیں کہ میں حضرت علی کے ہمراہ تھا کہ آپ نے مسجد سے لوگوں کے بلند آواز سے قرآن مجید پڑھنے کی آواز سنی آپ نے فرمایا: "ان لوگوں کے لئے خوشخبری ہے کہ یہی لوگ رسولِ خدا کے محبوب ترین افراد ہیں"

کنزل العمال حدیث ۴۰۲۵

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۱۸۵ باب ۲۰)

( ۱۰) قرآن مجید کی تعلیم

۱۶۴۶۵ ۔ جو شخص کسی کو قرآن پڑھاتا ہے وہ اس کا آقا بن جاتا ہے لہٰذا قرآن پڑھنے والا اسے نہ تو کسی موقع پر تنہا چھوڑے اور نہ ہی اس پر فوقیت جتائے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۳۸۲

۱۶۴۶۶ ۔ جو شخص کسی بندہ کو کتاب اللہ کی ایک آیت کی تعلیم دیتا ہے وہ اس کا آقا بن جاتا ہے۔ لہٰذا قرآن کا علم حاصل کرنے والا نہ تو کسی موقع پر اسے تنہا چھوڑے اور نہ ہی کبھی اس پر فوقیت جتائے۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو اسلام کے مضبوط سہاروں میں سے ایک سہارے کو توڑ ڈالے گا۔

(حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کنزالعمال حدیث ۲۳۸۴

۱۶۴۶۷ ۔ جو لوگ اللہ کے گھروں میں گھر میں جمع ہو کر قرآن کی تلاوت کرتے اور اس کا ایک دوسرے کو درس دیتے ہیں تو ان پر (اللہ کی طرف سے) تسکین نازل ہوتی ہے، انہیں فرشتے گھیر لیتے ہیں اور ان کی یاد اس ذات کے پاس بھی ہوتی ہے جس کے حضور میں یہ لوگ ہوتے ہیں۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۳۲۰

۱۶۴۶۸ ۔ یاد رکھو! جو شخص قرآن کی تعلیم حاصل کرے، دوسروں کو اس کی تعلیم دے اور اس پر عمل بھی کرے تو میں اسے بہشت کی طرف لے جاؤں گا اور بہشت کی طرف اس کی رہنمائی کروں گا۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۳۷۵

۱۶۴۶۹ ۔ جو شخص اپنے بیٹے کو قرآن کی تعلیم دیتا ہے (یا دلاتا ہے) تو قیامت کے دن اس کے گلے میں ایسا ہار ڈالا جائے گا جس سے اولین و آخرین کے لوگ تعجب کریں گے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۳۸۶

۱۶۴۷۰ ۔ بیٹے کا باپ پر حق ہے کہ اس کا نام اچھا تجویز کرے، اچھے اخلاق و آداب سے اسے آراستہ کرے اور اسے قرآن کی تعلیم دے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ حکمت ۳۹۹

۱۶۴۷۱ ۔ جو شخص بالغ ہونے سے پہلے قرآن پاک پڑھ لیتا ہے تو گویا اسے بچپن ہی میں حکمت عطا ہوتی ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۴۵۲

( ۱۱) قرآن مجید کا حفظ کرنا

۱۶۴۷۲ ۔ اللہ تعالیٰ جسے اپنی کتاب کے حفظ کی نعمت سے نوازے اور وہ یہ گمان کرے کہ کسی اور شخص کو اس سے بہتر نعمت عطا کی گئی ہے تو وہ اللہ کی افضل ترین نعمت کی ناشکری کرے گا۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۳۱۷

۱۶۴۷۳ ۔ تم ان معلق مصاحب سے غفلت نہ برتو کیونکہ جو دل قرآن کو اپنے اندر جگہ دے گا اللہ تعالیٰ اسے کبھی عذاب نہیں دے گا۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۴۰۰

۱۶۴۷۴ ۔ جس شخص کے دل میں قرآن کا کوئی حصہ نہیں وہ ویران گھر کی مانند ہے۔

(حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کنزالعمال حدیث ۲۴۷۸

۱۶۴۷۵ ۔ قرآن کا حافظ اور اس پر عمل کرنے والا ان لکھنے والے (فرشتوں) کے ساتھ ہو گا جو بزرگ اور نیکوکار ہیں۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۹۶ ص ۱۷۷ ۔ کافی جلد ۲ ص ۶۰۳

۱۶۴۷۶ ۔ حماد بن عیسیٰ نے سند مرفوع کے ساتھ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آنحضرت نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا: "کیا میں تمہیں ایسی دعا تعلیم نہ دوں جس سے تم قرآن کو کبھی نہ بھولو؟ وہ یہ دعا ہے۔ (ترجمہ)

"اے اللہ! جب تک تو مجھے زندہ رکھے ہمیشہ کے لئے میرے گناہوں کی پردہ پوشی کرکے مجھ پر رحم فرمایا! جو چیز میرے لئے مفید نہیں ہے اس کے حصول سے باز رکھ کر، مجھ پر رحم فرما، جس چیز میں تیری رضامندی ہے ا س میں حسنِ نظر عنایت فرما، جس طرح تونے مجھے تعلیم فرمایا ہے اسی طرح اپنی کتاب کو یاد کرنے کے لئے میرے دل کو پابند بنا۔ مجھے توفیق عطا فرما کہ میں اسے ویسے ہی پڑھوں جیسے تیری رضا ہے۔ بارالٰہا! میری نگاہوں کو اپنی کتاب کے ساتھ منور فرما!، اس کے ذریعہ میرے سینہ کو کشادہ کر دے، میری زبان کو اس (کی تلاوت) کے لئے رواں فرما، میرے جسم کو اسی کے لئے استعمال کر اور اس کے لئے مجھے قوت و طاقت عطا فرما اس کے لئے میری امداد فرما کیونکہ اس پر صرف تو ہی میری امداد کر سکتا ہے، تیرے علاوہ کوئی اور معبود برحق نہیں ہے"

بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۲۰۹

۱۶۴۷۷ ۔ ابن صدقہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اپنے آباؤاجداد علیہم السلام سے روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کی دعا ہے کہ:

"اے اللہ! جب تک میں زندہ ہوں ہمیشہ کے لئے میرے گناہوں کے ترک کرنے کے ذریعہ مجھ پر رحم فرما، جس چیز میں تیری رضامندی ہے اس میں مجھے حسنِ نظر عنایت فرما، جس طرح تو نے مجھے تعلیم فرمایا ہے میرے دل کو اپنی کتاب یاد کرنے کا پابند بنا اور مجھے توفیق عطا فرما کہ میں اسے اسی طرح پڑھوں جس میں تیری رضامندی ہو۔ اے اللہ! اپنی کتاب کے ذریعہ میری نگاہوں کو منور فرما، اسی کے ذریعہ میرے سینہ کو کشادہ کر دے! میرے دل کو وسیع (یا مسرور) کر دے، اس کے لئے میری زبان کو روانی دے، میرے جسم کو اس کے لئے استعمال فرما اور اس بات پر مجھے قوت و طاقت عطا فرما کیونکہ قوت اور طاقت تیرے سوا کسی اور کے پاس نہیں ہے۔

قرب الاسناد جلد ۵ ص ۱۶

قولِ مولف: ملاحظہ ہو کنز العمال جلد ۸ ص ۴۱۱ " حفظ قرآن کی نماز"

کنزالعمال جلد ۲ ص ۵۸ " حفظ قرآن کی نماز میں"

الترغیب و الترہیب جلد ۲ ص ۳۶۰ " حفظ قرآن کی دعا"

( ۱۲) قرآن کو بار بار پڑھنے کی ترغیب

۱۶۴۷۸ ۔ قرآن مجید کو بار بار پڑو، کیونکہ یہ بدک کر بھاگ جانے والے جانوروں کی مانند ہے اور لوگوں کے دلوں سے اس طرح جلدی نکل جاتا ہے اونٹ بھی گھٹنے کو باندھے جانے والی رسی سے اتنی جلدی نہیں نکل پاتا۔ تم میں سے کوئی شخص یہ نہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں بلکہ یہ کہے کہ فلاں آیت بھلا دی گئی ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۸۵۰

۱۶۴۷۹ ۔ کسی شخص کا یہ کہنا کہ اس نے فلاں فلاں آیت بھلا دی بری بات ہے، بلکہ وہ بھلا دی جاتی ہے لہٰذا قرآن کو بار بار پڑھا کرو، کیونکہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے قرآن لوگوں کے دلوں سے اس قدر جلدی نکل جاتا ہے کہ اونٹ بھی اپنے گھٹنے کی رسی سے اس قدر جلدی نکل کر نہیں بھاگتا۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۸۴۹

۱۶۴۸۰ ۔ جو شخص قرآن کو بار بار اور رات دن پڑھتا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی شخص کے پاس اونٹ ہو، اگر اسے گھٹنے سے رسی کے ساتھ باندھ دیتا ہے تو موجود رہتا ہے، اور اگر اسے کھلا چھوڑ دیتا ہے تو بھاگ جاتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۸۵۴

۱۶۴۸۱ ۔ جو شخص قرآن مجید کی کوئی سورت بھلا دے گا تو وہ سورت قیامت کے دن ایک زیبا شکل میں اس کے سامنے آ جائے گی جو جنت کے بلند درجے پر ہو گی، وہ شخص اسے دیکھ کر کہے گا "تو کون ہے اور کس قدر حسین ہے؟ کاش تو میری ہوتی!!"

وہ سورت جواب دے گی کیا تو مجھے نہیں پہچانتا؟ میں قرآن مجید کی وہی سورت ہوں جسے تونے بھلا دیا تھا، اگر مجھے نہ بھلاتا تو آج میں تجھے اس بلند مقام و مرتبہ پر لے آتی!"

(حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام) کافی جلد ۲ ص ۶۰۷

قولِ مولف: ملاحظہ ہو: وسائل الشیعہ جلد ص ۸۴۵ باب ۱۲ ۔ کنزالعمال جلد ۱ ص ۶۲۵

کافی جلد ۲ ص ۵۷۶

(۱۳) حاملین قرآن کے فضائل

(حاملین قرآن سے مراد وہ لوگ ہیں جو قرآن کو پڑھتے ہیں اور دوسروں کو پڑھاتے ہیں۔ از مترجم)

۱۶۴۸۲ ۔ حاملینِ قرآن، رحمتِ خداوندی میں گھرے ہوئے اور نورِ الٰہی کی چادروں میں ملبوس ہوتے ہیں۔

(حضرت رسول اکرم) جامع الاخبار ص ۱۱۵ ، ص ۲۰۲

۱۶۴۸۳ ۔ حاملینِ قرآن، قیامت کے دن بہشت کے عارف لوگ ہوں گے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزل العمال حدیث ۔ ۲۲۸۸ ۔ ۲۲۸۹ ۔ ۲۲۹۰

۱۶۴۸۴ ۔ حاملینِ قرآن، بہشت کے عارف لوگ ہوں گے، راہِ خدا میں جہاد کرنے والے ان کے قائد ہوں گے اور اللہ کے رسول تمام اہلِ بہشت کے سردار ہوں گے۔

(حضرت رسول اکرم) مستدرک الوسائل جلد ۱۱ ص ۷ حدیث ۱۲۲۷۵

۱۶۴۸۵ ۔ میری امت کے اشراف، حاملینِ قرآن اور عابدانِ شب زندہ دار ہیں۔

(حضرت رسول اکرم) انحصال جلد اول ص ۷ باب ۲۱

۱۶۴۸۶ ۔ قرآن پڑھا کر واور اسے اپنا حامی و پشتیبان سمجھو کیونکہ اللہ تعالیٰ ایسے دل کو عذاب میں مبتلا نہیں کرے گا جو قرآن کا ظرف ہو۔

(حضرت علی علیہ السلام) جامع الاخبار ص ۱۱۵ ، ص ۲۰۵

۱۶۴۸۷ ۔ شہدائے احد کے دفن کے موقعہ پر فرمایا: "دیکھو! ان میں سے جس کے پاس قرآن زیادہ اکٹھا تھا اسے قبر میں اس کے ساتھ سے آگے دفن کرو۔

(حضرت رسول اکرم) کنزل العمال حدیث ۲۹۸۹ ۔

۱۶۴۸۸ ۔ جو قرآن کو اکٹھا کرے یعنی جامع القرآن بنے، اللہ تعالیٰ اسے مرتے دم تک اس کی عقل سے فائدہ پہنچاتا رہے گا۔

(حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کنزالعمال حدیث ۲۳۱۸

۱۶۴۸۹ ۔ قرآن سے تعلق رکھنے والے، اللہ والے اور اس کے خصوصی بندے ہوتے ہیں۔

(حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کنزالعمال حدیث ۲۳۱۸

۱۶۴۹۰ ۔ حامل قرآن دراصل پرچم اسلام کا حامل ہوتا ہے۔ جو اس کی عزت کرے گا، خدا اسے عزت عطا فرمائے گا اور جو اس کی توہین کرے گا اس پر خداوند عز و جل کی لعنت ہے۔

(حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کنزالعمال حدیث ۲۳۴۴

۱۶۴۹۱ ۔ حاملینِ قرآن، کلامِ الٰہی کے معلم ہوتے ہیں، نور خداوندی سے ملبوس ہوتے ہیں جو ان سے محبت کرتا ہے وہ خدا سے محبت کرتا ہے اور جو ان سے دشمنی کرتا ہے وہ خدا سے دشمنی کرتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۳۴۵

۱۶۴۹۲ ۔ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یمن کی طرف ایک وفد روانہ فرمایا جس کا امیر خود ارکانِ وفد ہی سے مقرر فرمایا جو ان سے سن کے لحاظ سے چھوٹا تھا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وفد وہیں پر رکا رہا اور سفر کے روانہ نہیں ہوا

ایک شخص نے آپ سے عرض کیا: "یا رسول اللہ! آپ نے اسے ہمارا امیر مقرر فرمای ہے جو عمر میں ہم سب سے چھوٹا ہے؟" یہ سن کر آپ نے اسے اس کے قاری قرآن ہونے کی طرف متوجہ کیا۔

کنز العمال حدیث ۴۰۲۰

حامل قرآن کو کیا کرنا چاہئے؟

۱۶۴۹۳ ۔ حامل قرآن سب سے زیادہ مستحق ہے کہ وہ ظاہر و باطن میں خدا سے ڈرے۔ حاملِ قرآن ہی سب لوگوں سے زیادہ اس بات کا بھی مستحق ہے کہ ظاہر و باطن میں صوم و صلوٰة کا پابند ہو۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۴۰۲۰

۱۶۴۹۴ ۔ اچانک ایک دن رسول اکرم باہر تشریف لائے اور پکار کر فرمایا:

"اے حامل قرآن! جب بیکار اور نکمے لوگ ہنسنے میں مصروف ہوں تو تم اپنی آنکھوں میں گریہ و بکا کا سرمہ لگاؤ۔ جب رات کو سونے والے سو رہے ہوں تو تم شب بیداری کرو، جب کھانے والے کھا رہے ہوں تو تم روزے رکھو جو تم پر ظلم کرے اس سے درگزر کرو، جو تمہارے ساتھ کینہ رکھے اس سے کینہ نہ رکھو، جو تمہارے ساتھ جہالت سے پیش آئے تم اس کے ساتھ نادانی کا ثبوت نہ دو۔

کافی جلد ۲ ص ۶۰۴ حدیث ۵

قولِ مولف: ملاحظہ ہو: "علم" باب ۲۸۸۶ " عقل" باب ۲۸۰۹ ۔

( ۱۵) جو باتیں حاملِ قرآن کے شایانِ شان نہیں

۱۶۴۹۵ ۔ حامل قرآن کو زیب نہیں دیتاکہ جو اس سے غصہ کرتا ہو وہ بھی اس کے ساتھ غصے سے پیش آئے اور جو اس کے ساتھ جاہلانہ سلوک کرے وہ بھی اس کے ساتھ جاہلانہ سلوک کرے، اس لئے کہ اس کے دل میں تو قرآن ہوتا ہے، (حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۳۴۷

۱۶۴۹۶ ۔ حامل قرآن کے شایانِ شان نہیں کہ جو اس کے ساتھ نادانی، غیظ و غضب اور غصہ سے پیش آئے وہ بھی اس کے ساتھ ایسا ہی کرے۔ بلکہ اس کو چاہئے کہ قرآن کی عظمت کے پیش نظر اسے معاف کر دے اور درگزر سے کام لے۔

(رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۳۴۹

( ۱۶) تلاوت قرآن مجید کی ترغیب

قرآن مجید

( ان الذین یتلون کتٰب الله واقاموالصلوٰة و انفقوا مما رزقنٰهم سرا و علانیة یرجون تجارة لن تبور ) (فاطر/ ۲۹)

ترجمہ۔ یقیناً جو لوگ اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں، انہوں نے نماز قائم کی ہے اور جو کچھ ہم نے بطور رزق دیا ہے اس میں سے ہماری راہ میں خفیہ و اعلانیہ طور پر خرچ کرتے ہیں، یہ لوگ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جس میں کسی طرح کی تباہی نہیں ہے۔

حدیث شریف

۱۶۴۹۷ ۔ جب تم میں سے کوئی شخص اپنے رب سے باتیں کرنے کا ارادہ کرے تو اسے قرآن کی تلاوت کرنا چاہئے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۲۵۷

۱۶۴۹۸ ۔ "ان دلوں پر اسی طرح زنگ چڑھ جاتا ہے جس طرح لوہے پر رنگ چڑھ جاتا ہے۔" پوچھا گیا: "یارسول اللہ! پھر ان کی چمک کیونکر ہو گی؟" فرمایا: "قرآن کی تلاوت سے"

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۴۴۱ ۔

۱۶۴۹۹ ۔ ایمان کی بارآوری، قرآن کی تلاوت (سے) ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم ۷۶۳۳

۱۶۵۰۰ ۔ جو قرآن کی تلاوت سے مانوس ہو جاتا ہے اسے بھائیوں اور دوستوں کی جدائی وحشت میں نہیں ڈالتی۔

(حضرت علی) غررالحکم) ۸۷۹

۱۶۵۰۱ ۔ تم سب کو قرآن پڑھنا چاہئے، کیونکہ قرآن کا پڑھنا گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے، جہنم کے خلاف ڈھال ہوتا ہے اور عذاب سے امان دلاتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۱۷ ۔ ص ۱۸

۱۶۵۰۲ ۔ جب قرآن پڑھنے والا کوئی لفظی یا اعرابی غلطی کرتا ہے، یا وہ الفاظ کو صحیح طور پر ادا نہیں کر سکتا تو اس کی تلاوت کو فرشتہ اسی طرح لکھ دیتا ہے جس طرح قرآن نازل ہوا تھا۔

۱۶۵۰۳ ۔ فرزند عزیز! تلاوتِ قرآن سے غفلت نہ برتو کیونکہ قرآن مردہ دلوں کو زندہ کرتا ہے، برائیوں، ناپسندیدہ باتوں اور گناہوں سے روکتا ہے۔

(حضرت رسولِ اکرم) کنزالعمال حدیث ۴۰۳۲

۱۶۵۰۴ ۔ جو شخص قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہے تو گویا نبوت کو اپنے دونوں پہلوؤں کے قریب تر پاتا ہے البتہ اس پر وحی نہیں ہوتی۔

(رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۳۴۷

۱۶۵۰۵ ۔ جو قرآن پڑھتا ہے تو گویا نبوت اس کے دونوں پہلوؤں کے درمیان ہوتی ہے مگر وحی نہیں ہوتی۔

(رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۳۴۹

۱۶۵۰۶ ۔ ختم قرآن ک وقت دعا: "خداوندا! قرآن کے ذریعے میرے سینے کو کشادہ کر دے، قرآن ہی کے لئے میرے بدن کو کام میں لا، قرآن کے ساتھ میری آنکھوں کو روشن کر دے قرآن کے صدقہ میں میری زبان کو چلاتا رہ اور جب تک تو مجھے زندہ رکھے میری اس پر امداد فرما کیونکہ قوت صرف تیرے ہی پاس ہے۔

(حضرت علی) بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۳۰۹ ۔ کنزالعمال جلد ۲ ص ۲۴۹

( ۱۷) قرآن کو اچھی آواز سے پڑھنا

۱۶۵۰۷ ۔ اچھی آواز، قرآن کی زینت ہے۔

(حضرت رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۳۶۹ ص ۱۹۰

۱۶۵۰۸ ۔ ہر چیز کے لئے ایک زیور ہوتا ہے اور قرآن کا زیور خوبصورت آواز ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۷۶۸

۱۶۵۰۹ ۔ قرآن کو اپنی آوازوں کے ساتھ زینت دو۔

(رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۱۹۰ حدیث ۲

۱۶۵۱۰ ۔ جب آنحضرت سے پوچھا گیا کہ قرآن میں کس شخص کی آواز اچھی ہوتی ہے تو فرمایا "اس شخص کی آواز بہترین ہے کہ جب تم اس کی قرأت سنو تو یہ مان لو کہ وہ خدا سے ڈرتا ہے۔"

(بحارالانوار جلد ۹۳ ص ۱۹۵ حدیث ۱۰)

۱۶۵۱۱ ۔ لوگوں میں سب سے بہترین قرأت اس شخص کی ہے کہ جب تم اس کی قرأت سنو تو سمجھو کہ وہ خدا سے ڈرتا ہے۔

(رسول اکرم) الترغیب و الترھیب جلد ۲ ص ۳۶۴ حدیث ۹

۱۶۵۱۲ ۔ قرآن کو اپنی آوازوں کے ساتھ حسن عطا کرو کیونکہ اچھی آواز ہی قرآن کے حسن میں اضافہ کر سکتی ہے۔

(رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۳۷۶۵

۱۶۵۱۳ ۔ میرے دادا حضرت امام زین العابدین علیہ السلام بہترین آواز سے قرآن کی تلاوت کرتے۔ جب ان کے گھر کے سامنے سے گزرتے تو ان کے دروازے پر کھڑے ہو کر ان کی قرأت سنتے رہتے۔ میرے بابا ابو جعفر محمد باقر علیہ السلام کی آواز بھی بہترین تھی۔

(امام جعفر صادق) کافی جلد ۲ ص ۶۱۶ حدیث ۱۱

۱۶۵۱۴ ۔ خداوند عالم نے ہمیشہ اچھی آواز والے کو ہی نبی بنا کر بھیجا۔

(رسول اکرم) کافی جلد ۲ ص ۶۱۶ حدیث ۱۰

( ۱۸) حقِ تلاوت

قرآن مجید:

( الذین آتیناهم الکتاب یتلونه حق تلاوته اولئک یومنون به ومن یکفر به فاولئک هم الخاسرون ) (البقرہ/ ۱۲۱)

ترجمہ۔ جن لوگوں کو ہم نے قرآن (جیسی کتاب) دی ہے ہ لوگ اسے اس طرح پڑھتے ہیں جو اس کے پڑھنے کا حق ہوتا ہے یہی لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں اور جو لوگ اس سے انکار کرتے ہیں وہی گھاٹے میں ہیں۔

حدیث شریف

۱۶۵۱۵ ۔ میں خدا کے نزدیک اس گروہ کی شکایت کرتا ہوں جو جاہل ہو کر جیتے اور گمراہ ہو کر مرتے ہیں، جب قرآن کی تلاوت اس طرح ہو رہی ہو جس طرح تلاوت کا حق ہے تو اس گروہ میں ان کی مانگ نہیں ہوتی نیز جب قرآن کو بے محل استعمال کیا جائے تو اس سے زیادہ کوئی مقبول اور قیمتی چیز نہیں ہوتی۔

(امام علی) نہج البلاغہ خطبہ ۱۷ ، شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد ۱ ص ۲۸۴

۱۶۵۱۶ ۔ میرے بعد تم پر ایک ایسا دور آنے والا ہے جس میں حق میں بہت پوشیدہ اور باطل بہت نمایاں ہو گااس زمانہ والوں کے نزدیک قرآن سے زیادہ کوئی بے قیمت شے نہ ہو گی۔ لہٰذا اسے اس طرح پیش کیا جائے جیسے پیش کرنے کا حق ہے اور اس قرآن سے زیادہ کوئی مقبول و قیمتی چیز نہیں ہو گی جبکہ اس کی آیتوں کا بے محل استعمال کیا جائے، نہ ان کے شہروں میں نیکی سے زیادہ کوئی برائی اور برائی سے زیادہ کوئی نیکی ہو گی، چنانچہ قرآن کا بار اٹھانے والے اسے پھینک کر الگ کر دیں گے اور حفظ کرنے والے اسے بھلا دیں گے۔ ان دنوں قرآن اور قرآن والے (اہلبیت) بے گھر و بے در ہوں گےاور اس آنے والے دور سے پہلے لوگ نیک بندوں کو طرح طرح کی اذیتیں پہنچا چکے ہوں گے۔

(امام علی) نہج البلاغہ خطبہ ۱۴۷/ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد ۹ ص ۱۰۴ قولِ مولف ملاحظہ ہو مکمل خطبہ۔

۱۶۵۱۷ ۔ اللہ تعالیٰ کے قول"( الذین اتیناهم الکتاب یتلونه ) " کے بارے میں فرماتے ہیں: "وہ لوگ قرآنِ مجید کی آیتوں کی ترتیب کے مطابق تلاوت کرتے ہیں، ان کے معانی کو سمجھتے ہیں، اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں، اس کے وعدہ پر امید رکھتے ہیں، اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں، اس کی داستانیں سناتے ہیں، اس کی مثالوں سے عبرت حاصل کرتے ہیں، اس کے اوامر کو بجا لاتے ہیں اور اس کے نواہی سے بچتے ہیں (اسے کہتے ہیں تلاوت کا حق) خدا کی قسم تلاوت کا حق یہ نہیں ہے کہ اس کی آیات کو زبانی یاد کر لیا جائے، اس کے حروف کو اچھی طرح ادا کیا جائے، اس کی سورتوں کی تلاوت کی جائے اور قرآن کے دسویں و پانچویں حصہ کا سبق دیا جائے۔ ان لوگوں نے تو حروف کو یاد کر لیا اور حدود کو چھوڑ دیا جبکہ تلاوت کا حق اس کی آیتوں میں تدبر کرنا ہے۔ خداوند عالم کے اس قول "( کتاب انزلناه الیک مبارک لید بروا آیاته ) "یعنی" اے رسول ہم نے تمہاری طرف قرآن نازل کیا ہے۔ یہ بابرکت ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں۔

(امام جعفر صادق) تنبیہ الخواطر جلد ۲ ص ۲۳۶

۱۶۵۱۸ ۔ خداوند عالم کے اس قول "( یتلونه حق تلاوته ) " کے بارے میں فرماتے ہیں: "اس کی اتباع کرتے ہیں جس طرح کہ اتباع کرنے کا حق ہے۔"

(رسول کریم) در منثور جلد ۱ ص ۲۷۲

۱۶۵۱۹ ۔ ختم قرآن کے وقت ان الفاظ کے ساتھ دعا کرتے تھے:

"خداوندا! اس وقت جبکہ تونے اس کی تلاوت کے لئے ہماری مدد فرمائی ہے اور اس کی حسنِ عبادت کے لئے ہماری زبانوں کے لئے آسانی کی راہیں ہموار کی ہیں، تو یہ مہربانی بھی فرما کہ ہمیں ان افراد میں قرار دے جو قرآن کی اسی طرح، پابندی اختیار کرتے ہیں، جو پابندی اختیار کرنے کا حق ہے، اور اس کی محکم آیات پر پختہ یقین رکھ کر تیرے آگے سرتسلیم خم کئے ہوئے ہیں۔"

(حضرت امام زین العابدین) صحیفہ کاملہ دعا ۴۲

۱۶۵۲۰ ۔ یقینی طور پر جان لو کہ تمکتاب (قرآن مجید) کی تلاوت کا حق ا س وقت تک ادا نہیں کر سکتے جب تک یہ نہ پہچان لو کہ اس کے حروف کس نے مقرر کئے ہیں۔ جب یہ جان لو گے تو یہ بھی پہچان لو گے کہ بری علتیں اور تکلفات کیا ہیں؟

(امام حسین علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۸ ص ۱۰۵ حدیث ۳

۱۶۵۲۱ ۔ کہاں گئی وہ قوم جنہیں اسلام کی دعوت دی گئی تو انہوں نے قبول کر لیا اور قرآن کی تلاوت کی اور اس پر سختی سے عمل پیرا ہوئے۔

(امام علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۱۹

۱۶۵۲۲ ۔ آہ! میرے وہ بھائی جنہوں نے قرآن کو پڑھا تو اسے مضبوط کیا (اس پر عمل پیرا ہوئے) اپنے فرائض میں غور و فکر کیا تو انہیں ادا کیا سنت کو زندہ کیا اور بدعت کو موت کے گھاٹ اتار دیا، جہاد کے لئے بلائے گئے تو انہوں نے لبیک کہی اور اپنے پیشوا پر یقین کامل کے ساتھ بھروسا کیا تو اس کی پیروی بھی کی۔

(امام علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۸۰

( ۱۹) قرآن کو پس پشت ڈال دینا

قرآن مجید

( واذا اخذالله میثاق الذین اتوا الکتاب لتبنیة للناس ولاتکتمونه فتبذوه ورآء ظهور هم و الشتروا به ثمناً قلیلا فلبئس ما یشترون ) " (آل عمران/ ۱۸۷)

ترجمہ۔ اور (اے رسول ان کو وہ وقت یاد دلاؤ) جب خد ا نے اہلِ کتاب سے عہد و پیمان لیا تھا کہ کتابِ خدا کو صاف صاف بیان کریں اور (خبردار) اس کی کوئی بات چھپائیں نہیں مگر ان لوگوں نے (اس کا ذرا بھی خیال نہ کیا) کتاب خدا کو پسِ پشت ڈال دیا اور اس کے بدلہ میں تھوڑی سی قیمت حاصل کی۔ پس یہ کیا ہی برا سودا ہے جو یہ لوگ خرید رہے ہیں۔

قرآن مجید

( ولما جاء هم رسول من عندالهب مصدق لما معهم نبذ فریق من الذین اوتوا الکتاب کتاب الله وراء ظهور هم کانهم لایعلمون ) (بقرہ/ ۱۰۱)

ترجمہ۔ اور جب ان ے پاس خدا کی طرف سے رسول (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آیااور وہ اس کتاب (توریت) کی جو ان کے پاس ہے، تصدیق بھی کرتا ہے، تو ان اہل کتاب کے ایک گروہ نے کتابِ خدا کو ا س طرح پسِ پشت پھینک ڈال دیا گویا وہ کچھ جانتے ہی نہیں۔

حدیث شریف

۱۶۵۲۳ ۔ جس امت نے بھی قرآن کو پسِ پشت پھینک دیا اللہ تعالیٰ نے ان سے علم کتاب کو اٹھا لیا اور جب بھی کوئی حاکم بنایا ان کے دشمنوں کو ان پر مسلط کر دیا۔ ان لوگوں کی کتاب سے منہ موڑنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ صرف کتاب کے حروف پر ڈٹے رہے، اور اس کی حدود میں ردوبدل کرتے رہے۔ پس یہ اس کو بیان تو کرتے ہیں لیکن ان کی حدود کی رعایت نہیں کرتے۔ جاہل لوگ تو ان کے زبانی بیان کرنے کی وجہ سے تعجب میں پڑ جاتے ہیں جبکہ علماء ان کے حدود کو ترک کرنے سے غمگین اور پریشان رہتے ہیں۔

(امام محمد تقی علیہ السلام) کافی جلد ۸ ص ۸۳ حدیث ۱۶ ۔

۱۶۵۲۴ ۔ جس نے قرآن پڑھا اور مر کر جہنم میں گیا تو وہ شخص ان میں سے تھا جس نے خدا کی آیتوں کو مذاق سمجھ رکھا تھا۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ، حکمت ۲۲۸ ، قولِ مولف دیکھئے موعظہ و نصحیت باب ۴۱۳۳

( ۲۰) قرأت کے آداب

۱ ۔ منہ کی پاکیزگی

۱۶۵۲۵ ۔ رسول کریم فرماتے ہیں کہ قرآن کی تلاوت کے راستے کو صاف کیا کرو۔ پوچھا گیا "یا رسول اللہ! قران کی تلاوت کا راستہ کونسا ہے؟" فرمایا: "تمہارے منہ ہیں" پھر پوچھا گیا: "کس طرح صاف کیا جائے؟" فرمایا: مسواک کے ذریعہ سے۔

بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۲۱۳ حدیث ۱۱

۱۶۵۲۶ ۔ تمہارے منہ قرآن کا راستہ ہیں۔ پس ان کو مسواک کے ذریعے صاف کیا کرو۔

(رسول اکرم) کنز العمال حدیث ۲۷۵۱

۱۶۵۲۷ ۔ اپنے منہ کو پاک صاف رکھو کیونکہ تمہارے منہ قرآن کا راستہ ہیں۔

(رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۷۵۲

۲ ۔ استعاذہ (اعوذباللہ پڑھنا)

قرآن مجید:

( فاذا قرأت القرآن فاستعذبالله من الشیطان الرجیم ) " (نحل/ ۹۸)

حدیث شریف:

ترجمہ۔ پس جب تم قرآن پڑھو تو شیطان مردود (کے وسوسوں) سے خدا کی پناہ مانگو۔

۱۶۵۲۸ ۔ گناہوں کے دروازے استعاذہ کے ذریعے بند کرو اور اطاعت کے دروازے تسمیہ (بسم اللہ الرحمن الرحیم) کے ذریعے کھولو۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۹۲ حدیث ۶۴۹

۱۶۵۲۹ ۔ جب امام علیہ السلام سے ہر سورت کی ابتدا ء میں استعاذہ کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: "ہاں! پڑھو، شیطانِ مردود سے خدا کی پناہ مانگو اور یہ بھی یاد رکھو کہ رجیم خبیث ترین شیطان کو کہتے ہیں۔"

(امام جعفر صادق علیہ السلام) تفسیر عیاشی جلد ص ۲۸۰ حدیث ۶۸

قولِ مولف ملاحظہ ہو عنوان ۳۷۹ " استعاذہ"

۳ ۔ ترتیل

قرآن مجید

( او زد علیه ورتل القرآن ترتیلا ) " (مزمل/ ۴)

ترجمہ۔ اور قرآن مجید کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔

۱۶۵۳۰ ۔ "ورتل القرآن ترتیلا" کے بارے میں فرماتے ہیں: "قرآن مجید کو واضح کرکے پڑھو جس طرح کہ اس کا حق ہے۔ اس کے حروف کو سبزی فروشوں کی آواز کی طرح نثر کی صورت میں نہ پڑھو، نہ ہی اشعار کی لے میں بھی پڑھو کہ اس کے عجائبات پر رک جاؤ (عجیب باتوں میں غور کرو)، اس کے ساتھ ہی اپنے دلوں کو بھی حرکت میں لاؤ اور خبردار تم مں سے کسی ایک کا بھی مقصد سورت کا ختم کرنا نہیں ہونا چاہئے"

(رسول اکرم) نوادر راوندی حدیث ۳۰

۱۶۵۳۱ ۔ قرآن مجید کو خوبصورت انداز میں تلاوت کرو، اشعار کی لے میں بھی نہ پڑھو، ذکر عجائبات پر توقف کرو، قرآن کے مطابق اپنے دلوں کے زخموں کا قرآن کے ذریعہ علاج کرو اور تم میں سے کسی کا مقصد اختتام سورت نہیں ہونا چاہئے۔

(رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۴۱۱۷

۱۶۵۳۲ ۔ قرآن کو اس خوبصورت انداز میں بیان کرو جس طرح بیان کرنے کا حق ہے اس کو اشعار کی لے میں نہ پڑھو، نہ ہی اس طرح جس طرح ریت کی مٹھی بھر کر ڈالی جاتی ہے (جو تیزی سے نیچے گر جاتی ہے) لیکن اپنے سخت دلوں کو مائل کرو اور کسی کا مقصد اختتام سورت نہیں ہونا چاہئے۔

(امام علیہ السلام) کافی جلد ۲ ۶۲۴ حدیث ۱

۱۶۵۳۳ ۔ متقین کی صفات میں فرماتے ہیں:

بہرحال راتوں کو ان کے قدم سیدھے ہوتے ہیں نماز کے لئے، قرآن کے اجزاء کی ترتیل کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں، اس کے ساتھ ہی وہ خود غمگین ہو جاتے ہیں اور قرآن کے ذریعے ہی اپنے ہر درد کی دوا پاتے ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۳

۴ تدبر

قرآن مجید

"( افلا یتدبرون القرآن ام علی قلوب اقضالها ) " (محمد ۲۴)

ترجمہ۔ تو کیا یہ لوگ قرآن میں ذرا بھی غور نہیں کرتے، یا ان کے دلوں پر تالے پڑے ہوئے ہیں۔

"( کتاب انزلنه الیک مابرک لید بروا آیاته ولیتذکرا ولو الالباب ) " (ص/ ۲۹)

ترجمہ۔ (اے رسول) کتاب (قرآن) جو ہم نے تم پر نازل کی ہے بڑی برکت والی ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں میں غور کریں اور عقل والے نصیحت حاصل کریں۔

"( افلم یدبروا القول ام جاء هم ما لم یأت آبائهم الاولین ) :" (مومنون/ ۶۸)

ترجمہ۔ تو کیا ان لوگوں نے ہماری بات (قرآن) پر غور نہیں کیا، یا ان کے پاس کوئی ایسی نئی چیز آئی ہے جو ان کے باپ داداؤں کے پاس نہیں آئی تھی؟

"( افلایتدبرون القرآن و لوکان من عند غیرالله لوجدواقفیه اختلافاً کثیرا ) " (نساء/ ۸۲)

حدیث شریف

ترجمہ۔ تو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے اور (یہ خیال نہیں کرتے کہ) اگر قرآن اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے (آیا) ہوتا تو وہ ضرور اس میں بڑا اختلاف پاتے۔

۱۶۵۳۴ ۔ خبردار اس قرأت میں کوئی بہتری نہیں ہے جس میں غور و فکر نہ ہو اور یاد رکھو! اس عبادت میں بھی کوئی اچھائی نہیں جس میں معرفت نہ ہو۔

(حضرت امام علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۲۱۱ حدیث ۴

۱۶۵۳۵ ۔ قرآنی آیات علم کے خزانے ہیں۔ پس جب بھی کسی خزانے کا دروازہ کھلا ہو تو تمہیں چاہئے کہ تم اس میں غور کرو۔

(امام علی زین العابدین علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۲۱۶ حدیث ۳۲

۱۶۵۳۶ ۔ قرآنی آیت میں غور کرو اور ان سے عبرت حاصل کرو کیونکہ قرآن ہی بلیغ ترین عبرت ہے۔

(امام علی علیہ السلام) غررالحکم حدیث ۴۴۹۳

۱۶۵۳۷ ۔ جو شخص قرآن مجید کو تین مرتبہ سے کم پڑھے گا وہ اسے نہیں سمجھ سکے گا۔

(رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۸۲۸

۱۶۵۳۸ ۔ ابن عمر سے فرماتے ہیں: "پورے قرآن مجید کو ہر ماہ ختم کیا کرو۔ " کہا " میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔" فرمایا: "پھر بیس راتوں میں کیا کرو۔" عرض کیا "میں اس سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں۔" فرمایا "ہر دس راتوں میں" عرض کیا "میں ا س سے بھی زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں" تو فرمایا "ہفتہ میں ایک بار!" اس سے زیادہ نہ بڑھنا (تاکہ تم قرآن مجید کو ٹھہر ٹھہر کر اور سمجھ کر پڑھ سکو (یہ صرف زبانی مسئلہ نہ ہو۔ از مترجم)

(رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۸۱۵

۱۶۵۳۹ ۔ امام جعفر صادق علیہ السلام سے جب ایک رات میں ختم قرآن کی تلاوت کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ مجھے کوئی خوشی نہیں ہوتی کہ تم قرآن مجید کو ایک ماہ سے کم میں ختم کرو۔" (کیونکہ اصل مقصد سمجھنا ہے۔ مترجم)

کافی جلد ۲ ص ۶۱۷ حدیث ۱

قول مولف: ملاحظہ ہو عبادہ

۵ ۔ خشوع

قرآن مجید

( الم یان للذین آمنوا ان تخشع قلوبهم لذکر الله وما نزل من الحق ولا لکونوا کالذین اتوا الکتاب من قبل فاطل علیهم الامد فقست قلوبهم وکثیر منحم فاسقون ) (حدید/ ۱۶)

ترجمہ۔ کیا ایمانداروں کے لئے ابھی تک وقت نہیں آیا کہ خدا کی یاد اور قرآن کے لئے جو (خدا کی طرف سے) نازل ہوا ہے، ان کے دل نرم ہوں اور وہ ان لوگوں کے جیسے نہ ہو جائیں جن کو ان سے پہلے کتاب (توریت و انجیل) دی گئی تھی۔ یعنی جب ایک طویل عرصہ گزر گیا تو ان کے دل سخت ہو گئے اور ان میں سے زیادہ بدکار ہیں۔

۱۶۵۴۰ ۔ امام رضا علیہ السلام خراسان کے راستے میں رات کو اپنے بستر میں قرآن مجید کی بہت زیادہ تلاوت فرماتے، جب کسی ایسی آیت تک پہنچتے جس میں جنت یا دوزخ کا ذکر ہوتا تو آنسو بہاتے اور خدا سے جنت کی دعاکرتے اور دوزخ سے پناہ مانگیت۔

عیون اضبار الرضا علیہ السلام جلد ۲ ص ۱۸۲ حدیث ۵

۱۶۵۴۱ ۔ جب میں قرآن کی تلاوت کرتا ہوں تو مجھے تعجب ہوتا ہے کہ میں بوڑھا کیسے نہیں ہوا؟

(رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۱۶ ص ۲۵۸ حدیث ۴۲

۱۶۵۴۲ ۔ قرآن مجید کو حزہ کی صورت میں پڑھا کرو کیونکہ وہ نازل ہی اسی صورت میں ہوا ہے۔

(رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۷۷۷

۱۶۵۴۳ ۔ قرآن کی تلاوت کرو اور آنسو بہاؤ۔ اگر رو نہیں سکتے تو رونے کی شکل بناؤ۔ جو شخص قرآن مجید کو راگ سے پڑھے گا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

(رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ( ۲۷۹۴

۱۶۵۴۴ ۔ جو آنکھ بھی قرآن کی تلاوت میں آنسو بہائے گی وہ قیامت کے دن ٹھنڈک پائے گی۔

(رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۸۳۴ ۔

۱۶۵۴۵ ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہح وسلم سے پوچھا گیا کہ کس شخص کی قرأت سب سے بہتر ہے تو فرمایا: "اس شخص کی قرأت بہترین ہے کہ جب تم اس کی قرائت سنو تو یہ دیکھو کہ وہ خدا سے ڈرتا ہے!"

(رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۴۱۴۳

قول مولف، ملاحظہ ہو حدیث ۱۶۵۱۱

( ۲۱) تلاوت سے مانع امور

۱۶۵۴۶ ۔ قرآن کو عربوں کی آواز اور لب و لہجے میں پڑھو اور فاسق و فاجر لوگوں کے لب و لہجے میں نہ پڑھو کیونکہ میرے بعد ایسی قومیں آئیں گی جو قرآن مجید کو گانے کی، میت پر واویلا کرنے اور کمزور و لاتعلق قسم کی آوازوں میں تلاوت کریں گی، قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، ان کے دل الٹے ہوں گے، اور ان لوگوں کے دل بھی جو ان حالتوں سے خوش ہوتے ہیں۔

(رسول اکرم) کافی جلد ۲ ص ۶۱۴ حدیث ۳

۱۶۵۴۷ ۔ مجھے ڈر ہے کہ تم دین کو بے وقعت کرو دو گے اور قرآن کو گیت بنا لو گے"

(رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۱۹۴ حدیث ۸

۱۶۵۴۸ ۔ ہمیں رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منع فرمایا کہ قرآن کو جنب کی حالت میں پڑھیں۔

(عبداللہ بن رواحہ) کنزالعمال حدیث ۴۲۰۱

۱۶۵۴۹ ۔ جو شخص قرآن کی تلاوت کے ذریعہ لوگوں کو کھوکھلا کر دے وہ قیامت کے دن ایسی حالت میں آئے گا کہ ا س کا چہرہ ہڈی کا ڈھانچہ ہو گا جس پر گوشت نہیں ہو گا۔

(رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۸۴۳ قول مولف ملاحظہ ہو باب ۲۳ اور ۲۴

( ۲۲) جن پر قرآن لعنت کرتا ہے

۱۶۵۵۰ ۔ بہت سے ایسے قرآن کی تلاوت کرنے والے ہیں جن پر قرآن لعنت کرتا ہے۔

(رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۱۸۴ حدیث ۱۹

۱۶۵۵۱ ۔ قرآن صرف تلاوت اور علم حرص حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ قرآن ہدایت اور علم و سمجھ بوجھ کے لئے ہے۔

(رسول اکرم) کنزل العمال حدیث ۲۴۶۲

۱۶۵۵۲ ۔ تو قرآن کی ایسی چیزیں پڑھتا ہے جو تجھے برائیوں سے روکتی ہیں پس جب تو برائیوں سے نہیں رکتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تو قرآن پڑھتا ہی نہیں۔

(رسول اکرم) شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد ۱۰ ص ۲۳

۱۶۵۵۳ ۔ قرآن کی ایسی آیات پڑھو جو تمہیں برائیوں سے روکتی ہوں۔ پس اگر تم برائیوں سے رکتے نہیں تو گویا تم قرآن پڑھتے ہی نہیں۔

(رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۷۷۶

۱۶۵۵۴ ۔ دنیا میں صرف چار چیزیں بے محل اور مظلوم ہیں۔ ۱ ۔ ظالم کے اندر قرآن (جو صرف حفظ کرکے قرآن کی حدود بھول جائے) ۲ ۔ مسجد ایسے لوگوں کے درمیان جو اس میں جا کر نماز نہ پڑھتے ہوں۔ ۳ ۔ قرآنِ مجید ایسے گھر میں جس نہ پڑھا جاتا ہو اور ۴ ۔ نیک آدمی بری قوم میں۔

(رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۸۴۵

( ۲۳) فاجر قاری

۱۶۵۵۵ ۔ میری امت کے اکثر قاری منافق ہیں۔

(رسول اکرم) مصباح الشریعہ ۳۷۳

۱۶۵۵۶ ۔ دوزخ میں لوہے کا ایک گرز ہے جسے مجرم قاریوں اور علماء کے سر پر مارا جائے گا۔ (رسول اکرم) جامع الاخبار ص ۱۳۰ و ص ۲۵۴

۱۶۵۵۷ ۔ جو شخص ظالم حاکم کے حضور جا کر اس ارادے سے قرآن کی تلاوت کرے کہ اس دنیاوی عزت افزائی ہو تو سننے والے پر ہر حرف کے بدلہ ایک دفعہ لعنت کی جائے گی لیکن قاری کو ہر حرف کے بدلے دس لعنتیں پڑیں گی۔

(امام محمد باقر علیہ السلام) الاختصاص ص ۲۶۲

۱۶۵۵۸ ۔ جو شخص قرآن کو دنیا اور اس کی زینتوں کے لئے سیکھے، خدا اس پر جنت حرام قرار دے دیتا ہے۔

(رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۷۷ ص ۱۰۰ حدیث ۱

( ۲۴) قاریوں کی قسمیں

۱۶۵۵۹ ۔ ایاس بن عامر سے مخاطب ہو کر فرمایا:

اے عکر کے بھائی! اگر تو زندہ رہا تو دیکھے گا کہ قرآن پڑھنے والوں کی تین قسمیں ہوں گی: ایک قسم خدا کے لئے، دوسری دنیا کے لئے اور تیسری لڑائی جھگڑے (ذاتی برتری) کے لئے قرآن پڑھے گی۔ اگر تو خدا کے لئے قرآن پڑھنے کی طاقت رکھتا ہے تو ایسا کام ضرور کر۔

(حضرت امام علی) کنزالعمال حدیث ( ۴۱۹۲

۱۶۵۶۰ ۔ قاری تین قسم کے ہیں۔ ایک وہ جو اس لئے قرآن پڑھتے ہیں کہ بادشاہوں کا قرب حاصل کریں اور لوگوں پر احسان جتائیں۔ یہ قسم دوزخیوں کی ہے۔ دوسرے وہ ہیں جو الفاظ کو یاد تو کر لیتے ہیں لیکن اس کے حدود و قیود کو ضائع کر دیتے ہیں۔ یہ قسم بھی دوزخیوں کی ہے۔ تیسری قسم ایسے قاریوں کی ہے جو قرآن پڑھتے ہیں تو اپنے آپ کو اس کے سایہ میں چھپا دیتے ہیں پس ایسے قاری اس کی محکمات پر عمل کرتے اور متشابہات پر یقین رکھتے ہیں، اس کے فرائض بجا لاتے ہیں، اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام جانتے ہیں۔ یہ قسم ایسی ہے جسے خدا نے بلاؤں اور گمراہیوں سے بچایا ہے اور یہ جنت والے ہیں اور جس کے بارے میں بھی چاہیں شفاعت کر سکتے ہیں۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) خصال صدوق جلد ۱ ص ۱۴۳ حدیث ۱۶۵

۱۶۵۶۱ ۔ قرآن کے قاری تین قسم کے ہیں۔ پہلا ایسا آدمی جو قرآن پڑھتا ہے اور اسے اپنا ذریعہ معاش بنا لیتا ہے، تو بادشاہ اس کی عزت کرتے ہیں۔ وہ اس کے ذریعہ لوگوں کو اپنی طرف مائل کرتا ہے۔ دوسرا ایسا آدمی ہے جو قرآن پڑھ کر اس کے حروف کو تو باقی رکھتا ہے لیکن اس کے حدود کو ضائع کر دیتا ہے۔ قرآن کے ایسے قاری بہت زیادہ ہیں۔ خدا انہیں برکت نہ دے۔ تیرا وہ شخص ہے جو قرآن پڑھ کر اسے اپنے دل کا مرہم بناتا ہے۔ اسی کے ذریعے راتیں گزارتا ہے۔ دنوں کو روزے رکھتا ہے اور مساجد میں اسے قائم رکھتا ہے۔ یہ لوگ اپنے کپڑوں کے نیچے سر چھپا کر گڑگڑاتے ہیں۔ پس انہی لوگوں کے ذریعہ خدا بلاؤں کو ٹالتا ہے، دشمنوں کو نیست کرتا ہے اور آسمان سے بارش برساتا ہے۔ خدا کی قسم، خدا کو ایسے قاری سرخ سونے سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔

(رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۸۸۲

۱۶۵۶۲ ۔ لوگوں میں کچھ ایسے ہیں جو اس لئے قرآن کا علم حاصل کرتے ہیں کہ انہیں یہ کہا جائے کہ یہ فلاں قاری ہے۔ بعض ایسے ہیں جن کا مقصد آواز کا جوہر دکھانا ہوتا ہے تاکہ یہ کہا جاےء کہ فلاں شخص سریلا ہے جبکہ اس میں کوئی اچھائی نہیں ہے اور ان لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو قرآن کا علم اس لئے حاصل کرتے ہیں کہ اپنا دن رات اس سے گزاریں۔ انہیں کوئی پروا نہیں کہ کوئی انہیں قاری جانے یا نہ جانے۔ (پس ایسے لوگ ہی نجات یافتہ ہیں)۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) کافی جلد ۲ ص ۶۰۸ حدیث ۶

۱۶۵۶۳ ۔ جو شخص دکھاوے اور کسی چیز کی طلب کے لئے قرآن مجید پڑھتا ہے وہ قیامت کے دن خداوندِ عالم کی ملاقات ا س حالت میں کرے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت نہیں ہو گا۔ صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ ہو گاجو شخص قرآن پڑھ کر اس پر عمل نہ کرے خدا اسے قیامت کے دن اندھا محشور کرے گا۔ پس وہ کہے گا "اب لم حشر تنی اعمیٰ" (طہ/ ۱۲۵) ترجمہ: اے میرے رب تو نے مجھے اندھا محشور کیوں کیا؟ (رسول اکرم) توابالاعمال ص ۳۳۷ حدیث ۱

( ۲۵) قرآن مجید کا استماع

۱۶۵۶۴ ۔ آگاہ رہو جس کو بھی جنت کا شوق ہو اسے چاہے کہ وہ قرآن غور سے سنے۔

(رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۴۷۲

۱۶۵۶۵ ۔ جس شخص نے قرآن کی ایک آیت کو بھی غور سے سنا تو یہ اس کے لئے ایک بلیر سونا حاصل کرنے سے بھی بہتر ہے اور بلیر یمن کے عظیم پہاڑ کا نام ہے۔

(رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۲۰ حدیث ۸ ة

۱۶۵۶۶ ۔ قاری قرآن سے دنیاوی مصیبت اور قرآن کو غور سے سننے والے سے آخرت کی مصیبت دور کی جائے گی۔

(رسول کریم) کنزالعمال حدیث ۴۰۳۱

۱۶۵۶۷ ۔ جس شخص نے قرآن مجید کی ایک آیت کو غور سے سنا اس کے لئے دوہری نیکی لکھی جائے گی اور جس نے کتابِ خدا کی ایک آیت کی تلاوت کی تو اس کے لئے قیامت کے دن ایک خاص نور ہو گا۔

(رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۳۱۶

( ۲۶) استماع کے آداب

قرآن مجید

( واذا قریٴ القرآن فاستمعوا له و انصتوا اعلکم ترحمون ) " (اعراف/ ۲۰۴)

ترجمہ۔ اور جب قرآن پڑھا جائے تو کان لگا کے سنو اور چپ چاپ رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

قرآن مجید

"قل آمنوا به الولا تو منوا ان الذین اوتوا العلم من قبله اذا یتلی علیهم یحزون للازقان سجدا و یقولون سبحان ربنا ان کان وعد ربنا لمفعولا و یحزون للازقان یبکون و یزیدهم خشوعاً

(اسراء/ ۱۰۷ تا ۱۰۹)

ترجمہ۔ (اے رسول) کہہ دو کہ خواہ تم اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ اس میں شک نہیں کہ جن لوگوں کو اس کے قبل (آسمانی کتابوں کا) علم عطا کیا گیا ہے ان کے سامنے جب یہ پڑھا جاتا ہے تو ٹھوڑیوں کے بل (منہ کے بل) سجدے میں گر پڑتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار (ہر عیب سے) پاک و منزہ ہے۔ بیشک ہمارے پروردگار کا وعدہ پورا ہونا ہی تھا۔ یہ لوگ (سجدہ میں) منہ کے بل گر پڑتے ہیں، روتے جاتے ہیں اور قرآن ان کی خاکساری کو بڑھاتا جاتا ہے۔

قرآن مجید

( اولئک الذین انعم الله علیهم من النبیین من ذریة آدم و من حملنا مع نوح و من ذریوه ابراهیم واسرائیل و ممن هدینا و اجبنا اذا تتلیٰ علیهم ایات الرحمٰن خروا سجده و بکیا ) (مریم/ ۵۸)

ترجمہ۔ یہ انبیاء جنہیں خدا نے اپنی نعمت دی، آدم کی اولاد سے ہیں، ان کی نسل سے جنہیں ہم نے (طوفان کے وقت) نوح کے ساتھ (کشتی پر) سوار کر لیا تھا، ابراہیم و یعقوب کی اولاد سے ہیں، ان لوگوں میں سے ہیں جن کی ہم نے ہدایت کی اور منتخب کیا۔ جب ان کے سامنے خدا کی (نازل کی ہوئی) آیات پڑھی جاتی ہیں تو زار و قطار روتے ہوئے سجدے میں گر پڑتے تھے۔

قرآن مجید

( الم یان للذین اٰمنوا ان تخشع قلوبهم لذکرالله وما نزل من الحق ولا یکونوا کالذین اوتوا الکتاب من قبل فطال علیهم الامد فقست قلوبهم وکثیر منهم فاسقون ) (حدید/ ۱۶)

ترجمہ۔ کیا ایمانداروں کے لئے ابھی تک کا وہ وقت نہیں آیا کہ خدا کی یاد و قرآن کے لئے جو خدا کی طرف سے نازل ہوا ہے ان کے دل نرم ہوں اور وہ ان لوگوں کے سے نہ ہو جائیں جن کو ان سے پہلے کتاب (توریت و انجیل) دی گئی تھی، تو جب ایک زمانہ دراز گزر گیا تو ان کے دل سخت ہو گئے اور ان میں سے زیدہ تر بدکار ہیں۔

۱۶۵۶۸ ۔ جب زرارہ نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے قرآن مجید کو سننے والے پر دل لگا کے سننے اور چپ چاپ رہنے کے وجوب کے متعلق سوال کیا تو امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: "ہاں تمہارے نزدیک جب قرآن پڑھا جا رہا ہو تو تم غور سے سننا اور چپ رہنا واجب ہے۔"

بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۲۲۲ حدیث ۷

۱۶۵۶۹ ۔ خداوند عالم مومنین سے فرماتا ہے "( واذاقریٴ القرآن ) " یعنی جب قرآن پڑھا جائے، یعنی فرض نمازوں میں امام کے پیچھے تو "فاستمعوالہ" غور سے سنو

(امام محمد باقر علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۲۲۱ حدیث ۳

۲۷) قرآن کا ظاہر بھی ہے اور باطن بھی

۱۶۵۷۰ ۔ خداوند عالم نے جو آیت بھی نازل فرمائی ہے اس کا ظاہر بھی ہے اور باطن بھی اور، ہر حرف کے علیحدہ حدود ہیں اور ہر حدبندی جدا و اعلیٰ ہے۔

(رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۴۶۱

۱۶۵۷۱ ۔ کتاب خدا چار چیزوں پر مشتمل ہے: عبادت پر، اشاروں پر، لطیف باتوں پر اور حقائق پر۔ پس عبارت عام لوگوں کے لئے ہے، اشارے خواص کے لئے ہیں، لطیف باتیں اولیاء خدا کے لئے ہیں اور حقائق فقط انبیاء کے لئے مخصوص ہیں۔

(امام زین العابدین علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۲۰ حدیث ۱۸ ۔

۱۶۵۷۲ ۔ قرآن کا ایک باطن ہے اس باطن کا عنصر ایک باطن ہے اس کا ظاہر بھی ہے اور ا س ظاہر کا بھی ایک ظاہر ہے لوگوں کے عقل سے تفسر قرآن سے زیادہ اور کوئی چیز دور نہیں ہے کیونکہ ایک آیت کا پہلا حصہ کسی ایک چیز کے بارے میں ہے، تو آخری حصہ کسی دوسری چیز کے بارے میں ایسا متصل کلام ہے جو کئی صورتوں میں ڈھل سکتا ہے۔

(امام محمد باقر علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۹۲ ص ۹۵ حدیث ۴۸

۱۶۵۷۳ ۔ قرآن کا ظاہر بہت ہی خوبصورت اور باطن بہت ہی گہرا ہے۔

(امام علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۸

۱۶۵۷۴ ۔ پورے کا پورا قرآن (ظاہراً) دہلا دینے والا ہے جبکہ قرآن کا باطن خدا سے نزدیک کرنے والا ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) معانی الاخبار ص ۲۳۲ حدیث ۱۰

قول مولف، ملاحظہ ہو بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۶۸ باب ۸

( ۲۸) تفسیر بالراء کرنے کی ممانعت

۱۶۵۷۵ ۔ خداوند عزو جل فرماتا ہے: وہ شخص مجھ پر ایمان نہیں رکھتا جس نے میرے کلام کی تفسیر اپنی طرف سے کی۔

(رسول اکرم) بحارالانوار جدل ۹۲ ص ۱۰۸ حدیث ۱

۱۶۵۷۶ ۔ جس نے قرآن کی تفسیر بالرائی کی اگر حقیقت تک پہنچ بھی گیا تو اسے ثواب نہیں ملے گا اور اگر اس نے خطا کی تو اس کا گناہ خود اس پر ہی ہو گا۔

(امام جعف صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۱۱۰ حدیث ۱۱

۱۶۵۷۷ ۔ جس نے بھی قرآن کے بارے میں علم کے بغیر بات کی تو وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں تیار رکھے۔

(رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۹۵۸

۱۶۵۷۸ ۔ جو شخص قرآن کی تفسیر بالرائی کرتا ہے وہ حقیقت تک پہنچ بھی جائے پھر بھی خطاکار ہے۔

(رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۱۱۱ حدیث ۲۰

۱۶۵۷۹ ۔ جو شخص قرآن کے بارے میں بغیر علم کے بات کرے گا تو قیامت کے دن اسے آگ کی لگاموں سے جکڑا ہوا لایا جائے گا۔

(رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۱۱۱ حدیث ۲۰

۱۶۵۸۰ ۔ میں اپنے بعد اپنی امت میں سے ان لوگوں سے زیادہ خوفزدہ ہوں جو قرآن کی بے محل تاویلیں کریں گے۔

(رسول اکرم) منیة المرید ص ۳۶۹

۱۶۵۸۱ ۔ معاویہ کی طرف ایک خط میں فرمایا: "تم نے قرآن کی غلط تاویل کرکے دنیا پر حملہ کو جائز قرار دے دیا۔

(امام علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خط ۵۵

قولِ مولف ملاحظہ ہو تفسیر المیزان جلد ۳ ص ۴۴ " تاویل کے کیا معنی ہیں؟"

اور اسی کتاب کے عنوان ۱۷۶ " رای عقیدہ ( ۲)

( ۲۹) قرآن کی معرفت رکھنے والے

۱۶۵۸۲ ۔ امام محمد باقر علیہ السلام نے قتادہ بن دعامہ سے مخاطب ہو کر فرمایا: "اے قتادہ کیا تُو اہل بصرہ کا فقیہ ہے؟" کہا: "لوگ ایسا ہی گمان کرتے ہیں۔" فرمایا: "سنا ہے تم قرآن کی تفسیر بھی کرتے ہو؟" کہا: "جی ہاں" امام نے فرمایا: "علم کے ساتھ تفسیر کرتے ہو یا اپنی طرف سے" کہا: نہیں علم کے ساتھ تفسیر کرتا ہوں" یہاں تک کہ امام نے فرمایا: "اے قتادہ قرآن کی معرفت وہ لوگ رکھتے ہیں جن کے ساتھ وہ مخاطب ہو۔"

(امام محمد باقر علیہ السلام) کافی جلد ۸ ص ۳۱۱ حدیث ۴۸۵ ۔

۱۶۵۸۳ ۔ اے لوگو یہی قرآن ہے اس سے بات کرو جبکہ تم اس سے ہرگز بات نہیں کر سکتے۔ لیکن میں تمہیں اس کی خبریں دیتا ہوں۔

(امام علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۵۸ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید جلد ۹ ص ۲۱۷

۱۶۵۸۴ ۔ اہلبیت علیھم السلام کی صفات بیان کرتے ہوئے: "یہ لوگ حق کی باگیں، دین کے پرچم اور سچ کی زبان ہیں، جو قرآن کی بہتر سے بہتر منزل سمجھ سکتے ہیں۔ وہیں انہیں بھی جگہ دو اور پیاسے اونٹوں کی طرح ان کے سرچشمہ ہدایت پر اترو۔"

(امام علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۸۷

۱۶۵۸۵ ۔ خداوند عالم نے ہم اہلبیت کی ولایت کو قرآن کا بلکہ تمام آسمانی کتابوں کا محور قرار دیا ہے۔ قرآن مجید کی محکم آیتیں اسی کے اردگرد گھومتی ہیں، اسی کے ذریعے انبیاء کو آسمانی کتابیں عنایت کی گئی ہیں اور ان سے ایمان کا پتہ چلتا ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۲۷ حدیث ۲۹

( ۳۰) قرآنی آیتوں کی قسمیں

قرآن مجید

"ھوالذی انزل علیک التکاب منہ آیات محکمات ھین ام الکتاب واخر متشابھات فاما الذین فی قلوبھم زیغ فیتبعون ماتشابہ منہ ابتغاء الفتنة واتبغاء تاویلہ وما یعلم تاویلہ الا اللہ والراسخون فی العلم یقولون آمنا بہ کل من عند ربنا وما یذکر الا اولو الالباب" (آل عمران/ ۷)

ترجمہ۔ (اے رسول) وہی وہ (خدا) ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی۔ اس کی بعض آیتیں تو محکم (بہت صریح) ہیں، وہی (عمل کرنے کیلئے) کتاب کی اصل (اور بنیاد) ہیں۔ کچھ (آیتیں) متشابہ (گول مجول ہیں جس کے معنی میں کئی پہلو نکل سکتے ہیں) پس جن لوگوں کے دل میں کجی ہے (وہ) انہی آیتوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں جو متشابہ ہیں تاکہ فساد برپا کریں اور اس خیال سے کہ انہیں اپنے مقلب کے مطابق ڈھالیں، حالانکہ خدا اور ان لوگوں کے سوا جو علم میں بڑے پایہ پر فائز ہیں، ان کا اصلی مطلب کوئی نہیں جانتا۔ وہ لوگ (یہ بھی) کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے، یہ سب (محکم ہو یا متشابہ) ہمارے پروردگار کی طرف سے ہے اور انہیں عقل والے ہی سمجھتے ہیں۔"

حدیث شریف

۱۶۵۸۶ ۔ قرآن پانچ وجہوں پر نازل ہوا ہے۔ حلال حرام، محکم، متشابہ اور امثال۔ پس حلال پر عمل کرو، حرام کو چھوڑو، محکمات پر عمل کرو، متشابہات کو چھوڑو اور مثالوں سے عبرت حاصل کرو۔

(رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۱۸۶ حدیث ۳

۱۶۵۸۷ ۔ قرآن سات حروف پر نازل ہوا ہے: حکم دینے والے، روکنے والے، شوق دلانے الے، ڈرانے والے، مقابلہ (تشابہ) کے لئے، قصوں کے لئے اور مثالوں کے لئے۔

(رسول اکرم) العمال حدیث ۳۰۹۶

۱۶۵۸۸ ۔ خداوند عالم نے قرآن کو سات اقسام پر نازل کیا۔ لن میں ہر ایک کافی و شافی ہے۔ وہ یہ ہیں: حکم، منع، تشویق، خوف دلانا، جدل، مثالیں اور قصے۔ قرآن میں ناسخ و منسوخ، محکم و متشابہ، خاص و عام، مقدم و موخر آیات، واجب و رخصت والے سجدے، حلال و حرام، فرائض واحکام، منفطع و معطوف آیات۔ منفطع اور بغیر عطف والی آیتیں، بعض حروف دوسرے حروف کی جگہ ہیں۔ ان تمام میں سے بعض ایسے بھی ہیں جن کے الفاظ خاص ہیں، بعض ایسے ہیں جن کے الفاظ عام اور کئی احتمالات کے حامل ہوتے ہیں، ان میں سے بعض کے الفاظ تو واحد ہیں لیکن معنی جمع کے ہیں، بعض اس کے الٹ ہیں اور، بعض ایسے ہیں جن کے الفاظ تو ماضی سے تعلق رکھتے ہیں لیکن معنی مستقبل کے ہیں، اور بعض ایسے ہیں جن کے الفاظ تو خبر کے انداز میں ہیں لیکن درحقیقت وہ دوسری قوموں کی حکایات ہوتی ہیں، بعض ایسے ہیں جو اپنی جہت سے ہٹ کر بھی اپنے معنی پر باقی ہیں، بعض ایسے ہیں جن کے معانی ان کی تنزیل کے خلاف ہیں، بعض کی تاویلیں اس کی تنزیل کے اندر چھپی ہوئی ہیں، بعض کی تاویلیں اس کی تنزیل سے پہلے اور بعض کی تاویلیں اس کی تنزیل کے بعد آئی ہیں، بعض ایسی آیتیں ہیں جن کا کھ حصہ ایک سورت میں اور باقی حصہ دوسری سورت میں ہے۔ ایسی آیات بھی ہیں جن کا آدھا حصہ منسوخ ہو چکا ہے اور باقی آدھا اپنی حالت پر باقی ہے۔ کچھ آیات کے الفاظ ایک جیسے لیکن معنی مختلف ہوتے ہیں، کچھ آیات اس کے الٹ ہیں اور کچھ آیتوں میں لزوم کے بعد رخصت و چھوٹ ہوتی ہے کیونکہ خداوند تعالیٰ یہ چاہتا ہے کہ جس طرح اس کے عزائم اور لازمی باتوں کو لیا جائے اسی طرح رخصت والی باتوں کو بھی لیا جائے، کچھ آیات کے بارے میں اختیار ہے چاہے تو لینے والا ان پر عمل کرے، چاہے اس کو چھو ڑدے، کچھ آیات میں رخصت ہے۔ ان کا باطن ان کے ظاہر کے خلاف ہوتا ہے۔ تقیہ کے وقت اس کے ظاہر پر عمل کیا جائے گا، باطن پر نہیں۔ کچھ آیات میں خطاب ایک قوم سے ہے لیکن مراد دوسری قومیں ہیں۔ کچھ آیات میں خطاب تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہے لیکن مراد ان کی امت ہے، کچھ چیزو ں کی حرمت فقط ان کی حلیت کے ذریعے معلوم ہوتی ہے، کچھ آیتوں کی تالیف اور تنزیل اس چیز کے الٹ ہے جس پر وہ آیت نازل ہوئی تھی۔ کچھ آیتوں میں خدا کی طرف سے تمام ملحد، زندیق، دہریہ، ثنویہ (دو خدا کے قائل) ، قدریہ، جبریہ، بت پرستوں اور آگ کی پوجا کرنے والوں کے دلائل کو رد کرکے ان پر حجت قائم کر دی گئی ہے۔ ان میں سے ایسی آیات بھی ہیں جن میں مسیحیوں سے حضرت عیسیٰ کی ذات کے بارے میں مناظرہ کیا گیا ہے اور ان آیتوں میں یہودیوں کا رد بھی پیش کیا گیا ہے ان آیتوں میں سے بعض میں ان لوگوں کے گمان کو بھی رد کر دیا گیا ہے جو یہ سمجھتے تھے کہ ایمان اور کفر کا ایک ہی درجہ ہے یہ دونوں نہ ہی گھٹتے ہیں اور نہ ہی بڑھتے ہیں۔ کچھ میں اس گمان کا رد بھی ہے جن میں کہا جاتا ہے کہ موت کے بعد اور قیامت سے پہلے سزا و جزا نہیں ہے۔

(امام علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۹۳ باب ۴ ( صفحہ ۴)

( ۳۱) محکم اور متشابہ آیات

۱۶۵۸۹ ۔ جب حضرت علی علیہ السلام سے قرآن مجید میں محکم اور متشابہ آیتوں کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: "سب سے صریح اور محکم آیت جس کو قرآن کی کسی دوسری آیت نے نسخ بھی نہیں کیا خدا تعالیٰ کا یہ قول "ھوالذی انزل علیک الکتاب منہ آیات محکمات ھن ام الکتاب و اخرمتشابھات" (آل عمران/ ۷)

ترجمہ: (یہ خدا) وہی ہے جس نے (اے رسول) تم پر قرآن نازل کیا جس میں محکم (صریح) اور متشابہ (کئی پہلو والی) آیات ہیں جن میں محکم آیات قرآن کا اصل ہیں۔ لوگ تو صرف متشابہ آیتوں میں ہلاکت میں پڑ گئے کیونکہ وہ ان کے معنی سے واقف نہیں ہیں اور نہ ہی ان کی حقیقت کو سمجھتے ہیں۔ پس ان آیتوں کے لئے انہوں نے اپنی طرف سے تاویلیں گھڑ لیں اور اس طرح سے آئمہ سے سوال کرنے سے بے نیاز ہو گئےقرآن میں متشابہ ترین آیت کہ جو انحراف کا باعث ہے وہ الفاظ میں تو متفق لیکن معنی میں مختلف ہے۔ وہ یہ ہے "یضل اللہ من یشاء و یھدی من یشاء" (مدثر/ ۳۱) یعنی "اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت کر دیتا ہے۔" یہاں اللہ نے گمراہ کرنے کی اپنی طرف نسبت دی ہے حالانکہ یہ خود ان کی اپنی کرتوتوں کے ذریعہ جنت کے راستے سے گمراہی ہوتی ہے، جبکہ دوسری جگہ اسی گمراہی کو نسبت کافروں سے اور تیسری جگہ بتوں سے دی گئی ہے،

(امام علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۹۳ باب ۱۱

ملاحظہ ہو: مکمل کلام اور "گمراہی کے وجوہات" "قضاء (تقدیر) میں متشابہ" اور باب "فتنہ کی تفسیر"

۱۶۵۹۰ ۔ جب امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ محکم اور متشابہ کیا ہیں، تو فرمایا: "محکم وہ وہیں جن پر ہم عمل کرتے ہیں اور متشابہ وہ ہے جو اس سے ناواقف پر متشبہ ہو جائے۔"

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۳۸۲ حدیث ۱۵

۱۶۵۹۱ ۔ محکم وہ ہیں جن پر عمل کیا جائے اور متشابہ وہ ہیں جن کا بعض حصہ دوسرے بعض کے مشابہ ہو۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۳۸۳ حدیث ۱۹

۱۶۵۹۲ ۔ جو شخص قرآن کی متشابہ آیات کو محکمات کی طرف پلٹاتا ہے وہ سیدھے راستے کا راہی ہے۔

(امام رضا علیہ السلام) عیون اخبارالرضا علیہ السلام جلد ۱ ص ۲۹۰ حدیث ۳۹۰

قولِ مولف: علامہ طباطبائی آئمہ معصومین علیھم السلام سے مروی روایات کے ذکر کے بعد فرماتے ہیں: "جیسا کہ آپ نے ملاحظہ فرمایا ہے یہ روایات جو متشابہ کی تفسیر میں آئی ہیں ایک جیسی ہیں اور ہماری ان پچھلی باتوں کی تائید کرتی ہیں جو ہم نے کہا تھا کہ تشابہ ابہام کے دور ہونے سے پہلے ہے (ایسا نہیں ہے کہ تشابہ کبھی بھی قابل حل نہ ہو بلکہ) محکمات کی طرف پلٹا کر اور انہی کی تفسی کے ذریعہ سے ان کا ابہام دور ہو سکتا ہے۔ منسوخ آیتوں کے متشابہ کی طرح ہونے کے بارے میں بھی یہی خیال ہے کیونکہ منسوخ آیت کا ابہام اس میں ہوتا ہے کہ ان آیات کے ظاہر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس حکم کواس آیت نے بیان کیا ہے وہ دائمی ہے لیکن ناسخ آیت آ کر اس کی تفسیر کرتی ہے اور یہ سمجھاتی ہے کہ مذکورہ حکم دائمی نہیں بلکہ عارضی تھا۔ بہرحال جو روایت عیون اخبار الرضا علیہ السلام میں اس کی بابت آئی ہے کہ آئمہ کی روایات میں بھی قرآن کے محکم اور متشابہ کی طرح محکم اور متشابہ موجود ہوتے ہیں، (تو یہ ایک علیحدہ مسلم بات ہے کہ) جس کے بارے میں آئمہ علیھم السلام کی کئی مستفیض روایتیں بھی موجود ہیں۔ عقلی لحاظ سے بھی اس کی تقویت اور تصدیق ہوتی ہے۔ کیونکہ (روایات بھی قرآن مجید کی ساتھی ہیں اور) روایتوں میں صرف وہی چیزیں ہوں گی جو قرآن مجید میں پائی جائیں گی اور جن ابحاث کو قرآن مجید نے چھیڑا ہے روایتیں انہی کو بیان کرتی ہیں۔ ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ تشابہ معنی کے ان اوصاف میں سے ہے جنہیں لفظ سمجھاتا ہے اور وہ وصف یہ ہے کہ ایک لفظ کا ایسا معنی ہو جو کہنے والے کے مقصد کو بھی پہنچاتا ہو اور غیرمتعلقہ معنی بھی ذہن میں آتا ہو جو کہنے والے کا مقصد نہ ہو (جس کو اردو شاعری کی اصطلاح میں ابہام بھی کہا جاتا ہے جس طرح شاعر کا کہنا ہے:

شب جو مسجد میں جا پھنسے مومن رات کاٹی خدا خدا کرکے

یہاں پر شاعر کی مراد ذکر خدا اور عبادت و شب بیداری ہے وہ نہیں جو اس کے ظاہر سے سمجھ میں آتا ہے) تشابہ لفظ کے اوصاف سے نہیں ہے اور نہ ہی یہ غرابت (لفظ کے کم استعمال ہونے کی وجہ سے تقریباً متروک ہونا) اور نہ ہی اجمال کی طرح ہے کہ جن کا تعلق لفظ کے ساتھ ہوتا ہے نہ کہ معنی کے ساتھ، نہ ہی لفظ اور معنی دونوں کے مجموعی و عام اوصاف سے اس کا تعلق ہے۔ (فقط اس کا تعلق معنی کے ساتھ ہے)۔ دوسرے لفظوں میں اگر بعض آیات متشابہ ہیں تو صرف اس لحاظ سے متشابہ ہیں کہ ان کے بیانات ان مثالوں کی طرح ہیں جو سچے خدائی معارف کی نسبت جاری ہوتے ہیں۔ اور یہی بات بعینہ روایتوں پر بھی صادق آتی ہے یعنی روایتوں میں بھی محکم و متشابہ پائی جاتی ہیں حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ حدیث وارد ہوئی ہے کہ ہم انبیاء کا گروہ لوگوں سے ان کی عقلوں کے مطابق بات کرتے ہیں۔"

تفسیر المیزان جلد ۳ ص ۶۸ ( حدیث ۱۶۵۹۳ رہ گئی ہے) ملاحظہ ہو بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۳۷۳ باب ۱۲۷

( ۳۲) قرآنی اشارے

۱۶۵۹۴ ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس مثال کے تحت بھیجا (اور قرآن نازل کیا) کہ بات تو تجھ سے کر رہا ہوں لیکن اے پڑوسن تو بھی سن (مخاطب تو رسول ہیں لیکن ارادہ امت کو سنانے کا ہے)

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۳۸۱ حدیث ۱۲

۱۶۵۹۵ ۔ قرآن مجید "تجھ سے مخاطب ہوں اور پڑوسن تو سن" والی مثال کے تحت نازل ہوا ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) کافی جلد ۲ ص ۶۳۱ حدیث ۱۴

۱۶۵۹۶ ۔ اللہ تعالیٰ نے جو عتاب اور سرزنش رسولِ کریم کو کی ہے اس سے مراد گزشتہ لوگ ہیں جو قرآن میں مذکور ہو چکے ہوں جس طرح اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے "ولو لا ان ثبناک لقد کدت ترکن الیھم شیئا قلیلا" (بنی اسرائیل/ ۷۴) ترجمہ: اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ ہم نے تمہیں ثابت قدم رکھا ہے تو تم ان کی جانب کچھ نہ کچھ مائل ہو جاتے۔" خدا نے اس سے نبی کی ذات کے علاوہ دوسروں کو مراد لیا ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) تفسیر العباسی جلد ۱ ص ۱۰ حدیث ۵

۱۶۵۹۷ ۔ خداوندِ عالم کا یہ فرمانا: "( عفاالله عنک لم اذنت لهم ) " (توبہ/ ۴۳)

ترجمہ۔ (اے رسول) خدا تم سے درگزر فرمائے۔ تم نے انہیں اجازت ہی کیوں دی۔ نیز خداوند عالم کی یہ بات "( لئن اشرکت لیحبطن عملک ) " (زمر/ ۶۵) ترجمہ: اگر کہیں شرک کیا تو یقینا تمہارے سارے عمل اکارت جائیں گے۔ اور یہ فرمان بھی "( لا لو ان ثبتناک لقد کدت ترکن الیهم ) " (بنی اسرائیل/ ۷۴) ترجمہ: اگر یہ بات نہ ہوتی کہ ہم نے تمہیں ثابت قدم رکھا تو تم ان کی طرف مائل ہو جاتے" یہ سب اس مثال کے تحت ہیں کہ مخاطب تجھ سے ہوں اور اے پڑوسن تو سن (یعنی مراد رسول کی ذات نہیں ہے بلکہ امت ہے)۔

(امام رضا علیہ السلام) علیون اخبارالرضا علیہ السلام جلد ۱ ص ۲۰۲ حدیث ۱۰

( ۳۳) قرآنی وجوہات

۱۶۵۹۸ ۔ عبداللہ بن عباس کو جب خوارج سے مناظرہ کے لئے بھیجتے ہیں تو حضرت علی علیہ السلام ان سے فرماتے ہیں: "قرآن کی مدد سے ان سے کبھی مناظرہ نہ کرنا کیونکہ قرآن کئی وجوہات کا حامل ہے۔ اگر تم قرآن سے دلیل لاؤ گے تو وہ بھی قرآن ہی سے دلیل پیش کریں گے، لہٰذا تم ان سے سنت کی مدد سے مناظرہ کرو کیونکہ سنت سے وہ کبھی فرار نہیں کر سکتے۔

(امام علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خط نمبر ۷۷

۱۶۵۹۹ ۔ میں نے ابن عباس سے خوارج کے بارے میں جنہوں نے تحکیم اور حضرت علی بن ابی طالب علیھما السلام کی خلافت سے انکار کر دیا تھا کہتے ہوئے سنا: "پس بارہ ہزار خارجی علیحدہ ہو گئے تو علی علیہ السلام نے مجھے بلایا اور فرمایا کہ ان کی طرف جاؤں، مناظرہ کروں اور، انہی کتاب اور سنت کی طرف بلاؤں اور قرآن کی مدد سے ان کے ساتھ مناظرہ نہ کروں کیونکہ وہ کئی چہروں والا ہے لہٰذا سنت کے ذریعہ مناظرہ کروں۔

(عکرمہ) درمنثور جلد ۱ ص ۴۰

۱۶۶۰۰ ۔ قرآن کئی چہروں والا ہے پس اسے بہترین وجہ پر ہی حمل کرو۔

(رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۴۶۹

( ۳۴) ام القرآن (قرآن کی اصل)

۱۶۶۰۱ ۔ "( الحمد لله رب العالمین ) " ام القرآن بھی کتاب کی اصل اور سبع مثانی ہے۔

(رسول اکرم) در منثور جلد ۱ ص ۱۲

۱۶۶۰۲ ۔ "( الحمد لله رب العالمین ) " کی سات آیتیں جن میں "( بسم الله الرحمن الرحیم ) " بھی ایک ہے سبع مثانی اور قرآن عظیم ہیں اور یہی ام القرآن بھی ہیں۔

(رسول اکرم) درمنثور جلد ۱ ص ۱۲

۱۶۶۰۳ ۔ جب حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سعید بن معلیٰ کو اس کی نماز کی حالت میں پکارا اور اس نے جواب نہ دیا تو اس سے فرمایا: "کیا خدا نے یہ نہیں فرمایا کہ خدا اور اس کا رسول تمہیں جب بھی پکاریں تو ان کا جواب دو؟"

پھر فرمایا: "میں تمہیں مسجد سے خارج ہونے سے پہلے قرآن کی عظیم ترین سورت کے بارے میں بتاؤں گا" انہوں نے میرا ہاتھ پکڑا پھر جب ہم نے باہر نکلنے کا ارادہ کیا تو میں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ نے فرمایا تھا کہ میں تمہیں عظیم ترین سورت کے بارے میں بتاؤں گا۔" حضرت نے فرمایا: "سورہ حمد! یہ سبع مثانی بھی ہے اور قرآنِ عظیم بھی جو مجھے دیا گیا ہے۔"

(رسول اکرم) در منثور جلد ۱ ص ۱۳

۱۶۶۰۴ ۔ ام القرآن (سورہ فاتحہ) جیسی کوئی بھی چیز توریت، انجیل اور زبور میں نازل نہیں ہوئی۔

(رسول اکرم) در منثور جلد ۱ ص ۱۳

۱۶۶۰۵ ۔ جس شخص نے فاتحہ الکتاب (سورت حمد) کی تلاوت کی گویا اس نے توریت، انجیل زبور اور قرآن چاروں کی تلاوت کر لی۔

(رسول اکرم) در منثور جلد ۱ ص ۱۶

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو شیطان: تفسیر المیزان جلد ۳

ص ۴۳ عنوان "محکمات کتاب خدا کا اصل ہیں" سے کیا مراد ہے؟

( ۳۵) قرآن مجید کی عظیم ترین، عدل سے بھرپور اور سب سے زیادہ ڈرانے و امید دلانے والی آیات

۱۶۶۰۶ ۔ قرآن مجید کی عظیم ترین آیت آیت الکرسی اور عدل سے بھرپور آیت "ان اللہ یامر بالعمل والاحسان"آخر تک (نحل/ ۹۰)

ترجمہ۔ خدا انصاف اور (لوگوں کے ساتھ) نیکی کرنےکا حکم دیتا ہے) اسی طرح سب سے زیادہ ڈرانے والی آیت "( فمن یعمل مثقال ذرة خیراً یره و من یعمل مثقال ذرة شراً یره ) ) (زلزال/ ۷, ۸) ( ترجمہ: تو جس نے ذرہ برابر نیکی کی کہ وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر بدی کی وہ اس کا بدلہ بھی دیکھ لے گا)۔ سب سے زیادہ امید دلانے والی آیت( قل یا عبادی الذین اسرنوا علی انفسهم لا تقنطوا من رحمة الله ان الله یغفر الذنوب جمیعاً ) " (زمر/ ۵۳) ( ترجمہ: (اے رسول) "کہہ دو کہ اے میرے بندو جنہوں نے (گناہ کرکے) اپنی جانوں پر زیادتیاں کی ہیں تم لوگ خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہونا بے شک خدا (تمہارے) کل گناہوں کو بخش دے گا۔") ہے۔

(رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۵۳۹ قول مولف ملاحظہ ہو "رجاء


فصل۔ ۹

( ۱) مقرب افراد

قرآن مجید

( ثم اور ثنا الکتاب الذین اصطفینا من عبدنا فتمنهم ظالم لفنسه ومنهم مقتصدو منهم سابق بالخیرات باذن الله ذلک هوالفضل الکبیر ) (فاطر/ ۳۲)

ترجمہ۔ پھر ہم نے اپنے بندوں میں سے ان کو بالخصوص قرآن کا وارث بنایا جنہیں (اہل جان کر) منتخب کیا کیونکہ بندوں میں سے کچھ تو (نافرمانی کرکے) اپنی جان پر ستم ڈھاتے ہیں، ان میں سے کچھ (نیکی اور بدی کے) درمیان میں ہیں اور ان میں سے کچھ لوگ خدا کے اختیار سے نیکوں میں (اوروں سے) گویا سبقت لے گئے ہیں۔ یہی (انتخاب و سبقت) تو خدا کا بڑا فضل ہے۔

قرآن مجید

( والسابقون السابقون اولئک المقربون ) (واقعہ/ ۱۰, ۱۱)

ترجمہ۔ اور جو لوگ آگے بڑھنے والے ہیں (واہ کیا کہنا!) وہ تو آگے ہی بڑھنے والے ہیں۔ یہی لوگ (خدا کے) مقرب ہیں۔

قرآن مجید

( فاما ان کان من المقربین فروح و ریحان و جنة نعیم ) (واقعہ/ ۸۸, ۸۹)

ترجمہ۔ پس اگر وہ (مرنے والے) خدا کے مقربین ہیں تو ان کے لئے آرام و آسائش، خوشبودار پھول اور نعمت کے باغات ہیں۔

قرآن مجید

( عینا یشرب بها المقربون ) (مطففین/ ۲۹)

ترجمہ۔ وہ ایک چشمہ ہے جس سے مقربین مستفیض ہوں گے۔

۱۶۶۰۷ ۔ امام جعفر صادق علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے اس قول( ثم اور ثنا الکتاب ) " کی تفسیر میں فرماتے ہیں: "ظالم اپنی خواہشات کی پیروی کرتا ہے اور مقتصد اپنے دل کو خوش رکھنے میں لگا رہتا ہے (اپنے لئے پاکیزگی کی کوشش میں رہتا ہے) جبکہ سابق اپنے پروردگار کی رضا کے گرد گھومتا ہے۔"

(امام جعفر صادق علیہ السلام) معانی الاخبار ص ۱۰۴ حدیث ۱

۱۶۶۰۸ ۔ اسی آیت کی تفسیر میں فرمایا: "سابق بالخیرات سے مراد امام معصوم ہے، مقتصد سے مراد امام کی معرفت رکھنے والا ہے اور ظالم لنفسہ سے مراد وہ شخص ہے جو امام کی معرفت نہیں رکھتا۔"

(امام علیہ السلام) کافی جلد ۱ ص ۲۱۴ حدیث ۱

۱۶۶۰۹ ۔ ایضاً: پس ہم میں سے ظالم لفنسہ سے مراد وہ لوگ ہیں جو نیک کام کرتے جبکہ دوسرے (ہمارے مخالف) برے لوگ ہیں۔ مقتصد وہ لوگ ہوتے ہیں جو عبادت گزار، اپنے لئے پاکیزگی کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں، السابق بالخیرات سے مراد (حضرات) علی اور حسن اور حسن اور حسین علیھم السلام اور آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وہ افراد مراد ہیں جو شہید ہوئے ہیں۔"

(امام محمد باقر علیہ السلام) مجمع البیان جلد ۸ ص ۶۳۹

۱۶۶۱۰ ۔ ایضاً: "اے ابو اسحاق! یہ آیت خاص ہمارے لئے نازل ہوئی ہے۔ پس سابق بالخیرات سے مراد علی بن ابی طالب، حسن اور حسین علیھم السلام ہم (اہل بیت) سے شہید افراد مراد ہیں، مقتصد سے مراد (پرہیزگار) دن کو روزے رکھنے والے تمام رات نماز پڑھنے والے ہیں اور ظالم لنفسہ سے مراد عوام الناس ہیں جن کے گناہ اللہ بخش دے گا۔"

(امام محمد باقر علیہ السلام) تفسیر المیزان جلد ۱۷ ص ۴۹

۱۶۶۱۱ ۔ ایضاً: السابق بالخیرات وہ لوگ ہیں جو جنت میں بغیر کسی حساب کے داخل ہوں گے، مقتصد سے تھوڑا بہت حساب لیا جائے گا۔ اور الظالم لفنسہ کو حساب و کتاب کے مقام پر پابند کرنے کے بعد جنت میں داخل کیا جائے گا۔ پس یہ وہی لوگ ہیں جو کہیں گے:( الحمد لله الذی اذهب عنا الحزن ) (فاطر/ ۳۴)

ترجمہ۔ خدا کا شکر ہے جس نے ہم سے (ہر قسم) کا رنج و غم دور کر دیا۔

(رسول اکرم) مجمع البیان جلد ۸ ص ۶۳۸

۱۶۶۱۲ ۔ خداوند عالم کے قول( والسابقون الاولون من المهاجرین والانصار ) " اور "( والسابقون السابقون اولئک المقربون ) " کے بارے میں آنحضرت فرماتے ہیں: "اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں کو انبیاء اور اوصیاء کے بارے میں نازل کیا ہے۔ پس میں اللہ کے نبیوں اور میرے وصی علی بن ابی طالب (علیھما السلام) وصیوں میں سب سے افضل ہیں۔

(رسول اکرم) اکمال الدین ص ۲۷۶ حدیث ۲۵

۱۶۶۱۳ ۔ انجیل میں مرقوم ہے: "لوگوں میں اصلاح کرنے والوں کے لئے خوشخبری ہو۔ یہی افراد ہی قیامت کے دن مقربین سے ہوں گے۔"

(امام موسیٰ کاظلم علیہ السلام) تحف العقول ص ۳۹۳

( ۲) مقرب افراد کی عبادت

۱۶۶۱۴ ۔ تم پر سچے دل سے خلوص اور حسنِ یقین لازم ہے کیونکہ یہ مقرب افراد کی سب سے افضل عبادت ہے۔

(امام علی علیہ السلام) غررالحکم حدیث ۶۱۵۹۰

۱۶۶۱۵ ۔ خدا کی راہ میں سخاوت مقرب افرا دکی عبادت ہے۔

(رسول اکرم) غررالحکم حدیث ۱۷۵۶

۱۶۶۱۶ ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایسے تین آدمیوں کے پاس سے گزرے جن کے جسم لاغر اور رنگ تبدیل ہو چکے تھے۔ ان سے پوچھا: "میں کیا دیکھ رہا ہوں؟ تم پر کیا افتاد آن پڑی ہے؟" انہوں نے کہا: "دوزخ کے خوف نے ہمیں اس حال تک پہنچایا ہے۔" انہوں نے فرمایا: "خدا کے اوپر یہ حق ہے کہ وہ دوزخ سے ڈرنے والے کو اس سے بچائے۔" پھر تین اور آدمیوں کے پاس آئے۔ وہ ان سے بھی زیادہ لاغر و زرد رنگت والے تھے۔ ان سے بھی وہی سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا: "جنت کے شوق نے ہمیں اس مقام تک پہنچایا ہے۔" حضرت عیسیٰ نے فرمایا: "خدا پر حق یہ ہے کہ تمہیں وہ چیز عطا کرے جس کی تم آس لگائے بیٹھے ہو۔" ان سے گزر کر پھر تین اور آدمیوں کے قرب آئے۔ وہ اور بھی زیادہ نحیف اور زرد پڑ چکے تھے، گویا ان کے چہرے نور کے آئینہ دار ہیں۔ ان سے بھی وہی سوال دہرایا: "تمہیں کیا ہو گیا ہے؟ میں یہ کیا دیکھ رہا ہوں؟ "انہوں نے جواب دیا: "خدا کی محبت میں ہم اس مرحلے تک پہنچے ہیں۔ "حضرت نے فرمایا: "تم ہی مقرب افراد ہو، تم ہی مقرب افراد ہو۔"

تنبیہ الخواطر جلد ۱ ص ۲۲۴

قولِ مولف: ملاحظہ ہو عنوان "محبت ( ۲)"

( ۳) مخلوقات میں اللہ کے سب سے زیادہ مقرب افراد

۱۶۶۱۷ ۔ سب سے بہتر ایمان والے ہی خدا کے سب سے زیادہ مقرب ہیں۔

(امام علی علیہ السلام) غررالحکم حدیث ۳۱۹۳

۱۶۶۱۸ ۔ تم میں سے دا کے قریب تر وسیع ترین اخلاق والا ہے۔

(امام زین العابدین علیہ السلام) کافی جلد ۸ ص ۶۹ حدیث ۲۴

۱۶۶۱۹ ۔ خدا کا سب سے زیادہ مقرب بندہ بہت زیادہ حق بات کہنے والا ہے اگرچہ وہ اس کے خلاف ہی ہو اور حق پر عمل کرنے والا ہے اگرچہ ا س میں اس بندے کی ناپسندیدگی ہی ہو۔

(امام علی علیہ السلام) غررالحم حدیث ۳۲۴۳

۱۶۶۲۰ ۔ حضرت داؤد اعلیہ السلام کی طرف وحی میں یہ بات بھی ہے کہ اے داؤد! جس طرح متواضع افراد اللہ کے سب سے زیادہ قریب ہیں اسی طرح متکبر آدمی اللہ سے سب سے زیادہ دور ہیں۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) کافی جلد ۲ ص ۱۲۳ حدیث ۱۱

۱۶۶۲۱ ۔ فرشتوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یااللہ! وہ تمام مخلوق سے زیادہ تیری معرفت رکھتے ہیں، سب سے زیادہ تجھ سے ڈرتے ہیں اور سب سے زیادہ تیرے مقرب ہیں۔"

(امام علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۰۹

قولِ مولف: ملاحظہ ہو محبت ( ۲)

( ۴) انسان کب خدا سے قریب تر ہوتا ہے؟

۱۶۶۲۲ ۔ جب انسان سجدہ کی حالت میں ہوتا ہے تو اس وقت اللہ سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۸۹۳۵

۱۶۶۲۳ ۔ جب بندہ سجدہ میں میں اپنے رب سے دعا کر رہا ہوتا ہے اس وقت وہ اللہ سے زیاہ قریب ہوتا ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) کافی جلد ۳ ص ۳۲۳

۱۶۶۲۴ ۔ انسان جب ہلکے پیٹ ہوتا ہے تو اس وقت وہ خدا سے زیادہ قریب ہوتا ہے اور جب اس کا پیٹ بھرا ہوتا ہے تو وہ خدا کا مبغوض ہوتا ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) کافی جلد ۶ ص ۲۶۹

قولِ مولف: ملاحظہ ہو بابا "سحود"

( ۵) قیامت کے دن اللہ سے نزدیک ترین بندہ

۱۶۶۲۵ ۔ تین طرح کے لوگ ایسے ہیں جو قیامت کے دن خداوند عالم کے نزدیک ترین ہوں گے یہاں تک (مخلوق) حساب کتاب سے فارغ ہو جائے گی۔

۱ ۔ قدرت رکھنے کے باوجود غیظ و غضب کی حالت میں اپنے زیردستوں پر ظلم کرنے سے بچنے والا۔

۲ ۔ دو انسانوں کے درمیان صلح کرانے والا بشرطیکہ اپنے قوم و قبیلہ کی وجہ سے کسی کی طرفداری میں حق و انصاف کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے۔

۳ ۔ حق بات کہنے والا، خواہ اس کے فائدہ میں جائے یا نقصان میں۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) الخصال صدوق ص ۸۱ ۔ ص ۵

۱۶۶۲۶ ۔ "کاشتکار" مخلوق خدا کا خزانہ ہیں جو پاکیزہ روزی کاشت کرتے ہیں اور خدا اسے اگاتا ہے۔ یہی لوگ قیامت کے دن مقام و منزلت کے لحاظ سے خدا کے زیادہ مقرب ہوں گے، انہیں "مبارک" کہہ کر پکارا جائے گا۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) کافی جلد ۵ ص ۲۶۱

( ۶) تقرب کی انتہا

۱۶۶۲۷ ۔ خداوند عزو جل فرماتا ہے: کوئی بندہ فرائض سے زیادہ کسی اور چیز کے ذریعہ میرا تقرب حاصل نہیں کرتا۔ وہ نوافل کے ذریعہ میرا اس حد تک تقرب حاصل کر لیتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، جب میں کسی کو اپنا محبوب بنا لیتا ہوں تو اس کا کان ہو جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کی زبان ہو جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے، اس کا ہاتھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ حملے کرتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے دعا مانگتا ہے تو اسے قبول کرتا ہوں اور اگر مجھ سے سوال کرتا ہے تو اسے عطا فرمات ہوں۔"

(حضرت رسول اکرم) کافی جلد ۲ ص ۳۵۲ حدیث ۷

۱۶۶۲۸ ۔ جب مجھے معراج پر لے جایا گیا تو میں نے اپنے رب سے سوال کیا: "پروردگارا! تیرے نزدیک مومن کی کیا حیثیت ہے؟" فرمایا: "اے محمد! میرے بندوں میں سے کوئی بھی بندہ فرائض سے بڑھ کر کسی اور چیز کے ذریعہ میرا تقرب حاصل نہیں کر سکتا، وہ نوافل کے ذریعہ اس قدر میرا قرب حاصل کر لیتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں۔ پھر جب میں اس سے محبت کر لیتا ہوں تو اس وقت میں اس کا کان ہو جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کی زبان ہو جاتا ہوں جس سے وہ بولتا ہے، اس کا ہاتھ ہو جاتا ہوں جس سے وہ حملے کرتا ہے۔ اگر مجھ سے دعا مانگتا ہے تو قبول کرتا ہوں اور اگر سوال کرتا ہے تو اسے عطا فرماتا ہوں۔"

(حضرت رسول اکرم) کافی جلد ۲ ص ۳۵۲ حدیث ۸

۱۶۶۲۹ ۔ خداوند عز و جل فرماتا ہے: "میرا بندہ کسی اور چیز کے ذریعہ میرا قرب حاصل نہیں کرتا جتنا فرائض کی ادائیگی سے کرتا ہے۔ بندہ میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں، پھر جس سے میں محبت کرتا ہوں تو میں اس کا کان، اس کی آنکھ، اس کا ہاتھ اور اس کی پناہ گاہ بن جاتا ہوں۔ اگر وہ مجھے پکارتا ہے تو اس کو جواب دیتا ہوں اور اگر مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے عطا فرماتا ہوں"

(حضرت رسول اکرم) علل الشرائع ص ۱۲ حدیث ۷

۱۶۶۳۰ ۔ خداوند تبارک تعالیٰ فرماتا ہے: "میرا مومن بندہ جتنا فرائض کے ذریعہ میرا قرب حاصل کرتا ہے اتنا کسی اور چیز کے ذریعہ سے حاصل نہیں کرتا۔ میرا مومن بندہ اس قدر نوافل ادا کرتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں۔ پھر جس سے میں محبت کرتا ہوں تو میں اس کا کان، اس کی آنکھ، اس کا ہاتھ ہو جاتا ہوں اور اس کا موید بن جاتا ہوں، اگر وہ مجھ سے مانگتا ہے تو اسے عطا فرماتا ہوں، اور اگر مجھے پکارتا ہوں تو اسے جواب دیتا ہوں۔"

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۱۵۶

۱۶۶۳۲ ۔ خداوند تعالیٰ فرماتا ہے: "میرا بندہ، جتنا فرائض کے ذریعہ میرا تقرب حاصل کرتا ہے اتنا کسی اور چیز کے ذریعہ حاصل نہیں کرتا۔ میرا بندہ نوافل کے ذریعہ میرا اس حد تک قرب حاصل کر لیتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگ جاتا ہوں۔ اور جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو اس کا کان ہو جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے۔"

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۱۳۲۷

( ۷) اللہ تعالیٰ تک رسائی

۱۶۶۳۳ ۔ "خداوند عالم تک رسائی" ایک ایسا سفر ہے جو رات کی سواری پر سوار ہوئے بغیر طے نہیں ہو سکتا۔

(امام حسن عسکری علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۸ ص ۳۸۰ حدیث ۴

۱۶۶۳۴ ۔ بندوں سے کٹ کر ہی اللہ تک رسائی ہو سکتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم ص ۱۷۵

۱۶۶۳۵ ۔ جو شخص راہِ خدا میں (خدا کے لئے) صبر کرتا ہے وہ خدا تک پہنچ جاتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) دعوات راوندی ص ۲۹۲ حدیث ۳۹

۱۶۶۳۶ ۔ تم جب تک مخلوق سے قطع رابطہ نہیں کر لو گے خالق تک نہیں پہنچ پاؤ گے،

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم حدیث ۷۴۲۹

۱۶۶۳۷ ۔ (ائمہ اطہار کی مناجات شبانیہ سے اقتباس) "پروردگارا! تو ہم پر مہربانی فرما کہ میں تمام دنیا سے مکمل طو رپر کٹ کر صرف تیری ذات کی طرف متوجہ ہو جاؤں اور ہماری قلبی آنکھوں کو اپنی ذات کی روشنی سے منور فرما کہ تجھے دیکھیں، حتیٰ کہ دل کی نگاہیں تیرے نورانی پردوں کو شگافتہ کرکے تیرے سرچشمہ عظمت تک رسائی حاصل کر لیں"

کتاب اقبال الاعمال ص ۶۸۷

۱۶۶۳۸ ۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول"وانذربہ الذین یخافون ان یحشروا الی ربھم" یعنی اور اس کے ذریعہ سے تم ان لوگوں کو ڈراؤ جو اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ وہ (مرنے کے بعد) اپنے رب کے سامنے جمع کئے جائیں گے (انعام/ ۵۱) کے بارے میں فرمایا کہ اس کے معنی ہیں "اس قرآن کے ذریعے ان لوگوں کو ڈراؤ جو اپنے رب تک پہنچنے کی آرزو رکھتے ہیں اور انہیں رب کے پاس موجود چیزوں کی ترغیب دلاؤ، کیونکہ قرآن ایسا شفیع ہے جس کی شفاعت قبول کی جائے گی۔"

(امام جعفر صادق علیہ السلام) تفسیر نورالثقلین جلد اول ص ۷۲۰

۱۶۶۳۹ ۔ (مناجات کے الفاظ ہیں) : "خدایا! تیری ذات پاک ہے، اس شخص کے راستے کس قدر تنگ ہیں جس کا تو ہادی اور رہنما نہیں ہے۔ اور اس شخص کے لئے حق کس قدر واضح ہے جسے تو نے اس کے راستے کی ہدایت فرمائی ہے۔

بارِ الٰہا! ہمیں اس راستے پر چلا جو ہمیں تیری ذات تک پہنچائے، اور اس راہ پر گامزن رکھ جو تیری ذات تک حاضری دینے کے لئے زیادہ نزدیک ہو!"

(حضرت امام زین العابدین علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۹۴ ص ۱۷۴

۱۶۶۴۰ ۔ (مناجات کے الفاظ ہیں) "خداوندا! مجھے ایسے لوگوں میں قرار دے جنہوں نے تیرا قصد کیا ہے، اور اس میں جدوجہد سے باز نہیں آئے، تیری ذات تک پہنچنے کی راہ کو تو اختیار کیا، اس سے روگرداں نہیں ہوئے اور تجھ تک پہنچنے کے لئے تیری ذات پر اعتماد کیا اور تجھ تک پہنچ گئے۔"

( ۸) جو میری طرف ایک بالشت بڑھے----!

۱۶۶۴۱ ۔ خداوند عز و جل فرماتا ہے: "جو شخص مجھ سے ایک بالشت بھر قرب حاصل کرتا ہے میں اس سے ایک ہاتھ کے برابر نزدیک ہو جاتا ہوں اور جو ایک ہاتھ آگے بڑھتا ہے میں دوہاتھوں کے برابر اس کی طرف بڑھتا ہوں، جو میری طرف چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر جاتا ہوں۔"

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۱۳۳

۱۶۶۴۲ ۔ خداوند کریم فرماتا ہے: "جو ایک بالشت بھر میرا قرب حاصل کرتا ہے میں ہاتھ بھر اس کے نزدیک ہو جاتا ہوں، جو ہاتھ بھر میرے نزدیک ہوتا ہے میں دو ہاتھوں کے برابر اس کی طرف بڑھتا ہوں، اور جو میرے پاس چل کر آتا ہے، میں اس کے پاس دوڑ کر جاتا ہوں۔"

(حضرت رسول اکرم) الترغیب و الترہیب جلد ۴ ص ۱۰۳ حدیث ۳۰

۱۶۶۴۳ ۔ جو شخص خداوند عز و جل سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے خدا اس سے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے، جو اس سے ایک ہاتھ قریب ہوتا ہے وہ اس سے دو ہاتھ قریب ہوتا ہے، جو خدا کی طرف چل کر جاتا ہے خدا اس کی طرف دوڑ کر آتا ہے۔ خدا کی شان بلند و برتر ہے، خدا کی شان بلند و بالاتر ہے اور خدا بلند و بالاتر ہے۔"

(حضرت رسول اکرم) الترغیب و الترہیب جلد ۴ ص ۱۰۴ حدیث ۳۱

۱۶۶۴۴ ۔ خداوند عز و جل فرماتا ہے: "اے فرزندِ آدم! تو میری طرف اٹھ، میں تیری طرف چل کر آؤں گا تو میری طرف چل کر آ، میں تیری طرف دوڑ کر آؤں گا۔"

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۱۳۸

۱۶۶۴۵ ۔ "اگر تم خدا کی طرف رخ کرو گے تو خدا کا رخ بھی تمہاری طرف ہو گا، اور اگر خدا کی طرف پشت کرو گے تو خدا کا رخ بھی تم سے پھر جائے گا۔"

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم حدیث ۳۸۵۲

( ۹) ذرائع جن سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے

۱۶۶۴۶ ۔ یا علی! جب بندے نیکی کے ذریعہ اپنے خالق کا قرب حاصل کرتے ہیں تو (گویا) وہ اپنی عقل کے ذریعہ اس کا قرب حاصل کرتے ہیں جو ان سے سبقت لے جاتی ہے۔

(حضرت رسول اکرم) مشکاة الانوار ص ۲۵۱

۱۶۶۴۷ ۔ بندہ کا اللہ کی ذات سے تقرب: اس کی خلوص نیت سے ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم حدیث ۴۴۷۷

۱۶۶۴۸ ۔ جو شخص فرائض و نوافل کی ادائیگی کے ذریعہ تقربِ خدا حاصل کرتا ہے وہ دوہرا منافع کماتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم حدیث ۲۰۵۶

۱۶۶۴۹ ۔ خدا کا تقرب، اس سے سوال کرنے کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے اور بندوں کا تقرب ان سے سوال نہ کرنے کے ذریعہ سے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم حدیث ۱۸۰۱

۱۶۶۵۰ ۔ کوہِ طور پر راز و نیاز کی باتوں میں اللہ نے حضرت موسیٰ سے فرمایا: اے موسیٰ! اپنی قوم تک یہ بات پہنچا دو کہ میرا قرب حاصل کرنے والے اتنا کسی اور چیز کے ذریعہ میرا قرب حاصل نہیں کر سکتے، جتنا گریہ و بکاکے ذریعہ حاصل کر سکتے ہیں۔ عبادت گزار اتنا قرب عبادت سے حاصل نہیں کر سکتے جتنا میری حرام کردہ چیزوں سے بچنے کے ذریعہ کر سکتے ہیں۔ زینت کرنے والے کسی اور چیز سے اتنی زینت حاصل نہی کر سکتے جتنی دنیا سے بے نیازی اختیار کرکے اور لوگوں کے ہاتھوں میں موجود چیزوں سے بے رخی کرکے حاصل کر سکتے ہیں۔"

حضرت موسیٰ علیہ السلام عرض کیا: "اے کریم ترین ذات! تونے ایسے لوگوں کے لئے کیا جزا مقرر فرمائی ہے؟"

خداوند عالم نے فرمایا: "موسیٰ! جو لوگ میرے خوف سے رو رو کر میرا قرب حاصل کرتے ہیں وہ لوگ رفیقِ اعلیٰ میں ہوں گے اور بلندی درجات میں ان کا کوئی شریک نہیں ہو گا۔"

(امام محمد باقر علیہ السلام) ثواب الاعمال ص ۲۰۵ حدیث اول

۱۶۶۵۱ ۔ (حضرت موسیٰ کے ساتھ راز و نیاز کی باتوں میں فرمایا): "اے موسیٰ! میرا قرب حاصل کرنے والے، میری حرام کردہ چیزوں سے اجتناب کرنے سے بڑھ کر کسی طرح میرا قرب حاصل نہیں کر سکتے۔ اسی لئے میں انہیں اپنی ہمیشہ رہنے والی جنت عطا کروں گا اور ان کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کروں گا"

(امام جعفر صادق علیہ السلام) مشکوٰة الانوار ص ۴۵

۱۶۶۵۲ ۔ اپنے بیٹے کو وصیت کرتے ہوئے فرمایا: "اے فرزند! میں تمہیں چھ خصلتیں اپنانے کی ترغیب دلاتا ہوں جن میں سے ایک خصلت تمہیں خدا سے قریب اور اس کی ناراضگی سے دور کر دے گی:"

۱ ۔ خدا کی عبادت کرتے رہو اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہراؤ۔

۲ ۔ خدا کی قدر پر راضی رہو خواہ اسے پسند کرو یا پسند نہ کرو۔

۳ ۔ خدا کی خوشنودی کے لئے کسی سے محبت یا کسی سے دشمنی کیا کرو۔

۴ ۔ جو کچھ اپنے لئے پسند کرو وہی دوسروں کے لئے پسند کرو اور جو اپنے لئے ناپسند کرو وہ دوسروں کے لئے بھی ناپسند کرو۔

۵ ۔ غصے کو پی جایا کرو اور جو تمہارے ساتھ برا سلوک کرے اس سے اچھا سلوک کرو۔

۶ ۔ خواہشات نفسانی کو ترک کر دو اور مہلک خواہشات کی مخالفت کرو۔

(حضرت لقمان) مستدرک الوسائل جلد ۱۱ ص ۱۷۸ حدیث ۱۲۶۸۴

۱۶۶۵۳ ۔ خدا کی قسم! اگر تم ان اونٹنیوں کی طرح فریاد کرو جو اپنے بچوں کو کھو چکی ہوں، ان کبوتروں کی طرح نالہ و فغاں کرو جو (اپنے ساتھیوں سے) الگ ہو گئے ہوں، ان گوشہ نشین راہبوں کی طرح چیخو چلاؤ جو گھر بار چھوڑ چکے ہوں اور مال و اولاد سے بھی اپنا ہاتھ اٹھا لو، اس غرض سے کہ تمہیں بارگاہِ الٰہی میں تقرب حاصل ہو، درجہ کی بلندی کے ساتھ اس کے یہاں یا ان گناہوں کے معاف ہونے کے ساتھ جو صحیفہ اعمال میں درج اور کراماً کاتبین کو یاد ہیں، تو وہ تمام بے تابی اور نالہ و فریاد اس ثواب کے لحاظ سے کہ جس کا میں تمہارے لئے امیدوار ہوں، اور اس عتاب کے اعتبار سے جس کا مجھے تمہارے لئے خوف و اندیشہ ہے، بہت ہی کم ہو گا۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۵۲

۱۶۶۵۴ ۔ اس بات کو جان لو کہ جو چیز تمہیں اللہ کے قریب کرتی ہے وہ دوزخ سے دور کرتی ہے، اور جو اللہ سے دور کرتی ہے وہ دوزخ کے قریب کرتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ مکتوب ۷۶

( ۱۰) خداوندِ عالم سے دورترین شخص

۱۶۶۵۵ ۔ دو شخص خدا سے بہت دور ہیں: ایک وہ انسان جو امراء کا ہم نشین ہوتا ہے، امراء جو بھی ظلم و جور کی باتیں کرتے ہیں، وہ ان کی تصدیق کرتا ہے۔ دوسرے بچوں کا وہ معلم، جو ان سے ہمدردی کا مظاہرہ نہیں کرتا اور نہ ہی تعلیم کے بارے میں خدا کو سامنے رکھتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۴۳۸۶۱

۱۶۶۵۶ ۔ جب کسی شخص کا مطمع نظر صرف اس کا شکم اور شرمگاہ ہوتے ہیں تو وہ خدا سے بہت دور ہو جاتا ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) اصول کافی جلد ۲ ص ۳۱۹

۱۶۶۵۷ ۔ جب بندہ اپنے شکم اور شرمگاہ ہی کو اپنا مطمع نظر بنا لیتا ہے تو وہ خدا سے بہت دور ہو جاتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) الخصال صدوق ص ۶۳ حدیث ۱۰

قولِ مولف: ملاحظہ ہو: "بغض"


فصل۔ ۱۰

( ۱) اقرار

۱۶۶۵۸ ۔ صاحبانِ عقل کا اپنے متعلق اقرار جائز ہوتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) وسائل الشیعہ جلد ۱۶ ص ۱۱۱ حدیث ۲

۱۶۶۵۹ ۔ یقیناً عقلمند کا اپنے بارے میں اقرار جائز ہوتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کتاب "الخلاف" جلد ۳ ص ۱۵۷

۱۶۶۶۰ ۔ میں فاسق کی شہادت کو قبول نہیں کرتا سوائے اس کے کہ وہ اپنے خلاف شہادت دے۔

(امام جعف صادق علیہ السلام) کافی جلد ۷ ص ۳۹۵ حدیث ۵

۱۶۶۶۱ ۔ ایک مومن اپنی ذات کے بارے میں شہادت کے لحاظ سے شر مومنین کی گواہی سے زیادہ سچا ہوتا ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) صفات الشیعہ ص ۱۱۶ حدیث ۶۰

۱۶۶۶۲ ۔ جب زکوٰة وصول کرنے والے کو کوفہ سے دیہاتی علاقوں کی طرف روانہ کیا تو بطور نصیحت فرمایا: "پھر ان سے کہو کہ "اے خدا کے بندو! مجھے تمہاری طرف ولی خدا نے بھیجا ہے تاکہ میں تمہارے مالوں میں خدا کا بننے والا حق وصول کروں تو کیا تمہارے اموال میں خدا کا کوئی حق ہے جو تم مجھے ادا کرو؟" اگر کوئی شخص کہے کہ "نہیں!" تو پھر اس سے دوبارہ یہ بات نہ کہنا" کہو۔"

(حضرت علی علیہ السلام) کافی جلد ۳ ص ۵۳۶ حدیث اول

۱۶۶۶۳ ۔ اصبغ بن بناتہ کہتے ہیں کہ ایک شخص امیرالمومنین علیہ السلام کے پاس آیا اور بولا: "یاامیرالمومنین! میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے لہٰذا مجھے (اس گناہ سے) پاک فرما! امیرالمومنین نے اپنا رخ موڑ لیا۔ پھر اس سے فرمایا: "بیٹھ جا! "اس کے بعد آپ نے لوگوں کی طرف منہ کرکے فرمایا: "تم میں سے جو شخص اس قسم کی برائی کا ارتکاب کرتا ہے تو کیا وہ اسے اسی طرح چھپانے سے عاجز ہوتا ہے جس طرح خدا نے اسے چھپایا ہے؟"

کتاب من لایحضرہ الفیتہ جلد ۴ ص ۳۱ حدیث ۵۰۱۷

قولِ مولف: ۱ ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگوں کے سامنے اپنے گناہوں کا اقرار مطلقاً ناپسندیدہ اور قابلِ مذمت ہے۔

۲ ۔ ملاحظہ ہو "توبہ"

( ۲) مجبور انسان کااقرار ناقابل اعتبار ہوتا ہے

۱۶۶۶۴ ۔ جو شخص ڈرانے دھمکانے، قید کئے جانے یا مار پیٹ کی وجہ سے اقرار کرے گا تو اس کا یہ اقرار اس کی سزا کا سبب نہیں بن سکتا اور اس پر حد جاری نہیں کی جائے گی۔

(حضرت علی علیہ السلام) مستدر الوسائل جلد ۱۶ ص ۳۲

۱۶۶۶۵ ۔ جو شخص تشدد، قید اور ڈرانے دھمکانے کی وجہ سے اقرار کرے گا، اس پر حد جاری نہیں کی جائے گی۔

(حضرت علی علیہ السلام) قرب الاسناد ص ۵۴ حدیث ۱۷۵

۱۶۶۶۶ ۔ حضرت علی علیہ السلام فرمایا کرتے تھے: "جس سے مار پیٹ، نظربندی، قید و تشدد کے ذریعہ ڈرا کر اقرار لیا جائے اس پر ہاتھ کاٹنے کی (چوری کی سزا کی) حد جاری نہیں کی جائے گی، اگر اعتراف نہ کرے تو اس سے حد ساقط ہو جائے گی"

(امام محمد باقر علیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۴۹۸ حدیث ۳

۱۶۶۶۷ ۔ سلیمان بن خالد نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک شخص کے بارے میں سوال کیا جس نے چوری کی تھی اور اس نے اس سے لڑائی جھگڑا کیا اور اسے تھپڑ مارے تو وہ اصل مسروقہ اشیاء لے آیا۔ "کیا اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا؟" آپ نے فرمایا: "ہاں! کاٹا جائے گا، لیکن اگر اعتراف تو کرے مگر اشیائے مسروقہ کی برآمدگی نہ ہو تو پھر اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا"

(امام جعفر صادق علیہ السلام)


فصل۔ ۱۱

( ۱) قرض

قرآن مجید

( من ذاالذی لقرض الله قرضا حسنا فیضٰعفه له و له اجر کریم ) ۔

ترجمہ۔ کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے تو اللہ اس کے لئے (اجر کو) کئی گناہ کر دے اور اس کے لئے معزز صلہ اور عمدہ جزا ہے۔

حدیث شریف

۱۶۶۶۸ ۔ جو شخص خدا کو قرض دے گا اللہ اسے اجر عطا فرمائے گا۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم حدیث ۸۰۷۲

۱۶۶۶۹ ۔ جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، وہ اس کے لئے کافی ہو جاتا ہے، جو کوئی اس سے مانگتا ہے اسے دے دیتا ہے، جو اسے قرض دیتا ہے وہ اسے ادا فرماتا ہے اور جو شکر کرتا ہے اسے بدلہ دیتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۹۰

۱۶۶۷۰ ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے "( ان تنصروا الله ) اگر تم خدا کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہیں ثابت قدم رکھے گا (محمد/ ۷) پھر فرمایا: "( من ذاالذی یقرض الله ) کون ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے تو اللہ اس کے اجر کو دوگنا کر دے گا اور اس کے لئے عمدہ جزا ہے (حدید/ ۱۱) اللہ نے کسی کمزوری کی بنا پر تم سے مدد نہیں مانگی، نہ ہی بے مائگی کی وجہ سے تم سے قرض کا سوال کیا۔ اس نے تم سے مدد چاہی ہے باوجودیکہ "( وله جنود السموات… ) " اس کے پاس سارے آسمانوں اور زمین کے لشکر ہیں اور وہ غلبہ و حکمت والا ہے (فتح/ ۷) اس نے تو یہ چاہا ہے "لیبلو کم ایکم احسن عملا" کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں اعمال کے لحاظ سے کون بہتر ہے؟ (ملک/ ۲)

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۸۳

۱۶۶۷۱ ۔ ایک شخص بہشت کی طرف گیا تو اس کے دروازہ پر لکھا ہوا دیکھا: "صدقے کا ثواب دس گنا ہے اور قرض کا ثواب اٹھارہ گنا"

(حضرت رسول اکرم) الترغیب و الترہیب جلد ۲ ص ۴۰ حدیث ۳

۱۶۶۷۲ ۔ شب معراج میں نے جنت کے دروازہ پر لکھا ہوا دیکھا: "صدقہ کا ثواب دس گنا اور قرض کا ثواب اٹھارہ گنا ہے۔"

(حضرت رسول اکرم) الترغیب و الترہیب جلد ۲ ص ۴۱

۱۶۶۷۳ ۔ جنت کے دروازے پر لکھا ہوا ہے: "صدقہ دس اور قرضہ اٹھارہ گنا ہے"

(امام جعفر صادق) من لایھزہ الفقیہ جلد ۲ ص ۵۸

۱۶۶۷۴ ۔ صدقہ کا ثواب دس گنا، قرض کا ثواب اٹھارہ گنا، دوستوں اور بھائیوں کے ساتھ بھلائی کا ثواب بیس گنا اور صلہ رحمی کا ثواب چوبیس گنا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) مکارم الاخلاق جلد اول ص ۲۹۳

۱۶۶۷۵ ۔ ایک قرضہ کا ثواب اٹھارہ گنا ہے اور اگر انسان مر جائے تو اس کو زکوٰة میں شمار کیا جائے گا۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) ثواب الاعمال ص ۱۶۷ حدیث ۳

۱۶۶۷۶ ۔ میں بہشت میں گیا تو دیکھا کہ اس کے دروازہ پر تحریر تھا: "صدقہ کا دس گنا اور قرض کا اٹھارہ گنا ثواب ہے" میں نے جبرائیل سے پوچھا: "یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ صدقہ دس گنا ہو اور قرض اٹھارہ گنا؟" انہوں نے کہا: اس لئے کہ صدقہ غریب اور امیر ہر قسم کے لوگوں کو مل سکتا ہے جبکہ قرض صرف ضرورت مند اور صاحبانِ احتیاج کے ہاتھوں تک پہنچتا ہے۔"

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۵۳۷۳

۱۶۶۷۷ ۔ جنت کے دروازہ پر مکتوب ہے "قرضہ کا اٹھارہ گنا ثواب ہے اور صدقہ کا دس گنا کیونکہ قرض صرف ضرورت مند لیتا ہے جبکہ صدقہ کبھی بے نیاز شخص کو بھی مل جاتا ہے۔"

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۱۰۳ ص ۱۳۸ حدیث ۲

۱۶۶۷۸ ۔ میں نے شبِ معراج بہشت کے دروازہ پر لکھ ہوا دیکھا: "صدقہ کا دس گنا ثواب ہے اور قرض کا اٹھارہ گنا" میں نے کہا: "اے جبرائیل! کیا وجہ ہے کہ قرض صدقہ سے افضل ہے؟" انہوں نے کہا: "سائل سوال کرتا ہے جبکہ اس کے پاس کچھ ہوتا ہے اور قرضہ حاصل کرنے والا ضرورت کے بغیر کسی سے سوال نہیں کرتا۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۵۳۷۴

۱۶۶۷۹ ۔ جنت کے دروازے پر تحریر ہے: "صدقہ کے دس ثواب ہیں اور قرض کے اٹھارہ ثواب ہیں" یہ اس لئے ہے کہ قرض حاصل کرنے والا ضرورت کے تحت قرض لیتا ہے جبکہ بعض اوقات صدقہ و خیرات وہ بھی مانگتا ہے جو مستحق نہیں ہوتا۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۱۰۳ ص ۱۳۹ حدیث ۹

۱۶۶۸۰ ۔ روایت میں ہے کہ: قرض کا ثواب صدقہ سے اٹھارہ گنا زیادہ ہے، اس لئے کہ قرض وہ شخص حاصل کرتا ہے جو اپنے آپ کو صدقہ لینے کی پستی سے بچاتا ہے۔

(بحارالانوار جلد ۱۰۳ ص ۱۴۰ حدیث ۱۱

۱۶۶۸۱ ۔ خداوند جل جلالہ فرماتا ہے: "میں نے اپنے بندوں کو دنیا لین دین کے لئے دے دی ہے۔ لہٰذا جو شخص اس سے مجھے قرض دے گا میں بھی اسے اس کا اجر ایک کے بدلے دس سے لے کر سات سو گناہ تک عطا کروں گا اور اس مقدار میں سے جتنا چاہوں دے دوں گا۔ جو مجھے قرض نہ دے میں اس سے مجبور کرکے لوں گا اور اسے وہ خصوصیات عطا کروں گا جو ایسی ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی ایک بھی اپنے فرشتوں کو عطا کر دوں تو وہ اس پر خوش ہو جائیں۔ یعنی ۱ ۔ صلوات ۲ ۔ ہدایت ۳ ۔ رحمت، جیسا کہ خداوند عز و جل فرماتا ہے: "( الذین اذا اصابتهم مصیبة قالوا انا لله وانا الیه راجعون، اولئک علیهم صلوات من ربهم ) " یعنی یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان پر کوئی مصیبت آ پڑے تو وہ بے ساختہ بول اٹھتے ہیں کہ ہم خدا ہی کے لئے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ انہی لوگوں پر ان کے پروردگار کی طرف سے "صلوات" ہے (بقرہ/ ۱۴۵ ۔ ۱۵۷) یہ ان تین خصوصیات میں سے ایک خصوصیت ہو گی۔ دوسری خصوصیت یہ ہے "و رحمة" (ایضا) یہ دوسری خصوصیت اور "( واولئک هم المهتدون ) " یعنی یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں، تو یہ تیسری خصوصیت ہوئی۔"

(حضرت رسول اکرم) الخصال ص ۱۳۰ ، ص ۱۳۵

۱۶۶۸۲ ۔ میرے نزدیک ہدیئے جتنا قرض دینا زیادہ محبوب ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) ثواب الاعمال ص ۱۶۷ حدیث ۴

۱۶۶۸۳ ۔ جو شخص کسی مظلوم کو قرض دیتا ہے اور پھر بڑے اچھے طریقے سے اس کی واپسی کا مطالبہ کرتا ہے تو (اس کے گناہ معاف ہو جاتے ہیں لہٰذا) وہ تو ازسرنو اپنے اعمال کو بجا لاتا ہے، اور اللہ تعالیٰ اسے ہر درہم کے بدلے بہشت کا کثیر مال عطا فرمائے گا۔

(حضرت رسول اکرم صلی صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم) ثواب الاعمال ص ۳۴۱ حدیث اول

۱۶۶۸۴ ۔ اپنے فرزند امام حسن علیہ السلام کو نصیحت کے طور پر فرماتے ہیں"اور جب تمہیں ایسے فاقہ کش لوگ مل جائیں جو تمہارا توشہ اٹھا کر میدان حشر میں پہنچا دیں پھر کل کو جبکہ تمہیں اس کی ضرورت پڑے۔ تمہارے حوالے کر دیں تو اسے غنیمت جانو، اور جتنا ہو سکے اس کی پشت پر رکھ دو کیونکہ ہو سکتا ہے کہ پھر تم ایسے شخص کو ڈھونڈو اور نہ پاؤ جو تمہاری دولتمندی کی حالت میں تم سے قرض مانگ رہا ہے اس وعدہ پر کہ تمہاری تنگدستی کے وقت ادا کر دے گا تو اسے بھی غنیمت جانو!

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغة مکتوب ۳۱

۱۶۶۸۵ ۔ جس شخص کے پاس اس کا مسلمان ضرورت مند بھائی قرض لینے کے لئے اور وہ دے بھی سکتا ہو لیکن نہ دے تو اللہ تعالیٰ اس پر بہشت کی خوشبو کو حرام کر دیتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) امالی صدوق ص ۳۵ حدیث ۱

( ۲) تنگدست کو مہلت دینا

قرآن مجید:( و ان کان ذوعسرة فنظرة الیٰ میسرة و ان تصدقوا خیرلکم ان کنتم تعلمون ) ۔ (بقرہ/ ۲۸۰)

ترجمہ۔ اور اگر کوئی تنگدست (تمہارا قرضدار) ہو تو اسے خوشحالی تک مہلت دو، اور اگر تم سمجھو تو تمہارے حق میں یہ زیادہ بہتر ہے کہ (اصل بھی) بخش دو۔

حدیث شریف

۱۶۶۸۶ ۔ جو شخص کسی تنگدست مقروض کو مہلت دے تو خدا پر حق ہو جاتا ہے کہ اس کو ہر روز صدقہ کا اتنا ثواب عطا فرمائے جتنا اس کا قرض ہے اور یہ سلسلہ اس کی مکمل ادائیگی تک جاری رہتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بحارالانوار جلد ۱۰۳ ص ۱۵۱ حدیث ۱۷

۱۶۶۸۷ ۔ جو کسی تنگدست مقروض کو مہلت دے گا، خداوندِ عالم اسے اس (قیامت کے) دن اپنے سایہ میں رکھے گا جس دن اس کے سایہ کے بغیر کوئی اور سایہ نہیں ہو گا۔

(حضرت رسول اکرم) کافی جلد ۸ ص ۹ حدیث ۱

۱۶۶۸۸ ۔ جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تو فرمایا: "تم میں سے کون ہے جسے یہ بات خوش کرتی ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ جہنم کی وسعت و کشادگی سے محفوظ رکھے؟" ہم سب نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! ہم سب کو یہی بات خوش کرتی ہے!" آپ نے فرمایا: "جو شخص کسی تنگدست مقروض کو قرض کی ادائیگی میں مہلت دے، یا اس سے قرض کا بوجھ اتارے تو اللہ تعالیٰ اسے کشادہ اور وسیع جہنم سے بچا لے گا۔"

(حضرت رسول اکرم) الترغیب و الترہیب جلد ۲ ص ۴۶ حدیث ۱۵

۱۶۶۸۹ ۔ جو شخص کسی مومن کو قرض دے اور اسے اس کی خوشحالی تک ادائیگی کی مہلت دے تو اس کا قرض کا مال زکوٰة میں شمار ہو گا، قرض دینے والا ملائکہ کے درود و سلام میں شامل رہے گا اور قرض کی ادائیگی تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

(حضرت رسول اکرم) ثواب الاعمال ص ۱۶۶ حدیث اول

۱۶۶۹۰ ۔ جو شخص اپنے مقروض کی تکلیف کو دور کرے یا اپنے قرض پر قلم پھیر دے تو وہ قیامت کے دن عرش کے سایہ میں ہو گا۔

(رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۵۳۷۹

۱۶۶۹۱ ۔ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ ا س کی دعا منظور ہو اور اس کے دکھ دور ہوں تو اسے چاہئے کہ تنگدست مقروض کو مہلت دے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۵۳۹۸

۱۶۶۹۲ ۔ تم اپنے حق کو ضرور حاصل کرو لیکن مستحسن طریقے سے خواہ پورا ملے یا ادھورا۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۵۴۰۵

۱۶۶۹۳ ۔ مفلوک الحال تنگدست کی بددعا سے بچو!

(رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۵۴۲۴

۱۶۶۹۴ ۔ تم لوگوں سے پہلے کی بات ہے کہ ایک شخص کا محاسبہ کیا گیا تو اس کے اعمالنامہ میں اس کے سوا اور کچھ نہیں تھا کہ وہ ایک متمول انسان تھا اور لوگوں کے ساتھ میل جول رکھتا تھا، اپنے ملازمین سے کہتا تھا کہ تنگدست مقروض سے درگزر سے کام لیا جائے۔

اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "ایسا کرنے کا تو ہم پر زیادہ حق بنتا ہے۔ لہٰذا اس شخص کے گناہوں سے درگزر کیا جائے!"

(حضرت رسول اکرم) الترغیب و الترہیب جلد ۲ ص ۴۴ حدیث ۷

۱۶۶۹۵ ۔ جس طرح تمہارے مقروض کے لئے یہ بات جائز نہیں ہے کہ مال کے ہوتے ہوئے تمہارے قرض کی ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام لے، اسی طرح تمہارے لئے بھی جائز نہیں کہ اس کی تنگدستی کے بارے میں علم رکھتے ہوئے اس پر سختی کرو۔

(حضرت رسول اکرم) ثواب الاعمال ص ۱۶۷ حدیث ۵

قولِ مولف: ملاحظہ ہو: "ولایت" نیز "دین" (قرض)


فصل ۱۲

( ۱) قرعہ

قرآن مجید

( ذٰلک من انباء الغیب……………………یختصمون ) ( ۴۴/ آل عمران)

ترجمہ۔ (اے رسول!) یہ بات غیب کی خبروں میں سے ہے جس کی ہم تمہیں وحی کرتے ہیں۔ تم تو ان (مریم کے سرپرستوں) کے پاس موجود نہیں تھے جب وہ لوگ اپنے قلم (پانی میں بطور قرعہ) ڈال رہے تھے کہ کون مریم کی کفالت کرتا ہے اور تم اس وقت بھی ان کے پاس موجود نہیں تھے جب وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے۔

( فساهم فکان من المدحضین ) ۔ (صافات/ ۱۴۱)

ترجمہ۔ پس (اہلِ کشتی نے) قرعہ ڈالا تو (یونس کا) نام نکلا اور وہ اس کو دریا میں گرائے جانے والوں میں سے تھے۔

حدیث شریف

۱۶۶۹۶ ۔ جب معاملہ خدا کے سپرد کر دیا جائے تو قرعہ سے بڑھ کر اور کونسی صورت عدل و انصاف پر مبنی ہو سکتی ہے؟ کیا خداوند عالم نہیں فرماتا:( فساهم فکان من المدحصٰین )

(امام جعفر صادق علیہ السلام) من لایھزہ الفقیہ جلد ۳ ص ۹۲ حدیث ۳۳۹۱

۱۶۶۹۷ ۔ جس معاملے میں قرعہ اندازی کی جائے اس سے بڑھ کر اور کونسا معاملہ عدل و انصاف پر مبنی ہو سکتا ہے۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "فساھم فکان من المدحضین"؟ پھر فرمایا: "جس معاملے میں دو انسان اختلاف کرتے ہیں اس کی اصل بھی کتاب اللہ (قرآن پاک) میں موجود ہے، لیکن وہاں تک لوگوں کی عقلوں کی رسائی نہیں ہوتی۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) کافی جلد ۷ ص ۱۴۸ حدیث ۱

۱۶۶۹۸ ۔ سب سے پہلے جس کے بارے میں قرعہ اندازی کی گئی وہ مریم بنت عمران ہیں جن کے بارے میں خداوند عالم فرماتا ہے:( وما کنت لو هم ان یلقون اقلابهم ) " (آل عمران/ ۴۴)

۱۶۶۹۹ ۔ جس معاملہ میں چند لوگوں نے قرعہ اندازی کی اور اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا تو صحیح معنی میں حقدار کے نام کا قرعہ نکلے گا۔

(امام محمد باقر علیہ السلام) من لا یحضرہ الفقیہ جلد ۳ ص ۹۲

۱۶۷۰۰ ۔ یمن میں حضرت علی علیہ السلام کے پاس ایسے تین لوگوں کو لایا گیا جنہوں نے ایک عورت سے ایک ہی وقت میں ہم بستری کی تھی اور اس سے بچہ پیدا ہو گیا تھا۔ آپ نے ان میں سے دو آدمیوں کو اکٹھا بلا کر پوچھا: "کیا تم اس بات کو تسلیم کرتے ہو کہ یہ بچہ اس شخص کا ہے؟" انہوں نے انکار کیا، پھر دوسرے دو کو اکٹھا کرکے یہی سوال کیا تو انہوں نے بھی انکار کیا۔ اسی طرح تیسری مرتبہ پھر اور دو کو بلایا اور پوچھا تو انہوں نے بھی انکار کیا۔ اس پر آپ نے قرعہ اندازی فرمائی اور جس کے نام قرعہ نکلا بچہ اسے دیدیا۔ نیز اس کے ذمہ دو تہائی دیت مقرر فرمائی۔

چنانچہ جب یہ ماجرا حضرت رسول خدا کے سامنے ذکر ہوا تو آپ اس قدر مسکرائے کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے۔

(سنن ابن ماجہ حدیث ۲۳۴۸

۱۶۷۰۱ ۔ جب حضرت پیغمبر خدا نے حضرت علی سے یمن میں عجیب واقعات کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے یہ عجیب واقعہ بیان فرمایا: "میرے پاس کچھ افراد آئے جنہوں نے ایک لونڈی کو خریدا اور سب نے ایک ہی () میں اس سے ہم بستری کی، جس سے ایک لڑکا پیدا ہوا۔ اس کے بارے میں ان میں جھگڑا ہونے لگا۔ ہر ایک یہی کہتا تھا کہ لڑکا اس کا ہے۔ پس میں نے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی اور جس کے نام کا قرعہ نکلا میں نے لڑکا اس کو دے دیا، لیکن ان سے اس کے حصہ کی ضمانت لی۔"

اس پر آنحضرت نے فرمایا: "چند لوگ جب آپس میں جھگڑا کریں اور پھر اپنا معاملہ خدا کے سپرد کر دیں تو حقدار کو اس کا حصہ مل جاتا ہے۔"

شیخ صدوق نے اس روایت کو حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے بیان کیا ہے، البتہ "جھگڑا کریں" کی جگہ پر "قرعہ ڈالیں" فرمایا ہے۔ (حضرت علی علیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۱۸۸ حدیث ۵

۱۶۷۰۲ ۔ جب حضرت پیغمبرِ خدا سفر پر تشریف لے جاتے تھے تو اپنی ازدواج کے درمیان قرعہ ڈالتے تھے۔

(حضرت عائشہ) وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۱۸۸ حدیث ۶

۱۶۷۰۳ ۔ ہر نامعلوم معاملے میں قرعہ اندازی کی جائے۔

(امام موسیٰ کاظم علیہ السلام) من لا یحضرہ الفقیہ جلد ۳ ص ۹۲


فصل ۱۳

صدی (سو سال)

( ۱) ہر سو سال میں دین کی تجدید ہوتی ہے

۱۶۷۰۴ ۔ میری امت میں ہر سو سال میں کچھ لوگ "سابقون" (سبقت کرنے والے) ہوتے ہیں۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۳۴۶۲۶

۱۶۷۰۵ ۔ اللہ تعالیٰ اس امت کے لئے ہر سو سال کے آغاز میں کسی ایسے شخص کو بھیجتا ہے جو امت کے لئے دین کی تجدید کرتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۳۴۶۲۳

۱۶۷۰۶ ۔ ہم اہلبیت میں گزشتہ لوگوں کے کچھ ایسے عادل جانشین ہوتے ہیں جو دین سے غالی لوگوں کی دین میں تحریف، جھوٹے لوگوں کی طرف سے دین میں داخل کی جانے والی چیزوں اور جاہلوں کی تاویل کا خاتمہ کرتے ہیں۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۲ ص ۹۲ حدیث ۲۱

۱۶۷۰۷ ۔ ہر صدی میں اس دین کی ذمہ داری کچھ عادل لوگ اٹھا لیتے ہیں جو اس دین سے اور جھوٹے لوگوں کی طرف سے دین میں کی جانے والی تاویلوں، جاہلوں کی طرف سے دین میں داخل کی جانے والی چیزوں اور غالیوں کی طرف سے کی جانے والی تحریف کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔ اس طرح وہ دین کو ایسا صاف کر دیتے ہیں جیسے لوہار کی بھٹی لوہے کی آلائشوں کو صاف کر دیتی ہے۔

(حضرت رسول اکرم بحار الانوار جلد ۲ ص ۹۳ حدیث ۲۲

۱۶۷۰۸ ۔ خداوند عالم کے اس قول "ولکل امة رسول" یعنی ہر امت کے لئے خاص ایک (ایک) رسول ہے، (یونس/ ۴۷) کے بارے میں فرمایا: "اس کی باطنی تفسیر یہ ہے کہ اس امت کے لئے ہر صدی میں آلِ محمد سے خدا کا ایک بھیجا ہوا بندہ امت کی طرف آتا ہے اور ایسے لوگ خدا کے ولی اور خدا کے فرستادہ ہوتے ہیں۔

(امام محمد باقر علیہ السلام) تفسیر عباسی جلد ۲ ص ۱۲۳ حدیث ۲۳

۱۶۷۰۹ ۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول "( یوم ندعوا کل اناس بامامهم ) " یعنی اس دن جب ہم تمام لوگوں کو ان کے امام کے ساتھ بلائیں گے (بنی اسرائیل/ ۷۱) کے بارے میں فرمایا: "خدا اس امت کو ہر سو سال بعد اس کے امام کے ساتھ پکارے گا۔" راوی کہتا ہے کہ میں نے عرض کیا۔ "پھر تو حضرت رسول خدا اپنی صدی میں، حضرت علی اپنی صدی میں حضرت حسن کو اپنی صدی میں امام حسین اور ان کے بعد دوسرے ائمہ علیہم السلام اپنی اپنی صدیوں میں تشریف لائیں گے؟" فرمایا: ہاں ایسا ہی ہے!!"

(حضرت امام محمد باقر علیہ السلام) تفسیر نورالثقلین جلد ۳ ص ۱۹۰ حدیث ۳۲۵

۱۶۷۱۰ ۔ اللہ تعالیٰ نے ہر صدی اور ہر زمانے کے لئے کچھ لوگوں کو اپنی ذات کے لئے مخصوص کیا ہے، پیغمبر کے بعد جنہیں اپنی مہربانی سے بلند درجہ اور عالی مرتبہ عطا فرمایا ہے، انہیں اپنی ذات کے لئے حق کی دعوت دینے والا اور حق کی ہدایت کرنے والا قرار دیا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نورالثقلین جلد ۳ ص ۴۲۲ حدیث ۴۶


فصل۔ ۱۴

اقتصادیات

( ۱) اقتصاد

۱۶۷۱۱ ۔ اسلام اور مسلمانوں کی بقا اسی بات میں ہے کہ مالیات کا نظام ان لوگوں کے ہاتھ میں ہو جو حق کو سمجھتے اور اموال کو نیکی کے کاموں میں خرچ کرتے ہوں، اس لئے کہ اسلام اور مسلمانوں کی تباہی ا س بات میں ہے کہ مالیاتی نظام ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں چلا جائے جو نہ تو حق کو سمجھتے ہوں، اور نہ ہی اموال، کو نیک راہوں میں خرچ کرتے ہوں۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) کافی جلد ۴ ص ۲۵ حدیث ۱

۱۶۷۱۲ ۔ جن لوگوں کے حکمران عادل ہوں اور اشیاء کے نرخ سستے رکھیں تو سمجھ لیا جائے کہ اللہ ان سے راضی ہے۔ جن کے حکمران ظالم اور نرخ مہنگے ہوں تو جان لیا جائے کہ خدا ان سے ناراض ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کافی جلد ۵ ص ۱۶۲ حدیث اول

۱۶۷۱۳ ۔ مہنگائی بداخلاق بنا دیتی ہے، بددیانتی کا سبب بنتی ہے اور مسلمان کو سخت پریشان کرتی ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) کافی جلد ۵ ص ۱۶۴ حدیث ۶

۱۶۷۱۴ ۔ خداوند عالم کے اس قول "( انی ارا کم بخیر ) " یعنی شعیب نے اپنی قوم سے کہا کہ میں تم کو آسودگی میں دیکھ رہا ہوں (ہود/ ۸۴) اس لئے کہ ان کی اشیاء کے نرخ سستے تھے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) من لا یحضرہ الفقیہ جلد ۳ ص ۲۶۸

قولِ مولف: اسلامی اقتصادیات کے بارے میں میزان الحکمت کے مندرجہ ذیل ابواب کا مطالعہ کیا جائے،

عنوان "اجارہ کرایہ عنوان "حرفت" دستکاری

"ارض" زمین "حرام" حرام

"تبذیر" فضول خرچی "حقوق" حقوق

"تجارت" تجارت "احتکار" ذخیرہ اندوزی

"جزیہ" جزیہ "حلال" حلال

"بخل" بخل "حاجت" ضرورت

عنوان "اسراف" فضول خرچی عنوان "دین" قرضہ

"مسکن" ٹھکانہ، رہائش گاہ "ربا" سود

"خمس" خمس "رزق" رزق

"خیانت" خیانت "رشوة" رشوت

"دنیا" دنیا "زکوٰة" زکوٰة

"زھد" زہد "سوال" سوال

"سحت" حرام کمائی "مسرقہ" چوری

"شوق" بازار "سئح" بخل

"شرکت" شراکت "صدقہ" صدقہ خیرات

"صناعة" صنعت و حرفت "ضمان" ضمانت

"طمع" لالچ "ظلم" ظلم

"عدل" عدل "معروف" نیکی

"عیش" زندگی "غش" ملاوٹ

"غل" ملاوٹ "غنیٰ" تونگری

"فقر" تنگدستی "قرض" قرضہ

"قناعت" قناعت "قمار" جوا

"کسب" کمائی، کاروبار "مال" مال

"انفاق" خرچ کرنا "انفال" انفال

"ارشا" وراثت "وقف" وقف

( ۲) کاروبار میں میانہ روی کے فوائد

۱۶۷۱۵ ۔ میانہ روی گزر اوقات کی مقدار کو پورا کرتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوا جلد ۷۸ ص ۱۰ حدیث ۶۷

۱۶۷۱۶ ۔ میانہ روی اخراجات میں نصف کمی کر دیتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم حدیث ۵۶۵

۱۶۷۱۷ ۔ میانہ روی سے قلیل مال بڑھتا ہے اور اسراف (فضول خرچی) سے کثیر مال بھی ختم ہو جاتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم حدیث ۳۳۴ ، ۳۳۵

۱۶۷۱۸ ۔ اخراجات میں میانہ روی نصف معیشت ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۵۴۳۴

۱۶۷۱۹ ۔ جو میانہ روی کو اپنا لیتا ہے اس پر اخراجات کا بوجھ نہیں پڑتا۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۳۴۲

۱۶۷۲۰ ۔ انسان اخراجات میں میانہ روی سے کبھی غریب نہیں ہوتا۔

(امام موسیٰ کاظم علیہ السلام) من لا یحضرہ الفقیہ جلد ۲ ص ۶۴

۱۶۷۲۱ ۔ جس شخص نے میانہ روی اختیار کی وہ کبھی غریب نہیں ہو گا۔

(حضرت علی) فصل صدوق ص ۶۲۰

۱۶۷۲۲ ۔ جو اخراجات میں میانہ روی اختیار کرتا ہے تونگری بھی اس کا ساتھ دیتی ہے اور یہی میانہ روی اس کی غربت و تنگدستی کی تلافی و نقصان کو پورا کرتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم حدیث ۱۹۶۵

۱۶۷۲۳ ۔ جو اخراجات میں میانہ روی اختیار کرتا ہے میں ضمانت دیتا ہوں کہ وہ غریب اور تنگدست نہیں ہو گا۔ خداوند عالم فرماتا ہے( لیسئلونک ما ذا ینفقون قل العفو ) یعنی لوگ تم سے سوال کرتے ہیں کہ خدا کی راہ میں کیا خرچ کریں، تو تم کہہ دو کہ جو تمہاری ضرورت سے بچ جائے (بقرہ/ ۲۱۹) چنانچہ "عفو" (ضرورت سے بچ جانے والی) درمیانی چیز ہے۔

اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے( والذین اذا انفقوا لم لیرفوا ولم تقتروا وکان بین ذلک قواماً ) یعنی وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ تنگی کرتے ہیں۔ ان کا خرچ اس کے درمیان ہوتا ہے (فرقان/ ۶۷) یہاں پر "قوام" سے مراد اوسط درجے کا خرچ ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) من لا یحضرہ الفقیہ جلد ۲ ص ۶۴

۱۶۷۲۴ ۔ فضول خرچی سے مال جاتا رہتا ہے اور اعتدال کے ساتھ خرچ کرنے سے مال بڑھتا رہتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۳۴۷

۱۶۷۲۵ ۔ جو خوشحالی اور فاقہ مستی میں اعتدال سے کام لیتا ہے وہ اپنے آپ کو حوادث زمانہ کے (ساتھ مقابلہ کے) لئے تیار رکھتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم حدیث ۹۰۴۸

۱۶۷۲۶ ۔ اپنے فرزند امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا: "بیٹا اپنے معاش میں اعتدال پسندی سے کام لیا کرو۔"

(حضرت علی علیہ السلام) امالی طوسی ص ۸ حدیث ۸

۱۶۷۲۷ ۔ جو اخراجات میں میانہ روی اور اعتدال سے کام لیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بے نیاز کر دیتا ہے۔

(حضرت سول اکرم( تنبیہ الخواطر جلد اول ص ۱۶۷

قولِ مولف: ملاحظہ ہو باب "لباس"

( ۳) اقتصاد کے بارے میں متفرق احادیث

۱۶۷۲۸ ۔ اقتصاد (اعتدال اور میانہ روی) کی ایک حد ہوتی ہے۔ جب وہ اس حد سے بڑھ جائے تو وہ بخل ہوتا ہے۔

(امام حسن عسکری علیہ السلام) الدرة الباہرہ ص ۴۳

۱۶۷۲۹ ۔ میانہ روی کی آخری حد قناعت ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم حدیث ۶۳۶۴

۱۶۷۳۰ ۔ مومن کی سیرت میانہ روی ہے اور اس کا کردار راہِ ہدایت پر چلنا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم حدیث ۱۵۰۱

۱۶۷۳۱ ۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک میانہ روی سے بڑھ کر کوئی اخراجات زیادہ محبوب نہیں ہیں۔

(حضرت رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۷۶ ص ۲۶۹

۱۶۷۳۲ ۔ میانہ روی ایسی چیز ہے جسے خداوند عز و جل پسند فرماتا ہے اور فضول خرچی ایسا معاملہ ہے جو خداوند عز و جل کو پسند نہیں۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) خصال صدوق ۳۶ ، ص ۱۰ حدیث ۳۶

۱۶۷۳۳ ۔ اعتدال پسندی، اچھی وضع قطع اور نیک ہدایت، نبوت کے بیس سے کچھ زیادہ اجزاء میں سے ایک ہے۔

(حضرت رسول اکرم) تنبیہ الخواطر ص ۱۶۷


فصل۔ ۱۵

قصے اور داستانیں

قصے اور داستانوں کی مفصل فہرست کے لئے ملاحظہ ہو:

بحارالانوار جلد ۱۱ ص ۹۷ حضرت آدم اور حوا کی داستانیں

۔۔۔۔۔جلد ۱۱ ص ۲۷۰ ۔۔۔۔۔۔ادریس ۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔جلد ۱۱ ص ۲۸۵ ۔۔۔۔۔۔۔نوح۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔جلد ۱۱ ص ۳۴۳ ۔۔۔۔۔۔۔ہود۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔جلد ۱۱ ص ۳۶۶ شداد اور ارم ذات العماد۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔جلد ۱۱ ص ۳۷۰ حضرت صالح اور ان کی قوم۔۔۔۔

۔۔۔۔۔جلد ۱۳ ص ۳۹۲ ۔۔۔الیاس، ایلیا اور الیسع۔۔۔۔

۔۔۔۔۔جلد ۱۳ ص ۴۰۴ ۔۔۔ذوالکفل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔جلد ۱۳ ص ۴۰۸ ۔۔۔لقمان اور ان کی حکمتیں

۔۔۔۔۔جلد ۱۳ ص ۴۳۵ اشموئیل، طالوت اور جالوت کی داستانیں

۔۔۔۔۔جلد ۱۴ ص ۱ حضرت داؤد کے قصے

۔۔۔۔۔جلد ۱۴ ص ۴۹ اصحاب سبت کے قصے

۔۔۔۔۔جلد ۱۴ ص ۹۰ حضرت سلیمان کا وادی النحل سے گر

۔۔۔۔۔جلد ۱۴ ص ۱۰۹ حضرت سلیمان کا ملکہ بلقیس کے ساتھ قصہ

۔۔۔۔۔جلد ۱۴ ص ۱۴۳ قوم سبا اور اہل ثرثار کا قصہ

۔۔۔۔۔جلد ۱۴ ص ۱۴۸ اصحاب رس اور حضرت حنظلہ کی داستان

۔۔۔۔۔جلد ۱۴ ص ۱۶۱ حضرت شعیا اور حیقوق علیہما السلام کے قصے

۔۔۔۔۔جلد ۱۴ ص ۱۹۱ حضرت مریم اور ان کی ولادت کی داستان

۔۔۔۔۔جلد ۱۴ ص ۲۰۶ حضرت عیسیٰ کے قصے

۔۔۔۔۔جلد ۱۴ ص ۳۴۵ حضرت عیسیٰ کے وصی کی داستانیں

۔۔۔۔۔جلد ۱۴ ص ۳۵۱ حضرت اولیا، حضرت دانیال حضرت عزیز اور بخت النصر کی داستانیں

۔۔۔۔۔جلد ۱۲ ص ۱ حضرت ابراہیم کے قصے

۔۔۔۔۔جلد ۱۲ ص ۱۴۰ حضرت لوط کے قصے

۔۔۔۔۔جلد ۱۲ ص ۱۷۲ حضرت ذوالقرنین کے قصے

۔۔۔۔۔جلد ۱۲ ص ۲۱۶ حضرت یعقوب اور یوسف کی داستانیں

۔۔۔۔۔جلد ۱۲ ص ۳۳۹ حضرت ایوب کے قصے

۔۔۔۔۔جلد ۱۲ ص ۳۷۳ حضرت شعیب کے قصے

۔۔۔۔۔جلد ۱۳ ص ۱ ۔۔۔۔موسیٰ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔جلد ۱۳ ص ۲۴۹ قارون کا قصہ

۔۔۔۔۔جلد ۱۳ ص ۲۵۹ گائے کے ذبح کی داستان

۔۔۔۔۔جلد ۱۳ ص ۲۷۸ حضرت موسیٰ اور خضر کی داستانیں

۔۔۔۔۔جلد ۱۳ ص ۳۷۷ بلعم بن باعور کی پوری داستان

۔۔۔۔۔جلد ۱۳ ص ۳۸۱ حضرت حزقل کا قصہ

۔۔۔۔۔جلد ۱۳ ص ۳۸۸ حضرت اسماعیل کا قصہ

۔۔۔۔۔جلد ۱۴ ص ۳۷۹ حضرت یونس اور ان کے والد متی کا قصہ

۔۔۔۔۔جلد ۱۴ ص ۴۰۷ اصحاب کہف کے قصے

۔۔۔۔۔جلد ۱۴ ص ۴۳۸ اصحاب اخدود (خندق والوں) کے قصے

۔۔۔۔۔جلد ۱۴ ص ۴۴۵ حضرت جرجیس کے قصے

۔۔۔۔۔جلد ۱۴ ص ۴۴۸ خالد بن سنان عبسی کا قصہ

۔۔۔۔۔جلد ۲۱ ص ۲۵۲ ابو عامر راہب اور مسجد ضرار کے قصے

۔۔۔۔۔جلد ۷۸ ص ۳۸۳ بوہر اور یوذاسف کا قصہ

۔۔۔۔۔جلد ۹۶ ص ۱۰۱ ان بہشتیوں کی داستان جنہوں نے اپنے مال سے حق خدا کو روکا

کنزالعمال جلد ۱۵ ص ۱۵۰ داستانوں کی کتاب

۔۔۔۔۔۔جلد ۱۵ ص ۱۵۰ بہرے، مبروص اور اندھے کے قصے

۔۔۔۔۔۔جلد ۱۵ ص ۱۵۲ ہزار دینار قرضہ لینے والے کا قصہ

۔۔۔۔۔۔جلد ۱۵ ص ۱۵۴ غار والے کا قصہ

۔۔۔۔۔۔جلد ۱۵ ص ۱۵۷ حضرت موسیٰ اور خضر کی داستان

۔۔۔۔۔۔جلد ۱۵ ص ۱۵۹ اصحاب اخدود (خندق والوں) کے قصے

۔۔۔۔۔۔جلد ۱۵ ص ۱۶۳ گہوارے میں بولنے والے بچوں کی داستانیں

۔۔۔۔۔۔جلد ۱۵ ص ۱۶۴ ماشطہ بن فرعون کا قصہ

( ۴) مفید ترین قصے

قرآنِ مجید

( فاقصص القصص لعلهم یتفکرون ) ۔ (اعراف/ ۱۷۶)

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) یہ قصے ان لوگوں سے بیان کرو تاکہ یہ لوگ غور و فکر کریں۔

نحن نقص علیک احسن القصص

ترجمہ۔ (اے رسول!) ہم تم پر تم سے قرآن میں ایک نہایت بہترین قصہ بیان کرتے ہیں اگرچہ تم اس سے پہلے (اس سے) بالکل واقف نہ تھے۔

( لقد کان فی قضصهم…………………………… ) (یوسف/ ۱۱۱)

ترجمہ۔ اس میں شک نہیں کہ ان لوگوں کے قصں میں عقلمندوں کے واسطے عبرت ہے، یہ کوئی ایسی بات نہیں جو (خواہ مخواہ) گھڑ لی گئی ہو، بلکہ (جو آسمانی کتابیں) اس سے پہلے موجود ہیں ان کی تصدیق کرتی ہیں اور ہر چیز کی تفصیل ایمانداروں کے لئے ہدایت و رحمت ہے۔

حدیث شریف

۱۶۷۳۴ ۔ (اور تم پر لازم ہے کہ) گزشتہ زمانے کے اہلِ ایمان کے وقائع و حالات میں غور و فکر کرو کہ (صبر آزما) ابتلاؤں اور (جانکاہ) مصیبتوں میں ان کی کیا حالت تھیغور کرو کہ جب ان کی جمعیتیں یک جا اور خیالات یکسوتھےاور (تصویر کا یہ رخ بھی) دیکھو کہ جب ان میں پھوٹ پڑ گئی، یک جہتی درہم برہم ہو گئی، ان کی باتوں اور دلوں میں اختلافات کے شاخسانے پھوٹ نکلے اور وہ مختلف ٹولیوں میں بٹ گئے تو کئی گروہ بن کر ایک دوسرے سے لڑنے بھڑنے لگے۔ پس تو ان کی یہ نوبت ہو گئی کہ اللہ نے ان سے عزت و بزرگی کا لباس اتار لیا، نعمتوں کی آسائشیں ان سے چھین لیں، اور تمہارے درمیان ان کے واقعات حکایات عبرت بن کر رہ گئیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۲

۱۶۷۳۵ ۔ پس قرآن کا علم حاصل کرو کہ وہ بہترین کلام ہے، اس میں غور و فکر کرو کہ یہ دنوں کی بہار ہے، اس کے نور سے شفا حاصل کرو کہ سینوں (کے اندر چھپی ہوئی بیماریوں) کے لئے شفا ہے۔ اس کی خوبی کے ساتھ تلاوت کرو کہ اس کے واقعات سب واقعات سے زیادہ فائدہ بخش ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۱۰

آیات قصص کی تفسیر

( نحن نقص علیک احسن القصص ) (یوسف/ ۱۳) کی تفسیر کے بارے میں امام راغب، مفردات میں فرماتے ہیں کہ "القص" کے معنی ہیں "پیروی کرنا، یا تابعداری کرنا" جیسا کہ کہا جاتا ہے "قصصت اثرہ" یعنی میں اس کے پیچھے پیچھے چلا پس "قصص" پیچھے چلنے کو کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے "( فارتدا علی آثار هما قصصا ) " یعنی پھر دونوں اپنے قدم کے نشانوں کو دیکھتے دیکھتے الٹے پاؤں پھرے (کہف/ ۶۴) اسی طرح فرماتا ہے "قالت لاختہ قصیہ" یعنی موسیٰ کی ماں نے ان کی بہن سے کہا کہ تم اس کے پیچھے پیچھے چلی جاؤ (قصص/ ۱۱)

معلوم ہوا کہ "قصص" سے مراد ایک دوسرے کے پیچھے ذکر ہونے والے واقعات اور اخبار ہیں جیسا کہ خداوند عالم فرماتا ہے( لهو القصص الحق ) یعنی یہ سچی خبریں اور واقعات ہیں۔ (آل عمران/ ۶۲) نیز فرماتا ہے( و فی قصصهم عبرة ) یعنی ان کے قصوں میں عبرت ہے۔ (یوسف/ ۱۱۱) پھر فرماتا ہے( وقص علیه القصص ) یعنی ان سے اپنے قصے کو بیان کیا (قصص/ ۲۵) یہ بھی کہ( نحن نقص علیک احسن القصص ) یعنی ہم، آپ سے ایک نہایت عمدہ قصہ بیان کرتے ہیں (یوسف/ ۳) وغیرہ۔ معلوم ہوا کہ "قصص" سے مراد "قصہ" ہی ہے۔ اور"احسن القصص" سے مراد "احسن اور نہایت عمدہ قصہ ہے" ۔ جبکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ لفظ "قصص" مصدر ہے جس کے معنی ہیں "روایت بیان کرنا" لہٰذا اگر مصدر ہو تو حضرت یوسف کا قصہ نہایت ہی عمدہ داستان ہو گی ا س لئے کہ اس میں عبودیت میں توحید کے اخلاص اور بندہ ہے پر خدا کی حکومت کی مثالیں موجود ہیں اور اس بات کا ذکر ہے کہ اگر بندہ اس کی محبت کی راہوں پر چلے تو وہ اس کی صحیح معنوں میں تربیت کرتا، اسے ذلت کے گڑھوں سے نکال کر عزت کی بلندیوں پر فائز فرماتا ہے، اسارت کے تاریک کنوؤں اور عذاب و سختیوں کی قید سے نکال کر عزت اور بادشاہت کے تخت پر لا بٹھاتاہے۔

اگر لفظ "قصص" مصدر ہو تو اس کے معنی ہوں گے یوسف علیہ السلام کا قصہ ایک بہترین کلام، عمدہ ترین واقعہ اور احسن ترین خبر ہے جس میں عشق و محبت کے واقعات کو پاکیزہ ترین انداز اور ممکن حد تک عمدہ ترین صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ پس اس آیت کے معنیجنہیں خد ا سب سے بہتر جانتا ہےیہ ہوں گے کہ:

"اے پیغمبر! ہم تم پر یہ قرآن وحی کی صورت میں بھیج کر ایک نہایت عمدہ قصہ بیان کرتے ہیں اگرچہ تم اس سے پہلے اس سے بالکل بے خبر تھے۔

تفسیرالمیزان جلد ۱۱ ص ۷۵

قولِ مولف: ملاحظہ ہو "قرآن"

( ۵) قصہ گو افراد کی مذمت

۱۶۷۳۶ ۔ حضرت امیرالمومنین نے ایک شخص کو قصہ بیان کرتے ہوئے دیکھا تو اسے کوڑے مار کر بھگا دیا۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام)

۱۶۷۳۷ ۔ (آپ کے سامنے قصہ گو لوگوں کا ذکر ہوا تو فرمایا) "خدا ان پر لعنت کرے یہ ہم پر طعن و تشنیع کرتے ہیں۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) کافی جلد ۷ ص ۲۶۳

۱۶۷۳۸ ۔ "والشعرأ یتبعھم الغاؤن" یعنی شاعروں کی پیروی تو گمراہ لوگ کیا کرتے ہیں (شعرأ/ ۲۲۴) ، کے بارے میں فرمایا "شعراء" سے مراد "قصہ گو" ہیں۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۲ ص ۲۶۴


فصل۔ ۱۶

( ۱) قصاص

قرآنِ مجید:

( ولکم فی القصاص………………………تتقون ) (بقرہ/ ۱۷۹)

ترجمہ۔ اے عقل والو! قصاص میں تمہاری زندگی ہے، تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔

( یٰا یهاالذین امنوا کتب علیکم القصاص فی القتلی ) (بقرہ/ ۱۷۸)

ترجمہ۔ اے مومنو! جو لوگ مارے ڈالے جاتے ہیں ان کے بدلے میں قصاص (جان کے بدلے جان) لینے کا حکم دیا جاتا ہے۔

( الشهرالحرام بالشهر الحرام…………………………معن المتیقن ) (بقرہ/ ۱۹۶)

ترجمہ۔ حرمت والا مہینہ حرمت والے مہینے کے برابر ہے۔ سب حرمت والی چیزیں ایک دوسرے کے برابر ہیں۔ پس جو شخص تم پر زیادتی کرے تو جیسی زیادتی اس نے تم پر کی ہے ویسی ہی زیادتی تم بھی اس پر کرو، خدا سے ڈرتے رہو اور خوب سمجھ لو کہ خدا پرہیزگاروں کا ساتھی ہے۔

( وکتبنا علیهم فیها……………………هم الظٰلمون ) (مائدہ/ ۴۵۱)

ترجمہ۔ اور ہم نے اس (توریت) میں ان (یہودیوں) پر یہ فرض کر دیا تھا کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور زخم کے بدلے ویسا ہی برابر کا بدلہ زخم ہے۔ پھر جو (مظلوم، ظالم کی) خطا معاف کر دے تو یہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہو جائے گا، اور جو شخص خدا کی نازل کی ہوئی (کتاب) کے مطابق حکم نہ دے تو ایسے ہی ولگ ظالم ہیں۔

( ولاتقتلوا النفس التی………………………………کان منصورا ) ۔ (بنی اسرائیل/ ۳۳)

ترجمہ۔ اور جس جان کا مارنا خدا نے حرام کر دیا ہے اسے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر، اور جو شخص ناحق مارا جائے تو ہم نے اس کے وارث کو (قاتل پر قصاص کا) اختیار دیا ہے۔ پس اسے چاہئے کہ قتل (خون کا بدلہ لینے) میں زیادتی نہ کرے، بے شک اس کی مدد کی جائے گی۔

حدیث شریف

۱۶۷۳۹ ۔ اے لوگو! قصاص کو زندہ رکھو، حق کو زندہ رکھو اور فرقوں میں نہ بٹ جاؤ، خود بھی سلامتی میں رہو اور دوسروں کو بھی سلامتی سے رہنے دو اس طرح تم صحیح و سالم اور بچے رہو گے۔

(حضرت رسول اکرم) امالی شیخ مغید ص ۵۳ حدیث ۱۵

۱۶۷۴۰ ۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول( ولکم فی القصاص حیواة… ) کے بارے میں فرمایا: "قصاص میں زندگی اس لئے ہے کہ جو شخص کسی کو قتل کرنا چاہے گا اسے یہ معلوم ہو گا کہ اس سے بھی قصاص لیا جائے گا، اور اس کی جان بھی چلی جائے گی۔ لہٰذا وہ قتل سے باز رہے گا۔ اس طرح ایک تو اس کی زندگی بچ جائے گی جس کے قتل کا ارادہ کیا گیا تھا۔ اور قتل کا ارادہ کرنے والے کی جان بھی قصاص سے محفوظ رہے گی۔ ان دو کے علاوہ اور لوگوں کی جانیں بھی محفوظ رہیں گی کیونکہ انہیں علم ہو گا کہ قصاص واجب و لازم ہے۔ لہٰذا اس کے خوف سے وہ قتل کی جرأت نہیں کریں گے۔

(امام زین العابدین علیہ السلام) تفسیر منسوب۔ امام حسن عسکری ص ۵۹۵

۱۶۷۴۱ ۔ میں نے چار باتیں ایسی کی ہیں جن کی تصدیق اللہ نے قرآن میں نازل کر دی ہے۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ میں نے: "قتل (بطور قصاص)، قتل میں کمی پیدا کرتا ہے" پس خداوند تعالیٰ نے قرآن مجید میں نازل فرما دیا "ولکم فی القصاص حیوٰة"

(حضرت علی علیہ السلام) امالی طوسی ۴۹۴ حدیث ۱۰۸۲

۱۶۷۴۲ ۔ خداوند عالم نے ایمان کو واجب کیا ہے شرک کی آلودگیوں سے پاک کرنے کے لئے اور قصاص کو واجب قرار دیا ہے خونریزی کے انسداد کے لئے

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ حکمت ۲۵۲

۱۶۷۴۳ ۔ پتھر جہاں سے آیا ہے اسی طرف سے پلٹا دو، کیونکہ سختی کو صرف سختی کے ساتھ ہی روکا جا سکتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم حدیث ۵۳۹۴

۱۶۷۴۴ ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پانچ تلواروں کے ساتھ معبوث فرمایا ہے۔ جن میں ایک تلوار نیام میں بند ہے اور اس کے کھولنے کچا کام ہمارے غیر کے پاس ہے جبکہ اس کے حکم دین کا اختیار ہمیں ہے۔ یہ وہ تلوار ہے جس کے ذریعہ قصاص لیا جاتا ہے جس کے بارے میں خداوند تعالیٰ فرماتا ہے: النفس بالنفس" یعنی جان کے بدلے جان ہےچنانچہ ا س کا حکم ہم دیتے ہیں لیکن اس کا چلانا مقتول کے ورثاء کا کام ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) تفسیر عباسی جلد اول ص ۳۲۴ حدیث ۱۲۸

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو: بابا "سلاح" (اسلحہ) "پانچ تلواریں")

۱۶۷۴۵ ۔ اے لوگو! میں بھی تمہاری طرح بشر ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ عنقریب تمہارے پسِ پشت میرے بارے میں کچھ بجو قسم کے لوگ باتیں بنانے لگیں۔ لہٰذا میں نے تم میں سے جس کسی کی عزت، بال، کھال یا مال میں سے جو کچھ لیا ہے تو محمد کی یہ عزت، بال، کھال اور مال سب حاضر ہیں، اٹھ کر اس کا قصاص لے لے، تاکہ بعد میں کوئی یہ نہ کہے کہ میں محمد کی دشمن و ناراضگی سے ڈرتا تھا اس لئے قصاص نہیں لیا۔ ایسا ہرگز نہیں ہے کیونکہ دشمنی و ناراضگی نہ تو میری فطرت ہے اور نہ ہی میری عادت ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۳۹۸۳۱

قصاص کے بارے میں علمی گفتگو

آیہ قصاص کے نزول اور ا س سے پہلے کے دور میں عرب معاشرہ قصاص اور قاتل کو سزائے موت دینے کا قائل تھا۔ البتہ ان کے قصاص کی کوئی حد مقرر نہیں تھی بلکہ یہ قبائل کی طاقت پر منحصر تھا، کیونکہ بعض اوقات تو ایک مرد کے بدلے ایک مرد کو اور ایک عورت کے بدلے ایک عورت کو قتل کر دیا جاتا تھا جبکہ بعض مرتبہ ایسا بھی ہوتا کہ ایک مرد کے بدلے دس مردوں کو اور ایک غلام کے بدلے میں ایک آزاد کو قتل کیا جاتا۔ کسی قبیلہ کسی رعایا کے فرد کے بدلے میں قاتل قبیلہ کے سردار کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا، بلکہ بسا اوقات صرف ایک مرد کے قتل کے بدلے میں ایک پورے قبیلے کو تباہ و برباد کر دیا جاتا۔

یہودیوں میں بھی قصاص کا رواج تھا اور وہ اس کے قائل تھے، جیسا کہ توریت باب ۲۱, ۲۲ سفر خروج، اور فصل ۳۵ سفر عدد میں بھی اس کا تذکرہ ہے۔ قرآن مجید نے بھی اسے یوں بیان کیا( وکتبنا علیهم فیها ان النفس بالنفس والعین بالعین والانف بالانف والاذن بالاذن والسن بالسن والجروح قصاص ) "یعنی ہم نے الواح میں ان کے لئے لکھ دیا ہے کہ ایک شخص کے بدلے ایک شخص، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور زخم کے بدلے زخم کا قصاص لیا جائے گا۔" (مائدہ/ ۴۵)

لیکن جیسا کہ بیان کیا جاتا ہے عیسائیوں میں قتل کے بارے میں معافی اور خون بہا (دیت) کے علاوہ کوئی اور حکم نافذ نہیں تھا۔

اسی طرح دوسری اقوام و قبائل میں ان کے طبقات کے مختلف ہونے کے لحاظ سے بھی قتل کے بارے میں قصاص کا حکم تھا، یہ اور بات ہے کہ عصر حاضر کی طرح ان کے ہاں کوئی صحیح و مقررہ ضابطہ قصاص نافذ نہیں تھا۔

اس دوران اسلام کے عادلانہ نظام نے ایک منصفاہ راہ دکھائی، وہ یوں کہ نہ تو اس نے قصاص کو مکمل طور پر منسوخ کیا اور نہ ہی غیرمحدود پیمانے پر اس کی تائید کی، بلکہ قصاص کے حکم کو بحال رکھا لیکن قاتل کے لئے صرف سزائے موت ہی پر اکتفا نہیں کی، بلکہ ساتھ ہی مقتول کے وارثوں کو اختیار دے دیا کہ چاہیں تو قاتل کو معاف کر دیں اور چاہیں تو اس سے دیت (خون بہا) لے لیں۔ اس کے علاوہ قاتل اور مقتول کے درمیان مساوات کو بھی پیش نظر رکھا۔ وہ اس طرح کہ آزاد کے بدلے آزاد کو، غلام کے بدلے غلام کو اور عورت کے بدلے میں عورت کو ہی قتل کیا جائے گا۔

لیکن عصر حاضر میں قصاص اور خاص طور پر سزائے موت پر اعتراض کیا جاتا ہے اور ترقی یافتہ ممالک نے جو قوانین شہریت مرتب کئے ہیں ان میں قصاص کو صحیح نہیں سمجھا جاتا بلکہ انسانوں پر اس کے اجرا کی مخالفت کی جاتی ہے۔

ان کی دلیل یہ ہے کہ قاتل کو سزائے موت دینا ایک ایسا امر ہے جسے انسان کی طبیعت پسند ہی نہیں کرتی بلکہ اس سے نفرت بھی کرتی ہے۔ نیز یہ کہ ا س سے انسانیت کی توہین ہوتی ہے، رحم کے تقاضوں کے بھی خلاف ہے۔ اسی طرح وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ پہلے تو ایک قتل نے انسانی معاشرے سے ایک فرد کو کم کر دیا تھا ، دوسرے قتل نے اس کمی کو پورا کرنے کی بجائے ایک اور فرد کو ختم کر دیا، یہ کمی بالائے کمی ہے۔ ان کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ قتل کرکے قصاص لینا سنگدلی اور جذبہ انتقام کی علامت ہے، لہٰذا عوام کی تربیت کرکے سنگدلی کو ختم کیا جائے اور جذبہ انتقام کے تحت قاتل کو قتل کرنے کی بجائے سزا کے طور پر اس کی تربیت کرنی چاہئے۔ یہ سزا، قتل کے علاوہ ہونی چاہئے مثلاً قید بامشقت وغیرہ۔

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو مجرم قتل کا ارتکاب کرتا ہے اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ نفسیاتی مریض ہوتا ہے اورکم عقلی کی وجہ سے اتنے بڑے جرم کا مرتکب ہوتا ہے، یہی وجہ ہے عقلمندوں کی عقل یہ کہتی ہے کہ ایسے مجرموں کو نفسیاتی ہسپتالوں میں داخل کرکے ان کا علاج کیا جائے۔

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ "قوانین شہریت" معاشرتی تقاضوں کے پیش نظر وضع کئے جائیں کیونکہ معاشرہ ایک حال پر قائم نہیں رہتا بلکہ اس میں تغیر تبدل ہوتا رہتا ہے۔ لہٰذا قصاص کے حکم کو بدل دینا چاہئے کیونکہ اس کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ قصاص کے قوانین ابد تک کے لئے معتبر ہوں اور ترقی یافتہ اقوام پر بھی ان کا اجرا کیا جائے۔ اس لئے کہ عصر حاضر کے معاشرتی تقاضے اس بات کے خواہاں ہیں کہ جتنا ہو سکے افراد کی تعداد سے بھرپور استفادہ کیا جائے، ایسے قوانین بنائے جا سکتے ہیں جن سے مجرموں کو سزا بھی مل جائے اور ان کے وجود سے بھی استفادہ کیا جا سکے۔ نیز سزا ایسی ہو جو نتیجہ کے لحاظ سے قتل کے برابر ہو جیسے عمر قید یا طویل المیعاد قید وغیرہ۔ اس طرح سے ایک طرف تو معاشرے کا حق محفوظ ہو جاتا ہے اور دوسری طرف مقتول کے ورثاء کی دادرسی ہو جاتی ہے۔

یہ وہ اہم وجوہات جو سزائے موت کے مخالف اپنے نظریہ کے ثابت کرنے کے لئے پیش کرتے ہیں۔ لیکن قرآن مجید نے ان سب کا جواب صرف ایک آیت کے ذریعہ دے دیا ہے اور وہ یہ کہ : "ْن قتل نفسا بغیر نفس او فسا دفی الارض فکا نما قتل الناس جمیعا۔ و من احیا ھا فکا نما احیا الناس جمیعا" یعنی جو شخص کسی ایسے شخص کو قتل کر دے جس نے نہ تو کسی کو قتل کیا، اور نہ ہی زمین میں فساد کا ارتکاب کیا ہو، تو یہ ایسے ہے جیسے اس نے تمام لوگوں کو قتل کر دیا، اسی طرح جو ایک شخص کو بچا لے تو گویا اس نے تمام انسانیت کو بچا لیا ہے۔ (مائدہ/ ۳۲)

چونکہ افرادِ انسانی کے درمیان رائج قوانین وصفی اور اعتباری ہوتے ہیں جن میں انسانی معاشرے کی مصلحت کو پیش نظر رکھا جاتا ہے لیکن اصل وجوہات جو قانون سازی کا موجب بنتی ہیں۔ وہ انسان کے خارجی حالات ہیں جو اسے نقائص کے دور کرنے اور اس کی تکوینی ضروریات کے پورا کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔

یہی خارجی حالات جو اس قسم کی کیفیت کا موجب ہوتے ہیں ، انسانوں کی تعداد یا ان کی قوت و طاقت یا ضعف و کمزوری پر منحصر نہیں ہیں بلکہ ان کے انسان ہونے کے ناطے ان پر احکام کا دارومدار ہوتا ہے۔ انسان خواہ ایک ہو یا ہزاروں، اس کی انفرادی حیثیت ہو یا اجتماعی، انسانیت کے لحاظ سے سب یکساں ہیں۔ ایک انسان بھی انسان ہے اور ہزاروں انسان بھی انسان ہیں۔ ایک عورت بھی انسان ہے اور ہزاروں عورتیں بھی انسان ہیں۔

اسی بنا پر جو شے انسانیت کے وجود کے لئے خطرناک ہو اور حیاتِ انسانی کے لئے خطرہ کا موجب ہو انسان کا فرض ہے کہ اس سے اپنا دفاع کرے خواہ اسے اس کو ختم کرکے ہی اپنا دفاع کرنا پڑے۔ یہی وجہ ہے کہ جس شخص کو یہ شک ہو کہ کوئی شخص اسے قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اسے قتل کرنا جائز ہے اور کیونکہ اس کے سوا اس کے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہوتا۔

یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ اقوام، جو قصاص کو صحیح نہیں سمجھتیں، اگر ان کے استقلال و آزادی اور قومی نام نہاد حیثیت کو خطرات لاحق ہوتے ہیں، جنگ کے سوا انہیں اور کوئی چارہ کار نظر نہیں آتا تو بے درنگ اس کے دفاع پر آمادہ ہو جاتے ہیں اور جنگ کرنے سے نہیں چوکتیں، چہ جائے کہ دشمن ان کے غارت کرنے یا انہیں نیست و نابود کرنے کا پورا تہیہ کئے ہوئے ہو۔ اس بارے میں یہ اقوام اپنے ہی بنائے ہوئے قوانین کے غلط ہونے کا تاحد امکان دفاع کرتی ہیں، حتیٰ کہ دشمن کو قتل کرنے سے بھی باز نہیں آتیں، جنگ کے سوا انہیں کوئی اور راستہ نہ ملے تو جنگ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتیں۔

انہی تباہ کن، ہلاکت خیز اور نسل کی بربادی کی موجب جنگوں کے لئے مختلف اقوام ہمیشہ اپنے آپ کو تباہ کن ہتھیاروں سے لیس کرتی رہتی ہیں۔ ان کی دیکھا دیکھی دوسری قومیں بھی اسی کوشش میں مصروف رہتی ہیں کہ اپنے آپ کو اس طرح کے مہلک ہتھیاروں سے مسلح کریں کہ اسلحہ کی اس دوڑ میں ترقی یافتہ اقوام سے پیچھے نہ رہ جائیں، اور طاقت کا توازن برقرار رہے۔

ان اقوام کے پاس اس کی اور کوئی دلیل نہیں ہوتی سوائے اس کے کہ وہ اپنی اجتماعی و معاشرتی بقا کی حفاظت کر رہی ہوتی ہیں جس کے لئے وہ جنگ کا سہارا لیتی ہیں، حالانکہ اگر دیکھا جائے تو ایک انسان، معاشرہ اور اجتماع کی زندگی میں کوئی فرق نہیں، کیونکہ ایک انسان بھی تو معاشرہ ہی کا ایک فرد ہوتا ہے۔ جس طرح کسی معاشرہ کی زندگی عزیز ہوتی ہے اسی طرح ایک انسان کی زندگی بھی قابل قدر حیثیت کی حامل ہوتی ہے۔ جب فرد و معاشرہ کی زندگی ایک جیسی ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ معاشرہ کی بقا و تحفظ کے لئے تو مہلک اور تباہ کن جنگوں کا سہارا لیا جائے اور فرد کی حفاظت کا کوئی بندوست نہ ہو۔ جبکہ یہ فرض کیا جا چکا ہے کہ معاشرہ اسی طرح مدنی الطبع ہے جس طرح انسان ہوتا ہے۔

پھر یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ جنگ کے ذریعہ ا ن لوگوں کو قتل کیا جاتا ہے جو کسی کے قتل کا ارادہ رکھتے ہیں حالانکہ ابھی انہوں نے کسی کو قتل نہیں کیا ہوتا۔ یہ اقدام ان اقوام کے نزدیک جائز بھی ہے اور صحیح بھی لیکن وہ پھر بھی قصاص کو صحیح نہیں جانتے جبکہ اس کا تعلق اقدامِ قتل کے بعد ہوتا ہے! آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ نیز ایک اور بات بھی قابل غور ہے وہ یہ کہ انسانی فطرت تاریخی واقعات کے ردعمل کا حکم دیتی اور کہتی ہے کہ "فمن یعمل مثقال خیرة خیرا یرہ و من یعمل مثقال ذرة شرایرہ" یعنی جو ذرہ برابر نیکی کرتا ہے وہ اسے دیکھ لیتا ہے اور جو ذرہ برابر برائی کرتا ہے بھی دیکھ لیتا ہے (سورہ زلزال/ ۸)

اگرچہ یہ کلام قرآن ہے کہ لیکن انسانی فطرت کی ترجمانی کر رہا ہے۔ نیز ہر عمل کے ردعمل کا نظریہ اس کے پیش نظر ہے۔ مگر تعجب تو اس بات پر ہے کہ اس ردعمل کو اپنے خودساختہ قوانین ہیں تو پیش نظر رکھا جاتا ہے لیکن ایک قاتل مجرم کے قتل کرنے کو ظلم و خلاف قانون سمجھا جاتا ہے!!

مذکورہ تصریحات کے علاوہ اسلام و قرآن تمام دنیا میں اگر کسی انسان کی عظمت، قدر و قیمت، و شخصیت و حیثیت کا قائل ہے اور جس معیار پر کسی انسان کو پرکھتا ہے، وہ ہے "خدا اور دینِ توحید پر ایمان" اسی بنا پر ایک پورے انسانی معاشرہ اور ایک موجد انسان کی قدر و قیمت حیثیت و شخصیت و وزن برار ہیں، جب اسلام کا معیار یہ ہے تو اس کے نزدیک ایک فرد اور معاشرہ میں کوئی فرق نہیں۔ چنانچہ اسلام کہتا ہے کہ "جو شخص کسی ایک موحد مومن کو قتل کرے تو گویا اس نے تمام انسانیت کا قتل کیا۔ اس لئے کہ ایک فرد کا قاتل اور پورے معاشرہ کا قاتل فطرت کے حکم کے اعتبار سے یکساں ہیں کیونکہ دونوں حقیقت کے تجاوز کرنے اور انسانیت کی ہتکِ حرمت کے مرتکب ہوتے ہیں۔ لہٰذا فطرت کے اصول کے مطابق ایک انسان کے قاتل اور تمام افراد کے قاتل میں کوئی فرق نہیں ہے۔

دنیا کی متمدن قومیں جو قصاص کے حکم پر اعتراض کرتی ہیں اس لئے نہیں کہ اس حکم میں کسی قسم کا نقص جانتی ہیں، جیسا کہ ہم ابھی بتا چکے ہیں، بلکہ اس لئے کہ وہ دین کے احترام اور شرف کو تسلیم نہیں کرتیں۔ اگر وہ دین کے لئے کم سے کم شرف کی قائل ہوتیں یا اسی شرف یا معاشرتی تمدن کے برابر اس کا وزن تسلیم کرتیں۔ جبکہ قصاص کی اہمیت اس سے کئی گناہ زیادہ ہےتو یقینا اس بارے میں بھی اس اصول کا کبھی انکار نہ کرتیں۔

علاوہ ازیں اسلام عالمی سطح پر ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ ازل سے ابد تک اس کی عمومی حیثیت مسلمہ ہے ایک قوم یا کسی ایک ملک کے ساتھ اس کا خصوصی تعلق نہیں ہے۔ دنیا کی متمدن اور ترقی یافتہ اقوام اس کے حکمِ قصاص پر اس لئے اعتراض کرتی ہیں کہ وہ سمجھتی ہیں کہ اس کے تمام افراد مکمل طور پر تربیت یافتہ ہیں اور ان افراد کی حکومت دنیا کی بہترین حکومت ہے۔ عصرِ حاضر کی متمدن دنیا حکم قصاص پر اس لئے اعتراض کرتی ہے کہ دنیا نے جو اعداد و شمار اکٹھے کئے ہیں ان کی رو سے وہ یہ سمجھتی ہے کہ دنیا میں ترقی یافتہ افرا دکی بہت بڑی تعداد موجود ہے اور اقوام عالم مجموعی طور پر قتل وغارت سے خودبخود نفرت کرتی ہیں، لہٰذا بہت کم تعداد میں قتل و غارت کی نوبت آتی ہے۔ اس لئے چونکہ قتل و خون کی صورت بہت کم پیش آتی ہے اس لئے وہ "خون کا بدلہ خون" سے کم سزا پر راضی ہیں۔

یہ ہے ان ترقی یافتہ اقوام کی دلیل لیکن اگر ان کی یہ دلیل صحیح بھی ہو تو مذکورہ صورت میں اسلام کو بھی اس بات پر اصرار نہیں ہے کہ "خون کا بدلہ خون" ہی ہو بلکہ اس صورت میں وہ قصاص کی صورت میں قتل کو لازم اور حتمی نہیں سمجھتا بلکہ اس نے ایک اور اختیار بھی دیا ہے یعنی معاف کر دینا۔

اسی لئے اس بات میں کیا حرج ہے کہ قصاص کی صورت میں اسلام کا حکم بھی باقی رہے اور تمدن و ترقی یافتہ دنیا اس کے دوسرے پہلو کو اختیار کرکے قاتل و مجرم کو سزائے موت دینے کی بجائے اسے معاف کر دے جیسا کہ خود آیہ قصاص میں اسی بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: "ہر مجرم قاتل کو اگر مقتول کا بھائی جو اس کے خون کا وارث ہے، معاف کر دے اور دیت (خون بہا) لے کر راضی ہو جائے، قاتل بھی اس کی ادائیگی میں ٹال مٹول نہ کرے، اس کے احسان کا بدلہ چکا دے، (تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے)۔ یہ اندازِ بیان بجائے خود ایک اندازِ تربیت ہے اور اس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اگر افرادِ ملت کی تربیت اس حد تک ہو چکی ہو کہ معافی عمومی طور پر ایک قابل فخر و موجبِّ افتخار سرمایہ سمجھا جانے لگے تو مقتول کے وارث بھی انتقام کی بجائے معافی کے رشتے کو ہی منتخب کریں گے اور سمجھیں گے "جو لطف عفو میں ہے، انتقام میں نہیں۔"

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا میں ہمیشہ سے ہر جگہ اسی طرح کا تمدن اور ترقی یافتہ معاشرہ موجود ہے؟ نہیں! ایسا ہرگز نہیں ہے کیونکہ ہمیشہ سے چلا آ رہا ہے کہ دنیا میں کچھ ایسی قومیں بھی ہیں جن کا انسانی اجتماعی و معاشرتی شعور، ابھی اس حد تک نہیں پہنچا!

ایسی صورت میں معاشرے کے لئے ضروری ہو جاتا ہے کہ پھر وہ دوسری راہ اختیار کرے۔ لہٰذا اس طرح کے معاشروں میں صرف معاف کر دینے سے بات نہیں بنے گی یعنی اگر حکمِ قصاص کا اجرا نہ کیا جائے تو معاشرہ تباہ و برباد ہو جائے گا۔ اس بات کا شاہد ہمارا روزمرہ مشاہدہ ہے کہ مجرم افراد کو بامشقت قید سے کسی قسم کا خوف نہیں ہوتا، نہ کسی ناصح و واعظ کی پند و نصیحت ان کے لئے کارگر ثابت ہوتی ہے۔ وہ نہیں سمجھ پاتے کہ "انسانی حقوق" کیا ہوتے ہیں؟

اس قسم ے افراد کے لئے جیلیں تو امن و سکون کا گہوارہ بن جاتی ہیں حتیٰ کہ ان کا ضمی بھی جیلوں ہی میں جا کر سکون حاصل کرتا ہے۔ وہ لوگ جیل سے باہر کی زندگی کو جیل کے اندر کی زندگی سے زیادہ معزز سمجھتے ہیں جو حقیقت میں ایک پست اور بدبختی کی زندگی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگوں کو نہ تو جیلوں کا خوف ہوتا ہے نہ اپنے لئے ذلت اور ننگ تصور کرتے ہیں، نہ ہی جیل کی مشقت سے ڈرتے ہیں، نہ وہاں کی مشقت و سختی کی پرواہ کرتے ہیں۔

اسی طرح ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ جو معاشرے ابھی ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہوئے، جن میں قصاص کا حکم کارفرما نہیں ہے، ان میں تباہیوں اور بربادیوں کے اعداد و شمار میں روزبروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ جس سے یہ نتیجہ بآسانی نکالا جا سکتا ہے کہ "قصاص کا حکم ایک عمومی حکم ہے، جو ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں طرح کی اقوام کو شامل ہے جبکہ ترقی پذیر یا غیرمتمدن اقوام کی تعداد دوسروں سے زیادہ ہے۔

اگر کوئی ملت ترقی کی اس حد تک پہنچ جائے اور اس کی تربیت اس انداز ہو کہ معاف کر دینے سے اسے روحانی مسرت حاصل ہو، تو اسلام بھی اس سے یہ نہیں پوچھا گا کہ تم نے اپنے باپ کے قاتل کو کیوں معاف کر دیا، اس لئے کہ اسلام بھی درگزر کر دینے کی تعلیم دیتا ہے۔ لیکن اگر کوئی قوم انخطاط و پستی کی راہ پر گامزن ہو اور نعمت خداوندی کا کفران نعمت سے جواب دے تو ایسی قوم کے لئے "قصاص" کا حکم زندگی کے درس کی حیثیت رکھتا ہے۔ جبکہ وہاں بھی عفو اور معافی کے حکم کو نظرانداز نہیں کیا گیا۔

البتہ ان لوگوں کا یہ کہنا کہ "انسانیت پر رحم و کرم اس بات کا متقاضی ہے کہ قاتل کو سزائے موت نہ دی جائے" اس لئے قابل قبول کیونکہ ہر مقام اور مرحلے پر رحم و کرم قابل ستائش و لائق تعریف نہیں ہوتا۔ اسے فضلیت کے زمرے میں شمار نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ سنگدل مجرم جسے انسانیت کا پاس نہیں اور دوسروں کے لئے اس کے دل میں رحم و کرم کا نرم گوشہ موجود نہیں، کسی کا قتل اس کے لئے ایسا ہے جیسے وہ پانی پی رہا ہو، قانون شکنی کا مرتکب ہو رہا ہو، آئین و قانون کی دھجیاں اڑا رہا ہو، اسے کسی کی جان اور عزت و ناموس کا ذرہ بھر خیال نہ ہو، اس پر رحم و کرم اور مہربانی درحقیقت نیک، صالح، قانون کا احترام کرنے والے افراد پر ظلم کے مترادف ہو گا۔ اگر کسی شرط و شرائط کے بغیر مطلق طور پر کسی پر رحم و ترس کھایا جائے تو اس سے انسانی معاشرے کا ڈھانچہ تباہ ہو کر رہ جائے گا۔ سارا نظام مختل ہو جائے گا اور انسانیت تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گی۔ انسانی فضلیتیں و اقدار تباہ ہو جائیں گی، بقول فارسی شاعر کے:

ترحم بر پلنگ تیز دندان ستمکاری بود بر گو سفندان

یعنی تیز دانتوں والے چیتوں اور بھیڑیوں پر رحم درحقیقت بھیڑ بکریوں پر ظلم ہو گا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ رحمدلی ایک قابلِ ستائش خصلت اور سنگدلی و جذبہ انتقام بری چیز ہے تو اس سے بھی کسی کو انکار نہیں، لیکن اس کا جواب وہی ہے جو ابھی بیان ہو چکا ہے۔ بلکہ یہاں پر تو ہم یہ بھی کہیں گے کہ ظالم سے مظلوم کا انتقام لینا اور حق و عدلت کی امداد، و طرفداری، مذموم یا بری بات نہیں ہے، اس لئے کہ اس طرح سے عدل و انصاف کے ساتھ محبت کا اظہار ہوتا ہے جو قابل ستائش ہے اور جس کا شمار فضلیت میں ہوتا ہے، رزذالت کے زمرے میں نہیں آتا علاوہ ازیں قصاص کو اس لئے لازم قرار دیا گیا ہے، اس سے انتقام لینا مقصود نہیں بلکہ اصل مقصد عمومی افراد کی تربیت اور فتنہ و فساد و دیگر برائیوں کا سدباب کرناہے۔

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ قتل جیسے جرم کا ارتکاب بذات خود ایک نفسیاتی بیماری ہے۔ لہٰذا قاتل ایک نفسیاتی مریض ہوتا ہے جسے ہسپتالو ں میں داخل کرکے اس کا نفسیاتی علاج کیا جانا چاہئے۔ یہ قاتل کے لئے بذات خو دایک نہایت ہی معقول عذر ہے، حالانکہ یہ بودی دلیل اس بات کا موجب ہو رہی ہے کہ قتل و غارت، جرائم اور فحاشی میں دن بدن اضافہ ہوتا رہے جس سے انسانی معاشرہ تباہی کے کنارے پر پہنچ چکا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر مجرم جو قتل یا کسی دوسرے بڑے جرم سے لطف اندوز ہوتا ہے جب اس بات کا خیال کرتا ہے کہ جرم کا ارتکاب ایک عقلی و نفسیاتی بیماری ہے اور اسے اس جرم میں معذور سمجھ ر معاف کر دیا جائے گا، بلکہ حکومت اس قسم کے افرا دکا بڑی ہمدردی، پیار و محبت کے ساتھ علاج و معالجہ کرتی ہے، اس کے ساتھ نہایت ہمدردانہ سلوک کیا جائے گا، اسی طرح سب حکومتیں اس کے ساتھ ایسا سلوک کریں گی، تو واضح سی بات ہے کہ ایسے مجرم ہر روز کم از اکم ایک شخص کو تو ضرور قتل کریں گے پھر اس کا انجام صاف ظاہر ہے۔

وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ: "عالمِ انسانیت کو ایسے وجود سے استفادہ کرنا چاہئے، وہ اس طرح سے کہ ان سے کٹھن اور مشکل کام لئے جائیں، اور انہیں زندان میں رکھ کر معاشرہ میں داخل ہونے سے اور دوسرے جرائم کے ارتکاب سے روکا جا سکتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا کہنے والے اگر واقعاً سچ کہتے ہیں اور اپنی باتوں میں حقیقت سے کام لیتے ہیں تو پھر جب قانونی طور پر جسے سزائے موت دی جا رہی ہوتی ہے جو کہ موجودہ عام قوانین میں راجء ہے، تو اس وقت وہ یہ فیصلہ کیوں نہیں کرتے؟

پس معلوم ہوا کہ جہاں کسی کو سزائے موت دینی ہے وہاں پر وہ سزائے موت ہی کو دیگر تمام امور سے اہم سمجھتے ہیں۔ وہاں زندہ رکھنے، مشقت کے کام لینے اور جیلوں میں ڈالنے کی بات نہیں کرتے۔ ہم پہلے بھی بتا چکے ہیں کہ فطرت اور حیثیت کے لحاظ سے فرد اور اجتماع برابر ہیں، (المیزان جلد اول ص ۴۳۴ ، ۴۳۸)

( ۲) قصاص سے درگزر کرنا

قرآن مجید

( فمن تصدق به فهو کفارة له ) (مائدہ/ ۴۵)

ترجمہ۔ تو جو شخص اس سے درگزر کرے تو اس کے لئے کفارہ ہو گا۔

حدیث شریف

۱۶۷۴۶ ۔ جس مسلمان کے جسم کو کسی قسم کی تکلیف پہنچے اور وہ اسے معاف کر دے تو اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کا درجہ بلند کر دے گا اور اس کی خطا کو معاف کر دے گا۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۳۹۸۵۰

۱۶۷۴۷ ۔ جب کسی مسلمان کے جسم کو کوئی زخم آئے اور وہ اس سے درگزر سے کام لے تو اللہ تعالیٰ اس کا اسی قدر کفارہ قرار دے گا جتنا اس نے درگزر سے کام لیا ہو گا۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۳۹۸۵۱

۱۶۷۴۸ ۔ جس کسی کے جسم میں نصف دیت کے مطابق کوئی تکلیف پہنچے اور وہ اس سے درگزر سے کام لے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے نصف گناہوں کا کفارہ قرار دے گا، اگر ایک تہائی دیت کے برابر ہو گا تو ایک تہائی گناہ معاف ہوں گے، اگر ایک چوتھائی کے برابر ہو تو اس کے چوتھائی گناہ معاف ہوں گے۔ اسی طرح اس کی مقدار اس کا کفارہ ہو گا۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۹۸۶۱

۱۶۷۴۹ ۔ جو کسی کے خون (کا بدلہ لینے) سے درگزر سے کام لے گا تو اس کا ثواب جنت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۳۹۸۵۴

۱۶۷۵۰ ۔ جب کسی کے جسم میں کوئی تکلیف پہنچے اور وہ اسے خدا کے لئے معاف کر دے تو یہ اس کے لئے اس کے گناہوں کا کفارہ ہو گا۔"

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۳۹۸۵۳

۱۶۷۵۱ ۔ جب آپ سے خداوند عالم کے اس قول "فمن تصدق بہ فھو کفارة میں سوا لہ" کے بارے کیا گیا تو آپ نے فرمایا: "جو شخص جس قدر کسی کو معاف کرے گا اسی قدر اس کے گناہوں کا کفارہ ہو گا۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) کافی جلد ۷ ص ۳۵۸ حدیث اول

۱۶۷۵۲ ۔ جب آپ سے اسی آیت کے بارے میں ابو بصیر نے سوال کیا تو آپ نے فرمایا: "اس کے گناہوں کا اسی قدر کفارہ ہوگا جس قدر اس نے اپنے زخم یا کسی اور مصیبت کو معاف کیا گیا ہو گا۔"

(امام جعفر صادق علیہ السلام) کافی جلد ۷ ص ۳۵۸ حدیث ۲

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو: "عفو"


فصل۔ ۱۷

( ۱) قضا و قدر

قرآن مجید:

( قل لن یصبنا الاما کتب الله لنا هو مولنٰا وعلی الله فلیتو کل المومنون ) (توبہ/ ۵۱)

ترجمہ۔ (اے پیغمبر!) کہہ دیجئے کہ ہم پر کوئی مصیبت نہیں پڑ سکتی مگر وہی جو خدا نے ہمارے لئے (ہماری تقدیر میں) لکھ دی ہے، وہی ہمارا مالک ہے اور ایمانداروں کو چاہئے کہ خدا ہی پر بھروسہ کریں۔

( ولکن لیقضی الله امرا کان مفعولا ) ۔ (انفال/ ۱۴۲)

ترجمہ۔ مگر اس لئے تاکہ اللہ تعالیٰ وہ بات پوری کر دکھائے جسے ہو کر رہنا ہے۔

( ما کان علی النبی من حرج………………………قوله امقدودا ) (احزاب/ ۳۸)

ترجمہ۔ جو حکم خدا نے پیغمبر پر فرض کردیا ہے اس کے کرنے میں اس پر کوئی مضائقہ نہیں، جو لوگ ان سے پہلے گزر چکے ہیں ان کے بارے میں بھی خدا کا یہی دستور رہا ہے۔ اور خدا کا حکم تو (ٹھیک) انداز سے مقرر ہوا ہوتا ہے۔

حدیث شریف

۱۶۷۵۳ ۔ (خدا کی حمد کرتے ہوئے فرمایا) اس کے حکم کا درجہ بلند ہے، چنانچہ اس نے (گنہگاروں سے) درگزر کیا اور اس کا ہر فیصلہ عدل و انصاف پر مبنی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۱

۱۶۷۵۴ ۔ اس کا حکم فیصلہ کن، حکمت آمیز اور اس کی خوشنودی امان و رحمت ہے، وہ اپنے علم سے فیصلہ کرتا ہے اور اپنے حلم سے عفو و مغفرت کرتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۶۰

۱۶۷۵۵ ۔ دو آدمیوں میں اس کا حق اسی وقت ہوتا ہے جب دوسرے پر بھی اس کا حق ہو۔ پہلے شخص پر اس کا حق جب ہی ہوتا ہے، جب دوسرے کا حق بھی اس پر ہو۔ اگر کسی کا حق دوسروں پر ہو لیکن اس پر کسی کا حق نہ ہو تو یہ امر ذات باری کے لئے ہی مخصوص ہے نہ کہ اس کی مخلوق کے لئے، کیونکہ وہ اپنے بندوں پر پورا تسلط و اقتدار رکھتا ہے۔ اس نے تمام ان چیزوں پر جن پر اس کے فرمانِ قضا جاری ہوئے ہیں عمل کرتے ہوئے (ہر صاحب حق کا) حق دے دیا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۲۱۶

۱۶۷۵۶ ۔ خداوند تعالیٰ کائنات کے امور کو اپنی رضا اور تقاضوں کے مطابق چلاتا ہے، ایسے نہیں جیسے تم چاہتے ہو۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم حدیث ۳۴۳۲

۱۶۷۵۷ ۔ قضا اور قدر، دونوں خدا کی مخلوق ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں جس قدر چاہتا ہے اضافہ کرتا رہتا ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) التوحید ۳۶۴ حدیث اول

۱۶۷۵۸ ۔ جب قیامت کا دن ہو گا اور اللہ تعالیٰ اپنی تمام مخلوق کو اکٹھا فرمائے گا تو ان سے اپنے لئے ہوئے عہد و میثاق کے بارے میں سوال کرے گا، ان کے بارے میں اپنی قضا و قدر کے متعلق ان سے سوال نہیں کرے گا۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) الدرة الباہرہ ص ۳۵

۱۶۷۵۹ ۔ اپنے اس مکتوب کے آخر میں فرماتے ہیں جو اپنے فرزند امام حسن علیہ السلام کے لئے صفین سے پلٹتے وقت مقام "حاضرین" پر تحریر فرمایا تھا: "میں تمہارے دین اور تمہاری دنیا کو اللہ کے حوالے کرتا ہوں اور اس سے حال و مستقبل اور دنیا و آخرت میں تمہارے لئے بھلائی کے فیصلہ کا خواستگار ہوں والسلام"

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ مکتوب ۳۱

۱۶۷۶۰ ۔ اولیاء اللہ کی تعریف میں فرماتے ہیں "اگر ان پر مصیبتیں پڑتی ہیں تو (خدایا!) وہ تیرے دامن میں پناہ لینے کے لئے تجھ سے استخارہ کے ذریعہ ملتجی ہوتے ہیں یہ جانتے ہوئے کہ سب چیزوں کی باگ دوڑ تیرے ہاتھ میں ہے اور ان کے نفاذپذیر ہونے کی جگہیں تیرے ہی فیصلوں سے وابستہ ہیں"

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۲۲۷

۱۶۷۶۱ ۔ اللہ تعالیٰ جب کسی چیز کے بارے میں فرماتا ہے تو اس کی تقدیر متعین فرما دیتا ہے، تو پھر اسے پورا کرتا ہے اور پورا کر لیتا ہے تو اسے کر گزرتا ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ص ۱۲۱

قولِ مولف: شیخ صدوق رضوان اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

قضا و قدر کے بارے میں ہمارا وہی عقیدہ ہے جو حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے زرارہ کے جواب میں فرمایا تھا، جب زرارہ نے اس بارے میں آپ سے پوچھا تو فرمایا: "خداوند عز و جل جب بروز قیامت اپنے بندوں کو جمع کرے گا تو ان سے کئے گئے عہد و پیمان کے بارے میں سوال کرے گا ان کے بارے میں اپنی قضا و قدر کے متعلق سوال نہیں کرے گا۔"

نیز قدر کے بارے میں قیل و قال سے منع کیا گیا ہے، جیسا کہ کسی شخص نے حضرت امیر علیہ السلام سے قدر کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: "یہ ایک گہرا سمندر ہے اس میں داخل ہونے کی کوشش نہ کرو۔" اس نے پھر یہی سوال دہرایا تو فرمایا: "یہ ایک خدائی راز ہے اس (کو کھولنے) کی کوشش نہ کرو۔"

امیرالمومنین علی علیہ السلام ہی قدر کے بارے میں فرماتے ہیں: "یاد رکھو کہ مقدر خدائی رازوں میں سے ایک راز ہےاعتقدات صدوق میں ہے "یہ اللہ کے رازوں میں سے ایک راز ہے اور خدائی پردوں میں سے ایک پردہ ہے‘ذ جیسا کہ بحار کے حاشیہ میں ہےخدائی ڈھالوں میں سے ایک ڈھال ہے، جواب الٰہی میں اسے اٹھایا ہوا ہے، مخلوقِ خدا سے اسے لپیٹا گیا ہے، خدائی مہر اس پر لگی ہوئی ہے، خدا کے علم میں پہلے سے موجود ہے، اللہ نے اس کا علم اپنے بندوں سے روک لیا ہے اور ان کی نگاہوں سے بہت بلند کر دیا ہے کیونکہ بندے اس تک ربانیت کی حقیقت، صمدانیت کی قدرت، نورانیت کی عظمت اور وحدانیت کی عزت کے ساتھ رسائی حاصل نہیں کر سکتے،

اس لئے کہ وہ ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہے جو صرف خدا ہی کے ساتھ مخصوص ہے جس کی گہرائی آسمان و زمین کے درمیانی حصے کے برابر ہے، چوڑائی مشرق سے مغرب تک کے درمیانی جیسی ہے۔ تاریک رات کی مانند ہے جس میں بڑی تعداد میں سانپ اور بچھو ہوتے ہیں، مدوجزر کی طرح کبھی اوپر چلی جاتی ہے کبھی نیچے چلی آتی ہے۔ اس کی اتھاہ گہرائی میں سورج جگمگا رہا ہے جس کی اطلاع خدا کے علاوہ کسی اور کو نہیں ہے، لہٰذا جو شخص اس سے مطلع ہونے کی کوشش کرے گا وہ خدائی احکام میں اس کے مدمقابل آنے کی کوشش کرے گا، اس کی سلطنت میں اس کے ساتھ تنازع کرنذے کی کوشش کرے گا۔ اس کے پردوں اور رازوں کو کھولنے کی کوشش کرے گا۔ وہ خدائی غضب کا حقدار بن جائے گا اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہو گا جو بہت برا ٹھکانہ ہے۔

روایت میں ہے کہ امیرالمومنین علی علیہ السلام ایک ایسی دیوار کے پاس سے گزر رہے تھے جو گرنے والی تھی تو آپ ادھر سے ہٹ گئے۔ اس پر کسی نے کہا: "امیرالمومنین! آپ خدا کی قضا سے فرار کر رہے ہیں؟" فرمایا: "خدا کی قضا سے فرار کرکے اس کی قدر کی طرف جا رہا ہوں#‘ذ

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے "افسوں" کے بارے میں سوال کیا گیا کہ، کیا یہ خدا کی قدر کو ٹال سکتا ہے؟ فرمایا: "یہ بھی تقدیر کا ایک حصہ ہے۔"

اس کلام کی تشریح کرتے ہوئے شیخ مغید رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں: "ابو جعفر صدوق نے اس باب میں شاذ حدیثوں کا سہارا لیا ہے، کہ اگر وہ صحیح بھی ہوں اور ان کی اسناد بھی ثابت ہو جائیں تو ان کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں جن کو صرف علماء ہی جانتے ہیں، اس باے میں انہوں نے کوئی تفصیلی تذکرہ نہیں کیا حالانکہ انہیں چاہئے تھا کہ اگر وہ قضا کے معانی نہیں جانتے تھے تو اس بارے میں بات کو ہی رہنے دیتے، جبکہ قضا کے لغوی معنی مشہور ہیں اور قرآن مجید میں بھی اس کے شواہد موجود ہیں۔

چنانچہ "قضا" کی چار قسمیں ہیں۔ ۱ ۔ تخلیق ۲ ۔ حکم ۳ ۔ اعلان اور ۴ ۔ فیصلہ۔

۱ ۔ پہلے معنی کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے۔( فقضٰهن سبع سموٰات ) یعنی اس نے سات آسمان بنائے (حم سجدہ/ ۱۲)

۲ ۔ دوسرے معنی کے بارے میں فرماتا ہے:( وقضی ربک الاتعبدوه الا الاایاه ) تیرے رب نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی دوسرے کی عبادت نہ کرنا۔ (بنی اسرائیل/ ۲۳)

۳ ۔ تیسرے معنی کے بارے میں فرماتا ہے:( و قضینا الی بنی اسرائیل ) اور ہم نے بنی اسرائیل کو واضح طور پر) اعلان کے ساتھ بتا دیا۔ (بنی اسرائیل/ ۳)

۴ ۔ چوتھے معنی کے بارے میں فرماتا ہے:( والله لیقضی بالحق ) اللہ برحق فیصلے کرتا ہے (مومن/ ۲۰)

اسی طرح فرماتا ہے:( وقضی بینهم بالحق ) اور ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا۔ (زمر/ ۶۹)

البتہ اس کے پانچویں معنی بھی بتائے گئے ہیں اور وہ ہیں "پورا ہو جانا" اس پر حضرت یوسف علیہ السلام کے اس قول کو بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے کہ( قضی الامر الذی فیه تستفیان ) وہ بات پوری ہو گئی جس کے بارے میں تم دونوں دریافت کرتے تھے (یوسف ۴۱) جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس معنی کی بازگشت بھی پہلے معنی ہی کی طرف ہوتی ہے۔

ہماری مذکورہ تصریحات کی روشنی سے قضا کے جو معانی بنتے ہیں اس سے جبریہ کا یہ قول باطل ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کے لئے معصیت اور گناہوں کو لازم قرار دے دیا ہے کیونکہ ان کا یہ نظریہ دو صورتوں سے خالی نہیں ہے، وہ یہ کہ یا تو ان کی مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے گناہوں اور معصیت کو اپنی مخلوق میں خلق فرمایا ہے۔ اس طرح ان کا نظریہ یہ ہو گا کہ اللہ نے اپنی مخلوق کی سرشت میں گناہوں کو رکھ دیا ہے نہ کہ مخحلوق کے لئے گناہ مقرر کئے ہیں۔ حالانکہ اللہ نے ان کے اس نظریہ کو ان الفاظ میں مسترد کر دیا ہے کہ:( الله الذی احسن کلی شیٴ خلقه ) یعنی اللہ وہ (قادر مطلق) ہے جس نے جو چیز بنائی اس کے حسن کے ساتھ بنائی (السجدة/ ۷) اس سلسلے میں پہلے بھی گفتگو ہو چکی ہے۔

اسی طرح جبریہ کے اس عقیدہ میں بھی کوئی صداقت نہیں کہ "اللہ نے بندوں کے لئے گناہ مقرر کر دیئے ہیں، اس معنی کے ساتھ انہیں ان کے بجا لانے کا حکم دیا ہے، اس لئے کہ خداوند عالم نے ان کے اس نظریہ کی بھی نفی کی ہے جیسا کہ ارشاد فرماتا ہے:( ان الله لا یامر الفحشاء اتقولون علی الله ما لا تعلمون ) اللہ تعالیٰ ہرگز برے کاموں کو حکم نہیں دیتا، کیا تم لوگ خدا پر نقرا کرکے وہ باتیں کہتے ہو جو نہیں جانتے ہو؟ (اعراف/ ۲۸)

اسی طرح جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ "گناہوں کے بارے میں قضا کا مقصد یہ ہے کہ خدا نے اپنی مخلوق کو گناہوں کی پہچان کرائی اور ان سے مطلع فرمایا ہے، تو اس کے یہ معنی ہوئے کہ مخلوق کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ لوگ مستقبل میں خدا کی اطاعت کریں گے یا معصیت؟ انہیں مستقبل کا تفصیلی علم نہیں تھا لہٰذا ان کا یہ قول بھی مبنی بر صداقت نہیں ہے۔ اسی طرح ان لوگوں کے نظریہ میں کوئی صداقت نہیں ہے جو کہتے ہیں کہ گناہوں کے بارے میں قضا کا مطلب ہے کہ خدا نے بندوں کے درمیان گناہوں کا فیصلہ کر دیا ہے۔ اس لئے کہ خدا کے فیصلے حق ہوتے ہیں اور گناہ بندوں کی طرف سے انجام پاتے ہیں، لہٰذا جو لوگ خدا کے بارے میں گناہوں کے ارتکاب حکم یا فیصلے کی نسبت دیتے ہیں وہ غلطی پر ہیں اور ان کے یہ نظریات باطل ہیں۔

مندرجہ بالا تصریحات کی روشنی میں قضا و قدر کے بارے میں ہمارے نزدیک صحیح توجیہ یہ ہے کہ: ۱ ۔ مخلوق کے بارے میں بھی خدا کی قضا و قدر ہے۔ ۲ ۔ مخلوق کے افعال کے بارے میں بھی قضا و قدر ہے، اس معنی میں کہ اس نے مخلوق کے افعال کے بارے میں یہ مقدر کر دیا ہے کہ نیک اعمال کو بجا لائیں اور برے اعمال سے باز رہیں۔ ۳ ۔ خود بندوں کے بارے میں قضا کا مطلب یہ ہے کہ اس نے انہیں نعمت وجود عطا کی ہے۔ ۴ ۔ خدا کی تقدیر کا مقصد ہے کہ اس کے افعال برمحل اور برحق ہیں اور بندوں کے افعال کے بارے میں اس کی تقدیر کا مطلب ہے اس نے بندوں کے افعال میں امر و نہی اور ثواب و عتاب کو مقدر کر دیا ہے، لہٰذا ہر فعل اپنے مقام پر واقع ہوتا ہے، پس خدا کا کوئی فعل باطل و عبث نہیں ہے۔

ہماری مذکورہ تشریح کے مطابق اگر قضا و قدر کی تفسیر کی جائے تو اس سلسلہ میں پیدا ہونے والے تمام شکوک و شبہات زائل ہو جاتے ہیں، حجت اور دلیل ثابت ہو جاتی ہے، صاحبان عقل کے نزدیک اس بارے میں تمام صورتیں واضح ہو جاتی ہیں اور کسی قسم کا خلل و فساد بھی واقع نہیں ہوتا۔

رہی ان روایات کی بات جنہیں شیخ صدوق نے قضا و قدر کے بارے میں گفتگو سے باز رکھنے کے سلسلے میں ذکر کیا ہے تو اس بارے میں ہم یہ کہیں گے کہ ان کی دو صورتیں ہیں۔

۱ ۔ اس قسم کی روایات کسی خاص قسم کے گروہ کے متعلق ہیں جسے قضا و قدر کے بارے میں گفتگو کرنے سے روکا گیا ہے کیونکہ اس طرح کی گفتگو سے ان لوگوں کے بگڑ جانے اور دین سے گمراہ ہو جانے کا اندیشہ ہوتا ہے، مصلحت اس بات میں ہوتی ہے کہ وہ ایسی گفتگو سے اجتناب کریں اور قضاو قدر کی گہرائیوں میں نہ اتریں یہ نہی عمومی حکم کی حامل نہیں ہوتی کہ عام لوگ بھی اس بارے میں گفتگو نہ کریں، کیونکہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک ہی چیز سے بعض لوگوں کی اصلاح ہو جاتی ہے جبکہ اسی چیز سے بعض افراد گمراہ ہو جاتے ہیں۔ اسی لئے ائمہ اطہار علیہم السلام نے اپنے شیعوں کے بارے میں درواندیشی اور تدبیر سے کام لیتے ہوئے وہ تدبیر اختیار کی ہے جس سے ان لوگوں کی بہتری، بھلائی اور فائدہ ہو۔

۲ ۔ قضا و قدر کے بارے میں مطلقاً گفتگو سے نہیں روکا گیا بلکہ خدا کی تخلیق، اس کے علل و اسباب، اس کے اوامرو فرمانبرداری کے بارے میں قیل و قال سے منع کیا گیا ہے، اس لئے کہ تخلیق اور اوامر الٰہی کے علل و اسباب کی تلاش جستجو اور طلب ممنوع ہے کیونکہ ان چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی اکثر مخلوق سے پوشیدہ رکھا ہے۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ کسی شخص کو اس لئے بات کی اجازت نہیں کہ وہ خدا کی ہر ایک مخلوق کے لئے تفصیل سے وجہ تخلیق معلوم کرتا پھرے اور کہے کہ اللہ نے فلاں چیز کو کیوں خلق فرمایا، فلاں کوکیوں پیدا کیا، فلاں چیز کی غرض تخلیق کیا ہے، وغیرہ وغیرہ کہ ہر ایک مخلوق کے بارے میں ایک ایک کرکے دریافت کرتا پھرے!

اسی طرح کسی کو اس بات کی اجازت نہیں ہے کہ فلاں، فلاں چیز کا حکم خدا نے کیوں دیا ہے، یعنی اس کے ہر ایک امر کے بارے میں سوالات کرے۔ یہی صورتِ حال اس کی طرف سے احکامِ الٰہیہ کی پابندی کی بجاآوری کے بارے میں بھی ہے، نیز امر و نہی کے بارے میں بھی، اس لئے کہ وہ اپنی مخلوق کی مصلحتوں کو خود ہی بہتر سمجھتا ہے، اور اس نے اپنی مخلوق میں سے کسی کو اپنی تخلیق، امر و نہی اور بندوں پر احکامِ الٰہیہ کی پابندی اور اس کی مصلحتوں سے تفصیلی طور پر مطلع نہیں فرمایا، البتہ اجمالی طور پر یہی بتایا ہے کہ اس نے اپنی مخلوق کو عبث و بے فائدہ پیدا نہیں کیا، بلکہ انہیں کسی نہ کسی حکمت و مصلحت کے خلق فرمایا ہے، قوتِ عاقلہ و قوتِ سامعہ کے ذریعہ ان کی راہنمائی فرمائی ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:( وما خلقنا السماء و الارض و ما بینهما لعبین ) اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور، جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے بیکار و لغو پیدا نہیں کیا (انبیاء/ ۱۶) ۔ نیز فرمایا ہے کہ:( افحبتم انما خلقنٰکم عبثا و اکم الینا لا ترجعون ) کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو یونہی بیکار اور عبث پیدا کیا ہے اور تم ہمارے حضور میں لوٹ کر نہ آؤ گے؟" (مومنون/ ۱۱۵) اسی طرح ایک اور مقام پر فرماتا ہے: "انا کل شی خلقنٰہ لقدر" ہم نے یقیناً ہر چیز ایک انداز سے پیدا کی ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ہم نے ہر چیز کو برحق پیدا کیا ہے اور جو جس کا مقام تھا اسے وہیں پر رکھا ہے۔ پھر فرماتا ہے:( وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون ) اور میں نے جن و انس کو صرف اس لئے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کریں (ذاریات/ ۵۶) جبکہ فرائض کی پابندی کے ساتھ ادائیگی کے بارے میں اور اپنی عبادت کے سلسلے میں فرماتا ہے:( لن ینال الله لحو مها و لا دمائها ولکن یناله التقوی منکم ) خدا تک نہ تو ہرگز ان (قربانی کے جانوروں) کے گوشت اور نہ ہی ان کے خون پہنچیں گے، بلکہ اس تک صرف تمہاری پرہیزگاری ہی پہنچے گی۔ (حج/ ۳۷)

اس مقام پر ایک اور بات جو زیادہ قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ مثلاً اللہ تعالیٰ نے کسی جانور کو اس دنیا میں خلق فرمایا ہے اور اس کے علم میں ہے کہ اس کی تخلیق کی وجہ سے کافر مومن ہو جائیں یا اسے دیکھ کر فاسق تائب ہو جائیں گے، یا مومن فائدہ اٹھائیں گے، یا پھر اس کی وجہ سے ظالم نصیحت حاصل کریں گے، یا یہ زمین یا آسمان میں کسی ایک فرد اور عبرت حاصل کرنے والے کے لئے باعث عبرت ہو گا۔ یہ سب کچھ ہم سے مخفی اور پوشیدہ رکھا گیا ہے۔ ان تمام مصالح کو صرف خدا ہی بہتر جانتا ہے اور اچھی طرح سمجھتا ہے۔ ہم تو صرف اجمالی طور پر یہی سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی جمیع مخلوق اور اس کی تمام مصنوعات کی غرضِ تخلیق حکمت پر مبنی ہے۔ نیز کسی چیز کو اس خالق اور صانع نے عبث وفضول و بیکار پیدا نہیں فرمایا۔

اسی طرح فرائض کی پابندی کے ساتھ ادائیگی کے بارے میں بھی ہم یہی کہیں گے۔ مثلاً نماز و روزہ وغیرہ جیسی عبادات کی بجاآوری اس لئے فرض کی گئی ہے کہ ان سے ہم اس کی اطاعت کا قرب حاصل کرتے ہیں اور معصیت سے دوری اختیار کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے عبادتِ الٰہی تمام یا بعض عبادت گزاروں کے لئے لطفِ خداوندی اور اس کے احسان و مہربانی کا موجب بنتی ہے۔

جب یہ تمام وجوہات اور علل و اسباب ہم سے مخفی ہیں اور ان کی تفصیلات کے لئے کوئی دلیل موجود نہیں ہےاگرچہ صرف اسی قدر ہمیں معلوم ہے کہ تخلیق کائنات میں حکمت خداوندی ہی کارفرما ہےتو قضا و قدر کے بارے میں گفتگو کرنے سے نہی کا مطلب یہ ہو گا کہ مخلوق کے بارے میں اس کے تفصیلی علل و اسباب اور وجوہات پر گفتگو یا بحث کرنے سے نہی کی گئی ہے جبکہ مطلقاً قضا و قدر کے معنی کے بارے میں گفتگو کرنے سے نہی نہیں کی گئی، یہ بھی اس صورت میں ہے جب ابو جعفر صدوق کی ذکرکردہ اخبار و روایات صحیح ہوں، ا گر صحیح نہ ہوں یا ان کی اسناد مخدوش ہوں تو پھر ایسی صورت میں قضا و قدر کے بارے میں گفتگو سے نہی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہو گا۔

ان تمام مذکورہ روایات میں صرف زرارہ کی حدیث صحیح معلوم ہوتی ہے جس کے معنی عقلمند پر مخفی نہیں ہیں، یہ حدیث "عدل" کے عقیدے کی تائید بھی کرتی ہے اور وہ روایت ہے جو حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے بیان کی گئی ہے۔ ارشاد فرماتے ہیں: "جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو محشور فرمائے گا تو ان سے اپنے لئے ہوئے عہد و پیمان کے بارے میں سوال کرے گا، ان سے متعلق اپنی قضا و تقدیر کے متعلق سوال نہیں کرے گا" قرآن مجید نے بھی بتایا ہے کہ "مخلوق اپنے اعمال کی جوابدہ ہو گی۔"

یہاں شیخ مغید کی گفتگو ختم ہو جاتی ہے اور علامہ مجلسی فرماتے ہیں: "جو شخص بندہ کے مختار اور مجبرو ہونے، جبر و اختیار اور قضا و قدر کے بارے میں وارد ہونے والے شکوک و شبہات کے بارے میں غور و فکر کرے گا، تو اسے اس بارے میں معصوم کے نہی کرنے کا راز اور فلسفہ اچھی طرح معلوم ہو جائے گا، کیونکہ بہت کم ایسا اتفاق ہوا ہے کہ جس شخص نے اس بارے میں گہری نظر سے کام لیا ہو اور اس کے قدم نہ ڈگمگائے ہوںسوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ کریم نے اپنے فضل و کرم سے بچا لیا ہو"(بحارالانوار جلد ۵ ص ۹۷ ص ۱۰۱ حدیث ۲۲ ۔ ۲۴)

علامہ طبا طبائی کی قضا کے بارے میں تفصیلی گفتگو

عالم اسلام کے مشہور مفسر علامہ طباطبائی قضا کے بارے میں تین پہلوؤں سے تفصیلی گفتگو کے ضمن میں فرماتے ہیں: " ۱ ۔ قضا کے معنی کیا ہیں اور اس کی کیا حدود ہیں؟ اس سلسلے میں عرض ہے کہ ظاہری حوادث اور تکوینی اموراپنے اسباب و علل کے پیش نظردو حالتوں سے خالی نہیں ہیں۔ الف: وہ علل و اسباب کی تکمیل اور تمام رکاوٹوں کے برطرف ہونے سے پہلے ہوتے ہیں۔ ب: ان علل و اسباب کی تکمیل اور رکاٹوں کے برطرف ہو جانے کے بعد ہوتے ہیں۔ پس جو امور پہلے ہوتے ہیں ان کے بارے میں یہی کہا جائے گا کہ ان کا نہ تو معرضِ وجود میں آنا حتمی اور یقینی ہوتا ہے اور نہ ہی عدم وجود متعین اور یقینی ہوتا ہے، بلکہ ان کے "وجود" اور "عدم وجود" کی طرف نسبت یکساں ہوتی ہے، یعنی ممکن ہے کہ وجود میں آ جائیں اور ممکن ہے کہ وجود میں نہ آئیں۔

لیکن اسباب و علل کی تکمیل اور موانع کے برطرف ہونے کے بعد جو واقعات وجود میں آتے ہیں ان کے بارے میں ہر قسم کے شکوک و شبہات ختم ہو جاتے ہیں اور وہ ابہام کی حالت پر باقی نہیں رہتے بلکہ ان کا وجود حتمی اور متعین ہو جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس اگر اسباب موجود نہ ہوں یا کوئی رکاوٹ موجود ہو تو پھر اس کا "عدم وجود" حتمی اور یقینی ہوتا ہے۔

ہمارے ظاہر افعال بھی اسی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ جب تک ہم کسی کام کی ادائیگی کا اقدام نہیں کریں گے اور اسے نہیں کر گزریں گے، اس وقت تک وہ کام "وقوع" اور "لاوقوع"واقع ہونے اور واقع نہ ہونےکے درمیان معلق اور شک و تردد کی حالت پر باقی رہتا ہے۔ لیکن جب تمام اسباب اور وسائل مہیا ہو جائیں اور ہمارا ارادہ بھی حتمی ہو جائے، کسی قسم کی رکاوٹ کی وجہ سے کسی اور بات کا انتظار بھی باقی نہ رہے تو پھر "امکان" و "تردد" کے دونوں اطراف میں سے ایک یعنی وجود کی صورت عمل میں آ جاتی ہے اور ہم اس کام کو کر گزرتے ہیں۔

ہمارے ظاہری اعمال و افعال و واقعات کی طرح ہمارے اعتباری واقعات و اعمال و افعال کی کیفیت ہے۔ مثلاً جب کسی چیز کی ملکیت کے بارے میں دواشخاص یا دو فریضوں کے درمیان کوئی تنازع کھڑا ہو جاتا ہے اور ایک اس پر اپنا حق ملکیت جتاتا ہے تو اس چیز کی ملکیت دونوں فریقوں کے بارے میں "ممکن" اور "مشکوک" ہو جاتی ہے۔ لیکن جب وہ اس بات پر متفق ہو جاتے ہیں کہ اس کا فیصلہ کسی حاکم یا قاضی سے کرایا جائے اور وہ بھی کسی ایک فریق کے حق میں فیصلہ دے دیتا ہے۔ یعنی دوسرے فریق کواس سے محروم کر دیتا ہے تو لازمی طور پر "امکان" و "شک‘ کی دونوں اطراف میں سے ایک کا خاتمہ ہو جاتا ہے، یعنی ایک فریق مالک اور دوسرا محروم ہو جاتا ہے۔ گویا ایک کے ساتھ متعین اور دوسرے سے منقطع ہوجاتا ہے،۔

بنا بریں اس قسم کے مواقع میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ یہاں پر "مجاز" کے معنی کو استعمال کیا گیا ہے کیونکہ "قولی تعیین"حاکم اور، قاضی کے فیصلےکی مانند "تعیین عملی" بھی ہے جو ظاہر میں تنازع کے فیصلے کی صورت میں بیان ہوئی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جسے ہم "قضا"یا فیصلہکہتے ہیں۔

چونکہ اس کائنات میں وقوع پذیر ہونے والے حالات اپنے وجود کے لحاظ سے ذات خداوند متعال سے متعلق بلکہ درحقیقت اسی کا فعل ہوتے ہیں اسی لئے یہ دونوں کیفیتیں یعنی "امکان" اور "تعیین" بھی ان میں واقع ہوتے ہیں، بایں معنی کہ ہر موجود اور ہر واقعہ جس کے بارے میں خدا یہ نہ چاہے کہ وہ کتم عدم سے منصہ شہود پر آئے اور وجود کی دولت سے مالا مال نہ ہو تو وہ اسی طرح "امکان" اور "تردد" کی حالت میں "وقوع" اور "لاوقوع" یا "وجود" اور "عدمِ وجود" کی کیفیت سے دوچار رہتا ہے۔

لیکن جونہی وہ کسی کو عالمِ وجود میں لانا چاہتا ہے تو اس کے لئے تمام علل و اسباب فراہم کر دیتا ہے اور اس سے ہر طرح کی رکاوٹیں برطرف کر دیتا ہے، پھر "موجود ہونے" کی حالت کے سوا اس کے لئے اور کسی قسم کا انتظار نہیں رہتا۔ پس اسے عدم سے وجود میں لے آتا ہے اور وہ "موجود" ہو جاتا ہے۔ اس طرح مشیت حق اور اس کی طرف سے علل و اسباب کی فراہم آوری ان دو اطراف میں سے ایک طرف کا تعین ہوتا ہے اور اسی کو "قضائے الہٰی" کہا جاتا ہے۔

بعینہ یہی دونوں کیفیتیں "تشریح" کے معاملے میں بھی پائی جاتی ہیں۔ مسائل شرعیہ میں بھی اللہ کے قطعی حکم کے بارے میں بھی یہی صورت حال ہوتی ہے۔ اسے بھی "قضائے الٰہی" کہتے ہیں۔ قرآن مجید میں قضائے تکوینی اور قضائے تشریحی دونوں کا ذکر ہے اور ہر دو کو قضا سے تعبیر کیا گیا ہے۔ قضائے تکوینی کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے: "واذ اقضی امرا فانما یقول لہ کن فیکون" جب کسی کام کا کرنا ٹھان لیتا ہے تو اس کے لئے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا، پس وہ ہو جاتی ہے (بقرہ/ ۱۱۷) نیز فرماتا ہے "فقضھن سبع سموٰات" پھر اس نےسات آسمان بنائے (حم سجدہ/ ۱۲) اسی طرح فرماتا ہے: "قضی الامر الذی تستفیٰن" جس امر کو تم دونوں دریافت کرتے تھے وہ پورا ہو چکا (یوسف/ ۴۱) یا فرماتا ہے: "وقضینا الی بنی اسرائیل فی الکتٰب لتفسدن فی الارض مرتین" اور ہم نے بنی اسرائیل سے اسی کتاب (توریت) میں مقرر کر دیا تھا کہ تم لوگ روئے زمین پر دو مرتبہ فساد پھیلاؤ گے (بنی اسرائیل/ ۴)

اسی طرح قضائے تکوینی سے متعلق دوسری کئی آیات ہیں۔

قضائے تشریحی کے متعلق اشاد فرماتا ہے: "وقضی ربک الاتعبدوا الا ایاہ" یعنی تمہارے پروردگار نے حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا (بنی اسرائیل/ ۲۳) یا فرماتا ہے: "ان ربک لیقضی بینھد یوم القیمٰة فیما کانوافیہ یختلفون" اس میں شک نہیں کہ جن باتوں میں یہ (دنیا میں) باہم اختلاف کیا کرتے تھے قیامت کے دن تمہارا پروردگار ان کا فیصلہ کر دے گا (یونس/ ۹۳) اسی طرح فرماتا ہے( : وقضی بینهم بالحق و قیل الحمدالله رب العالمین ) اور لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دیا جائے گا، اور یہی صدا بلند ہو گی الحمد للہ رب العالمین (زمر/ ۷۵) ، البتہ اس آیت میں اور اس سے پہلی آیت میں "قضا" ایک لحاظ سے تشریحی ہے اور ایک لحاظ سے تکوینی ہے۔

پس جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں مذکورہ آیات کریمہ ان دونوں عقلی کیفیتوں کے صحیح ہونے کی تصدیق کر رہی ہیں، ظاہری موجودات کو خدا کے افعال ہونے کی حیثیت سے خدائی "قضا"فیصلہکا نام دیتی ہیں، اور ان کی شرعی احکام کی حیثیت سے ان کو خدا کے "تشریحی افعال" سے موسوم کرتی ہیں۔ نیز ہر حکم کو جو اس کی ذات کی طرف منسوب ہے "قضا" کہتی ہیں، اس طرح ان دونوں عقلی کیفیتوں کی تصدیق کر رہی ہیں۔

اسی طرح بہت سے دوسرے مقامات پر اسی قضا کو "حکم" اور "قول" سے بھی تعبیر کیا گیا ہے، البتہ اس صورت میں کئی دیگر وجوہات بھی کارفرما ہیں۔ مثلاً ارشاد ہوتا ہے: "الالہ الحکمہ" آگاہ رہو حکمفیصلہخاص اسی (خدا) کا ہی ہے (انعام / ۶۲) یا فرماتا ہے:( والله یحکم لا معقب لحکمه ) اور خدا جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے۔ اس کے حکم کا کوئی ٹالنے والا نہیں (رعد/ ۴۱) اسی طرح قول کے بارے میں ہے کہ( ما یبدل القول لدی ) میرے نزدیک قول بدلا نہیں جا سکتا (ق/ ۲۹) اور فرماتا ہے( والحق اقول ) اور میں کہتا ہوں (ص/ ۸۴)

۲ ۔ قضا کے معنی میں فلسفی نظریہ

اس میں شک نہیں ہے کہ "غلیت اور معلولیت" کا قانون اپنی جگہ پر اٹل اور ناقابل تردید ہے اور ہر موجود ممکن خداوندِ سبحان کا معلوم ہے۔ یہ ایک الگ بات ہے کہ وہ معلول یا تو بلاواسطہ ہے یا پھر کئی واسطوں کے ذریعہ سے ہوتا ہے۔ اس میں بھی شک نہیں کہ جب معلول کو اپنی علت تامہ کی طرف نسبت دی جائے گی تو وہ اس علت کے لحاظ سے ضروری اور واجب بن جائے گااگرچہ وہ بذات خود امکان کی نسبت کا حامل ہوتا ہےاس لئے کہ جب تک کوئی موجود "واجب" نہیں ہو گا اس وقت تک "موجود" نہیں کہلا سکتا۔ لیکن اگر معلول کو اس علت کی طرف نسبت نہ دیں اور اس سے اس کا تقابل نہ کریں تو وہ صرف امکان ہی کی حد تک محدود رہے گا۔ اس کے علاوہ اسے اور کوئی نسبت نہیں دی جائے گی۔ خواہ وہ بذاتِ خود کسی اور چیز سے تقابل کے بغیر دیکھا جائے، جیسے ممکنہ کیفیتیں ہوتی ہیں، یا اس کی علت کے بعض اجزا سے اس کا تقابل کیا جائے۔ دونوں صورتوں میں "ممکن" ہی ہو گا۔ کیونکہ جب تک ا س کی علت کے تمام اجزا موجود نہ ہوں اس وقت تک وہ "واجب" نہیں ہو سکتا۔ لیکن اگر یہ فرض کرلیا جائے کہ وہ موجود ہو گا تو اس یقیناً اس کی علت کے اجزا مکمل اور اس کی علت "علت تامہ" کہلائے گی، اور یہ چیز اس فرض کے خلاف ہوگی۔

چونکہ "ضرورت" اور "وجوب"، "امکان" کے دو اطراف میں سے ایک طرف کے متعین ہونے کا نام ہے لہٰذا یہ بات ناگزیر ہو جاتی ہے کہ تمام ممکنات کے لئے وجوب اور ضرورت خداوند عالم کی طرف سے ایک "عمومی قضا" کہلائے گی، اس لئے کہ یہ ضرورت خداوند تعالیٰ کی طرف منسوب ہے اور اسی نسبت کے لحاظ سے سلسلہ ممکنات کے لئے خدا کی عمومی قضا کہلائے گی۔ نیز ہر موجودات کے ساتھ "ضرورت" خداوند متعال کی "قضائے خصوصی" ہو گی کیونکہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ قضا سے مراد "امکان" اور "ابہام" کے دو اطراف میں سے ایک کا تعین ہے۔

اسی سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ "قضا" کی صفت جو صفاتِ خداوادی میں سے ایک ہے، اس کی صفت ذاتی نہیں بلکہ صفتِ فعلی ہے کیونکہ ہم بتا چکے ہیں کہ یہ افعال خداوندی موجودات عالم سے ہے اور اس کی طرف منسوب ہونے کی وجہ سے جو کہ علت تامہ ہے اس سے جدا ہو سکتی ہے۔

۔ روایات کے لحاظ سے قضا کے معنی

ہمارے مذکورہ معنی کی تائید میں بہت سی روایات موجود ہیں۔ جن میں سے ایک وہ روایت بھی ہے جو برقی نے اپنی کتاب "محاسن" میں اپنے والد سے نقل کی ہے، انہوں نے ابن ابی عمیر سے اور انہوں نے ہشام بن سائم سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:

"خداوند عالم جب کسی چیز کو ایجاد کرنا چاہتا ہے تو پہلے اسے مقدر فرماتا ہے، مقدر کرنے کے بعد اس کی قضا متعین کرتا ہے، جب قضا متعین کر لی جاتی ہے تو پھر اس کا اجرا فرماتا ہے"(محاسن برقی ص ۲۴۳)

اسی طرح برقی ہی نے محاسن میں اپنے والد سے، انہوں نے ابن ابی عمیر سے اور انہوں نے ابن اسحاق سے روایت کی ہے۔ وہ کہتے ہی کہ: امام ابوالحسن علیہ السلام نے علی بن یقطین کے آزادکردہ غلام یونس سے فرمایا: "یونس! قدر کے مسئلہ کو نہ چھیڑو!" اس نے عرض کیا: "میں نے اس بارے میں زیادہ تو کچھ نہیں صرف اتنا کہا ہے کہ: صرف وہی چیز ہی وجود میں آتی ہے جس کا خدا ارادہ فرماتا ہے، اور اس کے ساتھ اس کی مشیت بھی کارفرما ہوتی ہے، قضا کا بھی اس میں دخل ہوتا ہے اور تقدیر کا بھی تعلق ہوتا ہے"

امام نے فرمایا: "میں اس بات کا قائل نہیں ہوں، بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ کوئی چیز اس وقت تک معرض وجود میں نہیں آتی جب تک کہ پہلے خدا کی مشیت میں نہ ہو، مشیت کے بعد اس کا ارادہ ہوتا ہے، ارادے کے بعد تقدیر متعین ہوتی ہے اور چوتھے مرحلے میں قضا کا تعلق ہوتا ہے۔"

پھر فرمایا: ’کیا تم جانتے ہو کہ "مشیت" سے کیا مراد ہے؟" عرض کیا: "نہیں!" فرمایا: "کسی کام کا عزم کر لینا مشیت کہلاتا ہے۔" پھر فرمایا: "جانتے ہو کہ "ارادہ" کا کیا مقصد ہے؟" عرض کیا: "نہیں جانتا۔" فرمایا: "اسی چیز کو اپنی مشیت کے مطابق مکمل کرنا!" پھر فرمایا: "معلوم ہے کہ "قدر" کیا ہوتی ہے؟" عرض کیا: "معلوم نہیں ہے!" فرمایا: "خدا کی قدرتقدیروہ ہندسہ ہے جس میں طول، عرض اور بقا کی مدت متعین کی جاتی ہے۔" پھر فرمایا: "جب خداوند عالم کسی چیز کو چاہتا ہے تو پہلے اس کا ارادہ کرتا ہے، پھر اس کی تقدیر متعین کرتا ہے، اس کے بعد اس کی قضا کو عمل میں لاتا ہے اور اس کی نوعیت کو واضح فرماتا ہے اور جب سب کچھ ہو جاتا ہے تو پھر اسے اجرا کے مرحلہ میں لے آتا ہے۔" (محاسن برقی ص ۲۴۴)

ایک اور روایت میں یونس کے ذریعہ آنجناب ہی سے نقل ہے کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا: "کوئی چیز اس وقت تک معرضِ وجود میں نہیں آتی جب تک اس کے بارے میں خدا کی مشیت، ارادہ قدر اور قضا واقع نہ ہو۔" میں نے عرض کیا: "مشیت کے کیا معنی ہیں؟" فرمایا: "ہر کام کی ابتدا" میں نے پھر پوچھا: "ارادہ کا کیا مطلب ہے؟" فرمایا: "اسے پایہ ثبوت تک پہنچانا۔" میں نے کہا: "قدر کیا ہوتی ہے؟" فرمایا: "اسی چیز کے طول و عرض کے خدوخال متعین کرنا۔" میں نے پھر عرض کیا: "قضا کیا ہوتی ہے؟" فرمایا: "اگر مشیت، ارادے اور قدر کے بعد اس پر قضا کو جاری کرتا ہے تو اسے اجرا کے مرحلے میں لے آتا ہے اور وہ چیز اپنا وجود اختیار کر لیتی ہے اور اسے روکنے والا کوئی نہیں ہوتا۔" (محاسن برقی ص ۲۴۴)

شیخ صدوق کی کتاب "التوحید" میں دقاق سے، انہوں نے کھینی سے، انہوں نے ابن ابی عامر سے اور انہوں نے معلیٰ سے روایت کی ہے وہ کہتے ہیں: امام علیہ السلام سے کسی نے پوچھا "خدا کا علم کس طرح کا ہوتا ہے؟" فرمایا: "خدا پہلے جانتا ہے پھر اس کی مشیت کا اس سے تعلق ہو جاتا ہے، پھر وہ ارادہ کرتا ہے، چوتھے مرحلے پر اس کی تقدیر متعین کرتا اور پھر قضا کے حوالے کر دیتا ہے۔ اس کے بعد اسے کر گزرتا ہے۔ پس خداوند عالم اسی چیز کا اصرار کرتا ہے جس کے بارے میں اس کی قضا ہوتی ہے اور اسی چیز کی قضا مقرر کرتا ہے جس کے بارے میں اس کی تقدیر مقرر کر دیتا ہے اور اسی چیز کو مقدر کرتا ہے جس کے بارے میں اس کاارادہ ہوتا ہے۔

لہٰذا اللہ کی مشیت اس کے علم کے ساتھ، اس کا ارادہ اس کی مشیت کے ساتھ، اس کی تقدیر اس کے ارادے کے ساتھ، اس کی (؟) کی تقدیر کے ساتھ اور اس کا اجرا اس کی قضا کے ساتھ مل کر عمل میں آتے ہیں۔"

نتیجة علم الٰہی کا مرتبہ مشیت پر مقدم ہوتا ہے اور مشیت دوسرے مرتبہ میں لیکن ارادے پر مقدم ہوتی ہے جبکہ ارادہ تیسرے مرتبہ پر لیکن تقدیر سے مقدم ہوتا ہے اور تقدیر، اجرأ کے ذریعہ قضا کو عمل میں لاتی ہے۔" (توحید صدوق ص ۳۳۴ حدیث ۹)

پس جب تک قضائے الٰہی اجرا کے مرحلہ تک نہیں پہنچتی اس وقت تک "بدا" کی منزلوں میں رہتی ہے، اور ایسی منزلوں میں یہ بات ممکن ہوتی ہے کہ ایک چیز خدا کے علم، مشیت، ارادے اور تقدیر سے تو تعلق حاصل کر چکی ہو لیکن اجراء کے مرحلے تک نہ پہنچے اور خدا اسے معرض وجود میں نہ لے آئے، لیکن اگر اجرا، قضا کے مرحلے تک پہنچ جائے تو پھر "بدا" نہیں ہوتی۔

مذکورہ ترتیب جو کہ روایات میں بیان کی گئی ہے اور مشیت کو علم، اور ارادے کو مشیت پر اسی طرح ہر ایک کو دوسرے پر ترتیب کے ساتھ ذکر کیاگیا ہے یہ عقلی ترتیب ہے، اس لئے کہ عقل اس کے علاوہ ترتیب کو صحیح نہیں جانتی۔

اس کتاب (التوحید) میں اسناد کے ساتھ نباتہ سے روایت کی گئی ہے کہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام ایک ایسی دیوار کے پاس سے اٹھ کھڑے ہوئے جو گرنے لگی تھی۔ کسی شخص نے کہا: "امیرالمومنین! آپ خدا کی قضا سے بھاگ رہے ہیں؟" فرمایا: "ہاں! خدا کی قضا سے فرار کرکے اس کی قدر کی طرف جا رہا ہوں۔"

مفسرالمیزان فرماتے ہیں: چونکہ خدا کی "قدر" اس کی تقدیر کو حتمی نہیں بناتی، اور ا س بات کا احتمال ہوتا ہے کہ تقدیر، واقع نہ ہو، لیکن قضائے الٰہی، اپنے تقاضوں تک پہنچ کر رہتی ہے، اس سے کوئی راہِ چارہ نہیں ہوتی، اور اس بارے میں "آئمہ اہل بیت" علیہم السلام سے وارد ہونے والی روایات بکثرت ملتی ہیں، (المیزان جلد ۱۳ ص ۷۲ تا ص ۷۵)

( ۲) انسان کیلئے قضا و قدر

۱۶۷۶۲ ۔ نطفہ کے شکم میں ٹھہر جانے کے چالیس دن بعد ایک فرشتہ اس کے پاس پہنچتا ہے اور کہتا ہے: "پروردگار! کیا لکھوں؟ بدبخت یا نیک؟ نر یا مادہ؟" حکمِ الٰہی کے مطابق وہ نیک یا بدبخت اور نر یا مادہ لکھ دیتا ہے، اسی طرح اس کے عمل، اثرات، مصیبت، رزق اور اجل۔ مدت زندگی کے بارے میں لکھ دیتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۵۲۲

۱۶۷۶۳ ۔ انسان کی رحم میں تکمیل کے بارے میں فرمایا: "جب شکم مادر میں بچے کے چار مہینے مکمل ہو جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ دو خلاق فرشتوں کو بھیجتا ہے جو عرض کرتے ہیں: "پروردگارا! اسے کیا پیدا کرنا چاہتا ہے، نر یا مادہ؟" پس جو حکم ملتا ہے (وہ لکھ دیتے ہیں) پھر پوچھتے ہیں: "پروردگارا! شقی (بدبخت) یا سعید (نیک بخت)؟ " پھر جو حکم ملتا ہے (لکھ دیتے ہیں)۔ اس کے بعد عرض کرتے ہیں: "خداوندا! اس کی اجل و رزق کیا ہونا چاہئیں؟" اس کے ہر قسم کے حالات اللہ تعالیٰ سے دریافت کرتے ہیں اور اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان میثاق کو لکھ دیتے ہیں۔

(امام محمد باقر علیہ السلام) کافی جلد ۶ ص ۱۳ حدیث ۳

۱۶۷۶۴ ۔ پھر دونوں فرشتوں کی طرف سے وحی ہوتی ہے: "اس کے لئے میری قضا و قدر اور میرے امر کا نفاذ لکھ دو بلکہ میری طرف سے "بدا" کو بھی مشروط کر دو۔" وہ عرض کرتے ہیں: "خداوندا! ہم کیا لکھیں؟" اللہ تعالیٰ ان کی طرف وحی فرماتا ہے: "تم دونوں اپنا سر اس کی ماں کے سر کی طرف اٹھاؤ۔ جب وہ اپنا سر اوپر اٹھاتے ہیں تو اس کی ماں کی پیشانی کے ساتھ ایک لوح کو لگتا ہوا دیکھتے ہیں جس میں ا س کی صورت، زینت، اجل اور میثاق کو لکھا دیکھتے ہیں، نیز یہ کہ وہ سعید ہے یا شقی، یہ بھی اس میں تحریر ہوتا ہے اسی طرح دوسرے تمام متعلقہ امور مکتوب ہوتے ہیں۔

(امام محمد باقر علیہ السلام) کافی جلد ۶ ص ۱۴ حدیث ۴

قولِ مولف: ملاحظہ ہو: کافی جلد ۶ ص ۱۲ باب "انسانی تخلیق کی ابتداء"

نیز عنوان "سعادت" اور عنوان "بدبختی"

( ۳) اللہ کا ارادہ اور قضا

قرآن مجید

( وما تشآء ون…………………………علیما حکیما ) ۔ (دہر/ ۳۰)

ترجمہ۔ اور تم تو کچھ چاہتے ہی نہیں مگر وہی جو اللہ چاہتا ہے۔ بے شک اللہ بڑا واقف کار، صاحبِ حکمت ہے۔

( وما تشآ ء ون ……………………………رب العالمین ) (تکویر/ ۲۹)

ترجمہ۔ اور تم تو کچھ چاہتے ہی نہیں مگر وہی جو عالمین کا پروردگار اللہ چاہتا ہے۔

( ان الله لا یغیر مابقوم حتی یغیرو اما بانفسهم ) ۔ (رعد/ ۱۱)

ترجمہ۔ جو کسی قوم کو حاصل ہو جب تک لوگ خود اپنی حالت میں تغیر نہ ڈالیں، اللہ ہرگز تغیر نہیں ڈالتا۔

حدیث شریف

۱۶۷۶۵ ۔ خداوند عالم فرماتا ہے: "جب کسی آبادی میں رہنے والے یا کسی گھر کے مکین یا کسی گاؤں میں مقیم کوئی شخص معصیت پر قائم رہتا ہے جسے میں پسند نہیں کرتا، پھر وہ اپنے اندر تبدیلی پیدا کرکے میری اطاعت کی طرف پلٹ آتا ہے جو مجھے محبوب ہے، تو میں بھی اسے اپنے عذاب سے پلٹا لیتا ہوں جو اسے ناپسند ہوتا ہے اور اپنی رحمت کی طرف لے آتا ہوں جو اسے محبوب ہوتی ہے۔"

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۴۴۱۶۶

۱۶۷۶۶ ۔ جیسے تم ہو گے ویسے ہی لوگ تم پر حکمرانی کریں گے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۴۹۷۲

۱۶۷۶۷ ۔ جب خداوند عالم کسی قوم کو خراب کرنا چاہتا ہے تو اس کے تمام امور ان کے دولتمندوں کے سپرد کر دیتا ہے

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۴۹۷۳

۱۶۷۶۸ ۔ اصحابِ رسول کی تعریف میں فرماتے ہیں: "جب خداوندِ عالم نے ہماری (نیتوں کی) سچائی دیکھ لی، تو اس نے ہمارے دشمنوں کو رسوا ارو ذلیل کیا اور ہماری نصرت و تائید فرمائی یہاں تک کہ پختگی سے سینہ ٹیک کر اپنی جگہ پر جم گیا اور اپنی منزل پر برقرار ہو گیا،

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۵۶ ۔ شرح ابن ابی الحدید جلد ۴ ص ۳۳

۱۶۷۶۹ ۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے ہمارے سچے صبر کو دیکھ لیا تو ہمارے دشمنوں کو ذلیل و رسوا کیا اور ہماری نصرت فرمائی۔

(حضرت علی علیہ السلام)، نہج السعاذدہ جلد ۲ ص ۲۵۹

۱۶۷۷۰ ۔ جب مدائن کے کھنڈرات کے قریب سے گزرے تو فرمایا: "یہاں کے رہنے والے لوگ ایک زمانہ میں اس جگہ کے مالک تھے لیکن اب دوسرے لوگ ان کے مالک ہیں، ان لوگوں نے خدا کی حرام کردہ چیزوں کو حلال سمجھ لیا تھا جس کے نتیجے میں ان پر عذاب نازل ہوا لہٰذا تم ہرگز حرام کو حلال نہ سمجھنا ورنہ تم پر بھی عذاب نازل ہو گا۔"

(حضرت علی علیہ السلام) کنزالعمال حدیث ۴۴۲۲۸

۱۶۷۷۱ ۔ مارقین کے فتنے کو کچلنے کے بعد فرمایا: ’؟’اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا ہے اور اپنی نصرت و حمایت کے ذریعہ تمہیں عزت بخشی ہے۔ لہٰذا اب تم فوراً دشمن کا رخ کرو اور اس کی طرف چل پڑو۔"

یہ سن کر ساتھیوں نے کہا: "یاامیرالمومنین! ہماری تلواریں کند ہو چکی ہیں، تیر ختم ہو چکے ہیں، نیزوں کی انیاں ٹوٹ چکی ہیں، لہٰذا اجازت دیں تاکہ ہم اچھی طرح تیاری کر لیں!" اس پر آپ نے فرمایا: "یقوم ادخلوا الارض المقدسة التی کتب اللہ لکم ولا ترتدوا علی ادبار کم فتنقلبوا خٰسرین" یعنی اے میری قوم اس مقدس زمین میں جاؤ جہاں خدا نے تمہاری تقدیر میں (حکومت) لکھ دی ہے، اور (دشمن کے مقابلے میں) پیٹھ نہ کرو۔ اس میں تم خود الٹا گھاٹا اٹھاؤ گے (مائدہ/ ۲۱)

(حضرت علی علیہ السلام) نہج السعادہ جلد ۲ ص ۴۲۰

۱۶۷۷۲ ۔ خدا کی قسم! مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ کہیں یہ (معاویہ کی) قوم تم پر اس وجہ سے غالب نہ آ جائے کہ وہ تو اپنی سرزمین میں اصلاح کئے ہوئے ہے، جبکہ تم نے اپنی سرزمین پر فساد برپا کیا ہوا ہے۔ وہ امانتوں کو ادا کرتی ہے جبکہ تم امانتوں میں خیانت کرتے ہو، وہ اپنے پیشوا کی اطاعت کرتی ہے جبکہ تم اپنے امام کی نافرمانی کرتے ہو، وہ باطل پر مجتمع ہے اور تم حق پر اکٹھے نہیں ہو۔

(حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام) نہج السعادہ جلد ۲ ص ۵۸۰

۱۶۷۷۳ ۔ میں تو اس (معاویہ کی) قوم کو تم پر غالب آتے دیکھ رہا ہوںمیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ اجتماعیت کی صوت میں رہ رہے ہیں اور تم پراگندہ و منتشر ہو۔ وہ اپنے پیشوا کی اطاعت کر رہے ہیں اور تم میری نافرمانی کر رہے ہو۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج السعادہ جلد ۲ ص ۵۸۵

قولِ مولف: نہج السعادہ جلد ۲ ۲۰ کا تمام خطبہ ملاحظہ ہو۔

۱۶۷۷۴ ۔ "خبردار! میری یہ بات یاد رکھو کہ میرے بعد تم مصیبتوں اور آزمائشوں سے ہمیشہ دوچار رہو گے کہ حتیٰ کہ میرے چاہنے والے اور تابعدار اپنے زمانے کے لوگوں کے درمیان پرندے کے بچے سے بھی زیادہ ناتواں و رسوا ہوں گے!" آپ سے پوچھا گیا: "اس کی کیا وجہ ہو گی؟" فرمایا: "یہ سب تمہارے ہاتھوں کا کیا دھرا ہو گا۔ تم دین کے معاملہ میں پستی پر راضی ہو جاؤ گے لیکن جس وقت ظالم رہنماؤں سے ظلم و جور عام ہو جائے، تم میں سے کوئی شخص کمر ہمت باندھ کر اپنی جان خدا کے ہاتھوں بیچ دے اور جہاد کے ذریعے اپنا حق حاصل کر لے تو دینِ خداوندی استوار اور پائیدار ہو جائے گا۔"

(حضرت علی علیہ السلام) نہج السعادہ جلد ۳ ص ۲۹۸

۱۶۷۷۵ ۔ اس ذات کی قسم جس نے دانے کو شگافتہ کیا اور جان کو پیدا کیا، پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہٹانا آسان ہے لیکن اختلاف کا ہٹانامشکل ہے۔ لہٰذا جب لوگوں کے درمیان اختلاف پیدا ہو جائے تو مجھے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر ان پر بجو بھی جھپٹ پڑیں تو ان پر غالب آ جائیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) کنزالعمال حدیث ۳۱۴۵۲

۱۶۷۷۶ ۔ یہاں تک کہ جب حکم قضا نے مصیبت کا زمانہ ختم کر دیا تو انہوں نے بصیرت کے ساتھ تلواریں اٹھا لیں اور اپنے ہادی کے حکم سے اپنے رب کے احکام کی اطاعت کرنے لگے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۵۰

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو! باب "قدر"، بحارالانوار جلد ۵ ص ۸۴ باب ۳

نیز باب "فساد"

اللہ تعالیٰ نے مومن کے لئے جو قضا مقرر کی ہے وہ اس کے لئے بہتر ہے

۱۶۷۷۷ ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کے ساتھ راز و نیاز کی باتوں میں فرمایا: "اے موسیٰ! میں نے اپنی کوئی مخلوق ایسی پیدا نہیں کی جو مجھے مومن بندے سے بڑھ کر محبوب ہو۔ میں نے اس کی بہتر سے بہتر چیزوں کے لئے آزمائش کی ہے، میں اپنے مومن بندے کی مصلحتوں سے واقف ہوں۔ اسے چاہئے کہ میری آزمائشوں پر صبر کرے، میری نعمتوں کا شکر کرے اور میری قضا پر راضی رہے، تو میں اسے اپنے "صدیقین" میں لکھ دوں گا۔"

(حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۸۲ ص ۳۰ ة حدیث ۱۰

۱۶۷۷۸ ۔ ایک دن آپ اس قدر ہنسے کہ آپ کے دندان مبارک ظاہر ہو گئے۔ پھر فرمایا: ’تم مجھ سے پوچھتے نہیں کہ میں کیوں ہنسا؟" لوگوں نے عرض کیا: "یارسول اللہ! ارشاد فرمائیے!" فرمایا: "مجھے اس مسلمان شخص پر تعجب ہوا ہے جس کے بارے میں اللہ جو بھی قضا مقرر فرماتا ہے وہ اس کے انجام کے لئے بہتر ہی ہوتی ہے۔"

(حضرت رسول اکرم) امالی صدوق ص ۴۳۹ حدیث ۱۵

۱۶۷۷۹ ۔ اللہ تعالیٰ کی ہر قضا میں مومن کے لئے سراسر بہتری ہوتی ہے۔

(رسول اکرم) عیون اخبار الرضا جلد اول ص ۱۴۱ حدیث ۴۲

۱۶۷۸۰ ۔ اللہ تعالیٰ کی قضا میں مومن کے لئے ہر طرح کی بہتری ہے۔

(امام محمد باقر علیہ السلام) التمیحص ص ۵۸ حدیث ۱۱۸

۱۶۷۸۱ ۔ مجھے مومن پر تعجب ہے کہ خداوند عالم اس کے لئے جو بھی قضا مقرر فرماتا ہے اس کے لئے بہتر ہوتی ہے خواہ اسے اس سے خوشی ہو یا غم۔ اگر اسے کسی مصیبت میں مبتلا فرماتا ہے تو یہ اس کے گناہوں کے لئے کفارہ ہوتا ہے اور اگر اسے عطا کرتا ہے یعنی عزت دیتا ہے تو یہ اس کی بخشش ہوتی ہے۔

(حضرت رسول اکرم) تحف العقول ص ۴۸

۱۶۷۸۲ ۔ مجھے مسلمان پر تعجب ہوتا ہے کہ خداوندِ عالم اس کے لئے جو قضا بھی فرماتا ہے وہ ہر حالت میں اس کے لئے بہتر ہوتی ہے، خواہ اسے مقراضوں سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے، پھر بھی اس میں اس کی بہتری ہوتی ہے۔ اسی طرح خواہ وہ مشرق و مغرب کا مالک بن جائے تو پھر بھی اس کے لئے اس میں بہتری ہی ہوتی ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) کافی جلد ۲ ص ۶۲ حدیث ۸

۱۶۷۸۳ ۔ مومن کے لئے ہر طرف سے بہتری ہی ہوتی ہے، اگر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے جائیں پھر بھی اس کے لئے بہتری ہتی ہے اور اگر وہ روئے زمین کا مشرق سے مغرب تک حاکم بن جائے پھر بھی اس کے لئے بہتری ہوتی ہے۔

(امام موسیٰ کاظم علیہ السلام) التمحیص ص ۵ حدیث ۱۰۹

۱۶۷۸۴ ۔ اللہ تعالیٰ مومن کے لئے جو قضا مقرر فرماتا ہے اور وہ اس پر راضی ہوتا ہے تو خداوند عالم اس کے لئے اپنی قضا میں بہتری مقرر فرما دیتا ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) التمحیص ص ۵۹ حدیث ۱۲۳

۱۶۷۸۵ ۔ بنی اسرائیل کے افراد حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ خدا سے دعا کریں کہ اس وقت بارش برساےء جب وہ چاہیں اور اس وقت روک دے جب وہ کہیں۔ اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے درخواست کی۔ اللہ نے فرمایا: "موسیٰ! جیساوہ کہتے ہیں اسی طرح ہو گا۔" چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے انہیں یہ بات بتا دی۔ اس پر ان لوگوں نے خوب کھیتی باڑی کی اور زمین کا کوئی ٹکڑا خالی نہ چھوڑا۔ پھر انہوں نے اپنی مرضی کے مطابق بارش کی درخواست کی اور مرضی کے مطابق ہی اس کے ختم ہونے کی استدعا کی۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اس مرتبہ ان کی فصلیں اس قدر کثرت سے ہوئیں جیسے پہاڑ اور جنگلات ہوتے ہیں۔

جب کاٹنے کا وقت آیا تو انہوں نے فصلوں کو کاٹنا، گاہنا اور دانے الگ کرنا شروع کیا لیکن ان میں ایک دانہ بھی موجود نہ پایا۔ یہ صورت حال دیکھ کر موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں عرضداشت لے کر حاضر ہوئے، اور عرض کیا: "ہم نے آپ سے درخواست کی تھی کہ آپ اللہ سے دعا کریں کہ ہماری مرضی کے مطابق بارش برسائے اور مرضی کے مطابق اسے روک دے، اللہ تعالیٰ نے بھی ہماری دعا قبول فرمائی، لیکن اس سے تو ہمیں نقصان ہوا ہے۔"

ان کی یہ شکایت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ تک پہنچائی، اور عرض کیا: "خداوندا! تو نے بنی اسرائیل کے ساتھ جو کیا ہے اس سے تو ان کی چیخیں نکل گئی ہیں۔" اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "کس لئے موسیٰ؟" عرض کیا: " انہوں نے مجھ سے درخواست کی تھی کہ میں تجھ سے دعا کروں کہ ان کی مرضی کے مطابق بارش برسائے اور ان کی مرضی ہی سے بارش کو روک دے۔ تو نے ان کی یہ درخواست قبول بھی فرمائی لیکن اس سے تو ان کو نقصان ہوا ہے"

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "موسیٰ! میں ہی بنی اسرائیل کی تقدیر مقرر کرنے والا ہوں لیکن وہ اس تقدیر پر راضی نہیں ہوئے اور مجھ سے اپنی مرضی کے مطابق عمل کرنے کی درخواست کی۔ پس میں نے ان کی درخواست قبول کر لی، جس کا نتیجہ وہی ہوا جو تم دیکھ رہے ہو،

(امام جعفر صادق علیہ السلام) کافی جلد ۵ ص ۲۶۲ حدیث ۲

قولِ مولف: ملاحظہ ہو: باب "بلأ" (آزمائش)

( ۵) قضا پر راضی نہ ہونے والا

۱۶۷۸۶ ۔ قدرتِ خداوند کے بارے میں فرمایا: "جو تیری مخالفت کرتا ہے ایسا نہیں کہ وہ تیری فرمانروائی کو نقصان پہنچائے، جو تیری اطاعت کرتا ہے وہ ملک (کی وسعتوں) کو بڑھا نہیں دیتا اور جو تیری قضا و قدر پر بگڑ جائے وہ تیرے امر کو رد نہیں کر شسکتا۔

(حضرت علی علیہ اللام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۰۹

۱۶۷۸۷ ۔ خداوند عالم فرماتا ہے: "جو میری قضا پر راضی نہیں ہوتا اور میری تقدیر پر ایمان نہیں رکھتا اسے چاہئے کہ میرے علاوہ کوئی اور خدا تلاش کرے،

(حضرت رسول اکرم) عیون اخبارالرضا جلد اول ص ۱۴۱

۱۶۷۸۸ ۔ خداوندِ جل جلالہ فرماتا ہے: "جو شخص میری قضا اور قدر پر راضی نہیں ہوتا اسے چاہئے کہ میرے علاوہ کوئی اور رب تلاش کرے۔"

(رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۴۸۲

۱۶۷۸۹ ۔ ،خداوندِ متعال فرماتا ہے: "جو شخص میری قضا پر راضی نہیں ہوتا اور میری بلاؤں پر صبر نہیں کرتا اسے چاہئے کہ میرے علاوہ کوئی اور رب تلاش کرے۔"

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۴۸۳

۱۶۷۹۰ ۔ اللہ جل شانہ فرماتا ہے: " جو میری قضا پر راضی نہیں ہوتا، میری نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا، اور میری بلاؤں پر صبر نہیں کرتا، اسے چاہئے کہ میرے علاوہ کوئی اور رب تلاش کرے۔"

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال بحارالانوار جلد ۸۲ ص ۱۳۲ حدیث ۱۶

۱۶۷۹۱ ۔ قیامت کے دن سخت عذاب کا مستحق وہ گا وہ شخص جو خدا کی قضا پر بگڑ اٹھتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم حدیث ۳۲۲۵

۱۶۷۹۲ ۔ جو شخص دنیا کے لئے مغموم ہوتا ہے وہ خدا کی قضا پر ناراض ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) البلاغہ حکمت ۲۲۸

۱۶۷۹۳ ۔ "خبردار! اپنے ان سرداروں اور بڑوں کا اتباع کرنے سے ڈرو کہ جو اپنی جاہ و حشمت پر اکڑتے ہوں، اپنے نسب کی بلندیوں پر غرور کرتے ہوں، بدنما چیزوں کو اللہ کے سر ڈال دیتے ہوں، اس کی قضا و قدر سے ٹکر لینے اور اس کی نعمتوں پر غلبہ پانے کے لئے اس کے احسانات سے یکسر انکار کر دیتے ہوں۔"

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۲

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو، بابا "رضا" ( ۱) باب "جو قضا پر راضی نہیں ہوتا"

( ۶) قضا کی اقسام

۱۶۷۹۴ ۔ جب آپ سے قضا کی اقسام کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا : "قضا کی دس قسمیں ہیں۔"

۱ ۔ قضائے فراغ ۲ ۔ قضائے عہد ۳ ۔ قضائے اعلام ۴ ۔ قضائے فعل ۵ ۔ قضائے ایجاب ۶ ۔ قضائے کتاب ۷ ۔ قضائے اتمام ۸ ۔ قضائے فصل و حکم ۹ ۔ قضائے خلق اور ۱۰ ۔ قضائے نزول موسکہ

۱ ۔ قضائے فراغ یا کسی چیز کے پورا کر دینے کی قضا کے بارے میں ارشاد الٰہی ہوتا ہے: "( واذ صرفنا الیک نفرا من الجن یستمعون القران فلما حضروه قالوا الفتوا، فلما قضی ولوا الی قومهم منذرین ) " اور جیسا ہم نے جنوں میں سے کئی جنوں کو تمہاری طرف متوجہ کیا کہ دل لگا کر قرآن سنیں تو جب وہ اس کے پاس حاضر ہوئے تو ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ خاموش بیٹھے سنتے رہو، پھر جب پڑھنا تمام ہوا تو اپنی قوم کی طرف واپس گئے کہ ان کو عذاب سے ڈرائیں۔ (احقاف/ ۲۹) چنانچہ یہاں پر "فلما قضی‘ کے معنی ہیں "فلما فرغ" یعنی جب فارغ ہوا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا قول ہے۔( فاذاقیصنم مناسککم فاذکروا الله ) جب تم اپنے مناسک بجا لاؤ، تو خدا کو یاد کرو (بقرہ/ ۲۰۰)

۲ ۔ قضائے عہد: خداوند عالم فرماتا ہے:( وقضی ربک الاتعبدوا الاایاه ) تیرے رب نے عہد لے لیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو (بنی اسرائیل/ ۲۳) اسی طرح کی ایک اور آیت سورہ قصص میں ہے( وما کنت بجانب الطور اذ قضینا الی موسی الامر ) تم طور کے پاس موجود نہیں تھے جب ہم نے موسیٰ سے ایک امر کا عہد کیا (قصص/ ۴۴)

یعنی ہم نے اس سے عہد کیا۔

۳ ۔ قضائے اعلام یعنی مطلع کر دینا، جیسا کہ خداوند عالم فرماتا ہے:( قضینا الیه ذالک الامر ان دار هولاء مقطوع مصبحین ) اور ہم نے اس (لوط) کو اس امر سے مطلع کر دیا کہ صبح ہوتے ہی ان لوگوں کی جڑ کاٹ دی جائے گی (حجر/ ۶۶)

اسی طرح خداوند عالم کا قول ہے( وقضینا الی بنی اسرائیل فی الکتب لتفسدن فی الارض مرضین ) اور ہم نے بنی اسرائل کے لئے کتاب میں اطلاع کر دی کہ تم لوگ روئے زمین پر ضرور دو مرتبہ فساد کرو گے (بنی اسرائیل/ ۴) یعنی ہم نے انہیں کتاب تورات میں مطلع کر دیا تھا کہ وہ کیا کرنے والے ہیں؟

۴ ۔ قضائے فعل: خداوند عالم فرماتا ہے:( فاقض ما انت قاض ) تجھے جو کچھ کرنا ہے کر لے (طہ/ ۷۲) یعنی جو کچھ تو بجا لانا چاہتا ہے اسے بجا لا۔ اسی طرح ایک اور جگہ فرماتا ہے( لیقضی الله امرا کان هولا ) یا کہ خداوند عالم وہ کام انجام دے جو ہو کر رہنا ہے (انفال/ ۴۲) یعنی جو کچھ خدا کے علم میں ہے اسے وہ سرانجام دے۔ اس طرح کی بہت سی مثالیں قرآنِ مجید میں موجود ہیں۔

۵ ۔ قضائے ایجاب یعنی عذاب کا واجب ہو جانا، جیسا کہ ارشادِ الٰہی ہے:( وقال الشیطٰن لما قضی الامر ) اور جب بات پوری ہو گئی تو شیطان نے کہا (ابراہیم/ ۲۲) یعنی جب عذاب واجب ہو چکا۔ اسی طرح ایک اور مقام پر ہے:( قضی الامر الذی فیه تستفیان ) اس معاملے کا فیصلہ ہو چکا ہے جس کے بارے میں تم دونوں نے مجھ سے سوال کیا ہے (یوسف/ ۴۱) ، یعنی وہ امر واجب ہو چکا ہے جس کے متعلق تم دونوں سوال کرتے ہو۔

۶ ۔ قضائے کتاب اور قضائے حتم: اللہ تعالیٰ حضرت مریم کی داستان میں فرماتا ہے: "وکان امرا مقضیا" اور یہ امر تو طے شدہ ہے (مریم/ ۲۱) یعنی محکم ہے۔

۷ ۔ قضائے اتمام: یعنی مدت کی تکمیل، جیسا کہ خداوند عالم فرماتا ہے( : فلما قضی موسی الاجل ) جب موسیٰ نے اپنی مدت پوری کر لی۔ (قصص/ ۲۹) یعنی جب حضرت موسیٰ نے وہ تمام شرائط پوری کر لیں جو ان سے طے ہوئی تھیں۔ اسی طرح حضرت موسیٰ کا قول ہے:( ایما الاجلین قضیت فلا عدوان علی ) دونوں مدتوں میں سے جو بھی پوری کروں پھر مجھ پر کوئی زیادتی نہ کی جائے۔ (قصص/ ۲۸) یعنی جس مدت کو بھی پایہ تکمیل تک پہنچا دوں۔

۸ ۔ قضائے فصل و حکم (فیصلہ)۔ ،خداوندِ عالم کا ارشاد ہے:( وقضی بینهم بالحق و قیل الحمد لله رب العٰلمین ) ۔ ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ تمام تعریف اللہ رب العالمین کے لئے ہے۔ (زمر/ ۷۵) اسی طرح فرماتا ہے:( والله یقضی بالحق والذین یدعون من دونه لا یقضون لبی ان الله هو السمیع العیم ) اور اللہ تعالیٰ حق کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے اور خدا کے علاوہ جن لوگوں کو وہ پکارتے ہیں وہ کسی شے کا فیصلہ نہیں کر سکتے، بیشک اللہ سننے والا اور دیکھنے والا ہے (مومن/ ۲۰) اسی طرح خداوند عالم فرماتا ہے:( والله یقضی الحق و هوخیرالفٰصلین ) ۔ وہ حق کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے اور وہ بہترین فیصلہ کرنے والا ہے (انعام/ ۵۷) اسی طرح یہ بھی فرماتا ہے:( وقضی بینهم بالقسط ) اور ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ کیا جائے گا (یونس/ ۵۴)

۹ ۔ قضائے خلق: خداوند عالم فرماتا ہے:( فقضهن سبع سموات فی یومین ) پس اس نے سات آسمان دو روز میں پیدا کئے۔ (حٰم سجدہ/ ۱۲) یعنی ان کو دو دنوں میں خلق فرمایا۔

۱۰ ۔ قضائے نزول موت: جہنمی افراد کے قول کی قرآنِ مجید میں حکایت کی گئی ہے:( ونا دو ایملک لیقض علینا ربک قال انکم مکثون ) اور وہ پکاریں گے کہ اے مالک! (دروغہ جہنم!) چاہئے کہ تیرا رب ہمارا کام ہی تمام کر دے! وہ کہے گا: "بے شک تم کو یونہی رہنا ہو گا" (زخرف/ ۷۷) یعنی تیرا رب ہمیں موت ہی دیدے، اسی طرح ایک اور مقام پر فرماتا ہے:( لا یقضی علیهم فیموتوا ولا نحفیف عنهم من عذابها ) ۔ نہ تو ان کو قضا (موت) ہی آئے گی کہ مر جائیں اور نہ ہی اس (جہنم) کے عذاب میں ان کے لئے تخفیف کی جائے گی۔ (فاطر/ ۳۶) یعنی انہیں موت نہیں آئے گی کہ وہ عذاب سے جان چھڑا سکیں۔

اسی طرح حضرت سلیمان بن داؤد علیہم السلام کی داستان میں ہے( فلما قضینا علیه الموت مادلهم علی موته الا دابة الارض تا کل منساته ) ۔ پس جب ہم نے اس (سلیمان) کے لئے موت کا فیصلہ کر لیا تو اس کی موت پر کسی شے نے ان لوگوں کی رہنمائی نہیں کی، سوائے زمین پر ایک چلنے والی چیز کے جو ا س کے عصا کو کھا گئی (سب/ ۱۴) اس سے خدا کا مقصود ہے "اب جب ہم نے سلیمان پر موت کو نازل فرما دیا۔"

(بحارالانوار جلد ۹۳ ص ۱۸ تا ص ۲۰

( ۷) قضا کے متعلق مختلف احادیث

۱۶۷۹۵ ۔ جب قضا نے پورا ہو کر رہنا ہے تو پھر یہ چیخ و پکار کیسی؟

(امام حسن عسکری علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۸) ص ۳۷۸

۱۶۷۹۶ ۔ جب قضا نازل ہوتی ہے تو فضا تنگ ہو جاتی ہے۔

(امام علی نقی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۸ ص ۳۶۵ جلد ۷۷ ص ۱۶۵

۱۶۷۹۷ ۔ آٹھ چیزیں خدا کی قضا و قدر کے ساتھ ہی تعلق رکھتی ہیں۔

۱ ۔ نیند ۲ ۔ بیداری ۳ ۔ قوت ۴ ۔ کمزوری ۵ ۔ تندرستی ۶ ۔ بیماری ۷ ۔ موت ۸# حیات

(امام رضا علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۵ ص ۹۵


فصل ۱۸

قضا ( ۲)

فیصلہ

( ۱) فیصلہ یا نبی کر سکتا ہے یا اس کا وصی ---یا پھر----شقی انسان----

قرآن مجید

( یداؤد انا جعلناک خلیفة فی الارض فاحکم بین الناس بالحق ) (ص/ ۲۶)

ترجمہ۔ اے داؤد! ہم نے تمہیں زمین میں نائب (حاکم و جانشین) مقرر کیا ہے۔ پس لوگوں کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرو

حدیث شریف

۱۶۷۹۸ ۔ حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام نے (قاضی) شریح سے فرمایا: "اے شریح! تم ایک ایسی جگہ پر (قضا کے لئے) بیٹھے ہو جہاں نبی یا وصی یاپھر شقی (بدبخت) انسان ہی بیٹھ سکتا ہے۔"

(امام جعفر صادق) وسائل الشیعہ جلد ۸ ة ص ۷ فروع کافی جلد ۷ ص ۴۰۶

من لا یحضرہ الفقیہ جلد ۳ ص ۴ تہذیب و الاحکام جلد ۶ ص ۲۱۷

۱۶۷۹۹ ۔ فیصلے کرنے سے اجتناب کرو کیونکہ فیصلے کرنا اس امام عالم کا کام ہے جو مسلمانوں کے درمیان عدل کے ساتھ فیصلے کرتا ہے جیسے نبی یا نبی کا وصی ہوتے ہیں۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) وسائیل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۷ فروع کافی جل د ۷ ص ۴۰۶

من لا یحرہ الفقیہ جلد ۳ ص ۴ ، تہذیب الاحکام جلد ۶ ص ۲۱۷

( ۲) طاغوت کی طرف مقدمات کا لے جانا

قرآن مجید

( الم قراتی الذین یزعمون………………ان یکفروابه… ) (نسأ/ ۶۰)

ترجمہ کیا تونے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو گمان کرتے ہیں کہ وہ ان چیزوں پر ایمان لائے جو (اے پیغمبر!) آپ پر نازل ہوئی ہیں اور ان پر بھی جو آپ سے پہلے نازل ہو چکی ہیں؟ پھر بھی وہ چاہتے ہیں کہ وہ اپنے مقدمات کو فیصلے کے لئے طاغوت کو حاکم بنائیں، حالانکہ انہیں یہ حکم دیا گیا تھا کہ اس کا انکار کر دیں

( الم ترا می الذین اوتوا…………………وهم معرضون ) (آل عمران/ ۲۳)

ترجمہ۔ کیا تونے ان ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا کہ جب وہ اللہ کی کتاب کی طرف بلائے جاتے ہیں تاکہ وہ ان کے مابین فیصلہ کرے تو (؟)گروہ روگردانی کرتے ہوئے حق سے پلٹ جاتا ہے۔

حدیث شریف

۱۶۸۰۰ ۔ عمر بن حنطمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے اپنے ان دو دوستوں کے متعلق سوال کیا جن کے درمیان کسی قرض یا میراث کے بارے میں جھگڑا ہو جائے اور وہ اپنا مقدمہ حاکم وقت یا قاضی کے پاس لے جائیں تو کیا یہ ان کے لئے جائز ہے؟ اس پر امام علیہ السلام نے فرمایا: "جو شخض اپنا مقدمہ طاغوت کے پاس لے جائے اور وہ اس کے حق میں فیصلہ کر دے تو اس کے فیصلے کے تحت لیا ہوا مال حرام ہو گا خواہ یہ اس کا حق بھی بنتا ہو کیونکہ وہ شخص وہ مال طاغوت کے فیصلے کے مطابق لے گا جس کے متعلق خدا کا حکم یہ ہے کہ اس کا انکار کیا جائے"

فروع کافی جلد ۷ ص ۴۱۲

۱۶۸۰۱ ۔ جو مومن کسی دوسرے مومن کو کسی مقدمے کے سلسلہ میں ظالم قاضی یا ظالم بادشاہ کے پاس لے جائے اور وہ خدائی فیصلے کے خلاف کوئی فیصلہ کرے تو وہ مومن بھی اس کے گناہ میں اس کا شریک ہو گا۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) من لا یحضرہ الفقیہ جلد ۳ ص ۳ فروع کافی جلد ۷ ص ۴۱۱

۱۶۸۰۲ ۔ ابو بصیر کہتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کے اس قول( ولا تاکلوا اموالکم بینکم بالباطل وتدلواتها الی الحکام بتکلوا فریقا اموال الناس بالاثم… ) اور آپس میں ایک دوسرے کے اموال ناحق نہ کھا جایا کرو اور نہ ہی یہ اموال بطور رشوت حکام کو اس لئے پیش کرو کہ تم جان بوجھ کر گناہ کرتے ہوئے اس دولت کا کچھ حصہ ہضم کر جاؤ (بقرہ ۱۸۸) کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: "اے ابو بصیر! خداوند عز و جل کو اس بات کا علم تھا کہ امت میں کچھ حکام جور بھی ہوں گے جو غلط فیصلے کریں گے، لہٰذا اس نے یہ اسی بنا پرفرمایا ہے، یہاں حکام عدل مراد نہیں ہیں جبکہ حکام جور مراد ہیں، اے ابومحمد! اگر تمہارا حق کسی کے ذمہ بنتا ہے اور تم اس مقدمہ کو عادل حاکم کے پاس لے جانا چاہتے ہو لیکن وہ شخص یہ مقدمہ ظالم حاکم کے پاس لے جانا چاہتا ہے تو اس کا شمار ایسے لوگوں میں ہو گا جو طاغوت کو اپنا حاکم بناتے ہیں۔ حق کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:( الم ترالی الذین یزعمون انهم… ) (نسأ/ ۶۰)

فروع کافی جلد ۷ ص ۴۱۱

قولِ مولف: ملاحظہ ہو "وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۲ باب ۱

( ۳) حق پر فیصلہ کرنے والے

قرآن مجید

( یداؤد انا جعلناک خلیفة فی الارض فاحکم بین الناس بالحق ولا تتبع الهوی ) (ص/ ۲۶)

ترجمہ۔ "اے داؤد! ہم نے تمہیں زمین میں نائب (حاکم و جانشین) مقرر کیا ہے پس لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو اور اپنی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔"

( واذا حکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل… ) (نسأ/ ۵۸)

ترجمہ۔ اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو

( وان حکمت فاحکم بینهم بالقسط ان الله یحب المقسطین ) (مائدہ/ ۴۲)

ترجمہ۔ اور اگر تو فیصلہ کرے تو ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر۔ بے شک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے،

حدیث شریف

۱۶۸۰۳ ۔ بہترین لوگ، حق پر فیصلہ کرنے والے ہوتے ہیں۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۱۰۴ ص ۲۶۹

۱۶۸۰۴ ۔ مخلوق میں سے افضل ترین لوگ وہ ہیں جو سب سے بڑھ کر حق پر فیصلہ کرتے ہیں اور اللہ کے نزدیک محبوب ترین لوگ وہ ہیں جو سب سے بڑھ کر راست گوئی سے کام لیتے ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۶۸۰۵ ۔ "تم میں سے کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو کسی ظالم کے پاس فیصلہ کرنے کے لئے نہ لے جائے بلکہ یہ دیکھو کہ خود تم میں سے کوئی ایسا شخص ہے جو ہمارے فیصلوں میں سے کوئی چیز جانات ہے، تو تم اسے ہی اپنا قاضی مقرر کر لو، کیونکہ میں نے ہی اسے قاضی بنایا ہے۔ لہٰذا اپنے مقدمات اسی کے پاس لے جایا کرو۔"

(امام جعفر صادق علیہ السلام) من لا یحضرہ الفقیہ جلد ۳ ص ۲

فروع کافی جلد ۷ ص ۴۱۲

۱۶۸۰۶ ۔ "مدعی اور مدعا علیہ اس بات کا خیال کریں کہ تم میں جو شخص ہماری احادیث کو بیان کرتا ہے، ہمارے مقررکردہ حلال و حرام کو پیشِ نظر رکھتا ہے اور ہمارے احکام کو سمجھتا ہے پس وہ اسے ہی اپنا حاکم بنانے پر راضی ہو جائیں، کیونکہ میں نے بھی اسے ہی تمہارے اوپر حاکم مقرر کیا ہے۔"

(امام جعفر صادق علیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۹۹

۱۶۸۰۷ ۔ ابی خدیجہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے دوستوں کی طرف بھیجا کہ میں انہیں (امام کی طرف سے) جا کر کہوں کہ: "جب تمہارے درمیان کوئی جھگڑا ہو جائے یا لین دین کا کوئی معاملہ درپیش آ جائے تو تم میں سے کوئی بھی فاسق لوگوں میں سے کسی کے پاس اپنا مقدمہ لے کر نہ جائے، بلکہ تم اپنے میں سے کسی ایسے شخص کو فیصلہ کرنے والا مقرر کر لیا کرو جو ہمارے حلال و حرام کو جانتا ہو، اس لئے کہ میں نے بھی اسے ہی تمہارے لئے قاضی مقرر کیا ہے، اور یاد رکھو کہ تم میں سے کوئی بھی، جابر حاکم کے پاس اپنا مقدمہ لے کر نہ جائے۔"

وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۱۰۰

( ۴) اسلامی فیصلے کو تسلیم کرنا

قرآن مجید

( فلا و ربک لا یوٴمنون……………………یسلموا تسلیما ) (نسأ/ ۶۵)

ترجمہ۔ ایسا نہیں ہے، تیرے رب کی قسم! یہ لوگ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اس اختلاف میں جو ان کے درمیان واقع ہوا ہے، تجھے حاکم نہ بنائیں، پھر تو جو بھی فیصلہ کر دے، اس پر اپنے دلوں میں ذرا بھی تنگی کااحساس نہ کریں اور اس (فیصلہ) کو اس طرح تسلیم کریں جس طرح تسلیم کرنے کا حق ہے۔

حدیث شریف

۱۶۸۰۸ ۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول:( فلا و ربک… ) کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ: "تسلیم سے مراد، رسول خدا کے فیصلے پر راضی اور قانع ہونا ہے۔"

(امام محمد باقر علیہ السلام) بحار الانوار جلد ۲ ص ۲۰۴

۱۶۸۰۹ ۔ "جب قاضی ہمارے فیصلے کے مطابق فیصلہ کرے اور پھر اس کے اس فیصلے کو نہ مانا جائے، تو اس سے خدا کے فیصلے کو سبک نہ سمجھا جائے گا اور ہماری بات کو ٹھکرا دیا جائے گا، جبکہ ہماری باتوں کو ٹھکرانے والا خدا کی باتوں کو رد کرنے والا ہوتا ہے۔ ایسا کرنا اللہ کے ساتھ شرک کی حد تک جا پہنچاتا ہے

(امام جعفر صادق علیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۹۹

۱۶۸۱۰ ۔ عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ عبداللہ بن زبیر نے یہ بات بیان کی ہے کہ ایک انصاری حضرت رسول خدا صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور میں زبیر سے اس پانی کے سلسلے میں الجھ پڑا جس سے کھجوروں کی آبپاشی کی جاتی تھی، وہ یوں کہ انصاری نے زبیر سے کہا: "آپ پانی کو کھلا چھوڑ دیں تاکہ اس سے آب پاشی ہوتی رہے۔" لیکن زبیر نے اس کی بات کو نہ مانا، اور مقدمہ حضرت رسول خدا کی خدمت میں پیش کیا گیا۔

آنحضرت نے زبیر سے فرمایا: "زبیر! پہلے تم آب پاشی کر لو پھر اپنے ہمسایہ کے لئے جانے دو!" اس پر انصاری کو غصہ آ گیا اور کہنے لگا: "یارسول اللہ! آپ نے اس یہ فیصلہ اس لئے کیا ہے کیونکہ زبیر آپ کا پھوپھی زاد ہے!" اس پر آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو گیا اور آپ نے زبیر سے فرمایا: "زبیر! تم سیراب ہو تو پھر پانی کے آگے بند باندھ لو کہ وہ واپس لوٹ جائے!"

زبیر کہتے ہیں: ؟ "خدا کی قسم! میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت اسی سلسلے میں نازل ہوئی ہے کہ: خدا کی قسم! میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت اسی سلسلے میں نازل ہوئی ہے: "فلا و ربک لا یومنون" (/ ۷۵)

صحیح مسلم جلد ۴ ص ۱۸۲۹

قولِ مولف: ملاحظہ ہو عنوان "تسلیم" نیز "مشرک" بابا "ادنی شرک")

( ۵) خدا کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والا

قرآن مجید

( …ومن لم یحکم بما انزل الله فاولئک هم الکفٰرون ) ۔ (مائدہ/ ۴۴)

ترجمہ۔ اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے پس وہی تو ہیں جو کافر (منکر) ہیں۔

( و من لم یحکم بما انزل فاولئک هم الظلمون ) (مائدہ/ ۴۵)

ترجمہ۔ اور جو لوگ اس کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے جو اللہ نے نازل کیا ہے، پس وہی تو ظالم ہیں۔

( و من لا یحکم بما انزل الله فاولئک هم الفٰسقون ) ۔ (مائدہ ۴۷)

ترجمہ۔ اور جنہوں نے اس کے مطابق فیصلہ نہ کیا جو اللہ نے نازل کیا ہے، پس وہی تو نافرمان ہیں۔

حدیث شریف

۱۶۸۱۱ ۔ "جو شخص دو درہموں کے بارے میں فیصلہ کرے اور اس فیصلے کو سختی سے منوائے تو وہ اس آیت کا اہل ہو گا:( و من لم یحکم بما انزل الله فاولئک هم الکٰفرون ) (مائدہ/ ۴۴)

راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا "حضور فرزند رسول! سختی سے منوانے سے کیا مراد ہے؟" فرمایا: "اس کے پاس کوڑا (حکومت کا ڈنڈا) ہو اور قید کا اختیار بھی۔ پس اگر کوئی شخص اس فیصلے پر راضی ہو جائے تو بہتر ورنہ اسے ڈنڈے سے مارے اور قید کر دے۔

(حضرت امام جعفر علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۱۰۴ ص ۲۶۵

۱۶۸۱۲ ۔ جو شخص خدا کے نازل کردہ حکم کے مطابق دو درہموں کے بارے میں بھی فیصلہ نہیں کرے گا وہ کافر (منکر) قرار پائے گا۔ اور جو شخص دو درہموں کے بارے میں غلط فیصلہ کرے گا وہ بھی کافر (منکر) ہو جائے گا۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۱۰۴ ص ۲۶۵

۱۶۸۱۳ ۔ حکیم بین جبیر کہتے ہیں: پھر میں علی بن الحسین امام زین العابدین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے سورہ مائدہ کی ان آیات کے بارے میں دریافت کیا اور آپ کو وہ ساری باتیں بھی بتا دیں جو میں نے سعید بن جبیر اور مقسم سے پوچھی تھیں۔"

امام نے فرمایا: "مقسم نے کیا کیا؟" میں نے وہ بھی بتا دیا۔ امام نے فرمایا: "اس نے سچ کہا ہے لیکن آیت میں مذکور "کفر" وہ کفر نہیں جسے "شرک کا کفر" کہا جائے، اسی طرح نہ ہی "شرک کا فسق ہے" اور نہ ہی "شرک کا ظلم" ہے،

تفسیر در منثور جلد ۲ ص ۲۸۷

۱۶۸۱۴ ۔ خدا کے نزدیک تمام لوگوں میں سب سے زیادہ مبغوض دو شخص ہیںایک وہ جولوگوں میں قاضی بن کر بیٹھ جاتا ہے، اور دوسروں پر مشتبہ رہنے والے مسائل کے حل کرنے کا ذمہ لے لیتا ہے، اگر کوئی الجھا ہوا مسئلہ اس کے سامنے پیش ہوتا ہے تو اپنی رائے سے اس کے لئے بھرتی کی فرسودہ دلیلیں مہیا کر لیتا ہے اور پھر اس پر یقین بھی کر لیتا ہے۔ اس طرح وہ شبہات کے الجھاؤ میں پھنسا ہوا ہے۔ جس طرح مکڑی خود اپنے جالے کے اندر۔ وہ خود یہ نہیں جانتا کہ اس نے صحیح حکم دیا ہے یا غلط؟اس کے (ناروا) فیصلوں کی وجہ سے (ناحق بہائے ہوئے) خون چیخ رہے ہیں اور (غیرمستحق افراد تک پہنچی ہوئی) میراثیں چلا رہی ہیں

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۱۰۴ ص ۲۶۷ نہج البلاغہ خطبہ ۱۷

( ۶) ظالم فیصلہ کرنے والے

۱۶۸۱۵ ۔ حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں ہے کہ ایک مرتبہ آپ کو آنکھوں کی تکلیف ہوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آپ کی عیادت کی۔ اس وقت حضرت امیر (شدت درد کی وجہ سے) چیخ رہے تھے۔ آنحضرت نے فرمایا: "یا علی! گھبراہٹ ہے یا درد ہے؟" حضرت علی نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! جتنا شدید درد آج ہوا ہے اتنا کبھی نہیں ہوا۔"

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "جب ملک الموت کسی فاجر کی روح کو قبض کرنے کے لئے نازل ہوتا ہے تو اس کے ساتھ جہنم کی آگ کی سیخ بھی نازل ہوتی ہے جس سے اس کی روح کو قبض کرتا ہے جس سے جہنم چیخ اٹھتا ہے۔"

حضرت علی یہ سن کر سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور عرض کیا: "یا رسول اللہ! دوبارہ ارشاد فرمائیے کیونکہ آپ کے ارشادات نے مجھے سارے درد بھلا دیئے ہیں۔ کیا آپ کی امت میں سے بھی کسی کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے گا؟"

فرمایا: "ہاں ظلم کے ساتھ فیصلہ کرنے والے، یتیم کا مال کھانے والے اور جھوٹی گواہی دینے والے کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا جائے گا۔"

(امام محمد باقر علیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۱۶۶ تہذیب الاحکام جلد ۶ ص ۲۲۴

( ۷) بغیر چھری کے ذبح کیا جانا

۱۶۸۱۶ ۔ جو شخص قضا کا عہدہ حاصل کر لیتا ہے، وہ اپنے آپ کو بغیر چھری کے ذبح کر دیتا ہے،

(حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کنزالعمال حدیث ۱۴۹۹۹ ، ۱۵ ، ۱۲ ، ۱۵ ۔ ان سب کے راوی حضرت ابوہریرہ ہیں۔

۱۶۸۱۷ ۔ ابن عباس حضرت رسول خدا سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "جسے قاضی بنایا جاتا ہے اسے چھری کے بغیر ذبح کر دیا جاتا ہے۔" اس پر آنحضرت سے سوال کیا گیا: "یارسول اللہ! ایسی ذبح سے کیا مراد ہے؟" "جہنم کی آگ "

مستدرک الوسائل جلد ۳ ص ۱۷۳ ۔

۱۶۸۱۸ ۔ محمد بن محمد (شیخ مفسد) اپنی کتاب "مقنعہ" میں پیغمبر اکرم سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرتنے فرمایا: "جو قاضی بنایا جاتا ہے اسے کسی چھری کے بغیر ذبح کیا جاتا ہے۔"

وسائل الشیعہ جلد ۸ ة ص ۸

( ۸) ظالم قاضی کی نشست گاہ

۱۶۸۱۹ ۔ ایک پتھر نے اللہ کی بارگاہ میں فریا د کی: "اے میرے پروردگار! اور اے میرے سید و سردار! میں نے تیری اتنے سال اور اس قدر عبادت کی ہے لیکن تونے مجھے گندگی کے ڈھیر کی بنیادوں میں ڈال دیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس سے ارشاد فرمایا: "کیا تو اس بات پر راضی نہیں ہے کہ میں نے تجھے قاضیوں کی نشست گاہوں سے دور رکھا ہے؟"

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۴۹۹۱

۱۶۸۲۰ ۔ آگ پر رکھے پتھر نے اللہ کی بارگاہ میں اپنی گرمی کی حدت کی شکایت کی، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "چپ رہو! کیونکہ قاضیوں کی نشستگاہیں تجھ سے زیادہ گرم ہیں۔"

(امام جعفر صادق علیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۱۶۰ من لا یحضرہ الفقیہ جلد ۳ ص ۴

۱۶۸۲۱ ۔ محمد بن مسلم کہتے ہیں کہ میں مدینہ کے قاضی کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ اتنے محمد حضرت امام محمد باقر اور حضرت امام جعفر صادق علیہما السلام کا وہاں سے گزر ہوا۔ تو جب میں دوسرے دن امام کی خدمت میں حاضر ہوا تو امام نے مجھ سے پوچھ لیا کہ میں نے تمہیں کل جس مجلس میں بیٹھا ہوا دیکھا تھا وہ کس قسم کی مجلس تھی؟"

میں نے عرض کیا: "آپ کے قربان جاؤں، یہ قاضی میرے لئے نہایت ہی قابل عزت و احترام ہے میں کبھی کبھی اس کے پاس جا بیٹھتا ہوں" امام نے فرمایا: "اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ جب ایسی مجلس پر لعنت نازل ہو تو تم اس سے بچے رہو، کیونکہ لعنت تو تمام اہلِ مجلس کو اپنی لپیٹ میں لے گی۔"

فروع کافی جلد ۷ ص ۴۱۱

( ۹) قاضی کا حساب بہت سخت ہو گا

۱۶۸۲۲ ۔ بروزِ قیامت، عادل قاضی کو لایا جائے گا اور اس سے اس قدر حساب کا سامنا کرنا پڑے گا کہ وہ اس بات کی تمنا کرے گا کہ کاش میں نے دو آدمیوں کے درمیان کبھی کھجور کے ایک دانے کے بارے میں بھی فیصلہ نہ کیا ہوتا!

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۴۹۸۸

۱۶۸۲۳ ۔ قیامت کے دن عادل قاضی پر ایک ایسی سخت گھڑی بھی آئے گی جس میں وہ اس بات کی تمنا کرے گا کہ کاش میں نے دو آدمیوں کے درمیان کھجور کے ایک دانے کے درمیان بھی فیصلہ نہ کیا ہوتا!

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۴۹۸۹

۱۶۸۲۴ ۔ قیامت کے دن عادل قاضی کو لایا جائے گا اور اسے سخت حساب کا سامنا کرنا پڑے گا، جس میں وہ اس بات کی آرزو کرے گا کہ کاش اس نے دو آدمیوں کے درمیان کھجور کے ایک دانے کے بارے میں بھی فیصلہ نہ کیا ہوتا!

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۸ ۔۔ ۱۵

۱۶۸۲۵ ۔ قیامت کے دن قاضی کو بلایا جائے گا اور حساب سے قبل اس قدر ہولناک حالات کا سامنا کرے گا جس سے وہ اس بات کو پسند کرے گا کہ اے کاش اس نے کھجور کے ایک دانے کے بارے میں بھی دو آدمیوں کے درمیان کبھی فیصلہ نہ کیا ہوتا۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۹ ۔۔ ۱۵

(قولِ مولف: اگر بالفرض یہ احادیث صحیح بھی ہوں تو انہیں اس بات پر محمول کیا جائے گا کہ یہ ایسے قاضی کے بارے میں نہیں جس پر قضا واجب نہیں ہوتی۔

نیز: ملاحظہ ہو عنوان "حساب" اور "ولایت" ، "ظالم لوگوں کی ولایت")

( ۱۰) قاضی بننے کی کوشش

۱۶۸۲۶ ۔ جو شخص قاضی بننے کی کوشش کرتا ہے اور سفارشیوں کے سہارے لیتا ہے تو خداوند عالم اسے اس کے اپنے سپرد کر دیتا ہے پھر جس شخص کو قضا کے لئے مجبور کیا جائے تو خداوندِ عالم اس کے لئے ایک فرشتہ بھیج دیتا ہے جو اسے سیدھی راہ پر چلاتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۴۹۹۴ و حدیث ۱۴۹۹۶

۱۶۸۲۷ ۔ جو شخص قاضی بننے کی از خود درخواست کرتا ہے، اسے اس کے اپنے سپرد کر دیا جاتا ہے، اور جسے اس کام کے لئے مجبور کیا جاتا ہے اس پر ایک فرشتہ نازل ہوتا ہے جو اسے سیدھے راستے پر چلاتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۴۹۹۵

۱۶۸۲۸ ۔ حضرت رسول اکرم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی شخص از خود حکم دے اور لوگوں کے درمیان فیصلے کرے، یہ بھی فرمایا کہ جو حکمرانی کی کوشش کرتا ہے اس کی اس بارے میں بھی کوئی امداد نہیں کی جاتی، بلکہ اسے اس کے اپنے سپرد کر دیا جاتا ہے لیکن جسے کسی قسم کی درخواست کئے بغیر حکمرانی مل جاتی ہے اس کی امداد بھی کی جاتی ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) اپنے آباؤ اجداد سے روایت کرتے ہوئے۔

مستدرک الوسائل جلد ۳ ص ۲۰۸

۱۶۸۲۹ ۔ انس بن مالک کہتے ہیں کہ میں نے حضرت رسول خدا کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص قاضی بننے کی کوشش کرتا ہے اور اس بارے میں لوگوں سے مدد کا طالب ہوتا ہے تو خدا اسے اپنے حوالے کر دیتا ہے لیکن جو شخص ایسا کرنے کی نہ تو کوشش کرتا ہے، نہ ہی اس بارے میں کسی سے مدد کا طلبگار ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ایک فرشتہ بھیج دیتا ہے جو اسے سیدھی راہ پر چلاتا ہے۔

سنن ابی داؤد حدیث ۳۵۷۸

قولِ مولف: ملاحظہ ہو باب "ولایت" "والی پر لازم ہے کہ ایسے لوگوں سے کام نہ لے"

نیز باب "خدا اس وقت تک قاضی کے ساتھ ہوتا ہے جب تک وہ جان بوجھ کر فیصلہ نہیں کرتا")

( ۱۱) اسلام میں قاضی کی خصوصیات

۱۶۸۳۰ ۔ مالک اشتر کے نام مکتوب سے اقتباس، جب حضرت امیر نے انہیں مصر کا گورنر بنایا: "پھر یہ کہ لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرنے کے لئے ایسے شخص کو منتخب کرو جو تمہارے نزدیک تمہاری رعایا میں علم، حلم، پرہیزگاری اور سخاوت کے لحاظ سے سب سے بہتر ہو، جو واقعات کی پیچیدگیوں سے ضیق میں نہ پڑ جاتا ہو اور نہ جھگڑا کرنے والوں کے رویہ سے غصہ میں آتا ہو، نہ اپنے کسی غلط نقطہ نظر کے اثبات پر اڑتا ہو، نہ حق کو پہچان کر اس کے اختیار کرنے میں طبیعت پر بار محسوس کرتا ہو، نہ اس کا نفس ذاتی طمع پر چمک پڑتا ہو اور نہ ہی بغیر پوری طرح چھان بین کئے بغیر سرسری طور پر کسی معاملے کو سمجھ لینے پر اکتفا کرتا ہو، شک و شبہ کے موقع پر قدم روک لیتا ہو، دلیل و حجت کو سب سے زیادہ اہمیت دیتا ہو، فریقین میں بحث سے اکتا نہ جاتا ہو، معاملات کی تحقیق میں نہایت صبر وضبط سے کام لیتا ہو اور جب حقیقت واضح ہو جاتی ہو تو بے دھڑک فیصلہ کر دیتا ہو۔ وہ ایسا ہو جس کا ذہن اسے مغرور نہ بنائے، نہ ہی جنبہ داری پر آمادہ کرے، جو کسی قسم کے شور و غوغا پر کان نہ دھرتا ہو۔ لہٰذا فیصلوں کے لئے ایسے لوگوں کو ہی مقرر کرو، اگرچہ ایسے لوگ کم ملتے ہیں۔ پھر یہ کہ تم خود ان کے فیصلوں کا بار بار جائزہ لیتے رہو"

بحارالانوار جلد ۷۷ ص ۲۵۱ بحار جلد ۱۰۴ ص ۲۶۷ شرح ابن ابی الحدید جلد ۱۷ ص ۵۸ نہج البلاغہ مکتوب ۵۳ ( قدرے اختلاف کے ساتھ)

۱۶۸۳۱ ۔ جو فقہ سے کم واقف ہو اسے قاضی بننے کا لالچ نہیں کرنا چاہئے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۱۰۴ ص ۲۶۴

۱۶۸۳۲ ۔ حکم خدا کا نفاذ وہی شخص کر سکتا ہے جو (حق کے معاملہ میں) نرمی نہ برتے، عجز و کمزوری کا اظہار نہ کرے اور حرص و طمع میں نہ پڑے۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۱۰۴ ص ۲۷۲ نہج البلاغہ حکمت ۱۱۰

( ۱۲) قضا کے آداب

۱ ۔ فریقین کو ایک نگاہ سے دیکھنا

۱۶۸۳۳ ۔ سلم بن کہیل کہتے ہیں کہ میں نے سنا کہ حضرت علی علیہ السلام شریح قاضی سے فرما رہے تھے: "مسلمانوں کے درمیان اپنے چہرے، اپنی گفتگو اور نشست و برخاست کے لحاظ سے برابری کا درجہ دو تاکہ جو شخص تمہارے قریب ہے اسے تمہاری طرف سے ظلم کی توقع نہ ہو اور تمہارے مخالف کو تمہارے عدل و انصاف کے بارے میں مایوسی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔"

وسائل الشیعہ جلد ۸ ة ص ۱۵۵

۱۶۸۳۴ ۔ حاکم (قاضی) کو چاہئے کہ فریقین میں سے کسی کی طرف کم اور کسی کی طرف زیادہ توجہ نہ کرے، اپنی نگاہ میں عدل و انصاف کے لحاظ سے سب کو برابر جانے، کسی فریق کو ایسے انداز سے نہ بلائے جس سے دوسرا یہ سمجھے کہ اس کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) مستدرک الوسائل جلد ۳ ص ۱۹۵

۱۶۸۳۵ ۔ جو مسلمانوں کے درمیان قضا کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو رہا ہو اسے چاہئے کہ فریقین کے درمیان نگاہ، اشارے اور نشست و برخاست میں عدل سے کام لے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۵۰۳۲

۱۶۸۳۶ ۔ جو مسلمانوں کے درمیان فیصلہ کرنے کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو رہا ہو اسے چاہئے کہ فریقین میں سے کسی ایک فریق کے لئے اس وقت تک آواز کو بلند نہ کرے جب تک کہ دوسرے کے لئے بھی ایسا ہی نہ کرے۔

(حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کنزالعمال حدیث ۱۵۰۳۳

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۱۵۷)

۲ ۔ فریق مقدمہ کی آواز پر آواز کو بلند نہ کرنا

۱۶۸۳۷ ۔ روایت میں ہے کہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے ابوالاسود دوئلی کو قضا کے منصب پر فائز فرمایا، پھر اسے معزول کر دیا، اس پر ابوالاسود نے حضرت کی خدمت میں عرض کیا: "نہ تو میں نے کسی قسم کی خیانت کی ہے اور نہ ہی کسی جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ پھر آپ نے مجھے کیوں معزول فرمایا ہے؟"

حضرت نے فرمایا "اس لئے کہ تمہاری آواز فریقِ مقدمہ کی آواز پر بلند ہوتی ہے۔"

مستدرک الوسائل جلد ۳ ص ۱۹۷

۳ ۔ مسند قضا پر اکتانا نہ چاہئے

۱۶۸۳۸ ۔ سلمہ بن کہل کہتے ہیں میں نے سنا کہ حضرت امیر علیہ السلام شریح سے فرما رہے تھے: "جس مسند قضا کے لئے اللہ نے حق کے ساتھ فیصلہ کرنے والوں کے لئے اجر کو واجب اور بہترین ذریعہ قرار دیا ہے اس پر بیٹھنے کو دل تنگی و تکلیف کا سبب نہ سمجھو۔"

وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۱۵۵ فروع کافی جلد ۷ ص ۴۱۳

۴ ۔ فریقین کے دلائل سننے سے پہلے فیصلہ نہ کرنا

۱۶۸۳۹ ۔ مجھے پیغمبر اسلام صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قاضی بنا کر یمن کی طرف بھیجا۔ میں نے عرض کیا: "یارسول اللہ! آپ مجھے بھیج تو رہے ہیں جبکہ میں ابھی نوجوان ہوں اور فیصلے کرنا بھی نہیں جانتا!" آنحضرت نے فرمایا: "خدا تمہارے دل کی ہدایت فرمائے گا اور تمہاری زبان میں ثبات عطا کرے گا۔ پھر جب تمہارے سامنے مقدمہ کے دونوں فریق بیٹھ جائیں تو جب تک پہلے فریق کے بعد دوسرے فریق کی باتوں کو نہ سن لو اس وقت تک کوئی فیصلہ نہ کرنا کیونکہ اس طرح تمہارے سامنے مقدمہ کے تمام پہلو کھل کر واضح ہوجائیں گے۔"

حضرت علی فرماتے ہیں: "اس کے بعد میں ہمیشہ فیصلے کرتا رہا اوریااس کے بعد مجھے کسی فیصلے میں کبھی شک نہیں ہوا۔"

(حضرت علی علیہ السلام) سنن ابی داؤد حدیث ۳۵۸۲

۱۶۸۴۰ ۔ جب حضرت رسول خدا نے مجھے یمن کی طرف روانہ فرمایا تو کہا: "جب تمہارے پاس کوئی مقدمہ لایا جائے تو کسی فریق کے حق میں اس وقت تک فیصلہ نہ کرو جب تک کہ دوسرے فریق کے دلائل نہ سن لو" اس کے بعد میں نے جو بھی فیصلہ کیا اس میں مجھے کبھی شک نہیں ہوا۔"

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۱۰۴ ص ۲۷۵

۱۶۸۴۱ ۔ حضرت علی علیہ السلام سے روایت ہے کہ جناب رسول خدا نے فرمایا: "جب تمہارے پاس دو آدمی کوئی مقدمہ لے کر آ جائیں تو پہلے شخص کے بارے میں اس وقت تک فیصلہ نہ کرو جب تک دوسرے کی باتوں کو نہ سن لو کیونکہ اس طرح تمہارے لئے مقدمہ کے تمام پہلو واضح ہو جائیں گے۔"

حضرت علی فرماتے ہیں: "اس کے بعد میں ہمیشہ فیصلے کرتا رہا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی آپ کے حق میں دعا کرتے ہوئے فرمایا: "خداوندا! علی کو فیصلے کرنا سمجھا دے!"

من لا یحضرہ الفقہ جلد ۳ ص ۷

۱۶۸۴۲ ۔ حضرت رسول خدا نے فرمایا: "جب تمہارے پاس مقدمہ کے دونوں فریق آ جائیں تو کسی کے حق میں اس وقت تک فیصلہ نہ کرنا جب تک کہ دوسرے کی بات نہ سن لو، کیونکہ اس طرح تم حق کو اچھی طرح جان لو گے۔"

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۱۰۰ ص ۲۷۷ کنزالعمال حدیث ۱۵۰۲۴

۱۶۸۴۳ ۔ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا: "جب تمہارے پاس دو شخص فیصلہ کروانے کے لئے آئیں تو کسی کے بارے میں اس وقت تک فیصلہ نہ کرو جب تک دونوں فریقوں کی باتوں کو نہ سن لو، کیونکہ اس طرح تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کیونکر فیصلہ کرنا ہے۔"

حضرت علی فرماتے ہیں: "اس کے بعد میں ہمیشہ اسی طرح فیصلے کرتا رہا۔"

کنزالعمال حدیث ۱۵۵۰۲۳

قولِ مولف: ملاحظہ ہو وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۱۵۸ باب ۴

۵ ۔ غصے میں فیصلہ نہ کرو

۱۶۸۴۴ ۔ جسے قضا سے دوچار ہونا پڑے اسے چاہئے کہ غصہ کی حالت میں کوئی فیصلہ نہ کرے۔

(حضرت رسول اکرم) فروع کافی جلد ۷ ص ۴۱۳

۱۶۸۴۵ ۔ حضرت علی علیہ السلام نے شریح قاضی سے فرمایا: "مسند قضا پر بیٹھ کر کسی سے مشورہ یا سرگوشی نہ کرو۔ اگر کسی بات پر غصہ آ جائے تو کھڑے ہو جاؤ اور غصہ کی حالت میں کوئی فیصلہ نہ کرو۔"

وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۱۵۶

۱۶۸۴۶ ۔ غصہ کی حالت میں قاضی کو دو آدمیوں کے درمیان کبھی فیصلہ نہیں کرنا چاہئے۔

(حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کنزالعمال حدیث ۱۵۰۳۰ حدیث ۱۵۰۲۸

۶ ۔ غنودگی کی حالت میں فیصلہ نہ کرو

۱۶۸۴۷ ۔ روایت میں ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے رفاعہ سے فرمایا: "غصہ کی حالت میں کبھی فیصلہ نہ کرو اور نہ ہی نیند کی وجہ سے غنودگی کی حالت میں فیصلہ کرو"

(حضرت علی علیہ السلام) مستدرک الوسائل جلد ۳ ص ۱۹۵

۱۶۸۴۸ ۔ رسول خدا سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: "قاضی کو نہ تو غصہ کی حالت میں فیصلہ کرنا چاہئے، نہ ہی بھوکے پیٹ اور نہ ہی اونگھ کی حالت میں"

مستدرک الوسائل جلد ۳ ص ۱۹۵

۷ ۔ بھوک اور پیاس کی حالت میں فیصلہ نہ کرو

۱۶۸۴۹ ۔ جب تک قاضی سیر اور سیراب نہ ہو اس وقت تک اسے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہیں کرنا چاہئے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۵۰۴۰

۱۶۸۵۰ ۔ روایت ہے کہ مولا امیرالمومنین علیہ السلام نے قاضی شریح سے فرمایا "جب تک کھانا نہ کھا لو اس وقت تک مسند قضا پر نہ بیٹھو۔"

وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۱۵۷ من لا یحضرہ الفقیہ جلد ۳ ص ۸ تہذیب الاحکام ص ۲۲۹

فروع کافی جلد ۷ ص ۴۱۳ ۔ اور اسی کتاب میں ہے "ہرگز نہ بیٹھو"

۸ ۔ فریقین میں کسی کو اپنا مہمان نہ ٹھہراؤ

۱۶۸۵۱ ۔ ایک شخص حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے پاس مہمان بن کر آیا اور کئی دن تک آپ کے گھر ٹھہرا رہا۔ ایک مرتبہ وہ ایسا مقدمہ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا جس کا اس نے اس سے پہلے آپ سے تذکرہ نہیں کیا تھا۔ امام نے اس سے پوچھا: "تم فریقِ مقدمہ ہو؟" اس نے کہا: "جی ہاں!" آپ نے فرمایا: "ہمارے پاس سے چلے جاؤ کیونکہ رسول پاک نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کسی فریق کو مہمان ٹھہرایا جائے جب تک کہ اس کے ساتھ دوسرا فریق بھی موجود نہ ہو۔"

وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۱۵۷ ، من لا یحضرہ الفقیہ جلد ۳ ص ۷ فروع کافی جلد ۷ ص ۴۱۳

۹ ۔ مسند قضا پر بیٹھ کر کسی سے سرگوشی نہ کرو

۱۶۸۵۲ ۔ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے قاضی شریح سے فرمایا: "مسند قضا پر بیٹھ کر کبھی کسی سے سرگوشی نہ کیا کرو۔"

فروع کافی جلد ۷ ص ۴۱۳ ، من لا یحضرہ الفقیہ جلد ۳ ص ۷ تہذیب الاحکام ص ۲۲۷

۱۰ ۔ داہنی طرف سے کلام کا آغاز کرو

۱۶۸۵۳ ۔ حضرت رسول خدا نے حکم دیا ہے کہ مسند قضاکے داہنی طرف بیٹھنے والوں سے کلام کا آغاز کرنا چاہئے۔

(امام محمد باقر علیہ السلام) من لا یحضرہ الفقیہ جلد ۳ ص ۷

۱۶۸۵۴ ۔ حسن بن محبوب حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "جب تم فریقِ مخالف کے ساتھ والی یا قاضی کے پاس جاؤ تو فریقِ مخالف کے داہنی طرف ہو جاؤ"

من لا یحضرہ الفقیہ جلد ۳ ص ۷

۱۱ ۔ گواہوں کو لقمہ نہ دو

۱۶۸۵۵ ۔ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ قاضی فریقین میں سے کسی کو زیادہ دیکھے، ذہن کو حاضر رکھنے کی وجہ سے طرفداری سے کام لے۔ نیز گواہوں کو لقمہ دینے سے بھی منع فرمایا۔

مستدرک الوسائل جلد ۳ ص ۱۹۵

۱۲ ۔ فیصلہ سنانے سے پہلے خوف غور و فکر سے کام لو

۱۶۸۵۶ ۔ امیرالمومنین علیہ السلام نے قاضی شریح سے فرمایا: "جب تک تم منہ سے بات نہیں نکالو گے تب تک زبان تمہاری غلامی میں رہے گی لیکن جب بات کر لو گے تو پھر تم اس کے غلام بن جاؤ گے، لہٰذا اچھی طرح پیش نظر رہے کہ تم کیا فیصلہ کرتے ہو، کس بارے میں فیصلہ کرتے ہو اور کیونکر فیصلہ کرتے ہو؟"

کنز العمال حدیث ۱۴۴۳۲

۱۶۸۵۷ ۔ قاضی کی زبان دو انگاروں کے درمیان ہوتی ہے انجام کار یا جنت کی طرف یا پھر جہنم کی طرف!

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۴۹۹۲ ، ۱۵۰۰۷

(قولِ مولف: فقہاء کی کتابوں میں قضا کے بارے میں بہت سے آداب مذکور ہیں، اس بارے میں مزید تفصیلات کے لئے جواہرالکلام جلد ۴۰ ص ۷۲ " نظر دوم آداب کے بارے میں" کا مطالعہ کیا جائے)

( ۱۳) سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا

۱۶۸۵۸ ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بارگاہِ ایزدی میں عرض کیا! "پروردگارا! تیرا کون سا بند ہ سب سے اچھا فیصلہ کرتا ہے؟ "خداوند عالم نے فرمایا: "وہ جو لوگوں کے درمیان بھی اسی طرح فیصلے کرتا ہے جس طرح اپنی ذات کے لئے فیصلے کرتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۴۴۲۶۱)

۱۶۸۵۹ ۔ جو شخص اپنی ذات کے بارے میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے، غیروں کے بارے میں بھی اس کے فیصلے کو پسند کیا جاتا ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) محف العقول ص ۲۶۲ ، کافی جلد ۲ ص ۱۴۶ وسائل الشیعہ جلد ۸ ص ۱۵۸

۱۶۸۶۰ ۔ جب تیرا فیصلہ تیری ذات کے متعلق نافذ ہو گا تو لوگوں کے دل بھی تیری عدالت کی طرف کھنچ کر آئیں گے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

(قول مولف: ملاحظہ ہو! مساوات اور "انصاف" ، "اپنی ذات کے بارے میں انصاف سے کام لینا")

نیز: باب "رائے" "بہتری سے نزدیک ترین رائے"

نیز: باب "عدل" باب ("عادل ترین انسان")

( ۱۴) جب تک قاضی جان بوجھ کر ظالمانہ فیصلے نہیں کرتا اللہ اس کے ساتھ ہوتا ہے

۱۶۸۶۱ ۔ معقل بن یسار کہتے ہیں: "مجھے حضرت رسالتماب نے حکم دیا کہ میں اپنی قوم کے درمیان فیصلے کروں تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں کس طرح اچھے انداز میں فیصلے کر سکتا ہوں؟ تو آنجناب نے فرمایا: "جب تک قاضی جان بوجھ کر ظالمانہ فیصلے نہیں کرتا خدا اس کے ساتھ ہوتا ہے" آپ نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی۔

(کنزالعمال حدیث ۱۴۹۹۳)

۱۶۸۶۲ ۔ مسلمانوں قاضیوں میں سے ہر ایک کے ساتھ دو فرشتے ہوتے ہیں جو انہیں اس وقت تک راہِ حق پر چلاتے رہتے ہیں جب تک وہ ناحق کا ارادہ نہیں کرتا لیکن جب وہ ناحق کا ارادہ کر لے تو فرشتے اس سے دور ہٹ جاتے ہیں اور اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۴۹۹۳)

۱۶۸۶۳ ۔ خداوند عالم قاضی کے ساتھ ہوتا ہے جب تک وہ عمداً ظالمانہ فیصلے نہیں کرتا۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۴۹۸۶ ۔ ۱۴ ، ۱۵ ۔ ۱۶ ، ۱۵

۱۶۸۶۴ ۔ اللہ تعالیٰ اس وقت تک قاضی کے ساتھ ہوتا ہے جب تک کہ وہ ظلم و جور سے کام نہیں لیتا۔ جب ظلم و جور سے کام لینے لگتا ہے تو اللہ اسے چھوڑ دیتا ہے اور اسے شیطان اپنے قابو میں لے لیتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۴۹۸۵ ۔ ۱۴۹۸۷

۱۶۸۶۵ ۔ اللہ تعالیٰ کا دستِ قدرت حاکم کے سر پر سایہ رحمت کئے ہوتا ہے، لیکن جب وہ فیصلے میں ظلم کرنے لگتا ہے تو اللہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتا ہے اور خود اس کے ہی حوالے کر دیتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) من لا یحضرہ الفقیہ جلد ۲ ص ۵ تہذیب الاحکام جلد ۶ ص ۲۲۲ فروع کافی جلد ۷ ص ۴۱ ۔ اس کتاب میں "فیصلے میں" کے الفاظ نہیں ہیں۔

( ۱۵) درست و نادرست فیصلہ کرنے والوں کا اجر

۱۶۸۶۶ ۔ جب کوئی حاکم فیصلہ کرنے کے لئے کوشش اور اجتہاد سے کام لیتا ہے اور اس طرح صحیح اور درست فیصلہ کرتا ہے تو اس کے لئے دو اجر ہوتے ہیں، اگر اجتہاد و کوشش کے باوجود صحیح فیصلہ نہیں کر پاتا تو اس کے واسطے صرف ایک اجر ہوتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۴۵۹۷ ۔ بروایت الٰہی ہریرہ و عمرو بن عاص

۱۶۸۶۷ ۔ خوب کوشش و جہاد سے کام لو۔ اگر اس طرح تم صحیح فیصلہ کرو گے تو تمہارے لئے دس نیکیاں ہوں گی اور اگر چوک جاؤ گے تو صرف ایک نیکی ہو گی۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۹, ۱۵ ، بروایت عقبہ بن عامر۔

حدیث ۱۸ ۔ ۱۵ اور حدیث ۲۲ ۔ ۱۵ بروایت عمرو اور ابن عمرو، ۔

۱۶۸۶۸ ۔ عقبہ بن عامر کہتے ہیں: "ایک دن میں پیغمبر اکرم کے پاس حاضر تھا کہ آپ کے پاس مقدمہ کے دو فریق آ گئے آنجناب نے مجھے حکم دیا کہ میں ان کے درمیان فیصلہ کروں۔ میں نے عرض کیا: "اللہ کے نبی! میرے ماں باپ آپ پر قربان جائیں۔ اس بارے میں آپ سب سے بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں!" آنجناب نے دوبارہ ارشاد فرمایا: "تم ہی ان کے درمیان فیصلہ کرو!" میں نے عرض کیا! "یارسول اللہ! میں کس بنا پر فیصلہ کروں؟" فرمایا: "کوشش کرو اگر صحیح فیصلہ کرو گے تو تمہیں دس نیکیاں ملیں گی، اور اگر صحیح فیصلہ نہیں دو گے تو صرف ایک نیکی ملے گی۔"

کنزالعمال حدیث ۱۴۴۲۸

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو: عنوان "رائے" ( ۲) اور عنوان "فتویٰ")

قاضیوں کی اقسام

۱۶۸۶۹ ۔ قاضی چار قسم کے ہوتے ہیں، جن میں سے تین قسم کے لوگ جہنمی ہیں اور صرف ایک قسم کے لوگ جنتی ہیں۔

۱ ۔ ایک شخص وہ ہے جو ظلم کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے۔

۲ ۔ ایک وہ جو ظلم کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے لیکن اس جانتا نہیں یہ بھی جہنمی ہے۔

۳ ۔ ایک وہ جو حق کے ساتھ تو فیصلہ کرتا ہے لیکن اسے جانتا نہیں یہ بھی جہنمی ہے۔

۴ ۔ اور ایک وہ جو حق کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے اور اسے جانتا بھی ہے۔ ایسا شخص جنتی ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحار جلد ۷۸ ص ۲۴۷ جلد ۱۰۴ ص ۲۶۳

ص ۲۶۴ ۔ فروع جلد کافی جلد ۷ ص ۴۰۷

۱۶۸۷۰ ۔ قاضی تین طرح کے ہیں، جن میں سے دو جہنمی اور صرف ایک جنتی ہے۔

۱ ۔ جو قاضی اپنی خواہش کے مطابق فیصلہ کرتا ہے وہ جہنمی ہے۔

۲ ۔ جو قاضی علم کے بغیر فیصلہ کرتا ہے وہ بھی جہنمی ہے اور،

۳ ۔ جو قاضی حق کا فیصلہ کرتا ہے، وہ جنتی ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۴۹۸۱

۱۶۸۷۱ ۔ قاضی تین طرح کے ہیں جس میں سے دو جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں۔

۱ ۔ ایک وہ شخص جو حق کو جانتا اور اس کے تحت فیصلہ کرتا ہے وہ جنتی ہے۔

۲ ۔ ایک وہ جو لوگوں کے درمیان اپنی جہالت کی بنا پر فیصلے کرتا ہے، وہ جہنمی ہے۔

۳ ۔ اور ایک وہ جو حق کو جانتا تو ہے لیکن فیصلے میں ظلم سے کام لیتا ہے ایسا شخص بھی جہنمی ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۴۹۸۰

(قول مولف: ملاحظہ ہو، کنزالعمال حدیث ۱۴۹۸۲ ۔ ۱۵۰۰۳ ۔ ۱۵۰۰۴ ۔)

( ۱۷) کیا عورت قاضی بن سکتی ہے؟

۱۶۸۷۲ ۔ عورت قاضی بن کر لوگوں کے درمیان فیصلے نہیں کر سکتی۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۴۹۲۱)

۱۶۸۷۳ ۔ عورت نہ تو قاضی بن سکتی ہے اور نہ ہی حکمران!

(امام محمد باقر علیہ السلام)۔ (حضرت رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۱۰۴ ص ۲۷۵

۱۶۸۷۴ ۔ عورت نہ تو قضا کو اپنے ذمہ لے سکتی ہے اور نہ ہی حکمرانی کو۔

(امام محمد باقر علیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۱۴ ص ۱۶۲

۱۶۸۷۵ ۔ ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب حضرت حوا کو بہشت سے نکل جانے کا حکم دیا تو فرمایا: "نہ تو میں عورتوں میں کسی کو حاکم بناؤں گا اور نہ ہی کسی کو نبی بنا کر بھیجوں گا"

مستدرک الوسائل جلد ۳ ص ۱۷۲

(قول مولف: ملاحظہ ہو: مستدرک الوسائل جلد ۳ ص ۲۷۲ ۔ بابا "عورت قاضی نہیں بن سکتی"

نیز: وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۶ باب: "عورت قاضی نہیں بن سکتی۔"

نیز: امام مالک، شافعی اور احمد بن خبل فرماتے ہیں: "عورت کا قاضی بننا صحیح نہیں ہے، جبکہ امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں، عورت ہر اس معاملے میں قاضی بن سکتی ہے جس میں عورتوں کی گواہی قابل قبول ہوتی ہو۔ یعنی ہر چیز میں قاضی بن سکتی ہے سوائے حدود ارو زخموں سے متعلق۔

ملاحظہ ہو: "دائرة المعارف فرید وجدی جلد ۷ ص ۸۴۵

( ۱۸) میں تمہارے درمیان ظاہر کے مطابق فیصلے کرتا ہوں

قرآن مجید

( ولاتاکلوا اموالکم………………………وانتم تعلمون ) (بقرہ/ ۱۸۸)

ترجمہ۔ اور آپس میں ایک دوسرے کے اموال ناحق نہ کھا جایا کرو اور نہ ہی یہ اموال بطور رشوت حکام کو اس لئے پیش کرو کہ تم جان بوجھ کر گناہ کرتے ہوئے اس دوات کا کچھ حصہ ہضم کر جاؤ۔

حدیث شریف

۱۶۸۷۶ ۔ میں بھی تو ایک بشر ہی ہوں، ہو سکتا ہے کہ تم میں سے کچھ لوگ اپنی دلیل کو دوسروں کی نسبت اچھے انداز میں پیش کریں، جس کی بناء پر میں اس کے حق میں فیصلہ دے دوں (جبکہ یہ اس کا حق نہ بنتا ہو) ، اس طرح میں اس کے لئے جہنم کے ٹکڑوں میں سے ایک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں گا۔ (کیونکہ میں تو ظاہر کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں)۔

کنزالعمال حدیث ۱۵۰۴۳

۱۶۸۷۷ ۔ دو شخص حضرت رسول خدا کے پاس کچھ ایسی میراثوں اور اشیاء کا مقدمہ لے کر حاضر ہوئے جن کے نشانات مٹ چکے تھے۔ آپ نے فرمایا: "ہو سکتا ہے تم میں سے کوئی شخص اپنا مدعا دوسرے، سے زیادہ اچھے انداز میں پیش کر سکتا ہو اور میں دوسرے کے مال سے اس کے حق میں (ظاہر کے پیش نظر) فیصلہ دے دوں جبکہ اس کا یہ حق نہ بنتا ہو۔ پس میں اس کو جہنم کے ٹکڑوں میں سے ایک ٹکڑا کاٹ کر دے رہا ہوں گا۔"

اس پر دونوں افراد نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! میں نے اپنا حق اپنے ساتھی کو دے دیا۔" آپ نے فرمایا: "ایسا نہ کرو، بلکہ جاؤ اور آپس میں سوچ سمجھ کر فیصلہ کرکے ایک دوسرے میں تقسیم کر دو، پھر ہر ایک دوسرے کو خلال کرکے بخش بھی دے۔"

بحارالانوار جلد ۱۰۴ ص ۳۲۴

۱۶۸۷۸ ۔ حضرت داؤد علیہ السلام ہمیشہ یہ دعا کیا کرتے تھے: "یا اللہ! مجھے لوگوں کے درمیان ایسے فیصلے کرنے کا الہام دیا کر جن کی اصل حقیقت تیری ذات کے نزدیک موجود ہے۔" اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوئی: "داؤد! لوگ اس بات کے متحمل نہیں ہو سکتے"

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۱۴ ص ۵ ، ص ۱۱ حدیث ۱۹

۱۶۸۷۹ ۔ جب حضرت قائمِ آل محمد ظہور فرمائیں گے تو لوگوں کے درمیان حضرت داؤد علیہ السلام کی مانند فیصلے کریں گے اور گواہوں کی ضرورت محسوس نہیں فرمائیں گے۔ خداوند عالم ان کی طرف الہام فرمائے گا اور وہ اسی علم کے مطابق فیصلے کریں گے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۱۴ ص ۱۴

۱۶۸۸۰ ۔ پانچ چیزیں ایسی ہیں جن کے بارے میں قاضی پر واجب ہے کہ وہ ظاہر کے مطابق فیصلے کرے: ۱ ۔ ولایت و سرپرستی ۲ ۔ نکاح ۳ ۔ میراث ۴ ۔ ذبیح ۵ ۔ شہادتیں۔ اگر گواہ بظاہر قابل اطمینان ہوں تو ان کی گواہی قابل قبول ہو گی اور ان کے باطن کے متعلق سوال کرنے کی ضرورت نہیں ہو گی۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۱۰۴ ص ۲۹۲

۱۶۸۸۱ ۔ امراؤ القیس اور حضر موت کا ایک شخص زمین کے بارے میں حضرت رسول خدا کی خدمت میں ایک مقدمہ لے کر حاضر ہوئے، آنحضرت نے (امراؤ القیس سے) فرمایا: "کیا تمہارے پاس گواہ ہے؟" اس نے کہا: "نہیں! " آپ نے فرمایا: "تو پھر یہ شخص قسم کھائے گا!" امراؤ القیس نے کہا: "پھر تو یہ میری زمین لے جائے گا" آپ نے فرمایا: "اگر وہ تمہاری زمین اپنی قسم کی وجہ سے لے جائے گا تو پھر اس کا شمار ایسے لوگوں میں ہو گا جن کی طرف خداوند عالم بروز قیامت نظر (رحمت) نہیں فرمائے گا، نہ ہی انہیں گناہوں سے پاک فرمائے گا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہو گا۔" یہ سن کر وہ شخص گھبرا گیا اور زمین امراؤ القیس کو لوٹا دی۔

تنبیہ الخواطر ص ۴۰۵

قول مولف: ملاحظہ ہو: وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۱۶۹ باب ۲

( ۱۹) قاضی کے غلط فیصلہ کا خمیازہ

۱۶۸۸۲ ۔ اصبغ بن نباتہ کہتے ہیں کہ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے حکم دیا کہ قاضی اگر قصاص اور دیت کے بارے میں قتل و عضو کاٹنے کے فیصلے میں غلطی کرے گا تو اس کی تلافی مسلمانوں کے بیت المال سے کی جائے گی۔

وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۱۶۵ ، من لا یحضرہ الفقیہ جلد ۳ ص ۵

۱۶۸۸۳ ۔ حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام نے فتاویٰ میں علماء کے مختلف الآراء ہونے کی مذمت میں فرمایا: "جب ان میں سے کسی ایک کے سامنے کوئی معاملہ فیصلہ کے لئے پیش کیا جاتا ہے تو وہ اپنی رائے سے اس کے متعلق حکم لگا دیتا ہے، پھر وہی مسئلہ بعینہ دوسرے کے سامنے پیش ہوتا ہے تو وہ پہلے کے حکم کے خلاف حکم دیتا ہے۔ پھر یہ تمام کے تمام قاضی اپنے اس خلیفہ کے پاس جمع ہوتے ہیں جس نے انہیں قاضی بنا رکھا ہوتا ہے وہ سب کی رائے کو صحیح قرار دیتا ہے، حالانکہ ان کا اللہ ایک، نبی ایک اور کتاب ایک ہے (انہیں غور تو کرنا چاہئے) کیا اللہ نے انہیں اختلاف کا حکم دیا تھا اور یہ اختلاف کرکے اس کا حکم بجا لاتے ہیں یا اس نے تو حقیقتاً اختلاف سے منع فرمایا ہے اور یہ اختلاف کرکے عمداً اس کی نافرمانی کرنا چاہتے ہیں، یا یہ کہ اللہ نے دین کو ادھورا چھوڑ دیا تھا اور ان سے تکمیل کے لئے ہاتھ بٹانے کا خواہشمند ہوا تھا؟

شرح ابن ابی الحدید جلد اول ص ۲۸۸ ۔ نہج البلاغہ خطبہ ۱۸

۱۶۸۸۴ ۔ عمر بن اذینہ جو حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں، کہتے ہیں کہ میں ایک عبدالرحمٰن بن ابی لیفیٰ کے پاس کوفہ گیا جو ان دنوں کوفہ کا قاضی تھا میں اس زمانہ میں بالکل نوجوان تھا۔ میں نے اس سے کہا: "خدا آپ کا بھلا کرے، میں آپ سے چند مسائل پوچھنا چاہتا ہوں۔" اس نے کہا: "بھتیجے! جو تمہارا جی چاہے پوچھو!" کہا: "آپ مجھے اپنے جیسے قاضی صاحبان کے بارے میں بتائیں جن کے پاس مال، ناموس اور قصاص کے طور پر قتل کے بارے میں کوئی مقدمہ پیش ہوتا ہے، اس بارے آپ اپنی رائے کے مطابق فیصلہ کرتے ہیں اور یہی مقدمہ بعینہ مکہ کے قاضی کے پاس جاتا ہے تو وہ اپنی رائے کے مطابق فیصلہ کرتا ہے جو آپ کے فیصلہ سے مختلف ہوتا ہے۔ پھر اگر وہ بصرہ کے قاضی کے پاس جاتا ہے تو وہ اس سے مختلف فیصلہ کرتا ہے۔ اسی طرح یمن اور مدینہ کے قاضیوں کے پاس جاتا ہے تو وہ ان سب کے برعکس فیصلہ دیتے ہیں۔ پھر جب تم سب اپنے خلیفہ کے پاس اکٹھے ہوتے ہو جس نے تمہیں قاضی بنایا ہے اور اپنے اپنے فیصلوں سے اسے باخبر کرتے ہو تو وہ تم سب کے فیصلوں کو درست قرار دیتا ہے۔ حالانکہ تمہارا خدا ایک، پیغمبر ایک اور دین ایک ہے۔ تو کیا خدا نے تمہیں اس اختلاف کا حکم دیا ہے کہ اس کی فرمانبرداری کر رہے ہو؟ یا اس نے ایسا کرنے سے منع فرمایا ہے اور تم اس کی نافرمانی کرتے ہو، یا تم فیصلہ کرنے میں خدا کے شریک ہو کہ تم جو فیصلے کرتے جاؤ وہ ان پر راضی ہوتا رہے، یا پھر اللہ نے دین کو ناقص بھیجا ہے اور تمہارے ذمہ اس کی تکمیل کا کام لگایا ہے؟ اس نے تو دین کو کامل کر دیا ہے لیکن کیا رسول خدا اس کی بجاآوری میں کوتاہی کر چکے ہیں یا تم لوگ کچھ اور کہنا چاہتے ہو؟"

اس نے مجھ سے پوچھا: "اے جوان! تم کہاں کے رہن والے ہو؟" میں نے کہا: "بصرہ کا" "کونسے قبیلے سے؟" میں نے کہا: "عبدالقیس سے!" پوچھا "عبدالقیس کی کونسی شاخ ہے؟" میں نے کہا: "بنی اذینہ سے!" فرمایا: "عبدالرحمن بن اذینہ سے تمہاری کیا رشتہ داری ہے؟" عرض کیا: "وہ میرے جد امجد ہیں!"

یہ سن کر اس نے بڑی آؤ بھگت کی، مجھے اپنے قریب بلا لیا، اور کہا: "جوان! تم نے بڑے سخت سوالات کئے ہیں اور کافی انہماک و حیران طریقے سے پوچھا ہے۔ میں بھی انشاء اللہ تمہیں ان کا جواب ضرور دوں گا سنو! تم نے فیصلوں کے اختلاف کے بارے میں سوال کیا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جن چیزوں کے بارے میں کتاب اللہ اور سنت رسول میں کوئی اصل موجود ہے تو ایسے مسائل میں ہم کتاب و سنت سے روگردانی نہیں کر سکتے، لیکن جن کے بارے میں نہ تو کتاب میں کوئی چیز موجود ہے اور نہ ہی سنت میں اس کا تذکرہ ملتا ہے، تو ہم وہاں اپنی رائے پر عمل کرتے ہیں۔"

میں نے کہا: "پھر تو آپ نے کچھ بھی نہ کیا، اس لئے کہ خداوند عالم عز و جل فرماتا ہے:( مافرطن فی الکتٰب من شیٴ ) یعنی ہم نے کتاب (قرآن) میں کوئی چیز بھی نہیں چھوڑی (سب کا ذکر کردیا ہے)، اور آپ کہتے ہیں وہ کتاب میں نہیں ہے۔ اسی طرح خداوند عالم ہی فرماتا ہے( فیه تبیان کل شیٴ ) یعنی اس (قرآن) میں ہر چیز کو بیان کر دیا گیا ہے"

بحارالانوار جلد ۱۰۴ ص ۲۷۰ ( مکمل کلام کا مطالہ کیا جائے)

۱۶۸۸۵ ۔ میں نے دیکھا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے جو بھی فیصلہ کیا اس کی اصل سنت رسول میں ضرور موجود ہے۔ حضرت علی فرمایا کرتے تھے: "اگر میرے پاس دو آدمی کوئی مقدمہ لے کر آئیں اور میں ان کے درمیان فیصلہ کر دوں اور پھر وہی لوگ وہی مقدمہ ایک عرصہ دراز اور کئی سالوں کے بعد لے آئیں پھر بھی میں وہی فیصلہ کروں گا جو پہلے کر چکا ہوں، اس لئے کہ فیصلے کبھی بدلا نہیں کرتے۔"

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۲ ص ۱۷۲

۱۶۸۸۶ ۔ (حضرت علیہ السلام، محمد بن ابی بکر کے نام ایک خط میں فرماتے ہیں)

"ایک ہی نوعیت کے کسی مقدمہ میں دو طرح کے مختلف فیصلے نہ کیا کرو، ورنہ تمہارا اپنا معاملہ مختلف ہو جائے گا اور تم راہِ حق سے ہٹ جاؤ گے"

بحارالانوار جلد ۱۰۴ ص ۲۷۵

( ۲۱) قضا کے متعلق مجلس شوریٰ

۱۶۸۸۷ ۔ میں عرض کیا: "یارسول اللہ! اگر کوئی ایسا معاملہ مجھے درپیش ہو جس کے بارے میں کوئی حکم نہ نازل ہوا وہ اور نہ ہی سنت میں موجود وہ تو آپ کیا حکم دیتے ہیں؟" آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "مومن فقہاء اور عابدین کی ایک مجلس شوریٰ تشکیل دو اور کسی ایک خاص رائے کے مطابق فیصلہ نہ کرو۔"

(حضرت علی علیہ السلام) کنزالعمال حدیث ۱۴۴۵۶

۱۶۸۸۸ ۔ "میری امت کے بدترین لوگ وہ ہیں جو قضا کے منصب پر فائز تو ہو جاتے ہیں لیکن جب ان کے لئے کوئی مقدمہ مشتبہ ہو جاتا ہے تو کسی سے مشورہ نہیں کرتے۔ اگر صحیح فیصلہ کرتے ہیں تو اترانے لگ جاتے ہیں۔ اور اگر غصہ کی حالت میں ہوتے ہیں تو سختی کا برتاؤ کرتے ہیں۔"

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۴۹۹۰

۱۶۸۸۹ ۔ جس چیز کے بارے میں مجھ پر کوئی حکم نازل نہیں ہوا، اس لئے میں تمہارے درمیان اپنی رائے کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں۔"

(حضرت رسول اکرم) سنن ابی داؤد حدیث ۳۵۸۵

۱۶۸۹۰ ۔ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے رفاعہ کے نام مکتوب سے اقتباس جب آپ نے اسے اھواز کا قاضی مقرر فرمایا: "مقدمہ کا فیصل ہکرنے میں کسی سے مشورہ نہ لیا کرو کیونکہ مشورہ یا تو جنگ کے بارے میں ہوتا ہے یا فوری طور پر درپیش آنے والے مصلحت پر مبنی امور میں، جبکہ دین رائے کے ساتھ نہیں بلکہ اتباع کے ساتھ ہوتا ہے۔"

مستدرک الوسائل جلد ۳ ص ۱۹۵

۱۶۸۹۱ ۔ جب حاکم (فیصلہ کرنے والا) اپنے دائیں بائیں بیٹھنے والوں سے پوچھتا ہے کہ وہ اس بارے میں کیا کہتے ہیں یا اس سلسلہ میں ان کی کیا رائے ہے تو اس پر اللہ، ملائکہ اور تمام لوگوں کی لعنت ہوتی ہے وہ خود مسند سے اٹھ کر انہیں اپنی جگہ پر کیوں نہیں بٹھا دیتا؟"

(امام جعفر صادق علیہ السلام) من لا یحضرہ الفقیہ جلد ۳ ص ۷

قولِ مولف: ملاحظہ ہو باب "شوریٰ" "شوریٰ وہاں ہوتا ہے جہاں کوئی فیصلہ نازل نہیں ہوا ہوتا۔"

( ۲۲) عدالتِ عالیہ

۱۶۸۹۲ ۔ جب حضرت امیر علیہ السلام نے شریح کو منصب قضا پر فائز کیا تو اس پر یہ خود حضرت کو شرط عائد فرمائی کہ اس وقت تک کسی فیصلہ کا اجرا نہیں کر سکتا جب تک وہ فیصلہ نہ دکھا دے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۶ ص ۱۸

فروع کافی جلد ۷ ص ۴۰۷ تہذیب الاحکام جلد ۶ ص ۲۱۷

۱۶۸۹۳ ۔ سلمہ بن کہیل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی سے سنا کہ آپ شریح قاضی سے فرما رہے تھے: "تم کسی قصاص یا حدودِ الٰہی میں سے کسی حد یا مسلمین کے حقوق میں سے کسی حق کے بارے میں اس وقت تک کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے جب تک کہ اسے پہلے مجھے نہ دکھا دو۔"

وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۱۵۶

( ۲۳) قاضی کب سے بنائے جانے لگے!

۱۶۸۹۵ ۔ ابن شہاب، سعید بن مسیب سے روایت کرتے ہیں: "نہ تو حضرت رسول خدا نے باقاعدہ محکمہ قضا کھول کر قاضی مقرر کیا تھا نہ حضرت ابوبکر  ، اور حضرت عمر  نے، لیکن جب ان کی خلافت کا نصف زمانہ گزر چکا تو یزیدین اخت نمر سے کہا کہ تم بعض یعنی چھوٹے چھوٹے امور میں میرا ہاتھ بٹایا کرو۔"

کنزالعمال جلد ۵ ص ۸۱۴ ، نیز ص ۱۵ بھی ملاحظہ ہو

( ۲۵) قضا کے متعلق متفرق احادیث

۱۶۸۹۶ ۔ طمع قضا کی آفت ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۶۸۹۷ ۔ سب سے زیادہ دردناک چیز، قاضیوں کا ظن سے کام لینا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۶۸۹۸ ۔ صرف ظن و گمان پر اعتماد کرتے ہوئے فیصلہ کرنا انصاف نہیں ہوتا۔

(حضرت علی علیہ السلام) شرح ابن ابی الحدید جلد ۱۹ ص ۴۲ نہج البلاغہ حکمت ۲۲۰

۱۶۸۹۹ ۔ حضرت رسول خدا نے فرمایا: "گواہ مدعی کے ذمہ ہیں اور قسم مدعا علیہ کے اوپر"

(امام جعفر صادق علیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۱۷۰

۱۶۹۰۰ ۔ غیرحاضر پر مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔

(حضرت علی علیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۲۱۷

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو، وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۱۷۰ باب ۳

نیز: وسائل الشیعہ جلد ۱۸ ص ۲۱۶ باب ۲۶


فصل ۱۹

قلب (دل) ( ۱)

۱۶۹۰۱ ۔ "دل تر" کو "قلب" اس لئے کہتے ہیں کہ اس میں تغیر و تبدل ہوتا رہتا ہے، اس کی مثال یوں سمجھئے جیسے ایک بیابان میں کسی پرندے کا پر کسی درخت کے تنے کے ساتھ لٹکا ہوا ہو اور ہوا اسے اوپر نیچے یا آگے پیچھے کرتی رہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۲۱

۱۶۹۰۲ ۔ دل آنکھوں کا صحیفہ ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) شرح ابن ابی الحدید جلد ۲۰ ص ۴۶ ۔ بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۳۲۸ ۔ جلد ۷۸ ص ۱۳

۱۶۹۰۳ ۔ دل زبان کا خزانچی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۶۹۰۴ ۔ دل حکمت کا سرچشمہ اور کان حکمت کو وہاں تک پہنچانے کا ذریعہ ہوتے ہیں،

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۶۹۰۵ ۔ جب دل (حکمت سے) خالی ہو تو جسم کی لمبائی چوڑائی بیکار ہوتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۶۹۰۶ ۔ عقل کا ٹھکانہ دماغ ہوتا ہے اور سختی اور نرمی دل میں ہوتی ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۸ ص ۲۵۴

(از مترجم۔ اس مقام پر علامہ طباطبائی رحمة اللہ علیہ کی تفسیر "المیزان" سے ایک طویل فلسفی گفتگو نقل کی گئی ہے، اختصار کی غرض سے ہم یہاں پر اسے ذکر نہیں کر رہے۔ جو حضرات مطالعہ کرنا چاہتے ہیں وہ جلد ۲ ص ۲۲۳ تا ص ۲۲۵ میں ملاحظہ فرما سکتے ہیں)۔

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو، بحارالانوار جلد ۷ ص ۳۴ و ص ۳۷ " قلب کے معنی کے بارے میں علامہ مجلسی کا بیان"

نیز: ملاحظہ ہو: المجحة البیضأ جلد ۵ ص ۴ " نفس، روح، عقل اور قلب کے معانی اور ان اسماء سے کیا مراد ہے!"

( ۲) دل جسم کا امام ہے

۱۶۹۰۷ ۔ دل کو جسم سے وہی نسبت ہے جو امام کو عوام سے ہوتی ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷ ص ۵۳

۱۶۹۰۸ ۔ جب کسی انسان کا دل پاکیزہ ہوتا ہے تو اس کا جسم بھی پاکیزہ ہوتا ہے، اور جب دل پلید ہوتا ہے تو جسم بھی پلید ہوتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۲۲۲ ، خصائل صدوق  حدیث ۱۱۰ بحارالانوار جلد ۷۰ ص ۵۰

۱۶۹۰۹ ۔ انسان کے اندر گوشت کا ایک ٹکڑا ہوتا ہے ۔ اگر یہ صحیح سالم ہو تو باقی جسم بھی صحیح سالم ہوتا ہے، اگر یہ بیمار ہو تو باقی جسم بھی بیمار ہوتا ہے۔ وہ ہے "دل"،

(حضرت رسول اکرم) خصال صدوق ص ۱۰۹

۱۶۹۱۰ ۔ یقیناً انسان کے اندر گوشت کا ایک ٹکڑا ہے کہ جب تک وہ صحیح رہتا ہے تو باقی جسم بھی صحیح رہتا ہے اور اگر یہ بیمار ہو جائے تو پھر باقی جسم بھی تندرست نہیں رہتا۔ وہ اس کا دل ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۲۲۳

۱۶۹۱۱ ۔ دل بادشاہ ہے اور اس کا ایک لشکر ہے۔ جب بادشاہ صحیح و سالم ہو تو باقی لشکر بھی صحیح و سالم ہوتا ہے اور اگر بادشاہ بگڑ جائے تو لشکر میں خرابی پیدا ہو جاتی ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۰۵ ، ۲۰۶ ،

( ۳) انسان کا دل نہایت تعجب انگیز شے ہے

۱۶۹۱۲ ۔ انسان میں سب سے زیادہ عجیب چیز، اس کا دل ہوتا ہے جس میں حکمت کے مواد پائے جاتے ہیں۔ اس میں حکمت و دانائی کے ذخیرے ہیں، نیز اس کے برخلاف بھی صفات پائی جاتی ہیں۔ اگر اسے امید کی جھلک نظر آتی ہے تو طمع اسے ذلت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ جب طمع ابھرتی ہے تو اسے حرص تباہ و برباد کر دیتی ہے۔ اگر ناامیدی اس پر چھا جاتی ہے تو حسرت و اندوہ اس کے لئے جان لیوا بن جاتے ہیں۔ ااگر غضب اس پر طاری ہو تو غم و غصہ شدت اختیار کر لیتا ہے، اگر وہ خوش ہوتا ہے تو حفظِ ماتقدم کو بھول جاتا ہے، اگر اچانک اس پر خوف طاری ہوتا ہے تو فکر و اندیشہ، دوسری قسم کے تصورات سے اسے روک دیتا ہے۔ اگر امن و امان کا دور دورہ ہو تو فریب و دھوکہ اس پر قبضہ کر لیتا ہے۔ اگر اسے کوئی جدید نعمت ملتی ہے تو تکبر اسے گھیرے میں لے لیتا ہے۔ اگر اس پر کوئی مصیبت پڑتی ہے تو بے تابی و بے قراری اسے رسوا کر دیتی ہے۔ اگر وہ مال ودولت حاصل کر لے تو دولت اسے سرکش بنا دیتی ہے۔ اگر فقر و فاقہ میں مبتلا ہو تو مصیبت و ابتلا اسے جکڑ لیتے ہیں۔ اگر بھوک اس پر غلبہ کرتی ہے تو ناتوانی اسے اٹھنے نہیں دیتی۔ اگر شکم پری زیادہ ہو جائے تو یہ اس کے لئے کرب واذیت کا باعث ہوتی ہے۔ ہر کوتاہی اس کیلئے نقصان رسان اور اعتدال سے زیادتی اس کے لئے تباہ کن ہوتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۰ ص ۵۲

قولِ مولف: یہی حدیث قدرے اختلاف کے ساتھ نہج البلاغہ حکمت ۱۰۸ ، نہج السعادہ جلد ۱ ص ۲۸۲ ،

فروع کافی جلد ۸ ص ۲۱ ، غررالحکم اور بحارالانوار جلد ۷۷ ص ۲۸۴ میں تحف العقول سے نقل کی گئی ہے۔

( ۴) دل خداوند سبحان کا ظرف ہے

۱۶۹۱۳ ۔ زمین میں اللہ تعالیٰ کے کچھ ظروف ہیں، اور یاد رکھو کہ وہ دل ہیں، لہٰذا خداوند سبحان و تعالیٰ کے محبوب ترین دل وہ ہیں جو سب سے زیادہ نرم، سب سے زیادہ صاف اور سب سے زیادہ سخت ہوتے ہیں۔ دل نرم ہوتے ہیں دوستوں کے لئے، صاف ہوتے ہیں گناہوں سے اور سخت ہوتے ہیں ذاتِ خداوندِ ذوالجلال کے بارے میں۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۲۰۷ ، ۱۲۲۴ ، ۱۲۲۵

۱۶۹۱۴ ۔ زمین میں خداوندِ عالم کے کچھ ظروف ہیں جن میں سے خدا کے نزدیک محبوب وہ ہوتے ہیں جو سب سے زیادہ صاف، سب سے زیادہ نرم اور سب سے زیادہ سخت ہوتے ہیں۔ وہ ہیں "دل" ان میں سب سے زیادہ نرم اپنے دوستوں اور بھائیوں کے لئے ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ سخت وہ ان کے لئے ہوتے ہیں جو حق کی راہ میں خدا کے لئے کام کرتے ہیں اور کسی کی ملامت سے نہیں ڈرتے سب سے زیادہ صاف وہ ہیں جو گناہوں سے صاف ہوتے ہیں۔

(حضرت رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۷ ص ۶ ، ص ۵۶

( ۵) دل ہی سے اللہ تعالیٰ کا قصد کیا جاتا ہے

۱۶۹۱۵ ۔ دلوں کے ذریعہ اللہ کی ذات کا قصد زیادہ مناسب ہوتا ہے، اعمال کے ذریعہ اعضا کو تھکا کر اللہ تک رسائی حاصل کرنے کی نسبت۔

(امام علی نقی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۸ ص ۳۶۲ جلد ۷۰ ص ۶۰ لیکن اس کتاب سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حدیث حضرت رسول خدا سے مروی ہے،

۱۶۹۱۶ ۔ دلوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا قصد، بدن کے ذریعہ اللہ تک رسائی کے لئے زیادہ بہتر ہے، نیز دلوں کی حرکتیں زیادہ مناسب ہوتی ہیں اعمال کی حرکتوں سے،

(امام جعفر صادق علیہ السلام) مشکواة الانوار ص ۲۵۷

۱۶۹۱۷ ۔ اللہ تعالیٰ نہ تو صورتوں کی طرف دیکھتا ہے نہ تمہارے اموال یا تمہارے اقوال کی طرف، بلکہ صرف تمہارے قلوب اعمال کو دیکھتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) بحار الانوار جلد ۷۷ ص ۸۸ مکارم الاخلاق، امالی شیخ اور تنبیہ الخواطر

۱۶۹۱۸ ۔ خداوند عالم اپنی رحمت سے ہمیں اور تمہیں ان لوگوں میں سے قرار دے جو نیک بندوں کی منزل تک پہنچنے کے لئے دل کے ساتھ کوشش کرتے ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۶۵

( ۶) دل کی قسمیں

۱۶۹۱۹ ۔ دل چار طرح کے ہوتے ہی، ۱ ۔ وہ دل جس میں ایمان ہوتا ہے لیکن قرآن نہیں ہوتا۔ ۲ ۔ وہ دل جس میں ایمان بھی ہوتا ہے اور قرآن بھی۔ ۳ ۔ وہ دل جس میں قرآن ہوتا ہے ایمان نہیں ہوتا۔ ۴ ۔ وہ دل جس میں نہ ایمان ہوتا ہے نہ قرآن۔

پہلی قسم اس کھجور کے پھل کی مانند ہے جس کا ذائقہ تو مزیدار ہوتا ہے مگر اس میں خوشبو نہیں ہوتی دوسری قسم کستوری کی اس تھیلی کی مانند ہے جسے کھولا جائے یا بند رکھا جائے تو پھر بھی خوشبو سے نوازتی ہے۔ جو تیسری قسم ایمان کے پودے کی مانند ہے جس کی خوشبو تو ہوتی ہے لیکن ذائقہ تلخ ہوتا ہے۔ اور جو چوتھی قسم حنطل کے پھل کی مانند ہے جس کی بو بھی خراب اور ذائقہ بھی تلخ ہوتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۷۰ ص ۶۰

۱۶۹۲۰ ۔ دل چار قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جس میں ایمان بھی ہوتا ہے اور نفاق بھی۔ ایک وہ جو الٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جن پر مہر لگی ہوتی ہے۔ اور۔ ایک وہ جو تروتازہ اور نورانی ہوتے ہیں۔

جس دل پر مہر لگی ہوتی ہے وہ منافق کا دل ہوتا ہے۔

جو شاداب و نورانی ہوتا ہے وہ مومن کا دل ہے۔

جو الٹا ہوتا ہے وہ مشرک کا دل ہے۔

جو دل ایمان اور نفاق دونوں کا حامل ہوتا ہے وہ طائف کے باشندوں کے دل تھے، اگر ان میں سے کسی کی موت نفاق کی حالت میں ہوء تو وہ تباہ و برباد ہو گیا اور اگر ایمان کی حالت میں ہوئی تو وہ نجات پا گیا۔

(امام محمد باقر علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۰ ص ۵۱ کافی جلد ۲ ص ۴۲۲ حدیث ۲

۱۶۹۲۱ ۔ دل چار طرح کے ہوتے ہیں۔

ایک چٹیل زمین کی طرح، روشن چراغ کی مانند!

ایک وہ جس پر غلاف پڑے ہوتے ہیں اور وہ غلافوں میں لپٹا ہوتا ہے۔

ایک وہ جو الٹا جھکا ہواور ایک وہ جو چوڑا ہوتا ہے

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۲۲۶

۱۶۹۲۲ ۔ دل تین طرح کے ہوتے ہیں۔

ایک وہ جو الٹے جھکے ہوئے ہوتے ہیں جو خیر کی کسی بھی بات کو یاد نہیں رکھتے اور یہ کافروں کے دل ہیں۔

ایک وہ جن میں سیاہ نقطے ہوتے ہیں جن میں خیر اور شر باہم دست بگریبان رہتے ہیں، جو طاقتور ہوتا ہے وہ دوسرے پر غالب آ جاتا ہے اور

ایک وہ جو کھلے ہوئے ہوتے ہیں جن میں ہمیشہ ایسے چراغ روشن رہتے ہیں جو قیامت تک بجھنے میں نہیں آتے۔ یہ دل مومنین کے دل ہوتے ہیں۔

(حضرت امام محمد باقر علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۰ ص ۵۱ کافی جلد ۲ ص ۴۲۳ حدیث ۳

۱۶۹۲۳ ۔ مومن کا دل ہر طرح سے پاک و صاف ہوتا ہے۔ اس میں چراغ روشن رہتا ہے جبکہ کافر کا دل سیاہ اور الٹا ہوتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۷۰ ص ۵۹

( ۷) بہترین دل

۱۶۹۲۴ ۔ یہ دل (اسرار و حکم کے) ظروف ہیں۔ ان میں بہترین دل وہ ہے جو زیادہ نگہداشت کرنے والا ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ حکمت ۱۴۷ ۔ شرح ابن ابی الحدید جلد ۱۸ ص ۲۴۶ بحار الانوار جلد ۷۸ ص ۱۱

۱۶۹۲۵ ۔ یہ جان لو کہ خداوندِ عالم نے صرف ان دلوں کی تعریف کی ہے جو حکمت کی سب سے زیادہ نگہداشت کرنے والے ہوتے ہیں، نیز کچھ لوگ ایسے ہیں جو حق کی بات پر جلد لبیک کہتے ہیں،

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۶۹۲۶ ۔ دل (اسرار و حکم کے) ظروف ہیں جن میں بہترین دل وہ ہے جو خیر کی زیادہ نگہداشت کرتا ہے،

(حضرت علیہ علیہ السلام) غررالحکم

۱۶۹۲۷ ۔ بافضلیت دل وہ ہوتا ہے جس کی آبیاری فہم و ذکا سے کی جائے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

( ۸) دلوں کے اعراب

۱۶۹۲۸ ۔ دلوں کے اعراب چار قسم کے ہیں، "رفع" (پیش) "فتح" (زبر) "خفض" (زیر) اور وقف (ٹھہراؤ) چنانچہ ان کا "رفع" ذکر الٰہی میں ہے، "فتح" رضائے الٰہی میں ہے "خفض" غیراللہ سے کٹ کر رہنے میں ہے اور ان کا "وقف" خدا کی ذات سے غافل ہو جانے میں ہے

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۰ ص ۵۵

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو: باب "نحو" "اعمال کے اعراب")

( ۹) دل کی سلامتی

قرآن مجید:

( ولا تخزنی یوم یبعثون- یوم لا ینفع مال ولا نبون- الامن اتی الله بقلب سلیم ) ۔ (شعرأ/ ۸۷ تا ۸۹)

ترجمہ۔ اور تو اس دن مجھے رسوا نہ کرنا، جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے، جس دن مال و اولاد کچھ نفع نہ پہنچائیں گے سوائے اس کے جو اللہ کے پاس (بے عیب اور ہر طرح سے صحیح و سالم دل لے کر آئے گا)

( وان من مثیعته لا برٰهیم- اذجاء ربه بقلب سلیم ) ۔ (صافات/ ۸۳ ۔ ۸۴)

ترجمہ۔ اور بے شک ابراہیم بھی اس کے پیروکاروں میں سے تھا۔ جب وہ اپنے پروردگار کے حضور صحیح و سالم دل (قلب سلیم) کے ساتھ حاضر ہوا۔

حدیث شریف

۱۶۹۲۹ ۔ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ "قلب سلیم" کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: "ایسا دل جس میں شک و نفسانی خواہشات نہیں ہوتیں اور ایسا عمل ہے جس میں شہرت طلبی اور ریا نہیں ہوتا۔"

مستدرک الوسائل جلد اول ۱۲

۱۶۹۳۰ ۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول:( الا من اتی الله بقلب سلیم ) (شعرأ/ ۸۹) کے بارے فرمایا : "قلب سلیم وہ ہے جو اپنے رب سے اس حالت میں ملاقات کرے کہ اس میں خدا کے سوا کوئی اور چیز نہ ہو۔ جس دل میں شک یا شرک ہوتا ہے وہ (خدا کی نظروں سے) ساقط ہوتا ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۰ ص ۵۹ ص ۲۳۹

۱۶۹۳۱ ۔ اسی آیت کے بارے میں فرمایا: "وہ دل ہوتا ہے جو دینوی محبت سے سالم ہو۔"

(امام جعفر صادق علیہ السلام) نورالثقلین جلد ۴ ص ۵۸

۱۶۹۳۲ ۔ سچی نیت والا شخص ہی قلب سلیم کا مالک ہوتا ہے کیونکہ ذکر ہونے والے وسوسوں اور اندیشوں سے دل کا بچا رہنا، تمام امور میں نیت کو خدا کے لئے خالص کر دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:( یوم لا ینفع مال ولا نبون… ) جس دن مال اور اولاد کچھ نفع نہ پہنچائیں گے، سوائے اس کے جو اللہ کے پاس بے عیب اور ہر طرح سے صحیح و سالم دل لے کر آئے گا۔ (شعرأ/ ۸۸/۸۹)

(امام جعفر صادق علیہ السلام) نورالثقلین جلد ۴ ص ۵۸

۱۶۹۳۳ ۔ سلامتی کی تلاش جیسا کوئی علم نہیں اور دل کی سلامتی جیسی کوئی سلامتی نہیں۔

(امام محمد باقر علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۸ ص ۱۶۴

۱۶۹۳۴ ۔ قلب سلیم سے ہی سیدھے معانی ظاہر ہوتے ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۶۹۳۵ ۔ جن دلوں کو خواہشات شگافتہ نہ کر سکیں، لالچ داغدار نہ کر سکے اور نعمتیں سنگدل نہ بنا سکیں وہ دل اس قابل ہوتے ہیں کہ حکمت کے ظروف قرار پائیں۔

(حضرت عیسیٰ علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۱۴ ص ۳۲۷

۱۶۹۳۶ ۔ تمہارا دل اس وقت تک سالم نہیں ہو سکتا جب تک کہ تم مومنین کے لئے بھی وہی کچھ پسند نہ کرو جو اپنے لئے پسند کرتے ہو۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۸ ص ۸

۱۶۹۳۷ ۔ صحیح اور سالم ترین قلب وہ ہے جو شبہات و شکوک سے پاک ہو۔

۱۶۹۳۸ ۔ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کی بھلائی چاہتا ہو تو اسے قلبِ سلیم اور اچھا خلق عطا فرما دیتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو: باب "دل کی بیماری"

( ۱۰) اطمینانِ قلب

قرآن مجید

( الذین امنوا………………………تطمئن القلوب ) (رعد/ ۲۸)

ترجمہ۔ جو لوگ ایمان لے آئے ان کے دل یادِ الٰہی سے مطمئن ہوتے ہیں۔ خوب جان لو کہ ذکرِ الٰہی سے ہی دل مطمئن ہوتے ہیں۔

( هوالذی انزل…………………………مع ایمانهم ) (فتح/ ۴)

ترجمہ۔ وہ وہی (خدا) ہے جس نے ایمان والوں کے دلوں میں تسکین نازل فرمائی تاکہ وہ اپنے ایمان کے ساتھ ایمان کو اور بڑھا لیں

( یاتیها الفنس المطمئنة……………………رافیة مرضیة ) (فجر/ ۲۷ ۔ ۲۸)

ترجمہ۔ اے اطمینان پانے والے نفس! اپنے پروردگار کی طرف لوٹ جا، ایسی حالت میں کہ تو راضی اور خوشی اور پسندیدہ ہے

۱۶۹۳۹ ۔ دل حق کی تلاش میں تڑپتا رہتا ہے جب اسے حق مل جاتا ہے تو وہ مطمئن ہو کر قرار پا لیتا ہے" پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: "فمن یرداللہ ان یھدیہ یشرح صدرہ الاسلام" یعنی جب خداوند عالم کسی کی ہدایت چاہتا ہے تو اسلام کے لئے اس کے دل کو کشادہ کر دیتا ہے

(امام جعفر صادق علیہ السلام) مشکوٰة الانوار ص ۲۵۵ ۔ بحارالانوار جلد ۷۰ ص ۵۷ نورالثقلین جلد اول ص ۷۶۶

۱۶۹۴۰ ۔ "دل کو جب تک حق حاصل نہ ہو جائے اس وقت تک وہ اپنے مقام سے گردن تک الٹ پیر کا شکار رہتا ہے۔ جب حق اسے حاصل ہو جاتا ہے تو وہ قرار پا لیتا ہے۔" پھر آپ نے اپنی انگلیوں کو آپس میں ملا کر فرمایا "اس طرح" اس کے بعد اس آیت کو تلاوت فرمایا: "فمن یرداللہ ان یھدیہ یشرح صدرہ الاسلام"

(امام محمد باقر علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۰ ص ۵۷

۱۶۹۴۱ ۔ مومن کی روح کے قبض کرنے کے بارے میں فرمایا: "اور اس کو حضرت محمد، علی، فاطمہ، حسن، حسین اور ان کی ذریت سے باقی آئمہ اطہار علیہم السلام کو مثالی صورت میں دکھایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے: "یہ رسول خدا، امیرالمومنین، فاطمہ زہرا، حسن و حسین اور باقی آئمہ تمہارے دوست ہیں‘ذ جس پر دل اپنی آنکھوں کو کھول دیتا ہے ، پھر رب العزت کی طرف سے ایک ندا دینے والا اس کی روح کو ندا دیتا ہے: "اے وہ نفس کہ جسے محمد و اہل بیتِ محمد سے اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ اپنے رب کی طرف لوٹ جا اس حالت میں کہ تُو، ولایت کے ساتھ خوش ہے۔ اس طرح میری جنت میں داخل ہو جا۔"

اس وقت مومن کے لئے اس بات سے بڑھ کر کوئی اور بات محبوب نہیں ہوتی کہ اس کی روح کو قبض کر لیا جائے اور وہ ندا دینے والے سے جا ملے۔

فروع کافی جلد ۳ ص ۱۲۸

(قول مولف: ملاحظہ ہو: باب "ذکر" ( ۲) باب "ایمان" ، "ایمان اور تسکین" نیز: باب "دین" حدیث ۶۱۸۴)

(۱ ۱) دل کی آنکھیں

۱۶۹۴۲ ۔ بندہ کے چہرے پر دو آنکھیں ہوتی ہیں جن سے وہ دینوی امور کو دیکھتا ہے۔ اسی طرح دل میں بھی دو آنکھیں ہوتی ہیں جن سے وہ اخروی امور کو دیکھتا ہے۔ لہٰذا جب خداوند عالم کو کسی بندے کی بھلائی مقصود ہوتی ہے تو اس کی ان آنکھوں کو کھول دیتا ہے جو اس کے دل میں ہوتی ہیں، اس طرح اسے وہ چیز دکھاتا ہے جن کا اس سے غیب میں وعدہ کر رکھا ہے، اسی لئے وہ عیب کے ذریعے غیب پر ایمان لے آتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۳۰۴۳

۱۶۹۴۳ ۔ یاد رکھو کہ ہر بندہ کی چار آنکھیں ہوتی ہیں: دو آنکھیں تو ایسی ہوتی ہیں جن کے ذریعہ وہ اپنے دین و دنیا کے امور کو دیکھتا ہے، اور دوسری دو آنکھوں سے اپنی آخرت کے امور کو دیکھتا ہے۔ اس طرح وہ ان کے ذریعہ غیب اور اپنی آخرت کے امور کو دیکھتا ہے۔ لیکن اگر وہ ان کے ذریعہ کسی اور چیز کو دیکھتا ہے تو پھر دل اس کو چھوڑ دیتا ہے۔

(امام زین العابدین علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۰ ص ۵۳ ، خصال صدوق  ص ۲۴۰ التوحید ص ۳۶۷

۱۶۹۴۴ ۔ ہمارے شعبوں کی چار آنکھیں ہوتی ہیں، دو سر میں اور دوسری دو دل میں، یہ بھی یاد رکھو کہ باقی دوسرے لوگ بھی اسی طرح ہیں لیکن اللہ نے تمہاری آنکھوں کو کھول دیا ہے اور ان کی آنکھوں کو اندھا کر دیا ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۰ ص ۵۸ نورالثقلین جلد ۳ ص ۵۰۸ ۔

۱۶۹۴۵ ۔ اگر شیاطین اولاد آدم کے دلوں پر نہ منڈلائیں تو وہ بھی حکومت کی زیارت کریں۔

(حضرت رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۷۰ ص ۵۹

۱۶۹۴۶ ۔ (دعائیہ کلمات) "بارالٰہا! مجھے مکمل طور پر مخلوق سے منقطع کرکے اپنی طرف متوجہ فرما! ہمارے دلوں کی آنکھوں کو اپنی ذات کی طرف نگاہ کرنے کی روشنی سے منور فرما! یہاں تک کہ دل کی نگاہیں، نور کے حجابوں کو شگافتہ کرکے تیری عظمت کے معاون تک پہنچ جائیں، اور ہماری روحیں تیری مقدس عزت سے معلق ہو جائیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۹۴ ص ۹۸ ، ص ۹۹

۱۶۹۴۷ ۔ (دعائیہ کلمات) خداوندا! ہمارے دلوں پر پڑے ہوئے شک اور حجاب کے پردے ہٹا دے۔

(امام زین العابدین علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۹۴ ص ۱۴۷

۱۶۹۴۸ ۔ کچھ بعید نہیں کہ دلوں میں چھپی ہوئی خوبیاں غیب کے اسرار پر مطلع ہو جائیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۶۹۴۹ ۔ دل (کی آنکھوں) سے دیکھنے والے اور بصیرت کے ساتھ عمل کرنے والے کے عمل کی ابتدا یوں ہوتی ہے کہ وہ (پہلے ہی) جان لیتا ہے کہ کوئی عمل اس کے لئے فائدہ مند ہے یا نقصان دہ؟ اگر مفید ہوتا ہے تو آگے بڑھتا ہے اور مضر ہوتا ہے تو ٹھہر جاتا ہے

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۵۴

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو: باب "زہد" ، "زہد کے فوائد" ( ۳)

نیز: باب "شیعہ" ، "شیعوں کی صفات" ( ۳)

نیز: باب "موت" ، "جانکنی کے وقت انسان دیکھ رہا ہوتا ہے کہ دو ٹھکانوں میں سے کسی کی طرف جا رہا ہے۔" باب "مرنے والوں کے پاس پیغمبر آتے ہیں"

نیز: باب "معرفت" ( ۳) باب "دل (کی آنکھوں) سے دیکھنا"

نیز: عنوان " ۴۹۶ " ملکوت"

( ۱۲) دل کے کان

۱۶۹۵۰ ۔ دل کے دو کان ہوتے ہیں، ایک میں ایمانی روح اس سے نیکی کی سرگوشی کرتی ہے اور دوسرے میں شطان اس سے برائی کی سرگوشی کرتا ہے۔ ان میں سے جو بھی طاقتور ہوتا ہے دوسرے پر غلبہ حاصل کر لیتا ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۰ ص ۵۳)

۱۶۹۵۱ ۔ دل کے دو کان ہوتے ہیں، ایک میں ایمانی روح اس سے نیکی کی سرگوشی کرتی ہے اور دوسرے میں شیطان اس سے برائی کی سرگوشی کرتا ہے۔ ان میں سے جو بھی طاقتور ہوتا ہے دوسرے پر غلبہ حاصل کر لیتا ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۰ ص ۵۳

۱۶۹۵۱ ۔ دل کے دو کان ہوتے ہیں جب بندہ کسی گناہ کا ارادہ کرتا ہے تو ایمانی روح اسے کہتی ہے کہ "ایسا مت کرو" لیکن شیطان کہتا ہے، ایسا کر ڈال" اگر وہ ایمانی روح پر غالب آ جاتا ہے تو پھر انسان سے وہ روح سلب کر لی جاتی ہے۔

(حضرت رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۷۰ ص ۴۴

۱۶۹۵۲ ۔ ہر ایک دل کے دو کان ہوتے ہیں جن میں ایک پر راہنما فرشتہ مقرر ہوتا ہے اور دوسرے پر فتنہ پرور شیطان۔ ایک کسی کام کا حکم دیتا ہے تو دوسرا اسے روکتا ہے۔ شیطان اسے گناہوں کا حکم دیتا ہے تو فرشتہ اسے باز رکھنے کی کوشش کرتا ہے، خداوند عالم بھی اسی بارے میں فرماتا ہے: "عین الیمین وعن الشمال قعید۔ ما یلفظ من قول الالدیہ رقیب و عتید" دو لینے والے دائیں اور بائیں بیٹھے ہوئے لیتے جاتے ہیں۔ ایک بات بھی تو وہ اپنے منہ سے نہیں نکالتا مگر یہ کہ اس کے پاس ہی نگران تیار و موجود ہوتا ہے (ق/ ۱۱)

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۰ ص ۲۳

۱۶۹۵۳ ۔ ہر مومن کے دل کے دو کان ہوتے ہیں۔ ایک کان میں "وسواس خناس" (شیطان) پھونکیں مارتا ہے اور دوسرے میں ایک فرشتہ پھونکتا ہے، اللہ تعالیٰ اسی فرشتہ کے ذریعے مومن کی تائید فرماتا ہے، اور یہی خداوندِ عالم کا قول ہے: "وایدھم بروح منہ" اور اپنی روح کے ساتھ ان کی تائید کی ہے۔

۱۶۹۵۴ ۔ ہارون بن خارجہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: "بعض اوقات میں بلا کسی وجہ کے اپنے دل میں خوش ہوتا ہوں۔ یہ خوشی نہ تو مال کے بارے میں ہوتی ہے، نہ ہی کسی دوست کے بارے میں۔ اسی طرح اپنے دل میں غم و اندوہ کا احساس کرتا ہوں جو بغیر کسی وجہ کے حاصل ہوتا ہے یعنی نہ تو مال کے بارے میں ہوتا ہے نہ ہی دوست کے سلسلے میں اس کی کیا وجہ ہے؟

امام علیہ السلام نے فرمایا: "ہاں! اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ شیطان، دل کے پاس جا کر کہتا ہے کہ: اگر اللہ کے نزدیک تیری کوئی اچھائی ہوتی تو اللہ تعالیٰ تیرے دشمن کو تجھ پر برتری نہ دیتا، نہ ہی تجھے اس کا محتاج بناتا، کیا تو بھی ان جیسے لوگوں سے توقع رکھتا ہے جن کی میں نے تجھ سے پہلے لوگوں سے توقع رکھی تھی۔ انہوں نے اس بارے میں کوئی بات کی تھی؟"

یہی وجہ ہے کہ انسان کسی وجہ کے بغیر غمگین ہو جاتا ہے۔

اسی طرح خوشی کے بارے میں یہ ہے کہ ایک فرشتہ انسان کے دل کے پاس جا کر کہتا ہے:

"اگر اللہ نے تیرے دشمن کو تجھ پر برتری عطا کی ہے اور تجھے اس کا محتاج بنایا ہے، تو یہ صرف چند دنوں کی بات ہے، اور تجھے خدا کی طرف سے اس کی مغفرت و فضل و کرم کی خوشخبری ہو"

یہی خداوندِ عالم کا فرمان ہے:( الیشطٰن یعدکم الفقر و یا مرکم بالفحشأ والله یعدکم مغفرة منه و فضلا )

بحارالانوار جلد ۷۰ ص ۵۶

۱۶۹۵۵ ۔ تمہارا ایک دل ہے جس کے کان ہیں۔ لہٰذا جب اللہ تعالیٰ کو کسی بندہ کی ہدایت مطلوب ہوتی ہے تو اس کے دل کے کان کھول دیتا ہے، اور جب اس کے علاوہ چاہتا ہے تو دل کے کانوں پر مہر لگا دیتا ہے جس سے اس کی صلاحیت ہمیشہ کے لئے ختم ہو جاتی ہے، یہی ہے خداوند عالم کے قول کا مطلب:( ام علی قلوب اقضالها ) کیا ان کے دلوں پر قفل، پڑے ہوئے ہیں۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۵ ص ۲۰۳

۱۶۹۵۶ ۔ اگر تمہارے دلوں میں تردد اور گفتگو میں مبالغہ آرائی نہ ہوتی تو تم بھی وہی کچھ سنتے جو میں سنتا ہوں۔

(حضرت رسول اکرم) الترغیب و الترہیب جلد ۳ ص ۴۹۷ اسے احمد نے روایت کیا ہے۔

۱۶۹۵۷ ۔ "میں وحی و رسالت کا نور دیکھتا تھا اور نبوت کی خوشبو سونگھتا تھا۔ جب آپ پر (پہلے پہل) وحی نازل ہوئی تو میں نے شیطان کی ایک چیخ سنی جس پر میں نے پوچھا: "یا رسول اللہ! یہ آواز کیسی ہے؟" آپ نے فرمایا کہ یہ شیطان ہے جو اپنے پوجے جانے سے مایوس ہو گیا ہے۔ (اے علی!) جو میں سنتا ہوں تم بھی وہی سنتے ہو اور جو میں دیکھتا ہوں وہی تم بھی دیکھتے ہو، فرق اتنا ہے کہ تم نبی نہیں ہو بلکہ (میرے) وزیر و جانشین ہو اور یقیناً بھلائی کی راہ پر ہو۔"

۱۶۹۵۸ ۔ تمہارے درمیان میری مثال ایسے ہے جیسے اندھیرے میں چراغ، کہ جو اس میں داخل ہو وہ اس سے روشنی حاصل کرے۔ اے لوگو! سنو اور یاد رکھو، اور دل کے کانوں کو کھول کر سامنے لاؤ، تاکہ سمجھ سکو۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۸۷

( ۱۳) خوش دلی اور بددلی

۱۶۹۵۹ ۔ دلوں کے لئے رغبت و میلان آگے بڑھنا اور پیچھے ہٹنا ہوتا ہے، لہٰذا ان سے اس وقت کام لو جب ان میں خواہش و میلان ہو، کیونکہ دل کو مجبور کرکے کسی کام پر لگایا جائے تو اسے کچھ سجھائی نہیں دیتا۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۲۱۷ ، جلد ۷۰ ص ۶۱ ، شرح ابن ابی الحدید جلد ۱۹ ص ۱۱

نہج البلاغہ حکمت ۱۹۳

۱۶۹۶۰ ۔ دل کبھی مائل ہوتے ہیں اور کبھی اچاٹ ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا جب مائل ہوں تو اس وقت انہیں مستحبات کی بجاآوری کے لئے آمادہ کرو، اور جب اچاٹ ہوں تو واجبات و فرائض پر اکتفا کرو،

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم، شرح ابن ابی الحدید جلد ۱۹ ص ۲۱۹ ۔ نہج البلاغہ حکمت ۳۱۲

۱۶۹۶۱ ۔ دل کبھی زندہ ہوتے ہیں اور کبھی مر جاتے ہیں، جب زندہ ہوں تو انہیں مستحبات کے لئے سدھاؤ اور جب مر چکے ہوں تو صرف فرائض کو ہی کافی سمجھو،

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۸ ص ۲۷۸

۱۶۹۶۲ ۔ دل کبھی مائل ہوتے ہیں کبھی اچاٹ ہو جاتے ہیں، کبھی ہشاش بشاش ہوتے ہیں اور کبھی سست ہو جاتے ہیں۔ جب مائل ہوتے ہیں تو بصیرت حاصل کرتے ہیں اور سمجھتے بھی ہیں۔ جب اچاٹ ہو جاتے ہیں تو تھک جاتے ہیں اور ملول پڑ جاتے ہیں۔ جب مائل و ہشاش بشاش ہوں تو ان سے کام لو، اور جب اچاٹ و سست ہوں تو انہیں اپنے حال پر چھوڑ دو۔

(امام رضا علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۸ ص ۳۵۴ و ص ۳۵۷

۱۶۹۶۳ ۔ جب دل ہشاش بشاش ہوں تو امانتوں کو ان کے سپرد کرو، ارو جب بدکے ہوئے ہوں تو انہیں جانے دو،

(امام حسن عسکری) بحارالانوار جلد ۷۸ ص ۳۷۷ جلد ۷۰ ص ۶۰

۱۶۹۶۴ ۔ دل بھی اسی طرح اکتا جاتے ہیں جس طرح بدن اکتا جاتے ہیں لہٰذا (جب ایسا ہو تو) ان کے لئے لطیف حکیمانہ نکات تلاش کرو۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ حکمت ۹۱ بحارالانوار جلد ۷۰ ص ۶۱

( ۱۴) دل کی پاکیزگی

قرآن مجید

( انما یریدالله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت ویطهرکم تطهرا ) ۔ (احزاب/ ۳۳)

ترجمہ۔ اے اہل بیت! اللہ تو بس یہی چاہتا ہے کہ وہ تم سے ہر قسم کی نجاست کو دور رکھے اور تمہیں اس طرح پاک رکھے جس طرح پاک رکھنے کا حق ہے۔

(قولِ مولف: مزید آیات کے لئے ملاحظہ ہو: سورہ احزاب/ ۵۳ ، مائدہ/ ۴۱ اور توبہ/ ۱۰۸)

حدیث شریف

۱۶۹۶۵ ۔ اپنے دلوں کو گناہوں کی میل کچیل سے پاک کر دو۔ اس طرح تمہاری نیکیوں میں اضافہ ہو گا۔

(حضرت علی) غررالحکم

۱۶۹۶۶ ۔ خواہشاتِ نفسانی کی میل سے اپنے دلوں کو پاک رکھو، اس طرح تم بلند درجوں تک جا پہنچو گے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۶۹۶۷ ۔ اپنے دلوں کو کینے سے صاف کر دو کیونکہ یہ وبا پھیلانے والی بیماری ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۶۹۶۸ ۔ حضرت موسیٰ بنعمران نے عرض کیا: "پروردگارا! تیرے وہ مخصوص بندے کون ہیں جن پر تو اس دن عرش سے سایہ کرے گا جس دن تیرے سایہ کے علاوہ کوئی اور سایہ نہیں ہو گا؟" اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی: "جن لوگوں کے دل پاک ہوں گے"

(امام زین العابدین علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۶۹ ص ۳۹۱)

۱۶۹۶۹ ۔ بندوں کے پاکیزہ دل ہی نگاہِ پروردگار کا مقام ہوتے ہیں، لہٰذا جن کے دل پاک ہوتے ہیں اللہ بھی انہی کی طرف دیکھتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۶۹۷۰ ۔ جسم کو یہ بات فائدہ نہیں پہنچاتی کہ وہ بظاہر ہو تو اچھا لیکن باطن میں خراب ہو، اسی طرح تمہارے جسموں کے لئے بھی وہ چیز بے فائدہ ہے جس سے تم خوش ہو جبکہ تمہارے دل خراب ہو چکے ہوں، تمہیں یہ بات ہرگز فائدہ نہیں پہنچائے گی کہ اپنی جلد کو تو صاف ستھرا رکھو لیکن دلوں کو میلا کچیلا رہنے دو۔

(حضرت عیسیٰ علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۸ ص ۳۰۸

۱۶۹۷۱ ۔ دعائیہ کلمات: بارِ الٰہا! محمد و آل محمد پر رحمت نازل فرما اور ہمیں ان لوگوں میں قرار دے جن کے لئے تُونے عصمت اولیاء کے پردے بھیجے ہیں، ان کے دلوں کو صفائے باطن کی پاکیزگی سے مخصوص فرمایا ہے، اپنے برگزیدہ بندوں کے مقام و منزلت میں انہیں فہم و حیا سے مزین فرمایا ہے، اور ان کے دل کے تمام ارادوں کو ملکوتِ سماوی کی طرف متوجہ کر دیا ہے کہ ایک حجاب سے دوسرے حجاب میں داخل ہوتے ہیں، حتیٰ کہ ان کا منتہائے مقصود تیری ذات ہی ہوتی ہے

(امام زین العابدین علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۹۴ ص ۱۲۸

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو باب "طہارت" ، "معنوی طہارت")

( ۱۵) کشادہ دلی

قرآن مجید

( فمن یرد الله……………………فی السماء ) (انعام/ ۱۲۵)

ترجمہ۔ پس جسے اللہ تعالیٰ ہدایت فرمانا چاہتا ہے تو اس کے سینے کو اسلام کے لئے کشادہ فرما دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے تو اس کے سینے کو تنگ بنا دیتا ہے، گویا وہ زور لگا کر آسمان کی طرف چڑھ رہا ہو،

( الم نشرح لک صدرک…………………… ) (انشراح/ ۱)

ترجمہ۔ کیا ہم نے تیرے لئے سینے کو کشادہ نہیں کر دیا؟

حدیث شریف

۱۶۹۷۲ ۔ تفسیر مجمع البیان میں ہے کہ صحیح روایت کے مطابق جب یہ آیت "( فمن یردالله ان یهدیه… ) نازل ہوئی تو حضرت رسول خدا سے پوچھا گیا: "شرح صدر کیا چیز ہے؟" آپ نے فرمایا: "یہ ایک خدائی نور ہے جسے اللہ تعالیٰ مومن کے دل میں ڈال دیتا ہے جس سے اس کا سینہ کشادہ ہو جاتا ہے۔"

لوگوں نے عرض کیا: "کیا اس کی کوئی علامت بھی ہے؟" فرمایا: "ہاں! دارالخلا (بہشت) کی طرف رغبت، دارالغرور (دنیا) سے بے رغبتی اور موت کے آ جانے سے پہلے اس کے لئے آمادگی"

(تفسیر مجمع البیان جلد ۴ ص ۳۶۳

۱۶۹۷۳ ۔ عبداللہ بن مسعود کو آنحضرت کی وصیتوں میں سے ایک یہ ہے: "اے ابن مسعود! اللہ تعالیٰ جس کا سینہ اسلام کے لئے کشادہ کر دیتا ہے وہ شخص اپنے رب کے نور کے ساتھ ہوتا ہے کیونکہ جب دل میں نور آ جاتا ہے تو دل کھلا اور کشادہ ہو جاتا ہے۔"

آپ سے پوچھا گیا: "یارسول اللہ! اس کی کوئی علامت بھی ہے؟" فرمایا: "ہاں! دارالغرور (فریب کے گھر یعنی دنیا) سے کنارہ کشی، دارالخلا یعنی بہشت بریں کی طرف رغبت اور موت کے آن پہنچنے سے پہلے اس کے لئے آمادگی۔ پس جو شخص دنیا میں زہد اختیار کرتا ہے وہ اپنی آروزوؤں کو تازہ کر دیتا اور اسے دنیا کے طلبگاروں کے لئے رہنے دیتا ہے۔

بحارالانوار جلد ۷۷ ص ۹۳

۱۶۹۷۴ ۔ مناجات کے الفاظ ہیں: بار الٰہا! ہمیں ان لوگوں میں سے قرار دے جن کے سینوں کے باغات میں تیرے اشتیاق کے درخت بڑی خوبصورتی کے ساتھ اگے ہیںجن کے باطنی عقیدوں سے شک کی تاریکی زائل ہو چکی ہے، جن کے دلوں سے شکوک و شبہات کی خلش دور ہو چکی ہے اور جن کے سینے حقیقی معرفت سے کشادہ و فراخ ہو چکے ہیں۔

(امام زین العابدین علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۹۴ ص ۱۵۰

قولِ مولف: ملاحظہ ہو: باب "حق"، "حق کے قبول کرنے کے لئے سینے کی کشادگی"۔

نیز: باب "زہد"، "زہد کامل"، باب "خیر"، "اللہ جب کسی بندہ کے لئے بہتری چاہتا ہے" حدیث ۵۳۷۵ ۔ ۵۳۷۶ ، باب "نور"، "بصیرت کا نور" ، "عقل" باب "عقل کی کچھ علامتیں" نیز: باب "اطمینانِ قلب"

نیز: تفسیر "در منثور" جلد ۳ ص ۴۴ : " فمن یرداللہ" کی تفسیر۔

( ۱۶) دلوں پر مہر

قرآن مجید

( کذٰلک یطبع الله علی کل قلب متکبر جبار ) (مومن/ ۳۵)

ترجمہ۔ اسی طرح اللہ ہر متکبر سرکش دل پر مہر لگا دیتا ہے۔

( کذٰلک نطبع علی قلوب المعتدین ) (یونس/ ۷۴)

ترجمہ۔ اسی طرح ہم حد سے گزرنے والوں کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں۔

( کذٰلک یطبع الله علی قلوب الذین لا یعلمون ) ۔ (روم/ ۵۹)

ترجمہ۔ جو لوگ نہیں جانتے (یا جاننا نہیں چاہتے) اللہ ان کے قلوب پر اسی طرح مہر لگا دیتا ہے۔

( کذٰلک یطبع الله علی قلوب الکفٰرین ) (اعراف/ ۱۰۱)

ترجمہ۔ اسی طرح اللہ کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے۔

(قولِ مولف: اس بارے میں مزید آیات کے لئے ملاحظہ ہو سورہ نسأ/ ۱۵۵ ، نحل/ ۱۰۸)

حدیث شریف:

۱۶۹۷۵ ۔ مہر عرش کے ایک پائے کے ساتھ لٹکی ہوئی ہے لہٰذا جب بھی کسی طرح کی ہتکِ حرمت ہوتی ہے، گناہوں کا ارتکاب کیا جاتا ہے اور اللہ پر جرات کا مظاہرہ ہوتا ہے تو خداوند عالم مہر کو روانہ فرماتا ہے اور اس شخص کے دل پر لگا دیتا ہے جس سے وہ پھر کبھی کسی کو نہیں سمجھ پاتا۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال، حدیث ۱۰۲۱۳

۱۶۹۷۶ ۔ طبع کو اپنا شعار بنانے سے اجتناب کرو کیونکہ یہ دل کے ساتھ شدید حد تک حرص کو ملا دیتا ہے اور دلوں پر دنیا کی محبت کی مہر لگا دیتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۷۷ ص ۱۸۲

۱۶۹۷۷ ۔ جب عمر بن سعد نے اپنے لشکریوں کو حضرت امام حسین علیہ السلام کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے یکجا آمادہ کیا، اور لشکر نے امام کو ہر طرف سے گھیر لیا تو اس دوران آپ باہر تشریف لائے اور لشکریوں سے مخاطب ہو کر فرمایا: "خاموش ہو کر میری بات سنو!" لیکن وہ چپ نہ ہوئے تو آپ نے فرمایا: "تم پر افسوس ہے، تم خاموش ہو کہ میری بات کیوں نہیں سنتے؟ میں تو تمہیں ہدایت کے رستوں کی طرف بلا رہا ہوں، جبکہ تم میں سے ہر شخص میری نافرمانی کر رہا ہے اور میری بات کو نہیں سنتا، اس لئے کہ تمہارے شکم حرام سے بھر چکے ہیں اور تمہارے دلوں پر مہر لگ چکی ہے"

(بحارالانوار جلد ۷۵ ص ۸)

( ۱۷) دلوں پر مہر

قرآن مجید

( افرأیت من اتخذ…………………………افلاتذکرون ) (جاثیہ/ ۲۳)

ترجمہ۔ کیا تُو نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہشات کو اپنا معبود بنا لیا ہے اور اللہ نے دانستہ اسے گمراہی میں رہنے دیا ہے اس کی سماعت، اس کے دل پر مہر لگا دی، اور اس کی بصارت پر پردہ ڈال دیا ہے۔" پھر اللہ کے سوا اس ہدایت دینے والا کون ہے؟ تو کیا تم پھر بھی نصیحت حاصل نہیں کرو گے؟"

( ختم الله علی قلوبهم……………………………عشاوة ) (بقرہ/ ۷)

ترجمہ۔ اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردے ہیں۔

حدیث شریف

۱۶۹۷۸ ۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول "ختم اللہ" کے بارے میں فرمایا: "ختم" سے مراد کفار کے دلوں پر مہر ہے، جو ان کے کفر کی وجہ سے لگائی جاتی ہے، جیسا کہ خداوند عز و جل فرماتا ہے: "بل طبع اللہ علیہا بکفرھم فلایومنون الاقلیلا" بلکہ اللہ نے ان(دلوں) پر ان لوگوں کے کفر کی وجہ سے مہر لگا دی ہے اور ان میں سوائے چند لوگوں کے ایمان نہیں لاتے۔"

(امام رضا علیہ السلام) نورالثقلین جلد اول ص ۳۳

( ۱۸) ان کے دل تو ہیں لیکن سمجھتے نہیں

قرآن مجید

( ولقدذرا نا لجهنم…………………………هم الغٰفلون ) (اعراف/ ۱۷۹)

ترجمہ۔ اور تحقیق ہم نے بہت سے جن و انس جہنم کے لئے پیدا کئے ہیں، ان کے دل ہیں لیکن وہ سمجھتے نہیں، ان کے آنکھیں ہیں جن سے وہ دیکھتے نہیں، ان کے کان ہیں، جن سے وہ سنتے نہیں، وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں۔ وہی تو ہیں جو غافل ہیں،

( والذین کذبوا……………………………صراط مستقیم ) ۔ (انعام/ ۳۹)

ترجمہ۔ اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا وہ بہرے اور گونگے ہیں جو ظلمتوں میں پڑے ہوئے ہیں، جسے اللہ چاہتا ہے گمراہی میں ڈال دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے صراطِ مستقیم کی ہدایت فرماتا ہے،

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو سورہ بقرہ/ ۱۷۱ ، انعام/ ۲۵ ۔ یونس/ ۴۲)

حدیث شریف

۱۶۹۷۹ ۔ ہر صاحبِ دل عاقل نہیں ہوتا، نہ ہی ہر کان رکھنے والا، گوش شنوا اور نہ ہر آنکھ والا چشمِ بینا رکھتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۸۸ ۔ فروع کافی جلد ۸ ص ۶۴

( ۱۹) دل کا نابیناپن

قرآن مجید

( فانها لا تعمی الابصار ولٰکن تعمی القلوب التی فی الصدور ) (حج/ ۴۶)

ترجمہ۔ پس بے شک آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل جو سینوں کے اندر ہیں جو نابینا ہو جاتے ہیں۔

( ومن کان فی هذه اعمیٰ فهم فی الاخرة اعمیٰ واضل سبیلا ) ۔ (بنی اسرائیل/ ۷۲)

ترجمہ۔ اور جو کوئی اس دنیا میں اندھا ہے وہ آخرت میں بھی اندھا اور گم کردہ راہ ہے۔

حدیث شریف

۱۶۹۸۰ ۔ بدترین اندھاپن، دل کا اندھا ہونا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۷۷ ص ۱۱۴

۱۶۹۸۱ ۔ اندھے کا اندھاپن ہدایت سے گمراہی کا اندھاپن ہے۔ بدترین اندھاپن، دل کا اندھا ہونا ہے

(حضرت رسول اکرم) نورالثقلین جلد ۳ ص ۱۹۷ ۔ ثواب العمال ص ۵۰۸

۱۶۹۸۲ ۔ اندھا تو درحقیقت وہ ہے جس کا دل اندھا ہے کیونکہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل اندھا ہوتا ہے جو سینوں میں ہے۔

(امام محمد باقر علیہ السلام) نورالثقلین جلد ۳ ص ۵۰۸

۱۶۹۸۳ ۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول:( ومن کان فی هذه اعمیٰ فهم فی الاخرة اعمیٰ ) کے بارے میں فرمایا: "آسمان زمین کی تخلیق، رات و دن کا آنا جانا، فلک کا شمس و قمر کے ساتھ گردش کرنا اور عجیب و غریب آیات الٰہی، جس شخص کی اس بات کی طرف راہنمائی نہ کر سکیں کہ ان کے پیچھے ایک ایسا عظیم امر پنہاں ہے جو ان سب سے زیادہ عظیم ہے، تو( فهم فی الاخرة اعمیٰ ) وہ آخرت میں بھی اندھا ہے "اور اس کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو نابینا و گمراہ ہوتے ہیں اور کچھ نہیں دیکھ سکتے۔"

(امام محمد باقر علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۳ ص ۲۸

۱۶۹۸۴ ۔ ایضا، اسی آیت کے بارے میں فرمایا: "یعنی وہ حقائقِ موجودہ سے نابینا ہے"

(امام رضا علیہ السلام) نورالثقلین جلد ۳ ص ۱۹۵

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو: باب "دل کی آنکھیں"

نیز: باب "خوش دلی و بددلی")

( ۲۰) دل کے پردے

قرآن مجید

( کلا بل ران علی قلوبهم ما کانوا یکسبون کلاانهم عن ربهم یومئذلمحجوبون ) ۔ (مطففین/ ۱۴ ۔ ۱۵)

ترجمہ۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کے قلوب ان کے اعمال (بد) کی وجہ سے جو انہوں نے کئے ہیں، زنگ آلود ہیں سچ تو یہ ہے کہ بے شک اس دن وہ اپنے پروردگار سے حجاب میں ہوں گے۔

حدیث شریف

۱۶۹۸۵ ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی: "اے داؤد! خود بھی خبردار رہو اور اپنے ساتھیوں کو بھی خواہشات نفسانی سے خبردار کر دو کیونکہ جن کے دل دنیوی خواہشات سے وابستہ ہوں گے وہ مجھ سے حجاب میں رہیں گے۔

(امام موسیٰ کاظلم علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۸ ص ۳۱۳

۱۶۹۸۶ ۔ جب مومن کوئی گناہ کرتا ہے تو ایک سیاہ نکتہ اس کے دل میں پیدا ہو جاتا ہے لیکن اگر وہ توبہ کرکے گناہ سے دور ہو جائے، استغفار کرے تو اس کا دل صاف کر دیا جاتا ہے، اگر گناہوں میں اضافہ کرتا جائے تو دل کا زنگ آلود نکتہ بھی بڑھتا جاتا ہے، اور اسی چیز کو اللہ تعالٰ نے اپنی کتاب (قرآن مجید) میں یوں ذکر فرمایا ہے:( کلا بل ران علی قلوبهم ما کانوا یکسبون ) (مطففین/ ۱۴)

(حضرت رسول اکرم) تفسیر نورالثقلین جلد ۵ ص ۵۳۲

۱۶۹۸۷ ۔ تمہاری باگ ڈور ہلاکتوں کے ہاتھ میں ہے اور تمہارے دلوں کے دروازوں کو زنگ کے تالوں نے بند کر رکھا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۶۹۸۸ ۔ جب بندہ کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل میں سیاہ نکتہ پیدا ہو جاتا ہے، اگر اس گناہ سے توبہ کر لے تو وہ دھل جاتا ہے لیکن اگر گناہ دوبارہ کرے تو وہ نکتہ پھیل جاتا ہے اور اس کے دل میں بہت بڑا ہو جاتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۰۲۸۷

۱۶۹۸۹ ۔ معاویہ کے نام حضرت امیر علیہ السلام کے مکتوب سے اقتباس "اور خدا کی قسم! جیسا میں جانتا ہوں تم ایسے ہو جس کے دل پر تہیں چڑھی ہوئی ہیں اور جس کی عقل بہت محدود ہے"

نہج البلاغہ مکتوب ۵۸

۱۶۹۹۰ ۔ "اور جو ہٹ دھرمی کرتے ہوئے گمراہی میں دھنستا جائے گا وہ عہدشکن ہو گا، جس کے دل پر اللہ نے مہر لگا دی ہے، اور زمانہ کے حوادث اس کے سر پر منڈلاتے رہیں گے۔"

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ مکتوب ۵۸

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو: باب "معرفت" ( ۲) باب "نور کے حجاب"

نیز: باب "گناہ" ، "گناہوں کے اثرات")

( ۲۱) دل کی کجی

قرآن مجید

( ربنا لا تزغ قلوبنا……………………………انک انت الوهاب ) (آل عمران/ ۸)

ترجمہ۔ اے ہمارے پالنے والے ہمارے دلوں کو کج نہ فرما: بعد اس کے تُونے ہمیں ہدایت کی ہے، اور ہمیں اپنے حضور سے رحمت عطا فرما، بے شک تُو بڑا بخشنے والا ہے۔

( فلمازاغوا ازاغ الله قلوبهم ) (صف ۵)

ترجمہ۔ پس جب انہوں نے کج روی اختیار کر لی تو اللہ نے بھی ان کے دلوں کو ٹیڑھا کر دیا

( فاما الذین فی قلوبهم زیغ فیستبعون ما تشابه منه ) (آل عمران/ ۷)

ترجمہ۔ پس وہ لوگ جن کے دلوں میں کجی ہے وہ متشابہ آیات کی پیروی کرتے ہیں

حدیث شریف

۱۶۹۹۱ ۔ خداوند عز و جل نے صالح لوگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ وہ کہتے ہیں: "ربنا لا تزغ قلوبنا" کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ دل ٹیڑھے ہو جاتے ہیں اور اندھے پن و ہلاکتوں کی طرف لوٹ جاتے ہیں

(امام موسیٰ کاظم علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۸ ص ۳۰۲

۱۶۹۹۲ ۔ فتنوں سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا: "اس دور کے بعد ایک ایسا فتنہ آئے گا جو امن کی سلامتی کو تہ و بالا کرنے والا، تباہی مچانے والا اور خلقِ خدا پر سختی کے ساتھ حملہ کرنے والا ہو گا۔ پس بہت سے دل ٹھہراؤ کے بعد ڈانواڈول اور بہت سے لوگ (ایمان کی) سلامتی کے بعد گمراہ ہو جائیں گے

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۵۱

۱۶۹۹۳ ۔ عورتوں کے ساتھ دل لگی کی باتیں کرنا بلاؤں کا داعی ہوتا ہے اور دلوں کو ٹیڑھا کر دیتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۷ ص ۲۹۱

۱۶۹۹۴ ۔ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کثرت کے ساتھ فرمایا کرتے تھے: "یا مقلب القلوب ثبت قلبی علی دینک" اے دلوں کے الٹ پھیر کرنے والے میرے دل کو اپنے دین (کے امور) میں ثابت اور برقرار فرما

(جابر بن عبداللہ انصاری) کنزالعمال حدیث ۱۶۸۲

(قولِ مولف: اسی چیز پر کنزالعمال کی مندجہ ذیل احادیث بھی دلالت کرتی ہیں: ۱۶۸۴ ۔ ۱۶۸۶ ۔ ۱۶۸۷ ۔ ۱۶۹۴ ۔ ۱۶۹۵ ۔)

( ۲۲) دلوں کا سخت ہو جانا

قرآن مجید

( ثم قست قلوبکم…………………………عما تعملون ) (بقرہ/ ۷۴)

ترجمہ۔ پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت پتھر کی مانند ہو گئے یا اس سے بھی زیادہ سخت، حالانکہ بلاشبہ پتھروں میں سے کچھ (پتھر) ایسے بھی جن سے نہریں جاری ہو جاتی ہیں، اور یقیناً ان میں سے بعض ایسے بھی ہیں کہ جب وہ شق ہوتے ہیں تو ان سے (پانی بہہ) نکلتا ہے، ان میں بعض ایسے بھی ہیں جو خوفِ خدا سے گر پڑتے ہیں اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے غافل نہیں ہے۔

(قولِ مولف: مزید آیات کے لئے ملاحظہ ہو: سورہ آل عمران/ ۱۳ ، انعام/ ۴۳ اور زمر/ ۲۱)

حدیث شریف

۱۶۹۹۵ ۔ خدا کی طرف سے کچھ سزائیں ایسی ہیں جو دلوں اور جسموں کو ملتی ہیں، چنانچہ معیشت میں تنگی، عبادت میں کمزوری بھی سزائیں ہیں، لیکن بندے کو دل کے سخت ہونے کی جو سزا ملتی ہے اس سے بڑھ کر کوئی اور سزا نہیں ہے۔

(امام محمد باقر علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۸ ص ۱۶۴

۱۶۹۹۶ ۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: "کسی دانا کا قول ہے کہ کافر کا دل تو پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوتا ہے"

بحارالانوار جلد ۷ صفحہ ۵۳ ۔ ۷۸ ص ۳۱ ( اسی کتاب میں پوری روایت موجود ہے)

۱۶۹۹۷ ۔ "مگر دل اب بھی حظ و سعادت سے بے رغبت و ہدایت سے بے پروا ہیں اور غلط میدان میں جا رہے ہیں، گویا ان کے علاوہ کوئی اور مراد ان کی مخاطب ہے، گویا ان کے لئے دین سمیٹ لینا ہی صحیح راستہ ہے"

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۸۳

۱۶۹۹۸ ۔ حضرت امیر علیہ السلام کی اپنے فرزند امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کو وصیت سے اقتباس "کیونکہ کم سن کا دل اس خالی زمین کے مانند ہوتا ہے جس میں جو بیج ڈالا جاتا ہے اسے قبول کر لیتی ہے، لہٰذا قبل اس کے کہ دل سخت ہو جائے، تمہارا ذہن دوسری باتوں میں لگ جائے، میں نے تمہیں تعلیم دینے کے لئے قدم اٹھایا ہے"

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ وصیت نامہ/ ۳

( ۲۳) سنگدلی کے اسباب

قرآن مجید:

( فما لقفهم میثاقهم لعنهم وجعلنا قلو هم قاسیة ) (مائدہ/ ۱۳)

ترجمہ:

پس ان کی عہد شکنی کے سبب ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کو سنگدل بنا دیا۔۔۔

( الم یان للذین----------------------------- منهم فسقون ) ۔ (حدید/ ۱۶)

ترجمہ:

کیا ایمان والوں کے لئے ابھی وت آیا کہ ان کے دل عاجزی کے ساتھ اللہ کی یاد اور اس کے نازل کردہ حق کی جانب جھک جائیں؟ اور وہ ان لوگوں کی مانند ہو جائیں جنہیں اس سے قبل کتاب دی گئی تھی ایک عرصہ دراز کے بعد جن کے دل سخت ہو گئے اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں؟

حدیث شریف:

۱۶۹۹۹ ۔ آنکھوں سے آنوشکدی سنگدلی کی وجہ سے ہوتے ہین۔ اور دل کثرت گناہی کی وجہ سے سخت ہو جاتے ہیں۔

(حضرت علی) مجاز الانوار جلد نمبر ۵۵

۱۷۰۰۰ ۔ حضرت علی سے روزونیاز کی باتوں میں فرمایا "موسیٰ! دنیا میں اپنی آرزوؤں کو دراز نہ کرو کہ اس طرح سے تمہارا دل سخت ہو جائے گا، اور سنگدل انسان مجھ سے دور ہوتا ہے"

کافی جلد نمبر ۳۹

۷۰۰۰۱ گھوڑے پر اگر سواری نہ کیا جائے، اسے مشقتوں میں نہ ڈالا جائے اور کام میں نہ لایا جائے تو منہ زور ہو جاتا ہے اور اس کی عادات بگڑ جاتی ہیں۔ اسی طرح دلون کو اگر موت کی یاد سے نرم اور عبادت کی عادات سے آشنا نہ کیا جائے تو سخت ٹھوس ہو جاتے ہیں۔

(حضرت عیسیٰ ) مجارالانولا جلد ۵ نمبر ۳۰۹

۱۷۰۰۲ ذکر الہٰی کے علاوہ زیادہ باتیں نہ کیا کرو کیونکہ ذکرِ الہٰی کے علاوہ کثرت کلام دل کو سخت کر دیتی ہے جبکہ اللہ سے زیادہ دور وہ شخص ہوتا ہے جس کا دل سخت ہوتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) مجازالانوار جلد ۷۱ نمبر ۲۸۱ جلد ۳ وجب ۱۶۴ کنزالعمال حدیث ۱۸۴۰ ۔ ۱۸۹۶۰

۱۷۰۰۳ تین چیزیں دل کو سکت بنا دیتی ہی: ۱ ۔ لغویات کا سننا۔ ۲ ۔ شکار کے پیچھے جانا اور۔ ۳ ۔ صاحبان اقتدار کے دروازے پر حاضری دینا۔

(حضرت رسول اکرم) مجازالانوار جلد ۷۵ صفحہ ۳۷۰

۱۷۰۰۴ ۔ اپنی آرزووں کو لمبا نہ ہونے دو ورنہ تمہارے دل پتھر بن جائیں گے۔

(حضرت رسول اکرم) مجاز الانوار جلد ۷۸ صفحہ ۸۳

۱۷۰۰۵ ۔ ترکِ عبادت دلوں کو سخت بنا دیتی ہے اور ترک یاد الہٰی دلوں کو مردہ کر دیتی ہے۔

(حضرت رسول اکرم) تنبیہ الخواطر صفحہ ۳۶۰

۱۷۰۰۶ ۔ جو یہ توقع رکھتا ہے کہ کل تک زندہ رہے گا اس کی توقع یہ بھی ہوتی ہے کجہ ہمیشہ کیلئے زندہ رہے گا جس کو یہ توقع ہو کہ ہمیشہ زندہ رہے گا اس کا دل سخت اور دنیا کی طرف راغب ہو جاتا ہے۔

(حضرت علی ) مقدر کرالو سائل جلد نمبر ۳۴۱

۱۷۰۰۷ ۔ مال کی فراوانی دین کو بگاڑنے اور دل کو سخت کر دینے کا سبب ہوتی ہے۔

(حضرت علی ) مستدلکالوا سائل جلد نمبر ۳۴۱

۱۷۰۰۸ ۔ جو شخص سستی کی بنا پر (مسلسل) تین جمعے چھوڑ دے تو اللہ تعالیٰ کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزز العمال حدیث ۲۱۱۳۳

۱۷۰۰۹ ۔ نجیل کی طرف دیکھنے سے دل سخت ہو جاتے ہیں۔

(حضرت علی) مجاز الانوار جلد ۷۸ نمبر ۵۳

۱۷۰۱۰ ۔ میں تمہیں قریبی رشتہ داروں کی قرید مٹی ڈالنے سے منع کرتا ہون، اس لئے کہ اس سے دل سخت ہو جاتے ہیں اور جس کا دل سخت ہو جائے وہ اپنے رب عزوجل سے دور ہو جاتا ہے۔

(امام جعفر صادق) مجار الانوالا جلد ۱۲ صفحہ ۳۵

(قول موئف: ملاحظہ ہو: مجار النوالا جلد ۷۳ صفحہ ۳۹۶ باب ۱۴۵ " سختی داشتی

( ۲۴) دل کی بیماری

قرآن مجید:

( فی قول بهم مرض ------------- بما کانو ایکذبون ) ۔ (البقرہ/ ۱۰)

ترجمہ:

ان کے دلوں میں مرض ہے اللہ نے ان کے مرض کو اور زیادہ کر دیا ہے اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے، اس لئے کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔

حدیث شریف:

۱۷۰۱۱ ۔ فقروفاقہ بہت بڑی بلا ہے، لیکن اس سے بڑھ کر جسمانی بیماری ہے۔ مگر اس سے بھی بڑھ کر دل کی بیماری ہے۔ جبکہ مانی وسعت اور تونگری ایک نعمت ہے۔ لیکن اس نے بہتر جسما نی تندرستی ہے مگر اسے بھی زیادہ بہتر دل کا تقوی ہے۔

(حضرت علی) مجار الانوالہ جلد ۷۰ صفحہ ۵۱ نہج الاغہ حکمت ۳۸۸

۱۷۰۱۲ ۔ اگر لوگ اس کی عظیم الشان قدرتوں اور بلندپایہ نعمتوں میں غور و فکر کریں تو سیدھی راہ کی طرف پلٹ آئیں اور دوزخ کے عذاب سے خوف کھانے لگیں۔ لیکن دل بیمار اور بصیرتیں کھوئی ہوئی ہیں۔

(حضرت علی) نہج البلاغہ خطبہ ۱۷۵

( ۲۵) دل کی بیماری کے اسباب

۱۷۰۱۳ ۔ لڑائی جھگڑے سے پرہیز کرو، کیونکہ یہ چیزیں بھائیوں (اور دوستو) کے بارے میں دلوں کو بیمار ی کر دیتی ہیں۔ اور انہی ر نفاق کی کھتی اگتی ہے۔

(حضرت رسول اکرم) مجار الانوار جلد ۷۳ صفحہ ۳۹۹

۱۷۰۱۴ ۔ دلوں کے لئے گناہ کے درد سے بڑھ کر کوئی اور درد نہیں ہے۔

(حضرت علی) مجار جلد ۷۳ صفحہ ۴۳

۱۷۰۱۵ ۔ گناہ سے بڑھ کر کوئی اور چیز دلوں کو فاسد نہیں کرتی اس لئے کہ جب دل گناہوں میں پڑ جاتے ہیں تو پھر ان میں پڑے ہی رہتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس سے ان کے اوپر والا حصہ نیچے اور نیچے والا حصہ اوپر ہو جاتا ہے۔

(امام جعفر صادق) مجار الانوار جلد ۷۳ صفحہ ۳۱۲

۱۷۰۱۶ ۔ فتنے بار بار دلوں پر بوریا کی مانند پیش کئے جاتے ہیں پس جس دل نے انہیں قبول کر لیا اس میں سیاہ نکتہ پیدا ہو گیا اور جس نے انہیں ناپسند کیا تو اس میں سفید نکتہ پیدا ہو گیا۔ چنانچہ دونوں دلوں میں دونوں طرح کے نکتے پیدا ہو جائیں گے ایک میں تو صاف میدان کی طرح کہ جب تک زمین و آسمان موجود میں اسے کوئی بھی فتنہ نقصان نہین پہنچا سکے گا اور دوسرا خاکستری رنگ کا سیاہ نکتہ اور دل الٹے کوزے کی مانند ہو ۔ نہ تو معروف (نیکی) کو جانتا ہے اور نہ ہی منکر (بدکاری) سے بے تعلق ہے بری خواہشات سے اس کا تعلق جڑا رہتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم ) اترغیب واتریب ۳۴ صفحہ ۲۳۱ اسے مسلم وغیرہ نے روایت کیا ہے۔

۱۷۰۱۷ ۔ مصر کے گورنر مالک اشتر کے نام امیرالمومنین کے مکتوب سے اقتباس ۔۔۔ یہ نہ کہنا کہ میں حاکم بنایا گیا ہوں لہٰذا میرے حکم کے آگے سر تسلیم خم ہونا چاہئے کیونکہ یہ دل میں فساد پیدا کرنے اور دنیا کو کمزور کرنے کا سبب ہے۔ ۔۔

نہج البلاغہ دستاویز (مکتوب) ۵۳

۱۷۰۱۸ ۔ بدترین چیز جو دلوں میں ڈالی جاتی ہے، کینسر ہے۔

(حضرت علی) عزر الحکم

(قول مولف: ملاحظہ ہو باب "گناہ" "گناہوں کے اثرات"

نیز: باب "دلوں کو مردہ کرنے کے اسباب"

نیز: "کامیابی" ایسے لوگ کامیاب نہیں ہو سکتے"

( ۲۶) دلوں کی شفایابی

قرآن مجید:

( یٰایها الناسُ قد جاء لکم موعظة من ربکم وشفاء لما فی الصدود ---------------- ) (یونس/ ۵۷)

ترجمہ:

لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آ چکی ہے جو اُن دلمریض کے لئے شفا ہے جو سینوں میں ہیں۔

حدیث شریف:

۱۷۰۱۹ ۔ پیغمبر اسلام کی توصیف میں فرمایا وہ ایسے طبیت کی ماند تھے جو اپنی حکمت اور طب کو لئے ہوئے چکر لگا رہا اس نے اپنے مرہم ٹھیک ٹھاک کر لئے ہوں اور داغنے کے آلات گرم کر لئے ہوں۔ وہ اندھے دلوں بہرے کانوں اور گونگی زبانوں (کے علاج) میں جہاں ضرورت ہوتی ہے، ان چیزوں کو استعمال میں لاتا ہو اور وہ ایسے غفلت زدہ و حیرانی وپریشانی کے مارے ہوؤں کی کھوج میں لگا رہتا ہو۔"

(حضرت علی) نہج البلاء خطبہ ۱۰۸

۱۷۰۲۰ ۔ معلوم ہونا چاہئے کہ اگر تم نے مشرق سے رونما ہونے والے کی اتباع کی تو وہ تمہیں رسول خدا کے بتائے ہوئے رستوں پر چلائے گا، جس سے تم اپنی نابیائی اور گونگے پن کا علاج کر لو گے۔۔

(حضرت علی ) فروع کافی جلد ۸ صفحہ ۶۶

۱۷۰۲۱ ۔ دل میں اللہ کا خوف رکھو کیونکہ خوف خدا ہی تمہارے دلوں کے روگ کا علاج فکر و شعور کی تاریکیوں کے لئے اجالا، جسموں کی بیماریوں کے لئے شفا، سینے کی تباہ کاریوں کے لئے اصلاح ، نفس کی کثافتوں کے لئے پاکیزگی اور آنکھوں کی تیرگی کے لئے جلا ہے۔

(حضرت علی ) نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۸

قول مولو: ملاحظہ ہو باب دوا "دنیوی ادویات کے ساتھ علاج معالجہ"

نیز: باب "ذکر" "ثمرات ذکر" ( ۶)

نیز: باب "تقویٰ" تقویٰ دلوں کی دواہے"

نیز: جن چیزوں سے دل زندہ ہوتے ہیں"

( ۲۷) دلوں کو مردہ کرنے والی اشیاء

۱۷۰۲۲ ۔ جو شخص کسی سے بے تحاشا محبت کرتا ہے تو وہ اس کی آنکھوں کو نابینا اور دل کو مریج کر دیتی ہے۔ وہ دیکھتا ہے تو بیمار آنکھوں سے اور سنتا ہے تو نہ سننے والے کانوں سے شہو تو نے اس کی عقل کا دامن چاک کر دیا ہے اور دنیا سے اس کے دل کو مردہ بنا دیا ہے۔

(حضرت علی ) نہج البلاغہ خطبہ ۱۰۹)

۱۷۰۲۳ ۔ چار چیزیں دلوں کو مردہ کرد یتی ہیں۔ ۱۔ گناہ ہر گناہ (کا ارتکاب) ۲۔ عورتوں سے زیادہ باتیں۔ ۳۔ احمق سے الجھاؤ کہ تم اپنی بات کہو اور وہ اپنی کہے جائے، لیکن بھلائی کی طرف رجوع نہ کرے اور ۴۔ مُردوں کے ساتھ ہم نشینی۔"

کسی نے پوچھا "یارسول اللہ! مُردوں سے کیا مراد ہے؟ "فرمایا ہر صاحب آسائش تو نگر"۔

(حضرت رسول اکرم) مجار الانوالا جلد ۷۳ صفحہ ۳۴۹ جلد ۴ صفحہ ۱۹۵

۱۷۰۲۴ ۔ "چار چیزیں دلوں کو خراب کر دیتی ہیں۔ ۱ ۔ عورتوں کے ساتھ خلوت۔ ۲ ۔ عوتوں کی باتوں کو غور سے سننا۔ ۳ ۔ ان کی رائے کو اختیار کرنا اور ۴ ۔ مُردو ں کی ہم نشینی۔"

کسی نے سوال کیا: "یارسول اللہ! مُردوں کے ساتھ ہمنشینی سے کیا مراد ہے؟ فرمایا ہر اس شخص کے ساتھ ہم نشینی جو ایمان سے گمراہ اور فیصلوں میں ظلم سے کام لیتا ہو۔"

(حضرت رسول اکرم) امالی شیخ مفید  صفحہ ۱۸۶ مجار الانولا جلد اول صفحہ ۲۰۳

وسائل رشید جلد ۱۱ صفحہ ۵۰۸

۱۷۰۲۵ ۔ تین سم کے لوگوں کی ہم نشینی دلون کو مردہ کر دیتی ہے ۔ ۱ ۔ پست لوگوں کے ساتھ بیٹھنا۔ ۲ ۔ مالداروں کے ساتھ نشست و رخاست رکھنا اور ۳ ۔ عوروتوں کے ساتھ باتیں کرنا۔

(حضرت رسول اکرم) مجار الانوارجلد ۷۷ صفحہ ۴۵ ۔ صفحہ ۵۲

۱۷۰۲۶ ۔ زیادہ نہ بنا کرو کہ اس سے دل مردہ ہو جاتے ہیں۔

(حضرت رسول اکرم) مجار الانوالا جلد ۷۷ صفحہ ۵۹

۱۷۰۲۷ ۔ مناجات کے کلمات ہیں "خداوندا! گناہوں نے مجھے ذلت کا جامہ پہنا دیا ہے، تجھ سے دوری نے مجھے بے چارگی کا لباس پہنا دیا ہے۔ میرے دل کو بڑے جرائم بڑی خیانت نے مردہ کر دیا ہے اے میری آرزوؤں اور امیدوں کی پناہ گاہ! میرے دل کو اپنی توبہ کے ساتھ زندہ کر دے۔۔۔"

(امام زین العابدین مجار جلد ۹۴ صفحہ ۱۴۲

۱۷۰۲۸ ۔ جس کا تقوی کم ہوا اس کا دل مردہ ہو گیا اور جس کا دل مردہ ہو گیا وہ جہنم میں جا پڑا۔"

(حضرت علی ) نہج البلاغہ حکمت ۳۴۹

قول موئف: ملاحظہ ہوا "کلام" زیادہ باتیں دل کو مردہ کر دیتی ہیں"

نیز: با "معت" "زندوں میں مردہ"

نیز: باب "معروف" (نیکی۔ ۲) باب "دل سے انکار کرنا"

نیز: باب ’دنیا" "لوگ دنیا کے بندے ہیں"

( ۲۸) دلون کو زندہ کرنے والی اشیاء

۱۷۰۲۹ ۔ وعظ و ہندے دل کو زندہ رکھو اور زہدے اس (کی خواہشوں) کو مردہ۔۔"

(حضرت علی ) نہج البلاغہ مکتوب ۳۱ مجار الانوالا جلد ۷۸ صفحہ ۱۱۵

۱۷۰۳۰ ۔ لازم ہے کہ غور و فکر سے کام لیا کرو، کیونکہ یہ صاحب بصری انسان کے دل کی حیات اور حکمت کے دروازوں کی کنجی ہے۔

(امام حسن ) بوارالانوار جلد ۷۸ صفحہ ۱۱۵

۱۷۰۳۱ ۔ اے بنی اسرائیل! علماء کی مجالس میں زیادہ سے زیادہ شرکت کیا کرو خواہ تمہیں وہاں گھٹنوں کے بل چل کر ہی جانا پڑے کیونکہ اللہ تعالیٰ مردہ دلون کو نور حکمت کے ساتھ اس طرح زندہ کرتا ہے جس طرح موسلادھار بارش سے بنجر زمینوں کو۔

(حضرت عیسٰی ) مجار جلد ۸۷ صفحہ ۳۰۸

۱۷۰۳۲ ۔ حضرت لقمان نے اپنے فرزند سے فرمایا: پیارے بیٹے! علماء کے ساتھ نشست و خاست رکھو ان کے پاس گھٹنوں کے بل چل کر جاؤ اور زبانی سے زیادہ لف کی محفل میں شرکت کرو۔ چونکہ خداوندش عزّوجّل مردہ دلون کو حکمت کے نواسے اسی طرح زندہ کرتا ہے جس طرح بنجر زمین کو موسلادھار بارش سے۔

مجار الانوراجلد اول صفحہ ۲۰۴

۱۷۰۳۴ ۔ صاحبان فضیلت کے ساتھ معاشرت رکھنا دلوں کی حیات (کا سبب ہوتا) ہے۔

(حضرت عیٰسی ) عزرالحکم

۱۷۰۳۵ ۔ جاننا چاہئے کہ فرشتے سے آدمی کبھی بکھی سیر ہو جاتا ہے اور اکتا جاتا ہے پورے زندی کے کہ وہ کبھی مرنے میں راحت محسوس نہیں کرتا یہ اس حکمت کی طرح ہے کہ جو قلبِ مردہ کے لئے حیات، اندھی آنکھوں کیلئے بینائی اور بہرے کانوں کے لئے شنوائی ہے۔

(حضرت علی ) نہج البلاغہ خطبہ ۱۳۳

۱۷۰۳۶ ۔ میرے بندوں کے درمیان ایسے علم کا مذکرہ کرو کہ جس سے مردہ دل زندہ ہو جائیں۔۔۔"

(حضرت رسول اکرم) کافی جلد اول صفحہ ۴۱ یجاد جلد اول صفحہ ۲۰۳ اور اس کتاب میں ہے "خداوند عزوجل فرماتا ہے۔۔۔"

۱۷۰۳۷ ۔ بلاشبہ اللہ نے کسی کو ایسی نصیحت نہیں کی جو اس قرآن کے مانند ہو۔۔۔ اس میں دل کی بہادر اور علم کے سرچشمے ہیں۔۔۔

(حضرت علی ) نہج البلاغہ خطبہ ۱۷۶

قول مولف: ملاحظہ ہو: باب "ذکر کے فوائد"

نیز: بارے "دوا" "دنیوی بیماریوں کا علاج"

نیز: باب تفویٰ "تفویٰ دلوں کی دواہے"

( ۲۹) دلو کو آباد کرنے والی اشیاء

۱۷۰۳۷ ۔ اہل خیر کی ملاقات سے دل آباد ہوتے ہیں۔

(حضرت علی ) مجار الانولہ جلد ۷۷ صفحہ ۲۰۸

۱۷۰۳۹ ۔ اہل معرفت کی ملاقات سے دل آباد اور حکمت کے فوائد حاصل ہوتے ہین۔

(حضرت علی ) عزرالحکیم

۱۷۰۴۰ ۔ حضرت علی کی اپنے فرزند امام حسن مجتبی کو وصیت سے امتناعی فرزند عزیز میں تجھے خدا کے تقویٰ ، اس کے اس امر کو لازم پکڑنے اوراس کے ذکر کے ساتھ دل کو آباد کرنے کی فضیلت کرتا ہوں۔"

نہج السلام مکتوب ۳۱

(قول مولف: ملاحظہ ہو: باب زیارت "زیارت کرنے سے دل آباد ہوتے ہیں")

جن چیزوں سے دل نرم ہوتا ہے

۱۷۰۴۲ ۔ دل کو نرم کرنے کے لئے خلوتوں میں خدا کا زیادہ سے زیادہ ذکر کیا کرو۔ (اور اسے کثرت سے یاد کیا کرو)

(امام محمد باقر ) مجار الانوار جلد ۷۸ صفحہ ۱۴۶

۱۷۰۴۳ ۔ ایک شخص نے حضرت رسول خدا کی خدمت میں اپنی سنگدلی کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا: "اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارا دل نرم ہو جائے تو مسکینوں کو کھانا کھلایا کرو اور یتیموں کے سر پر ہاتھ پھیرا کرو۔"

مشکواة الانوار صفحہ ۱۶۷

۱۷۰۴۴ ۔ اپنے دلوں کو رقت کا عادی بناؤ اور خوفِ خدا کی وجہ سے زیادہ غور و فکر اور گر یہ بکا کیا کرو۔

(حضرت رسول اکرم) مجار لانوار جلد ۸۳ صفحہ ۳۵۱

۱۷۰۴۵ ۔ وعظ وپند سے دل کو زندہ رکھنا۔ موت کی یاد سے اسے قابو میں رکھنا۔۔ دنیا کے حادثے اس کے سامنے لانا۔ گردش روز گارے اسے ڈرانا اور گزرے ہوؤں کے واقعات اس کے سامنے رکھنا۔

(حضرت علی ) نہج البلاغہ مکتوب ۳۱

۱۷۰۴۶ ۔ حضرت امیر کے جسم پر ایک بوسیدہ اور پیوند دارجامہ دیکھا گیا تو آپ سے اس بارے میں پوچھا گیا آپ نے فرمایا "اس سے دل متواضع نفس رام ہوتا ہے۔ اور مومن اس کی تالسی کرتے ہیں۔"

نہج البلاغہ حکمت ۱۰۳

( ۳۱) جن چیزوں سے دل کو جلا ملتی ہے

۱۷۰۴۷ ۔ اللہ سبحانہ نے بلاشبہ کسی کو ایسی نصیحت نہیں کی جو اس قرآن کے مانند ہو۔ اور اسی ہی سے ( آئینہ) قلب ہر جلا وہئی ہے۔

(حضرت علی ) نہج البلاغہ خطبہ ۱۷۶

۱۷۰۴۸ ۔ بے شک اللہ سبحانہ نے اپنی یاد کو دل کی صیقل قرار دیا ہے۔ جس کے باعث وہ (اور امرونواہی سے) بہرا ہونے کے بعد سننے لگے۔۔"

(حضرت علی ) نہج البلاغہ خطبہ ۲۲۲

۱۷۰۴۹ ۔ یہ دل بھی اسی طرح زنگ آلود ہو جاتے ہیں جس طرح لوہا پانی لگنے کے بعد زند آلود ہو جات اہے۔" کسی نے عرض کیا کے صیقل کا کیا طریقہ ہے؟ فرمایا: "کثرت سے موت کی یاد کرنا اور قرآن کی تلاوت"

(حضرت رسول اکرم) کنزالمحال حدیث ۴۲۱۳

۱۷۰۵۰ ۔ بوک کے سالن اور قناعت کے "ادب" کے ساتھ اپنے دل کی سستی کا علاج کرو کہ اس طرح سے تمہارے دل میں پختگی پیدا ہو گی اور آنکھوں میں غفلت کی نیند کی بجائے بیداری ہو گی۔

(حضرت علی ) عزر الحکم

۱۷۰۵۱ ۔ جس طرح تانبے کو زند لگ جاتا ہے اسی طرح دل بھی زنگ آلود ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا دلوں کے زنگ کو استغفار کے ذریعے دور کرو۔

(حضرت رسول اکرم) مجار الانور جلد ۹۳ صفحہ ۲۸۴ الترغیب والترہیب جلد ۲ صفحہ ۴۶۹ اسے بیہقی نے روایت کیا ہے اور اس میں ہے: "اس صیتل استغفار ہے۔

۱۷۰۵۲ ۔ ان دلون کی صقیل ذکر الہٰی اور تلاوت قرآن مجید ہے۔

(حضرت رسول اکرم) تثبیہ الخواطر صفحہ ۳۶۲

( ۳۲) جن چیزوں سے دل نورانی ہوتا ہے۔

۱۷۰۵۳ ۔ اپنے دل کو پندونصیحت کے ساتھ زندہ کرو۔۔۔ اور اسے حکمت کے ساتھ منور کرو۔

(حضرت علی ) نہج البلاغہ مکتوب ۳۱

۱۷۰۵۴ ۔ ایمان ایک نقطہ کی صورت سے دل میں ظاہر ہوتاہے۔ جوں جوں ایمان بڑھتا ہے تو وہ نقطہ بھی بڑھتا جات اہے۔ سید رضی فرماتے ہیں: اس کو سفید نقطہ یا اس کے مانند "سفید نشان" کہتے ہیں۔

(حضرت علی ) نہج البلاغہ کلمات عجیبہ ۵

۱۷۰۵۵ ۔ ِْٰٰ یقین، نور ہے۔

(حضرت علی ) غررالحکم

۱۷۰۵۶ ۔ (نہی عن المنکر کے متعلق فرماتے ہیں) ۔۔۔ اور جو شخص شمشیر بکف ہو کر اس برائی کے خلاف کھڑا ہوتا کہ اللہ کا بول بالا ہو، اور ظالموں کی بات گر جائے، تو یہی وہ شخص ہے جس نے ہدایت کی راہ کو پا لیا سیدھے راستے پر ہو لیا اور اس کے دل میں یقین نے روشنی پھیلا دی۔"

(حضرت علی ) نہج البلاغہ حکمت ۳۷۳

۱۷۰۵۷ ۔ دعائی کلمات: اے دلوں کے الٹ پھر کرنے والے! اے دلوں کے طیب! اے دلون کو نورانیت عطا کرنے والے! اے دلون کے ساتھ انس کرنے والے!

(حضرت رسول اکرم) مجاز الانوار جلد ۹۴ صفحہ ۹۸۵

(قول موئلف: ملاحظہ ہو: باب "ذکر" "ذکر کے ثمرات ۴"

نیز: باب جن چیزوں سے دل زندہ ہوتا ہے"

نیز: عنوان "نور"

نیز: عنوان "یقین"

( ۳۳) جن چیزوں سے دل کی اصلاح ہوتی ہے

۱۷۰۵۸ ۔ دل کی اصلاح اس طرح ہوتی ہے کہ اسے یاد خدا میں مشغول رکھا جائے۔

(حضرت علی ) غرزالحکم

۱۷۰۵۹ ۔ مناجات کے کلمات "میری بیماری کو صرف تیری طب ہی شفا عطا کر سکتی ہے۔ میرے غم کو صرف تیرا قرب ہی زائل کر سکتا ہے، میرے زخموں کو صرف تیری بخشش ہی مذمل کر سکتی ہے اور میرے دلکے زنگ کو صرف تیری درگزر ہی جلا دے سکتی ہے"

(حضرت امام زین العابدین) مجار الانور جلد ۴ صفحہ ۱۰

۱۷۰۶۰ ۔ حضرت رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے "کسی بندے کا ایمان اس وقت تک مستحکم نہیں ہوتا جب تک اس کا دل مستحکم نہ ہو اور دل اس وقت تک مستحکم نہیں ہوتا جب تک زبان مستحکم نہ ہو۔‘

(حضرت علی ) نہج البلاغہ خطبہ ۱۷۶

۱۷۰۶۱ ۔ صالح شخص کی چار علامتیں ہیں۔ ۱ ۔ اس کا دل صاف ستھرا ہوتا ہے ۲ ۔ اس کے اعمال اصلاح شدہ ہوتے ہیں۔ ۳ ۔ اس کا کاروبار صالح ہوتا ہے اور ۴ ۔ اس کے تمام امور اصلاح شدہ ہوتے ہیں۔

(حضرت رسول اکرم) تحف العقول صفحہ ۲۲

( ۳۴) جن چیزوں سے دل کو تقویت ملتی ہے

۱۷۰۶۲ ۔ دل کی اصل قوت خدا ہر توکل ہے۔

(حضرت علی ) عزر الحکم

۱۷۰۶۳ ۔ اپنے دل کو وعظ و نصیحت کے ساتھ زندہ رکھنا، زُہدے اس (کی خواہشوں) کو مردہ اور یقین کے ساتھ تقویت پہنچانا۔۔۔"

(حضرت علی ) نہج البلاغہ مکتوب/ ۳

۱۷۰۶۴ ۔ یقینا مومن کی طاقت اس کے دل میں ہوتی ہے دیکھتے نہیں ہو کہ اس کا جسم کمزور اور بدن لاغر ہوتا ہے لیکن وہ رات کو (عبادت کے لئے) کھڑا ہوتا ہے اور دن کو روزہ رکھتا ہے۔

(قول مولف: ملاحضظہ ہوا ہوا عنوان "توکل" اور عنوان "یقین"

نیز: "ایمان" باب "مومن پتھر سے بھی زیادہ مضبوط ہوتا ہے"

( ۳۵) اللّٰہ تعالی انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوتا ہے

قرآن مجید:

( واعلموا ان الله مجول بین المرعوقلبه وانه الیه تشرون ) ۔ (انفال / ۲۴)

ترجمہ:

اور خوب جان لو کہ اللہ انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور بے شک تم اس کی طرف اکٹھے کئے جاؤ گے۔

حدیث شریف:

۱۷۰۶۵ ۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول "( ان الله یحول------- ) کے بارے میں فرمایا: اس سے مراد یہ ہے کہ انسان کی چیز کو اپنی سماعت، بصارت، زبان یا ہاتھ کی وجہ سے چاہتا ہے۔ لیکن خداوند عالم اسے چھپا دیتا ہے اگر کسی وقت انسان کے پاس وہ آبھی جائے تو اس کا دل اسے پہچاننے سے انکار کر دیتا ہے اور قبول نہیں کرتا جس سے وہ سمجھ لیتا ہے کہ اس میں حق نہیں ہے۔"

ہشام کی روایت کے مطابق: "خداوندِ عزوجل انسان اور اس کی چاہت کے درمیان حائل ہو جاتا ہے اور انسان کو معلوم ہو جاتا ہے کہ "باطل، حق نہیں ہے"

مجار الانورا جلد ۷۰ صفحہ ۵۸

۱۷۰۶۶ ۔ (ایضا) فرماتے ہیں: "انسان کسی چیز کو اپنے کان، اپنی آنکھ ، زبان یا ہاتھ کے ذریعہ چاہتا ہے لیکن اسے چاہتے ہوئے بھی اگر وہ چیز اسے مل جائے تو اس کا دل اسے ماننے پر تیار نہیں ہوتا اور اسے معلوم ہو جاتا ہے کہ حق اس میں نہیں ہے۔"

(امام جعفر صادق ) مجار الانوار جلد ۷۰ صفحہ ۵۸

۱۷۰۶۷ ۔ اسی آیت کے بارے میں فرماتے ہیں: "ایک چیز کو انسان اپنے دل کان اور آنکھ سے چاہتا ہے اوراس کا دل اس کے علاوہ کسی اور چیز کی طرف نہیں جاتا لیکن اس کے اور اس کے دل کے درمیان خدائی پردہ حائل ہو جاتا ہے۔

(امام محمد باقر ) مجار الانوار جلد ۷۰ صفحہ ۵۸

(قول مولف: ملاحظہ ہو: باب "باطل" "باطل کے حق ہونے پر ہر دل یقین نہیں کرتا"

نیز: باب "خالق"

( ۳۶) دل کے بارے میں متفرق احادیث

۱۷۰۶۸ ۔ دل کے کچھ ایسے مشاہدات بھی ہیں جن کو انسان تفریط کی نگاہوں سے دیکھتا ہے۔

(حضرت علی ) نہج العادہ جلد اول صفحہ ۵۶ مجار جلد ۷۷ صفحہ ۲۸ فروغ کافی جلد ۸ صفحہ ۲۲

۱۷۰۶۹ ۔ انسان کی قوتِ بیان اس کی قوتِ قلبد کو ظاہر کرتی ہے۔

(حضرت علی ) عذر الحکم

۱۷۰۷۰ ۔ دلوں کی فطرت میں یہ بات شامل ہے کہ جوان سے احسان کرتا ہے اس کی ساتھ دوستی کرتی ہیں اور جو ان سے برائی کرتا ہے ان کی دشمن ہوتی ہیں۔

(حضرت رسول اکرم) مجار الانوار جلد ۷۷ صفحہ ۱۴۰

۱۷۰۷۱ ۔ دل لیت و لعل سے کام لیتا رہتا ہے۔

(حضرت علی ) مجار الانوارا جلد ۷۸ صفحہ ۱۱

۱۷۰۷۲ ۔ کم سے کم غلطیاں کر کے دلون کو آرام پہنچاؤ۔

(امام محمد باقر ) مجار جلد ۷۸ صفحہ ۱۱

۱۷۰۷۳ ۔ انجام ہر نگاہ رکھتے رہنے سے دلوں کی بار آمدی ہوتی ہے۔

(امام جعفر صادق) مجار الانوار جلد ۷۸ صفحہ ۱۹۷

۱۷۰۷۴ ۔ پہاڑوں کو اپنی جگہ سے ہٹانا آسان ہے لیکن دلوں کو اپنے مقام سے ہٹانا مشکل ہے۔

(امام جعفر صادق) مجارالانوارا جلد ۷۸ صفحہ ۲۴۰

۱۷۰۷۵ ۔ دل کے ساتھ شریک رہنے کے لئے ہمیشہ اسے اپنے قریب رکھو۔

(امام جعفر صادق) مجار الانوارا جلد ۷۸ صفحہ ۲۸۳

۱۷۰۷۶ ۔ جس شخص کے حلم نے اس کے دل کو غیظ و غضب کے گھونٹ نہیں پلائے وہ دل کی راحت کو نہیں جان سکتا۔

(امام حسن عسکری) مجار الانوار جلد ۷۸ صفحہ ۳۷۹

۱۷۰۷۷ ۔ ہر چیز کا ایک دل ہوتا ہے اور قرآن مجید کا دل (سورہ) یٰس ہے۔

(امام جعفر صادق) مجارالانور جلد ۹۲ صفحہ ۲۸۸

۱۷۰۷۸ ۔ دلوں میں برے خیالات پیدا ہوتے ہیں۔ جنہیں عقول ہی باز رکھتے ہیں۔

(حضرت علی ) عذرالحکم

۱۷۰۷۹ ۔ دلوں کو تقویٰ کا گھر قرار دو اور انہیں خواہشاتِ نفسانی کا مرکز نہ بناؤ۔

(حضرت عیسٰی ) مجار لانوار جلد ۷۸ صفحہ ۳۰۸


فصل ۲۰

تقلید

قابل مذمت تقلید

قرآن مجید:

( واذاقیل لدم تعالوا ---------------- شیئا ولایهتدون ) (مائدہ/ ۱۰۴)

ترجمہ:

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس کی طرف آؤ جو اللہ نے نازل کیا اور رسول کی طرف (آؤ) تو کہتے ہیں کہ ہمارے لئے وہی کافی ہے جس پر ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو پایا اگرچہ ان کے آباؤ اجداد کچھ بھی نہ جانتے تھے اور نہ ہی ہدایت یافتہ تھے۔

( وکٰذلک ماارسلنا -------------------------- معتدون ) ۔ (زخرف/ ۲۳)

ترجمہ:

اور اسی طرح ہم نے آپ سے پہلے جس آبادی میں بھی کوئی ڈرانے والا بھیجا۔ تو اس کے دوستمندوں نے بھی یہی کیا کہ ہم نے تو اپنے آباؤ اجداد کو ایک روش پر (قائم) پایا ہے اور ہم تو انہی کے نقش قدم پر چلیں گے۔

حدیث شریف:

۱۷۰۸۱ ۔ حذیفہ یمانی کہتے ہیں کہ حضرت رسول خدا نے فرمایا: "لوگوں کے پیچھے چلنے ولاے نہ بنو، کہ کہو اگر لوگ اچھا کام کریں گے تو ہم بھی ایسا ہی کریں گے، اور اگر ظلم کریں گے تو ہم بھی ظلم کریں بلکہ تم اپنے نفوس کو اپنے قابو میں رکھو۔ اگر لوگ اچھا کام کریں تو تم بھی اچھے کام کرو اور اگر وہ برائی کریں تو تم ظلم نہ کرو"

الترغیب والترہیب جلد ۳ صفحہ ۳۴۱ اے ترمذی نے روایت کیا ہے۔

۱۷۰۸۱ ۔ حضرت امام جعفر صادق کے بارے میں ہے کہ آپ نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک شخص سے کہا: "لوگوں کے پیچھے چلنے والے نہ بنو، کہ کہتے پھرو میں تو لوگوں کے ساتھ ہوں اورمیں ان میں سے ایک ہوں"۔

مجار لانوار جلد ۲ صفحہ ۸۳

۱۷۰۸۲ ۔ جزری اپنی کتاب "النہایہ" میں کہتے ہیں "روایت میں ہے کہ عالم بنو یا طالب علم اور لوگوں کے پیچھے چلنے والے نہ بنو۔ لوگوں کے پیچھے چلنے والوں سے مراد یہ ہے کہ جس کی اپنی رائے نہ ہو، اور وہ ہر ایک کے پیچھے چلتا پھرے۔۔۔ اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو ہر ایک سے یہ کہے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ اسی سلسلے میں ابن مسعود کی روایت ہے کہ "تم میں سے کوئی شخص دوسرے کے پیچھے چلنے والا نہ بنے۔ اس بارے میں پوچھا گیا کہ یہ کس طرح ہوتا ہے؟ تو فرمایا "جو کہے میں تو لوگوں کے ساتھ ہوں"۔

نہایہ ابن اثیر جلد اول صفحہ ۲۷

۱۷۰۸۳ ۔ حضرت امیر المومنین سے منقول اشعار:

۱ ۔ جب مشکلات میرے درپے ہوتی ہیں تو میں غور و فکر کے ذریعہ ان کے حقائق تک پہنچ جاتا ہوں۔

۲ ۔ میں لوگوں کے پیچھے چلنے والا نہیں ہوں کہ کسی سے پوچھتا رہوں کہ کیا ہوا؟

۳ ۔ بلکہ میں نے اپنے دل و زبان کو اس قدر عادی کر دیا ہے کہ میں ماضی کے ساتھ مستقبل کو بھی بیان کر سکتا ہوں۔

مجار لانوار جلد ۲ صفحہ ۶۰

۱۷۰۸۴ ۔ ثمالی کہتے ہیں کہ حضرت امام جعر صادق نے فرمایا: "ریاست طلبی سے اجتناب کرو اور لوگوں کے پیچھے چلنے سے بھی پرہیز کرو" میں نے عرض کیا: "ریاست طلبی کو تو جانتا ہوں لیکن لوگوں کے پیچھے چلنے کا مطلب کیا ہے، کیونکہ اس طرح تو میں سمجھتا ہوں کہ جن سے مل چکا ہوں ان میں سے دو تہائی افراد کے پیچھے چل چکا ہوں گا۔"

امام نے فرمایا: "بات وہ نہیں جو تم سمجھے ہو بلکہ اس سے اجتناب کرو کہ کسی کو بغیر دلیل کے کسی منصب پر فائز کرو اور پھر اس کی ہر بات کی تائید کرتے جاؤ"

مجار الانوار جلد ۲ صفحہ ۸۳

۱۷۰۸۵ ۔ سفیان بن خالد کہتے ہیں: حضرت امام جعفر صادق نے فرمایا: "سفیان ریاست طلبی (حب جاہ و مقام) سے اجتناب کرو کیونکہ جس نے بھی ایسا کیا ہے وہ تباہ ہو گیا میں نے عرض کیا: "آپ کے قربان جاؤں! پھر تو ہم سب تباہ ہو گئے کیونکہ ہم میں سے ہر ایک کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا ذکر کیا جائے، لوگ اس کی طرف رجوع کریں اور اس کی بات مانی جائے"

امام نے فرمایا: "جس طرف تم جا رہے ہو وہ بات نہیں ہے بلکہ مقصد یہ ہے کہ تم اس بات سے اجتناب کرو کہ کسی دلیل کے بغیر کسی شخص کو کسی منصب پر فائز کر کے (بلاچون و چرا) اس کی ہر بات کی تصدیق کرتے جاؤ اور دوسرے لوگوں کو بھی اس کی بات ماننے کی دعوت دو"

مجار الانوار جلد ۲ صفحہ ۸۳

۱۷۰۸۶ ۔ عدی بن حاتم کہتے ہیں کہ میں حضرت رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ اس وقت سورہ براثت کی یہ آیت تلاوت فرما رہے تھے: "اتخذو واالحبار رھم ورھبا نھم او بابا من دون اللہ ۔۔۔" یہود و نصاری نے اللہ کی بجائے اپنے عالموں اور اپنے راہوں کو رب بنا لیا ہے۔" (براثت/ ۳۱) پھر فرمایا: "تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ وہ لوگ ان کی عبادت نہیں کرتے تھے، بلکہ جو چیزیں ان کے عالم اور راہب ان کے لئے حلال کرتے تھے انہیں وہ بھی حلال سمجھتے تھے جو وہ حرام کر دیتے تھے وہ بھی انہیں حرام سمجھتے تھے اور اس بارے میں وہ ان کی اتباع کیا کرتے تھے۔"

تفسیر درمنئود جلد ۳ صفحہ ۲۳۱

۱۷۰۸۷ ۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول: "اتخذوا احبار ھم و رھبانہم اربابا من دون اللہ" (برائت/ ۳۱) کے بارے میں فرماتے ہیں: "واللہ یہ لو اپنے علماء اور راہبوں کے لئے نماز اور روزے جیسی عبادات انجام نہیں دیا کرتے تھے بلکہ ان لوگوں نے ان کے واسطے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کر دیا تھا پس انہوں نے ان کی پیروی کر لی تھی۔"

(امام جعفر صادق) مجار الانوار جدل ۲ صفحہ ۹۸

۱۷۰۸۸ ۔ اسی آیت کے بارے میں فرمایا: "نحد ا! ان کے علماء و راہبوں نے انہیں اپنی ذات کی عبادت کی طرف نہیں بلایا تھا اگر وہ عبادت کی دعوت دیتے بھی تو وہ ان کا کہنا ہرگز نہ مانتے۔ بلکہ انہوں نے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کر دیا تھا۔ لہٰذا ان کی غیر شعوری طور پر عبادت کرنے لگے گئے تھے۔"

(امام جعفر صادق) مجار الانوار جلد ۲ صفحہ ۹۸

۱۷۰۸۹ ۔ سعد الخیر کے نام حضرت امام محمد تقی کے نام مکتوب سے اقتباس "پس تم یہود و نصاری کے علماء اور راہبوں کے کردار کو پہچانو کہ انہوں نے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کے ساتھ ملا دیا۔ کتاب خدا کے چھپانے اس کی تحریف کے مرتکب ہوئے اس سے ان کی تجارت نے انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچایا اور نہ ہی وہ ہدایت یافتہ ہو سکے۔ پھر اس امت سے بھی ان لوگوں کو پہچانون جنہوں نے ان جیسے کاموں کا ارتکاب کیا، جو کتاب خدا کے حروف پر تو قائم رہے لیکن اس کی حدود میں تحریف کے مرتکب ہوئے وہ بڑے بڑے سرداروں اور امیروں یا اکثریت کے ساتھ ہو گئے۔ چنانچہ جو ان سرداروں اور امیروں کی خواہش ہوتی ہے تو وہ دین کے لحاظ سے بھی ان کی اکثریت کے ساتھ ہو جاتے اور یہی ان کا مبلغ علمی۔۔۔۔۔ ایسے لوگ یہود و نصاری کے علماء اور راہبوں کی مانند ہیں، خواہشاتِ نفسانی کے قائد وار ہلاکتوں کے سردار۔۔۔

فروغ کافی جلد ۸ صفحہ ۵۴ صفحہ ۵۵

۱۷۰۹۰ ۔ بات یہ ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر گمراہی کو ہدایت سمجھ کر اسے اختیار کر لے اور حق کو گمراہی سمجھ کر اسے ترک کر دے تو کوئی بھی ایسے شخضص کی ہلاکت کے بارے میں اس کا عذر قبول نہیں کرے گا۔

(حضرت علی ) مجار الانوار جلد ۵ صفحہ ۳۰۵

(قول مولف: ملاحظہ ہو: باب کفر حدیث ۹۲ ۱۷۶

نیز: باب یہ نہ کہو کہ میں بھی لوگوں کے ساتھ ہوں"

( ۲) کس کی تقلید کی جائے

۱۷۰۹۱ ۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول( نویل للذین یکتبون الکتٰب بایدیهم ثم یقولون هذا من عند الله ) پس صد افسوس ہے ان لوگوں پر اپنے ہاتھ سے کتاب لکھتے ہیں پھرکہتے ہیں کہ یہ اللہ کی جانب سے ہے۔۔۔ (بقرہ / ۷۹) کے بارے میں ایک شخص نے حضرت امام جعفر صادق نے پوچھا: "جب یہودیوں کی یہ قوم اپنی کتاب کے بارے میں صرف وہی کچھ جانتی تھی جو اس نے اپنے علماء سے سنا تھا۔ اس کے سوا ان کے ہر کوئی راستہ بھی نہیں تھا تو پھر ان علماء کی تقلید پر اس قوم سے مذمت پر گئی ہے؟ یہودی عوام بھی اپنے علماء کی اسی طرح تقلید کرتے تھے جس طرح ہمارے عوام اپنے علماء کی تقلید کرتے ہیں؟

امام نے فرمایا؛ "ہمارے عوام و علماء اور یہودیوں کے عوام و علماء میں ایک لحاظ سے فرق اور ایک لحاظ سے یگانگت ہے۔ یگانگت اس لحاظ سے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے عوام کی اپنے علماء کی تقلید کرنے پر مذمت کی ہے جس طرح ان کے عوام کی مذمت کی ہے لیکن فرق ایسا نہیں ہے"

اس نے عرض کیا؛ "فرزند رسول! ذرا اس کی وضاحت فرما پس آپ نے فرمایا "یہودی عوام اچھی طرح جان چکے تھے کہ ان کے علماء صریح جھوٹ بولتے ہیں حرام اور رشوت کا مال کھاتے ہیں، واجب احکام کو سفارش، بخشش اوردوسرے کئی انداز میں تبدیل کر دیتے ہیں وہ یہ بھی جانتے تھے کہ جو ان کے دین کو اپنائے ہوئے ہیں ان کے حق میں زبردست تعصب کرتے ہیں اور جب تعصب کرتے ہیں تو حق کو اس کے مستحق سے ہٹا کر غیر مستحق کو دے دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے دوسروں پر ظلم کرتے ہیں فعل حرام کا ارتکاب کرتے ہیں یہود عوام کو یہ بھی اچھی طرح معلوم تھا کہ جو شخص ان جیسے افعال کا ارتکاب کرتا ہے وہ فاسق ہے،۔۔۔۔ وغیرہ اسی بنا پر اللہ سے ایسے لوگوں کی مذمت فرمائی ہے جو یہ سب کچھ جانتے بوجھنے کے باوجود ان کی تقلید کرتے ہیں حالانکہ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ان علماء کی باتوں کو قبول کرنا اور ان کی بیان کردہ گفتگو کی تصدیق کرنا جائز نہیں ہے۔۔۔۔

"اسی طرح ہماری اس امت کے عوام میں کہ جب اپنے فقہائے ظاہری فق، شدید تعصب اور دنیا کے حرام کی طرف جھپٹنے کو اچھی طرح جانتے ہیں، پھر بھی ان کی تقلید کرتے ہیں۔ لہٰذا ہمارے عوام میں سے بھی جو شخص ان جیسے فقہاء کی تقلید کرے گا ان یہودیوں کی مانند ہو گا جن کی اللہ تعالیٰ نے فاسق فقہاء کی تقلید کرنے کی وجہ سے مذمت فرمائی ہے۔ البتہ فقہاء میں سے جو شخص اپنے آپ کو دنیوی اغراض سے بچانے والا: دین کا محافظ، اپنے نفسانی خواہشات کا مخالف اور اپنے خالق کے امر کا فرمانبردار ہو تو عوام کو چاہئے کہ اس کی تقلید کریں لیکن ان صفات کے حاصل ہمارے صرف بعض فقہاء ہیں سب نہیں۔

(امام حسن عسکری) احتجاج طبرئی جلد ۲ صفحہ ۲۶۳

۱۷۰۹۲ ۔ جب تم دیکھو کہ کسی کی ظاہری وضع قطع اور سیرت و صورت اچھی ہے، بولنے میں بہ تکلف خاموشی اختیار کرتا ہے حرکات و سکنات میں نرمی سیکام لیتا ہے، تو صبر کرو اور فوراً اس کے جھانسے میں نہ آ جاؤ، کیونکہ بہت سے ایسے افراد ہیں جنہیں ان کی نیت کی کمزوری اور دل کی ناتوانی اس بات کیلئے عاجز کر دیتی ہے کہ دنیا کو سمیٹ لیں اور حرما کا ارتکاب کریں ایسے لوگوں نے دین کو دنیا کے (سمیٹنے کے) لئے ایک پھندا بنایا ہوا ہے۔ جب اسے دیکھو کہ تکلف کرتے ہوئے مال حرام سے بچنے کا اظہار کر رہا ہے تو اس کے جھانسے میں نہ آ جاؤ کیونکہ مولوق کی خواہشات مختلف ہوا کرتی ہیں۔

لیکن صحیح معنی میں اور بہترین صورت میں انسان وہ شخص ہے جس نے اپنی خواہشات کو امرِ الہٰی کا پابند بنا دیا ہو اپنی تمام ظاہری و باطنی قوتوں کو رضائے الہٰی کی طرف موڑ دیا ہو سمجھتا کہ حق کو اپنا کر بھی اگر ذلت حاصل ہوتی ہے تو وہ ابدی عزت کا پیش خیمہ ہے اس ظاہری عزت سے بہتر ہے جو باطل کو اپنا کر ہمیشہ کی رسوائی کا موجب بن جاتی ہے۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اس راہ پر قائم رہ کر جو تھوڑی بہت تکلیف ہوتی ہے وہ ابدی نعمتوں کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ ایسا انسان، بہترین انسان اسی کے ذریعہ اپنے رب تک رسائی کے لئے متوسل ہو جاؤ کیونکہ ایسے شخص کی کوئی دعا رد نہیں ہوتی اور نہ کوئی طلب ناکام جاتی ہے۔

(امام زین العابدین) مجار الانوار جلد ۲ صفحہ ۸۴ صفحہ ۸۵

تقلید کے بارے میں علمی و اخلاقی بحث

مفسر "المیزان" فرماتے ہیں :

گذشتہ امتوں میں سے قرآن مجید میں جس امت کا زیادہ تذکرہ ملتا ہے وہ بنی اسرائیل ہے اسی طرح تمام انبیاء میں سب سے زیادہ ذکر حضرت موسیٰ بن عمران ہے کہ قرآن مجید میں جن کا نام ایک سو چھتیس مقامات پر کیا گیا ہے، حضرت ابراہیم کے تذکرے بھی دوگنا ہے کیونکہ ان کا نام قرآن پاک میں انہتر مرتبہ لیا گیا ہے۔

اس کی ظاہری وجہ یہ ہے کہ اسلام چونکہ دین حنیف ہے، اس کی بنیادیں نضرایہ توحید پر اٹھائی گئی ہیں اسے موتس حضرت ابراہیم ہیں اسی دینِ اسلام کو اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر ۱۔ حضرت محمد مصطفی ﷺ پر کام اور اکمل فرماتا ہے جب کہ ارشاد الہٰی ہے:

"ملة ابیکم ابراھیم ھو ستمکم المسلمین" یہ تمہارے باپ ابراہیم کا دین ہے اس نے تمہارا نام پہلے ہی مسلم (سرتسلیم کرنے والا) رکھا ہے۔ (حج / ۷۸)

نبی اسرائیل سخت جھگڑالو قوم تھی وار حق کے آگے سرتسلیم خم کرنے کے لئے جلد تیار نہیں ہوتی بعینہ اسی طرح کفارِ عرب تھے جن سے رسول اسلام ﷺ کا پالا پڑا تھا۔ اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ اللہ تعالیٰ کو کہنا پڑا "ان الذین کفروا سواء علیھم ء انذرتھم ام لم تنذرھم لایومنون" یقینا جو لوگ کافر ہیں ان کے لئے برابر ہے کہ آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے (بقرہ/ ۶) بنی اسرائیل کی جس سنگدلی اور جو روجفا کے تذکرے قرآن نے کئے ہیں وہ تب ان کفار میں موجود تھے۔ چنانچہ اگر بنفرا غائر دیکھا تو معلوم ہو گا کہ بنی اسرائیل ایسے لوگ تھے جو مادیت کے دلدادہ تھے اور ہر اس چیز کو قبول کر لیتے تھے جس میں دنیوی لذتیں محسوس انداز میں موجود ہوتی تھیں۔ اس کے علاوہ وہ کسی چیز پر ایمان لانے کے لئے تیار نہیں ہوتے تھے۔ اسی طرح اس امت کے افراد تھے۔ وہ بھی محسوس چیزوں پر ایمان لانے پر تیار تھے اور مادی لذت و کمال کو قبول کرتے تے۔ آج بھی یہی صورت حال ہے یہی وہ صرت حال تھی جس نے بنی اسرائیل کے عقول و ارادوں کو جس مادہ کے علاوہ کسی چیز کو قبول کرنے سے روکا ہوا تھا۔ یعنی اس چیز کو قبول کیا جات اجو محسوس اور مادی ہو یعنی جس مادہ صحیح قرار دیں اسے وہ قبول کرتے تھے اور جو چیز غیر محسوس اور غیر مادی ہو" خواہ حق ہو، اس کا انکار کر دیتے تھے مادیت پرستی ان میں اس قدر راسخ ہو چکی کہ وہ ہر اس چیز قبول کر لیتے تھے جسے ان کے سردار جو مادیت کے جمال دنیا کی ظاہری شان و شوکت کے دلدادہ تھے اچھا سمجھتے اور اپناتے تھے خواہ وہ حق نہ بھی ہوتی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کے قول و فعل میں تضاد پید اہو گیا اور وہ ہر طرح کی دوسری اتباع و پیروی کو "اندھی تقلید" کے نام سے موسوم کرتے اس کی مذمت کرنے لگے خواہ وہ حقیقت میں شائستہ ہوتی وہ لوگ دنیا داری پر ہر طرح کی پیروی کو قابل تعریف سمجھتے تھے۔ اگرچہ وہ حقیقت میں ناشائستہ ہوتی۔ لیکن چونکہ ان کی مادی خواہشات کو پورا کرتی تھی لہٰذا ان کے لئے قابل ستائش ہوتی۔ ان کی وجہ یہ تھی کہ وہ ایک طولانی مدت وار عرصہ دراز سے مصریوں کے ذلت آمیز رویہ کے شکار اور قید وبند میں جکڑے رہے تھے۔ اور ان کی طرف سے ڈھائے جانے والے ہر طرح کے مظالم کو برداشت کرتے چلے آ رہے تھے۔ وہ ان کو طرح طرح کے عذاب میں مبتلا کئے ہوئے تھے۔ ان کے لڑکوں کو قتل کر دیتے تھے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اس طرح وہ ایک عظیم خدائی آزمائش میں مبتلا تھے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ انبیاء الہٰی اور علمائے ربانی کے اور امرونوا ہی کو آسانی سے قبول کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔ حالانکہ اس میں ان کی دین و دنیا و معاشر معاد دونوں کی بھلائی تھی، (جس کا نمونہ آپ حضرت موسیٰ کے حالات میں ملاحظہ فرما سکتے ہیں کہ انہوں نے اپنے عظیم الشان پیغمبر موسیٰ اور دیگر انبیاء کے ساتھ کیا سلوک کیا؟) جبکہ وہ دنیا پرست اور مادیت کے دلدادہ جدید ثقافت حکمرانوں اور دشہوت پرست فرمانرواؤں کی آواز پر فوراً لبیک کہہ دیتے تھے۔

عصر حاضر میں بھی حق و حقیقت اسی مصیبت سے دو چار نہیں اور تہذیب نو کے نام سے مغرب کا دیا ہوا تحفہ دنیا کو حق و حقیقت سے کوسوں دور لے جاچکا ہے۔ اس لئے کہ اس کی بنیاد بھی حس اور مادہ پر رکھی گئی ہے اس سے ہٹ کر کسی اور دلیل کو قبول کرنے پر تیار نہیں ۔ لیکن جہاں محسوس کی جانے والی مادی لذت موجود ہوتی وہاں کسی قسم کی دلیل اختیار نہیں کی جاتی۔ یہی وجہ ہے کہ اس سے انسانی فطرت کی دھجیاں اڑ گئی ہیں اور معارف عالیہ و ااخلاق قافلہ کا جنازہ نکل چکا ہے۔ جس کے نتیجے میں انسانیت سقوط کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اور انسانی معاشرہ تباہی سے دو چار ہے۔ اب دیکھئے کی اہوتا ہے اس کے برعکس اخلاقیات کی بحث اس کے خلاف فیصلہ دیتی ہے وہ یوں کہ نہ تو ہر دلیل مطلوب و مرغوب ہوتی ہے نہ ہی یہ تقلید ناپسندیدہ و قابلِ مذمت! یہ اس لئے کہ بنی نوع انسان اپنے انسان ہونے کی وجہ سے ہمیشر اپنے ارادی افعال کی وجہ سے جو فکر و ارادے ہر موقوف ہوتے ہیں کمال حیات کی طرف ہیں روا دواں ہے ان افعال کا وجود غور و فکر کے نتیجے میں عمل میں آتا ہے اور یہ غور و فکر ہی ہے جو کمالِ وجودی کی واحد بنیاد ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ انسان کے پاس عملی یا نظری تصدیقات موجود ہوں۔ جن کے ذریعہ وہ بالواسطہ یا بلاواسطہ کمالِ وجودی کی منزلوں تک جا پہنچے جو ایسے قضئے ہوتے ہیں جن کے ذریعہ ہم اپنے انفرادی و اجتماعی افعال کی وجاہات کو معلوم کر سکتے ہیں یا انہیں اپنے ذہن میں حاضر کر کے ان کا اظہار اپنے ہاں کے ذریعہ خارج میں کر سکتے ہیں۔

یہ تو ایک رات ہے اب آئیے دوسری طرف انسانی فطرت میں یہ بات شامل ہے کہ وہ رونما ہونے ولاے واقعات کے بارے میں بحث و تمحیص و تجسس سے کام لیتا ہے جب اس کے ذہن میں کچھ معلومات کو خارج میں اس وقت تک افعال کے ذریعہ وجوود کا جامہ نہیں پہنا سکتا جب تک اس کے ذہن میں اس کی علت موجبہ موجود نہ ہو۔ وہ تصدیق نظری کو اس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک کسی طرح اس کی علت پر اسے اطیمنان نہ ہو۔ چنانچہ یہ ہے انسان کا طریقہ کار ہے جس سے وہ انحراف نہیں کرتا اگر کہیں ہم اس کے خلاف دیکھتے ہیں تو غور وفکر کر کے اس شبہہ کو حل کیا جا سکتا ہے۔ اور اس کی عدت کو پیدا کیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک فطری امر ہے اور فطرت نہ تو بدلتی ہے اور نہ ہی اپنے فعل کے خلاف کرتی ہے۔ یہی چیز انسان کو اس کے فطری احتیاجات کی وجہ سے اس کے طاقت سے زیادہ فکری عمل تک جا پہنچاتی ہے انسان کے فطری احتیاجات اس قدر زیادہ وہتے ہیں جنہیں پورا کرنے کی ایک فرد اجد کے بس میں نہیں ہوتا کہ وہ اپنی ذات پر بھروسہ کر کے اپنی ذاتی طاقت کے بل بوتے پر انہیں حل کر سکے۔ لہٰذا فطرت اسے اجتماعیت اور معاشرتی زندگی بسر کرنے پر مجبور کر دیتی ہے انسان کا "مدنی الطبع" ہونا اور آپس میں مل جل کر رہنا۔

اسی طرح ضروریات زندی کے لئے کئی ابواب مقرر کئے گئے انہیں معاشرہ کے افراد کے درمیان تقسیم کر دیا گیا ہے ہر ایک باب کے لئے معاشرہ کے مختلف گروہ و افراد مقرر کئے گئے جنہیں ان کے درمیان تقسیم کر دیا گیا ہے جس طرح کسی جاندار کے مختلف اعضاء ہوتے ہیں اور ہر ایک عضو کا اپنا کام ہوتا ہے جسے وہ انجام دیتا ہے۔ لیکن اجتماعی فائدہ اسی جاندار ہی کو حاصل ہوتا ہ۔

انسانی ضروریات اپنی نوعیت کے اعتبار سے بڑھتی رہتی ہیں، اور ان کا دائرہ روز بروز وسیع ہوتا رہتا ہے، مختلف علوم و فنون کے مارہن میں سے ان کے لئے متخحدمین۔ سپیشلسٹ۔ افراد کی تربیت کی جاتی ہے ماہرین فن پیدا کئے جاتے ہیں چنانچہ ایک زمانہ تھا جس میں بہت سے علوم و صفتیں صرف ایک حد تک محدود تھیں ان میں ہر ایک علم و فن یا صفت کے لئے صرف ایک ہی فرد کافی ہوتا تھا۔ لیکن آج صورت حال اس لئے مختلف ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ صرف ایک علم یا ایک فن یا ایک صنعت کئی ابواب میں تقسیم ہو چکے ہیں۔ اور ہر ایک کے کئی شعبے بن چکے ہیں۔ مثلاً قدیم زمانہ میں طب صرف ایک فن ہوتا تھا، لیکن آج یہ کئی فنون کی صورت اختیار کر چکا ہے جن کے لئے صرف ایک فردِ واحد متخصص بن کر کفایت نہیں کر سکتا بلکہ ہر ایک فن کے لئے کئی مختسین کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہی وجہ سے ہے کہ فطری الہام کے انسان کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ انسان کسی ایک شغل کو مستقل طور پر اپنائے اور اس میں خصوصیت حاصل کرے، لیکن دوسرے امور میں ایسے افراد کی اتباع کرے جن کی مہارت اور تخصص کی مہارت اور تخصص قابلِ اعتبار و موجب اعتماد ہوتی ہے۔

اسی لئے معاشرت کے صاحبانِ عقل و بصیر ت کا فیصلہ ہے کہ جو شخص کسی چیز کو تفصیلی دلائل کے ساتھ نہیں جانتا نہ ہی یہ چیز اس کے بس میں ہے۔ تو اسے چاہئے کہ وہ اس فن کے ماہرین اور متفصین کی طرف رجوع کرے اور ان کے بتائے ہوئے اصولوں کی اتباع کرے جو تفصیلی دلائل کے ساتھ اس کا علم رکھتے ہیں اسی کا نام تقلید ہے۔ جیسا کہ انسان کی فطرت میں ہے کہ وہ اپنی وسعت کے مطابق کسی چیز کی علت و دلیل کو تفصیل سے جاننا چاہتا ہیل۔ اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ جن چیزوں کی تفصیلی دلائل کو نہیں جان سکتا میں ماہرین اور متفصین کی طرف رجوع کرے۔ یہ بات بھی واضح ہے کہ انسان فطری طور پر لاعلمی کی طرف رجحان پیدا نہیں کرتا، بلکہ علم ہی کی طرف راغب و مائل ہوتا ہے۔ اسی لئے فطری طور پر "اجتہاد" ضروری ہو جاتا ہے۔ جب "اجتہاد" اور "تقلید" میں فرق یہ ہے کہ انسان اپنی مقرور بھر کوشش کے ساتھ کسی امر کی علت و اسباب کے بارے میں تفصیلی چھان بین سے کام لیتا ہے "اجتہاد" کہا جاتا ہے بے علم انسان جن امور کو تفصیلی طور پر نہیں جانتا وہ ایسے جاننے والے کی طرف رجوع کرتاہے جو ان امور کو تفصیلی طور پر جانتا ہو اسی رجوع و اتباع کا نام "تقلید" ہے۔ یہ بات بالکل محال ہے کہ نوع انسان میں سے کوئی شخص ایسا مل جائے جو ہر معاملے میں مستقل اور ہر بات کو تفصیل کے ساتھ جانتا ہو جس پر انسانی زندگی کا دلاویدار ہے یہ امر بھی بالکل محال ہے کہ نوع بشر میں کوئی شخص اتباع تقلید کے بغیر ہو اگر کوئی شخص اس کے خلاف دعویٰ کرے یا اسے یہ باور ہو کہ وہ اپنی زندگی میں کسی کو متلا نہیں ہے تو یہ اس کی خود فریبی ہے اور وہ اپنے آپ کو دھوکہ دے رہا ہے۔

البتہ ان امور میں تقلید کی جائے گی جن کے علل و اسباب تک کسی ما فن کی رسائی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح اجباد بھی ان امور کے بارے میں نہیں کیا جائے گا جن میں نہ تو وار دا ہونے کی اجازت ہے اور نہ ہی انہیں اپنایا جا سکتا ہے۔ ایسے اوصاف رذیلہ کے بارے میں اجتناذ نہیں کیا جائے گا جو معاشرہ کے لئے تباہ کن اور بافضیلت تمدن کے لئے مہلک ہیں غیر مشروط اور مطلق اتباع و پیروی خدا کی ذات کے علاوہ کسی اور کے لئے جائز نہیں ہے کیونکہ خداوندِ متعال ایسا سبب ہے جس میں تمام اسباب کی انتہا ہوتی ہے۔"

(تفسیر المیزان جلد اول صفحہ ۲۰۹ تا صفحہ ۲۱۲


فصل ۲۱

( ۱) قلم

قرآن مجید:

( ن والقلم وما یسطرون ) ۔ (قلم / ۱)

ترجمہ:

ن۔ قلم کی قسم اور اس کی جو کچھ وہ لکھتے ہین۔

( الذی علم بالقلم ) ۔ (علق/ ۴)

ترجمہ:

وہ جس نے قلم کے ذریعہ تعلیم دی۔

حدیث شریف:

۱۷۰۹۳ ۔ صاحبانِ (علم و فضل) کے عقول قلموں کے کناروں پر ہوتے ہیں۔

(حضرت علی ) عذرالحکم

۱۷۰۹۴ ۔ صاحب قلم کو قیامت کے دن آگ کے تابوت میں لایا جائے گا جس پر آگ کے تالے پرے ہونگے۔ پھر یہ دیکھا جائے گاکہ اس کا قلم کسی چیز کے بارے میں چلتا رہا۔ اگر اس نے قلم کو خد اکی اطاعت و رضا میں چلایا ہو گا تو اس کے تابوت کو کھول دیا جائے گا (اور اسے اس سے نکال لیا جائے گا) اور اگر اسے خدا کی نافرمانی میں چلایا ہو گا تو اسے ہی مابوت میں ستر سال تک بند رکھا جائے گا۔

(حضرت رسول اکرم) کنز العمال حدیث ۱۴۵۷


فصل ۲۲

قمار (جُوا)

قرآن مجید:

( یسئلونک عن الخمر ---------------- من نفعهما ) (بقرہ/ ۲۱۹)

ترجمہ:

لوگ آپ سے شراب اور جوے کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہہ دیجئے کہ ان دونون میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لئے کچھ نفع بھی ہے، مگر ان کے نفع سے ان کا گناہ بہت زیادہ ہے۔۔۔

( حرمت علیکم المتیة والدم ----- وان تستقسموا بالازلام---- ) (مائدہ/ ۳)

ترجمہ:

تم پر حرام کیا گیا ہے مردار اور خون اور ۔۔۔۔ وہ جسے تم تیروں پر تقسیم کرو۔۔۔۔

( یایها الذین امنوا ---- تعلحون ---- انمایرید الشیطان ---- منتلعون ) ۔ (مائدہ/ ۹۱/۹۰)

ترجمہ:

اے ایماندارو! بے شک شراب، جوا، بتوں کے استھان اور پانسے یہ (سب) نجاستیں عملِ شیطان ہیں پس ان سے گریز کرو تاکہ عمل فلاح پاؤ۔

بے شک شیطان چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان شراب اور جوئے سے بغض اور عداوت ڈال دے اور تمہیں اللہ کے ذکر و نماز وسے روک دے تو کیا تم (ان سے) باز آ جاؤ گے؟

حدیث شریف:

۱۷۰۹۶ ۔ "میسر" وہی قمار ہی ہے۔

(حضرت امام رضاعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۹ صفحہ ۲۳۵ ۔

(امام موسیٰ کاظ معلیہ السلام) فروع کافی جلد ۵ صفحہ ۱۲۴

۱۷۰۹۷ ۔ شطرنج، نرد چودہ خانے اور وہ کھیل جس پر شرط لگائی جائے "جوا" ہے۔

(امام رضاعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۹ صفحہ ۲۳۵

۱۷۰۹۸ ۔ عبدالواحد بن مختار کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام سے شطرنج کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: "مومن بے ہودہ کھیلوں سے روگردان رہتا ہے"

مجار الانوار جلد ۹ ۷ صفحہ ۲۳

۱۷۰۹۹ ۔ بکیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام جعفر صادقعلیہ السلام سے شطرنج کھیلنے کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: "مومن بیہودہ کھیلوں سے منہ موڑے رہتا ہے۔"

مجار الانوار جلد ۷۹ صفحہ ۲۳۰

۱۷۰۱۰۰ ۔ جو چیز بھی ذکرِ الہٰی سے غافل کر دے اس کا شمار "جوئے" میں ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۹ ۷ صفحہ ۲۳

۱۷۱۰۱ ۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول : "ولاتاکلوا اموالکم بینکم بالباطل" اپنے مالوں کو اپنے درمیان حرام طریقوں سے نہ کھاؤ کے بارے میں فرمایا: قریش اپنے اہل وعیال اور مال کے ساتھ جوا کھیلا کرتے تھے جس سے اللہ نے یہ کہہ کر منع فرمایا ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) فروغ کافی جلد ۵ صفحہ ۱۲۲

۱۷۱۰۲ ۔ سکونی کہتے ہیں حضرت امام جعفر صادقعلیہ السلام نے فرمایا: "ان اخروٹوں کے کھانے سے منع کیا گیا ہے جنہیں بچے جوئے میں جیت کر لاتے تھے۔ فرمایا کہ یہحرام ہے۔

وسائل الشبہ جلد ۱۲ صفحہ ۱۲۰ ۔ فروغ کافی جلد ۵ صفحہ ۱۲۳

۱۷۰۱۰۳ ۔ سکونی کہتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادقعلیہ السلام ان اخروٹوں سے منع فرمایا کرتے تھے جن کو بچے جوئے میں جیت کر لایا کرتے تھے۔ فرمایا کہ "یہ حرام ہے۔"

مجار الانوار جلد ۷۹ صفحہ ۲۳۵

۱۷۱۰۴ ۔ جب حضرت امام حسینعلیہ السلام کا سرمبارک شام لایا گیا تو یزید لعین نے اسے زمین پر رکھا اور اس پر دستر خوان بچھیا، جس پر وہ خود اور اس کے ساتھی کھانا کھاتے اور فقاع (جوکی شراب) پیتے رہے جب کھانے سے فارغ ہو گئے تو اس نے حکم دیا کہ سر مبارک کو ایک طشت میں اس کے تخت کے نیچے رکھ دیا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور پھر اس پر شطرنج کی بساط بچھائی گئی جس پر بیٹھ کر یزید شطرنج کھیلنے لگا۔ پھر وہ حضرت سید شہداء اور ان کے آباؤ اجداد علیہم السلام کا نام لے لے کر ان کا مذاق اڑانے لگا۔ جب کھیل جیت جاتا تو تین مرتبہ شراب پیتا جو بچ رہتی اسے طشت کے اطچراف میں زمین پر انڈیل دیتا۔

لہٰذا جو شخص ہمار شیعہ کہلاتا ہے اسے شراب پینے اور شطرنج کھیلنے سے اجتناب کرنا ہوگا۔۔

(امام رضاعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۱۰۴ صفحہ ۲۳۷

۱۷۱۰۵ ۔ اللہ تعالیٰ نے جب اپنے رسول پر یہ آیت "انما الخمر والمسیر۔۔" (بقرہ/ ۲۱۹) نازل فرمائی تو آپ سے پوچھا گیا کہ: "یارسول اللہ! "میسر" کیا ہے؟ فرمایا: "ہر وہ چیز جس سے جوا کھیلا جائے حتی کہ ہیالے اور اخروٹ بھی۔۔۔۔

پھر پوچھا گیا: "انصاب" کیا ہے؟ فرمایا: "وہ لوگ جو جانور اپنے (خود ساختہ) خداؤں کے لئے ذبح کیا کرتے تھے۔" پھر سوال کیا گیا: "ازلام" کیا ہے؟ فرمای: "ان لوگوں کے وہ تیرہیں جن کے ذریعہ وہ تقسیم مال کا کام لیا کرتے تھے"

(امام محمد باقرعلیہ السلام) وسائل ۱ شیعہ جلد ۱۲ صفحہ ۱۱۹

۱۷۱۰۶ ۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر شراب اور جوا اور برط وغیرہ کو حرام فرمایا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) سنن ابی داود جلد ۳ صفحہ ۳۳۱ صفحہ ۳۲۸


فصل ۲۳

قنوط (ناامید)

( ۱) خدا کی رحمت سے ناامیدی

قرآن مجید:

( لایایئس من روح الله الاالقوم الکٰفرون ) ۔ (یوسف/ ۸۷)

ترجمہ:

بے شک کافروں کے سوا اللہ کی رحمت سے کوئی مایوس نہیں ہوتا۔

( قال ومن --- من رحمة ربه الاالضالون ) ۔ (حجر/ ۵۶)

ترجمہ:

(ابراہیم علیہ السلام نے) کہا: "اپنے رب کی رحمت سے گمراہ لوگوں کے علاوہ اور کون مایوس ہوتا ہو؟"

( وان مسه الشرفیو س قنوط ) ۔ (حم سجدہ/ ۴۹)

ترجمہ:

اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ مایوس و ناامید ہو جاتا ہے۔

حدیث شریف:

۱۷۱۰۷ ۔ اس شخص پر تعجب ہے جو (توبہ و) استغفار کی گنجائش ہوتے ہوئے مایوس ہو جائے۔

(حضرت علی علیہ السلام) شرح ابی البلاغہ حکمت ۸۷

۱۷۱۰۸ ۔ جب تک توبہ کا دروازہ کھلا ہے اپنے گناہوں کی وجہ سے مایوسی کا شکار نہ بنو۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار جلد ۷۸ صفحہ ۵۳ تحف العقول صفحہ ۱۵۳

۱۷۱۰۹ ۔ اللہ کی رحمت سے مایوس عبادت گزار کی نسبت وہ گناہگار اللہ کے زیادہ قریب ہے تو اپنے اللہ کی رحمت کا امیدوار ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) کنز العمال حدیث ۵۸۶۹

۱۷۱۱۰ ۔ اللہ کی رحمتت سے مایوسی اور ناامیدی کوتاہی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۷ صفحہ ۲۱۱

۱۷۱۱۱ ۔ دعائی کلمات: "بار الہٰی! میں تیرے بارے میں اپنے حسن ظن پر ناامیدی کی مایوسی کو غالب نہ آنے دوں، اور نہ میری امیدیں تیرے پیارے کرم سے منقطع ہونے پائیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۹۴ صفحہ ۹۹

۱۷۱۱۲ ۔ خداوند عالم فرماتا ہے: "میرے اطاعت گزار (بندے) میرے مہمان ہوتے ہیں۔ (میری نعمتوں کے) شکر گزار میری نعمتوں کے اضافے سے بہرہ مند ہوتے ہیں۔ میں اپنے نافرمانوں کو بھی اپنی رحم سے مایوس نہیں کرتا۔ اگر وہ کر لیں گے تو میں ان کا دولت ہوں گا اور اگر مجھ سے دعا مانگیں گے تو میں قبول کروں گا۔۔۔

مجار لانوار جلد ۷۷ صفحہ ۴۲

۱۷۱۱۳ ۔ حضرت امام جعفر صادقعلیہ السلام ایک دانا قول لعل کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

"خدائی رحمت سے مایوسی، کرہ زمہرے سے زیادہ سرد ہوتی ہے۔"

مجار الانوار جلد ۷۲ صفحہ ۳۳۸

۱۷۱۱۴ ۔ دعائے طلب باران کے سلسلے میں بارگاہ رب العزت میں عرض کرتے ہیں۔ "بارالہٰی! (خشک سالی سے) ہمارے پہاڑوں کا سبزہ بالکل خشک کر دیا گیا ہے۔ ہم تجھ سے اس وقت دعا کر رہے ہیں جبکہ لوگ بے آس ہو چکے ہیں اور بادلوں کا اٹھنا بند ہو چکا ہے۔ کیونکہ تو ہی تو لوگوں کے ناامید ہو جانے کے بعد مینہ برساتا ہے اپنی رحمت کے دامن کو پھیلا دیتا ہے اور تو ہی والی و وارث بہترین صفتوں والا ہے۔"

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۱۵

۱۷۱۱۵ ۔ طلب باراں ہی کے بارے میں دعائیہ کلمات: "دربار الہٰی! ہمیں اپنی بارانِ رحمت سے سیراب فرما اور ہمیں مایوس نہ ہونے دے۔"

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ ۱۱۵

۱۷۱۱۶ ۔ یقین رکھو کہ جس کے قبضہ قدرت میں آسمان و زمین کے خزانے ہیں، اس نے تمہیں سوال کرنے کی اجازت دے رکھی ہے اور قبول کرنے کا ذمہ لیا ہے۔۔ ہاں بعض اوقات قبولیت میں دیر ہو تو اس سے امید نہ ہو، اس لئے کہ عطیہ نیت کے مطابق ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ مکتوب ۳۱

۱۷۱۱۷ ۔ تمام حمد اس میں اللہ کے لئے ہے جس کی رحمت سے ناامیدی نہیں جس کی نعمتوں سے کسی کا دامن خالی نہیں اس کی مغفرت سے کوئی مایوس نہیں۔۔۔۔

( ۲) خدا کی رحمت سے کسی کو مایوس نہ کرو

۱۷۱۱۸ ۔ خداوند عالم فرماتا ہے: "اے فرزند آدم! ۔۔ لوگوں کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہ کرو جبکہ تم اس کی اپنے لئے امید رکھتے ہو۔"

(حضرترسول اکرم ) عیون اخبار الرضا صفحہ ۲۸

۱۷۱۱۹ ۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنی رحمت سے مایوس کرنے والوں کو ایسی حالت میں مبعوث فرمائے گا کہ ان کے چہروں پر سیاہی کا سفیدی پر غلبہ ہو گا۔ ان سے کہا جائے گا: "یہی وہ لوگ ہیں جو دوسروں کو خدائی کی رحمت سے مایوس کیا کرتے تھے۔"

مجار لانوار جلد ۲ صفحہ ۵۵ جلد ۷۲ صفحہ ۳۳۸

۱۷۱۲۰ ۔ صحیح عالم و دانا وہ ہو جو رحمتِ خدا سے مایوس اور اس کی طرف سے حاصل ہونے والی آسائش و راحت سے دوسروں کو ناامید نہ کرے اور نہ انہیں اللہ کے عذاب کی طرف سے بالکل مطمئن کر دے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ حکمت ۹۰

۱۷۱۲۱ ۔ امیر المومنین کی اپنے فرزند امام حسنعلیہ السلام کو وصیت سے اقتباس: "اے فرزند! کسی گناہگار کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہ کرو، کیونکہ بہت سے گناہوں میں بچتے ہوئے لوگ ایسے بھی ہیں۔ جن کا انجام نجر ہوتا ہے۔ جبکہ بہت سے ایسے عامل گزرے ہیں جنہوں نے اپنی آخری عمر میں اپنے اعمال کو برباد کر دیا ہے اور سیدھے جہنم میں چلے گئے خدائی کی پناہ!

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۷ صفحہ ۲۳۹

(قول مولف: ملاحظہ ہو: باب "فقہ" صحیح معنی ہیں فقیہ‘

نیز: باب "توبہ" "خدا کی قسم کھانا"

( ۳) ایسے لوگ خدائی رحمت سے محروم ہیں

قرآن مجید:

( والذین کفروا بایات الله ولقائهِ اولئک ئیسوا من رجمتی ) (عنکبوت/ ۲۳)

ترجمہ:

جن لوگوں نے اللہ کی آیات اور اس کی ملاقات کا انکار کیا وہی ہیں جو میری رحمت سے مایوس ہیں۔۔۔

حدیث شریف:

۱۷۱۲۲ ۔ سوچ سمجھ کر گناہ کرنے والا، عفو پروردگار کا مستحق نہیں ہے۔ بغیر علم کے گناہ کرنے والا گناہ سے بری الذمہ ہو گا۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

(قول مولف: ملاحظہ ہو: باب "گناہ" "جو گناہ ناقابل معافی ہیں"

نیز: باب "توبہ" "توبہ کب تک قبول ہو سکتی ہے"

--------------------------چند روایات نہیں ہیں -----------------------------

۱۷۱۲۸ ۔ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں ۔۔۔۔ ایسی قسم جس میں اللہ کی ؟؟؟؟؟؟؟؟ کے علاوہ کسی چیز کا استثناء نہیں۔۔۔ کہ میں اپنے نفس کو ایسا سدھاؤں گا کہ وہ کھانے میں ایک روتی کے ملنے پر خوش ہو جائے اور اس کے ساتھ صرف نمک پر قناعت کر لے۔۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ مکتوب ۴۵

۱۷۱۲۹ ۔ انبیاء علیہم السلام کی توصفی میں فرماتے ہیں۔۔۔۔ لیکن اللہ سبحانہ نے اپنے رسولوں کو ارادہ میں قوی، آنکھوں کو دکھائی دینے والے ظاہری حالات میں کم زور و ناتواں قرار دیا ہے نیز انہیں ایسی قناعت سے سرفراز فرماتا ہے جو دیکھنے اور سننے والوں کے دلوں اور آنکھوں کو بے نیازی سے بھر دیتی ہیں۔۔۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۲

۱۷۱۳۰ ۔ اپنے نفس کو قناعت سکھاؤ۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۸ صفحہ ۹

۱۷۱۳۱ ۔ قناعت، انسان کا بہترین سرمایہ ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار جلد ۷۷ صفحہ ۲۳۱

۱۷۱۳۲ ۔ جان لو کہ اللہ کی رضا پر راضی رہنے و قناعت اختیار کرنے کی صفت ، عطیہ اور بخشش کی صفت سے بہت بہتر ہے۔

(امام حسنعلیہ السلام ) مجار الانوار جلد ۷۸ صفحہ ۱۱

۱۷۱۳۳ ۔ جس طرح تم قصاص لے کر اپنے دشمن سے بدلہ لے لیتے ہو اسی طرح قناعت اختیار کر کے حرص سے اپنا بدلہ لے لو۔

(حضرت علی علیہ السلام) عزرالحکم

۱۷۱۳۴ ۔ لوگوں میں خدا کا سب سے زیادہ شکر گزار وہ ہے جو سب سے زیادہ قناعت کرتا ہے۔ اور خدا کی نعمتوں کا سب سے بڑا ناشکراہ بہت بڑا لالچی شخص ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۷ صفحہ ۴۲۲

۱۷۱۳۵ ۔ قناعت سے بڑھ کر کوئی سلطنت اور خوش خلقی سے بڑھ کر کوئی عیش و آرام نہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۱ صفحہ ۲۴۵ نہج البلاغہ حکمت ۲۲۹

۱۷۱۳۶ ۔ انسان کے لئے یہ بات کتنی اچھی ہے کہ وہ "قلیل" پر قناعت کر لے اور "عظیم" کے ساتھ سخاوت کہ

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۱۳۷ ۔ انسان کے نفس کی قناعت اس کی پرہیزگاری و پاکیزگی کے لئے معاون و مددگار ہوتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عزر الحکم

۱۷۱۳۸ ۔ ہمت کی سربلندی کا راز قناعت اختیار کرنے میں ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عزرالحکم

۱۷۱۳۹ ۔ نفس کی عزت اسی میں ہے کہ قناعت کو اختیار کیا جائے

(حضرت علی علیہ السلام) عزرالحکم

۱۷۱۴۰ ۔ قناعت ایسی تلوار ہے جس کاوار کبھی خطا نہیں جاتا۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۱ صفحہ ۹۶

۱۷۱۴۱ ۔ میری امت کے شریف لوگ قناعت پسند اور شرید لوگ لالچی ہوتے ہیں۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۷۰۹۵

۱۷۱۴۲ ۔ قناعت پسند مومن شریف اور لالچی شریر ہوتے ہیں۔

(حضر ت علی علیہ السلام) عزرالحکم

۱۷۱۴۳ ۔ حضرت ابوجعفر (امام محمد باقرعلیہ السلام) فرماتے ہیں کہ حضرت علیعلیہ السلام گھٹیا قسم کی کھجوروں کو تناول فرمانے کے بعد پانی نوش فرمایا، پھر اپنے شکم پر ہاتھ پھیر کر فرمانے لگے "جس کا شکم اسے جہنم میں ڈالے خدا اسے اپنی رحمت سے دور رکھے" پھر آپ نے کسی شاعر کے اس شعر کو پڑھا

ترجمہ:

"جب تم اپنے شکم و شرم گاہ کو ان کی مرضی کے مطابق مطلوبہ چیزیں فراہم کرو گے، تو وہ ہر قسم کی برائیوں کو ایک جگہ اکٹھا کر دیں گے"

کنز لاعمال حدیث ۸۷۴۱

( ۲) قناعت ہی میں تو نگری ہے

۱۷۱۴۴ ۔ قناعت ختم نہ ہونے والا سرمایہ ہے۔

(حضر ت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۷۰۸۰

(حضرت علیعلیہ السلام) نہج البلاغہ حکمت ۴۷۵

۱۷۱۴۵ ۔ قناعت تو نگر بنا دیتی ہے۔

(حضر ت علی علیہ السلام) عزرالحکم

۱۷۱۴۶ ۔ میں نے تو نگری کو تلاش کیا تو اسے قناعت میں پایا۔ تم پر بھی لازم ہے کہ قناعت اختیار کرو تاکہ تو نگر بن جاؤ۔

(حضر ت علی علیہ السلام) مجا رالانوار جلد ۶۹ صفحہ ۳۹۹

۱۷۱۴۷ ۔ قناعت تونگری اور میانہ روی منزل مقصود ہے۔

(حضر ت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۸ صفحہ ۱۰

۱۷۱۴۸ ۔ قناعت کرنے والا تونگر ہوتا ہے خواہ بھوکا برہنہ ہو۔

(حضر ت علی علیہ السلام) عزرالحکم

۱۷۱۴۹ ۔ قناعت ہی تو نگری کا سرمایہ ہے۔

(حضر ت علی علیہ السلام) عزرالحکم

۱۷۱۵۰ ۔ کوئی خزانہ قناعت سے زیادہ بے نیاز کرنے والا نہیں۔

(حضر ت علی علیہ السلام) مجار الوانوار جلد ۶۹ صفحہ ۳۹۹

۱۷۱۵۱ ۔ جو شخص خدا کی دی ہوئی روزی پر قانع ہوتا ہے وہ بہت بڑا غنی ہے۔

(حضر ت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۷ صفحہ ۴۵

(حضرت جعفر صادقعلیہ السلام) کافی جلد ۲ صفحہ ۱۳۹

۱۷۱۵۲ ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت داؤد علیہ السلام کی طرف وحی کی ۔۔۔ میں نے تونگری کو قناعت کے اندر رکھا جبکہ لوگ اسے مال کی کثرت میں تلاش کرتے ہیں جسے نہیں پا سکیں گے۔

مجار الوانوار جلد ۷۸ صفحہ ۴۵۳

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو: باب "تونگری" "بہت بڑا غنی"

( ۳) قناعت کے اسباب

۱۷۱۵۳ ۔ حرص سے جان چھڑ اکر قناعت کے میدان میں ڈیرے ڈال لو اور قناعت کو اختیار کر کے بڑے سے بڑے حرص و لالچ کو دور بھگاؤ۔

(امام محمد باقرعلیہ السلام ) مجار الانوار جلد ۷۸ صفحہ ۱۶۳

۱۷۱۵۴ ۔ قدرت کے لحاظ سے اپنے کم درجہ کے لوگوں کی طرف نگاہ کرو، کیونکہ یہی چیز تمہیں خدا کی تقسیم پر قانع رکھے گی۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) سجارالانوار جلد ۷۸ صفحہ ۱۹۸ ۔ فروع کافی جلد ۸ صفحہ ۲۴۴

۱۷۱۵۵ ۔ عفت و پاکدامنی کے مطابق ہی قناعت ہوتی ہے۔

(حضر ت علی علیہ السلام) عزرالحکم

۱۷۱۵۶ ۔ جب تک حرص کا خاتمہ نہ کیا جائے اس وقت تک قناعت میسر نہیں آتی۔

(حضر ت علی علیہ السلام) عزرالحکم

۱۷۱۵۷ ۔ جو عقل مند اسے کام لیتا ہو وہ قناعت کرتا ہے۔

(حضر ت علی علیہ السلام) عزرالحکم

۱۷۱۵۸ ۔ جس نے اپنی آپ کو پہچان لیا اسے چاہئے کہ قناعت و پرہیز گاری کو اختیار کرے۔

(حضر ت علی علیہ السلام) عزرالحکم

( ۴) قناعت کا ثمرہ

۱۷۱۵۹ ۔ قناعت کا ثمرہ کاروبار کو اچھے انداز میں چلاتا اور مانگنے سے کنارہ کشی ہوتا ہے۔

(حضر ت علی علیہ السلام) عزرالحکم

۱۷۱۶۰ ۔ قناعت کا ثمرہ عزت ہے۔

(حضر ت علی علیہ السلام) عزرالحکم

۱۷۱۶۱ ۔ نفس کے سدھارنے کے لئے قناعت بہت بڑی معاون ہے۔

(حضر ت علی علیہ السلام) عزرالحکم

۱۷۱۶۲ ۔ جو قلیل پر قناعت نہیں کرتا وہ اپنی نفس کی اصلاح کیونکر کر سکتا ہو؟

(حضر ت علی علیہ السلام) عزرالحکم

۱۷۱۶۳ ۔ قنات میں جسمانی راحت ہو۔

(امام حسینعلیہ السلام) مجار الانوارا جلد ۷۸ صفحہ ۱۲۸

۱۷۱۶۴ ۔ قناعت کرنے وال غمگین نہیں ہوتا۔

(حضرت علی علیہ السلام) عزرالحکم

۱۷۱۶۵ ۔ حضرت امام رضاعلیہ السلام سے قناعت کے بارے میں پوچھ اگیا تو آپ نے فرمایا: قناعت نفس کی حفاظت، قدر کی عزت، زیادہ ططی کے بوجھ کو ہلکا کرنے اور اہل دنیا کو اپنا غلام بنانے میں بہت بڑا کردار ادا کرتی ہے۔ قناعت کے راستے کو صرف و ہی شخص ہی اختیار کرتے ہین، ایک تو وہ جو پاکیزہ نفس کا مالک۔ یا خدا کا عبادت گزار ہو اور آخرت کے اجر کا امیدوار ہو دوسرا وہ شریف انسان جو کمینوں سے کنارہ کش رہتا ہو۔

سجا الانوار جلد ۷۸ صفحہ ۳۴۹ ۔ ۳۵۳

۱۷۱۶۶ ۔ قناعت ہی سے عزت ملتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عزرالحکم

۱۷۱۶۷ ۔ قاضی شریح نے حضرت امیرعلیہ السلام کے خلافت میں ایک مکان خرید جب حضرتعلیہ السلام کو خبر ہوئی تو آپ اس کے لئے ایک دستاویز تحریر فرمائی جس میں لکھا۔۔ اس فریب خوار دئہ امیدو آرزو نے اس ؟؟؟؟؟؟ موت دھکیل رہی ہے اس گھر کو خریدا ہے اس قیمت پر کہ اس نے قناعت عزت سے ہاتھ اٹھا لیا اور طلب و خواہش کی ذلت میں جا پڑا!۔۔۔۔۔۔

نہج البلاغہ دستاویز ۳

۱۷۱۶۸ ۔ جو کچھ تمہیں مل چکا ہو اس پر قناعت کرو اس طرح تمہارا حساب آسان ہو گا۔

(حضرترسول اکرم) مجار الانوار جلد ۷۷ صفحہ ۱۸۷

۱۷۱۶۹ ۔ جو اللہ کی طرف سے کم تر معاش پر راضی رہتا ہے اللہ بھی اس کے کم تر عمل سے راضی ہوتا ہے۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) کافی جلد ۲ صفحہ ۱۳۸

۱۷۱۷۰ ۔ اپنے دین کے سالم رکھنے کے لئے دنیا کے قلیل سال پر قناعت کرو کیونکہ دنیا میں مومن کو مختصر سی چیز بھی مانع رکھتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عزرالحکم

۱۷۱۷۱ ۔ حضرت سیدعلیہ السلام کی اپنی فرزند امام حسنعلیہ السلام کے نام وصیت سے اقتباس۔۔ ضروری مقدار میں رزق پر راضی رہنے سے بڑھ کر کوئی ایسا مال نہیں جو تنگدستی کو دور کرے جو شخص بقدر کفایت پر راضی ہو رہتا ہے۔ اسے جلد ہی راحت حاصل ہو جاتی ہے سختی سے بچا رہتا ہے اور آسودہ زندگی گزارتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۷ صفحہ ۲۳۸

۱۷۱۷۲ ۔ جس کا نفس فانع ہوتا ہے وہ سختیوں میں بھی معزز ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عزرالحکم

۱۷۱۷۳ ۔ وہ شخص آسودہ زندگی گزارتا ہے جسے اللہ نے قناعت کی نعمت سے نوازا ہو اور اس کا شریک زندگی صالح ہوتا ہو۔

(حضرت علی علیہ السلام) عزرالحکم

۱۷۱۷۴ ۔ قناعت آسودہ تربیت زندگی ہو

(حضرت علی علیہ السلام) عزرالحکم

( ۵) جو تھوڑے پر تانع نہیں اسے زیادہ بھی کوئی فائدہ نہں پہنچتا

۱۷۱۷۵ ۔ جو تھوڑے پر قناعت نہیں کرتا اسے زیادہ بھی کوئی فائدہ نہیں دیتا۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار جلد ۷۸ صفحہ ۷۱

۱۷۱۷۶ ۔ جو دنیا کے کم مال پر قانع نہیں ہوتا اسے زیادہ کا بھی فائدہ نہیں پہناتا خواہ وہ کتنا ہی جمع کر لے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عزرالحکم

۱۷۱۷۷ ۔ حجرت امیر المومنین صلوات اللہ علیہ فرمایا کرتے تھے: "اے فرزند آدم! اگر تم دنیا سے اس قدر حاصل کرنا چاہتے ہو جو تمہیں کافی ہو رہے تو دنیا میں کم سے کم بھی تمہارے لئے کافی ہے۔ اور اگر وہ تمہیں کافی نہیں ہے تو دنیا کی ؟؟؟؟ بھی تمہارے لئے ناکافی ہے۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) کافی جلد ۲ صفحہ ۱۳۸ صفحہ ۱۴۰

۱۷۱۷۸ ۔ ایک شخص نے امام جعفر صادقعلیہ السلام سے اس بات کی شکایت کی وہ تلاش میں لگا رہتا ہے اور اسے مل بھی جاتا ہے، لیکن اس پر وہ قانع نہیں ہوتا بلکہ اس کا نفس اس سے اس بات پر لڑتا رہتا ہے کہ اس سے زیادہ ملے اس نے کہا "مجھے ایسی چیز تعلیم فرمائیے جو میرے لئے مفید ہو" امام علیہ السلام نے فرمایا: "جو تیرے لئے کافی ہو وہ تجھے تونگر بنا دیتا ہے تو اس کا کم سے کم بھی تجھے بنا سکت اہے، لیکن اگر تجھے کافی ہونے والا تجھے بے نیاز نہیں کرتا تو دنیا کی تمام چیزیں بھی تجھے تونگر نہیں بنا سکتیں۔

کافی جلد ۲ صفحہ ۱۳۹

۱۷۱۷۹ ۔ اللہ نے جو تمہارے لئے تقسیم کر دیا ہو اسی پر قناعت کرو اور دوسرے کے پاس موجود مال کی طرف مت دیکھو اور اس چیز کی خواہش بھی نہ کرو جو تم حاصل نہیں کر پائے۔ کیونکہ قناعت کرتا ہو وہ سیر ہو جاتا ہے اور جو قناعت نہیں کرتا کبھی سیر نہیں ہوتا۔ پس آخرت کے حصے کو حاصل کرنے میں لگے رہو۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) فروع کافی جلد ۸ صفحہ ۲۴۳

۱۷۱۸۰ ۔ آسمان سے نازل شدہ ایک وحی میں ہے کہ :

"اگر آدم کے بیٹے کے لئے سونے اور چاندی کی دو وادیاں بھر دی جائیں پھر بھی وہ تیری وادی کی خواہش کرے گا۔

اے آدم کے بچے! تیرا پیٹ سمندروں میں ایک سمندر اور وادیوں میں سے ایک وادی ہے جسے صرف مٹی ہی بھر سکتی ہے"

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) من لایحضرہ الفقیلہ جلد ۴ صفحہ ۳۰۰

(قول مولف: ملاحطہ ہو: باب "حرص" "حریص ایک ہباب ہوتا ہے جو کبھی سر نہیں ہوتا۔


فصل ۲۵

( ۱) استقامت (ثابت قدمی

قرآن مجید:

( فلذلک فادع واستقم کما امرت ) (شوری/ ۱۰)

ترجمہ:

پس اس کی طرف دعوت دے اور اسی پر قائم رہ جب کہ تجھے حکم دیا گیا ہے۔۔

( فاستقم کما امرت ومن تاب معک ) (حود/ ۱۱۲)

ترجمہ:

پس تو اور وہ لوگ جو تیرے ساتھ نائب (مستوجہ) ہوئے ثابت قدم رہو۔۔

حدیث شریف:

۱۷۱۸۱ ۔ تفسیر در مشور میں ہے کہ ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے جن سے روایت کی ہے :

"جب یہ آیت فاستقم ۔۔۔ نازل ہوئی تو سرکارِ رسالت نے فرمایا کہ آستینیں چڑھا لو اور کمر بستہ ہو جاؤ! اس کے بعد کسی نے آپ کو ہنستا ہوا نہیں دیکھا۔

درمنشور جلد ۳ صفحہ ۳۵۱

۱۷۱۸۲ ۔ سُفین بن عبداللہ ثقفی نے روایت کی ہے کہ میں نے آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی خدمت میں عرض کیا: "یارسول اللہ! مجھے کوئی ایسی بات بتائیے کہ اسے ہلے باندھ لوں!"

فرمایا: "کہو میرا رب اللہ ہے اور اسی پر کاربند رہو"

الترغیب والترہیب جلد ۳ صفحہ ۵۲۷ اسے ترمذی، ابن ماجہ، ابن حیان اور حاکم نے روایت کیا ہے

۱۷۱۸۳ ۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: میں نے پیغمبر اکرم کی خدمت میں عرض کیا کہ: مجھے کوئی نصیحت فرمائیے" آپ نے فرمایا: "یہ کہو کہ میرا رب اللہ ہے اس پر ثابت قدم رہو"

میں نے کہا: "میرا رب اللہ ہے، میری توفیق خدا ہی سے وابستہ ہے، میرا اسی پر توکل ہے اور میں اسی کی طرف لوٹ کر جاؤں گا۔"

یہ سن کر آنحضرت نے فرمایا: "ابوالحسن علیہ السلام! تمہیں علم مبارک ہو، کیونکہ تم علم کے سرچشموں سے سیراب ہو چکے ہو!

۱۷۱۸۴ ۔ مومن کے دین میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔۔۔ اور وہ نیکی میں ثابت قدم رہتا ہے۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجاالانوار جلد ۶۷ صفحہ ۲۷۱

۱۷۱۸۵ ۔ تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے اس شخص کو سخت ناپسند فرماتا ہے جو گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا رہتا ہے، لہٰذا اہل حق کی ولایت (کی راہ) سے کبھی نہ ہٹو۔ کیونکہ جو شخص ہمارے ساتھ کسی اور کا تبادلہ کرتا ہے وہ ہلاک ہو جائے گا۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۱۰ صفحہ ۱۰۵

۱۷۱۸۶ ۔ عمل کرو، عمل کرو اور عاقبت و انجام کو دیکھو، استوار و برقرار رہو۔

دیکھو! جو کچھ ہونا تھا وہ ہو چکا جو فیصلہ خدا وندی تھا وہ سامنے آ گیا میں الہٰی وعدہ و برہان کی رو سے کلام کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے "بے شک وہ لوگ جنہوں نے یہ کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور پھر وہ اس (عقیدے) پر ماتم رہے، ان پر فرشتے اترتے ہیں (اور یہ کہتے ہیں) تم خوف نہ کھاؤ اور غمگین نہ ہو۔ تمہی اس جنت کی بشارت ہو جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے اب تمہارا قول تو یہ ہے کہ ہمارا رب اللہ ہے تو اس کی کتاب اس کی شریعت کی راہ اور اس کی عبادت کے نیک طریقہ پر ماتم رہو۔ اس سے نکل نہ بھاگو اور نہ ہی اس میں بدتمہیں پیدا کرو اور نہ اس کے خلاف چلو۔۔۔۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۷۶

۱۷۱۸۷ ۔ سب سے بڑا سعادت، دین میں پائیداری ہے

(حضرت علی علیہ السلام) عزرالحکم

۱۷۱۸۸ ۔ جس کا دین ناپائیدار ہے وہ خود کیونکر پائیدار ہو سکتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عزرالحکم

نزدیک دو شخصوں میں سے ایک زیادہ محبوب ہو تو استقامت کو نہیں پا سکو گے۔

(حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )) کنز العمال حدیث ۵۴۷۸

( ۲) استقامت کا ثمرہ

قرآن مجید:

( وان بواستقاموا ---------------- ماع غدقا ) ۔ (جن/ ۱۶)

ترجمہ:

اور اگر وہ سیدھے راستے پر ثابت قدم رہتے تو ہم انہیں خوب سیراب کرتے۔

( ان الذین قابواربنا الله ------------------------- یحزنون ) ۔ (احقاف/ ۱۳)

ترجمہ:

یقینا جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے اور پھر اس پر قائم بھی رہے۔ انہیں نہ تو کوئی خوف ہو گا اور نہ ہی مھزون لگے۔

( ان الذین قابوا ربنا الله ---------------------- ولا تحزنوا ) ۔ (حم سجدہ / ۳۰)

ترجمہ:

تحقیق جن لوگون نے کہا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر ثابت قدم رہے، ان پر فرشتے نازل ہوں گے (اور کہیں گے) بالکل خوف نہ کھاؤ نہ ہی مخرون ہو۔

حدیث شریف:

۱۷۱۹۰ ۔ اگر ثابت قدم رہو گے تو کامیابی حاصل کرو گے۔

(حضرت رسول اکرم) کنز العمال حدیث ۵۴۷۹

۱۷۱۹۱ ۔ جو ثابت قدم رہے گا وہ جنت میں جائے گا اور جو ڈگمگا جائے گا وہ جہنم میں جا پڑے گا۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہی البلاغہ خطبہ ۱۱۹

۱۷۱۹۲ ۔ ثابت قدمی میں سلامتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عزر الحکم

۱۷۱۹۳ ۔ جو ثابت قدمی کو اختیار کرے گا سلامتی اسے اختیار کرے گی۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار لانوار جلد ۷۸ صفحہ ۹۱

۱۷۱۹۴ ۔ سولامتی استقام ہی سے وابستہ ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۷ صفحہ ۲۱۳ صفحہ ۱۷۳

۱۷۱۹۵ ۔ جو سلامتی کا طلبگار ہے اسے ثابت قدمی اختیار کرنا چاہئے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۱۹۶ ۔ استقامت کی راہوں کو اختیار کرو کہ اس سے تمہیں عزت و شرف حاصل ہو گا اور ہر طرح کی ملامت سے بچے رہو گے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۱۹۷ ۔ استقامت سے بڑھ کر کوئی اور راستہ پرامن نہیں نہ ہی استقامت سے بڑھ کر کوئی عزو شرف ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۱۹۸ ۔ جسے سلامتی مطلوب ہے اسے چاہئے کہ استقامت و ثابت قدمی کو اختیار کرے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۱۹۹ ۔ جو استقامت کو اختیار کئے رہے گا کبھی سلامتی سے محروم نہیں ہو گا۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم


فصل ۲۶

قیاس

( ۱) دین میں قیاس

۱۷۲۰۰ ۔ دین میں قیاس سے کام نہ لو، کیونکہ دین میں قیاس آرائی کی اجازت نہیں ہے اور جس نے سب سے پہلے قیاس کیا وہ ابلیس ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنز العمال حدیث ۱۰۴۹

۱۷۲۰۱ ۔ جس شخص نے میری حدیث کو اپنی رائے میں قیاس کیا اس نے مجھ پر تہمت لگائی۔

(حضرت رسول اکرم) کنز العمال حدیث ۱۰۵۰

۱۷۲۰۲ ۔ بنی اسرائیل اکتیرفرقوں میں بٹ گئے تھے اور میری امت میں ایک اور فرقے کا اضافہ ہو گا ان تمام فرقوں میں سے میری امت کے لئے سب سے زیادہ نقصان دہ وہ فرقہ ہو گا جو دین کو اپنی رائے پر قیاس کرے گا جس سے وہ خدا کی حرام کردہ کو حلال اور حلال کردہ کو حرام قرار دیدیں گے۔

(حضرت رسول اکرم) کنز العمال حدیث ۱۰۵۲

۱۷۲۰۳ ۔ زرارہ! ان لوگوں سے دور رہو جو دین میں قیاس آرائی سے کام لیتے ہیں اس لئے کہ ان لوگوں نے اس علم کو ترک کر دیا ہے جو انہیں دیا گیا ہے اور جس کو جاننے کی ضرورت نہیں ہے اس کے لئے متکلف میں پڑے ہوئے ہیں۔

(امام محمد باقر علیہ السلام) امالی منید صفحہ ۳۱

۱۷۲۰۴ ۔ ابن شرمہ اور ابوحنیفہ حضرت امام جعفر صادقعلیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے امام علیہ السلام نے ابوحنیفہ سے فرمایا: کوفِ خدا کرو اور دین میں اپنی رائے کے ساتھ قیاس سے کام نہ لو کیونکہ سب سے پہلے جس نے قیاس کیا تھاوہ شیطان ہے کہ جب اللہ نے سجدے کا حکم دیا تو اس نے کہا میں اس (آدمعلیہ السلام) کے افضل ہوں ، کیونکہ تو نے مجھے آگ سے اور اسے مٹی سے پیدا کیا ہے" امام عبدالسلام نے ابوحنیفہ سے پوچھا: "پیشاپ نجس ہے یا منی؟ "انہوں نے جواب دیا "پیشاپ" امام نے فرمایا: پھر تو تمہارے قیاس کے مطابق پیشاپ کے اخراج پر غسل واجب ہونا چاہئے تھا نہ کہ منی کے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے منی کے اخراج پر غسل واجب قرار دیا ہے نہ کہ پیشاپ کی وہ سے۔

مجار الانوار جلد ۱۰ صفحہ ۲۱۳

۱۷۲۰۵ ۔ جو شخص اپنے آپ کو قیاس کے ساتھ مختص کر لے تو وہ ساری عمر شکوک وشبہات میں پڑا رہے گا۔ اور جو دین خداوندی کو اپنی رائے کے مطابق اپنائے وہ ساری زندگی میں مضطرب رہے گا۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار جلد ۲ صفحہ ۲۹۹


فصل ۲۷

( ۱) تکبر

قرآن مجید:

( فسجد الملٰئکة ----- اجمعون ----- الا------ من الکٰفرین ) ۔ (ص/ ۷۳ تا ۷۴)

ترجمہ:

پس سب ہی ملائکہ نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے اس نے تکبر کیا اور وہ انکار کرنے والوں میں سے تھا۔

( قال ابلیس ---------------------------- الی یوم الدین ) ۔ ( ۷۵ تا ۷۸)

ترجمہ:

اللہ نے فرمایا: اے ابلیس جسے میں نے اپنی قدرت کاملہ سے خلق کیا تجھے اس کو سجدہ کرنے سے کیا شے مانع ہوئی؟ کیا تو نے تکبر کیا یا کیا تو عالین (بہت بلند مرتبہ لوگوں) میں سے ہے؟ "اس نے کہا: "میں اس سے افضل ہوں تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اسے (آدمعلیہ السلام) مٹی سے خلق کیا ہے۔" اللہ نے فرمایا "یہاں سے نکل جا بیشک تو راندہ درگاہ ہے اور یقینا تجھ پر قیامت تک میری لعنت ہے۔"

( قال فاهبط منها ---------------------- من الصغرین ) ۔ (اعراف/ ۱۳)

ترجمہ:

اللہ نے فرمایا (اے شیطان!) اتر جا یہاں سے تیرے لئے مناسب نہیں تھا کہ ہمارے حضور تکبر کرتا پس نکل جا بے شک تو پست اور ذلیلوں میں سے ہے۔

حدیث شریف:

۱۷۲۰۶ ۔ تکبر دور رہو کیونکہ یہ بہت بڑا گناہ بدترین عیب اور ابلیس کا زیور ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۲۰۷ ۔ تکبر کے نزدیک نہ جاؤ کیونکہ تکبر ہی نے ابلیس کو اس بات پر ابھارا تھا کہ آدمعلیہ السلام کو سجدہ نہ کرے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزل العمال حدیث ۷۷۳۴

۱۷۲۰۸ ۔ اللہ نے شیطان کے ساتھ جو کیا اس سے عبرت حاصل کرو کہ اس کی طویل عبادتوں اور بھرپور کوششوں پر ایک گھڑی کے گھمنڈ و تکبر سے پانی پھیر دیا۔۔۔ تو اب ابلیس کے بعد کون رہ جاتا ہے جو اس جیسی معصیت کر کے اللہ کے عذاب سے محفوظ رہ سکتا ہو؟ ۔۔

خدا کے بندو! اللہ کے دشمن سے ڈرو کہیں وہ تمہیں اپنا روگ نہ لگا دے اور اپنی پکار سے تمہیں بہکا نہ دے۔۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۲

۱۷۲۰۹ ۔ لازم ہے کہ اپنے دلوں میں چھپی ہوئی عصبیت کی آگ اور جاہلیت کے کینوں کو دور کرو کیونکہ مسلمان میں یہ غرور خود پسندی شیطان کی وسوسہ اندای، نخوست پسندی، فتنہ انگیزی اور فون کاری ہی کا نتیجہ ہوتی ہے۔ عجز و فروتنی کی سرکا تاج بنانے، کبروخود بینی کو پیرو تلے روندنے اور تکبر و رعونت کا گردن سے اتارنے کا عزم بالجزم کا اس طرح اپنے اور اپنے دشمن شیطان اور اس کی سپاہ کے درمیان تواضع و فروتنی کو مورچہ قائم کرو۔۔۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۲

۱۷۲۱۰ ۔ لازم ہے کہ تم سے قبل سرکش امتوں پر جو قہر و عذاب اور عتاب و عقاب نازل ہوا اس سے عبرت حاصل کرو۔۔ جس طرح زمانہ کی مصیبتوں سے پناہ مانگتے ہو، اسی طرح مغرور بنا دینے والی چیزوں سے بھی اللہ کے دامن میں پناہ مانگو۔۔۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۲

۱۷۲۱۱ ۔ دنیامیں سرکشی کی پاداش آخرت میں ظلم کی گرانباری کے عذاب اور غرور نخوت کے برے انجام کے خیال سے اللہ کے خوف کھاؤ، کیونکہ یہ (ظلم و سرکشی و غرور و نخوت) شیطان کا بہت بڑا جال اور ہتھکنڈہ ہے جو لوگوں کے دلوں میں زہر قاتل کی طرح اتر جاتا ہے۔ نہ تو اس کا اثر کبھی رائیگاں جاتا ہے نہ ہی اس کا وار کبھی خطا کرتا ہے۔ نہ عالم س اس کے علم کے باوجود اور نہ پھٹے پرانے چیتھڑوں میں کسی فقیر بے نواسے۔۔۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۲

۱۷۲۱۲ ۔ تکبر سے دور ہو کیونکہ تکبر انسان چادر کی طرح اپنی لپیٹ میں لئے ہوتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) الترغیب والترہیب جلد ۳ صفحہ ۵۶۱ اسے حکمرانی نے "اوسط" میں یہ روایت کیا ہے نیز کنز العمال حدیث ۷۷۳۵

۱۷۲۱۳ ۔ تکبر تقریبا ہر جنس کے افراد میں ہوتا ہے۔۔۔ چنانچہ حضرت رسول خدا مدینہ کے ایک راسے سے گزر رہے تھے تو ایک سیاہ فام عورت وہاں سے گوبر اٹھا رہی تھی۔ کسی نے اس سے کہا: "رسول خدا کو راستہ دے دو تو اس نے جواب دیا "راستہ کشادہ ہے" اس پر ایک شخص نے نے اسے اس کی گستاخی کی سزا دینے کا ارادہ کیاتو آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے فرمایا: "جانے دو! کفریہ مغرور و سرکش عورت ہے"

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۳ صفحہ ۲۱۰

عقل کی بدترین آفات میں سے ایک آفت تکبر بھی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۲۱۴ ۔ انسان کے دل میں جس قدر تکبر داخل ہو گا اسی قدر اس کی عقل میں کمی واقع ہو جائے گی، خواہ کم ہو یا زیادہ۔

(امام محمد باقرعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۸ صفحہ ۱۸۶

۱۷۲۱۵ ۔ کبرونخوت سے اجتناب کرو کیونکہ یہ سرکشی اور خالقِ رحمان کی نافرمانی کا سرچشمہ ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۲۱۶ ۔ تکبر ایسی مہلک عادت ہے جس کے پاس جتنا زیادہ ہو گی وہ اتنا ہی کم عقل ہو گا۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۲۱۷ ۔ تکبر بدترین عادت ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۲۱۸ ۔ جس نے تکبر سے جان چھڑائی گویا اس نے عزت و شرافت حاصل کر لی۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۸ صفحہ ۲۲۹

۱۷۲۱۹ ۔ انسان کی پیدائیش کے بارے میں فرماتے ہیں: یا پھر اسے (دیکھو) جسے اللہ نے ماں کے شکم کے اندھیروں اور پردے کی اندرونی تہوں میں بنایا جو ایک (جراثیم حیات) سے چھلکتا ہوا نطفہ ۔۔۔۔ تھا مگر ہوا ہ کہ جب اس (کے اعضاء) میں اعتدال پیدا ہو گیا اور اس کا قدو قامت اپنی بلندی پر پہنچ گیا تو وہ غرور متی میں آ کر (ہدایت سے) بھڑک اٹھا۔۔۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۸۳

۱۷۲۲۰ ۔ تکبر سے ہمیشہ بچو کیونکہ جو بندہ تکبر کرتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "میرے اس بندہ کو سرکشوں (کی فہرست) میں لکھ دو۔"

(حضرت رسول اکرم) کنز العمال حدیث ۷۷۲۹

۱۷۲۲۱ ۔ انسان تکبر کرتا رہتا ہے اور اپنے آپ کو اسی رذیل صفت میں گم کر دیتگا ہے یہاں تک کہ اسے سرکشوں کی فہرست میں لکھ دیا جاتا ہے۔ پھر اس کا انجام بھی وہی ہوتا ہے جو ان (سرکشوں) کا ہوا کرتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنز العمال حدیث ۷۷۴۹

۱۷۲۲۲ ۔ متقی افراد کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں انسان جس سے دوری اختیار کرتا ہے تو یہ زہد و پاکیزگی کے لئے ہوتی ہے اور جن سے قاریب ہوتا ہے تو یہ خوش خلقی و رحم دلی کیبنا پر ہے نہ اس کی دوری غرور و تکبر کی وجہ سے اور نہ اس کا میل جول کسی فریب و مکر کی بنا پر ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۳

۱۷۲۲۳ ۔ نیک بندوں کے نزدیک فرمانرواؤں کی ذلیل ترین صورتِ حال یہ ہے کہ ان کے متعلق گمان ہونے لگے کہ وہ فخرو سربلندی کو دوست رکھتے ہیں یہاں تک کہ ان کے حالات تکبر و غرور پر محمول ہو سکیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۲۱۶

۱۷۲۲۴ ۔ پیغمبر اکرم کی تعریف میں فرماتے ہیں: پیغمبر کو اس وقت بھیجا گیا جب لوگ حیرت و پریشانی کے عالم میں گم کردہ راہ تھے اور فتوں میں ہاتھ پیر مار رہے تھے۔ نفسانی خواہشون نے انہیں بھٹکا دیا تھا اور غرور نے انہیں بہکا دیا تھا۔"

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۹۵

۱۷۲۲۵ ۔ میں تو اس جماعت میں ہوں جن پر اللہ کے بارے میں کوئی ملامت اثر انداز نہیں ہوتی۔۔ وہ نہ سربلندی دکھاتے ہیں، نہ خیانت کرتے ہیں اور نہ فساد پھیلاتے ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۲

( ۲) کبرزیبا ہے جنابِ کبریا کے واسطے

قرآن مجید:

( هوالله للذی لااله الا هو ---------------- یشرکون ) ۔ (حشر/ ۲۳)

ترجمہ:

وہی اللہ ہے جس کے سوا کلوئی معبود نہیں وہ بادشا ہے، نہایت پاک، صاحب سلامتی و امن، نگہبان ، طاقتور، زبردست صاحب کبررائی اللہ ؟؟؟؟؟ ہے اس سے جسے وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔

( وله الکبریا ----------- وهوا لعزیزی الحکیم ) ۔۔ (جائیہ / ۳۷)

ترجمہ:

اور آسمانوں اور زمینوں میں اسی کے لئے کبریاتی ہے اور وہ زبردست حکمت ہے۔

حدیث شریف:

۱۷۲۲۶ ۔ کبریائی صرف عالمین کے رب سے مخصوص ہے۔

(حضرت رسول اکرم) الترغیب والترہیب۔ جلد ۳ صفحہ ۹۱ اسے صبرائی نے بھی روایت کیا ہے۔

۱۷۲۲۷ ۔ ہر تعریف اللہ کے لئے ہے جو عزت و کبریائی کی ردا اوڑھے ہوئے ہے جس نے ان دونوں صفتوں کو بلاشرکتِ غیرے اپنی ذات کے لئے مخصوص فرمایا ہے۔ اور دوسروں کے لئے ممنوع و ناجائز قرار دیا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) شرح ابن الی الحدید جلد ۱۳ صفحہ ۱۲۷ نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۲

۱۷۲۲۸ ۔ کسی شخص نے امام حسنعلیہ السلام سے کہا: "آپ میں تکبر پایا جاتا ہے" آپعلیہ السلام نے فرمایا: ایسی بات ہرگز نہیں، کیونکہ کبر ذاتِ کبریا کے ساتھ خاص ہے، لیکن میرے اندر "عزت" پائی جاتی ہے، جب کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "عزت، اللہ اس کے رسول اور مومنین کے لئے ہے"

مجار الانوار جلد ۲۴ صفحہ ۳۲۵ ، جلد ۷۸ صفحہ ۱۰۷ نیز اسی کتا میں ہے کہ آپ سے کسی نے کہا: "آپ میں اکڑپن پایا جاتا ہے: آپ نے فرمایا: "نہیں بلکہ عزت پائی جاتی ہے۔۔"

۱۷۲۲۹ ۔ کبر، اللہ تعالیٰ کی ردا ہے جبکہ متکبراس ردا کے بارے میں اللہ کے مقابلہ پر اترا ہوا ہوتا ہے۔

(امام محمد باقرعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۳ صفحہ ۲۱۴ جلد ۷۸ صفحہ ۱۷۲

اسی کتاب میں ہے "اللہ متکبر ہے۔۔"

(امام موسیٰ کاظم علیہ السلام) مجار جلد ۷۸ صفحہ ۳۱۱

۱۷۲۳۰ ۔ خداوندِ جل وعلا فرماتا ہے: "کبریائی میری ردا ہے اور عظمت پر چادر ہے۔ لہٰذا جو شخص ان میں سے کسی ایک کے بارے میں میرے ساتھ نزاع کرے گا میں اسے سیدھا جہنم میں ڈال دوں گا"

(حضرت رسول اکرم) الترغیب والترہیب جلد ۳ صفحہ ۵۶۳ اسے ابن ماجہ نے بھی روایت کیا ہے۔ اور یہ الفاظ اسی کی روایت کے مطابق ہیں۔ ابن حبان نے اپنی صحیح میں اس کا ذکر کیا ہے۔

نیز کنزالعمال حدیث ۷۷۴۰ ۔ ۷۷۴۱ ۔ ۷۷۴۲ ۔ ۷۷۴۳ ۔

۱۷۲۳۱ ۔ ’کبر‘ اللہ تعالیٰ کی ردا ہے جو شخص اس بارے میں اللہ سے تنازع کرے گا تو اللہ اسے جہنم میں روندھے منہ ڈالے گا۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۳ صفحہ ۔ امام محمد باقرعلیہ السلام صفحہ ۲۱۳

۱۷۲۳۲ ۔ اگر خداوند عالم تکبر کی کسی کو اجازت دیتا تو اس کے لئے اس کے خاصانِ خاص موجود تھے، یعنی انبیاء اولیاء لیکن اس نے ایسا نہیں کیا بلکہ ان کے قرب کو بھی سخت ناپسند گردانا اور تواضع و انکساری کو پسندیدہ قرار دیا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) شرح ابن الحدید جلد ۱۳ صفحہ ۱۵۱ نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۲

( ۳) تکبر انکارِ حق کا نام

قرآن مجید:

( افکلما جاء کم --------------------------- فریقا تقتلون ) ۔ (بقرہ/ ۸۷)

ترجمہ:

کیا یہ حققت نہیں کہ جب کبھی تمہارے پاس رسول اس بات کو لائے جو تمہاری خواہش کے مطابق نہ تھی تو تم نے تکبر کیا، بعض (انبیاء) کو جھٹلایا اور بعض کو قتل کیا؟

( ساصرف عن اٰیترالذین ------------------------ لایومنوا ابها ) ۔۔۔ (اعراف / ۱۴۶)

ترجمہ:

اور میں اپنی آیات سے ایسے لوگوں کے دلوں کو بھر دوں گا جو ناحق گھمنڈ کرتے ہیں اگر وہ تمام نشانیاں بھی دیکھ لیں پھر بھی وہ ان پر ایمان نہیں لائیں گے۔

(قولِ مولف: نیز ملاحظہ ہو: سورہ اعراف / ۱۳ ۔ ۳۶ ۔ ۴۰ نحل / ۲۲ ۔ یونس / ۷۵)

نیز: جن آیات میں "کبر" مبعنی "استکبار" یعنی خدا کے سامنے گھمنڈ اور حق کے انکار کے معنی میں ہے، ان کی تعداد تقریباً اٹھاون ہے۔

حدیث شریف:

۱۷۲۳۳ ۔ "اے ابودر! جو شخص اس حالت میں دنیا سے رخصت ہو کہ اس کے دل میں ذرہ برابر بھی کبر ہو گا تو وہ جنت کی بو بھی نہیں سونگھ پائے گا یا پھر مرنے سے پہلے توبہ کر لے۔"

ابو ذر نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! مجھے حسن و جمال اچھا لگتا ہے اور میں تو یہ بھی چاہتا ہوں کہ میرے تازیانے کا دستہ اور جوتے کے سامنے کا حصہ خوبصورت کیا اس بات پر بھی یہ تنبیہ صادق آتی ہے؟ فرمای: "اس پر تمہارے دل کی کیا کیفیت ہوتی ہے؟" عرض کیا: "میں اسے حق کی معرفت رکھنے والا اور اس پر اطیمنان کرنے والا پاتا ہون!" آپ نے فرمیا:

"یہ تکبر اور گھمنڈ نہیں ہے، بلکہ تکبر یہ ہوتا ہے کہ تم حق کا دامن چھوڑ دو اور اس سے تجاوز کر کے ناحق تک پہنچ جاؤ لوگوں کو اس نگاہ سے دیکھو کہ کسی کی عزت و نامور تمہاری عزت و ناموں اور کسی کا خون تمہارے خون کی برابری نہیں کر سکتے!"

(حضرت رسول اکرم) مجار الانور جلد ۷۷ صفحہ ۹۰

۱۷۲۳۴ ۔ عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ رسول خدا نے فرمایا: "جس کسی کے دل میں تکبر کا ایک ذرہ بھی ہو گا وہ بہشت میں داخل نہیں ہو گا۔" کسی شخص نے عرض کیا: "ایک شخص کو اچھا کپڑا اور اچھا جوتا زیادہ پسند ہے تو کیا یہ بھی تکبر میرے میں آئے گا؟ فرمایا: "اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے تکبر یہ ہوتاہے کہ گھمنڈ کی وجہ سے حق کا انکار کیا جائے اور لوگوں کو حقیر سمجھا جائے۔"

(حضرت رسول اکرم) الترغیب والترہیب جلد ۳ صفحہ ۵۶۷ اسے علم اور ترمذی نے بھی روایت کیا ہے۔

اسی قسم کی اور بھی بہت سی احادیث ہیں مثلاً حدیث ۷۷۴۷ ۔ ۷۷۶۴ ۔ ۷۷۶۵ ۔ ۷۷۶۶ ۔ ۷۷۶۷ ۔ ۷۷۶۸ ۔ ۷۷۶۹ ۔ ۷۷۷۰ ۔ ان میں یہ : "تکبر یہ ہے کہ حق کا انکار کیا جائے اور لوگوں کو حقیر سمجھا جائے" جبکہ حدیث ۷۷۷۱ میں ہے: "بلکہ تکبر یہ ہے کہ حق کا انکار کیا جائے اور لوگوں پر عیب لگایا جائے۔"

۱۷۲۳۵ ۔ محمد بن مسلم نے حضرت امام محمد باقر امام جعفر صادقعلیہ السلام نے فرمایا: "جس شخص کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہیں ہو گا"

راوی کہتے ہیں میں نے انا اللہ واناالیہ راجعون کہا۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: "اناللہ کس لئے کہہ رہے ہو؟ کہا: "اس لئے کہ جو میں نے آپ سے سنا ہے فرمایا: "جدھر تم جا رہے ہو وہ بات نہیں ہے، بلکہ میری مراد انکار و سرکشی سے ہے، اور تکبری خدا کا انکار و سرکشی ہوتا ہے"۔

مجار الانوار جلد ۷۳ صفحہ ۲۱۶

۱۷۲۳۶ ۔ عبداللہ بن طلحہ کہتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادقعلیہ السلام نے فرمایا: "حضرت رسول اکرم نے ارشاد فرمایا ہے کہ: "وہ بندہ ہرگز جنت میں نہیں جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہو گا، نہ ہی بندہ جہنم میں جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو گا۔"

راوی نے عرض کیا: "آپ کے قربان جاؤں ایک شخص کوئی کپڑا پہنتا یا کسی سواری پر سوار ہوتا ہے تو اس سے تکبر کا اظہار ہوتاہے (اس بارے میں کیا حکم ہے؟)۔ آپ نے فرمایا: "اسے تکبر نہیں کہتے، بلکہ تکبر حق کے انکار کا نام ہے، جبکہ ایمان ، حق کے اقرار کو کہتے ہیں۔‘

مجار الانوار جلد ۷۳ صفحہ ۲۳۵ ۔ جلد ۲ صفحہ ۱۴۱

۱۷۲۳۷ ۔ عمر بن یزید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت امام جعفر صادقعلیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: میں اچھا کھانا کھاتا ہوں، اچھی خوشبو لگاتا ہوں اور چست و خبوصورت سواری پر سوار ہوتا ہوں غلام میرے پیچھے چلتا ہے، تو کیا آپ کو اس بارے غرور و تکبر کی فرماتے ہیں؟ اگر ایسا ہی ہے تو پھر میں یہ کام نہ کروں!"

اس پر امام علیہ السلام نے اپنا سرجھکا لیا۔ پھر فرمایا؛ جبر اور ملعون وہ شخص ہوتا ہے جو لوگوں کو حقیر سمجھے اور حق سے جاہل رہے۔۔۔"

مجار الانوار جلد ۶۹ صفحہ ۳۳۹

۱۷۲۳۸ ۔ میں نے عاجزی اور انکساری کو تلاش کیا تو اسے صرف حق کو قبول کرنے میں پایا۔ لہٰذا حق کا رخ کرو اور اسی کی طرف متوجہ رہو۔ کیونکہ حق کی قبولیت انسان کو تکبر رہتے دور کر دیتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجارالانوار جلد ۶۹ صفحہ ۳۳۹

۱۷۲۳۹ ۔ جو شخص استغفر اللہ واتوب الیہ کہتا ہے اس کا شمار جبار و متکبر لوگوں میں نہیں ہوتا۔ متکبر تو وہ شخص ہے جو گناہوں پر اصرار کرے جو اس پر غالب آ چکے ہوں اور ان میں اس کی خواہشات بھی ہوں۔ نیز اپنی دنیا کوآخرت پر ترجیح دیتا ہو۔

(حضرت امام زین العابدینعلیہ السلام) مجارالانوار جلد ۹۳ صفحہ ۲۷۷

۱۷۲۴۰ ۔ ایک دانان کا قول ہے کہ میں نے حضرت امام جعفر صادقعلیہ السلام سے پوچھا: "الحاد کی کم از کم حد کیا ہے؟ فرمایا: "تکبر اس کی ادنی حد ہے"

مجار الانوار جلد ۷۳ صفحہ ۱۹۰

(قول موئف: ملاھطہ ہو: باب "حق" "حق سے روگردانی")

( ۴) تکبر کیا ہے؟

۱۷۲۴۱ ۔ عبدالاعلی بن اعین کہتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا: آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے فرمیا کہ "بہت بڑا تکبر مخلوق خدا کو حقیر جاننا اور حق کو بھلا دینا ہے" راوی کہتا ہے کہ میں نے عرض کیا: "مخلوق کو حقیر جاننا اور حق کو بھلا دینا کیا ہوتا ہے؟ فرمایا: "حق سے بے خبری اور اہل حق پر طعن و تشنیع مراد ہے۔ لہٰذا جو شخص ایسا کرے گا وہ خدا کی ردائے کبریائی کو چھیننے کی کوشش کرے گا"

مجار الانوار جلد ۷۳ صفحہ ۲۱۸ ۔ صفحہ ۲۲۰

۱۷۲۴۲ ۔ کبر یہ ہے کہ تم لوگوں کو حق جانو اور حق کو بھلا دو۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۳ صفحہ ۲۱۷ ۔ صفحہ ۲۳۵

۱۷۲۴۳ ۔ ابن فضال ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ وہ کہتا ہے کہ امام جعفر صادقعلیہ السلام نے فرمایا: "جو شخص متکبر افراد کے ساتھ چلے لیکن خود اس کے دل میں تبر نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اسے معاف فرما دے گا" راوی کہتا ہے کہ میں نے عرض کیا: "تکبر کیا ہے؟ فرمایا: "جس سے لوگوں کی تحقیر کی جائے اور حق کو نظر انداز کر دیا جائے"

مجارالانوار جلد ۹۹ صفحہ ۲۵۵

۱۷۲۴۴ ۔ عبدالاعلی کہتے ہیں کہ امام جعفر صادقعلیہ السلام نے فرمایا: "جو شخص مکہ میں کبر و غرور سے پا ک ہو کر دال ہو تو اس کے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں" عرض کیا: "کبر و غرور سے کیا مراد ہے؟ "مخلوق کو حقیر سمجھنا اور حق کو بھلا دینا" میں نے کہا: "وہ کیونکر ہوتا ہے؟ فرمایا: "حق کو فراموش کر دیا جائے اور اہلِ حق کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جائے!"

مجار الانوار جلد ۷۳ صفحہ ۲۳۶

( ۵) تکبر کی حقیقت

۱۷۲۴۵ ۔ حفص بن غیاث کہتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادقعلیہ السلام نے ارشاد فرمایا: جو شخص یہ سمجھے کہ اسے دوسروں پر کسی قسم کی فضیلت حاصل ہو تو اس کا شمار مستکبرین میں ہو گا" میں نے حضرت کی خدمت میں عرض کیا: "جو شخص کسی کو گناہوں کا مرتکب دیکھتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ اسے اس شخص پر اس لئے فضیلت حاصل ہے کہ وہ ان گناہوں سے بچا ہوا ہے"

امام علیہ السلام نے فرمایا: نہیں ایسی بات ہرگز نہیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس شخص کے گناہ بخش دئیے گئے ہوں اور تم سے اپنے گناہوں کا محاسبہ کیا جاے کیا تم نے حضرت موسٰی علیہ السلام کے زمانے کے جادوگروں کا قصہ (قرآن میں) نہیں پرھا۔۔؟"

مجار الانوار جلد ۷۳ صفحہ ۳۶ جلد ۷۸ صفحہ ۳۲۵ فروع کافی جلد ۸ صفحة ۱۲۸

۱۷۲۴۶ ۔ ہشام بن سالم کہتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادقعلیہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا ہے: "جب تم مکہ کی وادی میں اترو تو تمہارے اوپر پرانے ، یا پھٹے ہوئے یا کھدر کے کھردرے کپڑے ہونے چاہئیں، کیونکہ جو شکص بھی مکہ کی وادی میں اس حالت میں قیام پذیر ہو کہ اس کے دل مٰں ذرہ بھر بھی تکبر نہ ہو تو خداوند تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرما دے گا"

عبداللہ بن ابی یعفور نے سوال کیا: "تکبر کی دو کیا ہے؟ فرمای: "ایک شخص جب اچھے کپڑے پہن کر اپنے آپ کو دیکھتا ہے تو اس کی خواہش ہوتی ہے کہ لوگ اس کی طرف دیکھیں" پھر آپعلیہ السلام سورہ قیامہ کی آیت ۱۴ تلاوت فرمائی بل الانسان علی نفسہ بصیرة" (انسان اپنے نفس کو خوب جانتا ہے)۔

مجار الانوار جلد ۷۹ صفحہ ۳۱۲

قول مولف: ابوحامد غزالی "کبر" کی حقیت کے بارے میں فرماتے ہیں:

"تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ کبر کی دو قسمیں ہیں۔ ۱ ۔ ظاہری۔ ۲ ۔ باطنی ۔ باطنی کبر ایک نفسانی کیفیت ہے۔ اور ظاہری کبر اسے اعمال کا نام ہے جو اعضاء و جوارح سے سرزد ہوتے ہیں۔ لہٰذا باطنی اور نفسانی کیفیت پر "کبر" کا اطلاق زیادہ مناسب ہے جبکہ سرزد ہونے ولاے اعمال اسی کیفیت کا نتیجہ ہوتے ہیں، اور کبر کی نفسانی کیفیت انہی اعمال کے انجام پانے کا موجب ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب نفسانی کیفیت اعمال کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے تو اسے تکبر کہا جاتا ہے اور اگر باطن میں رہتی ہے تو اسے "کبر" کہتے ہیں۔

اسی بنا پر اس کی اصل وہی کیفیت ہوتی ہے جو نفس انسانی کے اندر پائی جاتی ہے جو یہ ہوتی ہے کہ انسان ان لوگوں کو دیکھتا ہے جن پر تکبر کر رہا ہوتا ہے تو اس طڑح اس کے نفس کو ایک قسم کی تسکین ہوتی ہے اسے ان لوگوں پر فوقیت حاصل ہے۔ لہٰذا "کبر" کے لئے دو فریقوں کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ ایک وہ جو تکبر کر رہا ہے اور دوسرا وہ جس پر تکبر کیا جا رہا ہے۔ یہیں سے "کبر" اور "عجب" (خودپسندی) کا فرق واضح ہو جاتا ہے۔ کیونکہ خود پسندی کا تعلق صرف ایک فریق سے یعنی خود انسان کی اپنی ذات سے ہوتا ہے جس کا وہ شکار ہوت اہے اگر (بالفرض) دنیا میں صرف ایک ہی انسان پیدا ہوتا تو وہ صرف اپنی ہی ذات کو پسند کرتا ہے۔ لہٰذا اسے "خوپسند" تو کیا جاتا لیکن "متکبر" نہیں اگر اس کے ساتھ کوئی دوسرا انسان بھی ہوتا اور اس میں یہی نفسانی کیفیت پیدا ہوتی وہ خود کو کمال کی صفات دوسرے سے برتر سمجھتا تو متکبر کہلاتا۔ "البتہ کسی کے متکبر کہلانے کے لئے صرف یہی کافی نہیں کہ اپنے آپ کو بڑا اور برتر سمجھتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی کسی دوسرے شخص کو بھی اپنے سے بالاتر جانتا ہے یا کم از کم اپنے برابر سمجھتا ہے ایسا شخص متکبر نہیں کہلائے گا۔ اسی طرح وہ صرف کسی کو حقیر سمجھ لینے سے متکبر نہیں کہلائے گا جبکہ اس کے ساتھ اپنے آپ کو بھی حقر تر جانتا ہے یا اپنے آپ کو اس کے برابر سمجھتا ہے، پھر بھی ایسا شخص متکبر نہیں ہو گا۔

"اسی لئے تکبر کے لئے معیار یہ ہے کہ انسان اپنے لئے ایک مرتبہ مقرر کرے اور دوسرے کے لئے بھی اسی طرح کا "مرتبہ" متعین کرے پھر اپنے آپ کو اس مرتبہ سے بالاتر سمجھنے لگے تو گویا مذکورہ تینوں صورتوں میں اس کے اندر "کبر" کی کیفیت پائی جائے گی صرف اس لحاظ سے نہٰں کہ وہ اپنے اندر یہ کیفیت دیکھتا ہے، بلکہ اس لحاظ سے کہ وہ یہ کیفیت دیکھتا بھی ہے اور یہ عقیدہ اس کے اندر پھلتا پھولتا ہے اسی وجہ سے یہ اس کے دل میں ایک خوبی شمار ہونے لگتا ہے جس سے اسے نشاط حاصل ہوتی ہے، اور وہ اس سے فرحت و شادمانی محسوس کرتا ہے۔ اسی وجہ سے وہ اپنے دل میں عزت کا احساس کرتا ہے۔ پس یہی عزت، فرحت، نشاط و شادمانی "کبر کی کیفیت" ہوتی ہے۔ اسی لئے پیغمبر اکمر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) فرماتے ہیں: "خداوندا! میں تجھ سے کبریائی کی فرحت و نشاط سے پناہ مانگتا ہو"

المجحتہ لابیضاء جلد ۶ صفحہ ۲۲ صفحہ ۲۲۹

( ۶) زمین پر اکڑ کر نہ چلو

قرآن مجید:

( ولاتمش فی الارض مرحا --------------- طولا ) ۔ (بنی اسرائیل/ ۳۷)

ترجمہ:

اور زمین پر اکڑ کر نہ چل، کیونکہ تو اسے ہرگز پھاڑ نہیں سکے گا، اور نہ ہی تو پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکے گا۔

( ولا تصعرخدک --------------------------- فخور ) (لقمان / ۱۸)

ترجمہ:

اور لوگوں (کو دکھانے) کے لئے اپنے گال غرور سے نہ پُھلا، اور زمین پر اکڑ کر نہ چل بے شک اللہ کسی دھوکے باز شیخی بگھارنے والے کو پسند نہیں فرماتا۔

( وعدادالرحمن ------------------------- قالو اسلاما ) ۔ (فرقان/ ۶۳)

ترجمہ:

(خداوندِ) رحمان کے بندے تو وہی ہیں جو زمین پر بڑی انکساری سے چلتے ہیں اور جب جاہل ان سے مخاطب ہوتے ہیں تو کہہ دیے ہیں (تم کو) سلام ہو۔

حدیث شریف:

۱۷۲۴۷ ۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول( لاتمش فی الارض مرحا ) (بنی اسرائیل/ ۳۷) کے بارے میں فرمیا کہ "مرحا" (اکڑنا) سے مراد بڑا بننا ہے۔

(امام محمد باقرعلیہ السلام) مجارالانوار جلد ۷۳ صفحہ ۲۳۲

۱۷۲۴۸ ۔ حضرت رسول خدا کچھ لوگوں کے پاس سے گزر رہے تھے جو اجتماع کئے ہوئے تھے آپ نے پوچھا: "کس لئے اکٹھے ہوئے ہو؟" انہوں نے کہا: "یارسول اللہ! یہ شخص دیوانہ ہے جسے دیوانگی کا دورہ پڑ چکا ہے" آپ نے فرمایا: "یہ دیوانہ نہیں بلکہ مصیبت زدہ ہے"

پھر فرمایا: "تمہیں بتاؤں کہ صحیح معنی میں دیوانہ کون ہوتا ہے؟" انہوں نے کہا: "یارسول اللہ! ضرور ارشاد فرمائیے! آپ نے فرمایا: "جو مٹک مٹک کر چلتا ہے۔ اپنے دونوں اطراف کی طرف بار بار دیکھتا ہے۔ اپنے شانون کو مٹکاتا ہوا چلتا ہے، خدا کی نافرمانی کے باوجود اس کی جنت کی آرزو رکھتا ہے جس کے شر سے کوئی محفوظ نہیں جس کی خیر کی کسی کو امید نہیں ایسا شخص (دراصل) مجنون ہے۔ یہ بے چارہ تو مصیبت زدہ ہے"

امام جعفر صادقعلیہ السلام اپنے آباؤ اجداد علیہم السلام نے یہی روایت کرتے ہیں۔

مجار الانوار جلد ۷۳ صفحہ ۲۳۳

۱۷۲۴۹ ۔ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو سخت ناپسند کرتا ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے ستر سال کا (بوڑھا) ہوتا ہے، لیکن اپنی چال ڈھال سے بیس سال کا (نوجوان) معلوم ہوتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنز العمال حدیث ۷۷۴۱

۱۷۲۵۰ ۔ اللہ تعالیٰ اسے بیس سالہ نواجوان کو پسند فرماتاہے جو بیس سالہ (نوجوان) کی مانند ہوتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنز العمال حدیث ۷۷۳۲

(قول موئف: ملاحظہ ہو باب: "چال" "زمین پر اکڑ کر نہ چلو")

( ۷) متکبر انسان

۱۷۲۵۱ ۔ ناپسندیدہ ترین انسان متکبر ہوتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) مجار الانور جلد ۷۳ صفحہ ۲۳۱

۱۷۲۵۲ ۔ قیامت کے دن مجھ سے سب سے دو "ثرثار" لوگ ہوں گے یعنی وہی جو تکبر کرتے ہیں۔

(حضرت رسول اکرم) مجار لانوار جلد ۷۳ صفحہ ۲۳۲

۱۷۲۵۳ ۔ آخرت کے دن تم لوگوں میں سے ہمارے نزدیک ناپسندیدہ ترین اور ہم سے دور ترین لوگ متکبر نہ باچھیں کھول کھول کر باتیں کرنے والے اور متفیدق قسم کے لوگ ہوں گے"

لوگوں نے پوچھا: "یارسول اللہ! متفیہق کون لوگ ہوتے ہیں؟" فرمای: "متکبر لوگ"

(حضرت رسول اکرم) حجتہ البیضاء جلد ۶ صفحہ ۲۱۴ اسے معمرمذی نے بھی ذکر کیا ہے۔ ملاحظہ ہو جلد ۸ صفحہ ۱۷۵

۱۷۲۵۴ ۔ کیا تم یہ آس لگائے بیٹھے ہو کہ اللہ تمہیں عجز و انکساری کرنے والوں کا اجر دے گا حالانکہ تم اس کے نزدیک متکبروں میں سے ہو؟

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ مکتوب ۲۱

۱۷۲۵۵ ۔ متکبر ہلاکت و بربادی سے محفوظ رہتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عزرالحکم

( ۸) تعجب ہے متکبر کس لئے تکبر کرتا ہے؟

۱۷۲۵۶ ۔ مجھے فرزند آدم پر تعجب ہوتا ہے جس کی ابتدا ایک نطفہ ہے وار انتہا مردار وہ ان دونوں کیفیتوں کے درمیان، غلاظت و گندگی کا برتن بنا پھرتا ہے اور پھر غرور اور تکبر بھی کرتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۳ صفحہ ۲۳۴

۱۷۲۵۷ ۔ مجھے تعجب ہوت اہے متکبر و مغرور پر کل ایک نطفہ تھا اور کل کو مردار ہو گا۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ مکتوب ۱۲۶

۱۷۲۵۸ ۔ تعجب ہے متکبر اور فخرومباہات کرنے والے پر جو نطفے سے پیدا کیا گیا ہے پھر وہ مردار ہو جائے گا۔ اور اس دوران یہ بھی نہیں جانتا کہ اس کا انجام کیا ہو گا؟

(امام محمد باقرعلیہ السلام) مجارالانوار جلد ۷۳ صفحہ ۲۲۹

۱۷۲۵۹ ۔ مولا امام جعفر صادقعلیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد گرامی امام محمد باقرعلیہ السلام سے پاخانے کے متعلق پوچھا کہ اس کی کیا وجہ ہے تو انہوں نے فرمایا: "اس کی وجہ نبی آدم کو حقارت کی طرف متوجہ کرانا ہے، تاکہ وہ اس کا حامل ہوتے ہوئے تکبر و غرور سے کام نہ لے"

مجار الانوار جلد ۸۰ صفحہ ۱۶۳ وسائل شیعہ جلد اول صفحہ ۲۳۵

۱۷۲۶۰ ۔ حضرت سلمان فارسی اور ایک شخص کے درمیان جھگڑا ہو گیا اس شخص نے حضرت سلمان سے کہا: "سلمان! تم ہو کیا چیز؟ جناب سلمان نے کہا: "میی اور تمہاری اولاد ایک گندہ نطفہ تھے میرا اور تمہارا انجام ایک بدبودار مردار کی صورت میں ہو گا۔ جب قیامت کا دن ہو گا اور میزان اعمال نصب کیا جائے گا، جس کا پلڑا بھاری ہو گا وہ معزز اور صاحبِ تکریم ہو گا اور جس کا پلڑا ہلکا ہو گا وہ لئیم اور کمینہ ہو گا۔"

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) نے اپنے آباؤ اجداد سے روایت کی ہے۔

مجار ال؛انوار جلد ۷۳ صفحہ ۲۳۱

۱۷۲۶۱ ۔ تم اس کی طرح نہ بنو جس نے اپنے ماں جائے بھائی کے مقابلہ میں غرور کیا بغیر کسی فضیلت و برتری کے کہ جو اللہ نے اس میں قرار دی ہو سوائے اس کے کہ حاسدانہ عداوت سے اس میں بڑائی احساس ہوا اور خود پسندی نے اس کے ناک میں کبرو غرور کی آگ پھونک دی جس کی وجہ سے اللہ نے ندامت و پشیمانی کو اس کے پیچھے لگا دیا۔۔

(حضرت علی علیہ السلام) شرح ابن ابی الحدید جلد ۱۳ صفحہ ۱۳۷ ۔ نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۲

( ۹) غرور تکبر کا سبب

۱۷۲۶۲ ۔ جو شخص تکبر یا جبر و استکبار سے کام لیتا ہے، اس کی وجہ وہ ذلت و خواری ہوتی ہے جو وہ اپنے اندر محسوس کرتا ہو۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۳ صفحہ ۲۲۵

۱۷۲۶۳ ۔ کسی کے تکبر کی وجہ وہ ذلت و احساس کمتری ہے جو وہ اپنے اندر محسوس کرتا ہو۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجار الانور جلد ۷۳ صفحہ ۲۲۵

۱۷۲۶۴ ۔ ہر متکبر حقیر ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عزرالحکم

۱۷۲۶۵ ۔ پست فطرت انسان ہی تکبر کرتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عزرالحکم

۱۷۲۶۶ ۔ صرف پست فطرت اور بے قدر انسان کے علاوہ کوئی تکبر و غرور نہیں کرتا۔

(حضرت علی علیہ السلام) عزرالحکم

(قولِ موئف: ملاحظہ ہو: "کذب" باب (جھوٹ) "جھوٹ بولنے کے اسباب"

اسبابِ تکبر کے بارے میں ابوحامد غزالی کا نظریہ

معلوم ہونا چاہئے کہ "کبر" ایک باطنی کیفیت ہے، جو صورت حال اخلاق و افعال سے ظاہر ہوتی ہے، وہ اس کیفیت کا ثمرہ اور نتیجہ ہوتی ہے اس کو "تکبر" سے موسوم کیا جانا چاہئے۔ جبکہ "کبر" نام ہے اس باطنی کیفیت کا جس سے انسان اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے اور اپنی قدر و قمیت کو دوسروں سے بالاتر جانتا ہے۔

اس باطنی کیفیت کا موجب صرف ایک ہی چیز ہوتی ہے وہ ہے "عجب" یا خود پسندی جو متکبر کو لاحق ہوتی ہے کیونکہ انسان خودپسندی کا شکار ہو جاتا ہے اور اپنی ذات، اپنے علم اپنے عمل یا کسی اور بات پر اتراتا و اکڑتا ہے تو اپنے آپ کو بڑا سمجھتا اور دوسروں پر اپنی فوقیت جانتا ہے۔

اپنی ظاہری کبر کی کیفیت اس کے تین اسباب ہوتے ہیں۔ ایک سبب کا تعلق متکبر کے ساتھ ہوتا ہے، ایک کا تعلق اس کے ساتھ ہوتا ہے جس پر تکبر کیا جاتا ہے اور ایک کا تعلق ان دونوں کے علاوہ کے ساتھ ہوتا ہے۔ جس سبب کا تعلق متکبر کے ساتھ ہوتا ہے وہ ہے "عُجب" یا خودپسندی، اور جس کا تعلق اس کے ساتھ ہوتا ہے جس پر تکبر کیا جاتا ہے وہ ہے "حد" اور "کینہ" جس سبب کا تعلق ان دو کے علاوہ کے ساتھ ہوتا ہے، وہ ہے "ریاکاری"۔ اس لحاظ سے تکبر کے کل چار اسباب بن جاتے ہیں۔ ۱ ۔ خودپسندی۔ ۲ ۔ کینہ۔ ۳ ۔ حسد اور ۴ ۔ ریاکاری۔"

المجة البیضاء جلد ۶ صفحہ ۲۴۵ ۔ تمام کلام کا مطالعہ کیا جائے

( ۱۰) کبر و غرور کا علاج

۱۷۲۶۷ ۔ جو شخص عظمتِ الہٰی کو جانتا ہے اسے زیب نہیں دیتا کہ بڑائی اختیار کرے، کیونکہ عظمت پروردگار کے جاننے والوں کی سربلندی اسی بات میں ہے کہ وہ اس کے آگے توضع و انکساری کریں۔ جلال الہٰی کی معرفت رکھنے والوں کی عزت اسی بات میں ہے کہ وہ اس کے آگے ذلت و عاجزی کے ساتھ جھک جائیں۔۔

(حضرت امام حسنعلیہ السلام) مجاالانوار جلد ۷۸ صفحہ ۱۰۴

۱۷۲۶۸ ۔ جو شخص اللہ کی معرفت رکھتا ہے اس کے لئے مناسب نہیں کہ اپنی بڑائی کا اظہار کرے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عزرالحکم

۱۷۲۶۹ ۔ اگر اللہ چاہتا تو آدم کو ایک ایسے نور سے پیدا کرتا جس کی روشنی آنکھوں کو چندھیا دیتی اور اس کی خوشنمائی عقلوں پر چھا جاتی ایسی خوشبو سے کہ جس کی مہلک سانسوں کو جکڑ لے اگر ایسا کرتا تو ان کے آگے گردنیں جھگ جاتیں اور انکے بارے میں فرشتوں کی آزمائش ہلکی ہو جاتی۔

لیکن اللہ سبحانہ اپنی مخلوقات کو ایسی چیزوں سے آزمات ہے جن کی اصل و حقیقت سے وہ ناواقف ہوتے ہیں۔ تاکہ اس آزمائش کے ذریعے (اچھے اور برے افراد میں) امتیاز کر دے ان سے نخوت و برتری کو الگ اور غرور و خودپسندی کو دور کر دے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۲

۱۷۲۷۰ ۔ اگر انبیاء ایسی قوت و طاقت رکھتے جسے دبانے کا قصد و ارادہ بھی نہ ہو سکتا ایسا تسلط و اقتدار رکھتے جس پر تعدی ناممکن ہوتی۔۔ تو یہ چیز نصیحت پذیری کے لئے آسان اور اس سے انکار و سرتابی بہت بعید ہوتی۔۔ لیکن اللہ سبحانہ نے یہ چاہا کہ اس کے پیغمبرو کا اتباع، اس کی کتابوں کی تصدیق، اس کے سامنے فروتنی، اسکے احکام کی فرمانبرداری اور اس کی اطاعت، یہ سب چیزیں اس کے لئے مخصوص ہوں ان میں کوئی دوسرا شائبہ تک نہ ملو، اور جتنی آزمائش کڑی ہو گی اتنا ہی اجر و ثواب زیادہ ہو گا۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۲

۱۷۲۷۱ ۔ لیکن اللہ سبحانہ اپنے بندوں کو گوناگوں سختیوں سے آزماتا ہے ان سے اسی عبادت کا خواہان ہے جو طرح طرح کی مشقتوں سے بجا لائی گئی ہو انہیں قسم قسم کی ناگواریوں سے جانچتا ہے تاکہ ان کے دلوں سے تمکنت و غرور کو نکال باہر کرے اور ان کے نفوس میں عجز و فروتنی کو جگہ دے بتلاؤ آزمائش (کی راہ) سے اپنے فضل و کرم کے کھلے ہوئے دروازوں تک انہیں پہنچائے۔۔۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۲

۱۷۲۷۲ ۔ یہی وہ چیز ہے جس سے خداوندِ عالم ایمان سے سرفراز ہونے والے بندوں کو نماز، زکوٰة اور مقررہ دنون میں روزوں کے جہاد کے ذریعے محفوظ رکھتا ہے۔ اس طرح ان کے ہاتھ پیروں (کی طغیانیوں) کو سکون کی سطح پر لاتا ہے، ان کی آنکھوں کو عجزو شکستگی سے جھکا کر نفس کو رام اور دلون کو متواضع بنا کر رعفت و خود پسندی کو ان سے دور فرماتا ہے۔

دیکھو! ان اعمال و عبادت میں غرور کیاابھرے اثرات کو مٹانے اور تمکنت کے نمایاں ہونے والے آثار کو دبانے کے کیسے کیسے فوائد مضمر ہیں۔۔۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۲

۱۷۲۷۳ ۔ خداوندِ عالم نے ایمان کا فریضہ عائد کیا شرک کی آلودگیوں کو پاک کرنے کے لئے اور نماز کو فرض کیا رعونت سے بچانے کے لئے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ حکمت ۲۵۲

کبر کے علاج کے بارے علاّمہ مجلسی کی گفتگو

"کبر کا علاج اور تواضع کا حصول دو طرح سے ہو سکتا ہے۔ ایک علمی اور دوسرا عملی علمی صورت تو یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کی اور اپنے رب کی معرفت حاصل کرے یہی چیز کبر کے دور کرنے کے لئے کافی ہے کیونکہ جب انسان اپنے آپ کو صحیح معنی میں پہچان لے گا تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ وہ ذلیل س ذلیل ترین مخلوق ہے، ایک سے کمترین ہے۔ اور اس کے شایان شان صرف یہی بات ہے کہ وہ اپن آپ کو متواضع، ذلیل و حقیر سمجھے جب اپنے رب کی معرفت حاصل کر لے گا تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ عظمت و کبریائی صرف اور صرف ذات کبریا کو زیب دیتی ہے۔ یہی وہ علمی مداوا ہے جو کبروغرور کی رشیرکنی کرتا ہے جبکہ اس کا عملی علاج یہ ہے کہ انسان خود کو خدا و خدا کے سامنے متواضع و منکر سمجھے صاحبان تواضع کے اخلاق و عادات کو اختیار کئے رہے، خدا کے نیک و صالح افراد کے حالات سے باخبر رکھے ان سے ہمیشہ رہنمائی حاسل کرتا رہے حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی سیرت طیبہ کو اپنا اسوہ عمل قرار دے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) زمین پر بیٹھ کر کھاناتناول کرتے نیز فرمایا کرتے تھے کہ میں تو خدا کا ایک بندہ ہوں، اور اسی طرح غذا کھاتا ہوں جس طرح غلام کھانا کھاتے ہیں۔

مجارالانوار جلد ۷۳ صفحہ ۲۰۱ صفحہ ۲۰۵ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ یہ گفتگو احیاء العلوم غزالی سے اخذ کی گئی ہے۔

(قول موئف: ملاحظہ ہو: باب متکبر پر تعجب ہے۔۔ نیز: باب کبر زیبا ہے جناب کبریا کے واسطے اور ملحق باب۔)

( ۱۱) کبر سے بچاؤ کا طریقہ

۱۷۲۷۴ ۔ مجھے یہ بات بہت اچھی لگتی ہے کہ انسان اپنے ہاتھوں میں ایسی چیزوں کو اٹھائے جو اس کے اہلِ خانہ کے استعمال میں آتی ہیں، کیونکہ اس طرح وہ کبروغرور سے بچا رہتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) تنبیہ الخواطر صفحہ ۱۶۶

۱۷۲۷۵ ۔ جو اپنے پھٹے پرانے کپڑوں کو پیوند لگائے، اپنے جوتوں کو خود گانٹھے اوراپنی ضروریات کی چیزوں کو خود اٹھائے وہ غرور سے محفوظ رہتا ہے۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) وسائل شیعہ جلد ۳ صفحہ ۳۴۶

۱۷۲۷۶ ۔ جو اپنے مال اسباب کو خود اٹھاتا ہے وہ کبر و غرور سے بچا رہتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۷۷۹۴

۱۷۲۷۷ ۔ جو اپنی بکری کا دودھ خود دوہے، اپنی قمیض کو پیوندخود لگائے اپنے جوتوں کو خود گانٹھے اپنے ملازم کا ہاتھ بٹائے اوربازار سے سودے خود اٹھا کر لائے وہ تکبر و رعونت سے محفوظ رہتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۷۷۹۳

۱۷۲۷۸ ۔ جو اونی لباس پہنے، گانٹھے ہوئے جوتے استعمال رکے، گدھے پر سواری کرے، بکری کا دودھ خود دوہے اور اس کے اہل خناہ اس کے ساتھ مل کر کھانا کھائیں تو ایسے شخص سے اللہ تعالیٰ تکبر کو دور کر دیتا ہے، میں عبد (خدا) اور عبد (خدا) کا بیٹا ہوں، غلاموں کی طرح بیٹھتا ہوں اور غلاموں کی مانند کھانا کھاتا ہوں۔

میری طرف وحی کی گئی ہے کمہ منگرالمزاجی سے کام لو۔ اور ایک دوسرے پر برتری نہ جتاؤ۔۔۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۷۷۹۷

۱۷۲۷۹ ۔ ابوامامہ کہتے ہیں ایک مرتبہ پیغمبر اکرم(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) جنت التبع کی طرف تشریف لے گئے آپ کے کچھ اصحاب بھی آپ کے پیچھے ہو لئے کچھ دور جا کر حضرت رک گئے اور انہیں کم دیا کہ آپ سے آگے آ جائیں پھر آپ ان کے پیچھے چلنے لگے۔ اس اقدام کے بارے میں آپ سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: "میں نے اپنے پیچھے تمہارے جوتوں کی آواز سنی تو مجھے دل میں تکبر کا اندیشہ ہوا، اسی لئے میں نے یہ اقدام کیا ہے۔

(دیلمی) البتہ اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ صرف یہ بتانے کے لئے اسے درج کیا گیا ہے تاکہ معلوم ہو کہ اُدھر اس قسم کی روایات بھی موجود ہیں۔ ملاحظہ ہو کنزالعمال حدیث ۸۸۷۸ ( قولک موئف: احادیث میں مذکورہ امور کو قاعدہ کلیہ کی حیثیت نہیں دی جا سکتی، بلکہ زمان و مکان اور افراد کے اختلاف کے ساتھ قواعد بھی بدلتے رہتے ہیں جیسا کہ ایک روایت میں ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے تواضع و انکساری کے لئے پشیمنہ کا لباس زیب تن کریں گے حالانکہ ان کے دل غرور و نخوت سے لبریز ہوں گے" لہٰذا غور کیجئے گا۔

۱۷۲۸۰ ۔ عبداللہ بن جبلہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ہاتھ مچھلی لٹکائی ہوئی تھی کہ اچانک میرا سامنا حضرت ابوالحسنعلیہ السلام سے ہو گیا۔ آپعلیہ السلام نے دیکھ کر فرمایا: "اسے پھینک دو، کیونکہ میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ ایک شریف آدمی اپنے ساتھ ایک پست چیز کو اٹھائے ہوئے ہو"

آپ نے پھر ارشاد فرمایا: "تم ایسے لوگ ہو جن کے دشمن بہت زیادہ ہیں۔ اور لوگوں کو تمہارے ساتھ بڑی دشمنی ہے۔ لہٰذا ایسے گروہ شیطان! تم سے جس قدر بن پرے اپنے آپ کو زینت سے آراستہ رکھو، کیونکہ مخلوق تمہاری دشمن ہے"

وسائل الشیعہ جلد ۳ صفحہ ۳۴۵

۱۷۲۸۱ ۔ یونس بن یعقوب کہتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادقعلیہ السلام نے ایک ایسے شخص کو دیکھا جو اپنے اہل خانہ کے لئے چیزیں خرید کر اٹھائے جا رہا تھا۔ جب اس نے امام کو دیکھا تو اسے شرم محسوس ہوئی۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: تم نے اپنے اہل خانہ کے لئے خریداری کی ہے اور انہی کے لئے سامان کو اٹھائے جا رہے ہو پھر فرمایا: نجدا میں بھی اسی بات کو پسند کرتا ہوں کہ اپنے اہل و عیال کے لئے سامان خرید کر خودی اٹھا کر گھر لے جاؤ، لیکن (چونکہ اہلِ مدینہ اس بات کو معیوب سمجھتے ہیں اس لئے) اہل مدینہ نہ ہوتے تو ایسا ضرور کرتا"

وسائل الشیعہ جلد ۳ صفحہ ۳۴۵

۱۷۲۸۲ ۔ رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے حضرت ابوذر کو جو وصیتیں فرمائیں ان میں سے ایک وصیت یہ بھی تھی "اے اباذر! آخری زمانہ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو سرما اور گرما ہر موسم میں پشیمنہ کا لباس پہنیں گے اور اسی کو دوسروں پر اپنی فوقیت و فضیلت سمجھیں گے، یہ ایسے لوگ ہوں گے جنہیں اہل ارض و سیماء لعنت سے نواز دیں گے۔

وسائل الشیعہ جلد ۳ صفحہ ۳۶۲

(قول موئف: ملاحظہ ہو: "وسائل الشیعہ جلد ۳ صفحہ ۳۴۴ باب ۵)

( ۱۲) تکبر کے نتائج

۱۷۲۸۳ ۔ حرص، تکبر اور حسد گناہوں میں پھاند پڑنے کے محرکات ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ حکمت ۳۷۱

۱۷۲۸۴ ۔ تکبر اور غرور کا ثمرہ یہ ہے کہ اس سے گالیاں پڑتی ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) عزرالحکم

۱۷۲۸۵ ۔ تکبر اور رعونت بلند درجہ انسان کو پست کر دیتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عزرالحکم

۱۷۲۸۶ ۔ تکبر رزالت کا مظہر ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عزرالحکم

۱۷۲۸۷ ۔ متکبر کا کوئی سچا دوست نہیں ہوتا۔

(حضرت علی علیہ السلام) عزرالحکم

۱۷۲۸۸ ۔ تکبر گناہوں کے ارتکاب کا داعی ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عزرالحکم

۱۷۲۸۹ ۔ کثرتِ تکبر کی وجہ سے، تباہی اوربربادی کا منہ دیکھنا پڑتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عزرالحکم

۱۷۲۹۰ ۔ جو تکبر و اسراف کا لباس اوڑھتا ہے اور شرافت و فضیلت کے جامے کو اتار پھینکتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عزرالحکم

۱۷۲۹۱ ۔ متکبر انسان کو اچھی تعریف کی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجارالانوار جلد ۷۳ صفحہ ۲۳۴ صفحہ ۳۰۴ جلد ۷۲ صفحہ ۱۹۰

۱۷۲۹۲ ۔ تکبر کرنے والا کچھ نہیں سیکھ سکتا۔ (یا کوئی تعلیم حاصل نہیں کر سکتا)۔

(حضرت علی علیہ السلام) عزرالحکم

( ۱۳) خدا متکبر کو ذلیل کر دیتا ہے

۱۷۲۹۳ ۔ تکبر سربلند شخص کو ذلیل کر دیتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عزرالحکم

۱۷۲۹۴ ۔ آسمان میں دو فرشتے ہیں جو بندوں پر مقرر کئے گئے ہیں لہٰذا جو شخص کبرو غرور کا مظاہرہ کرتا ہے وہ اسے ذلیل کر دیتے ہیں۔

(حضرت رسول اکرم) مجار الانوار جلد ۷۳ صفحہ ۲۳۷

۱۷۲۹۵ ۔ تکبر سربلند شخص کو ذلیل کر دیتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عزرالحکم

۱۷۲۹۶ ۔ جو لوگوں کے سامنے اکڑتا ہے ذلیل ہو جاتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجارالانوار جلد ۷۷ صفحہ ۲۳۵

۱۷۲۹۷ ۔ ہر ایک بندہ کے سر میں ایک لگام ہوتی ہے جسے ایک فرشتہ تھامے ہوئے ہوتا ہے لہٰذا جب کوئی شخص تکبر کرنے لگتا ہے تو وہ فرشتہ کہتا ہے: "پست ہو جا خدا تجھے ذلیل کرے تجھ جیسا شخص ہمیشہ اپنے دل میں تو بہت بڑا ہوتا ہے لیکن لوگوں کی نگاہوں میں بہت پست ہو جات اہے جب کوئی شخص تواضع و انکساری سے کام لیتا ہ تو کدا اسے بلند کر دیتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے تو بلند ہو جا خدا تجھے ہمیشہ سربلند رکھے۔ لہٰذا وہ شخص ہمیشہ اپنے آپ کو سب سے چھوٹا سمجھتا ہے لیکن لوگوں کی آنکھوں میں وہ سربلند ہوتا ہے"

۱۷۲۹۸ ۔ ہر ایک آدمی کے سر میں ایک لگام ہوتی ہے جو ایک فرشتے کے ہاتھ می ہوتی ہے جب وہ تکبر اور غرور کرتا ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہ اس کی لگام کو نیچ ڈال دو۔

(حضرت رسول اکرم) الترغیب والترہیب جلد ۳ صفحہ ۵۶۱ اسے طبرانی اور بزازنے کی روایت کیا ہے۔

۱۷۲۹۹ ۔ کھیتی (ہمیشہ) نرم زمین میں اگتی ہے چٹیل پہاڑ پر نہیں۔ اسی طرح حکمت اور دانائی بھی تواضع و انکساری کرنے والے دلوں میں پروان چڑھتی ہے، متکبر اور مغرور دلوں میں نہیں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے عجز و انکساری کو عقل کا آلہ قرار دیا ہے اور غرور نخوت کو جہالت کا آلہ بنایا ہے۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ جو شخص اپنا سرچھت سے اوپر لے جانا چاہتا ہے تو چھت اس کا سر پھوڑ دیتی ہے۔ اور جو اس میں سر کو جھکائے رکھتا ہے اس کے سایہ سے بہرہ مند ہوتا ہے چھت اسے اپنے اندر لئے رہتی ہے۔ اسی طرح جو شخص خد اکے لئے سرکو نہیں جھکاتا خدا اسے پست کر دیتا ہے اور جو سرِتسلیم جھکائے رہتا ہے خدا اسے سربلند کر دیتا ہے۔

(اما موسیٰ کاظم علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۸ صفحہ ۳۱۲

۱۷۳۰۰ ۔ جو شخص خد اکے لئے ایک درجہ انکساری کرتا ہے، خدا اسے ایک درجہ سربلند فرما دیتا ہے بہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ اسے بلند سے بلند ترین مقام تک جا پہنچاتا ہے اسی طرح جو شخص ایک درجہ تکبر کرتا ہے خدا بھی اسے ایک درجہ پست کر دیتا ہ اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے پست سے پست ترین جگہ میں ڈال دیتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) الترغیب والترہیب جلد ۳ صفحہ ۵۶۰ اسے ابن ماجہ اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔

۱۷۳۰۱ ۔ جو شخص تواضع و انکساری کرتا ہے اللہ اسے بلند تر کر دیتا ہے اور فرماتا ہے: "خدا تجھے سربلند رکھے، بلند سے بلند تر ہوتا جائے غرور سے کام لیتا ہے تو اس کی گردن توڑ دیتا ہے اور فرماتا: "ذلیل ہو جا" پس وہ شخص لوگوں کی نگاہوں سے گر جات اہے اور اپنے دل میں بڑا بنا رہتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) الترغیب والترہیب جلد ۳ صفحہ ۵۶۰

(قول موئف: ملاحظہ ہو: بابا "تواضع "تواضع اختیار کرو بلند مرتبہ پاؤ گے")

متکبرین کا ٹھکانہ بہت بُرا ہے

قرآن مجید:

( فادخلوا ابواب جهنم -------------- مثوی المتکبرین ) ۔ (نحل / ۲۹)

ترجمہ:

پس جہنم کے دروازوں میں داخل ہو جاؤ اس میں ہمیشہ رہو گے تکبر کرنے والوں کاکیا ہی برا ٹھکانہ ہے۔

( ان الذین یستکبرون --------------------------- داخرین ) ۔ (مومن/ ۶۰)

ترجمہ:

بے شک جو لوگ میری عبادت سے تکبر اور سرتابی کرتے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔

حدیث شریف:

۱۷۳۰۲ ۔ قیامت کے دن تکبر اور غرور کرنے والے چھوٹی چھوٹی چیونٹیوں کی صورت میں مشہور ہوں گے اور لوگ انہیں لتاڑتے پھیریں گے کیونکہ وہ خدا کے نزدیک ذلیل و رسوا ہوں گے۔

(حضرت رسول اکرم) محبة البلاضا  جلد ۶ صفحہ ۲۱۵

۱۷۳۰۳ ۔ یقینا متکبر لوگ چھوٹی چیونٹیوں کی صورت میں بنا دئیے جائیں گے اور لوگ انہیں روندتے رہیں گے یہاں تک کہ اللہ کا حساب و کتاب ختم ہو جائے گا۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجارالانوار جلد ۷۳ صفحہ ۲۱۹ و صفحہ ۲۳۷

۱۷۳۰۴ ۔ حارثہ بن وہب کہتے ہیں: "میں نے رسول اللہ سے سنا ہے کہ کیا میں تمہیں نہ بتاؤں کہ جہنمی لوگ کون ہون گے؟" (پھر خودہی فرمایا) "ہر سرکش، مٹک کر چلنے والا اور متکبر انسان ہی جہنمی ہو گا"

الترغیب والترہیب جلد ۳ صفحہ ۵۶۳ اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے۔

۱۷۳۰۵ ۔ قیامت کے دن متکبر لوگ چھوٹی چھوتی چیونٹیوں کی صورت میں مشہور رہیں گے جنہیں انسان روند ڈالیں گے۔ ان چیونٹیوں کی شکل و صورت انسانوں جیسی ہو گی ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی ان سے بلند ہو گی۔۔

(حضرت رسول اکرم) مجة البلاضاء جلد ۶ صفحہ ۲۱۵ اسے احمد دین جنبل نے بیان کیا ہے۔ ملاحظہ ہو مسند احمد جلد ۲ صفحہ ۱۷۹

۱۷۳۰۶ ۔ قیامت کے دن متکبر لوگ چیونٹیوں کی مانند محور ہوں گے جن کی شکل و صورت انسانوں جیسی ہو گی اور انہیں ذلت و رسوائی ہر طر سے اپنے گھیرے میں لے لے گی۔۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۷۷۵۰

۱۷۳۰۷ ۔ جہنم میں ایک وادی ہے جس کا نام "ہبہب" ہے۔ خداوند عالم کا حق بنتا ہے کہ اس میں ہر مغرور و متکبر انسان کو ٹھہرائے۔

(حضرت رسول اکرم) حجتہ البضاء جلد ۶ صفحہ ۲۱۵ اسے حاکم نے بھی اپنی کتاب مستراک جلد ۴ صفحہ ۵۹۷ میں ذکر کیا ہے۔ لیکن اس کی سند ضعیف ہے۔

۱۷۳۰۸ ۔ جہنم میں ایک قصر ہے جس میں متکبرین کو بند کر کے اس کے دروازے بند کر دئیے جائیں گے۔

(حضرت رسول اکرم) حجة البضا جلد ۶ صفحہ ۲۱۵

۱۷۳۰۹ ۔ متکبرین کے لئے جہنم میں ایک وادی ہے جس کا نام "سقر" ہے اس نے ایک دن اللہ سے اپنی شدت حرارت کی شکایت کی اور درخواست کی اے ایک مرتبہ سانس لینے کی اجازت دی جائے۔ اجازت ملنے پر جب اس نے سانس لیا تو تمام جہنم کو جلا ڈالا۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۳ صفحہ ۲۱۸ صفحہ ۲۳۲ جلد ۸ صفحہ ۲۹۴

(قول مولف: ملاحطہ ہو: باب "جہنم" "متکبرین کی وادی"


فصل ۲۸

( ۱) کتاب

قرآن مجید:

( ن والقلم وما یسطرون ) ۔ (قلم/ ۱)

ترجمہ:

ن۔ قسم ہے قلم کی اور اس کی جو وہ لکھتے رہتے ہیں۔

حدیث شریف:

۱۷۳۱۰ ۔ کتاب (برواتیے کتابیں) علماء کا چمن ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۳۱۱ ۔ کتاب دو باتیں کرنے والوں میں سے ایک ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۳۱۲ ۔ کتاب نیت کی ترجمان ہوتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۳۱۳ ۔ بہترین باتیں بیان کرے والی چیز کتاب ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۳۱۴ ۔ جو شخص کتاب کے ذریعہ تسلی حاصل کرتا ہے اس سے مفقوس نہیں ہوتی۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۳۱۵ ۔ فضل بن عمر کہتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادقعلیہ السلام نے فرمایا: "اپنے علم کو لکھا کرو اے اپنے (ایمانی) بھائیوں میں پھیلا دو اور اگر مرنے لگو تو اپنے علم کا وارث اپنی اولاد کو بناؤ، کیونکہ لوگوں پر ایک ایسا پر آشوب دور آئے گا جس میں وہ صرف اور صرف کتابوں ہی سے مانوس ہوں گے"

مجار الانوار جلد ۲ صفحہ ۱۵۰

۱۷۳۱۶ ۔ خداوند سبحانہ نے نیک اور بد لوگوں پر حساب اور کتاب کے ذریعے احسان فرمایا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو لوگ مغالطہ میں پڑے رہتے۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۱۲ صفحہ ۲۴۵ کافی جلد ۵ صفحہ ۱۰۰

( ۲) بہترین ترجمان مکتوب ہے

۱۷۳۱۷ ۔ انسان کے مکتوب سے اس کی عقل و بصیرت کا اندازہ لگایا جاتا ہے اور اس کے ایلچی سے اس کی فہم و فراست کا۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۶ صفحہ ۵۰

۱۷۳۱۸ ۔ تمہارا قاصد تمہاری عقل کا ترجمان ہوتا ہے اور تمہارا مکتوب تمہاری بہترین ترجمانی کرتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجارالانوار جلد ۷۶ صفحہ ۵۰

۱۷۳۱۹ ۔ انسان کو مکتوب اس کی عقل کا عنوان اور اس کی فضیلت کی دلیل ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۳۲۰ ۔ انسان کا مکتوب اس کی فضیلت کا معیار اور اس کی عقل کا پیمانہ ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۳۲۱ ۔ اپنے مکتوب کو مکمل کر لینے سے پہلے اس پر ایک مرتبہ نظرثانی کر لو کیونکہ اس طرح تم سے اپنی عقل کے مطابق پایہ تکمیل تک پہنچاؤ گے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۳۲۲ ۔ صاحبانِ (علم و فضل) کی عقلیں اپنے قلموں کے کنارے سے وابستہ ہوتی ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۳۲۳ ۔ مالک اشتر کے نام امیر المومنین کے مکتوب سے اقتباس۔ "پھر یہ کہ اپنے منشیانِ دفاتر کی اہمیت ہر نظر رکھنی اپنے معاملات ان کے سپرد کرنا جو ان میں بہتر ہوں۔ اپنے ان فرامین کو جن میں مخفی تدابیر و (مملکت کے) معزو اسرار درج ہوتے ہیں خصوصیت کے ساتھ ان کے حوالے کرنا جو سب سے زیاددہ اچھے اخلاق کے مالک ہوں۔ جنہیں اعزاز کا حاصل ہونا سرکش نہ بنائے کہ وہ بھری محفلوں میں تمہارے خلاف کچھ کہنے کی جرأت کرنے لگیں۔ ایسے بے پروا بھی نہ ہو جانا کہ لین دین کے بارے میں جو تم سے متعلق ہوں، تمہارے کارندوں کے خطوط تمہارے سامنے پیش کرنے اور ان کے جوابات روانہ کرنے میں کوتاہی کرتے ہیں۔

نہج البلاغہ مکتوب ۵۳

( ۳) علم کو لکھ کر محفوظ کر لو

۱۷۳۲۴ ۔ علم کو کتاب کے ذریعے محفوظ کر لو۔

(حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )) کنزل العمال حدیث ۲۹۳۳۲

۱۷۳۲۵ ۔ "علم کو مقید کر لو" کسی نے پوچھا کہ کیسے مقید کیا جائے؟ فرمایا: "اسے لکھ کر"

(حضرت رسول اکرم) مجار الانوار جلد ۲ صفحہ ۱۵۲

۱۷۳۲۶ ۔ علم کے ختم ہو جانے سے پہلے علم کو لکھ لو کیونکہ علماء کی موت سے علم ختم ہو جاتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )) کنز العمال حدیث ۲۸۷۳۳

۱۷۳۲۷ ۔ حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہے کہ آپ نے اپنے بیٹوں اور بھتیجوں کو بلا کر فرمایا: "تم لوگ ابھی سن ہو، عنقریب بڑے ہو جاؤ گے لہٰذا علم حاصل کرو تم میں سے جو محفوظ کر سکتا ہے اسے لکھ لے اور لکھ کر اپنے گھر میں رکھ لے۔"

مجار الانوار جلد ۲ صفحہ ۱۵۲

۱۷۳۲۸ ۔ (علم کو) لکھ لیا کرو کیونکہ تم لکھے بغیر اسے یاد نہیں رکھ سکو گے۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجار جلد ۲ صفحہ ۲۵۲

۱۷۳۲۹ ۔ علم کو لکھ لیا کرو کیونکہ لکھے بغیر اسے محفوظ نہیں رکھ سکو گے۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجار جلد ۲ صفحة ۱۵۳

۱۷۳۳۰ ۔ ابو بصیر کہتے ہیں کہ میں امام جعفر صادقعلیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا آپعلیہ السلام نے فرمایا: "میرے پاس بصیرہ کے کچھ لوگ آئے اور چند احادیث کے بارے میں سوال کیا اور انہیں لکھ لیا۔۔ تمہیں لکھنے سے کونسا امر مانع ہے؟ یاد رکھو جب تک لکھو گے نہیں ان کی حفاظت ہرگز نہیں کر سکو گے۔۔۔"

مجار الانوار جلد ۲ صفحہ ۱۵۲

۱۷۳۳۱ ۔ دل و تحریر سے مطمئن ہوتا ہے۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۲ صفحہ ۱۵۲

( ۴) کتاب کی تالیف

۱۷۳۳۲ ۔ جب کوئی مومن مر جائے اور اپنے ترکہ میں کوئی ایسا کاغذ چھوڑ جائے جس پر علمی بات تحریر ہو تو بروز قیامت وہی کاغذ اس کے اور جہنم کے درمیان پردے کا کام دے گا، خداوندِ کریم اسے اس کاغذ پر لکھے ہوئے ایک ایک حرف کے بدلے میں (بہشت) ایک گھر عطا فرمائے گا جس کی وسعت اس دنیا سے سات گنا زیادہ ہو گی۔

(حضرت رسول اکرم) مجار الانوار جلد اول صفحہ ۱۹۸ جلد ۲ صفحہ ۱۴۴

۱۷۳۳۳ ۔ جو شخص مجھ سے ایک علمی بات یا میری ایک حدیث تحریر کرے گا، تو جب تک وہ علم اور حدیث باقی رہیں گے اس کے لئے اجر لکھا جاتا رہے گا۔

(حضرت رسول اکرم) کنز العمال حدیث ۲۸۹۵۱

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو: مجار الانوار جلد ۲ صفحہ ۱۴۴ باب ۱۹ " حدیث لکھنے کی فضیلت"

( ۵) خدا نے کتنی کتابیں نازل فرمائی ہیں؟

قرآن مجید:

( وانزل معبهم الکتٰب --------------------------اختلفوا فیه ) (بقرہ/ ۲۱۳)

ترجمہ:

اور ان (انبیاء) کے ساتھ سچی کتاب اتاری تاکہ وہ لوگوں کے درمیان (ان امور کا) فیصلہ کرے، جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔

حدیث شریف:

۱۷۳۳۴ ۔ حضرت ابوذر (غفاری) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت رسول خدا کی خدمت میں عرض کیا: "یارسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے کتنی کتابیں نازل فرمائی ہیں؟ " "ایک سو چار کتابیں۔ جن میں پچاس صحیفے حضرت شیثعلیہ السلام پر، تیس صحیفے حضرت ادریسعلیہ السلام پر، بیس صحیفے حضرت ابراہیمعلیہ السلام پر نازل فرمائے اور اس کے ساتھ ہی توریت، انجیل، زبور اسور فرقان جیسی کتابیں بھی اتاری ہیں۔"

مجار الانوار جلد ۷۷ صفحہ ۷۱

۱۷۳۳۵ ۔ اللہ سبحانہ نے اپنی مخلوق کو بغیر کسی فرستادہ پیغمبر یا آسمانی کتاب یا دلیلِ قطعی یا صرایق روشن کے کبھی یونہیں چھوڑا۔

۱۷۳۳۰ ۔ صاحبانِ (علم و فضل) کی عقلیں اپنے قلموں کے کنارے سے وابستہ ہوتی ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ اول

( ۶) ہر مکتوب کا سرنامہ

۱۷۳۳۶ ۔ "بسم اللہ الرحمن الرحیم" ہر مکتوب کا سرنامہ ہے۔

(حضرت رسول اکرم) درمنثور جلد ۱ صفحہ ۱۰

۱۷۳۳۷ ۔ "بسم اللہ الرحمن الرحیم" (لکھنا) ترک نہ کرو، خواہ اس کے بعد ایک شعر ہی ہو۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۸ صفحہ ۴۹۵

۱۷۳۳۸ ۔ جو شخص عظمتِ خداوند کے پیش نظر "بسم اللہ الرحمن الرحیم" کو خبوصورت انداز میں تحریر کرے گا اللہ اس کے گناہ معاف کر دے گا۔

(حضرت رسول اکرم) درمنثور اجلد اول صفحہ ۱۰

۱۷۳۳۹ ۔ "بسم اللہ الرحمن الرحیم" کو نہایت ہی خوبصورت انداز میں لکھا کرو۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۸ صفحہ ۴۹۵

(قول مولف: ملاحظہ ہو: وسائل جلد ۸ صفحہ ۴۹۴ باب ۹۴ ہر تحریر سے پہلے بسم اللہ۔۔۔ کا لکھنا مستحب ہے"

نیز: عنوان "اللہ تعالیٰ کے اسمائے گرامی"


فصل ۔ ۲۹

( ۱) خط و کتابت

قرآن مجید:

( انه من سلیمٰان وانه بسم الله الرحمن الرحیم الاتعلوا علی واتونی مسلمین ) ۔ (نمل/ ۳۱/۳۰)

ترجمہ:

بے شک وہ سلیمانعلیہ السلام کی طرف سے ہے، اور وہ اللہ کے نام کے ساتھ ہے، جو رحمن و رحیم ہے، یہ کہ میرے مقابل تکبر نہ کرو، اور میرے پاس سرتسلیم خم کرتے ہوئے آؤ۔

حدیث شریف:

۱۷۳۴۰ ۔ وطن میں دوستوں کے ساھت مل و ملاپ ایک دوسرے کی ملاقات سے حاصل ہوتا ہے اور سفر میں نہ میل و ملاپ خط و کتابت سے ہوتا ہے۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۸ صفحہ ۲۴۰ کافی جلد ۲ صفحة ۶۷۰

۱۷۳۴۱ ۔ خط و کتابت کا سب سے پہلے حضرت لقمان نے آغاز کیا اور وہ ایک حبشی غلام تھے۔

(حضرت علی علیہ السلام) بتداک الوسائل جلد ۲ صفحہ ۵۸

(قول مولف: ملاحطہ ہو: وسائل الشیعہ جلد ۸ صفحہ ۴۹۴ باب ۹۳

( ۲) خط کا جواب

۱۷۳۴۲ ۔ خط کا جواب دینا اسی طرح حق ہے جس طرح سلام کو جواب دینا۔

(حضرت رسول اکرم) کنز العمال حدیث ۲۹۲۹۴

۱۷۳۴۳ ۔ خط کے جواب کا بھی اسی طرح حق ہے جس طرح سلام کے جواب کا ہوتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۹۲۹۳

۱۷۳۴۴ ۔ سلام کے جواب کی طرح خط کا جوب دینا بھی واجب ہے۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۸ صفحہ ۴۹۴ ۔ کافی جلد ۲ صفحہ ۶۷۰


فصل ۳۰

راز چھپانا

( ۱) اسلامی انقلاب کے رازوں کا چھپانا

۱۷۳۴۵ ۔ خدا کی قسم! میں اپنے شیعوں میں دو عادتوں کو ناپیدا دیکھنا چاہتا ہوں، خواہ اس کے بدلے میں مجھے اپنی کلائی کا کچھ گوشت ہی کیوں نہ دینا پڑے۔ ایک جلد بازی اور دوسرے رازوں کا نہ چھپانا۔

(امام زین العابدینعلیہ السلام) کافی جلد ۲ صفحہ ۲۲۱ مجار جلد ۷۵ صفحہ ۷۲ خصال صدوق صفحہ ۴۴

۱۷۳۴۶ ۔ لوگوں کو دو باتوں کا حکم دیا گیاتھا۔ جسے انہوں نے ضائع کر دیا اور دوسری باتوں میں لگ گئے ایک صبر اور ایک رازوں کا مخفی رکھنا۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) کافی جلد ۲ صفحہ ۲۲۲

۱۷۳۴۷ ۔ سلیمان بن خالد کہتے ہیں کہ حضرت امام جعفر سادقعلیہ السلام نے مجھ سے فرمایا: "اے سلیمان! تم ایسے دین کے پابند ہو جسے جو چھپائے گا خدا اسے عزت عطا فرماتا ہے اور جو فاش کرے گا خدا اسے ذلیل کرے گا۔

کافی جلد ۲ صفحہ ۲۲۲ مجار الانوار جلد ۷۵ صفحہ ۷۲

۱۷۳۴۸ ۔ ہمارا امر (ولایت) ڈھکا چھپا ہے جس پر میثاق و پیمان لیا گیا ہے۔ لہٰذا جو اس کی ہتک کرے گا اور اسے فاش کرے گا، خدا اسے ذلیل کرے گا۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) کافی جلد ۲ صفحہ ۲۲۶ ۔ مجار جلد ۷۵ صفحہ ۸۳

۱۷۳۴۹ ۔ علی بن سعید سائی کہتے ہیں کہ حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام نے مجھے قید خانے سے تحریر فرمایا: "میں نے جن باتوں کے چھپانے کی خواہش کی ہے انہیں فاش نہ کرو میں تمہیں یہ بات بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ تم پر تمہارے (مومن) بھائی کا واجب ترین حق یہ ہے کہ اس سے کسی ایسی بات نہ چھپاؤ جو اس کی دین اور دنیا کے لئے مفید ہو۔

مجار الانوار جلد ۷۵ صفحہ ۷۰

۱۷۳۵۰ ۔ ہمارے رازوں کا چھپانا جہاد فی سبیل اللہ ہے۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۵ صفحہ ۷۰ صفحہ ۸۳

۱۷۳۵۱ ۔ خدا کی قسم! میرے اصحاب میں سے مجھے وہ شخص زیادہ محبوب ہے جو سب سے زیادہ دیانتدار ، سب سے زیادہ فقیہ اور ہماری احادیث کو سب سے زیادہ چھپانے والا ہے۔

(امام محمد باقرعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۵ صفحہ ۷۶

۱۷۳۵۲ ۔ یہ بات صرف معرفت اور ولایت تک محدود نہیں بلکہ ان کے رازوں کو ان لوگوں سے چھپانا بھی ضروری ہے جو اس بات کے اہل نہیں ہیں۔ بس تمہارے لئے یہی بات کافی ہے کہ جو بات ہم کہیں تم بھی وہی کہو اور جس پر ہم خاموش رہیں تم بھی اپنی زبان کو بند رکھو۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجار جلد ۷۷

۱۷۳۵۳ ۔ خاموشی میں قدرومنزلت ہے، سکوت میں سلامتی ہے اور رازداری سعادت و خوش بختی کا حصہ ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۸ صفحہ ۶۸

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو: عنوان "تقیہ"

( ۲) انقلابی رازوں کا ظاہر کرنا

۱۷۳۵۴ ۔ جو ہماری احادیث کے راز فاش کرے گا تو وہ ایسا گویا کسی نے ہمارے حق کا انکار کر دیا۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) کافی جلد ۲ صفحہ ۳۷۰ مجار الانوار جلد ۷۵

۱۷۳۵۵ ۔ جو ہماری احادیث کے راز فاش کرے گا وہ ہمارے قتل خطا کا نہیں قتل عمد کا مرتکب ہو گا۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) کافی جلد ۲ صفحہ ۳۷۰ مجار الانوار جلد ۷۵ صفحہ ۸۵

۱۷۳۵۶ ۔ خداوندِ متعال نے دین کی دو حکومتیں قرار دی ہیں: ایک آدم کی ۔ جو خدائی حکومت ہے۔ اور ایک ابلیس کی۔ چنانچہ جب اللہ چاہتا ہے کہ اس کی اعلانیہ طور پر عبادت کی جائے تو وہ آدمعلیہ السلام کی حکومت ہوتی ہے اور جب چاہتا ہے کہ اس کی غیر اعلانیہ طور پر عبادت کی جائے تو وہ ابلیس کا دورانیہ ہوتا ہے۔ پس جس بات کو خدا چھپانا چاہے اور کوئی اسے فاش کرے تو وہ دین سے خارج ہو جائے گا۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) کافی جلد ۲ صفحہ ۳۷۲

۱۷۳۵۷ ۔ جو ہماری حدیث کے راز فاش کرے گا اللہ تعالیٰ اس سے ایمان سلب فرما لے گا۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۵ صفحہ ۸۵

۱۷۳۵۸ ۔ راز کو فاش کرنے والا، شک و شبہ میں پڑنے والا ہوتا ہے اور اسے نااہل کے سامنے بیان کرنے والا، منکر ہوتا ہے۔۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۵ صفحہ ۸۸

۱۷۳۵۹ ۔ قیامت کے دن ایک ایسے بندے کو محشور کیا جائے گا جس نے کسی کا خون نہیں بہایا ہو گا، اور اسے ایک سینگی (پچھنے لگانے والے آلے) کی مانند یا اس سے کچھ بڑی چیز دی جائے گی اور کہا جائے گا کہ یہ ہے تمہارا وہ حصہ جو تم نے فلاں کا خون بہایا تھا۔ وہ عرض کرے گا "خدایا! تو اچھی طرح جانتا ہے کہ جس وقت تو نے میری روح قبض کی تھی اس وقت تک میں نے کسی کا خون نہیں بہایا تھا" خداوند فرمائے گا: "تمہاری بات صحیح ہے لیکن تو نے فلاں شخص سے اس اس قسم کی روایت سنی تھی پھر تو نے وہی بات دوسروں کو بیان کی اور یہی بات فلاں ظالم تک جا پہنچی جس کی وجہ سے اسے اس نے قتل کر دیا۔ لہٰذا اس کا خون تیرے ذمہ ہے اور یہی تیرا حصہ ہے"

(امام محمد باقرعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۵ صفحہ ۸۵

۱۷۳۶۰ ۔ خداوندِ عالم کے اس قو: "ذالک بانھم کا نواایکفرون باٰیٰت اللہ ویقتلون الانبیاء بغیرحق"

یعنی یہ اس لئے کہ وہ اللہ کی نشانیوں سے انکار کرتے تھے اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے تھے۔۔(آل عمران / ۱۱۲) کے بارے میں فرمایا: "واللہ! ان لوگوں نے نہ تو انبیاء کو اپنے ہاتھوں سے قتل کیا تھا اور نہ ہی ان پر تلواروں کے وار کئے تھے بلکہ وہ ان کی باتوں کو سنتے تھے اور انہیں ظاہر کر دیتے تھے جس کی وجہ سے لوگ انہیں پکڑ کر قتل کر دیتے تھے۔۔۔"

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۵ صفحہ ۸۶ صفحہ ۸۷

۱۷۳۶۱ ۔ ابوجعفر بن نعمان احول کو حضرت امام جعفر صادقعلیہ السلام نے جو نصیحتیں فرمائیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ: "اے فرزندِ نعمان! عالم تمہیں ہر وہ بات نہیں بتا سکتا جو وہ جانتا ہے کیونکہ یہ ایک خدائی راز ہے۔۔۔ لہٰذا جلدبازی سے کام نہ لو، اس لئے کہ بخدا یہ صورت حال تین مرتبہ پیدا ہو چکی ہے لیکن تم نے اسے فاش کر دیا جس کی وجہ سے خدا نے اسے تاخیر میں ڈال دیا۔ خدا کی قسم تمہارا کوئی راز ایسا نہیں ہوتا جسے تمہارا دشمن تم سے بہتر نہ جانتا ہو۔۔"

مجار الانوار جلد ۷۸ صفحہ ۲۸۹

۱۷۳۶۲ ۔ ابوبصیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام جعفر صادقعلیہ السلام سے بہت سی حدیثوں کے بارے میں سوال کیا تو آپعلیہ السلام نے فرمایا: "کیا تم نے کبھی کوئی بات مجھ سے چھپائی ہے؟" میں اسی لوح میں پڑ گیا۔ جب امام نے میری یہ کیفیت دیکھی تو فرمایا: "جو باتیں تم نے اپنے لوگون سے بیان کی ہیں اس میں کوئی حرج نہیں لیکن جو غیروں کو بتاتے ہو وہ راز ہوتے ہیں جو فاش کرتے ہو۔"

مجار الانوار جلد ۲ صفحہ ۷۵

( ۳) خوش قسمت ہے گمنام انسان

۱۷۳۶۳ ۔ حضرت رسول کریم فرماتے ہیں: "خوشخبری ہے گمنام شخص کیلئے جسے خدا تو پہچانتا ہے لیکن لوگ نہیں جانتے۔ اس قسم کے لوگ ہدایت کے چراغ اور علم کے سرچشمہ ہوتے ہیںَ اللہ تعالیٰ انہی کی وجہ سے تاریک فتنوں کو دور کرتا ہے۔ وہ نہ تو رازوں کو فاش کرتے ہیں اور نہ ہی ریاکار بنا کار ہوتے ہیں۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۵ صفحہ ۷۹ جلد ۷۸ ۔ صفحہ ۷۲

۱۷۳۶۴ ۔ حضرت امیرعلیہ السلام فرماتے ہیں ہر اس گمنام بندہ کے لئے خوشخبری ہے جس کی کوئی پروا نہیں کرتا۔ وہ تو لوگوں کو جانتا ہے لیکن لوگ اسے سے واقف نہیں ہوتے۔ اللہ تعالیٰ اسے اپنی رضا و خوشنودی سے آگاہ فرما دیتا ہے۔ ایسے ہی لوگ ہدایت کے چراغ ہوتے ہیں۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۵ صفحہ ۸۱

۱۷۳۶۵ ۔ ہر گمنام انسان خوش قسمت ہوتا ہے جو لوگوں سے واقف ہوتا ہے۔ اور خدا اپنی رضا وخوشنودی کے ساتھ اسے پہچانتا ہے۔ ایسے لوگ ہدایت کے چراغ ہوتے ہیں جو نہ تو کبھی رازوں کو فاش کرتے ہیں اور نہ ہی جفا کار و ریاکار ہوتے ہیں۔ خداوندِ عالم انہیں ہر قسم کے تاریک اور آشوب فتنوں سے نجات عطا فرمتا ہے۔

(امام علی علیہ السلام) کنزالعمال حدیث ۸۸۲۲

۱۷۳۶۶ ۔ ہر گمنام شخص کیلئے خوشخبری ہے جو لوگوں کو پہچانتا ہے اور اپنے ظاہری بدن کے ساتھ ان کی ہم نشینی اختیار کئے رہتا ہے لیکن اپنے دل کے ساتھ ان کے اعمال کا موافق وہ لوگوں کو ظاہری طور پر جانتا ہے لیکن لوگ اسے باطنی طور پر نہیں جانتے۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۵ صفحہ ۶۹ صفحہ ۷۰ ۔ جلد ۶۹ صفحہ ۲ ۲۷

۱۷۳۶۷ ۔ "میرے بعد بہت ہی خطرناک گھٹا ٹوپ اور شکوک و شبہات میں ڈال دینے والے فتنے رونما ہوں گے۔ جن میں صرف گمنام لوگ ہی باقی رہ جائیں گے۔"

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۵ صفحہ ۷۰

۱۷۳۶۸ ۔ خوش قسمت ہی ایسا گمنام شخص جو لوگوں کو اس سے پہلے جان لیتا ہے کہ لوگ اسے جان پائیں۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۰ صفحہ ۱۱۰

۱۷۳۶۹ ۔ شریر لوگوں کے ساتھ ان کے طور طریقوں میں ملے جلے ہوتا کہ ان کے شر سے محفوظ رہو اور اپنے اعمال کے ساتھ ان سے جدا رہو تاکہ میں شمار نہ ہونے لگو۔

(امام رسول اکرم) مجار الانوار جلد ۷۴ صفحہ ۱۹۹

۱۷۳۷۰ ۔ لوگوں کے ساتھ جسمانی طور پر ملے جلے رہو اور اعمال و دل کے ساتھ ان سے جدا رہو۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۲ صفحہ ۷۹


فصل ۳۱

کذب (جھوٹ)

قرآن مجید:

( واجتنبوا قول اطزور ------------ حنفاء الله ) (حج/ ۳۰/۳۱)

حدیث شریف:

۱۷۳۷۱ ۔ جھوٹ یہ ہوتا ہے کہ گفتگو کو اس جگہ سے ہٹا دیا جائے جو خدا نے مقرر فرمائی ہے۔ # ۲

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۳۷۲ ۔ سچائی، امانت ہے اور جھوٹ، خیانت ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۲ صفحہ ۲۶۱

۱۷۳۷۳ ۔ یہ بہت بڑا خیانت ہو گی کہ تم اپنے کسی بھائی کو کوئی بات بیان کرو اور وہ تمہاری بات کو سچ مان لے لیکن تم اس سے جھوٹ کہہ رہے ہو۔

(حضرت رسول اکرم) تنبہ الخواطر صفحہ ۹۲ ۔ الترغیب و الترہیب جلد ۳ صفحہ ۵۹۶ ۔ اسے ابوداود نے روایت کیاہے۔ صفحہ ۵۹۵

۱۷۳۷۴ ۔ سچائی اور امانت بہت کم ہوتی ہیں اور جھوٹ و خیانت بہت زیادہ۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۳۷۵ ۔ بدترین بات وہ ہوتی ہے جو جھوٹی ہو۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۸۴

۱۷۳۷۶ ۔ جھوٹی زبان بہت بڑی خطاکار ہوتی ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزل العمال حدیث ۸۲۰۳

۱۷۳۷۷ ۔ خدا کے نزدیک بہت بڑی خطا کار ہر وقت جھوٹ بولنے والی زبان ہوتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) حجة البیضاء جلد ۵ صفحہ ۲۴۳

۱۷۳۷۸ ۔ ایمان اسی چیز کا نام ہے کہ جہاں تمہارے لئے سچائی باعثِ نقصان ہو اسے جھوٹ پر ترجیح دو، خواہ وہ تمہارے فائدہ کا باعث ہو رہا ہو۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ حکمت ۴۵۸

۱۷۳۷۹ ۔ اللہ نے ایمان کا فریضہ عائد کیا ہے شرک کی آلودیگیوں سے پاک کرنے کے لئے۔۔ اور جھوٹ سے علیحدگی کو سچائی کا شرف آشکارا کرنے کے لئے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ حکمت ۲۵۲

۱۷۳۸۰ ۔ خدا کی قسم میں نے کوئی بات پر دے میں نہیں رکھی اور نہ ہی کبھی کذب بیانی سے کام لیا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۶

۱۷۳۸۱ ۔ دروغ گوئی سے اجتناب کرو کیونکہ پرامید رکھنے والا اس کی تلاش میں لگا رہتا ہے اور ہر ڈرنے والا اس سے دور بھاگتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۲ صفحہ ۲۴۶

۱۷۳۸۲ ۔ کذب و دروغ سے دور بھاگو کیونکہ یہ (فق و) فجور کے ساتھ قوم ہے اور یہ دونوں چیزیں جہنم میں (لے جاتی) ہینَ

(حضرت رسول اکرم) تنبیہ الخواطر صفحہ ۹۲ الترغیب والترہیب جلد ۳ صفحہ ۵۹۱ اسے ابن حبنان نے روایت کیا ہے۔

۱۷۳۸۳ ۔ جھوٹ سے پرہیز کرو اس لئے کہ یہ فق و فجور تک لے جاتا ہے اور یہ دونوں جہنم میں (لے جاتے) ہیں۔

(حضرت رسول اکرم) الترغیب والترہیب جلد ۳ صفحہ ۵۹۲ اسے طبرانی نے کتاب الکبیر میں روایت بھی کیا ہے۔

۱۷۳۸۴ ۔ عقلمند وہ ہوتا ہے جو کبھی جھوٹ نہ بولے خواہ اس میں اس کی اپنی ذاتی خواہش ہی کویں نہ ہو۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۸ صفحہ ۳۰۵

۱۷۳۸۵ ۔ کذب بیانی بہت بڑا سود ہے۔

(حضرت رسول اکرم) مجار الانوار جلد ۷۳ صفحہ ۲۶۳

۱۷۳۸۶ ۔ جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اس سے اس قدر بدبو اٹھتی ہے کہ فرشتہ اس سے ایک میل کے فاصلے تک ہٹ جاتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) الترغیب والترہیب جلد ۳ صفحہ ۵۹۷ اسے احمد، بزاز اور ابن حبان نے بھی روایت کیا ہے، کنز العمال حدیث ۵۲۰۲ ۔ ۸۲۱۶

۱۷۳۸۷ ۔ جب کوئی بندہ ایک جھوٹ بولتا ہے تو اس سے ایسی بدبو اٹھتی ہے جس سے فرشتہ ایک میل تک دور ہو جاتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) شرح ابن ابی الحدید جلد ۶ صفحہ ۳۵۷

۱۷۳۸۸ ۔ دروغ باقی نفاق کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔

(حضرت رسول اکرم) تنبیہ الخواطر صفحہ ۹۲ کنزالعمال حدیث ۸۲۱۲

۱۷۳۸۹ ۔ تم جانتے ہی ہو کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے قریب کی عزیزداری اور مخصوص قدرومنزلت نے میرا مقام ان کے نزدیک کیا تھا۔ میں بچہ ہی تھا کہ انہوں نے مجھے گود میں لے لیا تھا۔۔ انہوں نے نہ تو میری کسی بات میں جھوٹ کا شائبہ پایا، نہ میرے کسی کام میں لغزش و کمزوری دیکھی۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۲

۱۷۳۹۰ ۔ یقینا وہ شخص اس بات کی طرف خود کو نسبت دیتا ہے جو اس قدر جھوٹ بولتا ہے کہ خود شیطان کو بھی اس کے جھوٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۲ صفحہ ۲۶۰

۱۷۳۹۱ ۔ لوگوں کو باتوں میں نقمہ نہ دیا کرو۔ ورنہ وہ جھوٹ بولنے پر اتر آئیں گے کیونکہ پسران یعقوبعلیہ السلام کو معلوم نہیں تھا کہ بھیڑیا بھی انسان کو کھا جاتا ہے۔ لیکن جب حضرت یعقوبعلیہ السلام نے ان سے کہا کہ مجھے خوف ہے کہ کہیں (یوسف علیہ السلام کو) بھڑیا نہ کھا جائے۔ (یوسف/ ۱۱۳) تو انہوں نے بھی وہی کہا کہ یوسف علیہ السلام کو بھیڑیا کھا گیا ہے۔

(حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )) کنز العمال حدیث ۸۲۲۸

ٍ (قولِ مولف: ملاحظہ ہو: باب "نبوت" "خدا کے نزدیک ناپسندیدہ ترین عادت، جھوٹ ہے")۔

( ۲) جھوٹ پست ترین عادت ہے

۱۷۳۹۲ ۔ جھوٹ بہت بری عادت ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۳۹۳ ۔ اپنا دن جھوٹ سے آلود نہ کرو، کیونکہ یہ گھٹیا عادت ہے ایک طرح کی برائی ہے۔ اور پستی کی ایک قسم ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۸ صفحہ ۶۴

۱۷۳۹۴ ۔ جھوٹ قبیح ترین چیز ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۳۹۵ ۔ قبیح ترین عادت جھوٹ ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۳۹۶ ۔ جھوٹ اور نفاق بری عادتیں ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۳۹۷ ۔ جھوٹ بہت بری خصلت ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۳۹۸ ۔ جھوٹ سے بڑھ کر کوئی خصلت بری نہین ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۳۹۹ ۔ جھوٹ سب برائیوں سے بڑی برائی ہے۔(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۲ صفحہ ۲۵۹

( ۳) جھوٹ اور ایمان

قرآن مجید:

( افما نعیری ---------------- بٰایٰت الله ) ۔ (نحل/ ۱۰۵)

ترجمہ:

جھوٹ تو وہی لوگ افترا کرتے ہیں جو اس کی نشانیوں پر ایمان نہیں لائے۔

حدیث شریف:

۱۷۴۰۰ ۔ صفوان بن سلیم روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول خدا سے پوچھا گیا: "یا رسول اللہ! کیا مومن بزلد ہو سکتا ہے؟" فرمایا: "ہاں!" پھر سوال ہوا: "کیا مومن نجیل ہو سکتا ہےَ" فرمایا: "ہاں!" پھر پوچھا گیا: "کیا مومن دروغ گو ہو سکتا ہے؟" فرمایا: "نہیں!"

الترغیب والترہیب جلد ۳ صفحہ ۵۹۵ اسے مالک نے بھی روایت کیا ہے۔

۱۷۴۰۱ ۔ ابو درأ نے پوچھا: "یارسول اللہ! کیا مومن چوری کر سکتا ہے؟"

فرمایا: "کبھی ایسا ہو سکتا ہے"۔ پوچھا: "کیا مومن زانی ہو سکتا ہے؟"

فرمایا: "ہاں! خواہ اسے ابودردا اچھا نہ بھی سمجھے!" کہا: "کیا مومن جھوٹ بول سکتا ہے؟"

فرمایا: "جھوٹ تو وہی لوگ افترا کرتے ہیں جو ایمان نہیں رکھتے یاد رکھو! بندہ لغزش کھا کر سنبھل جاتا ہے اور اپنے رب کی طرف رجوع کر کے توبہ کرتا ہے تو خداوند تعالی اس کی توبہ کو قبول فرما لیتا ہے"

کنز العمال حدیث ۸۹۹۴

۱۷۴۰۲ ۔ حسن بن محبوب کہتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادقعلیہ السلام سے دریافت کیا "کیا مومن بخیل بھی ہوتا ہے؟"

فرمایا: "ہاں" میں نے پھر پوچھا: "کیا جھوٹا بھی ہوتا ہے؟ "فرمایا: نہیں اور نہ ہی وہ خائن ہوتا ہے"

پھر فرمایا: "مومن ہر عادت کو اپنا سکتا ہے لیکن جھوٹ و خیانت کو نہیں"

۱۷۴۰۳ ۔ مومن ہر عادت میں ڈھل سکتا ہے سوائے خیانت و جھوٹ کے۔

(حضرت رسول اکرم) الترغیب والترہیب جلد ۳ صفحہ ۹۵ اسے احمد نے بھی روایت کیا ہے۔

۱۷۴۰۴ ۔ جھوٹ سے اجتناب کرو کیونکہ یہ ایمان سے دور کر دیتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنز العمال حدیث ۸۱۰۶

۱۷۴۰۵ ۔ جھوٹ سے دور رہو کیونکہ یہ ایمان سے دور کر دیت اہے، راست گو انسان نجات اور شرافت کے کنارے پر ہوتا ہے جبکہ دروغ گو تباہی و ذلت کے کنارے پر۔

(حضرت علی علیہ السلام) شرح ابن ابی الحدید جلد ۶ صفحہ ۳۵۴ نہج البلاغہ خطبہ ۷۶

مجار الانوار جلد ۷۸ صفحہ ۹ نیز اس کتاب میں ہے: "سچا آدمی نجات و شرافت کی راہ پر ہوتا ہے اور جھوٹ انسان ہلاکت و ذلت کے کنارے پر"

۱۷۴۰۶ ۔ جھوٹ ایمان کی خرابی ہے۔

(امام محمد باقرعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۲ صفحہ ۲۴۶

۱۷۴۰۷ ۔ دروغ بیانی کی کثرت ایمان کو صفحة ہستی سے مٹا دیتی ہے۔

(حضرت رسول اکرم) مجار الانوار جلد ۷۲ صفحہ ۲۵۹

۱۷۴۰۸ ۔ ایک شخص نے حضرت رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہو کر سوال کیا: "یارسول اللہ! جنت (میں جانے) کا کونسا عمل ہے؟ "صدق اور راستگوئی جب بندہ سچ بولتا ہے تو نیکی کا عمل بجا لاتا ہ اور نیکی کا عمل بجا لانے سے مومن بن جاتا ہے مومن بن جانے سے بہشت میں جاپہنچتا ہے"

اس نے پھر پوچھا: "یارسول اللہ! جہنم (میں جانے) کا کونسا عمل ہے؟" فرمایا: "جھوٹ جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو فاجر بن جاتا ہے، جب فاجر بن جاتا ہے تو کافر ہو جاتا ہے، اور جب کافر بن جات اہے تو جہنم میں جا پہنچتا ہے"

الترغیب والترہیب جلد ۳ صفحہ ۵۹۲ اسے احمد نے روایت کیا ہے

(قول مولف: ملاحظہ ہو باب "سچ" "سچ اور ایمان"

( ۴) جھوٹ پر برائی کی چابی ہے

۱۷۴۰۹ ۔ خداوندِ عزّوجّل نے برائی کے لئے کچھ تالے بنائے ہیں جن کی چابی شراب ہے اور جھوٹ شراب سے بھی بدتر ہے۔

(امام محمد باقرعلیہ السلام) جلد ۷۲ صفحہ ۲۳۶

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجار جلد ۷۲ صفحہ ۲۶۲

۱۷۴۱۰ ۔ سب خبائتوں کو ایک گھر میں بند کر دیا گیا ہے، اور اس کی چابی جھٹ کو بنایا ہے۔

(امام حسن عسکریعلیہ السلام) مجار جلد ۷۲ صفحہ ۲۶۳ جلد ۷۸ صفحہ ۳۷۷ ، جلد ۷۲ صفحہ ۲۶۳

۱۷۴۱۱ ۔ کسی شخص نے حضرت رسول خدا کی خدمت میں عرض کیا: ’یارسول اللہ! میں چار برائیوں میں گھرا ہوا ہوں، زنا، شراب، چوری اور جھوٹ، ان میں سے جس کے متعلق آپ فرمائیں گے، میں انہیں ترک کر دونگا"

فرمایا: "جھوٹ بولنا چھوڑ دو!" چنانچہ جب وہ شخص واپس ہو گیا اور زنا کا ارادہ کیا تو (دل میں) کہا: "مجھ سے رسول خدا اس بارے میں پوچھیں گے اگر میں نے انکار کیا تو اپنے پیمان کو توڑوں گا اور اگر اقرار کروں گا تو "خدا کا سزاوار بنوں گا" اسی طرح چوری کے ارادہ پر اور پھر شراب نوشی کے بارے میں بھی اس نے اسی طرح فکر کی۔ آخر کار آپ کی خدمت میں پھر حاضر ہوا اور عرض کیا: "میرے لئے گناہ کے سارے راستے کھلے تھے لیکن میں نے سب گناہوں کو ترک کر دیا ہے‘

شرح ابن الحدید جلد ۶ صفحہ ۳۵۷ مجار جلد ۷۲ صفھة ۲۶۲

۱۷۴۱۲ ۔ جھوٹ (انسان کو) گناہ تک لے جاتا ہے اور گناہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۸۲۱۷

(قول مولف: ملاحظہ ہو "شر" باب ۱۹۷۳ برائیوں کی چابیاں)

( ۵) مذاق میں بھی جھوٹ نہ بولو

۱۷۴۱۳ ۔ میں نچلی جنت، درمیانی جنت اور بلند درجے کی جنت کے گھر کا اس شخص کے لئے ضامن ہون، جو برحق ہونے کے باوجود لڑائی جھگڑے کو اور ہنسی مذاق میں جھوٹ بولنے کو ترک کر دے اور اس کے لئے بھی جو اچھے اخلاق کا مالک ہو۔

(حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )) مجار الانوار جلد ۷۲ صفحہ ۲۶۱

۱۷۴۱۴ ۔ کوئی بندہ اس وقت تک ایمان کا مزہ نہیں چکھ سکتا جب تک ہنستی مذاق اور صحیح معنوں میں جھوٹ کو رک نہیں کرے گا۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۲ صفحہ ۲۴۹ ۔ صفحہ ۲۶۲ ۔ جلد ۷۸ صفحہ ۵۵

۱۷۴۱۵ ۔ جھوٹ مناسب نہیں خواہ سچ مچ کا ہو یا ہنسی مذاق کا۔ اسی طرح یہ بات بھی مناسب نہیں کہ انسان اپنے لڑکے سے کوئی وعدہ کرے لیکن اسے پورا نہ کرے، کیونکہ سچائی نیکی کی طرف اور نیکی جنت تک لے جاتی ہے جبکہ جھوٹ برائی کی طرف اور برائی جہنم تک لے جاتی ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۸۲۱۷

۱۷۴۱۶ ۔ جھوٹ سچ مچ کا ہو یا ہنسی مذاق کا جائز ہیں ہ، اور نہ ہی یہ بات مناسب ہے کہ کوئی اپنی بچی سے کوئی وعدہ کر کے اسے پورا نہ کرے کیونکہ جھوٹ فجور کی طرف لے جاتا ہ اور فجور جہنم تک جا پہنچاتا ہے۔۔۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجارا الانوار جلد ۷۲ صفحہ ۲۵۹

۱۷۴۱۷ ۔ حضرت امام زین العابدینعلیہ السلام اپنے فرزند سے فرمایا کرتے تھے: "جھوٹ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا دونوں سے پرہیز کرو۔ چاہے ہنسی مذاق کی صورت ہو یا سچ انداز میں کیونکہ جب انسان چھوٹ اسا جھوٹ بولتا ہے تو اس میں بڑے جھوٹ کی جرأت پدیا ہو جاتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجارالانوار جلد ۷۲ صفحہ ۲۳۵

۱۷۴۱۸ ۔ اس شخص کے لئے بہت بڑی سزا ہے جو باتوں باتوں میں اس لے جھوٹ بولتا ہے کہ اس سے لوگ ہنسیں اس کے لئے عذاب ہے بڑی سزا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۸۲۱۵ ثبیہ الخواطر صفحہ ۹۲

(قول مولف: ملاحظہ ہو: الشیعہ جلد ۸ صفحہ ۵۷۶ باب ۱۴۰

( ۶) چھوٹا سا جھوٹ

۱۷۴۱۹ ۔ اسماء بنت عمیس کہتی ہیں کہ ام المومنین حضرت عائشہ کو (عروسی کے لئے) بنایا سنوارا اور پھر حضرت رسالتماب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی خدمت میں لے آئی اس وقت میرے ساتھ کچھ دوسری خواتین بھی تھیں۔ خدا کی قسم! اس وقت آنحضرت کے پاس غذا کے لئے دودھ کا صرف ایک پیالہ تھا، آپ نے کچھ دودھ نوش فرمیا پھر وہ حضرت عائشہ کو دیدیا تاکہ اسے پئیں۔"

حضرت عائشہ فرماتی ہیں: "مجھے عورتون کی وجہ سے شرم محسوس ہوئی"

حضرت اسماء کہتی ہیں: "میں نے حضرت عائشہ سے کہا: رسول خدا کے ہاتھ کو واپس نہ ہٹاؤ، اور پیالہ لے لو"

حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ "میں نے بڑی شرم کے ساتھ وہ پیالہ لیا اور اس میں سے کچھ پیا"۔ اس پر آنحضرت نے انہیں فرمایا: "ہمیں اس کی طلب نہیں ہے!" آپ نے فرمایا: "بھوک اور جھوٹ کو ایک جگہ اکٹھا نہ کرو، کیونکہ انسان کا جھوٹ لکھ لیا جاتا ہے حتی کہ چھوٹے موٹے جھوٹ کو بھی "چھوٹا جھوٹ" لکھ دیا جاتا ہے۔

مجارالانوار جلد ۷۲ صفحہ ۲۵۸

۱۷۴۲۰ ۔ اسماء بنت یزید کہتی ہیں میں نے حضرت رسول خدا سے پوچھا: "یارسول اللہ! ہم میں سے کسی عورت کو کسی چیز کی خواہش ہوتی ہے لیکن وہ کہتی ہے کہ مجھے اس کی طلب کی نہیں ہے" تو کیا یہ بھی جھوٹ شمار ہو گا؟" فرمایا: "جھوٹ کو جھوٹ ہی لکھا جاتا ہے، حتی کہ چھوٹے سے جھوٹ کو بھی چھوٹا جھوٹ لکھا جاتا ہے"

اے احمد ابن ابی الا نیا اور بیہقی نے بھی روایت کیا ہے۔ ملاحظہ ہو: الترغیب والترہیب جلد ۳ صفحہ ۵۹۷

۱۷۴۲۱ ۔ عبداللہ بن عامر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت رسول خدا ہمارے گھر میں تشریف فرما تھے کہ اتنے میں میری والدہ نے مجھے بلایا اور کہا: آؤ تمہیں ایک چیز دوں! آنحضرت نے ان سے کہا: "اسے کیا دنیا چاہتی ہو؟" کہا: "کھجور کا ایک دانہ!" آنحضرت نے فرمایا: "اگر تم اسے کچھ نہیں د و گی تو یہ تمہارے لئے جھوٹ لکھا جائے گا"

الترغیب والترہیب جلد ۳ صفحہ ۵۹۸ ۔ اسے ابوداؤد اور بیہقی نے بھی روایت کیا ہے۔

۱۷۴۲۲ ۔ کسی انسان کے جھوٹا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہ کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو بیان کر دے۔

(حضرت رسول اکرم) کنز العمال حدیث ۸۲۰۸ ۔ ۸۲۰۹

۱۷۴۲۳ ۔ تمہارے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ جو کسی سے سنو اسے دوسروں کو بیان کر دو۔

(حضرت رسول اکرم) تبنیہ الخواطر صفحہ ۳۶۲

۱۷۴۲۴ ۔ حارث ہمدانی کے نام امیر المومنین علیہ السلام کے مکتوب سے اقتباس۔۔ جو کسی سے سنو وہ سب کچھ لوگوں کو بیان نہ کر دو، کیونکہ جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے۔"

نہج البلاغہ مکتوب ۶۹ شرح ابن ابی الحدید جلد ۱۸ صفحہ ۴۱ مجار الانوار جلد ۲ صفحہ

۱۷۴۲۵ ۔ انسان کے گناہگار ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ جو کچھ سنے سب کو بیان کر دے۔

(حضرت رسول اکرم) کنز العمال حدیث ۸۲۰۷ ۔ ۸۲۲۴

( ۷) دروغ گوئی کے اسباب

۱۷۴۲۶ ۔ کوئی شخص اس لئے جھوٹ بولتا ہے کہ وہ اپنے اندر کوئی رسوائی و کمزوری محسوس کرتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنز العمال حدیث ۸۲۳۱۲

۱۷۴۲۷ ۔ کوئی جھوٹا، اس لئے جھوٹ بولتا ہے کہ وہ اپنی اندر رسوائی و کمزوری پاتا ہے، اور کسی سے ٹھٹھا مذاق اس لئے کرتا ہے جن کے سامنے جھوٹ بول رہا ہے ان سے اسے اطمینان حاصل ہو۔

(حضرت رسول اکرم) مجار الانوار جلد ۷۷ صفحہ ۲۱۲

۱۷۴۲۸ ۔ جھوٹ کا سبب بہت برا سبب ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۷ صفحہ ۲۱۲

۱۷۴۲۹ ۔ جھوٹا انسان ذلیل اور پست ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۴۳۰ ۔ جھوٹا آدمی تباہی و ذلت کے دہانے پر کھڑا ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

(قول مولف: ملاحظہ ہو: باب "کبر" باب "تکبر کا سبب"

نیز: باب "نفاق" نفاق کا سبب نیز باب "جھوٹ کا ثمرہ")

( ۸) کذاب (بہت بڑا جھوٹا)

۱۷۴۳۱ ۔ عبدالرحمان بن حجاج کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام جعفر صادقعلیہ السلام سے پوچھا "کذاب (بہت بڑا چھوٹا وہ ہوتا ہو جو کسی بات میں جھوٹ بولے؟" فرمایا: "نہیں! ایسا تو ہر شخص میں ہوتا ہے بلکہ کذاب وہ ہوتا ہے جو کسی میں جھوٹ بولے؟" فرمایا: نہیں! ایسا تو ہر شخص میں ہوتا ہے بلکہ کذاب وہ ہوتا ہ جو (بات بات میں جھوٹ بولے اور) جھوٹ اس کی عادت بن چکی ہو۔"

مجار الانوار جلد ۷۲ صفحہ ۲۴۸

۱۷۴۳۲ ۔ تم میں سے شخص اس قدر جھوٹ بولے کہ اس کے دل میں سوئی کی نبوک کے برابر بھی سچ کی جگہ باقی نہ رہے تو وہ خدا کے نزدیک "کذاب" لکھ دیا جاتا ہے

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۲ صفحہ ۲۰۹

۱۷۴۳۳ ۔ انسان جھوٹ بولتے بولتے اس حد تک جا پہنچتا ہے کہ خدا اسے "کذاب" لکھ دیتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۲ صفحہ ۲۳۵

۱۷۴۳۴ ۔ بندہ ہمیشہ جھوٹ بولتا رہتا ہے اور اسے استعمال میں لاتا رہتا یہاں تک کہ اسے خدا کے نزدیک کذاب (بہت بڑا جھوٹا) لکھ دیا جاتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) تنبیہ الخواطر صفحہ ۹۲

۱۷۴۳۵ ۔ بندہ ہمیشہ جھوٹ بولتا اور اسے اس حد تک استعمال میں لاتا ہے کہ اس کے دل میں سیاہ نقطہ پیدا ہو جاتا ہے وہ نقطہ جھوٹ کی وجہ سے اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ اس کا سارا دل سیاہ ہو جاتا ہے پھر خدا کے ہاں جھوٹوں (کی فہرست) میں لکھ دیا جاتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) الگرغیب والترہیب جلد ۳ صفحہ ۵۹۲ اسے امام مالک نے بھی موطا میں ذکر کیا ہے۔

۱۷۴۳۶ ۔ کذاب کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ تمہیں زمین و آسمان اور مشرق و مغرب کی باتیں تو بتائے گا لیکن جب اس سے حلال و حرام کی بات پوچھو تو اس کے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجار جلد ۷۲ صفحہ ۲۴۸ ۔ جلد ۲ صفحہ ۳۴۰

۱۷۴۳۷ ۔ کسی موثق شخص کی طرف سے کوئی بات بیان نہ کرو ورنہ تم کذاب قرار پاؤ گے۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۸ صفحہ ۱۰

۱۷۴۳۸ ۔ کذاب خود تو واضح دلائل سے ہلاکت و تباہ ہوتا ہے لیکن اپنے پیروکاروں کو شبہات کی وجہ سے برباد کرتا ہے۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) کافی جلد ۲ صفحہ ۲۳۹

۱۷۴۳۹ ۔ کذاب کے علم سے کوئی بھلائی میں نہیں ہوتی۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

( ۹) جھوٹ کا ثمرہ

قرآن مجید:

( ان الله لا یهدمن هو کٰذب کفار ) ۔ (زمر / ۳)

ترجمہ:

بے شک اللہ تعالیٰ اس شخص کو ہدایت نہیں کرتا جو جھوٹا اور ناشکرا ہو۔

ان اللہ لایھدومن ھو صرف کذاب۔ (مومن/ ۲۸)

ترجمہ:

بے شک اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت نہیں کرتا جو حد سے گزرا ہوا اور بہت جھوٹا ہو۔

( فاعقبهم ----------------بما کانوا یکذبون ) ۔ (برائت/ ۷۷)

ترجمہ:

پس اس کے خمیاہ میں اللہ نے ان کے دلوں میں اس دن تک کے لئے نفاق ڈال دیا جب وہ اس سے ملیں گے بسبب اس وعدہ خلافی کے جو انہوں نے اللہ سے کی اور سبب ان کے جھوٹ بولنے کے۔

حدیث شریف:

۱۷۴۴۰ ۔ جھوٹ کا ثمرہ دنیا میں رسوائی اور آخرت میں عذاب ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۴۴۱ ۔ یقینا جھوٹ منہ کا لاکر دیتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) الترغیب والترہیب جلد ۳ صفحہ ۵۹۶ اسے ابویعلے، طبرانی اور حبان نے بھی روایت کیا ہے۔

۱۷۴۴۲ ۔ جھوٹ مت بولا کرو کہ اس سے تمہاری آبرو ضائع ہو جائے گی۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۲ صفحہ ۱۹۲

۱۷۴۴۳ ۔ انسان کا کثرت سے جھوٹ بولنا اس کی آبرو کو ضائع کر دیتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۴۴۴ ۔ جس کی دروغ گوئی زیادہ وہ گی اس کی آبرو مٹ جائے گی۔

(حضرت عیسیٰ علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۲ صفحہ ۱۹۳

۱۷۴۴۵ ۔ بکثرت دروغ بنانی سے دین فاسد اور گناہ عظیم ہو جاتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۴۴۶ ۔ جھوٹ کا انجام پشیمانی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۷ صفحہ ۲۱۱

۱۷۴۴۷ ۔ جھوٹ میں ہر چیز کے لئے فساد ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۴۴۸ ۔ جھوٹ دنیا میں ننگ و عیب اور آخرت میں جہنم کا عذاب ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۴۴۹ ۔ جھوٹ نفاق تک لے جاتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۴۵۰ ۔ جھوٹ جنگ احدال کا موجب ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۴۵۱ ۔ جھوٹے انسان میں مروت کم ہوتی ہے۔

(حضرت رسول اکرم) مجار الانوار جلد ۷۲ صفحہ ۲۵۹

۱۷۴۵۲ ۔ جو جھوٹ بولتا ہے وہ اپنی مروت کو خراب کر دیتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۴۵۳ ۔ جھوٹ اور مروت ایک جگہ اکٹھے نہیں ہو سکتے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۴۵۴ ۔ جو جھوٹا مشہور ہوتا ہے اس پر بہت کم اعتبار کیا جاتا ہے اور جو جھوٹ سے اجتناب کرتا ہے اس کی باتوں کو سچا مانا جاتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۴۵۵ ۔ نجیل کے لئے سکون نہیں حاسد کے لئے زندگی کا مزہ نہیں، بادشاہوں کے پاس وفا نہیں اور جھوٹے کے لئے مروت نہیں۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجار جلد ۷۲ صفحہ ۱۹۳

۱۷۴۵۶ ۔ جھوٹ انسان کی آبرو کو خراب کر دیتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۴۵۷ ۔ کذاب اور مردہ برابر ہوتے ہیں کیونکہ زندہ انسان کی مرنے والے پر اس لئے فضیلت ہوتی ہے کہ اس کی باتوں پر وثوق ہوتا ہے پس جس کی باتوں پر وثوق ہی نہ ہو اس کی زندگی بیکار ہوتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۴۵۸ ۔ کذاب بھی باتیں ناقابلِ اعتماد ہوتی ہیں خواہ اس کی دلیل پختہ اور انداز گفتگو سچا ہی کیوں نہ ہو۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۴۵۹ ۔ کذاب سے (کبھی) مدد حاصل نہ کرو، کیونکہ جھوٹا شخص تمہارے لئے قریب کی باتیں دور کر کے دکھائے گا اور دور کی باتیں نزدیک کر کے دکھائے گا۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۸ صفحہ ۲۳

۱۷۴۶۰ ۔ جھوٹا شخص اپنے جھوٹ کی وجہ سے تین نقصان اٹھاتا ہے ۔ ۱ ۔ خدا اس پر غضبار ہوتا ہے ۔ ۲ ۔ لوگ اسے حاقرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ۳ ۔ ملائکہ اس سے ناراض ہوتے ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۴۶۱ ۔ جھوٹا شخص صالح بننے سے کوسوں دور ہوتا ہے اور دوسرے بے شرم منافق بھی۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۴۶۲ ۔ انسان ایسے جھوٹ بولتا ہے جس سے وہ نمازِ شب (تہجد) سے محروم ہو جاتا ہے۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۲ صفحہ ۲۶۰

۱۷۴۶۳ ۔ دروغ گوئی روزی کو گھٹا دیتی ہے۔

(حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )) الترغیب والترہیب جلد ۳ صفحہ ۵۵۹۶ اسے اصبہانی نے روایت کیا ہے۔

۱۷۴۶۴ ۔ جھوٹ بولنے کو اپنی عادت بنا لینا تنگدستی کا موجب ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم جلد ۷۲ صفحہ ۲۱۶

۱۷۴۶۵ ۔ سفر (قاصد) کا جھوٹ بولنا فساد کا موجب ہوتا ہے، مقصد کو فوت کر دیتا ہے، دوراندیشی کو ختم کر دیتا ہے اور عزم وارادوں کو ناکام بنا دیتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

۱۷۴۶۶ ۔ "دروغ گورا حافظہ بناشد" ایک ایسی نعمت ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد فرماتا ہے۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) کافی جلد ۲ صفحہ ۳۴۱ مجار الانوار جلد ۷۲ صفحہ ۲۵۱

۱۷۴۶۷ ۔ بدترین باتیں وہ ہیں جو ایک دوسرے کے برعکس ہوں۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذرالحکم

علامہ طباطبائی کیا فرماتے ہیں؟

موئف کہتے ہیں کہ علامہ طباطبائی نے اپنی تفسیر "المیزان" میں سورہ سویف کی آیت ۱۸ " وجا واعلی قمیصہ ادم کذب" یعنی برادران یوسف اپنے کرتے پر جھوٹ موٹ کا خون لگا کے لائے تھے کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ لفظ "کذب" "کاف" کی زبر اور "با" کی زمر کے ساتھ ، مصدر کا صیغہ ہے جس سے فاعل مبالغہ کا معنی مراد لیا جاتا ہے، یعنی ایسا جھوٹا کہ جس کا جھوٹ آشکار ہو جائے۔

آیت میں اس بات کی طرف لٹ رہ ہے کہ جس قمیض پر خون تھا۔ پادر ہے خون نکز کی صورت میں استعمال کیا گیا ہے جو اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ ان کی دلیل بودی اور ناقابل اعتبار تھی۔

یہ ایسی صورت میں تھا جو اُن کے دروغ کا پردہ چاک کر رہا تھا کیونکہ اگر بھیڑیا حضرت یوسف علیہ السلام کو کھا جاتا تو ان کی قمیض کو کیونکر صحیح و سالم چھوڑ دیتا اسے بھی تو وہ پھاڑ دیتا اور اسی کو جھوٹ کہتے ہیں جو جھوٹی گفتگو اور دروغ باتوں میں تضاد کی صورت میں پایا جاتا ہے۔ خارجی شواہد اور بیرونی واقعات اس کی تردید کرتے ہیں جھوٹ بولنے والے کی اندرونی و باطنی کیفیت کے پردے چاک کر دیتے ہیں خواہ اسے کتنی خوبصورتی کے ساتھ ہی کیوں نہ بیان کیا جائے۔

یہی وجہ ہے کہ تجربہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ جھوٹ کبھی قابلِ اعتبار نہیں ہوتا، شخص کا بہت جلد کچا چٹھا کھل جاتا ہے اور واضح ہو جاتا ہے کہ اس نے جو کچھ کیا ہے یا جس بات کا دعویٰ کیا ہے وہ حقیقت کے خلاف ہے۔۔۔

تفسیر المیزان جلد ۱۱ صفحہ ۱۰۳ ۔ صفحہ ۱۰۴

( ۱۰) بدترین جھوٹ

قرآن مجید:

( فمن اظلم --------------------------- بغیر علم ) (انعام / ۱۴۴)

ترجمہ:

پھر جو خدا پر جھوٹا بہتان باندھے اس سے زیادہ ظالم کون ہو گا کہ لوگوں کو بے سمجھے بوجھے گمراہ کرے۔۔

( ومن اظلم ممن --------------------- الیه شییٴ ) (انعام/ ۹۳)

ترجمہ:

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو خدا پر جھوٹ وافترا کر کے کہے کہ ہمارے پاس وحی آتی ہے حالانکہ اس کے پاس وحی وغیرہ کچھ بھی نہیں آئی۔

( ولا تقولوا --------------------------------لا یفلحون ) ( ۱۱۶)

ترجمہ:

اور جھوٹ موٹ جو کچھ تمہاری زبان پر آئے (بے سوچے سمجھے) نہ کہہ دیا کر کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے تاکہ اس کی بدولت خدا پر جھوٹ بہتان باندھنے لگو۔ یقینا جو لوگ خدا پر جھوٹ باندھے ہیں۔ وہ کبھی کامیاب نہ ہوں گے۔

( ویقولون هو من عندالله ----------------------- یعلمون ) (آل عمران/ ۷۸)

ترجمہ:

اور کہتے ہیں کہ یہ (جو ہم پڑھتے ہیں) خدا کی طرف سے ہے حالانکہ وہ خدا کے یہاں سے نہیں ہوتا۔ پس جان بوجھ کر وہ خدا پر جھوٹ جوڑتے ہیں۔

( ویوم القیٰمة -------------------------- مسودة ) (زمر/ ۶۰)

ترجمہ:

اور جن لوگوں نے خدا پر جھوٹ بہتان باندھے تم قیامت کے دن دیکھو گے کہ ان کے چہرے سیاہ ہونگے۔

حدیث شریف:

۱۷۴۶۸ ۔ بات یہ ہے کہ میرے بعد تمہارے اوپر ایک ایسا زمانہ آئے گا جس میں حق سے زیادہ کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہو گی، باطل سے زیادہ کوئی چیز ظاہر نہیں ہو گی اور خدا اور رسول پر جھوٹ باندھنے سے کوئی چیز کثرت میں نہیں ہو گی۔۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۴۷

۱۷۴۶۹ ۔ حضرت علی علیہ السلام فرمایا کرتے تھے: ’اگر مجھے پرندہ اچک کر لے جائے تو مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں کوئی ایسی بات کہوں جو پیغمبر اکرم نے نہیں فرمائی۔

(امام محمد باقرعلیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۱۱ صفحہ ۱۰۲

۱۷۴۷۰ ۔ خدا کی قسم اگر میں آسمان سے گرا دیا جاؤں یا مجھے کوئی پرندہ اچک کر لے جائے تو یہ مجھے منظور ہے لیکن رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر جھوٹ بولنا منظور نہیں ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۱۱ صفحہ ۱۰۲

۱۷۴۷۱ ۔ حضرت امام جعفر صادقعلیہ السلام کے سامنے بافندے (جو لاہے) کا ذکر کیا گیا کہ وہ ملعون ہے؟ آپعلیہ السلام نے فرمیا "بافندے سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر دروغ بافی کرتا ہے"

مجار الانوار جلد ۷۲ صفحہ ۲۴۹ کافی جلد ۲ صفحہ ۳۴۰

۱۷۴۷۲ ۔ ابوبصیر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام جعفر صادقعلیہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا "ایک جھوٹ بھی روزے کو توڑ دیتا ہے" میں نے عرض کیا: "ہم میں سے کون ہے جس سے ایک آدھ جھوٹ نہ ہوتا ہے؟" امام علیہ السلام نے فرمایا: "جدھر تم جا رہے ہو بات وہ نہیں بلکہ اس سے مراد اللہ، رسول اور آئمہعلیہ السلام پر جھوٹ بولنا ہے"

مجار الانوار جلد ۷۲ صفحہ ۲۴۹ کافی جلد ۲ صفحہ ۳۴۰

۱۷۴۷۳ ۔ اللہ اور اس کے رسول پر جھوٹ بولنا گناہِ کبیرہ ہے۔

امام جعفر صادق) کافی جلد ۲ صفحہ ۲۳۹

(قولِ موئف: ملاحظہ ہو باب "فتوے" "بغیر علم کے فتوی دینا")

( ۱۱) جہاں پر جھوٹ بولنا جائز ہے

۱۷۴۷۴ ۔ اللہ تعالیٰ دو طرح کے لوگوں کو دوست رکھتا ہے اور دو طرح کے لوگوں کو ناپسند کرتا ہے ایک تو اس شخص کو دوست رکھتا ہے جو (میدان جہاد میں) دو صفوں کے درمیان ٹہل کر چلتا ہے۔ اور دوسرے اس جھوٹ کو جو اصلاحً (کے سلسلے) میں بولا جائے۔

اسی طرح ایک تو اس شخص کو ناپسند فرماتا ہے جو گلی راستوں میں مٹک کر چلتا ہے۔ اور دوسرے اس جھوٹ کو جو اصلاح کے لئے نہ بولا جائے۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) کافی جلد ۲ صفحہ ۲۴۳

۱۷۴۷۵ ۔ خداوند عالم اس جھوٹ کو پسند فرماتا ہے جو اصلاح کے لئے بولا جائے اور اس سچ کو ناپسند فرماتا ہے جو فساد کے لئے بولا جائے گا۔

(حضرت رسول اکرم) مجار الانوار جلد ۷۷ صفحہ ۴۷

۱۷۴۷۶ ۔ جھوٹ بری بات ہے سوائے دو جگہوں کے۔ ۱ ۔ ظالموں کے شر کو ٹالنے کے لئے اور ۲ ۔ جھگڑوں کو ختم کرنے کے لئے۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۲ صفحہ ۳۶۳

۱۷۴۷۷ ۔ کلام تین قسم کا ہوتا ہے۔ ۱ ۔ سچ۔ ۲ ۔ جھوٹ اور ۳ ۔ باہمی جھگڑوں کی اصلاح

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۶ صفحہ ۴۶

۱۷۴۷۸ ۔ لوگوں کے درمیان صلح کرانے والا جھوٹا نہیں ہوتا۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۶ صفحہ ۴۶

۱۷۴۷۹ ۔ جو شخص لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لئے کوئی اچھی بات کہے یا کسی کی طرف سے اچھی بات بنا کر بیان کرے تو وہ جھوٹا نہیں ہوتا۔

(حضرت رسول اکرم) الترغیب والترہیب جلد ۳ صفحہ ۴۸۸ اسے ابوداؤد نے بھی روایت کیا ہے۔

۱۷۴۸۰ ۔ ہر جھوٹ کے بارے میں جھوٹ بولنے والے ایک دن سے باز پر ہو گی، سوائے تین اشخاص کے ۱ ۔ جو میدنا جنگ میں چالبازی سے کام لیتا ہے۔ تو اس چالبازی کی اس سے باز پریس نہیں ہو گی۔ ۲ ۔ جو دو لوگوں کے درمیان صلح کرانے کی غرض سے ایک سے کچھ کہتا ہ اور دچوسرے سے کچھ اور کہتا ہے۔ اور ۳ ۔ جو شخص اپنے گھر والوں سے کسی چیز کا وعدہ کرتا ہے لیکن اس کا پورا کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۲ صفحہ ۲۴۲

قول مولف: علامہ مجتبی فرماتے ہیں کہ:

"حدیث کا مضمون شیعہ سُنی دونوں مکاتب فکر کے درمیان متفق علیہ ہے جیسا کہ ترمذی نے پیغمبر اکرم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا: "جھوٹ صرف تین مقام پر جائز ہوتا ہے: ۱ ۔ مرد اپنی بیوی کو خوش کرنے کے لئے کوئی بات کرے، ۲ ۔ جنگ میں جھوٹ بولا جائے اور ۳ ۔ لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لئے"

صحیح مسلم میں اس کے ایک راوی ابن شہاب کہتے ہیں کہ میں نے لوگوں کی گفتگو میں جھوٹ بولنے کی اجازت تین صورتوں میں سنی ہے۔ ۱ ۔ جنگ ۲ ۔ لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لئے اور ۳ ۔ مرد اپنی بیوی سے اور بیوی اپنے شوہر سے کوئی بات کرے"

مجار الانوار جلد ۷۲ صفحہ ۲۴۳

(قولِ موئف: ملاحظہ ہو: وسائل الشیعہ جلد ۸ صفحہ ۵۷۸ باب ۱۴۱

نیز: باب "صلح" "کرناے والا جھوٹا نہیں ہوتا"۔

نیز: کنزالعمال جلد ۳ صفحہ ۶۳۲ ۔ صفحہ ۶۳۴

نیز: المجتہ البیضاء جلد ۵ صفحہ ۲۴۳ ۔ "ان چیزوں کا بیان جن میں جھوٹ بولنے کی اجازت ہے"

( ۱۲) توریہ

قرآن مجید:

( قظر نظرة-------------------------------- انی سقیم ) ۔ (صافات/ ۸۸/۸۹)

ترجمہ:

پس ابراہیم علیہ السلام نے ستاروں کی طرف ایک ظر دیکھا اور کہا: "میں بیمار پڑنے والا ہوں"۔

( قال بل ------------------------------------ ینظقون ) ۔ (انبیاء/ ۶۳)

ترجمہ:

ابراہیم علیہ السلام نے کہا: "بلکہ یہ حرکت ان بتوں کے بڑے بت نے کی ہے اگر یہ بول سکتے ہیں تو۔۔۔"

( ثم اذن موذن -------------------------------- لسارقون ) ۔ (یوسف/ ۷۰)

ترجمہ:

پھر ایک مناوس للکار کے بولا کہ اے قافلہ والو! لوگ ضرور چور ہو۔

حدیث شریف:

۱۷۴۸۱ ۔ توریہ ۔ دوسرے پرڈھال کر بات کہنا اس میں جھوٹ کی گنجائش ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۸۲۵۴

۱۷۴۸۲ ۔ توریہ میں اس حد تک گنجائش ہوتی ہے جو عقلمند کو جھوٹ بولنے سے بے نیاز کر دیتی ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۸۲۵۳

۱۷۴۸۳ ۔ ابو ہریرہ کہتے ہیں حضرت رسول کدا، ابوبکر کے پیچھے ناقہ پر سوار ہوئے اور فرمایا: "ابوبکر! لوگوں کو جواب دینے مٰں توریہ سے کام لینا، کیونکہ انبیاء کو جھوٹ بولنا زیب نہیں دیتا"

چنانچہ لوگ حضرت ابوبکر سے سوال کرتے پوچھتے: "تم کون ہو؟" تو وہ کہتے: "کسی چیز کو تلاش کرنے والا ہوں!" اور اگر پوچھتے کہ "یہ تمہارے پیچھے کون (سوار) ہے؟" تو کہتے : "رہنما ہے جو میری رہنمائی کر رہا ہے"

کنزالعمال حدیث ۹۰۰۱

۱۷۴۸۴ ۔ شیخ انصاری کی کتاب "مکاسب" میں ہے کہ جن مقامات پر توریہ میں جھوٹ کی نفی ہوتی ہے وہ روایت ہے جو کتاب "الاحتجاج" میں مرقوم ہے کہ حضرت امام جعفر صادقعلیہ السلام سے حضرت ابراہیم علیٰ بنینا وآلہ علیہ السلام کی قرآن مجید میں وہ گفتگو ہے جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ: "بلکہ یہ حرکت ان کے بڑے بت نے کی ہے۔۔" (انبیاء/ ۶۳)

امام علیہ السلام فرماتے ہیں: "نہ تو بڑے نے بٹوں کو توڑنے کا کام انجام دیا تھا اور نہ ہی ابراہیمعلیہ السلام نے جھوٹ بولا تھا۔"

آپعلیہ السلام سے پوچھا گیا کہ: "یہ کیسے ہو سکتا ہے؟" آپعلیہ السلام نے فرمایا: "اس لئے کہ ابراہیم نے فرمایا تھا۔ اگر بت بول سکتے ہیں! یعنی اگر وہ بول سکتے ہیں تو ان کے بڑے نے یہ کام کیا ہے اگر نہیں بول سکتے تو بڑے بت نے بھی یہ کام نہیں کیا" چونکہ بت بولتے نہیں لہٰذا ابراہیم علیہ السلام نے جھوٹ نہیں بولا"

اسی طرح آپعلیہ السلام سے پوچھا گیا کہ: "سورہ یوسف میں اللہ تعالیٰ کا یہ قول جو یوسف علیہ السلام کے آدمیوں نے بیان کیا تھا کہ اسے قافلہ والو! تم لوگ ضرور چور ہو" (یوسف/ ۷۰) اس بارے میں آپ کیا کہتے ہیں، جبکہ برادرانِ یوسف علیہ السلام کو اپنے باپ سے چرایا تھا۔ دیکھتے نہیں کہ انہوں نے یہ کیا تھا"نعقد صواع الملک (ہم بادشاہ کے پیمانے کو مفودپاتے ہیں تم یہ نہیں کہا کہ: "تم نے بادشاہ کے پیمانے کو چرایا ہے"

پھر آپ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں دریافت کیا گیا جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبانی ذکر کیا گیا ہے کہ انہوں نے کہا: "میں بیمار ہوں" توآپعلیہ السلام نے فرمایا: "نہ تو حضرت ابراہیم علیہ السلام بیمار تھے اور نہ ہی انہوں نے جھوٹ بولا بلکہ اس بیمارے سے انکی مراد دین کے بارے میں پیدا ہونے والے سوالات تھے جنہیں انہوں نے بیماری سے تعبیر فرمایا:

۱۷۴۸۵ ۔ مکاسب شیخ انصاری اور "مستطرفات السرائر میں ابن بکیر سے نقل کیا گیا ہے کہ وہ کہتے ہیں میں نے حضرت امام جعفر صادقعلیہ السلام سے پوچھا "ایک آدمی کسی کے پاس جاتا ہے اور اس سے ملنے کی خواہش کرتا ہے تو وہ شخص اپنی لونڈی سے کہا ہے کہ اسے جا کر کہے کہ وہ یہان نہیں ہیں: تو کیا یہ جھوٹ ہو گا؟" تو امام نے فرمایا کہ: "اس میں کوئی حرج نہیں، یہ جھوٹ نہیں ہے"

شیخ انصاری اس روایت کو نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں: "ایسا کہنے میں جھوٹ اس لئے نہیں ہو گا کہ جب اس کی بنا اس بات پو ہو کہ گھر کے جس حصے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ اس شخص کے وجود سے خالی ہو، اس لئے کہ اس کے علاوہ کوئی اور توجیہہ نہیں نب سکتی"

۱۷۴۸۶ ۔ حسن صیقل کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام جعفر صادقعلیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ: "ہمیں حضرت امام محمد باقرعلیہ السلام سے حضرت یوسفعلیہ السلام کے بارے میں ایک روایت بیان کی گئی ہے جب یوسف علیہ السلام کی طرف سے کہا گیا کہ "اے قافلہ والو! تم لوگ ضرور چور ہو" (یوسف/ ۷۰) اس بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟"

کیونکہ امام محمد باقرعلیہ السلام نے فرمایا: "بخدا! نہ تو انہوں نے پیمانہ چرایا تھا اور نہ ہی یوسف علیہ السلام نے جھوٹ بولا تھا" اسی طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بتوں کے بارے میں فرمایا: "بلکہ یہ کام بڑے بت نے کیا ہے، اگر وہ بول سکتے ہیں تو ان سے پوچھ لو اس بارے میں بھی امام علیہ السلام نے فرمایا: "خدا کی قسم! نہ تو بتوں نے یہ کام کیا تھا اور نہ ہی ابراہیم علیہ السلام نے جھوٹ بولا تھا"

اس پر امام جعفر صادقعلیہ السلام نے فرمایا: "صیقل ! اس بارے میں تم لوگ کیا کہتے ہو؟" صیقل نے کہا: "ہمارے پاس تو سرِ تسلیم خم کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے امام علیہ السلام نے فرمایا: "ابراہیم علیہ السلام نے جو یہ کہا تھا اس سے ان کی مراد اصلاح کرنا تھی اور اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ بت کوئی کام نہیں کر سکتے۔ اور اگر یوسف علیہ السلام نے ایسا کہا تھا تو بھی اس سے ان کی مراد اصلاح کرنے کی تھی اور یہ بتانا تھا کہ برادران یوسف علیہ السلام کو چرایا تھا۔"

کافی جلد ۲ صفحہ ۳۴۱ صفحہ ۳۴۲

قول مولف: ملاحظہ وہو گزالی کا کلام دربارہ "ذو معنی کلام کے ذریعہ جھوٹ سے اجتناب" کتاب المجة البیضاء جلد ۵ صفحہ ۲۴۸

نیز: باب فقہ "بہت بڑا فقیہ")

( ۱۲) جھوٹ کو غور سے سننا

قرآن مجید:

( ومن الذین هادو اسّٰمعون للکذب ) (مائدہ/ ۴۱)

ترجمہ:

اور بعض یہودی ایسے ہیں جو جھوٹی باتیں بہت (شوق سے) سنتے ہیں۔

( لایسعمون فیها لغوا ولا کذابا ) (تباء/ ۲۵)

ترجمہ:

نہ تو وہاں بیہودہ باتیں سنیں گے اور نہ جھوٹ۔

حدیث شریف:

۱۷۴۸۷ ۔ حضرت امام جعفر صادقعلیہ السلام سے قصہ خوانوں کے بارے میں سوال کیا گیا کہ کیا ان کے قصوں کو سننا جائز ہے؟

فرمایا: "نہٰں" اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا: "جو کسی بات کرنے والے کی باتوں کو غور سے سنتا ہے وہ اس کا عبادت گزار ہو جاتا ہے۔ اگر بات کرنے والا خدا کی باتیں کرتا ہے تو وہ خدا کا عبادت گزار کہلاتا ہے اور اگر شیطان کی باتیں کرتا ہے تو وہ شیطان کا عبادت گزار کہلاتا ہے۔"

مجار الانوار جلد ۷۲ صفحہ ۲۶۴

۱۷۴۸۸ ۔ اور جسے دنیا نے اوجِ رفعت پر پہنچایا ہو اسے بلند مرتبہ نہ خیال کرو، اس کے چمکنے والے بادل ہر نظر نہ کرو، اس کی باتیں کرنے والے کی باتوں پر کان نہ دھرو۔۔ کیونکہ اس کی چمکتی بجلیاں نمایشی اور اس کی باتیں جھوٹی ہوتی ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۰۱

۱۷۴۸۹ ۔ مگر اہوں کی باتوں پر کان نہ دھرو۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ مکتوب ۱۰

(قولِ موئف: ملاحظہو ہو: مجار الانوار جلد ۷۲ صفحہ ۲۶۴ باب ۱۵

"بیہودہ باتوں، جھوٹ ، باطل اور قصوں کو سننا")

( ۱۳) دروغ گوؤں کے دھوکے میں نہ آنا

۱۷۴۹۰ ۔ اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جس نے حکمت کا کوئی کلمہ سنا تو اسے گرہ میں باندھ لیا، ہدیات کی طرف اسے بلایا گیا تو دوڑ کر قریب ہوا۔۔ اپنی خواہشات کا مقابلہ کیا اور اپنی امیدوں کو جھٹلایا۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۷۶

۱۷۴۹۱ ۔ تقویٰ اللہ کے دوستوں کو (خدا کی منع کردہ چیزوں سے) بچاتا ہے۔۔ پس جو اس تعب و کلفت کے عوض (دائمی) راحت اور اس پیاس کے بدلے میں (تسنیم و کوثر سے) سیرابی حاصل کرتے ہیں۔ انہوں نے موت کو قریب سمجھ کر اعمال میں جلالی کی اور امیدوں کو جھٹلا کر اجل کو نگاہ میں رکھا۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱ ۱۴

۱۷۴۹۲ ۔ تمہارے دلوں سے موت کی اید جاتی رہی ہے، جھوٹی امیدیں (تمہارے اندر) موجود ہیں، آخرت سے زیادہ دنیا تم پر چھائی وہتی ہے اور وہ عقبیٰ سے زیادہ تمہیں اپنی طرف کھینچتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۱۳

۱۷۴۹۳ ۔ یہ (غلط) روشیں تمہیں کہاں لئے جا رہی ہیں یہ اندھیا ریان تمہیں کن پریشانیوں میں ڈال رہی ہیں اور یہ جھوٹی امیدیں تمہیں کاہے کا فریب دے رہی ہیں؟

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۰۸

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو: باب آرزوئیں‘ "غلط آرزوؤں سے بچتے رہو"

نیز باب: "دنیا" "دنیوی زندگی تہیں دھوکہ دیتی ہے" ( ۱) اور ( ۲)


فصل ۳۲

( ۱) شرافت و فضیلت

۱۷۴۹۴ ۔ انسان کی شرافت اس کا دین ہے۔

(حضرت رسول اکرم) اسے احمد بن جنبل نے بھی روایت کیا ہے۔ المعجم

۱۷۴۹۵ ۔ حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام سے دریافت کیا گیا کہ شرافت اور فضیلت کیا ہوتی ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: "کسی کو مانگنے سے پہلے عطا اور بخشش میں پہل کی جائے اور (ہر مناسب) موقع پر کھانا کھلایا جائے۔"

مجار الانوار جلد ۷۸ صفحہ ۱۰۲

۱۷۴۹۶ ۔ شرافت یہ ہے کہ رضا کا رانہ طور پر نیکیوں کو بجا لایا جائے اور کسی کے مانگنے سے پہلے اسے عطا کیا جائے۔

(امام حسن علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۴۴ صفحہ ۸۹

۱۷۴۹۷ ۔ تین چیزیں انسان کی شرافت اور اس کی فضیلت پر دلالت کرتی ہیں۔ ۱ ۔ حسنِ اخلاق ۲ ۔ غصے کو پی جانا اور ۳ ۔ ناشائستہ چیزوں سے آنکھوں کو بند کر لینا۔

(امام جعفرصادقعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۸ صفحة ۲۳۲ تحف العقول صفحہ ۲۳۵

۱۷۴۹۸ ۔ کسی انسان کی خندہ پیشانی اور نیکیوں کی انجام دہی سے ہی اس کی شرافت کا پتہ چلتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۴۹۹ ۔ فضیلت اس میں ہے کہ سختیوں کو برداشت کیا جائے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۰۰ ۔ فضیلت یہی ہے کہ صبر کا اچھی طرح مظاہرہ کیا جائے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۰۱ ۔ تاوان کا بوجھ برداشت کرنے ہی سے فضیلت ظاہر ہوتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۰۲ ۔ شرافت یہ ہے کہ مال پر عزت و ناموس کو ترجیح دی جائے اور کمینہ پن یہ ہے کہ مال کو افراد پر ترجیح دی جائے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۰۳ ۔ شرافت یہ ہے کہ سخاوت کا مظاہرہ کیا جائے اور وعدے کو پورا کیا جائے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۰۴ ۔ فضیلت اسی چیز کا نام ہے کہ زبان کو قابو میں رکھا جائے اورنیکیوں کو عام کیا جائے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۰۵ ۔ (حضرت رسول خدا سے کسی نے پوچھا: "یارسول اللہ! صحبان شرافت و فضیلت کون ہیں؟")

فرمایا: ’ذکرِ (الہٰی) کی مجالس میں شرکت کرنے والے!"

(اسے احمد بن جنبل نے روایت کی اہے) العجم

۱۷۵۰۶ ۔ برائیوں سے اجتناب کا نام شرافت ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۰۷ ۔ شرافت اچھی عادت اور پستی سے اجتناب کا نام ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۰۸ ۔ اپنی خواہشات کو اپنے قابو میں رکھو، جو چیزیں تمہارے لئے حلال نہیں ہیں ان کے بارے میں نجل سے کام لو کیونکہ ایسا کرنے ہی میں شرافت ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۰۹ ۔ بلندی ہمت کا نتیجہ شرافت اور فضیلت ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۱۰ ۔ جس کی نظر میں خود اپنے نفس کی عزت و فضیلت ہو گی وہ اپنی نفسانی خواہشوں کو بے وقعت سمجھے گا۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجاالانوار جلد ۷۸ صفحہ ۱۳ نہج البلاغہ حکمت ۴۴۹

۱۷۵۱۱ ۔ جس کی نطر میں خود اپنے نفس کی شرافت ہو گی دنیا اس کی نگاہوں میں حقیر ہو گی۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۱۲ ۔ نرم خوئی شرافت کی دلیل ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۷ صفحہ ۲۰۸

۱۷۵۱۳ ۔ عہدوپیمان کو پورا کرنا شرافت کی دلیل ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) ماجر الانوار جلد ۷۷ صفحہ ۲۰۹

۱۷۵۱۴ ۔ انسان کی شرافت و فضیلت اس بات میں ہے کہ اپنے ماضی ( کی خطاؤں) پر گر یہ کرے، اپنے طون کا متذاق ہو اور اسے پرانے دوستوں (کی دوستی) کی حفاظت کرے۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۴ صفحہ ۲۶۴

۱۷۵۱۵ ۔ جذبہ کرم رابطہ قرابت سے زیادہ لط و مہربانی کا سبب ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ حکمت ۲۴۷

۱۷۵۱۶ ۔ جذبہ شرافت و کرم بہترین عادت ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۷ صفحہ ۲۱۱

( ۲) عزت و شرافت

۱۷۵۱۷ ۔ اللہ نے تمہٰں اسلام کے لئے مخصوص کر لیا ہے اس کے لئے تمہیں چھانٹ لیا ہے اس لئے کہ اسلام، سلامتی کا نام اور عزتِ انسانی کا سرمایہ ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاگہ خطبہ ۱۵۲

۱۷۵۱۸ ۔ اہل بہشت کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا: "وہ ایسے لوگ ہیں کہ اللہ کی بخشش وعنایت ہمیشہ ان کے شامل حال رہی یہان تک کہ وہ اپنی جائے قیام میں اتر پڑے اور سفروں کی نقل و حرکت سے آسودہ ہو گئے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۶۵

۱۷۵۱۹ ۔ اہل بہشت ہی کی شان میں فرمایا "چنانچہ انہوں نے ہمیشہ رہنے والی آخرت اور عمدہ و پاکیزہ عزت و شرافت کو پا لیا۔"

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۱۶

۱۷۵۲۰ ۔ اہل جنت کے اوصاف میں فرمایا: "ان کے گرد ملائکہ حلقہ کئے ہوں گے تسلی و تسکین کا ان پر ورود ہو گا، آسمان کے دروازے ان کے لئے کھلے ہوں گے۔ عزت کی مسندیں ان کے لئے مہیا ہوں گی۔۔"

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاگہ خطبہ ۲۲۲

قول مولف: ملاحظہ ہو: باب "شہادت" حدیث ۹۷۸۲

( ۳) صاحب کرم و سخاوت

قرآن مجید:

( ومن کفر فان ابی غنی کریم ) ۔ (نمل/ ۴۰)

ترجمہ:

جو شخص ناشکری کرتا ہے میرا پروردگار یقینا بے نیاز اور سخی ہے۔

ی( ٰایها الانسان ماغرک بربک الکریم ) ۔ (انعظار/ ۶)

ترجمہ:

اے انسان! تجھے اپنے کریم پروردگار کے بارے میں کس چیز نے دھوکہ دیا۔

( انه لقول رسول کریم ) ۔ (الحاقہ/ ۴۰ ۔ التکویر/ ۱۹)

ترجمہ:

یہ ایک معزز فرشتے لایا ہوا پیغام ہے۔

حدیث شریف:

۱۷۵۲۱ ۔ خداوندِ عالم کریم ہے اور کرم کو دوست رکھتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم ) اسے دلامی نے روایت کیا ہے۔ المعجم

۱۷۵۲۲ ۔ یقینا تمہارا پروردگار شرم اور کرم والا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) سنن ابن ماجہ جلد ۲ صفحہ ۱۲۷۱

۱۷۵۲۳ ۔ یقینا اللہ تعالیٰ سب صاحبانِ کرم سے زیادہ کرم والا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) اسے مالک نے بھی روایت کیا ہے۔ العجم

۱۷۵۲۴ ۔ حضرت رسول خدا صاحب حیا وشرم اور صاحب کرم تھے۔

اسے احمد بن جنبل نے بھی روایت کیا ہے۔ العجم

۱۷۵۲۵ ۔ یقینا کریم ابن کریم ابن کریم بن کریم کے بیٹے حضرت یوسف علیہ السلام بن یعقوب علیہ السلام بن اسحاقعلیہ السلام بن ابراہیم علیہ السلام ہیں۔

(حضرت رسول اکرم) صحیح ترمذی جلد ۱۱ صفحہ ۲۸۱

۱۷۵۲۶ ۔ (یہ حدیث چھوتی ہوئی ہے)

۱۷۵۲۷ ۔ (صحیح معنی میں) کریم وہ ہوتا ہے جو اپن چہرے کو جہنم کی ذلت سے بچائے رکھتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۸ صفحہ ۸۲ صفحہ ۹۰

۱۷۵۲۸ ۔ شریف انسان اپنی فضیلت پر خوش ہوتا ہے اور کمینہ شخص اپنے مال و دولت پر فخر کرتا ہے۔

(اما زین العابدینعلیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۸ صفحہ ۱۴۳

۱۷۵۲۹ ۔ جب شریف سے رحم کی درخواست کی جاتی ہے تو اس کا دل نرم ہو جات اہے اور جب کمینے پر کوئی مہربانی کی جاتی ہے تو اس کا دل سخت ہو جاتا ہے۔

(امام حسن عسکری علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۸ صفحہ ۴۱

۱۷۵۳۰ ۔ شریف کے ساتھ سختی کی جائے تو سخت دل ہو جاتا ہے اور اگر رحم کی درخواست کی جائے تو نرم دل ہو جاتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۳۱ ۔ شریف انسان کشادہ رو ہوتا ہے اور کمینہ شخص تروتازہ ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۳۲ ۔ شریف انسان محسن اور نیوک اکر بن جاتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۳۳ ۔ کریم وہ ہوتا ہے جو نیکی کا آغاز از خود کرتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۳۴ ۔ شریف آدمی قلیل کا بھی شکر ادا کرتا ہے۔ اور کمینہ شخص کثیر کو بھی ناکافی سمجھتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۳۵ ۔ شریف آدمی نیکی پر نیکی کئے جاتا ہے اور کمینہ آدمی ہر نیکی کا احسان جتاتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۳۶ ۔ کریم وہ ہوتا ہے جس کی بخشش سوال پر سبقت لے جائے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۳۷ ۔ کریم اور شریف وہ ہوتا ہے جو (گھر میں) موجود چیز کو (سخاوت کیلئے) لے آئے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۳۸ ۔ کریم و شریف وہ ہوتا ہے جو حرام سے اجتناب کرے اور عیوب سے دور رہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۳۹ ۔ شریف وہ ہوتا ہے جو براء کا بدلہ اچھائی سے دے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۴۰ ۔ کریم وہ ہوتا ہے جو اپنے آپ کو ہر اس چیز سے بلند رکھے جو اسے اچھا بدلہ دینے کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۴۱ ۔ جن چیزوں پر کمینہ شخص اتراتا ہے شریف ان سے کوسوں دور رہتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۴۲ ۔ شریف انسان جب اقتدار حاصل کر لیتا ہے تو درگزر سے کام لیتا ہے، جب کسی چیز کا مالک بن جاتا ہے تو سخاوت سے کام لیتا ہے اور جب اس سے مانگا جاتا ہے تو مانگنے والے کا ناکام نہیں پلٹاتا۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۴۳ ۔ شریف آدمی عارفنگ کو ناپسند کرتا ہے اور ہمسایہ کی عزت کرتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۴۴ ۔ شریف آدمی نیک اعمال اپنے اوپر قرض سمجھتا ہے جنہیں وہ ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے اور کمینہ شخص اپنے کئے ہوئے اچھے کاموں کو دوسروں پر قرض سمجھتا ہے جس کا وہ طلب گار رہتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۴۵ ۔ جب کسی شریف کو تمہاری ضرورت ہو گی تو وہ تمہیں پریشان نہیں کرے گا اور جب تمہیں اس کی ضرورت ہو گی تو وہ تمہاری حاجات کو پورا کرے گا جبکہ کمینے شخص کو اگر تمہاری ضرورت ہو گی تو تمہیں عاجز کر دے گا اور جب تمہیں اس کی ضرورت ہو گی تو تم سے بے اتمنائی برتے گا۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۴۶ ۔ کریم وہ ہے جو قدرت رکھنے کے باوجود کر دے، حاکم ہوتے ہوئے عدل کرے، اپنی زبان پر قابو رکھے اور اپنی نیکیوں کو عام کرے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۴۷ ۔ کریم انسان اللہ کے نزدیک خوش و خرم اور ثواب کا مستحق ہوتا ہے اور لوگوں کے دلوں میں محبوب مابہیت ہو تاہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۴۸ ۔ کریم شریف اپنے مال کے ذریعہ اپنی عزت و ناموس کی حفاظت کرتا ہے لئیم (کمینہ) اپنی عزت و ناموس کے ذریعہ اپنے مال کو بچا کر رکھتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۴۹ ۔ کریم اپنی ملکیت کو اچھا انداز دیتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۵۰ ۔ کریم اور شریف انسان کا وعدہ دو ٹوک اور فوری ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۵۱ ۔ شریف جب وعدہ کرتا ہے تو اسبے پورا کرتا ہے اور جب اس سے وعدہ خلافی کی جاتی ہے تو درگزر سے کام لیتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۵۲ ۔ شریف کی دشمنی، کمینے کی دوستی سے زیادہ پرامن ہوتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۵۳ ۔ شریف کا عطیہ تمہیں اس کے دل میں محبوب بنا دیتا ہے اور کمینے کا عطیہ تمہیں اس کے نزدیک پست کر دیتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۵۴ ۔ ذلت کے باوجود شریف کی دوستی اچھائی کے ساتھ کمینے کی دوستی سے پھر بھی بہتر ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۵۵ ۔ کثرتِ احسان کے ذریعہ شریف کی پہچان ہوتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۵۶ ۔ شریف کا عرصہ اقتدار اس کے فضائل و مناقب کا مظہر ہوتاہے اور کمینے کا عرصہ اقتدار اس کے عیوب و نقائص کا آئینہ دار ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۵۷ ۔ اگر تم شریف ہو تو کبھی نہ بھلاؤ کہ جس نے تم پر احسان کیا ہے اس نے تمہیں زیربار کر دیا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۵۸ ۔ جو اپنے رب کا تقویٰ اختیار کرتا ہے وہی کریم ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۵۹ ۔ ایک مرتبہ حضرت سلیمان فارسی اور وہاں پر موجود ایک شخص کے درمیان پر واقعہ پیش آیا کہ اس نے حضرت سلمان فارسی سے کہا:

"تم کون ہو، کیا ہو؟" تو سلمان فارسی نے کہا:

"میری اور تمہاری ابتدا ایک گندے نطفے سے ہے اور میری اور تمہاری انتہا ایک بدبودار مردار ہے۔ جب قیامت کا دن ہو گا اور میزانِ اعمال نصب کیا جائے گاتو جس کے اعمال کا پلڑا بھاری ہو گا وہی شریف بھی ہو گا اور مُعزز بھی، جس کا پلڑا ہلکا ہو گا وہ پست بھی ہو گا اور کمینہ بھی۔"

(حضرت امام جعفر صادقعلیہ السلام) تفسیر نور الثقلین جلد ۵ صفحہ ۲۶۰

( ۴) شریفوں کے عادات و اطوار

قرآن مجید:

( واذامروا باللغومروا کراما ) ۔ (فرقان/ ۷۲)

ترجمہ:

اور وہ لوگ جب بیہودہ کام کے پاس سے گزرتے ہیں تو بڑے بزرگانہ انداز میں گزر جاتے ہیں۔

حدیث شریف:

۱۷۵۶۰ ۔ خیر خواہی شریفوں کی عادت اور کھوٹ کی ملاوٹ کمینون کا وطیرہ ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۶۱ ۔ عفوودرگزر کے بارے میں جلد بازی سے کام لینا شریفوں کی عادت ہے اور انتقام کے لئے جلد بازی سے کام لینا کمینون کا شیوہ ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۶۲ ۔ نیک کاموں کی انجام دہی اور احسانات کی بجاآوری میں شریف انسان ہمیشہ پیش پیش ہوتے ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۶۳ ۔ شریفوں کا شیوہ یکے بعد دیگرے احسانات اور کمینوں کا شیوہ بدکلامی ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۶۴ ۔ شریفوں کا کام وعدہ وفاعی اور کمینوں کا کام وعدہ خلافی ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۶۵ ۔ سخاوت شریفوں کا شیوہ ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۶۶ ۔ شریفوں کا کام اچھے سے اچھے انداز میں نیکی کرنا اور کمینوں کا کام برے سے برے طریقے سے برائی کرنا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۶۷ ۔ شریفوں کی کامیابی اسی میں ہوتی ہے کہ وہ معاف کر دیتے ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۶۸ ۔ کمینوں کی معافی سے شریفوں کی سزا بہتر ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۶۹ ۔ کمینے کی بخشش سے شریف کا نہ دینا بہتر ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۷۰ ۔ شریفوں کا شیوہ ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ سخاوت کی جائے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۷۱ ۔ شریف صابر ہوتے ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۷۲ ۔ زیادہ سے زیادہ بخشش کر کے شریفوں کو خوشی ہوتی ہے اور برے سے برا کام انجام دے کر کمینوں کو مسرت حاصل ہوتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۷۳ ۔ شریفوں کو کھانا کھلانے میں لطف آتا ہے اورکمینوں کو کھانا کھانے میں مزہ آتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۷۴ ۔ شریف آدمی اتنا موت سے دور نہیں بھاگتے جتنا نجل اور کمینوں کے ساتھ میل و ملاپ سے دور بھاگتے ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۷۵ ۔ وہ شخص ہی شرافت کی سب سے زیادہ لیاقت رکھتا ہے جس کے ذریعہ شرفاء کو متعارف کرایا جائے

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ حکمت ۴۳۶

شرح ابن ابی الحدید جلد ۲۰ صفحہ ۸۳ مجارالانوار جدل ۷۴ صفحہ ۱۶۴

ان دونوں کتابوں میں ہے: "جس کی جڑیں شرفاء میں مضبوط ہوں" یعنی جن کے آباؤ اجداد سے شرافت چلی آ رہی ہو اور شرافت سے ورثہ میں ملی ہو۔

۱۷۵۷۶ ۔ حوادثات زمانہ اور فتنوں کی پیش گوئی کے سلسلے میں فرمایا: "کمینے پھیل جائیں گے، شریف اس زمانے کے لوگ بھڑئیے ہوں گے اور حکمران درندے۔۔۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۰۸

۱۷۵۷۷ ۔ یوم عاشورا سید الشہدء اما حسین علیہ السلام کے خطاب سے اقتباس: "یاد رکھو کہ حرامی باپ کے حرامی بیٹیم (ابن زیاد) نے ہمیں دوراہے پر لا کھڑ اکیا ہے، ایک افرادی قلت اور دوسرے ذلت لیکن یہ بات ذہن نشین رہے کہ میں پستی کو اختیار نہیں کروں گا۔ ہم شرفاء کی موت پر کمینوں کی موت کو ترجیح نہیں دیں گے۔۔

مجار الانوار جلد ۴۵ صفحہ ۹۱۸

( ۵) شرفاء کا شیوہ

۱۷۵۷۸ ۔ جھوٹ و بددیانتی شرفاء کا شیوہ نہیں ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۷۹ ۔ جو برائی کا بدلہ اچھائی سے نہ دے اس کا شمار شرفاء میں نہیں ہوتا۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۸۰ ۔ ننگ و عار کی زدہ کو اختیار کرنا شریفوں کی عادات میں نہیں ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۸۱ ۔ شریف آدمی کینہ ور نہیں ہوتا۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۸۲ ۔ انتقام میں جلدی کرنا شریفوں کی عادت نہیں ہوتی۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۸۳ ۔ جو اپنی نیکاین گنواتا ہے اس کا شرف مٹ جاتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۸ صفحہ ۱۱۳

( ۶) شریف کے حملے سے بچو!

۱۷۵۸۴ ۔ شریف جب بھوکا ہو اور کمینہ جب پیٹ بھرا ہو تو ان کے حملوں سے بچو

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم۔ نہج البلاغہ حکمت ۴۹

۱۷۵۸۵ ۔ شریف کے حملے سے ڈرو جب وہ پستی کا شکار ہو اور کمینے کے حملے سے بچو جب وہ بلندیوں پر فائز ہو۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۸۶ ۔ جب شریف کی توہین اور بے عزت کرو تو اس سے ڈرو بردباد کو جب کوئی زخم لگاؤ تو اس سے ڈرو اور بہادر کو جب دکھ پہنچاؤ تو اس سے ڈرو۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۸۷ ۔ شریف کی بے عزتی کرو تو اس سے ڈرتے رہو جب کمینے کی عزت کرو تو اس سے بچتے رہو اور جب برباد کو زخم پہنچاؤ اس سے سے محتاط رہو۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

۱۷۵۸۸ ۔ جب کمینے کی عزت کرو تو اس سے ڈرو، جب رذیل کو آگے بڑھاؤ (اور اس کی تعظیم کرو) تو اس سے ڈرو اور جب فرومایہ کو ملند کرو تو اس سے ڈرو۔

(حضرت علی علیہ السلام) عذر الحکم

( ۷) ہر قوم کے شریف کی عزت کرو

۱۷۵۸۹ ۔ جب تمہارے پاس کسی قوم کا شریف آدمی آئے تو اس کی عزت کرو۔

(حضرت ر سول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۵۴۸۳ ۔ ۲۵۴۸۷

۱۷۵۹۰ ۔ حضرت رسول اکرم نے فرمایا: "ہر قوم کے شریف کی عزت کرو"

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۴۶ صفحہ ۱۵

۱۷۵۹۱ ۔ جرید بن عبداللہ کہتے ہیں کہ جب سرکارِ رسالتمآب کی بعثت ہو گئی تو میں بیعت کے لئے آنجناب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ نے مجھ سے پوچھا: "جریر! کیسے آنا ہوا!؟ میں نے عرض کیا: "آپ کے ہاتھوں پر اسلام لانے کے لئے حاضر ہوا ہو" آنحضور نے میرے لئے اپنی عبا بچھا دی، پھر اپنے صحابہ سے مخاطب ہو کر فرمیا: "جب تمہارے پاس کسی قوم کا شریف آدمی آئے تو اس کی عزت کرو۔"

مجار الانوار جلد ۱۶ صفحہ ۲۳۹

۱۷۵۹۲ ۔ جب فارس (ایران) کے قیدی مدینہ لائے گئے تو حضرت عمر بن خطاب نے ان کی عورتوں کو فروخت کرنے اور مردوں کو غلام بنانے کا ارادہ ظاہر کیا تو اس پر امیرالمومنین علیہ السلام نے فرمایا: "حضرت رسول خدا نے فرمایا ہے کہ ہر قوم کے شریف کی عزت کیا کرو۔

مجار الانوار جلد ۴۶ صفحہ ۱۵

قول موئف : ملا خطہ ہو وسائل الشیعہ جلد ۸ ۴۶۸ ء باب ۶۸

نیز : کنز العمال جلد ۹ ۱۰۳ ء ۱۰۴ ء

نیز : "عنوان" "تعظیم"

عزت و تعظیم

۱۷۵۹۳ ۔ حضرت سلمان فارسی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت رسالتہاب کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس وقت آپ سرہانے سے تکیہ لگائے ہوئے تھے۔ وہ تکیہ آپ نے میری طرف کر کے فرمایا: "سلمان! جو مسلمان اپنے کسی مسلمان بھائی کے پا س جائے او روہ ملنے والے کی عزت و تکریم کے پیش نظر اس کی طرف تکیہ بڑھادے تو خد اا سکے گناہ معاف کر دیتا ہے۔"

سحار الانوار جلد ۱۶ ۶۳۵ ء

۱۷۵۹۴ ۔ اے سلمان! جو مسلمان کسی مسلمان بھائی کی ملاقات کو جائے اور وہ اس کے احترام کے پیش نظر اس کی طرف تکیہ بڑھا دے تو خدا اس کے گناہ معاف کر دیتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم ) کنز العمال حدیث ۴۹۳ ۲۵ ۔ ۲۵۴۹۴

۱۷۵۹۵ ۔ خداوند عالم اپنے عظمت او راپنے جلال کے باوجود تین قسم کے لوگوں کی عزت و تکریم کو پسند کرتا ہے، ۱ ۔ بوڑھا مسلمان ۲ ۔ عادل (منصوص من اللہ) امام ۳ ۔حامل قرآن جو نہ تو غلوسے کام لے او ر نہ ہی اس سے جفاکرے۔

(حضرت رسول اکرم) مجار الانوارجلد ۹۲ ۱۸۴ ء۔ کنز العمال حدیث ۸ ۔ ۲۵۵

اس کتاب میں ہے ۔ جلال خدا وند ی کی طرف سے تین قسم کے لوگوں کی تعظیم ہوتی ہے :

۱ ۔ عادل امام ۲ ۔ بوڑھا مسلمان او ر۔۔۔۔۔ ۱)

۱۷۵۹۶ ۔ جو اپنے (مسلمان) بھائی کا احترام کرتا ہے تو گویا وہ خدا کا احترام کرتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم ) کنز العمال حدیث ۲۵۴۸۸

۱۷۵۹۷ ۔ جب کوئی تمہیں ملنے آئے تو اس کی عزت کرو۔

(حضرت رسول اکرم ) کنز العمال حدیث ۲۵۴۸۵

۱۷۵۹۸ ۔ جو خدا او رقیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے اپنے ہم نشین کی عزت کرنا چاہئے۔

(حضرت رسول اکرم ) کنز العمال حدیث ۲۵۴۹۰

۱۷۵۹۹ ۔ جو شخص کسی سے کوئی لالچ رکھے یا خوف کھائے بغیر اس کی رکاب کو تھامے ‘ تو اس کے گناہ معاف کر دےئے جاتے ہیں۔

(حضرت رسول اکرم ) کنز العمال حدیث ۲۵۵۰۱

ََِ ۱۷۶۰۰ ۔ باہر سے آنے والا حیران او رمدہوش ہوتا ہے لہذا "خوش آمدید " کہہ کر ا س سے ملو۔

(حضرت رسول اکرم ) کنز العمال حدیث ۲۵۴۹۹

۱۷۶۰۱ ۔ یتم کی عزت کرو او ر ہمسایہ کے ساتھ حق سلوک کرو۔

(حضرت رسول اکرم ) اے ابن حنبل نے بھی روایت کیا ہے۔

۱۷۶۰۲ ۔ اپنے اولاد کی عزت کیاکرو او ران کے آداب و اخلاق کو سنوارو۔

(حضرت رسوک اکرم ) اے ابن ماجہ نے بھی روایت کیا ہے۔ المعجم

(قول موئف : ملا خطہ ہو باب "بھائی " بھائیوں کی عزت و تکریم"

نیز باب "بڑھاپا " "بڑوں کی عزت کرنا)

عزت افزائی کو ٹھکرانا

۱۷۶۰۳ ۔ گدھے کے علاوہ کوئی او رعزت افزائی کو نہیں ٹھکراتا۔

(حضرت رسول اکرم) کنز العمال حدیث ۲۵۴۹۲

۱۷۶۰۴ ۔ جب تم میں سے کسی کی عزت افزائی کی جا رہی ہوتو اسے ٹھکراؤ نہیں،کیونکہ صرف گدھا ہی عزت و افزائی کو ٹھکراتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) مجا ر الانوار جلد ۷۵ ۱۴۰ ء

۱۷۶۰۵ ۔ حضر ت امیر المومنین علی علیہ السلام کے پاس دو شخص آئے۔ آپ نے ان میں سے ہر ایک کے لیے گاؤ تکیہ بچھایا۔ ایک تو اس پر بیٹھ گیا لیکن دوسرے نے اس سے انکار کر دیا۔ اس پر حضرت امیر علیہ السلام نے فرمایا:"بیٹھ جاؤ کیونکہ عزت افزائی کو گدھے کے علاوہ کوئی نہیں ٹھکراتا"

(امام جعفر صادق علیہ السلام) مجار الانوارجلد ۴۱ ۵۳ ء

۱۷۶۰۶ ۔ الی خلیفہ کہتے ہیں کہ میں اور ابو عبیدہ حذاء حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے تو امام علیہ السلام نے اپنے لونڈی سے فرمایا: کہ "گاؤ تکیہ لے آؤ!" میں نے عرض کیا: "نہیں جناب! ہم یونہی بیٹھ جائیں گے!" تو امام علیہ السلام نے فرمایا: "ابو خلیفہ ! عزت افزائی کو نہ ٹھکرایا کرو ۔ کیونکہ اسے صرف گدھا ہی ٹھکراتا ہے،،

مجار الانوار جلد ۲۵ ۱۶۴ ء

۱۷۶۰۷ ۔ حسن بن جہم کہتے ہیں کہ: امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: "حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام فرما یا کرتے تھے کہ عزت افزائی کو صرف گدھا ہی ٹھکراتا ہے۔ میں نے امام رضا علیہ السلام سے پو چھا : عزت افزائی سے کیا مراد ہے؟ فرمایا"بیٹھنے کی جگہ میں کشادگی پیدا کرنا اور خوشبو کو پیش کرنا عزت افزائی میں شامل ہیں"

مجار الانوارجلد ۷۵ ۱۴ ء

۱۷۶۰۸ ۔ عزت افزائی کو قبول کر لیا کرو سب سے افضل عزت افزائی خوشبو کا پیش کرنا ہے جس کا اٹھانا آسان اور جس کی ہوا پاکیزہوتی ہے۔

(حضرت رسول اکرم ) مجار الانوار جلد ۷۷ ۱۶۴ ء

۱۷۶۰۹ ۔ کوئی مسلمان اپنے بھائی کی عزت اس طرح کر سکتا ہے کہ اس کے تحفے کو قبول کرے، یا اسے کوئی تحفہ پیش کرے او را س کے لئے کسی قسم کے تکلف میں نہ پڑے۔

(حضرت رسول اکرم) مجار الانورار جلد ۷۵ ۴۵ ء

۱۷۶۱۰ ۔ جو شخص تمہارے عطیہ کو قبول کرتا ہے وہ عزت افزائی میں تمہاری اعانت کرتا ہے

(امام حسن علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۸ ۱۲۸ ء

۱۷۶۱۱ ۔ انسان کو چاہئے کہ وہ ان اوصاف کی ہذیرائی سے اپنے لئے شرف و عزت قبول کرے ، قیامت کے وارد ہونے سے پہلے اس سے ہر انسان رہے، او راسے چاہئے کہ (زندگی کے ) مختصر دنوں اور اس گھر کے تھوڑے سے قیام ہیں جو سب اتنا ہے کہ اس کو آخرت کے گھر سے بدل لے (آنکھیں کھولے او رغفلت میں نہ پڑے) او ر اپنی جائے باز گشت اور منزل آخرت کے جانے پہچانے ہوئے مرحلوں کے لئے نیک اعمال کرے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاء خطبہ ۲۱۴

(قول موئف : ملاخطہ ہو وسائل اشیعہ جلد ۸ ۴۶۹ ء باب ۶۹)

جسے عزت افزائی سیدھا نہ کر سکے

۱۷۶۱۲ ۔ جسے عزت افزائی سیدھا نہ کر سکے اسے توہین او ررسوائی سیدھا کر دیتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غرارالحکم

۱۷۶۱۳ ۔ عزت جس کو نہ سنوار سکے ذلت اسے درست کر دیتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۶۱۴ ۔ جب کسی کو عزت فائدہ نہ پہنچائے تو تو ہین اس کے لئے بہتر علاج ہے۔ او ر جب آواز مفید ثابت نہ ہو توتلوار جڑے کاٹ دیتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غرار الحکم

۱۷۶۱۵ ۔ عزت افزائی جتنا شریف کی اصلاح کرتی ہے اتنا ہی کمینے کو بگاڑ دیتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غرار الحکم

(قول موئف : ملاخطہ ہو باب عفو در گزر" ( ۱) عفو کے ذریعہ کسی کی اصلاح کرنا"اور "عفو و در گزر کمینے کو بگاڑ دیتی ہے")

( ۱۱) معزز ترین انسان

۱۷۶۱۶ ۔ میں خدا کے نزدیک نبی آدم میں سب سے زیادہ معزز اور کلرم ہوں۔

(حضرت رسول خدا ) اے ترمذی نے روایت کیا ہے۔ المعجم

۱۷۶۱۷ ۔ میں اولین و آخر ین سب سے زیادہ معزز و مکرم ہوں۔

(حضرت رسول اکرم) اے ترمذر نے روایت کیا ہے۔ المعجم

۱۷۶۱۸ ۔ کسی شخص نے حضرت رسول خدا کی خدمت میں عرض کیا : میں چاہتا ہوں کہ سب لوگوں سے زیادہ معزز انسان بنوں ۔ اسکے لیے کیا کروں؟" آنحضرت نے فرمایا:" خدا کی شکایت خلق خد اکے آگے نہ کرو ، معزز ترین انسان بن جاؤگے!"

کنز العمال حدیث ۴۴۱۵۴

۱۷۶۱۹ ۔ تقویٰ جیسی کوئی عزت نہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاء حکمت ۱۱۳

(قول موئف : ملاخطہ ہو باب ! تقویٰ شرافت کی چابی ہے،،

نیز: باب "امت" " بہترین امت"

نیز: باب "انسان"

( ۱۲) شریف انسان اپنی عزت آپ کرتا ہے

۱۷۶۲۰ ۔ اگر کسی وقت تم نے کسی کی عزت افزائی کی ہے، تواس طرح تم نے گویا اپنی عزت خود کی ہے‘اپنی شان کو زینت بخشی ہے۔ جو اچھائی تم نے اپنے ساتھ کی ہے ا س کے شکر یہ کی امید دوسروں سے نہ رکھو۔

(حضرت علی علیہ السلام) غرر الحکم

۱۷۶۲۱ ۔ اپنے آپ کو بزرگی کے کاموں کا عادی بناؤ او ر دوسرں کے تاوان کا بوجھ خود اٹھاؤ ۔ اس طرح تم اپنی ذات کو شرف عطا کروں گے ۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررا لحکم

باب قول موئف : ملا خطہ ہو باب "جہاد" "مجاہد اپنے ہی لئے جہاد کرتاہے"

نیز: "احسان"محسن اپنی ذات کی عزت کرتا ہے: نیز باب" شکر" جو شکر کرتا ہے وہ اتنا شکریہ ادا کرتا ہے"


فصل ۔ ۳۳

کاروبار

( ۱) پاکیزہ ترین کاروبار

۱۷۶۲۲ ۔ پاکیزہ ترین کاروبار ایسے تاجروں کا ہے جو بات کرتے ہیں تو جھوٹ نہیں بولتے، جب انہیں امانت سوپنی جاتی ہے تو خیانت نہیں کرتے ، جب وعدہ کرتے ہیں تو اس کے خلاف نہیں کرتے ، جب کوئی سودا خریدتے ہیں تو اس میں نقص نہیں نکالتے ، جب کسی کو بیچتے ہیں تو بڑھا چڑھا کر تعریف نہیں کرتے ، جب مقروص ہوتے ہیں تو (قرض کی واپسی میں) ٹال مٹول سے کام نہیں لیتے او رجب قرض خواہ ہوتے ہیں تو (قرض واپس لینے میں) سختی سے کام نہیں لیتے۔

(حضرت رسول اکرم) کنز العمال حدیث ۹۳۴۰ ۔ ۹۳۴۱

۱۷۶۲۳ ۔ مسلمان کا پاکیزہ ترین کاروبار ، راہ خدا میں اس کا حصہ لینا ہوتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنز العمال حدیث ۱۰۵۱۶

( ۲) حلال و حرام کاروبار

قرآن مجید:

( ولا تا کلوا اموالکم بینکم بالباطل ) (بقرہ ۱۸۸)

ترجمہ۔ اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ!

یایھا الذین امنوالا تا کلوا اموالکم بینکم بالباطل الاان تکون تجارة عن تراض منکم نساء ۲۹)

ترجمہ۔ اے ایمان والو! ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ البتہ حجارت باہمی رضا مندی ہو۔

(قول موئف : اس بارے میں مزید آیات کے لئے ملاخطہ ہو سورہ نساء ۱۶۱ ۔ مائدہ ۱

توبہ ۳۴ ۔ نور ۳۳)

حدیث شریف:

۱۷۶۲۴ ۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک سائل نے سوال کیا:

انسانی ذریعہ معاش کی کتنی قسمیں ہیں جن میں انسان باہمی طور پر کاروبار اولین دین کر سکتے ہوں ۔ نیز اپنے اموال کو کہاں کہاں خرچ کر سکتے ہیں"

؟علیہ السلام نے فرمایا: معاش کی تمام قسمیں معاملات اور کاروبار کے زمرے میں آتی ہیں۔انسان کے آپس میں لین دین و کاروبار کیلئے ان تمام اقسام کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیاہے۔

اس نے پھر پوچھا : کیا یہ چاروں قسمیں حلال ہیں یا حرام یا بعض حلال او ربعض حرام ہیں؟"

فرمایا: یہ تمام قسمیں ایک لحاظ سے حلال ہیں او رایک محاظ سے حرام ہیں۔ اپنے اپنے لحاظ سے حلال و حرام ہونے کے اعتبار سے بھی مزلوم و معروف ہیں۔

ان چاروں قسموں میں سے :

"پہلی قسم: ولایت اور تولیت ہے جو ایک دوسرے پر ولایت کی صورت میں ہے ۔ چناچہ سے سے پہلے کسی کو اپنی طرف سے دوسروں پر والی (حکمران ) بناتے ہیں۔ اسی طرح ان والیوں کی طرف سے والی ہوتے ہیں او رنیچے تک یہ سلسلہ چلا جاتا ہے۔

"دوسری قسم: تجارت ہے جو لوگوں کی ایک دوسرے سے خرید و فروخت کی صورت میں ہوتی ہے۔

"تیسری قسم: ہر قسم کی "صنعتیں " ہیں۔ اور

چوتھی قسم: ہر قسم کے" اجارے " (کرائے) ہیں۔ جن کی لوگو ں کو ضرورت ہوتی ہے۔ چناچہ مذکورہ چاروں قسمیں ایک لحاظ سے حلال ہوتی ہیں او رایک طرح سے حرام۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں پر یہ فریضہ عائد کیا گیا ہے کہ مذکورہ اقسام کی حلال قسموں کو اپنائیں ان پرعمل کریں ، او رحرام اقسام سے اجتناب کریں۔

۱ ۔۔۔ولایت کیاہے؟

"ولایت دو طرح کی ہوتی ہے۔ ایک عادل حکمرانوں کی ولایت جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے او رانہیں لوگوں پر حق ولایت و حکمرانی عطا فرمایا ہے۔ اس طرح ان عادل حکمرانوں کی طرف سے مقرر کردہ والیوں کی ولایت ہے۔ یہ سلسلہ نیچے تک جہاں تک بھی چلا جائے، ولایت بھی در حقیقت اسی کا ایک حصہ ہے۔

"دوسرے جابر و ظالم حکمرانوں کی ولایت ، او ران کی طرف سے مقر ر کردہ حکمرانوں کی ولایت ۔ یہ سلسلہ جہاں تک بھی نیچے چلا جائے اس ولایت کا حصہ ہے۔ چناچہ جائز و حلال ولایت اس عادل حکمران کی ولایت جس کی معرفت کا خد اوند نے حکم دیا ہے۔ نیز اس کی اپنی ولایت یا اس کے مقرر کردہ والیوں کی ولایت اسی طرح یہ سلسلہ جہاں تک نیچے چلا جائے ان سب کی ولایت میں سے کم و کاست اور بلاچوں و چراعمل کرنا ضروری ہے۔ وائی عادل کے علاوہ یہ حق کسی اور کو نہیں دیا جا سکتا۔

جب اس لحاظ سے عادل والی ہو گا تو اس کے ساتھ کام کرنا ، اس کی اس بارے میں معاونت کرنا او راسے تقویت پہنچانا حلال و جائز ہو گا۔ اس کے ساتھ کاروبار کرنا بھی جائز و حلال ہو گا۔ اس لئے عادل حکمران او ر اس کے مقرر کردہ والیوں کے دو حکمرانی میں ہر قسم کے حق اور عدل کا احیاء ہوتا ہے ہر قسم کے ظلم و جور و فتنہ و فساد کی بیچ کنی ہوتی ہے۔ لہذا عادل حکمران کے دور حکمرانی میں اس تقویت بہم پہنچانا اس کے ساتھ تعاون کرنا ، خداوند عالم کی اطاعت شمار ہوگا او ردین خداوند ی کی تقویت کا موجب ہو گا۔

"ولایت کی قسم ہے وہ ظالم جابر شخص کی حکمرانی و ولایت ہے ۔ اسی طرح اس ظالم حکمران کی طرف سے مقرر کردہ افراد ان افراد کے مقرر کردہ لوگ جتنا نیچے چلے جائیں کی ولایت۔ چناچہ ان کی ولایت کی وجہ سے ان کے لئے کام کرنا او ران کے ساتھ مل کر کاروبار کرنا ، حرام نا جائز اور موجب عذاب ہے چاہے کا م کم ہو یا زیادہ ۔ کیونکہ ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعاون گناہاں کبیرہ میں شمار ہوتا ہے۔ یہ اس لئے ہے کہ ظالم و جابر والی(حکمران) کی ولایت کے دور حق سارے کا سارا مٹ جاتا ہے مکمل طور پر باطل کو فروغ حاصل ہوتا ہے، ظلم و جور و فتنہ وفساد کی ترویح ہوتی ہے، آسمانی کتابوں کی تکذیب انبیاء کرام و مومنین غطام کا قتل ہوتا ہے، مساجد کی تباہی ہوتی ہے او رخد اکی سنت و شریعت میں تبدیلی کی جاتی ہے۔ اسی بناء پر ایسے حقام کے ساتھ مل کر کام کرنا، ان کی معاونت کرنا او ر ان کے ساتھ کاروبار کرنا حرا م ہے ۔ سوائے مجبوری کی صورت کے بالکل اسی طرح جیسے بوقت مجبوری مردار و جائز ہو جاتے ہیں۔

۲ ۔ کونسی تجارت؟

"تجارت کا اطلاق ہر قسم کی خرید و فروخت پر ہوتا ہے اس کی بھی دو قسمیں ہیں ایک وہ جس کی خرید و فروخت جائز و حلا ل ہوتی ہے اور ایک وہ جو حلال و جائز نہیں ہوتی چناچہ جو چیزیں انسان کی غذا کے طور پر استعمال ہوتی ہیں یا جن پر انسانی زندگی کا دارومدار ہوتا ہے جبکہ ان چیزوں میں انسان کی اچھائی و بہتری پائی جاتی ہو تو ان سب کی خریدو فروخت جائز وحلال ہے جیسے کھانے کی ‘ پینے کی اور پہننے کی چیزیں یا جن چیزوں سے انسان شادی و بیاہ کرتا ہے‘ یا اپنی ملکیت کی وجہ سے انسان کے قبضہ میں یا اس کے زیر استعمال ہوتی ہیں تو ان کا استعمال ہر قسم کے منافع کے لئے جائز ہے بشر طیکہ اس میں کسی لحاظ سے انسان کی بہتری و اچھائی پائی جاتی ہو۔ ان سب کا لین دین ، خرید و فروخت ، محفوظ رکھنا، استعمال کرنا، ہبہ کرنایا عاریة دینا جائز و حلال ہے۔

"اس کے برعکس ہر اس چیز کی خرید و فروخت حرام ہے جس میں انسان کے لئے خرابی و فساد کا اندیشہ ہو ۔ چاہے وہ کھانے کی چیزیں ہو ں یا پینے کی ، نکاح اور شادی بیاہ کی صورت ہو یا قبضہ اور ملکیت کی ، بہہ ہو یا عاریہ غرض ہر وہ چیز جس میں فساد خرابی پیدا ہوتی ہے سب حرام ہے۔ جسیے سودی کاروبار کہ اس سے فساد و خرابی پیدا ہوتی ہے۔ یا جیسے مردار : خون ، خنزیر کے گوشت یا درندوں کے گوشت او رچمڑے کاروبار چاہے وہ درندے جانور وہوں یا پرندے ۔ اسی طرح شراب ہو یا کسی او ر نجس چیز کی خریدو فروخت ہے۔ یہ سب حرام اور ناجائز کاروبارہے۔ اس لئے کہ ان چیزوں کے کھانے ،پینے ،پہننے اپنی ملکیت میں رکھنے ، اپنے قبضہ میں رکھنے اور ان میں سے کسی قسم کے ردوبدل کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ کیونکہ اس میں فساد و خرابی کا عنصر پایا جاتا ہے۔ لہذا ان میں ہر قسم کا ردوبدل حرام ہے۔

ا س طرح ہر وہ کاروبار تجارت جس میں لہو ولعب پایا جاتا ہو وہ چیز جس کے اختیار کرنے سے رو کا گیا ہو کہ اس کے ذریعہ سے غیر اللہ کا تقرب حاصل ہوتا ہو یا پھر گناہوں کے ذریعہ سے کو شرک کو تقویت حاصل ہوتی ہو یا کسی قسم کا کوئی ایسا باب جس سے گمراہی یا باطل کا دروازہ کھلتا ہو یا جس باب سے حق کو کمزور کیا جا سکتا ہو سب حرام اور ناجائز ہیں۔ ان کی خریدوفروخت حرام ان کو اپنے پاس رکھنا ، انہیں اپنی ملکیت قرار دینا ، ان کا ہبہ کرنا، انہیں عاریتہ دینا اور ان میں کسی قسم کا ردو بدل کرنا حرام اور ناجائز ہے۔ سوائے مجبوری کی حالت کے۔

۳ ۔ اجارے (مزدوری اور کرائے) کی تفصیل

انسان کا اپنے آپ کو یا اپنے زیر ملکیت کسی چیز کو‘ یا جن لوگوں کی اسے تولیت حاصل ہے مثلاً قریبی رشتہ داروں کو یا اپنی سواری کو یا اپنے کپڑوں کو مزدوری یا کرائے پر حلال طریقے سے دینا جائز ہے ایسی صورت کا تعلق اجارے (کرائے یا مزدوری) سے ہوتا ہے۔انسان اپنے آپ کو یا اپنے گھر کو یا اپنی زمین کو یا اپنی کسی مملوکہ چیز کو اجارے پر دیتا ہے جس سے کسی قسم کی منفعت حاصل ہوتی ہے۔ یا خود کسی کا کام کرے یا اس کی اولاد یا غلام یا مزدور اور وہ کسی حکمران یا حکمران کے مقرر کردہ کسی حکمران کا وکیل نہ ہو۔ تو اس بات میں کوئی جرم نہیں ہے کہ خود کسی کی مزدوری کرے یا اس کی اولاد یا رشتہ دار یا غلام یا اجارے میں اس کا وکیل کسی کی مزدوری کریں۔ اس لئے کہ یہ اس کی اپنی طرف سے وکیل کی حثیت سے مزدور بنیں گے نہ کہ کسی حکمران کی وجہ سے۔ مثلاً جیسے کسی شخص کو مزدوری کے طور پر ، ہر ایک خاص اور معلوم چیز کسی معلوم اور مقررہ مقام تک اٹھا کر لے جاتا ہے ۔ تو جائز سے کہ اسے وہ خود اٹھائے یا اس کا غلام یا اس کا جانور اٹھائے وغیرہ مزدوری کی یہ تمام صورتیں اس شخص کے لئے حلال ہیں چاہے یہ کام لینے والا کوئی بادشاہ ہو یا بازار سے تعلق رکھنے والا م مومن ہو یا کافر ۔ اس قسم کی مزدوری حلال ہے او راس سے ملنے والی آمدنی بھی جائز ہے۔

اجارہ (مزدوری یا کرائے) کی جو حرا م صورتیں ہیں وہ یہ ہیں انسان اپنے آپ کو کسی چیز کی مزدوری پر لگاتا ہے جس کا کھانا ، پینا، پہننا حرام ہے یا ایسی ہی چیز وسکی تیاری یا حفاظت یا پہننے کے لئے مزدوری اور کام کرے۔ یا جیسے مسجدوں کو نقصان پہنچانے کے لئے گرادے یا کسی کو ناجائز قتل کرے یا تصویروں ، بتوں ،گانے بجانے کے آلات ، شراب ،خنزر ، مردار یا خون یا ایسی چیزوں کو اٹھائے جن میں کسی بھی طرح کا فساد و خرابی پائی جاتی ہو، تو ایسا کرنا اس پر حرام ہو گایہ اجارہ صحیح نہیں ہوگا۔

اس طرح جن جن چیزوں سے کسی طرح انسان کو روکا گیا ہے ان میں انسان نہ تو اپنے آپ کو اجارے پر دے سکتا ہے او رنہ ہی کسی کو اجارے پر لے سکتا ہے ۔ البتہ اگر اس میں اجرت پرکام لینے والے کے لیے کسی طرح کی کوئی منفعت اور فائدہ ہو تو پھر ایسا کر سکتا ہے، مثلاً کوئی شخص کسی کو اس بات پر مزدور بنا سکتا ہے کہ وہ مردار کو اٹھا کر پھینک دے تا کہ وہ خود یا کوئی دوسرا اس کی اذیت و بدبو سے بچ سکے۔ اسی طرح کے اور بھی کئی دیگر امور ہیں۔

"ولایت " اور’ اجارے‘ میں فرق ہے اگر چہ دونوں صورتوں میں اجرت پر کام کیا جاتا ہے۔ ولایت کے سلسلے میں یہ ہوتا ہے کہ انسان کسی والی (حکمران) یا اس کی طرف سے مقرر کردہ والی یا اس کی طرف سے مقرر کردہ والی کی تولیت اور سر پرستی میں کام کرتا ہے۔ گویا وہ کسی اور بالا دست قوت کے زیر تسلط کام کرتا ہے اس کا امرونہی والی کا امرو نہی ہوتاہے او راس کی نیابت میں انجام پاتا ہے۔ یہ بات اس والی کی ولایت کو مستحکم کرنے کا سبب اور موجب ہوتی ہے۔ نیز حکمرانوں کا یہ سلسلہ اوپر سے نیچے تک ایک ہوتا ہے، چھوٹے سے چھوٹے حکمران کی ولایت در حقیقت بڑے والی حکمران کو مضبوط مستحکم کرنے کے لئے ہوتی ہے۔ جو اس بڑے والی کی ولایت شمار ہوتی ہے۔ اس بارے میں ہونے والے پر قتل ظلم وجود اور فتنہ وفساد اسی کی حکمرانی میں ہوتا ہے جس میں وہ شخص بھی برابر کا شریک ہوتا ہے۔

’اجارہ‘ اس سے مختلف ہوتا ہے جیسا کہ ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ انسان اس سلسلے میں بذات خود اپنے آپ کو اجارے پر دیتا ہے یا جو چیز اس کی ملکیت میں ہوتی ہے اسے اجارے پردیتا ہے۔ کسی کو اجارے پر دینے سے پہلے وہ خود اپنی ذات کا یا اپنی زیر چیزوں کا مالک ہوتا ہے۔ جب تک وہ کسی کو اجارے میں نہ دیدے کوئی شخص ا س کا مالک نہیں بن سکتا ۔ لہذا جو شخص اپنے آپ کو یا اپنے کسی زیردست کو خواہ وہ مومن ہو یا کافر یا کسی چیز کو کسی کے اجارے میں دے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے ۔۔۔۔تو اس قسم کا اجارہ حلال ہے او ر اس کا کسب کمائی جائز ہے۔

رہی صنعتوں کی بات ‘ تو ہر وہ چیز جسے انسان سیکھتا ہے یا کسی دوسرے کو سکھاتا ہے‘ خواہ وہ صنعت کی کوئی بھی قسم ہو‘ مثلاً کتابت ، حساب و کتاب ، تجارت ، رنگائی ، زین او رجوتوں کی تیاری ، تعمیرات، کپڑے کی صنعت، اس کی سلائی وغیرہ یا غیرذی روح چیزوں کی تصویر سازی یا جن آلات و اوزار کی لوگوں کو ضرورت ہوتی ہے ان کی صنعت جن کے ساتھ لوگوں کے فوائدو منافع وابستہ ہیں۔ان کی ضروریات کا ان پر دارومدار ہے۔ تو ایسی صنعتوں کا سیکھنا اور ان کا کام کرنا انسان کے اپنے لئے بھی اور دوسروں کے لئے بھی حلال ہے۔ اگرچہ ایسی مصنوعات میں فساد کا ایک پہلو بھی ہے مثلاً یہ کہ مذکورہ چیزوں کو بعض اوقات فاسد کاموں میں استعمال کیا جاتا ہے‘ یا گناہوں کے ارتکاب میں معاون ثابت ہوتی ہیں۔ اور حق کے خلاف باطل کے لئے استعمال ہوتی ہیں‘ لیکن کلّی طور پران کے سیکھنے ، سیکھانے یا یاد کرنے میں کوئی جرح نہیں ہے۔ مثلاً کتابت ہی کو لے لیجئے کہ اس میں فساد کی ایک صورت موجود ہے کہ اس سے حکام جور کی ولایت کو لقویت پہنچ سکتی ہے اور ان کی معاونت کی جا سکتی ہے۔ لیکن کتابت کے سیکھنے اور یادکرنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔

اسی طرح چھری ، چاقو ، نیزہ اور تیر کمان وغیرہ ہیں، جنہیں بعض اوقات بہتری کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور بسا اوقات غلط مقاصد کے لئے بھی استعمال ہوتے ہیں ۔ ان کے سیکھنے ، بنانے سکھانے اور اجرت لینے دینے میں کوئی جرح نہیں ہے۔ البتہ بہتری کے لئے استعمال کرنے پر اجرت لینا اور دینا یا سیکھنا اور سکھانا حلال و جائز ہے غلط و ناجائز مقاصد کے لئے ایسا کرنا حرام ہے۔ پس بہتری کے مقاصد کے لئے ان کا سیکھنا اور سکھانا نہ تو گناہ ہے اور نہ ہی حرام۔ صرف غلط و ناجائز کاموں میں ان کا استعمال ان مقاصد کے لئے سیکھنے او رسکھانے کے لئے جرم وگناہ او رحرام ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا وند عالم نے صرف اسی صنعت کو حرام قرار دیا ہے جو کلّی طور پر حرا م ہے او ر اس میں سوائے برائی و غلط کاری کے اچھائی و بہتری کی کوئی بھی صورت نہیں ہوتی۔ جیسے بربط ، مزمار ، شطرنج اور اس قسم کے دوسرے آلات لہو و لعب ہیں۔ یا صلیب و صنم تراشی اور اس قسم کے دوسرے کام ہیں‘ یا حرام مشروبات کی تیاری وغیر ہ ہے جن میں صرف برائی ہی برائی کا عنصر پایا جاتا ہے، او راصلاح و بہتری کی کوئی بھی صورت نہیں ہے۔ ایسی صنعتوں کا سیکھنا ، سکھانا ، کام میں لانا، ان کی اجرت لینا او رہر قسم کاتصرف حرام ہے۔

اگر کو ئی ایسی صنعت ہو جس میں گناہ و برائی کے سارے پہلو موجودہیں لیکن ممکن ہے کہ اس میں بہتری کا بھی کوئی عنصر موجود ہو توصرف حلال اور بہتر عنصرکو پیش نظر رکھ کر اس کے سیکھنے اور سکھانے کو حلال و جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔ نا حق او رناجائز امور کی طرف لے جانا باطل اور غلط ہو گا۔

کاروبار کی وہ صورتیں جن کا حامل کرنا جائز اور حلا ل ہوتا ہے۔

مال و دولت کا خرچ کرنا

اب رہی مال و دولت کے صحیح و جائز طور پر خرچ کرنے کی صورت تو یاد رکھنا چاہئے کہ اس کے فرض و مستحب طور پر خرچ کرنے کی چوبیس صورتیں ہیں۔ جن میں سے سات کا تعلق خود انسان کی اپنی ذات کے ساتھ ہوتا ہے۔ پانچ کا تعلق اس کے متعلقین کے ساتھ تین صورتیں ایسی ہیں جو دینی امور کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں ۔ پانچ صورتوں کا تعلق نیکی کے راہ میں صلہ رحمی کے طور پر خرچ کرنے سے ہے، او رچار صورتیں ایسی ہیں جن کا عمومی مفاد عامہ کے لئے خرچ کرنے سے ہے۔

جن چیزوں کا تعلق انسان کی اپنی ذات سے ہے، وہ اس کا کھانا، پینا ، لباس ، شادی، نوکر جاکر اور اپنے اموال کی مرمت ، نقل و حمل اور حفاظت ہے جس کے لئے انسان کو ضرورت ہوتی ہے۔ ضرورت سے مراد اس کا مکان او رایسے امذار و آلات ہیں جو اس کی ضروریات زندگی کے کام آتے ہیں۔

جن پانچ چیزوں کا تعلق اس کے متعلقین سے ہوتا ہے وہ اس کی اولاد ، والدین ، بیوی او رایسے ملازم ہیں جو اس کی تنگی و آسانی کے دنوں میں خدمت کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔

جو تین امور دین کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں وہ زکوة واجبہ ہے جوہر سال انسان کو ادا کرنا پڑتی ہے، فرض حج او رجہاد ہیں جو کسی بھی زمانہ میں واجب ہو جاتے ہیں۔

جو پانچ صورتیں نیکی کے راہ میں صلہ رحمی کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں اور ان کا شمار مستحبات میں ہوتا ہے ‘ وہ ہیں اپنے مافوق کے ساتھ نیکی‘ قرابت داروں کے ساتھ نیکی ‘ مومنین کے ساتھ نیکی ، صدقہ کے طور پر کسی کو کچھ دینا او رنیک راہوں میں خرچ کرنا اور غلاموں کو آزاد کرانا۔

جن چار چیزوں کا مفا د عامہ سے تعلق ہے وہ ہیں کسی مقروض کے قرض کا ادا کرنا‘ کسی کو عاریة کوئی چیز دینا ‘ کسی کو قرضہ دینا ور مہمان نوازی کرنا ۔ یہ چیزیں اگرچہ سخت ہیں لیکن سنت کے حساب سے واجب سمجھی جاتی ہیں۔

انسان کے لئے جائز و حلال چیزیں

زمین سے پیدا ہونے والی اشیاء میں سے جو چیزیں انسان کے لئے حلال ہوتی ہے اس کی تین قسمیں ہیں ۔ ایک قسم تو تما م اناج ہیں جیسے گندم ، جو ،چاول، چنا، یا تل وغیرہ۔ ہر وہ اناج جو انسان کی غذا کے طور پر اس کے جسم و جان کے لئے مفید اور مقوی ہوتا ہے او ر جو ضرررساں و صمت کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے وہ حرام ہے۔

تیسری قسم جو زمین سے پیدا ہوتی ہے وہ سبزی وترکاری ہے۔ وہ سزی و ترکاری اور نباتات اسان کے لئے جائز اور حلال ہوتی ہے۔ جس میں انسان کا فائدہ ہوتا ہے اور اس کی غذا کا کام دیتی ہے۔ اور جن سبزیوں سے انسان کو ضررو نقصان ہوتا ہو ان کا کھانا اس کے لئے حرام و ناجائز ہے جیسے زہریلی بناتات و سبزی و ترکاری وغیرہ۔ جن کا استعمال انسان کے لئے کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے۔

حلال جانوروں کا گوشت

پالتو جانوروں میں سے گائے ، بکری اور اونٹ کا گوشت حلال ہے اور جنگلی جانوروں میں ان کا گوشت حلال ہے جن کے پنجے اور نیچے کے دانت نہیں ہوتے۔

اسی طرح ان پرندوں کا گوشت بھی حلال ہوتا ہے جس کا پوٹا ہوتا ہے۔ جن کا پوٹا نہیں ہوتا ان کا کھانا حرام ہے، البتہ ٹڈی کے کھانے میں کوئی جرح نہیں۔

حلال انڈے

جن انڈوں کے دونوں اطراف ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں وہ حلال اور جن کے اطراف یکساں ہوتے ہیں وہ حرام ہیں۔

حلال مچھلی

جن آبی جانوروں (مچھلیوں) کے چھلکے ہوتے ہیں وہ حلال ‘ باقی سب حرام ہیں۔

حلال مشروبات

پینے کی ہر وہ چیز جو کثیر مقدار کے باوجود تحصل میں تبدیلی پیدا نہ کرے اس کے پینے میں کوئی حرج نہیں۔ جس کی کثیر مقدار تحصل میں فتور پیدا کردے اس کی قلیل مقدار کا استعمال بھی ناجائز و حرام ہوتا ہے۔

حلال ملبوسات

زمین سے اگنے والی ہر چیز سے تیار شدہ ملبوسات کا استعمال جائز او ر اس میں نماز پڑھنا صحیح ہے۔ جن جانوروں کا گوشت حلال ہوتاہے‘ ان کی حلا ل طریقہ سے ذبح شدہ چمڑے اور بالوں سے تیار شدہ لباس کا استعمال صحیح ہے۔ اگر حرام جانور کا تذکیہ کیا جائے (اسے شرعی طریقے سے ذبح کیا جائے) تو اس کے بالوں سے تیار شدہ لباس کے استعمال میں بھی کوئی حرام حرج نہیں ہے۔ اور اس میں نماز بھی صحیح ہے۔

جو چیزیں انسان کے کھانے پینے اور پہننے کے کام آتی ہیں ان پر نہ تو نماز جائز ہے اور نہ ہی سجدہ ۔ البتہ زمین سے اگنے والی چیزیں جو کھانے کے کام نہیں آتیں یا انہیں ابھی تک کاٹا نہیں گیا ان پر سجدہ جائز ہے ۔ کاٹنے کے بعد ا س پر سجدہ جائز نہیں ہے سوائے مجبوری کے۔۔

جن ذریعوں سے نکاح حلال ہے

چار ذریعوں سے نکاح حلال ہوتا ہے۔ ۱ ۔ میراث کی وجہ سے ۲ ۔ بغیر میراث کے ذریعہ سے ۳ ۔ قسم کی وجہ سے ۴ ۔ ایسے محلل کے حلال کر دینے کی وجہ سے جس کی ملکیت میں ہے۔

جن چیزوں کے ذریعہ سے ملکیت اور خدمت صحیح ہے

چھ ذریعوں سے ملکیت اور خدمت صحیح ہوتی ہے۔ ۱ ۔ غنیمت کا مال ۲ ۔ خریدا ہوا مال ۳ ۔ وراثت کا مال ۴ ۔ ہبہ کا مال ۵ ۔ عاریت کا مال اور ۶ ۔ اجارے کا مال۔

پس یہ ہیں وہ وجوہات جو حلال ہیں اور انسان کا ایسے اموال سے خرچ کرنا صحیح ہوتا ہے۔ اسے نکال کر حلال کی تمام راہوں میں خرچ کیا جا سکتا ہے او رفریضہ یا نافلہ صورتوں میں اس میں طرح کا تصرف و دو بدل جائز و حلال ہوتا ہے۔"

مجار الانوار جلد ۱۰۳ ۴۴ ء ۵۱ ء۔ تحف العقول ۲۴۴ ء ۲۵۰ ء وسائل الشیعہ جلد ۱۲ ۵۴ ء باب ۲

۱۷۶۲۵ ۔ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: " مجھے اپنے بعد اپنی امت کے لئے سب سے زیادہ خوف جن چیزوں سے معلوم ہوتا ہے وہ یہ ہیں: ۱ ۔ حرام کاکاروبار ۲ ۔ مخفی خواہشات شانفسانی اور ۳ ۔ سود خوری۔"

(حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام) فروع کافی جلد ۵ ۱۲۴ ء

(قول موئف : ملاخطہ ہو: عنوان " حرام"

نیز: باب "اسلحہ" "دشمنان دین کے ہاتھوں اسلحہ کی فروخت"

نیز: مجار الانوار جلد ۳ ۔ ۱ ۴۲ ء باب ۴ " مجموعی حلال اور حرام کاروبار"

( ۴) ہاتھ کی کمائی

۱۷۶۲۶ ۔ اپنے ہاتھ کی کمائی سے بڑھ کر نیک خوار کر کوئی نہیں کھاتا ۔ اللہ کے نبی حضرت داؤد علیہ السلام بھی اپنے ہاتھوں سے کما کر کھایا کرتے تھے۔

(حضرت رسول اکرم) کنز العمال حدیث ۹۲۲۳

۱۷۶۲۷ ۔ اللہ کے نزدیک محبوب ترین شے جو انسان کھاتا ہے‘ اس کے ہاتھ کی کمائی سے بڑھ کر اور کوئی نہیں ہوتی ۔ جو شخص دن بھر کے کام کاج سے تھک کر رات بسر کرے اللہ اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنز العمال حدیث ۹۲۲۸ ۔ ۹۲۲۹

۱۷۶۲۸ ۔ حضرت داؤد پیغمبرعلیہ السلام صرف اپنے ہی ہاتھوں کی کمائی کھاتا کرتے تھے۔

(حضرت رسول اکرم ) کنز العمال حدیث ۹۲۲۲

۱۷۶۲۹ ۔ سب سے پاکیزہ کام انسان کے اپنے ہاتھ کی کمائی ہے۔

(حضرت رسول اکرم ) کنز العمال حدیث ۹۲۲۰ ۔ ۹۲۳۴

۱۷۶۳۰ ۔ سب سے پاکیزہ کاروبار انسان کے اپنے ہاتھ کی کمائی اور ہر جائز تجارت ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنز العمال حدیث ۹۱۹۶

۱۷۶۳۱ ۔ سب سے بہتر کاروبار ، جائز تجارت اور اپنے ہاتھ کی کمائی ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنز العمال حدیث ۹۱۹۵

۱۷۶۳۲ ۔ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواری جب بھوکے ہوتے تھے تو کہتے تھے) "اے روح اللہ! ہمیں بھوک لگی ہے" حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنا ہاتھ زمین پر خواہ وہ نرم ہوتی تھی یا پتھریلی۔۔۔مارتے تجھے جس کی وجہ سے ہر شخص کے لئے کھانے کے واسطے دو روٹیاں زمین سے باہر آجاتی تھیں ، اور وہ انہیں کھا جا تے تھے۔ جب پیاسے ہوتے تھے تو کہتے تھے: یا روح اللہ ! ہمیں پیاس لگی ہے! اس پر آنجناب علیہ السلام صاف یا پتھریلی زمین پر ہاتھ مارتے تھے تو زمین سے پانی نکل آتا تھا۔ اور وہ لوگ اس سے سیراب ہو جاتے تھے۔ پھر کہتے تھے: "یا روح اللہ" ہم سے بڑھ کر اور کون صاحب فضیلت ہو سکتا ہیکہ جب ہمیں بھوک لگتی ہے تو سیر کر دئیے جاتے ہیں اور جب پیاس لگتی ہے تو سیراب کر دئیے جاتے ہیں، ساتھ ہی ہم آپ پر بھی ایمان لا چکے ہیں اورتابع فرمان ہیں۔

اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرماتے "تم سے افضل وہ لوگ ہیں جو اپنے ہاتھوں سے کماتے ہیں ‘ اپنے ہاتھوں سے ترکاری سے کھاتے ہیں۔ اور دوسروں کے کپڑے مزدوری پر دھوتے ہیں"

مجارالانوار جلد ۱۴ جلد ۲۷۶

۱۷۶۳۳ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ آکر کیا وجہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے اصحاب (حواری) پانی کے اوپر چلا کرتے تھے، جبکہ اصحاب محمد صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم میں یہ کیفیت نہیں پائی جاتی؟ " تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: " اس لئے کہ عیسیٰ علیہ السلام کے حواری فکر معاص سے بے نیاز تھی جبکہ اصحاب محمد کو فکر معاص دامن گیر تھی۔

تہذیب الاحکام جلد ۶ ۳۲۷

۱۷۶۳۴ خدا وند متعال نے حضرت داود علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی : "تم اچھے ضرور ہو لیکن کھانابیت المال سے کھاتے ہو اور اپنے ہاتھوں سے کما کر نہیں کھاتے"۔ اس پر حضرت داود علیہ السلام چالیس دن تک روتے رہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے لوہے کی طرف وحی کی "تو میرے بندے داود علیہ السلام کے لئے نرم ہو جا چنانچہ اللہ تعالیٰ نے داود علیہ السلام کے لئے لوہے کو نرم کر دیا، جس سے وہ روزانہ ایک زرہ تیار کر کے ایک ہزار درہم کے بدلے میں فروت کیا کرتے تھے چنانچہ انہوں نے تین سو ساٹھ زرہیں تیار کیں جس سے تین لاکھ ساٹھ ہزار درہم حاسل کئے اوتر بیت المال سے بے نیاز رہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) تصویر نور الثقلین جلد ۳ ۴۴۹

(امام جعفر صادق علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۴ ۱۳ من الحفرہ الفتیہ جلد ۳ ۹۹

اس کتاب میں "چالیس دن "کا ذکر نہیں ہے، تہذیب الاحکام جلد ۶ ۳۳۶

۱۷۶۳۵ ۔ حضرت داود علیہ السلام ایک موچی کے پاس سے گزر رہے تھے کہ فرمایا : اے فلاں! کماؤ اور کھاؤ‘ کیونکہ خدا وند عالم اس شخص کو پسند فرماتاہے جو کما کر کھاتا ہے او راسے پسند نہیں کرتا جو بن کمائے کھاتا ہے۔"

تنبیہ الخواطر ۳۵ ء

۱۷۶۳۶ ۔ تلاش معاش میں سستی کا مظاہرہ نہ کرو ، کیونکہ ہمارے بزرگ اس بارے میں بڑی دوڑ دھوپ سے کام لیتے اور روزی تلاش کرتے تھے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) من لا یحضرہ الفقیہ جلد ۳ ۹۵ ء

۱۷۶۳۷ ۔ محمد بن منکدر کہا کرتا تھا کہ میں سمجھتا تھا کہ امام زین العابدین علیہ السلام نے اپنے سے بہتر کوئی اولاد چھوڑی ہے، لیکن ایک مرتبہ میں نے ان کے فرزند امام محمد باقر علیہ السلام کو دیکھا ، او رچاہاکہ انہیں وعظ و نصیحت کروں، مگر الٹا انہوں نے مجھے وعظ و نصیحت کر ڈالی!"

ساتھیوں نے پوچھا :"وہ کیسے ؟"اس نے کہا:" ایک مرتبہ میں سخت گرمیوں کے موسم میں مدینہ کے اطراف میں گیا تو وہاں پر میں نے (امام) محمد باقر (علیہ السلام) کو دیکھ لیا ، وہ بھاری بھر کم حبشہ کے مالک تھے، اس وقت وہ اپنے غلاموں یا دو نوکروں کے کندھوں کا سہار ا لئے ہوئے تھے، میں نے دل میں کہا: سبحان اللہ ! قریش کے سرداروں میں سے ایک سردار اس قدر شدید گرمی میں اس حالت میں دنیا کی تلاش میں سرگرداں ہو! لہذا میں انہیں آج نصیحت کرتا ہوں‘

"چناچہ میں ان کے پاس گیا‘ ان پر سلام کیا ، انہوں نے سلام کا جواب دیا‘ وہ اس وقت نہر کے کنارے پسینے سے شرابور تھے۔ میں نے ان سے کہا: خدا آپ کا بھلا کرے قریش کا ایک سردار اس قدر سخت گرمی میں او ردنیا کی تلاش میں اس کی یہ کیفیت ہو!! کیا آپ نے یہ بھی سوچاہے کہ اگر آپ کو اس وقت اسی حالت میں موت آجائے تو آپ اس وقت کیا کریں گے؟"

یہ سن کر انہوں نے فرمایا: اگر مجھے اس حال او راس کیفیت میں موت آجائے تو مجھے خدا کی اطاعت پر ہی موت آئے گی‘ اس لئے کہ میں اپنے آپ کو اپنے اہل و عیال کو تجھ سے او ردوسرے لوگوں سے بے نیاز کر رہا ہوں۔ مجھے خطرہ تواس وقت لاحق ہوجب میں خد اکی نافر مانی کر رہا ہوں او رموت آجائے!!"

میں نے کہا: "آپ پر خد ارحم کرے‘ آپ نے سچ فرمایا ہے‘ میں چاہتاتھا کہ آپ کونصیحت کر وں‘ الٹا آپ نے مجھے نصیحت کر ڈالی"

(امام جعفر صادق علیہ السلام) تہذیب الاحکام جلد ۶ ۳۲۵ ء

۱۷۶۳۸ ۔ حسن بن علی بن ابی حمزہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوالحسن (حضرت موسیٰ کا ظم)علیہ السلام کو ز مین پر کام کرتے دیکھا، اس وقت آپ کے دونوں بازو پسینے سے شرابور تھے۔ میں عرض کیا: " آپ کے قربان جاؤں‘ (کام کرنے والے)لوگ کہاں ہیں کہ آپ خود یہ کام کر رہے ہیں؟"

امام علیہ السلام نے فرمایا: "علی! اپنے ہاتھوں سے وہ لوگ کام کر گئے ہیں جو روئے زمین پر مجھ سے او رمیرے والد سے بہتر تھے"۔ میں نے عرض کیا: "وہ کون لوگ تھے؟ " فرمایا: "حضرت رسول خدا علیہ السلام! حضرت امیر المومنین علیہ السلام اور میرے دیگر آباو اجداعلیہم السلام ان سے حضرات نے اپنے ہاتھوں سے کام کیا‘ اور ایسا کرنا انبیاء و مرسین او راللہ کے نیک بندوں کا طریق کار ہے"

من لایحضرہ الفقیہ جلد ۳ ۹۸ ء

۱۷۶۳۹ ۔ فضل بن ابی قرہ کہتے ہیں: ہم حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے او رآپ اس وقت اپنے گھر کی دیوار بنا رہے تھے۔ ہم نے عرض کیا: " خداکرے ہم آپ کے قربان جائیں‘ یہ کام ہمارے لئے رہنے دیجئے، اے ہم انجام دیں گے یا دوسرے جواب!"

امام علیہ السلام نے فرمایا: نہیں !مجھے ہی مشغول رہنے دو‘ میں چاہتا ہوں کہ خدا مجھے ا س حال میں دیکھے کہ میں اپنے ہاتھوں سے کمار ہا ہوں او رجان کو جو کھوں میں ڈال کر حلا ل کی کمائی کر رہا ہوں"

من لا یحضرہ الفقیہ جلد ۳ ۹۹ ء

۱۷۶۴۰ ۔ حضرت امیر المومنین علیہ السلام اپنی ضروریات کے پورا کرنے کے لئے سخت گرمی میں کام کرنے نکل جاتے۔ اور یہ چاہتے تھے کہ اللہ انہیں ا س حال میں دیکھے کہ رزق حلا ل کی تلاش میں جان کو جوکھوں میں ڈالے ہوئے ہیں۔

من لا یحضرہ الفقیہ جلد ۳ ۹۹ ء

۱۷۶۴۱ ۔ حضرت امیر المومنین علیہ السلام نے اپنے ہاتھوں کی پاک کمائی سے ایک ہزار غلام آزاد کرائے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) تہذیب الا حکام جلد ۶ ۳۲۶ ء

(قول موئف: ملا خطہ ہو :" باب رزق " "جو اپنے ہاتھوں کی محنت سے کھائے")

( ۵) مکرو ہ پیشے

۔ حضرت امام موسیٰ کا ظم علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا : "ایک شخص حضرت رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میں نے اپنے اس لڑکے کو لکھنا (پڑھنا) سکھا دیا ہے،اب اسے کس کے سپرد کروں؟"آپ نے فرمایا": خدا تمہارا بھلا کرے، اسے چاہے جس کے سپرد کرو نہ تو اسے "سیاء" (کفن فروش) کے سپرد کرنا اور نہ ہی ’صائغ" (زکرگر) "قصاب" (جانور ذبح کرنے والے) "حناط " گہوں فروش " اور نہ ہی "نخاس "(بردہ فروش ) کے سپرد کرنا۔"

اس نے پوچھا : یا رسول اللہ ! "سیاء "کون ہوتا ہے؟ "فرمایا": جو کفن بیچتاہے اور میری امت کے مرنے کی آرزو میں رہتا ہے ۔ حالانکہ میری امت کا ایک بھی مولود میرے لئے ان تمام چیزوں سے بڑھ کر عزیز ہے ج پر سورج طلوع کرتا ہے۔ "زرگر"میری امت کے غبی لوگوں کو فریب دیتا ہے۔ اور "قصاب" جانوروں کو قدر ذبح کرتا ہے کہ اس دل میں رحم نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہ جاتی "گندم فروش " میری امت کے کھانے کی اشیاء کو ذخیرہ کرتا ہے، حالانکہ بندہ اگر "چور" اللہ کے پیش ہو‘ میرے لئے اس کا چالیس دن کے ذخیرہ اندوز ہو کہ خد اکے پیش ہونے سے بہتر ہے۔ بردہ فروش کے بارے میں میرے پاس جبرائیل نے آکر مجھے بتایا: "یا محمد! آپ کی امت کے بدترین لوگ وہ ہیں جو فروشی کرتے ہیں"

مجار لانوار جلد ۱۰۳ ۷۷ ء من لا یحضرہ الفقیہ جلد ۳ ۹۶ ء

قول موئف : ملاخطہ ہو ، مجار الانوار جلد ۱۰۳ ۷۷ ء باب ۱۵

( ۶) کاروبار کے بارے میں متفرق احادیث

۱۷۶۴۳ ۔ محمد بن عذافر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں : "امام جعفر صادق علیہ السلام نے میرے والد کو ایک ہزار سات سو دنیار دےئے اور فرمایا کہ ان کے ذریعہ میرے لئے تجارے کرو"

پھر فرمایا: "یاد رکھو! مجھے اس کے منافع میں دلچسپی نہیں ہے اگر چہ منافع ایک پسندیدہ چیز ہے، لیکن میں چاہتا ہوں کہ مجھے اللہ اس کے فوائد کی طرف متوجہ دیکھے۔۔۔۔

تھذیب الاحکام جلد ۶ ۳۲۷ ء

۱۷۶۴۴ ۔ خوش نصیب اس شخص کے جس نے اپنے مقام پر فروتنی اختیار کی‘ جس کی کمائی پاک و پاکیزہ ‘ نیت نیک اور خصلت و عادت پسندیدہ رہی‘ جس نے اپنی ضرورت سے بچا ہوا مال خدا کی راہ میں خرچ کیا اور بیکار باتوں سے اپنی زبان کو روک لیا۔۔۔۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ حکمت ۱۲۳

۱۷۶۴۵ ۔ اے فرزند آدم! تو نے اپنی مقرر ہ خوراک سے زیادہ کمایا، اس میں تو دوسروں کا خزانچی (اور امین) ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار جلد ۷۳ ۱۴۴ ء

۱۷۶۴۶ ۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے پوچھا گیا : آخر کیا وجہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اصحاب (حواری ) پانی کے اوپر چلا کرتے تھے جبکہ اصحاب محمد میں ایسی کوئی بات نہیں ہے؟ آپ نے فرمایا:"اس لئے کہ اصحاب عیسیٰ علیہ السلامفکر و معاش سے بے نیاز تھے جبکہ اصحاب محمد کو معاش کی فکر دا منگیر رہتی تھی۔"

مجار الانوار جلد ۱۴ ۲۷۸ ء

۱۷۶۴۷ ۔ حرام کی کمائی آئندہ نسلوں میں بھی اثر انداز ہوتی ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۱۲ ۵۳ ء

۱۷۶۴۸ ۔ میری امت کے تاجر "لاوالتہ" (خدا کی قسم ) اور "بلی والثہ" (ہاں خدا کی قسم ) (یعنی سچی جھوٹی قسموں) کی وجہ سے گرفتار بلاہوں گے جبکہ صاحبان صنعت آج کل کہنے (جھوٹے وعدے) کرنے کی وجہ سے قابل گرفت ہوں گے۔

(حضرت رسول اکرم) من لا یحضرہ الفقیہ ۹۷ ء

( ۱) کاہلی

۱۷۶۴۹ ۔ لوگوں میں سب سے زیادہ ناپسند ، اللہ کو وہ بندہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اس کے نفس کے حوالے کر دیاہے ، اس طرح کہ وہ سیدھے راستے سے ہٹاہواور بغیر راہنما کے چلنے والا ہے۔ اگر اسے دنیا کی کھیتی (بونے) کے لئے بلایا جاتاہے تو سر گرمی دکھاتا ہے اور اگر آخرت کی کھیتی (بونے) کے لئے کہا جاتا ہے تو کاہلی برتنے لگتا ہے۔۔۔۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۰۳)

۱۷۶۵۰ ۔ کاہل انسان دین اور دنیا دونوں کو نقصان پہنچاتا ہے۔

(حضرت امام محمد باقر علیہ السلام )مجار الانوار جلد ۷۸ ۱۸ ء)

۱۷۶۵۱ ۔ جب چیزوں کو جوڑا جوڑا بنایا جا رہا تھا تو کاہلی کو عجز کا جوڑا قرار دیا گیا جن کے باہمی ملاپ سے فقر و تنگدستی نے جنم لیا۔

(حضرت علی علیہ السلام)مجار الانوار جلد ۷۸ ۵۹ ء۔ فروع کافی جلد ۵ ۷۶ ء)

اس کتاب میں ہے کہ "انہوں نے فقر کو جنم دیا"۔

۱۷۶۵۶ ۔ کامیابی کی آفت سستی و کاہلی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام)مجارالانوارجلد ۷۸ ۲۶ ء)

۱۷۶۵۳ ۔جو شخص اپنی طہارت (وضوو غسل) نیز نماز سے کاہلی کرتا ہے اس کے اضروی امور میں کوئی اچھائی نہیں ہوتی اور جو شخص اپنے معاشی میں سستی برتتا ہے اس کے لئے دینوی امور میں کوئی بہتری نہیں ہوتی۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) فروع کافی جلد ۵ ۸۵ ء)

(امام محمد باقر علیہ السلام) تنبیہ الخواطر ۲۵۵ ء)

۱۷۶۵۴ ۔میں اس شخص سے سخت ناراض ہوں جو اپنے دینوی امور میں کاہلی برتتا ہے کیونکہ جو اپنے دینوی امور میں کاہلی سے کام لیتا ہے وہ اخروی امور کے بارے میں تو او ربھی زیادہ کاہل ہوتا ہے۔

(امام محمد باقر علیہ السلام) فروع کافی جلد ۵ ۷۵ ء )

۱۷۶۵۵ ۔ مومن ان امور کی طرف راغب رہتا ہے جو باقی رہ جانے والے ہوتے ہیں اور ان سے رو گردان رہتا ہے جو فنا ہو جانے والے ہوتے ہیں۔۔۔۔سستی سے (کوسوں ) دور اور ہمیشہ خوش و خرم رہتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۸ ۲۶ ء)

۱۷۶۵۶ ۔ سستی او رچستی ہر حالت میں اعمال بجالاتے رہو۔

(حضرت علی علیہ السلام) غرر الحکم)

۱۷۶۵۷ ۔اگرثواب خد اکی طرف سے (ملنا) ہے (اور یقینا ملنا ہے) توپھر سستی کیسی؟

(امام جعفر صادق علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۳ ۱۵۹ ء)

۱۷۶۵۸ ۔ کاہل انسان سے مدد نہ مانگو او رعاجز شخص سے مشورہ طلب نہ کرو۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) فروع کافی جلد ۵ ۸۵ ء )

۱۷۶۵۹ ۔ اپنے امور میں کاہل شخص پر کبھی بھروسہ نہ کرو۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم)

۱۷۶۶۰ ۔ جو دائمی طور پر سست رہتا ہے وہ اپنی آرزوؤں میں ناکا م رہتا ہے،

(حضرت علی علیہ السلام)مستدرک اموسائل جلد ۲ ۴۲۲ ء ۔ غرر الحکم)

۱۷۶۶۱ ۔ سستی اعمال کی دشمن ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) فروع کافی جلد ۵ ۸۵ ء)

۱۷۶۶۲ ۔ کاہلی آخرت کو تباہ کر دیتی ہے،

(حضرت علی علیہ السلام) مستدرک اموسائل جلد ۲ ۴۲۲ ء

( ۲) سستی تنگدلی

۱۷۶۶۳ ۔یا علی علیہ السلام!۔۔۔ دو قسم کی عادتوں سے پرہیز کرو! ایک تو تنگدلی او ردوسری سستی ، کیونکہ اگر تنگدلی کا مظاہرہ کرو گے تو حق بات کو برداشت نہیں کر سکو گے او راگر سستی کا مظاہرہ کرو گے تو کوئی حق ادا نہیں کر پاؤ گے۔

(حضرت رسول اکرم) مجار الانوار جلد ۷۷ ۴۸ ء)

۱۷۶۶۴ ۔ دو قسم کی عادتوں سے بچا کرو م تنگدلی اور سستی سے کیونکہ اگر تنگدلی اختیار کروگے تو حق بات پر صبر نہیں کر سکو گے او راگر سستی کرو گے تو کوئی حق ادا نہیں کر پاؤ گے۔

(حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۳ ۱۵۹ ء۔ جلد ۷۲ ۱۹۲ ء)

۱۷۶۶۵ ۔ کاہلی اور تنگدلی سے اجتناب کرو کیونکہ اگر کاہلی اختیار کرو گے تو کوئی کام نہیں کر سکو گے او راگر تنگدلی اختیار کرو گے تو حق ادا نہیں کر پاؤ گے۔

(امام موسیٰ کاظم علیہ السلام) فروع کافی جلد ۵ ۸۵ ء)

۱۷۶۶۶ ۔ سستی او رتنگدلی سے دور رہو، اس لئے کہ یہ ہر برائی کی چابہ ہیں۔ جو سستی اختیا ر کرے گا وہ کسی قسم کا حق ادا نہیں کر پائے گا اور جو تنگدلی کا مظاہرہ کرے گا وہ سکی حق پر صبر نہیں کر سکے گا۔

(امام محمد باقر علیہ السلام)مجار الانوار جلد ۷۸ ۱۷۵ ء)

۱۷۶۶۷ ۔تنگدلی و سستی سے اجتناب کرو کیونکہ یہ دونوں تمہارے دینوی او راخروی حصوں کو روک دیتی ہیں۔

(حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام) مجار جلد ۷۸ ۳۲۱ ء۔ جلد ۶۹ ۳۹۵ ء۔)

۱۷۶۶۸ ۔ حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میرے والد بزرگوار (حضرت امام جعفر صادق ) علیہ السلام نے اپنے ایک فرزند سے فرمایا :"کاہلی و تنگدلی سے بچو! کیونکہ یہ دونوں تمہارے دینوی او راخروی حصے کو روک دیتی ہیں۔"

(فروع کافی جلد ۵ ۸۵ ء )

۱۷۶۶۹ ۔ سستی و کاہلی مظاہرہ ہر گز نہ کرو کیونکہ جو سستی کرتا ہے وہ خداوند سبحانہ تعالیٰ کے حق کو ادا نہیں کر سکتا،

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۳ ۱۵۹ ء)

۱۷۶۷۰ ۔ سستی نہ کرو ! کیونکہ تمہار ارب ! بڑا مہربان ہے وہ قلیل سی چیز پر راضی ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص خد اکی خوشنودی کی خاطر صرف دور رکعت نماز ادا کرتا ہے تو اللہ اسے بہشت میں بھیج دیتا ہے اور جو شخص اضائے الہٰی کے لئے درہم صدقہ دیتا ہے تو وہ اسے اس کے بدلے میں جنت میں داخل فرما دیتا ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۸۲ ۲۱۶ ء)

( ۳) کاہلی سے اجتناب کرو

۱۷۶۷۱ ۔ ایسی کاہلی سے پرہیز کرو جس میں تمہارے لئے کوئی عذر نہ ہو کیونکہ پشیمان لوگ ہی کاہلی میں پناہ لیتے ہیں۔

(امام محمد باقر علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۸ ۱۶۴ ء)

۱۷۶۷۲ ۔جو سستی کرتا ہے وہ اپنے حقوق کو ضائع کر دیتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار جلد ۷۳ ۱۶۰ ء ۔ نہج البلاغہ۔ شرح ابن ابی الحدید جلد ۱۸ ۹۰ ء )

۱۷۶۷۳ ۔ہلاکت و بربادی ،سستی اور عاجزی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام)مجار الانوار جلد ۷۱ ۳۴۲ ء)

۱۷۶۷۴ ۔کاہلی محرومیت کے اسباب میں سے ایک ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۷ ۲۰۸ ء)

۱۷۶۷۵ ۔ کاہلی ہی سے سستی جنم لیتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم)

۱۷۶۷۶ ۔ کاہلی سے مناسب موقع ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم)

۱۷۶۷۷ ۔ کاہلی ہی سے مقصد فوت ہو جاتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غرر الحکم)

۱۷۶۷۸ ۔ جو کاہلی اور خود پسندی کو ترک کر دے اس کو کسی قسم کی پریشانی نہیں ہوتی۔

(حضرت علی علیہ السلام) غرر الحکم)

۱۷۶۷۹ ۔ سستی بے وقوفوں کی عادت ہوتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غرر الحکم)

۱۷۶۸۰ ۔ جو کاہلی کی اطاعت کرتا ہے وہ اپنے حقوق لٹا بیٹھتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام)شرح نہج البلاغہ جلد ۱۸ ۹۰ ء )

۱۷۶۸۱ ۔ سستی و کاہلی کی اطاعت کرنے والا پشیمانی میں گھر جاتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غرر الحکم)

۱۷۶۸۲ ۔ عزم راسخ کے ساتھ سستی و کاہلی کو دور بھگاؤ۔

(حضرت علی علیہ السلام) غرر الحکم

( ۴) کاہل کی علامتیں

۱۷۶۸۳ ۔۔۔۔کاہل کی چار علامیتں ہیں: کوتاہی کی حد تک سستی کرتا ہے، ضائع کر دینے کی حد تک کوتاہی کرتا ہے، گناہ کی حد تک ضائع کرتا ہے او رتنگ دل ہو جاتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) تحف العقول ۲۳ ء)

۱۷۶۸۴ ۔حضرت لقمان نے اپنی فرزند سے فرمایا: "کاہل کی تین علامتیں ہیں: کوتاہی کی حد تک سستی کرتا ہے ‘ ضائع کر دینے کی حد تک کوتاہی کرتا ہے او رگناہ کی حد تک ضائع کر دیتا ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۳ ۱۵۹ ء )

۱۷۶۸۵ ۔ اعمال بجا لانے میں تاخیر سے کام لینا سستی و کاہلی کا سر نامہ ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غرر الحکم)

( ۵) کاہلی سے بچنے کی دعا

ٰٰ ۱۷۶۸۶ ۔ دعائیہ کلمات: خدایا ! ہم پر قلبی خوشگواری کے ساتھ احسان فرما او رہمیں تاخیر سے کام لینے ،سستی کرنے ،عاجز آجانے ، لیت ولعل سے کام لینے ، نقصان پہنچانے یا نقصان پہنچنے ، تنگدل ہونے او ررنج و حلال ۔۔۔۔ سے اپنی پناہ میں عطا فرما۔

(حضرت رسول اکرم) مجار الانوار جلد ۹۲ ۳۶۴ ء)

۱۷۶۸۷ ۔دعائیہ کلمات : خداوند ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں رنج و غم ، عاجزی ، کاہلی۔۔۔سے۔

(حضرت رسول اکرم) سنن نسائی جلد ۸ ۳۶۴ ء)

۱۷۶۸۸ ۔ایضاً دعائیہ کلمات : پروردگار ا! میر لئے ایسے قول و عمل کو محبوب قرار دے جنہیں تو پسند فرماتا ہے تا کہ میں ان میں لذت وکامرانی کے ساتھ داخل ہوجاؤں، خوشی خوشی ان سے باہر آؤں ‘ اور ان میں رہ کر تجھ سے اس طرح دعا مانگوں کہ مجھ پر تیری نظر کرم مستقل رہے۔۔۔

(امام زین العابدین علیہ السلام) مجار جلد ۹۵ ۲۹۸ ء)

۱۷۶۸۹ ۔ حضرت حجتہ بن الحسن عجل اللہ فرجہ کے لئے دعائیہ کلمات: خداوند ا ! تو ان کے بارے میں ہمیں اکتاہٹ ‘ کاہلی ‘ سستی او رکمزوری و بزدلی کا شکار ہونے سے بچائے رکھے او رہمیں ان لوگوں میں قرار دے جن سے تو دین کی نصرت کا کام لیتا ہے۔۔۔۔!

(امام رضا علیہ السلام)مجار جلد ۹۵ ۳۳۵ ء)

۱۷۶۹۰ ۔ دعائے مکارم الاخلاق سے اقتباس : پروردگار ا! مجھے اپنی عبادت کے سلسلے میں کاہلی کا اپنے راستے سے اندھے پن کا اور اپنی محبت کے بارے میں اس کے خلاف ہونے کا شکار ہونے سے بچائے۔۔۔۔!

(امام زین العابدین علیہ السلام) صحیفہ کاملہ دعا ۲۰)


فصل ۔ ۳۵

کفر

( ۱) کفر شرک سے بہت پہلے ہے

قرآن مجید:

( والذین کفروا اولیائهم--------------------------------الی الظلمات ) ۔ (بقرہ ۲۵۷)

ترجمہ۔۔۔اورجن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کے سر پرست سر کشی شیطان ہیں جو ان کو (ایمان کی)روشنی سے نکال کر کفر کی تاریکوں ڈال دیتے ہیں۔

( والذین کفروا------- سریع الحساب------ او کظلمت------ من نور ) ۔ (نور ۳۹ ۔ ۴۰)

ترجمہ۔ اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا ان کی کارستانیاں ایسی ہیں جیسے چیٹل میدان کا چمکتا ہو بالو اس کو دور سے تو پانی خیال کرتا ہے یہاں تک کہ جب اس کے پاس آیا تو کچھ بھی نہ پایا ۔ اور (پیاس سے تڑپ کر مر گیا) خدا کو اپنے پاس موجود پایا، اس نے اس کا حساب پورا پورا چکا دیا۔ او رخدا تو بہت جلد حساب کرنے والا ہے۔ یا ۔ کافروں (کے اعمال ) کی مثال اس بڑے گہرے دریا جیسی ہے ‘ جیسے ایک لہر کے اوپر دوسری لہر۔ اس کو اس (تہ تہہ ) ڈھانکے ہوئے ہو۔ (غرض) تاریکیاں ہیں کہ ایک کے اوپر ایک (امنڈی) چلی آتی ہیں ۔ اس طرح کہ اگر کوئی شخص اپنا ہاتھ نکلالے تو( شدت تاریکی سے)اے دیکھ نہ سکے۔ او رجسے خود خدا ہی نے ہدایت کی روشنی نہ دی ہو تو (سمجھ لو کہ ) اس کے لئے کہیں کوئی روشنی نہیں ہے۔

( ان تکفروا ---------------- ولا یرضی لعباده الکفر-------- ) (زمر ۷)

ترجمہ۔ اگر تم نے اس کی ناشکری کی تو (یاد رکھو کہ) خدا تم سے بالکل بے پروا ہے‘ وہ اپنے بندوں سے کفر اور ناشکری کو پسند نہیں فرماتا،

( وقال موسیٰ---------------------------------- لغنی حمید ) (ابراہیم ۸)

ترجمہ۔ اور موسی علیہ السلامنے اپنی قوم سے)کہ دیا تھا کہ اگر تم اور (تمہارے ساتھ) جتنے لوگ روئے زمین پر ہیں سب کے سب مل کر خد اکی نافرمانی کر یں تو (خدا کو ذرابھی پرواہ نہیں کیونکہ وہ تو) بالکل بے نیاز اور سزا دار حمد ہے۔

( ومن یکفر بالله ---------------------- ضلا لا مبنیا ) (نساء ۱۳۶)

ترجمہ۔ اور جو شخص خدا ‘ اس کے فرشتوں کی کتابوں ‘ اس کے رسولوں اور روز آخرت کا منکر ہو ا تو وہ راہ راست سے بھٹک کے بہت دور جا پڑا۔

حدیث شریف:

۱۷۶۹۱ ۔ ہر وہ چیز جسے انکار اور علم کے باوجود نافرمانی اپنی طر ف کھینچ لے جائے ،کفر ہے۔

(امام محمد باقر علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۲ ۳۸۷ ء)

۱۷۶۹۲ ۔ کفر کا مطلب ہے‘ ہر وہ معصیت جس کی وجہ سی خد اکی نافرمانی کی جائے‘چاہے وہ کسی بھی چھوٹے یا بڑے امر میں انکار اور علم کے باوجود نافرمانی ہو، یا اسے سبک سمجھا جائے، یا بے وقعت جانا جائے۔ اس کا انجام دینے والا کافر ہے۔۔۔۔

اگر وہ شخص اپنی خواہشات کی وجہ سے اسے انکار اور سبک سمجھنے کی بناء پر نافرمانی پر اتر آئے تو وہ کافر کہلائے گا۔ لیکن اگر اپنی نفسانی خواہشات کی بناء پر تاویل ، تقلید یا تسلیم و رضا کی بناپر اپنے اسلاف و آباد اجداد کے نقش قدم پرچل کسی چیز کو اپنا دین بنا لے تو وہ شرک ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد اول ۲۴ ء ۔ ۲۵ ء )

۱۷۶۹۳ ۔ نجدا کفر شرک سے زیادہ قدیمی ‘ زیادہ خبیث اور زیادہ سخت ہے۔ (پھرآپ نے اس موقع پر ابلیس کے کفر کا ذکرفرمایا جب خدا نے اسے سجدہ کرنے کا حکم دیا لیکن اس نے انکار کر دیا پھر فرمایا) کفر، شرک سے زیادہ سخت ہے کیونکہ جو شخص خد اکی مرضی پر اپنی مرضی کو ترجیح دیتا ہے ‘ اطاعت کا منکر ہو جاتا ہے گناہاں کبیرہ پر ڈٹا رہتا ہے وہ کافر ہے۔ اور جو شخص مئو منین کے معروف دین کے علاوہ از خود نیا دین قائم کرتا ہے، وہ شرک ہے۔

(امام محمد باقر علیہ السلام) کافی جلد ۲ ۳۸۴ ء)

۱۷۶۹۴ ۔ ابن صدقہ کہتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے کسی شخص نے سوال کیا کہ کفر پہلے ہے یا شرک ؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا:"کفر " شرک سے مقد م ہے، اس لئے کہ ابلیس نے سب سے پہلے کفر کیا۔ اس وقت اس کا کفر ، شرک نہیں تھا کیونکہ اس نے اس وقت غیر اللہ کی عبادت کی طرف دعوت نہیں دی تھی، بلکہ اس نے اس کے بعد غیر اللہ کی عبادت کی دعوت دی ا ور شرک ہو گیا،

(مجار الانوار جلد ۷۲ ۹۶ ء)

۱۷۶۹۵ ۔ موسیٰ بن بکر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام سے پوچھا کہ کفر و شرک میں سے کونسی چیز پہلے اور مقدم ہے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا: "تم مجھ سے یہ کیوں پوچھتے ہو؟ کیا اس لئے کہ لوگوں سے اس بارے میں خصومت کرو؟"میں نے عرض کیا:" مجھے ہشام بن سالم نے حکم دیا ہے کہ اس بارے میں آپ سے دریافت کروں!" امام علیہ السلام نے فرمایا: "(کفر شر ک پر) مقدم ہے اور وہ انکار کا نام ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کہ ابلیس کے بارے میں فرمایاہے "الا ابلیس ابی وا ستکبر وکان من للکافرین" مگر شیطان نے انکار کر کیا ‘ غرورمیں آگیا اورکافر ہو گیا (بقرہ ۳۴) ۔"

کافی جلد ۲ ۳۸۵ ء۔ مجار الانوار جلد ۷۲ ۹۷ ء اس کتاب میں "ہشام بن سالم" کی جگہ پر"ہشام بن حکم"کا نام ہے۔

۱۷۶۹۶ ۔ ہشیم تمیمی کہتے ہیں کہ امام جعفر صادق علیہ السلام نے (مجھ سے) فرمایا: "ہشیم تمیمی! کچھ لوگ ظاہری طورپر تو ایمان لے آئے لیکن باطنی طور پر کافر رہے پس ان کے ایمان نے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچایا۔ لیکن ان کے بعد کچھ اور لوگ آئے جو باطنی طور پر مومن تھے لیکن ظاہر میں کفر کا اظہار کرتے تھے۔ انہیں بھی کوئی فائدہ حاصل نہ ہوا ۔ لہذا ایمان وہی کا رآمد ہے جوظاہر میں باطن کے او ر باطن میں ظاہر کے ہم آہنگ ہو۔

(مجار الانوار جلد ۷۲ ۹۷ ء)

۱۷۶۹۷ ۔ حضرت امیر المومنین علیہ السلام جنگ کے موقع پر اپنے ساتھیوں سے فرماتے تھے:۔۔اس ذات کی قسم جس نے دانے کو شگافتہ کیا اور جاندار چیزوں کو پیدا کیا‘ یہ لوگ اسلام نہیں لائے تھے بلکہ انہوں نے اطاعت کر لی تھی‘ او ردلوں میں کفر کو چھپائے رکھا تھا۔ اب جبکہ انہیں یارو مددگار مل گئے تو اسے ظاہر کر دیا"

البلاغہ مکتوب ۱۶

( ۲) کفر کا موجب بننے والی چیزیں

۱۷۶۹۸ ۔ خداوند عزّو جّل اپنے بندوں پر کچھ فریضے عائد کئے ہیں ۔ پس جو شخص ان فریضوں میں سے کسی ایک کو ترک کر کے اس پر عمل پیرانہ ہو او ر اس کا انکار کر دے تو وہ کافر ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) کافی جلد ۲ ۳۸۳ ء)

۱۷۶۹۹ ۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کے بارے میں شک کرے وہ کافر ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) کافی جلد ۲ ۳۸۶ ء)

۱۷۷۰۰ ۔ منصور بن حازم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا کہ جو شخص حضرت رسول خدا کے بارے میں شک کرے (اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟) "آپ نے فرمایا:"وہ کافر ہے! " میں نے پھر سوال کیا: "جو شخص اس کافر کے کفر میں شک کرے کیا وہ بھی کافر ہے" اس پر آپ خاموش ہو گئے۔ میں نے یہ سوال تین مرتبہ دہرایاتو آپ کے چہرے پر غضب کے آثار نمایاں دیکھے۔

کافی جلد ۲ ۳۸۷ ء

۱۷۷۰۱ ۔ محمد بن مسلم کہتے ہیں کہ میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کے بائیں طرف اور زرارہ آپ کے دائیں طرف بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ابو بصر آن پہنچے۔ انہوں نے آتے ہی امام علیہ السلام سے پوچھا: "یا ابا عبدعلیہ السلاماللہ ! آپ اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جو خدا کے بارے میں شک کرے؟ "امام علیہ السلام نے فرمایا: "ابو محمد ! وہ شخص کافر ہے ! "انہوں نے پھر پوچھا: جو شخص رسول خد ا کے بارے میں شک کرے اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟"فرمایا : " وہ بھی کافر ہے! پھر آپ زرارہ کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا: کافر اس وقت ہو گا جب وہ ان کا انکار کرے گا"

کافی جلد ۲ ۳۹۹ ء

۱۷۷۰۲ ۔ ہر وہ چیز جسے اقرار و تسلیم اپنی طرف کھینچ کر لے جائے وہ "ایمان " ہے اور ہر وہ چیز جسے انکار اور نافرمانی اپنی طر ف کھینچ کر لے جائے وہ "کفر " ہے۔

(امام محمد باقر علیہ السلام) کافی جلد ۲ ۳۸۷ ء)

"اگر خدا کے بندے کسی بات سے جاہل ہوں ‘ اسی حد پر رکے رہیں اور انکار نہ کریں تو کافر نہیں ہوں گے"۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) کافی جلد ۲ ۳۸۸ ء)

۱۷۷۰۳ ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب ستارے کو دیکھ کر فرمایاتھا کہ یہ میرا رب ہے؟ کے بارے میں فرمایا: حضرت ابراہیم علیہ السلام رب کے متلاشی تھے او ریہ چیز کفر کی حد تک نہیں جاتی۔ یہ صرف ایک فکر کی حد تک تھی۔

(حضرت امام محمد باقر یا حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۱۱ ۸۷ ء)

(قول موئف : ملاخطہ ہو : باب "مرتد"" کفر کے موجبات"

نیز: باب"شبہہ" "شبہ کے وقت رک جاؤ)

( ۳) کافر

قرآن مجید:

( والکفرون هم الظٰلمون ) ۔ (بقرہ / ۲۵۴)

ترجمہ۔۔ اور کفر کرنے والے ہی تو ظالم ہوتے ہیں۔

( والله لا یهدی القوم الکٰفرین ) ۔ (بقرہ/ ۲۶۴)

ترجمہ۔۔ اور خدا کافر لوگوں کی ہدایت نہیں فرماتا۔

( ویجحد بٰایٰتنا الاا لکٰفرون ) ۔ (عنکبوت/ ۴۷)

ترجمہ۔۔ اور ہماری آیتوں کا تو بس کافر ہی انکار کرتے ہیں۔

( ویجحد بٰایٰتناالاالظمون ) ۔ (عنکبوت/ ۴۹)

ترجمہ۔۔ اور سرکشوں کے علاوہ ہماری آیتوں سے کوئی انکار نہیں کرتا۔

( انه لا یفلح الکفرون ) ۔ (مومنون/ ۱۱۷)

ترجمہ۔۔ یقینا کفار ہر گز فلاح پانے والے نہیں۔

( وان جهنم لمحیطته بالکٰفرین ) ۔ (عنکبوت/ ۵۴)

ترجمہ۔۔ اور یقینی بات ہے کہ دوزخ کا فروں کو گھیر ے ہوئے ہے۔

( والذین کفروا یتمتعون ویاکلون کما تاکل الانعام والنار مثوی لهم ) ۔ (محمد/ ۱۲)

ترجمہ۔۔ اور جو کافر ہیں وہ دنیا میں چین کرتے ہیں او راس طرح (بے فکری سے) کھاتے (پیتے) ہیں جیسے چار پائے کھاتے (پیتے) ہیں۔ (آخر) ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔

حدیث شریف:

۱۷۷۰۴ ۔ محمد بن مسلم کہتے ہیں : "میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے سورہ قلم / ۱۳

عتل بعد ذلک زینم " یعنی اور اس کے علاوہ بدذات (حرام زادہ ) بھی ہے‘ کے متعلق سوال کیاکہ اس سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا"عتل سے مراد بہت بڑے کفر کا حامل ہے اور" زینم" سے مراد کفر کا دلدار ہ و فریضتہ ہے۔"

(مجار الانوار جلد ۷۲ ۹۷ ء)

۱۷۷۰۵ ۔ دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لئے بہشت ہے۔

(حضرت رسول اکرم) اے مسلم، ترمذی، ابن ماجہ اور احمد بن حنبل نے بھی روایت کیا ہے۔ المعجم

۱۷۷۰۶ ۔ کافر کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ دنیا اس کے لئے بہشت ہوتی ہے، اس کی ساری کوششیں دنیا کے لئے ہوتی ہیں، موت اس کے لئے بد بختی ہوتی ہے او رجہنم اس کی منزل مقصود ہوتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم)

۱۷۷۰۷ ۔ کافر دغا باز ،حیلہ گر ، جفا کار اور بددیانت ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غرر الحکم)

۱۷۷۰۸ ۔ کافردغاباز پست فطرت ، بددیانت اپنی جہالت کا فریب خوردہ اور نقصان اٹھانے والا ہو تاہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غرر الحکم)

۱۷۷۰۹ ۔ کافر کی تمام کوششیں دنیا کے واسطے، اس کی تمام دوڑ دھوپ چند روزہ دینوی امور کے لئے ہو اور اس کی منزل مقصود خواہشات نفسانی کی تکمیل ہوتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غرر الحکم

۱۷۷۱۰ ۔ کافر جاہل اور (فاسق و )فاجر ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام ) غرر الحکم

۱۷۷۱۱ ۔ کوئی کافر اس وقت تک کافر نہیں ہوتا جب تک وہ جاہل نہ ہو، (گویا جہالت ،کفر کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ مترجم)

(حضرت علی علیہ السلام) غرر الحکم

(قول موئف : ملا خطہ ہو باب "امثال" کافر کی مثال"

نیز : باب "موت" "کافر کی موت"

نیز: باب "دنیا" "دنیا مومن کے لئے قید خانہ ہے:"

( ۴) کفر کا کمتر درجہ

۱۷۷۱۲ ۔ کفر کا کمتر درجہ یہ ہے کہ انسان اپنے (مومن )بھائی سے کوئی بات سنے اور اسے اس مقصد کے لئے یاد رکھے کسی موقع پر اسے اس بات کی وجہ سے رسوا کرے گا۔ ایسے لوگوں کے لئے (دین اسلام میں) کوئی حصہ نہیں ہے۔

(حضرت رسول اکرم) مجار الانوار جلد ۷۸ ۲۷۶ ء )

۱۷۷۱۳ ۔ بندہ اس وقت کفر کے زیادہ نزدیک ہوتا ہے جب وہ کسی شخص سے دین کے نام پر دوستی کرے او راس کی خطاؤں و نفزشوں کو اس لئے جمع کرتا رہے کہ کسی دن اس کے منہ پر مارے گا۔

(امام محمد باقر علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۵ ۲۱۵ ء )

۱۷۷۱۴ ۔ سب سے ادنیٰ بات جس سے انسان کافر ہو جاتا ہے یہ ہے کہ کسی چیز کو بزعم خود دین سمجھ کر اپنا لے خدا کی نہی کو سمجھ لے‘ اپنا نصیب العین قرار دے کر اپنے آپ کو بری اوزمہ سمجھتا رہے اور اسکا گمان یہ ہو کہ خد اکے امر کو امر سمجھ کر اس کی عبادت کر رہا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) مستدرک الوسائل جلد اول ۶ ء)

۱۷۷۱۵ ۔ سب سے ادنیٰ بات بندہ جس سے کافر ہو جاتا ہے‘ یہ ہے کہ جس چیز سے خد انے نہی کی ہے وہ سمجھتا ہے کہ خدا نے اس کا حکم دیا ہے دین سمجھ کر اپنا نصب العین قرار دے دیتا ہے اس پر کار بند رہتا ہے اور ا س کا گمان یہ ہوتا ہے کہ جو عبادت کر رہا ہے، خدانے اس کا حکم دیا ہے ‘ حالانکہ وہ (خداوند رحمن کی نہیں بلکہ) مردود شیطان کی عبادت کر رہا ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام)کافی جلد ۲ ۴۱۵ ء )

۱۷۷۱۶ ۔ حبیب حکیم کہتے ہیں :"میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا : (کفرو) الحاد کا کمترین درجہ کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: "وہ تکبر ہے"

(معانی الاخبار ۲۷۵ ء)

۱۷۷۱۷ ۔ یزید صائغ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا: "ایک شخص کی حالت یہ ہے کہ بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے‘ وعدہ کرتا ہے تووعدہ خلافی سے کام لیتا ہے اور اگر امانت اس کے سپرد کی جاتی ہے تو خیانت کرتا ہے ‘ (اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟) "آپ نے فرمایا : " کفر کے ادنیٰ مرتبہ میں شمار ہوتا ہے لیکن کافر نہیں ہوتا ۔"

(مجار الانوار جلد ۷۲ ۱۰۶ ء۔ کافی جلد ۲ ۲۹۰ ء)

قول موئف : ملاخطہ ہو باب: "ایمان" "وہ ادنیٰ چیز جس سے انسان دائرہ ایمان سے خارج ہو جاتا ہے‘

نیز : باب "شرک " "ادنیٰ شرک"

نیز: عنوان" بذعت"

( ۵) کفر کے ارکان و ستون

۱۷۷۱۸ ۔ کفر کے چار ستوں نوپر قائم ہے: حد سے بڑھی ہوئی کاوش ، جھگڑا لوپن ،کجروی او راختلاف۔ شخص حوالے جا تعمق و کاوش کرتا ہے وہ حق کی طرف رجوع نہیں کرپاتا ، جو جہالت کی وجہ سے آئے دن جھگڑا کرتا ہے وہ حق سے ہمیشہ نابینا رہتا ہے،حق سے منہ موڑ لیتا ہے وہ اچھائی کو برائی اور برائی کو اچھائی سمجھنے لگتا ہے، گمراہی کے نشے میں مدہوش پڑارہتا ہے۔ اور جو حق کی خلاف ورزی کرتا ہے اس کے راستے بہت دشوار اور اس کے لیے معاملات سخت پیچیدہ ہو جاتے ہیں جن میں بچ کر نکلنے کی راہ اس کے لئے تنگ ہو جاتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام)شرح ابن ابی الحدید جلد ۱۸ ۱۴۲ ء۔ نہج البلاغہ حکمت ۳۱)

۱۷۷۱۹ ۔ کفر چار ستونوں پر قائم ہے: فق و فجور‘سرکشی اور شکوک و شبہات ۔۔۔

(حضرت علی علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۲ ۹۰ ء ۱۲۲ ء ۱۱۷ ء )

کتاب میں ہے: کفر کی بنیاد چار ستونوں پر قائم ہے، فسق ، غلو۔۔۔۔کافی جلد ۲ ۳۹۱ ء

۱۷۷۲۰ ۔ کفر کی بنیاد چار ستونو ں پر قائم ہے: جفا کاری ‘ اندھا پن‘ غفلت اور شک۔ پس جو جفا کرتا ہے وہ حق کو حقیر سمجھتا ہے باطل کو ظاہر کرتا ہے ، علماء کو غضبناک کرتا اور عظیم گناہوں پر مصرا ہتا ہے۔

جو شخص اندھا پن اختیار کر لیتا ہے وہ ذکر (خدا) کو بھول جاتا ہے‘ امیدوں و آرزووں کے دھوکے میں پڑ جاتا ہے‘ حسرت و ندامت و پشیمانی کے گھیرے میں آجاتا ہے اور اس کے لئے خداوند عالم کی طرف سے ایسی باتیں ظاہر ہونے لگتی ہیں جن کا اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔

جو شخص خدائی امر میں سر کشی پر اتر آتا ہے تو وہ اس میں شک کرنے لگتا ہے، اور جو اس میں شک کرنے لگتا ہے ‘ خدا کے آگے خم ٹھونک کر آجاتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ خدا اسے اپنی قدرت و طاقت کے ذریعے ذلیل و حقیر فرما دیتا ہے۔ اور اپنے جلال و جرت کے ذریعے اسے پست کر دیتا ہے۔ جیسا کہ اس نے خدائی امور میں کوتاہی ہوتی ہے۔ پس وہ اپنے کریم رب کے کرم کی وجہ سے د ھوکہ کھا جاتا ہے۔۔۔

(حضرت رسول اکرم ) کنز العمال حدیث ۴۴۲۱۶)

۱۷۷۲۱ ۔ نافرمانی کے تین اصول ہیں: حرص ، تکبر اور حسد۔ چناچہ حرص کا کارنامہ یہ ہوتا ہے کہ آدم علیہ السلام درخت کے قریب جانے سے روکے جانے کے باوجود انہوں نے اس سے کھا لیا تھا، یہ حرص ہی کا شافسانہ تھاکہ آدم علیہ السلام کو اس بات پر آمادہ کیا،تکبر کا کارنامہ یہ ہوتا ہے کہ ابلیس کو سجدہ کا حکم دیا گیا لیکن تکبر نے اسے سجدہ کرنے سے روک دیا۔ تکبر کا شافسانہ تھا کہ اس نے سجدہ سے انکارکیا۔ حسد کا کارنامہ یہ ہوتا ہے کہ آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کردیا۔ یہ حسد کا تھا جس نے اسے اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کیا۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۲ ۱۰۴ ء ۱۲۱ ء)

۱۷۷۲۲ ۔ کفر کے ستون چار ہیں: رغبت ،خوف ،ناراضی اور غلیظ و غضب۔

(حضرت رسول اکرم) مجار الانوار جلد ۷۲ ۱۰۴ ء باب ۹۹

نیز :باب "نفاق" "نفاق کے ستون"۔)

نیز : باب "حسد "حسد اور کفر")

( ۶) قرآن مجید میں کفر کی اقسام

۱۷۷۲۳ ۔ ابن عمرو صبری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت مام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں عرض کیا کہ آپ مجھے قرآن مجید کی رو سے کفر کے اقسام سے آگاہ فرمائیں، تو آپ نے فرمایا: "کتاب خد امیں کفر کی پانچ قسمیں بتائی گئی ہیں ، جن میں سے ایک "کفر جحود" ہے او ر"حجود " کی دو صورتیں ہیں‘ ایک تو وہ کہ جن چیزوں کے بجا لانے کا اللہ نے حکم دیا ہے انہیں شرک کیا جائے اور ایک برائت اختیار کر کے کفر کیا جائے۔

دوسری قسم "نعمتوں کا کفر (کفران) نعمت)

پھر"کفر حجود" یہ ہے کہ خدا کی ربوبیت کا انکار کیا جائے، جیسا کہ کوئی کہتا ہے کہ نہ کوئی رب (خدا )ہے او رنہ کوئی جنت و دوزخ ہے۔ یہ قول زندیقوں کی دو قسموں کا ہے جنہیں "دہریہ" کہا جاتا ہے، جو اس بات کے قائل ہیں کہ "وما یھلکنا الا الدھر"یعنی ہم کو تو بس زمانہ ہی مارتا (اور جلاتا)ہے ۔ (جائیہ / ۲۳) ان لوگوں نے اپنے لئے ایک نیا دین گھڑلیا ہے۔ جس کو نہ تو کوئی پہلے سے کوئی مثال ملتی ہے اور نہ ہی کسی تحقیق پر مبنی ہے اسی لئے خداوند عالم فرماتا ہے " ان ھم الایظنون" (یہ صرف اٹکل پچو سے کام لیتے ہیں او راسے ہی صحیح سمجھتے ہیں۔)

ایسے ہی لوگوں کے بارے میں خد افرماتا ہے: "ان الذین کفروا سواء علیہم ء انذرتھم ام لم تنذرھم لا ےؤمنون"ان کے لیے برابر ہے (اے رسول خدا ) خواہ تم انہیں ڈراؤ یا نہ ڈراؤ ۔ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ (بقرہ / ۶) یعنی وہ خدا کی توحید پر ایمان نہیں لائیں گے۔

کفر کی ایک قسم "معرفت کے باوجود انکار " ہے۔ اور وہ یہ ہوتا ہے کہ انسان سمجھتا ہے کہ کاایک بات حق ہے او راسے اس کے برحق ہونے کا یقین بھی ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود اس کا انکار کر دیتا ہے جیس کہ خدا وند عالم فرماتا ہے :"وجد ا بھا وا ستیقنتھا انفسھم ظلما و علوا" اور باوجود یکہ ان کے دل کو ان (معجزات کی) باتوں کا یقین تھا پھر بھی ان لوگوں نے سرکشی اور تکبر سے ان کو نہ مانا۔ (غسل/ ۱۴) یہ بھی فرماتا ہے : "وکانو من قبل یستفتحون علی الذین کفروافلما جاء ھم ماعر فو اکفرو بہ فلعنتہ اللہ علی الکفرین" اور اس سے پہلے وہ کافروں پر منتحیاب ہونے کی دعا ئیں مانگتے تھے، پس جب ان کے پاس وہ چیز آگئی جسے وہ پہچانتے تھے تو لگے انکار کرنے، پس کافروں پر خدا کی لعنت ہے(بقرہ/ ۸۹) تو یہ ہے "کفر حجود" کے دونوں اقسام کی تفسیر۔

کفر کی تیسری قسم" کفر نعم" (کفرا ن نعمت) ہے۔ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ حضرت سلیمان علیہ السلام کی زبانی قرآن مجید میں فرماتا ہے: "ھذا من فضل ربی یسلونیء اشکرام اکفرومن شکر فا نما یشکر لنفسہ ومن کفر فان ربی غنی کریم" یہ تو محض میرے پروردگار کا فضل و کرم ہے کہ وہ میرا امتحان لے کہ میں اس کا شکر کرتا ہوں یا نا شکری! اور جوکوئی شکر کرتا ہے تو وہ اپنی ہی بھلائی کے لئے شکر کرتا ہے ، وہ جو ناشکری کرتا ہے تو (اسے معلوم ہونا چاہئے کہ) میرا پروردگار یقینا بے پروا اور سخی ہے (غل/ ۴۰) ایک او رمقام پر فرماتا ہے : "( لئن شکر تم لا زیدنکم ولئن کفر تم ان عذابی لشدید ) ۔" اگر تم میرا شکر کرو گے تو میں یقینا تم پر (نعمتوں کا) اضافہ کروں گا، اور اگر تم نے ناشکری کی تو یاد رکھو کہ میرا عذاب یقینا سخت ہے۔ (ابراہیم/ ۷) نیز فرماتا ہے"فاذ کرونی اذ کر کم واشکر والی ولا تکفرون" پس تم مجھے یاد رکھو تو میں بھی تمہیں یاد رکھوں گا، میرا شکر ادا کرتے رہو اور ناشکری نہ کرو(بقرہ/ ۱۵۲) یہ ہے کفر ان نعمت یا نعمتوں کی نا شکری۔

کفر کی چوتھی صورت یہ ہے کہ خد اکا حکم کردہ چیزوں کو ترک کر دیا جائے جیسا کہ خد اوند عالم فرماتا ہے:"( واذ اخذ میثاقکم---------------- فما جزاء من یفصل ذٰلک منکم ) اور وہ وقت یاد کرو جب ہم نے تم سے عہد لیا تھا کہ آپس میں خونریریاں نہ کرنا نہ اپنے لوگوں کو شہر بدر کرنا ، تو تم نے ( میثاق کا) اقرار کیا تھا اور تم اس بات کی گواہی بھی دیتے ہو۔ پھر تم وہی لوگ تو ہو جو آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرتے ہو۔ او راپنوں میں سے ایک گروہ کے ناحق و زبردستی حمایتی بن کر دوسرے کو شہر بدر کرتے ہو۔

پھر اگر وہی لوگ قیدی بن کر تمہارے پاس(مدد مانگنے) آئیں تو ان کو تاوان دے کر چھڑا لیتے ہو۔ حالانکہ ان کا نکالنا ہی تم پر حرام کیا گیاتھا۔ تم کتاب خد اکی بعض باتوں پر ایمان رکھتے ہو او ربعض سے انکار کرتے ہو؟۔۔۔۔(بقرہ/ ۸۵) ا س آیت کی رو سے اللہ تعالیٰ نے انہیں امر کردہ چیزوں کے ترک کرنے کی وجہ سے کافر قرار دیا ہے۔ ان کو ایمان کی طرف تو منسوب کیا لیکن ان سے اس قسم کے ایمان کو قبول نہیں فرمایانہ ہی اس قسم کا ایمان انہیں کوئی فائد ہ دیتا ہے ، اس لئے تو فرمایا ہے( :"فما جز ا من یفصل ---- عما تعملون ) پس تم میں سے جو لوگ ایسا کریں گے ان کی سزا اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ زندگی بھر کی رسوائی ہو‘ پھر (آخر کار ) قیامت کے دن بڑے سخت عذاب کی طرف لوٹا دےئے جائیں، اور جو کچھ تم لوگ کرتے ہو خدا اس سے غافل نہیں ہے۔ (بقرہ/ ۸۵)

کفر کی پانچویں قسم "کفر برائت" ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی زبانی یبان فرمایا ہے :( کفرنا بکم … بالله وحده ) ہمارے درمیان کھلم کھلا عداوت اور دشمنی پیدا ہو گئی ہے جب تک تم یکتا خدا پر ایمان نہ لاؤ (متحنہ/ ۴) یہاں پر"کفر نا" سے مراد "بہترانا" ہے یعنی ہم تم سے الگ اور جدا ہیں۔

ایک اور مقام پر قیامت کے دن ابلیس او راس کے انسانی دوستوں سے "تبرا" و "بیزاری" کر ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے:( انی کفرت بما اشر کتمون من قبل ) میں اس سے پہلے ہی بیزار ہوں کہ تم نے مجھے خدا کا شریک بنایا (ابراہیم/ ۲۲) نیز اسی سلسلے میں فرماتا ہے: "( وقال انما اتخذ تم من دون الله او ثانا---- ویلعن بعضکم بعضا ) اور ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم سے کہا: تم لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر بتوں کو صرف دینوی زندگی میں باہم محبت کرنے کی وجہ سے (خدا ) بنا رکھا ہے، پھر قیامت کے دن تم میں سے ایک دوسرے کا انکار کرے گا بزاری اختیار لگا اور ایک دوسرے پر لعنت لگا (عنکبوت/ ۲۵) ۔ یہاں "یکفر" کے معنی ہیں"یتبر" (بزاری اور تبرا کرفا)۔

اصول کافی جلد ۲ ص ۳۸۹ تا ۳۹۱

(قول موئف: ملا خطہ ہو: مجار الانوار جلد ۹۳ ص ۲۱ جلد ۷۲ ص ۱۰۰ مستدرک الوسائل جلد ۱ ص ۵ ۔


فصل ۔ ۳۶

( ۱) کفّارہ

۱۷۷۲۴ ۔ تین چیزیں (گناہوں کا) کفارہ ہوا کرتی ہیں ۱ ۔ اسلام کا عام کرنا ۲ ۔ (لوگوں کو) کھانا کھلانا اور ۳ ۔ جب لوگ رات کو محورام ہوں تو نماز تہجد کا ادا کرنا۔

(حضرت رسول اکرم) مجار الانوار جلد ۷۷ ص ۵۲)

۱۷۷۲۵ ۔ صاحبان۔ اقتدار کے اقتدار کا کفارہ ، بھائیوں کے ساتھ نیک سلوک کرنا ہے۔

(حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۷۸ ص ۲۰۶)

۱۷۷۲۶ ۔ مظلوم کی داد رسی اور ستمر رسیدہ سے ظلم کا دفعیہ بڑے گناہوں کا کفارہ ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) شرح ابن الحدید جلد ۱۸ ص ۱۳۵)

صفحہ نمبر ۳۵۱ اور ۳۵۲ ؟

۱۷۷۲۷ ۔ انسان کا اپنے اہل وعیال کی خدمت کو عیب نہ سمجھنا اس کے گناہان کبیرہ کا کفارہ ہوتا ہے اور رب العالمین کے غضب کو ٹھنڈا کر دیتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۱۰۴ ص ۱۳۲)

۱۷۷۲۸ ۔ کسی کی غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ تم اس شخص کے لئے طلبِ مغفرت کرو جس کی تم نے غیبت کی ہے۔

(حضرت رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۹۳ ص ۲۸۳

۱۷۷۲۹ ۔ حضرت رسول خدا صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کسی کی غیبت کا کفارہ کیا ہوتا ہے؟ آپ نے فرمایا: "تم نے جس انداز میں اس کی غیبت کی ہے اسی انداز میں اس کے لئے طلب مغفرت کرو"

۱۷۷۳۰ ۔ جو کسی پر ظلم کرے اور اس کی تلافی کا موقع اس کے ہاتھ سے نکل جائے تو اسے چاہئے کہ اس کے لئے طلب مغفرت کرے یہی اس بات کا کفارہ ہے۔

(حضرت رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۹۳ ص ۲۸۳

۱۷۷۳۱ ۔ موت مومنین کے لئے ان کے گناہوں کا کفارہ ہوتی ہے۔

(حضرت رسول اکرم) مجار جلد ۸۲ جلد ۱۷۸ ، جلد ۶ ص ۱۵۱

۱۷۷۳۲ ۔ ناگوار حالات میں بھی مکمل طور پر وضو کرنا گناہوں کے کفارہ میں شمار ہوتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) مجارالانوار جلد ۸۳ ص ۳۷۰

۱۷۷۳۳ ۔ موذن کی اذان (کے جملوں) کا جواب دینا گناہوں کا کفارہ ہے۔

(حضرت رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۸۴ ص ۲۸۳

۱۷۷۳۴ ۔ جو شخص (نماز) مغرب کے لئے وضو کرتا ہے تو اس کی یہ وضو اس کے لئے اس رات کے گناہوں کا کفارہ ہوتی ہے، سوائے گناہان کبیرہ کے۔

(امام موسیٰ کاظلم علیہ السلام) مجار الانوار جلد ۸۰ ص ۲۳۱

۱۷۷۳۵ ۔ ایک رات کا بخار (گناہوں کا) کفارہ ہوتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) مجار جلد ۸۱ ص ۱۸۶

۱۷۷۳۶ ۔ صاحبانِ اقتدار کے کاموں کا کفارہ بھائیوں کی حاجت روائی ہوتا ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۱۵ ص ۵۸۴ من لا یحضرہ الفقیہ جلد ۳ ص ۲۳۷

۱۷۷۳۷ ۔ ہنسنے کا کفارہ یہ ہے کہ یوں دعا مانگی جائے "اللھم لا تمقتنی" خدایا! مجھ سے ناراض نہ ہونا۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۱۵ ص ۵۸۴

۱۷۷۳۸ ۔ بدشگونی کا کفارہ یہ ہے کہ خدا پر توکل (کرکے کام کو انجام دے دیا) جائے۔

(حضرت رسول اکرم) وسائل الشیعہ جلد ۱۵ ص ۵۸۴

۱۷۷۳۹ ۔ ابو برزہ اسلمی کہتے ہیں کہ جناب رسول خدا صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی مجلس (یا محفل) سے اٹھنے کا ارادہ کرتے تو آخر میں یہی کہتے "( سبحانک اللهم… ) خدایا تو پاک و منزہ ہے اور میں تیری حمد کرتا ہوں۔ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تجھ سے ہی مغفرت طلب کرتا ہوں، اور تیری طرف ہی رجوع کرتا ہوں۔

اس پر کسی شخص نے عرض کیا: "آپ نے ایسی بات کہی ہے جو پہلے کبھی نہیں کہی تھی!" آپ نے فرمایا: "یہ بات مجلس (یا محفل) کا کفارہ ہوتی ہے۔"

سنن الجاداود جلد ۴ ص ۲۶۵

۱۷۷۴۰ ۔ مجالسِ کا کفارہ یہ ہے کہ اٹھتے وقت کہو،"سبحان ربک العزة عما یصغون وسلام علی المرسلین و الحمدلله رب العالمین

(امام جعفر صادقعلیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۱۵ ص ۵۸۵ ۔ من لا یحضرہ الفقیہ جلد ۳ ص ۲۳۸

۱۷۷۴۱ ۔ گناہ کا کفارہ اس پر ندامت و پشیمانی ہے،

(حضرت رسول اکرم) اسے احمد ابن حنبل نے بھی روایت کیا ہے، المعجم

۱۷۷۴۲ ۔ جو شخص علم کی تلاش میں نکلتا ہے یہ اس کے گزشتہ گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) اسے ترمذی اور دارمی نے بھی روایت کیا ہے۔ المعجم

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو: باب "مجلس"، "اٹھتے وقت خدا کی یاد"

۱۷۷۴۳ ۔ مسلمان کو جو بیماری یا تکلیف ہوتی ہے تو یہ اس کے گناہوں کا کفارہ ہوتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) اسے احمد بن حنبل نے بھی روایت کیا ہے۔ المعجم

۱۷۷۴۴ ۔ ناگوار حالات میں بھی مکمل طور پر وضو کی بجاآوری،خطاؤں کا کفارہ ہوتی ہے۔

(حضرت رسول اکرم) اسے ابن ماجہ نے بھی روایت کیا ہے، المعجم

( ۲) ایسا گناہ جس کا کوئی کفارہ نہیں

قرآن مجید

( ومن عاد فینتهم الله منه والله عزیز ذوانتقام ) ۔ (مائدہ/ ۹۰)

ترجمہ۔ اور جو پھر ایسی حرکت کرے گا تو خدا اس کی سزا دے گا، اور خدا زبردست بدلہ لینے والا ہے۔

حدیث شریف

۱۷۷۴۵ ۔ حلبی نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا جو احرام کی حالت میں شکار کرتا ہے۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: "اس پر کفارہ ہے" راوی کہتا ہے کہ میں نے پھر سوال کیا کہ اگر وہ دوبارہ ایسا کرے؟ تو امام علیہ السلام نے فرمایا: "اس پر کفارہ نہیں ہے بلکہ اس کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جن کے بارے میں خداوند عالم فرماتا ہے: "( ومن عاد فینتقم الله منه… ) " یعنی جو پھر ایسی حرکت کرے گا تو خدا اسے سزا دے گا

وسائل الشیعہ جلد ۹ ص ۲۴۵

۱۷۷۴۶ ۔ جب کوئی شخص احرام کی حالت میں غلطی سے شکار کرے تو اس پر اس کا کفارہ ہے۔ اگر دوسری مرتبہ بھی غلطی سے شکار کرے پھر بھی اس پر کفارہ ہو گا۔ اسی طرح جتنی مرتبہ غلطی سے شکار کرتا رہے گا اس پر کفارہ ہوتا رہے گا لیکن اگر جان بوکھ کر پہلی مرتبہ شکار کرے گا تو اس پر کفارہ ہو گا۔ جب دوسری بار جان بوجھ کر شکار کرے گا تو اس کا شمار ان لوگوں میں ہو گا جنہیں خدا سزا دے گا اور یہ سزا آخرت میں ہو گی۔ لہٰذا اس کفارہ اسی لئے نہیں ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) وسائل الشیعہ جلد ۹ ص ۲۴۴

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو: وسائل الشیعہ جلد ۹ ص ۲۴۴ باب ۴۸

نیز: باب "گناہ"، "جو گناہ ناقابل بخشش ہیں")


فصل ۳۷

مکافات

( ۱) احسان کا بدلہ احسان

قرآن مجید

( واذا حیتیم تجیة فحیوا باحسن منها اور دوها ) ۔ (نسأ/ ۸۶)

ترجمہ۔ اور جب تمہیں کسی طرح کوئی شخص سلام کرے تو تم بھی اس کے جواب میں اس سے بہتر طریقہ سے سلام کرو یا وہی الفاظ جواب میں کہہ دو۔

( هل جزاء الاحسان الا الاحسان ) ۔ (الرحمن/ ۶۰)

ترجمہ۔ بھلا نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور بھی کچھ ہے!

حدیث شریف

۱۷۷۴۷ ۔ حقوق کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: "حق سبحانہ و تعالیٰ نے ان حقوقِ انسانی کو بھی، جنہیں ایک کے لئے دوسرے پر قرار دیا ہے، اپنے ہی حقوق میں سے قرار دیا ہے اور انہیں اس طرح ٹھہرایا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے مقابلہ میں برابر اتریں۔ ان میں سے بعض حقوق دوسروں کا باعث ہوتے ہیں اور اس وقت تک واجب نہیں ہوتے جب تک ان کے مقابلہ میں حقوق ثابت نہ ہو جائیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۲۱۶

۱۷۷۴۸ ۔ کسی کا حق ادا کر دینا غلامی کا طوق گلے سے اتار پھینکنا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۷۴۹ ۔ کسی کے ساتھ بھلائی اس کے گلے میں طوق ہوتا ہے جو شکریہ یا حق ادا کئے بغیر نہیں اتر سکتا۔

(امام موسیٰ کاظم علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۵ ص ۴۳

۱۷۷۵۰ ۔ جس شخص کے ساتھ کوئی بھلائی کی جائے اگر اس کے بس میں ہو تو اسے چاہئے کہ ویسی ہی بھلائی کرے اور اگر بس میں نہیں ہے تو اس کی ستائش ضرور کرے، کیونکہ اس طرح اس نیکی کا شکریہ ادا کر دے گا۔ لیکن اگر اسے چھپا دے گا تو وہ اس کی ناشکری کرے گااور منکر سمجھا جائے گا۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۶۵۶۷

۱۷۷۵۱ ۔ جو شخص تمہارے ساتھ نیکی کرے تم بھی اس کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرو۔ اگر اس جیسا سلوک نہیں کر سکتے تو اس کے لئے خدا کی ذات سے اس قدر دعا مانگو کہ تمہیں یقین ہو جائے کہ اس کا بدلہ چکا دیا گیا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۷۵ ص ۴۳

۱۷۷۵۲ ۔ جو شخص تمہارے ساتھ احسان کرے تم بھی اس احسان کا بدلہ چکانے کے لئے اپنا ہاتھ لمبا کرو۔ اگر ایسا نہیں کر سکتے تو کم از کم اس کا شکریہ ضرور ادا کرو۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۷۵۳ ۔ جس شخص نے تمہاری نیکی کے بدلہ میں تمہارا شکریہ ادا کیا تو سمجھ لو کہ اس نے تمہیں اس سے زیادہ دے دیا جو اس نے تم سے لیا تھا۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۷۵۴ ۔ اللہ تعالیٰ کے اس قول( هل جزاء الاحسان الا الاحسن ) (بھلا نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور بھی کچھ ہے رحمن/ ۶۰) ، کے بارے میں فرمایا کہ یہ حکم مومن و کافر، نیک و بد، غرض ہر ایک کے لئے یکساں ہے۔ لہٰذا جس کے ساتھ کوئی نیکی کی جائے اس کا فرض ہے کہ وہ اسے اس کا بدلہ دے۔ بدلہ یہ نہیں ہے کہ جو نیکی تمہارے ساتھ کی گئی ہے تم بھی اسی طرح کی نیکی اس کے ساتھ کرو، بلکہ اس سے بڑھ کر کرو۔ اگر تم بھی اسی ہی کی طرح نیکی کرو گے، تو پھر فضلیت پہل کرنے والے کے حصے میں چلی جائے گی۔

(امام موسیٰ کاظم علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۸ ص ۳۱۱

(امام جعفر صادقعلیہ السلام)بحارالانوار جلد ۷۵ ص ۴۳ ۔ مجمع البیان

۱۷۷۵۵ ۔ جب تم پر سلام کیا جائے تو اس سے اچھے طریقے سے جواب دو، اور جب تم پر کوئی احسان کرے تو اس سے بڑھ کر احسان کا بدلہ دو، اگرچہ اس صورت میں بھی فضلیت پہل کرنے والے کے لئے ہو گی۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ حکمت ۶۲

۱۷۷۵۶ ۔ جو کوئی ویسی ہی نیکی کرے گا جس طرح اس کے ساتھ نیکی کی گئی ہے تو وہ اس نیکی کا بدلہ دیدے گا، اور جو اس سے دوگنی نیکی کرے گا وہ اس کی سپاس گزاری کرے گا

(امام محمد باقر علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۵ ص ۴۲

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو: باب "شکر" ، "جو مخلوق کا شکریہ ادا نہیں کرتا خالق کا شکر بھی ادا نہیں کرتا")

( ۲) برائی کا بدلہ برائی کے ساتھ

قرآن مجید

( فمن اعتدٰی علیکم فاعتدوا علیه بمثل ما اعتدیٰ علیکم ) (بقرہ/ ۱۹۴)

ترجمہ۔ پس جو شخص تم پر زیادتی کرے تو جیسی زیادتی اس نے تم پر کی ہو ویسی ہی زیادتی تم بھی اس پر کرو

( وان عاقبتم فعاتبوا…………………خیرللصابرین ) ۔ (نحل/ ۱۲۶)

ترجمہ۔ اور اگر (مخالفین کے ساتھ) سختی کرو بھی تو ویسی ہی سختی کرو جیسی سختی ان لوگوں نے تم پر کی تھی، اور اگر تم صبر کرو تو یہ بات صبر کرنے والوں کے واسطے بہتر ہے۔

( ذلک و من عاقب…………………………ان الله لغفو غفور ) (حج/ ۶۰)

ترجمہ۔ یہی (ٹھیک) ہے۔ اور جو شخص اپنے دشمن کو اتنا ہی ستائے جتنا یہ اس کے ہاتھوں ستایا گیا تھا، اس کے بعد پھر دوبارہ دشمن کی طرف سے اس پر زیادتی کی جائے تو خدا اس مظلوم کی ضرور مدد کرے گا۔ خدا بڑا معاف کرنے والا بخشنے والا ہے۔

( الاالذین امنوا…………………………من بعد ماظلموا ) (شعراء/ ۲۲۷)

ترجمہ۔ مگر ہاں جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اچھے کام کئے، کثرت سے خدا کا ذکر کیا کرتے ہیں اور جب ان پر ظلم کیا جا چکا اس کے بعد انہوں نے بدلہ لیا

( والذیناذا اصابهم……ینتصرون و جزاء سیئة… لا یحب الظلمین و لمن انتصر…من سبیل انما السبیل………لمن عزم الامور ) ۔ (شوریٰ/ ۳۹ تا ۴۳)

ترجمہ۔ اور وہ ایسے ہیں کہ جب ان پر کسی قسم کی زیادتی ہوتی ہے تو وہ بس واجبی سا بدلہ لیتے ہیں ارو برائی کا بدلہ تو ویسی ہی برائی ہے۔ اس پر بھی جو شخص معاف کر دے اور معاملہ کی اصلاح کرے تو اس کا ثواب خدا کے ذمہ ہے۔ بے شک وہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا پھر جس پر ظلم ہوا ہو اگر وہ اس کے بعد انتقام لے تو ایسے لوگوں پر کوئی الزام نہیں۔ الزام تو بس انہی لوگوں پر ہو گا جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور روئے زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے پھرتے ہیں، انہی لوگوں کے لئے دردناک عذاب ہے۔ نیز جو صبر کرے اور قصور معاف کر دے تو بے شک یہ بڑے حوصلے کا کام ہے۔

حدیث شریف

۱۷۷۵۷ ۔ جو بغاوت کا راستہ اختیار کرے گا، اسے اسی ذریعہ سے بدلہ دیا جائے گا۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو عنوان "عقوبت (سزا)" اور عنوان "قصاص"

نیز: باب "کرم" (شرافت) ، "جسے شرافت سیدھا نہ کر سکے"

نیز: باب "جیسی کرنی ویسی بھرنی")ے

( ۳) بے وقوفی کے بدلہ میں بے وقوفی نہ کرو

۱۷۷۵۸ ۔ جو شخص بے وقوف کو بے وقوفی کا بدلہ دے گا اسے ہر بات پر راضی ہونا پڑے گا جو بے وقوف سرانجام دے گا۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۵ ص ۲۹۹

۱۷۷۵۹ ۔ بدترین بدلہ برائی کے ساتھ سزا دینا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۸ ص ۵۳

۱۷۷۶۰ ۔ جو تمہارا احترام کرے تم اس کا احترام کرو، اور جو تمہاری توہین کرے تم اس کی بجائے خود اپنا احترام کرو۔

(حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۸ ص ۲۷۸

قولِ مولف: ملاحظہ ہو: باب "بے وقوفی"، "بے وقوف کا مقابلہ" اور باب "بے وقوف کے مقابلہ میں بردباری اختیار کرو"

نیز: باب "درگزر" ، "عفو و درگزر کرنے کے ذریعہ اصلاح کرنا"

( ۴) انتقام اور سرداری برابر نہیں

۱۷۷۶۱ ۔ انتقام سرداری کے برابر نہیں ہوتا۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۷۶۲ ۔ انتقام میں جلدی کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۷۶۳ ۔ جو اچھی طرح معاف کرنا نہیں جانتا، وہ بری طرح انتقام لینا ضرور جانتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۷۶۴ ۔ برے طریقہ سے سزا دینا کمینہ پن کی دلیل ہوتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۷۶۵ ۔ صاحبانِ اقتدار کا بدترین کارنامہ انتقام لینا ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۷۶۶ ۔ غصہ کے وقت بردباری سے کام لینا، انتقام کی طاقت سے کہیں بہتر ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۷۶۷ ۔ جو کسی قصوروار سے انتقام لیتا ہے وہ دنیا میں اپنی فضلیت ضائع کر دیتا ہے اور آخرت کے ثواب سے بھی محروم رہتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۷۶۸ ۔ اپنے کسی (مومن) بھائی کی سزا کے درپے نہ ہو، خواہ وہ تمہارے منہ میں مٹی بھی ڈال دے۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۷ ص ۲۰۹

۱۷۷۶۹ ۔ تورات میں ہے: "جب تم پر کسی قسم کا ظلم کیا جائے تو میری طرف سے اس کا بدلہ لینے کو پسند کر لو، کیونکہ تمہارے لئے میری طرف سے بدلہ لیا جانا، تمہاری اپنی طرف سے بدلہ لئے جانے سے کہیں بہتر ہے۔"

(حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام) کافی جلد ۲ ص ۳۰۴

( ۵) نیکی کا برائی سے بدلہ

۱۷۷۷۰ ۔ نیکی کا بدلہ برائی سے دینا کمینوں کی عادت ہے۔

۱۷۷۷۱ ۔ بدترین انسان ہے، وہ جو اچھائی کا بدلہ برائی سے دے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۷۷۲ ۔ جو شخص اچھائی کا بدلہ برائی سے دیتا ہے اس کی مردانگی و مروت ختم ہو جاتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو: باب "شکر" ( ۲) " مومن کفارہ ادا کرتا ہے" اور باب "خدا لعنت کرے نیکی کی راہیں بند کرنے والوں پر")

( ۶) برائی کا نیکی سے بدلہ

۱۷۷۷۳ ۔ دعائے مکارم الاخلاق سے اقتباس: "خدایا محمد آل محمد پر رحمت نازل فرما، مجھے توفیق عطا فرما کہ اس شخص کا خیرخواہی کے ساتھ سامنا کروں جو مجھ سے دھوکا کرتا ہے، اس کو نیکی کی جزا دوں جو مجھ سے قطع تعلق کرتا ہے، اس کو بخشش دوں جو مجھے محروم کرتا ہے، اس کے ساتھ صلہ رحمی کروں، جو مجھ سے قطع رحمی کرتا ہے اور اس کا ذکر اچھے الفاظ سے کروں جو میری غیبت کرتا ہے۔"

(امام زین العابدین علیہ السلام) صحیفہ کاملہ دعا ۲۰

۱۷۷۷۴ ۔ برائی کا بدلہ نیکی سے دینا، کمالِ ایمان کی نشانی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۷۷۵ ۔ اس شخص کا شمار شرفاء میں نہیں ہوتا جو برائی کا بدلہ اچھائی سے نہیں دیتا،

حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو: باب "احسان" (نیکی) ، "برائی کرنے والے کے ساتھ نیکی کرنا"

باب "رحم" (رشتہ دار) "قطعی رحمی کرنے والے کے ساتھ بھی صلہ رحمی کرو‘ذ

باب "خیر" (اچھائی) "دنیا و آخرت کے اچھے اخلاق"

باب "انصاف" ، "جو تم سے انصاف نہ کرے تم اس سے ضرور انصاف کرو‘ذ

نیز: باب "ھدیہ"، "اس کو بھی ہدیہ دو جو تمہیں ہدیہ نہیں دیتا"

( ۷) جیسی کرنی ویسی بھرنی

۱۷۷۷۶ ۔ جو دوسروں کی پردہ داری کرے گا، اس کے اپنے گھر کے عیب ظاہر ہو جائیں گے، جو بغاوت کی تلوار کھینچے گا وہ اسی کے ساتھ مارا جائے گا جو اپنے بھائی کے لئے کنواں کھودے گا خود اسی میں گرے گا، جو احمقوں میں داخل ہو گا وہ بے عزت ہو گا، جو علماء کے ساتھ میل جول رکھے گا باوقار ہو گا اور جو برائی کے مقامات میں جائے گا تہمتوں کا شکار ہو گا۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۸ ص ۲۰۴

۱۷۷۷۷ ۔ جو اپنے بھائی کے لئے کنواں کھودے گا خود ہی اس میں گرے گا، جو دوسروں کی پردہ داری کرے گا اس کے اپنے عیب ظاہر ہوں گے۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۷ ص ۲۳۶

۱۷۷۷۸ ۔ اپنے والدین کے ساتھ نیکی کرو گے تو تمہاری اولاد تمہارے ساتھ نیکی کرے گی، دوسرے لوگوں کی عورتوں کی عزت بچاؤ گے تو تمہاری عورتوں کی عزت محفوظ ہو گی۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحار جلد ۷۸ ص ۲۴۲ ۔ جلد ۷۹ ص ۱۸

۱۷۷۷۹ ۔ جو دوسروں کی عیب جوئی کرے گا، اس کی اپنی عیب جوئی ہو گی، جو دوسروں کو گالیاں دے گا اسی انداز میں اسے جواب ملے گا جو تقویٰ کا درخت کاشت کرے گا وہ نیک آرزوؤں کا پھل چنے گا۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۸ ص ۷۹

۱۷۷۸۰ ۔ انجیل مقدس میں ہے: "خود خطاکار ہو کر دوسروں کی خطاؤں پر سزا نہ دو ورنہ تمہیں عذاب کے ساتھ سزا دی جائے گی، ظلم پر مبنی فیصلے نہ کرو ورنہ تمہارے لئے عذاب پر مبنی فیصلے کئے جائیں گے، جس ترازو کے ساتھ تولو گے اسی ترازو کے ساتھ تمہارے لئے تولا جائے گا اور جس قسم کا فیصلہ تم کرو گے اسی قسم کا فیصلہ تمہارے لئے کیا جائے گا۔

بحارالانوار جلد ۷۷ ص ۴۳

۱۷۷۸۱ ۔ جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم


فصل ۳۸

( ۱) تکلیف

۱۷۷۸۲ ۔ تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ جو فرائض تم پر عائد کئے گئے ہیں وہ کم ہیں جبکہ ان کا ثواب زیادہ ہے۔ خدا نے ظلم و سرکشی سے جو روکا ہے اس پر سزا کا خوف نہ بھی ہو جب بھی اس سے بچنے کا ثواب ایسا ہے کہ اس کی طلب سے بے نیاز ہونے میں کوئی عذر نہیں کیا جا سکتا۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ مکتوب ۵۱

۱۷۷۸۳ ۔ خداوندِ عالم نے تو بندوں کو خودمختار بنا کر مامور کیا ہے اور عذاب سے ڈرتے ہوئے نہی کی ہے۔ اس نے سہل و آسان تکلیف دی ہے اور دشواریوں سے بچا کر رکھا ہے، تھوڑے کئے پر زیادہ اجر دیتا ہے، اس کی نافرمانی اس لئے نہیں ہوتی کہ وہ دب گیا، نہ ہی اس کی اطاعت اس لئے کی جاتی ہے کہ اس نے مجبور کر رکھا ہے۔ اس نے پیغمبروں کو بطور تفریح نہیں بھیجا، بندوں کے لئے کتابیں بے فائدہ نہیں اتاریں، نہ آسمان و زمین اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان سب کو بیکار پیدا کیا، "یہ تو ان لوگوں کا خیال ہے جنہوں نے کفر اختیار کیا۔ پس افسوس ہے ان پر جنہوں نے کفر اختیار کیا آتشِ جہنم کے عذاب سے" (ص/ ۲۷)

(حضرت علی علیہ السلام ) نہج البلاغہ حکمت ۷۸

۱۷۷۸۴ ۔ یاد رکھو! وہ تم سے کسی ایسی چیز پر رضامند نہ ہو گا جس پر تمہارے اگلوں سے ناراض ہو چکا ہو، نہ کسی ایسی چیز پر غضبناک ہو گا جس پر پہلے لوگوں سے خوش رہ چکا ہو۔ تمہیں تو بس یہی چاہئے کہ تم واضح نشانوں پر چلتے رہو، اور تم سے پہلے لوگوں نے جو کہا ہے اسے دہراتے رہو/

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۸۳

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو: بحارالانوار جلد ۵ ص ۳۱۸ باب ۱۶ " عمومی تکلیف")

تکلف کے فلسفہ" کے بارے میں علامہ طباطبائی کا نظریہ

تکلیف کے فلسفہ کے بارے میں علامہ سید محمد حسین طباطبائی قدس سرہ، ارشاد فرماتے ہیں:

"نبوت کی بحث کے سلسلہ مں گزر چکا ہے کہ اس کائنات میں موجود ہر ایک نوع کے لئے کمال کا ایک ہدف مقرر ہے جس کی طرف وہ اپنی تخلیق کے روزِ اول ہی سے رواں دواں ہوتی ہے، اپنی حرکتِ وجودی کے ساتھ اس کی تلاش شروع کر دیتی ہے۔ اسی لئے اس کی تمام حرکتیں اس طرح منظم ہیں جو اس کمال کے ساتھ مناسبت رکھتی ہیں۔ جب تک وہ اپنی منزل ِ مقوصد تک نہ پہنچ جائے چین حاصل نہیں کر پاتی۔ یہ اور بات ہے کہ اس دوران کوئی مانع پیش آ جائے جو اسے اس حرکت سے روک دے اور اسے اپنے ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی اس کا خاتمہ کر دے جیسے ایک درخت پر مصائب و آفات حملہ آور ہو کر اسے نشو و نما سے روک دیتی ہیں۔

ساتھ ہی یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ منزلِ مقصود تک نہ پہنچنے کا تعلق بعض مخصوص افراد کے ساتھ ہوتا ہے نہ کہ تمام نوع کے ساتھ جو بطورِ نوع کے اس سے محفوظ ہے۔

ان موجودات میں سے ایک موجود، انسان بھی ہے جس کی اپنی غایتِ وجودی ہے۔ وہ اس تک اس وقت تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ اجتماعی و معاشرتی زندگی کے ساتھ وابستہ نہ ہو۔ اس بات کی دلیل یہ ہے کہ انسان کی ساخت و پرداخت ہی کچھ اس طرح کی گئی ہے کہ وہ اپنے ہم نوع دوسرے افراد سے کبھی بے نیاز نہیں ہو سکتا جیسے اس کا نر یا مادہ ہوتا ہے، اس کے اندر جذبات و احساسات و مہر و محبت کا پایا جانا، مختلف قسم کی ضروریات و احتیاجات کا حامل ہونا وغیرہ۔

یہی معاشرتی و تمدنی زندگی لوگوں کو احکام و قوانین کی پابندی پر مجبور کرتی ہے۔ جن کے احترام و عمل درآمد سے وہ اپنی زندگی کے مختلف امور کو منظم کرتے، اپنے باہمی اختلافات کو جو ناقابل اجتناب ہوتے ہیںدور کرتے ہیں اور ہر شخص جس مقام کے لائق ہے اسی کا حامل ہوتا ہے۔ اسی ذریعہ ہی سے اپنے کمال وجودی و سعادت کو حاصل کرتا ہے۔ یہ احکام اور قابل عمل قوانین درحقیقت انسان کی اپنی ضروریات ہی کی بدولت معرضِ وجود میں آتے ہیں کیونکہ اس کی جسمانی و روحانی ساخت پرداخت ہی اس قسم کی ہے کہ ان احکام و قوانین کا اجرا اس کے لئے ضروری ہو جاتا ہے۔

اسی طرح اس کی ان وجودی تخلیقی خصوصیات کا تعلق ان اسباب و علل کے ساتھ ہے جو کائنات کے عمومی نظام میں کارفرما ہیں۔ خدا کے دین کے فطری ہونے کا یہی مطلب ہے کیونکہ خدا کا دین بھی تو ان احکام و قوانین کے مجموعہ سے عبارت ہے جن کی طرف انسان کا وجود خود انسان کو راہنمائی کرتا ہے۔

باالفاظ دیگر خدا کے دین کے فطری ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ دین ایسے امور کا مجموعہ ہے کہ عالمِ کون و مکان کا وجود خود ان امور کے وجود کا متقاضی ہوتا ہے، یعنی اگر یہ امور عمل میں آ جائیں تو انسانی معاشرہ و انسانی افراد کی اصلاح ہو جائے اور فرد و معاشرہ اپنے کمال کی آخری حد تک پہنچ جائیں جبکہ اس کے برعکس اگر یہ امور ناقابل اعتنا سمجھ کر نظرانداز کر دیئے جائیں تو عالم بشریت تباہی کے کنارے پر پہنچ جائے اور کائنات کے عمومی نظام سے ٹکرا جائے جس سے عالمِ بشریت تباہ و برباد ہو جائے۔

مذکورہ احکام و قوانین دو طرح کے ہوتے ہیں: ایک وہ جن کا تعلق اجتماعی و معاشرتی امور سے ہوتا ہے، جن کے ذریعہ معاشرہ کی اصلاح ہوتی اور اسے منظم کیا جاتا ہے۔ دوسرے وہ جن کا تعلق عبادات سے ہوتا ہے جن کے ذریعہ فرزند آدم اپنی معرفت کے درجہ کمال تک پہنچتا ہے، وہ صالح معاشرے کا صالح فرد بن کر ابھرتا ہے۔ احکام و قوانین عبادات کے لئے ضروری ہے کہ وہ نبوت اور آسمانی وحی کے ذریعہ بنی نوع انسان کو ملیں اور انسان بھی صرف انہی قوانین کی پابندی کرے نہ کہ کسی قسم کے دوسرے قوانین کی۔

اس بیان کی روشنی میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ "خدائی تکالیف" ایسے امور ہوتے ہیں جو بنی نوع انسان کے ساتھ لازم و ملزوم کا درجہ رکھتے ہیں یعنی جب تک انسان اس دنیا میں زندہ و موجود ہے اس وقت تک انہیں اپنائے بغیر چارہ نہیں۔ خواہ انسان فی نفسہ ناقص اور اپنے کمالِ وجودی کی حد تک ابھی نہ پہنچا ہو، یا اپنے علم و عمل کے اعتبار سے حدِ کمال تک رسائی حاصل کر چکا ہو۔

خلاصہ کلام بشر جب تک بشر ہے اور اس عالم فانی کے اندر موجود ہے اسے دین کی ہر حالت میں ضرورت ہے خواہ ابھی تک انسانی تمدن سے آشنا نہ ہو یا تمدن اور پیشرفت کے آخری درجہ تک پہنچ چکا ہواگر وہ تمدن سے ناآشنا اور پسماندگی کی اتھاہ گہرائیوں میں پڑا ہوا ہے تو ایسی صورت میں اسے دین کی احتیاج و ضرورت اظہر من الشمس ہے لیکن اگر علم و عمل کے لحاظ سے کمال کے آخری درجہ تک پہنچ چکا ہے تو بھی وہ دین سے ہرگز بے نیاز نہیں ہوتا، اس لئے کہ کمال کے معنی یہ ہیں کہ انسان علم و عمل کے لحاظ سے ایسے کئی قسم کے فاضل ملکہ کا حامل ہو چکا ہو کہ ان کی وجہ سے اس سے ایسے افعال سرزد ہوتے ہیں جو معاشرتی و اجتماعی حالات کے تقاضوں کے عین مطابق ہوتے ہیں اور عبادت پر مبنی ایسے افعال بھی اس سے ظاہر ہوتے ہیں جو اس کی معرفت کے غماز ہوتے ہیں اور جو عنایتِ خداوندی کے عین مطابق ہوتے ہیں اور اس سعادت و خوش بختی کے لئے ہدایت کا موجب ہوتے ہیں۔

یہ بات بھی اپنی جگہ پر اچھی طرح واضح ہے کہ اگر ہم یہ قرار دیں کہ خدائی قوانین صرف ان لوگوں اور ان معاشروں کے ساتھ مخصوص ہیں جو نامکمل و پسماندہ ہیں۔ انسان کامل کے لئے ان قوانین کی پابندی ضروری نہیں ہے تو گویا ہم خود ہی اس بات کو جائز قرار دے رہے ہوں گے کہ ترقی ترقی یافتہ و متمدن افراد احکام و قوانین کی خلاف ورزی کریں، ناجائز و ناروا قسم کے افعال بجا لائیں جن سے عام معاشرتی نظام درہم برہم ہو جائے، حالانکہ یہ عنایتِ الٰہی کے تقاضوں کے بالکل برعکس ہے۔

اسی طرح ہم خود ہی اس بات کو جائز قرار دے رہے ہوں گے کہ متمدن افراد، بلکہ فاضلہ روزگار اور ان کے احکام کی مخالفت کریں، حالانکہ تمام افعال ملکہ فاضلہ کے حصول کا مقدم ہیں، جب ملکہ فافضلہ پیدا ہو جاتا ہے تو تمام افعال و آثار کے لئے مجالِ انکار نہیں ہوتی۔ یعنی اس بات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ جب کسی کے اندر "معرفتِ الہٰی" کا ملکہ پیدا ہو جائے اور وہ خدا کی عبادت نہ کرے، یا کسی میں سخاوت کا ملکہ پیدا ہو جائے اور وہ عطا و بخشش نہ کرے۔

اس مقام پر پہنچ کر ان لوگوں کے افکار کو غلط قرار دیا جائے گا جو یہ موہوم نظریہ رکھتے ہیں کہ: تکلیفِ عملی کا اصل مقصد انسان کی تکمیل اور اسے درجہ کمال تک پہنچانا ہے، اور جب انسان، کامل بن گیا تو پھر اسے تکلیف کی ضرورت نہیں رہتی یعنی ایسے شخص کے لئے تکلیف کا باقی رہنا بے معنی سی بات ہو گی۔

ا نظریہ کے باطل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ انسان خواہ کمال کے آخری درجہ تک ہی کیوں نہ پہنچ جائے لیکن اگر تکالیف الٰہی سے منہ پھیر لے گا، معاشرتی احکام کی خلاف ورزی کرے گا تو وہ پورے معاشرے کی خرابی کا سبب بن جائے گا، انسانوں کے لئے عنایتِ خداوندی کے بطلان کا موجب بن جائے گا اور اگر عبادتی احکام پر عمل کرنے سے روگردانی کرے گا تو اپنے انسانی ملکہ فاضلہ کے خلاف قدم اٹھائے گا جو محال ہے کیونکہ انسان کا طرزِ عمل اس کے ملکہ کے آثار کاآئینہ دار ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر بالفرض اسے جائز بھی قرار دیدیں پھر بھی اس بات کا موجب ضرور ہو گا کہ اس کے ملکہ کا خاتمہ ہو جائے۔ اور ملکہ کا خاتمہ اس بات کا موجب ہو گا کہ نوعِ بشر کے لئے عنایتِ پروردگار کا خاتمہ ہو گیا ہے، جو محال ہے۔

البتہ افعال کے صادر ہونے کے لحاظ سے کامل و غیرکامل انسانوں میں فرق ضرور ہے اس لئے کہ انسانِ کامل و ملکہ فاضلہ کا حامل انسان خلاف ورزی سے محفوظ ہوتا ہے، اس کے اندر موجود راسخ ملکہ اسے اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ کوئی ناشائستہ کام انجام دے اور اس کی خلاف ورزی کرے جبکہ ناقص و غیرکامل انسان کے اندر اس طرح کے مانع موجود نہیں ہوتے لہٰذا وہ کامل انسان کی مانند خلاف ورزیوں سے محفوظ نہیں ہوتا۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو ملکہ فاضلہ کے حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

تفسیرالمیزان جلد ۱۲ ص ۱۹۹ ۔ ص ۲۰۰

( ۹) خداوندِ عالم طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا

قرآن مجید

( لا یکلف الله نفسا الا و سعها ماکسبت و علیها ما اکتسبت ) (بقرہ/ ۲۸۶)

ترجمہ۔ خدا کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ اس نے اچھا کام کیا تو اپنے نفع کے لئے اور برا کام کیا تو اس کا وبال اسی پر پڑے گا۔

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو: سورہ انعام ۱۵۲ ۔ اعراف/ ۴۲ ۔ مومنون/ ۶۲ ۔ طلاق/ ۷ ۔ بقرہ/ ۲۲۳ ۔)

حدیث شریف

۱۷۷۸۵ ۔ میری امت سے غلطی، بھول اور زبردستی سے انجام دلائے جانے والے کاموں (کی سزا) کو اٹھا لیا گیا ہے۔

(حضرت رسول اکرم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم) کنزالعمال حدیث ۱۰۳۰۷ ۔ ۱۰۳۰۶ ۔ ۱۰۳۲۱

۱۷۷۸۶ ۔ تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے (ان کا گناہ نہیں لکھا جاتا):

۱ ۔ ایسا مجنون جس کی عقل پر جنون غالب آ جائے، جب تک کہ وہ ٹھیک نہ ہو جائے۔

۲ ۔ سویا ہوا شخص جب تک کہ وہ نیند سے بیدار نہ ہو جائے۔

۳ ۔ نابالغ بچہ جب تک احتلام کے ذریعہ بالغ نہ ہو جائے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۱۰۳۰۹ ۔ ۱۰۳۲۲ ۔ ۱۰۳۲۳

صفحہ نمبر ۳۷۰ نہیں ہے


فصل ۳۹

( ۱) تکلف

قرآن مجید

( قل ما اسئلکم علیه من اجر وما انا من المتکلفین ) ۔ (ص / ۸۶)

ترجمہ۔ (اے پیغمبر) کہہ دو کہ میں تم سے نہ تو اس (تبلیغِ رسالت) کی مزدوری مانگتا ہوں اور نہ میں تکلف سے کام لینے والا ہوں۔

حدیث شریف

۱۷۷۹۳ ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تین باتوں سے دور رکھا ہے، ۱ ۔ اپنی طرف سے باتیں بنا کر خدا کی طرف منسوب کرنے سے ۲ ۔ اپنی خواہشاتِ نفسانی کے مطابق بات کرنے سے اور ۳ ۔ تکلف برتنے سے۔

(حضرت امام محمد باقر علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۲ ص ۱۷۸

۱۷۷۹۴ ۔ ہم انبیاء و اولیاء کے گروہ تکلف سے دور ہوتے ہیں۔

(حضرت رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۷۳ ص ۳۹۴

۱۷۷۹۵ ۔ تکلف برتنے والا خواہ ٹھیک کر رہا ہو، پھر بھی خطاکار ہے اور بے تکلف خواہ غلطی کر رہا ہو پھر بھی بے خطا ہے

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۳ ص ۳۹۴

۱۷۷۹۶ ۔ ایک موقع پر مسلمانوں نے حضرت رسول خدا کی خدمت میں عرض کیا: "یارسول اللہ! آپ جن لوگوں پر غلبہ اور قابو پاتے ہیں انہیں اسلام لانے پر مجبور کریں تو ا سے ایک تو ہماری تعداد میں کثرت ہو گی اور دوسرے ہمیں دشمن پر غلبہ حاصل ہو جائے گا۔"

آنحضرت نے فرمایا: "ایسا کام کرکے میں ایسی بدعت کے ساتھ اللہ کے حضور پیش نہیں ہونا چاہتا جسے مجھ سے پہلے کسی نے انجام دیا، نہ ہی میں تکلف سے کام لینے والا ہوں"

(حضرت علی علیہ السلام) التوحید ص ۳۴۲

۱۷۷۹۷ ۔ تیرے بدترین دوست وہ ہیں جن کے لئے تجھے تکلف سے کام لینا پڑے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۷۹۸ ۔ بدترین بھائی وہ ہے جس کے لئے تجھے زحمت اٹھانا پڑے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ حکمت ۴۷۹

۱۷۷۹۹ ۔ تکلفات کو برطرف کرنے سے زندگی خوشگوار ہوتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۰۰ ۔ تکلف و بناوٹ، منافقین کا شیوہ ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۰۱ ۔ تکلف کی برطرفی الفت (و محبت) کی شرط ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۰۲ ۔ بہت بڑا تکلف یہ ہے کہ تم ایسی مشقت کو اپنے ذمہ لے لو جو تمہارے شایان شان نہیں،

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۰۳ ۔ حضرت امام حسن علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ "تکلف" کیا ہوتا ہے؟ آپعلیہ السلام نے فرمایا: "ایسی چیز کے بارے میں بات کرنا جو تمہارے شایانِ شان نہیں!"

تحف العقول ص ۶۳

۱۷۸۰۴ ۔ تکلف کو پسِ پشت ڈال دینا بہت بڑی تونگری ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۰۵ ۔ جس کسی نے تمہیں ایسی زحمت میں ڈالا جس کی تم استطاعت نہیں رکھتے تو گویا اس نے تمہیں اپنی نافرمانی میں شریک کر لیا۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۰۶ ۔ جو اپنے علم کے بارے میں تکلف سے کام لیتا ہے، وہ اپنے اعمال کو برباد اور اپنی آرزوؤں کو خاک میں ملا دیتا ہے۔

(امام موسیٰ کاظم علیہ السلام) بحارالانوار جلد اول ص ۲۱۸

۱۷۸۰۷ ۔ دس قسم کے لوگ خود کو اور دوسروں کو بھی زحمت میں ڈالتے ہیں (جن میں سے ایک) وہ کم علم شخص ہے، وہ اس بات کے لئے تکلف برتتا ہے کہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ تعلیم دے۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۲ ص ۵۱

۱۷۸۰۸ ۔ تمہاری محبت، تکلف پر اور دشمنی ہلاکت پر مبنی نہیں ہونی چاہئے، اپنے دوست کے ساتھ دوستی بھی ایک خاص حد تک رکھو اور دشمن سے دشمنی بھی ایک محدود اندازے پر۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد

۱۷۸۰۹ ۔ لوگوں کے جسموں میں نقص، عقلوں میں فتور آنے والا ہےمگر وہ جسے اللہ بچائے رکھےاس میں پوچھنے والا الجھانا چاہتا ہے اور جواب دینے والا (بے جانے بوجھے جواب دینے میں زحمت اٹھاتا اور تکلف سے کام لیتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ حکمت ۳۴۳

۱۷۸۱۰ ۔ دعائیہ کلمات: "خدایا! مجھ پر رحم فرما کہ میں ایسی باتوں میں تکلف سے کام لوں جو میرے شایانِ شان نہیں ہیں۔"

(حضرت رسول اکرم) اسے ترمذی نے بھی روایت کیا ہے۔ المعجم

( ۲) تکلف سے کام لینے والے کی علامات

۱۷۸۱۱ ۔ تکلف سے کام لینے والے کی تین علامتی ہیں: ۱ ۔ اپنے مافوق سے تنازعہ کرکے اس کی نافرمانی کرتا ہے۔

۲ ۔ اپنے زیردست پر قابو پا کر ظلم کرتا ہے اور ۳ ۔ ظالموں کی پشت پناہی کرتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) کافی جلد اول ص ۳۷

۱۷۸۱۲ ۔ تکلف برتنے والے کی چار نشانیاں ہیں: بے فائدہ باتوں کے لئے جھگڑتا ہے، اپنے مافوق سے لڑتا رہتا ہے، ناقابلِ حصول کاموں کے لئے سر کھپاتا ہے اور اپنی توانائیاں ایسی چیزوں میں ضائع کر دیتا ہے جو اسے نہیں بچا سکتیں۔

(حضرت رسول اکرم) تحف العقول ص ۲۳

۱۷۸۱۳ ۔ تکلف کرنے والے کی تین علامتیں ہیں: جب سامنے ہو تو چاپلوسی کرتا ہے، جب سامنے نہ ہو تو غیبت کرتا ہے اور (دوسروں کی) مصیبت پر خوش ہوتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم) نورالثقلین جلد ۴ ص ۴۷۳

۱۷۸۱۴ ۔ حضرت لقمان نے اپنے فرزند سے فرمایا: "تکلف برتنے والے کی تین نشانیاں ہیں: اپنے مافوق سے جھگڑتا ہے، جو باتیں نہیں جانتا بیان کرتا ہے اور ناقابلِ حصول چیزوں کے لئے سر کھپاتا ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) نورالثقلین جلد ۴ ص ۴۷۳

۱۷۸۱۵ ۔ کچھ علماء ایسے بھی ہیں جو اپنے آپ کو "مفتی" ظاہر کرتے ہیں کہ ہم سے پوچھو! جبکہ ہو سکتا ہے کہ وہ ایک حرف بھی صحیح نہ کہتے ہوں، لہٰذا اللہ تعالیٰ ایسے تکلف برتنے والوں کو دوست نہیں رکھتا

(امام جعفر صادق علیہ السلام) نورالثقلین جلد ۴ ص ۴۷۳

۱۷۸۱۶ ۔ قصاص یا تو امیر لے سکتا ہے، یا اس کے حکم پر چلنے والا، یا پھر تکلف برتنے والا۔

(حضرت رسول اکرم) اسے احمد بن حنبل نے بھی روایت کیا ہے۔ المعجم

۱۷۸۱۷ ۔ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام نے اپنے فرزند امام حسین علیہ السلام سے پوچھا: "تکلف کسے کہتے ہیں؟"

انہوں نے عرض کیا: "کسی ایسے شخص کے ساتھ تمسک کرنا جو کسی کو امن و امان نہیں دے سکتا، اور کسی ایسی چیز کے بارے میں غور و فکر کرنا جو بے مقصد ہوتی ہے!"

بحارالانوار جلد ۷۸ ص ۱۰۱

۱۷۸۱۸ ۔ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام سے قضأ و قدر کے متعلق پوچھا گیا تو آپعلیہ السلام نے فرمایا: "یہ ایک تاریک راستہ ہے اس میں قدم نہ اٹھاؤ۔ ایک گہرا سمندر ہے اس میں نہ اترو اور اللہ کا ایک راز اسے جاننے کی زحمت نہ اٹھاؤ۔"

نہج البلاغہ حکمت ۲۸۷

۱۷۸۱۹ ۔ جو چیز جانتے نہیں ہو اس کے متعلق بات نہ کرو اور جس چیز کا تم سے تعلق نہیں اس کے بارے میں زبان نہ ہلاؤ

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ مکتوب ۳۱

۱۷۸۲۰ ۔ اس بات کو یاد رکھو کہ علم میں راسخ اور پختہ لوگ وہی ہیں جو غیب کے پردوں میں چھپی ہوئی تمام چیزوں کا اجمالی طور پر اقرار کرتے ہیں، (ان پر اعتقاد رکھتے ہیں)، اگرچہ ان کی تفسیر و تفصیل نہیں جانتے۔ یہی اقرار انہیں غیب پر پڑے ہوئے پردوں میں گھسنے سے بے نیاز بنائے ہوئے ہے اور اللہ نے اس بات پر ان کی مدح کی ہے کہ جو چیز احاطہ علم سے باہر ہوتی ہے اس کی رسائی سے اپنے عجز کا اعتراف کر لیتے ہیں، یعنی اللہ نے جس چیز کی حقیقت سے بحث کرنے کی تکلیف نہیں دی اس میں تعمق و کاوش کے درک ہی کا نام رسوخ رکھا ہے

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۹۱

۱۷۸۲۱ ۔ اللہ نے چند فرائض تم پر عائد کئے ہیں انہیں ضائع نہ کرواور جن چند چیزوں کا اس نے حکم بیان نہیں کیا، انہیں بھولے سے نہیں چھوڑ دیا، لہٰذا خواہ مخواہ انہیں جاننے کی کوشش نہ کرو۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ حکمت ۱۰۵

۱۷۸۲۲ ۔ آدمی کا اس کام کو نظرانداز کر دینا جو اسے سپرد کیا گیا ہے اور جو کام اس کے بجائے دوسروں سے متعلق ہے اس میں خواہ مخواہ گھسنا، ایک کھلی ہوئی کمزوری اور تباہ کن فکر ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ مکتوب ۶۱


فصل ۴۰

( ۱) کلام

قرآن مجید

( اليه یصعد الکلم الطیب ) (فاطر/ ۱۰)

ترجمہ۔ اس کی بارگاہ تک اچھی باتیں (بلند ہو کر) پہنچتی ہیں

حدیث شریف

۱۷۸۲۳ ۔ کلام کی نشو و نما اور اگنے کا مقام دل ہے، اس کی امانت گاہ فکر ہے، اس کے قیام کا ذریعہ عقل ہے، اس کو ظاہر کرنے والی زبان ہے، اس کا جسم حروف ہیں، اس کی روح معانی ہیں، اس کا لشکر اعراب ہیں اور اس کا نظام بہتر انداز میں بیان کرنا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۲۴ ۔ وہ انسان تعجب کے قابل ہے کہ جو چربی سے دیکھتا ہے اور گوشت کے لوتھڑے سے بولتا ہے

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ حکمت ۸

۱۷۸۲۵ ۔ انسان کی دو فضلیتیں ہیں: ایک عقل اور ایک گفتار۔ عقل کے ذریعہ وہ خود استفادہ کرتا ہے اور گفتار کے ذریعہ وہ افادہ کرتا (دوسروں کو فائدہ پہنچاتا) ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۲۶ ۔ حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام سے دریافت کیا گیا: "اللہ تعالیٰ نے سب سے بہتر کس چیز کو خلق فرمایا ہے؟ " فرمایا: "کلام کو" پھر پوچھا گیا کہ: "سب سے بدتر کس چیز کو خلق فرمایا؟" فرمایا: "کلام کو" پھر فرمایا: "کلام ہی کے ذریعہ چہرے سفید ہوتے ہیں اور کلام ہی کے ذریعہ منہ کالے ہوتے ہیں۔

تحف العقول ص ۱۵۴ ، بحارالانوار جلد ۷۸ ص ۵۵

۱۷۸۲۷ ۔ بعض اوقات انسان ایک ایسی بات کرتا ہے جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی لیکن اس سے خدا راضی ہوتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے قیامت کے دن تک کے لئے اپنی رضا لکھ دیتا ہے، (بسا اوقات) انسان ایسی بات کرتا ہے جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی کہ اس حد تک پہنچ جائے گی، لیکن اس سے خدا ناراض ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے قیامت کے دن تک کے لئے اپنی ناراضی لکھ دیتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) الترغیب و الترہیب جلد ۳ ص ۵۳۷ ۔ اسے مالک، ترمذی، نسائی، ابن حاجہ، ابن حبان اور حاکم نے بھی روایت کیا ہے۔

( ۲) حملے سے موثر تر بات

۱۷۸۲۸ ۔ بہت سی باتیں حملہ سے بھی زیادہ کارگر اور زیادہ اثر و نفوذ رکھتی ہیں،

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۲۹۱ ۔ نہج البلاغہ حکمت ۳۹۴

۱۷۸۲۹ ۔ عورت کی صورت اس کے چہرے میں اور مرد کی صورت اس کی گفتار میں ہوتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۲۹۱

۱۷۸۳۰ ۔ بہت سی باتیں تلوار کی مانند ہوتی ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۳۱ ۔ بہت سی باتیں بہت بڑا گھاؤ لگاتی ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۳۲ ۔ بہت سی باتیں تیر سے زیادہ اثر اور نفوذ رکھتی ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو: باب "شعر"، "مومن اپنی زبان اور تلوار سے جہاد کرتا ہے"

باب "جہاد" ( ۱) " اپنے ہاتھوں، زبان اور دلوں کے ساتھ جہاد کرو"

نیز باب "معروف" (نیکی) "دل کے ساتھ انکار" اور باب "تلوار کے ساتھ انکار")

( ۳) بیہودہ باتوں سے اجتناب کرو

۱۷۸۳۳ ۔ بے ہودہ باتوں سے پرہیز کرو کیونکہ اس طرح کمینے تو تمہارے پاس جمع ہو جائیں گے لیکن شریف نفرت کرنے لگیں گے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۳۴ ۔ بے ہودہ باتوں سے اجتناب کرو کیونکہ دلوں میں کینہ پیدا کرتی ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۳۵ ۔ ایسی بات کا نہ کرو جس کا جواب تمہیں برا لگے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۳۶ ۔ جس کی باتیں بری ہوتی ہیں اس کے ملامت کرنے والے زیادہ ہوتے ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۳۷ ۔ جس کے الفاظ خراب ہوتے ہیں اس کا حصہ بھی بیکار ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۳۸ ۔ برے الفاظ استعمال نہ کرو خواہ تمہیں جواب دینے میں دشواری ہی ہو۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۳۹ ۔ بری باتیں کرنا کمینوں کا شیوہ ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۴۰ ۔ بری گفتگو عزت و وقار اور مروت و مردانگی کو داغدار کر دیتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۴۱ ۔ بری گفتگو قدر و منزلت کو معیوب کر دیتی ہے اور دوستی میں بگاڑ پیدا کر دیتی ہے۔

( ۴) بے مقصد باتیں

۱۷۸۴۲ ۔ کم تر و بے مقصد گفتگو انسان کی سوچ کی آئینہ دار ہوتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷ ص ۲۷۸ ۔ مستدرک الوسائل جلد ۲ ص ۹۱

۱۷۸۴۳ ۔ انسان کے بہترین مسلمان ہونے کی نشانی یہ ہے کہ وہ بے مقصد باتوں کو ترک کئے رکھتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۲ ص ۱۳۶

۱۷۸۴۴ ۔ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کا گزر ایک ایسے شخص کے پاس سے ہوا جو بے کار باتیں کر رہا تھا۔ آپعلیہ السلام وہیں رک گئے اور فرمایا: "اے فلاں! تم اپنے محافظ (فرشتوں) کو اپنے رب کے لئے تحریر لکھوا رہے ہو۔ لہٰذا ایسی بات کرو جو تمہارے مقصد (اور فائدہ) کی ہو اور ایسی باتوں کو چھوڑو جو تمہارے مقصد سے سازگار نہیں ہیں۔"

(امام موسیٰ کاظلم علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۲۷۶ جلد ۵ ص ۳۲۷

۱۷۸۴۵ ۔ حضرت ابوذر غفاری نے کہا: "دنیا کو دو کلموں پر تقسیم کرو، ایک کلمہ حلال کی تلاش کے لئے ہو اور دوسرا آخرت کے لئے، تیسری بات میں نقصان ہی نقصان ہے، کوئی فائدہ نہیں ہے۔ لہٰذا اس کے پیچھے نہ پڑو۔

(امام محمد باقر علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۲۷۸

۱۷۸۴۶ ۔ ایک دن حضرت امام حسین علیہ السلام نے جناب عبداللہ بن عباس سے فرمایا: "جو بات تمہارے مفاد میں نہیں اس کو اپنے منہ سے نہ نکالو، کیونکہ اس میں مجھے تمہارے لئے گناہ کا اندیشہ معلوم ہوتا ہے، اپنے مفاد کی بات بھی ہیں منہ سے نکالو جہاں اس کا موقع و محل ہو۔

بحارالانوار جلد ۷۸ ص ۱۲۷

۱۷۸۴۷ ۔ سب لوگوں سے اس شخص کے گناہ زیادہ ہوتے ہیں جو بے معنی باتیں زیادہ کرتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) الترغیب و الترہیب جلد ۳ ص ۵۴

۱۷۸۴۸ ۔ قیامت کے دن اس شخص کے گناہ سب سے زیادہ ہوں گے جس کی بے معنی باتیں زیادہ ہوں گی۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۸۲۹۳

( ۵) فضول باتیں نہ کیا کرو

۱۷۸۴۹ ۔ فضول باتیں نہ کیا کرو، کیونکہ اس سے تمہارے باطنی عیوب ظاہر ہوں گے اور تمہارے دشمن کی خوابیدہ دشمنی بیدار ہو گی۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۵۰ ۔ ہر فضول چیز کو کسی نہ کسی فضول بات کی ضرورت ہوتی ہے۔

(امام رضا علیہ السلام) تحف العقول ص ۳۲۶ ۔ بحارالانوار جلد ۷ ص ۳۳۵

۱۷۸۵۱ ۔ عالم آدمی فضول بات نہیں کرتا۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) مستدرک الوسائل جلد ۲ ص ۹۱

۱۷۸۵۲ ۔ لائق تحسین ہے وہ شخص جو اپنے بچے ہوئے مال کو خرچ کر دیتا ہے اور اپنی زبان کو فضول باتوں سے روکے رکھتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ حکمت ۱۲۳

۱۷۸۵۳ ۔ ایسے شخص پر تعجب ہے جو ایسی باتیں کرتا ہے جو اسے دنیا میں فائدہ نہیں پہنچاتیں اور آخرت کے لئے اس کا اجر نہیں لکھا جاتا۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۵۴ ۔ ایسے شخص پر تعجب ہے جو ایسی باتیں کرتا ہے کہ اگر اس کی طرف سے دوبارہ بیان کی جائیں تو اسے نقصان پہنچائیں اور اگر بیان نہ کی جائیں تو اسے فائدہ نہ دیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۵۵ ۔ فرزند آدمعلیہ السلام کی کوئی بات بھی اس کے فائدہ کے لئے نہیں ہے سوائے امر بالمعروف، نہی عن المنکر اور ذکرِ الٰہی کے۔

(حضرت رسول اکرم) الترغیب و الترہیب جلد ۳ ص ۵۳۷

۱۷۸۵۶ ۔ انسان کبھی ایسی بات کرتا ہے جس سے اس کا مقصد صرف لوگوں کو ہنسانا ہوتا ہے ایسی بات اسے آسمان کی بلندیوں سے بھی بالاتر مقام سے نیچے گرا دیتی ہے۔

(حضرت رسول اکرم) الترغیب و الترہیب جلد ۳ ص ۵۳۷

۱۷۸۵۷ ۔ کیا تم میں کوئی ایسا شخص ہے جو کسی بات سے اپنے ساتھیوں کو ہنساتا ہے؟ اس طرح وہ خدا کو اپنے آپ سے ناراض کر لیتا ہے اور وہ اس سے کبھی راضی نہیں ہوتا حتیٰ کہ اسے جہنم میں ڈال دیتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) الترغیب و الترہیب جلد ۳ ص ۵۳۷

۱۷۸۵۸ ۔ ایک شخص جنت کے اس قدر قریب ہو چکا ہوتا ہے کہ اس کے اور بہشت کے درمیان صرف ایک نیزے کا فاصلہ رہ جاتا ہے، لیکن وہ کوئی ایسی کر دیتا ہے جس سے بہشت کا فاصلہ "صنعاء" کے فاصلے سے بھی زیادہ ہو جاتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) الترغیب و الترہیب جلد ۳ ص ۵۳۸

( ۶) لغو باتیں نہ کرو

۱۷۸۵۹ ۔ لغو باتیں نہ کرو کیونکہ ان کا کم از کم جرم لعنت و ملامت ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۶۰ ۔ لغو باتیں نہ کرو کیونکہ جس کی باتیں زیادہ ہوتی ہیں اس کے گناہ بھی زیادہ ہوتے ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۶۱ ۔ بات نہ کر سکنے میں قباحت، لغو باتوں کے بیان سے بہتر ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۶۲ ۔ زیادہ لغو باتیں، ننگ و عار کا موجب ہوتی ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۶۳ ۔ زیادہ لغو باتیں، ہم نشین کو دل تنگ کر دیتی ہیں اور صاحبانِ ریاست کی توہین کا موجب ہوتی ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۶۴ ۔ لغو باتیں (اپنوں سے دور کرکے) اغیار کے قریب کر دیتی ہیں،

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۶۵ ۔ لغو باتیں (دشمنی کی) آگ کو بھڑکاتی ہیں،

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

( ۷) کثرتِ کلام

۱۷۸۶۶ ۔ کثرتِ کلام میں بے مقصد الفاظ زیادہ ہوتے ہیں اور معانی بہت کم ہوتے ہیں نہ تو اس کی انتہا نظر آتی ہے اور نہ ہی اس سے کسی کو فائدہ حاصل ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۶۷ ۔ زیادہ باتیں نہ کرو کیونکہ ان میں لغزشیں ہوتی ہیں ساتھ پھر یہ اکتاہٹ کا موجب ہوتی ہیں،

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۶۸ ۔ حضرت خضرعلیہ السلام نے جناب موسیٰ علیہ السلام کو جو نصیحتیں کیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے: "زیادہ اور بے مقصد باتیں نہ کریں، اس لئے کہ زیادہ باتیں علماء کے لئے عیب کا سبب ہوتی ہیں اور بے سمجھ لوگوں کے عیوب کو ظاہر کر دیتی ہیں۔"

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۴۴۱۷۶

۱۷۸۶۹ ۔ جو زیادہ باتیں کرتا ہے وہ بکنے لگ جاتا ہے اور جو غور و فکر سے کام لیتا ہے وہ بصیرت حاصل کرتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) شرح ابن ابی الحدید جلد ۱۶ ص ۹۷

۱۷۸۷۰ ۔ طولانی گفتگو کلام کی آفت ہوتی ہے۔

(حضرت رسول اکرم) غررالحکم

۱۷۸۷۱ ۔ جو غیرمتعلقہ باتوں کو طول دیتا ہے وہ اپنے آپ کو ملامت کا نشانہ بناتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۷۲ ۔ کثرت کلامی اکتاہٹ کا موجب ہوتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۷۳ ۔ زیادہ باتیں سمجھدار انسان کو بھلا دیتی ہیں اور برباد شخص کے اکتانے کا موجب ہوتی ہیں۔ لہٰذا زیادہ باتیں نہ کرو کہ خود بھی تنگ آ جاؤ، نہ ہی اس قدر کم بولو جس سے تمہاری اہانت ہو۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

( ۸) کثرتِ کلام سے دل مردہ ہو جاتے ہیں

۱۷۸۷۴ ۔ خدا کے ذکر کے علاوہ زیادہ باتیں نہ کرو کیونکہ ذکرِ الٰہی کے علاوہ کثرتِ کلام دل کو سخت کر دیتی ہے اور جس کا دل سخت ہوتا ہے وہ خدا سے بہت دور ہو جاتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) بحار جلد ۷۱ ص ۲۸۱ ، الترغیب و الترہیب جلد ۳ ص ۵۳۸ ، اسے ترمذی اور بیہقی نے بھی روایت کیا ہے۔

۱۷۸۷۵ ۔ جو زیادہ بولے گا وہ زیادہ لغزشیں کرے گا، جس میں حیا کم ہو اس میں تقویٰ کم ہو گا، جس میں تقویٰ کم ہو گا اس کا دل مردہ ہو جائے گا، اور جس کا دل مردہ ہو گیا وہ دوزخ میں جا پڑا۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۲۸۶ ۔ ص ۲۹۳ ۔ نہج البلاغہ حکمت ۳۴۹

۱۷۸۷۶ ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فرمایا کرتے تھے: "ذکرِ خدا کے علاوہ زیادہ باتیں نہ کرو، کیونکہ جو لوگ ذکرِ خدا کے علاوہ زیادہ باتیں کرتے ہیں ان کے دل پتھر ہو جاتے ہیں اور وہ اس بات کو نہیں جانتے۔"

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۳۰۱

۱۷۸۷۷ ۔ معراج کے موقع پر ہونے والی گفتگو میں یہ بھی تھا: "اے محمد! تمہارے لئے لازم ہے کہ خاموشی اختیار کرو، کیونکہ سب سے زیادہ آباد دل، صالح اور خاموش افراد کے ہوتے ہیں جبکہ سب سے زیادہ ویران دل ایسے لوگوں کے ہوتے ہیں جو بے معنی باتیں کرتے ہیں۔"

بحارالانوار جلد ۷۷ ص ۲۷

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو: باب "قلب" (دل) "جو چیزیں دل کو مردہ کر دیتی ہیں"

( ۹) کم گوئی

۱۷۸۷۸ ۔ کسی شخص کے اسلام کا حسن اس کی کم گوئی میں ہے۔

(حضرت رسول اکرم) اسے احمد بن حنبل نے بھی روایت کیا ہے، المعجم

۱۷۸۷۹ ۔ جس کی باتیں کم ہوں گی اس کے عیب چھپے رہیں گے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۸۰ ۔ باتیں کم کرو اس طرح ملامت سے بچے رہو گے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۸۱ ۔ جب عقل کامل ہو جاتی ہے تو باتیں کم ہو جاتی ہی۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۲۹۰ ۔ نہج البلاغہ حکمت ۷۱

۱۷۸۸۲ ۔ مجھے یہ بات قطعاً پسند نہیں ہے کہ کسی شخص کی زبان اس کے علم سے طویل تر ہوجس طرح یہ بات بھی مجھے بالکل ناپسند ہے کہ اس کا علم اس کی عقل سے زیادہ ہو۔

(امام محمد باقر علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷ ص ۹۲

۱۷۸۸۳ ۔ عہد ماضی میں میرا ایک دینی بھائی تھا کہ اگر بولنے میں اس پر غلبہ پا لیا جاتا تو خاموشی میں اس پر غلبہ حاصل نہیں کیا جا سکتا تھا۔ وہ بولنے سے زیادہ سننے کا خواہشمند رہتا تھا۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ حکمت ۲۸۹

۱۷۸۸۴ ۔ اگر اپنی جان کی سلامتی اور عیبوں کی پردہ پوشی چاہتے ہو تو باتیں کم کرو اور خاموشی زیادہ اختیار کرو۔ اس سے تمہاری فکر میں اضافہ ہو گا اور دل نورانی ہو گا۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۸۵ ۔ اللہ کو جب کسی بندے کی بھلائی مطلوب ہوتی ہے تو اسے کم گوئی، کم خوری اور کم خوابی کا الہام کر دیتا ہے،

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۸۶ ۔ کم گوئی، عیوب کو چھپاتی اور گناہوں کو گھٹاتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۸۷ ۔ کم گوئی، عیبوں کی پردہ پوشی کرتی ہے اور لغزشوں سے محفوظ رکھتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو: باب "کلام" ۱۳ " کلام دوا کی مانند ہے"

( ۱۰) کلام اس وقت تک تمہارے قابو میں ہے جب تک بولو نہیں

۱۷۸۸۸ ۔ جب تک منہ سے بات نہیں نکالو گے اس وقت تک کلام تمہارے قابو میں ہے۔ جب منہ سے بات نکال دیتے ہو تو پھر تم خود اس کے قابو میں آ جاتے ہو، لہٰذا زبان کو بھی اسی طرح سنبھال کے رکھو جس طرح اپنے سونے چاندی کو سنبھال کے رکھتے ہو، کیونکہ بعض اوقات بعض باتیں بڑی نعمت کو سلب کر دیتی ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۲۸۶ ، ص ۲۹۱ ۔ نہج البلاغہ حکمت ۳۸۱

۱۷۸۸۹ ۔ جب کوئی بات منہ سے نکالتے ہو تو اس کے قبضہ میں آ جاتے ہو اور جب تک اسے روکے رکھتے ہو تو اپنے قبضہ میں کئے رکھتے ہو۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۹۰ ۔ اپنی زبان کی حفاظت کرو، کیونکہ باتیں انسان کے قابو میں اس کی قیدی ہوتی ہیں، لیکن اگر اسے کھلا چھوڑ دیتا ہے تو وہ خود ان باتوں کے قابو میں آ کر ان کا قیدی بن جاتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۲۹۳

۱۷۸۹۱ ۔ جاہل خود اپنی زبان کا قیدی ہوتاہے۔

(امام علی نقی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۸ ص ۳۶۸

۱۷۸۹۲ ۔ خاموشی میں انسان پشیمان ہونے سے بچا رہتا ہے، خاموشی کی وجہ سے جو کمی رہ جاتی ہے اس کی تلافی اس فائدہ کے حصول سے زیادہ آسان ہے جو بات کرنے کی وجہ سے حاصل نہیں ہو سکا جیسے برتن میں موجود چیز کی حفاظت اس کے منہ بند رکھنے کے ساتھ ہوتی ہے۔

(امام علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۷ ص ۲۱۵

۱۷۸۹۳ ۔ خاموش رہنے سے جو نقصان ہوتا ہے اس کی تلافی اس فائدہ کے حصول سے زیادہ آسان ہے جو بولنے کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے۔ برتن میں موجود اشیاء کی حفاظت اس کا منہ بند رکھنے سے ہوتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ مکتوب ۳۱

(۱ ۱) کلام کا شمار عمل میں ہے

۱۷۸۹۴ ۔ تیرا کلام، تیرے لئے محفوظ کر لیا جاتا ہے اور تیرے نامہ اعمال میں ہمیشہ کے لئے ثبت کر دیا جاتا ہے، لہٰذا اپنے کلام کو ان چیزوں میں عمل میں لا ؤ جو تمہیں (اپنے رب کے) قریب کر دیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۸۹۵ ۔ جو یہ شخص یہ جانتا ہے کہ اس کے کلام کا شمار عمل میں ہے تو وہ باتیں کرنا کم کرتا ہے اور مطلب کی بات کے علاوہ کلام نہیں کرتا۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۲۷۹

۱۷۸۹۶ ۔ جو شخص یہ جانتا ہے کہ اس کا کلام عمل کا جزو ہے وہ مطلب کی بات کے علاوہ کلام نہیں کرتا۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۲۸۱ ۔ نہج البلاغہ حکمت ۳۴۹

۱۷۸۹۷ ۔ جو شخص یہ جانتا ہے کہ اس کا کلام، عمل ہے تو وہ مطلب کی بات کے علاوہ نہیں بولتا۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۷ ص ۲۸۹

۱۷۸۹۸ ۔ جو شخص یہ جانتا ہے کہ اس کا کلام عمل کے مقام پر ہے تو وہ مطلب کی بات کے علاوہ کوئی کلام نہیں کرتا۔

(حضرت رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۳۰۶

۱۷۸۹۹ ۔ جو شخص اپنے کلام کو عمل میں شمار نہیں کرتا اس کی خطائیں زیادہ ہوتی ہیں اور سزا اس کے سامنے ہوتی ہے۔

(حضرت رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۳۰۴

۱۷۹۰۰ ۔ جو شخص یہ جانتا ہے کہ اس کی باتوں کا مواخذہ ہو گا تو اسے چاہئے کہ کم سے کم گفتگو کرے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

( ۱۲) جو کچھ جانتے ہو سب کچھ نہ کہہ دو

۱۷۹۰۱ ۔ مجھ سے ایک بات سنو جو تمہارے لئے قیمتی چیزوں سے زیادہ بہتر ہے (وہ یہ کہ) تم میں سے کوئی شخص مطلب کی بات کے علاوہ کوئی کلام نہ کرے، مطلب کی باتوں میں بھی بہت سی باتیں نہ کہے، مگر صرف اس وقت جب ان کا موقع و محل دیکھے، کیونکہ بہت سے بولنے والے جو بے موقع بات کہہ دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو قصوروار بنا بیٹھتے ہیں۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۲۸۲ ۔ ص ۲۸۸ جلد ۲ ص ۱۳۰

۱۷۹۰۲ ۔ جو بات نہیں جانتے اسے منہ سے نہ نکالو، بلکہ ہر وہ بات بھی منہ سے نہ نکالو جو تم جانتے ہو کیونکہ خداوند سبحان نے تمہارے اعضا و جوارح پر کچھ فرائض عائد کئے ہیں جن کے ذریعہ وہ قیامت کے دن تمہارے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں گے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ حکمت ۳۸۲ ۔ بحار جلد ۷۱ ص ۲۸۸ ۔ شرح ابن ابی الحدید جلد ۱۹ ص ۳۲۲

۱۷۹۰۳ ۔ عقلمندی اسی میں ہے کہ جو چیزیں انسان کے علمی احاطہ میں ہیں ان سب کو منہ سے نہ نکال دے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۰۴ ۔ جو کچھ جانتے ہو، سب منہ سے نہ نکال دو، ورنہ یہی بات تمہاری جہالت کے لئے کافی ہو گی۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۰۵ ۔ ہر سنی ہوئی بات کو بیان نہ کرو، ورنہ تمہاری بے قوفی کے لئے یہی بات کافی ہو گی۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۰۶ ۔ کسی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات کو بیان کرتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۸۲۰۸

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو: باب "کذب"، "تھوڑا سا جھوٹ"

( ۱۳) کلام دوا کی مانند ہے

۱۷۹۰۷ ۔ کلام دوا کی مانند ہے۔ اگر کم (استعمال) ہو تو مفید ہوتی ہے اور اگر زیادہ (استعمال) ہو تو مہلک ہوتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۰۸ ۔ جب گفتگو کم ہو تو بہتری زیادہ ہوتی ہے اور اگر جواب کثرت کے ساتھ ہوں تو حقیقت گم ہو جاتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۰۹ ۔ عقلمند یا تو اپنی ضروریات کے مطابق بات کرتا ہے یا دلیل کے ساتھ۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۱۰ ۔ گفتگو دوہری صفات کے درمیان ہوتی ہے اور وہ ہیں کثرت و قلت کی عادتیں۔ کثرت کے ساتھ گفتگو بکواس ہوتی ہے اور قلت کے ساتھ گفتگو عاجزی و بات نہ کر سکنا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۱۱ ۔ دانا شخص کی بات اگر صحیح ہو تو دوا ہوتی ہے اور اگر غلط ہو تو بیماری ہوتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

( ۱۴) خاموشی سے بہتر باتیں

۱۷۹۱۲ ۔حضرت امام زین العابدین علیہ السلام سے دریافت کیا گیا کہ "کلام افضل ہے یا سکوت؟" آپ نے فرمایا: "ان میں سے ہر ایک کے لئے کئی آفتیں ہیں۔ اگر دونوں اپنی آفات سے محفوظ ہوں تو کلام سکوت سے بہتر ہے۔" پھر سوال کیا گیا: "فرزندِ رسول! وہ کیسے؟" آپ نے فرمایا: "اس لئے کہ خداوند عز و جل نے انبیاء و اوصیأ کو سکوت کے ساتھ نہیں کلام کے ساتھ بھیجا ہے، نہ تو جنت کا استحقاق سکوت کے ساتھ ہے نہ ہی ولایتِ خداوندی کا حصول سکوت کے ساتھ ہے اور نہ جہنم سے اجتناب سکوت کے ساتھ ہے بلکہ ان سب چیزوں کا تعلق کلام کے ساتھ ہے"

بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۲۴۴ ، وسائل الشیعہ جلد ۸ ص ۵۳۲

۱۷۹۱۳ ۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے والد گرامی سے بیان فرماتے ہیں کہ آپعلیہ السلام نے ایک باتونی شخص سے فرمایا: "اے شخص! تم کلام کی توہین اور سبکی کر رہے ہو۔ تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے جب پیغمبروںعلیہ السلام کو بھیجا تو انہیں سونا چاندی دے کر مبعوث نہیں فرمایا بلکہ انہیں قوتِ گویائی کے ساتھ مبعوث فرمایا اور مخلوق نے اپنا تعارف بھی کلام ہی کے ذریعہ فرمایا، اس پر دلائل و براہین قائم فرمائے۔"

فروع کافی جلد ۸ ص ۱۴۸ ۔ روضة الکافی حدیث ۱۲۸

۱۷۹۱۴ ۔ گفتگو سے روح کو سکون ملتا ہے اور خاموشی سے بدن کو راحت نصیب ہوتی ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۲۷۶

۱۷۹۱۵ ۔ خاموشی اور بات نہ کر سکنے کی نسبت حق بتا کہنا بہتر ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

( ۱۵) خاموشی سونا اور گفتگو چاندی ہے

۱۷۹۱۶ ۔ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے سے فرمایا: "میرے بیٹے! اگر تمہارا یہ خیال ہو کہ کلام چاندی ہے تو یہ بھی یاد رکھو کہ خاموشی سونا ہے۔"

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۲۹۹

۱۷۹۱۷ ۔ خاموشی سونا اور کلام چاندی ہے۔

(حضرت رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۲۹۴

۱۷۹۱۸ ۔ مومن بندہ جب تک خاموش رہتا ہے اس وقت تک نیکوکار لکھا جاتا ہے اور جب بات کرتا ہے تو پھر نیکوکار یا گناہ گار لکھا جاتا ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۳۰۷

۱۷۹۱۹ ۔ حضرت داؤد علیہ السلام نے اپنے فرزند جناب سلیمان علیہ السلام سے فرمایا: "بیٹے! تمہیں نیک باتوں کے علاوہ باقی طویل خاموشی اختیار کرنا چاہئے کیونکہ طویل خاموشی پر پشیمانی ہوتی ہے جو کثرتِ کلام سے کئی مرتبہ پشیمانی کا سامنا کرنے سے کہیں بہتر ہے، فرزند من! اگر کلام کو چاندی قرار دیا جائے تو خاموشی کو سونا قرار دینا چاہئے۔"

بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۲۷۸

(قولِ مولف: مذکورہ متضاد احادیث کو باہم مربوط کرنے کے لئے غور کیا جائے)

( ۱۶) خاموشی ہمیشہ قابل ستائش نہیں ہوتی

۱۷۹۲۰ ۔ حکمت کی بات پر خاموش رہنے میں بہتری نہیں جیسا کہ جہالت کی بات پر زبان کھولنے میں بہتری نہیں ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۳۹۱ جلد ۲ ص ۸۱ شرح ابن ابی الحدید جلد ۱۹ ص ۹

۱۷۹۲۱ ۔ جس خاموشی میں غور و فکر نہ ہو وہ غفلت ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۲۷۵

(امام جعفر صادق علیہ السلام) المحاسن، خصال صدوق ۔ معانی الاخبار۔

۱۷۹۲۲ ۔ خاموشی اس شخص کے لئے عبادت ہے جو خدا کو یاد کرتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۲۹۴

۱۷۹۲۳ ۔ غور و فکر کے بغیر خاموشی گونگاپن ہے،

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۲۴ ۔ عالم کو اپنے علم پر خاموشی اختیار نہیں کرنا چاہئے، نہ جاہل کے لئے مناسب ہے کہ وہ خاموش رہے۔ (یعنی عالم کو اپنا علم بیان کرنا چاہئے اور جاہل کو اس سے علم حاصل کرنا چاہئے) اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فائلوا اھل الذکران کنتم لاتعلمون" یعنی اگر تم نہیں جانتے تو علماء سے پوچھو۔

(حضرت رسول اکرم) کنزالعمال حدیث ۲۹۲۶۵

۱۷۹۲۵ ۔ ہر (نیا) آنے والا سرگردان ہوتا ہے، لہٰذا اس سے کھل کر باتیں کرو۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو باب "بدعت"، "جب بدعتیں ظاہر ہونے لگیں"

نیز: عنوان "نیکی" ( ۲)

( ۱۷) کلام سے بہتر خاموشی

۱۷۹۲۶ ۔ جو خاموشی تمہارے وقار کا موجب بنے اس کلام سے بہتر ہے جو تمہیں ننگ و عار کا لباس پہنائے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۲۷ ۔ جس بات کے نتیجہ میں ملامت کا شکار ہونا پڑے اس سے وہ سکوت بہتر ہے جس کے نتیجے میں سلامتی حاصل ہو۔

(حضرت علیعلیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۲۸ ۔ جو خاموشی تمہیں شرافت کا لباس پہنائے وہ اس کلام سے بہتر ہے جو تمہیں پشیمانی کا شکار کر دے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۲۹ ۔ (نامہ اعمال میں) برائی لکھوانے کی بجائے خاموشی بہتر ہے اور نیکی لکھوانے سے خاموشی بہتر نہیں ہے۔

(حضرت رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۲۹۴

۱۷۹۳۰ ۔ گونگاپن جھوٹ بولنے سے بہتر ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۳۱ ۔ بات نہ کر سکنا واہیات باتوں سے کہیں بہتر ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

( ۱۸) اولیاء اللہ کی خاموشی

۱۷۹۳۲ ۔ اولیاء اللہ خاموش رہتے ہیں، ان کی خاموشی ذکر (الٰہی) ہوا کرتی ہے۔ وہ (تخلیقِ خداوندی میں) غور و فکر کیا کرتے ہیں، ان کا یہ غور و فکر عبرت ہوتا ہے۔ پھر جب باتیں کرتے ہیں تو ان کا باتیں کرنا حکمت ہوتی ہے۔

(حضرت رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۶۹ ص ۲۸۹ ۔ امالی شیخ مغید، اور اس کتاب میں ہے:

"ان کی خاموشی فکر پر مبنی ہوتی ہے، اور بولتے ہیں تو ان کا بولنا ذکرِ الٰہی ہوتا ہے۔"

۱۷۹۳۳ ۔ اللہ کے کچھ بندے ایسے ہیں جن کے دل خوفِ خدا سے شکستہ ہو چکے ہیں، جن کی بنا پر وہ خاموش رہتے ہیں حالانکہ وہ بڑے فصیح و عقلمند ہوتے ہیں ، اپنے پاکیزہ اعمال کی وجہ سے خدا کی طرف جانے کے لئے جلدی میں ہوتے ہیں۔ وہ کثیر اعمال کو بھی کثیر نہیں سمجھتے اور قلیل اعمال پر ان کے دل راضی نہیں ہوتے"

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۸ ص ۳۰۹ ۔ جلد ۶۹ ص ۲۸۶

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو: باب "نظر" (غور و فکر) "جس غور و فکر کا کوئی نتیجہ نہیں ہوتا"

نیز: باب "خیر"

( ۱۹) احسن کلام

۱۷۹۳۴ ۔ احسن کلام وہ ہے جس کا سننا کانوں پر ناخوشگوار نہ گزرے اور ذہن جس کے سمجھنے سے تھک نہ جائیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۳۵ ۔ احسن کلام وہ ہے جسے حسنِ ترتیب سے مزین کیا جائے اور اسے ہر خاص و عام سمجھ لیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۳۶ ۔ بہترین اور احسن کلام وہ ہے جو نہ تو تھکا دے اور نہ ہی کم ہو۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۳۷ ۔ احسن کلام (صرف) کلامِ الٰہی ہی ہے۔

(حضرت رسول اکرم) اسے نسائی اور ابن ماجہ نے بھی روایت کیا ہے، المعجم

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو: باب "قرآن" ، "قرآن سب سے احسن کلام ہے")

(۲۰)جامع کلام

۱۷۹۳۸ ۔ مجھے جامع کلام دے کر مبعوث کیا گیا ہے اور رعب کے ساتھ میری نصرت کی گئی ہے۔

(حضرت رسول اکرم) اسے بخاری اور مسلم نے بھی روایت کیا ہے۔ المعجم

۱۷۹۳۹ ۔ رعب کے ساتھ میری نصرت کی گئی ہے اور مجھے جامع کلام عطا کیا گیا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) اسے مسلم اور احمد بن حنبل نے بھی روایت کیا ہے، المعجم

۱۷۹۴۰ ۔ عطاء بن سائب حضرت امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ امام علیہ السلام اپنے مقدس آباؤ اجداد کے ذریعہ حضرت رسول خدا سے روایت فرماتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "مجھے پانچ چیزیں ایسی عطا کی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں۔ ۱ ۔ میں ہر گورے اور کالے کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں ۲ ۔ زمین پر میرے لئے مقام سجدہ قرار دی گئی ہے ۳ ۔ رعب کے ساتھ میری نصرت کی گئی ہے ۴ ۔ مالِ غنیمت میرے لئے حلال قرار دیا گیا ہے جومجھ سے پہلے کسی نبی کے لئے حلال نہیں تھا اور ۵ ۔ مجھے جامع کلام سے نوازا گیا ہے۔" عطا ابن سائب کہتے ہیں کہ میں نے امام محمد باقر علیہ السلام سے عرض کیا کہ: "جامع کلام سے کیا مراد ہے؟" فرمایا: "قرآن مجید"۔

بحارالانوار جلد ۹۴ ص ۱۴ ۔ ۱۵

۱۷۹۴۱ ۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد بزرگوار سے سنا کہ حضرت رسول خدا کے پاس ایک بادیہ نشین عرب آیا اور عرض کیا: "میں دیہات میں رہتا ہوں، لہٰذا آپ مجھے کوئی جامع کلام تعلیم فرمائیے!" آنحضرت نے فرمایا: "میں تجھے حکم دیتا ہوں کہ غصہ نہ کیا کر" اس شخص نے اپنی بات کو تین مرتبہ دہرایا اور تینوں مرتبہ یہی جواب سنا۔ آخر اسے سمجھ میں آ گیا اور کہنے لگا: "اس کے بعد میں کسی اور بات کا سوال نہیں کروں گا"

کافی جلد ۲ ص ۳۰۳

۱۷۹۴۲ ۔ یزید بن سلمہ جعفی کہتے ہیں: "یا رسول اللہ ! میں نے آپ سے بڑی تعداد میں احادیث سنی ہیں جس سے مجھے خوف لاحق ہو گیا کہ آخری حدیث، پہلی حدیث کو فراموش نہ کر دے۔ لہٰذا مجھے ایسی بات بتائیں جو سب سے جامع ہو۔" آپ نے فرمایا: "جن باتوں کا تمہیں علم ہے ان میں خدا سے ڈرتے رہو۔"

(صحیح ترمذی جلد ۱ ص ۱۵۶

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو: باب "اسلام"، "جامع اسلام"

نیز: باب "خیر"، "ساری کی ساری خیر" اور باب "جن چیزوں سے دنیا و آخرت حاصل کی جاتی ہے")

( ۲۱) پاکیزہ کلام

قرآن مجید

( …وقولوا للناس حسنا ) (بقرہ/ ۸۳)

ترجمہ۔اور لوگوں کے ساتھ اچھی طرح باتیں کرو

( وقل لعبادی یقولوا التی هی احسن، ان الشیطٰن ینزغ بینهم ) (بنی اسرائیل/ ۵۳)

ترجمہ۔ اور اے پیغمبر! میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہ بات کریں تو اچھے طریقے سے کیونکہ شیطان ان میں فساد ڈلواتا ہے

( یٰا یهاالذین امنوا اتقوا وقولوا قولا سدیدا ) ۔ (احزاب/ ۷۰)

ترجمہ۔ ایمان والو! خدا سے ڈرتے رہا کرو اور درست بات کیا کرو۔

( واذاسمعوا اللغو…………………………لا نبتغی الجهٰلین ) (قصص/ ۵۵)

ترجمہ۔ اور وہ جب کسی سے بری بات سنتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور (صاف) کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے واسطے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے واسطے تمہارے اعمال ہیں، تمہیں دور سے سلام ہے، ہم جاہلوں کے خواہاں نہیں ہیں۔

حدیث شریف

۱۷۹۴۳ ۔ ایک شخص نے حضرت رسول خدا کی سواری کی لگام پکڑ کر سوال کیا: "یارسول اللہ! کونسا عمل سب سے بہتر ہے؟" آپ نے فرمایا: "کھانا کھلانا اور پاکیزہ بات کرنا۔"

بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۳۱۲

۱۷۹۴۴ ۔ تین چیزیں نیکی کا دروازہ ہیں۔ ۱ ۔ دل کا سخی ہونا ۲ ۔ پاکیزہ کلام اور ۳ ۔ دکھوں پر صبر۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۳۱۱

۱۷۹۴۵ ۔ جنت میں ایسے بالاخانے ہوں گے جن کے ظاہر سے باطن کو اور باطن سے ظاہر کو دیکھا جا سکے گا، اس میں میری امت کے وہ لوگ سکونت پذیر ہوں گے جن کی باتیں پاکیزہ ہوں گی، جو کھانے کھلاتے ہیں، سلام کو عام کرتے، روزے رکھتے اور رات کو جب سب لوگ سوئے ہوتے ہیں تو وہ نماز پڑھتے ہیں۔"

(حضرت رسول اکرم) معانی الاخبار ص ۲۳۸

۱۷۹۴۶ ۔( قولو اللناس حسنا ) (لوگوں سے اچھی اچھی باتیں کیا کرو) کے بارے میں ہے کہ اس سے مراد ہے: "لوگوں سے ایسی بات کرو جس کا جواب سننے کے لئے اس سے بہتر کے خواہاں ہوتے ہو۔"

(امام محمد باقرعلیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۳۰۹

۱۷۹۴۷ ۔ سلیمان بن مہران کہتے ہیں کہ میں امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں شرفیاب ہوا۔ اس وقت آپ کی خدمت میں چند شیعہ حضرات تشریف فرما تھے۔ میں نے آپعلیہ السلام کو فرماتے سنا: "اے گروہِ شیعیان! تم ہمارے لئے زینت بنو، ہمارے لئے باعث ننگ و عیب نہ بنو لوگوں سے اچھی اچھی باتیں کرو، اپنی زبانوں کی حفاظت کرو اور ان زبانوں کو فضول و بیہودہ باتوں سے بچا کر رکھو۔"

بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۳۱۰

۱۷۹۴۸ ۔ خدا سے ڈرو اور لوگوں کو اپنے کندھوں پر سوار نہ ہونے دو کیونکہ خداوندِ عزوجل اپنی کتاب میں فرماتا ہے۔ "لوگوں سے اچھی باتیں کیا کرو۔"

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۳۱۳

۱۷۹۴۹ ۔ خوبصورت اور پیاری گفتگو، مال و ثروت میں اضافہ کرتی ہے، رزق میں برکت کا موجب ہوتی ہے۔ اجل (موت) کی تاخیر کا سب ہوتی ہے، اپنوں میں محبوب بناتی ہے اور (انجام کار) بہشت میں لے جاتی ہے۔

(امام زین العابدین علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۳۱۰

۱۷۹۵۰ ۔ اس ذات کی قسم میری جان جس کے قبضہ میں ہے، لوگ جو کچھ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان سب میں نیک باتوں سے بڑھ کر کوئی چیز اللہ کو محبوب نہیں ہے۔

(حضرت رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۳۱۱

۱۷۹۵۱ ۔ اچھی گفتگو کرو کہ اس سے تمہاری پہچان ہوتی ہے اور اچھے کام کرو کہ اس سے تم اہل خیر بن جاؤ گے۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۳۱۱

۱۷۹۵۲ ۔ اچھی بات کرو تاکہ اچھا جواب پاؤ۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۵۳ ۔ بری باتوں کا جواب بھی برا ملتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۵۴ ۔ جس کی گفتگو پیاری ہوتی فتح و کامرانی اس کے آگے آگے ہوتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۵۵ ۔ قول و فعل (دونوں) میں اپنے نفس کو کھلی چھٹی نہ دے دو۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۵۶ ۔ اپنی زبان کو اچھی گفتگو کا عادی بناؤ کہ اس طرح ملامتوں سے بچے رہو گے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۵۷ ۔ اپنی زبان کو نرم گفتگو اور سلام کرنے کا عادی بناؤ کہ اس سے تمہارے دوست بڑھیں گے اور دشمن گھٹیں گے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۵۸ ۔ جس کی زبان شیریں ہوتی ہے اس کے دوست زیادہ ہوتے ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

( ۲۲) کلام کے بارے میں متفرق احادیث

۱۷۹۵۹ ۔ کلام کے لئے کئی آفتیں ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۶۰ ۔ کلام تین طرح کا ہوتا ہے۔ ۱ ۔ نفع اٹھانے والا۔ ۲ ۔ سالم و تندرست اور ۳ ۔ بیمار و لاغر۔ نفع اٹھانے والا کلام وہ ہے جو ذکر خدا میں ہوتا ہے، سالم و تندرست وہ ہے جس میں اللہ کی پسندیدہ گفتگو ہو اور لاغر و بیمار وہ کلام ہوتا ہے جو لوگوں کے بارے میں ہو۔

(حضرت رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۷۱ ص ۲۸۹

۱۷۹۶۱ ۔ بدترین بات وہ ہے جو ایک دوسرے کی نقیض ہو۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۶۲ ۔ الفاظ معانی کے قالب ہوتے ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۶۳ ۔ ہر بات کے لئے ایک موقع محل ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۶۴ ۔ جب بات کرنے کا موقع نہ ہو تو خاموش رہو۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۶۵ ۔ صاحبان (عقل و) فہم کے لئے باتوں کو الٹ پھیر کیا جا سکتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۶۶ ۔ زبانِ مقال (بولتی زبان) سے زبانِ حال، موجودہ کیفیت کی زبان، زیادہ سچی ہوتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۶۷ ۔ جسے صرف اپنی باتیں ہی اچھی لگتی ہوں، سمجھو کہ اس کی عقل ڈوب چکی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم


فصل۔ ۴۱

( ۱) کمال

۱۷۹۶۸ ۔ عقلمند کمال کا اور جاہل مال کا طلبگار ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۶۹ ۔ انسان و عقل اور صورت (دو چیزوں) کا مجموعہ ہے۔ جس کے پاس صورت تو ہو لیکن عقل نہ ہو وہ کامل نہیں ہوتا۔ ایسا ہوتا ہے جیسے میں روح نہیں ہے (فقط ایک ڈھانچہ ہے) لہٰذا جسے عقل کی ضرورت ہے اسے چاہئے کہ اصول و فضول کو اچھی طرح پہچانے اس لئے کہ بہت سے لوگ (اس بارے میں غلطی کر جاتے ہیں) فضول کو حاصل کرتے ہیں اور اصول کو چھوڑ دیتے ہیں حالانکہ جو اصول کو اپناتا ہے، فضول سے خودبخود اس کی جان چھوٹ جاتی ہے

دینی امور کے اصول ان چن چیزوں پر مشتمل ہیں: نمازوں کی پابندی، گناہانِ کبیرہ سے اجتناب اور ان کو ایسا پلے باندھا جائے کہ پلک جھپکنے کے لئے بھی ان سے خود کو بے نیاز نہ سمجھا جائے کیونکہ ان کے بغیر ہلاکت و تباہی ہے، اگر ان سے آگے بڑھ کر فقہ و عبادت کو اپنا لیا جائے تو پھر اس کے کیا ہی کہنے۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۸ ص ۷

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو باب "فضلیت"، "فضائل اور فرائض کا باہمی ٹکراؤ"

( ۲) کامل ترین شخص

۱۷۹۷۰ ۔ حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام کی طرف منسوب اشعار کا ترجمہ: کامل ترین شخص وہ ہے جو اپنے نقص کو اچھی طرح جانتا ہے اور اپنی خواہشات و حرص کا قلع قمع کرتا ہے۔

عافیت سے بڑھ کر کسی چیز کو گراں قیمت نہ سمجھو نہ ہی بیماری کو معمولی سمجھ کر سستا جانو۔

بحارالانوار جلد ۷۸ ص ۸۹

۱۷۹۷۱ ۔ اپنے آپ کو وہی شخص ناقص سمجھتا ہے جو درجہ کمال تک پہنچ چکا ہو۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۷۲ ۔ انسان کا اپنے نفس کو ناقص سمجھنے کا شعور اس کے کمال اور بہت بڑی فضلیت کا ثبوت ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۷۳ ۔ کمال دنیا میں مفقود ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

( ۳) کامل عورتیں صرف چار ہیں

۱۷۹۷۴ ۔ ابو موسیٰ حضرت پیغمبر خدا سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضور نے فرمایا: "مردوں میں تو بہت سے لوگ کامل ہیں لیکن عورتوں میں سے صرف چار میں کمال کی صفت پائی جاتی ہے۔ ۱ ۔ آسیہ بنت مزاحم زنِ فرعون ۲ ۔ مریم بنت عمران (مادر عیسیٰعلیہ السلام) ۳ ۔ خدیجہعلیہ السلام بنت خویلد (زوجہ رسولِ خدا) اور ۴ ۔ فاطمہ بنت محمد (زوجہ علی علیہ السلام)۔

مجمع البیان جلد ۱۰ ص ۳۲۰

۱۷۹۷۵ ۔ احمد، طرانی اور حاکم نے حضرت ابن عباس سے اس حدیث کو نقل کیا ہے اور صحیح قرار دیا ہے: حضرت رسولِ خدا فرماتے ہیں: "اہلِ جنت کی افضل ترین عورتیں (چار ہیں) ۱ ۔ خدیجہعلیہ السلام بنت خویلد ۲ ۔ فاطمہعلیہ السلام بنت محمد ۳ ۔ مریم بنت عمران اور ۴ ۔ آسیہ بنت مزاحم زنِ فرعون۔

(تفسیر در منثور جلد ۶ ص ۲۴۶

( ۴) کمال کا موجب اشیاء

۱۷۹۷۶ ۔ انسان چھ باتوں کی وجہ سے کامل ہوتا ہے۔ اپنی دو چھوٹی چیزوں دو بڑی چیزوں اور دو کیفیتوں کی وجہ سے۔ دو چھوٹی چیزیں اس کا دل و زبان ہیں۔ اگر لڑتا ہے تو دل کے ساتھ اور اگر بولتا ہے تو زبان کے ساتھ، دو بڑی چیزیں اس کی عقل و ہمت ہیں، دو کیفیتیں اس کا مال و جمال ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۰ ص ۴ ، معانی الاخبار ص ۱۴۷

۱۷۹۷۷ ۔ حضرت جابر بن عبداللہ انصاری سے روایت ہے کہ: ایک دن (حضرت رسول خدا کے چچا) حضرت عباس (بن عبدالمطلبعلیہ السلام) آنحضرت کے پاس آئے، حضرت عباس کا قد لمبا اور جسم خوبصوتر تھا۔ انہیں دیکھ کر آنحضرت مسکرا کر فرمانے لگے: "چچا! آپ تو بڑے خوبصوتر ہیں!" یہ سن کر حضرت عباس نے پوچھا: "یارسول اللہ! انسان کی خوبصورتی کس چیز میں ہوتی ہے؟" آپ نے فرمایا "حق اور سچ بولنے کے ساتھ" انہو ں نے پھر پوچھا: "پھر اس کا کمال کس چیز میں ہوتا ہے؟ " فرمایا: "خدا کے تقویٰ اور اچھے اخلاق میں"۔

بحارالانوار جلد ۷۰ ص ۲۹۰

۱۷۹۷۸ ۔ صحیح معنی میں، مکمل طور پر کمال نام ہے، دین میں غور و فکر (علمِ فقہ کے حصول) مصیبتوں پر صبر اور معیشت کو صحیح انداز میں سنبھالنے کا۔

(امام محمد باقر علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۸ ص ۱۷۲

۱۷۹۷۹ ۔ تین چیزوں میں کمال پایا جاتا ہے۔ ۱ ۔ مصیبتوں پر صبر ۲ ۔ ہر موقع پر پرہیزگاری اور ۳ ۔ حاجت مندوں کی ضرورت کو پورا کرنا۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۸۰ ۔ عقل کے ذریعہ نفس کو کامل کیا جاتا ہے اور نفس کے ساتھ جہاد کے ذریعہ نفس کی اصلاح کی جاتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۸۱ ۔ انسان کا کمال اس کی عقل میں ہے اور اس کی قیمت اس کے فضل میں ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۸۲ ۔ انسان کا کمال اس کی عقل میں ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

( ۵) کامل شخص کی صفات

۱۷۹۸۳ ۔ جب کسی انسان کی اچھائیاں اس کی برائیوں سے زیادہ ہوں تو ایسا شخص کامل ہوتا ہے۔ اسی میں ارتقاء پایا جاتا ہےاور اگر اس کی اچھائیاں اور برائیاں برابر ہوں تو ایسا شخص ایک حد تک رکا ہوا ہوتا ہے اور جس کی برائیاں اس کی اچھائیوں سے زیادہ ہوں تو ایسا شخص ہلاک ہونے والا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۸۴ ۔ کامل انسان وہ ہے جس کی سنجیدگی اس کی بے معنی باتوں پر غالب ہو۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۸۵ ۔ کامل انسان وہ ہے جو اپنی عقل کے ذریعہ اپنی خواہشات پر غلبہ کئے رکھے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۸۶ ۔ تین صفات ایسی ہیں جو کسی کو (رب کی طرف سے) عطا ہو جائیں تو وہ کامل کہلائے گا: ۱ ۔ عقل ۲ ۔ جمال اور ۳ ۔ فصاحت۔

(حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۸ ص ۲۳۴ ۔ تحف العقول ص ۲۳۶

۱۷۹۸۷ ۔ جو عالم نہیں اسے سعادت مند (نیک بخت) شمار نہیں کرنا چاہئے۔

جو کسی سے دوستی اور محبت نہیں رکھتا اسے سراہا نہیں جانا چاہئے۔

جو صبر کا مظاہرہ نہی ں کرتا اسے کامل شمار نہیں کرنا چاہئے

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۸ ص ۲۴۶

۱۷۹۸۸ ۔ تین کام کرو کہ ان سے تمہاری شرافت و علوِ مرتبت کامل سمجھی جائے گی: ۱ ۔ حیا کی چادر اوڑھ لو ۲ ۔ وفا کی زرہ پہن لو اور ۳ ۔ عورتوں سے کم باتیں کرو۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو باب "بھائی"، " کامل بھائی")


فصل ۔ ۴۲

دانائی

( ۱) سمجھدار انسان

۱۷۹۸۹ ۔ سمجھدار انسان وہ ہوتا ہے جو اپنے نفس کو پہچانتا اور اپنے اعمال کو خلوص کے ساتھ بجا لاتا ہے،

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۹۰ ۔ سمجھدار انسان کی اصل و بنیاد اس کی عقل ہوتی ہے، مروت و مردانگی اس کی ثانوی عادت ہوتی ہے اور دین اس کا خاندان ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۹۱ ۔ باشعور انسان وہ ہوتا ہے جس کا آج کا دن اس کے گزشتہ کل سے بہتر ہوتا ہے اور مذموم باتوں سے اپنے آپ کو بچائے رکھتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۹۲ ۔ زیرک انسان وہ ہے جو اپنی خواہشات اور شہوات کا قلع قمع کرکے اپنے فضائل کو زندہ رکھتا ہے اور رذیل کاموں کو موت کے گھاٹ اتار دیتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۹۳ ۔ دانا انسان وہ ہے جو دوسروں سے بے خبر ہو کر اپنے نفس سے خوبیوں کا تقاضا کرتا رہتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۹۴ ۔ سمجھدار انسان وہ ہے جو اپنی خواہشات کی باگ ڈور اپنے قابو میں رکھتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۹۵ ۔ باشعور شخص وہ ہ جو حیا کی چادر اوڑھے اور بردباری کی زرہ زیب تن کئے رہتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۹۶ ۔ عقلمند انسان وہ ہے جو اپنے نفس پر قابو رکھتا ہے، موت کے بعد کے زمانہ کے لئے اعمال بجا لاتا ہے، جبکہ عاجز انسان وہ ہوتا ہے جو اپنی خواہشات کا تابع ہوتا ہے اور خدا سے انہونی باتوں کی آرزوئیں لگائے رکھتا ہے۔

(حضرت رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۷۹ ص

۱۷۹۹۷ ۔ باشعور انسان کادوست حق اور اس کا دشمن، باطل ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۹۸ ۔ دانا انسان وہ ہوتا ہے جو اپنی خواہشات کو روکے رکھتا اور اپنی جنسی شہوات پر قابو رکھتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۷۹۹۹ ۔ سمجھدار انسان وہ ہوتا ہے جو برائی کرتا ہے تو استغفار کرتا ہے اور جب گناہ کرتا ہے تو پشیمان ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۰۰ ۔ اچھے طریقہ سے نماز ادا کیا کرو، اپنی آخرت کے لئے اعمال بجا لایا کرو اور اپنے لئے اچھے اعمال کو ترجیح دو کیونکہ بعض اوقات ایک آدمی دینوی امور میں سمجھداری سے کام لیتا ہے تو اس کے لئے کہا جاتا ہے کہ یہ شخص کس قدر سمجھدار ہے، حالانکہ صحیح معنوں میں وہ شخص سمجھدار ہوتا ہے جو آخرت کے امور میں سوچ سمجھ سے کام لے۔

(حضرت رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۷۷ ص ۷۹

۱۸۰۰۱ ۔ صحیح معنوں میں دانائی، خوفِ خدا، حرام سے اجتناب اور آخرت کی اصلاح کا نام ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۰۲ ۔ مومنین میں بڑھ کر شریف وہ ہوتا ہے، جس میں سوجھ بوجھ اور دانائی سب سے زیادہ پائی جاتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

( ۲) زیرکی

۱۸۰۰۳ ۔ جہالت و کند دہنی کو فطانت و زیرکی کے ذریعہ دور بھگاؤ۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۰۴ ۔ انسان (کی قدر و قیمت) اس کی ذہانت و فطانت سے ہوتی ہے کہ شکل و صورت سے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۰۵ ۔ سوجھ بوجھ، ذہانت اور زیرکی سے ہوتی ہے،

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۰۶ ۔ یقین کی چار شاخیں ہیں: روشن نگاہی، حقیقت رسی، عبرت اندوزی اور اگلوں کے طور و طریقے۔ چنانچہ جو دانش و آگاہی حاصل کرے گا اس کے سامنے علم و عمل کی راہیں واضح ہو جائیں گے، جس کے لئے علم و عمل واضح ہو جائے گا وہ عبرت سے آشنا ہو گا، اور جو عبرت سے آشنا ہو گا وہ ایسا ہے جیسے پہلے لوگوں میں موجود رہا ہو۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ حکمت ۱ و

( ۳) داناؤں کی خصوصیات

۱۸۰۰۸ ۔ دانا لوگ وہ ہوتے ہیں جو دنیا کو ناپسند کرتے ہیں، دینوی رونقوں سے آنکھیں بند رکھتے ہیں، اپنے دلو ں کو دنیا سے موڑے ہوئے ہوتے ہیں اور بقا کے گھر (آخرت) کے لئے والہ (؟) ہوتے ہیں،

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۰۹ ۔ دنیا دانا لوگوں کے لئے طلاق شدہ (بیوی کی حیثیت) سے ہوتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۱۰ ۔ جب کاہل و ناکارہ افراد عمل میں کوتاہی کرتے ہیں تو اللہ کی طرف سے یہ عقلمندوں کے لئے ادائے فرض کا بہترین موقع ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) بحار الانوار جلد ۷۱ ص ۱۸۹ ۔ نہج االبلاغہ حکمت ۳۳۱

۱۸۰۱۱ ۔ بہت سے روزہ دار ایسے ہیں جنہیں روزوں کا شمرہ بھوک پیاس کے علاوہ کچھ نہیں ملتا، بہت سے عابد شب ِ زندہ دار ایسے ہیں جنہیں روزوں کا ثمرہ بھوک پیاس کے علاوہ کچھ نہیں ملتا، بہت سے عابدِ شب زندہ دار ایسے ہیں جنہیں عبادت کے نتیجہ میں جاگنے اور زحمت اٹھانے کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا جبکہ زیرک و دانا لوگوں کا سونا اور روزہ نہ رکھنا بھی قابلِ ستائش ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ حکمت ۱۴۵

۱۸۰۱۲ ۔ یقیناً اطاعت کے لئے واضح نشان، روشن راہیں، سیدھی شاہراہیں اور ایک منزل مقصود موجود ہے۔ عقلمند و دانا ان کی طرف بڑھتے ہیں اور سفلے و کمینے ان سے کترا جاتے ہیں

(حضرت علی علیہ السلام) مکتوب ۳۰

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو باب "غنیمت جاننا" "عقل مندوں کی غنیمت")

( ۴) بہت عقلمند

۱۸۰۱۳ ۔ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ "کونسا مومن بہت عقل مند ہوتا ہے؟" آپ نے فرمایا: ‘"جو موت کو زیادہ یاد کرتا ہے اور اس کے لئے سب سے زیادہ تیاریوں میں مصروف ہوتا ہے؟" آپ نے فرمایا: "جو موت کو زیادہ یاد کرتا اور اس کے لئے سب سے زیادہ تیاریوں میں مصروف رہتا ہو۔"

(حضرت رسول اکرم) بحار جلد ۸۷۱ ص ۲۶۷ ، جلد ۶ ص ۲۶ ، جلد ۸۲ ص ۱۶۷ ، ۱۶۸

۱۸۰۱۴ ۔ حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ میں حضرت رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس وقت حاضر ہونے والا میں دسواں شخص تھا، اتنے میں ایک انصاری نے کھڑے ہو کر عرض کیا: "یا نبی اللہ! سب سے زیادہ عقلمند و دوراندیش انسان کون ہوتا ہے؟" آپ نے فرمایا: "جو موت کو زیادہ یاد کرتا ہے اور ہر وقت اس کی تیاری میں مصروف رہتا ہے۔ ایسی خصوصیات کے حامل افراد جب دنیا سے رخصت ہوتے ہیں تو دنیوی شرافت و اخروی عزت کے ساتھ رخصت ہوتے ہیں۔"

الترغیب و الترہیب جلد ۴ ص ۲۳۸ ۔ اسے ابن ابی الدنیا اور طبرانی نے بھی روایت کا ہے۔

۱۸۰۱۵ ۔ حضرت امام علی علیہ السلام سے پوچھا گیا: "کونسا شخص زیادہ زیرک ہوتا ہے؟" آپ نے فرمایا: "جس کے لئے ہدایت و گمراہی واضح ہو جائے اور وہ ہدایت کی طرف راغب ہو جائے۔"

بحارالانوار جلد ۷۷ ص ۳۷۸ ۔

۱۸۰۱۶ ۔ عقلمندترین انسان وہ ہے جو دنیا کو چھوڑ دے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۱۷ ۔ بڑا عقلمند وہ ہوتا ہے جو دنیاداروں سے مایوس ہو کر خاموشی و پرہیزگاری اختیار کئے رکھے اور حرص و طمع سے دور رہے

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۱۸ ۔ افضل ترین شخص وہ ہے جو نرم روی پر عمل پیرا ہوتا ہے، عقلمند ترین شخص وہ ہے جو حق پر زیادہ صبر کرتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

( ۵) داناترین

۱۸۰۱۹ ۔ سب سے زیادہ عقلمند وہ ہوتا ہے جو دنیا سے منہ موڑ لے، اس سے اپنی آرزوؤں کو منقطع کر لے اور دنیوی طمع و لالچ سے بے نیاز ہو کر زندہ رہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۲۰ ۔ سب سے زیادہ سمجھدار و دانا انسان متقی و پرہیزگار ہے اور سب سے بڑا احمق فاسق و فاجر ہے۔

(حضرت رسول اکرم) بحار جلد ۷۷ ص ۱۱۵

۱۸۰۲۱ ۔ سب سے بڑا عقلمند متقی انسان ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۲۲ ۔ سب سے بڑا دانا انسان وہ ہوتا ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے، موت کے بعد درپیش آنے والے دور کے لئے اعمال بجا لائے، جبکہ سب سے بڑا احمق وہ ہوتا ہے جو نفسانی خواہشات کی اتباع کرے اور خدا سے بے فائدہ مند آرزوؤں کی توقع رکھے۔

(حضرت رسول اکرم) بحارالانوار جلد ۹۲ ص ۲۵۰

( ۶) دانائی کے لئے اتنا ہی کافی ہے!

۱۸۰۲۳ ۔ انسان کی دانائی کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنے عیوب کو جان لے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۲۴ ۔ انسان کی دانائی کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنی خواہشات پر غالب رہے اور عقل پر قابو رکھے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۲۵ ۔ کسی شخص کی عقلمندی کے لئے یہی کافی ہے کہ اپنے عیوب سے واقفیت حاصل کرے اور اپنے دوسرے کاموں میں میانہ روی سے کام لے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۲۶ ۔ کسی شخص کی عقلمندی کے لئے یہی کافی ہے کہ اپنے کاروبار میں میانہ روی اختیار کرے اور دیگر امور کو خوبصورت انداز میں انجام دے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم


فصل ۴۳

لوم (کمینہ پن)

۱۸۰۲۷ ۔ کمینگی برائیوں کی جڑ ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۲۸ ۔ کمینہ پن تمام قابلِ مذمت چیزوں کا مجموعہ ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۲۹ ۔ کمینگی تمام فضلیتوں کی ضد اور تمام رذالتوں کا مجموعہ ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۳۰ ۔ کمینہ پن ایک برائی ہے، لہٰذا اسے اپنا اوڑھنا بچھونا نہ بناؤ۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۳۱ ۔ مال کی محبت و ستائش و تعریف کی لذت کو ترجیح دینا کمینہ پن ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۳۲ ۔ بداخلاقی کمینہ پن کا ایک جزو ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۳۳ ۔ عہد و پیمان شکنی کمینہ پن کی علامت ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۳۴ ۔ بری ہمسائیگی کا اظہار یعنی ہمسایوں سے برا سلوک، کمینہ پن کی علامت ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۳۵ ۔ نیک لوگوں کی غیبت بدترین کمینگی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۳۶ ۔ جس کے پاس دو چیزیں اکٹھی ہو جائیں اسے کمینگی کے دو ستونوں کا سہارا مل جاتا ہے ایک تو دنیا کی حرص اور ایک بخل۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۳۷ ۔ حضرت امام حسین علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ کمینہ پن کیا ہے؟ آپعلیہ السلام نے فرمایا: "سخاوت کم اور گفتگو کا فحش ہونا"

تحف العقول ص ۱۶۲

۱۸۰۳۸ ۔ کمینہ پن کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا: انسان خود کو بچا لے اور اپنی بیوی (ناموس) کو دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے۔

(امام حسن علیہ السلام) تحف العقول ص ۱۶۳

(قول مولفی: ملاحظہ ہو: باب ۳ حدیث ۱۸۰۵۳

( ۲) کمینے شخص کی خصوصیات

۱۸۰۳۹ ۔ کمینہ شخص جب اپنی اوقات سے بڑھ جائے تو اس کے حالات بدل جاتے ہیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۴۰ ۔ کمینہ شخص ننگ و عار کی زرہ پہن کر شریف لوگوں کو ستاتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۴۱ ۔ کمینے سے نہ تو خیر کی امید رکھی جا سکتی ہے، نہ اس کے شر سے بچا جا سکتا ہے، نہ ہی اس کی چالوں و فریب کاریوں سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۴۲ ۔ کمینہ شخص بے حیا ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۴۳ ۔ کمینے کو جب اقتدار مل جاتا ہے تو برائیاں کرتا ہے اور جب وعدہ کرتاہے تو اس کے برخلاف کرتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۴۴ ۔ کمینہ آدمی جب کسی کو کچھ دیتا ہے تو دل میں اس کو چھپا لیتا ہے تاکہ موقع ملنے پر اسے منہ پر مارا جائے اور جب کسی سے لیتا ہے تو موقع پر اس کا انکار کر دیتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۴۵ ۔ کمینے کے ساتھ بھلائی بہت بڑی رذالت ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۴۶ ۔ کمینے کی سب سے بڑی بھلائی یہ ہے کہ کسی کو ایذا نہ پہنچائے اور شریف کی سب سے بڑی برائی یہ ہے کہ کسی کو کچھ نہ دے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۴۷ ۔ کمینے پر کبھی اعتماد نہ کرو، کیونکہ جو اس پر اعتماد کرتا ہے اسے وہ وقت آنے پر چھوڑ دیتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۴۸ ۔ کمینے کا مرتبہ جوں جوں بلند ہوتا جائے گا لوگ اس کے پاس سے گھٹتے چلے جائیں گے جبکہ شریف اس کے برعکس ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۴۹ ۔ جو برے کام انجام دیتا ہے، بداخلاقی کا مظاہرہ اور بدترین بخل سے کام لے، سمجھ لو کہ یہ کمینہ شخص ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۵۰ ۔ ایک مرتبہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے شخص کے درمیان جھگڑا ہو گیا، اس شخص نے حضرت سلمان سے کہا: "تو کونذ ہے، کیا ہے؟" انہوں نے جواب میں فرمایا: "میری اور تمہاری ابتدا ایک غلیظ نطفے سے ہوئی ہے اور انتہا ایک بدبودار مردار پر ہو گی۔ جب قیامت کا دن ہو گا اور میزانِ اعمال نصب کی جائے گی تو جس کے اعمال کا پلڑا بھاری ہو گا وہ صاحبِ عزت و شریف ہو گا اور جس کے اعمال کا پلڑا ہلکا ہو گا وہ بے عزت و کمینہ ہو گا۔"

(امام جعفر صادق علیہ السلام) من لا یحضرہ الفقیہ جلد ۴ ص ۲۸۹

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو باب ( ۴)

( ۳) کمینہ ترین انسان

۱۸۰۵۱ ۔ غیبت کرنے والا کمینہ ترین آدمی ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۵۲ ۔ کمینہ ترین صفت کینہ پروری ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غرر الحکم

۱۸۰۵۳ ۔بہت بڑی کمینگی یہ ہے کہ انسان خود کو توبچا لے لیکن اپنی بیوی(ناموس) کو دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غرر الحکم

( ۴) کمینہ پن

۱۸۰۵۴ ۔ کمینے جسمانی لحاظ سے صابر ہوتے ہیں او رشریف نفسانی لحاظ سے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غرر الحکم

۱۸۰۵۵ ۔ کمینے و سفلہ لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ معزز و شریف لوگوں کو ایذا پہنچائیں۔

(حضرت علی علیہ السلام) غرر الحکم

۱۸۰۵۶ ۔ کمینوں کے پاس اپنی آبرو لے کر جانا موت ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غرر الحکم

۱۸۰۵۷ ۔ کمینوں سے رزق و روزی طلب کرنے والا محرومی کا شکار ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غرر الحکم

۱۸۰۵۸ ۔ جب کبھی کمینوں کے پاس جانا پڑ جائے تو اپنے لئے روزہ کا بہانہ بنالو۔

(حضرت علی علیہ السلام) غررالحکم

۱۸۰۵۹ ۔ کمینے پن سے سنگدلی پیدا ہوتی ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) غرر الحکم

صفحہ نمبر ۴۱۵ ؟

(حضرت رسول اکرم) فروع کافی جلد ۶ ص ۴۴۵ ۔ کنز العمال حدیث ۴۱۱۰۱ ( قدرے اختلاف کے ساتھ)

۱۸۰۶۵ ۔ سوتی لباس پہنا کرو، کیونکہ یہ پیغمبر خدا صلے اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ہمار الباس ہے۔

(امام علی علیہ السلام) فروع کافی جلد ۶ ص ۴۴۶

۱۸۰۶۶ ۔ لباس سوتی پہنا کرو کیونکہ یہ رسول اللہ اور ہمارا لباس ہے۔ آنحضرت کسی خاص وجہ کے بغیر کبھی اونی اور ریشمی لباس نہیں پہنتے تھے۔

(حضرت علی علیہ السلام) فروع کافی جلد ۶ ص ۴۵۰

۱۸۰۶۷ ۔ سوت بھی انبیاء کا لباس ہے یہ گوشت کے بڑھنے میں مدد دیتا ہے۔

(امام جعفر صادق علیہ السلام) فروع کافی جلد ۶ ص ۴۴۹

( ۶) میانہ روی لباس

۱۸۰۶۸ ۔ متقین کے اوصاف میں فرمایا:۔۔۔ ان کی گفتگو جچی تلی اور پہناوا میانہ روی کا ہوتا ہے۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۳

۱۸۰۶۹ ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کے ساتھ لے کر اس حالت میں فرعون کے پاس آئے کہ ان کے جسم پراونی کُرتے اور ہاتھوں میں لاٹھیاں تھیں۔ اس سے یہ قول و قرار کیا کہ اگر وہ اسلام قبول کر لے تو اس کا ملک بھی باقی رہے گا او رعزت بھی برقرار رہے گی۔

اس نے (اپنے حاشیہ نشینوں سے) کہا "تم کو ان پر تعجب نہیں ہوتا کہ دونوں مجھ سے یہ معاملہ ٹھہرا رہے ہیں کہ میری عزت بھی برقرار رہے گی او رملک بھی باقی رہے گا جبکہ یہ خود تنگدلی و ذلیل صورت میں ہیں جو تم دیکھ رہے ہو۔ (اگر ان میں اتنا ہی دم خم تھا تو پھر ) ان ک ہاتھوں میں سونے کے کنگن کیوں نہیں پڑے ہوئے، یہ اس لیے کہ وہ سونے کو اور اس کی جمع آوری کو بڑی چیز سمجھتا تھا۔ اور بالوں سے بنے ہوئے کپڑوں کو حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۹۲

۱۸۰۷۰ ۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اوصاف میں فرمایا : اگر چاہو تو عیسیٰ بن مریم کا حال کہوں جو (سر کے نیچے ) پتھر کا تکیہ رکھتے تھے او رسخت و کھردار لباس پہنتے تھے۔۔۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۶۰ ۔

۱۸۰۷۱ ۔ پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اوصاف میں فرمایا : حضرت رسول اللہ صلے اللہ علیہ و آلہ زمین پر بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے، غلاموں کی طرح بیٹھتے تھے ، اپنے ہاتھ ہی سے اپنی جوتی گانٹھتے تھے اور اپنے ہاتھوں سے کپڑوں میں پیوند لگاتے تھے۔۔۔

(حضرت علی علیہ السلام) نہج البلاغہ خطبہ ۱۶۰

۱۸۰۷۲ ۔ میں موٹا لباس پہنتا ہوں، زمین پر بیٹھتا ہوں۔( کھانے کے بعد) اپنی انگلیوں کو چاٹتا ہوں، زین کے بغیر گدھے پر سوار ہوتا ہوں اور اپنے پیچھے کسی کو بٹھا بھی لیتا ہوں۔ پس جو شخص میری سنت سے منہ موڑے گا وہ مجھ سے نہیں ہے۔

(حضرت رسول اکرم) مجار الانوار جلد ۷۷ ص ۸۰

۱۸۰۷۳ ۔ اے ابوذر ! سخت و کھردار اور موٹا لباس پہنا کروتا کہ تمہارے اندر غرور راہ نہ پالے۔

(حضرت رسول اکرم) مجار الانوار جلد ۷۷ ص ۹۱

۱۸۰۷۴ ۔ حضرت علی علیہ السلام نے لوگوں کو خطبہ دیا ۔ اس وقت آپ کے جسم پر کھدر کا ایک بوسیدہ و پیوند دار جامہ تھا۔ آپعلیہ السلام سے اس کے بارے میں کہا گیا تو آپعلیہ السلام نے فرمایا: " اس سے دل متواضع ہوتا ہے اور مئومن اس کی تاشی کرتے ہیں"

(امام جعفر صادق علیہ السلام) مجار الانوارجلد ۷۹ ص ۳۱۲

ایک اور روایت کے مطابق حضرت علی علیہ السلام کے جسم پر ایک بوسیدہ اور پیونددار جامہ دیکھا گیا تو آپعلیہ السلام سے اس بارے میں پوچھا گیا۔ آپعلیہ السلام نے فرمایا: "اس سے دل متواضع، نفس، مطیع ہوتا ہے اور مومن اسی کی تاسی کرتے ہیں۔"

بحارالانوار جلد ۷۹ ص ۳۱۳

۱۸۰۷۵ ۔ عقبہ بن علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت علی امیرالمومنین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ آپ کے سامنے کھٹا دودھ رکھا ہوا تھا، جس کی ترش بو میں برداشت نہ کر سکا۔ ساتھ ہی روٹی کے کچھ سوکھے ٹکڑے بھی تھے۔ یہ دیکھ کر دریافت کیا: "امیرالمومنینعلیہ السلام! آپعلیہ السلام یہی غذا کھاتے ہیں؟" آپعلیہ السلام نے فرمایا: "اے ابوالجنود! میں نے تو حضرت رسول خدا کو اس سے بھی زیادہ خشک ٹکڑے کھاتے اور اس سے زیادہ کھردرا و سخت لباس پہنے دیکھا ہے۔ لہٰذا اگر میں آنحضرت کی سیرت کو اختیار نہیں کروں گا تو اندیشہ ہے کہ میں ان تک نہیں پہنچ سکوں گا۔"

بحارالانوار جلد ۷۹ ص ۳۱۴

۱۸۰۷۶ ۔ حضرت رسول خدا صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو طرح کے لباس پہننے سے روکا ہے:

ایک تو وہ جو خوبصورتی و زیبائی میں مشہور اور دوسرا وہ جو برائی اور خرابی ہیں مشہور ہو۔

کنزالعمال حدیث ۴۱۱۷۱

۱۸۰۷۷ ۔ آنحضرت ہی سے روایت ہے کہ آپ نے دو طرح کی شہرت کے حامل کپڑوں سے روکا ہے۔ ایک وہ جو نہایت ہی باریک ہوتا ہے اور دوسرے وہ جو نہایت ہی موٹا ، اسی طرح جو سختی و نرمی، نیز لمبائی و کوتاہی میں مشہور ہیں۔ لہٰذا بہتر ہے ان دو صفات کے درمیان کی صفت کا انتخاب کیا جائے۔

کنزالعمال حدیث ۴۱۱۷۱

۱۸۰۷۸ ۔ مال، اللہ کا ہے جسے اللہ نے انسان کے پاس امانت کے طور پر رکھا ہے، اور اسے صرف اس حد تک اجازت دی ہے کہ اس سے درمیانی کیفیت کا کھانا کھائے اور درمیانی صفت کا لباس پہنے

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۹ ص ۳۰۴

۱۸۰۷۹ ۔ ایسا لباس پہنو جس سے نہ تمہاری شہرت ہو اور نہ ہی شکایت ہو۔

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو: باب "شہرت" ، "لباس اور عبادت کی شہرت")

( ۳) بہترین لباس

۱۸۰۸۰ ۔ حماد بن عثمان کہتے ہیں کہ میں حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں شرفیاب ہوا۔ اس وقت ایک شخص نے آنجنابعلیہ السلام سے کہا: "خدا آپ کا بھلا کرے! آپعلیہ السلام تو فرماتے ہیں کہ حضرت علی علیہ السلام موٹا اور کھردرا لباس زیب تن فرماتے تھے، جس کے ایک پیراہن کی قیمت صرف چار درہم ہوئی تھی، وغیرہ، لیکن آپ خود اس قدر عمدہ جامہ زیبِ بدن کئے ہوتے ہیں!"

آپعلیہ السلامنے فرمایا: "علی بن ابی طالب علیہ السلام ایسا لباس اس وقت زیب تن کرتے تھے جسے ناپسند نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اگر وہی لباس آج پہن لیں تو انگشت نمائی ہو۔ لہٰذا ہر دور کا بہترین لباس وہی ہوتا ہے جو اس زمانہ والے استعمال کرتے ہیں، البتہ جب ہمارے قائم (قائم آل محمد عجل اللہ فرجی ظہور فرمائیں گے تو علیعلیہ السلام جیسا لباس پہنیں گے اور انہی کی سیرت پر چلیں گے۔"

فروع کافی جلد ۶ ص ۴۴۴

۱۸۰۸۱ ۔ برید بن معاویہ کہتے ہیں کہ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے عبید بن زیاد سے فرمایا: "خدا کی نعمتوں کا اظہار خدا کو زیادہ پسند ہے اس بات سے کہ انہیں چھپایا جائے۔ لہٰذا تمہیں بھی اپنی قوم میں مروج بہترین لباس پہننا چاہئے" راوی کا بیان ہے کہ اس کے بعد عبید مرتے دم تک اپنی قوم میں مروج بہترین لباس پہنتے رہے۔

وسائل الشیعہ جلد ۳ ص ۳۴۲

۱۸۰۸۲ ۔ حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کے لباس کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا: "لباس تو اسی قسم کا پہننا چاہئے، لیکن اس دور میں ہم نہیں پہن سکتے کیونکہ اگر ہم پہننے لگیں تو لوگ یا تو کہیں گے یہ دیوانہ یا کہیں گے کہ ریاکار ہے البتہ جب قائم آل محمد ظہور فرمائیں گے تو وہ ایسا لباس زیب تن کریں گے۔"

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۸۹ ص ۳۱۴

۱۸۰۸۳ ۔ "میں طواف میں مصروف تھا کہ ایک شخص نے میرا کپڑا کھینچنا شروع کر دیا، جب میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ "عباد بصری" تھا، اس نے کہا: "اے جعفر بن محمد! آپ حضرت علیعلیہ السلام کے مقام و مرتبہ پر ہوتے ہوئے ایسے کپڑے پہنتے ہیں؟" میں نے کہا: "افسوس ہے تجھ پر! یہ کرمان کے دیہات "کوہستان" کا تیارکردہ کپڑا ہے جسے میں نے ایک درہم سے کچھ زیادہ کے عوض خریدا۔ حضرت علی علیہ السلام ایک ایسے زمانہ میں تھے جس میں آپ جیسا بھی لباس پہنتے وہ ان کے مناسب حال ہوتا تھا اور اگر میں آج کے دور میں ان جیسا لباس پہننے لگوں تو لوگ کہیں گے "یہ عباد بصری کی طرح ریاکار ہے!"

(امام جعفر صادق علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۹ ص ۳۱۵ ، ص ۳۰۸ ۔ وسائل الشیعہ جلد ۳ ص ۳۴۷

فروع کافی جلد ۶ ص ۴۴۳

۱۸۰۸۴ ۔ میرے کمزور (عقیدہ کے) دوست اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ میں بوریا پر بیٹھوں اور موٹا لباس پہنوں جبکہ یہ دور اس بات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

(امام رضا علیہ السلام) بحارالانوار جلد ۷۹ ص ۳۴۹

۱۸۰۸۵ ۔ معمر بن خلاد کہتے ہیں: "میں نے حضرت ابوالحسن (امام رضا) علیہ السلام کو فرماتے سنا ہے: بخدا! اگر میں بھی اسی دور میں ہوتا تو میں بھی عمدہ غذا کی بجائے سادہ غذا کھاتا، نرم کپڑے کی بجائے کھردرا لباس پہنتا اور راحت کی بجائے سختی اٹھاتا۔"

بحارالانوار جلد ۷۹ ص ۳۱۴

۱۸۰۸۶ ۔ احمد بن محمد بن ابی نصر کہتے ہیں کہ حضرت امام رضا علیہ السلام نے مجھ سے فرمایا: "اچھے اور عمدہ لباس کے بارے میں کیا کہتے ہو؟" میں نے کہا: "جہا ں تک مجھے معلوم ہے وہ یہ ہے کہ حضرت امام حسن علیہ السلام عمدہ لباس پہنتے تھے اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نیاکپڑا خرید کر اسے پانی میں بھگونے کا حکم دیتے تھے۔" اس پر امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: "اچھا اور زیبا لباس پہنا کرو، کیونکہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام موسم سرما میں پانچ سو درہم کا ملائم پشمی کرتا اور پچاس دینار ملائم پشمی چادر زیب تن فرمایا کرتے تھے۔ جب سردیوں کا موسم گزر جاتا تو اسے آپ فروخت کرکے اس کی قیمت غریبوں میں تقسیم کر دیتے تھے۔" اس کے بعد آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: "قل من حرم زینة اللہ التی اخرج لعبادہ و الطیٰبت من الرزق" یعنی اے رسول! (ان سے) پوچھو کہ جو زینت (کے ساز و سامان) اور کھانے کی پاک و پاکیزہ چیزیں خدا نے اپنے بندوں کے واسطے پیدا کی ہیں، کس نے حرام کر دیں؟ (اعراف/ ۳۲)

وسائل الشیعہ جلد ۳ ص ۳۴۱

۱۸۰۸۷ ۔ سفیان ثوری کہتے ہیں کہ میں نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے کہا: "آپ خود ہی بیان فرماتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالبعلیہ السلام موٹا اور کھردرا لباس پہنتے تھے، جبکہ آپ نے تو کوہستانی اور عمدہ لباس پہنا ہوا ہے!" اس پر انہوں نے فرمایا: "تم پر افسوس ہے۔ تمہیں نہیں معلوم کہ حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام تنگی کے زمانہ میں زندہ تھے۔ اب وہ دور نہیں رہا اور تنگی ختم ہو چکی ہے اس لئے زمانہ کے نیک لوگ ایسا لباس پہننے کی زیادہ اہلیت رکھتے ہیں۔"

بحارالانوار جلد ۷۹ ص ۳۰۹ ۔ ۳۱۵

(قولِ مولف: ملاحظہ ہو باب "جمال"، "خدا جمیل ہے اور جمال کو دوست رکھتا ہے")

نیز: باب "تواضع" ، "بلندی پر فائز ہونے کے باوجود تواضع")

( ۴) خدا کی خوشنودی اور بندوں کی خوشنودی

۱۸۰۸۸ ۔ ابی عباد کہتے ہیں کہ حضرت امام رضا علیہ السلام گرمیوں میں چٹائی پر اور سردیوں میں غالیچہ پر بیٹھا کرتے تھے، لباس موٹا ہوتا تھا، لیکن جب باہر لوگوں میں تشریف لے جاتے تو زینت کرکے جاتے۔

بحارالانوار جلد ۸۳ ص ۲۲۲

۱۸۰۸۹ ۔ روایت میں ہے کہ حضرت امام رضا علیہ السلام نے اونی لباس کے اوپر ملائم پشمی لباس زیب تن فرمایا ہوا تھا۔ چنانچہ ایک جاہل صوفی

نے جب آپ کا ملائم پشمی لباس دیکھا تو کہنے لگا: "آپ خود کو یہ کیسے گمان کرتے ہیں کہ آپ زاہد ہیں جبکہ ہم آپ کو نعمتوں بھرے ملائم پشمی لباس میں دیکھ رہے ہیں؟"

یہ سن کر امام علیہ السلام نے اندرونی لباس ظاہر فرمایا۔ انہوں نے دیکھا تو وہ اونی لباس ہے اس پر آپ نے فرمایا: "یہ اندرونی لباس اللہ (کو خوش کرنے) کے لئے ہے اور یہ اوپر والا لباس لوگوں کو دکھانے کے لئے ہے۔"

بحارالانوار جلد ۸۳ ص ۲۲۲


فہرست

فصل۔ ۱ ۴

قبر ۴

قرآن مجید ۴

حدیث شریف ۴

( ۲) قبر کا سوال ۶

( ۳) قبر میں کیا پوچھا جائے گا؟ ۶

( ۴) قبر میں کن لوگوں سے سوال ہو گا؟ ۸

( ۵) قبر میں فائدہ مند اعمال ۹

( ۶) قبر کا عذاب ۹

قبر سے متعلق متفرق احادیث ۱۰

فصل۔ ۲ ۱۱

قبلہ ۱۱

( ۱) تحویلِ قبلہ ۱۱

قرآنِ مجید: ۱۱

حدیث شریف۔ ۱۱

قبلہ کے بارے میں علمی بحث ۱۳

قبلہ کے بارے میں معاشرتی بحث ۱۶

قبلہ کی تاریخی بحث ۱۹

خانہِ کعبہ کی شکل و صورت ۲۱


غلافِ کعبہ ۲۳

خانہ کعبہ کی قدرو منزلت ۲۳

خانہ کعبہ کی تولیت ۲۵

فصل۔ ۳ ۲۷

تقبل (بوسہ) ۲۷

( ۱) بوسہ لینا ۲۷

( ۲ مومن کا بوسہ ۲۸

فصل۔ ۴ ۲۹

قتل ۲۹

(۱) قتلِ انسان ۲۹

قرآن مجید: ۲۹

حدیث شریف ۲۹

( ۲) مومن کا قتل ۳۳

قرآن مجید، ۳۳

حدیث شریف ۳۳

(۳) قتل کے جائز ہونے کی وجوہات ۳۵

قرآن مجید ۳۵

حدیث شریف ۳۵

( ۴) قاتل و مقتول دونوں جہنمی ۳۶

( ۵) کسی کو بگاڑ کر قتل نہ کرو ۳۶


( ۶) خودکشی کرنے والا ۳۷

قرآنِ مجید ۳۷

حدیث شریف ۳۸

( ۷) اسقاطِ حمل ۳۹

( ۸) صبر کے ساتھ قتل کرنا ۳۹

فصل۔ ۵ ۴۱

( ۱) قدر ۴۱

قرآن مجید: ۴۱

حدیث شریف ۴۱

(۲) قدر ایک تاریک راستہ ہے ۴۳

( ۳) تقدیرو تدبیر ۴۴

( ۴) تقدیراور عمل ۴۴

( ۵) کن چیزوں کا شمار تقدیر میں ہوتا ہے؟ ۴۵

( ۶) فرقہ قدریہ ۴۷

( ۷) قدریہ کون لوگ ہیں؟ ۴۸

( ۸) لیلة القدر ۴۸

قرآنِ مجید ۴۸

حدیث شریف ۴۹

فصل۔ ۶ ۵۰

اقتدار و قدرت ۵۰


فصل۔ ۷ ۵۱

( ۱) قذف (زنا کی تہمت) ۵۱

قرآن مجید: ۵۱

حدیث شریف ۵۱

فصل۔ ۸ ۵۴

(۱) قرآنِ مجید ۵۴

قرآن مجید ۵۴

حدیث شریف ۵۴

( ۲) قرآن، امام اور رحمت ۵۷

قرآن مجید ۵۷

حدیث شریف ۵۸

( ۳) قرآن زیبا ترین کلام ہے ۵۸

قرآن مجید ۵۸

حدیث شریف ۵۹

( ۵) قرآن ہر زمانہ میں نیا ہے ۵۹

( ۶) قرآن، بڑی سے بڑی بیماری کے لئے شفا ہے ۶۰

قرآن مجید ۶۰

حدیث شریف ۶۱

( ۷) قرآن ہی تو نگری ہے ۶۱

( ۸) قرآن میں اولین و آخرین کا علم ہے ۶۲


( ۹) قرآن کی تعلیم حاصل کرنا ۶۳

( ۱۰) قرآن مجید کی تعلیم ۶۴

( ۱۱) قرآن مجید کا حفظ کرنا ۶۵

( ۱۲) قرآن کو بار بار پڑھنے کی ترغیب ۶۷

(۱۳) حاملین قرآن کے فضائل ۶۸

حامل قرآن کو کیا کرنا چاہئے؟ ۶۹

( ۱۵) جو باتیں حاملِ قرآن کے شایانِ شان نہیں ۶۹

( ۱۶) تلاوت قرآن مجید کی ترغیب ۷۰

قرآن مجید ۷۰

حدیث شریف ۷۰

( ۱۷) قرآن کو اچھی آواز سے پڑھنا ۷۱

( ۱۸) حقِ تلاوت ۷۲

قرآن مجید: ۷۲

حدیث شریف ۷۲

( ۱۹) قرآن کو پس پشت ڈال دینا ۷۴

قرآن مجید ۷۴

قرآن مجید ۷۴

حدیث شریف ۷۵

( ۲۰) قرأت کے آداب ۷۵

۱ ۔ منہ کی پاکیزگی ۷۵


۲ ۔ استعاذہ (اعوذباللہ پڑھنا) ۷۶

قرآن مجید: ۷۶

حدیث شریف: ۷۶

۳ ۔ ترتیل ۷۶

قرآن مجید ۷۶

۴ تدبر ۷۷

قرآن مجید ۷۷

حدیث شریف ۷۸

۵ ۔ خشوع ۷۹

قرآن مجید ۷۹

( ۲۱) تلاوت سے مانع امور ۸۰

( ۲۲) جن پر قرآن لعنت کرتا ہے ۸۰

( ۲۳) فاجر قاری ۸۱

( ۲۴) قاریوں کی قسمیں ۸۱

( ۲۵) قرآن مجید کا استماع ۸۳

( ۲۶) استماع کے آداب ۸۳

قرآن مجید ۸۳

قرآن مجید ۸۳

قرآن مجید ۸۴

قرآن مجید ۸۴


۲۷) قرآن کا ظاہر بھی ہے اور باطن بھی ۸۵

( ۲۸) تفسیر بالراء کرنے کی ممانعت ۸۵

( ۲۹) قرآن کی معرفت رکھنے والے ۸۶

( ۳۰) قرآنی آیتوں کی قسمیں ۸۷

قرآن مجید ۸۷

حدیث شریف ۸۷

( ۳۱) محکم اور متشابہ آیات ۸۹

( ۳۲) قرآنی اشارے ۹۰

( ۳۳) قرآنی وجوہات ۹۱

( ۳۴) ام القرآن (قرآن کی اصل) ۹۲

( ۳۵) قرآن مجید کی عظیم ترین، عدل سے بھرپور اور سب سے زیادہ ڈرانے و امید دلانے والی آیات ۹۳

فصل۔ ۹ ۹۴

( ۱) مقرب افراد ۹۴

قرآن مجید ۹۴

قرآن مجید ۹۴

قرآن مجید ۹۴

قرآن مجید ۹۴

( ۲) مقرب افراد کی عبادت ۹۶

( ۳) مخلوقات میں اللہ کے سب سے زیادہ مقرب افراد ۹۶

( ۴) انسان کب خدا سے قریب تر ہوتا ہے؟ ۹۷


( ۵) قیامت کے دن اللہ سے نزدیک ترین بندہ ۹۷

( ۶) تقرب کی انتہا ۹۸

( ۷) اللہ تعالیٰ تک رسائی ۹۹

( ۸) جو میری طرف ایک بالشت بڑھے----! ۱۰۰

( ۹) ذرائع جن سے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا ہے ۱۰۱

( ۱۰) خداوندِ عالم سے دورترین شخص ۱۰۳

فصل۔ ۱۰ ۱۰۴

( ۱) اقرار ۱۰۴

( ۲) مجبور انسان کااقرار ناقابل اعتبار ہوتا ہے ۱۰۴

فصل۔ ۱۱ ۱۰۶

( ۱) قرض ۱۰۶

قرآن مجید ۱۰۶

حدیث شریف ۱۰۶

( ۲) تنگدست کو مہلت دینا ۱۰۹

حدیث شریف ۱۰۹

فصل ۱۲ ۱۱۱

( ۱) قرعہ ۱۱۱

قرآن مجید ۱۱۱

حدیث شریف ۱۱۱

فصل ۱۳ ۱۱۳


صدی (سو سال) ۱۱۳

( ۱) ہر سو سال میں دین کی تجدید ہوتی ہے ۱۱۳

فصل۔ ۱۴ ۱۱۵

اقتصادیات ۱۱۵

( ۱) اقتصاد ۱۱۵

( ۲) کاروبار میں میانہ روی کے فوائد ۱۱۶

( ۳) اقتصاد کے بارے میں متفرق احادیث ۱۱۸

فصل۔ ۱۵ ۱۱۹

قصے اور داستانیں ۱۱۹

( ۴) مفید ترین قصے ۱۲۱

قرآنِ مجید ۱۲۱

حدیث شریف ۱۲۱

آیات قصص کی تفسیر ۱۲۲

( ۵) قصہ گو افراد کی مذمت ۱۲۳

فصل۔ ۱۶ ۱۲۴

( ۱) قصاص ۱۲۴

قرآنِ مجید: ۱۲۴

حدیث شریف ۱۲۵

قصاص کے بارے میں علمی گفتگو ۱۲۶

( ۲) قصاص سے درگزر کرنا ۱۳۲


قرآن مجید ۱۳۲

حدیث شریف ۱۳۲

فصل۔ ۱۷ ۱۳۴

( ۱) قضا و قدر ۱۳۴

قرآن مجید: ۱۳۴

حدیث شریف ۱۳۴

علامہ طبا طبائی کی قضا کے بارے میں تفصیلی گفتگو ۱۴۱

۲ ۔ قضا کے معنی میں فلسفی نظریہ ۱۴۳

۔ روایات کے لحاظ سے قضا کے معنی ۱۴۴

( ۲) انسان کیلئے قضا و قدر ۱۴۶

( ۳) اللہ کا ارادہ اور قضا ۱۴۷

قرآن مجید ۱۴۷

حدیث شریف ۱۴۷

اللہ تعالیٰ نے مومن کے لئے جو قضا مقرر کی ہے وہ اس کے لئے بہتر ہے ۱۴۹

( ۵) قضا پر راضی نہ ہونے والا ۱۵۱

( ۶) قضا کی اقسام ۱۵۲

( ۷) قضا کے متعلق مختلف احادیث ۱۵۴

فصل ۱۸ ۱۵۶

قضا ( ۲) ۱۵۶

فیصلہ ۱۵۶


( ۱) فیصلہ یا نبی کر سکتا ہے یا اس کا وصی ---یا پھر----شقی انسان---- ۱۵۶

قرآن مجید ۱۵۶

حدیث شریف ۱۵۶

( ۲) طاغوت کی طرف مقدمات کا لے جانا ۱۵۶

قرآن مجید ۱۵۶

حدیث شریف ۱۵۷

( ۳) حق پر فیصلہ کرنے والے ۱۵۸

قرآن مجید ۱۵۸

حدیث شریف ۱۵۸

( ۴) اسلامی فیصلے کو تسلیم کرنا ۱۵۹

قرآن مجید ۱۵۹

حدیث شریف ۱۵۹

( ۵) خدا کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہ کرنے والا ۱۶۰

قرآن مجید ۱۶۰

حدیث شریف ۱۶۱

( ۶) ظالم فیصلہ کرنے والے ۱۶۲

( ۷) بغیر چھری کے ذبح کیا جانا ۱۶۲

( ۸) ظالم قاضی کی نشست گاہ ۱۶۳

( ۹) قاضی کا حساب بہت سخت ہو گا ۱۶۳

( ۱۰) قاضی بننے کی کوشش ۱۶۴


( ۱۱) اسلام میں قاضی کی خصوصیات ۱۶۵

( ۱۲) قضا کے آداب ۱۶۶

۱ ۔ فریقین کو ایک نگاہ سے دیکھنا ۱۶۶

۲ ۔ فریق مقدمہ کی آواز پر آواز کو بلند نہ کرنا ۱۶۶

۳ ۔ مسند قضا پر اکتانا نہ چاہئے ۱۶۷

۴ ۔ فریقین کے دلائل سننے سے پہلے فیصلہ نہ کرنا ۱۶۷

۵ ۔ غصے میں فیصلہ نہ کرو ۱۶۸

۶ ۔ غنودگی کی حالت میں فیصلہ نہ کرو ۱۶۹

۷ ۔ بھوک اور پیاس کی حالت میں فیصلہ نہ کرو ۱۶۹

۸ ۔ فریقین میں کسی کو اپنا مہمان نہ ٹھہراؤ ۱۶۹

۹ ۔ مسند قضا پر بیٹھ کر کسی سے سرگوشی نہ کرو ۱۷۰

۱۰ ۔ داہنی طرف سے کلام کا آغاز کرو ۱۷۰

۱۱ ۔ گواہوں کو لقمہ نہ دو ۱۷۰

۱۲ ۔ فیصلہ سنانے سے پہلے خوف غور و فکر سے کام لو ۱۷۰

( ۱۳) سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا ۱۷۱

( ۱۴) جب تک قاضی جان بوجھ کر ظالمانہ فیصلے نہیں کرتا اللہ اس کے ساتھ ہوتا ہے ۱۷۱

( ۱۵) درست و نادرست فیصلہ کرنے والوں کا اجر ۱۷۲

قاضیوں کی اقسام ۱۷۳

( ۱۷) کیا عورت قاضی بن سکتی ہے؟ ۱۷۳

( ۱۸) میں تمہارے درمیان ظاہر کے مطابق فیصلے کرتا ہوں ۱۷۴


قرآن مجید ۱۷۴

حدیث شریف ۱۷۴

( ۱۹) قاضی کے غلط فیصلہ کا خمیازہ ۱۷۶

( ۲۱) قضا کے متعلق مجلس شوریٰ ۱۷۸

( ۲۲) عدالتِ عالیہ ۱۷۹

( ۲۳) قاضی کب سے بنائے جانے لگے! ۱۷۹

( ۲۵) قضا کے متعلق متفرق احادیث ۱۷۹

فصل ۱۹ ۱۸۱

قلب (دل) ( ۱) ۱۸۱

( ۲) دل جسم کا امام ہے ۱۸۱

( ۳) انسان کا دل نہایت تعجب انگیز شے ہے ۱۸۲

( ۴) دل خداوند سبحان کا ظرف ہے ۱۸۳

( ۵) دل ہی سے اللہ تعالیٰ کا قصد کیا جاتا ہے ۱۸۳

( ۶) دل کی قسمیں ۱۸۴

( ۷) بہترین دل ۱۸۵

( ۸) دلوں کے اعراب ۱۸۶

( ۹) دل کی سلامتی ۱۸۶

قرآن مجید: ۱۸۶

حدیث شریف ۱۸۶

( ۱۰) اطمینانِ قلب ۱۸۸


قرآن مجید ۱۸۸

(۱ ۱) دل کی آنکھیں ۱۸۹

( ۱۲) دل کے کان ۱۹۰

( ۱۳) خوش دلی اور بددلی ۱۹۲

( ۱۴) دل کی پاکیزگی ۱۹۳

قرآن مجید ۱۹۳

حدیث شریف ۱۹۳

( ۱۵) کشادہ دلی ۱۹۴

قرآن مجید ۱۹۵

حدیث شریف ۱۹۵

( ۱۶) دلوں پر مہر ۱۹۶

قرآن مجید ۱۹۶

حدیث شریف: ۱۹۶

( ۱۷) دلوں پر مہر ۱۹۷

قرآن مجید ۱۹۷

حدیث شریف ۱۹۷

( ۱۸) ان کے دل تو ہیں لیکن سمجھتے نہیں ۱۹۸

قرآن مجید ۱۹۸

حدیث شریف ۱۹۸

( ۱۹) دل کا نابیناپن ۱۹۸


قرآن مجید ۱۹۸

حدیث شریف ۱۹۹

( ۲۰) دل کے پردے ۱۹۹

قرآن مجید ۱۹۹

حدیث شریف ۲۰۰

( ۲۱) دل کی کجی ۲۰۰

قرآن مجید ۲۰۱

حدیث شریف ۲۰۱

( ۲۲) دلوں کا سخت ہو جانا ۲۰۲

قرآن مجید ۲۰۲

حدیث شریف ۲۰۲

( ۲۳) سنگدلی کے اسباب ۲۰۲

قرآن مجید: ۲۰۳

حدیث شریف: ۲۰۳

( ۲۴) دل کی بیماری ۲۰۴

قرآن مجید: ۲۰۴

حدیث شریف: ۲۰۵

( ۲۵) دل کی بیماری کے اسباب ۲۰۵

( ۲۶) دلوں کی شفایابی ۲۰۶

قرآن مجید: ۲۰۶


حدیث شریف: ۲۰۶

( ۲۷) دلوں کو مردہ کرنے والی اشیاء ۲۰۷

( ۲۸) دلون کو زندہ کرنے والی اشیاء ۲۰۹

( ۲۹) دلو کو آباد کرنے والی اشیاء ۲۱۰

جن چیزوں سے دل نرم ہوتا ہے ۲۱۰

( ۳۱) جن چیزوں سے دل کو جلا ملتی ہے ۲۱۱

( ۳۲) جن چیزوں سے دل نورانی ہوتا ہے۔ ۲۱۱

( ۳۳) جن چیزوں سے دل کی اصلاح ہوتی ہے ۲۱۲

( ۳۴) جن چیزوں سے دل کو تقویت ملتی ہے ۲۱۳

( ۳۵) اللّٰہ تعالی انسان اور اس کے دل کے درمیان حائل ہوتا ہے ۲۱۳

قرآن مجید: ۲۱۳

حدیث شریف: ۲۱۴

( ۳۶) دل کے بارے میں متفرق احادیث ۲۱۴

فصل ۲۰ ۲۱۷

تقلید ۲۱۷

قابل مذمت تقلید ۲۱۷

قرآن مجید: ۲۱۷

حدیث شریف: ۲۱۷

( ۲) کس کی تقلید کی جائے ۲۲۰

تقلید کے بارے میں علمی و اخلاقی بحث ۲۲۱


فصل ۲۱ ۲۲۶

( ۱) قلم ۲۲۶

قرآن مجید: ۲۲۶

حدیث شریف: ۲۲۶

فصل ۲۲ ۲۲۷

قمار (جُوا) ۲۲۷

قرآن مجید: ۲۲۷

حدیث شریف: ۲۲۷

فصل ۲۳ ۲۳۰

قنوط (ناامید) ۲۳۰

( ۱) خدا کی رحمت سے ناامیدی ۲۳۰

قرآن مجید: ۲۳۰

حدیث شریف: ۲۳۰

( ۲) خدا کی رحمت سے کسی کو مایوس نہ کرو ۲۳۲

( ۳) ایسے لوگ خدائی رحمت سے محروم ہیں ۲۳۳

قرآن مجید: ۲۳۳

حدیث شریف: ۲۳۳

( ۲) قناعت ہی میں تو نگری ہے ۲۳۵

( ۳) قناعت کے اسباب ۲۳۶

(حضر ت علی علیہ السلام) عزرالحکم ۲۳۷


( ۴) قناعت کا ثمرہ ۲۳۷

( ۵) جو تھوڑے پر تانع نہیں اسے زیادہ بھی کوئی فائدہ نہں پہنچتا ۲۳۸

فصل ۲۵ ۲۴۰

( ۱) استقامت (ثابت قدمی ۲۴۰

قرآن مجید: ۲۴۰

حدیث شریف: ۲۴۰

( ۲) استقامت کا ثمرہ ۲۴۲

قرآن مجید: ۲۴۲

حدیث شریف: ۲۴۲

فصل ۲۶ ۲۴۴

قیاس ۲۴۴

( ۱) دین میں قیاس ۲۴۴

فصل ۲۷ ۲۴۶

( ۱) تکبر ۲۴۶

قرآن مجید: ۲۴۶

حدیث شریف: ۲۴۶

( ۲) کبرزیبا ہے جنابِ کبریا کے واسطے ۲۴۹

قرآن مجید: ۲۴۹

حدیث شریف: ۲۵۰

( ۳) تکبر انکارِ حق کا نام ۲۵۱


قرآن مجید: ۲۵۱

حدیث شریف: ۲۵۲

( ۴) تکبر کیا ہے؟ ۲۵۴

( ۵) تکبر کی حقیقت ۲۵۴

( ۶) زمین پر اکڑ کر نہ چلو ۲۵۶

قرآن مجید: ۲۵۶

حدیث شریف: ۲۵۷

( ۷) متکبر انسان ۲۵۸

( ۸) تعجب ہے متکبر کس لئے تکبر کرتا ہے؟ ۲۵۸

( ۹) غرور تکبر کا سبب ۲۵۹

اسبابِ تکبر کے بارے میں ابوحامد غزالی کا نظریہ ۲۶۰

( ۱۰) کبر و غرور کا علاج ۲۶۰

کبر کے علاج کے بارے علاّمہ مجلسی کی گفتگو ۲۶۲

( ۱۱) کبر سے بچاؤ کا طریقہ ۲۶۲

( ۱۲) تکبر کے نتائج ۲۶۴

( ۱۳) خدا متکبر کو ذلیل کر دیتا ہے ۲۶۵

متکبرین کا ٹھکانہ بہت بُرا ہے ۲۶۷

قرآن مجید: ۲۶۷

حدیث شریف: ۲۶۷

فصل ۲۸ ۲۶۹


( ۱) کتاب ۲۶۹

قرآن مجید: ۲۶۹

حدیث شریف: ۲۶۹

( ۲) بہترین ترجمان مکتوب ہے ۲۷۰

( ۳) علم کو لکھ کر محفوظ کر لو ۲۷۱

( ۴) کتاب کی تالیف ۲۷۲

( ۵) خدا نے کتنی کتابیں نازل فرمائی ہیں؟ ۲۷۲

قرآن مجید: ۲۷۲

حدیث شریف: ۲۷۲

( ۶) ہر مکتوب کا سرنامہ ۲۷۳

فصل ۔ ۲۹ ۲۷۴

( ۱) خط و کتابت ۲۷۴

قرآن مجید: ۲۷۴

حدیث شریف: ۲۷۴

( ۲) خط کا جواب ۲۷۴

فصل ۳۰ ۲۷۶

راز چھپانا ۲۷۶

( ۱) اسلامی انقلاب کے رازوں کا چھپانا ۲۷۶

( ۲) انقلابی رازوں کا ظاہر کرنا ۲۷۷

( ۳) خوش قسمت ہے گمنام انسان ۲۷۸


فصل ۳۱ ۲۸۱

کذب (جھوٹ) ۲۸۱

قرآن مجید: ۲۸۱

حدیث شریف: ۲۸۱

( ۲) جھوٹ پست ترین عادت ہے ۲۸۳

( ۳) جھوٹ اور ایمان ۲۸۴

قرآن مجید: ۲۸۴

حدیث شریف: ۲۸۴

( ۴) جھوٹ پر برائی کی چابی ہے ۲۸۶

( ۵) مذاق میں بھی جھوٹ نہ بولو ۲۸۶

( ۶) چھوٹا سا جھوٹ ۲۸۷

( ۷) دروغ گوئی کے اسباب ۲۸۸

( ۸) کذاب (بہت بڑا جھوٹا) ۲۸۹

( ۹) جھوٹ کا ثمرہ ۲۹۰

قرآن مجید: ۲۹۰

حدیث شریف: ۲۹۱

( ۱۰) بدترین جھوٹ ۲۹۴

قرآن مجید: ۲۹۴

حدیث شریف: ۲۹۵

( ۱۱) جہاں پر جھوٹ بولنا جائز ہے ۲۹۶


( ۱۲) توریہ ۲۹۸

قرآن مجید: ۲۹۸

حدیث شریف: ۲۹۸

( ۱۲) جھوٹ کو غور سے سننا ۳۰۰

قرآن مجید: ۳۰۰

حدیث شریف: ۳۰۱

( ۱۳) دروغ گوؤں کے دھوکے میں نہ آنا ۳۰۱

فصل ۳۲ ۳۰۳

( ۱) شرافت و فضیلت ۳۰۳

( ۲) عزت و شرافت ۳۰۵

( ۳) صاحب کرم و سخاوت ۳۰۵

قرآن مجید: ۳۰۵

حدیث شریف: ۳۰۶

( ۴) شریفوں کے عادات و اطوار ۳۱۰

قرآن مجید: ۳۱۰

حدیث شریف: ۳۱۰

( ۵) شرفاء کا شیوہ ۳۱۲

( ۶) شریف کے حملے سے بچو! ۳۱۳

( ۷) ہر قوم کے شریف کی عزت کرو ۳۱۳

عزت و تعظیم ۳۱۴


عزت افزائی کو ٹھکرانا ۳۱۵

جسے عزت افزائی سیدھا نہ کر سکے ۳۱۷

( ۱۱) معزز ترین انسان ۳۱۷

( ۱۲) شریف انسان اپنی عزت آپ کرتا ہے ۳۱۸

فصل ۔ ۳۳ ۳۱۹

کاروبار ۳۱۹

( ۱) پاکیزہ ترین کاروبار ۳۱۹

( ۲) حلال و حرام کاروبار ۳۱۹

قرآن مجید: ۳۱۹

حدیث شریف: ۳۱۹

ان چاروں قسموں میں سے : ۳۲۰

۱ ۔۔۔ولایت کیاہے؟ ۳۲۰

۲ ۔ کونسی تجارت؟ ۳۲۱

۳ ۔ اجارے (مزدوری اور کرائے) کی تفصیل ۳۲۲

مال و دولت کا خرچ کرنا ۳۲۴

انسان کے لئے جائز و حلال چیزیں ۳۲۵

حلال جانوروں کا گوشت ۳۲۵

حلال انڈے ۳۲۶

حلال مچھلی ۳۲۶

حلال مشروبات ۳۲۶


حلال ملبوسات ۳۲۶

جن ذریعوں سے نکاح حلال ہے ۳۲۷

جن چیزوں کے ذریعہ سے ملکیت اور خدمت صحیح ہے ۳۲۷

( ۴) ہاتھ کی کمائی ۳۲۷

( ۵) مکرو ہ پیشے ۳۳۱

( ۶) کاروبار کے بارے میں متفرق احادیث ۳۳۱

( ۱) کاہلی ۳۳۲

( ۲) سستی تنگدلی ۳۳۴

( ۳) کاہلی سے اجتناب کرو ۳۳۵

( ۴) کاہل کی علامتیں ۳۳۶

( ۵) کاہلی سے بچنے کی دعا ۳۳۷

فصل ۔ ۳۵ ۳۳۸

کفر ۳۳۸

( ۱) کفر شرک سے بہت پہلے ہے ۳۳۸

قرآن مجید: ۳۳۸

حدیث شریف: ۳۳۹

( ۲) کفر کا موجب بننے والی چیزیں ۳۴۰

( ۳) کافر ۳۴۱

قرآن مجید: ۳۴۱

حدیث شریف: ۳۴۲


( ۴) کفر کا کمتر درجہ ۳۴۳

( ۵) کفر کے ارکان و ستون ۳۴۴

( ۶) قرآن مجید میں کفر کی اقسام ۳۴۵

دوسری قسم "نعمتوں کا کفر (کفران) نعمت) ۳۴۶

فصل ۔ ۳۶ ۳۴۹

( ۱) کفّارہ ۳۴۹

( ۲) ایسا گناہ جس کا کوئی کفارہ نہیں ۳۵۱

قرآن مجید ۳۵۱

حدیث شریف ۳۵۱

فصل ۳۷ ۳۵۳

مکافات ۳۵۳

( ۱) احسان کا بدلہ احسان ۳۵۳

قرآن مجید ۳۵۳

حدیث شریف ۳۵۳

( ۲) برائی کا بدلہ برائی کے ساتھ ۳۵۵

قرآن مجید ۳۵۵

حدیث شریف ۳۵۶

( ۴) انتقام اور سرداری برابر نہیں ۳۵۶

( ۵) نیکی کا برائی سے بدلہ ۳۵۷

( ۶) برائی کا نیکی سے بدلہ ۳۵۸


( ۷) جیسی کرنی ویسی بھرنی ۳۵۸

فصل ۳۸ ۳۶۰

( ۱) تکلیف ۳۶۰

تکلف کے فلسفہ" کے بارے میں علامہ طباطبائی کا نظریہ ۳۶۰

( ۹) خداوندِ عالم طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا ۳۶۳

قرآن مجید ۳۶۳

حدیث شریف ۳۶۳

فصل ۳۹ ۳۶۵

( ۱) تکلف ۳۶۵

قرآن مجید ۳۶۵

حدیث شریف ۳۶۵

( ۲) تکلف سے کام لینے والے کی علامات ۳۶۷

فصل ۴۰ ۳۶۹

( ۱) کلام ۳۶۹

قرآن مجید ۳۶۹

حدیث شریف ۳۶۹

( ۲) حملے سے موثر تر بات ۳۷۰

( ۳) بیہودہ باتوں سے اجتناب کرو ۳۷۰

( ۴) بے مقصد باتیں ۳۷۱

( ۵) فضول باتیں نہ کیا کرو ۳۷۲


( ۶) لغو باتیں نہ کرو ۳۷۳

( ۷) کثرتِ کلام ۳۷۴

( ۸) کثرتِ کلام سے دل مردہ ہو جاتے ہیں ۳۷۵

( ۹) کم گوئی ۳۷۶

( ۱۰) کلام اس وقت تک تمہارے قابو میں ہے جب تک بولو نہیں ۳۷۷

(۱ ۱) کلام کا شمار عمل میں ہے ۳۷۸

( ۱۲) جو کچھ جانتے ہو سب کچھ نہ کہہ دو ۳۷۸

( ۱۳) کلام دوا کی مانند ہے ۳۷۹

( ۱۴) خاموشی سے بہتر باتیں ۳۸۰

( ۱۵) خاموشی سونا اور گفتگو چاندی ہے ۳۸۰

( ۱۷) کلام سے بہتر خاموشی ۳۸۲

( ۱۸) اولیاء اللہ کی خاموشی ۳۸۲

( ۱۹) احسن کلام ۳۸۳

(۲۰)جامع کلام ۳۸۳

( ۲۱) پاکیزہ کلام ۳۸۴

قرآن مجید ۳۸۴

حدیث شریف ۳۸۵

( ۲۲) کلام کے بارے میں متفرق احادیث ۳۸۷

فصل۔ ۴۱ ۳۸۸

( ۱) کمال ۳۸۸


( ۲) کامل ترین شخص ۳۸۸

( ۳) کامل عورتیں صرف چار ہیں ۳۸۹

( ۴) کمال کا موجب اشیاء ۳۸۹

( ۵) کامل شخص کی صفات ۳۹۰

فصل ۔ ۴۲ ۳۹۲

دانائی ۳۹۲

( ۱) سمجھدار انسان ۳۹۲

( ۲) زیرکی ۳۹۳

( ۳) داناؤں کی خصوصیات ۳۹۴

( ۴) بہت عقلمند ۳۹۴

( ۵) داناترین ۳۹۵

( ۶) دانائی کے لئے اتنا ہی کافی ہے! ۳۹۶

فصل ۴۳ ۳۹۷

لوم (کمینہ پن) ۳۹۷

( ۲) کمینے شخص کی خصوصیات ۳۹۸

( ۳) کمینہ ترین انسان ۳۹۹

( ۴) کمینہ پن ۴۰۰

( ۶) میانہ روی لباس ۴۰۱

( ۳) بہترین لباس ۴۰۳

( ۴) خدا کی خوشنودی اور بندوں کی خوشنودی ۴۰۵

میزان الحکمت(جلد ہشتم)

میزان الحکمت(جلد ہشتم)

مؤلف: حجت الاسلام آقائے المحمدی الری الشہری
زمرہ جات: متن احادیث
صفحے: 72